قادیانی شبہات کے جوابات جلد 1 · مولانا اللہ وسایا
Qadyani Subat ky Javabat · Vol. 1 · Moulana Allaha Vasaya
PDF 1

اَنَا خَاتَمُ النَّبِیّٖنَ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔

قادیانی شبہات کے جوابات

جلد اوّل

ختمِ نبوّت

ترتیب: مولانا اللہ وسایا

تصحیح و تخریج: مولانا شاہ عالم گورکھپوری نائب ناظم کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت دارالعلوم دیوبند

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوّت

حضوری باغ روڈ، ملتان - فون: 514122

PDF 2

بسم اللہ الرحمن الرحیم

کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت دارالعلوم دیوبند

فون: 514122

کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت دارالعلوم دیوبند یوپی

صفحہ ۳

بسم اللہ الرحمن الرحیم

انتساب

مناظر اسلام حضرت مولانا لال حسین اختر رحمۃ اللہ علیہ، فاتح قادیان حضرت مولانا محمد حیات رحمۃ اللہ علیہ، قاطع قادیانیت و متکلم اسلام حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی مدظلہ ۱، مناظر ختم نبوت حضرت مولانا عبدالرحیم اشعر مدظلہ کے نام جن کی آہنی گرفت نے قادیانیوں کو ہر محاذ پر شکست سے دو چار کیا۔ (مرتب)

۱۔ افسوس ہے کہ ہندوستان میں طبع ہونے سے پہلے ۱۸؍مئی ۲۰۰۰ء میں کراچی میں شہید کردئے گئے۔ اللہ تعالیٰ موصوف کی بال بال مغفرت فرمائے، آمین۔ (ناشر)

صفحہ ۴

فہرست مضامین

حرف آغاز ۹ بیان حال ۱۴

تقریظات ۱۵

عقیدہ ختم نبوت اور قرآن مجید کا اسلوب بیان

اسلوب نمبر ۱ ۲۱ مسلمانوں کی مساجد اور ختم نبوت ۳۴ اسلوب نمبر ۲ ۲۳ حفاظ کرام اور ختم نبوت ۳۴ اسلوب نمبر ۳ ۲۴ تبلیغ اسلام اور ختم نبوت ۳۵ اسلوب نمبر ۴ ۲۶ آیت خاتم النبیین کی تفسیر ۳۵ عالم ارواح میں ختم نبوت کا تذکرہ ۲۸ شان نزول ۳۵ عالم دنیا میں ختم نبوت کا تذکرہ ۲۹ خاتم النبیین کی قرآنی تفسیر ۳۸ عالم برزخ میں ختم نبوت کا تذکرہ ۳۰ خاتم النبیین کی نبوی تفسیر ۳۹ عالم آخرت میں ختم نبوت کا تذکرہ ۳۱ خاتم النبیین کی تفسیر صحابہ کرام سے ۳۹ حجۃ الوداع میں ختم نبوت کا تذکرہ ۳۱ خاتم النبیین اور اصحاب لغت ۴۰ درود شریف میں ختم نبوت کا تذکرہ ۳۲ خاتم النبیین اور قادیانی جماعت ۴۷ شب معراج میں ختم نبوت کا تذکرہ ۳۲ مرزائیوں کو کھلا چیلنج ۴۸ کلمہ شہادت کی طرح عقیدہ ختم نبوت بھی ۳۳ قادیانی ترجمہ کے وجوہ ابطال ۴۹ ایمان کا جزو ہے قادیانیوں سے ایک سوال ۵۱

صفحہ ۵

ختم نبوت اور احادیث نبویہ متواترہ

حدیث نمبر ۱ ۵۲ حدیث نمبر ۹ ۵۸ حدیث نمبر ۲ ۵۳ حدیث نمبر ۱۰ ۵۹ حدیث نمبر ۳ و حدیث نمبر ۴ ۵۴ اجماع کی حقیقت اور اسکی عظمت ۶۰ حدیث نمبر ۵ ۵۵ اجماع بھی دراصل دلیل ختم نبوت ہے ۶۱ حدیث نمبر ۶ ۵۵ صحابہ کرام کا پہلا اجماع ۶۲ حدیث نمبر ۷ ۵۶ اجماع امت کے حوالہ جات ۶۴ حدیث نمبر ۸ ۵۶ خلاصہ بحث ۶۶

قادیانی شبہات اور انکے جوابات

خاتم النبیین کون؟ ۶۸ نبوت کی اقسام اور دعوئے نبوت میں قادیانی مغالطہ ۷۱ ظلی بروزی کی اصطلاح ۷۲ امکان کی بحث ۷۴

قرآنی آیات میں قادیانی تاویلات و تحریفات کے جوابات

آیت خاتم النبین ۷۵ تاویل نمبر ۶: اور اسکے جوابات ۸۵ تاویل نمبر ۱: اور اسکے جوابات ۷۵ لفظ خاتم کا مرزا کے ہاں استعمال ۸۷ تاویل نمبر ۲: اور اس کا جواب ۷۶ ایک شبہ اور اس کا جواب ۸۸ تاویل نمبر ۳: اور اسکے جوابات ۷۶ مرزائی جماعت سے ایک سوال ۸۸ تاویل نمبر ۴: اور اسکے جوابات ۷۷ تاویل نمبر ۷: اور اسکے جوابات ۸۹ تاویل نمبر ۵: اور اسکے جوابات ۸۱ آیت یا بنی آدم اما یأتینکم رسل منکم ۹۰

صفحہ ۶

قادیانی استدلال اور اس کے جوابات ۹۰ ضروری وضاحت ۹۱ مرزائی عذر اور اسکا جواب ۹۴ شعر میں تاویل ۹۴ تاویل کا تجزیہ ۹۵ آیت من یطع الله والرسول قادیانی استدلال اور اسکے جوابات ۹۶ حدیث نمبر - ۱ ۹۸ حدیث نمبر - ۲ ۹۸ حدیث نمبر - ۳ ۹۸ درجات کے ملنے کا تذکرہ ۹۹ نبوت وہبی چیز ہے ۱۰۱ مرزائی عذر نمبر ۱ : کے جوابات ۱۰۲ مرزائی عذر نمبر ۲ : کے جوابات ۱۰۷ مرزائی عذر نمبر ۳ : کے جوابات ۱۰۹ ڈھول کا پول ۱۰۹ مرزائی عذر نمبر ۴: اور اسکا جواب ۱۱۰ مرزائی عذر نمبر ۵: اور اس کا جواب ۱۱۱ آیت: یأیها الرسل کلوا من الطیبات قادیانی استدلال اور اس کے جوابات ۱۱۱ آیت : ان لن یبعث الله احد ۱۱۴ آیت : وآخرین منهم

قادیانی استدلال اور اسکے جوابات ۱۱۵ آیت:واذ اخذ الله میثاق النبین قادیانی استدلال جوابات ۱۱۸ آیت:وبالآخرة هم یوقنون قادیانی استدلال اور اسکا جواب ۱۲۰ تفسیر از مرزا قادیانی ۱۲۱ تفسیر از حکیم نور الدین ۱۲۱ آیت: وجعلنا فی ذریته النبوة قادیانی استدلال اور اسکے جوابات ۱۲۱ آیت: ظهر الفساد فی البر والبحر قادیانی استدلال اور اسکے جوابات ۱۲۲ آیت: وما کنا معذبین قادیانی استدلال اور اسکے جوابات ۱۲۳ آیت: ذلک بان الله لم یک مغیرا قادیانی استدلال اور اس کا جواب ۱۲۶ نبوت ایک نعمت ہے ۱۲۶ قادیانی مغالطہ کے جوابات ۱۲۶ آیت: واذابتلیٰ ابراهیم قادیانی استدلال اور اسکے جوابات ۱۲۷ آیت: لیستخلفنهم فی الارض قادیانی استدلال اور اسکے جوابات ۱۲۹ آیت: الیوم اکملت لکم دینکم

قادیانی استدلال ا آیت:یتلوه ش قادیانی استدلال ا آیت:حتی یمیز ال قادیانی استدلال ا آیت:صراط الذی قادیانی استدلال ا آیت:الله یصطفی قادیانی استدلال ا آیت:فلایظهر عل

احادیث می

حدیث:لو عاش اب قادیانی استدلال اور قادیانی اعتراض اور حدیث:ولا تقول ا قادیانی استدلال اور مرزائی مفسر کی شہاد قادیانی سوال اور اس حدیث:مسجدی آ حدیث:انک خات قادیانی استدلال اور حدیث:ابوبکر خیر

صفحہ ۷

قادیانی استدلال اور اسکے جوابات ۱۴۱ قادیانی استدلال اور اسکے جوابات ۱۴۴ آیت:یتلوہ شاہد منہ آیت:یلقی الروح من امرہ قادیانی استدلال اور اسکے جوابات ۱۴۲ قادیانی استدلال اور اسکے جوابات ۱۴۷ آیت:حتیٰ یمیز الخبیث من الطیب آیت:ولاتنکحوا ازواجہ قادیانی استدلال اور اس کا جواب ۱۴۳ قادیانی استدلال اور اسکے جوابات ۱۴۷ آیت:صراط الذین انعمت علیھم آیت:ان رحمت الله قریب قادیانی استدلال اور اسکے جوابات ۱۴۶ قادیانی استدلال اور اسکے جوابات ۱۴۹ آیت:الله یصطفیٰ من الملائکۃ آیت:ولقدضل اکثر الاولین قادیانی استدلال اور اسکے جوابات ۱۴۰ قادیانی استدلال اور اسکے جوابات ۱۵۰ آیت:فلایظھر علی غیبہ احداً آیت:مبشراً برسول یأتی ۱۵۱

احادیث میں قادیانی تاویلات تحریفات کے جوابات

حدیث:لو عاش ابراہیم قادیانی استدلال اور اسکے جوابات ۱۶۵ قادیانی استدلال اور اسکے جوابات ۱۵۳ حدیث:انا مقفیٰ قادیانی اعتراض اور اسکے جوابات ۱۵۷ قادیانی استدلال اور اسکے جوابات ۱۶۶ حدیث:ولا تقول لا نبی بعدہ حدیث:اذا هلک کسریٰ قادیانی استدلال اور اس کا جواب ۱۵۹ قادیانی استدلال اور اسکے جوابات ۱۶۶ مرزائی مفسر کی شہادت ۱۶۳ حدیث:رؤیا المسلمین جزء من اجزاء النبوۃ قادیانی سوال اور اس کا جواب ۱۶۳ قادیانی استدلال اور اسکا جواب ۱۶۸ حدیث:مسجدی آخر المساجد ۱۶۴ حدیث:انا العاقب حدیث:انک خاتم المهاجرین قادیانی استدلال اور اسکے جوابات ۱۶۸ قادیانی استدلال اور اس کا جواب ۱۶۴ قادیانی اعتراض اور اس کا جواب ۱۷۰ حدیث:ابو بکر خیر الناس بعدی تشریح لفظ عاقب از علامہ ابن قیمؒ ۱۷۰

صفحہ ۸

حدیث: قصر نبوت قادیانی استدلال اور اسکے جوابات ۱۸۲ قادیانی استدلال اور اسکے جوابات ۱۷۰ حضرت عیسیٰ کی وحی اور قادیانی اعتراض نمبر ۱ ۱۷۰ مغالطہ کے جوابات ۱۸۳ جواب ۱۷۰ عیسیٰ علیہ السلام کی آمد پر مسئلہ ختم قادیانی اعتراض نمبر ۲ ۱۷۲ نبوت اور قادیانی مغالطہ کے جوابات ۱۸۳ جواب ۱۷۲ ایک ضمنی بات ۱۸۶ قادیانی اعتراض نمبر ۳ ۱۷۲ مدعی نبوت کے متعلق استخارہ کا حکم ۱۸۷ جواب ۱۷۳ درود شریف اور قادیانی مغالطہ کے جوابات ۱۸۷ حدیث: ثلاثون کذابون خیر امت کا تقاضہ، قادیانی مغالطہ کے جوابات ۱۸۹ قادیانی استدلال اور اسکے جوابات ۱۷۳ دعا اور قادیانی مغالطہ کے جوابات ۱۸۹ مزید ابحاث ۱۷۴ ظلی اور بروزی نبوت کی کہانی ۱۹۱ حدیث: بنی اسرائیل ظلی اور بروزی پر ایک اہم گزارش! ۱۹۷ قادیانی استدلال اور اسکے جوابات ۱۷۵ ختم نبوت اور بزرگان امت ۱۹۹ حدیث: لو لم ابعث لبعثت یا عمر تنقیہ موضوع ۲۰۵ قادیانی استدلال اور اسکے جوابات ۱۷۷ قادیانیوں کا منہ بند ۲۰۶ حدیث: لو كان بعدی نبی لكان عمر مرزائی جماعت سے چند سوال ۲۰۷ قادیانی استدلال اور اسکا جواب ۱۷۹ حدیث: لانبی بعدی قادیانی استدلال اور اسکے جوابات ۱۸۰ حدیث: الخلافة فيكم والنبوة

صفحہ ۹

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

حرف آغاز

اسفار میں اور خصوصاً غیر ملکی اسفار میں ہر آدمی کے مقاصد اور خیالات اپنے اپنے ذوق کے حساب سے کار فرما ہوتے ہیں راقم سطور نے دارالعلوم دیوبند کی ڈیڑھ سو سالہ خدمات پر پشاور کے تاریخی اجلاس میں صرف اور صرف اس ذوق و جذبہ کے تحت شرکت کی کہ اجلاس میں شریک تحفظ ختم نبوت کے موضوع کے ماہرین اور بالخصوص اپنے مربی خصوصی حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹی مدظلہ سے جس قدر بھی موقع مل سکے گا استفادہ کرنیکی بھرپور کوشش کریگا ناچیز کی یہ نیت قاضی الحاجات کے دربار میں کچھ اس طرح قبول ہوئی کہ ہزار رکاوٹوں کے باوجود ویزا ملا اور چند ٹکے جیب میں ڈالکر بندۂ ناچیز پشاور جا پہنچا اور توقع سے کہیں زیادہ اللہ رب العزت نے حضرت مولانا چنیوٹی اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے اکابر سے استفادہ کا موقع عنایت فرمایا جن میں حضرت شاہ نفیس الحسینی صاحب لاہور۔ مفتی محمد جمیل خاں صاحب کراچی حضرت مولانا سعید احمد صاحب جلال پوری، حضرت مولانا عزیز الرحمٰن۔ حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب اور مفتی شفیق احمد بستوی کراچی مدظلہم خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔

اس سفر میں اپنے اکابر سے راقم سطور کو دو تحفے ملے۔ حضرت مولانا چنیوٹی مدظلہ سے استفادہ کے دوران یہ تحفہ ملا کہ دارالعلوم دیوبند میں تربیتی کیمپ کے دوران حضرت والا نے ’’محمدیہ پاکٹ بک‘‘ کے مطالعہ کی ترغیب دلائی تھی اور اس کی اشاعت کی خواہش کا اظہار فرمایا تھا راقم سطور نے حضرت کی دیرینہ خواہش کی تکمیل کی خوش خبری سناتے ہوئے جب محمدیہ پاکٹ بک،، مجلد ہی پیش کی تو حضرت نے ڈھیر ساری دعاؤں سے نوازتے ہوئے پاکٹ بک پر کئے گئے کام کو بنظر غائر دیکھا اور اس کے بعد فرمایا کہ اب ہماری خواہش ہے کہ پاکٹ بک مصنفہ ملک عبدالرحمٰن مرزائی کا جواب اسی انداز پر مرتب ہو جائے اور یہ کام ہم نے پاکستان میں کسی کے سپرد کر رکھا ہے تاہم تمھیں بھی کرنا ہے۔ حضرت نے کوشش بھی فرمائی کہ کسی طرح سے مذکورہ کتاب کہیں سے دستیاب ہو جائے مگر نہ ہوسکی ۔ بالآخر اب ورنگل حیدرآباد سے

صفحہ 10

بذریعہ مولانا محمد ایوب قاسمی اور حافظ محمد ابرار صاحب دستیاب ہوئی ہے اور بندہ نے الحمد للہ اس پر کام شروع بھی کر دیا ہے خدا کرے حضرت کی زندگی میں ہی یہ کام پایہ تکمیل کو پہنچ جائے۔

دوسرا تحفہ حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب مدظلہ سے استفادہ کے دوران ملا اس کی صورت یہ پیش آئی کہ ہندوستان میں مختلف نوعیت کے حالات اور تقاضے جو تجربے میں آئے۔ اس کی تکمیل کے پیش نظر بندہ نے رد قادیانیت کے موضوع پر علمی انداز میں کام کرنے کا ایک خاکہ تیار کیا اور وہ یہ تھا کہ قادیانیت کا فتنہ اب علمی اور مذہبی بحث سے منزلوں آگے نکل کر سیاسی اور معاشی فتنہ کی صورت اختیار کر چکا ہے تاہم اب تک قادیانیوں نے جن جن آیات واحادیث سے استدلال کیا ہے اور جن کے ذریعہ سے وہ عوام کو مغالطہ دیتے ہیں وہ تمام آیات واحادیث مع جوابات کے یکجا کر دی جائیں اور ساتھ ہی ساتھ پانچ عربی کی وہ تفسیریں من وعن جمع کر دی جائیں جو مستند اور معتبر ہیں۔ جن کی صحت کا قادیانیوں کو بھی اقرار ہے اور اُنھیں تفسیروں میں قادیانیوں نے حذف واضافہ اور خرد برد کر کے فریب کا جال تیار کیا ہے۔ نیز پانچ ان مکاتب فکر کی تفسیریں بھی شامل کی جائیں کہ جن سے ہمارا اتفاق تو نہیں لیکن ہندوستان میں ان کے معتقدین کی کچھ تعداد ہے اور اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کسی کے سامنے اسکے مخالف مکتب فکر کی تفسیریں پیش کر کے قادیانی مغالطہ میں ڈال دیتے ہیں اور ناواقفیت کی وجہ سے پڑھے لکھے لوگ بھی مسلکی تضاد بیانی کے مغالطہ میں پڑ کر قادیانیوں کے سامنے لاجواب ہو جاتے ہیں۔ اس نوعیت کا مواد اگر ان کے سامنے رہے تو قادیانی اپنے اس فریب میں کامیاب نہ ہوسکیں گے۔ کیوں کہ قادیانی جس تضاد کو پیش کرتے ہیں وہ تضاد نہیں محض مغالطہ ہوتا ہے۔ مکمل مواد سامنے رہنے کی صورت میں مسلکی اختلافات سے بالا تر ہو کر قادیانی جیسے ملحدانہ عقائد ونظریات کی نسبت ایک عام قاری کی بھی حقیقت تک رسائی ہو سکتی ہے۔

یہ جمع وترتیب جہاں قادیانیت میں پھنسے ہوئے افراد کیلئے مفید ہو گی وہیں ائمہ مساجد، خطباء، واعظین اور مقررین کی ایک ضرورت کی بھی تکمیل ہو گی کہ وہ لوگ ان آیات پر حسب ضرورت جہاں کہیں روشنی ڈالنا چاہیں گے تو ایک آیت سے متعلق مکمل مواد ان کے سامنے ہو گا اور ہر مسلک کے لوگ جو رد قادیانیت اور تحفظ ختم نبوت کے پلیٹ فارم پر متفق ہیں اس سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔ اور کچھ نہ ہو تو یہ فائدہ تو کہیں نہ گیا کہ ایک موضوع پر ہمہ جہت مواد اکٹھا ہو جائے گا جو تحقیق حق کے لئے نہایت کارآمد اور ضروری ہوا کرتا ہے۔

صفحہ 11

بہر کیف بندہ نے اس ذہنی خاکہ کو عملی شکل دینے کے لئے پیش رفت اس طرح سے کی کہ ایک آیت پر کام کر کے نمونہ کے طور پر اپنے ہمراہ پاکستان لے بھی گیا تھا۔ جس کو دیکھ کر ہمارے اس موضوع کے شیخ الکل حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹی مدظلہ نے نہ صرف یہ کہ اس کی تصویب فرمائی بلکہ حوصلہ افزائی کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ مکمل مواد انٹرنیٹ پر بھی شائع ہو، تاکہ اس کا فائدہ عام اور تام ہو جائے۔ اور آج کے دور میں یہ چنداں مشکل نہیں۔ بعض دفعہ ایک آدمی کہیں سفر میں ہوتا ہے اور قادیانی بحث ومباحثہ چھیڑ دیتے ہیں تو اس موقع سے ضرورت مند اب کتابوں اور لائبریری سے مستغنی ہو کر بذریعہ انٹرنیٹ صرف چند پیسے خرچ کر کے قادیانی مکر و فریب کا وہیں بھر پور سد باب کر دے گا۔

بندہ نے حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب مدظلہ کے سامنے جب اس خاکہ کو پیش کیا تو حضرت نے اپنی ایک کتاب ”قادیانی شبہات کے جوابات“ پیش کرتے ہوئے فرمایا۔ یہ لو! تمہاری آدھی ضرورت کی تکمیل ہو چکی ہے چنانچہ بندہ نے کتاب کو ایسا ہی پایا۔ ایک طالب علم کو اپنے مقصد میں کامیابی پا کر جس قدر خوشی ہونی تھی، ہوئی۔ فللہ الحمد والشکر - ایک تو بندہ نے اپنے ذہنی خاکہ کی تصویب پائی دوسرے آدھے سے زائد بوجھ اتر گیا۔ اور سب سے بڑی بات یہ کہ اپنے خاکہ کی تکمیل کے لئے اپنے اکابر کا ایک مستند راستہ مل گیا۔ کتاب اگر چہ بندہ کی ترتیب کے مطابق نہیں تاہم اس میں ۲۵ آیات اور ۱۲۰ احادیث سے متعلق بھر پور جوابات جمع ہیں

حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب مدظلہ نے اسی دوران فرمایا کہ یہ کتاب عجلت میں چھپی ہے اس میں مزید تصحیح و ترتیب کا کام اب تمہارے سپرد ہے۔ حضرت والا نے اس کے طریقہ کار کی بھی فہمائش کی حضرت والا نے جس مشفقانہ ومخلصانہ انداز میں بندہ کے اندر اس کام کی جرأت و ہمت پیدا کی، یقین مانئے عہد ماضی کے اکابر کی ایک یاد تازہ کر دی اور اگر حوصلہ افزائی کا یہ انداز نہ ہوتا تو بندہ اپنی بے مائیگی اور کوتاہ نظری کے باعث اس کا اہل کبھی نہ تھا اور نہ ہی اس کی جرأت کر پاتا۔ بس اسی وجہ سے حضرت والا کے حکم کو اپنی سعادت سمجھتے ہوئے بندہ نے اس خدمت کو قبول کر لیا اور کام کیلئے سال بھر کی مہلت چاہی مگر صرف چار پانچ مہینہ کی مہلت ملی۔

صفحہ ۱۲

بہر کیف حضرت کے مشورہ سے کتاب پر کام کرنیکا جو طریقہ کار طے ہوا وہ حسب ذیل ہے۔ (۱) کتاب میں جو احادیث بسلسلہ تائید و توکید مکرر ہیں انھیں حاشیہ میں درج کر دیا جائے تا کہ استفادہ حسب ضرورت ممکن ہو لیکن مقصود میں مخل نہ ہوں (۲) مرزائی عبارات نیز کتاب میں درج دیگر حوالہ جات کی بھی تحقیق کر لی جائے (۳) عنوانات اور ذیلی سرخیوں کو مضمون کے مطابق اور مفید بنانے کی کوشش کی جائے۔ (۴) قادیانیوں کے اُن مغالطوں کے جوابات بھی حاشیہ میں درج کر دیے جائیں جو کتاب میں نہیں ہیں۔

الحمد للہ ! اب کتاب حضرت والا کے مشورہ کے مطابق بندہ ناچیز کی تصحیح ، تخریج اور تحشیہ کے ساتھ مؤلف کتاب مدظلہ کی نظر ثانی کے بعد ناظرین کے ہاتھوں میں ہے۔ جو کچھ خیر و بھلائی ہے وہ حضرت والا ہی کی جانب منسوب ، اور کوتاہی و کجی کا ذمہ دار بندہ ہے۔

اس کتاب سے شعبہ تحفظ ختم نبوت کے تعلیمی نصاب کو کافی حد تک فائدہ پہونچتا ہے جیسا کہ شعبہ میں داخل طلباء کے سامنے سبقاً سبقاً بندہ نے پیش کر کے خوب خوب فائدہ اٹھایا ’’اسلام اور قادیانیت کا تقابلی مطالعہ‘‘ پڑھنے پڑھانے والوں کے لئے خاص طور وساوس کے باب میں یہ کتاب بطور شرح کام دیتی ہے۔

کتاب کی تصحیح و تخریج میں شعبہ تحفظ ختم نبوت کے طلباء عزیزم مولوی زین العابدین آسامی، مولوی نفیس احمد مئوی، مولوی نظام الدین نینی تالی، مولوی عبد الحلیم ہزاری باغوی سلمهم الله نے بھی خاصی دلچسپی کا ثبوت دیا۔ شعبہ کے سہ ماہی کورس میں داخل مولوی محی الدین اور مولوی محمد اکبر رائچوٹی بھی ان کے شانہ بشانہ رہے۔ جبکہ احادیث کی تصحیح میں عزیز القدر جناب مولانا عبد المتین صاحب گجراتی استاذ شعبہ تحفظ ختم نبوت مدرسہ مظاہر علوم سہارنپور کا بھی بھر پور تعاون رہا فجزاهم الله خير الجزاء ٠

بڑی ناسپاسی ہوگی اگر اس موقع پر حضرت مولانا بدر الدین صاحب اجمل مدظلہ رکن شوریٰ دارالعلوم دیوبند وصدر مرکز المعارف کا شکریہ ادا نہ کروں کہ جن کی توجہ اور حوصلہ افزائی ہمیشہ بندہ ناچیز کے ساتھ رہی ہے۔ شعبہ تحفظ ختم نبوت اور اس کے خدام سے حضرت والا کا جو گہرا اور دلی ربط ہے اُس میں صرف اور صرف یہ نسبت کارفرما ہے جس کا کبھی کبھی حضرت والا اظہار بھی فرمایا کرتے ہیں کہ میاں ! اس خدمت کا تعلق براہ راست ذات نبوی ﷺ سے ہے

صفحہ ۱۳

کہ تمھیں اور تمھاری محنت کو اللہ رب العزت کبھی ضائع نہ کریں گے۔ اور یہی وجہ ہے کہ حضرت والا جب کبھی دارالعلوم تشریف لاتے ہیں تو اپنی ہزار مصروفیات کے باوجود از خود شعبہ تحفظ ختم نبوت میں تشریف لے آتے ہیں، ہم خدام کو گلے لگاتے ہیں اور خود ہی معلوم کر کے شعبہ کی علمی اور کتابی ضروریات پوری کرتے ہیں اور نہ صرف دیوبند بلکہ ہندوستان کے مختلف علاقوں میں اس موضوع پر ہونے والے کام کی طرف اپنے ڈائرکٹروں بالخصوص حضرت مولانا مزمل صاحب قاسمی ڈائرکٹر مرکز المعارف برانچ دیوبند و مہتمم جامعۃ الشیخ حسین احمد المدنی دیوبند کو توجہ رکھنے کی ہدایت کرتے رہتے ہیں۔ حضرت والا کی یہ وہ خصوصیات ہیں جو ذات نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق ومحبت کا پختہ ثبوت ہیں اور ہم جیسے تحفظ ختم نبوت کے ادنیٰ خدام کو ”کلاہ گوشہ دہقاں بآفتاب رسید“ کا مصداق بنا دیتی ہیں جس سے ہم کسی طرح کسی احساس کمتری میں مبتلا نہیں ہوتے اور نہ کسی حوصلہ شکنی کا اثر لیتے ہیں۔

ساتھ ہی ہم اپنے مشفق و مربی حضرۃ الاستاذ مفتی محمد سعید صاحب مدظلہ اور حضرۃ الاستاذ قاری سید محمد عثمان صاحب مدظلہ کے بھی شکرگزار ہیں کہ جن کے سایہ عاطفت میں ہمیں علمی اور تحقیقی کام کرنے اور تحفظ ختم نبوت کی خدمت کرنے کی سعادت نصیب ہو رہی ہے۔ فجزاہم اللہ خیر الجزاء

شاہ عالم گورکھپوری نائب ناظم کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت دارالعلوم دیوبند

نوٹ :۔ کتاب میں مرزائی عبارات کے حوالوں میں مرزا غلام احمد قادیانی کی جملہ کتابوں پر مشتمل روحانی خزائن کے نام سے نیا شائع شدہ سیٹ کا حوالہ دیا گیا ہے جس کے لئے علامتی طور پر بین القوسین (ر خ ص) لکھا گیا ہے۔

صفحہ ۱۴

تقریظ

حضرت مولانا بدر الدین صاحب آسامی مدظله

رکن مجلس شوریٰ دارالعلوم دیوبند

آدمی وانسان دو چیزوں کا نام ہے ایک جسم دوسری روح ۔ جسم کی تعلیم وتربیت کا نظام عقل کے سپرد ہے جبکہ روح کی تعلیم وتربیت کا نظام اللہ رب العزت نے اپنے پاکباز نبیوں کے سپرد کر رکھا ہے جب یہ نظام آخری مرحلہ میں خاتم الانبیاء ﷺ لے کر دنیا میں تشریف لائے تو سب سے پہلے امت کو اس بات سے باخبر کیا کہ ثلاثون کذابون دجالون کلهم یزعم انه نبی الله وانا خاتم النبین لا نبی بعدی جس کا واضح مفہوم ومطلب یہ ہے کہ حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ خدا کی جانب سے روح کی تعلیم وتربیت کا آخری نظام قیامت تک کیلئے میں لے کر آگیا اب میرے بعد اس نظام کو لانیوالا کوئی نہیں۔ جو کوئی میرے بعد نبی ہونے کا دعویٰ کرے گا وہ گویا روح کی تعلیم وتربیت کا نیا نظام لانے کا مدعی ہوگا جسے جھوٹا اور پکا دجال قرار دیا جائیگا۔

ظاہری بات ہے کہ اب اگر کوئی جھوٹا نبی پیدا ہوتا ہے تو اس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ وہ ہماری روحانی تعلیم کے نظام کو خراب کرنا چاہتا ہے۔ لہٰذا اسکے تحفظ کیلئے ، تن، من، دھن کیساتھ اٹھ کھڑا ہونا ہم میں سے ہر فرد کی ذمہ داری بن جاتی ہے اور یہی وہ مقصد ہے جس کے پیش نظر حضور ﷺ نے امت کو پیشگی جھوٹے مدعیان نبوت کے فتنوں سے خبردار کیا ہے۔ اسلئے ہر مسلمان کو اپنا فرض اور اپنی سعادت سمجھ کر تحفظ ختم نبوت کی خدمت میں لگ جانا چاہئے اور خصوصاً اس دور میں جبکہ قادیانیت کا فتنہ یہودیانہ چالوں کے ساتھ ہندوستان میں فروغ پانے اور اپنے ہاتھ پاؤں پھیلانے کی فکر میں ہے تو اس خدمت کی مزید ضرورت اور اہمیت بڑھ جاتی ہے۔

عزیز القدر جناب مولانا شاہ عالم گورکھپوری کی محنت اور انکی اس قابل رشک خدمت ، دلچسپی اور لگن سے بندہ خوب واقف ہے۔ کتاب کی پہلی پوزیشن بھی بندہ کے علم میں ہے اور اب اسمیں نکھار پیدا کر کے ظاہری اور معنوی جو خوبصورتی انھوں نے بخشی ہے یہ اس فن میں موصوف کی محنت اور پختگی کی دلیل ہے۔ احقر موصوف کیلئے دعا کرتا ہے کہ رب العزت خوب محنت کی توفیق دے۔

ایں سعادت بزور بازو نیست تا نہ بخشد خدائے بخشندہ

واللہ الموفق والمعین

( بدرالدین اجمل )

صفحہ ۱۵

بیان حال از مرتب کتاب

خطیب درگہ میر امم پاسبان ختم نبوت

حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب مدظلہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم

نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم اما بعد: عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے اپنے سالانہ رد قادیانیت کورس چناب نگر میں علماء کرام وطلباء عزیز کو سبقاً پڑھانے کے لیے رجب ۱۴۲۰ھ میں ”قادیانی شبہات کے جوابات“ جلد اول شائع کی اس حصہ میں مسئلہ ختم نبوت کو قرآن وسنت واجماع امت کے حوالہ سے مدلل و مبرہن کر کے آج تک قادیانیوں نے اس مسئلہ پر جو جو شبہات پیدا کیے تھے اور ان کے اکابرین اُمت ومناظرین ختم نبوت نے جو جو جوابات دیئے تھے ان کو یکجا کر دیا گیا تھا۔

کتاب عجلت میں مرتب ہوئی اس میں کافی حد تک حذف اضافہ کی گنجائش تھی جلدی میں شائع کرانے کے باعث کتابت کی اغلاط بھی رہ گئی تھیں جیسا کہ ایڈیشن اوّل کے پیش لفظ میں اس کی صراحت کر دی گئی تھی جمعیتہ علماء اسلام پاکستان کے زیر اہتمام محرم ۱۴۲۲ھ میں دارالعلوم دیوبند کانفرنس پشاور میں منعقد ہوئی اس موقعہ پر دارالعلوم دیوبند سے بھاری بھرکم وفد نے شرکت فرمائی اس میں دارالعلوم دیوبند کے فاضل مناظر اسلام اور کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت دارالعلوم دیوبند کے نائب ناظم حضرت مولانا شاہ عالم گورکھپوری بھی شامل تھے فقیر مرتب کتاب نے آپ سے درخواست کی کہ اس کتاب پر نظر ثانی حذف واضافہ فرما کر ہمہ جہت اسے مکمل فرمادیں تاکہ اس میں جو جھول ہیں وہ دور ہو جائیں۔ مولانا موصوف نے محنت شاقہ اور عرق ریزی سے اس کے حسن کو دوبالا کر دیا ہے۔ کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت کے ناظم اعلیٰ اور دارالعلوم دیوبند کے اُستاذ حدیث فاضل اجل محقق ومتکلم اسلام حضرت مولانا مفتی سعید احمد پالنپوری دامت برکاتہم نے حذف واضافہ پر نظر فرما کر خوب خوب دعاؤں سے نوازا ۔ اب اسے شاہی کتب خانہ دیوبند سے شائع کرنا چاہتے ہیں جو فقیر کے لیے باعث سعادت ہے اللہ تعالیٰ اُن کے نیک ارادوں میں برکت نصیب فرمائیں اور کتاب کو نفع خلائق کا ذریعہ بنائیں

فقیر اللہ وسایا خادم عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان ۲/ رجب ۱۴۲۲ھ / ۲۳ ستمبر ۲۰۰۱ء

صفحہ ۱۶

تقریظ

شیخ المشائخ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم

امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم . اما بعد!

قادیانی شبہات کے جوابات نامی کتاب حصہ اول میں مسئلہ ختم نبوت کے متعلق قادیانی وساوس و شبہات کے کافی و شافی جوابات دیئے گئے۔ جسے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغ مولانا اللہ وسایا صاحب نے ترتیب دیا۔ یہ معلوم ہو کر مسرت ہوئی کہ کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت کے نائب ناظم حضرت مولانا شاہ عالم گورکھپوری نے اس کی ترتیب ثانی قائم فرمائی ہے اور حذف و اضافہ کے بعد اسے جامع و مانع بنا دیا ہے۔ فقیر دعا گو ہے کہ اللہ تعالیٰ ان دونوں علماء کرام کی محنت کو اپنی بارگاہ میں قبولیت سے نوازیں اور کتاب کو منکرین ختم نبوت کے لئے ہدایت کا سبب بنائیں۔ اس دور میں مسلمانوں کے ایمان کے لئے سب سے زیادہ مہلک فتنہ، فتنہ قادیانیت ہے۔ اس سے نبرد آزما ہونا دفاع عن الدین میں اصل الاصول کا درجہ رکھتا ہے جو ادارے یا شخصیات تحفظ ختم نبوت کا فریضہ سرانجام دے رہیں وہ پوری امت کی طرف سے فرض کفایہ ادا کر رہے ہیں۔ اس لئے بجا طور پر وہ ہم سب کی طرف سے شکریہ کے مستحق ہیں۔

فقیر ابوالخلیل خان محمد عفی عنہ از خانقاہ سراجیہ کندیاں میانوالی

صفحہ ۱۷

تقریظ

مخدوم الصلحاء حضرت سید انور حسین نفیس الحسینی دامت برکاتہم

نائب امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

الحمد للہ وکفیٰ وسلام علیٰ سید الرسل وخاتم الانبیاء : اما بعد: عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے فاضل مبلغ اور مناظر عزیز القدر مولانا اللہ وسایا صاحب زید مجدہٗ نے قادیانی شبہات کے جوابات حصہ اول ’ختم نبوت‘ مرتب کیا جو شائع ہو کر علماء کے قلوب وجگر کی ٹھنڈک بنا۔ حضرت مولانا شاہ عالم گورکھپوری مدظلہ نے اس میں ترمیم واضافہ کر کے موتیوں کو مالا میں پرو کر پالش کر دی ہے۔ حیات مسیح علیہ السلام اور کذب مرزا قادیانی کے مباحث پر قادیانی شبہات کے جوابات کے دو حصے ابھی زیر ترتیب ہیں۔ خدا تعالیٰ کے فضل واحسان سے توقع ہے کہ وہ چھپ جائیں گے تو یہ اہل اسلام کی گرانقدر خدمت ہو گی۔ حضرت مولانا شاہ عالم گورکھپوری کی مساعی جمیلہ سے ہندوستان میں پہلے حصہ کے شائع ہونے کی خبر سے دل باغ باغ ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ ان کی ذات سے امت محمدیہ علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کو بہت ہی نفع نصیب فرمائیں۔ علم نافع وصحت کاملہ مستمرہ سے سرفراز فرمائیں۔ قادیانی فتنہ کے استیصال کے لئے ان حضرات کی مساعی کو مشکور ومقبول فرمائیں۔ دنیا میں رحمت حق ان پر سایہ فگن ہو اور آخرت میں شفاعت نبوی ﷺ کی سعادت سے مستفیض ہوں۔ آمین ثم آمین!

فقیر احقر نفیس الحسینی لاہور!

صفحہ ۱۸

تقریظ

حضرت مولانا مفتی سعید احمد پالن پوری

استاذ حدیث و جنرل سکریٹری کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت دارالعلوم دیوبند

بسم اللہ الرحمن الرحیم

قادیانیت ایک بہتا ہوا ناسور ہے۔ ایک صدی سے زائد عرصہ گذر گیا کہ یہ ملت اسلامیہ کے جسم کو بے چین کئے ہوئے ہے۔ ہر دور میں اساطین امت نے اس کا علاج کرنے کی جدوجہد کی ہے۔ اور بڑی حد تک اس میں کامیاب ہوئے ہیں۔ اب علماء امت نے دنیا پر حجت تمام کر دی ہے۔ اور کسی کے لئے اندھیرے میں بھٹکنے کا موقع نہیں رہا۔ اب جو کھڈ میں گرتا ہے وہ دیدہ و دانستہ گرتا ہے۔ کسی کے لئے یہ کہنے کا موقع نہیں ہے کہ میں جانتا نہیں تھا۔

قادیانیت کے سلسلہ میں بنیادی موضوع تین ہیں۔ مسئلہ ختم نبوت، رفع و نزول سیدنا عیسیٰ علیہ السلام اور کذب مرزا۔ ان تینوں موضوعات پر علماء اسلام نے ایک کتب خانہ تیار کر دیا ہے۔ مگر یہ سب مواد منتشر تھا۔ مکرم ومحترم مولانا اللہ وسایا صاحب نے جو اس میدان کے شہسوار ہیں منتشر مواد کو موضوع وار جمع کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے، یہ کتاب جو مسئلہ ختم نبوت پر قادیانی شبہات کے جوابات ہیں، ایک جامع کتاب ہے۔ میں نے اس کو مختلف جگہ سے دیکھا ہے۔ ماشاء اللہ بہت کچھ مواد اس میں جمع ہو گیا ہے۔ پھر مولانا شاہ عالم صاحب نے مزید اس کو نکھارا ہے، جگہ جگہ مفید حواشی بڑھائے ہیں اور ترتیب وتزئین کا فریضہ بھی انجام دیا ہے۔ اب یہ کتاب تروتازہ ہو گئی ہے۔ اور امید ہے کہ اس سے امت کو خوب فائدہ پہونچے گا۔ اللہ تعالیٰ اس کو قبول فرمائیں اور امت کے حق میں نافع بنائیں۔ والسلام

سعید احمد پالنپوری خادم دارالعلوم دیوبند یکم شعبان ۱۴۲۲ھ

صفحہ ۱۹

بسم الله الرحمن الرحيم

پیش لفظ

(طبع اول)

مسئلہ ختم نبوت، رفع ونزول سیدنا عیسیٰ علیہ السلام اور کذب مرزا پر امت محمدیہؐ کے علماء واہل قلم نے گراں قدر کتب تحریر فرمائیں۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے اکابر کی خواہش تھی کہ ان رشحات قلم اور بکھرے ہوئے موتیوں کی آبدار مالا تیار کر دی جائے۔ اس نئی ترتیب میں جدید وقدیم قادیانی اعتراضات کے جامع، مسکت، دندان شکن جوابات جمع کردئے جائیں۔ اکابر واصاغر کی خواہش کے احترام میں یہ کام مولانا اللہ وسایا صاحب کے سپرد کیا گیا۔ کام کرنے کے لئے یہ خطوط متعین کئے گئے کہ:

جملہ اعتراضات کے جوابات میں مناظرین اسلام نے جو کچھ ارشاد فرمایا سب کو جمع کر دیا جائے۔

المناظرین مولانا محمد حیاتؒ کی عمر بھر کی ریاضت و فتنہ قادیانیت سے متعلق ان کی علمی محنت کو انہی کی نوٹ بکوں کی مدد سے مرتب کر دیا جائے۔

مولانا مرتضیٰ حسن چاند پوریؒ، مولانا محمد شفیعؒ، مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ، مولانا بدر عالم میرٹھیؒ مولانا عبدالغنی پٹالویؒ، مولانا محمد چراغؒ، مولانا محمد مسلم دیوبندیؒ، مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ، مولانا محمد ابراہیم سیالکوٹیؒ، مولانا عبداللہ معمارؒ نے قادیانی شبہات کے جوابات میں جو کچھ فرمایا وہ

صفحہ ۲۰

سب اس کتاب میں سمو دیا جائے۔

اللہ وسایا نے جو کچھ تحریری طور پر محفوظ کیا۔ اسی طرح مناظرِ اسلام فاتح قادیان مولانا محمد حیات حکیم العصر مولانا محمد یوسف لدھیانوی مدظلہ، مولانا عبدالرحیم اشعر مدظلہ مولانا خدا بخش، مولانا جمال اللہ، مولانا منظور احمد چنیوٹی، مولانا محمد اسماعیل اور دیگر حضرات نے جو کچھ پڑھا، مطبوعہ یا مخطوطہ جو بھی میسر آئے موقعہ بموقعہ اس کتاب میں شامل کر دیا جائے۔ تاکہ یہ ایک ایسی دستاویز تیار ہو جائے جسے قادیانی شبہات کے جوابات کا انسائیکلوپیڈیا قرار دیا جا سکے۔

الحمد للہ ان خطوط پر مولانا موصوف نے کام کیا۔ پہلا حصہ جو ختم نبوت کے مباحث پر مشتمل ہے آپ کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ پہلے اس کا نام ختم نبوت پاکٹ بک تجویز کیا گیا تھا۔ مگر احباب کی رائے یہ ہے کہ اب پاکٹ سائز کتب کا رواج نہیں رہا۔ اس لئے اب اسکا نام (قادیانی شبہات کے جوابات) تجویز ہوا ہے۔ سالانہ رد قادیانیت کورس چناب نگر میں سبقاً یہ پڑھائی جانی ہے۔ اس لئے اس کی فوری اشاعت ضروری ہے۔ ورنہ بہت حد تک اس میں اصلاح کی گنجائش ہو گی۔ ہمارے مخدوم مولانا محمد یوسف صاحب دامت برکاتہم (۱) نے اس کتاب کا نام تجویز فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ مجلس کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں شرفِ قبولیت سے نوازیں۔ آمین!

طالبِ دعا، خاکپائے اکابرین عزیز الرحمٰن جالندھری ۲۸ رجب ۱۴۲۴ھ

(۱) کتاب کی طباعت کے چند ماہ بعد حضرت والا جامِ شہادت نوش فرما گئے

صفحہ ۲۱

عقیدہ ختم نبوت اور قرآن مجید کا اسلوب بیان

نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم : اما بعد

اسلوب نمبر ۱

قرآن مجید نے جہاں خدا تعالیٰ کی توحید اور قیامت کے عقیدہ کو ہمارے ایمان کا جزو لازم ٹھہرایا۔ وہاں انبیاء ورسل علیہم السلام کی نبوت ورسالت کا اقرار کرنا بھی ایک اہم جزو قرار دیا ہے۔ اور انبیاء کرام کی نبوتوں کو ماننا اور ان پر عقیدہ رکھنا ویسے ہی اہم اور لازمی ہے جس طرح خدا تعالیٰ کی توحید پر۔ لیکن قرآن مجید کو اول سے آخر تک دیکھ لیجئے۔ جہاں کہیں ہم انسانوں سے نبوت کا اقرار کرایا گیا ہو اور جس جگہ کسی وحی کو ہمارے لئے ماننا لازمی قرار دیا گیا ہو۔ وہاں صرف پہلے انبیاء کی نبوت و وحی کا ہی ذکر ملتا ہے۔ آنحضرت ﷺ کے بعد کسی کو نبوت حاصل ہو اور پھر اس پر خدا کی وحی نازل ہو کہیں کسی جگہ پر اس کا ذکر تک نہیں۔ نہ اشارۃ نہ کنایۃ۔ حالانکہ آنحضرت ﷺ کے بعد اگر کسی فرد بشر کو نبوت عطا کرنا مقصود ہوتا تو پہلے انبیاء کی بہ نسبت اس کا ذکر زیادہ لازمی تھا اور اس پر تنبیہ کرنا از حد ضروری تھا۔ کیوں کہ پہلے انبیاء کرام اور ان کی وحییں تو گزر چکیں۔ امت مرحومہ کو تو سابقہ پڑنا تھا آنحضرت ﷺ کے بعد کی نبوتوں سے، مگر ان کا نام ونشان تک نہیں۔ بلکہ ختم نبوت کو قرآن مجید میں کھلے لفظوں میں بیان فرمانا صاف اور روشن دلیل ہے اس بات کی کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کسی شخصیت کو نبوت یا رسالت عطا نہ کی جائیگی۔

مندرجہ ذیل آیات پر غور فرمائیے۔

یُوْقِنُوْنَ۔ بقرۃ ۴

ایمان لائے اس پر کہ جو کچھ نازل ہوا تیری طرف اور اس پر کہ جو کچھ نازل ہوا تجھ سے پہلے اور آخرت کو وہ یقینی جانتے ہیں۔

صفحہ ۲۲

مِنْ قَبْلِكَ. اے کتاب والو! کیا ضد ہے تم کو ہم سے مگر یہی کہ ہم ایمان لائے اللہ پر اور جو نازل ہوا ہم پر اور جو نازل ہو چکا پہلے۔

(مائدہ ۵۹)

وَمَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ.

(نساء ۱۶۲)

لیکن جو پختہ ہیں علم میں ان میں اور ایمان والے، سو مانتے ہیں اس کو جو نازل ہوا تجھ پر اور جو نازل ہوا تجھ سے پہلے۔

وَالْكِتٰبِ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ مِنْ قَبْلُ.

(نساء ۱۳۶)

اے ایمان والو! یقین لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول پر اور اس کتاب پر جو نازل کی ہے اپنے رسول پر اور اس کتاب پر جو نازل کی گئی پہلے۔

قَبْلِكَ.

(نساء ۶۰)

کیا تو نے نہ دیکھا ان کو جو دعویٰ کرتے ہیں کہ ایمان لائے ہیں اس پر جو اتارا تیری طرف اور جو اتارا تجھ سے پہلے۔

عَمَلُكَ وَلَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ.

(زمر ۶۵)

اور حکم ہو چکا ہے تجھ کو اور تجھ سے اگلوں کو کہ اگر تو نے شرک مان لیا تو اکارت جائیں گے تیرے اعمال اور تو ہوگا ٹوٹے میں پڑا۔

اسی طرح وحی بھیجتا ہے تیری طرف اور تجھ سے پہلوں کی طرف اللہ زبردست حکمتوں والا ہے۔

(شوریٰ ۳)

مندرجہ بالا تمام آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں صرف اُن کتابوں، الہاموں اور وحیوں کی اطلاع دی ہے اور ہم سے صرف اُن ہی انبیاء کو ماننے کا تقاضہ کیا ہے جو آنحضرت ﷺ سے پہلے گزر چکے ہیں۔ اور بعد میں کسی نبی کا ذکر نہیں فرمایا۔

یہ چند آیتیں لکھی گئی ہیں۔ ورنہ قرآن پاک میں اس نوعیت کی اور بہت سی آیتیں ہیں۔

صفحہ ۲۳

مندرجہ بالا آیتوں میں ”مِنْ قَبْلُ، مِنْ قَبْلِكَ“ کا صریح طور پر ذکر تھا۔

اسلوب۔۲

اب چند وہ آیتیں بھی ملاحظہ فرمائیے جن میں خدا تعالیٰ نے ماضی کے صیغہ میں انبیاء کا ذکر فرمایا ہے۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ نبوت کا منصب جن لوگوں کو حاصل ہونا تھا وہ ماضی میں حاصل ہو چکا ہے۔ اور انہی کا ماننا داخلِ ایمان ہے۔ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی ایسی شخصیت نہیں جس کو نبوت بخشی جائے اور اس کا ماننا ایمان کا جزو لازمی قرار دیا گیا ہو۔

(بقرہ ۱۳۶)

تم کہہ دو کہ ہم ایمان لائے اللہ پر اور جو اتارا ہم پر اور جو اتارا ابراہیم پر۔

(آل عمران)

تو کہہ ہم ایمان لائے اللہ پر اور جو کچھ اتارا ہم پر اور جو کچھ اتارا ابراہیم پر۔

إِلَى إِبْرَاهِيْمَ وَإِسْمَاعِيْلَ“۔

(نساء ۱۶۳)

ہم نے وحی بھیجی تیری طرف جیسے وحی بھیجی نوح پر اور ان نبیوں پر جو اس کے بعد ہوئے اور وحی بھیجی ابراہیم پر اور اسماعیل پر۔

ان تینوں آیتوں میں اور ان جیسی اور آیات میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں گزشتہ انبیاء اور ماضی کی وحی کو منوانے کا اہتمام کیا ہے۔ حضور ﷺ کے بعد کسی کی نبوت ورسالت کو کہیں صراحۃ وکنایۃ ذکر نہیں فرمایا۔ جس سے صاف ثابت ہو گیا کہ جن جن حضرات کو خلعتِ نبوت ورسالت سے نوازنا مقدر تھا، پس وہ ہو چکے اور گزر گئے۔ اب آئندہ نبوت پر مہر لگ گئی اور بعد میں نبوت کی راہ کو ہمیشہ کیلئے مسدود کر دیا گیا ہے۔ اور اب انبیاء کے شمار میں اضافہ نہ ہو سکے گا۔

اسلوب۔۳

قرآن مجید میں بیان کردہ نقشۂ نبوت حضرات ناظرین کرام ملاحظہ فرمائیں! اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ جب دنیا پیدا ہوئی تو اس وقت حکم خداوندی حضرت آدم صفی اللہ کو بدیں الفاظ پہنچایا گیا۔

صفحہ ۲۴

”قُلْنَا اهْبِطُوْا مِنْهَا جَمِيْعًا فَاِمَّا يَاْتِيَنَّكُمْ مِّنِّىْ هُدًى فَمَنْ تَبِعَ هُدَايَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُوْنَ“ ۔

(بقرۃ ۳۸)

ہم نے حکم دیا نیچے جاؤ یہاں سے تم سب ۔ پھر اگر تم کو پہنچے میری طرف سے کو ئی ہدایت تو جو چلا میری ہدایت پر، نہ خوف ہوگا ان پر اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔

”قَالَ اهْبِطَا مِنْهَا جَمِيْعًا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ فَاِمَّا يَاْتِيَنَّكُمْ مِّنِّىْ هُدًى فَمَنِ ا تَّبَعَ هُدَايَ فَلَا يَضِلُّ وَلَا يَشْقٰى“۔

(طہ ۱۲۳)

فرمایا اترو یہاں سے دونوں اکٹھے رہو ایک دوسرے کے دشمن ۔ پھر اگر پہنچے تم کو میری طرف سے ہدایت پھر جو چلا میری بتلائی راہ پر سو نہ وہ بہکے گا اور نہ وہ تکلیف میں پڑے گا۔

اسی مضمون کو الفاظ کی معمولی تبدیلی کے ساتھ دوسری جگہ بھی ذکر فرمایا گیا ہے۔ جس کو آج کل مرزائی آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت کو جاری ثابت کرنے کے لئے بالکل بے محل پیش کر دیا کرتے ہیں ۔ حالانکہ اس آیت کا تعلق حضرت آدم علیہ السلام کے زمانہ سے ہے۔ ملاحظہ فرمائیے:

”يَا بَنِيْ اٰدَمَ اِمَّا يَاْتِيَنَّكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ يَقُصُّوْنَ عَلَيْكُمْ اٰيٰتِيْ فَمَنِ اتَّقٰى وَ اَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُوْنَ“۔

(اعراف ۳۵)

اے آدم کی اولاد اگر آئیں تمھارے پاس رسول تم میں کے۔ کہ سنائیں تم کو میری آیتیں ۔ تو جو کوئی ڈرے اور نیکی پکڑے تو نہ خوف ہوگا ان پر اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔

ان دونوں آیتوں میں ابتداء آفرینش کا ذکر فرمایا جا رہا ہے۔ اور دونوں کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل اور نوع انسان کو حکم دیا کہ میں آدم سے نبوت کا سلسلہ شروع کرنا چاہتا ہوں اور آدم کے بعد انبیاء ورسل بکثرت ہونگے۔ اور لوگوں کے لئے ان کا اتباع کرنا ضروری ہوگا۔ اس جگہ رُسُل جمع کے صیغہ سے بیان فرمایا ہے اور انبیاء کی تحدید و تعیین نہیں کی۔ جس سے ثابت ہوا کہ آدم صفی اللہ کے بعد کافی تعداد میں انبیاء کرام مبعوث ہوں گے۔

بعد ازاں حضرت نوح وابراہیم علیہم الصلوٰۃ والسلام کا زمانہ آیا تو اس میں بھی یہی اعلان ہوا کہ ان کے بعد بھی بکثرت انبیاء کرام ہونگے۔

صفحہ ۲۵

”وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحاً وَّاِبْرٰهِيْمَ وَجَعَلْنَا فِىْ ذُرِّيَّتِهِمَا النُّبُوَّةَ وَالْكِتٰبَ فَمِنْهُمْ مُّهْتَدٍ ۚ وَ كَثِيْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ . ثُمَّ قَفَّيْنَا عَلٰٓى اٰثَارِهِمْ بِرُسُلِنَا“

اور ہم نے بھیجا نوح اور ابراہیم کو اور ٹھہرا دی دونوں کی اولاد میں پیغمبری اور کتاب ۔ پھر کوئی ان میں راہ پر ہے اور بہت ان میں نافرمان ہیں ۔ پھر پیچھے بھیجے ان کے قدموں پر اپنے رسول ۔ (حدید ۲۷،۲۶)

اس آیت کریمہ میں صاف فرمایا کہ حضرت نوح اور حضرت ابراہیم علیہم السلام پر نبوت کا دروازہ بند نہیں ہو گیا تھا۔ بلکہ ان کے بعد بھی کافی تعداد میں انبیاء کرام تشریف لائے ۔ اور یہاں بھی ”رسل“ کا لفظ فرمایا کوئی تحدید و تعیین نہیں فرمائی ۔علی ھذا القیاس یہی سنت اللہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد بھی رہی۔ اور بعینہ یہی مضمون ذیل کی آیت میں صادر ہوا۔

”وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ وَقَفَّيْنَا مِنْۢ بَعْدِهٖ بِالرُّسُلِ“ (بقرہ ۸۷)

اور بے شک دی ہم نے موسیٰ کو کتاب اور پے در پے بھیجے اس کے پیچھے رسول ۔

معلوم ہوا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں بھی نبوت کا باب بند نہیں ہوا تھا اور ان کے بعد بھی انبیاء کرام بکثرت آتے رہے جس کو اللہ تعالیٰ نے بالرسل کہہ کر بیان فرمایا ہے یہ صرف تین آیتیں اس لئے ذکر کی گئیں تا کہ ان سے معلوم ہو جائے کہ اولوالعزم انبیاء کے بعد کیا سنت خداوندی رہی ہے ۔؟

لیکن جب حضرت مسیح عیسیٰ بن مریم کی باری آئی تو اس مبشر احمد نے آکر دنیا کے سامنے یہ اعلان فرمایا کہ اب میرے بعد سلسلہ نبوت اس کثرت سے اور غیر محدود نہیں جیسے پہلے انبیاء کرام کے بعد ہوتا چلا آیا ہے ۔ بلکہ میرے زمانہ میں نبوت میں ایک نوع کا انقلاب ہو گیا ہے ۔ یعنی بجائے اس کے کہ ”الرُّسُلِ“ کے لفظ سے انبیاء کرام کی آمد کو بیان کیا جاتا تھا اب واحد کا لفظ ”بِرَسُوْلٍ“ کہہ کر ارشاد کیا اور بجائے اس کے کہ حسب سابق غیر محدود اور غیر معین رسولوں کے آنے کا ذکر کیا جاتا ۔ طریقہ بیان کو بدل کر صرف ایک رسول کے آنے کی اطلاع دی ۔ اور اس کے اسم مبارک (احمدؐ) کی بھی تعیین فرمادی کہ کوئی شقی ازلی یہ دعویٰ نہ کرنے لگے کہ اس کا مصداق میں ہوں ۔ (جیسے خاص کر مرزا قادیانی کی امت یہ ہانک دیا کرتی ہے کہ بشارت احمد کا مصداق مرزا قادیانی ہے )

صفحہ ۲۶

ارشاد ہوا ہے:

”اِذْقَالَ عِيْسَى بْنُ مَرْيَمَ يَا بَنِيْ اِسْرَآئِيْلَ اِنِّيْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ مُّصَدِّقاً لِّمَا بَيْنَ يَدَيَّ مِنَ التَّوْرَاةِ وَمُبَشِّراً بِرَسُوْلٍ يَّاْتِيْ مِنْ بَعْدِىْ

اسْمُهُ اَحْمَدُ، (صف ٦) ۔

اور جب کہا مریم کے بیٹے عیسیٰ نے اے بنی اسرائیل میں بھیجا ہوا آیا ہوں اللہ کا تمہارے پاس۔ یقین کرنے والا اس پر جو مجھ سے آگے ہے توریت، اور خوشخبری سنانے والا ایک رسول کی جو آئے گا میرے بعد اس کا نام ہے احمد۔

آنے والے نبی کا نام بتا کر تعین بھی کر دی اور کہا کہ اب میرے بعد ایک اور صرف ایک رسول آئے گا۔ جس کا نام گرامی احمد ہوگا۔ انبیاء سابقین نے تو اپنے بعد کے زمانہ میں بصیغہ جمع کئی رسولوں کی آمد کی خوش خبری دی تھی۔ مگر حضرت مسیح نے صرف ایک رسول احمدؐ کی ہی بشارت و خوشخبری دی اور جب وہ رسول خاتم الانبیاء والمرسلین، آخر آمد بود فخر الاولین تشریف فرما ہوئے تو خدا نے ساری دنیا کے سامنے اعلان فرما دیا کہ اب وہ رسول کریم ﷺ جس کی طرف نگاہیں تاک رہی تھیں وہ تشریف فرما ہو گیا ہے۔ وہ خاتم النبیین ہے اور اس کے بعد کوئی نیا شخص نبوت کے اعزاز سے نہیں نوازا جائے گا۔ بلکہ وہ نبوت کی ایسی اینٹ ہے جس کے بعد نبوت کے دروازہ کو بند فرما دیا گیا ہے۔ ارشاد ملاحظہ ہو: مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٍ مِّنْ

رِّجَالِكُمْ وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيّٖنَ ۔(احزاب ۴۰)

یعنی آنحضرت ﷺ، جن کی آمد کی اطلاع حضرت مسیح نے دی تھی وہ آ چکے اور آ کر نبوت پر مہر کر دی۔ اب آپؐ کے بعد دنیا میں کوئی ایسی ہستی نہیں ہوگی جس کو نبوت کے خطاب سے نوازا جائے اور انبیاء کرام کی تعداد میں اضافہ کیا جائے۔ قرآن کا یہ طریقہ بیان نبوت کے سلسلہ کی اُن کڑیوں کا اجمالی نقشہ تھا کہ جو حضرت آدمؑ سے شروع ہو کر حضرت محمد ﷺ پر ختم ہو گیا

اسلوب۔۴

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ہے کہ آنحضرت ﷺ تمام انبیاء کرام کے بعد تشریف فرما ہوئے ہیں آپ کے بعد اب کسی کو نبوت سے نہ نوازا جائے گا۔

”وَاِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِيْثَاقَ النَّبِيّٖنَ لَمَا اٰتَيْتُكُمْ مِّنْ كِتٰبٍ وَّحِكْمَةٍ ثُمَّ جَآءَكُمْ

صفحہ ۲۷

رَسُوْلٌ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهِ وَلَتَنْصُرُنَّهُ، (آل عمران ۸۱) اور جب لیا اللہ نے عہد نبیوں سے کہ جو کچھ میں نے تم کو دیا کتاب اور علم پھر آوے تمھارے پاس کوئی رسول کہ سچا بتاوے تمھارے پاس والی کتاب کو تو اس رسول پر ایمان لاؤ گے اور اس کی مدد کرو گے۔

اس جگہ متعین کر دیا گیا کہ آنحضرت ﷺ تمام انبیاء کے بعد آئیں گے۔ اس آیت کو مرزا قادیانی نے نقل کر کے اسکے بعد تحریر کیا ہے کہ اس آیت میں ثُمَّ جَاءَكُمْ رَسُوْلٌ سے مراد آنحضرت ﷺ ہیں۔ ۱؎

قرآن مجید کو اول سے آخر تک پڑھئے۔ آپ کو معلوم ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے سلسلہ نبوت حضرت آدم صفی اللہ سے شروع کیا اور آنحضرت ﷺ پر ختم کر دیا خود مرزا قادیانی بھی اس کا اقراری ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں:

”سیدنا ومولانا محمد ﷺ ختم المرسلین کے بعد کسی دوسرے مدعی نبوت اور رسالت کو کاذب اور کافر جانتا ہوں۔ میرا یقین ہے کہ وحی رسالت حضرت آدم صفی اللہ سے شروع ہوئی اور جناب رسول اللہ محمد مصطفیٰ ﷺ پر ختم ہوگئی۔ (مجموعہ اشتہارات ص ۲۳۰ ج۱)

آیات مندرجہ بالا کے علاوہ ایک ایسی آیت بھی ملاحظہ ہو جو کہ آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت کی ضرورت کو ہی اٹھا دیتی ہے۔ اور وہ ایسی فلاسفی بتاتی ہے کہ جس پر یقین کر کے ہر مومن اطمینان حاصل کرے کہ اب آئندہ کسی کو نبوت حاصل نہ ہوگی اور نہ ہی اس کی کوئی ضرورت ہے۔

”اَلْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِيْناً‘ مائدہ ۳.

آج میں پورا کر چکا تمہارے لئے تمھارا دین اور پورا کیا تم پر میں نے اپنا احسان، اور پسند کیا تمھارے واسطے اسلام کو دین۔

اس ارشاد خداوندی نے بتلا دیا کہ دین کے تمام محاسن پورے ہو چکے ہیں۔ اب کسی پورا کرنے والے، مکمل کرنے والے کی ضرورت نہیں۔ ظاہر بات ہے کہ جب کسی پیوند لگانے والے

۱؎ مرزا نے لکھا ہے ”وَاِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِيْثَاقَ النَّبِيّٖنَ ...... اور یاد کرو جب خدا نے تمام رسولوں سے عہد لیا کہ جب میں تمھیں کتاب اور حکمت دوں گا۔ اور پھر تمھارے پاس آخری زمانہ میں میرا رسول آئے گا جو تمھاری کتابوں کی تصدیق کرے گا۔ تمھیں اس پر ایمان لانا ہوگا اور اس کی مدد کرنی ہوگی (حقیقت الوحی خ ص ۱۳۰ ج ۲۲)

صفحہ ۲۸

کی ضرورت نہیں رہی تو آج کے بعد کسی کو نبی ماننے کی بھی ضرورت نہیں رہی۔ حضرت مولانا مفتی شفیع صاحبؒ نے عربی میں کتاب تحریر فرمائی تھی، ہدیۃ المہدیین اس کا اردو ترجمہ ”ختم نبوت کامل“ کے نام سے مارکیٹ میں دستیاب ہے۔ اس میں آپ نے قرآن مجید کی ننانوے آیات سے مسئلہ ختم نبوت پر استدلال فرمایا ہے۔

عالم ارواح میں ختم نبوت کا تذکرہ

"وَإِذْ أَخَذَ اللّٰهُ مِيْثَاقَ النَّبِيّٖنَ لَمَا اٰتَيْتُكُمْ مِّنْ كِتٰبٍ وَّحِكْمَةٍ ثُمَّ جَاءَ كُمْ رَسُولٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهِ وَلَتَنْصُرُنَّهُ" ،

(آل عمران ۸۱)

اس آیت میں اللہ رب العزت نے عہد و میثاق کا ذکر فرمایا ہے۔ جو ازل میں تمام انبیاء علیہم السلام سے آنحضرت ﷺ کے بارے میں لیا گیا۔ جو ایک جملہ شرطیہ کی صورت میں تھا ۔ کہ اگر آپ میں سے کسی کی حیات میں محمد ﷺ تشریف لائیں تو آپ اس پر ایمان لائیں اور ان کی مدد کریں ۔ یہ عہد خاص اگرچہ جملہ شرطیہ کے طور پر تھا۔ تاہم اس سے تمام انبیاء علیہم السلام پر آپ کی امتیازی جلالت شان واضح ہوگئی۔

جملہ شرطیہ کا وقوع ضابطہ میں ضروری نہیں تاہم مختلف مواقع میں خاص شان کی جلالت واضح بھی ہوئی۔

کی آمد کی خبر دینا۔

اور آپ کے دین کی مدد فرمائیں گے وغیرہ۔

اس آیت میں ثُمَّ کا لفظ النَّبِيّٖنَ کے بعد قابل توجہ ہے۔ یعنی تمام انبیاء کے سب سے اخیر میں وہ نبی تشریف لائیں گے ۔ سبحان اللہ ! ختم نبوت کی شان دیکھئے کہ عالم ارواح میں اس کا تذکرہ اللہ رب العزت انبیاء علیہم السلام کی ارواح سے فرما رہے ہیں۔

صفحہ ۲۹

آپ ﷺ نے فرمایا ” كُنْتُ اَوَّلَ النَّبِيّيْنَ فِى الْخَلْقِ وَ آخِرُهُمْ فِى الْبَعْثِ“ تخلیق میں سب انبیاء سے پہلے ہوں اور بعثت میں تمام انبیاء کے بعد ہوں۔

(ابن کثیر ص ۳۸ ، ج ۸ ۔ کنز العمال ص ۳۱۸ ، ج ۱۱ حدیث نمبر ۳۲۱۲۶)

عالم دنیا میں ختم نبوت کا تذکرہ

کیا۔ حضور پاک ﷺ کی حدیث ہے۔ ”اِنِّى عِنْدَ اللهِ مَكْتُوب خاتم النبيين وان آدم لمنجدل في طينته“. تحقیق کہ میں اللہ کے نزدیک (لوح محفوظ میں) خاتم النبیین اس وقت لکھا ہوا تھا جبکہ آدم علیہ السلام ابھی مٹی میں تھے۔

(مشکوٰۃ ص ۵۱۳۔ مسند احمد ص ۱۲۷، ج ۴، کنز حدیث نمبر ۳۱۹۶۰)

خاتمیت کا یوں تذکرہ فرمایا۔ ”لَمْ يَبْعَثِ اللهُ نبياً آدم ومن بعده الا اخذ الله عليه العهدَ لئن بعث محمد ﷺ وهو حى ليؤمنن به ولينصرنه “ حق تعالیٰ نے انبیاء علیہم السلام میں سے جس کسی کو مبعوث فرمایا تو یہ عہد اُن سے ضرور لیا کہ اگر ان کی زندگی میں حضرت محمد ﷺ مبعوث ہوں تو وہ ان پر ایمان لائیں اور ان کی مدد کریں۔

(ابن جریر ص۲۳۲،ج۳، ابن کثیر، تاریخ ابن عساکر، فتح الباری باب کتاب الانبیاء، شرح مواہب زرقانی ص ۲۴۳، ج۵)

فرمائیوں کے قربان جائیں پہلے شاہکار قدرت (آدم) پر بھی اللہ رب العزت نے رحمت دو عالم ﷺ کی ختم نبوت کا علم یوں ثبت فرما دیا۔ حضور ﷺ نے فرمایا: ” بين كتفى آدم مكتوب محمد رسول الله خاتم النبيين “ آدم علیہ السلام کے دونوں کندھوں کے درمیان محمد رسول اللہ ﷺ خاتم النبیین لکھا ہوا تھا۔ (خصائص الکبری ص۱۹، ج ۱، بحوالہ ابن عساکر)

صفحہ ۳۰

"بين كتفيه خاتم النبوة وهوخاتم النبيين" آپ ﷺ کے دونوں کندھوں کے درمیان مہر نبوت ہے اور آپ ﷺ انبیاء کے ختم کرنے والے ہیں۔

(شمائل ترمذی ص ۲)

اللہ ! اللہ ! سب سے پہلے نبی آدم آئے تو بھی حضور ﷺ کی ختم نبوت کا اعلان ونشان لیکر آئے اور آپ ﷺ تشریف لائے تو سراپا ختم نبوت بن کر۔

جبرائيل فنادى بالاذان الله اكبر. مرتين .اشهد ان لااله الا الله مرتين .اشهد ان محمد ارسول الله مرتين . قال آدم من محمد فقال هو آخر ولدك من الانبياء"

(ابن عساکر و کنز ص ۲۵۵ ج ۱۱ حدیث نمبر ۳۲۱۳۹)

حضرت ابوہریرہؓ راوی ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جب آدم علیہ السلام ہند میں نازل ہوئے (تو بوجہ تنہائی) ان کو وحشت ہوئی تو جبرئیل نازل ہوئے اور اذان پڑھی اللہ اکبر دوبار، اشھدان لا الہ الا اللہ دوبار، اشھدان محمد الرسول اللہ دوبار، حضرت آدم علیہ السلام نے جبرائیل سے پوچھا کہ محمد کون ہیں؟ جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا کہ انبیاء کرام کی جماعت میں سے آپ کے آخری بیٹے ہیں۔

عالم برزخ میں ختم نبوت کا تذکرہ

ابن ابی الدنیا وابویعلیٰ نے حضرت تمیم داریؓ سے ایک طویل حدیث کے ذیل میں روایت کی ہے کہ جب فرشتے منکر نکیر قبر میں مردہ سے سوال کریں گے کہ تیرا رب کون ہے اور تیرا دین کیا ہے تو وہ کہے گا: "رَبِّيَ اللّٰهُ وَحده لا شريک له الاسلامُ دينى ومحمدٌ نبيى وَهو خاتمُ النبيينَ فيقولان له صدقتَ "۔ میرا پروردگار وحدہ لاشریک ہے اسلام میرا دین ہے اور محمد میرے نبی ہیں اور وہ آخری نبی ہیں۔ یہ سنکر فرشتے کہیں گے کہ تو نے سچ کہا۔

(تفسیر درمنثور ص ۱۶۵ ج ۶)

صفحہ ۳۱

عالم آخرت میں ختم نبوت کا تذکرہ

"عن ابى هريرة فى حديث الشفاعة فيقول لهم عيسى عليه السلام ....... اذهبوا الى غيري اذهبوا الى محمد ﷺ فيأتون محمداً ﷺ فيقولون يا محمد انت رسول الله وخاتم الانبياء.

حضرت ابوہریرہؓ سے ایک طویل روایت میں ذکر کیا گیا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔ جب لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے قیامت کے روز شفاعت کے لئے عرض کریں گے تو وہ کہیں گے کہ آنحضرت ﷺ کے پاس جاؤ۔ لوگ میرے پاس آئیں گے اور کہیں گے۔ اے اللہ کے رسول محمد خاتم النبیین۔

(بخاری ص ۶۸۵ ج ۲ مسلم ص ۱۱۱ ج ۱)

ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت عیسیٰ فرمائیں گے کہ آج محمد خاتم النبیین تشریف فرما ہیں ان کے ہوتے ہوئے کون شفاعت میں پہل کر سکتا ہے۔ بہرکیف معلوم ہوا کہ عالم آخرت میں بھی حضور ﷺ کی ختم نبوت کا تذکرہ ہوگا۔

حجۃ الوداع میں ختم نبوت کا تذکرہ

"عن ابى امامةؓ قال قال رسول الله ﷺ فى خطبته يوم حجة الوداع ايها الناس انه لا نبى بعدى ولا امة بعدكم الا فاعبدوا ربكم وصلوا خمسكم وصوموا شهركم وادوا زكوة اموالكم طيبة بها انفسكم واطيعوا ولاة اموركم تدخلو جنة ربكم .

(منتخب کنز العمال بر حاشیه مسند احمد ص ۳۹۱ ج ۲)

حضرت ابو امامہؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے اپنے حجۃ الوداع کے خطبہ میں فرمایا اے لوگو! نہ میرے بعد کوئی نبی ہوگا اور نہ تمھارے بعد کوئی امت۔ خبردار اپنے رب کی عبادت کرتے رہو۔ اور پانچ نمازیں پڑھتے رہو اور رمضان کے روزے رکھتے رہو اور اپنے مالوں کی خوش دلی سے زکوٰۃ دیتے رہو اور اپنے خلفاء کی اطاعت کرتے رہو تم اپنے رب کی جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔

صفحہ ۳۲

درود شریف اور ختم نبوت کا تذکرہ

”عن علیؓ فی صیغ الصلوۃ النبی ﷺ خاتمُ النبیین وامامُ المرسلین. الحديث. رواه عياض في الشفاء“

حضرت علیؓ سے درود شریف کے صیغے جو روایت کئے گئے ہیں ان میں اللہم صلی علی محمد خاتم النبیین وامام المرسلین بھی آیا ہے۔ قاضی عیاضؒ نے اپنی کتاب شفا میں اس کو نقل کیا ہے۔

شب معراج اور ختم نبوت کا تذکرہ

”فی حدیث طویل فی باب الاسراء عن ابی ھریرۃؓ مرفوعاً قالوا یا جبرائیل من ھذا معک قال ھذا محمد رسول اللہ ﷺ وخاتم النبیین (الی ان قال) قال اللہ ربہ تبارک وتعالیٰ قد اخذ تک حبیباً وھو مکتوب فی التوراۃ محمد حبیب الرحمٰن وارسلناک للناس کافۃ وجعلت امتک ھم الاوّلون وھم الآخرون وجعلت امتک لا تجوز لھم خطبۃ حتیٰ یشھدوا انک عبدی ورسولی وجعلناک اول النبیین خلقاً وآخرھم بعثاً واتیتک سبعاً من المثانی ولم اعطھا نبیاً قبلک واتیتک خواتیم سورۃ البقرۃ من کنز تحت العرش لم اعطھا قبلک وجعلتک فاتحاً وخاتماً.

(رواہ البزار کذا فی مجمع الزوائد ص۲۷ بحوالہ ختم نبوت کامل ص۲۶۸)

حضرت ابوہریرہؓ نے شب اسراء کے واقعہ کو مفصل ایک طویل حدیث میں مرفوعاً بیان کیا ہے (جس کے چند جملے حسب ضرورت ذکر کئے جاتے ہیں) فرشتوں نے حضرت جبرئیل سے کہا کہ یہ تمھارے ساتھ کون ہیں؟ جبرئیل علیہ السلام نے جواب دیا کہ اللہ کے رسول اور تمام انبیاء میں سے آخر محمدؐ ہیں (اس کے بعد آپؐ نے فرمایا) اللہ تعالیٰ کی جانب سے مجھے ارشاد ہوا کہ میں نے تمھیں اپنا محبوب بنایا ہے اور توریت میں بھی لکھا ہوا ہے کہ

صفحہ ۳۳

محمد اللہ کے محبوب ہیں۔ اور ہم نے تمھیں تمام مخلوق کی طرف نبی بنا کر بھیجا ہے۔ اور آپ کی امت کو اولین اور آخرین بنایا، اور آپ کی امت کو اس طرح رکھا کہ انکے لئے کوئی خطبہ جائز نہیں جبتک کہ وہ خالص دل سے گواہی نہ دیں کہ آپ میرے بندے اور میرے رسول ہیں، اور میں نے آپ کو باعتبار اصل خلقت کے سب سے اول اور باعتبار بعثت کے سب سے آخر بنایا ہے الخ۔

کلمہ شہادت کی طرح عقیدہ ختم نبوت بھی ایمان کا جزو ہے

حضرت زید بن حارثؓ اپنے ایمان لانے کا ایک طویل اور دلچسپ واقعہ بیان فرماتے ہیں ۔ آخر میں فرماتے ہیں کہ جب میں آنحضرت ﷺ کی خدمت میں آکر مسلمان ہو گیا تو میرا قبیلہ مجھے تلاش کرتا ہوا آپ ﷺ کی خدمت میں پہنچا اور مجھے آپ ﷺ کے پاس دیکھ کر کہا کہ اے زید اٹھو اور ہمارے ساتھ چلو۔ میں نے جواب دیا کہ رسول اللہ ﷺ کے بدلہ میں ساری دنیا کو کچھ نہیں سمجھتا اور نہ آپ ﷺ کے سوا کسی اور کا ارادہ رکھتا ہوں۔ پھر انھوں نے آنحضرت ﷺ سے خطاب کر کے کہا کہ اے محمد ﷺ! ہم آپ کو اس لڑکے کے بدلہ میں بہت سے اموال دینے کے لئے تیار ہیں جو آپ چاہیں طلب فرمائیں ہم ادا کر دیں گے (مگر اس لڑکے کو ہمارے ساتھ بھیج دیجئے) آپ ﷺ نے فرمایا ”اسئلکم ان تشہدوا ان لا الہ الا اللہ وانی خاتم الانبیاء ورسلہ وارسلہ معکم“ میں تم سے صرف ایک چیز مانگتا ہوں وہ یہ ہے کہ شہادت دو اس کی کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور میں انبیاء ورسل کا ختم کرنے والا ہوں۔ (اس اقرار و ایمان کے بدلہ میں ) زید کو تمھارے ساتھ کر دونگا۔ (مستدرک حاکم ص۴۲۱ ج۳)

اس حدیث میں آپ ﷺ نے عقیدہ ختم نبوت کو کلمہ شہادت کی طرح ایمان کا جزو قرار دیا ہے۔ اس لئے الاشباہ والنظائر ص ۳۹۶ میں ہے ”اذالم یعرف الرجل ان محمدا ﷺ آخر الانبیاء فلیس بمسلم لانہ من الضروریات “

جس شخص کو یہ معلوم نہیں کہ آپ ﷺ آخری نبی ہیں تو وہ مسلمان نہیں ۔ غرض ایمان کے لئے کلمہ کی طرح ختم نبوت کا اقرار بھی ضروری ہے۔

صفحہ ۳۴

مسلمانوں کی مساجد اور ختم نبوت

رحمت دو عالم ﷺ کی امت سے قبل حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی امت عیسائی لوگ ہیں۔ جن کی عبادت گاہوں گرجا گھروں میں صبح وشام تبدیلی ہوتی رہتی ہے۔ گرجا گھر بناتے ہیں اور جب عبادت کے لئے مسیحی وہاں نہیں آتے تو گرجا گھر سے پلازہ، حمام، سبزی کی دکان، شراب خانہ جوا گھر، ناچ ڈانس غرض اس (گرجا گھر، چرچ) کو کسی بھی مصرف میں لے آئیں ان کی شریعت اُن کو اس امر سے منع نہیں کرتی۔ بخلاف اہل اسلام کے کہ اگر وہ کہیں مسجد بنا دیں تو قیامت کی صبح تک اس مسجد کی جگہ کو کسی اور مصرف میں نہیں لاسکتے۔ کبھی آپ نے سوچا کہ یہ کیوں ہے؟ پہلے انبیاء علیہم السلام کی شریعت محدود وقت کے لئے تھی۔ اس لئے ان کی عبادت گاہیں بھی محدود وقت کے لئے ہیں اور آنحضرت ﷺ کی شریعت قیامت تک کے لئے ہے اس لئے جہاں کہیں آپ کی امت کا کوئی فرد مسجد بنائے گا وہ اس جگہ کو کسی اور مصرف میں نہیں لاسکتا۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو پوری دنیا کی ہر مسجد ختم نبوت کی دلیل ہے۔

حفاظ کرام اور ختم نبوت

پہلی آسمانی کتابوں میں سے کوئی کتاب جوں کی توں محفوظ نہیں۔ اُن کتب میں سے کسی ایک کا بھی حافظ دنیا میں موجود نہیں۔ جبکہ قرآن مجید جیسے نازل ہوا تھا ویسا ہی قرنِ اول سے اسوقت تک محفوظ اور موجود ہے۔ اور قیامت تک محفوظ رہے گا۔ دنیا کا کوئی ملک ایسا نہیں جہاں قرآن مجید کے حافظ وقاری نہ ہوں اسلامی اور غیر اسلامی ممالک میں ایک ایک شہر میں ہزاروں حفاظ کا موجود ہونا کسی پر مخفی نہیں۔ آپ نے توجہ فرمائی کہ یہ کیوں ہے؟ اس کی وجہ یہی ہے کہ وہ تمام سابقہ کتب اور وحی محدود وقت کے لئے تھیں۔ اس لئے قدرت نے ان کے محفوظ کرنے کا کوئی اہتمام نہیں فرمایا۔ مگر قرآن مجید آخری وحی اور آخری کتاب ہے تو قدرت نے اس کی حفاظت کا ذمہ خود اٹھایا۔ لاکھوں علماء اور مفسرین، اُس کے ترجمہ اور معانی کی حفاظت کے لئے، لاکھوں قراء اس کے تلفظ اور لہجہ کی حفاظت کے لئے، لاکھوں حفاظ اس کے متن کی حفاظت کے لئے اللہ تعالیٰ نے ہر دور میں پیدا فرمائے۔ اور قیامت تک یوں حفاظت

صفحہ ۳۵

قرآن کا سلسلہ چلتا رہے گا۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو مسجد نبوی کے اصحاب صفہ سے لیکر دنیا بھر کا ہر مدرسہ اور ہر حافظ ختم نبوت کی دلیل ہے۔

تبلیغ اسلام اور ختم نبوت

پہلے ادیان کی نشر و اشاعت ترویج و تشریح کیلئے انبیاء علیہم السلام تشریف لاتے تھے۔ تبلیغ دین کا کام انبیاء کے ذمہ تھا۔ آپ ﷺ کی ذات پر اللہ رب العزت نے نبوت کا سلسلہ ختم فرما دیا تو اب دین کی اشاعت کا جو کام انبیاء کو کرنا تھا وہ امت کے ذمہ لگا دیا۔ ختم نبوت کے صدقہ میں امت کو تبلیغ دین اور اشاعت کا کام ملا اس نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو دنیا میں ہر تبلیغی بھائی ختم نبوت کی دلیل ہے۔

قارئین کرام! عالم ارواح ہو یا عالم دنیا، عالم برزخ ہو یا عالم آخرت، سیدنا آدم علیہ السلام کی خلقت یا آپ ﷺ کی بعثت، معراج مبارک کا سفر ہو یا حجۃ الوداع، مساجد ہوں یا مدارس، تبلیغ دین ہو یا تعلیم قرآن، غرض اوّل سے اخیر تک آفاق سے افلاک تک ہر دور میں ختم نبوت کی صداقتیں اور بہاریں نظر آتی ہیں۔

آئیے! اب ختم نبوت کے مسئلہ کو سمجھنے کے لئے قرآن وسنت کے حوالہ سے اگلے سفر کو شروع کریں۔

آیت خاتم النّبیین کی تفسیر

”مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيّٖنَ وَكَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمًا . (الاحزاب ۔ ۴۰)

محمدؐ باپ نہیں کسی کا تمہارے مردوں میں سے لیکن رسول ہے اللہ کا اور مہر سب نبیوں پر اور ہے اللہ سب چیزوں کا جاننے والا۔

شان نزول

اس آیت شریفہ کا شان نزول یہ ہے کہ آفتاب نبوت کے طلوع ہونے سے پہلے تمام

صفحہ ۳۶

عرب جن مضحکہ خیز اور تباہ کن رسومات قبیحہ میں مبتلا تھے ان میں سے ایک رسم یہ بھی تھی کہ متبنیٰ یعنی لے پالک بیٹے کو تمام احکام واحوال میں حقیقی اور نسبی بیٹا سمجھتے تھے۔ اور اسی کا بیٹا کہہ کر پکارتے تھے۔ اور مرنے کے بعد وراثت، رشتہ ناطہ، حلت وحرمت وغیرہ تمام احکام میں حقیقی بیٹا قرار دیتے تھے۔ جس طرح نسبی بیٹے کے مر جانے یا طلاق دینے کے بعد باپ کے لئے بیٹے کی بیوی سے نکاح حرام ہے اسی طرح وہ لے پالک کی بیوی سے بھی نکاح کو حرام قرار دیتے تھے وغیرہ وغیرہ۔

اسلام جو کہ دنیا میں اسی لئے آیا ہے کہ کفر وضلالت کی بیہودہ رسوم سے عالم کو پاک کرے۔ اس کا فرض تھا کہ وہ اس رسم کو بھی جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی فکر کرتا۔ چنانچہ اس نے اس کے لئے دو طریق اختیار کئے۔ ایک قولی اور دوسرا عملی۔ ایک طرف تو یہ اعلان فرما دیا۔

وَمَا جَعَلَ اَدْعِيَاءَ كُمْ اَبْنَاءَ كُمْ ذٰلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِاَفْوَاهِكُمْ وَاللّٰهُ يَقُوْلُ الْحَقَّ وَهُوَ يَهْدِى السَّبِيْلَ اُدْعُوْهُمْ لِاٰبَاءِ هِمْ هُوَ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰهِ . اور نہیں کیا تمھارے لے پالکوں کو تمھارے بیٹے، یہ تمھاری بات ہے اپنے منہ کی ،اور اللہ کہتا ہے ٹھیک بات اور وہی سمجھاتا ہے راہ، پکارو لے پالکوں کو ان کے باپ کی طرف نسبت کر کے یہی پورا انصاف ہے اللہ کے یہاں۔

(احزاب ۴، ۵)

اصل مدعا یہ تھا کہ شرکت نسب اور شرکت وراثت اور احکام حلت وحرمت وغیرہ میں اس کو بیٹا نہ سمجھا جائے۔ لیکن اس خیال کو باطل کرنے کے لئے یہ حکم دیا کہ متبنیٰ یعنی لے پالک بنانے کی رسم ہی توڑ دی جائے۔ چنانچہ اس آیت میں ارشاد ہو گیا کہ لے پالک کو اس کے باپ کے نام سے پکارو۔

نزول وحی سے پہلے آنحضرت ﷺ نے حضرت زید بن حارثہؓ کو (جو کہ آپؐ کے غلام تھے) آزاد فرما کر متبنیٰ بیٹا بنا لیا تھا اور تمام لوگ یہاں تک کہ صحابہ کرام بھی عرب کی قدیم رسم کے مطابق ان کو زید بن محمد کہہ کر پکارتے تھے۔

حضرت عبداللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں کہ جب آیت مذکورہ نازل ہوئی اس وقت سے ہم نے اس طریق کو چھوڑ کر ان کو زید بن حارثہ کہنا شروع کر دیا۔

صحابہ کرام اس آیت کے نازل ہوتے ہی اس رسم قبیح کو خیر باد کہہ چکے تھے۔ لیکن چونکہ کسی رسم ورواج کے خلاف کرنے میں اعزاء واقارب اور اپنی قوم وقبیلہ کے ہزاروں طعن

صفحہ ۳۷

تشنیع کا نشانہ بننا پڑتا ہے جس کا تحمل ہر شخص کو دشوار ہے۔ اس لئے خداوند عالم نے چاہا کہ اس عقیدہ کو اپنے رسول ہی کے ہاتھوں عملاً توڑا جائے۔ چنانچہ حضرت زیدؓ نے اپنی بیوی زینبؓ کو باہمی ناچاقی کی وجہ سے طلاق دے دی تو خداوند عالم نے اپنے رسول ﷺ کو حکم فرمایا کہ ان سے نکاح کر لیں۔ تاکہ اس رسم و عقیدہ کا کلیۃً استیصال ہو جائے۔ چنانچہ ارشاد ہوا:۔ "فَلَمَّا قَضٰى زَيْدٌ مِّنْهَا وَطَرًا زَوَّجْنٰكَهَا لِكَيْلا يَكُوْنَ عَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ حَرَجٌ فِىْ اَزْوَاجِ اَدْعِيَآئِهِمْ"

(الاحزاب ص ۳۷)

پس جب کہ زیدؓ زینبؓ سے طلاق دے کر فارغ ہو گئے تو ہم نے ان کا نکاح آپ ﷺ سے کر دیا تاکہ مسلمانوں پر اپنے لے پالک کی بیویوں کے بارے میں کوئی تنگی واقع نہ ہو۔

آپ ﷺ نے بامر خداوندی نکاح کیا۔ ادھر جیسا کہ پہلے ہی خیال تھا۔ تمام کفار عرب نے شور مچایا کہ لو اس نبی کو دیکھو کہ اپنے بیٹے کی بیوی سے نکاح کر بیٹھے۔ ان لوگوں کے طعنوں اور اعتراضات کے جواب میں آسمان سے یہ آیت نازل ہوئی "مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيّٖنَ"

جس میں یہ بتا دیا گیا کہ حضرت محمد ﷺ کسی بھی مرد کے نسبی باپ نہیں تو حضرت زیدؓ کے بھی نسبی باپ نہ ہوئے۔ لہٰذا آپ ﷺ کا ان کی سابقہ بیوی سے نکاح کر لینا بلا شبہ جائز اور مستحسن ہے اور اس بارے میں آپ ﷺ کو مطعون کرنا سراسر نادانی اور حماقت ہے۔

ان کے دعوے کے رد کے لئے اتنا کہہ دینا کافی تھا کہ آپ ﷺ حضرت زیدؓ کے باپ نہیں۔ لیکن خداوند عالم نے ان مطاعن کو مبالغہ کے ساتھ رد کرنے اور بے اصل ثابت کر نے کے لئے اس مضمون کو اس طرح بیان فرمایا کہ یہی نہیں کہ آپ ﷺ زیدؓ کے باپ نہیں۔ بلکہ آپ ﷺ تو کسی بھی مرد کے باپ نہیں۔ پس ایک ایسی ذات پر جس کا کوئی بیٹا ہی موجود نہیں یہ الزام لگانا کہ اس نے اپنے بیٹے کی بیوی سے نکاح کر لیا کس قدر ظلم اور کج روی ہے۔

اور اگر کہو کہ آنحضرت ﷺ کے چار فرزند ہوئے ہیں۔ قاسم اور طیب اور طاہر حضرت خدیجہؓ سے اور ابراہیم ماریہ قبطیہؓ کے بطن سے۔ پھر یہ ارشاد کیسے صحیح ہوگا کہ آپ ﷺ کسی مرد کے باپ نہیں؟

صفحہ ۳۸

تو اس کا جواب خود قرآن کریم کے الفاظ میں موجود ہے۔ کیونکہ اس میں یہ فرمایا گیا ہے کہ آپ ﷺ کسی مرد کے باپ نہیں اور آپ ﷺ کے چار فرزند بچپن میں ہی وفات پا گئے تھے۔ ان کو مرد کہے جانے کی نوبت ہی نہیں آئی۔ آیت میں ”رِجَالِكُمْ“ کی قید اسی لئے بڑھائی گئی ہے۔ بالجملہ اس آیت کے نزول کی غرض آنحضرت ﷺ سے کفار و منافقین کے اعتراضات کا اٹھانا اور آپ ﷺ کی برأت اور عظمت شان بیان فرمانا ہے اور یہی آیت کا شان نزول ہے۔ اس کے بعد ارشاد ہوتا ہے ”ولکن رسول الله وخاتم النبیین“ لیکن رسول ہے اللہ کا اور مہر سب نبیوں پر۔

خاتم النبیین کی قرآنی تفسیر

اب سب سے پہلے دیکھیں کہ قرآن مجید کی رو سے اس کا کیا ترجمہ وتفسیر کیا جانا چاہئے چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ لفظ ”ختم“ کا مادہ قرآن مجید میں سات مقامات پر استعمال ہوا ہے۔

ان ساتوں مقامات کے اول و آخر، سیاق و سباق کو دیکھ لیں ختم کے مادہ کا لفظ جہاں کہیں استعمال ہوا ہے ان تمام مقامات پر قدر مشترک یہ ہے کہ کسی چیز کو ایسے طور پر بند کرنا۔ اس کی ایسی بندش کرنی کہ باہر سے کوئی چیز اس میں داخل نہ ہو سکے۔ اور اندر سے کوئی سی چیز باہر نہ نکالی جا سکے۔ وہاں پر ختم کا لفظ استعمال ہوا ہے مثلاً پہلی آیت کو دیکھیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کافروں کے دلوں پر مہر کر دی۔ کیا معنی؟ کہ کفر ان کے دلوں سے باہر نہیں نکل سکتا۔ اور باہر سے ایمان انکے دلوں میں داخل نہیں ہو سکتا۔ تو فرمایا ختم الله علی قلوبھم ۔

صفحہ ۳۹

اب زیر بحث آیت خاتم النبیین کا اس قرآنی تفسیر کے اعتبار سے ترجمہ کریں تو اسکا معنی ہو گا کہ رحمت دو عالم ﷺ کی آمد پر حق تعالیٰ نے انبیاء علیہم السلام کے سلسلہ پر ایسی بندش کردی، مہر لگادی کہ اب کسی کو نہ اس سلسلہ سے نکالا جاسکتا ہے اور نہ کسی نئے شخص کو سلسلہ نبوت میں داخل کیا جاسکتا ہے۔ فہو المقصود۔

خاتم النبیین کی نبوی تفسیر

آنحضرت ﷺ نے خاتم النبیین کی تفسیر ”لا نبی بعدی“ کے ساتھ وضاحت سے فرمادی۔ آپ ﷺ کی معروف حدیث شریف جس کا آخری جملہ ہے ”انا خاتم النبیین لا نبی بعدی “ اس کا حوالہ اور اس کی وضاحت آگے آرہی ہے سر دست یہاں فریق مخالف کے سامنے اس کے گرو مرزا قادیانی کے ایک حوالہ پر اکتفا کیا جاتا ہے۔ مرزا لکھتا ہے۔

”قال الله عز وجل مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّنَ ، الا تعلم ان الرب الرحيم المتفضل سَمّٰی نَبِيَّنَا ﷺ خاتم الانبیاء بغیر استثناء ،وفسّره نبيّنا في قوله لا نبىّ بعدى بيان واضح للطالبين .

(حمامۃ البشریٰ خ ص ۲۰۰ ج ۷)

دیکھئے کس طرح مرزا قادیانی صراحت اور وضاحت کر رہا ہے کہ خاتم النبیین کی تفسیر حضور ﷺ نے واضح بیان کے ساتھ لا نبی بعدی سے کردی ہے۔ لیکن حیرت ہے کہ قادیانی گروہ نہ اپنے گرو گھنٹال مرزا کا ترجمہ مانتا ہے اور نہ رحمت دو عالم ﷺ کے ترجمہ و تفسیر کو ماننے کے لئے آمادہ ہے۔ فیا للعجب !

خاتم النبیین کی تفسیر صحابہ کرام سے

حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین اور تابعین رحمہم اللہ کا مسئلہ ختم نبوت کے متعلق کیا موقف تھا۔ خاتم النبیین کا ان کے نزدیک کیا ترجمہ تھا؟ اس کے لئے مفتی محمد شفیعؒ کی کتاب ختم نبوت کامل کے تیسرے حصہ کا مطالعہ فرمائیں۔ یہاں پر صرف دو صحابہ کرام کی آراء مبارکہ درج کی جاتی ہیں۔ امام ابو جعفر ابن جریر طبریؒ اپنی عظیم الشان تفسیر ص ۱۱ ج ۲۲‘ میں حضرت قتادہؓ سے خاتم النبیین کی تفسیر میں روایت فرماتے ہیں:

صفحہ ۴۰

”عن قتادۃ ولکن رسول اللّٰہ وخاتم النبیین ایٰ آخرھم“ حضرت قتادہ کا یہ قول شیخ جلال الدین سیوطیؒ نے تفسیر در منثور میں عبد الرزاق اور عبد ابن حمید اور ابن منذر اور ابن ابی حاتم سے بھی نقل کیا ہے۔

(درمنثور ص ۲۰۴ ج ۵)

اس قول نے بھی صاف وہی بتلا دیا جو ہم اوپر قرآن عزیز اور احادیث سے نقل کر چکے ہیں کہ خاتم النبیین کے معنی آخر النبیین کے ہیں۔ کیا اس میں کہیں تشریعی ، غیر تشریعی ظلی ، بروزی کی کوئی تفصیل ہے؟ نیز عبد اللہ بن مسعودؓ کی قرأت ہی اس آیت میں ”ولکن نبیاً ختم النبیین“ ہے جو خود اسی معنیٰ کی طرف ہدایت کرتی ہے جو بیان کئے گئے۔ اور سیوطیؒ نے در منثور میں بحوالہ عبد بن حمید حضرت حسنؓ سے نقل کیا ہے۔

”عن الحسن فی قولہ وخاتم النبیین قال خَتَمَ اللّٰہُ النبیین بِمُحمد ﷺ وکان آخر مَنْ بُعِثَ“

(در منثور ص ۲۰۴ ج ۵)

حضرت حسنؓ سے آیت خاتم النبیین کے بارے میں یہ تفسیر نقل کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء علیہم السلام کو محمد ﷺ پر ختم کر دیا اور آپ ﷺ ان رسولوں میں سے آخری ہیں جو اللہ کی طرف سے مبعوث ہوئے۔

کیا اس جیسی وضاحتوں ، صراحتوں کے بعد بھی آیت میں کسی شک یا تاویل کی گنجائش ہے؟ یا ظلی ، بروزی وغیرہ کی تاویل چل سکتی ہے؟ نہیں اور ہرگز نہیں۔

خاتم النّبیین اور اصحابِ لغت

خاتم النّبیین (”ت“ کی زبر یا زیر) کے معنی کے سلسلہ میں قرآن وحدیث کی تصریحات اور صحابہ و تابعین اور ائمہ سلف کی شہادتوں سے بھی صرف نظر کر لی جائے اور فیصلہ صرف لغت عرب پر رکھ دیا جائے۔ تب بھی لغت عرب یہ فیصلہ دیتا ہے کہ آیت مذکورہ کی پہلی قرأت پر دو معنی ہو سکتے ہیں۔ آخر النبیین اور نبیوں کے ختم کرنے والے۔ اور دوسری قرأت پر ایک معنی ہو سکتے ہیں یعنی آخر النبیین۔

لیکن اگر حاصل معنی پر غور کیا جائے تو دونوں کا خلاصہ صرف ایک ہی نکلتا ہے۔ اور بلحاظ مراد کہا جا سکتا ہے کہ دونوں قرأتوں پر آیت کے معنی لغۃً یہی ہیں کہ آپ ﷺ سب

صفحہ ۴۱

انبیاء کے آخر ہیں۔ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی پیدا نہیں ہوسکتا۔ جیسا کہ تفسیر روح المعانی میں بتصریح موجود ہے۔ ”والخاتَم اسم آلة لما يُخْتَمُ به کا لطابع لما يُطْبَعُ به فمعنی خاتم النبيين الذی ختم النبيون به ومآله آخر النبيين (روح المعانی ص ۵۹ ج ۷) اور خاتم بالفتح اسم آلہ کا نام ہے جس سے مہر لگائی جائے ۔ پس خاتم النبیین کا معنی یہ ہوں گے ”وہ شخص جس پر انبیاء ختم کئے گئے“ اور اس معنی کا نتیجہ بھی یہی آخر النبیین ہے۔

اور علامہ احمد معروف بہ ملا جیون نے اپنی تفسیر احمدی میں اسی لفظ کے معنی کی تفسیر کرتے ہوئے لکھا ہے۔

”والمآل علىٰ کُلِّ توجيه هو المعنی الآخر ولذالک فسَّرَ صاحبُ المدارک قرأة عاصم بالآخر و صاحبُ البیضاوی کُلَّ القرأتین بالآخر“

اور نتیجہ دونوں صورتوں میں بالفتح وبالکسر صرف آخری کے معنی ہیں۔ اور اسی لئے صاحب تفسیر مدارک نے قرأت عاصم یعنی بالفتح کی تفسیر آخر کے ساتھ کی ہے اور بیضاوی نے دونوں قرأتوں کی یہی تفسیر کی ہے۔

روح المعانی اور تفسیر احمدی کی ان عبارتوں سے یہ بات بالکل روشن ہوگئی۔ کہ لفظ خاتم کے دو معنی آیت میں بن سکتے ہیں ۔ ان کا بھی خلاصہ اور نتیجہ صرف ایک ہی ہے۔ یعنی آخرُ النبیین اور اسی بنا پر بیضاویؒ نے دونوں قرأتوں سے ترجمہ میں کوئی فرق نہیں کیا۔ بلکہ دونوں صورتوں میں آخر النبیین تفسیر کی ہے۔

خداوند عالم ائمہ لغت کو جزاء خیر عطا فرمائے کہ انھوں نے صرف اسی پر بس نہیں کی کہ لفظ خاتم کے معنی کو جمع کر دیا۔ بلکہ تصریحاً اس آیت شریفہ کے متعلق جس پر اس وقت ہماری بحث ہے صاف طور پر بتلا دیا کہ تمام معانی میں سے جو لفظ خاتم میں لغۃً محتمل ہے اس آیت میں صرف یہی معنی ہو سکتے ہیں کہ آپ ﷺ سب انبیاء کے ختم کرنے والے اور آخری نبی ہیں۔ خدائے علیم و خبیر ہی کو معلوم ہے کہ لغت عرب پر آج تک کتنی کتابیں چھوٹی بڑی اور

صفحہ ۴۲

معتبر و غیر معتبر لکھی گئیں۔ اور کہاں کہاں اور کس صورت میں موجود ہیں۔ ہمیں نہ ان سب کے جمع کرنے کی ضرورت ہے اور نہ یہ کسی بشر کی طاقت ہے۔ بلکہ صرف اُن چند کتابوں سے جو عرب وعجم میں مسلم الثبوت اور قابل استدلال سمجھی جاتی ہیں ”مُشتے نمونہ از خروارے“ ہدیہ ناظرین کر کے یہ دکھلانا چاہتے ہیں کہ لفظ خاتم بالفتح اور بالکسر کے معنی میں سے ائمہ لغت نے آیت مذکورہ میں کون سے معنی تحریر کئے ہیں۔

مفردات القرآن

یہ کتاب امام راغب اصفہانیؒ کی وہ عجیب تصنیف ہے کہ اپنی نظیر نہیں رکھتی ۔ خاص قرآن کے لغات کو نہایت عجیب انداز سے بیان فرمایا ہے۔ شیخ جلال الدین سیوطیؒ نے اتقان میں فرمایا ہے کہ لغات قرآن میں اس سے بہتر کتاب آج تک تصنیف نہیں ہوئی۔ آیت مذکو رہ کے متعلق اس کے الفاظ یہ ہیں۔

”وَخَاتَمُ النبیین لانه خَتَمَ النُّبوةَ اَىْ تَمَّمَها بِمَجِيئهِ

(مفردات راغب ص۱۴۲)

آنحضرت ﷺ کو خاتم النبیین اس لئے کہا جاتا ہے کہ آپ ﷺ نے نبوت کو ختم کر دیا یعنی آپ ﷺ نے تشریف لا کر نبوت کو تمام فرما دیا۔

المحکم لابن سیدہ

عرب کی وہ معتمد کتاب ہے جس کو علامہ سیوطیؒ نے ان معتبرات میں شمار کیا ہے جن پر قرآن کے بارے میں اعتماد کیا جا سکے۔

”وَخَاتَمُ كُلِّ شَىءٍ وَخَاتِمَتُه عَاقِبَتُه وَ آخِرُه“ از لسان العرب ۔ اور خاتم اور خاتمہ ہر شے کے انجام اور آخر کو کہا جاتا ہے۔

تہذیب الازہری

اس کو بھی سیوطیؒ نے معتبر لغات میں شمار کیا ہے۔ اس میں لکھا ہے۔

”وَالخَاتِم والخَاتَم من اسماء النبى ﷺ وفى التنزيل العزيز ما كان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين اى آخرهم“ از لسان العرب

صفحہ ۴۳

خاتم بالکسر اور خاتم بالفتح دونوں نبی کریم ﷺ کے ناموں میں سے ہیں اور قرآن عزیز میں ہے کہ نہیں ہے محمد ﷺ تمھارے مردوں میں سے کسی کے باپ لیکن اللہ تعالیٰ کے رسول اور خاتم النبیین یعنی سب نبیوں میں آخری نبی ہیں۔

اس میں کس قدر صراحت کے ساتھ بتلایا گیا کہ خاتم بالکسر اور خاتم بالفتح دونوں آنحضرت ﷺ کے نام ہیں۔ اور قرآن مجید میں خاتم النبیین سے آخر النبیین مراد ہے۔ کیا ائمہ لغت کی اتنی تصریحات کے بعد بھی کوئی منصف اس معنی کے سوا اور کوئی معنی تجویز کرسکتا ہے؟

لسان العرب

لغت کی مقبول کتاب، عرب وعجم میں مستند مانی جاتی ہے۔ اس کی عبارت یہ ہے : "خاتِمُهم وخاتَمُهم آخِرُهُم عن اللحیانی ومحمّد ﷺ خاتم الانبیاء عليه وعليهم الصلوة والسلام .

خاتم القوم بالکسر اور خاتم القوم بالفتح کے معنی آخر القوم ہیں اور انھیں معانی پر لحیانی سے نقل کیا جاتا ہے، محمد ﷺ خاتم الانبیاء یعنی آخر الانبیاء ہیں۔

اس میں بھی بوضاحت بتلایا گیا کہ بالکسر کی قرأت پڑھی جائے یا بالفتح کی ہر صورت میں خاتم النبیین اور خاتم الانبیاء کے معنی آخر النبیین اور آخر الانبیاء ہوں گے۔

لسان العرب کی اس عبارت سے ایک قاعدہ بھی مستفاد ہوتا ہے کہ اگرچہ لفظ خاتم بالفتح اور بالکسر دونوں کے بحیثیت نفس لغت بہت سے معانی ہو سکتے ہیں لیکن جب قوم یا جماعت کی طرف اس کی اضافت کی جاتی ہے تو اس کے معنی صرف آخر اور ختم کرنے والے کے ہوتے ہیں۔ غالباً اسی قاعدہ کی طرف اشارہ کرنے کے لئے لفظ خاتم کو تنہا نہیں۔ بلکہ قوم اور جماعت کی ضمیر کی طرف اضافت کے ساتھ بیان کیا ہے۔

لغت عرب کے تتبع (تلاش) کرنے سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ لفظ خاتم بالکسر یا بالفتح جب کسی قوم یا جماعت کی طرف مضاف ہو تو اس کے معنی آخری کے ہوتے ہیں۔ آیت مذکورہ میں بھی خاتم کی اضافت جماعت ”نبیین“ کی طرف ہے۔ اسی لئے اس کے معنی آخر النبیین اور نبیوں کے ختم کرنے والے کے علاوہ اور کچھ نہیں ہو سکتے۔ اس قاعدہ کی تائید تاج العروس شرح قاموس سے بھی ہوتی ہے۔ وهو هذا .

صفحہ ۴۴

تاج العروس

تاج العروس شرح قاموس (للعلامہ الزبیدی) نے لحیانی سے نقل کیا ہے ﷺ

”ومن اسمائہ علیہ السلام الخاتِم والخاتَم وَهو الذی خَتَمَ النبوةَ بمجیئہ‘ اور آنحضرت ﷺ کے اسماء مبارکہ میں سے خاتم بالکسر اور خاتم بالفتح بھی ہے اور خاتم وہ شخص ہے جس نے اپنے تشریف لانے سے نبوت کو ختم کر دیا ہو۔

مجمع البحار

جس میں لغات حدیث کو معتمد طریق سے جمع کیا گیا ہے۔ اس کی عبارت درج ذیل ہے۔

” الخاتَمُ وَالخاتِمُ من اسمائہ ﷺ بالفتح اسم اى آخرُھم وبالکسر اسم فاعل .

(مجمع البحار ص ۱۵ ج ۲)

خاتم بالفتح اور خاتم بالکسر نبی ﷺ کے ناموں میں سے ہے۔ بالفتح اسم ہے جس کے معنی آخر کے ہیں۔ اور بالکسر اسم فاعل کا صیغہ ہے جس کے معنی تمام کرنے والے کے ہیں۔

”خاتم النبوة بكسر التاء اى فاعل الختم وهو الاتمام وبفتحها بمعنى الطابع اى شىءٌ يدُلُّ عَلى اَنه لا نبي بعدَه .

(مجمع البحار ص ۱۵ ج ۳)

خاتم النبوۃ ”تا“ کے کسرہ کیساتھ بمعنی تمام کرنے والا اور ”ت“ کے فتحہ کیساتھ بمعنی مہر یعنی وہ شے جو اس پر دلالت کرے کہ آپؐ کے بعد کوئی نبی نہیں۔

قاموس میں ہے

”والخاتم آخر القوم كا لخاتم ومنه قوله تعالىٰ وخاتم النبيين اى آخرهم اور خاتم بالکسر اور بالفتح قوم میں سب سے آخر کو کہا جاتا ہے اور اسی معنی میں ہے اللہ تعالیٰ کا ارشاد خاتم النبیین یعنی آخر النبیین ۔

اس میں لفظ قوم بڑھا کر قاعدہ مذکورہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ نیز مسئلہ زیر بحث کا بھی نہایت وضاحت کے ساتھ فیصلہ کر دیا ہے۔

صفحہ ۴۵

کلیات ابی البقاء

لغت عرب کی مشہور و معتمد کتاب ہے اس میں مسئلہ زیر بحث کو سب سے زیادہ واضح کر دیا ہے۔ ص ۳۱۹ پر ملاحظہ ہو:

وتسمية نبينا خاتم الانبياء لان الخاتم آخر القوم قال الله تعالى ما كان محمدا ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين .

اور ہمارے نبی ﷺ کا نام خاتم الانبیاء اس لئے رکھا گیا کہ خاتم آخر قوم کو کہتے ہیں۔ (اور اسی معنی میں) خداوند عالم نے فرمایا ہے ما کان محمد الآیۃ ۔

اس میں نہایت صاف کر دیا گیا ہے کہ آپ ﷺ خاتم الانبیاء ہیں اور خاتم النبیین نام رکھنے کی وجہ ہی یہ ہے کہ ”خاتم“ خاتم القوم کو کہا جاتا ہے اور آپ ﷺ آخر النبیین ہیں۔ نیز ابوالبقاء نے اس کے بعد کہا ہے کہ۔

”و نفی العام يستلزم نفی الاخص“ اور عام کی نفی خاص کی نفی کو بھی مستلزم ہے جس کی غرض یہ ہے کہ نبی عام ہے۔ تشریعی ہو یا غیر تشریعی ۔ رسول خاص تشریعی کے لئے بولا جاتا ہے ۔ اور آیت میں جبکہ عام یعنی نبی کی نفی کر دی گئی تو خاص یعنی رسول کی بھی نفی ہونا لازمی ہے۔ لہٰذا معلوم ہوا کہ اس آیت سے تشریعی اور غیر تشریعی ہر قسم کے نبی کا اختتام اور آپ ﷺ کے بعد پیدا ہونے کی نفی ثابت ہوتی ہے۔ جو لوگ آیت میں تشریعی اور غیر تشریعی کی تقسیم گھڑتے ہیں علامہ ابوالبقاء نے پہلے ہی سے ان کے لئے رد تیار رکھا ہے۔

صحاح العربیۃ للجوهری

جس کی شہرت محتاج بیان نہیں۔ اس کی عبارت یہ ہے

”والخاتِم والخاتَم بكسر التاء وفتحها الخِيْتَامُ والخِتَام كله بمعنى والجمع الخواتيم وخاتمة الشيء آخره ومحمد ﷺ خاتم الانبياء عليهم السلام .

اور خاتم اور خاتَم ”ت“ کے زیر اور زبر دونوں سے اور ایسے ہی خیتام اور خاتام سب کے معنی ایک ہیں۔ اور جمع خواتیم آتی ہے اور خاتمہ کے معنی آخر کے ہیں

صفحہ ۴۶

اور اسی معنی میں محمد ﷺ کو خاتم الانبیاء علیہم السلام کہا جاتا ہے۔

اس میں تصریح کر دی گئی ہے کہ خاتم اور خاتم بالکسر و بالفتح دونوں کے ایک معنی ہیں۔

یعنی آخر قوم۔

منتہی الارب

میں خاتم کے متعلق لکھا ہے ”خاتم کصاحب المہر و انگشتری، و آخر ہر چیزے و پایاں آں و آخر قوم و خاتم بالفتح مثلہ و محمد خاتم الانبیاء ﷺ علیہ و علیہم اجمعین“

صراح

میں لکھا ہے ”خاتمة الشیء آخره و محمد خاتم الانبیاء بالفتح صلوات اللہ علیہ و علیہم اجمعین “

خاتمہ شے کے معنی آخر شے کے ہیں اور اسی معنی میں محمد ﷺ خاتم الانبیاء ہیں۔

لغت عرب کے غیر محدود دفتر میں سے یہ ائمہ لغت کے چند اقوال بطور نمونہ پیش کئے گئے ہیں۔ جن سے انشاء اللہ تعالیٰ ناظرین کو یقین ہو گیا ہو گا کہ از روئے لغت عرب، آیت مذکورہ میں خاتم النبیین کے معنی آخر النبیین کے سوا اور کچھ نہیں ہو سکتے۔ اور لفظ خاتم کے معنی آیت میں آخر اور ختم کرنے والے کے علاوہ ہرگز مراد نہیں بن سکتے ۱؎

یہاں تک بحمد اللہ یہ بات بالکل روشن ہو چکی ہے کہ آیت مذکورہ میں خاتم بالفتح اور بالکسر کے حقیقی معنی صرف دو ہو سکتے ہیں۔ اور اگر بالفرض مجازی معنی بھی مراد لئے جائیں تو اگرچہ اس جگہ حقیقی معنی کے درست ہوتے ہوئے اس کی ضرورت نہیں لیکن بالفرض اگر ہوں تب بھی خاتم کے معنی مہر کے ہونگے۔ اور اس وقت آیت کے معنی یہ ہونگے کہ آپ ﷺ انبیاء پر مہر کرنے والے ہیں۔

۱؎ قادیانی اس موقع پر مغالطہ دیتے ہیں کہ خاتم ت کے فتحہ کے ساتھ کے معنی ”ختم کرنے والا نہیں ہو سکتے۔ کیوں کہ یہ اسم فاعل نہیں ہے چونکہ فتحہ کے ساتھ ہے اس لئے اس کے معنی ”افضل“ کے ہونگے۔ الجواب۔ زبان عرب کے جملہ محققین میں سے کسی ایک نے بھی لفظ خاتم کا معنی افضل نہیں لکھا۔ خواہ ’ت‘ کے زبر کے ساتھ ہو یا زیر کے ساتھ چونکہ قادیانی اپنی نادانی اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے بعض عبارتوں اور روایتوں میں لفظ خاتم کا ترجمہ ”افضل“ بیان کر کے مغالطہ دیتے ہیں، اس لئے محققین زبان نے زیر بحث آیت میں بوضاحت زیر اور زبر دونوں کا معنی ”آخر“ اور ”ختم کرنے والا“ بیان کر کے، مرزائیوں کے منہ پر ایک زناٹے دار طمانچہ رسید کیا ہے۔

صفحہ ۴۷

خاتم النبیین اور قادیانی جماعت

قرآن وسنت صحابہ کرام اور اصحاب لغت کی لفظ خاتم النبیین کی وضاحت کے بعد اب قادیانی جماعت کے موقف کو دیکھیں۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ خاتم النبیین کا معنی ”نبیوں کی مہر“ کے ہیں یعنی پہلے اللہ تعالیٰ نبوت عنایت فرماتے تھے، اب اللہ تعالیٰ کی مرضی کا دخل نہیں بلکہ حضور ﷺ کی اتباع اصل ہے اب آنحضرت کی اتباع سے نبوت ملا کرے گی، جو شخص حضور ۱؎ کی کامل اتباع کرے گا آپ اس پر مہر لگا دیں گے۔ تو وہ نبی بن جائے گا۔

ہمارے نزدیک قادیانی جماعت کا یہ موقف سراسر فاسد، باطل، بیدینی، تحریف، دجل وافتراء، کذب وجعل سازی پر مبنی ہے حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب نے اس موقع پر کیا خوب چیلنج کیا، آپ فرماتے ہیں:

”اگر مرزا صاحب اور انکی امت کوئی صداقت رکھتے ہیں تو لغت عرب اور قواعد عربیت سے ثابت کریں کہ خاتم النبیین کے معنی یہ ہیں کہ آپ ﷺ کی مہر سے انبیاء بنتے ہیں۔ لغت عرب کے طویل وعریض دفتر میں سے زائد نہیں صرف ایک نظیر اس کی پیش کردیں، یا کسی ایک لغوی اہل عربیت کے قول میں یہ معنی دکھلادیں۔ اور مجھے یقین ہے کہ ساری مرزائی جماعت مع اپنے نبی اور ابن نبی کے اس کی ایک نظیر کلام عرب یا اقوال لغویین میں نہ دکھا سکیں گے“

(ختم نبوت کامل)

خود مرزا صاحب نے (اپنی کتاب برکات الدعا، در روحانی خزائن ص ۱۷، ۱۸، ج ۶ میں) جو تفسیر قرآن کے معیار میں سب سے پہلے نمبر پر قرآن مجید کو اور دوسرے پر احادیث نبی کریم اور تیسرے پر اقوال صحابہ کرامؓ کو رکھا ہے، اگر یہ صرف ہاتھی کے دکھانے کے دانت نہیں تو خدارا خاتم النبیین کی اس تفسیر کو قرآن کی کسی ایک آیت میں دکھلائیں۔ اور اگر یہ نہیں ہو سکتا تو۔

۱؎ خلاصہ بیان مرزا قادیانی مندرجہ حقیقت الوحی در خزائن ص ۱۰۰ در حاشیہ۔

صفحہ ۴۸

احادیث نبویہ کے اتنے وسیع و عریض دفتر میں سے کسی ایک حدیث میں یہ تفسیر دکھلائیں۔ پھر ہم یہ بھی نہیں کہتے کہ صحیحین کی حدیث ہو یا صحاح ستہ کی بلکہ کسی ضعیف سے ضعیف میں دکھلا دو کہ نبی کریم ﷺ نے خاتم النبیین کے یہ معنی بتلائے ہوں کہ آپ کی مہر سے انبیاء بنتے ہیں۔ اور اگر یہ بھی نہیں ہو سکتا (اور ہرگز نہ ہو سکے گا) تو کم از کم کسی صحابی کسی تابعی کا قول ہی پیش کرو جس میں خاتم النبیین کے یہ معنی بیان کیے ہوں لیکن مجھے معلوم ہے۔

نہ خنجر اٹھے گا نہ تلوار ان سے یہ بازو میرے آزمائے ہوئے ہیں

مرزائیوں کو کھلا چیلنج

اے مرزائی جماعت اور اس کے مقتدر ارکان! اگر تمھارے دعوے میں کوئی صداقت کی بو اور قلب میں کوئی غیرت ہے تو اپنی ایجاد کردہ تفسیر کا کوئی شاہد پیش کرو۔ اس کی کوئی نظیر پیش کرو! اور اگر ساری جماعت مل کر قرآن کے تیس پاروں میں سے کسی ایک آیت میں، احادیث کے غیر محصور دفتر میں سے کسی ایک حدیث میں اگر چہ ضعیف ہی ہو ،صحابہ کرام و تابعین کے بے شمار آثار میں سے کسی ایک قول میں یہ دکھلا دے کہ خاتم النبیین کے یہ معنی ہیں کہ آپ کی مہر سے انبیاء بنتے ہیں تو وہ نقد انعام وصول کر سکتے ہیں

صلائے عام ہے یاران نکتہ داں کے لئے

لیکن میں بحول اللہ وقوتہ اعلاناً کہہ سکتا ہوں کہ اگر مرزا صاحب اور ان کی ساری امت مل کر ایڑی چوٹی کا زور لگائیں گے تب بھی ان میں سے کوئی ایک چیز پیش نہ کر سکیں گے ”وَلَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِيراً“ بلکہ اگر کوئی دیکھنے والی آنکھیں اور سننے وا لے کان رکھتا ہے تو قرآن عزیز کی نصوص اور احادیث نبویہ کی تصریحات اور صحابہ کرام اور تابعین کے صاف صاف آثار سلف صالحین اور ائمہ تفسیر کے کھلے کھلے بیانات اور لغت عرب اور قواعد عربیت کا واضح فیصلہ، سب کے سب اس تحریف کی تردید کرتے ہیں۔ اور اعلان کرتے ہیں کہ آیت خاتم النبیین کے وہ معنی جو مرزائی فرقہ نے گھڑے ہیں باطل ہیں۔

۱؎ یاد رکھئے مرزا کا اصول ہے ”سچ کی یہی نشانی ہے کہ اسکی کوئی نظیر بھی ہوتی ہے اور جھوٹ کی یہ نشانی ہے کہ اسکی کوئی نظیر

نہیں ہوتی (خ ص ۹۵ ج ۱۷) لہٰذا مرزا کا من گھڑت معنی اسکے اصول کے مطابق غلط ہے تا آنکہ کوئی نظیر پیش کرے۔

صفحہ ۴۹

قادیانی ترجمہ کے وجوہ ابطال

القوم اور آخر القوم کے بھی یہی معنی ہوں کہ اس کی مہر سے قوم بنتی ہے اور خاتم المہاجرین کے یہ معنی ہوں کہ اس کی مہر سے مہاجرین بنتے ہیں۔

”اور ختم کرنے والا ہے نبیوں کا“ (ازالہ اوہام خ ص ۳۴۱ ج ۳)

مضاف کیا ہے ملاحظہ فرمائیے اس کی ایک مثال۔ ” میرے ساتھ ایک لڑکی پیدا ہوئی تھی جس کا نام جنت تھا اور پہلے وہ لڑکی پیٹ میں سے نکلی تھی اور بعد اسکے میں نکلا تھا اور میرے بعد میرے والدین کے گھر میں اور کوئی لڑکی یا لڑکا نہیں ہوا۔ اور میں ان کے لئے خاتم الاولاد تھا“ (تریاق القلوب خ ص ۱۵۷ ج ۱۵)

اگر خاتم الاولاد کا ترجمہ ہے کہ مرزا اپنے ماں باپ کے ہاں آخری ولد تھا مرزا کے بعد اسکے ماں باپ کے یہاں کوئی لڑکی یا لڑکا ، صحیح یا بیمار، چھوٹا یا بڑا، ظلی ، بروزی کسی قسم کا پیدا نہیں ہوا تو خاتم النبیین کا بھی یہی ترجمہ ہوگا کہ رحمت دو عالم ﷺ کے بعد کوئی ظلی بروزی مستقل غیر مستقل کسی قسم کا کوئی نبی نہیں بنایا جائے گا۔

اور اگر خاتم النبیین کا معنی ہے کہ حضور ﷺ کی مہر سے نبی بنیں گے تو خاتم الاولاد کا بھی یہی ترجمہ مرزائیوں کو کرنا ہوگا کہ مرزا کی مہر سے مرزا کے والدین کے ہاں بچے پیدا ہونگے۔ اس صورت میں مرزا کے بعد مرزا کا باپ فارغ۔ اب مرزا صاحب مہر لگاتے جائیں گے اور مرزا صاحب کی ماں بچے جنتی چلی جائے گی۔ ہے ہمت تو کریں مرزائی یہ ترجمہ۔

الجھا ہے پاؤں یار کا زلف دراز میں

جمع کے صیغے کی طرف مضاف ہوا ہو اور پھر اس کے معنی بند کرنے والے کے ہوں ۔ انھیں چاہئے کہ مرزا کی تحریروں کے آئینہ میں اپنا منہ دیکھیں اور پہلے اپنی اصلاح کریں یا پھر اپنے جھوٹے نبی کی ! لغویین ، محدثین اور مفسرین سے قطع نظر خود مرزا سے خدائے کارساز نے آیت اور محاورہ دونوں طور پر لفظ خاتم کا استعمال کرا دیا ہے، جس کے معنی آخر کے ہی بنتے ہیں۔ فللہ الحمد

صفحہ ۵۰

تک کوئی نبی نہیں بنا خود مرزا نے لکھا حقیقت الوحی خ ص ۲۰۶ ج ۲۲ پر ہے:

’’غرض اس حصہ کثیر وحی الٰہی اور امور غیبیہ میں اس امت میں سے میں ہی ایک فرد مخصوص ہوں اور جس قدر مجھ سے پہلے اولیاء اور ابدال اور اقطاب اس اُمت میں سے گزر چکے ہیں انکو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیا گیا۔ پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیا گیا اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں‘‘

اس عبارت سے یہ ثابت ہوا کہ چودہ سو سال میں صرف مرزا کو ہی نبوت ملی اور پھر مرزا کے بعد قادیانیوں میں خلافت نام نہاد ہے نبوت نہیں اس لحاظ سے بقول قادیانیوں کے حضور ﷺ کی مہر سے صرف مرزا ہی نبی بنا تو گویا حضور خاتم النبی ہوئے خاتم النبیین نہ ہوئے، چنانچہ مرزا محمود نے لکھا ہے:

’’ایک بروز محمدی جمیع کمالات محمدیہ کے ساتھ آخری زمانہ کے لئے مقدر تھا سو وہ ظاہر ہو گیا‘‘

(ضمیمہ حقیقت النبوۃ ص ۲۶۸)

بننے مراد لئے جائیں تو آپ آئندہ کے نبیوں کے لئے خاتم ہوئے سیدنا آدم علیہ السلام سے لیکر سیدنا عیسیٰ علیہ السلام تک کے لئے آپ ﷺ خاتم النبیین نہ ہوئے اس اعتبار سے یہ بات قرآنی منشاء کے صاف صاف خلاف ہے۔

خاتم النبیین کا قادیانی معنی۔ یہ اس لحاظ سے بھی غلط ہے کہ خود مرزا قادیانی لکھتا ہے:

’’اب میں بموجب آیۃ کریمہ و اما بنعمۃ ربک فحدث اپنی نسبت بیان کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے مجھے اُس تیسرے درجہ میں داخل کر کے وہ نعمت بخشی ہے کہ جو میری کوشش سے نہیں بلکہ شکم مادر میں ہی مجھے عطا کی گئی ہے‘‘

(حقیقت الوحی خ ص ۷۰ ج ۲۲)

صفحہ ۵۱

لیجئے! خاتم النبیین کا معنی نبیوں کی مہر۔ وہ لگے گی اتباع کرنے سے۔ وہ صرف مرزا پر لگی۔ اس لئے آپ خاتم النبی ہوئے۔ اب اس حوالہ میں مرزا نے کہہ دیا کہ جناب اتباع سے نہیں بلکہ شکم مادر میں مجھے یہ نعمت ملی۔ تو گویا خاتم النبیین کی مہر سے آج تک کوئی نبی نہیں بنا تو خاتم النبیین کا معنی نبیوں کی مہر کرنے کا کیا فائدہ ہوا؟

قادیانیوں سے ایک سوال

ایک دفعہ مناظرہ میں فقیر نے ایک قادیانی سے سوال کیا کہ اگر آنحضرت ﷺ کی اتباع سے نبوت مل سکتی ہے تو آنحضرت ﷺ کی اتباع سے نجات بھی مل سکتی ہے یا نہیں؟ قادیانی نے کہا ہو سکتی ہے۔ تو میں نے کہا جب آنحضرت ﷺ کی اتباع سے نجات ہو سکتی ہے تو پھر مرزا کو ماننے کی کیا ضرورت ہے؟ وہ چکرا گیا اور کہنے لگا نہیں ہو سکتی، تو میں نے کہا مرزا اگر حضور کی اتباع کرے تو نبوت اسے مل جائے۔ اور امت محمدیہ اگر حضور کی اتباع کرے تو نجات بھی نہ ہو! فَبُهِتَ الَّذِي كَفَرَ۔

ختم نبوت اور احادیث نبویہ متواترہ

آنحضرت ﷺ نے متواتر احادیث میں اپنے خاتم النبیین ہونے کا اعلان فرمایا اور ختم نبوت کی ایسی تشریح بھی فرما دی کہ اس کے بعد آپ کے آخری نبی ہونے میں کسی شک و شبہ اور تاویل کی گنجائش نہیں رہی۔ متعدد اکابر نے احادیث ختم نبوت کے متواتر ہونے کی تصریح کی ہے۔ چنانچہ حافظ ابن حزم ظاہری لکھتے ہیں:

وقد صح عن رسول الله ﷺ بنقل الكواف التى نقلت نبوته واعلامه وكتابه انه اخبر انه لا نبى بعده؛

وہ تمام حضرات جنھوں نے آنحضرت ﷺ کی نبوت، آپؐ کے معجزات اور آپؐ کی کتاب (قرآن مجید) کو نقل کیا ہے۔ انھوں نے یہ بھی نقل کیا ہے کہ آپؐ نے یہ خبر دی تھی

صفحہ ۵۲

کہ آپؐ کے بعد کوئی نبی نہیں ۔ (کتاب الفصل ص ۱۷۷ ج ۱)

حافظ ابن کثیر آیت خاتم النبیین کے تحت لکھتے ہیں :

وبذالك وردت الاحاديث المتواترة عن رسول الله ﷺ من حديث جماعة من الصحابة

اور ختم نبوت پر آنحضرتؐ سے احادیث متواترہ وارد ہوئی ہیں جن کو صحابہ کرامؓ کی ایک بڑی جماعت نے بیان فرمایا ہے۔ (تفسیر ابن کثیر ص ۴۹۳ ج ۳)

اور علامہ سید محمود آلوسی ، زیر آیت خاتم النبیین لکھتے ہیں ۔

"وكونه ﷺ خاتم النبيين مما نطق به الكتاب وصدعت به السنة واجمعت عليه الامة فيكفر مدعى خلافه ويقتل ان اصر.

اور آنحضرت ﷺ کا خاتم النبیین ہونا ایسی حقیقت ہے جس پر قرآن ناطق ہے، احادیث نبویہ نے جس کو واشگاف طور پر بیان فرمایا ہے، اور امت نے جس پر اجماع کیا ہے، پس جو شخص اسکے خلاف کا مدعی ہو، اسکو کافر قرار دیا جائیگا اور اگر اس پر اصرار کرے تو اس کو قتل کیا جائے گا۔ (روح المعانی ص ۴۱ ج ۲۲)

پس عقیدہ ختم نبوت جس طرح قرآن کریم کے نصوص قطعیہ سے ثابت ہے، اسی طرح آنحضرت ﷺ کے احادیث متواترہ سے بھی ثابت ہے ۔ یہاں اختصار کے پیش نظر چند احادیث ذکر کی جاتی ہیں۔

حدیث نمبر ۱

عن ابى هريرةؓ ان رسول الله ﷺ قال ان مثلى ومثل الانبياء من قبلى كمثل رجل بنى بيتاً فاحسنه واجمله الا موضع لبنة من زاوية فجعل الناس يطوفون به ويتعجبون له ويقولون هلا وضعت هذه اللبنة قال فانا اللبنة وانا خاتم النبيين : ( بخاری کتاب المناقب ص ۵۰۱ ج ۱ ، مسلم ص ۲۲۸ ج ۲ )

حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میری اور مجھ سے پہلے انبیاء کی مثال ایسی ہے کہ ایک شخص نے بہت ہی حسین وجمیل محل بنایا مگر اسکے کونے

صفحہ ۵۳

میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی، لوگ اسکے گرد گھومنے اور عش عش کرنے لگے اور یہ کہنے لگے کہ یہ ایک اینٹ بھی کیوں نہ لگا دی گئی؟ آپ ﷺ نے فرمایا میں وہی۔ (کونے کی آخری) اینٹ ہوں اور میں نبیوں کو ختم کرنے والا ہوں۔

اس حدیث میں آنحضرت ﷺ نے ختم نبوت کی ایک محسوس مثال بیان فرمادی ہے اور اہل عقل جانتے ہیں کہ محسوسات میں کسی تاویل کی گنجائش نہیں ہوتی۔

حدیث نمبر ۲

عن ابی ھریرة ان رسول الله ﷺ قال فضلت علی الانبیاء بست اعطیت جوامع الکلم ونصرت بالرعب واحلت لی الغنائم و جعلت لی الارض طهورا ومسجدا وارسلت الی الخلق کافة وختم بی النبیون (صحیح مسلم ص ۱۹۹ ج ۱ مشکوٰۃ ص ۱۲)

حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مجھے چھ چیزوں میں انبیا کرام پر فضیلت دی گئی ہے (۱) مجھے جامع کلمات عطا کئے گئے ہیں (۲) رعب کے ساتھ میری مدد کی گئی ہے (۳) مال غنیمت میرے لئے حلال کر دیا گیا ہے (۴) روئے زمین کو میرے لئے مسجد اور پاک کرنے والی چیز بنا دیا گیا ہے (۵) مجھے تمام مخلوق کی طرف مبعوث کیا گیا ہے (۶) مجھ پر تمام نبیوں کا سلسلہ ختم کر دیا گیا ہے۔

اس مضمون کی ایک حدیث صحیحین میں حضرت جابرؓ سے مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ مجھے پانچ چیزیں ایسی دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئیں۔ اس کے آخر میں ہے ”وکان النبی یبعث الی قومہ خاصة وبعثت الی الناس عامة“ (مشکوٰۃ ص ۵۱۲) پہلے انبیا کو خاص انکی قوم کی طرف مبعوث کیا جاتا تھا اور مجھے تمام انسانوں کی طرف مبعوث کیا گیا ہے۔

١؎ یہ حدیث حضرت ابوہریرہؓ کے علاوہ مندرجہ ذیل صحابہ کرام سے بھی مروی ہے (۱)۔۔ حضرت جابر بن عبداللہ کے الفاظ صحیح مسلم میں اس طرح ہیں ”قال رسول الله ﷺ فانا موضع اللبنة جئت فختمت الانبياء“ مسند احمد ص ۳۶۱ ج ۳۔ بخاری ص ۵۰۱ ج ۱۔ مسلم ص ۱۴۸ ج ۲۔ ترمذی ص ۱۰۹ ج ۱ (۲)۔۔ حضرت ابی ابن کعب کے الفاظ یہ ہیں: مثلی فی النبیین کمثل رجل بنی دارا فاحسنها واکملها واجملها وترک منها موضع لبنة فجعل الناس یطوفون بالبناء ویعجبون منه و یقولون لو تم موضع تلک اللبنة ،وانا فی النبیین موضع تلک اللبنة۔ (قال الترمذی ھذا حدیث حسن صحیح غریب ) ص ۲۰۱ ج ۲۔ مسند احمد ص ۱۴۷ ج ۵ (۳)۔۔ حضرت ابو سعید خدریؓ سے مسند احمد میں حدیث کے یہ الفاظ منقول ہیں ۔ مثلی ومثل النبیین من قبلی کمثل رجل بنی دارا فاتمھا الا لبنة واحدة، فجئت انا فاتممت تلک اللبنة۔ مسند احمد ص ۹ ج ۳ واللفظ لہ۔ مسلم ص ۲۴۸ ج ۔ ۔ جامع الاصول ص ۵۳۹ ج ۸)

صفحہ ۵۴

حدیث نمبر ۳

عن سعد بن ابی وقاص قال قال رسول اللہ ﷺ لِعَلِیّ اَنْتَ مِنِّی بِمَنْزِلَةِ هارون مِن مُوسیٰ اِلّا اَنَّہٗ لانبیَّ بَعدی ، وفی رواية ، انہ لانبوة بعدی (مسلم ص ۲۷۸ ج ۲)

سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت علیؓ سے فرمایا: تم مجھ سے وہی نسبت رکھتے ہو جو ہارون کو موسیٰ علیہ السلام سے تھی مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں اور مسلم کی ایک اور روایت میں ہیکہ میرے بعد نبوت نہیں۔

واضح رہے کہ جو حدیث دس سے زیادہ صحابہ کرام سے مروی ہو حضرات محدثین اسے احادیث متواترہ میں شمار کرتے ہیں۔ چونکہ یہ حدیث دس سے زیادہ صحابہ سے مروی ہے اسلئے مسند الہند شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ نے اسے حدیث متواتر میں شمار کیا ہے ۱؂

حضرت شاہ صاحبؒ ”ازالۃ الخفاء“ میں ”مآثر علیؓ“، کے تحت لکھتے ہیں:

”فمن التواتر انتَ منی بمنزلة هارون من موسیٰ“ (ص ۴۴۴ ج ۲ مترجم)

متواتر احادیث میں سے ایک حدیث یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت علیؓ سے فرمایا ”تم مجھ سے وہی نسبت رکھتے ہو جو ہارون کو موسیٰ علیہ السلام سے تھی۔

حدیث نمبر ۴

”عن ابی هریرةَ يُحَدِّثُ عن النبی ﷺ قال كانتْ بنو اسرائیلَ تَسُوسُهُم الانبياءُ كُلَّما هلك نبيٌّ خَلَفَه نبيٌّ وانه لانبی بعدی وسيكون خلفاء فيكثرون

(بخاری ص ۴۹۱ ج ۱)

۱؂ چند صحابہ کے نام حسب ذیل ہیں (۱) حضرت جابر بن عبداللہؓ (مسند احمد ص ۳۳۸ ج ۳، ترمذی ص ۲۱۴ ج ۲، ابن ماجہ ص ۱۲) (۲) حضرت عمرؓ (کنز العمال ص ۶۰۷ ج ۱۱ حدیث نمبر ۳۲۹۳۲) (۳) حضرت علیؓ (کنز ص ۱۵۸ ج ۱۳ حدیث نمبر ۳۶۴۸۸، مجمع الزوائد ص ۱۱۰ ج ۹) (۴) اسماء بنت عمیسؓ (مسند احمد ص ۳۶۸ ج ۶، مجمع ص ۱۰۹ ج ۹، کنز ص ۶۰۷ ج ۱۱ حدیث نمبر ۳۲۹۳۷) (۵) ابو سعید خدریؓ (کنز ص ۶۰۳ ج ۱۱ حدیث نمبر ۳۲۱۹۱، مجمع الزوائد ص ۱۰۹ ج ۹) (۶) ابو ایوب انصاریؓ (مجمع الزوائد ص ۱۱۱ ج ۹) (۷) جابر بن سمرہؓ (ایضاً ص ۱۱۰ ج ۹) (۸) ام سلمہؓ (ایضاً ص ۱۰۹ ج ۹) (۹) براء بن عازبؓ (ایضاً ص ۱۱۱ ج ۹) (۱۰) زید بن ارقمؓ (ایضاً ص ۱۱۱ ج ۹) (۱۱) عبداللہ بن عمرؓ (ایضاً ص ۱۱۰ ج ۹، خصائص کبریٰ سیوطی ص ۲۴۹ ج ۲) (۱۲) حبشی بن جنادہؓ (کنز ص ۱۹۲ ج ۱۳ حدیث نمبر ۳۶۵۷۲، مجمع ص ۱۰۹ ج ۹) (۱۳) مالک بن حسن بن حویرثؓ (کنز ص ۶۰۶ ج ۱۱ حدیث نمبر ۳۲۹۳۲) (۱۴) زید بن ابی اوفیٰؓ (کنز ص ۱۰۵ ج ۱۳ حدیث نمبر ۳۶۴۴۵)

صفحہ ۵۵

حضرت ابوہریرہؓ رسول اکرم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ بنی اسرائیل کی قیادت خود ان کے انبیا کیا کرتے تھے جب کسی نبی کی وفات ہوتی تھی تو دوسرا نبی اسکی جگہ آجاتا تھا لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں البتہ خلفا ہونگے اور بہت ہونگے۔

بنی اسرائیل میں غیر تشریعی انبیا آتے تھے جو موسیٰ علیہ السلام کی شریعت کی تجدید کرتے تھے مگر آنحضرت ﷺ کے بعد ایسے انبیا کی آمد بھی بند ہے۔

حدیث نمبر ۵

”عن ثوبانؓ قال قال رسول الله ﷺ انه سيكون فی امتی کذابون ثلاثون کلہم یزعم انه نبی وانا خاتم النبیین لا نبی بعدی“

(ابوداؤد ص ۵۹۵ ج ۲۔ ترمذی ص ۴۵ ج ۲)

حضرت ثوبانؓ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ میری امت میں تیس جھوٹے پیدا ہونگے، ہر ایک کہے گا کہ میں نبی ہوں، حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں یعنی میرے بعد کسی قسم کا کوئی نبی نہیں۔ یہ حدیث بھی متواتر ہے اور حضرت ثوبانؓ کے علاوہ دس سے زائد صحابہ کرام سے مروی ہے ۱؎

حدیث نمبر ۶

عن انس ابن مالکؓ قال قال رسول الله ﷺ ان النبوة والرسالة قد انقطعت فلا رسول بعدی ولا نبی

(ترمذی ص ۵۳ ج ۲ )

حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ رسالت ونبوت ختم ہوچکی ہے پس میرے بعد نہ کوئی رسول ہے نہ نبی۔

امام ترمذیؒ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح ہے اور حافظ ابن کثیرؒ فرماتے ہیں کہ اسکو امام احمد نے مسند میں بھی روایت کیا ہے حافظ ابن حجرؒ نے فتح الباری میں بروایت ابو یعلیٰ اتنا

۱ حضرت ثوبان کے علاوہ بقیہ صحابہ کے نام حسب ذیل ہیں (۱) حضرت ابوہریرہؓ، بخاری ص ۵۰۹ ج ۱۔ مسلم ص ۳۹۷ ج ۲ (۲) حضرت نعیم بن مسعودؓ کنز العمال ص ۱۹۸ ج ۱۴ حدیث نمبر ۳۸۳۷۲ (۳)۔۔ حضرت ابو بکرہؓ، مشکل الآثار ص ۱۰۴ ج ۴ (۴) عبداللہ بن زبیرؓ، فتح الباری ص ۴۱۷ ج ۶ حدیث نمبر ۳۶۰۹ (۵)۔۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ، فتح الباری ص ۴۸ ج ۱۳ حدیث نمبر ۷۱۲۱ (۶) عبداللہ بن مسعود، (۷) حضرت علیؓ (۸) حضرت سمرہؓ (۹) حضرت حذیفہؓ ایضاً (۱۰) حضرت انس ایضاً (۱۱) حضرت نعمان بن بشیرؓ مجمع الزوائد ص ۳۳۲ ج ۷ ان تمام احادیث کا متن مجمع الزوائد ص ۳۳۲ تا ۳۳۴ ج ۷ میں درج ہے

صفحہ ۵۶

اضافہ نقل کیا ہے ”ولاکن بقیت المبشرات قا لو اما المبشرات قال رویا المسلمین جزء من اجزاء النبوۃ (فتح الباری ص ۳۷۵ ج ۱۲)

لیکن مبشرات باقی رہ گئے ہیں صحابہ نے پوچھا مبشرات کیا ہیں تو آپﷺ نے فرمایا مومن کا خواب جو نبوت کے اجزاء میں سے ایک جز ہے۔

اس مضمون کی حدیث متعدد صحابہ کرام سے مروی ہے ؎۱

حدیث نمبر ۷

عن ابی ھریرۃؓ انہ سمع رسول اللہ ﷺ یقول نحن الآخرون السابقون یوم القیامۃ بید انھم اوتو الکتاب من قبلنا (بخاری ۱۲۰ ج ۱)

حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہم سب کے بعد آئے اور قیامت کے دن سب سے آگے ہونگے۔ صرف اتنا ہوا کہ انکو کتاب ہم سے پہلے دی گئی۔

اس حدیث میں آنحضرت ﷺ نے اپنا آخری نبی ہونا اور اپنی امت کا آخری امت ہونا بیان فرمایا ہے یہ مضمون بھی متعدد احادیث میں آیا ہے ؎۲

حدیث نمبر ۸

عن عقبۃ بن عامر قال قال رسول اللہ ﷺ لو کان بعدی نبی لکان عمر بن الخطاب (ترمذی ص ۲۰۹ ج ۲)

؎۱ مثلاً (۱)۔۔ حضرت ابوہریرہؓ، بخاری ص ۱۰۳۵ ج ۲ (۲)۔۔ حضرت عائشہؓ، کنزالعمال ص ۳۷۰ ج ۱۵ حدیث نمبر ۴۱۴۱۹۔ مجمع الزوائد ص ۱۷۲ ج ۷ (۳)۔۔ حضرت حذیفہ بن اسیدؓ، مجمع (۴)۔۔ حضرت ابن عباسؓ، مسلم ص ۱۹۱ ج ۱ سنن نسائی ص ۱۷۸۔ ابوداؤد ص ۱۲۷ ج ۱۔ ابن ماجہ ص ۲۷۸ (۵) حضرت ام کرز الکعبیہؓ، ابن ماجہ ۲۷۸ مسند احمد ص ۳۸۱ ج ۶۔ فتح الباری ص ۳۷۵ ج ۱۲ (۶) حضرت ابوطفیلؓ، سند احمد ص ۳۵۴ ج ۵۔ مجمع الزوائد ص ۱۷۳ ج ۷

؎۲ مثلاً (۱) .. عن حذیفۃؓ قال قال رسول اللہ ﷺ ... ونحن الآخرون من اھل الدنیا والاولون یوم القیامۃ المقضٰی لہم قبل الخلائق (مسلم ص ۲۸۲ ج ۱ نسائی ص ۲۰۲ ج ۱) (۲) .. عن ابن عباسؓ قال قال رسول اللہ ﷺ (فذکر حدیث الشفاعۃوفیہ) نحن الآخرون الاولون نحن آخرالامم واول من یحاسب (مسند احمد ص ۲۸۲ ج ۱) (۳) .. عن عائشۃؓ عن النبی ﷺ قال انا خاتم الانبیا ومسجدی خاتم مساجد الانبیاء (کنز العمال ص ۲۸۰ ج ۱۲ حدیث نمبر ۳۴۹۹۹) (۴) (بقیہ اگلے صفحہ پر)

صفحہ ۵۷

حضرت عقبہ بن عامر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا، اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر بن خطاب ہوتے ۱؎

لو کا لفظ فرض محال کے لئے آتا ہے حدیث کا مطلب یہ ہے کہ حضرت عمرؓ میں نبوت کی صلاحیت کامل طور پر پائی جاتی تھی مگر چونکہ آپ ﷺ کے بعد کسی کا نبی ہونا محال ہے اس لئے باوجود صلاحیت کے حضرت عمرؓ نبی نہیں بن سکے۔ امام ربانی مجدد الف ثانیؒ فرماتے ہیں۔

”درشان حضرت فاروق فرمودہ است علیہ وعلیٰ آلہ الصلوٰۃ والسلام لوکان بعدی نبی لکان عمرؓ یعنی لوازم وکمالاتیکہ در نبوت درکار است ہمہ را عمر دارد اما چوں منصب نبوت بخاتم رسل ﷺ ختم شدہ است علیہ وعلیٰ آلہ الصلوٰۃ والسلام بدولت منصب نبوت مشرف نگشت۔ (مکتوب ۲۴ص۲۳ دفتر سوم)

حضرت فاروق اعظم کی شان میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا ”اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتے“ یعنی وہ تمام لوازم و کمالات جو نبوت کے لئے درکار ہیں سب حضرت عمر میں موجود ہیں، لیکن چونکہ منصب نبوت خاتم الرسل ﷺ پر ختم ہو چکا ہے اس لئے وہ منصب نبوت کی دولت سے مشرف نہ ہوئے۔

(بقیہ گزشتہ صفحہ کا)۔۔عن ابی ھریرة مرفوعا لما خلق الله عزوجل آدم خبرہ ببنیہ فجعل یری فضائل بعضہم علی بعض فری نورا ساطعا فی اسفلہم فقال یا رب من ھذا قال ھذا ابنک احمد ھوالاول ھو الآخر وھو اول شافع اول مشفع (کنز ص ۳۲۸ ج ۱۱ حدیث نمبر ۳۲۰۵۶) (۵)۔۔ عن ابی اسید (فی حدیث الاسراء) ثم سار حتی اتی بیت المقدس فنزل فربط فرسہ الی صخرة ثم دخل فصلی مع الملائکة فلما قضیت الصلوة قالو یا جبرئیل من ھذا معک قال ھذا محمد خاتم النبیین ۲( المواھب الدنیہ ص ۱۷ ج ۲) (۶)۔۔ عن ابی امامة الباھلی عن النبی ﷺ... قال انا آخر الانبیا وانتم آخر الامم (ابن ماجہ ص ۲۹۷) (۷)۔۔ حضرت ابو قتادہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے خطبہ حجۃ الوداع میں فرمایا ”لا نبی بعدی ولا امة بعدکم“ (مجمع الزوائد ص ۲۷۳ ج ۳ ۔ کنز العمال ص ۲۹۷ ج ۱۰ حدیث نمبر ۳۲۲۳۸) (۸)۔۔ عن ابی ذر قال قال رسول الله ﷺ یا ابا ذر اول الرسل آدم و آخرھم محمد (کنز العمال ص ۳۸۰ ج ۱۱ حدیث نمبر ۳۲۲۶۹.

۱؎ یہ حدیث حضرت عقبہ بن عامر کے علاوہ مندرجہ ذیل صحابہ سے مروی ہے (۱)۔۔ حضرت ابو سعید خدریؓ ، فتح الباری ص ۵۱ ج۷، مجمع الزوائد ص ۲۸ ج ۹ (۲)۔۔ حضرت عصمہ بن مالک ، مجمع الزوائد ص ۲۸ ج ۹

صفحہ ۵۸

حدیث نمبر ۹

عن جبیر بن مطعمؓ قال سمعت النبی ﷺ یقول ان لی اسماء، انا محمد وانا احمد ، وانا الماحی الذی یمحو الله بی الکفر، وانا الحاشر الذی یحشر الناس علی قدمی ، وانا العاقب الذی لیس بعدہ نبی۔

(مشکواۃ ص ۵۱۵)

حضرت جبیر بن مطعمؓ سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو خود یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میرے چند نام ہیں میں محمد ہوں، میں احمد ہوں، میں ماحی یعنی مٹانے والا ہوں کہ میرے ذریعہ اللہ تعالیٰ کفر کو مٹائیں گے، اور میں حاشر یعنی جمع کرنے والا ہوں کہ لوگ میرے قدموں پر اٹھا ئے جائیں، اور میں عاقب یعنی سب کے بعد آنے والا ہوں کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ اس حدیث میں دو اسماء گرامی آپ ﷺ کے خاتم النبیین ہونے پر دلالت کرتے ہیں، اوّل ”الحاشر“ حافظ ابن حجر فتح الباری میں اسکی شرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

بشارۃ الی انہ لیس بعدہ نبی ولا شریعۃ فلما کان لا امۃ بعد امتہ لانہ لانبی بعدہ نسب الحشر الیہ لانہ یقع عقبہ

(فتح الباری ص ۲۵۵ ج ۶)

یہاں اس طرف اشارہ ہے کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں اور کوئی شریعت نہیں۔ ۔ ۔ چونکہ آپکی امت کے بعد کوئی امت نہیں اور آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں ، اسلئے حشر کو آپ ہی کی طرف منسوب کر دیا گیا۔ کیوں کہ آپ ﷺ کی تشریف آوری کے بعد حشر ہوگا۔ دوسرا اسم گرامی ”العاقب“ جس کی تفسیر خود حدیث میں موجود ہے یعنی کہ ”الذی لیس بعدہ نبی“ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں۔ اس مضمون کی حدیث متعدد صحابہ سے مروی ہے؎

؎مثلاً (۱)۔۔حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ سے مروی حدیث کے الفاظ حسب ذیل ہیں ”کان رسول الله ﷺ یسمی لنا نفسہ اسماء فقال انا محمد واحمد والمقفی والحاشر ونبی التوبہ ونبی الرحمہ

(مسلم ص ۲۶۱ ج ۲)

(۲)۔۔حضرت حذیفہؓ کی روایت کے الفاظ یہ ہیں ”قال انا محمد وانا احمد

(بقیہ اگلے صفحہ پر)

صفحہ ۵۹

حدیث نمبر ۱۰

متعدد احادیث میں یہ مضمون آیا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے انگشت شہادت اور درمیانی انگلی کی طرف اشارہ کر کے فرمایا:بعثت انا والساعة کھاتین ”مجھے اور قیامت کو ان دو انگلیوں کی طرح بھیجا گیا ہے لے

اور آنحضرت ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ مجھے اور قیامت کو ان دو انگلیوں کے طرح بھیجا گیا ہے اسکے معنی یہ ہیں کہ میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں، میرے بعد بس قیامت ہے۔ جیسا کہ انگشت شہادت درمیانی انگلی کے متصل واقع ہے ،دونوں کے درمیان کوئی انگلی نہیں۔ اسی طرح میرے اور قیامت کے درمیان کوئی نبی نہیں۔

علامہ سندھیؒ حاشیہ نسائی میں لکھتے ہیں: ”التشبيه في المقارنة بينهما اى ليس بينهما اصبع اخرى كما انه لا نبي بينه ﷺ وبين الساعة

(حاشیہ سندھی بر نسائی ص ۲۳۴ ج۱)

تشبیہ دونوں کے درمیان اتصال میں ہے یعنی جس طرح ان دونوں کے درمیان کوئی انگلی نہیں اسی طرح آنحضرت ﷺ اور قیامت کے درمیان کوئی اور نبی نہیں۔

وانا الرحمة ونبى التوبه وانا المقفى وانا الحاشر ونبى الملاحم (شمائل ترمذی ص ۲۶۔ مجمع الزوائد ص ۲۸۲ ج۸) (۳)۔۔ حضرت جابر بن عبداللہؓ کی روایت کے الفاظ یہ ہیں "انا احـمـد وانـا مـحـمـد وانا الحاشر الذي يُحشر الناس على قدمي (مجمع الزوائد ص۲۸۲ ج۸)(۴)۔۔ حضرت ابن عباسؓ کی روایت اس طرح ہے "وانا احمد ومحمد والحاشر والمقفى والخاتم (مجمع الزوائد ص۲۸۲ ج۸)(۵)۔۔ مرسل مجاہدؓ کی روایت کے الفاظ حسب ذیل ہیں "انا محمد واحمد انا رسول الرحمة انا رسول الملحمه انا المقفى والحاشر بعثت بالجهاد ولم ابعث بالزراع (طبقات ابن سعد ص ۱۰۵ ج۱)(۶)۔۔ حضرت ابوطفیلؓ سے بھی فتح الباری ص ۵۵۵ ج۶ میں یہی روایت منقول ہے۔

لے اس مضمون کی احادیث مندرجہ ذیل صحابہ سے مروی ہیں (۱)۔۔ سہل بن سعدؓ ،بخاری ص۹۶۳ ج۹۔ مسلم ص ۴۰۶ ج ۲(۲)۔۔ ابوہریرہؓ، بخاری ص۹۶۳ ج۲(۳)۔۔ حضرت انس بن مالکؓ ،بخاری ص۹۶۳ ج۲(۴)۔۔ حضرت مستورد بن شداد، ترمذی ص۴۴ ج۲(۵)۔۔ ۳ حضرت جابر بن عبداللہؓ، مسلم ص۲۸۴ ج۱۔ نسائی ص۲۳۴ ج۱(۶)۔۔ حضرت سہل بن حنیفؓ، جامع الاصول ص ۸۵ ج ۱۰(۷)۔۔ ےحضرت بریدہؓ، مسند احمد ص ۳۴۸ ج ۵ (۸)۔۔ حضرت ابی جبیرہؓ، مجمع الزوائد ص ۳۱۲ ج ۱۰ (۹)۔۔ حضرت جابر بن سمرہؓ، مسند احمد ص ۱۰۳ ج ۵ (۱۰)۔۔ حضرت وہب السوائیؓ، مجمع الزوائد ص ۳۱۱ ج ۱۰ (۱۱)۔۔ حضرت ابو جحیفہؓ، کنز ص ۱۹۵ ج ۱۴مسند احمد ص ۳۰۹ ج ۴۔

صفحہ ٦٠

ان احادیث میں آنحضرت ﷺ کی بعثت اور قیامت کے درمیان اتصال کا ذکر کیا گیا ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ آنحضرت ﷺ کی تشریف آوری قرب قیامت کی علامت ہے اور اب قیامت تک آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں۔ چنانچہ امام قرطبی ”تذکرہ“ میں لکھتے ہیں:

”واما قولہ بعثت انا والساعۃ کہاتین فمعناہ انا النبی الاخیر فلا یلینی نبی آخر وانما تلینی القیامۃ کما تلی السبابۃ الوسطیٰ وليس بینہا اصبع آخر ولیس بینی وبین القیامۃ نبی (التذکرۃ فی احوال الموتی وامور الآخرۃ ۷۱۱)

حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحبؒ نے اپنی کتاب ”ختم نبوت کامل“ کے حصہ دوم میں دوسو دس احادیث مبارکہ رحمت دو عالم ﷺ کی ختم نبوت پر نقل فرمائی ہیں حضرت مفتی صاحب کے زمانہ میں بہت کم احادیث شریف کے انڈکس تیار ہوئے تھے آج کل بہت زیادہ انڈکس احادیث پر مشتمل کئی کئی جلدوں کے مل جاتے ہیں ان سے اس موضوع ”ختم نبوت“ کا کام لیا جائے تو دوسو دس احادیث سے کہیں زیادہ ذخیرہ احادیث ختم نبوت کے موضوع پر تیار ہوسکتا ہے۔ کم ترک الاولون لا آخرون۔

اجماع کی حقیقت اور اس کی عظمت

خدا تعالیٰ کے ہزاروں درود اس ذات مقدس پر جسکے طفیل میں ہم جیسے سراپا گناہ اور سراسر خطاقصور، بھی خیرالامم، امت وسطیٰ، امت مرحومہ، شہداء خلق کے القاب گرامی کے ساتھ پکارے جاتے ہیں:

کہ دارد زبر گردوں میر سامانے کہ من دارم:

”وہ بے شمار خداوندی انعام و اکرام جو ہمارے آقا ء نامدار ﷺ کی بدولت ہم پر مبذول ہوئے ہیں، اجماع امت بھی ان میں سے ایک امتیازی فضیلت ہے جس کی حقیقت یہ ہے کہ اس امت کے علماء مجتہدین اگر کسی مسئلہ میں ایک حکم پر اتفاق کرلیں تو یہ حکم بھی ایسا ہی واجب الاتباع اور واجب التعمیل ہوتا ہے جیسے قرآن وحدیث کے شرعی احکام۔ جسکی حقیقت دوسرے عنوان سے یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ پر جب نبوت ختم کر دی گئی تو آپ ﷺ کے بعد

صفحہ ٦١

کوئی ہستی معصوم باقی نہیں رہتی جس کے حکم کو غلطی سے پاک اور ٹھیک حکم خداوندی کا ترجمان کہا جاسکے، اس لئے رحمت خداوندی نے امت محمدیہ کے مجموعہ کو ایک نبی معصوم کا درجہ دیدیا۔ کہ سار ی امت جس چیز کے اچھے یا برے ہونے پر متفق ہو جائے وہ علامت اس کی ہے کہ یہ کام اللہ تعالی کے نزدیک ایسا ہی ہے جیسا امت کے مجموعہ نے سمجھا ہے“۔

اسی بات کو رسول کریم ﷺ نے ان الفاظ میں فرمایا ہے کہ ”لن تجتمع امتی علی الضلالۃ“ یعنی میری امت کا مجموعہ کبھی گمراہی پر متفق نہیں ہوسکتا۔

اسی لئے اصول کی کتابوں میں اس کے حجت ہونے اور اس کے شرائط ولوازم پر مفصل بحث کی جاتی ہے۔ اور احکام شرعیہ کی حجتوں میں قرآن وحدیث کے بعد تیسرے نمبر پر اجماع کو رکھا جاتا ہے۔

اجماع بھی دراصل دلیل ختم نبوت ہے

درحقیقت اجماع کا شرعی حجتوں میں داخل ہونا اور اس امت کے لئے مخصوص ہونا بھی ہمارے زیر بحث مسئلہ ختم نبوت کی روشن دلیل ہے۔ جیسا کہ صاحب توضیح لکھتے ہیں:

”وما اتفق عليه المجتهدون من امة محمد ﷺ فى عصر على امر فهذا من خواص امة محمد عليه الصلوٰۃ والسلام فانه خاتم النبيين لا وحى بعده وقد قال الله تعالى اليوم اكملت لكم دينكم ولاشك ان احكام التى تثبت بصريح الوحى بالنسبة الى الحوادث الواقعة قليلة غاية القلة فلو لم تعلم احکام تلک الحوادث من الوحی الصریح وبقیت احکامها مهملة لايكون الدين كاملا فلابد ان يكون للمجتهدين ولاية استنباط احكامها من الوحی (توضيح مصری ص ۲۹ ج ۱)

اور وہ حکم جس پر محمد ﷺ کی امت کے مجتہدین کا کسی زمانہ میں اتفاق ہو جائے اس کا واجب التعمیل ہونا اس امت کے خصوصیات میں سے ہے۔ کیوں کہ آپ خاتم النبیین ہیں اور آپ کے بعد کسی پر وحی نہیں آئے گی اور ادھر یہ ارشاد خداوندی ہے کہ ہم نے تمہارا دین کامل کردیا ہے۔ اور اس میں بھی شک نہیں کہ جو احکام صریح وحی سے ثابت ہوئے ہیں وہ بنسبت روزمرہ کے پیش آنے والے واقعات کے نہایت قلیل ہیں۔ پس

صفحہ ۶۲

جب ان واقعات کے احکام وحی صریح سے معلوم نہ ہوئے اور شریعت میں ان واقعات سے متعلق احکام نہ ہوں تو دین کامل نہیں رہتا ۔ اسلئے ضروری ہے کہ اس امت کے مجتہدین کو وحی سے ان احکام کے استنباط کرنے کا حق حاصل ہو۔

الغرض جس طرح قرآن واحادیث سے احکام شرعیہ ثابت ہوئے ہیں اسی طرح بتصریح قرآن واحادیث ، اور باتفاق علماء امت ، اجماع سے قطعی احکام ثابت ہوتے ہیں ۔ البتہ اس میں چند درجات ہیں ۔ جن میں سب سے مقدم اور سب سے زیادہ قطعی صحابہ کرام کا اجماع ہے ۔ جس کے متعلق علماء اصول کا اتفاق ہے کہ اگر کسی مسئلہ پر تمام صحابہ کی آراء بالتصریح جمع ہو جائیں تو وہ بالکل ایسا ہی قطعی ہے جیسا کہ قرآن مجید کی آیات ۔ اور اگر یہ صورت ہو کہ بعض نے اپنی رائے بیان فرمائی اور باقی صحابہ کرامؓ نے اسکی تردید نہ کی بلکہ سکوت اختیار کیا تو یہ بھی اجماع صحابہ میں داخل ہے اور اس سے جو حکم ثابت ہو وہ بالکل ایسا ہی قطعی ہے جیسے احادیث متواترہ کے احکام قطعی ہوتے ہیں ۔ بلکہ اگر غور سے کام لیا جائے تو تمام ادلہ شرعیہ میں سب سے زیادہ فیصلہ کن دلیل ہے اور بعض حیثیات سے تمام حجج شرعیہ پر مقدم ہے ۔ کیونکہ قرآن وسنت کے معنی ومفہوم متعین کرنے میں آراء مختلف ہوسکتی ہیں ، اجماع میں اسکی بھی گنجائش نہیں ۔ چنانچہ حافظ حدیث علامہ ابن تیمیہؒ تحریر فرماتے ہیں ۔

” واجماعهم حجة قاطعة يجب اتباعها بل هى اوكد الحجج وهى مقدمة على غيرها وليس هذا موضع تقرير ذالك فان هذا الاصل مقرر فى موضعه وليس فيه بين الفقهاء ولا بين سائر المسلمين الذين هم المو منون خلاف

(اقامة الدلیل ص ۱۳۰ ج ۳)

اور اجماع صحابہ حجت قطعیہ ہے بلکہ اسکا اتباع فرض ہے بلکہ وہ تمام شرعی حجتوں میں سب سے زیادہ موکد اور سب سے مقدم ہے ۔ یہ موقع اس بحث کا نہیں ۔ کیونکہ ایسے موقعے (یعنی کتب اصول) میں یہ بات باتفاق اہل علم ثابت ہوچکی ہے اور اس میں تمام فقہا اور تمام مسلمانوں میں جو واقعی مسلمان ہیں کسی کا اختلاف نہیں ۔

صحابہ کرامؓ کا سب سے پہلا اجماع

اسلامی تاریخ میں یہ بات درجہ تواتر کو پہونچ چکی ہے کہ مسیلمہ کذاب نے آنحضرت ﷺ کی موجودگی میں دعویٰ نبوت کیا ، اور ایک بڑی جماعت اسکی پیرو ہوگئی ۔ آنحضرت

صفحہ ۶۳

ﷺ کی وفات کے بعد سب سے پہلی مہم جہاد جو صدیق اکبرؓ نے اپنی خلافت میں کی وہ اسی کی جماعت پر تھا۔ جمہور صحابہ کرامؓ نے اس کو محض دعوائے نبوت کی وجہ سے، اور اسکی جماعت کو اسکی تصدیق کی وجہ سے کافر سمجھا۔ اور باجماع صحابہؓ و تابعینؒ انکے ساتھ وہی معاملہ کیا گیا جو کفار کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ اور یہی اسلام میں سب سے پہلا اجماع تھا۔ حالانکہ مسیلمہ کذاب بھی مرزا قادیانی کی طرح آنحضرت ﷺ کی نبوت اور قرآن کا منکر نہ تھا بلکہ بعینہٖ مرزا قادیانی کی طرح آپ کی نبوت پر ایمان لانے کے ساتھ اپنی نبوت کا مدعی تھا۔ یہاں تک کہ اس کی اذان میں برابر ”اشہد ان محمدا رسول اللّٰہ“ پکارا جاتا تھا اور وہ خود بھی بوقت اذان اس کی شہادت دیتا تھا۔ تاریخ طبری ص ۲۴۴ ج ۳ میں ہے۔

”كان يؤذن للنبي ﷺ ويشهد في الاذان ان محمدا رسول اللّٰه وكان الذى يؤذن لَہٗ عبد اللّٰه بن النواحہ وكان الذى يُقِيمُ لَہٗ حُجير بن عُمير ويَشْهَدُ لَہٗ وكان مسيلمةُ إذا دَنى حِجيرُ مِن الشَّهادة قال صرح حجير فَيَزِيْدُ في صوته وَيُبَالِغُ التصديق في نفسه“

وہ (مسیلمہ) نبی کریم ﷺ کے لئے اذان میں یہ گواہی دیتا تھا کہ محمد اللّٰہ کے رسول ہیں اور اسکا مؤذن عبد اللّٰہ بن نواحہ اور اقامت کہنے والا حجیر بن عمیر تھا اور جب حجیر شہادت پر پہنچتا تو مسیلمہ بآواز بلند کہتا کہ حجیر نے صاف بات کہی اور پھر اس کی تصدیق کرتا تھا۔

الغرض نبوت و قرآن پر ایمان ، نماز روزہ سب ہی کچھ تھا۔ مگر ختم نبوت کے بدیہی مسئلہ کے انکار اور دعویٰ نبوت کی وجہ سے باجماع صحابہ کرام کافر سمجھا گیا اور حضرت صدیق اکبرؓ نے صحابہ کرامؓ مہاجرین ، انصار ، اور تابعینؒ کا ایک عظیم الشان لشکر حضرت خالد بن ولید کی امارت میں مسیلمہ کے ساتھ جہاد کے لئے یمامہ کی طرف روانہ کیا۔

تمام صحابہ میں سے کسی ایک نے بھی اس کا انکار نہ کیا اور کسی نے نہ کہا کہ یہ لوگ اہل قبلہ ہیں ، کلمہ گو ہیں ، نماز روزہ ، حج زکوٰۃ ، ادا کرتے ہیں ان کو کیسے کافر سمجھ لیا جائے حضرت فاروق اعظمؓ کا ابتداءً خلاف کرنا جو روایات میں منقول ہے وہ بھی اس واقعہ میں نہیں تھا بلکہ مانعین زکوٰۃ پر جہاد کرنے کے معاملہ میں تھا۔

بعض لوگوں نے آنحضرت ﷺ کے بعد زکوٰۃ ادا کرنے سے انکار کیا تھا۔ صدیق اکبرؓ نے ان سے جہاد کرنے کا ارادہ کیا تو حضرت فاروق اعظمؓ نے وقت کی نزاکت اور

صفحہ ۶۴

مسلمانوں کی قلت و ضعف کا عذر پیش کر کے ابتداء ان کی رائے سے خلاف ظاہر فرمایا تھا لیکن حضرت صدیق اکبرؓ کے ساتھ تھوڑے سے مکالمہ کے بعد انکی رائے بھی موافق ہوگئی۔ الغرض حضرت فاروق اعظمؓ کا ابتداء میں اختلاف کرنا بھی مسیلمہ کذاب کے واقعہ میں ثابت نہیں۔ اس طرح حضرت اسامہؓ کے لشکر کی روانگی کے مسئلہ پر بھی حضرت عمرؓ نے اختلاف کیا مگر مسیلمہ کذاب جھوٹے مدعی نبوت کے خلاف جہاد کرنے کے مسئلہ پر کسی ایک صحابی نے بھی اختلاف نہیں کیا۔ یہ دلیل ہے کہ سب سے پہلا اجماع اسی مسئلہ پر منعقد ہوا۔ امت کو اجماع ختم نبوت کے صدقے ملا۔ امت نے بھی سب سے پہلا اجماع اسی مسئلہ پر کیا۔ بارہ سو صحابہ کرام اسی جگہ میں شہید ہوئے۔ جن میں سات سو قرآن مجید کے حافظ وقاری تھے۔ رحمت دو عالم ﷺ کی امت کا سب سے قیمتی اثاثہ صحابہ کرامؓ اس مسئلہ پر شہید ہوئے جس سے سمجھ میں آسکتا ہے کہ ختم نبوت کی صحابہ کرام کے نزدیک کتنی اہمیت تھی۔

نیز مسک الختام فی ختم نبوۃ سید الانام، کے ص ۱۰ پر حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ نے صراحت فرمائی ہے کہ ”امت محمدیہ میں سب سے پہلا اجماع جو ہوا وہ اسی مسئلہ پر ہوا کہ مدعی نبوت قتل کیا جائے“ (احتساب قادیانیت ج۲ مجموعہ رسائل مولانا ادریس کاندھلوی ص۱۰)

مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ فرماتے ہیں ”اور سب سے پہلا اجماع جو اس امت میں منعقد ہوا وہ مسیلمہ کذاب کے قتل پر اجماع تھا۔ جس کا سبب صرف اس کا دعویٰ نبوت تھا۔ اس کی دیگر گھناؤنی حرکات کا علم صحابہ کرام کو اس کے قتل کے بعد ہوا تھا۔ جیسا کہ ابن خلدون نے نقل کیا ہے۔ (خاتم النبیین مترجم ص ۱۹۷)

اجماع امت کے حوالہ جات

”دَعْوَیٰ النبوةِ بعدَ نبيّنا ﷺ كُفرٌ بالاجماع“ (شرح فقہ اکبر ص۲۰۲) ہمارے نبی ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنا بالاجماع کفر ہے۔

” ان الامة فهمت بالاجماع من هذا اللفظ و من قرائن احواله انه افهم عدم نبی بعده ابدا .... وانه ليس فيه تاويل ولا تخصيص فمنكر هذا لا يكون الا منكر الاجماع (الاقتصاد فی الاعتقاد ص ۱۲۳)

صفحہ ۶۵

بیشک امت نے بالا جماع اس لفظ (خاتم النبیین) سے یہ سمجھا ہے کہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ آپ ﷺ کے بعد نہ کوئی نبی ہوگا اور نہ رسول۔ اور اس پر اجماع ہے کہ اس لفظ میں کوئی تاویل تخصیص نہیں۔ پس اس کا منکر یقیناً اجماع امت کا منکر ہے۔

کے عہد خلافت کا واقعہ نقل کیا ہے کہ انکے زمانہ میں حارث نامی ایک شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا تو خلیفہ نے وقت کے علماء (جو صحابہ کرام اور تابعینؒ تھے) کے فتویٰ سے اسے قتل کردیا۔ اور سولی پر چڑھایا۔ قاضی عیاض صاحبؒ اس واقعہ کو نقل کر کے لکھتے ہیں۔

"وَفَعَلَ ذَالِكَ غَيْرُ وَاحِدٍ مِّنَ الْخُلَفَاءِ وَالْمُلُوكِ بِاشْبَاهِهِمْ وَأَجْمَعَ عُلَمَاءُ وَقْتِهِمْ عَلَى صَوَابِ فِعْلِهِمْ وَالْمُخَالِفُ فِي ذَالِكَ مِنْ كُفْرِهِمْ كَافِرٌ

(شفاء ص۲۵۸،۲۵۷ ج۲)

اور بہت سے خلفاء، سلاطین نے ان جیسے مدعیان نبوت کے ساتھ یہی معاملہ کیا ہے۔ اور اُس زمانہ کے علماء نے ان سے اس فعل کے درست ہونے پر اجماع کیا ہے۔ اور جو شخص ایسے مدعیان نبوت کی تکفیر میں خلاف کرے وہ خود کافر ہے۔

”لانه اخبر ﷺ انه خاتم النبيين لانبي بعده واخبر عن الله تعالى انه خاتم النبيين وانه أرسل كَافَّةً للناس وأجمعت الامة على حمل هذا الكلام على ظاهره وانه مفهومه المراد به دون تاويل ولا تخصيص فلا شك في كفر هولاء الطوائف كلها قطعا اجماعاً وسمعاً “

(شفاء ص۲۳۷ ج۲)

اس لئے کہ آپ ﷺ نے خبر دی ہے کہ آپ ﷺ خاتم النبیین ہیں اور آپؒ کے بعد کوئی نبی نہیں ہوسکتا۔ اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ خبر دی ہے کہ آپ ﷺ انبیاء کے ختم کرنے والے ہیں اور اس پر امت کا اجماع ہے کہ یہ کلام بالکل اپنے ظاہری معنوں پر محمول ہے۔ اور جو اسکا مفہوم ظاہری الفاظ سے سمجھ میں آتا ہے وہ یہی بغیر کسی تاویل یا تخصیص کے مراد ہے۔ پس ان لوگوں کے کفر میں کوئی شبہ نہیں جو اسکا انکار کرے۔ اور یہ قطعی اور اجماعی عقیدہ ہے۔

صفحہ ۶۶

اجماع کو الفاظ ذیل میں نقل فرماتے ہیں۔

”ويكون ﷺ خاتم النبيين مما نطقت به الكتاب وصدعت به السنة واجمعت عليه الامة فيكفر مدعى خلافه ويُقتل اِنْ أصَرَّ“

اور آنحضرت ﷺ کا خاتم النبیین ہونا ان مسائل میں سے ہے جس پر کتاب (بلکہ تمام آسمانی کتابیں) ناطق ہے اور احادیث نبوی ﷺ اس کو بوضاحت بیان کرتی ہیں۔ اور تمام امت کا اس پر اجماع ہے۔ پس اسکے خلاف کا مدعی کافر ہے۔ اگر توبہ نہ کرے تو قتل کر دیا جائے۔

”ومن اعتقد وحياً بعد محمد ﷺ كَفَرَ باجماع المسلمين“

اور جو شخص آنحضرت ﷺ کے بعد کسی وحی کا معتقد ہو وہ باجماع المسلمین کافر ہے۔

”صَحَّ الاجماع على أن كل مَنْ جحد شيئاً صَحَّ عندنا بالاجماع أن رسول الله ﷺ اتی به فقد كفر“

رسول اللہ ﷺ سے کسی چیز کے اجماعی طور پر ثابت ہو جانے سے اس کا انکار کرنے والا بھی بالاجماع کافر ہے۔

خلاصہ بحث

سو حافظ وقاری اور بدری صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین تھے۔

صفحہ ۶۷

اللہ نے وعدہ فرمایا۔

زمانہ میں امت نے اہتمام کیا۔

کرنے والا بھی کافر ہے۔ نیز یہ کہ جھوٹے مدعی نبوت اور اس کے پیروکاروں کی شرعی سزا قتل ہے۔

ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں ہیں، یہ اس لئے کہ پہلی کتب عارضی اور محدود دور کے لئے تھیں ۔ قرآن مجید قیامت تک کے لئے ہے اس اعتبار سے تو اصحاب صفہ سے لیکر اس وقت تک دنیا کے ہر خطہ میں حافظ قاری ختم نبوت کی دلیل ہیں۔

استعمال کرتی ہیں۔ جہاں مسجد بن جائے امت محمدیہ ﷺ اس جگہ کو دوسرے مقصد کے لئے استعمال نہیں کر سکتی۔ پہلے انبیاء کی شریعت محدود وقت کے لئے تھیں ان کی عبادت گاہیں بھی محدود وقت کے لئے تھیں۔ آپ ﷺ کی نبوت قیامت تک کیلئے ہے تو مساجد بھی قیامت تک کے لئے ہیں۔ اس اعتبار سے دیکھئے تو مسجد نبوی ﷺ سے لیکر کائنات کے ہر خطہ کی ہر مسجد ختم نبوت کی دلیل نظر آتی ہے

ان تمام امور پر نظر کریں تو گویا پورا دین ختم نبوت کے گرد گھومتا نظر آتا ہے۔

صفحہ ٦٨

قادیانی شبہات اور ان کے جوابات

ختم نبوت کے موضوع پر مرزائی شبہات اور ان کے جوابات ملاحظہ کرنے سے پہلے اس سلسلہ میں تنقیح موضوع کے طور پر چند اصولی باتیں ذہن نشین کرلینی چاہئیں، جن سے موضوع کی تفہیم کے ساتھ ساتھ قادیانی دجل وفریب بھی خوب خوب آشکارا ہو جائیگا۔

١- خاتم النبیین کون؟

ہمارے اور قادیانیوں کے درمیان ختم نبوت یا اجراء نبوت نزاع کا سبب نہیں۔ کیونکہ مسلمان بھی نبوت کو ختم مانتے ہیں اور مرزائی بھی۔ فرق دونوں میں یہ ہے کہ مسلمان رحمت دو عالم ﷺ پر نبوت کو ختم اور بند مانتے ہیں جبکہ قادیانی مرزا غلام احمد پر نبوت کو ختم اور بند مانتے ہیں۔ اہل اسلام کے نزدیک حضور ﷺ کے بعد قیامت تک کوئی نیا نبی نہیں بن سکتا جبکہ مرزائیوں کے نزدیک حضور ﷺ کے بعد مرزا غلام احمد نبی بنا اور مرزا کے بعد اب قیامت تک کوئی نبی نہیں بن سکتا۔ مسلمانوں کے نزدیک نبوت کی عمارت میں لگنے والی آخری اینٹ محمد ﷺ ہیں جبکہ مرزائیوں کے نزدیک آخری اینٹ مرزا غلام احمد ہے۔

اب فرق واضح ہو جانے کے بعد معلوم ہوا کہ مرزائیوں سے ختم نبوت، اجراء نبوت پر بحث کرنا ہی سخت غلطی ہے۔ لہٰذا اس وضاحت کے بعد اب قادیانیوں سے ہمیشہ یہ مطالبہ ہونا چاہئے کہ سارے قرآن وحدیث میں سے ایک آیت یا ایک بھی ایسی حدیث مرزائی دکھا دیں جس سے یہ ثابت ہوتا ہو کہ نبوت حضور ﷺ پر نہیں بلکہ مرزا قادیانی پر ختم ہوئی ہے۔ اور قیامت تک مرزا قادیانی کے بعد اب کوئی نبی نہیں بنے گا؟

قیامت تک تمام زندہ مردہ قادیانی اکٹھے ہو کر ایک آیت اور ایک حدیث بھی اس سلسلہ میں نہیں دکھا سکتے ”هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا وَلَنْ تَفْعَلُوْا فَاتَّقُوا النَّارَ“

صفحہ ٦٩

مرزا قادیانی کی امت جتنی آیات واحادیث وغیرہ سے ختم نبوت کا انکار ثابت کرنے کے لئے تحریفات کیا کرتے ہیں ان تحریفات کو صحیح اگر تسلیم کر لیا جائے تو ان سب سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد بہت سے نبی آیا کریں گے۔ گویا نبیوں کا ایک پھاٹک کھول دیا کرتے ہیں۔

لیکن ان کا چیف گرو مرزا غلام احمد قادیانی تو آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت صرف اپنے لئے ہی محفوظ اور مخصوص رکھتا ہے۔ اس سے تو امت اور نبی کے درمیان ایک زبردست اختلاف ثابت ہوتا ہے کہ نبی نبوت کو بس اپنی ذات تک ہی محدود رکھنا چاہتا ہے جبکہ امت ، نبوت کی کہیں حد بندی ہی نہیں کرتی۔

اور صرف مرزا قادیانی ہی نہیں بلکہ اس کا بیٹا مرزا محمود اور تاحال اسکی ذریت یہی ثابت کر رہی ہے کہ بس حضور ﷺ کے بعد میرا ابا ہی نبوت سے سرفراز ہوا ہے۔ تو گویا مرزا کی ذریت اور اس کے نام نہاد خلفاء بھی قادیانی امت کے خلاف ہیں! فیاللعجب !!!

مرزا قادیانی نبوت کو صرف اپنے لئے مخصوص کرتا ہے اسکے حوالجات ملاحظہ ہوں۔

فرد مخصوص ہوں اور جس قدر مجھ سے پہلے اولیاء اور ابدال اور اقطاب اس اُمت میں سے گزر چکے ہیں ان کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیا گیا۔ پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کیلئے میں ہی مخصوص کیا گیا اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں“ (حقیقت الوحی، خ ص ۴۰۶ ج ۲۲)

نبوت مجھے عطا کی گئی اور اس نبوت کے مقابل پر اب تمام دنیا بے دست و پا ہے۔ کیوں کہ نبوت پر مہر ہے۔ ایک بروز محمدؐ کی جمیع کمالاتِ محمدیہؐ کے ساتھ آخری زمانہ کے لئے مقدر تھا۔ سو وُہ ظاہر ہو گیا۔ اب بجز اس کھڑکی کے اور کوئی کھڑکی نبوت کے چشمہ سے پانی لینے کے لئے باقی نہیں (ایک غلطی کا ازالہ ، خ ص ۲۱۵ ج ۱۸، ضمیمہ حقیقت النبوۃ ۲۶۸)

یہ ہے کہ اس وقت تک اس امت میں کوئی اور شخص نبی نہیں گزرا“ (حقیقت النبوۃ ، ۳۱۸)

صفحہ ۷۰

نے مجھے پہچانا۔ میں خدا کی سب راہوں میں سے آخری راہ ہوں اور میں اس کے سب نوروں میں سے آخری نور ہوں بدقسمت ہے وہ جو مجھے چھوڑتا ہے کیوں کہ میرے بغیر سب تاریکی ہے‘‘۔ (کشتی نوح، رخ ص ۶۱ ج ۱۹)

اللَّبِنَةُ. پس خدا نے ارادہ فرمایا کہ اس پیشگوئی کو پورا کرے اور آخری اینٹ کے ساتھ بنا کو کمال تک پہنچاوے۔ پس میں وہی اینٹ ہوں ۔ (خطبہ الہامیہ رخ ص ۱۷۸ ج ۱۶)

جو سب سے آخر آنے والا ہے‘‘ (چشمہ معرفت ۔ رخ ص ۳۳۳ ج ۲۳)

صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت سے صرف ایک نبی اللہ کے آنے کی خبر دی ہے جو مسیح موعود ہے اور اسکے سوا قطعاً کسی کا نام نبی اللہ یا رسول اللہ نہیں رکھا جائے گا اور نہ کسی اور نبی کے آنے کی خبر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دی ہے ۔ بلکہ لا نبی بعدی فرما کر اوروں کی نفی کر دی اور کھول کر بیان فرمادیا کہ مسیح موعود کے سوا قطعاً کوئی نبی یا رسول نہیں آئے گا‘‘

(رسالہ تشحیذ الاذہان قادیان، ماہ مارچ ۱۹۱۴ء)

ان اقتباسات کا ماحصل یہ ہے کہ مرزا قادیانی اپنے آپ کو ہی آخری نبی اور خاتم النبیین قرار دیتا ہے ۔ مرزا کے بعد اب کوئی نبی نہیں آسکتا ۔ اس سے معلوم یہ ہوا کہ مرزائی نبوت پر ایمان لانے والوں کے نزدیک نبوت مرزا پر ختم ہوئی اور آخری نبی مرزا ٹھہرا، پھر اجراء نبوت یا ختم نبوت پر بحث کرنے سے کیا حاصل؟

لہٰذا اب ہمیشہ بحث اس پر ہونی چاہئے کہ آخری نبی کون ہے؟ آیا حضور محمد عربی ﷺ ہیں یا مرزا غلام احمد قادیانی ہے؟

ہمارا دعویٰ ہے کہ اپنے من گھڑت عقائد ونظریات کی صداقت کیلئے نہ مرزا قادیانی کوئی ایک آیت یا ایک حدیث پیش کر سکا ہے اور نہ آج تک اسکی امت پیش کرسکی ہے اور نہ قیامت تک پیش کرسکتی ہے۔ قیامت آسکتی ہے لیکن قادیانی ہمارا چیلنج قبول نہیں کرسکتے۔

صفحہ ٧١

نبوت کی اقسام اور دعویٰ نبوت میں قادیانی مغالطہ

ایک عام قاعدہ ہے کہ دعویٰ اور دلیل میں مطابقت ضروری ہے۔ دلیل اگر دعویٰ کے مطابق نہ ہو تو وہ دلیل نہیں بلکہ ہفوات کہلائیگی۔

قادیانی جس قسم کی نبوت جاری ہونے کے قائل ہیں وہ ایک خاص قسم کی نبوت ہے جسکو ظلی، بروزی نبوت کہتے ہیں۔ دوسرے یہ کہ وہ نبوت حضور ﷺ کے بعد جاری ہوئی ہے۔ تیسرے یہ کہ وہ نبوت رسول کی اطاعت ومحبت اور رسول میں فنائیت سے حاصل ہوتی ہے گویا وہ کسبی ہے وہبی نہیں۔

اب ہمارے لئے ضروری ہے کہ قادیانیوں سے ان کے خاص دعویٰ کے مطابق خاص دلیل طلب کریں۔ عموماً قادیانی دھوکہ یہ دیتے ہیں کہ دعویٰ کرتے ہیں خاص قسم کی نبوت کے جاری ہونے کا اور جب دلیل دینے کی باری آتی ہے تو عام دلیل پیش کر دیتے ہیں جس میں انکے خاص دعوے کا کوئی تذکرہ نہیں ہوتا۔ ذیل میں قادیانیوں کے خاص دعویٰ کے حوالجات ملاحظہ ہوں۔

نہیں لاتے لیکن نبوت ان کو بلاواسطہ ملتی ہے اور کام وہ پہلی امتوں کا ہی کرتے ہیں۔ جیسے سلیمان و یحییٰ اور زکریا علیہم السلام۔ اور تیسرے وہ جو نہ شریعت لاتے ہیں اور نہ ان کو بلاواسطہ نبوت ملتی ہے لیکن وہ پہلے نبی کی اتباع سے نبی ہوتے ہیں“۔ (قول فیصل، مرزا بشیر الدین، ١٤)

چکی ہے نمبر ١۔ تشریعی نبوت، ایسی نبوت کو مسیح موعود نے حقیقی نبوت سے پکارا ہے۔ نمبر ٢۔ وہ نبوت جس کے لئے تشریعی یا حقیقی ہونا ضروری نہیں ایسی نبوت حضرت موعود کی اصطلاح میں مستقل نبوت ہے۔ نمبر ٣۔ ظلی اور امتی نبی ہے حضور ﷺ کی آمد سے مستقل اور حقیقی نبوتوں کا دروازہ بند کیا گیا اور ظلی نبوت کا دروازا کھولا گیا“۔ (مسئلہ کفر

و اسلام کی حقیقت مرزا بشیر احمد ایم اے ص ٣١۔ کلمۃ الفصل ص ١١٩)

تشریعی بھی دو قسم کے ہوتے ہیں نمبر ١۔ براہ راست نبوت پانے والے نمبر ٢۔ نبی تشریعی کی اتباع سے نبوت کے حاصل کرنے والے ۔۔۔ آنحضرت ﷺ سے پیشتر صرف پہلے دو قسم کے نبی آتے تھے۔ (مباحثہ راولپنڈی ص ١٧٥)

صفحہ ۷۲

ان حوالوں سے قادیانیوں کا یہ دعویٰ واضح ہو گیا کہ انکے نزدیک نبوت کی تین قسمیں ہیں جن میں دو بند ہیں اور ایک خاص قسم یعنی ”ظلی بروزی“ نبوت جو آنحضرت ﷺ کی اتباع سے حاصل ہوتی ہے جاری ہے۔ نیز نبوت کی یہ خاص قسم آنحضرت ﷺ سے پہلے نہیں پائی جاتی تھی آپؐ کے بعد ظہور میں آئی۔ اور یہ وہبی نہیں بلکہ کسبی ہے۔ کیونکہ اس میں اتباع کا دخل ہے۔

تو گویا دعویٰ کے تین جز ہوئے۔ نمبر ۱۔ ظلی بروزی نبوت۔ نمبر ۲۔ یہ نبوت آنحضرت ﷺ کے بعد جاری ہوئی۔ نمبر ۳۔ یہ نبوت کسبی ہے وہبی نہیں۔ اب تینوں اجزا کی تنقیح ، وضاحت کے بعد دیکھنا یہ چاہئے کہ مرزائی اپنے عقیدہ کے ثبوت میں جو دلیل پیش کریں وہ انکے خاص دعویٰ سے مطابقت رکھتی ہے یا نہیں۔ یعنی اس پیش کردہ آیت میں ظلی بروزی کی قید لگی ہوئی ہے؟ اور اس میں کسب سے حاصل ہونے اور حضور ﷺ کی اتباع سے ملنے کا ذکر ہے؟ اگر یہ تینوں شرطیں اس دلیل میں پائی جارہی ہوں تو ٹھیک ! ورنہ اسے رد کر دیا جائے کیوں کہ وہ دلیل دعویٰ کے مطابق نہیں۔ اور ہمارا دعویٰ ہے کہ قیام قیامت تک سارے مرزائی مل کر بھی اپنے من گھڑت دعویٰ کے مطابق دلیل نہیں پیش کر سکتے۔ ھاتوا برھانکم ان کنتم صادقین .

ظلی بروزی کی اصطلاح

قادیانی ظلی ، بروزی کی اصطلاح استعمال کر کے مسلمانوں کو دھوکہ دیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مرزا غلام احمد کا دعویٰ عین محمد ہونے کا ہے اور رتبہ اور درجہ کے اعتبار سے تو محمدؐ سے بھی بڑھا ہوا ہونے کا ہے۔ ظِل ، اور بروز کا نام لیکر تو انکا مقصد صرف اور صرف یہ ہے کہ اس کی آڑ میں قادیانی نبوت کو فریب کا چولا پہنایا جائے اور آسانی سے اس فریب کاری کے ذریعہ مسلمانوں کا شکار کیا جاسکے۔ چنانچہ ملاحظہ فرمائیے مرزا قادیانی لکھتا ہے۔

”خدا ایک اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اسکا نبی ہے اور وہ خاتم الانبیاء ہے اور سب سے بڑھ کر ہے اب بعد اسکے کوئی نبی نہیں مگر وہی جس پر بروزی طور سے محمدیت کی چادر پہنائی گئی... جیسا کہ تم جب آئینہ میں اپنی شکل دیکھو تو تم دو نہیں ہو سکتے بلکہ ایک ہی ہو اگر چہ بظاہر دو نظر آتے ہیں صرف ظل اور اصل کا فرق ہے“

(کشتی نوح خ ص ۱۶ ج ۱۹)

صفحہ ۷۳

قارئین محترم ! مرزا قادیانی کا کفر یہاں ننگا ناچ رہا ہے۔ اسکا یہ کہنا کہ میں ظلی بروزی ہوں، کیا مطلب؟ جب آئینہ میں حضور کی شکل دیکھو تو وہ غلام احمد ہے، اور جو غلام احمد آئینہ میں دکھائی دے رہا ہے وہ غلام احمد نہیں محمد ہی ہے۔ دونوں ایک ہیں پھر ظل اور بروز کی ڈھکوسلہ بازی کیسی؟ یہ تو صرف عوام کو مغالطہ دینا ہے اور بس !

قطع نظر اس خبث و بد باطنی کے مجھے یہاں یہ عرض کرنا ہیکہ ظلی بروزی کہہ کر مرزا قادیانی کی جھوٹی نبوت کو قادیانی جو فریب کا چولا پہناتے ہیں وہ بھی اصولی طور پر غلط ہے ۔ کیونکہ مرزا لکھتا ہے

”نقطہ محمدیہ ایسا ہی ظل الوہیت کی وجہ سے مرتبہ الہیہ سے اسکو ایسی مشابہت ہے جیسے آئینہ کے عکس کو اپنی اصل سے ہوتی ہے۔ اور امہات صفات الہیہ یعنی حیات، علم، ارادہ، قدرت، سمع، بصر، کلام مع اپنے جمیع فروع کے اتم واکمل طور پر اس (آنحضرت ﷺ) میں انعکاس پذیر ہیں‘

(سرمہ چشم آریہ خ ص ۲۲۲ ج ۲ در حاشیہ)

ایک دوسری جگہ لکھتا ہے :

”حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا وجود ظلی طور پر گویا آنجناب صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود ہی تھا“

(ایام الصلح خ ص ۲۶۵ ج ۱۴)

ایک اور جگہ لکھتا ہے :

”خلیفہ درحقیقت رسول کا ظل ہوتا ہے“

(شہادت القرآن ، خ ص ۳۵۳ ج ۶)

تو اب سوال یہ ہے کہ کیا کسی قادیانی کی ہمت ہے کہ مرزا قادیانی کے فلسفہ کے مطابق حضور ﷺ کو خدا کہہ دے؟ اور حضرت عمرؓ اور دیگر خلفا کو نبی اور رسول کہہ دے؟ قادیانی اس موقع پر قیامت تک مرزا قادیانی کا فلسفہ نہ قبول کریں گے۔ معاملہ یہ ہیکہ ظل اور بروز کا جو معنی ، مطلب اور جو فلسفہ محمد ﷺ اور مرزا کے درمیان ہے جس کی بنیاد پر اسے نبوت مل جاتی ہے ۔ وہی معنی ، مطلب اور وہی فلسفہ بقول مرزا حضور ﷺ اور خدا تعالیٰ کے درمیان ہے تو پھر حضور ﷺ کو خدائی کا درجہ کیوں نہیں دیا جاتا ؟ یا حضرت عمرؓ اور دیگر خلفا کو نبی کا درجہ کیوں نہیں دیا جاتا ؟

معلوم یہ ہوا کہ ظل و بروز کا فلسفہ محض ڈھکوسلہ بازی اور مرزا کی جھوٹی نبوت کو فریب کا چولا پہنانے کی خاطر ہے۔ اس سے زیادہ اسکی کوئی حقیقت اور حیثیت نہیں ہے۔

صفحہ ٧٤

امکان کی بحث

اکثر اوقات مرزائی امکان نبوت کی بحث چھیڑ دیتے ہیں۔ یہاں امکان کی بحث نہیں ہے، وقوع کی بحث ہے اگر وہ امکان کی بحث چھیڑیں تو تریاق القلوب کی درجہ ذیل عبارت پیش کریں۔

”مثلاً ایک شخص جو قوم کا چوہڑہ یعنی بھنگی ہے اور ایک گاؤں کے شریف مسلمانوں کی تیس چالیس سال سے یہ خدمت کرتا ہے کہ دو وقت انکے گھروں کی گندی نالیوں کو صاف کرنے آتا ہے۔ اور انکے پاخانوں کی نجاست اٹھاتا ہے اور ایک دو دفعہ چوری میں بھی پکڑا گیا اور چند دفعہ زنا میں بھی گرفتار ہو کر اسکی رسوائی ہو چکی ہے اور چند سال جیل خانہ میں قید بھی رہ چکا ہے اور چند دفعہ ایسے برے کاموں پر گاؤں کے نمبرداروں نے اس کو جوتے بھی مارے ہیں اور اسکی ماں اور دادیاں اور نانیاں ہمیشہ سے ایسے ہی نجس کام میں مشغول رہی ہیں اور سب مردار کھاتے اور گوہ اٹھاتے ہیں۔ اب خدا تعالیٰ کی قدرت پر خیال کر کے ممکن تو ہے کہ وہ اپنے کاموں سے تائب ہو کر مسلمان ہو جائے اور پھر یہ بھی ممکن ہے کہ خدا تعالیٰ کا ایسا فضل اس پر ہو کہ وہ رسول اور نبی بھی بن جائے اور اسی گاؤں کے شریف لوگوں کی طرف دعوت کا پیغام لیکر آوے اور کہے کہ جو شخص تم میں سے میری اطاعت نہیں کریگا خدا اسے جہنم میں ڈالے گا۔ لیکن باوجود اس امکان کے جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے کبھی خدا نے ایسا نہیں کیا۔ (تریاق القلوب خ ص ۲۸۰ ج ۱۵)

جب یہ عبارت پڑھیں تو ساری پڑھ دیں کیوں کہ عموماً تھوڑی سی عبارت پڑھنے کے بعد قادیانی کہتے ہیں کہ آگے پڑھو اور مجمع پر برا اثر ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔

یہاں پر یہ واقعہ بھی ملحوظ خاطر رہے کہ جب حضرت ابوسفیان زمانہ جاہلیت میں تجارتی سفر پر روم گئے تھے اور قیصر روم نے انھیں اپنے دربار میں بلا کر سوال پوچھے تھے جن میں سے ایک سوال حضور ﷺ کے خاندان کے بارے میں تھا۔ جس کا انھوں نے جواب دیا تھا کہ وہ ایک بلند مرتبہ خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ اور قیصر روم کا اس پر تبصرہ یہ تھا کہ انبیاء عالی نسب قوموں سے ہی مبعوث کئے جاتے ہیں۔ (بخاری ص ۴ ج ۱)

معلوم ہوا کہ نبی کا عالی نسب ہونا یہ ایسا امر ہے جس پر کافروں کو بھی اتفاق تھا مگر غلام احمد قادیانی ایسا بدترین کافر تھا کہ وہ اپنے جیسے ہر ذلیل و کمینہ و بدکار کے لئے نبوت کی گنجائش اور امکان پیدا کر رہا ہے۔ دراصل وہ اپنے ذلیل خاندان کیلئے منصب نبوت کی گنجائش نکالنے کے چکر میں ہے۔

صفحہ ۷۵

قرآنی آیات میں قادیانی تاویلات

تحریفات کے جوابات

آیت خاتم النبیین

تاویل نمبر ۱۔ خاتم النبیین کے معنی نبیوں کی مہر کے ہیں۔ جیسا کہ مرزا قادیانی نے لکھا ہے۔

’’اللہ جل شانہ نے آنحضرت ﷺ کو صاحب خاتم بنایا، یعنی آپ کو افاضہ کمال کے لئے مہر دی جو کسی اور نبی کو ہرگز نہیں دی گئی۔ اسی وجہ سے آپ ﷺ کا نام خاتم النبیین ٹھہرا۔ یعنی آپ ﷺ کی پیروی کمالات نبوت بخشتی ہے۔ اور آپ ﷺ کی توجہ روحانی نبی تراش ہے‘‘ (حقیقت الوحی خ ص ۱۰۰ ج ۲۲)

جواب ۱۔ مرزا قادیانی کا بیان کردہ یہ معنی اس کے دجل وکذب کا شاہکار ، اور قرآن وسنت کے سراسر خلاف ہے۔ محض اپنی جھوٹی نبوت کو سیدھی کرنے کی غرض سے مرزا نے جو معنی بیان کئے ہیں ، لغت عرب میں ہرگز ہرگز مستعمل نہیں۔ قادیانیوں میں غیرت وحمیت نام کی اگر کوئی چیز ہے، تو اپنے معنی کی تائید میں قرآن وحدیث یا لغت عرب سے کوئی ایک نظیر پیش کردیں؟

جواب ۲۔ اگر مرزا کا من گھڑت ترجمہ مان لیا جائے تو ’’خَتَمَ اللّٰهُ عَلٰی قُلُوْبِهِمْ‘‘ کے معنی مہمل ہونگے ، اور پھر تو خاتم الاولاد کے معنی ہونگے کہ اس کی مہر سے اولاد بنتے ہیں اور خاتم القوم کے معنی ہونگے اسکی مہر سے قوم بنتی ہے۔ اگر قادیانیوں میں ہمت ہے تو اس ترجمہ کے ماننے کا اعلان کریں؟

جواب ۳۔ مرزا نے حقیقت الوحی میں لکھا ہے کہ نبوت کا نام پانے کیلئے صرف مرزا ہی مخصوص کیا گیا اور چودہ سو سال میں اور کوئی نبی نہیں بنا کیونکہ نبوت کی مہر ٹوٹنے کا خطرہ لاحق ہے (خلاصہ خ ص ۲۰۶ ج ۲۲) تو اگر خاتم النبیین کا یہی معنی ہے کہ آپ ﷺ کی مہر سے

صفحہ ۷۶

نبی بنتے ہیں، تو کسی کے نبی بننے سے مہر کے ٹوٹنے کا خطرہ کیوں لاحق ہے؟ بلکہ پھر تو جتنے زیادہ نبی بنیں گے اسی میں اس مہر کا کمال ہے۔ یہ کیسی مہر ہے کہ بنتے بنتے بنا بھی تو ایک نبی اور وہ بھی ناقص ظلی، بروزی اور ایک آنکھ کا کانا؟

تاویل ۲: خاتم النبیین کا ترجمہ آخر النبیین ہے لیکن آپ ﷺ اپنے سے پہلوں کے خاتم اور آخری ہیں۔

جواب: اس معنی کے لحاظ سے ہر نبی آدم علیہ السلام کے علاوہ اپنے سے پہلے انبیاء کا خاتم ہے پھر خاتم النبیین ہونے میں آنحضرت ﷺ کی خصوصیت کیا رہی؟۔ جبکہ حضور ﷺ فرماتے ہیں مجھے چھ چیزوں کے ساتھ تمام انبیاء پر فضیلت دی گئی، ان میں سے ایک اُرْسِلْتُ اِلَی الخَلْقِ کَافَّةً وَّ خُتِمَ بِیَ النَّبِیُّونَ آپ کا وصف خاصہ ہے اور قاعدہ ہے خَاصَّةُ الشَّیءِ یُوجَدُ فِیهِ ولا یُوجَد فِی غَیرِہ لہٰذا مرزا قادیانی کا من گھڑت معنی بے سود اور باطل ہے۔

تاویل ۳: خاتم النبیین کا معنی آخر النبیین ہے لیکن الف لام اس میں عہد کا ہے نہ کہ استغراق کا۔ جس کا معنی یہ ہے کہ آپ انبیاء شریعت جدیدہ کے خاتم ہیں نہ کہ کل نبیوں کے۔

جواب ۱:۔ اگر الف لام عہد کا ہوتا تو معہود کلام میں مذکور ہونا چاہئے تھا اور کلام سابق میں انبیاء تشریعی کا کہیں ذکر نہیں ملتا۔ بلکہ اگر ذکر آیا ہے تو مطلق انبیاء کا جو اس امر کی دلیل ہے تمام انبیاء کے آپ ﷺ خاتم ہیں۔

جواب ۲۔ قادیانی اخبار الحکم اگست ۱۸۹۹ء میں لکھا ہے ”خدا نے اپنے تمام نبوتوں اور رسالتوں کو قرآن شریف اور آنحضرت ﷺ پر ختم کر دیا“ سوال یہ ہے کہ اس کا کیا مفہوم ہے؟ کیا ”تمام نبوتوں“ میں تشریعی اور غیر تشریعی شامل نہیں؟

جواب ۳۔ مرزا غلام احمد نے لکھا ہے ”ہست او خیر الرسل خیر الانام۔ ہر نبوت را برو شد اختتام“ (سراج منیر خ ص۹۵ ج۱۲) قادیانی دنیا میں اگر انصاف نام کی کوئی چیز ہے تو خود غور کریں کہ ”ہر نبوت“ میں کیا تشریعی اور غیر تشریعی سب شامل نہیں؟

معلوم ہوا کہ آیت بالا میں الف لام عہد کا بتانا قادیانی بکواس اور مرزا کے بیان کردہ تفسیری معیار کی روشنی میں قرآن مجید میں کھلی تحریف معنوی ہے۔

صفحہ 77

تاویل ۔۴۔ خاتم النبیین میں الف لام استغراق عرفی کے لئے ہے استغراق حقیقی کے لئے نہیں۔ جیسا کہ ”وَیَقْتُلُوْنَ النَّبِیّٖنَ“ میں استغراق عرفی ہے، حقیقی نہیں۔

جواب ۱ ۔ پہلے تو استغراق عرفی اور حقیقی کی تعریف دیکھیں کیا ہے؟ الف لام استغراق حقیقی ، اصطلاح میں اس کو کہا جاتا ہے کہ وہ جس لفظ پر داخل ہو اس کے تمام افراد بے کم و کاست مراد لئے جاسکیں۔ مثلاً عالم الغیب میں لفظ غیب جس پر الف لام داخل ہے اس سے اسکے تمام افراد مراد ہیں، یعنی تمام غائبات کا عالم۔ اور استغراق عرفی میں تمام افراد مراد نہیں ہو سکتے۔ مثلاً جَمَعَ الامیرُ الصاغۃَ یعنی بادشاہ نے سناروں کو جمع کیا۔ یہاں صاغہ جس پر الف لام داخل ہے اس کے تمام افراد مراد نہیں، بلکہ مراد یہ ہے کہ اپنے شہر یا قلم رو کے تمام سناروں کو جمع کیا۔ کیوں کہ پوری دنیا کے سناروں کو جمع کرنا مراد بھی نہیں اور ممکن بھی نہیں

باتفاق علماء عربیت واصول استغراق عرفی اس وقت مراد لیا جاتا ہے جب استغراق حقیقی نہ بن سکتا ہو، یا عرفاً اس کے تمام افراد مراد نہ لئے جاسکتے ہوں۔ اس اصول کے اعتبار سے خاتم النبیین میں جب استغراق حقیقی مراد لیا جاسکتا ہے تو ظاہری بات ہے کہ استغراق عرفی مراد لینا جائز نہ ہوگا۔ خاتم النبیین کے بلا تکلف استغراق حقیقی کے ساتھ یہ معنی صحیح ہیں کہ آپ ﷺ تمام انبیاء کے ختم کرنے والے ہیں، پھر کیا وجہ ہے کہ استغراق حقیقی کو چھوڑ کر بلا دلیل و قرینہ اور بلا کسی وجہ کے استغراق عرفی مراد لیا جائے!!

باقی رہا یہ مسئلہ کہ آیت کریمہ ”وَیَقْتُلُوْنَ النَّبِیّٖنَ“ کو اپنے دعویٰ کی تائید میں پیش کرنا ، تو ہم عرض کر چکے ہیں کہ جب استغراق حقیقی نہ بن سکے گا تو استغراق عرفی کی طرف ہم جائیں گے۔ اور اس آیت میں کھلی ہوئی بات ہے کہ ”یَقْتُلُوْنَ النَّبِیّٖنَ“ کا الف لام استغراق حقیقی کیلئے کسی طرح نہیں ہو سکتا۔ ورنہ آیت کے یہ معنی کرنے پڑیں گے کہ بنی اسرائیل تمام انبیاء علیہم السلام کو قتل کرتے تھے۔ حالانکہ یہ بات کسی طرح درست نہیں ہو سکتی، بلکہ کذب محض ہوگی۔ کیوں کہ اول تو بنی اسرائیل کے زمانہ میں تمام انبیاء موجود نہ تھے، بہت سے ان میں سے پہلے گزر چکے تھے اور بعض ابھی پیدا بھی نہ ہوئے تھے پھر انکا تمام انبیاء کو قتل کرنا کیا مطلب رکھتا ہے؟

صفحہ ۷۸

دوسرے یہ کہ یہ بھی ثابت نہیں کہ بنی اسرائیل نے اپنے زمانہ کے تمام انبیاء کو بلا استثناء قتل ہی کرڈالا ہو۔ بلکہ قرآن عزیز ناطق ہے کہ ”فَفَرِيْقاً كَذَّبْتُمْ وَفَرِيْقاً تَقْتُلُوْنَ“ جس سے واضح طور پر معلوم ہو گیا کہ بنی اسرائیل نے تمام انبیاء موجودین کو بھی قتل نہیں کیا۔ اس اعلان کے بعد بھی اگر ”وَيَقْتُلُوْنَ النَّبِيِّنَ“ کے الف لام کو استغراق حقیقی کے لئے رکھا جاوے تو جس طرح واقعات اور مشاہدات اسکی تکذیب کریں گے اسی طرح خود قرآن کریم بھی اس کو غلط ٹھہرائے گا۔ اس لئے یہاں استغراق عرفی ہی مراد لیا جائے گا، حقیقی نہیں۔

بخلاف آیت خاتم النبیین کے کہ اس میں تخصیص کرنے کی کوئی وجہ نہیں، اس میں معنی حقیقی لینا بلا تامل درست ہیں۔ یعنی حضور ﷺ تمام انبیاء علیہم السلام کے ختم کرنے والے ہیں۔

یہاں یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ قادیانی اگر یوں ہی نفس پرستی اور خود غرضی کی بنیاد پر جہاں چاہیں استغراق عرفی مراد لے سکتے ہیں تو ہمارا ان سے سوال ہے کہ مندرجہ ذیل آیتوں میں بھی الف لام ”النبیین“ پر داخل ہے، کیا اس جگہ بھی استغراق عرفی مراد لیں گے ؟ اگر ہمت ہے تو اس کا اعلان کریں؟

”وَلٰكِنَّ الْبِرَّ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَالْمَلٰئِكَةِ وَالْكِتٰبِ وَالنَّبِيِّنَ“، لیکن نیکی تو یہ ہے کہ جو کوئی ایمان لائے اللہ تعالیٰ پر اور ملائکہ پر اور سب کتابوں پر اور پیغمبروں پر۔ (بقرۃ ۱۷۷)

کیا یہاں استغراق عرفی مراد لیکر قادیانی یہ معنی مطلب بیان کریں گے کہ تمام انبیا پر ایمان لانا ضروری نہیں؟

اسی طرح آیت فَبَعَثَ اللّٰهُ النَّبِيِّنَ مُبَشِّرِيْنَ وَمُنْذِرِيْنَ میں کیا استغراق عرفی مراد لیکر یہ معنی و مطلب بیان کریں گے کہ اللہ نے بعض انبیا کو بشیر ونذیر بنایا ہے اور بعض کو نہیں؟

۱ اس قسم کی مثالیں قرآن مجید میں بے شمار ہیں جہاں الف لام النبیین پر داخل ہے لیکن وہاں استغراق عرفی کسی طرح مراد نہیں لیا جاسکتا مثلاً ” وَلَا يَاْمُرَكُمْ اَنْ تَتَّخِذُوا الْمَلٰئِكَةَ وَالنَّبِيِّنَ اَرْبَابًا“ آل عمران ۸۰ (۲) مع الذین انعم اللہ علیھم من النبیین ، (۳) وَوُضِعَ الْكِتٰبُ بِالنَّبِيِّنَ وَ الشُّهَدَاءِ (۴) واذ اخذ اللہ میثاق النبیین (۵) ولقد فضلنا بعض النبیین علی بعض۔ الآیۃ

صفحہ ۷۹

اگر آیات مذکورۃ الصدر اور ان کی امثال میں استغراق عرفی مراد نہیں لیا جاسکتا تو کوئی وجہ نہیں کہ خاتم النبیین میں استغراق عرفی مراد لیا جائے۔ یا للعجب!! سارا قرآن اول سے آخر تک خاتم النبیین کے نظائر سے بھرا ہوا ہے ان میں سے کوئی نظیر پیش نہ کی گئی اور کسی پر ان کو قیاس نہ کیا گیا۔ قیاس کے لئے ملی تو آیت وَيَقْتُلُونَ النَّبِيّٖنَ“ جس میں بداہت اور مشاہدہ نے آفتاب کی طرح استغراق حقیقی کو غیر ممکن بنا دیا ہے۔ اور پھر قرآن کریم نے اسکا اعلان صاف صاف لفظوں میں کر دیا ہے۔

جواب ۲۔ سب سے زیادہ قابل غور بات یہ ہے کہ اگر ان سب امور سے قطع نظر کریں اور قواعد عربی سے بھی آنکھیں بند کرلیں اور آیت میں کسی طرح استغراق عرفی مراد لے لیں تو پھر آیت خاتم النبیین کے معنی ہونگے۔ آنحضرت ﷺ تمام انبیاء کے خاتم نہیں ہیں۔ لیکن جس شخص کو خداوند تعالیٰ نے سمجھ بوجھ سے کچھ حصہ دیا ہے وہ بلا تامل سمجھ سکتا ہے کہ اس صورت میں خاتم النبیین ہونا آنحضرت ﷺ کی کوئی خصوصی فضیلت نہیں رہتی بلکہ آدم علیہ السلام کے بعد ہر نبی اپنے سے پہلے انبیا کا خاتم ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنے سے پہلے انبیاء کیلئے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے سے پہلے انبیاء کیلئے (اور اسی طرح سلسلہ بسلسلہ) حالانکہ آیت مذکورہ کا سیاق بتلا رہا ہے کہ خاتم النبیین ہونا آپ ﷺ کی مخصوص فضیلت ہے علاوہ بریں خود آنحضرت ﷺ نے ختم نبوت کو اپنے ان فضائل میں شمار فرمایا ہے جو آپ ﷺ کے لئے مخصوص ہیں اور آپ ﷺ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں۔ چنانچہ حدیث مسلم بروایت ابو ہریرہؓ پہلے گذر چکی ہے جس میں آپ ﷺ نے اپنی چھ مخصوص فضیلتیں شمار کرتے ہوئے فرمایا ہے ’وَاُرْسِلْتُ اِلَى الْخَلْقِ كَافَّةً وَخُتِمَ بِىَ النَّبِيُّون‘ اور منجملہ مخصوص فضائل کے یہ ہے کہ میں تمام مخلوقات کی طرف مبعوث ہوا ہوں۔ اور مجھ پر انبیاء ختم کر دیئے گئے۔

(رواہ مسلم)

جواب ۳۔ اگر ان تمام چیزوں سے آنکھیں بند کرلیں اور اپنی دھن میں اسکا بھی خیال نہ کریں کہ آیت میں استغراق عرفی کے ساتھ بعض انبیاء یعنی اصحاب شریعت مراد لینے سے آیت کے معنی درست ہونگے یا غلط۔ بفرض محال اس احتمال کو نافذ اور جائز قرار دیں، تب

صفحہ ۸۰

بھی مرزا قادیانی اور انکے اذناب کا مقصد ”ہنوز دلی دور است“ کا مصداق ہے۔ کیوں کہ ہم اوپر عرض کر چکے ہیں کہ قرآن مجید کی تفسیر محض احتمالات عقلیہ اور لغویہ سے نہیں ہو سکتی جب تک کہ مذکورہ سابقہ اصول تفسیر سے اسکی صداقت پر شہادت نہ لے لی جائے۔

لیکن مرزا قادیانی اور انکی ساری امت ملکر قرآن مجید کی کسی ایک آیت میں یہ نہیں دکھلا سکتے (اور ہرگز نہ دکھلا سکیں گے، (وَلَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِيرًا ) کہ آیت خاتم النبیین میں فقط انبیاء تشریعی یعنی اصحاب شریعت جدیدہ مراد ہیں؟

اسی طرح انکی تمام ذریت ، احادیث کے اتنے وسیع دفتر میں کسی ایک صحیح بلکہ ضعیف حدیث میں بھی آیت خاتم النبیین کی یہ تفسیر نہیں دکھلا سکتے ہیں کہ اس سے خَاتَمُ النَّبِيِّين التشریعین مراد ہیں۔

اسی طرح مرزا قادیانی اور انکے تمام اذناب ، آثار صحابہ اور تابعین کے وسیع تر میدان میں سے کوئی ایک بھی اثر اس تفسیر کے ثبوت میں پیش نہیں کر سکتے ہیں اور ہر گز نہیں۔

اور اگر یہ سب کچھ نہیں تو ائمہ تفسیر کی مستند اور معتبر تفاسیر ہی میں سے کوئی تفسیر پیش کریں جس میں خاتم النبیین کی مراد بیان کی گئی ہو۔ کہ ختم کرنے والے تشریعی انبیا کے۔ مرزا قادیانی اور انکی ساری امت ایڑی چوٹی کا زور لگا کر بھی قیامت تک اصول مذکورہ میں سے کسی ایک اصل کو بھی اپنی گھڑی ہوئی اور مخترع تفسیر، بلکہ تحریف کی شہادت میں پیش نہ کر سکیں گے۔

جواب ۴:- ہم علاوہ تفسیر اور اصول کے خود اسی آیت کے سیاق و سباق پر نظر ڈالتے ہیں تو بلا تامل آیت بول اٹھتی ہے کہ خاتم النبیین میں نبیین سے تمام انبیاء مراد ہیں ۔ جمہور عربیت واصول کا مذہب یہی ہے کہ لفظ نبی عام ہے اور لفظ رسول خاص۔ یعنی رسول صرف اس نبی کو کہا جاتا ہے کہ جس پر شریعت مستقلہ نازل ہوئی ہو اور نبی اس سے عام ہے ، صاحب شریعت مستقلہ کو بھی نبی کہتے ہیں اور اس کو بھی جس پر شریعت مستقلہ نازل نہیں ہوئی۔ اور ظاہر ہے کہ آیت میں آنحضرت ﷺ کو خاتم النبیین کہا گیا ہے ، خاتم المرسلین نہیں فرمایا۔ کیوں کہ اس سے پہلے آپ ﷺ کی نسبت لفظ رسول فرمایا گیا ہے ”وَلَكِنْ رَّسُولَ اللَّهِ “ لفظ رسول کے ساتھ ظاہر ہے کہ خاتم المرسلین بنسبت خاتم النبیین کے زیادہ چسپاں ہے۔ مگر

صفحہ ۸۱

سبحان اللہ ! خدائے علیم و خبیر کا کلام ہے وہ جانتا ہے کہ امت میں وہ لوگ بھی پیدا ہونگے جو آیت میں تحریف کریں گے ، اس لئے یہ اسلوب بدل کر اس تحریف کا دروازہ بند کر دیا ۔ چنانچہ امام المفسرین ابن کثیرؒ نے اس پر متنبہ فرمایا ہے ۔

وقولہ تعالیٰ ولکن رَّسُولَ اللّٰہِ وخاتم النَّبِيّنَ وكان اللّٰہُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمًا ۔ فھذہ الآیۃ ۔ نص فی انہ لانبی بعدہ واذا کان لا نبی بعدہ فلا رسول بعدہ بالطریق الاولیٰ والاخری لان مقام الرسالۃ اخص من مقام النبوہ فان کل رسول نبی ولا ینعکس وبذالک وردت الاحادیث المتواترۃ عن رسول اللہ ﷺ من حدیث جماعۃ من الصحابۃ

(تفسیر ابن کثیر ۸۹ ج ۸)

اور فرمان اللہ تعالیٰ آیت ”ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین وکان اللہ بکل شئی علیماً“ اس بارہ میں صاف و صریح ہے کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا اور جب کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں ، تو رسول بھی بدرجہ اولیٰ نہ ہوگا ۔ اس لئے کہ مقام رسالت بہ نسبت مقام نبوت خاص ہے کیوں کہ ہر رسول کے لئے نبی ہونا شرط ہے اور نبی کے لئے رسول ہونا ضروری نہیں۔ اور اسی پر وارد ہوئی ہیں رسول اللہ ﷺ کی احادیث ، جن کو صحابہ کرام کی ایک بڑی جماعت نے روایت کی ہے ۔

اسی طرح سید محمد آلوسیؒ نے اپنی تفسیر میں بیان فرمایا ہے :

والمراد بالنبی ما ھو اعم من الرسول فیلزم من کونہ ﷺ خاتم النبیین خاتم المرسلین ۔ اور نبی سے وہ مراد ہے جو رسول سے عام ہے اور اس لئے آپ ﷺ کے خاتم النبیین ہونے سے خاتم المرسلین (یعنی اصحاب شریعت انبیاء کا خاتم ) ہونا بھی لازم آتا ہے

(روح المعانی ص ۶۰ ج ۸)

اور کلیات ابوالبقاء میں ہے کہ آیت میں نفی نبوت نفی رسالت کو بھی شامل ہے ۔

حضرات کیلئے خاتم المفسرین کے الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں اور وہ سب مجاز پر محمول کیا جائے گا۔ لہٰذا اسی محاورہ کی طرح یہاں بھی خاتم النبیین کا معنی و مطلب ہوگا ۔

کلام ہے جس کو کل کی کچھ خبر نہیں کہ کل کیا ہونے والا ہے۔ کتنے آدمی پیدا ہوں گے ، کتنے

صفحہ ۸۲

مریں گے ، کتنے عالم ہوں گے ، کتنے جاہل ہوں گے ، کتنے محدث ومفسر ہوں گے ، اور کتنے آوارہ پھریں گے۔ اس لئے اس کو کوئی حق نہیں کہ وہ کسی کو خاتم المحدثین کہے۔ اگر کہیں کسی کے کلام میں ایسے الفاظ پائے جائیں تو سوائے اس کے چارہ نہیں کہ اسے مجاز یا مبالغہ پرمحمول کیا جائے ۔ ورنہ یہ کلام لغو اور بے معنی ہو جائے گا۔ لیکن کیا عالم الغیب ذات کے کلام کو بھی اس پر قیاس کیا جائے گا ؟ جس کے علم محیط سے کوئی چیز باہر نہیں اور جو اپنے علم اور اختیار کے ساتھ انبیاء کرام کو مبعوث فرماتا ہے۔ پس علیم وخبیر اور حکیم ذات کے کلام میں اگر کسی کی ذات کے متعلق خاتم النبیین کا لفظ جو ارشاد کیا گیا ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ اس کے حقیقی معنی مراد نہ لئے جائیں جو کہ بلا تکلف مراد لئے جاسکتے ہیں اور ان کو چھوڑ کر مجاز و مبالغہ پر حمل کرنا صریحاً ناجائز ہے۔ الغرض انسان کے کلام میں ہم مجبور ہیں کہ ان کلمات کو ظاہری معنی سے پھیر کر مبالغہ یا مجاز پر محمول کریں ۔ مگر خداوند قدوس کے کلام میں ہمیں اس کی ضرورت نہیں اور بلا ضرورت حقیقی معنی کو چھوڑ کر مجاز کی طرف جانا اصول مسلم کے خلاف ہے۔

امام غزالیؒ فرماتے ہیں ”لیس فیہ تاویل ولا تخصیص ومن اولہ بتخصیص فکلامہ من انواع الھذیان لایمنع الحکم بتکفیرہ لانہ مکذب لھذا النص الذی اجتمعت الامۃ علی انہ غیر ماول ولا مخصوص“

(الاقتصاد ص )

آیت خاتم النبیین میں نہ کوئی تاویل ہے اور نہ تخصیص۔ اور جو شخص اس میں کسی قسم کی تخصیص کرے اس کا کلام ہذیان کی قسم سے ہے۔ اور یہ تاویل اسکو کافر کہنے کے حکم سے روک نہیں سکتی کیوں کہ وہ اس آیت (خاتم النبیین) کی تکذیب کر رہا ہے جس کے متعلق امت کا اجماع ہے کہ وہ ماوّل یا مخصوص نہیں

الغرض چونکہ قرآن عزیز اور احادیث نبویہ اور اجماع صحابہ اور اقوال سلف نے اس کا قطعی فیصلہ کر دیا کہ خاتم النبیین اپنے حقیقی معنی پر محمول ہے ۔ نہ اس میں مجاز ہے نہ کوئی مبالغہ اور نہ تاویل وتخصیص ۔ اب اسے کسی مجازی معنی پر محمول کرنے کیلئے قیاس کے اٹکل پچو چلانا جائز نہیں ۔

مخفی نہیں رہے کہ حق تعالیٰ کے ارشاد ”ولکن رَّسُولَ اللّٰہِ وخاتم النَّبِیِّن“ کو عوام الناس کے قول پر قیاس کرنا انتہائی جہالت ونادانی کا کرشمہ ہے ۔ کیونکہ اول تو یہ مقولہ ایک

صفحہ ۸۳

عامی محاورہ ہے جو تحقیق پر مبنی نہیں۔ بہت سے محاورات مقامات خطابیہ میں استعمال ہوتے ہیں جن کا مدار تحقیق پر نہیں ہوتا۔ بخلاف ارشاد خداوندی کے کہ وہ سراسر تحقیق ہے اور حقیقت واقعہ سے سر مو متجاوز نہیں بلکہ قرآن کریم کے وجوہ اعجاز میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس کے ایک کلمہ کی جگہ مخلوق دوسرا کلمہ نہیں لاسکتی۔ کیونکہ اس مقام کے حق اور حقیقت غرض کی گہرائی کا احاطہ انسانی طاقت سے خارج ہے۔

جواب ۲۔ یہ کہ اس فقرہ کے قائل نے خود بھی تحقیق کا ارادہ نہیں کیا۔ کیونکہ نہ تو اسے غیب کا علم ہے اور نہ وہ غیب کے پردہ میں چھپی ہوئی چیزوں سے باخبر ہے کہ دوام کی رعایت رکھ کر بات کہتا۔ بخلاف باری تعالیٰ کے کہ اس کے لئے ماضی اور مستقبل یکساں ہیں۔

جواب ۳۔ یہ کہ یہ فقرہ ہر شخص اپنے گمان کے موافق کہتا ہے۔ اور ایک ہی زمانہ میں متعدد لوگ کہتے ہیں اور انہیں ایک دوسرے کے قول کی خبر نہیں ہوتی ۔ بلکہ ایک شخص اس اطلاع کے باوجود کہ اس زمانہ میں دیگر اصحاب کمال بھی موجود ہیں، اس لفظ کا اطلاق کرتا اور قطعی قرینہ پر اعتماد کرتا ہے کہ دوسرے لوگ خود مشاہدہ کرنے والے ہیں اس لئے میرے سامعین ایک ایسی چیز کے بارے میں جسے وہ خود اپنی آنکھوں سے دیکھتے اور اپنی کانوں سے سنتے ہیں، میرے کلام کی وجہ سے غلط فہمی میں مبتلا نہیں ہونگے۔

جواب ۴۔ یہ کہ ہر شخص کی مراد اپنے زمانہ کے لوگوں تک محدود ہوتی ہے، مستقبل سے اسے کوئی سروکار نہیں ہوتا۔

جواب ۵۔ اس قادیانی دجال کے خیال کے مطابق نعوذ باللہ آئندہ آنے والے ہر نبی پر ایک اعتبار سے خاتم کا اطلاق کر سکتے ہیں اندریں حالت آیت کے مضمون کا کوئی حاصل اور نتیجہ ہی نہیں نکلتا۔

جواب ۶ ۔ یہ کہ جس صورت میں کہ ( دجال قادیان کے بقول ) خاتم کے معنی مہر لگانے والے کے لئے جائیں تو اس صورت میں اگر خاتم الانبیا کا زمانہ تمام انبیاء کرام سے مقدم ہوتا، جب بھی آپ ﷺ خاتم بالمعنی المذکور ہوتے۔ حالانکہ یہ قطعاً بے معنی بات ہے۔ ایسی حالت میں مقدام النبیین بولتے ہیں نہ کہ خاتم النبیین ۔

صفحہ ۸۴

جواب ۷۔ یہ کہ اس تقدیر پر اگر خاتم النبیین ﷺ کو امت مرحومہ کے ساتھ کوئی زائد خصوصی تعلق باقی نہیں رہ جاتا۔ حالانکہ آیت کا سیاق یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کو امت کیساتھ ابوت کے بجائے خاتم نبوت کا علاقہ ہے۔ اور شاید آنحضرت ﷺ کی نرینہ اولاد اسی واسطے نہیں رہی تاکہ آپ ﷺ کے بعد نبوت کی طمع کلی طور پر منقطع ہو جائے۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ سے علاقہ ابوت مت تلاش کرو بلکہ اس کی جگہ علاقہ نبوت ڈھونڈو اور وہ بھی ختم نبوت کا علاقہ۔ اور آپ ﷺ کی نرینہ اولاد کے زندہ نہ رہنے میں یہ اشارہ تھا کہ آپ ﷺ کے بعد سلسلہ نبوت باقی نہیں رہے گا۔ جیسا کہ بعض صحابہ مثلاً عبداللہ ابن ابی اوفیؓ اور ابن عباسؓ کے الفاظ سے سمجھا جاتا ہے۔ دیکھئے شرح مواہب جلد ثالث ذکر ابراہیم اور وراثت نبوت کے لئے جامع البیان اوائل سورۃ مریم مع حاشیہ اور مواہب لدنیہ میں خصائص کی بحث دیکھئے۔

غرض یہ کہ محاورہ عامیہ، تحقیقی کلام نہیں ہے بلکہ تساہل اور تسامح پر مبنی ہے۔ اور اس کے نظائر احیاء العلوم (مصنفہ امام غزالیؒ) کے ”باب آفات لسان“ میں ملاحظہ کئے جائیں۔ نیز جو کلام انہوں نے فخریہ القاب ۔ مثلاً شہنشاہ پر کیا ہے اسے بھی ملاحظہ کئے جائیں۔ اور ممدوحین کے روبرو ان کی تعریف و توصیف کی ممانعت معلوم ہی ہے۔ پس یہ محاورات نہ تحقیقی ہیں اور نہ شرعی ہیں۔ (اس نوعیت کے غیر ذمہ دارانہ القاب و محاورات تو کیا شرعی ہوتے ہیں) چہ جائیکہ شارع علیہ السلام نے برہ نام کو بھی پسند نہیں فرمایا (کہ اس میں تزکیہ و توصیف کی جھلک تھی ۔)

جواب ۸۔ یہ کہ لفظ ختم کا مدلول یہ ہے کہ خاتم کا حکم و تعلق اس کے ماقبل پر جاری ہوتا ہے۔ اور سابقین اس کی سیادت و قیادت کے ماتحت ہوتے ہیں۔ جس طرح کہ بادشاہ موجودین کا قائد ہوتا ہے۔ نہ کہ ان لوگوں کا جو ہنوز پردہ عدم میں ہوں اور اس کی سیادت کا ظہور اور اس کے عمل کا آغاز رعایا کے جمع ہونے کے بعد ہوتا ہے۔ نہ کہ اس سے پہلے۔ گویا اجتماع کے بعد کسی قوم کا کسی کی آمد کے لئے منتظر اور چشم براہ ہونا اس امر کا اظہار ہے کہ معاملہ اس کی قیادت پر موقوف ہے۔ بخلاف اس کی برعکس صورت کے کہ (قائد آئے اور چلا جائے اور ماتحت عملہ اس کے بعد آئے۔ اس صورت میں کسی قرینے سے اس امر کا اظہار نہیں ہوتا۔ بلکہ اس پیشرو کی برتری اور سیادت کا تصور ) محض ایک معنوی اور ذہنی چیز ہے۔ (جس کا خارج

صفحہ ۸۵

میں کوئی اثر ونشان نہیں ہوتا۔ نہ اس پر کوئی دلیل و برہان ہے ) یہی وجہ ہے کہ عاقب، حاشر اور مقفی جو سب آنحضرتؐ کے اسمائے گرامی ہیں ما بعد کے لحاظ سے نہیں (بلکہ ماقبل لحاظ سے ہیں۔ جیسا کہ ان کے معانی پر غور کرنے سے بادنیٰ تامل معلوم ہو سکتا ہے ) اور خاتمیت سے یہ مراد لینا کہ چونکہ آپؐ کی نبوت بالذات ہے اور دوسروں کی نبوت بالعرض۔

لہٰذا آپ ﷺ سے استفادہ کے ذریعہ اب بھی نبوت مل سکتی ہے۔ خاتمیت کا یہ مفہوم غلط ہے کیوں کہ ما بالذات اور ما بالعرض کا ارادہ فلسفہ کی اصطلاح ہے۔ نہ تو یہ قرآن کریم کا عرف ہے۔ نہ زبان عرب ہی اس سے آشنا ہے۔ اور نہ قرآن کریم کی عبارت میں اس کی جانب کسی قسم کا اشارہ یا دلالت موجود ہے۔ پس اس آیت میں ’استفادہ نبوت‘ کا اضافی مضمون داخل کرنا محض خود غرضی اور مطلب براری کے لئے قرآن پر زیادتی ہے۔ البتہ سنت اللہ یہی واقع ہوئی ہے کہ ختم زمانی کا منصب عالی اسی شخصیت کے لئے تجویز فرمایا گیا جو قطعی طور پر امتیازی کمال میں سب سے فائق تھی اور تمام سابقین کو اس کی سیادت وقیادت کے ماتحت رکھا گیا۔ اور انبیا کرام کو نبوت پیدا کرنے کے لئے نہیں بھیجا جاتا (کہ مہر لگا لگا کر نبی پیدا کریں) بلکہ سیادت و قیادت اور سیاست در سیاست کیلئے مبعوث کیا جاتا ہے۔ قوم نماز کیلئے پہلے جمع ہو تو اس کے بعد امام مقرر کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے یہی محمل ہے حق تعالیٰ کے ارشاد: ”يَوْمَ نَدْعُوْا كُلَّ أُنَاسٍ بِإِمَامِهِمْ“ (بنی اسرائیل ۷۱) کا پہلی امتوں میں انبیاء کرام تکمیل کار کیلئے رسولوں کے ماتحت ہوتے تھے چنانچہ موسیٰ علیہ السلام کی دعا ہے: ”اشْدُدْ بِہِ اَزْرِيْ وَ اَشْرِكْهُ فِيْ أَمْرِيْ“ (طٰہٰ ۳۱) نیز موسیٰ علیہ السلام کی درخواست کے جواب میں ارشاد خداوندی ہے: ”سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِاَخِيْكَ“ اور حضرت خاتم الانبیاء ﷺ کے مقام میں کمال کا کوئی جزء باقی نہیں چھوڑا گیا (بلکہ کارِ نبوت کی تکمیل من کل الوجوہ آپ ﷺ کی ذات گرامی سے کرا دی گئی لہٰذا اب کوئی منصب باقی نہ رہا جس کے لئے کسی نئے نبی کو مبعوث کیا جاتا۔ چنانچہ آپ ﷺ کی شان تو یہ ہے )

حسن یوسف دم عیسیٰ ید بیضا داری ٭ آنچه خوباں ہمہ دارند تو تنہا داری

تاویل۔ ۶ خاتم کا معنی انگشتری ہے۔ قادیانی کہتے ہیں خاتم النبیین میں خاتم بمعنی نگینہ ہے اگر یہاں نگینہ مراد لیکر زینت کا معنی مراد لیا جائے اور کلام کا معنی یہ ہوں کہ آپ ﷺ سب انبیاء کی زینت ہیں تو اس صورت میں آیت کو ختم نبوت سے کوئی تعلق ہی باقی نہیں رہتا۔

صفحہ ٨٦

جواب ۱۔ لیکن جب ہم اسکو اصول تفسیر پر رکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ محض قرآن پر افترا ہے۔ اسکی ہرگز وہ مراد نہیں، جو قادیانی لینا چاہتے ہیں۔

اول تو اس وجہ سے کہ خاتم بمعنی زینت مراد لینا مجازی معنی ہیں۔ اور جبکہ اس جگہ حقیقی معنی بلا تکلف درست ہیں تو حسب تصریحات علماء لغت و بلاغت و اصول، معنی مجازی کی طرف جانیکی کوئی وجہ نہیں۔ دوسرے احادیث متواترہ نے جو تفسیر اس آیت کی صاف صاف بیان کی ہے یہ اسکے خلاف ہے۔

جواب ۲۔ یہ تفسیر اجماع اور آثار سلف کے بھی خلاف ہے۔ جیسا کہ ہم نے اوپر مفصل عرض کیا ہے۔

جواب ۳۔ ائمہ تفسیر کی شہادتیں بھی اسکے خلاف ہیں۔ پھر کیا کوئی مسلمان قرآن عزیز کے ایسے معنی تسلیم کر سکتا ہے؟ جو قواعد عربیت کے بھی خلاف ہوں اور خود تصریحات قرآن مجید کے بھی۔ احادیث متواترہ اور آثار سلف بھی اسکو رد کرتے ہوں اور ائمہ تفسیر بھی۔

جواب ۴۔ اور اگر اسی طرح ہر کس و ناکس کے خیالات اور ہر حقیقی یا مجازی معنی قرآن عزیز کی تفسیر بن سکتے ہیں تو کوئی یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ تمام قرآن مجید میں جہاں کہیں اقیموا الصلوٰۃ وغیرہ کے الفاظ سے نماز کی فرضیت کی تاکید کی گئی ہے سب جگہ محض درود بھیجنا اور دعا کرنا مراد ہے جو لفظ صلوٰۃ کے لغوی معنی ہیں۔

اسی طرح آیت کریمہ ”فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ“ (البقرہ ۱۸۵) وغیرہ جو میں روزہ کی فرضیت ثابت ہے۔ اسکا لغوی ترجمہ اور مطلب یہ ہیکہ جب رمضان کا مہینہ آئے تو تم رک جاؤ کیوں کہ لغت عرب میں صوم کے لغوی معنی صرف رک جانا ہیں۔

اسی طرح حج اور زکوٰۃ وغیرہ کے الفاظ میں ان سب کے معنی اگر احادیث اور آثار سلف وغیرہ سے آنکھیں بند کر کے صرف از روئے لغت کئے جائیں تو مرزا قادیانی اور انکے اذناب کی عنایت سے سارے فرائض سے چھٹی ہو جائے گی۔ بلکہ عجب نہیں کہ خود دین اسلام سے بھی آزادی مل جائے۔ (والعیاذ باللہ تعالیٰ)

صفحہ ۸۷

لیکن آیات مذکورہ میں صوم وصلوٰۃ اور حج وغیرہ کے الفاظ سے انکے معنی لغوی کو اس لئے چھوڑا جاتا ہیکہ قرآن عزیز کی دوسری آیت اور احادیث متواترہ اور آثار سلف سے جو تعبیر انکی ثابت ہے اس کے خلاف ہے۔ اور اگر آج کوئی ان آیات کے وہ لغوی معنی بتلا کر لوگوں کو ان فرائض کی پابندیوں سے آزاد کرنا چاہے تو بحمد اللہ مسلمانوں کا ہر جاہل و عالم یہی جواب دے گا ”اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلَامًا“ (الفرقان ۶۳)

غرض کوئی جاہل سے جاہل بھی اس قسم کی تحریفات کے ماننے پر تیار نہیں ہو سکتا۔ ٹھیک اسی طرح اگرچہ خاتم بمعنی زینت مجازاً مراد لینا محتمل ہے، لیکن چونکہ یہ احتمال نصوص قرآن وحدیث اور تفاسیر سلف کے خلاف ہے۔ اس لئے اسی طرح مردود اور ناقابل قبول ہوگا، جس طرح صوم ،صلوٰۃ ،حج،زکوٰۃ، وغیرہ ارکان دین کے مشہور لغوی معنی لینا باتفاق مردود ہیں۔

لفظ خاتم کا مرزا قادیانی کے یہاں استعمال

مرزا قادیانی نے سیکڑوں مرتبہ لفظ خاتم استعمال کیا اور ان مقامات کے بغیر جہاں خاتم النبیین کی تفسیر ”نبی ساز“ کرتے ہیں باقی ہر مقام پر اس لفظ کو ”آخری“ کے معنوں میں استعمال کیا ہے۔ مثلاً

ہر ایک حضرت موسیٰ کی قوم میں سے تھا اور تیرواں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر فرمایا جو موسیٰ کی قوم کا خاتم الانبیاء تھا۔

(تحفہ گولڑویہ خ ص ۱۳۳ ج ۱۷)

ہے۔ جیسا کہ سلسلہ موسویہ کے خلیفوں میں حضرت عیسیٰ خاتم الانبیاء ہے۔

(تحفہ گولڑویہ خ ص ۱۷۴ ج ۱۷)

کیا یہ عجیب بات نہیں کہ مرزا قادیانی نے لفظ خاتم کو باقی ہر مقام پر آخری کے معنوں میں استعمال کیا ہے۔ لیکن جب خاتم النبیین کی تفسیر کرنے لگا تو کہا ”اسی وجہ سے آپ کا نام خاتم النبیین ٹھہرا۔ یعنی آپ کی پیروی کمالات نبوت بخشتی ہے۔ اور آپ کی توجہ روحانی نبی تراش ہے۔

(حقیقت الوحی خ ص ۱۰۰ ج ۲۲)

صفحہ ٨٨

اور اس سے عجب تر یہ ہے کہ جب اپنے آپ کو خاتم الخلفاء والانبیا قرار دیتا ہے تو لفظ خاتم کو پھر ”آخری“ کے مفہوم میں استعمال کرتا ہے۔

ایک شبہ

مرزائیوں کی جانب سے شبہ یہ ڈالا جاتا ہے کہ یہ تحریرات نومبر ١٩٠١ء سے پیشتر کی ہیں۔ کہ جس وقت مرزا قادیانی کو نبوت نہیں ملی تھی لہذا یہ تمام تحریریں منسوخ کہی جائینگی۔

جواب

نبوت کا دعوی کفر ہے۔ دعوی نبوت کا تعلق عقائد سے ہے اور نسخ عقائد میں جاری نہیں ہوتا ،احکام میں ہوتا ہے ۔ یہ ناممکن ہے کہ جو بات پہلے کفر کی تھی وہ بعد میں اسلام بن جائے۔ نیز انبیاء کفر سے قبل از نبوت بھی ایسے ہی پاک ہوتے ہیں جیسے بعد از نبوت۔ نیز بد عقل اور بد فہم کبھی نبی نہیں ہو سکتا جبکہ مرزا بد عقل اور بد فہم تھا۔

مرزائی جماعت سے ایک سوال؟

مرزا قادیانی کی ان تمام عبارات سے یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ دعوی نبوت سے پہلے مرزا قادیانی بھی خاتم النبیین کے معنی وہی سمجھتا تھا جو تیرہ سو برس سے تمام دنیا کے مسلمان سمجھتے چلے آئے۔ اور اب دعوی نبوت کے بعد مرزا قادیانی خاتم النبیین کے دوسرے معنی بیان کرتا ہے جس کی بنا پر نبوت کا جاری ہونا ضروری ہو گیا۔ اور بقول مرزا جس مذہب میں وحی نبوت نہ ہو وہ شیطانی اور لعنتی مذہب کہلانے کا مستحق ہے (براہین احمدیہ حصہ پنجم خ ص ٣٠٦ ج ٢١) ”جو شخص یہ کہے کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہ ہو گا وہ دین دین نہیں اور نہ وہ نبی نبی ہے“

(براہین احمدیہ حصہ پنجم خ ص ٣٠٦ ج ٢١)

اب سوال یہ ہیکہ خاتم النبیین کے کون سے معنی صحیح ہیں پس اگر خاتم النبیین کے جدید معنی صحیح ہیں، تو یہ لازم آئیگا کہ تیرہ سو سال میں جس قدر بھی مسلمان گزر چکے وہ سب کافر اور بے ایمان مرے ۔ گویا کہ عہد صحابہ کرام سے لیکر اس وقت تک تمام امت کفر پر گزری اور دعوی نبوت سے پہلے خود مرزا صاحب بھی جب تک اسی سابقہ عقیدہ پر رہے،

صفحہ ۸۹

کافر ہے اور پچاس برس تک جملہ آیات واحادیث کا مطلب بھی غلط سمجھتے رہے۔ اور تمام امت کا اس بات پر اجماع ہے کہ جو شخص تمام امت کی تکفیر وتضلیل کرتا ، اور احمق و جاہل قرار دیتا ہو وہ بالا جماع کافر اور گمراہ ہے۔ لہٰذا مرزا قادیانی بالا جماع کافر اور گمراہ ٹھہرا۔ اور اگر خاتم النبیین کے پہلے معنی صحیح ہیں جو تمام امت نے سمجھے اور مرزا صاحب بھی دعویٰ نبوت سے پہلے وہی سمجھتے تھے تو لازم آئے گا کہ پہلے لوگ تو سب مسلمان ہوئے اور مرزا صاحب دعویٰ نبوت کے بعد سابق عقیدہ کے بدل جانے کی وجہ سے خود اپنے اقرار سے کافر اور مرتد ہو جائیں۔

غرض یہ کہ خاتم النبیین کے جو بھی معنی مراد لئے جائیں مرزا صاحب بہر صورت کافر ہیں۔ اور غباوت اور بدفہمی بھی بہر دو صورت ان کے ساتھ ہے جو نبوت کے منافی ہے۔

تاویل: ۷۔ مرزا صاحب نے نبی بننے کے شوق میں حاشیہ حقیقت الوحی خ ص ۱۰۰ ج ۲۲ میں تو آیت خاتم النبیین کی تحریف کرتے ہوئے آیت کے معنی یہ بتلائے تھے کہ آپ ﷺ کی پیروی کمالات نبوت بخشتی ہے اور آپ ﷺ کی توجہ روحانی نبی تراش ہے لیکن اس بھی جب کام بنتا نظر نہ آیا تو ایک اور تاویل گھڑی اور حقیقت الوحی خ ص ۳۰ ج ۲۲، پر لکھا کہ ”اور ایک وہی ہے جس کی مہر سے ایسی نبوت بھی مل سکتی ہے“۔

جواب ۱:۔ ہم اس وقت اس بحث میں نہیں جاتے کہ خاتم النبیین کے یہ معنی لغت اور عربی زبان کے اعتبار سے بھی ہو سکتے ہیں یا نہیں! اور اس بحث کو بھی چھوڑتے ہیں کہ اس نو ایجاد تفسیر کا تو یہ نتیجہ ہے کہ کسی کو نبی بنانا اللہ کے رسول کے ہاتھ میں ہے جس پر آپ ﷺ چاہیں نبوت کی مہر لگا دیں، اللہ کے ہاتھ میں نہیں! مرزا صاحب کی اس غلطی کو بھی نظر انداز کرتے ہیں کہ اس غلطی کی رو سے نبوت ایک اکتسابی چیز بن جاتی ہے! کہ جو کوئی آنحضرت ﷺ کی مکمل پیروی کر لے وہ نبی بن جائے۔

ہاں ہم اس جگہ اس نو ایجاد تفسیر کے اس نتیجہ پر آپ کو متوجہ کرتے ہیں کہ اگر اس کو صحیح مان لیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اس امت میں جتنے زیادہ نبی اور رسول آئیں اتنا ہی حضور ﷺ کا کمال ظاہر ہوگا۔

صفحہ ۹۰

لیکن تحقیق سے پتہ چلا کہ مرزا صاحب خود بھی اس دروازہ کو اتنا کھولنا نہیں چاہتے کہ اس میں ان کے سوا کوئی دوسرا آسکے۔ اور تیرہ سو برس میں کبھی ایک شخص کے نبی بننے کے وہ بھی قائل نہیں۔ تو یہ کس قدر عجیب بات ہوگی کہ جس ہستی کو اللہ تعالیٰ نے یہ اعزاز بخشا کہ ان کی توجہ روحانی بقول مرزا ”نبی تراش“ ہو۔ اس کی توجہ روحانی ایک لاکھ سے زائد جاں نثار صحابہ کرامؓ میں سے کسی کو نبی نہ بنا سکی ۔ اور پھر انکے بعد جن لوگوں کو آپ ﷺ نے خیرالقرون فرمایا ان میں بھی کوئی ایسا نہ نکلا جو آپ ﷺ کی پیروی کر کے آپ ﷺ کی توجہ روحانی سے نبی بن سکتا۔

تیرہ سو برس تک یہ توجہ روحانی معاذ اللہ کوئی کام نہ کر سکی۔ یہاں تک کہ چودھویں صدی میں مرزا نے جنم لیا۔ تو اس توجہ روحانی کا ثمرہ صرف ایک شخص بنا۔ معاذ اللہ، یہ قرآن کی تحریف کے ساتھ خود حضور پاک ﷺ کی کس قدر توہین ہے۔ نعوذ باللہ۔ اور مرزا قادیانی کے بعد پھر آپ ﷺ توجہ روحانی معطل !(جیسا کہ گزشتہ حوالوں سے معلوم ہوئے) نعوذ باللہ۔

جواب ۲۔ خاتم النبیین دو الفاظ سے مرکب ہیں۔ خاتم اور النبیین۔ النبیین جمع ہے نبی کی۔ عربی میں جمع کا اطلاق کم از کم تین پر ہوتا ہے۔ مثلاً کتب، کم از تین کتابیں۔ مساجد کم از کم تین مسجدیں۔ اگر خاتم سے مراد نبی تراش مہر لی جائے تو خاتم النبیین کی تفسیر ہوگی کہ کم از کم تین نبی بنانے والے مہر۔ لیکن مرزا صاحب اپنی آخری کتابوں میں اعلان کر چکے ہیں کہ وہ امت کے پہلا اور آخری نبی ہیں تو پھر اس جدید اور من گھڑت معنی کا فائدہ ہی کیا نکلا؟

آیت: يَابَنِيْ آدَمَ اِمَّا يَاْتِيَنَّكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ

قادیانی :. ”يَابَنِىْ اٰدَمَ اِمَّا يَاْتِيَنَّكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ يَقُصُّوْنَ عَلَيْكُمْ اٰيٰتِيْ فَمَنِ اتَّقٰى وَاَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَاهُمْ يَحْزَنُوْنَ“ (اعراف ۳۵)

یہ آیت آنحضرت ﷺ پر نازل ہوئی۔ لہٰذا اس میں حضور ﷺ کے بعد آنے والے رسولوں کا ذکر ہے ۔ آپ ﷺ کے بعد بنی آدم کو خطاب ہے لہٰذا جب تک بنی آدم دنیا میں موجود ہیں اس وقت تک نبوت کا سلسلہ جاری رہے گا۔

صفحہ ۹۱

جواب ۱- اس آیت کریمہ سے قبل اسی رکوع میں تین بار ”یابنی آدم“ آیا ہے۔ اور اول ”یابنی آدم“ کا تعلق ”اِهْبِطُوا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ (البقرۃ ۳۶) سے ہے۔ اِهْبِطُوا کے مخاطب سیدنا آدم علیہ السلام وسیدہ حواؑ ہیں۔ لہٰذا اس آیت میں بھی آدم علیہ السلام کے وقت کے اولاد آدم کو مخاطب بنایا گیا ہے۔ پھر زیر بحث آیت نمبر ۳۵ ہے۔ آیت نمبر ۱۰، سے سیدنا آدم علیہ السلام کا ذکر شروع ہے۔ اس تسلسل کے تناظر میں دیکھا جائے تو دو رکوع سے پہلے جو مضمون چلا آرہا ہے اس کی ترتیب وتنسیق خود ظاہر کرتی ہے کہ جب آدم وحوا کو اپنے اصلی مسکن (جنت) سے عارضی طور پر جدا کیا گیا تو انکی مخلصانہ توبہ وانابت پر نظر کرتے ہوئے مناسب معلوم ہوا کہ اس حرمان کی تلافی اور تمام اولاد آدم کو اپنی میراث آبائی واپس دلانے کے لئے کچھ ہدایات دی جائیں۔ چنانچہ ہبوط آدم کا قصہ ختم ہونے کے بعد ”يَابَنِيْ اٰدَمَ قَدْ اَنْزَلْنَا عَلَيْكُمْ لِبَاساً“ (اعراف ۲۶) سے خطاب شروع کر کے تین چار رکوع تک انہیں ہدایات کا مسلسل بیان ہوا ہے۔ تو حقیقت میں یہ خطاب اولین اولاد آدم علیہ السلام کو ہے اس پر قرینہ اس کا سباق ہے۔ تسلسل اور سباق آیات کی صراحتہ دلالت موجود ہے کہ یہاں پر حکایت کیا گیا ہے۔

جواب ۲- قرآن مجید کے اسلوب بیان سے یہ بات ظاہر ہے کہ آپ ﷺ کی امت اجابت کو ”يَا أَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا“ سے مخاطب کیا جاتا ہے۔ اور آپ ﷺ کی امت دعوت کو ”يَا أَيُّهَا النَّاسُ“ سے خطاب ہوتا ہے۔ قرآن مجید میں کہیں بھی آپ ﷺ کی امت اجابت کو یابنی آدم سے خطاب نہیں کیا گیا۔ یہ بھی اس امر کی دلیل ہے کہ آیت بالا میں حکایت ہے حال ماضیہ کی۔

ضروری وضاحت

ہاں البتہ ”يَا بَنِيْ اٰدَمَ“ کی عمومیت کے حکم میں آپ ﷺ کی امت کے لئے وہی سابقہ احکام ہوتے ہیں۔ بشرطیکہ وہ منسوخ نہ ہوگئے ہوں۔ اور اگر وہ منسوخ ہوگئے یا کوئی ایسا حکم جو آپ ﷺ کی امت کو اس عمومیت میں شمول سے مانع ہو تو پھر آپ ﷺ کی امت کا اس عموم سے سابقہ نہ ہوگا۔

جواب ۳- کبھی قادیانی کرم فرماؤں نے یہ بھی سوچا کہ بنی آدم میں ہندو‘ عیسائی‘ یہودی‘ سکھ‘ سبھی شامل ہیں۔ کیا ان میں سے نبی پیدا ہو سکتا ہے۔ اگر نہیں تو پھر ان کو اس آیت

صفحہ ۹۲

کے عموم سے کیوں خارج کیا جاتا ہے؟ ثابت ہوا کہ خطاب عام ہونے کے باوجود حالات وواقعات وقرائن کے باعث اس عموم سے کئی چیزیں خارج ہیں۔ پھر بنی آدم میں تو عورتیں، ہجڑے بھی شامل ہیں۔ تو کیا اس عموم سے ان کو خارج نہ کیا جائے گا؟ اگر یہ کہا جائے کہ عورتیں وغیرہ تو پہلے نبی نہ تھیں اس لئے وہ اب نہیں بن سکتیں تو پھر ہم عرض کرینگے کہ پہلے رسول مستقل آتے تھے، اب تم نے رسالت کو اطاعت سے وابستہ کر دیا ہے۔ تو اس میں ہجڑے وعورتیں بھی شامل ہیں۔ لہٰذا مرزائیوں کے نزدیک عورتیں وہجڑے بھی نبی ہونے چاہئیں۔

جواب ۴۔ اگر ”يٰبَنِيْ اٰدَمَ اِمَّا يَاْتِيَنَّكُمْ رُسُلٌ“ سے رسولوں کے آنے کا وعدہ ہے تو ”اِمَّا يَاْتِيَنَّكُمْ مِّنِّيْ هُدًی“ میں وہی یاتینکم ہے اس سے ثابت ہوا کہ نئی شریعت بھی آسکتی ہے۔ تو مرزائیوں کے عقیدہ کے خلاف ہوا۔ کیوں کہ تمھارے نزدیک تو اب تشریعی نبی نہیں آسکتا۔ کیوں کہ خود مرزا نے کہا ”رسول کا لفظ عام ہے جس میں رسول اور نبی اور محدث داخل ہیں“ (آئینہ کمالات خ ص ۳۲۲ ج ۵) اگر کہا جائے کہ ”قُلْنَا اهْبِطُوْا مِنْهَا جَمِيْعاً“ قرینہ ہے کہ ہبوط آدم کے وقت کے لئے یہ آیت مخصوص ہے تو ہم عرض کریں گے کہ ”یابنی آدم، قرینہ ہے کہ یہ حکم اولین اولاد آدم کو تھا۔ اس میں آپ ﷺ کی امت کو خطاب نہیں کیا گیا۔ بلکہ حکایت حال ماضیہ کی کی گئی ہے۔

جواب ۵:۔ اما حرف شرط ہے۔ جس کا تحقق ضروری نہیں۔ یاتینکم مضارع ہے اور ہر مضارع کے لئے استمرار ضروری نہیں۔ جیسا کے فرمایا ”اِمَّا تَرَيِنَّ مِنَ الْبَشَرِ اَحَداً“ (مریم ۲۶) کیا حضرت مریم قیامت تک زندہ رہینگی اور کسی بشر کو دیکھتی رہینگی؟ مضارع اگرچہ بعض اوقات استمرار کے لئے آتا ہے مگر استمرار کیلئے قیامت تک رہنا ضروری نہیں۔ جو فعل دو چار دفعہ پایا جائے اسکے لئے مضارع استمرار سے تعبیر کرنا جائز ہے اس کی ایک مثال گزر چکی ۱؎

۱؎ اس کی مزید چند مثالیں یہ ہیں (۱) اِنَّا اَنْزَلْنَا التَّوْرٰةَ فِيْهَا هُدًی وَّنُوْرٌ يَحْکُمُ بِهَا النَّبِيُّوْنَ ”مائدہ ۴۴۔ ظاہر سے کہ تورات کے موافق حکم کرنے والے گزر چکے۔ آپ ﷺ کی بعثت کے بعد کسی کو حتی کہ صاحب توراۃ کو بھی حق حاصل نہیں اسکی تبلیغ کا (۲) ”وَسَخَّرْنَا مَعَ دَاوٗدَ الْجِبَالَ يُسَبِّحْنَ وَالطَّيْرَ“ الانبیاء ۷۹۔ تسبیح داؤد کی زندگی تک ہی رہی پھر مسدود ہوگئی مگر ہر جگہ صیغہ مضارع کا ہے۔ (۳) ”وَاُوْحِيَ اِلَيَّ هٰذَا الْقُرْاٰنُ لِاُنْذِرَكُمْ بِهٖ وَمَنْ بَلَغَ“ انعام ۱۹ چنانچہ حضور ﷺ ایک زمانہ تک ڈراتے رہے مگر اب بالواسطہ آپ کی انذار وتبشیر مسدود ہے۔

صفحہ ۹۳

رسول شریعت لائیں گے۔ جیسا کہ مفسرین نے اور بالخصوص امام فخر الدینؒ رازی نے ۔ وضاحت کی ہے اور جیسا کہ ”نَحْنُ نَقُصُّ عَلَیْکَ اَحْسَنَ الْقَصَصِ“ سے ثابت ہے۔ تو یہ آیت مرزائیوں کے دعویٰ کے خلاف ہوئی کیونکہ ان کے نزدیک تو اب صاحب شریعت نبی نہیں آئیں گے۔ چنانچہ مرزا صاحب بھی شریعت کے اجرا کے قائل نہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ ”میں حضور ﷺ کو خاتم الانبیاء حقیقی معنوں کی رو سے سمجھتا ہوں اور قرآن کو خاتم الکتب تسلیم کرتا ہوں“ (سراج منیر خ ص ۶ ج ۱۲)

رُسُلٌ مِّنْکُمْ الآیۃ، اخرج ابن جریر عن ابی یسار السلمی فقال ان الله تبارک وتعالیٰ جَعَلَ آدم وذریته فی کفه فقال یَابَنِیْٓ اٰدَمَ اِمَّا یَاْتِیَنَّکُمْ رُسُلٌ مِّنْکُمْ یَقُصُّوْنَ عَلَیْکُمْ اٰیَاتِیْ ثم نظر الی الرسل فقال یَاَیُّهَا الرُّسُلُ کُلُوْا مِنَ الطَّیِّبَاتِ وَاعْمَلُوْا صَالِحًا

ابی یسار سلمی سے روایت ہے کہ اللہ رب العزت نے سیدنا آدم علیہ السلام اور ان کی جملہ اولاد کو (اپنی قدرت ورحمت کی) مٹھی میں لیا اور فرمایا ” یٰبَنِیْٓ اٰدَمَ اِمَّا یَاْتِیَنَّکُمْ رُسُلٌ مِّنْکُمْ . . الآیۃ پھر نظر (رحمت) رسولوں پر ڈالی تو ان کو فرمایا یاایها الرسل . الآیه .

غرض یہ کہ عالم ارواح کے واقعہ کی حکایت ہے۔

١ بعض مرزائی جہلاء بحوالہ تفسیر کبیر مغالطہ دیتے ہیں کہ یہاں آیاتی سے مراد صرف قرآن ہے یعنی اب جو نبی آئیں گے وہ غیر تشریعی ہونگے جنکا کام قرآن پڑھ پڑھ کر سنانا ہوگا۔ تو واضح رہے کہ امام رازیؒ نے یہاں تین اقوال ذکر کئے ہیں فَقِیْلَ تِلْکَ الآیَاتُ هی القرآن وَقِیْلَ الدلائل وَقِیْلَ الاحکام والشرائع والاَوَّلٰی دخولُ الکلِّ فیہ لاِنَّ جَمیعَ هذه الاشیاء الآیَاتُ ۔ معلوم ہوا کہ امام رازیؒ نے قرآن کے ساتھ تخصیص نہیں کی یہ قادیانی دیانت داری کے دیوالیہ ہونے کی شہادت اور قادیانیوں کا نرا مغالطہ ہے اور بس۔

٢ دھوکے باز مرزائی یہاں پر مضارع اور نون تاکید کے بحث میں الجھا کر بیضاوی کی ایک عبارت نقل کرتے ہیں ’اتیان الرسل امر جائز غیر واجب‘ اور ترجمہ یوں کرتے ہیں ’رسولوں کا آنا جائز ہے اگر چہ ضروری نہیں‘ اس سے معلوم ہوا کہ نبی کا آنا ممکن ہے لیکن اس کے آگے جملہ ’کماظنہ اھل التعلیم‘ کو چھوڑ دیتے ہیں جس سے صاحب بیضاوی کا مقصد اور مراد واضح ہوتا ہے۔ بہر کیف شہاب علی البیضاوی نے کیا خوب قادیانیوں پر چپت رسید کیا ہے ملاحظہ ہو ’ذکره بحرف الشرط . ارسال الرسل لهداية البشر واقع وليس بواجب عندنا وقالت الفلاسفة انه واجب على الله لانه يجب عليه تعالى ان يفعل الاصلح وهم يسمون اهل التعليم . وليس المراد بالرسل نبينا ﷺ وبنی آدم امته كما قیل فانه خلاف الظاهر (شہاب علی البیضاوی ص ١٦٦)

صفحہ ۹۴

مرزائی عذر

اس آیت میں حضور ﷺ کے زمانہ کے بعد بنی آدم کو ہی خطاب ہے جیسے ”یٰبَنِیْ اٰدَمَ خُذُوْا زِیْنَتَکُمْ عِنْدَ کُلِّ مَسْجِدٍ“ میں کیونکہ اس میں مسجد کا لفظ ہے اور یہ لفظ محض امت محمدیہ ہی کی عبادت گاہ کے لئے وضع کیا گیا ہے۔

جواب : امم سابقہ کے لئے بھی مسجد کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جیسا کہ سورہ کہف میں ہے ”قَالَ الَّذِيْنَ غَلَبُوْا عَلٰی اَمْرِهِمْ لَنَتَّخِذَنَّ عَلَيْهِمْ مَّسْجِدًا“ (کہف ۲۱)

بالفرض والتقدیر اگر اس آیت کو اجرائے نبوت کی دلیل مان بھی لیا جائے تب بھی مرزا غلام احمد قیامت کی صبح تک نبی قرار نہیں دیا جاسکتا۔ کیوں کہ وہ بقول خود آدم کی اولاد ہی نہیں اور یہ آیت تو صرف بنی آدم سے متعلق ہے۔ مرزا نے اپنا تعارف بایں الفاظ کرایا ہے۔ ملاحظہ ہو

کرم خاکی ہوں میرے پیارے نہ آدم زاد ہوں ☆ ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار

(براہین احمدیہ پنجم خ ص ۱۲۷ ج ۲۱)

اب اگر وہ بنی آدم میں سے تھا جیسا کہ ہمارا اسکے بارے میں ابھی تک خیال ہے تو پھر اسنے اپنی آدمیت کا انکار کر کے سفید جھوٹ بولا ہے اور جھوٹا آدمی نبی نہیں ہوسکتا۔ اور اگر وہ واقعی دائرہ آدمیت سے خارج تھا تو پھر یا بنی آدم والی آیت سے اسکی نبوت نہیں ثابت کی جاسکتی۔ اس لئے مرزائیوں کا اس آیت سے اجراء نبوت کی دلیل پیش کرنا سراسر لا حاصل کوشش ہے۔

شعر میں تاویل

مذکورہ بالا شعر میں مرزائی یہ تاویل کرتے ہیں کہ دراصل ہمارے حضرت صاحب بہت ہی منکسر المزاج تھے۔ اس کسر نفسی کی بنا پر انھوں نے یہ شعر کہہ دیا اس سے اپنا تعارف کرانا مقصود نہ تھا۔ لہٰذا یہ شعر ہماری بحث سے خارج ہونا چاہئے۔

صفحہ ۹۵

تاویل کا تجزیہ

پہلی بات تو یہ ہے کہ کوئی عقل مند آدمی ایسی تواضع نہیں کرتا کہ اپنے آدمی ہونے ہی کا انکار کر دے، اور ساتھ میں اپنے کو بشر کی جائے نفرت (شرمگاہ) قرار دے۔ دوسری بات یہ کہ جو شخص متواضع ہوتا ہے وہ ہر جگہ اپنی تواضع اور کسرنفسی کا اظہار کرتا ہے۔ یہ نہیں کہ ایک جگہ اپنے آدمی ہونے کا ہی انکار کر دے اور دوسری جگہ اپنے کو دنیا کا سب سے عظیم المرتبت انسان قرار دینے لگے۔ لیکن اس الٹی منطق کا ارتکاب مرزا جی ایک نہیں بے شمار جگہ کرتے ہیں۔ چند ایک انکی نام نہاد تواضع کا نمونہ ملاحظہ فرمائیے۔ جو مرزائیوں کی تاویل کا منہ چڑا رہے ہیں۔ دیکھئے!

ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو اس سے بہتر غلام احمد ہے١؎

(دافع البلاء، خ ص ۲۴۰ ج ۱۸)

روضہء آدم کے جو تھا نامکمل اب تلک، میرے آنے سے ہوا کامل بجملہ برگ و بار

(براہین پنجم خ ص ۱۴۴ ج ۲۱)

کربلائے ست سیر ہر آنم ٭ صد حسین است در گریبانم
آدمم نیز احمد مختار ٭ در برم جامہ ہمہ ابرار
آنچہ داداست ہر نبی را جام ٭ داد آں جام را مرا بتمام
انبیاء گرچہ بودہ اند بسے ٭ من بعرفاں نہ کمترم ز کسے

(نزول المسیح خ ص ۴۷۷ ج ۱۸)

خود ہی سوچئے! کیا کوئی ہوش مند انسان ایسے متکبر اور گھمنڈی کو منکسر المزاج کہہ سکتا ہے ؟ مرزا نے کہا، کربلائے ست سیر ہر آنم، تو مرزا کے بیٹے مرزا محمود نے اس پر یہ رنگ چڑھایا: ”حضرت مسیح موعود (مرزا مردود) نے فرما کہ میرے گریبان میں سوحسین ہیں۔ لوگ اس کے یہ معنی سمجھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود نے فرمایا کہ میں سوحسین کے برابر ہوں۔

١؎ استاذ محترم حضرت مولانا محمد حیات صاحب فاتح قادیان نے یہ شعر اس طرح بدلا ہے ۔ ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو، اس سے بدتر غلام احمد ہے ۔ (اللہ رحمہ)

صفحہ ۹۶

لیکن میں کہتا ہوں کہ اس سے بڑھ کر اس کا مفہوم یہ ہے کہ سوحسین کی قربانی کے برابر میری ہر گھڑی کی قربانی ہے۔ وہ شخص جو اہل دنیا کی فکروں میں گھلا جاتا ہے جو ایسے وقت میں کھڑا ہوتا ہے جبکہ ہر طرف تاریکی اور ظلمت پھیلی ہوئی ہے۔ اور اسلام کا نام مٹ رہا ہے۔ وہ دن رات دنیا کا غم کھاتا ہوا اسلام کو قائم کرنے کے لئے کھڑا ہوتا ہے۔ کون کہہ سکتا ہے کہ اس کی قربانی سوحسین کے برابر نہ تھی۔ یہ تو ادنیٰ سوال ہے کہ حضرت مسیح موعود امام حسین کے برابر تھے یا ادنیٰ۔

(خطبہ محمود مندرجہ اخبار الفضل قادیان ۶ جنوری ۱۹۲۶ء)

اب قادیانی بتائیں کہ کیا یہ منکسر المزاجی تھی؟

مرزائی اجتماعی طور پر مرزا قادیانی کی سنت پر عمل کر کے عاجزی کریں اور اعلان کریں کہ وہ آدم زاد نہیں

ہیں۔ مرزائی وضاحت کریں کہ وہ کون سی جگہ تھا۔ (لاحول ولاقوة الا بالله العلی العظیم)

آیت: مَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَ الرَّسُوْلَ۔

قادیانی۔ مَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَالرَّسُوْلَ فَاُولٰٓئِکَ مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَالصِّدِّیْقِیْنَ وَالشُّہَدَآءِ وَالصّٰلِحِیْنَ وَحَسُنَ اُولٰٓئِکَ رَفِیْقًا‘‘

(نساء ۶۹)

قادیانیوں کا کہنا ہے کہ جو لوگ اللہ اور اسکے رسول کی اطاعت کرینگے وہ نبی ہونگے، صدیق ہونگے، شہید ہونگے، صالح ہونگے۔ اس آیت میں چار درجات ملنے کا ذکر ہے اگر انسان صدیق، شہید، صالح بن سکتا ہے تو نبی کیوں نہیں بن سکتا؟ تین درجوں کو جاری مانا اور ایک کو بند مانا تحریف نہیں تو اور کیا ہے۔ اور اگر صرف معیت مراد ہو تو کیا حضرت صدیق اکبرؓ، حضرت فاروق اعظمؓ صدیقوں اور شہیدوں کے ساتھ ہونگے، بذات خود صدیق اور شہید نہ تھے؟

ذکر ہے یہاں تو محض معیت اور رفاقت کا ذکر ہے کہ اللہ اور اسکے رسول کی اطاعت کرنے والے مذکورہ بالا چار لوگوں کے ساتھ ہونگے۔ جیسا کہ آیت کے آخری الفاظ ’’حَسُنَ اُولٰٓئِکَ رَفِیْقًا‘‘ سے ظاہر ہے۔

صفحہ ۹۷

جواب ۲ - آیت میں معیت مراد ہے عینیت نہیں معیت فی الدنیا ہر مومن کو حاصل نہیں اس لئے اس سے مراد معیت فی الآخرۃ ہی مراد ہے۔ چنانچہ مرزائیوں کے مسلمہ دسویں صدی کے مجدد امام جلال الدین سیوطی نے اپنی تفسیر جلالین شریف میں اس آیت کا شان نزول لکھا ہے:

قال بعض الصحابة للنبی ﷺ کیف نراک فی الجنة وانت فی الدرجات العلیٰ. ونحن اسفل منک فنزل ومن یطع الله والرسول فیما امر بہ فاولئک مع الذین انعم اللہ علیھم من النبیین والصدیقین. افاضل اصحاب الانبیاء لمبالغتھم فی الصدق والتصدیق. والشھداء القتلیٰ فی سبیل اللہ والصالحین غیر من ذکر وحسن اولئک رفیقاً. رفقاء فی الجنة بان یستمتع فیھا برؤیتھم وزیارتھم والحضور معھم وان کان مقرھم فی درجات عالیۃ

(جلالین ص ۸۰)

بعض صحابہ کرام نے آنحضرت ﷺ سے عرض کیا کہ آپ ﷺ جنت کے بلند و بالا مقامات پر ہونگے اور ہم جنت کے نچلے درجات میں ہونگے، تو آپ کی زیارت کیسے ہوگی؟ تو یہ آیت نازل ہوئی من یطع اللہ والرسول....... یہاں رفاقت سے مراد جنت کی رفاقت ہے کہ صحابہ کرامؓ انبیاء علیہم السلام کی زیارت و حاضری سے فیضیاب ہونگے اگرچہ ان (انبیاء) کا قیام بلند و بالا مقام پر ہوگا۔

اسی طرح امام فخر الدین رازیؒ نے لکھا ہے:

"من یطع الله والرسول ذکرو فی سبب النزول وجوھا الاول روی جمع من المفسرین ان ثوبانؓ مولیٰ رسول اللہ ﷺ کان شدید الحب لرسول اللہ ﷺ قلیل الصبر عنہ فاتاہ یوما وقد تغیر وجھہ ونحل جسمہ وعرف الحزن فی وجھہ فسئلہ رسول اللہ ﷺ عن حالہ فقال یا رسول اللہ ما بی وجع غیر انی اذا لم اراک اشتقت الیک واستوحشت وحش شدید حتی القاک فذکرت الآخرۃ فخفت ان لا اراک ھناک لانی ان ادخلت الجنة فانت تکون فی الدرجات النبیین وانا فی الدرجة العبید فلا اراک وان انا لم ادخل الجنة فحینئذ لا اراک ابدا فنزلت ھذہ الآیة: من یطع اللہ .

اس آیت کے کئی اسباب مفسرین نے ذکر کئے ہیں ان میں پہلا یہ ہے کہ حضرت ثوبانؓ جو آنحضرت ﷺ کے آزاد کردہ غلام تھے وہ آپ کے بہت زیادہ شیدائی تھے (جدائی) پر صبر نہ کر سکتے تھے ایک دن غمگین صورت بنائے رحمت دو عالم ﷺ کے پاس آئے ان

صفحہ ٩٨

کے چہرے پر حزن وملال کے اثر تھے۔ آپ ﷺ نے وجہ دریافت فرمائی۔ تو انھوں نے عرض کیا کہ مجھے کوئی تکلیف نہیں۔ بس اتنا ہے کہ آپ ﷺ کو اگر نہ دیکھوں تو اشتیاق ملاقات میں بے قراری بڑھ جاتی ہے۔ آپ کی زیارت ہوئی آپ نے قیامت کا تذکرہ کیا تو سوچتا ہوں کہ جنت میں داخلہ ملا بھی تو آپ ﷺ سے ملاقات کیسے ہوگی۔ اس لئے کہ آپ تو انبیاء کے درجات میں ہونگے۔ اور ہم آپ ﷺ کے غلاموں کے درجہ میں۔ اور اگر جنت میں سرے سے میرا داخلہ ہی نہ ہوا تو پھر ہمیشہ کے لئے ملاقات سے گئے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔

معلوم ہوا کہ اس معیت سے مراد جنت کی رفاقت ہے۔ ابن کثیر، تنویر المقیاس، روح البیان میں بھی تقریباً یہی مضمون ہے۔

حدیث نمبر ۱- عن معاذ ابن انسؓ قال قال رسول الله ﷺ من قرء الف آية في سبيل الله كتب يوم القيامة مع النبيين والصديقين والشهداء والصالحين وحسن اولئك رفيقاً.

حضرت معاذؓ فرماتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص ایک ہزار آیت اللہ (کی رضا) کے لئے تلاوت کرے۔ طے شدہ ہے کہ وہ قیامت کے دن نبیوں، صدیقوں، شہداء وصالحین کے ساتھ بہترین رفاقت میں ہوگا۔

(منتخب کنز العمال بر حاشیہ مسند احمد ص ۳۶۳ ج ۱، ابن کثیر ص ۲۳ ج ۱)

حدیث نمبر ۲- ”قال رسولُ اللهِ ﷺ التاجرُ الصدُوقُ الامينُ مَعَ النبيين والصديقين والشهداء .

آپ ﷺ نے فرمایا کہ سچا تاجر امانت دار (قیامت کے دن) نبیوں، صدیقوں اور شہداء کے ساتھ ہوگا۔ (منتخب کنز العمال بر حاشیہ مسند احمد ص ۲۰۹ ج ۲، ابن کثیر ص ۵۲۳ ج ۱ طبع مصر)

مرزائی بتائیں کہ اس زمانہ میں کتنے امین وصادق تاجر نبی ہوئے ہیں؟

حدیث نمبر ۳- ”عن عائشةَ قالت سمعت رسول الله ﷺ يقول ما من نبى يمرض إلاّ خُيّرَ بين الدنيا والآخرة وكان فى شكواهُ الذى قُبِضَ اَخذتُه بحة شديدٌ سمعتُه يقولُ مع الذين انعمتَ عليهم مِن النبيين فعلمتُ انَّه خُيّرَ ۔

صفحہ ۹۹

حضرت عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں کہ میں نے آپ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے کہ ہر نبی مرض (وفات) میں اسے اختیار دیا جاتا ہے کہ وہ دنیا میں رہنا چاہتا ہے یا عالم آخرۃ میں۔ جس مرض میں آپ ﷺ کی وفات ہوئی آپ ﷺ اس مرض میں فرماتے تھے ”مع الذین انعمت علیھم من النبیین“ اس سے میں سمجھ گئی کہ آپ ﷺ کو بھی (دنیا وآخرۃ میں سے ایک کا) اختیار دیا جا رہا ہے۔ (مشکوٰۃ ص ۵۴۷ ج ۲۔ ابن کثیر ص ۵۲۲ ج ۱)

کتب سیر میں یہ روایت موجود ہے کہ آنحضرت ﷺ نے وصال کے وقت یہ الفاظ ارشاد فرمائے ”مع الرفیق الاعلیٰ فی الجنۃ مع الذین انعمت علیھم من النبیین والصدیقین والشھداء والصالحین“ (البدایۃ والنھایۃ ص ۲۴۱ ج ۵) رفیق اعلیٰ کے ساتھ جنت میں انعام یافتہ لوگوں۔ (یعنی انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کے ساتھ)۔

معلوم ہوا کہ اس آیت میں نبی بننے کا ذکر نہیں چونکہ نبی تو پہلے بن چکے تھے آپ ﷺ کی تمنا آخرۃ کی معیت کے متعلق تھی۔

ان تمام احادیث میں مَعَ کا لفظ ہے۔ جو معیت کے معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ انکو عینیت کے معنوں میں لینا ممکن ہی نہیں محض اختصار سے یہ روایات درج کی گئی ہیں۔

درجات کے ملنے کا تذکرہ

قرآن کریم میں جہاں دنیا میں درجات ملنے کا ذکر ہے وہاں نبوت کا کوئی ذکر نہیں ہے ۔ اگرچہ باقی تمام درجات مذکور ہیں جیسے دیکھو!

لحدید ۱۹) اور جو لوگ یقین لائے اللہ پر اور اسکے سب رسولوں پر وہی ہیں سچے ایمان والے اور لوگوں کا احوال بتلانے والے اپنے رب کے پاس۔

۱؎ مزید چند روایتیں حسب ذیل ہیں (۱)۔۔ عن انسؓ قال قال رسول اللہ ﷺ من احبنی کان معی فی الجنۃ، ابن عساکر ص ۱۴۵ ج ۳۔ (۲)۔۔ عن عمر ابن مرۃ الجہنیؓ قال جاء رجل الی النبی ﷺ فقال یا رسول اللہ ﷺ اشھدت ان لا الہ الا اللہ وانک رسول اللہ وصلیت الخمس وادیت زکوٰۃ مالی وصمت رمضان فقال ﷺ من مات علی ھذا مع النبیین والصدیقین والشھداء یوم القیامۃ ھکذا ونصب اصبعیہ ۔ مسند احمد، ابن کثیر ص ۵۲۳ ج ۱ (۳)۔۔ قال علیہ السلام المرء مع من احب۔ مسند احمد ص ۱۰۴ ج ۳

صفحہ ۱۰۰

اور جو لوگ یقین لائے اور بھلے کام کیئے ہم ان کو داخل کریں گے نیک لوگوں میں۔

سب نبی ہو سکتے ہیں؟ اگر نبوت اطاعت کاملہ کا نتیجہ ہے تو عورت کو بھی نبوت ملنی چاہیئے۔ کیونکہ اعمال صالحہ کے نتائج میں مرد و عورت کو یکساں حیثیت حاصل ہے جیسے فرمایا: "مَنْ عَمِلَ صَالِحاً مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهٗ حَيٰوةً طَيِّبَةً وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ " النحل ۹۷۔ کہ کوئی اچھا عمل کرتا ہے مرد یا عورت ، اور وہ مومن ہے تو یقیناً اسے ایک پاک زندگی میں زندہ رکھیں گے۔ اور ہم یقینا انکے بہترین اعمال کے جو وہ کرتے تھے اجر دیں گے۔ کیا اس میں آنحضرت ﷺ کا کمال فیضان ثابت نہ ہوگا کہ عورت جسے کبھی نبوت حاصل نہ ہوئی وہ بھی آپ ﷺ کے طفیل نبوت حاصل کرتی ہے؟ اس سے معلوم ہوا کہ نبوت و رسالت اطاعت کاملہ کا نتیجہ نہیں۔

اور پیروی کی ہے تو نبی کیوں نہ بنے؟ اور اگر کسی نے بھی اطاعت و پیروی نہیں کی تو آپ ﷺ کی امت خیر امت نہ ہوئی بلکہ شر امت ہوگی ۔ (نعوذ باللہ ) جس میں کسی نے بھی اپنے نبی کی کامل پیروی نہ کی ۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ توبہ میں صحابہ کرامؓ کے متعلق خود شہادت دیدی ہے کہ يُطِيْعُوْنَ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ (توبہ ۷۱) یعنی رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرامؓ اللہ اور اسکے رسول کی کامل اطاعت کرتے ہیں ۔ بتاؤ وہ نبی کیوں نہ ہوئے؟۔ اس لئے کہ اگر اطاعت کاملہ کا نتیجہ نبوت ہے تو اکابر صحابہ کرامؓ کو یہ منصب ضرور حاصل ہوتا جنہیں ،،رَضِىَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَرَضُوْا عَنْهُ،، کا خطاب ملا اور یہی رضائے الٰہی سب سے بڑی نعمت ہے چنانچہ فرمایا: ,,وَرِضْوَانٌ مِّنَ اللّٰهِ اَكْبَرُ‘‘ توبہ ۷۲

علیہ وسلم کا وجود ہی تھا۔ ایام الصلح خ ص ۲۶۵ ج ۱۴ (۲) صحابہ کرام آنحضرت ﷺ کے

صفحہ ۱۰۱

دست و بازو تھے۔ سر الخلافہ ص۳۳۱ ج ۸ (۳) صدیق اکبر من بقیۃ طیبۃ النبی تھے، سر الخلافہ ص ۳۵۵ ج ۸ (۴) صدیق اکبر آیت استخلاف کا مصداق تھے سر الخلافہ خ ص ۳۵۲ ج ۸ (۵) صحابہ کرام آنحضرت ﷺ کی عکسی تصویریں تھے۔ فتح اسلام خ ص ۲۱ ج ۳۔

سوال یہ ہے کہ جب مرزا قادیانی کے نزدیک صحابہ کرام آنحضرت ﷺ کے رنگ میں رنگے ہوئے تھے اور کامل اتباع کا نمونہ تھے تو وہ نبی کیوں نہ بنے؟

۷۔ اگر بفرض محال ایک منٹ کے لئے تسلیم کرلیں کہ اللہ اور اسکے رسول کی اطاعت میں نبوت ملتی ہے تو بھی اس آیت میں تشریعی اور غیر تشریعی کی کوئی تخصیص نہیں۔ تم غیر تشریعی کی کیوں تخصیص کرتے ہو؟ اگر اس آیت میں نبوت ملنے کا ذکر ہے تو آیت میں النبیین ہے المرسلین نہیں۔ اور نبی تشریعی ہوتا ہے جیسا کہ نبی ورسول کے فرق سے واضح ہے۔ تو اس لحاظ سے تشریعی نبی آنے چاہئیں۔ یہ تمھارے عقیدہ کے بھی خلاف ہوا۔ مرزا کہتا ہے:

’’ اب میں بموجب آیت کریمہ وَاَمَّا بِنِعْمَتِ رَبِّکَ فَحَدِّثْ اپنی نسبت بیان کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے مجھے اُس تیسرے درجہ میں داخل کر کے وہ نعمت بخشی ہے کہ جو میری کوشش سے نہیں بلکہ شکم مادر میں ہی مجھے عطا کی گئی ہے‘‘

(حقیقت الوحی خ ص ۷۰ ج ۲۲)

اس حوالہ سے تو ثابت ہوا کہ مرزا کو آنحضرت ﷺ کی اتباع سے نہیں بلکہ وہبی طور پر نبوت ملی ہے۔ تو پھر اس آیت سے مرزائیوں کا استدلال باطل ہوا۔

۷۔ اگر اطاعت کرنے سے نبوت ملتی ہے تو نبوت کسبی چیز ہوئی، حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ’’اَللّٰہُ اَعْلَمُ حَیْثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَہٗ‘‘ نبوت وہبی چیز ہے جو اسے کسبی مانے وہ کافر ہے۔

نبوت وہبی چیز ہے

۱۔ علامہ شعرانی الیواقیت والجواہر میں تحریر فرماتے ہیں: ’’فَاِنْ قُلْتَ فَهَلُ النُّبوة مكتسبة او موهوبة فالجواب ليست النبوة مكتسبة حتى يتوسل اليها بالنسك و الرياضات كما ظنه جماعة من الحمقاء…… وقد افتى المالكية وغيرهم بكفر من قال ان النبوة مكتسبة ۔ (الیواقیت ص۱۶۴، ۱۶۵ ج۱) کہ کیا نبوت کسبی ہے یا وہبی؟ تو اسکا جواب ہے کہ نبوت کسبی نہیں ہے۔ کہ محنت وکاوش، سے اس تک پہونچا جائے جیسا کہ بعض احمقوں

صفحہ ۱۰۲

(مثلاً قادیانی فرقہ، از مترجم) کا خیال ہے۔ مالکی وغیرہ نے کسبی کہنے والوں پر کفر کا فتویٰ دیا ہے۔

”من ادعى نبوة احد مع نبينا ﷺ او بعده ...... او من ادعى النبوة لنفسه او جوز اكتسابها او البلوغ بصفاء القلب الى مرتبتها ...... وكذا من ادعى منهم انه يوحى اليه وان لم يدع النبوة ...... فهؤلاء كلهم كفار مكذبون للنبى ﷺ لانه اخبر عليه السلام انه خاتم النبيين لا نبى بعدى‘ (شفاء قاضی عیاض

ص ۲۴۶، ۲۴۷ ج ۲)

ہمارے نبی ﷺ کی موجودگی میں یا آپ ﷺ کے بعد جو کوئی کسی اور کی نبوت کا قائل ہو یا اس نے خود اپنے نبی ہونے کا دعویٰ کیا۔ یا پھر دل کی صفائی کی بنا پر اپنے کسب کے ذریعہ نبوت کے حصول کے جواز کا قائل ہوا۔ یا پھر اپنے پر وحی کے اترنے کو کہا۔ اگرچہ نبوت کا دعویٰ نہ کیا تو یہ سب قسم کے لوگ نبی ﷺ کے دعویٰ ”انا خاتم النبیین“ کی تکذیب کرنے والے ہوئے اور کافر ٹھہرے۔

ان دونوں روشن حوالوں سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوگئی کہ نبوت کے کسبی ہونے کا عقیدہ رکھنا اپنے اندر تکذیب خدا اور رسول کا عنصر رکھتا ہے۔ اور ایسا عقیدہ کا رکھنے والا مالکیہ و دیگر علماء کے نزدیک قابل گردن زدنی اور کافر ہے۔

مرزا قادیانی خود اقراری ہے کہ نبوت وہبی چیز ہے کسبی نہیں۔ اس نے لکھا ہے:

ہو سکتی۔ جیسا کہ نبوت کسب سے حاصل نہیں ہو سکتی“ (حمامتہ البشریٰ خ ص ۸۲ ج ۷)

مرتبہ ملا انعام کے طور پر ملا۔ یعنی محض فضل سے نہ کسی عمل کا اجر۔

(چشمہ مسیحی خ ص ۳۶۵ ج ۲۰)

مرزائی عذر-۱

وہبی چیز میں بھی انسان کا دخل ہوتا ہے جیسے اللہ نے فرمایا ہے ” يَهَبُ لِمَنْ يَّشَاءُ إِنَاثاً وَّيَهَبُ لِمَنْ يَّشَاءُ الذُّكُوْرَ “ ’شوریٰ ۴۹‘ بخشتا ہے جسکو چاہے بیٹیاں اور بخشتا ہے جسکو چاہے بیٹے۔ اس میں اگر مرد عورت اکٹھے نہ ہوں تو کچھ نہیں ہوتا۔ معلوم ہوا کہ وہبی چیز میں بھی کسب کو دخل ہے۔

صفحہ ۱۰۳

الجواب:۔ ہاں ٹھیک ہے کہ انسان کا اس عمل میں دخل ہے مگر لڑکا یا لڑکی عطا کرنے میں کسی قسم کا کوئی دخل نہیں ہے۔ چنانچہ بسا اوقات اس اختلاط سے بھی کچھ نہیں ہوتا۔ پڑھئے ”وَیَجْعَلُ مَنْ یَّشَآءُ عَقِیْماً “ (شوریٰ ۵۰)

کیونکہ اس نے نبی کریم ﷺ کی کامل اطاعت اور تابعداری نہیں کی جیسے:

نہیں کرایا بلکہ اس کے اور اسکے خاندان کے اس فعل قبیح میں ملوث ہونے کے پختہ ثبوت خود قادیانیوں نے ہی جمع کئے ہیں۔

۔ بلکہ خود مرزا جی ہی پانچ اور پچاس کا فلسفہ پڑھاتے رہے۔ اس عقدہ کو آج تک کوئی مرزائی حل نہیں سکا!

”تم پنجوقت نمازوں میں یہ دعا پڑھا کرو کہ اھدنا الصراط المستقیم...... یعنی اے ہمارے خدا اپنے منعم علیہم بندوں کی ہمیں راہ بتا، وہ کون ہے ! نبی اور صدیق اور شہید اور صلحاء۔ اس دعا کا خلاصہ مطلب یہی تھا کہ ان چاروں گروہوں میں سے جسکا زمانہ تم پاؤ اس کے سایہء صحبت میں آجاؤ“ (آئینہ کمالات ص ۶۱۲ ج ۵)

نیز مرزا قادیانی خود تحریر کرتا ہے: ”الا تری الی قول رسول اللہ ﷺ اذ قال ان فی الجنۃ مکاناً لا ینالہ الا رجل واحد وارجو ان اکون انا ہو فبکی رجل من سماع ھذا الکلام وقال یا رسول اللہ ﷺ لا اصبر علی فراقک ولا استطیع ان تکون فی مکان وانا فی مکان بعید عنک محجوباً عن رؤیۃ وجھک وقال لہ رسول اللہ ﷺ انت تکون معی و فی مکانی

(حمامة البشریٰ خ ص ۲۹۴ ج ۷)

صفحہ ۱۰۴

اب صراحۃً مرزا کے کلام سے ثابت ہوا کہ معیت سے مراد معیت فی الجنت ہے اور معیت فی المرتبہ مراد نہیں تاکہ اجراء نبوت کا سوال پیدا ہو۔

وشہداء اور صالحین کی معیت نصیب کرے۔ جیسے حمامۃ البشریٰ ص ر خ ص ۳۲۵ ج ۷، میں لکھا ہے: ”نسئله ان يدخلكم فی ملكوته مع الانبیاء و الرسل والصديقين والشهداء والصالحین،، تو کیا اس کا مطلب یہ ہوگا کہ مرزا دعا مانگ رہا ہے کہ اہل مکہ تمام کے تمام انبیاء رسول بن جاویں؟ اگر یہی مراد سمجھی جاوے تو مرزا نے گویا اہل مکہ کے لئے نبوت حاصل کرنے کی دعا کی ہے۔ اور یقیناً اس کی دعا منظور ہوئی ہوگی ۔ کیوں کہ مرزا کو خدا نے الہام میں وعدہ کیا ہوا ہے کہ: ”اجیب کل دعائک الا فی شرکائک“ میں تیری ساری دعائیں قبول کروں گا مگر شرکاء کے بارے میں نہیں۔ (تذکرہ ص ۲۶ طبع سوم) تو پھر یقیناً مکہ والے لوگ نبی ہو گئے ہوں گے؟

عسل مصفی ص ۲۷۰ ج ۱ میں خدا بخش قادیانی نے کتاب ما ثبت بالسنۃ ص ۴۶ شیخ عبدالحق دہلوی سے یہ عبارت نقل کی ہے:

ما وقع فی مرضه انه ﷺ خيّر عند موته يقول فی آخر مرضه مع الذين انعم الله عليهم من النبيين الخ جب حضور ﷺ مریض ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو موت کے وقت، حیات دنیا و آخرت میں اختیار دیا تو آپ ﷺ نے آخری مرض میں یہ آیت پڑھی۔

اس سے یہ بھی ظاہر ہے کہ حضور ﷺ کو کامل نبوت کے حاصل ہونے کے بعد بھی اپنی مرض موت میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اختیار دیا گیا تھا، کہ دنیا کے ساتھیوں کی رفاقت پسند کرتے ہیں یا جنت والے ساتھیوں کی۔ اس سے ثابت ہوا کہ ہر دو مقام سے رفاقت مکانی مقصود ہے نہ کہ رفاقت مرتبی۔ کیوں کہ یہ تو آپ ﷺ کو پہلے ہی سے حاصل تھی۔

الَّذِیْنَ اتَّقَوْا ،مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗ ، اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصَّابِرِیْنَ“

صفحہ ۱۰۵

نیز اگر نبی کی معیت سے نبی ہو سکتا ہے تو سوال یہ ہے کہ کیا خدا کی معیت سے خدا بھی ہو سکتا ہے؟ العیاذ باللہ!

۱۲۔ یہ دلیل قرآن کریم کی آیت سے ماخوذ ہے۔ اس لئے مرزائی اپنے استدلال کی تائید میں کسی مفسر یا مجدد کا قول پیش کریں۔ بغیر اس تائید کے اس کا استدلال مردود اور من گھڑت ہے۔ اس لئے کہ مرزا نے لکھا ہے: ”جو شخص ان (مجددین) کا منکر ہے وہ فاسقوں میں سے ہے“

(شہادت القرآن ص ۲۴۴ ج ۶)

۱۳۔ اگر مرزائیوں کے بقول اطاعت سے نبوت وغیرہ درجات حاصل ہوتے ہیں تو ہمارا یہ سوال ہوگا کہ یہ درجے حقیقی ہیں یا ظلی، بروزی؟ اگر نبوت کا ظلی، بروزی درجہ حاصل ہوتا ہے جیسا کہ مرزائیوں کا عقیدہ ہے تو صدیق، شہید اور صالح بھی ظلی و بروزی ہونے چاہئیں۔ حالانکہ ان کے بارے میں کوئی ظلی، بروزی ہونے کا قائل نہیں۔ اور اگر صدیق وغیرہ میں حقیقی درجہ ہے تو پھر نبوت بھی حقیقی ہی ماننا چاہئے۔ حالانکہ تشریعی اور مستقل نبوت کا ملنا خود مرزائیوں کو بھی تسلیم نہیں ہے۔ اس لئے یہ دلیل مرزائیوں کے دعویٰ کے مطابق نہ ہوئی۔

۱۴۔ اس آیت سے چار آیت پہلے انبیاء و رسل کے متعلق فرمایا ہے ”وَمَا اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِیُطَاعَ بِاِذْنِ اللّٰہِ“ سورۃ نساء ۶۴۔ یعنی ہر ایک رسول مطاع اور امام بنانے کے لئے بھیجا جاتا ہے۔ اس غرض سے نہیں بھیجا جاتا کہ وہ کسی دوسرے رسول کا مطیع اور تابع ہو اور آیت ”وَمَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَالرَّسُوْلَ“ میں مطیعون کا ذکر ہے۔ اور مطیع کسی بھی صورت میں نبی اور رسول نہیں ہوتا۔ خلاصہ یہ کہ نبی اور رسول مطاع ہوتا ہے مطیع نہیں (فافہم)

۱۵۔ مرزائی ایک طرف تو دلیل بالا سے یہ بات ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اطاعت رسول کے ذریعہ سے آدمی درجہ نبوت تک پہنچ سکتا ہے۔ دوسری طرف خود انکے حضرت صاحب نے اس بات کا اقرار و اعتراف کیا ہے کہ اطاعت کرنے حتی کہ فنا فی الرسول ہو جانے سے بھی نبوت نہیں مل سکتی۔ بس زیادہ سے زیادہ محدثیت کا درجہ حاصل ہو سکتا ہے۔ اس اعتراف کے ثبوت میں چند حوالے پیش ہیں:

صفحہ 106

حوالہ نمبر ۱۔’’جب کسی کی حالت اس نوبت تک پہونچ جائے (جو اس سے قبل ذکر کی گئی) تو اس کا معاملہ اس عالم سے وراء الوراء ہو جاتا ہے اور ان تمام ہدایتوں اور مقامات عالیہ کو ظلی طور پر لیتا ہے۔ جو اس سے پہلے نبیوں اور رسولوں کو ملے تھے۔ اور انبیاء ورسل کا نائب اور وارث ہو جاتا ہے۔ وہ حقیقت جو انبیاء میں معجزہ کے نام سے موسوم ہوتی ہے۔ وہ اس میں کرامت کے نام سے ظاہر ہوتی ہے۔ اور وہی حقیقت انبیاء میں عصمت کے نام سے نامزد کی جاتی ہے۔ اس میں محفوظیت کے نام سے پکاری جاتی ہے۔ اور وہی حقیقت جو انبیاء میں نبوت کے نام سے بولی جاتی ہے۔ اس میں محدثیت کے پیرایہ میں ظہور پکڑتی ہے۔ حقیقت ایک ہے لیکن بباعث شدت اور ضعف رنگ کے ، انکے نام مختلف رکھے جاتے ہیں۔ اسلئے آنحضرت ﷺ کے ملفوظات مبارکہ ارشاد فرما رہے ہیں کہ محدث، نبی بالقوۃ ہوتا ہے اگر باب نبوت مسدود نہ ہوتا تو ہر ایک محدث اپنے وجود میں قوت اور استعداد نبی ہونے کی رکھتا ہے اور اس قوت اور استعداد کے لحاظ سے محدث کا حمل نبی پر جائز ہے۔ یعنی کہہ سکتے ہیں کہ المحدث نبی جیسا کہ کہہ سکتے ہیں’’العنب خمر نظراً علی القوة والاستعداد ومثل ھذا المحمل شائع متعارف‘‘

(ماہنامہ ریویو آف ریلیجنز جلد ۳ ماہ اپریل ۱۹۰۴ء بعنوان اسلام کی برکات)

اس عبارت سے واضح ہوا کہ ظلی نبوت بھی درحقیقت محدثیت ہی ہے اور کامل اتباع سے جو ظلی نبی بنتا ہے وہ دراصل محدث ہوتا ہے۔ اور یہاں جو محدث پر نبی کا حمل کیا گیا ہے وہ محض استعداد کی بنا پر ہے۔ یعنی اگر دروازہ نبوت بند نہ ہوتا تو وہ بھی نبی بن جاتا۔ جیسا کہ عنب پر خمر کا اطلاق قوت اور استعداد کی بنا پر کیا جاتا ہے۔ لیکن ظاہر ہے کہ اسکا مطلب یہ نہیں کہ جو خمر کا حکم ہے وہ عنب کا بھی حکم ہو۔ بلکہ دونوں کے احکام اپنی جگہ الگ الگ ہیں۔ اسی طرح اگر محدث پر نبی کا اطلاق بلحاظ استعداد کیا جائے گا تو دونوں کے احکام الگ الگ ہونگے۔ نبی کا انکار کفر ہوگا اور محدث کی نبوت کا انکار کفر نہ ہوگا۔ حالانکہ مرزائی اپنے حضرت صاحب (ظلی نبی) کے منکرین کو پکا کافر گردانتے ہیں۔ یہ تو عجیب تضاد ہوا مرزا غلام احمد کچھ کہیں.. مرزائی کچھ کہیں اور آج کل کے جاہل کچھ کہیں! اسی سے اس لچر عقیدہ کے بطلان کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

صفحہ ١٠٧

حوالہ نمبر ۲- مرزا لکھتا ہے ”حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا وجود ظلی طور پر گویا آنجناب صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود ہی تھا“ (ایام الصلح خ ص ۲۶۵ ج ۱۴)

مرزا کو خود تسلیم ہے کہ حضرت عمرؓ آنحضرت ﷺ کے ظلی وجود تھے۔ پھر بھی وہ نبی نہ بن سکے۔ معلوم ہوا کہ اتباع نبی سے زیادہ سے زیادہ ظلی وجود تو مرزا کے نزدیک ہو سکتا ہے مگر نبوت نہیں مل سکتی۔ ورنہ قادیانی لوگ حضرت عمرؓ کو بھی ظلی نبی تسلیم کریں! ”لو کان بعدی نبی لکان عمر“ حدیث نے عمرؓ کے نبی نہ ہونے کی صراحت کر دی۔ حضرت علیؓ فرماتے ہیں ”قال علی الا وانی لست نبی ولا یوحی الی“ (ازالۃ الخفاء ص ۲۳۴) حضرت علیؓ فرماتے ہیں، خبر دار! نہ میں نبی ہوں اور نہ میری طرف وحی آتی ہے۔

حوالہ نمبر ۳- ”صدہا ایسے لوگ گزرے ہیں جن میں حقیقت محمدیہ متحقق تھی اور عنداللہ ظلی طور پر ان کا نام محمد یا احمد تھا ۔ (آئینہ کمالات اسلام خ ص ۳۴۶ ج ۵)

اس عبارت سے یہ بھی پتہ چلا کہ اگر چہ صد ہا لوگ ایسے گزر چکے ہیں جنکا نام ظلی طور پر محمد یا احمد تھا مگر پھر بھی ان میں سے نہ کوئی نبی بنا اور نہ کسی نے دعویٰ نبوت کیا‘ نہ اپنی الگ جماعت بنائی‘ اور نہ اپنے منکرین کو کافر اور خارج از اسلام قرار دیا۔ تو عجیب بات ہے کہ اتنے بڑے بڑے متبعین خدا اور رسول تو اس نعمت سے محروم ہی دنیا سے رخصت ہو گئے اور مرزا قادیانی جیسا کوڑھ مغز آدمی ظلی نبی کے ساتھ ساتھ حقیقی نبی بھی بن گیا۔

مرزائی عذر-۲

اور مطلب یہ ہے کہ جو اللہ اور رسول کی اطاعت کرے گا وہ منعم علیہم انبیا وغیرہ میں سے ہوگا ۔ نہ کہ محض انکے ساتھ ہوگا اور اسکی مثال قرآن کریم میں بھی موجود ہے دیکھئے فرمایا گیا وَتَوَفَّنَا مَعَ الْاَبْرَارِ ،ای من الابرار “ یعنی نیکوں میں سے بنا کر ہمیں وفات دیجئے۔

الجواب :- مرزائی عذر بچند وجوہ باطل ہے۔

الف- پورے عرب میں کہیں بھی مع ،من کے معنی میں استعمال نہیں ہوتا۔ اگر یہ من کے معنی میں آتا تو مع پر من کا دخول ممتنع ہوتا حالانکہ عربی محاوروں میں من کا مع پر داخل ہونا ثابت ہے لغت کی مشہور کتاب المصباح المنیر میں لکھا ہے ’و دخول من نحو جئت من

صفحہ ۱۰۸

مَعَه . مَعَ القوم “ لہٰذا معلوم ہوا کہ من کبھی بھی مع کے معنی میں نہیں ہو سکتا۔ ورنہ ایک ہی لفظ کا تکرار لازم آئے گا۔

ب۔ جب کوئی لفظ مشترک ہو اور دو معنی میں مستعمل ہو تو دیکھا جاتا ہے کہ کون سے معنی حقیقی ہیں اور کون سے معنی مجازی۔ جب تک حقیقت پر عمل کرنا ممکن ہو تو مجاز اختیار کرنا درست نہیں ہوتا ۔ یہاں پر بہرحال مع رفاقت کے معنی میں حقیقت ہے۔ اور اس پر عمل کرنا یہاں ممکن بھی ہے۔ کیونکہ اگلے جملہ وَحَسُنَ اُولٰٓئِکَ رَفِیْقًا سے صاف طور پر رفاقت کے معنی کی تائید ہو رہی ہے۔ لہٰذا مع کو من کے مجازی معنی میں لے جانا ہرگز جائز نہ ہوگا۔

ج۔ اگر مع کا معنی من لیا جائے تو حسب ذیل آیت کے معنی کیا ہوں گے

نعوذ باللہ ، اللہ تعالیٰ صابروں کے جز ہیں یا یہ کہ حضرات صحابہ کرامؓ آنحضرت ﷺ میں سے ہیں؟ دیکھئے کس طرح قادیانی تنکوں کا پل بناتے ہیں اور پھر اس پر زندہ ہاتھی گزارنے کی کوشش کرتے ہیں۔

د۔ اگر بالفرض یہ تسلیم کر لیا جائے کہ مع کبھی کبھی من کے معنی میں استعمال ہوا ہے یا ہوتا ہے تو اس سے یہ کیسے لازم آیا کہ آیت مبحوث عنہا میں بھی مع ، من کے معنی میں ہے۔ کیا کسی مفسر یا مجدد نے یہاں پر مع کے بجائے من کے معنی مراد لیے ہیں؟۔

ہ۔ مع ، من کے معنی میں ہونے پر مرزائی جو آیات قرآنیہ تلبیس و مغالطہ کے لئے پیش کرتے ہیں۔ ان میں سے کسی ایک آیت میں بھی مع، من کے معنی میں نہیں۔ ہمارے اور مرزائیوں کے معتبر مفسر امام رازیؒ (جو مرزائیوں کے نزدیک چھٹی صدی کے مجدد ہیں (عسل مصفی ص ۱۶۴ ج ۱) نے آیت وَتَوَفَّنَا مَعَ الْاَبْرَارِ کی تفسیر فرماتے ہوئے مرزائیوں کے سارے گھروندے کو زمیں بوس کر دیا ہے۔ اور انکی رکیک تاویل کی دھجیاں اڑا دی ہیں۔ وہ فرماتے ہیں:

صفحہ ١٠٩

,,وفاتهم معهم هى ان يموتوا على مثل اعمالهم حتى يكونوا فى درجاتهم يوم القيامة قد يقول الرجل انا مع الشافعى فى هذه المسئلة ويريد به كونه مساويا له فى ذالك الاعتقاد“ تفسیر کبیر ص ۱۸۱ ج ۳،،۔

ان کا ان (ابرار) کے ساتھ وفات پانا اس طرح ہوگا کہ وہ ان نیکیوں جیسے اعمال کرتے ہوئے انتقال کریں تا کہ قیامت کے دن ان کا درجہ پالیں۔ جیسے کبھی کوئی آدمی کہتا ہے کہ میں اس مسئلہ میں شافعیؒ کے ساتھ ہوں اور مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس کا اعتقاد رکھنے میں وہ اور امام شافعیؒ برابر ہیں۔ نہ یہ کہ وہ درجہ میں امام شافعیؒ تک پہنچ گیا۔

مرزائی عذر-۳

مرزائیوں نے اپنے باطل استدلال کی تائید کے لئے جھوٹ کا پلندہ تیار کیا ہے اور مشہور امام لغت راغب اصفہانیؒ کے کندھے پر رکھ کر بندوق چلانے کی ناکام کوشش کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امام راغبؒ کے ایک قول سے انکے بیان کردہ معنی کی تائید ہوتی ہے وہ عبارت یہ ہے۔

”قال الراغب : ممن انعم عليهم من الفرق الاربع فى المنزلة والصواب النبى بالنبى والصديق بالصديق والشهيد بالشهيد والصالح بالصالح واجاز الراغب ان يتعلق من النبى بقوله ومن يطع الله والرسول اى من النبيين ومن بعدهم ( بحر المحیط للعلامہ اندلسی ص ۲۸۷ ج ۳)

اس تحقیق سے معلوم ہوا کہ من النبيين ،انعم الله عليهم سے نہیں بلکہ ومن يطع الله سے متعلق ہے۔ لہٰذا آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ نبیوں وغیرہ میں سے جو اللہ اور رسو کی اطاعت کرے گا وہ منعم علیہم کے ساتھ ہوگا اور یہاں یطع مضارع کا صیغہ ہے جو حال و مستقبل دونوں کے لئے بولا جاتا ہے۔ لہٰذا ضروری ہوا کہ اس امت میں بھی کچھ نبی ہونے چاہئیں جو رسولوں کی اطاعت کرنے والے ہوں۔ اگر نبوت کا دروازہ بند ہوگا تو اس آیت کے مطابق کون سا نبی ہوگا جو رسول اللہ کی اطاعت کرے گا؟

ڈھول کا پول

مرزائیوں نے مذکورہ عبارت پیش کر کے انتہائی دجل وفریب کا مظاہرہ کیا ہے۔ یہ

صفحہ ۱۱۰

حوالہ علامہ اندلسی کی تفسیر البحر المحیط سے ماخوذ ہے۔ مگر انہوں نے اس قول کو نقل کر کے اپنی رائے اس طرح بیان فرمائی ہے:

”وهذا وجه الذى هو عنده ظاهر فاسد من جهة المعنى ومن جهة النحو . تفسیر البحر المحیط ص ۲۷۸ ج ۳ بیروت، معنی اور نحو کے لحاظ سے یہ بات فاسد ہے۔

لہٰذا معلوم ہوا کہ یہ قول بالکل مردود اور ساقط الاستدلال ہے۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ امام راغبؒ کی کسی کتاب میں اس طرح کی عبارت نہیں ملتی۔ انکی طرف یہ قول منسوب کرنا صحیح نہیں ہے۔ انکی طرف قول بالا کی غلط نسبت ہونے پر ہمارے پاس دو قرینہ موجود ہیں۔ دیکھئے:

پہلا قرینہ

امام راغب اصفہانیؒ نے صدیقین کی تفسیر میں ایک رسالہ تصنیف فرمایا ہے۔ جس کا نام الذریعہ الی مکارم الشریعہ ہے۔ آیت ”ومن يطع الله والرسول ... الخ“ کا تعلق بھی اسی مضمون سے ہے اگر بالفرض امام راغبؒ کا وہ مسلک ہوتا جو بحر محیط میں نقل کیا ہے تو اس کتاب میں ضرور نقل کرتے۔ لیکن پوری کتاب میں کہیں اشارۃً و کنایۃً بھی اس کا ذکر نہیں ہے۔

دوسرا قرینہ

اگر اس طرح کی عبارت امام راغبؒ کی کسی کتاب میں ہوتی تو مرزائی مناظرین امام راغبؒ کی اسی کتاب سے حوالہ دیتے اور وہیں سے نقل کرتے کہ دلیل پختہ ہوتی۔ لیکن وہ لوگ تو بحر محیط کی ایک عبارت لے کر لکیر پیٹتے رہتے ہیں۔ کیونکہ اس کا اصل ماخذ کہیں ہے ہی نہیں۔ ۱۶۔ اگر درجے ملنے کا ذکر ہے تو بترتیب حاصل ہونے چاہئیں پہلے صدیق پھر شہید پھر صالح۔

مرزائی عذر-۴

مَعَ، بمعنی مِن ہے۔ ابلیس کے متعلق ایک جگہ فرمایا: ”اَنْ يَّكُوْنَ مَعَ السّجِدِيْنَ. (الحجر) دوسری جگہ فرمایا: ”لَمْ يَكُنْ مِّنَ السّجِدِيْنَ . (اعراف ۱۱)

جواب:- ابلیس نے تین گناہ کئے تھے ، ۱۔ تکبر کیا تھا۔ اس کا ذکر سورۃ ص کے آخری رکوع میں ہے: ”كُنْتَ مِنَ الْعَالِيْنَ“ ۲۔ سجدہ نہ کر کے اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف

صفحہ ۱۱۱

ورزی کی۔ اسکا بیان سورۃ اعراف کے دوسرے رکوع میں ہے ” لم یکن من الساجدین “ ۳۔ اس نے جماعت ملائکہ سے مفارقت کی تھی۔ اس کا بیان سورۃ حجر کے تیسرے رکوع میں ہے ”اَنْ يَّكُوْنَ مَعَ السّٰجِدِيْنَ.“ پس مع ہرگز من کے معنوں میں نہیں بلکہ دونوں کے فائدے الگ الگ اور جداگانہ ہیں۔ جیسا کہ ظاہر ہیں۔

مرزائی عذر-۵

”اِلَّا الَّذِيْنَ تَابُوْا وَاَصْلَحُوْا وَاعْتَصَمُوْا بِاللّٰهِ وَاَخْلَصُوْا دِيْنَهُمْ لِلّٰهِ فَاُولٰٓئِكَ مَعَ الْمُؤْمِنِيْنَ وَسَوْفَ يُؤْتِ اللّٰهُ الْمُؤْمِنِيْنَ اَجْراً عَظِيْماً‘.(نساء ۱۴۶) کیا توبہ کرنے والے مومن نہیں، مومنوں کے ساتھ ہونگے۔ کیا ان کو اجر عظیم عطا نہ ہوگا؟

جواب:- حقیقت یہ ہے کہ مومنین پر الف لام عہد کا ہے اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو شروع سے خالص مومن ہیں ان سے کبھی نفاق سرزد نہیں ہوا، ان کی معیت میں وہ لوگ جنت میں ہونگے جو پہلے منافق تھے پھر توبہ کرکے مخلص مومن بن گئے۔ پس ثابت ہوا کہ مع اپنے اصل معنی، مصاحبت کے لئے آیا ہے نہ کہ بمعنی من۔

آیت: يٰٓاَیُّھَا الرُّسُلُ كُلُوْا مِنَ الطَّيِّبٰتِ

قادیانی: - يٰٓاَیُّھَا الرُّسُلُ كُلُوْا مِنَ الطَّيِّبٰتِ وَاعْمَلُوْا صَالِحاً. (مومنون ۵۱) یہ آیت آپ ﷺ پر نازل ہوئی حضور ﷺ واحد ہیں اور رسل جمع کا صیغہ ہے۔ پس ثابت ہوا کہ حضور ﷺ اور آپ ﷺ کے بعد آنے والے رسول مراد ہیں۔ جن کو یہ حکم ہے کہ میرے رسولو! پاک چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو۔ ورنہ کیا خدا تعالیٰ وفات شدہ رسولوں کو حکم دے رہا ہے ؟ کہ اٹھو پاک کھانے کھاؤ اور نیک کام کرو۔ (احمدیہ پاکٹ بک ص ۴۶۷)

تبلیغی پاکٹ کے مصنف سے زیادہ ایک مرزائی سردار عبدالرحمن مہر سنگھ نے کمال کیا ہے۔ اس نے بھلوال ضلع سرگودھا سے ایک اشتہار نکالا ہے۔ جس کے جواب کے لئے بیس ہزار انعامی چیلنج کا اعلان ہے۔ اشتہار کا عنوان ہے ”پاک محمد نبیوں کا بادشاہ“ اس میں اجراء نبوت کے دلائل دیتے ہوئے مندرجہ بالا آیت بھی پیش کی ہے۔ جس کی تمہید اس نے اس

صفحہ ۱۱۲

طرح ذکر کی ہے کہ ”آنحضرت ﷺ سے پیشتر کے انبیاء کی طرز زندگی خوراک ، پوشاک وغیرہ سادہ ہوا کرتی تھی۔ اکثر نبی ، جو ، اور کھجور پر گزارہ کر لیا کرتے تھے مگر زمانہ مستقبل میں آنے والے رسولوں کو فرمایا ”يَا اَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبٰتِ“ اے آنے والے رسولو ! تمھارے زمانہ میں بے شمار پیسٹری اور مٹھائیاں اور نفیس اکل و شرب کی چیزیں تیار ہونگی ۔ پر تم ان میں سے پاک اور صاف اور ستھری چیزیں کھایا کرنا جو کچھ تم کرو گے میں خوب جانتا ہوں ۔ اللہ تعالیٰ کو معلوم تھا کہ زمانہ مستقبل میں گونا گوں مٹھائیاں اور ٹوسٹ تیار ہونگے۔ یہ حکم حضور ، حضرت آدم ، نوح ، ابراہیم ، یوسف ، ادریس علیہم السلام کے لئے نہیں دیا گیا تھا کہ قبروں سے اٹھو اور نہا دھو کر پاک اور طیب چیزیں کھایا کرو۔ کیوں کہ وہ ہزاروں سال سے بہشت میں مزے کر رہے ہیں ۔ پس یہ حکم آنیوالے امتی نبیوں کے متعلق آنحضرت ﷺ پر نازل ہوا تھا۔ (اشتہار مذکورہ ص ۲)

جواب نمبر ۱۔ سورۃ مومنون کے دوسرے رکوع سے اس آیت کریمہ تک انبیاء سابقین کا ذکر ہے ۔ سب سے آخر میں حضرت مسیح علیہ السلام کا ذکر ان الفاظ میں فرمایا ”وَ جَعَلْنَا ابْنَ مَرْيَمَ وَ اُمَّهٗ ۤ اٰيَةً وَّ اٰوَيْنٰهُمَا ۤ اِلٰى رَبْوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَّ مَعِيْنٍ“ ۱؂ مومنون ۵۰ ۔اُس سے اگلی آیت نمبر ۵۱، میں فرمایا ”يَا اَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبٰتِ وَاعْمَلُوا صَالِحاً ؕ ۲؂ اگلی آیت نمبر ۵۲ میں فرمایا : ”وَاِنَّ هٰذِهٖ ۤ اُمَّتُكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ اَنَا رَبُّكُمْ فَاتَّقُوْنِ ۳؂ “ (المؤ

منون ۵۲)

ان آیات میں حکایت ماضیہ کے ضمن میں یہ بتلانا مقصود ہے کہ پاک چیزیں ، نفیس اشیاء کا استعمال کرو۔ وَاِنَّ هٰذِهٖ ۤ اُمَّتُكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً ، یعنی اصول دین کا طریق کسی شریعت میں مختلف نہیں ہوا گویا انبیاء کرام علیہم السلام کو اپنی امتوں کے لئے نمونہ بننے کے لئے رزق حلال وطیب اور اپنا کردار صالح اپنانے کا ارشاد ہو رہا ہے۔ تو اصل حکم امتوں کو دینا مقصود ہے۔

ترجمہ ۱؂ ہم نے مسیح علیہ السلام اور انکی والدہ کو بڑی نشانی بنایا۔ اور ہم نے ان دونوں کو ایک ایسی بلند زمین پر لیجا کر پناہ دی جو بوجہ کثرت میوہ جات ہونے کے ٹھہرنے کے قابل اور شاداب تھی۔ ترجمہ ۲؂ اے میرے پیغمبرو ! تم اور تمہاری امتیں نفیس چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو۔ اور میں تم سب کے کئے ہوئے کاموں کو خوب جانتا ہوں۔ ترجمہ ۳؂ اور ہم نے ان سب سے یہی کہا ہے کہ یہ تمھارا طریقہ وہ ایک ہی طریقہ ہے (اور حاصل اس طریقہ کا یہ ہے کہ ) میں تمھارا رب ہوں ۔ سو تم مجھ سے ڈرتے رہو۔

صفحہ ۱۱۳

قرینہ آیت نمبر ۵۴ ہے جس میں فرقہ بازی کے ارتکاب پر تنبیہ کی گئی ہے۔ ظاہر ہے کہ تفرقہ کا شکار امت ہوتی ہے نہ کہ انبیاء علیہم السلام ۔ فافھم و کن من الشاکرین۔

المومنین لما امر بہ المرسلین . فقال یاایھا الرسل کلوا من الطیبات واعملوا صالحاً

وقال اللہ تعالیٰ یاایھا الذین آمنوا کلوا من الطیبات ما رزقناکم

حضرت ابو ھریرۃؓ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ پاک ہے اور سوائے پاکیزگی کے کچھ قبول نہیں کرتا۔ بیشک اللہ تعالیٰ نے مومنین کو وہی حکم دیا ہے جو اس نے انبیاء کرام کو دیا تھا۔ کہ اے رسولو! کھاؤ پاک چیزیں اور عمل صالح کرو۔ اور ایسا ہی مسلمانوں کو فرمایا اللہ تعالیٰ نے اے ایمان والو! کھاؤ پاک رزق سے جو میں نے تمھیں عطا کیا ہے۔

(مسلم شریف کتاب البیوع۔ باب الکسب وطلب الحلال مسند احمد ص ۳۲۸ ج ۲۔ ابن کثیر ص ۴۴۷ ج ۳)

اب نفس آیت کے مفہوم کو سمجھیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم اور ان کے صاحبزادے کو ایک اونچے محفوظ مقام ، شاداب جگہ پر جگہ دی ۔ اس واقعہ کے بیان کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ (حضرت مسیح ہوں یا اور رسول ) ہم نے ان سب کو حکم دیا تھا کہ پاک چیزیں کھاؤ اور اچھے عمل کرو جو کچھ تم کرتے ہو میں اسکو جانتا ہوں ۔ یہ سب لوگ امۃ واحدہ تھے۔ اور میں تم سب کا رب ہوں اور مجھ سے ڈرو۔ مگر اس تاکید کے بعد بھی انبیاء کے متبعین نے دین الٰہی میں پھوٹ ڈال دی اور ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔ اور ہر فرقہ اپنی اپنی جگہ خوش و خرم ہے کہ ہم حق پر ہیں ”فَتَقَطَّعُوْا اَمْرَهُمْ بَیْنَهُمْ زُبُراً كُلُّ حِزْبٍ بِمَا لَدَیْهِمْ فَرِحُوْنَ : (مومنون ۵۳) آگے آپ ﷺ کو حکم ہے کہ ”فَذَرْهُمْ فِیْ غَمْرَتِهِمْ“ (مومنون ۵۴) ان کو اس مدہوشی میں چھوڑ دیں وقت معین تک ۔ یعنی موت تک یا قیامت تک کہ بالآخر میرے پاس آئیں گے ۔ اپنے کئے کی پائیں گے (معلوم ہوا کہ آپ ﷺ کے بعد قیامت تک نبوت نہیں)

اسی لئے تو آپ ﷺ نے فرمایا ”انا والساعۃ کھاتین“

غرض یہ کہ آیات اپنے مطلب کو صاف صاف ظاہر کر رہی ہیں کہ یہ امر ہر ایک رسول کو اپنے اپنے وقت پر ہوتا رہا ہے فَتَقَطَّعُوْا کی آیت نے تو بالکل بات واضح کر دی کہ ان امتوں کا ذکر ہے جن پہلے امتوں نے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا تھا۔ گذشتہ واقعہ کی خبر وحکایت بیان کی گئی ہے نہ کہ آنے والے رسولوں کا ذکر ہے؟

صفحہ ۱۱۴

۳۔ مرزا صاحب آنحضرت ﷺ کے بعد صرف ایک ہی رسول یعنی اپنے آپ کو ہی صحیح مانتے ہیں۔ اسی طرح مرزا محمود اور بشیر احمد بھی آپ ﷺ کے بعد صرف ایک ہی نبی یعنی مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت کے قائل ہیں۔ تو پھر ایک کیلئے ”یا ایہا الرسل“ جمع کا صیغہ کیوں استعمال کیا گیا؟ علاوہ ازیں اگر یہ کہا جائے کہ اس آیت میں آنحضرت ﷺ اور بعد والا مرزا بھی معاذ اللہ مراد ہے تو پھر بھی یہ تثنیہ کا صیغہ چاہئے تھا نہ کہ جمع کا۔ الغرض کسی بھی احتمال پر قادیانی مفہوم صحیح ثابت نہیں ہو سکتا۔

نوٹ۔ حضرت ابو یسار سلمی کی روایت ”یا بنی آدم“ کی بحث میں گزر چکی ہے۔ وہ اس مسئلہ پر ضرور دیکھ لی جائے۔

آیت: اَنْ لَّنْ يَّبْعَثَ اللّٰهُ اَحَدًا

قادیانی:۔ ”وَأَنَّهُمْ ظَنُّوْا كَمَا ظَنَنْتُمْ اَنْ لَّنْ يَّبْعَثَ اللّٰهُ اَحَدًا“ . جن، پہلے بھی کہتے تھے اللہ کسی کو مبعوث نہ کریگا۔ اب بھی کہتے ہیں یہ پرانی بات ہے نئی بات نہیں۔

جواب ۱۔ اس میں بعثت انبیاء کا ذکر نہیں بلکہ کفار کے بقول قیامت کے دن دوبارہ پیدا ہونے کا انکار ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ کسی کو کھڑا نہ کریگا۔ اس آیت کی وضاحت دوسری جگہ موجود ہے: ”زَعَمَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا اَنْ لَّنْ يُّبْعَثُوْا . قُلْ بَلٰى وَرَبِّيْ لَتُبْعَثُنَّ“ (تغابن ۷) . تو انکا انکار بعث بعد الموت سے ہے۔

۲۔ قادیانی تحریف بھی بفرض محال تسلیم کر لیجائے تو بھی انکا مدعا ثابت نہیں ہوتا کیونکہ یہ قو ل کفار ہے یہ کافر جنوں کا ظن تھا۔ جو غلط ہے۔ یہ خدائی فیصلہ نہیں۔ خدائی فیصلہ اب ختم نبوت کا ہے۔ کافر جنات کے قول غلط سے استدلال کر کے قادیانی کافر کی جھوٹی اور غلط نبوت کو ثابت کرنا۔ خدا تعالیٰ مرزائیوں کو مبارک کرے۔

۳۔ جس وقت ان لوگوں نے کہا کہ اب کوئی نبی مبعوث نہیں ہوگا۔ اس وقت نبوت جاری تھی۔ اب نبوت ختم ہے۔ جب جاری تھی تو اس کو بند کہنے والے کافر تھے۔ اب جب بند ہے تو اس کو جاری کہنے والے کافر ہونگے۔

صفحہ ۱۱۵

آیت: وَ آخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوْا بِهِمْ. (جمعۃ ۳)

قادیانی:-’طائفہ قادیانیہ چونکہ ختم نبوت کا منکر ہے۔اس لئے قرآن مجید کی تحریف کرتے ہوئے آیت ”هُوَ الَّذِىْ بَعَثَ فِى الْاُمِّيّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ يَتْلُوْا عَلَيْهِمْ اٰيٰتِهٖ وَ يُزَكِّيْهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ وَاِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِىْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ وَّاخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوْا بِهِمْ. جمعہ ۲، ۳“ کو بھی ختم نبوت کی نفی کیلئے پیش کر دیا کرتے ہیں۔ طریق استدلال یہ بیان کرتے ہیں کہ جیسے امیین میں ایک رسول عربی ﷺ مبعوث ہوئے تھے اس طرح بعد کے لوگوں میں بھی ایک نبی قادیان میں پیدا ہوگا۔ (معاذ اللہ)

رسول بھیجا جو ان پر اس کی آیتیں پڑھتا ہے اور انہیں پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب وحکمت سکھلاتا ہے۔ اگرچہ پہلے وہ صریح گمراہ تھے اور ایسا ہی وہ رسول جو ان کی تربیت کر رہا ہے۔ ایک دوسرے کی بھی تربیت کریگا جو انہی میں سے ہو جاویں گے“

گویا تمام آیت معہ اپنے الفاظ مقدرہ کے یوں ہے۔ ”هُوَ الَّذِىْ بَعَثَ فِى الْاُمِّيّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ يَتْلُوْا عَلَيْهِمْ اٰيٰتِهٖ وَيُزَكِّيْهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ وَاِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِىْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ وَّ آخَرِيْنَ مِنْهُمْ“ یعنی ہمارے خالص اور کامل بندے بجز صحابہ کرامؓ کے اور بھی ہیں جن کا گروہ کثیر آخری زمانہ میں پیدا ہوگا۔ اور جیسے نبی کریم ﷺ نے صحابہ کی تربیت فرمائی۔ ایسا ہی آنحضرت ﷺ اس گروہ کی بھی باطنی طور پر تربیت فرمائیں گے۔

(آئینہ کمالات اسلام ص ۲۰۸، ۲۰۹ ج ۵)

ماحاصل عبارت کا یہ ہے کہ بہ اقرار مرزا قادیانی اس آیت سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ آخَرِيْنَ مِنْهُم میں بھی کوئی نبی مبعوث ہوگا۔ بلکہ وہ آیت کا مطلب یہ بتاتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے جیسے پہلے لوگوں کی تعلیم وتربیت کا انتظام اپنے ذمہ رکھا تھا ویسے ہی بعد کے لوگوں کی تعلیم وتربیت بھی آنحضرت ﷺ ہی فرمائیں گے۔ نہ یہ کہ کوئی اور نبی آئے گا ۔ جو قادیان سے پیدا ہو کر ان کا ذمہ دار ہو اور وہ ان کا نبی بنے گا۔

فى يعلمهم وهم الذين جاء وا بعد الصحابة الى يوم الدين فان دعوته وتعليمه يعما

صفحہ ۱۱۶

لجميع“ آخرین کا عطف اُمیّین یا يُعَلِّمُهُمُ کی ضمیر پر ہے۔ اور اس لفظ کا زیادہ کرنے سے آنحضرت ﷺ کی بعثت عامہ کا ذکر کیا گیا۔ کہ آپ ﷺ کی تعلیم و دعوت صحابہؓ اور ان کے بعد قیامت کی صبح تک کے لئے عام ہے۔ خود آنحضرت ﷺ بھی فرماتے ہیں: انا نبی من ادرک حیاً ومَنْ يُوْلَدُ بعدى،، صرف موجودین کے لئے نہیں بلکہ ساری انسانیت اور ہمیشہ کے لئے ہادی ﷺ برحق ہیں۔

ہے سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے بیت اللہ کی تعمیر کی تکمیل پر دعاء فرمائی تھی ”رَبَّنَا وَابْعَثُ فِيْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ يَتْلُوْ عَلَيْهِمْ اٰيٰتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيْهِمْ (بقرة ۱۲۹)۔ اب زیر بحث آیت ”هُوَ الَّذِيْ بَعَثَ فِي الْأُمِّيّيْنَ رَسُوْلاً مِّنْهُمْ يَتْلُوْا عَلَيْهِمْ اٰيٰتِهِ وَ يُزَكِّيْهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَاِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ وَاٰخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوْا بِهِمْ (جمعہ ۲ ۳) میں اس دعا کی اجابت کا ذکر ہے۔ کہ دعائے خلیل کے نتیجہ میں وہ رسول معظم ان امیوں میں مبعوث فرمایا لیکن صرف انھیں کے لئے نہیں بلکہ جمیع انسانیت کے لئے جو موجود ہیں انکے لئے بھی جو ابھی موجود نہیں ہیں لیکن آئیں گے قیامت تک سبھی کے لئے آپ ﷺ ہادی برحق ہیں جیسے ارشاد باری تعالیٰ ہے ”يٰاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّى رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعاً“ (اعراف ۱۵۸) یا آپ ﷺ کا فرمانا ”انی ارسلتُ اِلى الخلق كافّةً“ لہٰذا مرزا قادیانی دجال قادیان اور اسکے چیلوں کا اسکو حضور ﷺ کی دو بعثتیں قرار دینا۔ یا نئے رسول کے مبعوث ہونے کی دلیل بنانا سراسر دجالیت ہے۔ پس آیت کریمہ کی رو سے مبعوث واحد ہے اور مبعوث الیہم موجود و غائب سب کے لئے بعثت عامہ ہے۔

کی رعایت معطوف میں بھی ضروری ہے چونکہ رسولاً معطوف علیہ ہے فی الامّیّین مقدم ہے۔ اس لئے فی الامیین کی رعایت و آخرین منہم میں بھی کرنی پڑے گی۔ پھر اس وقت یہ معنی ہونگے کہ امیین میں اور رسول بھی آئیں گے۔ کیوں کہ امیین سے مراد عرب ہیں۔ جیسا کہ صاحب بیضاویؒ نے لکھا ہے ”فی الامّیّین اى فى العرب لان اكثرهم لا يكتبون ولا

صفحہ ۱۱۷

يقرؤن“ اور لفظ منہم کا بھی یہی تقاضہ ہے۔ جبکہ مرزا عرب نہیں تو مرزائیوں کیلئے سوائے دجل وکذب میں اضافہ کے استدلال باطل سے کوئی فائدہ نہ ہوا۔

پر عطف کریں تو پھر بعث مضارع کے معنوں میں لینا پڑیگا۔ ایک ہی وقت میں ماضی اور مضارع دونوں کا ارادہ کرنا ممتنع ہے۔

اس آیت کی تفسیر میں کیا ارشاد فرماتے ہیں۔

"قال المفسرون هم الاعاجم يعنون به غير العرب اى طائفة كانت قاله ابن عباسٌ وجماعة وقال مقاتل يعنى التابعين من هذه الامة الذين يلحقون باوائلهم وفى الجملة معنى جميع الاقوال فيه كل من دخل فى الاسلام بعد النبى ﷺ الى يوم القيامة فالمراد بالاميين العرب وبالآخرين سواهم من الامم

(تفسیر کبیر ص ۴ ج ۳)

حضرت ابن عباسؓ اور ایک جماعت مفسرین کہتے ہیں کہ آخرین سے مراد عجمی ہیں یعنی آپ ﷺ عرب و عجم کے لئے معلم و مربی ہیں )اور مقاتل کہتے ہیں کہ تابعین مراد ہیں سب اقوال کا حاصل یہ ہے کہ امیّین سے عرب مراد ہیں اور آخرین سے سوائے عرب کے سب قومیں جو حضور ﷺ کے بعد قیامت تک اسلام میں داخل ہونگے وہ سب مراد ہیں۔

"وهم الذين جاؤا بعد الصحابة الى يوم الدين“ تفسیر ابوسعود۔ آخرین سے مراد وہ لوگ ہیں جو صحابہؓ کے بعد قیامت تک آئیں گے (ان سب کے لئے حضور ﷺ ہی نبی ہیں) ”هم الذين ياتون من بعدهم الى يوم القيامة

(کشاف ص ۱۸۵ ج ۳)

مشکواۃ شریف ص ۵۷۶ پر ہے

"عن ابى هريرة قال كنا جلوساً عند النبى فانزلت عليه سورة الجمعه و آخرين منهم لما يلحقوا بهم قال قلت من هم يا رسول الله فلم يراجعه حتى سئل ثلاثاً وفينا سلمان الفارسى وضع رسول الله ﷺ يده على سلمان ثم قال لو كان الايمان عند الثريا لناله رجال او رجل من هؤلاء“

صفحہ ۱۱۸

حضرت ابو ھریرۃؓ فرماتے ہیں ہم نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر باش تھے کہ آپ ﷺ پر سورۃ جمعہ نازل ہوئی۔ وَاٰخَرِیْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوْا بِهِمْ تو میں نے عرض کی، کہ یا رسول اللہ ﷺ وہ کون ہیں آپ ﷺ نے خاموشی فرمائی ۔حتیٰ کہ تیسری بار سوال عرض کرنے پر آپ ﷺ نے ہم میں بیٹھے ہوئے سلمان فارسیؓ پر ہاتھ رکھ دیا اور فرمایا اگر ایمان ثریا پر چلا گیا تو یہ لوگ (اہل فارس) اس کو پالیں گے ؂ ۔ (رجال یا رجل کے لفظ میں راوی کو شک ہے مگر اگلی روایت نے رجال کو متعین کر دیا)

یعنی عجم یا فارس کی ایک جماعت کثیرہ جو ایمان کو تقویت دیگی اور امور ایمانیہ میں اعلیٰ مرتبہ پر ہوگی۔ عجم و فارس میں بڑے بڑے محدثین ، فقہاء، مفسرین ، مجددین، صوفیاء اسلام کے لئے باعث تقویت بنے۔ آخرین منہم سے وہ مراد ہیں۔ ابن عباسؓ وابو ھریرۃؓ سے لیکر ابو حنیفہؒ تک سبھی اسی رسول ہاشمی ﷺ کے در اقدس کے دریوزہ گر ہیں۔ حاضر و غائب امیین و آخرین سبھی کے لئے آپؐ کا در اقدس وا ہے آئے جس کا جی چاہے۔ اس حدیث نے متعین کر دیا کہ آپؐ کی نبوت عامہ و تامہ وکافۃ ہے۔ موجود و غائب عرب و عجم سبھی کے لئے آپؐ معلم ومزکی ہیں۔ اب فرمائیے کہ آپؐ کی بعثت عامہ کا ذکر مبارک ہے یا کسی اور نئے نبی کے آنے کی بشارت؟ یقیناً نئے نبی کی بشارت کا خیال کرنا باطل و بے دلیل دعویٰ ہے۔

آیت : وَإِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِيْثَاقَ النَّبِيّٖنَ .

قادیانی :۔ کبھی کبھی آیت ”وَإِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِيْثَاقَ النَّبِيّٖنَ لَمَآ اٰتَيْتُكُمْ مِّنْ كِتٰبٍ وَّحِكْمَةٍ ثُمَّ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهٖ وَلَتَنْصُرُنَّهٗ (آل عمران ۸۰) اور آیت ”وَإِذْ اَخَذْنَا مِنَ النَّبِيّٖنَ مِيْثَاقَهُمْ وَمِنْكَ وَمِنْ نُّوْحٍ (احزاب ۷) سے استدلال کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ سب انبیاء سے حتیٰ کہ آنحضرت ﷺ سے بھی ایک رسول کے آنے کا واقعہ پیش کر کے اس کی تصدیق کرنے کا اور اس رسول کو ماننے کا وعدہ لیا جا رہا ہے۔ وہ رسول کون ہوگا جو سب انبیاء اور آنحضرت ﷺ کے بعد آنے والا ہے وہ مرزا غلام احمد قادیانی ہی ہے۔ نعوذ باللہ۔

جواب نمبر ۱۔ ہر دو آیات میں جس چیز کا خدا تعالیٰ انبیاء سے وعدہ لے رہے ہیں وہ الگ الگ چیزیں ہیں۔ پہلی آیت لیں تو ایک بہت عظیم الشان نبی کی تصدیق کا وعدہ لیا جارہا

صفحہ 119

ہے جو آیت بتلا رہی ہے کہ وہ نبی اعلیٰ منصب رکھتا ہوگا۔ جس کے لئے اللہ تعالیٰ انبیاء کرام سے تاکیدی طور پر اس پر ایمان لانے کا وعدہ لے رہے ہیں۔ اور جس کی امداد کے لئے سخت تاکید فرمائی جارہی ہے۔ وہ تو آنحضرت ﷺ ہی ہو سکتے ہیں۔ مرزا قادیانی جیسے دجال کو اس میثاق و وعدہ کا مصداق ٹھہرانا جس قدر بعید از عقل ونقل ہے اس قدر دنیا میں اور کوئی ظلم ہی نہیں ہو سکتا۔ پھر خود مرزا قادیانی بھی اس ثُمَّ جَاءَ كُمْ رَسُوْلٌ سے مراد آنحضرت ﷺ کو سمجھتا ہے۔ ملاحظہ ہو:

”اور یاد کر جب خدا نے تمام رسولوں سے عہد لیا کہ جب میں تمہیں کتاب اور حکمت دوں گا۔ اور پھر تمہارے پاس آخری زمانہ میں میرا رسول آئیگا جو تمہاری کتابوں کی تصدیق کرے گا۔ تمہیں اُسپر ایمان لانا ہوگا۔ اور اس کی مدد کرنی ہوگی ...... اب ظاہر ہے کہ انبیاء تو اپنے اپنے وقت پر فوت ہو گئے تھے یہ حکم ہر نبی کی امت کے لئے ہے کہ جب وہ رسول ظاہر ہو تو اس پر ایمان لاؤ۔

(حقیقت الوحی خزائن ص ۱۳۳، ۱۳۴ ج ۲۲)

جب مرزا قادیانی نے اس کا مصداق رحمت دو عالم ﷺ کی ذات اقدس کو قرار دیا اور مرزائیوں کی لن ترانی کو مرزا نے درخور اعتنا نہیں سمجھا تو پھر ہم مرزائیوں کو کیوں گھاس ڈالیں؟۔

دوسری آیت میں تبلیغ و اشاعت احکامات الٰہیہ پر وعدہ لئے جانے کا تذکرہ ہے۔

کے بعد تشریف لانے کو ثُم کے ساتھ ادا کیا گیا ہے۔ جو لغت عرب میں تراخی کیلئے آتا ہے۔ جب کہا جاتا ہے کہ ’جاء نی القوم ثم عمر‘ تو لغت عرب میں اس کا یہی مفہوم و معنی سمجھا جاتا ہے کہ پہلے تمام قوم آگئی پھر کچھ تراخی یعنی مہلت کے بعد سب کے آخر میں عمر آیا۔ لہٰذا ثُمَّ جَاءَ كُمْ رَسُوْلٌ کے یہ معنی ہونگے کہ تمام انبیاء کے آنے کے بعد سب سے آخر میں آنحضرت ﷺ تشریف لائے۔ یہ تو ختم نبوت کی دلیل ہوئی اور قادیانیت کیلئے نشترِ جان!

چنانچہ ابن کثیر اور جامع البیان میں حضرت ابن عباسؓ کے حوالہ سے اس کی تفسیر یہ منقول ہے۔

”مابعث الله نبياً من الانبياء الا اخذ عليه الميثاق لئن بعث الله محمدا وهو حی لیؤمنن به ولینصرنه و آمرہ ان یاخذ المیثاق علی امة لئن بعث محمد و هم احیاء لیؤمنن به ولینصرنه“

(ابن کثیر ص ۷۷۔ جامع البیان ص ۵۵)

صفحہ ۱۲۰

اللہ رب العزت نے جس نبی کو بھی مبعوث فرمایا اس سے یہ عہد لیا کہ اگر تمہاری زندگی میں اللہ نے نبی کریم ﷺ کو مبعوث کیا تو ان پر ضرور ایمان لائیں اور ان کی مدد کریں۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے ہر اس نبی کو (جسے مبعوث کیا) حکم دیا کہ آپ اپنی امت سے پختہ عہد لیں کہ اگر اس امت کے ہوتے ہوئے وہ نبی (آخر الزماں) تشریف لائیں تو وہ امت ضرور ان پر ایمان لائے۔ اور اس کی نصرت کرے۔

رسول کا لفظ نکرہ تھا مگر حضرت علیؓ وابن عباسؓ نے اس کی تخصیص کر کے اس سے انکار کی گنجائش باقی نہ چھوڑی۔

رَسُولٌ مِّنْ أَنْفُسِكُمْ . قَدْ أَنْزَلْنَا إِلَيْكُمْ ذِكْراً رَّسُولاً ۔

ان آیات میں بھی رسول نکرہ ہے۔ اگر ان کی تخصیص کر کے ان کا مصداق محمد عربی ﷺ کو لیا جاتا ہے تو ”جاء کم رسول“ میں کیوں نہیں لیا جاتا؟

آیت: وَبِالْآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ

قادیانی اجرائے نبوت کی دلیل میں یہ آیت پیش کرتے ہیں وَبِالْآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ : بقرہ ۴، یعنی وہ پچھلی وحی پر ایمان لاتے ہیں۔ اس سے حضور کے بعد وحی کا ثبوت ملتا ہے

جواب نمبر ۱۔ اس جگہ آخرت سے مراد قیامت ہے۔ جیسا کہ دوسری جگہ صراحتاً فرمایا گیا: وَإِنَّ الدَّارَ الْآخِرَةَ لَهِيَ الْحَيَوَانُ : (عنکبوت ۶۴) آخری زندگی ہی اصل زندگی ہے : ”خَسِرَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةَ“ حج دنیا و آخرت میں خائب وخاسر: الْآخِرَةُ أَكْبَرُ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ“ الحاصل قرآن مجید میں لفظ آخرت پچاس سے زائد مرتبہ استعمال ہوا ہے اور ہر جگہ مراد جزا اور سزا کا دن ہے۔ حضرت ابن عباسؓ سے تفسیر ابن جریر ص ۸۱ جلد اول، درمنثور کی جلد اول ص ۲۷ پر ہے : عن ابن عباسؓ ( وبالآخرة ) اى بالبعث والقيامة والجنة وا لنار والحساب والميزان :

صفحہ ۱۲۱

۲- تفسیر مرزا قادیانی

طالب نجات وہ ہے جو خاتم النبیین پیغمبر آخرالزماں پر جو کچھ اتارا گیا ہے ایمان لائے ’’وبالآخرۃ ھم یوقنون اور طالب نجات وہ ہے جو پچھلی آنے والی گھڑی یعنی قیا مت پر یقین رکھے اور جزا اور سزا مانتا ہو۔

(الحکم نمبر ۳۴، ۳۵، ج ۸، ۱۰ اکتوبر ۱۹۰۴ء، دیکھو خزینۃ العرفان، مرزا قادیانی ص ۷۸ ج۱) اسی طرح دیکھو الحکم نمبر

۲، ج۱۰، ۱۷ جنوری ۱۹۰۶ء ص ۵، کالم ۲، ۳)

اس میں مرزا قادیانی نے بالآخرۃ ھم یوقنون کا ترجمہ، اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں کیا ہے۔ اور پھر لکھتا ہے: قیامت پر یقین رکھتا ہوں۔

تفسیر از حکیم نور الدین خلیفہ قادیان:-

’’اور آخرت کی گھڑی پر یقین کرتے ہیں۔ (ضمیمہ بدر مورخہ ۴ فروری ۱۹۰۹ء)

لہذا مرزائیوں کا ’’وَبِالآخِرَةِ هُمْ يُوْقِنُوْنَ‘ کا معنی آخری وحی کرنا تحریف و زندقہ ہے۔

۳- قادیانی علم و معرفت سے معریٰ ہوتے ہیں۔ کیوں کہ خود مرزا قادیانی بھی جاہل محض تھا اسے بھی تذکیر و تانیث واحد و جمع کی کوئی تمیز نہ تھی۔ ایسے ہی یہاں بھی ہے۔ کہ الآخرۃ تو صیغہ مونث ہے جبکہ لفظ وحی مذکر ہے۔ اس کی صفت مونث کیسے ہوگی؟ دیکھئے قرآن مجید میں ہے ’’اِنَّ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ لَهِىَ الْحَيَوَانُ‘‘ (عنکبوت ۶۴) دیکھئے دارالآخرۃ مونث واقع ہوئی ہے۔ لھی کی مونث ضمیر آئی ہے۔ اور لفظ وحی کے لئے ’’وحی، یوحی ، نذکر کا صیغہ مستعمل ہے تو پھر کوئی سرپھرا الآخرۃ کو آخری وحی قرار دے سکتا ہے؟ اسی طرح دوسرے کئی مقامات پر الآخرۃ کا لفظ قیامت کے لئے آیا ہے۔ دیکھئے یہاں صرف قیامت ہی کا تذکرہ ہے۔ جس کے لئے ہی ترکیب لائی گئی ہے۔ قادیانی عقل و دانش اور علم و تمیز سے بالکل معریٰ ہوتے ہیں۔ وہ اغراض فاسدہ کے حصول کے لئے اندھے بہرے ہو کر ہر قسم کی تحریف و تاویل اور جہالت و حماقت کا ارتکاب کر گزرتے ہیں۔

آیت: وَجَعَلْنَا فِى ذُرِّيَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَالْكِتٰبَ

قادیانی:- ’’وَجَعَلْنَا فِى ذُرِّيَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَالْكِتٰبَ‘‘ (عنکبوت،۲۷)۔یعنی ہم نے

صفحہ ۱۲۲

اس ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں نبوت اور کتاب رکھی ۔ اس سے معلوم ہوا کہ جب تک ابراہیم کی اولاد ہے اس وقت تک نبوت ہے۔

جاری ہی معلوم ہوتا ہے کہ حالانکہ یہ بات قادیانیوں کے نزدیک باطل ہے جو دلیل کتب کے جاری ہونے سے مانع ہے وہی اجرائے نبوت سے مانع ہے۔

نوں کے متعلق ہے ۔ وَجَعَلْنَا فِىْ ذُرِّيَّتِهِ النُّبُوَّةَ ، تو کیا سیدنا نوح علیہ السلام کی اولاد میں اب بھی قادیانی نبوت کو جاری مانیں گے۔ حالانکہ وہ اس کے قائل نہیں۔

بجائے اب کسبی یعنی اطاعت والی کو جاری مانتے ہیں۔ تو گویا کئی لحاظ سے یہ قادیانی اعتراض خود قادیانی عقائد ومستدلات کے خلاف ہے۔

آیت:ظَهَرَ الْفَسَادُ فِى الْبَرِّ وَالْبَحْرِ

قادیانی :- ظَهَرَ الْفَسَادُ فِى الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اَيْدِى النَّاسِ “

(روم ۴۱)

اس تحریف میں متعدد آیات پیش کرتے ہیں ۔ خلاصہ جنکا یہ ہے کہ جب دنیا میں بگاڑ پیدا ہوجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ رسول بھیجتا ہے۔

حالات کے موافق احکامات نازل ہوتے رہے ۔ مگر اسلام کامل واکمل ہے ۔ محمد ﷺ کی بعثت سے دین کمال کو پہونچ گیا ۔ قرآن نے ہدایت ورشد کے تمام پہلووں کو کمال بسط اور تمام تفصیلات کے ساتھ دنیا میں روشن کر دیا اب کسی نئے نبی یا نئی شریعت کی ضرورت نہیں ہے ۔ باقی رہا اصلاح وتبلیغ کا کام تو یہ کام صالحین امت اور علماء دین کے سپرد ہے ”وَلْتَكُنْ مِنْكُمْ اُمَّةٌ يَّدْعُوْنَ اِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ ۔ (آل عمران ۱۰۴) اور العلماء ورثة الانبياء “ الحدیث اس پر شاہد ہیں۔

”اگر کوئی کہے کہ فساد اور بدعقیدگی اور بداعمالیوں میں یہ زمانہ بھی تو کم نہیں۔ پھر اس میں کوئی

صفحہ ۱۲۳

نبی کیوں نہیں آیا تو جواب یہ ہے کہ وہ زمانہ توحید اور راست روی سے بالکل خالی ہو گیا تھا اور اس زمانہ میں چالیس کروڑ لا الہ الا اللہ کہنے والے موجود ہیں۔ اور اس زمانہ کو بھی خدا تعالیٰ نے مجدد کے بھیجنے سے محروم نہیں رکھا‘ (نور الحق ص ۳۳۹ ج ۹)

الحاصل مرزا قادیانی کے زیر نظر یہی آیت ہے مگر پھر بھی مرزا قادیانی اسی آیت کے ماتحت نبوت کی عدم ضرورت کو بیان کر رہا ہے۔ اور ختم نبوت کا قائل ہے۔ مرزائیہ قادیانی طائفہ اس سے نفی ختم نبوت کرنا چاہتا ہے مگر ان کا پیر مرشد ختم نبوت کو ثابت کر رہا ہے۔ قادیانی بتائیں کہ سچا کون اور جھوٹا کون؟

آیت: وَ مَا كُنَّا مُعَذِّبِیْنَ

قادیانی: - وَ مَا كُنَّا مُعَذِّبِیْنَ حَتَّی نَبْعَثَ رَسُوْلاً . (بنی اسرائیل ۱۵) جب تک کوئی رسول نہ بھیجیں ہم عذاب نازل نہیں کرتے۔ یعنی بموجب قرآن ، نزول آفات سماوی و ارضی سے پہلے حجت پوری کرنے کے لئے رسول کا آنا ضروری ہے۔ موجودہ عذابات اس ضرورت پر گواہ ہیں۔

لاعلمی میں ہلاک نہیں کرتے۔ اللہ تعالیٰ کے رسول آکر حجت پوری کرتے ہیں تا کہ وہ گمراہی کو چھوڑ کر ہدایت کا راستہ اختیار کریں ۔ مگر منکرین مخالفت کرتے ہیں جسکی وجہ سے عذاب نازل ہوتا ہے۔ چونکہ آنحضرت ﷺ تمام جہاں اور سب وقتوں ، اور سب امتوں کیلئے ایک ہی نبی ہیں اس لئے یہ تمام عذابات اسی رسالت کاملہ کی مخالفت کا باعث ہے۔ نیز جو عذابات مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت کرنے سے پہلے دنیا میں آئے وہ کس نبی کے انکار کی وجہ سے آئے ؟ اگر وہ آنحضرت ﷺ کی مخالفت کی وجہ سے آئے تو اس زمانہ کے عذابات کو کیوں نہ آپ ﷺ ہی کی مخالفت کا نتیجہ قرار دیا جائے؟ کیا اللہ نے کوئی حد مقرر کی ہے؟ کہ تیرہ سو سال تک تو جو عذاب آئے گا وہ رسول اللہ ﷺ کے انکار کی وجہ سے آئے گا۔ پھر بعد میں کسی اور رسول کے انکار کی وجہ سے ہوگا۔ اور اگر موجودہ عذابات مرزا قادیانی کے انکار کی وجہ سے آ رہے ہیں تو اسکی کوئی حد مقرر ہونی چاہئے کہ ان کی وجہ سے کتنے عرصہ تک عذاب آئے گا۔ ثابت ہوا کہ عذابات آنحضرت ﷺ کی

صفحہ ۱۲۴

مخالفت کی وجہ سے ہیں۔ مذکورہ بالا آیت کسی نئے نبی کو نہیں چاہتی کیوں کہ آنحضرت ﷺ کافۃ للناس کے لئے نبی ہیں۔ اور آپ ﷺ کے آنے سے حجت پوری ہوگئی ہے۔

رہا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اب صرف خلیفے آئیں گے۔ (ملاحظہ ہو شہادت القرآن خ ص ۳۵۲ ج ۶) اور اس کی امت اجرائے نبوت کی دلیل بنارہی ہے۔ فیاللعجب!

ضروی ہوگا؟ اگر ہر عذاب کے موقع پر کوئی نبی، رسول، ہونا ضروری ہے تو بتایا جائے کہ:

کے باعث آئے؟

صحابہ کرام شہید ہوئے

کے منارے گر گئے (تاریخ الخلفاء ص ۱۵۸)

پہاڑ سمندر میں گر پڑا لاکھوں انسان تباہ ہوئے (تاریخ الخلفاء ص ۱۸۶) یہ سب کس رسول کی تکذیب کے باعث ہوئے؟

وقت کونسا رسول تھا؟

تباہیاں آرہی ہیں تو اس وقت کونسا رسول ہے؟ معلوم ہوا کہ قادیانیوں کا استدلال محض

صفحہ ۱۲۵

ایک بکواس ہے اور بس!

۴۔ الف۔ اگر تیرہ سو سال تک جو عذاب آتے رہے وہ حضور پاک ﷺ کی تکذیب کے باعث تھا تو آئندہ قیامت تک جو عذاب آئیں گے وہ کیوں نہ آپ ﷺ کی تکذیب کے باعث قرار دیئے جائیں؟

ب۔ یہ کہنا کہ اب کسی اور رسول کے باعث عذاب آتے ہیں یہ معنی رکھتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کا زمانہ ختم ہو گیا۔ کیا مرزائی اس کا کھلا اعلان کریں گے؟

ج۔ مرزا قادیانی کہتا ہے کہ مرزا کے کامل اتباع سے بھی نعمت نبوت مل سکتی ہے (اربعین نمبر ۱۔ خ ص ۴۳۶ ج ۱۷) مگر مرزائی مرزا کے بعد اور کسی نبی کا وجود ہی نہیں مانتے۔ پھر سوال یہ ہے کہ عذاب کی علت کس کو قرار دیا جائے؟

۵۔ مولانا محمد حسین بٹالوی، مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ، ڈاکٹر عبدالحکیم خاں پٹیالوی ، پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑویؒ، مرزا سلطان محمد ساکن پٹی۔ (مرزا کا رقیب اور بقول حضرت مولانا چنیوٹی مرزائیوں کی آسمانی ماں کو لے بھاگنے والا، محمدی بیگم کا خاوند) مولانا صوفی عبدالحق غزنویؒ، جو متنبّی قادیان کے اشد ترین مخالف تھے۔ حیرت ہے کہ مرزا کی تکذیب کے باعث ان لوگوں پر عذاب نہ آیا بلکہ یورپ کی اقوام پر عذاب آیا جنہیں مرزا قادیانی کی خبر تک نہ تھی۔ تلک اذا قسمۃ ضیزی ......

۶۔ ”وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِیْنَ حَتّٰی نَبْعَثَ رَسُوْلًا “ سے اگر یہ ثابت کیا جائے کہ اور نبی آسکتا ہے تو ”وَإِنْ مِّنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيْهَا نَذِیْرٌ“ کا تقاضہ اور سنت الہی یہی ہونی چاہئے کہ ہر بستی میں رسول آئے۔ اگر قادیانی کہیں کہ آپ ﷺ کی نبوت کافۃ للناس ہے تو پھر کل عالم میں جہاں عذاب آئے گا وہ بھی آپ ﷺ کی تکذیب کے باعث آئے گا۔

۷۔ عذاب کا باعث صرف نبوت کا انکار نہیں بلکہ اور بھی بے شمار وجوہات عذاب ہو سکتے ہیں۔ مثلاً ظلم سے عذاب آتا ہے۔ زنا سے عذاب آتا ہے۔ جھوٹی قسم سے عذاب آتا ہے۔ جسکے مرتکب خود مرزا قادیانی اور اور مرزائی ہیں۔

صفحہ ۱۲۶

آیت : ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰہَ لَمْ یَکُ مُغَیِّرًا نِّعْمَۃً اَنْعَمَہَا

(انفال ۵۳)

قادیانی ۔ یعنی اللہ تعالیٰ جس قوم پر کوئی نعمت کرتا ہے تو اس سے وہ نعمت دور نہیں کرتا۔ جب تک وہ قوم اپنی حالت نہ بدل لے۔ اگر اس امت پر خدا نے نبوت کی نعمت بند کر دی ہے تو اس کے یہ معنی ہونگے کہ یہ امت بدکار ہوگئی ہے۔

جواب ۔ اس آیت میں نعمت نبوت کا ذکر نہیں ہے۔ بلکہ دیگر دنیوی نعمت کا ذکر ہے۔ جو آیت کے سیاق و سباق سے معلوم ہوسکتا ہے۔ اس آیت کے پہلے بھی اور بعد میں بھی فرعون وغیرہ کا ذکر ہے کہ خدا تعالیٰ نے انکو کئی نعمتیں بخشی تھیں۔ لیکن انہوں نے نافرمانی کی تو خدا تعالیٰ نے ان پر تباہی ڈالی۔ کہاں نبوت اور کہاں دنیا کی نعمتیں خوشحالی وحکومت وغیرہ ۔

نبوت ایک نعمت ہے قادیانی مغالطہ

قادیانی ۔ نبوت بھی ایک نعمت ہے۔ امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے کیوں محروم ہوگئی ہے؟ ۔

جواب نمبر ۱۔ نبوت تشریعی اور نزول کتاب بھی اس سے بڑھ کر نعمت ہے ۔ کیا آپ ﷺ کے بعد کوئی نئی کتاب یا کوئی نئی شریعت نازل ہو سکتی ہے؟ نہیں تو پھر وہی اعتراض لازم آیا کہ آنحضرت ﷺ کی تشریف آوری کے بعد دنیا فیض شریعت سے محروم کر دی گئی کیونکہ جس طرح انبیاء آتے رہے اس طرح شریعت بھی وقتاً فوقتاً نازل ہوتی رہی۔ اور یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ انعام شریعت بہ نسبت انعام نبوت کے بہت بڑا ہے۔

الزام ان کو دیتے تھے قصور اپنا نکل آیا

الغرض نزول کتاب، ونبوت تشریعی بھی ایک بڑی نعمت ہے۔ جب یہ نعمت بوجود بند ہونے کے امت میں نقص پیدا نہیں کرتی تو اگر مطلق نبوت نعمت ہو تو اس کے ختم ہونے کی صورت میں بھی کوئی نقص لازم نہیں آئیگا۔ کیونکہ نعمت اپنے وقت میں نعمت ہوتی ہے۔ مگر غیر وقت میں نعمت نہیں ہوتی ۔ جیسے بارش اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے مگر یہی بارش دوسرے وقت زحمت و عذاب ہو جاتی ہے۔

صفحہ ۱۲۷

پہنچا دی گئی ۔ ہم نعمت سے محروم نہیں ہیں بلکہ وہ اچھی صورت میں ہمارے پاس ہے۔ جس طرح سورج نکلنے سے کسی چراغ کی ضرورت نہیں رہتی اس طرح آنحضرت ﷺ کی تشریف آوری کے بعد کسی نبی کی ضرورت نہیں ہے ۔ چنانچہ قرآن مجید میں شجرہ طیبہ (اسلام) کے متعلق ہے کہ: ” تُؤْتِي أُكُلَهَا كُلَّ حِينٍ “ (ابراہیم ۲۵) شجرہ اسلام قیامت تک ثمر بار اور فیضان رساں رہے گا۔ اس کا فیضان قیامت تک منقطع نہیں ہو سکتا۔ قادیانی اگر خود کو اس نعمت سے محروم سمجھتے ہیں تو ان کی یہ بد فہمی ہے اس کی اصلاح کر لیں۔

نیز اگر نبوت نعمت ہی ہے تو مرزا کے بعد بھی اس نعمت کے مظاہر وجود پذیر ہونے چاہیئے۔ وہ کیونکر بند ہو گئے؟۔

آیت: وَإِذِ ابْتَلَى إِبْرَاهِيمَ

قادیانی :- ”وَإِذِ ابْتَلَى إِبْرَاهِيمَ رَبُّهُ بِكَلِمٰتٍ فَأَتَمَّهُنَّ قَالَ إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا قَالَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِي قَالَ لَا يَنَالُ عَهْدِي الظَّالِمِينَ. (بقرہ ۱۲۴) اور جس وقت آزمایا ابراہیم علیہ السلام کو رب اس کے نے ساتھ کئی باتوں کے۔ پس پورا کیا ان کو۔ کہا تحقیق میں کرنے والا ہوں تجھ کو واسطے لوگوں کے امام، اور میری اولاد سے، کہا نہ پہنچے گا عہد میرے ظالموں کو۔

اس سے دو باتیں معلوم ہوئیں : ۱- اول یہ کہ عہد نبوت نسل ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ ضرور پورا ہوگا۔ ۲- دوم یہ کہ جب نسل ابراہیمی ظالم ہو جائے گی تو ان سے نبوت چھین لی جائے گی۔ کیونکہ امت محمدیہ میں نبوت جاری نہیں۔ لہذا یہ امت ظالم ہو گئی اور اگر ظالم نہیں تو امت محمدیہ میں نبوت جاری ہے۔

جواب نمبر ۱:- آیت کا مطلب صرف اس قدر ہے کہ جو ظالم ہو اس کو یہ نعمت نہ ملے مگر ہر غیر ظالم کے لئے نبوت جاری نہیں۔ ہاں اگر نبوت آنحضرت ﷺ کے بعد جاری ہوتی تو پھر غیر ظالموں کو مل سکتی تھی۔ مگر قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا فرمان موجود ہے ”ما کان محمد ابا احد من رجالکم الی قولہ وخاتم النبیین“ مرزا قادیانی نے خود آیت ختم نبوت کا ترجمہ کیا ہے:

صفحہ ۱۲۸

”محمد صلی اللہ علیہ وسلم تم میں سے کسی مرد کا باپ نہیں۔ مگر وہ رسول اللہ ہے اور ختم کر نے والا ہے نبیوں کا۔ یہ آیت بھی صاف دلالت کر رہی ہے کہ بعد ہمارے نبی ﷺ کے کوئی رسول دنیا میں نہیں آئے گا۔“

(ازالہ اوہام خ ص ۳۱ ج ۳)

آنحضرت ﷺ نے بھی ایسی دعا مانگی ہے بلکہ آپ ﷺ نے صریح اور واضح الفاظ میں فرمایا: ”ان النبوة والرسالة قد انقطعت فلا رسول بعدی ولا نبی“

(ترمذی شریف ص ۵۱ ج ۲

باب ذہب النبوة) ثابت ہوا کہ نبوت جاری نہیں۔

لہٰذا تمہارے قاعدے کے مطابق کوئی نبی صاحب کتاب بھی ضرور آنا چاہئے۔ حالانکہ تم اس کے خود قائل نہیں۔ جس دلیل سے صاحب کتاب نبی آنے کی ممانعت ہے وہی دلیل مطلقا کسی نبی کے آنے سے مانع ہے۔

اب تک ظالم ٹھہرتی ہے۔ اور مرزا غلام احمد قادیانی کی وفات کے بعد تمام قادیانی امت بھی ظالم ٹھہرتی ہے۔

میں امام بنائے جاتے ہیں۔ اور ابراہیم علیہ السلام اس امامت کے منصب سے پہلے بھی نبی بن چکے تھے ۔ یہ امامت کس نوعیت کی تھی لکھا ہے کہ : ”خدا نے ابراہیم علیہ السلام سے کہا تیری نسل اپنے دشمنوں کے دروازے پر قابض ہو گی اور تیری نسل سے دنیا کی ساری قومیں برکت پائیں گی ۔“

(پیدائش آیت ۱۷، ۱۸ باب ۲۲)

پھر فرمایا : ”میں تجھ کو اور تیرے بعد تیری نسل کو کنعان کا تمام ملک جس میں تو پردیسی ہے دیتا ہوں ۔“

(پیدائش آیت ۷، ۸ باب ۷)

تو الحاصل آیت کریمہ میں حضرت ابراہیم علیہ السلام اور آپ کی ذریۃ طیبہ کو دنیا میں سرفراز کرنے کا عہد تھا۔ جس کا اظہار سورۃ حدید کے آخر میں واضح کر دیا کہ ہم نے آپ کی اولاد میں کتاب اور نبوت کو مرتکز کر دیا۔ پھر اس کے بعد حضرت مسیح کا ذکر فرمایا جنہوں نے

صفحہ ۱۲۹

اس سلسلہ انبیاء کے آخری فرد کامل کا اعلان کردیا۔ اس فرد کامل نے تشریف لاکر سلسلہ نبوت کا کلی اختتام وانقطاع کا اعلان فرما کر حقیقت واضح کردی۔

آیت : لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِى الْاَرْضِ :

قادیانی " وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِى الْاَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِيْنَهُمُ الَّذِى ارْتَضٰی لَهُمْ " (النور ۵۵) اس سے ثابت ہوا کہ حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت داؤد علیہ السلام کی طرح خلیفے یعنی غیر تشریعی نبی ہونگے۔

جواب نمبر ۱ ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو سلطنت عنایت کریگا نہ یہ کہ نبی خلیفہ ہونگے ورنہ دوسری آیت کا کیا جواب ہے؟ ۔کہ: ” عَسٰی رَبُّكُمْ اَنْ يُّهْلِكَ عَدُوَّكُمْ وَيَسْتَخْلِفَكُمْ فِى الْاَرْضِ ۔" (الاعراف ۱۲۹) قریب ہے تمہارا رب تمہارے دشمن کو ہلاک کردے اور تمہیں زمین کا بادشاہ بنادے۔

اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ تم سب کو غیر تشریعی نبی بنادے گا۔ جَعَلَكُمْ خَلٰئِفَ فِى الْاَرْ ضِ وَ رَفَعَ بَعْضَكُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ لِيَبْلُوَكُمْ فِيْمَا اٰتٰكُمْ ۔" (انعام ۱۶۵) وہ ذات پاک ہے جس نے تم کو دنیا میں جانشین بنایا اور بعض کے بعض پر درجات بلند کئے۔ تاکہ اس نے جو کچھ تمہیں دیا ہے اس میں آزمائش کرے۔

اس کا بھی ہرگز یہ مطلب نہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں غیر تشریعی نبی بنائے۔ تفسیر معالم التنزیل میں ليستخلفنهم کا معنیٰ لکھتے ہیں " اى ليورثنهم ارض الكفار من العرب والعجم فجعلهم ملوكا سادتها وسكانها. " یعنی مسلمانوں کو کافروں (عرب ہوں یا عجمی) کی زمین کا وارث بنائے گا۔ اور ان کو بادشاہ اور فرما روا اور وہاں کا باشندہ بنادیگا۔ نہ یہ مطلب ہے کہ غیر تشریعی نبی بنادے گا۔ نیز یہی آیت تو ختم نبوت پر دال ہے۔ کہ حضور ﷺ کے بعد نبوت کا سلسلہ اب بند ہے۔ آگے خلفاء ہی ہونگے۔ پھر یہ کہ وعدہ خلافت بھی اس سے ہے جو مومن بھی ہو اور اعمال صالحہ بھی کرنے والا ہو۔ کیا صحابہ کرام ان دونوں صفات سے موصوف نہ تھے؟ ۔ اگر تھے تو نبوت تشریعی یا غیر تشریعی کا دعویٰ انہوں نے کیوں نہ

صفحہ ۱۳۰

کیا۔ اور اگر جواب نفی میں ہے تو یہ قرآن عظیم کے بھی خلاف ہے۔ کیونکہ قرآن شاہد ہے کہ صحابہ کرامؓ کی جماعت ان دونوں صفات سے موصوف تھی اور بعض صحابہ کرامؓ خلیفہ بھی بنے مگر پھر بھی نبوت غیر تشریعی کا دعویٰ ان سے ثابت نہیں ہے۔

جواب ۲۔ مرزائیو! اپنے پیرو مرشد کی خبر لو کہ وہ اس آیت میں خلفاء سے کیا مراد لیتا ہے؟ چنانچہ خود مرزا نے اس آیت سے ایسے خلیفے مراد لئے ہیں جن کے مصداق خلفاء راشدین ہیں۔ چنانچہ مندرجہ بالا آیت کے تحت مرزا قادیانی لکھتا ہے کہ۔

وقتاً فوقتاً روحانی زندگی کے کرشمے نہ دکھلاویں تو پھر اسلام کی روحانیت کا خاتمہ ہے"

(شہادۃ القرآن خ ص ۳۵۵ ج ۶)

خلیفہ کے لفظ کو اشارہ کے لئے اختیار کیا گیا ہے کہ وہ نبی کے جانشین ہونگے"

(شہادۃ القرآن خ ص ۳۳۹ ج ۶)

ان حوالوں میں واضح طور پر تسلیم کیا گیا ہے کہ امت محمدیہ ﷺ کی اصلاح و تربیت کے لئے کوئی نبی مبعوث نہیں ہو گا بلکہ انبیا کے بجائے مجدد اور روحانی خلیفے یعنی وارثان محمد ﷺ آتے رہیں گے۔

زمانہ گزرنے کے بعد جب پاک تعلیم پر خیالات فاسدہ کا ایک غبار پڑ جاتا ہے اور حق خالص کا چہرہ چھپ جاتا ہے۔ تب اُس خوبصورت چہرے کو دکھلانے کے لئے مجدد اور محدث اور روحانی خلیفے آتے ہیں ..... مجددوں اور روحانی خلیفوں کی اس امت میں ایسے ہی طور سے ضرورت ہے جیسا کہ قدیم سے انبیاء کی ضرورت پیش آتی رہی ہے"۔

(شہادۃ القرآن خ ص ۳۴۰، ۳۳۹ ج ۶)

مگر افسوس مرزا صاحب نے بہت جلد قرآن کی اس تعلیم کو بھلا دیا اور خود نبوت کے مدعی بن بیٹھے۔ جبکہ مرزا قادیانی کی ان تمام عبارتوں سے ثابت ہوا کہ جیسے حضرت ابوبکر صدیقؓ خلیفہ تھے اور وہ آنحضرت ﷺ کے جانشین تھے لیکن نبی نہ تھے۔ اسی طرح آنحضرت ﷺ کی امت میں خلفا ہی آیا کریں گے نبی ہرگز نہیں آئیں گے۔

صفحہ ۱۳۱

جواب ۳-الف- "وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ" (النور ۵۵) سے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی تخصیص ہے۔ موعود بہم صحابہؓ ہیں ورنہ منکم نہ فرمایا جاتا۔

ب- استخلاف فی الارض سے مراد زمین کی حکومت اور سلطنت ہے۔ جیسا کہ دوسری آیت شریف میں: "وَيَسْتَخْلِفَكُمْ فِیْ الْاَرْضِ . الاعراف ۱۲۹" مرزا حکمران تو کجا غلام ابن غلام تھا۔ پھر اس کو تشریعی یا غیر تشریعی نبوت سے کیا واسطہ۔

ج- آیت میں وعدہ ہے کہ تمکین دین ہوگی۔ جبکہ لعین قادیان انگریزی عدالتوں کی زندگی بھر خاک چھانتا رہا۔

د- آیت بتا رہی ہے کہ خوف کے بعد امن ہوگا۔ مرزا کے امن کا یہ حال تھا کہ بوجہ خوف اپنی حفاظت کے لئے حفاظتی کتا رکھتا تھا۔ اور محض خوف کی وجہ سے حج نہ کر سکا۔

ملاحظہ فرمائیے حوالہ۔

"ڈاکٹر محمد اسماعیل نے مجھ سے بیان کیا کہ مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے اپنے گھر کی حفاظت کے لئے ایک دفعہ گدی کتا بھی رکھا تھا۔ وہ دروازہ پر بندھا رہتا تھا اور اس کا نام شیر تھا۔" (سیرت المہدی ص ۲۹۸ ج ۳)

ھ- آیت میں ہے "لَايُشْرِكُوْنَ بِیْ شَیْئاً" (النور ۵۵) مرزا کا حال یہ ہے کہ وہ پکا درجہ کا مشرک تھا۔ کیوں کہ حیات عیسیٰ علیہ السلام کے عقیدہ پر پچاس سال سے زائد عرصہ قائم رہا۔ پھر خود ہی اس کو شرک قرار دیا۔ تو بقول خود پچاس سال سے زائد عرصہ تک مشرک رہا۔ علاوہ ازیں مرزا کو الہام ہوا "انت منى بمنزلة ولدى" (حقیقت الوحی خ ص ۸۹ ج ۲۲) اور یہ جملہ خالص کفریہ ہے۔

جواب ۴- مرزا نے سر الخلافۃ نامی کتاب میں یہ آیت اور دیگر چند آیات لکھ کر ان آیات کے متعلق لکھا ہے۔ "فالحاصل ان هذه الآيات كلها مخبر عن خلافة الصديق وليس له محمل آخر" یہ آیات صدیق اکبر کی خلافت پر دال ہیں ان کا کوئی دوسرا محمل نہیں۔ معلوم ہوا کہ مرزا کے فیصلہ کے مطابق اس آیت سے اجرائے نبوت پر استدلال بے سود اور باطل ہے۔

آیت: اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ

قادیانی- اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِیْ (مائدہ ۳) سے

صفحہ ۱۳۲

معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد لوگ منصب نبوت پر فائز ہوا کریں گے کیوں کہ جب خدا تعالیٰ نے ہمیں نعمت تامہ دیدی ہے تو سب سے اعلیٰ نعمت تو نبوت کی نعمت ہے وہ ضرور ہمیں ملنی چاہیئے۔

جواب۔ اپنے گھر کی خبر لو! تمھارا پیر و مرشد اس آیت کو ختم نبوت کے لئے پیش کر رہا ہے اور تم اس سے نفی ختم نبوت کو ثابت کرنا چاہ رہے ہو۔ معلوم نہیں الٹی سمجھ کس کی ہے؟ ملاحظہ ہو! ”اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ“ اور آیت وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ“ میں صریح نبوت کو آنحضرت ﷺ پر ختم کرچکا ہے (تحفہ گولڑویہ ح ص ۱۷۴ ج ۱۷)

آیت: يَتْلُوْهُ شَاهِدٌ مِّنْهُ:

قادیانی- يَتْلُوْهُ شَاهِدٌ مِّنْهُ : (ھود: ۱۷) اس آیت کی تفسیر میں کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کی صداقت کو ثابت کرنے کے لئے ایک نبی شاہد کی ضرورت ہے۔ چنانچہ لکھتے ہیں۔ ”اس کی صداقت ثابت کرنے کیلئے جب اتنا عرصہ گزر جائے گا کہ پہلے دلائل قصوں کے رنگ میں رہ جائیں تو خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک نیا گواہ آجائے گا...... اس جگہ خصوصیت کے ساتھ مسیح موعود (مرزا قادیانی) کا ہی ذکر ہے (مرزائی تفسیر کبیر، ص ۱۶۶، ج ۳۔ بشیر الدین محمود)

کا بنایا ہوا قاعدہ ہے جس پر کوئی نص قرآنی یا حدیث دلالت نہیں کرتی۔ اور اگر یہ صحیح ہے تو اس سے لازم آتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام جب آسمان سے نازل ہونگے تو پھر ان کے بعد ان کی تصدیق کے لئے کوئی اور نبی آئے۔ پھر اس نبی کی تصدیق کے لئے کوئی اور نبی آنا چاہیے۔ پس اس سے تسلسل لازم آئے گا جو باطل ہے۔

جائے اس وقت تک آنحضرت ﷺ کی نبوت مشکوک اور مشتبہ ہے اور مرزا کی گواہی کی محتاج ہے؟ اور فرض کریں کہ اگر مرزا نہ آتا اور گواہی نہ دیتا تو آنحضرت ﷺ کی نبوت ہی شکی اور فرضی رہتی؟ نعوذ باللہ من ھذہ الخرافات۔ یہ کس قدر لغو اور بے ہودہ خیال ہے اور ہزار افسوس ہے ان قادیانیوں کے ایمان پر جن کے نزدیک ہمارے نبی ﷺ کی نبوت ثابت نہ ہوئی۔ بلکہ جب مرزا نے نبی بن کر گواہی دی تو ثابت ہوئی۔

صفحہ ۱۳۳

یعنی کتاب یا روشنی ہی نہیں ہوتی بلکہ اس کے لئے ایک کامل نمونہ بھی موجود ہے جو اس بینہ پر عمل کر کے اس کے راستہ کو بالکل صاف کر دیتا ہے اور مومن کے اندر بھی اس کتاب پر عمل کرنے کی طاقت پیدا کر دیتا ہے۔ اور اسی طرح کتابوں کا نازل کرنا اور انبیاء کو ان کتابوں کی عملی تعلیم کا نمونہ بنانا یہ اللہ تعالیٰ کی قدیم سے سنت رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آگے جن انبیا کا ذکر آتا ہے وہ سب اپنی امتوں سے یہی خطاب کرتے ہیں کہ وہ اپنے رب کی طرف سے ایک بینہ پر ہیں۔ کیوں کہ ہر نبی کی وحی اس کے حق میں بینہ ہی ہے۔ مگر اس میں ایک دوسری غرض یہ بھی ہے کہ یہ بینہ یعنی قرآن ایسی صاف ہے کہ اس کی شہادت حضرت موسیٰ علیہ السلام کی کتاب اور پہلی امتوں میں بھی ہے۔

ذات اقدس ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقامات پر آپؐ کے مشاہد ہونے کا ذکر ہے۔ ”وَجِئْنَا بِكَ عَلٰى هٰٓؤُلَآءِ شَهِيداً (نساء ۴۱)“ وَيَكُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَيْكُمْ شَهِيداً (بقرہ ۱۴۳) معلوم ہوا کہ آیت ”يَتْلُوْهُ شَاهِدٌ مِّنْهُ“ میں آپؐ ہی کی ذات مراد ہے یعنی سرور کائنات ﷺ قرآن مجید پڑھتے تھے۔ کیوں کہ اگر اس سے مراد مرزا ہے۔ معاذ اللہ۔ تو سوال یہ ہے کہ کیا مرزا غلام احمد تک قرآن نہیں پڑھا گیا؟

میں اہم امر جو مدار ایمان تھا اس کا کہیں کسی زمانہ میں تذکرہ ملتا ہے جبکہ مرزا نے خود لکھا ہے۔ ”مگر وہ باتیں جو مدار ایمان ہیں اور جن کے قبول کرنے اور جاننے سے ایک شخص مسلمان کہلا سکتا ہے وہ ہر زمانہ میں برابر شائع ہوتی رہیں“ (تذکرۃ الشہادتین ص ۶۲ ج ۲۰) اس کا تذکرہ نہ ملنا بقول اسکے واضح دلیل ہے اس بات کی کہ اس آیت کا مصداق مرزا ہرگز ہرگز نہیں۔

آیت: حَتّٰى يَمِيْزَ الْخَبِيْثَ مِنَ الطَّيِّبِ:

قادیانی - مَّا كَانَ اللّٰهُ لِيَذَرَ الْمُؤْمِنِيْنَ عَلٰى مَاۤ اَنْتُمْ عَلَيْهِ حَتّٰى يَمِيْزَ الْخَبِيْثَ مِنَ الطَّيِّبِ وَمَا كَانَ اللّٰهُ لِيُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَيْبِ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَجْتَبِيْ مِنْ رُّسُلِهٖ ۔“ (آل عمران ۱۷۹)

صفحہ ۱۳۴

خدا تعالیٰ ہر مومن کو اطلاع غیب نہیں دیتے بلکہ اپنے رسولوں میں سے جس کو چاہے گا بھیجے گا۔ (مرزائی پاکٹ بک ص۴۵۰)

یہ لفظ قطعاً نہیں۔ البتہ اطلاع علی الغیب کی خبر ہے جو غیر نبی کو بھی تمھارے نزدیک ہوتی رہتی ہے۔ چنانچہ مرزا نے لکھا ہے۔

”یہ بھی ان کو معلوم رہے کہ تحقیق وجود الہام ربانی کے لئے جو خاص خدا کی طرف سے نازل ہوتا ہے اور امور غیبیہ پر مشتمل ہوتا ہے۔ ایک اور بھی راستہ کھلا ہوا ہے اور وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ امت محمدیہ میں کہ جو سچے دین پر ثابت اور قائم ہیں۔ ہمیشہ ایسے لوگ پیدا کرتا ہے کہ جو خدا کی طرف سے ملہم ہو کر ایسے امور غیبیہ بتلاتے ہیں۔ جن کا بتلانا بجز خدائے واحد لاشریک کے کسی کے اختیار میں نہیں“۔ (براہین احمدیہ حصہ اول ص ۲۳۸)

اس سے معلوم ہوا کہ غیر نبی کو بھی مرزائیوں کے نزدیک اطلاع علی الغیب ہوتی رہتی ہے۔ اور اسی کتاب کے صفحہ ۸۰ پر مرزا نے لکھا ہے کہ ”وحی رسالت بوجہ عدم ضرورت منقطع ہے“ نیز رسلاً میں عموم ہے اور قادیانیوں کا دعویٰ خاص ہے دعویٰ کے مطابق دلیل نہ ہونے کی وجہ سے یہ ان کی دلیل باطل ٹھہری۔ اور یجتبی میں اللہ فاعل ہے جس سے مستقل نبی کا چننا ثابت ہوتا ہے۔ جبکہ قادیانی لوگ مستقل نبی آنے کے قائل نہیں۔

امتحان اور جانچنا ہے اور دوسرے امتیاز بین المخلصین والمنافقین ہے۔ لہٰذا اس آیت سے صرف ابتلا مراد ہے جیسا کہ مرزا کی موت پر تم کو آزمائش میں ڈالا گیا۔

(ریویو آف ریلیجنز بابت جون، جولائی ۱۹۰۸ء ص ۲۲۵ ج ۷)

حکیم نور الدین نے اس آیت کو کسی نبی کے آنے پر نہیں پڑھا تھا کہ اجرائے نبوت ثابت ہو بلکہ مرزائیوں کے نبی کے جانے پر پڑھا تھا۔ مرزائی خلیفہ نے بھی ثابت کردیا کہ اسے اجرائے نبوت کی دلیل بنانا حماقت ہے۔

تھی یہ بھی غلط ہے کیوں کہ سورہ توبہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے جو نزول کے اعتبار سے آخری ہے ”وَمِنْ اَهْلِ الْمَدِيْنَةِ مَرَدُوْا عَلَى النِّفَاقِ لَا تَعْلَمُهُمْ نَحْنُ نَعْلَمُهُمْ سَنُعَذِّبُهُمْ مَّرَّتَيْنِ“

صفحہ ۱۳۵

ثُمَّ يُرَدُّوْنَ إِلَى عَذَابٍ عَظِيْمٍ. توبہ ۱۰۱۔ آل عمران آیت نمبر ۱۱۹ میں ہے "وَإِذَا لَقُوْكُمْ قَالُوْا آمَنَّا وَإِذَا خَلَوْا عَضُّوْا عَلَيْكُمُ الْأَنَامِلَ مِنَ الْغَيْظِ" تو یہ تمیز مومنوں اور منافقوں میں ہو کر رہے گی۔ اللہ تعالیٰ ہر ایک کو نہیں بتائے گا اور تمیز ہوگی ۔

”اور اللہ ایسا نہیں کہ مومنوں کو اس حالت پر چھوڑ دے جس پر (اے گروہ کفار و منافقین ) تم ہو (بلکہ خدا انہیں اس حالت سے بلند کرنا چاہتا ہے ) یہاں تک کہ ناپاک کو پاک سے الگ کردے ۔ (اور مومنین سے ہر قسم کی ایمانی اور عملی کمزوریاں دور کر دے ) اور اللہ تعالیٰ ایسا بھی نہیں کہ تم کو (اپنی ہدایت وقوانین کے) غیب پر اطلاع دے لیکن اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں میں سے جسے چاہتا ہے (اس مرتبہ پر) فضیلت بخشتا ہے ۔ (جیسا کہ محمد رسول اللہ ﷺ کو چنا) سو تم اللہ اور اسکے رسولوں پر ایمان لاؤ اگر تم ایمان لاؤ اور تقویٰ اختیار کرو تو تمہیں بڑا اجر ملے گا“۔

گویا اس آیت میں رسولوں کے سلسلہ جاری رکھنے کا کوئی ذکر نہیں ہے۔

جاتی؟۔ جواب میں فرمایا یہ رسول کا کام ہے۔ آئندہ بعثت رسل کے متعلق نہ کسی نے سوال کیا نہ جواب دیا گیا۔

خبیث وطیب میں امتیاز نہیں ہوا۔ حالانکہ قرآن مجید فرماتا ہے : يُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبَ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبِيْثَ. الاعراف ۱۵۷ ”جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا. (بنی اسرائیل ۸۱) حق آگیا اور باطل ہلاک ہو گیا ۔ بیشک باطل ہلاک ہونے والا ہی تھا۔ پس حق و باطل میں حضور ﷺ کے ذریعہ امتیاز قائم ہو چکا ہے۔ اس لئے اب کسی اور رسول کی ضرورت نہیں رہی۔

اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ وہ مدعیان ایمان کو اسی طرح (منافق ومخلص مومن ملے جلے ) رہنے دے حتیٰ کہ وہ بدباطن منافق اور مخلص مومن کے درمیان بالکل تمیز قائم کر دیگا۔ چنانچہ تمیز کلی طور پر غزوہ تبوک تک مکمل ہوگئی۔ مخلص مومن لوگ باقی رہ گئے اور منافق چھٹ گئے۔ حتیٰ کہ منافقین کے نام لے لے کر مسجد نبوی سے اٹھا دیا گیا تھا۔

صفحہ ۱۳۶

آیت: صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ

قادیانی استدلال- ”اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ‘‘ اے اللہ ہم کو سیدھا راستہ دکھا ان لوگوں کا جن پر تو نے اپنی نعمت نازل کی۔ گویا ہم کو بھی وہ نعمتیں عطا فرما جو پہلے لوگوں کو عطا کی گئیں۔ اب سوال یہ ہوتا ہے کہ وہ نعمتیں کیا تھیں ۔ قرآن مجید میں ہے ”یٰقَوْمِ اذْکُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ جَعَلَ فِيْكُمْ اَنْبِیَاءَ وَجَعَلَكُمْ مُّلُوْکاً . (مائدہ ۲۰) موسیٰ علیہ السلام نے اپنے قوم سے کہا کہ اے قوم تم اپنے خدا کی نعمت یاد کرو جب اس نے تم میں نبی بنائے اور تم کو بادشاہ بنایا۔ تو ثابت ہوا کہ نبوت اور بادشاہی دونوں نعمتیں ہیں جو خدا تعالیٰ کسی قوم کو دیا کرتا ہے۔ خدا تعالیٰ نے سورہ فاتحہ میں دعا سکھائی ہے اور خود ہی نبوت کو نعمت قرار دیا ہے۔ اور دعا کا سکھانا بتاتا ہے کہ خدا تعالیٰ اسکی قبولیت کا فیصلہ فرما چکا ہے۔ لہٰذا امت محمدیہ میں نبوت ثابت ہوئی۔

(احمدیہ پاکٹ بک ص ۴۶۷، ۴۶۶ آخری ایڈیشن)

بننے کی۔ اس کے یہ معنی ہیں کہ ان کے طریق عمل کو نمونہ بنائیں۔ جیسا کہ ارشاد خداوندی ہے ”لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ“ (احزاب ۲۱)

جائیگا؟ جیسا کہ خدا کا فرمان ہے ”اَنَّ هٰذَا صِرَاطِيْ مُسْتَقِيْمًا فَاتَّبِعُوْهُ“ (انعام ۱۵۳) اور کیا گورنر کے راستہ پر چلنے والا گورنر بن سکتا ہے؟ یا چپڑاسی کے راستہ پر چلنے والا چپڑاسی بن جاتا ہے؟

ہو جائیگی۔ حالانکہ نبوت وہبی ہے۔ اَللّٰهُ اَعْلَمُ حَیْثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَهُؕ (انعام ۱۲۴)

چکے تھے۔ آپ ﷺ کا ہر نماز میں اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ کے الفاظ سے دعا کرنا اس امر کی واضح دلیل ہے کہ اس سے حصول نبوت مراد نہیں۔

مذہب میں کروڑوں لوگوں کی دعا قبول نہ ہو وہ خیر امت نہیں کہلا سکتی ۔ اور نہ اسکو کہلانے کا حق ہے۔

صفحہ ۱۳۷

اللہ تعالیٰ نے مرزا قادیانی کی بھی دعا قبول نہ کی۔ کیوں کہ اگر دعا قبول ہوئی ہوتی تو مرزا قادیانی کے سب پیروکاروں کو نبی ہونا چاہئے تھا۔ مگر ایسا نہ ہوا۔ اور اگر سب نبی ہی بن جائیں تو سوال یہ ہے کہ پھر امتی کہاں سے آتے؟ کیا مرزائیوں میں سے کوئی نبوت چھوڑ کر امتی بننے کے لئے تیار ہے؟

ہیں؟ اگر جواب نفی میں ہے تو پھر یہ دعا انھیں کیوں سکھائی گئی ہے؟ اور اگر ہاں میں ہے تو یہ تمھارے خلاف ہے۔

اعتراف کیا گیا ہے۔ تو مرزائی بتائیں کہ ان کے قول کے مطابق مرزا نبی تو بنا مگر بادشاہ نہ بنا تو کیا آدھی دعا قبول ہوئی؟

ہے ”وَاذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ وَمَا اَنْزَلَ عَلَيْكُمْ مِّنَ الْكِتٰبِ وَ الْحِكْمَةِ۔ (بقرۃ:۲۳۱) تو پھر قادیانیوں کے ہاں اس پر پابندی کیوں ہے؟ اگر دعا سے نبوت لینی ہے تو پھر نعمت تامہ یعنی تشریعی نبوت لینی چاہئے تا کہ مکمل نعمت حاصل ہو۔ حالانکہ مرزائی اس کے قائل نہیں۔

”پس اس آیت سے بھی کھلے کھلے طور پر یہی ثابت ہوا کہ خدا تعالیٰ اس امت کو ظلی طور پر تمام انبیاء کا وارث ٹھہراتا ہے تا انبیاء کا وجود ظلی طور پر ہمیشہ باقی رہے اور دنیا اُن کے وجود سے بھی خالی نہ ہو“ (شہادت القرآن خ ص ۳۵۲ ج ۶)

اس آیت سے مراد مرزا قادیانی وہ ظلی نبی لیتا ہے جو ہمیشہ ہمیشہ دنیا میں چلے آتے ہیں ۔ جن سے دنیا کبھی خالی نہیں رہی۔ مگر مرزا کی امت، حضور پاک ﷺ کے بعد اور مرزا سے پہلے کسی کو بھی نبی تسلیم نہیں کرتی۔ معلوم ہوا کہ مرزا کچھ کہتا ہے اور اسکی امت کچھ کہتی ہے ۔ اب مرزائی فیصلہ کریں کہ وہ درست کہتے ہیں یا انکا متنبی مرزا۔؟

بھی نازل ہوئی ”اُذْكُرْ نِعْمَتِيْ عَلَيْكَ وَعَلٰى وَالِدَتِكَ۔ (المائدہ:۱۱۰) اے عیسیٰ میری

صفحہ ۱۳۸

نعمت کو یاد کرو جو میں نے تجھ پر اور تیری ماں پر کی۔ ایسا ہی زید ابن حارثہؓ پر انعام ہوا ”اِذْ تَقُوْلُ لِلَّذِىْ اَنْعَمَ اللہُ عَلَيْهِ. (الاحزاب ۳۷) اسی طرح سب مسلمانوں پر انعام الٰہی ہوا کہ بھائی بھائی بن گئے ”وَاذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللہِ عَلَيْكُمْ اِذْ كُنْتُمْ اَعْدَاءً فَاَلَّفَ بَيْنَ قُلُوْبِكُمْ فَاَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِهِ اِخْوَانًا“ (آل عمران ۱۰۳) ان سب مقامات پر نعمت ملنے کا ذکر ہے۔ لیکن اس سے نبوت لازم نہیں آتی اسی طرح زیر بحث آیت میں بھی نعمت سے مراد نبوت ملنا لازم نہیں۔

تمنا ہے۔ کیونکہ جو ممکن انعامات ہیں اسی راہ پر ملیں گے مثلاً ہر قسم کے انوار و برکات اور محبت ویقین کامل اور تائیدات سماویہ اور قبولیت اور معرفت تامہ، عزیمت واستقامت کے انعام، جو امت محمدیہ کے لئے مقرر ہیں۔

دعا کیوں مانگتا تھا۔ کیا اسے اپنی نبوت پر یقین نہ تھا؟۔

عَلَيْهِمْ“ تو دل میں یہی ملحوظ رکھو کہ میں صحابہؓ اور مسیح موعود کی جماعت کی راہ طلب کرتا ہوں۔

(تحفہ گولڑویہ روحانی خزائن ص ۳۱۸ ج ۱۷)

مسیح موعود کی پچر تو خود دجال (مرزا قادیانی) نے خود لگائی ہے لیکن ”اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ “ کا معنی مرزا کی راہ طلب کرنا نہ کہ مرزا (مسیح موعود) بننا۔ پس مرزا کے اس اقرار سے مرزائیو کی دلیل کا مرزائیو کے دلوں کی طرح خانہ خراب ہو گیا۔ اس آیت میں منعم علیہم کی نعمت طلب کرنے کی تعلیم نہیں دی گئی۔ بلکہ ان کے راستے پر چلنے کی دعاء سکھلائی گئی ہے۔ انبیاء کا راستہ شریعت ومذہب ہے کہ وہ اس کی پابندی اور اتباع کی طرف لوگوں کو دعوت دیتے ہیں۔ اگر نبوت طلب کرنے کی تعلیم دینی مقصود ہوتی تو صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ“ کی بجائے: ”اَعْطِنَا مَا اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ“ ہوتا۔

مانگنا آپ ﷺ نے امت کو سکھلایا۔ لیکن یہ دعا آپ ﷺ نے اس وقت مانگی جب آپ ﷺ نبی منتخب ہو چکے تھے۔ قرآن مجید آپ ﷺ پر اترنا شروع ہو چکا تھا۔ ظاہر ہے کہ

صفحہ ۱۳۹

نبی کریم ﷺ اس دعا سے نبی نہیں بنے تو پھر اس دعا کا فائدہ کیا ہوا؟ مزید یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ چودہ سو سال میں کسی ایک کی یہ دعا قبول ہوئی یا نہ ہوئی۔ اگر ہوئی تو وہ کون ہے جو اس دعا سے نبی بنا؟ اور اگر قبول نہ ہوئی تو پھر یہ امت خیر امت کہاں ہوئی؟ اور اگر مرزائی کہیں کہ صرف مرزا کی دعا قبول ہوئی تو پھر یہ سوال ہوتا ہے کہ اگر مرزا کے حق میں قبول ہوئی تو مکمل کیوں نہ قبول ہوئی تیسرا حصہ کیوں قبول ہوئی؟ کیوں کہ بادشاہت اور نبوت مستقلہ بھی نعمت ہیں یہ دونوں نعمتیں مرزا کو کیوں نہ ملیں؟ مرزا میں وہ کون سی خامیاں تھیں جن کی وجہ سے مرزا کو ان نعمتوں سے محروم رکھا گیا؟

قابل غور ٹھوکر اور گرو، چیلا ”مرزائیوں کے لاہوری گروپ کے گرو مسٹر محمد علی لاہوری نے اپنی نام نہاد تفسیر ”بیان القرآن“ ص ۵ ج ۱ میں لکھا ہے۔

یہاں (منعم علیہم میں ) نبی کا لفظ آجانے سے بعض لوگوں کو یہ ٹھوکر لگی ہے کہ خود مقام نبوت بھی اس دعا کے ذریعہ سے مل سکتا ہے۔ اور گویا ہر مسلمان ہر روز بار بار مقام نبوت کو ہی اس دعا کے ذریعہ سے طلب کرتا ہے۔ یہ ایک اصولی غلطی ہے اس لئے کہ نبوت محض موہبت ہے اور نبوت میں انسان کی جدوجہد اور اس کی سعی کو کوئی دخل نہیں۔ ایک وہ چیزیں ہیں جو موہبت سے ملتی ہیں اور ایک وہ جو انسان کی جدوجہد سے ملتی ہیں۔ نبوت اوّل میں سے ہے۔“

محمد علی لاہوری کا کہنا کہ ”بعض لوگوں کو ٹھوکر لگی ، یہ اصولی غلطی ہے، یہ ٹھوکر کسی اور کو آج تک کبھی نہیں لگی یہ تو صرف اور صرف محمد علی کے چیف گرو مرزا قادیانی کو لگی ہے۔ اس اصولی غلطی اور ٹھوکر کا مرتکب صرف اور صرف مرزا ہے۔ چنانچہ اس سلسلہ میں مرزا کی تحریر ملاحظہ ہو۔

”افسوس کہ حال کے نادان مسلمانوں نے اپنے اس نبی مکرم کا کچھ قدر نہیں کیا اور ہر ایک بات میں ٹھوکر کھائی۔ وہ ختم نبوت کے ایسے معنی کرتے ہیں جس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک نکلتی ہے نہ تعریف۔ گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نفس پاک میں افاضہ اور تکمیل نفوس کے لئے کوئی قوت نہ تھی اور وہ صرف خشک شریعت کو سکھلانے آئے تھے حالانکہ اللہ تعالیٰ اس اُمت کو یہ دُعا سکھلاتا ہے: اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ ۔ پس اگر یہ اُمت پہلے نبیوں کی وارث نہیں اور اس انعام میں سے ان کو کچھ حصہ نہیں تو یہ دعا کیوں سکھلائی گئی“ (حقیقت الوحی خ ص ۱۰۴ ج ۲۲)

صفحہ ۱۴۰

دعا سکھانے کا فلسفہ تو محمد علی اپنے گرو جی سے سیکھیں۔ ہاں ہمیں یہ ضرور بتانا ہے کہ متضاد باتوں کو گرو اور چیلہ دونوں، ٹھیک قرار دے رہے ہیں۔ اب کون سچا ہے؟ یہ فیصلہ قارئین خود کر لیں!

آیت: اَللّٰهُ يَصْطَفِىْ مِنَ الْمَلٰٓئِكَةِ

قادیانی۔ ”اَللّٰهُ يَصْطَفِىْ مِنَ الْمَلٰٓئِكَةِ رُسُلًا وَّمِنَ النَّاسِ“ (حج ۷۵) یصطفی مضارع ہے جو حال اور استقبال اور استمرار کے لئے ہے۔ مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرشتوں اور انسانوں سے رسول چنتا ہے اور چنتا رہیگا۔ یہ آیت حضورﷺ پر نازل ہوئی ثابت ہوا کہ حضورﷺ کے بعد بھی نبی آئیں گے۔ حضورﷺ واحد ہیں اور رسل جمع ہے واحد پر جمع کا اطلاق نہیں ہو سکتا

مبعوث ہو سکتے ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے اپنا قانون بیان فرمایا ہے کہ وہ فرشتوں میں سے رسول چنتا ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کا حکم انبیا علیہم السلام پر لاتے ہیں اور انسانوں میں سے رسول چنتا ہے جو انسانوں میں کلام الٰہی کی تبلیغ کرتے تھے۔ اس سنت قدیم کی رو سے اب بھی یہ رسول بھیجا ہے اس آیت سے معبودان باطلہ کی تردید ہے کہ اگر وہ معبود حقیقی ہوتے تو وہ بھی اپنے رسول مخلوق کی طرف بھیجتے۔

میں صیغہ مضارع فعل کے اثبات کے لئے ہے نہ کہ استمرار اور تجدد کے لئے جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا ”هُوَ الَّذِىْ يُنَزِّلُ عَلٰى عَبْدِهٖٓ اٰيٰتٍ بَيِّنٰتٍ“ (الحدید ۹) یہاں بھی مضارع ہے۔ کیا اس سے بھی لازم آتا ہے کہ اس میں استمرار ہو اور ہمیشہ قیامت تک کے لئے قرآن نازل ہوتا رہے؟

مرزا جی کا الہام۔ ”یریدون ان یروا طمثک…… یعنی بابو الٰہی بخش چاہتا ہے کہ تیرا حیض دیکھے یا کسی پلیدی اور ناپاکی پر اطلاع پائے مگر خدا تعالیٰ تجھے اپنے انعامات دکھلائے گا جو متواتر ہونگے اور تجھ میں حیض نہیں بلکہ وُہ بچہ ہو گیا ہے ایسا بچہ جو بمنزلہ اطفال اللہ ہے“ (تتمہ حقیقت الوحی ص ۵۸۱ ج ۲۲) یہاں بھی مضارع ہے کیا مرزا کا حیض قیامت تک چلتا رہے گا؟ اور بابو الٰہی بخش اسے ہمیشہ قیامت تک دیکھتے رہیں گے؟

صفحہ ۱۴۱

در حقیقت اس آیت میں یصطفی زمانہ استقبال کے لئے نہیں بلکہ حکایت ہے حال ماضیہ کی۔ جیسے باری تعالیٰ کا ارشاد ہے ”فَرِيْقًا كَذَّبْتُمْ وَفَرِيْقًا تَقْتُلُوْنَ“ (بقرہ:۸۷) اس کے یہ معنی نہیں کہ اے یہودیو! حضرت محمد ﷺ کے بعد جو نبی آئیں گے تم ان کو قتل کرو گے بلکہ حکایت ہے حال ماضیہ کی یا جیسے ”اِذْ يَرْفَعُ اِبْرَاهِيْمُ الْقَوَاعِدَ“ (البقرۃ:۱۲۷) میں بھی حکایت ہے حال ماضیہ کی۔

(دیکھو تفسیر بیضاوی)

میں سے یا انسانوں میں سے رسول ہونگے ۔ مرزا قادیانی نہ تو فرشتے ہیں نہ انسان ہیں ۔ کیوں کہ وہ کہتے ہیں کہ ”کرم خاکی ہوں میرے پیارے نہ آدم زاد ہوں“ مرزا جی تو کسی حالت میں نبی نہیں بنتے۔ خود مرزا صاحب ہماری تائید کرتے ہوئے لکھتے ہیں ”ایک عام لفظ کو کسی خاص معنی میں محدود کرنا صریح شرارت ہے“

(نور القرآن ص ۲، خ ص ۳۴۴ ج ۹)

کہ عند الضرورت خدا تعالیٰ رسول بھیجتا رہے گا

(مرزائی تبلیغی پاکٹ بک ص ۴۵۰)

پہلی بات تو یہ ہے کہ ”عند الضرورت“ آیت کے کس لفظ کا ترجمہ ہے؟ حالانکہ مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ ”اب رسولوں کی ضرورت نہیں وحی رسالت بوجہ عدم ضرورت منقطع ہے“

(براہین احمدیہ خ ص ۲۳۸ ج ۱)

اور اسی طرح ازالہ اوہام خ ص ۴۳۲ ج ۳۔ میں بھی لکھا ہے کہ ”وحی رسالت تا بقیامت منقطع ہے“

میں نبی اور رسول ومجدد و محدث سب شامل ہیں ۔ جیسا کہ مرزا نے آئینہ کمالات ص ۳۲۲ خ ص ۳۲۲ ج ۵ پر لکھا ہے: ”رسول کا لفظ عام ہے جس میں رسول اور نبی اور محدث داخل ہیں ۔“ ایسے ہی ایام الصلح ص ۱۹۵ خ ص ۴۱۹ ج ۱۴ حاشیہ پر لکھا ہے کہ: ”رسولوں سے مراد وہ لوگ ہیں جو خدا تعالیٰ کی طرف سے بھیجے جاتے ہیں ۔ خواہ وہ نبی ہوں یا رسول یا محدث اور مجدد ہوں ۔“ اسی طرح شہادت القرآن ص ۲۸ خ ص ۳۲۳ ج ۶ پر ہے: ”رسل سے مراد مرسل ہیں خواہ وہ رسول ہوں یا نبی ہوں یا محدث ہوں ۔“

صفحہ ۱۴۲

سو ظاہر ہے کہ مرزائیوں کا دعویٰ فرد خاص کا ہے۔ دلیل میں عموم ہے لہٰذا تقریب تام نہ ہونے کی وجہ سے استدلال باطل ہے تو دلیل، دلیل نہ ٹھہری۔

اللہ تعالیٰ کا چنا ہوا مستقل نبی ہوتا ہے جیسا کہ آل عمران آیت نمبر ۳۳ میں الفاظ قرآن ہیں: ”اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰۤی اٰدَمَ وَنُوْحًا وَّ اٰلَ اِبْرٰهِیْمَ وَاٰلَ عِمْرٰنَ عَلَی الْعٰلَمِیْنَ۔“

(آل عمران ۳۳)

اس آیت میں مستقل نبیوں کا ہونا مسلم ہے تو اس طرح کا چننا اور اللہ تعالیٰ کا چننا تو مرزائیوں کے عقیدے کے خلاف ہے۔

(مباحثہ راولپنڈی ص ۱۷۵)

تک کتابیں بھیجیں اسی طرح رسول بھیجے۔ اب اگر وہ کتابیں نہ بھیجے یا رسول نہ بھیجے اور نبوت ختم کردے تو اس پر کوئی الزام نہیں آتا۔ سیاق کلام بتاتا ہے کہ آیت میں ان لوگوں کے خیال کی تردید ہے جو انسانوں کو الوہیت کا مقام دیتے ہیں۔ فرمایا معزز ترین گروہ تو انبیاء ورسل کا ہے۔ مگر وہ بھی الوہیت کے اہل نہیں یا بطور اصول فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ انسانوں اور ملائکہ کو رسالت کا منصب تو دیتا ہے مگر خدائی نہیں دیتا۔ تم کیوں ان کی طرف خدائی منسوب کرتے ہو؟۔ سیاق کلام کے ساتھ مذکورہ ترجمہ پر غور کرلیا جائے تو قادیانی استدلال باطل ہو جائے گا۔ ”یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ...... تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ ۔ ﴿الحج ۷۳ تا ۷۶﴾ اے لوگو ایک مثال بیان کی جاتی ہے اسے غور سے سنو۔ وہ جنہیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو ایک مکھی بھی پیدا نہیں کر سکتے۔ گو وہ سب اس کے لئے اکٹھے ہوجائیں۔ اور اگر مکھی ان سے کوئی چیز چھین کر لے جائے تو اسے اس سے چھڑا نہیں سکتے۔ طالب اور مطلوب دونوں کمزور ہیں۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کو نہیں پہچانا جیسا کہ پہچاننے کا حق ہے۔ یقیناً اللہ تعالیٰ طاقتور اور غالب ہے۔ اللہ فرشتوں اور انسانوں میں سے رسولوں کا اصطفاء کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ سمیع و بصیر ہے۔ وہ جانتا ہے کہ جو ان کے آگے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے اور اللہ ہی کی طرف سب کام لوٹائے جائیں گے۔﴾

لیا جائے گا:

صفحہ ۱۴۳

(شوریٰ ۳) ﴿اللہ جو عزیز وحکیم ہے اسی طرح تیری طرف اور ان کی طرف جو تجھ سے پہلے ہوئے وحی کرتا ہے﴾

دیتا ہے کہ اپنی امانتیں ان کے سپرد کرو جو ان کے اہل ہیں۔

فرمانبردار تھے فیصلہ کرتے تھے۔

اب کیا آنحضرت ﷺ کی طرف وحی آئندہ بھی نازل ہوگی۔ کیا امانات کے متعلق آئندہ بھی احکام نازل ہونگے۔ کیا تورات کے مطابق آئندہ بھی فیصلہ کیا کریں گے؟۔

التجددى بالقرائن اذا كان الفعل مضارعا“ (قواعد اللغۃ العربیہ) یعنی استمرار تجددی کا اندازہ قرائن سے لگایا جاتا ہے۔ اور بعد خاتم النبیینؐ ارسال رسل کے لئے تو کوئی قرینہ نہیں۔ البتہ اس کے خلاف تمام قرآن مجید قرینہ ہے۔

سے قابل تنسیخ ہو یا کوئی نیا حکم آنا ہو۔

ساری دنیا کے لئے ابھی ایک نبی نہ آیا ہو۔

طاقت نہ رہے۔

صفحہ ۱۴۴

قارئین پر واضح ہو چکا ہو گا کہ اجرائے نبوت کے مذکورہ تقاضوں میں سے کوئی بھی ایسا تقاضہ باقی نہیں رہ گیا ہے جس کی تکمیل کے لئے کسی اور نبی کی بعثت کی ضرورت ہو۔ لہٰذا ختم نبوت میں کوئی شبہ باقی نہیں رہ جاتا۔

ہیں؟ نہیں ہر گز نہیں۔ بلکہ صرف حضرت جبریل علیہ السلام ۔ مرزا قادیانی نے لکھا ہے۔

بواسطہ جبرائیل علیہ السلام کے اور بذریعہ نزول آیات ربانی کلام رحمانی کے سکھلائے جاتے ہیں۔“

(ازالہ خ ص ۴۱۶ ج ۳)

وعقائد دین جبریل کے ذریعہ حاصل کئے ہوں۔“

(ازالہ خ ص ۴۷۸ ج ۳)

پس جب پیغام رساں فرشتہ کو باوجود واحد ہونے کے جمع کے صیغہ سے ذکر کیا گیا ہے تو پھر حضرت نبی کریم ﷺ پر (واحد) پر اس کا اطلاق کیوں ناجائز ہے؟۔

آیت: فَلَا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِهِ أَحَدًا

قادیانی۔ اس آیت: ”فَلَا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِهِ اَحَدًا “ (جن ۲۶) کو پیش کر کے کہتے ہیں کہ چونکہ مرزا صاحب پر اظہار غیب ہوا یعنی آپ کو پیش گوئیاں دی گئیں۔ لہٰذا وہ نبی ہیں اور نبوت جاری ہے۔

جواب نمبر ۱۔ خود مرزا صاحب نے اس آیت کا جو معنی و مفہوم بیان کیا ہے ملاحظہ ہو: ” فَلَا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِهِ أَحَدًا اِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِنْ رَّسُوْلٍ “ (جن ۲۶) یعنی کامل طور پر غیب کا بیان کرنا صرف رسولوں کا کام ہے۔ دوسرے کو یہ مرتبہ عطا نہیں ہوتا۔ رسولوں سے مراد وہ لوگ ہیں جو خدا تعالیٰ کی طرف سے بھیجے جاتے ہیں۔ خواہ وہ نبی ہوں یا رسول یا محدث اور مجدد ہوں ۔

(ایام الصلح خ ص ۴۱۹ ج ۱۴)

اسی طرح ایک اور جگہ لکھتے ہیں: ” فَلَا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِهِ أَحَدًا اِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِنْ رَّسُوْلٍ “ رسول کا لفظ عام ہے۔ جس میں رسول اور نبی اور محدث داخل ہیں۔

(آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن ص ۳۲۲ ج ۵)

صفحہ ۱۴۵

پھر ایک اور جگہ مرزا صاحب لکھتے ہیں کہ: ”اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ“ اور آیت: ”وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ“ میں قصرِ نبوت کو آنحضرت ﷺ پر ختم کر چکا ہے۔

(تحفہ گولڑویہ ص ۷۴، ج ۱۷)

معلوم ہوا کہ مرزائی تحریروں کی روشنی میں بھی اور لم یبق من النبوۃ الا المبشرات جیسی احادیث کی روشنی میں زیر بحث آیت کا صرف یہی مفہوم ہے کہ علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل کے مطابق امت محمدیہ ﷺ میں بڑے بڑے بزرگ اولیاء اللہ، مجدد ومحدث، غوث وقطب وابدال پیدا ہوتے رہیں گے۔ جو اللہ تعالیٰ سے ہم کلامی کا شرف پائیں گے۔ یہ لوگ اگرچہ نبی اور رسول نہ ہونگے اللہ تعالیٰ ان سے وہی کام لے گا جو انبیاء سے لیا کرتا تھا۔ جن میں سے ایک اظہار و اطلاع غیب بھی ہے۔

مگر خود ان پیشگوئیوں کا نہ مطلب سمجھ سکے نہ مصداق۔ کاش! قادیانی حضرات مرزا جی کی ان پیشگوئیوں پر ہی سرسری نظر ڈال لیں جن کو انھوں نے اپنے صدق وکذب کا معیار قرار دیا ہے تو انکے دعوے کی حقیقت بآسانی سمجھ میں آسکتی ہے۔ مرزا کی پیشگوئیوں کا حال تو نجومیوں سے بھی برا ہے۔ ان میں دس جھوٹ تو ایک سچ ہوتا ہے۔ مگر مرزا میں تو جھوٹ ہی جھوٹ تھا۔

محسوسات سے غائب ہو ”غیب“ ہے۔ ذرا ”یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ“ پر غور کیا جائے۔ حضرت نوح علیہ السلام کے واقعات کا ذکر کر کے فرمایا ”تِلْكَ مِنْ اَنْبَاءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْهَاۤ اِلَیْكَ ۚ مَا كُنْتَ تَعْلَمُهَاۤ اَنْتَ وَ لَا قَوْمُكَ مِنْ قَبْلِ هٰذَا ؕ “ (ھود ۴۹) کہ یہ غیب کی خبریں ہیں جن سے تو اور تیری قوم دونوں بے خبر تھے۔ لہٰذا غیب کو پیشگوئیوں میں مخصوص کرنا غلط ہے۔

کائنات کے متعلق علم کس قدر ہی کیوں نہ بڑھ جائے ایک حصہ غیب کا ضرور رہتا ہے۔ اسی لیئے فرمایا ”عٰلِمُ الْغَیْبِ وَالشَّهَادَةِ“ (حشر ۲۲) خدا غیب کو بھی جانتا ہے اور موجود کو بھی۔ اللہ تعالیٰ کے لئے کوئی چیز بھی غائب نہیں البتہ تمھارے لئے ایک حصہ غیب کا ہے اور دوسرا موجود کا ہم غیب کے ایک حصہ کا علم حاصل کرتے چلے جاتے ہیں اور وہ ہمارے لئے موجود بنتا چلا جاتا ہے۔ مگر غیب کی بعض قسمیں ایسی ہیں جن پر ہم اپنی کوشش سے غالب

صفحہ ۱۴۶

نہیں آسکتے۔ مثلاً خدا کی ذات وصفات، احکام و شرائع اور مابعدالموت۔ یہ صرف نبی کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بتایا جاتا ہے اور اسی کے توسط سے انسان کو ملتا ہے۔ پیشگوئیوں والا غیب تو اولیاء اور محدثین کو بھی حاصل ہوتا ہے مگر حقیقی غیب صرف انبیاء سے مخصوص ہے۔ اس قسم کا ہر غیب رسول اللہ ﷺ کے ذریعہ امت کو دیا جا چکا ہے۔ اس لئے مزید کسی نبوت کی گنجائش نہیں۔

معلوم کہ اس آیت کا یہ مطلب نہیں کہ جس کو رسول بنانا چاہتا ہے اس کو غیب کی خبریں دے کر رسالت عطا کر دیتا ہے۔ مغیبات کی خبریں دے کر رسول بنانا آیت کا مفہوم نہیں بلکہ رسول بنا کر مغیبات پر مطلع کرنا آیت کا مفاد و مقصد ہے۔ چنانچہ قاضی بیضاویؒ اس آیت کے معنی بیان کرتے ہیں ”ولکن اللہ یجتبی لرسالتہ من یشاء فیوحی الیہ ویخبرہ ببعض المغیبات“ یعنی اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے اپنا رسول بنا لیتا ہے اور پھر اس کے ذریعہ سے مغیبات کی خبریں دیتا ہے۔

غرض رسول کو غیب کی خبریں دیجاتی ہیں لیکن یہ ضروری نہیں کہ جو غیب کی خبر دے وہ رسول ہو جائے۔ ورنہ تو خود مرزا کو بھی تسلیم ہے کہ فاسق فاجر، فاحشہ عورتیں بھی سچے خواب کے ذریعہ، نجومی کاہن اپنے اٹکل پچو سے غیب کی خبریں دیتے ہیں۔ کیا وہ رسول ہیں؟ ہرگز نہیں۔ غرض آیت سے اتنا ثابت ہے کہ رسول کو غیب کی خبر دیجاتی ہے۔ یہ نہیں جو غیب کی خبر دے دے وہ رسول ثابت ہو جائے۔

مَنْ يَّشَآءُ“ (آل عمران ۱۷۹) دوسری آیت شریفہ میں ہے ”فَلَا يُظْهِرُ عَلٰى غَيْبِهٖٓ اَحَداً اِلَّا مَنِ ارْتَضٰى مِنْ رَّسُوْلٍ“ دونوں آیتوں کی مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ غیب کی خبریں رسولوں میں سے کسی ایک رسول کے ذریعہ سے دیتا ہے۔ اس صورت میں من رسلہ میں لفظ من تبعیضیہ ہوگا اور اگر من بیانیہ لیں تو غیب سے مراد وحی (وحی رسالت) لینی پڑے گی۔ پھر آیت کے یہ معنی ہونگے کہ اللہ تعالیٰ وحی پر سوائے رسولوں کے کسی کو مطلع نہیں کرتا۔ غرض کہ اللہ جسے رسول بناتا ہے تو ان کو وحی رسالت، غیب کی خبریں عنایت کرتا ہے۔ اس آیت سے قادیانی استدلال قادیانی دعویٰ کے بھی خلاف ہے۔ اس لئے کہ ان

صفحہ ۱۴۷

کے دعویٰ کے مطابق اب خدا کی عنایت سے کوئی نبی نہیں ہو سکتا ۔ بلکہ اطاعت سے بنتا ہے ۔ خلاصہ یہ کہ اگر اس آیت میں قادیانیوں کا تحریف شدہ مفہوم (معاذ اللہ) مان بھی لیں تب بھی یہ دلیل قادیانی دعویٰ کے مطابق نہیں ۔

آیت: يُلْقِي الرُّوْحَ مِنْ اَمْرِهٖ

قادیانی استدلال- ”يُلْقِي الرُّوْحَ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰى مَنْ يَّشَاءُ “ (مومن ۱۵) اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے اپنی روح ڈالتا ہے ۔ یعنی منصب نبوت اس کو بخشتا ہے ۔ لہٰذا ثابت ہوا کہ نبی آتے رہیں گے۔

جواب نمبر ۱۔ آیت مذکورہ میں روح کے معنی نبوت کے نہیں ہیں ۔ بلکہ اس کے یہی معنی ہیں آیا ہے کہ ”لَهُمُ الْبُشْرٰى فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا “ یعنی مومنوں کیلئے مبشرات باقی رہ گئے ہیں ۔ یا فرمایا ” لم يبق من النبوة الا المبشرات “ کہ خدا کا کلام مبشرات کے رنگ میں امت محمدیہؐ کے لئے باقی رکھا گیا ہے ۔ چنانچہ اسی کے تحت گزشتہ چودہ سو سال میں ہزارہا اولیاء امت اور علماء حق کو انوار نبوت ملے اور آثار نبوت بھی انکے اندر موجزن تھے مگر وہ نبی نہ تھے

جواب نمبر ۲۔ روح کا لفظ محض کلام کے معنی میں آتا ہے ۔ اور اللہ تعالیٰ کا کلام غیر نبی سے بھی ہوتا ہے ۔ جیسا کہ حدیث صحیح ”رجال يكلمون من غير ان يكونوا انبياء“ سے ظاہر ہے ۔ پس اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں سے کلام کرنا اجرائے نبوت کی دلیل نہیں بن سکتی ۔

آیت: وَلَا أَنْ تَنْكِحُوْا اَزْوَاجَهٗ

قادیانی استدلال- ”وَلَا أَنْ تَنْكِحُوْا اَزْوَاجَهٗ مِنْ بَعْدِهٖ اَبَداً “ (احزاب ۵۳) اور نہ نکاح کرو اس نبی ﷺ کی بیویوں سے اسکی وفات کے بعد کبھی بھی ۔ قادیانیوں کی طرف سے سب سے زیادہ مضحکہ خیز استدلال اس آیت کی بنا پر کیا گیا ہے ۔ کہ اب آنحضرت ﷺ کے بعد سلسلہ نبوت ختم ہو گیا ہے تو کوئی نبی نہ آئیگا ۔ نہ اسکی وفات کے بعد اس کی بیویاں زندہ رہیں گی۔ اور نہ ان کے نکاح کا سوال ہی زیر بحث آئے گا ۔ اب اگر اس آیت کو قرآن مجید سے نکال دیا جائے تو کونسا نقص لازم آتا ہے ورنہ ماننا پڑتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد سلسلہ

صفحہ ۱۴۸

نبوت جاری ہے۔ اور قیامت تک انبیاء کی ازواج مطہرات ان کی وفات کے بعد بیوی ہی کی حالت میں رہیں گی۔ کیوں کہ رسول اللہ کا لفظ نکرہ ہے جس میں ہر رسول داخل ہے۔

اس سورۃ میں کئی بار ذکر آچکا ہے۔ جیسے ”لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ“ (احزاب۔۲۱) تمہارے لئے رسول اللہ ﷺ میں اسوہ حسنہ ہے ”قَالُوْا هٰذَا مَا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗ“ (احزاب ۲۲) مومنوں نے کہا یہی ہے جس کا اللہ نے اور اس کے رسول ﷺ نے وعدہ دیا تھا ”وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيّٖنَ“ (احزاب ۴۰) مگر اللہ کا رسول اور آخری نبی ہے ”اِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ“ (احزاب ۲۹) اگر تم اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو چاہتی ہو۔

اور وہی رسول اللہ مراد ہے جس کے متعلق کتب حدیث میں ہزار ہا مرتبہ یہ الفاظ آتے ہیں ”قال رسول اللہ ﷺ۔ کیا کوئی بندہ جاہل یہ کہہ سکتا ہے کہ قال رسول اللہ ﷺ نکرہ ہے تو اس سے مراد مرزا قادیانی ہے۔ معاذ اللہ۔

زید‘ لفظ رسول اللہ کی طرف مضاف ہو کر معرفہ ہو گیا۔ فرمایا: ”مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ وَالَّذِيْنَ مَعَهٗ (فتح ۲۹)

کہہ دے کہ آدم علیہ السلام کے بے ماں باپ یا عیسیٰ علیہ السلام کے بے باپ ہونے کا ذکر قرآن سے نکال دیئے جانے کے قابل ہے۔ کیونکہ اب کوئی اس طرح پیدا نہیں ہوتا اور نہ ہوگا۔

یا یہ کہے کہ ”فَلَمَّا قَضىٰ زَيْدٌ مِّنْهَا وَطَرًا زَوَّجْنٰكَهَا“ (احزاب ۳۷) سے ظاہر ہے کہ آئندہ رسول بھی منہ بولے بیٹے کی مطلقہ سے شادی کیا کریں گے۔ ورنہ اس آیت کو نکال دیا جائے۔

میں امراء کی وفات پر ان کی ازواج سے شادی کرنا فضیلت میں شمار ہوتا تھا۔ اور قرآن نے سورۃ نور میں بیواؤں سے نکاح کا حکم دیا ہے۔

قرآن نے صریح حکم دیا ہے کہ حضور ﷺ کی ازواج سے نکاح نہ کیا جائے۔ وہ آخری امہات المؤمنین ہیں اور آپ ﷺ بوجہ خاتم النبیین ہونے کے آخری ”باپ“ ہیں اگر

صفحہ ۱۴۹

یہ حکم مذکور نہ ہوتا تو اس فضیلت کے حصول کے لئے کوشش کرتے۔ اس امت میں فتنہ و فساد پیدا ہوتا اور ازواج مطہرات کی پوزیشن بجائے امت کی معلمات دین ہونے کی معمولی بھی نہ رہتی ۔ اس لئے اس تاریخی حکم کا تا قیامت باقی رکھنا ضروری تھا۔ تاکہ معلوم ہو کہ یہ خواتین مقدسہ آخری مائیں ہیں اور حضور اقدس ﷺ آخری باپ ہیں۔

نکال دو۔ وہ حضور ﷺ کی فضیلت کو مٹانے والا ہے۔ اس لئے ملعون کافر جہنمی ہے۔ وہ یہود کا مثیل ہے کل ایسے خبیث کہیں گے کہ قرآن مجید سے گذشتہ انبیاء علیہم السلام کے قصص نکال دینے چاہئیں۔ کیونکہ وہ انبیاء گزر چکے ہیں۔ جیسا کہ لعین قادیانی نے کہا:

ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو ٭ اس سے بہتر غلام احمد ہے

(در ثمین اردو، خ ص ۲۴۰ ج ۱۸ دافع البلاء)

جو ایسی بیہودہ تحریف کرے اس کے متعلق لعین قادیانی نے کہا: ”تحریف، تغیر کرنا بندروں اور سؤروں کا کام ہے“۔ (اتمام الحجت خ ص ۲۹۱ ج ۸)

آیت: اِنَّ رَحْمَتَ اللّٰهِ قَرِيْبٌ

قادیانی: ”اِنَّ رَحْمَتَ اللّٰهِ قَرِيْبٌ مِنَ الْمُحْسِنِيْنَ“ (اعراف ۵۶) نبوت بھی ایک رحمت ہے وہ بھی نیکوں کو ملنی چاہیے۔

ضروری ہے۔ ورنہ دولت، سلطنت، بارش وغیرہ سب رحمت ہیں جبکہ اکثر محسنین خصوصاً انبیاء علیہم السلام دولت اور سلطنت وغیرہ کی رحمتوں سے خالی تھے۔ تو کیا وہ نبی نہ تھے؟ معلوم ہوا کہ بہت ساری رحمتوں کی طرح نبوت بھی ایک رحمت ہے جو باری تعالیٰ کی مرضی پر ہے۔ جب چاہیں اور جس کو چاہیں دیں اور جس پر جس نعمت کی چاہیں بندش فرمادیں۔

سب سے بڑی رحمت حضور پاک ﷺ کی ذات اقدس ہے۔ جو شخص اب آنحضرت ﷺ کے بعد کسی اور رحمت، نبوت کو تلاش کرتا ہے یا جاری کرنے کی کوشش کرتا ہے وہ اللہ کی سب سے بڑی رحمت محمد عربی ﷺ سے منہ موڑتا ہے اس سے بڑھ کر بدنصیب اور کون ہوگا؟

صفحہ ۱۵۰

۔ حضور ﷺ نے فرمایا ہے ”انا حظكم من الانبياء وانتم حظي من الامم“ نبیوں میں سے میں محمد، تمہارے حصہ میں آیا ہوں اور امتوں میں سے تم میرے حصہ میں آئے ہو ۔ معلوم ہوا کہ جو شخص کسی اور نبی کی تلاش میں ہے وہ حضور ﷺ کی امت میں نہیں رہے گا گویا وہ اللہ کی سب سے بڑی رحمت اور نعمت سے محروم ہو جائے گا۔ اور جب کہ مرزا نے خود ہی لکھا ہے ”فلا حاجة لنا الى نبي بعد محمد“ (حمامۃ البشریٰ خ ص ۴۳۴ ج ۷) تو مرزائیوں کو نیا نبی اور وہ بھی مرزا جیسا کوڑھ مغز نبی ڈھونڈنے کی ضرورت کیا ہے۔

ہو گا اور حضور ﷺ کی اتباع سے محروم ہو کر خدا کی سب سے بڑی رحمت سے محروم ہو جائے گا۔ اس محروم القسمت بد بخت کے لئے جو حضور ﷺ کی اتباع سے منہ موڑتا ہے مرزائی لوگ قرآن میں تحریف کر کے اس کی نبوت کے لئے دلائل تلاش کرتے ہیں۔ فیاللعجب۔

مرزائی اس کو بند کیوں مانتے ہیں؟

ملحقہ اگلی آیت ”هُوَ الَّذِيْ يُرْسِلُ الرِّيٰحَ بُشْرًا بَيْنَ يَدَيْ رَحْمَتِهٖ“ (اعراف ۵۷) میں بارش کو رحمت کہا گیا ہے۔ مگر پوری دنیا کا اتفاق ہے کہ اگر بارش والی رحمت ضرورت سے بڑھ جائے تو رحمت کے بجائے زحمت یعنی عذاب بن جاتی ہے۔ لیجئے جناب! اس آیت شریفہ سے ہی قادیانی لغویات کا بھر پور ابطال نکل آیا۔ بارش رحمت ہے مگر جو ضرورت سے زیادہ بارش مانگے وہ عذاب خداوندی کو دعوت دیتا ہے۔ اسی طرح حضور ﷺ کی نبوت رحمت ہے اس رحمت کے ہوتے ہوئے اگر اور نبوت کی رحمت کو کوئی مانگتا ہے تو وہ بھی عذاب خداوندی کو دعوت دیتا ہے۔

آیت: وَلَقَدْ ضَلَّ قَبْلَهُمْ اَكْثَرُ الْاَوَّلِيْنَ

قادیانی استدلال:۔ ”وَلَقَدْ ضَلَّ قَبْلَهُمْ اَكْثَرُ الْاَوَّلِيْنَ وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا فِيْهِمْ مُّنْذِرِيْنَ“ (صٰفّٰت ۔ ۷۲) ان سے پہلے بھی بہت سے لوگ ان میں گمراہ ہوئے اور یقیناً ہم نے ان کے اندر ڈرانے والے بھیجے۔ جیسے پہلی گمراہیوں کے وقت نبی آتے رہے ویسے ہی اب بھی گمراہی کے وقت مرزا غلام احمد قادیانی نبی مبعوث ہوا۔ معاذ اللہ

صفحہ ۱۵۱

جواب نمبر ۱۔ پہلے لوگوں میں گمراہی اس لئے پھیلی کہ ان کے انبیا کی تعلیمات محفوظ نہ رہیں۔ اس میں ترمیم واضافہ کر دیا گیا۔ ہمارے نبی ﷺ کی تعلیمات الحمدللہ محفوظ ہیں ”اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَاِنَّا لَهُ لَحٰفِظُوْنَ“ (حجر ۹) اس لئے حضور ﷺ کی امت، سابقہ امتوں کی طرح من حیث المجموع گمراہ نہیں ہو سکتی۔ حضور پاک ﷺ کا ارشاد ہے لا تجتمع امتى على الضلالة (مشکوٰۃ) اور پھر امت محمدیہ کے علماء وہی کام انجام دیں گے جو انبیاء بنی اسرائیل دیتے تھے۔ چنانچہ اس حدیث پاک کو لعین قادیان مرزا نے بھی اپنی کتاب (شہادۃ القرآن خ ص ۳۲۳ ج ۶) پر تسلیم کیا ہے کہ اصلاح و تبلیغ کا کام یہ صالحین امت و علماء دین کریں گے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے ”وَلْتَكُنْ مِّنْكُمْ اُمَّةٌ يَّدْعُوْنَ اِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ“ (آل عمران ۱۰۴)

مخلوق پرستی نہ کوئی اپنی نئی شاخ نکلے گی نہ پہلے حالت پر عود کرے گی“۔

(براہین احمدیہ خ ص ۱۰۲ ج ۱)

پھر اس میں کوئی نبی کیوں نہیں آیا تو جواب یہ ہے کہ وہ زمانہ (یعنی حضور ﷺ سے قبل کا) توحید اور راست روی سے بالکل خالی ہو گیا تھا۔ اور اس زمانہ میں چالیس کروڑ لا الہ الا اللہ کہنے والے موجود ہیں۔ اور اس زمانہ کو بھی خدا تعالیٰ نے مجدد کے بھیجنے سے محروم نہیں رکھا“

(نور القرآن خ ص ۳۳۹ ج ۹)

آیت: مُبَشِّرًاۢ بِرَسُوْلٍ يَّأْتِيْ مِنْ بَعْدِی

قادیانی استدلال۔ ”مُبَشِّرًاۢ بِرَسُوْلٍ يَّأْتِيْ مِنْ بَعْدِى اسْمُهٗ اَحْمَدُ“ (صف ۶) کو پیش کر کے کہتے ہیں کہ اس سے مراد مرزا غلام احمد قادیانی ہے۔

مراد رحمت دو عالم ﷺ کی ذات اقدس ہے۔

صفحہ ۱۵۲

کہ حضرت عیسیٰ کے بعد رحمت عالم ﷺ تشریف لائے تو اس کا آپ ﷺ مصداق ہوئے نہ کہ مرزا کانا۔

(ج) آپ ﷺ کا اسم گرامی محمدؐ اور احمد تھا۔ جیسا کہ مشہور احادیث صحیحہ و متواترہ میں وارد ہے۔ تفصیلات کے لئے کنز العمال، مدارج النبوت وغیرہ ملاحظہ ہو۔ اور مرزا کا نام محمد یا احمد نہیں بلکہ غلام احمد یا مرزا غلام احمد قادیانی ہے اس کے لئے مرزائی کتب ، کتاب البریہ۔ تذکرہ، ازالہ اوہام وغیرہ ملاحظہ ہو

(د) آپ ﷺ خود ارشاد فرماتے ہیں "انا بشارۃ عیسیٰ" اور قرآن مجید میں آپ ﷺ ہی کی نسبت بشارت عیسیٰ وارد ہے۔ نہ کہ مرزا جیسے افیونی کے لئے۔

جواب ۲۔ مرزا غلام احمد قادیانی کا اصل نام جو اس کے ماں باپ نے رکھا تو وہ غلام احمد تھا۔ مرزا بھی ساری زندگی یہی لکھتا رہا، بکتا رہا۔ اس کا نام احمد نہیں تھا۔ تو غلام احمد، اسمہ احمد کا مصداق کیسے ہو گیا؟

ایک دفعہ ایک قادیانی نے حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے سامنے یہ بات کہہ دی آپ نے فی البدیہہ فرمایا غلام احمد سے مراد، احمد ہے تو عطاء اللہ سے مراد صرف اللہ ہو سکتا ہے۔ غلام احمد کو احمد مانتے ہو تو پھر عطاء اللہ کو اللہ ماننا پڑے گا۔ اگر اللہ مانو گے! تو میرا پہلا حکم یہ ہے کہ غلام احمد جھوٹا ہے۔ اسے میں نے نبی نہیں بنایا۔ پس شاہ جی رحمۃ اللہ علیہ کے حاضر جوابی سے قادیانی یہ جا وہ جا!

جواب ۳۔ اگر احمد سے مراد مرزا قادیانی ہے تو پھر یہ مسیح موعود یا مہدی کیسے ہوا؟ اس لئے کہ مسیح موعود اور مہدی میں سے کسی کا نام احمد نہیں۔

صفحہ ۱۵۳

احادیث میں قادیانی تاویلات

وتحریفات کے جوابات

حدیث: لو عاش ابراہیم

قادیانی استدلال: ”لو عاش (ابراہیم) لكان صديقاً نبياً“ اس سے قادیانی استدلال کرتے ہیں کہ اگر حضور ﷺ کے بیٹے حضرت ابراہیم زندہ رہتے تو نبی بنتے۔ بوجہ وفات کے حضرت ابراہیم نبی نہیں بن سکے ورنہ نبی بننے کا امکان تو تھا۔

جواب نمبر ۱۔ یہ روایت جس کو قادیانی اپنے استدلال میں پیش کرتے ہیں سنن ابن ماجہ، باب ماجاء فی الصلوۃ علی ابن رسول اللہ ﷺ و ذکر وفاتہ، میں ہے۔ روایت کے الفاظ یہ ہیں ”عن ابن عباس لما مات ابراهيم ابن رسول اللہ ﷺ صلی رسول اللہ ﷺ و قال ان له مرضعاً فی الجنة ولو عاش لكان صديقاً نبياً ولو عاش لاعتقت اخواله القبط وما استرق قبطی . (ابن ماجہ ص ۱۰۸)

حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ جب آپ ﷺ کے صاحبزادہ ابراہیم کا انتقال ہوا تو آپ ﷺ نے نماز جنازہ پڑھائی اور فرمایا اس کے لئے دودھ پلانے والی جنت میں (مقرر کر دی گئی) ہے اور اگر ابراہیم زندہ رہتے تو سچے نبی ہوتے اور اگر وہ زندہ رہتے تو اسکے قبطی ماموں آزاد کر دیتا ﴾

وقد تكلم بعض الناس فی صحة هذا الحديث كما ذكر السيد جمال الدين المحدث فی روضة الاحباب . (انجاح ص ۱۰۸)

اس حدیث کے صحت میں بعض محدثین نے کلام کیا ہے جیسا کہ روضۃ الاحباب میں محدث سید جمال الدین نے ذکر کیا ہے۔

كانوا انبياء (انجاح ص ۱۰۸)

صفحہ ۱۵۴

شیخ ابن عبدالبرؒ کہتے ہیں۔ اس قول کے کیا معنی ہیں مجھے نہیں معلوم۔ کیوں کہ یہ کہاں ہے کہ ہر نبی کا بیٹا نبی ہو۔ اس لئے کہ حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹے نبی نہیں تھے۔

﴿ شیخ عبدالحق دہلویؒ فرماتے ہیں کہ یہ بہت بڑی زیادتی ہے۔ ...... جو صحیح نہیں ﴾

واسط وهو متروك الحديث

متروك الحديث“ (تقریب التہذیب ص ۲۵)

ترمذی جلد ۱ ص ۱۹۹، کتاب الجنائز کے حوالہ سے ابو شیبہ ابراہیم کے بارے میں تحریر کیا ہے کہ وہ منکر الحدیث ہے۔ (تقریب ص ۲۵)

ہے کہ شعبہ نے اس کی تکذیب کی ہے۔

المغيبات ومجازفة وهجوم على عظيم (موضوعات کبیر ص ۵۸) امام نوویؒ نے تہذیب الاسماء میں فرمایا ہے کہ یہ حدیث باطل ہے۔ غیب کی باتوں پر جسارت ہے بڑی بے تکی بات ہے۔

یہ حدیث صحیح کو نہیں پہنچتی۔ اس کا کوئی اعتبار نہیں۔ اس کی سند میں ابو شیبہ ابراہیم ابن عثمان ہے جو ضعیف ہے۔

آرا یہ ہیں کہ ابو شیبہ ابراہیم ابن عثمان، ثقہ نہیں۔ حضرت امام ترمذیؒ کی رائے یہ ہے کہ منکر الحدیث ہے۔ حضرت امام نسائیؒ فرماتے ہیں وہ متروک الحدیث ہے۔ حضرت امام جوزجانیؒ فرماتے ہیں، اس کا کوئی اعتبار نہیں۔ حضرت امام ابو حاتمؒ فرماتے ہیں، وہ ضعیف الحدیث ہے۔

(تہذیب التہذیب ص ۱۳۴، ۱۳۵ ج ۱)

صفحہ ۱۵۵

ایسا راوی جس کے متعلق آپ اکابر امت کی آراء ملاحظہ فرما چکے ہیں۔ اس کی ایسی ضعیف روایت کو لیکر قادیانی اپنا باطل عقیدہ ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ حالانکہ ان کو معلوم ہونا چاہئے کہ عقیدہ کے اثبات کیلئے خبر واحد (اگرچہ صحیح کیوں نہ ہو) بھی معتبر نہیں ہوتی۔ چہ جائے کہ عقائد میں ایک ضعیف روایت کا سہارا لیا جائے۔ یہاں تو ڈوبتے کو تنکے کا سہارا، والی بات ہوگی۔

جواب نمبر ۲:- اور پھر قادیانی دیانت کا دیوالیہ پن ملاحظہ فرمائیں کہ اس روایت سے قبل حضرت ابن ابی اوفیٰ کی ایک روایت ابن ماجہ نے نقل کی ہے جو صحیح ہے۔ اس لئے کہ امام بخاریؒ نے بھی اپنی صحیح میں اس کو نقل فرمایا ہے جو قادیانی عقیدہ اجرائے نبوت کو بیخ و بن سے اکھیڑ دیتی ہے۔ اے کاش! قادیانی پہلے اس روایت کو پڑھ لیتے۔ جو یہ ہے

قال قلت لعبد الله ابن ابی اوفیٰ رائیت ابراہیم بن رسول الله ﷺ قال مات وهو صغیر ولو قضی ان یکون بعد محمد ﷺ نبی لعاش ابنه ابراھیم ولکن لا نبی بعدہ (ابن ماجہ ص ۱۰۸)

اسماعیل راوی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ ابن ابی اوفیٰؓ سے پوچھا کہ کیا رسول اللہ ﷺ کے بیٹے ابراہیم علیہ السلام کو آپ نے دیکھا تھا؟۔ عبداللہ ابن ابی اوفیٰؓ نے فرمایا کہ وہ (ابراہیم) چھوٹی عمر میں انتقال فرما گئے اور اگر حضور ﷺ کے بعد کسی کو نبی بننا ہوتا۔ تو آپ ﷺ کے بعد ابراہیم زندہ رہتے۔ لیکن آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔

یہ وہ روایت ہے جسے اس باب میں ابن ماجہ سب سے پہلے لائے ہیں۔ یہ صحیح ہے اس لئے کہ حضرت امام بخاریؒ نے اپنی صحیح کے باب ”من سمی باسماء الانبیاء“ میں اسے مکمل نقل فرمایا ہے۔ دیکھئے۔ (بخاری ج ۲ ص ۹۱۴)

اب آپ ملاحظہ فرمائیں کہ یہ صحیح روایت ہے جسے ابن ماجہ متذکرہ باب میں سب سے پہلے لائے اور جس کو امام بخاریؒ نے اپنی صحیح بخاری میں روایت کیا ہے اور مرزا قادیانی نے اپنی کتاب شہادت القرآن ص ۴۱ روحانی خزائن ص ۳۳۷ ج ۶ پر ”بخاری شریف کو اصح الکتب بعد کتاب الله“ تسلیم کیا ہے۔ اگر مرزائیوں میں دیانت نام کی کوئی چیز ہوتی تو اس صحیح بخاری کی روایت کے مقابلہ میں ایک ضعیف اور منکر الحدیث کی روایت کو نہ لیتے۔ مگر مرزائی اور دیانت یہ دو متضاد چیزیں ہیں۔

صفحہ ۱۵۶

اب ملاحظہ فرمائیے کہ حضرت عبداللہ ابن ابی اوفیٰؓ یہ کیوں فرماتے ہیں کہ اگر حضور ﷺ کے بعد کسی کو نبی بننا ہوتا تو آپ ﷺ کے بیٹے ابراہیم زندہ رہتے۔ گویا حضرت کے صاحبزادہ کا انتقال ہی اس لئے ہوا کہ آپ ﷺ کے بعد کسی کو نبی نہیں بننا تھا۔ اس لئے فرمایا کہ رحمت دو عالم ﷺ کے بعد اگر آپ کے بیٹے ابراہیم زندہ رہتے اور جوانی کی عمر کو پہنچتے تو دو صورتیں تھیں۔ ایک یہ کہ وہ نبی بنتے، تو اس سے آپ ﷺ کی ختم نبوت کے یہ منافی تھا۔ دوسرے یہ کہ نبی نہ بنتے، تو پھر یہ سوال پیدا ہو سکتا تھا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام نبی بنے۔ اسی طرح حضرت یعقوب علیہ السلام کے بیٹے حضرت یوسف علیہ السلام نبی بنے تو آپ ﷺ کا بیٹا کیوں نبی نہیں؟ گویا اللہ رب العزت کی حکمت بالغہ نے آپؐ کے صاحبزادوں کا بچپن میں انتقال ہی اس لئے کر دیا کہ نہ آپ کی ختم نبوت پر حرف آئے اور نہ آپ ﷺ کی ذات پر کوئی اعتراض آئے ۔ خلاصہ یہ نکلا کہ حضرت ابراہیم کا انتقال ہی ختم نبوت کی وجہ سے ہوا کہ آپ ﷺ کے بعد کسی کو نبی بننا تھا ۔

لیجئے ایک اور روایت انہیں حضرت ابن ابی اوفیٰؓ سے ملاحظہ فرمائیے

’حدثنا ابن ابی خالد قال سمعت ابن ابی اوفی یقول لو کان بعد النبی ﷺ نبی مامات ابنہ ابراہیم

(مسند احمد ص ۳۵۳ ج ۴)

ابن ابی خالد فرماتے ہیں کہ میں نے ابن ابی اوفیٰؓ سے سنا، فرماتے تھے کہ اگر رحمت دو عالم ﷺ کے بعد کوئی نبی ہوتا تو آپؐ کے بیٹے ابراہیم فوت نہ ہوتے ۔

حضرت انس سے سدیؒ نے دریافت کیا کہ حضرت ابراہیم کی عمر بوقت وفات کیا تھی ؟

آپ نے فرمایا ”ما ملاء مہدہ ولو بقی لکان نبیاً لکن لم یبق لان نبیکم آخر الانبیاء (تاریخ الکبیر لابن عساکر ص ۴۹۴ ج ۱) وہ تو گہوارہ کو بھی نہ بھر سکے (یعنی بچپن میں ہی انتقال کر گئے) اگر وہ باقی رہتے تو نبی ہوتے لیکن اس لئے باقی نہ رہے کہ تمھارے نبی آخری نبی ہیں۔

قال ابن عباس یرید لو لم اختم بہ النبیین لجعلت لہ ابناً یکون بعدہ نبیا وروی عن عطاء عن ابن عباسؓ ان اللہ تعالیٰ لما حکم ان لا نبی بعدہ لم یعطہ ولداً ذکراً یصیر رجلاً

(معالم التنزیل ص ۱۷۸ ج ۳)

صفحہ ۱۵۷

حضرت عبداللہ ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی مراد یہ ہے کہ اگر نبیوں کا سلسلہ ختم نہ کرنا تو آپ ﷺ کے لئے صاحبزادہ ہوتا۔ جو آپ ﷺ کے بعد نبی ہوتا۔ حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کے بعد نبوت بند کرنے کا فیصلہ فرمادیا تو آپ کو بیٹا نہیں دیا جو جوانی کو پہنچے۔

اس روایت نے واضح کردیا کہ ابراہیم کی وفات ہی اس لئے ہوئی کہ آپ ﷺ کے بعد کسی کو نبی نہ بننا تھا۔ اب ان صحیح روایات کے ہوتے ہوئے جو بخاری، ابن ماجہ، مسند احمد میں موجود ہیں، ایک ضعیف روایت کو جس کا جھوٹا ہونا اور مردود ہونا قطعی طور پر ظاہر ہے۔ اسے صرف وہی لوگ اپنے عقیدہ کی تائید میں پیش کرسکتے ہیں جن کے متعلق حکم خداوندی ہے ”خَتَمَ اللّٰهُ عَلٰی قُلُوْبِهِمْ وَعَلٰی سَمْعِهِمْ وَعَلٰی اَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ“ (بقرۃ ۷)

قادیانی اعتراض ۔ اس روایت کی شہاب علی البیضاوی اور موضوعات میں ملا علی قاری نے تصحیح کی ہے۔

جواب ۔ شہاب علی البیضاوی یا حضرت ملا علی قاریؒ کی تصحیح ائمہ حدیث ابن حجر عسقلانیؒ، حافظ ابن عبدالبرؒ اور امام نوویؒ کے مقابلہ میں کوئی تقدیم نہیں رکھتی۔ یہ تمام ائمہ حدیث اس روایت کو ضعیف اور باطل قرار دیتے ہیں۔ اور پھر موضوعات میں حضرت ملا علی قاریؒ نے بھی ان ائمہ کی اس حدیث کے بارے میں جرح کو نقل کیا ہے۔ اس لئے شہاب علی البیضاوی ہوں یا حضرت ملا علی قاریؒ نے ان کی تصحیح وتعدیل پر جرح مقدم ہوگی اور پھر جبکہ جرح بھی ائمہ حدیث کی ہو جن کی ثقاہت پر حضرت ملا علی قاریؒ بھی سر دھنتے ہوں۔

الحاوی للفتاوی ص ۹۹ ج ۲ پر حضرت عبداللہ بن ابی اوفیؓ سے روایت کے الفاظ یہ ہیں :

توفی وهو صغیر ولو قضی ان یکون بعد محمد ﷺ نبی لعاش ولکنه لانبی بعده“ حضرت ابراہیم بچپن میں فوت ہوگئے اگر آنحضرت ﷺ کے بعد کسی شخص کا نبی بننا مقدر (جائز) ہوتا تو وہ زندہ رہتے لیکن (زندہ اس لئے نہیں رہے کہ) آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں (بننا تھا) اور الحاوی للفتاوی ص ۹۹ ج ۲ پر ایک اور روایت حضرت انس بن مالکؓ سے مروی ہے کہ: ”ولو بقی لکان نبیا ولکن لم یبقی لان نبیکم آخر الانبیاء“ اگر وہ زندہ رہتے تو نبی ہوتے لیکن وہ زندہ اس لئے نہیں رہے کہ آنحضرت ﷺ آخر الانبیاء ہیں۔

صفحہ ۱۵۸

الحاوی کے مصنف علامہ جلال الدین سیوطیؒ ہیں۔ جن کو قادیانی نویں صدی کا مجدد مانتے ہیں اور جن کے متعلق مرزا لکھا ہے کہ ”انھوں نے حالت بیداری میں ۷۵ مرتبہ رحمت دو عالم ﷺ سے حدیثوں کی صحت کرائی تھی“

(ازالہ اوھام خ ص ۱۷۷ ج ۳)

غرض علامہ جلال الدین سیوطیؒ نے ان تمام روایات کو جمع کرنے کے بعد انکا جو جواب تحریر کیا ہے۔ اے کاش! قادیانیوں کیلئے ہدایت کا باعث بن جائے۔ جو یہ ہے۔

”حافظ ابن حجر اصابہ میں فرماتے ہیں کہ یہ روایت میں نہیں جانتا کہ اس کا کیا مطلب ہے؟ ہر چند کہ یہ تین صحابہ سے مروی ہے (لیکن غلط ہے) اس لئے کہ صحابہ کرامؓ سے متعلق یہ خیال نہیں کیا جا سکتا کہ انھوں نے ایسی بات کہی ہو۔ علامہ جلال الدین فرماتے ہیں (اگر یہ صحیح ہوتی بھی) تو یہ قضیہ شرطیہ ہے اس کا وقوع لازم نہیں۔

(الحاوی للفتاویٰ ص ۱۰۰ ج ۲)

جواب نمبر ۳۔ اگر یہ روایت کہیں سند سے مذکور بھی ہوتی تو بھی واحد ہونے کی وجہ سے اور احادیث صحیحہ متواترہ کے خلاف ہونے کے باعث قابل توجیہ یا قابل رد تھی۔ جیسا کہ مدارج النبوت میں حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلویؒ فرماتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ یہی کہا جائے گا کہ اگر رحمت دو عالم ﷺ کے بعد نبوت جاری ہوتی اور ابراہیم زندہ رہتے تو ان میں نبی بننے کی صلاحیت تھی۔

(ص ۷۷ طبع دہلی)

مگر چونکہ آپ ﷺ کے بعد نبوت کا دروازہ بند ہے تو صلاحیت ہونے کے باوجود بھی نبی نہیں بن سکتے تھے۔ جیسا کہ حضرت عمرؓ کے متعلق معروف روایت ہے ”لو کان بعدی نبی لکان عمر“ حضرت عمرؓ میں بالقوۃ نبی بننے کی صلاحیت موجود تھی مگر آپ ﷺ کے خاتم النبیین ہونے کے باعث بالفعل نبی نہیں بن سکے۔

جواب نمبر ۴۔ اس میں حرف لو قابل توجہ ہے۔ لو، عربی میں محال کے لئے آتا ہے ۔ جیسے: لَوْ كَانَ فِيْهِمَا الِهَةٌ اِلَّا اللّٰهُ لَفَسَدَتَا “ (انبیاء ۲۲) میں تعلیق محال ہے، اسی طرح اس روایت میں بھی تعلیق بالمحال ہے ”لو عاش ابراھیم“ بعد تقدیر موت کے، حیات ابراہیم محال ہے۔ لہٰذا ان کا نبی ہونا بھی محال ہوا۔ کیوں کہ معلق علی المحال بھی محال ہی ہوتا ہے۔ پس اگر اسکی سند صحیح بھی ہو تب بھی یہ ممتنع الوقوع ہے۔

صفحہ ۱۵۹

حدیث: ولاتقولوا لانبی بعدہ .

قادیانی استدلال۔ حضرت عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں ”قولوا خاتم النبیین ولا تقولوا لا نبی بعدہ،‘ (مجمع البحار ص ۸۵۔ درمنثور ص ۲۰۴ ج ۵) اس سے ثابت ہوا کہ ان کے نزدیک نبوت جاری ہے۔

جواب نمبر ۱۔ حضرت عائشہ صدیقہؓ کی طرف اس قول کی نسبت بے اصل اور بے سند ، باطل اور مردود ہے۔ دنیا کی کسی کتاب میں اسکی سند مذکور نہیں۔ ایک بے سند قول سے نصوص قطعیہ اور احادیث متواترہ کے خلاف استدلال کرنا سراپا دجل و فریب ہے۔

جواب نمبر ۲۔ رحمت دو عالم ﷺ فرماتے ہیں ”انا خاتم النبیین لا نبی بعدی“ حضرت عائشہؓ کا قول صریحاً اس فرمان نبوی کے خلاف ہے۔ اس تعارض میں یقیناً قول نبیؐ کو ترجیح دیجائے گی۔ پھر حدیث ”لا نبی بعدی“ متعدد صحیح اسناد سے مذکور ہے۔ جبکہ قول عائشہؓ کی سند ہی نہیں تو صحیح حدیث کے مقابلہ میں یہ کیسے حجت ہو سکتا ہے۔؟

جواب نمبر ۳۔ خود حضرت عائشہ صدیقہؓ سے مروی ہے ”لم یبق من النبوت شیئی الا المبشرات“ (کنزالعمال ص ۳۳ ج ۸) تو اس واضح فرمان کے بعد اس بے سند قول کو حضرت صدیقہؓ کی طرف منسوب کرنے کا کوئی جواز ہی باقی نہیں رہتا۔

جواب نمبر ۴۔ قادیانی دجل و فریب ملاحظہ ہو، کہ مجمع البحار سے نقل کرتے وقت قادیانی صرف آدھی بات نقل کرنے کی جرائت کرتے ہیں۔ اگر پوری بات نقل کریں تو دنیا ان کے استدلال پر تھو تھو، کرے گی۔ غور فرمائیے اسی سے آگے روایت میں یہ جملہ بھی ہے ”ھٰذا ناظر الی نزول عیسی علیہ السلام (تکملہ مجمع البحار ص ۸۵) اب اگر ان کا، یا حضرت مغیرہؓ کا قول ”حسبک اذا قلت خاتم الانبیاء “ وغیرہ جیسے آتے ہیں تو ظاہر ہے کہ ان سب کا مقصد یہی ہے کہ ان کے ذہن میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کا مسئلہ تھا۔ کہ یہ نہ ہو کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی، نہیں آئے گا اسلئے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ہوگا۔ ہاں! خاتم النبیین ﷺ کے بعد کوئی نبی بنایا نہیں جائے گا۔ اس لئے کہ عیسیٰ علیہ السلام ”ممن نبی قبلہ“ وہ آپ ﷺ سے پہلے نبی بنائے جاچکے ہیں۔

صفحہ ۱۶۰

جواب نمبر ۵۔ اس قول میں بعدہ خبر کے مقام پر آیا ہے اور خبر افعال عامہ یا افعال خاصہ سے محذوف ہے۔ اس لئے اس کا پہلا معنی یہ ہوگا ”لا نبی مبعوث بعدہ“ حضور ﷺ کے بعد کوئی نبی مبعوث نہیں ہوگا۔ مرقات حاشیہ مشکوٰۃ شریف پر یہی ترجمہ مراد لیا گیا ہے جو صحیح ہے۔ دوسرا معنی ہوگا۔ لا نبی خارج بعدہ۔ حضور ﷺ کے بعد کسی نبی کا ظہور نہیں ہوگا۔ یہ معنی غلط ہے اس لئے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نزول فرمائیں گے۔ حضرت مغیرہؓ نے انھیں معنوں کے اعتبار سے ”لا تقولوا لا نبی بعدہ“ میں ممانعت فرمائی ہے جو سو فیصد ہمارے عقیدہ کے مطابق ہے۔

تیسرا معنی ہوگا ”لا نبی حی بعدہ“ اس معنی کے اعتبار سے حضرت عائشہؓ نے ”لا تقولوا لا نبی بعدہ“ میں ممانعت فرمائی ہے۔ اس لئے کہ خود ان سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کی روایات منقول ہیں۔ اور ان کے نزدیک حضرت عیسیٰ ابھی زندہ ہیں جو آسمان سے نزول فرمائیں گے۔

جواب نمبر ۶۔ مرزا قادیانی نے لکھا ہے۔ ”دوسری کتب حدیث (بخاری اور مسلم کے علاوہ) صرف اس صورت میں قبول کے لائق ہونگے کہ قرآن اور بخاری اور مسلم کی متفق علیہ حدیث سے مخالف نہ ہوں“

(آریہ دھرم، در حاشیہ ص ۶۴ ج ۱۰)

جب صحیحین کے مخالف مرزا کے نزدیک کوئی حدیث کی کتاب قابل قبول نہیں تو حضرت عائشہ صدیقہؓ کی طرف منسوب بے سند قول غیر صحیحین سے قابل قبول کیوں ہوگا؟ نیز مرزا نے اپنی تصنیف کتاب البریہ خ ص ۲۲۷ ج ۱۳ پر تحریر کیا ہے کہ ”حدیث لا نبی بعدی ایسی مشہور تھی کہ کسی کو اس کی صحت میں کلام نہ تھا“ تو سوال یہ ہے کہ کیا یہ ممکن ہے کہ حضرت عائشہؓ نے ایسی مشہور صحیح حدیث کے خلاف کچھ فرمایا ہو؟

جواب نمبر ۷۔ حضرت عائشہ صدیقہؓ کا یہ قول اگر صحیح ہوتا، تو بھی مرزائیت کے منہ پر یہ ایک زور دار جوتا تھا۔ اس لئے کہ بخاری شریف کتاب العلم ص ۲۲ ج ۱ میں حضرت عائشہؓ سے ہی روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ قوم تازہ تازہ ایمان لائی ہے ورنہ میں بیت اللہ شریف کو توڑ کر دو دروازہ کر دیتا۔ ایک سے لوگ داخل ہوتے دوسرے سے نکل

صفحہ ۱۶۱

جاتے ۔ اس حدیث کو لانے کے لئے امام بخاریؒ نے باب باندھا ہے ”باب من ترک بعض الاختیار مخافة ان يقصر فهم بعض الناس فيقعوا فی اشد منه“ کہ جب اس بات کا اندیشہ ہو کہ قاصر الفہم لوگ خرابی میں مبتلا ہو جائیں گے۔ تو امر مختار کے اظہار کو ترک کردے ۔ یہ روایت حضرت عائشہ صدیقہؓ سے بخاری میں موجود ہے۔ کوئی شخص لا نبی بعدی کی روایت سے قادیانی دجالوں کی طرح حضرت عیسیٰ کی آمد کا انکار نہ کردے ، اس لئے امر مختار ’لا نبی بعدی‘ کو آپ نے ترک کرنے کا حکم دیا۔ اسکی شاہد حضرت مغیرہؓ کی طرف منسوب وہ روایت ہے جو در منثور ص ۲۰۲ ج ۵ ، پر ہے۔ کہ کسی نے حضرت مغیرہ بن شعبہؓ کے سامنے ”خاتم الانبیاء لا نبی بعدی“ کہا تو حضرت مغیرہؓ نے فرمایا حسبک اذا قلت خاتم الانبياء فانا كنا نحدث ان عيسىٰ خارج فان هو خرج فقد كان قبله وبعده ۔

جواب نمبر ۸۔ اب قول عائشہ صدیقہؓ اور قول مغیرہ بن شعبہؓ، دونوں کی مکمل عبارتیں مع ترجمہ و تشریح ملاحظہ فرمائیے ۔

”وفی حدیث عيسىٰ انه يقتل الخنزير ويكسر الصليب ويزيد فى الحلال اى يزيد فى حلال نفسه بان يتزوج ويولد له وكان لم يتزوج قبل رفعه الى السماء فزاد بعد الهبوط فى الحلال فحينئذ يومن كل احد من اهل الكتاب يتيقن بانه بشر وعن عائشةؓ قولوا انه خاتم الانبياء ولا تقولوا لا نبی بعده لانه اراد لا نبی ينسخ شرعه “

(تکملہ مجمع البحار ص ۸۵)

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قصہ میں ہے کہ وہ نزول کے بعد خنزیر کو قتل کریں گے ۔ اور صلیب کو توڑیں گے اور اپنے نفس کی حلال چیزوں میں اضافہ کریں گے یعنی نکاح کریں گے اور آپ کی اولاد ہوگی۔ کیوں کہ حضرت عیسیٰ نے آسمان پر اٹھائے جانے سے پہلے نکاح نہیں فرمایا تھا۔ آسمان سے اترنے کے بعد نکاح فرمائیں گے۔ (جو لوازم شریعت سے ہے ) پس اس حال کو دیکھ کر اہل کتاب میں سے ہر ایک شخص ان کی نبوت پر ایمان لا ئے گا اور اس بات کا یقین کرے گا کہ بلاشک حضرت عیسیٰ علیہ السلام ایک بشر ہیں خدا نہیں ۔ جیسا کہ نصاریٰ ابتک سمجھتے رہے ۔ اور حضرت عائشہؓ سے جو یہ منقول ہے کہ وہ فرماتی تھیں کہ آپ ﷺ کو خاتم النبیین کہو اور یہ نہ کہو کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں ۔

صفحہ ۱۶۲

ان کا یہ ارشاد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے پیش نظر رکھ کر تھا۔ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا دنیا میں آنا ’’لا نبی بعدی‘‘ کے منافی نہیں کیوں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نزول کے بعد حضور ﷺ ہی کی شریعت کے متبع ہونگے۔ اور لا نبی بعدی کی مراد یہ ہے کہ کوئی ایسا نبی نہ آئے گا جو آپ ﷺ کی شریعت کا ناسخ ہو۔ اور اسی قسم کا قول حضرت مغیرہ ابن شعبہؓ سے منقول ہے:

عن الشعبی قال قال رجل عند المغیرة بن شعبةؓ صلی الله علی النبی محمد خاتم الانبیاء لا نبی بعدہ فقال المغیرة بن شعبہ حسبک اذا قلت خاتم الانبیاء فانا کنا نحدث ان عیسیٰ علیہ السلام خارج فان ہو خرج فقد کان قبلہ و بعدہ‘‘

(تفسیر درمنثور ص ۲۰۴ ج ۵)

شعبیؒ سے منقول ہے کہ ایک شخص نے حضرت مغیرہؓ کے سامنے یہ کہا کہ اللہ تعالیٰ رحمت نازل کرے محمد ﷺ پر جو خاتم الانبیاء ہے اور انکے بعد کوئی نبی نہیں۔ حضرت مغیرہؓ نے فرمایا خاتم الانبیاء کہہ دینا کافی ہے۔ یعنی لا نبی بعدہ کہنے کی ضرورت نہیں ۔ کیوں کہ ہم کو یہ حدیث پہنچی ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام پھر تشریف لائیں گے۔ پس جب وہ آئیں گے تو ایک ان کا آنا محمد ﷺ سے پہلے ہوا اور ایک آنا محمد ﷺ کے بعد ہوگا۔ پس جس طرح مغیرہؓ ختم نبوت کے قائل ہیں مگر محض عقیدہ نزول عیسیٰ ابن مریم کی حفاظت کے لئے لا نبی بعدہ کہنے سے منع فرمایا اسی طرح حضرت عائشہ صدیقہؓ نے ختم نبوت کے عقیدہ کو تو خاتم النبیین کے لفظ سے ظاہر فرمایا اور اس موہم لفظ کے استعمال سے منع فرمایا۔ کہ جس لفظ سے عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے خلاف کا ابہام ہوتا تھا۔ ورنہ حاشا وکلا، یہ مطلب ہرگز نہیں کہ حضرت عائشہ صدیقہؓ حضور ﷺ کے بعد کسی قسم کی نبوت کو جائز کہتی ہیں۔

عجیب بات ہے کہ مرزائی صاحبان کے نزدیک ایک مجہول الاسناد اثر تو معتبر ہو جائے اور صحیح اور صریح روایتوں کا دفتر معتبر نہ ہو۔ اصل بات یہ ہے کہ جو لفظ ان کے خواہش کے مطابق کہیں سے مل جائے ، وہ تو قبول ہے اور جو آیت اور حدیث خواہ کتنی صریح اور صاف کیوں نہ ہو وہ نامقبول ہے ’’اَفَكُلَّمَا جَآءَ كُمْ رَسُوْلٌ بِمَا لَا تَهْوٰى اَنْفُسُكُمُ اسْتَكْبَرْتُمْ‘‘ (بقرہ ۸۷) اور یہ پھر حضرت عائشہؓ اور حضرت مغیرہؓ دونوں کے اقوال سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے مسئلہ کے پیش نظر ہے ۔ ان کے صحیح نظر کو ، قادیانی ، نظر انداز کر دیتے ہیں ۔

صفحہ ۱۶۳

قرآن مجید نے اس یہودیانہ قادیانی تحریف کے مدنظر کیا سچ فرمایا ”اَفَتُؤْمِنُوْنَ بِبَعْضِ الْكِتٰبِ وَتَكْفُرُوْنَ بِبَعْضٍ“

(سورہ بقرہ ۸۵)

مرزائی مفسر کی شہادت

محمد علی لاہوری بیان القرآن میں لکھتے ہیں: ”اور ایک قول حضرت عائشہ صدیقہؓ کا پیش کیا جاتا ہے جس کی سند کوئی نہیں ”قولوا خاتم النبیین ولا تقولوا لا نبی بعدہ“ خاتم النبیین کہو اور یہ نہ کہو کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں۔ اور اس کا یہ مطلب لیا جاتا ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہؓ کے نزدیک خاتم النبیین کے معنی کچھ اور تھے اور کاش وہ معنی بھی کہیں مذکور ہوتے۔ حضرت عائشہؓ کے اپنے قول میں ہوتے ، کسی صحابی کے قول میں ہوتے ، نبی کریم ﷺ کی حدیث میں ہوتے ، مگر وہ معنی بطن قائل ہے۔ اور اس قدر حدیثوں کی شہادت جن میں خاتم النبیین کے معنی لا نبی بعدی کئے گئے ہیں ایک بے سند قول پر پس پشت پھینکی جاتی ہیں۔ یہ غرض پرستی ہے خدا پرستی نہیں ، کہ رسول اللہ ﷺ کی تیس حدیثوں کی شہادت ایک بے سند قول کے سامنے رد کی جاتی ہیں۔ اگر اس قول کو صحیح مانا جائے تو کیوں اس کے معنی یہ نہ کئے جائیں کہ حضرت عائشہ صدیقہؓ کا مطلب یہ تھا کہ دونوں باتیں اکٹھی کہنے کی ضرورت نہیں خاتم النبیین کافی ہے۔ جیسا کہ مغیرہ بن شعبہؓ کا قول ہے کہ ایک شخص نے آپکے سامنے کہا ”خاتم الانبیاء ولا نبی بعدہ“ تو آپ نے فرمایا کہ خاتم الانبیاء تک کہنا بس ہے۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ آپ کا مطلب ہو کہ جب اصل الفاظ خاتم النبیین واضح ہے تو وہی استعمال کرو یعنی الفاظ قرآنی کو الفاظ حدیث پر ترجیح دو ۔ اس سے یہ کہاں نکلا کہ آپ الفاظ حدیث کو صحیح نہ سمجھتی تھیں ؟ اور اتنی حدیثوں کا مقابل اگر ایک حدیث ہوتی تو وہ بھی قابل قبول نہ ہوتی ۔ چہ جائے کہ صحابی کا قول جو شرعاً حجت نہیں“

(مرزائی تفسیر بیان القرآن ص ۱۱۰۳، ۱۱۰۴ ج ۲)

قادیانی سوال

اگر اس قول عائشہ صدیقہؓ کی سند نہیں تو کیا ہوا ۔ تعلیقات بخاری کی بھی سند نہیں ۔

جواب

یہ بھی قادیانی دجل ہے ورنہ فتح الباری کے مصنف علامہ ابن حجر نے ایک مستقل کتاب

صفحہ ۱۶۴

تصنیف کی ہے۔ جس کا نام تغلیق التعلیق ہے۔ اس میں تعلیقات صحیح بخاری کو موصول کیا ہے۔

حدیث: مسجدی آخر المساجد

قادیانی استدلال۔ حضور ﷺ نے فرمایا ”مسجدی آخر المساجد“ ظاہر ہے کہ حضور ﷺ کی مسجد کے بعد دنیا میں ہر روز مسجدیں بن رہی ہیں۔ تو آپؐ کے آخر النبیین کا بھی یہی مطلب ہوگا۔ اور آپ ﷺ کے بعد نبی بن سکتے ہیں۔

جواب۔ یہ اشکال بھی قادیانی دجل کا شاہکار ہے اس لیے کہ جہاں ”مسجدی آخر المساجد“ کے الفاظ احادیث میں آئے ہیں وہاں روایات میں ”آخر مساجد الانبیاء“ کے الفاظ بھی آئے ہیں۔ تمام انبیاء علیہم السلام کی سنت مبارکہ یہ تھی کہ وہ اللہ رب العزت کا گھر (مسجد) بناتے تھے۔ تو انبیاء کرام کی مساجد میں سے آخری مسجد، مسجد نبویؐ ہے ۔ یہ ختم نبوت کی دلیل ہوئی نہ کہ اجرائے نبوت کی۔ الترغیب والترہیب میں آخر مساجد الانبیاء کے الفاظ صراحت کے ساتھ مذکور ہیں۔ نیز کنز العمال میں بھی ص ۲۵۶ ج ۶ ، باب فضل الحرمین میں حضرت عائشہ صدیقہؓ سے منقول ہے۔ ”عن عائشۃؓ قالت قال رسول اللہ ﷺ انا خاتم الانبیاء و مسجدی خاتم مساجد الانبیاء۔

حدیث: انک خاتم المهاجرین

قادیانی استدلال۔ حضور ﷺ نے اپنے چچا حضرت عباسؓ سے فرمایا ”اطمئن یا عم فانک خاتم المهاجرین فی الهجرة کما انا خاتم النبیین فی النبوة“ اگر حضرت عباسؓ کے بعد ہجرت جاری ہے تو حضور ﷺ کے بعد نبوت بھی جاری ہے۔

جواب۔ قادیانی اس روایت میں دجل و فریب سے کام لیتے ہیں۔ اصل واقعہ یہ ہے کہ حضرت عباسؓ مکہ مکرمہ سے ہجرت کر کے مدینہ طیبہ روانہ ہو گئے تھے۔ مکہ مکرمہ سے چند ہی میل کا سفر کئے تھے کہ دیکھا، حضور ﷺ مدینہ طیبہ سے دس ہزار قدسیوں کا لشکر لیکر مکہ شریف فتح کرنے کے لئے تشریف لا رہے ہیں۔ راستہ میں ملاقات ہوئی تو حضرت عباسؓ نے افسوس ظاہر فرمایا کہ میں ہجرت کی فضیلت سے محروم رہا۔ حضور ﷺ نے حضرت عباسؓ کو تسلی اور حصول ثواب کی بشارت دیتے ہوئے یہ فرمایا۔ اس لئے کہ مکہ مکرمہ سے واقعی ہجرت

صفحہ ۱۶۵

کرنے والے آخری مہاجر حضرت عباسؓ تھے۔ کیوں کہ ہجرت دار الکفر سے دارالاسلام کی طرف کی جاتی ہے۔ مکہ مکرمہ آنحضرت ﷺ کے ہاتھوں ایسا فتح ہوا جو قیامت کی صبح تک دار الاسلام رہے گا۔ تو مکہ مکرمہ سے آخری مہاجر حضرت عباسؓ ہوئے۔ لہٰذا آپ ﷺ کا فرمانا کہ اے چچا تم آخری مہاجر ہو تمھارے بعد جو بھی مکہ مکرمہ چھوڑ کر آئے گا اسے مہاجر کا لقب نہیں ملے گا۔ اس لئے امام بخاریؒ فرماتے ہیں ”لا هجرة بعد الفتح“ (بخاری ص۴۳۳ ج۱) حضرت حافظ ابن حجر عسقلانیؒ فرماتے ہیں ھاجر قبل الفتح بقليل وشهد الفتح ”حضرت عباس نے فتح مکہ سے قدرے پیشتر ہجرت کی اور آپ فتح مکہ میں حاضر تھے۔ (اصابہ ص۲۷۱ ج۲) معلوم ہوا کہ اس واقعہ کو اجرائے نبوت کے لئے بطور تشبیہ استعمال کرنا قادیانیوں کی جہالت کا شاہکار ہے۔

حدیث: ابوبکر خیر الناس بعدی.

قادیانی استدلال۔ ابوبكر خير الناس الا ان يكون نبياً ”ابوبکر تمام لوگوں سے افضل ہیں۔ مگر یہ کہ کوئی نبی ہو۔ اس سے معلوم ہوا کہ نبوت جاری ہے۔

جواب نمبر ۱۔ الناس‘ سے مراد عام لوگ ہیں، نبی نہیں۔ اگر الناس‘ سے مراد نبی ہو تو آپ کو خیرالناس کا لقب نہیں ملے گا۔ اس کی تائید واقعات عالم کے علاوہ، دو روایتیں بھی کرتی ہیں جو آپ کی فضیلت میں وارد ہوئی ہیں۔ گویا آسان لفظوں میں اس کا مفہوم یہ ہیکہ انبیاء علیہم السلام کے علاوہ باقی تمام لوگوں سے افضل حضرت ابوبکر صدیقؓ ہیں۔

جواب نمبر ۲۔ یہ روایت کنز العمال ص ۱۶۱ ج ۱۲ (مطبوعہ دکن) کی ہے۔ اس کے آگے ہی لکھا ہے ”هذا الحديث اشد ما انکر“ یہ روایت ان میں سے ایک ہے جس پر انکار کیا گیا ہے۔ معلوم ہوا کہ ایسی منکر روایت سے عقیدہ کیلئے استدلال قادیانی دجل کا شاہکار ہے۔

جواب نمبر ۳۔ حضرت ابن مسعودؓ سے مروی ہے ”ما صحب النبيين والمرسلين ولا صاحب یٰسین افضل من ابی بکر“ رحمت دو عالم ﷺ سمیت تمام انبیاء ورسل کے صحابہ سے ابوبکر افضل ہیں۔ (کنز العمال ص ۱۵۹ ج ۱۲ روایت نمبر ۸۰۴)

حاکم میں ابوہریرہؓ سے کنز العمال میں ص ۱۸۰ ج ۱۲ پر روایت کے یہ الفاظ ہیں ”ابو

صفحہ ۱۶۶

بکر وعمر خیر الاولین والآخرین وخیر اهل السمٰوات وخیر اهل الارضین الا النبیین والمرسلین‘‘ زمینوں وآسمانوں کے تمام اولین وآخرین سوائے انبیاء ومرسلین کے باقی سب سے ابوبکر وعمر افضل ہیں۔ (کنز العمال ص ۱۸۰ ج ۱۳)

ان تمام روایات کو سامنے رکھیں تو مطلب واضح ہے کہ انبیاء کے علاوہ باقی سب سے افضل ابوبکر ہیں۔ ان تمام روایات کے سامنے آتے ہی قادیانی دجل پارہ پارہ ہو جاتا ہے۔

حدیث: انا مقفّٰی

قادیانی استدلال۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں ”انا مقفّٰی“ یعنی آپ ﷺ کے بعد جو نبی آئیں گے آپ ان کے مقفّٰی یعنی مطاع ہونگے۔

جواب۔ ”وَقَفَّیْنَا مِنْ بَعْدِهٖ بِالرُّسُلِ“ (بقرۃ ۸۷) آیت کریمہ دلالت کر رہی ہے کہ یہاں الذی قفی بہ‘ سب کے آخر میں آنے والے کا معنی دیتا ہے۔ حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ سے روایت ہے ”انا محمد واحمد والمقفّٰی“ قال النووی المقفّٰی العاقب“ امام نووی فرماتے ہیں کہ مقفّٰی کے معنی آخر میں آنے والے کے ہیں لہٰذا ’آخر میں آنے والے کسی نبی کے مطاع‘ کا معنی قادیانی تحریف ہے۔

حدیث: اذا هلک کِسرٰی

قادیانی استدلال۔ لانبی بعدی میں لا نفی کمال کے لئے ہے۔ یعنی کامل تشریعی نبی آپ ﷺ کے بعد نہ ہونگے بلکہ غیر تشریعی ہونگے۔ جیسے کہ ”اذا هلک کسرٰی فلا کسرٰی بعده واذا هلک قیصر فلا قیصر بعده“ ہے۔

رَیْبَ فِیْهِ“ اور لااله الا الله‘ میں جیسا کہ خود مرزا قادیانی نے بھی لکھا ہے ”حدیث لا نبی بعدی میں لا نفی عام ہے“ (ایام الصلح ص ۳۹۳ ج ۱۴)

جہاں تک ”اذا هلک کسرٰی“ کا تعلق ہے۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ کسرٰی وقیصر کسی خاص آدمی کے نام نہیں بلکہ جاہلیت میں فارس وروم کے بادشاہوں کے لقب تھے جب قریش مسلمان ہو گئے اور انھیں خوف ہوا کہ اب ہمارا داخلہ شام وعراق میں بند ہو جائیگا تو

صفحہ ۱۶۷

حضور ﷺ نے مومنین کی تسلی کیلئے فرمایا کہ تمھاری تجارت گاہیں ان کے وجود ہی سے پاک کر دی جائیں گی۔ جب مملکت فارس اسلام کے قبضہ میں آجائیگا تو کسریٰ کا لقب جاتا رہیگا اور مملکت روم کے آجانے سے لقب قیصر بھی جاتا رہے گا۔ چنانچہ آپ ﷺ کی پیشینگوئی حرف بحرف سچی ہوئی۔ اور ایسا ہوا کہ کسریٰ اور کسرویت کا تو بالکل خاتمہ ہوگیا۔ اور قیصر نے ملک شام چھوڑ کر اور وہاں سے بھاگ کر اور جگہ پناہ لی۔

علامہ نوویؒ نے ص ۳۹۶ ج ۲ میں لکھا ہے ”قال الشافعي وسائر العلماء معناه لا يكون كسرى بالعراق وقيصر بالشام كما كان فى زمانه ﷺ فاعلمنا بانقطاع ملكهما فى هذين الاقليمين “

امام شافعی اور تمام علما نے فرمایا ہے کہ اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ کسریٰ ، عراق میں اور قیصر ، شام میں باقی نہ رہیگا۔ جیسا کہ حضور ﷺ کے زمانہ میں تھے۔ پس حضورؐ نے ان کے انقطاع سلطنت کی خبر دی کہ دونوں اقلیموں میں ان کی سلطنت باقی نہ رہے گی۔

چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ لہٰذا یہ حدیث شریف اپنے ظاہری معنی پر ہی مستعمل ہے۔ اس میں مرزائی وسوسہ کا شائبہ ہی نہیں۔

جواب نمبر ۲۔ حضور ﷺ نے حضرت علیؓ سے فرمایا ”اما تری انت منی بمنزلة هارون من موسیٰ الا انه لا نبی بعدی“ کیا اسکا یہ مطلب ہے کہ اے علی تو میرے جیسا کامل نبی نہیں ہوگا؟ مگر گھٹیا نبی ہوگا ؟ (معاذ اللہ )

جواب نمبر ۳۔ آنحضرت ﷺ سے پہلے صاحب کتاب اور بغیر کتاب نبی آتے رہے (اخبار بدر ۵ مارچ ۱۹۰۸ء) قادیانیوں کے اس فیصلے سے معلوم ہوا کہ آپ ﷺ کو خاتم النبیین کہا گیا تو دونوں قسم کے انبیاء کے آپؐ خاتم ہوئے۔ اب اگر آپ ﷺ کے بعد کوئی بغیر کتاب ہی کے سہی، نبی آجائے تو سوال یہ ہے کہ آپ خاتم الانبیاء کیسے ہوئے؟ اور آپ ﷺ کی فضیلت ہی کیا رہی؟

جواب نمبر ۴۔ اگر لا نبی بعدی میں لا، نفی کمال کے لئے ہے۔ یعنی آپ ﷺ جیسا کوئی نبی نہیں آئے گا۔ تو اس لحاظ سے تو موسیٰ علیہ السلام بھی خاتم الانبیاء ہوئے۔ اسلئے کہ ان کے بعد جتنے خلفا آئے کوئی ان جیسا نہ ہوا جیسا کہ خود مرزا نے لکھا ہے۔

صفحہ ۱۶۸

اللہ جل شانہ نے حضرت موسیٰ کو اپنی رسالت سے مشرف کر کے پھر بطور اکرام و انعام خلافت ظاہری اور باطنی کا ایک لمبا سلسلہ ان کی شریعت میں رکھ دیا ...... اس عرصہ میں صد ہا بادشاہ اور صاحب وحی والہام شریعت موسوی میں پیدا ہوئے ...... ہم نے موسیٰ کو کتاب دی اور بہت سے رسل اس کے پیچھے آئے‘‘ (شہادت القرآن خ ص ۳۲۲ ج ۶) لیکن مرزائی اس معنی کے حساب سے حضرت موسیٰ کو خاتم الانبیا نہیں مانتے لہٰذا ان کا استدلال خود بخود باطل ہو جاتا ہے۔

جواب نمبر ۵۔ مرزا نے لکھا ہے ”حدیث لا نبی بعدی میں بھی نفی عام ہے۔ پس یہ کس قدر جرأت و دلیری اور گستاخی ہے کہ خیالات رکیکہ کی پیروی کر کے نصوص صریحہ قرآن کو عمداً چھوڑ دیا جائے۔ اور خاتم الانبیاء کے بعد ایک نبی کا آنا مان لیا جائے (ایام الصلح خ ص ۳۹۳ ج ۱۴) لہٰذا مرزائیوں کو خیالات رکیکہ چھوڑ کر مرزائیت کے لغو استدلال اور مرزائیت سے توبہ کر لینا چاہئے۔

حدیث: رویا المسلمین جزء من اجزاء النبوة

قادیانی استدلال:- نیک خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے۔ جو امت محمدیہ میں باقی ہے۔ اسی جز کے اعتبار سے نبوت باقی ہے اور ایسے نبی آسکتے ہیں۔

جواب۔ اگر ایک اینٹ کو مکان ، نمک کو پلاؤ ، اور ایک دھاگہ کو کپڑا اور ایک رسی کو چارپائی نہیں کہہ سکتے تو نبوت کے ۴۶ واں جز کو بھی نبوت نہیں کہہ سکتے۔ اور یہ ایک بدیہی امر ہے۔

حدیث :انا العاقب

قادیانی استدلال : - حدیث انا العاقب والعاقب الذی لیس بعدہ نبی ‘ میں قادیانی کہتے ہیں کہ نبوت کی نفی راوی کا اپنا خیال ہے ۔ حضور ﷺ کی زبان سے ثابت نہیں۔

جواب : - یہ غلط ہے جس کسی نے کہا ہے خود اس کا یہ خیال ہے ورنہ حدیث میں کوئی تفریق نہیں۔ عاقب کے یہ معنی خود رسول اللہ ﷺ نے کئے ہیں ۔ چنانچہ حافظ ابن حجرؒ فرماتے ہیں ”وفی روایۃ سفیان بن عیینۃ عند الترمذی وغیرہ بلفظ الذی لیس بعدی نبی ‘‘ ( فتح الباری ص ۳۱۳ ج ۱۴۔ ترمذی ص ۱۱۱ ج ۲)

صفحہ ۱۶۹

سفیان بن عیینہ کی مرفوع حدیث میں امام ترمذی وغیرہ کے نزدیک یہ لفظ ہے۔ میں عاقب ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔

لہٰذا ثابت ہوا کہ عاقب کی تفسیر میں جو الفاظ وارد ہیں وہ کلمات مرفوع ہیں۔ آنحضرت ﷺ نے خود ہی فرمائے ہیں۔

حدیث عاقب کی تشریح از ملا علی قاریؒ ملاحظہ ہو:

”والعاقب الذی لیس بعدہ نبی قیل ھذا قول الزھری وقال العسقلانی ظاہرہ انہ مدرج لکنہ وقع فی روایۃ سفیان بن عیینہ عند الترمذی ای فی الجامع بلفظ الذی لیس بعدی نبی‘

(الجمع الوسائل حصہ دوم ص۱۸۳)

لہٰذا ثابت ہوا کہ عاقب کی تفسیر میں جو الفاظ وارد ہیں وہ کلمات مرفوع ہیں۔ آنحضرت ﷺ خود ہی ارشاد فرمائے ہیں۔

مزید برآں شمائل کی شرح (جو جمع الوسائل شرح الشمائل مصری ملا علی قاری کے حاشیہ پر چڑھی ہوئی ہے) کرتے ہوئے علامہ عبدالرؤف المناوی المصری نے متن میں ”بعدی“ کو نقل فرمایا ہے۔

اسی طرح چوتھی صدی کے مشہور محدث حافظ ابن عبدالبرؒ نے روایت مذکور پوری نقل فرمائی ہے:

”قال...... وانا الخاتم ختم اللّٰہ بی النبوۃ وانا العاقب فلیس بعدی نبی.

کتاب الاستیعاب برحاشیہ اصابہ۔ مطبوعہ مصر ص۳۷ ج۱‘

آنحضرت ﷺ نے فرمایا میں خاتم ہوں اللہ نے نبوت میرے ساتھ ختم کر دی ہے اور میں عاقب ہوں۔ پس میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔

اسی طرح چھٹی صدی کے مشہور محدث قاضی عیاضؒ بھی لکھتے ہیں: ”وفی الصحیح انا العاقب الذی لیس بعدی نبی

(کتاب الشفا مطبوعہ استنبول ص۱۹۱ ج۱۔ ترمذی ص۱۱۱ ج۲)

یعنی آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں عاقب ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں۔

ایسا ہی تفسیر خازن (سورۃ صف) میں ہے: ”انا العاقب الذی لیس بعدی نبی.“ ان کتابوں (شفاء، کتاب الاستیعاب‘ خازن‘ فتح الباری اور شرح الشمائل) میں لفظ بعدی موجود ہے۔ جس سے ثابت ہے کہ یہ تفسیر نبوی ہے۔

(ص ۱۷۱ ج۷ طبع مصر ۱۳۳۹ھ)

صفحہ ۱۷۰

قادیانی اعتراض

صحاح ستہ جو حدیث کی معتبر کتابیں ہیں۔ ان میں یوں نہیں آیا۔ لہٰذا حجت نہیں ہے۔

جواب ۔ صحاح ستہ میں سے جامع ترمذی میں یوں ہی موجود ہے۔ چنانچہ ترمذی ابواب الاستیذان والادب ، باب ماجاء فی اسماء النبی میں حدیث صحیح مرقوم ہے: "وانا عاقب الذی لیس بعدی نبی۔" (دیکھو ترمذی مطبوعہ مصر ص ۱۲۷ ج ۲ طبع ۱۲۹۲ھ مطبع مجتبائی دہلی ص ۱۰۷ ج ۲ طبع ۱۳۲۸ھ مطبوعہ مجیدی پریس کانپور ص ۱۱۲ ج ۲)

اعلان ۔ ترمذی مطبوعہ ہند کے بعض نسخوں (مطبوعہ احمدی وغیرہ) میں اس مقام پر بعدہ غلط طبع ہو گیا ہے۔ ناظرین سے التماس ہے کہ ترمذی کے اس مقام کو درست کرلیں۔ اور بجائے بعدہ کے بعدی بنالیں۔ محدثین شارحین نے بھی ترمذی کے حوالہ سے بعدی نقل کیا ہے۔ (دیکھو فتح الباری پ ۱۴ ص ۳۱۳۔ اسی طرح زرقانی نے شرح مؤطا میں حوالہ ترمذی بعدی نقل کیا ہے۔ ص ۲۷۲ ج ۳ مطبوعہ مصر)

تشریح لفظ عاقب از علامہ ابن قیم

"والعاقب الذی جاء عقب الانبیاء فلیس بعدہ نبی فان العاقب ھو الاخر فھو بمنزلة الخاتم ولھذا سمی العاقب علی الاطلاق ای عقب الانبیاء جاء عقبھم . زاد المعاد ج ۱ ص ۳۳

حدیث: قصر نبوت

قادیانی ۔ اول تو نبی ﷺ کو محل کی ایک اینٹ قرار دینا آپ ﷺ کی توہین ہے۔ کیونکہ آپ ﷺ کا درجہ بہت بلند ہے۔ پھر اس کا یہ مطلب بتایا ہے کہ آپ ﷺ نے پہلی شرائع کو کامل کردیا ہے اور شریعت کے محل کو مکمل کردیا۔ حدیث میں پہلے انبیاء کا ذکر ہے بعد میں آنے والے کا نہیں۔

جواب ۔ محل کی تو ایک مثال ہے۔ شریعت وغیرہ کا اس حدیث میں کوئی ذکر نہیں۔ آنحضرت ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے خاتم النبیین فرمایا۔ اور ساتھ یہ جان کر کہ آئندہ کذاب ودجال پیدا ہونے والے ہیں جن میں سے کوئی تو عذر کرے گا کہ میرا نام "لا" ہے اور حدیث میں لا نبی بعدی آیا ہے۔ اور کوئی یہ عذر کرے گا کہ مردوں میں نبوت ختم ہے۔ میں

صفحہ ۱۷۱

عورت ہوں اس لئے میرا دعویٰ خاتم النبیین کے منافی نہیں۔ اور کوئی یہ عذر کرے گا کہ دور محمدیہ میں نبوت ختم ہے نئی کتاب اور شریعت خاتم النبیین کے خلاف نہیں۔ (جیسا کہ بہائی مذہب والے کہتے ہیں ) اور کوئی یہ عذر کرے گا کہ شریعت والی نبوت ختم ہے۔ بغیر شریعت کے نبی آسکتا ہے جیسا کہ مرزا قادیانی نے کہا اور کوئی یہ عذر کرے گا کہ حدیث میں پہلے نبیوں کا ذکر ہے بعد کا نہیں۔ ان تمام باتوں کو ملحوظ رکھ کر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی زبان سے آیت کی وہ تفسیر کرائی جس سے تمام دجالوں کی تاویلات : ”ہباءً منثوراً ۔“ ہو جاویں۔

چنانچہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ میرا خاتم النبیین ہونا ان معنوں سے ہے کہ جس طرح ایک محل بنایا جائے۔ جس کی تکمیل میں صرف ایک اینٹ کی کسر ہو۔ سو اسی طرح یہ سلسلہ انبیاء کا ہے جس میں کتاب والے آئے اور بلا کتاب والے بھی۔ یہ روحانی انبیاء کا سلسلہ چلتا چلتا اس مقام پر پہنچا کہ صرف ایک ہی نبی باقی رہ گیا۔ سو وہ نبی میں ہوں۔ جس کے بعد کوئی اور نبی نہیں ہوگا۔ اس مثال سے جملہ دجال و کذاب اشخاص کی تاویلات واہیہ تباہ و برباد ہو کر رہ جاتی ہیں۔ نہ تشریعی و غیر تشریعی کا عذر نہ عورت ومرد کا امتیاز۔ نہ پہلے اور پچھلوں کا فرق۔ محلِ نبوت تمام ہو گیا۔ نبوت ختم ہوگئی اب بعد میں پیدا ہونے والے بموجب حدیث ، سوائے دجال وکذاب کے اور کسی خطاب کے حقدار نہیں۔

قادیانی اعتراض-۱

بعض روایات میں لفظ ”من قبلی“ موجود ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ سب انبیاء کی مثال نہیں بلکہ گذشتہ انبیاء کی مثال ہے۔ نیز اس روایت سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ جس قسم کے پہلے نبی آیا کرتے تھے۔ اس قسم کے نبی اب ہرگز نہیں آئیں گے۔ جیسا کہ : ”مــن قبلی“ ظاہر کرتا ہے۔

جواب:- چونکہ سب انبیاء آپ ﷺ سے پہلے گزر چکے ہیں۔ اس لئے ”مــــن قبلی“ بولا گیا ہے۔ نیز جملہ :”ختم بی البنیان وختم بی الرسل “ جریان نبوت کی فقط نفی کرتا ہے۔ دوسرے یہ کہ حدیث: ”من قبلی “ کے الفاظ خصوصیت سے قابلِ غور ہیں۔ جن سے انبیاء کا عموم بتلایا گیا ہے۔ اور جملہ ”ختم بی الرسل“ اور انا اللبنة وانا خاتم

صفحہ ۱۷۲

النبیین“ اور ”فجئت انا و اتممت تلک اللبنۃ“ اس کی پوری تشریح کر رہے ہیں کہ شرعی یا غیر شرعی نبوت کی ہر قسم کی آخری اینٹ میں ہوں اور نبیوں کا اور ہر قسم کی نبوت کا ختم کرنے والا ہوں۔ میرے آنے سے وہ کمی پوری ہو گئی جو ایک اینٹ کی جگہ باقی تھی۔ اب کسی قسم کے نبی پیدا نہیں ہونگے۔

پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ کہاں سے معلوم ہوا کہ پہلے صرف بلا واسطہ نبی ہوتے تھے اور اب آنحضرت ﷺ کی وساطت سے ہوا کریں گے؟ اور خدا تعالیٰ کی سنت کی تبدیلی اور استثناء کس حرف سے معلوم ہوا؟

مرزا نے بھی لکھا ہے کہ آنحضرت ﷺ آخری نبی ہیں اور جامع الکمالات بھی

ہست او خیر الرسل خیر الانام ٭ ہر نبوت را بروشد اختتام

(درثمین فارسی ص ۱۱۴‘ سراج منیر ص ۹۳‘ خ ص ۹۵ ج ۱۲)

ہر نبوت ختم کا کیا معنی؟ اب مرزائی مرزا قادیانی پر کیا فتویٰ لگاتے ہیں۔ دیدہ باید

قادیانی اعتراض-۲

جب نبوت کے محل میں کسی نبی کی گنجائش نہیں رہی تو پھر آخر زمانہ میں عیسیٰ علیہ السلام کا تشریف لانا کس طرح ممکن ہوسکتا ہے؟۔

جواب۔ مثلاً کہا جاتا ہے کہ خاتم اولاد (سب سے آخر میں پیدا ہونے والا) اس کا یہ مطلب نہیں کہ پہلی اولاد کا صفایا ہو چکا ہے۔ اور سب مر گئے ہیں۔ اسی طرح خاتم النبیین سے کیسے سمجھ لیا گیا کہ تمام انبیاء سابقین پر موت طاری ہو چکی ہے؟۔ بلکہ مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ کے بعد کسی کو یہ عہدہ نبوت نہیں دیا جائے گا۔ اور ظاہر ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کو آپ ﷺ کے بعد عہدہ نبوت نہیں ملا۔ بلکہ آپ ﷺ سے پہلے مل چکا ہے۔ اور وہ اس وقت سے آخر عمر تک برابر اس وصف کے ساتھ متصف ہیں۔ پھر معلوم نہیں کہ آپ ﷺ کے خاتم النبیین ہونے اور نزول مسیح علیہ السلام کے عقیدہ میں کیا تعارض ہے؟۔

قادیانی اعتراض-۳

نبی ﷺ کو محل کی ایک اینٹ قرار دینا آپ ﷺ کی توہین ہے۔

صفحہ ۱۷۳

جواب۔اگر کوئی شخص یہ کہے فلاں شخص شیر ہے۔ تو کیا یہ مطلب ہے کہ وہ جانور ہے۔ جنگلوں میں رہتا ہے۔ اس کی دم بھی ہے اور بڑے بڑے ناخنوں اور بالوں والا ہے۔ کیا خوب یہ مبلغ علم وفہم؟۔ نبی ﷺ نے ایک مثال سمجھانے کے لئے دی ہے۔ اور اس میں توہین کہاں آگئی؟۔اگر یہ توہین ہے تو پھر مرزا صاحب بھی اس توہین کے مرتکب ہوئے ہیں۔ یعنی یہی مثال مرزا نے دی ہے کہ:

’’ جو دیوار نبوت کی آخری اینٹ ہے وہ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں؟۔‘‘

(سرمہ چشم آریہ مصنفہ مرزا ص ۱۹۸ حاشیہ خ ص ۱۹۸ ج ۲)

اس توہین کا جو جواب مرزائی دیں وہی میری جانب سے تصور کر لیں۔

حدیث : ثلاثون کذابون

قادیانی :۔تیس دجال کی تعیین بتاتی ہے کہ بعد میں کچھ سچے بھی آئیں گے۔

جواب ۔تیس کی تعیین اس لئے ہے کہ کذاب ودجال صرف تیس ہی ہونگے۔

چنانچہ حدیث کے الفاظ : ”لاتقوم الساعة حتیٰ يخرج ثلاثون دجالون کلهم يزعم انه رسول اللہ ،ابو داؤد“ ( قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ تیس دجال وکذاب پیدا نہ ہولیں) صاف دال ہے کہ قیامت تک تیس ہی ایسے ہونے والے ہیں ان سے زیادہ نہیں۔ خود مرزا صاحب بھی مانتے ہیں کہ یہ قیامت تک کی شرط ہے۔

’’آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ دنیا کے آخر تک قریب تیس کے دجال پیدا ہوں گے‘‘

(ازالہ اوہام خ ص ۱۹۷ ج ۳)

باقی رہا یہ کہ کچھ سچے بھی ہونگے سو اس کے جواب میں وہی الفاظ کافی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دجالوں کی تردید میں ساتھ ہی اس حدیث میں فرمائے ہیں: ”لا نبی بعدی“ میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔

قادیانی :۔یہ دجال آج سے پہلے پورے ہو چکے ہیں۔ جیسا کہ اکمال لاکمال میں لکھا ہے۔

جواب :۔ حدیث میں قیامت تک شرط ہے۔ اکمال الاکمال والے کا ذاتی خیال ہے۔ جو سند نہیں۔ بعض دفعہ ایک چھوٹے دجال کو بڑا سمجھ لیتا ہے۔ اسی طرح انہوں نے اپنے خیال کے مطابق تعداد پوری سمجھ لی ۔ حالانکہ مرزا صاحب کے دعویٰ نبوت نے وضاحت کر دی کہ ابھی اس تعداد میں کسر باقی ہے۔

صفحہ 174

مزید برآں حافظ ابن حجرؒ نے فتح الباری شرح صحیح بخاری میں اس سوال کو حل کرتے ہوئے فرمایا:

"وليس المراد بالحديث من ادعى النبوة مطلقاً فانهم لايحصون كثرة لكون غالبهم ينشأ لهم ذلك عن جنون وسوداء وانما المراد من قامت له الشوكة ۔ فتح الباری ص ۳۵۵ ج ۶"

اور ہر مدعی نبوت مطلقاً اس حدیث سے مراد نہیں ۔ اس لئے کہ آپ ﷺ کے بعد مدعی نبوت تو بیشمار ہوئے ہیں ۔ کیونکہ یہ بے بنیاد دعویٰ عموماً جنون یا سوداء سے پیدا ہوتا ہے ۔ بلکہ اس حدیث میں جن تیس دجالوں کا ذکر ہے وہ وہی ہیں جن کی شوکت قائم ہو جائے اور جن کا مذہب مانا جائے اور جن کے متبع زیادہ ہو جائیں ۔

مزیدار بات

اور ملاحظہ ہو ایک طرف تو بحوالہ اکمال الاکمال آج سے چار سو برس قبل تیس دجال کی تعداد ختم لکھی ہے ۔ مگر آگے چل کر بحوالہ حجج الکرامہ مصنفہ مولانا نواب صدیق حسن خانؒ لکھا ہے کہ:

آنحضرت ﷺ نے جو اس امت میں تیس دجالوں کی آمد کی خبر دی تھی وہ پوری ہو کر ستائیس کی تعداد مکمل ہو چکی ہے‘ (ص ۵۴۰) گویا اکمال الاکمال والے کا خیال غلط تھا۔ اس کے ساڑھے تین سو برس بعد تک بھی صرف ستائیس دجال و کذاب ہوئے ہیں ۔

بہت خوب ۔ حدیث میں تیس کی خبر ہے ۔ جس میں بقول نواب صاحب مسلمہ شمار ۲۷ ہو چکے ہیں ۔ اب ان میں ایک متنبئ مرزا صاحب کو ملائیں تو بھی ابھی دو کی کسر باقی ہے ۔

یہاں تک تو مرزائی وکیل نے اس حدیث کو رسول اللہ کی مانتے ہوئے جواب دیئے ۔ مگر چونکہ اس کا ضمیر گواہی دیتا ہے کہ جواب دفع الوقتی اور بددیانتی کی کھینچ تان ہے جسے کوئی دانا قبول نہیں کر سکتا ۔ اس لئے آگے چل کر عجیب دجلانہ صفائی کی ہے کہ یہ حدیث ضعیف ہے ۔ آہ ! اصحاح ستہ خاص کر صحاح میں بھی سب کی سردار کتاب بخاری ومسلم کی حدیث اور ضعیف؟ اور پھر جرأت یہ کہ حجج الکرامہ کے حوالہ سے لکھا ہے کہ حافظ ابن حجرؒ نے فتح الباری میں حدیث تیس دجال والی کو ضعیف لکھا ہے ۔ حالانکہ یہ سراسر جھوٹ ہے ۔ حجج الکرامہ کی جو عبارت درج کی ہے اگر چہ ساری نہیں درج کی گئی تاہم اس سے ہی اصل حقیقت کھل رہی ہے ۔ ملاحظہ ہو لکھا ہے:

صفحہ ۱۷۵

”در حدیث ابن عمر سی کذاب در روایتی عبداللہ بن عمر نزد طبرانی است برپا نمیشود ساعت تا آنکه بیرون آیند ہفتاد کذاب و نحوہ عند ابی یعلی من حدیث انس حافظ ابن حجرؒ گفتہ کہ سند ایں ہر دو حدیث ضعیف است“

ناظرین کرام ! حُجج الکرامہ کی عبارت میں تین روایتوں کا ذکر ہے۔ ابن عمر کی تیس دجال والی (یہ صحیح مسلم بخاری و ترمذی وغیرہ کی ہے بلا ادنیٰ تغیر) دوسری روایت عبداللہ بن عمر کی جو طبرانی میں ہے۔ ۷۰ دجال والی۔ اور تیسری روایت انس والی جو ابو یعلیٰ میں ہے۔ ۷۰ دجال والی حافظ صاحب نے پچھلی دونوں روایتوں کو ضعیف کہا ہے۔ مگر مرزائی صحیح حدیث کو بھی اسی صف میں لا کر نہ صرف اپنے نامہ اعمال کو سیاہ کر رہا ہے بلکہ حافظ ابن حجرؒ اور نواب صدیق حسن خانؒ پر افتراء کر کے اپنی مرزائیت کا ثبوت دے رہا ہے۔ اب آیئے! میں آپ کے سامنے حافظ ابن حجرؒ کی اصل کتاب جس کا حوالہ دیا گیا پیش کروں:

”وفی رواية عبداللہ بن عمر عند الطبرانی لا تقوم الساعة حتی یخرج سبعون کذاباً وسندها ضعیف وعند ابی یعلی من حدیث انس نحوہ وسندہ ضعیف ایضاً“

فتح الباری شرح صحیح بخاری مطبوعہ دہلی ص ۵۶۲ جزء ۲۹۔

عبداللہ بن عمرؓ کی روایت میں امام طبرانی کے نزدیک یہ وارد ہے کہ ستر کذاب نکلیں گے اور اس کی سند ضعیف ہے اور ابو یعلیٰ کے نزدیک حضرت انسؓ کی حدیث سے بھی اسی طرح ہے اور اس کی بھی سند ضعیف ہے۔

حاصل یہ ہے کہ حافظ ابن حجرؒ نے صرف ستر دجال والی روایت کو جو دو طریق سے مروی ہے، ضعیف لکھا ہے۔ نہ کہ تیس دجال والی روایت کو ۱؎

حدیث بنی اسرائیل

قادیانی استدلال:۔ حدیث میں ہے کہ بنی اسرائیل میں نبی سیاست کرتے رہے مگر میرے بعد خلفا ہونگے۔ اس حدیث میں سیکون کا لفظ وارد ہے جس کے معنی ہیں عنقریب میرے بعد خلفا ہونگے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ امت میں خلافت اور نبوت جمع نہ ہوگی۔ جو بادشاہ خلیفہ ہوگا نبی نہ ہوگا اور جو نبی ہوگا وہ خلیفہ نہ ہوگا۔

۱؎ اسی عبارت کو علامہ عینی حنفیؒ نے اپنی شرح بخاری میں اسی طرح نقل کیا ہے اور مسئلہ کو صاف کر دیا ہے کہ ستر کی تعداد والی ہر دو روایات جو طبرانی اور ابو یعلیٰ نے روایت کی ہیں وہ دونوں ضعیف ہیں۔ (عینی ص ۳۹۸ ج ۱۱)

صفحہ ١٧٦

جواب: کیا کہنے اس یہودیانہ تحریف کے۔ حدیث شریف کے الفاظ صاف ہیں کہ بنی اسرائیل کے بادشاہ نبی ہوتے تھے جب ایک فوت ہوتا تھا تو دوسرا اس کا قائم مقام بادشاہ بن جاتا تھا۔ اب اس تقریر سے خیال پیدا ہوتا تھا کہ پھر آنحضرت ﷺ کے بعد بھی بادشاہ ہونگے جو آپ کے جانشین ہو کر نبی کہلائیں گے۔

حضور ﷺ نے اس خیال کو یوں حل کیا کہ چونکہ میرے بعد کوئی نبی پیدا نہ ہوگا اس لئے میرے بعد میرے جانشین صرف خلفا ہونگے جو عنقریب عنان خلافت سنبھالیں گے۔ پھر بکثرت ہونگے ۔ اس حدیث سے صاف ظاہر ہے کہ نبوت بند اور انتظام ملکی کے لئے خلافت جاری۔

اس خلافت کے مسئلہ کو دوسری جگہ یوں بیان فرمایا۔

تكون النبوة فيكم ماشاء الله ..... ثم تكون خلافة على منهاج النبوة ما شاء الله ثم تكون ملكاً عاضاً فيكون ماشاء الله ...... ثم تكون خلافة على منهاج النبوة

(رواہ احمد والبیہقی مشکوۃ کتاب الفتن )

رہے گی میری نبوت تمھارے اندر جب تک خدا چاہے۔ پھر ہوگی خلافت، منہاج نبوت پر۔ اس کے بعد بادشاہی ہو جائے گی۔ پھر خلافت منہاج نبوت پر ہوگی۔ یعنی امام مہدی کے زمانہ میں ۔ یعنی جس طریقہ پر امور سیاسیہ کو حضور پاک ﷺ نے چلایا اسی طرح حضور ﷺ کی سنت کے مطابق آخری زمانہ میں امام مہدی چلائے گا۔

ایک اور روایت بیہقی میں ہے کہ اسکے بعد فساد پھیل جائے گا "حتى يلقوا الله" یہاں تک کہ قیامت آجائے گی (مشکوٰۃ کتاب الفتن ) حاصل یہ کہ آنحضرت ﷺ کے بعد اس امت کے لئے سوائے درجہ ولایت وخلافت کے نبوت کا اجرا نہیں ہوگا۔

بطرز دیگر س تحقیق وقوع کے لئے ہے جیسے "سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ"۔ آل عمران ۱۸۱۔ یعنی جس چیز کا وہ بخل کرتے تھے وہ قیامت کے دن ضرور بالضرور ان کے گلوں میں طوق بنا کر ڈالی جائے گی۔ ثابت یہ ہوا کہ نبوت منقطع ہو چکی ہے اور اس انقطاع کے بعد ایک چیز یقیناً باقی ہے اور وہ خلافت ہے۔

دیگر یہ کہ اسی حدیث میں آپ ﷺ کے بعد فوراً خلافت کا منہاج نبوت پر ہونا مذکور ہے اور اس سے مراد بالخصوص حضرت ابوبکرؓ، حضرت عمرؓ، حضرت عثمان ، حضرت علیؓ کی خلافت

صفحہ ۱۷۷

ہے ۔ ان زمانوں میں آنحضرت ﷺ کی سنت کے مطابق عمل ہوتا رہا۔ اور یہ امر مسلم ہے کہ یہ چاروں حضرات نبی نہ تھے۔ اور نہ ان میں سے کسی نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ پس یہ حدیث اجرائے نبوت کی دلیل نہیں ہو سکتی۔

حدیث: لو لم ابعث لبعثت یا عمر

قادیانی استدلال : ۔ حدیث میں ہے ”لو لم ابعث لبعثت یا عمر“ یعنی اگر میں مبعوث نہ ہوتا تو اے عمر تو مبعوث ہوتا۔ لیکن چونکہ حضور ﷺ مبعوث ہوئے اس وجہ سے حضرت عمر نبی نہ بن سکے۔ اس سے معلوم ہوا کہ نبوت کا امکان ہے۔

جواب :۔ ملا علی قاریؒ نے مرقات میں حدیث لو کان بعدی نبی لکان عمر کے تحت لکھا ہے ”وفی بعض طرق ھذا الحدیث لو لم ابعث لبعثت یا عمر“ (ص۵۲۹ ج۵) لیکن ملا صاحب نے نہ راوی حدیث کا نام لیا ہے نہ مخرج کا پتہ دیا ہے نہ الفاظ مذکور حدیث کی کسی معتبر یا غیر معتبر کتاب میں ملتے ہیں۔ البتہ حافظ مناویؒ نے ”کنوز الحقائق“ میں اس کے ہم معنی روایت دو طریق سے نقل کی ہے۔ ایک تو ابن عدی کے حوالہ سے، جس کے الفاظ یوں ہیں ”لو لم ابعث فیکم لبعث عمر فیکم“ (ص۱۵۵ ج۲) دوسری فردوس دیلمی کے حوالہ سے، جس کے الفاظ اس طرح ہیں ”لو لم ابعث لبعث عمر“ (بحوالہ مذکورہ) ملا علی قاری نے غالباً اسی روایت کو بالمعنی نقل کر دیا ہے۔ محدثین کے نزدیک ہر دو روایت باطل اور جھوٹی ہیں اور موضوع ہیں۔ ابن جوزی نے اپنی موضوعات میں ابن عدی والی روایت کو دو سندوں سے نقل کیا ہے اور چونکہ دونوں میں راوی وضاع ہیں اس لئے دونوں کو موضوع کہا ہے۔ چنانچہ سلسلہ اسناد ملاحظہ ہو۔

بن بکر عن ابی بکر بن عبد اللہ بن ابی مریم لغسانی عن ضمرۃ عن غضیف بن الحارث عن بلال بن رباح قال قال النبی ﷺ لو لم ابعث فیکم لبعث عمر“

حدثنا عبد اللہ بن واقد الحرانی حدثنا حیوۃ بن شریح عن بکر بن عمرو بن مشرح بن ھاھالمن عن عقبۃ بن عامر قال قال ﷺ لو لم ابعث فیکم لبعث عمر فیکم“

ابن جوزی نے اسکے بعد فرمایا ہے۔ ”زکریا کذاب یضع وابن واقد الحرانی متروک“ ذہبی نے میزان میں خود ابن عدی سے جس نے روایت مذکور اپنی کتاب میں درج کی

صفحہ ۱۷۸

ہے نقل کیا ہے ”قال ابن عدی، یضع الحدیث وقال صالح کان من الکذابین الکبار“ یعنی پہلی سند کا راوی زکریا، حدیثیں بناتا تھا۔ زکریا بہت بڑے جھوٹوں میں سے ہے۔ دوسری سند کا راوی ابن واقد حرانی متروک ہے۔ جیسا کہ ابن جوزی اور ابن جوز جانی نے کہا ہے۔ بلکہ میزان میں یعقوب بن اسماعیل کا قول ابن واقد حرانی کے بارے میں ’یکذب‘ بھی موجود ہے۔ یعنی یہ بھی جھوٹا ہے چنانچہ اس نے ترمذی وغیرہ کی سند رجال ، اپنی جھوٹی روایت پر لگا لی ہے۔

کنوز الحقائق کی دوسری حدیث بحوالہ فردوس دیلمی منقول ہے اسکی سند یوں ہے۔

”قال الدیلمی انبأنا ابی انبأنا عبد الملک بن عبد الغفار انبأنا عبد الله بن عیسیٰ بن هارون انبأنا عیسیٰ بن مروان حدثنا الحسین بن عبد الرحمن بن حمران حدثنا اسحق بن نجیح الملطی عن عطاء بن میسره الخراسانی عن ابی هریرة عن النبی ﷺ انه قال لو لم ابعث فیکم لبعث عمر فیکم“

یہ حدیث بھی موضوع اور باطل ہے۔ اس کی سند میں بھی اسحق ملطی وضاع وکذاب ہے۔ علامہ ذہبی میزان میں لکھتے ہیں ”قال احمد هو من اکذب الناس وقال یحیی معروف للکذب ووضع الحدیث“ یعنی اسحق بڑا جھوٹا ہے۔ جھوٹی حدیثوں کو بنانے میں مشہور ہے۔ دوسرا راوی عطاء خراسانی بھی ایسا ہی ہے۔ تہذیب میں سعید بن مسیب کا قول منقول ہے ”کذب عطاء“ امام بخاری نے بھی تاریخ صغیر میں سعید کا قول کذب نقل کیا ہے۔ (ص ۱۷۷) یعنی عطاء جھوٹا ہے۔ خود امام ترمذی فرماتے ہیں ”عامة احادیثه مقلوبة“ یعنی عطاء خراسانی کی حدیثیں الٹی پلٹی غلط ہوتی ہیں۔ امام بیہقی نے اسے کثیر الغلط کہا ہے۔ (زیلعی) حاصل کلام یہ ہے کہ کنوز الحقائق کی دونوں روایتیں باطل اور جھوٹی ہیں اور یہ کچھ ان دونوں روایتوں پر ہی موقوف نہیں ہے بلکہ کامل ابن عدی اور فردوس دیلمی کی تمام روایات کا یہی حاصل ہے۔ شاہ عبد العزیز محدث دہلویؒ عجالہ نافعہ میں طبقہ رابعہ کا بیان فرماتے ہوئے لکھتے ہیں۔ ”احادیثیکہ نام ونشاں آنہاں کہ درقرونِ سابقہ معلوم نہ بود ایں احادیث نا قابل اعتماد اند“ پھر ان کے نقل کرنے والوں میں کتاب الکامل لابن عدی اور فردوس دیلمی کا نام بھی گنا ہے۔ (ص ۸۷، ۸) اور بستان المحدثین میں دیلمی کی کتاب الفردوس کے تذکرہ میں لکھتے ہیں۔ در سقیم وصحیح احادیث تمیز نمی کند لہٰذا دریں کتاب وموضوعات واہیات ہم مدرج اند

صفحہ ۱۷۹

(ص ۶۲) یہی حال فردوس دیلمی کی اس روایت کا بھی ہے جسے مرزائیوں نے اپنی ڈائری کے صفحہ نمبر ۵۱۸ میں کنوز الحقائق کے حوالہ سے نقل کیا ہے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ”ابو بکر افضل هذه الامة الا ان يكون نبيا“ اور اس سے انکار نبوت کی دلیل پکڑی ہے۔ حالانکہ یہ روایت باطل ، موضوع اور جھوٹی ہے۔ اور اس کے ثبوت کے لئے اس کے حوالہ میں فردوس دیلمی کا نام کافی ہے حافظ مناوی نے کنوز الحقائق میں فردوس دیلمی کے حوالہ سے ہی نقل کیا ہے۔ ولعل فيه كفاية

حديث: لو كان بعدى نبى لكان عمر.

قادیانی:- اگر میرے بعد نبی ہوتا تو عمرؓ ہوتا کا جواب یہ ہے کہ یہ حدیث غریب ہے۔ لہٰذا حجت نہیں۔ جواب:- کیا غریب حدیث ضعیف یا غلط ہوتی ہے؟ ہر گز نہیں بلکہ صحیح ہوتی ہے۔ چنانچہ خود مرزا نے بھی اس کو ازالہ اوہام خ ص ۲۱۹ ج ۳ پر نقل کیا ہے۔ اگر حدیث غیر معتبر ہوتی تو مرزا صاحب اسکو ازالہ اوہام میں ہرگز درج نہ کرتے۔ کیوں کہ انکا دعویٰ ہے کہ: ”لوگ آنحضرت ﷺ کی حدیثیں زید وعمر سے ڈھونڈتے ہیں اور میں بلا انتظار آپ ﷺ کے منہ سے سنتا ہوں“۔ (آئینہ کمالات اسلام خ ص ۲۵ ج ۵)

حديث : لا نبى بعدى

قادیانی:- حدیث لا نبی بعدی میں لفظ بعدی بھی مغائرت اور مخالفت کے معنوں میں مستعمل ہوا ہے ”فَبِاَىِّ حَدِيْثٍ بَعْدَ اللّٰهِ وَ اٰيٰتِهٖ يُؤْمِنُوْنَ . جاثیه ۶ “ اللہ اور اسکی آیات کے بعد کون سی بات پر وہ ایمان لائیں گے۔ اللہ کے بعد سے کیا مقصد ہے؟ کیا اللہ کے فوت ہو جانے کے بعد؟ یا اللہ کی غیر حاضری میں؟ ظاہر ہے کہ دونوں معنی باطل ہیں پس بعد اللہ کا مطلب ہو گا کہ اللہ کے خلاف اللہ کو چھوڑ کر۔ پس یہی معنی لا نبی بعدی کے۔ یعنی مجھ کو چھوڑ کر یا میرے خلاف رہ کر کوئی نبی نہیں ہو سکتا۔ حدیث میں ہے آنحضرت ﷺ نے فرمایا ”فاولتها كذابين ليخرجان بعدى احدهما العنسى والآخر مسيلمه ۔ (بخاری ص ۶۲۸ ج ۲) یعنی آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ خواب میں، میں نے سونے کے کنگن جو دیکھے اور ان کو پھونک مار کر اڑا دیا تو اسکی تعبیر میں نے

صفحہ ۱۸۰

یہ کی کہ اس سے مراد دو کذاب ہیں جو میرے بعد نکلیں گے ۔ پہلا اسود عنسی ہے اور دوسرا مسیلمہ کذاب ۔ یہاں بعد سے مراد غیر حاضری یا وفات نہیں بلکہ مخالفت ہے ۔ کیونکہ مسیلمہ کذاب اور اسود عنسی دونوں آنحضرت ﷺ کی زندگی ہی میں مدعی نبوت ہو کر آنحضرت ﷺ کے بالمقابل کھڑے ہو گئے تھے ۔

جواب:۔ بعد کا ترجمہ ”مخالفت“ خلاف عربیت ہے لغت عربی کی کسی کتاب میں بعد کے معنی مغائرت ومخالفت کے نہیں لکھے ہیں ۔ نہ اہل زبان سے اس کی کوئی نظیر موجود ہے ۔ حدیث لا نبی بعدی کے معنی دوسری حدیثیں خود واضح کرتی ہیں ۔ ”لم یبق من النبوۃ الا المبشرات ۔ مشکوٰۃ ص ۳۸۶“ یہاں بعد کا لفظ موجود نہیں اور ہر قسم کی نبوت کی نفی ہے ۔ کوئی نیا نبی نہ موافق آئے گا نہ مخالف ۔ صحیح مسلم میں ہے ”انی آخر الانبیاء ۔ ص ۲۴۶“ پس اگر کوئی نیا ہی نبی گو موافق سہی آ جائے تو آپ ﷺ کی آخریت باقی نہیں رہتی ۔ ابو داؤد اور ترمذی میں ہے ”انا خاتم النبیین لانبی بعدی ۔ مشکوٰۃ ص ۴۷۵“ یہاں لا نبی بعدی کے ساتھ وصف خاتم النبیین بھی مذکور ہے جو بعدہ کے معنی ”مخالفت“ کے لینے کی تردید کرتا ہے ۔ کیونکہ نئے موافق نبی کا آنا ختم نبوت کے منافی ہے ۔ مسند احمد اور ترمذی میں ہے ”ان الرسالۃ والنبوۃ انقطعت فلا رسول بعدی ولا نبوۃ ۔ ابن کثیر ص ۸۹ ج ۸“ یہاں بعد کے معنی مخالفت کے لینے کی تردید انقطعت سے ہو رہی ہے ۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ (موافق ومخالف) ہر قسم کی نبوت ورسالت بند ہو گئی ہے ۔ پس میری رسالت ونبوت کے بعد نہ تو کوئی رسول ہی ہوگا اور نہ نبی ۔

اب سورۃ جاثیہ کی آیت مذکور کی تحقیق سنئے ۔ قرآن مجید عربی زبان میں ہے ۔ عربی زبان جاننے کے لئے بہت سے فنون جو قرآن کے خادم ہیں حاصل کرنے کی ضرورت ہے ۔ منجملہ ان کے ایک فن علم معانی کا ہے ۔ اس علم میں ایک باب ایجاز کا ہے ۔ جس میں لفظ اصل مراد سے کم لیکن کافی ہوتا ہے ۔ اس کی دوسری قسم ایجاز حذف کا ہے ۔ جس میں کچھ محذوف ہوتا ہے ۔ آیت مذکورہ اس قبیل سے ہے اور بعد اللہ میں بعد کا مضاف الیہ محذوف ہے ۔ چنانچہ تفسیر معالم وخازن میں ہے: ”ای بعد کتاب اللّٰہ“ اور تفسیر جلالین وبیضاوی وکشاف وسراج المنیر وابوالسعود وفتح الباری وابن جریر میں ہے: ”ای بعد حدیث اللّٰہ وھو القرآن “ اس کی تائید دوسری آیت سے بھی ہوتی ہے ۔ سورۃ اعراف ومرسلات آیت نمبر

صفحہ ۱۸۱

۵۰ میں ہے: ”فبای حدیث بعدہ یومنون“ بعدہ کی ضمیر مجرور اور راجع ہے حدیث کی طرف۔ یعنی کس بات پر اس بات کے بعد ایمان لائیں گے؟۔ اسی طرح نبی ﷺ کی دعائیں جو حدیثوں میں آئی ہیں ان میں بھی ایجاز حذف ہے۔ ایک دعا میں وارد ہے: ”انت الاخر فلیس بعدک شیء۔ (مسلم ص ۳۳۸ ج۲) ای بعد اخریتک۔ (مرقاۃ ص ۱۰۸ ج۳) فلا شیء بعدہ۔ (مسلم ص ۳۵۰ ج۲) ای امرہ بالفناء“ اسی طرح حدیث ”لا نبوۃ بعدی ۔ مسلم ص ۲۷۸ ج۲“ کے معنی میں لا نبوۃ بعد نبوتی یعنی میری پیغمبری کے بعد کوئی پیغمبری نہیں ہے۔

مرزائیوں کی دوسری دلیل (اسود عنسی اور مسیلمہ کذاب) کا جواب یہ ہے کہ یہاں بھی ایجاز محذوف ہے اور بعد کا مضاف الیہ محذوف ہے یعنی: ”یخرجان بعد نبوتی۔ فتح الباری انصاری پ ۲۸ ص ۵۰۷“ مطلب یہ ہے کہ اب جبکہ نبوت مجھے مل چکی ہے۔ اس مل جانے کے بعد ان دونوں کا ظہور ہوگا۔ چنانچہ مسیلمہ اور اسود عنسی کا ظہور آپ ﷺ کے نبی بن چکنے کے بعد ہوا ہے نہ قبل۔ اس محذوف پر قرینہ صحیح بخاری کی دوسری حدیث ہے جس کے الفاظ یہ ہیں ”الکذابین الذین انا بینھما ۔ بخاری ص ۶۲۸ ج۲“ وہ دونوں جھوٹے مدعیان نبوت کہ ان دونوں کے درمیان میں موجود ہوں۔ اسی کو واضح کرنے کے لئے امام بخاری نے حدیث :”یخرجان بعدی“ کے متصل ہی انا بینھما کی روایت ذکر کی ہے۔ دیکھو کتاب المغازی ’بخاری ص ۶۲۸ ج۲‘ اصل بات یہ کہ جب کوئی شخص اپنی بات بتانے پر تل جائے تو پھر کوئی پروا نہیں کرتا کہ بات بنتی ہے یا نہیں۔ قرآن کی مخالفت ہو یا حدیث کی مخالفت اور عربی زبان کی مخالفت اسے کوئی حجاب نہیں ہوتا۔ مرزا صاحب اور انکی ’امت‘ کا یہی حال ہے۔

حاصل کلام یہ کہ کتاب وسنت ولغت عرب میں لفظ بعد بمعنی مخالفت نہیں آیا۔ وهو المراد حضرت علی سے متعلق روایت میں بھی لفظ بعد وارد ہے تو کیا حضرت علیؓ آنحضرت ﷺ کے مخالف تھے۔ اگر نہیں اور یقیناً نہیں تو پھر انکو یہ جواب دینا کہ گو تم میرے ساتھ وہی نسبت رکھتے ہو جو موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ہارون علیہ السلام کو تھی۔ مگر میرے مخالف بن کر تم نبی نہیں ہو سکتے کیا یہی مطلب ہے۔ کیا حضرت علیؓ نے نبوت کا عہدہ مانگا تھا جو یہ جواب دیا گیا ہے؟

ناظرین کرام! غور فرمائیے حضور ﷺ جنگ کو تشریف لے جا رہے ہیں۔ حضرت علیؓ کو اپنے پیچھے چھوڑتے ہیں۔ حضرت علیؓ کو اس بات کا ملال ہے کہ مجھے ساتھ کیوں نہیں لے جاتے۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ اے علی میں تجھے کسی مغائرت کے سبب نہیں چھوڑ کر

صفحہ ۱۸۲

جارہا ہوں بلکہ اپنے بعد اپنا جانشین بنا کر جارہا ہوں۔ جس طرح حضرت موسیٰ اپنا جانشین اور خلیفہ حضرت ہارون کو بنا کر گئے تھے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ہارون علیہ السلام نبی تھے، تم نبی نہیں ہو۔ امر مقدر یوں ہی ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔

نیز صحیح مسلم غزوہ تبوک میں حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کی وہ حدیث، جس میں لانبی بعدی کی بجائے لانبوة بعدی کے الفاظ موجود ہیں، جس کے معنی یہ ہیں کہ میرے بعد نبوت نہیں۔ اُس سے صاف واضح ہے کہ لا نبی بعدی اور لانبوة بعدی دونوں ایک ہی معنی میں ہیں یعنی آپ ﷺ کے بعد کسی کو نبوت نہ دی جائے گی۔

حدیث: الخلافة فیکم و النبوة

قادیانی استدلال:۔ حجج الکرامة ص ۱۷۹ پر ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت عباسؓ کو فرمایا تھا ”الخلافة فیکم والنبوة“ اس سے معلوم ہوا کہ اس امت میں نبوت بھی جاری ہے۔

جواب۔ اصل میں یہ ایک روایت نہیں بلکہ تین روایتیں ہیں جو مسند احمد ص ۲۸۳ ج ۲ پر موجود ہیں۔ ان کو سامنے رکھیں تو قادیانی دجل تار عنکبوت سے بھی کمزور نظر آئے گا۔ روایت نمبر ۱۶۷۳ حضرت ابوہریرةؓ سے مروی ہے ۔ کہ آپ ﷺ نے حضرت عباسؓ سے فرمایا ”الخلافة فیکم والنبوة“ ۔ روایت نمبر ۱۶۷۴ بھی حضرت ابوھریرةؓ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے حضرت عباسؓ سے فرمایا ”فیکم النبوة والخلافة“ اور روایت نمبر ۱۶۷۸ حضرت ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے حضرت عباسؓ سے فرمایا ”لی النبوة ولکم الخلافة“ ان تینوں روایتوں کو سامنے رکھیں تو مسئلہ حل ہو جاتا ہے کہ آپ ﷺ کے فرمان مبارک کا منشاء یہ تھا کہ نبوت وخلافت قریش میں ہے۔ یعنی میں نبی (قریشی) ہوں۔ تم (قریش) میں خلافت ہوگی۔

جواب نمبر ۲:۔ جہاں تک حجج الکرامة کی روایت ہے اس کے ساتھ ہی حجج الکرامة میں لکھا ہے ”اخرجہ البزار در سندش محمد عامری ضعیف است“ قادیانی علم کلام کا معیار دیکھئے کہ عقائد کے لئے ضعیف روایت کو سہارا بنایا جارہا ہے۔ ڈوبتے کو تنکے کا سہارا!

جواب نمبر ۳۔ یہ روایت جہاں سند کے اعتبار سے ضعیف ہے۔ درایت کے اعتبار سے بھی غلط ہے۔ اس لئے کہ آج تک بنو عباس میں کوئی نبی نہ ہوا۔

صفحہ ۱۸۳

جواب نمبر ۴۔ اگر یہ روایت صحیح بھی مان لی جائے تو پھر بھی مرزائیوں کے لئے مفید نہیں۔ کیوں کہ آن دجال مرزا قادیانی تو مغل کا بچہ تھے۔ ان کا اس روایت سے بھلا کیا تعلق۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وحی اور قادیانی مغالطہ

قادیانی یہ کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان پر وحی نازل ہوگی یا نہیں۔ اگر وحی ہوگی تو ثابت ہوا کہ حضور ﷺ کے بعد وحی ہو سکتی ہے۔ پس مسلمانوں کا عقیدہ غلط ہوا۔ اور اگر وحی نہ ہوگی تو کیا حضرت عیسیٰ سے نبوت چھن گئی؟

جواب ۔ انقطاع وحی سے مراد انقطاع وحی نبوت ہے۔ باقی کشف، الہام، و رؤیا تو امت میں جاری ہے۔ اور خود قرآن گواہ ہے کہ ہدایت کا راستہ دکھانے اور کسی مخفی امر پر مطلع کر نے کے لئے وحی نبوت کے علاوہ اور بھی راستے ہیں۔ ایسے فرمایا گیا ”وَأَوْحَيْنَا إِلَى أُمِّ مُوسَى“ ، یا ”وَأَوْحَى رَبُّكَ إِلَى النَّحْلِ“ شہد کی مکھی یا ام موسیٰ کو جو رہنمائی ہوئی قرآن نے اسے وحی سے تعبیر کیا ہے۔ حالانکہ وہ لوگ نبی نہیں تھے۔ معلوم ہوا کہ حضرت عیسیٰ کو وحی ہوگی وہ وحی نبوت نہ ہوگی۔ لہٰذا ان کی طرف وحی کا ہونا امت کے عقیدہ انقطاع وحی نبوت کے منافی نہ ہوگا۔

جواب نمبر ۲۔ وحی شریعت، لازم نبوت ہے۔ مگر اس کے یہ معنی نہیں کہ ہر وقت اور ہر آن اس پر وحی نبوت نازل ہوتی رہے گی۔ اور اگر وحی نازل نہ ہو تو وہ نبوت سے معزول ہو جائے۔ اس قادیانی فلسفہ سے تو معاذ اللہ حضور ﷺ بھی کبھی نبوت کے عہدہ پر بحال اور کبھی اس سے معزول ہوتے رہے ہونگے؟ کیوں کہ ابتدا میں تو برابر تین سال تک اور واقعہ افک میں ایک ماہ تک برابر وحی کا آنا موقوف رہا۔ تو کیا معاذ اللہ حضور ﷺ ان ایام میں نبوت سے معزول سمجھے جائیں گے؟ (معاذ اللہ) بے شک عیسیٰ علیہ السلام تشریف لائیں گے لیکن اب ان پر وحی نبوت کا آنا لازم نہیں۔ کیونکہ بحکم خداوندی دین کامل ہو چکا ہے اور اب وحی نبوت کی حاجت نہیں۔ اس لئے نبی ہونے کے باوجود ان کو وحی نبوت نہ ہوگی۔

عیسیٰ علیہ السلام کی آمد پر مسئلہ ختم نبوت اور قادیانی مغالطہ

قادیانی ۔ عیسیٰ علیہ السلام جب دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں گے تو اس سے ختم نبوت کی مہر ٹوٹ جائے گی۔ ان کی تشریف آوری ختم نبوت کے منافی ہے۔ حضور ﷺ نے مسلم شریف کی روایت کے مطابق تین مرتبہ فرمایا کہ عیسیٰ نبی اللہ تشریف لائیں گے تو ختم نبوت کی مہر ٹوٹ جائے گی۔ لہٰذا ان کا تشریف لانا ختم نبوت کے منافی ہے۔

صفحہ ۱۸۴

جواب نمبر ۱۔ عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری اور مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ اور ان دونوں باتوں کو آپس میں خلط ملط کرنا انصاف کا خون کرنا ہے خاتم النبیین کا تقاضہ اور مفہوم ومعنیٰ یہ ہے کہ رحمت دوعالم ﷺ کے بعد کوئی شخص اب نئے طور پر نبی نہیں بنایا جائیگا۔ نئے سرے سے کسی کو اب نبوت ورسالت نہیں ملے گی۔ بخلاف عیسیٰ علیہ السلام کے کہ وہ حضور ﷺ سے پہلے کے نبی ورسول ہیں۔ ان کو آپ سے پہلے نبوت مل چکی ہے۔ لہٰذا ان کی تشریف آوری ختم نبوت کے منافی نہیں۔ کشاف، تفسیر ابوسعود، روح المعانی، مدارک، اور شرح مواہب لزرقانی میں ہے ’’معنیٰ کونه آخر الانبیاء ای لا ینبأ احد بعدہ وعیسیٰ ممن نبی قبلہ‘‘ یعنی آخر الانبیاء ہونے کے معنیٰ یہ ہیں کہ حضور ﷺ کے بعد کوئی شخص نبی نہ بنایا جائے گا۔ جبکہ عیسیٰ علیہ السلام ان نبیوں میں سے ہیں جنکو منصب نبوت آنحضرت ﷺ سے پہلے عطا کیا جا چکا ہے۔ اس سے یہ بات واضح ہوگئی کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی شخص نئے سرے سے منصب نبوت پر فائز نہیں ہوسکتا۔

اب مرزا قادیانی کے کیس پر غور کریں کہ اس نے چودہویں صدی میں نبوت کا دعویٰ کیا تو اس کا دعویٰ نبوت، رحمت دوعالم ﷺ کے خاتم النبیین ہونے کے بعد ہے۔ لہٰذا یہ نہ صرف غلط بلکہ ختم نبوت کے منافی ہے۔ مرزا قادیانی کا دعویٰ نبوت کرنا آنحضرت ﷺ کے ارشاد کے مطابق کہ جو شخص میرے بعد دعوئے نبوت کرے گا دجال کذاب ہوگا (ترمذی، ابوداؤد، مشکوٰۃ کتاب الفتن) یہ دعویٰ دجل وکذب پر مبنی ہے۔ یہ ہر دو علیحدہ علیحدہ امر ہیں ان کو باہمی خلط ملط نہیں کیا جاسکتا۔

قابل توجہ بات یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کسی کو نبی یا رسول متعین کر کے مبعوث نہ کیا جائے گا۔ اور کوئی بھی فرد آکر حسب سابق یہ نہیں کہے گا کہ ’’اِنِّیْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ‘‘ یا خدا اسے کہے ’’اِنَّا اَرْسَلْنٰکَ‘‘ چنانچہ جب مسیح آئیں گے تو آکر کوئی دعویٰ یا اعلان نہیں کریں گے۔ بلکہ جب آپ نازل ہونگے تو آپ کو پہچان لیا جائیگا۔ نہ کوئی اعلان واظہار، نہ کوئی دعویٰ وبیان، نہ مباحثہ، نہ کوئی دلیل وحجت کچھ نہیں ہوگا۔ بخلاف قادیانی کے کہ یہاں سب کچھ ہوا۔ مرزا نے کہا مجھ پر وحی ہوئی، مجھے اللہ تعالیٰ نے کہا انا ارسلنا احمد الی قومہ (تذکرہ ص ۳۴۵) تو یہ سراسر دجل، کذب اور ختم نبوت کے منافی ہے۔

جواب نمبر ۲۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے آپ کو والدین کے لئے خاتم الاولاد کہا ہے (تریاق القلوب خ ص ۱۵۷ ج ۱۵) مرزا نے جب اپنے آپ کو خاتم الاولاد کہا۔ اس وقت

صفحہ ۱۸۵

مرزا قادیانی کا بڑا بھائی مرزا غلام قادر زندہ تھا۔ پہلے بھائی کا زندہ ہونا مرزا کے خاتم الاولاد کے خلاف نہیں ہے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا تشریف لانا بھی رحمت دو عالم ﷺ کی ختم نبوت کے منافی نہیں ہے

جواب نمبر ۳۔ خاتم النبیین کا معنی یہ ہے کہ انبیاء کا شمار اب بند ہو گیا ہے۔ اور کوئی ایسا نبی نہ ہوگا جسکے آنے سے انبیاء کی تعداد میں اضافہ ہو آپ ﷺ آخری نبی ہیں۔ یعنی انبیاء کا شمار زیادہ ہوتا گیا حتیٰ کہ آخری نمبر زمانہ کے لحاظ سے آنحضرت ﷺ کا نمبر ٹھہرا۔ فرض کرو کہ آنحضرت ﷺ سے پہلے ایک لاکھ ایک کم چوبیس ہزار انبیاء ہو چکے تھے۔ تو آپ ﷺ کے آنے سے پورے ایک لاکھ چوبیس ہزار کی گنتی پوری ہو گئی۔ اب آپ ﷺ نے آکر انبیاء کی تعداد کو بند کر دیا۔ اگرچہ آنحضرت ﷺ کی نبوت سب سے اوّل تھی لیکن زمانہ کے لحاظ سے آپ کا ظہور سب سے آخر میں ہوا۔ اب کسی نئے شخص کو منصب نبوت پر فائز نہ کیا جائیگا۔ ورنہ انبیاء کی تعداد میں اضافہ ہوگا۔ مثلاً پھر ایک لاکھ چوبیس ہزار اور ایک، نبی ہو جائیں گے۔ اور پہلے انبیاء کی جو گنتی بند ہو چکی تھی وہ بند نہ ہوگی اور اس تعداد پر زیادتی ہو جائیگی اور یہ ختم نبوت کے منافی ہوگا۔

اب اس معنی کے بعد عرض کرونگا کہ حضرت مسیح علیہ السلام اگر آنحضرت ﷺ کے بعد دوبارہ تشریف فرما ہوں تو اس سے ختم نبوت اور خاتم النبیین کے مفہوم میں کوئی کسی قسم کا خلل واقع نہ ہوگا۔ کیوں کہ حضرت مسیح کا شمار تو پہلے ہو چکا ہے۔ اب وہ دوبارہ نہیں شمار کئے جائیں گے۔ اگر بالفرض سہ بار بھی آجائیں یا چالیس سال نہیں بلکہ اس سے زیادہ سال بھی ان پر وحی ہوتی رہے بلکہ اس سے بڑھکر بالفرض اگر تمام انبیاء سابقین بھی دوبارہ آجائیں تو اس سے ختم نبوت اور خاتم النبیین کے مفہوم میں کسی قسم کی خرابی نہ ہوگی۔ کیوں کہ ان سب انبیاء کرام کا شمار پہلے ہو چکا ہے۔ اب ان کے دوبارہ آنے سے سابقہ تعداد میں کوئی اضافہ نہ ہوگا اور آخری اور خاتم النبیین بھی آنحضرت ﷺ ہی رہیں گے۔ کیوں کہ ظہور کے لحاظ سے اور زمانہ کے لحاظ سے آخری نمبر آنحضرت ﷺ کو ہی نبوت عطا ہوئی ہے آپ ﷺ کے بعد کسی کو نبوت عطا نہ ہوگی۔ اسی مفہوم کو ہمارے اہل اسلام علماء نے ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے۔ تفسیر روح المعانی ص ۳۲ ج ۲۲ پر ہے ”انقطاع حدوث وصف النبوة فی احد من الثقلین بعد تحلیته علیه الصلوة والسلام بھا فی هذه النشأة“ یعنی اس عالم ظہور میں آنحضرت کے منصب نبوت سے ممتاز ہو چکنے کے بعد کسی کو وصف نبوت سے نہ نوازا جائے گا۔

صفحہ ۱۸۶

خازن میں ہے ”خاتم النبیین ختم بہ النبوۃ بعدہ“ (تفسیر خازن ص۲۱۸ ج۵) یعنی آنحضرت ﷺ کے بعد کسی کو نبوت حاصل ہو یہ نہ ہوسکے گا۔ بلکہ نبوت ختم ہو چکی ہے۔

”خاتم النبیین آخرہم یعنی لا ینبأ احد بعدہ“ (تفسیر مدارک ۲۱۱) مطلب یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد اب کسی کو نئی نبوت حاصل نہ ہوگی۔ کیوں کہ آپ ﷺ آخری نبی ہیں۔ یعنی آپ ﷺ کا نمبر زمانہ اور ظہور کے لحاظ سے سب سے آخری نمبر ہے۔

پس حاصل جواب یہ ہوا کہ آنحضرت ﷺ کے بعد حضرت مسیح علیہ السلام کے دوبارہ آنے سے انبیاء کرام کی شمار میں کوئی فرق نہیں آئے گا۔ جو تعداد انبیاء کرام کی پہلے تھی وہی باقی رہے گی۔

لیکن مرزا قادیانی یا مسیلمہ کذاب یا ان جیسے مدعیان نبوت کی نبوت کو صحیح تسلیم کرنے سے خاتم النبیین اور ختم نبوت کا مفہوم بالکل بگڑ جائے گا۔ اور جو شمار انبیاء کرام کا پہلے ہو چکا ہے اس پر یقیناً اضافہ کرنا ہوگا کیوں کہ مرزا اور اس کے یاران طریقت تمام مدعیان کا پہلے اعداد میں شمار نہیں ہوا۔ لہٰذا وہ پہلے نمبروں پر زائد ہونگے۔ مثلاً فرض کرو کہ ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کا شمار تھا تو اب اس عدد پر ایک یا دو یا تیس چالیس کا اضافہ ہو جائیگا اور آخری نمبر پر پھر مرزا قادیانی کا ہوگا وہی خاتم النبیین ٹھہرے گا۔ (نعوذ باللہ)

اس اجمالی عرضداشت سے مرزا کے آنے سے ختم نبوت کے مفہوم کا بگڑ جانا اور حضرت مسیح کے دوبارہ آنے سے مفہوم خاتم النبیین میں کوئی فرق نہ پڑنا بالکل روز روشن کی طرح واضح ہو چکا ہے۔ فالحمد لله علی ذالک ۔

ایک ضمنی بات

ہاں ایک چیز رہ جاتی ہے کہ شاید مرزائی کہہ دے کہ مرزا قادیانی کیوں کہ ایک بروزی نبی ہے اور وہ غیر مستقل ہے اس لئے اس کے آنے سے شمار و تعداد میں اضافہ نہیں ہوگا تو یہ باطل ہے۔ کیوں کہ انبیاء کی تعداد میں تشریعی اور غیر تشریعی سب شامل ہیں۔ چنانچہ باقرار مرزا قادیانی حضرت یوشع علیہ السلام یا حضرت مسیح علیہ السلام بروزی یا غیر تشریعی نبی اور دوسرے نبی کے متبع تھے۔ تو ان کے آنے سے کیا اضافہ نہیں ہوا؟ اور ان کے آنے کو انبیاء کا آنا نہیں سمجھا گیا؟ یقیناً ان کو تعداد میں شمار کیا گیا اور ان کو بھی انبیاء کا گنتی میں شامل کیا گیا ۔ چنانچہ قرآن مجید میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد انبیاء کا یوں ذکر فرمایا ”وَقَفَّیْنَا مِنْ

صفحہ ۱۸۷

بَعْدِهِ بِالرُّسُلِ“ (بقرۃ ۸۷) تو ان کو بھی انبیاء ورسل کی صف میں شمار کیا گیا تھا۔ اب دوہی صورتیں ہیں یا تو باقرار خود بروزی انبیاء کی آمد کو انبیاء کی آمد نہ سمجھو اور آیت ”وَقَفَّيْنَا مِنْ بَعْدِهِ بِالرُّسُلِ“ کا انکار کر دو یا پھر تسلیم کرو کہ مرزا قادیانی کے آنے سے انبیاء کی تعداد میں اضافہ ہوگا ایک نمبر اور بڑھ جائیگا۔ تو آخری نبی آنحضرت ﷺ نہ رہے نعوذ باللہ۔

مدعی نبوت کے متعلق استخارہ کا حکم

قادیانی۔ استخارہ کرنا سنت ہے۔ مرزا قادیانی کے متعلق آپ استخارہ کر لیں۔

جواب۔ استخارہ ایسے امور میں ہوتا ہے جس کا کرنا یا نہ کرنا دونوں امور مباح ہوں۔ ایسے امر میں استخارہ کرنا جس کا حلال یا حرام شریعت نے واضح کر دیا ہے جائز نہیں۔ جیسے ماں بیٹے پر حرام ہے۔ اب کوئی بیٹا یہ استخارہ نہیں کریگا کہ ماں مجھ پر حلال ہے یا حرام ہے۔ ایسا کرنے والا اسلام کے حدود کو توڑنے والا ہوگا۔ اسی طرح نماز فرض ہے۔ اب نماز کی فرضیت یا عدم فرضیت پر کوئی مسلمان استخارہ نہیں کر سکتا۔

اسی طرح آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں کوئی آدمی آپ ﷺ کے بعد مدعی نبوت کے لئے استخارہ نہیں کر سکتا۔ جو استخارہ کرے گا وہ کافر ہوگا۔ کیوں کہ استخارہ کرنے کے معنی یہ ہیں کہ اس کے نزدیک آپ ﷺ کے بعد کوئی اور نبی بن سکتا ہے۔ تبھی تو استخارہ کر رہا ہے۔ اگر اسے یقین ہو کہ کوئی نبی نہیں بن سکتا تو پھر استخارہ کیوں کرے؟ استخارہ کا دل میں خیال لانا گویا آپ ﷺ کے بعد مدعی نبوت کے لئے جگہ پیدا کرنا ہے اور ایسا کرنا کفر ہے۔ لہٰذا آپ ﷺ کے بعد کسی مدعی نبوت کے لئے استخارہ کرنا کفر ہے۔

درود شریف اور قادیانی مغالطہ

قادیانی۔ اللهم صل علی محمد وعلی آل محمد کماصلیت علی ابراهیم وعلی آل ابراهيم انک حمید مجید . اللهم بارک علی محمد وعلی آل محمد کمابارکت علی ابراهيم وعلی آل ابراهيم انک حمیدمجید “

حضرت ابراہیم علیہ السلام اور انکی اولاد پر خیر وبرکت نبوت ورسالت تھی۔ اس قسم کی برکات اور رحمتیں آل محمد پر ہونی چاہئیں۔ ورنہ لفظ کما کا لانا صحیح نہ ہوگا۔

جواب نمبر ۱۔ درود شریف میں جس خیر وبرکت کا ذکر ہے اس سے کثرت اولاد اور بقاء نسل مراد ہے۔ جیسا کہ اس آیت سے ظاہر ہے’ قَالُوْا اَتَعْجَبِيْنَ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ رَحْمَةُ اللّٰهِ

صفحہ ١٨٨

وَبَرَكَاتُهُ عَلَيْكُمْ اَهْلَ الْبَيْتِ اِنَّهُ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌ‘‘ (ھود۷۳) تفسیر عثمانی میں ہے کہ بعض محققین نے لکھا ہے کہ درود ابراہیمی اس آیت شریف سے اقتباس کیا گیا ہے۔ اس میں حضرت سارہ کو اولاد کی بشارت دیتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے، خیر و برکت والی اولاد مراد ہے۔ عطاء نبوت کا اس میں کوئی ذکر نہیں۔ اس لئے درود شریف میں نبوت ورسالت کی برکت مراد نہیں۔

جواب نمبر ۲۔ اگر صل یا بارک سے نبوت مراد ہے ”صل علی محمد، بارک علی محمد“ کے معنی یہ ہونگے محمد ﷺ کو نبوت کی برکت عطا فرما۔ حضور ﷺ نبی ہوتے ہوئے اپنے لئے نبوت کی دعا کر رہے ہیں اور امت بھی حضور ﷺ کے لئے عطا نبوت کی دعا کر رہی ہے۔ یہ بات نہ صرف یہ کہ بیہودہ ہے بلکہ بداہتہ غلط ہے۔

جواب نمبر ۳۔ ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں تو مستقل و تشریعی نبی تھے کیا حضورؐ کی اولاد میں بھی تشریعی نبی ہونگے؟ یہ تو مرزائیوں کے عقیدہ کے بھی خلاف ہے۔

جواب نمبر ۴۔ ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں مستقل نبوت کا سلسلہ چلا۔ حضور ﷺ کی اولاد میں چودہ سو سال میں کوئی بھی نہ بنا۔ اور بقول مرزائیوں کے جو بنا، تو وہ حضور ﷺ کی اولاد سے نہیں تھا۔ اور وہ بنا بھی تو ظلی و بروزی بنا۔ (چلی و موذی) جس ظلی و بروزی کا ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں ذکر ہی نہیں۔ غرض مرزا کی تحریف کو تسلیم بھی کر لیں تو لفظ ’کما‘ کا کمال یہ ہے کہ اس کے معنی مرزا پر فٹ نہیں آتے۔ اس مرزائی تحریف پر سوائے سبحانک ھذا بہتان عظیم کے اور کیا کہا جا سکتا ہے؟

جواب نمبر ۵۔ حضور ﷺ کی شریعت اتنی اعلیٰ، افضل، اکمل اور اتم ہے کہ ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء علیہم السلام کی تمام شریعتیں ملکر آپ ﷺ کی شریعت کا مقابلہ نہیں کر سکتیں۔ آج سے چودہ سو سال قبل آپ ﷺ کو جو شریعت ملی اسکا مقابلہ ہو ہی نہیں سکتا۔ کیا یہ آپؐ کی شان میں گستاخی نہیں کہ آپؐ جیسی شریعت کے ہوتے ہوئے اسکے مقابل حضرت ابراہیم علیہ السلام اور انکی اولاد جیسی نعمت ( شریعت) مانگیں۔ ”اَتَسْتَبْدِلُوْنَ الَّذِیْ اَدْنٰی بِالَّذِیْ هُوَ خَیْرٌ“ ۔

جواب نمبر ۶۔ قادیانی جاہلوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ یہاں لفظ کما ہے جس سے قادیانی مشابہت تامہ سمجھ رہے ہیں۔ حالانکہ مشبہ اور مشبہ بہ میں مشابہت تامہ من کل الوجوہ نہیں ہوا کرتی بلکہ ایک جز میں مشابہت کی وجہ سے ایک چیز کو دوسری چیز سے

صفحہ ۱۸۹

مشابہت دیدی جاتی ہے۔ بقائے نسل وغیرہ سے کما کی تشبیہ کا تقاضہ سو فی صد پورا ہو گیا۔ خود مرزا قادیانی نے لکھا ہے۔

”یہ ظاہر ہے کہ تشبیہات میں پوری پوری تطبیق کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔ بلکہ بسا اوقات ایک ادنیٰ مماثلت کی وجہ سے بلکہ ایک جزو میں مشارکت کے باعث ایک چیز کا نام دوسری چیز پر اطلاق کر دیتے ہیں“

(ازالہ اوہام ص ۱۳۸ ج ۳)

خلاصہ یہ کہ درود شریف میں جن رحمتوں و برکتوں کو طلب کیا جاتا ہے وہ نبوت کے علاوہ ہیں۔ وجہ یہ کہ آیت ”لٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ“ میں صریح نبوت کو آنحضرت ﷺ پر ختم کر چکا ہے۔

(تحفہ گولڑویہ ص ۵۲ روحانی خزائن ص ۱۷۴ ج ۱۷)

خیر امت کا تقاضہ اور قادیانی مغالطہ

قادیانی۔ ایک اور شبہ مرزائیوں کی طرف سے پیش ہوا کرتا ہے کہ پہلے انبیاء کی شریعت کی خدمت کے لئے تو انبیاء کرام تشریف لایا کرتے تھے۔ اب اس امت میں بھی اگر انبیاء تشریف نہ لائیں تو آپ ﷺ کی امت خیر امت اور بہترین امت نہ رہے گی۔

جواب نمبر ۱۔ یہ بھی ایک محض دھوکہ دہی ہے۔ اول تو اسلئے کہ شہادت القرآن میں مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ پہلے انبیاء کے بعد تو خدمت دین کے لئے انبیاء کرام غیر تشریعی آیا کرتے تھے۔ اب اس امت میں بوجہ ختم نبوت کے انبیاء (غیر تشریعی) تو نہیں آئیں گے البتہ خلفاء آتے رہیں گے اور مجددین کا وقتاً فوقتاً دور دورہ ہوتا رہیگا تو تمہارا مرزا قادیانی ہی اس کا جواب دے چکا

(ملخص شہادت القرآن ص ۵۹ خزائن ص ۳۵۵ ج ۶)

جواب نمبر ۲۔ یہ کہ اگر آنحضرت ﷺ کی امت میں علماء مجددین ہی وہ فریضہ ادا کریں جو ڈیوٹی بنی اسرائیل کے انبیاء ادا کیا کرتے تھے۔ تو آپ ﷺ کی امت خیر امت ہوگی۔ اور اس میں امت مرحومہ کی افضلیت ثابت ہوگی۔ کیوں کہ ادنیٰ درجہ کے لوگ اعلیٰ درجہ والے حضرات کی ڈیوٹی ادا فرما رہے ہیں۔ سو اس میں آنحضرت ﷺ یا آپ کی امت کوئی ہتک نہیں بلکہ زیادہ عزت ہے۔

دعاء اور قادیانی مغالطہ

عام طور پر قادیانی کہہ دیا کرتے ہیں کہ آپ بھی دعا کریں ہم بھی دعا کرتے ہیں کہ مرزا قادیانی سچا تھا یا جھوٹا۔ جو حق پر نہ ہو گا وہ ہلاک ہو جائے گا۔

صفحہ ۱۹۰

حشر ہوا کیا وہ آپ کو یاد نہیں؟ کہ اپنی منہ مانگی موت، وبائی ہیضہ میں مرا۔

حریف مولانا غزنوی کے دیکھتے دیکھتے مباہلہ کے نتیجہ میں ہلاک ہو گیا۔ مرزا کے جھوٹ نے مرزا کو تباہ و برباد کر دیا۔

سچے کے مقابلہ میں ہلاک ہو جائے۔ چنانچہ مرزا ، مولانا امرتسری کی زندگی میں ہلاک ہوا۔ اور اپنے جھوٹ پر مہر تصدیق ثبت کر گیا۔ سچ ہے کہ مرزا کذب میں سچا تھا اس لئے پہلے مر گیا۔

پیشگوئی کی مگر سلطان بیگ کے زندہ ہوتے ہوئے ہیضہ کی موت سے دوچار ہو گیا۔ کیا مرزا کے جھوٹا ہونے کے لئے ابھی مزید شہادت درکار ہے کہ دعا کی جائے۔

فرشتوں کی کھنچی ہوئی تلوار دکھائی اور دعا کی کہ ”اے میرے رب سچے اور جھوٹے کے درمیان فیصلہ کر دے“ قدرت کا کرشمہ دیکھئے کہ اللہ نے اسکی کوئی اور دعا سنی یا نہ سنی، لیکن یہ دعا ضرور سن لی اور ڈاکٹر صاحب کی زندگی میں ہلاک و برباد ہو کر اپنے جھوٹے ہونیکی ایسی نشانی چھوڑ گیا جو مرزائی امت کی ندامت کے لئے کافی ہے۔

کے بانی رکن اور دوسرے امیر ، خطیب پاکستان حضرت مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ تھے۔ جماعت قادیانی کے مشہور مناظر قاضی نذیر احمد سے آپ کی گفتگو ہوئی۔ جب قاضی نذ یر قادیانی لاجواب ہو گیا کوئی جواب نہ بن پڑا تو خفت مٹانے اور اپنے ہمراہیوں کو مرعوب کرنے کی غرض سے قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ سے یہی کہا کہ آپ بھی دعا کریں میں بھی دعا کرتا ہوں۔ جو سچا ہو گا اس کی دعا قبول ہو جائے گی اتفاق سے قاضی ایک آنکھ سے عاری تھے۔ ہمارے حضرت قاضی احسان احمدؒ نے فوراً ہاتھ اٹھائے اور فرمایا، یا اللہ اگر مسلمان سچے ہیں اور مرزائی جھوٹے ہیں تو اس قاضی نذیر قادیانی کی آنکھ ٹھیک نہ ہو۔ منہ پر ہاتھ پھیر کر قاضی نذیر قادیانی کو کہا کہ اب آپ دعا کریں کہ اگر آپ سچے ہیں تو آپ کی آنکھ ٹھیک ہو جائے۔

صفحہ ۱۹۱

اس پر قاضی نذیر کھسیانی بلی کھمبا نوچے‘ کا عملی مصداق بن کر رہ گیا۔

ظلی اور بروزی نبوت کی کہانی

مرزا قادیانی نے لکھا ہے:

"لیکن اگر کوئی شخص اُسی خاتم النبیین میں ایسا گم ہو کہ بباعث نہایت اتحاد اور نفی غیریت کے اسی کا نام پالیا ہو اور صاف آئینہ کی طرح محمدی چہرہ کا اس میں انعکاس ہو گیا ہو تو وہ بغیر مہر توڑنے کے نبی کہلائے گا۔ کیوں کہ وہ محمد ہے گو ظلی طور پر۔ پس با وجود اس شخص کے دعویٰ نبوت کے جس کا نام ظلی طور پر محمد اور احمد رکھا گیا پھر بھی سیدنا محمد خاتم النبیین ہی رہا کیونکہ یہ محمد ثانی اسی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تصویر اور اسی کا نام ہے"

(ایک غلطی کا ازالہ خ ص ۲۰۹ ج ۱۸)

مرزا قادیانی کی اس عجیب و غریب تحقیق کا جائزہ تو بعد میں لیا جائے گا۔ پہلے اس پر نظر فرمائیے کہ اس نے حقیقت الوحی ص ۱۰۰ پر خاتم النبیین کی تفسیر کرتے ہوئے لکھا ہے آنحضرت ﷺ کی توجہ روحانی سے نبی بنتے ہیں۔ جس کا واضح مطلب یہ نکلا کہ کسی کے دعویٰ نبوت سے ختم نبوت کی مہر ٹوٹنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا بلکہ ختم نبوت کی مہر تو مزید نبی بنانے کے لئے ہے۔ اور اس نئی تحقیق میں دعویٰ نبوت کو اس نے ختم نبوت کی مہر ٹوٹنے کا مترادف قرار دیا ہے۔ اور مہر کو ٹوٹنے سے بچانے کے لئے ظلی ، بروزی کا دم چھلہ لگایا ہے۔ یعنی دعویٰ نبوت سے تو مہر ٹوٹ جائیگی لیکن کوئی ظل بن جائے اور تصویر ثانی بن جائے تب نہیں ٹوٹے گی۔

اب پہلے مرزا صاحب اور اس کی امت سے یہ پوچھا جائے کہ دونوں میں سے کونسی بات صحیح ہے اور کون سی غلط؟ اگر حقیقت الوحی کے اعتبار سے معنی صحیح ہیں تو مرزا کو ظل اور بروز کا ڈھکوسلہ بنانے کی کیا ضرورت پڑی تھی؟۔ اور اگر ایک غلطی کا ازالہ کے مطابق معنی صحیح ہیں کہ خاتم النبیین سے نبوت تو ختم ہوچکی ہے یعنی نبوت پر اب بند کی مہر لگ گئی ہے۔ وہ کوئی مہر نہیں کہ اس سے نبی بنا کریں گے۔ ہاں! مرزا کے آنے سے اس لئے وہ مہر نہیں ٹوٹتی کہ وہ ظل اور تصویر ثانی بن کر آیا ہے۔ ظاہر ہے کہ دونوں معنی صحیح نہیں ہو سکتے۔ ایک ضرور غلط ہوگا۔

اب ایک غلطی کے ازالہ کی غلطیاں دیکھئے۔

صفحہ ۱۹۲

مرزا نے لکھا ہے کہ ”اس کا حل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے کامل اتباع سے کوئی شخص ظلی یا بروزی طور پر عین محمد ﷺ بن جاتا ہے“

جواب نمبر ۱۔ اگر یہ صحیح ہے تو ہم دریافت کرتے ہیں کہ ابتداء اسلام سے مرزا قادیانی کی پیدائش تک کیا کسی اور کو بھی یہ کامل اتباع نصیب ہوئی؟ حضرات صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین میں سے کوئی ظلی طور پر محمدؐ بنا یا نہیں؟ جنھوں نے آپ ﷺ کی محبت اور پیروی کے لئے اپنے ماں باپ، بھائیوں سے قتال کیا۔ اور ایک ایک سنت پر جان دی۔ ان میں محمدی چہرہ کا انعکاس ہوا یا نہیں؟ اگر ان میں کسی کو یہ مرتبہ حاصل ہوا تو کیا انھوں نے اس مرزائی ڈھکوسلہ بازی کے مطابق دعویٰ نبوت کیا؟

۲۔ مرزا نے یہ ظل و بروز کی کہانی ہندؤں کے عقیدہ تناسخ سے لیا ہے لیکن مرزائیوں کے ڈوب مرنے کی بات ہے کہ مرزا نے بے سمجھے ان سے یہ عقیدہ لیا ہے۔ کیوں کہ ظل اور بروز کا تو اسلام میں کوئی تصور ہی نہیں یہ قطعاً غیر اسلامی عقیدہ ہے۔ اور جن متصوفین نے اس لفظ کو استعمال کیا ہے ان کا مرزائی فلسفہ سے کوئی جوڑ نہیں۔ اور جو لوگ تناسخ اور حلول کے قائل ہیں وہ بھی اس کے قائل نہیں کہ دوسری نئی پیدائش میں آنے والا، بعینہ پہلی پیدائش والے شخص جیسا ہو جاتا ہے، اس کے احکام اور حقوق وہی ہوتے ہیں جو پہلے شخص کے تھے۔ مثلاً فرض کر لو کہ زید مر گیا اور پھر وہ کسی دوسری پیدائش میں آیا۔ اس کے ماں باپ نے نام عمر رکھا تو کسی مذہب و عقیدہ میں عمر کے نام سے پیدا ہونے والے زید کو یہ حق نہیں کہ قدیم حقوق کا مطالبہ کرے۔ اپنی سابق بیوی کو بیوی سمجھے۔ سابق ماں باپ کو ماں باپ کہے۔ وارثوں میں تقسیم شدہ جائداد کو اپنی ملک قرار دے دے۔

مرزا قادیانی کا فلسفہ سب سے نرالا ہے کہ اسلامی عقیدہ کو تو خراب کیا ہی تھا۔ تناسخ کے عقیدہ کا بھی ستیاناس کر دیا کہ جس شخص کو ظل و بروز قرار دیا اس کو یہ حق بھی دیدیا کہ وہ اپنے پچھلے سارے حقوق کا مالک بنا رہے۔ وہ اپنے کو رسول و نبی بھی کہے اور ساری دنیا کو اپنی نبوت ماننے پر مجبور بھی کرے اور جو نہ مانے اس کو کافر کہے۔ پہلے حق کا حوالہ دیکر اپنے گرد جمع ہونے والے ڈفالیوں کو صحابہ سے تعبیر کرے اور اپنی چڑیل بیویوں کو اسی بنیاد پر ام المومنین کا لقب دے۔ فیاللعجب!

ایں کار از تو می آید و مرداں چنیں کنند
صفحہ ۱۹۳

آپ کے ظل و بروز کے فلسفہ پر کیا کوئی قرآن وحدیث کی شہادت بھی موجود ہے؟ کہیں قرآن کریم نے ظلی و بروزی نبی کا ذکر کیا ہے؟ یا کسی حدیث میں اس کا کوئی اشارہ ہے؟ اور اگر ایسا نہیں تو پھر اسلام کا دعویٰ رکھتے ہوئے اسلام کے بنیادی عقیدہ رسالت میں اس ہندوانہ عقیدہ کو ٹھونسنا کون سی دینی روایت یا عقل و شریعت ہے؟

نصوص خالی اور ساکت ہیں ۔ بلکہ آنحضرت ﷺ کی بہت سی احادیث اس کے بطلان کا اعلان صاف صاف کر رہی ہیں۔

ملاحظہ ہو وہ حدیث جو آخری نبی ﷺ نے اپنے آخری اوقات حیات میں بطور وصیت ارشاد فرمائی اور جس کے الفاظ یہ ہیں ۔

”یا ایہا الناس انہ لم یبق من مبشرات النبوۃ الا الرویا الصالحۃ“ رواہ مسلم و النسائی وغیرہ عن ابن عباسؓ ”اے لوگو! مبشرات نبوت میں سے سوائے اچھے خوابوں کے اور کچھ باقی نہیں رہا۔

اور اسی مضمون کی ایک اور حدیث بخاری و مسلم وغیرہ نے حضرت ابوہریرہؓ سے بھی روایت کی ہے۔ جس کے الفاظ یہ ہیں ”لم یبق من النبوت الا المبشرات“ بخاری کتاب التفسیر مسلم ”نبوت میں سے کوئی جز باقی نہیں رہا سوائے اچھے خوابوں کے۔

اور اسی مضمون کی ایک حدیث حضرت حذیفہ بن اسیدؓ سے طبرانی نے روایت کی ہے۔ اور نیز امام احمدؒ اور ابوسعیدؓ اور مردویہؒ نے اسی مضمون کی ایک حدیث حضرت ابوطفیلؓ سے بھی روایت کی ہے۔ اور احمدؒ اور خطیبؒ نے بھی یہی مضمون بروایت عائشہؓ نقل کیا ہے ۔ جن میں سے بعض کے الفاظ یہ ہیں ”ذہبت النبوت وبقیت المبشرات“ نبوت تو جاتی رہی اور اچھا خواب باقی رہ گئے ۔

الغرض ان متعدد احادیث کے مختلف الفاظ کا خلاصہ مضمون یہ ہے کہ نبوت ہر قسم کی بالکل مختتم اور منقطع ہو چکی ۔ البتہ اچھے خواب باقی ہیں جو کہ نبوت کا چھیالیسواں جز ہیں۔

(جیسا کہ بخاری ومسلم وغیرہ کی احادیث سے ثابت ہوتا ہے)

صفحہ ۱۹۴

لیکن ظاہر ہے کہ کسی چیز کے ایک جزو موجود ہونے سے اس چیز کا موجود ہونا لازم نہیں آتا۔ اور نہ جز کا وہ نام ہوتا ہے جو اس کے کل کا ہے۔ ورنہ لازم آئے گا کہ صرف نمک کو پلاؤ کہا جائے ۔ کیوں کہ وہ پلاؤ کا جز ہے۔ اور ناخن کو انسان کہا جائے کیوں کہ وہ انسان کا جزو ہے۔ اسی طرح ایک مرتبہ اللہ اکبر کہنے کو نماز کہا جائے کیوں کہ وہ نماز کا جز ہے یا کلی کرنے کو غسل کہا جائے کیوں کہ وہ غسل کا جزو ہے

غرض کوئی اہل عقل انسان جزو اور کل کو نام میں بھی برابر نہیں کر سکتا۔ احکام کا تو کہنا کیا۔ پس اگر نمک کو پلاؤ اور پانی کو روٹی اور ایک ناخن یا ایک بال کو انسان نہیں کہہ سکتے تو نبوت کے چھیالیسویں جزو کو بھی نبوت نہیں کہہ سکتے

خلاصہ یہ ہے کہ حدیث میں نبوت کے بالکلیہ انقطاع کی خبر دیکر اس میں سے نبوت کی کوئی خاص قسم یا اس کا کوئی فرد مستثنیٰ نہیں کیا گیا۔ بلکہ استثناء کیا گیا تو صرف چھیالیسویں جزو کا کیا گیا ہے۔ جس کو کوئی انسان نبوت نہیں کہہ سکتا۔

اب منصف مزاج ناظرین ذرا غور سے کام لیں کہ اگر نبوت کی کوئی نوع یا کوئی جزئی مستقل یا غیر مستقل، تشریعی یا غیر تشریعی، ظلی یا بروزی، عالم میں باقی رہنے والی تھی تو بجائے اس کے کہ آنحضرت ﷺ نبوت کے چھیالیسویں جزو کا استثناء فرمائیں ضروری تھا کہ اس نوع نبوت کا استثناء فرماتے۔

اور جبکہ آپ ﷺ نے استثناء میں صرف نبوت کے چھیالیسویں جزو کو خاص کیا ہے۔ تو یہ کھلا ہوا اعلان ہے کہ یہ بروزی نبوت جو مرزا قادیانی نے ایجاد کی ہے (اگر بالفرض کوئی چیز ہے اور اس کا نام نبوت رکھا جاسکتا ہے ) تو آنحضرت کے بعد یہ بھی عالم میں موجود نہ رہیگی۔

”کانت بنو اسرائیل تسوسهم الانبیاء کلما هلک نبی فخلفه نبی وانه لا نبی بعدی وسیکون خلفاء فیکثرون قالوا فما تامرنا یا رسول الله قال فوا ببيعة الاول فالاول اعطوهم حقهم ۔ (بخاری ص ۴۹۱ ج ۱، مسلم کتاب الایمان و مسند احمد ص ۲۹۷ ج ۲ وابن ماجہ وابن جریر، وابن ابی شیبہ )

آنحضرت ﷺ کے اس ارشاد میں غور کرو کہ کس طرح اول تو نبوت کے بالکلیہ انقطاع کی خبر دی اور پھر جو چیز نبوت کے قائم مقام آپ ﷺ کے بعد باقی رہنے والی تھی اس کو بھی بیان فرما دیا۔ جس میں صرف خلفاء کا نام لیا گیا ہے۔ اگر آپ ﷺ کے

صفحہ 195

بعد کوئی بروزی نبی آنے والا تھا اور نبوت کی کوئی قسم بروزی یا ظلی ، مستقل یا غیر مستقل ،تشریعی یا غیر تشریعی دنیا میں باقی رہنے والی تھی تو سیاق کلام کا تقاضہ تھا کہ اس کو ضرور اس جگہ ذکر فرمایا جاتا ۔

اور جب آنحضرت ﷺ نے اپنے بعد نبوت کا قائم مقام صرف خلفاء کو قرار دیا ہے۔ تو صاف اس کا اعلان ہے کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی بروزی وغیرہ نہیں ہوسکتا

” ان الله بدأ هذا الامر بنبوة ورحمة وكائناً خلافة ورحمة“

(رواه في الطبرانی فی الکبیر )

اللہ تعالیٰ نے اس کام کو ابتداء نبوۃ اور رحمت بنایا اور اب خلافت اور رحمت ہو جانے والا ہے۔

اس حدیث میں بھی اختتام نبوت اور اس کے بالکلیہ انقطاع کے ساتھ یہ بھی ارشاد فر ما دیا کہ نبوت رحمت ختم ہو کر خلافت رحمت باقی رہے گی ۔ جس میں صاف اعلان ہے کہ نبوت کی کوئی قسم بروزی یا ظلی وغیرہ نہیں رہے گی ورنہ ضروری تھا کہ بجائے خلافت کے اس کے ذکر کو مقدم رکھا جاتا ۔

میں تھوڑا سا غور کرنے سے ہر شخص اس پر بلا تامل یقین کرے گا ۔ کہ آپ ﷺ کے بعد کسی قسم کا کوئی نبی بروزی، ظلی وغیرہ نہیں ہوسکتا ۔

جس کا حاصل یہ ہے کہ غالباً کوئی ادنیٰ مسلمان اس میں شک نہیں کر سکتا کہ نبی کریم ﷺ اپنی امت پر سب سے زیادہ شفیق اور مہربان ہیں ۔ آپ ﷺ کو دنیا کی تمام چیزوں میں اس سے زیادہ محبوب کوئی چیز نہیں کہ ایک آدمی کو ہدایت ہو جائے اور اسی طرح اس سے زیادہ کوئی چیز رنج دہ اور باعث تکلیف نہیں کہ لوگ آپ ﷺ کی ہدایت کو قبول نہ کریں ۔ خدا وند سبحانہ اپنے رسول کی رحمت و شفقت کو اس طرح بیان فرماتا ہے ”عزیز علیه ما عنتم حریص علیکم بالمومنین رؤف رحیم“ سخت گراں ہے رسول اللہ ﷺ پر تمھاری تکلیف ۔ وہ تمھاری ہدایت پر حریص ہے اور مسلمانوں پر شفیق و مہربان ۔

اور دوسری جگہ آپ ﷺ کی تبلیغی کوششوں کو ان وزن دار الفاظ میں بیان فرمایا ہے ”لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ اَلَّا يَكُوْنُوْا مُؤْمِنِيْنَ“ (شعراء ۳) شاید آپ ﷺ اپنی جان کو ان کے پیچھے گنوا دیں گے اگر وہ ایمان نہ لائیں ۔

صفحہ ۱۹۶

پھر اس نبی امی (فداہ ابی وامی) کے ارشاد و تبلیغ پر جانکاہ کوشش، مخلوق کی ہدایت کے لئے سخت ترین جفاکشی۔ ان کی سخت سے سخت ایذاؤں پر صبر وتحمل ۔ کفار کی جانب سے پتھروں کی بارش کے جواب میں ”اللهم اهد قومی فانہم لا یعلمون“ اے اللہ! میری قوم کو ہدایت کر کیوں کہ وہ جانتے نہیں۔ فرمانا ایک ناقابل انکار مشاہدہ ہے جو آپ ﷺ کی اس شفقت کی خبر دے رہا ہے جو کہ آپ ﷺ کو خلق اللہ کی ہدایت کے ساتھ تھی۔

اور اسی وجہ سے آپ ﷺ نے امت کو ایسی سیدھی اور صاف روشن شاہراہ پر چھوڑا ہے کہ قیامت تک اس پر چلنے والے کے لئے کوئی خطرہ نہیں۔ بلکہ ”لیلھا ونھار ہا سواء“ کا مصداق ہے۔ یعنی اس کا رات اور دن برابر ہے۔

آپ ﷺ کے بعد قیامت تک جس قدر فتنے پیدا ہونے والے تھے اگر ایک طرف انکی ایک ایک خبر دے کر ان سے محفوظ رہنے کی تدبیریں امت کے لئے بیان فرمائیں تو دوسری جانب اس امت میں جس قدر قابل اتباع اور تقلید انسان پیدا ہونے والے تھے ان میں ایک ایک سے امت کو مطلع فرما کر ان کی اقتدا کا حکم دیا۔ غرض کوئی خیر باقی نہیں کہ جس کی تحصیل کے لئے امت کو ترغیب نہ کی ہو۔ اور کوئی شر باقی نہیں کہ جس سے امت کو ڈرا کر اس سے بچنے کی تاکید نہ فرمائی ہو۔

چنانچہ آپ ﷺ نے اپنے بعد امت کو حضرت ابوبکر صدیقؓ اور حضرت فاروق اعظمؓ کی اقتدا کا حکم کیا اور فرمایا ”اقتدوا بالذین من بعدی ابی بکر وعمر (بخاری) ان دو شخصوں کی اقتدا کرو جو میرے بعد خلیفہ ہونگے۔ یعنی ابوبکر اور عمرؓ۔ ایک جگہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ”علیکم بسنتی وسنة الخلفاء الراشدین“ ایک جگہ ارشاد فرمایا ”انی ترکت فیکم ما ان اخذتم بہ لن تضلوا کتاب اللہ وعترتی“

(ترمذی ص ۴۴ ج ۱)

پھر آپ ﷺ نے اطلاع دی کہ ہر سو سال کے بعد ایک مجدد پیدا ہو گا جو امت کی عملی خرابیوں کی اصلاح فرما کر ان کو نبی ﷺ کی ٹھیک سنت پر قائم کریگا اور آپ ﷺ کی ان سنتوں کو زندہ کرے گا جن کو لوگ بھلا چکے ہونگے۔

(رواہ ابوداؤد والحاکم)

اور ارشاد فرمایا کہ آخر زمانہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہونگے اور اس امت کے لئے امام ہو کر ان کی عملی خرابیوں کی اصلاح فرمائیں گے۔ یہاں تک کہ حضور ﷺ نے اپنے بعد ہونے والے خلفاء کی اطاعت کا حکم فرمایا اور اسکی یہاں تک تاکید فرمائی لفظ

صفحہ ۱۹۷

وصیت سے اس تاکید کو بیان فرمایا۔ ”اوصیکم بتقوی الله والسمع والطاعة ولو امر علیکم عبد حبشی مجدع الاطراف“ (مسند احمد ابوداؤد ترمذی) میں تم کو اللہ سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں اور خلفاء کی اطاعت و فرمانبرداری کی وصیت کرتا ہوں۔ اگر چہ تم پر ایک حبشی غلام لنگڑا لولا حاکم بنا دیا جائے۔

اب منصف ناظرین غور فرمائیں! اگر اس امت میں کوئی کسی قسم کا ظلی بروزی نبی پیدا ہونے والا ہوتا تو ضروری تھا کہ آنحضرت ﷺ سب سے زیادہ اس کا ذکر فرماتے۔ اور اس کے اتباع کی تاکید فرماتے۔ ورنہ ایک عجیب حیرت انگیز بات ہوگی کہ ایک لنگڑے غلام حبشی کی اتباع کی تو تاکید کی جائے اور ایک انوکھی اور بروزی رنگ میں پیدا ہونے والے ظلی نبی کا کوئی تذکرہ ہی نہ ہو۔ حالانکہ یہ بھی ظاہر ہے کہ خلیفہ کی اطاعت سے باہر ہونے سے زیادہ سے زیادہ ایک آدمی فاسق کہلائے گا لیکن نبی کے انکار سے تو آدمی کافر ہو جائے گا۔ تو نبی کا ذکر تو نہ ہو اور خلفاء کا ذکر ہر جگہ ہو یہ کیسا الٹا معاملہ ہوگا۔

قادیانیو! ذرا سوچو! کہ وہ نبی جس کو رؤف و رحیم اور رحمۃ للعالمین کا خطاب خدائے پاک دیتا ہے۔ وہ مخلوق خدا کو چھوٹی چھوٹی باتوں کی تو خبر دیتا ہے لیکن کسی ایک حدیث میں بھی یہ اشارہ تک نہیں دیتا کہ چودہویں صدی میں ہم خود دوبارہ بروزی رنگ میں دنیا میں آئیں گے ،اس وقت ہماری تکذیب نہ کرنا۔ امت کو معمولی گناہوں سے بچنے کی تو تاکید کرتا ہے مگر ان کو کفر صریح میں مبتلا ہونے سے نہیں روکتا۔ معاذ اللہ! معاذ اللہ!

خلاصہ کلام یہ ہے کہ حدیث میں اس کا صاف اعلان ہے کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی ظلی، بروزی، تشریعی، غیر تشریعی نبی پیدا نہیں ہوگا۔

ظلی اور بروزی پر ایک اہم گزارش!

پہلے ظل اور بروز سے متعلق مرزائی تحریرات ملاحظہ فرمائیے اور پھر فیصلہ کیجئے کہ کیا ظل و بروز کا مرزائی فلسفہ کسی کے سمجھ میں آنے والا ہے؟

بات قرآن سے صراحتاً ثابت ہے کہ محمد رسول اللہ دوبارہ مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی بروزی صورت اختیار کر کے آئیں گے“ (اخبار الفضل ج ۲ نمبر ۲۴) حالانکہ آج تک کسی مرزائی ماں نے ایسا بچہ جنم نہیں دیا کہ اسے قرآن سے ثابت کر دکھائے۔ اگر کوئی ہے تو سامنے آئے۔ ناقل)

صفحہ ۱۹۸

تصویر ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ نام بھی ایک ہو جاتا ہے....... بروز اور اوتار ہم معنی ہیں‘‘ (الفضل ۲۰ اکتوبر ۱۹۳۱ء)

محمد است و عین محمد است‘‘ (اخبار الفضل قادیان ۱۷ اگست ۱۹۱۵ء ج۲ نمبر ۲۴)

اتارا‘‘ (کلمۃ الفصل ص ۱۰۵)

لئے دوبارہ دنیا میں تشریف لائے‘‘ (کلمۃ الفصل ص ۱۵۸)

محمد رکھا گیا اور رسول بھی‘‘ (ایک غلطی کا ازالہ خزائن ص ۲۰۶ ج ۱۸)

مذکورہ بالا مرزائی تحریرات و اقرارات کا واضح مطلب یہ ہے کہ مرزا قادیانی اور حضور ﷺ ہر لحاظ سے ایک ہیں۔ لیکن دریافت طلب امر یہ ہے کہ آیا دونوں جسم و روح ہر دو لحاظ سے ایک تھے۔ یا حضور ﷺ کی صرف روح مرزا قادیانی میں داخل ہوئی تھی۔ پہلی صورت بداہۃً غلط ہے۔ اسلئے کہ حضور ﷺ کا جسم اطہر گنبد خضرا میں مدفون ہے۔ اور دوسری صورت میں تناسخ کا قائل ہونا پڑے گا جو عقائد اسلام کے خلاف ہے۔ علاوہ ازیں قرآن حکیم شہداء کی حیات کا قائل ہے۔ انبیاء کا درجہ شہداء سے بہت بلند ہوتا ہے تو لازماً انبیاء بھی حیات سے بہرہ ور ہیں۔ تو پھر مرزا قادیانی میں انبیاء کی روح کہاں سے آگئی تھی؟ آریائی فلسفہ سے تو بروز و اوتار کا مسئلہ سمجھ میں آتا ہے کہ یہ لوگ تناسخ کے قائل ہیں لیکن اسلام کی سیدھی سادی تعلیم اس پیچیدگیوں کی متحمل نہیں ہو سکتی۔

اور اگر عینیت سے مراد وحدت اوصاف و کمالات ہوں تب بھی بات نہیں بنتی اسلئے کہ:

کا بیحد شوق تھا۔ اور زمین و باغات کا مالک تھا۔

صفحہ ۱۹۹

مرزا غلامی زندگی کو پسند کرتا تھا۔ جہاد و فتوحات کا قائل ہی نہ تھا۔

کے جابرانہ و غاصبانہ تسلط کو قائم رکھنے کے منصوبے بناتا تھا۔

کا مترادف ہے۔

سچا ثابت نہ کر سکے۔ اور نہ کر سکیں گے۔ ھَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ إِنْ كُنتُمْ صَادِقِيْنَ۔

ایسا بچہ جنم نہیں دیا جو مرزا کے گھناؤنے کیریکٹر پر بحث کرے۔

کے لئے نمونہ ہے۔ جبکہ مرزا کی خیانت اور لوگوں کے حقوق ادا نہ کرنا آج بھی مرزا ئیوں کے لئے سوہان روح بنا ہوا رہتا ہے۔

الغرض نہ وحدت جسم اور وحدت روح کا دعویٰ درست ہے اور نہ وحدت کمالات و اوصاف کا تو پھر ہم یہ کیسے باور کرلیں کہ مرزا قادیانی عین محمد ہے یا محمد ﷺ کا بروز؟ (معاذاللہ ۔ لاحول ولاقوة الابالله )

ختم نبوت اور بزرگان امت

قارئین محترم! قادیانی گروہ چند بزرگان دین کی کچھ عبارتوں کو غلط معانی کا جامہ پہنا کر عوام کے دلوں میں وسوسہ پیدا کرنے کی شیطانی کوشش کرتے ہیں۔ قادیانیوں کے اس دجل کو پارہ پارہ کرنے کے لئے ابتدائی چند اصولی باتیں زیر نظر رہنی چاہئیں۔

مطلب برآری کرتے ہیں۔ جو گروہ قرآن و سنت پر اپنے دجل کا کلہاڑا چلانے سے باز نہیں رہتا۔ اگر وہ بزرگان دین کی عبارتوں میں قطع و برید کرے یا کسی بات کو اس کے سیاق سباق سے ہٹا کر اپنے دجل و تلبیس کا مظاہرہ کرے تو یہ امر ان سے کوئی بعید نہیں۔

صفحہ ۲۰۰

نہیں ہوا جس کا یہ عقیدہ ہو کہ حضور ﷺ کے بعد کوئی نبی بن سکتا ہے۔ یا یہ کہ آپ کے بعد فلاں شخص نبی تھا۔ اگر قادیانیوں میں ہمت ہے تو کوئی ایک مثال پیش کریں۔ انشاء اللہ قیامت کی صبح تک وہ ایسا نہیں کر سکتے۔

قیدیں جن عبارات کے ساتھ لگی ہوئی ہوں ان سے کوئی بددیانت اور بدعقیدہ ہی عقائد کے باب میں استدلال کرے گا۔ ورنہ عقائد میں نص صریح اور صحیح کے علاوہ کسی کا گزر نہیں ہوتا چہ جائیکہ ان سے عقیدہ ثابت کیا جائے۔

پھر جن حضرات نے توجیہ کے یہ جملے ”اگر ہوتے تو ایسے ہوتے“ وغیرہ کہیں استعمال میں لائے ہیں تو صراحۃً وہ اس بات کے قائل ہیں۔

نبوت کو کافر قرار دیتے ہوئے ان کے اس قسم کے جملے ”اگر ہوتے تو ایسے ہوتے“ ”لَوْ كَانَ فِيْهِمَا آلِهَةٌ إِلَّا اللّٰهُ لَفَسَدَتَا“ (الانبیاء ۲۲) کے ہی قبیل سے ہونگے۔ یعنی تعلیق بالمحال قرار دئے جائیں گے۔ لیکن قادیانی دجل کو دیکھئے کہ وہ محال کو احتمال اور احتمال کو استدلال سمجھ کر بے پر کی اڑائے جاتے ہیں۔ ”وَمَا يَخْدَعُوْنَ إِلَّا اَنْفُسَهُمْ“ (بقرۃ ۹)

نبوت سے نہ نوازا جائے گا۔ اب کسی کو نبوت نہ ملے گی۔ نہ یہ کہ پہلی سب رسالتیں ختم ہوگئیں۔ ہاں اب ان رسالتوں میں سے کسی کا حکم نافذ نہیں ہوگا۔ مفہوم ختم نبوت کا تقاضہ یہ ہے کہ پہلے پیغمبروں میں سے کوئی تشریف لائیں (جیسے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام) تو وہ آپ ﷺ کی شریعت کے ماتحت اور مطیع ہو کر آئیں گے۔ کیوں کہ یہ دور دورِ محمدی ہے۔ آپ ﷺ کی شانِ خاتمیت کے پیش نظر دو باتیں ہیں۔ اوّل یہ کہ آپؐ کے بعد کوئی نبی پیدا نہ ہو۔ دوم یہ کہ پہلوں میں سے کوئی آ جائے تو وہ آپؐ کی شریعت کے تابع ہو کر، آپؐ کی شریعت کا مبلغ ہو کر رہے۔

صفحہ ۲۰۱

خلاصہ یہ کہ آپ ﷺ کی نبوت قیامت تک جاری وساری ہے اب آپکے بعد کسی کو نبوت ملنا ممکن نہیں رہا۔ بلکہ بندوبست ہوگیا۔ نبوت کی رحمت جو پہلے تغیر پذیر تھی اب پوری آن وبان، کمال وشان کے ساتھ نوع انسانی کے پاس آپ ﷺ کی شکل مبارک میں ہمیشہ موجود رہے گی۔ ہم سے کوئی نعمت چھنی نہیں گئی بلکہ امت محمدیہ ﷺ کی رحمت کے مسئلہ پر آپ ﷺ کے ہوتے ہوئے ایسی مالا مال کر دی گئی ہے کہ اب کسی اور نبوت کی ضرورت نہیں۔ جس طرح سورج نکلنے کے بعد چراغ کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ آپ ﷺ کی آفتاب رسالت ہوتے ہوئے نوع انسانی کا کوئی فرد بشر کسی اور چراغ نبوت کا محتاج نہیں۔

اور اپنے مقام ومرتبہ، منصب وشان کے اعتبار سے بھی آپ ﷺ پر مراتب ختم ہو گئے۔ آپ ﷺ پر تمام مراتب کی انتہا فرمادی گئی۔ اس ختم نبوت مرتبی کو ختم نبوت زمانی لازم ہے۔ ان میں تباین وتناقض نہیں اور نہ ختم نبوت مرتبی کے بیان سے ختم نبوت زمانی کی نفی لازم آتی ہے۔ قادیانی وسوسہ اندازوں نے ایک کے اقرار کو محض اپنے دجل سے دوسرے کی نفی لازم قرار دے کر اپنا غلط مقصد پورا کرنے کے لئے چور دروازہ کھول دیا اور مرزا کو اس میں داخل کرنے کے درپے ہو گئے۔

بزرگان اسلام میں جن حضرات نے آنحضرت ﷺ کی ختم نبوت مرتبی بیان کی قادیانی وسوسہ انداز فوراً کود پڑے کہ اس سے ہماری تائید ہوگئی۔ اور انھوں نے اُن بزرگوں کی اُن عبارات پر سرسری نظر بھی نہ ڈالی جن میں حضور ﷺ کی ختم نبوت زمانی کا صریح طور پر ذکر ہے۔

جبکہ وہ تمام حضرات ختم نبوت مرتبی کی طرح ختم نبوت زمانی کے بھی قائل ہیں اور اس کے منکر کو کافر سمجھتے ہیں۔ بعض بزرگ ایسے تھے جنھوں نے حضرت عیسیٰ ابن مریم کی آمد ثانی کے ذکر میں حضور ﷺ کے بعد ایک پرانے نبی کی آمد کا بیان کیا تھا۔ قادیانی وسوسہ اندازوں نے اسے امت میں ایک نئے نبی کی آمد کا جواز قرار دے کر مسیح ابن مریم کی بجائے مرزا قادیانی بن چراغ بی بی کو باور کر لیا۔ ان دو باتوں (۱) ختم نبوت مرتبی (۲) حضرت عیسیٰ ابن مریم کی آمد ثانی کو خواہ مخواہ حضور ﷺ کی ختم نبوت زمانی کے مقابل لا کھڑا کیا۔

صفحہ ۲۰۲

اس سلسلہ میں عرض ہے کہ قادیانی جو عبارتیں پیش کرتے ہیں اگر اُن کو اس تناظر میں دیکھا جائے تو قادیانی دجل نقش بر آب، یا تارِ عنکبوت سے زیادہ وقعت نہیں رکھتا۔ قادیانی اپنے الحادی عقیدہ کو کشید کرتے وقت یہ بھول جاتے ہیں کہ ضروریات دین کو تاویل وتحریف کا آب و دانہ مہیا کرنا اہل حق کا شیوہ نہیں۔

حاصل کرتے ہیں ان کے پیش نظر جو امور تھے ان کی تفصیل یہ ہے۔

نبی بعدی کے منافی معلوم ہوتا ہے۔ اس کے متعلق حضرت شیخ محی الدین ابن عربیؒ نے فرمایا کہ ”وان عیسیٰ علیہ السلام اذا نزل ما یحکم الا بشریعة محمد ﷺ“ (فتوحات مکیہ ج۱ باب ۷۳ ص ۱۵) حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب تشریف لائیں گے تو وہ صرف نبی کریم ﷺ کی شریعت پر عمل پیرا ہونگے اس کے مطابق فیصلہ کریں گے یعنی اپنے نبوت و رسالت کی تبلیغ کے لئے نہیں۔ آنحضرت ﷺ کی شریعت کے اجرا، ونفاذ خدمت و تمکین کے لئے تشریف لائیں گے۔

کہا گیا ہے۔ یہ حدیث سطحی طور پر ”لا نبی بعدی “ کے مخالف نظر آتی ہے حضرت محی الدین ابن عربیؒ نے اس کے متعلق تحریر فرمایا ”قالت عائشة اول ما بدی بہ رسول اللہ ﷺ من الوحی الرؤیا فکان لا یری رؤیاً الا خرجت مثل فلق الاصباح وھی التی ابقی اللہ علی المسلمین وھی من اجزاء النبوت لما ارتفعت النبوت بالکلیة و لہٰذا قلنا انما ارتفعت نبوة التشریع فہٰذا معنی لا نبی بعدہ “ (فتوحات مکیہ ج۲ باب ۷۳، سوال ۲۵) حضرت عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ کو وحی سے پہلے سچے خواب نظر آتے تھے جو چیز رات کو خواب میں دیکھتے تھے وہ خارج میں صبح روشن کی طرح ظہور پذیر ہو جاتی تھی اور یہ وہ چیز ہے جو مسلمانوں میں اللہ تعالیٰ نے باقی رکھی ہے اور یہ سچا خواب نبوت کے اجزا میں سے ہے۔ پس اس اعتبار سے نبوت کلی طور پر بند نہیں ہوئی۔ اور اسی وجہ سے ہم نے کہا کہ لا نبی بعدی کا معنی یہ ہے کہ حضور ﷺ کے بعد نبوت تشریعی باقی نہیں۔

اس عبارت سے روز روشن کی طرح واضح ہوا کہ

صفحہ ۲۰۳

نبوت میں سے سوائے اچھے خوابوں کے کچھ باقی نہیں۔ کیا ہر اچھا خواب دیکھنے والا نبی ہوتا ہے۔ ہرگز نہیں۔ ناخن انسان کے جسم کا جز ہے، اینٹ مکان کا جز ہے، مگر ناخن پر انسان کا اور اینٹ پر مکان کا اطلاق کوئی جاہل نہیں کرتا۔ اسی طرح اچھے خواب دیکھنے والے کو آج تک امت کے کسی فرد نے نبی قرار نہیں دیا۔

نیز نبی چاہے وہ صاحب کتاب وشریعت ہو یا نہ ہو بلکہ کسی دوسرے نبی کی کتاب و تابعداری کا اسے حکم ہو۔ غرض کسی بھی نبی کو جو وحی ہوگی وہ امر و نہی پر مبنی ہوگی۔ جیسے حضرت ہارون علیہ السلام کو وحی ہوئی کہ آپ موسیٰ علیہ السلام کی شریعت کی تابع داری کریں تو یہ امر ہے۔ حضرت شیخ ابن عربیؒ اور اس قبیل کے دوسرے صوفیاء کے نزدیک ہر نبی کو جو بھی وحی ہو تشریعی ہوتی ہے۔ اب وہ بھی باقی نہیں رہی۔ یعنی اب کسی شخص کو انبیاء والی وحی نہ ہوگی بلکہ غیر تشریعی جس میں بجائے امر و نہی کے ایقان واطمینان کا الہام وبشارت ہو یہ اولیاء کو ہوگا۔ ان اولیاء کو وہ غیر تشریعی قرار دیتے ہیں پھر کسی بھی ولی کو وہ غیر تشریعی نبی کا نام نہیں دیتے۔ نہ ہی ان کی اطاعت کو فرض قرار دیتے ہیں۔ نہ ہی ان اولیاء کے انکار کو کفر قرار دیتے ہیں۔ خدا لگتی قادیانی بتائیں کہ اس غیر تشریعی نبی کے لفظ سے وہ نبوت ثابت کر رہے ہیں یا صرف ولایت کو باقی تسلیم کر رہے ہیں۔

یہ بھی معلوم ہوا کہ حضور علیہ السلام کے بعد تشریعی نبوت بند ہے۔ یہی معنی ہے لا نبی بعدی کا غیر تشریعی یعنی اولیاء وہ ہو سکتے ہیں۔ اولیاء کے نیک خوابوں کی بنیاد پر ان کو کسی نے آج تک نبی قرار دیا؟ اس کو یوں فرض کریں کہ نبی خبر دینے والے کو کہتے ہیں اگر خبر وحی سے ہو تو وہ نبی ہوگا، واجب الاطاعت ہوگا، اس کی وحی خطا سے پاک ہوگی، شریعت کہلائے گی، اس کا منکر کافر ہوگا اور اگر خبر اس نے الہام وغیرہ سے دی تو وہ نبی نہ ہوگا، واجب الاطاعت نہ ہوگا، اس کی خبر (الہام) خطا سے پاک نہ ہوگی۔ شریعت نہ ہوگی اس کا منکر کافر نہ ہوگا، اور نہ اس پر نبی کے لفظ کا اطلاق کیا جائے گا۔ یہ غیر تشریعی وحی (الہام) والا صرف ولی ہوگا۔ فرمائیے یہ ختم نبوت کا اعلان ہے یا انکار؟

ج۔ بعض علماء وصوفیا کو وحی والہام سے نوازا جاتا ہے۔ اس سے بادی النظر میں ختم نبوت سے تعارض معلوم ہوتا ہے۔ اس کے متعلق شیخ ابن عربیؒ تحریر کرتے ہیں ”فلاولیاء والا نبیاء ،الخبر خاصة ولانبیاء الشرائع والرسل والخبر و الحکم“ (فتوحات مکیہ

صفحہ ۲۰۴

ج ۲ باب ۱۵۸ ص ۲۵۷) انبیاء و اولیا کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے خبر خاصہ (وحی و الہام) کے ذریعہ خصوصی خبر دی جاتی ہے اور انبیاء کے لئے تشریعی احکام، شریعت و رسالت، خبر و احکام نازل ہوتے ہیں۔ شریعت و رسالت، خبر و احکام گویا انبیاء کا خاصہ ہے۔ اور پھر شیخ ابن عربی جس خبر (الہام اور رہنمائی) کو اولیا کے لئے جاری مانتے ہیں اس کو تو وہ حیوانات میں بھی جاری مانتے ہیں۔ فرماتے ہیں۔

’وهذه النبوة جارية سارية فى الحيوان مثل قوله تعالى واوحى ربک الی النحل “ (فتوحات مکیہ ج۲ باب ۱۵۵ص۲۵۴) اور نبوت حیوانات میں بھی جاری ہے جبکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ تیرے رب نے شہد کی مکھی کو وحی کی۔

اب شیخ ابن عربی کی اس صراحت نے تو یہ بات واضح کردی کہ وہ جہاں پر نبوت کو اولیا کے لئے جاری مانتے ہیں ان کو وحی نبوت نہیں خبر و ولایت سمجھتے ہیں جو صرف رہنمائی تک محدود ہے۔ احکام و اخبار، امر ونہی، شریعت و رسالت کا اس سے تعلق نہیں ہے۔ یہ صرف رہنمائی ہے۔ اس پر انھوں نے لفظ نبوت کا استعمال کیا۔ اور گھوڑے، گدھے، بلی، چھپکلی، چمگادڑ، الو، اور شہد کی مکھی تک میں اسکو جاری مانتے ہیں۔ کیا یہ نبی ہیں؟ ظاہر ہے کہ اس سے وہ صرف رہنمائی مراد لے رہے ہیں کہ یہ رہنمائی و ہدایت تو باری تعالیٰ ان جانوروں کو بھی کرتے ہیں۔

مندرجہ بالا اقتباس سے یہ حقیقت صاف واضح ہوجاتی ہے کہ حضرت شیخ اکبر تشریعی اور غیر تشریعی نبوت کا جو جو فرق بیان کرتے ہیں ان کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ حضور ﷺ کے بعد کسی کو نبوت مل سکتی ہے۔ لیکن تشریعی نہیں ہوسکتی۔ بلکہ وہ تو یہ فرماتے ہیں کہ جو وحی، نبی یا رسول پر ناز ل ہوتی ہے وہ تشریعی ہی ہوتی ہے۔ اس میں اوامر ونواہی ہوتے ہیں۔ حضور ﷺ کے بعد کسی پر وحی تشریعی نازل نہ ہوگی۔ اس لئے حضور ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں ہوسکتا۔ البتہ اللہ کے نبی حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہونگے اور وہ بھی شریعت محمدیہ پر عمل کریں گے۔ نیز نبوت کا ایک جز قیامت تک باقی ہے جسے مبشرات کہتے ہیں۔ اور بعض خواص کو الہام اور وحی ولایت ہوسکتی ہے لیکن کسی پر رسول اور نبی کا لفظ ہرگز نہیں بولا جاسکتا۔ چنانچہ فرماتے ہیں ”اسم النبی زال بعد رسول الله ﷺ فانه زال التشريع المنزل من عند الله بالوحی بعده ﷺ(فتوحات مکیہ ج۱ ص ۵۸ باب ۷۳ سوال ۲۵)

صفحہ ۲۰۵

اسی طرح آنحضرت ﷺ کے بعد نبی کا لفظ کسی پر نہیں بولا جاسکتا۔ کیوں کہ آپ کے بعد وحی جو تشریعی صورت صرف نبی پر آتی ہے، ہمیشہ کے لئے ختم ہوچکی ہے۔ مطلب واضح ہے کہ نبی وہ ہوتا ہے جو تشریعی احکام لاتا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد احکام شرعیہ (اوامر و نواہی) کا نزول ممتنع اور محال ہے اس لئے کسی پر لفظ نبی کا اطلاق نہیں ہو سکتا۔

تنقیح موضوع

لے دے کے چند عبارات ہیں جن میں تاویل و تحریف کے ہاتھ صاف کرتے ہوئے مرزائی پنڈت انھیں آنحضرت ﷺ کے بعد نئے نبی پیدا ہونے کی دلیل بناتے ہیں۔ حالانکہ یہ لوگ آج تک ان عبارات میں سے ایک بھی عبارت ایسی نہیں پیش کر سکے جن میں ان کے مدعا کے مطابق حسب ذیل باتیں پائی جاتی ہوں۔

ہونے کی صراحت موجود ہو۔

امت کے بعض افراد کے لئے منصب نبوت پانے کی خبر ہو۔

۱؎ جیسا کہ علامہ طاہر پٹنی نے حضرت عائشہ صدیقہؓ کی روایت "قولوا انه خاتم الانبیاء و لا تقولوا لا نبی بعده" نقل کرنے کے بعد ساتھ ہی یہ بھی لکھ دیا ہے "وهذا ناظر الی نزول عیسی بن مریم" اس طرح ملا علی قاریؒ نے موضوعات کبیر میں اس نبی کی آمد کو جو آپ کی شریعت کو منسوخ نہ کرے اسے آپ ﷺ کی ختم نبوت کے خلاف نہیں کہا ، ہاں تشبیہ کے طور پر حضرت عیسیٰ ، حضرت خضر اور حضرت الیاس علیہم السلام کے نام لکھ دیئے ہیں کہ اگر حضرت عمرؓ یا حضرت ابراہیم کو حضور کے بعد نبی ہونے ہوتے تو انھیں نبوت حضور ﷺ سے پہلے ملی ہوتی ۔ جس طرح حضرت عیسیٰ ، حضرت خضر، حضرت الیاس کو ملی ہوئی ہے ۔ کیوں کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کسی کو نبوت نہیں ملی ہے گو غیر تشریعی کیوں نہ ہو ۔ اس لئے کہ یہ یقیناً آیت خاتم النبیین اور حدیث لا نبی بعدی کے خلاف ہے۔

صفحہ ۲۰۶

کی نبوت سے غیر متصادم کہا گیا ہو۔ اور اسے دعویٰ سے پیش کیا جائے کہ کسی نئے غیر تشریعی نبی کی نبوت حضور ﷺ کی ختم زمانی کے منافی نہیں ۱؎

ان چار شرطوں کے ساتھ آج تک مرزائی پنڈت اجرائے نبوت کے ثبوت میں ایک عبارت بھی اپنے دعویٰ کے مطابق پیش نہیں کر سکے ۔ لہٰذا اصولاً ہمارے ذمہ مرزائیوں کے کسی استدلال کا جواب نہیں ۔ کیوں کہ مدعی اپنے دعوے کو صحیح صورت میں پیش نہ کر سکے ۔ اور جس کے پاس اپنے دعویٰ کے مطابق ایک بھی دلیل نہ ہو تو مدعا علیہ کے ذمے کوئی جواب نہیں ہوتا ۔

قادیانیوں کا منہ بند

تاہم مرزائیوں کا منہ بند کرنے کے لئے یہ دو حوالے زیر نظر ہیں ۔

”اقوال سلف و خلف در حقیقت کوئی مستقل حجت نہیں

(ازالہ اوہام خ ص ۳۸۹ ج ۳)

”نبی کی وہ تعریف جس کی رو سے آپ (مرزا قادیانی ) اپنی نبوت کا انکار کرتے رہے ہیں یہ ہے کہ نبی وہی ہو سکتا ہے جو کوئی نئی شریعت لائے یا پچھلی شریعت کے بعض احکام کو منسوخ کرے یا یہ کہ اس نے بلا واسطہ نبوت پائی اور کسی دوسرے نبی کا متبع نہ ہو اور یہ تعریف عام طور پر مسلمانوں میں مسلم تھی“

(حقیقت النبوۃ ص ۱۲۲)

لیجئے! مرزا محمود نے خود تسلیم کر لیا کہ اہل اسلام کے نزدیک صرف ایک ہی نبوت تھی یعنی تشریعی ۔ (غیر تشریعی ان کے ہاں صرف ولایت تھی مگر اس پر نبوت کے نام کا ان کے نزدیک بھی اطلاق درست نہ تھا )

۱؎ حضرت مولانا قاسم نانوتویؒ کی بات ختم نبوت مرتبی کے سیاق میں کہی گئی ہے جسے قادیانی خیانت کے طور پر ختم نبوت زمانی بنا کر پیش کرتے ہیں اور مولانا کی جانب منسوب کر کے کہتے ہیں کہ اگر حضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی پیدا ہو تو اس سے ختم نبوت زمانی میں کوئی فرق نہیں آئے گا (استغفر اللہ ) یہاں ختم نبوت زمانی کا کوئی ذکر نہیں ۔ بات بدل کر لوگوں کو مغالطہ دینا یہی دجل کہلاتا ہے ۔

صفحہ ۲۰۷

اس باب میں مزید تفصیلات کے لئے ، مناظر اسلام حضرت مولانا لال حسین اختر کا رسالہ ”ختم نبوت اور بزرگان امت“۔بقیۃ السلف حضرت مولانا محمد نافع مدظلہ کا رسالہ ”مسئلہ ختم نبوت اور سلف صالحین“ اور مناظر اسلام حضرت مولانا علامہ خالد محمود مدظلہ کی کتاب ”عقیدۃ الامۃ فی معنی ختم النبوۃ“ سے استفادہ کیا جاسکتا ہے۔

مرزائی جماعت سے چند سوال؟

یہ مسئلہ فریقین میں مسلم ہے کہ تشریعی نبوت کا دعویٰ کفر ہے۔ خود مرزا قادیانی کی تصریحات اس پر موجود ہیں کہ جو شخص تشریعی نبوت کا دعویٰ کرے....... وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔

(مجموعہ اشتہارات ص ۴۳۰، ۴۳۱ ج ۱)

اختلاف صرف نبوت مستقلہ کے بارے میں ہے کہ آیا وہ جاری ہے یا وہ بھی ختم ہو گئی۔ اس لئے اب اس کے متعلق فریق مخالف سے چند سوالات ہیں۔

خود صراحۃً تشریعی نبوت کا دعویٰ کیا۔ کیا یہ صریح تعارض اور تناقض نہیں؟ کیا مرزا اپنے اقرار سے کافر نہ ہوا؟

خاتم النبیین میں یہ تاویل کرنے اور غیر تشریعی نبی مراد لینے سے کیا فائدہ؟

معلوم ہوتا ہے اس کے برعکس کوئی ایک روایت بھی ایسی نہیں کہ جس میں یہ بتلایا گیا ہو کہ حضور اکرم ﷺ کے بعد نبوت غیر مستقلہ کا سلسلہ جاری رہیگا۔ اگر ہے تو اسے پیش کیا جائے؟

نبی کیوں نہ بنے؟

اولیاء، عارفین، اقطاب و ابدال، مجددین میں سے کوئی ایک شخص ایسا نہ گزرا جو علم و فہم ولایت و معرفت میں مرزا کے ہم پلہ ہوتا؟ اور نبوت غیر مستقلہ کا منصب پاتا۔ کیا رسول اللہ ﷺ کی ساری امت میں سوائے قادیان کے دہقان کے کوئی بھی نبوت کے قابل نہ نکلا؟

صفحہ ۲۰۸

میں سے تشریعی نبوت کے مدعی تھے جیسے صالح بن ظریف اور بہاء اللہ ایرانی اور بعض غیر تشریعی نبوت کے مدعی تھے جیسے ابو عیسیٰ وغیرہ۔ تو ان سب کے جھوٹا ہونے کی کیا دلیل ہے۔؟

☆ ☆ ☆

رد قادیانیت کے موضوع پر قابل مطالعہ شاہی کتب خانہ کی پیش کش

محمدیہ پاکٹ بک ایک ایسی کتاب ہے!

جس میں ناقابل تردید مرزائی پیشین گوئیاں جمع کی گئی ہیں اس کتاب میں مسئلہ ختم نبوت، حیات مسیح اور رفع ونزول مسیح علیہ السلام وغیرہ متعلقہ مسائل پر بھی دلچسپ بحثیں ہیں۔

یہ کتاب صحیح مناظرانہ اصولوں پر لکھی گئی ہے طریقہ استدلال پرزور ، طرز ادا دلچسپ اور لب ولہجہ متین اور سنجیدہ ہے۔

قادیانیوں کے مقابل عام گفتگو اور مناظروں میں نہایت کام آنے والی کتاب ہے۔

(خلاصہ اسلامک پریس کی رائے)

ہندی زبان میں نیا ایڈیشن زیر طبع قیمت : -/۹۰

مرزا قادیانی کے بیس جھوٹ

مرزا قادیانی نے اپنی پیشین گوئیوں کو اپنے صدق وکذب کا معیار بتایا ہے۔ اس کے پیش نظر قادیانیوں کو لاجواب کرنے کیلئے یہ کتابچہ مرتب کیا گیا ہے۔ اردو اور ہندی دونوں زبانوں میں دستیاب ہے۔

قیمت : -/۵ روپیہ