قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر بحث کی مصدقہ رپورٹ جلد 4 · مولانا اللہ وسایا
Komi Asambli Qadiyani Mosadka Report · Vol. 4 · Moulana Allaha Vasaya
PDF 1

لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ

قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر بحث کی

مصدقہ رپورٹ

تحقیق و تخریج

حضرت مولانا اللہ وسایا مدظلہ

جلد چہارم

١٣، ١٤، ١٥

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوّت ، ملتان

PDF 2

قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر بحث کی

مصدقہ رپورٹ

جلد چہارم

١٣، ١٤، ١٥

تحقیق و تخریج

حضرت مولانا اللہ وسایا مدظلہ

مبلغ

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، ملتان

صفحہ ١٦٩٨

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ !

فہرست ...... حصہ نمبر 13

حضرت عیسیٰ علیہ السلام تشریعی نبی تھے یا غیر تشریعی؟ 1714 لغت کی کاپی جیب میں؟ 1718 مرزا قادیانی ایک پہلو سے نبی ایک پہلو سے امتی 1719 مرزا قادیانی کے اقوال میں تضاد ہے 1728 آپ کا لیکچر؟ 1729 میں نبی کہوں گا، تم محدث سمجھو 1746 قادیانیوں اور لاہوریوں میں کوئی فرق نہیں 1755 نوے سال کسی کی نہیں مانی 1765 اپنے نبی کی بات نہیں مانی 1765 قرآن وحدیث کو نہیں مانا 1765 چڑیا گھر؟ 1765 قادیانی رسالہ فرقان غیر ذمہ دار ہے 1770 قتل مرتد کا مسئلہ؟ 1772 انبیاء کی توہین 1777 اہل بیت کی توہین 1782 مردہ علیؓ 1782 سیدنا حسینؓ 1783 ہر چیز دو قسم ہے 1785 مرزا قادیانی کا مخالف جہنمی 1785 مخالف کنجریوں کی اولاد 1786

1699 1787 1789 اعلان 1792 1793 1794 1794 1794 1802 1804 1808 1810 1817 1818 1819 1819 1820

حصہ نمبر 14

1836 1836 1837 نوٹ 1844 1845 1846 احمد قادیانی کی رائے 1846

صفحہ ١٦٩٩

مرزا قادیانی نے گالی دی 1787 ”بغایا“ کا معنی مرزا قادیانی کی کتب سے 1789 مجھے مانو، ورنہ ولد الحرام، مرزا قادیانی کا اعلان 1792 اسلام سے مراد مرزا قادیانی کا اسلام؟ 1793 مرزا قادیانی نے واقعی گالی دی 1794 انگریز کی اطاعت ایمان کا حصہ 1794 جواب سے گریز کا فیصلہ؟ 1794 قادیانی جماعت جائے بھاڑ میں 1802 مرزا قادیانی لمبی بات کرتا تھا 1804 مرزا محمود کی بیعت؟ 1808 مرزا ناصر کے الیکشن میں اختلاف؟ 1810 آخری بات بھی صاف نہیں کی؟ 1817 آپ نے صحیح جواب نہیں دیا 1818 تین مرتبہ سوال ہوا، مگر حتمی جواب نہیں آیا 1819 مرزا قادیانی کا منکر حقیقی مسلمان نہیں 1819 پاکستان میں احمدیوں کی آبادی؟ 1820

فہرست ...... حصہ نمبر 14

عام بحث 1836 بحث کے ساتھ تجاویز بھی 1836 سات قراردادیں 1837 آغاز تقریر مولانا مفتی محمود 1844 ملت اسلامیہ کا موقف 1845 مصور پاکستان کی فریاد 1846 مرزا غلام احمد قادیانی کے صاحبزادے مرزا بشیر احمد قادیانی کی رائے 1846

فہرس

حضرت عیسیٰ علیہ السلام تشریعی نبی لغت کی کاپی جیب میں؟ مرزا قادیانی ایک پہلو سے نبی آ مرزا قادیانی کے اقوال میں تضا آپ کا لیکچر؟ میں نبی کہوں گا تم محدث سمجھو قادیانیوں اور لاہوریوں میں کو نوے سال کسی کی نہیں مانی اپنے نبی کی بات نہیں مانی قرآن وحدیث کو نہیں مانا چڑیا گھر؟ قادیانی رسالہ فرقان غیر ذمہ دار قتل مرتد کا مسئلہ؟ انبیاء کی توہین اہل بیت کی توہین مردہ علیؓ سیدنا حسینؓ ہر چیز دو قسم ہے مرزا قادیانی کا مخالف جہنمی مخالف کنجریوں کی اولاد

صفحہ ١٧٠١

امیر جماعت لاہور محمد علی لاہوری صاحب کا ایک قول 1847 محرکین قرارداد 1848 مرزا صاحب کے درجہ بدرجہ دعوے 1852 مرزا صاحب کا آخری عقیدہ 1854 غیر تشریعی نبوت کا افسانہ 1854 مرزا صاحب کا دعویٰ نبوت تشریعی 1855 ختم نبوت میں کوئی تفریق نہیں 1856 ختم نبوت اور نزول مسیح 1858 ظلی اور بروزی نبوت کا افسانہ 1860 آنحضرت ﷺ ہونے کا دعویٰ 1860 مرزا صاحب پچھلے نبیوں سے افضل 1861 خاتم النبیین ماننے کی حقیقت 1862 آنحضرت ﷺ سے بھی افضل 1863 ہر شخص آنحضرت ﷺ سے بڑھ سکتا ہے 1864 دعوائے نبوت کا منطقی نتیجہ 1865 خود مرزائیوں کا عقیدہ کہ وہ الگ ملت ہیں 1868 مرزا غلام احمد صاحب کی تحریریں 1868 مرزائی خلیفہ اوّل حکیم نور الدین کے فتوے 1870 خلیفہ دوم مرزا محمود احمد کے فتاویٰ 1870 مرزا بشیر احمد، ایم۔اے کے اقوال 1871 محمد علی لاہوری صاحب کے اقوال 1872 مسلمانوں سے عملی قطع تعلق 1873 غیر احمدی کے پیچھے نماز 1873

سیاہ 1874 1874 1875 قرار دینے کا مطالبہ 1875 میں ایک ضروری تنبیہ 1876

فہرست ...... حصہ نمبر 15

1882 1883 میں کوئی فرق نہیں 1885 1886 1889 1891 ...... ایک نظر میں 1893 اور گستاخیاں 1893 1893 تاخیاں 1894 ایر 1896 1897 ں گستاخی 1899 1900 1900 1901 یا فہمی 1905

صفحہ ١٧٠١

غیر احمدیوں کے ساتھ شادی بیاہ 1874 غیر احمدیوں کی نماز جنازہ 1874 قائد اعظم کی نماز جنازہ 1875 خود اپنے آپ کو الگ اقلیت قرار دینے کا مطالبہ 1875 مرزائی بیانات کے بارے میں ایک ضروری تنبیہ 1876

فہرست ...... حصہ نمبر 15

لاہوری جماعت کی حقیقت 1882 لاہوری جماعت کا حلفیہ بیان 1883 قادیان اور لاہوری جماعتوں میں کوئی فرق نہیں 1885 نبی نہ ماننے کی حقیقت 1886 تکفیر کا مسئلہ 1889 لاہوری جماعت کی وجوہ کفر 1891 مرزائی نبوت کی جھلکیاں ...... ایک نظر میں 1893 مرزائیوں کے مزید کفریات اور گستاخیاں 1893 اللہ تعالیٰ کے بارے میں 1893 قرآن کریم کی تحریف اور گستاخیاں 1894 مرزائی ”وحی“ قرآن کے برابر 1896 انبیاء علیہم السلام کی توہین 1897 آنحضرت ﷺ کی شان میں گستاخی 1899 صحابہؓ کی توہین 1900 اہل بیتؓ کی توہین 1900 شعائر اسلامی کی توہین 1901 مرزا صاحب کی پیشین گوئیاں 1905

امیر جماعت لاہو محرکین قرارداد مرزا صاحب کے درجہ مرزا صاحب کا آخری غیر تشریعی نبوت کا افسا مرزا صاحب کا دعویٰ نبو ختم نبوت میں کوئی تفر ختم نبوت اور نزول مسیح ظلی اور بروزی نبوت کا آنحضرت ﷺ ہونے مرزا صاحب پچھلے نبیوں خاتم النبیین ماننے کی حق آنحضرت ﷺ سے بھی ہر شخص آنحضرت ﷺ دعویٰ نبوت کا منطقی نتیج خود مرزائیوں کا عقیدہ کہ مرزا غلام احمد صاحب کی مرزائی خلیفہ اوّل حکیم نو خلیفہ دوم مرزا محمود احمد مرزا بشیر احمد، ایم اے۔ محمد علی لاہوری صاحب مسلمانوں سے عملی قطع تع غیر احمدی کے پیچھے نماز

صفحہ ١٧٠٣

محمدی بیگم سے نکاح 1905 آتھم کی موت کی پیشین گوئی 1907 قادیان میں ماتم 1908 تمہی کہو کہ یہ انداز گفتگو کیا ہے؟ 1909 علماء کو گالیاں 1909 مسلمانوں کو گالیاں 1910 عالم اسلام کا فیصلہ 1911 فتاویٰ 1911 پاکستان کے ٣٣ علماء کا مطالبہ ترمیم 1912 رابطہ عالم اسلامی کی قرارداد 1913 ترجمہ قرارداد 1914 عدالتوں کے فیصلے 1916 فیصلہ مقدمہ بہاول پور 1916 مدراس ہائیکورٹ وغیرہ کے فیصلے کا جواب 1919 فیصلہ مقدمہ راولپنڈی 1920 مقدمہ جیمس آباد کا فیصلہ 1921 ماریشس سپریم کورٹ میں سب سے بڑا مقدمہ 1922 مصور پاکستان علامہ اقبال کی رائے 1923 ضمیمہ ....... بعض مرزائی مغالطے 1925 چند شبہات کا ازالہ 1925 کلمہ گو کی تکفیر کا مسئلہ 1925 مسلمانوں کی باہم تکفیر کے فتوے اور ان کی حقیقت 1928 دو روایتیں 1931

1936 1937 1937 1939 1940 یف 1941 1942 1943 1944 1945 1945 1945 1946 حالت 1947 1948 خاندان 1948 1951 1954 1958 قت 1959 1961 1962 1962

صفحہ ١٧٠٣

قرآن کریم کی ایک آیت 1936 بعض صوفیاء کے غلط حوالے 1937 دین میں اقوال سلف کی حقیقت 1937 صوفیاء کرام کا اسلوب 1939 مرزائی مذہب میں اقوال سلف کی حقیقت 1940 مجدد الف ثانی کی عبارت میں مرزا کی صریح تحریف 1941 ملا علی قاری 1942 شیخ ابن عربی اور شیخ شعرانی 1943 مرزائیت کی اسلام دشمنی 1944 سیاسی پس منظر 1945 یورپی استعمار اور مرزائیت 1945 اٹھارہویں صدی کا نصف آخر اور یورپی استعمار 1945 انگریز اور برصغیر 1946 مرزا صاحب کے نشوونما کا دور اور عالم اسلام کی حالت 1947 ایک حواری نبی کی ضرورت 1948 سامراجی ضرورتیں ...... مرزا صاحب اور ان کا خاندان 1948 اسلام کے ایک قطعی عقیدہ جہاد کی تنسیخ 1951 مرزائی تاویلات کی حقیقت 1954 اسلامی جہاد منسوخ مگر مرزائی جہاد جائز 1958 مرزا غلام احمد اور مرزائیوں کی تبلیغی خدمات کی حقیقت 1959 تصنیفی ذخیرہ 1961 مرزائیت اور عالم اسلام 1962 سامراجی عزائم کی تکمیل 1962

محمدی بیگم سے نکاح آتھم کی موت کی پیشین گوئی قادیان میں ماتم تمہی کہو کہ یہ انداز گفتگو کیا ہے؟ علماء کو گالیاں مسلمانوں کو گالیاں عالم اسلام کا فیصلہ فتاویٰ پاکستان کے ٣٣ علماء کا مطالبہ ترمیم رابطہ عالم اسلامی کی قرارداد ترجمہ قرارداد عدالتوں کے فیصلے فیصلہ مقدمہ بہاول پور مدراس ہائیکورٹ وغیرہ کے فیصلے کا فیصلہ مقدمہ راولپنڈی مقدمہ جیمس آباد کا فیصلہ ماریشس سپریم کورٹ میں سب سے مصور پاکستان علامہ اقبال کی رائے ضمیمہ ...... بعض مرزائی مغالطے چند شبہات کا ازالہ کلمہ گو کی تکفیر کا مسئلہ مسلمانوں کی باہم تکفیر کے فتوے اور دو روایتیں

صفحہ ١٧٠٣

قرآن کریم کی ایک آیت 1936 محمدی بیگم سے نکاح بعض صوفیاء کے غلط حوالے 1937 آتھم کی موت کی پیشین گوئی دین میں اقوال سلف کی حقیقت 1937 قادیان میں ماتم صوفیاء کرام کا اسلوب 1939 تہیہ ہو کہ یہ انداز گفتگو کیا ہے مرزائی مذہب میں اقوال سلف کی حقیقت 1940 علماء کو گالیاں مجدد الف ثانی کی عبارت میں مرزا کی صریح تحریف 1941 مسلمانوں کو گالیاں ملا علی قاری 1942 عالم اسلام کا فیصلہ شیخ ابن عربی اور شیخ شعرانی 1943 فتاویٰ مرزائیت کی اسلام دشمنی 1944 پاکستان کے ٣٣ علماء کا متفقہ فیصلہ سیاسی پس منظر 1945 رابطہ عالم اسلامی کی قرارداد یورپی استعمار اور مرزائیت 1945 ترجمہ قرارداد اٹھارہویں صدی کا نصف آخر اور یورپی استعمار 1945 عدالتوں کے فیصلے انگریز اور برصغیر 1946 فیصلہ مقدمہ بہاول پور مرزا صاحب کے نشو و نما کا دور اور عالم اسلام کی حالت 1947 مدراس ہائیکورٹ وغیرہ کے فیصلے ایک حواری نبی کی ضرورت 1948 فیصلہ مقدمہ راولپنڈی سامراجی ضرورتیں ...... مرزا صاحب اور ان کا خاندان 1948 مقدمہ جیمس آباد کا فیصلہ اسلام کے ایک قطعی عقیدہ جہاد کی تنسیخ 1951 ماریشس سپریم کورٹ میں مقدمہ مرزائی تاویلات کی حقیقت 1954 مصور پاکستان علامہ اقبال کا ایک خط اسلامی جہاد منسوخ، مگر مرزائی جہاد جائز 1958 ضمیمہ ...... بعض مرزائی اصطلاحات مرزا غلام احمد اور مرزائیوں کی تبلیغی خدمات کی حقیقت 1959 چند شبہات کا ازالہ تصنیفی ذخیرہ 1961 کلمہ گو کی تکفیر کا مسئلہ مرزائیت اور عالم اسلام 1962 مسلمانوں کی باہم تکفیر کے حوالے سامراجی عزائم کی تکمیل 1962 دو روایتیں

صفحہ ١٧٠٤

عراق و بغداد 1962 فتح عراق کے بعد پہلا مرزائی گورنر 1963 مسئلہ فلسطین اور قیام اسرائیل سے لے کر اب تک 1963 اسرائیل مشن 1966 تفصیل آمد خرچ مشنہائے بیرون 1967 اسرائیل مشن 1968 مرزائیت اور یہودیت کا باہمی اشتراک 1971 خلافت عثمانیہ اور ترکی 1974 افغانستان 1975 جمعیۃ الاقوام سے افغانستان کے خلاف مداخلت کی اپیل 1975 امیر امان اللہ خان نے نادانی سے انگریزوں کے خلاف جنگ شروع کی 1976 جنگ کابل میں مرزائیوں کی انگریزوں کو معقول امداد 1976 افریقی ممالک میں استعماری اور صیہونی سرگرمیاں 1976 افریقہ میں صیہونیت کا ہر اول دستہ 1979 لاکھوں کروڑوں کا سرمایہ 1979 مسلمانان برصغیر کی فلاح و بہبود کی تنظیمیں اور مرزائیوں کا کردار 1981 اکھنڈ بھارت...... ہندو اور قادیانی دونوں کو ایک دوسرے کی ضرورت کا احساس 1983 قیام پاکستان کی مخالفت کے اسباب 1985 تقسیم ہند کے مسلمان مخالف 1987 کسی نہ کسی طرح پھر متحد ہونے کی کوشش 1988 ویٹیکن سٹیٹ کا مطالبہ ...... پاکستان کی حد بندی کے موقع پر غداری 1989 سیاسی عزائم اور منصوبے ...... ملک دشمن سیاسی سرگرمیاں 1992 مذہبی نہیں سیاسی تنظیم 1992

1705 منصوبہ 1993 1994 قبضہ کرنے کا منصوبہ 1995 علیحدگی کے دلائل 1996 1997 1998 1998 لین 1999 و متوازی فوجی تنظیم 2001 2003 2004 ہاپور 2007 ے اس فیصلے کا خیر مقدم 2008 2015 2015 2016 2017 2021 2027 2028 2030 2031 2031

صفحہ ١٧٠٥

پاکستان میں قادیانی ریاست کا منصوبہ 1993 عراق و بغداد سر ظفر اللہ خاں کا کردار 1994 فتح عراق کے بعد پہلا مرزائی گورنر تمام محکموں اور کلیدی مناصب پر قبضہ کرنے کا منصوبہ 1995 مسئلہ فلسطین اور قیام اسرائیل سے لے کر اس کلیدی مناصب کی اہمیت اور مطالبہ علیحدگی کے دلائل 1996 اسرائیل مشن متوازی نظام حکومت 1997 تفصیل آمد خرچ مطبعہائے بیرون بلوچستان پر قبضے کا منصوبہ 1998 اسرائیل مشن کشمیر 1998 مرزائیت اور یہودیت کا باہمی اشتراک 1948ء کی جنگ کشمیر اور فرقان بٹالین 1999 خلافت عثمانیہ اور ترکی فرقان فورس، ایک احمدی بٹالین اور متوازی فوجی تنظیم 2001 افغانستان خلاصہ کلام 2003 جمعیۃ الا قوام سے افغانستان کے خلاف مداخ آخری دردمندانہ گزارش 2004 امیر امان اللہ خان نے نادانی سے انگریزوں ضمیمہ نمبر 1 ..... فیصلہ مقدمہ بہاول پور 2007 جنگ کابل میں مرزائیوں کی انگریزوں کو م علماء اور اکابرین ملت کی طرف سے اس فیصلے کا خیر مقدم 2008 افریقی ممالک میں استعماری اور صہیونی سر فیصلہ مقدمہ بہاول پور 2015 افریقہ میں صہیونیت کا ہر اول دستہ بنائے مقدمہ 2015 لاکھوں کروڑوں کا سرمایہ خاوند قادیانی 2016 مسلمانان برصغیر کی فلاح و بہبود کی تنظیمیں تنقیحات مقدمہ 2017 اکھنڈ بھارت ....... ہندو اور قادیانی دونوں کا مزید تنقیحات مقدمہ 2021 قیام پاکستان کی مخالفت کے اسباب قادیانی یا احمدی مذہب کی حقیقت 2027 تقسیم ہند کے مسلمان مخالف نزول مسیح کا انکار 2028 کسی نہ کسی طرح پھر متحد ہونے کی کوشش مدعا علیہ کا مؤقف 2030 ویٹیکن سٹیٹ کا مطالبہ ....... پاکستا ایمان و کفر؟ 2031 سیاسی عزائم اور منصوبے ....... ملک د تواتر کی اقسام 2031 مذہبی نہیں سیاسی تنظیم

صفحہ ١٧٠٦

1707 دائرہ اسلام سے خارج ہیں 2133 2137 2137 2138 2140 2140 2141 2141 2142 2143 2143 2143 2143 2144 2144 2144 2144 2144 2145 2147 2147 2147 2148

ختم نبوت کے دلائل 2032 ضروریات دین 2033 تواتر اور مرزا صاحب 2034 معقولیت کس میں ہے؟ 2036 قادیانیوں کے وجوہ کفر 2037 قادیانی عبارتوں کے نتائج 2041 ختم نبوت اور احادیث 2049 سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی توہین 2053 توہین انبیاء کے حوالہ جات 2058 خلاف شرع قادیانی عقائد 2065 قادیانیوں کے متعلق فتویٰ جات 2068 احمدی حضرات کا موقف 2070 بزرگان دین کے حوالے 2082 بقاء وحی 2088 نبوت جاری کے موقف کا تجزیہ 2091 ظلی و بروزی 2101 تمام امت کی تکفیر 2113 دین یا تماشہ؟ 2121 اہل قبلہ 2123 ارکان اسلام 2123 99 وجوہ کفر 2124 خلاصہ بحث 2129 فیصلہ 2131

صفحہ ١٧٠٧

ضمیمہ نمبر:٢......مقدمہ راولپنڈی کا فیصلہ......مرزائی دائرہ اسلام سے خارج ہیں 2133 ختم نبوت کے دلائل شادی باطل تھی 2137 ضروریات دین احمدی عورت سے شادی ممکن ہے؟ 2137 تواتر اور مرزا صاحب ”ماتحت عدالت کا فیصلہ“ 2138 معقولیت کس میں ہے؟ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے افضل ہونے کا دعویٰ 2140 قادیانیوں کے وجوہ کفر سب مسلمان کافر ہیں 2140 قادیانی عبارتوں کے نتائج ایک اور فاضل جج کا فیصلہ 2141 ختم نبوت اور احادیث کیا قادیانی اہل کتاب ہیں؟ 2141 سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی توہین مرزا غلام احمد جھوٹا نبی ہے 2142 توہین انبیاء کے حوالہ جات مرزا صاحب کا مامور من اللہ ہونے کا دعویٰ 2143 خلاف شرع قادیانی عقائد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کا انکار 2143 قادیانیوں کے متعلق فتویٰ جات مثیل عیسیٰ ہونے کا دعویٰ 2143 احمدی حضرات کا مؤقف مسلمانوں میں اضطراب 2143 بزرگان دین کے حوالے دعویٰ مہدویت 2144 بقاء وحی جہاد حرام ہے 2144 نبوت جاری کے مؤقف کا تجزیہ ظلی نبی ہونے کا دعویٰ 2144 ظلی و بروزی مثیل کرشن ہونے کا دعویٰ 2144 تمام امت کی تکفیر مسلمانوں سے الگ مردم شماری 2144 دین یا تماشہ؟ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ آخری نبی ہیں 2145 اہل قبلہ مسلمانوں کی طرف سے جواب 2147 ارکان اسلام ایک اور مسیلمہ کذاب 2147 ٩٩ وجوہ کفر شریعت سے ایک انچ ہٹنے والا ”ملعون“ ہے 2147 خلاصہ بحث نبوت مرزا کی نوعیت 2148 فیصلہ

صفحہ ١٧٠٨

ادعائے نبوت کے حوالے 2151 انگریزوں کی پالیسی 2152 انگریز کی مدح و ثناء 2153 قادیانی اور پاکستان 2153 مسئلہ جہاد 2154 ناسخ منسوخ 2157 مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان 2159 ضمیمہ نمبر: ٣...... پاکستانی عدلیہ کا محققانہ فیصلہ، مرزائی مرتد و کافر ہیں 2162 تنسیخ نکاح کے مقدمہ کے فیصلہ کے متن کا ترجمہ 2167 احمدیت کی تاریخ 2175 انگریزوں کے آلہ کار 2177 علامہ اقبال کا مشورہ 2186 امتی نبی کا تصور 2186 احمدیت کے بارے میں علامہ اقبال کا نظریہ 2187 ضمیمہ نمبر: ٤...... مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے تاریخی مقدمہ کا فیصلہ 2193 مرزا اور مرزائیت 2194 قادیانیت کی تاریخ 2194 قادیانیوں کا تمرد اور شورہ پشتی 2195 سزائے اخراج 2195 عبدالکریم کی مظلومی اور محمد حسین کا قتل 2196 محمد حسین کے قاتل کا رتبہ مرزائیوں کی نظر میں 2196 مرزا محمود کی دروغ گوئی 2197 عدالت عالیہ کی توہین 2197

1709 2197 زا کی دشنام طرازی 2198 2198 2198 مقناطیسی جذب 2199 2199 2200 2201 2201 2201 2201 2202 2202 2202 2203 یں، قومی اسمبلی کو فیصلہ کرنے کا حق حاصل ہے 2204 2205 2208 2208 2209 2209 شاد سے دھوکہ 2210 ہاں 2211 کا حکم 2211

صفحہ ١٧٠٩

محمد امین کا قتل 2197 قادیان کی صورت حالات اور مرزا کی دشنام طرازی 2198 حکومت مفلوج ہو چکی تھی 2198 تبلیغ کانفرنس کا مقصد 2198 مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری کا مقناطیسی جذب 2199 تقریر پر اعتراض 2199 عدالت کا استدلال 2200 تنقید کی جائز حدود 2201 مرزائی اور مسلمان 2201 تقریر کے اثرات 2201 تقریر کی قابل اعتراض نوعیت 2202 شراب اور مرزا 2202 عدالت کا تبصرہ 2202 فیصلہ 2203 مرزائی قطعی کافر اور غیر مسلم اقلیت ہیں، قومی اسمبلی کو فیصلہ کرنے کا حق حاصل ہے 2204 مرزائیوں کو جواب 2205 مرزا ناصر احمد صاحب کا اقرار 2208 فرضی باتیں 2208 مسلمانوں کو ڈراوا 2209 ایک خطرناک دھوکہ 2209 لا اکراہ فی الدین کے قرآنی ارشاد سے دھوکہ 2210 آیت کریمہ سے غلط مطلب براری 2211 سلام کرنے والے کو مومن نہ کہنے کا حکم 2211

ادعائے نبوت کے حوالے انگریزوں کی پالیسی انگریز کی مدح و ثناء قادیانی اور پاکستان مسئلہ جہاد ناسخ منسوخ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان ضمیمہ نمبر: ٣...... پاکستانی عد تنسیخ نکاح کے مقدمہ کے فی احمدیت کی تاریخ انگریزوں کے آلہ کار علامہ اقبال کا مشورہ امتی نبی کا تصور احمدیت کے بارے میں علام ضمیمہ نمبر: ٤...... مولانا سید عط مرزا اور مرزائیت قادیانیت کی تاریخ قادیانیوں کا تمرد اور شورہ پشت سزائے اخراج عبدالکریم کی مظلومی اور محمد حس محمد حسین کے قاتل کا رتبہ مرزا مرزا محمود کی دروغ گوئی عدالت عالیہ کی توہین

صفحہ ١٧١٠

تہتر فرقوں والی حدیث 2212 بہتر اور تہتر فرقے 2213 صفحہ ١١، فضول ہے 2214 مرزا ناصر احمد صاحب سے 2214 مسلمان کی تعریف 2215 دروغ گو را حافظہ نہ باشد 2216 مسلمان کی تعریف میں منقولہ احادیث 2217 جسٹس منیر یا مرزا ناصر احمد صاحب 2220 ان تعریفوں کا اختلاف 2220 مسلمانوں کی تعریف کی تحقیق 2222 شرعی تصدیق 2223 اصل ایمان اور کفر 2223 ایمان وکفر کی نشانیاں 2224 پاک زمانہ 2225 مرزا ناصر احمد کی تردید خود مرزا قادیانی نے کر دی 2226 ساری بحث کا نتیجہ 2226 مرزائیوں کا نیا فریب 2228 یہ ہے تازہ بتازہ فریب 2228 ہمارا چیلنج 2228 ڈوبتے کو تنکے کا سہارا 2229 اتمام حجت 2229 مرزا ناصر احمد سے (سوال) 2231

1711 NATIONAL ASSEM

No. 13

NATIONAL ASSEM

PROCE

THE SPECIAL CO WHOLE HOUSE TO CONSIDER TH

OFFICIA

(Contain

Wednesday, the

CO

PRINTED BY THE MANAGER, PRINTING CO PUBLISHED BY THE NATIONA

صفحہ ١٧١١

1711 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

No. 13 400

THE

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN

PROCEEDINGS

OF

THE SPECIAL COMMITTEE OF THE

WHOLE HOUSE HELD IN CAMERA

TO CONSIDER THE QADIANI ISSUE

OFFICIAL REPORT

(Contain Nos. 1—21)

Wednesday, the 28th August, 1974

CONTENTS

Pages

PRINTED BY THE MANAGER, PRINTING CORPORATION OF PAKISTAN PRESS, ISLAMABAD. PUBLISHED BY THE NATIONAL BOOK FOUNDATION, ISLAMABAD.

1

تہتر فرقوں والی حدیث

بہتر اور تہتر فرقے

صفحہ ١١ فضول ہے

مرزا ناصر احمد صاحب سے

مسلمان کی تعریف

دروغ گو را حافظہ نہ باشد

مسلمان کی تعریف میں منقولہ احا

جسٹس منیر یا مرزا ناصر احمد صاح

ان تعریفوں کا اختلاف

مسلمانوں کی تعریف کی تحقیق

شرعی تصدیق

اصل ایمان اور کفر

ایمان و کفر کی نشانیاں

پاک زمانہ

مرزا ناصر احمد کی تردید خود مرزا قا

ساری بحث کا نتیجہ

مرزائیوں کا نیا فریب

یہ ہے تازہ بتازہ فریب

ہمارا چیلنج

ڈوبتے کو تنکے کا سہارا

اتمام حجت

مرزا ناصر احمد سے (سوال)

صفحہ ١٧١٢

1712 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

No. 13 400

THE NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN

PROCEEDINGS OF THE SPECIAL COMMITTEE OF THE WHOLE HOUSE HELD IN CAMERA TO CONSIDER THE QADIANI ISSUE

OFFICIAL REPORT

Wednesday, the 28th August, 1974

(Contain Nos. 1-21)

٢

1713 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTA

1721 THE NATIONAL ASSEMBLY O (قومی اسمبلی پاکستان)

PROCEEDINGS OF THE SPECIAL COMMITTE WHOLE HOUSE HELD IN TO CONSIDER THE QADI

OFFICIAL REPORT

Wednesday, the 28th August. یوان کی خصوصی کمیٹی بند کمرے کی کارروائی) (٢٨؍ اگست ١٩٧٤ء، بروز بدھ)

The Special Committee of the W Camera in the Assembly Chamber, (Stat Islamabad, at ten of the clock, in t Chairman (Sahibzada Farooq Ali) in the وصی کمیٹی کا اجلاس اسمبلی چیمبر (سٹیٹ بینک بلڈنگ) اسلام آباد صاحبزادہ فاروق علی) کی زیر صدارت منعقد ہوا)

(Recitation from the Holy Qu (تلاوت قرآن شریف)

٣

صفحہ ١٧١٣

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

1721 THE NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN

(قومی اسمبلی پاکستان)

----------

PROCEEDINGS

OF

THE SPECIAL COMMITTEE OF THE

WHOLE HOUSE HELD IN CAMERA

TO CONSIDER THE QADIANI ISSUE.

----------

OFFICIAL REPORT

Wednesday, the 28th August. 1974.

(کل ایوانی خصوصی کمیٹی بند کمرے کی کارروائی)

(٢٨؍ اگست ١٩٧٤ء، بروز بدھ)

----------

The Special Committee of the Whole House met in Camera in the Assembly Chamber, (State Bank Building), Islamabad, at ten of the clock, in the morning. Mr. Chairman (Sahibzada Farooq Ali) in the Chair.

(مکمل ایوان کی خصوصی کمیٹی کا اجلاس اسمبلی چیمبر (سٹیٹ بینک بلڈنگ) اسلام آباد صبح دس بجے جناب چیئرمین (صاحبزادہ فاروق علی) کی زیر صدارت منعقد ہوا)

----------

(Recitation from the Holy Quran)

(تلاوت قرآن شریف)

----------

صفحہ ١٧١٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

Mr. Chairman: Should we call them? They may be called. (جناب چیئرمین: کیا انہیں بلالیں؟ نہیں بلالیں)

(The Delegation entered the Chamber) (وفد ہال میں داخل ہوا)

Mr. Chairman: Yes Mr. Attorney- General (مسٹر چیئرمین: جی اٹارنی جنرل صاحب)

CROSS- EXAMINATION OF THE LAHORI

GROUP DELEGATION

(حضرت عیسیٰ علیہ السلام تشریعی نبی تھے یا غیر تشریعی؟)

جناب یحییٰ بختیار (اٹارنی جنرل پاکستان): صاحبزادہ صاحب! کل کئی چیزوں کا آپ نے ہمیں بتایا۔ مگر میں یہ محسوس کرتا ہوں اور اسمبلی کے بھی اکثر ممبر یہ محسوس کرتے ہیں کہ پوزیشن کئی چیزوں پے واضح نہیں ہوئی۔ اس لئے آپ ذرا مختصراً بعض چیزوں پر اگر پوزیشن واضح ہو سکے، کیونکہ ہمارے سامنے کچھ ایسی گواہی پہلے آچکی ہے کہ بعض چیزوں کا ان سے تضاد ہوتا ہے۔ مثلاً حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی کیا پوزیشن ہے؟ وہ شرعی نبی ہیں یا غیر شرعی نبی ہیں؟

1722 جناب عبدالمنان عمر (گواہ، جماعت احمدیہ، لاہور): حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق ہمارا نقطہ نگاہ یہ ہے کہ ان کو کتاب بھی دی گئی ہے اور وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی پیروی کے بغیر براہ راست نبی تھے۔ لیکن اس اصطلاحی طور پر ان کو ایک کامل، جدید، مکمل شریعت دی گئی ہو۔ ہم ان کو ایسا نبی نہیں سمجھتے ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: وہ غیر شرعی نبی تھے۔ مگر اس کے علاوہ ان کو یہ بھی اختیار دیا گیا تھا کہ وہ کچھ تبدیلیاں کریں اس شرع میں؟

جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں۔

جناب یحییٰ بختیار: یہ پوزیشن یہ ہو گئی، ویسے ہیں وہ غیر شرعی۔ مگر جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شرع تھی۔ اس میں ترمیم، تنسیخ یا کچھ Addition (اضافہ) کرنے کی ان کو......

جناب عبدالمنان عمر: قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: (عربی)

٤

1715 NATIONAL ASSEMB

یا گیا تھا ان کو۔ اب یہ فرمائیے کہ ایک شخص جو ۔ میں ”نبی“ کا لفظ نہیں استعمال کر رہا ہوں۔ نازل ہو جیسی کہ انبیاء پر آتی رہی ہیں اللہ کی ہی ایمان لاتا ہو اور اس وحی کے بعد وہ اگر ایسے ہو جائے تو آپ ان احکام کو منظور کریں گے؟ ون لے آیا ہو؟

شرعی طور پر بالکل ایسا قانون نافذ نہیں ہو سکتا۔ یخ کرتا ہے، تشریح کرتا ہے۔ تو اس کو اس کا حق نے، تمام مفسرین نے اس حق کو تسلیم کیا ہے۔

ماں کے جو علماء ہیں۔ جو ان کے بزرگ اور اولیاء ں ایک رائے ہو اور اگر یہ محدث ان سے مختلف یں تا کہ وہ نہ آئے۔ تو آپ مرزا صاحب کے یہ صحیح ہے؟

مقابلے میں پیش کرنے والا شخص جو ہے۔ اس کی

ے علماء کا کہہ رہا ہوں کہ تیرہ سو سال تک اگر یہ...... ں، میرے علم میں ایسا کوئی واقعہ نہیں۔ وسال سے اگر یہ......

theoretical que (نظری سوال) ہے۔ کہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس پر تیرہ سو سال سے ت احمد بن حنبل کا ایک قول پیش کروں گا کہ ”جو ۔ یہ حضرت امام احمد بن حنبل کی بات میں نے ہے کہ پورے تیرہ سو سال امت کسی ایسے مسئلے

صفحہ ١٧١٥

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

تاکہ میں بعض وہ چیزیں ......

جناب یحییٰ بختیار: یعنی وہ اختیار دیا گیا تھا ان کو۔ اب یہ فرمائیے کہ ایک شخص جو محدث کا دعویٰ کرے اور وہ دعویٰ کو آپ صحیح سمجھے۔ میں 'نبی' کا لفظ نہیں استعمال کر رہا ہوں۔ کیونکہ آپ کہہ رہے ہیں، اور اس پر بھی ایسی وحی نازل ہو جیسی کہ انبیاء پر آتی رہی ہیں اللہ کی طرف سے، اور ایسی ہی پاک ہو اور اس پر وہ ویسے ہی ایمان لاتا ہو اور اس وحی کے بعد وہ اگر ایسے احکام جاری کرے۔ جس سے ملت میں تفریق پیدا ہو جائے۔ تو آپ ان احکام کو منظور کریں گے؟ یہ نیا قانون ہوگا کہ نہیں، جیسے عیسیٰ علیہ السلام نیا قانون لے آیا ہو؟

جناب عبدالمنان عمر: جناب عالی! شرعی طور پر بالکل ایسا قانون نافذ نہیں ہو سکتا۔ 1723 لیکن کوئی شخص اگر شریعت کی تفسیر کرتا ہے، توضیح کرتا ہے، تشریح کرتا ہے۔ تو اس کو اس کا حق حاصل ہے اور اس کا حق تمام علمائے امت نے، تمام مفسرین نے اس حق کو تسلیم کیا ہے۔

(pause)

جناب یحییٰ بختیار: اگر وہ مسلمانوں کے جو علماء ہیں۔ جو ان کے بزرگ اور اولیاء ہیں۔ انہوں نے اس کی تشریح کی اور جس پر ان کی ایک رائے ہو اور اگر یہ محدث ان سے مختلف تشریح کرے۔ مرزا صاحب کی بات کر رہا ہوں میں تا کہ وہ نہ آئے۔ تو آپ مرزا صاحب کے اس کو binding سمجھیں گے؟ یہ تشریح جو ہے، یہ صحیح ہے؟

جناب عبدالمنان عمر: اگر اس کے مقابلے میں پیش کرنے والا شخص جو ہے۔ اس کی حیثیت محض ایک عالم کی ہو ......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں سارے علماء کا کہہ رہا ہوں کہ تیرہ سو سال تک اگر یہ ......

جناب عبدالمنان عمر: میرے علم میں، میرے علم میں ایسا کوئی واقعہ نہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، اگر تیرہ سو سال سے اگر یہ ......

جناب عبدالمنان عمر: یہ theoretical question (نظری سوال) ہے۔ میرے نزدیک یہ ایک مفروضہ ہے۔ میرے نزدیک کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس پر تیرہ سو سال سے علماء متفق چلے آتے ہوں۔ میں اس کے لئے حضرت احمد بن حنبل کا ایک قول پیش کروں گا کہ ”جو شخص اجماع کا دعویٰ کرتا ہے، وہ غلط بات کہتا ہے۔“ یہ حضرت امام احمد بن حنبل کی بات میں نے پیش کی ہے اور کوئی واقعہ میرے علم میں کم از کم نہیں ہے کہ پورے تیرہ سو سال امت کسی ایسے مسئلے پر اجماع رکھتی ہو۔

٥

صفحہ ١٧١٧

1716 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، اگر یہ ایک ان کا خیال ہو کہ ”خاتم النبیین“ کی آیت کا مطلب یہ ہے کہ اور کسی قسم کا نبی نہیں آسکتا۔ اس میں بھی کوئی شک تھا پہلے؟ مرزا صاحب سے پہلے کہ……

1724 جناب عبدالمنان عمر: میرا خیال ہے کہ اگر میں آپ کا تھوڑا سا وقت اس سلسلے میں لوں کہ ہمیں لفظی نزاع میں نہیں الجھنا چاہئے۔ کیونکہ لفظ جو ہوتے ہیں۔ ایک زبان میں ایک لفظ ہوتا ہے۔ اسی کا مضمون دوسری زبان میں دوسرے لفظ سے ادا ہو جاتا ہے۔ تو اگر ہم پہلے تعین کرلیں کہ اس لفظ ”نبی“ سے مراد کیا ہے……

جناب یحییٰ بختیار: مراد وہی ہے جو آنحضرت ﷺ نے کہا ہے کہ ”لَا نَبِی بَعدِی“……

جناب عبدالمنان عمر: جی۔

جناب یحییٰ بختیار: ……وہی مراد میں کہہ رہا ہوں……

جناب عبدالمنان عمر: یہ اس کو……

جناب یحییٰ بختیار: ……یہ شاعروں کی باتیں نہیں کر رہا ہوں۔

جناب عبدالمنان عمر: یعنی میں ، عربی لفظ ہے ناں، تو ہم ذرا اردو میں……

جناب یحییٰ بختیار: ہاں تو میں عربی میں کہتا ہوں کہ ”میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا“

جناب عبدالمنان عمر: ”نبی“ کس کو کہتے ہیں؟

جناب یحییٰ بختیار: جو انہوں نے، ان کا مطلب تھا۔

جناب عبدالمنان عمر: وہی میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ اس شخص کے نزدیک…… نبی کریم ﷺ کی مراد کیا ہے؟

جناب یحییٰ بختیار: جو وہ دعویٰ کرے کہ، وہ شخص جو دعویٰ کرے کہ ”میں اللہ کی طرف سے آیا ہوا ہوں، اللہ نے مجھے مامور کیا ہے۔ اللہ نے مجھے وحی دی ہے۔ وہ وحی ویسی ہی پاک ہے، جو انبیاء پر آتی رہی ہیں ۔“ پھر بار بار کہے کہ ”میں نبی ہوں، رسول ہوں، نبی ہوں، رسول ہوں۔“

1725 جناب عبدالمنان عمر: یہ تشریح میرے علم میں کہیں بھی نہیں تھی۔ کسی امت، فرد نے ”نبی“ کے یہ معنی نہیں کئے جو آپ نے بیان فرمائے ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: آپ بتائیے، کیا ان کے معنی ہیں؟

جناب عبدالمنان عمر: ”نبی“ کے معنی، ”نبی“ کا لفظ اسلام کے لٹریچر میں دو معنوں

٦

1717 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKIS

نہیں، آنحضرت ﷺ نے جب کہا کہ ”میرے بعد کوئی نبی

مر: جی۔

…… کس مطلب میں کہا؟ آپ وہ بتا دیجئے۔

مر: نبی کریم ﷺ نے جب یہ لفظ استعمال کیا، اس کی تشریح وہاں کے لوگوں نے کی ہے۔ اس لئے میں گزارش کرتا ہوں کہ وہ کیا مال حقیقی استعمال ہے اور اس کے معنی ہوتے ہیں ایک ایسا شخص مزید شریعت لے کر آتا ہے اور اس کو یا پہلے احکام شریعت کو، اس کے بعض حصوں کو منسوخ کرتا ہے۔ یا پہلی شریعت والے نبی کا اس نبی کی متابعت میں نہیں حاصل ہوتا۔ یہ ایک تشریح ہے۔ جو نبی“ کے حقیقی معنی ہیں۔

”نبی“ کا لفظ ”نباء“ سے نکلا ہے۔ جس کے معنی ہوتے ہیں ”خبر یا کر کوئی خبر دیتا ہے تو لغوی طور پر نہ کہ حقیقی طور 1726 پر، نہ کہ figurative (تمثیلی طور پر) رنگ میں، مجازی رنگ میں، تا، لفظ ”نبی“ کا استعمال ہو جاتا ہے۔ جس کے لئے میں نے کل ثنوی میں فرماتے ہیں:

وقت خویش است اے مرید
وقت خویش است اے مرید

د کا کام کرتا ہے۔ جو راہبری کا کام کرتا ہے۔ جو خدا اور رسول کی ۔ اس کو بھی انہوں نے اس لغوی معنوں میں اس مجازی معنوں “ کا لفظ استعمال کیا ہے اور وہ کافر نہیں تھے۔ وہ نہایت ہی متقی سے انکار نہیں کیا۔ وہ ختم نبوت کا قائل تھا۔ پھر فرماتے ہیں، اپنے ش کرنی چاہئے: نوٹ

٧

صفحہ ١٧١٧

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

میں استعمال ہوتا رہا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، آنحضرت ﷺ نے جب کہا کہ ”میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا......

جناب عبدالمنان عمر: جی۔

جناب یحییٰ بختیار: ......کس مطلب میں کہا؟ آپ وہ بتا دیجئے۔

جناب عبدالمنان عمر: نبی کریم ﷺ نے جب یہ لفظ استعمال کیا، اس کی تشریح وہاں نہیں ملتی ہے۔ اس کی تشریح امت کے لوگوں نے کی ہے۔ اس لئے میں گزارش کرتا ہوں کہ وہ کیا کی گئی ہے؟

تو ”نبی“ کا ایک استعمال حقیقی استعمال ہے اور اس کے معنی ہوتے ہیں ایک ایسا شخص جو خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک جدید شریعت لے کر آتا ہے اور اس کو یا پہلے احکام شریعت کو، اس سے پہلے کی جو شریعت ہے۔ اس کے بعض حصوں کو منسوخ کرتا ہے۔ یا پہلی شریعت والے نبی کا امتی نہیں ہوتا اور اس کو یہ فیضان اس نبی کی متابعت میں نہیں حاصل ہوتا۔ یہ ایک تشریح ہے۔ جو اس لفظ کی کی گئی ہے۔ یہ اس لفظ ”نبی“ کے حقیقی معنی ہیں۔

لیکن عربی زبان میں ”نبی“ کا لفظ ”نباء“ سے نکلا ہے۔ جس کے معنی ہوتے ہیں ”خبر دینا“ تو اگر کوئی شخص خدا سے علم پا کر کوئی خبر دیتا ہے تو لغوی طور پر نہ کہ حقیقی طور 1726 پر، نہ کہ اصطلاحی طور پر، محض لغوی طور پر اور figurative (تمثیلی طور پر) رنگ میں، مجازی رنگ میں، اس غیر نبی پر، جو حقیقی نبی نہیں ہوتا، لفظ ”نبی“ کا استعمال ہو جاتا ہے۔ جس کے لئے میں نے کل بھی عرض کیا تھا۔ مولانا روم اپنی مثنوی میں فرماتے ہیں:

او نی وقت خویش است اے مرید

کہ وہ نبی جو ہے:

او نبی وقت خویش است اے مرید

وہ پیر جو ہے، جو ارشاد کا کام کرتا ہے۔ جو راہبری کا کام کرتا ہے۔ جو خدا اور رسول کی طرف بلاتا ہے۔ جو امتی ہوتا ہے۔ اس کو بھی انہوں نے اس لغوی معنوں میں اس مجازی معنوں میں اس غیر حقیقی معنوں میں ”نبی“ کا لفظ استعمال کیا ہے اور وہ کافر نہیں تھے۔ وہ نہایت ہی متقی انسان تھا اور اس نے ختم نبوت سے انکار نہیں کیا۔ وہ ختم نبوت کا قائل تھا۔ پھر فرماتے ہیں، اپنے مرید کے لئے کہتے ہیں کہ تمہیں کوشش کرنی چاہئے:

٧

صفحہ ١٧١٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

تا نبوت یابد اندر ملتے

امت کے اندر رہ کر تا کہ تمہیں نبوت حاصل ہو جائے۔ یہ نبوت حقیقی نبوت نہیں ہے۔ یہ وہی لغوی معنی ہیں۔ یہ وہی مجازی معنی ہیں۔ وہی اس کے غیر حقیقی معنی ہیں۔......

جناب یحییٰ بختیار: بس یہ، یہ کافی ہو گیا۔ مرزا صاحب! میں نے صرف یہ کہا تھا کہ بہت سے سوال پوچھنے ہیں آپ سے اور آج ہمارا آخری دن ہے اور ٹائم نہیں ہے اس کے بعد۔

Mr. Chairman: I would request the Attorney- General to put definite questions.

(جناب چیئرمین: میں اٹارنی جنرل صاحب سے درخواست کروں گا کہ وہ مخصوص سوال کریں)

Mr. Yahya Bakhtiar: Sir, I have put definete questions.

(جناب یحییٰ بختیار: جناب والا! میں نے مخصوص سوال ہی پوچھا ہے)

Mr. Chairman: And I will also request the witness to make short and definite answers.

(جناب چیئرمین: میں گواہ سے التماس کروں گا کہ وہ مختصر اور مخصوص جواب دیں)

1727

Mr. Yahya Bakhtiar: He is not in position to answer any question definitely. That I am sure.

(جناب یحییٰ بختیار: جناب والا وہ کوئی جواب دینے کی پوزیشن میں نہیں ہیں)

Mr. Chairman: No. no. we have to confine ourselves to questions.

(جناب چیئرمین: ہمیں اپنے آپ کو سوال کے دائرے کی حدود کے اندر رکھنا پڑے گا)

Mr. Yahya Bakhtiar: I will ask him again.

(گواہ سے) تو اس کا مطلب یہ ہے کہ مرزا غلام احمد صاحب غیر حقیقی امتی نبی تھے؟

(لغت کی کاپی جیب میں؟)

جناب عبدالمنان عمر: جی نہیں، میں نے عرض کیا: ”امتی نبی“ مرزا صاحب نے کبھی استعمال نہیں کیا۔ ”امتی اور نبی“ کا لفظ استعمال ضرور کیا ہے انہوں نے۔

٨

صفحہ ١٧١٩

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

Mr. Chairman: I think question is answered, because what the witness has stated, every Musalman must keep a copy of in his pocket. This is what he says Lughat.

کہ ایک لغت کی کاپی ضرور اس کی جیب میں ہونی چاہئے۔

(جناب چیئرمین: میرا خیال ہے کہ سوال کا جواب دے دیا گیا ہے۔ گواہ کا مطلب یہ ہے کہ ہر مسلمان کو جیب میں لغت رکھنی چاہئے)

جناب یحییٰ بختیار: انہوں نے کہا کہ ”ایک پہلو سے میں نبی ہوں، ایک پہلو سے امتی“ کہا۔

جناب عبدالمنان عمر: اس کی تشریح خود انہی کے الفاظ میں ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، بس یہ مطلب، یہ کہ آپ اس معنی میں ان کو نبی مانتے ہیں کہ ایک پہلو سے نبی ہو اور ایک پہلو سے امتی ہو۔

جناب عبدالمنان عمر: اور اس کی تشریح کیا ہے؟

جناب یحییٰ بختیار: تشریح کو چھوڑ دیجئے۔

جناب عبدالمنان عمر: جی نہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: پہلے اس بات کا جواب دیجئے ناں۔

(مرزا قادیانی ایک پہلو سے نبی ایک پہلو سے امتی)

1728 جناب عبدالمنان عمر: میں نے عرض کیا ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے امتی ہو، وہ تسلیم کرتے ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: یہ بات آپ مانتے ہیں۔ آپ بھی تسلیم کرتے ہیں؟

جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں، ہم بھی تسلیم کرتے ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: پھر اس کے بعد آپ کہیے کہ کیا اس کو ہوا۔ دیکھئے ناں، پہلے سوال کا جواب آجائے۔ پھر اس کے بعد بیشک آپ تشریح کریں کہ کیا تشریح ہے۔

جناب عبدالمنان عمر: تو اس کی تشریح کیا ہے؟ مرزا صاحب فرماتے ہیں:

1 مرزا قادیانی ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے امتی تھے۔ آج تسلیم کرلیا۔ پہلے اس کے خلاف کہتے تھے اور اس کو تسلیم ہی نہیں کرتے تھے۔

صفحہ ١٧٢٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

”سنو یہ بات کہ اس کو امتی بھی کہا اور نبی بھی.....“ وہی لفظ ہیں ”امتی بھی اور نبی بھی......“

......اس کو امتی بھی کہا اور نبی بھی۔ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ دونوں شانیں امتیت اور نبوت کی اس میں پائی جائیں گی۔ جیسا کہ محدث میں ان دونوں شانوں کا پایا جانا ضروری ہے۔ لیکن صاحب نبوت تامہ تو صرف ایک ہی شان نبوت رکھتا ہے۔ غرض محدثیت دونوں رنگوں میں رنگی ہوتی ہے۔ اس لئے خدا نے براہین احمدیہ میں میرا یہ نام رکھا ہے۔“

تو تشریح یہ ہوئی کہ ”امتی اور نبی“ کے معنی ہیں ”محدث“۔ ”امتی اور نبی“ حقیقی نبی نہیں ہوتا۔ وہ نبوت کی کسی قسم کا مالک نہیں ہوتا۔ وہ یہ چیز نہیں ہوتی کہ ”اس قسم کا تو میں ہوں نبی اور اس قسم کا نہیں ہوں ۔“ امتی اور نبی کے معنی ہیں غیر نبی ، اس کے معنی ہیں محدث۔ مرزا صاحب کی عبارت میں نے آپ کے سامنے پیش کی۔

جناب یحییٰ بختیار: میں بھی ذرا آپ کو ایک اور عبارت پڑھ کے سنا دیتا ہوں:

”اگر خدا تعالیٰ سے غائب کی خبریں پانے والا نبی کا نام نہیں رکھتا تو پھر بتلاؤ کس نام سے اس کا پکارا جائے۔ اگر کہو (کہ) اس کا نام محدث رکھنا 1729 چاہئے تو میں کہتا ہوں (کہ) تحدیث کے معنی کسی لغت کی کتاب میں اظہار غائب نہیں ہے۔ مگر نبوت کے معنی اظہار امر غیب ہے۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٩)

”ایک غلطی کا ازالہ“ میں آپ نے پڑھا ہو گا کئی دفعہ یہ۔

جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں، میں نے پڑھا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: اچھا۔

جناب عبدالمنان عمر: یہ کل ہو چکا ہے۔ میں پھر عرض کر دیتا ہوں......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں اس واسطے کہہ رہا ہوں کہ پوزیشن نہیں Clear (واضح) ہوتی۔

جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں، بالکل، دیکھیں جی، میں، اگر مجھے موقع دیں تو میں اس پوزیشن کو بالکل آپ کے سامنے...... (مداخلت)

Mr. Chairman: I will request......

(جناب چیئرمین: میں التماس کرتا ہوں......)

١٠

1721 NAT

نے شارع ہونا شرط نہیں ہے۔

Mr. Cha Lughat. This Lug

سے باہر نکلیں۔ یہ لغت مسئلہ کو

Mr. Yah دینے دیں) point.

Mr. Cha

Ch. Jah chairman. (

Mr. Ch

Ch. Jah cannot address

نہیں کر سکتا۔ میں جناب

1730 Mr. General or you can .......

لتے ہیں)

Ch. J explanation sh

راکین کو ہونا چاہئے)

Mr. C

صفحہ ١٧٢١

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

جناب یحییٰ بختیار: آپ یہ بھی کہتے ہیں کہ نبی کے لئے شارع ہونا شرط نہیں ہے۔ جیسے آپ فرما رہے ہیں۔

Mr. Chairman: I will request let us get out of this Lughat. This Lughat will not solve the problem. (جناب چیئرمین: میں التماس کرتا ہوں کہ ہم لغت سے باہر نکلیں۔ یہ لغت مسئلہ کو حل نہیں کرے گی)

Mr. Yahya Bakhtiar: Let him answer again this point. (جناب یحییٰ بختیار: گواہ کو ایک دوسرے نقطہ کا جواب دینے دیں)

Mr. Chairman: All right. (جناب چیئرمین: ٹھیک ہے)

Ch. Jahangir Ali: A point of explanation. Mr. chairman. (چوہدری جہانگیر علی: جناب صدر! ایک نقطہ کی وضاحت)

Mr. Chairman: To Attorney-General. (جناب چیئرمین: اٹارنی جنرل کی وساطت سے)

Ch. Jahangir Ali: I can address the Chair, Sir, I cannot address the Attorney- General. (چوہدری جہانگیر علی: میں ان (اٹارنی جنرل) کو خطاب نہیں کر سکتا۔ میں جناب سے مخاطب ہو سکتا ہوں)

1730 Mr. Chairman: You can talk to Attorney- General or you can send me a chit. If I find it, then you can...... (جناب چیئرمین: آپ اٹارنی جنرل کو یا مجھے پرچی بھجوا سکتے ہیں)

Ch. Jahangir Ali: No, Sir, my point of explanation should be known to the members of this House. (چوہدری جہانگیر علی: میرے نقطہ وضاحت کا علم ایوان کے اراکین کو ہونا چاہئے)

Mr. Chairman: No, that method we have been

11

TAN 28th Aug, 1974 No:13

"سنو یہ بات کہ اس وہی لفظ ہیں 'امتی بھ ......اس کو امتی بھی امتیت اور نبوت کی اس میں پا ضروری ہے۔ لیکن صاحب نبو دونوں رنگوں میں رنگی ہوتی ہے، تو تشریح یہ ہوئی کہ ہوتا۔ وہ نبوت کی کسی قسم کا مالک قسم کا نہیں ہوں۔" امتی اور نبی عبارت میں نے آپ کے سام جناب یحییٰ بختیار "اگر خدا تعالیٰ ب سے اس کا پکارا جائے۔ اگر کو تحدیث کے معنی کسی لغت کی کتا ہے۔"

"ایک غلطی کا ازال جناب عبدالمنان جناب یحییٰ بختیار جناب عبدالمنان جناب یحییٰ بختیار (واضح) ہوئی۔

جناب عبدالمنان اس پوزیشن کا بالکل آپ کے (جناب چیئرم

صفحہ ١٧٢٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

dealing, trying and we have been practising for the last month.

(جناب چیئرمین: اس طریقہ کار پر ہم گزشتہ ایک مہینہ سے عمل پیرا ہیں)

چوہدری جہانگیر علی: سر! میں تو صرف یہ گزارش کرنا چاہتا ہوں۔

Mr. Chairman: All the points shall be told to me in private......

(جناب چیئرمین: تمام نقاط مجھے علیحدگی میں بتائے جاتے ہیں)

چوہدری جہانگیر علی: ...... کہ witness کو ...... (گواہ)

Mr. Chairman: ......or we will decide those matters in the absence of the members of the Delegation.

(جناب چیئرمین: ...... اور یا پھر ہم ایسے نقاط کے بارے میں وفد کی غیر موجودگی میں فیصلے کرتے ہیں)

چوہدری جہانگیر علی: نہیں، سر! میں تو ڈیلی گیشن کی اطلاع کے لئے بھی عرض کرنا چاہتا تھا......

جناب چیئرمین: نہیں، ان کی اطلاع نہ کریں ناں، میری......

چوہدری جہانگیر علی: ...... کہ ان کو ایسی زبان میں جواب دینا چاہئے۔ جس طرح سے کہ وہ عوام میں تبلیغ کرتے ہیں......

جناب چیئرمین: نہیں نہیں، ایک سیکنڈ......

چوہدری جہانگیر علی: ...... اگر اس انداز میں وہ عوام میں......

جناب چیئرمین: چوہدری صاحب! چوہدری صاحب!......

چوہدری جہانگیر علی: ...... تبلیغ کرتے ہوں تو میں سمجھتا ہوں......

جناب چیئرمین: چوہدری جہانگیر علی، چوہدری جہانگیر علی!......

چوہدری جہانگیر علی: ...... کہ کوئی بھی ان کے مذہب کو نہیں سمجھے گا۔

١؎ قادیانیت واقعی ایک گورکھ دھندہ ہے۔ جس کے سامنے قادیانی کیس آئے گا وہ یہی کہے گا جو ایک غیر جانبدار معزز رکن اسمبلی فرما رہے ہیں۔

١٢

صفحہ ١٧٢٣

STAN 28th Aug, 1974 No:13

actising for the last

(جناب چیئرمین: چوہدری جہانگیر علی s shall be told to me

(جناب چیئرمین: چوہدری جہانگیر علی decide those matters legation.

(جناب چیئرمین: میں فیصلے کرتے ہیں)

چوہدری جہانگیر علی چاہتا تھا......

جناب چیئرمین: چوہدری جہانگیر علی سے کہ وہ عوام میں تبلیغ کرتے ہیں

جناب چیئرمین: چوہدری جہانگیر علی

جناب چیئرمین: چوہدری جہانگیر علی

جناب چیئرمین: چوہدری جہانگیر علی لے قادیانیت واقعی ا کہے گا جو ایک غیر جانبدار معزز ر

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

1731 Mr. Chairman: Ch. Jahangir Ali, this is uncalled for. (جناب چیئرمین: چوہدری جہانگیر! یہ غیر ضروری ہے)

Ch. Jahangir Ali: All right, Sir.

(چوہدری جہانگیر علی: ٹھیک ہے جناب والا)

Mr. Chairman: This is wrong. You make a point and then say: "All right"

(جناب چیئرمین: یہ بات غلط ہے۔ یہ ان قواعد کی خلاف ورزی ہے جو آپ نے خود مرتب کئے ہیں)

Mr. Yahya Bakhtiar: They have the right to reply. (جناب یحییٰ بختیار: انہیں جواب دینے کا حق حاصل ہے)

Mr. Chairman: (to Ch. Jahangir Ali) no, this is a violation of your on rules that you have formed

(جناب چیئرمین (چوہدری جہانگیر علی سے): نہیں، یہ آپ کے اپنے بنائے ہوئے ضابطوں کی خلاف ورزی ہوگی)

"All right" بعد میں کہہ دیا۔ Thats upto you

Mr. Yahya Bakhtiar: They have every right to reply. I would only request them to be as brief as possible.

(جناب یحییٰ بختیار: ان سے صرف یہ درخواست کروں گا کہ انہیں جواب دینے کا حق حاصل ہے۔ جواب جس حد تک ممکن ہو، مختصر طور پر دیں)

Mr. Chairman: When the Chair has taken notice of it, the entire House....... Chair has اس واسطے کہ پھر آپ کے ساتھ remarked it, has the right to say, to put any question.

(جناب چیئرمین: صدر نے اس بات کا نوٹس لیا ہے اور اس بارے میں رائے بھی دی ہے، تمام ایوان کو کوئی بھی سوال پوچھنے کا حق حاصل ہے)

جناب عبدالمنان عمر: جناب والا! میں گزارش یہ کر رہا تھا کہ ایک لفظ اصطلاحی معنی بھی رکھتا ہے اور لغوی معنی بھی رکھتا ہے۔ مثلاً ”صلوٰۃ“ کا لفظ ہے۔ یہ اس سے، ہم جب ”صلوٰۃ“

صفحہ ١٧٢٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

کا لفظ بولتے ہیں تو عام مسلمان اس کے معنی وہی سمجھتا ہے جس طرح ہم پانچ وقت نماز پڑھتے ہیں ۔ لیکن جب لغت میں آپ اس کو تلاش کریں گے۔ تو اس وقت میں اس کے معنی یہ نہیں ہوں گے کہ ”اللہ اکبر“ کہے اور ہاتھ اٹھائے اور پھر اس کو باندھے سینے پر یا اپنی ناف پر ۔ یہ معنی، یا رکوع کرے اور سجدہ کرے اور قیام کرے یا التحیات میں بیٹھے ۔ یہ معنی لغت میں ”صلوٰۃ“ کے نہیں ملتے ۔ لیکن ”صلوٰۃ“ کا لفظ ایک اصطلاحی لفظ ہے۔ جس سے یہی مراد ہے جو کہ ہم نماز پڑھتے ہیں ۔ اسی طرح دنیا کی زبان میں بہت سے الفاظ ایسے ہوتے ہیں کہ اس کے لغوی معنی اور ہوتے ہیں، اصطلاحی معنی اور ہوتے ہیں۔

1732 جناب یحییٰ بختیار: یہ ، یہ دیکھیں ، صاحبزادہ صاحب! یہ بات ہم کل کر چکے ہیں ۔ آپ نے تفصیل سے یہ بات بتائی اور میں نے عرض بھی کیا۔ ہم نے ”شیر“ کی بھی بات کی اور حقیقی شیر کی اور وہ شیر جو مثال کے طور پر آتے ہیں۔ ابھی اگر آپ اس اسمبلی کے اندر آئے ہیں ۔ میں آپ سے یہ سوال پوچھتا ہوں، پاکستان کی پارلیمنٹ ہے، یہاں لوگ پھر رہے ہیں۔ ایک شخص کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ سپیکر ہے۔ اگر وہ کہے کہ ”میں سپیکر ہوں“ تو کوئی شک نہیں رہ جاتا کہ کون ہے، ”لاؤڈ سپیکر“ تو مطلب نہیں لیا جائے گا۔ حالانکہ ”لاؤڈ سپیکر“ کو بھی ”سپیکر“ کہتے ہیں۔ اسی طرح ایک شخص کہتا ہے کہ ”مجھ پر وحی آ رہی ہے، پاک ہے، اللہ کی طرف سے ہے۔ میں اس پر ایمان رکھتا ہوں۔ ایسے ہی جیسے باقی انبیاء پر“ اور کہتا ہے ”میں نبی ہوں، میں رسول ہوں ۔“ تو پھر اس کے بعد کہنا کہ ”جی، یہ مطلب نہیں، ڈکشنری میں جا کے دیکھئے اس کا مطلب کچھ اور تھا“۔ یہ Confusion (الجھن) جو تھی ناں، اس لئے میں آپ سے عرض کر رہا تھا۔۔۔۔

جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں۔

جناب یحییٰ بختیار: ۔۔۔۔ کہ اس کی Clarification (وضاحت) کی ضرورت ہے۔

جناب عبدالمنان عمر: میں نے عرض کیا تھا کہ آپ نے فرمایا کہ یہاں ”سپیکر“ ایک ہی کو کہتے ہیں، اور یہ بالکل درست ہے۔ لیکن اگر کوئی ایسی جگہ ہو جہاں ”سپیکر“ ان معنوں میں بھی معروف ہو اور دوسرے لفظ میں بھی ۔۔۔۔۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، یہ درست آپ فرما رہے ہیں۔ میں کہنا چاہتا ہوں کہ جب ایک شخص محدث ہے اور آپ اس کو محدث مانتے ہیں۔ وہ اس کا بڑا Status (مقام) ہے اور ان کے مرید ہیں۔ اس نے اپنی جماعت بنائی ہے۔ ان سے بیعت لے رہا ہے اور یہی کہتا ہے

١٤

صفحہ ١٧٢٥

1725 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

بار بار کہ ”دیکھو! مجھ پر اتنی وحی نازل ہورہی ہے اور اتنی پاک وحی نازل ہورہی 1733 ہے اور یہ اس پر میں ایمان لاتا ہوں۔ ایسے ہی جیسے کہ بعض انبیاء پر جو وحی آرہی ہے۔ اس پر ایمان لاتا ہوں“ اور بعض وقت کہتا ہے ”میں رسول ہوں، میں نبی ہوں، میں رسول ہوں، میں نبی ہوں“۔ تو اس کے بعد آپ کہتے ہیں کہ ”نہیں، یہ جو مولانا روم نے کہا تھا کہ پیغمبر، یہ وہ والی بات آ گئی۔“

جناب عبدالمنان عمر: جی نہیں، ہم نہیں کہتے، وہ خود یہ کہتے ہیں، ہم نہیں کہتے ہیں۔ یہ جو میں نے مولانا روم کا حوالہ پیش کیا۔ یہ میں نے نہیں پیش کیا۔ انہوں نے خود یہ پیش کیا۔ وہ خود یہ فرماتے ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: میں پھر آپ......

جناب عبدالمنان عمر: یہ میں نے......

جناب یحییٰ بختیار: میں آپ سے پھر ذرا کچھ اور حوالے آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں۔ اس کے بعد پھر آپ کچھ اس بات پر روشنی ڈال سکیں تو بہتر ہوگا۔ جب وہ فرماتے ہیں: ”اور میں اس خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اس نے مجھے بھیجا ہے اور اسی نے میرا نام نبی رکھا ہے اور اس نے مجھے مسیح موعود کے نام سے پکارا ہے اور اس نے میری تصدیق کے لئے بڑے بڑے نشان ظاہر کئے ہیں۔ جو تین لاکھ تک پہنچتے ہیں۔“

(تحفہ حقیقت الوحی ص ٦٨، خزائن ج ٢٢ ص ٥٠٣)

ایک شخص قسم کھا کے، خدا کی قسم کھاتا ہے اور آپ سمجھتے ہیں کہ وہ ہے بھی صادق، اور اس کے بعد کہتے ہیں کہ ”نہیں، یہ تو شاعری ہے۔“ اس کا آپ سمجھا دیں ہمیں؟

جناب عبدالمنان عمر: میں نے پہلے.......

1734 جناب یحییٰ بختیار: وہ کہتا ہے کہ ”مجھے خدا نے بھیجا ہے۔ میرا نام نبی رکھا ہے۔ مجھے مسیح موعود کے نام سے پکارا ہے۔ میری تصدیق کے لئے بڑے بڑے نشان ظاہر کئے ہیں۔ جو تین لاکھ تک پہنچتے ہیں۔“ اور پھر آگے یہ بھی فرماتے ہیں: ”میں بیت اللہ میں کھڑے ہو کر یہ قسم کھا سکتا ہوں کہ وہ پاک وحی جو میرے پر نازل ہوتی ہے۔ وہ اسی خدا کا کلام ہے جس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام، حضرت عیسیٰ علیہ السلام، حضرت محمد ﷺ پر اپنا کلام نازل کیا تھا۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٣، خزائن ج ١٨ ص ٢١٠)

تو اس سے جو Confusion (پریشانی) آجاتی ہے۔ آپ کے بیان سے جو ہمیں تضاد معلوم ہوتا ہے۔ اس کے لئے آپ سے Request (التماس) کر رہے ہیں کہ اس کو

١٥

PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

کا لفظ بولتے ہیں تو عام مسلمان اس کے ہیں۔ لیکن جب لغت میں آپ اس کو ہوں گے کہ ”اللہ اکبر“ کہے اور ہاتھ اٹھا رکوع کرے اور سجدہ کرے اور قیام کرے ملتے۔ لیکن ”صلوٰۃ“ کا لفظ ایک اصطلا ہیں۔ اسی طرح دنیا کی زبان میں بہت ہیں، اصطلاحی معنی اور ہوتے ہیں۔

1732 جناب یحییٰ بختیار: ہیں۔ آپ نے تفصیل سے یہ بات بتائی اور حقیقی شیر کی اور وہ شیر جو مثال کے طو ہیں۔ میں آپ سے یہ سوال پوچھتا ہوں ایک شخص کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ نہیں رہ جاتا کہ کون ہے، ”لاؤڈ سپیکر“ ”سپیکر“ کہتے ہیں۔ اسی طرح ایک شخص سے ہے۔ میں اس پر ایمان رکھتا ہوں۔ رسول ہوں۔“ تو پھر اس کے بعد کہنا ک مطلب کچھ اور تھا۔“ یہ confusion رہا تھا.......

جناب عبدالمنان عمر: ج

جناب یحییٰ بختیار: ...... ک

جناب عبدالمنان عمر: ایک ہی کو کہتے ہیں، اور یہ بالکل درست میں بھی معروف ہو اور دوسرے لفظ میں

جناب یحییٰ بختیار: نہیں جب ایک شخص محدث ہے اور آپ اس اور ان کے مرید ہیں۔ اس نے اپنی جما

صفحہ ١٧٢٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

Clarify (واضح) کرئیے۔

جناب عبدالمنان عمر: میں جناب! پھر گزارش کروں گا کہ جب کوئی ایسا حلقہ ہو جس میں ایک لفظ دو معنوں میں استعمال ہورہا ہو تو ہمیں اس بات پر غور کرنا پڑے گا کہ جب ایک شخص ایک جگہ ایک لفظ کو استعمال کرتا ہے تو کن معنوں میں کرتا ہے اور وہی شخص اسی لفظ کو ایک اور جگہ استعمال کرتا ہے تو کن معنوں میں کرتا ہے۔ کیونکہ دونوں قسم کی چیزیں لٹریچر میں موجود ہیں۔ میں نے عرض کیا تھا کہ ”نبوت کی ایک یہ تعریف ہمارے لٹریچر میں موجود ہے کہ نبی وہ ہوتا ہے جو صاحب کتاب ہو اور یہ ہو اور وہ ہو......“

جناب یحییٰ بختیار: انہوں نے کہا ہے کہ ضروری نہیں۔ ”ایک غلطی کا ازالہ“ میں انہوں نے کہا کہ ”ضروری نہیں کہ صاحب شرع ہو ۔“ وہ اس واسطے میں کہہ رہا ہوں کہ آپ کو پڑھ کے میں نے سنایا۔ آپ کی Definition ٹھیک ہے......

جناب عبدالمنان عمر: جناب! میں ”تفسیر مظہری“ کا حوالہ آپ کی خدمت میں پیش......

جناب یحییٰ بختیار: ابھی دونوں، یہ بھی مرزا صاحب کی میں بات کر رہا ہوں۔

1735 جناب عبدالمنان عمر: جی نہیں، ”تفسیر مظہری“ مرزا صاحب کی کتاب نہ ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں نہیں، یعنی آپ مرزا صاحب کی بات کریں جن کی......

جناب عبدالمنان عمر: دیکھئے ناں، میں عرض کر رہا ہوں......

جناب یحییٰ بختیار: ......جن کی نبوت کا سوال ہے سامنے۔ آپ دیکھئے ناں، یہ دوسرا تو Irrelevant ہے۔ یا تو خدا کی بات کریں، قرآن کی بات کریں، حدیث کی بات کریں۔ مولانا روم کو چھوڑ دیجئے۔ ان کو چھوڑ دیجئے۔ کیونکہ وہی ہم پر Binding (لازمی) ہے اور کوئی Binding (لازمی) نہیں ہے۔

جناب عبدالمنان عمر: جناب عالی! میں گزارش یہ نہیں کر رہا ہوں کہ مولانا......

A Member: Point of order, Sir.

میری عرض یہ ہے کہ جو انہوں نے اب یہ پڑھ کر سنایا ہے......

Mr. Chairman: This is no point of order.

ایک رکن: ہاں جی۔

Mr. Chairman: This is no point of order.

(جناب چیئرمین: یہ کوئی پوائنٹ آف آرڈر نہیں ہے)

١٦

صفحہ ١٧٢٧

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13 ایک رکن: اس کی تشریح کر دیں جو...... جناب چیئرمین: تشریح...... ایک رکن: ......انہوں نے، انہوں نے پڑھ کر بتایا ہے۔ جناب چیئرمین: وہ، وہ کر سکتے ہیں۔ ایک رکن: تشریح اور کر دیں۔ جناب چیئرمین: اس، اس موضوع پر وہ کہہ سکتے ہیں Chair کو۔ آپ نے پروسیجر ایک مہینہ خود Follow (عمل) کیا ہے۔ بیان سے پوچھیں۔ (مداخلت) 1736 جناب چیئرمین: بیان سے پوچھیں۔ جناب یحییٰ بختیار: یہ تو وہ خود کہہ رہے ہیں۔ یہ خود ہی بات کر رہے ہیں۔ جناب عبدالمنان عمر: جناب والا! میں نے جب مولانا روم کو پیش کیا یا حضرت سید عبدالقادر جیلانی کے اقوال آپ کے سامنے پیش کئے۔ تو میں یہ بات واضح کرنے کی کوشش کر رہا تھا کہ یہ چیزیں اسلام کے یا مسلمانوں کے لٹریچر میں ہیں۔ جناب یحییٰ بختیار: نہیں، وہ تو آپ نے کل کافی تفصیل آپ نے اس سلسلے میں کہا، فرمایا آپ نے۔ اس پر میں نے عرض کیا تھا اور آپ کو شاید یاد ہوگا کہ جس محفل میں یہ دونوں الفاظ استعمال ہوتے ہوں۔ جیسے آپ نے ابھی فرمایا کہ اصطلاحی Sense (معنوں) میں اور اصلی معنوں میں، دونوں میں استعمال ہوتا رہا ہے۔ تو اس سے کچھ غلط فہمی بھی پیدا ہوئی اور آپ نے خود ہی فرمایا کہ ہاں، مرزا صاحب نے لکھا پھر یہ کہا تھا کہ ”کیونکہ بعض لوگ مجھ سے ناراض ہو رہے ہیں، ان کو غلط فہمی ہوگئی ہے، اس لئے نبی کا لفظ جہاں جہاں میں نے استعمال کیا ہے، اس کو منسوخ سمجھا جائے اور اس کی جگہ محدث کا لفظ استعمال ہونا چاہئے اور وہ لکھ دیں آپ، ترمیم کرلیں میری کتابوں میں۔“ یہ بھی مرزا صاحب نے فرمایا۔ آپ نے کہا ہاں، یہ ٹھیک ہے۔ اس کے بعد میں نے عرض کیا کہ اس کے باوجود کہ ان کو معلوم تھا کہ غلط فہمی ہو جاتی ہے۔ دو لفظ ہیں، ایک لفظ ہے جس کے دو معنی ہیں اور ان کا مطلب یہ نہیں کہ وہ حقیقی نبی ہیں۔ لوگوں میں غلط فہمی پیدا ہوگئی۔ انہوں نے کہا کہ ”یہ غلط فہمی کی وجہ سے ان کو ٹھیک کر دیجئے، درست کر دیجئے، یہ مجھ سے غلطی ہوئی ہے۔“ اس کے بعد میں نے عرض کیا کہ پھر بار بار انہوں نے ”نبی“ کا لفظ استعمال کیا۔ جانتے ہوئے کہ لوگوں کو غلط فہمی ہو جاتی ہے۔ پھر آپ نے کہا کہ ان کو اللہ کا حکم آیا تھا، وہ مجبور تھے۔ 1737 جناب عبدالمنان عمر: میں ادب سے عرض کروں گا کہ نہ میں نے کہا، نہ مرزا ١٧

N 28th Aug, 1974 No:13 Clarify (واضح) کریے جناب عبدالمن جس میں ایک لفظ دو معنوں می شخص ایک جگہ ایک لفظ کو استع جگہ استعمال کرتا ہے تو کن مع میں نے عرض کیا تھا کہ ”نبوء صاحب کتاب ہو اور یہ ہو اور جناب یحییٰ بختی انہوں نے کہا کہ ”ضروری نہی کے میں نے سنایا۔ آپ کی ب جناب عبدالمنان جناب یحییٰ بختی 1735 جناب عبدال جناب یحییٰ بختی جناب عبدالمنان جناب یحییٰ بختی دوسرا تو Irrelevant - کریں۔ مولانا روم کو چھوڑ دی ہے اور کوئی Binding (ا جناب عبدالمنان

میری عرض یہ ہے of order. ایک رکن: پائ of order. (جناب چیئرمی

صفحہ ١٧٢٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

صاحب نے کہا: ”مجھ سے یہ غلطی ہو گئی ہے۔“ یہ...... جناب یحییٰ بختیار: غلطی نہ سہی تو سادگی سہی، یہ کیا وجہ تھی کہ لوگوں میں...... جناب عبدالمنان عمر: ہاں، ہاں، یہ ٹھیک ہے، یہ صحیح ہے، یہ کیوں ہوا ہے...... جناب یحییٰ بختیار: نہیں...... جناب عبدالمنان عمر: ...... یہ کہ ”غلطی سے ہوا ہے“ یہ مرزا صاحب نے کبھی نہیں کہا۔ جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب نے کبھی نہیں کہا...... جناب عبدالمنان عمر: ...... اور نہ غلطی ہے۔ میں عرض کرتا ہوں...... جناب یحییٰ بختیار: ...... سادگی سے انہوں نے کہا ہے۔

(مرزا قادیانی کے اقوال میں تضاد ہے)

جناب عبدالمنان عمر: ہاں، میں عرض کرتا ہوں، میں نے گزارش یہ کیا ہے کہ جب ایک لفظ دو مختلف معنوں میں استعمال کیا جا رہا ہو، اور دو مختلف معنی متضاد بھی ہوں۔ جیسے ”شیر“ کے لفظی معنی، کل آپ نے بھی مثال بیان فرمائی کہ وہ شخص ایک معنوں میں شیر ہوگا بوجہ اپنی بہادری کے۔ مگر ایک معنی میں وہ شیر نہیں ہوگا بوجہ اپنی درندگی کے نہ ہونے کے۔ یہ دو باتیں بڑی واضح باتیں ہیں۔ یہی چیز مرزا صاحب کے اقوال میں ہے کہ لفظ ”نبی“ کی دو تشریحیں ہیں۔ دونوں متضاد تشریحیں ہیں۔ جب ایک تشریح کو مرزا صاحب مدنظر رکھتے ہیں تو اقرار کرتے ہیں۔ جب دوسری تشریح ان کے سامنے آتی ہے۔ تو انکار کرتے ہیں۔ یہ چیزیں ان کی ساری تحریرات میں موجود ہیں......

جناب یحییٰ بختیار: یہ آپ...... جناب عبدالمنان عمر: ...... کیونکہ امت میں ...... مجھے گزارش کرنے دیں...... جناب یحییٰ بختیار: 1738 آپ کی توجہ میں ایک دو اور حوالوں کی طرف دلاتا ہوں...... جناب عبدالمنان عمر: جناب! مجھے گزارش کرنے دیں۔ جناب یحییٰ بختیار: آپ کر لیجئے۔ جناب عبدالمنان عمر: آپ کے...... جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی۔ جناب عبدالمنان عمر: تو میں گزارش یہ کر رہا تھا کہ لفظ ”نبی“ اور لفظ ”محدث“ امت کے اندر، مرزا صاحب کے نہیں صرف۔ امت کے اندر دو بالکل متضاد معنوں میں، استعمال

١٨

صفحہ ١٧٢٩

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

ہوئے ہیں یہ لفظ ۔ جس طرح میں نے ابھی ”شیر“ کی مثال دی ہے۔ اسی طرح ”نبی“ کا لفظ جو ہے۔ امت میں دو معنوں میں استعمال ہوتا رہا ہے۔ ایک اس کے معنی وہی ہیں جو حقیقی ہیں اور دوسرے ہیں ”جس پر اظہار غیب ہو یعنی خدا تعالیٰ اس پر نزول کلام کرے ۔“

جناب یحییٰ بختیار: یہ آپ نے درست فرمایا۔ تو پھر آپ کیوں اس بات سے احتجاج کرتے ہیں۔ Hesitate (ٹال مٹول) کرتے ہیں کہ وہ نبی نہیں تھے۔ وہ دوسرے معنی میں، جیسے ربوہ والے کہتے ہیں۔ آپ بھی کہہ دیا کریں۔ آپ کیوں اس پر Insist (اصرار) کرتے ہیں کہ ”ہم اس کو کسی رنگ میں بھی نبی نہیں کہتے ہیں؟“

جناب عبدالمنان عمر: اگر آپ مجھے جواب ختم کرنے دیں۔ پھر آپ جو ارشاد فرمائیں، ٹھیک ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: ٹھیک ہے۔

جناب عبدالمنان عمر: تو میرا...... کیونکہ بیچ میں گفتگو ہوتی ہے، یکے بعد دیگر حوالے پیش ہوتے ہیں۔...... ان کا اعتراض بڑا موزوں تھا کہ جناب ! اس کی تشریح ہو جانی چاہئے۔ اس بات کی، وہ ابھی تشریح ختم نہیں ہوتی کہ ایک اگلی بات آتی ہے۔

(آپ کا لیکچر؟)

1739 جناب یحییٰ بختیار: آپ اس کی تشریح تو کسی بات کی نہیں کرتے ۔ آپ تو لیکچر دیتے ہیں۔ جو مصیبت بن جاتی ہے۔

جناب عبدالمنان عمر: جی نہیں، میں لیکچر نہیں دیتا ہوں۔ بات یہ ہے کہ......

جناب یحییٰ بختیار: آپ اس کی تشریح کردیں۔

جناب عبدالمنان عمر: بات یہ ہے کہ تنگ وقت میں زیادہ سے زیادہ باتیں کرنی ہوتی ہیں۔ تو میری گزارش یہ تھی کہ آپ نے جو الجھن ہمارے سامنے رکھی ہے۔ وہ یہ الجھن ہے کہ کہیں مرزا صاحب کی تحریروں میں نبوت کا اقرار ہے اور کہیں مرزا صاحب کی تحریروں میں نبوت کا انکار ہے۔ اس الجھن کا کیا جواب ہے؟ یہ میں سمجھا ہوں جناب کی گفتگو سے۔ میں نے اس کا جواب یہ عرض کیا ہے کہ یہ لفظ حقیقتاً جماعت کے، امت کے، مسلمانوں کے لٹریچر میں، دو مختلف، متضاد معنوں میں استعمال ہوتا رہا ہے۔ ایک اس کا لغوی استعمال ہے۔ ایک اس کا حقیقی استعمال ہے اور اسی طرح ”محدث“ کا لفظ جو ہے۔ وہ بھی دو معنوں میں استعمال ہوتا رہا ہے۔ ایک اس کا لغوی استعمال ہے۔ ایک اس کا اصطلاحی استعمال ہے۔ مرزا صاحب نے جس جگہ کہا ہے کہ میں

١٩

28th Aug, 1974 No:13

صاحب نے کہا: ”مجھ سے

جناب یحییٰ بخت

جناب عبدال

جناب یحییٰ بخت

جناب عبدال

جناب یحییٰ بخت

جناب عبدال

جناب یحییٰ بخت

)

جناب عبدال

ایک لفظ دو مختلف معنوں میں لفظی معنی، کل آپ نے ب کے۔ مگر ایک معنی میں وہ باتیں ہیں۔ یہی چیز مرزا متضاد تشریحیں ہیں۔ جو دوسری تشریح ان کے سا موجود ہیں۔.....

جناب یحییٰ بخت

جناب عبدال

1738

جناب یحییٰ

جناب عبدال

جناب یحییٰ بخت

جناب عبدال

جناب یحییٰ بخت

جناب عبدال

امت کے اندر، مرزا صاح

صفحہ ١٧٣٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

نبی ہوں“ وہ ان معنوں میں کہا جو محدثیت کے معنی ہیں اور جہاں انہوں نے کہا کہ ”میں نبی نہیں ہوں“ وہ ”نبی“ کے اصطلاحی اور حقیقی معنوں کی رو سے انکار کیا ہے۔

اور جب کیفیت بدل جاتی ہے، وجہ بدل جاتی ہے، پہلو بدل جاتا ہے، تو دوسرا لفظ استعمال کرنا ممنوع نہیں ہوتا۔ اسی طرح میں نے اس کے لئے بتایا تھا کہ یہ وہ چیز ہے جو مرزا صاحب اکیلے نہیں ہیں۔ اس میں، امت کے لٹریچر میں یہ چیز موجود ہے اور امت کے دوسرے افراد اس کو استعمال کرتے رہے ہیں۔ اسی طرح ”محدث“ کے لفظ کے لغوی معنی ”اظہار غیب“ نہیں ہوتا۔ اظہار غیب ”نبی“ کے لفظ میں ہوتا ہے۔ تو جب وہ لغت کی بات کہتے ہیں تو کہتے 1740 ہیں ”میں لغوی طور پر نبی ہوں مگر اصطلاحی طور پر نبی نہیں ہوں۔“ اور جب ”محدث“ کا لفظ استعمال کرتے ہیں تو فرماتے ہیں کہ ”میں لغوی طور پر تو محدث نہیں ہوں مگر میں اس اصطلاح کی رو سے محدث ہوں جو کہ امت میں رائج ہے۔“ یہ ہے جناب! اس مشکل کا حل کہ کہیں اقرار ہے، کہیں انکار ہے۔ یہ اقرار اور یہ انکار ان معنوں میں متضاد نہیں کہ ایک شخص متضاد باتیں کر رہا ہے۔ بلکہ اس کی بنیاد یہ ہے کہ امت میں دو اصطلاحیں ہیں اور دو قسم کے الفاظ رائج ہیں اور وہ Context (سیاق و سباق) اس کا الگ الگ ہوتا ہے۔۔۔۔

(جناب چیئرمین: اگلا۔۔۔۔) Mr. Chairman: Next

جناب عبدالمنان عمر: ۔۔۔۔۔تو۔۔۔۔۔

جناب یحییٰ بختیار: پھر آپ نے یہ نہیں بتایا کہ جب وہ قسم کھا کے کہتے ہیں:

”اور میں اس خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اس نے مجھے بھیجا ہے اور اس نے میرا نام نبی رکھا۔“

(تتمہ حقیقت الوحی ص ٦٨ ، خزائن ج ٢٢ ص ٥٠٢)

یہ اللہ تعالیٰ نے ان کا نام جو نبی رکھا، ان کو بھیجا، یہ لغوی معنی میں ہے؟

جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں، جی ہاں، لغوی معنوں میں ہے، Figurative (تمثیلی طور پر)

جناب یحییٰ بختیار: یہ ان کا۔۔۔۔۔۔

جناب عبدالمنان عمر: ۔۔۔۔۔بالکل، انہی معنوں میں۔۔۔۔۔ کہ تو نبی وقت باشد یہ انہی معنوں میں ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: ۔۔۔۔۔اللہ تعالیٰ کا مطلب نہیں تھا ان کو نبی بنانے کا؟

جناب عبدالمنان عمر: ۔۔۔۔۔”نبی“ آیا، یہ انہی معنوں میں ہے۔

٢٠

صفحہ ١٧٣١

1731 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

جناب یحییٰ بختیار: اور جب ان کو مسیح ..... ”اور مجھے مسیح موعود کے نام سے پکارا“ وہ بھی یہی مطلب تھا کہ نبی نہیں ہیں وہ؟

جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں، بالکل۔

1741 جناب یحییٰ بختیار: تو کل جب آپ نے کہا کہ جہاں جہاں مرزا صاحب کہتے ہیں ”نبی“ اس کا مطلب ہوتا ہے ”غیر نبی۔“

جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں، غیر نبی۔

جناب یحییٰ بختیار: آپ نے یعنی Brief طریقے سے ......

جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں، حقیقی معنوں کی رو سے، اصطلاحی معنوں کی رو سے غیر نبی ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: اچھا، اب یہ آپ فرمائیے ...... (Pause)

جناب عبدالمنان عمر: واضح کردیں گے، وہ ہے ......

Mr. Chairman: No, the witness cannot reply unless a question is put.

(جناب چیئرمین: نہیں، گواہ جواب نہیں دے سکتا جب تک اس سے سوال نہ پوچھا جائے۔)

جناب یحییٰ بختیار: یہ مجھے مولانا نے مرزا صاحب کا ایک حوالہ دیا ہے۔ جسے وہ آپ کو پڑھ کر سنائیں گے۔ عربی میں ہے۔ میں نہیں جانتا اور وہ کہتے ہیں: ”جہاں جہاں میں قسم کھا کر کہتا ہوں کوئی بات، تو پھر اس میں کوئی شاعری کی بات نہیں ہوتی، اصلی بات ہوتی ہے۔“ یہ مولانا نے مجھے سمجھایا ہے۔

مولوی مفتی محمود: حوالہ یہ ہے جی، وہ لکھتے ہیں کہ:

”(حمامتہ البشریٰ ص ١٤، خزائن ج ٧ ص ١٩٢) مرزا نے لکھا ”و القسم يدل على ان الخبر محمول على الظاهر لا تاويل فيه ولا استثناء“

کہتے ہیں کہ جو کلام قسم کے ساتھ تاکید کیا جاتا ہے، قسم دلالت کرتا ہے۔ اس پر کہ یہ بات محمول ہے، ظاہر پر اس میں کوئی تاویل نہیں ہوگی اور تاویل کی گنجائش اگر ہو تو فائدہ کیا ہے قسم کے کھانے میں، قسم کھانے میں کیا فائدہ ہے؟ تو ......

1742 جناب عبدالمنان عمر: جناب والا! یہ حوالہ کہاں سے آپ نے پڑھا؟

MBLY OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

نبی ہوں“ وہ ان معنوں میں کہا جو محدثیت کے معنی ہوں، ”وہ“ ”نبی“ کے اصطلاحی اور حقیقی معنوں کی رو سے اور جب کیفیت بدل جاتی ہے، وجہ بد استعمال کرنا ممنوع نہیں ہوتا۔ اسی طرح میں نے صاحب اکیلے نہیں ہیں۔ اس میں، امت کے لٹریـ افراد اس کو استعمال کرتے رہے ہیں۔ اسی طرح نہیں ہوتا۔ اظہار غیب ”نبی“ کے لفظ میں ہوتا ہـ 1743 ہیں ”میں لغوی طور پر نبی ہوں مگر اصطلاحی طـ استعمال کرتے ہیں تو فرماتے ہیں کہ ”میں لغوی ا رو سے محدث ہوں جو کہ امت میں رائج ہے۔“ کہیں انکار ہے۔ یہ اقرار اور یہ انکار ان معنوں ا بلکہ اس کی بنیاد یہ ہے کہ امت میں دو اصطـ Context (سیاق و سباق) اس کا الگ الگ

(جناب چیئرمین: اگلا ......)

جناب عبدالمنان عمر: ...... تو سـ

جناب یحییٰ بختیار: پھر آپ سـ ”اور میں اس خدا کی قسم کھا کر کہتا مجھے بھیجا ہے اور اس نے میرا نام نبی رکھا۔“ یہ اللہ تعالیٰ نے ان کا نام جو نبی رکھـ

جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں

(تمثیلی طور پر)

جناب یحییٰ بختیار: یہ ان کا ہـ

جناب عبدالمنان عمر: ...... معنوں میں ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: ...... الا

جناب عبدالمنان عمر: ...... ا

صفحہ ١٧٣٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

مولوی مفتی محمود: حمامۃ البشریٰ ......

جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں، ہاں جی۔ تو گزارش یہ ہے کہ مرزا صاحب نے خود اس جگہ اس بات کو واضح کر دیا ہے کہ ...... ”بھائی! جب میں قسم کھا کر ایک بات کہتا ہوں تو اس قسم کو میرے ان الفاظ پر جو ظاہر پر جو میں بات، میں الفاظ میں پیش کر رہا ہوں، اس پر اعتماد کرو اور اس کو مانو۔“ وہ کیا ہیں مرزا صاحب کی قسمیں؟ دو دفعہ مرزا صاحب نے قسم کھائی ہے، مسجد میں جا کر۔ وہ قسم یہ ہے کہ: ”میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ مجھے نبوت حقیقی کا دعویٰ نہیں ہے۔“ یہ ہے ان کی قسم۔ یہ ہر رنگ میں صحیح ہے۔ اس حوالے کے مطابق صحیح ہے اور اس میں ہم کسی قسم کی کوئی تاویل نہیں کرتے۔ حضرت صاحب کا، مرزا صاحب کا میں آپ کو ایک حوالہ سناتا ہوں، بات بالکل کھل جائے گی۔ (عربی)

کہ ”جن معنوں میں پہلے انبیاء نبی کہلاتے تھے۔ جب میرے لئے کہیں لفظ ”نبی“ دیکھو تو ان معنوں میں نہ سمجھ لو۔ تمام انبیاء، زمرۂ انبیاء کا ہر فرد جن معنوں میں نبی ہوتا تھا۔ میرے لئے اگر لفظ نبی کہیں استعمال ہوا ہے تو ان معنوں میں نبی نہیں ہوں۔“ یہ مرزا صاحب کی عبارت ہے، اور میں عرض کردوں۔

جناب یحییٰ بختیار: صاحبزادہ صاحب! یہاں آپ اپنی ......

جناب عبدالمنان عمر: ...... کہ ان کی آخری زمانے کی کتاب ہے ”حقیقت الوحی“

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، یہ آپ سے میں عرض کر رہا تھا کہ آپ نے کہا کہ انہوں نے قسم کھا کے کہا کہ ”میں نبی نہیں ہوں۔“ ......

1743

جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں۔

جناب یحییٰ بختیار: ...... پھر انہوں نے قسم کھا کے کہا کہ ...... ”میں نبی ہوں۔“ تو اس پہ ہم کہہ رہے ہیں۔ ناں جی کہ مرزا صاحب تو اگر بغیر قسم کے بھی بات کہیں تو ہم مانتے ہیں ان کی بات۔ مگر یہ بتائیں کہ وہ کہتے کیا ہے؟ وہ کہتے ہیں کہ ......

جناب عبدالمنان عمر: دونوں باتیں صحیح کہہ رہے ناں جی۔

جناب یحییٰ بختیار: ”اور میں اس خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اس نے مجھے بھیجا ہے۔ اس نے میرا نام نبی رکھا ہے۔...“

جناب عبدالمنان عمر: ہاں جی، تو وہی ہوا ناں۔ میں نے عرض کیا تھا کہ ایک اس کے حقیقی معنی ہیں۔ ان معنوں میں نہیں ہے یہ قسم۔ یہ جناب! بتایا ہے کہ ”میں ان معنوں میں ہوں،

٢٢

صفحہ ١٧٣٣

1733 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

مجھے خدا نے بھیجا ہے۔“

جناب یحییٰ بختیار: وہ خود یہ کہتے ہیں: ”جب میں قسم کھاتا ہوں، تاویل کی بات نہیں ہے۔“

جناب عبدالمنان عمر: تاویل ہے نہیں، نہیں جی، وہ خود کہہ رہے ہیں۔ قسم میں لفظ موجود ہے۔ میں اپنے پاس سے تو نہیں کہہ رہا ہوں۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، یہاں کہتے ہیں کہ ”میرا نام نبی ہے۔“

جناب عبدالمنان عمر: ہاں جی۔

جناب یحییٰ بختیار: ”مجھے خدا نے بھیجا ہے۔“

جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں، خدا نے بھیجا ہے۔ جو خدا کی طرف سے بھیجا گیا ہو۔ وہ مجدد بھی......

جناب یحییٰ بختیار: وہ نبی۔

1744 جناب عبدالمنان عمر: جی نہیں، نبی نہیں ہوتا۔

جناب یحییٰ بختیار: مجدد نہیں، کہتے جی۔

جناب عبدالمنان عمر: نہیں، خدا کی طرف سے جو بھیجا گیا ہو وہ نبی، ضروری نہیں کہ وہ نبی ہو۔ دیکھئے میں عرض کرتا ہوں ”تفسیر مظہری“ میں سے: ”صرف ایسے نبی کو رسول کہتے ہیں......“

جناب یحییٰ بختیار: نہیں میں، ان کو چھوڑ دیجئے، ان کا ترجمہ کر کے بتا دیں۔

جناب عبدالمنان عمر: جناب! ان کا Context (سیاق و سباق) میں ترجمہ ہوگا۔

جناب یحییٰ بختیار: دیکھئے، Context (سیاق و سباق) میں یہی ہے، ایک ان کا بیان ہے......

جناب عبدالمنان عمر: ہاں جی، بالکل صحیح بیان ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: دیکھئے ناں، اور اس میں یہ ہے: ”اور میں اس خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اس نے مجھے بھیجا ہے۔ اس نے میرا نام نبی رکھا ہے......

جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں۔

جناب یحییٰ بختیار: ”......اور اس نے مجھے مسیح موعود کے نام سے پکارا ہے۔......“

MBLY OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

مولوی مفتی محمود: حمامۃ البشریٰ......

جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں، ہاں اس جگہ اس بات کو واضح کر دیا ہے کہ...... ”بھائی! جو میرے ان الفاظ پر جو ظاہر پر جو میں بات، میں الفا کو مانو۔“ وہ کیا ہیں مرزا صاحب کی قسمیں؟ دو دفعہ ا وہ قسم یہ ہے کہ: ”میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں ان کی قسم۔ یہ ہر رنگ میں صحیح ہے۔ اس حوالے س تاویل نہیں کرتے۔ حضرت صاحب کا، مرزا صاح بالکل کھل جائے گی۔ (عربی) کہ ”جن معنوں میں پہلے انبیاء نبی کہ دیکھو تو ان معنوں میں نہ سمجھ لو۔ تمام انبیاء، زمرۂ ا لئے اگر لفظ نبی کہیں استعمال ہوا ہے تو ان معنوں ہے، اور میں عرض کردوں۔

جناب یحییٰ بختیار: صاحبزادہ صا

جناب عبدالمنان عمر: ......کہ ان

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، یہ آپ نے قسم کھا کے کہا کہ ”میں نبی نہیں ہوں۔“ ......

1743 جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں

جناب یحییٰ بختیار: ......پھر انہوں تو اس پہ ہم کہہ رہے ہیں۔ ناں جی مانتے ہیں ان کی بات۔ مگر یہ بتائیں کہ وہ کہتے

جناب عبدالمنان عمر: دونوں با

جناب یحییٰ بختیار: ”اور میں میری جان ہے کہ اس نے مجھے بھیجا ہے۔ اس

جناب عبدالمنان عمر: ہاں جی کے حقیقی معنی ہیں۔ ان معنوں میں نہیں ہے یہ

صفحہ ١٧٣٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

جناب عبدالمنان عمر: ہاں جی۔

جناب یحییٰ بختیار: ”...... اور اس نے میری تصدیق کے لئے بڑے بڑے نشان ظاہر کئے ہیں، جو تین لاکھ تک پہنچتے ہیں۔“

(تتمہ حقیقت الوحی ص ٦٨ ، خزائن ج ٢٢ ص ٥٠٣)

جناب عبدالمنان عمر: (عربی) کہ ”مجھے خدا تعالیٰ نے جو لفظ نبی، نام میرا نبی رکھا ہے، یہ مجازی نام ہے، مجازی لفظ ہے یہ۔“

1745 جناب یحییٰ بختیار: یہ تاویل آپ کر رہے ہیں ناں جی، یہ تو تاویل کر رہے ہیں۔ یہاں یہ نہیں ہے۔

جناب عبدالمنان عمر: نہیں جی، مرزا صاحب خود کہہ رہے ہیں۔ میں تو نہیں کہہ رہا۔

جناب یحییٰ بختیار: یہاں تو نہیں کہہ رہے، کہیں۔ سوال یہ ہے۔

جناب عبدالمنان عمر: آپ ہر چیز وہیں ڈھونڈیں گے یا اس شخص کی پوری کتاب کو دیکھیں گے؟

جناب یحییٰ بختیار: دیکھیں، بات یہ ہے ناں جی کہ ایک جگہ مرزا صاحب کہتے ہیں ”جب میں قسم کھا کے بات کہتا ہوں۔ اس میں پھر کوئی تاویل کی بات نہیں ہوتی۔“

جناب عبدالمنان عمر: تاویل ہے نہیں جی۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں تو آپ کہتے ہیں: ”تاویل کے لئے ہم جائیں گے کسی اور جگہ۔“

جناب عبدالمنان عمر: نہیں جی، کہیں نہیں جائیں گے۔ آپ فرماتے ہیں کہ جو مامور ہو......

جناب یحییٰ بختیار: اچھا جی، آپ اس کو چھوڑ دیجئے۔ میں آپ کو کچھ اور حوالے دیتا ہوں......

جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں۔

جناب یحییٰ بختیار: ...... آپ ان پر ذرا غور کیجئے تاکہ شاید ہم کسی Clarification (وضاحت) پر پہنچ سکیں۔ مرزا صاحب نے فرمایا ہے ایک جگہ: ”کیا تو نہیں جانتا کہ پروردگار رحیم اور صاحب فضل نے ہمارے نبی ﷺ کا بغیر کسی استثناء کے خاتم النبیین نام رکھا اور ہمارے نبی نے اہل طلب کے لئے اس کی تفسیر 1746 اپنے قول لا نبی بعدی میں واضح طور پر فرمائی ہے اور ہم اپنے نبی کے بعد کسی نبی کا ظہور جائز قرار دیں تو گویا ہم

٢٤

صفحہ ١٧٣٥

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

باب وحی بند ہو جانے کے بعد اس کا کھلنا جائز قرار دیں گے اور یہ صحیح نہیں ہے۔ جیسا کہ مسلمانوں پر ظاہر ہے اور ہمارے رسول کے مابعد نبی کیونکر آ سکتا ہے۔ درآں حالانکہ آپ کی وفات کے بعد وحی منقطع ہو گئی اور اللہ تعالیٰ نے ہم پر نبیوں کا خاتمہ فرما دیا۔“

(حمامۃ البشریٰ ص ٢٠، خزائن ج ٧ ص ٢٠٠)

جناب عبدالمنان عمر: بالکل ٹھیک ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: بالکل ٹھیک ہے، ابھی میں آپ کو پھر آگے پڑھ کے سناتا ہوں.....

جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں۔

جناب یحییٰ بختیار: ”آنحضرت ﷺ نے بار بار فرمایا کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور حدیث لا نبی بعدی ایسی مشہور تھی کہ کسی کو اس کی صحت پر کلام نہ تھا.....“

جب میں نے کہا کہ Consensus (اجماع) مسلمانوں کا یہی تھا کہ اور کوئی نبی نہیں آسکتا: ”کہ کسی کو اس کی صحت پر کلام نہ تھا اور قرآن شریف کا ہر لفظ قطعی ہے۔ اپنی آیت خاتم النبیین سے اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ فی الحقیقت ہمارے نبی ﷺ پر نبوت ختم ہو چکی ہے۔“

یہ بھی مرزا صاحب کا ہی قول ہے۔

جناب عبدالمنان عمر: بالکل جی۔

جناب یحییٰ بختیار: پھر وہ آگے فرماتے ہیں:

”ہر ایک دانا سمجھ سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ صادق الوعد ہے اور جو آیت خاتم النبیین پر وعدہ کیا گیا ہے اور جو حدیثوں میں بتصریح بیان کیا گیا ہے۔ اب جبرائیل بعد وفات 1747 رسول اللہ ﷺ ہمیشہ کے لئے وحی نبوت لانے سے منع کیا گیا ہے۔ یہ تمام باتیں سچ اور صحیح ہیں۔ تو پھر کوئی شخص بحیثیت رسالت ہماری نبی ﷺ کے بعد ہرگز نہیں آسکتا۔“

(مباحثہ راولپنڈی ص ١٧٠)

جناب عبدالمنان عمر: جی۔

جناب یحییٰ بختیار: آگے وہ فرماتے ہیں: ”ہم بھی مدعی نبوت پر لعنت بھیجتے ہیں (مدعی نبوت پر) لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کے قائل ہیں اور آنحضرت ﷺ کی ختم نبوت پر ایمان رکھتے ہیں۔“

(مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٢٩٧)

یہ ہیں اس زمانہ کے ان کے قول، جب انہوں نے مہدی و مسیح کا دعویٰ نہیں کیا تھا۔

اب میں آتا ہوں، بعد میں فرماتے ہیں:

”تم بغیر نبیوں اور رسولوں کے ذریعے وہ نعمتیں کیونکر پاسکتے ہو۔ لہٰذا یہ ضرور ہوا کہ تمہیں یقین اور محبت کے مرتبہ پر پہنچانے کے لئے خدا کے انبیاء وقتاً فوقتاً آتے رہیں اور جن سے

٢٥

KISTAN 28th Aug, 1974 No:13

جناب عبدالمنان عمر:

جناب یحییٰ بختیار: ”؟

ظاہر کئے ہیں، جو تین لاکھ تک پہنچتے ہیں

جناب عبدالمنان عمر:

کہ ”مجھے خدا تعالیٰ نے ج

ہے یہ۔“

1745 جناب یحییٰ بختیار

ہیں۔ یہاں یہ نہیں ہے۔

جناب عبدالمنان عمر:

جناب یحییٰ بختیار: یہا

جناب عبدالمنان عمر:

دیکھیں گے؟

جناب یحییٰ بختیار: دیکھی

”جب میں قسم کھا کے بات کہتا ہوں۔

جناب عبدالمنان عمر:

جناب یحییٰ بختیار: ہاں

جناب عبدالمنان عمر:

مامور ہو......

جناب یحییٰ بختیار: اِ

دیتا ہوں......

جناب عبدالمنان عمر:

جناب یحییٰ بختیار:

Clarification (وضاحت) پر

”کیا تو نہیں جانتا کہ پر

استثناء کے خاتم النبیین نام رکھا اور ہما

نبی بعدی میں واضح طور پر فرمائی ہے او

صفحہ ١٧٣٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

تم نعمتیں پاؤ۔ اب کیا تم خدا تعالیٰ کا مقابلہ کرو گے اور اس کے قدیم قانون کو توڑ دو گے۔“

(لیکچر سیالکوٹ ص ٣٢، خزائن ج ٢٠ ص ٢٢٦)

جناب عبدالمنان عمر: انبیاء کی نعمتیں تو ملتی ہیں ، وہ حدیث میں آتا ہے......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں ، میں یہ کہہ رہا ہوں ......

جناب عبدالمنان عمر: آپ بالکل صحیح فرما رہے ہیں ......

جناب یحییٰ بختیار: ہاں ، دیکھیں ، سب باتیں صحیح فرما رہے ہیں کہ کوئی نبی نہیں آئے گا کوئی ، راستہ بند ہو گیا ، کوئی وحی نہیں آئے گی۔

جناب عبدالمنان عمر: جی نہیں ، یہ نہیں کہا۔ ”وحی رسالت“ ہے، پھر لفظ دیکھ لیجئے۔

جناب یحییٰ بختیار: ٹھیک ہے ، ٹھیک ہے۔

جناب عبدالمنان عمر: ”کوئی وحی“ نہیں کہا۔

1748 جناب یحییٰ بختیار: ٹھیک ہے، ٹھیک ہے۔ صاحب! میں مانتا ہوں۔ جی ہاں،

پھر بیان فرماتے ہیں:

”تم بغیر نبیوں اور رسولوں کے ......“ یہ تو انہوں نے کہہ دیا کہ نبی نہیں آئیں گے......

جناب عبدالمنان عمر: ہاں جی۔

جناب یحییٰ بختیار: ......رسول نہیں آئیں گے۔

جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں۔

جناب یحییٰ بختیار: پھر فرماتے ہیں کہ:

”تم بغیر نبیوں اور رسولوں کے ذریعہ، وہ نعمت کیونکر پاسکتے ہو......“

جناب عبدالمنان عمر: ہاں، نعمت پانا نبیوں کی ،علماء کے متعلق آتا ہے:

”ورثۃ الانبیاء“ کہ ان کی نعمتوں کے وارث وہ ہوتے ہیں......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں آگے دیکھیں: ”لہٰذا ......“

جناب عبدالمنان عمر: ......ان علوم کے وارث وہ ہوتے ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: ”لہٰذا ضرور ہوا کہ تمہیں یقین اور محبت کے مرتبہ تک پہنچانے کے لئے خدا کے انبیاء وقتاً فوقتاً آتے رہیں۔“

جناب عبدالمنان عمر: ٹھیک ہے جی۔

جناب یحییٰ بختیار: یعنی ختم نبوت کے بعد بھی انبیاء آتے رہیں گے؟

٢٦

صفحہ ١٧٣٧

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

جناب عبدالمنان عمر : بروزی رنگ میں، ظلی رنگ میں......

جناب یحییٰ بختیار : ٹھیک ہے۔

1749 جناب عبدالمنان عمر : ...... غیر حقیقی رنگ میں، ورثۃ الانبیاء کے رنگ میں۔

جناب یحییٰ بختیار : ہاں جی: ”جن سے تم نعمتیں پاؤ گے۔ اب تم خدا تعالیٰ کا مقابلہ کرو گے۔“ یعنی اس کے لئے تو کوئی مقابلے کی بات نہیں آئی۔ بروزی رنگ میں آتے رہے ہیں۔

جناب عبدالمنان عمر : نہ جی، لوگ نہیں ناں مانتے بعضے، بعضے لوگ تو وحی......

جناب یحییٰ بختیار : نہیں، لوگ......

جناب عبدالمنان عمر : ...... اور الہام کے نزول کو نہیں مانتے۔

جناب یحییٰ بختیار : نہیں، لوگ تو کہتے ہیں کہ جو ”خاتم النبیین“ کی آیت ہے۔ اس کے بعد نبی نہیں آسکتے اور کوئی کہے کہ آتا ہے۔ تو پھر کہتے ہیں ”تم اللہ تعالیٰ کا مقابلہ کرتے ہو۔“

جناب عبدالمنان عمر : جی نہیں، یہ نہیں کہہ رہے ہیں۔ وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ انبیاء کی جو نعمتیں ہیں۔ ان کے وارث دنیا میں آتے رہیں گے۔ یہ نبی کریم ﷺ کا خود ارشاد ہے، پیش فرما رہے ہیں۔ مگر یہ کہتے ہیں: ”دیکھو! اس سے غلطی نہ کھا لینا کہ تم یہ سمجھو کہ جس طرح پہلے انبیاء آیا کرتے تھے۔ وہی انبیاء کا سلسلہ پھر بھی جاری ہے۔ محمد رسول ﷺ کے بعد ختم نبوت۔“

جناب یحییٰ بختیار : ہاں جی، آگے فرماتے ہیں: ”میرے نزدیک نبی اس کو کہتے ہیں، جس پر خدا کا کلام یقینی اور قطعی و بکثرت نازل ہو، جو غیب پر مشتمل ہو۔ اس لئے میرا نام نبی رکھا مگر بغیر شریعت کے۔“

(تجلیات الٰہیہ ص ٢٦، خزائن ج ٢٠ ص ٤١٢)

جناب عبدالمنان عمر : یہ اس کا مجازی استعمال ہے، یہ اس کا لغوی......

جناب یحییٰ بختیار : ”بغیر شریعت کے۔“ دیکھئے، صاحبزادہ صاحب! ہم نے پہلے کہا کہ نبی دو قسم کے ہو سکتے ہیں...... شرعی اور غیر شرعی۔

1750 جناب عبدالمنان عمر : جی نہیں، میں نے نہیں یہ کہا، کبھی نہیں میں نے کہا۔ یہ آپ کے ذہن میں وہ دس دن کی بحث غالباً ہوگی۔

جناب یحییٰ بختیار : میں نے، نہیں، میں نے ابھی آپ کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں پوچھا کہ وہ شرعی اور غیر شرعی۔ آپ نے کہا......

٢٧

LY OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

تم نعمتیں پاؤ۔ اب کیا تم خدا تعالیٰ کا مقابلہ کرو گے؟

جناب عبدالمنان عمر : انبیاء کی نعمتی

جناب یحییٰ بختیار : نہیں، میں یہ

جناب عبدالمنان عمر : آپ بالکل

جناب یحییٰ بختیار : ہاں، دیکھیے آئے گا کوئی، راستہ بند ہو گیا، کوئی وحی نہیں آئے

جناب عبدالمنان عمر : جی نہیں، و

جناب یحییٰ بختیار : ٹھیک ہے، تو

جناب عبدالمنان عمر : ”کوئی وج

1748 جناب یحییٰ بختیار : ٹھیک ۔ پھر بیان فرماتے ہیں: ”تم بغیر نبیوں اور رسولوں کے......

جناب عبدالمنان عمر : ہاں جی،

جناب یحییٰ بختیار : ...... رسول ؐ

جناب عبدالمنان عمر : جی ہاں،

جناب یحییٰ بختیار : پھر فرماتے ”تم بغیر نبیوں اور رسولوں کے ذری

جناب عبدالمنان عمر : ہاں، نعو ”ورثۃ الانبیاء“ کہ ان کی نعمتوں

جناب یحییٰ بختیار : نہیں آئے

جناب عبدالمنان عمر : ...... ان

جناب یحییٰ بختیار : ”لہٰذا خ کے لئے خدا کے انبیاء وقتاً فوقتاً آتے رہیں

جناب عبدالمنان عمر : ٹھیک

جناب یحییٰ بختیار : یعنی ختم نب

صفحہ ١٧٣٨

1738 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

جناب عبدالمنان عمر: میں نے چار شرطیں بتائیں۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، ابھی جو میں نے آپ سے پوچھا، کل کی بات آپ چھوڑ دیجئے۔ اس کو بیشک آپ Clarify (واضح) کر دیجئے۔ ممکن ہے میں غلط سمجھا ہوں۔ یہ تو نہیں کہ ابھی یہاں ہم نے کوئی فیصلے کرنے ہیں۔ ممکن ہے میں غلط سمجھا ہوں۔ آپ کو میں سمجھا نہیں سکا۔ میں نے یہ عرض کیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام شرعی نبی تھے یا غیر شرعی نبی تھے؟ آپ نے فرمایا کہ وہ غیر شرعی نبی تھے۔ مگر ان کو یہ اختیار تھا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شرع میں ترمیم کر سکیں۔ تو یہ میں نے پوچھا کہ یہاں جو آپ کہتے ہیں کہ ”بغیر شریعت کے۔“ یہ کہتے ہیں ”میں اس قسم کا نبی ہوں۔“

جناب عبدالمنان عمر: یہ نہیں کہا۔

جناب یحییٰ بختیار: باقی یہ انہوں نے نہیں کہا کہ ”میں ترمیم کروں گا“ فی الحال مگر یہ انہوں نے کہا کہ ”میں غیر شرعی نبی ہوں۔“

جناب عبدالمنان عمر: نہیں جی، یہ نہیں کہا ”میں غیر شرعی نبی ہوں“ یہ نہیں، مرزا صاحب کے میں آپ کو الفاظ دکھا دوں گا۔

جناب یحییٰ بختیار: میں، پھر میں یہ پڑھ دوں: ”میرے نزدیک نبی اس کو کہتے ہیں جس پر خدا کا کلام یقینی اور قطعی و بکثرت نازل ہوا ہو......“

1751

جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں، یہ ایک اس کے لغوی معنی کئے ہیں لفظ ”نبی“ کے۔

جناب یحییٰ بختیار: اور پھر: ”جو غائب پر مشتمل ہو۔“

جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں، یہ وہی......

جناب یحییٰ بختیار: ”اس لئے میرا نام نبی رکھا۔“

جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں، ان معنوں میں نبی رکھا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: ”اس لئے......“

جناب عبدالمنان عمر: ان معنوں میں ہیں، یہ خیال رکھیں۔

جناب یحییٰ بختیار: ان معنوں میں سہی۔

جناب عبدالمنان عمر: ہاں جی۔

جناب یحییٰ بختیار: ان معنوں میں یہ ہے ناں کہ:

”نبی ان کو کہتے ہیں جس پر خدا کا کلام یقینی اور قطعی طور پر بکثرت نازل ہوا ہو......“

٢٨

صفحہ ١٧٣٩

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

جناب عبدالمنان عمر: یہ شریعت نہیں ہے۔ یہ پہلی شریعت کی تنسیخ نہیں ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: ”......جو علم غائب پر مشتمل ہو، مگر بغیر شریعت کے۔“

جناب عبدالمنان عمر: ہاں، یعنی کلام ہو، خدا کا ہو، بکثرت ہو اور شریعت نہ ہو۔ یہ شرطیں ہیں تین۔

جناب یحییٰ بختیار: پھر آگے فرماتے ہیں.......میں ذرا حوالے پورے کر لوں پھر آپ اس کے بعد...... پھر فرماتے ہیں: ”میں کوئی نیا نبی نہیں ہوں۔ مجھ سے پہلے سینکڑوں نبی آچکے ہیں۔“

(ملفوظات احمدیہ ج ١٠ ص ٢١٧، بحوالہ الحکم ج ١٢ نمبر ٢٦، مورخہ ١٠؍اپریل ١٩٠٨ء)

تو یہ مطلب یہ ہوا مجازی؟

1752 جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں، جی ہاں۔ ہم تو مانتے ہیں ناں کہ یہ امت میں مجددین، اولیاء، یہ سب اس کیٹیگری کے لوگ ہیں۔ یہ صحیح بات لکھی ہے......

جناب یحییٰ بختیار: پھر آگے کہتے ہیں.......

جناب عبدالمنان عمر: ......اور یہی ہمارا Stand (مؤقف) ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: پھر فرماتے ہیں: ”خدا کی مہر نے یہ کام کیا کہ آنحضرت ﷺ کی پیروی کرنے والا اس درجہ کو پہنچا کہ ایک پہلو سے وہ امتی ہے اور ایک پہلو سے نبی۔“

(حقیقت الوحی ص ٩٧ خزائن ج ٢٢ ص ٩٩ حاشیہ)

یہ بھی اسی مطلب میں کہ.......

جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں، وہی محدث۔

جناب یحییٰ بختیار: پھر آگے فرماتے ہیں کہ: ”جس قدر مجھ سے پہلے اولیاء ابدال اقطاب اس امت میں گزر چکے ہیں۔ ان کو حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیا گیا۔ پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیا گیا ہوں اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں۔“

(حقیقت الوحی ص ٣٩١، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٦)

جب مجازی ہو تو پھر تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کہ باقی مستحق نہ ہوں۔ یہ آپ Explain (واضح) کردیں۔

جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں، میں عرض کرتا ہوں، گزارش یہ ہے جی کہ مرزا صاحب اوپر بیان کرچکے ہیں کہ میرے نزدیک لفظ ”نبی“ جو میں یہاں استعمال کر رہا ہوں۔ یہ

٢٩

TAN 28th Aug, 1974 No:13

جناب عبدالمنان

جناب یحییٰ بختیار دیجئے۔ اس کو بیشک آپ نہیں کہ ابھی یہاں ہم نے کوئی نہیں سکا۔ میں نے یہ عرض کیا ت نے فرمایا کہ وہ غیر شرعی نبی تھے کرسکیں۔ تو یہ میں نے پوچھا کہ اس قسم کا نبی ہوں۔“

جناب عبدالمنان

جناب یحییٰ بختیار انہوں نے کہا کہ ”میں غیر شرعی ن

جناب عبدالمنان صاحب کے میں آپ کو الفاظ دکھ

جناب یحییٰ بختیار جس پر خدا کا کلام یقینی اور قطعی وہ

1751 جناب عبدالمن

جناب یحییٰ بختیار

جناب عبدالمنان

جناب یحییٰ بختیار

جناب عبدالمنان

جناب یحییٰ بختیار

جناب عبدالمنان

جناب یحییٰ بختیار ”نبی ان کو کہتے ہیں

صفحہ ١٧٤٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

تین لفظ ، تین مفہوم اس میں شامل ہیں۔ خدا تعالیٰ کی وحی اس پر نازل ہو۔ بکثرت نازل ہو، اور خدا اس کا نام نبی رکھے۔ یہ تین شرطیں انہوں نے فرمائی ہیں۔ یہ تینوں شرطیں غیر حقیقی نبی میں ہوتی ہیں۔ لغوی لفظ ، لفظ کے لغوی استعمال کی رو سے ہوتی ہیں۔ اس کا 1753 یہ Figurative (تمثیلی ) استعمال ہوتا ہے، مجازی استعمال ہوتا ہے۔ اس کے بعد اب دیکھئے کہ علماء امت جو ہیں یا ربانی علماء ہیں یا مجددین ہیں، یا محدثین ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے ان کی پیش گوئی فرمائی ہے۔ نبی کریم فرماتے ہیں: (عربی) ”خدا تعالیٰ ہر صدی کے شروع میں ایک ایسے شخص کو مبعوث کرے گا۔ جو امت محمدیہ میں تجدید دین کا کام سرانجام دے گا۔ اب یہ نبی کریم ..... خدا کی طرف سے مامور ہے وہ شخص۔ لیکن ان باتوں کے باوجود کہ ہر صدی کے سر پر آنے والے کی آپ ﷺ نے پیش گوئی فرمائی ہے۔ لیکن تمام احادیث کا ذخیرہ آپ کھنگال ڈالئے۔ ہر قسم کی حدیثیں پڑھ ڈالئے۔ صرف، بر صرف مسیح موعود کے لئے نبی کریم ﷺ نے لفظ ”نبی“ استعمال کیا ہے۔ Figurative (تمثیلی) معنوں میں بیشک، مگر دوسروں کے لئے یہ لفظ تمثیلی معنوں میں بھی استعمال نہیں کیا گیا۔ یہ اس کے معنی ہیں کہ ”نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیا گیا ہوں ۔“ یہ ایک حدیث کا ترجمہ آپ نے کیا ہے۔ اپنے پاس سے بات نہیں کہی ہے۔ یہ اس حوالے کا مطلب ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: اب وہ آگے فرماتے ہیں:

”جس جس جگہ میں نے نبوت یا رسالت سے انکار کیا ہے .....“

یہ ”ایک غلطی کا ازالہ“ اسے میں پھر پڑھ رہا ہوں:

”جس جس جگہ میں نے نبوت یا رسالت سے انکار کیا ہے۔ صرف ان معنوں سے کیا ہے کہ میں مستقل طور پر شریعت لانے والا نہیں ہوں ۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ص٤، خزائن ج١٨ ص٢١٠)

جناب عبدالمنان عمر: ”مستقل طور پر شریعت .....“

جناب یحییٰ بختیار: ”..... لانے والا نہیں ہوں۔“ 1754 یعنی ہم تو پہلے کہہ چکے ہیں کہ نبی بغیر شریعت کے بھی ہوسکتا ہے۔ بغیر شریعت کے بھی نبی ہوسکتا۔ یہ بات تو آپ .....

جناب عبدالمنان عمر: مگر مستقل، وہ شرطیں .....

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، عیسیٰ علیہ السلام مستقل نبیوں میں نہیں شمار ہوتے؟

جناب عبدالمنان عمر: مستقل میں ہوتے ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں۔

٣٠

صفحہ ١٧٤١

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

جناب عبدالمنان عمر: ہاں جی۔

جناب یحییٰ بختیار: یہ دیکھئے ناں، میں کہتا ہوں کہ بغیر شریعت اور مستقل۔

جناب عبدالمنان عمر: مستقل، مرزا صاحب نے مستقل ہونے کا نہیں دعویٰ کیا۔

جناب یحییٰ بختیار: وہ کہتے ہیں کہ:

”……جس جس جگہ میں نے نبوت سے انکار کیا ہے۔ ان معنوں میں کیا ہے کہ میں مستقل طور پر کوئی شریعت لانے والا نہیں ہوں اور نہ میں مستقل طور پر نبی ہوں۔ مگر ان معنوں سے کہ میں نے اپنے رسول مقتداء سے باطنی فیوض حاصل کر کے اپنے لئے اس کا نام پا کر اس کے واسطے سے خدا کی طرف سے علم غیب پایا ہے۔ رسول اور نبی ہوں……“

(ایک غلطی کا ازالہ ص٤، خزائن ج ١٨ ص ٢١٠)

جناب عبدالمنان عمر: یہ جناب! وہی حوالہ ہے……

جناب یحییٰ بختیار: میں ذرا، ذرا اپنی طرف سے آپ کو پورا کر دوں حوالہ، پھر میں کچھ آپ سے سوال پوچھوں گا:

”……نبی ہوں مگر بغیر کسی جدید شریعت کے……اس طور کا نبی کہلانے سے میں نے کبھی انکار نہیں کیا۔ بلکہ انہی معنوں سے خدا نے مجھے نبی اور رسول کر کے پکارا ہے۔ سو اب بھی میں ان معنوں میں نبی اور رسول ہونے سے انکار نہیں کرتا۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ص٤، خزائن ج ١٨ ص ٢١١)

1755 کہ ”بغیر شریعت کے نبی ہونے سے انکار نہیں کرتا۔“ باقی وہ کہتے ہیں کہ:

”میں Officiating (قائم مقام) ہوں یا Temporary (عارضی) ہوں۔“ اس کا سوال نہیں۔ اگر آپ یہ کہہ دیں جی کہ یہ Permanent Government Servant (مستقل سرکاری ملازم) نہیں ہے۔ یہ Officiating (قائم مقام) ہے۔ اگر ”مستقل“ سے یہ مراد لیتے ہیں آپ……

جناب عبدالمنان عمر: نہیں جی……

جناب یحییٰ بختیار: ……مستقل تو کوئی نہیں ہوتا، ہر انسان کی وفات ہوتی ہے۔

جناب عبدالمنان عمر: نہیں جی ”مستقل“ کے یہ معنی نہیں ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: ”مستقل“ کے کیا معنی ہیں؟

جناب عبدالمنان عمر: ”مستقل“ کے معنی یہ ہیں کہ اس کو یہ جو عہدہ یا جو مقام

٣١

صفحہ ١٧٤٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

حاصل ہوا ہے۔ وہ محمد رسول اللہ ﷺ کی پیروی کے بغیر حاصل ہوا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: وہ تو (ڈائریکٹ) ہو گیا ناں جی۔

جناب عبدالمنان عمر: اسی کو کہتے ہیں ”مستقل۔“

جناب یحییٰ بختیار: اس کو؟

جناب عبدالمنان عمر: اسی کو۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، تو یہ ان کا مطلب ہے کہ آنحضرت ﷺ کے ذریعے ان کو ملی ہے یہ نبوت؟

جناب عبدالمنان عمر: جو کچھ ملا ہے، جی ہاں۔

جناب یحییٰ بختیار: اور یہ دوسری بات وہ یہ فرماتے ہیں کہ:

”میں بغیر شریعت کے نبی ہوں۔ اس معنی میں بات کرتا ہوں۔ اس کے علاوہ میں نے جو انکار کیا ہے۔ وہ اس Sense (معنی) میں انکار کیا ہے کہ میں شرع لانے والا ڈائریکٹ نبی نہیں ہوں۔“ اس سے یہ 1756 مطلب نکلتا ہے۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ کچھ اور مطلب اس کا نکلتا ہے؟ تو وہ آپ مختصراً بتا دیں۔

جناب عبدالمنان عمر: عرض کروں؟

جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی۔

جناب عبدالمنان عمر: یہی وہ حوالہ ہے جس کی طرف میں نے کئی دفعہ کوشش کی کہ آپ کو متوجہ کروں کہ یہ Key point (مرکزی نقطہ) ہے۔ اس سے آپ مرزا صاحب کی تمام تحریرات نبوت کے بارے میں ایک فیصلہ کن نتیجے پر پہنچ سکتے ہیں۔ وہ کیا ہے؟ کہ ”نبی“ کے دو معنی ہیں۔ ”نبی“ کا استعمال دو طرح ہوتا ہے۔ ایک اس طرح ہوتا ہے جو میں نے پہلے عرض کیا ہے۔ دوسرا اس طرح ہوتا ہے جو میں نے بتایا ہے کہ لغوی ہیں اور یہ اب مرزا صاحب فرماتے ہیں:

”جس جس جگہ میں نے نبوت یا رسالت سے انکار کیا ہے۔ وہ پہلے معنوں کی رو سے ہے، حقیقی معنوں کی رو سے ہے اور جہاں میں اقرار کرتا ہوں۔ اس سے مراد یہ ہے کہ محمد ﷺ کی پیروی کے نتیجے میں خدا مجھ سے ہم کلام ہوتا ہے۔“ بس اس سے زیادہ کوئی معنی نہیں ہیں۔ تو اب کوئی اختلاف نہیں رہا مرزا صاحب کی تحریر میں۔

جناب یحییٰ بختیار: اچھا، اب انہوں نے ”بغیر شریعت کے“ بات تو کہہ دی کہ ”بغیر شریعت کے، اور ان کے تابع ہیں نبی ﷺ کے۔“

٣٢

صفحہ ١٧٤٣

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

جناب عبدالمنان عمر: اسی کو محدث کہتے ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، ”محدث“ آپ کہہ دیجئے۔ وہ تو کہتے ہیں ”میں نبی ہوں“ آپ Insist (اصرار) کرتے ہیں کہ محدث ہیں۔

جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں، نہیں، جناب! مرزا صاحب کہتے ہیں۔ میں تو مرزا صاحب کا حوالہ دیتا ہوں۔

1757 جناب یحییٰ بختیار: دیکھئے جی، میں نے آپ سے عرض کیا کہ مرزا صاحب کی توجہ دلائی گئی اس بات کی طرف۔ انہوں نے کہا ”ہاں، غلط فہمی پیدا ہورہی ہے، آئندہ لفظ ”محدث“ سمجھا جائے۔“ مگر......

جناب عبدالمنان عمر: اور آخر میں بھی یہ کہا......

جناب یحییٰ بختیار: ......اور اس کے باوجود انہوں نے خود پھر ”نبی“ کا لفظ استعمال کیا۔

جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں، وہ دوسرے معنوں میں۔

جناب یحییٰ بختیار: دوسرے کیوں؟ سوال ہی زیادہ یہاں معنی کا تھا۔ پہلے بھی تو کسی اور معنی میں انہوں نے لفظ ”نبی“ کا استعمال نہیں کیا تھا......

جناب عبدالمنان عمر: انہوں نے نہیں کیا۔

جناب یحییٰ بختیار: ......انہوں نے تو ہمیشہ ”یہ مجازی تھا، لوگوں کو غلط فہمی ہوئی کہ صاحب آپ چونکہ مجازی......“

جناب عبدالمنان عمر: آپ لوگوں کو ہوئی۔

جناب یحییٰ بختیار: ”آپ جب مجازی طور پر بھی استعمال......“

جناب عبدالمنان عمر: آپ لوگوں کو ہوئی ہے جی۔

جناب یحییٰ بختیار: میں بعض لوگوں کا کہہ رہا ہوں جی۔ مجھے ہو گئی ہے۔ آپ کو کب میں کہہ رہا ہوں؟ آپ تو سمجھتے ہیں کہ شرعی تھے وہ۔ نہیں، میں یہ نہیں کہہ رہا......

جناب عبدالمنان عمر: نہیں، شرعی......

جناب یحییٰ بختیار: تو پھر غلط فہمی کس بات کی؟ آپ کو بھی ہوئی، مجھے بھی ہوئی۔

جناب عبدالمنان عمر: نہیں جی، سب کو نہیں ہوئی ہے۔

1758 جناب یحییٰ بختیار: سب کو نہیں جی، جس کو بھی ہوئی......

جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں۔

٣٣

TAN 28th Aug, 1974 No:13

حاصل ہوا ہے۔ وہ محمد رسول اللہ

جناب یحییٰ بختیار:

جناب عبدالمنان:

جناب یحییٰ بختیار:

جناب عبدالمنان:

جناب یحییٰ بختیار: ملی ہے یہ نبوت؟

جناب عبدالمنان:

جناب یحییٰ بختیار: ”میں بغیر شریعت کے جو انکار کیا ہے۔ وہ اس sense 1756 نہیں ہوں۔“ اس سے یہ ہے؟ تو وہ آپ مختصراً بتا دیں۔

جناب عبدالمنان:

جناب یحییٰ بختیار:

جناب عبدالمنان: آپ کو متوجہ کروں کہ یہ point تحریرات نبوت کے بارے میں ہیں۔ ”نبی“ کا استعمال دو طرح دوسرا اس طرح ہوتا ہے جو میں ”جس جس جگہ میں ہے، حقیقی معنوں کی رو سے ہے پیروی کے نتیجے میں خدا مجھ سے کوئی اختلاف نہیں رہا مرزا صا

جناب یحییٰ بختیار: شریعت کے، اور ان کے تابع ن

صفحہ ١٧٤٤

1744 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

جناب یحییٰ بختیار: ...... میں ان کا ذکر کررہا ہوں۔

جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں۔

جناب یحییٰ بختیار: انہوں نے ان سے عرض کیا کہ ”مرزا صاحب! یہ آپ لفظ لغوی معنوں میں استعمال کررہے ہیں۔ مجازی معنوں میں استعمال کررہے ہیں۔ مگر لوگوں میں غلط فہمی ہوگئی ہے۔ بعض لوگوں میں غلط فہمی ہوگئی ہے۔ اس کو آپ دور کیجئے۔ تو انہوں نے کہا کہ ’ہاں، یہ ٹھیک ہے۔ میری سادگی سے ہوئی ہے۔ میرا مطلب یہ نہیں تھا کہ میں اصلی معنوں میں نبی ہوں۔ اس لئے آئندہ جہاں بھی لفظ ’نبی‘ ہو۔ اس کی جگہ آپ ’محدث‘ کا لفظ استعمال کریں اور میری کتابوں میں لفظ ’نبی‘ کو منسوخ سمجھیں اور اس کی جگہ پر ’محدث‘ کا لفظ پڑھا جائے۔“

بالکل ٹھیک بات تھی۔ واضح ہوگئی بات۔ مگر اس کے بعد مرزا صاحب نے پھر ”نبی“ کا لفظ استعمال کرنا شروع کیا۔ لکھنا شروع کیا اور کہتے رہے۔ تو جب لفظی جھگڑا تھا اور لوگوں کو غلط فہمی تھی۔ اس کے باوجود انہوں نے پھر اس کو کہا کہ ”میں یہ لفظ پھر بھی استعمال کروں گا۔“ تو آپ نے کل یہ فرمایا کہ ”ان کے لئے کوئی، کوئی چارہ نہ تھا، اللہ کی طرف سے حکم تھا۔“

جناب عبدالمنان عمر: میں گزارش یہ کرتا ہوں جی، کہ اس حوالے نے مرزا صاحب کی پوزیشن کو بالکل واضح کردیا ہے۔ مرزا صاحب فرماتے ہیں کہ ان کا اعتراض جو میں سمجھا ہوں، وہ یہ ہے کہ جب لفظ نبی سے بعض لوگوں کو غلط فہمی ہوتی تھی تو ان کی غلط فہمی کا دور کرنا ضروری تھا۔ چنانچہ مرزا صاحب نے ان کی غلط فہمی دور کردی۔ اب ایک اور طبقہ مرزا صاحب کا مخاطب ہے۔ اب ایک اور حلقہ ہے جو مرزا صاحب کا مخاطب ہے۔ 1759 وہ طبقہ وہ ہے جو محض وحی اور محض مکالمہ مخاطبہ الہیہ کو بھی ناجائز سمجھتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ وحی نازل ہی نہیں ہوسکتی اور اس قسم کی نبوت کبھی دنیا میں جاری نہیں ہے۔ ان کو مرزا صاحب نے بتایا کہ ”دیکھو! نبوت بیشک بند ہے، ہر قسم کی نبوت بند ہے۔ لیکن مکالمہ، مخاطبہ الہیہ جو ہے، وہ بند نہیں ہوا، وہ جاری ہے اور اس قسم کے الفاظ میرے استعمال کرنے جو ہیں، وہ صرف یہ مضمون بتانے کے لئے ہیں کہ خدا مجھ سے ہم کلام ہوتا ہے۔“

میں ان کی بالکل آخری زمانے کی تحریر، جس کے دو دن کے بعد آپ کی وفات ہوئی ہے، وہ پیش کرتا ہوں تاکہ یہ غلط فہمی دور ہوجائے کہ کسی زمانے میں تو مرزا صاحب یہ باتیں کہتے تھے۔ لیکن بعد میں انہوں نے چھوڑ دیا اس کو۔ یہ پوزیشن نہیں ہے۔ ان کی وفات سے دو دن پہلے کی تحریر ہے، جو شائع ہوئی تھی ان کی وفات والے دن، ٢٦ مئی ١٩٠٨ء کو اخبار عام میں، اس میں مرزا صاحب فرماتے ہیں: ”میں ہمیشہ اپنی تالیفات کے ذریعے سے لوگوں کو اطلاع دیتا رہا ہوں

٣٤

صفحہ ٣٥

1745 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

اور اب بھی ظاہر کرتا ہوں...... ”کوئی ترمیم نہیں ہے۔“ جو شروع سے کہا وہ اب بھی ظاہر کرتا ہوں۔“

”کہ یہ الزام جو میرے ذمے لگایا جاتا ہے کہ گویا میں ایسی نبوت کا دعویٰ کرتا ہوں جس سے مجھے اسلام سے کچھ تعلق باقی نہیں رہتا اور جس کے یہ معنی ہیں کہ میں مستقل طور پر اپنے تئیں ایسا نبی سمجھتا ہوں جو قرآن شریف کی پیروی کی کچھ حاجت نہیں رکھتا اور اپنا علیحدہ کلمہ اور علیحدہ قبلہ بناتا ہوں اور شریعت اسلام کو منسوخ کی طرح قرار دیتا ہوں اور آنحضرت ﷺ کی اتباع اور متابعت سے باہر جاتا ہوں۔ یہ الزام صحیح نہیں ہے۔“

(مجموعہ اشتہارات ج٣ ص٥٩٧)

یہ وفات والے دن شائع ہوئی......

1760 جناب یحییٰ بختیار: یہ کتنی صاف بات انہوں نے کہہ دی ہے......

جناب عبدالمنان عمر: ...... بلکہ......

جناب یحییٰ بختیار: ...... کہ ”میں نبی ہوں، مگر اس قسم کا نبی نہیں، کسی اور قسم کا نبی ہوں۔“

جناب عبدالمنان عمر: نہیں جی، ”قسم“ تو کہیں نہیں فرمایا جی، ”قسم“ کا لفظ ہی نہیں ہے یہاں۔

جناب یحییٰ بختیار: یہ کیا ہے پھر؟ کیا کہہ رہے ہیں وہ؟

جناب عبدالمنان عمر: میں نے بتایا دو استعمال ہیں اس کے، اس لفظ کو دو معنوں میں استعمال کیا ہے۔ آگے سنئے خود واضح کیا ہے......

جناب یحییٰ بختیار: یعنی میں یہی تو آپ سے عرض کر رہا ہوں کہ لوگوں نے کہا کہ غلط فہمی نہ پیدا کیجئے۔ خدارا آپ اس کو ختم کر دیجئے......

جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں، اس طبقے کی غلط فہمی دور کر دی۔ مگر ایک اور طبقہ ہے اس کو یہ غلط فہمی نہیں ہے۔ جب دونوں استعمال دنیا میں رائج ہیں۔ ایک طبقے میں وہ چیز تھی۔ اس کو کہا ”بھئی! یہ معنی مت سمجھنا میرے قول کے۔“ دوسرے طبقے کو وہ غلط فہمی نہیں ہے۔ اس میں وہ ”نبوت“ کے لفظی معنی......

Mr. Chairman: That's all. Next question. Next (جناب چیئرمین: یہ کافی ہے، اگلا سوال کریں) question. That's all.

جناب یحییٰ بختیار: پھر یہ بات تو ظاہر ہوتی ہے کہ جن کو غلط فہمی تھی۔ ان کو یہ انہوں نے کہہ دیا کہ ”آپ میرے آئندہ کے بیانات نہ پڑھیں، میری تحریریں نہ پڑھیں، میں پھر نبی کا

OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

جناب یحییٰ بختیار: ...... میں

جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں

جناب یحییٰ بختیار: انہوں نے معنوں میں استعمال کر رہے ہیں۔ مجازی مـ ہو گئی ہے۔ بعض لوگوں میں غلط فہمی ہو گئی ہے ٹھیک ہے۔ میری سادگی سے ہوئی ہے۔ میـ اس لئے آئندہ جہاں بھی لفظ ”نبی“ ہو، اسـ کتابوں میں لفظ ”نبی“ کو منسوخ سمجھیں اور بالکل ٹھیک بات تھی۔ واضح ہو گـ لفظ استعمال کرنا شروع کیا۔ لکھنا شروع کیا تھی۔ اس کے باوجود انہوں نے پھر اس کو کیـ کل یہ فرمایا کہ ”ان کے لئے کوئی، کوئی چارہ

جناب عبدالمنان عمر: میں گـ کی پوزیشن کو بالکل واضح کر دیا ہے۔ مرزا صـ وہ یہ ہے کہ جب لفظ نبی سے بعض لوگوں کو چنانچہ مرزا صاحب نے ان کی غلط فہمی دور کـ اب ایک اور حلقہ ہے جو مرزا صاحب کا مخا مخاطبۂ الہیہ کو بھی ناجائز سمجھتا ہے۔ وہ کہتا ہے میں جاری نہیں ہے۔ ان کو مرزا صاحب نـ ہے۔ لیکن مکالمہ، مخاطبۂ الہیہ جو ہے، وہ بـ استعمال کرنے جو ہیں، وہ صرف یہ مضمون نـ میں ان کی بالکل آخری زمانـ ہے، وہ پیش کرتا ہوں تاکہ یہ غلط فہمی دور ہـ تھے۔ لیکن بعد میں انہوں نے چھوڑ دیا اسـ کی تحریر ہے، جو شائع ہوئی تھی ان کی وفات مرزا صاحب فرماتے ہیں: ”میں ہمیشہ اپنـ

صفحہ ١٧٤٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

لفظ استعمال کروں گا؟“

1761 جناب عبدالمنان عمر : انہوں نے تو کہا کہ ”میں اس کو مخفی نہیں رکھ سکتا۔“ وہی کہا، وہیں کہا۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، یہ میں، یعنی ”اللہ نے مجھے حکم دیا ہے۔“

جناب عبدالمنان عمر : ہاں، بالکل کہا کہ ”مخفی نہیں رکھوں گا، میں تو استعمال کروں گا.....“

جناب یحییٰ بختیار: ہاں۔

جناب عبدالمنان عمر : ”..... تم اس کے وہ معنی نہ سمجھ لینا .....“

جناب یحییٰ بختیار: ”تم اس کو ترمیم کرتے رہو۔ تم اس کو .....“

جناب عبدالمنان عمر : ”..... تم اس کو“

(میں نبی کہوں گا، تم محدث سمجھو)

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں، ”تم اس کو کتاب سے کاٹ کے محدث لکھتے رہو میں نبی لکھتا رہوں گا۔“ یہ کہا انہوں نے کہ ”جہاں جہاں میری کتابوں میں ہے یہ لفظ ، اس کو کاٹ کر، منسوخ کر کے ادھر ”محدث“ لکھیں اور اس کے بعد میں پھر جو ہے نبی لکھتا رہوں گا آپ منسوخ کرتے جائیے۔“

جناب عبدالمنان عمر : میں عرض کروں ......

جناب یحییٰ بختیار: ......مطلب ایسا نکلتا ہے اس سے۔

جناب عبدالمنان عمر : میں نے عرض کیا یہ کہ ایک یہ حوالہ میرا سن لیجئے ۔ مجھے یہی دقت محسوس ہوتی ہے اپنے بیان میں کہ بات میری بیچ میں ہوتی ہے تو ایک اور Question (سوال) آ جاتا ہے۔ اگر بالترتیب ہو تو کوئی شاید مشکل حل ہو جائے گی ہماری ۔ تو میں یہ بتا رہا تھا کہ مرزا صاحب فرماتے ہیں:

”..... یہ الزام صحیح نہیں ہے۔ بلکہ ایسا دعویٰ نبوت کا میرے نزدیک کفر ہے۔ نہ آج سے بلکہ اپنی ہر ایک کتاب میں .....“

1762 Mr. Abdul Aziz Bhatti: point of order Sir. It's just waste of time. It's extremly irrelevant, Sir.

(جناب عبدالعزیز بھٹی: یہ محض تضیع اوقات ہے اور وہ (گواہ) بالکل غیر متعلقہ باتیں کر رہا ہے)

٣٦

صفحہ ١٧٤٧

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

جناب چیئرمین: ہاں، ان.......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، انہوں نے کہہ دیا کہ کسی اور طبقے سے وہ کہہ رہے تھے۔ جو پہلا طبقہ تھا۔ ان کو ویسا ہی Confused (غلط ملط) چھوڑ دیا۔

جناب عبدالمنان عمر: ”....... بلکہ ایسا دعویٰ نبوت کا میرے نزدیک کفر ہے۔ نہ آج سے بلکہ اپنی ہر ایک کتاب میں میں ہمیشہ یہی لکھتا آیا ہوں کہ اس طرح کی نبوت کا مجھے کوئی دعویٰ نہیں اور یہ سراسر میرے پر.......“

جناب یحییٰ بختیار: کس قسم کی نبوت؟ یہی صاحب زادہ صاحب! میں کہہ رہا ہوں کہ کس قسم کی نبوت کا دعویٰ تھا؟

جناب عبدالمنان عمر: مکالمہ، مخاطبہ۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی؟

جناب عبدالمنان عمر: مکالمہ، مخاطبہ۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، ”نبوت“ کا لفظ استعمال کر رہے ہیں۔

جناب عبدالمنان عمر: لغوی معنوں میں۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، لغوی معنوں میں آپ کو کیا اعتراض ہے جو ان کو نبی کہیں؟ میں یہ پوچھتا ہوں لاہوری پارٹی کو۔

جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں، مجھے ختم کر لینے دیجیے بات تو.......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں نے ایک سوال پوچھا تھا کہ.......

1763 جناب عبدالمنان عمر: میری بات ختم ہوجائے تو میں عرض کروں۔

جناب یحییٰ بختیار: اچھا جی۔

جناب عبدالمنان عمر: ”جس بناء پر میں اپنے تئیں نبی کہلاتا ہوں، وہ صرف اس قدر ہے کہ میں خدا تعالیٰ کی ہم کلامی سے مشرف ہوں اور میرے ساتھ وہ بکثرت بولتا اور کلام کرتا ہے اور میری باتوں کا جواب دیتا ہے اور بہت سی غائب کی باتیں میرے پر ظاہر کرتا ہے اور آئندہ زمانوں کے وہ راز میرے پر کھولتا ہے کہ جب تک انسان کا اس کے ساتھ خصوصیت کا قرب نہ ہو، دوسرے پر وہ اسرار نہیں کھولتا۔“

(مجموعہ اشتہارات ج٣ ص٥٩٧)

یہ ہے جناب! میری گزارش.......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں نے یہ عرض.......

٣٧

صفحہ ١٧٤٨

evaluating image: `[object Object]`

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

جناب عبدالمنان عمر: ...... کہ آپ کا اعتراض یہ تھا ......

Mr. Chairman: That,that's all. That's All.Next question.

(جناب چیئرمین: یہ کافی ہے۔ کوئی اور سوال کریں)

Mr. Yahya Bakhtiar: Sir, I have got to ask him one more Hawalah (حوالہ). But before that, I want this position to be clarified.

(جناب یحییٰ بختیار: جناب والا! مجھے اس سے ایک اور حوالہ پوچھنا ہے۔ لیکن میں اس پوزیشن کی وضاحت کرانا چاہتا ہوں)

میں نے صاحبزادہ صاحب! یہ عرض کی کہ مرزا صاحب نے بار بار کہا کہ ”میں نبی ہوں ۔“ آپ کہتے ہیں کہ ہر حالت میں ان کا مطلب تھا مجازی، لغوی معنی میں، حقیقی معنوں میں نہیں تھا۔ مگر وہ پھر بھی یہ کہتے ہیں کہ ”میں نبی ہوں، میں رسول ہوں ۔“ آپ کہتے ہیں کہ ہر دفعہ وہ یہی کہتے ہیں کہ ”میں لغوی معنوں میں نبی اور رسول ہوں ۔“ آپ، لاہوری پارٹی کو کیا اعتراض ہے کہ ان کا یہ لفظ ”نبی“ استعمال نہیں کرتے، جب وہ استعمال اپنے لئے کرتے ہیں؟

جناب عبدالمنان عمر: میں عرض کروں جی؟

1764 جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی۔

جناب عبدالمنان عمر: اس کی وجہ یہ ہے کہ اس وقت جو ہمارے سامنے طبقہ ہے، ان کے ہاں لفظ ”نبی“ کے یہی معنی سمجھے جاتے ہیں کہ وہ صاحب شریعت ہوتا ہے۔ وہ براہ راست ہوتا ہے۔ وہ کسی حصے کو منسوخ کرتا ہے، وغیرہ۔ اس وجہ سے اور یہ چیز ہم خود نہیں کرتے ہیں، یہ ہماری تشریح نہیں ہے۔ یہ ہمارا اپنا خیال نہیں ہے کہ ہم نے سوچا کہ ہم یہ چھوڑ دیں۔ مرزا صاحب نے خود فرمایا کہ ”میں پسند نہیں کرتا کہ میری جماعت کی عام بول چال میں میرے لئے ”نبی“ کا لفظ استعمال کیا جائے۔ کیونکہ اس کے بعض لوگوں کو دھوکہ لگنے کا اندیشہ ہے اور اس کے بدنتائج نکلتے ہیں......“

جناب یحییٰ بختیار: اور پھر اس کے بعد......

جناب عبدالمنان عمر: ...... تو یہ مرزا صاحب......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں یہی عرض کرتا ہوں۔ پھر خود استعمال کرنا شروع کر دیا۔

جناب عبدالمنان عمر: میں نے بتایا ناں جی! کہ عام استعمال مت کرو۔ مگر چونکہ لغت میں اور اس امت کی اصطلاحات میں، اس کے لٹریچر میں اس قسم کے الفاظ پائے جاتے ہیں

٣٨

صفحہ ١٧٤٩

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

اور مکالمہ مخاطبہ الٰہیہ، جس پر ان کا سب سے بڑا زور تھا......

جناب یحییٰ بختیار: دیکھئے، دیکھئے۔ صاحبزادہ صاحب آپ درست فرما رہے ہیں ۔ ان کا آخری خط جو ہے۔ جو آپ نے پڑھ کے سنایا۔ جو ان کی وفات کے دن شائع ہوا تھا۔ اس میں بھی وہ نبوت کا ذکر کرتے ہیں۔ اپنے نبی ہونے کا اور کس قسم کے نبی ہونے کا۔ تو اس کے باوجود...... اس کے بعد تو ان لوگوں کا کوئی اور Statement (بیان) آیا نہیں ریکارڈ پر۔ گویا تحریر آئی نہیں ہے۔ اس میں وہ جب کہتے ہیں کہ ”میں نبی ہوں مگر غیر شرعی۔ وہ 1765 میں نے دعویٰ نہیں کیا کہ میرا اپنا علیحدہ کلمہ ہے، میرا علیحدہ کعبہ ہے، میرا علیحدہ مذہب ہے۔“ اس لغوی معنی میں جب وہ کہتے ہیں کہ ”مجھے نبی کہو“ تو پھر کیوں نہیں کہتے آپ؟

جناب عبدالمنان عمر: ان لغوی معنوں میں ہم نے عرض کیا ہے۔ انہوں نے خود کہا ہے کہ......

جناب یحییٰ بختیار: اس کے بعد نہیں کہا۔ یہ آخری بات ہے اس کی۔

جناب عبدالمنان عمر: ہاں جی، اسی میں کہا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: اس میں یہی کہا ہے کہ ”میں نبی ہوں، اس قسم کا نبی ہوں ۔“

جناب عبدالمنان عمر: ان معنوں میں۔

جناب یحییٰ بختیار: کوئی حدیث...... محدث کا کوئی ذکر نہیں کیا اس میں۔

جناب عبدالمنان عمر: نہ جی، ہے: ”اور یہ مجھے ایک عزت کا خطاب دیا گیا ہے......“

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، تو آپ عزت......

جناب عبدالمنان عمر: ”......تاکہ ان میں اور مجھ میں فرق ظاہر ہو جائے۔“

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، تو یہ عزت کیوں نہیں دیتے آپ ان کو؟

جناب عبدالمنان عمر: عزت دیتے ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: آپ نبی نہیں کہتے۔

جناب عبدالمنان عمر: ہم یہ کہتے ہیں کہ مکالمہ، مخاطبہ الٰہیہ ان کو حاصل تھا......

جناب یحییٰ بختیار: ہاں۔

جناب عبدالمنان عمر: ......مگر کیونکہ بعض اس لفظ سے چڑتے ہیں، گھبراتے ہیں۔ اس کے لغوی استعمال کا ان کو علم نہیں ہے، ان لوگوں......

1766 جناب یحییٰ بختیار: اچھا! یہ......

٣٩

AKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

جناب عبدالمنان عمر: بـ

t's all. That's All.Next

(جناب چیئرمین: یہ کا

I have got to ask him

fore that, I want this

(جناب یحییٰ بختیار: مـ اس پوزیشن کی وضاحت کرانا چاہتا ہوں میں نے صاحبزادہ صاحـ ہوں۔“ آپ کہتے ہیں کہ ہر حالت میں نہیں تھا۔ مگر وہ پھر بھی یہ کہتے ہیں کہ ”مـ یہی کہتے ہیں کہ ”میں لغوی معنوں میں ہے کہ ان کا یہ لفظ ”نبی“ استعمال نہیں کر

جناب عبدالمنان عمر: جـ

1764 جناب یحییٰ بختیار:

جناب عبدالمنان عمر: لـ کے ہاں لفظ ”نبی“ کے یہی معنی سمجھے جا ہے۔ وہ کسی حصے کو منسوخ کرتا ہے، وہ تشریح نہیں ہے۔ یہ ہمارا اپنا خیال نہیں فرمایا کہ ”میں پسند نہیں کرتا کہ میری جمـ لیا جائے۔ کیونکہ اس کے بعض لوگوں کـ

جناب یحییٰ بختیار: اور

جناب عبدالمنان عمر:

جناب یحییٰ بختیار: نہیں

جناب عبدالمنان عمر: لغت میں اور اس امت کی اصطلاحات

صفحہ ١٧٥٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

جناب عبدالمنان عمر: ...... کی غلط فہمی کو دور کرنے کے لئے اس کو استعمال کرتے ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: ...... یہ Expediency ہے! (یعنی یہ مصلحت ہے)

جناب عبدالمنان عمر: یہ حقیقتیں دونوں اپنی جگہ قائم ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں۔

جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں، دونوں حقیقتیں ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں۔

جناب عبدالمنان عمر: ...... کہ وہ غیر نبی کے معنوں میں لفظ ”نبی“ محدث کے معنوں میں، لفظ ”نبی“ مکالمہ مخاطبہ الٰہیہ کے معنوں میں، لفظ ”نبی“ استعمال ہو جاتا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: ظلی، بروزی تو ہیں وہ؟

جناب عبدالمنان عمر: ظلی، بروزی ”نبی“ کی قسم نہیں ہیں، جناب!

جناب یحییٰ بختیار: نہیں؟

جناب عبدالمنان عمر: بار بار یہ عرض کرتا ہوں کہ ظلی اور بروزی کے معنی یہ ہیں کہ غیر نبی۔

جناب یحییٰ بختیار: اچھا، اچھا، یہ آپ، مطلب یہ کہ......

جناب عبدالمنان عمر: ”ظل“ کے معنی ہوتے ہیں جناب! سادہ سا لفظ ہے ”ظل“ کے معنی ہوتے ہیں سایہ۔ ایک اصل چیز ہے، ایک اس کا سایہ ہے۔ اس کو ”ظل“ عربی میں کہتے ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، یہ Clear (واضح) ہوگئی۔

1767 جناب عبدالمنان عمر: ایک نبوت ہے، ایک اس نبوت کا سایہ ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: یہ صاحبزادہ صاحب! Clear (واضح) ہوگئی پوزیشن۔

جناب عبدالمنان عمر: اچھا جی۔

جناب یحییٰ بختیار: کیونکہ یہ انہوں نے صاف کہا کہ ”میں شرعی نبی نہیں ہوں۔“

جناب عبدالمنان عمر: نہیں جی، ”مستقل“ بھی کہا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: ”مستقل بھی نہیں ہوں۔“

جناب عبدالمنان عمر: اور صرف یہ ہے کہ ”میں مکالمہ، مخاطبہ الٰہیہ کے معنوں میں......“

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، بس یہ۔ اب آپ یہ فرمائیے، جب یہ کہتے ہیں وہ:

”ماسوا اس کے یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیا چیز ہے۔ جس نے اپنی وحی کے ذریعے چند

٤٠

صفحہ ١٧٥١

MBLY OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13 جناب عبد المنان عمر: ..... کی غلط فہمی کو جو جناب یحییٰ بختیار: ..... یہ diency جناب عبد المنان عمر: یہ حقیقتیں دونوں جناب یحییٰ بختیار: ہاں۔ جناب عبد المنان عمر: جی ہاں، دونوں جناب یحییٰ بختیار: ہاں۔ جناب عبد المنان عمر: ..... کہ وہ غیر معنوں میں، لفظ ”نبی“ مکالمہ مخاطبہ الٰہیہ کے معنوں میں جناب یحییٰ بختیار: ظلی، بروزی تو ہیں جناب عبد المنان عمر: ظلی، بروزی ”نبی جناب یحییٰ بختیار: نہیں؟ جناب عبد المنان عمر: بار بار یہ عرض کرتا ہو جناب یحییٰ بختیار: اچھا، اچھا، یہ آپ؟ جناب عبد المنان عمر: ”ظلی“ کے م ”ظل“ کے معنی ہوتے ہیں سایہ۔ ایک اصل چیز ہے میں کہتے ہیں۔ جناب یحییٰ بختیار: نہیں، یہ Clear 1767 جناب عبد المنان عمر: ایک نبوت ۔ جناب یحییٰ بختیار: یہ صاحبزادہ صاحب جناب عبد المنان عمر: اچھا جی۔ جناب یحییٰ بختیار: کیونکہ یہ انہوں نے جناب عبد المنان عمر: نہیں جی، ”مستق جناب یحییٰ بختیار: ”مستقل بھی نہیں ہو جناب عبد المنان عمر: اور صرف یہ ہے کہ جناب یحییٰ بختیار: ہاں، بس یہ۔ اچھا! ”ماسوا اس کے یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیا چ

1751 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13 امر و نہی بیان کئے اور اپنی امت کے لئے قانون مرتب کیا۔ وہی صاحب شریعت ہو گیا۔ پس اس تعریف کی رو سے ہمارے مخالف ملزم ہیں۔ کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہے اور نہی بھی۔“

(اربعین نمبر ٤ ص ٦، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥)

ابھی تو صاحب شریعت بھی ہو گئے۔ جناب عبد المنان عمر: شاید ایک لفظ کی طرف توجہ نہیں رہی جناب کی: ”صاحب شریعت جدیدہ۔“ جدید شریعت یہ قرآن مجید کی شریعت ہے۔ قرآن مجید ہی کی .....! جناب یحییٰ بختیار: پہلے تو یہ ہم ...... جناب عبد المنان عمر: ...... قرآن مجید کے الفاظ ہیں، قرآن مجید کی آیتیں ہیں۔ جناب یحییٰ بختیار: نہیں، پہلے تو یہ ہم اس نتیجے پر پہلے پہنچ جائیں کہ وہ قدیم شریعت والے تھے۔ تب تو اس کے بعد جدید کا سوال آئے گا۔ 1768 جناب عبد المنان عمر: نہ جی نہ، وہ کہتے ہیں کہ نبی کون ہوتا ہے؟ جو ایک جدید شریعت لائے۔ یہ ”نبی“ کی تعریف ہم پہلے کر چکے ہیں۔ جناب یحییٰ بختیار: یہاں یہ ...... جناب عبد المنان عمر: ...... یہ جدید شریعت نہیں ہے، بلکہ ...... جناب یحییٰ بختیار: نہیں، دیکھئے ناں ...... جناب عبد المنان عمر: یہ کیا ہے؟ یہ میں آپ کو عرض کرتا ہوں ...... جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں یہ پھر آپ کو پڑھ کے سنا دیتا ہوں، شاید میں نہیں سمجھا: ”ماسوائے اس کے یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیا چیز ہے۔ جس نے اپنی وحی کے ذریعے چند امر و نہی بیان کئے اور اپنی امت کے لئے قانون مقرر کیا ......“ امت تو بنا چکے تھے۔ بیعت لینا شروع کر دیا۔ Directions (احکامات) ہو چکی تھیں۔ آپ کی علیحدہ پارٹی ہے: ”...... وہی صاحب شریعت ہو گیا۔ پس اس تعریف کی رو سے ہمارے مخالف ملزم ہیں کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہے اور نہی بھی۔“ جناب عبد المنان عمر: میں اگر اپنی طرف سے اس کا کچھ جواب دوں تو شاید سمجھنے میں وقت ہو ...... جناب یحییٰ بختیار: مولانا روم کی طرف سے دے دیجئے آپ! جناب عبد المنان عمر: جناب! میں مولانا محمد حسین صاحب بٹالوی کی طرف سے دیتا ٤١

صفحہ ١٧٥٢

1752 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

ہوں جو کہ مرزا صاحب کے شدید ترین مخالف تھے۔ یہ چیز ہے جس کو کہتے ہیں ”جادو وہ جو سر چڑھ کے بولتا ہے۔“ مولوی محمد حسین بٹالوی صاحب یہی بات، یہی اعتراض پیش کر کے فرماتے ہیں:

1769 ”مؤلف ، ”براہین احمدیہ“ نے ہرگز یہ دعویٰ نہیں کیا کہ قرآن میں ان آیات کا مورد نزول و مخاطب میں ہوں۔ اپنے اوپر ان آیات کے الہام یا دعویٰ سے ان کی مراد ، جس کو صریح الفاظ میں وہ خود ظاہر کر چکے ہیں۔ ہم اپنی طرف سے اختراع نہیں کرتے۔ یہ ہے کہ جن الفاظ یا آیات سے خدا تعالیٰ نے قرآن مجید یا پہلی کتابوں میں انبیاء کو مخاطب فرمایا ہے۔ انہی الفاظ یا آیات سے دوبارہ مجھے شرف خطاب بخشا ہے۔ پر میرے خطاب میں ان الفاظ سے اور معانی مراد رکھے ہیں اور وہ معنی قرآن کے معنی کے اسرار اور آثار ہیں۔“

پھر عرض کرتا ہوں ......

Mr. Chairman: Next question.

(جناب چیئرمین: اگلا سوال کریں)

جناب عبدالمنان عمر: حضرت امام جعفر صادق کے متعلق میں ......

جناب یحییٰ بختیار: دیکھیں، بہت ٹائم کم ہے۔ آپ نے تفسیر کر دی۔

Mr. Chairman: That's all. Only the views of the witness and his Jamaat are needed, not what the others have said. The reply should be confined to the views of the Jamaat.

(جناب چیئرمین: یہ کافی ہے۔ صرف گواہ اور اس کی جماعت کے نظریات آنے چاہئیں نہ کہ دوسرے لوگوں نے کیا کہا۔ جواب کو صرف جماعت کے نظریات تک محدود رکھا جائے)

Mr. Yahya Bakhtiar: Sir, I will draw attention of...

(جناب یحییٰ بختیار: جناب والا میں آپ کی توجہ اس طرف دلاتا ہوں ......)

Mr. Chairman: Yes, Only to Jammat, no other references......

(جناب چیئرمین: صرف جماعت اور کوئی دوسرے حوالہ جات نہ دیئے جائیں)

Mr. Yahya Bakhtiar: I will draw the attention of the witness......

٤٤

صفحہ ١٧٥٣

1753 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

(جناب یحییٰ بختیار: میں گواہ کی توجہ اس طرف دلاتا ہوں......)

Mr. Chairman: ......not what one honourable member has said and what the other has said. Yes, Mr. Attorney-General.

(جناب چیئرمین: نہ یہ کہ کسی معزز ممبر نے کیا کہا ہے اور دوسرے لوگوں نے کیا کہا ہے۔ جی مسٹر اٹارنی جنرل صاحب)

جناب یحییٰ بختیار: یہ ایک حوالہ، اس کی طرف سے آپ کی توجہ دلاتا ہوں۔ یہ نبوت حضرت مسیح موعود۔ حضرت خلیفۃ المسیح اول فرماتے ہیں کہ:

1770 ”جن لوگوں نے مسیح موعود کو دیکھا ہے اور اس کی مجلس میں بیٹھے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ نبی میں ایک خاص کشش ہوتی ہے اور اس وقت کھل کر بیٹھنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ اگر صریح حکم نہ آتا......“

یہ حکیم نورالدین صاحب فرماتے ہیں کہ ان کی محفل میں، نبی کی محفل، خاص کشش ہوتی ہے اور مرزا صاحب کی محفل میں جو بیٹھے تھے، کہتے ہیں جی، آدمی کھل کے نہیں بیٹھ سکتا تھا۔ مشکل ہوتا تھا۔ تو یہ نبی جو ہے، یہ وہ بروزی یا مجازی Sense (معنی) میں استعمال کر رہے ہیں یہاں؟

جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں، محدث کے معنوں میں۔

جناب یحییٰ بختیار: ابھی اگر میں کہوں جی کہ ”شیر کے ساتھ جنگل میں آدمی بڑا ڈر جاتا ہے۔“

جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں۔

جناب یحییٰ بختیار: ...... تو وہ شیر تو اصلی ہوتا ہے، کہ وہ بازاری شیر یا نقلی شیر؟

جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں، اور اگر وہ کہے کہ ”شیر کے ساتھ میری محفل جو تھی، وہاں بہت سے لوگ تھے ۔“ تو وہاں کون سا شیر مراد ہوگا؟

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں ایسے کہہ رہا ہوں۔ دیکھیں، ایک آدمی ہوتا ہے۔ سیاستدان ہوتا ہے۔ اس نے خدمت کی ہوتی ہے۔ اس کی خدمت کی وجہ سے کہتے ہیں۔ جی کہ یہ شیر پنجاب ہے یا شیر سرحد ہے۔ وہ بھی ہماری طرح انسان ہوتا ہے۔ وہ کسی کو کاٹتا نہیں، نہ پنجے مارتا ہے۔ تو اس کی محفل میں تو میں نہیں کہوں گا جی کہ جیسے جنگل میں کوئی آدمی چلا جائے اور شیر سامنے آجائے تو ڈر جاتا ہے اس سے۔ کہ ڈر لگتا ہے؟

٤٣

صفحہ ١٧٥٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

جناب عبدالمنان عمر: نہیں جی، بہادر آدمی تو بعض وقت ڈر جاتا ہے۔

1771 جناب یحییٰ بختیار: نہیں، بہادر آدمی سے۔ وہ تو بڑا سوکھا پتلا، قائد اعظم جو تھا ان سے کون ڈرتا تھا؟

جناب عبدالمنان عمر: ان کا دماغ جو تھا۔ وہ بڑے بڑے بہادروں سے افضل تھا۔

جناب یحییٰ بختیار: دیکھیں، شیر نہیں، یہاں جو کہتے ہیں ناں کہ شیر کی محفل سے، "نبی کی محفل سے آدمی جو ہے......" وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ نبی تھے۔ "نبی میں خاص کشش ہوتی ہے اور اس وقت کھل کر بیٹھنا بہت مشکل ہوتا ہے۔" یہ کس مطلب میں انہوں نے استعمال کیا ہے؟

جناب عبدالمنان عمر: ہاں یہ، یہ سوال بڑا ہی اعلیٰ درجے کا ہے کہ یہ انہوں نے کن معنوں میں استعمال کیا ہے؟ اس کے لئے میں بجائے اس کے کہ اپنی طرف سے اس کا جواب دوں......

جناب یحییٰ بختیار: آپ اپنی طرف سے اس کا جواب دے دیں تو وہ......

جناب عبدالمنان عمر: نہیں، جناب! میں مرزا صاحب...... وہ مولانا نور الدین کی طرف سے جواب دوں گا جن کا وہ حوالہ ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: اچھا جی۔

جناب عبدالمنان عمر: ہاں جی، یہی صحیح بات بھی ہے۔ نہیں، جناب! وہ اردو ہی ہے، خط ہے، اردو میں ہے، Simple (آسان) سا خط ہے:

"دل چیر کر دکھانا انسانی طاقت سے باہر ہے۔ قسم پر اگر کوئی اعتبار کرے تو واللہ العظیم کے برابر کوئی قسم مجھے نظر نہیں آتی۔ نہ آپ میرے ساتھ موت کے بعد ہوں گے اور نہ کوئی اور میرے ساتھ سوائے میرے ایمان اور اعمال کے ہوگا۔ پس یہ معاملہ اللہ تعالیٰ کے حضور میں پیش ہونے والا ہے۔" 1772 واللہ العظیم (عربی)، میں مرزا صاحب کو مجدد اس صدی کا یقین کرتا ہوں۔ میں ان کو راست باز مانتا ہوں۔" ٢٧ اکتوبر ١٩١٠ء۔

جناب یحییٰ بختیار: آگے کوئی نبی تو نہیں لکھا ہے اس میں؟

جناب عبدالمنان عمر: ہیں جی؟

جناب یحییٰ بختیار: آگے کوئی نبی تو......

مولانا غلام غوث ہزاروی: جناب صدر صاحب! ایک عرض کروں؟

جناب عبدالمنان عمر: آپ پھر پورا خط اگر پڑھنا چاہیں......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں آپ سے صرف اتنا پوچھ رہا ہوں......

٤٤

صفحہ ١٧٥٥

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

مولانا غلام غوث ہزاروی: یہ گواہ ”واللہ العظیم“ کی جگہ ”واللہ العظیم“ پڑھے تو اچھا ہے۔

(مداخلت)

جناب عبدالمنان عمر: میں لفظ پڑھ لیتا ہوں......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، یعنی آگے نبی......

جناب عبدالمنان عمر: میں نے کہا جی میں خط ہی پڑھ دیتا ہوں آپ کو......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں آپ سے پوچھ رہا ہوں تاکہ ٹائم Save (محفوظ) ہو۔

جناب عبدالمنان عمر: ٹائم تب ہی Save (محفوظ) ہوگا ناں جی کہ میں شاید کچھ اور جواب دے دوں اور یہاں کچھ اور ہو۔ اچھا جی: ”میں مرزا صاحب کو مجدد اس صدی کا یقین کرتا ہوں۔ میں ان کو راست باز مانتا ہوں۔ نبی کے معنی لغوی پیش از وقت اللہ تعالیٰ سے اطلاع پا کر خبر دینے والا، ہم لوگ یقین کرتے ہیں، نہ شریعت لانے والا۔ مرزا صاحب اور میں خود۔ جو شخص 1773 ایک لفظ بھی قرآن کا اور شریعت محمد رسول اللہ ﷺ کا نہ مانے میں اسے کافر اور لعنتی اعتقاد کرتا ہوں۔ یہی میرا اعتقاد ہے اور یہی میرے نزدیک مرزا غلام احمد صاحب کا تھا۔ کوئی رد کرے یا نہ مانے یا منافق کہے تو اس کا معاملہ حوالہ خدا ہے۔“

( قادیانیوں اور لاہوریوں میں کوئی فرق نہیں )

جناب یحییٰ بختیار: تو اب تو بالکل بات صاف ہوگئی۔ صاحبزادہ صاحب! آپ میں اور ربوہ میں کوئی فرق نہیں۔ وہ بھی یہ کہتے ہیں کہ غیر شرعی نبی تھا، شریعت والا نہیں تھا۔

جناب عبدالمنان عمر: جناب! میں گزارش کرتا ہوں، مجھے علم نہیں کہ انہوں نے آپ کے سامنے کیا بیان دیا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: یہ کہ غیر شرعی، امتی۔

جناب عبدالمنان عمر: دیکھو جی، میں عرض کرتا ہوں کہ میرے سامنے ان کا پچھلا پچاس سال کا لٹریچر ہے۔ میں اس کی روشنی میں عرض کرتا ہوں، وہ غیر شرعی نبی بمعنی محدث نہیں مانتے۔ میں نہیں جانتا یہاں ان کا کیا Stand (مؤقف) ہے۔ جو ان کا گذشتہ پچاس سال کا Stand (مؤقف)......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، اس معنی میں جیسے حکیم نور الدین صاحب نے فرمایا......

جناب عبدالمنان عمر: مجدد۔

جناب یحییٰ بختیار: ”مجدد“ تو کہا......

٤٥

صفحہ ١٧٥٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

جناب عبدالمنان عمر: نہیں، مجدد۔ جناب یحییٰ بختیار: ...... ساتھ ہی کہا ”بغیر شریعت کے، بغیر شریعت کے نبی۔“ جناب عبدالمنان عمر: جی نہیں، بغیر...... لغت کے لحاظ سے، لغوی معنوں میں۔ پورے لفظ لیجئے ناں ان کے۔ 1774 جناب یحییٰ بختیار: لغوی معنی، وہ بھی یہی کہہ رہے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کی امت سے تھے۔ ان کے قدموں میں بیٹھے۔“......

Mr. Chairman: Let us get out of this lughat (لغت) We have please, نہیں، نہیں got so many lughats in our library. (Interruption) confine yourself. No further question, no further answers about the lughat or the double meaning or three meanings or four meanings.

(جناب چیئرمین: ہم لغت سے باہر آجائیں۔ ہماری لائبریری میں کئی ایک لغات ہیں۔ آپ موضوع کے اندر رہیں لغت کے بارے میں یا الفاظ کے دو معانی، تین معانی یا چار معانی کے بارے میں کوئی مزید سوال و جواب نہیں ہوگا)

جناب یحییٰ بختیار: اچھا جی، یہ آگے پھر ایک اور حوالہ ہے کہ: ”مولوی صاحب، حکیم نورالدین صاحب، خلیفہ اول قادیان، فرمایا کرتے تھے کہ یہ تو صرف نبوت کی بات ہے۔ میرا تو ایمان ہے کہ حضرت مسیح (غلام احمد قادیانی صاحب) صاحب شریعت نبی ہونے کا دعویٰ کریں اور قرآنی شریعت کو منسوخ قرار دیں تو بھی مجھے انکار نہ ہو۔ کیونکہ جب ہم نے ان کو واقعی صادق اور من جانب اللہ پایا ہے۔ تو اب جو بھی آپ فرمائیں گے، وہی حق ہوگا۔“

(سیرت المہدی ج١ ص٩٩، روایت نمبر١٠٩)

جناب عبدالمنان عمر: یہ کہاں فرمایا جی؟ جناب یحییٰ بختیار: یہ، آپ کو اس کا علم نہیں ہے؟ جناب عبدالمنان عمر: جناب! میں ان کی گیارہ کتابوں کو جانتا ہوں۔ میرے علم میں ان کی گیارہ کی گیارہ کتابوں میں سے کسی جگہ یہ لفظ نہیں ہے۔ جناب یحییٰ بختیار: کسی خط میں؟ کتاب نہ سہی کسی اور...... جناب عبدالمنان عمر: میرے سامنے خط پیش کیا جائے کیونکہ خط ایک پرائیویٹ

٤٦

صفحہ ١٧٥٧

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

چیز ہے۔ میں نہیں جانتا کہ وہ خط......

جناب یحییٰ بختیار: کسی اور تحریر میں؟ نہیں، نہیں، کسی اور تحریر میں؟ آپ کے علم میں نہیں یہ بات؟

1775 جناب عبدالمنان عمر: جی نہیں، بالکل۔ اگر کوئی خط ایسا ہے......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، بس ٹھیک ہے۔

جناب عبدالمنان عمر: ہاں جب، بالکل۔

جناب یحییٰ بختیار: اب آپ......

جناب عبدالمنان عمر: Forged (جعلی) بھی چیزیں ہوتی ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، ٹھیک ہیں ناں، اسی واسطے میں پوچھتا ہوں کہ آپ اتھارٹی ہیں اس پر، آپ جانتے ہیں۔

اب یہ ایک حوالہ ہے ”الفرقان“ ربوہ سے، کوئی اتھارٹی نہیں ہے۔ مگر انہوں نے Quote (پیش) کئے ہیں۔ آپ کے کچھ، جو پارٹی ہے، ان کے خیالات۔ وہ کہتے ہیں کہ:

”ہم ذیل میں فریق لاہور کے اکابر کے وہ حوالہ جات پیش کرتے ہیں جن سے روز روشن کی طرح ثابت ہے کہ سب خلافت ثانیہ سے اپنی علیحدگی یعنی ١٩١٤ء تک سیدنا حضرت مسیح موعود کی نبوت پر اسی طرح اعتقاد رکھتے تھے، جس طرح جماعت احمدیہ رکھتی ہے......“

اور پھر وہ کہتے ہیں کہ ”جناب مولوی مودودی صاحب نے تحریر کیا...... میں Quote (پیش) کرتا ہوں:

”ہمارے نبی ﷺ خاتم النبیین ہیں اور آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی، خواہ وہ پرانا نبی ہو یا نیا، آ نہیں سکتا کہ اس کو بدوں وساطت آنحضرت ﷺ کے نبوت ملی ہو۔“

پھر مولوی صاحب آگے بیان کرتے ہیں:

”مخالف کوئی ہی معنی کرے۔ مگر ہم تو اس پر قائم ہیں کہ خدا نبی پیدا کرتا ہے۔ صدیق بنا سکتا ہے اور شہداء کو صالح کا مرتبہ عطا کرسکتا ہے۔ مگر چاہئے مانگنے والا۔ 1776 ہم نے جس کے ہاتھ میں ہاتھ دیا وہ صادق تھا۔ خدا کا برگزیدہ اور مقدس رسول تھا۔ پاکیزگی کی روح اس میں کمال تک پہنچی ہوئی تھی۔“

یہ ہے ١٩٠٨ء کا ”الحکم“ پہلے ١٠؍مارچ ١٩٠٢ء کا ”الحکم۔“ پھر ہے ١٨؍جولائی ١٩٠٨ء کا ”الحکم۔“

٧٤

PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

جناب عبدالمنان عمر: نہی

جناب یحییٰ بختیار: ......

جناب عبدالمنان عمر: ج پورے لفظ لیجئے ناں ان کے۔

1774 جناب یحییٰ بختیار: ل امت سے تھے۔ ان کے قدموں میں بی s get out of this lughat so many lughats in our self. No further question, at or the double meaning s.

(جناب چیئرمین: ہم لغت ہیں۔ آپ موضوع کے اندر رہیں لغت معانی کے بارے میں کوئی مزید سوال و ج

جناب یحییٰ بختیار: اچھا ج

”مولوی صاحب، حکیم نور ال صرف نبوت کی بات ہے۔ میرا تو ایمان شریعت نبی ہونے کا دعویٰ کریں اور قرآ جب ہم نے ان کو واقعی صادق اور من جا ہوگا۔“

جناب عبدالمنان عمر: یہ

جناب یحییٰ بختیار: یہ، آ

جناب عبدالمنان عمر: میں ان کی گیارہ کی گیارہ کتابوں میں

جناب یحییٰ بختیار: کسی

جناب عبدالمنان عمر:

صفحہ ١٧٥٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

پھر آگے مولوی کرم الدین آف بھیں کے مقدمہ میں بطور گواہی مولوی صاحب نے یہ حلفیہ بیان دیا......

جناب عبدالمنان عمر: (ناقابل سماعت)

جناب چیئرمین: ابھی، ابھی نہیں، وہ ختم کرلیں۔

جناب یحییٰ بختیار: مجھے یہ حوالے پڑھنے دیجئے۔ پھر آپ پھر دیکھیں کہ...... انہوں نے اس زمانے کے اخبارات سے دیئے ہوئے ہیں، ”الحکم“ سے:

"There is another view of the matter according to Mohammadan theology. One who beleives a person claiming to be a Prophet is Kazzab. And this has been admitted by prosecution evidence. Now the complainant knew perfectly well that the first accused claimed that position......"

First accused was Mirza Sahib there:

"......that positoin and notwithstanding that he believed the accused- notwithstanding that he believed the accused. Consequently, in religions terminology, the complainant was a Kazzab."

ترجمہ: ”اسلامی علم الکلام کے مطابق اس معاملہ کا ایک اور بھی پہلو ہے، اور وہ یہ کہ جو شخص کسی مدعی نبوت و رسالت پر ایمان لاتا ہے، کذاب ہے۔ یہ بات شہادت استغاثہ 1777 میں تسلیم کی گئی۔ اب مستغیث مولوی کرم الدین نہایت اچھی طرح جانتا ہے کہ ملزم (یعنی مرزا، حضرت مرزا صاحب) نے اس حیثیت (یعنی نبوت و رسالت) کا دعویٰ کیا ہے۔ بہ ایں ہمہ مستغیث نے اس کی تکذیب کی ہے۔ پس مذہب اسلام کی اصطلاح کی رو سے بھی مستغیث کذاب ہے۔“

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مولوی محمد علی صاحب کہہ رہے ہیں...... خواہ وہ دعویٰ عدالت میں اس کا جھوٹا ہو...... کہ مرزا صاحب نے...... یہ ابھی کوئی مجازی بات نہیں ہے...... ایسے ہی کہتے ہیں کہ:

٤٨

صفحہ ١٧٥٩

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

”مستغیث (مولوی کرم الدین) نہایت اچھی طرح جانتا ہے کہ ملزم (یعنی مرزا صاحب) نے اس حیثیت (یعنی نبوت ورسالت) کا دعویٰ کیا ہے۔ بہ ایں ہمہ مستغیث نے اس کی تکذیب کی ہے۔ پس مذہب اسلام کی اصطلاح کی رو سے بھی مستغیث کذاب ہے۔“

کیونکہ ایک شخص نے دعویٰ کیا ہے اور وہ ان کو سچا سمجھتے ہیں تو یہ جو ہے۔

پھر ایک اور حوالہ ہے "Review of Religions" ١٩٠٤ء میں مولانا محمد علی صاحب نے اخبار "Pioneer" الہ آباد کے ایڈیٹر کو جواب دیا:

”جس طرح اس نے ہندوستان کے متعلق یہ لکھا کہ ہندوستان کو اس وقت کسی اور نبی کی ضرورت نہ تھی......“

"Pioneer" نے یہ لکھا تھا مرزا صاحب کے دعویٰ کے متعلق ان کو کہ ”ہندوستان کو کسی اور نبی کی ضرورت نہ تھی۔“ تو اس کے جواب میں کہتے ہیں:

”جس طرح اس نے ہندوستان کے متعلق یہ لکھا کہ ہندوستان کو اس وقت کسی اور نبی کی ضرورت نہ تھی۔ اس طرح یہ بھی کسی اخبار میں شائع کرے کہ اس سے 1778 ١٩٠٠ء سال پہلے ملک شام کو کسی اور نبی کی ضرورت نہ تھی۔“

("Review of Religions" مارچ ١٩٠٤ء ص ٤٦)

پھر آگے، مولوی محمد علی صاحب آگے فرماتے ہیں، ہندوؤں کو مخاطب کر کے:

”ہم اس بات کو مانتے ہیں کہ آخری زمانہ میں ایک اوتار کے ظہور کے متعلق جو وعدہ انہیں دیا گیا تھا۔ وہ خدا کی طرف سے تھا اور اس کو ہندوستان کے مقدس نبی ...... مرزا غلام احمد قادیانی کے وجود میں خدا تعالیٰ نے پورا کر دکھایا ہے۔“

("Review of Religions" نومبر ١٩٠٤ء ص ٤١١)

پھر آگے لکھا ہے کہ:

”مولوی کرم الدین نے حضرت مسیح موعود اور حکیم فضل الدین صاحب پر مقدمہ ازالہ حیثیت عرفی کیا تھا۔ کیونکہ حضرت نے اپنی کتاب میں مولوی صاحب ...... یہ اس کا میں ذکر کر چکا ہوں، جو انہوں نے اس کو کذاب کہا تھا۔ آگے جی میں اور کچھ حوالے چھوڑ دیتا ہوں۔

پھر بعد میں خواجہ کمال الدین صاحب کی اس تقریر کی طرف آپ کی توجہ دلاتا ہوں ۔ جو ایڈیٹر ”الحکم“ کو لکھتے ہیں۔ یہ ہے جی ”الحکم ١٤ مئی ١٩١١ء

”بٹالوی نے اپنے روزنامہ ”پیسہ اخبار“ والے مضمون میں ذکر کیا تھا کہ خواجہ صاحب نے پھر بریکٹ میں نعوذ باللہ حضرت مسیح موعود کے نبی یا رسول ہونے سے انکار کیا ہے۔ مگر بٹالوی

٤٩

PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

پھر آگے مولوی کرم الدین آ حلفیہ بیان دیا...... جناب عبدالمنان عمر : ( جناب چیئرمین: ابھی ، ابھی جناب یحییٰ بختیار : مجھے یہ نے اس زمانے کے اخبارات سے دینے

the matter according to who beleives a person zab. And this has been e. Now the complainant st accused claimed that ahib there: otwithstanding that he ding that he believed the gions terminology, the

ترجمہ : ”اسلامی علم الکلام جو شخص کسی مدعی نبوت و رسالت پر ایمان تسلیم کی گئی۔ اب مستغیث مولوی کرم الـ حضرت مرزا صاحب ) نے اس حیثیت مستغیث نے اس کی تکذیب کی ہے۔ کذاب ہے۔“

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عدالت میں اس کا جھوٹا ہو...... کہ مرزا صا ہی کہتے ہیں کہ :

صفحہ ١٧٦٠

1760 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

کے لئے یہ خبر جانفزا ہوگی کہ ان کے گھر بٹالہ ہی میں خواجہ صاحب نے اپنے لیکچر میں صاف طور پر بیان کیا اور بٹالہ والوں کو خطاب کر کے کہا کہ تمہارے ہمسایہ میں ایک نبی اور رسول آیا ہے، تم خواہ مانو یا نہ مانو۔‘‘

1779 یہ ان کی تقریر کا حوالہ دے رہے ہیں ”الحکم ١٩١١ء میں۔“

پھر اسی طرح آپ کے، کئی اور اکابرین کے بار بار یہ حوالے انہوں نے دیئے ہیں۔ جن کو یہاں دے کر میں وقت ضائع نہیں کرنا چاہتا کہ وہ مرزا صاحب کو نبی اور رسول سمجھتے تھے……

Mr. Chairman: What is the question?

(جناب چیئرمین: کیا سوال ہے؟)

جناب یحییٰ بختیار: ……اب ایک حلفیہ شہادت ہے، اس کی طرف بھی آپ کی توجہ دلاتا ہوں: ”نبوت حضرت مسیح کے متعلق جماعت احمدیہ کا متفقہ عقیدہ۔ شیخ عبدالرحمن صاحب مصری لاہوری کی حلفیہ شہادت۔

ہم ذیل میں خود شیخ عبدالرزاق صاحب کی دستخطی حلفیہ گواہی درج کرتے ہیں جو ٢٤؍ اگست ١٩٣٥ء کو شیخ صاحب مذکور نے حضرت ناظر صاحب تالیف وتصنیف کے جواب میں تحریر کی ہے۔ لکھتے ہیں:

”میں حضرت صاحب (یعنی مسیح موعود علیہ السلام) کے زمانہ کا احمدی ہوں۔ میں نے ١٩٠٥ء میں بیعت کی تھی۔ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اس طرح کا نبی یقین کرتا تھا اور کرتا ہوں جس طرح خدا کے دیگر نبیوں اور رسولوں کو یقین کرتا ہوں۔ نفس نبوت میں، میں نہ اس وقت کوئی فرق کرتا تھا اور نہ اب کرتا ہوں۔ لفظ استعارہ اور مجاز اس وقت میرے کانوں میں کبھی نہیں پڑے تھے۔ بعد میں حضور علیہ السلام کی کتب میں یہ الفاظ جس معنی میں میں نے استعمال ہوتے ہوئے دیکھے ہیں۔ وہ میرے عقیدے کے منافی نہیں۔ ان ہی معنوں میں اب بھی حضور علیہ السلام (مرزا) کو…… صحیح مجازی نبی 1780 ہوں۔ یعنی شریعت جدید کے بغیر نبی، اور نبی ﷺ کا اتباع کی بدولت، حضور کی اطاعت میں فنا ہوکر، حضور کا کامل بروز ہوکر مقام نبوت کا حاصل کرنے والا نبی ہے۔ میرے اس عقیدے کی بنیاد حضرت مسیح کی تقاریر اور تحریرات اور جماعت احمدیہ کا متفقہ عقیدہ ہے۔“

تو یہ میں عرض کر رہا تھا کہ آپ کا اور ربوہ کا بالکل ایک ہی عقیدہ ہے۔

Mr. Chairman: What is the question? These are

٥٠

صفحہ ١٧٦١

BLY OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

کے لئے یہ خبر جانفزا ہو گی کہ ان کے گھر بٹالہ ہی میں بیان کیا اور بٹالہ والوں کو خطاب کر کے کہا کہ تمہارے مانو یا نہ مانو۔“

یہ ان کی تقریر کا حوالہ دے رہے ہیں 1779

پھر اسی طرح آپ کے، کئی اور اکابر جن کو یہاں دے کر میں وقت ضائع نہیں کرنا چاہتا

at is the question?

(جناب چیئرمین: کیا سوال ہے؟

جناب یحییٰ بختیار: ...... اب ایک دلاتا ہوں: ”نبوت حضرت مسیح کے متعلق جماعت احمدیہ لاہوری کی حلفیہ شہادت۔

ہم ذیل میں خود شیخ عبدالرزاق صاحب اگست ١٩٣٥ء کو شیخ صاحب مذکور نے حضرت ناظم کو لکھتے ہیں:

”میں حضرت صاحب (یعنی مسیح موع ١٩٠٥ء میں بیعت کی تھی۔ میں حضرت مسیح موعود ہوں جس طرح خدا کے دیگر نبیوں اور رسولوں کو کوئی فرق کرتا تھا اور نہ اب کرتا ہوں۔ لفظ است پڑے تھے۔ بعد میں حضور علیہ السلام کی کتب میں ہوئے دیکھے ہیں۔ وہ میرے عقیدے کے منافی (مرزا) کو ...... مسیح مجازی نبی 1780 ہوں۔ یعنی شر بدولت، حضور کی اطاعت میں فنا ہو کر، حضور کا م ہے۔ میرے اس عقیدے کی بنیاد حضرت مسیح عقیدہ ہے۔“

تو یہ میں عرض کر رہا تھا کہ آپ کا اور

at is the question? These are

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

the references and on these references, what question Mr. Attorney-General bares

(جناب چیئرمین: سوال کیا ہے؟ یہ حوالہ جات ہیں اور اٹارنی جنرل صاحب! ان حوالہ جات پر کیا سوال پوچھنا چاہتے ہیں؟)

Mr. Yahya Bakhtiar: Sir?

(جناب یحییٰ بختیار: جناب والا؟)

Mr. Chairman: These are the references, What is the definite question out of these?

Mr. Yahya Bakhtiar: I say, does he deny these allegations, these statements?

(جناب یحییٰ بختیار: میں کہتا ہوں کہ کیا گواہ ان الزامات سے انکاری ہے۔ ان بیانات سے انکاری ہے)

Mr. Chairman: Yes, the first question.

(جناب چیئرمین: جی ہاں، پہلا سوال تو یہ ہے)

Mr. Yahya Bakhtiar: I will give these copies to them. They will verify and, after the break, they can......

(جناب یحییٰ بختیار: میں ان کی نقول انہیں دے دوں گا۔ وہ ان کی تصدیق کرلیں اور چائے کے وقفے کے بعد......)

Mr. Chairman: Yes, No. (1) I will ask the witness, whether these are admitted? If they are admitted......

(جناب چیئرمین: جی ہاں، پہلی بات تو یہ ہے کہ گواہ اسے تسلیم کرتے ہیں؟ اگر تسلیم کرتے ہیں......)

Mr. Yahya Bakhtiar: They have their "Review of religions."

(جناب یحییٰ بختیار: وہ یہاں ریویو آف ریلیجنز رکھتے ہیں)

Mr. Chairman: ......Then the explaination, And if

٥١

صفحہ ٥٢

1763 NATIONA فتویٰ کیا جاتا ہے) Mr. Yahya B also, They can discuss س اور وہیں پر مشورہ بھی کرلیں) Mr. Chairma discuss in the room. مشورہ کر سکتے ہیں) یئے ۔ وہاں ڈسکس کر لیجئے۔ اس پر غور Mr. Chairma 1782 (The De Mr. Chairma meet again at 12:15. تا ہے۔ دوبارہ 12:15 بجے ہوگا) [The special C re-assemble at 12:15 p. ئے ملتوی! دوپہر 12:15 پر شروع ہوگا) [The special Co Mr. Chairman(Sahibza سٹر چیئرمین (صاحبزادہ فاروق علی)

1762 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13 they are not admitted, that's all right, We will be going for a...... (جناب چیئرمین: تو پھر وضاحت کریں اور اگر تسلیم نہیں کرتے تو پھر ٹھیک ہے.....) جناب یحییٰ بختیار: (گواہ سے) آپ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ صرف مجازی Sense (معنوں) میں انہوں نے کہا ہے؟ 1781 Mr. Chairman: The Delegation......just minute, just a minute...... (جناب چیئرمین: وفد صرف ایک منٹ، صرف ایک منٹ.....) جناب یحییٰ بختیار: یہ دیکھئے ناں...... Mr. Chairman: The Delegation can look into all these references, We will break for fifteen minutes, Then they will reply about it, Yes. (جناب چیئرمین: وفد ان تمام حوالہ جات کو ملاحظہ کر سکتا ہے۔ ہم اجلاس پندرہ منٹ کے لئے ملتوی کریں گے اور اس کے بعد وہ ان کا جواب دیں گے) جناب یحییٰ بختیار: آپ ان کو دیکھ لیجئے! پندرہ بیس منٹ کے بعد..... جناب چیئرمین: آپ ان کو دیکھ لیجئے! دس پندرہ حوالہ جات ہیں۔ You can look into them (آپ ان کو دیکھ لیجئے......) جناب یحییٰ بختیار: یہ کس Sense (معنوں) میں انہوں نے کہا ہے؟ اس کا کیا مطلب ہے؟ Mr. Chairman: ......then you can explain, the Delegation can explain. (جناب چیئرمین: ......تب آپ وضاحت کر سکتے ہیں وفد وضاحت کر سکتا ہے) جناب عبدالمنان عمر: (ناقابل سماعت) جناب چیئرمین: ہاں، آپ دیکھ لیجئے اسے۔ Mr. Chairman: The Delegation will keep sitting while the House is adjourned.

صفحہ ٥٣

1763 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

(جناب چیئرمین : وفد تشریف رکھے، اجلاس ملتوی کیا جاتا ہے)

Mr. Yahya Bakhtiar: Let them have a cup of tea also, They can discuss it there.

(جناب یحییٰ بختیار : وہ (وفد) چائے نوش کر لیں اور وہیں پر مشورہ بھی کر لیں)

Mr. Chairman: They can discuss, yes, they can discuss in the room.

(جناب چیئرمین : ٹھیک ہے۔ وہ کمرے میں مشورہ کر سکتے ہیں)

جناب یحییٰ بختیار : ہاں، آپ بھی چائے پی لیجئے۔ وہاں ڈسکس کر لیجئے۔ اس پر غور کیجئے۔

Mr. Chairman: Yes. At 12:15.

(جناب چیئرمین : ہاں جی، 12:15 پر)

1782 (The Delegation left the Chamber)

(وفد ہال سے چلا گیا)

Mr. Chairman: The House is also adjourned to meet again at 12:15.

(جناب چیئرمین : ایوان کا اجلاس ملتوی کیا جاتا ہے۔ دوبارہ 12:15 بجے ہوگا)

------------------

[The special Committee adjourned for tea break re-assemble at 12:15 p.m.]

(خصوصی کمیٹی کا اجلاس چائے کے وقفہ کرنے کے لئے ملتوی ہوا پھر 12:15 پر شروع ہوگا)

------------------

[The special Committee re-assembled after tea break, Mr. Chairman(Sahibzada Farooq Ali) in the Chair.]

(خصوصی کمیٹی کا اجلاس چائے کے وقفہ کے بعد مسٹر چیئرمین (صاحبزادہ فاروق علی) کی صدارت میں ہوا)

------------------

٥٣

PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

ht, We will be going for

(جناب چیئرمین : تو پھر و

جناب یحییٰ بختیار: (کم

(معنوں) میں انہوں نے کہا ہے؟

Delegation ......just minute,

(جناب چیئرمین : وفد م

جناب یحییٰ بختیار : یہ دیک

egation can look into all

or fifteen minutes, Then

(جناب چیئرمین : وفد ا

منٹ کے لئے ملتوی کریں گے اور اس ۔

جناب یحییٰ بختیار : آپ ا

جناب چیئرمین : آپ ان

look into them.... (آپ ان ک

جناب یحییٰ بختیار : یہ کس مطلب ہے؟

n you can explain, the

(جناب چیئرمین : .......ج

جناب عبد المنان عمر : (ج

جناب چیئرمین : ہاں، آ

legation will keep sitting

صفحہ ١٧٦٤

1764 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

جناب چیئرمین: بلائیں ان کو۔ (Pause) میرا خیال ہے کہ ایک گھنٹے میں ختم ہو جائے گا۔

جناب یحییٰ بختیار: پونے دو تک......

Mr. Chairman: We should try to.

(جناب چیئرمین: ہمیں کوشش کرنی چاہئے)

جناب یحییٰ بختیار: ......یا شاید دو بجے، زیادہ سے زیادہ۔

جناب چیئرمین: وہ لغت......ایک منٹ، ابھی نہ بلائیں......وہ لغت سے باہر تو نکلتے نہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں، میں ابھی ان کو چھوڑ رہا ہوں۔

Mr. Chairman: And he has clearly said کہ :"two meanings".

SUBMISSIOON OF WRITTEN

REPLIES TO QUESTIONS

Mr. Yahya Bakhtiar: I will tell them whatever reply they have got to give......

1783 Mr. Chairman: Yes. (جناب چیئرمین: جی ہاں)

Mr. Yahya Bakhtiar: ......they may send it to you in writing. To some of these question, they want time.

(جناب یحییٰ بختیار: وہ اسے تحریری طور پر بھجوا سکتے ہیں۔ وہ وقت چاہتے ہیں)

Mr. Chairman: Yes. (جناب چیئرمین: جی ہاں)

NODDING BY THE WITNESS IN

REPLY TO QUESTION

(زبان ہلائیں، سر نہ ہلائیں)

صاحبزادہ صفی اللہ: جناب والا! ایک بات میں عرض کرنا چاہتا ہوں۔ یہ گواہ جو

٥٤

صفحہ ١٧٦٥

1765 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

ہیں۔ یعنی اٹارنی جنرل صاحب جب سوال پوچھتا ہے تو اثبات کی صورت میں سر ہلاتے ہیں۔ تو سر ہلانا تو ریکارڈ پر بھی نہیں آتا۔ ٹی وی کیمرہ بھی ہمارے ساتھ نہیں ہے۔

(نوے سال کسی کی نہیں مانی)

جناب چیئرمین: اگر وہ کسی کی بات مانتے تو نوے سال میں نہیں مان گئے ہوتے؟

صاحبزادہ صفی اللہ: نہیں، ہمیشہ وہ سر ہلاتا ہے۔

جناب چیئرمین: وہ نوے سال وہ انہوں نے کسی کی بات نہیں مانی۔ آپ کا خیال ہے کہ آپ دو منٹ میں منوا لیں گے؟

(اپنے نبی کی بات نہیں مانی)

ایک رکن: نبی کو نہیں مانا تو پھر کس کی بات مانیں گے؟

جناب چیئرمین: آپ تیار رہیں اس کے لئے بھی؟ (قہقہے)

جناب چیئرمین: ان کی باری بھی آئے گی۔

(قرآن وحدیث کو نہیں مانا)

جناب صاحبزادہ صفی اللہ: اس نے تو قرآن اور حدیث کے ساتھ یہی کیا، تو مولانا کے لٹریچر کا کیا؟

(چڑیا گھر؟)

جناب چیئرمین: نہیں، جو، جس میں آپ نے ”چڑیا گھر“ جو لکھا ہوا ہے۔

GENERAL DEBATE AFTER THE

CROSS- EXAMINATION

(جرح کے بعد عمومی بحث)

چوہدری جہانگیر علی: مسٹر چیئرمین! یہ لاہوری جماعت کو Examine کرنے کے بعد کیا......

1784 جناب چیئرمین: ہاں، اس کے بعد we will open the debate in the closed session of the House Committee. Maulana Mufti

٥٥

صفحہ ١٧٦٦

1766 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

Mahmood will start. (ہاں اس کے بعد ایوان کی کمیٹی میں بحث شروع کریں گے۔ مفتی محمود آغاز کریں گے)

چوہدری جہانگیر علی: میں گزارش یہ کرنا چاہتا تھا۔

Mr. Chairman: Next session, it may be tomorrow. (جناب چیئرمین: اگلے اجلاس میں، وہ کل ہو سکتا ہے)

SAMADANI TRIBUNAL'S REPORT

چوہدری جہانگیر علی: اخبارات میں یہ آیا تھا کہ صمدانی ٹربیونل کی رپورٹ ممبرز کو دی جائے گی۔

جناب چیئرمین: جی۔

چوہدری جہانگیر علی: یہ اخبارات میں آیا تھا کہ صمدانی ٹربیونل کی رپورٹ ممبرز میں سرکولیٹ کی جائے گی۔ میں یہ گزارش کرنا چاہتا تھا، Before this question is debated in the special committee, اگر وہ صمدانی رپورٹ کی نقلیں بھی ہمیں مل جائیں۔ we could prepare our case better, Sir

(چوہدری جہانگیر علی: جناب والا! اس مسئلہ پر بحث سے قبل...... تو ہم بہتر طور پر تیاری کر سکتے ہیں)

جناب چیئرمین: اخبارات میں جو آیا ہے، اس کی تو میں گارنٹی نہیں دے سکتا۔ کیونکہ......

چوہدری جہانگیر علی: وہ بھی گورنمنٹ Sources سے آئی ہوگی اخبارات میں۔

جناب چیئرمین: اس میں یہ ہے کہ صمدانی رپورٹ جو ہے وہ Law Minister will be comming، ان کو بھی ٹریجڈی ان پر fall کرگئی Because of death of his father.

(جناب چیئرمین: وزیر قانون تشریف لانے والے ہیں۔ کیونکہ ان کے والد کی ڈیتھ ہو گئی تھی)

چوہدری جہانگیر علی: جی، ہاں جی۔

Mr. Chairman: He was in a better position to tell the House. He will be coming day after tomorrow morning.

٥٦

صفحہ ١٧٦٧

1767 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

(جناب چیئرمین: وہ پرسوں تشریف لائیں گے اور ایوان کو اس بارے میں کچھ بتائیں گے)

1785 چوہدری جہانگیر علی: ٹھیک ہے جی۔

Mr. Chairman: And, from tomorrow, we will be going to open this general debate and Maulana Mufti Mahmood will start with all the books and pamphlets on behalf of, I would not say, Opposition and the Government because all are the same in this House.

(مفتی صاحب کی بحث، حکومت وحزب اختلاف دونوں کی جانب سے)

(جناب چیئرمین: اور کل سے ہم ایک عام بحث شروع کریں گے۔ مولانا مفتی محمود صاحب حکومت اور حزب اختلاف کی جانب سے جملہ کتب/رسالہ جات کے ساتھ ایوان کے اندر بحث کا آغاز کریں گے)

One Member: It will be closed door? Mr. Chairman: Yes, closed door. And then any honourable member can participate. But we will regulate. Anything else the honourable members want to say?

(جناب چیئرمین: جی ہاں بند کمرے میں اور پھر ہر معزز رکن اس میں حصہ لے سکتا ہے۔ لیکن ہم کنٹرول کریں گے۔ کسی چیز کے بارے میں معزز ممبران کچھ کہنا چاہتے ہیں؟)

جناب یحییٰ بختیار: سر! دیر ہو گئی ہے۔

جناب چیئرمین: چلیں جی، بلالیں جی۔ One hour, Sir then you (ایک گھنٹہ، جناب اور پھر آپ کو پتہ ہے کہ ہمیں ......) ......know we have to

WRITTEN STATEMENTS BY THE MEMBERS

(اراکین کے تحریری بیانات)

مولانا عبدالحق: وہ جو بیان، بیان جو دیا گیا ہے۔ ہمارا موقف، اس کو تو حضرت مفتی

٥٧

صفحہ ١٧٦٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

صاحب سنائیں گے؟

جناب چیئرمین: جی......

مولانا عبدالحق: یہ جو......

جناب چیئرمین: یہ آپ کے اپنے مشورے کی بات ہے۔

مولانا عبدالحق: سنانا تو چاہئے جی، ریکارڈ پر آ جائے گا۔

جناب چیئرمین: جو آپ، جیسے مناسب سمجھیں۔ میں نے ویسے پڑھ لیا ہے سارا۔

مولانا عبدالحق: نہیں، خیر......

جناب چیئرمین: فیصلے بھی پڑھ لئے ہیں سارے۔

1786 مولانا عبدالحق: اچھا جی۔

CONDOLENCE ON MURDER OF

AMIR MUHAMMAD KHAN

(امیر محمد خان کے قتل پر تعزیت)

چوہدری ظہور الٰہی: جناب سپیکر ! پیشتر اس کے کہ یہ کارروائی شروع کریں، میں...... آپ کو اطلاع تو مل چکی ہوگی امیر محمد خان والے معاملے کی۔ میں چاہتا تھا کہ اس پر اظہارِ افسوس ہو جاتا۔

جناب چیئرمین: ذرا ٹھہر جائیں۔ وہ ابھی سب بات ہوئی ہے۔ آپ نہیں تھے...... Just wait for۔ چوہدری صاحب ذرا انتظار کریں۔ ابھی ذرا انتظار کریں۔

چوہدری ظہور الٰہی: ٹھیک ہے جی۔

Mr. Chairman: We all were to together when we have decided that after an hour. because I am also getting some information. I will pass on the infromation, entire, everything.

(جناب چیئرمین: ہم سب اکھٹے تھے جب ہم نے یہ فیصلہ کیا کہ ایک گھنٹے بعد...... میں بھی معلومات حاصل کر رہا ہوں جو کہ میں آپ تک پہنچا دوں گا)

(The Delegation entered the Chamber)

٥٨

صفحہ ١٧٦٩

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

(وفد ہال میں داخل ہوا)

CROSS EXAMINATION OF THE LAHORI

GROUP DELEGATION

(لاہوری گروہ پر جرح)

Mr. Chairman: Yes. the Attorney-General. before Mr. Attorney-General puts his question.

(جناب چیئرمین: جی ہاں، اٹارنی جنرل صاحب، پیشتر اس کے کہ اٹارنی جنرل صاحب اپنا سوال کریں......) کل ایک آیت مولانا عبدالحق صاحب نے پڑھی تھی، ”مرتد“ کے متعلق، جہاں تک مجھے یاد ہے......

جناب یحییٰ بختیار: وہ حدیث، حدیث پڑھی تھی انہوں نے۔

جناب چیئرمین: حدیث مولانا مفتی محمود صاحب نے پڑھی تھی۔ قرآن مجید کی آیت مولانا عبدالحق نے۔ انہوں نے کہا تھا کہ ”مرتد“ کا لفظ نہیں استعمال ہوا قرآن پاک میں، جس پر وہ دو حدیثیں بھی اور آیت بھی پڑھی گئی۔ اس کا جواب انہوں نے دینا ہے۔

If they like.

جناب یحییٰ بختیار: وہ مرتد کے بارے میں وہ کہتے ہیں......

1787 Mr. Chairman: It can be repeated.

جناب یحییٰ بختیار: (گواہ سے) وہ حدیث اور آیات، وہ کل سنا تھا آپ نے، آپ نے کہا ہے کہ مرتد کی کوئی سزا نہیں ہے؟

جناب چیئرمین: نہیں، انہوں نے یہ کہا تھا کہ مرتد کا نام ہی نہیں آیا کلام پاک میں، انہوں نے یہ جواب دیا۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، اس کا وہ جواب پوچھنا چاہتے ہیں کہ انہوں نے ایک آیت پڑھ کے سنائی آپ کو، اور حدیث سنائی۔

جناب عبدالمنان عمر: جناب! پہلے میں آپ کے پہلے سوال کا جواب دیتا ہوں یا......؟

جناب چیئرمین: چلو، پہلے وہ، پہلے......

جناب یحییٰ بختیار: (نا قابل فہم)...... یہ آپ پہلے لے لیں۔

٥٩

OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

صاحب سنائیں گے؟

جناب چیئرمین: جی......

مولانا عبدالحق: یہ جو......

جناب چیئرمین: یہ آپ کے ا...

مولانا عبدالحق: سنانا تو چاہئے

جناب چیئرمین: جو آپ، جیسے

مولانا عبدالحق: نہیں، خیر.....

جناب چیئرمین: فیصلے بھی پڑھے

1786 مولانا عبدالحق: اچھا جی۔

N MURDER OF

MAD KHAN

(امیر محمد خان

چوہدری ظہور الہی: جناب... میں...... آپ کو اطلاع تو مل چکی ہوگی امیر محمد افسوس ہوجاتا۔

جناب چیئرمین: ذرا ٹھہر جا... تھے......Just wait for ... چوہدری صاحب

چوہدری ظہور الہی: ٹھیک ہے ll were together when we . because I am also getting on the information, entire,

(جناب چیئرمین: ہم سب ا... میں بھی معلومات حاصل کر رہا ہوں جو کہ میں ک... red the Chamber)

صفحہ ١٧٧٠

1770 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

جناب چیئرمین: اٹارنی جنرل صاحب کے سوال کا جواب دے دیں جی۔ جناب عبدالمنان عمر: پہلے آپ کے سوال کا جواب؟ جناب چیئرمین: پہلے آپ کے سوال کا جواب۔ لیکن اس کے بعد یہ پھر ان کا، مولانا عبدالحق کا۔

(قادیانی رسالہ فرقان غیر ذمہ دار ہے)

جناب عبدالمنان عمر: یہ ہمیں کچھ فوٹوسٹیٹ دیئے گئے تھے کہ اس بارے میں ہم اپنے خیال کا اظہار کریں۔ آپ معزز ممبران بڑے اہم مسئلے کے فیصلے کے لئے یہاں جمع ہیں۔ میں بڑے افسوس سے اس کا اظہار کروں گا۔ میں نے پہلے بھی توجہ دلائی تھی کہ ”فرقان“ ایک غیر ذمہ دار پرچہ ہے۔ اس کی تحریرات کو اتنے اہم مسئلے کے فیصلے کے لئے پیش نہیں کرنا چاہئے۔ یہاں میرے ہاتھ میں......

Mr. Chairman: I must say the witness cannot guide the procedure of this committee. The witness can say......

(جناب چیئرمین: مجھے یہ کہنا پڑے گا کہ گواہ ضابطہ کے بارے میں کمیٹی کی رہنمائی نہیں کر سکتا۔ گواہ کہہ سکتا ہے کہ......)

1788 جناب یحییٰ بختیار: آپ کو میں نے اتنی Request کی کہ دیکھیں۔ جناب چیئرمین: ہاں۔ جناب یحییٰ بختیار: ”فرقان“ کو بھول جائیے...... جناب چیئرمین: ہاں۔ جناب یحییٰ بختیار: ...... اس میں جس ”Review“ کے جو حوالے دئے ہیں۔ ٦؍ جولائی ١٩٠٤ء کے، وہ آپ دیکھ لیجئے۔ اگر آپ ابھی Verify (تصدیق) نہیں کر سکتے۔ تو آپ ان کو Verify (تصدیق) کر کے بعد میں لکھ کے بھیج دیجئے۔ یہ کوئی جلدی کی بات نہیں ہے بڑا اہم مسئلہ ہے۔

جناب عبدالمنان عمر: نہیں، جناب! مجھے یہ فوٹوسٹیٹ دیا گیا ہے...... جناب یحییٰ بختیار: یہ بھی آپ دیکھ لیجئے کہ...... جناب عبدالمنان عمر: ہاں، میں نے دیکھ لیا ہے جی۔

٦٠

صفحہ ١٧٧١

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

جناب یحییٰ بختیار: اگر آپ کہتے ہیں، یہ ٹھیک ہے، غلط ......؟

جناب عبدالمنان عمر: نہیں جی، اس کو میں ......

جناب یحییٰ بختیار: اگر آپ کہتے ہیں ......

جناب عبدالمنان عمر: میری گزارش یہ ہے جی کہ یہ حلفی بیان ایک جعلی چیز پیش کی گئی ہے۔

Mr. Chairman: That's all. That's all.

(جناب چیئرمین: کافی ہے، کافی ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: بس ٹھیک ہے، ٹھیک ہے۔

Mr. Chairman: That's all. Finish it.

(جناب چیئرمین: کافی ہے، اب ختم) آپ، جو حوالہ جات دیئے گئے ہیں۔ آپ کہیں صحیح ہیں یا درست ہیں؟

1789 جناب یحییٰ بختیار: باقی جو حوالہ جات ہیں، مولوی محمد علی صاحب کے ......

جناب عبدالمنان عمر: یہ تو Compare کر کے ہی میں عرض ......

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، تو اس واسطے آپ اگر سمجھتے ہیں کہ اس وقت جواب نہیں دے سکتے تو آپ Compare کر کے دو چار دن کے بعد یہاں بھیج دیجئے سیکرٹری اسمبلی صاحب کے، سیکرٹری صاحب کے پاس اور پھر وہ ممبران ......

جناب چیئرمین: (ڈپٹی سیکرٹری سے) جاوید! یہ نوٹ کرلیں۔ جو جو چیز ہے ناں، جو ان کے ......

جناب یحییٰ بختیار: ...... ممبران میں سرکولیٹ کر دیں گے آپ کا جواب۔

جناب عبدالمنان عمر: میں اس کے متعلق ایک اصولی جواب آپ کو عرض کر دیتا ہوں، اگر اس سے بات طے ہو جائے ......

جناب چیئرمین: نہ، نہ ......

جناب عبدالمنان عمر: ...... تو مولانا محمد علی صاحب نے اس کا جواب دیا ہے۔

Mr. Chairman: No, no, just a minute. The Hawalajat (حوالہ جات) Which have been put to the Delegation should be either accepted or rejected.

(جناب چیئرمین: نہیں، نہیں، صرف ایک منٹ۔ جو حوالہ جات پیش کئے گئے

٦١

F PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

جناب چیئرمین: اٹارنی جن

جناب عبدالمنان عمر: پہلے آ

جناب چیئرمین: پہلے آپ مولانا عبدالحق کا۔

( قادیانی رسال

جناب عبدالمنان عمر: یہ ہ اپنے خیال کا اظہار کریں۔ آپ معزز ممبر میں بڑے افسوس سے اس کا اظہار کروں گ ذمہ دار پرچہ ہے۔ اس کی تحریرات کو اتنے میرے ہاتھ میں ......

et say the witness cannot mmittee. The witness can

(جناب چیئرمین: مجھے یہ کہ نہیں کر سکتا۔ گواہ کہہ سکتا ہے کہ ......)

1788 جناب یحییٰ بختیار: آپ

جناب چیئرمین: ہاں۔

جناب یحییٰ بختیار: ”فرقان“

جناب چیئرمین: ہاں۔

جناب یحییٰ بختیار: ...... اس ٦؍ جولائی ١٩٠٤ء کے، وہ آپ دیکھ لیجئے، آپ ان کو Verify (تصدیق) کر کے ہے بڑا اہم مسئلہ ہے۔

جناب عبدالمنان عمر: ممبر

جناب یحییٰ بختیار: یہ بھی آ

جناب عبدالمنان عمر: ہاں

صفحہ ١٧٧٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

ہیں۔ وفد یا تو انہیں تسلیم کرے یا ان کی تردید کرے)

جناب یحییٰ بختیار: پہلا سوال یہ تھا کہ یہ غلط ہیں یا صحیح؟ اگر حوالہ جات غلط ہیں تو پھر......

جناب چیئرمین: غلط ہیں یا صحیح؟ اگر صحیح ہیں تو پھر آپ Explanation (وضاحت) دے سکتے ہیں۔ Otherwise not.

جناب یحییٰ بختیار: اور اگر آپ کہتے ہیں کہ درست ہیں وہ، تو پھر اس کے بعد آپ کہیں گے کہ کیا ان کا مطلب تھا۔

1790

Mr. Chairman: And the Delegation can send written reply after getting it verified and with any explanation, if they like.

(جناب چیئرمین: تصدیق کرنے کے بعد وفد تحریری جواب اور وضاحت بھیج سکتا ہے)

Mr. Yahya Bakhtiar: And explanation.

(جناب یحییٰ بختیار: اور وضاحت)

Mr. Chairman: And whatever they like, they can write it. Next question.

(جناب چیئرمین: اور اگر وہ ایسا کرنا چاہیں تو ٹھیک ہے۔ اگلا سوال کریں)

وہ مولانا عبدالحق صاحب نے جو آیت کلام پاک پڑھی تھی اور مولانا مفتی محمود صاحب نے جو حدیث شریف کا حوالہ دیا تھا۔

(قتل مرتد کا مسئلہ؟)

جناب یحییٰ بختیار: وہ ”مرتد“ کے بارے میں کچھ آپ کہیں گے یا بعد میں کہیں گے؟

جناب عبدالمنان عمر: نہیں جی! میں ابھی عرض کرتا ہوں۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں! ٹھیک ہے۔

جناب عبدالمنان: قتل مرتد کے بارے میں میری گزارش یہ ہے کہ ہماری اردو زبان میں اس بارے میں جو سب سے اہم لٹریچر شائع ہوا وہ ١٩٢٥ء میں اخبار ”زمیندار“ میں ایک سلسلہ مضمون تھا۔ جتنے حوالے پیش ہو رہے ہیں یا یہ جو بحث ہو رہی ہے، یہ سب اس کے بارے میں ہے۔ اس کے متعلق میں اتنی سی عرض کروں گا کہ اس وقت مولانا محمد علی جوہر نے ایک سلسلۂ مضامین اپنے اخبار ”ہمدرد“ دہلی میں اس کے جواب میں شائع کیا اور انہوں نے یہ ثابت کیا کہ

٦٢

صفحہ ١٧٧٣

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN · 28th Aug, 1974 No:13

مرتد کے قتل کے بارے میں قرآن مجید میں کوئی آیت نہیں ہے۔ چنانچہ خود ”زمیندار“ کے مضمون نے یہ تسلیم کیا۔ ”بلاشبہ یہ صحیح ہے کہ......“

Mr. Chairman: I, I had already said that the witness should give his own view-point, his Jamaat's view-point, not what "Zamindar" had written. We are least concerned with what "Zamindar" had written in 1925.

(جناب چیئرمین: میں نے پہلے ہی کہا ہے کہ گواہ اپنا اور اپنی جماعت کا نقطہ نظر بیان کرے، نہ کہ زمیندار نے کیا لکھا۔ ہمیں اس سے قطعا سروکار نہیں کہ ١٩٢٥ء میں زمیندار نے کیا لکھا تھا)

1791 Mr. Yahya Bakhtiar: No, Sir, he says that "Zamindar" is confirming his view.

(جناب یحییٰ بختیار: وہ (گواہ) کہہ رہا ہے کہ زمیندار نے اس کے نقطہ نظر کی تائید کی ہے)

جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں۔

Mr. Chairman: No, no, his own view should (جناب چیئرمین: نہیں، نہیں۔ اس کے اپنے نظریات آنے چاہئیں) come.

Mr. Yahya Bakhtiar: ہاں .He said that......

Mr. Chairman: His views are more important. We are here to get his views.

(جناب چیئرمین: اس کے نظریات زیادہ اہم ہیں۔ ہم یہاں پر گواہ کے نظریات معلوم کرنے کے لئے بیٹھے ہیں)

Mr. Yahya Bakhtiar: Sir, he has recorded his views that there is no punishment for Murtad (مرتد) in Quran.

(جناب یحییٰ بختیار: اس نے اپنے نظریات ریکارڈ کروائے ہیں کہ قرآن میں مرتد کی سزا نہیں ہے)

جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں۔

Mr. Yahya Bakhtiar: Now he is confirming that.

(جناب یحییٰ بختیار: وہ اب اس کی تائید کر رہے ہیں)

٦٣

صفحہ ١٧٧٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

Mr. Chairman: No, we need no confirmation. We will believe whatever the witness says, we will believe his views. We don't need any support.

(جناب چیئرمین: ہمیں تائید کی ضرورت نہیں۔ جو گواہ نے کہا ہے۔ ہم مانتے ہیں۔ ہم اس کے نظریات بھی مانتے ہیں۔ ہمیں کسی تائید کی ضرورت نہیں)

جناب یحییٰ بختیار: وہ کہتے ہیں کہ آپ کے Views (نظریات) ریکارڈ ہو چکے ہیں کہ نہیں۔ وہ تو ریکارڈ کرا چکے ہیں۔

جناب عبدالمنان عمر: ہاں جی۔ نہیں، ہمارا نقطہ نگاہ یہ نہیں ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: بس ٹھیک ہے۔

جناب چیئرمین: آیت کے متعلق انہوں نے جواب نہیں دیا۔

جناب مفتی محمود: آیت .......

جناب چیئرمین: ....... اور حدیث کے متعلق۔

جناب عبدالمنان عمر: ہاں، حدیث کا عرض کرتا ہوں۔

1792 جناب مفتی محمود: آیت میں، ایک سوال یہ تھا اس وقت .......

جناب چیئرمین: جی۔

جناب مفتی محمود: ....... کہ آیت جو ہے:

"ومن يرتد منكم عن دينه فيمت وهو كافر فاولئك حبطت اعمالهم فی الدنيا والآخرة واولئك اصحاب النار هم فيها خالدون"

اس آیت کو امام بخاری نے (صحیح بخاری ج٢ ص ١٠٢٢) پر باب ”حكم المرتد والمرتدہ “ میں مرتد کے قتل کے سلسلے میں اس کو پیش کیا۔ اس پر ہمارا اعتراض یہ ہے کہ امام بخاری اس آیت کو مرتد کے بارے میں سمجھتے ہیں کہ یہ ان کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ اس کا جواب اگر عنایت فرمادیں۔

جناب چیئرمین: اس میں کیا Views (نظریات) ہیں؟

جناب عبدالمنان عمر: بخاری میں، اگر وہ پوری حدیث پڑھ دی جاتی، تو یہ مسئلہ اتنا

٦٤

صفحہ ١٧٧٥

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

صاف ہو جاتا کہ شاید اس میں بحث کی ضرورت نہ ہوتی۔ بخاری میں یہ مضمون موجود ہے کہ وہاں حربی کافر یا حربی مرتد کا ذکر، یعنی ایسا شخص جو حکومت وقت کا باغی ہو کر دوسروں سے جا ملتا ہے، اور اس کی سزا یقیناً یہی ہے۔ مگر وہ سزا بغاوت کے ساتھ شامل ہے۔ اگر ایک شخص بغاوت نہیں کرتا۔ محض اپنا دین بدلتا ہے۔ اس کے لئے قرآن مجید میں کوئی سزا نہیں۔ اس کے لئے حضرت امام بخاری نے کوئی ایسی حدیث بیان نہیں کی ہے۔ وہ حربی کافر کے علاوہ کی کوئی حدیث اگر مجھے دکھائیں تو میں کچھ عرض کر سکتا ہوں۔

Mr. Chairman: Next question.

(جناب چیئرمین: اگلا سوال کریں)

مولانا مفتی محمود: وہ بھی صحیح بخاری کی روایت ہے:

”من بدل دینہ فاقتلوہ“ ﴿جو اپنے دین کو بدل دے، اس کو قتل کردو۔﴾

یہ (بخاری ج ٢ ص ١٠٢٣، باب حکم المرتد والمرتدہ) کی روایت ہے۔

1793 جناب عبدالمنان عمر: قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: (عربی)

سورۃ النساء کی آیت (١٣٧) ہے کہ جو لوگ ایمان لے آتے ہیں۔ ”ثم کفروا“ پھر وہ کافر ہو جاتے ہیں۔ وہ اس ایمان کو چھوڑ دیتے ہیں۔ مسلمان کا مذہب چھوڑ دیتے ہیں۔ ”ثم امنوا“ پھر ایمان لے آتے ہیں۔ مسلمان ہو جاتے ہیں۔ ”ثم کفروا“ پھر کفر کا ارتکاب کرتے ہیں۔ ثم....... (عربی) پھر وہ اس کفر میں آگے بڑھ جاتے ہیں۔ اب اگر مرتد ہونے کی سزا قتل ہے تو یہ سارا process تو ہو نہیں سکتا کہ پہلے مسلمان ہوئے، پھر کافر ہو گئے، پھر مسلمان ہوئے، پھر کافر ہو گئے۔ پھر مسلمان ہوئے پھر کافر ہو گئے اگر ارتداد کی سزا محض ارتداد کے نتیجے میں اس کو مار ڈالنا ہے تو وہ تو پہلے ارتداد کے بعد مر جائے گا۔ قتل ہو جائے گا۔ تو یہ کہنا کہ ارتداد کی سزا قرآن نے قتل قرار دی ہے۔ یہ تو خود قرآن مجید کی اس آیت کے خلاف ہے۔

جناب چیئرمین: یہ تو مناظرے کی صورت اختیار کر گیا ہے۔ چھوڑیں اسے۔ It's a question of interpretation (یہ تو تعبیر کا سوال ہے)

جناب یحییٰ بختیار: ہم اپنی بحث میں کر سکتے ہیں۔

Mr. Chairman: It's a question of interpretation.

٦٥

صفحہ ١٧٧٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

ہاں Yes. Attorney-General, next question.

(جناب چیئرمین: یہ تو تعبیر کا سوال ہے۔ جی۔ اٹارنی جنرل صاحب! اگلا سوال کریں)

Sardar Maula Bakhsh Soomro: (In audiable)

جناب یحییٰ بختیار: وہ حدیث کا جواب فرمائیں۔

جناب چیئرمین: دوسری حدیث جو مولانا مفتی محمود......

Sardar Maula Bakhsh Soomro: (In-audiable)

Sir, Because......some reply should come from there that you 1794 can...........some reply should come from there......

(سردار مولا بخش سومرو: اس طرف سے کوئی جواب آنا چاہئے......)

جناب چیئرمین: نہیں، یہ سوال جو ہے (مداخلت) دوسری حدیث کے بارے میں......

جناب عبدالمنان عمر: جناب والا! جناب والا! میں عرض یہ کر رہا تھا کہ اگر یہ حدیث انہی لفظوں میں ہے کہ ”جس شخص نے اپنا دین بدل دیا اس کو قتل کر دو۔“ تو میرا سوال یہ ہے کہ جو شخص عیسائیت سے اپنا دین بدل کر مسلمان ہو جاتا ہے، ”من بدّل دينہ“ اپنے دین کو بدل دیتا ہے۔ اس کا دین عیسویت ہے۔ وہ اپنے دین کو بدل کر مسلمان ہو جاتا ہے۔ کیا اس کو قتل کر دیا جائے گا؟ یہ بات ہی غلط ہے۔

مولانا مفتی محمود: ”من“ سے مراد مسلمان۔

جناب عبدالمنان عمر: یہ ”من“ کے معنی مسلمان تو کسی جگہ نہیں ہیں۔ ”من“ کے ساری عربی زبان میں کہیں یہ معنی نہیں کہ...... ”من“ معنی، ”من“ کے معنی کون ۔“

Mr. Chairman: Next question by Attorney- General. That's all.

(جناب چیئرمین: اٹارنی جنرل صاحب! اگلا سوال کریں۔ یہ کافی ہے)

جناب یحییٰ بختیار: مولانا کچھ کہنا چاہتے ہیں !۔

جناب چیئرمین: نہیں، کوئی ضرورت نہیں ہے۔ کوئی ضرورت نہیں۔

١؎ یہاں پر مولانا مفتی محمود صاحب کا موقف تھا کہ قرآن مجید میں ”دین“ سے مراد اسلام ہے۔ ان الدین عنداللہ الاسلام۔ اس آیت کی رو سے حدیث کا ترجمہ یہ ہوگا۔ ”من بدّل دینہ“ جو شخص اپنے دین یعنی اسلام کو چھوڑ دے۔

٦٦

صفحہ ١٧٧٧

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

(انبیاء کی توہین)

جناب یحییٰ بختیار: اب آپ صاحبزادہ صاحب! کچھ اور سوال...... میں کسی اور طرف آرہا ہوں۔ آپ فرماتے رہے ہیں کہ مرزا صاحب صرف محدث تھے اور وہ صادق تھے اور وہ امتی تھے محمد ﷺ کے اور ان پر سب کچھ پابندی تھی قرآن کی، شرع کی۔ تو کیا یہ قرآن اور شرع اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ ہم انبیاء کی توہین کریں۔ جو پہلے گزر چکے ہیں؟

1795 جناب عبدالمنان عمر: نہ قرآن مجید اجازت دیتا ہے، نہ حدیث اجازت دیتی ہے۔ نہ انسان کا اخلاق اس کی اجازت دیتا ہے کہ توہین کریں۔

جناب یحییٰ بختیار: میں ابھی آپ سے یہ پوچھوں گا اور آپ کو علم بھی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں انہوں نے بعض ایسی باتیں کہی ہیں جو کہ توہین آمیز خیال کی جائیں گی۔ یہ ”دادیاں اور نانیاں زنا کار تھیں، کسبی تھیں، یہ وہ شرابی، کبابی تھا، یا وہ موٹے دماغ کا تھا۔“ آپ کے علم میں یہ ہے؟ یہ چیزیں کئی جگہ پڑھی جاتی ہیں۔ اگر آپ کہیں تو میں سنا دیتا ہوں۔

جناب عبدالمنان عمر: جی نہیں، میرے علم میں ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: آپ کے علم میں ہے تو اس کا آپ کیا مطلب لیں گے؟

جناب عبدالمنان عمر: میری گزارش یہ ہے کہ جب مناظرہ ہوتا ہے تو اس کو اصطلاح میں کہتے ہیں ”الزام خصم“ یعنی مقابل کا فریق جو ہے۔ اس کے کچھ معتقدات ہیں، وہ کچھ چیزیں مانتا ہے۔ جس طرح آپ ہم پر کوئی سوال کرتے ہیں کہ مرزا صاحب کا یہ عقیدہ ہے اور آپ مرزا صاحب کو کیونکہ مانتے ہیں۔ آپ کے یہی عقائد ہیں اور یہ بالکل صحیح بات ہوتی ہے۔ ہم اس کا اعتراف کرتے ہیں۔ عیسائیوں سے مرزا صاحب کے، آپ کو پتہ ہے، مناظرے ہوئے۔ انہوں نے عیسائیت کا ناطقہ بند کیا۔ ان لوگوں کو بڑے بڑے پادریوں کو اس برصغیر سے بھگا دیا۔ اس کے کچھ ذرائع تھے ان کے پاس۔ وہ ذرائع کیا تھے؟ کہ ان کی جو موجودہ محرف و مبدل ”عہد نامہ جدید“ ہے۔ جس کو لوگ غلطی سے وہی انجیل سمجھتے ہیں جو حضرت عیسیٰ پر نازل ہوئی۔ حالانکہ یہ ان کی انجیل نہیں ہے۔ بلکہ یہ تو متی کی انجیل ہے۔ یہ لوقا کی انجیل ہے۔ یہ مرقس کی انجیل ہے۔ یہ یوحنا کی انجیل ہے۔ یہ مسیح کی انجیل نہیں ہے۔ یہ عہد نامہ جدید ہے۔ اس میں..... مگر ہم تو نہیں اس کو

1796 مانتے کہ یہ صحیح ہے۔ ہم تو اس کو محرف و مبدل مانتے ہیں۔ مگر موجودہ عیسائی لوگ اس کو صحیح سمجھتے ہیں۔ مرزا صاحب نے ان کو کہا کہ ”تم لوگ محمد مصطفیٰ ﷺ کی ذات میں گستاخیاں کرتے ہو، اسلام پر اعتراض کرتے ہو، قرآن مجید پر اعتراض کرتے ہو، ہمارے رسول مقبول ﷺ کی توہین

٧٧

صفحہ ١٧٧٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

کرتے ہو۔ اپنے گریبان میں بھی منہ ڈالو۔ تمہاری اپنی مسلمہ کتاب مسیح کے متعلق کیا کہتی ہے؟ وہ یہ کہتی ہے کہ ان کی بعض نانیاں، دادیاں ایسی تھیں اور ویسی تھیں ۔“ وہ تمام کے تمام بیانات مرزا صاحب کے اپنے نہیں ہیں۔ بلکہ عیسائیوں کے مسلمہ، ان کی اپنی الہامی کتابوں کے اندر درج ہیں ۔ تو اس لئے جس کو میں نے شروع میں ، پھر وہ لفظ بولوں گا، ”الزامِ خصم“ یعنی مقابل فریق کی مسلمہ بات اس کے سامنے رکھ کے اس کو لاجواب کر دینا، اور عیسائی اس پر لاجواب ہوا ۔ یہ مرزا صاحب کا اپنا بیان ان کے متعلق نہیں ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: میں نے یہ عرض کیا کہ مرزا صاحب نے ان کتابوں میں تو، عیسائیوں کی کتابوں میں بھی یہ لکھا کہ ”ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو“ اس سے بہتر غلام احمد ہے؟ میں یہی کہتا ہوں کہ آپ ملائیں ان کے .......

جناب عبدالمنان عمر: میں نے پہلے آپ کے اس اعتراض کا جواب دے دیا .......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، ان کے ساتھ ملا کے آپ جواب دیجئے۔

جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں، میں اب دوسرے، جو آپ نے دوسری بات فرمائی ہے۔ میں اس کا جواب عرض کرتا ہوں۔ اس کے متعلق جناب ! کل بھی تھوڑا سا ذکر ہو گیا تھا کہ مرزا صاحب نے نہ اپنی کوئی عظمت بیان کی ہے۔ نہ حضرت مسیح کی کوئی توہین کی ہے۔ بلکہ حضرت نبی اکرم ﷺ کی عزت کا ایک بیان کیا ہے۔ فرماتے ہیں:

”ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو۔“1797 تم جو کہتے ہو کہ مسیح ابن مریم خود .......

جناب یحییٰ بختیار: اگر وہی ہے جواب تو میں سمجھ گیا ہوں کہ وہ کل آپ دے چکے ہیں۔ پھر ضرورت نہیں ہے۔

جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں۔

جناب یحییٰ بختیار: اب آپ یہ فرمائیے کہ جب وہ یہ کہتے ہیں مرزا صاحب:

”یسوع اس لئے اپنے تئیں نیک نہیں کہہ سکتا .......“

اب یہ کسی انجیل کا حوالہ نہیں ہے۔ یہ ان کا اپنا Conclusion (نتیجہ) ہے، مرزا صاحب کا کہ : ”لوگ جانتے ہیں کہ وہ شخص شرابی کبابی ہے اور خراب چال چلن، نہ خدائی کے بعد بلکہ ابتداء ہی سے ایسا معلوم ہوتا ہے ....... چنانچہ خدائی کا دعویٰ شراب خوری کا بد نتیجہ ہے۔“

(ست بچن ص ١٧٢، خزائن ج١٠ ص٢٩٦)

یہ مرزا صاحب کا اپنا Conclusion (نتیجہ) ہے۔

٦٨

PDF 85

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

جناب عبدالمنان عمر: میں عرض کرتا ہوں ......

جناب یحییٰ بختیار: ...... تو یہ تو عیسائیوں کی کتاب کی بات نہیں ہوئی۔ یہ تو مرزا صاحب خود ان کی کتابوں کو صحیح سمجھ کر اس نتیجے پر پہنچے ہیں، کہ شرابی تھا اور شراب خوری کی وجہ سے اس نے خدائی کا دعویٰ کیا۔

جناب عبدالمنان عمر: میری گزارش سنیں کہ میں اگر خود مرزا صاحب کی تشریح اس بارے میں آپ کے سامنے رکھوں تو بات واضح ہو جائے گی کہ مرزا صاحب نے حضرت مسیح کی کوئی توہین کی ہے یا نہیں اور وہ اس بارے میں اپنے کیا خیالات رکھتے تھے۔ فرماتے ہیں: ”موسیٰ کے سلسلے میں ابن مریم مسیح موعود تھا اور محمدی ﷺ سلسلہ میں، میں مسیح موعود ہوں۔ 1798 سو میں اس کی عزت کرتا ہوں، جس کا ہم نام ہوں اور مفسد اور مفتری ہے وہ شخص جو مجھے کہتا ہے کہ میں مسیح ابن مریم کی عزت نہیں کرتا۔“

(کشتی نوح ص ١٦، خزائن ج ١٩ ص ١٧، ١٨)

فرماتے ہیں: ”ہم اس کے لئے بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے مامور ہیں کہ عیسیٰ کو خدا تعالیٰ کا سچا اور پاک اور راست باز نبی مانیں اور ان کی نبوت پر ایمان لائیں۔ سو ہماری کسی کتاب میں کوئی ایسا لفظ بھی نہیں ہے جو ان کی شان بزرگ کے خلاف ہو اور اگر کوئی ایسا خیال کرے تو وہ دھوکہ کھانے والا اور جھوٹا ہے۔“

(اشتہار اندرون ٹائٹل ایام الصلح ص ٢، خزائن ج ١٤ ص ٢٢٨)

جناب یحییٰ بختیار: یہ نہیں، دیکھیں ......

جناب عبدالمنان عمر: ”سو......“ میں ختم کر لوں: ”سو ہم نے اپنے کلام میں......“ جو آپ نے فرمایا کہ مرزا صاحب کا اپنا کلام ہے: ”سو ہم نے اپنے کلام میں ہر جگہ عیسائیوں کا فرضی مسیح مراد لیا ہے اور خدا تعالیٰ کا ایک عاجز بندہ عیسیٰ ابن مریم جو نبی تھا جس کا ذکر قرآن مجید میں ہے۔ وہ ہماری درشت مخاطبات میں ہرگز مراد نہیں اور یہ طریق ہم نے برابر چالیس برس تک پادری صاحبوں کی گالیاں کھا کر اختیار کیا ہے۔“

(اشتہار ناظرین کے لئے ضروری اطلاع ملحقہ نور القرآن نمبر٢، اندرون ٹائٹل ص٢، خزائن ج٩ ص٣٧٥)

اور اس طرز کا، یہ طرز کلام، جس کو میں نے کہا ہے، ”الزام خصم“ اس قسم کا طرز کلام حضرات علماء اہل سنت نے بھی اختیار کیا ہے۔ مولوی آل حسن صاحب فرماتے ہیں: ”اور ذرا گریبان میں منہ ڈال کر دیکھو معاذ اللہ!“

جناب یحییٰ بختیار: میں سمجھ گیا۔

٦٩

KISTAN 28th Aug, 1974 No:13

کرتے ہو۔ اپنے گریبان میں بھی منہ یہ کہتی ہے کہ ان کی بعض نانیاں، داد صاحب کے اپنے نہیں ہیں۔ بلکہ ہیں۔ تو اس لئے جس کو میں نے شروع مسلمہ بات اس کے سامنے رکھ کے مرزا صاحب کا اپنا بیان ان کے متعلق

جناب یحییٰ بختیار: عیسائیوں کی کتابوں میں بھی یہ لکھا میں یہی کہتا ہوں کہ آپ ملائیں ان

جناب عبدالمنان عمر:

جناب یحییٰ بختیار: محو

جناب عبدالمنان عمر: ہے۔ میں اس کا جواب عرض کرتا ہوں صاحب نے نہ اپنی کوئی عظمت بیان اکرم ﷺ کی عزت کا ایک بیان کیا۔ ”ابن مریم کے ذکر کو چھوڑ

جناب یحییٰ بختیار: ا ہیں۔ پھر ضرورت نہیں ہے۔

جناب عبدالمنان عمر:

جناب یحییٰ بختیار: اس ”یسوع اس لئے اپنے ت

اب یہ کسی انجیل کا حوالہ صاحب کا کہ :”لوگ جانتے ہیں کہ بلکہ ابتداء ہی سے ایسا معلوم ہوتا ہے

یہ مرزا صاحب کا اپنا an

صفحہ ١٧٨٠

1780 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

1799 جناب عبدالمنان عمر: ”...... حضرت عیسیٰ کے نسب نامہ مادری میں دو جگہ تم آپ ہی......“ جناب یحییٰ بختیار: ابھی دیکھیں، آپ نے...... دیکھیں، صاحبزادہ صاحب! آپ نے لمبے جواب لکھ کے تیار کئے ہوئے ہیں، پڑھ رہے ہیں آپ، اور اس کی بالکل اجازت نہیں ہے اسمبلی میں۔ آپ اپنا جواب دیں گے۔ اگر کوئی حوالہ ہو، Relevent ہو تو...... جناب عبدالمنان عمر: جی، میں حوالہ...... جناب یحییٰ بختیار: یہ آپ کل بیان کرچکے ہیں۔ میں تو یہ پوچھتا ہوں جو اپنے Conclusions (نتیجہ) ان کے ہیں...... جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں، میں نے انہی کے، یہ الفاظ میں نے ان کے پڑھے ہیں سارے آپ کے سامنے جناب! جناب یحییٰ بختیار: نہیں، یعنی ان کے، وہ ایک طرف یہ کہتے ہیں اور ساتھ ہی اپنا Conclusions (نتیجہ) دے رہے ہیں۔ جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں، Conclusions (نتیجہ) ان کی باتوں...... جناب یحییٰ بختیار: ایک طرف تو دادیاں، نانیاں آپ نے Discover کردیا کہ وہ انہوں نے...... جناب عبدالمنان عمر: اسی میں لکھا ہوا ہے۔ جناب یحییٰ بختیار: اسی سے نکالی تھیں؟ جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں۔

[At this stage Mr. Chairman vacated the chair which was occupied by Madam Deputy Speaker (Dr. Mrs. Ashraf Khatoon Abbasi)]

(اس موقع پر جناب چیئرمین نے کرسی صدارت چھوڑ دی۔ جو ڈپٹی سپیکر (ڈاکٹر مسز اشرف خاتون عباسی) نے سنبھال لی)

1800 جناب یحییٰ بختیار: پھر آگے خود کیا کہتے ہیں: ”آپ کا میلان کنجریوں سے...... ان کی صحبت ہی شاید اسی وجہ سے ہو کہ جدی مناسبت درمیان ہے۔“

٧٠

1781 NATIONAL ASSE

لکھا ہے ناں، بائبل میں۔

نے...... ایک کنجری آئی اور اس نے اپنے بالوں کو تی کی کیفیت ہے۔ یہ بائبل میں لکھا ہوا ہے۔

نے خود نہیں...... کا، اس سے یہ Conclusion (نتیجہ) ن کنجریوں سے...... ان کی صحبت بھی شاید اسی

Conclusi (نتیجہ) ہے۔ کیونکہ اس میں

Concl (نتیجہ) وہ خود Draw (اخذ)

ے سے ہو کہ جدی مناسبت درمیان تھی۔“ اس واسطے وہ ان سے میلان رکھتے تھے۔“ ں جواب“ اس کو کہتے ہیں، اس کو ”الزامی

نے Conclusion (نتیجہ) خود Draw

سے۔ سے اور ہماری تحریروں میں بھی ان کی کوئی

تے، بالکل نہیں۔ ں کے پیدا ہوئے؟ توبہ، ہم تو حضرت مسیح کے سارے نسب نامہ

صفحہ ١٧٨١

1781 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

جناب عبدالمنان عمر : کیونکہ اس میں لکھا ہے ناں، بائبل میں۔ جناب یحییٰ بختیار : کیا لکھا ہوا ہے؟ جناب عبدالمنان عمر : یہ کہ حضرت مسیح نے...... ایک کنجری آئی اور اس نے اپنے بالوں کو حضرت مسیح کے قدموں پر ملا اور عطر کی مالش ہوگئی۔ یہ کنجری کی کیفیت ہے۔ یہ بائبل میں لکھا ہوا ہے۔ جناب یحییٰ بختیار : نہیں، وہ ایک چیز...... جناب عبدالمنان عمر : یہ مرزا صاحب نے خود نہیں...... جناب یحییٰ بختیار : دیکھیں ناں، اس کا، اس سے یہ Conclusion (نتیجہ) نکالنا، دیکھیں آپ ذرا پھر سنیں: ”کہ آپ کا میلان کنجریوں سے...... ان کی صحبت بھی شاید اسی وجہ سے...... شاید اسی وجہ سے......“ جناب عبدالمنان عمر : جی ہاں، Conclusion (نتیجہ) ہے۔ کیونکہ اس میں لکھا ہوا ہے۔ جناب یحییٰ بختیار : ہاں، یہ Conclusion (نتیجہ) وہ خود Draw (اخذ) کر رہے ہیں۔ جناب عبدالمنان عمر : جی ہاں۔ جناب یحییٰ بختیار : ”...... شاید اسی وجہ سے ہو کہ جدی مناسبت درمیان تھی۔“ کہ ”دادیاں ان کی زانیہ تھیں، کسبی تھیں، اس واسطے وہ ان سے میلان رکھتے تھے۔“ 1801 جناب عبدالمنان عمر : ”الزامی جواب“ اس کو کہتے ہیں، اس کو ”الزامی جواب“ کہتے ہیں۔ جناب یحییٰ بختیار : یہ مرزا صاحب نے Conclusion (نتیجہ) خود Draw (اخذ) کیا ہے۔ جناب عبدالمنان عمر : ان کی تحریروں سے۔ جناب یحییٰ بختیار : ان کی تحریروں سے اور ہماری تحریروں میں بھی ان کی کوئی دادیاں نانیاں وہی تھیں یا کہ کوئی اور تھیں۔ جناب عبدالمنان عمر : جی، ہم نہیں مانتے، بالکل نہیں۔ جناب یحییٰ بختیار : بغیر نانیوں، دادیوں کے پیدا ہوئے؟ جناب عبدالمنان عمر : بالکل نہیں، توبہ، توبہ، ہم تو حضرت مسیح کے سارے نسب نامہ

٧١

BLY OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

1799 جناب عبدالمنان عمر : ”......“ آپ ہی......“ جناب یحییٰ بختیار : ابھی دیکھیں، آ نے لیے جواب لکھ کے تیار کئے ہوئے ہیں، پڑھا ہے اسمبلی میں۔ آپ اپنا جواب دیں گے۔ اگر کوئی جناب عبدالمنان عمر : جی، میں حوالہ جناب یحییٰ بختیار : یہ آپ کل بیا Conclusions (نتیجہ) ان کے ہیں...... جناب عبدالمنان عمر : جی ہاں، میں ہیں سارے آپ کے سامنے جناب! جناب یحییٰ بختیار : نہیں، یعنی ان Conclusions (نتیجہ) دے رہے ہیں۔ جناب عبدالمنان عمر : جی ہاں، ns جناب یحییٰ بختیار : ایک طرف تو دا کہ وہ انہوں نے...... جناب عبدالمنان عمر : اسی میں لکھا جناب یحییٰ بختیار : اسی سے نکالی تھی جناب عبدالمنان عمر : جی ہاں۔

irman vacated the chair which uty Speaker (Dr. Mrs. Ashraf

(اس موقع پر جناب چیئرمین نے کرس اشرف خاتون عباسی) نے سنبھال لی) 1800 جناب یحییٰ بختیار : پھر آگے خو ”آپ کا میلان کنجریوں سے...... مناسبت درمیان ہے۔“

صفحہ ١٧٨٢

1782 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

کو پاک باز لوگوں کا نسب نامہ تصور کرتے ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، تو میں یہ کہتا ہوں کہ دادیاں تو وہی تھیں جن پہ یہ الزام لگا رہے ہیں۔

جناب عبدالمنان عمر: جی، وہ غلط کہتے ہیں۔ ہم نہیں مانتے اس کو۔

جناب یحییٰ بختیار: لیکن مرزا صاحب اس کو لکھتے کیوں ہیں؟

جناب عبدالمنان عمر: مرزا صاحب ان کو کہتے ہیں کہ تمہاری کتابوں میں ان کی دادیوں، نانیوں کو ایسا کہا گیا ہے۔

(اہل بیتؓ کی توہین)

جناب یحییٰ بختیار: اچھا، یہ بتائیے، یہ تو ہے حضرت یسوع مسیح کے بارے میں کہا۔ یہ اہل بیت کے بارے میں بھی مرزا صاحب یہی کہہ رہے ہیں کہ نہیں کہہ رہے ہیں؟ حضرت علیؓ کے بارے میں کیا کہہ رہے ہیں وہ؟

جناب عبدالمنان عمر: میں عرض کرتا ہوں......

1802 جناب یحییٰ بختیار: امام حسینؓ کے بارے میں کیا کہہ رہے ہیں وہ؟

جناب عبدالمنان عمر: مجھے فرمائیے تو میں ایک ایک کا جواب دوں۔

جناب یحییٰ بختیار: ”پرانی خلافت کا جھگڑا چھوڑ دو۔ اب نئی خلافت لو۔ ایک زندہ علی تم میں موجود ہے اور اس کو چھوڑتے ہو اور مردہ علی کو تلاش کرتے ہو۔“

(ملفوظات ج٢ ص١٤٢)

جناب عبدالمنان عمر: اس میں بھی حضرت مرزا صاحب نے یہ پوائنٹ اٹھایا ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے متعلق فرماتے ہیں، حضرت مرزا صاحب کے یہ الفاظ ہیں: ”خاکم نثار کوچہ آل محمد است“ کہ ”میری تو خاک بھی آل محمد کے کوچے میں نثار ہونے کے لئے ہے۔“ یہ بات جو کہی جا رہی ہے۔ وہ یہ ہے کہ بعض لوگ، اہل تشیع میں سے حضرت علیؓ کا ایک ہیولا سا ان کے ذہن میں ہے۔ سب کا نہیں میں کہتا ہوں۔ چند لوگ۔ کچھ لوگ، وہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے متعلق یہ تصور رکھتے ہیں کہ اصل وحی جو ہے وہ حضرت جبرائیل نے لانی تھی حضرت علی پر اور یہ لے آئے محمد رسول اللہ ﷺ پر۔

(مردہ علیؓ)

جناب یحییٰ بختیار: دیکھیں، اس کا کوئی تعلق یہاں نہیں ہے۔ وہ یہ کہتے ہیں کہ ”علی

٧٢

صفحہ ١٧٨٣

BLY OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

کو پاک باز لوگوں کا نسب نامہ تصور کرتے ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، تو میں یہ پوچھ رہے ہیں۔

جناب عبدالمنان عمر: جی، وہ غلط کہے

جناب یحییٰ بختیار: لیکن مرزا صاحب

جناب عبدالمنان عمر: مرزا صاحب دادیوں، نانیوں کو ایسا کہا گیا ہے۔

(اہل بیت کی

جناب یحییٰ بختیار: اچھا، یہ بتائیے، یہ اہل بیت کے بارے میں بھی مرزا صاحب یہی ک کے بارے میں کیا کہہ رہے ہیں وہ؟

جناب عبدالمنان عمر: میں عرض کرتا

1802

جناب یحییٰ بختیار: امام حسین کے

جناب عبدالمنان عمر: مجھے فرمائیے تو

جناب یحییٰ بختیار: ”پرانی خلافت علی تم میں موجود ہے اور اس کو چھوڑتے ہو اور مردہ علی

جناب عبدالمنان عمر: اس میں بھی ا کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے متعلق فرماتے ہیں، ج ”خاتم شار کوچہ آل محمد است“ کہ ”میرا کے لئے ہے۔“ یہ بات جو کہی جارہی ہے۔ وہ یہ ہے ایک ہیولا سا ان کے ذہن میں ہے۔ سب کا نہیں ہو علی کرم اللہ وجہہ کے متعلق یہ تصور رکھتے ہیں کہ اصل حضرت علی پر اور یہ لے آئے محمد رسول اللہ ﷺ پر۔

(مردہ ا

جناب یحییٰ بختیار: دیکھیں، اس کا ک

٧٢

1783 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

سے میں بہتر ہوں، وہ مردہ ہیں، میں زندہ ہوں۔"

جناب عبدالمنان عمر: وہ علی جو ان کے ذہن میں ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: جو بھی ہو، وہ علی بھی سہی۔

جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں، وہ علی۔ تو پھر وہ علی کی تو آپ بھی نہیں کریں گے۔ کوئی بھی نہیں کرے گا، کوئی اہل تشیع بھی نہیں کرے گا۔

جناب یحییٰ بختیار: وہ نہیں، اس، نہیں اس سے یہ ان کی وحی بہتر ہے، کیا ہے؟

1803

جناب عبدالمنان عمر: اس علی سے۔

جناب یحییٰ بختیار: یعنی اس علی سے بھی آپ ہیں......

جناب عبدالمنان عمر: ہاں، وہ علی کون ہیں؟ وہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نہیں ہیں۔ وہ ایک تصور ہے......

جناب یحییٰ بختیار: ہاں۔

جناب عبدالمنان عمر: ...... ایک خیالی علی ہے......

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، تو......

جناب عبدالمنان عمر: ...... جس کے متعلق ان کا خیال ہے کہ وہ افضل ہے محمد رسول اللہ ﷺ سے۔

جناب یحییٰ بختیار: اس خیالی علی سے یہ خیالی محدث جو ہے، یہ بہتر ہے؟

جناب عبدالمنان عمر: ہاں جی۔

جناب یحییٰ بختیار: یہ مطلب ہوا؟

جناب عبدالمنان عمر: ہاں جی۔

(سیدنا حسینؓ)

جناب یحییٰ بختیار: اچھا جی۔ اب جو امام حسینؓ کے بارے میں وہ کہتے ہیں......

جناب عبدالمنان عمر: جی۔ (Pause)

جناب یحییٰ بختیار: ”اے شیعہ قوم......“

Ch. Jahangir Ali: Madam Chairman, a point of information, Sir, with your permission.

(چوہدری جہانگیر علی: محترمہ صدر عباسیہ، آپ کی اجازت سے ایک اطلاعی نقطہ)

٧٣

صفحہ ١٧٨٤ NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN ٢٨th Aug, ١٩٧٤ No:١٣

میڈم چیئرمین: بعض دفعہ،

the honourable......Beg your pardon......

1804 Mr. Yahya Bakhtiar: Please let me continue. Please let me continue.

(جناب یحییٰ بختیار: مہربانی کر کے مجھے آگے چلنے دیں)

Madam Chairman: Procedure.

چوہدری جہانگیر علی: ایک سوال میں یہ عرض کر رہا تھا.......

جناب یحییٰ بختیار: دیکھئے ناں، the whole thing is disturbed

Madam Chairman: You write it and give it to the Attorney-General.

(محترمہ چیئرمین: آپ لکھ کر اٹارنی جنرل صاحب کو دے دیں)

چوہدری جہانگیر علی: میں گزارش یہ کرنا چاہتا ہوں کہ بعض سوال کے جواب میں یہ ممبر آف دی ڈیلی گیشن صرف سر ہلا دیتے ہیں اور رپورٹر کو پتہ نہیں چلتا کہ ان کا سر ”ہاں“ میں ہلا ہے یا ”نہ“ میں ہلا ہے۔ اس لئے ان کو الفاظ میں جواب دینا چاہئے۔ میں تو صرف یہ گزارش کرنا چاہتا تھا۔

محترمہ چیئرمین: اچھا۔

جناب یحییٰ بختیار: اچھا جی، یہ فرمائیے آپ کہ جب وہ کہتے ہیں کہ: ”اے شیعہ قوم!.......“ بعض کو نہیں، تمام شیعہ قوم کو ایڈریس کر رہے ہیں: ”.......اس پر اصرار مت کرو کہ حسین تمہارا منجی ہے۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ آج تم میں ایک (اپنا مرزا صاحب) ہے کہ اس حسین سے بڑھ کر ہے۔“

(تذکرہ ص ٣٣٦ طبع سوم)

جناب عبدالمنان عمر: اس سلسلے میں میری گزارش یہ ہے کہ حضرت مرزا صاحب کے الفاظ میں آپ کو سنا دیتا ہوں: ”کوئی انسان حسین جیسے راست باز پر بد زبانی کر کے ایک رات بھی زندہ نہیں رہ سکتا اور....... (عربی)....... دست بدست اس کو پکڑ لیتا ہے۔“

(اعجاز احمدی ص ٣٨، خزائن ج ١٩ص ١٤٩)

1805 جو کلمات حضرت مرزا صاحب نے حضرت امام حسینؓ کے متعلق، آپ فرماتے ہیں، لکھے ہیں، اس کو اس Context میں پڑھنا ہو گا کہ ایک شخص ان کی عزت کرتا ہے.......

صفحہ ٧٥

1785 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

جناب یحییٰ بختیار: یہ مطلب یہ کہ ہر جگہ مرزا صاحب نے جو بھی دنیا میں بات کہی ہے..... جناب عبدالمنان عمر: الزام خصم ۔

(ہر چیز دو قسم ہے)

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، دو قسم کی باتیں کی ہیں، ہر ایک چیز کی دو قسم ہے؟ جناب عبدالمنان عمر: مثلاً انہوں نے خدا کے متعلق ..... جناب یحییٰ بختیار: ”میں نبی ہوں“ میں نبی نہیں۔“ ..... جناب عبدالمنان عمر: بڑی لمبی بحث کی۔ وہ بھی دو قسم ہے۔ انہوں نے ..... جناب یحییٰ بختیار: پھر یسوع کی تعریف ہے۔ پھر ”عیسیٰ کجا است کہ تا بنہد پا بعمرم“ یہ بھی کہہ دیا۔ جناب عبدالمنان عمر: ہر بات کے متعلق تو اب میرا خیال ہے ..... جناب یحییٰ بختیار: ..... پھر یہاں جو ہے حضرت علیؓ کے بارے میں بھی یہ ہے ..... جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں۔

(مرزا قادیانی کا مخالف جہنمی )

جناب یحییٰ بختیار: ..... پھر حضرت امام حسینؓ کے بارے میں بھی یہ ہے۔ اب آپ ان کو بھی چھوڑ دیجئے ۔ ابھی میں آپ سے یہ پوچھوں گا کہ مرزا صاحب جب اپنے مخالفوں کا ذکر کرتے ہیں۔ مرزا صاحب جب اپنے مخالفوں کا ذکر کرتے ہیں۔ ان سے ان کا کیا مطلب ہوتا ہے؟ غیر احمدی یا صرف ہندو، عیسائی؟ میں نے آپ سے پوچھا کہ مرزا صاحب جو کہتے ہیں کہ: ”جو شخص تیری پیروی نہیں کرے گا اور تیری بیعت میں داخل نہیں ہوگا۔ تیرا مخالف رہے گا۔ وہ خدا اور رسول کی مخالفت کرنے والا جہنمی ہے۔“

(تذکرہ ص٣٣٦ طبع سوم)

1806 یہ مخالف سے کیا مطلب ہے؟ جناب عبدالمنان عمر: جو بدزبانی کرتا ہے۔ جناب یحییٰ بختیار: نہیں، ”بدزبانی“ نہیں کہا۔ ”جو شخص .....“ جناب عبدالمنان عمر: ”مخالف“ آپ نے معنی پوچھے ہیں ناں؟ جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں پھر پڑھ کے سناتا ہوں، آپ نے سنا نہیں شاید: ”جو شخص تیری پیروی نہیں کرے گا تیری بیعت میں داخل نہیں ہوگا اور تیرا مخالف رہے

TAN 28th Aug, 1974 No:13

میڈم چیئرمین: on...... ase let me continue.

(جناب یحییٰ بختیار e.

چوہدری جہانگیر علی: جناب یحییٰ بختیار it and give it to the

(محترمہ چیئرمین چوہدری جہانگیر علی: آف دی ڈیلی گیشن صرف سر ہلا ”نہ“ میں ہلا ہے۔اس لئے ان کو

محترمہ چیئرمین : جناب یحییٰ بختیار: ”اے شیعہ قوم !... ....... اس پر اصرار ایک (اپنا مرزا صاحب ) ہے کہ

جناب عبدالمنان کے الفاظ میں آپ کو سنا دیتا ہوں ”کوئی انسان حسین اور ..... (عربی)..... دست بد 1805 جو کلمات حضر ہیں، لکھے ہیں ، اس کو اس tex

صفحہ ١٧٨٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

گا...... اور تیرا مخالف رہے گا......"

جناب عبدالمنان عمر: جی۔

جناب یحییٰ بختیار: "...... وہ خدا اور رسول کی مخالفت کرنے والا جہنمی ہے۔"

جناب عبدالمنان عمر: آپ نے پوچھا ہے کہ ان سے کون کون مراد ہے؟

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، ”مخالف“ سے کیا مراد ہے؟ ”جہنمی“......

جناب عبدالمنان عمر: "ليس كلامنا هذا فى اخيار هم بل فى اشرارهم" کہ:

”ہماری اس قسم کی تحریروں کے مخاطب وہ لوگ ہیں جو برے ہیں۔ اشرار میں سے ہیں۔ جو اخیار ہیں۔ نیک ہیں، اچھے ہیں، دوسری قوموں میں بھی ایسے ہیں، ان کے متعلق ہماری یہ تحریریں نہیں ہیں۔“

(مخالف کنجریوں کی اولاد)

جناب یحییٰ بختیار: جب مرزا صاحب یہ کہتے ہیں کہ:

”کل مسلمانوں نے مجھے قبول کرلیا۔ میرے دعویٰ کی تصدیق کر لی مگر کنجریوں اور بد کاروں کی اولاد نے مجھے نہیں مانا۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٤٧)

جناب عبدالمنان عمر: یہ ذرا مجھے دکھا دیجئے مرزا صاحب کی تحریر۔

1807 جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں، میں، یہ اردو ترجمہ ہے۔

جناب عبدالمنان عمر: نہیں، نہیں، یہ مرزا صاحب کے الفاظ نہیں ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، یہ اردو ترجمہ ہے۔

جناب عبدالمنان عمر: ترجمہ۔

مولوی مفتی محمود: عربی میں ہے، وہ میں سنا دیتا ہوں۔

جناب عبدالمنان عمر: ہاں، عربی پڑھئے۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، عربی میں جو لفظ ہے اس کا کیا مطلب ہے؟

مولوی مفتی محمود: عربی میں الفاظ اس کے یہ ہیں: "تلك كتب ينظر اليها كل مسلم بعين المحبة و المودة وينتفع من معارفها ويقبلنى ويصدق دعوتى الا ذرية البغايا" یہ ہے۔

جناب عبدالمنان عمر: آگے ہی اس کا ترجمہ ہے کہ ”وہ لوگ جن پر قرآن مجید کی یہ

صفحہ ١٧٨٧

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

آیت منطبق ہوتی ہے، ”ختم اللہ علی قلوبھم“ یعنی باوجود صداقت کو دیکھ لینے کے، باوجود صداقت کو سمجھ لینے کے، باوجود تمام دلائل کو پوری طرح جاننے کے باوجود، وہ لوگ پھر بھی صداقت کو قبول نہیں کرتے۔ یہ خود یہ تحریر بتا رہی ہے۔......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، تو وہ کنجریوں کی اولاد ہو گئے ناں جی؟

جناب عبدالمنان عمر: جی نہیں۔ وہاں تو ہے نہیں، ”کنجریوں کی اولاد۔“

جناب یحییٰ بختیار: تو پھر میں تو یہ پوچھ رہا ہوں آپ سے کہ......

جناب عبدالمنان عمر: وہ تو، دیکھئے، میں نے اسی لئے کہا ناں کہ لفظ وہ نہیں ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: وہ لفظ جو ہے......

1808مولوی مفتی محمود: ”بغایا“۔ (مداخلت)

جناب یحییٰ بختیار: ”بغایا“ کے لئے بار بار وہ ”بدکار عورت“ ”فاحشہ عورت“ خود ہی استعمال کرتے ہیں۔

جناب عبدالمنان عمر: ”ولد بغایہ“ ”ابن الحرام“ اور ولد الحرام ”ابن الحلال“ اور ”بنت الحلال“ وغیرہ سب عرب کا اور ساری دنیا کا محاورہ ہے۔ جو شخص نیکو کاری کو ترک کر کے برائی کی طرف جاتا ہے اور باوجودیکہ، اس کا حسب ونسب درست ہو، صرف اعمال کی وجہ سے ”ابن الحرام“ اور ”ولد الحرام“ کہتے ہیں۔ ان کے خلاف جو نیکو کار ہوتے ہیں۔ ان کو ”ابن الحلال“ کہتے ہیں۔ اندریں حالات امام علیہ السلام کا اپنے مخالفین کو ”اولاد بغایہ“ کہنا بھی درست ہے اور جناب عالی! حضرت امام باقر کا میں ایک قول......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، پہلے یہ بتائیں کہ اس کا مطلب کیا؟ اگر ایک ولد الحرام ہے وہ......

جناب عبدالمنان عمر: جی، میں نے......

جناب یحییٰ بختیار: دیکھئے ناں، آپ پہلے اس کو تو Settle کر دیجئے۔ پھر آگے جا کے دلیلیں دیتے رہیں آپ۔ جب ایک آدمی بازار میں پھرتا ہے اور آپ اسے کہتے ہیں ”حرامی ہے“ اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ واقعی وہ ولد الزنا ہے......

جناب عبدالمنان عمر: ہاں۔

(مرزا قادیانی نے گالی دی)

جناب یحییٰ بختیار: ....... یہ نہیں ہوتا، اور ”حرامی“ کہنے کا مطلب گالی ہے۔

٧٧

PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

گا....... اور تیرا مخالف رہے گا......“

جناب عبدالمنان عمر: مح

جناب یحییٰ بختیار: ”......

جناب عبدالمنان عمر: آپ

جناب یحییٰ بختیار: ہاں،

جناب عبدالمنان عمر: ”ق

اشرارھم“ کہ:

”ہماری اس قسم کی تحریروں ہیں۔ جو اخیار ہیں۔ نیک ہیں، اچھے ہیں یہ تحریریں نہیں ہیں۔“

(مخالف

جناب یحییٰ بختیار: جب

”کل مسلمانوں نے مجھے قو کاروں کی اولاد نے مجھے نہیں مانا۔“

جناب عبدالمنان عمر: یہ

1807جناب یحییٰ بختیار: ن

جناب عبدالمنان عمر: نہ

جناب یحییٰ بختیار: نہیں

جناب عبدالمنان عمر: تر

مولوی مفتی محمود: عربی م

جناب عبدالمنان عمر: ہا

جناب یحییٰ بختیار: ہاں ا

مولوی مفتی محمود: عربی ب

مسلم بعین المحبة والمودة و البغایا“ یہ ہے۔

جناب عبدالمنان عمر: آ

صفحہ ١٧٨٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

جناب عبدالمنان عمر: بالکل، بالکل۔

جناب یحییٰ بختیار: تو اس Sense (معنی) میں مرزا صاحب نے کہا؟

1809 جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں سختی کے کلام میں۔

جناب یحییٰ بختیار: جی ہاں، سختی کا کلام ہے۔

جناب عبدالمنان عمر: ہاں، یہ نہیں کہ وہ کوئی وہ…… یہی میں کہہ رہا تھا کہ ترجمہ نہیں ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، یہی میں کہہ رہا ہوں کہ وہ کنجریوں کی اولاد نہیں۔ وہ مرزا صاحب کہتے ہیں ان کی نظر میں، کہ جو ان کو نہیں مانتا، وہ اس قسم کا جیسے ہم کہتے ہیں کہ ”یہ حرامی ہے، ولدالزنا ہے۔“

جناب عبدالمنان عمر: یعنی ”سرکش انسان۔“

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، ”سرکش“ تو ضروری نہیں۔ ابھی لیڈر آف دی……

جناب عبدالمنان عمر: ”باغی“ کہتے ہیں۔ نہیں جی، ”باغی“ کس کو کہتے ہیں؟ سرکش کو کہتے ہیں ناں۔

جناب یحییٰ بختیار: دیکھیں جی……

مولوی مفتی محمود: ”بغایا“ جو ہے ناں……

جناب یحییٰ بختیار: ”بغایہ“ باغی کی جمع نہیں ہے۔ ”بغایہ“ بغی کی جمع ہے۔

جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں۔

مولوی مفتی محمود: اور ”بغی“ بمعنی……

جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں، تو ان معنوں میں یہ لفظ لغت میں آتا ہے۔ میں عرض کرتا ہوں……

جناب یحییٰ بختیار: دیکھئے ناں، میں نے مرزا صاحب کی کچھ کتابوں میں دیکھا ہے کہ اس لفظ کا خود ہی ”بدکار عورت“ ”فاحشہ عورت“ استعمال کرتے رہے ہیں۔

1810 جناب عبدالمنان عمر: جناب! وہ دکھائیے مجھے۔

جناب یحییٰ بختیار: وہ ترجمہ جو ہوا ہے انہی میں……

جناب عبدالمنان عمر: جناب! وہ ترجمہ ان کا نہیں ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: انہی کی کتاب……

صفحہ ١٧٨٩

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

جناب عبد المنان عمر: یہ ترجمہ ”ولد البغایہ“ کا ان کا نہیں ہے۔ جناب یحییٰ بختیار: نہیں، انہی کی کتاب....... جناب عبد المنان عمر: دکھائیے۔ جناب یحییٰ بختیار: چھ صفحے میں سات دفعہ وہ...... جناب عبد المنان عمر: ہاں، تو عربی میں ہے، وہ ترجمہ نہیں ہے۔

(”بغایا“ کا معنی مرزا قادیانی کی کتب سے)

جناب یحییٰ بختیار: ”بغایہ“ کا مطلب وہ یہ لیتے ہیں ”بدکار عورت“۔ یہ آپ، آپ کو سنا دیتے ہیں۔ آپ ذرا دیکھ لیجئے۔ یہ ذرا سن لیں آپ۔ جناب عبد المنان عمر: ہاں جی سنائیں۔ مولانا ظفر احمد انصاری: یہ ہے؎١ ”ان نساء داران کن بغایا فیکون رجالھا دیوثین دجالین“

(لجنتہ النور ص ٩٠، خزائن ج ١٦ ص ٤٣٢)

اب اس کا ترجمہ انہوں نے کیا ہے کہ: ”اگر در خانہ زنان آں فاسقہ باشند پس مرد آں خانہ دیوث و دجال مے باشند“ اس کے بعد (ص ٩٦، خزائن ج ١٦ ص ٤٣٧) پر: ”وما اھلکھم الا البغایا“ ترجمہ فارسی: (وہلاک نہ کردایشان را مگر زنان فاحشہ) اس کے آگے (لجنتہ النور ص ٩٦، خزائن ج ١٦ ص ٤٣٨) ہے۔ پھر وہ لکھتے ہیں: ”وقد كثرت البغایا لشقوۃ الناس فی ھذا الزمان وبرائے بدبختی مردم زنان فاحشہ دریں زمانہ بسیار اند“

1811 اس کے بعد (لجنتہ النور ص ١١٨، خزائن ج ١٦ ص ٤٦٠) پر پھر آگے لکھتے ہیں: ”الی العواھر والبغایا او تاقہ سوئے زنان بدکار“ پھر (لجنتہ النور ص ٩٠، خزائن ج ١٦ ص ٤٣٢) پر لکھتے ہیں: ”دیوثین و دجالین“ فارسی میں ”دیوث و دجال مے باشند“ اسی طرح اور بھی دوسری کتابوں میں بھی بہت جگہ پر خود انہوں نے لکھا اور ترجمہ کیا۔

؎١ اس جگہ اصل مطبوعہ مسودہ میں لفظ ......عربی ...... لکھ کر خالی چھوڑ دیا تھا۔ ہم نے اصل کتاب سے عربی عبارتیں نقل کیں۔

٧٩

صفحہ ١٧٩٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

جناب یحییٰ بختیار: ”دیوث ودجال“ اب دیکھیں، اب آپ یہ فرمائیے صاحبزادہ صاحب! کہ جو شخص محدث ہے، وہ کہتا ہے کہ ”میں محدث ہوں، نبی نہیں ہوں“ اس کا انکار کفر نہیں ہے، تو پھر وہ کیوں یہ لوگوں کو کہتا ہے کہ ”یہ ولد الحرام ہیں، یہ دیوث ہیں، یہ دجال ہیں، یہ اس Sense (معنوں) میں نہ ہو کہ ”ولد الحرام“ سے مطلب یہ کہ واقعی وہ زنا کی اولاد ہیں۔ مگر یہ چیزیں، ایسے الفاظ کیوں استعمال کرتے ہیں ان کے لئے۔ یعنی ایک شخص کا اتنا جو مرتبہ ہو، محدث ہو، کہتا ہے ”جو مجھے نہیں مانتا وہ کنجریوں کی اولاد ہے ۔“ ”بدکار“ یا ”باغی“ آپ سمجھیں اس کو جس طرح کہ کہتے ہیں۔

جناب عبدالمنان عمر: یہ نہیں ہے ”جو نہیں مجھے مانتا۔“ میں نے اس لئے عرض کیا تھا ......

جناب یحییٰ بختیار: میں پھر پڑھ کے سناتا ہوں، دیکھیں: ”کل مسلمانوں نے مجھے قبول کیا اور میری دعوت کی تصدیق کی .......“

جناب عبدالمنان عمر: جی۔

1812 جناب یحییٰ بختیار: ”....... مگر کنجریوں اور بدکاروں کی اولاد نے مجھے نہیں مانا۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٤٧)

یہ جو ترجمہ ہوا ہے۔

جناب عبدالمنان عمر: میں نے گزارش کی تھی کہ حضرت مرزا صاحب کا کلام جو ہے ۔ اس Context (سیاق وسباق) میں اگر پڑھا جائے تو ......

جناب یحییٰ بختیار: Context (سیاق وسباق) تو یہی ہے ناں ”مجھے مانو ورنہ تم ولد الحرام ہو جاؤ گے ۔“ ابھی اگر آپ کہتے ہیں کہ اس کے بھی کوئی دو معنی ہیں تو وہ بتا دیجئے آپ؟

جناب عبدالمنان عمر: بات یہ ہے جی کہ مرزا صاحب کا اسلام کے مخالفین سے مقابلہ تھا اور اس وقت کا لٹریچر، میں تو پسند نہیں کروں گا کہ آپ لوگوں کی سمع خراشی کروں۔ لیکن نقل کفر کفر نہ باشد ......

جناب یحییٰ بختیار: دیکھیں، دیکھیں، صاحبزادہ صاحب! میں بڑے سوچ سمجھ کے آپ کو حوالے پیش کر رہا ہوں۔ میں ”وہ بیابانوں کے خنزیر ہو گئے (نجم الہدیٰ)“ انجام آتھم سے حوالے نہیں لے رہا تھا وہ عیسائیوں سے تعلق رکھتا تھا۔

جناب عبدالمنان عمر: جی۔

٨٠

صفحہ ١٧٩١

1791 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13 جناب یحییٰ بختیار: یہ کہتے ہیں ”کل مسلمانوں نے“ اور ”مسلمان“ سے ان کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ”جو دعویٰ کرتے ہیں اسلام کا۔“ اصلی مسلمان، حقیقی...... جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں۔ جناب یحییٰ بختیار: میں ان سے کہہ رہا ہوں۔ آپ عیسائیوں کی باتوں کو چھوڑ دیجئے۔ جناب عبدالمنان عمر: نہیں جی، میں اسی کے متعلق عرض کرتا ہوں۔ تو میں نے گزارش کی کہ جب وہ سخت لفظ استعمال کرتے ہیں تو اس کے مقابل میں جو لوگ ہوتے 1813 ہیں وہ دیکھنا چاہئے کہ کس کے لئے آپ نے یہ لفظ استعمال کیا ہے۔ میں نے خود مرزا صاحب کے الفاظ آپ کے سامنے...... جناب یحییٰ بختیار: یہ آپ بالکل درست فرما رہے ہیں۔ یہاں آپ ذرا تھوڑی سی Clarification (وضاحت) اور کریں...... جناب عبدالمنان عمر: اچھا جی۔ جناب یحییٰ بختیار: ...... جب وہ سخت الفاظ استعمال کرتے ہیں تو آپ کو یہ دیکھنا ہے ، آپ کہہ رہے ہیں کہ ان کے مقابلے میں کون ہے۔ کن کے بارے میں استعمال کر رہے ہیں؟ جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں۔ جناب یحییٰ بختیار: جنہوں نے ان کو قبول نہیں کیا...... جناب عبدالمنان عمر: نہیں جی۔ جناب یحییٰ بختیار: ...... جنہوں نے ان کی دعوت نہیں مانی۔ اس کی تصدیق نہیں کی، ان کو نہیں مانا۔ ان کو محدث نہیں مانا۔ نبی نہیں مانا یا ان کو جھوٹا کہا، کذاب کہا...... جناب عبدالمنان عمر: یہ ترجمہ آپ کر رہے ہیں جی۔ اصل عبارت پڑھئے آپ۔ میری گزارش یہ ہے...... جناب یحییٰ بختیار: میں نے ترجمہ کیا ہے...... جناب عبدالمنان عمر: ترجمہ کیا ہے۔ جناب یحییٰ بختیار: ......مگر آپ کو ایک لفظ پر اعتراض تھا کہ...... جناب عبدالمنان عمر: جی نہیں، میں نے عرض کیا ہے ناں کہ ترجمہ کیا ہے۔ میں اب اس کا ترجمہ آپ کو عرض کر دیتا ہوں۔ یہ نہیں ہے کہ ”جو مجھے قبول نہیں کرتا ہے“ بلکہ فرمایا 1814 ”کل“ ہر وہ شخص جو مجھے آگے جاکے قبول نہیں کرے گا......“ ٨١

OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13 جناب یحییٰ بختیار: ”دیوث و صاحب! کہ جو شخص محدث ہے، وہ کہتا ہے کہ ہے، تو پھر وہ کیوں یہ لوگوں کو کہتا ہے کہ ”یہ Sense (معنوں) میں نہ ہو کہ ”ولدالحرا چیزیں، ایسے الفاظ کیوں استعمال کرتے ہیں ہو، کہتا ہے ”جو مجھے نہیں مانتا وہ کنجریوں کی او طرح کہہ کہتے ہیں۔ جناب عبدالمنان عمر: نہیں......“ جناب یحییٰ بختیار: میں پھر پ قبول کیا اور میری دعوت کی تصدیق کی.....“ جناب عبدالمنان عمر: جی۔ جناب یحییٰ بختیار: .....“1812

یہ جو ترجمہ ہوا ہے۔ جناب عبدالمنان عمر: میں ب ہے۔ اس Context (سیاق و سباق) میں جناب یحییٰ بختیار: Context ولد الحرام ہو جاؤ گے“ ابھی اگر آپ کہتے ہ جناب عبدالمنان عمر: بات مقابلہ تھا اور اس وقت کا لٹریچر، میں تو پسند نہیں کفر کفر نہ باشد...... جناب یحییٰ بختیار: دیکھیں آپ کو حوالے پیش کر رہا ہوں۔ میں ”وہ ی حوالے نہیں لے رہا تھا وہ عیسائیوں سے تعلق جناب عبدالمنان عمر: جی۔

صفحہ ١٧٩٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

جناب یحییٰ بختیار: جی ہاں۔

جناب عبدالمنان عمر: ”......وہ شریر لوگوں میں سے ہوگا۔ وہ ان لوگوں میں سے ہو گا جن پر ”ختم اللہ علی قلوبھم“ کی وعید آتی ہے۔“ یہ وہی لکھا ہوا ہے......

جناب یحییٰ بختیار: ابھی یہ، یہاں جو آپ کا ترجمہ......

جناب عبدالمنان عمر: ......مضارع کا صیغہ ہے جی۔ اس میں آئندہ کے متعلق بتایا ہے اور آپ خود سوچئے، یہ مرزا صاحب کی ابتدائی زمانے کی تحریر ہے۔ اس کے بعد تو ان کو لاکھوں آدمیوں نے مانا۔ تو کیا مرزا صاحب یہ کہتے تھے کہ ”جتنوں نے اب مجھے مان لیا؟“ چند سو اس وقت تھے۔ ”آئندہ مجھے جو شخص بھی مانے گا وہ ایسا ہی ہوگا؟“ یہ تو عقل کے خلاف بات ہے۔

(مجھے مانو، ورنہ ولدالحرام، مرزا قادیانی کا اعلان)

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، ان کا یہ مطلب ہے کہ دھمکی دے رہے ہیں کہ ”مجھے مان لو ورنہ ولدالحرام ہو جاؤ گے۔“

جناب عبدالمنان عمر: یعنی سختی کی ہے۔ یہ صحیح بات ہے۔ ایک شخص صداقت کو پیش کرتا ہے......

جناب یحییٰ بختیار: ”اور جو نہیں مانتا وہ حرامی ہے، ہو جائے گا۔“

جناب عبدالمنان عمر: اور دوسری میں نے عرض کی تھی کہ پہلا یہ تھا کہ ”یقبلنی“ یہ مضارع کا صیغہ ہے۔ یعنی ”مجھے قبول کر لے گا۔“ یہ نہیں کہ ”جو مجھے قبول کر چکا ہے۔“ ایک یہ غلطی ہے اس ترجمے میں۔ دوسری بات یہ ہے کہ ”آپ کو قبول کرنے“ سے کیا مراد ہے؟

مولانا ظفر احمد انصاری: جناب مضارع کا صیغہ جو ہے وہ حال کے لئے بھی آتا ہے۔ مستقبل کے لئے بھی آتا ہے۔ آپ صرف حال کی بات کہہ رہے ہیں۔

1815 جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں، تو یہاں مستقبل مراد ہے۔ جی ہاں، بالکل آپ نے صحیح فرمایا۔

مولانا ظفر احمد انصاری: نہیں، یہاں حال مراد ہے۔

جناب عبدالمنان عمر: یہ آپ کو کیا حق ہے یہ کہنے کا کہ یہاں حال ہے؟

مولانا ظفر احمد انصاری: نہیں، وہ جیسے مجھے حق نہیں ہے، آپ کو بھی حق نہیں ہے۔ مطلب یہ کہ آپ، آپ صرف مستقبل کی بات بتا رہے ہیں، یہ غلط ہے۔

جناب عبدالمنان عمر: میں نے تو عقل کی بات بتائی آپ کو کہ یہاں مضارع کا صیغہ ہے۔

٨٢

صفحہ ١٧٩٣

OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

جناب یحییٰ بختیار: جی ہاں۔

جناب عبدالمنان عمر: ”...... گا جن پر ”ختم اللّٰہ علی قلوبہم“ کی وعید

جناب یحییٰ بختیار: ابھی یہ ب

جناب عبدالمنان عمر: ...... ہے اور آپ خود سوچئے، یہ مرزا صاحب کی ا آدمیوں نے مانا۔ تو کیا مرزا صاحب یہ کہے وقت تھے۔ ”آئندہ مجھے جو شخص بھی مانے گا (مجھے مانو ، ورنہ ولدال

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، ال لو ورنہ ولدالحرام ہو جاؤ گے ۔“

جناب عبدالمنان عمر: یعنی کرتا ہے ......

جناب یحییٰ بختیار: ”اور جو

جناب عبدالمنان عمر: اور و مضارع کا صیغہ ہے۔ یعنی ”مجھے قبول کرے ہے اس ترجمے میں۔ دوسری بات یہ ہے کہ

مولانا ظفر احمد انصاری: ہے۔ مستقبل کے لئے بھی آتا ہے۔ آپ م

1815 جناب عبدالمنان عمر: نے صحیح فرمایا۔

مولانا ظفر احمد انصاری:

جناب عبدالمنان عمر: یہ آ

مولانا ظفر احمد انصاری: ہے۔ مطلب یہ کہ آپ، آپ صرف مستق

جناب عبدالمنان عمر: میں

1793 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

جناب یحییٰ بختیار: جو یہ کہتے ہیں بات وہ عقل کی ہے؟ بس۔ آپ دیکھیں ناں ......

جناب عبدالمنان عمر: یہ مضارع کا صیغہ ہے اور مرزا صاحب کہتے ہیں کہ ”مجھے قبول کرلیں گے ۔“ یہ اس وقت تو چند سو آدمی تھے۔ وہ میں نے اپنی دلیل رکھی تھی آپ کے سامنے کہ یہاں مضارع یا وہ حصہ مراد ہوگا جو مستقبل سے تعلق رکھتا ہے اور اگلی بات جو میں عرض کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ ”دعوتی“ سے مراد جو ہے وہ اس جگہ ”دعوت الی الاسلام“ ہے۔ کیونکہ آپ کس طرف بلاتے تھے لوگوں کو؟ آپ کی دعوت کیا تھی؟ ”دعوت“ کے معنی ہیں بلانا لوگوں کو۔ کدھر بلاتے تھے ”میں اسلام کی طرف بلاتا ہوں، میں محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف بلاتا ہوں، میں قرآن کی طرف بلاتا ہوں۔“ تو جو شخص قرآن کی طرف نہیں آتا، جو شخص اسلام کی طرف نہیں آتا، جو محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف نہیں آتا، ظاہر ہے وہ شخص کوئی اچھے اخلاق کا آدمی نہیں ہے۔ باقی مخالفوں میں سے، پھر میں کہوں گا ”لیس کلاّ علم منا ھذا......“

1816 جناب یحییٰ بختیار: یہ دیکھیں، دیکھیں، صاحبزادہ صاحب !......

Madam Chairman: That's all. This a question of argument. The question was......

(محترمہ چیئرمین: یہ کافی ہے۔ یہ تو بحث کا سوال ہے......)

(اسلام سے مراد مرزا قادیانی کا اسلام؟)

جناب یحییٰ بختیار: آپ دیکھیں، آپ کا اسلام صرف مرزا صاحب کو مانتا ہے یا کوئی اور اسلام بھی ہے؟

جناب عبدالمنان عمر: بالکل اور ہے جی۔

جناب یحییٰ بختیار: تو پھر جب وہ کہتے ہیں کہ ”مجھے نہیں مانتے“ آپ کیوں اسلام کو بیچ میں لے آرہے ہیں؟

جناب عبدالمنان عمر: وہ، وہ جو اس کو نہیں مانتے۔ اس کے متعلق تو کہتے ہیں کہ اس کی وجہ سے کوئی کافر نہیں ہو جاتا۔ مگر ان کا پیغام کیا ہے؟

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، حرامی ہو جاتا ہے، کافر نہیں ہو جاتا، ولدالزنا ہو جاتا ہے، ولدالحرام ہو جاتا ہے۔

جناب عبدالمنان عمر: وہ بلاتے ہیں کس طرف؟ جو محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف نہیں آتا......

٨٣

صفحہ ١٧٩٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

جناب یحییٰ بختیار: وہ تو کافر ہو گیا ناں جی۔

جناب عبدالمنان عمر: نہیں جی، محمد رسول اللہ کی طرف نہیں آتا، قرآن کی طرف نہیں آتا، آپ اس کو کیا اچھا آدمی کہیں گے؟ میں تو نہیں کہوں گا۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، ہم تو نہیں کہیں گے، مگر جو......

جناب عبدالمنان عمر: ہاں جی، وہی مرزا صاحب کہہ رہے ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب کہتے ہیں ”میں اور قرآن ایک ہی ہیں، میں اور......؟“

(مرزا قادیانی نے واقعی گالی دی)

1817 Madam Chairman: That means it is admitted.

That means it is admitted that these words were used.

(محترمہ چیئرمین: اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ تسلیم شدہ ہے کہ یہ الفاظ استعمال کئے گئے تھے)

(انگریز کی اطاعت ایمان کا حصہ)

جناب یحییٰ بختیار: اچھا جی، ابھی ایک اور طرف آجائیے۔ یہ حکومت برطانیہ کی اطاعت، حکومت برطانیہ کی اطاعت بھی آپ کے نزدیک، حکومت برطانیہ کی اطاعت جو ہے، وہ بھی ایمان کا ایک حصہ تھا۔ مرزا صاحب کے عقیدے کے مطابق؟

جناب عبدالمنان عمر: کس چیز کا حصہ تھا؟

جناب یحییٰ بختیار: ایمان کا حصہ تھا یا اسلام کا ایک اصول تھا آپ کی نظر میں، آپ کے دین کا ایک اصول تھا کہ برطانیہ کی اطاعت کرو؟

جناب عبدالمنان عمر: قرآن مجید میں آتا ہے کہ جب تم میں اختلاف ہو جائے کسی بات میں۔ ”وان تنازعتم فی شئ فردوہ الیٰ اللہ والرسول واولوالامر منکم“

(جواب سے گریز کا فیصلہ؟)

جناب یحییٰ بختیار: دیکھیں، صاحب زادہ صاحب! یہ آپ سے جو بھی میں سوال پوچھتا ہوں، آپ نے یوں معلوم ہوتا ہے کہ ارادہ کیا ہے کہ جواب نہیں دینا۔ Explanation دینی ہے۔ تو Explanation کے بارے میں یہ بڑی مشہور بات ہے کہ:

"Explanation are no use. Friends don't need them.

٨٤

صفحہ ١٧٩٥

PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

جناب یحییٰ بختیار: وہ تو ک جناب عبدالمنان عمر: ن نہیں آتا، آپ اس کو کیا اچھا آدمی کہیں جناب یحییٰ بختیار: نہیں جناب عبدالمنان عمر: بال جناب یحییٰ بختیار: مرزا صا (مرزا قاد

That means it is admitted. e words were used.

(محترمہ چیئرمین: اس کا گئے تھے)

(انگریز کی ا جناب یحییٰ بختیار: اچھا اطاعت، حکومت برطانیہ کی اطاعت بھی آ بھی ایمان کا ایک حصہ تھا۔ مرزا صاحب کے

جناب عبدالمنان عمر: کس جناب یحییٰ بختیار: ایمان ک کے دین کا ایک اصول تھا کہ برطانیہ کی اطاع جناب عبدالمنان عمر: قرآ بات میں ۔ ''وان تنازعتم فی شئ فردو (جواب ۔

جناب یحییٰ بختیار: دیکھیں پوچھتا ہوں ، آپ نے یوں معلوم ہوتا ہے ک دینی ہے۔ تو Explanation کے بار

Friends don't need them.

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

Enemies don't believe them."

So, Please give up explanation first. Give me your whether it is part of your faith or not? کہ Answer. First you say than you give some clarification about it.

(جناب یحییٰ بختیار: وضاحتوں کا کوئی فائدہ نہیں۔ دوستوں کو اس کی ضرورت نہیں ۔ دشمن اسے مانیں گے نہیں ۔ مہربانی فرما کر وضاحتیں کرنا چھوڑ دیں۔ پہلے میرے سوال کا جواب دیں ہمیں یہ بتائیں کہ کیا یہ آپ کا جزو ایمان ہے یا نہیں؟ وضاحت بعد میں کریں۔ کہ کیا برطانیہ حکومت کی اطاعت آپ پر فرض رکھا گیا تھا مرزا صاحب نے کہ نہیں؟

Madam Chairman: He is coming to that. He has quoted. (محترمہ چیئرمین: وہ اس پر آ رہا ہے)

اولی الامر منکم

He is coming to that. (وہ اس پر آ رہا ہے)

Mr.Yahya Bakhtiar: No, but, Sir, He is giving the explanation first. I know what he is coming to.

(جناب یحییٰ بختیار: وہ وضاحت کر رہا ہے۔ مجھے معلوم ہے وہ اسی طرف آ رہا ہے......)

1818 Madam Chairman: He is justifying through Quran......

Mr.Yahya Bakhtiar: No, but he should state......

Madam Chairman: ......by quoting:

اولی الامر منکم

Let us hear him.

Mr.Yahya Bakhtiar: Yes, for this reason, because...... تو آپ پہلے کہیں کہ ”ہاں“ اس وجہ سے......

جناب عبدالمنان عمر: میری طرف سے آپ ہی نے جواب دینا ہے تو ...... میڈم چیئرمین: نہیں، آپ جواب دیں۔ جناب عبدالمنان عمر: مجھے جواب دینا ہے تو مجھے جواب دینے دیجئے۔

٨٥

صفحہ ١٧٩٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

میڈم چیئرمین: ہاں۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، دیکھئے ناں، دو باتیں ہوتی ہیں۔ یا تو آپ کہیں کہ ”نہیں ہے“۔ تب تو آگے سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔

جناب عبدالمنان عمر: دیکھئے ناں، میری گزارش یہ ہے کہ اس قسم کے ہم یہاں کسی مناظرے کے لئے نہیں آئے۔ ایک بڑی صداقت کی طرف.......

میڈم چیئرمین: آپ جواب دیں جی اس کا۔

جناب عبدالمنان عمر: ...... اس صداقت کی تلاش میں ہم......

میڈم چیئرمین: اچھا آپ، آپ Start (شروع) کریں ناں وہ جہاں سے آپ نے چھوڑا ہے۔ وہ ”اولی الامر منکم“ سے۔

جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں، تو میں گزارش یہ کر رہا تھا کہ ہم لوگوں کا خیال یہ ہے کہ جو شخص جس حکومت میں رہے، اس سے اس کو ہزار اختلاف ہوسکتا ہے، وہ اس کے 1819 خلاف تجاویز دے سکتا ہے۔ مگر کسی حکومت کے اندر رہتے ہوئے اس حکومت کا باغی نہیں ہوسکتا۔ یہ ہے ہمارا مسلک۔ مرزا صاحب انگریزوں کے زمانے میں تھے۔ ہندوستان پر انگریزوں کی حکومت تھی۔ اس سے پہلے سکھوں کی حکومت تھی۔ سکھوں نے اس قدر مظالم کئے تھے مسلمانوں پر، اذان تک نہیں دینے دیتے تھے۔ کسی غریب نے ڈرتے ڈرتے کبھی کوئی ذبح کرلیا جانور تو اس کو مار ڈالا۔ یعنی بہت ایک آہنی تشدد تھا جس میں سے مسلمانوں.......

Madam Chairman: Next question.

(میڈم چیئرمین: اگلا سوال کریں)

جناب یحییٰ بختیار: یہ تو آپ نے کہا کہ سکھوں نے ظلم کیا اور انگریزوں نے یہاں ایک اچھی حکومت قائم کی کہ دین کے معاملے میں دخل نہیں دیتے تھے۔ یہ ایک چیز ہوتی ہے کہ جب دین کے معاملے میں دخل نہیں دیتے تو آپ حکومت کے معاملے میں دخل نہ دیں۔ یہ ٹھیک ہے اس حد تک۔ مگر اس حکومت کا پرچار، اس حکومت کا پراپیگنڈہ، اس حکومت کی تائید و ترویج، یہاں تک کہ جن ملکوں میں سکھ نہیں تھے بلکہ مسلمانوں کی حکومت تھی، وہاں بھی اس حکومت کی تائید و ترویج میں مرزا صاحب پروپیگنڈہ کرتے تھے، فی سبیل اللہ۔ میں اس طرح پوچھتا ہوں۔

جناب عبدالمنان عمر: جناب! یہ بالکل درست ہے۔ مرزا صاحب ایک احسان شناس انسان تھا۔ اس کے ساتھ اگر کوئی نیکی کرتا تھا تو وہ اس کی نیکی کا اعتراف کرتا تھا۔ اس نے

٨٦

PDF 103

1797 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

دیکھا تھا کہ اسلام پر کس قدر ظلم اور ستم ہو رہا ہے۔ اس نے اس ظلم و ستم کے مقابلے میں جب انگریز کے امن کا زمانہ پایا تو اس کا احسان شناس ہوا وہ شخص اس کا شکر گزار ہوا یہ شخص اور یہ اس کی شکر گزاری حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے صحابہ کے نمونہ پر تھی۔ جب وہ لوگ تنگ ہو کر ...... وہی سکھوں والی حکومت تھی ...... کہ مکہ کی حکومت سے تنگ آکر 1820 جب ہجرت کر کے حبشہ میں گئے تو حبشہ میں عیسائی حکومت تھی۔ جس طرح یہاں انگریزوں کی عیسائی حکومت تھی، وہاں حبشہ میں عیسائی حکومت تھی۔ وہاں کے مسلمانوں پر جب وقت آیا انہوں نے ..... جنگ کا وقت آ گیا۔ وہ حضرت جعفر طیارؓ تھے وہاں، حضرت عثمان بن عفانؓ تھے اس میں۔ حضرت عبدالرحمنؓ بن عوف تھے، بڑے بڑے صحابہؓ تھے۔ ان لوگوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس حکومت کو، جو عیسائی حکومت تھی، اللہ تعالیٰ کامیابی بخشے۔

جناب یحییٰ بختیار: اب یہ آپ ذرا بتا دیجئے کہ سکھوں کی حکومت میں بڑا ظلم تھا .....

جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں۔

جناب یحییٰ بختیار: ...... اس میں کوئی شک نہیں، مسلمانوں پر ظلم کیا، خاص طور پر اذانیں تک بند کر دیں۔ یہ درست نہیں کہ مرزا صاحب کے والد سکھوں کی فوج میں جرنیل تھے؟ جب ہزارے پر حملہ ہوا، جب فرنٹیئر پر حملہ ہوا، وہ اس فوج میں تھے۔ یہ درست ہے؟

جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں۔

Madam Chairman: Next question.

(محترمہ چیئرمین: اگلا سوال کریں)

جناب یحییٰ بختیار: آپ ذرا درست ...... آپ نے سر ہلایا ہے۔ ان کو اعتراض ہوتا ہے کہ ریکارڈ پر نہیں آتا۔

جناب عبدالمنان عمر: میں، اچھا جی، میں ......

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، اچھا جی، یہ آپ بتائیے کہ مرزا صاحب کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے ...... یہ بات میں اس واسطے کہہ رہا ہوں کہ کوئی غلط فہمی نہ ہو آپ کو، صاف بات کہوں تاکہ آپ صاف جواب دیں ...... کہ انگریز یہ چاہتا تھا کہ مسلمان ایک ایسی 1821 قوم ہے، ان کا ایک ایسا دین ہے کہ ان کو جنگ پر، جہاد پر اکساتا ہے۔ ان کا ایک ایسا عقیدہ ہے کہ وہ ہم کو اس ملک میں چھوڑیں گے نہیں۔ اس لئے ایک ایسی جماعت پیدا کی جائے، ایک ایسا محدث یا نبی پیدا کیا جائے جو ان کے جہاد کے جذبے کو ذرا ٹھنڈا کرے اور یہ Allegation (الزام) لگایا جاتا ہے،

٨٧

OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

میڈم چیئرمین: ہاں۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، دیکھیے ہے ۔ ”تب تو آگے سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔

جناب عبدالمنان عمر: دیکھئے نا مناظرے کے لئے نہیں آئے۔ ایک بڑی صدو

میڈم چیئرمین: آپ جواب دے

جناب عبدالمنان عمر: ...... اس

میڈم چیئرمین: اچھا آپ، آ آپ نے چھوڑا ہے۔ وہ ”اولی الامر منکم

جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں کہ جو شخص جس حکومت میں رہے، اس سے اس تجاویز دے سکتا ہے۔ مگر کسی حکومت کے اندر ر ہمارا مسلک۔ مرزا صاحب انگریزوں کے زم تھی۔ اس سے پہلے سکھوں کی حکومت تھی۔ سکھ تک نہیں دینے دیتے تھے۔ کسی غریب نے جانور تو اس کو مار ڈالا۔ یعنی بہت ایک آہنی شکنجہ

Next question.

(میڈم چیئرمین: اگلا سوال کری

جناب یحییٰ بختیار: یہ تو آپ ن ایک اچھی حکومت قائم کی کہ دین کے معاملے جب دین کے معاملے میں دخل نہیں دیتے تو ہے اس حد تک۔ مگر اس حکومت کا پرچار، اس یہاں تک کہ جن ملکوں میں سکھ نہیں تھے بلک تائید و ترویج میں مرزا صاحب پروپیگنڈہ کرے

جناب عبدالمنان عمر: جناب شناس انسان تھا۔ اس کے ساتھ اگر کوئی نیکی

صفحہ ١٧٩٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

میں اس واسطے کہہ رہا ہوں کہ یہ جماعت ہی انگریز کی بنائی ہوئی تھی اور یہ نبی انگریز کا بنایا ہوا تھا۔ ان کا Inspire (تلقین) کیا ہوا تھا۔ ان کا Encourage (حوصلہ افزائی) کیا ہوا تھا۔ یہ Allegation (الزام) ہے۔ میں نہیں کہتا کہ کوئی وہ ہے۔ یعنی عام طور پر آپ نے دیکھا ہو گا یہ اخباروں میں بھی، رسالوں میں بھی یہ چیزیں بہت ہی زیادہ۔ میرے پاس جو سوالات آئے ہیں۔ یہ پوچھوں آپ سے کہ یہ انگریز کی ایجاد تھی۔ اس کے بارے میں آپ کچھ فرمائیں گے؟

جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں۔ یہ غلط Allegation (الزام) ہے۔ میں، ہم بڑی شدت سے اس کا انکار کرتے ہیں۔ ہرگز ہرگز ہرگز۔ مرزا صاحب کو نہ انگریز نے قائم کیا اور انگریز سے زیادہ پاگل انسان کوئی نہیں ہو سکتا تھا کہ وہ ایک ایسے شخص کو کھڑا کرتا جس نے ان کے مذہب کا قلع قمع کر کے رکھ دیا۔ آپ جانتے ہیں کہ یہاں انگریز جب آیا تو انہوں نے ایک طرف تعلیم کے میدان میں، دوسری طرف تبلیغ کے میدان میں عیسائیت کو پھیلانے کی کوشش کی......

Madam Chairman: Next question.

(محترمہ چیئرمین: اگلا سوال کریں)

جناب عبدالمنان عمر: ......اور اگر عیسائیت پھیل......

Madam Chairman: Next, that's all. Next question.

(محترمہ چیئرمین: یہ کافی ہے۔ اگلا سوال کریں)

جناب یحییٰ بختیار: دیکھیں، دیکھیں، بات یہ ہے مرزا صاحب! کہ مسیح موعود کا کیا مشن تھا؟

1822 جناب عبدالمنان عمر: صلیب کو توڑنا اور خنزیروں کو قتل کرنا۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی۔

جناب عبدالمنان عمر: یعنی محمد رسول اللہ ﷺ کے مقابل میں جو مذہب کھڑے ہوں......

جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی۔

جناب عبدالمنان عمر: ......ان کو ختم کرنا۔

جناب یحییٰ بختیار: ابھی جو انگریز کا بادشاہ ہے یا ملکہ تھی، اس کو Defender" "of faith کہتے ہیں، صلیب کا Defender (دفاع کرنے والا)......

جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں۔

٨٨

صفحہ ١٧٩٩

1799 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

جناب یحییٰ بختیار: .......یہ درست ہے؟

جناب عبدالمنان عمر: بالکل درست۔

جناب یحییٰ بختیار: اور یہ آپ کہتے ہیں کہ یہ صلیب کا جو Defender (دفاع کرنے والا) ہے، سؤر پالنے والا، کھانے والا ......

جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں۔

جناب یحییٰ بختیار: .......اس کی اطاعت آپ پر فرض ہے؟ ایک۔ نہ صرف آپ پر فرض ہے۔ جہاں جہاں دور بھی لوگ ان کی مخالفت کر رہے ہیں۔ مصر میں، شام میں، افغانستان میں، ان پر بھی انہوں نے الماریاں بھر بھر کے کتابیں بھیجیں کہ اس کی جو حکومت ہے، بہت اچھی حکومت ہے۔ تو یہ وہ صلیب توڑنے والا مسیح موجود تھا۔ یہ خنزیر قتل کرنے والا تھا۔ انگریز کا Propagandist (پروپیگنڈا کرنے والا) تھا؟

جناب عبدالمنان عمر: جناب عالی! اس وقت حکومت جو تھی وہ ملکہ وکٹوریہ کی تھی۔ مرزا صاحب نے، واحد انسان ہے ساری اسلامی دنیا میں جس نے اس بادشاہ کو، 1823 انگریزوں کو اسلام کی دعوت دی۔ اس کے مذہب پر ایسا سخت تبرہ چلایا۔ اگر وہ شخص ان کا ایجنٹ ہوتا تو آپ جانتے ہیں مذہبی جذبہ انسان میں سب سے زیادہ Powerful ہوتا ہے۔ تو اگر وہ شخص اس کا پیدا کردہ تھا۔ اگر اس نے اس کو کھڑا کیا تھا تو کم سے کم اس کے مذہب کو نہ چھیڑتا۔

جناب یحییٰ بختیار: یہ دیکھیں، پھر آگے یہ سوال آتا ہے کہ جب ان کے مذہب پر انہوں نے اتنی زیادہ سخت حملہ کیا ...... یہ تو ٹھیک ہے کہ مرزا صاحب مناظروں میں جاتے رہے اور بڑے سخت جوابات دیتے رہے ان کو۔ عیسائی حملے کرتے تھے اور یہ ان کا جواب دیتے تھے اور بڑا سخت جواب دیتے تھے۔ تو یہ مرزا صاحب کس جذبے کے تحت کرتے تھے؟ غصے میں آکے کرتے تھے یا جہاد کے جذبے سے کرتے تھے۔ ایمان کے جذبے سے کرتے تھے؟

جناب عبدالمنان عمر: قرآن مجید میں آتا ہے: (عربی) قرآن مجید کو ہاتھ میں لے کر معمولی جہاد نہیں، جہاد کبیر کرو۔ یہی مرزا صاحب کا مشن تھا۔ اسی مشن کو لے کر ان کے شاگرد جو تھے، ان کے مرید جو تھے، امریکہ میں گئے۔ انگلستان میں گئے .......

جناب یحییٰ بختیار: بس، بس، سمجھ گیا جی۔ جذبہ جہاد سے تھا، جوش میں، غصے میں نہیں تھا۔

٨٩

F PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

میں اس واسطے کہہ رہا ہوں کہ یہ جماعت ہی کا Inspire (تلقین) کیا ہوا تھا۔ ان Allegation (الزام) ہے۔ میں نہیں ک اخباروں میں بھی، رسالوں میں بھی یہ چیز یہ پوچھوں آپ سے کہ یہ انگریز کی ایجاد تھی یا

جناب عبدالمنان عمر: جی ہا

بڑی شدت سے اس کا انکار کرتے ہیں۔ ج انگریز سے زیادہ پاگل انسان کوئی نہیں ہو سک مذہب کا قلع قمع کرکے رکھ دیا۔ آپ جانے تعلیم کے میدان میں، دوسری طرف تبلیغ کے

xt question.

(محترمہ چیئرمین: اگلا سوال

جناب عبدالمنان عمر: ...... ب

Next, That's all. Next

(محترمہ چیئرمین: یہ کافی ہ

جناب یحییٰ بختیار: دیکھیں مشن تھا؟

1822 جناب عبدالمنان عمر: م

جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی۔

جناب عبدالمنان عمر: یعنی ہوں ......

جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی۔

جناب عبدالمنان عمر: ...... ال

جناب یحییٰ بختیار: ابھی جوا "کہتے ہیں، صلیب کا nder of faith

جناب عبدالمنان عمر: جی ہا

صفحہ ١٨٠٠

- NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

جناب عبدالمنان عمر: جذبہ جہاد وہ جو حقیقی جہاد ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں کہتا ہوں کہ غصے میں نہیں آئے کہ کیونکہ عیسائیوں نے گالیاں دے دیں، انہوں نے......

1824 جناب عبدالمنان عمر: جی نہیں، نہیں، بالکل بڑے......

جناب یحییٰ بختیار: ......سوچ سمجھ کے......

جناب عبدالمنان عمر: ......سوچ سمجھ کر کہ یہ اسلام کی تعلیم ہے، قرآن کی تعلیم ہے، اسلام کی تعلیم ہے، محمد رسول اللہ ﷺ کی تعلیم ہے۔ اس جذبے کو لے کے گئے۔

جناب یحییٰ بختیار: مگر پھر جب وہ Privately ایک خط لکھتے ہیں، انگریز کو، کہتا ہے: ”میرا یہ مطلب نہیں تھا کوئی۔ آپ غلط فہمی میں نہ رہیں۔ میں تو یہ وحشی مسلمانوں کا جوش ٹھنڈا کرنے کے لئے حکمت عملی میں نے اختیار کی۔“

(تریاق القلوب ضمیمہ ملحقہ نمبر ٣ ص ج، خزائن ج ١٥ ص ٤٩١)

جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں، بڑا صحیح ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: دیکھئے، کہتا ہے: ”میں نے حکمت عملی اختیار کی ان کو ٹھنڈا، یہ وحشی مسلمانوں کا جوش ٹھنڈا کرنے کے لئے تا کہ آپ کی حکومت میں بدامنی نہ پیدا ہو۔“ تو یہ تو جہاد سے بالکل تضاد ہو جاتا ہے کہ برطانیہ کی حکومت، صلیب کے Protector کی حکومت میں بدامنی نہ پیدا ہو یہ جذبہ تھا۔

جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں۔

جناب یحییٰ بختیار: اور وحشی مسلمان......

جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں، اگر کوئی وحشی ہو اور وہ فساد پھیلائے تو میرا خیال ہے کہ ہر شہری کا فرض ہے کہ وہ بدامنی کو دور کرے۔

جناب یحییٰ بختیار: گویا......

Madam Chairman: Next question.

(محترمہ چیئرمین: اگلا سوال کریں)

جناب یحییٰ بختیار: اب آگے فرماتے ہیں کہ: ”آپ اس خودکاشتہ پودے پر ذرا نظر عنایت رکھیں خاص۔“

(اشتہار بحضور گورنر ص ١٣، ملحقہ کتاب البریہ، خزائن ج ١٣ ص ٣٥٠)

٩٠

صفحہ ١٨٠١

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

1825

جناب عبدالمنان عمر: اس سے مراد کیا ہے جی؟

جناب یحییٰ بختیار: یہ میں آپ سے پوچھتا ہوں۔

جناب عبدالمنان عمر: ٹھیک ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: خود کاشتہ جو تھا......

جناب عبدالمنان عمر: جی۔

جناب یحییٰ بختیار: ...... اپنا ذکر کرتے ہیں۔ اپنی جماعت کا ذکر کرتے ہیں۔ اپنے خاندان کا ذکر کرتے ہیں۔ یہ تین ذکر ہیں۔ اس کے بعد ابھی آپ اس کی اتھارٹی ہیں۔

جناب عبدالمنان عمر: اس سے ان کا خاندان مراد ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: اب یہ دیکھیں، یہ مرزا صاحب بڑے مغل خاندان کے فرزند ہیں۔ سمرقند سے آئے تھے بابر کے زمانے میں۔ یہاں انگریز نے تو کاشت نہیں کیا تھا ان کا خاندان، خود کاشتہ پودا تو وہ نہیں تھے۔ یہ تو کوئی بھی عقل مند نہیں مان سکتا۔ اب سوال یہ آتا ہے کہ مرزا صاحب نمبر ٢ پر آجاتے ہیں۔ وہ بھی پہلے سے تھے۔ انگریز سے، اور خود کاشتہ کیا کہنا تھا، وہ تو اللہ کے نبی تھے۔ ان کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ یہ جماعت پر نہیں Apply کرتا؟ کہ ”آپ کا خود کاشتہ پودا، اس کی بڑی حفاظت کرو۔“

جناب عبدالمنان عمر: میں نے عرض کیا کہ یہ مرزا صاحب کے خاندان کی تاریخ کو اگر دیکھا جائے اور خود اس عبارت کو دیکھا جائے جہاں یہ مضمون بیان ہوا ہے تو مرزا صاحب کی مراد خاندان سے ہے۔ یہ کہنا کہ وہ بابر کے زمانے سے آیا تھا، اس کے بعد کی تاریخ یہ ہے کہ......

جناب یحییٰ بختیار: دیکھیں، دیکھیں......

جناب عبدالمنان عمر: ان کو تباہ کر دیا گیا تھا، سکھوں کے عہد میں ختم کر دیا گیا تھا۔

1826

جناب یحییٰ بختیار: صاحبزادہ صاحب!......

جناب عبدالمنان عمر: ...... ان کی تعمیر نو انگریزوں کے زمانے میں ہوئی۔

جناب یحییٰ بختیار: صاحبزادہ صاحب! جو ان کے بعد، جن کی حفاظت کرو، تو اس خاندان میں تو کئی ایسے لوگ تھے جو مرزا صاحب کی خود ہی مخالفت کر رہے تھے۔

جناب عبدالمنان عمر: مگر انگریز کے......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، دیکھیں ناں، جو لوگ مرزا صاحب کی مخالفت کر رہے

٩١

PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

جناب عبدالمنان عمر:

جناب یحییٰ بختیار: مجھے نے گالیاں دے دیں، انہوں نے......

1824

جناب عبدالمنان عمر

جناب یحییٰ بختیار:

جناب عبدالمنان عمر: ہے۔ اسلام کی تعلیم ہے، محمد رسول اللہ ص

جناب یحییٰ بختیار: مگ کہتا ہے: ”میرا یہ مطلب نہیں تھا کوئی ٹھنڈا کرنے کے لئے حکمت عملی میں س

جناب عبدالمنان عمر:

جناب یحییٰ بختیار: و وحشی مسلمانوں کا جوش ٹھنڈا کرنے کے جہاد سے بالکل تضاد ہو جاتا ہے کہ ہما میں بدامنی نہ پیدا ہو یہ جذبہ تھا۔

جناب عبدالمنان عمر:

جناب یحییٰ بختیار: اور

جناب عبدالمنان عمر: کہ ہر شہری کا فرض ہے کہ وہ بدامنی کو ر

جناب یحییٰ بختیار: مگ question. (محترمہ چیئرمین: اگلا

جناب یحییٰ بختیار: اس نظر عنایت رکھیں خاص۔“

صفحہ ١٨٠٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

تھے، عیسائی، مسلمان، ہندو، ان میں مرزا صاحب کے اپنے خاندان کے لوگ موجود تھے۔ جس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا اور ساتھ ہی لسٹ جو دیتے ہیں۔ وہ تین چار سو وہ اپنی جماعت کے ممبروں کی دیتے ہیں۔ (ایضاً خزائن ج ١٣ ص ٣٥٠، ٣٥٧) ”یہ میری جماعت کے لوگ ہیں جن پر نظر عنایت کرنی ہے۔“

جناب عبدالمنان عمر: جی نہیں، میرا خیال ہے کہ یہ ذرا غلط مبحث ہو گیا ہے۔ حضرت مرزا صاحب نے ملکہ وکٹوریہ کو جو خط لکھا، اس میں یہ لکھا ہے کہ: ”اے ملکہ! تجھے توجہ دلاتا ہوں کہ تو مسلمانوں پر نظر کر کہ .....“

جناب یحییٰ بختیار: یعنی جو .....

جناب عبدالمنان عمر: مرزا صاحب نے، اپنے لئے کبھی نہیں مانگا، نہ کوئی خطاب، نہ کوئی جاگیر، نہ کوئی مربعہ۔

جناب یحییٰ بختیار: یہ دیکھیں، دیکھیں، ایک بات چھوٹی سی ہے۔ کیا ایک محدث اس قسم کا خط ایسی شخصیت کو لکھتا ہے جو صلیب کا محافظ ہو؟ اور یہ کہے کہ میں مسیح موعود ہوں اور اس سے یہ گزارش کرے کہ ”آپ مجھ پر بڑی مہربانی کریں، عنایت کریں۔“ آپ یہ دیکھئے تضاد۔ کیا کوئی محدث ایسی بات کر سکتا ہے؟ ایسا خط لکھ سکتا ہے؟ یا آپ کی نظر میں ٹھیک ہے جو لکھا ہے؟

1827 جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں، یہ خط ضرور لکھنا چاہئے کیونکہ مسلمان اس قدر مصیبت میں مبتلا تھے۔ کانگریس کی تحریک کی وجہ سے انگریزوں کا میلان ہندوؤں کی طرف ہورہا تھا اور ١٨٥٧ء کے فسادات کی وجہ سے مسلمانوں کو بڑے شک وشبہ کی نظر سے دیکھا جاتا تھا اور یہ وہی نقطہ نگاہ ہے۔ جو اس زمانے میں تمام بڑے بڑے مسلمانوں کے جو لیڈر تھے۔ انہوں نے یہ اختیار کیا۔ چنانچہ سرسید احمد خان جن کی برائی تو بہرحال یہاں کوئی شاید نہیں کرے گا.....

( قادیانی جماعت جائے بھاڑ میں )

جناب یحییٰ بختیار: ٹھیک ہے، یہ پھر جماعت سے بات ہو گئی ناں جی۔ خاندان سے تو بات نہیں ہوئی۔ یا مرزا صاحب کو صرف فکر اپنے خاندان کی تھی کہ ان کی پرورش ہو، انگریز ان کا خیال کریں۔ باقی جماعت بھاڑ میں جائے۔ مسلمان کھڈے میں جائیں۔ یہ Approach (طریقہ) تھا ان کا کیا؟

٩٢

صفحہ ١٨٠٣

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

جناب عبد المنان عمر: جی نہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں۔

جناب عبد المنان عمر: میں نے ، میں پھر گزارش کروں گا کہ انہوں نے جو خط لکھا وہ یہ ہے کہ مسلمانوں پر نظر کرم کریں۔

جناب یحییٰ بختیار: آپ دیکھئے یہ خط ، اس میں مسلمانوں کا تو وہ سوال ہی نہیں اٹھاتے۔

جناب عبد المنان عمر: جناب! ملکہ وکٹوریہ کے نام خط کو آپ پڑھئے۔

جناب یحییٰ بختیار: دیکھیں، جو خط میں آپ کے سامنے پیش کر رہا ہوں۔ پہلے اسے کرلیں۔ اس کے بعد اس پر بھی آ جائیں گے۔ یہ تو ایسی بات نہیں ہے۔ ٹائم ہوتا تو میں آپ کو ان کے کئی اشارات اور بھی بتا دیتا۔ یہ دیکھیں جی، پہلے جو ہے ناں:

”1828 بحضور جناب لیفٹیننٹ گورنر بہادر....... چونکہ مسلمانوں کا ایک نیا فرقہ جس کا پیشوا اور امام ہی یہ راقم ہے..... تو سوال ہی اپنی جماعت، فرقہ سے شروع ہوتا ہے:

”..... پنجاب اور ہندوستان کے اکثر شہروں میں زور سے پھیلتا جاتا ہے اور بڑے بڑے تعلیم یافتہ مہذب اور معزز عہدیدار اور نیک نام رئیس اور تاجر پنجاب اور ہندوستان کے اس فرقے میں داخل ہوتے جاتے ہیں اور عموماً پنجاب کے شریف مسلمانوں کے نو تعلیم یافتہ ، جیسے بی۔اے اور ایم۔اے اس فرقے میں داخل ہیں اور داخل ہو رہے ہیں۔“

(کتاب البریہ، خزائن ج ١٣ ص ٣٢٧)

تو شروع اس سے کرتے ہیں اور ختم اس سے کرتے ہیں۔

جناب عبد المنان عمر: جی نہیں، ”خود کاشتہ پودا“ تک اگر عبارت پڑھیں تو ......

جناب یحییٰ بختیار: میں آجاتا ہوں اس پر بھی جی۔

جناب عبد المنان عمر: چھوڑیں نہیں اس کو۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں کہتا ہوں کہ اس کی تمہید جو ہے ناں، جو پڑھ کے سنائی میں نے، بیچ میں اپنے خاندان کا بھی ذکر کرتے ہیں۔

جناب عبد المنان عمر: جی ہاں، یہی میری مراد ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: پھر کہتے ہیں کہ:

”نہ صرف اسی قدر کام کیا کہ برٹش انڈیا کے مسلمانوں کو گورنمنٹ انگلشیہ کی سچی اطاعت کی طرف جھکایا، بلکہ بہت سی کتابیں عربی اور فارسی اور اردو میں تالیف کر کے ممالک

٩٣

PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

تھے، عیسائی، مسلمان، ہندو، ان میں مرزا سے کوئی انکار نہیں کر سکتا اور ساتھ ہی لسٹ کی دیتے ہیں۔ (ایضاً خزائن ج ١٣ ص ٣٥٠ کرنی ہے۔“

جناب عبد المنان عمر: ج حضرت مرزا صاحب نے ملکہ وکٹوریہ کو جو

”میں ملکہ! تجھے توجہ دلاتا ہوں

جناب یحییٰ بختیار: یعنی جو

جناب عبد المنان عمر: مرز نہ کوئی جاگیر، نہ کوئی مربعہ۔

جناب یحییٰ بختیار: یہ دیکھ اس قسم کا خط ایسی شخصیت کو لکھتا ہے جو صف اس سے یہ گزارش کرتے ہیں کہ ”آپ دیکھئے تضاد۔ کیا کوئی محدث ایسی بات کر ہے جو لکھا ہے؟

1827 جناب عبد المنان عمر: مصیبت میں مبتلا تھے۔ کانگریس کی تحریک تھا اور ١٨٥٧ء کے فسادات کی وجہ سے مسل وہی نقطہ نگاہ ہے۔ جو اس زمانے میں تمام اختیار کیا۔ چنانچہ سرسید احمد خان جن کی برا

(قادیانی جما

جناب یحییٰ بختیار: ٹھیک سے تو بات نہیں ہوگی۔ یا مرزا صاحب کو ص ان کا خیال کریں۔ باقی جماعت بھا Approach (طریقہ ) تھا ان کا کیا؟

صفحہ ١٨٠٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

اسلامیہ کے لوگوں کو بھی مطلع کیا کہ ہم لوگ کیونکر امن و آرام سے اور آزادی سے، گورنمنٹ انگلشیہ کے سایہ عاطفت میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔“

(ایضاً خزائن ج ١٣ ص ٣٤٠)

1829 جناب عبدالمنان عمر: یہ ہے اصل وجہ۔ جناب یحییٰ بختیار: دیکھیں جی: ”...... اور ایسی کتابوں کے چھاپنے اور شائع کرنے پر ہزار ہا روپیہ خرچ کیا گیا ہے۔“ میں کہتا ہوں کہ اپنی طرف سے پیسہ بھی خرچ کر رہے ہیں وہ۔ جناب عبدالمنان عمر: ہاں جی، بالکل، امن تو قائم کرنا چاہئے ناں۔ جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی، بالکل وہ اچھا کیا، وہ تو میں نہیں ہوں اس کے خلاف۔ اب وہ آخر میں، یہ پچاس الماریاں جو انہوں نے بھری تھیں، انگریز کی تعریف میں، یہ الماریاں کوئی ..... کا پوائنٹ آیا ہے کہ نہیں آیا؟ جناب عبدالمنان عمر: جی؟ جناب یحییٰ بختیار: انہوں نے لکھا ہے کہ ”اتنی کتابیں میں نے لکھی ہیں۔ اگر ان کو الماریاں میں بھرا جائے......“ جناب عبدالمنان عمر: پڑھ لیجئے ذرا عبارت کو، پھر بات کیجئے۔ جناب یحییٰ بختیار: یعنی پچاس الماریاں بھریں...... جناب عبدالمنان عمر: جی نہیں، زبانی نہیں......

(مرزا قادیانی لمبی بات کرتا تھا)

جناب یحییٰ بختیار: ابھی مرزا صاحب بھی کوئی بات مختصر تو کرتے نہیں ہیں۔ پھر یہ کہتے ہیں یہاں: ”غیر ممالک کے لوگوں تک ایسی کتابیں اور ایسے اشتہارات کے پہنچانے سے کیا مدعا تھا؟ گورنمنٹ تحقیق کرے کہ کیا یہ سچ نہیں کہ ہزاروں مسلمانوں نے جو مجھے کافر قرار دیا اور مجھے اور میری جماعت کو جو ایک گروہ کثیر پنجاب اور ہندوستان میں موجود ہے (ہر طرح) ہر ایک طور کی بدگوئی اور بداندیشی سے ایذاء دینا اپنا فرض 1830 سمجھا۔ اس تکفیر اور ایذاء کا ایک خفی سبب یہ ہے کہ ان نادان مسلمانوں سے پوشیدہ خیالات کے برخلاف دل و جان سے گورنمنٹ انگلشیہ کی شکر گزاری کے لئے ہزار ہا اشتہارات شائع کئے اور ایسی کتابیں بلاد عرب و شام وغیرہ تک پہنچائی گئیں اور یہ باتیں بے ثبوت نہیں۔ اگر گورنمنٹ توجہ دے تو نہایت بدیہی ثبوت میرے پاس ہیں۔ میں زور سے کہتا ہوں اور دعویٰ سے کہ گورنمنٹ کی خدمت میں علے الاعلان دیتا ہوں کہ

٩٤

صفحہ ١٨٠٥

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

بااعتبار مذہبی اصول کے مسلمانوں کے تمام فرقوں میں سے گورنمنٹ کا اوّل درجے کا وفادار اور جاں نثار یہی نیا فرقہ ہے۔“

(اشتہار بحضور گورنمنٹ ملحقہ کتاب البریہ، خزائن ج١٣ ص٣٣٣)

نہیں میں اس واسطے کہہ رہا ہوں......

جناب عبدالمنان عمر: ٹھیک ہے۔ آپ صحیح پڑھ رہے ہیں، جی ہاں۔

جناب یحییٰ بختیار: جو توجہ آ رہی ہے وہ فرقے کی طرف، اور اسی کے لئے Protection (حفاظت) وہ چاہ رہے ہیں۔

جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں۔ آگے؟

جناب یحییٰ بختیار: جو کہتے ہیں کہ ”خودکاشتہ پودا ہے۔“

جناب عبدالمنان عمر: وہ پڑھئے ذرا۔

جناب یحییٰ بختیار: اور ساتھ ہی پھر کہتے ہیں: ”میں یقین رکھتا ہوں کہ جیسے جیسے میرے مرید بڑھیں گے، ویسے ویسے ہی مسئلہ جہاد کے معتقد کم ہوتے جائیں گے۔ کیونکہ مجھے مسیح موعود مان لینا ہی مسئلہ جہاد کا انکار کرنا ہے۔“

(ایضاً ص١٧، خزائن ج١٣ ص٣٣٧)

پھر آگے فرماتے ہیں: ”التماس ہے کہ سرکار دولت مدار ایسے خاندان کی نسبت جس کو پچاس برس کے متواتر تجربے سے ایک وفادار جاں نثار خاندان ثابت کر چکی ہے۔ جس کی نسبت 1831 گورنمنٹ عالیہ کے معزز حکام نے ہمیشہ مستحکم رائے سے اپنی چٹھیات میں یہ گواہی دی ہے کہ وہ قدیم سے سرکار انگریز کے پکے خیرخواہ اور خدمت گزار ہیں۔ اس خودکاشتہ پودے کی نسبت نہایت......“

(ایضاً ص٣٠، خزائن ج١٣ ص٣٥٠)

(مداخلت) (Interruption)

جناب یحییٰ بختیار: میں پڑھ رہا ہوں جی:”......نہایت حزم واحتیاط تحقیق وتوجہ سے کام لے اور اپنے ماتحت حکام کو اشارہ فرمائے کہ وہ بھی اس خاندان کی ثابت شدہ وفاداری و اخلاص کا لحاظ رکھ کر مجھے اور میری جماعت کو ایک خاص عنایت......

(ایضاً)

یہاں میرے خیال میں Apply (لاگو) ہوتا ہے کہ ”خاص عنایت“ کریں۔

جناب عبدالمنان عمر: جناب والا! ایک اردو زبان کی ایک معمولی سی بات ہے......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، ٹھیک ہے آپ دیکھیں آگے۔......

٩٥

OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

اسلامیہ کے لوگوں کو بھی مطلع کیا کہ ہم لو انگلشیہ کے سایہ عاطفت میں زندگی بسر کر ر

1829 جناب عبدالمنان عمر: ب

جناب یحییٰ بختیار: دیکھیں پر ہزار ہا روپیہ خرچ کیا گیا ہے۔“ میں کہتا ہوں کہ اپنی طرف سے

جناب عبدالمنان عمر: ہاں

جناب یحییٰ بختیار: نہیں خلاف۔ اب وہ آخر میں، یہ پچاس المار الماریاں کوئی ..... کا پوائنٹ آیا ہے کہ نہیں آ

جناب عبدالمنان عمر: جی نہ

جناب یحییٰ بختیار: انہوں الماریاں میں بھرا جائے .....“

جناب عبدالمنان عمر: پڑھ

جناب یحییٰ بختیار: یعنی ہ

جناب عبدالمنان عمر: جی ہ

(مرزا قاد

جناب یحییٰ بختیار: ابھی م کہتے ہیں یہاں: ”غیرممالک کے لوگوں مدعا تھا؟ گورنمنٹ تحقیق کرے کہ کیا یہ مجھے اور میری جماعت کو جو ایک گروہ کثیر طور کی بدگوئی اور بداندیشی سے ایذا دیت ہے کہ ان نادان مسلمانوں سے پوشیدہ ہ شکرگزاری کے لئے ہزار ہا اشتہارات ش گئیں اور یہ باتیں بے ثبوت نہیں۔ آ ہیں۔ میں زور سے کہتا ہوں اور دعویٰ س

صفحہ ١٨٠٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

جناب عبدالمنان عمر: ایک گفتگو پیچھے سے چلی آرہی ہے۔ صریح طور پر وہ خاندان کو پیش کر رہے ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: دیکھیں، میں پھر پڑھ دیتا ہوں، ذرا پھر، کیونکہ پوائنٹ یہ ہے کہ Clarify ہو جائے یہ۔

جناب عبدالمنان عمر: جی، بالکل، یہی مقصد ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: اچھا: ”التماس ہے کہ سرکار دولت مدار ایسے خاندان کی نسبت، جس کو پچاس برس کے متواتر تجربے سے ایک وفادار جانثار خاندان ثابت کر چکی ہے۔ جس کی نسبت 1832 گورنمنٹ عالیہ کے معزز حکام نے ہمیشہ کی مستحکم رائے سے اپنی چٹھیات میں یہ گواہی دی ہے کہ وہ قدیم سے سرکار انگریزی کے پکے خیرخواہ اور خدمت گزار ہیں......“ (ایضاً) یہاں تک تو آ گیا......

جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں، خاندان۔

جناب یحییٰ بختیار: پھر آگے فرماتے ہیں جی یہاں: ”اس خودکاشتہ پودا کی نسبت نہایت......“

جناب عبدالمنان عمر: وہی ہے ناں جی، جس کا اوپر ذکر ہوا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: ”نہایت حزم واحتیاط اور تحقیق اور توجہ سے کام لے...... اس خود کاشتہ پودے کی نسبت نہایت حزم واحتیاط اور تحقیق وتوجہ سے کام لے اور اپنے ماتحت حکام کو اشارہ فرمائے کہ وہ بھی اس خاندان کی ثابت......“

جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں۔

جناب یحییٰ بختیار: ”ثابت شدہ وفاداری اور اخلاص کا لحاظ رکھ کر مجھے اور میری جماعت کو ایک خاص عنایت اور مہربانی کی نظر سے دیکھیں......“

جناب عبدالمنان عمر: دیکھئے جناب! آپ نے ہر دفعہ یہی پڑھا کہ پیچھے خاندان کا ذکر ہے۔ اس کے بعد اس کے لفظ ہیں، اس کی طرف اشارہ ہے۔ اشارہ جو اس خاندان کی طرف ہے اور کہیں بھی، میں پھر آپ کو عرض کرتا ہوں، کہیں بھی مرزا صاحب نے اپنی جماعت کو انگریز کا خودکاشتہ پودا نہیں کہا، Categorically (واضح طور پر) میں انکار کرتا ہوں۔

جناب یحییٰ بختیار: تو میں ابھی عرض یہ کر رہا تھا کہ جہاں تک مرزا صاحب کے خاندان کا تعلق تھا، وہ انگریز کا خودکاشتہ پودا نہیں تھا کسی حالت میں بھی۔ مغلوں کے 1833 زمانے

٩٦

صفحہ ١٨٠٧

1807 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

سے ان کی بڑی پوزیشن رہی ہے۔ ان کے ایک بزرگ کئی گاؤں کے قاضی رہے تھے وہاں۔ یہ سب چیزیں Established (ثابت شدہ) ہیں۔ ریکارڈ پر ہیں، لٹریچر موجود ہے۔ سکھوں نے ان سے کافی چیزیں لیں، ان کی جائیدادیں چھینیں، یہ بھی ٹھیک ہے۔ مگر انہوں نے سکھوں کے ساتھ بھی پوری وفاداری کے ساتھ خدمت کی۔ مسلمانوں پہ جو چڑھائی ہوئی ہزارے میں یا فرنٹیئر میں، تو مرزا صاحب کے والد ان کے ساتھ تھے سکھوں کے۔ یہ بھی ٹھیک ہے۔ ریکارڈ پہ ہے تو جہاں تک خاندان کا تعلق ہے، انگریز حکومت نے بھی کہا ہے کہ انہوں نے بڑی وفاداری کی ہے، پرانا خاندان تھا۔ خودکاشتہ نہیں تھا۔ خودکاشتہ پودا جو ہے وہ تو اس حالت میں ہوتا ہے کہ انگریز ان کو لفٹ دیتا۔ انگریزوں نے لفٹ نہیں دی ہے۔ یہ تو خود اپنی طرف سے انگریز کی خدمت تھی۔ انہوں نے چٹھیاں دیں کہ ”آپ کی بڑی مہربانی، خدمت کی ہماری۔“

جناب عبدالمنان عمر: جناب! اس سے میں جو بات سمجھا وہ یہ نکلی کہ گو مرزا صاحب نے اپنے خاندان کو ہی ”خودکاشتہ پودا“ کہا ہے۔ لیکن یہ ان کا بیان صحیح نہیں ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں نے یہ نہیں کہا۔

جناب عبدالمنان عمر: نہیں، یہ نہیں ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: یہ میں نے نہیں کہا۔ میں نے کہا مرزا صاحب کہتے ہیں کہ ”کیونکہ میرے خاندان نے یہ خدمت کی ہے اور وہ خدمت کا ثبوت .......“

جناب عبدالمنان عمر: نہیں جی، اس کی طرف جو اشارہ ہے.......

جناب یحییٰ بختیار: دیکھیں۔

جناب عبدالمنان عمر: جی۔

1834 جناب یحییٰ بختیار: میرا پوائنٹ سمجھ لیں کہ ”جو میرے خاندان نے خدمت کی ہے، پچاس سال سے، اس کا ثبوت موجود ہے۔ اس کا لحاظ کرتے ہوئے میرے اور میری جماعت پر رحم کریں۔ یہ آپ کا خودکاشتہ پودا ہے۔“

جناب عبدالمنان عمر: جناب! نہیں، دیکھیں.......

جناب یحییٰ بختیار: میں، یعنی یہ مطلب جو ہے، اس پر .......

جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں، آپ کا تصور یہ ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: آپ کہتے ہیں یہ نہیں ہے؟

٩٧

AKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

جناب عبدالمنان عمر: آ کو پیش کر رہے ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: دیکھ کہ Clarify ہو جائے۔

جناب عبدالمنان عمر: ا

جناب یحییٰ بختیار: اچھا جس کو پچاس برس کے متواتر تجربہ نسبت 1832 گورنمنٹ عالیہ کے معزز ح دی ہے کہ وہ قدیم سے سرکار انگریزی تک تو آ گیا.......

جناب عبدالمنان عمر: ب

جناب یحییٰ بختیار: پھر نہایت.......“

جناب عبدالمنان عمر: و

جناب یحییٰ بختیار: ”نہ کاشتہ پودے کی نسبت نہایت حزم وا اشارہ فرمائے کہ وہ بھی اس خاندان کی

جناب عبدالمنان عمر: ب

جناب یحییٰ بختیار: ” جماعت کو ایک خاص عنایت اور مہربانی

جناب عبدالمنان عمر: ذکر ہے۔ اس کے بعد اس کے لفظ ہیں ہے اور کہیں بھی، میں پھر آپ کو عرض ک خودکاشتہ پودا نہیں کہا، gorically

جناب یحییٰ بختیار: تو خاندان کا تعلق تھا، وہ انگریز کا خودکاشتہ

صفحہ ١٨٠٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں، میں کہتا ہوں کہ یہ ”خودکاشتہ“ جماعت کے متعلق نہیں ہے؟

جناب یحییٰ بختیار: یہ جماعت کے متعلق نہیں ہے؟

جناب عبدالمنان عمر: دوسری بات میں اس سلسلے میں یہ عرض کرتا ہوں......

جناب یحییٰ بختیار: یہ ان کے اور خاندان کے متعلق ہے؟

جناب عبدالمنان عمر: یہ ان کے اور خاندان کے متعلق ہے۔ دوسری بات میں یہ عرض کرتا ہوں کہ یہ کہنا کہ انگریز نے ان کی Help (مدد) نہیں کی تھی۔ اصل بات یوں نہیں ہے۔ ان لوگوں، دراصل اس خاندان کو قادیان سے نکال دیا گیا تھا اور یہ لوگ وہاں سے نکل کر ریاست کپور تھلہ میں چلے گئے......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، وہ ٹھیک ہے جی، وہ......

جناب عبدالمنان عمر: ......اور ان کو انگریز وہاں سے لایا تھا واپس۔ یہ ہے وہ ”خود کاشتہ پودا“ جس کا مرزا صاحب ذکر کر رہے ہیں۔

(مرزا محمود کی بیعت؟)

جناب یحییٰ بختیار: اب یہ فرمائیے کہ یہ جو احمدیہ جماعت ہے...... میں آپ سے مخاطب ہوں۔ کیونکہ آپ نے کل اپنا تعارف کرایا...... آپ تو مرزا بشیر الدین محمود کی بیعت میں آئے ہوئے ہیں؟

1835 جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں، یوں تو نہیں ہے میری بیعت کہ کوئی میں نے ان کی بیعت کی ہو۔ میری پیدائش قادیان کی ہے۔ میری پیدائش، میں نے عرض کیا تھا کل بھی......

Madam Chairman: No, this is, this is not the question. The question is different.

(میڈم چیئرمین: نہیں، سوال یہ نہیں ہے، سوال مختلف ہے)

جناب یحییٰ بختیار: ایک اگر ڈائریکٹ جواب دے کے پھر آپ Explanation (وضاحت) دے دیں۔

میڈم چیئرمین: ہاں، ہاں، The question is (سوال یہ ہے کہ) آپ نے بیعت کی یا نہیں؟

جناب عبدالمنان عمر: میں نے عرض کیا کہ میں نے......

٩٨

صفحہ ١٨٠٩

OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں نہیں ہے؟

جناب یحییٰ بختیار: یہ جماعت

جناب عبدالمنان عمر: دوسرا

جناب یحییٰ بختیار: بیان کے

جناب عبدالمنان عمر: یہ ان عرض کرتا ہوں کہ یہ کہنا کہ انگریز نے ان ہے۔ ان لوگوں، دراصل اس خاندان کو تھا ریاست کپور تھلہ میں چلے گئے......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، م

جناب عبدالمنان عمر: ...... کاشتہ پودا‘‘ جس کا مرزا صاحب ذکر کر رہے (مرزا

جناب یحییٰ بختیار: اب ی مخاطب ہوں۔ کیونکہ آپ نے کل اپنا تعا لائے ہوئے ہیں؟

1835 جناب عبدالمنان عمر: ان کی بیعت کی ہو۔ میری پیدائش قادیان , this is, this is not the

(میڈم چیئرمین: نہیں م

جناب یحییٰ بختیار: م Explanation (وضاحت) دے

میڈم چیئرمین: ہاں، ہا نے بیعت کی یا نہیں؟

جناب عبدالمنان عمر: میں

1809 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

Madam Chairman: Nobody has asked the question about the place of birth.

(میڈم چیئرمین: کسی نے آپ سے جائے پیدائش کے متعلق نہیں پوچھا)

جناب عبدالمنان عمر: ......بیعت نہیں کی، میں وہاں پیدا ہوا ہوں۔

جناب یحییٰ بختیار: پیدا تو بہت سے ایسے لوگ ہوئے ہیں جو احمدی نہ ہوں۔

جناب عبدالمنان عمر: نہیں، جی، میں احمدی ہوں۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، یعنی یہ تو نہیں ہوتا جو احمدی پیدا ہو گیا ہے وہ بیعت لے آئے ۔ یہ ضروری تو نہیں۔

جناب عبدالمنان عمر: جی نہیں، میں پیدا ہوا اور احمدی ہوں اور وہیں کا ہوں۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں آپ نہیں لائے ان پر......

جناب عبدالمنان عمر: اس طرح بیعت میں نے کبھی نہیں کی۔

جناب یحییٰ بختیار: ان پر نہیں کی؟

جناب عبدالمنان عمر: اس طرح نہیں کی، میں مانتا ہوں۔

1836 جناب یحییٰ بختیار: کس طرح کی؟

جناب عبدالمنان عمر: میں مانتا ہوں ان کو، میں ان کو مانتا ہوں۔ یعنی بیعت کرتے ہیں جس طرح......

جناب یحییٰ بختیار: اچھا ہاں۔

جناب عبدالمنان عمر: ......میں چونکہ اس گھر میں پیدا ہوا ہوں۔ میں ان کو مانتا ہوں۔ ہاں، اور ان میں شامل تھا۔ ان کی جماعت میں جز تھا، حصہ تھا، ان کا میں۔ لیکن جس طرح بیعت ہوتی ہے ناں کہ کوئی شخص جاکے بیعت کرے، وہ نہیں کی۔

جناب یحییٰ بختیار: یعنی آپ کے وہی خیالات تھے ١٩٤٠ء تک جو باقی جماعت کے تھے۔

جناب عبدالمنان عمر: جی نہیں۔ میرے، بہت سے معاملات میں ان سے شدید اختلاف تھا......

جناب یحییٰ بختیار: مگر آپ نے چھوڑا کب؟

جناب عبدالمنان عمر: ......مثلاً......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، آپ نے ان کو چھوڑا کب؟

٩٩

صفحہ ١٨١٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

جناب عبدالمنان عمر: وہ کوئی Nineteen fifty-eight 1958ء جناب یحییٰ بختیار: fifty-eight میں پھر؟ جناب عبدالمنان عمر: Sixty-eight, sixty-eight 1968ء جناب یحییٰ بختیار: sixty-eight میں، یہ مرزا...... 1968ء جناب عبدالمنان عمر: 1956 Fifty-sixء جناب یحییٰ بختیار: 1956 Fifty-sixء یعنی جب مرزا بشیر الدین محمود زندہ تھے؟ 1837 جناب عبدالمنان عمر: جی، جناب! زندہ تھے۔ جناب یحییٰ بختیار: اس وقت چھوڑا، اس زمانے سے چھوڑ دیا؟ جناب عبدالمنان عمر: ہاں جی، ہاں جی۔ جناب یحییٰ بختیار: یہ ابھی یہاں لوگوں کا یہ خیال تھا...... جناب عبدالمنان عمر: وہ غلط تھا۔ جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں، میں آپ کو بتاتا ہوں کہ...... میڈم چیئرمین: بات تو سن لیں۔

(مرزا ناصر کے الیکشن میں اختلاف؟)

جناب یحییٰ بختیار: ...... مرزا ناصر احمد صاحب کا جب الیکشن ہو رہا تھا تو کہتے ہیں کہ اس موقع پر بعض لوگوں کا یہ خیال تھا جماعت میں کہ وہ آپ کو امیر بنائیں یا امام بنائیں اور بعض کا یہ خیال تھا کہ ان کو بنائیں۔ یعنی بعض لوگوں کا یہ خیال تھا اس پر کوئی اختلاف ہو گیا تھا...... جناب عبدالمنان عمر: آپ کے سامنے واقعات ہیں، میں نے عرض کیا...... جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی، ہمیں تو کوئی علم نہیں، لوگ، بعض لوگوں کا یہ خیال تھا کہ...... جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں، یہ میں مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کے زمانے میں ان سے الگ ہو گیا۔ جناب یحییٰ بختیار: مگر نہیں، یہ لوگوں کا خیال درست ہے کہ جب مرزا ناصر احمد صاحب کا الیکشن تھا، اس زمانے میں...... وہ ربوہ کی جماعت کا میں کہہ رہا ہوں۔ لاہوری پارٹی کا نہیں کہہ رہا...... یہ ان کی جماعت میں بعض لوگ یہ چاہتے تھے کہ آپ ان کی جگہ آئیں، خلیفہ بنیں؟ 1838 جناب عبدالمنان عمر: میں نے تو عرض کیا کہ میں اس سے کئی سال پہلے......

١٠٠

صفحہ ١٨١١

1811 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، یعنی، یہ چیز غلط ہے بالکل؟

جناب عبدالمنان عمر: جی، میں ان سے کئی سال پہلے الگ ہوچکا ہوں۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں آپ کا نہیں کہہ رہا ہوں......

جناب عبدالمنان عمر: جی۔

جناب یحییٰ بختیار: آپ تو سوال سنتے ہی نہیں اور جواب تیار رکھا ہوتا ہے آپ نے۔

جناب عبدالمنان عمر: جی، جی۔

جناب یحییٰ بختیار: کہ جب ربوہ جماعت میں خلیفہ کے چناؤ کا وقت آیا مرزا بشیر الدین محمود صاحب کی وفات کے بعد، تو بعض لوگ ربوہ کی جماعت میں یہ رائے رکھتے تھے کہ آپ موزوں خلیفہ ہوں گے تیسرے؟

جناب عبدالمنان عمر: جہاں تک مجھے معلوم ہے، وہاں دو نام پیش ہوئے تھے۔

جناب یحییٰ بختیار: پیش ہونے کا نہیں کہتا ہوں کیونکہ......

جناب عبدالمنان عمر: پیش ہی سے پتہ لگتا ہے ناں جی، خیال کا تو تبھی پتہ چلتا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: لوگ آپس میں خیال رکھتے......

جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں، جو میرے علم میں ہے وہ یہ ہے کہ دو نام تھے...... ایک مرزا ناصر احمد صاحب کا اور ایک مرزا رفیع احمد صاحب کا۔ نہ میں وہاں اس وقت ربوہ میں رہتا تھا اور نہ میں اس جماعت سے منسلک تھا۔ نہ میرا ان کے ساتھ کوئی تعلق تھا۔ بلکہ میں ان سے بالکل الگ ہو چکا تھا اور جس حد تک مجھے علم ہے...... کیونکہ میں اس میں موجود تو نہیں اس میں تھا...... جس حد تک میرا علم ہے، میرا نام وہاں پیش نہیں ہوا۔

1839 جناب یحییٰ بختیار: ویسے ہی کسی نے ذکر بھی نہیں کیا آپ کا کہ آپ کو بھی سوچا جائے، اس میں Consider کیا جائے؟

جناب عبدالمنان عمر: نہیں، مجھ سے نہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: آپ کو نہیں علم؟

جناب عبدالمنان عمر: جی، مجھ سے، مجھ سے کہا ہی نہیں انہوں نے، مجھ سے کہا ہی نہیں کسی نے۔

جناب یحییٰ بختیار: تو آپ کے یہ اختلافات کیوں اتنی دیر سے ہوئے؟

١٠١

LY OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

جناب عبدالمنان عمر: وہ کوئی Ight

جناب یحییٰ بختیار: Fifty-eight

جناب عبدالمنان عمر: y-eight

جناب یحییٰ بختیار: xty-eight

جناب عبدالمنان عمر: Fifty-six

جناب یحییٰ بختیار: Fifty-six

1837 جناب عبدالمنان عمر: جی، جی

جناب یحییٰ بختیار: اس وقت چھوڑ

جناب عبدالمنان عمر: ہاں جی، ہاں

جناب یحییٰ بختیار: یہ ابھی یہاں لو

جناب عبدالمنان عمر: وہ غلط تھا۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں نہیں، میں

میڈم چیئرمین: بات تو سن لیں۔

(مرزا ناصر کے الیکش

جناب یحییٰ بختیار: ...... مرزا ناصر کہ اس موقع پر بعض لوگوں کا یہ خیال تھا جماعت بعض کا یہ خیال تھا کہ ان کو بنائیں۔ یعنی بعض لوگو

جناب عبدالمنان عمر: آپ کے ج

جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی، ہمیں

جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں، یہ میں ان سے الگ ہوگیا۔

جناب یحییٰ بختیار: مگر نہیں، یہ صاحب کا الیکشن تھا، اس زمانے میں...... وہ ربوہ نہیں کہہ رہا...... یہ ان کی جماعت میں بعض لوگ

1838 جناب عبدالمنان عمر: میں بہا

صفحہ ١٨١٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

جناب عبدالمنان عمر: وہ میں عرض کرتا ہوں۔

جناب یحییٰ بختیار: اور کس بات پر؟

جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں، مجھ سے ان کے اختلافات کی بنیاد جو ہے، وہ چند چیزوں پر مبنی ہے۔ جس میں سے پہلی چیز! یہ ہے کہ میں نے اور ہمارے گھر کے جو لوگ تھے، تکفیر المسلمین کے معاملے میں کبھی ان سے اتفاق نہیں کیا۔ کبھی بھی، ابتداءً تا انتہاء۔

دوسری اختلاف! کی وجہ، ہم لوگوں نے مرزا صاحب کا جو بھی مقام سمجھا، اس کے نتیجے میں لفظ 'محدث' استعمال کیجئے، 'ظلی نبی' کہیئے 'بروزی نبی' کہیئے۔ جو لفظ بھی استعمال کیجئے۔ ہم نے ان کو زمرۂ انبیاء کا فرد کبھی نہیں سمجھا۔ مگر وہ لوگ تشریحات کرتے ہیں۔ مثلاً وہ کہہ دیتے ہیں کہ غیر تشریعی نبی مرزا صاحب تھے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ غیر تشریعی نبی ہونے سے مرزا صاحب صف انبیاء میں کھڑے ہو گئے ہیں کہ نہیں؟ دائرہ انبیاء کے فرد ہو گئے ہیں کہ نہیں؟ ہمارا عقیدہ یہ تھا کہ مرزا صاحب اپنے تمام دعوؤں کے باوجود زمرہ انبیاء کے فرد نہیں ہیں۔

تیسرا اختلاف! اس بارے میں جو ہمیں پیدا ہوا وہ یہ تھا کہ خلافت کے بارے میں 1840 ان کے خیالات کو ہم لوگ اسلام کے اور مرزا صاحب کے مسلک کے مطابق نہیں سمجھتے تھے۔ لیکن باقی معاملات میں مثلاً خدمت اسلام، اشاعت اسلام، اشاعت قرآن......

جناب یحییٰ بختیار: بس، ایک ہی اس پر میں نے آپ سے ایک اور سوال پوچھنا تھا، اس پر کہ باقی معاملات میں آپ کا ان سے اتفاق تھا؟

جناب عبدالمنان عمر: لیکن بہت سوں میں نہیں تھا۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، نہیں، وہ آپ نے Explain (واضح) کر دیا۔ میں وہ طنزاً کوئی بات نہیں کہہ رہا۔

جناب عبدالمنان عمر: ہاں۔

جناب یحییٰ بختیار: کیونکہ احمدی دونوں ہیں۔ صرف بات، چھوٹی بات پر یا بڑی بات، آپ جیسے سمجھیں اس کو، مگر کل میں نے آپ سے ایک سوال پوچھا تھا اور میں نے پڑھ کے سنایا تھا کہ مرزا صاحب بعض دفعہ کہتے ہیں ”دعویٰ اسلام کرنے والے۔“ تکفیر کی بات آ گئی اس کی۔ ”دعویٰ اسلام کا کرنے والے۔“ مسلمانوں کے بارے میں انہوں نے، اکثر کہتے ہیں کہ یہ لفظ بھی استعمال کیا: ”جو مسلمان ہونے کے مدعی ہیں۔“ یا ”دعویٰ اسلام کرنے والے ہیں۔“ ان کا کیا مطلب تھا؟

١٠٢

صفحہ ١٨١٣

1813 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

جناب عبدالمنان عمر: کن کا قول پیش فرمایا آپ نے؟

جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب کا۔ میں نے پڑھ کے سنایا تھا وہ بشیر احمد صاحب کا ایک حوالہ۔

جناب عبدالمنان عمر: جی۔

جناب یحییٰ بختیار: مگر پھر ”تحفہ گولڑویہ“ سے انہوں نے وہ کہا ہے کہ مرزا صاحب وہاں پر خود ہی کہتے ہیں کہ ”یہ جو اسلام کا دعویٰ کرنے والے ہیں“ مسلمانوں سے وہ......

1841 جناب عبدالمنان عمر: میرے سامنے حوالہ ہو تو میں کچھ عرض کروں۔

جناب یحییٰ بختیار: میں نے پڑھ کے سنایا آپ کو اور نوٹ بھی کروایا۔

جناب عبدالمنان عمر: نہیں، حوالہ شاید مرزا صاحب محمود احمد......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی، انہوں نے ”تحفہ گولڑویہ“ سے مرزا صاحب......

جناب عبدالمنان عمر: ”تحفہ گولڑویہ“ پیش ہونا، جی، تب......

جناب یحییٰ بختیار: وہ تو آپ کو میں نے نوٹ کروایا۔ اس کا میں نے صفحہ بھی۔

جناب عبدالمنان عمر: نہیں، آپ نے ”تحفہ گولڑویہ“ نہیں، وہ ان کا Quotation ہی پڑھا۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں نے آپ کو......

جناب عبدالمنان عمر: وہ کہتے ہیں کہ ”تحفہ گولڑویہ“ میں یہ ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: اچھا، آپ یہ کہیں کہ مرزا صاحب نے کہیں یہ نہیں کہا؟

جناب عبدالمنان عمر: نہیں، وہ تو سامنے ہو تو مجھے...... میں اتنا حافظ نہیں......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، اگر ہو سامنے تو کیا مطلب ہے اس کا؟

جناب عبدالمنان عمر: مجھے، میں، حافظ نہیں ہے میرے پاس اتنا۔ مرزا صاحب کی یہ تحریر مجھے دکھائی جائے تو میں اس کے متعلق کچھ عرض کروں گا۔ اگر مرزا بشیر الدین محمود احمد کی آپ تحریر پیش کریں کہ وہاں مرزا صاحب نے لکھا ہے، تو مجھے ذرا اس میں تامل ہوگا۔

جناب یحییٰ بختیار: میں ابھی آپ کو ذرا سناتا ہوں......

Madam Chairman: How long will......

-(میڈم چیئرمین: وہ کتنا بڑا ہے؟)

١٠٣

MBLY OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

جناب عبدالمنان عمر: وہ میں عرض کر

جناب یحییٰ بختیار: اور کس بات پر؟

جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں، مجھ چیزوں پر مبنی ہے۔ جس میں سے پہلی چیز یہ ہے کہ المسلمین کے معاملے میں کبھی ان سے اتفاق نہیں کیا

دوسرا اختلاف! کی وجہ، ہم لوگوں نے میں لفظ ”محدث“ استعمال کیجئے۔ ”ظلی نبی“ کیجئے ” ہم نے ان کو زمرہ انبیاء کا فرد کبھی نہیں سمجھا۔ مگر وہ لوگ کہ غیر تشریعی نبی مرزا صاحب تھے۔ لیکن سوال یہ صف انبیاء میں کھڑے ہو گئے ہیں کہ نہیں؟ دائرہ انبی کہ مرزا صاحب اپنے تمام دعوؤں کے باوجود زمرہ انبی

تیسرا اختلاف! اس بارے میں جو ہمیں 1840 ان کے خیالات کو ہم لوگ اسلام کے اور مرزا صا لیکن باقی معاملات میں مثلاً خدمت اسلام، اشاعت

جناب یحییٰ بختیار: بس، ایک ہی اس تھا، اس پر کہ باقی معاملات میں آپ کا ان سے اتفاق

جناب عبدالمنان عمر: لیکن بہت سوں

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، نہیں، وہ آپ طنزاً کوئی بات نہیں کہہ رہا۔

جناب عبدالمنان عمر: ہاں۔

جناب یحییٰ بختیار: کیونکہ احمدی دونو بات، آپ جیسے سمجھیں اس کو، مگر کل میں نے آپ سنایا تھا کہ مرزا صاحب بعض دفعہ کہتے ہیں ”دعویٰ اس کی۔“ ”دعویٰ اسلام کا کرنے والے۔“ مسلمانوں کے لفظ بھی استعمال کیا: ”جو مسلمان ہونے کے مدعی ہیں کیا مطلب تھا؟

١٠٢

صفحہ ١٨١٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

Mr. Yahya Bakhtiar: Just five to ten munutes

(مسٹر یحییٰ بختیار: جناب والا ! صرف پانچ، دس منٹ لگیں گے)

1842 جناب یحییٰ بختیار: اب مرزا صاحب کا ایک حوالہ ہے جی......

جناب عبدالمنان عمر: یہ ''تحفہ گولڑویہ'' میں پیش کر دیتا ہوں جی، اگر اس میں سے مجھے بتا دیا جائے کہاں ہے؟

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، وہ بتاؤں گا جی آپ کو۔ وہ لارہے ہیں۔ آپ نے اپنی تقریر کے آخر میں فرمایا کہ: ''غرض اس قسم کی بہت سی باتیں ہیں جو کہ ان لوگوں میں پائی جاتی ہیں جن سے خدا تعالیٰ ناراض ہے اور جو اسلامی رنگ کے مخالف ہیں۔ اس واسطے اللہ تعالیٰ اب ان لوگوں کو مسلمان نہیں جانتا۔ جب تک وہ غلط عقائد چھوڑ کر راہ راست پر نہ آجائیں اور اس مطلب کے لئے خدا تعالیٰ نے مجھے موعود کیا ہے۔''

جناب عبدالمنان عمر: صفحہ اگر فرمادیں تو تلاش کروں یہاں۔

جناب یحییٰ بختیار: ایک تو ہے جی ''تحفہ گولڑویہ'' صفحہ ٥٦۔ پھر آگے اس میں کچھ اور جاتا ہے اس پر۔ یہ جو......

جناب عبدالمنان عمر: صفحہ کون سا فرمایا ہے جی؟

جناب یحییٰ بختیار: میں، ایک صفحہ ١٨ ہے جی۔ ایک میں نے آپ کو بتایا ہے...... پتہ نہیں، ایڈیشن میں کچھ فرق ہوگا تو کچھ کہہ نہیں سکتے۔

جناب عبدالمنان عمر: نہیں، دیکھ لیتے ہیں جی آگے پیچھے دیکھ لیتے ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں۔ (Pause) وہ یہ ہے کہ جی: ''جب مسیح نازل ہو گا تو تمہیں دوسرے فرقوں کو جو دعویٰ اسلام کرتے ہیں، بکلی ترک کرنا پڑے گا۔''

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ١٨ حاشیہ، خزائن ج ١٧ ص ٦٤)

1843 جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں۔

جناب یحییٰ بختیار: یہ الفاظ ہیں۔

جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں، مل گئے۔

جناب یحییٰ بختیار: مل گئے آپ کو؟

جناب عبدالمنان عمر: ہاں جی۔

١٠٤

صفحہ ١٨١٥

MBLY OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13 tiar: Just five to ten munutes (مسٹر یحییٰ بختیار: جناب والا ! صرف 1842 جناب یحییٰ بختیار: اب مرزا صا جناب عبدالمنان عمر: یہ ”تحفہ گولڑو مجھے بتا دیا جائے کہاں ہے؟ جناب یحییٰ بختیار: ہاں، وہ بتاؤں گا آپ نے اپنی تقریر کے آخر میں فرمایا کہ ”غرض اس قسم کی بہت سی باتیں ہیں ج تعالیٰ ناراض ہے اور جو اسلامی رنگ کے مخالف ہیں نہیں جانتا۔ جب تک وہ غلط عقائد چھوڑ کر راہ راس تعالیٰ نے مجھے موعود کیا ہے۔“ جناب عبدالمنان عمر: صفحہ اگر فرماد جناب یحییٰ بختیار: ایک تو ہے جی ”ت جاتا ہے اس پر۔ یہ جو ...... جناب عبدالمنان عمر: صفحہ کون سا فر جناب یحییٰ بختیار: میں، ایک صفحہ 8 پتہ نہیں، ایڈیشن میں کچھ فرق ہوگا تو کچھ کہہ نہیں سکتے جناب عبدالمنان عمر: نہیں، دیکھ لی جناب یحییٰ بختیار: ہاں۔ (ause وہ یہ ہے کہ جی: ”جب مسیح نازل ہوگا ت ہیں، بکلی ترک کرنا پڑے گا۔“ 1843 جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں۔ جناب یحییٰ بختیار: یہ الفاظ ہیں۔ جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں، بل ک جناب یحییٰ بختیار: مل گئے آپ کو؟ جناب عبدالمنان عمر: ہاں جی۔ ١٠٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13 جناب یحییٰ بختیار: اچھا۔ (Pause) جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں، ”جو دعویٰ اسلام کرتے ہیں“ وہ ...... جناب یحییٰ بختیار: آپ وہ سارا پڑھ دیجئے تاکہ، شاید میں نے ...... یہ فقرہ ہے وہ ...... (Pause) جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں۔ جناب یحییٰ بختیار: تو یہ ”دعویٰ اسلام کرنے والے“ کون ہیں؟ کیا مراد ہے ان کی؟ جناب عبدالمنان عمر: جو اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں۔ جناب یحییٰ بختیار: یعنی مسلمان نہیں ہیں، دعویٰ کرتے ہیں صرف؟ جناب عبدالمنان عمر: نہیں جی، دعویٰ سچا بھی ہوتا ہے، جھوٹا بھی ہوتا ہے۔ یہ تو نہیں کہ جو دعویٰ کرے وہ ضرور غلط کرتا ہے۔ دعویٰ اسلام کرنے والے ...... جناب یحییٰ بختیار: نہیں ...... جناب عبدالمنان عمر: دعویٰ اسلام کرنے والے جو کہتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں۔ صرف دعویٰ یہ نہیں جس کو آپ ...... 1844 جناب یحییٰ بختیار: یہ، یہ، جو صاحبزادہ کا مضمون ہے ...... جناب عبدالمنان عمر: جناب! میں نے اسی لئے ...... جناب یحییٰ بختیار: دیکھئے، 1940ء تک یا جب تک تو آپ اس پر ٹھیک تھے ...... جناب عبدالمنان عمر: جناب! نہیں، میں نے عرض کیا، مجھے تو بہت سی باتوں میں ان سے اختلاف ہے۔ جناب یحییٰ بختیار: بہت دیر سے آپ نے اس کو چھوڑا۔ اس لئے یہ غلط فہمی پیدا ہو گئی۔ جناب عبدالمنان عمر: ہاں جی، میں نے تو ان کی زندگی میں ان کو چھوڑا۔ جناب یحییٰ بختیار: میں پھر آپ کو سناتا ہوں ...... جناب عبدالمنان عمر: ان کی زندگی میں بڑا خطرناک اختلاف، میرا ان سے ہے۔ جناب یحییٰ بختیار: نہیں، یہ میں آپ کو سناتا ہوں کہ انہوں نے اس کا کیا مطلب لیا، جیسے آپ لے رہے ہیں۔ جناب عبدالمنان عمر: میں ان کے مطلب ...... جناب یحییٰ بختیار: نہیں، یہ نہیں، کیونکہ ...... ١٠٥

صفحہ ١٨١٦

1816 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

جناب عبدالمنان عمر: مجھے آپ نے منع کیا کہ.......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں،.......

جناب عبدالمنان عمر: ......آپ دوسروں کو Quote (پیش) مت کیجئے گا.......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں، میں.......

جناب عبدالمنان عمر: ......اور آپ میرے سامنے ایک میرے دشمن کا Quote (پیش) کرتے ہیں۔

1845 جناب یحییٰ بختیار: نہیں، مرزا صاحب کے ایک حوالے کا آپ Interpretation (تعبیر) کرتے ہیں۔ ایک وہ کرتے ہیں۔ اسمبلی کو جج کرنا ہوگا کہ کون سی ٹھیک ہے؟

جناب عبدالمنان عمر: اس کے لئے مرزا صاحب کی کتاب پیش کیجئے۔

جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب کی کتاب سے اسی حوالے.......

جناب عبدالمنان عمر: جی نہیں، وہ نہیں ہے مرزا صاحب کا۔

جناب یحییٰ بختیار: اسی حوالے کا.......

جناب عبدالمنان عمر: میں اصل کتاب رکھ دیتا ہوں، جناب!

جناب یحییٰ بختیار: اصل کتاب میں ”دعویٰ اسلام کرنے والے“ اور اس کا مطلب کہتے ہیں ”مسلمان۔“

جناب عبدالمنان عمر: دعویٰ اسلام کرتا ہے جب کہتا ہے ”میں مسلمان ہوں ۔“ یہ دعویٰ ہے ناں میرا۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں،.......

جناب عبدالمنان عمر: میں دعویٰ کرتا ہوں کہ میں مسلمان ہوں۔

جناب یحییٰ بختیار: جب کہتے ہیں کہ ”مسلمان“.......

جناب عبدالمنان عمر: اس کا مطلب یہ تو نہیں ہے کہ میں مسلمان نہیں ہوں۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، دیکھئے ناں، وہ جو یہ کہتے ہیں.......

جناب عبدالمنان عمر: ......”دعوائے اسلام کرنے والے“......میں، میں دعویٰ کرتا ہوں.......

جناب یحییٰ بختیار: آپ سن لیجئے Please (براہ کرم)

١٠٦

1817 NATIONAL AS...

آیا کہ کہیں میری تحریروں میں غیر احمدیوں ہیں۔ اس لئے آپ نے 1846 کہیں کہیں نہ دیئے کہ ”وہ لوگ جو دعویٰ اسلام کرتے

(کلمۃ الفصل ص ١٢٦)

ابھی آپ کہیں گے کہ آپ احمدی ہیں۔ بڑا فرق ہوتا ہے۔ وہ دعویٰ نے ثابت ہونا

یہ عرض کیا اسی قسم کا کہ میں دعویٰ کرتا ہوں میں ہوں؟

نہیں کہتے کہ ہم مسلمان یہ کر رہے ہیں؟ میں، ایک مصنف کی عبارت کو آخر مصنف نہیں کی؟)

میں جو کل آپ نے کی۔ وہ بھی آپ نے جی میرے خیال میں ابھی پانچ منٹ بھی جو نہیں مانتا، اللہ کے نبی کو، تو وہ گناہ گار ہو میں کہتا کہ نبی کریم ﷺ ہمارے جو ہیں، ہیں یا حضرت موسیٰ علیہ السلام ہیں۔ جو محمد رسول اللہ ،مگر عیسیٰ علیہ السلام یہ ایسی کوئی بات کہہ جاتا ہے، نعوذ باللہ! کفر ہی میں آجاتا ہے۔ گناہ گار ہوتا ہے، تھا.......میں پھر Repeat (دہراتا) کفر کی دو قسمیں ہیں۔ دو قسم کا کفر ہے۔ محمد رسول اللہ کا انکار کرے۔ یہ

صفحہ ١٨١٧

1817 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

”مسیح موعود کو بعض وقت اس بات کا خیال آیا کہ کہیں میری تحریروں میں غیر احمدیوں کے متعلق ”مسلمان“ کا لفظ دیکھ کر لوگ دھوکہ نہ کھا جائیں۔ اس لئے آپ نے 1846 کہیں کہیں بطور ازالہ کے غیر احمدیوں کے متعلق ایسے الفاظ بھی لکھ دیئے کہ ”وہ لوگ جو دعویٰ اسلام کرتے ہیں۔“

(کلمتہ الفصل ص ١٢٦)

اب یہ Contention (تکرار) ہے۔ ابھی آپ کہیں گے کہ آپ احمدی ہیں۔ میں کہوں گا کہ نہیں، آپ احمدی کا دعویٰ کرتے ہیں۔ یہ تو بڑا فرق ہوتا ہے۔ وہ دعویٰ نے ثابت ہونا ہوتا ہے۔

جناب عبدالمنان عمر: میں نے دوسرا فقرہ عرض کیا اسی قسم کا کہ میں دعویٰ کرتا ہوں کہ میں مسلمان ہوں۔ اس کے کیا معنی ہیں؟ میں مسلمان نہیں ہوں؟

جناب یحییٰ بختیار: تو پھر ”مسلمان“ کیوں نہیں کہتے کہ ہم مسلمان یہ کر رہے ہیں؟

جناب عبدالمنان عمر: یہ تو آپ، دیکھئے ناں، ایک مصنف کی عبارت کو آخر مصنف ہی بیان کرتا ہے۔

(آخری بات بھی صاف نہیں کی؟)

جناب یحییٰ بختیار: اچھا آخری بات وہی جو کل آپ نے کی۔ وہ بھی آپ نے Clear (صاف) نہیں کی۔ کیونکہ سپیکر صاحب بھی ابھی میرے خیال میں ابھی پانچ منٹ بھی نہیں دینا چاہتے اور آپ نے کل کہا جو ایک شخص کسی نبی کو نہیں مانتا، اللہ کے نبی کو، تو وہ گناہ گار ہو جاتا ہے، کافر نہیں ہوتا۔ آنحضرت ﷺ کے علاوہ۔ میں نہیں کہتا کہ نبی کریم ﷺ ہمارے جو ہیں، نہیں، ان کا میں نہیں کہہ رہا۔ جیسے حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں یا حضرت موسیٰ علیہ السلام ہیں۔ جو ان کو نہیں مانتا۔ کہتا ہے ”میں مسلمان ہوں، لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ، مگر عیسیٰ علیہ السلام کو بالکل میں نہیں مانتا۔ وہ شرابی کبابی تھا یا جھوٹا تھا ۔“ یا یہ ایسی کوئی بات کہہ جاتا ہے، نعوذ باللہ! تو پھر وہ تو کافر نہیں ہوتا؟ آپ نے کہا کہ وہ کفر سے نیچے کیٹیگری میں آ جاتا ہے۔ گناہ گار ہوتا ہے، یہ درست ہے؟

جناب عبدالمنان عمر: میں نے عرض یہ کیا تھا...... میں پھر Repeat (دہراتا) کر دیتا ہوں، 1847 شاید بات صاف ہو جائے گی...... کہ کفر کی دو قسمیں ہیں۔ دو قسم کا کفر ہے۔ ایک کفر یہ ہوتا ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ کا لاالہ الااللہ محمدرسول اللہ کا انکار کرے۔ یہ میرے نزدیک سب سے بڑا کفر ہے......

١٠٧

OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

جناب عبدالمنان عمر: مجھے آ

جناب یحییٰ بختیار: نہیں،....

جناب عبدالمنان عمر: ..... آ.....

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں

جناب عبدالمنان عمر: ..... ا...... (پیش) کرتے ہیں۔

1845 جناب یحییٰ بختیار: Interpretation (تعبیر) کرتے ہیں ٹھیک ہے؟

جناب عبدالمنان عمر: اس ک

جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاح

جناب عبدالمنان عمر: جی نہیں

جناب یحییٰ بختیار: اسی حوال

جناب عبدالمنان عمر: میں اس

جناب یحییٰ بختیار: اصل کتا کہتے ہیں ”مسلمان۔“

جناب عبدالمنان عمر: دعویٰ دعویٰ ہے ناں میرا۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں،.....

جناب عبدالمنان عمر: میں دع

جناب یحییٰ بختیار: جب کہتے

جناب عبدالمنان عمر: اس کا م

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، دیک

جناب عبدالمنان عمر: ..... ”جو

جناب یحییٰ بختیار: آپ سن ل

صفحہ ١٨١٨

1818 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

جناب یحییٰ بختیار: بڑا کفر ہے، ٹھیک ہے۔ یہ آپ نے درست کہا۔

جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں۔ اس کے بعد سینکڑوں مدارج ہیں کفر کے، چھوٹے بڑے، بہت سے مدارج۔

جناب یحییٰ بختیار: میں سمجھ گیا ہوں جی۔ یہی بات میں کر رہا ہوں آپ پھر اسے Repeat (دہرا) رہے ہیں۔

جناب عبدالمنان عمر: ہاں، میں بالکل وہی عرض کر رہا ہوں ......

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، جی۔

جناب عبدالمنان عمر: ...... کہ میرے نزدیک ایک کفر جو ہے، حقیقی کفر جس کو میں کہتا ہوں ......

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، یہ دوسرے درجے کا کفر ہو گیا جو کسی نبی کو نہیں مانتا؟

جناب عبدالمنان عمر: ہاں جی، محمد رسول اللہ ﷺ کے علاوہ۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی، اور آپ نے یہ بھی کہا کہ اللہ، رسول کا حکم ہے کہ مسیح موعود آئے گا اور جو ان کو نہیں مانتا وہ اللہ رسول کو نہیں مانتا۔ تو جو ان کو نہیں مانتا آپ کے عقیدے کے مطابق وہ بھی وہ چھوٹے درجے کے کفر میں آ گیا؟

جناب عبدالمنان عمر: گناہ گار ہو گیا۔

جناب یحییٰ بختیار: گناہ گار ہو گیا۔ یعنی کفر کا چھوٹا درجہ جو ہے؟

جناب عبدالمنان عمر: ہاں، گناہ گار کے معنوں میں۔

1848 جناب یحییٰ بختیار: یہ، یہ بھی آپ نے تسلیم کر لیا؟

جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں۔

جناب یحییٰ بختیار: پھر میں نے آپ سے پوچھا کہ ”حقیقی مسلمان“ کون ہوتے ہیں؟

جناب عبدالمنان عمر: جی۔

(آپ نے صحیح جواب نہیں دیا)

جناب یحییٰ بختیار: ...... آپ نے کہا کہ جو خدا اور رسول کے حکم کی تعمیل کرتا ہے۔ نیک آدمی ہے۔ بڑی لمبی چوڑی اس میں بحث ہو سکتی ہے۔ وہ جو صحیح مسلمان آپ کے ہیں اس کو۔ میں نے کہا جو صحیح مسلمان ہے۔ وہ غیر احمدی ہو سکتا ہے؟ آپ نے اس کا صحیح جواب مجھے نہیں دیا۔

صفحہ ١٨١٩

1819 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

جناب عبدالمنان عمر: میں پھر عرض کر دیتا ہوں، اگر صحیح و غلط تو آپ جج کریں گے۔

جناب یحییٰ بختیار: کیونکہ وہ نہیں مانتا، وہ خدا اور ......

جناب عبدالمنان عمر: جو میں سمجھتا ہوں عرض کر دیتا ہوں۔

جناب یحییٰ بختیار: یہ آپ دیکھیں کہ خدا اور رسول کا حکم، آپ کے مطابق کہ مرزا صاحب مسیح موعود ہیں، ان کو مانو، وہ نہیں مانتا۔ تو ایک طرف سے تو وہ گناہ گار اور کافر ہو گیا۔ پھر وہ حقیقی مسلمان بھی بن سکتا ہے؟ یہ سوال ۔

جناب عبدالمنان عمر: میں نے عرض یہ کیا تھا، پھر عرض کرتا ہوں کہ جو شخص نبی اکرم ﷺ کا انکار کرتا ہے، وہ اصلی معنوں میں، حقیقی معنوں میں، مکمل معنوں میں وہ کافر ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ جتنے بھی ایمان کے جزو ہیں، مثلاً الحیاء من الایمان کہ حیا بھی ایمان کا جزو ہے......

جناب یحییٰ بختیار: آپ دیکھیں ......

(تین مرتبہ سوال ہوا، مگر حتمی جواب نہیں آیا)

1849 Mr. Chairman: The witness should give a difinite answer to this question. This question has been repeated three times. This should be given a difinite answer. And if the witness......

(جناب چیئرمین: گواہ کو اس سوال کا جواب حتمی دینا چاہئے۔ یہ سوال تین مرتبہ کیا جا چکا ہے۔ اس کا حتمی جواب چاہئے اور اگر گواہ......)

جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب، آپ کہتے ہیں کہ خدا اور رسول کا حکم ہے مرزا صاحب کا ماننا اور ایک آدمی اس سے انکار کرتا ہے ......

Mr. Chairman: And if......

(جناب چیئرمین: اور اگر......)

(مرزا قادیانی کا منکر حقیقی مسلمان نہیں)

جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب کہتے ہیں کہ وہ گناہ گار ہو گیا یا کافر ہو گیا۔ چھوٹی ڈگری کا۔ تو ایک گناہ گار اور چھوٹی ڈگری کا جو کافر ہوتا ہے وہ تو کوئی اچھا مسلمان نہیں ہوسکتا؟

١٠٩

PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

جناب یحییٰ بختیار: بڑا کف

جناب عبدالمنان عمر: ن

بڑے، بہت سے مدارج ۔

جناب یحییٰ بختیار: میں ا

Repeat (دہرا) رہے ہیں۔

جناب عبدالمنان عمر: ہاں

جناب یحییٰ بختیار: ہاں ب

جناب عبدالمنان عمر:

کہتا ہوں.......

جناب یحییٰ بختیار: ہاں و

جناب عبدالمنان عمر: ہاں

جناب یحییٰ بختیار: ہاں

موعود آئے گا اور جو ان کو نہیں مانتا وہ ال کے مطابق وہ بھی وہ چھوٹے درجے کے

جناب عبدالمنان عمر: ک

جناب یحییٰ بختیار: گنا

جناب عبدالمنان عمر: ہا

1848 جناب یحییٰ بختیار:

جناب عبدالمنان عمر: ج

جناب یحییٰ بختیار: پھر می

جناب عبدالمنان عمر: ک

(آپ ب

جناب یحییٰ بختیار: ...... ا

آدمی ہے۔ بڑی لمبی چوڑی اسی میں بح نے کہا جو صحیح مسلمان ہے۔ وہ غیر احمدی

صفحہ ١٨٢٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں۔

جناب یحییٰ بختیار: یہ دیکھیں ناں......

جناب عبدالمنان عمر: یہ صحیح ہے، بالکل صحیح ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: ......کہ ایک حقیقی مسلمان وہی ہوسکتا ہے۔ جو کسی قسم کا گنہگار یا کافر نہ ہو۔

جناب عبدالمنان عمر: بالکل۔

جناب یحییٰ بختیار: تو بس یہی میں نے......

جناب عبدالمنان عمر: مگر ہاں، یہ......

Mr. Chairman: That's all?

(جناب چیئرمین: کافی ہے؟)

Mr. Yahya Bakhtiar: That's all Sir.

(جناب یحییٰ بختیار: جناب والا! کافی ہے)

Mr. Abdul Mannan Umar: Thank you.

(جناب عبدالمنان عمر: آپ کا شکریہ)

Mr. Chairman: Thank you very much.

(جناب چیئرمین: بہت بہت شکریہ)

1850 Mr. Abdul Mannan Umar: Thank you.

(جناب عبدالمنان عمر: آپ کا شکریہ)

Mr. Chairman: The Delegation is permitted to withdraw subject to those references......

(جناب چیئرمین: وفد کو ان حوالہ جات والی شرط کے ساتھ واپس جانے کی اجازت ہے)

(پاکستان میں احمدیوں کی آبادی؟)

جناب یحییٰ بختیار: ایک سوال پوچھنا چاہتے ہیں کہ جی کہ آپ کا کیا اندازہ ہے کہ احمدیوں کی کتنی آبادی ہے پاکستان میں؟ وہ اس واسطے ہم پوچھ رہے ہیں......

جناب عبدالمنان عمر: ہمیں اندازہ نہیں ہے۔

١١٠

1821 NATIONAL ASSEMBL

مانوں، کہ آپ کو شاید اندازہ ہو۔ کیونکہ وہاں منیر ر دی گئی ہے اور Census (مردم شماری) میں کہ آپ کی پارٹی کی کیا تعداد ہے۔ وہ اپنی پارٹی میں کچھ آئیڈیا ہوسکے۔

اندازہ نہیں ہے کوئی، نہ کبھی ہم نے مردم شماری ساگے۔ وہ شاید زیادہ صحیح اس کی فگر دے سکے۔

کوئی نہیں؟

ے پاس فگرز نہیں ہیں۔

Mr. Chairman: Th withdraw, subject to the reply been given to the Delegation. within three days with the exp be called before the Com Committee finaly concludes Delegation may be asked or some points which may cr arguments, during the disc assembly publishes the rep Committee shall be communi

اجازت ہے۔ بشرطیکہ حوالہ جات کے جوابات ر اندر داخل کئے جائیں۔ اگر ضرورت ہوئی تو سکے گا۔ بحث کے دوران اٹھائے گئے نقاط کے ۔ جب تک اسمبلی رپورٹ شائع نہ کرے کمیٹی کی

صفحہ ١٨٢١

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، دیکھیں ناں، کہ آپ کو شاید اندازہ ہو۔ کیونکہ وہاں منیر رپورٹ میں ایک فگر دی گئی ہے۔ یہاں کچھ اور فگر دی گئی ہے اور Census (مردم شماری) میں کوئی چیز نہیں دی گئی۔ اگر اندازاً آپ کو پتہ ہو کہ آپ کی پارٹی کی کیا تعداد ہے۔ وہ اپنی پارٹی کا کہتے ہوں گے یا آپ کا کہتے ہوں گے، تاکہ ہمیں کچھ آئیڈیا ہو سکے۔

جناب عبدالمنان عمر: جی، ہمیں اندازہ نہیں ہے کوئی، نہ کبھی ہم نے مردم شماری کروائی ہے۔ گورنمنٹ کے ذرائع شاید زیادہ ہوں گے۔ وہ شاید زیادہ صحیح اس کی فگر دے سکے۔

جناب یحییٰ بختیار: آپ کے پاس کوئی نہیں؟

جناب عبدالمنان عمر: نہیں، ہمارے پاس فگرز نہیں ہیں۔

Mr. Chairman: The Delegation is permitted to withdraw, subject to the reply of the refrences which have been given to the Delegation. A written reply may be filed within three days with the explanation. The Delegation can be called before the Committee anytime before the Committee finaly concludes its findings, if need be. The Delegation may be asked or requested to give its view on some points which may crop up during the course of arguments, during the discussion. Till the final,till the assembly publishes the report, no proceedings of this Committee shall be communicated to any person.

(جناب چیئرمین: وفد کو جانے کی اجازت ہے۔ بشرطیکہ حوالہ جات کے جوابات تحریری طور پر وضاحتوں کے ساتھ تین دن کے اندر اندر داخل کئے جائیں۔ اگر ضرورت ہوئی تو وفد کو کسی وقت بھی کمیٹی کے فیصلہ سے قبل بلایا جا سکے گا۔ بحث کے دوران اٹھائے گئے نقاط کے بارے میں وفد کے نظریات معلوم کئے جاسکتے ہیں۔ جب تک اسمبلی رپورٹ شائع نہ کرے کمیٹی کی کارروائی سے کسی کو مطلع نہیں کیا جاسکتا)

|||

PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

جناب عبدالمنان عمر: جی

جناب یحییٰ بختیار: یہ دیکھیے

جناب عبدالمنان عمر: یہ

جناب یحییٰ بختیار: .....کہ کافر نہ ہو۔

جناب عبدالمنان عمر: بالکل

جناب یحییٰ بختیار: تو بس

جناب عبدالمنان عمر: مگر

l?

(جناب چیئرمین: کافی

at's all Sir.

(جناب یحییٰ بختیار: جنا

ar: Thank you.

(جناب عبدالمنان عمر: آ

u very much.

(جناب چیئرمین: بہت

mar: Thank you.

(جناب عبدالمنان عمر:

legation is permitted to

.......

(جناب چیئرمین: وفد کو اجا

(پاکستان

جناب یحییٰ بختیار: ایک احمدیوں کی کتنی آبادی ہے پاکستان میں

جناب عبدالمنان عمر: نہ

صفحہ ١٨٢٢

1822 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

1851 Mr. Yahya Bakhtiar: And one, Sir, one request.

(جناب یحییٰ بختیار: ایک التماس ہے)

Mr. Chairman: Yes.

Mr. Yahya Bakhtiar: I will request the Delegation that if they want to add anything to whatever they have stated in reply to any of the question, they may kindly do that.

(جناب یحییٰ بختیار: ایک التماس ہے، وفد نے جو کچھ کہا ہے۔ اس میں اگر وہ کوئی مزید بات کہنا چاہتے ہوں تو کہہ سکتے ہیں)

Mr. Chairman: And......

Mr. Yahya Bakhtiar: (To the witness) or if you don't want to do it now, send it in writing.

(جناب یحییٰ بختیار: (گواہوں کو) یا اگر آپ نہیں چاہتے ہو، اگر ابھی نہیں تو تحریراً بھجوا دیں) اگر آپ نے کچھ اور مزید کسی پوائنٹ کو Clarify (واضح) کرنا ہے تو آپ دو تین دن کے اندر سیکرٹری صاحب کو دے دیں تاکہ Clarification (وضاحت)......

Mr. Chairman: Three days, three days. Today is 28th, 29, 30, by 31st.

(جناب چیئرمین: چنانچہ تین روز، آج اٹھائیس تاریخ ہے۔ پھر انتیس، تیس، اکتیس تاریخ تک)

Mr. Yahya Bakhtiar: By 31st.

(جناب یحییٰ بختیار: اکتیس تاریخ تک)

Mr. Chairman: Yes. (جناب چیئرمین: جی!)

There is a written request by the secretary of the Delegation that he may kindly be allowed to make a

١١٢

1823 NATIONAL ASSEM

submission for five minutes. And whatever is......

ا ہے کہ انہیں پانچ منٹ کے لئے بیان دینے کی جائے)

Mr. Yahya Bakhtiar now, let him make it now.

اہتا ہے تو ان کو پھر بیان کرنے دیں)

Mr. Chairman: No

(Inter

گیا۔

Any whatever comes among the members.

بھجوا دیں گے)

Mr. Yahya Bakht five minutes to add somethin

چاہتا ہے صرف پانچ منٹ تو کہنے دیں......)

1852 Mr. Chairman: That matter. At 5:00, we hav

پانچ بجے وہاں پر جانا ہے)

Mr. Yahya Bakht now. He has requested, Sir.

ربانی۔ میں جناب کا شکریہ ادا کرتا ہوں اس کا۔ میں نے یہ جرأت اس لئے کی کہ ایک

صفحہ ١١٣

1823 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

submission for five minutes. This can also come as written. And whatever is ......

(وفد کے سیکرٹری کی طرف سے التماس ہے کہ انہیں پانچ منٹ کے لئے بیان دینے کی اجازت دی جائے۔ یہ بھی لکھ کر وفد کی طرف سے آ جائے)

Mr. Yahya Bakhtiar: No, if he wants to make it now, let him make it now.

(جناب یحییٰ بختیار: نہیں، اگر وہ چاہتا ہے تو ان کو پھر بیان کرنے دیں)

Mr. Chairman: No.

(Interruption)

جناب چیئرمین: شکریہ سب کا ادا ہو گیا۔

Any whatever comes in writting, we will circulate it among the members.

(اور جو کوئی تحریر آتی ہے ہم تمام ارکان کو بھجوا دیں گے)

Mr. Yahya Bakhtiar: No, but if he wants only five minutes to add something.

(جناب یحییٰ بختیار: نہیں، لیکن اگر وہ چاہتا ہے صرف پانچ منٹ تو کہنے دیں۔۔۔۔۔۔)

1852 Mr. Chairman: Sir, we have to go there also. That matter. At 5:00, we have to reach there

(جناب چیئرمین: جناب والا! ہمیں پانچ بجے وہاں پر جانا ہے)

Mr. Yahya Bakhtiar: I think this should come now. He has requested, Sir.

جناب چیئرمین: بولیں جی۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، بول لیجئے۔

مرزا مسعود بیگ: بہت اچھا، بڑی مہربانی۔ میں جناب کا شکریہ ادا کرتا ہوں اس Request grant (درخواست قبول کرنے) کا۔ میں نے یہ جرات اس لئے کی کہ ایک

صفحہ ١٨٢٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

تو آپ کا شکریہ ادا کرنے کے لئے ، آپ نے بڑی فراخ دلی سے، تحمل سے ہماری باتوں کو سنا۔

میرے فاضل دوست نے ، اٹارنی جنرل صاحب ......

جناب چیئرمین: (لائبریرین سے) آپ کتابیں اکٹھی کرلیں۔

مرزا مسعود بیگ: جناب؟

جناب چیئرمین: ان سے کہہ رہا ہوں، کتابیں، میں نے کہا، اکٹھی کرلیں۔

مرزا مسعود بیگ: میرے فاضل دوست نے، کل دو تین دفعہ اٹارنی جنرل صاحب نے فرمایا تھا کہ ”آپ کو اس لئے بلایا گیا ہے کہ اسمبلی کو صحیح فیصلے پر پہنچنے میں مدد دیں۔“ اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ آپ کی عنایت ہے کہ آپ نے صحیح فیصلے پر پہنچنے کے لئے ہم سے سب کچھ پوچھا۔ تو دو دن کل ہمارے، کل اور آج اور اسے پہلے پندرہ دن مرزا صاحب کے دعاویٰ وغیرہ پر بہت بحث ہوئی اور آپ کی منشاء یہ ہے کہ ان کی پوزیشن کو سمجھا جائے کہ وہ کیا تھے؟ تو ان کا ایک دعویٰ، جس پہ بالکل بحث نہیں ہوئی۔ میں اس کی طرف جناب والا! کی توجہ دلانا چاہتا تھا کہ ایک ان کا اور بھی دعویٰ تھا۔ جو زیر بحث نہیں آیا۔ وہ دعویٰ یہ تھا کہ ہمیں خادم اسلام ہونے کے سوا اور کوئی دعویٰ نہیں ۔ مرزا صاحب 1853 کی زندگی کا مقصد بجز خدمت اسلام کے اور کچھ نہیں تھا۔ تو اس پہلو سے بھی ان کو جج کرنا چاہئے تھا کہ آیا ان کا کیا Contribution (حصہ) ہے۔ انہوں نے کیا کیا؟ جناب والا! اگر یہ درست ہے کہ درخت اپنے پھلوں سے پہچانا جاتا ہے، تو مرزا صاحب کے پھل برے نہیں ہیں۔ مرزا صاحب نے خدمت اسلام ......

مولوی مفتی محمود: چیئرمین صاحب! پوائنٹ آف آرڈر۔

جناب چیئرمین: جی۔

مولوی مفتی محمود: سوال یہ ہے کہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ شکریہ تو ادا ہو گیا۔ لیکن یہ Convince کرنے کی ان کو اجازت نہیں ہونی چاہئے۔ ......

جناب چیئرمین: میں نے تو یہ کہا تھا۔

مولوی مفتی محمود: یہ تو Convince کررہے ہیں ممبروں کو۔

جناب چیئرمین: ہاں۔

مرزا مسعود بیگ: نہیں، میں تو عرضداشت کر رہا ہوں۔

پروفیسر غفور احمد: یہ Statement (بیان) لکھ کر دے دیں۔ سرکولیٹ ہو جائے گا۔

جناب چیئرمین: لکھ کے آپ، It would be better۔

١١٤

صفحہ ١٨٢٥

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

پروفیسر غفور احمد: لکھ کر دے دیں۔ سرکولیٹ ہو جائے گا۔ Mr. Chairman: ہاں، It would be better if you send (جناب چیئرمین: اگر آپ لکھ کر بھیج دیں تو یہ بہتر ہوگا) it in writting. مرزا مسعود بیگ: بہت اچھا۔ Mr. Chairman: بس، That would be better, That's why I ...... مرزا مسعود بیگ: میں نے کہا سر! کہ آپ ...... 1854 Mr. Chairman: نہیں ، nobody is allowed to (جناب چیئرمین: کسی کو اس طرح بات کرنے کی اجازت نہیں) speak like this. میں نے اسی واسطے کہا تھا۔ پھر انہوں نے کہا تو ...... Only the questions مرزا مسعود بیگ: شکریہ، جناب! جناب چیئرمین: اچھا، آپ لکھ کے جو چیز بھیجیں گے۔ We will circulate among the Assembly members (ہم اسے اسمبلی اراکین کو بھیج دیں گے) آپ بیٹھیں، تشریف رکھیں۔

Now the head of the community......

(Interruption)

Mr. Chairman: I request the honourable members, especially Haji Maula Bakhsh Soomro and Saiyad Abbas Hussain Gardezi, Please, for five minutes, Have patience.

Now I will request the head of the community to testify on oath that whatever has been said by the secretary or by any of the witnesses or any other member of the Delegation, He swears that whatever has been said, he owns it and it is from him.

١١٥

TAN 28th Aug, 1974 No:13

تو آپ کا شکریہ ادا کرنے کے لیے میرے فاضل دوست نے، اشار جناب چیئرمین: مرزا مسعود بیگ: جناب چیئرمین: مرزا مسعود بیگ: نے فرمایا تھا کہ 'آپ کو اس لئے سمجھتا ہوں کہ یہ آپ کی عنایت تو دو دن کل ہمارے، کل اور آج بحث ہوئی اور آپ کی منشاء یہ ہے جس پر بالکل بحث نہیں ہوئی۔ میں بھی دعویٰ تھا۔ جو زیر بحث نہیں آی نہیں۔ مرزا صاحب 1853 کی زند بھی ان کو جج کرنا چاہئے تھا کہ آ کیا؟ جناب والا! اگر یہ درست ہ پھل برے نہیں ہیں۔ مرزا صاحب مولوی مفتی محمود: جناب چیئرمین: مولوی مفتی محمود: Convince کرنے کی ان کو جناب چیئرمین: مولوی مفتی محمود: جناب چیئرمین: مرزا مسعود بیگ: پروفیسر غفور احمد : پہ جناب چیئرمین:

صفحہ ١٨٢٦

1826 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

(جناب چیئرمین: میں حاجی مولا بخش سومرو اور مسٹر گردیزی سے التماس کروں گا کہ وہ پانچ منٹ صبر کریں۔ میں جماعت احمدیہ (لاہوری) کے سربراہ سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اس بات کی تصدیق کریں کہ انجمن کے سیکرٹری یا گواہ یا وفد کے کسی اور رکن نے جو کچھ کہا ہے، وہ اسے اپنی طرف سے سمجھتے ہیں۔ یہ بہت ضروری ہے) ان سے قسم دلوائیں اور یہ کہلوائیں کہ ”جو کچھ کہا گیا ہے، وہ میری طرف سے کہا گیا ہے۔“ جیسے بھی، جو بھی، Whatever method پڑھ دیں۔ آپ آجائیں۔

مولانا صدر الدین: حضرات! میری عرض ہے کہ میرے دوستوں نے جو کچھ بیان دیئے ہیں۔ ان کی ذمہ داری مجھ پر عائد ہوتی ہے۔ میں ذمے داری لیتا ہوں اور جو کچھ انہوں نے کہا وہ صحیح ہے۔

Mr. Chairman: Thank you. (جناب چیئرمین: آپ کا شکریہ!)

The Delegation is permitted to withdraw. (وفد کو جانے کی اجازت)

The honourable members may keep sitting.

1855 Reporters can also leave. They are free. no tape. Tomorrow, at 6:00 p.m, we will meet as House Committee, not as National Assembly. And at 3:30 we will start the funeral.

(معزز ارکان بیٹھے رہیں، رپورٹرز بھی جاسکتے ہیں۔ کل شام چھ بجے ہم ایوان کی کمیٹی کے طور پر اجلاس کریں گے، قومی اسمبلی کے طور پر نہیں اور ٣ بج کر ٣٠ منٹ پر تجہیز و تکفین کی رسم ہوگی)

[The special Committee of the whole House subsequently adjourned to meet at six of the clock, in the afternoon, on Thursday, the 29th August 1974.]

(پورے ایوان پر مشتمل خصوصی کمیٹی کا اجلاس ملتوی ہوا۔ پھر بروز جمعرات 6:00 بجے سہ پہر 29 اگست 1974ء کو ہوگا)

١١٦

صفحہ ١٨٢٧

LY OF PAKISTAN 28th Aug, 1974 No:13

(جناب چیئرمین: میں حاجی مولا کہ وہ پانچ منٹ صبر کریں۔ میں جماعت احمدیہ وہ اس بات کی تصدیق کریں کہ انجمن کے سیکرٹری اسے اپنی طرف سے سمجھتے ہیں۔ یہ بہت ضروری کچھ کہا گیا ہے، وہ میری طرف سے کہا گیا ہے۔ پڑھ دیں۔ آپ آجائیں۔

مولانا صدر الدین: حضرات! میـ دیئے ہیں۔ ان کی ذمہ داری مجھ پر عائد ہوتی ہے کہا وہ صحیح ہے۔

nk you.

(جناب چیئرمین: آپ کا شکریہ!)

itted to withdraw.

(وفد کو جانے کی اجازت)

ers may keep sitting. eave. They are free. no tape. p.m, we will meet as House Assembly. And at 3:30 we will

(معزز ارکان بیٹھے رہیں، رپورٹرز بھی طور پر اجلاس کریں گے، قومی اسمبلی کے طور پر نہیں او

ittee of the whole House eed at six of the clock, in the 9th August 1974.]

(پورے ایوان پر مشتمل خصوصی کمیٹی بجے سہ پہر 29 اگست 1974ء کو ہوگا)

14

1827 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 29th Aug, 1974 No:14

No. 14 400

THE

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN

PROCEEDINGS

OF

THE SPECIAL COMMITTEE OF THE

WHOLE HOUSE HELD IN CAMERA

TO CONSIDER THE QADIANI ISSUE

OFFICIAL REPORT

Thursday, the 29th August, 1974

Contains Nos. 1—21

CONTENTS

Pages

1 Report about Ch. Mohammad Iqbal, Ex-MNA's Fatal Accident .................. 1860-1861

2 Procedure for General Discussion on the Qadiani Issue ........................... 1861-1874

3 Qadiani Issue: General Discussion- Continued ......................................... 1874-1924

PRINTED BY THE MANAGER, PRINTING CORPORATION OF PAKISTAN PRESS, ISLAMABAD.

PUBLISHED BY THE NATIONAL BOOK FOUNDATION, ISLAMABAD.

1

صفحہ ١٨٢٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 29th Aug, 1974 No:14

No. 14

THE

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN

PROCEEDINGS

OF

THE SPECIAL COMMITTEE OF THE

WHOLE HOUSE HELD IN CAMERA

TO CONSIDER THE QADIANI ISSUE

OFFICIAL REPORT

Thursday, the 29th August, 1974

Contains Nos. 1—21

٢

1829 NATIONAL

1859 THE NATIONA (

PR

THE SPECIAL

WHOLE HOU

TO CONSIDER

ے کی کاروائی)

OF

Thursday رات)

The Special Co Camera in the Assemb Islamabad, at six o Chairman (Sahibzada

(سٹیٹ بینک بلڈنگ) اسلام آباد علیٰ) کی زیر صدارت منعقد ہوا)

(Recition (

صفحہ ١٨٢٩

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 29th Aug, 1974 No:14

1859

THE NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN

(قومی اسمبلی پاکستان)

---------

PROCEEDINGS

OF

THE SPECIAL COMMITTEE OF THE

WHOLE HOUSE HELD IN CAMERA

TO CONSIDER THE QADIANI ISSUE.

(کل ایوانی خصوصی کمیٹی، بند کمرے کی کاروائی)

---------

OFFICIAL REPORT

---------

Thursday, the 29th August. 1974. (٢٩؍اگست ١٩٧٤ء، بروز جمعرات)

---------

The Special Committee of the Whole House met in Camera in the Assembly Chamber, (State Bank Building), Islamabad, at six of the clock, in the Evening. Mr. Chairman (Sahibzada Farooq Ali) in the Chair.

(مکمل ایوان کی خصوصی کمیٹی کا اجلاس اسمبلی چیمبر (سٹیٹ بنک بلڈنگ) اسلام آباد بند کمرے میں شام ٦ بجے چیئرمین جناب (صاحبزادہ فاروق علی) کی زیر صدارت منعقد ہوا)

---------

(Recition from the Holy Quran) (تلاوت قرآن شریف)

---------

٣

صفحہ ١٨٣٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 29th Aug, 1974 No:14

1860 REPORT ABOUT CH. MOHAMMAD IQBAL,

EX- M.N.A's FATAL ACCIDENT

جناب عبدالحمید جتوئی: جناب والا! جہاں تک مجھے یاد ہے، چوہدری اقبال صاحب کا جو ایکسیڈنٹ تھا، آپ نے فرمایا تھا کہ اس کی پروسیڈنگ آئے گی تو میں ہاؤس کو بتاؤں گا۔ جو اطلاع ملی تھی اس کے مطابق ڈرائیور کے پاس لائسنس بھی نہ تھا اور وہ غیر ذمہ داری سے گاڑی چلا رہا تھا۔ میرا خیال ہے، جہاں تک مجھے یاد ہے، اس ہاؤس کو ابھی تک اطلاع نہیں دی گئی۔

جناب چیئرمین: ہمیں انہوں نے اطلاع نہیں دی۔

جناب عبدالحمید جتوئی: آخر وہ بھی اس ہاؤس کے معزز ممبر تھے۔

جناب چیئرمین: میں اس کے متعلق انہیں چٹھی لکھوں گا کہ ہمیں مطلع کیا جائے کہ کیا پروسیڈنگ ہوئی اور اس انکوائری کا Ultimate Result (حتمی نتیجہ) کیا ہوا۔ ہمیں ابھی تک کسی نے مطلع نہیں کیا۔

جناب عبدالحمید جتوئی: کیونکہ معزز ممبر تو ......

جناب چیئرمین: کوئی اطلاع نہیں ہے ابھی تک۔

جناب عبدالحمید جتوئی: ...... اس ہاؤس کی ڈیوٹی پر تھے اور ڈیوٹی سے واپس جا رہے تھے جس کی بناء پر ......

جناب چیئرمین: Convey (مطلع) کرتے ہیں، ان کو لیٹر لکھتے ہیں کہ کیوں جواب نہیں دیا اور جس وقت اس کا جواب آئے گا میں ہاؤس کو Convey (مطلع) کروں گا۔

مولانا عبدالمصطفیٰ الازہری: محترم سپیکر صاحب! اراکین اسمبلی، جیسا کہ آپ کے علم میں ہے، کہ وہ اکثر سکھر تشریف لے گئے تھے اور ان کے آنے میں کچھ دیر ہوگئی ہے اور ابھی تک وہ یہاں نہیں آ سکے ہیں، تو نماز کا وقت بھی ہو گیا ہے تو ......

1861 جناب چیئرمین: ایک منٹ، یہی بات کرنے لگا ہوں۔ مفتی صاحب سے تسلی کر لیں، تو ایک ریزولیوشن کی کاپی مرحوم کے لواحقین کو بھیج دی جائے گی اور ہم اپنے طور پر صوبائی حکومت کو لکھ دیں گے کہ اس کی جلد نہ صرف تفتیش مکمل کی جائے بلکہ اس کا پتہ لگایا جائے اور ہمیں اطلاع دی جائے With these words, I think (انہی الفاظ کے ساتھ، میرا خیال ہے) ویسے کورم تو پورا ہے۔

----------------

٤

صفحہ ١٨٣١

1831 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 29th Aug, 1974 No:14

PROCEDURE FOR GENERAL DISCUSSION ON

THE QADIANI ISSUE

(قادیانی مسئلہ پر عمومی بحث کا طریقہ کار)

ملک محمد اختر: تو پھر ہم کیوں وقت ضائع کریں؟ کام سٹارٹ کر لیں، طریقہ کار طے کرلیں۔ آج نئی بات کرنی ہے تو دس منٹ بعد بریک کر لیں گے۔ کیونکہ بلاوجہ ہم......

جناب چیئرمین: ویسے بھی مغرب کا ٹائم ہو گیا ہے۔

ملک محمد اختر: اگر ٹائم ہی ہو گیا ہے تو ٹھیک ہے۔

جناب چیئرمین: ان گھڑیوں میں بھی فرق ہے، دو دومنٹ پیچھے ہے۔

ملک محمد اختر: چلئے جی! اگر ٹائم ہو گیا ہے تو پھر ٹھیک ہے۔

Mr. Chairman: Then we will meet at 7:30 pm. in the meantime, I will discuss procedure, Maulana Sahib.

(جناب چیئرمین: پھر ساڑھے سات بجے شام دوبارہ ملیں گے۔ عین اس وقت میں طریقہ پر بحث کروں گا۔ مولانا صاحب!) کہ کس طرح سے سٹارٹ کرنا ہے۔

ملک محمد اختر: تو ملتوی کرنے سے پہلے آپ اس چیز پر غور کرلیں کہ کسی نے شاید آپ سے بات کرنی ہو کہ یہ کتاب ہے سیکنڈ ریزولیوشن کے متعلق اس کا مطلب ہے۔ پہلے ریزولیوشن کو ڈسکس کئے بغیر ہم سیکنڈ پر جائیں گے یا سیکنڈ کو پہلے لے کر یا دونوں کو ہم اکٹھا لیں گے؟

Mr. Chairman: This is open. Both can be taken up together. This is open for the members to settle whatever they like.

(جناب چیئرمین: یہ اوپن ہے۔ دونوں پر اکٹھے حصہ لیا جا سکتا ہے۔ یہ ممبران کے لئے اوپن ہے کہ وہ جیسے چاہیں اس کو حل کریں)

ملک محمد اختر: یہ آپ فیصلہ کر لیں جیسے آپ نے کرنا ہے۔

1862 جناب چیئرمین: کیونکہ اس پر رولز نہیں اپلائی کریں گے اپنا پروسیجر Adopt (اختیار) کریں گے۔

مولوی مفتی محمود: میرا خیال یہ ہے اس سلسلے میں کہ اس وقت دو تحریکیں آئی تھیں۔ پہلی تحریک جو جناب پیرزادہ صاحب نے پیش کی تھی وہ قرارداد کی صورت میں نہیں تھی۔ اس میں

٥

صفحہ ١٨٣٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 29th Aug, 1974 No:14

صرف یہ تھا کہ ختم نبوت پر یقین نہ رکھنے والوں کی اسلام میں کیا حیثیت ہے، اس پر بحث کی جائے اور دوسری جو ہے وہ قرارداد کی شکل اختیار کر چکی تھی۔ تو میرے خیال میں یہ ساری ایک ہی بات ہے اور اکٹھے سارے اس پر بحث کر سکتے ہیں۔

جناب چیئرمین: اکٹھی بحث ہو جائے گی۔

ملک محمد اختر: جناب ! دونوں اکٹھی زیر بحث آجائیں تو ہمیں اعتراض نہیں، تحریکیں دونوں ہی چلیں گی۔

جناب چیئرمین: ابھی ہم نے Put to vote (رائے دہی کے لئے پیش) تو نہیں کیں۔

مولانا غلام غوث ہزاروی: جناب چیئرمین صاحب! پہلے ایک قرارداد پیرزادہ صاحب نے پیش کی، پھر اپوزیشن ممبران نے پیش کی ایک قرارداد اور وہاں تو تجویز یا عبارت تھی۔ کوئی ایک تجویز ہم نے پیش کی تھی۔ وہ تجویز نہیں تھی بلکہ بل تھا۔ ہم نے تین ممبران کی طرف سے ایک تجویز پیش کی۔ وہ باقاعدگی کے ساتھ وہاں داخل ہوئی تو اس چیز کے بارے میں ہمیں بحث کرنے کی باقاعدہ اجازت ہونی چاہئے۔

جناب چیئرمین: باقاعدہ ہوگی۔

مولانا غلام غوث ہزاروی: اور اجازت ایسی ہو کہ جس طرح انہوں نے اپنا بیان سنایا ہے۔ اسی طرح ہم بھی سنائیں۔

جناب چیئرمین: مغرب کے بعد مولانا! ہم یہاں بیٹھیں گے۔ سب سے پہلے طریقہ کار پر بحث کریں گے۔ اس میں جو پہلے طریقہ کار ہم نے ڈسکس کیا تھا۔ اس پر ہم پھر ڈسکس کریں گے جو ممبران زبانی بیان دینا چاہیں، پڑھنا چاہیں یا بحث میں حصہ لینا چاہیں، یہاں آکر بحیثیت گواہ پیش ہو جائیں۔ جو آپ مناسب سمجھیں گے آپ کو پورا حق ہے۔

1863 مولوی مفتی محمود: میں اس میں اتنی پوزیشن واضح کر دوں کہ پوزیشن یہ ہے کہ ہم یہاں پر بحیثیت گواہ کے، جیسے کہ وہ دو فریق پیش ہوئے تھے اس طرح ہم پیش نہیں ہوں گے اور ہم اس مسئلے میں ان کے مقابلے میں ایک فریق کی حیثیت اختیار کرنے کے لئے تیار نہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارا موقف تمام مسلمانوں کا موقف ہے۔ اس میں ہم ان کے فریق بننے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ اس میں یہ صورتحال ہے کہ ہم ایک ممبر کی حیثیت سے ہیں اور ممبران کو حقائق واضح کرنے کے لئے اس پر بحث کرنے کا حق ہے اور ایک ممبر کی حیثیت میں ہم بحث کر سکتے ہیں۔

جناب چیئرمین: ٹھیک ہے۔

٦

صفحہ ١٨٣٣

LY OF PAKISTAN 29th Aug, 1974 No:14

صرف یہ تھا کہ ختم نبوت پر یقین نہ رکھنے والوں کی اور دوسری جو ہے وہ قرارداد کی شکل اختیار کر چکی ہے اور اکٹھے سارے اس پر بحث کر سکتے ہیں۔

جناب چیئرمین: اکٹھی بحث ہو جا

ملک محمد اختر: جناب! دونوں اکٹھی دونوں ہی چلیں گی۔

جناب چیئرمین: ابھی ہم نے vote

مولانا غلام غوث ہزاروی: ج صاحب نے پیش کی، پھر اپوزیشن ممبران نے پیش کوئی ایک تجویز ہم نے پیش کی تھی۔ وہ تجویز کمیٹی ایک تجویز پیش کی۔ وہ باقاعدگی کے ساتھ وہاں کرنے کی باقاعدہ اجازت ہونی چاہئے۔

جناب چیئرمین: باقاعدہ ہوگی۔ ا

مولانا غلام غوث ہزاروی: اور سنایا ہے۔ اسی طرح ہم بھی سنائیں۔

جناب چیئرمین: مغرب کے طریقہ کار پر بحث کریں گے۔ اس میں جو پا ڈسکس کریں گے جو ممبران زبانی بیان دینا چاہ آکر بحیثیت گواہ پیش ہو جائیں۔ جو آپ مناس

1863مولوی مفتی محمود: میں اس پ یہاں پر بحیثیت گواہ کے، جیسے کہ دو فریق پیش اس مسئلے میں ان کے مقابلے میں ایک فریق کی کہ ہمارا موقف تمام مسلمانوں کا موقف ہے ہیں۔ اس کے علاوہ اس میں یہ صورتحال ہے واضح کرنے کے لئے اس پر بحث کرنے کا حق

جناب چیئرمین: ٹھیک ہے۔

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 29th Aug, 1974 No:14

مولوی مفتی محمود: دلائل دیتے ہیں۔ اس لئے ہم نے وہ دلائل اکٹھے کرلئے ہیں۔ ایک تحریک کی صورت میں تو آپ سے اجازت لے لیں گے۔ وہ ہم پڑھ لیں گے۔

جناب چیئرمین: ٹھیک ہے۔

مولوی مفتی محمود: اور ہماری حیثیت یہ ہوگی کہ اگر ہم بطور گواہ کے پیش ہوتے ہیں تو میں سمجھتا ہوں کہ ہم جج نہیں رہ سکتے اور ہم اس میں فیصلہ نہیں کر سکتے۔

جناب چیئرمین: کیونکہ وہ گواہ کی حیثیت سے پیش ہو گئے تو پھر وہ ووٹ نہیں دے سکتے۔

مولوی مفتی محمود: ہاں! پھر ووٹ نہیں دے سکتے۔

جناب چیئرمین: لازمی بات ہے۔

مولانا غلام غوث ہزاروی: یہ مسئلہ شاید رہبر کمیٹی میں پیش ہو۔ اس میں فیصلہ ہو جائے گا طریقہ کار کے متعلق۔

جناب چیئرمین: ہاں جی! یہ ڈسکس ہوگا۔ ہم جب دوبارہ نماز کے بعد شروع کریں گے تو ڈسکس کر لیں گے۔ میری ایک عرض ہوگی کہ آپ لوگ جب بحث میں حصہ لیں تو ساتھ تجاویز بھی دیتے جائیں کہ یہ تجویز صحیح ہے، یہ غلط ہے۔

1864مولانا غلام غوث ہزاروی: وضاحت اس کی ہم یہیں کر سکتے ہیں کہ یا تو بحیثیت ممبر کے ہم کوئی بات کریں۔ یہ اسمبلی فیصلہ کرنے والی ہے، یہ جج کی حیثیت میں ہے۔ یہ ملک کا قانون پاس کرنے کے لئے ہے یا تو اس حیثیت میں بحث کریں اور یہی حیثیت صحیح ہے کہ نہ ہم حلف اٹھائیں۔

جناب چیئرمین: ٹھیک ہے۔ جیسے آپ مناسب سمجھیں۔

مولانا غلام غوث ہزاروی: آگے یہ طریقہ کار رہبر کمیٹی ......

جناب چیئرمین: اس کے بعد جتنی آپ کی پروسیڈنگ ہوگی اس پر سٹیئرنگ کمیٹی بیٹھ جائے گی اور فائنل کر لیں گے۔

مولوی مفتی محمود: میری گذارش یہ ہے کہ ہم نے یہ بات رہبر کمیٹی میں طے کر لی تھی کہ ہم کس طریقے سے پیش ہوں گے۔ اگر ہم گواہ کی حیثیت سے پیش ہو جاتے ہیں تو اس کے بعد میں سمجھتا ہوں کہ ہم جج کی حیثیت میں اپنا ووٹ استعمال نہیں کر سکتے۔

جناب چیئرمین: ہاں! پھر ووٹ نہیں ہو سکے گا۔ نیچرل جسٹس بھی یہی ہے، جیسا کہ مولانا صاحب نے ارشاد فرمایا ہے کہ جب وہ گواہ کی حیثیت میں پیش ہوں گے تو پھر ان ......

سردار عنایت الرحمن خان عباسی: میں، جناب! ایک چھوٹی سی گذارش کرنا چاہتا

٧

صفحہ ١٨٣٤

1834 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 29th Aug, 1974 No:14

ہوں اور وہ یہ ہے کہ جیسے مولانا صاحب نے ارشاد فرمایا ہے کہ جب وہ گواہ کی حیثیت میں پیش ہوں گے تو پھر ان کی جج کی حیثیت مجروح ہو جائے گی۔ لیکن ایک مسئلہ ہے، اس میں میں چاہتا ہوں کہ اس کی کسی نہ کسی طریقے سے وضاحت ہو جائے۔ وہ یہ ہے، جناب والا! کہ انہوں نے ایک فریق کی حیثیت سے بہت سی باتیں ایسی کی ہیں کہ جن میں میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہاؤس کے ان اراکین میں سے میں بھی ایک ہوں جن کا علم اس ضمن میں محدود ہے۔ مثال کے طور پر انہوں نے ایسے فتوے پیش کئے ہیں جن میں ایک خیال کے علماء کی طرف سے دوسرے خیال کے علماء کے خلاف یا مسلمانوں کے خلاف بہت سارے نازیبا اور ناروا الفاظ استعمال کئے گئے ہیں۔ اس لئے میں 1865آپ کی وساطت سے جناب مولانا صاحب سے گزارش کروں گا کہ آپ جج بے شک رہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ آپ اگر ایسے دو یا تین علماء صاحبان یہاں جو بیٹھے ہوئے ہیں ان کو اگر یہ موقع فراہم کریں کہ کم از کم ان کے اعتراض اور Charges (الزامات) کا وہ جواب دیں۔

جناب چیئرمین: یہ پرائیویٹ طور پر مشورہ دے دیں ان کو۔

سردار عنایت الرحمٰن خان عباسی: نہیں جی! مشورے کی بات تو نہیں ہے۔ میں تو چاہتا ہوں، جناب! مجھے تو ایسا فریق چاہئے جو اس ضمن میں تردید کرے یا پھر ہمیں خود اجازت دیں۔ ہم پھر جو کچھ اس ضمن میں درست ہے وہ کہہ دیں۔

مولوی مفتی محمود: میں اس سلسلے میں یہ عرض کروں.......

جناب چیئرمین: نہیں جی! یہ ڈسکس کر لیں گے۔

The House is adjourned to meet at 7:30 pm.

(ہاؤس کو ساڑھے سات بجے شام تک کے لئے ملتوی کیا جاتا ہے)

[The Special Committee adjourned for Maghrib prayers to meet at 7:30 pm.]

(خصوصی کمیٹی کو مغرب کی نماز کے لئے ساڑھے سات بجے تک ملتوی کیا جاتا ہے)

[The Special Committee re-assembled after Maghrib Prayers, Mr. Chairman (Sahibzada Farooq Ali) in the Chair.]

٨

1835 NATIONAL ASSEMBLY OF PA

مغرب کے بعد دوبارہ شروع ہوا مسٹر چیئرمین (صاحبزادہ )

Mr. Chairman: I will re members to be attentive.

ی معزز ممبران سے درخواست ہے کہ وہ متوجہ ہو جائیں)

زہری: تقریریں بعد میں کریں گے۔ جو پچھلی پروسیڈنگز شن پڑھ کر سنا دیتا ہوں تاکہ یاد دہانی ہو جائے۔ اس کے ٹیئرنگ کمیٹی نے فیصلے کئے تھے تیرہ جولائی کو۔ اس میں پہلا بل مکمل حصہ) ہے، اس میں پہلے تو کچھ جو کا پورشن ہے۔

1866 Before the resolutions members are considered in the S movers may make statement and e before the Steering committee.

مبران کی جانب سے پیش کی گئی قراردادوں سے پہلے محرکین ا کے سامنے اپنا نقطہ نظر واضح کر سکتے ہیں)

In the House, it was decided of Ahmadia Community (this was c been recorded, and questions have b of the House will have the right to and views recorded before the Speci of the material that has come before

احمدیوں کی جانب سے بیان دینے کے بعد (جو کہ ١٢؍جولائی والات کے جوابات دیئے گئے تھے۔ ممبران کو حق حاصل ہو گا کمیٹی کے سامنے موجود مواد کی روشنی میں پیش کر سکیں)

Mian Mohammad Atta

Also.

وری جماعت بھی)

٩

صفحہ ١٨٣٥

EMBLY OF PAKISTAN 29th Aug, 1974 No:14

ہوں اور وہ یہ ہے کہ جیسے مولانا صاحب نے ارشاد فرمایا گے تو پھر ان کی جج کی حیثیت مجروح ہو جائے گی۔ لیکن اس کی کسی نہ کسی طریقے سے وضاحت ہو جائے۔ وہ یہ ہے حیثیت سے بہت سی باتیں ایسی کی ہیں کہ جن میں میں سے میں بھی ایک ہوں جن کا علم اس ضمن میں محدود ہے پیش کئے ہیں جن میں ایک خیال کے علماء کی طرف مسلمانوں کے خلاف بہت سارے نازیبا اور ناروا الفا

1865 آپ کی وساطت سے جناب مولانا صاحب سے گ لیکن اس کے ساتھ ساتھ آپ اگر ایسے دو یا تین علماء صا موقع فراہم کریں کہ کم از کم ان کے اعتراض اور ges

جناب چیئرمین: یہ پرائیویٹ طور پر مشو

سردار عنایت الرحمٰن خان عباسی: نہیں چاہتا ہوں، جناب! مجھے تو ایسا فریق چاہئے جو اس قس دیں۔ ہم پھر جو کچھ اس ضمن میں درست ہے وہ کہہ دیں

مولوی مفتی محمود: میں اس سلسلے میں یہ عرض

جناب چیئرمین: نہیں جی ! یہ ڈسکس کر

urned to meet at 7:30 pm.

(ہاؤس کو ساڑھے سات بجے شام تک کے

mmittee adjourned for Maghrib -l

(خصوصی کمیٹی کو مغرب کی نماز کے لئے ساڑ

nittee re-assembled after Maghrib

(Sahibzada Farooq Ali) in the

٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 29th Aug, 1974 No:14

(خصوصی کمیٹی کا اجلاس مغرب کے بعد دوبارہ شروع ہوا مسٹر چیئرمین (صاحبزادہ فاروق علی) کرسی صدارت پر موجود ہیں)

Mr. Chairman: I will request the honourable members to be attentive.

(جناب چیئرمین: میری معزز ممبران سے درخواست ہے کہ وہ متوجہ ہو جائیں)

مولانا عبد المصطفیٰ الازہری: تقریریں بعد میں کریں گے۔ جو پچھلی پروسیڈنگز ہیں، میں آپ کو اس میں سے کچھ پورشن پڑھ کر سنا دیتا ہوں تاکہ یاد دہانی ہو جائے۔ اس کے مطابق اپنا طریق کار طے کرلیں گے سٹیئرنگ کمیٹی نے فیصلے کئے تھے تیرہ جولائی کو۔ اس میں پہلا جو Operative Portion (قابل عمل حصہ) ہے، اس میں پہلے تو کوئسچنز کا پورشن ہے۔

1866 Before the resolutions moved by the various members are considered in the Special Committee, the movers may make statement and explain thir view-point before the Steering committee.

(خصوصی کمیٹی میں شامل ممبران کی جانب سے پیش کی گئی قراردادوں سے پہلے محرکین اپنا بیان دے سکتے ہیں اور سٹیئرنگ کمیٹی کے سامنے اپنا نقطہ نظر واضح کر سکتے ہیں)

In the House, it was decided that after the statement of Ahmadia Community (this was on 12th July, 1974) has been recorded, and questions have been answered, members of the House will have the right to have their observations and views recorded before the Special Committee in the light of the material that has come before the Special Committee.

(ہاؤس میں یہ فیصلہ ہوا تھا کہ احمدیوں کی جانب سے بیان دینے کے بعد (جو کہ ١٢ جولائی ١٩٧٤ء کو دیا گیا) جسے ریکارڈ کیا گیا اور سوالات کے جوابات دیئے گئے تھے۔ ممبران کو حق حاصل ہوگا کہ وہ اپنے مشاہدات اور خیالات خصوصی کمیٹی کے سامنے موجود مواد کی روشنی میں پیش کر سکیں)

Mian Mohammad Attaullah: Lahori Jamaat Also.

(میاں محمد عطاء اللہ: لاہوری جماعت بھی)

٩

صفحہ ١٨٣٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 29th Aug, 1974 No:14

(جناب چیئرمین: جی ہاں!) Mr. Chairman: Yes. Mlik Mohammad Akhtar: It will be a sort of (ملک محمد اختر: یہ ایک طرح کا تحریری بیان ہوگا) written statement. Mr. Chairman: Yes. They should submit their views in writing and also have liberty to have their written statements recorded on oath. (جناب چیئرمین: ہاں! انہیں اپنے خیالات تحریری شکل میں جمع کروانے چاہئیں اور انہیں آزادی ہوگی اپنے تحریری بیانات کو حلف نامہ کے ساتھ جمع کروانے کی)

(عام بحث)

جناب چیئرمین: یہ ہاؤس نے Decide (فیصلہ) کیا ہوا ہے۔ اب آنریبل ممبرز جو چاہیں کریں۔ چاہے بحث میں حصہ لے لیں، چاہے زبانی کہہ دیں۔ چاہے Written (تحریری) بتا دیں۔ اس کے علاوہ وہ اگر کوئی چاہیں تو On Oath حلف اٹھا کر بھی سٹیٹمنٹ دے سکتے ہیں۔ اگر کوئی Fact (حقائق) ان کے سپیشل نالج میں ہوں۔ یہ سب آنریبل ممبران کی صوابدید پر ہے۔ جیسے وہ مناسب سمجھیں۔ لیکن ایک بات میں یہ عرض کر دوں۔ میں نے عرض کیا تھا کہ میں نے مولانا مفتی محمود اور پروفیسر غفور احمد سے دریافت کیا تھا انہوں نے یہ فرمایا تھا کہ ہم دو دن لیں گے ایک دن مولانا غلام غوث ہزاروی اور مولانا عبدالحکیم لیں گے اور باقی حضرات کے متعلق مجھے پیر زادہ صاحب نے بتایا ہے کہ وہ ایک یا دو دن لیں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ چار پانچ دن جنرل ڈسکشن ہو گی۔ اس واسطے جنرل ڈسکشن بھی رکھی گئی ہے۔ تاکہ ممبر صاحبان سپیشل کمیٹی میں Freely (آزادانہ) اپنی رائے کا اظہار کر سکیں۔

(بحث کے ساتھ تجاویز بھی)

1867 اس میں صرف یہ گزارش کروں گا کہ جب آپ اپنے خیالات کا اظہار کریں، چاہے ان کے بیانات کی روشنی میں کوئی بات اپنی طرف سے پیش کریں یا ان کی تردید کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ لازمی ہے کہ آپ اپنی تجاویز بھی دیتے جائیں کہ اگر اقلیت قرار دے دی جائے تو پھر کیا کیا اس کے فوائد ہوں گے۔ کیا کیا نقصان ہوں گے۔ اس کے علاوہ کیا طریق کار ہونا چاہئے۔ آئین میں ترمیم ہونی چاہئے یا کوئی سجیشن ہونی چاہئے یا اقلیت قرار نہیں دینی چاہئے۔

١٠

صفحہ ١٨٣٧

1837 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 29th Aug, 1974 No:14

اس میں آپ ان تمام امور کو مدنظر رکھیں گے تو Finally (آخر کار) جب ڈسکشن ختم ہو جائے گی تو سٹیئرنگ کمیٹی کو آسانی ہوگی۔ کیونکہ سب حضرات کی تجویزیں اس کے سامنے ہوں گی۔ جتنے ریزولیوشن موو ہوئے ہیں...... یا ایک ریزولیوشن پیرزادہ صاحب نے موو کیا ہے۔ ایک ریزولیوشن بائیس ممبر صاحبان نے پیش کیا ہے اور ایک ریزولیوشن تین ممبر صاحبان نے پیش کیا ہے۔ ایک ملک محمد جعفر صاحب نے پیش کیا ہے۔ وہ چاروں ریزولیوشنز اکٹھے Consider (شمار) ہوں گے۔ یہ نہیں کہ پہلے ایک ریزولیوشن پر بحث ہو جائے پھر دوسرے پر، پھر تیسرے پر۔ چاروں کے چاروں ریزولیوشنز جو ہیں وہ اکٹھے Consider (شمار) ہوں گے۔ ایک ریزولیوشن سردار شوکت حیات نے بھی پیش کیا تھا۔

جناب نعمت اللہ خان شنواری: سر! ایک ہمارا بھی تھا۔

(سات قراردادیں)

جناب چیئرمین: ہاں! ایک آپ کا بھی ہے۔ سات ریزولیوشن ہیں۔ وہ جتنے بھی ریزولیوشن ہیں، دوبارہ ایک دفعہ سائیکلو سٹائل کرا کے تمام ممبر صاحبان کو سرکولیٹ کئے جائیں گے تاکہ: They can refresh their memory; and in the light of these resolutions, (وہ اپنی یادداشت کو تازہ کر سکتے ہیں اور ان قراردادوں کی روشنی میں) وہ اپنی Recommendations (تجاویز) بھی دے سکتے ہیں اور اس کے علاوہ ممبر صاحبان جو بھی تجاویز پیش کریں، وہ اگر لکھ کر دے دیں تو وہ بھی ساتھ شامل کر لیا جائے گا تو Automatically (ازخود) ریکارڈ پر آ جائے گا۔ اس کے لئے اگر ممبر صاحبان نے زیادہ ٹائم 1868 لینا ہے تو ٹائم پر کوئی بندش نہیں ہے۔ لیکن اس میں بیٹھنا زیادہ پڑے گا۔ اس میں پھر اسی طرح دو، دو سیشنز تو کرنی پڑیں گی اور سنڈے کو بھی بیٹھنا پڑے گا۔

جناب عبدالحمید جتوئی: پوائنٹ آف آرڈر، سر! آپ نے کہا ہے کہ کوئی ممبر اگر اوتھ پر بیان دینا چاہے تو دے سکتا ہے تو اس میں میرا پوچھنے کا مطلب یہ تھا کہ جو اوتھ پر بیان دے گا تو وہ میرے خیال میں گواہ کی حیثیت سے بیان دے گا؟

جناب چیئرمین: جی ہاں!

جناب عبدالحمید جتوئی: اور جو گواہ کی حیثیت سے بیان دے گا اس پر جرح بھی ہو سکتی ہے؟

جناب چیئرمین: لازمی بات ہے، جرح بھی ہو سکتی ہے۔

جناب عبدالحمید جتوئی: ویسے عام طور پر جو بحث ہو گی ایسے ہی کریں گے۔

11

OF PAKISTAN 29th Aug, 1974 No:14

(جناب چیئرمین: جی ہاں!)

khtar: It will be a sort of

(ملک محمد اختر: یہ ایک طرح کا

They should submit their liberty to have their written

(جناب چیئرمین: ہاں! انہیں اور انہیں آزادی ہو گی اپنے تحریری بیانات کو )

جناب چیئرمین: یہ ہاؤس ۔ ممبرز جو چاہیں کریں۔ چاہے بحث میں حصہ (تحریری) بتا دیں۔ اس کے علاوہ وہ اگر کوئی دے سکتے ہیں۔ اگر کوئی Fact (حقائق) کی صوابدید پر ہے۔ جیسے وہ مناسب سمجھیں کیا تھا کہ میں نے مولانا مفتی محمود اور پروفیس ہم دو دن لیں گے ایک دن مولانا غلام غوث کے متعلق مجھے پیرزادہ صاحب نے بتایا ہے چار پانچ دن جنرل ڈسکشن ہوگی۔ اس واسطے کمیٹی میں Freely (آزادانہ) اپنی رائے

(بحث کے

1867 اس میں صرف یہ گزارش آ چاہے ان کے بیانات کی روشنی میں کوئی بات کے ساتھ ساتھ یہ لازمی ہے کہ آپ اپنی تجاو تو پھر کیا کیا اس کے فوائد ہوں گے۔ کیا کی چاہئے۔ آئین میں ترمیم ہونی چاہئے یا کوئی

صفحہ ١٨٣٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 29th Aug, 1974 No:14

جناب چیئرمین: ایسے ہی۔

جناب عبدالحمید جتوئی: اگر کوئی گواہ کی حیثیت سے پیش ہوگا تو پھر اس پر جرح ہوگی، پھر اس میں وہ ووٹ نہیں دے سکے گا۔

جناب چیئرمین: جرح لازماً ہوگی، اور اسے اخلاقاً ووٹ نہیں دینا چاہئے۔

Sardar Moula Bakhsh Soomro: Sir, I will request information.

(سردار مولا بخش سومرو: جناب عالی! میں کچھ معلومات حاصل کرنا چاہتا ہوں)

میر دریا خان کھوسو: میری گزارش یہ ہے کہ ممبر حضرات سے گواہی نہیں لینی چاہئے۔

جناب چیئرمین: یہ آپ کی مرضی ہے۔

میر دریا خان کھوسو: میں عرض کروں کہ اگر گواہی لینی ہے تو ہمیں بہت سے ہمارے جاننے والے علماء باہر سے میسر آ سکتے ہیں۔ ممبر صاحبان سے اگر آپ گواہی لینا شروع کریں گے اور ممبر صاحبان پر جرح کرنا شروع کریں گے تو یہ کوئی اچھی Tradition (روایت) نہیں ہے۔

Mr. Chairman: Sir, this is optional.

(جناب چیئرمین: جناب! یہ ایک اختیاری معاملہ ہے)

1869 میر دریا خان کھوسو: میں عرض کروں گا کہ اس طریقے سے نہ ہو معزز ممبران جنرل ڈسکشن میں حصہ لیں۔

جناب چیئرمین: ٹھیک ہے، یہ آپ کی مرضی ہے۔

Sardar Moula Bakhsh Soomro: Sir, my request and submission is that, as you said, there may be many resolutions before the House; there may be, Sir, many things. Therefore, only those resolutions which are not in common should be discussed and those which are in common should not be discussed.

(سردار مولا بخش سومرو: جناب عالی! میری درخواست یہ ہے کہ جیسا کہ آپ نے کہا کہ ہاؤس کے سامنے بہت سی قراردادیں ہیں۔ وہ مختلف چیزیں ہو سکتی ہیں۔ لہٰذا صرف ان

١٢

صفحہ ١٨٣٩

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 29th Aug, 1974 No:14

قرار دادوں پر بحث کرنی چاہئے جو مشترکہ نہیں ہیں اور ان قرار دادوں پر بحث نہیں کرنی چاہئے جو کہ ایک جیسی ہیں)

Mr. Chairman: The honourable members can point out these things in their arguments that these are common. Let us agree on this proposal. Strictly speaking, we are not following the procedure which is followed normally in legislation.

(جناب چیئرمین: معزز ممبران اپنے دلائل کے دوران نشاندہی کر سکتے ہیں کہ یہ چیزیں ایک جیسی ہیں۔ ہمیں اس رائے پر متفق ہو جانا چاہئے۔ زور دیتے ہوئے ہم عام طور پر قانون سازی کے لئے اختیار کئے جانے والے طریقہ کار پر نہیں چل رہے)

جناب عباس حسین گردیزی: میں جناب والا! جناب کھوسو صاحب کی تجویز سے اتفاق کرتا ہوں کہ کسی ممبر کو بطور گواہ پیش نہیں ہونا چاہئے۔

جناب چیئرمین: یہ مسئلہ ختم ہو چکا ہے دوسری بات کریں۔

جناب عباس حسین گردیزی: دوسری بات یہ ہے کہ مجھے ١٥ منٹ دیئے جائیں۔

جناب چیئرمین: آپ ١٥ منٹ کی بجائے آدھا گھنٹہ لیں۔ مسٹر عبدالعزیز بھٹی!

جناب عبدالعزیز بھٹی: جناب والا! جو بات جتوئی صاحب نے بتائی ہے میں اس تجویز سے متفق ہوں۔

جناب چیئرمین: میں سردار عبدالعلیم کی خدمت میں عرض کرتا ہوں کہ وہ کل تک مجھے لسٹ دے دیں ان ممبروں کی جو بحث میں حصہ لینا چاہتے ہیں اور اندازاً وقت بھی بتا دیں۔

List the participants who want to express something. I shall be grateful; as he is the Whip of the Party. Barq Saheb! (ان لوگوں کی لسٹ فراہم کریں جو کہ اظہار خیال کرنا چاہتے ہیں۔ میں شکر گزار ہوں گا کیونکہ برق صاحب اپنی پارٹی کے چیف وہپ ہیں)

1870 میاں محمد ابراہیم برق: کب سے شروع کرنا ہے؟

Mr. Chairman: We do not wait for anything.

(جناب چیئرمین: ہم کسی چیز کا انتظار نہیں کرتے)

١٣

OF PAKISTAN 29th Aug, 1974 No:14

جناب چیئرمین: ایسے ہی۔ ۔

جناب عبدالحمید جتوئی: اگر ہوگی، پھر اس میں وہ ووٹ نہیں دے سکے گا۔

جناب چیئرمین: جرح لازماً

sh Soomro: Sir, I will

(سردار مولا بخش سومرو: جنا

میر دریا خان کھوسو: میری گز

جناب چیئرمین: یہ آپ کی مر

میر دریا خان کھوسو: میں م ہمارے جاننے والے علماء باہر سے میر آ کریں گے اور ممبر صاحبان پر جرح کرنا (روایت) نہیں ہے۔

is optional.

(جناب چیئرمین: جناب ایسا

1869 میر دریا خان کھوسو: میں جنرل ڈسکشن میں حصہ لیں۔

جناب چیئرمین: ٹھیک ہے،

Soomro: Sir, my request said, there may be many there may be, Sir, many solutions which are not in and those which are in

(سردار مولا بخش سومرو: جنا کہا کہ ہاؤس کے سامنے بہت سی قرار دادی

صفحہ ١٨٤٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 29th Aug, 1974 No:14

مفتی صاحب کو فلور دوں گا۔

میاں محمد ابراہیم برق: ٹھیک ہے۔

جناب چیئرمین: راؤ محمد ہاشم!

جناب محمد ہاشم خان: جناب والا! میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ سپیشل کمیٹی کے بعد جب نیشنل اسمبلی میں اوپن اجلاس ہو گا تو اس میں بھی تقریریں کرنے کا موقع ملے گا؟

جناب چیئرمین: ابھی تو فیصلہ کریں کہ کس سٹیج پر پہنچتے ہیں۔ آپ تشریف رکھیں تاکہ یہ بھی واضح ہو۔ آپ نے ان کی سٹیٹمنٹ ریکارڈ کی ہیں۔ دونوں جماعتوں کی، اس کے بعد آپ اپنی رائے دیں گے۔ بحث کریں گے۔ اس کے بعد سٹیئرنگ کمیٹی بیٹھے گی۔ وہ ایک سفارش کو آخری شکل دے گی۔ مجھے تو امید ہے کہ یہ سفارشات کمیٹی آف دی ہول ہاؤس متفقہ طور پر منظور کر لے گی۔ منظوری کے بعد ان سفارشات کو نیشنل اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔ مثلاً وہ ایک سفارش پیش کرتی ہے کہ اس پر لیجسلیشن ہونی چاہئے۔ دستور میں ترمیم ہونی چاہئے۔

Then there is no need of discussion in the National Assembly or debating its recommendations. It is premature at this stage to say whether there will be...

(پھر قومی اسمبلی میں بحث اور ان کی آراء پر گفتگو کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اس موقع پر یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ آخر کار کیا ہو گا)

میاں مسعود احمد: جناب والا! میری گزارش ہے کہ جن پارٹیوں نے ریزولیوشن پیش کئے ہیں ان کے لیڈروں سے پوچھ لیا جائے کہ وہ اس ایویڈنس سے مطمئن ہیں جو انہوں نے دی ہے یا ان کی تردید میں کوئی ایویڈنس دیں گے۔

1871 Mr. Chairman: We don't want to put this condition. Free expression.

(جناب چیئرمین: ہم یہ شرط لاگو نہیں کرنا چاہتے۔ آزادانہ اظہار رائے کریں)

اب میری گزارش ہے...... ملک محمد جعفر!

ملک محمد جعفر: جناب والا! آپ نے فرمایا ہے کہ لسٹ دے دی جائے ممبروں کی جو بحث میں حصہ لینا چاہتے ہیں۔ میں گزارش کرتا ہوں کہ ایک عام اجلاس ہوتا ہے۔ اس میں ایک خاص بل ہوتا ہے۔ ایک ریزولیوشن ہوتا ہے تو اس میں ٹھیک ہے اور کمیٹی میں ٢٤، ٢٥ ریزولیوشن

١٤

صفحہ ١٨٤١

1841 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 29th Aug, 1974 No:14

ہیں ۔ ان میں پھر ترمیم ہوگی ۔ جس طرح ہم آئینی کمیٹی میں کام کرتے ہیں۔ اس میں آپ اتنا ......

Mr. Chairman: If it is convenient. Strictly no (جناب چیئرمین: اگر یہ آسان ہے، یقیناً کوئی پابندی نہیں ہے۔) restriction.

ملک محمد جعفر : اتنا سٹرکٹ نہ ہوں ۔

Mr. Chairman: No, no. I will not. (جناب چیئرمین: نہیں، نہیں ۔ میں نہیں ہوں )

ملک محمد جعفر : ہو سکتا ہے کہ درمیان میں کوئی تجویز پیش ہو اس کے متعلق ۔

Sir, as far as possible, the National Assembly.... (جناب! جہاں تک ممکن ہے قومی اسمبلی ......)

جناب چیئرمین: نہیں، نہیں ۔ میں سٹرکٹ نہیں ہوا ہوں۔ میں تو کبھی نیشنل اسمبلی میں بھی سٹرکٹ نہیں ہوا ہوں ۔

Just for convenience purpose, so that I could adjust (صرف آسانی کے پیش نظر میں اوقات کار کو ایڈجسٹ کر سکا ہوں) timings.

جناب محمد خان چوہدری: جناب والا ! گزارش ہے کہ ہم پبلک کے نمائندے ہیں۔ ہمیں بہت سے خطوط ملے ہیں کہ بحث میں ہم حصہ لیں۔ وہ ساری کارروائی شائع ہونی چاہئے ۔

1872

جناب چیئرمین: یہ ساری پروسیڈنگ پبلش ہوں گی۔ اسی واسطے اس کو ان کیمرہ رکھا گیا ہے تا کہ Members should not play to the gallery. The members should come with some realistic approach to the problem. The members should sit without making any comments. (ممبران کو گیلری میں بیٹھ کر کھیلنا نہ چاہئے۔ ممبران کو مسئلہ کو حل کرنے کے لئے حقیقت پسندانہ سوچ کے ساتھ آنا چاہئے ۔ ممبران کو خاموشی سے بیٹھنا چاہئے )

یہ لازماً پبلش ہوں گی ۔ لیکن مسٹر محمد خان ! جو آپ یہاں تقریر کریں گے باہر جا کر نہیں بتائیں گے، بالکل نہیں بتائیں گے ۔ مسٹر شنواری !

جناب نعمت اللہ خان شنواری: آج تک ہمیں ٢٤ تاریخ تک کی رپورٹیں ملی ہیں ۔ اگر ہمیں باقی رپورٹیں نہ مل سکیں تو ہم تقریریں کس طرح کریں گے؟

جناب چیئرمین: آپ کو باقی بھی مل جائیں گی۔

١٥

PAKISTAN 29th Aug, 1974 No:14

مفتی صاحب کو فلور دوں گا ۔

میاں محمد ابراہیم برق: مجھے

جناب چیئرمین: راؤ محمد ہاشم

جناب محمد ہاشم خان: جناب جب نیشنل اسمبلی میں اوپن اجلاس ہو گا تو

جناب چیئرمین: ابھی تو تا کہ یہ بھی واضح ہو ۔ آپ نے ان کی سٹیٹ آپ اپنی رائے دیں گے۔ بحث کریں ۔ آخری شکل دے گی۔ مجھے تو امید ہے کہ لے گی۔ منظوری کے بعد ان سفارشات پیش کرتی ہے کہ اس پر لیجسلیشن ہونی چا

iscussion in the National ndations. It is premature ll be...

( پھر قومی اسمبلی میں بحث اور موقع پر یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ آخر کار

میاں مسعود احمد: جناب پیش کئے ہیں ان کے لیڈروں سے پوچھ دی ہے یا ان کی تردید میں کوئی ایویڈنس و

don't want to put this

(جناب چیئرمین: ہم اب میری گزارش ہے......

ملک محمد جعفر: جناب والا بحث میں حصہ لینا چاہتے ہیں۔ میں گز خاص بل ہوتا ہے۔ ایک ریزولیوشن ہو

صفحہ ١٨٤٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 29th Aug, 1974 No: 14

جناب نعمت اللہ خان شنواری: یہی تو میں نے کہا تھا کہ دو دن کے بعد تقریریں ہونی چاہئیں۔

Mr. Chairman: No adjournment. Take it for granted. (جناب چیئرمین: کوئی التواء نہیں، اس کو معمول کی بات سمجھیں )

مفتی صاحب دو دن لیں گے۔ مفتی صاحب ! شروع کردیں۔

جناب نعمت اللہ خان شنواری: مفتی صاحب کی تقریر ختم ہونے کے بعد تقریریں ختم ہو جائیں گی۔

جناب چیئرمین: مجھے پتہ تھا کہ تکلیفیں راستے میں آئیں گی۔ میں نے مفتی صاحب کی خدمت میں عرض کیا ہے کہ آپ سٹارٹ کردیں۔

جناب نعمت اللہ خان شنواری: ان کی تقریر ہونے تک ہمیں باقی تقریریں مل جائیں گی؟

جناب چیئرمین: ڈاکٹر شفیع !

ڈاکٹر محمد شفیع: پہلے بھی کئی بار ذکر ہو چکا ہے۔

The Samdani Report is also very relevant. Let us have a copy of that also.

(صمدانی رپورٹ بھی اس مسئلہ سے متعلقہ ہے۔ اس کی بھی ایک نقل رکھ لیں )

1873 Mr. Chairman: I told the House; let the Law Minister come because it is not in my possession. The Government will release the Report; I cannot release it. I have noted it down. Therefore, when tomorrow Pirzada comes, I will take up this matter.

(جناب چیئرمین: میں نے ہاؤس کو بتا دیا ہے۔ وزیر قانون کو آنے دیں۔ کیونکہ یہ میرے اختیار میں نہیں ہے۔ حکومت رپورٹ جاری کرے گی میں نہیں کر سکتا۔ میں نے اس کو نوٹ کر لیا ہے۔ لہٰذا جب کل پیرزادہ آئیں گے تو میں اس کو دیکھوں گا )

ملک محمد اختر: ان کو سائیکلو سٹائل کروالیں گے۔

جناب چیئرمین: ایک منٹ میں فوٹوسٹیٹ کاپیاں ہو جائیں گی۔

شہزادہ سعید الرشید عباسی: میں یہی بات کرنے والا تھا۔

١٦

صفحہ ١٨٤٣

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 29th Aug, 1974 No:14

جناب چیئرمین: اچھا جی! شہادت صاحب!

رائے شہادت علی خان: جناب والا! آج جو کارروائی ہوئی ہے اس میں مرزائیوں اور احمدیوں نے اپنا نقطہ نگاہ پیش کیا ہے کہ ان کا نقطہ نگاہ کیا ہے اور کس طرح وہ اسلام کو سمجھتے ہیں۔

جناب چیئرمین: یہی تو بحث کریں گے کہ اس وجہ سے مسلمان نہیں، اس وجہ سے وہ غیر احمدی ہیں۔ اس وجہ سے یہ ہے، اس وجہ سے وہ ہے۔ آپ تشریف رکھیں۔ اچھا! کوئی اور صاحب؟

We should start with it? No other proposal?

(ہمیں اس سے آغاز کر دینا چاہئے؟ اور کوئی رائے نہیں؟)

Sardar Moula Bakhsh Soomro: Sir, as my previous speaker friend told that anybody who wants to speak or express his views, he must express whether he is a Qadiani or Ahmadi.

(سردار مولا بخش سومرو: جناب! جیسا کہ گزشتہ مقرر دوست نے بتایا کہ جو کوئی بھی بولنا یا اظہار خیال کرنا چاہتا ہے تو اسے پہلے یہ بتانا چاہئے کہ کیا وہ احمدی یا قادیانی ہے)

Mr. Chairman: No, no, rejected.

(جناب چیئرمین: نہیں، نہیں، مسترد کیا گیا)

بالکل وہ رجیکٹ ہے۔ ایک چھوٹی سی کتاب ہے، اس پر ڈسکشن ہوگی۔

چوہدری ممتاز احمد: اس شرط پر یہ تجویز منظور کی جائے کہ یہ شیعہ ہیں یا سنی یا کیا ہیں۔

Mr. Chairman: I will request the honourable members that now the discussion will be among the members, so I request them not to be hasty and not to leave the House before we finally conclude.

(جناب چیئرمین: میں تمام معزز ممبران سے درخواست کرتا ہوں کہ اب بحث چونکہ ممبران کے درمیان ہوگی۔ لہٰذا میں ان سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ جلد بازی نہ کریں اور جب تک ہم کسی حتمی نتیجہ تک نہ پہنچیں وہ ہاؤس نہ چھوڑیں) بالکل یہ بات غلط ہے۔ مفتی صاحب! تقریر کے لئے اٹھیں اور تقریر شروع کردیں۔ (مداخلت)

1874

Rana Mohammad Hanif Khan (Minister

١٧

F PAKISTAN 29th Aug, 1974 No:14

جناب نعمت اللہ خان شنواری: ہونی چاہئیں۔

djournment. Take it for

(جناب چیئرمین: کوئی ال مفتی صاحب دو دن لیں گے۔

جناب نعمت اللہ خان شنواری: ختم ہو جائیں گی۔

جناب چیئرمین: مجھے یہ صاحب کی خدمت میں عرض کیا ہے کہ آپ

جناب نعمت اللہ خان شنواری:

جناب چیئرمین: ڈاکٹر شفیع ا

ڈاکٹر محمد شفیع: پہلے بھی کئی بار ق

also very relevant. Let us

(صمدانی رپورٹ بھی اس مسئلہ پ

ld the House; let the Law pt in my possession. The ort; I cannot release it. I when tomorrow Pirzada

(جناب چیئرمین: میں نے میرے اختیار میں نہیں ہے۔ حکومت رپورٹ کر لیا ہے۔ لہٰذا جب کل پیرزادہ آئیں گے

ملک محمد اختر: ان کو سائیکلو سٹائل

جناب چیئرمین: ایک منٹ

شہزادہ سعید الرشید عباسی: م

صفحہ ١٨٤٤

1844 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 29th Aug, 1974 No:14

for Labour and Works): Before him I may be permitted.

(رانا محمد حنیف خان (وزیر لیبر اینڈ ورکس): ان سے قبل مجھے اجازت مل سکتی ہے)

Mr. Chairman: Sir, I am not talking of walk- out, although they walkd stealthily out of the Door, and leaving ten members here.

(جناب چیئرمین: جناب! میں باہر جانے کی بات نہیں کر رہا۔ اگرچہ وہ چپکے سے دروازہ سے باہر جارہے ہیں اور یہاں صرف دس ممبران رہ گئے ہیں)

جناب عباس حسین گردیزی: جناب والا! ایک وضاحت طلب پوائنٹ ہے۔

(مداخلت)

Mr. Chairman: I call the House to order.

(جناب چیئرمین: میں ہاؤس کو آرڈر کہتا ہوں)

Rana Mohammad Hanif Khan: After some time I may be permitted because I have to leave.

(رانا محمد حنیف خان: کچھ دیر بعد مجھے اجازت مل سکتی ہے۔ کیونکہ مجھے جانا ہے)

Mr. Chairman: This is not the final session:

(جناب چیئرمین: یہ آخری سیشن نہیں ہے)

جناب عباس حسین گردیزی: جناب والا! میں گزارش کرتا ہوں کہ کیا لکھی ہوئی تقریریں پڑھ سکتے ہیں؟

جناب چیئرمین: ہاں جی! آپ پڑھ سکتے ہیں۔ شعر بھی پڑھ سکتے ہیں۔

جناب عبدالحمید جتوئی: آپ پڑھے ہوئے کو لکھ کر پڑھ سکتے ہیں۔ (قہقہے)

QADIANI ISSUE- GENERAL DISCUSSION

جناب چیئرمین: مفتی محمود!

(آغاز تقریر مولانا مفتی محمود)

مولوی مفتی محمود: جناب اس تقریر میں جتنے بھی حوالے ہیں، کتابوں کے، اخبارات کے، وہ کتابیں یا اخباریں ہم نے یہاں پہنچادی ہیں۔ کوئی صاحب بھی چاہیں تو وہ لائبریری میں جاکر وہاں سے یہ حوالے دیکھ سکتے ہیں۔ کوئی کتاب یا حوالہ ایسا نہیں جو وہاں موجود نہ ہو۔

١٨

صفحہ ١٨٤٥

SSEMBLY OF PAKISTAN 29th Aug, 1974 No:14

s): Before him I may be permitted.

(رانا محمد حنیف خان (وزیر لیبر اینڈ ورکس - Sir, I am not talking of walk- out, althily out of the Door, and leaving

(جناب چیئرمین: جناب! میں باہر جانے دروازہ سے باہر جا رہے ہیں اور یہاں صرف دس ممبران ر

جناب عباس حسین گردیزی: جناب والا (مداخلت)

I call the House to order. (جناب چیئرمین: میں ہاؤس کو آرڈر کہتا ہ

mad Hanif Khan: After some ecause I have to leave. (رانا محمد حنیف خان: کچھ دیر بعد مجھے اجا

This is not the final session: (جناب چیئرمین: یہ آخری سیشن نہیں ہے

جناب عباس حسین گردیزی: جناب وا تقریریں پڑھ سکتے ہیں؟

جناب چیئرمین: ہاں جی! آپ پڑھ سکتے

جناب عبدالحمید جتوئی: آپ پڑھے ہوے

GENERAL DISCUSSION

جناب چیئرمین: مفتی محمود! (آغاز تقریر مولانا مف

مولوی مفتی محمود: جناب اس تقریر میں جت کے، وہ کتابیں یا اخباریں ہم نے یہاں پہنچادی ہیں۔ ک جاکر وہاں سے یہ حوالے دیکھ سکتے ہیں۔ کوئی کتاب یا حوا

١٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 29th Aug, 1974 No:14

QADIANI ISSUE-GENERAL DISCUSSION

ما كان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين

ملتِ اسلامیہ کا موقف

مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے سے متعلق

قومی اسمبلی پاکستان میں زیرِ غور قرارداد کی تشریح

برائے مطالعہ محترم اراکین

بمنجانب

اراکین قومی اسمبلی پاکستان

١٩

صفحہ ١٨٤٧

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 29th Aug, 1974 No:14

1876

ومن اظلم ممن افترى على الله كذبا او قال اوحى الى ولم يوح اليه شئ . (انعام:٩٣) ترجمہ: ”اور اس شخص سے زیادہ ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ باندھے، یا کہے کہ مجھ پر وحی آتی ہے۔ حالانکہ اس پر کوئی وحی نہ آئی ہو۔“

انه سيكون فى امتى كذابون ثلاثون كلهم يزعم انه نبى وانا خاتم النبيين لا نبى بعدى ، (ارشاد آنحضرت ﷺ) ترجمہ: ”میری امت میں تیس کذاب پیدا ہوں گے۔ ہر ایک یہ دعویٰ کرے گا کہ وہ نبی ہے۔ حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔“

(ابو داؤد ج ٢ ص ١٢٧، باب الفتن ، ترمذی ج ٢ ص ٤٥، ابواب الفتن)

مصور پاکستان کی فریاد

”میری رائے میں حکومت کے لئے بہترین طریق کار یہ ہوگا کہ وہ قادیانیوں کو ایک الگ جماعت تسلیم کر لے۔ یہ قادیانیوں کی پالیسی کے عین مطابق ہوگا اور مسلمان ان سے ویسی رواداری سے کام لے گا جیسے وہ باقی مذاہب کے معاملے میں اختیار کرتا ہے۔“ (حرف اقبال ص ١٢٨)

”ملت اسلامیہ کو اس مطالبے کا پورا پورا حق حاصل ہے کہ قادیانیوں کو علیحدہ کر دیا جائے۔ اگر حکومت نے مطالبہ تسلیم نہ کیا تو مسلمانوں کو شک گزرے گا کہ حکومت اس نئے مذہب کی 1877 علیحدگی میں دیر کر رہی ہے۔ حکومت نے ١٩١٩ء میں سکھوں کی طرف سے (ہندوؤں سے) علیحدگی کا انتظار نہ کیا۔ اب وہ قادیانیوں سے ایسے مطالبہ کے لئے کیوں انتظار کر رہی ہے؟“

(حرف اقبال ص ١٣٨)

مرزا غلام احمد قادیانی کے صاحبزادے مرزا بشیر احمد قادیانی کی رائے

”مسیح موعود (یعنی مرزا غلام احمد صاحب) کا یہ دعویٰ کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک مامور ہے اور یہ کہ اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ ہم کلام ہوتا ہے، دو حالتوں سے خالی نہیں، یا تو وہ نعوذ باللہ! اپنے دعویٰ میں جھوٹا ہے اور محض افتراء علی اللہ کے طور پر دعویٰ کرتا ہے، تو ایسی صورت میں نہ صرف، وہ کافر بلکہ بڑا کافر ہے، اور یا مسیح موعود اپنے دعویٰ الہام میں سچا ہے اور خدا سچ مچ اس سے ہم کلام ہوتا تھا، تو اس صورت میں بلاشبہ یہ کفر انکار کرنے والے پر پڑے گا۔ پس اب تم کو اختیار ہے کہ یا مسیح موعود کے منکروں کو مسلمان کہہ کر مسیح موعود پر کفر کا فتویٰ لگاؤ اور یا مسیح موعود کو سچا مان کر اس کے منکروں کو کافر جانو۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ تم دونوں کو مسلمان سمجھو۔“

(كلمة الفصل ص ١٢٣، مندرجہ ریویو آف ریلیجنز ج ١٤، ماہ مارچ و اپریل ١٩١٥ء)

٢٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAI

ور محمد علی لاہوری صاحب کا ایک قول

The Ahmadiyya Movement relation to Islam in which Christianity ) کے ساتھ وہی رشتہ رکھتی ہے جو عیسائیت کا یہودیت کے

(اقتباس از مباحثہ راولپنڈی مطبوعہ قادیان ص٢٤٠)

188 عقیدہ ختم نبوت

اور مرزائی جماعتیں س کہا ہے کہ: یہ حقیقت ہے کہ قادیان کے مرزا غلام احمد محمد ﷺ کے بعد نبی ہونے کا دعویٰ کیا۔“ اس کی مکمل تشریح آئندہ صفحات میں پیش کی جارہی ہے۔ ........

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ!

قرارداد

محتری!

کرنے کی اجازت چاہتے ہیں: حقیقت ہے کہ قادیان کے مرزا غلام احمد نے آخری نبی ویٰ کیا، نیز ہرگاہ کہ نبی ہونے کا اس کا جھوٹا اعلان، بہت سی کرنے کی اس کی کوششیں اسلام کے بڑے بڑے احکام کے سراج کی پیداوار تھا اور اس کا واحد مقصد مسلمانوں کے اتحاد

٢١

صفحہ ١٨٤٧

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 29th Aug, 1974 No:14

امیر جماعت لاہور محمد علی لاہوری صاحب کا ایک قول

The Ahmadiyya Movement stands in the same relation to Islam in which Christianity stood to Jusaism.

”تحریک احمدیت اسلام کے ساتھ وہی رشتہ رکھتی ہے جو عیسائیت کا یہودیت کے ساتھ تھا“

(اقتباس از مباحثہ راولپنڈی مطبوعہ قادیان ص٢٣٠)

1881 عقیدہ ختم نبوت

اور

مرزائی جماعتیں

1882 ہم نے اپنی قرارداد میں کہا ہے کہ: ”یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ قادیان کے مرزا غلام احمد نے آخری نبی حضرت محمد ﷺ کے بعد نبی ہونے کا دعویٰ کیا۔“ اس کی مکمل تشریح آئندہ صفحات میں پیش کی جارہی ہے۔......

1883 بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ !

قرارداد

جناب سپیکر، قومی اسمبلی پاکستان، محترمی!

ہم حسب ذیل تحریک پیش کرنے کی اجازت چاہتے ہیں:

ہر گاہ کہ یہ ایک مکمل مسلمہ حقیقت ہے کہ قادیان کے مرزا غلام احمد نے آخری نبی حضرت محمد ﷺ کے بعد نبی ہونے کا دعویٰ کیا، نیز ہر گاہ کہ نبی ہونے کا اس کا جھوٹا اعلان، بہت سی قرآنی آیات کو جھٹلانے اور جہاد کو ختم کرنے کی اس کی کوششیں اسلام کے بڑے بڑے احکام کے خلاف غداری تھیں۔ نیز ہر گاہ کہ وہ سامراج کی پیداوار تھا اور اس کا واحد مقصد مسلمانوں کے اتحاد کو تباہ کرنا اور اسلام کو جھٹلانا تھا۔

٢١

PAKISTAN 29th Aug, 1974 No:14

1876 و من اظلم ممن الیہ شئ ۔ (انعام:٩٣) ترجمہ: ”اور ا کہے کہ مجھ پر وحی آتی ہے۔ حالانکہ اس پر انہ سیکون فی امتی ک لا نبی بعدی . (ارشاد آنحضرت ﷺ ہر ایک یہ دعویٰ کرے گا کہ وہ نبی ہے۔ ح

معصو

”میری رائے میں حکومت الگ جماعت تسلیم کرلے۔ یہ قادیانیوں رواداری سے کام لے گا جیسے وہ باقی مذاہب ”ملت اسلامیہ کو اس مطالبہ جائے۔ اگر حکومت نے مطالبہ تسلیم نہ کیا کی 1877 علیحدگی میں دیر کر رہی ہے۔ حکوم علیحدگی کا انتظار نہ کیا۔ اب وہ قادیانیوں

مرزا غلام احمد قادیانی کے ح

”مسیح موعود (یعنی مرزا غلام مامور ہے اور یہ کہ اللہ تعالیٰ اس کے سات باللہ! اپنے دعویٰ میں جھوٹا ہے اور محض اف صرف، وہ کافر بلکہ بڑا کافر ہے، اور یا تو ہم کلام ہوتا تھا، تو اس صورت میں بلاشہ ہے کہ یا مسیح موعود کے منکروں کو مسلمان اس کے منکروں کو کافر جانو۔ یہ نہیں ہو سک

(کلمۃ الفصل ص

صفحہ ١٨٤٩

1848 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 29th Aug, 1974 No:14

نیز ہر گاہ کہ پوری امت مسلمہ کا اس پر اتفاق ہے کہ مرزا غلام احمد کے پیروکار، چاہے وہ مرزا غلام احمد مذکور کی نبوت کا یقین رکھتے ہوں یا اسے اپنا مصلح یا مذہبی رہنما کسی بھی صورت میں گردانتے ہوں، دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔

نیز ہر گاہ ان کے پیروکار چاہے انہیں کوئی بھی نام دیا جائے۔ مسلمانوں کے ساتھ گھل مل کر اور اسلام کا ایک فرقہ ہونے کا بہانہ کر کے اندرونی اور بیرونی طور پر تخریبی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔

نیز ہر گاہ کہ عالمی مسلم تنظیموں کی ایک کانفرنس میں جو مکۃ المکرمہ کے مقدس شہر میں رابطہ العالم الاسلامی کے زیر انتظام ٦ تا ١٠ اپریل ١٩٧٤ء کے درمیان منعقد ہوئی اور جس میں دنیا بھر کے تمام حصوں سے ١٤٠ مسلمان تنظیموں اور اداروں کے وفود نے شرکت کی۔ متفقہ 1884 طور پر یہ رائے ظاہر کی گئی کہ قادیانیت اسلام اور عالم اسلام کے خلاف ایک تخریبی تحریک ہے جو ایک اسلامی فرقہ ہونے کا دعویٰ کرتی ہے۔

اب اس اسمبلی کو یہ اعلان کرنے کی کارروائی کرنی چاہئے کہ مرزا غلام احمد کے پیروکار، انہیں چاہے کوئی بھی نام دیا جائے، مسلمان نہیں اور یہ کہ قومی اسمبلی میں ایک سرکاری بل پیش کیا جائے، تا کہ اس اعلان کو مؤثر بنانے کے لئے اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کی ایک غیر مسلم اقلیت کے طور پر ان کے جائز حقوق ومفادات کے تحفظ کے لئے احکام وضع کرنے کی خاطر آئین میں مناسب اور ضروری ترمیمات کی جائیں۔

1885 محرکین قرارداد

٢٢

1849 NATIONA

گئے۔

لی رسولہ خاتم النبیین و علی الدین عقیدے پر ہے، وہ یہ ہے کہ نبی سلسلے کی تکمیل ہو گئی اور آپ ﷺ ہ کے بعد کسی پر وحی آ سکتی ہے اور ت" کے نام سے معروف ہے اور لمہ کسی ادنیٰ اختلاف کے بغیر اس لی بلا مبالغہ بیسیوں آیات اور عی طور پر مسلم اور طے شدہ ہے اور بھی ہے اور موجب تطویل بھی۔ سرکار دو عالم ﷺ نے عقیدہ ختم

صفحہ ١٨٤٩

OF PAKISTAN 29th Aug, 1974 No:14

نیز ہر گاہ کہ پوری امت مسلمہ کا مرزا غلام احمد مذکور کی نبوت کا یقین رکھنے گردانتے ہوں، دائرہ اسلام سے خارج ہیں

نیز ہر گاہ ان کے پیروکار چاہے مل کر اور اسلام کا ایک فرقہ ہونے کا بہانہ مصروف ہیں۔

نیز ہر گاہ کہ عالمی مسلم تنظیموں رابطہ العالم الاسلامی کے زیر انتظام ٦ اور ١٠ بھر کے تمام حصوں سے ١٤٠ مسلمان تنظیموں یہ رائے ظاہر کی گئی کہ قادیانیت اسلام اور اسلامی فرقہ ہونے کا دعویٰ کرتی ہے۔

اب اس اسمبلی کو یہ اعلان کر انہیں چاہے کوئی بھی نام دیا جائے، مسلما جائے، تاکہ اس اعلان کو مؤثر بنانے کے کے طور پر ان کے جائز حقوق ومفادات مناسب اور ضروری ترمیمات کی جائیں۔

1885

١...... دستخط مولوی مفتی محمود ٣...... // مولانا شاہ احمد نورانی م ٥...... // مولانا سید محمد علی رضوی ٧...... // چوہدری ظہور الٰہی ٩...... // مولانا محمد ظفر احمد انصا ١١...... // صاحبزادہ احمد رضا خاں ١٣...... // مولانا صدر الشہید ١٥...... // جناب عمرہ خاں

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 29th Aug, 1974 No:14

١٧...... // جناب غلام فاروق ١٨...... // سردار مولا بخش سومرو ١٩...... // سردار شوکت حیات خان ٢٠...... دستخط حاجی علی احمد تالپور ٢١...... // راؤ خورشید علی خان ٢٢...... // رئیس عطاء محمد خان مری

نوٹ: بعد میں حسب ذیل ارکان نے بھی قرارداد پر دستخط کئے۔

٢٣...... // نوابزادہ میاں محمد ذاکر قریشی ٢٤...... // جناب غلام حسن خاں دھاندلا ٢٥...... // جناب کرم بخش اعوان ٢٦...... // صاحبزادہ محمد نذیر سلطان ٢٧...... // مہر غلام حیدر بھروانہ ٢٨...... // میاں محمد ابراہیم برق ٢٩...... // صاحبزادہ صفی اللہ ٣٠...... // صاحبزادہ نعمت اللہ خان شنواری ٣١...... // ملک جہانگیر خان ٣٢...... // جناب عبدالسبحان خان ٣٣...... // جناب اکبر خاں مہمند ٣٤...... // میجر جنرل جمالدار ٣٥...... // حاجی صالح خاں ٣٦...... // جناب عبدالمالک خان ٣٧...... // خواجہ جمال محمد کوریجہ

1886 بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ !

الحمدللّٰہ رب العالمین، والصلوٰۃ والسلام علٰی رسولہ خاتم النبیین وعلٰی آلہ واصحابہ اجمعین وعلٰی من تبعھم باحسان الیٰ یوم الدین

اسلام کی بنیاد توحید اور آخرت کے علاوہ جس اساسی عقیدے پر ہے، وہ یہ ہے کہ نبی آخر الزمان حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ پر نبوت اور رسالت کے مقدس سلسلے کی تکمیل ہو گئی اور آپ ﷺ کے بعد کوئی بھی شخص کسی بھی قسم کا نبی نہیں بن سکتا اور نہ آپ ﷺ کے بعد کسی پر وحی آسکتی ہے اور نہ ایسا الہام جو دین میں حجت ہو۔ اسلام کا یہی عقیدہ ”ختم نبوت“ کے نام سے معروف ہے اور سرکار دو عالم ﷺ کے وقت سے لے کر آج تک پوری امت مسلمہ کسی ادنیٰ اختلاف کے بغیر اس عقیدے کو جزو ایمان قرار دیتی آئی ہے۔ قرآن کریم کی بلامبالغہ بیسیوں آیات اور آنحضرت ﷺ کی سینکڑوں احادیث اس کی شاہد ہیں۔ یہ مسئلہ قطعی طور پر مسلم اور طے شدہ ہے اور اس موضوع پر بے شمار مفصل کتابیں بھی شائع ہوچکی ہیں۔

یہاں ان تمام آیات اور احادیث کو نقل کرنا غیر ضروری بھی ہے اور موجب تطویل بھی۔ البتہ یہاں جس چیز کی طرف بطور خاص توجہ دلانا ہے وہ یہ ہے کہ سرکار دو عالم ﷺ نے عقیدہ ختم

٢٣

صفحہ ١٨٥٠

1850 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 29th Aug, 1974 No:14

نبوت کی سینکڑوں مرتبہ توضیح کے ساتھ یہ پیشگی خبر بھی دی تھی کہ:

لا تقوم الساعة حتی يبعث دجالون كذابون قريباً من ثلاثين كلهم يزعم انه رسول الله . (صحیح بخاری ج ٢ ص ١٠٥٤، كتاب الفتن، صحیح مسلم ج ٢ ص ٣٩٧، کتاب الفتن) ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک تیس کے لگ بھگ دجال اور کذاب پیدا نہ ہوں۔ جن میں سے ہر ایک یہ دعویٰ کرے گا کہ وہ اللہ کا رسول ہے۔“

نیز ارشاد فرمایا تھا کہ: انه سيكون في امتی كذابون ثلثون كلهم يزعم انه نبي، وانا خاتم النبيين لا نبي بعدی . (ابوداؤد ج ٢ ص ١٢٧، باب الفتن، ترمذی ج ٢ ص ٤٥، ابواب الفتن) ”قریب ہے میری امت میں تیس جھوٹے پیدا ہوں گے۔ ہر ایک یہی کہے گا کہ میں نبی ہوں۔ حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔“ (صحیح مسلم)

اس حدیث میں آپ ﷺ نے اپنے بعد پیدا ہونے والے مدعیان نبوت کے لئے ”دجال“ کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔ جس کے لفظی معنی ہیں، ”شدید دھوکہ باز“ اس لفظ کے ذریعہ سرکار دو عالم ﷺ نے پوری امت کو خبردار فرمایا ہے کہ آپ ﷺ کے بعد جو مدعیان نبوت پیدا ہوں گے وہ کھلے لفظوں میں اسلام سے علیحدگی کا اعلان کرنے کے بجائے دجل وفریب سے کام لیں گے اور اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کر کے نبوت کا دعویٰ کریں گے اور اس مقصد کے لئے امت کے مسلمہ عقائد میں ایسی کتر بیونت کی کوشش کریں گے جو بعض ناواقفوں کو دھوکے میں ڈال سکے۔ اس دھوکے سے بچنے کے لئے امت کو یہ یاد رکھنا چاہئے کہ میں خاتم النبیین ہوں اور اس کا مطلب یہ ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔

چنانچہ آپ ﷺ کے ارشاد گرامی کے مطابق تاریخ میں آپ ﷺ کے بعد جتنے مدعیان نبوت پیدا ہوئے انہوں نے ہمیشہ اسی دجل وتلبیس سے کام لیا اور اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کر کے اپنے دعوائے نبوۃ کو چمکانے کی کوشش کی۔ لیکن چونکہ امت محمدیہ علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام قرآن کریم اور سرکار دوعالم ﷺ کی طرف سے اس بارے میں مکمل روشنی پاچکی تھی۔ اس لئے تاریخ میں جب کبھی کسی شخص نے اس عقیدے میں رخنہ اندازی کر کے نبوت کا دعوٰی کیا تو اسے باجماع امت ہمیشہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا گیا۔ قرونِ اولیٰ کے وقت سے جس کسی اسلامی حکومت یا اسلامی عدالت کے سامنے کسی مدعی نبوت کا مسئلہ پیش ہوا تو حکومت یا عدالت نے کبھی اس تحقیق میں پڑنے کی ضرورت نہیں سمجھی کہ وہ اپنی نبوت پر کیا دلائل وشواہد پیش کرتا ہے؟ اس کے بجائے صرف اس کے دعوائے نبوت کی بناء پر اسے کافر قرار دے کر

٢٤

صفحہ ١٨٥١

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 29th Aug, 1974 No:14

اس کے ساتھ کافروں ہی کا سا معاملہ کیا۔ وہ مسیلمہ کذاب ہو یا اسود عنسی یا سجاح یا طلیحہ یا حارث یا دوسرے مدعیان نبوت ، صحابہ کرامؓ نے ان کے کفر کا فیصلہ کرنے سے پہلے کبھی یہ تحقیق نہیں فرمائی کہ وہ عقیدہ ختم نبوت میں کیا تاویلات کرتے ہیں۔ بلکہ جب ان کا دعوائے نبوت ثابت ہو گیا تو 1888انہیں باتفاق کافر قرار دیا اور ان کے ساتھ کافروں ہی کا معاملہ کیا۔ اس لئے کہ ختم نبوت کا عقیدہ اس قدر واضح، غیر مبہم ناقابل تاویل اور اجماعی طور پر مسلم اور طے شدہ ہے کہ اس کے خلاف ہر تاویل اسی دجل وفریب میں داخل ہے جس سے آنحضرت ﷺ نے خبر دار کیا تھا۔ کیونکہ اگر اس قسم کی تاویلات کو کسی بھی درجے میں گوارا کر لیا جائے تو اس سے نہ عقیدہ توحید سلامت رہ سکتا ہے نہ عقیدہ آخرت اور نہ کوئی دوسرا بنیادی عقیدہ۔ اگر کوئی شخص عقیدہ ختم نبوت کا مطلب یہ بتانا شروع کر دے کہ تشریعی نبوت تو ختم ہو چکی لیکن غیر تشریعی نبوت باقی ہے تو اس کی یہ بات بالکل ایسی ہے جیسے کوئی شخص یہ کہنے لگے کہ عقیدہ توحید کے مطابق بڑا خدا تو صرف ایک ہی ہے۔ لیکن چھوٹے چھوٹے معبود اور دیوتا بہت سے ہو سکتے ہیں، اور وہ سب قابل عبادت ہیں۔ اگر اس قسم کی تاویلات کو دائرہ اسلام میں گوارا کر لیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اسلام کا اپنا کوئی عقیدہ، کوئی فکر، کوئی حکم اور کوئی اخلاقی قدر متعین نہیں ہے۔ بلکہ (معاذ اللہ) یہ ایک ایسا جامہ ہے جسے دنیا کا بدتر سے بدتر عقیدہ رکھنے والا شخص بھی اپنے اوپر فٹ کر سکتا ہے۔ لہٰذا امت مسلمہ قرآن وسنت کے متواتر ارشادات کے مطابق اپنے سرکاری احکام، عدالتی فیصلوں اور اجتماعی فتاویٰ میں اسی اصول پر عمل کرتی آئی ہے کہ نبی کریم ﷺ کے بعد جس کسی شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا، خواہ وہ مسیلمہ کذاب کی طرح کلمہ گو ہو، اسے اور اس کے متبعین کو بلا تامل کافر اور دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا گیا۔ چاہے وہ عقیدہ ختم نبوت کا کھلم کھلا منکر ہو، یا مسیلمہ کی طرح یہ کہتا ہو کہ آپ ﷺ کے بعد چھوٹے چھوٹے نبی آ سکتے ہیں۔ یا سجاح کی طرح یہ کہتا ہو کہ مردوں کی نبوت ختم ہو گئی اور عورتیں اب بھی نبی بن سکتی ہیں، یا مرزا غلام احمد قادیانی کی طرح اس بات کا مدعی ہو کہ غیر تشریعی ظلی اور بروزی اور امتی نبی ہو سکتے ہیں۔

امت مسلمہ کے اس اصول کی روشنی میں جو قرآن وسنت اور اجماع امت کی رو سے قطعی طے شدہ اور ناقابل بحث و تاویل ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی کے مندرجہ ذیل دعوؤں کو ملاحظہ فرمائیے: ”سچا خدا وہی خدا ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔“

(دافع البلاء ص ١١، خزائن ج ١٨ ص ٢٣١)

1889 ”میں رسول اور نبی ہوں، یعنی باعتبار ظلیت کاملہ کے، میں وہ آئینہ ہوں جس میں

٢٥

F PAKISTAN 29th Aug, 1974 No:14

نبوت کی سینکڑوں مرتبہ توضیح کے ساتھ یہ

لا تقوم الساعة حتى يبع انه رسول الله . (صحيح بخاری ج ٢ كتاب الفتن) ”قیامت اس وقت تک قائم پیدا نہ ہوں۔ جن میں سے ہر ایک یہ دعویٰ کر

نیز ارشاد فرمایا تھا کہ: انه سیک وانا خاتم النبيين لا نبي بعدى . (ابـ ابواب الفتن) 1887”اور قریب ہے میری ا کہ میں نبی ہوں۔ حالانکہ میں خاتم النبیین

اس حدیث میں آپ ﷺ ۔ ”دجال“ کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔ جس ۔ سرکار دو عالم ﷺ نے پوری امت کو خبر دار فر گے وہ کھلے لفظوں میں اسلام سے علیحدگی گے اور اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کر کے نبو مسلمہ عقائد میں ایسی کتر بیونت کی کوشش کر دھوکے سے بچنے کے لئے امت کو یہ یادرک ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔

چنانچہ آپ ﷺ کے ارشاد گر مدعیان نبوت پیدا ہوئے انہوں نے ہمیش ظاہر کر کے اپنے دعوائے نبوۃ کو چمکانے کی الصلوۃ و السلام قرآن کریم اور سرکار دو تھی۔ اس لئے تاریخ میں جب کبھی کسی محو دعویٰ کیا تو اسے باجماع امت ہمیشہ کافر ا وقت سے جس کسی اسلامی حکومت یا اسلا حکومت یا عدالت نے کبھی اس تحقیق میں دشوار پیش کرتا ہے؟ اس کے بجائے صرف

صفحہ ١٨٥٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 29th Aug, 1974 No:14

محمدی شکل اور محمدی نبوت کا کامل انعکاس ہے۔"

(نزول المسیح ص٣، خزائن ج١٨ ص٣٨١ حاشیہ)

"میں اس خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اس نے مجھے بھیجا ہے اور اسی نے میرا نام نبی رکھا ہے۔"

(تتمہ حقیقت الوحی ص٦٨، خزائن ج٢٢ ص٥٠٣)

"میں جب کہ اس مدت تک ڈیڑھ سو پیش گوئی کے قریب خدا کی طرف سے پا کر بچشم خود دیکھ چکا ہوں کہ صاف طور پر پوری ہوگئیں تو میں اپنی نسبت نبی یا رسول کے نام سے، کیونکر انکار کرسکتا ہوں اور جب کہ خود خدا تعالیٰ نے یہ نام میرے رکھے ہیں تو میں کیونکر رد کروں یا اس کے سوا کسی دوسرے سے ڈروں۔"

(ایک غلطی کا ازالہ ص٣، خزائن ج١٨ ص٢١٠)

"خدا تعالیٰ نے مجھے تمام انبیاء علیہم السلام کا مظہر ٹھہرایا ہے اور تمام نبیوں کے نام میری طرف منسوب کئے ہیں۔ میں آدم ہوں، میں شیث ہوں، میں نوح ہوں، میں ابراہیم ہوں، میں اسحق ہوں، میں اسماعیل ہوں، میں یعقوب ہوں، میں یوسف ہوں، میں عیسیٰ ہوں، میں موسیٰ ہوں، میں داؤد ہوں اور آنحضرت ﷺ کے نام کا میں مظہر اتم ہوں۔ یعنی ظلی طور پر محمد اور احمد ہوں۔"

(حاشیہ حقیقت الوحی ص٧٢، خزائن ج٢٢ ص٧٦)

"چند روز ہوئے ایک صاحب پر ایک مخالف کی طرف سے یہ اعتراض پیش ہوا کہ جس سے تم نے بیعت کی ہے وہ نبی اور رسول ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور اس کا جواب محض انکار کے الفاظ سے دیا گیا۔ حالانکہ ایسا جواب صحیح نہیں ہے۔ حق یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی وہ پاک وحی جو میرے پر نازل ہوتی ہے اس میں بیسیوں الفاظ رسول اور مرسل اور نبی کے موجود ہیں۔ نہ ایک دفعہ بلکہ صد ہا بار، پھر کیونکر یہ جواب صحیح ہوسکتا ہے۔"

(ایک غلطی کا ازالہ ص١، خزائن ج١٨ ص٢٠٦)

"ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم رسول اور نبی ہیں۔"

(اخبار بدر مورخہ ٥؍مارچ ١٩٠٨ء، ملفوظات ج١٠ ص١٢٧)

1890 انبیاء گرچہ بودہ اند بسے من بہ عرفان نہ کمترم زکسے

(نزول المسیح ص٩٩، خزائن ج١٨ ص٤٧٧)

یعنی 'انبیاء اگرچہ بہت سے ہوئے ہیں مگر میں معرفت میں کسی سے کم نہیں ہوں۔'

یہ صرف ایک انتہائی مختصر نمونہ ہے۔ ورنہ مرزا غلام احمد قادیانی کی کتابیں اس قسم کے دعووں سے بھری پڑی ہیں۔

مرزا صاحب کے درجہ بدرجہ دعوے

بعض مرتبہ مرزائی صاحبان مسلمانوں کو غلط فہمی میں ڈالنے کے لئے مرزا غلام احمد

٢٦

صفحہ ١٨٥٣

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 29th Aug, 1974 No:14

قادیانی کے ابتدائی دور کی عبارتیں پیش کرتے ہیں۔ جن میں انہوں نے علی الاطلاق دعوائے نبوت کو کفر قرار دیا ہے۔ لیکن خود مرزا قادیانی نے واضح کر دیا ہے کہ وہ مجدد، محدث، مسیح موعود اور مہدی کے مراتب سے ”ترقی“ کرتے ہوئے درجہ بدرجہ نبوت کے منصب تک پہنچے ہیں۔ انہوں نے اپنے دعوؤں کی جو تاریخ بیان کی ہے، اسے ہم پوری تفصیل کے ساتھ انہی کے الفاظ میں نقل کرتے ہیں تا کہ ان کی عبارت کو پورے سیاق میں دیکھ کر ان کا پورا مفہوم واضح ہو سکے۔ کسی نے مرزا صاحب سے سوال کیا تھا کہ آپ کی عبارتوں میں یہ تناقض نظر آتا ہے کہ کہیں آپ اپنے آپ کو ”غیر نبی“ لکھتے ہیں اور کہیں اپنے آپ کو ”مسیح سے تمام شان میں بڑھ کر“ قرار دیتے ہیں۔ اس کا جواب دیتے ہوئے مرزا صاحب (حقیقت الوحی) میں لکھتے ہیں: ”اس بات کو توجہ کر کے سمجھ لو کہ یہ اسی قسم کا تناقض ہے کہ جیسے براہین احمدیہ میں میں نے یہ لکھا تھا کہ مسیح ابن مریم آسمان سے نازل ہوگا۔ مگر بعد میں یہ لکھا کہ آنے والا مسیح میں ہوں، اس تناقض کا بھی یہی سبب تھا کہ اگرچہ خدا تعالیٰ نے براہین احمدیہ میں میرا نام عیسیٰ رکھا اور یہ بھی مجھے فرمایا کہ تیرے آنے کی خبر خدا اور رسول ﷺ نے دی تھی۔ مگر چونکہ ایک گروہ مسلمانوں کا اس اعتقاد پر جما ہوا تھا 1891 اور میرا بھی یہی اعتقاد تھا کہ حضرت عیسیٰ آسمان پر سے نازل ہوں گے، اس لئے میں نے خدا کی وحی کو ظاہر پر حمل کرنا نہ چاہا۔ بلکہ اس وحی کی تاویل کی اور اپنا اعتقاد وہی رکھا جو عام مسلمانوں کا تھا اور اسی کو براہین احمدیہ میں شائع کیا۔ لیکن بعد اس کے اس بارے میں بارش کی طرح وحی الٰہی نازل ہوئی کہ وہ مسیح موعود جو آنے والا تھا تو ہی ہے اور ساتھ اس کے صدہا نشان ظہور میں آئے اور زمین و آسمان دونوں میری تصدیق کے لئے کھڑے ہوگئے اور خدا کے چمکتے ہوئے نشان میرے پر جبر کر کے مجھے اس طرف لے آئے کہ آخری زمانہ میں مسیح آنے والا میں ہی ہوں۔ ورنہ میرا اعتقاد تو وہی تھا....... جو میں نے براہین احمدیہ میں لکھ دیا تھا۔ اسی طرح اوائل میں میرا یہی عقیدہ تھا کہ مجھ کو مسیح ابن مریم سے کیا نسبت ہے؟ وہ نبی ہے اور خدا کے بزرگ مقربین میں سے ہے اور اگر کوئی امر میری فضیلت کی نسبت ظاہر ہوتا تو میں اس کو جزئی فضیلت قرار دیتا تھا، مگر بعد میں جو خدا تعالیٰ کی وحی بارش کی طرح میرے پر نازل ہوئی اس نے مجھے اس عقیدے پر قائم نہ رہنے دیا اور صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا۔ مگر اس طرح سے کہ ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے امتی....... میں اس کی پاک وحی پر ایسا ہی ایمان لاتا ہوں جیسا کہ ان تمام خدا کی وحیوں پر ایمان لاتا ہوں جو مجھ سے پہلے ہو چکی ہیں۔...... میں تو خدا تعالیٰ کی وحی کی پیروی کرنے والا ہوں، جب تک مجھے اس سے علم نہ ہوا میں وہی کہتا رہا جو اوائل میں میں نے کہا اور جب مجھ کو اس کی طرف سے علم ہوا تو میں نے اس

٢٧

صفحہ ١٨٥٤

1854 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 29th Aug, 1974 No:14

کے مخالف کہا۔“

(حقیقت الوحی ص ١٤٩، ١٥٠، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٣، ١٥٤)

مرزا صاحب کی یہ عبارت اپنے مدعا پر اس قدر صریح ہے کہ کسی مزید تشریح کی حاجت نہیں، اس عبارت کے بعد اگر کوئی شخص ان کی اس زمانے کی عبارتیں پیش کرتا ہے۔ جب وہ 1892 دعوائے نبوت کی نفی کرتے تھے۔ (بزعم خویش) انہیں اپنے نبی ہونے کا علم نہیں ہوا تھا تو اسے دجل وفریب کے سوا اور کیا کہا جاسکتا ہے؟

مرزا صاحب کا آخری عقیدہ

حقیقت یہ ہے کہ مرزا صاحب کا آخری عقیدہ جس پر ان کا خاتمہ ہوا یہی تھا کہ وہ نبی ہیں۔ چنانچہ انہوں نے اپنے آخری خط میں جو ٹھیک ان کے انتقال کے دن اخبار عام میں شائع ہوا واضح الفاظ میں لکھا کہ: ”میں خدا کے حکم کے موافق نبی ہوں اور اگر میں اس سے انکار کروں تو میرا گناہ ہوگا اور جس حالت میں خدا میرا نام نبی رکھتا ہے تو میں کیونکر انکار کر سکتا ہوں، میں اس پر قائم ہوں۔ اس وقت تک جو اس دنیا سے گزر جاؤں۔“ (اخبار عام مورخہ ٢٦ مئی ١٩٠٨ء، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٩٧، منقول از حقیقت النبوۃ مرزا محمود ص ١٢٧، مباحثہ راولپنڈی ص ١٤٦)

یہ خط ٢٣ مئی ١٩٠٨ء کو لکھا گیا اور ٢٦ مئی کو اخبار عام میں شائع ہوا اور ٹھیک اسی دن مرزا صاحب کا انتقال ہو گیا۔

(At this stage Mr. Chairman vacated the Chair which was occupied by Dr. Mrs. Ashraf Khatoon Abbasi)

(اس موقع پر جناب چیئرمین نے کرسی صدارت چھوڑ دی اور ڈاکٹر مسز اشرف خاتون عباسی نے کرسی سنبھال لی)

مولوی مفتی محمود:

غیر تشریعی نبوت کا افسانہ

بعض مرتبہ مرزائی صاحبان کی طرف سے کہا جاتا ہے کہ مرزا صاحب نے غیر تشریعی نبوت کا دعویٰ کیا ہے اور غیر تشریعی نبوت، عقیدہ ختم نبوت کے منافی نہیں۔ لیکن دوسری مرزائی تاویلات کی طرح اس تاویل کے بھی صغریٰ کبریٰ دونوں غلط ہیں۔ اول تو یہ بات ہی سرے سے درست نہیں کہ مرزا صاحب کا دعویٰ صرف غیر تشریعی نبوت کا تھا۔

٢٨

صفحہ ١٨٥٥

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 29th Aug, 1974 No:14

1893 مرزا صاحب کا دعویٰ نبوت تشریعی

حقیقت تو یہ ہے کہ مرزا صاحب کے روز افزوں دعاوی کے دور میں ایک مرحلہ ایسا بھی آیا ہے جب انہوں نے غیر تشریعی نبوت سے بھی آگے قدم بڑھا کر واضح الفاظ میں اپنی وحی اور نبوت کو تشریعی قرار دیا ہے اور اسی بناء پر ان کے متبعین میں سے ظہیر الدین اروپی کا فرقہ انہیں کھلم کھلا تشریعی نبی مانتا تھا۔ اس سلسلہ میں مرزا صاحب کی چند عبارتیں یہ ہیں۔ اربعین نمبر ٤ میں لکھتے ہیں: ”ماسوا اس کے یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیا چیز ہے؟ جس نے اپنی وحی کے ذریعہ سے چند امر اور نہی بیان کئے اور اپنی امت کے لئے ایک قانون مقرر کیا۔ وہی صاحب الشریعت ہو گیا۔ پس اس تعریف کی رو سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں۔ کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہیں اور نہی بھی۔ مثلاً یہ الہام قل للمؤمنین یغضوا من ابصارهم ويحفظوا فروجهم ذلك ازکیٰ لهم یہ براہین احمدیہ میں درج ہے اور اس میں امر بھی ہے اور نہی بھی اور اس پر تیس برس کی مدت گزر گئی اور ایسا ہی اب تک میری وحی میں امر بھی ہوتے ہیں اور نہی بھی اور اگر کہو کہ شریعت سے وہ شریعت مراد ہے۔ جس میں نئے احکام ہوں تو یہ باطل ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ان هذا لفی الصحف الاولى صحف ابراهيم وموسىٰ یعنی قرآنی تعلیم توریت میں بھی موجود ہے اور اگر یہ کہو کہ شریعت وہ ہے جس میں باستیفاء امر اور نہی کا ذکر ہو تو یہ بھی باطل ہے۔ کیونکہ اگر توریت یا قرآن شریف میں باستیفاء احکام شریعت کا ذکر ہوتا تو پھر اجتہاد کی گنجائش نہ رہتی۔“

(اربعین نمبر ٤ ص ٧، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥، ٤٣٦)

مذکورہ بالا عبارت میں مرزا صاحب نے واضح الفاظ میں اپنی وحی کو تشریعی وحی قرار دیا ہے۔ اس کے علاوہ دافع البلاء میں مرزا صاحب لکھتے ہیں: ”خدا نے اس امت میں سے مسیح موعود بھیجا جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے اور اس نے اس دوسرے مسیح کا نام غلام احمد رکھا۔“

(دافع البلاء ص ١٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣)

1894 ظاہر ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام تشریعی نبی تھے اور جو شخص آپ سے تمام شان میں یعنی ہر اعتبار سے بڑھ کر ہو تو وہ تشریعی نبی کیوں نہیں ہوگا؟ اس لئے یہ کہنا کسی طرح درست نہیں کہ مرزا غلام احمد صاحب نے کبھی اپنی تشریعی نبوت کا دعویٰ نہیں کیا۔

اس کے علاوہ مرزائی صاحبان عملاً مرزا صاحب کو تشریعی نبی ہی قرار دیتے ہیں۔ یعنی ان کی ہر تعلیم اور ان کے ہر حکم کو واجب الاتباع مانتے ہیں۔ خواہ وہ شریعت محمدیہ علیٰ صاحبہا السلام

٢٩

BLY OF PAKISTAN 29th Aug, 1974 No:14

(جناب

کے مخالف کہا۔“

مرزا صاحب کی یہ عبارت اپنے مدعا پر نہیں، اس عبارت کے بعد اگر کوئی شخص ان کی ا 1892 دعوائے نبوت کی نفی کرتے تھے۔ (بزعم خویش دجل وفریب کے سوا اور کیا کہا جاسکتا ہے؟

مرزا صاحب کا

حقیقت یہ ہے کہ مرزا صاحب کا آخر ہیں۔ چنانچہ انہوں نے اپنے آخری خط میں جو شکا واضح الفاظ میں لکھا کہ: ”میں خدا کے حکم کے مواف گناہ ہوگا اور جس حالت میں خدا میرا نام نبی رکھتا ہوں۔ اس وقت تک جو اس دنیا سے گزر جاؤں

ج ٣ ص ٥٩٧، منقول از حقیقت النبوۃ مرزا محمود ص ١٢٧، ١٢

یہ خط ٢٣ مئی ١٩٠٨ء کو لکھا گیا اور ٢٦ مرزا صاحب کا انتقال ہو گیا۔

hairman vacated the Chair s. Ashraf Khatoon Abbasi)

(اس موقع پر جناب چیئرمین نے کر عباسی نے کرسی سنبھال لی)

مولوی مفتی محمود:

غیر تشریعی نب

بعض مرتبہ مرزائی صاحبان کی طرف نبوت کا دعویٰ کیا ہے اور غیر تشریعی نبوت، عقید تاویلات کی طرح اس تاویل کے بھی صغریٰ کبر درست نہیں کہ مرزا صاحب کا دعویٰ صرف غیر تش

صفحہ ١٨٥٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 29th Aug, 1974 No:14

کے خلاف ہو، چنانچہ مرزا صاحب نے اربعین نمبر ٤ پر لکھا ہے: ”جہاد یعنی دینی لڑائیوں کی شدت کو خدا تعالیٰ آہستہ آہستہ کم کرتا گیا ہے۔ حضرت موسیٰ کے وقت میں اس قدر شدت تھی کہ ایمان لانا بھی قتل سے بچا نہیں سکتا تھا اور شیر خوار بچے بھی قتل کئے جاتے تھے۔ پھر ہمارے نبی ﷺ کے وقت میں بچوں اور بوڑھوں اور عورتوں کا قتل کرنا حرام کیا گیا اور پھر بعض قوموں کے لئے بجائے ایمان کے صرف جزیہ دے کر مواخذہ سے بچانا قبول کیا گیا اور پھر مسیح موعود کے وقت قطعاً جہاد کا حکم موقوف کر دیا گیا۔“

(اربعین نمبر ٤ ص ١٤ حاشیہ، خزائن ج ١٧ ص ٤٤٣)

حالانکہ نبی کریم ﷺ کا واضح اور صریح ارشاد موجود ہے کہ الجہاد ماضٍ الیٰ یوم القیامۃ یعنی جہاد قیامت کے دن تک جاری رہے گا۔ مرزائی صاحبان شریعت محمدیہؐ کے اس صریح اور واضح حکم کو چھوڑ کر مرزا صاحب کے حکم کی اتباع کرتے ہیں۔ اس طرح شریعت محمدیہ میں جہاں خمس، فئ، جزیہ اور غنائم کے تمام احکام جو حدیث اور فقہ کی کتابوں میں سینکڑوں صفحات پر پھیلے ہوئے ہیں۔ ان سب میں مرزا صاحب کے مذکورہ بالا قول کے مطابق تبدیلی کے قائل ہیں۔ اس کے بعد تشریعی نبوت میں کون سی کسر باقی رہ جاتی ہے؟

ختم نبوت میں کوئی تفریق نہیں

اور اگر بالفرض یہ درست ہو کہ مرزا صاحب ہمیشہ غیر تشریعی نبوت ہی کا دعویٰ کرتے رہے ہیں، تب بھی ہم پہلے بیان کر چکے ہیں کہ عقیدہ ختم نبوت میں یہ تفریق کرنا کہ فلاں قسم کی نبوت ختم ہو گئی ہے اور فلاں قسم کی باقی ہے۔ اسی ”دجل وتلبیس“ کا ایک جزو ہے جس سے سرکار دوعالم ﷺ نے خبردار فرمایا تھا۔ سوال یہ ہے کہ قرآن کریم کی کون سی آیت یا سرکار دوعالم ﷺ کے کون سے ارشاد میں یہ بات مذکور ہے کہ ختم نبوت کے جس عقیدے کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولؐ کی طرف سے سینکڑوں بار دہرایا جارہا ہے وہ صرف تشریعی نبوت کے لئے ہے اور غیر تشریعی نبوت اس سے مستثنیٰ ہے۔ اگر غیر تشریعی انبیاء کا سلسلہ آپ ﷺ کے بعد بھی جاری تھا تو قرآن کریم کی ابدی آیات نے، سرکار دوعالم ﷺ کی لاکھوں احادیث میں سے کسی ایک حدیث نے، یا صحابہ کرامؓ کے بے شمار اقوال میں سے کسی ایک قول ہی نے یہ بات کیوں بیان نہیں کی؟ بلکہ کھلے لفظوں میں ہمیشہ یہی واضح کیا جاتا رہا کہ ہر قسم کی نبوت بالکل منقطع ہو چکی اور اب کسی قسم کا کوئی نبی نہیں آئے گا۔ ختم نبوت کی سینکڑوں احادیث میں سے خاص طور پر مندرجہ ذیل احادیث دیکھئے۔

صحیح ج ٢ ص ٤٣، ابواب الرؤیا) ”بے شک رسالت اور نبوت منقطع ہوچکی۔ پس نہ میرے بعد

٣٠

صفحہ ١٨٥٧

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 29th Aug, 1974 No:14

کوئی رسول ہوگا اور نہ نبی۔“ یہاں اوّل تو نبی اور رسول کے ساتھ نبوت اور رسالت کے وصف ہی کو بالکلیہ منقطع قرار دیا گیا۔ دوسرے رسول اور نبی دو لفظ استعمال کر کے دونوں کی علیحدہ علیحدہ نفی کی گئی اور یہ بات طے شدہ ہے کہ جہاں یہ دونوں لفظ ساتھ ہوں۔ وہاں رسول سے مراد نئی شریعت لانے والا اور نبی سے مراد پرانی شریعت ہی کا متبع ہوتا ہے۔ لہٰذا اس حدیث نے ”تشریعی اور غیر تشریعی دونوں قسم کی نبوت کو صراحتاً ہمیشہ کے لئے منقطع قرار دے دیا۔“

اس میں حضرت ابن عباسؓ کی روایت کے مطابق یہ الفاظ بھی تھے: یا ایها الناس لم يبق من مبشرات النبوة الا الرؤيا الصالحة (رواه مسلم ج١ ص ١٩١، باب النهى عن قرأة القرآن فى الرکوع والسجود) اے لوگو! مبشرات نبوت میں سے سوائے اچھے خوابوں کے کچھ باقی نہیں رہا۔

کانت بنو اسرائیل تسوسهم الانبیاء کلما هلک نبی خلفه نبی و انه لا نبی بعدی و سیکون خلفاء فیکثرون قالوا فما تامرنا قال فوا بیعت الاول فالاول اعطوهم

حقهم (صحیح بخاری ج١ ص ٤٩١، کتاب الانبیاء، مسلم ج٢ ص ١٢٦، کتاب الامارة)

”بنی اسرائیل کی سیاست انبیاء علیہم السلام کرتے تھے۔ جب کوئی نبی وفات پاتا تو دوسرا نبی اس کی جگہ لے لیتا اور میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔ البتہ خلفاء ہوں گے اور بہت ہوں گے۔ صحابہؓ نے عرض کیا: خلفاء کے بارے میں آپ ﷺ کا کیا ارشاد ہے۔ فرمایا کہ یکے بعد دیگرے ان کی بیعت کا حق ادا کرو۔“

اس حدیث میں جن انبیائے بنی اسرائیل کا ذکر ہے وہ کوئی نئی شریعت نہیں لائے تھے۔ بلکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام ہی کی شریعت کا اتباع کرتے تھے۔ لہٰذا غیر تشریعی نبی تھے۔ حدیث میں آنحضرت ﷺ نے بتا دیا کہ میری امت میں ایسے غیر تشریعی نبی بھی نہیں ہوں گے۔ نیز لا نبی بعدى کہنے کے ساتھ آپ ﷺ نے اپنے بعد آنے والے خلفاء تک کا ذکر کر دیا۔ لیکن کسی غیر تشریعی یا ظلی بروزی نبی کا کوئی اشارہ بھی نہیں دیا۔ یہ عجیب بات ہے کہ مرزائی اعتقاد کے مطابق دنیا میں ایک ایسا عظیم نبی آنے والا تھا۔ جو تمام انبیائے بنی اسرائیل سے افضل تھا۔ اس میں (معاذ اللہ) تمام کمالات محمدیہ دوبارہ جمع ہونے والے تھے اور اس کے تمام انکار کرنے والے کافر، گمراہ، شقی اور عذاب الٰہی کا نشانہ بننے والے تھے۔ اس کے باوجود اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے نہ صرف یہ کہا کہ آپ ﷺ کے بعد تمام نبوت کا دعویٰ کرنے والے دجال ہوں گے اور

٣١

Y OF PAKISTAN 29th Aug, 1974 No:14

کے خلاف ہو، چنانچہ مرزا صاحب نے اربعین خدا تعالیٰ آہستہ آہستہ کم کرتا گیا ہے۔ حضرت بھی قتل سے بچا نہیں سکتا تھا اور شیر خوار بچے بھی میں بچوں اور بوڑھوں اور عورتوں کا قتل کرنا حر کے صرف جزیہ دے کر مواخذہ سے بچانا قبو موقوف کر دیا گیا۔“

حالانکہ نبی کریم ﷺ کا واضح اور م القیامة یعنی جہاد قیامت کے دن تک جاری اور واضح حکم کو چھوڑ کر مرزا صاحب کے حکم کی ا خمس، فئ، جزیہ اور غنائم کے تمام احکام جو ہوئے ہیں۔ ان سب میں مرزا صاحب کے کے بعد تشریعی نبوت میں کون سی کسر باقی رہ ج

ختم نبوت :

اور اگر بالفرض یہ درست ہو کہ م رہے ہیں، تب بھی ہم پہلے بیان کر چکے ہیں نبوت ختم¹⁸⁹⁵ ہوگئی ہے اور فلاں قسم کی باقی سرکار دو عالم ﷺ نے خبردار فرمایا تھا۔ سوال کے کون سے ارشاد میں یہ بات مذکور ہے ک رسول کی طرف سے سینکڑوں بار دہرایا جا رہ نبوت اس سے مستثنیٰ ہے۔ اگر غیر تشریعی ان کریم کی ابدی آیات نے، سرکار دو عالم ﷺ یا صحابہ کرامؓ کے بے شمار اقوال میں سے کسی لفظوں میں ہمیشہ یہی واضح کیا جاتا رہا کہ ہ نہیں آئے گا۔ ختم نبوت کی سینکڑوں احادیث

صحیح ج٢ ص ٥٣، ابواب الرؤیا) ”بیک

صفحہ ١٨٥٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 29th Aug, 1974 No:14

آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی پیدا نہیں ہو سکتا۔ اپنے بعد کے خلفاء تک کا ذکر کیا گیا۔ لیکن ایسے عظیم الشان نبی کی طرف کوئی اشارہ تک نہیں کیا گیا۔ اس کا مطلب اس کے سوا اور کیا نکلتا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے (معاذ اللہ) اپنے بندوں کو جان بوجھ کر ہمیشہ کے لئے ایک گمراہ کن دھوکے میں مبتلا کر دیا تا کہ وہ علی الاطلاق ہر قسم کی نبوت کو ختم 1897 سمجھیں اور آنے والے غیر تشریعی نبی کو جھٹلا کر کافر، گمراہ اور مستحق عذاب بنتے رہیں؟ کیا کوئی شخص دائرہ اسلام میں رہتے ہوئے اس بات کا تصور بھی کر سکتا ہے؟

عربی صرف و نحو کا ابتدائی طالب علم بھی جانتا ہے کہ عربی زبان کے قواعد کی رو سے لا نبی بعدی (میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا) کا جملہ ایسا ہی ہے جیسے لا الہ الا اللہ (اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں) لہٰذا اگر اوّل الذکر جملے میں کسی چھوٹے درجے کے غیر تشریعی یا ظلی نبی کی گنجائش نکل سکتی ہے تو کوئی شخص یہ کیوں نہیں کہہ سکتا کہ مؤخرالذکر جملے میں ایسے چھوٹے خداؤں کی گنجائش ہے۔ جن کی معبودیت (معاذ اللہ) اللہ تعالیٰ کا ظل، بروز ہونے کی وجہ سے ہے اور جو مستقل بالذات خدا نہیں۔ ہر باخبر انسان کو معلوم ہے کہ دنیا کی بیشتر مشرک قومیں ایسی ہیں جو مستقل بالذات خدا صرف اللہ تعالیٰ کو قرار دیتی ہیں اور ان کا شرک صرف اس بناء پر ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کچھ ایسے دیوتاؤں اور معبودوں کی بھی قائل ہیں۔ جن کی خدائی مستقل بالذات نہیں۔ کیا ان کے بارہ میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ لا الہ الا اللہ کے قائل ہیں؟ اگر بالواسطہ خداؤں کے اعتقاد کے ساتھ اسلام کا پہلا عقیدہ یعنی عقیدۂ توحید سلامت نہیں رہ سکتا تو آپ ﷺ کے بعد بالواسطہ یا غیر تشریعی انبیاء کے اعتقاد کے ساتھ اسلام کا دوسرا عقیدہ یعنی ختم نبوت اور نزول کیسے کھپ سکتا ہے؟

(ختم نبوت اور نزول مسیح)

یہاں یہ بھی واضح رہنا چاہئے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کی حیات اور نزول ثانی کے عقیدے کو عقیدہ ختم نبوت سے متضاد قرار دینا اسی غلط بحث کا شاہکار ہے۔ جسے احادیث میں مدعیان نبوت کے دجل سے تعبیر کیا گیا ہے۔ ختم نبوت کی آیات اور احادیث کو پڑھ کر ایک معمولی سمجھ کا انسان بھی وہی مطلب سمجھے گا۔ جو پوری امت نے اجماعی طور پر سمجھے ہیں۔ یعنی یہ کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی پیدا نہیں ہو سکتا۔ اس سے یہ نرالا نتیجہ کوئی ذی ہوش نہیں نکال سکتا کہ آپ ﷺ کے بعد پچھلے انبیاء علیہم السلام کی نبوت چھن گئی ہے یا پچھلے انبیاء میں سے کوئی باقی نہیں رہا۔ 1898 اگر کسی شخص کو آخرالاولاد یا خاتم الاولاد یعنی فلاں شخص کا آخری لڑکا قرار دیا جائے تو کیا

٣٢

صفحہ ١٨٥٩

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 29th Aug, 1974 No:14

کوئی شخص بقائمی حواس اس کا یہ مطلب سمجھ سکتا ہے کہ اس لڑکے سے پہلے جتنی اولاد ہوئی تھی وہ سب مر چکی؟ پھر آخر خاتم الانبیاء یا آخرالانبیاء کے لفظ کا یہ مطلب کون سی لغت، کون سی عقل اور کون سی شریعت کی روشنی میں لیا جاسکتا کہ آپ ﷺ سے پہلے جتنے انبیاء علیہم السلام تشریف لائے تھے وہ سب وفات پا چکے؟ خود مرزا صاحب خاتم الاولاد کے معنی بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ”سو ضرور ہوا کہ وہ شخص جس پر یہ کمال و تمام دورۂ حقیقت آدمیہ ختم ہو وہ خاتم الاولاد ہو، یعنی اس کی موت کے بعد کوئی کامل انسان کسی عورت کے پیٹ سے نہ نکلے۔“

(تریاق القلوب ص ١٥٦، خزائن ج ١٥ ص ٤٧٩)

(مداخلت)

ملک محمد اختر : جناب والا! یہ مذہبی بات ہورہی ہے۔ ہم یہ برداشت نہیں کر سکتے کہ اس میں کوئی اور بات ہو۔ (اس کے بعد مولوی مفتی محمود صاحب نے پھر پڑھنا شروع کیا) محترم قائمقام چیئرمین : ذرا ٹھہر جائیں۔ یہ کیا ہورہا ہے؟ اگر کوئی ڈسکشن کرنی ہے تو باہر لابی میں جاکر کریں۔ مولوی عبدالحق : جناب والا! یہ یہاں باتیں کیوں ہورہی ہیں؟ سردار عبدالعلیم : یہ خواہ مخواہ مولوی صاحب کو غصہ آرہا ہے۔ مولوی عبدالحق : یہ کیا باتیں کر رہے ہیں؟ محترم قائمقام چیئرمین : سردار صاحب! اگر ڈسکشن کرنی ہے تو باہر جاکر کریں۔ سردار عبدالعلیم : مولانا کو غصہ زیادہ آتا ہے۔ 1899 محترم قائمقام چیئرمین : آرڈر، آرڈر۔ مولوی مفتی محمود : آگے لکھتے ہیں: ”میرے بعد میرے والدین کے گھر میں اور کوئی لڑکی یا لڑکا نہیں ہوا اور میں ان کے لئے خاتم الاولاد تھا۔“

(تریاق القلوب ص ١٥٧، خزائن ج ١٥ ص ٤٧٩)

خود مرزا صاحب کی اس تشریح کے مطابق بھی خاتم النبیین کے معنی اس کے سوا اور کیا ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی ماں کے پیٹ سے نہیں نکلے گا۔ لہٰذا حضرت مسیح علیہ السلام کی حیات اور نزول کا عقیدہ عقل و خرد کی آخر کون سی منطق سے آیت خاتم النبیین کے منافی ہو سکتا ہے؟

٣٣

LY OF PAKISTAN 29th Aug, 1974 No:14

آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی پیدا نہیں ہو سکتا۔ اپ الشان نبی کی طرف کوئی اشارہ تک نہیں کیا گیا۔ ا اس کے رسول ﷺ نے (معاذ اللہ) اپنے بند دھوکے میں مبتلا کر دیا تا کہ وہ علی الاطلاق ہر غیر تشریعی نبی کو جھٹلا کر کافر ، گمراہ اور مستحق عذاب ہوئے اس بات کا تصور بھی کر سکتا ہے؟

عربی صرف و نحو کا ابتدائی طالب علم بھ نبی بعدی (میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا) کا جملہ کوئی معبود نہیں) لہٰذا اگر اوّل الذکر جملے میں آ گنجائش نکل سکتی ہے تو کوئی شخص یہ کیوں نہیں کہہ کی گنجائش ہے۔ جن کی معبودیت (معاذ اللہ) کا مستقل بالذات خدا نہیں۔ ہر باخبر انسان کو معلو مستقل بالذات خدا صرف اللہ تعالیٰ کو قرار دیت اللہ تعالیٰ کے ساتھ کچھ ایسے دیوتاؤں اور معبو بالذات نہیں۔ کیا ان کے بارہ میں یہ کہا جا سکتا ہ بالواسطہ خداؤں کے اعتقاد کے ساتھ اسلام کا یہ آپ ﷺ کے بعد بالواسطہ یا غیر تشریعی انبیاء ، نبوت اور نزول کیسے کھپ سکتا ہے؟

(ختم نبوت او

یہاں یہ بھی واضح رہنا چاہئے کہ حضو عقیدے کو عقیدہ ختم نبوت سے متضاد قرار دینا ب مدعیان نبوت کے دجل سے تعبیر کیا گیا ہے۔ ختم سمجھ کا انسان بھی وہی مطلب سمجھے گا۔ جو پوری آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی پیدا نہیں ہو سکتا۔ اس آپ ﷺ کے بعد پچھلے انبیاء علیہم السلام کی نبوت رہا۔ 1898 اگر کسی شخص کو آخر الاولاد یا خاتم الاولا

صفحہ ١٨٦٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 29th Aug, 1974 No:14

ظلی اور بروزی نبوت کا افسانہ

اس طرح مرزائی صاحبان بعض اوقات یہ بہانہ تراشتے ہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت ظلی اور بروزی نبوت تھی جو آنحضرت ﷺ کی نبوت کا پرتو ہونے کی وجہ سے عقیدہ ختم نبوت میں رخنہ انداز نہیں ہے۔ لیکن درحقیقت اسلامی نقطہ نظر سے ظلی اور بروزی نبوت کا عقیدہ مستقل بالذات نبوت سے بھی کہیں زیادہ سنگین خطرناک اور کافرانہ ہے۔ جس کی وجوہ مندرجہ ذیل ہیں:

ہندوانہ تصور ہے اور اسلام میں اس کی کوئی ادنیٰ جھلک بھی کہیں نہیں پائی جاتی۔

سے ایسا نبی پچھلے تمام انبیاء سے زیادہ افضل اور بلند مرتبہ ہوتا ہے۔ کیونکہ وہ (معاذ اللہ) افضل الانبیاء ﷺ کا بروز یعنی (معاذ اللہ) آپ ﷺ ہی کا دوسرا جنم یا دوسرا روپ ہے۔ اسی بناء پر مرزا غلام احمد نے متعدد مرتبہ انتہائی ڈھٹائی کے ساتھ اپنے آپ کو براہ راست سرکار دو عالم ﷺ قرار دیا ہے۔ چند عبارتیں ملاحظہ ہوں:

1900ء میں آنحضرت ﷺ ہونے کا دعویٰ

”اور آنحضرت ﷺ کے نام کا مظہر اتم ہوں یعنی ظلی طور پر محمد اور احمد ہوں ۔“ (حاشیہ حقیقت الوحی ص ٧٢، خزائن ج ٢٢ ص ٧٦) ”میں وہ آئینہ ہوں جس میں محمدی شکل اور محمدی نبوت کا کامل انعکاس ہے۔“

(نزول المسیح ص ٣، خزائن ج ١٨ص ٣٨١ حاشیہ)

”میں بموجب آیت وآخرین منھم لما یلحقوا بھم بروزی طور پر وہی نبی خاتم الانبیاء ہوں اور خدا نے آج سے بیس برس پہلے براہین احمدیہ میں میرا نام محمد اور احمد رکھا اور مجھے آنحضرت ﷺ کا ہی وجود قرار دیا ہے۔ پس اس طور سے آنحضرت ﷺ کے خاتم الانبیاء ہونے میں میری نبوت سے کوئی تزلزل نہیں آیا۔ کیونکہ ظل اپنے اصل سے علیحدہ نہیں ہوتا اور چونکہ میں ظلی طور پر محمد ہوں۔ پس اس طور سے خاتم النبیین کی مہر نہیں ٹوٹی۔ کیونکہ محمد ﷺ کی نبوت محمد تک ہی محدود رہی۔ یعنی بہرحال محمد ﷺ ہی نبی رہا نہ اور کوئی۔ یعنی جب کہ میں بروزی طور پر آنحضرت ﷺ ہوں اور بروزی رنگ میں تمام کمالات محمدی مع نبوت محمدیہ کے میرے آئینہ ظلیت میں منعکس ہیں تو پھر کون سا الگ انسان ہوا جس نے علیحدہ طور پر نبوت کا دعویٰ کیا ۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٥، خزائن ج ١٨ص ٢١٢)

٣٤

صفحہ ١٨٦١

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 29th Aug, 1974 No:14

ان الفاظ کو نقل کرتے ہوئے ہر مسلمان کا کلیجہ تھرائے گا۔ لیکن انہیں اس لئے نقل کیا گیا ہے تا کہ معلوم ہو سکے کہ یہ ہے خود مرزا صاحب کے الفاظ ”ظلی“ اور ”بروزی“ نبوت کی تشریح، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس سے مستقل بالذات نبوت کا دعویٰ لازم نہیں آتا۔ سوال یہ ہے کہ جب اس ظلی اور بروزی کے گورکھ دھندے کی آڑ میں مرزا صاحب نے (معاذ اللہ) ”تمام کمالات محمدی مع نبوت محمدی کے“ اپنے دامن میں سمیٹ لئے تو اب کون سا نبی ایسا رہ گیا جس سے اپنی افضیلت ثابت کرنے کی ضرورت رہ گئی ہو؟ اس کے بعد بھی اگر ظلی بروزی نبوت کوئی 1901 ہلکے درجے کی نبوت رہتی ہے اور اس کے بعد بھی عقیدہ ختم نبوت نہیں ٹوٹتا تو پھر یہ تسلیم کر لینا چاہئے کہ عقیدہ ختم نبوت (معاذ اللہ) ایسا بے معنی عقیدہ ہے جو کسی بڑے سے بڑے دعویٰ نبوت سے بھی نہیں ٹوٹ سکتا۔

مرزا صاحب پچھلے نبیوں سے افضل

خود مرزائی صاحبان اپنی تحریروں میں اس بات کا اعتراف کر چکے ہیں کہ مرزا صاحب کی ظلی نبوت بہت سے ان انبیاء علیہم السلام کی نبوت سے افضل ہے۔ جنہیں بلاواسطہ نبوت ملی ہے۔ چنانچہ مرزا صاحب کے منجھلے بیٹے مرزا بشیر احمد ایم۔اے قادیانی لکھتے ہیں:

”اور یہ جو بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ظلی یا بروزی نبوت گھٹیا قسم کی نبوت ہے۔ یہ محض ایک نفس کا دھوکہ ہے۔ جس کی کوئی بھی حقیقت نہیں۔ کیونکہ ظلی نبوت کے لئے یہ ضروری ہے کہ انسان نبی کریم ﷺ کی اتباع میں اس قدر غرق ہو جائے کہ ”من تو شدم تو من شدی“ کے درجہ کو پالے۔ ایسی صورت میں وہ نبی کریم ﷺ کے جمیع کمالات کو عکس کے رنگ میں اپنے اندر اترتا پائے گا۔ حتیٰ کہ ان دونوں میں قرب اتنا بڑھے گا کہ نبی کریم ﷺ کی نبوت کی چادر بھی اس پر چڑھائی جائے گی۔ تب جاکر ظلی نبی کہلائے گا۔ پس جب ظل کا یہ تقاضا ہے کہ اپنے اصل کی پوری تصویر ہو اور اس پر تمام انبیاء کا اتفاق ہے تو وہ نادان جو مسیح موعود کی ظلی نبوت کو ایک گھٹیا قسم کی نبوت سمجھتا یا اس کے معنی ناقص نبوت کے کرتا ہے۔ وہ ہوش میں آوے اور اپنے اسلام کی فکر کرے۔ کیونکہ اس نے اس نبوت کی شان پر حملہ کیا ہے جو تمام نبوتوں کی سرتاج ہے۔ میں نہیں سمجھ سکتا کہ لوگوں کو کیوں حضرت مسیح موعود کی نبوت پر ٹھوکر لگتی ہے اور کیوں بعض لوگ آپ کی نبوت کو ناقص نبوت سمجھتے ہیں۔ کیونکہ میں تو یہ دیکھتا ہوں کہ آپ آنحضرت ﷺ کے بروز ہونے کی وجہ سے ظلی نبی تھے اور اس ظلی نبوت کا پایہ بہت بلند ہے۔ یہ ظاہر بات ہے کہ پہلے زمانوں میں جو نبی ہوتے تھے ان کے لئے یہ ضروری نہ تھا کہ ان میں وہ تمام کمالات رکھے جاویں جو نبی کریم ﷺ

٣٥

Y OF PAKISTAN 29th Aug, 1974 No:14

ظلی اور بروزی

اس طرح مرزائی صاحبان بعض اوق نبوت ظلی اور بروزی نبوت تھی جو آنحضرت ﷺ میں رخنہ انداز نہیں ہے۔ لیکن درحقیقت اسلا بالذات نبوت سے بھی کہیں زیادہ سنگین خطرنا

ہندوانہ تصور ہے اور اسلام میں اس کی کوئی ادنیٰ

سے ایسا نبی پچھلے تمام انبیاء سے زیادہ افضل ا الانبیاء ﷺ کا بروز یعنی (معاذ اللہ) آپ ﷺ مرزا غلام احمد نے متعدد مرتبہ انتہائی ڈھٹائی ک قرار دیا ہے۔ چند عبارتیں ملاحظہ ہوں:

1900 ”اور آنحضرت ﷺ کے نام کا مظہ حقیقت الوحی ص ٧٢، خزائن ج ٢٢ ص ٧٦) ”میں کامل انعکاس ہے۔“

”میں بموجب آیت واخرین الانبیاء ہوں اور خدا نے آج سے بیس برس پہ آنحضرت ﷺ کا ہی وجود قرار دیا ہے۔ پس میں میری نبوت سے کوئی تزلزل نہیں آیا۔ کیو ظلی طور پر محمد ہوں۔ پس اس طور سے خاتم النبی ہی محدود رہی۔ یعنی بہرحال محمد ﷺ ہی نبی آنحضرت ﷺ ہوں اور بروزی رنگ میں تما میں منعکس ہیں تو پھر کون سا الگ انسان ہوا جم

صفحہ ١٨٦٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 29th Aug, 1974 No:14

میں رکھے گئے۔ بلکہ ہر ایک نبی کو اپنی استعداد اور کام کے مطابق کمالات عطاء ہوتے 1902 تھے کسی کو بہت ، کسی کو کم۔ مگر مسیح موعود کو تو جب نبوت ملی جب اس نے نبوت محمدیہ کے تمام کمالات کو حاصل کر لیا اور اس قابل ہو گیا کہ ظلی نبی کہلائے، پس ظلی نبوت نے مسیح موعود کے قدم کو پیچھے نہیں ہٹایا۔ بلکہ آگے بڑھایا اور اس قدر آگے بڑھایا کہ نبی کریم کے پہلو بہ پہلو لا کھڑا کیا۔“

(کلمۃ الفصل ص ١١٣، ریویو آف ریلیجنز ج ١٤ نمبر ٣، مارچ واپریل ١٩١٥ء)

آگے مرزا صاحب کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام، حضرت داؤد علیہ السلام، حضرت سلیمان علیہ السلام یہاں تک کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے بھی افضل قرار دے کر لکھتے ہیں: ”پس مسیح موعود کی ظلی نبوت کوئی گھٹیا نبوت نہیں۔ بلکہ خدا کی قسم اس نبوت نے جہاں آقا کے درجے کو بلند کیا ہے وہاں غلام کو بھی اس مقام پر کھڑا کر دیا ہے جس تک انبیائے بنی اسرائیل کی پہنچ نہیں۔ مبارک وہ جو اس نکتہ کو سمجھے اور ہلاکت کے گڑھے میں گرنے سے اپنے آپ کو بچالے۔“ (حوالہ بالا ص ١١٤)

اور مرزا صاحب کے دوسرے صاحبزادے اور ان کے خلیفہ، دوم مرزا بشیر الدین محمود لکھتے ہیں: ”پس ظلی اور بروزی نبوت کوئی گھٹیا قسم کی نبوت نہیں۔ کیونکہ اگر ایسا ہوتا مسیح موعود کس طرح ایک اسرائیلی نبی کے مقابلہ میں یوں فرماتا کہ:

ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو اس سے بہتر غلام احمد ہے

(القول الفصل ص ١٦)

خاتم النبیین ماننے کی حقیقت

یہ ہے خود مرزائی صاحبان کے الفاظ میں اس ظلی اور بروزی نبوت کی پوری حقیقت، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ عقیدہ ختم نبوت میں رخنہ انداز نہیں ہے۔ جس شخص کو بھی عقل و فہم اور دیانت و انصاف کا کوئی ادنیٰ حصہ ملا ہے۔ وہ مذکورہ بالا تحریریں پڑھنے کے بعد اس کے سوا اور کیا نتیجہ نکال سکتا ہے کہ ظلی اور بروزی نبوت کے عقیدے سے زیادہ کوئی عقیدہ بھی ختم نبوت کے منافی اور اس سے متضاد نہیں ہوسکتا۔ ختم نبوت کا مطلب یہ ہے کہ سرکار دو عالم ﷺ کے بعد 1903 کوئی نبی نہیں ہو سکتا اور ظلی بروزی نبوت کا عقیدہ یہ کہتا ہے کہ نہ صرف آپ ﷺ کے بعد نبی آ سکتا ہے بلکہ ایسا نبی آسکتا ہے جو حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک تمام انبیاء سے افضل اور اعلیٰ نبوت کا حامل ہو جو افضل الانبیاء علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ”تمام کمالات“ اپنے اندر رکھتا ہو اور جو تمام انبیاء کے مراتب کمال کو پیچھے چھوڑتا ہوا سرکار دو عالم ﷺ کے پہلو بہ پہلو کھڑا ہو سکے۔

٣٦

صفحہ ١٨٦٣

1863 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 29th Aug, 1974 No:14

آنحضرت ﷺ سے بھی افضل

بلکہ اس عقیدے میں اس بات کی بھی پوری گنجائش موجود ہے کہ کوئی شخص مرزا صاحب کو معاذ اللہ ثم معاذ اللہ سرکار دوعالم ﷺ سے بھی افضل قرار دیدے۔ کیونکہ جب مرزا صاحب آپ ﷺ ہی کا ظہور ثانی قرار پائے تو آپ ﷺ کا ظہور ثانی پہلے ظہور سے اعلیٰ بھی ہو سکتا ہے اور یہ محض ایک قیاس ہی نہیں ہے۔ بلکہ مرزائی رسالے ”ریویو آف ریلیجنز“ کے سابق ایڈیٹر قاضی ظہور الدین اکمل کی ایک نظم ٢٥؍ اکتوبر ١٩٠٦ء کے اخبار بدر میں شائع ہوئی تھی۔ جس کے دو شعر یہ ہیں:

امام اپنا عزیزو اس جہاں میں غلام احمد ہوا دارالاماں میں
غلام احمد ہے عرش رب اکبر مکان اس کا ہے گویا لامکاں میں
محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں اور آگے سے بڑھ کر اپنی شاں میں
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل غلام احمد کو دیکھے قادیاں میں

(اخبار بدر ٢٥؍ اکتوبر ١٩٠٦ء ج٢ نمبر ٤٣ ص ١٤)

یہ محض ”مریداں می پرانند“ والی شاعری نہیں ہے۔ بلکہ یہ اشعار شاعر نے خود مرزا غلام احمد صاحب کو سنائے اور انہیں لکھ کر پیش کئے اور مرزا صاحب نے ان پر جزاک اللہ کہہ کر داد دی ہے۔ چنانچہ قاضی اکمل صاحب ٢٢؍ اگست ١٩٤٤ء کے ”الفضل“ میں لکھتے ہیں: ”وہ اس نظم کا ایک حصہ ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے حضور میں پڑھی گئی اور خوش خط لکھے ہوئے قطعے کی صورت میں پیش کی گئی اور حضور اسے اپنے ساتھ اندر لے گئے۔“ 1904 اس وقت کسی نے اس شعر پر اعتراض نہ کیا۔ حالانکہ مولوی محمد علی صاحب (امیر جماعت لاہور) اور اعوانہم موجود تھے اور جہاں تک حافظہ مدد کرتا ہے بوثوق کہا جاسکتا ہے کہ سن رہے تھے اور اگر اس سے بوجہ مرور زمانہ انکار کریں تو یہ نظم ”بدر“ میں چھپی اور شائع ہوئی۔ اس وقت ”بدر“ کی پوزیشن وہی تھی بلکہ اس سے کچھ بڑھ کر جو اس عہد میں ”الفضل“ کی ہے۔ حضرت مفتی محمد صادق صاحب ایڈیٹر سے ان لوگوں کے محبانہ اور بے تکلفانہ تعلقات تھے۔ وہ خدا کے فضل سے زندہ موجود ہیں۔ ان سے پوچھ لیں اور خود کہہ دیں کہ آیا آپ میں سے کسی نے بھی اس پر ناراضی یا ناپسندیدگی کا اظہار کیا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا شرف سماعت حاصل کرنے اور جزاک اللہ تعالیٰ کا صلہ پانے اور اس قطعے کو اندر خود لے جانے کے بعد کسی کو حق ہی کیا پہنچتا تھا کہ اس پر اعتراض کر کے اپنی کمزوری ایمان اور قلت

٣٧

OF PAKISTAN 29th Aug, 1974 No:14

میں رکھے گئے۔ بلکہ ہر ایک نبی کو اپنی استعدا کو بہت، کسی کو کم۔ مگر مسیح موعود کو تو تب نبوت کر لیا اور اس قابل ہو گیا کہ ظلی نبی کہلائے، بلکہ آگے بڑھایا اور اس قدر آگے بڑھایا کہ

(کلمۃ الفصل

آگے مرزا صاحب کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام یہاں تک کہ حضرت موسیٰ علیہ ال موعود کی ظلی نبوت کوئی گھٹیا ثبوت نہیں۔ بلکہ ہے وہاں غلام کو بھی اس مقام پر کھڑا کر دیا ج وہ جو اس نکتہ کو سمجھے اور ہلاکت کے گڑھے میں اور مرزا صاحب کے دوسرے ح لکھتے ہیں: ”پس ظلی اور بروزی نبوت کوئی آ طرح ایک اسرائیل نبی کے مقابلہ میں یوں ت

ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو

خاتم النبیین

یہ ہے خود مرزائی صاحبان کے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ عقیدہ فہم اور دیانت وانصاف کا کوئی ادنیٰ حصہ ط اور کیا نتیجہ نکال سکتا ہے کہ ظلی اور بروزی کے منافی اور اس سے متضاد نہیں ہو سکتا۔ خط 1903 کوئی نبی نہیں ہو سکتا اور ظلی بروزی نبوت آسکتا ہے بلکہ ایسا نبی آسکتا ہے جو حضرت تمام انبیاء سے افضل اور اعلیٰ نبوت کا حام کمالات“ اپنے اندر رکھتا ہو اور جو تمام انبیاء کے پہلو بہ پہلو کھڑا ہو سکے۔

صفحہ ١٨٦٤

1864 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 29th Aug, 1974 No:14

عرفان کا ثبوت دیتا۔“

(الفضل ج ٣٢ نمبر ١٩٦، مورخہ ٢٢؍اگست ١٩٤٤ء ص ٦ کالم ١)

آگے لکھتے ہیں: ”یہ شعر خطبہ الہامیہ کو پڑھ کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانے میں کہا گیا اور ان کو سنا بھی دیا گیا اور چھاپا بھی گیا۔“

(ایضاً ص ٦ کالم ٤، ٣)

اس سے واضح ہے کہ یہ محض شاعرانہ مبالغہ آرائی نہ تھی۔ بلکہ ایک مذہبی عقیدہ تھا اور ظلی بروزی نبوت کے اعتقاد کا وہ لازمی نتیجہ تھا جو مرزا صاحب کے خطبہ الہامیہ سے ماخوذ تھا اور مرزا صاحب نے بذات خود اس کی نہ صرف تصدیق بلکہ تحسین کی تھی۔ خطبہ الہامیہ کی جس عبارت سے شاعر نے یہ شعر اخذ کئے ہیں وہ یہ ہے، مرزا صاحب لکھتے ہیں: ”جس نے اس بات سے انکار کیا کہ نبی علیہ السلام کی بعثت چھٹے ہزار سے تعلق رکھتی ہے۔ جیسا کہ پانچویں ہزار سے تعلق رکھتی تھی۔ پس اس نے حق کا اور نص قرآن کا انکار کیا بلکہ حق یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی روحانیت چھٹے ہزار کے آخر میں، یعنی ان دنوں میں بہ نسبت ان سالوں کے اقویٰ اور اکمل اور اشد ہے۔ بلکہ چودھویں رات کے چاند کی طرح ہے اور اس لئے ہم تلوار اور لڑنے والے گروہ کے محتاج نہیں اور اس لئے خدا تعالیٰ نے مسیح موعود کی بعثت کے لئے صدیوں 1905 کے شمار کو رسول کریم ﷺ کی ہجرت کے بدر کی راتوں کے شمار کی مانند اختیار فرمایا تا کہ وہ شمار اس مرتبہ پر جو ترقیات کے تمام مرتبوں سے کمال تمام رکھتا ہے۔ دلالت کرے۔“

(خطبہ الہامیہ ص ١٨١، ١٨٢، خزائن ج ١٦ ص ٢٧١ تا ٢٧٣)

اس سے معلوم ہوا کہ مرزا صاحب کا بروزی طور پر آنحضرت ﷺ سے بڑھ جانا خود مرزا صاحب کا عقیدہ تھا جسے انہوں نے خطبہ الہامیہ کی مذکورہ بالا عبارت میں بیان کیا اسی کی تشریح کرتے ہوئے قاضی اکمل نے وہ اشعار کہے اور مرزا صاحب نے ان کی تصدیق و تحسین کی۔

ہر شخص آنحضرت ﷺ سے بڑھ سکتا ہے

پھر بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی، بلکہ مرزائی صاحبان کا عقیدہ اس سے بھی آگے بڑھ کر یہ ہے کہ صرف مرزا صاحب ہی نہیں، بلکہ ہر شخص اپنے روحانی مراتب میں ترقی کرتا ہوا (معاذ اللہ) آنحضرت ﷺ سے بڑھ سکتا ہے۔ چنانچہ مرزائیوں کے خلیفہ دوم مرزا بشیر الدین محمود کہتے ہیں: ”یہ بالکل صحیح بات ہے کہ ہر شخص ترقی کر سکتا ہے اور بڑے سے بڑا درجہ پا سکتا ہے۔ حتیٰ کہ محمد ﷺ سے بھی بڑھ سکتا ہے۔“

(الفضل قادیان ج ١٠ نمبر ٥، مورخہ ١٧؍جولائی ١٩٢٢ء ص ٩، عنوان ”خلیفہ المسیح کی ڈائری“)

٣٨

صفحہ ١٨٦٥

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 29th Aug, 1974 No:14

یہیں سے یہ حقیقت بھی کھل جاتی ہے کہ مرزائی صاحبان کی طرف سے بعض اوقات مسلمانوں کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لئے جو دعویٰ کیا جاتا ہے کہ وہ آنحضرت ﷺ کو خاتم النبیین مانتے ہیں۔ اس کی اصلیت کیا ہے؟ خود مرزا صاحب اس کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ”اللہ جل شانہ نے آنحضرت ﷺ کو صاحب خاتم بنایا۔ یعنی آپ کو افاضہ کمال کے لئے مہر دی، جو کسی اور نبی کو ہرگز نہیں دی گئی۔ اسی وجہ سے آپ ﷺ کا نام خاتم النبیین ٹھہرا۔ یعنی آپ ﷺ 1906 کی پیروی کمالات نبوت بخشتی ہے اور آپ ﷺ کی توجہ روحانی نبی تراش ہے اور یہ قوت قدسیہ کسی اور نبی کو نہیں ملی۔“

(حقیقت الوحی ص ٩٧ حاشیہ، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٠)

ظل و بروز کے مذکورہ بالا اعتقادات کے ساتھ مرزا صاحب کے نزدیک خاتم النبیین کا مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ کے پاس افاضہ کمال کی ایسی مہر تھی جو بالکل اپنے جیسے بلکہ اپنے سے بھی افضل واعلیٰ نبی تراشتی تھی۔ قرآن وحدیث، لغت عرب اور عقل انسانی کے ساتھ اس کھلے مذاق کی مثال بالکل ایسی ہے جیسے کوئی شخص یہ کہنے لگے کہ اللہ تعالیٰ کے ”معبود واحد“ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ کائنات عالم میں وہ تنہا ذات ہے، جس کی قوت قدسیہ خدا تراش ہے اور اپنے جیسے خدا پیدا کر سکتی ہے۔ اگر قرآن کریم کی آیات اور امت کے بنیادی عقائد کے ساتھ ایسی گستاخانہ دل لگی کرنے کے بعد بھی کوئی شخص دائرہ اسلام میں رہ سکتا ہے تو پھر روئے زمین کا کوئی انسان کافر نہیں ہو سکتا۔

دعوائے نبوت کا منطقی نتیجہ

مرزا صاحب کا دعویٰ نبوت پچھلے صفحات میں روز روشن کی طرح واضح ہو چکا ہے اور 1907 قرآن، حدیث، اجماع اور تاریخ اسلام کی روشنی میں یہ بات طے ہو چکی ہے کہ جو شخص آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرے وہ اور اس کے متبعین کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔

١؎ یہ اور بات ہے کہ خود مرزا صاحب کے اعتراف کے مطابق اس عظیم الشان مہر سے صرف ایک ہی نبی تراشا گیا اور وہ مرزا غلام احمد صاحب تھے۔ فرماتے ہیں کہ: ”اس حصہ کثیرہ وحی الٰہی اور امور غیبیہ میں اس امت میں سے میں ہی ایک فرد مخصوص ہوں اور جس قدر مجھ سے پہلے اولیاء اور ابدال واقطاب اس امت میں سے گزر چکے ہیں ان کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیا گیا۔ پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیا گیا ہوں۔ (حقیقت الوحی ص ٣٩١، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٦) یہ لکھتے وقت مرزا صاحب کو یہ خیال بھی نہ آیا کہ خاتم النبیین جمع کا صیغہ ہے۔ لہٰذا اس مہر سے کم از کم تین نبی تو تراشے جانے چاہئے تھے۔“

٣٩

EMBLY OF PAKISTAN 29th Aug, 1974 No:14

عرفان کا ثبوت دیتا۔“

(الفضل ج

آگے لکھتے ہیں: ”یہ شعر خطبہ الہامیہ کو پڑ زمانے میں کہا گیا اور ان کو سنا بھی دیا گیا اور چھاپا بھی گ اس سے واضح ہے کہ یہ محض شاعرانہ مبالغہ بروزی نبوت کے اعتقاد کا وہ لازمی نتیجہ تھا جو مرزا مرزا صاحب نے بذات خود اس کی نہ صرف تصدیق کی سے شاعر نے یہ شعر اخذ کئے ہیں وہ یہ ہے، مرزا صاحب کیا کہ نبی علیہ السلام کی بعثت چھٹے ہزار سے تعلق رکھتی تھی۔ پس اس نے حق کا اور نص قرآن کا انکار کیا بلکہ چھٹے ہزار کے آخر میں، یعنی ان دنوں میں بہ نسبت ان چودھویں رات کے چاند کی طرح ہے اور اس لئے ہم اس لئے خدا تعالیٰ نے مسیح موعود کی بعثت کے لئے ہجرت کے بدر کی راتوں کے شمار کی مانند اختیار فرمایا مرتبوں سے کمال تمام رکھتا ہے۔ دلالت کرے۔“

اس سے معلوم ہوا کہ مرزا صاحب کا برو

(خط

مرزا صاحب کا عقیدہ تھا جسے انہوں نے خطبہ الہامیہ ک کرتے ہوئے قاضی اکمل نے وہ اشعار کہے اور مرزا

شخص آنحضرت ﷺ

پھر بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی، بلکہ مرزا یہ ہے کہ صرف مرزا صاحب ہی نہیں، بلکہ ہر شخص اپنے آنحضرت ﷺ سے بڑھ سکتا ہے۔ چنانچہ مرزایوں بالکل صحیح بات ہے کہ ہر شخص ترقی کر سکتا ہے اور بڑ بھی بڑھ سکتا ہے۔“

(الفضل قادیان ج ١٠ نمبر ١٠٥ مورخہ ١٧

٣٨

صفحہ ١٨٦٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 29th Aug, 1974 No:14

یہ صرف اسلام ہی کا نہیں، عقل عام کا بھی فیصلہ ہے۔ مذاہب عالم کی تاریخ سے ادنیٰ واقفیت رکھنے والا ہر شخص اس بات کو تسلیم کرے گا کہ جب کبھی کوئی شخص نبوت کا دعویٰ کرتا ہے تو، حق و باطل کی بحث سے قطع نظر، جتنے لوگ اس وقت موجود ہیں وہ فوراً دو گروہوں میں تقسیم ہو جاتے ہیں۔ ایک گروہ وہ ہوتا ہے جو اس شخص کی تصدیق کرتا اور اسے سچا مانتا ہے اور دوسرا گروہ وہ ہوتا ہے جو اس کی تصدیق اور پیروی نہیں کرتا۔ ان دونوں گروہوں کو دنیا میں کبھی بھی ہم مذہب قرار نہیں دیا گیا۔ بلکہ ہمیشہ دونوں کو الگ الگ مذہبوں کا پیرو سمجھا گیا ہے۔ خود مرزا غلام احمد قادیانی اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ: "ہر نبی اور مامور کے وقت دو فرقے ہوتے ہیں۔ ایک وہ جس کا نام سعید رکھا ہے اور دوسرا وہ جو شقی کہلاتا ہے ١؎۔"

(الحکم جلد ١، مورخہ ٢٨؍دسمبر ١٩٠٠ء منقول از ملفوظات احمدیہ ج١ ص ٣٤١ مطبوعہ احمدیہ کتاب گھر قادیان ١٩٣٥ء)

مذاہب عالم کی تاریخ پر نظر ڈالنے سے یہ حقیقت پوری طرح واشگاف ہو جاتی ہے کہ دعواے نبوت کے بانٹے ہوئے یہ دو فریق کبھی ہم مذہب نہیں کہلائے، بلکہ ہمیشہ حریف مذہبوں کی طرح رہے ہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری سے پہلے سارے بنی اسرائیل ہم مذہب تھے۔ لیکن جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام تشریف لائے تو فوراً دو بڑے بڑے حریف مذہب پیدا ہو گئے۔ ایک مذہب آپ کے ماننے والوں کا تھا جو بعد میں عیسائیت یا مسیحیت کہلایا اور دوسرا مذہب آپ کی تکذیب کرنے والوں کا تھا جو یہودی مذہب کہلایا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور آپ کے متبعین اگر چہ پچھلے تمام انبیاء علیہم السلام پر ایمان رکھتے تھے۔ لیکن یہودیوں نے کبھی ان کو اپنا ہم مذہب نہیں سمجھا اور نہ عیسائیوں نے کبھی اس بات پر اصرار کیا کہ انہیں یہودیوں میں شامل سمجھا جائے۔ اس طرح جب سرکار دو عالم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ تشریف لائے تو آپ ﷺ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام سمیت پچھلے تمام انبیاء علیہم السلام کی تصدیق کی اور تورات، زبور اور انجیل تینوں پر ایمان لائے۔ اس کے باوجود نہ عیسائیوں نے آپ ﷺ اور آپ ﷺ کے متبعین کو اپنا ہم مذہب سمجھا، اور نہ مسلمانوں نے کبھی یہ کوشش کی کہ انہیں عیسائی کہا اور سمجھا جائے، پھر آپ کے بعد جب مسیلمہ کذاب نے نبوت کا دعویٰ کیا تو اس کے متبعین مسلمانوں کے حریف کی حیثیت سے مقابلے پر آئے اور مسلمانوں نے بھی انہیں امت اسلامیہ سے الگ ایک مستقل مذہب کا حامل

١؎ یہ قرآن کریم کی اس آیت کی طرف اشارہ ہے۔ جس میں انسانوں کی دو قسمیں قرار دی ہیں۔ ایک شقی یعنی کافر اور دوسری سعید یعنی مسلمان پھر پہلی قسم کو جہنمی اور دوسری کو جنتی قرار دیا گیا ہے۔ ارشاد ہے فمنہم شقی وسعید. (ہود: ١٠٥)

٤٠

صفحہ ١٨٦٧

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 29th Aug, 1974 No:14

قرار دے کر ان کے خلاف جہاد کیا۔ حالانکہ مسیلمہ کذاب آنحضرت ﷺ کی نبوت کا منکر نہیں تھا۔ بلکہ اس کے یہاں جو اذان دی جاتی تھی اس میں اشهد ان محمدا رسول الله کا کلمہ شامل تھا۔ تاریخ طبری میں ہے کہ: و كان يوذن للنبی ﷺ ويشهد فى الاذان ان محمداً رسول الله و كان الذى يؤذن له عبد الله بن النواحة و كان الذى يقيم له حجير بن عمير .

(تاریخ طبری ج ٢ ص ٢٧٦ سن ١١ هجری)

”مسیلمہ، نبی کریم ﷺ کے نام پر اذان دیتا تھا اور اذان میں اس بات کی شہادت دیتا تھا کہ حضرت محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور اس کا مؤذن عبداللہ بن نواحہ تھا اور اقامت کہنے والا حجیر بن عمیر تھا۔“

مذاہب عالم کی یہ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ کسی مدعی نبوت کو ماننے والے اور اس کی تکذیب کرنے والے کبھی ایک مذہب کے سائے میں جمع نہیں ہوئے۔ لہٰذا مرزا غلام احمد قادیانی کے دعوائے نبوت کا یہ سو فیصد منطقی نتیجہ ہے کہ جو فریق ان کو سچا اور مامور من اللہ سمجھتا ہے وہ ان لوگوں کے مذہب میں شامل نہیں رہ سکتا جو ان کے دعووں کی تکذیب کرتا ہے۔ ان دونوں 1909 فریقوں کو ایک دین کے پرچم تلے جمع کرنا صرف قرآن وسنت اور اجماع امت ہی سے نہیں بلکہ مذہب کی پوری تاریخ سے بغاوت کے مترادف ہے۔

مرزائی صاحبان کی جماعت لاہور کے امیر محمد علی لاہوری صاحب نے ١٩٠٦ء کے ریویو آف ریلیجنز (انگریزی) میں اسی حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

"The Ahmadiyya movement stands in the same relation to Islam in which Christianity stood to Judaism."

(منقول از مباحثہ راولپنڈی ص ٢٤٠ ، مطبوعہ دارالفضل قادیان و تبدیلی عقائد مؤلفہ محمد اسماعیل قادیانی ص ١٠٢،

مطبوعہ احمدیہ کتاب گھر کراچی)

یعنی ”احمدیت کی تحریک اسلام کے ساتھ وہی نسبت رکھتی ہے جو عیسائیت کو یہودیت کے ساتھ تھی۔“ کیا عیسائیت اور یہودیت کو کوئی انسان ایک مذہب قرار دے سکتا ہے؟

١؎ یہ مرزائی صاحبان کی دونوں جماعتوں کا باہمی تحریری مباحثہ ہے جو دونوں کے مشترک خرچ پر شائع کیا گیا تھا۔ لہٰذا اس میں جو عبارتیں منقول ہیں وہ دونوں جماعتوں کے نزدیک مستند ہیں۔

٤١

LY OF PAKISTAN 29th Aug, 1974 No:14

یہ صرف اسلام ہی کا نہیں، عقل عام واقفیت رکھنے والا ہر شخص اس بات کو تسلیم کرے حق و باطل کی بحث سے قطع نظر، جتنے لوگ اس جاتے ہیں۔ ایک گروہ وہ ہوتا ہے جو اس شخص کی ہوتا ہے جو اس کی تصدیق اور پیروی نہیں کرتا۔ قرار نہیں دیا گیا۔ بلکہ ہمیشہ دونوں کو الگ الگ قادیانی اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے کہتے ہیں ہیں۔ ایک وہ جس کا نام سعید رکھا ہے اور دوسرا وہ

(الحکم جلدا، مورخہ ٢٨ دسمبر ١٩٠٠ء منقول از الفضل قادیان

مذاہب عالم کی تاریخ پر نظر ڈالئے۔ دعوائے نبوت کے ماننے والے یہ دو فریق کبھی ا طرح رہے ہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ق مذہب تھے۔ لیکن جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام پیدا ہو گئے۔ ایک مذہب آپ کے ماننے والوں مذہب آپ کی تکذیب کرنے والوں کا تھا جو یہو کے متبعین اگرچہ پچھلے تمام انبیاء علیہم السلام پر ایما اپنا ہم مذہب نہیں سمجھا اور نہ عیسائیوں نے کبھی سمجھا جائے۔ اس طرح جب سرکار دو عالم حضر حضرت عیسیٰ علیہ السلام سمیت پچھلے تمام انبیاء تینوں پر ایمان لائے۔ اس کے باوجود نہ عیسائیو مذہب سمجھا، اور نہ مسلمانوں نے کبھی یہ کوشش بعد جب مسیلمہ کذاب نے نبوت کا دعویٰ کیا تو مقابلے پر آئے اور مسلمانوں نے بھی انہیں ام

١؎ یہ قرآن کریم کی اس آیت کی قرار دی ہیں۔ ایک شقی یعنی کافر اور دوسری س قرار دیا گیا ہے۔ ارشاد ہے فمنهم شقی و

صفحہ ١٨٦٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 29th Aug, 1974 No:14

خود مرزائیوں کا عقیدہ کہ وہ الگ ملت ہیں

مرزائی صاحبان کو اپنی یہ پوزیشن خود تسلیم ہے کہ ان کا اور ستر کروڑ مسلمانوں کا مذہب ایک نہیں ہے۔ وہ اپنی بے شمار تقریروں اور تحریروں میں اپنے اس عقیدے کا برملا اعلان کر چکے ہیں کہ جن مسلمانوں نے مرزا غلام احمد قادیانی کے دعوؤں میں ان کی تکذیب کی ہے۔ وہ سب دائرہ اسلام سے خارج اور کافر ہیں۔ اس سلسلے میں ان کی مذہبی کتابوں کی تصریحات درج ذیل ہیں:

مرزا غلام احمد صاحب کی تحریریں

مرزا غلام احمد قادیانی صاحب اپنے خطبہ الہامیہ میں جس کے بارے میں ان کا دعویٰ ہے کہ وہ پورے کا پورا بذریعہ الہام نازل ہوا تھا۔ کہتے ہیں: 1910 ”واتخذت روحانیۃ نبینا خیر الرسل مظہراً من امتہ لتبلغ کمال ظہورہا وغلبۃ نورہا کما کان وعداللہ فی الکتاب المبین فانا ذلک المظہر الموعود والنور المعہود فامن ولا تکن من الکافرین وان شئت فاقرأ قولہ تعالیٰ ہو الذی ارسل رسولہ بالھدی ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ“

(خطبہ الہامیہ ص ١٧٨، خزائن ج ١٦ ص ٢١٧)

اور خیر الرسل کی روحانیت نے اپنے ظہور کے کمال کے لئے اور اپنے نور کے غلبہ کے لئے ایک مظہر اختیار کیا جیسا کہ خدا تعالیٰ نے کتاب مبین میں وعدہ فرمایا تھا۔ پس میں وہی مظہر ہوں۔ پس ایمان لا اور کافروں سے مت ہو اور اگر چاہتا ہے تو اس خدا تعالیٰ کے قول کو پڑھ ھو الذی ارسل رسولہ بالھدی ، الخ!

اور حقیقت الوحی میں مرزا صاحب لکھتے ہیں: ”کافر کا لفظ مومن کے مقابلے پر ہے اور کفر دو قسم پر ہے۔ (اول) ایک یہ کفر کہ ایک شخص اسلام سے ہی انکار کرتا ہے اور آنحضرت ﷺ کو خدا کا رسول نہیں مانتا۔ (دوم) دوسرے یہ کفر کہ مثلاً وہ مسیح موعود کو نہیں مانتا اور اس کو باوجود اتمام حجت کے جھوٹا جانتا ہے۔ جس کے ماننے اور سچا جاننے کے بارے میں خدا اور رسول نے تاکید کی ہے اور پہلے نبیوں کی کتابوں میں بھی تاکید پائی جاتی ہے۔ پس اس لئے کہ وہ خدا اور رسول کے فرمان کا منکر ہے، کافر ہے اور اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ دونوں قسم کے کفر ایک ہی قسم میں داخل ہیں۔ کیونکہ جو شخص باوجود شناخت کر لینے خدا اور رسول کے حکم کو نہیں مانتا۔ وہ بموجب نصوص صریحہ قرآن اور حدیث کے خدا اور رسول کو بھی نہیں مانتا۔“

(حقیقت الوحی ص ١٧٩، ١٨٠، خزائن ج ٢٢ ص ١٨٥، ١٨٦)

٤٢

صفحہ ١٨٦٩

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 29th Aug, 1974 No:14

1911 اسی کتاب میں ایک اور جگہ لکھتے ہیں: ”یہ عجیب بات ہے کہ آپ کافر کہنے والے اور نہ ماننے والے کو دو قسم کے انسان ٹھہراتے ہیں۔ حالانکہ خدا کے نزدیک ایک ہی قسم ہے۔ کیونکہ جو شخص مجھے نہیں مانتا وہ اسی وجہ سے نہیں مانتا کہ وہ مجھے مفتری قرار دیتا ہے۔“

آگے لکھتے ہیں: ”علاوہ اس کے جو مجھے نہیں مانتا خدا اور رسول کو بھی نہیں مانتا۔ کیونکہ میری نسبت خدا اور رسول کی پیش گوئی موجود ہے۔“

مزید لکھتے ہیں: ”خدا نے میری سچائی کی گواہی کے لئے تین لاکھ سے زیادہ آسمانی نشان ظاہر کئے اور آسمان پر کسوف خسوف رمضان میں ہوا۔ اب جو شخص خدا اور رسول کے بیان کو نہیں مانتا اور قرآن کی تکذیب کرتا ہے اور عمداً خدا تعالیٰ کے نشانوں کو رد کرتا ہے اور مجھ کو باوجود صدہا نشانوں کے مفتری ٹھہراتا ہے تو وہ مؤمن کیونکر ہوسکتا ہے اور اگر وہ مؤمن ہے تو میں بوجہ افتراء کرنے کے کافر ٹھہرا۔“

(حوالہ بالا ص ١٦٣، ١٦٤، خزائن ج ٢٢ ص ١٦٧، ١٦٨)

ڈاکٹر عبدالحکیم خان کے نام اپنے خط میں مرزا صاحب لکھتے ہیں: ”خدا تعالیٰ نے میرے پر ظاہر کیا ہے کہ ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں ہے۔“

(تذکرہ ص ٦٠٧ طبع سوم)

نیز ”معیار الاخیار“ میں مرزا صاحب اپنا ایک الہام اس طرح بیان کرتے ہیں: ”جو شخص تیری پیروی نہ کرے گا اور تیری بیعت میں داخل نہ ہوگا اور صرف تیرا مخالف رہے گا وہ خدا اور رسول کی نافرمانی کرنے والا جہنمی ہے۔“

(اشتہار معیار الاخیار ص ٨، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٧٥)

1912 نزول المسیح میں لکھتے ہیں: ”جو میرے مخالف تھے ان کا نام عیسائی اور یہودی اور مشرک رکھا گیا۔“

(نزول المسیح حاشیہ ص ٤، خزائن ج ١٨ ص ٣٨٢)

اور اپنی کتاب الہدیٰ میں اپنے انکار کو سرکار دوعالم ﷺ کے انکار کے مساوی قرار دیتے ہوئے رقمطراز ہیں: ”فی الحقیقت دو شخص بڑے ہی بدبخت ہیں اور انس و جن میں ان سا کوئی بھی بدطالع نہیں۔ ایک وہ جس نے خاتم الانبیاء کو نہ مانا، دوسرا جو خاتم الخلفاء ۔ (یعنی بزعم خود مرزا صاحب) پر ایمان نہ لایا۔“

(الہدیٰ ص ٥، خزائن ج ١٨ ص ٢٥٠)

اور انجام آتھم میں لکھتے ہیں: ”اب ظاہر ہے کہ ان الہامات میں میری نسبت بار بار بیان کیا گیا کہ یہ خدا کا فرستادہ، خدا کا مامور، خدا کا امین اور خدا کی طرف سے آیا ہے، جو کچھ کہتا ہے اس پر ایمان لاؤ اور اس کا دشمن جہنمی ہے۔“

(انجام آتھم ص ٦٢، خزائن ج ١١ ص ٦٢)

٤٣

صفحہ ١٨٧٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 29th Aug, 1974 No:14

ن

نیز اخبار بدر مورخہ ٢٤؍مئی ١٩٠٨ء میں لکھا ہے کہ: ”حضرت مسیح موعود سے ایک شخص نے سوال کیا کہ جو لوگ آپ کو کافر نہیں کہتے ان کے پیچھے نماز پڑھنے میں کیا حرج ہے؟“

اس کا طویل جواب دیتے ہوئے آخر میں مرزا صاحب فرماتے ہیں: ”اور ان کو چاہئے کہ ان مولویوں کے بارے میں ایک لمبا اشتہار شائع کر دیں کہ یہ سب کافر ہیں۔ کیونکہ انہوں نے ایک مسلمان کو کافر بنایا۔ تب میں ان کو مسلمان سمجھ لوں گا۔ بشرطیکہ ان میں کوئی نفاق کا شبہ نہ پایا جائے اور خدا کے کھلے کھلے معجزات کے مکذب نہ ہوں، ورنہ اللہ 1913 تعالیٰ فرماتا ہے ان المنافقین فی الدرک الاسفل من النار یعنی منافق دوزخ کے نیچے کے طبقے میں ڈالے جائیں گے۔“

(اخبار بدر مورخہ ٢٤؍مئی ١٩٠٨ء، منقول از مجموعہ فتاویٰ احمدیہ ج١ ص٣٠٧)

مرزائی خلیفہ اوّل حکیم نور الدین کے فتوے

مرزائی صاحبان کے پہلے خلیفہ جن کی خلافت پر دونوں مرزائی گروپ متفق تھے، فرماتے ہیں: ”ایمان بالرسل اگر نہ ہو تو کوئی شخص مؤمن مسلمان نہیں ہو سکتا اور اس ایمان بالرسل میں کوئی تخصیص نہیں، عام ہے، خواہ وہ نبی پہلے آئے یا بعد میں آئے، ہندوستان میں ہوں یا کسی اور ملک میں کسی مامور من اللہ کا انکار کفر ہو جاتا ہے۔ ہمارے مخالف حضرت مرزا صاحب کی ماموریت کے منکر ہیں۔ بتاؤ کہ یہ اختلاف فروعی کیونکر ہوا۔“

(مجموعہ فتاویٰ احمدیہ ج١ ص٢٧٥، بحوالہ اخبار الحکم ج١٥ ص٨، مورخہ ١٧؍مارچ ١٩١١ء)

نیز ایک اور موقعہ پر کہتے ہیں: ”محمد رسول اللہ ﷺ کے منکر یہود نصاریٰ، اللہ کو مانتے ہیں، اللہ تعالیٰ کے رسولوں، کتابوں، فرشتوں کو مانتے ہیں کیا اس انکار پر کافر ہیں یا نہیں؟ کافر ہیں، اگر اسرائیلی مسیح رسول کا منکر کافر ہے تو محمدی مسیح رسول کا منکر کیوں کافر نہیں؟ اگر اسرائیلی مسیح موسیٰ کا خاتم الخلفاء یا خلیفہ یا متبع ایسا ہے کہ اس کا منکر کافر ہے تو محمد ﷺ کا خاتم الخلفاء یا خلیفہ یا متبع کیوں ایسا نہیں کہ اس کا منکر بھی کافر ہو۔ اگر وہ مسیح ایسا تھا کہ اس کا منکر کافر ہے تو یہ مسیح بھی کسی طرح کم نہیں۔“

(مجموعہ فتاویٰ احمدیہ ج١ ص٣٨٥، بحوالہ الحکم نمبر ١٩ ج١٨، ٢٨؍مئی ١٩١٤ء)

خلیفہ دوم مرزا محمود احمد کے فتاویٰ

اور مرزائی صاحبان کے خلیفہ دوم مرزا بشیر الدین محمود صاحب کہتے ہیں: ”جو شخص غیر احمدی کو رشتہ دیتا ہے وہ یقیناً حضرت مسیح موعود کو نہیں سمجھتا اور نہ یہ جانتا ہے کہ احمدیت کیا چیز ہے؟ کیا کوئی غیر احمدیوں میں ایسا بے دین ہے جو کسی ہندو یا عیسائی کو اپنی 1914 لڑکی دے دے،

٤٢٤

صفحہ ١٨٧١

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 29th Aug, 1974 No:14

ان لوگوں کو تم کافر کہتے ہو۔ مگر اس معاملہ میں وہ تم سے اچھے رہے کہ کافر ہو کر بھی کسی کافر کو لڑکی نہیں دیتے۔ مگر تم احمدی کہلا کر کافر کو دیتے ہو؟ کیا اس لئے دیتے ہو کہ وہ تمہاری قوم کا ہوتا ہے؟ مگر جس دن سے کہ تم احمدی ہوئے تمہاری قوم تو احمدیت ہوگئی۔ شناخت اور امتیاز کے لئے اگر کوئی پوچھے تو اپنی ذات یا قوم بتا سکتے ہو۔ ورنہ اب تو تمہاری قوم، گوت، تمہاری ذات احمدی ہی ہے۔ پھر احمدیوں کو چھوڑ کر غیر احمدیوں میں کیوں قوم تلاش کرتے ہو۔ مومن کا تو یہ کام ہوتا ہے کہ جب حق آجائے تو باطل کو چھوڑ دیتا ہے۔“

(ملائکۃ اللہ از مرزا بشیر الدین محمود ص ٤٦، ٤٧)

نیز انوار خلافت میں فرماتے ہیں: ”ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم غیر احمدیوں کو مسلمان نہ سمجھیں اور ان کے پیچھے نماز نہ پڑھیں۔ کیونکہ ہمارے نزدیک وہ خدا تعالیٰ کے ایک نبی کے منکر ہیں، یہ دین کا معاملہ ہے اس میں کسی کا اپنا اختیار نہیں کہ کچھ کر سکے۔“

(انوار خلافت ص ٩٠، مطبوعہ امرتسر ١٩١٦ء)

اور آئینہ صداقت میں تو یہاں تک لکھتے ہیں کہ جن لوگوں نے مرزا غلام احمد قادیانی کا نام تک نہیں سنا وہ بھی کافر ہیں، فرماتے ہیں: ”کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہ سنا ہو، کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔“

(آئینہ صداقت ص ٣٥)

مرزا بشیر احمد، ایم۔اے کے اقوال

اور مرزا غلام احمد قادیانی صاحب کے منجھلے بیٹے مرزا بشیر احمد، ایم۔اے لکھتے ہیں: 1915 ”ہر ایک ایسا شخص جو موسیٰ علیہ السلام کو مانتا ہے مگر عیسیٰ کو نہیں مانتا یا عیسیٰ کو مانتا ہے مگر محمد ﷺ کو نہیں مانتا اور یا محمد ﷺ کو مانتا ہے، پر مسیح موعود کو نہیں مانتا وہ نہ صرف کافر، بلکہ پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔“

(کلمۃ الفصل ص ١١٠، مندرجہ ریویو آف ریلیجنز ج ١٤ نمبر ٣، ٤، مارچ و اپریل ١٩١٥ء)

اسی کتاب میں دوسری جگہ لکھتے ہیں: ”مسیح موعود کا یہ دعویٰ کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک مامور ہے اور یہ کہ اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ ہم کلام ہوتا ہے۔ دو حالتوں سے خالی نہیں یا تو وہ نعوذ باللہ اپنے دعویٰ میں جھوٹا ہے اور محض افتراء علیٰ اللہ کے طور پر دعویٰ کرتا ہے تو ایسی صورت میں نہ صرف وہ کافر بلکہ بڑا کافر ہے اور یا مسیح موعود اپنے دعویٰ الہام میں سچا ہے اور خدا سچ مچ اس سے ہم کلام ہوتا تھا تو اس صورت میں بلاشبہ یہ کفر انکار کرنے والے پر پڑے گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ

٤٥

LY OF PAKISTAN 29th Aug, 1974 No:14

ن

نیز اخبار بدر مورخہ ٢٤ مئی ١٩٠٨ء میں نے سوال کیا کہ جو لوگ آپ کو کافر نہیں کہتے ان بـ اس کا طویل جواب دیتے ہوئے آخری کہ ان مولویوں کے بارے میں ایک لمبا اشتہار شـ ایک مسلمان کو کافر بنایا۔ تب میں ان کو مسلمان بـ جائے اور خدا کے کھلے کھلے معجزات کے منکـ المنافقين في الدرك الاسفل من النار یعنی مـ

(اخبار بدر مورخـ

گے۔“

مرزائی خلیفہ اوّل حکیمـ

مرزائی صاحبان کے پہلے خلیفہ جنـ فرماتے ہیں: ”ایمان بالرسل اگر نہ ہو تو کوئی شخـ میں کوئی تخصیص نہیں، عام ہے، خواہ وہ نبی پہلے اور ملک میں کسی مامور من اللہ کا انکار کفر ہو جاـ ماموریت کے منکر ہیں۔ بتاؤ کہ یہ اختلاف فروعـ

(مجموعہ فتاویٰ احمدیہ ج ١ ص

نیز ایک اور موقعہ پر کہتے ہیں: ”محـ ہیں، اللہ تعالیٰ کے رسولوں، کتابوں، فرشتوں کـ ہیں، اگر اسرائیلی مسیح رسول کا منکر کافر ہے تو محـ موسیٰ کا خاتم الخلفاء یا خلیفہ یا متبع ایسا ہے کہ اس متبع کیوں ایسا نہیں کہ اس کا منکر بھی کافر ہو۔ اگـ طرح کم نہیں۔“

(مجموعہ فتاویٰ اـ

خلیفہ دوم مرزا اـ

اور مرزائی صاحبان کے خلیفہ دوـ غیر احمدی کو رشتہ دیتا ہے وہ یقیناً حضرت مسیح مـ ہے؟ کیا کوئی غیر احمدیوں میں ایسا ہے دین ـ

صفحہ ١٨٧٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 29th Aug, 1974 No:14

نے اس آیت میں خود فرمایا ہے۔ پس اب تم کو اختیار ہے کہ یا مسیح موعود کے منکروں کو مسلمان کہہ کر مسیح موعود پر کفر کا فتویٰ لگاؤ اور یا مسیح موعود کو سچا مان کر اس کے منکروں کو کافر جانو۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ تم دونوں کو مسلمان سمجھو۔ کیونکہ آیت کریمہ صاف بتا رہی ہے کہ اگر مدعی کافر نہیں ہے تو مکذب ضرور کافر ہے۔ پس خدارا اپنا نفاق چھوڑو اور دل میں کوئی فیصلہ کرو۔‘‘

(کلمۃ الفصل ص ١٢٣، مندرجہ ریویو آف ریلیجنز ج ١٤، ماہ مارچ، اپریل ١٩١٥ء)

--------

At this stage Dr. Mrs. Ashraf Khatoon Abbasi vacated the chair which was occupied by Mr. Chairman (Sahibzada Farooq Ali)

(اس موقعہ پر ڈاکٹر مسز اشرف خاتون عباسی نے کرسی صدارت چھوڑ دی جسے مسٹر چیئرمین (صاحبزادہ فاروق علی) نے سنبھال لیا)

مولوی مفتی محمود:

محمد علی لاہوری صاحب کے اقوال

محمد علی لاہوری صاحب (امیر جماعت لاہور) انگریزی ریویو آف ریلیجنز میں لکھتے ہیں:

1916 "The Ahmadiyya movement stands in the same relation to Islam in which Christianity stood to Judism.

یعنی احمدی تحریک اسلام کے ساتھ وہی رشتہ رکھتی ہے جو عیسائیت کا یہودیت کے ساتھ تھا۔

(منقول از مباحثہ راولپنڈی مطبوعہ قادیان ص ٢٤٠، تبدیلی عقائد مؤلفہ محمد اسماعیل قادیانی ص ١٢)

اس میں محمد علی لاہوری صاحب نے ”احمدیت“ کو ”اسلام“ سے اسی طرح الگ مذہب قرار دیا ہے جس طرح عیسائیت یہودیت سے بالکل الگ مذہب ہے۔

نیز (ریویو آف ریلیجنز ج ٥ ص ٣١٨) میں لکھتے ہیں: ”افسوس ان مسلمانوں پر جو حضرت مرزا صاحب کی مخالفت میں اندھے ہو کر انہی اعتراضات کو دہرا رہے ہیں جو عیسائی آنحضرت ﷺ پر کرتے ہیں۔ بعینہ اسی طرح جس طرح عیسائی آنحضرت ﷺ کی مخالفت میں اندھے ہو کر ان اعتراضوں کو مضبوط کر رہے ہیں اور دہرا رہے ہیں جو یہودی حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر کرتے تھے۔ سچے نبی کا یہی ایک بڑا بھاری امتیازی نشان ہے کہ جو اعتراض اس پر کیا

٤٦

صفحہ ١٨٧٣

1873 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 29th Aug, 1974 No:14

جائے گا وہ سارے نبیوں پر پڑے گا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جو شخص ایسے مامور من اللہ کو رد کرتا ہے وہ گویا کل سلسلہ نبوت کو رد کرتا ہے۔

(منقول از تبدیلی عقائد مؤلفہ محمد اسماعیل صاحب قادیانی ص ٤٢)

یہاں یہ واضح رہے کہ مرزا غلام احمد صاحب یا ان کے متبعین کی عبارتوں میں کہیں کہیں ضمناً اپنے مخالفین کے لئے ”مسلمان“ کا لفظ استعمال ہو گیا ہے۔ اس کی حقیقت بیان کرتے ہوئے ملک محمد عبداللہ صاحب قادیانی ریویو آف ریلیجنز کے ایک مضمون میں لکھتے ہیں: ”آپ (مرزا صاحب) نے اپنے منکروں کو ان کے ظاہری نام کی وجہ سے مسلمان لکھا ہے، کیونکہ عرف عام کی وجہ سے جب ایک نام مشہور ہو جائے تو پھر خواہ حقیقت اس میں موجود نہ بھی رہے اسے اسی نام سے پکارا جاتا ہے۔“ 1917

(احمدیت کے امتیازی مسائل مندرجہ ریویو آف ریلیجنز دسمبر ١٩٣١ء ج ٣٠ نمبر ١٢ ص ٣٨)

مسلمانوں سے عملی قطع تعلق

مذکورہ بالا عقائد کی بناء پر مرزائی صاحبان نے خود اپنے آپ کو ایک الگ ملت قرار دے دیا اور جیسا کہ پیچھے عرض کیا جا چکا ہے، ان کا یہ طرز عمل مرزا غلام احمد صاحب کے دعوؤں اور تحریروں کا بالکل منطقی نتیجہ ہے۔ چنانچہ انہوں نے مسلمانوں کے پیچھے نماز پڑھنے ان کے ساتھ شادی بیاہ کے تعلق قائم کرنے اور ان کی نماز جنازہ ادا کرنے کی بالکلیہ ممانعت کر دی۔

غیر احمدی کے پیچھے نماز

چنانچہ مرزا غلام احمد صاحب نے لکھا کہ: ”تکفیر کرنے والے اور تکذیب کی راہ اختیار کرنے والے ہلاک شدہ قوم ہے اس لئے وہ اس لائق نہیں ہیں کہ میری جماعت میں سے کوئی شخص ان کے پیچھے نماز پڑھے۔ کیا زندہ مردہ کے پیچھے نماز پڑھ سکتا ہے؟ پس یاد رکھو کہ جیسا خدا نے مجھے اطلاع دی ہے تمہارے پر حرام ہے اور قطعی حرام ہے کہ کسی مکفر اور مکذب یا متردد کے پیچھے نماز پڑھو۔ بلکہ چاہئے کہ تمہارا وہی امام ہو جو تم میں سے ہو۔ اسی کی طرف حدیث بخاری کے ایک پہلو میں اشارہ ہے کہ امامکم یعنی جب مسیح نازل ہوگا تو تمہیں دوسرے فرقوں کو جو دعوئے اسلام کرتے ہیں بکلی ترک کرنا پڑے گا اور تمہارا امام تم میں سے ہوگا۔ پس تم ایسا ہی کرو۔ کیا تم چاہتے ہو کہ خدا کا الزام تمہارے سر پر ہو اور تمہارے عمل حبط ہو جائیں؟“

(تحفہ گولڑویہ ص ٢٨ حاشیہ ، خزائن ج ١٧ ص ٤١٧)

٤٧

EMBLY OF PAKISTAN 29th Aug, 1974 No:14

نے اس آیت میں خود فرمایا ہے۔ پس اب تم کو اختیار کہ مسیح موعود پر کفر کا فتویٰ لگاؤ اور یا مسیح موعود کو سچا مان کر کہ تم دونوں کو مسلمان سمجھو۔ کیونکہ آیت کریمہ صاف بـ ضرور کافر ہے۔ پس خدارا اپنا نفاق چھوڑو اور دل میں کوـ

(کلمۃ الفصل ص ١٢٣، مندرجہ ر

--------------

Mrs. Ashraf Khatoon Abbasi was occupied by Mr. Chairman

(اس موقعہ پر ڈاکٹر مسز اشرف خاتون عـ چیئر مین (صاحبزادہ فاروق علی) نے سنبھال لیا)

مولوی مفتی محمود:

محمد علی لاہوری صاحب

محمد علی لاہوری صاحب (امیر جماعت لاہو

a movement stands in the same Christianity stood to Judism.

یعنی احمدی تحریک اسلام کے ساتھ وہی ساتھ تھا۔ (منقول از مباحثہ راولپنڈی مطبوعہ قادیان مـ اس میں محمد علی لاہوری صاحب نے "احمد قرار دیا ہے جس طرح عیسائیت یہودیت سے بالکل ا نیز (ریویو آف ریلیجنز ج ٥ ص ١٨ حضرت مرزا صاحب کی مخالفت میں اندھے ہو کر ا آنحضرت ﷺ پر کرتے ہیں۔ بعینہ اسی طرح جس طـ اندھے ہو کر ان اعتراضوں کو مضبوط کر رہے ہیں او السلام پر کرتے تھے۔ سچے نبی کا یہی ایک بڑا بھار

٤٦

صفحہ ١٨٧٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 29th Aug, 1974 No:14

غیر احمدیوں کے ساتھ شادی بیاہ

مرزا بشیر الدین محمود (خلیفہ دوم قادیانی صاحبان) لکھتے ہیں: ’’حضرت مسیح موعود نے اس احمدی پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے جو اپنی لڑکی غیر احمدی کو دے۔ آپ سے ایک شخص نے بار بار پوچھا اور کئی قسم کی مجبوریوں کو پیش کیا۔ لیکن آپ نے اس کو یہی فرمایا کہ لڑکی کو بٹھائے رکھو، لیکن غیر احمدیوں میں نہ دو۔ آپ کی وفات کے بعد اس نے غیر احمدیوں کو لڑکی دے دی تو حضرت خلیفہ اوّل نے اس کو احمدیوں کی امامت سے ہٹا دیا اور جماعت سے خارج کر دیا اور اپنی خلافت کے چھ سالوں میں اس کی توبہ قبول نہ کی۔ باوجود یکہ وہ بار بار توبہ کرتا رہا۔ (اب میں نے اس کی سچی توبہ دیکھ کر قبول کر لی ہے)‘‘

(انوار خلافت ص ٩٣، ٩٤)

آگے لکھتے ہیں: ’’میں کسی کو جماعت سے نکالنے کا عادی نہیں۔ لیکن اگر کوئی اس حکم کے خلاف کرے گا تو میں اس کو جماعت سے نکال دوں گا۔‘‘

(انوار خلافت ص ٩٤)

البتہ مسلمانوں کی لڑکیاں لینے کو قادیانی مذہب میں جائز قرار دیا گیا۔ اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے مرزا غلام احمد صاحب کے دوسرے صاحبزادے مرزا بشیر احمد لکھتے ہیں کہ: ’’اگر کہو کہ ہم کو ان کی لڑکیاں لینے کی اجازت ہے تو میں کہتا ہوں نصاریٰ کی لڑکیاں لینے کی بھی اجازت ہے۔‘‘

(کلمۃ الفصل ص ١٦٩ مندرجہ ریویو ج ١٤ ص ١٢٠)

غیر احمدیوں کی نماز جنازہ

مرزا بشیر الدین محمود لکھتے ہیں: ’’اب ایک اور سوال رہ جاتا ہے کہ غیر احمدی حضرت مسیح موعود کے منکر ہوئے، اس لئے ان کا جنازہ نہیں پڑھنا چاہئے۔ لیکن اگر کسی غیر احمدی کا چھوٹا بچہ مر جائے تو اس کا جنازہ کیوں نہ پڑھا جائے۔ وہ تو مسیح موعود کا منکر نہیں۔ میں یہ سوال کرنے والے سے پوچھتا ہوں کہ اگر یہ بات درست ہے تو پھر ہندوؤں اور عیسائیوں کے بچوں کا جنازہ کیوں نہیں پڑھا جاتا؟ اور کتنے لوگ ہیں جو ان کا جنازہ پڑھتے ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ جو ماں باپ کا مذہب ہوتا ہے۔ شریعت وہی مذہب ان کے بچے کا قرار دیتی ہے۔ پس غیر احمدی کا بچہ بھی غیر احمدی ہی ہوا۔ اس لئے اس کا جنازہ بھی نہیں پڑھنا چاہئے۔‘‘

(انوار خلافت ص ٩٣، مطبوعہ امرتسر ١٩١٦ء)

٤٨

صفحہ ١٨٧٥

1875 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 29th Aug, 1974 No:14

قائداعظم کی نماز جنازہ

چنانچہ اپنے مذہب اور خلیفہ کے حکم کی تعمیل میں چوہدری ظفر اللہ خان صاحب سابق وزیر خارجہ پاکستان نے قائد اعظم کی نماز جنازہ میں بھی شرکت نہیں کی۔ منیر انکوائری کمیشن کے سامنے تو اس کی وجہ انہوں نے یہ بیان کی کہ: ”نماز جنازہ کے امام مولانا شبیر احمد عثمانی احمدیوں کو کافر، مرتد اور واجب القتل قرار دے چکے تھے۔ اس لئے میں اس نماز میں شریک ہونے کا فیصلہ نہ کر سکا۔ جس کی امامت مولانا کر رہے تھے۔“

(رپورٹ تحقیقاتی عدالت پنجاب ص ٢١٢)

لیکن عدالت سے باہر جب ان سے یہ بات پوچھی گئی کہ آپ نے قائد اعظم کی نماز جنازہ کیوں ادا نہیں کی؟ تو اس کا جواب انہوں نے یہ دیا۔

”آپ مجھے کافر حکومت کا مسلمان وزیر سمجھ لیں یا مسلمان حکومت کا کافر نوکر۔“

(زمیندار لاہور ٨ فروری ١٩٥٠ء)

جب اخبارات میں یہ واقعہ منظر عام پر آیا تو جماعت ربوہ کی طرف سے اس کا یہ جواب دیا گیا کہ: ”جناب چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب پر ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ آپ نے قائد اعظم کا جنازہ نہیں پڑھا۔ تمام دنیا جانتی ہے کہ قائد اعظم احمدی نہ تھے۔ لہٰذا جماعت احمدیہ کے کسی فرد کا ان کا جنازہ نہ پڑھنا کوئی قابل اعتراض بات نہیں۔“ (ٹریکٹ نمبر ٢٢، بعنوان ”احراری علماء کی راست گوئی کا نمونہ“ ناشر: مہتمم نشر واشاعت نظارت دعوت و تبلیغ صدر انجمن احمدیہ ربوہ ضلع جھنگ)

1920 اور قادیانی اخبار ”الفضل“ کا جواب یہ تھا کہ: ”کیا یہ حقیقت نہیں کہ ابو طالب بھی قائد اعظم کی طرح مسلمانوں کے بہت بڑے محسن تھے، مگر نہ مسلمانوں نے آپ کا جنازہ پڑھا اور نہ رسول خدا نے۔“

(الفضل مورخہ ٢٨ اکتوبر ١٩٥٢ء ص ٤ کالم ٢ ج ٤٠ ش ٢٥٦)

بعض لوگ چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کے اس طرز عمل پر اظہار تعجب کرتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس میں تعجب کا کوئی موقع نہیں۔ انہوں نے جو دین اختیار کیا تھا یہ اس کا لازمی تقاضا تھا۔ ان کا دین، ان کا مذہب، ان کی امت ان کے عقائد ان کے افکار ہر چیز مسلمانوں سے نہ صرف مختلف بلکہ ان سے بالکل متضاد ہے، ایسی صورت میں وہ قائد اعظم کی نماز جنازہ کیوں پڑھتے؟

خود اپنے آپ کو الگ اقلیت قرار دینے کا مطالبہ

مذکورہ بالا توضیحات سے یہ بات دو اور دو چار کی طرح کھل کر سامنے آ جاتی ہے کہ

٤٩

صفحہ ١٨٧٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 29th Aug, 1974 No:14

مرزائی مذہب مسلمانوں سے بالکل الگ مذہب ہے۔ جس کا امت اسلامیہ سے کوئی تعلق نہیں اور اپنی یہ پوزیشن خود مرزائیوں کو مسلم ہے کہ ان کا اور مسلمانوں کا مذہب ایک نہیں ہے اور وہ مسلمانوں کے تمام مکاتب فکر سے الگ ایک مستقل امت ہیں۔ چنانچہ انہوں نے غیر منقسم ہندوستان میں اپنے آپ کو سیاسی طور پر بھی مسلمانوں سے الگ ایک مستقل اقلیت قرار دینے کا مطالبہ کیا تھا۔

مرزا بشیر الدین محمود کہتے ہیں: ”میں نے اپنے نمائندے کی معرفت ایک بڑے ذمہ دار انگریز افسر کو کہلوا بھیجا کہ پارسیوں اور عیسائیوں کی طرح ہمارے حقوق بھی تسلیم کئے جائیں۔ جس پر اس افسر نے کہا کہ وہ تو اقلیت ہیں اور تم ایک مذہبی فرقہ ہو۔ اس پر میں نے کہا کہ پارسی اور عیسائی بھی تو مذہبی فرقہ ہیں جس 1921 طرح ان کے حقوق علیحدہ تسلیم کئے گئے ہیں اسی طرح ہمارے بھی کئے جائیں۔ تم ایک پارسی پیش کر دو۔ اس کے مقابلہ میں دو۔ دو احمدی پیش کرتا جاؤں گا۔“

(مرزا بشیر الدین محمود کا بیان مندرجہ الفضل مورخہ ١٣؍نومبر ١٩٤٦ء)

کیا اس کے بعد بھی اس مطالبے کی معقولیت میں کسی انصاف پسند انسان کو کوئی ادنیٰ شبہ باقی رہ سکتا ہے کہ مرزائی امت کو سرکاری سطح پر غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے؟

مرزائی بیانات کے بارے میں ایک ضروری تنبیہ

یہاں ایک اور اہم حقیقت کی طرف توجہ دلانا از بس ضروری ہے اور وہ یہ کہ مرزائی صاحبان کا نوے ٩٠ سالہ طرز عمل یہ بتاتا ہے کہ وہ اپنے جماعتی مفادات کی خاطر بسا اوقات صریح غلط بیانی سے بھی نہیں چوکتے۔ پیچھے ان کی وہ واضح اور غیر مبہم تحریریں پیش کی جا چکی ہیں جن میں انہوں نے مسلمانوں کو کھلم کھلا کافر قرار دیا ہے اور جتنی تحریریں پیچھے پیش کی گئی ہیں اس سے زیادہ مزید پیش کی جاسکتی ہیں۔ لیکن اپنی تقریر و تحریر میں ان گنت مرتبہ ان صریح اعلانات کے باوجود منیر انکوائری کمیشن کے سوال کے جواب میں ان دونوں جماعتوں نے یہ بیان دیا کہ ہم غیر احمدیوں کو کافر نہیں سمجھتے۔

ان کا یہ بیان ان کے حقیقی عقائد اور سابقہ تحریرات سے اس قدر متضاد تھا کہ منیر انکوائری کمیشن کے جج صاحبان بھی اسے صحیح باور نہ کر سکے۔ چنانچہ وہ اپنی رپورٹ میں لکھتے ہیں: ”اس مسئلے پر کہ آیا احمدی دوسرے مسلمانوں کو ایسا کافر سمجھتے ہیں جو دائرہ اسلام سے خارج ہے؟ احمدیوں نے ہمارے سامنے یہ موقف ظاہر کیا ہے کہ ایسے لوگ کافر نہیں ہیں، اور لفظ کفر جو احمدی

٥٠

صفحہ ١٨٧٧

1877 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 29th Aug, 1974 No:14

لٹریچر میں ایسے اشخاص کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔ اس سے کفر خفی یا انکار مقصود ہے یہ ہرگز کبھی مقصود نہیں ہوا کہ ایسے اشخاص دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ لیکن ہم نے اس موضوع پر احمدیوں کے بے شمار سابقہ اعلانات دیکھے ہیں اور ہمارے نزدیک ان 1922 کی کوئی تعبیر اس کے سوا ممکن نہیں کہ مرزا غلام احمد کے نہ ماننے والے دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔“

(پنجاب کی تحقیقاتی عدالت کی رپورٹ اردو ص ٢١٢)

چنانچہ جب تحقیقات کی بلا ٹل گئی تو وہی سابقہ تحریریں جن میں مسلمانوں کو برملا کافر کہا گیا تھا۔ پھر شائع ہونی شروع ہو گئیں۔ کیونکہ وہ تو ایک وقتی چال تھی جس کا اصل عقیدے سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

یہی حال سرکار دو عالم ﷺ کو آخری پیغمبر ماننے کا ہے کہ مرزائی پیشواؤں کی ایسی صریح تحریروں کا ایک انبار موجود ہے جن میں انہوں نے اپنے اس عقیدے کا برملا اعلان کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد نبیوں کی آمد بند نہیں ہوئی۔ بلکہ آپ ﷺ کے بعد بھی نبی پیدا ہو سکتے ہیں۔ مثلاً ان کے خلیفہ دوم مرزا بشیر الدین محمود نے لکھا تھا کہ: ”اگر میری گردن کے دونوں طرف تلوار بھی رکھ دی جائے اور مجھے کہا جائے کہ تم یہ کہو کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا تو میں اسے کہوں گا تو جھوٹا ہے، تو کذاب ہے۔ آپ کے بعد نبی آسکتے ہیں اور ضرور آسکتے ہیں۔“

(انوار خلافت ص ٦٥)

لیکن حال ہی میں جب پاکستان کے دستور میں صدر اور وزیراعظم کے حلف نامے میں یہ الفاظ بھی تجویز کئے گئے کہ: ”میں آنحضرت ﷺ کے آخری پیغمبر ہونے پر اور اس بات پر ایمان رکھتا ہوں کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں ہو سکتا۔“ تو قادیانیوں کے موجودہ خلیفہ مرزا ناصر احمد صاحب نے اعلان فرمایا کہ: ”میں نے اس حلف نامے کے الفاظ پر بڑا غور کیا ہے اور میں بالآخر اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ ایک احمدی کے راستے میں اس حلف کو اٹھانے میں کوئی روک نہیں۔“

(الفضل ربوہ مورخہ ١٣ مئی ١٩٧٣ء نمبر ١٠٦ ص ٤، ٥)

1923 ملاحظہ فرمائیے کہ جو بات خلیفہ دوم کے نزدیک انسان کو جھوٹا اور کذاب بنا دیتی تھی اور جس کا اقرار تلواروں کے درمیان بھی جائز نہیں تھا، جب عہدۂ صدارت و وزارت عظمیٰ اس پر موقوف ہو گیا تو اس کے حلفیہ اقرار میں بھی کچھ حرج نہیں رہا۔ لہٰذا مرزائی پیشوایان کے بارے

٥١

Y OF PAKISTAN 29th Aug, 1974 No:14

مرزائی مذہب مسلمانوں سے بالکل الگ مذہب اپنی یہ پوزیشن خود مرزائیوں کو مسلم ہے کہ مسلمانوں کے تمام مکاتب فکر سے الگ ایک ہندوستان میں اپنے آپ کو سیاسی طور پر بھی مـ مطالبہ کیا تھا۔

مرزا بشیر الدین محمود کہتے ہیں: ”حـ دار انگریز افسر کو کہلوا بھیجا کہ پارسیوں اور عیسا جس پر اس افسر نے کہا کہ وہ تو اقلیت ہیں اور تـ عیسائی بھی تو مذہبی فرقہ ہیں جس 1921 طرح ہمارے بھی کئے جائیں۔ تم ایک پارسی پیش کر گا۔“

(مرزا

کیا اس کے بعد بھی اس مطالبے شبہ باقی رہ سکتا ہے کہ مرزائی امت کو سرکاری سـ

مرزائی بیانات کے با

یہاں ایک اور اہم حقیقت کی طر صاحبان کا نوے ٩٠ سالہ طرز عمل یہ بتاتا ہے غلط بیانی سے بھی نہیں چوکتے۔ پیچھے ان کی دو انہوں نے مسلمانوں کو کھلم کھلا کافر قرار دیا ہے مزید پیش کی جاسکتی ہیں۔ لیکن اپنی تقریر و تحریر انکوائری کمیشن کے سوال کے جواب میں ان کافر نہیں سمجھتے۔

ان کا یہ بیان ان کے حقیقی عقائد ا کمیشن کے جج صاحبان بھی اسے صحیح باور نہ مسئلے پر کہ آیا احمدی دوسرے مسلمانوں کو ا احمدیوں نے ہمارے سامنے یہ مؤقف ظاہر کـ

صفحہ ١٨٧٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 29th Aug, 1974 No:14

میں حقیقت تک پہنچنے کے لئے وہ بیانات ہمیشہ گمراہ کن ہوں گے جو وہ کوئی پتا پڑنے کے موقع پر دیا کرتے ہیں۔ ان کی اصل حقیقت کو سمجھنے کے لئے ان کی اصلی مذہبی تحریروں اور ان کے نوے سالہ طرز عمل کا مطالعہ ضروری ہے، یا تو وہ اپنے تمام سابقہ عقائد، تحریروں اور بیانات سے کھلم کھلا توبہ کر کے ان سب سے برأت کا بر ملا اعلان کریں اور اس بات کا عملی ثبوت فراہم کریں کہ مرزا غلام احمد قادیانی کی پیروی سے ان کا کوئی تعلق نہیں رہا۔ یا پھر جرأت مندی سے اپنے ان عقائد اور بیانات کو قبول کر کے اپنی اس پوزیشن پر راضی ہوں جو ان کی روشنی میں ثابت ہوتی ہے اس کے سوا جو بھی تیسرا راستہ اختیار کیا جائے گا وہ محض دفع الوقتی کی ترکیب ہو گی۔ جس سے کسی ذمہ دار ادارے یا حق کے طلب گار کو دھوکے میں نہیں آنا چاہئے۔

پروفیسر غفور احمد : میری گزارش یہ ہے کہ اب آپ اسے ایڈجرن کر دیں کل لے لیں۔ جناب چیئرمین : پانچ منٹ کے لئے وقفہ کریں۔ دس بجے تک چلیں گے۔ ہم صفحہ ٤١ تک پہنچ گئے ہیں۔ ٦٠ تک پہنچ جائیں تو ٹھیک ہے۔ پروفیسر غفور احمد : ہم صبح سے وہاں گئے ہوئے تھے۔ چودہ پندرہ گھنٹے ہو چکے ہیں۔ اب صرف کل ایک سٹنگ میں ختم ہو جائے گی یا آٹھ بجے چلا لیں؟ متعدد اراکین : جی! چلا لیں۔ جناب چیئرمین : میری طرف سے تو صبح پانچ بجے کر لیں، نماز یہاں پڑھ لیں گے۔

1924 The House Committee is adjourned to meet tomorrow at 9:00 a.m. sharp.

(پارلیمینٹری کمیٹی کا اجلاس کل ٩ بجے صبح تک کے لئے ملتوی کیا جاتا ہے)

The Special Committee of the Whole House adjourned to meet at nine of the Clock, in the morning, on Friday, the 30th, August, 1974.

(پورے ہاؤس پر مشتمل خصوصی کمیٹی کا اجلاس ٣٠ اگست ١٩٧٤ء بروز جمعہ صبح ٩ بجے تک کے لئے ملتوی کیا جاتا ہے)

٥٢

1879 NATIONAL ASSE

NATIONAL ASSE — PROC

THE SPECIAL CO WHOLE HOUSE TO CONSIDER T

— OFFICE — Friday, the — (Conta — C

1 Qadian Issue—General Discussio—

PRINTED BY THE MANAGER, PRINTIN PUBLISHED BY THE NATI

PDF 185

1879 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

THE NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN

PROCEEDINGS OF THE SPECIAL COMMITTEE OF THE WHOLE HOUSE HELD IN CAMERA TO CONSIDER THE QADIANI ISSUE

OFFICIAL REPORT

Friday, the 30th August, 1974

(Contains Nos. 1—21)

CONTENTS

Pages

1 Qadiani Issue—General Discussion—(Continued).. ... ... ... ... 1928-2355

PRINTED BY THE MANAGER, PRINTING CORPORATION OF PAKISTAN PRESS, ISLAMABAD PUBLISHED BY THE NATIONAL BOOK FOUNDATION, ISLAMABAD

Y OF PAKISTAN 29th Aug, 1974 No:14

میں حقیقت تک پہنچنے کے لئے وہ بیانات ہمیشہ کھ کرتے ہیں۔ ان کی اصل حقیقت کو سمجھنے کے لی طرزعمل کا مطالعہ ضروری ہے، یا تو وہ اپنے تمام کے ان سب سے برأت کا برملا اعلان کریں اور ی قادیانی کی پیروی سے ان کا کوئی تعلق نہیں رہا۔ کو قبول کر کے اپنی اس پوزیشن پر راضی ہوں جو تیسرا راستہ اختیار کیا جائے گا وہ محض دفع الوقتی حق کے طلب گار کو دھوکے میں نہیں آنا چاہئے۔

پروفیسر غفور احمد: میری گزارش یہ جناب چیئرمین: پانچ منٹ ب صفحہ ٤١ تک پہنچ گئے ہیں۔ ٦٠ تک پہنچ جائیں تو پروفیسر غفور احمد: ہم صبح سے وہا اب صرف کل ایک سٹنگ میں ختم ہو جائے گی یا متعدد اراکین: جی! چلا لیں۔ جناب چیئرمین: میری طرف س

ttee is adjourned to meet

(پارلیمنٹری کمیٹی کا اجلاس کل ٩ ب

ttee of the Whole House e Clock, in the morning, on

(پورے ہاؤس پر مشتمل خصوصی کمی تک کے لئے ملتوی کیا جاتا ہے)

صفحہ ١٨٨١

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

THE

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN

PROCEEDINGS

OF

THE SPECIAL COMMITTEE OF THE

WHOLE HOUSE HELD IN CAMERA

TO CONSIDER THE QADIANI ISSUE

OFFICIAL REPORT

Friday, the 30th August, 1974

(Contains Nos. 1—21)

٢

NATIONAL

1927 THE NATIONAL (

PRO

THE SPECIAL

WHOLE HOU

TO CONSIDER

مے کی کاروائی)

OFF

Friday, t جمعتہ )

The Special Co Camera in the Assemb Islamabad, at nine o Chairman (Sahibzada مبر (سٹیٹ بینک بلڈنگ) اسلام آباد علی) کی زیر صدارت منعقد ہوا)

(Recitatio (

صفحہ ١٨٨١

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

1927 THE NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN

(قومی اسمبلی پاکستان)

-------

PROCEEDINGS

OF

THE SPECIAL COMMITTEE OF THE

WHOLE HOUSE HELD IN CAMERA

TO CONSIDER THE QADIANI ISSUE.

(مکمل ایوان کی خصوصی کمیٹی، بند کمرے کی کاروائی)

-------

OFFICIAL REPORT

-------

Friday, the 30th August. 1974. (٣٠ اگست ١٩٧٤ء، بروز جمعہ)

The Special Committee of the Whole House met in Camera in the Assembly Chamber, (State Bank Building), Islamabad, at nine of the clock, in the morning. Mr. Chairman (Sahibzada Farooq Ali) in the Chair. (مکمل ایوان کی خصوصی کمیٹی کا اجلاس اسمبلی چیمبر (سٹیٹ بینک بلڈنگ) اسلام آباد بند کمرے میں صبح ٩ بجے چیئرمین جناب (صاحبزادہ فاروق علی) کی زیر صدارت منعقد ہوا)

-------

(Recitation from the Holy Quran)

(تلاوت قرآن شریف)

-------

٣

صفحہ ١٨٨٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

1928 QADIANI ISSUE- GENERAL DISCUSSION

جناب چیئرمین: مولوی مفتی محمود!

مولوی مفتی محمود:

لاہوری جماعت کی حقیقت

مرزائی صاحبان کی لاہوری جماعت، جس کے بانی محمد علی لاہوری صاحب تھے۔ بکثرت یہ دعویٰ کرتی ہے کہ وہ مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی نہیں مانتی۔ بلکہ مسیح موعود مہدی اور مجدد مانتی ہے۔ اس لئے اس پر ختم نبوت کی خلاف ورزی کے الزام میں کفر عائد نہیں ہونا چاہئے۔ اس کا مختصر سا جواب تو یہ ہے کہ جس شخص کا جھوٹا دعویٰ نبوت ثابت ہو چکا ہو۔ اسے صرف نبی ماننا ہی نہیں، سچا ماننا اور واجب الاطاعت سمجھنا بھی کھلا کفر ہے۔ چہ جائیکہ اسے مسیح موعود، مہدی اور مجدد اور محدث (صاحب الہام) قرار دیا جائے۔ جیسا کہ پیچھے بیان کیا جاچکا ہے۔ کسی شخص کا دعویٰ نبوت جو دو حریف مذہب پیدا کرتا ہے، وہ اسے سچا ماننے والوں اور جھوٹا ماننے والوں پر مشتمل ہوتے ہیں جو جماعت اسے سچا قرار دیتی ہے وہ ایک مذہب کی پیرو قرار پاتی ہے اور جو جماعت اس کی تکذیب کرتی ہے وہ دوسرے مذہب میں شامل ہوتی ہے۔ لہٰذا جب مرزا غلام احمد قادیانی کا مدعی نبوت ہونا روز روشن کی طرح ثابت ہو چکا تو اب اس کو پیشوا ماننے والی تمام جماعتیں ایک ہی مذہب میں داخل ہوں گی، خواہ وہ اسے نبی کا نام دیں، یا مسیح موعود، مہدی معہود اور مجدد کا، لیکن اس مختصر جواب کے ساتھ لاہوری جماعت کی پوری حقیقت واضح کر دینا بھی مناسب ہوگا۔

واقعہ یہ ہے کہ عقیدہ ومذہب کے اعتبار سے ان دونوں جماعتوں میں عملاً کوئی فرق نہیں۔ بلکہ مرزا غلام احمد قادیانی کی زندگی میں اور ان کے بعد ان کے خلیفہ اوّل حکیم نورالدین کے انتقال تک جماعت قادیان اور جماعت لاہور کوئی الگ جماعتیں نہ تھیں۔ اس پورے عرصہ میں مرزا غلام احمد قادیانی کے تمام متبعین خواہ مرزا بشیر الدین ہوں یا محمد علی لاہوری، پوری آزادی کے 1929 ساتھ مرزا غلام احمد قادیانی کو ”نبی“ اور ”رسول“ کہتے اور مانتے رہے۔ محمد علی لاہوری صاحب عرصہ دراز تک مشہور قادیانی رسالے ”ریویو آف ریلیجنز“ کے ایڈیٹر رہے اور اس عرصہ میں انہوں نے بے شمار مضامین میں نہ صرف مرزا صاحب کے لئے ”نبی“ اور ”رسول“ کا لفظ استعمال کیا، بلکہ ان کے لئے نبوت ورسالت کے تمام لوازم کے قائل رہے، ان کے ایسے مضامین کو جمع کیا جائے تو ایک پوری کتاب بن سکتی ہے۔ تاہم یہاں محض نمونے کے طور پر ان کی چند تحریریں پیش کی جاتی ہیں:

٤

صفحہ ١٨٨٣

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15 ١٣؍مئی ١٩٠٤ء کو گورداسپور کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی عدالت میں ایک بیان دیا جس کا مقصد یہ ثابت کرنا تھا کہ جو شخص مرزا صاحب کی تکذیب کرے وہ ”کذاب“ ہوتا ہے۔ چنانچہ ایسے شخص کو اگر مرزا صاحب نے کذاب لکھا تو ٹھیک کہا۔ اس بیان میں وہ لکھتے ہیں: ”مکذب مدعی نبوت کذاب ہوتا ہے۔ مرزا صاحب ملزم مدعی نبوت ہے، اس کے مرید اس کو دعویٰ میں سچا اور دشمن جھوٹا سمجھتے ہیں۔“ (حلفیہ شہادت بعدالت ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ گورداسپور مورخہ ١٣؍مئی ١٩٠٤ء منقول از

ماہنامہ فرقان قادیان، ج١ نمبر١، ماہ جنوری ١٩٤٢ء ص١٥)

”آنحضرت ﷺ کے بعد خداوند تعالیٰ نے تمام نبوتوں اور رسالتوں کے دروازے بند کر دیئے۔ مگر آپ ﷺ کے متبعین کامل کے لئے جو آپ ﷺ کے رنگ میں رنگین ہو کر آپ ﷺ کے اخلاق کاملہ سے نور حاصل کرتے ہیں، ان کے لئے یہ دروازہ بند نہیں ہوا۔“

(ریویو آف ریلیجنز ج٤ ص١٨٦، بحوالہ تبدیلی عقائد از محمد اسماعیل قادیانی ص٢٢)

”جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے اس زمانے میں دنیا کی اصلاح کے لئے مامور اور نبی کر کے بھیجا ہے وہ بھی شہرت پسند نہیں، بلکہ ایک عرصہ دراز تک جب تک اللہ تعالیٰ 1930 نے یہ حکم نہیں دیا کہ وہ لوگوں سے بیعت توبہ لیں۔ آپ کو کسی سے کچھ سروکار نہیں تھا اور سالہا سال تک گوشہ خلوت سے باہر نہیں نکلے۔ یہی سنت قدیم سے انبیاء علیہم السلام کی چلی آئی ہے۔“

(ریویو ج٥ ص١٣٦)

”مخالف خواہ کوئی ہی معنی کر لے، مگر ہم تو اسی پر قائم ہیں کہ خدا نبی پیدا کر سکتا ہے، صدیق بنا سکتا ہے اور شہید اور صالح کا مرتبہ عطا کر سکتا ہے۔ مگر چاہیے مانگنے والا...... ہم نے جس کے ہاتھ میں ہاتھ دیا (یعنی مرزا غلام احمد صاحب) وہ صادق تھا۔ خدا کا برگزیدہ اور مقدس رسول تھا۔“ (تقریر محمد علی ایم اے مورخہ ١٨؍جولائی ١٩٠٨ء بحوالہ ماہنامہ فرقان قادیان جنوری ١٩٤٢ء، ج١ ص١١)

یہ اقتباسات تو محض بطور نمونہ محمد علی لاہوری صاحب بانی جماعت لاہور کی تحریروں سے پیش کئے گئے ہیں۔ لیکن یہ صرف انہی کا عقیدہ نہ تھا۔ بلکہ پوری جماعت لاہور نے اپنے ایک حلفیہ بیان میں انہی عقائد کا اقرار کیا ہے۔

لاہوری جماعت کا حلفیہ بیان

”پیغام صلح“ جماعت لاہور کا مشہور اخبار ہے۔ اس کی ١٦؍اکتوبر ١٩١٣ء کی اشاعت میں پوری جماعت کی طرف سے یہ حلفیہ بیان شائع ہوا: ”معلوم ہوا ہے کہ بعض احباب کو کسی نے

٥

صفحہ ١٨٨٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

غلط فہمی میں ڈال دیا ہے کہ اخبار ہذا کے ساتھ تعلق رکھنے والے احباب یا ان میں سے کوئی ایک سید نا و ھادینا حضرت مرزا غلام احمد صاحب مسیح موعود، مہدی معہود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مدارج عالیہ کو اصلیت سے کم یا استخفاف کی نظر سے دیکھتا ہے۔ ہم تمام احمدی جن کا کسی نہ کسی 1931 صورت سے اخبار پیغام صلح کے ساتھ تعلق ہے۔ خدا تعالیٰ کو جو دلوں کے بھید جاننے والا ہے۔ حاضر و ناظر جان کر علی الاعلان کہتے ہیں کہ ہماری نسبت اس قسم کی غلط فہمی پھیلانا محض بہتان ہے۔ ہم حضرت مسیح موعود و مہدی معہود کو اس زمانہ کا نبی، رسول اور نجات دہندہ مانتے ہیں۔“

(پیغام صلح ١٦؍ اکتوبر ١٩١٣ء ص ٢، بحوالہ ماہنامہ فرقان قادیان جنوری ١٩٤٢ء ص ١٣، ١٤)

اس حلفیہ بیان کے بعد لاہوری جماعت کے اصل عقائد سے ہر پردہ اٹھ جاتا ہے۔ لیکن جب مرزائیوں کے خلیفہ اول حکیم نورالدین کا انتقال ہوتا ہے اور خلافت کا مسئلہ اٹھتا ہے تو محمد علی لاہوری صاحب مرزا بشیر الدین محمود کے ہاتھ بیعت کرنے اور خلیفہ تسلیم کرنے سے انکار کر کے قادیان سے لاہور چلے آتے ہیں اور یہاں اپنی الگ جماعت کی داغ بیل ڈالتے ہیں۔ ١٤؍ مارچ ١٩١٤ء کو مرزا بشیر الدین خلیفہ دوم مقرر کئے گئے اور ٢٢؍ مارچ ١٩١٤ء کو اس فیصلے سے اختلاف کرنے والی جماعت لاہور کا پہلا جلسہ ہوا۔ اس جلسے میں جو قرارداد منظور کی گئی وہ یہ تھی:

”صاحبزادہ صاحب (مرزا بشیر الدین) کے انتخاب کو اس حد تک ہم جائز سمجھتے ہیں کہ وہ غیر احمدیوں سے احمد کے نام پر بیعت لیں۔ یعنی اپنے سلسلہ احمدیہ میں ان کو داخل کرلیں۔ لیکن احمدیوں سے دوبارہ بیعت لینے کی ہم ضرورت نہیں سمجھتے۔ اس حیثیت میں ہم انہیں امیر تسلیم کرنے کے لئے تیار ہیں۔ لیکن اس کے لئے بیعت کی ضرورت نہ ہوگی اور نہ ہی امیر اس بات کا مجاز ہوگا کہ جو حقوق و اختیارات صدر انجمن احمدیہ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دیئے ہیں اور اس کو اپنا جانشین قرار دیا ہے۔ اس میں کسی قسم کی دست اندازی کرے۔“

(ضمیمہ پیغام صلح ٢٣؍ مارچ ١٩١٤ء بحوالہ فرقان قادیان جنوری ١٩٤٢ء ص ٧)

اس قرارداد سے واضح ہے کہ لاہوری جماعت کو اس وقت نہ جماعت قادیان کے عقائد پر اعتراض تھا اور نہ وہ مرزا بشیر الدین کو خلافت کے لئے نااہل قرار دیتے تھے۔ جھگڑا تھا تو اس بات 1932 پر تھا کہ تمام اختیارات انجمن احمدیہ کو دیئے جائیں نہ کہ خلیفہ کو، لیکن جب مرزا بشیر الدین محمود نے اس تجویز کو منظور نہ کیا تو محمد علی لاہوری نے لکھا: ”خلافت کا سلسلہ صرف چند روزہ ہوتا ہے تو کس طرح تسلیم کر لیا جائے کہ اگر ایک شخص کی بیعت کر لی تو اب آئندہ بھی

٦

صفحہ ١٨٨٥

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

کرتے جاؤ۔‘‘

(پیغام صلح ٢؍اپریل ١٩١٤ء منقول از فرقان حوالہ بالا ص ٧)

یہ تھا قادیانی اور لاہوری جماعتوں کا اصل اختلاف جس کی بناء پر یہ دونوں پارٹیاں الگ ہوئیں۔ اس سیاسی اختلاف کی بناء پر جب قادیانی جماعت نے لاہوری جماعت پر عرصۂ حیات تنگ کر دیا تو لاہوری گروپ مسلمانوں کی ہمدردی حاصل کرنے پر مجبور ہوا۔ چنانچہ جب جماعت لاہور نے اپنا الگ مرکز قائم کیا تو کچھ اپنی علیحدگی کو خوبصورت بنانے کی تدبیر، کچھ قادیانی جماعت کے بغض اور کچھ مسلمانوں کی ہمدردی حاصل کرنے کی فکر کی وجہ سے اس جماعت نے اپنے سابقہ عقائد اور تحریروں سے رجوع اور توبہ کا اعلان کئے بغیر، یہ کہنا شروع کر دیا کہ ہم مرزا غلام احمد کو نبی نہیں بلکہ مسیح موعود، مہدی اور مجدد مانتے ہیں۔

قادیان اور لاہوری جماعتوں میں کوئی فرق نہیں

لیکن اگر لاہوری جماعت کے ان عقائد کو بھی دیکھا جائے جن کا اعلان انہوں نے ١٩١٤ء کے بعد کیا ہے۔ تب بھی یہ واضح ہو جاتا ہے کہ ان کا یہ موقف محض ایک لفظی ہیر پھیر ہے اور حقیقت کے اعتبار سے ان کے اور قادیانی جماعت کے درمیان کوئی بنیادی فرق نہیں ہے۔ جس طرح وہ مرزا غلام احمد کے الہام کو حجت اور واجب الاتباع مانتے ہیں۔ اسی طرح یہ بھی اسے حجت اور واجب الاتباع سمجھتے ہیں۔ جس طرح وہ مرزا صاحب کی تمام کفریات کی تصدیق کرتے ہیں۔ اسی طرح یہ بھی اسے واجب التصدیق قرار دیتے ہیں۔ جس طرح وہ مرزا صاحب کی تمام کتابوں کو اپنے لئے الہامی سند اور مذہبی اتھارٹی سمجھتے ہیں۔ اسی طرح یہ بھی انہیں مذہبی ماخذ کی 1933 حیثیت دیتے ہیں۔ جس طرح وہ مرزا صاحب کے مخالفین کو کافر کہتے ہیں۔ اسی طرح یہ بھی مرزا صاحب کو کافر اور جھوٹا قرار دینے والوں کے کفر کے قائل ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ قادیانی جماعت مرزا صاحب کے لئے لفظ نبی استعمال کرنے کو علی الاطلاق جائز سمجھتی ہے اور لاہوری جماعت مرزا صاحب کے لئے اس لفظ کے استعمال کو صرف لغوی یا مجازی حیثیت میں جائز قرار دیتی ہے۔

اس حقیقت کی تشریح اس طرح ہو گئی کہ لاہوری جماعت جن بنیادی عقیدوں میں اپنے آپ کو قادیانی جماعت سے ممتاز قرار دیتی ہے وہ دو عقیدے ہیں:

٧

OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

غلط فہمی میں ڈال دیا ہے کہ اخبار ہٰذا کے ساتھ تعلق رکھنے والا حضرت مرزا غلام احمد صاحب مسیح م کو اصلیت سے کم یا استخفاف کی نظر سے دیکھ سے اخبار پیغام صلح کے ساتھ تعلق ہے۔ خدا جان کر علی الاعلان کہتے ہیں کہ ہماری نسبت یہ مسیح موعود ومہدی معہود کو اس زمانہ کا نبی، رسو

(پیغام صلح ١٢ اکتوبر ١٩١٣ء)

اس حلفیہ بیان کے بعد لاہوری لیکن جب مرزائیوں کے خلیفہ اول حکیم نور ا محمد علی لاہوری صاحب مرزا بشیر الدین محمود ا کے قادیان سے لاہور چلے آتے ہیں اور ١٤؍مارچ ١٩١٤ء کو مرزا بشیر الدین خلیفہ دو اختلاف کرنے والی جماعت لاہور کا پہلا ج ”صاحبزادہ صاحب (مرزا بشیر الدین) غیر احمدیوں سے احمد کے نام پر بیعت لیں احمدیوں سے دوبارہ بیعت لینے کی ہم ضرو کرنے کے لئے تیار ہیں۔ لیکن اس کے ب کا مجاز ہوگا کہ جو حقوق و اختیارات صدر انج اور اس کو اپنا جانشین قرار دیا ہے۔ اس میں ک

(تمہید پیغ

اس قرارداد سے واضح ہے کہ عقائد پر اعتراض تھا اور نہ وہ مرزا بشیر الدی اس بات 1932 پر تھا کہ تمام اختیارات مرزا بشیر الدین محمود نے اس تجویز کو منظور چند روزہ ہوتا ہے تو کس طرح تسلیم کر لیا ج

صفحہ ١٨٨٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

لاہوری جماعت کا دعویٰ ہے کہ وہ مرزا صاحب کو نبی نہیں مانتی بلکہ صرف مجدد مانتی ہے اور غیر احمدیوں کو کافر کے بجائے صرف فاسق قرار دیتی ہے۔ اب ان دونوں باتوں کی حقیقت ملاحظہ فرمائیے:

نبی نہ ماننے کی حقیقت

لاہوری جماعت اگر چہ اعلان تو یہی کرتی ہے کہ ہم مرزا صاحب کو نبی نہیں مانتے۔ بلکہ ”مجدد“ مانتے ہیں۔ لیکن ”مجدد“ کا مطلب کیا ہے؟ بعینہ وہ جسے قادیانی جماعت ظلی اور بروزی نبی کہتی ہے۔ چنانچہ محمد علی لاہوری صاحب اپنی کتاب ”النبؤۃ فی الاسلام“ میں جو جماعت لاہوری علیحدگی کے بہت بعد کی تصنیف ہے۔ لکھتے ہیں: ”انواع نبوت میں سے وہ نوع جو محدث کو ملتی ہے وہ چونکہ باعث اتباع اور فنا فی الرسول کے ملتی ہے۔ جیسا توضیح المرام میں لکھا تھا کہ وہ نوع مبشرات ہے۔ اس لئے وہ تحدیثی نبوت سے باہر ہے اور یہ حضرت مسیح موعود ہی نہیں کہتے بلکہ

1934

حدیثوں نے صاف طور پر ایک طرف محدثوں کا وعدہ دے کر اور دوسری طرف مبشرات کو باقی رکھ کر یہی اصول قرار دیا ہے۔ گویا نبوۃ تو ختم ہے۔ مگر ایک نوع نبوت باقی ہے اور وہ نوع نبوت مبشرات ہیں۔ وہ ان لوگوں کو ملتی ہے جو کامل طور پر اتباع حضرت نبی کریم ﷺ کا کرتے ہیں اور فنا فی الرسول کے مقام تک پہنچ جاتے ہیں۔ اب بعینہ اسی اصول کو چشمہ معرفت میں جو آپ (یعنی مرزا غلام احمد صاحب) کی سب سے آخری کتاب ہے۔ بیان کیا ہے، دیکھو ص ٣٢٤۔ تمام نبوتیں اس پر ختم ہیں اور اس کی شریعت خاتم الشرائع ہے۔ مگر ایک قسم کی نبوت ختم نہیں، یعنی وہ نبوت جو اس کی کامل پیروی سے ملتی ہے اور جو اس کے چراغ میں سے نور لیتی ہے وہ ختم نہیں۔ کیونکہ وہ محمدی نبوت ہے، یعنی اس کا ظل ہے اور اس کے ذریعہ سے ہے اور اسی کا مظہر ہے۔“ اب دیکھو کہ یہاں بھی نبوت کو تو ختم ہی کہا ہے۔ لیکن ایک قسم کی نبوت باقی بتائی ہے اور وہ وہی ہے جو آنحضرت ﷺ کی کامل پیروی سے ملتی ہے اور اسی کتاب کے صفحہ ١٨٢ پر یہ بھی صاف لکھ دیا ہے کہ: ”وہ نبوت جس کو ظلی نبوت یا نبوت محمدیہ کہو وہ وہی مبشرات والی نبوت ہے۔“ (النبؤۃ فی الاسلام ص ١٥٠، مطبوعہ لاہور)

آگے مرزا غلام احمد قادیانی کی عبارتوں کی تشریح کرتے ہوئے اور انہیں درست قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں: ”در حقیقت جو کچھ فرمایا ہے (یعنی مرزا غلام احمد صاحب نے جو کچھ کہا ہے) اگر اس کے الفاظ میں تھوڑا تھوڑا تغیر ہو، مگر ماحصل سب کا ایک ہی ہے، یعنی یہ کہ اوّل فرمایا کہ صاحب خاتم ہونے کے معنی یہ ہیں کہ بجز اس کی مہر کے کوئی فیض کسی کو نہیں پہنچ سکتا۔ پھر فرمایا

٨

صفحہ ١٨٨٧

1887 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

کہ صاحب خاتم ہونے سے یہ مراد ہے کہ اس کی مہر سے 1935 ایک ایسی نبوت بھی مل سکتی ہے جس کے لئے امتی ہونا لازمی ہے۔ اب امتی ہونے کے معنی یہی ہیں کہ کامل اطاعت آنحضرت ﷺ کی کی جائے اور اپنے آپ کو آنحضرت ﷺ کی محبت میں فنا کر دیا جائے تب آپ ﷺ کے فیض سے ایک قسم کی نبوت بھی مل سکتی ہے۔ وہ نبوت کیا ہے؟ اس کو آخر میں جا کر صاف حل کر دیا ہے کہ وہ ایک ظلی نبوت ہے۔ جس کے معنی ہیں فیض محمدی سے وحی پانا اور یہ بھی فرمایا کہ وہ قیامت تک باقی رہے گی۔“

(المجدد فی الاسلام از محمد علی لاہوری صاحب ص ١٥٣)

محمد علی لاہوری صاحب کی ان عبارتوں کو اہل قادیان اور اہل ربوہ کے ان عقائد سے ملا کر دیکھئے جو پیچھے بیان ہو چکے ہیں۔ کیا کہیں کوئی فرق نظر آتا ہے؟ لیکن آگے فرق ظاہر کرنے کے لئے لفظوں کا یہ کھیل بھی ملاحظہ فرمائیں: ”حضرت مسیح موعود نے اپنی پہلی اور پچھلی تحریروں میں ایک ہی اصول باندھا ہے اور وہ اصول یہ ہے کہ باب نبوت تو مسدود ہے۔ مگر ایک نوع کی نبوت مل سکتی ہے۔ یوں نہیں کہیں گے کہ نبوت کا دروازہ کھلا ہے۔ بلکہ یہ کہیں گے نبوت کا دروازہ بند ہے۔ مگر ایک نوع کی نبوت باقی رہ گئی ہے اور قیامت تک رہے گی۔ یوں نہیں کہیں گے کہ ایک شخص اب بھی نبی ہو سکتا ہے۔ یوں کہیں گے کہ ایک نوع کی نبوۃ اب بھی آنحضرت ﷺ کی پیروی سے حاصل ہو سکتی ہے۔ اس کا نام ایک جگہ مبشرات، ایک جگہ جزوی نبوت، ایک جگہ محدثیت، ایک جگہ کثرت مکالمہ رکھا ہے۔ مگر نام کوئی بھی رکھا ہو، اس کا بڑا نشان یہ قرار دیا ہے کہ وہ ایک انسان کامل محمد رسول اللہ ﷺ کی اتباع سے مل سکتی ہے۔ وہ فنا فی الرسول 1936 سے حاصل ہوتی ہے۔ وہ ”نبوت محمدیہ کی مستفاض ہے، وہ چراغ نبوی کی روشنی ہے، وہ اصلی کوئی چیز نہیں، ظل ہے۔“

(حوالہ بالا ص ١٥٨)

کیا یہ لفظوں کے معمولی ہیر پھیر سے ظل و بروز کا بعینہ وہی فلسفہ نہیں ہے جو مرزا صاحب اور قادیانی جماعت کے الفاظ میں پیچھے بیان کیا جا چکا ہے؟ اگر ہے اور یقیناً ہے تو حقیقت کے لحاظ سے قادیانی جماعت اور لاہوری جماعت میں فرق کیا رہ گیا؟ اور یہ صرف محمد علی لاہوری صاحب ہی کا نہیں، پوری لاہوری جماعت کا عقیدہ ہے۔ چنانچہ قادیانی جماعت اور لاہوری جماعت کے درمیان جو مباحثہ راولپنڈی میں ہوا اور جسے دونوں جماعتوں نے مشترک خرچ پر شائع کیا، اس میں لاہوری جماعت کے نمائندے نے صراحتاً کہا کہ: ”حضرت (یعنی مرزا غلام احمد صاحب) آنحضرت ﷺ کے ظلال میں ایک کامل ظل ہیں۔ پس ان کی بیوی اس لئے ام المومنین ہے اور یہ بھی ظلی طور پر مرتبہ ہے۔“

(مباحثہ راولپنڈی ص ١٩٦)

١؎ فنا فی الرسول سے نبوت مل جاتی ہے تو شاید فانی اللہ سے خدائی بھی مل جاتی ہوگی۔

٩

MBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

لاہوری جماعت کا دعویٰ ہے کہ وہ مرزا صاحـ اور غیر احمدیوں کو کافر کے بجائے صرف فاسق قرار د ملاحظہ فرمائیے:

نبی نہ ماننے کی

لاہوری جماعت اگرچہ اعلان تو یہی کرتی ہـ ”مجدد“ مانتے ہیں۔ لیکن ”مجدد“ کا مطلب کیا ہے؟ نہیں کہتی ہے۔ چنانچہ محمد علی لاہوری صاحب اپنی کتاب علیحدگی کے بہت بعد کی تصنیف ہے۔ لکھتے ہیں: ”انوا وہ چونکہ باعث اتباع اور فنا فی الرسول کے ملتی ہے مبشرات ہے۔ اس لئے وہ تحدیث ختم نبوت سے باہر 1934 حدیثوں نے صاف طور پر ایک طرف محدثوں کا رکھ کر یہی اصول قرار دیا ہے۔ گویا نبوۃ تو ختم ہے۔ مگر مبشرات ہیں۔ وہ ان لوگوں کو ملتی ہے جو کامل طور پر احـ فنا فی الرسول کے مقام تک پہنچ جاتے ہیں۔ اب بعینہ مرزا غلام احمد صاحب) کی سب سے آخری کتاب ہے اس پر ختم ہیں اور اس کی شریعت خاتم الشرائع ہے۔ مگر اس کی کامل پیروی سے ملتی ہے اور جو اس کے چراغ میـ نبوت ہے، یعنی اس کا ظل ہے اور اس کے ذریعہ سے بھی نبوت کو تو ختم ہی کہا ہے۔ لیکن ایک قسم کی نبوت باقـ کی کامل پیروی سے ملتی ہے اور اسی کتاب کے صفحہ ١٨٢ کو ظلی نبوت یا نبوت محمدیہ وہ وہی مبشرات والی نبوت آگے مرزا غلام احمد قادیانی کی عبارتوں کی دیتے ہوئے لکھتے ہیں: ”در حقیقت جو کچھ فرمایا ہے ہے) اگر اس کے الفاظ میں تھوڑا تھوڑا تغیر ہو، مگر ماحصـ کہ صاحب خاتم ہونے کے معنی یہ ہیں کہ بجز اس کی مہـ

٨

صفحہ ١٨٨٩

1888 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

نیز اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ: ”حضرت مسیح موعود نبی نہیں، بلکہ آنحضرت ﷺ کی نبوت ان میں منعکس ہے۔“

(مباحثہ راولپنڈی ص ١٥٣)

یہ سب وہ عقائد ہیں جنہیں لاہوری جماعت اب بھی تسلیم کرتی ہے۔ اس سے واضح ہوگیا کہ مرزاغلام احمد کی نبوت کے مسئلہ میں قادیانی جماعت اور لاہوری جماعت میں صرف لفظی ہیر پھیر کا اختلاف ہے۔ لاہوری جماعت اگر چہ مرزا صاحب کا لقب مسیح موعود اور مجدد رکھتی ہے۔ لیکن ان الفاظ سے ان کی مراد بعینہ وہ ہے جو قادیانی جماعت ظلی، بروزی یا غیر تشریعی یا امتی نبی کے الفاظ سے مراد لیتی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ لاہوری جماعت کا مسلک یہ ہے کہ مسیح موعود، مجدد اور مہدی کا یہ مقام جسے مرزا صاحب نے ہزارہا مرتبہ لفظ نبی سے تعبیر کیا اور جس کے لئے وہ خود ١٩١٤ء تک بلا تکلف یہی لفظ استعمال کرتے رہے۔ خلافت کا نزاع پیدا ہونے کے بعد اس کے لئے ”نبوت“ کا لفظ اور صرف لفظ مجازی یا لغوی قرار پا گیا۔ جسے مرزا صاحب کی عبارتوں کی تشریح کے لئے اب بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ لیکن عام تحریروں میں اس کا استعمال مصلحتاً ترک کر دیا گیا ہے۔ شاعر مشرق علامہ اقبال مرحوم نے بالکل صحیح بات کہی تھی کہ: ”تحریک احمدیت دو جماعتوں میں منقسم ہے جو قادیانی اور لاہوری جماعتوں کے نام سے موسوم ہیں۔ اوّل الذکر جماعت بانی احمدیت کو نبی تسلیم کرتی ہے۔ آخرالذکر نے اعتقاداً یا مصلحتاً قادیانیت کی شدت کو کم کر کے پیش کرنا مناسب سمجھا۔“

(حرف اقبال ص ١٤٩، المنار اکادمی مطبوعہ ١٩٤٧ء)

یہاں یہ حقیقت بھی واضح کر دینا مناسب ہے کہ لاہوری صاحبان نے جو تاویل کی ہے کہ مرزا صاحب نے ہر جگہ اپنے لئے لفظ نبی مجازی یا لغوی طور پر استعمال کیا ہے۔ حقیقت نبوت کا دعویٰ نہیں کیا۔ اس تاویل کے لئے انہوں نے حقیقت نبوت کی ایک مخصوص اصطلاح گھڑی ہے جو شرعی اصطلاح سے بالکل الگ ہے۔ اس حقیقت نبی کے لئے انہوں نے بہت سی شرائط عائد کی ہیں جن میں سے چند یہ بھی ہیں:

نزول جبرائیل کے بغیر کوئی حقیقی نبی نہیں ہوسکتا۔“

(النبوۃ فی الاسلام از محمد علی لاہوری ص ٢٨ ملخص)

سکے۔“

(النبوۃ فی الاسلام ص ٤٧ ملخص)

(النبوۃ فی الاسلام ص ٥٦)

١ ؎ اگر چہ مرزا صاحب کی بے شمار تحریریں اس دعویٰ کی بھی تردید کرتی ہیں۔

١٠

1889 NATIONAL ASSE

کتاب لائے۔“

(النبوۃ فی الاسلام ص ٦٠ ملخص)

رائط عائد کرنے کے بعد انہوں نے ثابت کیا ائی جاتیں۔ اس لئے ان پر حقیقی معنی میں لفظ معروف اصطلاح میں نبی کے لئے نہ کتاب اس میں ضروری پڑھی جائے۔ نہ یہ لازمی ہے ے اور نہ نبوت کی تعریف میں یہ بات داخل لام ہی ہوں۔ لہٰذا ”حقیقی نبوت“ صرف اسی ۔ محض ایک ایسا حیلہ ہے جس کے ذریعہ کبھی انکار کرنا آسان ہو جائے۔ کیونکہ یہ شرائط عے میں بھی یہی کہا جاسکتا ہے کہ وہ ”حقیقی نبی“ تلاوت کی گئی اور نہ وہ کوئی نئی شریعت لے کر

ئلہ امل قادیان سے ممتاز قرار دیتی ہے، وہ اصل واضح ہوچکا کہ وہ صرف لفظی ہیر پھیر کا فرق ۔ دوسرا مسئلہ جس کے بارے میں جماعت ہے۔ تکفیر کا مسئلہ ہے۔ یعنی لاہوریوں کا لیکن یہاں بھی بات اتنی سادہ نہیں جتنی بیان وری صاحب نے ایک مستقل کتاب ”ردّ تکفیر ھنے کے بعد ان کا جو نقطۂ نظر واضح ہوتا ہے وہ قسمیں ہیں: ت نہیں کرتے۔ مگر انہیں کافر اور کاذب بھی ہیں بلکہ فاسق ہیں۔“

(النبوۃ فی الاسلام ص ٢١٥ ملخص)

تے ہیں، ان کے بارے میں ان کا مسلک بھی

صفحہ ١٨٨٩

OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

نیز اس بات کا بھی اعتراف کیا کی نبوت ان میں منعکس ہے۔“ یہ سب وہ عقائد ہیں جنہیں لاہو ہو گیا کہ مرزا غلام احمد کی نبوت کے مسئلہ میں ہیر پھیر کا اختلاف ہے۔ لاہوری جماعت ا لیکن ان الفاظ سے ان کی مراد بعینہ وہ ہے کے الفاظ سے مراد لیتی ہے۔ فرق صرف ا موعود، مجدد اور مہدی کا یہ مقام جسے مرزا صا لئے وہ خود ١٩١٤ء تک بلا تکلف یہی لفظ استعما اس کے لئے ”نبوت“ کا لفظ اور صرف لفظ کی تشریح کے لئے اب بھی استعمال کیا جاتا دیا گیا ہے۔ شاعر مشرق علامہ اقبال مرحو جماعتوں میں منقسم ہے جو قادیانی اور لا جماعت بانی احمدیت کو نبی تسلیم کرتی ہے۔ کے پیش کرنا مناسب سمجھا۔“

یہاں یہ حقیقت بھی واضح کرد کہ مرزا صاحب نے ہر جگہ اپنے لئے لفظ دعویٰ نہیں کیا۔ اس تاویل کے لئے انہوں شرعی اصطلاح سے بالکل الگ ہے۔ اس ہیں جن میں سے چند یہ بھی ہیں:

نزول جبرائیل کے بغیر کوئی حقیقی نبی نہیں

سکے۔“

لے اگرچہ مرزا صاحب کی ۔

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

(النبوۃ فی الاسلام ص ٦٠ ملخص)

حقیقی نبوت کے لئے اس طرح کی بارہ شرائط عائد کرنے کے بعد انہوں نے ثابت کیا ہے کہ چونکہ یہ شرائط مرزا صاحب کی نبوت میں نہیں پائی جاتیں۔ اس لئے ان پر حقیقی معنی میں لفظ نبی کا اطلاق درست نہیں۔ اب ظاہر ہے کہ شریعت کی معروف اصطلاح میں نبی کے لئے نہ کتاب لانا ضروری ہے، نہ یہ ضروری ہے کہ اس کی وحی عبادتوں میں ضرور ہی پڑھی جائے۔ نہ یہ لازمی ہے کہ نبی اپنے سے پہلی شریعت کو ہمیشہ منسوخ ہی کردے اور نہ نبوت کی تعریف میں یہ بات داخل ہے کہ اس میں وحی لانے والے ہمیشہ جبرائیل علیہ السلام ہی ہوں۔ لہٰذا ”حقیقی نبوت“ صرف اسی نبوت کو قرار دینا جس میں یہ ساری شرائط موجود ہوں۔ محض ایک ایسا حیلہ ہے جس کے ذریعہ کبھی مرزا صاحب کو نبی قرار دینا اور کبھی ان کی نبوت سے انکار کرنا آسان ہو جائے۔ کیونکہ یہ شرائط عائد کر کے تو بہت سے انبیائے بنی اسرائیل کے بارے میں بھی یہی کہا جاسکتا ہے کہ وہ ”حقیقی نبی“ نہیں تھے۔ کیونکہ نہ ان پر کتاب اتری نہ ان کی وحی کی تلاوت کی گئی اور نہ وہ کوئی نئی شریعت لے کر آئے لیکن وہ انبیاء تھے۔

تکفیر کا مسئلہ

لاہوری جماعت جس بنیاد پر اپنے آپ کو اہل قادیان سے ممتاز قرار دیتی ہے، وہ اصل میں تو نبوت ہی کا مسئلہ ہے جس کے بارے میں پیچھے واضح ہو چکا کہ وہ صرف لفظی ہیر پھیر کا فرق ہے۔ ورنہ حقیقت کے اعتبار سے دونوں ایک ہیں۔ دوسرا مسئلہ جس کے بارے میں جماعت لاہوری کا دعویٰ ہے کہ وہ جماعت قادیان سے مختلف ہے۔ تکفیر کا مسئلہ ہے۔ یعنی لاہوریوں کا دعویٰ یہ ہے کہ وہ غیر احمدیوں کو مسلمان قرار دیتی ہے۔ لیکن یہاں بھی بات اتنی سادہ نہیں جتنی بیان کی جاتی ہے۔ اس مسئلہ پر امیر جماعت محمد علی لاہوری صاحب نے ایک مستقل کتاب ”ردّ تکفیر اہل قبلہ“ کے نام سے لکھی ہے۔ اس کتاب کو بغور پڑھنے کے بعد ان کا جو نقطہ نظر واضح ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ مرزا غلام احمد کو مسیح موعود نہ ماننے والوں کی دو قسمیں ہیں:

نہیں کہتے۔ ایسے لوگ ان کے نزدیک بلاشبہ کافر نہیں ہیں بلکہ فاسق ہیں۔“

(النبوۃ فی الاسلام ص ١٥ ملخص)

١١

صفحہ ١٨٩٠

1890 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

یہی ہے کہ وہ ”کافر“ ہیں۔ چنانچہ محمد علی صاحب لکھتے ہیں: ”گویا آپ (یعنی مرزا غلام احمد) کی تکفیر کرنے والے اور وہ منکر جو آپ کو کاذب یعنی مفتری بھی قرار دیتے ہیں، ایک قسم میں داخل ہیں اور ان کا حکم ایک ہے اور دوسرے منکروں کا حکم الگ ہے۔“

(رد تکفیر اہل قبلہ ص ٤٠)

آگے پہلی قسم کا حکم بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ”حضرت مسیح موعود نے اب بھی اپنے انکار یا اپنے دعویٰ کا انکار کو وجہ کفر قرار نہیں دیا۔ بلکہ وجہ کفر صرف اسی بات کو قرار دیا ہے کہ مفتری کہہ کر اس نے مجھے کافر کہا۔ اس لئے اسی حدیث کے مطابق جو کافر کہنے والے پر کفر لوٹاتی ہے، اس صورت میں بھی کفر لوٹا۔“

(رد تکفیر اہل قبلہ ص ٤٢)

مزید لکھتے ہیں: ”چونکہ کافر کہنے والا اور کاذب کہنے والا معناً یکساں ہیں، یعنی مدعی (مرزا صاحب) کی دونوں تکفیر کرتے ہیں۔ اس لئے دونوں اس حدیث کے ماتحت خود کفر کے نیچے آجاتے ہیں۔“

(رد تکفیر اہل قبلہ مصنفہ محمد علی لاہوری صاحب ص ٤٢، طبع ١٩٥٠ء)

نیز لاہوری جماعت کے معروف مناظر اختر حسین گیلانی لکھتے ہیں: ”جو (مرزا صاحب) کی تکذیب کرنے والے ہیں ان کے متعلق ضرور فرمایا کہ ان پر فتویٰ کفر لوٹ کر پڑتا ہے۔ کیونکہ تکذیب کرنے والے حقیقتاً مفتری قرار دے کر کافر ٹھہراتے ہیں۔“

(مباحثہ راولپنڈی ص ٢٥١، مطبوعہ قادیان)

اس سے صاف واضح ہے کہ جو لوگ مرزا غلام احمد قادیانی کو اپنے دعوؤں میں کاذب (جھوٹا) قرار دیتے ہیں یا انہیں کافر کہتے ہیں۔ ان کو لاہوری جماعت بھی کافر تسلیم کرتی ہے۔ صرف تکفیر کی وجہ کا فرق ہے۔ جو لوگ لاہوریوں کے نزدیک کفر کے فتوے سے مستثنیٰ اور صرف فاسق ہیں وہ صرف ایسے غیر احمدی ہیں جو مرزا صاحب کو کاذب یا کافر نہیں کہتے۔ اب غور فرمائیے کہ عالم اسلام میں کتنے لوگ ایسے ہیں جو مرزا غلام احمد صاحب کی تکذیب نہیں کرتے؟ ظاہر ہے کہ جتنے مسلمان مرزا صاحب کو نبی یا مسیح موعود نہیں مانتے، وہ سب ان کی تکذیب ہی کرتے ہیں۔ لہٰذا وہ سب لاہوری جماعت کے نزدیک بھی فتوائے کفر کے تحت آجاتے ہیں۔ کیونکہ مرزا صاحب کو مسیح موعود نہ ماننا اور ان کی تکذیب کرنا عملاً ایک ہی بات ہے خود مرزا صاحب لکھتے ہیں: ”جو شخص مجھے نہیں مانتا وہ اسی وجہ سے نہیں مانتا کہ وہ مجھے مفتری قرار دیتا ہے۔“

(حقیقت الوحی ص ١٦٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٦٧)

منیر انکوائری کمیشن کی رپورٹ میں جج صاحبان نے بھی یہی نتیجہ اخذ کیا ہے کہ مرزا صاحب کو نہ ماننا اور ان کی تکذیب کرنا ایک ہی بات ہے۔ لہٰذا جو فتویٰ تکذیب کرنے والوں

١٢

صفحہ ١٨٩١

1891 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

پر لگے گا، وہ درحقیقت تمام غیر احمدیوں پر عائد ہوگا۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں: ”نماز جنازہ کے متعلق احمدیوں نے ہمارے سامنے بالآخر یہ موقف اختیار کیا کہ مرزا غلام احمد کا ایک فتویٰ حال ہی میں دستیاب ہوا ہے جس میں انہوں نے احمدیوں کو اجازت دی ہے کہ وہ ان مسلمانوں کی نماز جنازہ میں شریک ہو سکتے ہیں 1941 جو مرزا صاحب کے مکذب اور مکفر نہ ہوں لیکن اس کے بعد بھی معاملہ وہیں کا وہیں رہتا ہے۔ کیونکہ اس فتویٰ کا ضروری مفہوم یہی ہے کہ اس مرحوم کی نماز جنازہ نہیں پڑھی جائے گی جو مرزا صاحب کو نہ مانتا ہو۔ لہٰذا اس اعتبار سے یہ فتویٰ موجودہ طرز عمل ہی کی تائید و تصدیق کرتا ہے۔“

(رپورٹ تحقیقاتی عدالت پنجاب ١٩٥٤ء ص ٢١٢)

اب غور فرمائیے کہ فتویٰ کفر کے اعتبار سے عملاً لاہوری اور قادیانی جماعتوں میں کیا فرق رہ گیا؟ قادیانی کہتے ہیں کہ تمام مسلمان غیر احمدی ہونے کی بناء پر کافر ہیں اور لاہوری جماعت والے کہتے ہیں کہ مرزا صاحب کو کاذب کہنے کی وجہ سے کافر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ مرزا صاحب کو نہ ماننے کی وجہ سے کافر ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ فتوائے کفر کے لوٹ کر پڑنے کی وجہ سے کافر ہیں۔ اب اس اندرونی فلسفے کو وہ خود طے کریں کہ مسلمانوں کو کافر کہنے کی وجہ کیا ہے؟ لیکن عملی اعتبار سے مسلمانوں کے لئے اس کے سوا اور کیا فرق پڑا کہ ؎

ستم سے باز آکر بھی جفا کی
تلافی کی بھی ظالم نے تو کیا کی

بعض مرتبہ لاہوری جماعت کی طرف سے یہ کہا جاتا ہے کہ ہم مرزا صاحب کی تکذیب کرنے والوں کو جو کافر قرار دیتے ہیں۔ اس سے مراد ایسا کفر نہیں جو دائرہ اسلام سے خارج کر دے۔ بلکہ ایسا کفر ہے جو ”فَسق“ کے معنی میں بھی استعمال ہو جاتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر کفر سے ان کی مراد ”فَسق“ ہی ہے تو پھر جو غیر احمدی مرزا صاحب کو کافر یا کاذب نہیں کہتے ، ان کے لئے اس لفظ ”کفر“ کا استعمال کیوں درست نہیں؟ جبکہ وہ بھی لاہوریوں کے نزدیک ”فاسق“ ضرور ہیں۔

(المجدد فی الاسلام ص ٢١٥ طبع دوم و مباحثہ راولپنڈی ص ٢٤٧)

1942 لاہوری جماعت کی وجوہ کفر

مذکورہ بالا تشریحات سے یہ بات کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ قادیانی جماعت اور لاہوری جماعت کے درمیان بنیادی عقائد کے اعتبار سے کوئی عملی فرق نہیں۔ فرق اگر ہے تو وہ الفاظ واصطلاحات اور فلسفیانہ تعبیروں کا فرق ہے اور ان کی تاریخ سے واقفیت رکھنے والا ہر شخص

١٣

MBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

یہی ہے کہ وہ ”کافر“ ہیں۔ چنانچہ محمد علی صاحب لکھتے تکفیر کرنے والے اور وہ منکر جو آپ کو کاذب یعنی ہیں اور ان کا حکم ایک ہے اور دوسرے منکروں کا حکم ا آگے پہلی قسم کا حکم بیان کرتے ہوئے لکھ انکار یا اپنے دعویٰ کا انکار کو وجہ کفر قرار نہیں دیا۔ بلکہ کہہ کر اس نے مجھے کافر کہا۔ اس لئے اسی حدیث اس صورت میں بھی کفر لوٹا۔“

مزید لکھتے ہیں: ”چونکہ کافر کہنے والا اور (مرزا صاحب) کی دونوں تکفیر کرتے ہیں۔ اس لیے نیچے آجاتے ہیں۔“

(رد تکفیر اہل قبلہ

نیز لاہوری جماعت کے معروف (مرزا صاحب) کی تکذیب کرنے والے ہیں ان پڑتا ہے۔ کیونکہ تکذیب کرنے والے حقیقتاً مفتری قرا

اس سے صاف واضح ہے کہ جولوگ مرزا (جھوٹا) قرار دیتے ہیں یا انہیں کافر کہتے ہیں۔ ان صرف تکفیر کی وجہ کا فرق ہے۔ جو لوگ لاہوریوں کے فاسق ہیں وہ صرف ایسے غیر احمدی ہیں جو مرزا صاحب کہ عالم اسلام میں کتنے لوگ ایسے ہیں جو مرزا غلام احم کہ جتنے مسلمان مرزا صاحب کو نبی یا مسیح موعود نہیں مان لہٰذا وہ سب لاہوری جماعت کے نزدیک بھی کا

مرزا صاحب کو مسیح موعود نہ ماننا اور ان کی تکذیب کرنا ہیں: ”جو شخص مجھے نہیں مانتا وہ اسی وجہ سے نہیں مانتا کہ

منیر انکوائری کمیشن کی رپورٹ میں جج مرزا صاحب کو نہ ماننا اور ان کی تکذیب کرنا ایک ہی با

١٢

صفحہ ١٨٩٣

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

جانتا ہے کہ یہ فرق لاہوری جماعت نے ضرورۃً اور مصلحتاً پیدا کیا ہے۔ اس لئے ١٩١٤ء کے تنازعہ خلافت سے پہلے اس کا کوئی نشان نہیں ملتا۔ اب منقح طور پر ان کے کفر کی وجوہ درج ذیل ہیں:

یہ بات قطعی اور یقینی ہے کہ مرزا غلام احمد ہرگز وہ مسیح نہیں جس کا قرب قیامت میں وعدہ کیا گیا ہے اور ان کو مسیح موعود ماننا قرآن کریم، متواتر احادیث اور اجماع امت کی تکذیب ہے۔ لاہوری مرزائی چونکہ مرزا غلام احمد کو مسیح موعود مانتے ہیں۔ اس لئے کافر اور دائرۂ اسلام سے اسی طرح خارج ہیں جس طرح قادیانی مرزائی۔

کافر کہنے کی بجائے اپنا دینی پیشوا قرار دینے والا مسلمان نہیں ہو سکتا۔

جماعت اس بات کی قائل ہے کہ (معاذ اللہ) وہ آنحضرت ﷺ کا بروز تھا اور آنحضرت ﷺ کی نبوت اس میں منعکس ہو گئی تھی اور اس اعتبار سے اسے نبی کہنا درست ہے، یہ عقیدہ دائرۂ اسلام میں کسی طرح نہیں کھپ سکتا۔

ہیں (جن کی کچھ تفصیل آگے آ رہی ہے) لاہوری جماعت مرزا صاحب کی تمام تحریروں کو حجت اور واجب الاطاعت قرار دے کر ان تمام کفریات کی تصدیق کرتی ہے۔ محمد علی لاہوریؒ صاحب لکھتے ہیں: ”اور مسیح موعود کی تحریروں کا انکار در حقیقت مخفی رنگ میں خود مسیح موعود کا انکار ہے۔“

(النبوۃ فی الاسلام ص ١١١، طبع دوم لاہور)

یہاں یہ واضح رہنا بھی ضروری ہے کہ اسلام میں ”مجدد“ کا مفہوم صرف اتنا ہے کہ جب اسلام کی تعلیمات سے روگردانی عام ہو جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ کا کوئی بندہ پھر سے لوگوں کو اسلامی تعلیمات کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ ان مجددین کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہوتی۔ نہ ان کی کسی بات کو شرعی حجت سمجھا جاتا ہے۔ نہ وہ اپنے مجدد ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اور نہ لوگوں کو یہ دعوت دیتے ہیں کہ انہیں ضرور مجدد مان کر ان کے ہاتھ پر بیعت کریں۔ بلکہ یہ بھی ضروری نہیں کہ لوگ انہیں مجدد کی حیثیت سے پہچان بھی جائیں۔ چنانچہ چودہ سو سالہ تاریخ میں مجددین کے ناموں میں بھی اختلاف رہا ہے۔ اسی طرح اگر کوئی شخص انہیں مجدد تسلیم نہ کرے تو شرعاً وہ گنہگار بھی نہیں ہوتا، نہ وہ اپنے تجدیدی کارنامے الہام کی بنیاد پر پیش کرتے ہیں اور نہ ان کے الہام کی تصدیق شرعاً واجب ہوتی

١٤

NATIONAL ASSE

صاحب کے لئے ان تمام باتوں کی قائل ہے۔ تے ہیں۔“ مغالطے کے سوا کچھ نہیں۔

...... ایک نظر میں

اہ کہ نبی ہونے کا اس کا جھوٹا اعلان، بہت سی ے بڑے احکام کے خلاف غداری تھیں۔“

ریات اور گستاخیاں

کے علاوہ مرزا صاحب کی تحریریں اور بہت سی اذ کر کرنا تو مشکل ہے، لیکن نمونے کے طور پر

ارے میں

آنحضرت ﷺ کا بروز تو قرار دیا ہی تھا۔ اس را کا بروز بھی قرار دیا۔ چنانچہ ١٥؍مارچ ١٩٠٦ء نت منى بمنزلة بروزي یعنی ”تو مجھ سے

(ریویو آف ریلیجنز ج ٥ نمبر ٥، ماہ اپریل ١٩٠٦ء ص ٢٢)

کرتے ہوئے لکھا ہے؟ ی ”تو مجھ سے ایسا ہے جیسا کہ میری توحید اور

(ج ١٧ ص ٤١٠، انجام آتھم ص ٥١، خزائن ج ١١ ص ایضاً)

دیکھا کہ میں خود خدا ہوں اور یقین کیا کہ میں

(ن ١٩٣٢ء، آئینہ کمالات اسلام ص ٥٦٤ طبع جدید ربوہ)

ے اپنی کتاب میں میرا نام میکائیل رکھا ہے اور

صفحہ ١٨٩٣

1893 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

ہے۔ اس کے بالکل برخلاف لاہوری جماعت مرزا صاحب کے لئے ان تمام باتوں کی قائل ہے۔ لہٰذا اس کا یہ دعویٰ کہ ”ہم مرزا صاحب کو صرف مجدد مانتے ہیں ۔“ مغالطے کے سوا کچھ نہیں ۔

----------------

1944 مرزائی نبوت کی جھلکیاں ...... ایک نظر میں

ہم نے اپنی قرارداد میں کہا ہے کہ : ”ہر گاہ کہ نبی ہونے کا اس کا جھوٹا اعلان، بہت سی قرآنی آیات کو جھٹلانے کی کوششیں اسلام کے بڑے بڑے احکام کے خلاف غداری تھیں ۔“ (آئندہ صفحات میں اس کی تشریح پیش کی جارہی ہے)

1945 مرزائیوں کے مزید کفریات اور گستاخیاں

عقیدۂ ختم نبوت کی صریح خلاف ورزی کے علاوہ مرزا صاحب کی تحریریں اور بہت سی کفریات سے بھری ہوئی ہیں۔ یہاں تمام کفریات کا ذکر کرنا تو مشکل ہے، لیکن نمونے کے طور پر چند مثالیں پیش خدمت ہیں۔

اللہ تعالیٰ کے بارے میں

مرزاغلام احمد صاحب نے اپنے آپ کو آنحضرت ﷺ کا بروز تو قرار دیا ہی تھا۔ اس کے علاوہ انہوں نے متعدد مقامات پر اپنے آپ کو خدا کا بروز بھی قرار دیا۔ چنانچہ ١٥؍ مارچ ١٩٠٦ء کے خود ساختہ الہامات میں ایک الہام یہ بھی تھا کہ انت منی بمنزلة بروزی یعنی ”تو مجھ سے میرے بروز کے رتبے میں ہے ۔“

(تذکرہ ص ٦٠٤ طبع سوم، ریویو آف ریلیجنز ج ٥ نمبر ٥ ، ماہ اپریل ١٩٠٦ء ص ٢٢)

نیز انجام آتھم میں اپنے الہامات بیان کرتے ہوئے لکھا ہے: انت منی بمنزلة توحیدی وتفریدی ”تو مجھ سے ایسا ہے جیسا کہ میری توحید اور تفرید۔“ (تذکرہ ص ٢٢٠ ، اربعین نمبر ٣ ص ٢٣، خزائن ج ١٧ ص ٤١٠، انجام آتھم ص ٥١، خزائن ج ١١ ص ایضاً)

نیز لکھتے ہیں : ”میں نے اپنے کشف میں دیکھا کہ میں خود خدا ہوں اور یقین کیا کہ میں وہی ہوں ۔“

(کتاب البریہ ص ٨٥، خزائن ج ١٣ ص ١٠٣ ، طبع دوم قادیان ١٩٣٢ء ، آئینہ کمالات اسلام ص ٥٦٤ طبع جدید ربوہ)

مزید کہتے ہیں : ”اور دانی ایل نبی نے اپنی کتاب میں میرا نام میکائیل رکھا ہے اور

١٥

OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

جانتا ہے کہ یہ فرق لاہوری جماعت نے صر خلافت سے پہلے اس کا کوئی نشان نہیں ملتا۔

یہ بات قطعی اور یقینی ہے کہ مرزا غلام احمد اور ان کو مسیح موعود ماننا قرآن کریم، متوا مرزائی چونکہ مرزا غلام احمد کو مسیح موعود ما خارج ہیں جس طرح قادیانی مرزائی ۔

کافر کہنے کی بجائے اپنا دینی پیشوا قرار د

جماعت اس بات کی قائل ہے کہ (معاذ ا نبوت اس میں منعکس ہوگئی تھی اور اس ا میں کسی طرح نہیں کھپ سکتا۔

ہیں (جن کی کچھ تفصیل آگے آرہی ہیں ) واجب الاطاعت قرار دے کر ان تمام کفر لکھتے ہیں : ”اور مسیح موعود کی تحریروں کا انکا

یہاں یہ واضح رہنا بھی ضروری اسلام کی تعلیمات سے روگردانی عام ہوجا تعلیمات کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ ان مجددو شرعی حجت سمجھا جاتا ہے۔ نہ وہ اپنے مجدد ہو کہ انہیں ضرور مجدد مان کر ان کے ہاتھ پر بیع حیثیت سے پہچان بھی جائیں ۔ چنانچہ چودہ رہا ہے۔ اسی طرح اگر کوئی شخص انہیں مجدد تجدیدی کارنامے الہام کی بنیاد پر پیش کرے

صفحہ ١٨٩٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

عبرانی میں لفظی معنی میکائیل کے ہیں۔ خدا کی مانند، یہ گویا اس الہام کے مطابق ہے جو براہین احمدیہ میں ہے۔ انت منی بمنزلة توحیدی و تفریدی“

(اربعین نمبر ٣ ص ٢٥، خزائن ج ١٧ ص ٤١٣ حاشیہ)

1946 قرآن کریم کی تحریف اور گستاخیاں

مرزا صاحب نے قرآن کریم میں اس قدر لفظی اور معنوی تحریفات کی ہیں کہ ان کا شمار مشکل ہے۔ یہاں تک کہ اس شخص نے یہ جسارت بھی کی ہے کہ قرآن کریم کی بہت سی آیات جو صراحۃً آنحضرت ﷺ کی شان میں نازل ہوئی تھیں۔ ان کو اپنے حق میں قرار دیا اور جو القاب اور امتیازات قرآن کریم نے سرکار دو عالم ﷺ کے لئے بیان فرمائے تھے تقریباً سب کے سب اس نے اپنے لئے مخصوص کرلئے اور یہ کہا کہ مجھے بذریعہ وحی ان القاب سے نوازا گیا ہے۔ مثلاً مندرجہ ذیل آیات قرآنی۔

(اربعین نمبر ٣ ص ٢٣، خزائن ج ١٧ ص ٤١٠)

(اربعین نمبر ٤ ص ٣٦، خزائن ج ١٧ ص ٤٢٦)

(حقیقت الوحی ص ٧٥، خزائن ج ٢٢ ص ٧٨)

(حقیقت الوحی ص ٧٩، خزائن ج ٢٢ ص ٨٢)

(حقیقت الوحی ص ٨٠، خزائن ج ٢٢ ص ٨٣)

(حقیقت الوحی ص ٩٤، خزائن ج ٢٢ ص ٩٧)

(حقیقت الوحی ص ١٠٧، خزائن ج ٢٢ ص ١١٠)

(حقیقت الوحی ص ١٠٩، خزائن ج ٢٢ ص ١١٢)

١٦

صفحہ ١٨٩٥

LY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

عبرانی میں لفظی معنی میکائیل کے ہیں۔ خدا کی احمدیہ میں ہے۔ انت منی بمنزلۃ توحیدی و

1946 قرآن کریم کی تح

مرزا صاحب نے قرآن کریم میں اس مشکل ہے۔ یہاں تک کہ اس شخص نے یہ جسار صراحةً آنحضرت ﷺ کی شان میں نازل ہوئی اور امتیازات قرآن کریم نے سرکار دو عالم ﷺ اس نے اپنے لئے مخصوص کر لئے اور یہ کہا کہ مجھ مندرجہ ذیل آیات قرآنی۔

16

1895 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

خاص آنحضرت ﷺ کا امتیاز بتانے کے لئے نازل ہوئی تھی اور اس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ: ”ہم نے آپ ﷺ کو کوثر عطاء کی ہے۔“ لیکن مرزا صاحب نے اس سورت کو اپنے حق میں قرار دیا ہے اور لکھا ہے کہ انا شانئك هو الابتر (بے شک آپ کا دشمن مقطوع النسل ہے) میں شانی یعنی بدگو اور دشمن سے مراد ان کا ایک ”شقی، خبیث، بدطینت، فاسد القلب، ہندوزادہ، بدفطرت“ مخالف یعنی نو مسلم سعد اللہ ہے۔

(انجام آتھم ص ٥٨، خزائن ج ١١ ص ایضاً)

1947 [At this stage Mr. Chairman vacated the Chair which was occupied by (Dr. Mrs. Ashraf Khatoon Abbasi.)] (اس موقعہ پر جناب چیئرمین صاحب نے صدارت چھوڑی۔ جسے ڈاکٹر مسز اشرف خاتون عباسی نے سنبھال لیا)

مولوی مفتی محمود:

کرتے ہوئے لکھا کہ یہ میرے بارے میں کہا گیا ہے کہ: ”سبحان الذى اسرى بعبده ليلاً من المسجد الحرام الى المسجد الاقصى“ پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کو رات کے وقت مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ کی طرف لے گئی۔

(حقیقت الوحی ص ٧٨، خزائن ج ٢٢ ص ٨١)

کہ: ”ثم دنا فتدلّى فكان قاب قوسين او ادنىٰ“

(حقیقت الوحی ص ٧٦، خزائن ج ٢٢ ص ٧٩)

”پھر قریب ہوا تو بہت قریب ہو گیا، دو کمانوں یا اس سے بھی قریب تر۔“

مرزا غلام احمد نے یہ آیت بھی اپنی طرف منسوب کی ہے۔

کی تشریف آوری کی بشارت دیتے ہوئے فرمایا تھا۔ ”ومبشراً برسول يأتى من بعدى اسمه احمد “ اور میں ایک رسول کی خوشخبری دینے کے لئے آیا ہوں جو میرے بعد آئے گا اور اس کا نام احمد (ﷺ) ہوگا۔

مرزا غلام احمد نے انتہائی جسارت اور ڈھٹائی سے دعویٰ کیا کہ اس آیت میں میرے آنے کی پیش گوئی کی گئی ہے اور احمد سے مراد میں ہوں ؎

(ازالۃ اوہام ص ٦٧٣، خزائن ج ٣ ص ٤٦٣)

چنانچہ مرزائی صاحبان اسی پر ایمان رکھتے ہیں کہ اس آیت میں احمد سے مراد

صفحہ ١٨٩٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

آنحضرت ﷺ کے بجائے (معاذ اللہ ثم معاذ اللہ ) مرزا غلام احمد ہے۔ قادیانیوں کے خلیفہ دوم مرزا 1948 بشیر الدین محمود نے اس بات کو ثابت کرنے کے لئے ٢٧؍ دسمبر ١٩١٥ء کو ایک مستقل تقریر کی جو انوار خلافت میں ان کی نظر ثانی کے بعد چھپی ہے۔ اس کے آغاز میں وہ کہتے ہیں: ’’پہلا مسئلہ یہ ہے کہ آیا حضرت مسیح موعود کا نام احمد تھا۔ یا آنحضرت ﷺ کا، اور کیا سورۂ صف کی آیت جس میں ایک رسول کی جس کا نام احمد ہوگا۔ بشارت دی گئی ہے۔ آنحضرت ﷺ کے متعلق ہے۔ یا حضرت مسیح موعود کے متعلق؟ میرا یہ عقیدہ ہے کہ یہ آیت مسیح موعود کے متعلق ہے اور احمد آپ ہی ہیں۔ لیکن اس کے خلاف کہا جاتا ہے کہ احمد نام رسول کریم ﷺ کا ہے اور آپ کے سوا کسی اور شخص کو احمد کہنا آپ ﷺ کی ہتک ہے۔ لیکن میں جہاں تک غور کرتا ہوں میرا یقین بڑھتا جاتا ہے اور میں ایمان رکھتا ہوں کہ احمد کا جو لفظ قرآن کریم میں آیا ہے۔ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام (یعنی مرزا غلام احمد ) کے متعلق ہی ہے۔‘‘

(انوار خلافت ص ١٨، مطبوعہ امرتسر ١٩١٦ء)

یہ شرمناک، اشتعال انگیز، جگر سوز اور ناپاک جسارت اس حد تک بڑھی کہ ایک قادیانی مبلغ سید زین العابدین ولی اللہ شاہ نے ’’اسمہ احمد‘‘ کے عنوان سے ١٩٣٤ء کے جلسہ سالانہ قادیان میں ایک مفصل تقریر کی جو الگ شائع ہو چکی ہے، اس میں اس نے صرف یہی دعویٰ نہیں کیا کہ مذکورہ آیت میں احمد سے مراد آنحضرت ﷺ کے بجائے مرزا غلام احمد ہے۔ بلکہ یہ بھی ثابت کرنے کی کوشش کی کہ سورۃ صف میں صحابہ کرامؓ کو فتح ونصرت کی جتنی بشارتیں دی گئی ہیں وہ صحابہ کرامؓ کے لئے نہیں قادیانی جماعت کے لئے تھیں۔ چنانچہ اپنی جماعت کو مخاطب کرتے ہوئے وہ کہتا ہے: ’’پس یہ آخری 1 فتح بے بہا نعمت ہے جس کی صحابہؓ تمنی کرتے رہے مگر وہ اسے حاصل نہ کر سکے اور آپ کو مل رہی ہے۔‘‘

(اسمہ احمد ص ٧٤، مطبوعہ قادیان ١٩٣٤ء)

غور فرمائیے کہ سرکار دو عالم ﷺ اور آپ ﷺ کے اصحاب کرامؓ کی یہ توہین اور قرآن کریم کی آیات کے ساتھ یہ گھناؤنا مذاق مسلمانوں جیسا نام رکھنے کے بغیر ممکن تھا؟

1949 مرزائی ’’وحی‘‘ قرآن کے برابر

پھر یہ جسارت یہیں پر ختم نہیں ہوئی۔ بلکہ مرزا غلام احمد نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اس پر نازل ہونے والی نام نہاد وحی (جس میں انتہائی درجے کی کفریات اور بازاری باتیں بھی موجود ہیں) ٹھیک قرآن کے برابر ہے، چنانچہ اپنے ایک فارسی قصیدے میں وہ کہتا ہے۔

١؎ آیت قرآنی واخرى تحبونها نصر من الله وفتح قريب ٠ (الصف:١٣)

١٨

صفحہ ١٨٩٧

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

آنچہ من بشنوم ز وحی خدا بخدا پاک دانمش ز خطا
ہمچو قرآن منزہ اش دانم از خطاہا، ہمیں ست ایمانم

(نزول المسیح ص٩٩، خزائن ج١٨ ص٤٧٧)

”یعنی خدا کی جو وحی میں سنتا ہوں خدا کی قسم میں اسے ہر غلطی سے پاک سمجھتا ہوں۔ قرآن کی طرح اسے تمام غلطیوں سے پاک یقین کرتا ہوں، یہی میرا ایمان ہے۔“

مرزاغلام احمد نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ قرآن کی طرح میری وحی بھی حد اعجاز کو پہنچی ہوئی ہے اور اس کی تائید میں انہوں نے ایک پورا قصیدہ اعجازیہ تصنیف کیا ہے جو ان کی کتاب ”اعجاز احمدی“ میں شائع ہو گیا ہے۔

انبیاء علیہم السلام کی توہین

اس کے علاوہ پوری امت مسلمہ انبیاء علیہم السلام پر ایمان لانے اور ان کی تعظیم و تقدیس کو جزو ایمان سمجھتی ہے۔ سرکار دوعالم محمد مصطفیٰ ﷺ بغیر کسی ادنیٰ شبہ کے تمام انبیاء سے افضل تھے۔ لیکن کبھی آپ ﷺ نے کسی دوسرے نبی کے بارے میں کوئی ایسا لفظ استعمال نہیں فرمایا جو ان کے شایان شان نہ ہو۔ لیکن مرزا غلام احمد قادیانی انسانی پستیوں کے تحت الثریٰ میں کھڑے ہو کر بھی انبیاء علیہم السلام کی شان میں جو گستاخیاں کرتے رہے ۔ اس کا نمونہ ملاحظہ فرمائیے!

حضرت عیسیٰ علیہ السلام شراب پیا کرتے تھے۔ شاید کسی بیماری کی وجہ سے یا پرانی عادت کی وجہ سے۔“

(کشتی نوح حاشیہ ص ٦٦، خزائن ج١٩ ص٧١)

بعض وقت سو سو دفعہ ایک ایک دن میں پیشاب آتا ہے...... ایک دفعہ مجھے ایک دوست نے یہ صلاح دی کہ ذیابیطس کے لئے افیون مفید ہوتی ہے۔ پس علاج کی غرض سے مضائقہ نہیں...... میں نے جواب دیا کہ اگر میں ذیابیطس کے لئے افیون کھانے کی عادت کرلوں تو میں ڈرتا ہوں کہ لوگ ٹھٹھا کر کے یہ نہ کہیں کہ پہلا مسیح تو شرابی تھا اور دوسرا افیونی ۔“

(نسیم دعوت ص٦٩، خزائن ج١٩ ص٤٣٤، ٤٣٥)

١٩

صفحہ ١٨٩٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو اس سے بہتر غلام احمد ہے

(دافع البلاء ص ٢٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٤٠)

اور اس کے بعد لکھتے ہیں: ”یہ باتیں شاعرانہ نہیں بلکہ واقعی ہیں اور اگر تجربہ کی رو سے خدا کی تائید مسیح ابن مریم سے بڑھ کر میرے ساتھ نہ ہو تو میں جھوٹا ہوں۔“

(دافع البلاء ص ٢٠، ٢١، خزائن ج ١٨ ص ٢٤٠، ٢٤١)

ایک منم کہ حسب بشارات آدم عیسیٰ کجاست تا بہ نہد پا بمنبرم

(ازالۃ اوہام طبع اوّل ص ١٥٨، خزائن ج ٣ ص ١٨٠)

1951 یعنی! ”یہ میں ہوں جو بشارتوں کے مطابق آیا ہوں۔ عیسیٰ کی کیا مجال کہ وہ میرے منبر پر پاؤں رکھ سکے۔“

بڑھ کر ہے اور اس نے اس دوسرے مسیح کا نام غلام احمد رکھا۔“

(دافع البلاء ص ١٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣)

میرے زمانہ میں ہوتا تو وہ کام جو میں کر سکتا ہوں وہ ہرگز نہ کر سکتا اور وہ نشان جو مجھ سے ظاہر ہو رہے ہیں وہ ہرگز دکھلا نہ سکتا۔“

(حقیقت الوحی ص ١٤٨، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٢)

ہوتی۔ بلکہ یحییٰ نبی کو اس پر ایک فضیلت ہے۔ کیونکہ وہ شراب نہیں پیتا تھا اور کبھی نہیں سنا گیا کہ کسی فاحشہ عورت نے آ کر اپنی کمائی کے مال سے اس کے سر پر عطر ملا تھا یا ہاتھوں یا اپنے سر کے بالوں سے اس کے بدن کو چھوا تھا، یا کوئی بے تعلق جوان عورت اس کی خدمت کرتی تھی۔ اسی وجہ سے خدا

1952 نے قرآن میں یحییٰ کا نام حصور (باعفت) رکھا۔ مگر مسیح کا یہ نام نہ رکھا، کیونکہ ایسے قصے اس نام کے رکھنے سے مانع تھے۔“

(مقدمہ دافع البلاء ص ٤، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٠ حاشیہ)

بے انصافی ہوگی، اگر یہاں خود مرزا صاحب کی ”راست باز“ سیرت کے دو ایک واقع ذکر نہ کئے جائیں۔ مرزا صاحب کے مرید خاص مفتی محمد صادق صاحب مرزا صاحب کے ”غض بصر“ یعنی نگاہیں نیچی رکھنے کے بیان میں لکھتے ہیں: ”حضرت مسیح موعود کے اندرون خانہ ایک نیم دیوانی سی عورت بطور خادمہ کے رہا کرتی تھی، ایک دفعہ اس نے کیا...... (بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر)

٢٠

صفحہ ١٨٩٩

SEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو اس

اور اس کے بعد لکھتے ہیں: ”یہ باتیں شاعرا خدا کی تائید مسیح ابن مریم سے بڑھ کر میرے ساتھ نہ ہوت

ایک منم کہ حسب بشارات آدم

1951 یعنی ! ”یہ میں ہوں جو بشارتوں کے میرے منبر پر پاؤں رکھ سکے۔“

بڑھ کر ہے اور اس نے اس دوسرے مسیح کا نام غلام احمد ر

میرے زمانہ میں ہوتا تو وہ کام جو میں کر سکتا ہوں وہ ہو رہے ہیں وہ ہرگز دکھلا نہ سکتا۔“

ہوتی۔ بلکہ یحییٰ نبی کو اس پر ایک فضیلت ہے۔ کیونکہ وہ فاحشہ عورت نے آکر اپنی کمائی کے مال سے اس کے سے اس کے بدن کو چھوا تھا، یا کوئی بے تعلق جوان عورت 1952 نے قرآن میں یحییٰ کا نام حصور (باعفت ) رکھا نام کے رکھنے سے مانع تھے۔“

یہ ناانصافی ہوگی، اگر یہاں خود مرزا صاحب ذکر نہ کئے جائیں۔ مرزا صاحب کے مرید خاص مفتی بحر “ یعنی نگاہیں نیچی رکھنے کے بیان میں لکھتے ہیں: ” دیوانی سی عورت بطور خادمہ کے رہا کرتی تھی، ایک دفعہ

٢٠

1899 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

کہتا ہوں کہ ہزار ہا میری ایسی کھلی کھلی پیش گوئیاں ہیں جو نہایت صفائی سے پوری ہو گئیں۔ جن کے لاکھوں انسان گواہ ہیں، ان کی نظیر اگر گذشتہ نبیوں میں تلاش کی جائے تو بجز آنحضرت ﷺ کے کسی اور جگہ ان کی مثل نہیں ملے گی۔“

(کشتی نوح ص ٦، خزائن ج ١٩ ص ٦)

آنحضرت ﷺ کی شان میں گستاخی

پھر تمام انبیاء علیہم السلام پر اپنی فضیلت ظاہر کر کے بھی انہیں تسلی نہیں ہوئی۔ بلکہ مرزا غلام احمد کی گستاخیوں نے سرکار دوعالم ، رحمۃ للعالمین ، حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ کے دامن عظمت پر بھی دست درازی کی کوشش کی ہے، لکھا ہے کہ: ”خوب توجہ کر کے سن لو کہ اب اسم محمد کی تجلی ظاہر کرنے کا وقت نہیں یعنی اب جلالی رنگ کی کوئی خدمت باقی نہیں، کیونکہ مناسب حد تک وہ جلال ظاہر ہو چکا۔ سورج کی 1953 کرنوں کی اب برداشت نہیں، اب چاند کی ٹھنڈی روشنی کی ضرورت ہے اور وہ احمد کے رنگ میں ہو کر میں ہوں۔“

(اربعین نمبر ٤ ص ١٤، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥، ٤٣٦)

(بقیہ حاشیہ گزشتہ صفحہ) حرکت کی کہ جس کمرے میں حضرت بیٹھ کر لکھنے پڑھنے کا کام کرتے تھے، وہاں ایک کونے میں گھڑا تھا جس میں پانی کے گھڑے رکھے تھے۔ وہاں اپنے کپڑے اتار کر ننگی بیٹھ کر نہانے لگ گئی۔ حضرت صاحب اپنے کام تحریر میں مصروف رہے اور کچھ خیال نہ کیا کہ وہ کیا کرتی ہے۔“ (ذکر حبیب مؤلفہ مفتی محمد صادق ص ٣٨ قادیان ١٩٣٦ء) نیز ایک نوجوان عورت عائشہ نامی مرزا صاحب کے پاؤں دبایا کرتی تھی۔ اس کے شوہر غلام محمد لکھتے ہیں: ”حضور کو عورتوں کی خدمت پاؤں دبانے کی بہت پسند تھی۔“ (الفضل مورخہ ٢٠/مارچ ١٩٢٨ء ص ٨) اس کے علاوہ جو اجنبی عورتیں مرزا صاحب کے گھر میں رہتی تھیں اور ان کی مختلف خدمات پر مامور تھیں۔ ان کی تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو سیرت المہدی از مرزا بشیر احمد ایم اے۔ (ص ٢١ ج ٣ ص ٢١٣ ج ٣ ص ٢٧٣ ج ٣، ص ٨٨ ج ٣، ص ١٤٩ ج ٣، ص ٣٥ ج ٣، ص ٣ ج ٣، ص ٢٥٩ ج ١) جب کہ عوام کے لئے فتویٰ یہ تھا کہ ”بوڑھی عورت سے بھی مصافحہ کرنا جائز نہیں۔“ (سیرت المہدی ص ٧٦، ج ٢ مطبوعہ ١٩٢٧ء) اور مفتی محمد صادق صاحب لکھتے ہیں: ”ایک شب دس بجے کے قریب میں تھیٹر میں چلا گیا جو مکان کے قریب ہی تھا۔ حضرت صاحب نے فرمایا ایک دفعہ ہم بھی گئے تھے تا کہ معلوم ہو کہ وہاں کیا ہوتا ہے۔“ (ذکر حبیب ص ١٨)

٢١

صفحہ ١٩٠٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

اور خطبہ الہامیہ کی وہ عبارت پیچھے گزر چکی ہے جس میں اس نے اپنے کو سرکار دو عالم ﷺ کا بروز ثانی قرار دے کر کہا ہے کہ یہ نیا ظہور پہلے سے اشد اقویٰ اور اکمل ہے۔

(دیکھئے خطبہ الہامیہ ص ١٨١، خزائن ج ١٦ ص ٢٧٢)

نیز اپنے قصیدہ اعجازیہ میں (جسے قرآن کی طرح معجز قرار دیا ہے ) یہ شعر بھی کہا ہے کہ:

لہ خسف القمر المنیر وان لی
غسا القمران المشرقان اتنکر

اس یعنی آنحضرت ﷺ کے لئے چاند کے خسوف کا نشان ظاہر ہوا اور میرے لئے چاند اور سورج دونوں کا۔ اب کیا تو انکار کرے گا۔

(اعجاز احمدی ص ٧١، خزائن ج ١٩ ص ١٨٣)

سچ ہے کہ: ناوک نے تیرے صید نہ چھوڑا زمانے میں۔

صحابہؓ کی توہین

جو شخص اس دیدہ دلیری کے ساتھ انبیاء علیہم السلام کی توہین کر سکتا ہو، وہ صحابہ کرامؓ کو تو کیا خاطر میں لا سکتا ہے؟ چنانچہ مندرجہ ذیل عبارتیں بلا تبصرہ پیش خدمت ہیں۔

ہوا۔“

(خطبہ الہامیہ ص ١٧١، خزائن ج ١٦ ص ٢٥٨)

ابو بکرؓ کے درجہ پر ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ ابو بکرؓ کیا وہ تو بعض انبیاء سے بہتر ہے۔“

(اشتہار معیار الاخیار ص ١١، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٧٨)

کو چھوڑتے ہو اور مردہ علی کو تلاش کرتے ہو۔“

(ملفوظات احمدیہ ج ١ ص ١٣١)

تھے۔“

(ضمیمہ براہین احمدیہ ج ٥ ص ١٢٠، خزائن ج ٢١ ص ٢٨٥)

یہاں ’نادان صحابی‘ کا لفظ حضرت عمرؓ اور حضرت ابو ہریرہؓ کے لئے استعمال کیا ہے۔

(خطبہ الہامیہ ص ١٤٩، خزائن ج ١٦ ص ٢٢٩، حقیقت الوحی ص ٣٣، ٣٤ خزائن ج ٢٢ ص ٣٥، ٣٦)

اہل بیتؓ کی توہین

٢٢

صفحہ ١٩٠١

1901 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

اپنی ران پر میرا سر رکھا اور مجھے دکھایا کہ میں اس میں سے ہوں۔‘‘

(ایک غلطی کا ازالہ حاشیہ ص ٩، خزائن ج ١٨ ص ٢١٣)

”میں خدا کا کشتہ ہوں ،لیکن تمہارا حسین دشمنوں کا کشتہ ہے۔ پس فرق کھلا کھلا اور ظاہر ہے۔“

(اعجاز احمدی ص ٨١، خزائن ج ١٩ ص ١٩٣)

”تم نے خدا کے جلال اور مجد کو بھلا دیا، اور تمہارا ورد صرف حسین ہے کیا تو انکار کرتا ہے؟ پس یہ اسلام پر ایک مصیبت ہے۔ کستوری کی خوشبو کے پاس گوہ کا ڈھیر ہے۔“

(اعجاز احمدی ص ٨٢، خزائن ج ١٩ ص ١٩٣)

کربلائیست سیر ہر آنم صد حسین است در گریبانم

(نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)

آنحضرت ﷺ کے اہل بیت کی توہین کے بعد اپنی اولاد کو ”پنج تن“ کے لقب سے مقدس قرار دیتے ہوئے کہا:

مری اولاد سب تیری عطا ہے ہر اک تیری بشارت سے ہوا ہے
یہ پانچوں جو کہ نسل سیدہ ہیں یہی ہیں پنج تن جن پر بنا ہے

(درثمین اردو ص ٤٤)

شعائر اسلامی کی توہین

مرزا بشیر الدین محمود لکھتے ہیں: ”اس زمانے میں خدا تعالیٰ نے قادیان کو تمام دنیا کی بستیوں کی ام قرار دیا ہے۔ اس لئے اب وہی بستی پورے طور پر روحانی زندگی پائے گی۔ جو اس کی چھاتیوں سے دودھ پیئے گی۔“

(حقیقت الرؤیا ص ٤٥ ایڈیشن اوّل ١٩١٨ء)

آگے کہتے ہیں: ”حضرت مسیح موعود نے اس کے متعلق بڑا زور دیا ہے اور فرمایا ہے کہ جو بار بار یہاں نہیں آتے ، مجھے ان کے ایمان کا خطرہ ہے، پس جو قادیان سے تعلق نہیں رکھے گا وہ کاٹا جائے گا۔ تم ڈرو کہ تم میں سے نہ کوئی کاٹا جائے ، پھر یہ تازہ دودھ کب تک رہے گا، آخر ماؤں کا دودھ سوکھ جایا کرتا ہے۔ کیا مکہ اور مدینہ کی چھاتیوں سے یہ دودھ سوکھ گیا کہ نہیں۔“

(حقیقت الرؤیا ص ٤٦، مطبوعہ قادیان ١٣٤٦ھ)

٢٣

EMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

اور خطبہ الہامیہ کی وہ عبارت پیچھے گزر چ عالم ﷺ کا بروز ثانی قرار دے کر کہا ہے کہ یہ نیا ظہور پ

نیز اپنے قصیدۂ اعجازیہ میں (جسے قرآن کی

لہ خسف القمر ال
غسا القمران الم

اس یعنی آنحضرت ﷺ کے لئے چاند ا چاند اور سورج دونوں کا۔ اب کیا تو انکار کرے گا۔ سچ ہے کہ: ناوک نے تیرے صید نہ چھوڑ

صحابہؓ کی تو

جو شخص اس دیدہ دلیری کے ساتھ انبیاء عل کیا خاطر میں لا سکتا ہے؟ چنانچہ مندرجہ ذیل عبارتیں

”جو شخص میری جماعت میں داخل ہوا، و ہوا۔“

”میں وہی مہدی ہوں جس کی نسبت ا ابوبکرؓ کے درجہ پر ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ ابو

(اشتہ

”پرانی خلافت کا جھگڑا چھوڑو، اب نئی کو چھوڑتے ہو اور مردہ علیؓ کو تلاش کرتے ہو۔“

”بعض نادان صحابی جن کو درایت س تھے۔“

یہاں ”نادان صحابی“ کا لفظ حضرت عمرؓ

(خطبہ الہامیہ ص ١٤٩، خزائن ج ١٦ ص ٢٩

اہل بیتؓ

گستاخی اور جسارت کی انتہاء ہے کہ

صفحہ ١٩٠٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No: 18

”آج جلسہ کا پہلا دن ہے اور ہمارا جلسہ بھی حج کی طرح ہے...... حج کا مقام ایسے لوگوں کے قبضہ میں ہے، جو احمدیوں کو قتل کر دینا بھی جائز سمجھتے ہیں۔ اس لئے خدا تعالیٰ نے قادیان کو اس کام کے لئے مقرر کیا ہے۔“

(برکات خلافت ص ٥، طبع قادیان ١٩١٤ء)

1956 ٣...... اور مرزا غلام احمد قادیانی کہتے ہیں ؎

زمین قادیان اب محترم ہے
ہجوم خلق سے ارض حرم ہے

(درثمین اردو ص ٥٠)

اِسلام اور مسلمانوں کی مکرم ترین شخصیات انبیاء علیہم السلام، صحابہ کرامؓ اور اہل بیت عظامؓ کی شان میں ایسی کھلم کھلا گستاخیوں کے بعد مرزا غلام احمد جیسے شخص کو نبی، رسول اللہ کا بروز، خاتم انبیاء اور محمد مصطفیٰ ﷺ، جیسے خطابات دیئے گئے۔ اس کے مریدوں کو صحابہ کرام کہا گیا اور ان کے ساتھ رضی اللہ عنہم لکھا گیا۔ مرزا غلام احمد کی بیوی کو ام المؤمنین قرار دیا گیا۔ مرزا کے جانشینوں کو خلفاء اور صدیقین کے لقب عطا ہوئے۔ قادیان ارض حرم اور ”ام القریٰ“ کہلایا اور اپنے سالانہ جلسے کو ”حج“ کہا گیا۔ اس کے باوجود یہ اصرار ہے کہ مسلمان ہیں تو بس یہی، اور اسلام ہے تو صرف قادیانیوں کے مذہب میں ؎

تفُو بَر تو اے چرخ گرداں تفُو

مرزا صاحب کے چند الہامات

معزز ارکان اسمبلی کی معلومات اور دلچسپی کے لئے مرزا صاحب کے چند خاص الہامات اور ان کی زندگی کے چند اہم گوشے پیش کرتے ہیں تا کہ وہ یہ اندازہ کر سکیں کہ مرزائی صاحبان جس شخص کو نبی اور رسول کہتے ہیں، وہ کیا تھا؟ اور عقیدہ ختم نبوت سے قطع نظر، اس مزاج اور اس انداز کے انسان میں کہیں دور دور نبوت کے مقدس منصب کی کوئی بو نظر آتی ہے! پہلے الہامات کو لیجئے جو بلا تبصرہ حاضر ہیں۔

”زیادہ تر تعجب کی بات یہ ہے کہ بعض الہامات مجھے ان زبانوں میں ہوتے ہیں جن سے مجھے کچھ بھی واقفیت نہیں جیسے انگریزی یا سنسکرت یا عبرانی وغیرہ۔“

(نزول المسیح ص ٥٧، خزائن ج ١٨ ص ٤٣٥)

1957 حالانکہ قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ وما ارسلنا من رسول الا بلسان

٢٤

صفحہ ١٩٠٣

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

قومہ لیبین لهم (ہم نے کوئی رسول نہیں بھیجا۔ مگر اپنی قوم ہی کی زبان میں تاکہ انہیں کھول کر بتادے) اس طرح خود مرزا صاحب نے بھی (چشمہ معرفت ص ٢٠٩، خزائن ج ٢٣ ص ٢١٨) میں تحریر کیا ہے: ”بالکل غیر معقول اور بیہودہ امر ہے کہ انسان کی اصل زبان تو کوئی ہو اور الہام کسی اور زبان میں جس کو وہ سمجھ بھی نہیں سکتا۔ کیونکہ اس میں تکلیف مالا یطاق ہے اور ایسے الہام سے فائدہ کیا ہوا جو انسانی سمجھ سے بالاتر ہو۔“

اب مرزا صاحب کے ایسے الہامات اور مکاشفات ملاحظہ فرمائیے۔ قرآن حکیم اور اپنے فیصلے کے خلاف مرزا صاحب کو ان زبانوں میں بھی الہامات ہوئے ہیں جن کو وہ خود بھی نہیں سمجھ سکتے۔ ہم بطور نمونہ مرزا صاحب کے چند الہامات درج ذیل کرتے ہیں۔

دیا۔“ آخری فقرہ اسی الہام کا یعنی ایلی آوس بباعث سرعت ورود مشتبہ رہا اور نہ اس کے کچھ معنی کھلے۔“

(البشریٰ ج ١ ص ٣٦، تذکرہ ص ٤١ طبع سوم)

ہے۔ دو برس تک صفت مریمیت میں میں نے پرورش پائی اور پردہ میں نشو و نما پاتا رہا۔ پھر جب اس پر دو برس گزر گئے ..... مریم کی طرح عیسیٰ کی روح مجھ میں نفخ کی گئی اور استعارہ کے رنگ میں مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا۔ اور آخر کئی مہینے کے بعد جو دس مہینے سے زیادہ نہیں، مجھے مریم سے عیسیٰ بنایا گیا۔ بس اس طور سے میں ابن مریم ٹھہرا۔“

(کشتی نوح ص ٤٧، ٤٦، خزائن ج ١٩ ص ٥٠)

”مریم کو (اس عاجز) دردِ زہ تہ کھجور کی طرف لے آئی۔“

(کشتی نوح ص ٤٧، خزائن ج ١٩ ص ٥١)

اور ناپاکی پر اطلاع پائے۔ مگر خدا تعالیٰ تجھے اپنے انعامات دکھلائے گا جو متواتر ہوں گے اور تجھ میں حیض نہیں بلکہ بچہ ہو گیا ہے ایسا بچہ جو بمنزلہ اطفال اللہ ہے۔“

(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٤٣، خزائن ج ٢٢ ص ٥٨١)

(براہین احمدیہ ہر چہار حصص ص ٥٥٦، خزائن ج ١ ص ٦٦٢، ٦٦٣ حاشیہ)

بہت دقت ہوئی۔ کیونکہ کثرت سے مہمانوں کی آمد تھی اور اس کے مقابل پر روپیہ کی آمدنی کم اس لئے دعا کی گئی ٥؍ مارچ ١٩٠٥ء کو میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک شخص جو فرشتہ معلوم ہوتا تھا

٢٥

EMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:16

”آج جلسہ کا پہلا دن ہے اور ہمارا جلسہ لوگوں کے قبضہ میں ہے، جو احمدیوں کو قتل کر دینا بھی قادیان کو اس کام کے لئے مقرر کیا ہے۔“

1956 ٣...... اور مرزا غلام احمد قادیانی کہتے ہیں۔

زمین قادیان اب
ہجوم خلق سے ارضِ

اُسلام اور مسلمانوں کی مکرم ترین شخصیات عظائم کی شان میں ایسی کھلم کھلا گستاخیوں کے بعد مرزا خاتم انبیاء اور محمد مصطفیٰ ﷺ ، جیسے خطابات دیئے گئے۔ کے ساتھ رضی اللہ عنہم لکھا گیا۔ مرزا غلام احمد کی بیوی کو کو خلفاء اور صدیقین کے لقب عطا ہوئے۔ قادیان سالانہ جلسے کو ”حج“ کہا گیا۔ اس کے باوجود یہ اصرار ہے صرف قادیانیوں کے مذہب میں

تقویم تو اے چرخ

مرزا صاحب کے چ

معزز ارکانِ اسمبلی کی معلومات اور دلچسپ الہامات اور ان کی زندگی کے چند اہم گوشے پیش کر صاحبان جس شخص کو نبی اور رسول کہتے ہیں، وہ کیا تھا؟ اور اس انداز کے انسان میں کہیں دور دور نبوت کے الہامات کو لیجئے جو بلا تبصرہ حاضر ہیں۔

”زیادہ تر تعجب کی بات یہ ہے کہ بعض الہام سے مجھے کچھ بھی واقفیت نہیں جیسے انگریزی یا سنسکرت یا

1957 حالانکہ قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ نے فرما

٢٤

صفحہ ١٩٠٤

1904 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

میرے سامنے آیا اور اس نے بہت سا روپیہ میرے دامن میں ڈال دیا۔ میں نے اس کا نام پوچھا اس نے کہا نام کچھ نہیں، میں نے کہا آخر کچھ تو نام ہوگا اس نے کہا میرا نام ہے ٹیچی ٹیچی۔"

(حقیقت الوحی ص ٣٣٢، خزائن ج ٢٢ ص ٣٤٥، ٣٤٦)

(متعدد اراکین نے ”ٹیچی ٹیچی“ کا مطلب پوچھا) مولوی مفتی محمود: ”ٹیچی“ شاید ”ٹیچنگ“ سے ہے، یعنی پڑھانے والا۔ ڈاکٹر ایس محمود عباس بخاری: مولانا صاحب ! ”ٹیچی کا مطلب ہے ”ٹیچ ٹائم تے آن والا“ (یعنی عین وقت پر آنے والا ) اس کی تفسیر انہوں نے کی ہے۔ ٹچ ٹائم پر آنے والا ۔“ مولوی مفتی محمود: مرزا جی کے فرشتہ نے یا پہلے جھوٹ بولا یا پھر، جس نبی کا فرشتہ جھوٹ بولتا ہے وہ نبی کیسے سچا ہو سکتا ہے؟

دکھائی گئی جس پر لکھا ہوا تھا۔ خاکسار پیپرمنٹ ۔“

(مکاشفات مرزا ص ٣٨، تذکرہ ص ٥١٧ طبع سوم )

نمبر ٣٤ موسوم اسلامی قربانی ص ١٢ میں تحریر کرتے ہیں۔ ”جیسا کہ حضرت مسیح موعود نے ایک موقعہ پر اپنی حالت یہ ظاہر فرمائی ہے کہ کشف کی حالت آپ پر اس طرح طاری ہوئی کہ گویا آپ عورت ہیں اور اللہ تعالیٰ نے رجولیت کی طاقت کا اظہار فرمایا۔ سمجھنے والے کے لئے اشارہ کافی ہے۔“

معنی ابھی تک اس عاجز پر نہیں کھلے۔ پھر بعد اس کے دو فقرے انگریزی میں جن کے الفاظ کی 1959 صحت بباعث سرعت الہام ابھی تک معلوم نہیں اور وہ یہ ہیں ۔ آئی لو۔ یو، آئی شیل گویو، لارج پارٹی آف اسلام ۔“

(براہین احمدیہ ص ٥٥٤، خزائن ج ١ ص ٦٦٤ حاشیہ )

ودیو۔ آئی شیل ہیلپ یو، آئی کین وہٹ آئی ول ڈو۔ پھر بعد اس کے بہت زور سے جس سے بدن کانپ گیا یہ الہام ہوا۔ وی کین وٹ وی ول ڈو اور اس وقت ایک ایسا لہجہ اور تلفظ معلوم ہوا کہ گویا کہ ایک انگریز ہے جو سر پر کھڑا بول رہا ہے اور باوجود پر دہشت ہونے کے پھر اس میں ایک لذت تھی جس سے روح کو معنی معلوم کرنے سے پہلے ہی ایک تسلی اور تشفی ملتی تھی اور یہ انگریزی زبان کا الہام اکثر ہوتا رہتا ہے۔“

(تذکرہ ص ٦٣، ٦٤ طبع سوم)

٢٦

1905 NATIONAL ر مجھے مخاطب کر کے بولا ۔ ہے رو در

(تذکرہ مجموعہ الہامات مرزا ص ٣٨٠ طبع سوم )

بھی الہام ہوا ۔ ”ہے کرشن رودر گوپال

(تذکرہ ص ٣٨٠، طبع سوم )

مدتوں میں انتظار کرتے ہیں وہ کرشن خدا تعالیٰ نے بار بار میرے پر ظاہر کیا ہے آریوں کا بادشاہ ۔“

(تذکرہ ص ٣٨١، طبع سوم )

زا بشیر الدین حسب ذیل رکھا ، دیکھو

(تذکرہ ص ٧١٦ ، طبع سوم )

کوئیاں بد خیال لوگوں کو واضح رہے کہ ہمارا کوئی تنک امتحان نہیں ہو سکتا۔“

ت اسلام ص ٢٨٨، خزائن ج ١٥ ص ایضاً)

شگوئیاں بطور نمونہ آپ کے سامنے نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا۔ حیلے دینے کی بھی پیش کش کی ۔ مگر وہ پوری

نام محمدی بیگم تھا۔ والد اس لڑکی کا تو مرزا صاحب نے مخمصہ مذکورہ کو کا جتلا اور اس کا اصرار بڑھا تو مرزا کہ ”خدا تعالیٰ کی طرف سے مجھ کو

صفحہ ١٩٠٥

1905 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

گوپال تیری گیتا میں لکھی ہے۔"

(تذکرہ مجموعہ الہامات مرزا ص ٣٨٠ طبع سوم)

تیری مہا گیتا میں لکھی ہے۔"

(تذکرہ ص ٣٨٠ طبع سوم)

میں ہی ہوں اور یہ دعویٰ صرف میری طرف سے نہیں بلکہ خدا تعالیٰ نے بار بار میرے پر ظاہر کیا ہے۔ جو کرشن آخری زمانے میں ظاہر ہونے والا تھا وہ تو ہی ہے آریوں کا بادشاہ۔"

(تذکرہ ص ٣٨١ طبع سوم)

الفضل مورخہ ٥؍اپریل ١٩٢٧ء۔

امین الملک جے سنگھ بہادر،

(تذکرہ ص ٣٧٢ طبع سوم)

-------------

1960مرزا صاحب کی پیشین گوئیاں

مرزا غلام احمد صاحب قادیانی تحریر کرتے ہیں کہ: "بدخیال لوگوں کو واضح رہے کہ ہمارا صدق یا کذب جانچنے کے لئے ہماری پیش گوئی سے بڑھ کر اور کوئی محک امتحان نہیں ہو سکتا۔"

(آئینہ کمالات اسلام ص ٢٨٨، خزائن ج ٥ ص ایضاً)

اب ہم یہاں مرزا غلام احمد صاحب کی صرف دو پیش گوئیاں بطور نمونہ آپ کے سامنے رکھتے ہیں۔ جنہیں پورا کرنے کے لئے جناب مرزا صاحب نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا۔ حیلے حوالے کئے ٹوٹکے استعمال کئے اور یہاں تک کہ رشوت تک دینے کی بھی پیش کش کی۔ مگر وہ پوری نہ ہوسکیں۔ -

محمدی بیگم سے نکاح

مرزا صاحب کی چچا زاد بہن کی ایک لڑکی تھی جس کا نام محمدی بیگم تھا۔ والد اس لڑکی کا اپنے کسی ضروری کام کے لئے مرزا صاحب کے پاس آیا۔ پہلے تو مرزا صاحب نے شخص مذکورہ کو حیلوں بہانوں سے ٹالنے کی کوشش کی۔ مگر جب وہ کسی طرح بھی نہ ٹلا اور اس کا اصرار بڑھا تو مرزا صاحب نے الہام الہٰی کا نام لے کر ایک عدد پیش گوئی کر دی کہ: "خدا تعالیٰ کی طرف سے مجھ کو

٢٧

F PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

میرے سامنے آیا اور اس نے بہت سا روپ اس نے کہا نام کچھ نہیں، میں نے کہا آخر کچھ (متعدد اراکین ... مولوی مفتی محمود: ”پچی“ ش ڈاکٹر ایس محمود عباس بخار آن والا“ (یعنی عین وقت پر آنے والا ) ا مولوی مفتی محمود: مرزا جی جھوٹ بولتا ہے وہ نبی کیسے سچا ہو سکتا ہے؟

دکھائی گئی جس پر لکھا ہوا تھا۔ خاکسار پکچر

نمبر ٣٤ موسوم اسلامی قربانی ص ١٢ میں تحریر اپنی حالت یہ ظاہر فرمائی ہے کہ کشف کی اور اللہ تعالیٰ نے رجولیت کی طاقت کا اظہ

معنی ابھی تک اس عاجز پر نہیں کھلے۔ 1959صحت باعث سرعت الہام ابھی تا پارٹی آف اسلام ۔“

ودیو۔ آئی شیل ہیلپ یو، آئی کین وہم کانپ گیا یہ الہام ہوا۔ وی کین وٹ کہ ایک انگریز ہے جو سر پر کھڑا بول رہ تھی جس سے روح کو معنی معلوم کر الہام اکثر ہوتا رہتا ہے۔“

صفحہ ١٩٠٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No: 15

الہام ہوا ہے کہ تمہارا یہ کام اس شرط پر ہوسکتا ہے کہ اپنی بڑی لڑکی کا نکاح مجھ سے کر دو۔"

(آئینہ کمالات اسلام ص ٢٨٦ ملخص، خزائن ج ٥ ص ایضاً)

وہ شخص غیرت کا پتلا تھا۔ یہ بات سن کر واپس چلا گیا۔ مرزا صاحب نے بعد ازاں ہر چند کوشش کی، نرمی ، سختی ، دھمکیاں ، لالچ ، غرض ہر طریقہ کو استعمال کیا، مگر وہ شخص کسی طرح بھی رام نہ ہوسکا۔ آخر نوبت یہاں تک پہنچی کہ مرزا صاحب نے چیلنج کر دیا کہ: 1961 ’’میں اس پیش گوئی کو اپنے صدق و کذب کے لئے معیار قرار دیتا ہوں اور یہ خدا سے خبر پانے کے بعد کہہ رہا ہوں۔‘‘

(انجام آتھم ص ٢٢٣، خزائن ج ١١ ص ایضاً)

اور فرمایا کہ: ’’ہر روک دور کرنے کے بعد اس لڑکی کو خدا تعالیٰ اس عاجز کے نکاح میں لاوے گا۔‘‘

(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٥٨)

آخر کار مرزا صاحب کی ہزار کوششوں کے باوجود محمدی بیگم کا نکاح ان سے نہ ہوسکا اور سلطان محمد نامی ایک صاحب سے اس کی شادی ہو گئی۔ اس موقع پر مرزا صاحب نے پھر پیش گوئی کی کہ: ’’نفس پیش گوئی یعنی اس عورت کا اس عاجز کے نکاح میں آنا یہ تقدیر مبرم ہے جو کسی طرح ٹل نہیں سکتی۔‘‘

(مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٤٣)

آگے اپنا الہام ان الفاظ میں بیان کیا: ’’میں اس عورت کو اس کے نکاح کے بعد واپس لاؤں گا اور تجھے دوں گا اور میری تقدیر کبھی نہیں بدلے گی۔‘‘

(مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٤٣)

اور ایک موقع پر یہ دعا کی کہ: ’’اور احمد بیگ کی دختر کلاں کا آخر اس عاجز کے نکاح میں آنا، یہ پیش گوئیاں تیری طرف سے ہیں تو ان کو ایسے طور سے ظاہر فرما جو خلق اللہ پر حجت ہو...... اور اگر اے خداوند ! یہ پیش گوئیاں تیری طرف سے نہیں ہیں تو مجھے نامرادی اور ذلت کے ساتھ ہلاک کر۔‘‘

(مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ١١٦)

لیکن محمدی بیگم بدستور اپنے شوہر کے گھر میں رہی اور مرزا صاحب کے نکاح میں نہ آنا تھا۔ نہ آئی اور ”مرزا صاحب ٢٦؍مئی ١٩٠٨ء کو ہیضہ کے مرض میں مبتلا ہو کر انتقال کر گئے۔“

(حیات ناصر ص ١٤)

1962اس کے بعد کیا ہوا؟ مرزا صاحب کے منجھلے صاحبزادے مرزا بشیر احمد ایم۔اے رقمطراز ہیں: ’’بسم اللہ الرحمن الرحیم! بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ سنوری نے کہ ایک دفعہ حضرت (مرزا) صاحب جالندھر جا کر قریباً ایک ماہ ٹھہرے تھے اور ان دنوں میں محمدی بیگم کے

- ٢٨

صفحہ ١٩٠٧

1907 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

ایک حقیقی ماموں نے محمدی بیگم کا حضرت صاحب سے رشتہ کرا دینے کی کوشش کی تھی۔ مگر کامیاب نہیں ہوا۔ یہ ان دنوں کی بات ہے کہ جب محمدی بیگم کا والد مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری زندہ تھا اور ابھی محمدی بیگم کا مرزا سلطان محمد سے رشتہ نہیں ہوا تھا۔ محمدی بیگم کا یہ ماموں جالندھر اور ہوشیار پور کے درمیان یکے (تانگے) میں آیا جایا کرتا تھا اور وہ حضرت صاحب (مرزا قادیانی) سے کچھ انعام کا بھی خواہاں تھا اور چونکہ محمدی بیگم کے نکاح کا عقدہ زیادہ تر اسی شخص کے ہاتھ میں تھا۔ اس لئے حضرت صاحب نے اس سے کچھ انعام کا وعدہ بھی کر لیا تھا۔ خاکسار عرض کرتا ہے یہ شخص اس معاملہ میں بد نیت تھا اور حضرت صاحب سے فقط کچھ روپیہ اڑانا چاہتا تھا۔ کیونکہ بعد میں یہی شخص اور اس کے دوسرے ساتھی اس لڑکی کے دوسری جگہ بیاہے جانے کا موجب ہوئے۔“

(سیرت المہدی ج ١ ص ١٩٢، ١٩٣، روایت نمبر ١٧٩)

حالانکہ جناب مرزا صاحب خود تحریر کرتے ہیں کہ: ”ہم ایسے مرشد کو اور ساتھ ہی ایسے مرید کو کتوں سے بدتر اور نہایت ناپاک زندگی والا خیال کرتے ہیں کہ جو اپنے مکر سے پیش گوئیاں بنا کر پھر اپنے ہاتھ سے، اپنے مکر سے، اپنے فریب سے ان کے پورا ہونے کی کوشش کرے اور کراوے۔“

(سراج منیر ص ٢٣، خزائن ج ١٢ ص ٢٧)

اور محمدی بیگم اپنے خاوند مرزا سلطان محمد کے گھر تقریباً چالیس سال بخیر و خوبی آباد رہی اور 1963 اب لاہور میں اپنے جواں سال ہونہار مسلمان بیٹوں کے ہاں ١٩؍ نومبر ١٩٦٦ء کو انتقال فرما گئیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون!

(ہفتہ وار الاعتصام لاہور اشاعت ٢٥؍ نومبر ١٩٦٦ء)

آتھم کی موت کی پیشین گوئی

مرزا صاحب نے عبداللہ آتھم پادری سے امرتسر میں پندرہ دن تحریری مناظرہ کیا۔ جب مباحثہ بے نتیجہ رہا تو مرزا صاحب نے ٥؍ جون ١٨٩٣ء کو ایک عدد پیش گوئی صادر فرمادی۔ جس کا خلاصہ حسب ذیل ہے: ”مباحثہ کے لحاظ سے یعنی فی دن ایک مہینہ لے کر یعنی پندرہ ماہ تک ہاویہ میں گرایا جاوے گا اور اس کو سخت ذلت پہنچے گی۔ (فریق مخالف) ہاویہ میں نہ پڑے تو میں ہر ایک سزا کے اٹھانے کے لئے تیار ہوں، مجھ کو ذلیل کیا جاوے، روسیاہ کیا جاوے، میرے گلے میں رسہ ڈال دیا جاوے۔ مجھ کو پھانسی دیا جاوے، ہر ایک بات کے لئے تیار ہوں۔“

(جنگ مقدس ص ١٨٩، خزائن ج ٦ ص ٢٩٢، ٢٩٣)

غرض مرزا صاحب کی پیش گوئی کے مطابق عبداللہ آتھم کی موت کا آخری دن ٥؍ ستمبر

٢٩

MBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

الہام ہوا ہے کہ تمہارا یہ کام اس شرط پر ہو سکتا ہے کہ ا

(T

وہ شخص غیرت کا پتلا تھا۔ یہ بات سن کر چند کوشش کی، نرمی، سختی، دھمکیاں، لالچ، غرض ہر طر نہ ہو سکا۔ آخر نوبت یہاں تک پہنچی کہ مرزا صاحب اپنے صدق و کذب کے لئے معیار قرار دیتا ہوں اور

اور فرمایا کہ: ”ہر روک دور کرنے کے ب لاوے گا۔“

آخر کار مرزا صاحب کی ہزار کوششوں س سلطان محمد نامی ایک صاحب سے اس کی شادی ہو گ کی کہ: ”نفس پیش گوئی یعنی اس عورت کا اس عاجز ٹل نہیں سکتی۔“

آگے اپنا الہام ان الفاظ میں بیان کیا: ” لاؤں گا اور تجھے دوں گا اور میری تقدیر کبھی نہیں بد

اور ایک موقع پر یہ دعا کی کہ: ”اور احمد ب آنا، یہ پیش گوئیاں تیری طرف سے ہیں تو ان کو ایسے اگر اے خداوند! یہ پیش گوئیاں تیری طرف سے نہیں کر۔“

لیکن محمدی بیگم بدستور اپنے شوہر کے گھ تھا۔ نہ آئی اور ”مرزا صاحب ٢٦ مئی ١٩٠٨ء کو ہیضہ

1962 اس کے بعد کیا ہوا؟ مرزا صاحب رقمطراز ہیں: ”بسم الله الرحمن الرحیم! بیان حضرت (مرزا) صاحب جالندھر جا کر قریباً ایک م

٢٨

صفحہ ١٩٠٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

١٨٩٣ء بتاتا تھا۔ اس دن کی کیفیت مرزا صاحب کے فرزند ارجمند جناب مرزا محمود احمد خلیفہ قادیانی کی زبانی ملاحظہ ہو، فرماتے ہیں:

قادیان میں ماتم

”آتھم کے متعلق پیش گوئی کے وقت جماعت کی جو حالت تھی وہ ہم سے مخفی نہیں۔ میں اس وقت چھوٹا بچہ تھا اور میری عمر کوئی پانچ ساڑھے پانچ سال کی تھی۔ مگر مجھے وہ نظارہ خوب یاد ہے کہ جب آتھم کی پیش گوئی کا آخری دن آیا تو کتنے کرب و اضطراب سے دعائیں کی گئیں۔ میں نے تو محرم کا ماتم بھی کبھی اتنا سخت نہیں دیکھا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک طرف دعا میں مشغول تھے اور دوسری 1964 طرف بعض نوجوان (جن کی اس حرکت پر بعد میں برا بھی منایا گیا) جہاں حضرت خلیفہ اوّل مطب کیا کرتے تھے اور آج کل مولوی قطب الدین صاحب بیٹھتے ہیں، وہاں اکٹھے ہو گئے اور جس طرح عورتیں بین ڈالتی ہیں۔ اس طرح انہوں نے بین ڈالنے شروع کر دیئے۔ ان کی چیخیں سو سو گز تک سنی جاتی تھیں اور ان میں سے ہر ایک کی زبان پر یہ دعا جاری تھی کہ یا اللہ! آتھم مر جائے، یا اللہ! آتھم مر جائے۔ مگر اس کہرام اور آہ و زاری کے نتیجے میں آتھم تو نہ مرا۔“

(خطبہ مرزا محمود احمد، مندرجہ الفضل قادیان مورخہ ٢٠/جولائی ١٩٣٠ء)

اور اس قادیانی اضطراب پر مزید روشنی مرزا صاحب کے منجھلے صاحبزادے بشیر احمد ایم۔اے کی روایت سے پڑتی ہے کہ ابا جان نے آتھم کی موت کے لئے کیا کیا تدبیریں اختیار کیں اور کون کون سے ٹوٹکے استعمال کئے۔ چنانچہ تحریر کرتے ہیں: ”بسم اللہ الرحمن الرحیم ! بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ جب آتھم کی میعاد میں صرف ایک دن باقی رہ گیا تو حضرت مسیح موعود نے مجھ سے اور میاں حامد علی سے فرمایا کہ اتنے چنے (مجھے تعداد یاد نہیں رہی کہ کتنے چنے آپ نے بتائے تھے) لے لو اور ان پر فلاں سورۃ کا وظیفہ اتنی تعداد میں پڑھو (مجھے وظیفہ کی تعداد بھی یاد نہیں رہی) میاں عبداللہ صاحب بیان کرتے ہیں کہ مجھے وہ سورۃ یاد نہیں رہی مگر اتنا یاد ہے کہ وہ کوئی چھوٹی سی سورۃ تھی جیسے الم تر کیف فعل ربك باصحاب الفيل، الخ ! اور ہم نے یہ وظیفہ قریب ساری رات صرف کر کے ختم کیا تھا۔ وظیفہ ختم کرنے پر ہم وہ دانے حضرت صاحب (مرزا قادیانی) کے پاس لے گئے۔ کیونکہ آپ نے ارشاد فرمایا تھا کہ وظیفہ ختم ہونے پر یہ دانے میرے پاس لے آنا۔ اس کے بعد حضرت صاحب ہم دونوں کو قادیان سے باہر غالباً شمال کی طرف لے گئے اور فرمایا دانے کسی غیر آباد کنوئیں میں ڈالے جائیں گے اور فرمایا کہ جب میں

٣٠

صفحہ ١٩٠٩

MBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

١٨٩٤ء بنتا تھا۔ اس دن کی کیفیت مرزا صاحب کے ا کی زبانی ملاحظہ ہو، فرماتے ہیں:

قادیان میں

’’ہم آتھم کے متعلق پیش گوئی کے وقت جو اس وقت چھوٹا بچہ تھا اور میری عمر کوئی پانچ ساڑھے پا کہ جب آتھم کی پیش گوئی کا آخری دن آیا تو کہتے نے تو محرم کا ماتم بھی کبھی اتنا سخت نہیں دیکھا۔ حضر مشغول تھے اور دوسری1964 طرف بعض نوجوان (جن جہاں حضرت خلیفہ اوّل مطب کیا کرتے تھے اور آٹھ وہاں اکٹھے ہو گئے اور جس طرح عورتیں بین ڈالتی ہ کر دیئے۔ ان کی چیخیں سو سو گز تک سنی جاتی تھیں او تھی کہ یا اللہ! آتھم مرجائے، یا اللہ! آتھم مرجائے آتھم تو نہ مرا۔‘‘

(خطبہ مرزا محمود اح

اور اس قادیانی اضطراب پر مزید روشنی ایم اے کی روایت سے پڑتی ہے کہ ابا جان نے آتھم اور کون کون سے ٹوٹکے استعمال کئے۔ چنانچہ تحریر کر کہا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ جب تو حضرت مسیح موعود نے مجھ سے اور میاں حامد علی سے کتنے چنے آپ نے بتائے تھے) لے لو اور ان پر فلاں کی تعداد بھی یاد نہیں رہی) میاں عبداللہ صاحب بیا یاد ہے کہ وہ کوئی چھوٹی سی سورۃ تھی جیسے الم تر کی ہم نے یہ وظیفہ قریب ساری رات صرف کر کے ختم ک صاحب (مرزا قادیانی) کے پاس لے گئے۔ کیونکہ یہ دانے میرے پاس لے آنا۔ اس کے بعد حضرت ص کی طرف لے گئے اور فرمایا دانے کسی غیرآباد کنوئیں

٣٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

دانے کنوئیں میں پھینک دوں تو ہم سب کو سرعت کے ساتھ منہ پھیر کر واپس1965لوٹ آنا چاہئے اور مڑ کر نہیں دیکھنا چاہئے۔ چنانچہ حضرت صاحب نے ایک غیرآباد کنوئیں میں ان دانوں کو پھینک دیا اور پھر جلدی سے منہ پھیر کر پیچھے کی طرف نہیں دیکھا۔‘‘

(سیرت المہدی جلد اوّل طبع دوم ص١٧٨، روایت نمبر١٦٠)

مگر دشمن ایسا سخت جان نکلا کہ بجائے ٥ کے ٦ر ستمبر کا سورج بھی غروب ہو گیا مگر وہ نہ مرا اور یہ پیش گوئی بھی جھوٹی نکلی۔

[At this stage Dr. Mrs. Ashraf Khatoon Abbasi vacated the Chair which was occupied by Mr. Chairman (Sahibzada Farooq Ali)]

(اس موقع پر ڈاکٹر مسز اشرف خاتون عباسی نے کرسی صدارت چھوڑ دی۔ جسے جناب چیئرمین صاحبزادہ فاروق علی نے سنبھال لیا)

مولوی مفتی محمود:

تمہی کہو کہ یہ انداز گفتگو کیا ہے؟

انبیاء علیہم السلام کے بارے میں یہ بات طے شدہ ہے کہ وہ دشنام طرازی کبھی نہیں کرتے، انہوں نے کبھی گالیوں کے جواب میں بھی گالیاں نہیں دیں۔ اس معیار کے مطابق مرزا صاحب، کی مندرجہ ذیل عبارتیں ملاحظہ فرمائیں:

علماء کو گالیاں

یہودیانہ خصلت کو چھوڑو گے، اے ظالم مولویو! تم پر افسوس کہ تم نے جس بے ایمانی کا پیالہ پیا، وہی عوام کالانعام کو بھی پلوا دیا۔‘‘

(انجام آتھم ص٢١ حاشیہ، خزائن ج١١ ص٢١)

(ضمیمہ انجام آتھم ص١٨، خزائن ج١١ ص٣٠٢ حاشیہ)

جھوٹ کا مردار کھا رہے ہیں۔‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم ص٢٥ حاشیہ، خزائن ج١١ ص٣٠٩)

٣١

صفحہ ١٩١٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

٤...... ”ہمارے دعویٰ پر آسمان نے گواہی دی۔ مگر اس زمانہ کے ظالم مولوی اس سے بھی منکر ہیں، خاص کر رئیس الدجالین عبدالحق غزنوی اور اس کے تمام گروہ، عليهم نعال لعن الله الف الف مرة“

(ضمیمہ انجام آتھم ص٤٦،خزائن ج١١ص٣٣٠)

٥...... ”اے بدذات، خبیث......نابکار۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص٥٠،خزائن ج١١ص٣٣٤)

٦...... ”اس جگہ فرعون سے مراد شیخ محمد حسین بٹالوی اور ہامان سے مراد نومسلم سعداللہ ہے۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص٥٦،خزائن ج١١ص٣٤٠)

٧...... ”نامعلوم کہ یہ جاہل اور وحشی فرقہ اب تک کیوں شرم اور حیا سے کام نہیں لیتا۔ مخالف مولویوں کا منہ کالا کیا۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص٥٨،خزائن ج١١ص٣٤٢)

مسلمانوں کو گالیاں

٨...... ”تلك كتب ينظر اليها كل مسلم بعين المحبة والمودة وينتفع من معارفها ويقبلنى ويصدق دعوتى الا ذرية البغايا الذين ختم الله على قلوبهم فهم لا يقبلون“

(آئینہ کمالات ص٥٤٧،٥٤٨،خزائن ج٥ص ایضاً)

ترجمہ: ”ان میری کتابوں کو ہر مسلمان محبت کی آنکھ سے دیکھتا ہے اور ان کے معارف سے فائدہ اٹھاتا ہے اور مجھے قبول کرتا ہے مگر رنڈیوں (زنا کاروں) کی اولاد جن کے دلوں پر خدا نے مہر کر دی ہے وہ مجھے قبول نہیں کرتے۔“

٩...... ”ان العدى صاروا خنازير الفلا ونسائهم من دونهن الاكلب“

(نجم الہدیٰ ص١٠،خزائن ج١٤ص٥٣)

1967 ترجمہ: ”میرے دشمن جنگلوں کے سؤر ہو گئے ہیں اور ان کی عورتیں کتیوں سے بڑھ گئی ہیں۔“

١٠...... ”جو شخص...... اپنی شرارت سے بار بار کہے گا (کہ پادری آتھم کے زندہ رہنے سے مرزا صاحب کی پیش گوئی غلط اور عیسائیوں کی فتح ہوئی) اور کچھ شرم و حیا کو کام نہیں لائے گا اور بغیر اس کے جو ہمارے اس فیصلہ کا انصاف کی رو سے جواب دے سکے، انکار اور زبان درازی سے باز نہیں آئے گا اور ہماری فتح کا قائل نہیں ہوگا تو صاف سمجھا جائے گا کہ اس کو ولد الحرام بننے کا شوق ہے اور حلال زادہ نہیں۔“

(انوارالاسلام ص٣٠،خزائن ج٩ص٣١)

١؎ یعنی ان پر ہزار ہزار بار لعنت کے جوتے پڑیں۔

صفحہ ١٩١١

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

یہ شیریں زبانی ملاحظہ فرمائیے اور مرزائیوں سے پوچھئے:

محمدؐ بھی تیرا، جبریل بھی، قرآن بھی تیرا
مگر یہ حرف شیریں ترجماں تیرا ہے یا میرا

لن تجتمع امتی علی الضلالۃ

ترجمہ: ”میری امت گمراہی پر ہرگز جمع نہیں ہوگی۔“

(ابن ماجہ ص٢٣١، ابواب الفتن)

1969 عالم اسلام کا فیصلہ

گزشتہ صفحات میں جو ناقابل انکار دلائل پیش کئے گئے ہیں۔ ان کی وجہ سے اس بات پر پوری امت اسلامیہ کا اجماع ہو چکا ہے کہ مرزائی مذہب کے متبعین کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ ہم اپنی اس یادداشت کے ساتھ علماء کرام کے ان فتاویٰ اور عدالتی مقدمات کے فیصلوں کی مطبوعہ نقول بطور ضمیمہ منسلک کر رہے ہیں۔ جو عالم اسلام کے مختلف مکاتب فکر، مختلف حلقوں اور اداروں نے شائع کئے ہیں۔ لیکن ان کا خلاصہ ذیل میں پیش خدمت ہے۔

فتاویٰ

مرزائیوں کے کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہونے پر عالم اسلام میں جو فتوے دیئے گئے ۔ ان کا شمار بھی مشکل ہے۔ تاہم چند اہم مطبوعہ فتاویٰ کا حوالہ درج ذیل ہے:

”فتویٰ تکفیر قادیان“ کے نام سے شائع ہوا تھا۔ اس میں دیوبند، سہارنپور، تھانہ بھون، رائے پور، دہلی، کلکتہ، بنارس، لکھنؤ، آگرہ، مراد آباد، لاہور، امرتسر، لدھیانہ، پشاور، راولپنڈی، ملتان، ہوشیار پور، گورداسپور، جہلم، سیالکوٹ، گوجرانوالہ، گجرات، حیدرآباد دکن، بھوپال اور رام پور کے تمام مکاتب فکر اور تمام دینی مراکز کے علماء نے باتفاق مرزائیوں کو کافر اور دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا ہے۔

(ملاحظہ ہو فتویٰ تکفیر قادیان شائع کردہ کتب خانہ اعزازیہ دیوبند ضلع سہارنپور)

کے نام سے شائع ہو چکا ہے اور اس میں برصغیر کے مکاتب فکر کے علماء کے دستخط موجود ہیں۔

بھی شامل تھے۔

(دیکھئے فتاویٰ مندرجہ ”حجت شرعیہ“ شائع کردہ مجلس تحفظ ختم نبوت، لاہور، ملتان)

٣٣

صفحہ ١٩١٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

1970م...... ایک فتویٰ ”مؤسسة مكة للطباعة والاعلام“ کی طرف سے سعودی عرب میں شائع ہوا جس میں حرمین شریفین، بلاد حجاز و شام کے مختلف مکاتب فکر کے علماء کا فیصلہ درج ہے۔ اس کے چند جملے یہ ہیں: ”لا شك ان اذنابه من القاديانية واللاهورية كلها كافرون“ اس میں کوئی شک نہیں کہ مرزا غلام احمد کے تمام متبعین خواہ قادیانی ہوں یا لاہوری سب کافر ہیں۔

(القادیانیة فی نظر علماء الامة الاسلامیة ص ١١، طبع مکہ مکرمہ)

پاکستان کے ٣٣ علماء کا مطالبہ ترمیم

١٩٥٣ء میں پاکستان کے دستور پر غور کرنے کے لئے تمام مکاتب فکر کے مسلمہ نمائندہ علماء کا جو مشہور اجتماع ہوا اس میں ایک ترمیم یہ بھی تھی کہ قادیانیوں کو مسلمانوں سے الگ ایک اقلیت قرار دے کر پنجاب اسمبلی میں ان کے لئے ایک نشست مخصوص کر دی جائے اور دوسرے علاقوں کے قادیانیوں کو بھی اس نشست کے لئے کھڑے ہونے اور ووٹ دینے کا حق دے دیا جائے۔ اس ترمیم کو علماء نے ان الفاظ کے ساتھ پیش کیا ہے: ”یہ ایک نہایت ضروری ترمیم ہے۔ جسے ہم پورے اصرار کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔ ملک کے دستور سازوں کے لئے یہ بات کسی طرح موزوں نہیں ہے کہ وہ اپنے ملک کے حالات اور خصوصاً اجتماعی مسائل سے بے پرواہ ہو کر محض اپنے ذاتی نظریات کی بناء پر دستور بنانے لگیں۔ انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ ملک کے جن علاقوں میں قادیانیوں کی بڑی تعداد مسلمانوں کے ساتھ ملی جلی ہے وہاں اس قادیانی مسئلے نے کس قدر نازک صورتحال پیدا کر دی ہے۔ ان کو پچھلے دور کے بیرونی حکمرانوں کی طرز پر نہ ہونا چاہئے جنہوں نے ہندو مسلم مسئلہ کی نزاکت کو 1971 اس وقت تک محسوس کرنے ہی نہ دیا جب تک متحدہ ہندوستان کا گوشہ گوشہ دونوں قوموں کے فسادات سے خون آلودہ نہ ہو گیا۔ جو دستور ساز حضرات خود اس ملک کے رہنے والے ہیں ان کی یہ غلطی بڑی افسوسناک ہو گی کہ وہ جب تک پاکستان میں قادیانی مسلم تصادم کو آگ کی طرح بھڑکتے ہوئے نہ دیکھ لیں اس وقت تک انہیں اس بات کا یقین نہ آئے کہ یہاں ایک قادیانی مسلم مسئلہ موجود ہے، جسے حل کرنے کی شدید ضرورت ہے۔ اس مسئلہ کو جس چیز نے نزاکت کی آخری حد تک پہنچا دیا ہے وہ یہ ہے کہ قادیانی ایک طرف مسلمان بن کر مسلمانوں میں گھلتے ملتے ہیں اور دوسری طرف عقائد، عبادات اور اجتماعی شیرازہ بندی میں مسلمانوں سے نہ صرف الگ بلکہ ان کے خلاف صف آراء بھی ہیں اور مذہبی طور پر تمام مسلمانوں کو علانیہ کافر قرار دیتے ہیں۔ اس خرابی کا علاج آج بھی یہی ہے اور پہلے بھی یہی تھا۔

٣٤

صفحہ ١٩١٣

1913 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

(جیسا کہ علامہ اقبال مرحوم نے اب سے بیس برس پہلے فرمایا تھا) کہ قادیانیوں کو مسلمانوں سے الگ ایک اقلیت قرار دے دیا جائے۔“

رابطہ عالم اسلامی کی قرارداد

مکہ مکرمہ کے مقدس شہر میں جو مرکز اسلام کی حیثیت رکھتا ہے۔ ربیع الاول ١٣٩٤ھ مطابق اپریل ١٩٧٤ء میں پورے عالم اسلام کی دینی تنظیموں کا ایک عظیم الشان اجتماع منعقد ہوا جس میں اسلامی ممالک بلکہ مسلم آبادیوں کی ١٤٤ تنظیموں کے نمائندے شامل تھے۔ یہ مراکش سے لے کر انڈونیشیا تک کے مسلمانوں کا ایک نمائندہ اجتماع تھا۔ اس میں مرزائیت کے بارے میں جو قرارداد منظور ہوئی، وہ مرزائیت کے کفر ہونے پر تازہ ترین اجماع امت کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس قرارداد کا متن حسب ذیل ہے:

1972 القاديانية نحلة هدامة تتخذ من اسم الاسلام شعاراً لستر اغراضها الخبيثة وابرز مخالفتها للاسلام ادعاء زعيمها النبوة وتحريف النصوص القرآنية وابطالهم للجهاد القاديانية ربيبة استعمار البريطانى ولا تظهر الا فى ظل حماية تخون القاديانية قضايا الامة الاسلامية وتقف موالية للاستعمار والصهيونية تتعاون مع القوى الناهضة للاسلام وتتخذ هذه القوى واجهة لتحطيم العقيدة الاسلامية وتحريفها وذلك بما يأتى

المنحرف۔

نشاطها التخريبى لحساب القوى المعادية للاسلام وتقوم القاديانية بنشر ترجمات محرفة لمعانى القرآن الكريم بمختلف اللغات العالمية ولمقاومة خطرها قرر المؤتمر:

وملاجئهم وكل الامكنة التي يمارسون فيها نشاطهم الهدام، في منطقتها وكشف القاديانيين والتعريف بهم للعالم الاسلامي تفاديا للوقوع في حبائلهم۔

٣٥

BLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

شائع ہوا جس میں حرمین شریفین، بلاد حجاز وشام کے اس کے چند جملے یہ ہیں: ”لا شك ان اذنابه من میں کوئی شک نہیں کہ مرزا غلام احمد کے تمام متبعین خوا (

پاکستان کے ٣٣ علما

١٩٥٣ء میں پاکستان کے دستور پر غور کر علماء کا جو مشہور اجتماع ہوا اس میں ایک ترمیم یہ بھی اقلیت قرار دے کر پنجاب اسمبلی میں ان کے لئے ا علاقوں کے قادیانیوں کو بھی اس نشست کے لئے ک جائے۔ اس ترمیم کو علماء نے ان الفاظ کے ساتھ پیش جسے ہم پورے اصرار کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔ ا طرح موزوں نہیں ہے کہ وہ اپنے ملک کے حالات محض اپنے ذاتی نظریات کی بناء پر دستور بنانے لگ علاقوں میں قادیانیوں کی بڑی تعداد مسلمانوں کے س قدر نازک صورتحال پیدا کر دی ہے۔ ان کو پچھلے دو جنہوں نے ہندو مسلم مسئلہ کی نزاکت کو 1971 اس وق ہندوستان کا گوشہ گوشہ دونوں قوموں کے فسادات س خود اس ملک کے رہنے والے ہیں ان کی یہ غلطی بڑ قادیانی مسلم تصادم کو آگ کی طرح بھڑکتے ہوئے یقین نہ آئے کہ یہاں ایک قادیانی مسلم مسئلہ موجو اس مسئلہ کو جس چیز نے نزاکت کی آخری حد تک مسلمان بن کر مسلمانوں میں گھلتے بھی ہیں اور رو بندی میں مسلمانوں سے نہ صرف الگ بلکہ ان کے مسلمانوں کو علانیہ کافر قرار دیتے ہیں۔ اس خرابی کا

٣٤

صفحہ ١٩١٥

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

وثقافيا وعدم التزوج منهم وعدم دفنهم في مقابر المسلمين ومعاملتهم باعتبارهم كفارا۔

1973

مدعى النبوة واعتبارهم اقليت مسلمة ويمنعون من تولى الوظائف الحساسة للدولة۔

الترجمات القاديانية لمعانى القرآن والتنبيه عليها ومنع تداول هذه الترجمات۔

ترجمہ قرارداد

قادیانیت ایک باطل فرقہ ہے جو اپنی اغراض خبیثہ کی تکمیل کے لئے اسلام کا لبادہ اوڑھ کر اسلام کی بنیادوں کو ڈھانا چاہتا ہے۔ اسلام کے قطعی اصولوں سے اس کی مخالفت ان باتوں سے واضح ہے۔

قادیانیت کی داغ بیل برطانوی سامراج نے رکھی اور اسی نے اسے پروان چڑھایا۔ وہ سامراج کی سرپرستی میں سرگرم عمل ہے۔ قادیانی اسلام دشمن قوتوں کا ساتھ دے کر مسلمانوں کے مفادات سے غداری کرتے ہیں اور ان طاقتوں کی مدد سے اسلام کے بنیادی عقائد میں تحریف وتبدیل اور بیخ کنی کے لئے کئی ہتھکنڈے استعمال کرتے ہیں۔ مثلاً:

1974

سے ان ہی کے مقاصد کی تکمیل۔

خطرات کے پیش نظر کانفرنس میں طے کیا گیا کہ:

دنیا بھر کی ہر اسلامی تنظیم اور جماعتوں کا فریضہ ہے کہ وہ قادیانیت اور اس کی ہر قسم اسلام دشمن سرگرمیوں کی ان کے معابد، مراکز، یتیم خانوں وغیرہ میں کڑی نگرانی کریں اور ان کے

٣٦

NATIONAL A

کے بعد ان کے پھیلائے ہوئے جال، سامنے انہیں پوری طرح بے نقاب کیا کا اعلان کیا جائے اور یہ کہ اس وجہ سے ں دی جاسکے گی۔ مسلمان احمدیوں سے جتماعی، عائلی وغیرہ ہر میدان میں ان کا

کہ وہ قادیانیوں کی ہر قسم کی سرگرمیوں پر جائے اور کسی قادیانی کو کسی اسلامی ملک

یوں کو خبردار کیا جائے، اور ان کے تمام ان تراجم کی ترویج کا انسداد کیا جائے۔

منٹ کے لئے رسٹ کرلیں۔

1975

The House is start at 11:15 am.

ہم سوا گیارہ بجے دوبارہ اجلاس شروع

The Special Co re-assemble at 11:15 am

لئے ملتوی کر دیا گیا۔ دوبارہ اجلاس

[The Special C break, Mr. Chairman (S

صفحہ ١٩١٥

1915 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

تمام درپردہ سیاسی سرگرمیوں کا محاسبہ کریں اور اس کے بعد ان کے پھیلائے ہوئے جال، منصوبوں، سازشوں سے بچنے کے لئے عالم اسلام کے سامنے انہیں پوری طرح بے نقاب کیا جائے۔ نیز:

انہیں مقامات مقدسہ حرمین وغیرہ میں داخلہ کی اجازت نہیں دی جاسکے گی۔ مسلمان احمدیوں سے کسی قسم کا معاملہ نہیں کریں گے اور اقتصادی، معاشرتی، اجتماعی، عائلی وغیرہ ہر میدان میں ان کا بائیکاٹ کیا جائے گا۔

پابندی لگائیں۔ ان کے تمام وسائل اور ذرائع کو ضبط کیا جائے اور کسی قادیانی کو کسی اسلامی ملک میں کسی قسم کا بھی ذمہ دارانہ عہدہ نہ دیا جائے۔

تراجم قرآن اکٹھے کر کے لوگوں کو ان سے متنبہ کیا جائے اور ان تراجم کی ترویج کا انسداد کیا جائے۔

--------

جناب چیئرمین: مولانا صاحب! دس پندرہ منٹ کے لئے رسٹ کرلیں۔

The House is adjourned for 15 minutes. We will start at 11:15 am.

(ہاؤس کو پندرہ منٹ کے لئے ملتوی کر دیا گیا۔ ہم سوا گیارہ بجے دوبارہ اجلاس شروع کریں گے)

--------

The Special Committee adjourned for tea break to re-assemble at 11:15 am.

(خصوصی کمیٹی کا اجلاس چائے کے وقفہ کے لئے ملتوی کر دیا گیا۔ دوبارہ اجلاس سوا گیارہ بجے شروع ہوگا)

--------

[The Special Committee re-assembled after tea break, Mr. Chairman (Sahibzada Farooq Ali) in the Chair.]

٣٧

صفحہ ١٩١٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

(خصوصی کمیٹی کا اجلاس چائے کے وقفہ کے بعد دوبارہ شروع ہوا۔ جناب چیئرمین صاحبزادہ فاروق علی اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں)

----------

جناب چیئرمین: مفتی صاحب کو بلائیں جی۔ (مفتی صاحب اندر داخل ہوئے) جناب چیئرمین: دو منٹ انتظار کر لیں۔ (وقفہ) مولانا مفتی محمود! مولوی مفتی محمود:

عدالتوں کے فیصلے

اب ان عدالتی فیصلوں کا خلاصہ پیش خدمت ہے جن میں مرزائیوں کو کافر اور دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا گیا ہے۔

فیصلہ مقدمہ بہاول پور

باجلاس جناب منشی محمد اکبر خاں صاحب، بی اے۔ ایل ایل بی ڈسٹرکٹ جج ضلع بہاول پور بمقدمہ مسماۃ غلام عائشہ بنت مولوی الٰہی بخش سکنہ احمد پور شرقیہ، ریاست بہاول پور، بنام عبدالرزاق ولد مولوی جان محمد سکنہ موضع مہند تحصیل احمد پور شرقیہ ریاست بہاول پور۔ دعویٰ دلا پانے ڈگری استقراریہ مشعر تنسیخ نکاح فریقین بوجہ ارتداد شوہر مدعا علیہ تاریخ فیصلہ ٧؍فروری ١٩٣٥ء۔

1976 Sheikh Muhammad Rashid: (Minister for Health and Social Welfare) I may only point out that all important parts of the judgments of different courts should be read out.

(شیخ محمد رشید: (صحت و سماجی بہبود کے وفاقی وزیر) میں اس بات کی نشاندہی کرنا چاہتا ہوں کہ مختلف عدالتوں کے فیصلہ جات کے اہم حصے پڑھے جانے چاہئیں)

Mr. Chairman: The judgments of the courts run into hundred of pages and their operative parts are many. The details are given in the judgments.

He is giving operative portions to support thier claim.

٣٨

صفحہ ١٩١٧

ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

(خصوصی کمیٹی کا اجلاس چائے کے وقفہ کے صاحبزادہ فاروق علی اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں)

-------

جناب چیئرمین: مفتی صاحب کو بلائیں جی جناب چیئرمین: دو منٹ انتظار کر لیں۔ (

مولوی مفتی محمود: . عدالتوں کے فیصل اب ان عدالتی فیصلوں کا خلاصہ پیش خدمت اسلام سے خارج قرار دیا گیا ہے۔

فیصلہ مقدمہ بہاول

باجلاس جناب منشی محمد اکبر خاں صاحب، بی اے پور بمقدمہ مسماۃ غلام عائشہ بنت مولوی الٰہی بخش سکنہ ا عبدالرزاق ولد مولوی جان محمد سکنہ موضع مہند تحصیل احمد پور ڈگری استقرار یہ مفسخ تنسیخ نکاح فریقین بوجہ ارتداد شوہر مدعا

ammad Rashid: (Minister for re) I may only point out that all udgments of different courts should

(شیخ محمد رشید: (صحت و سماجی بہبود کے و چاہتا ہوں کہ مختلف عدالتوں کے فیصلہ جات کے اہم حصے

The judgments of the courts run nd their operative parts are many. he judgments. rative portions to support thier

٣٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

(جناب چیئرمین: عدالتوں کے فیصلے سو صفحات پر محیط ہیں اور ان میں بہت سارے اہم حصے ہیں۔ فیصلوں میں تفصیلات دی گئی ہیں۔ یہ صاحب اپنے دعویٰ کے ثبوت میں صرف عملی حصے پیش کر رہے ہیں)

مولوی مفتی محمود: عدالت مذکورہ نے مقدمہ کی تفصیلات بیان کرنے کے بعد آخر میں اپنا فیصلہ مندرجہ ذیل الفاظ میں تحریر کیا اور سنایا۔

اوپر کی تمام بحث سے یہ ثابت کیا جا چکا ہے کہ مسئلہ ختم نبوت اسلام کے بنیادی اصولوں میں سے ہے اور کہ رسول اللہ ﷺ کو خاتم النبیین بایں معنی نہ ماننے سے کہ آپ آخری نبی ہیں ارتداد واقع ہو جاتا ہے اور کہ عقائد اسلامی کی رو سے ایک شخص کلمہ کفر کہہ کر بھی دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔

مدعا علیہ، مرزا غلام احمد صاحب کو عقائد قادیانی کی رو سے نبی مانتا ہے اور ان کی تعلیم کے مطابق یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ امت محمدیہ میں قیامت تک سلسلہ نبوت جاری ہے۔ یعنی کہ وہ رسول اللہ ﷺ کو خاتم النبیین یعنی آخری نبی تسلیم نہیں کرتا۔ آنحضرت ﷺ کے بعد کسی دوسرے شخص کو نیا نبی تسلیم کرنے سے جو قباحتیں لازم آتی ہیں۔ ان کی تفصیل اوپر بیان کی جا چکی ہے۔ اس لئے مدعا علیہ اس اجماعی عقیدۂ امت سے منحرف ہونے کی وجہ سے مرتد سمجھا جاوے گا اور اگر ارتداد کے معنی کسی مذہب کے اصولوں سے بکلی انحراف کے لئے جاویں تو بھی مدعا علیہ مرزا صاحب کو نبی ماننے سے ایک نئے مذہب کا پیرو سمجھا جائے گا۔ کیونکہ اس صورت میں اس کے لئے قرآن کی تفسیر اور معمول بہ مرزا صاحب کی وحی ہوگی۔ نہ کہ احادیث واقوال فقہا جن پر کہ اس وقت تک مذہب اسلام قائم چلا آیا ہے اور جن میں سے بعض کے مستند ہونے کو خود مرزا صاحب نے بھی تسلیم کیا ہے۔ 1977 علاوہ ازیں احمدی مذہب میں بعض احکام ایسے ہیں کہ شرع محمدی پر مستزاد ہیں اور بعض اس کے خلاف ہیں۔ مثلاً چندہ ماہواری کا دینا جیسا کہ اوپر دکھایا گیا ہے۔ زکوٰۃ پر ایک زائد حکم ہے۔ اسی طرح غیر احمدی کا جنازہ نہ پڑھنا۔ کسی احمدی کی لڑکی غیر احمدی کو نکاح میں نہ دینا۔ کسی غیر احمدی کے پیچھے نماز نہ پڑھنا شرع محمدی کے خلاف اعمال ہیں۔

مدعا علیہ کی طرف سے ان امور کی توجیہیں بیان کی گئی ہیں کہ وہ کیوں غیر احمدی کا جنازہ نہیں پڑھتے، کیوں ان کو نکاح میں لڑکی نہیں دیتے۔ لیکن یہ توجیہیں اس لئے کارآمد نہیں کہ

٣٩

صفحہ ١٩١٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15 یہ امور ان کے پیشواؤں کے احکام میں مذکور ہیں۔ اس لئے وہ ان کے نقطہ نگاہ سے شریعت کا جزو سمجھے جائیں گے جو کسی صورت میں بھی شرع محمدی کے موافق تصور نہیں ہو سکتے۔ اس کے ساتھ جب یہ دیکھا جاوے کہ وہ تمام غیر احمدی کو کافر سمجھتے ہیں تو ان کے مذہب کو مذہب اسلام سے ایک جدا مذہب قرار دینے میں کوئی شک نہیں رہتا۔ علاوہ ازیں مدعا علیہ کے گواہ مولوی جلال الدین شمس نے اپنے بیان میں مسیلمہ وغیرہ کاذب مدعیان نبوت کے سلسلہ میں جو کچھ کہا ہے اس سے یہ پایا جاتا ہے کہ گواہ مذکور کے نزدیک دعویٰ نبوت کاذبہ ارتداد ہے اور کاذب مدعی نبوت کو جو مان لے وہ مرتد سمجھا جاتا ہے۔

مدعیہ کی طرف سے یہ ثابت کیا گیا ہے کہ مرزا صاحب کاذب مدعی نبوت ہیں۔ اس لئے مدعا علیہ بھی مرزا صاحب کو نبی تسلیم کرنے سے مرتد قرار دیا جائے گا۔ لہٰذا ابتدائی تنقیحات جو ٤؍نومبر ١٩٢٦ء کو عدالت منصفی احمد پور شرقیہ سے وضع کی گئی تھیں۔ بحق مدعیہ ثابت قرار دی جا کر یہ قرار دیا جاتا ہے کہ مدعا علیہ قادیانی عقائد اختیار کرنے کی وجہ سے مرتد ہو چکا ہے۔ لہٰذا اس کے ساتھ مدعیہ کا نکاح تاریخ ارتداد مدعا علیہ سے فسخ ہو چکا ہے اور اگر مدعا علیہ کے عقائد کو بحث مذکورہ بالا کی روشنی میں دیکھا جاوے تو بھی مدعا علیہ کے ادعا کے مطابق مدعیہ یہ ثابت کرنے میں کامیاب رہی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد کوئی امتی نبی نہیں ہو سکتا اور یہ کہ اس کے علاوہ جو دیگر عقائد مدعا علیہ نے اپنی طرف منسوب کئے ہیں۔ وہ گو عام اسلامی عقائد کے مطابق ہیں۔ لیکن ان عقائد پر وہ انہی معنوں میں عمل پیرا سمجھا جاوے گا۔ جو معنی کہ مرزا صاحب نے بیان کئے ہیں اور یہ معنی چونکہ ان معنوں کے مغائر ہیں جو جمہور امت آج تک لیتی آئی اس لئے بھی وہ مسلمان نہیں سمجھا جا سکتا ہے اور ہر دو صورتوں میں وہ مرتد ہی ہے اور مرتد کا نکاح جو ارتداد سے فسخ ہو جاتا ہے۔ لہٰذا ڈگری بدیں مضمون بحق مدعیہ صادر کی جاتی ہے کہ وہ تاریخ ارتداد مدعا علیہ سے اس کی زوجہ نہیں رہی۔ مدعیہ خرچہ مقدمہ بھی ازاں مدعا علیہ لینے کی حقدار ہو گی۔

اس ضمن میں مدعا علیہ کی طرف سے ایک سوال یہ پیدا کیا گیا ہے کہ ہر دو فریق چونکہ قرآن مجید کو کتاب اللہ سمجھتے ہیں اور اہل کتاب کا نکاح جائز ہے۔ اس لئے بھی مدعیہ کا نکاح فسخ قرار نہیں دینا چاہئے۔ اس کے متعلق مدعیہ کی طرف سے یہ کہا گیا ہے کہ جب دونوں فریق ایک دوسرے کو مرتد کہتے ہیں تو ان کے اپنے اپنے عقائد کی رو سے بھی ان کا باہمی نکاح قائم نہیں رہتا۔ علاوہ ازیں اہل کتاب عورتوں سے نکاح کرنا جائز ہے نہ کہ مردوں سے بھی۔ مدعیہ کے دعویٰ کی رو

٤٠

صفحہ ١٩١٩

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15 سے چونکہ مدعا علیہ مرتد ہو چکا ہے۔ اس لئے اہل کتاب ہونے کی حیثیت سے بھی اس کے ساتھ مدعیہ کا نکاح قائم نہیں رہ سکتا۔ مدعیہ کی یہ حجت وزن دار پائی جاتی ہے۔ لہٰذا اس بناء پر بھی وہ ڈگری پانے کی مستحق ہے۔

مدراس ہائیکورٹ وغیرہ کے فیصلے کا جواب

مرزائیوں کی طرف سے مدراس ہائیکورٹ کے فیصلے کا حوالہ بڑے زور وشور سے دیا جاتا ہے۔ فاضل جج نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے: ”مدعا علیہ کی طرف سے اپنے حق میں چند نظائر قانونی کا بھی حوالہ دیا گیا تھا۔ ان میں سے پٹنہ اور پنجاب ہائیکورٹ کے فیصلہ جات کو عدالت عالیہ چیف کورٹ نے پہلے واقعات مقدمہ ہٰذا پر حاوی نہیں سمجھا اور مدراس ہائیکورٹ کے فیصلے کو عدالت معلٰے اجلاس خاص نے قابل پیروی 1979 قرار نہیں دیا۔ باقی رہا عدالت عالیہ چیف کورٹ بہاول پور کا فیصلہ بمقدمہ مسمات جندو ڈمی بنام کریم بخش اس کی کیفیت یہ ہے کہ یہ فیصلہ جناب مہتہ اودھو داس صاحب جج چیف کورٹ کے اجلاس سے صادر ہوا تھا اور اس مقدمے کا صاحب موصوف نے مدراس ہائیکورٹ کے فیصلہ پر ہی انحصار رکھتے ہوئے فیصلہ فرمایا تھا اور خود ان اختلافی مسائل پر جو فیصلہ مذکور میں درج تھے کوئی محاکمہ نہیں فرمایا تھا۔ مقدمہ چونکہ بہت عرصہ سے دائر تھا اس لئے صاحب موصوف نے اسے زیادہ عرصہ معرض تعویق میں رکھنا پسند نہ فرما کر باتباع فیصلہ مذکور اسے طے فرما دیا۔ دربار معلٰے نے چونکہ اس فیصلہ کو قابل پابندی قرار نہیں دیا۔ جس فیصلہ کی بناء پر کہ وہ فیصلہ صادر ہوا، اس لئے فیصلہ زیر بحث بھی قابل پابندی نہیں رہتا۔“

فریقین میں سے مختار مدعیہ حاضر ہے اسے حکم سنایا گیا۔ مدعا علیہ کاروائی مقدمہ ہٰذا ختم ہونے کے بعد جب کہ مقدمہ زیر غور تھا فوت ہو گیا ہے۔ اس کے خلاف یہ حکم زیر آرڈر ٢٢ رول ٦ ضابطہ دیوانی تصور ہوگا۔ پرچہ ڈگری مرتب کیا جاوے اور مثل داخل دفتر ہو۔ مورخہ ٧ فروری ١٩٣٥ء بمطابق ٣ رذیقعدہ ١٣٥٣ھ

بمقام بہاول پور

دستخط: محمد اکبر ڈسٹرکٹ جج ضلع بہاول نگر ریاست بہاول پور (بحروف انگریزی) -------- ٤١

MBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15 یہ امور ان کے پیشواؤں کے احکام میں مذکور ہیں۔ اس سمجھے جائیں گے جو کسی صورت میں بھی شرع محمدی ؐ جب یہ دیکھا جاوے کہ وہ تمام غیر احمدی کو کافر سمجھتے ہی جدا مذہب قرار دینے میں کوئی شک نہیں رہتا۔ علاو نفس نے اپنے بیان میں مسیلمہ وغیرہ کا ذب مدعیان پایا جاتا ہے کہ گواہ مذکور کے نزدیک دعویٰ نبوت کا ذبہا وہ مرتد سمجھا جاتا ہے۔

مدعیہ کی طرف سے یہ ثابت کیا گیا ہے لئے مدعا علیہ بھی مرزا صاحب کو نبی تسلیم کرنے سے ٤؍ نومبر ١٩٢٦ء کو عدالت منصفی احمد پور شرقیہ سے ڈگ یہ قرار دیا جاتا ہے کہ مدعا علیہ قادیانی عقائد اختیار کر ساتھ مدعیہ کا نکاح تاریخ ارتداد مدعا علیہ سے فسخ ہو بالا کی روشنی میں دیکھا جاوے تو بھی مدعا علیہ کے کامیاب رہی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد کوئی ام عقائد مدعا علیہ نے اپنی 1978 طرف منسوب کئے ہی لیکن ان عقائد پر وہ انہی معنوں میں عمل پیرا سمجھا جا ہیں اور یہ معنی چونکہ ان معنوں کے مغائر ہیں جو مسلمان نہیں سمجھا جاسکتا ہے اور ہر دو صورتوں میں ہو جاتا ہے۔ لہٰذا ڈگری بدیں مضمون بحق مدعیہ صا اس کی زوجہ نہیں رہی۔ مدعیہ خرچہ مقدمہ بھی ازاں م

اس ضمن میں مدعا علیہ کی طرف سے اُ قرآن مجید کو کتاب اللہ سمجھتے ہیں اور اہل کتاب کا قرار نہیں دینا چاہئے۔ اس کے متعلق مدعیہ کی طر دوسرے کو مرتد کہتے ہیں تو ان کے اپنے اپنے عقائ علاوہ ازیں اہل کتاب عورتوں سے نکاح کرنا جائز ٢٠

صفحہ ١٩٢٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

1980 فیصلہ مقدمہ راولپنڈی

باجلاس جناب شیخ محمد اکبر ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج راولپنڈی سول اپیل ١٩٥٥ء امتہ الکریم بنت کرم الٰہی راجپوت جنجوعہ، مکان نمبر B/٥٠٠، محلہ ٹرنک بازار راولپنڈی (مرزائی) بنام لیفٹیننٹ نذیر الدین ملک خلف ماسٹر محمد دین اعوان، محلہ کرشن پورہ راولپنڈی (مسلمان) تاریخ فیصلہ ٣/ جون ١٩٥٥ء

عدالت مذکورہ نے مقدمہ کی تفصیلات پر بحث کرنے کے بعد آخر میں اپنا فیصلہ مندرجہ ذیل الفاظ میں تحریر کیا اور فیصلہ سنایا۔

مندرجہ بالا صورت میں، میں حسب ذیل نتائج پر پہنچا ہوں۔

کسی اور نبی کو نہیں آنا ہے۔

مسلمان نہیں ہے۔

جو وحی نبوت کے برابر ہے۔

کی تکذیب کرتے ہیں۔

دائرہ سے خارج ہے۔

مندرجہ بالا استدلال اور نتائج کی بناء پر میں سمجھتا ہوں کہ ابتدائی سماعت کرنے والی عدالت کا فیصلہ صحیح ہے اور میں سارے فیصلے کی توثیق کرتا ہوں۔ مسمات امتہ الکریم کی اپیل میں کوئی وزن نہیں اور میں اپیل خارج کرتا ہوں۔ جہاں تک لیفٹیننٹ نذیر الدین کی اپیل کا تعلق ہے، اس کے متعلق مسٹر ظفر محمود ایڈووکیٹ

٤٢

صفحہ ١٩٢١

MBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

1980 فیصلہ مقدمہ

باجلاس جناب شیخ محمد اکبر ایڈیشنل ڈسٹرکٹ امتہ الکریم بنت کرم الہی راجپوت جنجوعہ، مکان نمبر

بنام

لیفٹیننٹ نذیر الدین ملک خلف ماسٹر محمد دین احمد تاریخ فیصلہ ٣؍ جون ١٩٥٥ء عدالت مذکورہ نے مقدمہ کی تفصیلات پر ذیل الفاظ میں تحریر کیا اور فیصلہ سنایا۔ مندرجہ بالا صورت میں، میں حسب ذیل

کسی اور نبی کو نہیں آنا ہے۔

مسلمان نہیں ہے۔

جو وحی نبوت کے برابر ہے۔

کی تکذیب کرتے ہیں۔

دائرہ سے خارج ہے۔ مندرجہ بالا استدلال اور نتائج کی بناء عدالت کا فیصلہ صحیح ہے اور میں سارے فیصلے کی توثیق کوئی وزن نہیں اور میں اپیل خارج کرتا ہوں۔ جہاں تک لیفٹیننٹ نذیر الدین کی اپیل ٤٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

نے مجھے بہت کم باتیں بتائیں۔ امت الکریم کے جہیز کا سامان ان کے قبضے میں پایا گیا۔ اس کی قیمت لگائی جا چکی ہے۔ ان کی اپیل میں بھی کوئی وزن نہیں ہے۔ اس لئے اسے بھی خارج کرتا ہوں۔ چونکہ دونوں فریقوں کی اپیل خارج ہوگئی۔ اس لئے میں خرچہ کے متعلق کوئی حکم نہیں دیتا۔ دستخط : شیخ محمد اکبر (سیشن جج بمقام راولپنڈی) ٣؍ جون ١٩٥٥ء --------- [At this stage Mr. Chairman vacated the Chair which was occupied by (Dr. Mrs. Ashraf Khatoon Abbasi)] (اس موقع پر مسٹر چیئرمین نے کرسی صدارت چھوڑ دی جسے ڈاکٹر مسز اشرف خاتون عباسی نے سنبھال لیا) ---------

1982 مولوی مفتی محمود :

مقدمہ جیمس آباد کا فیصلہ

فیملی سوٹ نمبر ١٩٦٩/٩ء مسماۃ امۃ الہادی دختر سردار خان مدعیہ

بنام

حکیم نذیر احمد برق مدعا علیہ

مندرجہ بالا بحث کا نتیجہ یہ نکلا کہ مدعیہ جو ایک مسلمان عورت ہے کی شادی مدعا علیہ کے ساتھ جس نے شادی کے وقت خود اپنا قادیانی ہونا تسلیم کیا ہے اور اس طرح خود غیر مسلم قرار پایا، غیر مؤثر ہے اور اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔ مدعیہ اسلامی تعلیمات کے مطابق مدعا علیہ کی بیوی نہیں۔

تنسیخ نکاح کے بارے میں مدعیہ کی درخواست کا فیصلہ اس کے حق میں کیا جاتا ہے اور مدعا علیہ کو ممانعت کی جاتی ہے کہ وہ مدعیہ کو اپنی بیوی قرار نہ دے، مدعیہ اس مقدمے کے اخراجات بھی وصول کرنے کی حقدار ہے۔

یہ فیصلہ ١٣؍ جولائی کو شیخ محمد رفیق گورائیہ کے جانشین جناب قیصر احمد حمیدی نے جو ان کی جگہ جیمس آباد کے سول اور فیملی کورٹ جج مقرر ہوئے ہیں کھلی عدالت میں پڑھ کر سنایا۔ ٤٣

صفحہ ١٩٢٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

ماریشس سپریم کورٹ میں سب سے بڑا مقدمہ

”مسجد روز ہل کے مقدمہ“ کو تاریخ ماریشس کا سب سے بڑا مقدمہ کہا جاتا ہے کیونکہ پورے دو سال تک سپریم کورٹ نے بیانات لئے، شہادتیں سنیں اور پہلی مرتبہ یہ فیصلہ دیا کہ: ”مسلمان الگ امت ہیں اور قادیانی الگ۔“ 1983 یہ مقدمہ لڑنے کے لئے مسلمانوں اور قادیانیوں دونوں نے دوسرے ممالک سے مشہور وکلاء منگوائے۔ قادیانیوں سے مسجد واپس لینے کے سلسلے میں روز ہل کے جن مسلمانوں نے کام کیا۔ ان میں محمود اسحاق جی، اسماعیل حسن جی، ابراہیم حسن جی قابل ذکر ہیں۔ یہ لوگ وہاں کے تجارتی حلقوں میں بڑا مقام رکھتے تھے۔ انہوں نے جو مقدمہ دائر کیا اس کی بنیاد یہ تھی۔

دعویٰ

روز ہل کی مسجد جہاں مسلمانوں کے حنفی (سنی) فرقہ کے لوگ نماز پڑھتے تھے۔ یہ مسجد انہوں نے تعمیر کروائی تھی اور مسلسل قابض چلے آ رہے تھے۔ اس پر قادیانیوں نے قبضہ کر لیا ہے جن کا تعلق امت اسلامیہ سے نہیں ہے، قادیانی ہم مسلمانوں کو مسلمان نہیں سمجھتے، ہمارے پیچھے ان کی نماز نہیں ہوتی۔ ایسی صورت میں ان کو مسجد سے باہر نکالا جائے۔

چنانچہ ٢٦؍فروری ١٩١٩ء کو یہ مقدمہ دائر ہوا۔ قادیانیوں کے خلاف ٢١ شہادتیں پیش کی گئیں۔ ان شہادتوں میں مولانا عبداللہ رشید نواب کی شہادت خاص طور سے قابل ذکر ہے۔ آپ نے عدالت عالیہ میں نہایت جرأت و بے باکی سے قادیانیوں کو بے نقاب کیا اور سینکڑوں کتب، اخبارات، رسائل و جرائد پیش کر کے عدالت کو یہ باور کرانے کی یہ کامیاب کوشش کی کہ قادیانی اور مسلمان الگ الگ امتیں ہیں۔ مرزا غلام احمد کی کتب اور حوالے مولانا رشید نے پیش کئے۔

قادیانیوں کی طرف سے مولوی غلام محمد بی اے نے وکلاء کی مدد کی اور جواب دعویٰ تیار کیا۔ مولوی غلام محمد اس مقصد کے لئے خاص طور سے قادیان گیا تھا۔ مسلمانوں کے وکلاء میں مسٹر رولوڈ کے سی، ای سویزا کے سی، ای اسنوف اور ای نیاریک تھے۔ جب کہ قادیانیوں کا وکیل مسٹر آر پیزانی تھا۔

عدالت عالیہ کی کارروائی کے دوران ہزاروں مسلمان موجود ہوتے اور ملک میں پہلی مرتبہ یہ علم ہوا کہ قادیانی مسلمان نہیں ہیں۔ بلکہ مسلمانوں کے بھیس میں اپنا مقصد حاصل کرتے ہیں۔ 1984 چنانچہ ١٩؍نومبر ١٩٢٠ء کو چیف جج سر اے ہر چیز وڈر نے یوں فیصلہ پڑھ کر سنایا۔

٤٤

صفحہ ١٩٢٣

1923 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

فیصلہ

"عدالت عالیہ اس نتیجہ پر پہنچی ہے کہ مدعا علیہ (قادیانی) کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ روز ہل مسجد میں اپنی پسند کے امام کے پیچھے نماز ادا کریں، اس مسجد میں صرف مدعی (مسلمان) ہی نماز ادا کر سکیں گے، اپنے اعتقادات کی روشنی میں۔"

اسی عدالت کے ایک دوسرے جج جناب ٹی، ای روزلی نے بھی اس فیصلہ سے اتفاق کیا۔

--------

مصور پاکستان علامہ اقبال کی رائے

آخر میں شاعر مشرق، مصور پاکستان علامہ اقبال صاحب کے کچھ ارشادات پیش کئے جاتے ہیں۔ انہوں نے مرزائیت کی اسلام دشمنی محسوس کر کے ساری امت کو اس خطرے سے خبردار کرنے کے لئے بے شمار مضامین لکھے ہیں، ان تمام مضامین کو یہاں پیش کرنا مشکل ہے۔ البتہ چند ضروری اقتباسات پیش خدمت ہیں۔

وہ اسٹیٹ مین کی ١٠؍ جون کی اشاعت میں فرماتے ہیں: "اسلام لازماً ایک دینی جماعت ہے جس کی حدود مقرر ہیں۔ یعنی وحدت الوہیت پر ایمان، انبیاء پر ایمان اور رسول کریم ﷺ کی ختم رسالت پر ایمان۔ دراصل یہ آخری یقین ہی وہ ایک حقیقت ہے جو مسلم اور غیر مسلم کے درمیان وجہ امتیاز ہے اور اس 1985امر کے لئے فیصلہ کن ہے کہ فرد یا گروہ ملت اسلامیہ میں شامل ہے یا نہیں؟ مثلاً برہمو خدا پر یقین رکھتے ہیں اور رسول کریم ﷺ کو خدا کا پیغمبر مانتے ہیں۔ لیکن انہیں ملت اسلامیہ میں شمار نہیں کیا جاسکتا۔ کیونکہ قادیانیوں کی طرح وہ انبیاء کے ذریعے وحی کے تسلسل پر ایمان رکھتے ہیں اور رسول کریم ﷺ کی ختم نبوت پر ایمان نہیں رکھتے۔ جہاں تک مجھے معلوم ہے کوئی اسلامی فرقہ اس حد فاصل کو عبور کرنے کی جسارت نہیں کرسکا۔ ایران میں بہائیوں نے ختم نبوت کے اصول کو صریحاً جھٹلایا۔ لیکن ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ وہ ایک الگ جماعت ہیں اور مسلمانوں میں شامل نہیں ہیں...... میری رائے میں تو قادیانیوں کے سامنے صرف دو راہیں ہیں، یا وہ بہائیوں کی تقلید کریں یا پھر ختم نبوت کی تاویلوں کو چھوڑ کر اس اصول کو اس کے پورے مفہوم کے ساتھ قبول کریں ان کی جدید تاویلیں محض اس غرض سے ہیں کہ ان کا شمار حلقہ اسلام میں ہو، تا کہ انہیں سیاسی فوائد پہنچ سکیں۔"

(حرف اقبال ص ١٣٦، ١٣٧)

٤٥

AL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

ماریشس سپریم کورٹ میں سب سے

"مسجد روز ہل کے مقدمہ" کو تاریخ ماریشس کا سب پورے دو سال تک سپریم کورٹ نے بیانات لئے، شہادتیں "مسلمان الگ امت ہیں اور قادیانی الگ۔"

1983 یہ مقدمہ لڑنے کے لئے مسلمانوں اور قادیانیو مشہور وکلاء منگوائے۔ قادیانیوں سے مسجد واپس لینے کے سلسلے کام کیا۔ ان میں محمود اسحاق جی، اسماعیل حسن جی، ابراہیم حس کے تجارتی حلقوں میں بڑا مقام رکھتے تھے۔ انہوں نے جو مقد

دعویٰ

روز ہل کی مسجد جہاں مسلمانوں کے حنفی (سنی) فر انہوں نے تعمیر کروائی تھی اور مسلسل قابض چلے آرہے تھے۔ جن کا تعلق امت اسلامیہ سے نہیں ہے، قادیانی ہم مسلمانوں ک کی نماز نہیں ہوتی ۔ ایسی صورت میں ان کو مسجد سے باہر نکالا جا

چنانچہ ٢٦؍ فروری ١٩١٩ء کو یہ مقدمہ دائر ہوا۔ قادی گئیں۔ ان شہادتوں میں مولانا عبداللہ رشید نواب کی شہادت نے عدالت عالیہ میں نہایت جرأت و بے باکی سے قادیانیوں اخبارات، رسائل و جرائد پیش کر کے عدالت کو یہ باور کرانے مسلمان الگ الگ امتیں ہیں۔ مرزاغلام احمد کی کتب اور حوا

قادیانیوں کی طرف سے مولوی غلام محمد بی اے تیار کیا۔ مولوی غلام محمد اس مقصد کے لئے خاص طور سے قادی مسٹر رولرڈ کے سی، ای سویزا کے سی، ای اسنوف اور ای نیار ک مسٹر آر پزانی تھا۔

عدالت عالیہ کی کارروائی کے دوران ہزاروں مس مرتبہ یہ علم ہوا کہ قادیانی مسلمان نہیں ہیں۔ بلکہ مسلمانوں ہیں۔ 1984 چنانچہ ١٩؍ نومبر ١٩٢٠ء کو چیف جج سرائے ہر چیز و ڈرا

٤٤

صفحہ ١٩٢٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

ایک اور مقام پر تحریر فرماتے ہیں: ’’نام نہاد تعلیم یافتہ مسلمانوں نے ختم نبوت کے تمدنی پہلو پر کبھی غور نہیں کیا اور مغربیت کی ہوا نے اسے حفظ نفس کے جذبے سے بھی عاری کر دیا ہے۔ بعض ایسے ہی نام نہاد تعلیم یافتہ مسلمانوں نے اپنے مسلمان بھائیوں کو رواداری کا مشورہ دیا ہے۔‘‘

(حرف اقبال ص ١٢٤)

آگے ہندوستان کی غیر مسلم حکومت سے خطاب کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’حکومت کو موجودہ صورت حالات پر غور کرنا چاہئے اور اس معاملہ میں جو قومی وحدت کے لئے اشد اہم ہے عالم مسلمانوں کی ذہنیت کا اندازہ لگانا چاہئے۔ اگر کسی قوم کی وحدت خطرے میں ہو تو اس کے لئے اس کے سوا کوئی چارہ کار نہیں رہتا کہ وہ معاندانہ قوتوں کے خلاف اپنی مدافعت کرے۔۔۔۔۔۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ مدافعت کا کیا طریقہ ہے؟ وہ طریقہ یہی ہے کہ اصل جماعت میں جس شخص کو تلعب بالدین، دین کے ساتھ کھیل، کرتے پائے اس کے دعاوی کو تقریر و تحریر کے ذریعے سے جھٹلایا جائے۔ پھر کیا یہ مناسب ہے کہ اصل جماعت کو رواداری کی تلقین کی جائے۔ حالانکہ اس کی وحدت خطرے میں ہو اور باغی گروہ کو تبلیغ کی پوری اجازت ہو۔ اگرچہ وہ تبلیغ جھوٹ اور دشنام سے لبریز ہو۔

اگر کوئی گروہ جو اصل جماعت کے نقطۂ نظر سے باغی ہے حکومت کے لئے مفید ہے تو حکومت اس کی خدمات کا صلہ دینے کی پوری طرح مجاز ہے۔ دوسری جماعتوں کو اس سے کوئی شکایت پیدا نہیں ہو سکتی۔ لیکن یہ توقع رکھنی بیکار ہے کہ خود جماعت ایسی قوتوں کو نظر انداز کر دے جو اس کے اجتماعی وجود کے لئے خطرہ ہیں۔‘‘

(حرف اقبال ص ١٢٦)

کہا جاتا ہے کہ مسلمانوں کے مختلف فرقوں کے بعض لوگ ایک دوسرے کو کافر قرار دیتے ہیں۔ لہٰذا ان کے فتووں کا کوئی اعتبار نہیں رہا۔ اس کا جواب دیتے ہوئے شاعر مشرق تحریر فرماتے ہیں: ’’اس مقام پر یہ دہرانے کی غالباً ضرورت نہیں کہ مسلمانوں کے بے شمار فرقوں کے مذہبی تنازعوں کا ان بنیادی مسائل پر کچھ اثر نہیں پڑتا۔ جن کے ماننے پر سب فرقے متفق ہیں۔ اگر چہ وہ ایک دوسرے پر الحاد کے فتوے ہی دیتے ہوں۔‘‘

(حرف اقبال ص ١٢٧)

پھر شاعر مشرق قادیانی مسئلہ کا حل تجویز کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’میری رائے میں حکومت کے لئے بہترین طریق کار یہ ہو گا کہ وہ قادیانیوں کو ایک الگ جماعت تسلیم کر لے۔ یہ قادیانیوں کی پالیسی کے عین مطابق ہوگا اور مسلمان ان سے ویسی رواداری سے کام لے گا جیسے وہ باقی مذاہب کے معاملے میں اختیار کرتا ہے۔‘‘

(حرف اقبال ص ١٢٨، ١٢٩)

٤٦

صفحہ ١٩٢٥

ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

ایک اور مقام پر تحریر فرماتے ہیں: ”نام نہاد تعلیم پہلو پر کبھی غور نہیں کیا اور مغربیت کی ہوا نے اسے حفظ نفس بعض ایسے ہی نام نہاد تعلیم یافتہ مسلمانوں نے اپنے مسلمان

آگے ہندوستان کی غیر مسلم حکومت سے خطاب موجودہ صورت حالات پر غور کرنا چاہئے اور اس معاملہ میں عالم مسلمانوں کی ذہنیت کا اندازہ لگانا چاہئے۔ اگر 1936ء کے لئے اس کے سوا کوئی چارہ کار نہیں رہتا کہ وہ معار کرے۔۔۔۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ مدافعت کا کیا طریقہ ۔ میں جس شخص کو تعصب بالدین، دین کے ساتھ کھیل، کر کے ذریعے سے جھٹلایا جائے۔ پھر کیا یہ مناسب ہے کہ جائے۔ حالانکہ اس کی وحدت خطرے میں ہو اور باغی گرو تبلیغ جھوٹ اور دشنام سے لبریز ہو۔

اگر کوئی گروہ جو اصل جماعت کے نقطہ نظر ۔ حکومت اس کی خدمات کا صلہ دینے کی پوری طرح مجا شکایت پیدا نہیں ہو سکتی۔ لیکن یہ توقع رکھنی بیکار ہے کہ خود اس کے اجتماعی وجود کے لئے خطرہ ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ مسلمانوں کے مختلف فرقوں ا دیتے ہیں۔ لہٰذا ان کے فتوؤں کا کوئی اعتبار نہیں رہا۔ آ فرماتے ہیں: ”اس مقام پر یہ دہرانے کی غالباً ضرورت مذہبی تنازعوں کا ان بنیادی مسائل پر کچھ اثر نہیں پڑتا۔ اگرچہ وہ ایک دوسرے پر الحاد کے فتوے ہی دیتے ہوں

پھر شاعر مشرق قادیانی مسئلہ کا حل تجویز کر میں حکومت کے لئے بہترین طریق کار یہ ہوگا کہ وہ قاد یہ قادیانیوں کی پالیسی کے عین مطابق ہوگا اور مسلمان ا وہ باقی مذاہب کے معاملے میں اختیار کرتا ہے۔“ ٤٦

1925 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

یہ وہ مطالبہ ہے کہ جو ڈاکٹر اقبال مرحوم نے انگریز کی حکومت سے کیا تھا۔ اب جو مملکت شاعر مشرق کے خوابوں کی تعبیر کی حیثیت سے انہی کا نام لے کر وجود میں آئی ہے یہ اس کا پہلا فریضہ ہے کہ وہ شاعر مشرق کی اس آرزو کو پایہ تکمیل تک پہنچائے۔

1988 ضمیمہ ....... بعض مرزائی مغالطے

1989 خود بدلتے نہیں قرآں کو بدل دیتے ہیں

1990 چند شبہات کا ازالہ

جب مسلمانوں کی طرف سے مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا مطالبہ کیا جاتا ہے تو مرزائی صاحبان طرح طرح سے مغالطے دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہاں مختصراً ان مغالطوں کا ایک جائزہ پیش خدمت ہے۔

کلمہ گو کی تکفیر کا مسئلہ

مرزائیوں کی طرف سے کہا جاتا ہے کہ جو شخص کلمہ گو ہو، اور اپنے مسلمان ہونے کا اقرار کرتا ہو، کسی بھی شخص کو اسے کافر قرار دینے کا حق نہیں پہنچتا۔ یہاں سب سے پہلے تو یہ بوالعجبی ملاحظہ فرمائیے کہ یہ بات ان لوگوں کی طرف سے کہی جارہی ہے جو دنیا کے ستر کروڑ مسلمانوں کو کھلم کھلا کافر کہتے ہیں اور جو کلمہ ”لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ “ پر اور اس کے تمام ضروری تقاضوں پر صحیح معنی میں ایمان رکھنے والوں کو دائرہ اسلام سے خارج، جہنمی، بدطینت، یہاں تک کہ ”کنجریوں کی اولاد“ قرار دینے میں بھی کوئی شرم محسوس نہیں کرتے۔ گویا ہر ”کلمہ گو“ کو مسلمان کہنا صرف یک طرفہ حکم ہے جو صرف غیر احمدیوں پر عائد ہوتا ہے اور خود مرزائی صاحبان کو کھلی چھٹی ہے کہ خواہ وہ مسلمانوں کو کتنی شد و مد سے کافر کہیں، خواہ انہیں بازاری گالیاں دیں۔ خواہ ان کے اکابر

(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٤٨، خزائن ج ٥ ص ایضاً)

٤٧

صفحہ ١٩٢٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

اور مقدس ترین شخصیات کی ناموس پر حملہ آور ہوں۔ ان کے ”اسلام“ میں کبھی کوئی فرق نہیں آ سکتا اور نہ ان پر کلمہ گو کو کافر کہنے کا الزام لگ سکتا ہے۔ یہ ہے اس مرزائی مذہب کا انصاف جو شرم و حیا اور دیانت و اخلاق کا منہ نوچ کر اپنے آپ کو روحانیت ”محمد ﷺ“ کا ظہور ثانی قرار دیتا ہے۔

1991 پھر خدا جانے یہ اصول کہاں سے گھڑا گیا ہے کہ ہر وہ شخص جو کلمہ پڑھتا ہو اور اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہو وہ مسلمان ہے اور اسے کوئی شخص کافر قرار نہیں دے سکتا؟ سوال یہ ہے کہ کیا مسیلمہ کذاب کلمہ شہادت نہیں پڑھتا تھا؟ پھر خود آنحضرت ﷺ اور صحابہ کرام نے اسے کافر قرار دے کر اس کے خلاف جہاد کیوں کیا؟ اور خود مرزا غلام احمد نے جا بجا نہ صرف مسیلمہ کذاب بلکہ آپ ﷺ کے بعد اپنے سوا مدعی نبوت کو کافر اور کذاب کیوں کہا؟ اگر آج کوئی نیا مدعی نبوت کلمہ پڑھتا ہوا اٹھے اور آنحضرت ﷺ کے سوا تمام انبیاء کو جھٹلائے۔ آخرت کے عقیدے کا مذاق اڑائے، قرآن کریم کو اللہ کی کتاب ماننے سے انکار کرے، اپنے آپ کو افضل الانبیاء قرار دے، نماز روزے کو منسوخ کردے۔ جھوٹ، شراب، زنا، سود اور قمار کو جائز کہے اور کلمہ ”لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ“ کے سوا اسلام کے ہر حکم کی تکذیب کردے تو کیا اسے پھر بھی ”کلمہ گو“ ہونے کی بنا پر مسلمان ہی سمجھا جائے گا؟ اگر اسلام ایسا ہی ڈھیلا ڈھالا جامہ ہے۔ جس میں کلمہ پڑھنے کے بعد دنیا کا ہر برے سے برا عقیدہ اور برے سے برا عمل سما سکتا ہے تو پھر فضول ہی اسلام کے بارے میں یہ دعوے کئے جاتے ہیں کہ وہ دنیا کے تمام مذاہب میں سب سے زیادہ بہتر، مستحکم، منظم اور باقاعدہ مذہب ہے۔

جو لوگ ہر ”کلمہ گو“ کو مسلمان کہنے پر اصرار کرتے ہیں۔ کیا وہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ کلمہ (معاذ اللہ) کوئی منتر یا ٹونا ٹوٹکا ہے جسے ایک مرتبہ پڑھ لینے کے بعد انسان ہمیشہ کے لئے ”کفر پروف“ ہو جاتا ہے اور اس کے بعد برے سے برا عقیدہ بھی اسے اسلام سے خارج نہیں کر سکتا؟

اگر عقل و خرد اور انصاف و دیانت دنیا سے بالکل اٹھ ہی نہیں گئی تو اسلام جیسے علمی اور عقلی دین کے بارے میں یہ تصور کیسے کیا جا سکتا ہے کہ محض چند الفاظ کو زبان سے ادا کرنے کے بعد انسان جہنمی سے جنتی اور کافر سے مسلمان بن جاتا ہے۔ خواہ اس کے عقائد اللہ اور رسول کی مرضی کے بالکل خلاف ہوں؟

واقعہ یہ ہے کہ کلمہ ”لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ“ (معاذ اللہ) کوئی جادو یا طلسم نہیں ہے یہ ایک معاہدہ اور اقرار نامہ ہے اور اس میں اللہ تعالیٰ کو معبود واحد قرار دینے اور حضرت محمد ﷺ 1992 کو اللہ کا رسول ماننے کا مطلب یہ معاہدہ کرنا ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ

٤٨

صفحہ ١٩٢٧

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

کی ہر بات کی تصدیق کروں گا۔ لہٰذا اللہ یا اس کے رسول ﷺ کی بتائی ہوئی جتنی باتیں ہم تک تواتر اور قطعیت کے ساتھ پہنچی ہیں ان سب کو درست تسلیم کرنا ”لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ“ پر ایمان کا لازمی جز اور اس کا ناگزیر تقاضا ہے۔ اگر کوئی شخص ان متواتر قطعیات میں سے کسی ایک چیز کو بھی درست ماننے سے انکار کر دے تو درحقیقت وہ کلمہ توحید پر ایمان نہیں رکھتا، خواہ زبان سے ”لا الہ الا اللہ“ پڑھتا ہو۔ اس لئے اس کو مسلمان نہیں کہا جاسکتا۔ عقیدہ ختم نبوت چونکہ قرآن کریم کی بیسیوں آیات اور سرکار دو عالم ﷺ کے سینکڑوں ارشادات سے بطریق تواتر ثابت ہے۔ اس لئے باجماع امت وہ انہی قطعیات میں سے ہے جن پر ایمان لانا کلمہ طیبہ کا لازمی جز ہے اور جس کے بغیر انسان مسلمان نہیں ہو سکتا۔

اس سلسلے میں بعض ان احادیث سے استدلال کی کوشش کی جاتی ہے جن میں سے آنحضرت ﷺ نے مسلمان کی علامتیں بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ ”جو ہماری طرح نماز پڑھے، ہمارے قبلے کی طرف رخ کرے اور ہمارا ذبح کیا ہوا جانور کھائے وہ مسلمان ہے“ لیکن جس شخص کو بھی بات سمجھنے کا سلیقہ ہو وہ حدیث کے اسلوب و انداز سے یہ سمجھ سکتا ہے کہ یہاں مسلمان کی کوئی قانونی اور جامع و مانع تعریف نہیں کی جارہی۔ بلکہ مسلمانوں کی وہ معاشرتی علامتیں بیان کی جارہی ہیں جن کے ذریعہ مسلم معاشرہ دوسرے مذاہب اور معاشروں سے ممتاز ہوتا ہے اور اس کا مقصد صرف یہ ہے کہ جس شخص کی ظاہری علامتیں اس کے مسلمان ہونے کی گواہی دیتی ہوں اس پر خواہ مخواہ بدگمانی کرنا یا بلاوجہ اس کی عیب جوئی کرنا درست نہیں۔ لیکن اس کا یہ مطلب کہاں سے نکل آیا کہ اگر وہ خود مسلمانوں کے سامنے اعلانیہ کفریات کا اقرار کرتا پھرے، بلکہ ساری دنیا کو ان کفریات کی دعوت دے کر اپنے متبعین کے سوا تمام مسلمانوں کو کافر قرار دے تب بھی وہ صرف مسلمانوں کا ذبیحہ کھانے کی وجہ سے مسلمان کہلانے کا مستحق ہوگا۔ خواہ ”لا الہ الا اللہ“ اور اس کے تقاضوں کا بھی قائل نہ ہو۔

1993 درحقیقت اس حدیث میں مسلمان کی تعریف نہیں بلکہ اس کی ظاہری علامتیں بیان کی گئی ہیں۔ مسلمان کی پوری تعریف در حقیقت آنحضرت ﷺ کے اس ارشاد میں بیان کی گئی ہے۔ ”امرت ان اقاتل الناس حتی يشهدوا ان لا اله الا الله ويؤمنوا بی وبما جئت بہ“

(رواہ مسلم عن ابی ہریرہ ج ١ ص ٣٧، باب الامر بقتال الناس حتی یقولون لا الہ الا اللہ)

مجھے حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے جہاد کروں۔ یہاں تک کہ وہ اس بات کی گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور مجھ پر ایمان لائیں اور ہر اس بات پر جو میں لے کر آیا ہوں۔

٤٩

صفحہ ١٩٢٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

اس میں مسلمان کی پوری حقیقت بیان کر دی گئی ہے کہ نبی کریم ﷺ کی لائی ہوئی ہر تعلیم کو ماننا ”اشہد ان محمداً رسول اللہ“ کا لازمی جز ہے اور آپ ﷺ کا یہ ارشاد قرآن کریم کی اس آیت سے ماخوذ ہے۔ جس میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ: ”فلا وربك لا يؤمنون حتى يحكموك فيما شجر بينهم ثم لا يجدوا فى انفسهم حرجاً مما قضيت ويسلموا تسليماً (النساء: ٦٥)“ ﴿پس نہیں، تمہارے رب کی قسم یہ لوگ مؤمن نہ ہوں گے جب تک یہ تمہیں اپنے ہر متنازعہ معاملے میں حکم نہ مان لیں۔ پھر تمہارے فیصلے سے اپنے دل میں کوئی تنگی محسوس نہ کریں اور اسے خوشی سے تسلیم نہ کریں۔﴾

یہ ہے کلمہ گو کی حقیقت اور اس کے برخلاف محض کلمہ پڑھ لینے کے بعد ہمیشہ کے لئے کفر سے محفوظ ہو جانے کا تصور، ان دشمنان اسلام کا پیدا کردہ ہے جو یہ چاہتے تھے کہ اسلام اور کفر کی درمیانی حد فاصل کو مٹا کر اسے ایک ایسا معجون مرکب بنا دیا جائے جس میں اپنے سیاسی اور مذہبی مفادات کے مطابق ہر برے سے برے عقیدے کی ملاوٹ کی جاسکے۔

انتہاء یہ ہے کہ بعض لوگ مسلمان کی تعریف کے سلسلے میں اس آیت قرآنی کو بھی پیش کرنے سے نہیں چوکتے۔ جس میں ارشاد ہے: ”لا تقولوا لمن القى اليكم السلام لست مؤمناً (النساء: ٩٤)“ ﴿یعنی جو شخص تمہیں سلام کرے اسے یہ نہ کہو کہ تو مؤمن نہیں۔﴾

چلئے پہلے تو مسلمان ہونے کے لئے کم از کم کلمہ پڑھنا ضروری تھا۔ اس آیت کو مسلمان کی تعریف میں پیش کرنے کے بعد اس سے بھی چھٹی ہو گئی۔ اب مسلمان ہونے کے لئے صرف ”السلام علیکم“ بلکہ صرف ”سلام“ کہہ دینا بھی کافی ہو گیا اور ہر وہ ہندو، پارسی، بدھسٹ اور عیسائی، یہودی بھی مسلمان بننے کے قابل ہو گیا جو مسلمان کو ”سلام“ کہہ کر خطاب کرلے۔ والعیاذ باللہ العظیم!

مسلمانوں کی باہم تکفیر کے فتوے اور ان کی حقیقت

اصل مسئلہ سے توجہ ہٹانے کے لئے دوسرا مغالطہ مرزائیوں کی طرف سے یہ دیا جاتا ہے کہ جو علماء ہم پر کفر کا فتویٰ لگاتے ہیں وہ خود آپس میں ایک دوسرے کو کافر قرار دیتے آئے ہیں۔ لہٰذا ان کے فتوؤں کا اعتبار اٹھ گیا ہے۔ لیکن اس ”دلیل“ کی مثال بالکل ایسی ہے جیسے کوئی شخص یہ کہنے لگے کہ چونکہ بعض عطائیوں اور ڈاکٹروں نے کچھ لوگوں کا غلط علاج کیا ہے۔ اس لئے اب کوئی ڈاکٹر مستند نہیں رہا اور اب پوری میڈیکل سائنس ہی ناکارہ ہوگئی ہے اور وہ طبی مسئلے بھی قابل قدر نہیں رہے جن پر تمام دنیا کے ڈاکٹر متفق ہیں۔

٥٠

صفحہ ١٩٢٩

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

حال ہی میں مرزائی جماعت کی طرف سے ایک کتابچہ شائع ہوا ہے جس کا عنوان ہے ”ہم غیر احمدیوں کے پیچھے کیوں نماز نہیں پڑھتے ۔“ اور اس میں مسلمان مکاتب فکر کے باہمی اختلافات اور ان فتاویٰ کو انتہائی مبالغہ آمیز انداز میں پیش کیا گیا ہے جن میں ایک دوسرے کی تکفیر کی گئی ہے۔ لیکن اوّل تو اس کتابچے میں بعض ایسے فتوؤں کا حوالہ ہے جن کے بارے میں پوری ذمہ داری سے کہا جا سکتا ہے کہ وہ اپنے کہنے والوں کی طرف بالکل غلط منسوب کئے گئے ہیں۔

1995 دوسرے اس کتابچے میں اگرچہ کافی محنت سے وہ تمام تشدد آمیز مواد اکٹھا کرنے کی کوشش کی گئی ہے جو باہمی اختلافات کے دوران منظر عام پر آیا ہے۔ لیکن ان بیسیوں اقتباسات میں مسلمان مکاتب فکر کے ایک دوسرے پر کفر کے فتوے کل پانچ ہیں۔ باقی فتوے نہیں بلکہ وہ عبارتیں ہیں جو ان کے افسوسناک باہمی جھگڑوں کے درمیان ان کے قلم یا زبان سے نکلیں۔ ان میں ایک دوسرے کے خلاف سخت زبان تو بے شک استعمال کی گئی ہے۔ لیکن انہیں کفر کے فتوے قرار دینا کسی طرح درست نہیں۔

تیسرے یہ پانچ فتوے بھی اپنے اپنے مکاتب فکر کی مکمل نمائندگی نہیں کرتے۔ یعنی ایسا نہیں ہے کہ جن مکاتب فکر سے وہ تعلق رکھتے ہیں وہ پورا مکتب فکر ان فتوؤں سے متفق ہو۔ اس کے بجائے ہر مسلمان مکتب فکر میں محقق اور اعتدال پسند علماء نے ہمیشہ اس بے احتیاطی اور عجلت پسندی سے شدید اختلاف کیا ہے جو اس قسم کے فتوؤں میں روا رکھی گئی ہے۔ لہٰذا ان چند فتاویٰ کو پیش کر کے یہ تاثر دینا بالکل غلط، بے بنیاد اور گمراہ کن ہے کہ یہ سارے مکاتب فکر ایک دوسرے کو کافر قرار دیتے ہیں۔ اس کے بجائے حقیقت یہ ہے کہ ہر مکتب فکر میں ایک عنصر ایسا رہا ہے جس نے دوسرے کی مخالفت میں اتنا تشدد کیا کہ وہ تکفیر کی حد تک پہنچ جائے۔ لیکن اسی مکتب فکر میں ایک بڑی تعداد ایسے علماء کی ہے جنہوں نے فروعی اختلافات کو ہمیشہ اپنی حدود میں رکھا اور ان حدود سے نہ صرف یہ کہ تجاوز نہیں کیا۔ بلکہ اس کی مذمت کی ہے اور عملاً یہی محتاط اور اعتدال پسند عنصر غالب رہا ہے۔ جس کی واضح مثال یہ ہے کہ جب بھی مسلمانوں کا کوئی مشترک مسئلہ پیدا ہوتا ہے ان تمام مکاتب فکر کے مل بیٹھنے میں بعض حضرات کے فتوے کبھی رکاوٹ نہیں بنتے۔

یہ مسلمان فرقے جن کی فرقہ بندیوں کا پروپیگنڈہ دنیا بھر میں گلا پھاڑ پھاڑ کر کیا گیا ہے اور جن کے اختلافات کا شور مچا مچا کر لوگوں نے اپنے باطل نظریات کی دکانیں چمکائی ہیں۔ وہی تو ہیں جو ١٩٥١ء میں پاکستان کی دستوری بنیادیں طے کرنے کے لئے جمع ہوئے اور کسی ادنیٰ اختلاف کے بغیر اسلامی دستور کے اساسی اصول طے کر کے اٹھے جب کہ پروپیگنڈہ یہ تھا اس قسم کا

٥١

MBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

اس میں مسلمان کی پوری حقیقت بیان کـ تعلیم کو ماننا ”اشهد ان محمداً رسول الله “ کـ کریم کی اس آیت سے ماخوذ ہے۔ جس میں اللہ تعالـ يؤمنون حتى يحكموك فيما شجر بينهم ثم ويسلموا تسليماً (النساء: ٦٥) ”پس نہیں جب تک یہ تمہیں اپنے ہر متنازعہ معاملے میں حَکَم نہ مـ کوئی تنگی محسوس نہ کریں اور اسے خوشی سے تسلیم نہ کر لـ یہ ہے کلمہ گو کی حقیقت اور اس کے برخلا کفر سے محفوظ ہو جانے کا تصور، ان دشمنان اسلام کی درمیانی حد فاصل کو مٹا کر اسے ایک ایسا معجون مـ مذہبی مفادات کے مطابق ہر برے سے برے عقید انتہاء یہ ہے کہ بعض لوگ مسلمان کی تعـ 1994 کرنے سے نہیں چوکتے۔ جس میں ارشاد ہے مؤمناً (النساء: ٩٤) ”یعنی جو شخص تمہیں سلام کر چلیے پہلے تو مسلمان ہونے کے لئے کم ا تعریف میں پیش کرنے کے بعد اس سے بھی چھٹی ہـ علیکم “ بلکہ صرف ”سلام“ کہہ دینا بھی کافی ہو گیا اور مسلمان بننے کے قابل ہو گیا جو مسلمان کو ”سلام“ کـ

مسلمانوں کی باہم تکفیر کـ

اصل مسئلہ سے توجہ ہٹانے کے لئے و کہ جو علماء ہم پر کفر کا فتویٰ لگاتے ہیں وہ خود آپسـ لہٰذا ان کے فتوؤں کا اعتبار اٹھ گیا ہے۔ لیکن اسـ کہنے لگے کہ چونکہ بعض عطائیوں اور ڈاکٹروں کوئی ڈاکٹر مستند نہیں رہا اور اب پوری میڈیکل سـ بقدر نہیں رہے جن پر تمام دنیا کے ڈاکٹر متفق ہیں

صفحہ ١٩٣٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

1996 اتفاق ایک امر محال ہے۔ ١٩٥٣ء کے موقعہ پر جب مجوزہ دستور میں متعین اسلامی ترمیمات طے کرنے کا مرحلہ آیا تو انہوں نے اکٹھے ہو کر متفقہ سفارشات پیش کیں۔ جب کہ یہ کام پہلے کام سے زیادہ غیر متوقع سمجھا جاتا تھا۔ ١٩٥٣ء ہی میں انہوں نے قادیانیت کے مسئلہ پر اجتماعی طریقے سے ایک مشترکہ مؤقف اختیار کیا۔ ١٩٧٢ء میں دستور سازی کے دوران شیر و شکر رہ کر اس بنیادی کام میں شریک رہے۔ دنیا بھر میں شور تھا کہ یہ لوگ مل کر مسلمان کی متفقہ تعریف بھی نہیں کر سکتے۔ لیکن ١٩٧٢ء میں انہوں نے ہی کامل اتفاق و اتحاد سے اس پروپیگنڈے کی قلعی کھولی اور اب پھر یہ مرزائیت کے کھلے کفر کے مقابلے میں شانہ بشانہ موجود ہیں۔ غرضیکہ جب بھی اسلام اور مسلمانوں کا کوئی مشترکہ مذہبی مسئلہ سامنے آیا تو ان کے باہمی مذہبی اختلافات اجتماعی مؤقف اختیار کرنے میں کبھی سد راہ ثابت نہیں ہوئے۔ لیکن کیا کبھی کسی نے دیکھا ہے کہ اس قسم کے اجتماعات میں کسی مرزائی کو بھی دعوت دی گئی ہو؟

اس طرز عمل پر غور کرنے سے چند باتیں کھل کر سامنے آجاتی ہیں۔

اول! یہ کہ باہم ایک دوسرے کی تکفیر کے فتوے انفرادی حیثیت رکھتے ہیں۔ کسی مکتب فکر کی نمائندہ حیثیت نہیں۔ ورنہ یہ مکاتب فکر کبھی بحیثیت مسلمان جمع نہ ہوتے۔

دوسرے! یہ کہ ہر مکتب فکر میں غالب عنصر وہی ہے جو فروعات کو فروعات ہی کے دائرے میں رکھتا ہے اور آپس کے اختلاف کو تکفیر کا ذریعہ نہیں بناتا۔ ورنہ اس قسم کے اجتماعات کو قبول عام حاصل نہ ہوتا۔

تیسرے! یہ کہ اسلام کے وہ بنیادی عقائد جو واقعتاً ایمان اور کفر میں حد فاصل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان میں یہ سب لوگ متفق ہیں۔

لہٰذا اگر کچھ حضرات نے تکفیر کے سلسلہ میں غلو اور تشدد کی روش اختیار کی ہے تو اس سے یہ نتیجہ کیسے نکالا جا سکتا ہے کہ اب دنیا میں کوئی شخص کافر ہو ہی نہیں سکتا اور اگر یہ سب لوگ مل کر بھی کسی کو کافر کہیں تو وہ کافر نہیں ہوگا۔

1997 کیا دنیا میں عطائی قسم کے لوگ علاج کر کے انسانوں پر مشق ستم نہیں کرتے؟ بلکہ کیا ماہر سے ماہر ڈاکٹر سے بھی غلطی نہیں ہوتی؟ لیکن کیا کبھی کوئی انسان جو عقل سے بالکل ہی معذور نہ ہو یہ کہہ سکتا ہے کہ ان انفرادی غلطیوں کی سزا کے طور پر ڈاکٹروں کے طبقے کی کوئی بات قابل تسلیم نہیں ہونی چاہئے۔ کیا عدالتوں کے فیصلوں میں ججوں سے غلطیاں نہیں ہوتیں؟ لیکن کیا کسی نے سوچا ہے کہ ان انفرادی غلطیوں کی وجہ سے عدالتوں میں تالے ڈال دیئے جائیں۔ یا

٥٢

صفحہ ١٩٣١

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

ججوں کا کوئی فیصلہ مانا ہی نہ جائے؟ کیا مکانات، سڑکوں اور عمارتوں کی تعمیر میں انجینئر غلطی نہیں کرتے؟ لیکن کبھی کسی ذی ہوش نے یہ تجویز بھی پیش کی ہے کہ ان غلطیوں کی بناء پر تعمیر کا ٹھیکہ انجینئروں کی بجائے گورکنوں کو دے دیا جائے؟ پھر یہ اگر چند جزوی نوعیت کے فتوؤں میں بے احتیاطیاں یا غلطیاں ہوئی ہیں تو اس کا مطلب یہ کیسے نکل آیا کہ اب اسلام اور کفر کے فیصلے قرآن وسنت کی بجائے مرزائی تحریفات کی بنیاد پر کرنے چاہئیں؟

شاعر مشرق مصور پاکستان علامہ اقبال مرحوم نے مرزائیوں کو اقلیت قرار دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے بالکل صحیح بات کہی تھی: ”مسلمانوں کے بیشمار فرقوں کے مذہبی تنازعوں کا ان بنیادی مسائل پر کچھ اثر نہیں پڑتا۔ جن مسائل پر سب فرقے متفق ہیں۔ اگرچہ وہ ایک دوسرے پر الحاد کے فتوے دیتے ہوں۔“

(حرف اقبال ص ١٢٧، مطبوعہ المنار اکادمی لاہور ١٩٧٤ء)

دو روایتیں

مرزائی صاحبان نے لاکھوں احادیث کے ذخیرے میں سے دو ضعیف و سقیم روایتیں نکال کر اور انہیں من مانا مفہوم پہنا کر ان سے اپنی خود ساختہ نبوت کے لئے سہارا لینے کی کوشش کی ہے۔ اس لئے یہاں ان پر بھی ایک نظر ڈال لینا مناسب 1998 ہوگا۔ قولوا خاتم النبیین ولا تقولوا لا نبی بعدہ!

پہلی مجہول الاسناد روایت ”درمنثور“ سے لی گئی ہے اور وہ یہ کہ حضرت عائشہؓ نے فرمایا۔ (آنحضرت ﷺ کو) خاتم النبیین کہو اور یہ نہ کہو کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔

پہلے تو اس بات پر غور فرمائیے کہ یہ روایت کہاں سے لائی گئی ہے۔ اگر آپ حدیث کی کسی معروف کتاب میں اسے تلاش کرنا چاہیں گے تو آپ کو مایوسی ہوگی۔ کیونکہ یہ روایت بخاری، مسلم تو کجا نسائی، ابوداؤد، ترمذی، ابن ماجہ، دارمی، مسند احمد، غرض حدیث کی کسی دستیاب کتاب میں موجود نہیں۔ اسے لایا کہاں سے گیا ہے؟ علامہ سیوطیؒ کی درمنثور سے، جس کے بارے میں ادنیٰ طالب علم بھی یہ جانتا ہے کہ اس میں ہر قسم کی رطب و یابس ضعیف اور موضوع روایات بھی بغیر کسی چھان پھٹک کے صرف جمع کر دی گئی ہیں۔ پھر حدیث میں سارا مدار اس کی سند پر ہوتا ہے اور اس روایت کی کوئی سند معلوم نہیں۔ اب یہ سرکار دو عالم ﷺ کے الفاظ میں مدعیان نبوت کا دجل نہیں تو اور کیا ہے کہ ایک طرف تو مرزائی صاحبان کی نگاہ میں قرآن کریم کی صاف اور صریح آیات اور آنحضرت ﷺ کی سینکڑوں متواتر اور صحیح احادیث نا قابل التفات ہیں اور دوسری

٥٣

ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

1996 اتفاق ایک امر محال ہے۔ ١٩٥٣ء کے موقعہ پر جب طے کرنے کا مرحلہ آیا تو انہوں نے اکٹھے ہو کر متفقہ سفار سے زیادہ غیر متوقع سمجھا جاتا تھا۔ ١٩٥٣ء ہی میں انہوں ن سے ایک مشترکہ موقف اختیار کیا۔ ١٩٧٢ء میں دستور ساز کام میں شریک رہے۔ دنیا بھر میں شور تھا کہ یہ لوگ مل کر م لیکن ١٩٧٢ء میں انہوں نے ہی کامل اتفاق و اتحاد سے اس مرزائیت کے کھلے کفر کے مقابلے میں شانہ بشانہ موجود ہیں کا کوئی مشترکہ مذہبی مسئلہ سامنے آیا تو ان کے باہمی مذہبی میں کبھی سدراہ ثابت نہیں ہوئے۔ لیکن کیا کبھی کسی نے د مرزائی کو بھی دعوت دی گئی ہو؟

اس طرف عمل پر غور کرنے سے چند باتیں کھل

اوّل ! یہ کہ باہم ایک دوسرے کی تکفیر کے فتو فکر کی نمائندہ حیثیت نہیں۔ ورنہ یہ مکاتب فکر کبھی بحیثیت

دوسرے! یہ کہ ہر مکتب فکر میں غالب عنصر دائرے میں رکھتا ہے اور آپس کے اختلاف کو تکفیر کا ذر قبول عام حاصل نہ ہوتا۔

تیسرے! یہ کہ اسلام کے وہ بنیادی عقائد حیثیت رکھتے ہیں۔ ان میں یہ سب لوگ متفق ہیں۔

لہٰذا اگر کچھ حضرات نے تکفیر کے سلسلہ میں غل یہ نتیجہ کیسے نکالا جا سکتا ہے کہ اب دنیا میں کوئی شخص کافر ہ کسی کو کافر کہیں تو وہ کافر نہیں ہوگا۔

1997 کیا دنیا میں عطائی قسم کے لوگ علاج ک کیا ماہر سے ماہر ڈاکٹر سے بھی غلطی نہیں ہوتی؟ لیکن معذور نہ ہو یہ کہہ سکتا ہے کہ ان انفرادی غلطیوں کی سزا قابل تسلیم نہیں ہونی چاہئے۔ کیا عدالتوں کے فیصلوں م کسی نے سوچا ہے کہ ان انفرادی غلطیوں کی وجہ سے

٥٢

صفحہ ١٩٣٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

طرف یہ مجہول الاسناد روایت جس کا علم حدیث کی رو سے کچھ بھی اعتبار نہیں۔ ایسی قطعی اور یقینی ہے کہ اسے ختم نبوت جیسے متواتر قطعی اور اجماعی عقیدے کو توڑنے کے لئے پیش کیا جا رہا ہے۔ کیا کسی نبی کی نبوت ایسی ہی روایت سے ثابت ہوا کرتی ہے؟ لیکن یہ بات اس شخص سے کہی جائے جو کسی علمی یا عقلی قاعدے اور ضابطے کا پابند ہو اور جہاں عقل، علم اور اخلاق پر مبنی ہر بات کا جواب سوائے خود ساختہ الہام کے اور کچھ نہ ہو، وہاں دلائل و براہین کا کتنا انبار لگا دیجئے۔ مرزا صاحب کے الفاظ میں اس کا جواب یہی ملے گا کہ ”خدا نے مجھے اطلاع دے دی ہے کہ یہ تمام حدیثیں جو پیش کرتے ہیں تحریف معنوی یا لفظی میں آلودہ ہیں اور یا سرے سے موضوع ہیں اور جو شخص حکم ہو کر آیا ہے اس کا اختیار ہے کہ حدیثوں کے ذخیرے میں سے جس انبار کو چاہے ١٩٩٩ خدا سے علم پا کر قبول کرے اور جس ڈھیر کو چاہے خدا سے علم پا کر رد کردے۔“

(اربعین نمبر ٣ ص ١٥، خزائن ج ١٧ ص ٤٠١ حاشیہ)

(وقفہ)

مولوی مفتی محمود: جناب والا! مجھے یہ شکایت ہے کہ وہ حضرات جو یہاں آئے تھے، اور دو، دو، تین تین ہفتے یہاں گزارے، ان کے لئے تو پانی کے گلاس بھر بھر کے آتے تھے اور میں تین گھنٹے سے کھڑا ہوں، یہ اتنی تفریق کیوں ہے؟

محترمہ قائم مقام چیئرمین (ڈاکٹر مسز اشرف خاتون عباسی): آپ نے مانگا نہیں۔

مولوی مفتی محمود: ان کے بغیر مانگے بھر بھر کے لاتے تھے۔ میرے لئے کربلا ہے پانی نہیں۔

محترمہ قائم مقام چیئرمین: معاف کیجئے، مولانا! ابھی لاتے ہیں، ابھی خیال آیا۔

مولوی مفتی محمود: ویسے میں نے بطور مزاح یہ بات کہی ہے۔

ایک رکن: مولانا! آپ تو گھر کے آدمی ہیں، آپ مانگ سکتے ہیں۔

مولوی مفتی محمود: اسی لئے تو مانگ لیا۔ (وقفہ)

مولوی مفتی محمود: پھر اس روایت میں جو بات بیان کی گئی ہے اس کا مرزائی اعتقادات سے دور دور کوئی واسطہ نہیں۔ بلکہ یہ روایت تو نزول عیسیٰ علیہ السلام کے عقیدے میں مرزائی نظریہ کی صریح تردید کر رہی ہے۔ اس کا مقصد محض اتنا ہے کہ اگر صرف یہ جملہ بولا جائے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا تو ایک ناواقف آدمی اسے مسیح علیہ السلام کے نزول ثانی کے عقیدے کے خلاف سمجھ سکتا ہے اور اس سے یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ آپ ﷺ کے بعد حضرت مسیح علیہ السلام بھی تشریف نہیں لائیں گے۔ لہٰذا جو مقصد ”خاتم النبیین“ کہنے سے مکمل طور پر حاصل ہو سکتا ہے۔ اس کے لئے ایسے الفاظ استعمال کرنے کی ضرورت نہیں ہے جو ناواقفوں کے

٥٤

صفحہ ١٩٣٣

1933 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15 2000 لئے کسی غلط فہمی کا سبب بن سکتے ہیں۔ آنحضرت ﷺ نے ”لا نبی بعدی“ فرمایا تو ساتھ ساتھ ایک دو مرتبہ نہیں سینکڑوں مرتبہ اس کی تشریح بھی فرمادی کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ میرے بعد کوئی نبی پیدا نہیں ہوگا۔ ہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام جنہیں پہلے ہی سے نبوت حاصل ہے اور جو بہت پہلے پیدا ہو چکے ہیں۔ وہ دوبارہ نزول فرمائیں گے اس کے برخلاف اگر کوئی دوسرا شخص صرف اتنا جملہ کہے کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا تو صرف اتنی بات سننے والا کوئی ناواقف انسان کسی غلط فہمی کا شکار ہو سکتا ہے۔

حضرت عائشہؓ کی طرف منسوب اس قول کی یہ تشریح خود ”در منثور“ ہی میں موجود ہے: ”عن الشعبي قال قال رجل عند المغيرة بن شعبة صلى الله على محمد خاتم الانبياء لا نبي بعده فقال المغيرة بن شعبة حسبك اذا قلت خاتم الانبياء فانا كنا نحدث ان عيسىٰ عليه السلام خارج فان هو خرج فقد كان قبله وبعده“

حضرت شعبیؒ جو ایک جلیل القدر تابعی ہیں فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرت مغیرہ بن شعبہؓ کے سامنے یہ کہا کہ اللہ تعالیٰ جناب محمد ﷺ پر رحمت نازل فرمائے جو خاتم الانبیاء ہیں اور جن کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ حضرت مغیرہؓ نے فرمایا کہ ”خاتم الانبیاء“ کہہ دینا کافی تھا۔ کیونکہ ہمیں یہ بتایا گیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہونے والے ہیں۔ جب وہ نازل ہوں گے تو وہ آپ ﷺ سے پہلے بھی آئے اور آپ ﷺ کے بعد بھی آئیں گے۔ (در منثور ج ٥ ص ٢٠٤)

لہٰذا حضرت عائشہؓ اور حضرت مغیرہ بن شعبہؓ کی یہ ہدایت، اگر بالفرض سنداً ثابت ہو حضرت علیؓ کے اس ارشاد کے مطابق ہے جس میں آپ نے فرمایا تھا کہ: ”حدثوا الناس بما يعرفون“ لوگوں سے وہ باتیں کرو جن کو وہ سمجھ سکیں۔ (صحیح بخاری ج١ ص٢٤، باب من خص بالعلم) اور اس روایت سے مرزائی اعتقادات کو نہ صرف یہ کہ کوئی سہارا نہیں ملتا ہے۔ بلکہ یہ 2001 صراحۃً ان کی تردید کرتی ہے۔ ورنہ جہاں تک حضرت عائشہؓ کا تعلق ہے امام احمد بن حنبلؒ کی مسند میں خود ان کی یہ روایت موجود ہے۔ ”عن عائشة رضي الله عنها عن النبي ﷺ انه قال لا يبقى بعدي من النبوة شئ الا المبشرات قالوا يا رسول الله وما المبشرات قال الرؤيا الصالحة يراها المسلم او ترى له“ (مسند احمد ج ٦ ص ١٢٩، کنز العمال) حضرت عائشہؓ روایت فرماتی ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میرے بعد نبوت کا کوئی جز باقی نہیں رہے گا۔ سوائے مبشرات کے...... صحابہؓ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ مبشرات کیا چیز ہیں؟ آپ نے فرمایا کہ اچھے خواب جو کوئی مسلمان خود دیکھے یا اس کے لئے کوئی اور دیکھے۔ ٥٥

SEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15 طرف یہ مجہول الاسناد روایت جس کا علم حدیث کی رو کہ اسے ختم نبوت جیسے متواتر قطعی اور اجماعی عقیدے کو نبی کی نبوت ایسی ہی روایت سے ثابت ہوا کرتی ہے؟ علمی یا عقلی قاعدے اور ضابطے کا پابند ہو اور جہاں عقل خود ساختہ الہام کے اور کچھ نہ ہو، وہاں دلائل و براہین کی میں اس کا جواب یہی ملے گا کہ ”خدا نے مجھے اطلاع دی ہیں تحریف معنوی یا لفظی میں آلودہ ہیں اور یا سرے سے کا اختیار ہے کہ حدیثوں کے ذخیرے میں سے جس ان اور جس ڈھیر کو چاہے خدا سے علم پا کر رد کر دے۔“ ( (وقفہ) مولوی مفتی محمود: جناب والا! مجھے یہ ط اور دو، دو، تین تین ہفتے یہاں گزارے، ان کے لئے تین گھنٹے سے کھڑا ہوں، یہ اتنی تفریق کیوں ہے؟ محترم قائم مقام چیئرمین (ڈاکٹر مسز اش مولوی مفتی محمود: ان کے بغیر مانگے بھر بھر محترم قائم مقام چیئرمین: معاف کیجئے مولوی مفتی محمود: ویسے میں نے بطور ( ایک رکن: مولانا! آپ تو گھر کے آدمی مولوی مفتی محمود: اسی لئے تو مانگ لیا ہ مولوی مفتی محمود: پھر اس روایت ک اعتقادات سے دور دور کوئی واسطہ نہیں۔ بلکہ یہ روای مرزائی نظریہ کی صریح تردید کر رہی ہے۔ اس کا مقصد آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا تو ایک ثانی کے عقیدے کے خلاف سمجھ سکتا ہے اور اس حضرت مسیح علیہ السلام بھی تشریف نہیں لائیں گے۔ پر حاصل ہو سکتا ہے۔ اس کے لئے ایسے الفاظ استعما ٥٤

صفحہ ١٩٣٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

کیا اس کے بعد بھی اس بات میں کوئی شک وشبہ رہ سکتا ہے کہ حضرت عائشہؓ کے نزدیک نبوت کی ہر قسم اور سوائے اچھے خوابوں کے اس کا ہر جزء آنحضرت ﷺ پر ختم ہو گیا اور اب کسی بھی شخص کو کسی بھی صورت میں یہ منصب عطا نہیں کیا جاسکتا۔

صاحبزادے ابراہیمؓ کا انتقال ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”لو عاش لکان صدیقاً نبیاً“ اگر یہ زندہ رہتے تو صدیق نبی ہوتے۔

اس حدیث کا حال بھی یہ ہے کہ حدیث کے ناقد ائمہ نے اسے ضعیف بلکہ باطل قرار دیا ہے۔ امام نوویؒ جیسے بلند پایہ محدث فرماتے ہیں: ”ہذا الحدیث باطل“ یہ حدیث باطل ہے۔

(موضوعات کبیر ص ٥٨)

اس حدیث کے ایک راوی ابو شیبہ ابراہیم بن عثمان کے بارے میں امام احمد بن حنبلؒ 2002 فرماتے ہیں کہ ”ثقہ نہیں ہے ۔“ امام ترمذیؒ فرماتے ہیں کہ ”منکر الحدیث ہے۔“ امام نسائی لکھتے ہیں ”کہ متروک الحدیث ہے۔“ امام جوز جانیؒ کہتے ہیں کہ ”اس کا اعتبار نہیں۔“ امام ابو حاتمؒ کا ارشاد ہے کہ یہ ”ضعیف الحدیث ہے۔“

(ملاحظہ ہو تہذیب التہذیب ص ٩٥ نمبر ٢٤٧ ج ١)

البتہ اس روایت کے الفاظ صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰؓ کے اثر کے طور پر اس طرح مروی ہیں ۔ ”لو قضی ان یکون بعد محمد نبی لعاش ابنہ ولکن لا نبی بعدہ“ اگر محمد ﷺ کے بعد کسی نبی کی بعثت مقدر ہوتی تو آپ ﷺ کے صاحبزادے زندہ رہتے۔ لیکن آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں۔

ان الفاظ نے ابن ماجہ کی ضعیف روایت کی حقیقت بھی واضح کر دی ہے کہ اس کا اصل مقصد کیا ہے؟ اور وہ ختم نبوت کے خلاف تو کیا ہوتی درحقیقت اس سے یہ عقیدہ اور زیادہ پختہ مؤکد اور نا قابل تردید ہو جاتا ہے۔

یہ ایک طے شدہ حقیقت ہے کہ صحیح بخاری قرآن کریم کے بعد تمام کتابوں میں سب سے زیادہ صحیح کتاب ہے۔ لہٰذا اگر کوئی ضعیف روایت کہیں اور آئی ہو یا اس کی تشریح صحیح بخاری کے الفاظ سے بھی جانی جائے اور اگر تطبیق ممکن نہ ہو تو ضعیف روایت کو چھوڑ کر صحیح بخاری کی روایت کو اختیار کیا جائے گا۔ مرزا صاحب کا حال تو یہ ہے کہ وہ صحیح مسلم کی ایک حدیث کو محض اس بناء پر ترک کر دیتے ہیں کہ امام بخاریؒ نے اسے ذکر نہیں کیا۔ چنانچہ ازالہ اوہام میں لکھتے ہیں: ”یہ وہ حدیث ہے جو صحیح مسلم میں امام مسلم صاحب نے لکھی ہے جس کو ضعیف سمجھ کر رئیس المحدثین امام محمد اسماعیل

٥٦

صفحہ ١٩٣٥

ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

کیا اس کے بعد بھی اس بات میں کوئی شک نزدیک نبوت کی ہر قسم اور سوائے اچھے خوابوں کے اس کا ہر کسی بھی شخص کو کسی بھی صورت میں یہ منصب عطا نہیں کیا جا

صاحبزادے ابراہیمؓ کا انتقال ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ل زندہ رہتے تو صدیق نبی ہوتے۔

اس حدیث کا حال بھی یہ ہے کہ حدیث کے ناق ہے۔ امام نوویؒ جیسے بلند پایہ محدث فرماتے ہیں: ”هذا الح

اس حدیث کے ایک راوی ابو شیبہ ابراہیم بن ع ²⁰⁰² فرماتے ہیں کہ ”ثقہ نہیں ہے“۔ امام ترمذیؒ فرماتے لکھتے ہیں ”کہ متروک الحدیث ہے“۔ امام جوزجانیؒ کہتے کا ارشاد ہے کہ یہ ”ضعیف الحدیث ہے“۔ (ملا ح

البتہ اس روایت کے الفاظ صحیح بخاری میں حضر اس طرح مروی ہیں ۔ ”لو قضی ان يكون بعد محمد اگر محمد ﷺ کے بعد کسی نبی کی بعثت مقدر ہو رہتے۔ لیکن آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں۔

ان الفاظ نے ابن ماجہ کی ضعیف روایت کی حق مقصد کیا ہے؟ اور وہ ختم نبوت کے خلاف تو کیا ہوتی درحقیقت اور نا قابل تردید ہو جاتا ہے۔

یہ ایک طے شدہ حقیقت ہے کہ صحیح بخاری قرا سے زیادہ صحیح کتاب ہے۔ لہٰذا اگر کوئی ضعیف روایت کہیں الفاظ سے بھی ٹکرائی جائے اور اگر تطبیق ممکن نہ ہو تو ضعیف اختیار کیا جائے گا۔ مرزا صاحب کا حال تو یہ ہے کہ وہ صحیح کر دیتے ہیں کہ امام بخاریؒ نے اسے ذکر نہیں کیا۔ چنانچہ ہے جو صحیح مسلم میں امام مسلم صاحب نے لکھی ہے جس کو خود

٥٦

1935 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

بخاریؒ نے چھوڑ دیا ہے۔“

(ازالہ اوہام ص ٢٢٠، خزائن ج ٣ ص ٢١٠،٢٠٩)

حالانکہ صحیح مسلم خود نہایت معتبر ہے اور امام بخاری کا محض کسی روایت کو چھوڑ دینا اس کے ضعف کی دلیل نہیں۔ اس کے برخلاف ابن ماجہ کی یہ روایت ضعیف ہے اور صحیح بخاری میں اس کی واضح تصریح موجود ہے۔ مگر مرزائی صاحبان ہیں کہ اسے بار بار اپنی دلیل کے طور پر پیش کئے جا رہے ہیں۔ وجہ ظاہر ہے کہ کوئی صحیح دلیل ہو تو پیش کی جائے۔ اگر ایسی روایت میں صراحۃً عقیدہ ختم²⁰⁰³ نبوت کی تردید کی گئی ہوتی۔ تب بھی وہ ایک متواتر عقیدہ کے معاملے میں قطعاً قابل اعتبار نہ ہوتی اور یہاں تو معاملہ یہ ہے کہ اگر اسے صحیح مان لیا جائے۔ تب بھی اس میں محض ایک ایسے مفروضے کا بیان ہے جس کے وجود میں آنے کا کوئی امکان نہیں۔ اگر حضرت ابراہیمؑ کی زندگی میں یہ بات کہی جاتی تب تو اس سے کسی درجے میں یہ بات نکل سکتی تھی کہ آپ ﷺ کے بعد نبوت کا سلسلہ جاری ہے۔ چنانچہ حضرت عمرؓ کے بارے میں ان کی زندگی ہی میں آپ ﷺ نے اسی جیسی بات ارشاد فرمائی تھی۔ وہاں چونکہ نبوت کے جاری رہنے کا شبہ ہو سکتا تھا۔ اس لئے آنحضرت ﷺ نے وہاں بالکل دوسری تعبیر اختیار فرمائی اور اس شبہ کو ہمیشہ کے لئے ختم فرما دیا۔ ارشاد فرمایا کہ:

”لو كان بعدي نبي لكان عمر بن الخطاب“ ”اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر بن الخطابؓ ہوتے۔

(رواہ الترمذی ج ٢ ص ٢٠٩، مناقب عمرؓ)

مطلب یہ ہے کہ میرے بعد چونکہ نبوت کا دروازہ بند ہو چکا ہے۔ اس لئے حضرت عمرؓ نبی نہیں بن سکتے۔ اسی طرح آپ ﷺ نے غزوہ تبوک کے موقعہ پر مدینہ طیبہ میں حضرت علیؓ کو اپنا نائب مقرر فرمایا تو ان سے خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”اما ترضى ان تكون منی بمنزلة هارون من موسى الا انه لا نبوة بعدي“

(رواہ البخاری و مسلم واللفظ لمسلم ج ٢ ص ٢٧٨، باب فضائل علیؓ بن طالب)

”کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ تم میرے ساتھ ایسے ہو جاؤ جیسے موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ہارون علیہ السلام (کہ کوہِ طور پر جاتے وقت حضرت موسیٰ علیہ السلام انہیں نائب بنا کر گئے تھے) لیکن میرے بعد نبوت نہیں“۔ یہاں آپ نے حضرت علیؓ کو حضرت ہارون علیہ السلام سے تشبیہ محض نائب بنا کر جانے میں دی تھی۔ لیکن چونکہ اس سے ختمِ نبوت کے خلاف غلط فہمی کا اندیشہ تھا۔ اس لئے آپ نے فوراً ”الا انه لا نبوة بعدی“ (مگر میرے بعد کوئی نبوت باقی نہیں) فرما کر اس اندیشے کا خاتمہ فرما دیا۔

البتہ حضرت ابراہیم کے بارے میں یہ بات چونکہ ان کی وفات کے بعد کہی جا رہی تھی

٥٧

صفحہ ١٩٣٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

اور ان کے زندہ رہنے کا کوئی امکان ہی باقی نہیں رہا تھا۔ اس لئے الفاظ یہ استعمال کئے گئے کہ: 2004”اگر وہ زندہ رہتے تو صدیق نبی ہوتے۔“ لیکن چونکہ زندہ نہیں رہے۔ اس لئے نبی ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ لہٰذا یہ ایسا ہی ہے جیسے قرآن کریم میں ہے کہ ”لو كان فيهما آلهة الا الله لفسدتا“ (اگر زمین و آسمان میں اللہ کے سوا کچھ معبود ہوتے تو زمین و آسمان میں فساد مچ جاتا) ظاہر ہے کہ یہ محض ایک مفروضہ ہے اور اگر کوئی شخص اس سے یہ استدلال کرنے بیٹھ جائے کہ معاذ اللہ کائنات میں اللہ تعالیٰ کے سوا معبودوں کا وجود ممکن ہے تو یہ زبردستی نہیں تو اور کیا ہے؟ یہ تھی لاکھوں احادیث نبویؐ کے ذخیرے میں سے مرزائی ”استدلال“ کی کل کائنات جس کی بنیاد پر اصرار کیا جاتا ہے کہ قرآن کریم کی بیسیوں آیات کو، آنحضرت ﷺ کی سینکڑوں صریح اور متواتر احادیث کو، اور امت مسلمہ کے قطعی اجماع کو چھوڑ کر مرزا غلام احمد صاحب کو نبی تسلیم کرو، ورنہ تمہارا ٹھکانہ جہنم ہے۔

قرآن کریم کی ایک آیت

مسلمانوں کو متاثر کرنے کے لئے یہ بھی ضروری تھا کہ مرزا صاحب کی ”نبوت“ کے لئے قرآن کریم سے بھی کوئی تائید تلاش کی جاتی، تاکہ کم از کم کہنے کو یہ کہا جا سکے کہ قرآن سے بھی ”استدلال“ کیا گیا ہے اس مقصد کے لئے قرآن کریم کی جو آیت مرزائی صاحبان کی طرف سے تلاش کر کے لائی گئی ہے وہ یہ ہے۔

”ومن يطع الله والرسول فاولئك مع الذين انعم الله عليهم من النبيين والصديقين والشهداء والصالحين وحسن اولئك رفيقاً (النساء: 69) “

”اور جو شخص اللہ اور رسول کی اطاعت کرے تو وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوگا جن پر اللہ نے انعام کیا ہے۔ یعنی نبیوں کے ساتھ اور صدیقوں کے ساتھ اور شہداء کے ساتھ اور صالحین کے ساتھ، اور یہ لوگ بہترین ساتھی ہیں۔“

اس آیت کو بار بار پڑھ کر دیکھئے، کیا اس میں خوردبین لگا کر بھی کہیں یہ بات نظر آتی ہے کہ نبوت کا 2005 سلسلہ جاری ہے اور کوئی شخص اب بھی نبی بن سکتا ہے؟ لیکن جو مذہب ”دمشق سے قادیان“ مراد لے سکتا ہو۔ جسے قرآن میں بھی ”قادیان“ کا ذکر دکھائی دیتا ہو اور جو ”خاتم النبیین“ کا ایسا مطلب نکال سکتا ہو، جس سے تمام ”نبیوں کا سرتاج“ نبوت کا دروازہ کھلا رہے وہ اس آیت سے بھی نبوت کے جاری رہنے پر استدلال کر لے تو کون سی تعجب کی بات ہے؟

٥٨

صفحہ ١٩٣٧

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

اس آیت میں صاف طور سے یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنے والا آخرت میں انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کا ساتھی ہوگا۔ لیکن مرزائی صاحبان اس کا یہ مطلب بیان کرتے ہیں کہ وہ خود نبی بن جائے گا۔ کہا جاتا ہے کہ یہاں لفظ ”مع“ (ساتھ) استعمال ہوا ہے۔ جو اس معنی میں بھی لیا جاسکتا ہے کہ اس دن انبیاء وغیرہ کے گروہ کے محض ساتھ ہی نہیں ہوگا، بلکہ ان میں شامل ہو جائے گا۔

لیکن جو شخص مذکورہ بالا آیت کے الفاظ سے بالکل ہی آنکھیں بند کر کے نہیں بیٹھ گیا وہ دیکھ سکتا ہے کہ اسی آیت کے اخیر یہ ارشاد فرمایا گیا ہے: ”حسن اولئك رفيقاً“ اور یہ لوگ بہترین ساتھی ہیں۔

اس آخری جملے میں لفظ رفیق نے یہ بات واضح کر دی کہ اگر بالفرض کہیں ”مع“ کے معنی کچھ اور ہو بھی سکتے ہیں تو یہاں سوائے ساتھی بننے کے کوئی اور مطلب نہیں کیونکہ آگے اس کی تشریح کے لئے صراحتاً لفظ ”رفیق“ آ رہا ہے۔

پھر اگر (معاذ اللہ) مطلب یہی تھا کہ ہر شخص اللہ اور رسول کی اطاعت کر کے نبی بن سکتا ہے تو کیا پوری امت میں اللہ اور رسول کی اطاعت کرنے والا ایک مرزا غلام احمد ہی پیدا ہوا ہے اور کسی نے اللہ اور رسول کی اطاعت نہیں کی؟ حالانکہ قرآن (معاذ اللہ) یہ کہہ رہا ہے کہ جو شخص بھی اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرے گا، وہ نبیوں کے زمرے میں شامل ہو جائے گا۔ اگر اسی کا نام ”استدلال“ ہے تو نہ جانے قرآن کی معنوی تحریف کیا چیز ہوگی؟

------------

2006 بعض صوفیاء کے غلط حوالے

مرزائی صاحبان بعض صوفیاء کے ناتمام اور مبہم حوالے ڈھونڈ کر انہیں اپنی خود ساختہ نبوت کی تائید میں پیش کرتے ہیں۔ ان کے پیش کئے ہوئے ایسے غلط حوالوں کا مسلمانوں کی طرف سے انتہائی مدلل اور اطمینان بخش جواب دیا جا چکا ہے اور بار بار دیا جا چکا ہے۔ یہاں اس کو بالتفصیل دہرانے کی ضرورت نہیں۔ البتہ چند اصولی حقائق کی طرف اشارہ ضروری ہے۔

دین میں اقوال سلف کی حقیقت

سب سے پہلے یہ بات قابل ذکر ہے کہ دین کا اصل سرچشمہ قرآن کریم، سرکار

٥٩

EMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

اور ان کے زندہ رہنے کا کوئی امکان ہی باقی نہیں رہا

2004 ”مگر وہ زندہ رہے تو صدیق نبی ہوتے۔“ لیکن سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ لہٰذا یہ ایسا ہی ہے جیسے قرآن ک الله لفسدتا“ (اگر زمین و آسمان میں اللہ کے سوا جاتا) ظاہر ہے کہ یہ محض ایک مفروضہ ہے اور اگر کوئی کہ معاذ اللہ کائنات میں اللہ تعالیٰ کے سوا معبودوں کام یہ تھی لاکھوں احادیث نبویؐ کے ذخیرے ا جس کی بنیاد پر اصرار کیا جاتا ہے کہ قرآن کریم کی صر صریح اور متواتر احادیث کو، اور امت مسلمہ کے قطعی تسلیم کرو، ورنہ تمہارا ٹھکانہ جہنم ہے۔

قرآن کریم کی آ

مسلمانوں کو متاثر کرنے کے لئے یہ بھی لئے قرآن کریم سے بھی کوئی تائید تلاش کی جانی بتا ”استدلال“ کیا گیا ہے اس مقصد کے لئے قرآن کر تلاش کر کے لائی گئی ہے وہ یہ ہے۔

”ومن يطع الله والرسول فاو والصديقين والشهداء والصالحين وحسن او

”اور جو شخص اللہ اور رسول کی اطاعت نے انعام کیا ہے۔ یعنی نبیوں کے ساتھ اور صدیقو ساتھ، اور یہ لوگ بہترین ساتھی ہیں۔“

اس آیت کو بار بار پڑھ کر دیکھئے، کیا ا ہے کہ نبوت کا 2005 سلسلہ جاری ہے اور کوئی شخص ا سے قادیان“ مراد لے سکتا ہو۔ جسے قرآن میں ؟ النبیین“ کا ایسا مطلب نکال سکتا ہو، جس سے تمام اس آیت سے بھی نبوت کے جاری رہنے پر استدلا

٨

صفحہ ١٩٣٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

دو عالم ﷺ کی احادیث اور اجماع امت ہے اور اکادکا افراد کی ذاتی آراء اس مسئلے پر کبھی اثر انداز نہیں ہوسکتیں۔ جو دین کے ان بنیادی سرچشموں میں وضاحت کے ساتھ بیان ہوا ہو۔ خاص طور سے نبوت ورسالت جیسا بنیادی عقیدہ تو خبر واحد سے بھی ثابت نہیں ہوتا۔ چہ جائیکہ اسے کسی انفرادی تحریر سے ثابت کیا جائے۔ اس لئے اس مسئلے میں قرآن وحدیث کی متواتر تصریحات اور اجماع امت کے خلاف اگر کچھ انفرادی تحریریں ثابت ہو بھی جائیں تو وہ قطعی طور پر خارج از بحث ہیں اور انہیں بطور استدلال پیش نہیں کیا جاسکتا۔ لہٰذا جن صوفیاء کے مبہم جملوں سے مرزائی صاحبان سہارا لینے کی کوشش کرتے ہیں ان کی تشریح وتوجیہہ سے ہمارا یہ مقصد ہرگز نہیں ہے کہ اگر بالفرض ان کی تحریروں کا مفہوم عقیدہ ختم نبوت سے متضاد ثابت ہو جائے تو اس مستحکم اور مسلمہ عقیدے کو کوئی نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔ بلکہ جس کسی نے ان کے کلام کی صحیح تشریح پیش کی ہے اس کا اصل مقصد صرف یہ ہے کہ ان پر ایک غلط الزام لگایا گیا ہے۔ جسے انصاف اور دیانت کی رو سے رفع کرنا ضروری ہے۔ بہ الفاظ دیگر ان حضرات کی تحریروں کو ختم نبوت سے متصادم بنا کر پیش کرنے سے عقیدہ ختم نبوت پر کوئی الزام عائد نہیں ہوتا۔ بلکہ ان بزرگوں پر یہ الزام عائد ہوتا ہے۔

2007یہی وجہ ہے کہ جہاں تک دین کے بنیادی مسائل، عقائد اور عملی احکام کا تعلق ہے۔ وہ نہ علم تصوف کا موضوع ہیں اور نہ علمائے امت نے تصوف کی کتابوں کو ان معاملات میں کوئی مآخذ یا حجت قرار دیا ہے۔ اس کے بجائے عقائد کی بحثیں علم کلام میں اور عملی احکام وقوانین کے مسائل علم فقہ میں بیان ہوتے ہیں اور انہی علوم کی کتابیں اس معاملے میں معتبر سمجھی جاتی ہیں۔ خود صوفیائے کرام ان معاملات میں انہی علوم کی کتابوں کی طرف رجوع کرتے ہیں اور یہ تصریح کرتے ہیں کہ جو شخص تصوف کے ان باطنی اور نفسیاتی تجربات سے نہ گزرا ہو۔ اس کے لئے ان کتابوں کا دیکھنا بھی جائز نہیں۔ بسا اوقات ان کتابوں میں ایسی باتیں نظر آتی ہیں جن کا بظاہر کوئی مفہوم سمجھ میں نہیں آتا۔ بعض اوقات جو مفہوم بادی النظر میں معلوم ہوتا ہے وہ بالکل عقل کے خلاف ہوتا ہے۔ لیکن لکھنے والے کی مراد کچھ اور ہوتی ہے۔ اس قسم کی عبارتوں کو ”شطحیات“ کہا جاتا ہے۔ اس لئے کسی بنیادی عقیدے کے مسئلہ میں تصوف کی کتابوں سے استدلال ایک ایسی اصولی غلطی ہے جس کا نتیجہ گمراہی کے سوا کچھ نہیں۔

اس اصول کو خود اکابر صوفیاء نے بھی تسلیم کیا ہے۔ حضرت مجدد الف ثانیؒ تصوف کے بھی امام ہیں۔ لیکن وہ تحریر فرماتے ہیں: ”پس مقرر شد کہ معتبر در اثبات احکام شرعیہ کتاب وسنت است وقیاس مجتہدان واجماع امت نیز مثبت احکام است۔ بعد ازیں چہار ادلہ شرعیہ ہیچ دلیلے

٦٠

صفحہ ١٩٣٩

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

مثبت احکام شرعیہ نمی تواند شد۔ الہام مثبت حل و حرمت نہ بود و کشف از باب باطن اثبات فرض وسنت نہ نماید۔“

(مکتوبات حصہ ہفتم دفتر دوم ص ١٥۔ مکتوب نمبر ٥٥)

ایک اور جگہ صوفیاء کی ”شطحیات“ سے کلامی مسائل مستنبط کرنے کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ”قائل آن سخنان شیخ کبیر یمنی باشد یا شیخ اکبر شامی، کلام محمد عربی وعلیٰ آلہ“

2008 نیز مرزا صاحب لکھتے ہیں: ”و من تفوہ بكلمة ليس له اصل صحیح فی الشرع ملهما كان او مجتهداً فيه الشياطين متلاعبة“

یعنی ”اگر کوئی شخص کوئی ایسی بات زبان سے نکال دے۔ جس کی شریعت میں کوئی اصل نہ ہو وہ صاحب الہام ہو یا مجتہد ہو تو درحقیقت وہ شیاطین کا کھلونا ہے۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٢١، خزائن ج ٥ ص ایضاً)

لہٰذا مرزائی صاحبان کے لئے قرآن کریم کی صریح آیات اور متواتر احادیث کو چھوڑ کر چند صوفیاء کے اقوال سے استدلال کیسے درست ہو سکتا ہے؟

صوفیاء کرام کا اسلوب

تیسری اصولی بات یہ ہے کہ دنیا کے مسلمہ اصول کے مطابق ہر علم و فن کا موضوع ، اس کی غرض وغایت اس کی اصطلاحات اور اس کے ماہرین جدا ہوتے ہیں اور اسی اعتبار سے ہر علم وفن کا اسلوب بیان بھی الگ ہوتا ہے۔ جو شخص کسی علم و فن کا ماہر اور تجربہ کار نہ ہو۔ بسا اوقات اس فن کی کتابیں پڑھ کر شدید غلط فہمیوں کا شکار ہو جاتا ہے۔ اگر کوئی عام آدمی میڈیکل سائنس کی کتابیں پڑھ کر اس سے اپنا علاج شروع کردے تو یہ اس کی ہلاکت کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ یہی معاملہ اسلامی علوم کا ہے کہ تفسیر، حدیث، فقہ، عقائد اور تصوف میں سے ہر ایک علم کا وظیفہ، اس کی اصطلاحات اور اس کا اسلوب بالکل الگ ہے اور ان میں سب سے زیادہ دقیق اور پیچیدہ تعبیرات ان کتابوں میں ملتی ہیں جو تصوف اور اس کے فلسفے پر لکھی گئی ہیں۔ کیونکہ ان کتابوں کا تعلق نظریات اور ظاہری اعمال کے بجائے ان باطنی تجربات اور ان واردات و کیفیات سے ہے جو صوفیائے کرام پر اپنے اشغال کے دوران طاری ہوتی ہیں اور معروف الفاظ کے ذریعے ان کا بیان دشوار ہوتا ہے۔

2009 لہٰذا ان حضرات کے کلام کی تشریح میں جو کچھ کہا گیا ہے وہ عقیدہ ختم نبوت کا دفاع

٦١

صفحہ ١٩٤٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

نہیں ۔ بلکہ ان بزرگوں کا دفاع ہے۔ لہٰذا وہ ہمارے موضوع بحث سے خارج ہے۔

---------

[At this stage Dr. Mrs. Ashraf Khatoon Abbasi vacated the Chair which was occupied by Mr. Chairman (Sahibzada Farooq Ali)]

(اس مرحلہ پر ڈاکٹر مسز اشرف خاتون عباسی نے صدارت چھوڑی جسے جناب چیئرمین صاحبزادہ فاروق علی نے سنبھال لیا)

مولوی مفتی محمود :

مرزائی مذہب میں اقوال سلف کی حقیقت

دوسری بات یہ ہے کہ مرزائی صاحبان کو تو اپنے مذہب کے مطابق کسی بھی درجے میں یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ ان بزرگوں کے اقوال سے استدلال کریں۔ کیونکہ کتنے ہی معاملات ایسے ہیں جن میں انہوں نے اجماع امت کو بھی درست قرار نہیں دیا۔ بلکہ اسے حجت شرعیہ ماننے سے ہی انکار کیا ہے۔ چنانچہ عقیدۂ نزول مسیح علیہ السلام کی تردید کرتے ہوئے مرزا غلام احمد صاحب لکھتے ہیں: ”جب کہ پیش گوئیوں کے سمجھنے کے بارے میں خود انبیاء سے امکانِ غلطی ہے تو پھر امت کا کورانہ اتفاق یا اجماع کیا چیز ہے؟“

(ازالہ اوہام ص ١٤١، خزائن ج ٣ ص ١٧٢)

اور آگے لکھتے ہیں: ”میں پھر دوبارہ کہتا ہوں کہ اس بارے میں عام خیال مسلمانوں کا، گو ان میں اولیاء بھی داخل ہوں، اجماع کے نام سے معصوم نہیں ہو سکتا۔“

(ازالہ اوہام ص ١٣٢، خزائن ج ٣ ص ١٧٢)

اور جب اجماع کا یہ حال ہے تو سلف کے انفرادی اقوال کی حیثیت تو خود بخود واضح ہو جاتی ہے۔ چنانچہ مرزا صاحب لکھتے ہیں: ”اور اقوال سلف و خلف درحقیقت کوئی مستقل حجت نہیں اور ان کے اختلاف کی حالت میں وہ گروہ حق پر ہوگا۔ جن کی رائے قرآن کریم کے مطابق ہے۔“

(ازالہ اوہام ص ٥٣٨، خزائن ج ٣ ص ٣٨٩)

2010”الصّلوٰۃ والسلام در کار است، نہ کلام محی الدین ابن عربی وصدر الدین قونیوی و عبدالرزاق کاشی۔ ما را بہ نص کار است نہ بقصہ ۔ فتوحات مدنیہ از فتوحات مکیہ مستغنی ساختہ است۔

”یہ باتیں خواہ شیخ کبیر یمنی نے کہی ہوں، یا شیخ اکبر شامی نے، ہمیں محمد عربی ﷺ کا

٦٢

صفحہ ١٩٤٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

سے اس قسم کا کلام کسی کے ساتھ بکثرت ہونے لگے تو اسے محدث کہا جاتا ہے۔

(مکتوبات جلد دوم ص ١٩٩ نمبر ٥١)

ملاحظہ فرمائیے کہ حضرت مجدد صاحبؒ کی عبارت میں ”محدث“ کے لفظ کو مرزا صاحب نے کس طرح ”نبی“ کے لفظ سے بدل دیا۔ محمد علی لاہوری صاحب اس کا اعتراف کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ”جب ہم مجدد صاحب سرہندیؒ کے مکتوبات کو دیکھتے ہیں تو وہاں یہ نہیں پاتے کہ کثرت مکالمہ ومخاطبہ پانے والا نبی کہلاتا ہے۔ بلکہ وہاں لفظ محدث ہے۔“

(النبوۃ فی الاسلام ص ٢٣٨، لاہور طبع دوم)

پھر آگے اس صریح خیانت کی تاویل کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ درحقیقت مرزا صاحب نے یہاں لفظ ”نبی“ کو محدث ہی کے معنی میں استعمال کیا ہے اور: ”اگر اس توجیہ کو قبول نہ کیا جائے تو حضرت مسیح موعود پر یہ الزام عائد ہوگا کہ آپ نے نعوذ باللہ اپنی مطلب براری کے لئے مجدد صاحب کی عبارت میں تحریف کی ہے۔“

(النبوۃ فی الاسلام از محمد علی لاہوری ص ٢٣٨)

حالانکہ مرزا صاحب خود لفظ نبی کو اپنے کلام میں محدث کے معنی میں استعمال کرتے تو ایک بات بھی تھی، حضرت مجدد صاحبؒ کی طرف زبردستی لفظ ”نبی“ منسوب کر کے اسے ”محدث“ کے معنی میں قرار دینا کون سی شریعت، کون سے دین اور کون سی عقل کی رو سے جائز ہے؟ حیرت ہے ان لوگوں کی عقلوں پر جو مرزا صاحب کے کلام میں ایسی ایسی صریح خیانتیں دیکھتے ہیں اور پھر بھی انہیں نبی، مسیح موعود اور مجدد قرار دینے پر مصر ہیں۔

ملا علی قاریؒ

دوسرے بزرگ جن کی طرف یہ بات منسوب کی جاتی ہے کہ وہ ختم نبوت کے خلاف نبوت کی کسی قسم کو جائز سمجھتے ہیں۔ ملا علی قاریؒ ہیں۔ لیکن ان کی درج ذیل عبارت ملاحظہ فرمائیے۔

”التحدی فرع دعوی النبوۃ ودعوی النبوۃ بعد نبیناﷺ کفر بالاجماع“

”اس قسم کا چیلنج دعویٰ نبوت کی ایک شاخ ہے اور ہمارے نبیﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنا بہ اجماع کفر ہے۔“

(ملحقات شرح فقہ اکبر ص ٢٠٢)

یہ عبارت ملا علی قاریؒ نے اس شخص کے بارے میں لکھی ہے جو محض معجزے میں دوسرے کے مقابلے پر غلبہ پانے کا دعویٰ کر رہا ہو۔ اس سے ظاہر ہے کہ یہاں گفتگو محض غیر تشریعی نبوت میں ہے اور اس کا دعویٰ بھی ملا علی قاریؒ نے کفر قرار دیا ہے۔

٦٤

صفحہ ١٩٤٣

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

2013 شیخ ابن عربیؒ اور شیخ شعرانیؒ

شیخ محی الدین ابن عربیؒ کی طرف خاص طور سے یہ بات زور شور سے منسوب کی جاتی ہے کہ وہ غیر تشریعی نبوت کے قائل ہیں، مگر ان کی درج ذیل عبارت ملاحظہ ہو: ”فما بقی للاولیاء الیوم بعد ارتفاع النبوة الا التعریفات وانسدت ابواب الاوامر الالہیة والنہی فمن ادعاہا بعد محمد ﷺ فہو مدع شریعة اوحی بہا الیہ سواء وافق بہا شرعنا او خالف“

”پس نبوت کے ختم ہوجانے کے بعد اولیاء اللہ کے لئے صرف معارف باقی رہ گئے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی امر (کسی چیز کا حکم) یا نہی (کسی چیز سے منع کرنا) کے دروازے بند ہوچکے۔ اب ہر وہ شخص جو اس کا دعویٰ کرے وہ درحقیقت شریعت کا مدعی ہے۔ خواہ اس کا الہام ہماری شریعت کے موافق ہو یا مخالف۔“

(فتوحات مکیہ ج ٣ ص ٣٩)

اس عبارت نے واضح کردیا کہ:

لائے۔ بلکہ وہ مدعی نبوت بھی ان کے نزدیک مدعی شریعت ہے۔ جس کی وحی بالکل شریعت محمدیہ کے موافق ہی ہو۔

محمدیہ کی موافق وحی کا دعویٰ بھی ختم نبوت کا انکار ہے۔

نبوت شریعت جدیدہ کی مدعی ہو اور خواہ شریعت محمدیہ کی موافقت کا دعویٰ کرے۔ پس غیر تشریعی نبوت سے مراد وہ کمالات نبوت اور کمالات ولایت ہوں گے جن پر شریعت 2014 نبوت کا اطلاق نہیں کرتی اور وہ نبوت نہیں کہلاتی۔

عارف باللہ امام شعرانیؒ نے ”الیواقیت والجواہر“ میں شیخ اکبرؒ کی مندرجہ بالا عبارت نقل کرتے ہوئے اس کے ساتھ یہ الفاظ بھی نقل کئے ہیں: ”فان کان مکلفاً ضربنا عنقہ والا ضربنا عنہ صفحاً“

(الیواقیت ج ٢ ص ٣٨)

”اگر وہ شخص مکلف یعنی عاقل بالغ ہو تو ہم پر اس کا قتل واجب ہے۔ ورنہ اس سے اعراض کیا جائے گا۔“

---------

٦٥

PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

سے اس قسم کا کلام کسی کے ساتھ بکثرت ہ

ملاحظہ فرمائیے کہ حضرت مجد نے کس طرح ”نبی“ کے لفظ سے بدل د لکھتے ہیں: ”جب ہم مجدد صاحب سرہند مکالمہ و مخاطبہ پانے والا نبی کہلاتا ہے۔

پھر آگے اس صریح خیانت نے یہاں لفظ ”نبی“ کو محدث ہی کے مع جائے تو حضرت مسیح موعود پر یہ الزام عا مجدد صاحب کی عبارت میں تحریف کی۔

حالانکہ مرزا صاحب خود لف ایک بات بھی تھی، حضرت مجدد صاحب کے معنی میں قرار دینا کون سی شریعت ہے ان لوگوں کی عقلوں پر جو مرزا صاح بھی انہیں نبی، مسیح موعود اور مجدد قرار د

دوسرے بزرگ جن کی ط نبوت کی کسی قسم کو جائز سمجھتے ہیں۔ ملا علی ”التحدی فرع دعوی ”اس قسم کا چیلنج دعویٰ نبو دعویٰ کرنا بہ اجماع کفر ہے۔“

یہ عبارت ملا علی قاریؒ ۔

دوسرے کے مقابلے پر غلبہ پانے کا د نبوت میں ہے اور اس کا دعویٰ بھی ملا

صفحہ ١٩٤٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

ایک رکن: جناب والا! آج جمعہ ہے۔

جناب چیئرمین: ایک چیپٹر (باب) ”مرزائیت کی اسلام دشمنی“ پڑھ لیں، جو چھ صفحے کا ہے۔

ایک رکن: ساڑھے بارہ بج گئے ہیں۔

جناب چیئرمین: صرف دس منٹ لگیں گے۔

ایک رکن: شام کو کرلیں۔

جناب چیئرمین: شام کو آپ کہتے ہیں کہ صبح ، اور صبح کو کہتے ہیں کہ شام کو کریں۔ کوئی وقت مجھے بھی دیں۔

مولوی مفتی محمود: جلد کرلیتے ہیں۔

جناب چیئرمین: ہاں! چھ صفحے ہیں۔ سات تاریخ کو پھر آپ باہر نکل جائیں گے۔

2015 مولوی مفتی محمود:

مرزائیت کی اسلام دشمنی

2016 ہم نے اپنی قرارداد میں کہا ہے کہ: ”جہاد کو ختم کرنے کی اس کی کوششیں اسلام کے بڑے بڑے احکام کے خلاف غداری تھیں۔ نیز یہ کہ وہ سامراج کی پیداوار تھا اور اس کا واحد مشن مسلمانوں کے اتحاد کو تباہ کرنا اور اسلام کو جھٹلانا تھا۔ نیز ان کے پیروکار، چاہے انہیں کوئی بھی نام دیا جائے۔ مسلمانوں کے ساتھ گھل مل کر اور اسلام کا ایک فرقہ ہونے کا بہانہ کر کے اندرونی اور بیرونی طور پر تخریبی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔“

آئندہ صفحات میں اس کی تشریح پیش کی جارہی ہے......

٦٦

صفحہ ١٩٤٥

1945 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

2017 بسم الله الرحمن الرحیم !

سیاسی پس منظر

٣٠ / جون (١٩٧٤ء) کو قومی اسمبلی میں پیش کی گئی ہماری قرارداد میں مرزا غلام احمد کے جہاد کو ختم کرنے کی کوششوں کا بھی ذکر ہے اور یہ کہ وہ سامراج کی پیداوار تھا اور اس کا واحد مقصد مسلمانوں کے اتحاد کو تباہ کرنا تھا اور یہ کہ مرزائی خواہ انہیں کوئی بھی نام دیا جائے اسلام کے فرقہ ہونے کا بہانہ کر کے اندرونی اور بیرونی طور پر تخریبی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔

ہم ان حسب ذیل چار باتوں کا جائزہ مرزائی تحریرات اور ان کی سرگرمیوں اور عزائم کی روشنی میں لیتے ہیں۔

قطعی حرام ناجائز اور منسوخ کرانا۔

یورپی استعمار اور مرزائیت

پہلی بات کہ مرزا صاحب اور اس کے پیروکار یورپی استعمار کے آلہ کار ہیں۔ ایک ایسی کھلی حقیقت ہے جس کا نہ صرف مرزا قادیانی کو اعتراف ہے بلکہ وہ فخر و مباہات کے ساتھ ببانگ دہل ان باتوں کا اپنی ہر تحریر اور تصنیف میں اعلان کرتے پھرتے ہیں۔ وہ بلا جھجک اپنے کو انگریزوں کا خود کاشتہ پودا، اور خاندانی وفادار اور سلطنت انگلشیہ کو آقائے ولی نعمت اور رحمت 2018 خداوندی اور انگریزوں کی اطاعت کو مقدس دینی فریضہ قرار دیتے ہیں۔ ادھر انگریزی حکام اور سامراج بھی دل کھول کر ان کی وفاشعاریوں کو سراہتے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یورپ اور برطانیہ مرزا کو اپنے استعماری اور اسلام دشمن مقاصد کے لئے کن طریقوں سے استعمال کرتے رہے۔

اٹھارہویں صدی کا نصف آخر اور یورپی استعمار

اٹھارہویں صدی عیسوی کے نصف آخر ہی میں یورپی سامراج دنیا کے بیشتر حصوں پر اپنے نو آبادیاتی عزائم کے ساتھ حملہ آور ہوا۔ ان سامراجی طاقتوں میں برطانیہ پیش پیش تھا۔

٦٧

صفحہ ١٩٤٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

اطالوی، فرانسیسی اور پرتگالی براعظم افریقہ کو اطالوی صومالی لینڈ، فرانسیسی صومالی لینڈ، پرتگالی مشرقی افریقہ، جرمن مشرقی افریقہ اور برطانوی مشرقی افریقہ میں منقسم کرنے کے بعد مشرق وسطیٰ کے بعض علاقوں میں سامراجی ریشہ دوانیوں میں مصروف تھے۔ اٹلی نے اریٹیریا، فرانس نے جزیرہ مڈغاسکر اور برطانیہ نے رہوڈیشیا اور یوگنڈا کو نوآبادیوں میں تقسیم کردیا۔ نام نہاد خود مختار علاقوں میں یونین آف ساؤتھ افریقہ کے علاوہ مصر، حبشہ اور لائبیریا کا شمار ہوتا تھا۔ یورپی سامراج نے اس زمانے میں ہندوستان، برما اور لنکا کو زیر نگین لانے کے لئے کشمکش کا آغاز کر دیا تھا اور بحر ہند کو اپنی استعماری سرگرمیوں کی آماجگاہ بنالیا۔ مشرقی ساحل پر ملائی ریاستوں میں سنگاپور ایک اہم بحری اڈہ تھا جس کو بنیاد بنا کر بحر ہند، بحر الکاہل، ڈچ ایسٹ انڈیز اور جنوبی آسٹریلیا کو جدا جدا کیا جا سکتا تھا۔ استعماری طاقتوں کو اپنے مذموم ارادوں کی تکمیل میں اس وقت زیادہ آسانی ہوگئی۔ جب ١٨٦٩ء میں نہر سویز کی تعمیر کا مرحلہ اختتام پذیر ہوا اس کی وجہ سے راس امید کا لمبا چکر لگانے کی بجائے بحیرہ قلزم اور بحیرہ احمر کا آسان راستہ اختیار کیا جانے لگا۔ ١٨٧٨ء تک برطانیہ جبرالٹر اور مالٹا کو زیر اثر لاکر قبرص پر تسلط جما چکا تھا۔ عدن ١٨٣٩ء میں محکوم بنایا جا چکا تھا۔ اب پورے جنوب مغربی ایشیاء پر قبضہ کرنا باقی تھا۔

2019 انگریز اور برصغیر

انگریز نے جب برصغیر اور عالم اسلام میں اپنا پنجہ استبداد جمانا شروع کیا تو اس کی راہ میں دو باتیں رکاوٹ بننے لگیں۔ ایک تو مسلمانوں کی نظریاتی وحدت دینی معتقدات سے غیر متزلزل وابستگی اور مسلمانوں کا وہ تصور اخوت جس نے مغرب و مشرق کو جسد واحد بنا کے رکھ دیا تھا۔ دوسری بات مسلمانوں کا لافانی جذبہ جہاد جو بالخصوص عیسائی یورپ کے لئے صلیبی جنگوں کے بعد وبال جان بنا ہوا تھا اور آج ان کے سامراجی منصوبوں کے لئے قدم قدم پر سدراہ ثابت ہو رہا تھا اور یہی جذبہ جہاد تھا جو مسلمانوں کی ملی بقاء اور سلامتی کے لئے گویا حصار اور قلعہ کا کام دے رہا تھا۔ انگریزی سامراج ان چیزوں سے بے خبر نہ تھی۔ اس لئے اپنی معروف ابلیسی سیاست لڑاؤ اور حکومت کرو (Divide and Rule) سے عالم اسلام کی جغرافیائی اور نظریاتی وحدت کو ٹکڑے کرنا چاہا۔ دوسری طرف عالم اسلام بالخصوص برصغیر میں نہایت عیاری سے مناظروں اور مباحثوں کا بازار گرم کر کے مسلمانوں میں فکری انتشار اور تذبذب پیدا کرنا چاہا اور اس کے ساتھ ہی انگریزوں پر سلطان ٹیپو شہیدؒ، سید احمد شاہ شہیدؒ اور شاہ اسماعیل شہیدؒ اور ان کے بعد جماعت

٦٨

صفحہ ٦٩

1947 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

مجاہدین کی مجاہدانہ سرگرمیاں علماء حق کا ہندوستان کو دارالحرب قرار دے کر جہاد کا فتویٰ دینا اور بالآخر ١٨٥٧ء کے جہادِ آزادی نہ صرف ہندوستان بلکہ باہر عالم اسلام میں مغربی استعمار کے خلاف مجاہدانہ تحریکات سے یہ حقیقت اور بھی عیاں ہوکر سامنے آگئی کہ جب تک مسلمانوں کے اندر جذبہ جہاد قائم ہے، سامراج کبھی بھی اور کہیں بھی اپنا قدم مضبوطی سے نہیں جما سکے گا۔ مسلمانوں کی یہ چیز نہ صرف ہندوستان بلکہ پوری دنیا میں یورپ کے لئے وبالِ جان بنی ہوئی تھی۔

2020 مرزا صاحب کے نشوونما کا دور اور عالم اسلام کی حالت

انیسویں صدی کا نصف آخر جو مرزا صاحب کے نشوونما کا دور ہے۔ اکثر ممالک اسلامیہ جہادِ اسلامی اور جذبہ آزادی کی آماجگاہ بنے ہوئے تھے۔ برصغیر کے حالات تو مختصراً معلوم ہوچکے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ یہی زمانہ ہے جب برصغیر کے باہر پڑوسی ممالک افغانستان میں ١٨٧٨ء ١٨٧٩ء میں برطانوی افواج کو افغانوں کے جذبہ جہاد وسرفروشی سے دوچار ہونا پڑتا ہے جو بالآخر انگریزوں کی شکست اور پسپائی پر ختم ہو جاتا ہے۔

ترکی میں ١٨٧٦ء سے لے کر ١٨٧٨ء تک انگریزوں کی خفیہ سازشوں اور درپردہ معاہدوں کو دیکھ کر جذبہ جہاد بھڑکتا ہے۔ طرابلس الغرب میں شیخ سنوسی، الجزائر میں امیر عبدالقادر (١٨٨٠ء) اور روس کے علاقہ داغستان میں شیخ محمد شامل (١٨٧٠ء) بڑی پامردی اور جانفشانی سے فرانسیسی اور روسی استعمار کو للکارتے ہیں۔ ١٨٨١ء میں مصر میں مصری مسلمان سر بکف ہوکر انگریزوں کی مزاحمت کرتے ہیں۔

سوڈان میں انگریز قوم قدم جمانا چاہتی ہے تو ١٨٨١ء میں مہدی سوڈانی اور ان کے درویش جہاد کا پھریرا بلند کرکے بالآخر انگریز جنرل گارڈن اور اس کی فوج کا خاتمہ کرتے ہیں۔

اسی زمانہ میں خلیج عرب، بحرین، عدن وغیرہ میں برطانوی فوجیں مسلمانوں کے جہاد اور استخلاصِ وطن کے لئے جان فروشی اور جان نثاری کے جذبہ سے دوچار تھیں۔

مسلمانوں کی ان کامیابیوں کے اسباب کا ذکر کرتے ہوئے ایک انگریز مصنف لکھتا ہے کہ مسلمانوں میں دینی سرگرمی بھی کام کرتی تھی، کہتے تھے کہ فتح پائی تو غازی مرد کہلائے، حکومت حاصل کی ،مرگئے تو شہید ہوگئے۔ اس لئے مرنا یا مارڈالنا بہتر ہے اور پیٹھ دکھانا بیکار۔

(تاریخ برطانوی ہند ص ٣٠٢، مطبوعہ ١٩٣٥ء)

صفحہ ١٩٤٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

2021 ایک حواری نبی کی ضرورت

ایک برطانوی دستاویز ”دی ارائیول آف برٹش ایمپائر ان انڈیا“ میں ہے اور بیرونی تمام شواہد بھی اس کی تائید کرتے ہیں کہ ١٨٦٩ء میں انگلینڈ سے برطانوی مدبروں اور مسیحی رہنماؤں کا ایک وفد اس بات کا جائزہ لینے برصغیر آیا کہ مسلمانوں کو رام کرنے کی ترکیب اور برطانوی سلطنت سے وفاداری کے راستے نکالنے پر غور کیا جائے۔ اس وفد نے ١٨٧٠ء میں دو رپورٹیں پیش کیں۔ جن میں کہا گیا تھا کہ ہندوستانی مسلمانوں کی اکثریت اپنے روحانی رہنماؤں کی اندھا دھند پیروکار ہے۔ اگر اس وقت ہمیں کوئی ایسا آدمی مل جائے جو APOSTOLIC) (PROPHET اپاسٹالک پرافٹ (حواری نبی) ہونے کا دعویٰ کرے تو بہت سے لوگ اس کے گرد اکٹھے ہو جائیں گے۔ لیکن مسلمانوں میں ایسے کسی شخص کو ترغیب دینا مشکل نظر آتا ہے۔ یہ مسئلہ حل ہو جائے تو پھر ایسے شخص کی نبوت کو حکومت کی سرپرستی میں بطریق احسن پروان چڑھایا جاسکتا ہے۔ اب کہ ہم پورے ہندوستان پر قابض ہیں تو ہمیں ہندوستانی عوام اور مسلمان جمہور کی داخلی بے چینی اور باہمی انتشار کو ہوا دینے کے لئے اس قسم کے عمل کی ضرورت ہے۔ (The Arrival Of British Empire in India (ہندوستان میں برطانوی سلطنت کی آمد)، بحوالہ عجمی اسرائیل ص ١٩)

سامراجی ضرورتیں ...... مرزا صاحب اور ان کا خاندان

یہ ماحول تھا اور سامراجی ضرورتیں تھیں جس کی تکمیل مرزا غلام احمد کے دعوئی نبوت اور تنسیخ جہاد کے اعلان نے کی اور بقول علامہ اقبال یہ حالات تھے کہ ”قادیانی تحریک فرنگی انتداب کے حق میں الہامی سند بن کر سامنے آئی۔“

(حرف اقبال ص ١٤٥)

انگریز کو مرزا غلام احمد سے بڑھ کر کوئی اور موزوں شخص ان کے مقاصد کے لئے مل بھی نہیں سکتا تھا۔ اس لئے کہ مسلمانوں کے مقابلہ میں کافروں کی حمایت اور مسلم دشمنی اس کو خاندانی ورثہ میں ملی تھی۔

2022 مرزا کا والد غلام مرتضیٰ اپنے بھائیوں سمیت مہاراجہ رنجیت سنگھ کی فوج میں داخل ہوا اور سکھوں کے لئے قابل قدر خدمات انجام دیں۔ پہلے سکھوں سے مل کر مسلمانوں سے لڑا جس کے صلہ میں رنجیت سنگھ نے ان کو کچھ جائیداد واگزار کر دی۔

٧٠

صفحہ ١٩٤٩

1949 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

مرزا صاحب کی سیرت میں ہے کہ: ”١٨٤٢ء میں ان کا والد ایک پیادہ فوج کا کپتان بنا کر پشاور روانہ کیا گیا اور ہزارہ کے مفسدے (یعنی سید احمد شہیدؒ اور مجاہدین کے جہاد) میں اس نے کارہائے نمایاں انجام دیئے۔ (آگے ہے) کہ یہ تو تھا ہی سرکار کا نمک حلال۔ ١٨٤٨ء کی بغاوت میں ان کے ساتھ اس کے بھائی غلام محی الدین (مرزا غلام احمد کے چچا) نے بھی اچھی خدمات انجام دیں۔ ان لوگوں نے سکھوں کے باغیوں سے مقابلہ کیا ان کو شکست فاش دی۔“

(سیرت المہدی حصہ اول ص ٥، مرتبہ مرزا بشیر الدین محمود مطبوعہ اللہ بخش سٹیم پریس قادیان)

١٨٥٧ء کے جہادِ آزادی میں مرزا غلام احمد کے والد مرزا غلام مرتضیٰ نے انگریز کا حقِ نمک یوں ادا کیا کہ خود مرزا غلام احمد کو اعتراف ہے کہ: ”میں ایک ایسے خاندان سے ہوں جو اس گورنمنٹ کا پکا خیرخواہ ہے۔ میرا والد مرزا غلام مرتضیٰ گورنمنٹ کی نظر میں ایک وفادار اور خیرخواہ آدمی تھا۔ جن کو دربار گورنری میں کرسی ملی تھی اور جن کا ذکر مسٹر گرفن کے تاریخ رئیسان پنجاب میں ہے اور ١٨٥٧ء میں انہوں نے اپنی طاقت سے بڑھ کر سرکار انگریزی کو مدد دی تھی۔ یعنی پچاس سوار اور گھوڑے بہم پہنچا کر عین زمانہ غدر کے وقت سرکار انگریزی کی امداد میں دیئے تھے۔“

(اشتہار واجب الاظہار منسلک کتاب البریہ ص ١٣، خزائن ج ١٣ ص ٤، از مرزا غلام احمد)

اس کے بعد مرزا غلام احمد کے والد اور بھائی غلام قادر کو انگریزی حکام نے اپنی خوشنودی کے اظہار اور ان کی خدمات کے اعتراف کے طور پر جو خطوط لکھے ان خطوط کا تذکرہ بھی محولہ بالا کتاب میں مرزا غلام احمد نے کیا ہے کہ مسٹر ولمسن نے ان کے والد مرزا غلام مرتضیٰ کو لکھا ہے کہ: ”میں خوب جانتا ہوں بلاشبہ آپ اور آپ کا خاندان سرکار انگریزی کا جان نثار وفادار اور ثابت قدم خدمت گار رہا ہے۔“

(خط ١١؍ جون ١٨٤٩ء، لاہور مراسلہ نمبر ٣٥٣، کتاب البریہ ص ٤، خزائن ج ١٣ ص ٤)

²⁰²³ مسٹر رابرٹ کسٹ کمشنر لاہور بنام مرزا غلام مرتضیٰ اپنے خطوط مورخہ ٢٠؍ ستمبر ١٨٥٨ء میں ١٨٥٧ء کے جہادِ آزادی میں انگریز کے لئے ان کی خدمات کے اعتراف اور اس کے بدلے خلعت اور خوشنودی سے نوازنے کی اطلاع دیتے ہیں۔

یہ خاندانی اطاعت جس شخص کی گھٹی میں شامل تھی اس نے اپنی وفاشعاریوں کا یوں اعتراف کیا ہے۔ ستارۂ قیصرہ میں مرزا صاحب لکھتا ہے: ”مجھ سے سرکار انگریزی کے حق میں جو خدمت ہوئی وہ یہ تھی کہ میں نے پچاس ہزار کے قریب کتابیں اور اشتہارات چھپوا کر اس ملک میں اور نیز دوسرے بلادِ اسلام میں ایسے مضمون شائع کئے کہ گورنمنٹ انگریزی ہم مسلمانوں کی محسن

٧١

صفحہ ١٩٥٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

ہے ۔ لہٰذا ہر ایک مسلمان کا یہ فرض ہونا چاہئے کہ اس گورنمنٹ کی سچی اطاعت کرے اور دل سے اس دولت کا شکر گزار اور دعا گو رہے اور یہ کتابیں میں نے مختلف زبانوں یعنی اردو، فارسی، عربی میں تالیف کرکے اسلام کے تمام ملکوں میں پھیلا دیں اور یہاں تک کہ اسلام کے دو مقدس شہروں مکے اور مدینے میں بھی بخوشی شائع کر دیں اور روم کے پایہ تخت قسطنطنیہ اور بلاد شام اور مصر اور کابل اور افغانستان کے متفرق شہروں میں جہاں تک ممکن تھا اشاعت کر دی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لاکھوں انسانوں نے جہاد کے وہ غلیظ خیالات چھوڑ دیئے جو نا فہم ملاؤں کی تعلیم سے ان کے دلوں میں تھے۔ یہ ایک ایسی خدمت مجھ سے ظہور میں آئی ہے کہ مجھے اس بات پر فخر ہے کہ برٹش انڈیا کے تمام مسلمانوں میں سے اس کی نظیر کوئی مسلمان دکھلا نہیں سکتا۔‘‘

(ستارہ قیصرہ ص ٣،٤، خزائن ج ١٥ص ١١٤)

یہی نہیں بلکہ پورے برٹش انڈیا میں اتنی بے نظیر خدمت کرنے والے شخص نے بقول خود انگریزی اطاعت کے بارہ میں اتنا کچھ لکھا کہ ”پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں ۔‘‘

(تریاق القلوب ص ١٥، خزائن ج ١٥ص ١٥٥)

2024 مرزا صاحب سرکار برطانیہ کے متعلق لیفٹیننٹ گورنر پنجاب کو ایک چٹھی میں اپنے خاندان کو پچاس برس سے وفادار و جان نثار اور اپنے آپ کو انگریز کا خودکاشتہ پودا لکھتا ہے اور اپنی ان وفاداریوں اور اخلاص کا واسطہ دے کر اپنے اور اپنی جماعت کے لئے خاص نظر عنایت کی التجا کرتا ہے۔

(تبلیغ رسالت ج٧، مجموعہ اشتہارات ج٣ ص٢١)

Mr. Chairman: Thank you very much. We meet at 5:30 pm.

(جناب چیئرمین: بہت بہت شکریہ !ہم شام ساڑھے پانچ بجے پھر ملیں گے)

[The Special Committee adjourned for lunch break to meet at 5:30 pm.]

(خصوصی کمیٹی کا اجلاس دوپہر کے کھانے کے لئے شام ساڑھے پانچ بجے تک ملتوی کر دیا گیا)

----------

[The Special Committee re-assembled after lunch break, Mr. Chairman (Sahibzada Farooq Ali) in the Chair.]

٧٢

صفحہ ١٩٥١

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

(خصوصی کمیٹی کا اجلاس دوپہر کے کھانے کے وقفہ کے بعد دوبارہ شروع ہوا۔ جناب چیئرمین صاحبزادہ فاروق علی اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں)

---------

جناب چیئرمین: مولانا مفتی محمود! مولوی مفتی محمود:

ہو اگر قوت فرعون کی درپردہ مرید قوم کے حق میں ہے لعنت وہ کلیم اللّٰہی
(اقبال: ضرب کلیم)

2025اسلام کے ایک قطعی عقیدہ جہاد کی تنسیخ

انگریز کی ان وفاشعاریوں کا نتیجہ تھا کہ مرزا قادیانی نے کھلم کھلا جہاد کے منسوخ ہونے کا اعلان کردیا۔ جہاد اسلام کا ایک مقدس دینی فریضہ ہے۔ اسلام اور مسلمانوں کی بقاء کا دارو مدار اسی پر ہے۔ شریعت محمدی نے اسے قیامت تک اسلام اور عالم اسلام کی حفاظت اور اعلاء کلمۃ اللہ کا ذریعہ بنایا ہے۔ قرآن کریم کی بے شمار آیات اور حضور اقدس ﷺ نے بے شمار احادیث اور خود حضور اقدس ﷺ اور صحابہ کرامؓ کی عملی زندگی ان کا جذبہ جہاد و شہادت یہ سب باتیں جہاد کو ہر دور میں مسلمانوں کے لئے ایک ولولہ انگیز عبادت بناتی رہیں۔ اللہ تعالیٰ کا واضح ارشاد ہے۔

”وقاتلوهم حتى لا تكون فتنة ويكون الدين لله (بقرہ:١٩٣)“ ﴿اور ان کے ساتھ اس حد تک لڑو کہ فتنہ کفر و شرارت باقی نہ رہے اور دین اللہ کا ہو جائے۔﴾

حضور ﷺ نے ایک حدیث میں فریضہ جہاد کی تاقیامت ابدیت اس طرح ظاہر فرمائی ہے۔ ”لن يبرح هذا الدين قائماً يقاتل عليه عصابة من المسلمين حتى تقوم الساعة “

(مسلم ج٢ ص ١٣٣، باب قول لا تزال طائفة من امتى ظاهرين على الحق، مشکوٰۃ ص٣٣٠، کتاب الجہاد)

”حضور ﷺ نے فرمایا ہمیشہ یہ دین قائم رہے گا اور مسلمانوں کی ایک جماعت قیامت تک جہاد کرتی رہے گی۔“

لیکن مرزا غلام احمد نے انگریز کے بچاؤ اور تحفظ اور عالم اسلام کو ہمیشہ ان کی طوق غلامی میں باندھنے اور کافر حکومتوں کے زیر سایہ مسلمانوں کو اپنی سیاسی اور مذہبی سازشوں کا شکار بنانے کی خاطر نہایت شدومد سے عقیدۂ جہاد کی مخالفت کی اور نہ صرف برصغیر میں بلکہ پورے عالم اسلام میں جہاں جہاں بھی اس کو ظاہر اور خفیہ سرگرمیوں کا موقعہ مل سکا جہاد کے خلاف نہایت شدت سے

٧٣

SEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

ہے۔ لہٰذا ہر ایک مسلمان کا یہ فرض ہونا چاہئے کہ اس کو ہ اس دولت کا شکر گزار اور دعا گو رہے اور یہ کتابیں میں میں تالیف کر کے اسلام کے تمام ملکوں میں پھیلا دیں اور مکے اور مدینے میں بھی بخوشی شائع کر دیں اور روم کے کابل اور افغانستان کے متفرق شہروں میں جہاں تک ممک لاکھوں انسانوں نے جہاد کے وہ غلیظ خیالات چھوڑ دیئے میں تھے۔ یہ ایک ایسی خدمت مجھ سے ظہور میں آئی ہے کے تمام مسلمانوں میں سے اس کی نظیر کوئی مسلمان دکھلا نہ

یہی نہیں بلکہ پورے برٹش انڈیا میں اتنی ب خود انگریزی اطاعت کے بارہ میں اتنا کچھ لکھا کہ ” پچاس

2024 مرزا صاحب سرکار برطانیہ کے متعلق اپ

خاندان کو پچاس برس سے وفادار و جان نثار اور اپنے آپ ان وفاداریوں اور اخلاص کا واسطہ دے کر اپنے اور اپنی ج کرتا ہے۔ )

Thank you very much. We meet at

(جناب چیئرمین: بہت بہت شکریہ! ہم

mittee adjourned for lunch break

(خصوصی کمیٹی کا اجلاس دوپہر کے کھانے کر دیا گیا)

---------

mittee re-assembled after lunch bzada Farooq Ali) in the Chair.]

٧٢

صفحہ ١٩٥٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

پروپیگنڈہ کیا گیا۔ مرزا صاحب کو جہاد حرام کرانے کی ضرورت کیا تھی۔ اس کا جواب 2026 ہمیں لارڈ ریڈنگ وائسرائے ہند کے نام قادیانی جماعت کے ایڈریس مندرجہ اخبار الفضل قادیان مورخہ ٤؍ جولائی ١٩٢١ء سے نہایت واضح طور پر مل سکتا ہے جس میں کہا گیا: ”جس وقت آپ (مرزا غلام احمد ) نے دعویٰ کیا اس وقت تمام عالم اسلام جہاد کے خیالات سے گونج رہا تھا اور عالم اسلامی کی ایسی حالت تھی کہ وہ پٹرول کے پیپہ کی طرح بھڑکنے کے لئے صرف ایک دیا سلائی کا محتاج تھا۔ مگر بانی سلسلہ نے اس خیال کی لغویت اور خلاف اسلام اور خلاف امن ہونے کے خلاف اس قدر زور سے تحریک شروع کی کہ ابھی چند سال نہیں گزرے تھے کہ گورنمنٹ کو اپنے دل میں اقرار کرنا پڑا کہ وہ سلسلہ جسے وہ امن کے لئے خطرہ کا موجب خیال کر رہی تھی اس کے لئے غیر معمولی اعانت کا موجب تھا۔“

(حوالہ بالا)

جہاد منسوخ ہونے اور دنیا سے جہاد کا حکم تا قیامت اٹھ جانے پر مرزا صاحب کس شد و مد سے زور دیتے ہیں۔ ان کا اندازہ ان کی حسب ذیل عبارات سے لگایا جاسکتا ہے۔

اپنی کتاب اربعین نمبر ٤ میں مرزا صاحب لکھتے ہیں: ”جہاد یعنی دینی لڑائیوں کی شدت کو خدا تعالیٰ آہستہ آہستہ کم کرتا گیا ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وقت میں اس قدر شدت تھی کہ ایمان لانا بھی اس سے بچا نہیں سکتا تھا اور شیر خوار بچے بھی قتل کئے جاتے تھے۔ پھر ہمارے نبی ﷺ کے وقت میں بچوں اور بوڑھوں اور عورتوں کا قتل کرنا حرام کیا گیا اور پھر بعض قوموں کے لئے بجائے ایمان کے صرف جزیہ دے کر مواخذہ سے نجات پانا قبول کیا گیا اور پھر مسیح موعود (یعنی بزعم خود مرزا صاحب ) کے وقت قطعا جہاد کا حکم موقوف کر دیا گیا۔“

(کتاب اربعین نمبر ٤ ص ١٤، خزائن ج ١٧ ص ٤٤٣ حاشیہ )

”2027اور آج سے انسانی جہاد جو تلوار سے کیا جاتا تھا خدا کے حکم کے ساتھ بند کیا گیا۔ اب اس کے بعد جو شخص کافر پر تلوار اٹھاتا اور اپنا نام غازی رکھتا ہے وہ اس رسول کریم ﷺ کی نافرمانی کرتا ہے۔ جس نے آج سے تیرہ سو برس پہلے فرما دیا ہے۔ مسیح موعود کے آنے پر تمام تلوار کے جہاد ختم ہو جائیں گے۔ سو اب میرے ظہور کے بعد تلوار کا کوئی جہاد نہیں۔ ہماری طرف سے

١؎ نعوذ باللہ! یہ ایک برگزیدہ پیغمبر حضرت موسیٰ علیہ السلام پر کتنا صریح بہتان ہے۔ مومنوں اور شیر خوار بچوں کو اگر قتل کرتا تھا تو فرعون اور اس کا لشکر۔ مرزا صاحب نے اس انداز میں یہ بات پیش کی گویا ایمان لانے کے باوجود ان شیر خوار بچوں کی بھی شریعت موسوی میں بچنے کی گنجائش نہیں تھی۔

٧٢

صفحہ ١٩٥٣

ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

پروپیگنڈہ کیا گیا۔ مرزا صاحب کو جہاد حرام کرانے کی ضرو لارڈ ریڈنگ وائسرائے ہند کے نام قادیانی جماعت کے مورخہ ٤؍ جولائی ١٩٢١ء سے نہایت واضح طور پر مل سکتا ہ (مرزا غلام احمد) نے دعویٰ کیا اس وقت تمام عالم اسلام پ اسلامی کی ایسی حالت تھی کہ وہ پتھر کے بت کی طرح ت محتاج تھا۔ مگر بانی سلسلہ نے اس خیال کی لغویت اور خلاف اس قدر زور سے تحریک شروع کی کہ ابھی چند سال نہیں گ اقرار کرنا پڑا کہ وہ سلسلہ جسے وہ امن کے لئے خطرہ کا غیر معمولی اعانت کا موجب تھا۔‘‘

جہاد منسوخ ہونے اور دنیا سے جہاد کا حکم م شدومد سے زور دیتے ہیں۔ ان کا اندازہ ان کی حسب ذیل

اپنی کتاب اربعین نمبر ٤ میں مرزا صاحب لکھت کو خدا تعالیٰ آہستہ آہستہ کم کرتا گیا ہے۔ حضرت موسیٰ علی کہ ایمان لانا بھی اس سے بچا نہیں سکتا تھا اور شیر خوار ب نبی ﷺ کے وقت میں بچوں اور بوڑھوں اور عورتوں کا قت لئے بجائے ایمان کے صرف جزیہ دے کر مواخذہ سے نجا یہ حکم خود مرزا صاحب) کے وقت قطعاً جہاد کا حکم موقوف ک

(کتاب

2027 ’’اور آج سے انسانی جہاد جو تلوار سے کیا اب اس کے بعد جو شخص کافر پر تلوار اٹھاتا اور اپنا نام غ نافرمانی کرتا ہے۔ جس نے آج سے تیرہ سو برس پہلے ف کے جہاد ختم ہو جائیں گے۔ سو اب میرے ظہور کے بعد

١؎ نعوذ باللہ! یہ ایک برگزیدہ پیغمبر حضرت مومنوں اور شیر خوار بچوں کو اگر قتل کرنا تھا تو فرعون اور ا یہ بات پیش کی گویا ایمان لانے کے باوجود ان شیر خوار گنجائش نہیں تھی۔

٧٤

1953 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

امان اور صلح کاری کا سفید جھنڈا بلند کیا گیا۔‘‘

(ضمیمہ خطبہ الہامیہ اشتہار چندہ منارۃ المسیح ص ڈ، خزائن ج ١٦ ص ٢٨، ٢٩)

ضمیمہ تحفہ گولڑویہ میں مرزا صاحب کا یہ اعلان درج ہے کہ:

اب چھوڑ دو جہاد کا اے دوستو خیال
دیں کے لئے حرام ہے اب جنگ اور قتال
اب آ گیا مسیح جو دین کا امام ہے
دیں کی تمام جنگوں کا اب اختتام ہے
اب آسماں سے نورِ خدا کا نزول ہے
اب جنگ اور جہاد کا فتویٰ فضول ہے
دشمن ہے وہ خدا کا جو کرتا ہے اب جہاد
منکر نبی کا ہے جو یہ رکھتا ہے اعتقاد

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٢٦، ٢٧، خزائن ج ١٧ ص ٧٧، ٧٨)

نیز انگریزی حکومت کے نام ایک معروضہ میں جو ریویو آف ریلیجنز میں مرزا صاحب لکھتے ہیں: ’’یہی وہ فرقہ (یعنی مرزا صاحب کا اپنا فرقہ) ہے جو دن رات کوشش کر رہا ہے کہ مسلمانوں کے خیالات میں سے جہاد کی بیہودہ رسم کو اٹھا دے۔‘‘

(ریویو آف ریلیجنز ج ١ ص ٢٩٥)

رسالہ گورنمنٹ انگریز اور جہاد میں مرزا صاحب لکھتے ہیں: ’’دیکھو میں (غلام احمد قادیانی) ایک حکم لے کر آپ لوگوں کے پاس آیا ہوں، وہ یہ ہے کہ اب سے تلوار کے جہاد کا خاتمہ ہے۔‘‘

(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٤٢)

2028 ان تمام عبارات سے صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ مرزا صاحب کے نزدیک جہاد کی مخالفت کا حکم خاص حالات سے مجبوریوں کا تقاضا نہیں بلکہ اب اسے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے منسوخ، حرام اور ختم سمجھا جائے۔ نہ اس کے لئے شرائط پوری ہونے کا انتظار رہے، اور کسی پوشیدہ طور پر بھی اس کی تعلیم جائز نہیں۔

تریاق القلوب میں لکھتے ہیں کہ: ’’اس فرقہ (مرزائیت) میں تلوار کا جہاد بالکل نہیں۔ نہ اس کا انتظار ہے۔ بلکہ یہ مبارک فرقہ نہ ظاہر طور پر نہ پوشیدہ طور جہاد کی تعلیم ہرگز ہرگز جائز نہیں سمجھتا اور قطعا اس بات کو حرام جانتا ہے کہ دین کی اشاعت کے لئے لڑائیاں کی جائیں۔‘‘

(تریاق القلوب اشتہار واجب الاظہار ص ١، خزائن ج ١٥ ص ٥١٨)

’’اب سے زمینی جہاد بند کئے گئے اور لڑائیوں کا خاتمہ ہو گیا۔‘‘

(ضمیمہ خطبہ الہامیہ ص ت، خزائن ج ١٦ ص ١٧)

’’سو آج سے دین کے لئے لڑنا حرام کیا گیا۔‘‘

(ضمیمہ خطبہ الہامیہ ص ت، خزائن ج ١٦ ص ١٧)

٧٥

صفحہ ١٩٥٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

مرزائی تاویلات کی حقیقت

نسخ جہاد کے بارے میں ان واضح عبارات کے باوجود مرزائیوں کی دونوں جماعتیں آج کہتی ہیں کہ چونکہ ١٨٥٧ء کے بعد انگریزی سلطنت قائم ہو گئی اور وسائل جہاد مفقود تھے۔ اس لئے وقتی طور پر جہاد کو موقوف کیا گیا۔ آئیے ہم اس تاویل اور مرزا کی غلط وکالت کا جائزہ لیں۔

مرزا صاحب کے ہاں جہاد کی ممانعت ایک وقتی حکم نہیں۔ نہ وہ کچھ وقت کے لئے موقوف بلکہ وہ مکمل طور پر جہاد کے خاتمہ اس کی انتظار تک کی نفی اور ظاہری اور پوشیدہ کسی قسم کی تعلیم کو بھی ناجائز اور ہمیشہ ہمیشہ کے لئے دین کے لئے لڑنا ممنوع اور منسوخ قرار دیتے ہیں۔

جہاد 2029 کی مخالفت کرتے ہیں تو ١٨٥٧ء اور اس سے قبل ایسٹ انڈیا کمپنی کی آمد کے فوراً بعد مجاہدین سید احمد شہیدؒ کے جہاد میں مرزا صاحب اور ان کا پورا خاندان سکھوں اور انگریزی استعمار کے لئے میدان ہموار کرنے کے لئے جانی اور مالی قربانیاں دیتے رہے۔ جس کا مرزا صاحب نے انگریزی حکام کے نام خطوط اور چٹھیوں میں بڑے فخر سے اعتراف کیا ہے اور ان مساعی کی نہ صرف تائید کی بلکہ تحسین بھی کی ہے۔ ان کے خاندانی بزرگوں نے سکھوں سے مسلمانوں کے جہاد میں سکھوں کی حمایت کی۔ مرزا کے والد نے ١٨٥٧ء میں پچاس سوار سرکار انگریزی کی امداد کے لئے فراہم کئے۔ مرزا غلام احمد نے ١٨٥٧ء میں جہادِ آزادی کے غیور اور جان نثار مجاہدین کو ”جہلاء اور بدچلن کہا۔“

(براہین احمدیہ ج ١ ص الف، خزائن ج ١ ص ١٣٨، اشتہار اسلامی انجمنوں سے التماس، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٠٥)

انگریز کے ہاتھوں ہندوستان میں مسلمانوں کی مظلومیت پر ہند کا ذرہ ذرہ اشکبار تھا۔ اسلامیانِ ہند کی عظمتیں لٹ رہی تھیں۔ ہزار سالہ عظمت رفتہ پاش پاش ہو رہی تھی۔ علماء اور شرفاء ہند کو سور کے چمڑوں میں سی کر اور زندہ جلا کر دہلی کے چوکوں میں پھانسی پر لٹکایا جا رہا تھا اور انگریزوں کا شقی القلب نمائندہ جنرل نکلسن، ایڈورڈ سے ایسے آئینی اختیارات مانگ رہا تھا کہ مجاہدینِ آزادی کے زندہ حالت میں چمڑے ادھیڑے جاسکیں اور انہیں زندہ جلایا جاسکے۔ مگر وہ شقی اور ظالم نکلسن مرزا غلام احمد اور اس کے خاندان کو ہندوستان میں اپنے مفادات کا نگران اور وفادار ٹھہرا رہا تھا۔ جنرل نکلسن نے مرزا غلام قادر کو سند دی جس میں لکھا کہ: ”١٨٥٧ء میں

٧٦

صفحہ ١٩٥٥

1955 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

خاندان قادیان ضلع گورداسپور کے تمام دوسرے خاندانوں سے زیادہ نمک حلال رہا۔‘‘

(سیرت مسیح موعود ص ٦،٥، از مرزا بشیر الدین محمود، طبع قادیان)

اور وہی مرزا صاحب جو ابھی تک اپنے تشریعی نبی ہونے کی حیثیت میں سامنے نہیں آئے تھے خود براہین احمدیہ اور دیگر تحریروں میں جہاد کے فرض واجب اور غیر منقطع ہونے کا اعتراف کر چکے تھے۔ دعویٰ نبوت کے بعد ایک 2030 قطعی حکم کو حرام قرار دیتے ہوئے عملاً بھی قرآن کریم کی تمام آیات جہاد و قتال کو منسوخ قرار دے کر تشریعی نبی ہونے کا ثبوت دیتے ہیں۔ لیکن جس دور میں وہ جہاد کو فرض کہتے ہیں کیا مرزا صاحب خود عملی طور پر بھی اس پر عمل پیرا رہے۔ اس کا جواب ہمیں انگریز لیفٹیننٹ گورنر کے نام چٹھی سے مل جاتا ہے، وہ اس درخواست میں اپنی اصل حقیقت کو اس طرح واشگاف الفاظ میں ظاہر کرتے ہیں۔

---------

[At this stage Mr. Chairman vacated the Chair which was occupied by (Dr. Mrs. Ashraf Khatoon Abbasi)]

(اس مرحلہ پر مسٹر چیئرمین نے کرسی صدارت چھوڑ دی جسے ڈاکٹر مسز اشرف خاتون عباسی نے سنبھال لیا)

مولوی مفتی محمود: ’’میں ابتدائی عمر سے اس وقت تک (گویا ١٨٣٩ء سے لے کر جو ١٨٥٧ء سے بہت پہلے کا زمانہ ہے) جو قریباً ساٹھ برس کی عمر تک پہنچا ہوں۔ اپنی زبان اور قلم سے اس اہم کام میں مشغول ہوں۔ تا کہ مسلمانوں کے دلوں کو گورنمنٹ انگلشیہ کی سچی محبت اور خیر خواہی اور ہمدردی کی طرف پھیروں اور ان کے بعض کم فہموں کے دلوں سے غلط خیال جہاد وغیرہ کو دور کروں جو ان کی دلی صفائی اور مخلصانہ تعلقات سے روکتے ہیں۔‘‘

(تبلیغ رسالت ج ٦ ص ١٠، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ١١)

انگریزی سلطنت کی وجہ سے بعض مجبوریوں کی بناء پر اتنی شدومد سے جہاد کی مخالفت کی۔ لیکن اگر حقیقت یہی ہوتی تو مرزا صاحب کی ممانعت جہاد اور اطاعت انگریز کی تبلیغ صرف برٹش انڈیا تک محدود ہوتی۔ مگر یہاں تو ایسے کھلے شواہد اور قطعی ثبوت موجود ہیں کہ مرزا صاحب کی تحریک و تبلیغ کا اصل محرک نہ صرف انڈیا بلکہ پورے عالم اسلام اور دنیا بھر کے مسلمانوں کے دلوں سے جذبہ جہاد نکالنا اور انگریزوں کے لئے یا کسی 2031 بھی کافر سلطنت کے لئے راستہ ہموار کرنا تھا۔ تا کہ اس

٧٧

صفحہ ١٩٥٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

طرح ایک نئی امت اور نئے نبی کے نام سے پوری ملت مسلمہ اور امت محمدیہ کا سارا نظام درہم برہم کیا جائے اور پورے عالم اسلام کو انگریز یا ان کے حلیفوں کے قدموں میں لا گرایا جائے۔ اس لئے مرزا صاحب نے مخالفت جہاد کی تبلیغ صرف برٹش انڈیا تک محدود نہ رکھی اور نہ صرف اردو لٹریچر پر اکتفا کیا بلکہ فارسی، عربی، انگریزی میں لٹریچر لکھ لکھ کر بلاد روم، شام، مصر، ایران، افغانستان، بخارا یہاں تک کہ مکہ اور مدینہ تک پھیلاتا رہا۔ تا کہ بخارا میں اگر زار روس کے لشکر آئیں تو کوئی مسلمان ہاتھ مزاحمت کے لئے نہ اٹھے۔ فرانس، تیونس، الجزائر اور مراکش پر لشکر کشی ہو تو مسلمان جہاد کو حرام سمجھیں۔ عرب اور مصری دل و جان سے انگریز کے مطیع بن جائیں اور ترک و افغان کی غیرت ایمانی ہمیشہ کے لئے جذبہ جہاد سے خالی ہو کر سرد پڑ جائے۔

اس سلسلہ میں مرزا صاحب کے اعترافات دیکھئے۔ وہ لکھتے ہیں: ”میں نے نہ صرف اس قدر کام کیا کہ برٹش انڈیا کے مسلمانوں کو گورنمنٹ انگلینڈ کی سچی اطاعت کی طرف جھکایا بلکہ بہت سی کتابیں عربی اور فارسی اور اردو میں تالیف کر کے ممالک اسلامیہ کے لوگوں کو بھی مطیع کیا ۔“

(تبلیغ رسالت ج ٧ ص ١٠، بنام لیفٹیننٹ گورنر ، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ١١)

اسی کتاب میں لکھتے ہیں: ”ان نادان مسلمانوں کے پوشیدہ خیالات کے برخلاف دل و جان سے گورنمنٹ انگلشیہ کی شکر گزاری کے لئے ہزار ہا اشتہارات شائع کئے گئے اور ایسی کتابیں بلاد عرب و شام وغیرہ تک پہنچا دی گئیں۔“

(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ١٥)

”اس کے بعد میں نے عربی اور فارسی میں بعض رسائل تالیف کر کے بلاد شام و روم اور مصر اور بخارا وغیرہ کے اطراف روانہ کئے اور ان میں اس گورنمنٹ کے اوصاف حمیدہ درج کئے اور بخوبی ظاہر کیا کہ اس محسن گورنمنٹ کے ساتھ جہاد حرام ہے اور بعض شریف عربوں کو وہ 2032 کتابیں دے دے کر بلاد شام و روم کی طرف روانہ کیا۔ بعض عربوں کو مکہ اور مدینہ کی طرف بھیجا گیا۔ بعض بلاد فارس کی طرف بھیجے گئے اور اسی طرح مصر میں بھی کتابیں بھیجی گئیں اور یہ ہزار ہا روپیہ کا خرچ تھا جو محض نیک نیتی سے کیا گیا۔“

(تبلیغ رسالت ج ٢ ص ١٦٦، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ١٢٧)

اور یہ سب کچھ مرزا صاحب نے اس لئے کیا کہ: ”تاکہ کج طبیعتیں ان نصیحتوں سے راہ راست پر آجائیں اور وہ طبیعتیں اس گورنمنٹ کا شکر کرنے اور اس کی فرمانبرداری کے لئے صلاحیت پیدا کریں اور مفسدوں کی بلائیں کم ہو جائیں ۔“

(نور الحق حصہ اوّل ص ٣٠، خزائن ج ٨ ص ٤١)

(تبلیغ رسالت ج ٧ ص ١٧) میں اس ساری جدوجہد کا حاصل مرزا صاحب کے الفاظ میں یہ ہے کہ: ”میں یقین رکھتا ہوں کہ جیسے جیسے میرے مرید بڑھیں گے ویسے ویسے مسئلہ جہاد کے

٧٨

صفحہ ١٩٥٧

AL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

طرح ایک نئی امت اور نئے نبی کے نام سے پوری ملت مسلمہ کیا جائے اور پورے عالم اسلام کو انگریزوں کے حلیفوں کے ق مرزا صاحب نے مخالفت جہاد کی تبلیغ صرف برٹش انڈیا تک م اکتفا کیا بلکہ فارسی ، عربی ، انگریزی میں لٹریچر لکھ لکھ کر بلاد بخارا یہاں تک کہ مکہ اور مدینہ تک پھیلاتا رہا۔ تا کہ بخارا میں مسلمان ہاتھ مزاحمت کے لئے نہ اٹھائیں۔ فرانس، تیونس، الجزائ جہاد کو حرام سمجھیں۔ عرب اور مصری دل و جان سے انگریز کے غیرت ایمانی ہمیشہ کے لئے جذبہ جہاد سے خالی ہو کر سرد پڑ جا

اس سلسلہ میں مرزا صاحب کے اعترافات دیکھی اس قدر کام کیا کہ برٹش انڈیا کے مسلمانوں کو گورنمنٹ انگلیش بہت سی کتابیں عربی اور فارسی اور اردو میں تالیف کر کے ممالک

(تبلیغ رسالت ج ٦ ص ١٠، بنام لی

اسی کتاب میں لکھتے ہیں: ”ان نادان مسلمانوں وجان سے گورنمنٹ انگلیشیہ کی شکر گزاری کے لئے ہزار ہا اشتہا بلاد عرب و شام وغیرہ تک پہنچا دی گئیں۔‘‘

”اس کے بعد میں نے عربی اور فارسی میں بعض ر مصر اور بخارا وغیرہ کے اطراف روانہ کئے اور ان میں اس گورن بخوبی ظاہر کیا کہ اس محسن گورنمنٹ کے ساتھ جہاد حرام ہے اور دے دے کر بلاد شام و روم کی طرف روانہ کیا۔ بعض عربوں ک بلادِ فارس کی طرف بھیجے گئے اور اسی طرح مصر میں بھی کتابیں جوش نیک نیتی سے کیا گیا۔‘‘

(تبلیغ رسالت ج

اور یہ سب کچھ مرزا صاحب نے اس لئے کیا کہ راہِ راست پر آ جائیں اور وہ طبیعتیں اس گورنمنٹ کا شکر کر صلاحیت پیدا کریں اور مفسدوں کی بلائیں کم ہو جائیں۔‘‘ ( (تبلیغ رسالت ج ٧ ص ١٧) میں اس ساری جدوجہ یہ ہے کہ : ”میں یقین رکھتا ہوں کہ جیسے جیسے میرے مرید

٧٨

1957 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

معتقد کم ہوتے جائیں گے۔ کیونکہ مجھے مسیح اور مہدی مان لینا ہی مسئلہ جہاد کا انکار کرنا ہے۔‘‘

(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ١٩)

گورنمنٹ انگریزی اور جہاد (ضمیمہ ٧) میں لکھتے ہیں: ”ہر ایک شخص جو میری بیعت کرتا ہے اور مجھ کو مسیح موعود مانتا ہے اسی روز سے اس کو یہ عقیدہ رکھنا پڑتا ہے کہ اس زمانہ میں جہاد قطعی حرام ہے۔ کیونکہ مسیح آچکا خاص کر میری تعلیم کے لحاظ سے اس گورنمنٹ انگریزی کا سچا خیر خواہ اس کو بننا پڑتا ہے۔‘‘

(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ١٧)

یہ حقیقت کہ مرزائی تبلیغ و تلقین اور تمام کوششوں کے محرکات اور مقاصد کیا تھے۔ مرزائی مذہب کے بانی کے مذکورہ اقوال سے خود ظاہر ہو جاتی ہے۔ اس پر بھی اگر تاویل کے پردوں میں اس حقیقت کو چھپایا جاتا ہے تو آنکھیں کھولنے کے لئے حسب ذیل واقعات اور اعترافات کافی ہیں:

”کہ مرزا صاحب نہ صرف ہندوستان میں بلکہ آزاد اسلامی ممالک میں بھی کبھی کسی قسم کے جہاد کے روادار نہ تھے۔ افغانستان کے امیر امان اللہ خان کے عہد حکومت میں نعمت اللہ خان مرزائی اور عبداللطیف مرزائی کو علماء افغانستان کے متفقہ فتویٰ سے مرتد قرار دے کر قتل کر دیا گیا۔ اس قتل کے محرکات یہی تھے کہ یہ لوگ مبلغین کے پردہ میں جہاد کے خلاف تعلیم دیتے تھے اور یہ محض اس لئے کہ انگریزوں کا اقتدار چھا جائے۔ حالانکہ افغانستان میں جہاد اسلامی کی شرائط مکمل موجود تھیں۔‘‘

اس سلسلہ میں مرزا بشیر الدین محمود احمد کا خطبہ جمعہ مندرجہ الفضل مورخہ ٦؍اگست ١٩٣٥ء ملاحظہ کیجئے: ”عرصہ دراز کے بعد اتفاقاً ایک لائبریری میں ایک کتاب ملی جو چھپ کر نایاب بھی ہو گئی تھی۔ اس کتاب کا مصنف ایک اطالوی انجینئر جو افغانستان میں ذمہ دار عہدہ پر فائز تھا۔ وہ لکھتا ہے کہ صاحبزادہ عبداللطیف (قادیانی) کو اس لئے شہید کیا گیا کہ وہ جہاد کے خلاف تعلیم دیتے تھے تو حکومت افغانستان کو خطرہ لاحق ہو گیا تھا کہ اس سے افغانوں کا جذبہ حریت کمزور ہو جائے گا اور ان پر انگریزوں کا اقتدار چھا جائے گا۔ ایسے معتبر راوی کی روایت سے یہ امر پایہ ثبوت تک پہنچ جاتا ہے کہ اگر صاحبزادہ عبداللطیف خاموشی سے بیٹھے رہتے اور جہاد کے خلاف کوئی لفظ بھی نہ کہتے تو حکومت افغانستان کو انہیں شہید کرنے کی ضرورت محسوس نہ ہوتی۔‘‘

اخبار الفضل بحوالہ امان افغان مورخہ ٣؍ مارچ ١٩٢٥ء نے افغانستان گورنمنٹ کے وزیر داخلہ کے حوالہ سے مندرجہ ذیل بیان نقل کیا: ”کابل کے دو اشخاص ملا عبدالحلیم و ملا نور علی دکاندار قادیانی عقائد کے گرویدہ ہو چکے تھے اور لوگوں کو اس عقیدہ کی تلقین کر کے انہیں راہ سے بھٹکا رہے تھے۔ ان کے خلاف مدت سے ایک اور دعویٰ دائر ہو چکا تھا اور مملکت افغانیہ کے مصالح

٧٩

صفحہ ١٩٥٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

کے خلاف غیر ملکی لوگوں کے سازشی خطوط ان کے قبضے سے 2034 پائے گئے جن سے پایا جاتا ہے کہ وہ افغانستان کے دشمنوں کے ہاتھ بک چکے تھے۔“

خلیفہ قادیان اپنے ایک خطبہ جمعہ مندرجہ اخبار الفضل مورخہ یکم نومبر 1934ء میں اعتراف کرتا ہے کہ نہ صرف مسلم ممالک بلکہ غیر مسلم ممالک اور اقوام بھی مرزائیوں کو آلہ کار سمجھتے تھے۔ دنیا ہمیں انگریزوں کا ایجنٹ سمجھتی ہے۔ چنانچہ جب قبرص میں احمدیہ عمارت کی افتتاح کی تقریب میں ایک جرمن انگریز نے شمولیت کی تو حکومت نے اس سے جواب طلب کیا کہ کیوں تم ایسی جماعت کی کسی تقریب میں شامل ہوئے جو انگریزوں کی ایجنٹ ہے۔

اسلامی جہاد منسوخ، مگر مرزائی جہاد جائز

٤...... یہ امر حیرت اور تعجب کا باعث ہے کہ ایک طرف تو قادیانیوں نے جہاد کو اتنی شدومد سے منسوخ اور حرام قرار دیا۔ مگر دوسری طرف انگریزوں کی فوج میں شامل ہو کر مسلمانوں کے ساتھ لڑنا نہ صرف ان کے لئے جائز بلکہ ضروری تھا۔ گویا ممانعت جہاد کی یہ ساری جدوجہد صرف انگریزوں اور کافروں کے ساتھ مسلمانوں کو جہاد سے روکنے کے لئے تھی کہ وہ نہ تو اپنی عزت وناموس اور نہ ملک وملت کی بقاء کے لئے لڑیں۔ نہ اپنے دین، اسلامی شعائر معابد ومساجد کے لئے علم جہاد بلند کریں۔ لیکن انگریزی اقتدار کے فروغ وتحفظ کے لئے ان کی فوجوں میں شامل ہو کر بلاد اسلامیہ پر بمباری ایک مقدس فریضہ تھا۔ مرزا محمود احمد نے کہا: ”صداقت کے قیام کے لئے گورنمنٹ کی فوج میں شامل ہو کر ان ظالمانہ روکوں کو دفع کرنے کے لئے گورنمنٹ کی مدد احمدیوں کا مذہبی فرض ہے۔“

(خطبہ مرزا محمود احمد الفضل مورخہ 2 مئی 1919ء)

قادیانی جماعت نے لارڈ ریڈنگ کو اپنے ایڈریس میں بھی اپنی جنگی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کابل سے جنگ میں ہماری جماعت نے علاوہ ہر قسم کی مدد کے ایک ڈبل کمپنی اور 2035 ایک ہزار افراد کے نام بھرتی کے لئے پیش کئے اور ہمارے موجودہ امام کے چھوٹے بھائی چھ ماہ تک ٹرانسپورٹ کور میں رضا کارانہ کام کرتے رہے۔

(الفضل مورخہ 14 جولائی 1931ء)

ایک اور خطبہ جمعہ میں مرزا محمود احمد نے کہا کہ: ”شاید کابل کے ساتھ ہمیں کسی وقت جہاد ہی کرنا پڑتا (آگے چل کر کہا) کہ پس نہیں معلوم کہ ہمیں کب خدا کی طرف سے دنیا کا چارج سپرد کیا جاتا ہے۔ ہمیں اپنی طرف سے تیار رہنا چاہئے کہ دنیا کو سنبھال سکیں۔“

(الفضل مورخہ 27 فروری، 2 مارچ 1922ء)

٨٠

صفحہ ١٩٥٩

1959 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

امن و آشتی اور اسلامی نظریہ جہاد کو ملاؤں کے وحشیانہ اور جاہلانہ بیہودہ خیالات قرار دینے والے مرزائیوں کے حقیقی خدوخال مرزا محمود احمد خلیفہ ثانی کے ان الفاظ سے اور بھی عیاں ہو جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ: ”اب زمانہ بدل گیا ہے۔ دیکھو پہلے جو مسیح (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) آیا تھا اسے دشمنوں نے صلیب پر چڑھایا۔ مگر اب مسیح اس لئے آیا ہے کہ اپنے مخالفین کو موت کے گھاٹ اتار دے۔“

(عرفان الٰہی ص ٩٢،٩٣)

”پہلے عیسیٰ کو تو یہودیوں نے صلیب پر لٹکایا۔ مگر اب (مرزا غلام احمد )“ اس زمانے کے یہودی صفت لوگوں کو سولی پر لٹکائیں گے۔“

(تقدیر الٰہی ص ٢٩، مصنفہ مرزا محمود احمد )

اس سے اندازہ ہوا کہ اسلام کے نظریہ جہاد کو منسوخ قرار دینے اور سارے عالم اسلام میں اس کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے کے بعد اپنے لئے اور سامراجی مقاصد کے لئے جہاد اور قتال کو جائز قرار دینے کے لئے کیا کچھ نہیں کیا جا رہا تھا۔ ان تمام باتوں کو سامنے رکھ کر ہم اس نتیجہ پر پہنچ جاتے ہیں کہ مرزائیوں کے نزدیک مسلمانوں کا کافروں یا خود ان کے خلاف لڑنا تو ہمیشہ کے لئے حرام تھا، مگر عیسائیت کے جھنڈے تلے یا کسی کافر حکومت کے مفاد میں یا خود مرزائیوں کے لئے جہاد اور قتال اور لڑنا لڑانا سب جائز ہے۔

2036 مرزا غلام احمد اور مرزائیوں کی تبلیغی خدمات کی حقیقت

افغانستان اور دیگر اسلامی ممالک میں قادیانیوں کے تبلیغ کے نام پر استعماری سرگرمیوں سے ان کے تبلیغ اسلام کی خدمات کی قلعی تو کھل جاتی ہے، مگر بہت سے لوگ مرزا صاحب کی خدمات کے سلسلہ میں ان کے مدافعت اسلام میں مناظرانہ بحث و مباحثہ اور علمی کوششوں کا ذکر کرتے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ انہوں نے آریہ سماج اور عیسائیوں سے اسلام کے دفاع میں بڑے معرکے سر کئے اور اب بھی قادیانی دنیا میں اسلام کی تبلیغ کرتے پھرتے ہیں۔ اس لئے ان کے ساتھ غیر مسلموں جیسا سلوک نہیں کرنا چاہئے۔ اس لئے ہم اس غلط فہمی کو جس میں بالعموم تعلیم یافتہ افراد بھی مبتلا ہوتے ہیں۔ مرزا صاحب کی ایک دو عبارتوں ہی سے دور کرنا چاہتے ہیں جو بانی قادیانیت کے تبلیغی مقاصد اور نیت کو خود ہی بڑی خوبی سے عیاں کر رہی ہیں کہ انہوں نے عیسائی مشنریوں کی اشتعال انگیز تحریروں اور اسلام پر ان کے جارحانہ حملوں سے مسلمانوں کے اندر انگریزوں کے خلاف پرجوش ردعمل کا خطرہ محسوس کیا تو اس عام جوش کو دبانے کے لئے حکمت عملی کی بناء پر عیسائیوں کا کسی قدر سختی سے جواب دیا اور سخت کتابیں عیسائیوں کے خلاف لکھیں۔

٨١

ONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

کے خلاف غیر ملکی لوگوں کے سازشی خطوط ان کے قبضے سے 2034 پائے وہ افغانستان کے دشمنوں کے ہاتھ بک چکے تھے۔“

خلیفہ قادیان اپنے ایک خطبہ جمعہ مندرجہ اخبار الفضل اعتراف کرتا ہے کہ نہ صرف مسلم ممالک بلکہ غیر مسلم ممالک اور اقوا تھے۔ دنیا ہمیں انگریزوں کا ایجنٹ سمجھتی ہے۔ چنانچہ جب قبرص م تقریب میں ایک جرمن انگریز نے شمولیت کی تو حکومت نے اس ک ایسی جماعت کی کسی تقریب میں شامل ہوئے جو انگریزوں کی ایجنٹ

اسلامی جہاد منسوخ، مگر مرزائی جہا

سے منسوخ اور حرام قرار دیا۔ مگر دوسری طرف انگریزوں کی فو ساتھ لڑنا نہ صرف ان کے لئے جائز بلکہ ضروری تھا۔ گویا ممانعت انگریزوں اور کافروں کے ساتھ مسلمانوں کو جہاد سے روکنے کے و ناموس اور نہ ملک وملت کی بقاء کے لئے لڑیں۔ نہ اپنے دین و لئے علم جہاد بلند کریں۔ لیکن انگریزی اقتدار کے فروغ و تحفظ کے ہو کر بلاد اسلامیہ پر بمباری ایک مقدس فریضہ تھا۔ مرزا محمود احمد لئے گورنمنٹ کی فوج میں شامل ہو کر ان ظالمانہ روکوں کو دفع ک احمدیوں کا مذہبی فرض ہے۔“

(خطبہ جم

قادیانی جماعت نے لارڈ ریڈنگ کو اپنے ایڈریس م کرتے ہوئے کہا کہ کابل سے جنگ میں ہماری جماعت نے حکو اور 2035 ایک ہزار افراد کے نام بھرتی کے لئے پیش کئے اور ہمار چھ ماہ تک ٹرانسپورٹ کور میں رضا کارانہ کام کرتے رہے۔

ایک اور خطبہ جمعہ میں مرزا محمود احمد نے کہا کہ: ”شر جہاد ہی کرنا پڑتا (آگے چل کر کہا) کہ پس نہیں معلوم کہ ہمیں کس سپرد کیا جاتا ہے۔ ہمیں اپنی طرف سے تیار رہنا چاہئے کہ دنیا کو س

(الفض

٨٠

صفحہ ١٩٦٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

تریاق القلوب مطبوعہ ضیاء الاسلام قادیان ٢٨ اکتوبر ١٩٠٢ء ضمیمہ ٣ بعنوان گورنمنٹ عالیہ میں ایک عاجزانہ درخواست میں مرزا غلام احمد اپنے بیس برس کی تمام علمی اور تصنیفی کاوش کا خلاصہ مسلمانوں کے دل سے جہاد اور خونی مہدی وغیرہ کے معتقدات کا ازالہ اور انگریز کی وفاداری پیدا کرنے کے بعد لکھتے ہیں: ”اب میں اپنی گورنمنٹ محسنہ کی خدمت میں جرأت سے کہہ سکتا ہوں کہ یہ وہ بست سالہ میری خدمت ہے جس کی نظیر برٹش انڈیا میں ایک بھی اسلامی خاندان پیش 2037 نہیں کر سکتا۔ یہ بھی ظاہر ہے کہ اس قدر لمبے زمانے تک جو بیس برس کا زمانہ ہے۔ ایک مسلسل طور پر تعلیم مذکورہ بالا پر زور دیئے جانا کسی منافق اور خود غرض کا کام نہیں ہے۔ بلکہ ایسے شخص کا کام ہے۔ جس کے دل میں اس گورنمنٹ کی سچی خیر خواہی ہے۔ ہاں میں اس بات کا اقرار کرتا ہوں کہ میں نیک نیتی سے دوسرے مذاہب کے لوگوں سے مباحثہ بھی کیا کرتا ہوں...... جب کہ بعض پادریوں اور عیسائی مشنریوں کی تحریر نہایت سخت ہوگئی اور حد اعتدال سے بڑھ گئی اور بالخصوص پرچہ نور افشاں میں جو ایک عیسائی اخبار لدھیانہ سے نکلتا ہے نہایت گندی تحریریں شائع ہوئیں اور ان مؤلفین نے ہمارے نبی ﷺ کی نسبت نعوذ باللہ ایسے الفاظ استعمال کئے کہ یہ شخص ڈاکو تھا، چور تھا، زنا کار تھا اور صد ہا پرچوں میں یہ شائع کیا کہ یہ شخص اپنی لڑکی پر بدنیتی سے عاشق تھا اور باایں ہمہ جھوٹا تھا اور لوٹ مار اور خون کرنا اس کا کام تھا تو مجھے ایسی کتابوں اور اخباروں کے پڑھنے سے یہ اندیشہ دل میں پیدا ہوا کہ مبادا مسلمانوں کے دلوں پر جو ایک جوش رکھنے والی قوم ہے ان کلمات کا کوئی سخت اشتعال دینے والا اثر پیدا ہو، تب میں نے ان جوشوں کو ٹھنڈا کرنے کے لئے اپنی صحیح اور پاک نیت سے یہی مناسب سمجھا کہ اس عام جوش کو دبانے کے لئے حکمت عملی یہی ہے کہ ان تحریرات کا کسی قدر سختی سے جواب دیا جائے۔ تا کہ سریع الغضب انسانوں کے جوش فرو ہو جائیں اور ملک میں کوئی بدامنی پیدا نہ ہو تب میں نے بمقابل ایسی کتابوں کے جن میں کمال سختی سے بد زبانی کی گئی تھی۔ چند ایسی کتابیں لکھیں جن میں بالمقابل سختی تھی۔ کیونکہ میرے کانشنس نے قطعی طور پر مجھے فتویٰ دیا کہ اسلام میں جو بہت سے وحشیانہ جوش رکھنے والے آدمی موجود ہیں۔ ان کے غیظ و غضب کی آگ بجھانے کے لئے یہ طریق کافی ہوگا۔“

(تریاق القلوب ضمیمہ نمبر ٣ ص ب، ج ، خزائن ج ١٥ ص ٤٨٩، ٤٩٠)

2038 چند سطور کے بعد لکھتے ہیں: ”سو مجھ سے پادریوں کے مقابل پر جو کچھ وقوع میں آیا یہی ہے کہ حکمت عملی سے بعض وحشی مسلمانوں کو خوش کیا گیا اور میں دعوٰی سے کہتا ہوں کہ میں تمام مسلمانوں سے اوّل درجے کا خیر خواہ گورنمنٹ انگریز کا ہوں۔ کیونکہ مجھے تین باتوں نے خیر خواہی میں اوّل درجے

٨٢

صفحہ ١٩٦١

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

پر بنا دیا ہے۔ (١) اول والد مرحوم کے اثر نے ، (٢) دوسرا اس گورنمنٹ عالیہ کے احسانوں نے، (٣) تیسرے خدا تعالیٰ کے الہام نے۔“

(تریاق القلوب ضمیمہ نمبر ٣ ص ج ، خزائن ج ١٥ ص ٤٩١)

دوسری بڑی وجہ مرزا صاحب کے ایسے علمی تحریرات اور مناظروں کی یہ تھی کہ وہ ابتداً اس طرح عام مسلمانوں کی عقیدت اور توجّہات اپنی طرف مبذول کراتے چلے گئے اور ساتھ ہی ساتھ اسلام کے دفاع میں جن مسائل پر بحث کا بازار گرم کرتے۔ اسی میں آئندہ اپنے دعویٰ نبوت و رسالت کے لئے فضا بھی ہموار کرتے چلے گئے اور اسلام کی تبلیغ کے نام پر شکر میں لپٹی ہوئی زہر کی ایک مثال آریہ سماج سے معجزات انبیاء کے اثبات پر مرزا صاحب کا مناظرہ ہے۔ جس میں اثبات معجزات کے ضمن میں انہوں نے یہ بھی ثابت کرنا چاہا ہے کہ ہر دور اور ہر زمانہ میں معجزات کا صدور متوقع ہے۔ ظاہر ہے کہ معجزہ بنیادی طور پر نبوت و رسالت کا لازمہ ہے اور جب نبوت و رسالت حضور نبی کریم ﷺ پر ختم ہو چکی تھی تو اس کے لوازمات، معجزات، وحی وغیرہ کا ہر دور میں متوقع ہونا بحث و مناظروں کے پردہ میں اپنی جھوٹی نبوت کے پیش بندی نہ تھی ...... تو اور کیا چیز تھی؟

--------

2039 تصنیفی ذخیرہ

در حقیقت جب ہم مرزا غلام احمد کی ربع صدی کی تصنیفی و علمی زندگی پر نظر ڈالتے ہیں تو ان کی تمام تحریری اور تقریری سرگرمیوں کا محور صرف یہی ملتا ہے کہ انہوں نے چودہ سو سال کا ایک متفقہ، طے شدہ اجماعی ’مسئلہ حیات و نزول مسیح‘ کو نشانہ تحقیق بنا کر اپنی ساری جد و جہد وفات مسیح اور مسیح موعود ہونے کے دعویٰ پر مبذول کر دی۔ مسلمانوں کو عیسائیوں کے عقیدہ تثلیث اور ہندوؤں کے عقیدہ تناسخ کی طرح ظنی و برزخی اور مجازی گورکھ دھندوں میں الجھانا چاہا۔ جدلیات اور سفسطوں کا ایک نہ ختم ہونے والا چکر۔ یہ مرزا صاحب کے علمی و تبلیغی خدمات کا دوسرا نام ہے۔ اگر ان کی تصنیفات سے ان کے متضاد دعویٰ اور اس سے پیدا ہونے والے مسائل و مباحث نکال لئے جائیں تو جو کچھ بچتا ہے وہ جہاد کی حرمت اور حکومت انگلشیہ کی اطاعت دلی وفاداری اور اخلاص کی دعوت ہے۔ جب کہ ہندوستان پہلے سے ذہنی و فکری اور سیاسی انتشار کا مرکز بنا ہوا تھا اور عالم اسلام مغرب مادہ پرست تہذیب اور خود غرضانہ تمدن کی لپیٹ میں تھا۔ مگر ہمیں مرزا صاحب کی تصانیف اور ”علمی خدمات“ میں انبیاء کرام کے طریق دعوت کے مطابق کوئی بھی وقیع اور کام کی بات نہیں ملتی۔ سوائے اس کے کہ انہوں نے اپنے قلم اور زبان کے ذریعہ مذہبی اختلافات اور

٨٣

SEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

تریاق القلوب مطبوعہ ضیاء الاسلام قادیان عالیہ میں ایک عاجزانہ درخواست میں مرزا غلام احمد اپن خلاصہ مسلمانوں کے دل سے جہاد اور خونی مہدی و م وفاداری پیدا کرنے کے بعد لکھتے ہیں: ”اب میں اپنی ا کہہ سکتا ہوں کہ یہ وہ بست سالہ میری خدمت ہے جس خاندان پیش 2037 نہیں کر سکتا۔ یہ بھی ظاہر ہے کہ اس ہے۔ ایک مسلسل طور پر تعلیم مذکورہ بالا پر زور دیتے جانا ک ایسے شخص کا کام ہے۔ جس کے دل میں اس گورنمنٹ ا اقرار کرتا ہوں کہ میں نیک نیتی سے دوسرے مذاہب س جب کہ بعض پادریوں اور عیسائی مشنریوں کی تحریر نہایت بالخصوص پرچہ نور افشاں میں جو ایک عیسائی اخبار لدھیا ہوئیں اور ان مؤلفین نے ہمارے نبی ﷺ کی نسبت ن ڈاکو تھا، چور تھا، زنا کار تھا اور صدہا پرچوں میں یہ شائع ک اور با ایں ہمہ جھوٹا تھا اور لوٹ مار اور خون کرنا اس کا ک پڑھنے سے یہ اندیشہ دل میں پیدا ہوا کہ مبادا مسلمانو ہے ان کلمات کا کوئی سخت اشتعال دینے والا اثر پیدا ہو لئے اپنی صحیح اور پاک نیت سے یہی مناسب سمجھا کہ اس ہے کہ ان تحریرات کا کسی قدر سختی سے جواب دیا جائے ۔ جائیں اور ملک میں کوئی بدامنی پیدا نہ ہو تب میں نے سے بدزبانی کی گئی تھی۔ چند ایسی کتابیں لکھیں جن میں قطعی طور پر مجھے فتویٰ دیا کہ اسلام میں جو بہت سے وح کے غیظ و غضب کی آگ بجھانے کے لئے یہ طریق کا

(تریاق القلوب

2038 چند سطور کے بعد لکھتے ہیں: ”سو مجھ سے ہے کہ حکمت عملی سے بعض وحشی مسلمانوں کو خوش کیا گیا ا سے اوّل درجے کا خیر خواہ گورنمنٹ انگریز کا ہوں۔ کیونکہ

٨٢

صفحہ ١٩٦٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

دینی جھگڑوں کے شکار ہندوستانی مسلمانوں کو مزید ذہنی انتشار اور غیر ضروری مذہبی کشمکش میں ڈال کر ان کا شیرازۂ اتحاد پاش پاش کرنے کی کوشش کی۔

2040 ہے زندہ فقط وحدت افکار سے ملت وحدت ہو فنا جس سے وہ الہام بھی الحاد

(اقبال: ضرب کلیم)

2041 مرزائیت اور عالم اسلام

اسلامی وحدت ختم نبوت ہی سے استوار ہوتی ہے

”ہر ایسی مذہبی جماعت جو تاریخی طور پر اسلام سے وابستہ ہو لیکن اپنی بنیاد نئی نبوت پر رکھے اور بزعم خود اپنے الہامات پر اعتقاد نہ رکھنے والے تمام مسلمانوں کو کافر سمجھے۔ مسلمان اسے اسلام کی وحدت کے لئے خطرہ تصور کرے گا اور یہ اس لئے کہ اسلامی وحدت ختم نبوت ہی سے استوار ہوتی ہے۔ قادیانیت باطنی طور پر اسلام کی روح اور مقاصد کے لئے مہلک ہے۔ یہ اپنے اندر یہودیت کے اتنے عناصر رکھتی ہے۔ گویا یہ تحریک ہی یہودیت کی طرف رجوع ہے۔“

(حرف اقبال ص ١٢٢، ١٢٣)

2042 سامراجی عزائم کی تکمیل

سابقہ تفصیلات کے علاوہ مرزا غلام احمد اور اس کی جماعت نے پورے عالم اسلام کے ساتھ استعماری عزائم کی تکمیل کی خاطر جو رویہ اختیار کیا اس کی چند مثالوں پر اکتفا کرتے ہوئے فیصلہ خود ہر انصاف پسند شخص پر چھوڑا جاتا ہے کہ کیا ایسی جماعت سامراجی جماعت کہلانے کی مستحق نہیں اور یہ کہ اس نے پورے عالم اسلام کے اتحاد اور سلامتی کو برباد کرنے کی کوششیں کیں یا نہیں؟...... اور یہ کہ عالم اسلام کو نو آبادیاتی نظام میں جکڑنے اور انگریزوں کا غلام بنانے میں قادیانیوں کی تمام تر ہمدردیاں انگریزوں کے ساتھ تھیں یا نہیں؟ وہ انگریزوں کے فتح پر چراغاں مناتے خوشی کے جشن برپا کرتے انگریزی فوج کو ”ہماری فوج“ اور مقابلہ میں مسلمانوں کو دشمن کی فوج قرار دیتے۔

عراق و بغداد

جب انگریزوں نے عراق پر قبضہ کرنا چاہا اور اس غرض کے لئے لارڈ ہارڈنگ نے

٨٤

صفحہ ١٩٦٣

1963 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

عراق کا دورہ کیا۔ تو مشہور قادیانی اخبار الفضل نے لکھا۔ ”یقیناً اس نیک دل افسر (لارڈ ہارڈنگ) کا عراق میں جانا عمدہ نتائج پیدا کرے گا۔ ہم ان نتائج پر خوش ہیں۔ کیونکہ خدا ملک گیری اور جہان بانی اسی کے سپرد کرتا ہے جو اس کی مخلوق کی بہتری چاہتا ہے اور اسی کو زمین پر حکمران بناتا ہے جو اس کا اہل ہوتا ہے۔ پس ہم پھر کہتے ہیں کہ ہم خوش ہیں کیونکہ ہمارے خدا کی بات پوری ہوتی ہے اور ہمیں امید ہے کہ برٹش حکومت کی توسیع کے ساتھ ہمارے لئے اشاعت اسلام کا میدان بھی وسیع ہو جائے گا اور غیر مسلم کو مسلم بنانے کے ساتھ ہم مسلمان کو پھر مسلمان کریں گے۔“

(الفضل قادیان ج ٢، نمبر ١٠٣، مورخہ ١١؍ فروری ١٩١٥ء)

2043 پھر اس واقعے کے آٹھ سال بعد انگریزوں نے بغداد پر قبضہ کر لیا اور مسلمانوں کو شکست ہوئی تو الفضل نے لکھا: ”حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں کہ میں مہدی معہود ہوں اور گورنمنٹ برطانیہ میری وہ تلوار ہے جس کے مقابلہ میں ان علماء کی کچھ نہیں چلتی۔ اب غور کرنے کا مقام ہے کہ پھر ہم احمدیوں کو اس فتح سے کیوں خوشی نہ ہو۔ عراق عرب ہو یا شام ہم ہر جگہ اپنی تلوار کی چمک دیکھنا چاہتے ہیں۔“

(الفضل قادیان ج ٦ نمبر ٤٢، ٧؍ دسمبر ١٩١٨ء ص ٩)

یہ بات جسٹس منیر نے بھی لکھی ہے کہ : ”جب پہلی جنگ عظیم میں ترکوں کو شکست ہوگئی تھی۔ بغداد پر انگریزوں کا قبضہ ہو گیا تھا تو قادیان میں اس فتح پر جشن منایا گیا۔“

(تحقیقاتی رپورٹ ص ٢٠٨، ٢٠٩ مرتبہ جسٹس محمد منیر)

یہ بات بھی جسٹس منیر ہی نے لکھی کہ : ”بانی قادیانیت نے اسلامی ممالک کا انگریزی حکومت کے ساتھ توہین آمیز مقابلہ وموازنہ کیا۔“

(تحقیقاتی رپورٹ ص ٢٠٨، مرتبہ جسٹس محمد منیر)

فتح عراق کے بعد پہلا مرزائی گورنر

سقوط بغداد میں مرزائیوں کے اس انگریز نوازی کا اتنا حصہ تھا کہ جب انگریزوں نے عراق فتح کیا تو مرزا بشیر الدین محمود احمد کے سالے میجر حبیب اللہ شاہ کو ابتداً عراق پر اپنا گورنر نامزد کیا، میجر حبیب اللہ شاہ پہلی جنگ عظیم میں بھرتی ہو کر عراق گئے تھے اور وہاں فوج میں ڈاکٹر تھے۔

2044 مسئلہ فلسطین اور قیام اسرائیل سے لے کر اب تک

اخبار الفضل قادیان ج ٩ نمبر ٣٦ رقمطراز ہے: ”اگر یہودی اس لئے بیت المقدس کی تولیت کے مستحق نہیں ہیں کہ وہ جناب مسیح اور حضرت نبی کریم ﷺ کی رسالت ونبوت کے منکر

٨٧

SEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

دینی جھگڑوں کے شکار ہندوستانی مسلمانوں کو مزید دینی و کر ان کا شیرازہ اتحاد پاش پاش کرنے کی کوشش کی۔

2040 ہے زندہ فقط وحدت افکار سے ملت

2041 مرزائیت اور عا

اسلامی وحدت ختم نبوت ہی سے ”ہر ایسی مذہبی جماعت جو تاریخی طور پر اسلا رکھے اور بزعم خود اپنے الہامات پر اعتقاد نہ رکھنے والے اسلام کی وحدت کے لئے خطرہ تصور کرے گا اور یہ اس استوار ہوتی ہے۔ قادیانیت باطنی طور پر اسلام کی روح اندر یہودیت کے اتنے عناصر رکھتی ہے۔ گویا یہ تحریک ہی

2042 سامراجی عزائم

سابقہ تفصیلات کے علاوہ مرزا غلام احمد اور اس ساتھ استعماری عزائم کی تکمیل کی خاطر جو رویہ اختیار کیا اس خود ہر انصاف پسند شخص پر چھوڑا جاتا ہے کہ کیا ایسی جماعہ اور یہ کہ اس نے پورے عالم اسلام کے اتحاد اور سلامتی کو پر یہ کہ عالم اسلام کو نو آبادیاتی نظام میں جکڑنے اور انگریزوں ہمدردیاں انگریزوں کے ساتھ تھیں یا نہیں؟ وہ انگریزوں۔ کرتے انگریزی فوج کو ”ہماری فوج“ اور مقابلہ میں مسلما

عراق و بغدا

جب انگریزوں نے عراق پر قبضہ کرنا چاہا ا

٨٤

صفحہ ١٩٦٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

ہیں......اور عیسائی اس لئے غیر مستحق ہیں کہ انہوں نے خاتم النبیین کی رسالت کا انکار کر دیا تو یقیناً یقیناً غیر احمدی (مسلمان) بھی مستحق تولیت نہیں۔ اگر کہا جائے کہ حضرت مرزا صاحب کی نبوت ثابت نہیں تو سوال ہوگا، کن کے نزدیک؟ اگر جواب یہ ہے کہ نہ ماننے والوں کے نزدیک، تو اس طرح یہود کے نزدیک مسیح اور آنحضرت کی، اور مسیحوں کے نزدیک آنحضرت کی نبوت اور رسالت بھی ثابت نہیں۔ اگر منکرین کا فیصلہ ایک نبی کو غیر ٹھہراتا ہے تو کروڑوں عیسائیوں اور یہودیوں کا اجماع ہے کہ نعوذ باللہ کہ آنحضرت منجانب اللہ رسول نہ تھے۔ پس اگر غیر احمدی بھائیوں کا یہ اصل درست ہے کہ بیت المقدس کی تولیت کے مستحق تمام نبیوں کے ماننے والے ہی ہو سکتے ہیں تو ہم اعلان کرتے ہیں کہ احمدیوں کے سوا خدا کے تمام نبیوں کا مومن اور کوئی نہیں۔‘‘

صرف یہی نہیں بلکہ جب فلسطین کے مظلوم مسلمانوں کو ان کے صدیوں پرانے وطن سے نکال کر عربوں کے سینے میں مغربی سامراجیوں کے ہاتھوں اسرائیل کی شکل میں خنجر بھونکا جا رہا ہے تو قادیانی امت ایک پورے منصوبہ سے اس کام میں صیہونیت اور مغربی سامراجیت کے لئے فضا بنانے میں مصروف تھی ایک قادیانی مبلغ لکھتا ہے: ’’میں نے یہاں کے ایک اخبار میں اس پر آرٹیکل دیا ہے۔ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ وعدہ کی زمین ہے جو یہودیوں کو عطا کی گئی تھی۔ مگر نبیوں کے انکار اور 2045 بالآخر مسیح کی عداوت نے یہود کو ہمیشہ کے واسطے وہاں کی حکومت سے محروم کر دیا اور یہودیوں کو سزا کے طور حکومت رومیوں کو دے دی گئی اور بعد میں عیسائیوں کو ملی۔ پھر مسلمانوں کو، اب اگر مسلمانوں کے ہاتھ سے وہ زمین نکلی ہے تو پھر اس کا سبب تلاش کرنا چاہئے۔ کیا مسلمانوں نے کسی نبی کا انکار تو نہیں کیا۔ سلطنت برطانیہ کے انصاف اور امن اور آزادی مذہب کو ہم دیکھ چکے ہیں۔ آزما چکے ہیں اور آرام پا رہے ہیں۔ اس سے بہتر کوئی حکومت مسلمانوں کے لئے نہیں ہے۔ بیت المقدس کے متعلق جو میرا مضمون یہاں (انگلستان) کے اخبار میں شائع ہوا ہے۔ اس کا ذکر میں اوپر کر چکا ہوں۔ اس کے متعلق وزیر اعظم برطانیہ کی طرف سے ان کے سیکرٹری نے شکریہ کا خط لکھا ہے۔ فرماتے ہیں کہ مسٹر لائیڈ جارج اس مضمون کی بہت قدر کرتے ہیں۔‘‘ (الفضل قادیان ج ٥ نمبر ٧٥، مورخہ ١٩؍ مارچ ١٩١٨ء)

فلسطین کے قیام میں مرزائیوں کی عملی کوششوں کے ضمن میں مولوی جلال الدین شمس اور خود مرزا بشیر الدین محمود کی سرگرمیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ غالباً ١٩٢٦ء میں مولوی جلال الدین شمس مرزائی مبلغ کو شام بھیجا گیا۔ وہاں کے حریت پسندوں کو پتہ چلا تو قاتلانہ حملہ کیا۔ آخر تاج الدین الحسنی کی کابینہ نے شام بدر کر دیا۔ جلال الدین شمس فلسطین چلا آیا اور ١٩٢٨ء میں قادیانی مشن قائم کیا اور ١٩٣١ء تک برطانوی انتداب کی حفاظت میں عالمی استعمار کی خدمت بجالاتا

٨٦

صفحہ ١٩٦٥

1965 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

رہا۔ تاریخ احمدیت مؤلفہ دوست محمد شاہد قادیانی سے ثابت ہوتا ہے کہ ١٩١٧ء میں قیام فلسطین کے برطانوی منصوبے کے اعلان کے بعد مرزا بشیر الدین محمود نے ١٩٢٣ء میں فلسطین میں قیام کیا اور فلسطین کے ایکٹنگ گورنر سر کلٹن سے ساز باز کر کے ایک لائحہ عمل مرتب کیا اور جلال الدین شمس قادیانی کو دمشق میں یہودی مفادات کا نگران مقرر کیا گیا۔

(ماہنامہ الحق اکوڑہ خٹک ج٩ نمبر ٢ ص٢٤، ٢٥ ملخص نومبر، دسمبر ١٩٧٣ء، از تاریخ احمدیت مؤلفہ دوست محمد شاہد)

2046 ١٩٤٧ء تک قادیانی سرگرمیاں فلسطین میں پھلتی پھولتی رہیں۔ مولوی اللہ دتہ جالندھری، محمد سلیم چوہدری، محمد شریف، نور احمد، منیر رشید احمد چغتائی جیسے معروف قادیانی تبلیغ کے نام پر عربوں کو محکوم بنانے کی مذموم سازشیں کرتے رہے۔ ١٩٣٣ء میں مرزا محمود خلیفہ قادیان نے اپنے استعماری صہیونی مقاصد کی تکمیل کے لئے تحریک جدید کے نام سے ایک تحریک کی بنیاد رکھی اور جماعت سے سیاسی مقاصد کے لئے اس تحریک کے لئے بڑی رقم کا مطالبہ کیا۔ (تاریخ احمدیت ص ١٩) تو بیرون ہند قادیانی جماعتوں میں سب سے زیادہ حصہ فلسطین کی جماعت نے لیا اور تاریخ احمدیت کے مطابق فلسطین کے جماعت حیفہ اور مدرسہ احمدیہ کبابیر نے قربانی اور اخلاص کا نمونہ پیش کیا اور مرزا محمود نے اس کی تعریف کی (ایضاً ص ٣٠) بالآخر جب برطانوی وزیر خارجہ مسٹر بالفور کے ١٩١٧ء کے اعلان کے مطابق ١٩٤٨ء میں بڑی ہوشیاری سے اسرائیل کا قیام عمل میں آیا تو چن چن کر فلسطین کے اصل باشندوں کو نکال دیا گیا۔ مگر یہ سعادت صرف قادیانیوں کو نصیب ہوئی کہ وہ بلاخوف و جھجک وہاں رہیں اور انہیں کوئی تعرض نہ کیا جائے۔ خود مرزا بشیر الدین محمود نہایت فخریہ انداز میں اس کا اعتراف کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”عربی ممالک میں بے شک ہمیں اس قسم کی اہمیت حاصل نہیں جیسی ان (یورپی اور افریقی) ممالک میں ہے۔ پھر بھی ایک طرح کی اہمیت ہمیں حاصل ہوگئی ہے اور وہ یہ کہ فلسطین کے عین مرکز میں اگر مسلمان رہے تو وہ صرف احمدی ہیں۔“

(الفضل لاہور ص ٥، مورخہ ٣٠؍ اگست ١٩٥٠ء)

”مرزا محمود کی جماعت کو اس طرح کی اہمیت کیوں نہ ملتی۔ جب کہ مرزا محمود خلیفہ دوم نے فلسطین میں یہودی ریاست اسرائیل کے قیام و استحکام میں صہیونیوں سے بھر پور تعاون کیا۔“

(ماہنامہ الحق ج ٩ ش ٢، نومبر دسمبر ١٩٧٣ء، بحوالہ تاریخ احمدیت از دوست محمد شاہد قادیانی)

”اور جب عربوں کے قلب کا یہ رستا ہوا ناسور اسرائیل قائم ہوا۔ تمام مسلمان ریاستوں نے اس وقت سے اب تک اس کا مقاطعہ کیا۔ پاکستان کا کوئی 2047 سفارتی یا غیر سفارتی مشن وہاں نہیں۔ اس لئے کہ اسرائیل کا وجود بھی پاکستان کے نزدیک غلط ہے۔ پاکستان عربوں کا

٨٧

LY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

ہیں...... اور عیسائی اس لئے غیر مستحق ہیں کہ انہوں یقیناً غیر احمدی (مسلمان) بھی مستحق تولیت نہیں ثابت نہیں تو سوال ہو گا، کن کے نزدیک؟ اگر جو طرح یہود کے نزدیک مسیح اور آنحضرت کی، رسالت بھی ثابت نہیں۔ اگر منکرین کا فیصلہ ایک یہودیوں کا اجماع ہے کہ نعوذ باللہ کہ آنحضرت بھائیوں کا یہ اصل درست ہے کہ بیت المقدس کی ہو سکتے ہیں تو ہم اعلان کرتے ہیں کہ احمدیوں کے

صرف یہی نہیں بلکہ جب فلسطین کے نکال کر عربوں کے سینے میں مغربی سامراجیوں کے قادیانی امت ایک پورے منصوبے سے اس کام میں میں مصروف تھی ایک قادیانی مبلغ لکھتا ہے: ”میں ۔ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ وعدہ کی زمین ہے جو 2045 بالآخر مسیح کی عداوت نے یہود کو ہمیشہ کے واس کے طور حکومت، رومیوں کو دے دی گئی اور بعد میں کے ہاتھ سے وہ زمین نکلی ہے تو پھر اس کا سبب تلا نہیں کیا۔ سلطنت برطانیہ کے انصاف اور امن اور اور آرام پارہے ہیں۔ اس سے بہتر کوئی حکومت متعلق جو میرا مضمون یہاں (انگلستان) کے اخبار اس کے متعلق وزیر اعظم برطانیہ کی طرف سے ان مسٹر لائیڈ جارج اس مضمون کی بہت قدر کرتے ہیں

فلسطین کے قیام میں مرزائیوں کی عم اور خود مرزا بشیر الدین محمود کی سرگرمیاں کسی سے الدین شمس مرزائی مبلغ کو شام بھیجا گیا۔ وہاں پ تاج الدین الحسن کی کابینہ نے شام بدر کر دیا۔ قادیانی مشن کیا اور ١٩٣١ء تک برطانوی اقتدار

صفحہ ١٩٦٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

بڑا حمایتی ہے۔ مونٹ اکرل کہائیر وغیرہ میں ان کے استعماری اور جاسوسی سرگرمیوں کے اڈے قادیانی مشنریوں کے پردے میں قائم ہوئے۔ یہ تعجب اور حیرت کی بات نہیں تو کیا ہے؟ کافی عرصہ تک جس اسرائیل میں کوئی عیسائی مشن قائم نہیں ہوسکا اور بعد میں کچھ عیسائی مشنیں قائم ہوئیں۔ اسرائیل کے سب سے بڑی ربی شلوگورین نے آرچ بشپ آف کنٹربری، ڈاکٹر رمیزے اور کارڈینل پادری ہی نان سے خصوصی ملاقات کر کے ان پر زور دیا کہ اسرائیل میں عیسائی مشنریوں پر پابندی عائد کریں۔“

(ماہنامہ الحق اکوڑہ خٹک ج ٩ ش ٢ ص ٢٦، بحوالہ مارننگ نیوز کراچی، مورخہ ٢٦ ستمبر ١٩٧٣ء)

عیسائی مشنوں کے خلاف اسرائیل میں منظم تحریک چلی۔ عیسائی مراکز پر حملے ہوئے دکانوں اور بائبل کے نسخوں کا جلانا معمول بن گیا۔ مگر ١٩٢٨ء سے لے کر اب تک ٤٦ سال میں یہودیوں نے قادیانیوں کے خلاف کوئی آواز نہ اٹھائی، نہ ان کے لٹریچر کو روکا، نہ کوئی معمولی رکاوٹ ڈالی۔ جو اس کا واضح ثبوت ہے کہ وہ مرزائیوں کو اپنے مفادات کی خاطر تحفظ دے رہے ہیں۔

اسلام کی تبلیغ کے نام پر مسلمانوں اور پاکستان کے سب سے بڑے دشمن اسرائیل میں قادیانیوں کا مشن ایک لمحہ فکریہ نہیں تو اور کیا ہے؟ اس لمحہ فکریہ کا عربوں کے لئے مختلف وقفوں سے بے چینی اور اضطراب اور پاکستان سے سوءظن کا باعث بن جانا کوئی تعجب کی بات نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ مشن عرب ریاستوں کی جاسوسی، فوجی راز معلوم کرنے، عالم اسلام کے معاشی، اخلاقی حالات اور دینی جذبات معلوم کرنے عرب گوریلوں کے خلاف کارروائیاں کرنے اور عالمی استعمار اور یہودی استحصال کے لئے راہیں تلاش کرنے میں سرگرم عمل رہتے ہیں۔

2048 اسرائیل مشن

قیام اسرائیل سے لے کر اب تک مسٹر ظفر اللہ خان کی اس سلسلہ میں تگ و دو کسی سے مخفی نہیں۔ لیکن جب آپ وزیر خارجہ تھے تو کسی نے ربوہ کے ماتحت اس اسرائیل مشن کے بارہ میں سوال کیا تو آپ نے روایتی عیاری سے کام لے کر کہا کہ حکومت پاکستان کو تو اس کا علم نہیں۔ ع الاماں از حرف پہلو دار تو لیکن جب پچھلے دنوں اخبارات میں اسرائیل کے قادیانی مشن کا چرچا ہوا تو بڑی ہوشیاری سے کہا گیا کہ ایسے مشن ہیں مگر قادیان بھارت کے ماتحت ہیں۔ یہ ایک ایسا جھوٹ تھا کہ خود ربوہ کی تحریک جدید کے سالانہ بجٹ ٦٧۔١٩٦٦ء سے اس کی قلعی کھل جاتی ہے۔

٨٨

صفحہ ٨٨

MBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15 بڑا حمایتی ہے۔ مونٹ اکمل کمبائینر وغیرہ میں ان م قادیانی مشنریوں کے پردے میں قائم ہوئے۔ یہ عرصہ تک جس اسرائیل میں کوئی عیسائی مشن قائم ن ہوئیں۔ اسرائیل کے سب سے بڑی ربی شلومو ریمرے اور کارڈینل پادری ہی نان سے خصوصی م عیسائی مشنریوں پر پابندی عائد کریں۔"

(ماہنامہ الحق اکوڑہ خٹک ج ٩ ش ٢ ص ٦)

عیسائی مشنوں کے خلاف اسرائیل میں دکانوں اور بائبل کے نسخوں کا جلانا معمول بن گیا۔ یہودیوں نے قادیانیوں کے خلاف کوئی آواز نہ اٹھا ڈالی۔ جو اس کا واضح ثبوت ہے کہ وہ مرزائیوں کو اپنے اسلام کی تبلیغ کے نام پر مسلمانوں اور پا قادیانیوں کا مشن ایک لمحہ فکریہ نہیں تو اور کیا ہے؟ ا بے چینی اور اضطراب اور پاکستان سے سوء ظن کا با ہے کہ یہ مشن عرب ریاستوں کی جاسوسی، فوجی را حالات اور دینی جذبات معلوم کرنے عرب گو استعمار اور یہودی استحصال کے لئے راہیں تلاش کر

2048 اسرائیل

قیام اسرائیل سے لے کر اب تک مسل مخفی نہیں۔ لیکن جب آپ وزیر خارجہ تھے تو کسی میں سوال کیا تو آپ نے روایتی عیاری سے کام الاماں از حرف پہلو دار تو لیکن جب پچھلے دنوں اخ تو بڑی ہوشیاری سے کہا گیا کہ ایسے مشن ہیں مگر جھوٹ تھا کہ خود ربوہ کی تحریک جدید کے سالانہ بجد ٨٨

1967 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15 اس بجٹ کے ص ٢٥ پر مشہائے بیرون کے ضمن میں اسرائیل میں واقع حیفا کے قادیانی مشن کی تفصیل دی گئی۔ (جس کی فوٹوسٹیٹ کاپی منسلک ہے) ---------

2049 تفصیل آمد خرچ مشہائے بیرون

(١٢) حیفا (اسرائیلی پونڈ) ٢٧٦٠ روپے

آمد خرچ عملہ نمبر شمار نام مدات اصل اعداد بجٹ نمبر شمار نام مدات اصل اعداد بجٹ بجٹ ٦٣_٦٥ ٦٦_٦٧ ٦٣_٦٥ ٦٥_٦٦ ٦٦_٦٧ ١ چندہ تحریک جدید ١٣٥٠ ١٣٥٠ ١ مرکزی مبلغین ٩٧٢ ٩٧٢ ٩٧٢ ٢ عام حصہ آمد ١٦٠٠ ١٦٠٠ ٢ ٣ زکوٰۃ ١٠٠ ١٠٠ ٤ عید فنڈ میزان عملہ ٩٧٢ ٩٧٢ ٩٧٢ ٥ فطرانہ ١٢٥ ١٢٥ ٦ متفرق ١٢٥ ١٢٥ سائر میزان آمد ٣٣٠٠ ٣٣٠٠ نمبر شمار نام مدات اصل اعداد بجٹ بجٹ ٦٣_٦٥ ٦٥_٦٦ ٦٦_٦٧ ١ اشاعت لٹریچر ٤٠ ٤٠ ٢ تبلیغی مجالس وعیدین ٦٠ ٦٠ ٣ دورے وسفر خرچ ٤٠ ٤٠ ٤ مہمان نوازی ٥٠ ٥٠ ٥ کرایہ مکان، فرنیچر ...... ...... ٦ بجلی، پانی، گیس وغیرہ خلاصہ ٧ سٹیشنری ١٥ ١٥ آمد ٣٣٠٠ ٨ ڈاک، تار، ٹیلیفون ٥٠ ٥٠ خرچ ٣٣٠٠ ٩ کتب اخبارات ٥٠ ٥٠ خالص ...... ١٠ متفرق ٥٠ ٥٠ ١١ اخراجات دربارہ تبصرہ ٧٠٠ ٧٠٠ میزان سائر ١٠٥٥ ١٠٥٥ ١٠٥٥ کل خرچ عملہ و سائر ٢٠٢٧ ٢٠٢٧ ٢٠٢٧ روپیہ مرکزی ١٢٧٣ ١٢٧٣ ١٢٧٣ کل میزان ٣٣٠٠ ٣٣٠٠ ٣٣٠٠

احمدیہ تحریک جدید کے سالانہ بجٹ ٦٧۔١٩٦٦ء کے صفحہ ٢٥ کا عکس۔ ٨٩

صفحہ ١٩٦٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

2050 [At this stage Dr. Mrs. Ashraf Khatoon Abbasi vacated the Chair which was occupied by Mr. Chairman (Sahibzada Farooq Ali)]

(اس مرحلہ پر ڈاکٹر مسز اشرف خاتون عباسی نے کرسی صدارت چھوڑ دی جسے مسٹر چیئرمین صاحبزادہ فاروق علی نے سنبھال لیا)

مولوی مفتی محمود:

اسرائیل مشن

ہم یہاں اسرائیل میں قادیانی مشن کا ایک اور ثبوت مع اصل عبارت پیش کرتے ہیں۔ یہ اقتباس قادیانیوں ہی کی شائع کردہ کتاب ”اور فارن مشن“ مؤلفہ مبارک احمد ص ٧٨ شائع کردہ احمدیہ فارن مشن ربوہ سے لیا گیا ہے۔ مؤلف کتاب مرزا غلام احمد کے پوتا ہیں۔

”احمدیہ مشن اسرائیل میں حیفہ (ماؤنٹ کرمل) کے مقام پر واقع ہے اور وہاں ہماری ایک مسجد، ایک مشن ہاؤس، ایک لائبریری، ایک بک ڈپو اور ایک سکول موجود ہے۔ ہمارے مشن کی طرف سے ”البشریٰ“ کے نام سے ایک ماہانہ عربی رسالہ جاری ہے۔ جو تیس مختلف ممالک میں بھیجا جاتا ہے۔ مسیح موعود کی بہت سی تحریریں اس مشن نے عربی میں ترجمہ کی ہیں۔ فلسطین کے تقسیم ہونے سے یہ مشن کافی متاثر ہوا۔ چند مسلمان جو اس وقت اسرائیل میں موجود ہیں ہمارا مشن ان کی ہر ممکن خدمت کر رہا ہے اور مشن کی موجودگی سے ان کے حوصلے بلند ہیں۔ کچھ عرصہ قبل ہمارے مشنری کے لوگ حیفہ کے میئر سے ملے اور ان سے گفت و شنید کی، میئر نے وعدہ کیا کہ احمدیہ جماعت کے لئے کبابیر میں حیفہ کے قریب وہ ایک سکول بنانے کی اجازت دے دیں گے۔ یہ علاقہ ہماری جماعت کا مرکز اور گڑھ ہے۔ کچھ عرصہ بعد میئر صاحب ہماری مشنری دیکھنے کے لئے تشریف لائے۔ حیفہ کے چار معززین بھی ان کے ہمراہ تھے۔ ان کا پروقار استقبال کیا گیا۔ جس میں جماعت کے سرکردہ ممبر اور اسکول کے طالب علم بھی موجود تھے۔ ان کی آمد کے اعزاز میں ایک جلسہ بھی منعقد ہوا۔ جس میں انہیں سپاسنامہ پیش کیا گیا۔ واپسی سے پہلے میئر صاحب نے اپنے تاثرات مہمانوں کے رجسٹر میں بھی تحریر کئے۔ ہماری جماعت کے مؤثر ہونے کا ثبوت ایک چھوٹے سے مندرجہ ذیل واقعہ سے ہو سکتا ہے۔ ١٩٥٦ء میں جب ہمارے مبلغ چوہدری محمد 2051 شریف صاحب ربوہ پاکستان واپس تشریف لا رہے تھے اس وقت اسرائیل کے صدر سے

٩٠

صفحہ ١٩٦٩

1969 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

ہماری مشنری کو پیغام بھیجا کہ چوہدری صاحب روانگی سے پہلے صدر صاحب سے ملیں۔ موقع سے فائدہ اٹھا کر چوہدری صاحب نے ایک قرآن حکیم کا نسخہ جو جرمن زبان میں تھا صدر محترم کو پیش کیا۔ جس کو خلوص دل سے قبول کیا گیا۔ چوہدری صاحب کا صدر صاحب سے انٹرویو اسرائیل کے ریڈیو پر نشر کیا گیا اور ان کی ملاقات اخبارات میں جلی سرخیوں سے شائع کیا گیا۔

This substract has been taken from Page 79 of the fourth revised edition of the book styled as "Our Foreign Mission" written by Mirza Mubarak Ahmad son of Late Mirza Bashiruddin Mahmood Ahmad and Grandson of Mirza Ghulam Ahmad which published in 1965 by Ahmadiyya Muslim foreign Missions Rabwah, West Pakistan, and printed at Nusrat Art Press, Rabwah.

ISRAEL MISSION

The Ahmadiyya Mission in Israel is situated in Haifa at Mount Karmal. We have a mosque there, a Mission House, a library, a book depot, and a school. The mission also brings out a monthly, entitled Al- Bushra which is sent out to thirty different countries accessible through the medium of Arabic. Many works of the Promised Massih have been translated into Arabic through this mission.

In many ways this Ahmadiyya Mission has been deeply affected by the Partition of what formerly was called Palestine. The small number of Muslims left in Israel derive a great deal of strength from the presence of our mission which never misses a chance of being of service to them. Some time ago, our missionary had an interview with the Mayor of Haifa, when during the discussion on many

٩١

MBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

Mrs. Ashraf Khatoon Abbasi as occupied by Mr. Chairman

(اس مرحلہ پر ڈاکٹر مسز اشرف خاتون چیئرمین صاحبزادہ فاروق علی نے سنبھال لیا)

مولوی مفتی محمود:

اسرائیل

ہم یہاں اسرائیل میں قادیانی مشن ہیں۔ یہ اقتباس قادیانیوں ہی کی شائع کردہ کتا شائع کردہ احمدیہ فارن مشن ربوہ سے لیا گیا ہے ۔

"احمدیہ مشن اسرائیل میں حیفہ (ماؤن ایک مسجد، ایک مشن ہاؤس، ایک لائبریری، ایک کی طرف سے "البشریٰ" کے نام سے ایک ماہان بھیجا جاتا ہے۔ مسیح موعود کی بہت سی تحریریں اس م ہونے سے یہ مشن کافی متاثر ہوا۔ چند مسلمان ج کی ہر ممکن خدمت کر رہا ہے اور مشن کی موجودگی مشنری کے لوگ حیفہ کے میئر سے ملے اور ان جماعت کے لئے کبابیر میں حیفہ کے قریب وہ علاقہ ہماری جماعت کا مرکز اور گڑھ ہے۔ کچھ ع تشریف لائے۔ حیفہ کے چار معززین بھی ان میں جماعت کے سرکردہ ممبر اور اسکول کے طال ایک جلسہ بھی منعقد ہوا۔ جس میں انہیں سپاسن اپنے تاثرات مہمانوں کے رجسٹر میں بھی تحریر ک چھوٹے سے مندرجہ ذیل واقعہ سے ہو سکتا ہ 2051 شریف صاحب ربوہ پاکستان واپس تشری

صفحہ ٩٢

1970 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

points, he offered to build for us a school at Kababeer, a village near Haifa, where we have strong and 2052 well- established Ahmadiyya community of Palestinian Arabs. He also promised that he would come to see our missionary at Kababeer, which he did later, accompanied by four notables from Haifa. He was duly received by members of the community, and by the students of our school, a meeting having been held to welcome the guests. Before this return he entered his inpressions in the Visitors' Book.

Another small incident, which would give readers some idea of the position our mission in Israel occupies, is that in 1956 when our missionary Choudhry Muhammad Sharif, returned to the Headquarters of the movement in Pakistan, the President of Israel sent word that he (our missionary) should she him before embarking on the journey back; Choudhry Muhammad Sharif utilized the opportunity to present a copy of the German translation of the Holy Quran to the President, which he gladly accepted. This interview and what transpired at it was widely reported in the Israeli Press, and a brief account was also broadcast on the radio. (Our Foreign Missions) (by Mirza Mubarak Ahmad)

یہودیوں اور قادیانیوں کے نظریاتی مماثلت اور اشتراک کا تجزیہ کرتے ہوئے آج سے ٢٨ سال قبل علامہ اقبال نے کہا تھا کہ ”مرزائیت اپنے اندر یہودیت کے اتنے عناصر رکھتی ہیں کہ گویا یہ تحریک ہی یہودیت کی طرف رجوع ہے۔“

(حرف اقبال ص ١٢٣)

مگر ١٩٣٦ء میں تو یہ ایک نظری بحث تھی۔ جس پر رائے زنی کی گنجائش ہو سکتی تھی۔ لیکن

1971 NATIO

ں یعنی قادیانیت اور صیہونت کا

شتراک

کے لئے ہمیں زیادہ غور و فکر کی نہیں اور صیہونی استعمار بھی ہوا ہے۔ دونوں کے مقاصد اور اور اسرائیل کے باہمی گہرے ئل اپنا سب سے بڑا دشمن کسی ریان نے اگست ١٩٦٧ء میں بن گوریان نے کہا: ”پاکستان کو کسی طرح بھی پاکستان کے سے غفلت کرنی چاہئے ۔“ کر کرتے ہوئے کہا) کہ: ”لہٰذا کا فکری سرمایہ اور جنگی قوت ذا ہندوستان سے گہری دوستی نے جو ہندوستان، پاکستان کے سے بین الاقوامی دائروں کے ن کی مدد کرنی اور پاکستان پر کے ساتھ اور خفیہ منصوبوں کے

(٢٤ مئی ١٩٧٣ء، ٣ ستمبر ١٩٧٣ء)

قوت کا ذکر کیا ہے۔ وہ کون ے مل جاتا ہے۔ وہ کہتے ہیں: ۔ یہی وہ بنیاد ہے جس نے عالمی یہودیت کے لئے شدید

صفحہ ١٩٧١

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

بعد میں علم ونظر کے دائرہ سے لے کر سعی وعمل کے میدان میں دونوں یعنی قادیانیت اور صیہونیت کا باہمی اشتراک اور تماثل ایک بدیہی حقیقت کی شکل میں سامنے آیا۔

2053 مرزائیت اور یہودیت کا باہمی اشتراک

یہ باہمی ربط وتعلق کن مشترکہ مقاصد پر مبنی ہے۔ اس کے لئے ہمیں زیادہ غور وفکر کی ضرورت نہیں۔ انگریزی سامراج کی اسلام دشمنی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں اور صہیونی استعمار بھی مغرب کا آلہ کار بن کر مسلمان بالخصوص عربوں کے لئے ایک چیلنج بنا ہوا ہے۔ دونوں کے مقاصد اور وفاداریاں اسلام سے عداوت پاکستان دشمنی کا منطقی نتیجہ قادیانیوں اور اسرائیل کے باہمی گہرے دوستانہ تعلقات کی شکل میں برآمد ہوا۔ عالم عرب کے بعد اگر اسرائیل اپنا سب سے بڑا دشمن کسی ملک کو سمجھتا تھا تو وہ پاکستان ہی تھا۔ اسرائیل کے بانی ڈیوڈ بن گوریان نے اگست ١٩٦٧ء میں سارابون یونیورسٹی پیرس میں جو تقریر کی وہ اس کا واضح ثبوت ہے۔ بن گوریان نے کہا: ”پاکستان دراصل ہمارا آئیڈیالوجیکل چیلنج ہے۔ بین الاقوامی، صہیونی تحریک کو کسی طرح بھی پاکستان کے بارے میں غلط فہمی کا شکار نہیں رہنا چاہئے اور نہ ہی پاکستان کے خطرہ سے غفلت کرنی چاہئے۔“

(آگے چل کر پاکستان اور عربوں کے باہمی رشتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا) کہ: ”لہٰذا ہمیں پاکستان کے خلاف جلد سے جلد قدم اٹھانا چاہئے۔ پاکستان کا فکری سرمایہ اور جنگی قوت ہمارے لئے آگے چل کر سخت مصیبت کا باعث بن سکتا ہے۔ لہٰذا ہندوستان سے گہری دوستی ضروری ہے۔ بلکہ ہمیں اس تاریخی عناد ونفرت سے فائدہ اٹھانا چاہئے جو ہندوستان، پاکستان کے خلاف رکھتا ہے۔ یہ تاریخی عناد ہمارا سرمایہ ہے۔ ہمیں پوری قوت سے بین الاقوامی دائروں کے ذریعہ سے اور بڑی طاقتوں میں اپنے نفوذ سے کام لے کر ہندوستان کی مدد کرنی اور پاکستان پر بھر پور ضرب لگانے کا انتظام کرنا چاہئے۔ یہ کام نہایت راز داری کے ساتھ اور خفیہ منصوبوں کے تحت انجام دینا چاہئے۔“

(یروشلم پوسٹ ١٩؍ اگست ١٩٦٧ء، از روزنامہ نوائے وقت لاہور ص ١، مورخہ ٢٢؍ مئی ١٩٧٢ء و ٣؍ ستمبر ١٩٧٣ء)

2054 بن گوریان نے پاکستان کے جس فکری سرمایہ اور جنگی قوت کا ذکر کیا ہے۔ وہ کون سی چیز ہے اس کا جواب ہمیں مشہور یہودی فوجی ماہر پروفیسر ہرڈ سے مل جاتا ہے۔ وہ کہتے ہیں:

”پاکستانی فوج اپنے رسول محمد ﷺ سے غیر معمولی عشق رکھتی ہے۔ یہی وہ بنیاد ہے جس نے پاکستان اور عربوں کے باہمی رشتے مستحکم کر رکھے ہیں۔ یہ صورتحال عالمی یہودیت کے لئے شدید

٩٣

صفحہ ٩٤

1972 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

خطرہ رکھتی ہے اور اسرائیل کی توسیع میں حائل ہورہی ہے۔ لہٰذا یہودیوں کو چاہئے کہ وہ ہر ممکن طریقے سے پاکستانیوں کے اندر سے حب رسول کا خاتمہ کریں۔“ (نوائے وقت ص ٦، مورخہ ٢٢؍ مئی ١٩٧٢ء، نیز جزائر برطانیہ میں صہیونی تنظیموں کا آرگن جیوش کرانیکل ١٩؍ اگست ١٩٦٧ء)

بن گوریان کے بیان کے پس منظر میں یہ بات تعجب خیز ہو جاتی ہے کہ پاکستان سے اس شدت سے نفرت کرنے والے اسرائیل نے ایسی جماعت کو سینے سے کیوں لگائے رکھا۔ جن کا ہیڈ کوارٹر یعنی پاکستان ہی ان کے لئے نظریاتی چیلنج ہے۔ ظاہر ہے پاکستانی فوج کے فکری اساس رسول عربی ﷺ سے غیر معمولی عشق اور جنگی قوت کا راز جذبہ جہاد ختم کرنے کے لئے جو جماعت نظریہ انکار ختم نبوت اور ممانعت جہاد کی علمبردار بن کر اٹھی تھی وہی پورے عالم اسلام اور پاکستان میں ان کی منظور نظر بن سکتی تھی۔ واضح رہے کہ بہت جلد جب سامراجی طاقتوں اور صہیونیوں کو مشرقی پاکستان کی شکل میں اپنے جذبات عناد نکالنے کا موقعہ ہاتھ آیا تو اسرائیل وزیر خارجہ ابا ایبان نے نہ صرف اس تحریک علیحدگی کو سراہا۔ بلکہ ہر وقت ضروری ہتھیار بھی فراہم کرنے کی پیش کش کی۔ (ماہنامہ الحق اکوڑہ خٹک ج ٧ ش ٢ ص ٨، بحوالہ ماہنامہ فلسطین بیروت جنوری ١٩٧٢ء)

اس تاثر کو موجودہ وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے اس بیان سے اور زیادہ تقویت ملتی ہے۔ جس میں انہوں نے انکشاف کیا کہ پاکستان کے عام انتخابات ١٩٧٠ء میں اسرائیلی روپیہ پاکستان 2055 آیا اور انتخابی مہم میں اس کا استعمال ہوا۔ آخر وہ روپیہ مرزائیوں کے ذریعے نہیں تو کس ذریعے سے آیا اور پاکستان کے وجود کے خلاف تل ابیب میں تیار کی گئی سازش جس کا انکشاف بھٹو صاحب نے الاہرام مصر کے ایڈیٹر حسنین ہیکل کو انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔ کیسے پروان چڑھی جب کہ پاکستان کے اسرائیل کے ساتھ سوائے قادیانی مشنوں کے اور کوئی رابطہ نہیں تھا؟

اگر قادیانی جماعت بین الاقوامی صہیونیت کی آلہ کار نہ ہوتی اور عالم اسلام اور پاکستان کے خلاف اس کا کردار نہایت گھناؤنا نہ ہوتا تو کبھی بھی اسرائیل کے دروازے ان پر نہ کھل سکتے۔

قادیانی اس بارہ میں ہزار مرتبہ تبلیغ و دعوت اسلام کے پردہ میں پناہ لینا چاہیں۔ مگر یہ سوال اپنی جگہ قائم رہے گا کہ اسرائیل میں کیا یہ تبلیغ ان یہودیوں پر کی جارہی ہے جنہوں نے صہیونیت کی خاطر اپنے بلاد اور اوطان کو خیر باد کہا اور تمام عصبیتوں کے تحت اسرائیل میں اکٹھے ہوئے یا ان بچے کھچے مسلمان عربوں پر مشق تبلیغ کی جارہی ہے جو پہلے سے محمد عربی ﷺ کے حلقہ بگوش ہیں اور صہیونیت کے مظالم سہہ رہے ہیں۔

اسرائیل نے ١٩٦٥ء اور پھر ١٩٧٣ء میں عربوں پر مغربی حلیفوں کی مدد سے بھر پور

صفحہ ٩٥

1973 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

جارحانہ حملہ کیا۔ جنگ چھڑی تو قادیانیوں کو اسرائیل سے باہمی روابط و تعلقات کے تقاضے پورا کرنے اور حق دوستی ادا کرنے کا موقعہ ملا اور دونوں نے عالم اسلام کے خلاف جی بھر کر اپنی تمنائیں نکالیں۔ قادیانیوں کی وساطت سے عرب گوریلا اور چھاپہ مار تنظیموں کے خلاف کارروائیاں کی جاتی رہیں۔ ان تنظیموں میں مسلمان ہونے کے پردہ میں قادیانی اثر و رسوخ حاصل کر کے داخلی طور پر سبوتاژ کرتے رہے اور حالیہ عرب اسرائیل جنگوں میں وہ صیہونیوں کے ایسے وفادار بنے جیسے کہ برطانوی دور میں انگریز کے اور یہ اس لئے بھی کہ عربوں کی زبردست تباہی کے بارے میں مرزا غلام احمد کا وہ خود ساختہ الہام بھی پورا ہو جس میں عربوں کی تباہی کے بعد سلسلہ احمدیہ کی ترقی و عروج کی خبر ان الفاظ میں دی گئی جو درحقیقت الہام نہیں بلکہ الہام کے پردہ میں اپنے بیٹے کو 2056 آئندہ اسلام اور عرب دشمن سازشوں کی راہ دکھائی گئی تھی۔

"خدا نے مجھے خبر دی ہے کہ ...... ایک عالمگیر تباہی آوے گی اور اس تمام واقعات کا مرکز ملک شام ہوگا۔ صاحبزادہ صاحب (یعنی ان کے مخاطب پیر سراج الحق قادیانی) اس وقت میرا لڑکا موعود ہوگا۔ خدا نے اس کے ساتھ ان حالات کو مقدر کر رکھا ہے۔ ان واقعات کے بعد ہمارے سلسلہ کو ترقی ہوگی اور سلاطین ہمارے سلسلہ میں داخل ہوں گے تم اس موعود کو پہچان لینا۔"

(تذکرہ مرزا کا مجموعہ وحی والہام مطبوعہ ربوہ ص ٧٩٩، طبع سوم)

علامہ اقبال نے ایسے ہی الہامات کے بارے میں کہا تھا؎

محکوم کے الہام سے اللہ بچائے
غارتگر اقوام ہے وہ صورت چنگیز

مولوی مفتی محمود: جناب والا! مغرب کی نماز کا وقت ہو گیا ہے۔

جناب چیئرمین: 7:20 پر دوبارہ کارروائی شروع ہوگی۔ آدھے گھنٹے کے لئے ملتوی کیا جاتا ہے۔

--------

[The Special Committee adjourned for Maghrib Prayers to re-assemble at 7:20 pm.]

(خصوصی کمیٹی کا اجلاس مغرب کی نماز کے لئے شام سات بج کر بیس منٹ تک ملتوی کر دیا گیا)

--------

OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

خطرہ رکھتی ہے اور اسرائیل کی توسیع میں ح طریقے سے پاکستانیوں کے اندر سے حب ١٩٧٢ء، نیز جزائر برطانیہ میں صیہونی تنظیموں کا آ

بن گوریان کے بیان کے پس م اس شدت سے نفرت کرنے والے اسرائیل کا ہیڈ کوارٹر یعنی پاکستان ہی ان کے لئے اساس رسول عربی ﷺ سے غیر معمولی عشق جماعت نظریہ انکار ختم نبوت اور ممانعت ج

صیہونیوں کو مشرقی پاکستان کی شکل میں وزیر خارجہ ابا ایبان نے نہ صرف اس تحریک کرنے کی پیش کش کی۔

(ماہنامہ الحق اکوڑہ خ

اس تاثر کو موجودہ وزیر اعظم ہے۔ جس میں انہوں نے انکشاف کیا کہ پاکستان 2055 آیا اور انتخابی مہم میں اس کا کس ذریعے سے آیا اور پاکستان کے د انکشاف بھٹو صاحب نے الاہرام مصر کے چڑھی جب کہ پاکستان کے اسرائیل کے

اگر قادیانی جماعت بین الاقو کے خلاف اس کا کردار نہایت گھناؤنا نہ ہ قادیانی اس بارہ میں ہزار مرتبہ تبلیغ و دعو قائم رہے گا کہ اسرائیل میں کیا یہ تبلیغ ان اپنے بلاد اور اوطان کو خیر باد کہا اور تمام ع مسلمان عربوں پر مشق تبلیغ کی جا رہی ہ کے مظالم سہ رہے ہیں۔

اسرائیل نے ١٩٦٥ء اور ١٩

صفحہ ١٩٧٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

[The Special Committee re-assembled after Maghrib Prayers, Mr. Chairman (Sahibzada Farooq Ali) in the Chair.]

(خصوصی کمیٹی کا اجلاس مغرب کی نماز کے بعد دوبارہ شروع ہوا۔ مسٹر چیئرمین صاحبزادہ فاروق علی اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں)

----------

جناب چیئرمین: مولانا مفتی محمود!

2057 مولوی مفتی محمود:

خلافت عثمانیہ اور ترکی

(قادیان جماعت کا ایڈریس بخدمت ایڈورڈ میکلیگن لیفٹیننٹ گورنر پنجاب اخبار الفضل ٢٢؍دسمبر ١٩٠٩ء ج ١٧ نمبر ٤٨)

”ہم یہ بتا دینا چاہتے ہیں کہ مذہبًا ہمارا ترکوں سے کوئی تعلق نہیں۔ ہم اپنے مذہبی نقطہ خیال سے اس امر کے پابند ہیں کہ اس شخص کو اپنا پیشوا سمجھیں جو مسیح موعود کا جانشین ہو اور دنیاوی لحاظ سے اس کو اپنا بادشاہ اور سلطان یقین کریں، جس کی حکومت کے نیچے ہم رہتے ہیں۔ پس ہمارے خلیفہ حضرت مسیح موعود (مرزا صاحب) کے خلیفہ ثانی ہیں اور ہمارے بادشاہ حضور سلطان ملک معظم ہیں۔ سلطان ترکی ہرگز خلیفۃ المسلمین نہیں۔“

(صیغہ امور عامہ قادیان کا اعلان مندرجہ الفضل قادیان ج ٧ نمبر ٦١، ١٦؍ فروری ١٩٢٠ء)

اخبار لیڈر آلہ آباد مجریہ ٢١؍ جنوری ١٩٢٠ء میں خلافت کانفرنس کا ایڈریس: ”بخدمت جناب وائسرائے شائع کیا گیا۔ فہرست دستخط کنندگان میں مولوی ثناء اللہ امرتسری کے نام سے پہلے کسی شخص مولوی محمد علی قادیانی کا نام درج ہے۔ مولوی محمد علی کے نام کے ساتھ قادیانی کا لفظ محض اس لئے لگایا گیا کہ لوگوں کو دھوکہ دیا جائے۔ ورنہ قادیان سے تعلق رکھنے والا احمدی نہیں ہے جو سلطان ترکی کو خلیفۃ المسلمین تسلیم کرتا ہو...... معلوم ہوتا ہے یہ مولوی صاحب لاہوری سرگروہ کے غیر مبائع ہیں۔ لیکن وہ لفظ قادیان کے ساتھ لکھنے کے ہرگز مستحق نہیں۔ نہ اس لئے کہ وہ قادیان کے باشندے ہیں اور نہ اس لئے کہ مرکز قادیان سے تعلق رکھنے والے کسی احمدی کا یہ عقیدہ نہیں کہ سلطان ترکی خلیفۃ المسلمین ہے۔“

خلافت عثمانیہ کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے اور عربوں کو ترکوں سے لڑانے میں قادیانی انگریز

٩٦

صفحہ ١٩٧٥

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

کے شانہ بشانہ شریک رہے ہیں۔ اس کا ایک اندازہ اس واقعہ سے لگایا جاسکتا ہے جو دمشق کے ایک مطبوعہ رسالہ القادیانیۃ میں مرزائیوں کے سیاسی خط وخال اور استعماری فرائض ومناصب کی نشان دہی 2058 کے بعد لکھا گیا ہے کہ پہلی جنگ عظیم میں انگریزوں نے مرزا بشیر الدین محمود احمد کے سالے ولی اللہ زین العابدین کو سلطنت عثمانیہ بھیجا۔ وہاں پانچویں ڈویژن کے کمانڈر جمال پاشا کی معرفت ١٩١٧ء میں قدس یونیورسٹی میں دینیات کا لیکچرر ہو گیا۔ لیکن جب انگریزی فوجیں دمشق میں داخل ہو گئیں تو ولی اللہ نے اپنا لبادہ اتارا اور انگریزی لشکر میں آگیا اور عربوں کو ترکوں سے لڑانے بھڑانے کی مہم کا انچارج رہا۔ عراقی اس سے واقف ہو گئے تو گورنمنٹ انڈیا نے وہاں ان کے ٹکے رہنے پر زور دیا۔ لیکن عراقی حکومت نہ مانی تو بھاگ کر قادیان آ گیا اور ناظر امور عامہ بنا دیا گیا۔

(مجلہ اسرائیل ص ٤٧، بحوالہ القادیانیۃ طبع دمشق)

یہ واقعہ نقل کرنے کے بعد رسالہ القادیانیۃ نے لکھا ہے کہ کسی بھی مسلمان عرب ریاست میں مرزائیوں کے لئے کوئی جگہ نہیں۔ بلکہ ان کے ایسے کارناموں کی بدولت پاکستان کو عربوں میں ہدف بنایا جاتا ہے۔ سقوط خلافت عثمانیہ کے بعد مصطفیٰ کمال کے دور میں بھی مرزائیوں کی سازشیں جاری رہیں اور یہ روایت عام ہے کہ ترکی میں دو قادیانی مصطفیٰ صغیر کی ٹیم کا رکن بن کر گئے۔ مصطفیٰ صغیر کے بارہ میں مشہور ہے کہ وہ قادیانی تھا اور مصطفیٰ کمال کو قتل کرنے پر مامور ہوا تھا۔ لیکن راز فاش ہونے پر موت کے گھاٹ اتارا گیا۔

افغانستان

گورنمنٹ افغانستان کے خلاف سازشی خطوط اور جہاد کے جذبہ کی مخالفت کا ذکر پہلے مدلل طور پر آ چکا ہے۔ چند مزید حقائق سنئے۔

جمعیۃ الاقوام سے افغانستان کے خلاف مداخلت کی اپیل

’’جماعت احمدیہ کے امام مرزا بشیر الدین محمود صاحب خلیفۃ المسیح الثانی نے ’’لیگ اقوام‘‘ سے پر زور اپیل کی کہ حال میں پندرہ پولیس کانسٹیبلوں اور 2059 سپرنٹنڈنٹ کے روبرو دو احمدی مسلمانوں کو محض مذہبی اختلاف کی وجہ سے حکومت کابل نے سنگسار کر دیا ہے۔ اس لئے دربار افغانستان سے باز پرس کے لئے مداخلت کی جائے۔ کم از کم ایسی حکومت اس قابل نہیں کہ مہذب سلطنتوں کے ساتھ ہمدردانہ تعلقات رکھنے کے قابل سمجھی جائے۔‘‘

(الفضل قادیان ج ١٢ نمبر ٩٥ مورخہ ٢٨؍فروری ١٩٢٥ء)

٩٧

صفحہ ٩٨

1976 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

امیر امان اللہ خان نے نادانی سے انگریزوں کے خلاف جنگ شروع کی

میاں محمود احمد نے اپنے خطبہ جمعہ مطبوعہ الفضل ج ٦، مورخہ ٢٧ مئی ١٩١٩ء میں کہا: ”اس وقت (بعہد شاہ امان اللہ خان ) جو کابل نے انگریزوں کے ساتھ جنگ شروع کی ہے نادانی ہے۔ احمدیوں کا فرض ہے کہ گورنمنٹ کی خدمت کریں۔ کیونکہ گورنمنٹ کی اطاعت ہمارا فرض ہے۔ لیکن افغانستان کی جنگ احمدیوں کے لئے ایک نئی حیثیت رکھتی ہے۔ کیونکہ کابل وہ زمین ہے جہاں ہمارے نہایت قیمتی وجود مارے گئے اور ظلم سے مارے گئے...... اور بے سبب اور بلاوجہ مارے گئے۔ پس کابل وہ جگہ ہے جہاں احمدیت کی تبلیغ منع ہے اور اس پر صداقت کے دروازے بند ہیں۔ اس لئے صداقت کے قیام کے لئے گورنمنٹ برطانیہ کی فوج میں شامل ہو کر ان ظالمانہ روکوں کو دفع کرنے کے لئے گورنمنٹ برطانیہ کی مدد کرنا احمدیوں کا مذہبی فرض ہے۔ پس کوشش کرو کہ تمہارے ذریعہ سے وہ شاخیں پیدا ہوں۔ جن کی مسیح موعود نے اطلاع دی۔“

جنگ کابل میں مرزائیوں کی انگریزوں کو معقول امداد

جب کابل کے ساتھ جنگ ہوئی تب بھی ہماری جماعت نے اپنی طاقت سے بڑھ کر مدد دی اور علاوہ کئی قسم کی خدمات سرانجام دیں۔ ایک ڈبل کمپنی پیش کی،2050 بھرتی بوجہ جنگ ہونے کے رک گئی۔ ورنہ ایک ہزار سے زائد آدمی اس کے لئے نام لکھوا چکے ہیں اور خود ہمارے سلسلے کے بانی کے چھوٹے صاحبزادے اور ہمارے موجودہ امام کے چھوٹے بھائی نے اپنی خدمات پیش کیں اور چھ ماہ تک ٹرانسپورٹ کور میں آنریری طور پر کام کرتے رہے۔

افریقی ممالک میں استعماری اور صیہونی سرگرمیاں

افریقہ دنیا کا واحد براعظم ہے۔ جہاں سے برٹش ایمپائر نے اپنا پنجہ استبداد سب سے آخر میں اٹھایا اور آج تک کچھ علاقے برطانوی سامراجی اثرات کے تابع ہیں۔ مغربی افریقہ میں قادیانیوں نے ابتداء ہی سے برطانوی سامراج کے لئے اڈے قائم کئے اور ان کے لئے جاسوسی کی۔ ”دی کیمبرج ہسٹری آف اسلام“ مطبوعہ ١٩٧٠ء میں مذکور ہے۔

"The Ahmadiyya first appeared on the west African coast during the first world war, when several young men in lagos and free town joined by mail. In 1921 the first Indian

صفحہ ١٩٧٧

1977 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

Missionarry arrived. Too unorthodox to gain a footing in the Muslim interior, the Ahmadiyya remain confined principally to southern Nigeria, southern Gold coast sierraleone. It Strengthened the Ranks of those Muslims actively loyal to the British, and it contributed to the modernization of Islamic Organization in the area." (The Cambridge History of Islam vol-11 edited by Holt, Lambton, and lewis, Cambridge University press, 1970, p-400)

ترجمہ: ”پہلی جنگ عظیم کے دوران احمدی فرقہ کے لوگ مغربی افریقہ کے ساحل تک پہنچے۔ جہاں لاگوس اور فری ٹاؤن کے چند نوجوان ان تک پہنچے۔ ١٩٢١ء میں پہلی ہندوستانی مشنری وہاں آئی۔ اگرچہ یہ لوگ کسی عقیدہ کا پرچار نہیں کر سکے لیکن ان کا ارادہ مسلم آبادی کے اندرونی علاقوں 2061 میں قدم جمانا تھا۔ یہ لوگ زیادہ تر جنوبی نائیجیریا، جنوبی گولڈ کوسٹ اور سیرالیون میں سرگرم عمل رہے۔ ان لوگوں نے ان مسلمان دستوں کو مضبوط کیا جو کہ مملکت برطانیہ کے حد درجہ وفادار تھے اور ان علاقوں میں اسلام کو جدید تقاضوں سے ہمکنار کرتے رہے۔“

اس اقتباس سے صاف ظاہر ہے کہ قادیانی ١٩٢١ء کے بعد زیادہ تر جنوبی گولڈ کوسٹ اور سیرالیون میں سمٹے رہے اور غلام ہندوستان کی طرح یہاں کے مسلمانوں کو برطانوی اطاعت اور عقیدہ جہاد کی ممانعت کی تبلیغ کر کے برطانیہ سے وفاداریوں کو مضبوط بنانے کی کوشش کی گئی۔ حال ہی میں قادیانیوں نے ”افریقہ سپیکس“ کے نام سے مرزا ناصر احمد کے دورۂ افریقہ کی جو روئیداد چھاپی ہے وہ افریقہ میں قادیانی ریشہ دوانیوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس میں یہ عبارت خاص طور پر قابل غور ہے۔

"One of the Main points of Ghulam Ahmad's has been rejection of "Holy Wars" and forcible conversion." (Africa Speaks page-93, published by Majlis Nusrat Jahan Tahrik-i-Jadid Rabwah.)

یعنی غلام احمد کے اہم معتقدات میں سے ایک مقدس جنگ (جہاد) کا انکار ہے۔ آخر ماریشس ایک افریقی جزیرہ ہے۔ ١٩٦٧ء میں یہاں سے ”دی مسلمان ماریشس“ یعنی ماریشس میں

٩٩

LY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

امیر امان اللہ خان نے نادانی سے آ

میاں محمود احمد نے اپنے خطبہ جمعہ م ”اس وقت (بعہد شاہ امان اللہ خان) جو کابل ۔ ہے۔ احمدیوں کا فرض ہے کہ گورنمنٹ کی خدم ہے۔ لیکن افغانستان کی جنگ احمدیوں کے لئے ہے جہاں ہمارے نہایت قیمتی وجود مارے گئے مارے گئے۔ پس کابل وہ جگہ ہے جہاں احمد یہ بند ہیں۔ اس لئے صداقت کے قیام کے لئے روکوں کو دفع کرنے کے لئے گورنمنٹ برطانیہ ک کہ تمہارے ذریعہ سے وہ شاخیں پیدا ہوں۔ ج

جنگ کابل میں مرزائیوں

جب کابل کے ساتھ جنگ ہوئی ت مدد دی اور علاوہ کئی قسم کی خدمات سرانجام دی ہونے کے رک گئی۔ ورنہ ایک ہزار سے زائد سلسلے کے بانی کے چھوٹے صاحبزادے اور خدمات پیش کیں اور چھ ماہ تک ٹرانسپورٹ کور

افریقی ممالک میں است

افریقہ دنیا کا واحد براعظم ہے۔ ج آخر میں اٹھایا اور آج تک کچھ علاقے برطانوی قادیانیوں نے ابتداء ہی سے برطانوی سامر کی۔ ”دی کیمبرج ہسٹری آف اسلام“ مطبوع

peared on the west African when several young men in ail. In 1921 the first Indian

صفحہ ١٩٧٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

مسلمان کے نام سے جناب ممتاز عمریت کی ایک کتاب شائع ہوئی۔ جس کا دیباچہ ماریشس کے وزیر اعظم نے لکھا۔ کتاب میں فاضل مصنف نے بڑی محنت سے قادیانیوں کی ایسی تخریبی سرگرمیوں کا ذکر کیا جو مسلمانوں کے لئے تکالیف کا باعث بن رہی ہیں۔ انہوں نے اس سلسلہ میں مسلمانوں کی طرف سے دائر کردہ ایک مقدمہ کا ذکر کیا ہے۔ مسجد روز ہل کا یہ مقدمہ بقول مصنف کے تاریخ ماریشس کا سب سے بڑا مقدمہ کہا جاتا ہے۔ جس میں دو سال تک سپریم کورٹ نے بیانات لئے ، شہادتیں سنیں اور ١٩؍نومبر ١٩٢٠ء کو چیف جج سر اے ہر چیز وڈر نے فیصلہ دیا کہ 2062 ”وہ مسلمان الگ امت ہیں اور قادیانی الگ۔“

کتاب کے مطالعہ سے یہ بھی معلوم ہو جاتا ہے کہ یہاں بھی ان کی آمد برطانوی فوج کی شکل میں ان کے استعماری مقاصد ہی کے لئے ہوئی۔ وہ لکھتے ہیں کہ قادیانی مذہب سے تعلق رکھنے والے دو فوجی ماریشس پہنچے۔ ان میں سے ایک کا نام دین محمد اور دوسرے کا نام بابو اسماعیل خان تھا۔ وہ سترہویں رائل انفنٹری سے تعلق رکھتے تھے۔ ١٩١٥ء تک یہ فوجی اپنی تبلیغی کاروائیاں (فوجی ہو کر تبلیغی کارروائیاں؟ قابل غور) کرتے رہے۔

(تفصیل کے لئے دیکھئے المیراکل پور ج ٩ ش ٢٢ ص ، ٨٠)

”دو سال قبل افریقہ میں تبلیغ کے نام پر جو دو سکیمیں نصرت جہاں ریزرو فنڈ اور آگے بڑھو سکیم کی جاری کی گئیں۔ اس کی داغ بیل لندن ہی میں رکھی گئی اور مرزا ناصر احمد نے اکاونٹ کھلوایا۔“

(الفضل ربوہ ٢٩؍جولائی ١٩٧٢ء)

افریقہ میں اپنی کارکردگیوں کے بارہ میں قادیانی مبلغ برطانیہ میں مقیم ان ممالک کے ہائی کمشنروں سے رابطہ قائم کرتے رہتے ہیں اور انہیں معلومات بہم پہنچاتے ہیں۔ برطانوی وزارت خارجہ قادیانیوں کی ان تمام مشنوں کی حفاظت کرتی ہے۔

اور جب کچھ لوگ برطانوی وزارت خارجہ سے اس تعجب کا اظہار کرتے ہیں کہ براعظم افریقہ میں قادیانیوں کے اکثر مشن برطانوی مقبوضات ہی میں کیوں ہیں اور برطانیہ ان کی حفاظت کرتی ہے اور وہ دیگر مشنریوں سے زیادہ قادیانیوں پر مہربان ہے تو وزارت خارجہ نے جواب دیا کہ سلطنت کے مقاصد تبلیغ کے مقاصد سے مختلف ہیں۔ جواب واضح تھا کہ سامراجی طاقتیں اپنی نو آبادیات میں اپنے سیاسی مفادات اور مقاصد کو تبلیغی مقاصد پر ترجیح دیتی ہیں اور وہ کام عیسائی مبلغین سے نہیں، مرزائی مشنوں ہی سے ہو سکتا ہے۔

١٠٠

صفحہ ١٠١

ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

مسلمان کے نام سے جناب ممتاز عربیت کی ایک کتاب شائ وزیر اعظم نے لکھا۔ کتاب میں فاضل مصنف نے بڑی ت سرگرمیوں کا ذکر کیا جو مسلمانوں کے لئے تکالیف کا باعث بن مسلمانوں کی طرف سے دائر کردہ ایک مقدمہ کا ذکر کیا ہے کے تاریخ ماریشس کا سب سے بڑا مقدمہ کہا جاتا ہے۔ جس بیانات لئے، شہادتیں سنیں اور ١٩ نومبر ١٩٢٠ء کو چیف جج

2062 ”وہ مسلمان الگ امت ہیں اور قادیانی الگ۔“

کتاب کے مطالعہ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے ک کی شکل میں ان کے استعماری مقاصد ہی کے لئے ہوئی۔ و رکھنے والے دو فوجی ماریشس پہنچے۔ ان میں سے ایک کا نام خان تھا۔ وہ سترہویں رائل انفنٹری سے تعلق رکھتے تھے۔ ھ (فوجی ہو کر تبلیغی کارروائیاں؟ قابل غور) کرتے رہے۔

(تفصیل کے لئے

”دو سال قبل افریقہ میں تبلیغ کے نام پر جو دو سکیم بنائی گئی ہیں۔ اس کی داغ بیل لندن ہی میں ر کھلوایا۔“

افریقہ میں اپنی کارکردگیوں کے بارہ میں قادیا ہائی کمشنروں سے رابطہ قائم کرتے رہتے ہیں اور انہیں م وزارت خارجہ قادیانیوں کی ان تمام مشنوں کی حفاظت کرتی

اور جب کچھ لوگ برطانوی وزارت خارجہ سے ا افریقہ میں قادیانیوں کے اکثر مشن برطانوی مقبوضات ہی میں کرتی ہے اور وہ دیگر مشنریوں سے زیادہ قادیانیوں پر مہربان کہ سلطنت کے مقاصد تبلیغ کے مقاصد سے مختلف ہیں۔ جو ا نو آبادیات میں اپنے سیاسی مفادات اور مقاصد کو تبلیغی مقا مبلغین سے نہیں، مرزائی مشنوں ہی سے ہو سکتا ہے۔

1979 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

2063 افریقہ میں صہیونیت کا ہراول دستہ

برطانوی مفادات کے تحفظ کے علاوہ یہ قادیانی مشن افریقہ میں اسرائیل اور صہیونیت کے بھی سب سے مضبوط اور وفادار ہراول دستہ ہیں۔ مرزا ناصر احمد صاحب نے ١٣؍ جولائی ١٩٧٣ء سے ٢٦؍ ستمبر ١٩٧٣ء تک بیرونی ممالک کا جو دورہ کیا اس کی غرض وغایت بھی قطعاً سیاسی تھی۔ لندن مشن کے محمود ہال میں جو پوشیدہ سیاسی میٹنگیں ہوئیں ان کا مقصد افریقہ میں اسرائیل اور یورپی استعمار کے سیاسی مقاصد کی تکمیل تھی۔

(ماہنامہ الحق ج ٩ ش ٢ ص ٢٥، ٢٧ ١٩٧٤ء)

الفضل ربوہ یکم جولائی ١٩٧٢ء نے لندن مشن کے پریس سیکرٹری خواجہ نذیر احمد کی اطلاع کے مطابق مغربی افریقہ کے ان ممالک کے سفیروں سے ملاقات کی گئی جن کا مرزا ناصر احمد دورہ کر چکے ہیں۔

پریس سیکرٹری لکھتے ہیں: ”مغربی افریقہ کے ان کچھ ممالک کے سفراء کو اپنی مساعی اور خدمات سے روشناس کرانے کے لئے مکرم ومحترم بشیر احمد خان رفیق امام مسجد فضل لندن نے سہ رکنی وفد کی قیادت فرماتے ہوئے جس میں مکرم چوہدری ہدایت اللہ سینئر سیکرٹری سفارت خانہ پاکستان اور خاکسار خواجہ نذیر احمد پریس سیکرٹری مسجد فضل لندن، ہزا یکسی لینسی ایچ وی ایچ سی کے ہائی کمشنر غانا متعینہ لندن سے ملاقات کی۔“

(الفضل ربوہ مورخہ ٢٨؍ جون ١٩٧٢ء)

افریقہ میں ان سرگرمیوں کی وسعت کارکردگی کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ اب تو عالمی صہیونی تنظیم (WZO) اور اسی کی تمام ایجنسیاں اور اسرائیل کی ”جیوش ایجنسی“ کھل کر افریقہ میں قادیانیوں کو اپنے مذموم مقاصد کے آلہ کار بنانے کی خبریں عربوں کے لئے تشویش کا 2064 باعث بن چکی ہیں۔ عرب اسرائیل جنگ کے بعد جن افریقی ممالک نے اسرائیل سے تعلقات توڑے قادیانیوں نے ایسے ممالک کی مخالف حکومت تحریکوں کے ساتھ مل کر ان پر سیاسی دباؤ ڈالا۔

لاکھوں کروڑوں کا سرمایہ

افریقی ممالک میں ان مقاصد کے لئے لاکھوں اور کروڑوں روپے کا سرمایہ کہاں سے فراہم ہوتا ہے؟ یہ ایک معمہ ہے۔ جس نے عالم عرب کے مشہور مصنف علامہ محمد محمود الصواف کو بھی ورطۂ حیرت میں ڈال دیا ہے۔ وہ اپنی ایک تازہ تصنیف ”المخططات الاستعماریہ لمکا فحتہ الاسلام“ کے ص ٢٥٣ پر رقمطراز ہیں۔

صفحہ ١٩٨٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

ولا تزال هذه الطائفة الكافرة تعيث في الأرض فساداً وتسعى جاهدة لحرب ومكافحة الاسلام في كل ميدان خاصة في افريقيا ولقد وصلتنى رسالة من يوغندا بافريقيا الشرقية ومعها كتاب ”حمامة البشرى“ وهو من مؤلفات كذاب قاديان غلام احمد المسيح الموعود والمهدى المعهود بزعمهم وقد وزع منه الكثير هناك وهو ملئ بالكفر والضلال والرسالة التى وردتنى من 2065 احد كبار الدعاة الاسلامين هناك يقول فيها: ”لقد دهانا ودهى الاسلام من القاديانية شئ عظيم لقد استفحل امرهم جداً ونشطوا كثيراً فى دعايتهم وينفقون اموالا لا تدخل تحت الحصر ولا شك انها اموال الاستعمار والمبشرين بل بلغنى نبا يكاد يكون مؤكداً ان هناك جمعية تبشيرية قوية مركزها عديس أبابا عاصمة الحبشة وان ميزانية هذه الجمعية ٣٥ مليون دولار وأنها متركزة لمحاربة الاسلام“

یہ کافر جماعت ہمیشہ زمین میں فساد پھیلا کر اسلام کی مخالفت ہر میدان میں کرتی چلی آرہی ہے۔ خاص کر افریقہ میں ان کی سرگرمیاں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ مجھے اس سلسلہ میں مشرقی افریقہ کے یوگنڈا سے ایک خط ملا جس کے ساتھ مرزا غلام احمد کذاب کی جو ان کے زعم میں مسیح اور مہدی موعود ہیں۔ کتاب حمامة البشریٰ تھی جو وہاں بڑی تعداد میں تقسیم کی گئی اور جو کفر اور گمراہی سے بھری پڑی ہے۔ یہ خط جو مجھے مسلمانوں کے ایک بہت بڑے داعی اور رہنما نے لکھا تھا اس میں یہ کہا گیا : ”یہاں قادیانیوں کی روز افزوں سرگرمیاں ہمارے لئے اور اسلام کے لئے سخت تشویش کا باعث بن گئی ہیں۔ یہ لوگ یہاں اتنی دولت خرچ کر رہے ہیں جو حساب سے باہر ہے اور بلاشبہ یہ مال و دولت سامراج اور اس کے مشنری اداروں ہی کا ہو سکتا ہے۔ مجھے تو یہاں تک ثقہ اطلاع پہنچی ہے کہ وہاں حبشہ کے عدیس ابابا میں ان لوگوں کے ایک مضبوط مشن کا سالانہ بجٹ ٣٥ ملین ڈالر ہے اور یہ مشن اسلام دشمنی ہی کے لئے قائم کیا گیا ہے۔“

[At this stage Mr. Chairman vacated the Chair which was occupied by (Dr. Mrs. Ashraf Khatoon Abbasi)]

(اس مرحلہ پر مسٹر چیئرمین کی جگہ اجلاس کی صدارت ڈاکٹر مسز اشرف خاتون عباسی نے سنبھال لی)

مولوی مفتی محمود : علامہ صواف نے عدیس ابابا حبشہ کے جس مشن کے ٣٥ ملین

١٠٢

صفحہ ١٩٨١

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

ڈالروں (پاکستانی حساب سے ٢٥ کروڑ روپے) کا ذکر کیا ہے۔ معلوم نہیں پچھلے کئی سال سے حبشہ میں 2066 مسلمانوں کی حسرتناک تباہی اور بربادی میں اس کا کتنا حصہ ہوگا؟ یہ راز کھل جائے تو جوبلی فنڈ سکیم کے لئے مرزا ناصر احمد کے ڈیڑھ کروڑ روپے کی اپیل کے جواب میں نوکروڑ روپے تک جمع ہونے کے امکان کی گتھی بھی سلجھ جائے۔ جس کا مژدہ انہوں نے (الفضل ربوہ ٥/مارچ ١٩٧٤ء) میں اپنے پیروؤں کو سنایا ہے۔ مذکورہ تفصیل پڑھ کر سوائے اس کے اور کیا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اگر افریقہ ابھی تک فرنگی شاطروں کے پنجہ استبداد سے مکمل طور پر نجات حاصل نہیں کر سکا اور وہ عالمی صہیونیت کی بھی آماجگاہ بنا ہوا ہے تو اور وجوہات کے علاوہ اس کی ایک وجہ اسلام اور عالم اسلام سے دیرینہ غداری کرنے والی مرزائیوں کی جماعت بھی ہے۔

مسلمانان برصغیر کی فلاح و بہبود کی تنظیمیں اور مرزائیوں کا کردار

اب ہم برصغیر کی تحریک آزادی، مسلمانوں کی فلاح و بہبود کی تحریکوں اور قیام پاکستان کے سلسلہ میں ابتداء سے لے کر اب تک مرزائیوں کے کردار اور قیام پاکستان کے بعد ملک کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے ایک قادیانی سٹیٹ کے قیام یا بصورت دیگر اکھنڈ بھارت کے لئے ان کے خطرناک سیاسی عزائم اور سرگرمیوں کا مختصراً جائزہ لیتے ہیں۔ انگریز کے دور حکمرانی میں برصغیر میں مسلمانوں کے نشاۃ ثانیہ کے لئے جتنی بھی تحریکیں اٹھیں۔ مذکورہ تفصیلات سے بخوبی واضح ہو چکا کہ مرزائیوں نے نہ صرف انگریز کی خوشنودی کے لئے اسے نقصان پہنچایا۔ بلکہ ایسے تمام موقعوں پر جہاد آزادی ہو یا کوئی اور تحریک مرزائیوں کا کام انگریز کے لئے جاسوسی اور ان کو خفیہ معلومات فراہم کرنا اور درپردہ استعماری مقاصد کے لئے ایسی تحریکوں کو غیر مؤثر بنانا تھا۔ جہاد اور انگریزی استعمار کے سلسلہ میں ہند و بیرون ہند اس جماعت کی سرگرمیاں سابقہ تفصیلات سے سامنے آچکی ہیں۔ یہ جاسوسی سرگرمیاں اگر عرب اور مسلم ممالک میں جاری رہیں۔ تو دوسری طرف مرزا صاحب نے جب کہ علمائے حق نے ہندوستان کو دارالحرب قرار دیا جمعہ وغیرہ کے نام پر شوشے چھوڑ کر ایک اشتہار برطانوی افسران کے پاس بھیجا اور انگریز حکومت کو مشورہ دیا کہ مسئلہ جمعہ کے 2067 ذریعہ اس ملک کو دارالحرب قرار دینے والے نالائق نام کے بدباطن مسلمانوں کی شناخت ہو سکے گی۔ جمعہ جو عبادت کا مقدس دن تھا۔ مرزا صاحب نے اسے کمال عیاری سے بقول ان کے انگریز گورنمنٹ کے لئے ایک سچے مخبر اور کھرے اور کھوٹے کے امتیاز کا ذریعہ بنا دیا۔

(مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٢٢٢ ملخص)

١٠٣

صفحہ ١٩٨٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

ایک دوسرے اشتہار ”قابل توجہ گورنمنٹ“ میں مرزا صاحب نے ایسے ایک جاسوسی کارنامے کا ذکر بڑے فخر سے کیا اور کہا: ”چونکہ قرین مصلحت ہے کہ سرکار انگریزی کی خیر خواہی کے لئے ایسے نافہم مسلمانوں کے نام بھی نقشہ جات میں درج کئے جائیں جو درپردہ اپنے دلوں میں برٹش انڈیا کو دارالحرب قرار دیتے ہیں۔ لہٰذا یہ نقشہ اسی غرض سے تجویز کیا گیا ہے تاکہ اس میں ناحق شناس لوگوں کے نام محفوظ رہیں۔..... ہم نے اپنی محسن گورنمنٹ کی پولیٹیکل خیر خواہی کی نیت سے...... ان شریر لوگوں کے نام ضبط کئے جائیں ...... ایسے نقشے ایک پولیٹیکل راز کی طرح ہمارے پاس محفوظ ہیں ..... آگے ایسے نقشے تیار کر کے بھیجنے کا ذکر ہے۔ جس میں ایسے لوگوں کے نام معہ پتہ ونشان ہیں۔“

(مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٢٢٧، ٢٢٨)

مسلمانوں کے سیاسی حقوق کے لئے جدوجہد کرنے والی تحریکات سے غداری کی ایک مثال انجمن اسلامیہ لاہور کے اس میمورنڈم سے لگائی جاسکتی ہے جو اس نے مسلمانوں کے معاشی اور تعلیمی ترقی، اردو زبان کی ترویج وغیرہ مطالبات مرتب کروانے کے سلسلہ میں مشاہیر کو روانہ کیا۔ مرزا صاحب نے مسلمانوں کے ان مطالبات کی شدومد سے مخالفت کرتے اور ایسی سرگرمیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ انگریز کے دل میں نقش وفاداری جمانا چاہئے اور کہا کہ انجمن اسلامیہ کو ایسے میمورنڈم پھیلانے کے بجائے برصغیر کے علماء سے ایسے فتویٰ حاصل کرنے چاہئیں جن میں مربی ومحسن سلطنت انگلشیہ سے جہاد کی صاف ممانعت ہو اور ان کو خطوط بھیج کر ان کی مہریں لگوا کر مکتوبات علماء ہند کے نام سے پھیلایا جائے۔

(اسلامی انجمن کی خدمت میں التماس براہین احمدیہ، خزائن ج ١ ص ١٣٩ ملخص)

2068 ١٩٠٦ء میں جب مسلم لیگ کا قیام عمل میں آیا۔ اس وقت اس جماعت کا مقصد ہندوؤں کے مقابلے میں مسلمانوں کے معاشی حقوق کے لئے جدوجہد کرنا تھا۔ تو مرزا صاحب نے نہ صرف اس لئے شرکت سے انکار بلکہ ناپسندیدگی کا اظہار کیا کہ کل یہ جماعت انگریز کے خلاف بھی ہوسکتی ہے۔

(گورنمنٹ کی توجہ کے لائق از مرزا غلام احمد اور سیرت مسیح موعود از مرزا بشیر الدین ص ٤٣، ٤٤)

یہی وطیرہ ان کے بعد ان کے جانشینوں کا رہا۔ ١٩٣١ء میں کشمیر کمیٹی کا قیام اور بالآخر مرزا بشیر الدین محمود کی خفیہ سرگرمیوں سے اس کے شکست وریخت اور علامہ اقبال کا اس کمیٹی سے علیحدہ ہونا، کمیٹی کو توڑ دینا جس کا ذکر آگے آرہا ہے۔ یہ سب باتیں تاریخ کا حصہ بن چکی ہیں۔ علامہ اقبال کو وثوق سے یہاں تک معلوم ہوا کہ: ”کشمیر کمیٹی کے صدر (مرزا بشیر الدین محمود) اور

١٠٤

صفحہ ١٩٨٣

SEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

ایک دوسرے اشتہار ”قابل توجہ گورنمنٹ“ کارنامے کا ذکر بڑے فخر سے کیا اور کہا: ”چونکہ قرین مصلح لئے ایسے نا فہم مسلمانوں کے نام بھی نقشہ جات میں در برٹش انڈیا کو دارالحرب قرار دیتے ہیں۔ لہٰذا یہ نقشہ اس ناحق شناس لوگوں کے نام محفوظ رہیں۔ ...... ہم نے اپنی ج سے۔ ...... ان شریروں کے نام ضبط کئے جائیں ...... اپن پاس محفوظ ہیں۔ ...... آگے ایسے نقشے تیار کر کے بھیجنے کا ڈ پتہ و نشان ہیں۔“

مسلمانوں کے سیاسی حقوق کے لئے جدوجہ مثال انجمن اسلامیہ لاہور کے اس میمورنڈم سے لگائی جا اور تعلیمی ترقی، اردو زبان کی ترویج وغیرہ مطالبات مرح کیا۔ مرزا صاحب نے مسلمانوں کے ان مطالبات سرگرمیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ انگریز کے دل انجمن اسلامیہ کو ایسے میمورنڈم پھیلانے کے بجائے بر چاہئیں جن میں مربی و محسن سلطنت انگلشیہ سے جہاد کی کی مہریں لگوا کر مکتوبات علماء ہند کے نام سے پھیلا یا جا

(اسلامی انجمن کی خدمت میں

2068 ١٩٠٦ء میں جب مسلم لیگ کا قیام عمل ہندوؤں کے مقابلے میں مسلمانوں کے معاشی حقوق نے نہ صرف اس لئے شرکت سے انکار بلکہ ناپسندیدگ خلاف بھی ہوسکتی ہے۔

(گورنمنٹ کی توجہ کے لائق از مرزا غلام احمد

بمبئی وغیرہ ان کے بعد ان کے جانشینوں کا مرزا بشیر الدین محمود کی خفیہ سرگرمیوں سے اس کے مخل علیحدہ ہونا، کمیٹی کو توڑ دینا جس کا ذکر آگے آ رہا ہے۔ علامہ اقبال کو وثوق سے یہاں تک معلوم ہوا کہ: ”کشم ١٠٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

سیکرٹری (عبدالرحیم) دونوں وائسرائے اور اعلیٰ برطانوی حکام کو خفیہ اطلاعات بہم پہنچانے کا نیک کام بھی کرتے ہیں۔“

(پنجاب کی سیاسی تحریکیں ص ٢١٠، عبداللہ ملک)

یہ جاسوسی سرگرمیاں مرزائی جماعت کے ”مقدس کام“ کا اتنا اہم حصہ ہیں کہ نہ صرف برصغیر بلکہ پورے عالم اسلام میں اس کا جال تب سے لے کر اب تک بچھا ہوا ہے اور آج بھی مشرق سے لے کر مغرب تک ایشیا افریقہ اور یورپ میں مرزائی مشن مسلمانوں کے خلاف دشمنوں کے لئے انٹیلی جنس بیورو کا کام دے رہی ہیں۔ ان سرگرمیوں اور اس کے مالی ذرائع وغیرہ کا مختصراً کچھ ذکر آئے گا۔ الغرض علامہ اقبال مرحوم کے الفاظ میں مسلمانوں کی بیداری کی ایسی تمام کوششوں کی مخالفت اس لئے کی جاتی رہی کہ اصل بات یہ ہے کہ: ”قادیانی بھی مسلمانان ہند کی سیاسی بیداری سے گھبرائے ہوئے ہیں۔ کیونکہ وہ محسوس کرتے ہیں کہ مسلمانان ہند کے سیاسی نفوذ کی ترقی سے ان کا یہ مقصد یقیناً فوت ہو جائے گا کہ پیغمبر عربی ﷺ کی امت سے ہندوستانی پیغمبر کی ایک امت تیار کریں۔“

(حرف اقبال ص ١٤٠، ١٤١)

2069 مسلمانوں سے دینی، سماجی، معاشرتی ہر قسم کے تعلقات و روابط کو قطعی حرام قرار دینے والے مذہب میں برصغیر کے اسلامی اداروں اور انجمنوں سے تعاون اور اشتراک کی گنجائش بھی تھی۔ کسی مرزائی نے کہا جب مسیح موعود کا مقصد صرف اشاعت اسلام تھا تو ہمیں دیگر مسلمان تحریکوں اور تنظیموں سے تعاون کرنا چاہئے تو سید سرور شاہ قادیانی نے الفضل قادیان ج٢ ص ٧٢، مورخہ ٢٠/جنوری ١٩١٥ء میں بڑی سختی سے اس کی ممانعت کی اور حلفاً کہا کہ مسیح موعود کا اپنی زندگی میں غیر احمدیوں سے کیا تعلق تھا۔ انہوں نے غیر احمدیوں سے کبھی چندہ مانگا؟ ہرگز نہیں۔ اگر یہی احمدیت تھی تو اور لوگ جو حضرت مسیح کے زمانہ میں اشاعت اسلام کے لئے اٹھے تھے۔ ان کے لئے حضرت مسیح موعود کو خوشی کا اظہار کرنا چاہئے تھا اور آپ ان کی انجمنوں میں شریک ہوتے۔ انہیں چندہ دیتے۔ مگر آپ نے کبھی اس طرح نہیں کیا۔ کسی مسلمان یتیم اور بیوہ کے لئے چندہ کی تحریک پر میاں بشیر الدین محمود سے اجازت مانگی گئی تو کہا مسلمانوں کے ساتھ مل کر چندہ دینے کی ضرورت نہیں۔

(الفضل قادیان ج ١٠ ص ٢٥، ٧/ دسمبر ١٩٢٢ء)

اکھنڈ بھارت

ہندو اور قادیانی دونوں کو ایک دوسرے کی ضرورت کا احساس

سیاسیات کے تعلق سے قادیانیوں اور انگریزوں میں تو چولی دامن کا ساتھ تھا ہی، لیکن ١٠٥

صفحہ ١٠٦

1984 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

جب جدوجہد آزادی کے نتیجہ میں اور بین الاقوامی سیاسیات کی مدوجزر سے ہندوستان پر برطانوی استعمار کی گرفت ڈھیلی پڑگئی تو مرزا محمود نے جو اس وقت مرزا غلام احمد کے خلیفہ ثانی بن چکے تھے۔ کروٹ بدلی اور کانگریس کے ہمنوا بن گئے۔ ادھر ہندوسیاست اور ذہنیت بھی قادیانی تحریک کو سیاسی 2070 اعتبار سے مفید مطلب پا کر اور مسلمانوں کے اندر اس کی ففتھ کالمسٹ حیثیت کو سمجھ کر اس کی حمایت اور وکالت پر اتر آئی۔ پنڈت جواہر لال نہرو نے جو اپنے آپ کو برملا سوشلسٹ اور دہریہ کہتے تھے۔ ایک ایسی جماعت کی تائید کا بیڑا اٹھایا جو اپنے کو خالص مسلمان مذہبی جماعت کہنے پر مصر تھی۔ نہرو جیسے زیرک انسان سے قادیانیوں کے درپردہ یہ سیاسی عزائم مخفی نہ رہ سکے اور انہوں نے اپنی دہریت مآبی کے باوجود ماڈرن ریویو کلکتہ میں مسلمان اور احمد ازم کے عنوان سے لگاتار تین مضمون لکھے اور ڈاکٹر اقبال مرحوم سے بحث تک نوبت آئی۔ یہ بحثیں رسالوں اور اخباروں میں شائع ہوچکی ہیں۔ یہاں ان کے دہرانے کی ضرورت نہیں۔

الغرض اقبال نے انہیں سمجھایا کہ یہ لوگ اپنے برطانوی استعماری عزائم اور منصوبوں کی بناء پر نہ مسلمانوں کے مفید مطلب ہوسکتے ہیں نہ آپ کے۔ تو تب انہوں نے خاموشی اختیار کی اور جب نہرو پہلی مرتبہ انڈین نیشنل کانگریس کے لیڈر کی حیثیت سے لندن گئے تو واپسی پر انہوں نے یہ تاثر ظاہر کیا کہ جب تک اس ملک میں قادیانی فعال ہیں۔ انگریز کے خلاف جنگ آزادی کا کامیاب ہونا مشکل ہے۔ بہرحال جب تک قادیانیت کا یہ استعماری پہلو پنڈت جواہر لال کی سمجھ میں نہیں آیا۔ مسلمانوں میں مستقل پھوٹ ڈالنے کے لئے مطلوبہ صلاحیت پر پورے اترنے کے لئے ہندوؤں کی نگاہ انتخاب مسلمانوں میں سے مرزائیوں ہی پر رہی اور آج بھی قادیان کے رشتے اور اکھنڈ بھارت کے عقیدہ سے وہ انہیں جاسوس اور تخریبی سرگرمیوں کے لئے آلہ کار بنائے ہوئے ہیں۔ بہرحال جب قادیانی اور ہندوؤں دونوں کو ایک دوسرے کی ضرورت اور اہمیت کا احساس ہوا اور آقائے برطانیہ کا بسترہ گول ہوتا ہوا محسوس ہوا تو دیکھتے ہی دیکھتے قادیان ہندو سرگرمیوں کا مرکز بن گیا اور بقول قادیانی امت کے لاہوری ترجمان پیغام صلح ٣؍ جون ١٩٣٩ء جب ٢٩؍ مئی ١٩٣٦ء کو پنڈت جواہر لال نہرو لاہور آئے تو قادیانی امت نے اپنے خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود کے زیر ہدایت اور چوہدری ظفر اللہ کے بھائی چوہدری اسد اللہ خان ممبر پنجاب 2071 کونسل کے زیر قیادت ان کا پرجوش استقبال کیا اور اس کے بعد کانگریس قادیانی گٹھ جوڑ نے مستقل حیثیت اختیار کر لی۔

1985 NATIO کوشک بنا کر اور مسلمانوں کو تکفیر ہوسکتی تھی اور جس طرح یہود نے نے مکہ اور مدینہ سے مسلمانوں کا نے جی بھر کر انہیں داد دی۔ چنانچہ ہوں نے بندے ماترم میں لکھا: تو وہ احمدیت کی تحریک ہے۔ یہ ں گے۔ اسی طرح قادیان کو مکہ لازم کا خاتمہ کرسکتی ہے تو وہ یہی اس کی شردھا (عقیدت) رام ب کی بھومی (ارض حرم) پر منتقل کا زاویہ نگاہ بھی بدل جاتا ہے۔ ا پہلے اس کی خلافت عرب میں کسی گوشہ میں بھی ہو روحانی ملکیتی نگریں اور ہندو مسلمانوں سے کم ن کی جاترا کرے۔“

(اپریل ١٩٣٢ء بحوالہ قادیانی مذہب)

١٩٤٥ء کے ان الفاظ سے مزید کے یہ خیالات ہندوستان کے ہٹلر (مرزا بشیر الدین محمود) اور یاں) ہو رہی تھیں وہ اس سمجھوتہ ڑنے کے لئے کیا کرے گا اور

باب

آخر وقت تک قیام پاکستان کی ہے۔ اس سلسلہ میں اولاً تو ان کی

صفحہ ١٩٨٥

1985 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

قادیان کو ارض حرم اور مکہ معظمہ کی چھاتیوں کے دودھ کو خشک بنا کر اور مسلمانوں کو تکفیر کے چھرے سے ذبح کرنے کی خوشی ہندوؤں سے بڑھ کر اور کسے ہو سکتی تھی اور جس طرح یہود نے بیت المقدس سے منہ موڑ کر سامریہ کو قبلہ بنایا۔ اسی طرح قادیانیوں نے مکہ اور مدینہ سے مسلمانوں کا رخ قادیان کی طرف موڑنا چاہا تو اس مسجد ضرار پر ہندو لیڈروں نے جی بھر کر انہیں داد دی۔ چنانچہ ڈاکٹر شنکر داس مشہور ہندو لیڈر کا بیان اس کے لئے کافی ہے۔ انہوں نے بندے ماترم میں لکھا:

’’ہندوستانی قوم پرستوں کو اگر کوئی امید کی شعاع دکھائی دیتی ہے تو وہ احمدیت کی تحریک ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ مسلمان جس قدر احمدیت کی طرف راغب ہوں گے۔ اسی طرح قادیان کو مکہ تصور کرنے لگیں گے۔ مسلمانوں میں اگر عربی تہذیب اور پان اسلامزم کا خاتمہ کر سکتی ہے تو وہ یہی احمدی تحریک ہے جس طرح ایک ہندو کے مسلمان بن جانے پر اس کی شردھا (عقیدت) رام کرشن گیتا اور رامائن سے اٹھ کر حضرت محمد ﷺ قرآن مجید اور عرب کی بھومی (ارض حرم) پر منتقل ہو جاتی ہے۔ اسی طرح جب کوئی مسلمان احمدی بن جاتا ہے تو اس کا زاویہ نگاہ بھی بدل جاتا ہے۔ حضرت محمد ﷺ میں اس کی عقیدت کم ہوتی چلی جاتی ہے اور جہاں پہلے اس کی خلافت عرب میں تھی اب وہ قادیان میں آجاتی ہے۔ ایک احمدی خواہ وہ دنیا کے کسی گوشہ میں بھی ہو روحانی تشفی حاصل کرنے کے لئے وہ اپنا منہ قادیان کی طرف کرتا ہے۔ پس کانگریس اور ہندو مسلمانوں سے کم از کم جو کچھ چاہتی ہے کہ اس ملک کا مسلمان اگر ہردوار نہیں تو قادیان کی جاترا کرے۔‘‘

(گاندھی جی کا اخبار بندے ماترم ٢٢/اپریل ١٩٣٢ء بحوالہ قادیانی مذہب)

2072 اخبار پیغام صلح لاہور ج ٢ ص ٦٩ ، مورخہ ٢١/اپریل ١٩٢٥ء کے ان الفاظ سے مزید وضاحت ہو سکتی ہے کہ: ’’ہندو اخبارات اور پولیٹکل لیڈروں کے یہ خیالات ہندوستان کے مسلمانوں کو وضاحت سے بتا رہے ہیں کہ گذشتہ دنوں قادیانی ہٹلر (مرزا بشیر الدین محمود) اور کانگریس کے جواہر (جواہر لال نہرو) میں جو چہ میگوئیاں (سرگوشیاں) ہو رہی تھیں وہ اس سمجھوتہ کے بناء پر تھی کہ محمود (خلیفہ قادیان) مسلمانوں کی اس قوت کو توڑنے کے لئے کیا کرے گا اور کانگریس اس کے معاوضے میں کیا دے گی۔‘‘

قیام پاکستان کی مخالفت کے اسباب

قیام پاکستان سے قبل احمدیوں نے جس شدومد سے آخر وقت تک قیام پاکستان کی مخالفت کی اس کا اندازہ اگلی چند عبارات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔ اس سلسلہ میں اوّلاً تو ان کی

١٠٧

MBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

جب جدوجہد آزادی کے نتیجہ میں اور بین الاقوا- استعمار کی گرفت ڈھیلی پڑ گئی تو مرزا محمود نے جو اس و کروٹ بدلی اور کانگریس کے ہمنوا بن گئے۔ ادھر سیاسی 2070 اعتبار سے مفید مطلب پا کر اور مسلمانوں اس کی حمایت اور وکالت پر اتر آئی۔ پنڈت جواہر لا دہریہ کہتے تھے۔ ایک ایسی جماعت کی تائید کا بیڑا اٹھانے پر مصر تھی۔ نہرو جیسے زیرک انسان سے قادیانی انہوں نے اپنی دہریت مآبی کے باوجود ماڈرن ری لگاتار تین مضمون لکھے اور ڈاکٹر اقبال مرحوم نے اخباروں میں شائع ہو چکی ہیں۔ یہاں ان کے دہرا الغرض اقبال نے انہیں سمجھایا کہ یہ لوگ بناء پر نہ مسلمانوں کے مفید مطلب ہو سکتے ہیں نہ آ

جب نہرو پہلی مرتبہ انڈین نیشنل کانگریس کے پریذیڈنٹ یہ تاثر ظاہر کیا کہ جب تک اس ملک میں قادیانی کامیاب ہونا مشکل ہے۔ بہرحال جب تک قادیا میں نہیں آیا۔ مسلمانوں میں مستقل پھوٹ ڈالنے لئے ہندوؤں کی نگاہ انتخاب مسلمانوں میں سے م اور اکھنڈ بھارت کے عقیدہ سے وہ انہیں جاسو ہوئے ہیں۔ بہرحال جب قادیانی اور ہندوؤں احساس ہوا اور آقائے برطانیہ کا بسترہ گول ہوت سرگرمیوں کا مرکز بن گیا اور بقول قادیانی امت

جب ٢٩ مئی ١٩٣٦ء کو پنڈت جواہر لال نہر مرزا بشیر الدین محمود کے زیر ہدایت اور چوہدری ظ 2071 کونسل کے زیر قیادت ان کا پرجوش استقبا مستقل حیثیت اختیار کر لی۔

صفحہ ١٩٨٦

1986 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

انتہائی کوشش رہی کہ انگریز کا سایۂ عاطفت جسے وہ رحمت خداوندی سمجھتے تھے۔ کسی طرح بھی ہندوستان سے نہ ڈھلے اور جب برٹش سامراج کا سورج ہندوستان میں غروب ہونے لگا تو انہوں نے بجائے کسی مسلم ریاست کے قیام کے اپنا سارا وزن اکھنڈ بھارت کے حق میں ڈال دیا اور اس کی وجہ بنیادی طور پر یہ تھی کہ مرزائی تحریک کو مسلمانوں کے اندر کام کے لئے جس بیس کی ضرورت ہے وہ کوئی ایسی ریاست ہو سکتی ہے جو یا تو قطعی طور پر غیر مسلم ہو یا پھر بصورت دیگر کم از کم اسلامی بھی نہ ہو۔ تاکہ مسلمان قوم ایک کافر حکومت کے پنجے میں بے بس ہو کر ان کی شکار گاہ اور لقمہ تر بنی رہے اور یہ اس کافر لادینی حکومت کے پکے وفادار بن کر اس کا شکار کرتے رہیں ایک آزاد اور خود مختار مسلمان ریاست ان کے لئے بڑی سنگلاخ زمین ہے۔ جہاں ان کی مساعی ارتداد مشکل سے برگ و بار لا سکتی ہیں۔ اس کا کچھ اندازہ ان تحریرات سے بھی لگایا جاسکتا ہے جس میں مرزا صاحب نے کہا: ”2073 اگر ہم یہاں (سلطنت انگلیشیہ) سے نکل جائیں تو نہ ہمارا مکہ میں گزارہ ہو سکتا ہے اور نہ قسطنطنیہ میں۔“

(ملفوظات احمدیہ ج١ ص٤٦، نئی اشاعت لاہور)

(تبلیغ رسالت ج٦) میں لکھتے ہیں: ”میں اپنے اس کام کو نہ مکہ میں اچھی طرح چلا سکتا ہوں نہ مدینہ نہ روم نہ شام میں نہ ایران میں نہ کابل میں مگر اس گورنمنٹ میں جس کے اقبال کے لئے دعا کرتا ہوں۔“

(مجموعہ اشتہارات ج٢ ص٣٧٠)

”یہ تو سوچو کہ اگر تم اس گورنمنٹ کے سائے سے باہر نکل جاؤ تو پھر تمہارا ٹھکانا کہاں ہے؟...... ہر ایک اسلامی سلطنت تمہیں قتل کرنے کے لئے دانت پیس رہی ہے۔ کیونکہ ان کی نگاہ میں تم کافر اور مرتد ٹھہر چکے ہو۔“

(مجموعہ اشتہارات ج٣ ص٥٨٤)

الفضل ١٣؍ ستمبر ١٩١٤ء میں مسلمانوں کی تین بڑی سلطنتوں ترکی، ایران اور افغانستان کی مثالیں دے کر سمجھایا گیا ہے کہ کسی بھی اسلامی سٹیٹ میں ہمیں اپنے مقاصد کی تکمیل کی کھلی چھٹی نہیں مل سکتی۔ ایسے ممالک میں ہمارا حشر وہی ہو سکتا ہے جو ایران میں مرزا علی محمد باب اور سلطنت ترکی میں بہاء اللہ اور افغانستان میں مرزائی مبلغین کا ہوا۔

ایک صاحب نے مرزا بشیر الدین محمود سے انگریزوں کی سلطنت سے ہمدردی اور اس کے لئے ہر طرح ظاہری و خفیہ تعاون کے بارے میں یہاں تک کہ جنگ میں اپنے لوگوں کو بھرتی کروا کر مدد دینے کے بارہ میں دریافت کیا تو انہوں نے اپنے مسیح موعود کے حوالے سے کہا کہ جب تک جماعت احمدیہ نظام حکومت سنبھالنے کے قابل نہیں ہوتی اس وقت تک ضروری ہے اس دیوار (انگریزوں کی حکومت) کو قائم رکھا جائے تاکہ یہ نظام ایسی طاقت (مسلمان ہی مراد ہو سکتے ہیں)

١٠٨

صفحہ ١٩٨٧

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

کے قبضہ میں نہ چلا جائے جو احمدیت کے مفادات کے لئے زیادہ مضر اور نقصان رساں ہو۔

(الفضل قادیان مورخہ ٣؍جنوری ١٩٤٥ء)

یہ تھے قیام پاکستان کی مخالفت کے اصل اسباب۔

2074 تقسیم ہند کے مسلمان مخالف

اس میں شک نہیں کہ احمدیوں کے علاوہ کچھ مسلمان بھی تحریک پاکستان سے متفق نہ تھے۔ مگر مذکورہ عبارات سے بخوبی واضح ہو گیا کہ مرزائیوں کی مخالفت اور بعض مسلمان عناصر کی مخالفت میں زمین و آسمان کا فرق تھا۔ مؤخر الذکر یعنی کچھ مسلمانوں کی انفرادی مخالفت ان کے صوابدید میں مسلمانوں کے مفاد ہی کی وجہ سے تھی۔ وہ اپنی مخالفت کے اسباب اور وجوہات بیان کرتے ہوئے تقسیم کو مسلم مفاد کے حق میں نقصان رساں اور دوسرا فریق یعنی قیام پاکستان کے داعی حضرات اسے مفید سمجھتے تھے۔ گویا دونوں کو مسلمانوں کے مفاد سے اتفاق تھا۔ طریق کار کا فرق تھا یہ ایک سیاسی اختلاف تھا جو سیاسی بصیرت پر مبنی تھا۔

جنہوں نے مخالفت کی نہ تو وہ الہام کے مدعی تھے نہ کسی وحی کے۔ نہ انہوں نے اسے مشیت الہی اور کسی نام نہاد نبی کی بعثت کا تقاضا سمجھ کر ایسا کیا۔ ان میں سے مذہبًا اور عقیدتًا دونوں کو اسلامی نظام عدل و انصاف اور اسلامی خلافت راشدہ پر ایمان تھا۔ دونوں مسلمانوں ہی کی خاطر اپنے اپنے میدانوں میں سرگرم کار رہے اور بالآخر جب پاکستان بن گیا تو مخالفت کرنے والے مسلمان زعماء نے اس وقت سے لے کر اب تک اپنی ساری جدوجہد اس نوزائیدہ ریاست کے استحکام و سالمیت میں لگا دی۔ مگر جہاں تک احمدیوں کا تعلق ہے ان کا تصور اکھنڈ بھارت نہ صرف سیاسی بلکہ مذہبی عقیدہ بھی تھا۔ مرزا محمود کہا کرتے کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت ہندوستان کو اکٹھا رکھنا چاہتی ہے اور یہ مرزا غلام احمد کی بعثت کا تقاضا ہے۔ اس طرح اکھنڈ بھارت کے تصور کو الہام اور مشیت ربانی کا درجہ دے کر ہر قادیانی کو مشیت الہی کو پورا کرنے کے لئے جدوجہد کا پابند کر دیا گیا اور جن لوگوں نے (اب تک) پاکستان کی سالمیت کی خاطر اکھنڈ بھارت نہ بننے دیا خواہ وہ قائد اعظم تھے یا سیاسی زعماء عوام اور خواص مرزائیوں کے عقیدہ میں گویا سب نے مشیت الہی کے خلاف کام کیا۔

2075 احمدیوں کے ہاں اکھنڈ بھارت اس لئے ضروری تھا کہ وہ اپنے آپ کو مسلمانوں سے الگ سمجھتے ہوئے کسی بھی مسلمان ریاست کے مقابلہ میں غیر مسلم اسٹیٹ کو مفید مقصد سمجھتے

١٠٩

MBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

انتہائی کوشش رہی کہ انگریز کا سایۂ عاطفت جسے وہ ہندوستان سے نہ ڈھلے اور جب برٹش سامراج کا سورج نے بجائے کسی مسلم ریاست کے قیام کے اپنا سارا وزن کی وجہ بنیادی طور پر یہ تھی کہ مرزائی تحریک کو مسلمانوں ہے وہ کوئی ایسی ریاست ہو سکتی ہے جو یا تو قطعی طور پر بھی نہ ہو۔ تا کہ مسلمان قوم ایک کافر حکومت کے نیچے رہے اور یہ اس کافر لادینی حکومت کے پکے وفادار بن مختار مسلمان ریاست ان کے لئے بڑی سنگلاخ زمین ۔ برگ و بار لا سکتی ہیں۔ اس کا کچھ اندازہ ان تحریرات سے نے کہا: 2073 ’’اگر ہم یہاں (سلطنت انگلشیہ) سے نکل اور نہ قسطنطنیہ میں۔‘‘

(تبلیغ رسالت ج٦)

’’یہ تو سوچو کہ اگر تم اس گورنمنٹ کے سایہ ہے؟...... ہر ایک اسلامی سلطنت تمہیں قتل کرنے کے میں تم کافر اور مرتد ٹھہر چکے ہو۔‘‘

(الفضل ١٣؍ستمبر ١٩١٤ء)

نئی مثالیں دے کر سمجھایا گیا ہے کہ کسی بھی اسلامی سٹیٹ چھٹی نہیں مل سکتی۔ ایسے ممالک میں ہمارا حشر وہی ہو گا سلطنت ترکی میں بہاء اللہ اور افغانستان میں مرزائی مبلغ

ایک صاحب نے مرزا بشیر الدین محمود سے کے لئے ہر طرح ظاہری و خفیہ تعاون کے بارہ میں یہاں کہ مدد دینے کے بارہ میں دریافت کیا تو انہوں نے اپنے جماعت احمدیہ نظام حکومت سنبھالنے کے قابل نہیں ہے (انگریزوں کی حکومت) کو قائم رکھا جائے تاکہ یہ نظام ا

١٠٨

صفحہ ١٩٨٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

تھے۔ آج بھی وہ پاکستان کی شکل میں ایک مسلم ریاست جس کا جغرافیائی حدود اربعہ بھی محدود ہے کے مقابلہ میں سیکولر اکھنڈ بھارت کو اپنے لئے مضبوط اور مفید سمجھتے ہیں۔ جب کہ ان کے لئے مرزا غلام احمد کی بعض پیشین گوئیوں نے اس تصور کو تقدس کا جامہ بھی پہنا دیا ہے۔

کسی نہ کسی طرح پھر متحد ہونے کی کوشش

چنانچہ ٣؍ اپریل ١٩٤٧ء کو چوہدری ظفر اللہ خان کے بھتیجے کے نکاح کے موقعہ پر سابق خلیفہ ربوہ مرزا بشیر الدین محمود نے اپنا ایک رؤیا بیان کیا اور اس رؤیا (خواب) کی تعبیر اور اس سلسلہ میں مرزا غلام احمد کی پیشین گوئیوں کا ذکر کرتے ہوئے چوہدری ظفر اللہ خان کی موجودگی میں کہا: ”حضور نے فرمایا جہاں تک میں نے ان پیشین گوئیوں پر نظر دوڑائی ہے جو مسیح موعود (مرزا غلام احمد) کے متعلق ہیں اور جہاں تک اللہ تعالیٰ کے اس فعل پر جو مسیح موعود (مرزا غلام احمد) کی بعثت سے وابستہ ہے، غور کیا ہے۔ میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ ہندوستان میں ہمیں دوسری اقوام کے ساتھ مل جل کر رہنا چاہئے اور ہندوؤں اور عیسائیوں کے ساتھ مشارکت رکھنی چاہئے۔“

حقیقت یہی ہے کہ ہندوستان جیسی مضبوط بیس جس قوم کو مل جائے اس کی کامیابی میں کوئی شک نہیں رہتا۔ اللہ تعالیٰ کی اس مشیت سے کہ اس نے احمدیت کے لئے اتنی وسیع بیس مہیا کی ہے۔ پتہ لگتا ہے کہ وہ سارے ہندوستان کو ایک سٹیج پر جمع کرنا چاہتا ہے اور سب کے گلے میں احمدیت کا جوا ڈالنا چاہتا ہے۔ اس لئے ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ ہندو مسلم سوال اٹھ جائے اور ساری قومیں شیر وشکر ہو کر رہیں تاکہ ملک کے حصے بخرے نہ ہوں۔ بے شک یہ کام بہت مشکل ہے۔ مگر اس کے نتائج بہت شاندار ہیں اور اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ ساری قومیں متحد ہوں تاکہ 2076 احمدیت اس وسیع بیس پر ترقی کرے۔ چنانچہ اس رؤیا میں اس طرف اشارہ ہے ممکن ہے کہ عارضی طور پر کچھ افتراق ہو اور کچھ وقت کے لئے دونوں قومیں جدا جدا رہیں۔ مگر یہ حالت عارضی ہوگی اور ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ جلد دور ہو جائے۔ بہر حال ہم چاہتے ہیں کہ اکھنڈ ہندوستان بنے اور ساری قومیں باہم شیر وشکر ہو کر رہیں۔“

(روزنامہ الفضل قادیان مورخہ ٥؍ اپریل ١٩٤٧ء)

”میں قبل ازیں بتا چکا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت ہندوستان کو اکٹھا رکھنا چاہتی ہے۔ لیکن قوموں کی منافرت کی وجہ سے عارضی طور پر الگ بھی کرنا پڑے۔ یہ اور بات ہے ہم ہندوستان کی تقسیم پر رضامند ہوئے تو خوشی سے نہیں بلکہ مجبوری سے اور پھر یہ کوشش کریں گے کہ کسی نہ کسی طرح جلد متحد ہو جائیں۔“

(میاں مرزا محمود خلیفہ ربوہ الفضل ١٧؍مئی ١٩٤٧ء)

١١٠

صفحہ ١١١

1989 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

ویٹیکن سٹیٹ کا مطالبہ ..... پاکستان کی حد بندی کے موقع پر غداری

جماعت احمدیہ تقسیم کی مخالف تھی۔ لیکن جب مخالفت کے باوجود تقسیم کا اعلان ہو گیا تو احمدیوں نے پاکستان کو نقصان پہنچانے کی ایک اور زبردست کوشش کی جس کی وجہ سے گورداسپور کا ضلع جس میں قادیان کا قصبہ واقع تھا پاکستان سے کاٹ کر بھارت میں شامل کر دیا گیا۔ اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ حد بندی کمیشن جن دنوں بھارت اور پاکستان کی حد بندی کی تفصیلات طے کر رہا تھا کانگریس اور مسلم لیگ کے نمائندے دونوں اپنے اپنے دعاوی اور دلائل پیش کر رہے تھے۔ اس موقعہ پر جماعت احمدیہ نے باؤنڈری کمیشن کے سامنے اپنا الگ ایک محضر نامہ پیش کیا اور اپنے لئے کانگریس اور مسلم لیگ دونوں سے الگ موقف اختیار کرتے ہوئے قادیان کو ویٹی کن سٹی قرار دینے کا مطالبہ کیا۔ اس محضر نامہ میں انہوں نے اپنی تعداد اپنے علیحدہ مذہب، 2077 اپنے فوجی اور سول ملازمین کی کیفیت اور دوسری تفصیلات درج کیں۔ نتیجہ یہ ہوا احمدیوں کا ویٹی کن سٹیٹ کا مطالبہ تو تسلیم نہ کیا گیا۔ البتہ باؤنڈری کمیشن نے احمدیوں کے میمورنڈم سے یہ فائدہ حاصل کر لیا کہ احمدیوں کو مسلمانوں سے خارج کر کے گورداسپور کو مسلم اقلیت کا ضلع قرار دے کر اس کے اہم ترین علاقے بھارت کے حوالے کر دیئے اور اس طرح نہ صرف گورداسپور کا ضلع پاکستان سے گیا۔ بلکہ بھارت کو کشمیر ہڑپ کر لینے کی راہ مل گئی اور کشمیر پاکستان سے کٹ گیا۔

چنانچہ سید میر نور احمد سابق ڈائریکٹر تعلقات عامہ اپنی یادداشتوں ”مارشل لاء سے مارشل لاء تک“ اس واقعہ کو یوں تحریر کرتے ہیں: ”لیکن اس سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ ایوارڈ پر ایک مرتبہ دستخط ہونے کے بعد ضلع فیروز پور کے متعلق جس میں 8 اگست اور 12 اگست کے درمیان عرصہ میں ردو بدل کیا گیا اور ریڈ کلف سے ترمیم شدہ ایوارڈ حاصل کیا گیا۔ کیا ضلع گورداسپور کی تقسیم اس ایوارڈ میں شامل تھی۔ جس پر ریڈ کلف نے 8 اگست کو دستخط کئے تھے یا ایوارڈ کے اس حصہ میں بھی ماؤنٹ بیٹن نے نئی ترمیم کرائی۔ افواہ یہی ہے اور ضلع فیروز پور والی فائل سے اس کی تصدیق ہوتی ہے۔ اگر ایوارڈ کے ایک حصہ میں ناجائز طور پر ردو بدل ہو سکتا تھا تو دوسرے حصوں کے متعلق بھی یہ شبہ پیدا ہوتا ہے۔ پنجاب حد بندی کمیشن کے مسلمان ممبروں کا تاثر ریڈ کلف کے ساتھ آخری گفتگو کے بعد یہی تھا کہ گورداسپور جو بہر حال مسلم اکثریت کا ضلع تھا قطعی طور پر پاکستان کے حصے میں آ رہا ہے۔ لیکن جب ایوارڈ کا اعلان ہوا تو نہ ضلع فیروز پور کی تحصیلیں پاکستان میں آئیں اور نہ ضلع گورداسپور (ماسوائے تحصیل شکر گڑھ ) پاکستان کا حصہ بنا۔ کمیشن کے

١١١

صفحہ ١٩٩٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

سامنے وکلا کی بحث کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ کمیشن کے سامنے کشمیر کے نقطہ نگاہ سے ضلع گورداسپور کی تحصیل پٹھان کوٹ کی اہمیت کا کوئی ذکر آیا تھا یا نہیں، غالباً نہیں آیا تھا۔ کیونکہ یہ پہلو کمیشن کے نقطہ نگاہ سے قطعاً غیر متعلق تھا۔ ممکن ہے ریڈ کلف کو اس نقطے کا کوئی علم ہی نہ ہو۔ لیکن ماؤنٹ بیٹن کو معلوم تھا کہ تحصیل پٹھان کوٹ کے ادھر 2078 اُدھر ہونے سے کن امکانات کے راستے کھل سکتے ہیں اور جس طرح کانگریس کے حق میں ہر قسم کی بے ایمانی کرنے پر اتر آیا تھا۔ اس کے پیش نظر یہ بات ہرگز بعید از قیاس نہیں کہ ریڈ کلف عواقب اور نتائج کو پوری طرح سمجھا ہی نہ ہو اور اس پاکستان دشمنی کی سازش میں کردار عظیم ماؤنٹ بیٹن نے ادا کیا ہو۔

ضلع گورداسپور کے سلسلے میں ایک اور بات بھی قابل ذکر ہے۔ اس کے متعلق چوہدری ظفر اللہ خان جو مسلم لیگ کی وکالت کر رہے تھے خود بھی ایک افسوسناک حرکت کر چکے ہیں۔ انہوں نے جماعت احمدیہ کا نقطہ نگاہ عام مسلمانوں سے (جن کی نمائندگی مسلم لیگ کر رہی تھی) جداگانہ حیثیت میں پیش کیا۔ جماعت احمدیہ کا نقطہ نگاہ بے شک یہی تھا کہ وہ پاکستان میں شامل ہونا پسند کرے گی۔ لیکن جب سوال یہ تھا کہ مسلمان ایک طرف اور باقی سب دوسری طرف۔ تو کسی جماعت کا اپنے آپ کو مسلمانوں سے علیحدہ ظاہر کرنا مسلمانوں کی عددی قوت کو کم ثابت کرنے کے مترادف تھا۔ اگر جماعت احمدیہ یہ حرکت نہ کرتی۔ تب بھی ضلع گورداسپور کے متعلق شاید فیصلہ وہی ہوتا جو ہوا۔ لیکن یہ حرکت اپنی جگہ بہت عجیب تھی۔“

(روزنامہ مشرق ٣؍فروری ١٩٦٤ء)

اب اس سلسلہ میں خود حد بندی کمیشن کے ایک ممبر جسٹس محمد منیر کا ایک حوالہ بھی ملاحظہ فرمائیں: ”اب ضلع گورداسپور کی طرف آئیے۔ کیا یہ مسلم اکثریت کا علاقہ نہیں تھا۔“

اس میں کوئی شک نہیں کہ اس ضلع میں مسلم اکثریت بہت معمولی تھی۔ لیکن پٹھان کوٹ تحصیل اگر بھارت میں شامل کر دی جاتی تو باقی ضلع میں مسلم اکثریت کا تناسب خود بخود بڑھ جاتا۔ مزید برآں مسلم اکثریت کی تحصیل شکر گڑھ کو تقسیم کرنے کی مجبوری کیوں پیش آئی۔ اگر اس تحصیل کو تقسیم کرنا ضروری تھا تو دریائے راوی کی قدرتی سرحد یا اس کے ایک معاون نالے کو کیوں نہ قبول کیا گیا۔ بلکہ اس مقام سے اس نالے کے مغربی کنارے کو سرحد قرار دیا گیا۔ جہاں یہ نالہ ریاست کشمیر سے صوبہ پنجاب میں داخل ہوتا ہے۔ کیا گورداسپور کو اس لئے بھارت میں 2079 شامل کیا گیا کہ اس وقت بھی بھارت کو کشمیر سے منسلک رکھنے کا عزم وارادہ تھا۔

اس ضمن میں میں ایک بہت ناگوار واقعہ کا ذکر کرنے پر مجبور ہوں۔ میرے لئے یہ بات ہمیشہ ناقابل فہم رہی ہے کہ احمدیوں نے علیحدہ نمائندگی کا کیوں اہتمام کیا۔ اگر احمدیوں کو مسلم

١١٢

صفحہ ١١٢

1991 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

لیگ کے موقف سے اتفاق نہ ہوتا تو ان کی طرف سے علیحدہ نمائندگی کی ضرورت ایک افسوسناک امکان کے طور پر سمجھ میں آسکتی تھی۔ شاید وہ علیحدہ ترجمانی سے مسلم لیگ کے موقف کو تقویت پہنچانا چاہتے تھے۔ لیکن اس سلسلے میں انہوں نے شکرگڑھ کے مختلف حصوں کے لئے حقائق اور اعداد و شمار پیش کئے اس طرح احمدیوں نے یہ پہلو اہم بنا دیا کہ نالہ بھین اور نالہ بستر کے درمیانی علاقے میں غیر مسلم اکثریت میں ہیں اور اس دعوٰی کے لئے دلیل میسر کر دی کہ اگر نالہ اجھ اور نالہ بھین کا درمیانی علاقہ بھارت کے حصہ میں آیا تو نالہ بھین اور نالہ بستر کا درمیانی علاقہ از خود بھارت کے حصہ میں آ جائے گا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ علاقہ ہمارے (پاکستان) کے حصے میں آگیا ہے۔ لیکن گورداسپور کے متعلق احمدیوں نے اس وقت سے ہمارے لئے سخت غصہ پیدا کر دیا۔“

(روزنامہ نوائے وقت مورخہ ٧ جولائی ١٩٧٤ء)

اس معاملہ کا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ایک طرف قادیانی ریڈ کلف کمیشن کو الگ سٹیٹ کا میمورنڈم دے رہے تھے اور دوسری طرف وہی چوہدری ظفر اللہ خان کمیشن کے سامنے پاکستانی کیس کی وکالت کر رہے تھے جو بقول ان کے اپنی جماعت کے اس خلیفہ کو مطاع مطلق کہتے تھے۔ جن کا عقیدہ یہ تھا کہ اکھنڈ بھارت اللہ کی مشیت اور مسیح موعود کی بعثت کا تقاضہ ہے۔ ایک ایسے شخص کو پاکستانی وکالت سپرد کر دینا جس کا ضمیر ہی پاکستان کی حمایت گوارہ نہ کر سکے نادانی نہیں تو اور کیا تھا؟ اور خود چوہدری ظفر اللہ کا ایسے در پردہ خیالات و مقاصد کے ہوتے ہوئے پاکستانی کیس کو ہاتھ میں لینا منافقت نہیں تھی تو اور کیا تھا؟ بہرحال ادھر چوہدری صاحب ریڈ کلف کے سامنے پاکستانی کیس لڑ رہے تھے۔ ادھر ان کے امیر اور مطاع مطلق مرزا محمود احمد نے علیحدہ میمورنڈم پیش کر دیا اس طرح یہ دو دھاری تلوار کی جنگ گورداسپور ضلع کی تین تحصیلوں کو پاکستان 2080 سے کاٹ کر بھارت جانے پر ختم ہوئی اور کشمیر کو پاکستان سے کاٹ دینے کی راہ بھی ہموار کر دی گئی۔

---------- [At this stage Dr. Mrs. Ashraf Khatoon Abbasi vacated the Chair which was occupied by Mr. Chairman (Sahibzada Farooq Ali)]

(اس مرحلہ پر ڈاکٹر مسز اشرف خاتون عباسی کی جگہ مسٹر چیئرمین صاحبزادہ فاروق علی نے اجلاس کی صدارت سنبھال لی) ----------

SSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

سامنے دلائل کی بحث کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں۔ یہ کہنا مشکل سے ضلع گورداسپور کی تحصیل پٹھان کوٹ کی اہمیت کا کوئی ذ یہ پہلو کمیشن کے نقطہ نگاہ سے قطعاً غیر متعلق تھا۔ ممکن ہے لیکن ماؤنٹ بیٹن کو معلوم تھا کہ تحصیل پٹھان کوٹ کے ادھ راستے کھل سکتے ہیں اور جس طرح کانگریس کے حق میں اس کے پیش نظر یہ بات ہرگز بعید از قیاس نہیں کہ ریڈ کلف نہ ہو اور اس پاکستان دشمنی کی سازش میں کردار عظیم ماؤنٹ ضلع گورداسپور کے سلسلے میں ایک اور بات بھی ظفر اللہ خان جو مسلم لیگ کی وکالت کر رہے تھے خود بھی ایک نے جماعت احمدیہ کا نقطہ نگاہ عام مسلمانوں سے (جن کی حیثیت میں پیش کیا۔ جماعت احمدیہ کا نقطہ نگاہ بے شک کرے گی۔ لیکن جب سوال یہ تھا کہ مسلمان ایک طرف جماعت کا اپنے آپ کو مسلمانوں سے علیحدہ ظاہر کرنا مسل کے مترادف تھا۔ اگر جماعت احمدیہ یہ حرکت نہ کرتی ۔ تب وہی ہوتا جو ہوا۔ لیکن یہ حرکت اپنی جگہ بہت عجیب تھی۔“

اب اس سلسلہ میں خود حد بندی کمیشن کے ایک فرمائیں : ”اب ضلع گورداسپور کی طرف آئیے۔ کیا یہ مسلم اس میں کوئی شک نہیں کہ اس ضلع میں مسلم اک تحصیل اگر بھارت میں شامل کر دی جاتی تو باقی ضلع می جاتا۔ مزید برآں مسلم اکثریت کی تحصیل شکر گڑھ کو تقسیم کر تحصیل کو تقسیم کرنا ضروری تھا تو دریائے راوی کی قدرتی س نہ قبول کیا گیا۔ بلکہ اس مقام سے اس نالے کے مغربی ک ریاست کشمیر سے صوبہ پنجاب میں داخل ہوتا ہے۔ کیا گور کیا گیا کہ اس وقت بھی بھارت کو کشمیر سے منسلک رکھنے کا ”اس ضمن میں میں ایک بہت ناگوار واقعہ کا ذ بات ہمیشہ ناقابل فہم رہی ہے کہ احمدیوں نے علیحدہ نمائندگ

صفحہ ١٩٩٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

مولوی مفتی محمود:

سیاسی عزائم اور منصوبے ...... ملک دشمن سیاسی سرگرمیاں

اب ہم اس سوال کا جائزہ لیتے ہیں کہ بظاہر ایک خالص مذہبی جماعت کہلانے والی تنظیم اور تحریک کے سیاسی عزائم اور مساعی کیا ہیں۔

مرزائی حضرات بیک وقت کئی کھیل کھیلتے ہیں۔ ایک طرف مذہب اور اس کی تبلیغ کی آڑ لے کر ایک خالص مذہبی جماعت ہونے کے دعویدار ہوتے ہیں۔ دوسری طرف ان کے سیاسی عزائم اور منصوبے نہایت شدت سے اور منظم طریقے سے جاری رہتے ہیں اور اگر کہیں مسلمانوں کی اکثریت ان کے سیاسی مشاغل اور ارادوں کا محاسبہ کرے تو ایک مظلوم مذہبی اقلیت کا رونا رو کر عالمی ضمیر کو معاونت کے لئے پکارا جاتا ہے۔ حالیہ واقعات میں لندن میں بیٹھ کر چوہدری ظفر اللہ خان کا واویلا اور اس کے جواب میں مغربی دنیا کی چیخ و پکار اسی تکنیک کی واضح مثال ہے۔

مذہبی نہیں سیاسی تنظیم

مذہب اور سیاست کے اس دوطرفہ ناٹک میں اصل حقیقت نگاہوں سے مستور ہو جاتی ہے اور حقائق سے بے خبر دنیا سمجھتی ہے کہ واقعی پاکستان کے ”مذہبی جنونی“ ایک بے ضرر چھوٹی سی اقلیت کو کچلنا چاہتے ہیں۔ لیکن واقعات اور حقائق کیا ہیں اس کا اندازہ حسب ذیل چند حوالوں اور پاکستانی سیاست میں اس جماعت کے عملی کردار سے لگانا چاہئے۔ مرزا محمود احمد صاحب نے ١٩٢٢ء میں خطبہ جمعہ کے دوران کہا تھا۔

”ہمیں معلوم نہیں کب خدا کی طرف سے دنیا کا چارج سپرد کیا جاتا ہے۔ ہمیں اپنی طرف سے تیار رہنا چاہئے کہ دنیا کو سنبھال سکیں۔“

(الفضل مورخہ ٢٧؍فروری، ٢٩؍مارچ ١٩٢٢ء)

اس سے پہلے ١٣؍فروری ١٩٢٢ء کو الفضل میں خلیفہ محمود احمد کی یہ تقریر شائع ہوئی۔

”ہم احمدی حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں۔“

١٩٣٥ء میں کہا: ”کہ اس وقت تک کہ تمہاری بادشاہت قائم نہ ہو جائے تمہارے راستے سے یہ کانٹے ہرگز دور نہیں ہو سکتے۔“

(الفضل مورخہ ١٨؍جولائی ١٩٣٥ء)

١٩٣٥ء میں انہوں نے اپنے سیاسی عزائم کا اظہار اس طرح کیا کہ: ”جب تک جماعت احمدیہ نظام حکومت سنبھالنے کے قابل نہیں ہوتی اس وقت تک ضروری ہے کہ اس دیوار (انگریزی حکومت) کو قائم رکھا جائے۔“

(الفضل قادیان مورخہ ٣؍جنوری ١٩٣٥ء)

١١٤

صفحہ ١١٤

SSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

مولوی مفتی محمود :

سیاسی عزائم اور منصوبے ...... ملک

اب ہم اس سوال کا جائزہ لیتے ہیں کہ بظاہر تنظیم اور تحریک کے سیاسی عزائم اور مساعی کیا ہیں۔ مرزائی حضرات بیک وقت کئی کھیل کھیلتے ہیں آڑ لے کر ایک خالص مذہبی جماعت ہونے کے دعویدار عزائم اور منصوبے نہایت شدت سے اور منظم طریقے سے کی اکثریت ان کے سیاسی مشاغل اور ارادوں کا محاسبہ کرے عالمی ضمیر کو معاونت کے لئے پکارا جاتا ہے۔ حالیہ واقعات خان کا واویلا اور اس کے جواب میں مغربی دنیا کی چیخ و پکار

مذہبی نہیں سیاسی

مذہب اور سیاست کے اس دوطرفہ ناٹک میں ہے اور حقائق سے بے خبر دنیا سمجھتی ہے کہ واقعی پاکستان 2081 اقلیت کو کچلنا چاہتے ہیں۔ لیکن واقعات اور حقائق کا اور پاکستانی سیاست میں اس جماعت کے عملی کردار سے ١٩٢٢ء میں خطبہ جمعہ کے دوران کہا تھا۔ ”نہیں معلوم ہمیں کب خدا کی طرف سے طرف سے تیار رہنا چاہئے کہ دنیا کو سنبھال سکیں۔“ اس سے پہلے ١٤؍ فروری ١٩٢٢ء کو الفضل میں ”ہم احمدی حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں ۔“ ١٩٣٥ء میں کہا: ”کہ اس وقت تک کہ تم راستے سے یہ کانٹے ہرگز دور نہیں ہو سکتے۔“ ١٩٤٥ء میں انہوں نے اپنے سیاسی عزائم جماعت احمدیہ نظام حکومت سنبھالنے کے قابل نہیں ہو (انگریزی حکومت) کو قائم رکھا جائے۔“

١١٤

1993 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

١٩٤٥ء کے بعد حصول اقتدار کے یہ ارادے تحریروں میں عام طور پر پائے جانے لگے۔ جسٹس منیر نے بھی اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ : ”١٩٤٥ء سے لے کر ١٩٤٧ء کے آغاز تک ان کی بعض تحریروں سے یہ منکشف ہوتا ہے کہ انہیں پہلے انگریزوں کا جانشین بننے کی توقع تھی۔“

(رپورٹ تحقیقاتی عدالت فسادات پنجاب ص ٢٠٩)

ان سیاسی عزائم سے مزید پردہ ١٩٦٥ء میں لندن میں منعقد ہونے والی جماعت احمدیہ کے پہلے یورپی کنونشن سے اٹھ جاتا ہے جس کا افتتاح سرظفر اللہ نے کیا۔ روزنامہ جنگ راولپنڈی 2082 ٤ اگست ١٩٦٥ء جلد ٧ ص٣٠٩ فرسٹ ایڈیشن میں خبر دی گئی ہے کہ : ”لندن ٣؍ اگست (نمائندہ جنگ) جماعت احمدیہ کا پہلا یورپی کنونشن جماعت کے لندن مرکز میں منعقد ہورہا ہے۔ جن میں تمام یورپی ممالک کے احمدیہ مشن شرکت کررہے ہیں۔ کنونشن کا افتتاح گزشتہ روز ہیگ کی بین الاقوامی عدالت کے جج سرظفر اللہ خان نے کیا یہ کنونشن ٧؍ اگست تک جاری رہے گا۔ جماعت نے مختلف ٧٥ ممالک میں اپنے مشن قائم کرلئے ہیں۔ برطانیہ میں جماعت کے ١٨ مراکز قائم ہو چکے ہیں۔ کنونشن میں شریک مندوبین نے اس بات پر زور دیا کہ اگر احمدی جماعت برسر اقتدار آ جائے تو امیروں پر ٹیکس لگائے جائیں اور دولت کو از سر نو تقسیم کیا جائے۔ ساہوکاری اور سود پر پابندی لگادی جائے اور شراب نوشی ممنوع قرار دی جائے۔“ اس خبر کے خط کشیدہ الفاظ میں احمدی جماعت کے برسراقتدار آنے کی صورت میں مجوزہ اصلاحات کا ذکر ہے کیا کوئی غیر سیاسی جماعت اس قسم کے امکانات اور اصلاحات پر غور کر سکتی ہے؟

پاکستان میں قادیانی ریاست کا منصوبہ

مرزا محمود نے ١٩٥٢ء کے شروع میں یہ اعلان کر دیا تھا کہ: ”اگر ہم ہمت کریں اور تنظیم کے ساتھ محنت سے کام کریں تو ١٩٥٢ء میں انقلاب برپا کرسکتے ہیں۔ (آگے چل کر کہا) ١٩٥٢ء کو گزرنے نہ دیجئے۔ جب احمدیت کا رعب دشمن اس رنگ میں محسوس نہ کرے کہ اب احمدیت مٹائی نہیں جاسکتی اور وہ مجبور ہو کر احمدیت کی آغوش میں آ گرے۔“

(الفضل مورخہ ١٦؍ جنوری ١٩٥٢ء)

واضح رہے کہ یہ اعلان ربوہ میں قادیانی فرقہ کے سیاسی فوجی اور کلیدی ملازمتوں پر فائز 2083 اہم عہدہ داروں کے اہم اجتماع اور مشورہ کے بعد کرایا گیا تھا اور ابھی پندرہ مہینے گزرنے نہ

١١٥

صفحہ ١٩٩٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

پائے تھے کہ اس اعلان انقلاب کی ایک صورت فسادات پنجاب ١٩٥٣ء کی شکل میں ظاہر ہوگئی۔ اس سلسلہ میں موجودہ مرزا ناصر احمد کے اعلانات دس ہزار گھوڑوں کی تیاری اور اس طرح کے کئی منصوبے اس کثرت سے ان کے اخبارات میں آتے رہے ہیں کہ سب پر عیاں ہیں۔ سیاسی عزائم کی یہ ایک معمولی سی جھلک تھی اور قیام پاکستان کے فوراً بعد مرزائیوں کے حصول اقتدار کا رجحان ابھر کر بڑی شدت سے حسب ذیل صورتوں میں سامنے آنے لگا۔

ذریعہ بنایا جائے۔

سر ظفر اللہ خاں کا کردار

اس پروگرام اور سیاسی عزائم کے حصول کا آغاز چوہدری ظفر اللہ خاں نے اپنے دور وزارت میں بڑے زور وشور سے کیا۔ چوہدری صاحب بڑے فخر سے کہا کرتے کہ وہ چین جائیں یا امریکہ ہر جگہ مرزائیت کی تبلیغ کریں گے۔ وہ اپنی جماعت کے امیر کو مطاع مطلق سمجھتے تھے وہ نہ صرف احمدیت کو خدا کا لگایا ہوا پودا سمجھتے تھے۔ بلکہ یہ بھی کہ مرزا غلام احمد کے وجود کو نکال دیا جائے تو اسلام کا زندہ مذہب ہونا ثابت نہیں ہو سکتا ایسے خیالات کا اظہار وہ نہ صرف نجی مجالس بلکہ سرکاری ملازم ہوتے ہوئے احمدیت کے تبلیغی اجتماعات میں بھی برملا کرتے تھے۔

(ملاحظہ ہو الفضل ٣١ مئی ١٩٥٢ء کراچی کے احمدی اجتماع کی تقریر)

پاکستان بننے کے بعد ایسے شخص کو جب وزارت خارجہ جیسا اہم عہدہ دیا گیا جس کی نگرانی میں تمام دنیا میں سفارتخانوں کا قیام اور پاکستان سے روابط قائم کرانے کا کام بھی تھا تو 2084 شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانی مرحوم نے اس وقت کے وزیر اعظم کو لکھا کہ اگر کلیدی مناصب پر ایسے لوگوں کو فائز کرنے کا یہ تلخ گھونٹ آج گلے سے اتار لیا گیا تو آئندہ زہر کا پیالہ پینے کو تیار رہنا چاہئے۔

مگر یہ نصیحت بوجوہ کارگر نہ ہوسکی اور ہمیں زہر کا ایک پیالہ نہیں کئی کئی پیالے پینے پڑے۔ چوہدری صاحب موصوف تقسیم سے پہلے بھی اپنی سرکاری پوزیشن سے سراسر ناجائز

١١٦

صفحہ ١٩٩٥

ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

پائے تھے کہ اس اعلان انقلاب کی ایک صورت فسادات پنجا اس سلسلہ میں موجودہ مرزا ناصر احمد کے اعلانا طرح کے کئی منصوبے اس کثرت سے ان کے اخبارات میں سیاسی عزائم کی یہ ایک معمولی سی جھلک تھی اور قا حصول اقتدار کا رجحان ابھر کر بڑی شدت سے حسب ذیل

ذریعہ بنایا جائے۔

سر ظفر اللہ خاں کا کر

اس پروگرام اور سیاسی عزائم کے حصول کا آغا وزارت میں بڑے زور وشور سے کیا۔ چوہدری صاحب بڑ امریکہ ہر جگہ مرزائیت کی تبلیغ کریں گے۔ وہ اپنی جماعت صرف احمدیت کو خدا کا لگایا ہوا پودا سمجھتے تھے۔ بلکہ یہ بھی کہ تو اسلام کا زندہ مذہب ہونا ثابت نہیں ہو سکتا ایسے خیالا سرکاری ملازم ہوتے ہوئے احمدیت کے تبلیغی اجتماعات میں

(ملاحظہ ہو الفضل ٣١

پاکستان بننے کے بعد ایسے شخص کو جب وزارت میں تمام دنیا میں سفارتخانوں کا قیام اور پاکستان سے روا الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانی مرحوم نے اس وقت کے وزیر ا لوگوں کو فائز کرنے کا یہ تلخ گھونٹ اس گلے سے اتار لیا چاہئے۔

مگر یہ نصیحت بوجوہ کارگر نہ ہوسکی اور ہمیں زہر کا چوہدری صاحب موصوف تقسیم سے پہلے بھی

١١٦

1995 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

فائدہ اٹھاتے ہوئے قادیانی مفادات کے لئے کام کرتے رہے۔ مگر تقسیم کے بعد اس میں بڑھ چڑھ کر اضافہ کر دیا۔ وزارت خارجہ کے سہارے سے انہوں نے غیر ممالک میں قادیانی تحریک کو تقویت پہنچائی اور اس وقت سے لے کر اب تک یہ لوگ پاکستان کے سفارتی ذرائع سے اپنی باطل تبلیغ کے نام پر عالم اسلام کے خلاف سیاسی، جاسوسی اور سامراجی مفادات حاصل کر رہے ہیں۔

ایسے قادیانی حاشیہ برداروں نے ملکی زرمبادلہ اتنی بے دردی سے ضائع کیا کہ جب بھی اس طرح کی خبریں آئیں مسلمانوں میں تشویش اور اضطراب کی لہر دوڑی اور قومی اسمبلی تک میں اس بارہ میں آوازیں اٹھائی گئیں۔

١٩٥٣ء کے فسادات پنجاب کی افسوسناک صورت ایسے مطالبات ہی کے نتیجہ میں پیدا ہوئی جس میں سوادِ اعظم نے دیگر مطالبوں کے علاوہ سر ظفر اللہ اور دیگر مرزائیوں کا کلیدی مناصب سے علیحدگی پر زور دیا گیا تھا۔ مگر ہم ان کے بیرونی آقاؤں مغربی سامراج کے ہاتھوں اتنے بے بس ہو چکے تھے کہ سینکڑوں مسلمانوں کی شہادت کے بعد بھی ”اس وقت کے وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین نے سر ظفر اللہ کی علیحدگی کے بارہ میں یہ قطعی رائے ظاہر کی کہ وہ اس اہم معاملہ میں کوئی کارروائی نہیں کر سکتے۔“

(منیر انکوائری ص ٣١٩)

وزارت خارجہ جیسے اہم منصب پر فائز یہی شخص تھا جس کے افسوسناک کردار کا ایک رخ حال ہی میں لندن میں ان کے پریس کانفرنس مورخہ ٥؍ جون ١٩٧٤ء کی شکل میں سامنے آیا۔ یہ 2095 پریس کانفرنس پاکستانی اخبارات میں آچکی ہے۔ مغربی پریس، بی بی سی اور آکاش وانی بھارت نے اس پریس کانفرنس کے عنوان سے اسی پروپیگنڈہ کی مہم چلائی۔ جس قسم کی مہم المیہ مشرقی پاکستان سے پہلے چلائی گئی تھی۔

بہر حال یہ ایک مثال تھی اس بات کی کہ کلیدی مناصب پر فائز ہونے کی شکل میں ان لوگوں کے ہاتھوں ملک وملت کے مفادات کو کتنا نقصان پہنچ سکتا ہے۔

تمام محکموں اور کلیدی مناصب پر قبضہ کرنے کا منصوبہ

مرزائیوں کے ذہن میں کلیدی مناصب کی یہی مہم اور نازک پوزیشن پہلے سے موجود ہے اور ان کی تحریرات، اعلانات اور سرکاری محکموں پر منظم قبضہ کرنے کے پروگرام کا واضح ثبوت مل جاتا ہے۔

مرزا محمود نے اپنی جماعت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: ”جب تک سارے محکموں میں ہمارے آدمی موجود نہ ہوں ان سے پوری طرح کام نہیں لے سکتے۔ مثلاً موٹے موٹے محکموں

١١٧

صفحہ ١٩٩٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

سے فوج ہے، پولیس ہے، ایڈمنسٹریشن ہے، ریلوے ہے، فنانس ہے، کسٹمز ہے، انجینئرنگ ہے۔ یہ آٹھ دس موٹے موٹے صیغے ہیں جن کے ذریعے سے جماعت اپنے حقوق محفوظ کراسکتی ہے۔ ہماری جماعت کے نوجوان فوج میں بے تحاشا جاتے ہیں۔ اس کے نتیجہ میں ہماری نسبت فوج میں دوسرے محکموں کی نسبت سے بہت زیادہ ہے اور ہم اس سے اپنے حقوق کی حفاظت کا فائدہ نہیں اٹھاسکتے۔ باقی محکمے خالی پڑے ہیں۔ بے شک آپ لوگ اپنے لڑکوں کو نوکری کرائیں۔ لیکن وہ نوکری اس طرح کیوں نہ کرائی جائے جس سے جماعت فائدہ اٹھاسکے۔ پیسے بھی اس طرح کمائے جائیں کہ ہر صیغے میں ہمارے آدمی موجود ہوں اور ہر جگہ ہماری آواز پہنچ سکے۔‘‘

(خطبہ مرزا محمود احمد مندرجہ الفضل ١١؍جنوری ١٩٥٢ء)

2086 کلیدی مناصب کی اہمیت اور مطالبہ علیحدگی کے دلائل

اس واضح پروگرام اور منصوبوں کو دیکھ کر اور سرکاری محکموں میں مرزائیوں کا اپنی آبادی سے بدرجہا بڑھ کر قبضہ کرنے پر مسلمان بجاطور پر بے چین ہیں۔ ان کی سابقہ روش کو دیکھ کر اگر وہ یہ مطالبہ کرتے کہ آئندہ دس سال میں ملک کے ہر محکمے میں کسی بھی مرزائی کی بھرتی بند کردی جائے۔ تب بھی یہ مطالبہ عین قرین انصاف تھا۔ مگر مسلمان اس سے کم تر مطالبہ یعنی قادیانیوں کو کلیدی مناصب سے ہٹانے پر اکتفا کئے ہوئے ہیں جس کی معقولیت کی بنیاد صرف یہ مذہبی نظریہ نہیں کہ کسی اسلامی سٹیٹ میں قرآن وسنت کی واضح ہدایات کی بناء پر کسی بھی غیر مسلم کو کلیدی مناصب پر مامور نہیں کیا جاسکتا۔ بلکہ اس کے علاوہ یہ مطالبہ اس لئے بھی کیا جارہا ہے کہ:

ناجائز فائدہ اٹھا کر مسلمانوں کے نام پر مسلمانوں کی ملازمتوں کے کوٹہ کا استحصال کرتے آئے ہیں۔

نے شرح آبادی کے تناسب سے بدرجہا زیادہ ملازمتوں پر قبضہ کرلیا ہے۔

کر کے اور اپنے ماتحت اکثریتی طبقہ مسلمانوں کے حقوق پامال کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھائی۔

مالیات، منصوبہ بندی، ذرائع ابلاغ وغیرہ پر انہیں اجارہ داری حاصل ہوگئی اور ملک کی قسمت کا فیصلہ ایک مٹھی بھر غیر مسلم جماعت کے ہاتھوں میں چلا گیا۔

١١٨

صفحہ ١٩٩٧

MBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

سے فوج ہے، پولیس ہے، ایڈمنسٹریشن ہے، ریلوے یہ آٹھ دس موٹے موٹے صیغے ہیں جن کے ذریعے ہماری جماعت کے نوجوان فوج میں بے تحاشا جاتے دوسرے محکموں کی نسبت سے بہت زیادہ ہے اور ہم اٹھا سکتے۔ باقی محکمے خالی پڑے ہیں۔ بے شک آپ نوکری اس طرح کیوں نہ کرائی جائے جس سے جماع جائیں کہ ہر صیغے میں ہمارے آدمی موجود ہوں اور ہر

2086 کلیدی مناصب کی اہمیت او

اس واضح پروگرام اور منصوبوں کو دیکھ کر ا سے بدرجہا بڑھ کر قبضہ کرنے پر مسلمان بجا طور پر یہ مطالبہ کرتے کہ آئندہ دس سال میں ملک کے چ جائے۔ تب بھی یہ مطالبہ عین قرین انصاف تھا۔ مگر کلیدی مناصب سے ہٹانے پر اکتفا کئے ہوئے ہیں نہیں کہ کسی اسلامی سٹیٹ میں قرآن وسنت کی وا مناصب پر مامور نہیں کیا جاسکتا۔ بلکہ اس کے علاوہ ی

ناجائز فائدہ اٹھا کر مسلمانوں کے نام پر مسلمانوں کی ملا

نے شرح آبادی کے تناسب سے بدرجہا زیادہ ملازم

کر کے اور اپنے ماتحت اکثریتی طبقہ مسلمانوں کے ح

مالیات، منصوبہ بندی، ذرائع ابلاغ وغیرہ پر انہیں فیصلہ ایک مٹھی بھر غیر مسلم جماعت کے ہاتھوں میں ی

١١٨

1997 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

2087 تبلیغ واشاعت کے لئے استعمال کیا اور انہی ہدایات پر عمل کیا جو ان کے امام اور خلیفہ نے ١٩٥٢ء میں انہیں دی تھیں اور کہا تھا کہ ”مرزائی ملازمین اپنے محکموں میں منظم صورت میں مرزائیت کی تبلیغ کریں۔“

(الفضل مورخہ ١١ جنوری ١٩٥٢ء)

غداری کے مرتکب ہوتے رہے۔ اس سلسلہ میں ائیر مارشل ظفر چوہدری اور کئی دوسرے جرنیلوں کا کردار قوم اور حکومت کے سامنے آچکا ہے۔ بنگلہ دیش اور پاک بھارت جنگ کے سلسلہ میں ان لوگوں کا کردار موضوع عام وخاص ہے۔

ان چند وجوہات کی بناء پر مرزائیوں کا کلیدی مناصب پر برقرار رہنا صرف مذہبی نقطہ نظر سے نہیں بلکہ ملک کی اکثریت کے معاشی، سماجی، سیاسی، معاشرتی مفادات کے تحفظ اور ملک وملت کی سالمیت کا بھی تقاضا ہے۔

متوازی نظام حکومت

پاکستان بننے کے بعد احمدی جماعت کی سیاسی تنظیم نے حکومت پاکستان کے مقابلے میں ایک متوازی نظام حکومت قائم کرلیا ہے۔ ربوہ کے مقام پر خالص احمدیوں کی بستی آباد کر کے اس نظام حکومت کا مرکز بنالیا گیا۔ جماعت کا لیڈر ”امیرالمومنین“ کہلاتا ہے۔ جو مسلمانوں کے فرمانروا کا متعین شدہ لقب ہے۔ اس امیرالمومنین کے ماتحت ربوہ میں مرزائی سٹیٹ کی نظارتیں باقاعدہ قائم ہیں۔ نظارت امور داخلہ ہے، نظارت نشرواشاعت ہے، نظارت امور عامہ ہے، نظارت امور مذہبی ہے۔ یہ نظارتیں کسی ریاست یا سلطنت کے نظام کے شعبوں کی طرح کام کر رہی ہیں۔ اس نظام حکومت نے خدام الاحمدیہ کے نام سے ایک فوجی نظام بھی بنا رکھا ہے۔ خدام الاحمدیہ میں ”فرقان بٹالین“ کے سابق سپاہی اور افسر شامل ہیں۔

2088 احمدی لیڈروں کو یقین ہے کہ اب ان کے لئے پاکستان کا حکمران بن جانا کوئی مشکل بات نہیں ہے۔ سابقہ خلیفہ ربوہ مرزا بشیر الدین محمود نے اپنے سالانہ جلسہ میں اعلان کیا تھا ہم فتح یاب ہوں گے اور تم مجرموں کے طور پر ہمارے سامنے پیش ہوگے۔ اس وقت تمہارا حشر بھی وہی ہوگا جو فتح مکہ کے دن ابو جہل اور اس کی پارٹی کا ہوا تھا۔

١١٩

صفحہ ١٩٩٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

بلوچستان پر قبضے کا منصوبہ

ابھی قیام پاکستان کو اک برس بھی نہ گزرنے پایا تھا کہ ٢٣؍جولائی ١٩٤٨ء کو قادیانی خلیفہ نے کوئٹہ میں ایک خطبہ دیا جو ١٣؍اگست کے الفضل میں ان الفاظ میں شائع ہوا۔

"برٹش بلوچستان جو اب پاکی بلوچستان ہے کی کل آبادی پانچ یا چھ لاکھ ہے۔ یہ آبادی اگر چہ دوسرے صوبوں کی آبادی سے کم ہے۔ مگر بوجہ ایک یونٹ ہونے کے اسے بہت بڑی اہمیت حاصل ہے۔ دنیا میں جیسے افراد کی قیمت ہوتی ہے یونٹ کی بھی قیمت ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر امریکہ کی کانسٹیٹیوشن ہے۔ وہاں اسٹیٹس سینٹ کے لئے اپنے ممبر منتخب کرتے ہیں۔ یہ نہیں دیکھا جاسکتا کہ کسی اسٹیٹ کی آبادی دس کروڑ ہے یا ایک کروڑ ہے۔ سب اسٹیٹس کی طرف سے برابر ممبر لئے جاتے ہیں۔ غرض پاکی بلوچستان کی آبادی ٥، ٦ لاکھ ہے اور اگر ریاستی بلوچستان کو ملا لیا جائے تو اس کی آبادی ١١ لاکھ ہے۔ لیکن چونکہ یہ ایک یونٹ ہے۔ اس لئے اسے بہت بڑی اہمیت حاصل ہے۔ زیادہ آبادی کو تو احمدی بنانا مشکل ہے۔ لیکن تھوڑے آدمیوں کو احمدی بنانا کوئی مشکل نہیں۔ پس جماعت اس طرف اگر پوری توجہ دے تو اس صوبے کو بہت جلدی احمدی بنایا جاسکتا ہے۔ یاد رکھو تبلیغ اس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتی جب تک ہماری Base مضبوط نہ ہو۔ پہلے Base مضبوط ہو تو پھر تبلیغ پھیلتی ہے۔ بس پہلے اپنی Base مضبوط کر لو کسی نہ2089 کسی جگہ اپنی Base بنا لو کسی ملک میں ہی بنالو۔ اگر ہم سارے صوبے کو احمدی بنالیں تو کم از کم ایک صوبہ تو ایسا ہو جائے گا جس کو ہم اپنا صوبہ کہہ سکیں گے اور یہ بڑی آسانی کے ساتھ ہوسکتا ہے۔"

کشمیر

مرزائی حضرات جس قادیانی ریاست کا خواب دیکھتے ہیں اس کی تعبیر کے لئے انہوں نے ابتداء ہی سے کشمیر کو بھی مناسب حال سمجھا۔ اس دلچسپی کی بعض وجوہات کو تاریخ احمدیت کے مؤلف دوست محمد شاہد نے کتاب کی جلد ششم ص ٤٢٥ تا ٤٧٩ میں ذکر بھی کیا ہے۔

مکہ و مدینہ کا ہم پلہ بلکہ ان سے بھی افضل قرار دیتے ہیں۔

(الفضل مورخہ ١١؍دسمبر ١٩٣٢ء، تقریر مرزا محمود صاحب و حقیقت الرؤیا ص ٤٦، از مرزا محمود)

اور قادیان کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ مرزاغلام احمد کی پیشین گوئی کے مطابق قادیان قادیانیوں کو ضرور ملے گا وہ اپنے چھوٹے بچوں کو ابتدائی نصاب میں یہی بات راسخ کرتے

١٢٠

صفحہ ١٩٩٩

SSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

بلوچستان پر قبضے کا خا

ابھی قیام پاکستان کو اک برس بھی نہ گزرا تھ خلیفہ نے کوئٹہ میں ایک خطبہ دیا جو ١٣ اگست کے الفضل م ”برٹش بلوچستان جو اب پا کی بلوچستان ہ آبادی اگر چہ دوسرے صوبوں کی آبادی سے کم ہے۔ مگ اہمیت حاصل ہے۔ دنیا میں جیسے افراد کی قیمت ہوتی ہ طور پر امریکہ کی کانسٹیٹیوشن ہے۔ وہاں اسٹیٹس سینٹ ک دیکھا جاسکتا کہ کسی اسٹیٹ کی آبادی دس کروڑ ہے یا ای برابر ممبر لئے جاتے ہیں۔ غرض پاکی بلوچستان کی آبا ملا لیا جائے تو اس کی آبادی ١١ لاکھ ہے۔ لیکن چونکہ ی اہمیت حاصل ہے۔ زیادہ آبادی کو تو احمدی بنانا مشکل ہ مشکل نہیں۔ پس جماعت اس طرف اگر پوری توجہ د جاسکتا ہے۔ یادرکھو تبلیغ اس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکت پہلے Base مضبوط ہو تو پھر تبلیغ پھیلتی ہے۔ بس پہل جگہ اپنی Base بنالو کسی ملک میں ہی بنالو۔ اگر ہم س صوبہ تو ایسا ہو جائے گا جس کو ہم اپنا صوبہ کہہ سکیں گے او

کشمیر

مرزائی حضرات جس قادیانی ریاست کا خ نے ابتداء ہی سے کشمیر کو بھی مناسب حال سمجھا۔ اس مؤلف دوست محمد شاہد نے کتاب کی جلد ششم ص ٤٣٥

مکہ و مدینہ کا ہم پلہ بلکہ ان سے بھی افضل قرار دیتے ہی

(الفضل مورخہ ١١ دسمبر ١٩٣٢ء، تقریر م

اور قادیان کے بارے میں ان کا خیا قادیان قادیانیوں کو ضرور ملے گا وہ اپنے چھوٹے بچ

١٢٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

رہتے ہیں کہ: ”(قادیان سے ہجرت) کی حالت عارضی ہوگی آخر ایک وقت آئے گا کہ قادیان جماعت احمدیہ کو واپس مل جائے گا ۔“

(راہ ایمان ص ٩٨، بچوں کی ابتدائی دینی معلومات کا مجموعہ)

قادیان اور جموں و کشمیر کے جغرافیائی اتصال کو برقرار رکھنے کی کوششوں سے باؤنڈری کمیشن کو احمدی میمورنڈم کی وجہ سے ضلع گورداسپور کو پاکستان سے کاٹنے اور بھارت کو کشمیر ہڑپ کر لینے کی راہ مل گئی۔

مرزا محمود کے بقول وہاں تقریباً اسی ہزار احمدی ہیں۔

پیروکاروں کی بڑی تعداد وہاں آباد ہے اور جس ملک میں دو مسیحوں کا دخل ہو وہاں کی حکمرانی کا حق صرف قادیانیوں کو مل سکتا ہے۔

بھی ان کے ساتھ تھے۔

تھے۔ مدتوں ہی کشمیر میں رہے۔ بہر حال جس طرح بلوچستان پر ان کی نظر افرادی آبادی کی قلت کی وجہ سے پڑی تو کشمیر پر ہر دور میں ان کی نظر کسی عام انسانی ہمدردی اور مسلمانوں کی خیر خواہی کی وجہ سے نہیں۔ بلکہ سابقہ شخصی اور عصبتی مفادات کی وجہ سے پڑتی رہی ہے۔ اس سلسلہ میں کشمیر کو قادیانی سٹیٹ بنانے کی پہلی سازش ١٩٣٠ء میں برطانوی آقاؤں کے اشارے پر کی گئی۔ مرزا بشیر الدین کی کشمیر کمیٹی سے دلچسپی انہی سیاسی عزائم کی پیداوار تھی جسے ڈاکٹر اقبال مسلمان زعماء اور عام مسلمانوں کی مشترکہ کوششوں نے ناکام بنا دیا اور علامہ اقبال نے یہیں سے ان کے سیاسی عزائم بھانپ کر اس تحریک کا سختی سے مقابلہ شروع کیا۔

١٩٤٨ء کی جنگ کشمیر اور فرقان بٹالین

قیام پاکستان کے تیسرے مہینے اکتوبر ١٩٤٧ء میں پاکستان نے مقبوضہ کشمیر کا مطالبہ کیا اور ١٩٤٨ء میں جنگ چھڑی تو قادیانی امت نے فرقان بٹالین کے نام سے ایک پلاٹون تیار کی جو جموں کے محاذ پر متعین کی گئی۔ اس سے پہلے اپنی طویل تاریخ میں مرزائیوں کو مسلمانوں کے کسی ابتلاء اور مصیبت میں حصہ لینے کی توفیق نہیں ہوئی تھی۔ مگر آج وہ آزادی کشمیر کے لئے فرقان

١٢١

صفحہ ٢٠٠٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

بٹالین کے نام 2091 سے جانیں پیش کرنے لگے۔ اس وقت پاکستان کے کمانڈر انچیف جنرل سرڈگلس گریسی تھے جو نہ تو کشمیر کی لڑائی کے حق میں تھے نہ پاکستانی فوج کو کشمیر میں استعمال کرنا چاہتے تھے۔ بلکہ یہاں تک ان کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ بعض جنگی معلومات بھارت کے کمانڈر انچیف جنرل سرآکسن لیگ تک پہنچاتے رہے۔ لیکن دوسری طرف وہی انگریز کمانڈر انچیف، پبلک سے تعلق رکھنے والی ایک آزاد فورس کو اس جنگ میں کھلی اجازت دیتا ہے۔ انہی جنرل گریسی نے بطور کمانڈر انچیف فرقان بٹالین کو داد و تحسین کا پیغام بھی بھیجا جو تاریخ احمدیت مؤلفہ دوست محمد شاہد قادیانی ص ٢٧٤ اور نظارت دعوۃ وتبلیغ ربوہ کی شائع کردہ ٹریکٹ میں بھی ہے۔ فرقان فورس نے کشمیر کی اس جنگ کے دوران کیا خدمات انجام دیں۔ یہاں اس کے تفصیلات کی گنجائش نہیں۔ لیکن جب اس جہاد کے بعد اس تنظیم کے کارنامے خلوتوں اور جلوتوں میں زیر بحث آنے لگے اور اخبارات میں کشمیری رہنماؤں اللہ رکھا ساغر اور آفتاب احمد سیکرٹری جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے بیانات آئے۔ اس سے اس وقت کے فوجی سربراہوں اور حکومت میں کھلبلی مچ گئی۔ سردار آفتاب احمد کا اصل بیان یہ تھا: ”اس فرقان بٹالین نے جو کچھ کیا اور ہندوستان کی جو خدمات سرانجام دیں مسلم مجاہدین کی جوانیوں کا جس طرح سودا چکایا اگر اس پر خون کے آنسو بھی بہائے جائیں تو کم ہیں جو سکیم بنتی ہندوستان پہنچ جاتی جہاں مجاہدین مورچہ بناتے دشمن کو پتہ چل جاتا جہاں مجاہدین ٹھکانا کرتے ہندوستان کے ہوائی جہاز پہنچ جاتے۔“

(ٹریکٹ نظارت دعوت وتبلیغ انجمن احمدیہ ربوہ بحوالہ ٹریکٹ کشمیر اور مرزائیت)

الفضل ٢؍جنوری ١٩٥٠ء ص ٤ کالم ٤ کے مطابق مرزا بشیر الدین محمود نے ان بیانات اور تقریروں پر واویلا مچایا کہ اگر ہم غدار تھے تو حکومت نے ہمیں وہاں کیوں بٹھائے رکھا اور اس طرح اس وقت کی حکومت اور جنرل گریسی کی غداری کو بھی طشت از بام کرانے کا سگنل مرزا بشیر الدین نے دے دیا۔ چنانچہ اس وقت جنرل گریسی نے ایک تو فرقان فورس کو پر اسرار اور فوری طور پر توڑ دیا اور دوسری طرف خود جنرل گریسی نے آفتاب احمد خان کے الزام کی تردید کی ضرورت محسوس کی۔ مگر 2092 مرزا بشیر الدین کے کہنے کے مطابق حکومت کے دباؤ سے الزام لانے والوں نے گول مول الفاظ میں تردید کر دی۔ مگر ایک ماہ ہوا کہ پھر وہی اعتراض شائع کر دیا۔

(ملاحظہ ہو الفضل ٢٠؍ جنوری ١٩٥٠ء ص ٢، مرزا بشیر الدین کی تقریر)

سوال یہ ہے کہ ایسے الزامات اگر غلط تھے تو اتنی جلدی میں فرقان فورس کو توڑ دینے کی ضرورت کیا تھی؟ اور یہ الزامات اگر غلط تھے تو الزام لگانے والے مدتوں برسرعام اس کو دہراتے

١٢٢

صفحہ ٢٠٠١

SSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

بٹالین کے نام ²⁰⁹¹ سے جانیں پیش کرنے لگے۔ اس ( سر ڈگلس گریسی تھے جو نہ تو کشمیر کی لڑائی کے حق میں تھے چاہتے تھے۔ بلکہ یہاں تک ان کے متعلق کہا جاتا ہے کہ ا انچیف جنرل سر آکسن لیگ تک پہنچاتے رہے۔ لیکن پبلک سے تعلق رکھنے والی ایک آزاد فورس کو اس جنگ میں نے بطور کمانڈر انچیف فرقان بٹالین کو داد و تحسین کا پیغام ب شاہد قادیانی ص ٢٧٤ اور نظارت دعوۃ وتبلیغ ربوہ کی شائع نے کشمیر کی اس جنگ کے دوران کیا خدمات انجام دیں ا لیکن جب اس جہاد کے بعد اس تنظیم کے کارنامے طشت ا اخبارات میں کشمیری رہنماؤں اللہ رکھا ساغر اور آفتاب بیانات آئے۔ اس سے اس وقت کے فوجی سربراہوں ا احمد کا اصل بیان یہ تھا: ”اس فرقان بٹالین نے جو کچھ کیا مسلم مجاہدین کی جوانیوں کا جس طرح سودا چکایا اگر ا٢ ہیں جو سکیم بنتی ہندوستان پہنچ جاتی جہاں مجاہدین مورچہ ٹھکانا کرتے ہندوستان کے ہوائی جہاز پہنچ جاتے۔“

(ٹریکٹ نظارت دعوت وتبل

الفضل ٢ جنوری ١٩٥٠ء ص ٤ کالم ٤ کے مط تقریروں پر واویلا مچایا کہ اگر ہم غدار تھے تو حکومت طرح اس وقت کی حکومت اور جنرل گریسی کی ف مرزا بشیرالدین نے دے دیا۔ چنانچہ اس وقت جنرل فوری طور پر توڑ دیا اور دوسری طرف خود جنرل گریسی ضرورت محسوس کی۔ مگر ²⁰⁹² مرزا بشیر الدین کے کہنے والوں نے گول مول الفاظ میں تردید کردی۔ مگر ایک

(ملاحظہ ہو الف

سوال یہ ہے کہ ایسے الزامات اگر غلط تھے ضرورت کیا تھی؟ اور یہ الزامات اگر غلط تھے تو الزام ١٢٢

2001 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

چلے گئے۔ مگر اس وقت کی حکومت اور کمانڈر انچیف نے اس کی عدالتی انکوائری کی ضرورت کیوں محسوس نہیں کی۔ پاکستانی افواج کے ہوتے ہوئے متوازی فوج کیسے اور کیوں؟ یہ سوالات اب تک جواب طلب ہیں۔ مگر اس وقت آفتاب احمد صاحب سیکرٹری جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے کہے گئے یہ الفاظ اب بھی حقیقت کی غمازی کر رہے ہیں کہ مرزا کی ٣٠ سال سے (اور اب تو ٥٦ سال) آزاد کشمیر کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔

فرقان فورس، ایک احمدی بٹالین اور متوازی فوجی تنظیم

چنانچہ فرقان فورس اس وقت توڑی گئی مگر ربوہ کے متوازی حکمران یہی سمجھتے تھے کہ عوام کا حافظہ کمزور ہوتا ہے۔ حقائق بین نگاہیں بہت کم ہوتی ہیں۔ آگے چل کر بہت جلد اسے اور شکلوں میں قائم رکھا گیا اور اب یہ فورسیں اطفال الاحمدیہ، خدام الاحمدیہ، انصاراللہ وغیرہ نیم فوجی تنظیموں کے صورت میں قائم ہیں۔ جسٹس منیر نے فسادات ١٩٥٣ء کے تحقیقاتی رپورٹ ص ٢١١ پر فرقان فورس کی موجودگی کے علاوہ مرزائی سٹیٹ کے خود ساختہ سیکرٹریٹ کی خبر ان الفاظ میں دی ہے: ”احمدی ایک متحد ومنظم جماعت ہیں۔ ان کا صدر مقام ایک خالص احمدی قصبے میں واقع ہے۔ جہاں ایک مرکزی تنظیم قائم ہے جس کے مختلف شعبے ہیں۔ مثلاً شعبہ امور خارجہ، شعبہ امور داخلہ، شعبہ امور عامہ، شعبہ نشر و اشاعت یعنی وہ شعبے جو ایک ²⁰⁹³ باقاعدہ سیکرٹریٹ کی تنظیم میں ہوتے ہیں۔ وہ سب یہاں موجود ہیں۔ ان کے پاس رضا کاروں کا ایک جیش بھی ہے جس کو خدام دین کہتے ہیں۔ فرقان بٹالین اسی جیش سے مرکب ہے اور یہ خالص احمدی بٹالین ہے۔“

(تحقیقاتی رپورٹ ص ٢١١)

١٩٦٦ء میں اس رسوائے زمانہ فرقان فورس کو مرزائیوں نے ١٩٦٥ء کی جنگ کی غیور پاکستانی افواج اور مجاہدین اور شہداء کے بالمقابل اس طرح پیش کیا کہ جب پاکستانی افواج کے بہادر مجاہدین کو تمغے دیئے جانے لگے تو الفضل میں اس طرح کے اعلانات شائع ہونے لگے۔ ”فرقان فورس میں شامل ہو کر جن قادیانیوں نے ٢٥ دن یعنی ٣١ نومبر ١٩٤٨ء (فائر بندی کی تاریخ) کشمیر کی لڑائی میں حصہ لیا تھا وہ اب مندرجہ ذیل نمونہ کی رسید بنا کر اس پر دستخط ثبت کر کے مقامی قادیانی جماعت کے امیر کے دستخط کروا کر ملک محمد رفیق دارالصدر غربی ربوہ کو بھجوا دیں۔ جس افسر کو ایڈریس کرنا ہے وہ جگہ خالی چھوڑ دی جائے۔ یہ رسیدیں ربوہ سے راولپنڈی جائیں گی۔ راولپنڈی سے ان لوگوں کے کشمیر میڈل ربوہ آئیں گے اور اس کی اطلاع الفضل میں شائع ہوگی اور

١٢٣

صفحہ ٢٠٠٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

پھر یہ میڈل ربوہ میں ان قادیانیوں کو تقسیم کئے جائیں گے۔“

(٢٣/ مارچ ١٩٦٦ء الفضل)

١٩٦٥ء میں یتیم ہونے والے بچوں، اجڑنے والے سہاگوں کے مقابلہ میں کشمیر میڈل کا قصہ چھیڑنا کیا ١٩٦٥ء کے شہیدوں اور ان کی قربانیوں سے مذاق نہیں تھا؟ مجاہدین ١٩٦٥ء کے مقابلہ میں ١٨ برس بعد فرقان فورس کے قادیانیوں کو کشمیر میڈل ملنے کا قصہ؟ اس خطرناک سکینڈل سے پردہ اٹھانا انٹیلی جنس بیورو کا کام ہے۔ ہم محکمہ دفاع کی نزاکت اور تقدس ملحوظ رکھتے ہوئے اس کی تفصیلات میں نہیں جانا چاہتے۔ کشمیر کے سلسلہ میں فرقان فورس کا یہ تو ضمنی ذکر تھا۔ اصل مسئلہ کشمیر کے سلسلہ میں بظاہر یہ معمولی باتیں بھی قابل غور ہیں کہ پاک بھارت جنگ کے ہر موقع پر کشمیر وقادیان سے ملحق سرحدات کی کمان عموماً قادیانی جرنیلوں ہی کے ہاتھ میں کیوں رہتی ہے۔ ١٩٦٥ء کی جنگ سے پہلے اور اس کے بعد بھی صدر ایوب کے دور میں 2094 سر ظفر اللہ اور دوسرے مرزائی عمائدین کی طرف سے کشمیر پر چڑھائی اور اس کے لئے موزوں وقت کی نشاندہی کے پیغامات اور فتح کشمیر کی بشارتیں کیوں دی جاتی رہیں؟

سے غداری کی۔

روح کا کام دیتا ہے۔ مگر جو جماعت جہاد پر ایمان نہیں رکھتی۔ وہ پاکستان کی افواج میں مقتدر حیثیت اختیار کرتی گئی اور نتیجتاً پاک بھارت جنگ کے ہر موقعہ پر انہوں نے اپنے فرائض کی ادائیگی سے گریز کیا۔ حالیہ صمدانی ٹربیونل میں قادیانی گواہ مرزا عبد السمیع وغیرہ کی تصریح آچکی ہے کہ وہ ١٩٧١ء کی جنگ کو جہاد تسلیم نہیں کرتے۔

حصہ ہے جس کے بہت سے حقائق اپنے وقت پر پیش کئے جاسکتے ہیں۔ اس سلسلہ میں سر ظفر اللہ کی جنگ کے ایام میں یحییٰ اور مجیب کے درمیان تگ و دو بے معنی نہ تھی۔

تھے۔ جس کا ثبوت عدالت سے ہو چکا ہے۔

مرزائی ریشہ دوانیوں کے نتیجہ ١٩٥٣ء میں ملک کو پہلی بار مارشل لاء کی لعنت کا سامنا کرنا پڑا۔

١٢٤

صفحہ ٢٠٠٣

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

خلاصہ کلام

ان واضح شواہد پر مبنی تفصیلات کو پڑھ کر مرزائیت کے سیاسی اور شرعی وجود کے متعلق کوئی غلط فہمی باقی نہیں رہتی۔ ہر حوالہ اپنی جگہ مکمل اور اس کے عزائم و مقاصد کی صحیح صحیح تصویر پیش کرتا ہے۔ یہی وجوہ ہیں جن کی بناء پر مسلمانوں کے تمام فرقوں نے متفقہ طور پر مرزائیت کو اسلام کا باغی اور ان کے پیروؤں کو دائرۂ اسلام سے خارج قرار دیا ہے۔ اس تحریک کے احوال و نتائج اور آثار و مظاہر تمام مسلمانوں کے علم میں ہیں۔

2095 مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا مطالبہ نیا نہیں بلکہ علامہ اقبال نے پاکستان بننے سے کہیں پہلے انگریزی حکومت کو خطاب کرتے ہوئے لکھا تھا کہ: ”ہمیں قادیانیوں کی حکمت عملی اور دنیائے اسلام سے متعلق ان کے رویہ کو فراموش نہیں کرنا چاہئے۔ جب قادیانی مذہبی اور معاشرتی معاملات میں علیحدگی کی پالیسی اختیار کرتے ہیں تو پھر سیاسی طور پر مسلمانوں میں شامل ہونے کے لئے کیوں مضطرب ہیں؟ ملت اسلامیہ کو اس مطالبے کا پورا پورا حق حاصل ہے کہ قادیانیوں کو علیحدہ کر دیا جائے۔ اگر حکومت نے یہ مطالبہ تسلیم نہ کیا تو مسلمانوں کو شک گزرے گا کہ حکومت اس نئے مذہب کی علیحدگی میں دیر کر رہی ہے۔“

(١٠؍جون ١٩٣٥ء)

علامہ اقبال نے حکومت کے طرز عمل کو جھنجھوڑتے ہوئے مزید فرمایا تھا: ”اگر حکومت کے لئے یہ گروہ مفید ہے تو وہ اس خدمت کا صلہ دینے کی پوری طرح مجاز ہے۔ لیکن اس ملت کے لئے اسے نظر انداز کرنا مشکل ہے جس کا اجتماعی وجود اس کے باعث خطرہ میں ہے۔“

ان شواہد و نظائر کے پیش نظر آپ حضرات سے یہ گزارش کرنا ہم اپنا قومی و ملی فرض سمجھتے ہیں کہ یورپی سامراج کے اس ففتھ کالم کی سرگرمیوں پر نہ صرف کڑی نگاہ رکھی جائے۔ بلکہ اس جماعت کو پاکستان میں اقلیت قرار دے کر بلحاظ آبادی ان کے حدود و حقوق متعین کئے جائیں۔ ورنہ مرزائی استعماری طاقتوں کی بدولت ملک و ملت کے لئے مستقلا خطرہ بنے رہیں گے اور خدانخواستہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ملک و ملت کو ایک ایسے سانحہ سے دوچار ہونا پڑے، جو سانحہ کہ آج ملت اسلامیہ عربیہ کی حیات اجتماعی کے لئے اسرائیلی سرطان کی شکل اختیار کر چکا ہے۔

١٢٥

LY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

پھر یہ میڈل ربوہ میں ان قادیانیوں کو تقسیم کئے جائیں ١٩٦٥ء میں یتیم ہونے والے بچوں، کا قصہ چھیڑنا کیا ١٩٦٥ء کے شہیدوں اور ان کی قر مجاہدین ١٩٦٥ء کے مقابلہ میں ١٨ سا ملنے کا قصہ؟ اس خطرناک سکینڈل سے پردہ اٹھ نزاکت اور تقدس ملحوظ رکھتے ہوئے اس کی تفصی فرقان فورس کا یہ تو ضمنی ذکر تھا۔ اصل مسئلہ کشمیر کے کہ پاک بھارت جنگ کے ہر موقع پر کشمیر وت جرنیلوں ہی کے ہاتھ میں کیوں رہتی ہے۔ ٦٥ ایوب کے دور میں 2094 سر ظفر اللہ اور دوسرے م اس کے لئے موزوں وقت کی نشاندہی کے پیغام

سے غداری کی۔

روح کا کام دیتا ہے۔ مگر جو جماعت جہاد پر ایما حیثیت اختیار کرتی گئی اور نتیجتاً پاک بھارت ج ادائیگی سے گریز کیا۔ حالیہ ہمدانی ٹربیونل میں قاد کہ وہ ١٩٧١ء کی جنگ کو جہاد تسلیم نہیں کرتے۔

حصہ ہے جس کے بہت سے حقائق اپنے وقت پر جنگ کے ایام میں یحییٰ اور مجیب کے درمیان تک و

تھے۔ جس کا ثبوت عدالت سے ہو چکا ہے۔

مرزائی ریشہ دوانیوں کے نتیجہ ١٩٥٣ء میں

صفحہ ٢٠٠٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

2096 آخری دردمندانہ گزارش

معزز اراکین اسمبلی! ہر چند اختصار کو مدنظر رکھنے کے باوجود مرزائیت کے بارے میں ہماری گزارشات کچھ طویل ہوگئیں۔ لیکن امت اسلامیہ پر مرزائیت کی ستم رانیوں کی داستان اس قدر طویل ہے کہ دوسو صفحات سیاہ کرنے کے باوجود ہمیں بار بار یہ احساس ہوتا ہے کہ اس موضوع سے متعلق جتنی اہم باتیں معزز اراکین کے سامنے پیش کرنی ضروری تھیں۔ ان کا بہت بڑا حصہ ابھی باقی ہے۔ ملت اسلامیہ تقریباً نوے سال سے مرزائیت کے ستم سہہ رہی ہے۔ اس مذہب کی طرف سے اسلام کے نام پر اسلام کی جڑیں کاٹنے کی جو طویل مہم جاری ہے اس کی ایک معمولی سی جھلک پچھلے صفحات میں آپ کے سامنے آچکی ہے۔ اسلام کے بنیادی عقائد کی دھجیاں بکھیری گئی ہیں۔ قرآنی آیات کے ساتھ کھلم کھلا مذاق کیا گیا ہے۔ احادیث نبویؐ کو کھلونا بنایا گیا ہے۔ انبیاء کرام علیہم السلام، صحابہؓ کے مقدس گروہ اہل بیت عظام اور اسلام کی جلیل القدر شخصیتوں پر علانیہ کیچڑ اچھالا گیا ہے۔ اسلامی شعائر کی برملا توہین کی گئی ہے۔ انتہاء یہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی جیسے کردار کو اس رحمۃ للعالمین ﷺ کے ”پہلو بہ پہلو“ کھڑا کرنے بلکہ اس سے بھی آگے بڑھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ جس ﷺ کے مقام عظمت و رفعت کے آگے فرشتوں کا سر نیاز بھی خم ہے۔ جس ﷺ کے نام نامی سے انسانیت کا بھرم قائم ہے اور جس ﷺ کے دامن رحمت کی فیاضیوں کے آگے مشرق و مغرب کی حدود بے معنی ہیں۔

مرزائیت اسی رحمۃ للعالمین (ﷺ) کے شیدائیوں کے خلاف نوے سال سے سازشوں میں مصروف ہے۔ اس نے ہمیشہ اسلام کا روپ دھار کر امت مسلمہ کی پشت میں خنجر بھونکنے اور دشمنان اسلام کے عزائم کو اندرونی اڈے فراہم کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس نے عالم اسلام کے مختلف حصوں میں فرزندان توحید کے قتل عام اور مسلم خواتین کی بے حرمتی پر گھی کے چراغ 2097 جلائے ہیں اور اس نے اپنے آپ کو امت مسلمہ کا ایک حصہ ظاہر کر کے اسلام دشمنوں کی وہ خدمات انجام دی ہیں جو اس کے کھلم کھلا دشمن انجام نہیں دے سکتے تھے۔

ملت مسلمہ نوے سال سے مرزائیت کے یہ مظالم جھیل رہی ہے۔ انہی مظالم کی بناء پر تمام مسلمانوں اور مصور پاکستان علامہ اقبال مرحوم نے اپنے زمانے کی انگریز حکومت سے یہ

١٢٦

صفحہ ٢٠٠٥

SEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

2096 ہم آخری دردمندانہ

معزز اراکین اسمبلی!

ہر چند اختصار کو مد نظر رکھنے کے باوجود مرزائیت کی طویل ہو گئیں۔ لیکن امت اسلامیہ پر مرزائیت کی ستم رانی صفحات سیاہ کرنے کے باوجود ہمیں بار بار یہ احساس ہو باتیں معزز اراکین کے سامنے پیش کرنی ضروری تھیں۔ اسلامیہ تقریباً نوے سال سے مرزائیت کے ستم سہہ رہی کے نام پر اسلام کی جڑیں کاٹنے کی جو طویل مہم جاری ہے میں آپ کے سامنے آ چکی ہے۔ اسلام کے بنیادی عقائد کے ساتھ کھلم کھلا مذاق کیا گیا ہے۔ احادیث نبویؐ کو کھلم صحابہؓ کے مقدس گروہ اہل بیت عظامؓ اور اسلام کی جلیل الق اسلامی شعائر کی برملا توہین کی گئی ہے۔ انتہاء یہ ہے کہ مر للعالمین ﷺ کے ”پہلو بہ پہلو“ کھڑا کرنے بلکہ اس سے جس ﷺ کے مقام عظمت و رفعت کے آگے فرشتوں کا سے انسانیت کا بھرم قائم ہے اور جس ﷺ کے دامن رحمت حدود بے معنی ہیں۔

مرزائیت اسی رحمۃ للعالمین (ﷺ) کے سازشوں میں مصروف ہے۔ اس نے ہمیشہ اسلام کا رو بھونکنے اور دشمنان اسلام کے عزائم کو اندرونی اڈے فراہ اسلام کے مختلف حصوں میں فرزندان توحید کے قتل عام اور 2097 جلائے ہیں اور اس نے اپنے آپ کو امت مسلمہ کا خدمات انجام دی ہیں جو اس کے کھلم کھلا دشمن انجام نہیں دے ملت مسلمہ نوے سال سے مرزائیت کے یہ مظ تمام مسلمانوں اور مصور پاکستان علامہ اقبال مرحوم نے

١٢٦

2005 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

مطالبہ کیا تھا کہ مرزائی مذہب کے متبعین کو غیر مسلم اقلیت قرار دے کر انہیں مسلمانوں کے جسد ملی سے علیحدہ کر دیا جائے۔ لیکن وہ ایک ایسی حکومت کے دور میں پیدا ہوئے تھے جس نے مرزائیت کا پودا خود کاشت کیا تھا اور جس نے ہمیشہ اپنے مفادات کی خاطر مرزائیت کی پیٹھ تھپکنے کی پالیسی اختیار کی ہوئی تھی۔ لہٰذا پوری ملت اسلامیہ اور خاص طور سے علامہ اقبال کی درد میں ڈوبی ہوئی فریادیں ہمیشہ حکومت کے ایوانوں سے ٹکرا کر رہ گئیں۔ مسلمان بے دست و پا تھے۔ اس لئے وہ مرزائیت کے مظالم سہنے کے سوا کچھ نہیں کر سکے۔ آج اسی مصور پاکستان کے خوابوں کی تعبیر پاکستان کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔ یہاں ہم کسی بیرونی حکومت کے ماتحت نہیں تھے۔ لیکن افسوس ہے کہ ستائیس سال گزرنے کے بعد بھی ہم ملت اسلامیہ کی اس ناگزیر ضرورت اس کے دیرینہ مطالبے اور حق و انصاف کے اس تقاضے کو پورا نہیں کر سکے اور اس عرصہ میں مرزائیت کے ہاتھوں سینکڑوں مزید زخم کھا چکے ہیں۔

معزز اراکین اسمبلی! اب ایک طویل انتظار کے بعد یہ اہم مسئلہ آپ حضرات کے سپرد ہوا ہے اور صرف پاکستان ہی نہیں، بلکہ پورے عالم اسلام کی نگاہیں آپ کی طرف لگی ہوئی ہیں۔ پوری مسلم دنیا آپ کی طرف دیکھ رہی ہے اور ان گنت مسلمانوں کی روحیں آپ کے فیصلے کی منتظر ہیں۔ جنہوں نے غلامی کی تاریک رات میں مرزائیت کے بچھائے ہوئے کانٹوں پر جان دے دی تھی۔ جو حق و انصاف کے لئے پکارتے رہے۔ مگر ان کی شنوائی نہ ہو سکی اور جو ستائیس سال سے اس مسلم ریاست کی طرف دیکھ رہے ہیں جو آزادی کے خوابوں کی تعبیر ہے جو اسلام کے نام پر قائم ہوئی ہے اور جو دو سو سالہ غلامی کے بعد مسلمانوں کی پناہ گاہ کے طور پر حاصل کی گئی ہے۔

2098 معزز اراکین! مسلمان کسی پر ظلم کرنا نہیں چاہتے۔ مسلمانوں کا مطالبہ صرف یہ ہے کہ اس مرزائی ملت کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔ جس نے اسلام سے کھلم کھلا خود علیحدگی اختیار کی ہے جس نے اسلام کے مسلمہ عقائد کو جھٹلایا ہے۔ جس نے ستر کروڑ مسلمانوں کو برملا کافر کہا ہے اور جس نے خود عملاً اپنے آپ کو ملت اسلامیہ سے کاٹ لیا ہے۔ ان کی عبادت گاہیں مسلمانوں سے الگ ہیں۔ ان کے اور مسلمانوں کے درمیان شادی بیاہ کے رشتے دونوں طرف سے ناجائز سمجھے جاتے ہیں اور عدالتیں ایسے رشتوں کو غیر قانونی قرار دے چکی ہیں۔ مسلمان مرزائیوں کے اور مرزائی مسلمانوں کے جنازوں میں شرکت جائز نہیں سمجھتے اور ان کے آپس میں ہم مذہبوں کے سے تمام رشتے کٹ چکے ہیں۔ لہٰذا اسمبلی کی طرف سے مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت

١٢٧

صفحہ ١٢٨

2006 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15 2007

قرار دینے کا اقدام کوئی اچھنبا یا مصنوعی اقدام نہیں ہوگا۔ بلکہ یہ ایک ظاہر و باہر حقیقت کا سرکاری سطح پر اعتراف ہوگا جو پہلے ہی عالم اسلام میں اپنے آپ کو منوا چکی ہے۔ پچھلے صفحات میں آپ دیکھ چکے ہیں کہ مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی تجویز کوئی ایسی تجویز نہیں ہے جو کسی شخصی عداوت یا سیاسی لڑائی نے وقتی طور پر کھڑی کردی ہو۔ بلکہ یہ قرآن کریم کی بیسیوں آیات کا، خاتم الانبیاء ﷺ کے سینکڑوں ارشادات کا، امت کے تمام صحابہ، تابعین اور فقہاء ومحدثین کا، تاریخ اسلام کی تمام عدالتوں اور حکومتوں کا، مذاہب عالم کی پوری تاریخ کا، دنیا کے موجود ستر کروڑ مسلمانوں کا، پاکستان کے ابتدائی مصوروں کا، خود مرزائی پیشواؤں کے اقراری بیانات کا اور ان کے نوے سالہ طرز عمل کا فیصلہ ہے اور اس کا انکار عین دوپہر کے وقت سورج کے وجود کا انکار ہے۔

چونکہ مرزائی جماعتیں اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کر کے امت مسلمہ کے مفادات کے خلاف کارروائیوں میں مصروف رہتی ہیں۔ اس لئے ان کے اور مسلمانوں کے درمیان اس وقت منافرت و عداوت کی ایسی فضا قائم ہے جو دوسرے اہل مذاہب کے ساتھ نہیں ہے۔ اس صورتحال کا اس کے سوا کوئی حل نہیں ہے کہ مرزائیوں کو سرکاری سطح پر غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا جائے۔

اس کے 2099 بعد دوسری اقلیتوں کی طرح مرزائیوں کے جان و مال کی حفاظت بھی مسلمانوں کی ذمہ داری ہوگی۔ مسلمانوں نے اپنے ملک کے غیر مسلم باشندوں کے ساتھ ہمیشہ انتہائی فیاضی اور رواداری کا سلوک کیا ہے۔ لہٰذا مرزائیوں کو سرکاری سطح پر غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے بعد ملک میں ان کی جان و مال کا تحفظ زیادہ ہوگا اور منافرت کی وہ آگ جو وقفے وقفے سے بھڑک اٹھتی ہے ملک کی سالمیت کے لئے کبھی خطرہ نہیں بن سکے گی۔ لہٰذا ہم آپ سے اللہ کے نام پر، شافع محشر ﷺ کی ناموس کے نام پر، قرآن وسنت اور امت اسلامیہ کے اجماع کے نام پر، حق وانصاف اور دیانت و صداقت کے نام پر دنیا کے ستر کروڑ مسلمانوں کے نام پر، یہ اپیل کرتے ہیں کہ ملت اسلامیہ کے اس مطالبے کو پورا کرنے میں کسی قسم کے دباؤ سے متاثر نہ ہوں اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی خوشنودی حاصل کرنے کی فکر کریں۔ جن کی شفاعت میدان حشر میں ہمارا آخری سہارا ہے۔ اگر ہم نے اپنی اس ذمہ داری کو پورا نہ کیا تو ملت اسلامیہ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔ اقتدار و اختیار ڈھل جاتا ہے۔ لیکن غلط فیصلوں کا داغ موت کے بعد تک نہیں مٹتا۔

اللہ تعالیٰ آپ کو صحیح فیصلہ کی توفیق دے۔ (محرکین قرارداد)

صفحہ ٢٠٠٧

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

2100 ضمیمہ نمبر: ١

فیصلہ

مقدمہ بہاول پور

.......محفل ارشاد بہ سیالکوٹ.......

١٢٩

ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

قرار دینے کا اقدام کوئی اچنبھا یا مصنوعی اقدام نہیں ہوگا۔ قومی سطح پر اعتراف ہوگا جو پہلے ہی عالم اسلام میں اپنے آپ کو دیکھ چکے ہیں کہ مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی جـ کوئی عداوت یا سیاسی لڑائی نے وقتی طور پر کھڑی کردی ہو۔ بلکہ خاتم الانبیاء ﷺ کے سینکڑوں ارشادات کا، امت کے تمام خـ اسلام کی تمام عدالتوں اور حکومتوں کا، مذاہب عالم کی آ مسلمانوں کا، پاکستان کے ابتدائی معماروں کا، خود مرزائی جماعت کے نوے سالہ طرز عمل کا فیصلہ ہے اور اس کا انکار عین دیانـ

چونکہ مرزائی جماعتیں اپنے آپ کو مسلمان کـ کے خلاف کارروائیوں میں مصروف رہتی ہیں۔ اس لئے ان میں منافرت وعداوت کی ایسی فضا قائم ہے جو دوسرے اہل کتـ ہے کہ اس کے سوا کوئی حل نہیں ہے کہ مرزائیوں کو سرکاری طـ اس کے بعد دوسری اقلیتوں کی طرح مرزائیوں کی جان و مال کی ذمہ داری ہوگی۔ مسلمانوں نے اپنے ملک کے غیر مسلم ا ساتھ رواداری کا سلوک کیا ہے۔ لہٰذا مرزائیوں کو سرکاری سطـ جس میں ان کی جان ومال کا تحفظ زیادہ ہوگا اور منافرت کی وہ فـ اور ملک کی سالمیت کے لئے کبھی خطرہ نہیں بن سکے گی تا سرور محشر ﷺ کی ناموس کے نام پر، قرآن وسنت اور آئـ عدل وانصاف اور دیانت وصداقت کے نام پر دنیا کے ستر کر ہے کہ ملت اسلامیہ کے اس مطالبے کو پورا کرنے میں کسی قسـ اور اللہ کے رسول ﷺ کی خوشنودی حاصل کرنے کی فکر کریـ کا یہ آخری سہارا ہے۔ اگر ہم نے اپنی اس ذمہ داری کو پورا نہ کیا تو اقتدار و اختیار ڈھل جاتا ہے۔ لیکن حق و صـ

اللہ تعالیٰ آپ کو صحیح فیصلہ کی توفیق دے۔ (تحریک تحفظ قرآن و

١٢٨

صفحہ ٢٠٠٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

2101 انتساب!

میں اس اشاعت کو حضرت امام ربانی، قیوم دورانی، قطب زمانی، مجدد الف ثانی الشیخ احمد سرہندی الفاروقی قدس سرہ السبحانی کے نام نامی سے منسوب کرنے کی سعادت حاصل کرتا ہوں اور خداوند رب العزت کی بارگاہ اقدس میں نہایت عجز وانکسار کے ساتھ دست بدعا ہوں کہ وہ مالک حقیقی اپنے حبیب کے صدقے اور حضرت مجدد علیہ الرحمۃ کے فیض کی برکت سے جو کہ بزرگوارم حضرت حافظ سید ارشاد حسین سرہندیؒ کے توسط سے ہم تک پہنچا ہے۔ ہمیں توفیق عطاء فرمائے کہ ہم جیسے نااہل حضرت مجددؒ کی اس سنت کو زندہ کرسکیں۔ جس کے لئے آپ اس دنیا میں تشریف لائے اور کفر والحاد، شرک و بدعت جیسی باطل قوتوں سے ٹکرا کر انہیں ریزہ ریزہ کر کے حق وصداقت کی روشنی سے دنیا کے کونے کونے کو منور کر دیا۔ خاکپائے سگان مجدد الف ثانی سید اختر حسین سرہندی

2102’’ہندوستان کی سرزمین پر بے شمار مذاہب بستے ہیں۔ اسلام دینی حیثیت سے ان تمام مذاہب کی نسبت زیادہ گہرا ہے۔ کیونکہ ان مذاہب کی بناء کچھ حد تک مذہبی ہے اور ایک حد تک نسلی، اسلام نسلی تخیل کی سراسر نفی کرتا ہے اور اپنی بنیاد محض مذہبی تخیل پر رکھتا ہے اور چونکہ اس کی بنیاد صرف دینی ہے۔ اس لئے وہ سراپا روحانیت ہے اور خونی رشتوں سے کہیں زیادہ لطیف بھی ہے۔ اس لئے مسلمان ان تحریکوں کے معاملہ میں زیادہ حساس ہے جو اس کی وحدت کے لئے خطرناک ہیں۔ چنانچہ ہر ایسی مذہبی جماعت جو تاریخی طور پر اسلام سے وابستہ ہو۔ لیکن اپنی بناوٹی نبوت پر رکھے اور بزعم خود اپنے الہامات پر اعتقاد نہ رکھنے والے تمام مسلمانوں کو کافر سمجھے، مسلمان اسے اسلام کی وحدت کے لئے ایک خطرہ تصور کرے گا اور یہ اس لئے کہ اسلامی وحدت ختم نبوت سے ہی استوار ہوتی ہے۔‘‘

(حرف اقبال ص ١٢١، ١٢٢)

2103علماء اور اکابرین ملت کی طرف سے اس فیصلے کا خیر مقدم

2104’’چودھویں صدی کے آغاز میں جب مرزائے قادیان نے نبوت کا دعویٰ کیا تو مشرق اور مغرب کے علماء نے اس کے کفر اور ارتداد کا فتویٰ دیا۔ اس سلسلہ میں تیس پینتیس سال قبل یہ مسئلہ بہاول پور کی عدالت میں پیش ہوا جس پر حضرت مولانا انور شاہ صاحب کشمیریؒ سابق صدر المدرس دارالعلوم دیوبند اور دیگر اکابر علماء ہند نے اس سلسلہ میں اپنے بیانات عدالت میں

١٣٠

صفحہ ٢٠٠٩

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

پیش کر کے جس میں مرزائے قادیان کے وجوہ کفر کو بیان کیا جن کا حاصل یہ تھا کہ مرزائے قادیان اگر بالفرض واقعہ یہ نبوت کا دعویٰ نہ بھی کرتا تب بھی قطعا وہ دائرہ اسلام سے خارج تھا۔ فاضل محترم جسٹس محمد اکبر صاحب (بہاول پور) نور اللہ مرقدہ نے نہایت عاقلانہ، عادلانہ اور دانشمندانہ فیصلہ صادر فرمایا کہ مدعی نبوت اور اس کے پیروکار قطعا دائرہ اسلام سے خارج ہیں اور یہ مسلمانوں میں شرعی طور پر کوئی ازدواجی تعلق قائم نہیں کر سکتے۔ بحمدہ تعالیٰ فاضل جج کا یہ فیصلہ قانون شریعت کے بھی مطابق تھا اور قانون حکومت کے بھی مطابق تھا جو شرعی اور قانونی حیثیت سے اس درجہ مستحکم اور مضبوط تھا کہ آئندہ کسی کو بھی یہ جرات نہ ہوئی کہ اس محکم فیصلہ پر کوئی نقد اور تبصرہ کر سکے یا کسی بالائی عدالت میں اس کی اپیل کر سکے۔ اس لئے کہ وہ فیصلہ اس درجہ محکم اور قول فیصل اور اٹل تھا کہ اس میں انگلی رکھنے کی گنجائش نہ تھی۔" محمد ادریس کاندھلوی!

2105 "مجھے یہ معلوم کر کے بڑی مسرت ہوئی ہے کہ جناب محمد اکبر خاں صاحب بی اے، ایل ایل بی ڈسٹرکٹ جج بہاول پور کا مشہور و معروف فیصلہ جس میں قادیانیوں کو کافر اور خارج از دائرہ اسلام قرار دیا گیا تھا۔ دوبارہ اشاعت پذیر ہو رہا ہے۔ یہ ایک واشگاف حقیقت ہے جس پر امت مسلمہ کا اجماع ہے کہ جو شخص سیدنا محمد ﷺ کے بعد منصب نبوت پر فائز ہونے کا مدعی ہو اور جو اس دعوے کو تسلیم کرے وہ دونوں بلاشک و شبہ ادعائے اسلام کے باوجود کافر و مرتد ہیں۔ اس لئے یہ ضروری ہے کہ اس مسئلے کے دینی و علمی پہلوؤں کو برابر واضح کیا جاتا رہے۔ عدالت بہاول پور کا یہ فیصلہ اس لحاظ سے بڑی اہمیت وافادیت کا حامل ہے۔ یہ ارتداد زوج کی بناء پر فسخ نکاح کے ایک استغاثے کا تصفیہ تھا جو تقریباً تین سال زیر سماعت رہا۔ اس میں مسلمانوں اور قادیانیوں کی جانب سے اپنے اپنے مؤقف کو پورے دلائل وشواہد کے ساتھ پیش کیا گیا۔ ان کے مشاہیر علماء و فضلاء بطور گواہ پیش ہوئے اور فاضل جج نے پوری تحقیق و تدقیق کے بعد یہ فیصلہ صادر فرمایا کہ قادیانی اپنے عقائد و اعمال کی بناء پر مسلمان نہیں بلکہ کافر ہیں۔ یہ قیمتی دستاویز طبع ہونے کے بعد ایک عرصہ دراز سے نایاب تھی۔ میری دعا ہے کہ یہ سعی مسلمان اور قادیانی سب کے لئے باعث رشد و ہدایت ثابت ہو۔ آمین!" ابوالاعلیٰ مودودی ١٥ اے ذیلدار پارک، اچھرہ

2106 "اس فیصلہ نے مسلمانوں کو قادیانیت کے عزائم و عقائد سے نہ صرف آگاہ کیا ہے بلکہ مرزائیت اپنے حقیقی خط و خال سمیت آشکار ہوئی ہے۔ یہ فیصلہ برعظیم کے مسلمانوں کی ذہنی

١٣١

MBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

2101 انتساب

میں اس اشاعت کو حضرت امام ربانی، مج احمد سرہندی الفاروقی قدس سرہ السبحانی کے نام نامی ہوں اور خداوند رب العزت کی بارگاہ اقدس میں نہایت مالک حقیقی اپنے حبیب کے صدقے اور حضرت مجد بزرگوارم حضرت حافظ سید ارشاد حسین سرہندی کے ت فرمائے کہ ہم جیسے نااہل حضرت مجدد کی اس سنت کو زن تشریف لائے اور کفر والحاد، شرک و بدعت جیسی باطل وصداقت کی روشنی سے دنیا کے کونے کونے کو منور کر دی

2102 "ہندوستان کی سرزمین پر بے شمار م تمام مذاہب کی نسبت زیادہ گہرا ہے۔ کیونکہ ان مذا تک نسلی ، اسلام نسلی تخیل کی سراسر نفی کرتا ہے اور اپنی ب بنیاد صرف دینی ہے۔ اس لئے وہ سراپا روحانیت ۔ ہے۔ اسی لئے مسلمان ان تحریکوں کے معاملہ میں ن خطرناک ہیں۔ چنانچہ ہر ایسی مذہبی جماعت جو تاریخی نبوت پر رکھے اور بزعم خود اپنے الہامات پر اعتقاد نہ ر اسے اسلام کی وحدت کے لئے ایک خطرہ تصور کرے۔ سے ہی استوار ہوتی ہے۔"

2103 علماء اور اکابرین ملت کی طرف

2104 "چودھویں صدی کے آغاز میں ج مشرق اور مغرب کے علماء نے اس کے کفر اور ارتداد قبل یہ مسئلہ بہاول پور کی عدالت میں پیش ہوا جس صدر المدرس دارالعلوم دیوبند اور دیگر اکابر علماء ہند

١٣٥

صفحہ ٢٠١٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

سرگزشت میں ہمیشہ یادگار رہے گا اور جب کبھی پاکستان کے قوانین کی شکل اسلامی ہوگی۔ اس فیصلہ کا بہت زیادہ احترام کیا جائے گا۔ بلکہ یہ فیصلہ مشعل راہ ہوگا۔ ملت اسلامیہ جسٹس محمد اکبر خان مرحوم (بہاول پور) کے اس فیصلہ کی شکر گزار ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی بال بال مغفرت کریں اور کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائیں۔“ آغا شورش کاشمیری

”یہ معرکہ آراء فیصلہ محمد اکبر خاں کا تحریر کردہ ہے۔ اس فیصلہ میں جج صاحب مرحوم نے بڑی شرح و بسط کے ساتھ مرزائیت کے خارج از اسلام ہونے کے دلائل درج کئے ہیں اور مرزائی لٹریچر سے ان کے کفر و ارتداد کا ثبوت بہم پہنچایا ہے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ فیصلہ مرزائیت کے موضوع پر لکھی گئی کئی ایک کتب پر بھاری ہے۔“ احسان الہی ظہیر

2107 ”تکمیل دین اور ختم نبوت مترادف حقائق ہیں اور اسلام کی ابدیت اور تکمیل کا مدار انہی دو اصولوں پر ہے۔ مبارک ہیں وہ لوگ جنہوں نے اسلام کے اس بنیادی مسئلہ کے تحفظ کے لئے مختلف ذرائع سے حسب مقدور خدمات انجام دیں۔ اس سلسلہ میں جناب محمد اکبر صاحب ڈسٹرکٹ جج بہاول پور کا تاریخی فیصلہ اپنی نوعیت کا منفرد اقدام ہے مرحوم و مغفور اپنی جرأت ایمانی سے اپنی نجات کا سامان کر گئے اور تا ابد امت مسلمہ کے لئے ایسی شمع فروزاں چھوڑ گئے جو انشاء اللہ العزیز رہتی دنیا تک حق و صداقت کی روشنی پھیلاتی رہے گی۔ ضرورت ہے کہ اس تاریخی فیصلہ کی زیادہ سے زیادہ اشاعت کی جائے۔“ سید فیض الحسن

”ختم نبوت کا مسئلہ ضروریات دین سے ہے۔ افسوس ہے کہ ایسے مسئلہ کو لوگوں نے اختلافی مسئلہ قرار دے کر اس میں بحث و تمحیص شروع کر دی۔ جس سے گمراہی کا دروازہ کھل گیا اور فتنہ ارتداد زور پکڑ گیا۔ اس ماحول میں اہل علم کی خدمات یقیناً قابل قدر ہیں۔ لیکن محترم جج اکبر صاحب کا کارنامہ اس سلسلہ میں بے حد قابل ستائش ہے اور اسلامی تاریخ میں آب زر سے لکھے جانے کے قابل ہے۔“ سید احمد سعید کاظمی

2108 ”فیصلہ مقدمہ بہاول پور مسلمانوں کے لئے روشنی کا مینار ہے۔ عقیدہ ختم نبوت اسلام کا بنیادی تصور ہے اور بے شک جو حضور سرور عالم ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرے وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ ملت اسلامیہ کو اس فتنہ عظیمہ سے بچانا اسلام کی عظیم خدمت ہے۔“ سید محمود احمد رضوی

”فیصلہ مقدمہ بہاول پور عہد صادق کا اہم ترین واقعہ ہے۔ اس مقدمہ کی پیروی سید انور شاہ صاحب، حضرت مولانا غلام محمد گھوٹویؒ اور سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاریؒ جیسے نامور علماء

١٣٤

صفحہ ٢٠١١

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

نے کی۔ ان کی فقید المثال توجہ اور تاریخ ساز کوششوں نے قادیانیت کے سومنات کو ریزہ ریزہ کر دیا۔ یہ فیصلہ جسٹس محمد اکبر کے مثالی انہماک غیر معمولی استعداد اور قابل تحسین استقامت کا نتیجہ ہے۔ اس فیصلہ سے قادیانیت کی گمراہ کن حیثیت ہمیشہ کے لئے آشکار ہوگئی ہے۔

برگیڈیئر نذیر علی شاہ

2109 ”الحمد للہ وحدہ والصلوۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ...... جج محمد اکبر نور اللہ مرقدہ کی عدالت میں تنسیخ نکاح کا مقدمہ دائر ہوا۔ جس میں یہ فیصلہ کرنا تھا کہ قادیانی کا نکاح مسلمان عورت سے بوجہ ارتداد قادیانیوں کے واجب الفسخ ہے یا نہیں۔ اس ضمن میں قادیانیوں کے مرتد ہونے کا مسئلہ زیر بحث آیا۔ فریقین کے ماہرین مذہب جمع ہوئے۔ مفصل دلائل عقلیہ و نقلیہ قلمبند ہونے کے بعد قادیانیوں کے ارتداد کا حکم جناب جج صاحب موصوف نے صادر فرمایا اور فسخ کا فیصلہ دیا۔ اس فیصلہ کا کچھ تعلق انکار ختم نبوت سے تھا۔ جس پر قرآن پاک کی متعدد آیات اور بیشمار احادیث صحیحہ اور اجماع امت کے اس قدر دلائل موجود ہیں کہ توحید باری تعالیٰ کے علاوہ کسی مسئلے پر اس قدر دلائل نہیں۔ اسلام میں سینکڑوں گمراہ اسلامی فرقے پیدا ہوئے۔ لیکن مسئلہ ختم نبوت پر سب کا اتفاق رہا اور اس لئے دشمنان اسلام، اسلام کی اس بنیادی عمارت میں شگاف ڈالنے میں کامیاب نہ ہوسکے۔ حضور علیہ السلام کے وقت سے لے کر اب تک جو ١٣٩٤ھ (ربیع الاول ١٣٩٤ھ اور ٢٤ اپریل ١٩٧٤ء ہے) پوری امت مسلمہ تقریباً چودہ سو سال سے اس عقیدہ پر متفق اور قائم ہے جس کی وجہ سے اسلام کے اصلی عقائد زندہ ہیں کہ حضور علیہ السلام کے بعد نبوت کا عہدہ دیا جانا بند ہے اور مدعی نبوت اور اس کے ماننے والے مرتد اور خارج از اسلام ہیں۔ چاہے وہ اسلام کا دعویٰ بھی کریں جیسے صرف دعویٰ سے کوئی شخص کمشنر، ڈپٹی کمشنر، تحصیلدار، تھانیدار حتی کہ سرکاری چپڑاسی اگر ان عہدوں کا دعویٰ کرے اور حکومت کی لسٹ میں نام نہ ہو اور حکومت ان دعوے داروں کو جھوٹا قرار دیتی ہو (تو جعلی مدعیان منصب دنیوی کا دعویٰ ثابت نہیں ہوسکتا) تو پھر اسلام کے 2110 دعویٰ سے ایک آدمی بغیر حقیقت اسلام کے متحقق ہونے کے کیسے مسلم ہوسکتا ہے۔ جب کہ حقیقت اسلام کا بنیادی عقیدہ اس میں موجود نہ ہو اور ظاہری اسلام کی کچھ نشانیاں بھی اس میں موجود ہوں۔ جیسے گھوڑے کی تصویر یا فوٹو حقیقی گھوڑا نہیں ہوسکتا اور نہ بگھی کھینچ سکتا ہے۔ کیونکہ یہ حقیقی گھوڑے کا کام ہے۔ ملت کے عملی اتحاد کے لئے فکری اتحاد ضروری ہے اور مستحکم فکر کی بنیاد عقیدہ ہے۔ جب یہ بنیاد ہل جائے تو مسلم قوم و ملت کی عمارت دھڑام سے گر جائے گی۔ اس لئے وحدت ملت ختم نبوت سے وابستہ ہے۔ اقبال مرحوم نے صحیح فرمایا ہے۔

١٣٣

KISTAN 30th Aug, 1974 No:15

سرگزشت میں ہمیشہ یاد گار رہے گا ا فیصلہ کا بہت زیادہ احترام کیا جائے گا مرحوم (بہاول پور) کے اس فیصلہ ک کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائیں ”یہ معرکہ آراء فیصلہ محمد ا بڑی شرح وبسط کے ساتھ مرزائیت لٹریچر سے ان کے کفر و ارتداد کا ثبو موضوع پر لکھی گئی کئی ایک کتب پر بھ 2107 ”تکمیل دین اور ختم انہی دو اصولوں پر ہے۔ مبارک ہیں لئے مختلف ذرائع سے حسب مقدو ڈسٹرکٹ جج بہاول پور کا تاریخی فیصل سے اپنی نجات کا سامان کر گئے اور ن العزیز رہتی دنیا تک حق و صداقت آ زیادہ سے زیادہ اشاعت کی جائے ”ختم نبوت کا مسئلہ ض اخلاقی مسئلہ قرار دے کر اس میں ب فتنہ ارتداد زور پکڑ گیا۔ اس ماحول صاحب کا کارنامہ اس سلسلہ میں ن جانے کے قابل ہے۔“ 2108 ”فیصلہ مقدمہ بہا اسلام کا بنیادی تصور ہے اور بے ش اسلام سے خارج ہے۔ ملت اسلا ” فیصلہ مقدمہ بہاول انور شاہ صاحبؒ، حضرت مولانا م

صفحہ ٢٠١٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

لا نبی بعدی ز احسان خداست
پردۂ ناموس دین مصطفیٰ است
تانہ ایں وحدت زدست ما رود
ہستی ما با ابد ہمدم شود

اُس سے واضح ہوا کہ استحکام پاکستان کی نظریاتی وحدت اسلام اور ختم نبوت ہے۔ جو 95 کروڑ مسلمانوں کے عقیدہ سے الگ دین قائم کریں جس میں قرآن وحدیث خدا اور رسول کی تکذیب اور توہین ہو وہ اسلامی قلعے میں نقب لگانے والے ہیں اور خارج از اسلام ہیں۔ اس سلسلہ میں مقدمہ بہاولپور تاریخی کارنامہ ہے۔“ شمس الحق افغانی عفی عنہ

2111 ”فیصلہ مقدمہ بہاول پور امت محمدیہ علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کی متفقہ کوششوں اور کاوشوں کا نتیجہ ہے۔ مولانا سید انور شاہ صاحبؒ، مولانا غلام محمد صاحبؒ گھوٹوی، مولانا محمد صادق صاحبؒ بہاولپور اور جناب جسٹس محمد اکبر صاحبؒ کی ارواح مقدسہ کو اللہ تعالیٰ نے بلاشبہ اعلیٰ علیین میں مقام علیا سے نوازا ہوگا۔ انہوں نے امت مرحومہ پر جو احسان کیا وہ رہتی دنیا کے مسلمانوں پر یکساں ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کو خاتم الانبیاء کے خصوصی مقام اور عظمت کو سمجھنے کی توفیق عطاء فرمائے۔ آمین!“

محمد عبدالقادر آزاد خطیب بادشاہی مسجد ومفتی پنجاب

نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم

اگر کوئی مسلمان ہے تو وہ فیصلہ مقدمہ بہاول پور کے متعلق دوسری رائے نہیں رکھ سکتا۔ حضرت مولانا سید انور شاہ صاحب کشمیریؒ اور دوسرے بزرگوں اور علماء نے اس مقدمہ کی پیروی کر کے دین اسلام کی ایک گرانقدر خدمت انجام دی تھی۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند کرے اور ہم سب کو ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطاء فرمائے۔ محمد احمد عفی عنہ، میرواعظ کشمیر

2112 ”انشاء اللہ جب یہ فیصلہ کتابی صورت میں شائع ہوا تو عقیدہ ختم نبوت کے بارے میں انشراح قلب اور باعث رشد و ہدایت ثابت ہوگا۔“ فقیر محبوب الرحمٰن عفی اللہ عنہ

عید گاہ، راولپنڈی

”تمام علمائے اسلام کا متفقہ فتویٰ ہے کہ حضور اکرم خاتم النبیین ﷺ کے بعد کسی قسم کی نبوت کو جائز قرار نہیں دیا جاسکتا۔ ایسا دعویٰ کرنے والا دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ پاک و ہند میں مرزا غلام احمد قادیانی کے ماننے والے مسلمانوں سے علیحدہ جماعت ہیں۔ اس کی پوری

١٣٤

صفحہ ١٣٥

2013 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

روئیداد جسٹس محمد اکبر خاں صاحب سابق ریاست بہاول پور کے مفصل و مدلل فیصلہ میں موجود ہے۔ یہ فیصلہ عوام و خواص مسلمین کے لئے مشعل ہدایت ہے۔“ مفتی محمد حسین نعیمی ناظم دارالعلوم جامع نعیمیہ لاہور

2113 بسم اللہ الرحمن الرحیم! ختم نبوت کے متعلق میرا عقیدہ یہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا دین دو پہلوؤں پر مشتمل ہے۔ ایک ظاہری یعنی عقلی فکری و نظری پہلو ہے اور دوسرا روحانی یعنی عقلی عالم سے بالاتر۔ میرے خیال میں ظاہری پہلو کی بنیاد ہمارے دین میں روحانی پہلو پر ہے۔ ورنہ کسی نبی یا پیغمبر کی شاید ضرورت نہ ہوتی۔ ظاہری پہلو کی حیثیت اسباب سفر کی سی ہے اور روحانی کی حیثیت ایک منزل کی۔ یعنی اسباب سفر کا تعین منزل یا مقصد کے اعتبار سے کیا گیا ہے۔ حضور اکرم ﷺ کے آخری نبی ہونے کے بارے میں عقلی استدلال میں شکوک واوہام کا اثر تو ملتا ہے۔ لیکن دوسرے پہلو میں کوئی ایک بھی استثناء موجود نہیں ہے۔ میں نے اس میں جتنا غور کیا ہے میں بلا استثناء ہمیشہ اسی ایک نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ جو شخص جناب محمد رسول اللہ ﷺ کو خدا کا آخری نبی یعنی آپ کے اس ارشاد کو کہ ”لا نبی بعدی“ کو دل و جان سے نہیں مانتا وہ مسلمان نہیں ہو سکتا۔ عقلی فتویٰ کچھ ہو لیکن حقیقی بات یہی ہے۔

کتاب زیر نظر میں بھی ایک صاحب عقیدہ مسلمان نے ایمانی جرات کا مظاہرہ کیا اور ساتھ ہی عقل و فکر کی رائے کو بھی دریافت کر کے صحیح فیصلہ دیا۔ مرحوم کا یہ فیصلہ ایک صدقہ جاریہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب مسلمانوں کو عقیدے کی پختگی عطاء فرمائے۔ آمین!“

محمد عبدالقیوم صدر آزاد کشمیر، ایوان صدر، مظفر آباد

2114 بسم اللہ الرحمن الرحیم! ”الحمد لله وحده والصلوة على من لا نبي بعده...... آج سے تقریباً ٤٠ سال پہلے مرزا غلام احمد قادیانی کا دجل و فریب انگریز کے منحوس سایہ میں پروان چڑھ رہا تھا۔ فتنہ قادیانیت سے انگریزی پڑھا لکھا طبقہ نہ صرف یہ کہ ناواقف تھا بلکہ مدعی نبوت مرزا غلام احمد قادیانی کی تحریف و تائید کرتا تھا۔ اس کے علاوہ تاج برطانیہ اور وائسرائے ہند کے زیر اثر تمام طاقتوں کی سرپرستی اس فتنہ ارتداد کو حاصل تھی۔ ایسے وقت میں محترم محمد اکبر صاحب مرحوم ومغفور (بہاول پور) نے برصغیر کے چوٹی کے علماء خصوصاً محدث اعظم حضرت مولانا سید انور شاہ صاحب کشمیری کے

صفحہ ٢٠١٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

دلائل سننے کے بعد جرأت ایمانی اور عقیدہ ختم نبوت پر کامل ایمان کا مظاہرہ کرتے ہوئے مرزا غلام احمد قادیانی کو کاذب اور اس کے ماننے والوں کو مرتد اور خارج از اسلام قرار دے کر فیصلہ بہاول پور کے نام سے وہ تاریخی فیصلہ کیا ہے جو مسلمانوں کے لئے ہمیشہ مشعل راہ رہے گا اور جس کی پیروی کرتے ہوئے انہیں کے ہم نام دوسرے محمد اکبر صاحب اور اب سندھ کے کسی جج نے بھی یہی فیصلے کئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مرحوم محمد اکبر صاحب بہاول پور والے اس تاریخ کے سنہرے باب کے حروف اوّل اور آخر سمجھے جائیں گے۔ اس فیصلے کی دوبارہ اشاعت نہایت مستحسن اقدام ہے۔ قانون دان اور نئی نسل اس سے روشنی حاصل کریں گے۔ خدا مرحوم کو تاجدار مدینہ کے قدموں میں مجھ سمیت جگہ نصیب فرمائے۔ آمین !“

خادم عبدالحکیم عفی اللہ عنہ، (ممبر قومی اسمبلی پاکستان) مدرسہ فرقانیہ مدنیہ راولپنڈی

2115

بسم اللہ الرحمن الرحیم!

حضور سرکار دو عالم ﷺ بلاشک وشبہ خاتم النبیین ہیں اور تمام امت کا اس بات پر اجماع رہا ہے کہ حضور محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد کوئی ظلی ، بروزی اور کسی بھی قسم کا نبی نہیں آسکتا اور تا قیامت دروازۂ نبوت آپ ﷺ پر بند کر دیا گیا ہے۔ اس نازک دور میں جب طرح طرح کے فتنے اسلام کے خلاف سر اٹھا رہے ہیں، فتنہ مرزائیت کے لئے اور اس کے سدباب کے لئے اپنا وقت پیسہ اور ہمت کا صرف کرنا باعث اجر ہے۔

حقیر مفتی محمد مختار احمد خطیب سیالکوٹ

2116

باسمہ تعالیٰ!

الحمد للہ وحدہ لا شریک لہ والصلوۃ والسلام علیٰ سیدنا محمد خاتم النبیین الذی لا نبی بعدہ وعلیٰ اصحابہ وازواجہ وذریتہ الذین نشروا ہداہ واتبعوا ہدیہ ۔ اما بعد!

ختم نبوت کا عقیدہ اہل اسلام کا متفقہ عقیدہ ہے۔ جس سے انکار کی جرأت فرق باطلہ کو بھی نہ ہوسکی اور چودہ سو برس سے اب تک جتنے اسلامی فرقے وجود میں آئے سب نے اس عقیدہ کا اقرار کیا ہے اور تسلیم کیا ہے۔ اس کا شمار ضروریات دین میں ہے۔ یعنی اس کا اسلامی عقیدہ ہونا اس قدر روشن ہے کہ کسی مسلمان کو اس میں شک و شبہ نہیں ہو سکتا اور یہ مسلمہ قاعدہ ہے کہ ضروریات دین میں سے کسی بات کا انکار یا اس میں شک اسلام سے بغاوت اور کفر خالص ہے۔ نیز یہ کہ اس میں تاویل بھی قائل کو کفر سے نہیں بچا سکتی۔ جس طرح اس کا منکر کافر ہے۔ اسی طرح اس کا مؤول

١٣٤٦

صفحہ ٢٠١٥

F PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15 دلائل سننے کے بعد جرأت ایمانی اور عقیدہ ختم احمد قادیانی کو کاذب اور اس کے ماننے والو پور کے نام سے وہ تاریخی فیصلہ کیا ہے جو م پیروی کرتے ہوئے انہیں کے ہم نام دوسر یہی فیصلے کئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مرحوم باب کے حروف اوّل اور آخر سمجھے جائیں، ہے۔ قانون دان اور نئی نسل اس سے روشنی میں مجھ سمیت جگہ نصیب فرمائے۔ آمین! ث

2115 بسم حضور سرکار دو عالم ﷺ بلاشک اجماع رہا ہے کہ حضور محمد رسول اللہ ﷺ ۔ تا قیامت دروازۂ نبوت آپ ﷺ پر بند ک فتنے اسلام کے خلاف سر اٹھا رہے ہیں، آ وقت پیسہ اور ہمت کا صرف کرنا باعث اجر 16

الحمد لله وحده لا شر النبيين الذى لا نبي بعده وعلى ال هديه ٭ اما بعد!

ختم نبوت کا عقیدہ اہل اسلا بھی نہ ہوسکی اور چودہ سو برس سے اب تک کا اقرار کیا ہے اور تسلیم کیا ہے۔ اس کا شب اس قدر روشن ہے کہ کسی مسلمان کو اس می دین میں سے کسی بات کا انکار یا اس میں میں تاویل بھی قائل کو کفر سے نہیں بچا سکتی

2015 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15 بھی کافر ہے۔ سچ یہ ہے کہ ختم نبوت کا مفہوم سمجھ لینے کے بعد کوئی شخص بھی جو مسلمان ہونے کا مدعی ہے اس کے انکار یا اس کی تاویل کی جرأت نہیں کر سکتا۔ بہت سیدھی سادی بات ہے کہ نبوت کی ابتداء حضرت آدم علیہ السلام سے ہوئی اور محمد مصطفےٰ ﷺ پر نبوت ختم ہوئی اور اب اس دور میں اس فتنے کا سدباب بھی مسلمانوں کے فرائض میں ایک اہم فریضہ بلکہ راہِ نجات یہی ہے اور یہ کتاب جو مسلمانوں کے لئے مشعل راہ کی حیثیت رکھتی ہے اور ایک 2117 صدقہ جاریہ ہے۔ اللہ تعالیٰ جملہ مسلمانوں کو اس فتنہ کو روکنے کے لئے ہمت دے۔ آمین ثم آمین! سید محمد شمس الدین (ڈپٹی سپیکر صوبائی اسمبلی بلوچستان)

(فیصلہ مقدمہ بہاول پور)

2118 مسماۃ غلام عائشہ بنت مولوی الٰہی بخش ذات ملانہ عمر ١٨، ١٩ سال سکنہ احمد پور شرقیہ بمختاری الٰہی بخش ولد محمود ذات ملانہ ساکن احمد پور شرقیہ معلم مدرسہ عربیہ

بنام

عبدالرزاق ولد مولوی جان محمد ذات باجہ عمر ٢٣ سال ساکن موضع مہند تحصیل احمد پور شرقیہ، حال مقیم میلسی شہر گیج ریڈر سب ڈویژن انہار میلسی، ضلع ملتان دعویٰ دلا پانے ڈگری استقرائیہ تنسیخ نکاح تفریق بوجہ ارتداد شوہر مدعا علیہ

(بنائے مقدمہ)

2119 یہ ایک خاص نوعیت اور اہمیت کا مقدمہ ہے۔ جو سال ١٩٢٦ء میں دائر ہو کر ایک دفعہ انتہائی مراحل اپیل طے کر چکا ہے اور سال ١٩٣٢ء سے پھر ایک نئی شان اور نئے اسلوب سے ابتدائی حیثیت میں عدالت ہذا میں زیر سماعت چلا آیا ہے۔ واقعات مختصراً یہ ہیں کہ مولوی الٰہی بخش والد مدعیہ اور مولوی عبدالرزاق مدعاعلیہ باہمی رشتہ دار ہیں اور ابتداءً دونوں علاقہ ڈیرہ غازیخان میں رہتے تھے۔ عبدالرزاق کی ہمشیرہ مولوی الٰہی بخش سے بیاہی ہوئی تھی اور مولوی الٰہی بخش نے اپنی لڑکی مسماۃ غلام عائشہ مدعیہ کا نکاح اس کے ایام نابالغی میں عبدالرزاق مدعاعلیہ سے کر دیا تھا۔ یہ لڑکی اس کی ایک سابقہ بیوی کے بطن سے تھی اور اس کا نکاح وہیں فریقین کے ابتدائی مسکن پر ہوا تھا۔ اس کے بعد مولوی الٰہی بخش وہاں سے ترک سکونت کر کے علاقہ ریاست ہذا میں چلا آیا اور سال ١٩١٧ء میں اس نے موضع مہند تحصیل احمد پور شرقیہ میں ایک زمیندار کے ہاں عربی

١٣٧

صفحہ ٢٠١٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

تعلیم دینے پر ملازمت اختیار کر لی۔ مدعیہ کی طرف سے کہا جاتا ہے کہ اس سے ایک سال کے بعد مدعاعلیہ بھی بمعہ اپنی والدہ اور دو ہمشیرگان کے وہاں سے ترک سکونت کر کے مولوی الہی بخش کے پاس موضع مہند میں آ گیا اور اپنے کنبہ کو وہاں چھوڑ کر خود حصول معاش کے لئے مختلف مقامات پر پھرتا رہا۔ دوران قیام موضع مہند میں اس نے اپنے سابقہ اعتقادات سے انحراف کر کے مرزائی مذہب اختیار کر لیا اور وہاں اپنے قادیانی مرزائی ہونے کا اعلان بھی کرتا رہا۔ اس کے بعد اس نے مولوی الہی بخش سے مدعیہ کے رخصتانہ کے متعلق استدعا کی تو اس نے یہ جواب دیا کہ جب تک وہ مرزائی مذہب ترک نہ کرے گا مدعیہ کا بازو اس کے حوالے نہیں کیا جائے گا۔ چنانچہ مدعاعلیہ کچھ عرصہ مدعیہ کے رخصتانہ کے در پے رہا۔ لیکن اسے یہی جواب دیا جاتا رہا کہ اس کے مرزائی مذہب پر قائم رہنے کی صورت میں مدعیہ اس کے حوالے نہیں کی جاسکتی۔ جب اسے کامیابی کی امید نظر نہ آئی تو وہ پھر ریاست سے ترک سکونت اختیار کر کے علاقہ برٹش انڈیا میں چلا گیا اور حدود ریاست ہذا کے قریب علاقہ تحصیل لودھراں میں سکونت 2120 اختیار کر لی۔

ان سوالات پر کہ مدعاعلیہ نے حدود ریاست سے سکونت کب ترک کی اور کہ اس نے مرزائی یا احمدی مذہب کہاں اور کب اختیار کیا؟ آگے بحث کی جائے گی۔ یہاں اب صرف یہ درج کیا جاتا ہے کہ مدعیہ کے اس رخصتانہ کے سوال پر والد مدعیہ اور مدعاعلیہ کے درمیان کشیدگی پیدا ہو گئی اور والد مدعیہ نے مدعیہ کی طرف سے بحیثیت اس کے مختار کے ٢٣/ جولائی ١٩٢٦ء کو مدعاعلیہ کے خلاف یہ دعویٰ بدیں بیان دائر کیا کہ مدعیہ اب تک نابالغ رہی ہے۔ اب عرصہ دو سال سے بالغ ہوئی ہے۔

(خاوند قادیانی)

مدعاعلیہ تابع مذہب اہل سنت والجماعت ترک کر کے قادیانی، مرزائی مذہب اختیار کر لیا ہے اور اس وجہ سے وہ مرتد ہو گیا ہے۔ اس کے مرتد ہو جانے کے باعث مدعیہ اب اس کی منکوحہ نہیں رہی۔ کیونکہ وہ شرعاً کافر ہو گیا ہے اور بموجب احکام شرع شریف بوجہ ارتداد مدعاعلیہ مدعیہ مستحق افتراق زوجیت ہے۔ اس لئے ڈگری تنسیخ نکاح بحق مدعیہ صادر کی جاوے اور یہ قرار دیا جاوے کہ مدعیہ بوجہ مرزائی ہو جانے مدعاعلیہ کے اس کی منکوحہ جائز نہیں رہی اور نکاح بوجہ ارتداد مدعاعلیہ قائم نہیں رہا۔

مدعاعلیہ نے اس کے جواب میں یہ کہا ہے کہ اس نے کوئی مذہب تبدیل نہیں کیا اور نہ ہی وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ بلکہ وہ بدستور مسلمان اور احکام شرعی کا پورا پابند ہے۔ احمدی

١٣٨

صفحہ ٢٠١٧

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

کوئی علیحدہ مذہب نہیں، نہ وہ مرزائی ہے، نہ قادیانی ۔ نکاح ہر صورت میں جائز اور قابل تکمیل ہے۔ عقائد احمدیہ کی وجہ سے جو صلاحیت مذہبی کی طرف رجوع دلاتے ہیں وہ مرتد نہیں ہو جاتا۔ عدالت عالیہ چیف کورٹ بہاول پور، مدراس اور دیگر ہائی کورٹوں سے یہ امر فیصلہ پاچکا ہے کہ جماعت احمدیہ کے مسلمان اصلاح یافتہ فرقہ میں سے ہیں، مرتد یا کافر نہیں ہیں۔ دعویٰ ناجائز اور قابل اخراج ہے اور کہ بناء دعویٰ بمقام مہند ریاست بہاول پور قائم نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ نہ فریقین کی وہاں سکونت رہی ہے اور نہ ہی مدعا علیہ نے وہاں سر میل کی کوئی تحریک کی ۔ علاوہ ازیں کسی مقام پر سرمیل کی تحریک کئے جانے سے وہ مقام قانوناً بنائے دعویٰ تصور نہیں کیا جاسکتا۔ 2121 دعویٰ وہاں سماعت ہونا چاہئے جہاں مدعا علیہ کی مستقل سکونت ہو یا بناء دعویٰ پیدا ہوئی ہو۔ مقدمہ حال میں مدعا علیہ کی مستقل سکونت چونکہ علاقہ ملتان میں ہے اور نکاح ضلع ڈیرہ غازیخان میں ہوا تھا۔ اس لئے دعویٰ حدود ریاست ہذا میں سماعت نہیں ہو سکتا۔

یہ دعویٰ ابتداً منصفی احمد پور شرقیہ میں دائر ہوا تھا۔ منصف صاحب احمد پور شرقیہ نے فریقین کے مختصر سے بیانات قلمبند کرنے کے بعد ٤؍ نومبر ١٩٢٦ء کو حسب ذیل امور تنقیح طلب قرار دیئے۔

(تنقیحات مقدمہ)

ان تنقیحات کے ثبوت میں مدعیہ نے مدعا علیہ کو عدالت مذکور میں بحیثیت گواہ خود پیش کیا تو مدعا علیہ نے ٥؍ دسمبر ١٩٢٦ء کو یہ بیان کیا کہ یہ درست ہے کہ وہ مرزا غلام احمد صاحب کو مسیح موعود تسلیم کرتا ہے اور ساتھ ہی انہیں نبی بھی مانتا ہے۔ اس معنی میں کہ مرزا صاحب نبی کریم ﷺ (حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ) کے تابعدار ہیں اور آپ ﷺ کی شریعت کے پیرو ہیں اور آنحضرت ﷺ کی غلامی کی وجہ سے آپ نبوت کے درجہ پر فائز ہوئے اور اس وقت تک اس کا یہی اعتقاد ہے۔ گویا وہ سلسلہ احمدیت میں منسلک ہو چکا ہے۔ وہ مرزا صاحب کو ان معنوں میں نبی کہتا ہے جن معنوں میں کہ قرآن کریم نبوت کو پیش کرتا ہے۔ جیسا کہ دیگر انبیاء علیہم السلام ہیں کہ ان پر وحی اور الہام وارد ہوتے ہیں۔ چونکہ وہ مرزا غلام احمد صاحب کو نبی تسلیم کرتا ہے۔ اس لئے وہ یہ بھی مانتا ہے کہ ان پر بمثل دیگر انبیاء علیہم السلام کے نزول ملائکہ و جبرائیل علیہ السلام ہوتا تھا۔

١٣٩

صفحہ ٢٠١٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

اس بیان کو مدنظر رکھتے ہوئے منصف صاحب احمد پور شرقیہ نے ٢٠؍جنوری ١٩٢٧ء کو یہ امر مزید تنقیح طلب قرار دیا کہ کیا اس اعتقاد کی صورت میں جو مدعا علیہ نے بیان کیا ہے کہ وہ مرزا غلام احمد کو نبی تسلیم کرتا ہے۔ اس معنی میں کہ بمثل دیگر انبیاء علیہم السلام مرزا صاحب پر وحی اور 2122 الہام وارد ہوتے تھے۔ کوئی شخص مذہب اسلام میں شامل رہ سکتا ہے؟ اور اس کا بار ثبوت مدعا علیہ پر عائد کیا۔ اس کے بعد مدعا علیہ نے ١٩؍فروری ١٩٢٧ء کو ایک درخواست پیش کی کہ سابقہ تاریخ پر اس نے جو بیان دیا تھا اس میں اس نے اپنے اعتقادات مذہبی کو بخوبی واضح کر دیا تھا۔ لیکن عدالت نے اس سے جو خلاصہ اخذ کیا ہے وہ اس کے اصلی اعتقاد مذہبی کے مغائر ہے۔ چونکہ اعتقاد مذہبی کی غلط تعبیر سے مقدمہ پر کافی اثر پڑتا ہے۔ اس لئے اپنے اعتقاد مذہبی کو من مدعا علیہ ذیل میں بیان کرتا ہے تا کہ غلط فہمی نہ رہے۔

میں خداوند تعالیٰ کو واحد لاشریک مانتا ہوں۔ حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ کو خاتم النبیین تسلیم کرتا ہوں۔ قرآن کریم کو کامل الہامی کتاب مانتا ہوں۔ کلمہ طیبہ پر میرا ایمان ہے اور حضرت محمد ﷺ کی برکت اور آپ ﷺ کی توسط سے اور آپ ﷺ کی شریعت مقدسہ کی اطاعت سے حضرت مرزا صاحب کو امتی نبی تسلیم کرتا ہوں۔ حضرت مرزا صاحب کوئی نئی شریعت نہیں لائے۔ بلکہ شریعت محمدی کے تابع اور اشاعت کرنے والے ہیں۔ ان پر وحی اور الہام بابرکت حضرت نبی کریم ﷺ وارد ہوتے تھے۔

اس درخواست میں یہ استدعا کی گئی کہ جو امر تنقیح سابقہ تاریخ پر وضع کیا گیا ہے۔ وہ درست نہیں ہے۔ تنقیح بالفاظ ذیل وضع ہونا چاہئے کہ آیا مدعا علیہ جس کا مذہبی اعتقاد یہ ہو جو کہ اوپر بیان کیا گیا ہے۔ مرتد ہے، اور مسلمان نہیں ہے؟ اور اس کا ثبوت بذمہ مدعیہ عائد کیا جاوے۔ مگر عدالت نے اس درخواست پر کوئی التفات نہ کی اور اسے شامل مثل کر دیا۔

اس کے بعد بحکم ٧؍مئی ١٩٢٧ء عدالت عالیہ چیف کورٹ یہ مقدمہ عدالت ہذا میں منتقل ہوا اور عدالت ہذا میں ١٧؍دسمبر ١٩٢٧ء کو مدعا علیہ نے اپنے عقائد کی پھر ایک فہرست پیش کی۔ جن کا ذکر مناسب جگہ پر کیا جائے گا۔

یہ مقدمہ عدالت ہذا سے بحکم ٢١؍نومبر ١٩٢٨ء اس بناء پر خارج کیا گیا کہ عدالت عالیہ چیف کورٹ بہاول پور سے اس قسم کے ایک مقدمہ بعنوان مسماۃ جندو ڈتّی بنام کریم بخش میں باتباع 2123 فیصلہ جات عدالتہائے اعلیٰ مدراس، پٹنہ و پنجاب کے یہ قرار دیا جا چکا ہے کہ احمدی مسلمانوں کا ایک فرقہ ہیں نہ کہ اسلام سے باہر، اور کوئی مرزائی مذہب اختیار کرنے سے کسی سنی عورت کا نکاح

١٤٠

صفحہ ٢٠١٩

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

اس شخص کے ساتھ جو اس مذہب کو قبول کر لے۔ فسخ نہیں ہو جاتا اور کہ مدعیہ کی طرف سے ان فیصلہ جات کے خلاف کوئی سند پیش نہیں کی گئی۔

عدالت ہذا کا یہ حکم برطبق اپیل عدالت عالیہ چیف کورٹ سے بحال رہا۔ لیکن اپیل ثانی پر عدالت معلیٰ اجلاس خاص سے یہ قرار دیا گیا ہے کہ عدالت ہذا سے فریقین کے پیش کردہ اسناد پر بحث کئے بغیر دعویٰ مدعیہ خارج کر دیا گیا ہے اور فاضل ججان چیف کورٹ نے اپنے فیصلہ میں یہ تسلیم کیا ہے کہ پٹنہ و پنجاب ہائیکورٹوں کے فیصلہ جات مقدمہ ہذا میں حاوی نہیں ہو سکتے۔ کیونکہ ان میں غیر متعلق سوال زیر بحث رہے ہیں۔ البتہ مدراس ہائیکورٹ کے فیصلہ مندرجہ اے۔۔۔۔۔ انڈین کیسز ٦٦ میں سوال زیر بحث بجنسہ یہی تھا کہ آیا احمدی ہو جانے سے ارتداد واقع ہوتا ہے یا نہ۔ لیکن ہم نے اس فیصلہ کو بغور مطالعہ کیا ہے۔ ہم فاضل ججان چیف کورٹ کی رائے سے اختلاف کرتے ہیں کہ فیصلہ مذکورہ بالا مکمل چھان بین سے طے پایا تھا۔ کیونکہ فاضل ججان مدراس ہائیکورٹ خود فیصلہ میں تسلیم کرتے ہیں کہ ان کے پاس کوئی خاص سند اس بات کی پیش نہیں کی گئی کہ فلاں فلاں اسلام کے بنیادی اصول ہیں اور ان سے اس حد یا اس درجہ تک اختلاف کرنے سے ارتداد واقع ہوتا ہے یا کن اسلامی عقائد کی پیروی یا کن عقائد کے نہ ماننے سے ارتداد واقع ہوتا ہے۔ اس فیصلہ میں پھر فاضل ججان یہ تسلیم کرتے ہیں کہ اس سوال کو کہ آیا عقائد قادیانی سے ارتداد واقع ہوتا ہے یا نہ۔ علماء اسلام بہتر فیصلہ کر سکتے ہیں۔ اس لئے ہماری رائے میں فاضل ججان ہائیکورٹ کا فیصلہ سوال زیر بحث پر قطعی نہیں ہے اور ہمیں مقدمہ ہذا میں اس کی پیروی کرنے کی ضرورت نہیں۔ اس قرار داد کے ساتھ یہ مقدمہ اس ہدایت کے ساتھ واپس ہوا کہ گو مولوی غلام محمد صاحب شیخ الجامعہ، جامعہ عباسیہ بہاول پور کے بیان سے واضح ہوتا ہے کہ اگر کسی شخص کا قادیانی عقائد کے مطابق یہ ایمان ہو کہ حضرت محمد ﷺ کے بعد کوئی اور نبی آیا ہے اور اس 2124 پر وحی نازل ہوئی ہے تو ایسا شخص چونکہ ختم نبوت حضرت رسول کریم ﷺ کا منکر ہے اور ختم نبوت اسلام کے ضروریات میں سے ہے۔ لہٰذا وہ کافر ہے اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ لیکن ہم اس مقدمہ کا فیصلہ کرنے کے لئے شیخ الجامعہ صاحب کی رائے کو کافی نہیں سمجھتے۔ جب تک کہ دیگر ہندوستان کے بڑے بڑے علماء دین بھی اس رائے سے اتفاق نہ رکھتے ہوں اس لئے مقدمہ مزید تحقیقات کا محتاج ہے اور مدعا علیہ کو بھی موقعہ دینا چاہئے کہ شیخ الجامعہ صاحب کے بالمقابل اپنے دلائل پیش کرے۔

واپسی پر اس مقدمہ میں فریقین کے ہم مذہب اور ہم خیال اشخاص کی فرقہ بندی شروع

١٤١

BLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

اس بیان کو مدنظر رکھتے ہوئے منصف یہ امر مزید تنقیح طلب قرار دیا کہ کیا اس اعتقاد کی مرزا غلام احمد کو نبی تسلیم کرتا ہے۔ اس معنی میں کہ ب 2122 الہام وارد ہوتے تھے۔ کوئی شخص مذہب اسلا علیہ پر عائد کیا۔ اس کے بعد مدعا علیہ نے ١٩؍ فر تاریخ پر اس نے جو بیان دیا تھا اس میں اس نے لیکن عدالت نے اس سے جو خلاصہ اخذ کیا ہے وہ اعتقاد مذہبی کی غلط تعبیر سے مقدمہ پر کافی اثر پڑتا ذیل میں بیان کرتا ہے تا کہ غلط فہمی نہ رہے۔

میں خداوند تعالیٰ کو واحد لاشریک مانتا تسلیم کرتا ہوں۔ قرآن کریم کو کامل الہامی کتاب محمد ﷺ کی برکت اور آپ ﷺ کی توسط سے او حضرت مرزا صاحب کو امتی نبی تسلیم کرتا ہوں۔ ح بلکہ شریعت محمدی کے تابع اور اشاعت کرنے وا کریم ﷺ وارد ہوتے تھے۔

اس درخواست میں یہ استدعا کی گئی ک درست نہیں ہے۔ تنقیح بالفاظ ذیل وضع ہونا چاہئے بیان کیا گیا ہے۔ مرتد ہے، اور مسلمان نہیں ہے؟ ا عدالت نے اس درخواست پر کوئی التفات نہ کی اور

اس کے بعد بحکم ٧؍ مئی ١٩٢٧ء عدالت ہوا اور عدالت ہذا میں ١٧ دسمبر ١٩٢٧ء کو مدعا علیہ کا ذکر مناسب جگہ پر کیا جائے گا۔

یہ مقدمہ عدالت ہذا سے بحکم ٢١ نومبر چیف کورٹ بہاول پور سے اس قسم کے ایک مقدم 2123 فیصلہ جات عدالتہائے اعلیٰ مدراس، پٹنہ و پنجا ایک فرقہ ہیں نہ کہ اسلام سے باہر، اور کوئی مرزائی

٤٠

صفحہ ٢٠٢٠

2020 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

ہو گئی اور تقریباً تمام ہندوستان میں اس کے متعلق ایک ہیجان پیدا ہو گیا اور طرفین سے ان کی جماعت کے بڑے بڑے علماء بطور مختاران فریقین و بطور گواہان پیش ہونے لگے۔ ان کے اس طرح میدان میں آنے سے قدرتاً یہ سوال عوام کے لئے جاذب توجہ بن گیا اور پبلک کو اس میں ایک خاص دلچسپی پیدا ہوگئی اور ہر تاریخ سماعت پر لوگ جوق در جوق کمرۂ عدالت میں آنے لگے۔ چنانچہ عوام کی اس دلچسپی اور مذہبی جوش کو مد نظر رکھتے ہوئے حفظ امن قائم رکھنے کی خاطر پولیس کی امداد کی ضرورت محسوس کی گئی اور عدالت ہذا کی تحریک پر صاحب بہادر کمشنر پولیس کی طرف سے ہر تاریخ پیشی پر پولیس کا خاطر خواہ انتظام کیا جاتا رہا۔ امر مابہ النزاع حل و حرمت سے تعلق رکھنے کے علاوہ ضمناً چونکہ مدعاعلیہ کے ہم خیال جماعت کی تکفیر پر بھی مشتمل ہے۔ اس لئے طرفین کو اس مقدمہ میں کھلے دل سے اپنے دلائل سندات اور بحث ہائے تحریری و تقریری پیش کرنے کا کافی و وافی موقعہ دیا گیا۔ حتیٰ کہ مدعاعلیہ کی طرف سے ایک ایک گواہ کے بیان اور جرح پر بعض دفعہ مسلسل ایک ایک مہینہ بھی صرف ہوا ہے اور اس کی طرف سے جو بحث تحریری پیش ہوئی ہے۔ وہ کئی سو ورق پر مشتمل ہے اور فیصلہ میں تعویق زیادہ تر مسل کے اس قدر ضخیم بن جانے کی وجہ سے بھی ہوئی ہے۔ دوران سماعت مقدمہ ہذا میں مدعاعلیہ نے مدعیہ اور اس کے والد مولوی الٰہی بخش کے خلاف ٢٣؍ اگست ١٩٣٢ء کو عدالت سب جج صاحب درجہ دوم ملتان میں دعویٰ اعادہ 2125 حقوق زن وشوئی دائر کر کے عدالت موصوف سے ان ہر دو کے خلاف ١٧؍ جون ١٩٣٣ء کو ڈگری یک طرفہ حاصل کر لی اور اس مقدمہ میں جب کہ شہادت فریقین ختم ہو کر مدعیہ کی طرف سے بحث بھی سماعت ہو چکی تھی۔ مدعاعلیہ کی طرف سے یہ عذر برپا کیا گیا کہ عدالت ہذا کو اختیار سماعت مقدمہ ہذا حاصل نہیں۔ کیونکہ بناء دعویٰ حدود ریاست ہذا میں پیدا نہیں ہوئی اور نہ ہی مدعاعلیہ کی رہائش عارضی یا مستقل ریاست ہذا کے اندر ہوئی ہے۔

دوسرا عدالت سرکار برطانیہ سے مدعاعلیہ کے حق میں ڈگری استقرار حق زوجیت برخلاف مدعیہ و الٰہی بخش والدش کے صادر ہو چکی ہے۔ اس لئے بروئے دفعہ ١١ ضابطہ دیوانی عدالت ہذا کو اس کے متعلق فیصلہ کرنے کا حق نہیں ہے اور کہ بموجب دفعات ١٣، ١٤ ضابطہ دیوانی ڈگری مذکور قطعی ہو چکی ہے اور اس کے صادر ہونے کے بعد مقدمہ زیر سماعت عدالت ہذا نہیں چل سکتا۔

مدعاعلیہ کے ان عذرات کو بوجہ اس کے کہ وہ عدالت ہذا کے اختیار سماعت سے تعلق رکھتے تھے۔ اہم سمجھا جا کر اس مقدمہ میں ٨؍ نومبر ١٩٣٣ء کو حسب ذیل مزید تنقیحات ایزاد کی گئیں۔

١٤٢

صفحہ ٢٠٢١

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

(مزید تنقیحات مقدمہ)

حدود ضلع ہذا میں پیدا ہوئی۔ اس لئے دعویٰ قابل سماعت عدالت ہذا ہے۔

پر جب کہ مقدمہ پہلے عدالت ہائے اعلیٰ تک پہنچ چکا ہے اور مدعا علیہ برابر پیروی کرتا رہا ہے۔ نہیں اٹھایا جا سکتا۔

مقدمہ ہذا میں دفعات ١٣، ١٤ ضابطہ دیوانی عارض نہیں ہیں۔ ان تنقیحات کے وضع کرنے سے قبل مدعا علیہ کی طرف سے محکمہ معلیٰ وزارت عدلیہ میں پیش گاہ حضور سرکار عالی دام اقبالہ وملکہ میں پیش کئے جانے کے لئے ایک درخواست مشتمل بر عذرات مذکورہ بالا موصول ہوئی جو بمراد غور 2126 عدالت ہذا میں بھجوادی گئی۔ اس درخواست کے مطالعہ سے یہ ضروری خیال کیا گیا کہ مدعا علیہ کی طرف سے بحث پیش ہونے سے قبل ان قانونی عذرات مذکورہ بالا کو طے کر لیا جاوے۔ اس لئے ٣؍نومبر ١٩٣٣ء کو فریقین کے نام نوٹس بایں اطلاع جاری کئے جانے کا حکم دیا گیا کہ وہ تاریخ مقررہ پر اپنے علماء کو ہمراہ نہ لاویں۔ بلکہ خود حاضر ہوں تا کہ ان قانونی سوالات پر غور کیا جا کر انہیں طے کر لیا جاوے۔ مدعیہ کی طرف سے عدالت ہذا کے اس حکم کی ناراضی سے محکمہ معلیٰ اجلاس خاص میں درخواست نگرانی پیش کی گئی ہے اور محکمہ معلیٰ نے بحکم ٧؍نومبر ١٩٣٣ء یہ قرار دیا کہ فریق مدعیہ پر تعمیل نوٹس درست نہیں ہوئی۔ لہٰذا یہ ہدایت کی گئی کہ سلسلہ بحث اور جدید امور کی دریافت کو ساتھ ساتھ جاری رکھا جاوے اور اگر کسی فریق کے حق میں التواء مقدمہ ضروری خیال کیا جاوے تو دوسرے فریق کو اس فریق سے مناسب ہرجانہ دلایا جاوے۔ باتباع اس حکم کے فریقین کو جدید تنقیحات کے متعلق اپنا اپنا ثبوت پیش کرنے کی ہدایت کی گئی اور مختاران مدعا علیہ کو حکم دیا گیا کہ وہ اپنی طرف سے سلسلہ بحث کو بھی جاری رکھیں۔ اس کے بعد جب جدید تنقیحات مذکورہ بالا کے متعلق طرفین کی شہادت ختم ہو چکی تو مدعا علیہ نے پھر ٢؍جنوری ١٩٣٤ء کو ایک درخواست کے ذریعہ یہ عذر برپا کیا کہ امور ذیل کو بھی زیر تنقیح لایا جاوے۔

کیا مدعا علیہ کی وطنیت ریاست بہاول پور میں واقع ہے؟ اگر تنقیح بالا مدعیہ کے خلاف ثابت ہو تو پھر بھی عدالت ہذا کو اختیار سماعت حاصل

١٤٣٤

صفحہ ٢٠٢٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

ہے۔ اس درخواست کو اس بناء پر مسترد کیا گیا کہ مدعاعلیہ کی طرف سے اس قسم کا پہلے کوئی عذر نہیں اٹھایا گیا۔ حالانکہ وہ پہلے قانونی مشورہ حاصل کر کے پیروی کرتا رہا ہے۔ علاوہ ازیں جہاں تک اس کے اس جدید عذر کا قانونی پہلو ہے۔ اس کے متعلق وہ اپنی بحث کے وقت قانون پیش کر سکتا ہے۔ واقعات کے لحاظ سے فریقین کی طرف سے مسل پر جو مواد لایا جا چکا ہے وہ اس سوال پر بھی بحث کرنے کے لئے کافی ہے۔ لہٰذا کسی مزید تنقیح کے وضع کرنے کی ضرورت خیال نہیں کی جاتی۔

اس سے قبل دوران شہادت میں مدعاعلیہ کی طرف سے ایک حجت یہ بھی پیدا کی گئی تھی کہ 2127 مدعیہ بوقت ارجاع نالش نابالغ تھی۔ اس لئے اب اس سے خود دریافت ہونا چاہئے کہ وہ مقدمہ چلانا چاہتی ہے یا نہ۔ لہٰذا اس سوال کے متعلق بھی یکم؍ مارچ ١٩٣٣ء کو ایک تنقیح بایں الفاظ وضع کیا گیا تھا کہ کیا مدعیہ بوقت ارجاع نالش نابالغ تھی اور اس کا بار ثبوت مدعاعلیہ پر عائد کیا گیا۔ کیونکہ مدعیہ کی طرف سے اسے نابالغ ظاہر کیا جا کر مختاری والدش دعویٰ دائر کیا گیا تھا۔ لیکن بعد میں اس تنقیح کو بحکم ٢٩؍ مارچ ١٩٣٣ء خارج کیا گیا۔ کیونکہ قانوناً مدعاعلیہ کا یہ عذر نا قابل پذیرائی تھا۔ ملاحظہ ہو م / رانڈین کیسز ص ٣٠٩، اب ذیل میں دیگر قانونی سوالات پر بحث کی جاتی ہے۔

مدعاعلیہ کا اہم عذر یہ ہے کہ اس نے کبھی حدود ریاست ہذا میں سکونت اختیار نہیں کی اور نہ ہی اس نے یہاں احمدی مذہب قبول کیا ہے۔ بلکہ وہ ٦،٥ سال تک شیخوپورہ میں رہا ہے۔ وہاں سے اس نے سال ١٩٢٢ء میں ایک خط کے ذریعہ مرزا صاحب کے خلیفہ ثانی کے ساتھ بیعت کی تھی اور بیعت کرنے کے ٥،٦ ماہ بعد اس نے اپنے موجودہ مسکن واقعہ علاقہ لودھراں میں آ کر سکونت اختیار کی۔ یہاں اس نے آ کر ایک مکان تعمیر کرایا اور اس وقت سے یہاں مقیم ہے۔

مدعیہ کی طرف سے کہا جاتا ہے کہ مدعاعلیہ ضلع ڈیرہ غازیخان سے ترک سکونت کرنے کے بعد سیدھا مولوی الٰہی بخش والد مدعیہ کے پاس حدود ریاست ہذا میں آیا اور یہاں بود و باش شروع کی۔ مرزائی مذہب اس نے ایک شخص مولوی نظام الدین کی ترغیب پر قبول کیا جو موضع مہند مسکن والد مدعیہ کے قریب رہتا ہے اور دعویٰ ہذا دائر ہونے کے بعد وہ حدود ریاست ہذا کے باہر چلا گیا ہے۔ ان امور کے متعلق فریقین کی طرف سے جو شہادت پیش ہوئی ہے اس سے حسب ذیل نتائج اخذ ہوتے ہیں۔

مدعاعلیہ کی یہ حجت درست نہیں پائی جاتی کہ وہ کبھی ریاست ہذا میں نہیں آیا۔ بلکہ مدعیہ کی پیش کردہ شہادت سے جس کی کہ مدعاعلیہ کی طرف سے کوئی خاطر خواہ تردید نہیں کی گئی۔ یہ ثابت ہے کہ مدعاعلیہ مولوی الٰہی بخش کے یہاں آنے کے بعد اپنے مسکن واقعہ علاقہ ضلع ڈیرہ

١٤٤٢

صفحہ ٢٠٢٣

2023 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15 غازیخان 2128 سے سیدھا حدود ریاست ہذا میں مولوی الٰہی بخش والد مدعیہ کے پاس آیا اور اپنی والدہ اور ہمشیرگان کو اس کے ہاں چھوڑ کر خود حصول معاش کے لئے حدود ریاست ہذا کے اندر مختلف مقامات پر پھرتا رہا اور کچھ عرصہ کے بعد پھر مولوی الٰہی بخش کے پاس آکر ٹھہرتا رہا۔ اس کے بعد جب مدعیہ کے رخصتانہ کا سلسلہ شروع ہوا تو وہ ترک سکونت کر کے یہاں سے چلا گیا اور غالباً صحیح یہی ہے کہ وہ مقدمہ ہذا دائر ہونے سے قبل ہی چلا گیا ہے۔ کیونکہ خود مدعیہ نے عرضی دعوٰی میں اس کی سکونت بمقام میلسی درج کرائی ہے۔ چنانچہ اس پتہ پر جب سمن جاری کیا گیا تو مختار مدعیہ نے پھر ١٤/اگست ١٩٢٦ء کو منصفی احمد پور شرقیہ میں ایک درخواست پیش کی کہ مدعا علیہ کی سکونت گو دعوٰی میں مقام میلسی لکھی ہوئی ہے۔ لیکن اب مدعا علیہ یہاں احمد پور شرقیہ میں موجود ہے۔ پھر تعمیل نہیں ہوسکے گی۔ اب اس پتہ پر سمن جاری کیا جا کر تعمیل کرائی جاوے۔ چنانچہ اسی روز عدالت سے سمن جاری کیا جا کر مدعا علیہ کی اطلاع یابی کرائی گئی۔ مدعا علیہ کہتا ہے کہ اسے وہاں دھوکہ سے بلوایا گیا۔ لیکن یہ سوال چنداں اہم نہیں۔ وہ چاہے جس طرح احمد پور شرقیہ میں آیا یہ امر واقعہ ہے کہ سمن پر اس کی اطلاع یابی وہاں کرائی گئی۔ اس سے پایا جاتا ہے کہ دائر دعوٰی کے وقت اس کی رہائش حدود ریاست ہذا کے اندر نہ تھی۔ لہٰذا اس بناء پر مدعا علیہ کی یہ حجت درست ہے کہ دائر دعوٰی کے وقت چونکہ حدود ریاست ہذا کے اندر اس کی عارضی یا مستقل سکونت نہ تھی۔ اس لئے یہاں اس کے خلاف دعوٰی دائر نہیں ہو سکتا تھا۔ لیکن اس کے ساتھ ہی مدعیہ کی پھر یہ حجت ہے کہ مدعا علیہ نے اپنا مذہب چونکہ حدود ریاست ہذا کے اندر تبدیل کیا ہے۔ اس لئے اسے مدعا علیہ کے تبدیل مذہب سے بناء دعوٰی پیدا ہوتی ہے اور اس لحاظ سے مدعا علیہ کے خلاف یہاں دعوٰی درست طور پر دائر کیا گیا ہے۔

مدعا علیہ بیان کرتا ہے کہ اس نے احمدی مذہب شیخو واہ ضلع ملتان میں قبول کیا تھا اور کہ ابتداءً وہ ضلع ڈیرہ غازیخان سے شیخ واہ میں ہی گیا تھا۔ اس کی طرف سے بیعت کا ایک خط پیش کیا گیا ہے۔ جو ڈاکخانہ دنیا پور سے ٢١/جنوری ١٩٢٢ء کو خلیفہ صاحب ثانی کی خدمت میں بھجوایا 2129 گیا اور جس پر بغیر کسی ولدیت، قومیت کے صرف عبدالرزاق احمدی لکھا ہوا ہے۔ اس سے یقینی طور پر یہ قرار دیا جاسکتا ہے کہ یہ خط اسی عبدالرزاق مدعا علیہ کا تحریر شدہ ہے۔ شناخت خط کے بارہ میں مدعا علیہ کی طرف سے دو گواہان پیش ہوئے ہیں۔ جن میں ایک اللہ بخش بالکل نوعمر لڑکا ہے۔ وہ بیان کرتا ہے کہ وہ شیخ واہ میں مدعا علیہ کے پاس پڑھا کرتا تھا۔ اس وقت وہ مدعا علیہ کو لکھتا ہوا دیکھا کرتا تھا۔ شناخت خط کے بارہ میں پہلے تو اس نے یہ کہا کہ شاید وہ نہ پہچان سکے۔ لیکن پھر

١٤٥

ILY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15 ہے۔ اس درخواست کو اس بناء پر مسترد کیا گیا کہ اٹھایا گیا۔ حالانکہ وہ پہلے قانونی مشورہ حاصل کر اس کے اس جدید عذر کا قانونی پہلو ہے۔ اس کے ہے۔ واقعات کے لحاظ سے فریقین کی طرف سے بحث کرنے کے لئے کافی ہے۔ لہٰذا کسی مزید تنقیح اس سے قبل دوران شہادت میں مدعا

کہ 2127 مدعیہ بوقت ارجاع نالش نابالغ تھی۔ اس مقدمہ چلانا چاہتی ہے یا نہ۔ لہٰذا اس سوال کے حل وضع کیا گیا تھا کہ کیا مدعیہ بوقت ارجاع نالش نابا کیونکہ مدعیہ کی طرف سے اسے نابالغ ظاہر کیا گ میں اس تنقیح کو بحکم ٢٩/مارچ ١٩٣٣ء خارج کیا تھا۔ ملاحظہ ہو ٧٤/١ انڈین کیسز ص ٣٠٩، اب ذیل

مدعا علیہ کا اہم عذر یہ ہے کہ اس نے نہ ہی اس نے یہاں احمدی مذہب قبول کیا ہے۔ سے اس نے سال ١٩٢٢ء میں ایک خط کے ذریع اور بیعت کرنے کے ٥، ٦ ماہ بعد اس نے اپنے اختیار کی۔ یہاں اس نے آکر ایک مکان تعمیر کر

مدعیہ کی طرف سے کہا جاتا ہے کہ م کے بعد سیدھا مولوی الٰہی بخش والد مدعیہ کے شروع کی۔ مرزائی مذہب اس نے ایک شخص م مسکن والد مدعیہ کے قریب رہتا ہے اور دعوٰی ک چلا گیا ہے۔ ان امور کے متعلق فریقین کی طر ذیل نتائج اخذ ہوتے ہیں۔

مدعا علیہ کی یہ حجت درست نہیں مدعیہ کی پیش کردہ شہادت سے جس کی کہ مدعا ع ثابت ہے کہ مدعا علیہ مولوی الٰہی بخش کے یہا

صفحہ ٢٠٢٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

بیان کیا کہ وہ شناخت کرتا ہے کہ خط مشمولہ مسل مدعا علیہ کا تحریر کردہ ہے۔ لیکن اوّل تو جس وقت یہ گواہ مدعا علیہ کو لکھتا ہوا دیکھنا بیان کرتا ہے۔ اس وقت خود اس کی اپنی عمر کوئی ١٣، ١٤ سال کے قریب ہوگی۔ غیر اغلب ہے کہ اس عمر میں اس نے مدعا علیہ کی طرز تحریر کو بخوبی ذہن نشین کر لیا ہو۔ دوسرا وہ اس خط کی شناخت کے متعلق کوئی خاص وجوہات بیان نہیں کر سکا۔ علاوہ ازیں جب اس کی مذبذب بیانی کو مد نظر رکھا جائے تو اس کی شہادت بالکل ناقابل اعتبار ہو جاتی ہے۔ اس طرح دوسرے گواہ کی شہادت بھی سرسری قسم کی ہے اور اس پر بھی پورا بھروسہ نہیں کیا جاسکتا۔

مدعا علیہ بیان کرتا ہے کہ وہ شیخ واہ میں ٥، ٦ سال رہا۔ لیکن وہاں کی سکونت ثابت کرنے کے لئے بھی اس کی طرف سے یہی اللہ بخش گواہ پیش ہوا ہے۔ دیگر گواہان صرف سماعی طور پر بیان کرتے ہیں کہ وہ لودھراں میں وہاں سے آیا تھا۔ لہٰذا اس ضمن میں مدعا علیہ کی طرف سے مسل پر جو مواد لایا گیا ہے۔ اس سے یہ قرار دینا مشکل ہے کہ مدعا علیہ اپنے موجودہ مسکن پر سکونت پذیر ہونے سے قبل شیخواہ میں رہتا تھا اور کہ اس نے احمدی مذہب بھی وہیں اختیار کیا تھا۔ اس کی طرف سے بیعت کا جو خط پیش کیا گیا ہے۔ اس کے متعلق قابل اطمینان طریق پر یہ ثابت نہیں کیا گیا کہ وہ اسی عبدالرزاق مدعا علیہ کا ہے۔ ان تمام واقعات سے یہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ مدعا علیہ نے علاقہ لودھراں میں سکونت اختیار کرنے سے قبل جہاں پہلے سکونت اختیار کی ہوئی تھی۔ احمدی مذہب اس نے وہاں قبول کیا۔ مدعا علیہ حسب ادعا خود یہ ثابت کرنے میں کامیاب نہیں رہا کہ اس کی یہ سابقہ سکونت شیخواہ میں تھی۔ برعکس اس کے مدعیہ کی طرف سے یہ ثابت ہے کہ مدعا علیہ 2130 اپنی موجودہ سکونت اختیار کرنے سے قبل حدود ریاست ہٰذا میں سکونت پذیر تھا۔ اس لئے مدعا علیہ کے اپنے بیان سے ہی یہ ثابت قرار دیا جاسکتا ہے کہ اس نے احمدی مذہب حدود ریاست ہٰذا میں اختیار کیا اور اس کی تائید مدعیہ کی پیش کردہ شہادت سے بھی ہوتی ہے۔ لہٰذا یہ قرار دیا جاتا ہے کہ مدعا علیہ کا مذہب تبدیل کرنا چونکہ حدود ریاست ہٰذا کے اندر اس کی جائے سکونت موضع مہند میں وقوع میں آیا ہے۔ اس لئے اس بناء پر مدعیہ کو ضلع ہٰذا کے اندر بنائے دعویٰ پیدا ہوئی ہے۔ لہٰذا عدالت ہٰذا کو اس مقدمہ کی سماعت کا مکمل اختیار حاصل ہے۔

مدعا علیہ کے اس اعتراض کے جواب میں کہ اس کی چونکہ حدود ریاست ہٰذا کے اندر سکونت نہیں رہی۔ اس لئے عدالت ہٰذا کو اس کے خلاف سماعت مقدمہ ہٰذا کا اختیار حاصل نہیں ہوتا۔ مدعیہ کی طرف سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ مدعا علیہ نے گو ابتدائً یہ عذر اٹھایا تھا۔ لیکن بعد میں عدالت ہائے اپیل میں جا کر اس نے اسے ترک کر دیا اور شروع سے لے کر آخیر تک وہ برابر اس

١٤٦

صفحہ ٢٠٢٥

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

کی پیروی کرتا رہا۔ اس لئے سمجھا جائے گا کہ اس نے عدالت ہذا کے اختیار سماعت کو قبول کر لیا تھا۔ اس لئے اب وہ اس پر کوئی اعتراض نہیں کر سکتا۔ اس بارہ میں فیصلہ ٢٩ انڈین کیسز ص ٤٥٦ بطور سند پیش کیا گیا ہے۔ اس کے متعلق مدعاعلیہ کی طرف سے یہ کہا جاتا ہے کہ اپیلیں چونکہ مدعیہ کی طرف سے ہوتی رہی تھیں۔ اس لئے اسے اعتراض کرنے کی ضرورت نہ تھی۔ علاوہ ازیں مقدمہ چونکہ دوبارہ ابتدائی حیثیت میں عدالت ہذا کے زیر سماعت آ گیا ہے۔ اس لئے وہ اس سوال پر عدالت کو متوجہ کر سکتا ہے۔ مگر مدعاعلیہ کی یہ حجت درست معلوم نہیں ہوتی کہ اسے اپیل میں یہ عذر اٹھانے کی ضرورت نہ تھی۔ کیونکہ فیصلہ اس کے خلاف ہونا ممکن تھا۔ اس لئے اسے ہر پہلو سے اپنی جوابدہی کرنی چاہئے تھی اور گو کہ مقدمہ اب پھر ابتدائی حیثیت میں سماعت کیا گیا ہے۔ تاہم اس مقدمہ کے سابقہ مراحل کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا اور اگر اس حجت کو درست بھی تسلیم کر لیا جاوے تو چونکہ اوپر یہ قرار دیا جا چکا ہے کہ مدعاعلیہ کے تبدیل مذہب سے بناء دعویٰ حدود ریاست ہٰذا میں پیدا ہوئی ہے۔ اس لئے اس سوال پر مزید کسی بحث کی ضرورت نہیں رہتی اور عدالت ہٰذا سے مدعاعلیہ کے خلاف یہ دعویٰ درست طور سماعت کیا گیا ہے۔

2131 اس قرارداد سے ان تنقیحات میں سے پہلے دو کا جو ٨ نومبر ١٩٣٣ء کو وضع کی گئی تھیں فیصلہ ہو جاتا ہے۔ باقی تیسری تنقیح کے متعلق جو ڈگری ملک غیر کی بابت ہے صرف یہ درج کر دینا کافی ہے کہ عدالت صادر کنندہ ڈگری کے روبرو یہ سوال کہ مدعاعلیہ تبدیل مذہب کی وجہ سے مرتد ہو چکا ہے اور اس لئے مدعیہ اس کی منکوحہ نہیں رہی۔ زیر بحث نہیں آیا اور نہ ہی پایا جاتا ہے کہ اس عدالت کو یہ جتلایا گیا کہ اس نکاح کے بارہ میں مدعیہ کی طرف سے عدالت ہٰذا میں بھی مقدمہ دائر ہے۔ اس لئے سمجھا جائے گا کہ وہ فیصلہ صحیح واقعات پر صادر نہیں ہوا اور ڈگری دھوکے سے حاصل کی گئی۔ لہٰذا وہ ڈگری بروئے ضمن (ب) و (د) دفعہ ١٣ ضابطہ دیوانی قطعی قرار نہیں دی جا سکتی۔ اس طرح دفعہ ١١ ضابطہ دیوانی کا اطلاق واقعات مقدمہ ہٰذا پر نہیں ہوتا۔ کیونکہ جیسا کہ اوپر قرار دیا گیا ایک تو وہ ڈگری قطعی نہیں دوسرا وہ کسی عدالت واقع اندرون حدود ریاست ہٰذا کی صادر شدہ نہیں۔ اس لئے یہ تیسری تنقیح بھی بحق مدعیہ و برخلاف مدعاعلیہ طے کی جاتی ہے۔

مدعاعلیہ کی طرف سے اس امر پر زور دیا گیا ہے کہ فریقین چونکہ درحقیقت اپنی شہریت اور وطنیت کے لحاظ سے برٹش انڈیا سے تعلق رکھنے والے ہیں اور والد مدعیہ نے خود یا اس کے کسی گواہ نے یہ دعویٰ نہیں کیا کہ وہ ہمیشہ کے لئے برٹش شہریت اور وطنیت چھوڑ چکا ہے۔ کیونکہ شہریت اور وطنیت کو ترک کرنے کے لئے لازمی ہے کہ یہ فعل علانیہ طور پر اور پبلک اظہار کے بعد قانونی

١٤٧

EMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

بیان کیا کہ وہ شناخت کرتا ہے کہ خط مشمولہ مسل مدعاعلیہ گواہ مدعاعلیہ کو لکھتا ہوا دیکھنا بیان کرتا ہے۔ اس وقت خـ ہوگی۔ غیر اغلب ہے کہ اس عمر میں اس نے مدعاعلیہ کی اس خط کی شناخت کے متعلق کوئی خاص وجوہات بـ کذب بیانی کو مدنظر رکھا جائے تو اس کی شہادت با دوسرے گواہ کی شہادت بھی سرسری قسم کی ہے اور اس پر

مدعاعلیہ بیان کرتا ہے کہ وہ شیخوپورہ میں ( کرنے کے لئے بھی اس کی طرف سے یہی اللہ بخش گو پر بیان کرتے ہیں کہ وہ لودھراں میں وہاں سے آیا تھا مسل پر جو مواد لایا گیا ہے۔ اس سے یہ قرار دینا مشکل پذیر ہونے سے قبل شیخوپورہ میں رہتا تھا اور کہ اس نے ا طرف سے بیعت کا جو خط پیش کیا گیا ہے۔ اس کے متـ گیا کہ وہ اسی عبدالرزاق مدعاعلیہ کا ہے۔ ان تمام وا نے علاقہ لودھراں میں سکونت اختیار کرنے سے قبل مذہب اس نے وہاں قبول کیا۔ مدعاعلیہ حسب ادعا خو کی یہ سابقہ سکونت شیخوپورہ میں تھی۔ برعکس اس کے مـ

2130 اپنی موجودہ سکونت اختیار کرنے سے قبل حدود ریـ علیہ کے اپنے بیان سے ہی یہ ثابت قرار دیا جاسکتا ہٰذا میں اختیار کیا اور اس کی تائید مدعیہ کی پیش کردہ شـ ہے کہ مدعاعلیہ کا مذہب تبدیل کرنا چونکہ حدود ریاست میں وقوع میں آیا ہے۔ اس لئے اس بناء پر مدعیہ کو شیـ عدالت ہٰذا کو اس مقدمہ کی سماعت کا مکمل اختیار حاصل

مدعاعلیہ کے اس اعتراض کے جواب مـ سکونت نہیں رہی۔ اس لئے عدالت ہٰذا کو اس کے ہوتا۔ مدعیہ کی طرف سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ مدعاعلیہ عدالت ہائے اپیل میں جا کر اس نے اسے ترک کر

١٤٦

صفحہ ٢٠٢٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

حیثیت سے کیا جاوے۔ اس لئے تاوقتیکہ یہ ثابت نہ ہو، ایسے نکاح متنازعہ کے متعلق قانون بین الاقوامی یہ ہے کہ وہ نکاح جو اس ملک کے قانون کے لحاظ سے جائز ہے جہاں سے وہ منعقد ہوا۔ وہ ساری دنیا میں جائز اور درست ہے، اور کوئی دوسرے ملک کی عدالت اسے ناجائز قرار نہیں دے سکتی اور پھر ایسے نکاح کی تنسیخ کے متعلق بھی قانون بین الاقوامی یہ ہے کہ جس ملک میں ہر دو زوجین کو وطنیت حاصل ہو۔ صرف وہیں کی عدالت تنسیخ کا مقدمہ سن سکتی ہے اور اس قانون کی رو سے بیوی کی وطنیت وہی جگہ تصور ہوگی جہاں خاوند کی وطنیت ہو۔

فریقین کی طرف سے جو شہادت پیش ہوئی ہے اس کا ماحصل یہ ہے کہ فریقین اپنی ابتدائی 2132 برطانوی شہریت و وطنیت پر قائم ہیں۔

گو حصول معاش کے لئے ایک فریق نے اپنی رہائش بہاول پور میں رکھی ہوئی ہے۔ مگر محض دوسری جگہ رہائش رکھنے سے اصل وطنیت کا ترک ہونا لازم نہیں آتا۔ مدعیہ کا نکاح علاقہ انگریزی میں ہوا۔ جہاں کی مدعیہ کی بیان کردہ وجہ ارتداد کو تسلیم نہیں کیا جاتا۔ اس وجہ سے علاقہ انگریزی کے قانون کی رو سے یہ نکاح صحیح اور جائز ہے۔

لیکن مدعاعلیہ کی یہ حجت اس لئے وزن دار نہیں کہ اوّل تو یہ ثابت ہے کہ مولوی الٰہی بخش بہت مدت سے اپنے سابقہ مسکن سے ترک سکونت کر کے حدود ریاست ہذا میں رہائش پذیر ہے۔ اس کے کافی مدت کے بود و باش اور دیگر افعال سے یہ بخوبی اخذ ہوتا ہے کہ وہ حدود ریاست ہذا میں مستقل سکونت اختیار کر چکا ہے اور اس کا اپنے سابقہ مسکن پر واپس جانے کا ارادہ نہیں۔ کیونکہ اس بارہ میں جو شہادت پیش ہوئی ہے اس سے پایا جاتا ہے کہ علاقہ ضلع ڈیرہ غازیخان میں اب اس کا اپنا کوئی گھر موجود نہیں۔ مدعیہ چونکہ اس وقت نابالغ تھی اور بطور زوجہ مدعاعلیہ کے حوالہ نہ کی گئی تھی۔ اس لئے اس کا اپنے والد کے ہمراہ یہاں چلے آنے اور اس کے ساتھ بود و باش رکھنے سے یہ سمجھا جائے گا کہ اس نے بھی اب بمثل اپنے والد کے یہاں کی وطنیت اختیار کر لی ہے۔ علاوہ ازیں یہ پایا جاتا ہے کہ جب وہ بالغ ہوئی تو اس نے مدعاعلیہ کی زوجیت سے انکار کر دیا اور یہ حجت کی کہ ضلع ڈیرہ غازیخان میں اس کا جو نکاح مدعاعلیہ سے ہوا تھا وہ بوجہ ارتداد مدعاعلیہ قائم نہیں رہا۔ اس لئے کیونکر کہا جاسکتا ہے کہ مدعیہ کی وطنیت بھی اب وہی شمار ہوگی جو کہ مدعاعلیہ نے اختیار کی ہوئی ہے نہ کیونکہ وہ وہاں نہ بطور زوجہ اس کے ساتھ آباد رہی اور نہ اب حقوق زوجیت کو تسلیم کر کے اس کے ساتھ وہاں آباد ہونے کو آمادہ ہے۔ اس لئے لامحالہ یہ قرار دینا پڑے گا کہ مدعیہ نے بھی اب یہیں وطنیت اختیار کی ہوئی ہے اور اگر بفرض محال مدعاعلیہ کی اس حجت کو درست بھی مان

١٤٨

صفحہ ٢٠٢٧

ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

حیثیت سے کیا جاوے۔ اس لئے تاوقتیکہ یہ ثابت نہ ہو، ای الاقوامی یہ ہے کہ وہ نکاح جو اس ملک کے قانون کے لحاظ س ساری دنیا میں جائز اور درست ہے، اور کوئی دوسرے ملک ا سکتی اور پھر ایسے نکاح کی تنسیخ کے متعلق بھی قانون بین ال زوجین کو وطنیت حاصل ہو۔ صرف وہیں کی عدالت تنسیخ کا ح سے بیوی کی وطنیت وہی جگہ تصور ہوگی جہاں خاوند کی وطنیت ہ فریقین کی طرف سے جو شہادت پیش ہوئی ہے

ابتدائی 2132 برطانوی شہریت ووطنیت پر قائم ہیں۔

گو حصول معاش کے لئے ایک فریق نے اپنی رہ محض دوسری جگہ رہائش رکھنے سے اصل وطنیت کا ترک ہ انگریزی میں ہوا۔ جہاں کی مدعیہ کی بیان کردہ وجہ ارتداد ک انگریزی کے قانون کی رو سے یہ نکاح صحیح اور جائز ہے۔

لیکن مدعاعلیہ کی یہ حجت اس لئے وزن دار نہیں بخش بہت مدت سے اپنے سابقہ مسکن سے ترک سکونت کر ہے۔ اس کے کافی مدت کے بعد وہاں اور دیگر افعال سے ی ہٰذا میں مستقل سکونت اختیار کر چکا ہے اور اس کا اپنے ساب کیونکہ اس بارہ میں جو شہادت پیش ہوئی ہے اس سے پایا ج اب اس کا اپنا کوئی گھر موجود نہیں۔ مدعیہ چونکہ اس وقت نا نہ کی گئی تھی۔ اس لئے اس کا اپنے والد کے ہمراہ یہاں چلے آ سے یہ سمجھا جائے گا کہ اس نے بھی اب مثل اپنے والد ک علاوہ ازیں یہ پایا جاتا ہے کہ جب وہ بالغ ہوئی تو اس نے ر حجت کی کہ ضلع ڈیرہ غازیخان میں اس کا جو نکاح مدعاعلیہ س رہا۔ اس لئے کیونکر کہا جاسکتا ہے کہ مدعیہ کی وطنیت بھی اس کی ہوئی ہے نہ کیونکہ وہ وہاں نہ بطور زوجہ اس کے ساتھ آبا کے اس کے ساتھ وہاں آباد ہونے کو آمادہ ہے۔ اس لئے ب بھی اب یہیں وطنیت اختیار کی ہوئی ہے اور اگر بفرض محال

١٤٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

لیا جاوے تو بھی مدعاعلیہ کامیاب نہیں رہ سکتا۔ کیونکہ اس مقدمہ کی کارروائی یہاں بھی اس ضابطہ دیوانی کے تحت کی گئی ہے۔ جو علاقہ انگریزی میں جاری 2133 ہے اور نکاح زیر بحث کا تصفیہ اسی شخصی قانون کے تحت کیا جارہا ہے کہ جس کی رو سے قانون مروجہ علاقہ انگریزی کی رو سے تصفیہ کئے جانے کی ہدایت ہے یعنی بروئے شرع محمدیؐ، اس لئے کیونکر کہا جاسکتا ہے کہ ریاست ہٰذا کا قانون جس کے تحت مقدمہ ہٰذا میں کارروائی کی جارہی ہے وہ برٹش انڈیا کے قانون سے مختلف ہے۔ ہاں قانون کی تعبیر کا سوال دوسرا ہے۔ کسی قانون کی تعبیر اس قانون کا جزو شمار نہیں ہوسکتی۔ اس لئے کسی عدالت کو مجبور نہیں کیا جاسکتا کہ وہ کسی خاص قانون کی تعبیر وہی کرے جو دوسری عدالت نے کی ہے۔ تا وقتیکہ وہ اس کی ماتحت عدالت نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ ایک ہی مسئلہ پر مختلف ہائیکورٹوں کی مختلف قرار دادیں پائی جاتی ہیں۔ مقدمہ حال میں عدالت معلیٰ اجلاس خاص نے مدراس ہائیکورٹ کے فیصلہ کو معاملہ زیر بحث کے متعلق قطعی نہ سمجھتے ہوئے قابل پیروی خیال نہیں کیا اور عدالت معلیٰ کی یہ قرار داد قانوناً بالکل درست ہے۔ اس لئے نہیں کہا جاسکتا کہ قانون بین الاقوامی کی اگر یہ سمجھا بھی جاوے کہ ریاست ہٰذا اور برٹش انڈیا کے مابین حاوی ہے کوئی خلاف ورزی کی گئی۔ کیونکہ یہاں اسی قانون پر عمل کیا جارہا ہے جو برٹش انڈیا میں مروج ہے اور اگر وطنیت کو ہی معیار سماعت دعویٰ قرار دیا جاوے تو چونکہ مدعیہ کی وطنیت حدود ریاست ہٰذا کے اندر پائی جاتی ہے۔ اس لئے اس لحاظ سے بھی ریاست ہٰذا کی عدالتوں کو اس مقدمہ کی سماعت کا اختیار حاصل ہے۔ لہٰذا یہ مقدمہ عدالت ہٰذا میں درست طور رجوع ہو کر زیر سماعت لایا گیا ہے۔

(قادیانی یا احمدی مذہب کی حقیقت)

ان قانونی امور کو طے کرنے کے بعد اس اصل معاملہ مابہ النزاع کی طرف رجوع کیا جاتا ہے اور قبل اس کے کہ اس سوال پر فریقین کی پیش کردہ شہادت اور دلائل پر بحث کی جاوے یہ سمجھنے کے لئے کہ قادیانی یا مرزائی یا احمدی مذہب کیا ہے؟ اور مذہب اسلام کے ساتھ اس کا کیا لگاؤ ہے؟ اور اس مذہب کو قبول کرنے والے کو کیوں مرتد سمجھا گیا ہے؟ کچھ مختصر تمہید کی ضرورت ہے۔

یہ بات کچھ خلافِ واقع نہ ہوگی۔ اگر یہ کہا جاوے کہ ہر مذہب وملت کے نزدیک ابتدائے آفرینش اور وجود باری تعالیٰ کا علم کتب سماوی سے ہوا ہے۔ ممکن ہے کہ تمام مذاہب کے متعلق یہ 2134 رائے صحیح نہ ہو تو کم از کم یہود، نصاریٰ اور مسلمانوں کے متعلق بلاخوف تردید یہ کہا جاسکتا ہے کہ ان کے مذاہب کی رو سے نہ صرف امور مذکورہ بالا کا علم کتب سماوی سے ہوا ہے۔ بلکہ

١٤٩

صفحہ ٢٠٢٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

ابتدائے آفرینش کے بارہ میں ان کی کتب سماوی کا قریباً قریباً باہمی اتفاق بھی ہے۔ اس بحث سے کچھ یہ دکھلانا بھی مقصود ہے کہ صرف مسلمان ہی ایک ایسی قوم نہیں جو کہ اپنی مذہبی کتاب قرآن مجید کو منزل من اللہ کہنے والی ہے۔ بلکہ اس قسم کا عقیدہ دیگر اقوام میں بھی پایا جاتا ہے اور وہ بھی اپنے مذاہب کی بنیادی کتابوں کے منزل من اللہ ہونے کے قائل ہیں۔ مسئلہ زیر بحث کا چونکہ صرف مسلمانوں سے تعلق ہے۔ اس لئے یہاں صرف ان کی آسمانی کتاب قرآن مجید کا ہی ذکر کیا جاتا ہے۔ قرآن مجید کے مطالعہ سے پایا جاتا ہے کہ خداوند تعالیٰ نے جب آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا تو انہیں ایک خاص درخت کے پھل کھانے سے منع فرمایا گیا۔ اس کے بعد جب آدم علیہ السلام نے غلطی سے اس پھل کو کھا لیا تو ان کو باغ جنت سے بے دخل کر دیا گیا اور شیطان کو بھی جس کی ترغیب پر انہوں نے وہ پھل کھایا تھا وہاں سے نکالا گیا اور یہ ارشاد ہوا کہ: ”قلنا اهبطوا منها جميعاً ج فاما ياتينكم منى هدى فمن تبع هداى فلا خوف عليهم ولا هم يحزنون “ ﴿نیچے جاؤ یہاں سے تم سب۔ پھر اگر پہنچے میری طرف سے کوئی ہدایت، تو جو چلا میری ہدایت پر نہ خوف ہوگا ان پر اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔﴾

(سورہ بقرہ، رکوع نمبر ٤)

باری تعالیٰ کی طرف سے یہ ہدایت پھر اس کے رسولوں کے ذریعہ سے جو کہ انسانوں میں سے منتخب کئے جاتے ہیں پہنچتی رہی۔ حتیٰ کہ رسولوں کا یہ سلسلہ حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ تک جاری رہا۔ موسیٰ علیہ السلام کے بعد آئندہ سلسلہ رسالت جاری رہنے میں لوگوں میں اختلاف ہونے لگا اور عیسیٰ علیہ السلام کے مبعوث ہونے پر جن لوگوں نے انہیں نہ مانا اور جو موسیٰ علیہ السلام کی ہدایت پر قائم رہے وہ یہود کہلائے اور جنہوں نے عیسیٰ علیہ السلام کو نبی تسلیم کر لیا وہ نصاریٰ کہلائے اور ان کے بعد جب حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ کو نبوت ملی تو انہیں جن لوگوں نے نبی تسلیم کر کے ان کی تعلیم پر چلنا شروع 2135 کیا وہ مسلمان کہلاتے ہیں۔ اب مدعیہ کی طرف سے یہ کہا جاتا ہے کہ مسلمانوں کا یہ عقیدہ اور ایمان ہے کہ حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ آخری نبی ہیں اور ان کے بعد اور کوئی نیا نبی نہیں ہو سکتا۔ ہاں البتہ آخری زمانہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام جو آسمان پر زندہ ہیں۔ آسمان سے نزول فرماویں گے اور حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ کی شریعت پر چل کر لوگوں کو راہ ہدایت دکھلائیں گے اور رسول اللہ ﷺ کی شریعت پر چلنے کی وجہ سے امتی نبی کہلائیں گے۔

(نزول مسیح کا انکار)

اب انیسویں صدی کے اخیر میں مرزا غلام احمد صاحب قادیانی نے جو مدعا علیہ کے

١٥٠

صفحہ ٢٠٢٩

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

پیشوا ہیں ان روایات کی جو نزول عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق مسلمانوں میں مشہور چلی آتی تھیں یہ تعبیر کی ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام جو مسیح ناصری تھے فوت ہو چکے ہیں۔ انہوں نے واپس نہیں آنا اور نہ ان کا واپس آنا بروئے آیات قرآنی ممکن ہے اور نہ وہ نبی ہو کر امتی ہو سکتے ہیں۔ بلکہ امتی نبی سے یہ مراد ہے کہ حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ کے کمال اتباع اور فیض سے ان کے کسی امتی کو نبوت کا درجہ عطاء کیا جائے گا اور اس تعبیر کے ساتھ انہوں نے اس درجہ کا اپنے لئے مختص ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔

اس دعویٰ کی تائید میں فریق ثانی کی طرف سے جو دلائل اور سندات وغیرہ پیش کی گئی ہیں ان پر آگے بحث کی جائے گی۔ اب صرف یہ دکھلانا مقصود ہے کہ جن لوگوں نے مرزا صاحب کے اس دعویٰ کو صحیح تسلیم کر کے ان کی تعلیم پر چلنا شروع کر دیا ہے۔ انہیں لوگ مرزا صاحب کے ساتھ اور ان کے مسکن قادیان کے ساتھ تعلق رکھنے کی وجہ سے بعض اوقات مرزائی کہتے ہیں اور بعض اوقات قادیانی اور قادیانی مرزائی کہنے سے ایک اور تعبیر بھی لی جاتی ہے وہ یہ کہ مرزا صاحب کے متبعین کے دو فرقے ہیں۔ ایک لاہوری اور دوسرے قادیانی۔ لاہوری انہیں نبی نہیں مانتے۔ قادیانی انہیں نبی مانتے ہیں۔ اس لئے قادیانی مرزائی کہنے سے یہ مراد لی جاتی ہے کہ وہ شخص جس کے متعلق یہ الفاظ استعمال کئے گئے ہیں وہ مرزا صاحب کے ان متبعین میں سے ہے جو انہیں نبی مانتے ہیں۔ مقدمہ ہذا میں مدعا علیہ پر اسی مفہوم کے تحت یہ الفاظ استعمال کئے گئے ہیں۔

2136 اس فرقہ کا تیسرا نام احمدی ہے۔ جس کے متعلق فریق ثانی کی طرف سے کہا جاتا ہے کہ اس جماعت کے امیر نے اپنی جماعت کے لئے تجویز کر کے گورنمنٹ سے اس نام سے اپنی جماعت کو موسوم کئے جانے کی منظوری حاصل کی ہوئی ہے۔

مسلمانوں کے نزدیک قرآن مجید کے بعد سند اور اعتبار کے لحاظ سے احادیث کا درجہ ہے جو حضرت رسول کریم ﷺ کے اقوال کا مجموعہ ہیں۔ اب مدعیہ کی طرف سے یہ کہا جاتا ہے کہ مرزا صاحب کا دعویٰ غلط ہے۔ قرآن مجید اور احادیث کی رو سے حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ خاتم النبیین ہیں۔ ان کے بعد اور کوئی نیا نبی نہیں ہو سکتا۔ مرزا صاحب کے اعتقادات شرعاً درست نہیں ہیں۔ بلکہ کفر کی حد تک پہنچتے ہیں۔ اس لئے ان کو نبی تسلیم کرنے والا اور ان کی تعلیم پر چلنے والا بھی کافر ہے اور دائرہ اسلام سے خارج اور مرتد ہو جاتا ہے اور کسی سنی عورت کا نکاح جو قبل از ارتداد اس کے ساتھ ہوا ہو شرعاً قائم نہیں رہتا اور اس اصول کے تحت مدعیہ کا نکاح مدعا علیہ کے قادیانی، مرزائی ہو جانے کی صورت میں اس کے ساتھ قائم نہیں رہا۔ لہٰذا ڈگری انفساخ زوجیت دی جاوے۔

١٥١

صفحہ ١٥٢

2030 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

(مدعاعلیہ کا مؤقف)

مدعاعلیہ کی طرف سے کہا جاتا ہے کہ قادیانی مذہب، مذہب اسلام سے کوئی مغائر مذہب نہیں ہے۔ بلکہ اس مذہب کے صحیح اصولوں کی صحیح تعبیر ہے۔ اس تعبیر کے مطابق عمل پیرا ہونے سے وہ خارج از اسلام نہیں ہوا۔ اس کا نکاح قائم ہے اور دعویٰ مدعیہ قابل اخراج ہے۔

چنانچہ فریقین نے اپنے اپنے اس ادعا کے مطابق شہادت پیش کی ہے۔ جس پر آگے بحث کی جائے گی۔ مقدمہ ہذا میں ابتدائی تنقیحات جن کا اوپر ذکر کیا جا چکا ہے۔ چاہے جس شکل یا جن الفاظ میں وضع شدہ ہیں ان کا نفس معاملہ پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ ان کا مفہوم یہی ہے کہ کیا مدعا علیہ نے قادیانی یا مرزائی مذہب اختیار کر لیا ہے اور کیا اس مذہب میں داخل ہونے سے ارتداد واقع ہو جاتا ہے اور کیا اس صورت میں مدعیہ کا نکاح فسخ سمجھا جائے گا۔ اس لئے ان تنقیحات کی ترمیم کے متعلق مدعا علیہ کے عذرات کو وزن دار خیال نہیں کیا گیا۔ اس لئے ان تنقیحات کے الفاظ میں کسی ردو بدل کی ضرورت نہیں سمجھی گئی اور خصوصاً ان میں ترمیم کی 2137 ضرورت اس لئے بھی نہیں رہی کہ اگر مدعا علیہ کے ادعا کے مطابق یہی صورت تنقیحات قائم کی جاوے تو مسل پر اس قدر مواد آچکا ہے کہ اس کی رو سے اس صورت میں بھی بحث کی جاسکتی ہے۔ اس سوال پر اب چنداں بحث کی ضرورت نہیں رہی کہ آیا مدعا علیہ قادیانی مرزائی ہے یا نہ۔ کیونکہ اس نے اپنے اعتقادات کی جو فہرست پیش کی ہے۔ اس میں اس نے صاف طور پر درج کیا ہے کہ ”وہ حضرت مرزا صاحب کو امتی نبی تسلیم کرتا ہے اور ان پر وحی اور الہام ببرکت حضرت نبی کریمﷺ وارد ہوتے تھے ۔“ اس لئے اس سے یہ قرار دیا جاسکتا ہے کہ وہ مرزا صاحب کے قادیانی متبعین میں سے ہے۔ اب بحث طلب صرف یہ امر ہے کہ آیا یہ عقیدہ کفریہ ہے اور اس عقیدہ کے رکھنے والا دائرہ اسلام سے خارج اور مرتد قرار دیا جاسکتا ہے۔ اس سلسلہ میں مدعیہ کی طرف سے چھ گواہان ذیل مولوی غلام محمد صاحب شیخ الجامعہ عباسیہ بہاول پور، مولوی محمد حسین صاحب سکنہ گوجرانوالہ، مولوی محمد شفیع صاحب مفتی دارالعلوم دیوبند، مولوی مرتضیٰ حسن صاحب چاند پوری، سید محمد انور شاہ صاحب کشمیریؒ ، مولوی نجم الدین صاحب پروفیسر اورینٹل کالج لاہور پیش ہوئے ہیں اور مدعا علیہ کی طرف سے دو گواہان مولوی جلال الدین صاحب شمس اور مولوی غلام احمد صاحب مجاہد پیش ہوئے ہیں۔ یہ ہر دو گواہان قادیانی مبلغین میں سے ہیں۔ ان جملہ گواہان کی شہادتیں کئی معاملات شرعی پر مشتمل ہیں اور بہت طویل ہیں۔ ان کا اگر معمولی اختصار بھی یہاں درج کیا

١٥٢

صفحہ ٢٠٣١

2031 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

جاوے تو اس سے نہ صرف فیصلہ کا حجم بڑھ جائے گا بلکہ اصل معاملہ کے سمجھنے میں بھی الجھن پیدا ہو جائے گی۔ اس لئے ان شہادتوں سے جو اصول اور دلائل اخذ ہوتے ہیں۔ وہ یہاں درج کئے جاتے ہیں اور زیادہ تر دربار معلّیٰ کی ہدایت کے مطابق ان شہادتوں کی رو سے یہ دیکھنا ہے کہ اسلام کے وہ کون سے بنیادی اصول ہیں کہ جن سے اختلاف کرنے سے ارتداد واقع ہو جاتا ہے۔ یا یہ کہ کن اسلامی عقائد کی پیروی نہ کرنے یا نہ ماننے سے ایک شخص مرتد سمجھا جاسکتا ہے اور کیا عقائد قادیانی سے ارتداد واقع ہو جاتا ہے، یا نہ؟

(ایمان و کفر؟)

مدعیہ کی طرف سے مذہب اسلام کے جو اہم اور بنیادی اصول بیان کئے گئے ہیں۔ وہ سید انور شاہ صاحبؒ گواہ مدعیہ کے بیان میں مفصل درج ہیں۔ یہاں ان کا مختصر اعادہ کیا جاتا ہے

وہ 2138 بیان کرتے ہیں کہ ایمان کے معنی یہ ہیں کہ کسی کے قول کو اس کے اعتماد پر باور کر لیا جاوے اور کہ غیب کی خبروں کو انبیاء کے اعتماد پر باور کر لینے کو ایمان کہتے ہیں، اور حق ناشناسی، یا منکر ہو جانے یا مکر جانے کو کفر کہتے ہیں۔ ہمارے دین کا ثبوت دو طرح سے ہے یا تواتر سے یا خبر واحد سے، تواتر اسے کہتے ہیں کہ کوئی چیز نبی کریم ﷺ سے ایسی ثابت ہوئی ہو اور ہم تک علی الاتصال پہنچی ہو کہ اس میں خطا کا احتمال نہ ہو۔

(تواتر کی اقسام)

یہ تواتر چار قسم کا ہے۔ تواتر اسنادی، تواتر طبقہ، تواتر قدر مشترک اور تواتر توارث۔ تواتر اسنادی: اسے کہا جاتا ہے کہ جو صحابہؓ سے بسند صحیح مذکور ہو۔ تواتر طبقہ: اسے کہتے ہیں کہ جب یہ معلوم نہ ہو کہ کس نے کس سے لیا۔ بلکہ یہی معلوم ہو کہ پچھلی نسل نے اگلی سے سیکھا۔ جیسا کہ قرآن مجید کا تواتر۔ تواتر قدر مشترک: یہ ہے کہ حدیثیں کئی ایک خبر واحد آئی ہوئی ہوں۔ اس میں قدر مشترک متفق علیہ حصہ وہ حاصل ہوا جو تواتر کو پہنچ گیا۔ مثلاً نبی کریم ﷺ کے معجزات، جو کچھ متواتر ہیں اور کچھ خبر احاد ہیں۔ ان اخبار احاد میں اگر کوئی مضمون مشترک ملتا ہے تو وہ قطعی ہو جاتا ہے۔

اس کی مزید تشریح مولوی مرتضیٰ حسن صاحب گواہ مدعیہ نے یہ کی ہے کہ بعض ایسی احادیث جو باعتبار لفظ اور سند کے متواتر نہیں ہیں وہ باعتبار معنی کے متواتر ہو جاتی ہیں۔ اگر ان معنوں کو اتنی سندوں سے اور اتنے راویوں نے بیان کیا ہو کہ جن کا جھوٹ پر جمع ہونا محال ہو۔

١٥٣

EMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

(مدعا علیہ کا موقف)

مدعا علیہ کی طرف سے کہا جاتا ہے کہ قادیانی مذہب نہیں ہے۔ بلکہ اس مذہب کے صحیح اصولوں کی ہونے سے وہ خارج از اسلام نہیں ہوا۔ اس کا نکاح قا

چنانچہ فریقین نے اپنے اپنے اس ادعائے بحث کی جائے گی۔ مقدمہ ہذا میں ابتدائی تنقیحات جن جن الفاظ میں وضع شدہ ہیں ان کا نفس معاملہ پر کوئی علیہ نے قادیانی یا مرزائی مذہب اختیار کر لیا ہے اور واقع ہو جاتا ہے اور کیا اس صورت میں مدعیہ کا نکاح ترمیم کے متعلق مدعا علیہ کے عذرات کو وزن دار خـ الفاظ میں کسی ردو بدل کی ضرورت نہیں سمجھی گئی اور خصو بھی نہیں رہی کہ اگر مدعا علیہ کے ادعا کے مطابق یہی قدر مواد آچکا ہے کہ اس کی رو سے اس صورت میں چنداں بحث کی ضرورت نہیں رہی کہ آیا مدعا علیہ قا

اعتقادات کی جو فہرست پیش کی ہے۔ اس میں اس مرزا صاحب کو امتی نبی تسلیم کرتا ہے اور ان پر وحی ہوتے تھے۔“ اس لئے اس سے یہ قرار دیا جاسکتا ہـ سے ہے۔ اب بحث طلب صرف یہ امر ہے کہ آیا یـ دائرہ اسلام سے خارج اور مرتد قرار دیا جاسکتا ہے۔

ذیل مولوی غلام محمد صاحب شیخ الجامعہ عباسیہ بہاولـ مولوی محمد شفیع صاحب مفتی دارالعلوم دیوبند، مولو شاہ صاحب کشمیریؒ ، مولوی نجم الدین صاحب پرو علیہ کی طرف سے دو گواہان مولوی جلال الدین صا ہوئے ہیں۔ یہ ہر دو گواہان قادیانی مبلغین میں معاملات شرعی پر مشتمل ہیں اور بہت طویل ہیں

٥٢

صفحہ ٢٠٣٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

تواتر توارث: اسے کہتے ہیں کہ نسل نے نسل سے لیا ہو اور یہ تواتر اس طرح سے ہے کہ بیٹے نے باپ سے لیا اور باپ نے اپنے باپ سے، ان جملہ اقسام کے تواتر کا انکار کفر ہے۔ اگر متواترات کے انکار کو کفر نہ کہا جاوے تو اسلام کی کوئی حقیقت نہیں رہتی۔ ان متواترات میں تاویل کرنا، مطلب بگاڑنا کفر صریح ہے اور متواترات کو تاویل سے پلٹنا بھی کفر ہے۔ کفر کبھی قولی ہوتا ہے اور کبھی فعلی۔ مثلاً کوئی شخص ساری عمر نماز پڑھتا رہے اور ٣٠ سال کے بعد ایک بت کے آگے سجدہ کردے تو کفر فعلی ہے۔ کفر قولی یہ ہے کہ کوئی شخص یہ کہہ دے کہ خدا 2139 کے ساتھ صفتوں میں یا فعل میں کوئی شریک ہے۔ اسی طرح یہ کہنا بھی کفر قولی ہے کہ رسول اللہ ﷺ (حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ) کے بعد کوئی اور نیا پیغمبر آئے گا۔ کیونکہ تواتر توارث کی ذیل میں ساری امت اس علم میں شریک رہی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد اور کوئی نبی نہیں آئے گا۔

اسی طرح کوئی شخص اگر اپنے مساوی سے کہہ دے کہ کلمہ بکا تو وہ کوئی چیز نہیں۔ استاد اور باپ سے کہے تو اسے عاق کہتے ہیں۔ پیغمبر کے ساتھ یہ معاملہ کرے تو کفر صریح ہے۔

(ختم نبوت کے دلائل)

نبوت کے ختم ہونے کے بارہ میں ہمارے پاس کوئی دو سو حدیثیں ہیں۔ قرآن مجید اور اجماع بالفعل ہے اور ہر نسل اگلی نے پچھلی سے اس کو لیا ہے اور کوئی مسلمان جو اسلام سے تعلق رکھتا ہے وہ اس عقیدہ سے غافل نہیں رہا۔ اس عقیدہ کی تحریف کرنا اور اس سے انحراف کرنا صریح کفر ہے۔ اسلام سے شناخت مسلمانوں کی اور مسلمانوں کے اشخاص شناخت ہیں اسلام کی۔ اگر اجماع کو درمیان میں سے اٹھا دیا جاوے تو دین سے وہ گیا۔

جو دین محمدی کا اقرار نہ کرے۔ اسے کافر کہتے ہیں۔ جسے اندر سے اعتقاد نہ ہو۔ زبان سے کہتا ہو۔ اسے منافق کہتے ہیں۔ جو زبان سے اقرار کرتا ہو۔ لیکن دین کی حقیقت بدلتا ہو، اسے زندیق کہتے ہیں اور وہ پہلی دو قسموں سے زیادہ شدید کافر ہے۔

ارتداد کے معنی یہ ہیں کہ دین اسلام سے ایک مسلمان کلمہء کفر کہہ کر اور ضروریات ومتواترات دین میں سے کسی چیز کا انکار کر کے خارج ہو جائے گا، اور ایمان یہ ہے کہ سرور عالم حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ جس چیز کو اللہ تعالیٰ کی جانب سے لائے ہیں اور اس کا ثبوت بدیہات اسلام سے ہے اور ہر مسلمان خاص و عام اسے جانتے ہیں۔ اس کی تصدیق کرنا۔

١٥٤

صفحہ ٢٠٣٣

2033 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

(ضروریات دین)

ضروریات دین وہ چیزیں ہیں کہ جن کو خواص وعوام پہچانیں کہ یہ دین سے ہیں جن سے اعتقاد توحید کا، رسالت کا، اور پانچ نمازوں کا اور مثل ان کے اور چیزیں۔

شریعت کے اگر کسی لفظ کو بحال رکھا جا کر اس کی حقیقت کو بدل دیا جاوے اور وہ معاملہ متواترات سے ہو تو وہ کفر صریح ہے۔ کفر و ایمان کی اس شرعی حقیقت کے بیان کرنے سے یہ بات 2140 واضح ہو جاتی ہے کہ ایک مسلمان بعض قسم کے افعال یا اقوال کی وجہ سے کافر اور خارج از اسلام ہو جاتا ہے۔ ختم نبوت کا عقیدہ بایں معنی کہ آنحضرت ﷺ کی نبوت کے بعد کسی کو عہدہ نبوۃ نہ دیا جائے گا۔ بغیر کسی تاویل اور تخصیص کے ان اجماعی عقائد میں سے ہے جو اسلام کے اصولی عقائد میں سے سمجھایا گیا ہے اور آنحضرت ﷺ کے عہد سے لے کر آج تک نسلاً بعد نسل ہر مسلمان اس پر ایمان رکھتا ہے۔

اور یہ مسئلہ قرآن مجید کی بہت سی آیات سے اور احادیث متواترة المعنی سے اور قطعی اجماع امت سے روزِ روشن کی طرح ثابت ہے اور اس کا منکر قطعاً کافر مانا گیا ہے اور کوئی تاویل وتخصیص اس میں قبول نہیں کی گئی۔ اس میں اگر کوئی تاویل یا تخصیص نکالی جاوے تو وہ شخص ضروریات دین میں تاویل کرنے کی وجہ سے منکر ضروریات دین سمجھا جائے گا۔

یہ اصول ہیں جن کے تحت میں اور بھی ایسے بہت سے فروع موجود ہیں جو مستقل موجبات کفر ہو سکتے ہیں۔

فریق ثانی کی طرف سے یہ کہا جاتا ہے کہ ایمان یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ پر۔ اس کے فرشتوں پر۔ اس کی کتابوں پر۔ اس کے رسولوں پر اور بعث بعد الموت پر اور تقدیر پر یقین رکھا جاوے اور اسلام گواہی دینا ہے اس بات کی کہ سوائے اللہ کے کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اس کے رسول ہیں، اور نماز کا ادا کرنا اور زکوٰۃ کا دینا اور رمضان کے روزے رکھنا اور بیت اللہ شریف کا حج ادا کرنا اگر استطاعت ہو، اور جو شخص زبان سے ”لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ“ کہے اور دل سے اس کے مطالب کی تصدیق کرے تو ایسا شخص یقینی طور پر مومن ہے۔ اگرچہ وہ فرائض اور محرمات سے بے خبر ہو اور اسلام کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جو فرائض اور محرمات بیان کئے ہیں کہ بعض اشیاء حلال اور بعض حرام ہیں ان پر بلا کسی اعتراض کے اپنی رضامندی کا اظہار کیا جاوے اور جو شخص ان اعمالِ صالحہ کا پابند ہو کہ جو قرآن مجید میں ایک 2141 مومن کا طغرائے امتیاز قرار

١٥٥

LY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

تواتر توارث : اسے کہتے ہیں کہ نسل بیٹے نے باپ سے لیا اور باپ نے اپنے باپ متواترات کے انکار کو کفر نہ کہا جاوے تو اسلام کی کرنا، مطلب بگاڑنا کفر صریح ہے اور متواترات اور کبھی فعلی۔ مثلاً کوئی شخص ساری عمر نماز پڑھتا کر دے تو کفر فعلی ہے۔ کفر قولی یہ ہے کہ کوئی شخص میں کوئی شریک ہے۔ اسی طرح یہ کہنا بھی کفر قو کے بعد کوئی اور نیا پیغمبر آئے گا۔ کیونکہ تواتر توا رہی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد اور کوئی نبی نہی اسی طرح کوئی شخص اگر اپنے مساو باپ سے کہے تو اسے عاق کہتے ہیں۔ پیغمبر کے

(ختم نبو

نبوت کے ختم ہونے کے بارہ میں اجماع بالفعل ہے اور ہر نسل اگلی نے پچھلی سے ہے وہ اس عقیدہ سے غافل نہیں رہا۔ اس عقی ہے۔ اسلام سے شناخت مسلمانوں کی اور مسل کو درمیان میں سے اٹھا دیا جاوے تو دین جو دین محمدی کا اقرار نہ کرے۔ ا سے کہتا ہو۔ اسے منافق کہتے ہیں۔ جو زبان زندیق کہتے ہیں اور وہ پہلی دو قسموں سے زیا ارتداد کے معنی یہ ہیں کہ دین ومتواترات دین میں سے کسی چیز کا انکار کر حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ جس چیز کو اللہ تعالیٰ اسلام سے ہے اور ہر مسلمان خاص و عام

صفحہ ٢٠٣٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

دیئے گئے ہیں تو وہ شخص مؤمن اور مسلمان ہے۔

یہ باتیں ایسی ہیں کہ جو ارکان اسلام سے تعلق رکھتی ہیں اور جن کے جزو ایمان ہونے میں فریق مدعیہ کو بھی کوئی کلام نہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ آیا ان باتوں پر فریق ثانی کا عقیدہ ان اصولوں کے تحت جو فریق مدعیہ کی طرف سے بیان کئے گئے ہیں۔ ویسا ہی ہے جیسا کہ دیگر عام مسلمانوں کا یا کہ اس سے مختلف۔ کیونکہ مدعیہ کی طرف سے یہ کہا جاتا ہے کہ جو شخص عقائد اسلام ظاہر کرے اور قرآن وحدیث کے اتباع کا دعویٰ بھی کرے۔ لیکن ان کی ایسی تاویل اور تحریف کر دے کہ جس سے ان کے حقائق بدل جائیں تو وہ مسلمان نہیں سمجھا جاسکتا۔

(تواتر اور مرزا صاحب)

مدعیہ کی طرف سے دین اسلام کے ثبوت کے متعلق جو بنیادی اصول اور قواعد بیان کئے گئے ہیں ان کا مدعاعلیہ کی طرف سے کوئی اطمینان بخش جواب نہیں دیا گیا۔ حالانکہ تواتر اور اجماع کے اصولوں کو خود ان کے پیشوا مرزا غلام احمد صاحب نے بھی تسلیم کیا ہے۔

چنانچہ وہ اپنی کتاب (ایام الصلح ص ٨٧، خزائن ج ١٤ ص ٣٢٣) میں لکھتے ہیں کہ: ”وہ امور جو اہل سنت کی اجماعی رائے سے اسلام کہلاتے ہیں۔ ان سب کا ماننا فرض ہے۔“

ایک دوسری کتاب (انجام آتھم ص ١٤٤، خزائن ج ١١ ص ایضاً) میں لکھتے ہیں کہ: ”جو شخص اس شریعت پر مقدار ایک ذرہ کے زیادتی کرے یا اس میں سے کمی کرے یا کسی عقیدہ اجماعیہ کا انکار کرے۔ اس پر اللہ کی لعنت اور ملائکہ کی لعنت اور تمام آدمیوں کی لعنت۔ یہ میرا اعتقاد ہے۔“

اور کتاب (ازالۃ الاوہام ص ٥٥٦، خزائن ج ٣ ص ٣٩٩) پر لکھتے ہیں کہ: ”تواتر کی جو بات ہے وہ غلط نہیں ٹھہرائی جاسکتی اور تواتر اگر غیر قوموں کا بھی ہو تو وہ بھی قبول کیا جائے گا۔“

مدعیہ کے گواہان کے بیان کردہ اصول اور قواعد کے مقابلہ میں مدعاعلیہ کے گواہان نے جو کچھ بیان کیا ہے وہ یہ ہے کہ علماء اور ائمہ کی اندھی تقلید نہایت مذموم ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ پہلے علماء جو کچھ تفسیروں میں لکھ گئے ہیں۔ ہم آنکھ بند کر کے ان پر ایمان لے آئیں۔ بلکہ ہمارا فرض ہے کہ ہم ان کے فتاویٰ اور اقوال کو کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ اور عقل سلیم کی کسوٹی پر پرکھیں اور جو قرآن اور سنت سے صحیح ثابت ہو اسے اختیار کریں اور مخالف کو چھوڑ دیں کہ جو شخص کسی حدیث کو یا قول کو قرآن مجید 2142 کے واقعی طور پر خلاف ثابت کر دے تو اس کا قول معتبر ہوگا اور کہ اگر کوئی شخص کسی فن کا امام ہو یا نہ ہو۔ اگر کوئی بات کسی دلیل کے ساتھ ثابت کر دے تو وہ مان لی جائے گی۔ صحابہ

١٥٦

صفحہ ٢٠٣٥

2035 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15 بھی تفسیر میں غلطی کرتے تھے۔ یہ بیان مولوی جلال الدین صاحب شمس گواہ مدعا علیہ کا ہے۔ اس کا دوسرا گواہ بیان کرتا ہے کہ کوئی شخص جو کلام کرتا ہے اس کلام کے معنی وہی بہتر سمجھتا ہے اور اس کلام کے معنی جو وہ بیان کرے گا یا تاویل کرے گا وہی مقدم ہوگی اور کہ گواہ مذکور کے نزدیک قرآن مجید کے سوا اور کوئی چیز مسلم نہیں۔ سوائے اس کے جو قرآن مجید سے تطابق رکھتی ہو اور جو قرآن شریف کو پڑھتا ہے وہ خود تطابق کر سکتا ہے اور میرے لئے قرآن شریف کی مطابقت دیکھنے کے لئے میرے واجب الاطاعت اماموں کی بیان فرمودہ مطابقت یا میری اپنی مطابقت مسلم ہے اور کہ ہر وہ بات جس کی تائید قرآن شریف سے نہیں ہوتی اور قرآن شریف کی تصدیق یافتہ احادیث نبویہ سے بھی جس کلام کی تصدیق نہیں ہوتی یا اماموں کے ایسے اقوال کہ جن اقوال کی تصدیق قرآن اور حدیث سے نہیں ہوتی اس کے علاوہ اور مصنفین کی کتابیں جن کی تصدیق قرآن اور حدیث سے نہیں ہوتی۔ وہ مجھ پر حجت نہیں ہیں اور کہ قرآن کی تفسیر کے لئے کسی خاص شخص کی تعین نہیں کہ وہ جو معنی کرے گا خواہ وہ کیسے ہی ہوں اس کو مانا جاوے اور اس کے خلاف معنی کو رد کیا جاوے۔ اگر صحابہ سے کوئی صحیح تفسیر ثابت ہو جائے جس کے خلاف قرآن کی کوئی تصریح نہ ہو اور صحیح مرفوع متصل حدیثوں کی بھی تصریح نہ ہو۔ زبان عربی کی بھی کوئی تصریح ان معنوں کے خلاف نہ ہو۔ وہ بہرحال مقدم ہوگی اور اس کے خلاف معنی کرنے والے کو محض اس لئے کہ وہ ان معنوں کے خلاف کر رہا ہے۔ خاطی نہیں کہا جاسکتا۔ جب تک کہ قرآنی تصریح کے خلاف معنی نہ کئے جاویں۔

صحابہ کرام کی طرف سے منسوب شدہ بات کہ انہوں نے کی ہے یا کہی ہے یا تحقیق کی ہے۔ اگر قرآن شریف کے مطابق ہے تو قابل قبول ہے۔ اگر صحابہ کرام کی طرف منسوب شدہ بات کو ثابت شدہ اس لحاظ سے کہا جاتا ہے کہ ان تک روایت پہنچتی ہے تو اس کی کوئی حقیقت نہیں۔ اگر کسی غیر صحابی کی تحقیق بشرطیکہ قرآن شریف کی صحیح نصوص 2143 کے مطابق ہو۔ عربی زبان کی سند ساتھ رکھتی ہو۔ دیگر احادیث میں بھی تائید رکھتی ہو تو صحابی کی تحقیق سے مقدم ہے۔ ان شرائط کے بغیر اگر کوئی غیر صحابی کوئی تحقیق پیش کرتا ہے اگر وہ پیش کرنے والا خدا کی طرف سے ملہم اور مامور نہیں ہے کہ جس کی وحی والہام کی تصدیق قرآن پاک کی تصریحات سے ہو چکی ہو۔ بلکہ عام شخص ہے تو اس کی ذاتی رائے اوپر کی شرائط سے علیحدہ کر کے صحابی کی بیان کردہ تصریح سے سننے والے اور ماننے والے کے اختیار پر ہوگی کہ اسے راجح سمجھے یا نہ سمجھے۔ کسی حدیث کو قرآن کی مطابقت میں صحیح قرار دینے والا خود مختار ہے کہ وہ اپنے استدلال کی رو سے اسے مطابق قرار دے یا تصریح کے لحاظ سے مطابق قرار دے۔ ١٥٧

صفحہ ٢٠٣٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

(معقولیت کس میں ہے؟)

اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ہر دو فریق کے بیان کردہ اصولوں میں سے معقولیت کس میں ہے۔ ایک تو اپنے دین کی بنیاد چند مستحکم اصولوں پر کہ جن کو قدامت کی قوت حاصل ہے۔ قائم کر کے اسے بطور ایک ضابطہ اور قانون کے پیش کرتا ہے۔ دوسرا اسے ایک کھلونا بنا کر ہر کس و ناکس کے ہاتھ میں دے دیتا ہے اور بجائے اس کے کہ دین کو ایک مستقل لائحہ عمل سمجھا جاوے۔ اسے ہر لمحہ و ہر آن تغیر و تبدل کا متحمل قرار دیتے ہوئے ایک بازیچۂ اطفال بنا دیتا ہے۔ کیونکہ اس کے نزدیک ہر شخص اس بات کا اہل اور مجاز ہو سکتا ہے کہ وہ جب چاہے بلا روک و ٹوک اپنے اجتہاد کی بناء پر ایک نیا رستہ نکال کر اس پر چلنا شروع کر دے اور نہ کسی صحابی، نہ کسی امام، نہ کسی بزرگ، نہ کسی دوسرے ماہر فن کی کوئی پرواہ کرے۔ بلکہ شارع کے جس قول کو وہ درست سمجھے اور اس کا معنی جو وہ قرار دے۔ اس کے مطابق عمل کرے اور اگر اسے کوئی گرفت کرے تو فوراً اپنے قول کی کوئی تاویل گھڑ کر پیش کر دے اور چونکہ وہ تاویل مقدم سمجھی جائے گی۔ اس لئے کوئی بھی اس کا کچھ نہ بگاڑ سکے گا اور بیچارہ گرفت کرنے والا منہ کی کھا کر چپ ہو جائے گا۔ اس اصول کے تحت نہ صرف کسی دین کی بلکہ کسی قانون کی کوئی حقیقت نہیں رہتی۔ کیونکہ اس قسم کی وسعت ہر اس ضابطہ میں کہ جس کا اجراء بطور قانون مقصود ہو متصور ہو سکتی ہے اور اس صورت میں اس پر کبھی بھی عملدرآمد نہیں ہو سکتا اور وہ محض لفظ ہی لفظ رہ جاتا ہے۔

2144 اگر ان اصولوں کو جو فریق ثانی کی طرف سے بیان کئے گئے ہیں۔ بروئے کار لایا جاوے تو دین نہ صرف دین کہلائے جانے کا ہی مستحق نہیں رہتا۔ بلکہ ایک مضحکہ خیز چیز بن جاتا ہے اور بجائے اس کے کہ اس میں کوئی یکسانیت پیدا کی جاسکے ہر شخص انفرادی حیثیت سے اپنی منشاء کے مطابق اپنے لئے ایک علیحدہ دین بنا سکے گا۔

مذکورہ بالا تصریحات سے یہ بھی واضح ہو جاتا ہے کہ مرزا صاحب کے دعویٰ سے قبل دین اسلام جن باتوں پر قائم تھا۔ اب کوئی ان کی اصلیت اور بنا نہیں رہی اور اب بناء صرف مرزا صاحب اور ان کے خلفاء کے اقوال و عقائد پر ہی ہے۔ کیونکہ فریق ثانی کے نزدیک اب ان اصحاب کے سوا نہ کسی پہلے صحابی کی نہ امام کی۔ نہ بزرگ کی کوئی بات مقدم اور صحیح ہے۔ بلکہ جو کچھ مرزا صاحب اور ان کے خلفاء نے کہا ہے اور لکھا ہے۔ وہی درست ہے اور ان کی کتابوں کے سوا اور کوئی کتاب حجت نہیں ہے۔ اس سے صاف طور پر یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ مرزا صاحب کا دین اس

١٥٨

صفحہ ٢٠٣٧

2037 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

دین اسلام سے مختلف ہے۔ جو مرزا صاحب کے دعویٰ سے قبل مسلمان سمجھتے آئے ہیں۔ اس لئے مدعیہ کی طرف سے بجا طور پر کہا گیا ہے کہ مذہب کے لحاظ سے ہر دو فریق میں قانون کا اختلاف ہے اور مدعیہ کی طرف سے بھی یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ ان کے درمیان اصولی اختلاف بھی ہے اور فروعی بھی اور سید انور شاہ صاحب گواہ مدعیہ بیان کرتے ہیں کہ احمدی مذہب والے نے مہمات دین کے بہت سے اصولوں کو تبدیل کر دیا ہے اور بہت سے اسماء کا معنی بدل دیا ہے۔ آگے ظاہر ہو جائے گا کہ اس میں کہاں تک صداقت ہے۔

اب وہ عقائد بیان کئے جاتے ہیں کہ جن کی بناء پر فریق ثانی کی نسبت یہ کہا جاتا ہے کہ وہ مرتد اور کافر ہے۔ اس ضمن میں اہم وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ وہ مرزا غلام احمد صاحب کو نبی مانتا ہے۔ اس لئے یہ دکھانا پڑے گا کہ مرزا صاحب کے اعتقادات کیسے ہیں؟ اور کیا وہ نبی ہو سکتے ہیں یا؟ نہ اور ان کو نبی ماننے سے کیا قباحت لازم آتی ہے؟ اور کیا ان کے اقوال ایسے ہیں کہ ان کی بناء پر انہیں مسلمان قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اس لئے ان کے اتباع سے مدعا علیہ کو بھی مسلمان 2145 نہیں سمجھا جا سکتا۔

(قادیانیوں کے وجوہ کفر)

سید انور شاہ صاحب گواہ مدعیہ نے ان اصولوں کے تحت جو ان کے بیان کے حوالہ سے اوپر بیان کئے جاچکے ہیں۔ چھ وجوہات ایسی بیان کی ہیں کہ جن کی بناء پر ان کے نزدیک مرزا صاحب باجماع امت کافر اور مرتد قرار دیئے جاسکتے ہیں اور جن کی وجہ سے ان کی رائے میں ہندوستان کے تمام اسلامی فرقے باوجود سخت اختلاف خیال اور اختلاف مشرب کے ان کے کفر و ارتداد اور ان کے متبعین کے کفر اور ارتداد پر متفق ہیں۔ یہ وجوہات حسب ذیل ہیں:

منقطع ہو۔ اس کو لعنتی اور شیطانی مذہب قرار دینا۔

١٥٩

MBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

(معقولیت کس میں ہے؟)

اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ہر دو فریق کس میں ہے۔ ایک تو اپنے دین کی بنیاد چند منظم اص ہے۔ قائم کر کے اسے بطور ایک ضابطہ اور قانون کے کس و ناکس کے ہاتھ میں دے دیتا ہے اور بجائے جاوے۔ اسے ہر لمحہ و ہر آن تغیر و تبدل کا متحمل قرار د کیونکہ اس کے نزدیک ہر شخص اس بات کا اہل اور مجاز اپنے اجتہاد کی بناء پر ایک نیا رستہ نکال کر اس پر چلنا ش کسی بزرگ، نہ کسی دوسرے ماہر فن کی کوئی پرواہ کر اور اس کا معنی جو وہ قرار دے۔ اس کے مطابق عمل کر قول کی کوئی تاویل گھڑ کر پیش کر دے اور چونکہ وہ تاویل کا کچھ نہ بگاڑ سکے گا اور بیچارہ گرفت کرنے والا منہ کی نہ صرف کسی دین کی بلکہ کسی قانون کی کوئی حقیقت نہیں میں کہ جس کا اجراء بطور قانون مقصود ہو متصور ہو سکتی نہیں ہو سکتا اور وہ محض لفظ ہی لفظ رہ جاتا ہے۔

2144 اگر ان اصولوں کو جو فریق ثانی کی طر جاوے تو دین نہ صرف دین کہلائے جانے کا ہی مستح ہے اور بجائے اس کے کہ اس میں کوئی یکسانیت پید منشاء کے مطابق اپنے لئے ایک علیحدہ دین بنا سکے گا۔

مذکورہ بالا تصریحات سے یہ بھی واضح ہو دین اسلام جن باتوں پر قائم تھا۔ اب کوئی ان کی مرزا صاحب اور ان کے خلفاء کے اقوال و عقائد پر ت اصحاب کے سوا نہ کسی پہلے صحابی کی نہ امام کی۔ نہ بزر مرزا صاحب اور ان کے خلفاء نے کہا ہے اور لکھا ہے اور کوئی کتاب حجت نہیں ہے۔ اس سے صاف طور پر

١٥٨

صفحہ ٢٠٣٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

تقریباً یہی وجوہات دیگر گواہان مدعیہ نے بھی بیان کی ہیں۔ اب ذیل میں حسب بیانات گواہان مذکوران وجوہات کی تشریح درج کی جاتی ہے۔

امور نمبر ١ تا ٣، ایک ہی نوعیت کے ہیں۔ لہٰذا ان پر جو بحث کی گئی ہے وہ یکجا درج کی جاتی ہے۔ اس ضمن میں مرزا صاحب کے حسب ذیل اقوال پر جو ان کی مطبوعہ کتب میں موجود ہیں اعتراض کیا گیا ہے۔

خدا کے بزرگ مقربین میں سے ہے اور اگر کوئی امر میری فضیلت کی نسبت ظاہر ہوتا تو اس کو جزوی فضیلت قرار دیتا تھا۔ مگر بعد میں جو خدا تعالیٰ کی وحی 2146 بارش کی طرح میرے پر نازل ہوئی۔ اس نے مجھے اس عقیدہ پر قائم نہ رہنے دیا اور صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا۔''

(حقیقۃ الوحی ص ١٤٩، ١٥٠، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٣، ١٥٤)

امین اور خدا کی طرف سے آیا ہے جو کچھ کہتا ہے اس پر ایمان لاؤ اور اس کا دشمن جہنمی ہے۔''

(انجام آتھم ص ٦٢، خزائن ج ١١ ص ایضاً)

انہیں مجھ سے یہ توقع ہو سکتی ہے کہ میں ان کی غلطیات بلکہ موضوعات کے ذخیرہ کو سن کر اپنے یقین کو چھوڑ دوں گا۔''

لاتا ہوں۔ جو مجھ سے پہلے ہو چکی ہیں۔''

(حقیقۃ الوحی ص ١٥١، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٤)

تو ہم کفر سمجھتے ہیں۔''

(ضمیمہ حقیقۃ الوحی ص ٢٢٦)

دعویٰ بلا دلیل ہے۔ خدا نے افتراء کے ساتھ شریعت کی قید نہیں لگائی۔ ماسواہ اس کے یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیا چیز ہے۔ جس نے اپنی وحی کے ذریعہ سے چند امر و نہی بیان کئے اور اپنی امت کے لئے ایک قانون مقرر کیا وہی صاحب شریعت ہو گیا۔ پس اس تعریف کی رو سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں۔ کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہے اور نہی بھی۔

اور ایسا ہی اب تک میری وحی میں امر بھی ہوتے ہیں اور نہی بھی اور اگر کہو کہ شریعت

١٦٠

صفحہ ٢٠٣٩

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

سے وہ شریعت مراد ہے۔ جس میں نئے احکام ہوں تو یہ باطل ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’ان ھذا لفی الصحف الاولیٰ صحف 2147 ابراہیم وموسیٰ‘ یعنی قرآنی تعلیم توراۃ میں بھی موجود ہے اور اگر یہ کہو کہ شریعت وہ ہے جس میں باستیفاء امر ونہی کا ذکر ہو تو یہ بھی باطل ہے۔ کیونکہ اگر تورات اور قرآن شریف میں باستیفاء احکام شریعت کا ذکر ہوتا تو پھر اجتہاد کی گنجائش نہ رہتی۔ غرض یہ سب خیالات فضول اور کوتاہ اندیشیاں ہیں۔“

(اربعین نمبر ٤ ص ٦، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥، ٤٣٦)

اس کتاب کے (حاشیہ ص ٦، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥) پر لکھتے ہیں: ”کیونکہ میری تعلیم میں امر بھی ہے اور نہی بھی اور شریعت کے ضروری احکام کی تجدید ہے۔ اس لئے خدا تعالیٰ نے میری تعلیم کو اور اس وحی کو جو میرے پر ہوتی ہے فلک یعنی کشتی کے نام سے موسوم کیا ہے۔ جیسا کہ ایک الہام الہی کی یہ عبارت ہے۔“

(اس کا ترجمہ یہ ہے کہ اس کشتی کو ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی سے بنا جو لوگ تجھ سے بیعت کرتے ہیں وہ خدا سے بیعت کرتے ہیں۔ یہ خدا کا ہاتھ ہے جو ان کے ہاتھوں پر ہے)

اب دیکھو خدا نے میری وحی، میری تعلیم اور میری بیعت کو نوح کی کشتی قرار دیا ہے اور تمام انسانوں کے لئے اس کو مدارِ نجات ٹھہرایا ہے۔ جس کی آنکھیں ہوں دیکھے۔ جس کے کان ہوں سنے۔

خبر پانے والا ہو اور شرف مکالمہ و مخاطبہ الہیہ سے مشرف ہو۔ شریعت کا لانا اس کے لئے ضروری نہیں اور نہ یہ ضروری ہے کہ صاحب شریعت رسول کا متبع ہو۔ بلکہ فساد اس حالت میں لازم آتا ہے کہ اس امت کو آنحضرت ﷺ کے بعد قیامت تک مکالمات الہیہ سے بے نصیب قرار دیا جاوے۔ وہ دین، دین نہیں۔ نہ وہ نبی، نبی ہے۔ جس کی متابعت سے انسان خدا تعالیٰ سے اس قدر نزدیک نہیں ہو 2148 سکتا کہ مکالمات الہیہ سے مشرف ہو سکے۔ وہ دین لعنتی اور قابل نفرت ہے جو یہ سکھلاتا ہے کہ صرف چند منقولی باتوں پر انسانی ترقیات کا انحصار ہے اور وحی الہی آگے نہیں بلکہ پیچھے رہ گئی۔ اگر کوئی آواز بھی غیب سے کسی کے کان تک پہنچتی ہے تو وہ ایسی مشتبہ آواز ہے کہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ خدائی آواز ہے یا شیطان کی۔ سو ایسا دین بہ نسبت اس کے کہ اس کو رحمانی کہیں شیطانی کہلانے کا زیادہ مستحق ہے۔“

(ضمیمہ براہین احمدیہ ص ١٣٨، ١٣٩، خزائن ج ٢١ ص ٣٠٦)

(دافع البلاء ص ١١، خزائن ج ١٨ ص ٢٣١)

١٦١

Y OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

تقریباً یہی وجوہات دیگر گواہان بیانات گواہان مذکوران وجوہات کی تشریح ودرج امور نمبر ١ تا ٣، ایک ہی نوعیت کے جاتی ہے۔ اس ضمن میں مرزا صاحب کے حسب اعتراض کیا گیا ہے۔

خدا کے بزرگ مقربین میں سے ہے اور اگر کوئی فضیلت قرار دیتا تھا۔ مگر بعد میں جو خدا تعالیٰ کی و نے مجھے اس عقیدہ پر قائم نہ رہنے دیا اور صریح طو

امین اور خدا کی طرف سے آیا ہے جو کچھ کہتا ہے ا

انہیں مجھ سے یہ توقع ہو سکتی ہے کہ میں ان کی طر چھوڑ دوں گا۔“

لاتا ہوں۔ جو مجھ سے پہلے ہو چکی ہیں۔“

تو ہم کفر سمجھتے ہیں۔“

دعویٰ بلا دلیل ہے۔ خدا نے افتراء کے ساتھ شریع کہ شریعت کیا چیز ہے۔ جس نے اپنی وحی کے ذ لئے ایک قانون مقرر کیا وہی صاحب شریعت ہو ملزم ہیں۔ کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہے اور نہی اور ایسا ہی اب تک میری وحی میں

صفحہ ٢٠٤٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

مصداق ہے۔ ھو الذی ارسل رسولہ بالھدی...... الخ!“

(اعجاز احمدی ص ٧، خزائن ج ١٩ ص ١١٣)

ہے ان سب کی اصلاح کے واسطے مامور ہوں۔“

(حقیقت الوحی ص ١٩٣ حاشیہ، خزائن ج ٢٢ ص ٢٠٠)

ان نبیوں کی شان ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے شریعت اور احکام جدیدہ لاتے ہیں۔ لیکن صاحب شریعت کے سوا جس قدر ملہم، محدث ہیں۔ گو وہ کیسے ہی جناب الٰہی میں شان اعلیٰ رکھتے ہوں اور خلعت مکالمہ الٰہیہ سے سرفراز ہوں ان کے انکار سے کوئی کافر نہیں بن جاتا۔“

(تریاق القلوب ص ١٣١، خزائن ج ١٥ ص ٤٣٢)

کے تحت ایک نوٹ ہے جس میں لکھا ہے کہ ”اس جگہ آئل خدا تعالیٰ نے جبرائیل کا نام رکھا ہے۔ اس لئے بار بار رجوع کرتا ہے۔“

2149 مخصوص ہوں اور جس قدر مجھ سے پہلے اولیاء ابدال اور اقطاب اس امت میں سے گزر چکے ہیں۔ ان کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیا گیا۔ پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیا گیا اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں ہیں۔ کیونکہ کثرت وحی اور کثرت امور غیبیہ اس میں شرط ہے اور وہ شرط ان میں پائی نہیں جاتی۔“

(حقیقت الوحی ص ٣٩١، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٦، ٤٠٧)

جبرائیل کے ذریعہ سے حاصل کئے ہوں۔“

(ازالۃ الاوہام ص ٥٣٢، خزائن ج ٣ ص ٣٨٧)

میرا نام محمد رکھا گیا اور رسول بھی۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ص ١، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٧)

محض فیض محمدی سے وحی پانا وہ قیامت تک باقی رہے گی۔“

سمجھنے میں غلطی ہوئی ہے۔ قرآن کریم میں جو خاتم النبیین کا لفظ آیا ہے جس پر الف، لام پڑے

١٦٢

صفحہ ٢٠٤١

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15 ہیں۔ اس سے بھی صاف معلوم ہوتا ہے کہ شریعت لانے والی نبوۃ اب بند ہو چکی ہے۔ پس اگر کوئی نئی شریعت کا مدعی ہو گا وہ کافر ہے۔"

(قادیانی عبارتوں کے نتائج)

ان حوالہ جات سے جو نتائج اخذ کئے گئے ہیں وہ بالالفاظ مولوی مرتضیٰ حسن صاحب گواہ مدعیہ ذیل میں درج کئے جاتے ہیں۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ جناب مرزا صاحب اور مرزا محمود صاحب اور ان کے تمام متبعین کا یہ عقیدہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد نبوۃ تشریعی کا دروازہ بند ہے۔ آپ ﷺ کے بعد جو نبوت تشریعی کا دعویٰ کرے وہ کافر اور اسلام سے خارج ہے۔ قول نمبر ٦ میں مرزا صاحب نے اپنی تشریعی نبوت کا کھلے الفاظ میں دعویٰ کیا ہے اور اس میں چند باتوں کی تشریح مرزا صاحب نے خود فرمائی۔ ایک یہ کہ شریعت کیا چیز ہے۔ جس کی وحی میں امر یا نہی ہو۔ 2150جس نے اپنی امت کے لئے کوئی قانون مقرر کیا ہو وہی صاحب شریعت ہو گیا۔ یہ تعریف کر کے مرزا صاحب اپنا صاحب شریعت ہونا ثابت کرتے ہیں۔ اس لئے مرزا صاحب اپنے اقرار سے خود کافر ہو گئے۔ مرزا صاحب نے یہ بھی صاف فرما دیا ہے۔ کہ وحی میں جو حکم یا نہی ہو۔ یہ ضروری نہیں کہ وہ حکم نیا ہو۔ بلکہ اگر پہلی شریعت کا بھی حکم اس کے پاس بذریعہ وحی کے آئے تو بھی یہ صاحب شریعت ہونے کے لئے کافی ہے۔ مرزا صاحب نے اپنی بہت سی وحی وہ بیان کی ہے جو کہ آیات قرآنی ہیں۔ اس لئے وہ بھی مرزا صاحب کی شریعت ہو گئی۔ مرزا صاحب نے اس شبہ کا بھی جواب دے دیا کہ صاحب شریعت کے لئے یہ ضروری نہیں کہ اس کی شریعت میں نئے احکام ہوں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا ہے کہ یہ قرآن پہلی کتابوں میں بھی ہے۔ ابراہیم اور موسیٰ علیہم السلام کے صحیفوں میں بھی۔ اب اگر شریعت جدید کے لئے یہ ضروری ہو کہ اس نبی کی شریعت اور وحی اور کتاب میں سب نئے احکام ہوں تو لازم آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ بھی صاحب شریعت نہ ہوں۔ کیونکہ قرآن میں سارے احکام نئے نہیں۔ اس کلام کا صاف مطلب یہ ہے کہ جس طرح پہلے انبیاء رسول اللہ صاحب شریعت نبی ہیں۔ ویسے ہی مرزا صاحب بھی صاحب شریعت نبی ہیں۔

مرزا صاحب نے یہ بھی صاف کر دیا کہ اگر کوئی یہ کہے کہ شریعت کے لئے یہ ضروری ہے کہ تمام اوامر و نواہی اس شریعت اور کتاب اور وحی میں پورے پورے بیان ہونے چاہئیں تو یہ بھی باطل ہے۔ کیونکہ تمام احکام تورات اور قرآن مجید میں بھی مذکور نہیں اگر تمام احکام قرآن مجید ١٦٣

ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

مصداق ہے۔ ھو الذی ارسل رسولہ بالھدیٰ...... الخ

ہے ان سب کی اصلاح کے واسطے مامور ہوں۔"

(حقیقۃ

ان نبیوں کی شان ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے شریعت او شریعت کے سوا جس قدر ملہم، محدث ہیں۔ گو وہ کیسے ہی ج خلعت مکالمہ الہیہ سے سرفراز ہوں ان کے انکار سے کوئی کا

!)

(حقیقت الوحی ص ١٠٣ حاشیہ خزائن ج ٢٢ ص ١٠٦)

کے تحت ایک نوٹ ہے جس میں لکھا ہے کہ ”اس جگہ آئندہ اس لئے بار بار رجوع کرتا ہے۔“

2149مخصوص ہوں اور جس قدر مجھ سے پہلے اولیاء ابدال ا ہیں۔ ان کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیا گیا۔ پس اس و مخصوص کیا گیا اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں غیبیہ اس میں شرط ہے اور وہ شرط ان میں پائی نہیں جاتی۔"

(حقیقۃ

جبرائیل کے ذریعہ سے حاصل کئے ہوں۔"

( )

میرا نام محمد رکھا گیا اور رسول بھی۔"

محض فیض محمدی سے وحی پانا وہ قیامت تک باقی رہے گی۔

سمجھنے میں غلطی ہوئی ہے۔ قرآن کریم میں جو خاتم النبیین ١٦٢

صفحہ ٢٠٤٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

میں مذکور ہوتے تو پھر اجتہاد کی گنجائش باقی نہ رہتی۔ اس سے معلوم ہو گیا کہ اگر کوئی مدعی نبوت ایک امر و نہی کا بھی دعویٰ کرے اگرچہ وہ امر و نہی پرانی ہو تو وہ نبی صاحب شریعت کہلایا جائے گا اور اس میں اور رسول اللہ ﷺ میں بایں معنی کچھ فرق نہیں کہ یہ دونوں صاحب شریعت ہیں۔

یہ بات بھی ثابت ہو گئی کہ اگر کسی نبی کو خدا کا بھی حکم آوے کہ تجھ کو ہم نے نبی کر کے 2151 بھیجا ہے اور تو لوگوں پر اس حکم کی تبلیغ کر اور جو کوئی اس حکم کو نہ مانے گا وہ کافر ہے۔ تو وہ نبی بھی صاحب شریعت اور نبی تشریعی ہو گیا۔ اس سے یہ بھی ثابت ہو گیا کہ جو نبی حقیقی ہے اور جو نبی شرعی ہے اس کے لئے نبی تشریعی ہونا ضروری ہے۔ اس لئے مرزا صاحب اپنی تحریر اور اس اقرار کے مطابق کافر ہوئے۔ اس کے علاوہ مرزا صاحب نے یہ بھی فرمایا کہ میری کشتی کو کشتی نوح قرار دیا گیا ہے۔ جو اس میں ہوگا وہ نجات پائے گا اور جو ایسا نہ ہوگا وہ ہلاک ہوگا۔ یہ مرزا صاحب کی شریعت کا نیا حکم ہے جس نے شریعت محمدیہ کو منسوخ کیا۔ مرزا صاحب نے ایک نیا حکم یہ بھی دیا ہے کہ ان کی عورتوں کا نکاح غیر احمدیوں سے جائز نہیں۔ یہ بھی حکم شریعت محمدیہ کے خلاف ہے۔

(یہ نتیجہ بحوالہ کتاب انوار الخلافہ مرتبہ مرزا محمود صاحب ص ٩٣، ٩٤ اخذ کیا گیا ہے) مرزا صاحب کی شریعت میں ایک نیا حکم اور یہ بھی ہے جو تمام اسلام کے خلاف ہے کہ مرزا صاحب نے اپنے مریدوں سے چندہ کی تحریک فرما کر یہ حکم فرمایا ہے کہ جو کوئی چندہ تین ماہ تک ادا نہ کرے گا وہ میری بیعت سے خارج ہے اور بیعت سے خارج ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اسلام سے خارج ہے اور کافر ہے۔ حالانکہ زکوٰۃ کے لئے بھی خدا نے یہ حکم نہیں دیا کہ اگر تین ماہ تک کوئی زکوٰۃ نہ دے تو وہ اسلام سے خارج ہو جائے گا۔ یہ حوالہ مرزا صاحب کے ایک فرمان سے جو لوح ہدیٰ میں قادیان سے دسمبر ١٩٢٠ء میں شائع ہوئی، دیا گیا ہے۔ اس فرمان کے چیدہ چیدہ الفاظ حسب ذیل ہیں:

”مجھے خدا نے بتلایا ہے کہ میری انہی سے پیوند ہے۔ یعنی وہی خدا کے دفتر میں مرید ہیں جو اعانت اور نصرت میں مشغول ہیں ...... ہر ایک شخص جو مرید ہے۔ اس کو چاہئے کہ وہ اپنے نفس پر کچھ ماہوار مقرر کر دے ...... جو شخص کچھ بھی مقرر نہیں کرتا ...... وہ منافق ہے۔ اب اس کے بعد وہ اس سلسلہ میں نہیں رہ سکے گا ...... اگر تین ماہ تک کسی کا جواب نہ آیا تو سلسلہ بیعت سے اس کا نام کاٹ دیا جائے گا۔“

(اشتہار لنگر خانہ کے انتظام کے لئے، مجموعہ اشتہارات ج٣ ص ٤٦٨، ٤٦٩)

2152 اس کے آگے گواہ مذکورہ آیت ”ما کان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول اللہ وخاتم النبیین“ کے حوالہ سے بیان کرتا ہے کہ آیت اس امر کی تصریح کرتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں اور جب کوئی نبی آپ ﷺ کے بعد نہیں تو کوئی رسول بھی

١٦٤

صفحہ ٢٠٤٣

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

آپ ﷺ کے بعد بطریق اولیٰ نہیں۔ کیونکہ رسول نبی ہوتا ہے۔ لیکن یہ ضروری نہیں کہ جو نبی ہو وہ رسول بھی ہو اور اس کی تائید میں احادیث متواترہ ہیں۔ جن کو صحابہؓ کی ایک جماعت نے روایت کیا ہے۔ ایسی احادیث کا انکار کرنے والا ویسا ہی کافر ہوتا ہے جیسا کہ قرآن کا انکار کرنے والا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ جو ختم نبوت کا انکار کرتا ہے وہ قرآن کا منکر ہو کر بھی کافر ہوا۔ اس کی تائید میں انہوں نے چند ائمہ دین کے اقوال نقل کئے ہیں اور ان سے یہ دکھلانا چاہا ہے کہ احادیث متواترہ میں یہ خبر درج ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد کوئی نبی پیدا ہونے والا نہیں ہے اور کہ ہر وہ شخص جو آپ ﷺ کے بعد اس مقام نبوۃ کا دعویٰ کرے وہ جھوٹا اور افتراء پرداز ہے۔ دجال اور گمراہ کرنے والا ہے۔ اگرچہ شعبدہ بازی کرے۔ قسم قسم کے جادو اور طلسم اور نیرنگیاں دکھلائے اور کہ جو شخص دعویٰ نبوت کرے وہ کافر ہے اور پھر ان حوالہ جات سے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ یہ عقیدہ کہ رسول اللہ ﷺ خاتم النبیین ہیں، یقینی ہے اور اجماعی ہے کسی کا اس میں اختلاف نہیں ہے۔ کتاب اور سنت سے ثابت ہے، اور آپ ﷺ کے بعد کوئی کسی قسم کی نبوۃ میں نبی نہ بنے گا۔ عیسیٰ علیہ السلام کا آنا اس کے منافی نہیں۔ کیونکہ وہ پہلے نبی بن چکے ہیں۔ خاتم الانبیاء کے معنی بھی یہی ہیں کہ اپنے عموم سے کسی نبی کو نبوت آپ ﷺ کے بعد نہیں مل سکتی۔ اس کی تائید میں چند دیگر آیات قرآنی اور احادیث بھی پیش کی گئی ہیں۔ جن کی یہاں تفصیل کی ضرورت نہیں اور ان کا حوالہ دیا جا کر یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ انکار ختم نبوت کفر، ادعا نبوت بھی کفر، اور ادعاء وحی بھی کفر ہے۔ البتہ ایک حدیث کا یہاں حوالہ دینا ضروری معلوم ہوتا ہے جس پر آگے مدعا علیہ کے جواب کے وقت بحث کی جاوے گی۔ وہ حدیث بایں مطلب ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ میری مثال اور ان انبیاء کی مثال جو مجھ سے پہلے تھے اس شخص کی سی ہے کہ جس نے ایک مکان تعمیر 2153 کیا اور بہت اچھا اور بہت خوبصورت اس کو بنایا۔ مگر اس کے کونے میں ایک اینٹ کی جگہ باقی رہی۔ لوگ اس مکان کو دیکھتے ہیں اور تعجب کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ اینٹ کی جگہ خالی ہے۔ اس کو کیوں پر نہ کر دیا گیا۔ سو میں ہوں وہ اینٹ، اور میں ہوں خاتم النبیین۔ اس حدیث سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ تعمیر بیت نبوت جو ابتدائے آفرینش سے ہوئی تھی۔ وہ بدون سرور عالم ﷺ کے ناقص تھی۔ سرور عالم ﷺ کے وجود باجود سے وہ مکمل ہوگئی اور بیت النبوۃ میں کوئی جگہ باقی نہیں رہی۔ اب اگر کوئی اینٹ ہوگی تو وہ بیت النبوۃ سے نہیں ہوسکتی۔ اگر کوئی شخص مدعی نبوت ہوگا تو خدا نے جو نبوت کا گھر تعمیر کیا ہے وہ اس کا جزو نہیں ہوسکتی۔

مرزا صاحب کے قول نمبر ١٥ سے یہ استدلال کیا گیا ہے کہ قرآن کریم سے صراحتاً یہ

١٦٥

صفحہ ٢٠٤٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

بات معلوم ہوئی کہ رسول اس کو کہتے ہیں جس نے احکام وقواعد دین جبرائیل علیہ السلام کے ذریعہ سے حاصل کئے ہوں۔ اگر مرزا صاحب نے احکام وعقائد اس ذریعہ سے حاصل نہیں کئے تو دعویٰ نبوت جھوٹ ہوا اور جھوٹا مدعی نبوت باتفاق کافر ہوتا ہے۔

مرزا صاحب کے قول نمبر ١٣ سے مولوی نجم الدین صاحب گواہ مدعیہ نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ مرزا صاحب اپنے پر جبرائیل علیہ السلام کے نزول کے مدعی ہیں اور صرف دعویٰ پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ اپنی شان نبوت ورسالت کا سکہ جمانے کے لئے تمام خصوصیات نبوۃ ولوازمات رسالت کو نہایت جزم اور وثوق کے ساتھ اپنی ذات کے لئے ثابت کرنے میں کسر نہیں چھوڑی۔ جن خصوصیات کی وجہ سے انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی جماعت دوسرے مقربان بارگاہ الٰہی سے ممتاز ہوسکتی ہے۔ انبیاء علیہم السلام پر بھی نزول جبرائیل ہوا کرتا ہے اور ان کے وحی والہام قطعی ویقینی ہوا کرتے ہیں۔ اس طرح مرزا صاحب بھی اپنی وحی کو خدا کا کلام کہتے ہیں اور قرآن شریف کی طرح قطعی کہتے ہیں۔ یہ خصوصیات مذکورہ ایسی ہیں جو سوائے انبیاء علیہم السلام اصحاب شریعت کے اور کسی دوسرے مقرب بارگاہ الٰہی میں جمع نہیں ہوسکتیں۔ اس سے ثابت ہوا کہ مرزا صاحب حقیقی نبوت کے مدعی تھے اور اپنے آپ کو اس معنی میں نبی اور رسول2154 ظاہر کرتے تھے جس معنی میں دوسرے انبیاء علیہم السلام کو نبی یا رسول کہا گیا ہے۔

گواہان مدعیہ نے خود مرزا صاحب کی اپنی تحریرات سے بھی یہ دکھلایا ہے کہ وہ خود قبل از دعویٰ نبوت یہی عقیدہ رکھتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا اور کہ آپ ﷺ آخری نبی ہونے کے معنوں میں خاتم النبیین ہیں۔ چنانچہ (ازالۃ الاوہام ص ٥٣٢، خزائن ج ٣ ص ٣٨٠) پر مرزا صاحب لکھتے ہیں کہ: ”مسیح کیونکر آسکتا ہے اور خاتم النبیین کی مہر اس کو آنے سے روکتی ہے۔“

آگے اس کتاب کے (ص ٥٣٤، خزائن ج ٣ ص ٣٨٧) پر لکھتے ہیں: ”لیکن وحی نبوۃ پر تو تیرہ سو برس سے مہر لگ چکی۔ کیا یہ مہر اس وقت ٹوٹ جائے گی۔“

اور کتاب (حمامۃ البشریٰ ص ٢٠، خزائن ج ٧ ص ٢٠٠) میں آیت ”ماکان محمد...... خاتم النبیین“ کی تشریح میں لکھتے ہیں: ”ہمارے نبی ﷺ خاتم النبیین ہیں۔ بغیر کسی استثناء کے اور ہمارے نبی ﷺ نے بھی ارشاد فرمایا ہے کہ ہمارے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور ہمارے نبی ﷺ کے بعد اگر ہم کسی نبی کے ظہور کے مجوز بنیں گے تو نبوت کا دروازہ بند ہونے کے بعد اس کو کھولنے کے قائل ہو جائیں گے اور یہ اللہ کے وعدہ کے خلاف ہے۔ ہمارے نبی ﷺ کے بعد کس طرح کوئی نبی آسکتا۔

١٦٦

صفحہ ٢٠٤٥

2045 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

حالا نکہ آپ ﷺ کے بعد وحی کا انقطاع ہو چکا ہے اور نبی آپ ﷺ کے ساتھ ختم ہو چکے ہیں ۔“

پھر اس کتاب کے (ص ٢١، خزائن ج ٧ ص ٢٠١) پر لکھتے ہیں کہ: ”ہزار ہا سال کے گزرنے کے بعد کسی ایسی حالت کا انتظار کیا جا سکتا ہے جس میں دین کی تکمیل ہو۔ اگر یہ مانا جائے تو دین کی تکمیل اور اس کے کمال سے فراغت کا سلسلہ بالکل غلط ہو جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا یہ قول کہ ”الیوم اکملت لکم دینکم“ جھوٹی خبر ہوگی اور خلاف واقع ہوگی۔“

اسی کتاب کے (ص ٧٩، خزائن ج ٧ ص ٢٩٦) کے ایک حوالہ سے یہ دکھلایا گیا ہے کہ مرزا صاحب بھی پہلے دعویٰ نبوت کو کفر سمجھتے تھے۔ چنانچہ لکھتے ہیں کہ: ”مجھ سے یہ نہیں ہو سکتا کہ میں نبوت کا دعویٰ کروں اور اسلام سے نکل جاؤں اور قوم کافرین کے ساتھ مل جاؤں۔“

(ازالۃ الاوہام ص ٥٨٣، خزائن ج ٣ ص ٤١٣) پر لکھتے ہیں کہ: ”یہ ظاہر ہے کہ یہ بات مستلزم محال ہے کہ خاتم النبیین کے بعد پھر جبرائیل کی وحی رسالت کے ساتھ زمین پر آمد و رفت شروع ہو جائے۔ ایک نئی کتاب اللہ کو مضمون قرآن شریف سے توارد رکھتی ہو پیدا ہو جائے۔ جو امر مستلزم 2155 محال ہے۔ وہ محال ہو جاتا ہے۔“

لیکن اس کے بعد پھر (براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٨٥، خزائن ج ٢١ ص ١١١) میں یہ تحریر فرمایا کہ: ”میں بھی تمہاری طرح بشریت کے محدود علم کی وجہ سے یہی اعتقاد رکھتا تھا کہ عیسیٰ ابن مریم آسمان سے نازل ہوگا اور باوجود اس بات کے کہ خدا تعالیٰ نے براہین احمدیہ حصص سابقہ میں میرا نام عیسیٰ رکھا اور جو قرآن شریف کی آیتیں پیش گوئی کے طور پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف منسوب تھیں وہ سب آیتیں میری طرف منسوب کر دیں اور یہ فرمایا کہ تمہارے آنے کی خبر قرآن اور حدیث میں موجود ہے۔ مگر پھر بھی میں متنبہ نہ ہوا اور براہین احمدیہ حصص سابقہ میں وہی غلط عقیدہ اپنی رائے کے طور پر لکھ دیا اور شائع کر دیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے اور میری آنکھیں اس وقت تک بالکل بند رہیں جب تک کہ خدا نے بار بار کھول کر مجھ کو نہ سمجھایا کہ عیسیٰ ابن مریم اسرائیلی تو فوت ہو چکا اور وہ واپس نہیں آئے گا۔“

ایک اور جگہ (ایک غلطی کا ازالہ ص ٨، خزائن ج ١٨ ص ٢١٢) پر لکھتے ہیں کہ: ”آنحضرت ﷺ کے بعد جو در حقیقت خاتم النبیین تھے مجھے نبی اور رسول کے لفظ سے پکارا جانا کوئی اعتراض کی بات نہیں ہے اور نہ ہی اس سے مہر ختمیت ٹوٹتی ہے۔ کیونکہ میں بار ہا بتلا چکا ہوں کہ میں بموجب آیت ”و آخرین منهم لما یلحقوا بهم“ بروزی طور پر وہی خاتم الانبیاء ہوں اور خدا نے آج سے بیس برس پہلے براہین احمدیہ میں میرا نام محمد اور احمد رکھا اور مجھے آنحضرت ﷺ کا ہی وجود قرار

١٦٧

ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

بات معلوم ہوئی کہ رسول اس کو کہتے ہیں جس نے احکام و قوا سے حاصل کئے ہوں۔ اگر مرزا صاحب نے احکام و عقائد نبوت جھوٹ ہوا اور جھوٹا مدعی نبوت باتفاق کافر ہوتا ہے۔

مرزا صاحب کے قول نمبر ١٣ سے مولوی نجم الدی ہے کہ مرزا صاحب اپنے پر جبرائیل علیہ السلام کے نزول نہیں کیا بلکہ اپنی شان نبوت و رسالت کا سکہ جمانے ک رسالت کو نہایت جزم اور وثوق کے ساتھ اپنی ذات کے جن خصوصیات کی وجہ سے انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی جم ممتاز ہو سکتی ہے۔ انبیاء علیہم السلام پر بھی نزول جبرائیل یقینی ہوا کرتے ہیں۔ اس طرح مرزا صاحب بھی اپنی وحی کی طرح قطعی کہتے ہیں۔ یہ خصوصیات مذکورہ ایسی ہیں جو کے اور کسی دوسرے مقرب بارگاہ الٰہی میں جمع نہیں ہو سکت حقیقی نبوت کے مدعی تھے اور اپنے آپ کو اس معنی میں نبی میں دوسرے انبیاء علیہم السلام کو نبی یا رسول کہا گیا ہے۔

گواہان مدعیہ نے خود مرزا صاحب کی اپنی تحری دعویٰ نبوت یہی عقیدہ رکھتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ کے آخری نبی ہونے کے معنوں میں خاتم النبیین ہیں۔

ص ٣٨٠) پر مرزا صاحب لکھتے ہیں کہ: ”مسیح کیونکر آ سکتا آنے سے روکتی ہے۔“

آگے اس کتاب کے (ص ٥٣٢، خزائن ج ٣ تیرہ سو برس سے مہر لگ چکی۔ کیا یہ مہر اس وقت ٹوٹ جائ اور کتاب (حمامة البشری ص ٢٠، خزائن ج ٧ ص ٢٠٠ النبیین“ کی تشریح میں لکھتے ہیں : ”ہمارے نبی ﷺ خاتم نبی ﷺ نے بھی ارشاد فرمایا ہے کہ ہمارے بعد کوئی نبی نہیں کسی نبی کے ظہور کے مجوز بنیں گے تو نبوت کا دروازہ بن جائیں گے اور یہ اللہ کے وعدہ کے خلاف ہے۔ ہمارے

١٦٦

صفحہ ٢٠٤٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

دیا ہے۔ پس اس طور سے آنحضرت ﷺ کے خاتم النبیین ہونے میں میری نبوت سے کوئی تزلزل نہیں آیا۔ کیونکہ ظل اپنے اصل سے علیحدہ نہیں ہوتا۔‘‘

آگے (ایک غلطی کا ازالہ ص١١، خزائن ج١٨ ص٢١٥) پر لکھتے ہیں کہ: ”یہ ممکن ہے کہ آنحضرت ﷺ نہ ایک دفعہ بلکہ ہزار دفعہ دنیا میں بروزی رنگ میں آجائیں اور بروزی رنگ میں اور کمالات کے ساتھ اپنی نبوت کا بھی اظہار کریں اور یہ بروز خدا کی طرف سے ایک قرار یافتہ عہدہ تھا۔“

پھر (حوالہ ایضاً) پر لکھتے ہیں کہ: ”چونکہ وہ بروز محمدی جو قدیم سے موعود تھا وہ میں ہوں۔ اس لئے بروزی رنگ کی نبوۃ مجھے عطاء کی گئی ہے اور اس نبوۃ کے مقابل پر اب تمام دنیا بے دست وپا ہے۔ کیونکہ نبوت پر مہر ہے۔“

ایک اور جگہ لکھا ہے کہ ”کمالات متفرقہ جو تمام دیگر انبیا میں پائے جاتے ہیں وہ سب حضرت رسول 2156 کریم میں ان سے بڑھ کر موجود تھے اور اب وہ سارے کمالات حضرت رسول کریم سے ظلی طور پر ہم کو عطاء کئے گئے ہیں....... پہلے تمام انبیاء ظل تھے۔ نبی کریم کی خاص خاص صفات میں اور اب ہم ان تمام صفات میں نبی کریم کے ظل ہیں۔“ (ملفوظات ج٣ ص٢٧٠) اس عبارت سے نتیجہ نکالا گیا ہے کہ ظل اور بروز کے الفاظ محض الفاظ ہی الفاظ ہیں۔ مراد ان سے حقیقت کاملہ نبوۃ ہے۔

ان تصریحات سے مولوی نجم الدین صاحب گواہ مدعیہ کا یہ استدلال ہے کہ مرزا صاحب نے قرآن حکیم کی آیات اور احادیث نبوی سے اپنی نبوۃ کے لئے جو دلائل پیش کئے ہیں وہ محض لاطائل اور بے معنی سعی ہے۔ کیونکہ مرزا صاحب براہین احمدیہ کے لکھتے وقت اور اس سے مدتوں پہلے اپنی قرآن دانی اور حکم فہمی کے مدعی تھے۔ اگر ان کو اس سے پہلے قرآن کی رو سے کسی نئے نبی کے آنے کا انکار تھا تو بعد میں قرآن کی کون سی آیت اتری یا نبی کریم ﷺ کی کون سی حدیث پیدا ہوئی جس کی بناء پر مرزا صاحب نے نبوت کا ادعاء کیا۔ خاتم النبیین کی آیت ”الیوم اکملت لکم“ کی آیت اس وقت بھی قرآن میں موجود تھیں۔ یہ ہر دو آیتیں قسم اخبار میں سے ہیں اور اوامر ونہی کے ساتھ ان کا کوئی تعلق نہیں۔ اگر ادعائے نسخ سے پناہ لے کر کوئی تاویل کی جاوے تو اوامر ونواہی میں جاری ہو سکتی ہے۔ اخبار میں نہیں ہو سکتی۔ یہ مسئلہ تمام اہل اسلام کے نزدیک مسلمہ اور متفق علیہ ہے۔ پھر کیونکر از روئے قرآن یا حدیث اپنے کو ادعاء نبوۃ میں صادق کہہ سکتے ہیں۔

ختم نبوت کے معنی کو جیسا کہ عام عقیدہ ہے مرزا صاحب تسلیم کرتے ہیں اور اپنے کلام میں اس طرح اس کو استعمال کرتے ہیں۔ لیکن صرف اپنی خوش خیالی کو باقی رکھنے کے لئے بے محل

١٦٨

PDF 352

2047 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

اور خلاف محاورات عرب تاویل کر کے جان بچانے کی کوشش کی ہے۔

آگے وہ کہتے ہیں کہ مرزا صاحب نے خاتم النبیین کے بعد بروزی طور پر اپنے آپ کو نبی ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ مگر خود انہی کے کلام سے ثابت ہوتا ہے کہ جو شخص خاتم ہو اس کا 2157 بروز بھی نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ وہ اپنی کتاب (تریاق القلوب ص ١٥٦، خزائن ج ١٥ ص ٤٧٧ حاشیہ ) پر لکھتے ہیں: ”مگر مہدی معہود بروزات کے لحاظ سے بھی دنیا میں نہیں آئے گا۔ کیونکہ وہ خاتم الاولاد ہے۔“

اس کتاب (تریاق القلوب ص ١٥٦، خزائن ج ١٥ ص ٤٧٨ حاشیہ) پر لکھتے ہیں کہ: ”یہ بعض اکابر اولیاء کے مکاشفات ہیں اور اگر احادیث نبویہ کو بغور دیکھا جاوے تو بہت کچھ ان سے ان مکاشفات کو مدد ملتی ہے۔ لیکن یہ قول اس حالت میں صحیح ٹھہرتا ہے جب کہ مہدی معہود اور مسیح موعود کو ایک ہی شخص مان لیا جاوے۔“

اس حوالہ سے مرزا صاحب کا بروزی اور ظلی نبی ہونے کا دعویٰ بھی غلط ثابت ہوتا ہے اور یہ ثابت ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ خاتم النبیین والمرسلین ہیں۔ آپ ﷺ کے بعد جو شخص اپنے لئے ادعا نبوت کرے یا کسی دوسرے کو نبی مانے تو وہ تمام اہل اسلام کے نزدیک کافر، مرتد اور خارج از اسلام ہے۔ اس کی تائید کہ ظلی اور بروزی الفاظ محض الفاظ ہی ہیں اور کہ دراصل مرزا صاحب کی مراد حقیقی نبوت سے ہے۔ مرزا صاحب کے صاحبزادے بشیر محمود صاحب کی ایک تحریر سے ہوتی ہے۔ جو اخبار الفضل مورخہ ٢٦؍ نومبر ١٩١٣ء کے حوالہ سے مدعیہ کے گواہ مولوی مرتضیٰ حسن صاحب نے نقل کی ہے اور جو باالفاظ ذیل ہے: ”ہم جیسے خدا تعالیٰ کی دوسری وحیوں میں حضرت اسماعیل، حضرت ادریس علیہم السلام کو نبی پڑھتے ہیں۔ ایسے ہی خدا کی آخری وحی میں مسیح موعود کو بھی یا نبی اللہ کے خطاب سے مخاطب دیکھتے ہیں اور اس نبی کے ساتھ کوئی لغوی یا ظلی یا جزوی کا لفظ نہیں پڑھتے کہ اپنے آپ کو خود بخود ایک مجرم فرض کر کے اپنی بریت کرنے لگ جائیں۔ بلکہ جیسے اور نبیوں کی نبوۃ کا ثبوت ہم دیتے ہیں۔ بلکہ اس سے بڑھ کر کیونکہ ہم چشم دید گواہ ہیں۔ مسیح موعود کی نبوت کا ثبوت دے سکتے ہیں۔ پھر لکھا ہے کہ خدا تعالیٰ نے صاف لفظوں میں آپ کا نام نبی اور رسول رکھا اور کہیں بروزی اور ظلی نبی نہیں کہا۔ پس ہم خدا کے حکم کو مقدم کریں گے اور آپ کی تحریریں جن میں انکساری اور فروتنی کا غلبہ ہے اور جو نبیوں کی شان ہے اس کو ان الہامات کے تحت کریں گے۔“

2158 اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ مرزا صاحب نے یہ الفاظ انکساری اور تواضع کے طور پر لکھ دیئے ہیں۔ ورنہ ان کے معنی مراد نہیں ہیں۔ مرزا صاحب جہاں اپنے آپ کو بروزی یا

١٦٩

BLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

دیا ہے۔ پس اس طور سے آنحضرت ﷺ کے خاتم نہیں آیا۔ کیونکہ ظل اپنے اصل سے علیحدہ نہیں ہوتا

آگے (ایک غلطی کا ازالہ ص ١١، خزائن ج آنحضرت ﷺ نہ ایک دفعہ بلکہ ہزار دفعہ دنیا میں بر کمالات کے ساتھ اپنی نبوت کا بھی اظہار کریں اور ی

پھر (حوالہ ایضاً) پر لکھتے ہیں کہ: ”چونکہ اس لئے بروزی رنگ کی نبوۃ مجھے عطاء کی گئی ہے ا دیا ہے۔ کیونکہ نبوت پر مہر ہے۔“

ایک اور جگہ لکھا ہے کہ ”کمالات متفرقہ حضرت رسول 2156 کریم میں ان سے بڑھ کر موجو کریم سے ظلی طور پر ہم کو عطاء کئے گئے ہیں۔...... ا صفات میں اور اب ہم ان تمام صفات میں نبی کر عبارت سے نتیجہ نکالا گیا ہے کہ ظل اور بروز کے حقیقت کاملہ نبوۃ ہے۔

ان تصریحات سے مولوی نجم الدین صا نے قرآن حکیم کی آیات اور احادیث نبوی سے ا لاطائل اور بے معنی سعی ہے۔ کیونکہ مرزا صاحب پہلے اپنی قرآن دانی اور حکم ہونے کے مدعی تھے۔ اگر ا کے آنے کا انکار تھا تو بعد میں قرآن کی کون سی آی ہوئی جس کی بناء پر مرزا صاحب نے نبوت کا ادعاء لکم“ کی آیت اس وقت بھی قرآن میں موجود تھی ونہی کے ساتھ ان کا کوئی تعلق نہیں۔ اگر ادعائے نواہی میں جاری ہو سکتی ہے۔ اخبار میں نہیں ہو س متفق علیہ ہے۔ پھر کیونکر از روئے قرآن یا حدیث ختم نبوت کے معنی کو جیسا کہ عام عقید میں اس طرح اس کو استعمال کرتے ہیں۔ لیکن ص

١٨

صفحہ ٢٠٤٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

ظلی یا مجازی نبی کہتے ہیں۔ اس کا مطلب صرف حقیقی نبی سمجھنا چاہئے۔ اسی طرح خلیفہ دوم اخبار الفضل مورخہ ٢٩؍جون ١٩١٥ء ٹائیٹل ص ٣ کی سطر ١ میں تحریر فرماتے ہیں کہ: ”مسیح موعود کو نبی اللہ تسلیم نہ کرنا اور آپ کو امتی قرار دینا یا امتی گروہ میں سمجھنا گویا آنحضرت ﷺ کو جو سید المرسلین و خاتم النبیین ہیں۔ امتی قرار دینا ہے اور امتیوں میں داخل کرنا ہے جو کفر عظیم اور کفر بعد کفر ہے۔“

ختم نبوت اور انقطاع وحی پر مولوی محمد حسین صاحب گواہ مدعیہ نے ایک اور دلیل پیش کی ہے۔ وہ یہ کہ قرآن شریف پر مجموعی طور پر نظر ڈالنے سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ آنحضرت ﷺ آخری نبی ہیں اور آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا۔ جس کی توجیہ یہ ہے کہ اللہ جل شانہ نے آدم علیہ السلام سے وحیِ نبوت کے جاری ہونے کے سلسلہ کی خبر دی ہے۔ یہ ابتداء وحی اور آغاز وحی ہے۔ اس کے بعد ہم نوح علیہ السلام کے زمانہ تک پہنچتے ہیں۔ قرآن شریف سے پتہ لیتے ہیں کہ آیا سلسلۂ نبوت جاری ہے یا نہ، جواب ملتا ہے کہ ہاں جاری ہے۔ چنانچہ ارشاد فرمایا گیا ہے: ”ولقد رسلنا نوحا وابراهيم وجعلنا فی ذريتهما النبوة والكتاب“ اس سے معلوم ہوا کہ حضرت نوح علیہ السلام کے ذریت میں سلسلۂ نبوت جاری ہے اور ذریت ابراہیم علیہ السلام میں بھی ابھی سلسلۂ نبوت جاری ہے۔ دوسری بات اس سے یہ ثابت ہوئی کہ نبوۃ کا ظرف اور محل آل ابراہیم ہی ہے۔ جس کا عملی ثبوت یہ ہے کہ اللہ عزاسمہ نے حضرت ابراہیم کی اولاد میں دو شعبہ قرار دیتے ہیں۔ ایک ”بنی اسحاق“ جن میں پہلے نبوت کا سلسلہ جاری رہا اور بہت انبیاء ان میں آئے اور یہ سلسلہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ختم ہوا۔ دوسرے ”بنی اسماعیل“ جن میں آنحضرت ﷺ تک کوئی نبی نہ آیا۔ اس کے بعد موسیٰ علیہ السلام 2159 کے زمانہ کی طرف نگاہ کی جائے تو قرآن شریف سے یہ معلوم ہوگا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد سلسلۂ نبوت جاری ہے۔ چنانچہ ارشاد ہے: ”ولقد اتينا موسى الكتاب وقفينا من بعده بالرسل“ اس آیت سے یہ ثابت ہوا کہ موسیٰ علیہ السلام کے بعد سلسلۂ نبوت جاری ہے اور کئی ایک رسولوں کے آنے کا وعدہ ہے۔ جیسا کہ لفظ ”الرسل“ سے ظاہر ہے۔ اس کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا وقت آتا ہے تو قرآن کریم سے سوال ہوتا ہے کہ آیا بکثرت انبیاء بھی آئیں گے؟ یا کیا ہوگا؟ تو خداوند تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ”واذ قال عيسى ابن مريم“ خداوند سبحانہ تعالیٰ نے یہاں پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زبان پر اسلوب جواب کا بالکل بدل دیا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فرماتے ہیں کہ: ”اے بنی اسرائیل میں اللہ کا رسول تمہاری طرف ہوکر آیا ہوں مجھ سے پہلے موسیٰ علیہ السلام کی

١٧٠

صفحہ ٢٠٤٩

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15 کتاب تورات جو خدا کی طرف سے ان کو عطاء ہوئی ہے اس کی تصدیق کرتا ہوں اور خوشخبری دیتا ہوں ایک رسول کی کہ جو میرے بعد آئے گا۔ نام اس کا احمد ہوگا۔ قرآن کریم نے اس سے پہلے رسل کے لفظ سے عام طور پر رسولوں کے آنے کی خبر دی تھی اور یہاں ایک خاص رسول کی خبر دے کر اس کے نام سے مشخص اور معین فرمایا۔ یہ اسلوب صاف اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ خداوند تعالیٰ احمد ﷺ پر نبوت کو ختم کر رہا ہے اور عام طور پر جو رسولوں کے آنے کا اسلوب تھا۔ اس کو بدل کر ایک خاص معین شخص کے آنے کی اطلاع دیتا ہے۔ اس کے بعد آنحضرت ﷺ کا زمانہ آتا ہے تو ہم قرآن سے پوچھتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے آنے کے بعد سلسلہ نبوت جاری ہے یا بند ہو جاتا ہے؟ تو قرآن کریم فرماتا ہے۔ ”ما کان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين“ یہ بات قابل غور ہے کہ خداوند تعالیٰ نے مختلف انبیاء کے زمانہ میں سلسلہ نبوت جاری رہنے اور رسل کے آنے کی اطلاع دی اور آنحضرت ﷺ پر آ کر اس اطلاع کے برخلاف جو بصورت اجراء نبوت بمثل سابق ایسی اطلاع دی جانی ضروری تھی۔ جیسا کہ پہلے دی 2160 گئی ۔ ختم نبوت کا اعلان کر دیا۔ جس سے قطعاً اور یقیناً یہ بات معلوم ہوئی کہ قرآن کریم مجموعی طور پر ختم نبوت کا اعلان کر رہا ہے۔“

(ختم نبوت اور احادیث)

اس ضمن میں دو احادیث کا حوالہ جو گواہ مذکور نے دیا ہے اور دیگر گواہان مدعیہ کے بیانات میں بھی موجود ہے۔ دیا جانا ضروری معلوم ہوتا ہے۔ کیونکہ فریق ثانی کے جواب میں یہ حدیثیں بحث طلب ہیں۔ ایک حدیث یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بنی اسرائیل میں انبیاء آتے رہے۔ جب ایک نبی فوت ہو جاتا تو دوسرا نبی آ جاتا۔ لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں اور خلیفہ ہوں گے۔ پس بہت ہوں گے۔

دوسری حدیث یہ ہے کہ جنگ تبوک پر جاتے ہوئے آپ ﷺ نے جب حضرت علیؓ کو اہل بیت کی نگرانی کے لئے چھوڑا تو حضرت علیؓ نے عرض کیا کہ آپ (ﷺ) مجھ کو عورتوں اور بچوں میں چھوڑے جاتے ہیں تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ: ”تو مجھ سے وہی نسبت رکھتا ہے، جیسا کہ ہارون علیہ السلام کو موسیٰ علیہ السلام سے تھی۔ البتہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو سکتا۔“ اگر نبوت آنحضرت ﷺ کے بعد اور تشریعی یا غیر تشریعی جاری ہوتی تو حضرت علیؓ کو رسول اللہ ﷺ ”لا نبی بعدی“ کہہ کر اس وصف سے محروم نہ کرتے۔ گواہ مذکور نے قرآن مجید سے ختم نبوت کی ایک اور

١٧١

صفحہ ٢٠٥٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

یہ دلیل بھی پیش کی ہے کہ سورہ آل عمران پارہ تیسرا کی آیت ”قل امنا بالله و ما انزل الينا...... الخ!“ سے اللہ تعالیٰ نے یہ ظاہر فرمایا کہ جو کچھ انبیاء علیہم السلام پر وحی نازل کی گئی وہ زمانہ ماضی میں ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں انہی انبیاء پر ایمان لانے کی ترغیب دی۔ جو آنحضرت ﷺ سے پہلے ہو چکے ہیں اور کسی ایسے نبی کے لئے ایمان لانے کی تاکید نہیں کی جو آپ کے بعد ہو۔ اگر کوئی نبی آنحضرت ﷺ کے بعد آنے والا ہوتا تو ضرور اللہ تعالیٰ ہمیں اس پر ایمان لانے کی تاکید فرماتا۔ سورہ بقرہ کی ایک اور آیت ”والذین یؤمنون بما انزل الیک...... الخ!“ میں بھی خداوند تعالیٰ نے انہی کو ہدایت پر قائم رہنے والا اور ”مفلحون“ فرمایا ہے۔ جو آنحضرت ﷺ کی وحی پر اور آپ سے 2161 پہلے انبیاء علیہم السلام کی وحی پر اور آخرت پر ایمان رکھتے ہوں اور قرآن کریم نے یہ التزام کیا ہے کہ ہر جگہ وحی کے ساتھ لفظ قبل کو ملایا ہے تا کہ یہ بات ثابت نہ ہو کہ آنحضرت ﷺ سے پہلے ہی وحی نبوت اور انبیاء علیہم السلام آئے ہیں۔ چنانچہ اس کی تائید میں مولوی نجم الدین صاحب گواہ مدعیہ نے سورہ سبا پارہ نمبر ٢٢ کی آیت ”وما ارسلنك الا كآفة للناس....... الخ!“ سے یہ استدلال کیا ہے کہ متقی بننے کے لئے صرف ان چار چیزوں کی ضرورت ہے جو اس آیت میں بیان کی گئی ہیں۔ ایک تو وہ وحی ہے جو آنحضرت ﷺ کی طرف نازل کی گئی۔ دوسری وہ جو آپ سے پہلے لوگوں پر نازل کی گئی۔ اگر آنحضرت ﷺ کے بعد بھی کسی وحی پر انسانوں کی نجات اور ارتقاء کی مدار ہوتی تو اللہ تعالیٰ اسے بھی یہاں ذکر فرما دیتا۔ مگر ایسا نہیں کیا گیا۔ معلوم ہوتا ہے کہ کسی اور نئی بات کی، یا نئی وحی کی، متقی بننے کے لئے حاجت نہیں اور نہ ہی اس کے آنے پر یا اس کے ماننے پر انسانوں کی نجات کا دارومدار ہے۔

ختم نبوت کے بارہ میں مرزا صاحب کی ایک اور تحریر بہت واضح ہے جس کا ذکر مولوی مرتضیٰ حسن صاحب گواہ مدعیہ کے بیان میں ہے۔ مرزا صاحب اپنی کتاب (ازالہ اوہام ص ٥٣٣، خزائن ج ٣ ص ٣٩٣) پر لکھتے ہیں کہ: ”یہ بات ہم کئی مرتبہ لکھ چکے ہیں کہ خاتم النبیین کے بعد مسیح ابن مریم رسول کا آنا فساد عظیم کا موجب ہے۔ اس سے یا تو یہ ماننا پڑے گا کہ وحی نبوت کا سلسلہ پھر جاری ہو جائے گا یا قبول کرنا پڑے گا کہ خدا تعالیٰ مسیح ابن مریم کو لوازم نبوت سے الگ کر کے اور محض ایک امتی بنا کر بھیجے اور یہ دونوں صورتیں ممتنع ہیں۔“

اس طرح (ازالہ اوہام ص ٥٧٦، خزائن ج ٣ ص ٤١١) پر لکھتے ہیں کہ: ”ہم ابھی لکھ چکے ہیں کہ خدا تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ کوئی رسول دنیا میں مطیع اور محکوم ہو کر نہیں آتا۔ بلکہ وہ مطاع صرف اور اپنی اس وحی کا متبع ہوتا ہے جو اس پر بذریعہ جبرائیل علیہ السلام نازل ہوتی ہے۔ اب یہ

١٧٢

صفحہ ٢٠٥١

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

سیدھی سیدھی بات ہے کہ جب حضرت مسیح ابن مریم نازل ہوئے اور حضرت جبرائیل لگاتار آسمان سے وحی لانے لگے اور وحی کے ذریعہ انہیں تمام اسلامی عقائد اور 2162 صوم صلوٰۃ اور زکوٰۃ اور حج اور جمیع مسائل فقہ کے سکھلائے گئے۔ تو پھر بہرحال یہ مجموعہ احکام دین کا کتاب اللہ کہلائے گا۔ اگر یہ کہو کہ مسیح کو وحی کے ذریعہ صرف اتنا کہا جائے گا کہ تو قرآن پر عمل کر اور پھر وحی مدت العمر تک منقطع ہو جائے گی اور کبھی جبرائیل نازل نہ ہوں گے۔ بلکہ وہ مسلوب النبوۃ ہو کر امتیوں کی طرح بن جائیں گے تو یہ طفلانہ خیال ہنسی کے لائق ہے۔ ظاہر ہے کہ اگرچہ ایک ہی دفعہ وحی کا نزول فرض کیا جائے اور صرف ایک ہی فقرہ حضرت جبرائیل لائیں اور پھر چپ ہو جائیں۔ یہ امر بھی ختم نبوت کے منافی ہے۔ کیونکہ جب ختمیت کی مہر ہی ٹوٹ گئی اور وحی رسالت پھر نازل ہونی شروع ہو گئی تو پھر تھوڑا بہت نازل ہونا برابر ہے۔ ہر ایک دانا سمجھ سکتا ہے کہ اگر خداوند تعالیٰ صادق الوعد ہے اور جو آیت خاتم النبیین میں وعدہ دیا گیا ہے اور جو حدیثوں میں بتصریح بیان کیا گیا ہے کہ اب جبرائیل بعد وفات رسول اللہ ﷺ ہمیشہ کے لئے وحی نبوۃ لانے سے منع کیا گیا ہے۔ یہ تمام باتیں سچ اور صحیح ہیں تو پھر کوئی شخص بحیثیت رسالت ہمارے نبی ﷺ کے بعد ہرگز نہیں آسکتا۔“

اس سے مدعیہ کی طرف سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ مرزا صاحب نے اس کی تصریح کر دی ہے کہ کوئی نبی مطیع یعنی امتی نہیں بن سکتا۔ بلکہ وہ مطاع اور صرف اپنی اس وحی کا متبع ہوتا ہے جو اس پر بذریعہ جبرائیل علیہ السلام نازل ہوتی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ جب مرزا صاحب نبی ہوئے تو انہوں نے اس وحی کی اتباع کی۔ جو ان پر نازل ہوئی یا قرآن کی، اگر قرآن کی اتباع کی تب بھی مرزا صاحب کافر۔ کیونکہ ان کو اپنی وحی کی اتباع کرنی چاہئے تھی اور اگر اپنی وحی کی اتباع کی تب بھی کافر کیونکہ قرآن کو چھوڑا۔ کتاب ازالۃ الاوہام مرزا صاحب کے دعوٰی کے کچھ عرصہ بعد تحریر ہوئی اور اس وقت تک وہ خاتم النبیین کے وہی معنی سمجھتے رہے جو ساری دنیا نے سمجھے اور ایک نبی کا آنا اور ایک دفعہ جبرائیل علیہ السلام کا اترنا اور ایک فقرہ کہنا کہ تم قرآن کا اتباع کرو۔ یہ سب چیزیں مرزا صاحب کے نزدیک ختم نبوۃ کے مخالف تھیں اور اس سے مہر نبوت ٹوٹتی تھی۔

2163 ہر صدی میں کم از کم ایک مجدد آتا ہے۔ ان کا یہ فرض ہوتا ہے کہ دنیا میں جو لوگوں سے غلطی ہو گئی ہے۔ اس پر لوگوں کو متنبہ کریں اور بالخصوص ایسے امور اور عقائد کی نسبت کہ جن سے انسان کافر ہو جائے۔ علاوہ ازیں امت میں بے شمار اولیاء، ابدال اقطاب گزرے اور تمام صحابہ کرامؓ ان میں سے کسی نے خاتم النبیین کے یہ معنی نہیں کئے۔ جو مرزا صاحب نے اب بیان کئے ہیں۔ اس لئے جو معنی ختم النبوۃ کے اب تجویز کئے ہیں۔ جس کی بناء پر نبوت کا جاری رہنا اور وحی

١٧٣

F PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

یہ دلیل بھی پیش کی ہے کہ سورہ آل عمران پا الخ ! “ سے اللہ تعالیٰ نے یہ ظاہر فرمایا کہ میں ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں انہی انبیاء پہلے ہوچکے ہیں اور کسی ایسے نبی کے لئے اب نبی آنحضرت ﷺ کے بعد آنے والا ہوت فرماتا۔ سورہ بقرہ کی ایک اور آیت ”و الذین تعالیٰ نے انہی کو ہدایت پر قائم رہنے والا اور اور آپ سے 2161 پہلے انبیاء علیہم السلام کی نے یہ التزام کیا ہے کہ ہر جگہ وحی کے س آنحضرت ﷺ سے پہلے ہی وحی نبوت اور مولوی نجم الدین صاحب گواہ مدعیہ نے سور للناس ...... الخ ! “ سے یہ استدلال کیا ہے ہے جو اس آیت میں بیان کی گئی ہیں۔ ایک گئی۔ دوسری وہ جو آپ سے پہلے لوگوں پر انسانوں کی نجات اور ارتقاء کی مدار ہوتی کیا گیا۔ معلوم ہوتا ہے کہ کسی اور نئی بات کی اس کے آنے پر یا اس کے ماننے پر انسانوں ختم نبوت کے بارہ میں مرزا صا مرتضیٰ حسن صاحب گواہ مدعیہ کے بیان می خزائن ج ٣ ص ٣٩٣) پر لکھتے ہیں کہ: ”یہ بار ابن مریم رسول کا آنا فساد عظیم کا موجب ہ پھر جاری ہو جائے گا یا قبول کرنا پڑے گا کہ اور محض ایک امتی بنا کر بھیجا اور یہ دونوں صور اس طرح (ازالۃ الاوہام ص ٥٧٦، خز کہ خدا تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ کوئی صرف اور اپنی اس وحی کا متبع ہوتا ہے جو اس

صفحہ ٢٠٥٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

نبوت کا جاری رہنا ضروری ہے اور جس مذہب میں وحی نبوت نہ ہو۔ وہ مذہب مرزا صاحب کے نزدیک لعنتی اور شیطانی مذہب کہلانے کا مستحق ہے۔

اس بناء پر اگر یہ معنی صحیح ہیں تو جب تک مرزا صاحب کا مذکورہ بالا عقیدہ رہا۔ مرزا صاحب بھی کافر ہوئے اور ان سے پہلے جتنے مسلمان اس عقیدہ پر گزرے وہ سب کے سب کافر ہوئے اور اگر مسلمانوں کا اور مرزا صاحب کا عقیدہ سابقہ صحیح تھا تو پہلے لوگ تو مسلمان اور مرزا صاحب اس عقیدہ کے بدلنے کے بعد کافر ہوگئے۔ یہ نتائج مولوی مرتضیٰ صاحب کے بیان سے اخذ ہوتے ہیں۔ آگے وہ یہ کہتے ہیں کہ مرزا صاحب نے یہ کہا ہے کہ جو امر مستلزم محال ہے وہ محال ہوتا ہے۔ اس سے اگر مراد محال عقلی ہے تو اس کا اخفاء نا جائز ہے۔ بالخصوص تیرہ سو برس تک جب کہ صحابہ ، تابعین ، ائمہ مجتہدین اور ائمہ فقہاء کہ جنہوں نے عقلی امور کی بال کی کھال نکال دی ہے اور اگر محال سے مراد شرعی ہے تو وہ بھی مخفی نہیں رہ سکتا۔ بالخصوص اتنے زمانہ تک اور اتنے علمائے متبحرین پر اور مجددین پر۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مرزا صاحب کا اس کلام کے لکھنے تک یہی عقیدہ تھا کہ خاتم النبیین کے معنی یہ ہیں کہ کوئی جدید یا قدیم نبی آ ہی نہیں سکتا۔ علماء امت نے جو مسئلہ ختم النبوۃ پر اجماع بیان کیا ہے اور جس آیت کے معنی لکھے ہیں اور وہ معنی مرزا صاحب کے مسلمات میں سے ہیں۔ وہی حق ہے اور اب جو اس معنی سے انکار کرے وہ کافر اور بے شک کافر ہے ایک اور کتاب (حمامۃ البشریٰ ص ٢٠، خزائن ج ٧ ص ٢٠١ ، ٢٠٠) پر مرزا صاحب نے جو 2164 کچھ لکھا ہے اس کا مطلب یہ بیان کیا گیا ہے کہ : ”عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے بارہ میں کسی مسلمان کو جائز نہیں کہ اس کلام کو جو احادیث میں آیا ہے ظاہر معنی پر حمل کرے۔ اس واسطے کہ یہ آیت ”ما کان محمد ابا احد“ خاتم النبیین کے مخالف ہے۔ کیا تمہیں یہ معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کا نام خاتم الانبیاء رکھا ہے اور اس میں کسی کی استثناء نہیں کی اور پھر اس خاتم الانبیاء کی خود اپنے کلام میں تفصیل فرمائی ۔ ”لا نبی بعدی “ جس سے سمجھنے والوں کے لئے بیان واضح ہے اور اگر ہم یہ جائز رکھیں کہ آپ کے بعد کوئی نبی آ سکتا ہے تو لازم آتا ہے کہ دروازہ وحی نبوت کا بعد بند ہونے کے کھل جائے اور آپ کے بعد کوئی نبی کیسے آ سکتا ہے۔ حالانکہ وحی منقطع ہو چکی ہے اور اللہ تعالیٰ نے آپ کے ساتھ تمام نبیوں کو ختم کر دیا ہے۔ کیا ہم اس کا اعتقاد رکھیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آئیں گے اور خاتم الانبیاء وہ بنے نہ ہمارے رسول مقبول ﷺ۔“

اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ مرزا صاحب نے اس میں اس بات کی تصریح کر دی ہے کہ خاتم الانبیاء کی تفسیر بغیر کسی استثناء کے رسول اللہ ﷺ نے اس کلام میں فرمائی کہ ”لا نبی

١٧٤

صفحہ ٢٠٥٣

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

بعدی‘ اور معلوم ہوا کہ مرزا صاحب کے نزدیک خاتم النبیین کی تفسیر ”لا نبی بعدی“ ہے اور خاتم النبیین کے معنی یہ ہیں کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ اس میں کسی نبی بروزی ظلی وغیرہ کی قید نہیں اور اب لا نبی بعدی کا یہ معنی لینے کہ اس سے مراد خالص وہ نبی ہے جو مستقل نبی ہو اور رسول اللہ ﷺ سے الگ ہو کر اس نے نبوت حاصل کی ہو۔ کیونکہ یہ معنی مرزا صاحب کے نزدیک بھی غلط ہیں اور اب یہ معنی کرنے ہرگز قابل پذیرائی نہیں۔ مرزا صاحب خاتم کے یہ معنی کرتے ہیں کہ رسول کریم مہر ہیں اور آپ کے منظور کرنے سے نبی بنتے ہیں۔ کتاب (حقیقت النبوۃ ص ٢٦٦ حصہ اول ضمیمہ نمبر ١) پر لکھتے ہیں کہ: ”چونکہ میں ظلی طور پر محمد ہوں۔ پس اس طور سے خاتم النبیین کی مہر نہیں ٹوٹی۔ کیونکہ محمد ﷺ کی نبوت محمد ﷺ تک ہی 2165 محدود رہی۔ یعنی بہرحال محمد ﷺ ہی نبی رہا۔ نہ کوئی اور۔“

سید انور شاہ صاحب گواہ مدعی اس سے یہ مطلب اخذ کرتے ہیں کہ میں آئینہ بن گیا ہوں۔ محمد رسول اللہ ﷺ کا اور مجھ میں تصویر اتر آئی ہے رسول کریم ﷺ کی۔ اس سے مہر نبوت نہ ٹوٹی۔ یہ تمسخر ہے خدا اور خدا کے رسول ﷺ کے ساتھ۔

(سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی توہین)

اب باقیماندہ وجوہات تکفیر میں سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین۔ آنحضرت ﷺ کی توہین اور دیگر انبیاء علیہم السلام کی توہین کے بارہ میں گواہان مدعیہ کے بیانات کا خلاصہ ذیل میں درج کیا جاتا ہے۔ اس ضمن میں مرزا غلام احمد صاحب کی حسب ذیل تحریروں پر اعتراض کیا گیا ہے۔ مرزا صاحب اپنی کتاب (دافع البلاء ص ٤، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٠) پر لکھتے ہیں: ”لیکن مسیح کی راست بازی اپنے زمانہ میں دوسرے راست بازوں سے بڑھ کر ثابت نہیں ہوتی۔ بلکہ یحییٰ نبی کو اس پر ایک فضیلت ہے۔ کیونکہ وہ شراب نہیں پیتا تھا اور کبھی یہ نہیں سنا گیا کہ کسی فاحشہ عورت نے آ کر اپنی کمائی کے مال سے اس پر عطر ملا تھا یا اپنے ہاتھوں یا سر کے بالوں سے اس کو چھوا تھا۔ یا کوئی بے تعلق جوان عورت اس کی خدمت کرتی تھی۔ اس وجہ سے خدا نے قرآن میں یحییٰ علیہ السلام کا نام ”حصور“ رکھا۔ مگر مسیح کا یہ نام نہ رکھا۔ کیونکہ ایسے قصے اس نام کے رکھنے سے مانع تھے۔“

(حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم ص ٤، خزائن ج ١١ ص ٢٨٨) پر لکھتے ہیں کہ: ”پس اس نادان اسرائیلی نے ان معمولی باتوں کا پیش گوئی نام کیوں رکھا۔“

آگے (ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ٥، خزائن ج ١١ ص ٢٨٩) پر لکھتے ہیں کہ: ”آپ کو گالیاں

١٧٥

صفحہ ٢٠٥٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

دینے اور بدزبانی کی اکثر عادت تھی۔“

اس (حوالہ ایضاً) پر آگے کہتے ہیں کہ: ”میرے نزدیک آپ کی یہ حرکات جائے افسوس نہیں ۔ کیونکہ آپ تو گالیاں دیتے تھے اور یہودی ہاتھ سے کسر نکال لیا کرتے تھے۔“

آگے (حوالہ ایضاً) ہے کہ: ”یہ بھی یاد رہے کہ آپ کو کس قدر جھوٹ بولنے کی عادت تھی۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٧ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٩١) پر ہے کہ: ”آپ کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے۔ تین دادیاں اور تین نانیاں آپ کی 2166 زنا کار اور کسبی تھیں۔ جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔“

آگے (حوالہ ایضاً) پر لکھتے ہیں کہ: ”آپ کا کنجریوں سے میلان اور صحبت بھی شاید اس وجہ سے ہو کہ جدی مناسبت درمیان ہے۔ ورنہ کوئی پرہیزگار انسان ایک جوان کنجری کو یہ موقع نہیں دے سکتا کہ وہ اس کے سر پر اپنے ناپاک ہاتھ لگا دے۔“

آگے ہے کہ: ” سمجھنے والے سمجھ لیں کہ ایسا انسان کس چلن کا آدمی ہو سکتا ہے۔“

یہ گالیاں یسوع کا نام لے کر ضمیمہ انجام آتھم میں درج کی گئی ہیں۔ لیکن بیان کیا جاتا ہے کہ مرزا صاحب کے نزدیک یسوع اور مسیح ایک تھے۔ کیونکہ مرزا صاحب اپنی کتاب (توضیح المرام ص ٣، خزائن ج ٣ ص ٥٢) پر فرماتے ہیں کہ: ”مسیح ابن مریم جس کو عیسیٰ اور یسوع بھی کہتے ہیں۔“

اسی طرح اپنی کتاب (کشتی نوح ص ٦٥ حاشیہ، خزائن ج ١٩ ص ٧١) پر لکھتے ہیں کہ: ”یورپ کے لوگوں کو جس قدر شراب سے نقصان پہنچا ہے اس کا سبب تو یہ تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام شراب پیا کرتے تھے۔ شاید کسی بیماری کی وجہ سے۔ اے مسلمانو! تمہارے نبی ﷺ تو ہر ایک نشہ سے پاک اور معصوم تھے۔“

(ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ٥، خزائن ج ١١ ص ٢٨٩) پر ہے: ”جن جن پیشین گوئیوں کا اپنی ذات کی نسبت توراۃ میں پایا جانا آپ نے بیان فرمایا۔ ان کتابوں میں ان کا نام ونشان بھی نہیں پایا جاتا۔“

(ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ٦، خزائن ج ١١ ص ٢٩٠) پر لکھتے ہیں: ”اور نہایت شرم کی بات ہے کہ آپ پہاڑی تعلیم کو جو انجیل کا مغز کہلاتی ہے یہودیوں کی کتاب ’طالمود‘ سے چرا کر لکھا ہے اور پھر ایسا ظاہر کیا ہے کہ گویا میری تعلیم ہے۔“

آگے (حوالہ ایضاً) پر ہے کہ: ”آپ کے حقیقی بھائی آپ کی ان حرکات سے آپ سے سخت ناراض رہتے تھے اور ان کو یقین تھا کہ آپ کے دماغ میں ضرور کچھ خلل ہے۔“

١٧٦

صفحہ ٢٠٥٥

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

(کتاب ست بچن ص ١٧١ حاشیہ، خزائن ج ١٠ ص ٢٩٥) پر لکھتے ہیں کہ: ”یہ درخواست بھی صریح اس بات پر دلیل ہے کہ یسوع درحقیقت بوجہ بیماری مرگی کے دیوانہ ہو گیا تھا۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٦ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٩٠) پر ہے کہ: ”عیسائیوں نے بہت سے آپ کے معجزات لکھے ہیں۔ مگر حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا۔“

اور (انجام آتھم ص ٧، خزائن ج ١١ ص ٢٩١ حاشیہ) پر ہے کہ: ”آپ 2167 نے معمولی تدبیر کے ساتھ کسی شب کور وغیرہ کو اچھا کیا ہو یا کسی ایسی بیماریوں کا علاج کیا۔ مگر آپ کی بدقسمتی سے اس زمانہ میں ایک تالاب بھی موجود تھا جس سے بڑے بڑے نشان ظاہر ہوتے تھے۔ خیال ہو سکتا ہے کہ اس تالاب کی مٹی آپ بھی استعمال کرتے ہوں گے۔ اس تالاب سے آپ کے معجزات کی پوری پوری حقیقت کھلتی ہے اور اس تالاب نے فیصلہ کر دیا ہے کہ اگر آپ سے کوئی معجزہ بھی ظاہر ہوا ہو تو وہ معجزہ آپ کا نہیں ہے۔ بلکہ اس تالاب کا معجزہ ہے اور آپ کے ہاتھوں میں سوائے مکر وفریب کے اور کچھ نہ تھا۔“

اسی کتاب (ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ٩، خزائن ج ١١ ص ٢٩٣) پر آگے مسلمانوں کو مخاطب کر کے لکھتے ہیں کہ: ”خداوند تعالیٰ نے قرآن شریف میں کوئی خبر نہیں دی کہ یسوع کون تھا اور پادری اس بات کے قائل ہیں کہ یسوع وہ شخص تھا کہ جس نے خدائی کا دعویٰ کیا اور حضرت موسیٰ کو ڈاکو اور بٹ مار رکھا اور آنے والے نبی کے مقدس وجود سے انکار کیا اور کہا کہ میرے بعد سب جھوٹے نبی آئیں گے۔ پس ہم ایسے ناپاک خیال اور متکبر اور راست بازوں کے دشمن کو ایک بھلے مانس آدمی بھی قرار نہیں دے سکتے۔ چہ جائیکہ اس کو نبی قرار دیں۔“

اور کتاب (ست بچن ص ١٧٢، ١٦٨، خزائن ج ١٠ ص ٢٩٦) پر لکھتے ہیں: ”اور بالخصوص یسوع کے دادا صاحب داؤد نے تو سارے برے کام کئے۔ ایک بیگناہ کو اپنی شہوت رانی کے لئے فریب سے قتل کرایا اور دلالہ عورتوں کو بھیج کر اس کی جورو کو منگوایا اور اس کو شراب پلائی اور اس سے زنا کیا اور بہت سا مال حرام کاری میں ضائع کیا۔“

(اعجاز احمدی ص ١٤، خزائن ج ١٩ ص ١٢١) پر ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تین پیشین گوئیوں کو غلط قرار دیا گیا ہے۔“

(ازالۃ الاوہام ص ٣٠٣ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ٢٥٤) پر درج ہے کہ: ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے باپ یوسف کے ساتھ بائیس سال تک نجاری کا کام کرتے رہے ہیں۔“

(کشتی نوح ص ١٦، خزائن ج ١٩ ص ١٨) پر لکھتے ہیں کہ: ”مریم کی وہ شان ہے جس نے ایک

١٧٧

صفحہ ٢٠٥٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

مدت تک اپنے تئیں نکاح سے روکا۔ پھر بزرگان قوم کے نہایت اصرار سے بوجہ حمل کے نکاح کر لیا۔ گو لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ برخلاف تعلیم 2168 تورات عین حمل میں کیونکر نکاح کیا گیا اور بتول ہونے کے عہد کو کیوں ناحق توڑا گیا اور تعدد ازواج کی کیوں بنیاد ڈالی گئی...... مگر میں کہتا ہوں کہ یہ سب مجبوریاں تھیں جو پیش آئیں۔ اس صورت میں وہ لوگ قابل رحم تھے۔ نہ قابل اعتراض۔“

(ازالہ اوہام ج١ ص٧، خزائن ج٣ ص١٠٦) پر مرزا صاحب مولویوں کو مخاطب کر کے کہتے ہیں کہ: ”اس سے زیادہ تر قابل افسوس یہ امر ہے کہ جس قدر حضرت مسیح کی پیشین گوئیاں غلط نکلیں۔ اس قدر صحیح نکل نہیں سکیں۔“

(دافع البلاء ص ١٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣) پر لکھتے ہیں کہ: ”خدا نے اس امت میں سے مسیح موعود بھیجا جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے اور اس نے اس دوسرے کا نام غلام احمد رکھا۔“

پھر (حقیقت الوحی ص ١٥٥، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٩) پر لکھتے ہیں کہ: ”جب کہ خدا نے اور اس کے رسول نے اور تمام نبیوں نے آخری زمانہ کے مسیح کو ان کے کارناموں کی وجہ سے افضل قرار دیا ہے تو پھر یہ وسوسہ شیطانی ہے کہ کہا جائے کہ کیوں تم اپنے تئیں مسیح ابن مریم سے افضل قرار دیتے ہو۔“

مولوی انور شاہ صاحبؒ نے لفظ یسوع کی اصل یہ بتائی ہے کہ: ”دراصل عبرانی لفظ ہے اور عبرانی میں ایشوع بمعنی نجات دہندہ تھا۔ ایشوع سے یسوع بنا اور زبان عربی میں آ کر لفظ عیسیٰ بنا اور یہ تعریب قرآن سے شروع نہیں ہوئی۔ بلکہ نزول قرآن سے پہلے عرب کے نصاریٰ عیسیٰ علیہ السلام کو عیسیٰ ہی بولتے تھے۔

(ازالۃ الاوہام ص ٣٠٦، ٣٠٧ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ٢٥٥، ٢٥٦) پر لکھتے ہیں کہ: ”ماسوا اس کے یہ بھی قرین قیاس ہے کہ ایسے ایسے اعجاز طریق عمل ترب یعنی مسمریزی طریق سے بطور لہو ولعب نہ بطور حقیقت ظہور میں آسکیں۔ کیونکہ عمل ترب میں جس کو زمانہ حال میں مسمریزم کہتے ہیں۔ ایسے ایسے عجائبات ظہور میں آتے رہتے ہیں۔“

(ازالۃ الاوہام حاشیہ ص ٣٠٩، خزائن ج ٣ ص ٢٥٨) پر لکھتے ہیں کہ: ”اگر یہ عاجز اس عمل کو مکروہ اور قابل نفرت نہ سمجھتا تو اللہ تعالیٰ کے فضل وتوفیق سے امید قوی رکھتا تھا کہ ان عجوبہ نمائیوں میں حضرت مسیح ابن مریم سے کم نہ رہتا۔ لیکن مجھے وہ روحانی طریق پسند ہے۔“

2169 ان عبارات سے یہ نتائج نکالے گئے ہیں کہ مرزا صاحب یہ بخوبی جانتے تھے۔ یسوع مسیح ایک ہی شخص ہے جیسا کہ ان کی اپنی تحریرات سے ثابت ہوتا ہے۔ اس لئے وہ یہ نہیں کہہ

١٧٨

صفحہ ٢٠٥٧

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

سکتے کہ انہوں نے یسوع کے نام سے جو کچھ کہا ہے اس سے عیسیٰ علیہ السلام مراد نہیں ہیں اور اگر یہ کہا جائے کہ ان میں سے بعض فقرات عیسائی پادریوں کے جوابات میں الزامی صورت میں بیان کئے گئے ہیں تو یہ جواب بھی صحیح نہیں ہے۔ کیونکہ ان فقرات میں اس قسم کے الفاظ کہ ”حق بات یہ ہے“ وغیرہ وغیرہ! الزامی جوابات نہیں ہو سکتے۔ بلکہ مرزا صاحب کی اپنی تحقیق کا نتیجہ شمار ہوں گے۔ نیز دافع البلاء کے حوالہ سے جو عبارت نقل کی گئی ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ خدا کے نزدیک بھی عیسیٰ علیہ السلام کو حصور نہ کہنے کے لئے مذکورہ بالا قصے مانع تھے۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بھی جو عالم الغیب ہے یہ بات محقق تھی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام میں یہ عیوب موجود ہیں۔ اس لئے اس کا نام ”حصور“ نہ رکھا اور جو گالیاں مرزا صاحب نے پہلے ”انجام آتھم“ میں عیسیٰ علیہ السلام کو دی تھیں وہی یہاں مذکور ہیں۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پاکبازی اور راست گوئی کا ثبوت احادیث سے ملتا ہے اور قرآن نے ان کی شان میں کہا ہے کہ ’وَجِيهاً فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِينَ‘ رسولوں کو دنیا میں صرف اس لئے بھیجا جاتا ہے کہ لوگ ان کے نقش قدم پر چلیں اور ان کی اطاعت کریں۔ مرزا صاحب نے عیسیٰ علیہ السلام کے حق میں نہایت گستاخانہ الفاظ استعمال کئے ہیں۔ ان کے معجزات کو مسمریزم کہا ہے۔ حالانکہ مسمریزم اقسام سحر اور توجہ نفسانی کا ایک شعبہ ہے کہ جس کا کسی پاکباز یا نیک آدمی کے ساتھ اختصاص نہیں کیا جا سکتا۔ ہر بد اخلاق بلکہ کافر تک اس کا عمل کر سکتا ہے اور پھر ایسے معجزات کو جس کو قرآن کریم نے نہایت شان اور عظمت سے ذکر فرمایا ہے۔ عمل ترب یا مسمریزم کہنا نہایت گستاخی اور بے ادبی ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے جو معجزات ثابت کئے گئے ہیں ان کو آج تک تمام علمائے امت اور عامتہ المسلمین قبول کرتے رہے۔ مرزا صاحب نے ان کو مسمریزم وغیرہ کی طرف منسوب کر کے خواہ مخواہ ایک 2170 رخنہ اندازی فرمائی۔ ان کا عیسیٰ علیہ السلام کی اس طرح توہین کرنی ایک وجہ کفر ہے۔ چنانچہ مرزا صاحب نے بھی اپنی کتاب ( ضمیمہ چشمہ معرفت ص ١٨، خزائن ج ٢٣ ص ٣٩٠) پر جو عبارت بالفاظ ذیل: ”شاید کسی صاحب کے دل میں یہ بھی خیال آوے ...... تا موجب نزول غضب الٰہی“ درج کی ہے۔ اس میں صاف لکھا ہے کہ ”اسلام میں کسی نبی کی تحقیر کفر ہے اور سب پر ایمان لانا فرض ہے اور کسی نبی کا اشارہ سے بھی تحقیر کرنا سخت معصیت ہے اور موجب نزول غضب الٰہی۔“

اس کی تائید میں منجانب گواہان مدعیہ چند سندات قرآن و احادیث اور اقوال بزرگان پیش کئے گئے ہیں۔ جن کی یہاں تفصیل درج کرنے کی ضرورت نہیں۔ صرف مختصراً یہ درج کیا جاتا

١٧٩

LY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

مدت تک اپنے تئیں نکاح سے روکا۔ پھر بزرگان ق گو لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ برخلاف تعلیم 2168 ہونے کے عہد کو کیوں ناحق توڑا گیا اور تعداد ازوا سبب مجبوریاں تھیں جو پیش آ گئیں۔ اس صورت م

(ازالہ اوہام ج ١ ص ٧، خزائن ج ٣ ص ١

ہیں کہ: ”اس سے زیادہ تر قابل افسوس یہ امر تھیں۔ اس قدر صحیح نکل نہیں سکیں۔“

(دافع البلاء ص ١٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٣

موعود بھیجا جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان م غلام احمد رکھا۔“

پھر (حقیقت الوحی ص ١٥٥، خزائن ج ٢٢ رسول نے اور تمام نبیوں نے آخری زمانہ کے آ پھر یہ وسوسہ شیطانی ہے کہ کہا جائے کہ کیوں تم ا

مولوی انور شاہ صاحب نے لفظ یسو اور عبرانی میں یشوع بمعنی نجات دہندہ تھا۔ ا بنا اور یہ تعریب قرآن سے شروع نہیں ہوئی علیہ السلام کو عیسیٰ ہی بولتے تھے۔

(ازالۃ الاوہام ص ٣٠٤، ٣٠٦ حاشیہ ١

کے یہ بھی قرین قیاس ہے کہ ایسے ایسے افع لہو ولعب نہ بطور حقیقت ظہور میں آسکیں۔ کیو ہیں۔ ایسے ایسے عجائبات ظہور میں آتے رہت

(ازالہ اوہام حاشیہ ص ٣٠٩، خزائن ج

مکروہ اور قابل نفرت نہ سمجھتا تو اللہ تعالیٰ کے میں حضرت مسیح ابن مریم سے کم نہ رہتا۔ لیکن

2169 ان عبارات سے یہ نتائج ا یسوع مسیح ایک ہی شخص ہے جیسا کہ ان کی انا

صفحہ ٢٠٥٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

ہے کہ سید انور شاہ صاحبؒ گواہ مدعیہ نے یہ کہا ہے کہ سب اور ناسزا کہنا۔ پیغمبروں کو اور طعن کہنا سرچشمہ ہے جمیع انواع کفر کا اور مجموعہ ہے جملہ گمراہیوں کا اور ہر کفر اس کی شاخ ہے اور کسی نبی کی ادنیٰ توہین کرنا بھی کفر ہے، اور کہ امام احمدؒ فرماتے ہیں کہ جس نے ناسزا کہا نبی کریم کو یا تنقیص کی مسلمان ہو یہ شخص یا کافر۔ سزا اس کی قتل ہے اور علماء نے کہا ہے کہ تعریض کرنا خدا کی سب کا، یا رسول کی سب کا، ارتداد ہے اور موجب قتل ہے۔ آگے بیان کرتے ہیں کہ علماء نے جب توراۃ اور انجیل محرف سے کوئی چیز محرف نقل کی ہے۔ ان سے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ یہ کتابیں تحریف شدہ ہیں۔ مرزا صاحب یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام نالائق تھے۔ علماء کے طریق میں اور مرزا صاحب کے طریق میں کفر اور اسلام کا فرق ہے۔

مولوی نجم الدین صاحب گواہ مدعیہ نے بیان کیا ہے کہ مرزا صاحب نے اپنے آپ کو یوسف علیہ السلام سے بھی افضل کہا ہے اور کتاب (دافع البلاء ص٢٠، خزائن ج١٨ ص٢٤٠) پر مرزا صاحب کہتے ہیں کہ: ”ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو۔ اس سے بہتر غلام احمد ہے۔“

اور یہ کہ باتیں شاعرانہ نہیں بلکہ واقعی ہیں۔ کتاب (ازالۃ الاوہام ص١٥٨، خزائن ج٣ ص١٨٠) سے مرزا صاحب کا ایک اور شعر نقل کیا گیا ہے جو بالفاظ ذیل ہے:

”اینک منم کہ حسب بشارات آمدم
عیسیٰ کجا است تا بنہد پا بمنبرم“

مولوی انور شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ قرآن شریف نے یہود اور نصاریٰ کے عقائد کی بیخ کنی کی ہے اور ایک حرف موسیٰ و عیسیٰ علیہم السلام کی ہتک کا اشارۃً یا کنایۃً نہیں فرمایا۔ 2171 اب اس عنوان توہین انبیاء کے دوسرے ہیڈنگ پر گواہان مدعیہ کے پیش کردہ دلائل بیان کئے جاتے ہیں۔

(توہین انبیاء کے حوالہ جات)

توہین انبیاء کے تحت گواہان مدعیہ نے یہ دکھلایا ہے کہ مرزا صاحب نے نہ صرف عیسیٰ علیہ السلام کی توہین کی ہے۔ بلکہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بھی توہین کی ہے۔ بحوالہ کتاب (حقیقت الوحی ص٢٦٥، ٢٦٦) مرزا صاحب کے اس قول سے کہ: ”میں بروزی طور وہی خاتم الانبیاء ہوں اور خدا نے آج سے بیس برس پہلے براہین احمدیہ میں میرا نام محمد اور احمد رکھا ہے اور مجھے آنحضرت ﷺ کا ہی وجود قرار دیا۔ پس اس طور سے آنحضرت ﷺ کے خاتم النبیین ہونے میں میری نبوت سے کوئی تزلزل نہیں آیا۔ کیونکہ ظل اپنے اصل سے علیحدہ نہیں ہوتا۔“

١٨٠

صفحہ ٢٠٥٩

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

یہ نتیجہ نکالا گیا ہے کہ مرزا صاحب کو نبوت ملنے سے خاتمیت محمدیہ میں فرق نہ آنے کے یہی معنی ہو سکتے ہیں کہ مرزا صاحب اور سرور عالم ﷺ ایک ہوں جو عقلاً اور نقلاً باطل ہے اور اگر رسول اللہ ﷺ بطریق تناسخ معاذ اللہ مرزا صاحب ہوئے تو تناسخ کفر اور اگر یہ معنی ہیں کہ سایہ ذی سایہ کا عین ہوتا ہے تو یہ ایسی باطل بات ہے کہ دنیا جانتی ہے۔ کسی شخص کا سایہ ذی سایہ نہیں ہوسکتا تو اب مرزا صاحب کا نبی ہونا۔ رسول اللہ ﷺ کا نبی ہونا نہیں ہے۔ اگر بفرض محال یہ مان لیا جائے کہ سایہ اور ذی سایہ ایک ہوتا ہے تو رسول اللہ ﷺ ظل اللہ ہیں اور اس طرح وہ نعوذ باللہ عین خدا ہیں اور مرزا صاحب عین محمد (ﷺ) ہیں تو اس سے صاف یہ نتیجہ ہے کہ مرزا صاحب عین خدا ہوئے۔ اگر ظل ہونے کے یہ معنی ہیں کہ ذی ظل کی کوئی صفت اس میں آجائے تو ایسی ظلیت تمام دنیا کو حاصل ہے۔ بہرحال مرزا صاحب کا دعویٰ اتحاد رسول اللہ ﷺ کے ساتھ۔ رسول اللہ ﷺ کی کھلی توہین ہے۔

جاتے ہیں۔ نبی کریم کے ظل ہیں ۔“ معلوم ہوتا ہے کہ بروزی اور ظلی نبوت کوئی کم یا گھٹیا درجہ نبوت نہیں۔ کیونکہ ظل اور بروز کے لفظ سے یہ دھوکا پڑ سکتا تھا کہ مرزا صاحب کی مراد یہ ہوگی کہ آئینہ میں جیسے کسی شخص کا عکس پڑتا ہے۔ اسی طرح مرزا صاحب میں بھی کمالات محمدیہ اور نبوت کا عکس 2172 پڑا ہے۔ مگر مرزا صاحب نبی نہیں ہے۔ اس واسطے کہ کسی شخص کا عکس جو آئینہ میں ہے اس ذی عکس کی کوئی حقیقی صفت نہیں ہو سکتی۔ مرزا صاحب کی اس عبارت نے اس شبہ کو ایسا صاف اور حل کر دیا ہے کہ شبہ کی گنجائش نہیں رہی۔ مرزا صاحب کا لفظ ظل عکس اور بروز کا ہے۔ مگر مراد ہے۔ حقیقت کاملہ نبوت۔ کیونکہ وہ فرماتے ہیں کہ جتنے انبیاء گزرے ہیں وہ سب رسول اللہ ﷺ کی ایک ایک صفت میں ظل تھے اور باوجود اس ایک صفت میں ظل ہونے کے وہ مستقل نبی صاحب شریعت تھے اور حقیقی نبی تھے اور مرزا صاحب تمام صفات میں ظل ہیں تو ثابت ہو گیا کہ مرزا صاحب تمام نبیوں سے بڑے تھے اور یہ ایک بہت بڑا کفر ہے۔ مرزا صاحب بار بار تحریر کرتے ہیں کہ پہلے نبیوں کی نبوت براہ راست اور میری نبوت فیض محمدی کا اثر ہے۔ ان کا یہ قول بھی غلط ہو جاتا ہے اس واسطے کہ جب ہر ایک نبوت ان کے نزدیک آپ کا فیض تھا۔ اس طرح مرزا صاحب کی نبوت بھی آپ کا فیض ہے۔ لہٰذا یہ فرق کرنا بھی باطل ہوا۔

مرزا صاحب کے ایک اور قول سے جو (تریاق القلوب حاشیہ ص ١٥٦، خزائن ج ١٥ ص ٤٧٧) سے نقل کیا گیا ہے اور جو بالفاظ ذیل ہے۔

١٨١

LY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

ہے کہ سید انور شاہ صاحب گواہ مدعیہ نے یہ کہا سرچشمہ ہے جمیع انواع کفر کا اور مجموعہ ہے جملہ گم ادنیٰ توہین کرنا بھی کفر ہے، اور کہ امام احمد فرماتے مسلمان ہو یہ شخص یا کافر۔ سزا اس کی قتل ہے اور رسول کی سب کا، ارتداد ہے اور موجب قتل ہے۔ انجیل محرف سے کوئی چیز محرف نقل کی ہے۔ ان س مرزا صاحب یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام کے طریق میں کفر اور اسلام کا فرق ہے۔

مولوی نجم الدین صاحب گواہ مدعیہ یوسف علیہ السلام سے بھی افضل کہا ہے اور مرزا صاحب کہتے ہیں کہ: ”ابن مریم کے ذکر کو چھ اور یہ کہ باتیں شاعرانہ نہیں بلکہ واقع ص ١٨٠) سے مرزا صاحب کا ایک اور شعر نقل کیا گی

ایک منم کہ ح
عیسیٰ کجا است

مولوی انور شاہ صاحب فرماتے ہیں طعن کشی کی ہے اور ایک حرف موسیٰ وعیسیٰ علیہم السلام اس عنوان توہین انبیاء کے دوسرے ہیڈنگ پر گواہان

(توہین انبیاء ۔

توہین انبیاء کے تحت گواہان مدعیہ نے علیہ السلام کی توہین کی ہے۔ بلکہ حضور علیہ الصلا (حقیقت النبوۃ ص ٢٦٥، ٢٦٦) مرزا صاحب کے ا ہوں اور خدا نے آج سے بیس برس پہلے براہین آنحضرت ﷺ کا ہی وجود قرار دیا۔ پس اس طور میری نبوت سے کوئی تزلزل نہیں آیا۔ کیونکہ ظل ا

١٨٠

صفحہ ٢٠٦٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

”غرض جیسا کہ صوفیوں کے نزدیک مانا گیا ہے کہ مراتب وجود دورویہ ہیں۔ اسی طرح ابراہیم نے اپنی خو اور طبیعت اور دلی مشابہت کے لحاظ سے قریباً اڑھائی ہزار برس اپنی وفات کے بعد پھر عبداللہ پسر عبدالمطلب کے گھر میں جنم لیا اور محمد کے نام سے پکارا گیا۔“

سید انور شاہ صاحب گواہ مدعیہ نے یہ استدلال کیا ہے کہ:

لانا بعینہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا تشریف لانا ہے۔ گویا کہ ابراہیم علیہ السلام کے یہ دور ہیں۔ گویا اصل ابراہیم علیہ السلام ہے اور آئینہ رسول اللہ ﷺ ہوئے اور چونکہ ظل اور صاحب ظل میں مرزا صاحب کے نزدیک عینیت ہے اور اس وجہ سے وہ اپنے کو عین محمد کہتے ہیں تو جب محمد ﷺ بروز ابراہیم علیہ السلام2173 ہوئے تو عین ابراہیم علیہ السلام ہوئے۔ اس سے صاف لازم آتا ہے کہ معاذ اللہ رسول اللہ ﷺ کا کوئی وجود بالاستقلال نہیں اور نہ ان کی نبوت کوئی مستقل شئی ہے۔

بروز اور ظل ہوتا ہے۔ صاحب ظل اور اصل نہیں ہوتا۔ اس طرح مرزا صاحب آنحضرت ﷺ کے بروز ہوئے تو خاتم النبیین مرزا صاحب ہوئے نہ کہ آنحضرت ﷺ۔

اگر مجتمع ہوں گے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام میں ہوں گے نہ کہ آنحضرت ﷺ میں۔ یہ باطل اور بے معنی ہے۔

اس کے علاوہ یہ مضمون بھی فی نفسہ کہ آنحضرت ﷺ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بروز ہوں اور ابراہیم علیہ السلام آنحضرت کے بروز ہوں۔ بے معنی اور فضول ہے اسلام میں جنم کا عقیدہ کفر ہے اور یہ ہے حقیقت مرزا صاحب کے نزدیک مجازی اور ظلی اور بروزی کی۔ رسول اللہ ﷺ کی توہین کے سلسلہ میں مولوی نجم الدین صاحب گواہ مدعیہ نے حسب ذیل مزید واقعات بیان کئے ہیں۔

کسی کے توہین کرنے کے یہ معنی ہیں کہ یا تو اس میں کوئی عیب جسمانی ظاہر کیا جائے یا کسی بداخلاقی کے ساتھ اس کو متہم کیا جائے یا کسی کے لقب کو جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اسے سرفراز فرمایا ہے۔ اس کا اپنے لئے دعویٰ کیا جائے یا کوئی ایسی چیز اس کے سامنے یا اس کی شان میں کہی جائے۔ جس سے اس کی دل آزاری ہو۔ چنانچہ چند آیات قرآنی جن میں اللہ تعالیٰ سبحانہ وتعالیٰ نے نبی پاک محمد ﷺ کو چند مراتب اور مقامات عالیہ سے مشرف فرمایا ہے۔ اگر کوئی شخص

١٨٢

2061

بے ادبی سمجھی جائے گی۔ ........الخ!“ جس میں علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ئیل علیہ السلام سے ذکر

نمود کو بھی اپنے حق میں نہیں کی گئی۔ ہمارے مجھ شخص نہیں بلکہ تمام پر اشارہ کیا گیا ہے۔

”۔ اس میں بھی رسول

کہتے ہیں کہ: ”مثلاً کوئی دور میں آئے۔“ کہ: ”ان چند سطروں کند ہوں گے اور نشان

کو تین ہزار قرار دینا نے رسول اللہ ﷺ پر جس سے مراد یہ ہے میں آتی۔ جب تک

صفحہ ٢٠٦١

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

اپنے اوپر چسپاں کرے تو لامحالہ رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی اور بے ادبی سمجھی جائے گی۔

چنانچہ آیات 2174 ذیل آیت ”سبحان الذی اسریٰ بعبدہ...... الخ!“ جس میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے لئے شان معراج کا ذکر فرمایا گیا۔

دوسری آیت ”ثم دنیٰ فتدلیٰ...... الخ!“ جس میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے لئے جو قرب الٰہی جناب رب العزت سے حاصل ہوا تھا۔ یا بقول دیگر جبرائیل علیہ السلام سے ذکر ہوا ہے۔

و آیت ”انا فتحنالک فتحاً مبینا...... الخ!“
و آیت ”قل ان کنتم تحبون اللہ...... الخ!“
و آیت ”انا اعطیناک الکوثر...... الخ!“

مرزا صاحب نے اپنے اوپر نازل ہونی بیان کی ہیں اور مقام محمود کو بھی اپنے حق میں تجویز کیا ہے اور ان اشعار میں جو آگے بیان کئے گئے ہیں کسی نبی کی استثناء نہیں کی گئی۔ ہمارے نبی کریم بھی انبیاء کی جماعت میں داخل ہیں۔ لفظ انبیاء کسی خاص نبی کے ساتھ مختص نہیں بلکہ تمام پر حاوی اور مشتمل ہے۔ دوسرے شعر کے مصرع ثانی میں اپنی افضلیت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔

(حقیقت الوحی ص ٨٩، خزائن ج ٢٢ ص ٩٢) پر لکھتے ہیں: ”آسمان سے کئی تخت اترے پر تیرا تخت سب سے اوپر بچھایا گیا ۔“ اس میں بھی رسول اللہ ﷺ کی توہین ہے۔

مرزا صاحب کتاب (تحفہ گولڑویہ ص ٤٠، خزائن ج ١٧ ص ١٥٣) پر لکھتے ہیں کہ: ”مثلاً کوئی شریر النفس ان تین ہزار معجزات کا کبھی ذکر نہ کرے جو ہمارے نبی ﷺ سے ظہور میں آئے۔“

اور (براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٥٦، خزائن ج ٢١ ص ٧٢) میں لکھتے ہیں کہ: ”ان چند سطروں میں جو پیشین گوئیاں ہیں وہ اس قدر نشانوں پر مشتمل ہیں جو دس لاکھ سے زائد ہوں گے اور نشان بھی ایسے کھلے کھلے ہیں جو اوّل درجہ پر خرق عادت ہیں۔“

ان عبارات سے یہ نتیجہ نکالا گیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے معجزات کو تین ہزار قرار دینا اور اپنے معجزات دس لاکھ۔ کیونکہ معجزہ خرق عادت ہوتا ہے۔ مرزا صاحب نے رسول اللہ ﷺ پر اپنی کتنی بڑی فضیلت بیان 2175 کی؟ اس قسم کی توہین کو توہین لزومی کہا گیا ہے۔ جس سے مراد یہ ہے کہ عبارت اس لئے نہیں لائی گئی کہ تنقیص کرے۔ مگر وہ عبارت صادق نہیں آتی۔ جب تک تنقیص موجود نہ ہو۔ مذکورہ بالا عبارات میں اس قسم کی تنقیص پائی جاتی ہے۔

١٨٣

PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

”غرض جیسا کہ صوفیوں کے ابراہیم نے اپنی خو اور طبیعت اور دلی مشـ بعد پھر عبداللہ پسر عبدالمطلب کے گھر میں

سید انور شاہ صاحب گواہ مد

لانا بعینہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا تـ گویا اصل ابراہیم علیہ السلام ہے اور آ مرزا صاحب کے نزدیک عینیت ہے بروز ابراہیم علیہ السلام 2173 ہوئے تو عیـ کہ معاذ اللہ رسول اللہ ﷺ کا کوئی وجو

بروز اور ظل ہوتا ہے۔ صاحب ظل اور بروز ہوئے تو خاتم النبیین مرزا صاحب

اگر مجتمع ہوں گے تو حضرت ابراہیم علیـ بے معنی ہے۔

اس کے علاوہ یہ مضمون بمـ بروز ہوں اور ابراہیم علیہ السلام آخنـ عقیدہ کفر ہے اور یہ ہے حقیقت مرز اللہ ﷺ کی توہین کے سلسلہ میں مـ واقعات بیان کئے ہیں۔

کسی کے توہین کرنے کـ کسی بداخلاقی کے ساتھ اس کو متہم کـ سرفراز فرمایا ہے۔ اس کا اپنے لئے د میں کہی جائے۔ جس سے اس کی دل وتعالیٰ نے نبی پاک محمد ﷺ کو چند

صفحہ ٢٠٦٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

اس ضمن میں مرزا صاحب کا ایک قول نقل کیا گیا ہے۔ (تتمہ حقیقت الوحی ص ١٣٦، خزائن ج ٢٢ ص ٥٧٤) جو بالفاظ ذیل ہے۔ ”ہاں اگر یہی اعتراض ہو کہ اس جگہ وہ معجزات کہاں ہیں تو میں صرف یہی جواب نہیں دوں گا کہ میں معجزات دکھلا سکتا ہوں۔ بلکہ خدا کے فضل وکرم سے میرا جواب یہ ہے کہ اس نے میرا دعویٰ ثابت کرنے کے لئے اس قدر معجزات دکھلائے ہیں کہ بہت ہی کم نبی ایسے آئے ہیں جنہوں نے اس قدر معجزات دکھلائے ہوں۔“ (اعجاز احمدی ص ٧١، خزائن ج ١٩ ص ١٨٣) پر مرزا صاحب کا ایک شعر ہے جو الفاظ ذیل سے شروع ہوتا ہے۔ ”له خسف القمر المنیر وان لی“ جس کا یہ مطلب ہے کہ اس کے لئے چاند کے خسوف کا نشان ظاہر ہوا اور میرے لئے چاند اور سورج کا اس میں شق القمر کے معجزہ کو چاند گرہن سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اس میں رسول اللہ ﷺ کی توہین اور شق القمر کا انکار ہے۔ زیادہ تر توہین لفظ لہ کے استعمال اور طرز خطاب سے اخذ کی جاتی ہے جس سے صاف طور پر تقابل دکھا کر اپنی فضیلت دکھلائی گئی ہے۔

اس طرح (خطبہ الہامیہ ص ت حاشیہ، خزائن ج ١٦ ص ٣١٢) ”ما الفرق بین آدم والمسیح“ کے ایک مقولہ سے ظاہر کیا گیا ہے کہ اس میں آدم علیہ السلام کی توہین کی گئی ہے اور اس میں جو یہ الفاظ درج ہیں کہ یہ وعدہ قرآن میں لکھا ہوا ہے کہ مسیح موعود شیطان کو شکست دے گا۔ یہ بالکل خلاف واقع جھوٹ ہے۔ قرآن شریف میں اس قسم کی کوئی آیت نہیں ہے۔

اشعار محولہ بیان مولوی نجم الدین صاحب گواہ مدعیہ حسب ذیل ہیں:

آنچہ داد است ہر نبی را جام داد آں جام را مرا بتمام
انبیاء گرچہ بودہ اند بسے من بہ عرفاں نہ کمترم زکسے
کم نیم زاں ہمہ بروئے یقین ہر کہ گوید دروغ ہست لعین

(نزول المسیح ص ٩٩، ١٠٠، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧، ٤٧٨)

2176 اور جو مضمون ان اشعار میں ادا کیا گیا ہے۔ اس کے متعلق سید انور شاہ صاحبؒ گواہ کی طرف سے کہا گیا ہے کہ باہمی فضیلت کا باب انبیاء میں فرق مراتب کا ہے اور جو پیغمبر افضل ہے وہ کسی قرینہ سے ظاہر ہو جائے گا کہ وہ کسی دوسرے سے افضل ہے اور نبی کریم ﷺ نے اپنی امت کو یہ پہنچایا ہے۔ مگر اس احتیاط کے ساتھ کہ اس سے فوق متصور نہیں اور ایسی فضیلت دینا ایک پیغمبر کو اگرچہ واقعی ہو کہ جس میں دوسرے کی توہین لازم آتی ہو کفر صریح ہے۔

چھٹی وجہ تکفیر میں مدعیہ کی طرف سے یہ کہا گیا ہے کہ مرزا صاحب (ازالۃ الاوہام ص ٥٥٦، خزائن ج ٣ ص ٣٩٩) پر لکھتے ہیں کہ: ”تواتر کی جو بات ہے وہ غلط نہیں ٹھہرائی جاسکتی اور

١٨٤

صفحہ ٢٠٦٣

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

تواتر اگر غیر قوموں کا ہو تو وہ بھی قبول کیا جائے گا۔‘‘ پھر اس کے ساتھ اگلے صفحہ (ازالہ اوہام ص ٥٥٧، خزائن ج ٣ ص٤٠٠) پر جو کچھ لکھتے ہیں اس سے یہ اخذ ہوتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ تشریف لانے کی پیشین گوئی : ’’ایسی متواتر پیشین گوئیوں سے جو خیرالقرون میں ہی تمام ممالک اسلام میں پھیل گئی تھی اور مسلمات میں سے سمجھی گئی تھی اور یہ اوّل درجہ کی پیشین گوئی ہے جس کو سب نے قبول کر لیا تھا اور جس قدر صحاح میں پیش گوئیاں لکھی گئی ہیں، کوئی اس کے ہم پہلو نہیں۔ انجیل بھی اس کی مصدق ہے۔‘‘

مگر اس کے بعد جب مرزا صاحب کو اس پیشین گوئی کا انکار مطلوب ہوا تو انہوں نے یہ کہا کہ ’’یہ بہت بے ادبی کی بات ہے کہ یہ کہا جائے کہ عیسیٰ علیہ السلام نہیں مرے۔ یہ نہیں ہے مگر شرک عظیم یہ عقیدہ حیات کا مسلمانوں میں نصرانیوں سے آیا ہے۔ پھر اس عقیدہ کو نصاریٰ نے بہت مال خرچ کر کے مسلمانوں میں شائع کیا۔ شہروں میں اور گاؤں میں اس وجہ سے کہ ان میں کوئی شخص عقلمند نہ تھا اور پہلے مسلمانوں سے یہ قول کبھی صادر نہیں ہوا۔ مگر لغزش کے طور پر وہ لوگ معذور ہیں۔ اللہ کے نزدیک اس واسطے کہ وہ لوگ گنہگار نہ تھے۔ مگر قصداً نہ تھے اور خطا کی وجہ یہ ہوئی کہ وہ سادہ لوح آدمی تھے۔ اگر کوئی مجتہد خطا کر دے تو اللہ اس کی غلطی کو معاف بھی کرتا ہے۔ ہاں جن کے پاس امام آیا۔ حجج بینات کے ساتھ اور جس پر رشد گمراہی سے ظاہر ہو گیا اور پھر بھی انہوں نے اعتراض کیا وہ لوگ ماخوذ ہوں گے۔‘‘

(الاستفتاء ضمیمہ حقیقت الوحی ص ٣٩، خزائن ج٢٢ ص٦٦٠)

اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ مرزا 2177 صاحب حیات عیسیٰ علیہ السلام کو شرک نہیں بلکہ شرک عظیم فرماتے ہیں اور وعدہ الٰہی کے مطابق بمفاد آیت ’’ان اللّٰہ لا یغفر ان یشرک...... الخ! ‘‘شرک کا معاف ہونا قطعاً محال ہے۔ اس سے لازم آتا ہے کہ مرزا صاحب کے اس قول کی بناء پر ساری امت گمراہ تھی اور ساری امت مشرک و کافر تھی اور جو شخص تمام امت کو گمراہ اور کافر کہے وہ خود کافر ہوتا ہے۔ مرزا صاحب کے اس قول سے اسلام پر اتنا بڑا حملہ ہوتا ہے کہ اسلام کی ایک ذرہ بھر وقعت نہیں رہ سکتی۔ جب کہ یہ ثابت بھی ہو گیا کہ یہ عقیدہ بطریق تواتر تمام ممالک اسلام میں پھیل گیا تھا اور سب نے قبول بھی کر لیا اور کسی چھوٹے بڑے کو اس کی برائی کی اطلاع نہ ہوئی۔ اگر مرزا صاحب تشریف نہ لاتے تو جیسے پہلی ساری امت معاذ اللہ شرک عظیم میں مبتلا تھی۔ آگے اسی طرح شرک عظیم میں مبتلا رہتی اور ممکن ہے کہ آئندہ کوئی اور شخص مجدد یا رسول اللہ ﷺ کا بروز بن کر آوے اور نیا شرک ثابت کر دے تو جب قرآن اور حدیث اور مسلمانوں کا ایسا مذہب ہے کہ شرک عظیم کا اس میں تیرہ سو برس تک پتہ نہ لگا تو پھر اس مذہب کا کیا اعتبار رہے گا؟

١٨٥

OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

اس ضمن میں مرزا صاحب کا ایک ج ٢٢ ص٥٧٤) جو بالفاظ ذیل ہے۔ ’’ہاں اگر صرف یہی جواب نہیں دوں گا کہ میں معجزہ جواب یہ ہے کہ اس نے میرا دعویٰ ثابت کر کم نبی ایسے آئے ہیں جنہوں نے اس قدر ص١٨٣) پر مرزا صاحب کا ایک شعر ہے جو ا المنیر وان لی ‘‘ جس کا یہ مطلب ہے کہ ا لئے چاند اور سورج کا اس میں شق القمر کے اللہ ﷺ کی توہین اور شق القمر کا انکار ہے اخذ کی جاتی ہے جس سے صاف طور پر تقابل اس طرح (خطبہ الہامیہ ص ت حا والمسیح ‘‘ کے ایک مقولہ سے ظاہر کیا اس میں جو یہ الفاظ درج ہیں کہ یہ وعدہ قر گا۔ یہ بالکل خلاف واقع جھوٹ ہے۔ قرآ اشعار محولہ بیان مولوی نجم الدین

آنچہ داد است ہر نبی را جا
انبیاء گرچہ بودہ اند
کم نیم زاں ہمہ بروے یقی

2176 اور جو مضمون ان اشعار گواہ کی طرف سے کہا گیا ہے کہ باہمی ف افضل ہے وہ کسی قرینہ سے ظاہر ہو جائے اپنی امت کو یہ پہنچایا ہے۔ مگر اس احتیاط ایک پیغمبر کو اگر چہ واقعی ہو کہ جس میں دوس چھٹی وجہ تکفیر میں مدعیہ کی ط ص٥٥٦، خزائن ج٣ ص٣٩٩) پر لکھتے ہیں

صفحہ ٢٠٦٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

چنانچہ مرزا صاحب ایک اور استفتاء (ضمیمہ حقیقت الوحی ص ٤٤، خزائن ج ٢٢ ص ٦٢٢) پر لکھتے ہیں کہ: ”جو شخص بالقصد اس کا خلاف کرے اور یہ کہے کہ عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہے۔ پس ان لوگوں میں سے ہے کہ جو قرآن کے کافر ہیں۔ ہاں جو لوگ مجھ سے پہلے گزر گئے وہ اپنے اللہ کے نزدیک معذور ہیں۔“

دوسری کتاب (دافع البلاء ص ١٥، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٥) پر لکھتے ہیں کہ: ”ہم نے سنا ہے کہ وہ بھی دوسرے مولویوں کی طرح اپنے مشرکانہ عقیدہ کی حمایت میں کہ تاکہ کسی طرح حضرت مسیح ابن مریم کو موت سے بچالیں اور دوبارہ اتار کر خاتم الانبیاء بنادیں۔ بڑی جانکاہی سے کوشش کر رہے ہیں۔“

(الفضل ج ٣ نمبر ٣، مورخہ ٢٩/ جون ١٩١٥ء، ص ٧) پر درج ہے: ”پس ان معنوں میں مسیح موعود جو آنحضرت ﷺ کی بعثت ثانی کے ظہور کا ذریعہ ہے۔ اس کے احمد اور نبی اللہ ہونے سے انکار کرنا گویا آنحضرت ﷺ کی بعثت ثانی اور نبی اللہ ہونے سے انکار کرنا ہے۔ جو منکر کو دائرہ اسلام 2178 سے خارج اور پکا کافر بنا دینے والا ہے۔“

اس ضمن میں مولوی نجم الدین صاحب گواہ مدعیہ نے ایک وجہ کفریہ بیان کی ہے کہ مرزا صاحب نے تمام مسلمانان عالم کو جو ان کی جماعت میں داخل نہیں خواہ وہ ان کو کافر کہیں یا نہ کہیں اور بقول خلیفہ ثانی ان کو دعوت پہنچے یا نہ۔ خارج از اسلام قرار دیا ہے۔ جو شخص تمام امت محمدیہ کو اسلام سے خارج کہتا ہے وہ کس طرح خود کو کفر کی زد سے بچاسکے گا۔

ان وجوہ کفر کے علاوہ مرزا صاحب کے حسب ذیل اعتقادات بھی عامۃ المسلمین کے اعتقادات کے خلاف بیان کئے گئے ہیں۔

مرزا صاحب یہ کہتے ہیں کہ قیامت کے معنی جو مسلمان اب تک سمجھتے تھے اس معنی پر قیامت نہیں ہونے کی۔ قرآن میں جو نفخ صور آیا ہے نہ اس سے یہ مراد ہے کہ واقعی کوئی نفخ صور ہے اور نہ یہ مراد ہے کہ قیامت قائم ہوگی۔ بلکہ اس سے مراد مرزا صاحب کا تشریف لانا ہے۔ قیامت کے متعلق جتنی آیات قرآن مجید میں ہیں اور جتنی احادیث میں ہیں ان تمام امور کا انکار ہے۔ صرف لفظوں کا انکار نہیں۔ مگر جن معنوں سے قرآن اور حدیث قیامت کو بیان کرتے ہیں۔ ان چیزوں کا انکار ہے۔ مردوں کا قبروں سے اٹھنا جو بہت سی آیات میں مذکور ہے اس کا بھی انکار ہے۔ وغیرہ وغیرہ!

١٨٦

صفحہ ٢٠٦٥

2065 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

(خلاف شرع قادیانی عقائد )

مولوی غلام محمد صاحب شیخ الجامعہ گواہ مدعیہ نے مرزا صاحب کے چند دیگر اقوال بھی خلاف شریعت بیان کئے ہیں جو حسب ذیل ہیں۔

مثلاً مرزا صاحب اپنی کتاب (آئینہ کمالات ص ٥٦٤، ٥٦٥، خزائن ج ٥ ص ایضاً) پر لکھتے ہیں کہ: ”میں نے خواب میں اپنے آپ کو اللہ کا عین دیکھا اور یقین کیا کہ میں وہی ہوں اور خدائی والوہیت میرے رگ وریشہ میں گھس گئی اور میں نے اس حالت میں دیکھا کہ ہم نیا نظام بنانا چاہتے ہیں۔ نئی زمین ، نیا آسمان ۔ پس پہلے میں نے آسمان اور زمین کو اجمالی صورت میں پیدا کیا۔ جس میں کوئی تفریق وترتیب نہ تھی۔ پھر میں نے ان کو مرتب کیا اور میں اپنے دل سے جانتا تھا کہ 2179 میں ان کے پیدا کرنے پر قدرت رکھتا ہوں۔ پھر میں نے سب سے قریبی آسمان کو پیدا کیا۔ پھر میں نے کہا کہ ’انا زینا السماء الدنیا بمصابیح...... الخ!‘ پھر میں نے کہا کہ ہم انسان کو کیچڑ میں سے پیدا کریں گے۔“

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مرزا صاحب نے الوہیت کا دعویٰ کیا اور اپنے آپ کو خالق جانا اور کوئی شخص جب خدائی کا دعویٰ کرے اور اپنے آپ کو خالق جانے تو وہ اسلام سے مرتد ہو جاتا ہے۔

(حقیقت الوحی ص ٨٦، خزائن ج ٢٢ ص ٨٩) پر لکھتے ہیں کہ: ”خدا نے مجھے فرمایا کہ تو مجھ سے بمنزلہ میرے فرزند کے ہے۔“

اس کتاب (حقیقت الوحی ص ١٠٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٦) پر لکھتے ہیں کہ: ”میں رسول کے ساتھ ہو کر جواب دوں گا۔ کبھی خطا کروں گا کبھی ثواب کو پہنچوں گا۔“

اس سے خدا کو غلطی کرنے والا قرار دیا گیا ہے۔

اسی کتاب (حقیقت الوحی ص ٧٥، خزائن ج ٢٢ ص ٧٨) پر لکھتے ہیں کہ: ”اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جیسے زمین و آسمان ہمارے ساتھ اسی طرح تمہارے ساتھ بھی ہے۔“ اس سے مرزا صاحب نے اللہ تعالیٰ کی طرح اپنے آپ کو حاضر و ناظر جانا۔

اسی کتاب (حقیقت الوحی ص ١٠٥، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٨) پر لکھتے ہیں کہ: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تو جس چیز کو بنانا چاہے۔ پس ’کن کہہ دے‘ وہ ہو جائے گی۔“

(البشریٰ ج دوم ص ٧٩) پر لکھتے ہیں کہ: ”میں (اللہ تعالیٰ) نماز بھی پڑھتا ہوں، روزے بھی رکھتا ہوں ، جاگتا بھی ہوں اور سوتا بھی ہوں۔ جس طرح میں ازلی ہوں۔ اس طرح تیرے

١٨٧

OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

چنانچہ مرزا صاحب ایک اور استن لکھتے ہیں کہ: ”جو شخص بالقصد اس کا خلاف کر لوگوں میں سے ہے کہ جو قرآن کے کافر ہیں نزدیک معذور ہیں۔“

دوسری کتاب (دافع البلاء ص ١٥ بحز وہ بھی دوسرے مولویوں کی طرح اپنے مشرکا ابن مریم کو موت سے بچالیں اور دوبارہ اتار رہے ہیں۔“

(الفضل ج ٣ نمبر ٣ ، مورخہ ٢٩/ جون موعود جو آنحضرت ﷺ کی بعثت ثانی کے ظا انکار کرنا گویا آنحضرت ﷺ کی بعثت ثانی اسلام 2178 سے خارج اور پکا کافر بنا دینے وا

اس ضمن میں مولوی نجم الدین مرزا صاحب نے تمام مسلمانان عالم کو جواز کہیں اور بقول خلیفہ ثانی ان کو دعوت پہنچے محمدیہ کو اسلام سے خارج کہتا ہے وہ کس طر

ان وجوہ کفر کے علاوہ مرزا صا اعتقادات کے خلاف بیان کئے گئے ہیں۔

مرزا صاحب یہ کہتے ہیں کہ قیا قیامت نہیں ہونے کی۔ قرآن میں جو نفخ ہے اور نہ یہ مراد ہے کہ قیامت قائم ہوگ قیامت کے متعلق جتنی آیات قرآن مجید ا ہے۔ صرف لفظوں کا انکار نہیں ۔ مگر جن م ان چیزوں کا انکار ہے۔ مردوں کا قبروں ہے۔ وغیرہ وغیرہ !

صفحہ ١٨٨

2067 NATIONAL

بھی مرزا صاحب کافر ہوئے۔ کے بعد کفر قرار دیا ہے۔ اب کہتے ہیں۔ یہ اس سے بڑھ کر کفر ہے۔ محدود نہیں رکھتے۔ بلکہ یہ کہتے ہیں

کہ کوئی دوسرا نبی آئے گا۔ بلکہ یہ کہتے فرمائیں۔ گویا رسول اللہ ﷺ جیسے باقی نہیں بلکہ امکان وقوعی ہے۔ پھر بعثت ثانیہ ہوئی اس کا حاصل تناسخ

کہ سرور عالم کی توہین ہے۔ اگر واقعی میرے نبی ہوئے اور ختم نبوت کی مہر

نا نبوت کیا جو کفر ہے۔ ل کے برابر کہا۔ اس بناء پر قرآن

اس کی تصریح کی کہ جو شخص کسی نبی کو علیہ السلام کی کئی وجوہ سے توہین کی۔ علیہ السلام کی، سرور عالم کی توہین کی۔

ونے سے بھی مرزا صاحب پر کفر لازم یا اسے نکاح جائز نہیں۔ نیز یہ کہ کسی کہ خدا نے مجھے اطلاع دی ہے۔ پیچھے نماز پڑھو۔ بلکہ چاہئے کہ تمہارا (حاشیہ ص ٢٨، خزائن ج ١٧ ص ٤١٧)

2066 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

لئے بھی میں نے ازلیت کے انوار کر دیئے ہیں اور تو بھی ازلی ہے۔" (توضیح المرام ص ٧٥، خزائن ج ٣ ص ٩٠) پر لکھتے ہیں کہ: "قیوم العالمین ایک ایسا وجود اعظم ہے کہ جس کے بے شمار ہاتھ اور بے شمار پیر ہیں اور ہر ایک عضو اس کثرت سے ہے کہ تعداد سے خارج اور لا انتہاء عرض وطول رکھتا ہے اور تیندوے کی طرح اس وجود اعظم کی تاریں بھی ہیں جو صفحہ ہستی کے تمام کناروں تک پھیل رہی ہیں اور کشش کا کام دے رہی ہیں۔"

اس سے معلوم ہوا کہ مرزا صاحب خداوند تعالیٰ کو تیندوے کے ساتھ تشبیہ دیتے ہیں۔

کتاب (ضمیمہ نمبر ٣ تریاق ص ١٥٨، خزائن ج ١٥ ص ٤٩٧) پر مرزا صاحب لکھتے ہیں کہ: "نئی زندگی ہرگز حاصل نہیں ہو سکتی جب 2180 تک ایک نیا یقین پیدا نہ ہو اور کبھی نیا یقین پیدا نہیں ہو سکتا۔ جب تک موسیٰ مسیح اور یعقوب اور محمد مصطفےٰ ﷺ کی طرح نئے معجزات نہ دکھلائے جائیں۔ نئی زندگی انہی کو ملتی ہے جن کا خدا نیا ہو۔"

اس سے مرزا صاحب نے خدا کو حادث بتلایا اور یہ عقائد وہ ہیں جو مرزا صاحب نے اللہ تعالیٰ کے متعلق رکھے ہیں اور ان سے یقیناً ایک مسلمان مرتد ہو جاتا ہے۔

قرآن شریف کے متعلق مرزا صاحب کا عقیدہ حسب ذیل ہے۔

(حقیقت الوحی ص ٨٤، خزائن ج ٢٢ ص ٨٧) پر لکھتے ہیں کہ : ”قرآن شریف خدا کی کتاب اور میرے منہ کی باتیں ہیں۔“ ان دلائل کے علاوہ مدعیہ کی طرف سے چند نظائر بمثل مسیلمہ کذاب وغیرہ کے بھی پیش کی گئی ہیں کہ انہوں نے دعویٰ نبوت کیا تھا اور اس بناء پر انہیں قتل کیا گیا ان کی زیادہ تفصیل درج کرنے کی ضرورت نہیں۔“

اس تمام بحث سے جو اوپر بیان ہوئی حسب ذیل نتائج برآمد کئے گئے ہیں۔

کفر ہے۔ مرزا صاحب نے اپنے کلام میں شریعت کی تشریح بھی کر دی ہے۔

نبوت کرے وہ کافر ہے۔ مرزا صاحب نے دعویٰ نبوت کیا اس لئے کافر ہوئے۔

اور اس کو قرآن کا انکار کرنا بتلایا ہے۔ لیکن پھر خود دعویٰ نبوت کیا۔

الانبیاء ہونا۔ خاتم النبیین اور ”لا نبی بعدی“ سے ثابت ہے اور پھر اس کے بعد یہ کہا کہ جو ایسا

١٨٨

صفحہ ٢٠٦٧

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

کہے کہ آپ کے بعد نبوت نہیں آسکتی وہ خود کافر ہے۔ اس لئے بھی مرزا صاحب کافر ہوئے۔

مرزا صاحب اس نبوت کو فرض قرار دیتے ہیں اور ایمان قرار دیتے ہیں۔ یہ اس سے بڑھ کر کفر ہے۔

کہ قیامت تک کھلا رہے گا۔ اس وجہ سے بھی کافر ہوئے۔

ہیں کہ ممکن ہے کہ ہزار بار محمد رسول اللہ ﷺ ہی خود بروز فرمائیں۔ گویا رسول اللہ ﷺ جیسے ہزاروں لوگ یا ہزاروں نبی اب واقع ہو سکتے ہیں۔ امکان ذاتی نہیں بلکہ امکان وقوعی ہے۔ پھر مرزا صاحب نے یہ کہا کہ سرور عالم کی ایک بعثت پہلے تھی۔ ایک بعثت ثانیہ ہوئی اس کا حاصل تناسخ ہے جو تناسخ کا قائل ہے وہ کافر ہے۔

عین ہیں تو کھلا ہوا کفر۔ اگر عین محمد نہیں ہیں تو ان کے بعد دوسرے نبی ہوئے اور ختم نبوت کی مہر ٹوٹ گئی۔ یہ اور وجہ کفر کی ہوئی۔

آخر الکتب باقی نہیں رہتا۔ یہ بھی وجہ کفر ہے۔

گالی دے یا توہین کرے وہ کافر ہے۔ مرزا صاحب نے عیسیٰ علیہ السلام کی کئی وجوہ سے توہین کی۔ ہر توہین موجب کفر ہے۔ علاوہ ازیں مرزا صاحب نے آدم علیہ السلام کی ، سرور عالم کی توہین کی۔ اس لئے بھی کافر ہوئے۔

آتا ہے۔ مرزا صاحب نے فرمایا کہ کسی احمدی عورت کا غیر احمدی سے نکاح جائز نہیں۔ نیز یہ کہ کسی غیر احمدی کا جنازہ پڑھنا جائز نہیں۔ نیز فرمایا کہ ”پس یاد رکھو کہ خدا نے مجھے اطلاع دی ہے۔ تمہارے پر حرام اور قطعی حرام ہے کہ کسی مکفر مکذب یا متردد کے پیچھے نماز پڑھو۔ بلکہ چاہئے کہ تمہارا وہی امام ہو جو تم میں سے ہو ۔“

(اربعین نمبر ٣ حاشیہ ص ٢٨، خزائن ج ١٧ ص ٤١٧)

١٨٩

PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

لئے بھی میں نے ازلیت کے انوار کر دئیے

(توضیح المرام ص ٧٥، خزائن ج ٣ ص ٥)

ہے کہ جس کے بے شمار ہاتھ اور بے شمار خارج اور لا انتہاء عرض وطول رکھتا ہے اور ہستی کے تمام کناروں تک پھیل رہی ہیں اس سے معلوم ہوا کہ مرزا صاحب کتاب ( ضمیمہ نمبر ٢ تریاق ص ٨ ، خزائن ج ١٥ ص ٥٠٥) زندگی ہرگز حاصل نہیں ہو سکتی جب 180 ہو سکتا ۔ جب تک موسیٰ مسیح اور یعقوب جائیں۔ نئی زندگی انہی کو ملتی ہے جن کا خدا اس سے مرزا صاحب نے خ اللہ تعالیٰ کے متعلق رکھے ہیں اور ان سے قرآن شریف کے متعلق مرزا

(حقیقت الوحی ص ٨٤ ، خزائن ج ٢٢ ص ٨٧)

اور میرے منہ کی باتیں ہیں۔ ”ان دلائل وغیرہ کے بھی پیش کی گئی ہیں کہ انہوں زیادہ تفصیل درج کرنے کی ضرورت نہیں اس تمام بحث سے جو اوپر بیا

کفر ہے۔ مرزا صاحب نے اپنے کلام میں

نبوت کرے وہ کافر ہے۔ مرزا صاحب ن

اور اس کو قرآن کا انکار کرنا بتلایا ہے۔ لیکن

الانبیاء ہونا ۔ خاتم النبیین اور ”لا نبی بـ“

صفحہ ٢٠٦٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

مرزا صاحب نے فرمایا ہے کہ ”جو مجھے نہ مانے وہ کافر ہے۔“

(حقیقت الوحی ص ١٦٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٦٧)

جس طریق سے قیامت کی خبر قرآن اور حدیث میں آئی۔ ان سے بالکل انکار ہے۔ صرف ظاہری الفاظ ہی رکھے۔ مگر معنی الٹ بیان کئے۔ یہ وجوہ بھی مرزا صاحب کی تکفیر کے ہیں۔ لہٰذا ان وجوہ پر کسی مسلمان مرد و عورت کا کسی احمدی مرد عورت سے نکاح جائز نہیں۔ اگر نکاح ہو گیا تو اور نکاح کے بعد کوئی اس مذہب میں داخل ہو جائے تو نکاح فوراً فسخ ہو جائے گا۔

(قادیانیوں کے متعلق فتویٰ جات)

اور اپنے اس ادعا کی تائید میں چند دیگر علماء کے فتاوے بھی پیش کئے گئے ہیں جو مسل کے ساتھ شامل ہیں اور سید انور شاہ صاحب گواہ نے مصر اور شام کے دو مطبوعہ فتوؤں کا حوالہ بھی اپنے بیان میں دیا ہے۔

تحریری فتوے جو مسل پر لائے گئے ہیں حسب ذیل مقامات کے علماء کے ہیں۔ مکہ معظمہ، ریاست رام پور، دارالافتاء ریاست بھوپال، ہمایوں (سندھ) بریلی۔ ڈابھیل، دہلی سہارن پور تھانہ بھون ملتان علماء کی فہرست میں شیخ عبداللہ صاحب رئیس القضاۃ مکہ معظمہ، مفتی کفایت اللہ صاحب صدر جمعیت علماء ہند اور مولوی اشرف علی صاحب کے اسماء بھی ہیں۔

فریق ثانی کی طرف سے ان دلائل کا جو مرزا صاحب کی تکفیر کے متعلق مدعیہ کی طرف سے پیش کئے گئے ہیں۔ تین طریق پر جواب دیا گیا ہے۔

اول ! یہ کہ مرزا صاحب کی جن عبارات سے یہ دکھلایا گیا ہے کہ ان سے ان کے عقائد کفریہ ظاہر ہوتے ہیں۔ ان عبارات کے ماسبق اور مابعد کی عبارات کو مدنظر نہیں رکھا گیا اور نہ ہی سیاق و سباق عبارت کو زیر غور لایا گیا ہے اگر ان امور کو مدنظر رکھتے ہوئے ان عبارات پر غور کیا جاوے تو ان سے وہ نتائج اخذ نہیں ہوتے جو گواہان مدعیہ نے بیان کئے ہیں۔

دوسرا ! یہ کہ مرزا صاحب نے خود دیگر مقامات پر ان عبارات کی تشریح کر دی ہے۔ اس لئے ان عبارات سے وہی مفہوم لیا جائے گا جو انہوں نے خود بیان کیا اور کہ دیگر مقامات پر ایسی عبارات بھی موجود ہیں کہ جن کو مدنظر رکھتے ہوئے نہیں کہا جاسکتا کہ ان عبارات زیر اعتراض سے مرزا صاحب کا وہی مدعا تھا جو گواہان مدعیہ نے اخذ کیا۔

١٩٠

صفحہ ٢٠٦٩

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

تیسرا! یہ کہ مرزا صاحب کے اقوال زیر بحث میں سے بعض اقوال ایسے ہیں جو دیگر بزرگان دین سے بھی سرزد ہوئے۔ لیکن فریق مدعیہ کے نزدیک وہ بزرگان مسلمان تھے اس لئے ان اقوال کی بناء پر مرزا صاحب کے خلاف کیونکر فتویٰ تکفیر لگایا جاسکتا ہے۔ یہ تمام امور تشریح طلب ہیں اور اپنے اپنے موقعہ پر ان کی تفصیل بیان کی جائے گی اور وہاں ان کا پورا جواب بھی دیا جائے گا۔ یہاں ان کے متعلق مختصراً یہ درج کیا جاتا ہے کہ عبارات زیر بحث میں سے بعض ایسی ہیں کہ جو اپنے اندر ایک مستقل مفہوم لئے ہوئے ہیں اور ان میں کوئی ایسا ابہام نہیں ہے کہ جو کسی تشریح یا توجیہ کا محتاج ہو۔ اس لئے ایسی عبارات کے نہ ماسبق اور مابعد دیکھنے کی ضرورت ہے اور نہ سیاق وسباق معلوم کرنے کی۔ لہٰذا ان فقرات کی اپنی ترتیب سے ہی جو مفہوم اخذ ہوگا وہی مراد لیا جائے گا۔

امر دوم ! کے متعلق اوّل تو مرزا صاحب کی کتابوں کے مطالعہ سے یہ پایا جاتا ہے کہ ان کے بہت سے اقوال میں تعارض ہے اور اس تعارض کو کسی صاف تشریح یا وضاحت سے رفع نہیں کیا گیا۔ دوسرا جیسا کہ اوپر درج کیا گیا ہے بعض عبارات فی نفسہ ایسے مستقل جملے ہیں کہ جو اپنے مفہوم کی خود وضاحت کر رہے ہیں۔ اس لئے تاوقتیکہ یہ نہ دکھلایا جاوے کہ یہ کلمات واپس لئے 2183 گئے ۔ دیگر کلمات نہ ان کے قائمقام تصور ہوسکتے ہیں اور نہ ان کی تشریح بن سکتے ہیں۔ اس لئے یہ کہنا غلط ہے کہ ان اقوال کو ان اقوال کے تحت سمجھا جاوے۔ جو مرزا صاحب نے دوسری جگہ بیان کئے ہیں۔ کیونکہ وہ اقوال اقوال زیر بحث کو مسترد نہیں کرتے۔ بلکہ جیسا کہ مدعیہ کے گواہ سید انور شاہ صاحب نے بیان کیا ہے۔ معلوم یہ ہوتا ہے کہ یہ روش مرزا نے عمداً اختیار کی تاکہ نتیجہ گڑبڑ رہے اور ان کو بوقت ضرورت مخلص اور مفر باقی رہے۔

امر سوم ! کے متعلق اوّل تو ان بزرگان کے اقوال بعینہ ان الفاظ میں نہیں جو مرزا صاحب نے بیان کئے ہیں۔ دوسرا مقدمہ ہذا میں ان بزرگان کے مسلمان یا نہ مسلمان ہونے کا سوال زیر بحث نہیں ہے اور نہ ہی ان کے دیگر حالات پیش نظر ہیں۔ اس لئے مرزا صاحب کے مقابلہ میں ان کے الفاظ پیش کرنا ایک سعی لاحاصل ہے۔

علاوہ ازیں سید انور شاہ صاحب گواہ مدعیہ نے یہ بیان کیا ہے کہ صوفیاء کے ہاں ایک باب ہے جس کو شطحیات کہتے ہیں۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ ان پر حالات گزرتے ہیں اور ان حالات میں کوئی کلمات ان کے منہ سے نکل جاتے ہیں جو ظاہری قواعد پر چسپاں نہیں ہوتے اور بسا اوقات غلط راستہ لینے کا سبب ہوجاتے ہیں۔ صوفیاء کی تصریح ہے کہ ان پر کوئی عمل پیرا نہ ہو اور ١٩١

Y OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

مرزا صاحب نے فرمایا ہے کہ "جو

جس طریق سے قیامت کی خبر قرآن اور حدیث الفاظ ہی رکھے۔ مگر معنی الٹ بیان کئے۔ یہ دجال کسی مسلمان مرد وعورت کا کسی احمدی مرد وعورت کے بعد کوئی اس مذہب میں داخل ہو جائے تو نکا

(قادیانیوں کے

اور اپنے اس ادعا کی تائید میں چند کے ساتھ شامل ہیں اور سید انور شاہ صاحب گ اپنے بیان میں دیا ہے۔

تحریری فتوے جو مسل پر لائے گئ معظمہ، ریاست رام پور، دارالافتاء ریاست سہارن پور تھانہ بھون ملتان علماء کی فہرست میں کفایت اللہ صاحب صدر جمعیت علماء ہند اور مو

فریق ثانی کی طرف سے ان دلائل سے پیش کئے گئے ہیں۔ تین طریق پر جواب دی اوّل ! یہ کہ مرزا صاحب کی جن عبا کفریہ ظاہر ہوتے ہیں۔ ان عبارات کے ماسبق سیاق وسباق عبارت کو زیرغور لایا گیا ہے اگر جاوے تو ان سے وہ نتائج اخذ نہیں ہوتے جو گو

دوسرا ! یہ کہ مرزا صاحب نے خود د لئے ان عبارات سے وہی مفہوم لیا جائے گا جو عبارات بھی موجود ہیں کہ جن کو مدنظر رکھتے ہو مرزا صاحب کا وہی مدعا تھا جو گواہان مدعیہ نے

صفحہ ٢٠٧٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

یہ تخصیص کرتے ہیں کہ جس پر یہ احوال نہ گزرے ہوں۔ وہ ہماری کتاب کا مطالعہ نہ کرے۔ مجملاً ہم بھی یہ سمجھتے ہیں کہ کوئی شخص جو کسی حال کا مالک ہوتا ہے دوسرا خالی آدمی ضرور اس سے الجھ جائے گا۔ لیکن دین میں کسی زیادتی کے صوفیاء میں سے بھی کوئی قائل نہیں اور ایسے مدعی کو کافر بالاتفاق کہتے ہیں۔

(احمدی حضرات کا مؤقف)

فریق ثانی کی طرف سے مرزا صاحب کی کتابوں سے ان کے چند عقائد بیان کئے جا کر یہ ظاہر کیا گیا ہے کہ قرآن مجید اور احادیث وفقہ کی رو سے جن باتوں کو ایک شخص کے مؤمن اور مسلمان ہونے کے لئے ضروری قرار دیا گیا ہے وہ سب مرزا صاحب میں ان کی جماعت میں پائی جاتی ہیں اور وہ ان سب پر خلوص دل اور صمیم قلب سے یقین اور اعتقاد رکھتے ہیں اور جن 2185 اعمال صالحہ کے بجالانے کا حکم دیا گیا ہے۔ وہ سب بجالاتے ہیں اور ان کا دین وہی ہے جو آنحضرت ﷺ خدا کی طرف سے لائے اور وہ ایمان رکھتے ہیں کہ دین اسلام کے سوا اگر کوئی شخص کوئی اور دین اختیار کرے تو وہ عنداللہ ہرگز مقبول نہیں۔ گواہان مدعیہ نے انہیں کافر، مرتد، ضال اور خارج از اسلام قرار دیا ہے اور ضروریات دین کا منکر ٹھہرایا ہے۔ لیکن جن امور کی بناء پر انہوں نے کافر اور مرتد کہا ہے۔ ان کا ضروریات دین سے ہونا قرآن مجید اور احادیث صحیحہ سے ثابت نہیں کیا۔ بلکہ انہوں نے اپنے فتویٰ تکفیر کی بناء بعض علماء کے اقوال پر رکھی ہے اور اس ضمن میں ان علماء کے طرز افتاء پر اعتراض کرتے ہوئے چند کتب فقہ کے حوالوں سے یہ دکھلایا گیا ہے کہ اگر ان امور کو جو ان حوالہ جات میں درج ہیں مدنظر رکھا جاوے تو اس سے بڑے بڑے بزرگ اور تمام شیعہ اور وہ نئے تعلیم یافتہ نوجوان جو یہ کہتے سنے جاتے ہیں کہ اگر جنت میں ان موجودہ مولویوں نے بھی جانا ہے تو ہمیں ایسی جنت نہیں چاہئے اور وہ تمام مسلمان جو سرکاری دفتر میں ملازم ہیں اور اپنے ہندو یا عیسائی افسران کو تحائف دیتے ہیں کافر ہیں اور ان عورتوں کے لئے جو اپنے خاوندوں کی بدسلوکی سے تنگ ہیں اور ان کے عقد نکاح سے نکلنا چاہتی ہیں یہ اچھی ترکیب بتلائی گئی ہے کہ اگر ان میں سے کوئی عورت یہ کہہ دے کہ میں کافر ہوئی ہوں تو معا وہ کافر ہو جائے گی اور اس کا نکاح فسخ ہو جائے گا اور وہ تمام مسلمان جو گاندھی ٹوپی یا ہیٹ لگاتے ہیں کافر ہیں اور اس طرح وہ مسلمان بھی جو ہندو اور انگریز افسروں کو سلام کرتے ہیں اور اس طرح سکول اور کالجوں کے وہ مسلمان طلباء جو اپنے ہندو یا عیسائی استادوں کو تعظیماً سلام کرتے ہیں اور اس طرح ہزار ہا وہ تعلیم

١٩٢

صفحہ ٢٠٧١

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15 یافتہ اشخاص جو مولویوں کی دقیانوسی باتوں پر جنہیں یہ لوگ علم اور دین خیال کرتے ہیں ہنستے ہیں کافر ہیں اور اس طرح وہ مسلمان جو کسی غیر مسلم کو اس کے سوال کرنے پر کہ مجھ پر اسلام کی صداقت بیان کر، کسی مولوی کے پاس برائے جواب لے جاتے ہیں کافر ہیں۔ وغیرہ وغیرہ! 2186 پس اگر ان علماء اور مولویوں کے کہنے پر کسی کو کافر بنایا جاسکتا ہے تو مذکورہ بالا امور کے تحت تمام ایسے مسلمان جو اوپر بیان کئے گئے ہیں کافر ہیں اور ان کا نکاح فسخ ہونا چاہئے۔ لیکن اصول مذکورہ بالا پر علماء کا موجودہ زمانہ میں عمل نہیں ہے اور ان امور کو جو ان حوالہ جات میں درج ہیں۔ ضروریات دین میں سے سمجھا گیا ہے اور ان کے منکر کو کافر اور مرتد کہا گیا ہے۔ اس کے بعد یہ بیان کیا گیا ہے کہ گواہان مدعیہ نے اپنے بیانات کی تائید میں چند مفسرین کے اقوال نقل کئے ہیں۔ لیکن یہ بہت بڑی غلطی ہے کہ مفسرین کے اقوال کو بلا سوچے سمجھے من وعن تسلیم کر لیا جاوے اور جو کچھ وہ اپنے خیال وعقیدہ کے مطابق لکھ گئے اسے حرف بحرف مان لیا جاوے۔ اس لئے ہمیں حسب تعلیم قرآن مجید ضروری ہوا کہ ہم خود بھی قرآن مجید کی آیات میں غور وتدبر کریں اور تحقیق کے بعد جو اقرب الی الصواب ہو اس کو اختیار کریں۔ پس مفسرین کے اقوال پر عقائد کی بنیاد رکھنا صحیح نہیں ہے۔ علماء اور ائمہ کی اندھی تقلید نہایت مذموم ہے۔ پس یہ ضروری نہیں کہ پہلے علماء جو کچھ تفسیروں میں لکھ گئے ہم آنکھ بند کر کے ان پر ایمان لے آویں۔ بلکہ ہمارا فرض ہے کہ ہم ان فتوؤں اور اقوال کو کتاب اللہ، سنت رسول اللہ ﷺ اور عقل سلیم کی کسوٹی پر پرکھیں اور جو قرآن اور سنت سے صحیح ثابت ہو، اسے اختیار کریں اور مخالف کو چھوڑ دیں اور امت کے ان علماء کے متعلق ہمارا مذہب یہ ہے کہ انہوں نے اپنی نیک نیتی سے جو باتیں موافق اور مخالف پائیں یا جو وہ سمجھ سکے وہ ہم تک پہنچا دیں۔ جس کے لئے وہ تمام ہمارے شکریہ کے مستحق ہیں۔

اس کے آگے پھر وجوہات تکفیر کا جواب شروع ہو جاتا ہے۔ اس لئے تحت میں اس بحث کا جواب درج کیا جاتا ہے۔

مرزا صاحب کے عقائد کے متعلق سید انور شاہ صاحب گواہ مدعیہ نے نہایت عمدہ جواب دیا ہے وہ کہتے ہیں کہ مرزا صاحب چونکہ مادر زاد کافر نہ تھے اور ابتداء ان کی تمام اسلامی عقائد پر نشوونما ہوئی۔ اس لئے انہی کے وہ پابند تھے اور وہی رہے۔ پھر تدریجا ان سے الگ ہونا شروع ہوا۔ یہاں تک کہ آخری اقوال میں بہت سی ضروریات دین کے قطعا مخالف ہو گئے۔ دوسرا یہ کہ 2187 انہوں نے باطل اور جھوٹ دعوؤں کو رواج دینے کے لئے یہ تدبیر اختیار کی کہ اسلامی عقائد کے الفاظ وہی قائم رکھے جو قرآن اور حدیث میں مذکور ہیں اور عام وخاص مسلمانوں کی

١٩٣

DF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15 تصریحیں کرتے ہیں کہ جس پر یہ احوال نـ مجملاً ہم بھی یہ سمجھتے ہیں کہ کوئی شخص جو کسی حا جائے گا۔ لیکن دین میں کسی زیادتی کـ بالاتفاق کہتے ہیں۔

(احمدی حـ

فریق ثانی کی طرف سے مرزا صـ جا کر یہ ظاہر کیا گیا ہے کہ قرآن مجید اور احادیـ اور مسلمان ہونے کے لئے ضروری قرار دیا گـ پائی جاتی ہیں اور وہ ان سب پر خلوص دل سـ 2185 اعمال صالحہ کے بجالانے کا حکم دیا گیا ۔ آنحضرت ﷺ خدا کی طرف سے لائے اور کوئی اور دین اختیار کرے تو وہ عنداللہ ہرگز مـ اور خارج از اسلام قرار دیا ہے اور ضروریات نے کافر اور مرتد کہا ہے۔ ان کا ضروریات د نہیں کیا۔ بلکہ انہوں نے اپنے فتویٰ تکفیر کی بنـ علماء کے طرز افتاء پر اعتراض کرتے ہوئے چـ امور کو جو ان حوالہ جات میں درج ہیں مدنظر شیعہ اور وہ نئے تعلیم یافتہ نوجوان جو یہ کہتے ہـ نے بھی جانا ہے تو ہمیں ایسی جنت نہیں چاہیـ اپنے ہندو یا عیسائی افسران کو تحائف دیتے ہیـ کی بدسلوکی سے تنگ ہیں اور ان کے عقد نکاح اگر ان میں سے کوئی عورت یہ کہہ دے کہ میـ نکاح فسخ ہو جائے گا اور وہ تمام مسلمان جو گائـ مسلمان بھی جو ہندو اور انگریز افسروں کو سلا مسلمان طلباء جو اپنے ہندو یا عیسائی استادوں

صفحہ ٢٠٧٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

زبانوں پر جاری ہیں۔ لیکن ان کے حقائق کو ایسا بدل دیا جس سے بالکل ان عقائد کا انکار ہو گیا۔ اس لئے مرزا صاحب کی کتابوں سے ایسے اقوال پیش کرنا جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ بعض عقائد میں اہل سنت والجماعت کے ساتھ شریک ہیں۔ ان کے اقوال وافعال کفریہ کا کفارہ نہیں بن سکتے۔ جب تک اس کی تصریح نہ ہو کہ ان عقائد کی مراد بھی وہی ہے جو جمہور امت نے سمجھی اور پھر اس کی تصریح نہ ہو کہ جو عقائد کفریہ انہوں نے اختیار کئے تھے۔ ان سے توبہ کر چکے ہیں اور جب تک توبہ کی تصریح نہ ہو چند عقائد اسلام کے الفاظ کتابوں میں لکھ کر کفر سے نہیں بچ سکتے۔ کیونکہ زندیق اس کو کہا جاتا ہے کہ جو عقائد اسلام ظاہر کرے اور قرآن وحدیث کے اتباع کا دعویٰ کرے۔ لیکن اس کی ایسی تاویل اور تحریف کردے، جن سے اس کے حقائق بدل جائیں۔ اس لئے جب تک اس کی تصریح نہ دکھلائی جاوے کہ مرزا صاحب ختم نبوت اور انقطاع وحی کے ان معنی کے لحاظ سے قائل ہیں جس معنی سے کہ صحابہ، تابعین اور تمام امت محمدیہ قائل ہے۔ اس وقت تک ان کی کسی ایسی عبارت کا مقابلہ میں پیش کرنا مفید نہیں ہو سکتا۔ جس میں خاتم النبیین کے الفاظ کا اقرار کیا۔ اسی طرح نزول مسیح وغیرہ عقائد کے الفاظ کا کسی جگہ اقرار کر لینا یا لکھ دینا بغیر تصریح مذکور کے ہرگز مفید نہیں ہے۔ خواہ وہ عبارت تصنیف میں مقدم ہو یا مؤخر۔

یہ بات ثابت ہو چکی کہ مرزا صاحب اپنی اخیر عمر تک دعویٰ نبوت پر قائم رہے اور اپنے کفریہ عقائد سے کوئی توبہ نہیں کی۔ علاوہ ازیں اگر یہ ثابت بھی نہ ہو تو کلمات کفریہ اور عقائد کفریہ کہنے اور لکھنے کے بعد اس وقت تک ان کو مسلمان نہیں کہہ سکتے۔ جب تک ان کی طرف سے ان عقائد سے توبہ کرنے کا اعلان نہ پایا جاوے اور یہ اعلان ان کی کسی کتاب یا تحریر سے ثابت نہیں پایا گیا۔

عدالت ہذا کی رائے میں مرزا صاحب کے عقائد کی بابت یہ جواب بہت جامع اور مدلل ہے اور گو کہ مختار مدعیہ نے اپنی بحث میں ان کے ہر عقیدہ پر تفصیلی بحث بھی کی ہے۔ لیکن اس کی 2188 موجودگی میں ان عقائد پر مزید کسی بحث کی ضرورت نہیں رہتی۔ مختار مدعیہ نے بحث کی ہے کہ مرزا صاحب کا خود کلمہ طیبہ پر بھی پورا ایمان نہ تھا۔ کیونکہ اس کلمہ پر اس صورت میں ہی مکمل ایمان تصور ہو سکتا ہے۔ جب کہ خداوند تعالیٰ کی صفات اور رسول اللہ ﷺ کی خصوصیات پر پورا ایمان ہو۔ مرزا صاحب کے بعض اقوال سے یہ پایا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنے اندر الوہیت کو موجزن پایا اور اپنے آپ میں خدائی طاقتیں اور صفتیں موجود دیکھیں اور اپنے آپ کو رسول اللہ ﷺ کی خصوصیات اور مدارج میں شریک بتلاتے ہیں اور انہیں خاتم النبیین بمعنی آخری نبی تسلیم نہیں کرتے۔ اس لئے نہیں کہا جاسکتا کہ وہ کلمہ طیبہ پر انہیں لوازم کے تحت ایمان رکھتے ہیں۔

١٩٤

صفحہ ٢٠٧٣

2073 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

جیسا کہ دیگر مسلمان۔ اس لئے بھی انہیں مسلمان تصور نہیں کیا جا سکتا۔

لیکن عدالت ہٰذا کی رائے میں ایسی تفصیلی بحث میں جانے کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ مرزا صاحب کی تکفیر کا سوال مقدمہ ہٰذا میں اصل سوال مابہ النزاع نہیں بلکہ ایک ضمنی سوال ہے۔ اصل سوال مدعاعلیہ کے ارتداد اور تکفیر کا ہے۔ اس لئے مرزا صاحب کے اعتقادات کے متعلق صرف اس حد تک بحث کی ضرورت ہے جس حد تک کہ مدعاعلیہ کے خلاف امور مذکورہ بالا کے تصفیہ کے لئے روشنی پڑسکتی ہے۔

علاوہ ازیں اگر اس بحث کو بفرض محال صحیح بھی تسلیم کر لیا جاوے تو پھر یہ دکھلانا پڑے گا کہ مدعاعلیہ کا کلمہ طیبہ پر بھی ویسا ہی ایمان ہے۔ جیسا کہ مرزا صاحب کا، اور اس کا حل مشکلات سے خالی نہیں ہوگا۔ کیونکہ مدعاعلیہ کی نیت کا اندازہ پورے طور نہیں لگایا جاسکتا۔

مدعاعلیہ کی طرف سے یہ کہا گیا ہے کہ جن امور کی بناء پر مرزا صاحب اور ان کی جماعت کو ضروریات دین کا منکر قرار دیا جا کر کافر اور مرتد کہا گیا ہے ان کا ضروریات دین سے ہونا قرآن مجید یا احادیث صحیحہ سے ثابت نہیں کیا گیا۔ معلوم ہوتا ہے کہ مدعاعلیہ کی طرف سے یا تو مدعیہ کی پیش کردہ شہادت اور بحث کو بغور ذہن نشین نہیں رکھا گیا یا دیدہ دانستہ مغالطہ پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔ گواہان مدعیہ نے بہت تکرار اور شدومد کے ساتھ اور خود مرزا صاحب کے 2189 اپنے حوالوں سے یہ دکھلایا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے خاتم النبیین ہونے کا عقیدہ بایں معنی کہ آپ کے بعد کوئی نیا نبی نہیں آ سکتا۔ نص قرآن سے اور احادیث متواترہ سے اور اجماع امت سے ضروریات دین سے ہے اور اس کا انکار کفر ہے اور اس کی تائید میں انہوں نے بہت سی آیات قرآن اور احادیث پیش کی ہیں کہ جن میں سے بعض کی صحت کے متعلق جیسا کہ آگے دکھلایا جائے گا۔ خود مدعاعلیہ کو بھی انکار نہیں۔ پھر سمجھ میں نہیں آتا کہ کیونکر یہ کہا گیا ہے کہ انہوں نے قرآن یا حدیث سے اس کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔ البتہ اگر یہ کہا جاتا کہ وہ ثبوت قوی نہیں، تو کچھ بات بھی تھی۔ لیکن یہ کہنا بالکل خلاف واقع ہے کہ ان کی طرف سے قرآن اور احادیث سے کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔ مدعیہ کی طرف سے بیان کردہ وجوہات تکفیر اوپر درج کی جا چکی ہیں۔ ممکن ہے کہ ان میں سے بعض کے متعلق (گو کہ ایسا نہیں ہے جیسا کہ آگے دکھلایا جائے گا) یہ کہا جا سکے کہ وہ ضروریات دین میں سے نہیں ہیں۔ مگر مسئلہ ختم نبوت کے متعلق یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ضروریات دین سے نہیں۔ ضروریات دین کی اگرچہ ایک وسیع اصطلاح ہے اور ممکن ہے کہ بعض علماء نے اس کے تحت میں اپنی دانست کے مطابق بہت سے ایسے امور بھی داخل کر دیئے ہوں کہ جو بحث طلب

١٩٥

OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

زبانوں پر جاری ہیں۔ لیکن ان کے حقائق کو ا اس لئے مرزا صاحب کی کتابوں سے ایسے اقو میں اہل سنت والجماعت کے ساتھ شریک ہ سکتے۔ جب تک اس کی تصریح نہ ہو کہ ان عقائ اس کی تصریح نہ ہو کہ جو عقائد کفریہ انہوں ن تک توبہ کی تصریح نہ ہو چند عقائد اسلام کے زندیق اس کو کہا جاتا ہے کہ جو عقائد اسلام کرے۔ لیکن اس کی ایسی تاویل اور تحریف ک لئے جب تک اس کی تصریح نہ دکھلائی جاوے کے لحاظ سے قائل ہیں جس معنی سے کہ صحابہ ان کی کسی ایسی عبارت کا مقابلہ میں پیش کرنا اقرار کیا۔ اسی طرح نزول مسیح وغیرہ عقائد کے کے ہرگز مفید نہیں ہے۔ خواہ وہ عبارت تصنیف

یہ بات ثابت ہو چکی کہ مرزا صاحب کفریہ عقائد سے کوئی توبہ نہیں کی۔ علاوہ ازیں اور لکھنے کے بعد اس وقت تک ان کو مسلمان نہیں توبہ کرنے کا اعلان نہ پایا جاوے اور یہ اعلان ال

عدالت ہٰذا کی رائے میں مرزا صا مدلل ہے اور گو کہ مختار مدعیہ نے اپنی بحث میں کی 2188 موجودگی میں ان عقائد پر مزید کسی بح کہ مرزا صاحب کا خود کلمہ طیبہ پر بھی پورا ایم ایمان تصور ہو سکتا ہے۔ جب کہ خداوند تعالیٰ ایمان ہو۔ مرزا صاحب کے بعض اقوال سے موجزن پایا اور اپنے آپ میں خدائی طاقت اللہ ﷺ کی خصوصیات اور مدارج میں شریک تسلیم نہیں کرتے۔ اس لئے نہیں کہا جاسکتا کہ

صفحہ ٢٠٧٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

ہوں ۔ تاہم اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ختم نبوت کا مسئلہ اسلام کے اہم اور بنیادی مسائل سے ہے۔ ضروریات دین کا مفہوم گواہان مدعیہ نے اپنے بیانات میں ظاہر کر دیا ہے۔ جو اوپر گزر چکا ہے۔ اگر اس اصطلاح کے لفظی معنی بھی مراد لئے جاویں تو ان الفاظ کا یہ مطلب ہو سکتا ہے کہ وہ امور جو کسی دین میں داخل رہنے کے لئے ضروری ہوں اور جن کے نہ ماننے سے وہ شخص اس دین کا پیرو نہ سمجھا جاسکے۔ ضروریات دین سے مراد ہے رسول اللہ ﷺ کا خاتم النبیین ماننا بایں معنی کہ آپ آخری نبی ہیں۔ مذہب اسلام میں داخل رہنے کے لئے ضروری اور لابدی ہے۔ کیونکہ آپ کے بعد اگر کوئی اور نبی مانا جائے تو مدعیہ اور اس کے گواہان کے نزدیک نہ یہ صرف نص قرآن اور احادیث متواترہ کا انکار ہوگا بلکہ معمول بہ اس نئے نبی کی وحی ہو جائے گی نہ کہ قرآن اور اس سے وہ شخص مذہب اسلام سے خارج ہو جائے 2190 گا اور یہ بات کہ رسول اللہ ﷺ کا آخری نبی ماننا نہ صرف مسلمانوں کے نزدیک ان کے مذہب کے بنیادی مسائل میں سے ہے۔ بلکہ اس کی نظیر دیگر مذاہب میں بھی ملتی ہے۔ مثلاً یہود اور نصاریٰ جن کے مذاہب کی تفریق محض اس بناء پر ہے کہ وہ اپنے اپنے پیشواؤں کے بعد اور کسی نبی کو تسلیم نہیں کرتے۔ اس طرح مسلمانوں کا یہ عقیدہ چلا آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد اور کوئی نبی نہیں اب اگر کوئی مسلمان کسی اور کو نبی مانے تو وہ مذہب اسلام کا پیرو نہیں سمجھا جائے گا۔ اس لئے ختم نبوت سے بڑھ کر اور کون سا مسئلہ ضروریات دین میں سے ہو سکتا ہے۔ یہ آگے دکھلایا جائے گا کہ اس بارہ میں جو اسناد پیش کی گئی ہیں وہ کس فریق کی معتبر اور زیادہ وزن دار ہیں۔

یہاں میں یہ درج کرنا مناسب سمجھتا ہوں کہ موجودہ زمانہ میں بہت سے مسلمان نبی کی حقیقت سے بھی نا آشنا ہیں۔ اس لئے بھی ان کے دلوں میں یہ مسئلہ گھر نہیں کر سکتا کہ مرزا صاحب کو نبی ماننے میں کیا قباحت ہوتی ہے کہ جس پر اس قدر چیخ و پکار کی جا رہی ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ اس کی کچھ تھوڑی سی حقیقت بیان کر دی جاوے۔

مدعیہ کی طرف سے نبی کی کوئی تعریف بیان نہیں کی گئی۔ صرف یہ کہا گیا ہے کہ نبوت ایک عہدہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے برگزیدہ بندوں کو عطا کیا جاتا رہا ہے اور نبی اور رسول میں فرق بیان کیا گیا ہے کہ ہر رسول نبی ہوتا ہے اور نبی کے لئے لازمی نہیں کہ وہ رسول بھی ہو۔ فریق ثانی نے بحوالہ نبراس ص ٨٩۔ بیان کیا ہے کہ رسول ایک انسان ہے جسے اللہ تعالیٰ احکام شریعت کی تبلیغ کے لئے بھیجتا ہے۔ بخلاف نبی کے کہ وہ عام ہے۔ کتاب لائے یا نہ لائے۔ رسول کے لئے کتاب لانا شرط ہے۔ اس طرح رسول کی ایک تعریف یہ بھی کی گئی ہے کہ رسول وہ ہوتا ہے

١٩٦

صفحہ ٢٠٧٥

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

کہ جو صاحب کتاب ہو۔ یا شریعت سابقہ کے بعض احکام کو منسوخ کرے۔ یہ تعریفیں چونکہ اس حقیقت کے اظہار کے لئے کافی نہ تھیں۔ اس لئے میں اس جستجو میں رہا کہ نبی یا رسول کی کوئی ایسی تعریف مل جائے جو تصریحات قرآن کی رو سے تمام لوازم نبوت پر حاوی ہو۔ اس سلسلہ میں مجھے مولانا محمد علی صاحب پروفیسر راندھیر کالج کی کتاب ”دین و آئین“

2191

دیکھنے کا موقعہ ملا۔ انہوں نے معترضین کے خیالات کو مدنظر رکھتے ہوئے نبوت کی حقیقت یہ بیان کی کہ جس شخص کے دل میں کوئی نیک تجویز بغیر ظاہری وسائل اور غور کے پیدا ہو۔ ایسا شخص پیغمبر کہلاتا ہے اور اس کے خیالات کو وحی سمجھا جاتا ہے۔ لیکن یہ تعریف بھی مجھے دلچسپ معلوم نہ ہوئی۔

آخر کار ایک رسالہ میں ایک مضمون بعنوان میکانیکی اسلام از جناب چوہدری غلام احمد صاحب پرویز میری نظر سے گزرا۔ اس میں انہوں نے مذہب اسلام کے متعلق آج کل کے روشن ضمیر طبقہ کے خیالات کی ترجمانی کی ہے اور پھر خود ہی اس کے حقائق بیان کئے ہیں۔ اس سلسلہ میں نبوت کی جو حقیقت انہوں نے بیان کی ہے۔ میری رائے میں اس سے بہتر اور کوئی بیان نہیں کی جاسکتی اور میرے خیال میں فریقین میں سے کسی کو اس پر انکار بھی نہیں ہو سکتا۔ اس لئے میں ان کے الفاظ میں ہی اس حقیقت کو بیان کرتا ہوں۔ وہ لکھتے ہیں کہ آج کل کے معقولیت پسندوں کی جماعت کے نزدیک رسول کا تصور یہ ہے کہ وہ ایک سیاسی لیڈر اور ایک مصلح قوم ہوتا ہے۔ جو اپنی قوم کی نکبت اور زبوں حالی سے متاثر ہو کر انہیں فلاح و بہبود کی طرف بلاتا ہے اور تھوڑے ہی دنوں میں ان کے اندر انضباط و ایثار کی روح پھونک کر زمین کے بہترین خطوں کا ان کو مالک بنا دیتا ہے۔ اس کی حقیقت قوم کے ایک امیر کے قسم کی ہوتی ہے۔ جن کے ہر حکم کا اتباع اسلئے لازمی ہوتا ہے کہ انحراف سے قوم کی اجتماعی قوت میں انتشار پیدا ہو جانے کا خطرہ ہوتا ہے اور وہ دنیاوی نعمتیں جو اس کے حسن تدبیر سے حاصل ہوئی تھیں۔ ان کے چھن جانے کا احتمال ہوتا ہے۔

اس کا حسن تدبر، عقل حکمت ذہنی انسان کے ارتفاع کی بہترین کڑی ہوتا ہے۔ اس لئے وہ اپنے ماحول کا بہترین مفکر شمار کیا جاتا ہے۔ کثرت ریاضت سے برائی کی قوتیں اس سے سلب ہو جاتی ہیں اور نیکی کی قوتیں نمایاں طور پر ابھر آتی ہیں۔ انہی قوتوں کا نام ان کے نزدیک ابلیس اور ملائکہ ہے۔ اس کا جواب پھر انہوں نے بحوالہ آیات قرآنی یہ دیا ہے۔

2192

کہ رسول بلاشبہ مصلح اور مدبر ملت ہوتا ہے۔ لیکن اس کی حقیقت دنیاوی مصلحین اور مدبرین سے بالکل جداگانہ ہوتی ہے۔ دنیاوی مفکرین و مدبرین اپنے ماحول کی پیداوار ہوتے ہیں اور ان کا فلسفہ اصلاح و بہبود ان کی اپنی پرواز فکر کا نتیجہ ہوتا ہے۔ جو کبھی صحیح اور کبھی غلط ہوتا

١٩٧

OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

ہوں۔ تاہم اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ختم ہے۔ ضروریات دین کا مفہوم گواہان مدعیہ ہے۔ اگر اس اصطلاح کے لفظی معنی بھی مراد امور جو کسی دین میں داخل رہنے کے لئے ضروری پیرو نہ سمجھا جاسکے۔ ضروریات دین سے ہو کہ آپ آخری نبی ہیں۔ مذہب اسلام میں آپ کے بعد اگر کوئی اور نبی مانا جائے تو مدعیہ اور احادیث متواترہ کا انکار ہوگا بلکہ معمول بہ شخص مذہب اسلام سے خارج ہو جائے ۔ ماننا نہ صرف مسلمانوں کے نزدیک ان کے نظیر دیگر مذاہب میں بھی ملتی ہے۔ مثلاً یہودا ہے کہ وہ اپنے اپنے پیشواؤں کے بعد اور کسی چلا آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد اور کوئی مذہب اسلام کا پیرو نہیں سمجھا جائے گا۔ اس دین میں سے ہو سکتا ہے۔ یہ آگے دکھلایا جائے ۔ فریق کی معتبر اور زیادہ وزن دار ہیں۔

یہاں میں یہ درج کرنا مناسب سمجھتا حقیقت سے بھی نا آشنا ہیں۔ اس لئے بھی ان کو نبی ماننے میں کیا قباحت ہوتی ہے کہ جس ہے کہ اس کی کچھ تھوڑی سی حقیقت بیان کردی مدعیہ کی طرف سے نبی کی کوئی تعریف ایک عہدہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس رسول میں فرق بیان کیا گیا ہے کہ ہر رسول نبی ہو۔ فریق ثانی نے بحوالہ نبراس ص ٨٩ ۔ بیان شریعت کی تبلیغ کے لئے بھیجتا ہے۔ بخلاف نبی کے لئے کتاب لانا شرط ہے۔ اس طرح رسول

صفحہ ٢٠٧٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

ہے۔ برعکس اس کے انبیاء کرام علیہم السلام مامور من اللہ ہوتے ہیں اور ان کا سلسلہ اس دنیا میں خاص مشیت باری تعالیٰ کے ماتحت چلتا ہے۔ وہ نہ اپنے ماحول سے متاثر اور نہ احوال وظروف کی پیداوار ہوتے ہیں۔ بلکہ ان کا انتخاب مملکت ایزدی سے ہوتا ہے اور ان کا سرچشمہ علوم وہدایت علم باری تعالیٰ سے ہوتا ہے۔ جس میں کسی سہو وخطا کی گنجائش نہیں۔ ان کا سینہ علم لدنی سے معمور اور ان کا قلب تجلیات نور ازلی سے منور ہوتا ہے۔

دنیاوی سیاست و تفکر صنعت ہے جو اکتساباً حاصل ہوتی ہے اور مشق و مہارت سے یہ ملکہ بڑھتا ہے۔ لیکن نبوت ایک موہبت ربانی اور عطائے یزدانی ہے۔ جس میں کسب و مشق کو کچھ دخل نہیں۔ قوم و امت کی ترقی ان کے بھی پیش نظر ہوتی ہے۔ لیکن سب سے مقدم اخلاق انسانی کی اصلاح مقصود ہوتی ہے۔ اس کا پیغام زمان و مکان کی قیود سے بالا ہوتا ہے اور وہ تمام انسانوں کو راستہ دکھلانے والا اور ان کا مطاع ہوتا ہے۔ اس کی اطاعت میں خدا کی اطاعت اور اس کی معصیت خدا کی معصیت ہے اور جو لائحہ حیات اس کی وساطت سے دنیا کو ملتا ہے اس میں کوئی دنیاوی طاقت ردو بدل نہیں کرسکتی۔ بلکہ دنیا بھر کی عقول میں جہاں کہیں اختلاف ہو اس کا فیصلہ بھی اس کی مشعل ہدایت سے ہو سکتا ہے۔ ان کو خدائی پیغام ملائکہ کی وساطت سے ملتے ہیں جو اگرچہ عالم امر سے متعلق ہونے کی وجہ سے سرحد ادراک انسانی سے بالاتر ہیں۔ لیکن ان کا وجود محض انسان کی متخیلہ قوتیں نہیں ہیں۔

اس حقیقت کو ذہن نشین رکھنے کے بعد یہ بات آسانی سے سمجھ میں آ سکتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد کسی دوسرے نبی کو تسلیم کرنے سے کیا قباحت لازم آئے گی۔ تصریحات قرآنی کی رو سے نیا نبی مطاع ہو جائے گا۔ اس سے اختلاف نہیں کیا جاسکے گا۔ اس کی ہر بات 2193 کے آگے سر تسلیم خم کرنا پڑے گا۔ وہ جو حکم دے گا اس کی تعمیل لازمی ہوگی۔ ورنہ اعمال کے حبط ہونے کا اندیشہ ہوگا۔ اس کی شان میں ذرا بھر گستاخی نہیں کی جاسکے گی۔ بلکہ اس کے سامنے اونچا بولنا بھی گناہ ہوگا۔ اس کی اطاعت عین خدا کی اطاعت ہوگی اور اس سے روگردانی ایمان سے خارج ہونے کا باعث اور موجب عذاب الہی ہوگی۔

اس لئے مدعیہ کی طرف سے بحوالہ آیات قرآنی و احادیث یہ کہا گیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد اور کوئی نیا نبی نہیں ہو سکتا اور کوئی مسلمان کسی اور شخص کو نبی مانے تو دائرہ اسلام میں داخل نہیں رہ سکتا۔ مدعا علیہ کی طرف سے کتب فقہ سے جن عبارات کا حوالہ دیا جا کر علماء کے طرز افتاء پر اعتراض کیا گیا ہے۔ ان کے متعلق ایک تو خود مدعا علیہ کے اپنے گواہان کا بیان ہے کہ فی

١٩٨

صفحہ ٢٠٧٧

2077 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

زمانہ ان پر علماء کا عمل نہیں۔ دوسرا مدعیہ کی طرف سے ان حوالہ جات کے متعلق یہ کہا جاتا ہے کہ وہ کلمات کفر ہیں۔ نہ کہ فتاویٰ تکفیر، کلمہ کفر اور چیز ہے اور فتویٰ کفر اور چیز۔ کسی شخص پر ان کلمات کی بناء پر محض ان الفاظ کے استعمال سے ہی فتویٰ نہیں لگا دیا جائے گا۔ بلکہ فتویٰ ان اصولوں کے تحت لگایا جائے گا جو اس غرض کے لئے مجوز ہیں۔

عدالت ہذا کی رائے میں مدعیہ کا یہ جواب وزن رکھتا ہے۔ علاوہ ازیں علماء کے اقوال سند کے لحاظ سے وہ حیثیت نہیں رکھتے جو متواترات کی بیان کی گئی ہے۔ کلمات زیر بحث کو ریکارڈ پر لانے اور اپنے خیال کے مطابق ان کی تشریح کرنے سے گواہان مدعا علیہ کا منشاء سوائے اس کے اور کوئی معلوم نہیں ہوتا کہ مسئلہ زیر بحث کی نوعیت اور اہمیت کو خفیف کر کے دکھلایا جاوے۔ حالانکہ مسئلہ ختم نبوت کا ان مسائل سے کوئی تعلق نہیں۔ جن پر اعتراض کیا گیا ہے۔

اور غالباً وہ یہ چاہتے ہیں کہ عام لوگوں کے دلوں میں علماء کے متعلق ایک حقارت پیدا کی جا کر ان کے طرز افتاء کی مذمت ظاہر کی جاوے اور ہر فرقہ اور ہر طبقہ کے لوگوں کے جذبات ان کے خلاف ابھارے جاویں اور موجودہ زمانہ کے روشن خیال طبقہ کی جو اپنے آپ کو ہر اصلاح کا علمبردار سمجھتا ہے۔ ہمدردی حاصل کی جاوے۔

2194 مذہب کے متعلق فی زمانہ جو بے اعتنائی برتی جارہی ہے۔ وہ محتاج بیان نہیں۔ قرآن مجید کے نزول کے زمانہ میں جو لوگ اس پر ایمان نہیں لائے تھے وہ اسے اضغاث احلام اور اساطیر الاولین کہا کرتے تھے۔ موجودہ زمانہ میں جو لوگ کہ مذہب کا جوا، اپنی گردن سے نہیں نکال پھینکنا چاہتے۔ وہ گو ان الفاظ کو اپنے منہ سے نکالنے کی تو جرات نہیں کرتے۔ لیکن حقائق و معارف قرآنی پر اپنے دل میں پورا یقین نہیں رکھتے اور بقول مولانا محمود علی صاحب یہ کہتے ہوئے سنے جاتے ہیں کہ اسلام میں زمانہ کے ساتھ چلنے کی صلاحیت نہیں ہے اور انقلاب حالات سے جو جدید ضرورتیں پیدا ہوتی ہیں اور جن کی وجہ سے اقوام عالم کو اپنی طرز و روش میں تغییر و تبدل کرنا پڑتا ہے۔ اسلام ایسے انقلابات کے اندر اپنی روش کو بدل کر دوسری روش پر چلنے کی قابلیت نہیں رکھتا اور اس کے ماننے والے اپنے حالات کے اندر کوئی اصلاح یا ترمیم نہیں کر سکتے اور کسی تہذیب جدید کا ساتھ نہیں دے سکتے۔

ان کے اسی اعتراض کا جواب تو مولانا صاحب موصوف نے اپنی کتاب ”دین و آئین“ میں دے دیا ہے۔ مجھے اس سے کوئی سروکار نہیں۔ یہاں صرف یہ دکھلانا مقصود تھا کہ اس قسم کے خیالات آج کل عام ہیں اور چونکہ فریق مدعا علیہ کے بیان کردہ اصولوں کے مطابق اس

199

OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

ہے۔ برعکس اس کے انبیاء کرام علیہم السلام ب خاص مشیت باری تعالیٰ کے ماتحت چلتا ہے پیداوار ہوتے ہیں۔ بلکہ ان کا انتخاب مملکت خ باری تعالیٰ سے ہوتا ہے۔ جس میں کسی خود غ کا قلب تجلیات نور ازلی سے منور ہوتا ہے۔

دنیاوی سیاست و تفکر صفت ہے جو بڑھتا ہے۔ لیکن نبوت ایک موہبت ربانی اور ع نہیں۔ قوم وامت کی ترقی ان کے بھی پیش نظ اصلاح مقصود ہوتی ہے۔ اس کا پیغام زمان و م راستہ دکھلانے والا اور ان کا مطاع ہوتا ہے ا معصیت خدا کی معصیت ہے اور جو لائحہ حیات دنیاوی طاقت ردوبدل نہیں کرسکتی۔ بلکہ دنیا و اس کی مشعل ہدایت سے ہو سکتا ہے۔ ان کو ت عالم امر سے متعلق ہونے کی وجہ سے سرحد ا انسان کی ملکوتی قوتیں نہیں ہیں۔

اس حقیقت کو ذہن نشین رکھئے ۔ ک اللہ ﷺ کے بعد کسی دوسرے نبی کو تسلیم کرنے رو سے نیا نبی مطاع ہو جائے گا۔ اس سے اخت سر تسلیم خم کرنا پڑے گا۔ وہ جو حکم دے گا اس اندیشہ ہوگا۔ اس کی شان میں ذرا بھر گستاخی م گناہ ہوگا۔ اس کی اطاعت عین خدا کی اطا ہونے کا باعث اور موجب عذاب الٰہی ہوگی۔

اس لئے مدعیہ کی طرف سے ی اللہ ﷺ کے بعد اور کوئی نیا نبی نہیں ہو سکتا اور داخل نہیں رہ سکتا۔ مدعا علیہ کی طرف سے کتا افتاء پر اعتراض کیا گیا ہے۔ ان کے متعلق ق

صفحہ ٢٠٧٩

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15 طبقہ کے خیالات کی رو سے اسلام میں اصلاح کرنے کی کافی وسعت ہے۔ اس لئے مدعا علیہ کی طرف سے علماء کے خلاف بدظنی پیدا کی جا کر اس طبقہ کے دل میں ان کے خلاف حقارت اور نفرت پیدا کرنے کی سعی کی گئی ہے اور یہ کوشش کی گئی ہے کہ اس مقدمہ میں مدعیہ کی طرف سے جو علماء پیش ہوئے ہیں انہیں دقیانوسی خیالات کا پیرو اور مرض تکفیر میں مبتلا دکھلایا جا کر ان کی بیان کردہ وجوہات تکفیر کو تمسخر میں اڑا دیا جاوے اور یہ دکھلایا جاوے کہ ان کی بیان کردہ وجوہات تکفیر کوئی حقیقت نہیں رکھتیں اور انہوں نے محض اس وجہ سے کہ جماعت احمدیہ کے اصول چونکہ صلاحیت مذہبی کی طرف رجوع دلاتے ہیں۔ اپنی پرانی عادت سے مجبور ہو کر براہ بغض اور کینہ انہیں کافر کہا ہے۔ ورنہ دراصل ان کا کوئی عقیدہ یا عمل کفر کی حد تک نہیں پہنچتا۔ حالانکہ مسئلہ زیر بحث ایسا نہیں 2195کہ اسے اس طرح مذاق میں اڑا دیا جاوے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ علماء غلطی نہیں کرتے یا یہ کہ وہ انسانی کمزوریوں سے پاک ہیں۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ان کی کسی رائے کو وقعت کی نگاہ سے نہ دیکھا جاوے اور ان کی کسی بات پر کان نہ دھرا جاوے۔ بلکہ چاہئے کہ ان کے اقوال پر ٹھنڈے دل سے غور کیا جاوے اور یہ دیکھا جاوے کہ کہاں تک راستی پر ہیں۔ مسئلہ ختم نبوت کے بارہ میں انہوں نے جو کچھ کہا ہے وہ صداقت سے خالی نہیں۔

مدعا علیہ کی طرف سے کتب تفاسیر کے حوالوں پر جو اعتراض کیا گیا ہے۔ اس کے متعلق صرف یہ لکھ دینا کافی ہے کہ ان حوالوں کو نہ یہاں درج کیا گیا ہے اور نہ ہی اس فیصلہ کا انحصار ان حوالوں پر رکھا گیا ہے اور سند کے اعتبار سے صرف قرآن مجید اور احادیث کو ہی معیار تصفیہ قرار دیا گیا ہے اور یہ عمل اس لئے اختیار کرنا پڑا ہے کہ فریقین کی طرف سے اپنے اپنے ادعا کی تائید میں بے شمار کتابیں جن کی تعداد سینکڑوں تک پہنچتی ہے پیش کی گئیں ہیں۔ مدعا علیہ نے مدعیہ کی پیش کردہ کتب میں سے کسی کو بھی اپنے اوپر حجت تسلیم نہیں کیا۔ سوائے مرزا صاحب اور ان کے خلفاء کی کتابوں کے اور اسے اپنے اعتقاد کے مطابق ایسا ہی کرنا چاہئے تھا۔ کیونکہ جب وہ مرزا صاحب کو نبی مانتا ہے تو اس کے لئے معمول بہ مرزا صاحب کی وحی کے سوا اور کوئی چیز نہیں ہو سکتی۔ اس کے لئے اس کا دوسری کتابوں کو بطور حجت تسلیم نہ کرنا کوئی تعجب کی بات نہیں۔ باقی قرآن اور احادیث کے متعلق اس نے یہ رویہ اختیار کئے رکھا ہے کہ آیات قرآنی کا جو مفہوم مدعیہ کی طرف سے بیان کیا گیا ہے۔ اس کے متعلق اس نے یا تو یہ بیان کیا ہے کہ وہ درست نہیں ہے یا اس کی کوئی اور تاویل کر دی ہے اور احادیث کے بارہ میں بھی جو حدیث اس کے مفید مطلب تھی وہ تو لے لی اور جو اس کے خلاف تھی اس کی صحت کے متعلق یا تو اس نے انکار کر دیا ہے یا اس کی بھی کوئی تاویل

٢٠٠

NATIONA ں۔ کیونکہ مرزا صاحب فرماتے ہیں پھینکنے کے قابل ہے۔ اس کے علاوہ کتے ہیں۔ ان کے متعلق بھی اس کا یہ ہیں۔ اس لئے اس نے انہیں مدعیہ حجت نہیں۔ اس لئے ان حوالوں پر تکلفات سے بھی خالی نہیں پایا گیا۔ لزام لگائے ہیں اور یہ بھی اعتراض لئے یہ طے کرنے کے لئے کہ کہاں ئد کے مطابق ہے اور آیا وہ فریقین ے گئے ہیں وہ درست ہیں یا نہ اور کہ وقت وسیع مطالعہ اور کافی محنت کی م فہم ہونے کی توقع نہیں۔ اس لئے حب اور ان کے خلفاء کی کتابوں پر

کا یہ کہنا کہ ادعا وحی کفر ہے اور اگر بھی وہ کافر ہے اور کہ بنی آدم میں فتویٰ ہو سکتی ہے۔ درست نہیں ہے میں اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ وہ ہ کلام کرتا ہے اور غیر پیغمبروں سے ر غیر نبی دونوں داخل ہیں۔

موسیٰ ..... الخ! “ سے ظاہر موسیٰ پر خدا کی طرف سے یہ وحی

..... الخ!“ اور آیت ”واذ قالت نبیین“ اور سورہ کہف رکوع نمبرا ئے جا کر یہ دکھلایا گیا ہے کہ:

صفحہ ٢٠٧٩

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15 کر دی اور اس کا یہ عمل بھی مرزا صاحب کی تعلیم کے خلاف نہیں۔ کیونکہ مرزا صاحب فرماتے ہیں کہ جو حدیث میری وحی کے معارض ہے وہ ردی کی ٹوکری میں پھینکنے کے قابل ہے۔ اس کے علاوہ مدعا علیہ نے جن دیگر مصنفین کی کتابوں کے حوالے پیش 2196 کئے ہیں۔ ان کے متعلق بھی اس کا یہ ادعا ہے کہ وہ چونکہ مدعیہ کے ہم مذہب اشخاص کی تصنیف شدہ ہیں۔ اس لئے اس نے انہیں مدعیہ کے خلاف بھی بطور حجت پیش کیا ہے۔ اس کے لئے وہ کوئی حجت نہیں۔ اس لئے ان حوالوں پر بحث کرنی نہ صرف غیر ضروری خیال کی گئی ہے۔ بلکہ اسے مشکلات سے بھی خالی نہیں پایا گیا۔ کیونکہ فریقین نے ایک دوسرے کے خلاف خیانت کے بھی الزام لگائے ہیں اور یہ بھی اعتراض کئے ہیں کہ بعض مصنفین کی کتابیں انہیں مسلم نہیں ہیں۔ اس لئے یہ طے کرنے کے لئے کہ کہاں تک خیانت ہوئی اور کس کس مصنف کی کتاب فریقین کے عقائد کے مطابق ہے اور آیا وہ فریقین کے مسلمات میں سے بھی ہیں یا نہ اور کہ ان سے جو نتائج اخذ کئے گئے ہیں وہ درست ہیں یا نہ اور کہ فریقین کو ان کی رائے کا پابند قرار دیا جا سکتا ہے یا نہ۔ بہت وقت وسیع مطالعہ اور کافی محنت کی ضرورت ہے اور پھر اس سے نتیجہ کے بھی پورے طور واضح اور عام فہم ہونے کی توقع نہیں۔ اس لئے ایک طرف قرآن مجید اور احادیث پر اور دوسری طرف مرزا صاحب اور ان کے خلفاء کی کتابوں پر حصر رکھا جا کر دیگر تمام حوالہ جات کو نظر انداز کر دیا گیا ہے۔

مدعا علیہ کی طرف سے یہ کہا گیا ہے کہ گواہان مدعیہ کا یہ کہنا کہ ادعاء وحی کفر ہے اور اگر کوئی شخص مطلق وحی کا دعویٰ کرے خواہ نبوت کا مدعی نہ بھی ہو تب بھی وہ کافر ہے اور کہ بنی آدم میں وحی پیغمبروں کے ساتھ مختص ہے اور غیر کیلئے کشف، الہام یا وحی معنوی ہو سکتی ہے۔ درست نہیں ہے کیونکہ قرآن مجید کی آیت ”و ما کان لبشر ....... الخ !“ میں اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ وہ صرف پیغمبروں کے ساتھ ہی ان تین طرق مندرجہ آیت مذکور سے کلام کرتا ہے اور غیر پیغمبروں سے نہیں کرتا۔ بلکہ اس آیت میں بشر کا لفظ رکھا ہے۔ جس میں نبی اور غیر نبی دونوں داخل ہیں۔

سورہ قصص رکوع نمبر ١، آیت ”و اوحينا الى ام موسى ...... الخ !“ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر وحی صرف پیغمبروں کے ساتھ مخصوص ہوتی تو ام موسیٰ پر خدا کی طرف سے یہ وحی نازل نہ ہوتی۔

اس طرح سورہ مریم کی آیت ”فارسلنا اليها روحنا ...... الخ ! “ اور آیت ”واذ قالت الملائکة ...... مع الراکعین . واذ قالت الملائکة 2197...... مقربین“ اور سورہ کہف رکوع نمبر ١١ کی آیت ”قلنا یا ذو القرنین ...... حسنا“ کے حوالہ جات پیش کئے جا کر یہ دکھلایا گیا ہے کہ: ٢٠١

OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15 طبقہ کے خیالات کی رو سے اسلام میں اصلا طرف سے علماء کے خلاف بدظنی پیدا کی جا ک پیدا کرنے کی سعی کی گئی ہے اور یہ کوشش کی گ ہوئے ہیں انہیں دقیانوسی خیالات کا پیرو وجوہات تکفیر کو تمسخر میں اڑا دیا جاوے اور حقیقت نہیں رکھتیں اور انہوں نے محض اس مذہبی کی طرف رجوع دلاتے ہیں۔ اپنی پرا ہے۔ ورنہ دراصل ان کا کوئی عقیدہ یا عمل کف 2195 کہ اسے اس طرح مذاق میں اڑا دیا جا انسانی کمزوریوں سے پاک ہیں۔ لیکن اس ک نہ دیکھا جاوے اور ان کی کسی بات پر کان نہ دل سے غور کیا جاوے اور یہ دیکھا جاوے ک انہوں نے جو کچھ کہا ہے وہ صداقت سے خال

مدعا علیہ کی طرف سے کتب تفاس صرف یہ لکھ دینا کافی ہے کہ ان حوالوں کو نہ حوالوں پر رکھا گیا ہے اور سند کے اعتبار سے گیا ہے اور یہ عمل اس لئے اختیار کرنا پڑا ہے بے شمار کتابیں جن کی تعداد سینکڑوں تک پہں کردہ کتب میں سے کسی کو بھی اپنے اوپر حجت کی کتابوں کے اور اسے اپنے اعتقاد کے مطا کو نبی مانتا ہے تو اس کے لئے معمول بہ مرز کے لئے اس کا دوسری کتابوں کو بطور حجت احادیث کے متعلق اس نے یہ رویہ اختیار سے بیان کیا گیا ہے۔ اس کے متعلق اس نے اور تاویل کر دی ہے اور احادیث کے بارہ م اور جو اس کے خلاف تھی اس کی صحت کے مت

صفحہ ٢٠٨٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

اوپر مذکور ہوا۔

غیر انبیاء یعنی اولیاء وغیرہ کے ساتھ بھی ہم کلام ہوتا ہے جیسا کہ آیت نمبر ١ سے ظاہر ہوتا ہے۔

ایسی وحی نازل ہو جاتی ہے جس میں امر و نہی ہوتے ہیں اور کہ غیر انبیاء کی وحی بھی غیب کی خبروں پر مشتمل ہوتی ہے۔

اس کے آگے مدعا علیہ کے گواہ کا یہ بیان ہے کہ مدعیہ کے گواہان نے جو یہ کہا کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کسی پر وحی نہیں ہو سکتی جو اس کا دعویٰ کرے وہ کافر اس کی انہوں نے قرآن مجید یا احادیث سے کوئی دلیل پیش نہیں کی۔ ہاں صرف ایک گواہ نے بحوالہ آیت "والــــذین یؤمنون ...... من قبلک" پیش کر کے کہا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد بھی کوئی وحی نازل ہونی ہوتی تو اس آیت میں ضرور اس کا ذکر کر دیا جاتا۔ چونکہ ذکر نہیں کیا گیا۔ اس لئے معلوم ہوا کہ آپ کے بعد وحی نہیں ہو سکتی۔ اس کا ایک جواب یہ ہے کہ اس آیت میں تشریعی وحی کا ذکر ہے اور چونکہ آنحضرت ﷺ کے بعد ایسی وحی جو آپ ﷺ کی شریعت کی ناسخ ہو، منقطع تھی۔ اس لئے اس کا ذکر نہیں کیا گیا۔ اس کی تائید میں پھر چند علماء کے اقوال نقل کئے جا کر یہ کہا گیا ہے کہ علماء کہتے ہیں کہ ہمارے پاس کوئی ایسی خبر نہیں آئی جس سے معلوم ہو کہ آنحضرت ﷺ کے بعد وحی تشریعی ہوگی۔ بلکہ وحی الہام ہوگی۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ اکابر علماء لکھ چکے ہیں کہ مسیح موعود پر وحی ہوگی اور حدیث میں آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ مسیح موعود پر خدا کی طرف سے وحی ہوگی۔ تیسرا جواب یہ ہے کہ جو قرآن مجید پر ایمان رکھتا ہے اور یہ تسلیم کرتا ہے کہ مسیح موعود آئے گا تو ان پر وحی ہوگی تو اسے 2198 خدا کی طرف سے یقین کرے گا۔ پس اس لحاظ سے یہ آیت تشریعی وحی کے انقطاع پر دلالت کرتی ہے۔ غیر تشریعی وحی کے انقطاع پر دلالت نہیں کرتی۔ اس امر کی دلیل میں کہ آنحضرت ﷺ کے بعد غیر شریعت والی وحی ہو سکتی ہے اور آنحضرت ﷺ کے کامل متبعین پر اس کا دروازہ بند نہیں ہے۔ آیات ذیل "الم یروا انہ ...... سبیلا" پارہ ٩، رکوع ٨ اور "افلا یرون ...... قولاً" پارہ ١٦، رکوع ١٣، کے حوالہ دیا جا کر یہ کہا گیا ہے کہ ان آیات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ بندوں سے خدا کا کلام کرنا ضروری ہے۔ پس کیونکر مان لیا جاوے کہ حرم کعبہ کا رب اور قرآن کے اتارنے والا خدا جو بچھڑے کی عبودیت اور الوہیت کا ابطال اس کے عدم تکلم کی وجہ سے کرتا ہے۔

٢٠٢

صفحہ ٢٠٨١

2081 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

خود اپنے پیارے بندوں سے ویسا سلوک کرے نیز آیت ”ومن اضل ممن ...... غافلون“ سورۃ احقاف رکوع نمبر ١، سے یہ نتیجہ نکالا گیا ہے کہ خداوند تعالیٰ اپنے بندوں کی پکار سنتا اور ان کو جواب دیتا ہے اور آیت ”قل ان کنتم تحبون الله ...... الخ ! “ آل عمران رکوع نمبر ٤ سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ خدا اپنے بندوں سے پیار کرتا ہے اور یہ بدیہی بات ہے کہ محبّ اپنے محبوب سے ہم کلام ہو اور اس کی باتیں سنے اور اپنی کہے ورنہ عدم کلام نقصِ محبت پر دلیل ہوگا۔ کیونکہ محبوب کا کلام نہ کرنا دلیلِ ناراضگی ہے اور خدا جو اپنے بندوں پر ماں باپ سے بڑھ کر مہربان ہے۔ ضرور اپنے پیارے بندوں سے کلام کرتا ہے اور کوئی وجہ نہیں کہ جب وہ اپنے پیاروں سے کلام کرتا تھا تو اب نہ کرے۔ اللہ تعالیٰ کی ایک صفت جو اس کی خدائی پر ایک اعلیٰ دلیل ہے وہ اس کا متکلم ہونا ہے۔ پس یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ اب قیامت تک اس صفت کا تعطل مان لیا جاوے اور کہا جاوے کہ اس کی صفت تکلم زائل ہو چکی۔ یعنی کہ وہ اب کسی سے کلام نہ کرے گا تو اس کا سمیع ہونا کیونکر معلوم ہوگا۔ کہنے والے پھر بھی کہہ دیں گے کہ وہ پہلے سمیع تھا اور اب نہیں۔ اس کی تائید میں پھر یہ ایک دنیاوی مثال دی گئی ہے۔ اگر کوئی عاشق اپنے کسی محبوب کے دروازہ پر آہ و بکا اور گریہ زاری کرتے ہوئے بیقراری کی حالت میں جائے۔ مگر محبوب نہ دروازہ کھولے اور نہ اندر سے کوئی آواز آوے تو یقیناً وہ عاشق ناامید ہو کر لوٹے گا اور خیال کرے گا کہ یا تو میرا محبوب مر چکا یا مجھے دھوکا 2199 دیا گیا۔ پس اس طرح اللہ تعالیٰ جس کا دیدار بوجہ اس کے وراء الورا اور لطیف ہونے کے ہم نہیں کر سکتے۔ اگر وہ گفتار سے بھی اپنے عشاق کو تسلی نہیں دے سکتا تو آخر وہ ایک دن ناامید ہو کر اسے چھوڑ دیں گے۔ تعشق اور محبت کا مادہ انسان کی فطرت میں ودیعت کیا گیا ہے اور وہ ایسے محبوب کو جس کے دیدار اور گفتار سے اپنے آپ کو ہمیشہ کے لئے محروم سمجھے اسے کبھی اپنے عشق کا محل نہیں ٹھہراتا حقیقی عاشق اپنے محبوب سے ہم کلام ہونے کے لئے اپنے دل میں از حد تڑپ رکھتا ہے اور اس کے کلام کو اپنے لئے تریاق اور آب حیات سمجھتا ہے۔ پس وہ علیم خبیر ہستی جو انسانوں کے اندر احساسات و جذبات کا پیدا کرنے والا ہے کس طرح اپنے عشاق کو اپنی ہم کلامی سے محروم رکھ سکتا ہے اور اس کی تائید میں آیات ذیل ”واذا سالک عبادی عنی فانی قریب ...... الخ!“ اور ”ان الذین قالوا ...... تتنزل الملائکۃ“ حم سجدہ رکوع نمبر ٤ پیش کی گئی ہیں۔ اس کے بعد پھر آیات ”رفیع الدرجات ذوالعرش ...... یوم التلاق“ سورہ مؤمن رکوع نمبر ٢ اور ”تنزل الملائکۃ بالروح من امرہ علیٰ من یشاء ...... فاتقون“ سے یہ استدلال کیا گیا ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ازمنۂ سابقہ میں اپنے وحی سے مشرف کرتا رہا ہے۔ آئندہ بھی کرے گا۔

٢٠٤٣

AKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

اوپر مذکور ہوا۔

غیر انبیاء یعنی اولیاء وغیرہ کے ساتھ بھی

ایسی وحی نازل ہو جاتی ہے جس میں خبروں پر مشتمل ہوتی ہے۔ اس کے آگے مدعا علیہ ۔ آنحضرت ﷺ کے بعد کسی پر وحی نہیں مجید یا احادیث سے کوئی دلیل پیش نہیں یؤمنون ...... من قبلک“ پیش کر ہوتی تو اس آیت میں ضرور اس کا ذکر آ کے بعد وحی نہیں ہو سکتی۔ اس کا ایک ج آنحضرت ﷺ کے بعد ایسی وحی جو آ ذکر نہیں کیا گیا۔ اس کی تائید میں پھر ہا کہ ہمارے پاس کوئی ایسی خبر نہیں آت ہوگی۔ بلکہ وحی الہام ہوگی۔ دوسرا جواب حدیث میں آنحضرت ﷺ فرماتے ہ یہ ہے کہ جو قرآن مجید پر ایمان رکھتا ہ اسے 2198 خدا کی طرف سے یقین کر دلالت کرتی ہے۔ غیر تشریعی وحی کے آنحضرت ﷺ کے بعد غیر شریعت وا دروازہ بند نہیں ہے۔ آیات ذیل ”الم قولاً“ پارہ ١٦، رکوع ١٣، کے حوا بندوں سے خدا کا کلام کرنا ضروری ہ اتارنے والا خدا جو بچھڑے کی عبودیت

صفحہ ٢٠٨٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

کیونکہ آیت میں نزول وحی کا موجب اللہ تعالیٰ کا رفیع الدرجات وذوالعرش ہونا ہے اور ضرورت انداز قرار دیا گیا ہے۔ پس جب کہ اللہ تعالیٰ اب بھی رفیع الدرجات اور ذوالعرش ہے۔ اس میں تغیر نہیں آیا اور لوگ بھی بلحاظ روحانیت مردہ ہو گئے تو پھر وحی کا انقطاع کیونکر مان لیا جاوے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ”کنتم خیر امة اخرجت للناس ...... الخ!“ یعنی امت محمدیہ تمام امتوں سے بہتر ہے اور نعمت بھی اس پر پوری ہو چکی اور دعا بھی خدا نے ہمیں یہ سکھلائی کہ ”صراط الذین انعمت علیہم“ کہ اے خدا تو ہمیں اپنے پیارے اور مقرب بارگاہ بندوں یعنی انبیاء صدیقین اور شہدائے اور صالحین کے راستہ پر چلا تو عقل سلیم کیونکر تسلیم کر سکتی ہے کہ امت محمدیہ جو سب امتوں سے بہتر ہو لیکن انعامات الہیہ سے محروم ہو پہلی امتوں کے مردوں کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو بھی اپنے کلام سے مشرف کیا اور ان پر فرشتے نازل ہوئے۔ لیکن امت محمدیہ 2200 کے بڑے سے بڑے درجہ کے مرد کو بھی یہ انعام نہ ملے۔ پس یہ کہنا کہ امت مرحومہ پر وحی الہی کا دروازہ بند ہے اور خدا اس سے کلام نہیں کرتا تو پھر یہ خیر الامم کیسے ہوئی؟ اور یہ کہنا غلطی ہے کہ خدا تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کے بعد جو تمام عالم کے لئے رحمت ہو کر آئے تھے اس انعام کو لوگوں سے چھین لیا ہے اور امت میں سے کسی ایک فرد کو بھی اپنے ہم کلام ہونے کے مبارک شرف سے ہمیشہ کے لئے محروم کر دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ اور اس کا پاک رسول اور اولیاء امت یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ فیضان الہی اس امت پر بند نہیں ہیں اور آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ تم میں سے پہلے قوم بنی اسرائیل میں ایسے لوگ ہوئے ہیں کہ باوجود یہ کہ وہ نبی نہ تھے۔ لیکن اللہ تعالیٰ ان سے کلام کرتا تھا۔ میری امت میں ایسے لوگوں میں اگر کوئی ہے تو عمرؓ ہے۔ دوسری روایت میں محدث کا لفظ آیا ہے۔ صحابہؓ نے حضور ﷺ سے دریافت فرمایا کہ یا رسول اللہ محدث سے کیا مراد ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ فرشتے اس کی زبان پر کلام کرتے ہیں۔

(بزرگان دین کے حوالے)

اس کے بعد حضرت شیخ ابن عربیؒ ، حضرت امام ربانی مجدد الف ثانیؒ اور مولانا رومؒ کی کتابوں کے حوالوں سے یہ بیان کیا گیا ہے کہ ان کے نزدیک بھی یہ پایا جاتا ہے کہ تمام اقسام وحی کی جو قرآن میں مذکور ہیں خدا کے بندوں اولیاء اللہ سب میں پائی جاتی ہیں اور وحی جو نبی میں ہے وہ خاص ہے اور شریعت والی وحی ہے اور کہ جو وحی انبیاء علیہم السلام کو ہوتی ہے۔ وہ اس امت کے بعض کامل افراد کو بھی ہوتی ہے اور جیسا کہ مولانا رومؒ نے کہا ہے ہوتی تو وہ وحی حق ہے۔ لیکن صوفیائے عام لوگوں سے پردہ کرنے کی خاطر اسے وحی دل میں کہہ دیتے ہیں اور کہ جن طریق سے انبیاء علیہم

٢٠٢

صفحہ ٢٠٨٣

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

السلام کو وحی الہام ہوتا ہے انہیں طرق سے اولیاء اللہ کو ہوتا ہے۔ اگرچہ اصطلاحاً ان کا نام رکھنے میں فرق کیا گیا ہے اور یہ علماء کی اپنی اصطلاح ہے اور اصطلاح فرق مراتب کے لحاظ سے قرار پاگئی ہے کہ انبیاء کی وحی کو وحی اور اولیاء کی وحی کو الہام کہتے ہیں اور کہ ولی پر بھی وحی بواسطہ ملک ہوتی ہے اور مدعیہ کے اعتقاد کے مطابق عیسیٰ کے نزول پر ان پر وحی نازل ہوگی اور اس کے متعلق علماء کا قول ہے کہ وہ حضرت جبرائیل علیہ السلام کی زبان پر ہوگی اس 2201 کے آگے یہ کہا گیا ہے کہ مرزا صاحب کی کتب سے جو یہ دکھلایا گیا ہے کہ وہ بھی آنحضرت ﷺ کے بعد سلسلہ وحی کو منقطع مانتے ہیں تو وہاں ان کی مراد وحی شریعت سے ہے نہ کہ دوسری وحی سے جسے وہ جاری سمجھتے ہیں ان تصریحات سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد ایسی وحی کہ جس میں نئے اوامر و نواہی نہ ہوں جاری ہے اور جن علماء نے یہ کہا ہے کہ آپ ﷺ کے بعد وحی اور الہام کا سلسلہ بند ہے تو اس سے مراد ایسی وحی ہے جو شریعت محمدیہ کے مخالف نئے اوامر و نواہی پر مشتمل ہو۔ نہ مطلق وحی جس کا امت محمدیہ میں باقی رہنا قرآن مجید، حدیث و بزرگان دین کے اقوال سے ثابت ہے۔ اس کے آگے پھر دوسرا ہیڈنگ شروع ہو جاتا ہے۔ اس کے تحت میں اس بحث کا جواب درج کیا جاتا ہے۔

مدعیہ کی طرف سے جس وحی کے متعلق یہ کہا گیا ہے کہ اس کا ادّعا کفر ہے۔ اس سے مراد وحی نبوت سے ہی ہے۔ فریق مدعیہ کے نزدیک وحی کا لفظ صرف انبیاء کے لئے ہی مختص ہے اور وہ اس امر کے قائل نہیں کہ جو وحی نبی کی ہوتی ہے وہ غیر انبیاء کو بھی ہو سکتی ہے۔ اس لئے اب مدعاعلیہ کی بحث سے ہی یہ طے کرنا ہے کہ آیا اس قسم کی وحی جو انبیاء کو ہوتی ہے غیر انبیاء کو بھی ہو سکتی ہے یا نہ۔ اس کے متعلق جن آیات قرآنی کا حوالہ مدعاعلیہ کی طرف سے پیش کیا گیا ہے۔ ان کے ظاہری الفاظ سے یہ پایا جاتا ہے کہ حضرت ام موسیٰ پر وحی ہوئی۔ حضرت مریم پر فرشتے اترے، اور ذوالقرنین سے اللہ تعالیٰ نے کلام فرمایا۔ لیکن اگر یہ نتیجہ محض ان الفاظ ’اوحینا‘ ’قالت الملائکۃ‘ اور ’قلنا‘ کے استعمال سے اخذ کیا جاتا ہے تو یہ درست نہیں۔ کیونکہ وحی کا لفظ قرآن مجید میں نہ صرف ذوی العقول کی بابت استعمال فرمایا گیا ہے۔ بلکہ غیر ذوی العقول کی بابت بھی جیسا کہ سورہ نحل میں ہے کہ شہد کی مکھی کو وحی کی گئی۔ یہاں میرے خیال میں مدعاعلیہ کے نزدیک بھی وحی سے مراد وہ وحی نہیں ہو سکتی جو انبیاء کو ہوتی ہے۔ یہاں یقیناً اس کے کوئی اور معنی بمثل فطرت میں داخل کرنا یا اسے سوجھانا کئے جائیں گے۔ اس طرح قرآن مجید میں وحی کا لفظ اور بھی کئی مقامات پر استعمال ہوا ہے۔ جس کے سیاق و سباق سے یہ نتیجہ اخذ نہیں ہوتا کہ وہاں اس لفظ 2202 سے مراد اس قسم کی وحی ہے جو انبیاء کو ہوتی ہے اور غالباً اس شبہ کو زائل کرنے کے لئے حضور

٢٠٥

F PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

کیونکہ آیت میں نزول وحی کا موجب اللہ تعا انداز قرار دیا گیا ہے۔ پس جب کہ اللہ تعال تغیر نہیں آیا اور لوگ بھی بلحاظ روحانیت م اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ”کنتم خیر امۃ اخر سے بہتر ہے اور نعمت بھی اس پر پوری ہو چکی انعمت علیہم“ کہ اے خدا تو ہمیں ا اور شہدائے اور صالحین کے راستہ پر چلا تو امتوں سے بہتر ہو لیکن انعاماتِ الہیہ سے مح عورتوں کو بھی اپنے کلام سے مشرف کیا اور بڑے سے بڑے درجہ کے مرد کو بھی یہ انعام بند ہے اور خدا اس سے کلام نہیں کرتا تو پھر یہ آنحضرت ﷺ کے بعد جو تمام عالم کے لئے ہے اور امت میں سے کسی ایک فرد کو بھی اپ محروم کر دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ اور اس کا پاک ر اس امت پر بند نہیں ہیں اور آنحضرت ﷺ ایسے لوگ ہوئے ہیں کہ باوجود یہ کہ وہ نبی نہ میں ایسے لوگوں میں اگر کوئی ہے تو عمرؓ ہے۔ حضور ﷺ سے دریافت فرمایا کہ یا رسول ا فرشتے اس کی زبان پر کلام کرتے ہیں۔ (بزرگانِ اس کے بعد حضرت شیخ ابن عر کتابوں کے حوالوں سے یہ بیان کیا گیا ہے ک جو قرآن میں مذکور ہیں خدا کے بندوں اولیاء خاص ہے اور شریعت والی وحی ہے اور کہ جو وح کامل افراد کو بھی ہوتی ہے اور جیسا کہ مولانا رو لوگوں سے پردہ کرنے کی خاطر اسے وحی د

صفحہ ٢٠٨٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug. 1974 No:15

علیہ الصلوٰۃ والسلام کے متعلق قرآن مجید میں بتصریح یہ فرمایا گیا کہ ہم نے تیری طرف اس قسم کی وحی بھیجی ہے جیسا کہ حضرت نوح، ابراہیم، اسحٰق، اسماعیل، یعقوب (علیہم السلام) اور ان کی اولاد کی طرف بھیجی گئی۔ سورۂ نساء پارہ ٦، رکوع نمبر ٣ آیت ’’انا اوحینا الیک کما اوحینا الی نوح...... زبوراً‘‘ اس لئے ان مواقعات پر جہاں کہ لفظ وحی کے استعمال سے وحی نبوت کے معنی اخذ نہیں ہو سکتے۔ اس لفظ سے مراد جیسا کہ علماء نے لی ہے القاء کرنا یا دل میں ڈالنا ہی لی جائے گی۔ اسی طرح قرآن مجید میں ایک اور جگہ ہے ’’وان الشیطین لیوحون الی اولیاء ھم‘‘ تو کیا یہاں بھی لفظ وحی کے استعمال سے وحی انبیاء لی جا سکے گی۔

قرآن مجید میں اس قسم کے اور بھی کئی الفاظ ہیں کہ جن کے ظاہری معنی مراد نہیں لئے گئے۔ مثلاً فتنہ کا لفظ جس کے معنی عام طور پر آزمائش کے لئے گئے ہیں اس طرح اس کی سند بیان نہیں کی گئی کہ فرشتے ہر حال میں ذات باری کی طرف سے ہی بحیثیت رسول اترتے اور کلام کرتے رہے۔ ممکن ہے کہ نیک آدمیوں پر ان کا اترنا عام انتظام کائنات کے سلسلہ میں ہو یا روحانی ترقی کے مدارج میں داخل ہو۔ اس لئے حضرت مریم پر فرشتوں کے اترنے سے یہ نتیجہ لازمی طور پر برآمد نہیں ہوتا کہ اللہ تعالیٰ غیر انبیاء سے اس طریق پر کلام کرتا ہے۔ جیسا کہ انبیاء کے ساتھ، باقی رہی وہ آیت جو ذوالقرنین کے متعلق ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ بعض کے نزدیک وہ نبی تھے۔ اگر نبی تھے تو انہیں وحی نبوت ہوئی ہوگی اور اگر نبی نہ تھے تو ان کے متعلق محض لفظ قال کا استعمال عمومیت کے طور پر یہ نتیجہ اخذ کرنے کے لئے کافی نہیں کہ غیر انبیاء کے ساتھ بھی اللہ تعالیٰ ہم کلام ہو سکتا ہے۔ علاوہ ازیں اگر یہ مان بھی لیا جاوے کہ حضرت ام موسیٰ اور حضرت مریم کو ایسی ہی وحی ہوئی جیسا کہ انبیاء کو ہوتی ہے تو اس سے لازمی طور پر یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ ایسی وحی ہر غیر انبیاء کو ہو سکتی ہے۔ کیونکہ یہ بیبیاں پیغمبروں کی مائیں تھیں اور ان ہر دو پیغمبروں کے متعلق یہ خطرہ تھا کہ انہیں پیدا ہونے کے بعد ہلاک نہ کر دیا جاوے۔ اس لئے ان کی ماؤں کو تسکین دینے 2203 کے لئے اگر اللہ تعالیٰ نے اپنی ہم کلامی سے مشرف فرما دیا ہو تو کوئی عجب نہیں۔ اس کے ساتھ ہی پھر یہ بات بھی قابل غور ہے کہ یہ واقعات حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بعثت سے قبل کے ہیں۔ ممکن ہے کہ خاص حالات کے تحت خاص خاص اشخاص کے ساتھ ہم کلام ہونا مشیت ایزدی سے ضروری سمجھا گیا ہو اور اس کی تائید خود مدعا علیہ کی اپنی بحث سے ہوتی ہے۔ جیسا کہ وہ کہتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ بنی اسرائیل میں ایسے لوگ ہوئے ہیں کہ باوجود یہ کہ وہ نبی نہ تھے اللہ تعالیٰ ان سے کلام کرتا تھا۔ چنانچہ ذوالقرنین بھی اسی ذیل میں داخل سمجھے جاسکتے ہیں۔ لیکن اس کے بعد جب

٢٠٦

صفحہ ٢٠٨٥

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15 حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ میرے بعد نبوت میں سے سوائے مبشرات کے اور کچھ باقی نہیں تو پھر کیونکر کہا جاسکتا ہے کہ غیر انبیاء کو بھی وہی وحی ہوتی ہے جو انبیاء کو ہوتی ہے۔ اس حدیث کو فریق مدعاعلیہ نے صحیح تسلیم کیا ہے۔ لیکن اس کی یہ تاویل کی ہے کہ یہ عام اشخاص کے متعلق ہے۔ خواص کے لئے نہیں اگر خواص اس سے مستثنیٰ تھے تو کوئی وجہ نہ تھی کہ رسول اللہ ﷺ اس کی تصریح نہ فرما دیتے۔ یہ حدیث حضرت عائشہؓ سے بھی روایت کی گئی ہے۔

باقی رہے صوفیائے کرام کے اقوال اور تحریریں، ان کے متعلق ایک جواب تو اوپر سید انور شاہ صاحب کے بیان کے حوالہ سے دیا جا چکا ہے کہ انہوں نے ان اشخاص کو جو ان کی اصطلاحات سے واقف نہ ہوں، اپنی کتابوں میں نظر کرنے سے منع فرمایا اور اس کا دوسرا جواب بھی شاہ صاحب مذکور کے الفاظ میں نقل کیا جاتا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ صوفیائے کرام نے نبوۃ کو بمعنی لغوی لے کر منقسم بنایا اور اس کی تفسیر خدا سے اطلاع پانا۔ دوسرے کو اطلاع دینا کی، اور اس کے نیچے انبیاء علیہم السلام اور اولیاء کرام دونوں کو داخل کیا اور نبوت کو دو قسم کر دیا۔ نبوت شرعی اور نبوت غیر شرعی، نبوت کے نیچے وحی اور رسل دونوں درج کر دیئے اور اب ان کے لئے نبوت غیر شرعی اولیاء کے کشف اور الہام کے لئے ٹھہر گیا اور مخصوص ہو گیا۔ صوفیائے کرام کی تصریح ہے کہ کشف کے ذریعہ مستحب کا درجہ بھی ثابت نہیں ہوتا۔ صرف اسرار معارف، مکاشف اس کا دائرہ ہیں اور تصریح فرماتے ہیں کہ ہمارا کشف دوسرے پر 2204 حجت نہیں۔ ہمارا کشف ہمارے لئے ہے۔ گواہ مذکور نے کشف، الہام اور وحی کی یہ تعریف بیان کی ہے کہ کشف اسے کہتے ہیں کہ کوئی چیز بند آنکھوں سے دکھلاوے۔ جس کی مراد کشف والا خود نکالے۔ دل میں کچھ مضمون ڈال دیا اور سمجھا دیا جاوے یہ الہام ہے۔

خدا نے پیغام بھیجا۔ اپنے ضابطہ کا وہ وحی ہے۔ وحی قطعی ہے اور کشف والہام ظنی ہیں۔

بنی نوع آدم میں وحی پیغمبروں کے ساتھ مخصوص ہے۔ غیروں کے لئے کشف یا الہام ہے یا معنوی وحی ہو سکتی ہے، شرعی نہیں۔

وحی کے شرعی یا غیر شرعی ہونے کی جو تفریق مدعاعلیہ کی طرف سے کی گئی ہے۔ اس کی تائید میں اس نے سوائے اقوال بزرگان کے اور کوئی سند پیش نہیں کی اور ان اقوال کی مدعاعلیہ کی طرف سے توجیہ اور تشریح کی گئی ہے اور یہ دکھلایا گیا ہے کہ ان بزرگان کی ان اقوال سے کیا مراد ہے اور ان کے دیگر صریح اقوال پیش کئے گئے ہیں کہ جن میں وہ رسول اللہ ﷺ کو خاتم النبیین بمعنی آخری نبی تسلیم کرتے ہیں اور آپ ﷺ کے بعد کسی اور نبی کا آنا ممکن نہیں سمجھتے۔ لیکن ان پر اس لئے ٢٠٧

MBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15 علیہ الصلوٰۃ والسلام کے متعلق قرآن مجید میں بتصریح وحی بھیجی ہے جیسا کہ حضرت نوح، ابراہیم، اسحٰق، اسماعی کی طرف بھیجی گئی۔ سورۂ نساء پارہ ٦، رکوع نمبر ٣ آیت نوح ...... زبوراً “ اس لئے ان مواقعات پر جہاں اخذ نہیں ہو سکتے۔ اس لفظ سے مراد جیسا کہ علماء نے گی۔ اسی طرح قرآن مجید میں ایک اور جگہ ہے ’و اوح کیا یہاں بھی لفظ وحی کے استعمال سے وحی انبیاء لی جاو قرآن مجید میں اس قسم کے اور بھی کئی ال گئے۔ مثلاً فتنہ کا لفظ جس کے معنی عام طور پر آزمائش نہیں کی گئی کہ فرشتے ہر حال میں ذات باری کی طرف رہے۔ ممکن ہے کہ نیک آدمیوں پر ان کا اثر نامعلو کے مدارج میں داخل ہو۔ اس لئے حضرت مریمؑ ب برآمد نہیں ہوتا کہ اللہ تعالیٰ غیر انبیاء سے اس طریق پ رہی وہ آیت جو ذوالقرنین کے متعلق ہے۔ اس کا اگر نبی تھے تو انہیں وحی نبوت ہوئی ہوگی اور اگر نبی عمومیت کے طور پر یہ نتیجہ اخذ کرنے کے لئے کافی نہ ہو سکتا ہے۔ علاوہ ازیں اگر یہ مان بھی لیا جاوے کہ ہوئی جیسا کہ انبیاء کو ہوتی ہے تو اس سے لازمی طور پ ہے۔ کیونکہ یہ بیبیاں پیغمبروں کی مائیں تھیں اور ان ہونے کے بعد ہلاک نہ کر دیا جاوے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنی ہم کلامی سے مشرف فرما دیا ہو تو کیا قابل غور ہے کہ یہ واقعات حضور علیہ الصلوٰۃ والسلا حالات کے تحت خاص خاص اشخاص کے ساتھ ہم اور اس کی تائید خود مدعاعلیہ کی اپنی بحث سے ہوتی فرمایا ہے کہ بنی اسرائیل میں ایسے لوگ ہوئے ہیں کلام کرتا تھا۔ چنانچہ ذوالقرنین بھی اسی ذیل میں ٢٠٦

صفحہ ٢٠٨٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15 بحث کی ضرورت نہیں کہ وہ قرآن مجید اور احادیث کے مقابلہ میں کوئی حجت نہیں ہو سکتے اور مدعا علیہ کی طرف سے جو اعتراض مدعیہ پر عائد کیا گیا تھا کہ اس نے وجوہات تکفیر کے ضروریات دین ہونے کے متعلق قرآن یا حدیث سے کوئی ثبوت پیش نہیں کیا وہ بدرجہ اولیٰ خود مدعا علیہ پر وارد ہوتا ہے کہ اس نے شرعی اور غیر شرعی وحی کی جو تقسیم کی ہے اس کے متعلق کوئی ثبوت قرآن واحادیث سے پیش نہیں کیا۔ محض قیاسات سے ہی یہ کہا گیا کہ جس آیت کا حوالہ مدعیہ کی طرف سے دیا گیا ہے۔ اس میں آئندہ وحی کا ذکر نہیں، وہ شریعت والی وحی کے انقطاع پر دلالت کرتی ہے۔

مدعیہ کی طرف سے درست طور پر یہ کہا گیا ہے کہ صوفیائے کرام نے نبوت کی جو قسمیں بیان کی ہیں وہ ان کی اپنی قائم کردہ اصطلاحات کے مطابق ہیں۔ اس لئے ان کی قائم کردہ اصطلاحات کو عام امت کے مقابلہ میں حجت قرار دینا درست نہیں ہے۔ مسیح موعود پر وحی کا ہونا مستثنیات سے ہے۔ جس کی استثناء خود حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے کر دی اس سے وحی نبوت کے اجراء کا عمومیت کے ساتھ نتیجہ نکالنا ایک غلطی ہے۔

2205 آیت ”وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ ...... الخ!“ میں بشر کے لفظ کے متعلق مدعیہ کی طرف سے کہا گیا ہے کہ ”مراد انبیاء علیہم السلام سے ہے۔“ لیکن اگر عام بشر بھی مراد لئے جاویں تو اس سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ خدا بالعموم آدمیوں سے کلام کرتا رہتا ہے۔ بلکہ اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے ساتھ ہم کلام ہونے کے طریق بتلائے ہیں۔ باقی کلام کا کرنا یا نہ کرنا اس کی اپنی مشیت پر منحصر ہے۔ لہٰذا گواہان مدعیہ نے یہ درست کہا ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بعد وحی نبوت جاری ہوتی تو قرآن مجید میں ضرور اس کی صراحت فرمادی جاتی۔ کیونکہ اس پر امت کی فلاح کا دارومدار تھا۔ باقی مولانا روم کی کتاب مثنوی کے حوالے سے جو یہ بیان کیا گیا ہے کہ وہ لکھتے ہیں کہ اولیاء کو جو وحی ہوتی ہے وہ دراصل وحی حق ہوتی ہے اور اولیاء عام لوگوں سے پردہ کرنے کی خاطر اسے وحی دل کہہ دیا کرتے ہیں۔ یہ ان کے شاعرانہ خیالات ہیں، اور شاعر کی نیت میں جیسا کہ سید انور شاہ صاحب گواہ مدعیہ نے کہا ہے۔ منوانا اس کا عالم کو منظور نہیں ہوتا اور پھر جہاں انہوں نے وحی حق کے الفاظ لکھے ہیں ان کے ساتھ ہی واللہ اعلم بالصواب کا جملہ بھی موجود ہے۔ اس سے ان کے مفہوم کا خود اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ پارہ نمبر ٩، رکوع نمبر ٨ اور پارہ ١٦، رکوع نمبر ١٣ کی آیات محولہ بالا سے بھی یہ استدلال درست نہیں کیا گیا کہ آنحضرت ﷺ کے بعد غیر شریعت والی وحی ہو سکتی ہے۔ کیونکہ اوّل تو آیات اس زمانہ اور ان حالات سے تعلق رکھتی ہیں جو نزول قرآن کے وقت موجود تھے اور ان میں ان لوگوں کو خطاب ہے جو عبادت الٰہی سے نا آشنا اور غافل ہوں

٢٠٨

صفحہ ٢٠٨٧

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

اور اب رسول اللہ ﷺ کی تعلیم کے بعد کسی ادنیٰ سے ادنیٰ مسلمان کا بھی یہ عقیدہ نہیں ہوسکتا کہ خدا تعالیٰ سمیع ، بصیر اور علیم نہیں۔ باقی رہا اس کا آدمیوں سے کلام کرنا وہ اس کی مشیت پر منحصر ہے۔ اسے کسی کی آہ و بکا، فریاد فغاں سے کلام کرنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا۔ دنیاوی عاشق و معشوق کی مثال عشق الٰہی پر نہایت ہی نازیبا طریق پر عائد کی گئی۔ تاہم اس مثال کو بھی اگر مدنظر رکھا جاوے تو رسول اللہ ﷺ کی تعلیم ایسی ناقص نہیں کہ عاشقان الٰہی اگر فی الحقیقت وہ پورے معنوں میں عاشقان الٰہی بن چکے ہیں۔ خداوند تعالیٰ کے دروازہ سے نا امید ہو کر لوٹیں۔ یا نعوذ باللہ 2206 یہ تصور کریں کہ ان کا محبوب مر چکا یا انہیں دھوکا دیا گیا۔ دنیاوی معشوق بھی اگر اپنے عاشق کی آہ و بکا سن کر اندر سے اسے کوئی تحفہ بھیج دے یا اس کی بات کو سن کر اس کا کوئی کام سرانجام کردے تو باوجود اس کے کہ وہ اس سے ہم کلام نہ ہو یا اپنا دیدار نہ کرائے۔ اس کا عاشق ضرور سمجھ لے گا کہ اس کا معشوق زندہ ہے اور اس سے محبت کرتا ہے۔ دنیا میں عاشقان الٰہی کی تعداد حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بعد آج تک کوئی تھوڑی نہیں سمجھی جاسکتی اور ویسے تو ایسے عشاق نہ صرف مذہب اسلام میں بلکہ ہر مذہب میں سینکڑوں کی تعداد میں پائے جائیں گے۔ اگر اللہ تعالیٰ کے ہم کلام ہونے کا ذریعہ اس کے عشاق کے دل کی تڑپ ہی قرار دی جاوے تو ضرور ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس عرصہ میں ہر ایک عاشق سے نہ سہی سوویں ہزارویں سے سہی۔ دس پندرہ بیس سال کے بعد نہ سہی، سو ہزار سال کے بعد سہی کسی نہ کسی ایک سے تو ہم کلامی فرمائی ہوتی؟ نہ یہ کہ تیرہ سو سال تک یک دم خاموشی اختیار کئے رکھنے کے بعد صرف ایک شخص سے ہم کلام ہونا منظور فرمایا گیا اور وہ بھی زیادہ تر پرانی تیرہ سو سال والی زبان میں گویا اب اس کے پاس الفاظ اور معانی کا ذخیرہ ختم ہو چکا ہے۔ اگر نعوذ باللہ خدا کے پاس ہم کلامی کے لئے نہ کوئی اور نیا مواد ہے اور نہ نئے الفاظ ۔ تو پھر بیچارے مولویوں کا کیا قصور ہے کہ انہیں پرانی لکیر کا فقیر قرار دیا جا کر کوسا جاتا ہے۔ کیونکہ انہوں نے خدا کے اس پرانے کلام کی تفسیر وہی کرنی ہے جو پہلے سے ہوتی آئی ہے۔

اگر عشاق کی تسلی محض گفتگو سے ہوتی اور وجود باری تعالیٰ کے علم کا ذریعہ بھی یہی ہوتا کہ جب کبھی اس کا کوئی عاشق بیقراری کی حالت میں آہ و بکا کرتا ہوا اس کے دروازہ پر پہنچے تو اسی کے لئے فوراً دروازہ کھل جائے۔ تو اسلام صفحہ ہستی سے کبھی کا نابود ہو چکا ہوتا۔ کیونکہ تیرہ سو سال کا زمانہ ایسا نہیں کہ عشاق نعوذ باللہ خداوند تعالیٰ کی اس بے اعتنائی کو دیکھ کر اس کے دروازہ پر پڑے رہتے۔ بلکہ بقول گواہ مدعا علیہ عرصہ سے ناامید ہو کر لوٹ چکے ہوتے اور پھر اس کی کیا گارنٹی ہے کہ اللہ تعالیٰ صرف ان عشاق سے ہی گفتگو کرتا ہے کہ جو مذہب اسلام سے تعلق رکھتے ہوں اور

٢٠٩

F PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

بحث کی ضرورت نہیں کہ وہ قرآن مجید اور اح کی طرف سے جو اعتراض مدعیہ پر عائد ک ہونے کے متعلق قرآن یا حدیث سے کوئی ہے کہ اس نے شرعی اور غیر شرعی وحی کی جو تق پیش نہیں کیا۔ محض قیاسات سے ہی یہ کہا اس میں آئندہ وحی کا ذکر نہیں، وہ شریعت وا

مدعیہ کی طرف سے درست طو بیان کی ہیں وہ ان کی اپنی قائم کردہ اص اصطلاحات کو عام امت کے مقابلہ میں مستثنیات سے ہے۔ جس کی استثناء خود حض اجزاء کا عمومیت کے ساتھ نتیجہ نکالنا ایک غل 2205 آیت ”وما کان لبش سے کہا گیا ہے کہ ”مراد انبیاء علیہم السلام سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ خدا بالعموم آدمیوں بندوں کے ساتھ ہم کلام ہونے کے طریق پر منحصر ہے۔ لہٰذا گواہان مدعیہ نے یہ درس جاری ہوتی تو قرآن مجید میں ضرور اس ک دارومدار تھا۔ باقی مولانا روم کی کتاب مثن کہ اولیاء کو جو وحی ہوتی ہے وہ دراصل وح خاطر اسے وحی دل کہہ دیا کرتے ہیں۔ یہ کہ سید انور شاہ صاحب گواہ مدعیہ نے کہا۔ نے وحی حق کے الفاظ لکھے ہیں ان کے سا ان کے مفہوم کا خود اندازہ لگایا جاسکتا ہ آیات محولہ بالا سے بھی یہ استدلال درس وحی ہو سکتی ہے۔ کیونکہ اوّل تو آیات اس کے وقت موجود تھے اور ان میں ان لوگو

صفحہ ٢٠٨٨

2088 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

دوسرے سے نہیں کرتا۔ علاوہ ازیں عشاق کی تسلی محض گفتگو سے نہیں ہوا کرتی ۔ بلکہ 2207 جیسا کہ مدعا علیہ کے گواہ نے بھی ظاہر کیا ہے۔ دیدار یاران کا مطمح نظر ہوتا ہے۔ اس لئے ممکن ہے کہ عشاق جب گفتگوئے یار سے بہرہ اندوز ہوں تو پھر کبھی اپنے عشق کی مستی میں قوم موسیٰ کی طرح ”ارنا الله جهرة “ کی رٹ لگانی شروع کر دیں اور بجائے اس کے کہ دیدارِ یار سے لذت اندوز ہوں۔ اپنا بیڑہ بھی غرق کر بیٹھیں۔ شک نہیں کہ حقیقی عشاق کے دلوں میں ضرور اپنے محبوب کے متعلق ایک تڑپ ہوتی ہے۔ اس تڑپ کے فرو کرنے کا علاج یہ نہیں کہ محبوب سے ضرور ہم کلامی ہو۔ ”باری عزاسمہ“ نے اپنے عشاق کی تڑپ فرو کرنے کا علاج خود ہی اپنے زندہ کلام قرآن پاک میں یہ فرمایا ہے۔ ”الا بذكر الله تطمئن القلوب “ یعنی خدا کی یاد سے دل مطمئن ہوتے ہیں اور زیادہ اضطراب پیدا ہونے کی صورت میں فرمایا۔ ”واذا سالك عبادی عنی فانی قریب ....... الخ!“

گواہ مدعا علیہ نے اس آیت کو بقاء وحی پر دلیل پکڑا ہے۔ لیکن وحی سے مراد اگر اس قسم کی استجابت لی جاوے جو اس آیت میں مذکور ہے۔ تو پھر خداوند تعالیٰ کا ہر فرد بشر کے ساتھ کلام کرنا ممکن ہو سکتا ہے اور ہر شخص محل وحی بھی بن سکتا ہے۔ اس قسم کے استدلال اختیار کرنے سے مذہب کی کوئی عظمت و وقعت ظاہر نہیں ہو سکتی اور نہ اس کی کوئی حقیقت منکشف کی جاسکتی ہے۔ گواہ مدعا علیہ نے بیان کیا ہے کہ خدا کا کلام نہ کرنا غضب اور ناراضگی کی علامت ہے تو کیا اس سے سمجھا جائے گا کہ جن لوگوں سے پہلے خداوند تعالیٰ نے کلام نہیں کی۔ کیا ان سب پر خداوند تعالیٰ ناراض رہا ہے اور وہ مورد عتاب الٰہی ہیں۔ استغفر اللہ!

( بقاء وحی )

بقاء وحی کے سلسلہ میں باقی ماندہ جن دو آیات سورۂ مومن اور پارہ ٢٤، رکوع ٧ کا حوالہ دیا گیا ہے۔ ان سے بھی وحی کا جاری رہنا ثابت نہیں ہوتا۔ بلکہ یہ آیات مدعا علیہ کی اپنی تقسیم کے مطابق وحی تشریعی ہی سے تعلق رکھتی ہیں۔ کیونکہ ان میں یہ مذکور ہے کہ جس شخص کو وحی کی جاتی ہے۔ اس کو یہ حکم دیا جاتا ہے کہ وہ لوگوں کو قیامت کے دن سے ڈرائے۔ اس لئے اس قسم کی وحی کو مدعا علیہ کی اپنی تعریف کے مطابق وحی تشریعی ہی سمجھا جائے گا اور یہ سلسلہ مدعیہ کے ادعا کے 2208 مطابق اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ پر آکر ختم فرمادیا، اور مدعا علیہ کے نزدیک بھی اب تشریعی نہیں آسکتا۔ اس لئے ان آیات سے وحی مطلق کے اجراء کا استدلال نہیں کیا جاسکتا۔ باقی رہی

٢١٠

2089 NATIONAL ASS

سکھلائی ہے کہ اے اللہ ہمیں راہ مستقیم پر چلا ہیں اور پھر دوسری سورت میں اس کی تشریح کے متعلق فرمایا کہ وہ نبی ، صدیق ، شہید اور آل محمد مصطفیٰ ﷺ کی پیروی سے یہ چاروں سکتا کہ امت محمدیہ تین مراتب کا تو انعام ممکن ہو ۔ حالانکہ اس سے پہلی امتوں نے ہوئی؟ اور نہیں کہا جا سکتا کہ امت مرحومہ پر تمام عالم کے لئے رحمت ہو کر آئے۔ اس کے کہ آیت ”من يطع الله والرسول...... سے ہے نہ کہ عطائے درجہ۔ مدعا علیہ کے ارج جو اس آیت میں مذکور ہیں۔ رسول ت کا درجہ نہ مل سکے۔ اگر اس بحث کو بفرض کہ نبوت ایک کسبی چیز ہے جو اتباع سنت کی نصوص سے یہ ثابت ہے کہ نبوت کسبی ماتا ہے۔ چنانچہ وہ ( محمد علی لاہوری) اپنی نبوت موہبت اکتساب سے نہیں ملتی ...... ام آیات قرآنی اور احادیث کے صاف حاصل ہو سکتی تھی تو کوئی وجہ معلوم نہیں ہوتی ہیں۔ ان 2209 میں سے کسی کو بھی یہ مرتبہ کے کمال اتباع اور فیض سے یہ مرتبہ حاصل کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جہاں کئی ادعیات اور اوراد کی تلقین فرمائی ہے اور اتے۔ تاکہ امت کے افراد کو اس کے کی شفقت سے یہ بعید تھا کہ وہ امت کو

صفحہ ٢٠٨٩

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15 مدعا علیہ کی یہ حجت کہ اللہ تعالیٰ نے جب ہمیں یہ دعا سکھلائی ہے کہ اے اللہ ہمیں راہ مستقیم پر چلا اور ان لوگوں کی راہ پر چلا جن پر تو نے اپنے انعام کئے ہیں اور پھر دوسری سورت میں اس کی تشریح فرمائی کہ وہ کون لوگ ہیں جن پر خدا کا انعام ہوا۔ اس کے متعلق فرمایا کہ وہ نبی، صدیق، شہید اور صالح ہیں۔ اس سے یہ تلقین کی گئی کہ اللہ اور اس کے رسول محمد مصطفےٰ ﷺ کی پیروی سے یہ چاروں مراتب تم کو حسب حیثیت مل سکتے ہیں۔ لہٰذا یہ نہیں ہو سکتا کہ امت محمدیہ تین مراتب کا تو انعام پائے اور چوتھے مرتبہ یعنی نبوت کا حصول اس کے لئے ناممکن ہو۔ حالانکہ اس سے پہلی امتوں نے اس انعام کو بار بار حاصل کیا۔ پھر یہ خیر الامم کس طرح ہوئی؟ اور نہیں کہا جا سکتا کہ امت مرحومہ پر وحی الٰہی کا دروازہ بند ہے اور آنحضرت ﷺ کے بعد جو تمام عالم کے لئے رحمت ہو کر آئے۔ اس انعام کو لوگوں سے چھین لیا گیا۔

اس کا جواب مدعیہ کی طرف سے یہ دیا گیا ہے کہ آیت ”من یطع اللہ والرسول....... والصالحین“ میں الفاظ ”مع الذین“ سے مراد رفاقت سے ہے نہ کہ عطائے درجہ۔ مدعا علیہ کے اعتراض کا مطلب یہ ہے کہ جب نبی کے علاوہ دیگر مدارج جو اس آیت میں مذکور ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کی پیروی سے مل سکتے ہیں تو کیا وجہ ہے کہ نبوت کا درجہ نہ مل سکے۔ اگر اس بحث کو بفرض محال صحیح تسلیم کر لیا جاوے تو پھر اس سے یہ لازم آئے گا کہ نبوت ایک کسبی چیز ہے جو اتباع سنت اور ریاضت سے حاصل ہو سکتی ہے۔ حالانکہ قرآن شریف کی نصوص سے یہ ثابت ہے کہ نبوت کسبی نہیں اور مرزا صاحب (کے مرید اعظم) نے بھی اسے مانا ہے۔ چنانچہ وہ (محمد علی لاہوری) اپنی کتاب (ضمیمہ النبوۃ فی الاسلام ص ٨،٧) پر لکھتے ہیں کہ : ”نبوت موہبت اکتساب سے نہیں ملتی ...... پس نبوت کا اکتساب یا کسی کی پیروی سے حاصل ہونا تمام آیات قرآنی اور احادیث کے صاف مفہوم کے خلاف ہے۔“

اگر نبوت حضور علیہ السلام کے اتباع سے حاصل ہو سکتی تھی تو کوئی وجہ معلوم نہیں ہوتی کہ آج تک جس قدر اولیاء ابدال، اقطاب گزرے ہیں۔ ان ٢٢٠٩ میں سے کسی کو بھی یہ مرتبہ حاصل نہ ہوتا۔ علاوہ ازیں اگر یہ سمجھا جاوے کہ حضور کے کمال اتباع اور فیض سے یہ مرتبہ حاصل ہو سکتا ہے اور حضور بھی اسے جائز سمجھتے تھے تو ضرور ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جہاں کئی دیگر مراتب اور مدارج کے حصول کے لئے اپنی امت کو ادعیات اور اوراد کی تلقین فرمائی ہے اور وہاں اس مرتبہ کے لئے بھی کوئی دعا وغیرہ بھی تلقین فرماتے ۔ تا کہ امت کے افراد کو اس کے حاصل کرنے میں کوئی آسانی میسر آتی۔ کیونکہ حضور ﷺ کی شفقت سے یہ بعید تھا کہ وہ امت کو ٢١١

OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15 دوسرے سے نہیں کرتا۔ علاوہ ازیں عشاق مدعا علیہ کے گواہ نے بھی ظاہر کیا ہے۔ دہ عشاق جب گفتگوئے یار سے بہرہ اندوز ہ ”ارنا اللہ جھرۃ“ کی رٹ لگانی شروع ہوں۔ اپنا بیڑہ بھی غرق کر بیٹھیں۔ شک نہی متعلق ایک تڑپ ہوتی ہے۔ اس تڑپ ک ہو۔ ”باری عزاسمہ“ نے اپنے عشاق پاک میں یہ فرمایا ہے۔ ”الا بذكر الله ت ہیں اور زیادہ اضطراب پیدا ہونے کی صور قریب ...... الخ!“

گواہ مدعا علیہ نے اس آیت کو کی استجابت لی جاوے جو اس آیت میں مذ ممکن ہو سکتا ہے اور ہر شخص محل وحی بھی بن س کی کوئی عظمت و وقعت ظاہر نہیں ہو سکتی اور علیہ نے بیان کیا ہے کہ خدا کا کلام نہ کرنا جائے گا کہ جن لوگوں سے پہلے خداوند تعا رہا ہے اور وہ مورد عتاب الٰہی ہیں۔ استغفر

بقاء وحی کے سلسلہ میں باقی ما دیا گیا ہے۔ ان سے بھی وحی کا جاری رہنا مطابق وحی تشریعی ہی سے تعلق رکھتی ہیں ہے۔ اس کو یہ حکم دیا جاتا ہے کہ وہ لوگوں ک مدعا علیہ کی اپنی تعریف کے مطابق وحی ت ٢٢٠٨ مطابق اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ نبی نہیں آسکتا۔ اس لئے ان آیات سے ۔

صفحہ ٢٠٩٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

اس قدر پریشانی اور محنت شاقہ میں ڈالنے کہ مدت مدید کا انتظار اور عبادات کے بعد صرف ایک ہی فرد کو جا کر یہ نعمت عطاء ہوتی۔ اگر کوئی دعا وغیرہ تلقین کرنا آپ ﷺ کے نزدیک مناسب نہ تھا تو کم از کم اس کی صراحت تو فرما دیتے کہ تم کو یہ درجہ مل سکتا ہے۔ تمہیں اس کے حصول کے متعلق کوشاں رہنا چاہئے۔ آپ نے نہ اس قسم کی کوئی صراحت فرمائی۔ نہ ہی اس کے لئے کوئی راستہ بتلایا بلکہ یہی فرماتے رہے ہیں کہ "لا نبی بعدی و انا اخر الانبیاء" وغیرہ گویا کہ امت کو نعوذ باللہ ایسے دھوکے میں رکھتے رہے۔ تا کہ وہ کہیں یہ درجہ حاصل کر کے آپ کے مقابلہ میں نہ کھڑے ہو جاویں۔

بلکہ آپ کا رحمتہ اللعالمین ہونا اس بات کا متقاضی تھا کہ آپ سابقہ انبیاء کے مقابلہ میں اپنی امت میں سے زیادہ انبیاء پیدا کر کے اپنے افضل الانبیاء ہونے کا ایک اعلیٰ اور بین ثبوت بہم پہنچاتے۔ لہٰذا قرآن شریف کی دیگر تصریحات کو مدنظر رکھتے ہوئے آیت محولہ بالا کا مفہوم یہی لیا جائے گا کہ وہ لوگ انبیاء کی رفاقت میں ہوں گے اور چونکہ مدعا علیہ کو دنیاوی امثال کا بہت شوق ہے۔ اس لئے اس کی مثال یہ ہو سکتی ہے کہ جیسے حکومت کسی شخص کو اس کی ذاتی وجاہت اور مرتبہ کے لحاظ سے اپنے دربار میں اپنے کسی ممتاز عہدہ دار کے ساتھ جگہ دے دے۔ تو نہیں کہا جا سکتا کہ اس شخص نے اس عہدہ دار کا رتبہ حاصل کر لیا ہے یا یہ کہ وہ اس کا رتبہ حاصل کرنے کا اہل بنا دیا گیا ہے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ وہ لوگ جن کی آیات ماسبق میں فضیلت بیان کی گئی ہے۔ انبیاء شہداء صدیقین اور صلحاء کے ہمراہ ہوں گے۔ اس لئے مدعا علیہ کا یہ استدلال کوئی 2210 وقعت نہیں رکھتا کہ اگر امت محمدیہ کو نبوت کا درجہ نہ ملے تو وہ خیرالامم نہیں رہتی۔ اس کے خیر الامم ہونے کے لئے خدا نے اسے اور کئی مدارج عطاء فرمائے ہیں۔ قرآن مجید نے اسے اس بات کا محتاج نہیں رہنے دیا کہ وہ نبوت کو حضور علیہ الصلوٰۃ السلام کی غلامی پر ترجیح دے بلکہ بڑے بڑے جلیل القدر انبیاء آپ کی امت میں داخل ہونے کے متمنی رہے ہیں۔ افسوس کہ قرآن کی تعلیم کو پوری طرح مدنظر نہیں رکھا گیا۔ ورنہ یہ اعتراض نہ کیا جاتا۔

قرآن حکیم میں حیات انسانی کی پوری انتہاء واضح نہیں فرمائی گئی اور جیسا کہ چوہدری غلام احمد صاحب پرویز مضمون محولہ بالا میں لکھتے ہیں۔ جنت بھی جو بالعموم منزل مقصود سمجھی جاتی ہے۔ درحقیقت اصل منزل مقصود نہیں بلکہ راستہ کا ایک خوشنما منظر ہے۔ جیسا کہ قرآن مجید میں جنتیوں کی اس دعا سے ظاہر ہوتا ہے۔ "يقولون ربنا اتمم لنا نورنا" اس منتہی کو ایک راز رکھا گیا۔ نہ معلوم کہ حضور کے فیض سے امت کو کیا کچھ عطاء فرمایا جائے گا۔ لہٰذا مدعا علیہ یہ ثابت

٢١٢

صفحہ ٢٠٩١

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15 کرنے میں کامیاب نہیں رہا کہ جو وحی انبیاء علیہم السلام کو ہوتی ہے وہ اس وقت تک جاری ہے۔ بلکہ صرف الہام اور کشف وغیرہ باقی ہیں۔ جیسا کہ مدعیہ کا ادعا ہے اور ان کو لغوی طور وحی کہا جاسکتا ہے۔ اس مقدمہ کے فیصلہ کا دارومدار زیادہ تر رسول اللہ ﷺ کے خاتم النبیین بمعنی آخری نبی ماننے کے عقیدہ پر ہی ہے۔ مدعیہ کی طرف سے جیسا کہ اوپر درج کیا گیا۔ بحوالہ آیات قرآنی واحادیث واجماع امت یہ دکھلایا گیا ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بعد اور کوئی نبی نہیں ہوسکتا۔ بجز اس کے کہ اس کی استثناء حضور ﷺ نے خود کر دی۔ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور کہ مرزا صاحب کے دعویٰ سے قبل اور اب بھی سوائے مرزا صاحب کے پیروؤں کے دیگر جملہ مسلمانوں کا یہ عقیدہ ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام انبیاء کی تعداد اور بعثت کے لحاظ سے آخری نبی ہیں اور آپ ﷺ کے بعد اور کوئی نبی نہیں ہوسکتا۔ اگر کوئی مسلمان کسی اور کو نبی مانے تو وہ کافر اور مرتد ہو جاتا ہے۔

(نبوت جاری کے موقف کا تجزیہ)

مدعاعلیہ کی طرف سے کہا جاتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے کمال اتباع اور فیض سے نبوت کا مرتبہ عطا ہوسکتا ہے اور وہ خاتم النبیین کے معنی عام مسلمانوں کے اعتقاد کے خلاف یہ کرتا ہے 2211 کہ اللہ جل شانہ نے آنحضرت ﷺ کو صاحب خاتم بنایا۔ یعنی آپ کو افاضۂ کمال کے لئے مہر عطاء کی جو کسی اور نبی کو ہرگز نہیں دی گئی۔ اس وجہ سے آپ کا نام خاتم النبیین ٹھہرا۔ یعنی آپ ﷺ کی پیروی کمالات نبوت بخشتی ہے اور آپ ﷺ کی توجہ روحانی نبی تراش ہے اور قرآن مجید کی جس آیت میں یہ الفاظ درج ہیں اس کے معنی مدعاعلیہ کی طرف سے یہ کئے گئے ہیں کہ اس آیت میں رسول اللہ ﷺ کے بعد الفاظ خاتم النبیین اس لئے لائے گئے کہ ہر نبی اپنی امت کا روحانی باپ ہوتا تھا۔ صرف اتنا کہہ دینے سے کہ آپ بحیثیت رسول اپنی امت کے باپ ہیں۔ آپ کی دوسرے رسولوں پر کوئی فضیلت ظاہر نہ ہوتی تھی۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو خاتم النبیین فرما کر آپ کو دوسرے رسولوں سے ممتاز فرما دیا کہ اور نبی تو اپنی امت کے صرف مؤمنوں کے باپ تھے۔ مگر آپ ایسے عظیم الشان اور جلیل القدر نبی ہیں کہ انبیاء کے بھی باپ ہیں۔ یعنی آپ کی اتباع اور توجہ روحانی کمالات نبوت بخشتی ہے اور اگر اس کے معنی آخر کے لئے جاویں تو اس میں آپ ﷺ کو کوئی فضیلت نہیں ہے۔

اس تشریح سے اس حد تک تو مدعاعلیہ کی یہ توجیہ درست ہے کہ اللہ تعالیٰ کو چونکہ دیگر

٢١٣

ILY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15 اس قدر پریشانی اور محنت شاقہ میں ڈالتے کہ مد ہی فرد کو جا کر یہ نعمت عطا ہوتی۔ اگر کوئی دعاء غیر تو کم از کم اس کی صراحت تو فرما دیتے کہ تم کو یہ د کوشاں رہنا چاہئے۔ آپ نے نہ اس قسم کی کوئی بتلایا بلکہ یہی فرماتے رہے ہیں کہ ’لا نبی بعدی‘ باللہ از دست دھوکے میں رکھتے رہے۔ تاکہ وہ کو کھڑے ہو جاویں۔

بلکہ آپ کا رحمتہ اللعالمین ہونا اس با میں اپنی امت میں سے زیادہ انبیاء پیدا کر کے اس بہم پہنچاتے۔ لہٰذا قرآن شریف کی دیگر تصریحات لیا جائے گا کہ وہ لوگ انبیاء کی رفاقت میں ہوں گ ہے۔ اس لئے اس کی مثال یہ ہو سکتی ہے کہ جیسے ک کے لحاظ سے اپنے دربار میں اپنے کسی ممتاز عہدہ دا اس شخص نے اس عہدہ دار کا رتبہ حاصل کر لیا ہے۔ ہے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ وہ لوگ جو انبیاء شہداء صدیقین اور صلحاء کے ہمراہ ہوں گے۔ نہیں رکھتا کہ اگر امت محمدیہ کو نبوت کا درجہ نہ ملے کے لئے خدا نے اسے اور کئی مدارج عطاء فرمائے ہ رہنے دیا کہ وہ نبوت کو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی انبیاء آپ کی امت میں داخل ہونے کے متمنی ر مدنظر نہیں رکھا گیا۔ ورنہ یہ اعتراض نہ کیا جاتا۔

قرآن حکیم میں حیات انسانی کی پوری غلام احمد صاحب پرویز مضمون محولہ بالا میں لکھتے ہے۔ درحقیقت اصل منزل مقصود نہیں بلکہ راستہ کا جنتیوں کی اس دعا سے ظاہر ہوتا ہے۔ ”یقولون گیا۔ نہ معلوم کے حضور کے فیض سے امت کو کیا

١٢

صفحہ ٢٠٩٢

2092 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

انبیاء سے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو افضل دکھلانا مقصود تھا۔ اس لئے الفاظ خاتم النبیین استعمال فرمائے گئے۔ لیکن یہ سمجھ نہیں آتا کہ محض لفظ خاتم کے استعمال سے آپ کا نبی تراش ہونا کس طرح مفہوم لے لیا گیا ہے۔ کیونکہ اگر خاتم کے معنی مہر بھی کئے جاویں تو اس کے یہ معنی کرنے سے بھی آپ ﷺ انبیاء سابقہ پر مہر ہیں۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی فضیلت نمایاں ہو سکتی ہے اور محض یہ توجیہ بھی کہ آپ ﷺ انبیاء کے باپ ہیں۔ آپ کی فضیلت ظاہر کر دینے کے لئے کافی ہے۔ پھر معلوم نہیں ہوتا کہ آپ ﷺ کے اس تفصیلی علاقۂ ابوت سے آئندہ توالد انبیاء کا سلسلہ جاری ہونا کس طرح اخذ کیا گیا ہے اور پھر تولد بھی صرف ایک نبی کا اس میں شک نہیں کہ خاتم کے معنی مہر دیگر علماء نے بھی کئے ہیں اور حال ہی میں قرآن مجید کا جو ترجمہ مولانا محمود حسن صاحب دیوبندی کا شائع ہوا ہے۔ اس میں بھی خاتم کے معنی درج ہیں اور خاتم النبیین کے معنی انہوں نے یہ لکھے ہیں کہ ”مہر 2212 ہیں تمام نبیوں پر“ اور میری رائے میں سیاق وسباق عبارت سے یہی معنی درست معلوم ہوتے ہیں۔ اس پر مدعا علیہ کا یہ اعتراض ہوگا کہ پھر رسول اللہ ﷺ کا آخری نبی ہونا کہاں سے اخذ کیا جائے گا۔

اس کا جواب یہ ہے کہ ایک تو رسول اللہ ﷺ کا آخری نبی ہونا احادیث سے اور امت کے اجماعی عقیدہ سے اخذ کیا جائے گا۔ امت آج تک آپ ﷺ کو آخری نبی سمجھتی آئی اور جیسا کہ مولوی مرتضیٰ حسن صاحب گواہ مدعیہ نے بیان کیا ہے۔ آج تک جس قدر اولیاء ابدال، اقطاب، مجتہدین مجدد ہوتے آئے ہیں۔ کسی نے اس عقیدہ کی تغلیط نہیں کی۔ دوسرے مدعا علیہ کو بھی اس سے انکار نہیں کہ خاتم النبیین کے معنی آخری بھی ہیں اور اس معنی پر امت کا اجماع چلا آیا ہے۔

مدعا علیہ کی طرف سے اس اجماع کی حقیقت کو توڑنے کی کوشش کی گئی۔ لیکن وہ اس سے انکار نہیں کر سکتا۔ مرزا صاحب کے دعویٰ سے قبل جمہور امت کا عقیدہ اس طرح چلا آیا ہے۔ اس لئے ایک امر واقع کو غلط کہنا ایک بے جا حجت ہے۔

مدعا علیہ کی طرف سے لغت اور عربی زبان کے محاورات سے یہ دکھلایا گیا ہے کہ لفظ خاتم جب ’ت‘ کی زبر سے پڑھا جاوے تو انگوٹھی یا مہر کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے اور اگر زیر سے پڑھا جائے تو اس کے معنی ختم کرنے والا۔ دوسرا مہر لگانے والا ہوتے ہیں اور خاتم کا لفظ کمال کے معنوں میں بکثرت استعمال ہوتا اور کہ خاتم کے اصل معنی آخر کے نہیں ہیں۔ اگر آخر کا معنی بھی لئے جائیں تو پھر لازم معنی کہلائیں گے، نہ اصل معنی اور جب اصل معنی لئے جا سکتے ہیں تو لازم معنی کیوں لئے جائیں۔ خاتم اگر کہیں آخر کے معنوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔ تو لازم معنی لے کر کیا

٢١٤

صفحہ ٢٠٩٣

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15 جاتا ہے اور جب کہ قرآن مجید میں کوئی ایسا صریح قرینہ موجود نہیں جو لازم معنی لینے پر ہی دلالت کرے تو اس کے باقی سب معنی چھوڑ کر صرف آخر کے معنی میں لینا کسی طرح صحیح نہیں۔ لیکن مقدمہ ہذا میں سوال زیر بحث عقیدہ سے تعلق رکھتا ہے۔ الفاظ کے معنی یا مراد سے تعلق نہیں رکھتا۔ دیکھنا یہ ہے کہ عقیدہ کس 2213 معنی پر قائم ہوا۔ جب مدعاعلیہ کے نزدیک خاتم کے معنی آخر کے ہو سکتے ہیں اور عقیدہ بھی تیرہ سو سال تک اس پر قائم رہا ہے تو اب ان الفاظ پر بحث کرنا کہ ان کے معنی آخر کے نہیں بلکہ مہر کے ہیں۔ سوائے ایک علمی دلچسپی کے اور کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ علاوہ ازیں جو علماء اس کے معنی قبل ازیں آخر کے کرتے آئے ہیں۔ ان کی نسبت نہیں کہا جا سکتا کہ وہ اس کی لغت یا اصل سے واقف نہ تھے۔ اس لئے اس لفظ کے معنی پر بحث لاحاصل ہے۔ علاوہ ازیں مرزا صاحب بھی اپنے دعویٰ سے قبل خاتم النبیین کے معنی آخری کرتے آئے ہیں۔ جیسا کہ مدعیہ کے گواہان کے بیانات میں دکھلایا جا چکا ہے۔ بعد کے معنی محض تاویلی ہیں اور اپنے دعویٰ کو رنگ دینے کی خاطر کئے گئے ہیں اور اب مدعاعلیہ کی طرف سے یہ کہنا کہ مرزا صاحب نے جہاں جہاں آنحضرت ﷺ کے بعد سلسلۂ وحی کو منقطع مانا ہے وہاں ان کی مراد وحی شریعت سے ہے۔ نہ کہ دوسری وحی سے درست نہیں ہے، کیونکہ جہاں انہوں نے وحی کو منقطع مانا ہے۔ وہاں انہوں نے اس کی تصریح نہیں کی اور سیاق و سباق سے پتہ چلتا ہے کہ وہ ہر قسم کی وحی کے انقطاع کے متعلق کہہ رہے ہیں۔ ان کے یہ اقوال اس قسم کے ہیں جن کے متعلق کہ مدعاعلیہ کی بحث کے شروع میں فقرہ نمبر ٦ میں تشریح کی گئی ہے کہ وہ اپنے اندر ایک مستقل مفہوم لئے ہوئے ہیں۔ اس لئے مرزا صاحب کے دیگر اقوال ان کی توضیح یا تشریح نہیں بن سکتے۔ اس قسم کے اقوال جن سے مرزا صاحب انقطاع وحی کے قائل پائے جاتے ہیں گواہان مدعیہ کے بیانات میں مفصل درج ہیں جو اوپر درج کئے جا چکے ہیں۔

مدعاعلیہ کی طرف سے اس مسئلہ ختم نبوت کے متعلق پھر یہ کہا گیا ہے کہ احادیث پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے آیت خاتم النبیین سے نبوت کو بکلی مسدود نہیں سمجھا۔ جیسا کہ حدیث ”لو عاش ابراهیم لکان صدیقاً نبیاً“ سے ظاہر ہوتا ہے۔ کیونکہ آیت خاتم النبیین کے نزول سے پانچ سال کے بعد حضور نے یہ فرمایا ہے۔ لیکن اوّل تو اس حدیث کے صحیح ہونے میں شبہ ہے۔ جس کا اظہار خود گواہ مدعاعلیہ نے کر دیا ہے۔ دوسرا اس میں لو کا ایک شرطیہ لفظ موجود 2214 ہے اور قواعد عربی کی رو سے مدعاعلیہ کی طرف سے یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ جہاں لو داخل ہو وہاں وقوع نہیں ہوتا۔ تیسرا اس میں نبوت کی کوئی تفصیل نہیں کہ کیسی نبوت ہوگی۔ چوتھا

٢١٥

OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15 انبیاء سے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو افضل ق فرمائے گئے۔ لیکن یہ سمجھ نہیں آتا کہ محض لفظ مفہوم لے لیا گیا ہے۔ کیونکہ اگر خاتم کے م آپ ﷺ انبیاء سابقہ پر مہر ہیں۔ حضور علیہ توجیہ بھی کہ آپ ﷺ انبیاء کے باپ ہیں۔ معلوم نہیں ہوتا کہ آپ ﷺ کے اس تفصیلی کس طرح اخذ کیا گیا ہے اور پھر تولد بھی ص دیگر علماء نے بھی کئے ہیں اور حال ہی میں قر شائع ہوا ہے۔ اس میں بھی خاتم کے معنی دو کہ ”مہر 2212 ہیں تمام نبیوں پر“ اور میری ا معلوم ہوتے ہیں۔ اس پر مدعاعلیہ کا یہ اعتر سے اخذ کیا جائے گا۔

اس کا جواب یہ ہے کہ ایک تو را کے اجماعی عقیدہ سے اخذ کیا جائے گا۔ ام مولوی مرتضیٰ حسن صاحب گواہ مدعیہ نے ہ مجتہدین مجدد ہوتے آئے ہیں۔ کسی نے ا سے انکار نہیں کہ خاتم النبیین کے معنی آخری مدعاعلیہ کی طرف سے اس اب سے انکار نہیں کر سکتا۔ مرزا صاحب کے د اس لئے ایک امر واقع کو غلط کہنا ایک بے ج مدعاعلیہ کی طرف سے لغت ا خاتم جب ’ت‘ کی زبر سے پڑھا جاوے ت سے پڑھا جائے تو اس کے معنی ختم کرنے کے معنوں میں بکثرت استعمال ہوتا اور ک لئے جائیں تو پھر لازم معنی کہلائیں گے، ک کیوں لئے جائیں۔ خاتم اگر کہیں آخر ک

صفحہ ٢٠٩٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

نبوت کا امکان حضرت ابراہیم کی زندگی پر تھا جب وہ وفات پاگئے۔ نبوت کا امکان بھی چلا گیا۔ اس سے کسی طرح بھی آئندہ نبوت جاری رہنے کا نتیجہ نہیں نکالا جا سکتا۔ مدعا علیہ کی طرف سے حضرت عائشہ کا ایک قول ”قولوا خاتم النبيين ولا تقولوا لا نبی بعدہ“ نقل کیا جا کر یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ اس قول سے ظاہر ہے کہ وہ لوگ جو الفاظ خاتم النبیین اور لا نبی بعدہ سے یہ سمجھتے ہیں کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا غلطی پر ہیں۔ اس ضمن میں پھر یہ کہا گیا ہے کہ دوسری شہادت حضرت علیؓ کی ہے جو یہ ہے کہ ایک دفعہ آپ کے صاحبزادے استاد کے پاس بیٹھے پڑھ رہے تھے۔ ایک دفعہ اتفاقاً حضرت علیؓ وہاں سے گزرے اور فرمایا کہ ان دونوں کو خاتم النبیین کا لفظ ”ت“ کی زبر سے پڑھاؤ۔ دوسری قرأت میں خاتم ’ت‘ کی زیر سے بھی آیا ہے۔ پس اگر حضرت علیؓ کے نزدیک ’ت‘ کی زیر سے بھی خاتم کے معنی آخری نبی کے بنتے تھے تو آپ نے زیر کے پڑھانے سے منع کیوں کیا۔ کیونکہ زیر سے ختم کرنے کے معنی زیادہ واضح ہوجاتے تھے۔ کیا اس سے ثابت نہیں ہوتا کہ دونوں میں آپ فرق سمجھتے تھے اور زیر پڑھانے سے آپ کو اس کا خطرہ تھا کہ کہیں بچوں کے ذہن میں نبوت کے متعلق خلاف عقیدہ نہ بیٹھ جائے۔

حضرت علیؓ کے متعلق جو حدیث لا نبی بعدی والی بیان کی گئی ہے اور جو مولوی محمد حسین صاحب گواہ مدعیہ کے حوالہ سے اوپر گزر چکی ہے۔ اسے مدعا علیہ کی طرف سے صحیح مانا گیا ہے۔ مگر اس کی تاویل یہ کی گئی ہے کہ بعدی سے مراد یہاں موت کے بعد نہیں جیسا کہ عام طور پر سمجھا گیا ہے۔ بلکہ بعدی سے مراد جنگ تبوک کا عرصہ ہے۔ یعنی اس عرصہ میں آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا اور اس سلسلہ میں ایک اور حدیث کا حوالہ دیا جا کر یہ بیان کیا گیا ہے کہ ان کا مطلب یہ ہے کہ اے علیؓ تم اس بات پر راضی نہیں کہ میرے خلیفہ بنو۔ جیسے ہارون موسیٰ کے خلیفہ تھے۔ مگر ہاں تم نبی نہیں ہو گے اور اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ اس جملہ کے فرمانے کی ضرورت یہ تھی 2215 کہ جب حضرت علیؓ کو ہارون علیہ السلام سے مشابہت دی گئی تو شبہ پڑ سکتا تھا کہ آپ حضرت ہارون کی طرح نبی بھی ہوں گے۔ اس لئے آنحضرت ﷺ نے وضاحت فرمادی کہ تم میرے بعد خلیفہ ہوگے۔ نبی نہیں ہوگے۔

یہ تمام دلائل محض قیاسی ہیں اور کوئی علمی حیثیت نہیں رکھتے۔ ان کا جواب بھی قیاس ہو سکتا ہے۔ حضرت علیؓ کے صاحبزادوں کا جو قصہ بیان کیا گیا ہے۔ ممکن ہے کہ حضرت علیؓ نے ”ت“ کی زیر سے اس لئے پڑھانا منع کیا ہو کہ زیر سے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی فضیلت کا پہلو پوری طرح سے ظاہر نہیں ہوتا اور زبر سے پڑھانے سے دونوں پہلو نمایاں ہو جاتے ہیں اور اگر یہ

٢١٦

صفحہ ٢٠٩٥

2095 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

سمجھا جاوے کہ اس وقت حضرت علیؓ کے ذہن میں یہ بات تھی کہ زیر سے پڑھانے سے نبوت کے منقطع ہونے کا مغالطہ پڑتا ہے کہ ان کے نزدیک حضور کے بعد نبوت جاری رہے گی تو جنگ تبوک کے موقعہ پر جب حضور ﷺ نے انہیں ہارون علیہ السلام سے تشبیہ دے کر یہ فرمایا تھا کہ لا نبی بعدی۔ تو وہ عرض کر سکتے تھے کہ حضور ﷺ جب آپ مثل موسیٰ ٹھہرے اور میں مثل ہارون علیہ السلام تو میں بھی آپ کا چچا زاد بھائی ہوں اس لئے آپ موسیٰ علیہ السلام کی طرح کیوں میرے حق میں دعا نہیں فرما دیتے کہ خدا مجھے بھی نبی بنا دے اور باہمی مماثلت کی بناء پر کوئی عجب نہ تھا کہ حضور ﷺ کی دعا سے خدا انہیں بھی نبوت کا مرتبہ عطا فرما دیتا۔

یہ محض ایسے قیاسات ہیں کہ جو ظنیات کی حد تک بھی نہیں پہنچتے اور مذہب میں جیسا کہ خود مدعاعلیہ کی طرف سے تسلیم کیا گیا ہے قطعیات کا اعتبار ہوتا ہے۔ نہ ظنیات یا قیاسات کا۔ باقی رہا حضرت عائشہؓ کا قول اس کے متعلق مدعیہ کی طرف سے تین جواب دیئے گئے ہیں ایک ! تو یہ ”لا نبی بعدی“ کے کہنے سے چونکہ یہ اندیشہ تھا کہ کہیں کوئی بدعقیدہ شخص حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول سے انکار نہ کر دے۔ اس لئے آپ نے فرمایا کہ خاتم النبیین کہو۔ ”لا نبی بعدی“ نہ کہو۔ دوسرا ! یہ کہ خاتم النبیین کے کہنے سے چونکہ دونوں معنیٰ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا آخری اور افضل ہونا ظاہر ہوتے ہیں۔ اس لئے آپؓ نے فرمایا کہ لا نبی بعدی نہ کہو بلکہ خاتم النبیین کہو۔

2216 تیسرا ! یہ کہا جاتا ہے کہ حضرت عائشہؓ نے یہ حدیث خود روایت کی ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ نبوت ختم ہو چکی۔ سوائے اس کے اب مبشرات ہوں گے اور مبشرات کی تشریح آپ ﷺ نے یہ فرمائی کہ اچھی خوابیں اس لئے مدعیہ کی طرف سے یہ کہا جاتا ہے کہ جب حضرت عائشہؓ کو خود اس حدیث کا علم تھا تو کس طرح کہا جا سکتا ہے کہ انہوں نے ”لا نبی بعدی“ کہنے سے اس لئے منع کیا کہ وہ آپ ﷺ کے بعد نبوت کو جاری سمجھتی تھیں۔ یہ ایک بہت معقول جواب ہے۔ اس کے علاوہ جن لوگوں کو آپ نے منع کیا ہو گا کہ وہ لا نبی بعدی نہ کہیں۔ تو انہوں نے آخر کوئی وجہ تو دریافت کی ہو گی۔ کیونکہ اس سے شبہ پڑ سکتا تھا کہ کیا آپ کے بعد نبوت جاری ہے۔ جو وہ ایسا کرنے سے منع کرتے ہیں۔ ایسی کوئی تفصیل بیان نہیں کی جاتی۔ اس لئے ان کے اس قول سے یہ کوئی دلیل نہیں پکڑی جا سکتی کہ وہ آپ ﷺ کے بعد نبوت کا سلسلہ جاری سمجھتی تھیں۔

اس سلسلہ میں پھر مدعاعلیہ کی طرف سے یہ کہا گیا ہے کہ یہ بھی واضح رہے کہ قرآن مجید میں الفاظ خاتم النبیین ہیں آخر النبیین نہیں۔ آخر کچھ تو بھید ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے لئے آخر النبیین نہیں کہا بلکہ خاتم النبیین کہا۔

٢١٧

LY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

نبوت کا امکان حضرت ابراہیم کی زندگی پر تھا ج اس سے کسی طرح بھی آئندہ نبوت جاری رہن حضرت عائشہؓ کا ایک قول ”قولوا خاتم النبیی اخذ کیا گیا ہے کہ اس قول سے ظاہر ہے کہ وہ لوگ ہیں کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آ سکتا غلط شہادت حضرت علیؓ کی ہے جو یہ ہے کہ ایک دفع رہے تھے۔ ایک دفعہ اتفاقاً حضرت علیؓ وہاں س لفظ ”ت“ کی زبر سے پڑھاؤ۔ دوسری قرأت حضرت علیؓ کے نزدیک ”ت“ کی زیر سے بھی خات کے پڑھانے سے منع کیوں کیا۔ کیونکہ زیر سے پ اس سے ثابت نہیں ہوتا کہ دونوں میں آپ فرق تھا کہ کہیں بچوں کے ذہن میں نبوت کے متعلق غ حضرت علیؓ کے متعلق جو حدیث لا نب صاحب گواہ مدعیہ کے حوالہ سے اوپر گزر چکی ہے اس کی تاویل یہ کی گئی ہے کہ بعدی سے مراد یہا ہے۔ بلکہ بعدی سے مراد جنگ تبوک کا عرصہ ہے ہو گا اور اس سلسلہ میں ایک اور حدیث کا حوالہ دی اے علیؓ تم اس بات پر راضی نہیں کہ میرے خلیفہ نہیں ہو گے اور اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے ک جب حضرت علیؓ کو ہارون علیہ السلام سے مشابہت طرح نبی بھی ہوں گے۔ اس لئے آنحضرت ﷺ ہو گے۔ نبی نہیں ہو گے۔

یہ تمام دلائل محض قیاسی ہیں اور کوئی ہو سکتا ہے۔ حضرت علیؓ کے صاحبزادوں کا جو ”ت“ کی زیر سے اس لئے پڑھانا منع کیا ہو کہ پوری طرح سے ظاہر نہیں ہوتا اور زبر سے پڑھا

صفحہ ٢٠٩٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

اس میں اول تو کوئی بھید نہیں پایا جاتا۔ کیونکہ آخر النبیین کا لفظ خاتم النبیین کے مقابلہ میں زیادہ فصیح معلوم نہیں ہوتا اور قرآن مجید میں کوئی ایسا لفظ استعمال نہیں ہوا جو غیر فصیح ہو۔ دوسرا اللہ تعالیٰ کو چونکہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی دونوں فضیلتیں یعنی آپ ﷺ کا آخر ہونا اور افضل ہونا دکھلانا مقصود تھیں۔ اس لئے خاتم النبیین کا لفظ استعمال فرمایا گیا۔

اور اگر اللہ تعالیٰ کو اس میں کوئی بھید رکھنا منظور تھا تو پھر اس بھید کا کیا حل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب قرآن مجید کو نور ہدایت اور فرقان فرمایا اور یہ بھی فرمایا کہ رسولوں پر ایمان لانے اور ان کی اطاعت کرنے میں تمہاری فلاح ہے اور گزشتہ بہت سے انبیاء کی تفصیل بھی بیان فرمادی۔ لیکن آئندہ آنے والے نبیوں کے متعلق نہ کوئی صراحت فرمائی اور نہ یہ فرمایا کہ ان پر بھی ایمان لانا فرض ہوگا تو پھر قرآن کیونکر نور اور ہدایت ٹھہرا۔

2217 مدعاعلیہ کے ایک گواہ کا بیان ہے کہ جس حدیث میں آخر الانبیاء کا لفظ آیا ہے وہ خبر واحد ہے جو ظن کا مرتبہ رکھتی ہے اور عقائد میں ظنیات کام نہیں دیتے۔ لیکن افسوس کہ یہ کہتے وقت اسے شاید اپنے طریق استدلال پر نظر نہیں رہی کہ وہ کہاں تک قطعیات کی رو سے بحث کر رہا ہے۔

اس طرح اس نے ان احادیث کی بہت سی تاویلیں کی ہیں جن میں حضور ﷺ کے متعلق آخر کے الفاظ پائے جاتے ہیں اور عربی، فارسی، اردو شعراء اور مصنفین کے اقوال کے حوالوں سے یہ دکھلایا ہے کہ لفظ آخر اکثر بمعنی کمال استعمال ہوتا ہے۔ لیکن جیسا کہ اوپر درج کیا گیا ہے یہ تمام بحث ایک علمی دلچسپی کے سوا اور کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ کیونکہ یہاں بحث عقائد سے ہے نہ کہ الفاظ کے معنی سے اور چونکہ الفاظ زیر بحث سے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا آخری ہونا بھی پایا جاتا ہے۔ اس لئے اس معنی پر ہی آج تک امت کا عقیدہ چلا آیا ہے اور یہ عقیدہ جیسا کہ اوپر دکھلایا گیا ہے۔ اسلام کے اہم اور بنیادی مسائل میں سے ہے۔ اس لئے اس عقیدہ کو تبدیل کرانا کسی ادیب عالم مفتی یا قاضی کا کام نہیں بلکہ یہ عقیدہ سوائے اس شخص کے جو مامور من اللہ ہو اور کوئی تبدیل نہیں کراسکتا۔ اس پر پیچھے کافی بحث ہوچکی ہے کہ آیا مرزا صاحب نبی اور مامور من اللہ ہیں یا نہ اور آخر نتیجہ میں بھی اس پر بحث کی جائے گی۔

مدعاعلیہ کی طرف سے شیخ محی الدین ابن عربیؒ اور دیگر بزرگان کے اقوال نقل کئے جاکر یہ دکھلایا گیا ہے کہ ان کے نزدیک بھی نبوت مرتفع ہونے سے یہ مراد ہے کہ شریعت والی نبوت مرتفع ہوگئی نہ کہ مقام نبوت اور کہ وہ حضور ﷺ کے قول لا نبی بعدی کا یہ مطلب سمجھتے ہیں کہ آپ کے بعد کوئی ایسا نبی نہیں ہوگا جو آپ ﷺ کی شریعت کے خلاف ہو۔ بلکہ جب بھی ہوگا آپ ﷺ

٢١٨

PDF 402

2097 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

کی شریعت کے ماتحت ہوگا۔ مدعیہ کی طرف سے ان اقوال کی توجیہیں بیان کی گئی ہیں اور ان بزرگان کے دیگر اقوال سے یہ دکھلایا گیا ہے کہ وہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے آخری نبی ہونے کے قائل تھے۔ لیکن قطع 2218 نظر اس کے یہ ممکن ہے کہ یہ اقوال لکھتے وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ان لوگوں کے ذہن میں ہو اور اس لئے یہ کہا گیا ہو کہ آپ ﷺ کے بعد جب بھی کوئی نبی ہوگا وہ آپ ﷺ کی شریعت کے ماتحت ہوگا۔ اس کا فیصلہ تو ان کی کتابوں کے دیکھنے سے پوری طرح کیا جاسکتا ہے۔ ان حوالوں کو چونکہ اس فیصلہ میں بحث سے نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ اس لئے ان پر زیادہ رائے زنی کی ضرورت نہیں اور اگر ان تحریروں کا مطلب مدعاعلیہ کے ادّعاء کے مطابق بھی صحیح تسلیم کر لیا جاوے تو پھر دیکھنا یہ ہے کہ آیا یہ ان کی ذاتی رائے ہے یا امت کا عقیدہ۔ اگر ان تحریروں کے بعد امت نے اپنا عقیدہ تبدیل نہیں کیا اور ان کا عقیدہ جوں کا توں رہا ہے اور اس میں ذرہ برابر فرق نہیں آیا تو پھر یہ تحریریں ان کی ذاتی اور شخصی رائے کے سوا اور کوئی وقعت نہیں رکھتیں اور اگر ان کے یہ اقوال ان کا کشف بھی سمجھے جاویں تو بھی جیسا کہ سید انور شاہ صاحب گواہ مدعیہ نے کہا ہے۔ دین کے معاملہ میں وہ دوسروں پر کوئی حجت نہیں ہو سکتے۔ کیونکہ دینی معاملات میں سوائے نبی کی وحی کے اور کوئی بات قطعی نہیں ہے۔

رسول اللہ ﷺ کی دوسری حدیث پر جس میں آپ ﷺ نے بنی اسرائیل کے نبیوں کے متعلق کہا ہے کہ جب ان میں ایک نبی فوت ہوتا تھا تو فوراً اس کا خلیفہ نبی ہوتا تھا۔ مدعاعلیہ کی طرف سے کہا گیا ہے کہ یہاں حضور ﷺ کی مراد بعدیت متصلہ ہے۔ یعنی آپ کے فوراً بعد ایسا نہیں ہوگا اور امت محمدیہ میں فوراً نبی کی ضرورت نہ ہوگی۔ لیکن اوّل تو اس حدیث کے یہ معنی تاویلی ہیں۔ دوسرا نہیں کہا جاسکتا کہ تیرہ سو سال کے عرصہ میں ایسا کوئی زمانہ نہیں آیا کہ جس میں نبی کی ضرورت محسوس نہ کی گئی ہو۔ علاوہ ازیں مرزا صاحب کے لئے مدعاعلیہ جس قسم کی نبوت ثابت کرنا چاہتا ہے اس کی اس معنی سے تائید نہیں ہوتی۔ کیونکہ اس کے نزدیک مرزا صاحب کو جو نبوت ملی وہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے کمال اتباع اور فیض سے ملی ہے اور یہ پایا جاتا ہے کہ حضور ﷺ کے زمانہ میں ہی حضرت عمرؓ حضور ﷺ کے ایسے متبعین میں سے تھے کہ جن کی زبان پر فرشتے کلام کرتے تھے اور ان کی بابت حضور ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو حضرت عمرؓ ہوتے اور یہ بھی کہا کہ 2219 اگر میں مبعوث نہ ہوتا تو حضرت عمرؓ مبعوث ہوتے۔ تو کیا حضرت عمرؓ سے بڑھ کر اس وقت حضور ﷺ کی اتباع کی لحاظ سے کوئی شخص نبوت کا مستحق ہو سکتا تھا؟ لیکن مدعا

٢١٩

AKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

اس میں اوّل تو کوئی بھید نہیں میں زیادہ فصیح معلوم نہیں ہوتا اور قرآن اللہ تعالیٰ کو چونکہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلا دکھلانا مقصود تھیں۔ اس لئے خاتم النبیین اور اگر اللہ تعالیٰ کو اس میں ک نے جب قرآن مجید کو نور ہدایت اور فرق اطاعت کرنے میں تمہاری فلاح ہے آئندہ آنے والے نبیوں کے متعلق ک فرض ہوگا تو پھر قرآن کیونکر نور اور ہدای

مدعاعلیہ کے ایک گواہ 2217 واحد ہے جو ظن کا مرتبہ رکھتی ہے اور عق اسے شاید اپنے طریق استدلال پر نظر نہی اس طرح اس نے ان اح متعلق آخر کے الفاظ پائے جاتے ہی حوالوں سے یہ دکھلایا ہے کہ لفظ آخر کیا گیا ہے یہ تمام بحث ایک علمی دلچسپی سے ہے نہ کہ الفاظ کے معنی سے اور چن بھی پایا جاتا ہے۔ اس لئے اس معنی پر اوپر دکھلایا گیا ہے۔ اسلام کے اہم او کرانا کسی ادیب عالم مفتی یا قاضی کا کا اور کوئی تبدیل نہیں کر سکتا۔ اس پر چن اللہ ہیں یا نہ اور آخیر نتیجہ میں بھی اس پ

مدعاعلیہ کی طرف سے ن جا کر یہ دکھلایا گیا ہے کہ ان کے نزدیک مرتفع ہو گئی نہ کہ مقام نبوت اور کہ وہ کے بعد کوئی ایسا نبی نہیں ہوگا جو آپ

صفحہ ٢٠٩٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

علیہ کی مذکورہ بالا صراحت کے مطابق وہ حضور ﷺ کے بعد اس لئے نبی نہ بنے کہ اس وقت نبی کی ضرورت نہ تھی۔

اس سے یہ معلوم ہوا کہ حضور ﷺ کے اتباع سے نبوت ملنے کے ساتھ مشیت میں یہ بھی مقدر ہے کہ اس قسم کی نبوت اس وقت دی جاوے جس وقت کہ اس کی ضرورت ہو اور اس سے مدعا علیہ کے اس اصول کی نفی ہو جاتی ہے کہ حضور ﷺ کے کمال اتباع اور فیض سے نبوت مل سکتی ہے۔ کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو ضرور ہے کہ حضرت عمرؓ کو نبوت عطا ہو جاتی۔ کیونکہ وہ نہ صرف کامل متبعین میں سے تھے۔ بلکہ حضور ﷺ کے خاص مورد الطاف تھے اور جیسا کہ حضور ﷺ کے الفاظ سے اخذ ہوتا ہے حضور ﷺ یہ چاہتے تھے کہ وہ نبی ہوں۔ لیکن چونکہ آپ ﷺ کے بعد نبوت منقطع ہو چکی تھی۔ اس لئے آپ ﷺ نے فرمایا کہ حضرت عمرؓ نبی نہیں ہو سکتے۔

مدعا علیہ کی طرف سے اس حدیث کو کہ میرے بعد اگر نبی ہوتا تو عمرؓ ہوتے، ضعیف کہا گیا ہے اور پھر اس ضمن میں لفظ بعد کے بہت سے تاویلی معنی کئے گئے ہیں اور شاید اس لئے کہ یہ حدیث مدعا علیہ کے منشاء کے بالکل مخالف تھی۔ حدیث کے الفاظ ایسے مبہم نہیں کہ ان کے مفہوم کے لئے کسی تاویل کی ضرورت ہو۔ ان سے ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ وہاں بعد سے کیا مراد ہے۔

ختم نبوت کے بارہ میں مدعیہ کی طرف سے جو حدیث بیت النبوت والی پیش کی گئی ہے۔ اس کے متعلق مدعا علیہ کی طرف سے یہ کہا گیا ہے کہ اس میں من قبلی کے الفاظ ہیں اور ان الفاظ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ مثال ان انبیاء کی نسبت سے ہے جو حضور ﷺ سے پہلے ہو گزرے ہیں۔ آئندہ کسی نبی کے آنے یا نہ آنے کا اس میں ذکر نہیں۔ لیکن یہ حجت اس لئے درست نہیں کہ اس حدیث میں نبوت کو ایک گھر سے تشبیہ دی گئی ہے اور اس کی تکمیل کے سلسلہ میں یہ کہا گیا ہے کہ وہ آپ ﷺ کے وجود سے قبل غیر مکمل تھا۔ آپ ﷺ کے تشریف لانے پر مکمل ہو گیا۔ اگر آئندہ انبیاء کا سلسلہ جاری رہنا تسلیم کیا جاوے تو پھر اس گھر کی تکمیل لازم نہیں آتی۔ یہ سمجھانے کے لئے کہ اب سلسلۂ 2220 انبیاء میں سے اور کوئی باقی نہیں۔ نبوت کو ایک گھر سے تشبیہ دی گئی اور جیسا کہ گھر کی چنائی اینٹوں سے کی جاتی ہے۔ اس سے بیت نبوت کی چنائی انبیاء سے ہوئی اور جو ایک اینٹ اس گھر کی تکمیل کو ناقص بنائے ہوئے تھی وہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے تشریف لانے پر پوری ہو گئی۔ اس مثال سے یہ دکھلایا گیا ہے کہ مشیت ایزدی میں جو تعداد انبیاء مقرر تھی وہ آپ ﷺ کے تشریف لانے سے پوری ہو چکی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا دوبارہ آنا بھی یہ ظاہر کرتا ہے کہ انبیاء کی تعداد میں اب کوئی عدد باقی نہیں رہا۔ اس لئے سابقہ اعداد میں سے ایک کو

٢٢٠

صفحہ ٢٠٩٩

2099 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

واپس لانا پڑا ہے۔ اس پر مدعاعلیہ کی طرف سے یہ اعتراض کیا گیا ہے کہ اگر عیسیٰ علیہ السلام کا آنا تسلیم کیا جاوے تو پھر یہ ماننا پڑے گا کہ مکان کی تعمیر ادھوری رہ گئی۔ لیکن یہ حجت اس لئے قائم نہیں رہ سکتی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس مکان کی تعمیر میں پہلے شامل ہوکر اسے مکمل کر چکے ہیں اور نئے نبی اگر ابھی اور آنے باقی ہوں تو پھر اس عمارت کی تعمیر مکمل نہیں سمجھی جاسکتی۔ اس کی تکمیل اس وقت سمجھی جائے گی جب تمام انبیاء ختم ہوچکیں۔ اس لئے اسے اس وقت میں مکمل سمجھا جائے گا جب کہ تمام انبیاء کا سلسلہ ختم نہ ہولے۔ حضورﷺ کا اس عمارت کو اپنی تشریف آوری سے مکمل فرما دینا اس بات کی دلیل ہے کہ آپﷺ کے بعد تعداد انبیاء میں سے اور کچھ باقی نہیں۔ حضرت عیسیٰ کا آنا ایسا ہے کہ جیسے کوئی شخص اپنے تکمیل شدہ مکان میں سے کچھ اینٹیں اکھاڑ کر بشرط ضرورت دوسری جگہ لگا دے۔ اس پر یہ کہا جائے گا کہ اس نے اپنے مکان کو اکھیڑا، یہ نہ کہا جائے گا کہ اس نے مکان کو مکمل نہیں کیا۔ کیونکہ اس کی تکمیل پہلے ہوچکی تھی۔

مدعاعلیہ کی طرف سے کہا گیا ہے کہ مرزا صاحب کا نبی ہونا اس مکان کی تعمیر کا منافی نہیں۔ کیونکہ انہیں حضورﷺ کے فیض سے نبوت ملی ہے۔ اس لئے یہ نبوت اس مکان بیت النبوت کی تکمیل کا سلسلہ شمار ہوگی۔ ظاہر ہے کہ ایک مکمل چیز پر اگر کوئی اور زائد چیز بطور اضافہ شامل کیا جاوے تو اس سے دو ہی صورتیں پیدا ہوں گی یا تو وہ زائد چیز اس کی زینت کو 2221 بڑھا دے گی یا اسے بدزیب کردے گی۔ اب اگر مرزا صاحب کو بیت النبوۃ پر چسپاں کیا جاوے تو وہ یا تو اس کی زینت کو بڑھائیں گے یا اسے بدزیب کریں گے۔ اگر سمجھا جاوے کہ ان سے اس کی زینت بڑھے گی تو اس سے وہ افضل الانبیاء ہو جائیں گے نہ کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام، اور یہ بات ان کے اپنے عقیدہ کے بھی خلاف ہے۔ اب صاف ہے کہ ان کے اس بیت النبوۃ پر چسپاں ہونے سے دوسری ہی صورت پیدا ہو گی اور اس گھر کی تکمیل میں وہ زائد از ضرورت ہی رہیں گے۔ اس لئے اس حدیث سے جس کی صحت سے مدعاعلیہ کو بھی انکار نہیں۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا آخری نبی ہونا پوری طرح ثابت ہو جاتا ہے۔

مدعیہ کی طرف سے ایک اور حدیث کا حوالہ دیا گیا ہے کہ آپﷺ نے فرمایا کہ میری امت میں تیس کذاب ہوں گے۔ ان میں سے ہر ایک اپنے آپ کو نبی خیال کرے گا۔ حالانکہ میرے بعد کوئی نبی نہیں اس کے متعلق مدعاعلیہ کی طرف سے یہ کہا گیا ہے کہ اس حدیث سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ آپﷺ کے بعد قیامت تک جو بھی دعویٰ نبوت کرے وہ ضرور جھوٹا ہے۔ کیونکہ آخر زمانہ میں آنے والے مسیح موعود کو خود حضورﷺ نے بھی نبی اللہ کے لقب سے ملقب

٢٢١

LY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

علیہ کی مذکورہ بالا صراحت کے مطابق وہ حضورﷺ ضرورت نہ تھی۔

اس سے یہ معلوم ہوا کہ حضورﷺ بھی مقدر ہے کہ اس قسم کے نبوت اس وقت دی سے مدعاعلیہ کے اس اصول کی نفی ہو جاتی ہے ک سکتی ہے۔ کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو ضرور ہے کہ حضر متبعین میں سے تھے۔ بلکہ حضورﷺ کے خاص سے اخذ ہوتا ہے حضورﷺ یہ چاہتے تھے کہ وہ ن ہو چکی تھی۔ اس لئے آپﷺ نے فرمایا کہ حضر

مدعاعلیہ کی طرف سے اس حدیث کہا گیا ہے اور پھر اس ضمن میں لفظ بعد کے بہر یہ حدیث مدعاعلیہ کے منشاء کے بالکل مخالف تھی کے لئے کسی تاویل کی ضرورت ہو۔ ان سے ہر گ

ختم نبوت کے بارہ میں مدعیہ کی طر ہے۔ اس کے متعلق مدعاعلیہ کی طرف سے یہ کہ الفاظ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ مثال ان انبیاء کی ہیں۔ آئندہ کسی نبی کے آنے یا نہ آنے کا اس م اس حدیث میں نبوت کو ایک گھر سے تشبیہ دی گئی وہ آپﷺ کے وجود سے قبل غیر مکمل تھا۔ آپ انبیاء کا سلسلہ جاری رہنا تسلیم کیا جاوے تو پھر ا کہ اب سلسلہ 2220 انبیاء میں سے اور کوئی باقی نہ گھر کی چنائی اینٹوں سے کی جاتی ہے۔ اس پر اینٹ اس گھر کی تکمیل کو ناقص بنائے ہوئے تھی پوری ہوگئی۔ اس مثال سے یہ دکھلایا گیا ہے آپﷺ کے تشریف لانے سے پوری ہو چکی کرتا ہے کہ انبیاء کی تعداد میں اب کوئی عدد باق

صفحہ ٢١٠٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

فرمایا ہے۔ دوسرا تیس کی تعین بھی بتلا رہی ہے کہ کوئی سچا بھی آسکتا ہے۔ تیسرا اس حدیث کا مضمون آج سے قریباً پانچ سو برس پہلے پورا ہو چکا ہے۔ کیونکہ ٣٠ دجال وکذاب گزر چکے ہیں۔ اس کا جواب ایک تو خود گواہ مدعاعلیہ نے ہی دے دیا ہے کہ اس کے علاوہ اور بھی حدیثیں ہیں کہ جس میں کذابوں کی تعداد کم وبیش ٧٠ تک بیان کی گئی ہے۔ اس لئے سمجھا جائے گا کہ حضور ﷺ نے ٣٠ کی کوئی متعین تعداد بیان نہیں فرمائی بلکہ اس قسم کے اعداد بیان کرنے سے حضور ﷺ کی مراد کذابوں کی کثرت بیان کرنے سے تھی۔ کیونکہ اگر مدعاعلیہ کی بحث کی رو سے یہ قرار دیا جاوے کہ ایسے کذابوں کی صحیح تعداد ٢٧ ثابت ہے تو پھر یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ جو تیس کذاب اس سے قبل گزرے بیان کئے جاتے ہیں ان میں سے تین ضرور سچے ہوں گے۔ لیکن ایسا ثابت نہیں ہوتا اور ان باقی ماندہ تین کو بھی دنیا نے جھوٹا ہی سمجھا اور انہیں بھی کذابوں کی ذیل میں داخل کیا گیا۔ دوسرا مسیح موعود کے آنے کی استثناء خود حضور ﷺ نے فرمادی اور ساتھ ہی اس کا نام عیسیٰ ابن مریم بتلا کر اسے نام سے ہی مشخص فرمادیا۔ علاوہ ازیں اگر سچے نبی ہو سکتے تھے تو کوئی وجہ معلوم نہیں ہوتی کہ جہاں حضور ﷺ نے جھوٹے نبیوں کی آمد اور ان کی تعداد کی اطلاع دی تھی۔ وہاں اس کی 2222تصریح کیوں نہ فرمائی کہ اس کے بعد سچے نبی بھی آئیں گے اور اس قدر آئیں گے۔ ناممکن معلوم ہوتا ہے کہ امت کو ایک گمراہی سے بچا کر دوسری گمراہی میں ڈال دیا جاتا اور انہیں جھوٹے اور سچے نبی میں تمیز کرنے کے لئے کوئی معیار نہ بتلایا جاتا۔ اس لئے یہ حدیث بھی بثبوت ادعا مدعیہ اور مدعاعلیہ کی حجت کے منافی ہے۔

لہٰذا اس تمام بحث سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام آخری نبی ہیں اور آپ ﷺ کے بعد اور کوئی نیا نبی نہیں ہو سکتا۔

اس کے بعد مدعاعلیہ کی طرف سے یہ کہا گیا ہے کہ مسیلمہ کذاب وغیرہ کاذب مدعیان نبوت کے جو حوالے مدعیہ کی طرف سے پیش کئے گئے ہیں اور یہ کہا گیا ہے کہ انہیں اس بناء پر قتل کیا گیا کہ انہوں نے دعویٰ نبوت کیا تھا۔ یہ درست نہیں ہے۔ کیونکہ ان لوگوں کے ساتھ صحابہؓ کا جنگ کرنا محض اس وجہ سے تھا کہ انہوں نے بغاوت کی تھی اور اسلامی حکومت کا مقابلہ کر کے خود بادشاہ بننا چاہا تھا اور نبوت کے دعویٰ کو اس کے حصول کے لئے انہوں نے صرف ایک ذریعہ بنایا تھا۔ اگر مدعاعلیہ کا یہ ادعا درست بھی سمجھ لیا جاوے تو چونکہ اس کے ساتھ ہی وہ بیان کرتا ہے کہ انہوں نے دعویٰ نبوت کو حصول حکومت کے لئے ایک ذریعہ بنایا تھا تو اس سے یہ نتیجہ بھی نکالا جاسکتا ہے کہ جس بناء پر وہ اپنے آپ کو حکومت کا حقدار سمجھتے تھے۔ صحابہؓ نے اسے بھی نادرست

٢٢٢

صفحہ ٢١٠١

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

سمجھا تھا۔ اگر صحابہ کے ذہن میں یہ ہوتا کہ حضور ﷺ کے بعد نبوت ہو سکتی ہے تو وہ ان کی نبوت کے متعلق پورا اطمینان کرتے اور اس کے بعد ان کے ساتھ جنگ کرنے کا فیصلہ کرتے۔ خلافت ارضی جلیل القدر انبیاء کی نبوت کا ایک جزو لا ینفک رہی ہے اور ممکن ہے کہ مذکورہ بالا مدعیانِ نبوت خلافتِ ارضی کو لوازماتِ نبوت میں سے سمجھتے ہوئے دعویٰ نبوت کے بعد اس کے لئے کوشاں ہوئے ہوں تو اس صورت میں صحابہؓ کا ان کے ساتھ جنگ کرنا دعویٰ نبوت کی بناء پر متصور ہو گا نہ کہ بغاوت کی بناء پر۔ کیونکہ انہیں باغی مرتد اور کافر قرار دیا گیا تھا۔ 2223 اس سلسلہ میں مزید کسی بحث کی ضرورت نہیں۔

(ظلی و بروزی)

مدعاعلیہ نے اپنی بحث میں آگے یہ دکھلایا ہے کہ مرزا صاحب نے ظلی اور بروزی کی اصطلاحات یہ دکھانے کے لئے قائم کی ہیں کہ جس قسم کی نبوت کے وہ مدعی ہیں وہ شریعت والی نبوت نہیں اور نہ اس سے قرآن مجید کا منسوخ ہونا لازم آتا ہے۔ بلکہ آپ کا مطلب ان سے صرف یہ تھا کہ ان کو بلاواسطہ نبوت نہیں ملی۔ بلکہ آنحضرت ﷺ کے اتباع اور آپ میں فنا ہوکر اور آپ کی غلامی میں یہ مرتبہ نبوت ملا ہے۔ اس لئے آپ نے اپنے آپ کو ظلی نبی لکھا تا کہ آئندہ لوگ نبی کا لفظ سن کر چونک نہ پڑیں اور اس ظلی بروزی کے لفظ سے سمجھ لیں کہ آپ ویسے نبی نہیں جو معروف اصطلاح میں لئے جاتے ہیں۔ بلکہ یہ کہ ہر ایک کمال آپ کو آنحضرت ﷺ کے اتباع اور ذریعہ سے ملا ہے۔ آپ نے صرف اپنی نبوت کی حقیقت سمجھانے کے لئے ظلی، بروزی اور امتی نبی کی اصطلاحیں مقرر کیں تاکہ لوگ نبی کے لفظ سے دھوکا نہ کھا جائیں اور اصطلاحوں کا قائم کرنا ہر ایک کے لئے جائز ہے۔ بروز وغیرہ کے الفاظ صوفیاء نے بھی قائم کئے ہیں۔ مرزا صاحب تناسخ کے اس معنی میں جس معنی میں کہ اہل ہنود سمجھتے ہیں قائل نہ تھے۔ ان کے اس قول سے کہ ”حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی خو، طبیعت اور مشابہت کے لحاظ سے ...... عبداللہ پسر عبدالمطلب کے گھر جنم لیا“ سے یہ مراد نہیں کہ آنحضرت ﷺ کی پیدائش حضرت ابراہیم ہی کی پیدائش تھی۔ چنانچہ انہوں نے (تریاق القلوب ص 155، خزائن ج 15 ص 477، حاشیہ) پر وجودِ دورویہ کی تفسیر خود ہی بیان کی ہے اور تناسخ کے مسئلہ کا رد مرزا صاحب نے اپنی بہت سی کتابوں میں کیا ہے۔ مہدی موعود کی بروزی نبوت کے متعلق مدعیہ کے گواہ مولوی نجم الدین صاحب نے جو اعتراض کیا ہے۔ اس کے متعلق یہ کہا گیا ہے کہ اس نے اس حوالہ کے آگے کی عبارت نہیں پڑھی۔ اس میں خاتم الاولاد کا

٢٢٣

صفحہ ٢١٠٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

مطلب یہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اس کے خاتمہ کے بعد نسل انسان کوئی کامل فرزند پیدا نہیں کرے گی۔ باستثناء ان فرزندوں کے جو اس کی حیات میں ہوں۔ سوائے ظلی اور بروزی اصطلاحات کے باقی تمام بحث فروعی امور کے متعلق ہے جن کا امر مابہ النزاع پر چنداں کوئی اثر نہیں پڑتا۔ لیکن اس کے جواب میں اگر مدعیہ کی بحث کو جو اوپر بیان 2224 کی جا چکی ہے دیکھا جاوے تو اس سے یہ نتیجہ درست طور پر برآمد ہوتا ہے کہ ظلی اور بروزی اور امتی وغیرہ کی اصطلاحات محض الفاظ ہی الفاظ ہیں۔ دراصل مرزا صاحب کا دعویٰ حقیقی نبوت کے متعلق ہی تھا۔ جیسا کہ اس کی تشریح بعد میں ان کے خلیفہ ثانی کی تحریر جس کا حوالہ اوپر گزر چکا کی گئی ہے۔ خلیفہ صاحب کی اس تحریر کے متعلق مدعا علیہ نے ان کی ایک اور تحریر کا حوالہ دیتے ہوئے یہ کہا ہے کہ وہ لکھتے ہیں کہ میں نے مثال کے طور پر لکھا تھا کہ اگر حقیقی نبی کے یہ معنی کئے جاویں کہ وہ بناوٹی یا ظلی نبی نہ ہو تو ان معنوں کی رو سے حضرت مسیح موعود کو میں حقیقی نبی مانتا ہوں۔ یعنی صادق اور منجانب اللہ اور غیر تشریعی نبی مانتا ہوں۔ لیکن اس سے ان کی وہ تحریر جس کا حوالہ مدعیہ کی طرف سے دیا گیا ہے رد نہیں ہوتی۔ وہ تحریر بذاتہ ایسی ہے کہ جس سے خود ایک مستقل مفہوم پیدا ہوتا ہے۔ اس میں انہوں نے مرزا صاحب کے حقیقی نبی ہونے کا ثبوت دینے کی بھی آمادگی ظاہر کی ہے اور پھر ساتھ ہی یہ کہا کہ انہوں نے ظلی بروزی کے الفاظ محض بطور انکسار کے استعمال فرمائے ہیں اور کہ اس قسم کی فروتنی نبیوں کی شان میں داخل ہے۔ ان کے ان الفاظ کی مدعاعلیہ کی طرف سے کوئی تردید نہیں کی گئی اور نہ ان کی کوئی تردید ہو سکتی ہے۔ مرزا صاحب نے اپنے ایک اعلان میں یہ لکھا ہے کہ خدا نے مجھے آنحضرت ﷺ کا وجود ہی قرار دیا۔ اس لئے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بروزات کے سلسلہ میں مرزا صاحب کے جن اقوال کا حوالہ گواہان مدعیہ کے بیانات میں دیا گیا ہے اور ان سے جو نتائج انہوں نے برآمد کئے ہیں اور جو ان کی بحث میں اوپر بیان کئے جاچکے ہیں ان سے واقعی یہ اخذ ہوتا ہے کہ مرزا صاحب اپنے ان اقوال میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا اس قسم کا جنم مراد لیتے ہیں کہ جو بطریق تناسخ سمجھا جاتا ہے نہ کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی خود طبیعت اور دیگر خصائل کے ودیعت ہونے سے ان سوالات پر زیادہ بحث کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ یہ سوالات مرزا صاحب کی اپنی تکفیر سے تعلق رکھتے ہیں جو کہ اس مقدمہ میں ایک ضمنی سوال ہے۔ اس لئے ان کے ایسے عقائد پر کہ جن پر مقدمہ ہذا کے تصفیہ کا زیادہ دارومدار نہیں ہے۔ تفصیلی بحث بلاضرورت ہے۔

2225 ذیل میں مدعاعلیہ کی طرف سے مدعیہ کے ان اعتراضات کا جواب درج کیا جاتا

٢٢٤

صفحہ ٢١٠٣

2103 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

ہے جو مرزا صاحب کے دعویٰ نبوت تشریعیہ کے متعلق عائد کئے گئے ہیں۔ اس کی طرف سے بیان کیا گیا ہے کہ مرزا صاحب نے جہاں اپنے لئے رسول کا لفظ لکھا ہے وہاں انہوں نے اس لفظ کے ساتھ کسی جگہ شریعت کا لفظ استعمال نہیں کیا بلکہ انہوں نے صاف لکھا ہے کہ آسمان کے نیچے بجز فرقان حمید اور کوئی کتاب نہیں۔ دعویٰ نبوت کے متعلق انہوں نے صاف کہا ہے کہ میں ان معنوں سے نبی ہوں کہ میں نے اپنے رسول مقتدا سے باطنی فیوض حاصل کر کے اور اپنے لئے اس کا نام پا کر اس کے واسطہ سے خدا کی طرف سے علم غیب پایا ہے۔ رسول اور نبی ہوں۔ مگر بغیر کسی جدید شریعت کے اور جہاں انہوں نے یہ کہا کہ مجھے نبی کا خطاب دیا گیا۔ وہاں آگے یہ الفاظ بھی ہیں مگر اس طرح سے کہ ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے امتی۔

جہاں مرزا صاحب نے یہ کہا ہے کہ وہ اپنی وحی پر اس طرح ایمان لاتے ہیں جس طرح کہ قرآن اور دوسری وحیوں پر۔ اس سے ان کا صاحب شریعت نبی ہونے کا دعویٰ اخذ نہیں ہوتا۔ بلکہ اس قسم کے اقوال سے یہ مراد ہے کہ آپ اپنی وحی کو منجانب اللہ اور اس کے دخل شیطانی اور خطا سے پاک ومنزہ ہونے پر کامل یقین رکھتے ہیں اور اس کا وہ اظہار کر رہے ہیں اور یہ اس بات کو مستلزم نہیں کہ آپ صاحب شریعت ہونے کے مدعی ہیں۔

مرزا صاحب نے یہ نہیں کہا کہ میری وحی شرعی اور قرآن کی مثل ہے۔ مرزا صاحب کا اپنی وحی کو مدار نجات ٹھہرانا بھی ان کا مدعی نبوت تشریعہ ہونا ثابت نہیں کرتا۔ کیونکہ ان کی جو وحی اور تعلیم ہے وہ وہی تعلیم ہے جو عین قرآن مجید اور اسلام کی ہے۔ لیکن اتنی بات ضرور ہے کہ اب قرآن مجید کی اس تعلیم پر کار بند ہو کر وہی نجات پا سکتا ہے جو آپ کے حلقہ بیعت میں داخل ہو دوسرا نہیں۔ مرزا صاحب نے یہ نہیں فرمایا کہ میری وحی میں کوئی نئی شریعت ہے یا میری وحی ناسخ شریعت محمدیہ ہے۔ بلکہ فرمایا کہ شریعت محمدیہ کے ہی بعض ضروری احکام کی تجدید ہے۔ قرآن مجید کی بیسیوں آیتیں دوبارہ امت محمدیہ کے اولیاء اللہ پر نازل ہوئیں۔ اس طرح مرزا صاحب پر قرآن مجید کے بہت 2226 سے اوامر ونواہی نازل ہوئے اور انہی کے متعلق مرزا صاحب نے لکھا ہے کہ: ”میری وحی میں امر بھی ہے اور نہی بھی۔“

مرزا صاحب کے قول نمبر ٦ مذکورہ بالا کے متعلق یہ کہا گیا ہے کہ اولیاء امت نے اس امر کو تسلیم کیا ہے۔ شریعت محمدی کے اوامر ونواہی کا بطور تجدید کے کسی بزرگ پر نازل ہو جانا ناجائز ہے ۔ صرف ایسے اوامر ونواہی کا جو شریعت محمدیہ کے مخالف ہوں اور آنحضرت ﷺ کی پیروی کا نتیجہ نہ ہوں اترنا ممنوع ہے۔ اس قول میں مرزا صاحب نے شریعت کا لفظ صرف مخالفین کے

٢٢٥

SEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

مطلب یہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اس کے خاتمہ کے بعد نسل ا باستثناء ان فرزندوں کے جو اس کی حیات میں ہوں۔ سز تمام بحث فروعی امور کے متعلق ہے جن کا امر مابہ النزاع ا جواب میں اگر مدعیہ کی بحث کو جو اوپر بیان 2224 کی ہ درست طور پر برآمد ہوتا ہے کہ ظلی اور بروزی اور امتی ہیں۔ دراصل مرزا صاحب کا دعویٰ حقیقی نبوت کے متعلق کے خلیفہ ثانی کی تحریر جس کا حوالہ اوپر گزر چکا کی گئی ۔ علیہ نے ان کی ایک اور تحریر کا حوالہ دیتے ہوئے یہ کہا ۔ لکھا تھا کہ اگر حقیقی نبی کے یہ معنی کئے جاویں کہ وہ ب حضرت مسیح موعود کو میں حقیقی نبی مانتا ہوں۔ یعنی صادق لیکن اس سے ان کی وہ تحریر جس کا حوالہ مدعیہ کی طرف ایسی ہے کہ جس سے خود ایک مستقل مفہوم پیدا ہوتا ہے نبی ہونے کا ثبوت دینے کی بھی آمادگی ظاہر کی ہے او کے الفاظ محض بطور انکسار کے استعمال فرمائے ہیں او ہے۔ ان کے ان الفاظ کی مدعا علیہ کی طرف سے کوئی ہے۔ مرزا صاحب نے اپنے ایک اعلان میں یہ لکھا ہ قرار دیا۔ اس لئے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ب اقوال کا حوالہ گواہان مدعیہ کے بیانات میں دیا گیا ہ ہیں اور جو ان کی بحث میں اوپر بیان کئے جاچکے ہیں اپنے ان اقوال میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا اس جاتا ہے نہ کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی خو، طبیعت سوالات پر زیادہ بحث کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ یہ س ہیں جو کہ اس مقدمہ میں ایک ضمنی سوال ہے۔ اس کے تصفیہ کا زیادہ دارومدار نہیں ہے۔ تفصیلی بحث بلام 2225 ذیل میں مدعاعلیہ کی طرف سے غ

٢٤

صفحہ ٢١٠٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

مقابل پر بطور الزام استعمال کیا ہے اور فرضی طور پر معترضین کو ملزم کرنے کے لئے فرماتے ہیں کہ یہ عذر بھی مخالفین کا باطل ہے۔ کیونکہ شریعت اوامر ونواہی کا نام ہے اور میرے الہامات میں امر اور نہی دونوں موجود ہیں۔

قول نمبر ١٢ کے متعلق یہ کہا گیا ہے کہ اس سے جو مرزا صاحب کے صاحب شریعت نبی ہونے کا استدلال کیا گیا ہے وہ درست نہیں۔ کیونکہ اس جگہ انہوں نے صرف صاحب شریعت نبی محدث اور ملہم کے انکار کا حکم بیان کیا ہے اور دوسرے انبیاء جو شریعت یا احکام جدید نہیں لائے۔ ان کا حکم اس عبارت میں مذکور نہیں اس سے گواہان مدعیہ نے جو نتیجہ نکالا ہے وہ مرزا صاحب کی دوسری تحریروں کے مخالف ہے۔ کیونکہ دوسری جگہ مرزا صاحب نے کہا ہے کہ ”میری مراد نبوت سے یہ نہیں ہے کہ میں آنحضرت ﷺ کے مقابلہ پر کھڑا ہو کر نبوت کا دعویٰ کرتا ہوں یا کوئی نئی شریعت لایا ہوں۔ صرف میری مراد نبوت سے کثرت مکالمت ومخاطبت الہیہ ہے۔“ اور دوسری جگہ لکھتے ہیں۔ ”جو شخص مجھے نہیں مانتا وہ اس وجہ سے نہیں مانتا کہ وہ مجھے مفتری قرار دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ خدا پر افتراء کرنے والا سب کافروں سے بڑھ کر کافر ہے۔ پس جب کہ میں نے مکذب کے نزدیک خدا پر افتراء کیا تو اس صورت میں میں نہ صرف کافر بلکہ بڑا کافر ہوا اور اگر میں مفتری نہیں تو بلاشبہ وہ کفر اس پر پڑے گا۔“

مرزا صاحب کے مدعی صاحب شریعت ہونے کی بابت مدعیہ کی طرف سے جو ان کے ماہواری چندہ دیئے جانے کے حکم کا حوالہ دیا جا کر بحث کی گئی ہے۔ اس کے متعلق مدعا علیہ کا یہ

2227

جواب ہے کہ وہ کوئی نیا حکم نہیں اور نہ اس میں تعمیل نہ کرنے والے کے متعلق کافر مرتد یا ملعون وغیرہ کے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں۔ بلکہ یہ حکم قرآن مجید کی تعلیم کے مطابق ہے۔ کیونکہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے انفاق فی سبیل اللہ پر بہت زور دیا ہے۔ مرزا صاحب نے اس قرآنی تعلیم کے ماتحت فرمایا کہ ایسا شخص جو راہ خدا میں خرچ نہیں کرتا اور باوجود مقدرت ٣، ٤ ماہ تک اس ربانی حکم سے غافل رہتا ہے اور کچھ پرواہ نہیں کرتا تو اس کا سلسلہ سے کوئی تعلق نہیں اور گواہان مدعیہ کا یہ کہنا کہ زکوٰۃ نہ دینے والے کے متعلق ایسا حکم نہیں ہے درست نہیں۔ کیونکہ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے ان لوگوں کے متعلق جنہوں نے زکوٰۃ دینے سے انکار کیا تھا۔ فرمایا کہ اللہ کی قسم کہ اگر انہوں نے ایک معمولی رسی بھی جس سے اونٹ باندھا جاتا ہے اور جسے وہ رسول اللہ ﷺ کے وقت میں ادا کرتے تھے روکی، تو میں ان سے قتال کروں گا۔ دیکھئے کہ زکوٰۃ میں سے کچھ حصہ ادا نہ کرنے پر کتنی سخت سزا مقرر کی گئی۔ ان دلائل کا زیادہ تفصیلی جوابات دینے کی ضرورت نہیں۔ ان کو اگر گواہان

٢٢٦

صفحہ ٢١٠٥

2105 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15 مدعیہ کی پیش کردہ دلائل کی روشنی میں دیکھا جائے گا تو ان کا ابطال خود بخود ہی ثابت ہو جائے گا۔ تاہم ان کے مختصراً جوابات درج کئے جاتے ہیں۔ رسول کی تعریف خود گواہ مدعا علیہ نے یہ کی ہے کہ جو صاحب کتاب ہو اور نبی عام ہوتا ہے۔ چاہے کتاب لائے یا نہ لائے۔ اب مرزا صاحب کے اپنے آپ کو رسول کہنے سے یہی مراد لی جائے گی کہ وہ صاحب کتاب نبی ہیں۔ علاوہ ازیں جو وحی کہ دخل شیطانی سے منزہ قرار دیا جاوے تو وہ منجانب اللہ ہونے کی وجہ سے اس طرح قطعی ہوگی جیسا کہ دیگر انبیاء کی وحی چنانچہ مرزا صاحب خود بھی فرماتے ہیں کہ اگر ان کی وحی کو جمع کیا جاوے تو وہ کئی جزئیں بن جائے۔ اب اس قسم کی وحی کو اگر کتابی صورت میں نہ بھی لایا جائے تو بھی کتاب اللہ کہلائے گی۔ کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اوامر ونواہی بیان کئے جاتے ہیں۔ مرزا صاحب کی ایسی وحی جس میں شریعت محمدیہ کے اوامر ونواہی کی تجدید ہے۔ بہت تھوڑی ہے۔ اس کے علاوہ ان کی جو دیگر وحی ہے اس کی قطعیت کے لحاظ سے اس پر بھی اس طرح ایمان لانا ضروری ہوگا۔ جیسا کہ قرآن مجید پر اور وہ بھی شریعت کا جزو تصور ہوگی۔ اس لئے مرزا صاحب نے رسول کے لفظ کے ساتھ شریعت کا لفظ استعمال نہیں کیا تو بھی ان کی تصریحات 2228 سے یہی سمجھا جائے گا کہ وہ صاحب شریعت رسول ہیں چاہے وہ صاف الفاظ میں یہ کہیں یا نہ کہیں۔ ان کے دیگر اقوال سے نتیجہ یہی برآمد ہوتا ہے جو اوپر بیان کیا جا چکا ہے۔ ان کے دیگر اقوال جن میں انہوں نے اپنی نبوت کی تشریح کی ہے یا یہ کہا ہے کہ جدید شریعت نہیں لائے۔ ان اقوال کا کہ جن سے مذکورہ بالا نتائج اخذ ہوتے ہیں۔ رد نہیں بن سکتے۔ کیونکہ جیسا کہ شروع بحث میں دکھلایا گیا جو اقوال کہ اپنے اندر مستقل مفہوم لئے ہوئے ہیں۔ ان کے مطالب وہی سمجھے جائیں گے جو ان اقوال کی اپنی طرز بیان سے اخذ ہوتے ہیں اور تاوقتیکہ اس بات کی صراحت نہ ہو کہ وہ اقوال واپس لئے جاچکے ہیں۔ دیگر اقوال نہ ان کے قائم مقام بن سکتے ہیں اور نہ ان کی تشریح۔

مرزا صاحب چاہے یہ کہیں یا نہ کہیں کہ ان کی وحی شرعی اور قرآن کی شکل ہے۔ وہ جب اسے دخل شیطانی سے پاک سمجھتے ہیں اور دوسروں پر حجت قرار دے کر اسے مدارِ نجات ٹھہراتے ہیں اور اپنے نہ ماننے والے کو بھی کافر سمجھتے ہیں اور بقول گواہ مدعا علیہ اب آئندہ کے لئے مرزا صاحب کی بیعت میں داخل ہونا بھی ضروری ہے تو پھر کیونکر کہا جاسکتا ہے کہ ان کی وحی شرعی نہیں؟ خصوصاً جب کہ صاحب شریعت کی تعریف بھی خود مرزا صاحب یہ کرتے ہیں کہ جس نے اپنی وحی کے ذریعہ چند امر و نہی بیان کئے اور اپنی امت کے لئے ایک قانون مقرر کیا وہی صاحب شریعت ہو گیا اور پھر آگے یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ ضروری نہیں کہ وہ اوامر ونواہی نئے ہوں۔ ان کی ٢٢٧

KISTAN 30th Aug, 1974 No:15 مقابل پر بطور الزام استعمال کیا ہے اور عذر بھی مخالفین کا باطل ہے۔ کیونکہ شر نبی دونوں موجود ہیں۔ قول نمبر ١٢ کے متعلق یہ کہ ہونے کا استدلال کیا گیا ہے وہ درس محدث اور ملہم کے انکار کا حکم بیان کیا ان کا حکم اس عبارت میں مذکور نہیں دوسری تحریروں کے مخالف ہے۔ کیو سے یہ نہیں ہے کہ میں آنحضرت ﷺ شریعت لایا ہوں۔ صرف میری مرا جگہ لکھتے ہیں ۔ ”جو شخص مجھے نہیں ما اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ خدا پر افتراء کر نے مکذب کے نزدیک خدا پر افتراء میں مفتری نہیں تو بلاشبہ وہ کفر اس پر مرزا صاحب کے مدعی ماہواری چندہ دیئے جانے کے حکم ک 2227 جواب ہے کہ وہ کوئی نیا حکم نہیں وغیرہ کے الفاظ استعمال کئے گئے ہ مجید میں اللہ تعالیٰ نے انفاق فی سبی کے ماتحت فرمایا کہ ایسا شخص جو راہ حکم سے غافل رہتا ہے اور کچھ پرو کہنا کہ زکوٰۃ نہ دینے والے کے ح نے ان لوگوں کے متعلق جنہوں ۔ نے ایک معمولی رسی بھی جس سے ا کرتے تھے روکی، تو میں ان سے سخت سزا مقرر کی گئی۔ ان دلائل ک

صفحہ ٢١٠٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

اس تعریف کی رو سے صاف قرار دیا جاسکتا ہے کہ وہ اپنی وحی کو شرعی وحی سمجھتے ہیں اور جب وہ شرعی وحی ہوئی تو اس پر ایمان لانا اس طرح واجب ہوا جیسا کہ قرآن مجید پر۔ یہ ضرور ہے کہ قرآن مجید کی آیات کا نزول دیگر اولیاء اللہ پر بھی ہوتا ہے۔ لیکن ان میں سے کسی نے ان کو اپنے اوپر چسپاں نہیں کیا اور نہ ان کو دوسروں پر بطور حجت پیش کیا ہے۔ اس لئے دیگر اولیاء اللہ کی مثال مرزا صاحب کے مقابلہ میں پیش نہیں کی جاسکتی۔

2229 قول نمبر ٦ میں صاحب شریعت کے الفاظ مرزا صاحب کی طرف سے فرضی طور پر استعمال نہیں کئے گئے۔ جیسا کہ مدعا علیہ کا ادّعا ہے۔ بلکہ بڑی شدومد سے صاحب شریعت کی تعریف کی جا کر اپنا صاحب شریعت ہونا دکھلایا گیا ہے۔ اس قول کی عبارت پڑھنے سے معلوم ہوسکتا ہے کہ وہاں صاحب شریعت کے الفاظ فرضی ہیں یا اصلی۔ اس قول کی مزید تائید پھر قول نمبر ١٢ سے ہوتی ہے۔ اس قول کے مرزا صاحب کے دیگر اقوال کے متناقض ہونے کو خود گواہ مدعا علیہ نے بھی مانا ہے اور مرزا صاحب کے دیگر اقوال سے اس تناقض کو رفع کرنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن یہ قول بذاتہ کسی شرح کا محتاج نہیں اور اپنا مفہوم آپ ہی بیان کر رہا ہے۔ اس قول میں مرزا صاحب نے اپنی عظمت اور شان دکھلا کر یہ ثابت کیا ہے کہ وہ صاحب شریعت نبی ہیں اور اپنے دعویٰ کے انکار کرنے والوں کو وہ اس بناء پر کافر کہتے ہیں۔ یہ ان کی طرف سے ایک دوسری توجیہ ہے کہ وہ اس شخص کو جو انہیں نہیں مانتا اس بناء پر کافر کہتے ہیں کہ وہ انہیں مفتری سمجھتا ہے اور چونکہ وہ مفتری نہیں ہیں اس لئے وہ کفر اس پر لوٹتا ہے۔

مرزا صاحب نے اپنی جماعت کو جو ماہواری چندہ دینے کا حکم دیا ہے اور اس سلسلہ میں ان کی طرف سے جو فرمان شائع ہوا ہے اور جس کا حوالہ اوپر دیا جا چکا ہے اس کے ملاحظہ سے پایا جاتا ہے کہ انہوں نے یہ حکم اللہ تعالیٰ سے مطلع ہو کر دیا ہے۔ گویا یہ حکم دراصل ان کا حکم نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے۔ چنانچہ گواہ مدعا علیہ بھی تسلیم کرتا ہے کہ یہ ایک ربانی حکم ہے اور اس ربانی حکم کی تعمیل نہ کرنے والے کو مرزا صاحب نے منافق کہا ہے۔ اب اگر مرزا صاحب نے صاف الفاظ میں یہ نہیں کہا کہ وہ مرتد اور ملعون ہے تو اس سے ان کے اس حکم کے نتیجہ پر کہ وہ منافق ہے کوئی اثر نہیں پڑسکتا۔ کیونکہ منافق کو خداوند تعالیٰ نے کافروں کی ذیل میں شامل کیا ہے۔ بلکہ بہت بڑا کافر کہا ہے۔ اس لئے قاصر کو سوائے اس کے کہ اسے مرتد اور ملعون سمجھا جائے اور کیا کہا جائے گا۔ کیونکہ اس کا بیعت سے خارج ہو جانا بھی مثل ارتداد ہے۔

اگر مرزا صاحب کے باوجود اسے منافق کہنے اور بیعت سے خارج کرنے کے گواہ مدعا

٢٢٨

2107 NATIO

کہ وہ مرزا صاحب کو نبی اللہ نہیں اس کی ناراضگی موجب غضب نے مرتبے کو پوری طرح مدنظر نہیں کے باوجود قاصر کو صرف یہی سزا حالانکہ خدا نے نبی کی وہ شان بتائی بولنے سے بھی تمام اعمال کے میں کہیں کا نہیں چھوڑتی ۔ اس خلق بھی اس قسم کا کوئی شرعی حکم کے خلیفہ اول کا ہے نہ کہ خدا حضرت ابوبکر صدیق کے ساتھ طرف تو وہ انہیں نبی مانتا ہے اور ۔ یہ معمہ سمجھ میں نہیں آتا کہ ان سمجھ رکھی ہے۔ کچھ شک نہیں کہ اور اس بناء پر مرزا صاحب اپنی سبیل اللہ کی ترغیب نہیں۔ بلکہ کی طرف سے اسے ایک ربانی قاصر کو منافق قرار دیا جا کر اور اس حالت میں کیونکر کہا جاسکتا غیب ہے۔ اگر نبیوں کے احکام سے مانا ، احکام خداوندی کی بھی نتیجہ دکھائی دینے لگتا ہے۔ لہٰذا درست طور پر اخذ کیا گیا ہے کہ انہوں نے اپنے اس دعویٰ میں اپنے ان اقوال کی جن سے ان شروع کر دیں۔ قیامت، نفخ صور اور حشر احیاء

صفحہ ٢١٠٧

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

علیہ کے نزدیک پھر بھی وہ مسلمان رہتا ہے تو اس کے یہ معنی ہیں کہ وہ مرزا صاحب کو نبی اللہ نہیں مانتا۔ 2230 کیونکہ نبی کے حکم کی تعمیل عین خدا کی تعمیل ہوتی ہے اور اس کی ناراضگی موجب غضب الٰہی ، معلوم ہوتا ہے کہ یہ حکم دیتے وقت مرزا صاحب نے بھی اپنے مرتبے کو پوری طرح مدنظر نہیں رکھا اور اپنی طاقت کے ساتھ خدا کی طاقت کو بھی شامل کرنے کے باوجود قاصر کو صرف یہی سزا دے سکتے ہیں کہ اسے سلسلۂ بیعت سے خارج کر دیا جائے گا۔ حالانکہ خدا نے نبی کی وہ شان بتائی ہے کہ اس کے حکم کی عدم تعمیل تو بجائے ماند، اس کے آگے اونچا بولنے سے بھی تمام اعمال کے ضائع ہو جانے کا اندیشہ ہوتا ہے اور عدم تعمیل احکام تو دین و دنیا میں کہیں کا نہیں چھوڑتی۔ اس سلسلہ میں مدعیہ کی طرف سے یہ درست کہا گیا ہے کہ زکوٰۃ کے متعلق بھی اس قسم کا کوئی شرعی حکم نہیں۔ جس حکم کا حوالہ گواہ مدعا علیہ نے دیا ہے۔ وہ رسول اللہ ﷺ کے خلیفہ اوّل کا ہے نہ کہ خدا اور اس کے رسول کا، گواہ مدعا علیہ کا اس بارہ میں مرزا صاحب کا حضرت ابو بکر صدیق کے ساتھ مقابلہ کرنا مرزا صاحب کے مرتبہ کی اور تنقیص ظاہر کرتا ہے۔ ایک طرف تو وہ انہیں نبی مانتا ہے اور پھر ان کے احکام کے مقابلہ میں ایک غیر نبی کے احکام پیش کرتا ہے۔ یہ معمہ سمجھ میں نہیں آتا کہ ان لوگوں نے مرزا صاحب کو باوجود نبی ماننے کے ان کی کیا شان سمجھ رکھی ہے۔ کچھ شک نہیں کہ مرزا صاحب کا یہ حکم زکوٰۃ پر مستزاد ہونے کی وجہ سے ایک نیا حکم ہے اور اس بناء پر مرزا صاحب اپنی بیان کردہ تعریف کی رو سے بھی شرعی نبی ہوئے۔ ہر حکم انفاق فی سبیل اللہ کی ترغیب نہیں۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل میں نافذ ہونا بیان کیا گیا ہے اور خود مدعا علیہ کی طرف سے اسے ایک ربانی حکم ہونا مانا گیا ہے اور پھر اس کی سزا بھی محض دنیاوی مقرر نہیں بلکہ قاصر کو منافق قرار دیا جا کر اور مرتد بنایا جا کر اسے عذاب آخرت کا مستوجب قرار دیا گیا ہے۔ تو اس حالت میں کیونکر کہا جاسکتا ہے کہ یہ کوئی شرعی حکم نہیں۔ بلکہ محض انفاق فی سبیل اللہ میں ایک ترغیب ہے۔ اگر نبیوں کے احکام کی اس طرح تعبیر کی جانے لگے تو پھر نبی اور رسولوں کے احکام تو بجائے ماند، احکام خداوندی کی بھی کوئی حقیقت نہیں رہتی اور نبوت کا تمام سلسلہ ہی ایک بے معنی سی چیز دکھائی دینے لگتا ہے۔ لہٰذا مرزا صاحب کی ان تحریروں سے جن کا اوپر حوالہ دیا گیا ہے۔ یہ نتیجہ درست طور پر اخذ کیا گیا ہے کہ وہ 2231 صاحب شریعت نبی ہونے کے بھی دعویدار ہیں۔ گو بعد میں انہوں نے اپنے اس دعویٰ میں کامیاب نہ ہونے کی صورت دیکھ کر اس پر زیادہ زور نہیں دیا اور اپنے ان اقوال کی جن سے ان کے صاحب شریعت نبی ہونے کے نتائج اخذ ہوتے مختلف توجیہیں شروع کر دیں۔

اس کے بعد مدعا علیہ کی طرف سے مرزا صاحب کے قیامت ، نفخ صور اور حشر احیاء

٢٢٩

صفحہ ٢١٠٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

وغیرہ اعتقادات کے متعلق یہ کہا گیا ہے کہ گواہان مدعیہ کی طرف سے ان عقائد کی نسبت جو اعتراضات وارد کئے گئے ہیں وہ درست نہیں۔ کیونکہ مرزا صاحب نے ان عقائد کی نسبت جو کچھ بیان کیا ہے وہ قرآن مجید اور احادیث کی رو سے درست ہے۔ ان عقائد کے متعلق زیادہ تفصیلی بحث کی ضرورت نہیں۔ صرف یہ لکھ دینا کافی ہے کہ اگر مرزا صاحب کو نبی تسلیم نہ کیا جاوے تو پھر تو ان عقائد کے متعلق ان کی رائے ایک ذاتی رائے تصور ہوگی اور اس سے اختلاف کیا جانا ممکن ہوگا اور اگر انہیں نبی تسلیم کر لیا جاوے تو پھر ان کی رائے تعلیم وحی کا نتیجہ شمار ہو کر قابل پابندی ہوگا اور اس صورت میں اس سے ذرا بھر اختلاف نہیں ہو سکے گا۔ بلکہ اختلاف کرنے والا عاصی سمجھا جاوے گا۔ ان کے نبی نہ ہونے کی صورت میں ان کے یہ عقائد امت کے خلاف ہونے کی وجہ سے تحقیق طلب ہوں گے اور ممکن ہے کہ اس صورت میں ان کے خلاف فتویٰ کی صورت بھی بدل جائے۔ مگر ان کے مدعی نبوت ہونے کی حالت میں ان کے یہ عقائد جمہور امت کے عقائد کے خلاف ہونے کے باعث وجوہات تکفیر میں مزید اضافہ کا سبب بن سکیں گے۔

اب ذیل میں توہین انبیاء کے سلسلہ میں مدعیہ کی طرف سے پیش کردہ دلائل کا جو جواب مدعاعلیہ کی طرف سے دیا گیا ہے وہ درج کیا جاتا ہے۔ مدعاعلیہ کی طرف سے کہا جاتا ہے کہ مرزا صاحب نے کسی نبی کی توہین نہیں کی۔ کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ جو شخص اپنے آپ کو جن لوگوں سے مشابہت دیتا ہے اور کہتا ہے کہ میں بھی اس پاک گروہ کا ایک فرد ہوں۔ پھر کیونکر ان کی توہین کرسکتا ہے۔ کیونکہ وہ توہین اس کی اپنی توہین ہوگی۔

2232 اصول کے لحاظ سے تو یہ بات درست ہے۔ لیکن اس کا فیصلہ مرزا صاحب کے اقوال سے ہوتا ہے۔ گواہان مدعیہ کے بیانات میں اس کی مفصل بحث پائی جاتی ہے۔ اس لئے یہاں اس کے اعادہ کی ضرورت نہیں۔

مدعاعلیہ کی طرف سے یہ کہا جاتا ہے کہ مرزا صاحب کے جن اشعار کو باعث توہین قرار دیا گیا ہے۔ اس سے کوئی توہین پیدا نہیں ہوتی۔ بلکہ مرزا صاحب کے ان اشعار سے مراد یہ ہے کہ جام عرفان الٰہی اور ایقان ہر نبی کو دیا گیا تھا اور خداوند تعالیٰ نے وہ پورے کا پورا مجھے بھی دیا ہے اور کہ میں اپنی معرفت اور عرفان الٰہی میں اور اپنے یقین میں کسی نبی اور رسول سے کم نہیں ہوں اور یہ کمال جو مجھے حاصل ہوا ہے وہ آنحضرت ﷺ کے اتباع سے بطریق وراثت ملا ہے۔

مرزا صاحب پر یہ غلط اتہام لگایا گیا ہے کہ انہوں نے آنحضرت ﷺ کی بھی توہین کی ہے۔ بلکہ آپ کی کتب آنحضرت ﷺ کی تعریف سے پر ہیں۔ جن آیات قرآنیہ کے متعلق یہ کہا

٢٤٠

صفحہ ٢١٠٩

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15 جاتا ہے کہ مرزا صاحب نے اپنے اوپر چسپاں کی ہیں۔ ان کے متعلق مولوی محمد حسین بٹالوی رئیس طائفہ اہل حدیث نے یہ لکھا ہے کہ مرزا صاحب نے یہ دعویٰ نہیں کیا کہ ان آیات کا مورد نزول ومخاطب وہ ہیں بلکہ ان کو کامل یقین اور صاف اقرار ہے کہ قرآن اور پہلی کتابوں میں ان آیات میں مخاطب ومراد وہی انبیاء ہیں جن کی طرف ان میں خطاب ہے اور ان کمالات کے محل وہی ، حضرات ہیں جن کو خداوند تعالیٰ نے ان کمال کا محل ٹھہرایا ہے۔

لیکن یہ جواب اس وقت کے متعلق ہے جب تک کہ مرزا صاحب نے دعویٰ نبوت نہیں کیا تھا۔ مدعاعلیہ کی طرف سے کہا گیا ہے کہ مرزا صاحب پر یہ الزام بھی غلط لگایا گیا ہے کہ انہوں نے عین محمد ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ بلکہ انہوں نے اپنی کتابوں میں صاف طور پر کہا ہے کہ میں ان کا خادم ہوں اور وہ میرے مخدوم ہیں۔ میں ان کا ظل ہوں اور وہ اصل ہیں۔ میں آپ کی خدمت اور آپ کی شاگردی اور آپ کے اتباع میں اس قدر فنا ہوں کہ گویا میرا وجود آپ کے وجود سے بلحاظ روحانیت علیحدہ نہیں ہے اور بزرگان دین نے یہ لکھا ہے کہ انبیاء علیہم السلام کے 2233 کامل متبع بہ سبب کمال متابعت انہیں میں جذب ہو جاتے ہیں اور ان کے رنگ میں ایسے رنگین ہوتے ہیں کہ تابع اور متبوع یعنی نبی اور امتی میں کوئی فرق نہیں رہتا۔ سوائے اوّل آخر ہونے کے، مرزا صاحب نے یہ نہیں کہا کہ میں عین محمد ہوں۔ بلکہ بروزی طور پر فرمایا ہے اور لکھتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کی روحانیت نے ایک ایسے شخص کو اپنے لئے منتخب کیا کہ جو خلق، ہمت، ہمدردی، اخلاق میں اس کے مشابہ تھا اور ظاہری طور پر اپنا نام احمد اور محمد اس کو عطاء کیا۔ تا یہ سمجھا جاوے کہ گویا اس کا ظہور بعینہ آنحضرت ﷺ کا ظہور تھا۔ لیکن صوفیاء نے اس مقام کو عینیت کے لفظ سے تعبیر کیا ہے۔ اس پر بھی مزید کچھ لکھنے کی ضرورت نہیں۔ اس استدلال کو مدعیہ کے پیش کردہ استدلال کی روشنی میں دیکھا جا سکتا ہے۔

مدعاعلیہ کی طرف سے آگے یہ کہا گیا ہے کہ مرزا صاحب کے اس شعر سے کہ ”نــــــہ خسف القمر المنیر وان لی “ سے آنحضرت ﷺ کی توہین نہیں نکلتی۔ کیونکہ اگر مرزا صاحب کے لئے چاند اور سورج کا گرہن نشان ہوا تو وہ اس لئے کہ احادیث کی کتب میں سچے مہدی کی علامات میں سے یہ قرار دیا گیا ہے۔ پس یہ نشان بھی آنحضرت ﷺ کی طرف منسوب ہوگا۔ مگر مدعیہ کا استدلال اس پر نہیں کہ مرزا صاحب نے چاند گرہن کے نشان کو اپنے لئے تجویز کیا ہے۔ بلکہ اس کی طرف سے توہین کا موجب یہ بات سمجھی گئی ہے کہ اس شعر میں رسول اللہ ﷺ کے معجزہ شق القمر کا استخفاف کیا گیا ہے۔

رسول اللہ ﷺ کے معجزات کے متعلق مدعیہ کی طرف سے مرزا صاحب کے جن اقوال

٢٣١

صفحہ ٢١١٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

پر اعتراض کیا گیا ہے۔ اس کا مدعا علیہ کی طرف سے یہ جواب دیا گیا ہے کہ مرزا صاحب نے دوسری کتاب میں جہاں آنحضرت ﷺ کے تین ہزار معجزات بتلائے ہیں۔ وہاں اپنی پیش گوئیاں سو کے قریب لکھی ہیں اور آپ نے اپنے دس لاکھ ایسے نشانات بتلائے ہیں کہ اگر ویسے نشانات آنحضرت ﷺ کے شمار کئے جاویں تو دس (١٠) ارب سے بھی زیادہ ہوں۔

مدعیہ کی طرف سے یہ کہا گیا ہے کہ چونکہ معجزہ خرق عادات ہوتا ہے اور مرزا صاحب نے اپنے نشانات کے متعلق یہ کہا ہے کہ وہ اوّل درجہ کے خرق عادت ہیں۔ اس لئے ان نشانات کو بھی 2234 معجزات ہی شمار کیا جائے گا۔ ہر دو فریق کے دلائل اس بارہ میں مسل پر موجود ہیں۔ ان سے نتیجہ نکالا جاسکتا ہے کہ صداقت کس میں ہے۔ میں ان سوالات پر اس لئے بھی زیادہ بحث کی ضرورت نہیں سمجھتا کہ یہ سوالات مرزا صاحب کی اپنی ذات کے متعلق ہیں اور امر مابہ النزاع سے ان کا بہت تھوڑا تعلق پایا جاتا ہے۔ اس طرح مدعا علیہ کا یہ ادعا ہے کہ مرزا صاحب نے حضرت یوسف علیہ السلام اور حضرت آدم علیہ السلام کی بھی کوئی توہین نہیں کی۔ اس کے بعد پھر اس کی طرف سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین کے سلسلہ میں یہ دکھلایا گیا ہے کہ مرزا صاحب نے جہاں عیسیٰ علیہ السلام پر اپنی فضیلت بیان کی ہے وہ آنحضرت ﷺ کے متبع اور امتی ہونے کی وجہ سے کی ہے اور علماء خود مانتے چلے آئے ہیں کہ حضرت موسیٰ نے بھی یہ خواہش کی تھی کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی امت میں سے ہوں اور دوسرے شعراء اور صوفیاء کے اقوال سے یہ دکھلایا گیا ہے کہ وہ بھی رسول اللہ ﷺ کے متبع ہونے کے باعث حضرت عیسیٰ پر اپنی فضیلت ظاہر کرتے آئے ہیں۔ مگر اسے توہین نہیں سمجھا گیا اور اس ضمن میں شیخ محمود حسن صاحب کے چند اشعار جو انہوں نے مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی کے مرثیہ میں لکھے ہیں درج کئے جاکر یہ بحث کی گئی ہے کہ ان اشعار سے انبیاء کی توہین نہیں ہوتی۔ پھر مرزا صاحب کے اشعار سے کیونکر توہین اخذ کی جاتی ہے۔

اس کا جواب سید انور شاہ صاحب گواہ مدعیہ نے دیا ہے کہ جو مدحیہ اشعار ہوں وہ تحقیقی نہیں ہوتے۔ بلکہ بشری کلام میں اٹکل کے ہوتے ہیں اور شاعرانہ محاورہ مبنی نوع کلام ہی تسلیم کیا گیا ہے۔ فرق اس میں یہ ہے کہ جو خدا کی کلام ہوگی تو وہ عقیدہ ہوگا اور تحقیق ہوگی اور وہ کسی طرح اٹکل نہ ہوگی۔ حقیقت حال ہوگی۔ نہ کم نہ بیش۔ بشر انتہائی حقیقت کو نہیں پہنچتا۔ تخمینی لفظ کہتا ہے اور دنیا نے اس کو تسلیم کیا ہے کہ شاعرانہ نوع تعبیر عام اطلاق الفاظ نہیں اور وہ تخمینہ پر عبارت کہہ دیتے ہیں جو آس پاس ہوتی ہے۔ ٹھیک حقیقت نہیں ہوتی اور خود شاعر کی نیت میں اور ضمیر میں منوانا اس کا عالم کو منظور نہیں ہوتا۔

٢٣٢

صفحہ ٢١١١

2111 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

2235 جھوٹے اور شاعر میں یہ فرق ہے کہ جھوٹا کوشش کرتا ہے کہ میرے کلام کو لوگ سچ مان لیں اور شاعر کی اصلاً یہ کوشش نہیں ہوتی۔ بلکہ وہ سمجھتا ہے کہ حاضرین بھی میرے اس کلام کو حقیقت پر نہیں سمجھیں گے۔ بلکہ اگر کوئی حقیقت پر سمجھے تو دوسرے وقت وہ اس کی اصلاح کے در پے ہوتا ہے اور ایسے وقائع دنیا میں بہت پیش آچکے ہیں۔ مبالغہ شاعروں کے ہاں ہوتا ہے اور یہ ایک قسم ہے کلام کی جو فنون علمیہ میں درج ہے اور اس مبالغہ کی حقیقت یہ ہے کہ چھوٹی چیز کو بڑا ادا کرنا اور بڑی چیز کو چھوٹا بشرطیکہ نہ اعتقاد ہو اور نہ مخلوق کو منوانا ہو۔ پس اگر کوئی شخص کوئی ایسی چیز کہتا ہے کہ جس سے مغالطہ پڑتا ہے۔ نبوت کے باب میں اور وہ ساری کوشش اس میں خرچ کرتا ہے تو وہ اور جہاں کا ہے اور حضرت شاعر اور جہاں میں۔

چنانچہ مرزا صاحب اپنی کتاب ( دافع البلاء ص ٢٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٤٠) پر لکھتے ہیں کہ ”یہ باتیں شاعرانہ نہیں بلکہ واقعی ہیں ۔“ علاوہ ازیں سمجھ میں نہیں آتا کہ مرزا صاحب نے شاعری کا شیوہ کس طرح اختیار فرمایا اور کیوں انہیں اس معاملہ میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی صفات عالیہ سے بطور ظل کے حصہ نہ ملا۔ کیونکہ حضور ﷺ کے متعلق قرآن مجید کی سورۃ یٰسین میں فرمایا گیا ہے کہ ”وما علمناه الشعر وما ينبغي له “ اور سورۃ شعراء میں شعراء کی مذمت کی جا کر یہ فرمایا گیا ہے کہ ”الم تر انهم ...... يفعلون “ اس حکم کے تحت میں تو مرزا صاحب کے نہ صرف وہ اقوال جو اشعار میں درج ہیں بلکہ کوئی قول بھی معتبر نہیں رہتا۔

مدعیہ کے اس اعتراض کے جواب میں کہ ”مرزا صاحب نے حضرت مسیح کے معجزات کو مسمریزم کی قسم سے کہا ہے۔“ مدعا علیہ کی طرف سے یہ جواب دیا گیا ہے کہ میں حضرت مسیح کے اعجازِ خلق کو مانتا ہوں۔ ہاں اس بات کو نہیں مانتا کہ حضرت مسیح نے خدا تعالیٰ کی طرح حقیقی طور پر کسی مردہ کو زندہ کیا۔ یا حقیقی طور پر کسی پرندہ کو پیدا کیا۔ کیونکہ اگر حقیقی طور پر حضرت مسیح علیہ السلام کے مردہ زندہ کرنے یا پرندے پیدا کرنے کو تسلیم کیا جاوے تو اس سے خدا تعالیٰ کی خلق اور اس کا احیاء مشتبہ ہو جائے گا اور عمل ترب کے متعلق وہ اپنے ایک الہام کے حوالہ سے یہ لکھتے ہیں کہ ”2236 یہ عمل الترب ہے۔ جس کی اصل حقیقت کی زمانہ حال کے لوگوں کو کچھ خبر نہیں۔ آپ نے اس عمل کو اپنے لئے اس لئے پسند نہ کیا کہ اس علمی زمانہ میں ایسے معجزات دکھلانے کی ضرورت نہ تھی اور حضرت مسیح کے متعلق وہ لکھتے ہیں کہ انہوں نے اس عمل جسمانی کو یہودیوں کے جسمانی اور پست خیالات کی وجہ سے جوان کی فطرت میں مرکوز تھے۔ باذن و حکم الٰہی اختیار کیا تھا۔ ورنہ انہیں بھی یہ عمل پسند نہ تھا۔

٢٢٣٣

BLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

پر اعتراض کیا گیا ہے۔ اس کا مدعا علیہ کی طرف دوسری کتاب میں جہاں آنحضرت ﷺ کے تین ہزا سو کے قریب لکھی ہیں اور آپ نے اپنے دس لاکھ آنحضرت ﷺ کے شمار کئے جاویں تو دس (١٠) ارب

مدعیہ کی طرف سے یہ کہا گیا ہے کہ مدعا نے اپنے نشانات کے متعلق یہ کہا ہے کہ وہ اوّل در بھی 2234 معجزات ہی شمار کیا جائے گا۔ ہر دو فریق سے نتیجہ نکالا جاسکتا ہے کہ صداقت کس میں ہے، ضرورت نہیں سمجھتا کہ یہ سوالات مرزا صاحب کی ا ان کا بہت تھوڑا تعلق پایا جاتا ہے۔ اس طرح مد یوسف علیہ السلام اور حضرت آدم علیہ السلام کی آ طرف سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین کے جہاں عیسیٰ علیہ السلام پر اپنی فضیلت بیان کی ہے سے کی ہے اور علماء خود مانتے چلے آئے ہیں کہ آ اللہ ﷺ کی امت میں سے ہوں اور دوسرے شع بھی رسول اللہ ﷺ کے متبع ہونے کے باعث ح مگر اسے توہین نہیں سمجھا گیا اور اس ضمن میں بش مولوی رشید احمد صاحب گنگوہیؒ کے مرثیہ میں آ اشعار سے انبیاء کی توہین نہیں ہوتی۔ پھر مرزا صا

اس کا جواب سید انور شاہ صاحب کا نہیں ہوتے۔ بلکہ بشر کی کلام میں اٹکل کے ہو ہے۔ فرق اس میں یہ ہے کہ جو خدا کی کلام ہو گی نہ ہوگی۔ حقیقت حال ہوگی۔ نہ کم نہ بیش ۔ بشر ا نے اس کو تسلیم کیا ہے کہ شاعرانہ نوع تعبیر عام ا جو آس پاس ہوتی ہے۔ ٹھیک حقیقت نہیں ہو عالم کو منظور نہیں ہوتا۔

صفحہ ٢١١٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

اس جواب کے متعلق بھی مزید کسی تشریح کی ضرورت نہیں۔ ہر دو فریق کی طرف سے اس بارہ میں جو مواد پیش کیا گیا ہے وہ اوپر دکھلایا جا چکا ہے۔ اس سے ہر دو کے دلائل کا موازنہ کیا جاسکتا ہے۔

عیسیٰ علیہ السلام کی توہین کے متعلق مرزا صاحب کے جو دیگر اقوال ان کی کتب ”دافع البلاء اور ضمیمہ انجام آتھم وغیرہ“ سے پیش کئے جا کر یہ دکھلایا گیا ہے کہ ان میں بہت ہی سب و شتم درج ہے۔ ان کی بابت مدعا علیہ کی طرف سے یہ کہا گیا ہے کہ ان میں عیسائی مخاطب ہیں اور ان اقوال میں ان لوگوں کے اعتقادات کے مطابق جو ان کی کتابوں میں درج ہیں۔ انہیں الزامی جواب دیئے گئے ہیں اور فن مناظرہ میں اس قسم کی روش عام طور پر اختیار کی جاتی ہے اور اس کی تائید میں مدعا علیہ کی طرف سے دیگر علماء کے اقوال نقل کئے گئے ہیں۔ مرزا صاحب کے ان اقوال کو اگر سیاق و سباق عبارت سے ملا کر دیکھا جاوے تو مدعا علیہ کا یہ جواب حقیقت سے خالی معلوم نہیں ہوتا۔ علاوہ ازیں ان دشنام آمیز الفاظ کو سید انور شاہ صاحب گواہ مدعیہ نے اپنی شہادت میں بسلسلۂ توہین عیسیٰ علیہ السلام بیان نہیں کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ میں موجب ارتداد مرزا صاحب میں اس قسم کی کوئی چیز پیش نہیں کرتا۔ جس میں کہ مجھے نیت سے بحث کرنی پڑے۔ بلکہ میں نے اس چیز کو لیا ہے جسے انہوں نے قرآن کی تفسیر بنایا ہے اور اسے حق کہا ہے اور جن چیزوں میں مجھے نیت کی تلاش رہتی وہ میں نے اپنی بحث سے خارج کر دیئے ہیں اور انہیں موجب ارتداد قرار نہیں دیا۔

2237 میں نے مرزا صاحب کی نیت پر گرفت نہیں کی زبان پر کی ہے اور نہ ہی وجہ ارتداد میں تعریض کو لیا ہے۔ بلکہ جس ہجو کو انہوں نے قرآن مجید سے مستنبط کیا اور اسے قرآن مجید کی تفسیر گردانا اور جس ہجو کو اپنی جانب سے حق کہا وہ اسے وجہ ارتداد سمجھتے ہیں اور اس ضمن میں انہوں نے مرزا صاحب کے حسب ذیل اقوال داخل کئے ہیں۔ ”مگر میرے نزدیک آپ کی یہ حرکات جائے افسوس نہیں۔ کیونکہ آپ تو گالیاں دیتے تھے اور یہودی ہاتھ سے کسر نکال لیا کرتے تھے۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥، خزائن ج ١١ ص ٢٨٩)

اور کہا ہے کہ اس سے تعریض اور تصریح دونوں قسم کی توہین ظاہر ہوتی ہے اور یہ کہ ”عیسائیوں نے آپ کے بہت سے معجزات لکھے ہیں۔ مگر حق بات یہ ہے کہ آپ سے معجزہ نہیں ہوا。“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٦، خزائن ج ١١ ص ٢٩٠)

اس سے صریح عیسیٰ علیہ السلام کی توہین ٹپکتی ہے۔ کیونکہ حق بات کے الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ مرزا صاحب کے اپنے فیصلہ کے الفاظ ہیں۔ شاہ صاحب کی یہ رائے عین حق شناسی پر

٢٣٤

PDF 418

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

مبنی ہے اور جن اقوال سے انہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین کا نتیجہ نکالا ہے۔ ان سے واقعی ان کی توہین اخذ ہوتی ہے۔ باقی رہا کسی نبی کا دوسرے نبی سے افضل ہونے کا سوال اس کے متعلق شاہ صاحب کے بیان کے حوالہ سے اوپر جواب دیا جا چکا ہے۔

(تمام امت کی تکفیر)

چھٹی وجہ تکفیر بیان کردہ گواہان مدعیہ کا مدعا علیہ کی طرف سے یہ جواب دیا گیا ہے کہ مرزا صاحب نے یہ کہیں نہیں لکھا کہ تمام امت محمدیہ مشرک ہے۔ بلکہ جس عبارت کا حوالہ گواہان مدعیہ کی طرف سے دیا جا کر یہ نتیجہ نکالا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی مرزا صاحب نے لکھا ہے کہ پہلے مسلمانوں سے یہ قول غلطی سے صادر ہوا ہے اور وہ لوگ خدا کے نزدیک معذور ہیں۔ کیونکہ انہوں نے عملاً غلطی نہیں کی اور انہوں نے حیات مسیح کے عقیدہ کو مبداء شرک یا منجر الی الشرک قرار دیا ہے اور اس کو شرک عظیم کہنا باعتبار ما یؤل الیہ کے ہے اور اس امر کو حق بلاغت میں مجاز مرسل سے شمار کیا گیا ہے۔ اس ضمن میں زیادہ بحث کی ضرورت نہیں۔ صرف یہ درج کیا جاتا ہے کہ حیات عیسیٰ کے مسئلہ پر فریقین کو بحث کرنے سے روک دیا گیا ہے۔ کیونکہ ان کی جس قسم کی حیات کے تمام مسلمان قائل ہیں وہ ادراک انسانی سے باہر ہے۔ اس لئے اسے امر واقع کے 2238 طور پر ثابت کرنا ایک لاحاصل سعی ہے۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ قرآن مجید کی رو سے اس ظاہر زندگی کے علاوہ ایک اور قسم کی زندگی بھی ہے جس کو انسانی فہم اور عقل احاطہ نہیں کر سکتے۔ جیسا کہ شہداء کے متعلق بیان کیا گیا ہے کہ وہ خدا کے نزدیک زندہ ہیں اور اس کے ہاں انہیں رزق ملتا ہے۔ ملاحظہ ہو آیت ”لا تحسبن الذین قتلوا...... من فضلہ “پارہ ٤ رکوع ٧، سورۃ آل عمران مدعیہ کی طرف سے یہ بھی کہا گیا کہ مرزا صاحب نے ایک لفظ ”ذریۃ البغایا“ استعمال کر کے تمام مسلمانوں کو ولد الزنا قرار دیا ہے اس کا جواب مدعا علیہ کی طرف سے یہ دیا گیا ہے کہ ذریۃ البغایا کے معنی وہ نہیں جو فریق مخالف نے لئے ہیں۔ کیونکہ ان معنوں کے لئے کوئی قرینہ موجود نہیں۔ ظاہر میں اس کے معنی ایک تو یہ ہیں کہ ہدایت سے دور اور ناشائستہ آدمی جن کی حالت یہ ہے کہ ان کے دلوں پر مہریں ہیں وہ انہیں قبول نہ کریں گے یا یہ کہ وہ لوگ جو اپنے آپ کو لوگوں کا پیشوا اور امام سمجھتے ہیں یعنی مولوی لوگ جو کفر کے فتویٰ لے کر شہر بشہر پھرتے ہیں۔ یہ لوگ ایمان نہیں لائیں گے کیونکہ بغایا کے معنی ہراول کے بھی ہوتے ہیں۔ نیز بغایا مطلق عورتوں کو بھی کہتے ہیں۔ چاہے وہ فاجرہ ہوں یا نہ ہوں۔ لیکن اس پر بھی زیادہ بحث کی ضرورت نہیں۔ اس لفظ کے استعمال اور طرز خطاب سے سمجھا جا

٢٢٣٥

SSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

اس جواب کے متعلق بھی مزید کسی تصریح کی ضر اس بارہ میں جو مواد پیش کیا گیا ہے وہ اوپر دکھلایا جا چکا ہے جا سکتا ہے۔

عیسیٰ علیہ السلام کی توہین کے متعلق مرزا صاحب البلاء اور ضمیمہ انجام آتھم وغیرہ“ سے پیش کئے جا کر یہ دکھ درج ہے۔ ان کی بابت مدعا علیہ کی طرف سے یہ کہا گیا اقوال میں ان لوگوں کے اعتقادات کے مطابق جو ان جواب دیئے گئے ہیں اور فن مناظرہ میں اس قسم کی روش تائید میں مدعا علیہ کی طرف سے دیگر علماء کے اقوال نقل ک کو اگر سیاق و سباق عبارت سے ملا کر دیکھا جاوے تو مد نہیں ہوتا۔ علاوہ ازیں ان دشنام آمیز الفاظ کو سیدنا نور شا بسلسلہ توہین عیسیٰ علیہ السلام بیان نہیں کیا۔ وہ کہتے ہیں ک قسم کی کوئی چیز پیش نہیں کرتا۔ جس میں کہ مجھے نیت سے لیا ہے جسے انہوں نے قرآن کی تفسیر بنایا ہے اور اسے ٢ تلاش رہتی وہ میں نے اپنی بحث سے خارج کر دیئے ہیں

2237 میں نے مرزا صاحب کی نیت پر گرفت میں تعریض کو لیا ہے۔ بلکہ جس ہجو کو انہوں نے قرآن گردانا اور جس ہجو کو اپنی جانب سے حق کہا وہ اسے وجہ ا مرزا صاحب کے حسب ذیل اقوال داخل کئے ہیں۔ ” افسوس نہیں۔ کیونکہ آپ تو گالیاں دیتے تھے اور یہودی

اور کہا ہے کہ اس سے تعریض اور تصریح ہ

”عیسائیوں نے آپ کے بہت سے معجزات لکھے ہیں ہوا۔“

اس سے صریح عیسیٰ علیہ السلام کی توہین ٹپک ہوتا ہے کہ یہ مرزا صاحب کے اپنے فیصلہ کے الفاظ ہیں

٢٢٣٤

صفحہ ٢١١٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

سکتا ہے کہ وہاں اس لفظ سے کیا مراد ہے۔

مرزا صاحب اپنے مکذبین اور منکرین کو کافر کہنے سے مدعیہ کی طرف سے جو انہیں کافر کہا گیا ہے اس کے متعلق مدعاعلیہ کی طرف سے یہ کہا گیا ہے کہ مرزا صاحب اپنے نہ ماننے والوں کو اس لئے کافر کہتے ہیں کہ جو شخص انہیں نہیں مانتا وہ انہیں مفتری قرار دے کر نہیں مانتا۔ اس لئے ان کی تکفیر کی وجہ سے وہ خود کافر بنتا ہے۔ لیکن یہ کوئی معقول جواب نہیں۔ کیونکہ ایک شخص اگر واقعہ میں کافر ہو تو اسے کیوں کافر نہ کہا جاوے۔ اس طرح تو کسی پر بھی کفر کا فتویٰ نہیں لگایا جاسکتا۔ کیونکہ اسے کافر کہنے والا خود کافر ہو جائے گا۔ مرزا صاحب کے سچے یا جھوٹے نبی ہونے کے متعلق اوپر بحث کی جاچکی ہے۔ لہٰذا ان دلائل کی رو سے اگر کوئی شخص ان کو کافر کہتا ہے تو معلوم نہیں ہوتا کہ وہ خود پھر کیونکر کافر ہو جائے گا اور اگر بالفرض محال یہ رائے درست بھی ہو تو 2239 پھر صرف ان لوگوں کو کافر کہنا چاہئے جو مرزا صاحب کو کاذب یا کافر کہیں۔ جو ان کی نہ تکذیب کرتے ہیں اور نہ تکفیر۔ انہیں کیوں کافر کہا جاتا ہے۔ لہٰذا معلوم ہوا کہ انہیں کافر کہنے کی یہ وجہ نہیں کہ وہ مرزا صاحب کو مفتری جان کر کافر کہتے ہیں۔ بلکہ اس کی وجہ خود مرزا صاحب نے اپنی کتاب (فتاویٰ احمدیہ ج١ ص ٢٦٩) پر یہ بیان کی ہے کہ: ”کسی کا کوئی عمل میرے دعویٰ اور دلیلوں اور میرے پہچاننے کے بغیر مفید نہیں ہو سکتا۔“

پھر آگے اس کتاب (فتاویٰ احمدیہ ج١ ص ٣٠٨) پر لکھتے ہیں کہ: ”بہر حال حکم خدا تعالیٰ نے مجھ پر ظاہر کیا ہے کہ ہر ایک شخص کو جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں اور خدا کے نزدیک قابل مواخذہ ہے۔“

ان عبارات سے صاف اخذ ہوتا ہے کہ جو شخص مرزا صاحب کو نہیں مانتا خواہ ان کو کافر کہے یا نہ کہے وہ مسلمان نہیں اور اس کا کوئی عمل بارگاہ الٰہی میں قبول نہیں ہے۔ مدعاعلیہ کے گواہان نے ریاست ہذا کے لوگوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کرانے اور یہ دکھلانے کے لئے کہ گواہان مدعیہ نے مرزا صاحب اور ان کے متبعین کے خلاف فتویٰ تکفیر محض اپنے بغض اور عناد کی بناء پر اور اپنے بزرگان کے اقتداء کا خوگر ہونے کی وجہ سے دیا ہے۔ ورنہ دراصل مرزا صاحب ضروریات دین میں سے کسی چیز کے منکر نہیں ہیں۔ حضرت خواجہ غلام فرید صاحب کہ جن کا نہ صرف ریاست بہاول پور کا ایک حصہ معتقد اور مرید ہے بلکہ جن کے سندھ، بلوچستان اور پنجاب میں بھی بکثرت مرید پائے جاتے ہیں کی ایک کتاب ”اشارات فریدی“ سے یہ دکھلایا ہے کہ ان کے نزدیک مرزا صاحب کسی عقیدہ اہل سنت والجماعت اور ضروریات دین میں سے کسی چیز کے منکر نہیں پائے

٢٢٤٦

صفحہ ٢١١٥

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

جاتے ۔ بلکہ آپ ان کے متعلق یہ لکھتے ہیں کہ وہ اپنے تمام اوقات خدا تعالیٰ کی عبادت میں گزارتے ہیں اور حمایت دین پر کمر بستہ ہیں اور کہ علمائے وقت تمام مذاہب باطلہ کو چھوڑ اس نیک آدمی کے پیچھے پڑگئے ہیں جو اہل سنت والجماعت میں سے ہے اور صراط مستقیم پر قائم ہے۔

اور خواجہ صاحب کی اس تحریر پر بڑی شرح اور بسط سے بحث کی جاکر یہ دکھلایا گیا ہے کہ یہ الفاظ خواجہ صاحب کے اپنے ہی ہیں اور انہوں نے مرزا صاحب کی کتابیں دیکھنے کے بعد یہ 2240 رائے قائم کی تھی۔ مدعیہ کی طرف سے بھی اس کا مفصل جواب دیا گیا ہے اور یہ کہا گیا ہے کہ مرزا صاحب کی جو کتابیں خواجہ صاحب نے اس وقت تک دیکھیں تھیں۔ ان میں مرزا صاحب کا دعویٰ نبوت درج نہ تھا۔ چنانچہ مرزا صاحب کی ایک تحریر سے جو آپ کی کتاب (انجام آتھم ص ٦٩، خزائن ج ١١ ص ایضاً) پر درج ہے پایا جاتا ہے کہ حضرت خواجہ صاحب بھی بعد میں مرزا صاحب کے مکفر اور مکذب ہوگئے تھے مرزا صاحب اس تحریر میں لکھتے ہیں کہ: ”اب ہم ان مولوی صاحبان کے نام ذیل میں لکھتے ہیں کہ جن میں سے بعض تو اس عاجز کو کافر بھی کہتے ہیں اور مفتری بھی اور بعض کافر کہنے سے تو سکوت اختیار کرتے ہیں۔ مگر مفتری اور کذاب اور دجال نام رکھتے ہیں۔ بہر حال یہ تمام مکفرین اور مکذبین مباہلہ کے لئے بلائے گئے ہیں اور ان کے ساتھ وہ سجادہ نشین بھی ہیں جو مکفر اور مکذب ہیں۔“

اور اس کے ساتھ مرزا صاحب نے ہر دو گروہوں کی فہرستیں دی ہیں۔ اس فہرست میں میاں غلام فرید صاحب چشتی چاچڑاں علاقہ بہاول پور کا نام بھی درج ہے۔

فریقین کی ان بحث ہائے کو مد نظر رکھتے ہوئے حسب ذیل نتائج اخذ ہوتے ہیں۔

مسلمانوں کے ایک مقدس اور نیک لوگوں کے گروہ کا نام صوفیاء ہے۔ ان صوفیائے کرام کو ذکر الٰہی، عبادت اور ریاضت سے جو ذوق اور حظ حاصل ہوتا ہے اس میں ان پر تجلیات الٰہی وارد ہوتی ہیں، اور ان کے قلب کی کچھ اس قسم کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے کہ جس سے وہ کچھ غیب کی خبروں پر مطلع ہو جاتے ہیں۔ اس کو وہ الہام یا کشف کہتے ہیں اور بعض صوفیائے کرام نے اسے مجازی طور پر وحی سے بھی تعبیر کیا ہے۔ یہ لوگ اپنے نبی کی تعلیم کے تحت عمل پیرا ہوتے ہیں۔ نبی مامور من اللہ ہوتا ہے اور اسے اللہ تعالیٰ کی جانب سے براہ راست غیب کی خبروں کی اطلاع دی جاتی رہتی ہے اور اسے حکم ہوتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے احکام لوگوں تک پہنچائے۔ انہیں قیامت کے دن سے ڈرائے اور آئندہ زندگی کے حالات سے مطلع کرے اور جس ذریعہ سے انہیں یہ اطلاع ہوتی ہے۔ اسے وحی کہا جاتا ہے اور وحی کی یہ اصطلاح انبیاء کے لئے ہی مختص ہے۔ دوسری جگہ اگر یہ لفظ

٢٣٧

OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

سکتا ہے کہ وہاں اس لفظ سے کیا مراد ہے۔

مرزا صاحب اپنے مکذبین اور مکفر کہا گیا ہے اس کے متعلق مدعاعلیہ کی طرف۔ کو اس لئے کافر کہتے ہیں کہ جو شخص انہیں نہیں ان کی تکفیر کی وجہ سے وہ خود کافر بنتا ہے۔ لیکن میں کافر ہو تو اسے کیوں کافر نہ کہا جاوے۔ کیونکہ اسے کافر کہنے والا خود کافر ہو جائے گا متعلق اوپر بحث کی جاچکی ہے۔ لہٰذا ان دلائل نہیں ہوتا کہ وہ خود پھر کیونکر کافر ہو جائے گا۔ صرف ان لوگوں کو کافر کہنا چاہئے جو مرزا صا۔ ہیں اور نہ تکفیر۔ انہیں کیوں کافر کہا جاتا ہے مرزا صاحب کو مفتری جان کر کافر کہتے ہیں۔ احمدیہ ج ١ ص ٢٦٩) پر یہ بیان کی ہے کہ: ”کسی کے بغیر مفید نہیں ہو سکتا۔“

پھر آگے اس کتاب (فتاویٰ احمدیہ نے مجھ پر ظاہر کیا ہے کہ ہر ایک شخص کو جس ا مسلمان نہیں اور خدا کے نزدیک قابل مواخذہ

ان عبارات سے صاف اخذ ہوت کہے یا نہ کہے وہ مسلمان نہیں اور اس کا کوئی عم نے ریاست ہذا کے لوگوں کی توجہ اپنی طرف

مدعیہ نے مرزا صاحب اور ان کے متبعین ے اپنے بزرگان کے اقتداء کا خوگر ہونے کی و دین میں سے کسی چیز کے منکر نہیں ہیں۔ حضر بہاول پور کا ایک حصہ معتقد اور مرید ہے بلک مرید پائے جاتے ہیں کی ایک کتاب ”اشر مرزا صاحب کسی عقیدہ اہل سنت والجماعت

صفحہ ٢١١٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

استعمال کیا جاتا ہے تو اس سے مجازی یا لغوی معنی لئے جاتے ہیں۔ 2241 انبیاء کو یہ وحی تین طریق پر ہوتی ہے۔ یا تو اللہ تعالیٰ کوئی بات کسی نبی کے دل میں ڈال دیتا ہے یا فرشتوں میں سے کوئی قاصد بھیج کر اس کے ذریعہ سے مطلع فرماتا ہے۔ یا پس پردہ خود کلام فرماتا ہے۔ یہ وحی چونکہ دخل شیطانی سے منزہ ہوتی ہے۔ اس لئے اسے قطعی سمجھا جاتا ہے اور اس کا نہ ماننا کفر ہے۔ اولیاء کا الہام یا کشف گو دخل شیطانی سے پاک بھی ہو، تاہم نہ وہ قطعی ہوتا ہے اور نہ ہی دوسروں پر کوئی حجت ہوتا ہے۔ بلکہ الہام اور کشف کے ذریعہ قرآن مجید کے معارف اور اسرار سمجھائے جاتے ہیں اور اس سلسلے میں بعض اکابر صوفیائے کرام پر آیات قرآنی کا نزول بھی ہوتا ہے۔ ان آیات کو وہ اپنے اوپر چسپاں نہیں کرتے۔ بلکہ جیسے کسی سیاح کو دوران سیاحت میں اعلیٰ مقامات دکھلائے جاویں۔ اس طرح ان کو اعلیٰ مراتب روحانی کی سیر کرائی جاتی ہے۔

معلوم ہوتا ہے کہ مرزا صاحب جب اس میدان میں گامزن ہوئے اور ان پر مکاشفات کا سلسلہ جاری ہونے لگا تو وہ اپنے آپ کو نہ سنبھال سکے اور صوفیائے کرام کی کتابوں میں وحی اور نبوت کے الفاظ موجود پا کر انہوں نے سابقہ اولیاء اللہ سے اپنا مرتبہ بلند دکھلانے کی خاطر اپنے لئے نبوت کی ایک اصطلاح تجویز فرمائی۔ جب لوگ یہ لفظ سن کر چونکنے لگے تو انہوں نے یہ کہہ کر انہیں خاموش کرنا چاہا کہ تم گھبراتے کیوں ہو۔ آنحضرت ﷺ کے اتباع سے جس مکالمہ اور مخاطبہ کے تم لوگ قائل ہو۔ میں اس کی کثرت کا نام بموجب حکم الہیٰ نبوت رکھتا ہوں۔ یہ صرف لفظی نزاع ہے۔ سو ہر شخص کو حق حاصل ہے کہ وہ کوئی اصطلاح مقرر کرے۔ گویا انہوں نے نبی کے لفظ کو برعکس اس کی اصل اور عام فہم مراد کے یہاں اصطلاحی طور پر کثرت مکالمہ اور مخاطبہ پر حاوی کیا اور یہ اصطلاح بھی اللہ تعالیٰ کے حکم سے قائم کی۔ اس کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ جب وہ اس لفظ کا استعمال کثرت سے اپنے متعلق کرنے لگے تو لوگ پھر چونکے۔ اس پر انہوں نے پھر یہ کہہ کر انہیں خاموش کیا کہ میں کوئی اصلی نبی تو نہیں بلکہ اس معنی میں کہ میں نے تمام کمال آنحضرت ﷺ کے اتباع اور فیض سے حاصل کیا ہے۔ ظلی اور بروزی نبی ہوں اور اس کے بعد انہوں نے ان آیات قرآنی کو جو شاید کسی اچھے وقت میں ان پر نازل ہوئی تھیں۔ اپنے اوپر چسپاں کرنا شروع کر دیا اور رفتہ رفتہ تشریعی نبوت کے دعویٰ کا اظہار کر دیا۔ لیکن صریح آیات قرآنی 2242 اور احادیث اور اقوال بزرگان سے جب انہیں اس میں کامیابی نظر نہ آئی تو انہوں نے اس دعویٰ کو ترک کر کے اپنا مفر نزول عیسیٰ علیہ السلام کی احادیث میں جا تلاش کیا اور عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کو بذریعہ وحی ثابت کر کے یہ دکھلایا کہ ان احادیث کا اصل مفہوم یہ ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ

٢٣٨

صفحہ ٢١١٧

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

والسلام کی امت میں کسی شخص کو نبوت کا درجہ عطاء کیا جائے گا، نہ یہ کہ حضرت مسیح ناصری واپس آئیں گے۔ مدعا علیہ کے ایک گواہ کے بیان سے یہ اخذ ہوتا ہے اور نامعلوم اس نے بطور خود یا مرزا صاحب کی کسی تحریر کی رو سے یہ بیان دیا ہے کہ احادیث میں جو عیسیٰ ابن مریم کے نزول کی خبر آئی ہے اس میں رسول اللہ ﷺ سے ایک اجتہادی غلطی ہوگئی ہے۔ چنانچہ وہ کہتا ہے کہ بعض پیش گوئیاں ایسی ہوتی ہیں جو آئندہ زمانہ سے تعلق رکھتی ہیں۔ لیکن حقیقت ان کے ظہور کے وقت نمایاں ہوتی ہے اور اجتہادی غلطی پیش گوئیوں کے سمجھنے میں یعنی کیفیت تحقق وقوع کے لحاظ سے ہر نبی سے ممکن ہے۔ حتیٰ کہ رسول اللہ ﷺ سے بھی اس کی مثال اس نے بخاری کی ایک حدیث کا حوالہ دے کر یہ دی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک رؤیا کی بناء پر یہ سمجھا کہ وہ ہجرت یمامہ کی طرف ہجرت فرمائیں گے۔ لیکن آپ جس وقت مدینہ کی طرف ہجرت کر کے تشریف لے گئے تو اس وقت آپ پر اس پیش گوئی کی حقیقت کھلی کہ اس سے مراد مدینہ تھا اور کہ جب نبی سے اجتہادی غلطی ممکن ہوئی تو پیش گوئی کے پورا ہونے کے وقت اصل حقیقت پیش گوئی کی منکشف ہو جائے گی اور کہ امتی کو پیش گوئی کے تحقق وقوع کے وقت وقوع کا علم ہو جاتا ہے۔ غرض مرزا صاحب نے سابقہ مراحل سے گزرنے کے بعد بڑھ چڑھ کر اپنے مسیح موعود ہونے کے دعویٰ کا اظہار شروع کر دیا اور نبوت کو پھر ایک ایسا گورکھ دھندہ بنا دیا کہ جو نہ تو لوگوں کی سمجھ میں آ سکا ہے اور نہ ہی ان کے اپنے متبعین جیسا کہ اوپر دکھلایا جا چکا ہے۔ ان کے مرتبہ کو بخوبی سمجھ سکے ہیں۔ بلکہ خود خدا کو بھی نعوذ باللہ ان کے نبی بنانے میں بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ کیونکہ جب خداوند تعالیٰ نے یہ محسوس فرمایا کہ نعوذ باللہ اس کے حبیب سے ایک اجتہادی غلطی ہو گئی ہے۔ اب ان کی آن رکھنے کے لئے اور مرزا صاحب کو نبوت کا مرتبہ عطاء فرمانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے بقول مرزا صاحب پہلے تو ان تمام پیش گوئیوں کو جو قرآن میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق 2243 تھیں۔ مرزا صاحب کی طرف پھیر دیا اور پھر انہیں کبھی مریم بنایا اور کبھی عیسیٰ اور اس کے بعد بارش کی طرح وحی کر کے یہ جتلایا کہ عیسیٰ ابن مریم فوت ہو چکے ہیں۔ اب تم بلا خوف و خطر نبی ہونے کا دعویٰ کر دو اور جہاں پہلے وہ ”فاستمع لما یوحی“ اور ”یا ایہا المدثر قم فانذر“ کی تحکمانہ وحی کے ذریعہ سے نبیوں کو چوکنا کر کے اپنی طرف سے مامور فرمایا کرتا تھا۔ وہاں مرزا صاحب کے لئے اسے نعوذ باللہ مختلف حیل اختیار کرنے پڑے۔ مرزا صاحب کے اس طرز عمل سے نبی بننے سے یہ بات خود واضح ہو جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں نبوت کے عہدے ختم ہو چکے تھے۔ کیونکہ اس نے پہلے تو مرزا صاحب کے لئے نبوت کی اصطلاح تجویز فرمائی۔ پھر وہ جب اس سے خوش نہ ہوئے تو ان کو

٢٣٩

صفحہ ٢١١٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

نبی کا خطاب عطاء فرما دیا۔ جیسا کہ نواب اور راجہ کے خطابات گورنمنٹ سے ان لوگوں کو بھی عطاء فرمائے جاتے ہیں۔ جو صاحب ریاست نہ ہوں۔ لیکن جب مرزا صاحب کی اس سے بھی تسلی نہ ہوئی باوجود یکہ اللہ تعالیٰ انہیں ”یا ولدی“ بھی فرما چکا تھا اور اس خیال سے کہ رسول اللہ ﷺ کو چونکہ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں خاتم النبیین کہہ چکا تھا۔ وہ بھی کسی دوسرے نبی کے بننے سے خفا نہ ہوں۔ مرزا صاحب کو آپ کا ظل بنا دیا گیا اور آخر کار جب ان کی خوشی نبی بننے میں ہی دیکھی اور یہ بھی خیال آیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آخر زمانہ میں بھجوانے کا وعدہ ہو چکا ہے تو انہیں مار کر مرزا صاحب کو نبی بنا دیا گیا۔ استغفر اللہ!

گواہ مدعاعلیہ نے یہ بیان کیا ہے کہ نبی سے بھی اجتہادی غلطی ہو سکتی ہے تو پھر اس کا کیا اعتبار ہے کہ مرزا صاحب سے یہ غلطی نہ ہوئی ہوگی۔ خصوصاً جب کہ مرزا صاحب رسول اللہ ﷺ کے ظل بھی ہیں۔ غیر اغلب ہے کہ اصل کی فطرت ظل کی فطرت پر اثر انداز نہ ہوئی ہو اور علاوہ ازیں مرزا صاحب اپنے اقرار کے مطابق آنحضرت ﷺ سے زیادہ ذکی بھی نہیں پائے جاتے۔ کیونکہ خداوند تعالیٰ کی کئی سال سے متواتر وحی کے بعد انہوں نے یہ جا کر سمجھا کہ وہ نبی ہوچکے۔ اس لئے ممکن ہے کہ انہوں نے وحی الہی کا مفہوم غلط سمجھ کر دعویٰ نبوت کر دیا ہو۔ مرزا صاحب کی اپنی تصریحات سے یہ پایا جاتا ہے کہ انہیں امتی ہونے کے وقت نزول مسیح کے متعلق وقوع کا علم نہیں ہوا۔ بلکہ جب ان کو نبوت کا خطاب مل چکا۔ اس کے بعد انہیں یہ جتلایا گیا کہ مسیح ناصری 2244 فوت چکے ہیں۔ اس لئے مدعا علیہ کے گواہ کا یہ کہنا کہ امتی کو وقوع کے وقت تحقیق وقوع کا علم ہو جاتا ہے۔ مرزا صاحب کی اپنی تصریحات سے باطل ہو جاتا ہے۔ گواہ مذکور نے رسول اللہ ﷺ کی جس حدیث کا حوالہ دے کر یہ کہا ہے کہ آپ سے اجتہادی غلطی کا وقوع ممکن ہے۔ اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ آپ نے ہجرت کے وقت کوئی غلطی فرمائی۔ گواہ مذکور کی یہ حجت اس وقت صحیح ہوتی کہ جب آپ بجائے مدینہ کے حجر یمامہ کی طرف تشریف لے جاتے اور پھر وہاں سے مدینہ عالیہ کی طرف لوٹتے۔ وہاں جانے کے متعلق آپ کا صرف ایک خیال تھا جو وقوع میں نہ آیا اور اس رؤیا پر عمل اس طرح ہوا جس طرح مشیت ایزدی میں مقدر تھا۔ خود اس مثال سے یہ اخذ ہوتا ہے کہ اگر نبی کو کسی طرح غلط فہمی ہو بھی جائے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے فوراً رفع کر دیا جاتا ہے۔ یہ نہیں ہوتا کہ صدیوں تک وہ غلطی چلی جائے اور نہ خود نبی پر اور نہ اس کے کامل متبعین پر اس کا افشاء ہو۔ اس لئے یہ کہنا بڑی دیدہ دلیری ہے کہ رسول اللہ سے نزول عیسیٰ علیہ السلام کی پیش گوئی بیان کرنے میں اجتہادی غلطی ہوئی ہے۔

٢٤٠

صفحہ ٢١١٩

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15 معلوم ہوتا ہے کہ مرزا صاحب نے پھر اخیر عمر میں جا کر اپنے دعویٰ کی غلطی کو محسوس کیا اور پھر اصطلاحی نبوت کو ہی جا کر قائم کیا۔ جس سے انہوں نے اپنے دعویٰ کی ابتداء شروع کی تھی۔ جیسا کہ ان کے اس خط سے جو انہوں نے وفات سے دو تین یوم قبل اخبار عام کے ایڈیٹر کے نام لکھا تھا۔ ظاہر ہوتا ہے اس میں درج ہے کہ سو میں صرف اس وجہ سے نبی کہلاتا ہوں کہ عربی اور عبرانی زبان میں نبی کے یہ معنی ہیں کہ خدا سے الہام پا کر بکثرت پیش گوئی کرنے والا ان تمام واقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے سید انور شاہ صاحب گواہ مدعیہ نے بجاطور یہ کہا ہے کہ مرزا صاحب کی کتابیں دیکھنے سے یہ بات پوری طرح روشن ہو جاتی ہے کہ ان کی ساری تصانیف میں صرف چند ہی مسائل کا تکرار اور دور ہے ایک ہی مسئلہ اور ایک ہی مضمون کو بیسیوں کتابوں میں مختلف عنوانوں سے ذکر کیا ہے اور پھر سب اقوال میں اس قدر تہافت اور تعارض پایا جاتا ہے اور خود مرزا صاحب کی ایسی پریشان خیالی ہے اور بالقصد ایسی روش اختیار کی ہے کہ جس سے نتیجہ گڑ بڑ ہے اور 2245 ان کو بوقت ضرورت مخلصی اور مفر باقی رہے۔ چنانچہ کہیں وہ تو ختم نبوت کے عقیدہ کو اپنے مشہور اور اجماعی معنی کے ساتھ قطعی اور اجماعی عقیدہ کہتے ہیں اور کہیں ایسے عقیدہ بتلانے والے مذہب کو لعنتی اور شیطانی مذہب قرار دیتے ہیں۔ کہیں عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کو تمام امت محمدیہ کے عقیدہ کے موافق متواترات دین میں داخل کرتے ہیں اور اس پر اجماع ہونا نقل کرتے ہیں اور کہیں اس عقیدہ کو مشرکانہ عقیدہ بتلاتے ہیں۔

ختم نبوت کا عقیدہ جیسا کہ اوپر بیان کیا جا چکا ہے۔ اسلام کے اہم اور بنیادی مسائل میں سے ہے اور خاتم النبیین کے جو معنی مدعا علیہ کی طرف سے بیان کئے گئے ہیں۔ آیات قرآنی اور احادیث صحیحہ سے اس کی تائید نہیں ہوتی۔ بلکہ اس کے صحیح معنی وہی ہیں جو گواہان مدعیہ نے بیان کئے ہیں مدعا علیہ کی طرف سے اس ضمن میں یہ کہا گیا ہے کہ یہ حدیث ہے کہ قرآن شریف کی ہر آیت کے ایک ظاہری معنی ہیں اور ایک باطنی اور کہ تاویل کرنے والے کو کافر نہیں سمجھا گیا۔ اس کا جواب سید انور شاہ صاحب گواہ مدعیہ نے یہ دیا ہے کہ یہ حدیث قوی نہیں اور باوجود قوی نہ ہونے کے اس کی مراد میرے نزدیک صحیح ہے۔ اس حدیث میں لفظ بطن سے تو جو کچھ رسول اللہ ﷺ کے دل میں تھا وہ سب منکشف نہیں ہے۔ مجملاً ہم سمجھتے ہیں کہ قرآن کی مراد وہ ہے کہ قواعد لغت اور عربیت سے اور ادلہ شریعت سے علماء شریعت سمجھ لیں اور اس کے تحت میں قسمیں ہیں اور بطن سے یہ مراد ہے کہ حق تعالیٰ اپنے ممتاز بندوں کو ان حقائق سے سرفراز کر دے اور بہتوں سے وہ مخفی رہ جائیں۔ لیکن ایسا کہ کوئی بطن جو مخالف ظاہر ہو اور قواعد شریعت رد کرتے ہوں۔ مقبول نہ ہوگا اور رد کیا جائے گا اور بعض ٢٤١

صفحہ ٢١٢٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

اوقات باطنیت اور الحاد کی حد تک پہنچا دے گا۔ حاصل یہ ہے کہ ہم مکلف فرمانبردار بندے اپنے مقدور کے موافق ظاہر کی خدمت کریں اور بطن کو سپرد کر دیں خدا کے۔ تاویل کے متعلق ان کا یہ جواب ہے کہ اخبار احاد کی تاویل اگر کوئی شخص قواعد کے مطابق کرے تو اس کے قائل کو بدعتی نہیں کہیں گے۔ اگر قواعد کی رو سے صحیح نہیں تو وہ خاطی ہے۔ آیات قرآنی متواتر ہیں اور قرآن وحدیث جو نبی کریم سے ہم تک پہنچا اس کی دو جانبیں ہیں۔ 2246 ایک ثبوت کی، دوسری دلالت کی۔ ثبوت قرآن کا متواتر ہے۔ اس تواتر کا اگر کوئی انکار کرے تو پھر قرآن کے ثبوت کی اس کے پاس کوئی صورت نہیں اور ایسا ہی جو شخص تواتر کی صحت کا انکار کرے اس نے دین ڈھا دیا۔ دوسری جانب دلالت ہے جس کا معنی یہ ہے کہ مطلب پر رہنمائی کرنا۔ دلالت قرآن کی کبھی قطعی ہوتی ہے اور کبھی ظنی۔ اگر اجماع ہو جائے صحابہ کا اس کی دلالت پر یا کوئی اور دلیل عقلی یا نقلی قائم ہو جائے کہ مدلول یہی ہے تو پھر وہ دلالت بھی قطعی ہے۔ حاصل یہ ہے کہ قرآن سارا بسم اللہ سے لے کر والناس تک قطعی الثبوت ہے۔ دلالت میں کہیں ظنیت ہے اور کہیں قطعیت، لیکن قرآن کے معنی سے دلالت بھی قطعی ہو جاتی ہے۔ علاوہ ازیں تاویل اوامر و نواہی میں ہو سکتی ہے۔ اخبار میں نہیں ہو سکتی۔ جیسا کہ مدعیہ کے گواہ مولوی نجم الدین صاحب نے بیان کیا ہے۔ اس بحث سے یہ اخذ ہوتا ہے کہ آیت خاتم النبیین قطعی الدلالت ہے اور اس کے بطن کے معنی ایسے نہیں ہو سکتے کہ جو رسول اللہ ﷺ کے خاتم النبیین معنی آخری نبی سمجھنے کے منافی ہوں اور چونکہ یہ اجماعی عقیدہ ہے۔ اس لئے مذکورہ بالا معنی سے انکار کفر ہے۔ مدعا علیہ کی طرف سے جو یہ کہا گیا ہے کہ تاویل کرنے والے کو کافر نہیں سمجھا گیا اور جن مسائل کی بناء پر اس نے ایسا کہا ہے۔ وہ اس قبیل کے نہیں۔ جیسا کہ مسئلہ ختم نبوت، لہٰذا یہ قرار دیا جاتا ہے کہ خاتم النبیین کے جو معنی مدعیہ کی طرف سے کئے گئے ہیں اور اس معنی کے تحت جو عقیدہ ظاہر کیا گیا ہے اس عقیدہ سے انحراف ارتداد کی حد تک پہنچتا ہے اور کہ آنحضرت ﷺ کے بعد عہدہ نبوت اور وحی نبوت منقطع ہو چکے ہیں۔ مرزا صاحب صحیح اسلامی عقائد کی رو سے نبی نہیں ہو سکتے اور ان کے نبی نہ ہونے کی تائید میں ایک یہ امر بھی ہے کہ ان کے متبعین میں سے ایک گروہ جو لاہوری کہلاتے ہیں انہیں نبی تسلیم نہیں کرتے۔

لہٰذا ان کے مخالف جملہ فرقوں کے نزدیک اور ان کے ایک موافق فرقہ کی رائے میں رسول اللہ ﷺ کا خاتم النبیین بمعنی آخری نبی ہونا ثابت ہے۔ اس لئے مرزا صاحب کی نبوت کا دعویٰ کسی حالت میں بھی درست نہیں۔ ظلی اور بروزی نبی اگر آنحضرت ﷺ کے کمال اتباع سے ہونے ممکن ہوتے تو اس قسم کے نبی مرزا صاحب کے آنے 2247 سے قبل کئی آچکے ہوتے۔ علاوہ

٢٤٢

صفحہ ٢١٢١

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

ازیں مرزا صاحب کو درجہ کمال بھی اس وقت حاصل ہو سکتا تھا کہ اس قسم کے اور کئی نبی پیدا ہو چکے ہوتے۔ کیونکہ ہر جنس کا کمال اس بات کو مستلزم ہے کہ اس کے اور ناقص افراد موجود ہوں۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ بھی اسی لئے افضل الانبیاء ہیں کہ سلسلہ رسالت اور نبوت میں دیگر انبیاء منسلک ہیں۔ مرزا صاحب نے اپنے آپ کو خاتم الاولیاء ظاہر کر کے یہ بیان کیا ہے کہ وہ ولایت ختم کر چکے۔ لیکن اس سے وہ ولی ہی شمار ہوں گے۔ نبی نہیں سمجھے جائیں گے۔ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے افاضۂ روحانی سے اگر نبوت مل سکتی ہے تو ضرور ہے کہ ان سے قبل ایسے نبی آتے کہ جن کے بعد انہیں درجہ کمال حاصل ہوتا۔ مدعیہ کی طرف سے یہ درست کہا گیا ہے کہ ظلی اور بروزی کی اصطلاحیں دراصل الفاظ ہی الفاظ ہیں۔ ورنہ دراصل مرزا صاحب کی مراد اس سے اصل نبوت سے ہے۔ جیسا کہ اس کی تشریح بعد میں ان کے خلیفہ ثانی نے کی۔ کچھ شک نہیں کہ یہ الفاظ مغالطہ پیدا کرنے کے لئے استعمال کئے گئے ہیں۔ ورنہ ان کی کوئی حقیقت نہیں اور نہ ہی شرع میں اس قسم کے الفاظ پر کسی عقیدہ کا حصر ہے۔ مرزا صاحب نے یہ بیان کر کے کہ اس قسم کی نبوت قیامت تک جاری ہے۔ اسلام میں ایک فتنہ کی بناء ڈالی ہے اور ناممکن نہیں کہ ان کے بعد کوئی اور شخص دعویٰ نبوت کرے۔ ان کی کارگزاری کو بھی ملیا میٹ کردے۔

(دین یا تماشہ؟)

اس طرح مذہب سے امان اٹھ جائے گی اور سوائے اس کے کہ وہ ایک کھیل اور تمسخر بن جائے۔ اس کی کوئی حقیقت بحیثیت دین کے قائم نہ رہے گی۔ اس لئے بھی رسول اللہ ﷺ کا آخری نبی ماننا علاوہ عقائد صحیح میں سے ہونے کے از بس ضروری ہے۔ مرزا صاحب رسول اللہ ﷺ کو آخری نبی نہیں مانتے۔ اس لئے ان کا اسلام کے اس بنیادی مسئلہ سے انکار کفر کی حد تک پہنچتا ہے۔ اس کے علاوہ ان کے دیگر عقائد بھی ان عقائد کے مطابق نہیں پائے جاتے۔ جس کی آج تک امت مرحومہ پابند چلی آئی ہے۔ خدا کا تصور اس نے تیندوے سے تشبیہ دے کر ایسا پیش کیا ہے کہ جو سراسر 2248 نص قرآنی کے خلاف ہے اور اس طرح یہ بیان کر کے کہ خدا خطا بھی کرتا ہے اور صواب بھی اور روزے رکھتا ہے اور نماز پڑھتا ہے۔ انہوں نے ایک ایسے عقیدہ کا اظہار کیا ہے کہ جو سراسر نصوص قرآنی کے خلاف ہے۔ انہوں نے آیات قرآنی کو اپنے اوپر چسپاں کیا ہے۔ جیسا کہ ایک آیت ”هو الذی ارسل رسوله ...... الخ!“ کے متعلق انہوں نے یہ کہا کہ اس میں میرا ذکر ہے اور دوسرے الہام بالفاظ محمد رسول اللہ بیان کر کے یہ کہا کہ اس میں

٢٤٣٣

BLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

اوقات باطنیت اور الحاد کی حد تک پہنچادے گا۔ مقدور کے موافق ظاہر کی خدمت کریں اور باطن کو جواب ہے کہ اخبار احاد کی تاویل اگر کوئی شخص قوا کہیں گے۔ اگر قواعد کی رو سے صحیح نہیں تو وہ خاطی جو نبی کریم سے ہم تک پہنچا اس کی دو حالتیں ہیں قرآن کا متواتر ہے۔ اس تواتر کا اگر کوئی انکار کر صورت نہیں اور ایسا ہی جو شخص تواتر کی صحت کا ا دلالت ہے جس کا معنی یہ ہے کہ مطلب پر رہنمائی ظنی۔ اگر اجماع ہو جائے صحابہ کا اس کی دلالت یہی ہے تو پھر وہ دلالت بھی قطعی ہے۔ حاصل یہ قطعی الثبوت ہے۔ دلالت میں کہیں ظنیت ہے ا بھی قطعی ہو جاتی ہے۔ علاوہ ازیں تاویل اوامر و کہ مدعیہ کے گواہ مولوی نجم الدین صاحب نے بـ خاتم النبیین قطعی الدلالت ہے اور اس کے بطن مـ خاتم النبیین معنی آخری نبی سمجھنے کے منافی ہوں معنی سے انکار کفر ہے۔ مدعاعلیہ کی طرف سے یـ گیا اور جن مسائل کی بناء پر اس نے ایسا کہا ہے یہ قرار دیا جاتا ہے کہ خاتم النبیین کے جو معنی مدعیہ عقیدہ ظاہر کیا گیا ہے اس عقیدہ سے انحراف وا بعد عہدہ نبوت اور وحی نبوت منقطع ہو چکے ہیں ہو سکتے اور ان کے نبی نہ ہونے کی تائید میں ایک لاہوری کہلاتے ہیں انہیں نبی تسلیم نہیں کرتے۔ لہٰذا ان کے مخالف جملہ فرقوں کے رسول اللہ ﷺ کا خاتم النبیین بمعنی آخری نبی دعویٰ کسی حالت میں بھی درست نہیں۔ ظلی اور ہونے ممکن ہوتے تو اس قسم کے نبی مرزا صا

صفحہ ٢١٢٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

میرا نام محمد رکھا گیا ہے اور رسول بھی۔ اس طرح اور کئی ایسی تصریحیں ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ آیات قرآنی کو اپنے اوپر چسپاں کرتے تھے۔ اس سے بھی رسول اللہ ﷺ کی توہین کا نتیجہ درست اخذ کیا گیا۔ اس طرح ان کے بعض اقوال سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بھی توہین ظاہر ہوتی ہے اور حضرت مریم کی شان میں مرزا صاحب نے جو کچھ کہا ہے اور جس کا حوالہ شیخ الجامعہ صاحب گواہ مدعیہ کے بیان میں ہے اور جس کا مدعاعلیہ کی طرف سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ اس سے قرآن شریف کی صریح آیات کی تکذیب ہوتی ہے۔ یہ تمام امور ایسے ہیں کہ جن سے سوائے مرزا صاحب کو کافر قرار دینے کے اور کوئی نتیجہ اخذ نہیں ہوتا۔ مدعاعلیہ کی طرف سے مرزا صاحب کی بعض کتب کے حوالے دیئے جاکر یہ کہا گیا ہے کہ مرزا صاحب نے کسی نبی کی توہین نہیں کی۔ اس کا جواب سید انور شاہ صاحب گواہ مدعیہ نے خوب دیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب ایک جگہ کلمات توہین ثابت ہوگئے تو اگر ہزار جگہ کلمات مدحیہ لکھے ہوں اور ثناء خوانی بھی کی ہو تو وہ کفر سے نجات نہیں دلا سکتے۔ جیسا کہ تمام دنیا اور دین کے قواعد مسلمہ اس پر شاہد ہیں کہ اگر ایک شخص تمام عمر کسی کا اتباع اور اطاعت گزاری کرے اور مدح وثنا کرتا رہے لیکن کبھی بھی اس کی سخت ترین توہین بھی کر دے تو کوئی انسان اس کو مطیع اور معتقد واقعی نہیں کہہ سکتا۔

مدعاعلیہ کی طرف سے دیگر صوفیائے کرام کے بعض ایسے اقوال جو مرزا صاحب کے بعض اقوال کے مشابہ ہیں۔ بیان کئے جا کر یہ کہا گیا ہے کہ ان اقوال کی بناء پر پھر ان بزرگان کو کیونکر مسلمان سمجھا جاتا ہے۔ اس کا جواب باالفاظ سید انور شاہ صاحب گواہ مدعیہ درج کیا جاتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم نے اولیاء اللہ کو ان کی طہارت تقویٰ اور تقدس کی خبریں سن کر اور ان کے شواہد وافعال واعمال اور اخلاق سے تائید پاکر ولی مقبول تسلیم کر لیا ہے اور قرائن اور نشانیوں سے جو 2249 خارج مبحوث عنہ سے ہوں۔ یعنی انہی شطحیات سے ان کی ولایت ثابت نہ کرتی ہو۔ بلکہ ولایت ان کی خارج سے پایہ ثبوت کو پہنچتی ہو۔ جو طریقہ ثبوت کا ہے اس کے بعد کہ ہم نے کسی کی ولایت تسلیم کی اور ہم اس تسلیم میں صواب پر تھے تو اس کے بعد اگر کوئی کلمہ مغائر یا موہم ہمارے سامنے پڑتا ہے تو ہم اس کی کوشش کرتے ہیں کہ اس کی توجیہ کریں اور محل نکالیں اور یہ کہ اس کا ٹھکانہ کیا ہے۔ شطحیات کو ہی پہلے پیش کرنا اور اس پر ولایت کا جمگھٹ جمانا نافہم اور جاہل کا کام ہے۔ کسی شخص کی راست بازی اگر جداگانہ تجارب سے اور جو طریقہ راست بازی ثابت کرنے کا ہے۔ ثابت ہوئی ہو تو پھر اگر کوئی کلمہ موہم اور مغالطہ میں ڈالنے والا اس کا سامنے آگیا۔ تو منصف طبیعتوں کے ذہن اس کی توضیح کریں گے اور محل نکالیں گے۔ یہ عاقل کا کام نہیں ہے کہ راست

٢٤٤

صفحہ ٢١٢٣

2123 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15 بازی کسی کی ثابت ہونے سے پیشتر وہی کلمات مغالطہ پیش کر کے مسلم الثبوت مقولوں پر قیاس کرے اور کہے کہ فلاں نے ایسا کیا۔ فلاں نے ایسا کیا۔ اس کا جواب مختصر یہ ہو گا کہ فلاں کی راست بازی جدا گانہ اگر ہمیں کسی طریقہ اور دلیل سے معلوم ہے تو ہم محتاج توجیہ ہوں گے اور اگر زیر بحث یہی کلمات ہیں اور اس سے پیشتر کچھ سامان خیر کا ہے ہی نہیں۔ تو ہم یہ کھوٹی پونجی اس کے منہ پر ماریں گے۔

(اہل قبلہ)

مدعا علیہ کی طرف سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ علماء نے یہ کہا ہے کہ اہل قبلہ کی تکفیر جائز نہیں اور کہ جو ”جو لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ“ کہے اس کو بھی کافر کہنا درست نہیں۔ وغیرہ وغیرہ! ان شبہات کا جواب بھی شاہ صاحب گواہ مدعیہ نے خود دیا ہے جو انہی کے الفاظ میں درج کیا جاتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ بات کہ اہل قبلہ کی تکفیر جائز نہیں ہے۔ بے علمی اور ناواقفیت پر مبنی ہے۔ کیونکہ حسب تصریح و اتفاق علماء اہل قبلہ کے یہ معنی نہیں کہ جو قبلہ کی طرف منہ کرے وہ مسلمان ہے۔ چاہے سارے عقائد اسلام کا انکار ہی کرے۔ قرآن مجید میں منافقین کو عام کفار سے زیادہ تر کافر ٹھہرایا گیا ہے۔ حالانکہ وہ فقط قبلہ ہی کی طرف منہ ہی نہیں کرتے تھے۔ بلکہ تمام ظاہری احکام اسلام ادا کرتے تھے۔ اہل قبلہ سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے کہ اتفاق کیا 2250 ضروریات دین پر اور یہ جو مسئلہ ہے کہ اہل قبلہ کی تکفیر نہیں اس کی مراد یہ ہے کہ کافر نہیں ہو گا۔ جب تک کہ نشانی کفر کی اور علامتیں کفر کی اور کوئی چیز موجبات کفر میں سے نہ پائی گئی ہو۔

(ارکان اسلام)

دوسرا شبہ یہ کہ یہ کہا جاتا ہے کہ یہ لوگ نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃ تمام ارکان اسلام کے پابند اور تبلیغ اسلام میں کوشش کرنے والے ہیں۔ پھر ان کو کیسے کافر کہا جائے؟ اس کے جواب میں انہوں نے ایک حدیث کا حوالہ دیتے ہوئے یہ فرمایا ہے کہ اس حدیث میں یہ تصریح ہے کہ یہ قوم جس کے متعلق آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ دین اسلام سے صاف نکل جائے گی اور اس کے قتل کرنے میں بڑا ثواب ہے۔ یہ لوگ نماز، روزے کے پابند ہوں گے۔ بلکہ ظاہری خشوع اور خضوع کی کیفیات بھی ایسی ہوں گی کہ ان کے نماز، روزے کے مقابلے میں مسلمان اپنے روزے کو بھی ہیچ سمجھیں گے۔ لیکن اس کے باوجود جب کہ بعض ضروریات دین کا انکار ان سے ثابت ہوا تو ان کی نماز، روزہ وغیرہ ان کو حکم کفر سے رہا نہ کر سکی۔

٢٤٥

SEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15 میرا نام محمد رکھا گیا ہے اور رسول بھی۔ اس طرح اور کئی ا کہ وہ آیات قرآنی کو اپنے اوپر چسپاں کرتے تھے۔ اس درست اخذ کیا گیا۔ اس طرح ان کے بعض اقوال سے ہوتی ہے اور حضرت مریم کی شان میں مرزا صاحب نے صاحب گواہ مدعیہ کے بیان میں ہے اور جس کا مدعا علیہ سے قرآن شریف کی صریح آیات کی تکذیب ہوتی ہے مرزا صاحب کو کافر قرار دینے کے اور کوئی نتیجہ اخذ نہیں کی بعض کتب کے حوالے دیئے جا کر یہ کہا گیا ہے کہ م اس کا جواب سید انور شاہ صاحب گواہ مدعیہ نے خوب دیا توہین ثابت ہو گئے تو اگر ہزار جگہ کلمات مدحیہ لکھے ہوں نہیں دلا سکتے۔ جیسا کہ تمام دنیا اور دین کے قواعد مسلمہ اتباع اور اطاعت گزاری کرے اور مدح و ثناء کرتا رہے دے تو کوئی انسان اس کو مطیع اور معتقد واقعی نہیں کہہ سکتا

مدعا علیہ کی طرف سے دیگر صوفیائے کرام بعض اقوال کے مشابہ ہیں۔ بیان کئے جا کر یہ کہا گیا کیونکہ مسلمان سمجھا جاتا ہے۔ اس کا جواب بالفاظ س ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم نے اولیاء اللہ کو ان کی طہارت شواہد و افعال و اعمال اور اخلاق سے تائید پا کر ولی مقبول 2249 خارج مبحوث عنہ سے ہوں۔ یعنی انہی شطحیات ولایت ان کی خارج سے پایہ ثبوت کو پہنچی ہو۔ جو طریقہ ولایت تسلیم کی اور ہم اس تسلیم میں صواب پر تھے تو اس سامنے پڑتا ہے تو ہم اس کی کوشش کرتے ہیں کہ اس ٹھکانہ کیا ہے۔ شطحیات کو ہی پہلے پیش کرنا اور اس پر و ہے۔ کسی شخص کی راست بازی اگر جداگانہ تجارب سے ہے۔ ثابت ہوئی ہو تو پھر اگر کوئی کلمہ موہم اور مغالطہ خیز طبیعتوں کے ذہن اس کی توضیح کریں گے اور محمل نکال

٢٤٤

صفحہ ٢١٢٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

(٩٩ وجوہ کفر)

تیسرا شبہ یہ ہے کہ یہ کہا جاتا ہے کہ فقہاء نے ایسے شخص کو مسلمان ہی کہا ہے جس کی کلام میں ٩٩ وجہ کفر کی موجود ہو اور صرف ایک وجہ اسلام کی، اس کا جواب یہ ہے کہ اس کا منشاء بھی یہی ہے کہ فقہاء کے بعض الفاظ دیکھ لئے گئے اور اس کے معنی سمجھنے کی کوشش نہ کی گئی اور ان کے وہ اقوال دیکھے جن میں صراحتاً بیان کیا گیا ہے کہ یہ حکم اپنے عموم پر نہیں ہے۔ بلکہ اس وقت ہے جب کہ قائل کا صرف ایک کلام مفتی کے سامنے آوے اور قائل کا کوئی دوسرا حال معلوم نہ ہو اور نہ اس کے کلام میں کوئی ایسی تصریح ہو۔ جس سے معنی کفر متعین ہو جائے تو ایسی حالت میں مفتی کا فرض ہے کہ معاملہ تکفیر میں احتیاط برتے اور اگر کوئی خفیف سے خفیف احتمال ایسا نکل سکے جس کی بناء پر یہ کلام کلمہ کفر سے بچ جائے تو اس احتمال کو اختیار کرلے اور اس شخص کو کافر نہ کہے۔ لیکن اگر ایک شخص کا یہی کلمہ کفر اس کی سینکڑوں تحریرات میں بعنوانات و الفاظ مختلفہ موجود ہو جس کو دیکھ کر یہ یقین ہو جائے کہ یہی معنی ، معنی کفری مراد لیتا ہے یا خود اپنے کلام میں معنی کفری کی تصریح کردے تو باجماع فقہاء اس کو ہرگز مسلمان نہیں 2251 کہہ سکتے بلکہ قطعی طور پر ایسے شخص پر کفر کا حکم لگایا جائے گا۔

چوتھا شبہ یہ ہے کہ اگر کوئی کلمہ کفر کسی تاویل کے ساتھ کہا جاوے تو کفر کا حکم نہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اس میں بھی وہی تصریحات فقہاء سے ناواقفیت کا دخل ہے۔ حضرات فقہائے اور متکلمین کی تصریحات موجود ہیں کہ تاویل اس کلام اور اس چیز میں مانع تکفیر ہوتی ہے جو ضروریات دین میں سے نہ ہو۔ لیکن ضروریات دین میں اگر کوئی تاویل کرے اور اجماعی عقیدہ کے خلاف کوئی نیا معنی تراشے تو بلا شبہ اس کو کافر کہا جائے گا۔ اسے قرآن مجید نے الحاد اور حدیث نے اس کا نام زندقہ رکھا ہے۔ زندیق اسے کہتے ہیں جو مذہبی لٹریچر بدلے یعنی الفاظ کی حقیقت بدل دے۔

مرزا صاحب نے جیسا کہ اوپر دکھلایا جاچکا ہے بہت سے اسلامی عقائد کے حقائق بدل دیئے ہیں۔ گو ان کے الفاظ وہی رہنے دیئے ہیں۔ اس لئے ان کو حسب تصریحات مذکورہ بالا کافر ہی قرار دینا پڑے گا اور ان عقائد کے تحت ان کا اتباع کرنے والا بھی اس طرح ہی کافر سمجھا جائے گا۔

مدعا علیہ کی طرف سے گواہان مدعیہ پر ایک یہ اعتراض بھی وارد کیا گیا ہے کہ وہ دیوبندی عقائد سے تعلق رکھنے والے ہیں اور علمائے دیوبند کے خلاف فتویٰ تکفیر شائع ہوچکا ہے۔ اس لئے ایک شخص جو خود کافر ہو وہ کس طرح دوسرے کے متعلق کفر کا فتویٰ دے سکتا ہے؟ اس کا جواب مدعیہ کی طرف سے ایک تو یہ دیا گیا ہے کہ اس کے تمام گواہان دیوبندی صاحبان نہیں ہیں۔

٢٤٢٦

صفحہ ٢١٢٥

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

مثلاً شیخ الجامعہ صاحب، مولوی محمد حسین صاحب اور مولوی نجم الدین صاحب۔ دوسرا دیوبندی صاحبان کے خلاف فتویٰ تکفیر ایک غلط فہمی کی بناء پر دیا گیا تھا جو بعد میں واپس لیا جا چکا ہے۔ اگر یہ صحیح نہ بھی ہو تو بھی مدعاعلیہ کی حجت اس بناء پر صحیح نہیں کہ ان کی رائے کو بطور فتویٰ قبول نہیں کیا گیا۔ بلکہ ان کے پیش کردہ دلائل پر مدعاعلیہ کے پیش کردہ دلائل کے مقابلہ میں تنقید کی جا کر رائے قائم کی گئی ہے۔ اس لئے چاہے وہ کسی فرقہ سے تعلق رکھنے والے ہوں۔ ان کی ذاتی رائے پر کوئی عمل نہیں کیا گیا۔ بلکہ دیکھا گیا ہے کہ قرآن شریف اور احادیث کی رو سے کس2252 فریق کے دلائل صحیح ہیں اور کس کے غلط۔ اس لئے ان کے خلاف اگر کوئی فتویٰ تکفیر ہو بھی تو اس معاملہ پر اثر انداز نہیں ہو سکتا۔

اس کے علاوہ مدعاعلیہ کی طرف سے یہ کہا گیا ہے کہ مدراس ہائیکورٹ نے اپنے فیصلہ میں یہ قرار دیا تھا کہ اس سوال کو کہ عقائد قادیانی سے ارتداد واقع ہوتا ہے یا نہ، علماء اسلام ہی بہتر فیصلہ کر سکتے ہیں۔ لہٰذا علمائے اسلام کی تحقیق کے لئے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ جن لوگوں نے اس مقدمہ میں شہادتیں دی ہیں اور اس پر فتویٰ کفر لگایا ہے وہ خود بھی مسلمان ہیں یا نہ؟ اور اس طرح فیصلہ کرنے والے کا مسلمان ثابت ہونا بھی ضروری ہے۔ اس کا جواب یہ ہے ہر دو فریق کا ادعا ہے کہ وہ مذہب اسلام سے تعلق رکھتے ہیں۔ لیکن چند اہم اور بنیادی مسائل کے متعلق ہر دو فریق کا اختلاف ہے اور وہ ایک دوسرے کو کافر کہتے ہیں۔ لہٰذا اس بارہ میں عام دنیاوی اصول کے مطابق رائے اس فرقہ کی غالب سمجھی جائے گی جس میں اکثریت ہو۔ یہ اکثریت بحق مدعیہ پائی جاتی ہے۔ اس لئے فریق مدعیہ کی رائے ہی غالب رہے گی اور اسے مسلمان اور اقلیت کو کافر سمجھا جائے گا۔ لہٰذا اس قرارداد کے تحت مدعیہ کے کسی گواہ کے خارجی طور پر مسلمان ثابت کئے جانے کی ضرورت نہیں اور فیصلہ کنندہ بھی اس ذیل میں مسلمان شمار ہوگا۔ علاوہ ازیں مدعاعلیہ نے اپنی بحث میں جب مدراس ہائیکورٹ کے فیصلہ کو شرعاً درست تسلیم کر کے اپنے اوپر حجت مان لیا ہے تو کوئی وجہ معلوم نہیں ہوتی کہ شرعاً عدالت ہٰذا کا فیصلہ اس پر حجت نہ ہو سکے۔

گواہان مدعیہ پر مدعاعلیہ کی طرف سے کنایۃً اور بھی کئی ذاتی حملے کئے گئے ہیں۔ مثلاً انہیں علماء سوء کہا گیا اور یہ کہا گیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خود ہی ایسے مولویوں کو جو ذریۃ البغایا میں مخاطب ہیں بندر اور سور کا لقب دیا ہے اور دوسری حدیث میں فرمایا ہے کہ وہ آسمان کے نیچے سب سے بدتر مخلوق ہوں گے۔ لیکن بداہۃً عقل سے ہر عقلمند آدمی اندازہ لگا سکتا ہے کہ طرفین کے علماء میں سے ان احادیث کا صحیح مصداق کون ہیں۔

٢٢٧

F PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

٩) تیسرا شبہ یہ ہے کہ یہ کہا جاتا ۔ کلام میں ٩٩ وجہ کفر کی موجود ہو اور صرف ا یہی ہے کہ فقہاء کے بعض الفاظ دیکھ لئے اقوال دیکھے جن میں صراحتاً بیان کیا گیا ہ کہ قائل کا صرف ایک کلام مفتی کے سامن کے کلام میں کوئی ایسی تصریح ہو۔ جس ۔ ہے کہ معاملہ تکفیر میں احتیاط برتے اور اگر یہ کلام کلمہ کفر سے بچ جائے تو اس احتمال ک شخص کا یہی کلمہ کفر اس کی سینکڑوں تحریرات ہو جائے کہ یہی معنی، معنی کفری مراد لینا باجماع فقہاء اس کو ہرگز مسلمان نہیں2251

چوتھا شبہ یہ ہے کہ اگر کوئی کلمہ جواب یہ ہے کہ اس میں بھی وہی تصریحا متکلمین کی تصریحات موجود ہیں کہ تاویل دین میں سے نہ ہو۔ لیکن ضروریات دین نیا معنی تراشے تو بلاشبہ اس کو کافر کہا جا ۔ زندیقی رکھا ہے۔ زندیق اسے کہتے ہیں مرزا صاحب نے جیسا کہ اوپر دکھلایا جا چک گو ان کے الفاظ وہی رہنے دیئے ہیں۔ پڑے گا اور ان عقائد کے تحت ان کا اعتبار

مدعاعلیہ کی طرف سے گوا دیو بندی عقائد سے تعلق رکھنے والے ہی اس لئے ایک شخص جو خود کافر ہو وہ کسی جواب مدعیہ کی طرف سے ایک تو یہ دیا گ

صفحہ ٢١٢٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

2253 مرزا صاحب کے دعویٰ نبوت کے سلسلہ میں ایک اور مسئلہ پر بھی مختصر بحث کی ضرورت ہے۔ وہ یہ کہ مرزا صاحب اپنے آپ کو اس لئے بھی نبی سمجھتے ہیں کہ انہیں مسیح موعود ہونے کا بھی دعویٰ ہے اور مسیح موعود کو چونکہ احادیث میں نبی اللہ کہا گیا ہے۔ اس لئے مرزا صاحب نبی اللہ ہوئے۔ اس کے متعلق جیسا کہ اوپر دکھلایا گیا ہے مسلمانوں کا عقیدہ یہ ہے کہ مسیح موعود حضرت عیسیٰ ابن مریم ہی ہیں اور آخر زمانہ میں وہی آسمان سے نزول فرمائیں گے اور وہ چونکہ پہلے سے نبی اللہ ہیں۔ اس لئے پھر بھی نبی اللہ ہوں گے۔ مگر وہ عمل شریعت محمدیہ پر کریں گے۔ اپنی شریعت پر نہیں چلیں گے۔ اس کی مثال مدعیہ کی طرف سے یہ دی گئی ہے کہ جیسے کسی دوسرے علاقہ کا گورنر کسی دوسرے گورنر کے علاقہ میں چلا جائے تو وہاں اپنے عہدہ کے لحاظ سے گو وہ گورنر شمار ہوگا۔ لیکن دوسرے گورنر کے علاقہ میں وہ اس گورنر کی حکومت کے تابع ہو کر رہے گا۔ اپنے علاقہ کے قوانین یا آئین پر عمل پیرا نہیں ہو سکے گا۔ اس لئے رسول اللہ ﷺ چونکہ قیامت تک کے لوگوں کے لئے مبعوث ہوئے ہیں۔ اس لئے قیامت تک آپ ﷺ کی شریعت ہی نافذ رہے گی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس شریعت کے تحت عمل پیرا ہوں گے۔

اس مثال سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا امتی نبی ہونا تو واضح ہو جاتا ہے۔ لیکن آج کل کے تعلیم یافتہ لوگوں کو نزول مسیح کا عقیدہ بہت عجب معلوم ہوتا ہے اور ان کے ذہن اس بات کو قبول نہیں کرتے کہ کس طرح ایک شخص کئی ہزار سال کے بعد دنیا میں واپس آ سکتا ہے۔ شک نہیں کہ علوم جدیدہ کی روشنی میں یہ مسئلہ بہت کچھ قابل اعتراض معلوم ہوتا ہے اور جیسا کہ مولانا محمد علی صاحب اپنی کتاب ”دین و آئین“ میں لکھتے ہیں: ”اس قسم کے اعتراضات سے عہدہ برآ ہونے کے لئے جواب دینے والے بالعموم یہ روش اختیار کرتے ہیں کہ جن قباحتوں کے چہرہ پر موجودہ مسلمات کا روغن قاز مل دیا جاتا ہے۔ ان کو قباحت سمجھنے کے سوا کوئی چارہ کار نہیں دیکھتے اور جس جملہ کے ساتھ فلسفہ اور سائنس کا نقارہ بجتا ہوا پاتے ہیں اپنے ہوش و حواس کو اس کے مقابلہ پر قائم رکھنے کی جرات نہیں کرتے اور ایک مجرم کی طرح اپنی بریت کی یہی صورت دیکھتے ہیں کہ اپنے فعل کو دلیری کے ساتھ حق بجانب ثابت کرنے کے بجائے ہاتھ جوڑ کر اس کے ارتکاب سے 2254 انکار کریں اور مذہب کی حمایت میں صرف یہ کہہ کر دامن چھڑائیں کہ جس مسئلہ پر اعتراض ہے وہ اسلامی اصول میں داخل نہیں۔“ مولانا موصوف آگے لکھتے ہیں ایسے اعتراضوں کے ایسے جواب آج کل فیشن میں داخل ہیں اور جواب دینے والے گویا یقین کر لیتے ہیں کہ تہذیب جدید جس امر پر قبیح ہونے کا فتویٰ صادر کرتی ہے اس میں کوئی حسن باقی نہ رہا ہوگا۔ ان کا بس چلتا ہے تو

٢٤٨

صفحہ ٢١٢٧

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15 قرآن اور حدیث پر۔ ان دونوں سے جس طرح بن پڑتا ہے رہائی پانے کی سبیل نکال لیتے ہیں۔ اپنے ذاتی خیالات کو اسلام اور ایسے اسلام کو سب اعتراضوں سے پاک تصور کر لیتے ہیں۔

مسئلہ نزول مسیح بھی اس قبیل کا ہے کہ جس پر اس قسم کے اعتراض وارد کئے جاتے ہیں۔ لیکن جو شخص قرآن پر اعتقاد رکھتا ہے اسے اس پر یقین رکھنے میں کوئی تردد نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ قرآن مجید میں ایک شخص کو سو سال کے بعد زندہ کرنے کا واقعہ موجود ہے۔ اس طرح اصحاب کہف تین سو سال سے زائد عرصہ تک غار میں بحالت خواب پڑے رہے۔ اس لئے وہ امور اگر ذات باری کے لئے ناممکنات میں سے نہ تھے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا دوبارہ دنیا میں بھیجنا بھی اس کے آگے کوئی مشکل نہیں۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش جس طرح غیر معمولی طریق پر ہوئی۔ اس طرح ان کے نزول کو بھی غیر معمولی طریق پر وقوع میں آنا تصور کیا جا سکتا ہے۔ باقی رہا اس پیش گوئی کی صداقت کا سوال سو اس کے صحیح ہونے میں کوئی شبہ نہیں کیا جا سکتا۔ اگر یہ پیش گوئی صحیح نہ ہوتی تو مرزا صاحب نے جہاں کئی دیگر متواترات کا انکار کیا تھا۔ وہاں اس کا بھی انکار فرما دیتے۔ لیکن وہ بھی اس کی صحت سے انکار نہیں کر سکے اور اس کی ممکن سے ممکن جو بھی تاویل ہو سکتی تھی وہ بیان کرنے میں انہوں نے کوئی دریغ نہیں کیا۔ لیکن اوپر کی بحث سے پایا جاتا ہے کہ قرآن و احادیث کی رو سے وہ تاویل درست ثابت نہیں ہوتی اور سوائے اس کے کہ یہی عقیدہ رکھا جائے کہ اس پیش گوئی کی رو سے حضرت عیسیٰ ابن مریم ہی دنیا میں واپس تشریف لائیں گے۔ اس کا اور کوئی حل نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ ان کے سوا آنحضرت ﷺ کے بعد اور کوئی نیا نبی نہیں ہو سکتا۔ اس لئے اس 2255 عقیدہ کو اگر قائم رکھا جاوے تو جو لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے وقت زندہ ہوں گے۔ انہیں خود اس پیش گوئی کی تصدیق ہو جائے گی اور جو اس سے قبل فوت ہوں گے تو خداوند تعالیٰ ان کے ساتھ وہی معاملہ فرمائے گا کہ جو ان سے قبل اس عقیدہ پر وفات پاتے رہے۔ البتہ اس عقیدہ کو چھوڑنے والا ضرور گنہگار ہوگا۔ کیونکہ وہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے فرمان کا مکذب سمجھا جائے گا۔

باقی رہا یہ سوال کہ آیا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے یہ فرمایا بھی ہے یا نہیں۔ کیونکہ شکی طبیعتیں یہ کہہ سکتی ہیں کہ احادیث کی تدوین چونکہ بہت مدت کے بعد ہوئی۔ اس لئے کیونکر پورے اطمینان سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ راویوں کو احادیث کے پورے الفاظ یاد رہے ہیں یا یہ کہ ان الفاظ سے رسول اللہ ﷺ کی مراد وہی تھی جو کہ ان راویوں نے سمجھی۔ اس کا جواب تو علماء ہی بہتر دے سکتے ہیں۔ میرے نزدیک اس کا موٹا جواب یہ ہے کہ اگر یہ حدیث ہو صحیح اور ہم نے اس کا

٢٤٩

صفحہ ٢١٢٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

عقیدہ دیا چھوڑ تو قیامت کے دن ہم جوابدہ ہوں گے اور اگر یہ حدیث صحیح نہ بھی ہو تو اس پر محض ایک عقیدہ رکھنے سے جو قرآن کے کسی صورت میں بھی مخالف نہیں پایا جاتا۔ ہمارا کیا بگڑتا ہے۔ لہذا بہر حال ہمیں اس پر عقیدہ رکھنا لازمی ہے۔“

مدعاعلیہ کی طرف سے ایک یہ مغالطہ پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول مانا جاوے تو اس سے یہ سمجھا جائے گا کہ رسول اللہ ﷺ کی امت میں سے ایسا کوئی شخص اہلیت نہ رکھتا تھا کہ اسے لوگوں کی اصلاح کے لئے مامور فرمایا جاتا اور اس سے امت کی توہین لازم آئے گی۔

اس کا ایک جواب تو یہ ہے کہ خداوند تعالیٰ کی طرف سے کسی شخص کا مامور ہونا اس کے کسی استحقاق کی بناء پر نہیں ہوتا۔ دوسرا احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ اس وقت امت کی حالت بہت ابتر ہوگی۔ اس لئے یہ ممکن ہے کہ اس وقت تک کوئی بھی اس فرض کے سرانجام دینے کا اہل نہ پایا جاوے۔ اس لئے مخلوق کی اصلاح کے لئے سابقہ انبیاؤں میں سے ہی ایک کو واپس لایا جانا ضرور 2256 سمجھا گیا ہو۔ یہ باتیں مشیت ایزدی سے تعلق رکھتی ہیں۔ اس لئے ان میں کوئی رائے زنی نہیں کی جاسکتی۔

ہمارے دلوں میں شکوک دراصل اس لئے پیدا ہوتے ہیں کہ ہم ہدایت قرآنی پر پوری طرح پابند نہیں ہیں۔ اگر ہم تمام احکام ربانی پر عمل کریں تو اس حالت کے نتائج ہی اعتراض کرنے والوں کو خاموش کر دیتے ہیں اور جیسا کہ مولانا محمود علی صاحب نے اپنے ایک اور مضمون میں تحریر فرمایا ہے۔ جب تک مسلمان ”لقد كان لكم في رسول الله اسوة حسنة“ پر عامل رہے۔ انہیں نہ خود کوئی تکلیف پیش آئی اور نہ دوسروں پر اثر ڈالنے کے لئے کسی دشواری کا سامنا ہوا اور جب قوم کی قوم ہی ایک رنگ میں رنگین ہو تو ایسا منظر شکوک کو غبار بنا کر اڑا دیتا ہے اور اعتراض کی گنجائش نہیں چھوڑتا۔ مگر افسوس جیسا کہ مولانا اپنی کتاب محولہ بالا میں تحریر فرماتے ہیں کہ سب سے بڑی ضروری بلکہ زندگی کا واحد مقصد آج کل یہ قرار پا گیا ہے کہ انسان زندگی کی ہر ساعت اور ہر ثانیہ کے اندر تمام تر توجہ اس مادی سامان کے مہیا کرنے اس کو کام میں لانے اور اس کے نتائج سے لطف اٹھانے پر مبذول رہے اور موجودہ زندگی کے بعد کوئی خیال اور اس کے لئے کسی عمل اور کسب کا کوئی ارادہ اور اس دنیا سے باہر کی ہستی کے ساتھ تعلق رکھنے کا کوئی وہم بھی دل میں نہ آنے پاوے اور اپنی تمام کوششوں کا محور اس دنیا کو اور یہاں کی چند روزہ زندگی کو سمجھنا صحیح اصول کار ہے۔ یہ حالت کیوں پیش آئی۔

٢٥٠

صفحہ ٢١٢٩

2129 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

اس کا جواب بھی مولانا محمود علی صاحب کی ایک تحریر سے دیا جاتا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ”قرآن کے پیش کرنے والے جو زبان سے کہتے ہیں وہ کر کے نہیں دکھلاتے اور وعظ ونصیحت میں فصاحت قرآنیہ پر انسانی طرز کلام کو ترجیح دے کر منطقی موشگافیوں اور شاعرانہ مبالغوں سے کام لیتے ہیں اور رہنمائی سے زیادہ اپنے فضل و کمال کی نمائش چاہتے ہیں۔ حالانکہ اہل ایمان پر نہ بحث نہ مناظرہ فرض ہے نہ منطقیانہ موشگافیوں اور فلسفیانہ معرکہ آرائیوں کی ضرورت۔ وہی روشنی ہدایت جو کلام الٰہی نے پیش کی ہے۔ اس طرز ادا سے جو اس ہادی برحق نے اختیار کی ہے ہر عالم و جاہل 2257 تک پہنچا دینے کی ضرورت ہے۔ سب کا ہدایت پانا اور تمام مخلوق کا ایک راہ اختیار کرنا ممکن نہیں۔ ورنہ کلام الٰہی میں اب بھی وہی کشش ہے اور قرآن کریم کے اندر جذب قلوب کا وہی اثر غافل انسانوں کو خواب غفلت سے جگانے والا اور تشنگان ہدایت کو شراب معرفت سے سیراب کرنے والا اگر ہے تو صرف قرآن کریم اور اس کلام مبارک کا ایک ایک لفظ چشم بینا کو محو حیرت کرنے اور دل دانا کا دامن کھینچنے میں وہ تاثیر دکھاتا ہے جو آئینہ پر جمال یار اور پرکاہ پر کہربا۔

مدعا علیہ کی طرف سے اس بات پر بہت زور دیا گیا ہے کہ علماء و ائمہ کی اندھی تقلید درست نہیں۔ یہ ٹھیک ہے قرآن مجید میں ہر شخص کو خود بھی تدبر کرنا چاہئے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ تمام قواعد و دیگر لوازمات کو جو معنی اخذ کرنے کے لئے ضروری ہیں پس پشت ڈال کر اپنی سمجھ پر چلنا شروع کر دیا جاوے۔ جیسا کہ خود مدعا علیہ کے اپنے گواہان کے طرز عمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک تو آیت ”وبالآخرة هم يوقنون“ کے یہ معنی کرتا ہے کہ یوم آخرت پر بھی ایمان رکھتے ہیں اور دوسرا آخرت کے معنی زمانہ آخر کی وحی بتلاتا ہے۔ ذرا احمدی صاحبان خود بھی سوچیں کہ انہوں نے دین کو کیا مذاق بنا رکھا ہے؟ اس بحث کے بعد اب اصل معاملہ متنازعہ کو طے کرنے کے لئے یہ بتلانا ہے کہ اسلام کے وہ کون سے بنیادی اصول ہیں کہ جن سے اختلاف کرنے سے ارتداد واقع ہو جاتا ہے یا یہ کہ کن اسلامی عقائد کی پیروی نہ کرنے سے ایک شخص مرتد سمجھا جاسکتا ہے اور کہ عقائد قادیانی سے ارتداد واقع ہوتا ہے یا نہ؟

(خلاصہ بحث)

اوپر کی تمام بحث سے یہ ثابت کیا جا چکا ہے کہ مسئلہ ختم نبوت اسلام کے بنیادی اصولوں میں سے ہے اور کہ رسول اللہ ﷺ کو خاتم النبیین بایں معنی نہ ماننے سے کہ آپ آخری نبی ہیں ارتداد واقع ہو جاتا ہے اور کہ عقائد اسلامی کی رو سے ایک شخص کلمہ کفر کہہ کر بھی دائرہ اسلام سے

٢٥١

LY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

عقیدہ دیا چھوڑ تو قیامت کے دن ہم جوابدہ ہوں ایک عقیدہ رکھنے سے جو قرآن کے کسی صورت مـ لہٰذا بہر حال ہمیں اس پر عقیدہ رکھنا لازمی ہے۔“

مدعا علیہ کی طرف سے ایک یہ مغالطہ علیہ السلام کا نزول مانا جاوے تو اس سے یہ سمجھا جا کوئی شخص اہلیت نہ رکھتا تھا کہ اسے لوگوں کی اصلا توہین لازم آئے گی۔

اس کا ایک جواب تو یہ ہے کہ خداوند ا کسی استحقاق کی بناء پر نہیں ہوتا۔ دوسرا احادیث بہت ابتر ہوگی۔ اس لئے یہ ممکن ہے کہ اس وقت کـ پایا جاوے۔ اس لئے مخلوق کی اصلاح کے لئے ضرور 2256 سمجھا گیا ہو۔ یہ باتیں مشیت ایزدی زنی نہیں کی جاسکتی۔

ہمارے دلوں میں شکوک دراصل اس طرح پابند نہیں ہیں۔ اگر ہم تمام احکام ربانی پر عمل والوں کو خاموش کر دیتے ہیں اور جیسا کہ مولانا مـ فرمایا ہے۔ جب تک مسلمان ”لقد كان لکم انہیں نہ خود کوئی تکلیف پیش آئی اور نہ دوسروں جب قوم کی قوم ہی ایک رنگ میں رنگین ہو تو ایسا گنجائش نہیں چھوڑتا۔ مگر افسوس جیسا کہ مولانا اپـ بڑی ضروری بلکہ زندگی کا واحد مقصد آج کل یہ ثانیہ کے اندر تمام تر توجہ اس مادی سامان کے مہیا لطف اٹھانے پر مبذول رہے اور موجودہ زندگی ما کا کوئی ارادہ اور اس دنیا سے باہر کی ہستی کے پاوے اور اپنی تمام کوششوں کا محور اس دنیا کو اور ا یہ حالت کیوں پیش آئی۔

صفحہ ٢١٣٠

2130 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

خارج ہو جاتا ہے۔

مدعا علیہ مرزا غلام احمد صاحب کو عقائد قادیانی کی رو سے نبی مانتا ہے اور ان کی تعلیم کے مطابق یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ امت محمدیہ میں قیامت تک سلسلہ نبوت جاری ہے۔ یعنی کہ وہ 2258 رسول اللہ ﷺ کو خاتم النبیین بمعنی آخری نبی تسلیم نہیں کرتا۔ آنحضرت ﷺ کے بعد کسی دوسرے شخص کو نیا نبی تسلیم کرنے سے جو قباحتیں لازم آتی ہیں ان کی تفصیل اوپر بیان کی جا چکی ہے۔ اس لئے مدعا علیہ اس اجماعی عقیدہ امت سے منحرف ہونے کی وجہ سے مرتد سمجھا جائے گا اور اگر ارتداد کے معنی کسی مذہب کے اصولوں سے بکلی انحراف کے لئے جاویں تو بھی مدعا علیہ مرزا صاحب کو نبی ماننے سے ایک نئے مذہب کا پیرو سمجھا جائے گا۔ کیونکہ اس صورت میں اس کے لئے قرآن کی تفسیر اور معمول بہ مرزا صاحب کی وحی ہوگی نہ کہ احادیث واقوال فقہاء، جن پر کہ اس وقت تک مذہب اسلام قائم چلا آیا ہے اور جن میں سے بعض کے مستند ہونے کو خود مرزا صاحب نے بھی تسلیم کیا ہے۔

علاوہ ازیں احمدی مذہب میں بعض احکام ایسے ہیں کہ جو شرع محمدی پر مستزاد ہیں اور بعض اس کے خلاف ہیں مثلاً چندہ ماہواری کا دینا جیسا کہ اوپر دکھلایا گیا ہے۔ زکوٰۃ پر ایک زائد حکم ہے اس طرح غیر احمدی کا جنازہ نہ پڑھنا کسی احمدی کی لڑکی غیر احمدی کو نکاح میں نہ دینا۔ کسی غیر احمدی کے پیچھے نماز نہ پڑھنا شرع محمدی کے خلاف اعمال ہیں۔

مدعا علیہ کی طرف سے ان امور کی توجیہیں بیان کی گئی ہیں کہ وہ کیوں غیر احمدی کا جنازہ نہیں پڑھتے۔ کیوں ان کو نکاح میں لڑکی نہیں دیتے اور کیوں ان کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے۔ لیکن یہ توجیہیں اس لئے کارآمد نہیں کہ یہ امور ان کے پیشواؤں کے احکام میں مذکور ہیں۔ اس لئے وہ ان کے نقطۂ نگاہ سے شریعت کا جزو سمجھے جائیں گے جو کسی صورت میں بھی شرع محمدی کے موافق تصور نہیں ہو سکتے۔ اس کے ساتھ جب یہ دیکھا جاوے کہ وہ تمام غیر احمدی کو کافر سمجھتے ہیں تو ان کے مذہب کو مذہب اسلام سے ایک جدا مذہب قرار دینے میں کوئی شک نہیں رہتا۔ علاوہ ازیں مدعا علیہ کے گواہ مولوی جلال الدین شمس نے اپنے بیان میں مسیلمہ وغیرہ کاذب مدعیان نبوت کے سلسلہ میں جو کچھ کہا ہے اس سے یہ پایا جاتا ہے کہ گواہ مذکور کے نزدیک دعویٰ نبوت کاذبہ ارتداد ہے اور کاذب مدعی نبوت کو جو مان لے وہ مرتد سمجھا جاتا ہے۔

٢٥٢

صفحہ ٢١٣١

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

(فیصلہ)

مدعاعلیہ کی طرف سے یہ ثابت کیا گیا ہے کہ مرزا صاحب کاذب مدعی نبوت ہیں۔ اس لئے مدعاعلیہ بھی مرزا صاحب کو نبی تسلیم کرنے سے مرتد قرار دیا جائے گا۔ لہٰذا ابتدائی تنقیحات جو 4 نومبر 1926ء کو عدالت منصفی احمد پور شرقیہ سے وضع کی گئی تھیں۔ بحق مدعیہ ثابت قرار دے جا 2259 کر یہ قرار دیا جاتا ہے کہ مدعاعلیہ قادیانی عقائد اختیار کرنے کی وجہ سے مرتد ہوچکا ہے۔ لہٰذا اس کے ساتھ مدعیہ کا نکاح تاریخ ارتداد مدعاعلیہ سے فسخ ہو چکا ہے اور اگر مدعاعلیہ کے عقائد کو بحث مذکورہ بالا کی روشنی میں دیکھا جاوے تو بھی مدعاعلیہ کے ادعا کے مطابق مدعیہ ثابت کرنے میں کامیاب رہی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد کوئی امتی نبی نہیں ہو سکتا اور کہ اس کے علاوہ جو دیگر عقائد مدعاعلیہ نے اپنی طرف منسوب کئے ہیں وہ گو عام اسلامی عقائد کے مطابق ہیں۔ لیکن ان عقائد پر وہ انہی معنوں میں عمل پیرا سمجھا جاوے گا۔ جو معنی مرزا صاحب نے بیان کئے ہیں اور یہ معنی چونکہ ان معنوں کے مغائر ہیں جو جمہور امت آج تک لیتی آئی۔ اس لئے بھی وہ مسلمان نہیں سمجھا جا سکتا ہے اور ہر دو صورتوں میں وہ مرتد ہی ہے اور مرتد کا نکاح چونکہ ارتداد سے فسخ ہو جاتا ہے۔ لہٰذا ڈگری بدیں مضمون بحق مدعیہ صادر کی جاتی ہے کہ وہ تاریخ ارتداد مدعاعلیہ سے اس کی زوجہ نہیں رہی۔ مدعیہ خرچہ مقدمہ بھی ازاں مدعاعلیہ لینے کی حقدار ہوگی۔

اس ضمن میں مدعاعلیہ کی طرف سے ایک سوال یہ پیدا کیا گیا ہے کہ ہر دو فریق چونکہ قرآن مجید کو کتاب اللہ سمجھتے ہیں اور اہل کتاب کا نکاح جائز ہے۔ اس لئے بھی مدعیہ کا نکاح فسخ قرار نہیں دینا چاہئے۔ اس کے متعلق مدعیہ کی طرف سے یہ کہا گیا ہے کہ جب دونوں فریق ایک دوسرے کو مرتد سمجھتے ہیں تو ان کو اپنے اپنے عقائد کی رو سے بھی ان کا باہمی نکاح قائم نہیں رہتا۔ علاوہ ازیں اہل کتاب عورتوں سے نکاح کرنا جائز ہے نہ کہ مردوں سے بھی ، مدعیہ کے دعویٰ کے رو سے چونکہ مدعاعلیہ مرتد ہو چکا ہے۔ اس لئے اہل کتاب ہونے کی حیثیت سے بھی اس کے ساتھ مدعیہ کا نکاح قائم نہیں رہ سکتا۔ مدعیہ کی یہ حجت وزن دار پائی جاتی ہے۔ لہٰذا اس بناء پر بھی وہ ڈگری پانے کے مستحق ہے۔

مدعاعلیہ کی طرف سے اپنے حق میں چند نظائر قانونی کا بھی حوالہ دیا گیا تھا۔ ان میں سے پٹنہ اور پنجاب ہائیکورٹ کے فیصلہ جات کو عدالت عالیہ چیف کورٹ نے پہلے واقعات مقدمہ ہذا پر حاوی نہیں سمجھا اور مدراس ہائیکورٹ کے فیصلہ کو عدالت معلیٰ اجلاس خاص نے قابل پیروی

٢٥٣

Y OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

خارج ہو جاتا ہے۔

مدعاعلیہ مرزا غلام احمد صاحب کو ع کے مطابق یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ امت محمدیہ می رسول اللہ ﷺ کو خاتم النبیین بمعنی آخر 2258 دوسرے شخص کو نیا نبی تسلیم کرنے سے جو قادیا ہے۔ اس لئے مدعاعلیہ اس اجماعی عقیدہ امت اگر ارتداد کے معنی کسی مذہب کے اصولوں مرزا صاحب کو نبی ماننے سے ایک نئے مذہب ا لئے قرآن کی تفسیر اور معمول بہ مرزا صاحب کی وقت تک مذہب اسلام قائم چلا آیا ہے اور جن نے بھی تسلیم کیا ہے۔

علاوہ ازیں احمدی مذہب میں بعض بعض اس کے خلاف ہیں مثلاً چندہ ماہواری کا د ہے اس طرح غیر احمدی کا جنازہ نہ پڑھنا کسی غیر احمدی کے پیچھے نماز نہ پڑھنا شرع محمدی کے

مدعاعلیہ کی طرف سے ان امور کی جنازہ نہیں پڑھتے ۔ کیوں ان کو نکاح میں لڑکی ن لیکن یہ توجیہیں اس لئے کارآمد نہیں کہ یہ امو لئے وہ ان کے نقطۂ نگاہ سے شریعت کا جزو سمجھے موافق تصور نہیں ہو سکتے۔ اس کے ساتھ جب م ان کے مذہب کو مذہب اسلام سے ایک جدا مذ ہ مدعاعلیہ کے گواہ مولوی جلال الدین شمس نے کے سلسلہ میں جو کچھ کہا ہے اس سے یہ پایا جاتا ا ہے اور کاذب مدعی نبوت کو جو مان لے وہ مرتد ہ

صفحہ ٢١٣٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

قرار نہیں دیا۔ باقی رہا عدالت عالیہ چیف کورٹ بہاول پور کا فیصلہ بمقدمہ مسماۃ جندوڑی بنام 2260 کریم بخش اس کی کیفیت یہ ہے کہ یہ فیصلہ جناب مہتہ اودھو داس صاحب جج چیف کورٹ کے اجلاس سے صادر ہوا تھا اور اس مقدمہ کا صاحب موصوف نے مدراس ہائیکورٹ کے فیصلہ پر ہی انحصار رکھتے ہوئے فیصلہ فرمایا تھا اور خود ان اختلافی مسائل پر جو فیصلہ مذکور میں درج تھے کوئی محاکمہ نہیں فرمایا تھا۔ مقدمہ چونکہ بہت عرصہ سے دائر تھا۔ اس لئے صاحب موصوف نے اسے زیادہ عرصہ معرض تعویق میں رکھنا پسند نہ فرما کر باتباع فیصلہ مذکور اسے طے فرما دیا۔ دربار معلیٰ نے چونکہ اس فیصلہ کو قابل پابندی قرار نہیں دیا۔ جس فیصلہ کی بناء پر کہ وہ فیصلہ صادر ہوا۔ اس لئے فیصلہ زیر بحث بھی قابل پابندی نہیں رہتا۔

فریقین میں سے مختار مدعیہ حاضر ہے۔ اسے حکم سنایا گیا۔ مدعا علیہ کارروائی مقدمہ ہذا ختم ہونے کے بعد جب کہ مقدمہ زیر غور تھا فوت ہو گیا ہے۔ اس کے خلاف یہ حکم زیر آرڈر ٢٢ رول ٦ ضابطہ دیوانی تصور ہوگا۔ پرچہ ڈگری مرتب کیا جاوے اور مسل داخل دفتر ہو۔

٧؍ فروری ١٩٣٥ء، مطابق ٣؍ ذیقعدہ ١٣٥٣ھ

بمقام بہاول پور

دستخط: محمد اکبر ڈسٹرکٹ جج ضلع بہاول نگر، ریاست بہاول پور (بحروف انگریزی)

٢٥٤

صفحہ ٢١٣٣

OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

قرار نہیں دیا۔ باقی رہا عدالت عالیہ چیف کورٹ 2260 کریم بخش اس کی کیفیت یہ ہے کہ یہ فیصلہ اجلاس سے صادر ہوا تھا اور اس مقدمہ کا صاحب انحصار رکھتے ہوئے فیصلہ فرمایا تھا اور خود ان محاکمہ نہیں فرمایا تھا۔ مقدمہ چونکہ بہت عرصہ زیادہ عرصہ معرض تعویق میں رکھنا پسند نہ فرما کر چونکہ اس فیصلہ کو قابل پابندی قرار نہیں دیا۔ جس زیر بحث بھی قابل پابندی نہیں رہتا۔

فریقین میں سے مختار مدعیہ حاضر۔

ختم ہونے کے بعد جب کہ مقدمہ زیر غور تھا ٢٢ رول ٦ ضابطہ دیوانی تصور ہوگا۔ پرچہ ڈگری

دستخط : محمد اکبر ڈسٹرکٹ جج ضلع

2133 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

2261 ضمیمہ نمبر: ٢

”قل جاء الحق وزھق الباطل ان الباطل کان زھوقا“

شیخ محمد اکبر ڈسٹرکٹ جج کیمبل پور بمقام راولپنڈی

کا

فیصلہ

مرزائی

دائرہ اسلام سے خارج ہیں

ناشر

مرکزی مکتبہ مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان پاکستان

فون نمبر :٣٣٣١

٢٥٥

صفحہ ٢١٣٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

2262 سلسلہ اشاعت نمبر (١٨)

طبع اوّل

١٣٨٨ھ

١٩٦٨ء

ملنے کا پتہ:

مرکزی مکتبہ مجلس تحفظ ختم نبوت ۔ ملتان شہر

تغلق روڈ بیرون لوہاری گیٹ ۔ فون نمبر: ٣٣٤١

٢٥٦

صفحہ ٢١٣٥

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15 2263 بسم اللہ الرحمن الرحیم !

تعارف

فروری ١٩٥٣ء میں تحریک تحفظ ختم نبوت کے سلسلہ میں جب اس وقت کی گورنمنٹ نے مجلس عمل کے رہنماؤں کو اچانک پابند سلاسل کر کے جیل بھیج دیا تو راہنمایانِ ملت کی گرفتاری کے بعد اس وقت کی حکومت کے تشدّدانہ فیصلہ نے عوام کے جذبات میں جو اشتعال پیدا کیا اس سے حالات امن و قانون کے دائرہ اختیار سے باہر چلے گئے۔ آخری حربہ حکومت وقت نے یہ استعمال کیا کہ لاہور میں مارشل لاء نافذ کر دیا۔ جب جولائی میں حالات پُر سکون ہوئے تو نئی وزارت نے جو ملک فیروز خان نون نے قائم کی۔ ان ہنگامی حالات کی تحقیقات کے لئے ایک کمیشن مقرر کیا جو مسٹر جسٹس محمد منیر اور جسٹس اے آر کیانی مرحوم پر مشتمل تھا۔ مجلس تحفظ ختم نبوت اس کیس کی پیروی میں مصروف تھی اور فروری ١٩٥٤ء میں یہ کیس آخری مراحل میں داخل تھا۔ اس وقت جماعت کا ڈیفنس آفس حکیم عبدالمجید صاحب سیفی مرحوم جو بی۔اے علیگ تھے اور مرحوم اصل شاہ پور ضلع سرگودھا کے رہنے والے تھے۔ ان کا دولت کدہ واقع بیڈن روڈ تھا۔

١٨؍ فروری (١٩٥٤ء) کو اچانک ایک بزرگ راولپنڈی سے تشریف لائے جنہوں نے آتے ہی مولانا محمد علی جالندھری (رحمۃ اللہ علیہ) کا نام پوچھا حضرت مولانا محمد علی صاحب سے ملاقات کرائی گئی۔ وہ غالباً لیفٹیننٹ نذیر الدین جو اس مقدمہ میں مدعا علیہ ہیں۔ ان کا بھائی تھایا کوئی دوسرا عزیز تھا۔ انہوں نے اس کیس کی نوعیت ذکر کی کہ : ”قادیانی عورت نے اپنے مرکز ربوہ سے امداد حاصل کر کے میرے بھائی کے خلاف حق مہر وغیرہ کا دعویٰ دائر کر دیا ہے۔ ہماری طرف سے آپ اس مقدمہ کی پیروی کریں۔“

حضرت مولانا محمد علی صاحب نے وعدہ فرمالیا کہ ہم مناظر اسلام مولانا لال حسین صاحب اخترؒ کو کیس کی پیروی کے لئے روانہ کریں گے۔ چنانچہ سال ڈیڑھ سال کیس زیر سماعت رہا۔ جس کا 2264 دفاع اہل اسلام کی طرف سے مولانا موصوف کرتے رہے اور راولپنڈی میں بحیثیت گواہ صفائی مدعا علیہ کے پیش ہوتے رہے۔ جس کا نتیجہ (لوئر کورٹ سے لے کر سیشن کورٹ تک) اہل اسلام کے حق میں نکلا۔ اللہ تعالیٰ دونوں جج صاحبان کو ان کی دینی و قانونی فراست پر جزائے خیر عطاء فرمائے۔ ہماری دعا ہے کہ خدا تعالیٰ ایسے باخبر دینی احساس رکھنے والے ججز اور افسروں کو ان کے مناصب پر قائم رکھے تاکہ اسلامی ملک میں کفر و ارتداد، اسلام سے جدا ہو کر سامنے آجائے اور مسلمان، قادیانی مکر و فریب سے بچ جائیں۔

٢٥٧

OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15 2262 سلسلۂ طبع ناشر: کتابت: طباعت: صفحات: تعداد: قیمت: مرکزی مکتبہ مجلس تغلق روڈ بیرون لوہا

صفحہ ٢١٣٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

یاد رہے پاکستان میں اپنی نوعیت کا یہ پہلا کیس تھا۔ کیونکہ یہ فیصلہ صرف ایک عورت کے خلاف نہ تھا۔ بلکہ پوری امت قادیانیہ کے کفر پر مہر تصدیق ثبت کرنا تھی۔ چنانچہ اس فیصلہ سے قادیانی کیمپ میں کھلبلی مچ گئی۔ جس کی وجہ سے پوری جماعت کے لیڈر اور وکلاء نے ہائیکورٹ میں اپیل دائر کرنے پر غور و خوض کیا۔ ہماری اطلاع کے مطابق اپیل تیار کر لی گئی۔ وکیل مقرر کیا گیا۔ لیکن جب چوہدری ظفر اللہ خان سے مشورہ کیا گیا تو اس نے کہا کہ ”اپنی ذمہ داری پر اپیل دائر کریں میں کوئی ذمہ داری نہیں لیتا ۔“ چنانچہ ٣؍ جون ١٩٥٥ء سے آج تک امت قادیانیت نے خاموشی اختیار کر کے اپنے کفر کی تصدیق کر دی ہے۔

قبل ازیں یہ فیصلہ انگریزی میں چالیس ہزار کی تعداد میں مجلس تحفظ ختم نبوت نے شائع کیا۔ پھر ڈاکٹر عبدالقادر صاحب نے گجرات سے کافی تعداد میں شائع کیا۔ پھر کراچی مجلس تحفظ ختم نبوت نے پانچ ہزار کی تعداد میں شائع کر کے اندرون و بیرون ملک مفت تقسیم کیا۔

انگریزی سے اردو میں ترجمہ کرنے کی وجہ سے بعض حوالہ جات اور عبارات میں خلجان پڑ گیا تھا۔ اس وجہ سے انگریزی فیصلہ کی طرح اب مجلس تحفظ ختم نبوت اسے اپنے مرکزی مکتبہ سے نہایت احتیاط سے بتصحیح تام چھاپ کر مسلمانوں کے سامنے پیش کر رہی ہے تاکہ روشن ضمیر جج کے فیصلوں سے پڑھا لکھا طبقہ اپنے دل کا اطمینان کرے اور ملت کے اس باغی گروہ کے جال کفر و ارتداد سے اپنے آپ کو بچائے۔ ناظم شعبہ نشر و اشاعت، مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان

2265 بعدالت شیخ محمد اکبر ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج راولپنڈی سول اپیل ١٩٥٥ء امۃ الکریم بنت کرم الہی راجپوت جنجوعہ مکان نمبر ٥٠٠/بی نیا محلہ ٹرنک بازار بنام لیفٹیننٹ نذیر الدین ملک خلف ماسٹر محمد دین اعوان محلہ کرشن پورہ راولپنڈی

مفصل فیصلہ

مسمات امۃ الکریم دختر کرم الہی (بقول میاں عطاء اللہ وکیل برائے اپیلانٹ ایک لوہار ہے) کی شادی مسمی نذیر الدین میٹریکولیٹ (بقول میاں عطاء اللہ ایک ترکھان ہے) سے

٢٥٨

صفحہ ٢٥٩

L ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

یاد رہے پاکستان میں اپنی نوعیت کا یہ پہلا کیس کے خلاف نہ تھا۔ بلکہ پوری امت قادیانیہ کے کفر پر مہر تصدی قادیانی کیمپ میں کھلبلی مچ گئی۔ جس کی وجہ سے پوری جماعت اپیل دائر کرنے پر غور وخوض کیا۔ ہماری اطلاع کے مطابق ا لیکن جب چوہدری ظفر اللہ خان سے مشورہ کیا گیا تو اس ن کریں میں کوئی ذمہ داری نہیں لیتا۔‘‘ چنانچہ ٣؍ جون ١٩٥٥ خاموشی اختیار کر کے اپنے کفر کی تصدیق کر دی ہے۔

قبل ازیں یہ فیصلہ انگریزی میں چالیس ہزار کی ت کیا۔ پھر ڈاکٹر عبدالقادر صاحب نے گجرات سے کافی تعدا نبوت نے پانچ ہزار کی تعداد میں شائع کر کے اندرون و بیرون م انگریزی سے اردو میں ترجمہ کرنے کی وجہ سے ک پڑ گیا تھا۔ اس وجہ سے انگریزی فیصلہ کی طرح اب مجلس تحفظ نہایت احتیاط سے بہ اہتمام چھاپ کر مسلمانوں کے سامن فیصلوں سے پڑھا لکھا طبقہ اپنے دل کا اطمینان کرے ا کفر و ارتداد سے اپنے آپ کو بچائے۔ ناظم شعبہ ن

2265 بعدالت شیخ محمد اکبر ایڈیشنل ڈسٹ

سول اپیل ١٩٥٥ امۃ الکریم بنت کرم الہی راجپوت جنجوعہ سکنہ بنام لیفٹیننٹ نذیر الدین ملک خلف ماسٹر محمد دین

مفصل فیصلہ

مسمات امۃ الکریم دختر کرم الہی (بقول میاں ہے) کی شادی مسمی نذیر الدین میٹریکولیٹ (بقول

2137 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

٢٥ ستمبر ١٩٤٩ء کو ہوئی تھی اور دو ہزار روپیہ مہر مقرر ہوا تھا۔ یہ بیان کیا گیا کہ نکاح ایک حنفی مولوی نے پڑھایا تھا۔ بقول خواجہ احمد اقبال وکیل برائے اپیلانٹ مسٹر نذیر الدین ترکھان اور میٹریکولیٹ ہونے کے باوجود بڑا خوش قسمت تھا کہ اسے پاکستان آرمی میں کمیشن حاصل ہو گیا۔ اس نے یہ سوچا کہ آگے چل کر بڑے بڑے افسروں سے اس کا میل جول ہوگا اور ایک لوہار کی لڑکی کو بیوی کی حیثیت سے اپنے گھر میں رکھنا باعث تذلیل ہوگا اور افسران کی نظروں میں وہ سوشل نہیں سمجھا جائے گا۔ اس لئے اس نے ١٦؍ جولائی ١٩٥١ء کو اپنی منکوحہ بیوی امۃ الکریم کو باقاعدہ طور پر طلاق دے دی اور طلاق نامہ لکھ دیا۔ مسمات امۃ الکریم نے اس بناء پر مہر کی دو ہزار روپیہ کی رقم حاصل کرنے کے لئے اپنے پہلے خاوند لیفٹیننٹ نذیر الدین ملک کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا۔ اس کے علاوہ شادی کے موقعہ پر اس کے والد نے اسے جو جہیز دیا تھا اور جو اس کے سابقہ خاوند کے پاس تھا۔ اس کی ٢٤٠٣ روپے قیمت ادا کرنے کا مطالبہ کیا۔ یہ مفلسی (پاپر کیس) کا مقدمہ تھا۔

2256 شادی باطل تھی

لیفٹیننٹ نذیر الدین ملک پر مسمات امۃ الکریم نے بیشتر الزامات لگائے تھے۔ ان کی اس نے تردید کی اور جہیز کے متعلق کہا کہ وہ اس کے پاس نہیں تھا۔ اپیلانٹ نے جو اس کی قیمت بتائی ہے وہ صحیح نہیں۔ حق مہر کے دعوے کے متعلق کہا گیا کہ شادی قانونی طور پر باطل تھی اس لئے کہ یہ فریب سے ہوئی تھی۔ کیونکہ مدعیہ کے متعلق یہ ظاہر کیا گیا تھا کہ وہ حنفی فرقہ سے تعلق رکھتی ہے۔ حالانکہ وہ مرزا غلام احمد آف قادیان کی پیرو ہے اور اگر یہ فریب ثابت نہ بھی ہو تب بھی یہ شادی ایک مسلمان اور غیر مسلمان کے درمیان ہونے کی وجہ سے باطل ہے۔ بدیں وجہ یہ کہا گیا تھا کہ مدعیہ مہر کا کوئی مطالبہ نہیں کر سکتی۔ یہ ایک مسلمہ بات ہے کہ فریقین میں شادی کے بعد زن وشوہر کے تعلقات قائم رہے۔ ان تعلقات اور زن وشوئی کی تکمیل کی مظہر ایک بچی ہے جس کی عمر پانچ سال کے لگ بھگ ہے۔

احمدی عورت سے شادی ممکن ہے؟

امۃ الکریم نے مبینہ فریب سے صاف انکار کیا ہے اور ٹرائل کورٹ میں اس نے اقرار کیا تھا کہ وہ حنفی مسلمان ہے۔ اس کے والد کرم الہی نے بھی عدالت میں اقرار کیا تھا کہ وہ حنفی

صفحہ ٢١٣٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

مسلمان ہے۔ اس ضمن میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ ایک مسلمان کی ایک احمدی عورت سے شادی قطعی طور پر باطل نہیں۔ یہ زیادہ سے زیادہ فاسد ہو سکتی ہے۔ باطل شادی کا قانون کی نظر میں کوئی وجود نہیں۔ لیکن فاسد شادی کے ایسے واقعات ضرور ملتے ہیں۔ جس میں خاوند کو زوجیت کے فرائض کی تکمیل کرنے کی صورت میں مقررہ یا مناسب مہر (ڈاور) ادا کرنا پڑتا ہے۔

لیفٹیننٹ نذیر الدین نے یہ بھی کہا کہ مدعیہ جہیز سے دست بردار ہو گئی تھی۔ اس سلسلہ میں چند ایک عذرات پیش کئے گئے۔ فریقین کے ان بیانات پر ٹرائل کورٹ کے فاضل جج نے حسب ذیل تنقیحات وضع فرمائیں:

علیہ پر لازم نہیں کہ وہ مدعیہ کو مہر ادا کرے۔ (اے۔سی اے۔) مبینہ دھوکہ ثابت نہ ہونے پر کیا فریقین کے درمیان شادی باطل ہے اور مہر کے دعویٰ پر اس کا کیا اثر پڑتا ہے؟

”ماتحت عدالت کا فیصلہ“

سماعت کے بعد میاں محمد سلیم سینئر سول جج راولپنڈی نے ٢٥/مارچ ١٩٥٥ء کو اس مقدمہ کا فیصلہ سنا دیا تھا۔ اس فیصلہ میں علاوہ دیگر امور کے حسب ذیل قرار داد بیج ہوئیں:

میاں عطاء اللہ ایڈووکیٹ اور خواجہ احمد اقبال ایڈووکیٹ نے مسمات امۃ الکریم کی طرف سے اور مسٹر ظفر محمود نے لیفٹیننٹ نذیر الدین ملک کی طرف سے پیروی کی ہے۔ ان وکلاء میں سے کسی نے بھی میری عدالت میں متذکرہ نتائج کی صحت کے خلاف ایک لفظ تک نہیں کہا۔ ٹرائل کورٹ کے فیصلہ کی دیگر قرار دادیں حسب ذیل ہیں:

اس لئے جب اس کی شادی مدعا علیہ سے ہوئی تو اس وقت وہ غیر مسلم تھی۔ فریقین کی شادی قطعی

٢٦٠

صفحہ ٢١٣٩

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

طور پر باطل ہے۔ زوجیت کے فرائض کی تکمیل بھی اسے قانونی طور پر جائز قرار نہیں دے سکتی۔ (لہٰذا) مہر کا قرضہ قانونی طور پر واجب الوصول نہیں۔

2268 متذکرہ نتائج کی اساس پر میاں محمد سلیم نے مسماۃ امۃ الکریم کو اپنے سابق خاوند سے جہیز کے سامان کی ٢٢٠٣ روپے کی مالیت وصول کرنے کی ڈگری دے دی۔ لیکن مہر کا مقدمہ خارج کر دیا۔

متذکرہ فیصلہ اور ڈگری کے خلاف دو (٢) اپیلیں دائر کی گئیں۔ مسماۃ امۃ الکریم نے دو ہزار روپے حق مہر کی اپیل دائر کی۔ دوسرا عدالت نے جہیز کے سامان کی مالیت ادا کرنے کی جو ڈگری لیفٹیننٹ نذیر الدین کے خلاف دی تھی اس سے گلو خلاصی حاصل کرنے کے لئے اس نے بھی اپیل دائر کر دی۔ شہادتیں اور خاص طور پر مسماۃ امۃ الکریم کے خطوط ظاہر کرتے ہیں کہ شادی کے وقت وہ قادیانی تھی۔ میں ٹرائل کورٹ کے فیصلہ کی توثیق کرتے ہوئے اسے بحال رکھتا ہوں۔ ابتداء میں پیرایہ آغاز کے طور پر اپیلانٹ کے وکیل میاں عطاء اللہ نے مندرجہ ذیل سوالات اٹھائے تھے:

آخری نبی تھے اور یہ کہ ان کے بعد کوئی نبی نہیں بھیجا جائے گا۔

آخرالزمان ہونے پر یقین نہیں رکھتا وہ مسلمان نہیں۔

سوال نمبر 1 کے تحت (الف) ٹرائل کورٹ کے فاضل جج نے یہ قرار دیا ہے کہ مسلمانوں کا یہ بنیادی عقیدہ ہے کہ ہمارے پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ خدا کے آخری نبی تھے اور ان کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا۔ اس عقیدہ کی اساس ”خاتم النبیین“ کے وہ الفاظ ہیں جو پیغمبر اسلام ﷺ کے متعلق خدا تعالیٰ نے قرآن مجید میں استعمال کئے ہیں۔ لیکن قادیانی اس کو خَاتَمَ النَّبِیِّین پڑھتے ہیں اور اس کی تاویل، نبوت کی مہر لگانے والا کرتے ہیں۔ اس تاویل کے مطابق ان کے نزدیک خدا ہمارے پیغمبر اسلام ﷺ کے بعد بھی لاتعداد نبی بھیج سکتا ہے۔ اس کے پاس نبی کریم کی مہر ہوگی اور ان کے نزدیک مرزا غلام احمد بھی ایک ایسا نبی ہے جو خدا سے قرآن کریم سے مختلف کوئی ضابطہ نہیں 2269 لایا۔ جنہیں پہلے ضابطہ کی تشریح کرنے کے لئے خداوند تعالیٰ کے مزید پیغامات کے ساتھ بھیجا گیا تھا۔ اس قسم کا نبی ان کے نزدیک ظلی یا غیر تشریعی نبی ہے۔ یعنی تشریعی نبی سے مختلف یعنی اس نبی سے مختلف جس پر خداوند تعالیٰ سے براہ راست وحی اتری ہو۔

٢٦١

صفحہ ٢١٤٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے افضل ہونے کا دعویٰ

ٹرائل کورٹ نے مرزا غلام احمد کے ایک کتابچہ کا اقتباس پیش کیا ہے جس میں انہوں نے اپنے دعویٰ کی وضاحت کی ہے: ”اسی طرح اوائل میں میرا یہی عقیدہ تھا کہ مجھ کو مسیح ابن مریم سے کیا نسبت ہے۔ وہ نبی ہے اور خدا کے بزرگ مقربین میں سے ہے اور اگر کوئی امر میری فضیلت کی نسبت ظاہر ہوتا تو میں اس کو جزئی فضیلت قرار دیتا تھا۔ مگر بعد میں جو خدا تعالیٰ کی وحی بارش کی طرح میرے پر نازل ہوئی۔ اس نے مجھے اس عقیدہ پر قائم نہ رہنے دیا اور صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا۔“

(حقیقت الوحی ص ١٤٩، ١٥٠، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٣)

سب مسلمان کافر ہیں

اور یہ واضح کرنے کے لئے کہ مرزا غلام احمد کے معتقدین ان کے اس دعویٰ کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں، قادیانیوں کے دوسرے خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود احمد کے حسب ذیل الفاظ کا ظاہر کرنا بھی ضروری سمجھا گیا۔

”ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم غیر احمدیوں کو مسلمان نہ سمجھیں اور ان کے پیچھے نماز نہ پڑھیں ۔ کیونکہ ہمارے نزدیک وہ خدا تعالیٰ کے ایک نبی کے منکر ہیں۔“

(انوار خلافت ص ٩٠، طبع اکتوبر ١٩١٦ء، سٹیم پریس امرتسر)

مقدمہ کی سماعت کرنے والی عدالت نے یہ بھی کہا کہ نبوت کے بارہ میں قادیانیوں کا عقیدہ باقی مسلمانوں سے بنیادی طور پر مختلف ہے۔ مدعیہ کے فاضل وکیل نے اے آئی آر ١٩٣٣ء 2270 مدراس ٧١ عدالت میں پیش کیا تھا۔ جس میں یہ رائے ظاہر کی گئی تھی کہ قادیانی صرف مسلمانوں کے اندر ایک فرقہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ لیکن یہ رائے اس بناء پر قائم کی گئی تھی کہ مرزا غلام احمد کو نبوت کا دعویٰ کئے اتنا کم عرصہ گزرا تھا کہ یہ کہنا ممکن نہیں تھا کہ عام مسلمانوں کی غالب اکثریت قادیانیوں کو مسلمان سمجھنے کے خلاف تھی۔ عدالت ماتحت نے کہا ہے کہ بلاخوف تردید کہا جاسکتا ہے کہ مسلمانوں کے تقریباً ہر فرقہ کے علماء، سوائے احمدیوں کے کسی نہ کسی وقت اعلان کر چکے ہیں کہ قادیانی مسلمانوں کا ایک فرقہ نہیں ہیں بلکہ غیر مسلم ہیں۔ عدالت کی رائے کی مطابق یہ بات ”فسخ نکاح مرزائیاں“ نامی کتابچہ سے بھی ثابت ہوتی ہے جو ١٩٢٥ء میں دفتر اہل حدیث امرتسر سے شائع ہوا تھا اور جس میں اسلام کے مختلف فرقوں کے علماء کے فتوویٰ موجود ہیں۔

٢٦٢

صفحہ ٢١٤١

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

ایک اور فاضل جج کا فیصلہ

بہاول پور کے فاضل ڈسٹرکٹ جج نے مسماۃ عائشہ بنام عبدالرزاق کے مقدمہ میں ١٩٣٥ء میں جو مشہور فیصلہ کیا تھا اس سے بھی یہ بات زیادہ واضح طور پر سامنے آجاتی ہے۔ یہ فیصلہ کتاب کی شکل میں شائع ہوا تھا۔ اس میں متعدد علماء کے فتاویٰ اور دلائل کی بناء پر جو دونوں فریق نے پیش کئے تھے۔ مسلمانوں اور قادیانیوں کے مذہب میں فرق پر تفصیل سے بحث کی گئی تھی۔ عدالت نے اس سلسلہ میں یہ امر پیش نظر رکھنا بھی مناسب سمجھا کہ حال ہی میں قادیانیوں کے خلاف ملک گیر پیمانہ پر جو تحریک چل رہی تھی اس کے دوران احمدیوں کے سوا باقی ہر خیال کے مسلمان علماء کی ایک کانفرنس ہوئی تھی جس میں اتفاق رائے سے اعلان کیا تھا کہ قادیانی مسلمہ معنوں میں مسلمان نہیں ہیں۔ بلکہ ایک مختلف مذہب کے پیرو ہیں۔ چنانچہ اب اس مرحلہ پر یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ مسلمانوں کی غالب اکثریت کی رائے یہ ہے کہ قادیانی غیر مسلم ہیں۔

کیا قادیانی اہل کتاب ہیں؟

مدعیہ کے فاضل وکیل نے ایک اور دلیل پیش کی ہے کہ قادیانی کم از کم قرآن کریم پر ایمان رکھتے ہیں۔ اس لئے ان کا شمار اہل کتاب یا قرآن کریم کے ماننے والوں میں ہوسکتا ہے اور

2271

چونکہ شرع محمدی کی رو سے مسلمانوں اور اہل کتاب کا نکاح باطل نہیں بلکہ فاسد یعنی غیر پسندیدہ ہوتا ہے۔ اس لئے یہ نکاح قانونی تھا۔ لہٰذا مہر جائز قرار دینا چاہئے۔

عدالت نے کہا محمدن لاء کے اس اصول پر مدعاعلیہ کے وکیل کو کوئی اعتراض نہ تھا۔ لیکن ان کی رائے میں قادیانیوں کو ”اہل کتاب“ میں بھی شمار نہیں کیا جاسکتا۔ دونوں فریق کے وکلاء اس پر متفق تھے کہ ”اہل کتاب“ کی کوئی واضح تعریف کہیں موجود نہیں ہے۔ اس لفظ کے لغوی معنی یہ معلوم ہوتے ہیں ”الہامی کتاب پر ایمان لانے والے۔“

مدعیہ کی طرف سے اعلان کیا گیا تھا کہ قادیانی قرآن کریم پر ایمان رکھتے ہیں۔ اس لئے وہ ”اہل کتاب“ ہیں۔ لیکن یہ مان لینے کے بعد قادیانیوں کو غیر مسلم کہنے کا سرے سے کوئی جواز ہی باقی نہیں رہتا۔ کیونکہ اگر یہ مان لیا جائے کہ قرآن کریم پر قادیانیوں کا ایمان ہے تو انہیں غیر مسلم کہنے کی کوئی وجہ باقی نہیں رہے گی۔

عدالت نے کہا کہ یہ استدلال مجھے پسند نہیں آیا۔ کیونکہ درحقیقت قادیانیوں کو دائرہ اسلام سے خارج سمجھنے کی وجہ ہی یہ ہے کہ قرآن شریف کے وہ مطلب تسلیم نہیں کرتے جس پر

٢٦٣

صفحہ ٢١٤٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

سارے مسلمانوں کا ایمان ہے۔ بلکہ اپنا مطلب پورا کرنے کے لئے انہوں نے قرآن کریم کی آیات توڑ موڑ کر انہیں نئے معنی پہنا دیئے ہیں۔ قادیانی قرآن کریم کو اس صورت میں تسلیم نہیں کرتے جس صورت میں وہ تیرہ سو سال سے قائم ہے اور اسے اس صورت میں تسلیم نہیں کرتے جس صورت میں نبی کریم ﷺ نے پیش کیا تھا۔ بلکہ مرزا غلام احمد نے جس طرح پیش کیا اسے وہ مانتے ہیں۔ یہ صحیح ہے کہ عیسائیوں نے بھی اپنی الہامی کتاب (انجیل) میں بے جا تبدیلیاں کی ہیں اور اس کے باوجود انہیں اہل کتاب تصور کیا جاتا ہے۔ لیکن اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلمان حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا کا نبی مانتے ہیں۔ اس لئے ان کے پیروکاروں کو (اہل کتاب) سمجھتے ہیں۔ درآنحالیکہ انہوں نے الہامی کتاب میں مسلمانوں کے عقیدہ کے مطابق تبدیلیاں کی ہیں۔

2272 مرزا غلام احمد جھوٹا نبی ہے

عدالت کی رائے میں قادیانیوں کا مسئلہ اس سے بالکل مختلف ہے۔ کیونکہ مسلمان مرزا غلام احمد کو کسی صورت میں بھی نبی تسلیم نہیں کرتے۔ بلکہ نبوت کا جھوٹا دعویدار سمجھتے ہیں۔ نبوت کے ایسے جھوٹے دعویدار کے پیروؤں کو کسی حالت میں بھی اہل کتاب نہیں مانا جاسکتا۔ جب کہ وہ قرآن کریم کو انہی معنوں میں تسلیم نہ کرتے ہوں جن معنوں میں عامۃ المسلمین تسلیم کرتے ہیں۔ جیسا کہ خود قرآن کریم کی ابتدائی آیات میں کہا گیا ہے کہ یہ کتاب ان کی ہدایت کے لئے ہے جو اس پر ایمان رکھتے ہیں جو ہمارے نبی پر نازل کیا گیا اور اس پر ایمان رکھتے ہیں جو ان سے پہلے آنے والے نبیوں پر نازل کیا گیا۔ جیسا کہ اس آیت سے واضح ہوتا ہے: ”والذین یؤمنون بما انزل الیک وما انزل من قبلک (بقرہ: ٤)“ عدالت کی رائے میں یہ کتاب ان کے لئے وجہ ہدایت نہیں بن سکتی جو ہمارے نبی کریم ﷺ کی رحلت کے بعد کے کسی الہام پر ایمان لے آئیں۔ قادیانی مرزا کے مبینہ الہامات پر ایمان رکھتے ہیں۔ عدالت کی یہ رائے اس لئے ہے کہ مدعی کے فاضل وکیل کی دلیل بے معنی ہے۔ قادیانیوں کو اہل کتاب بھی نہیں کہا جاسکتا۔ لہٰذا مدعیہ مدعا علیہ سے شادی کے وقت غیر مسلم تھی۔ دونوں کا نکاح بالکل باطل تھا اور اس لئے خلوت بھی اسے جائز نہیں بنا سکتی اور مہر قانونی طور پر واجب الاداء قرار نہیں دیا جاسکتا۔

٢٦٤

صفحہ ٢١٤٣

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

مرزا صاحب کا مامور من اللہ ہونے کا دعویٰ

احمدیوں کا لاہوری فرقہ مرزا صاحب کو نبی نہیں مانتا بلکہ صرف مجدد مانتا ہے۔ اس مقدمہ میں تصفیہ طلب نتائج دور رس نتائج کے حامل اور روزمرہ پیش آنے والے ہیں۔ اس سلسلہ میں ہماری عدالت عالیہ یعنی لاہور ہائیکورٹ کی طرف سے کوئی نظیر نہیں پیش ہوئی۔ فسادات کی تحقیقاتی رپورٹ سے (جسے مدعیہ کے فاضل وکیل میاں عطاء اللہ نے پیش کیا) پتہ چلتا ہے کہ مرزا غلام احمد ضلع گورداسپور کے ایک دیہات ”قادیان“ کے رہنے والے تھے۔ انہوں نے 2273 فارسی اور عربی گھر پر پڑھی۔ لیکن بظاہر انہوں نے کسی قسم کی مغربی تعلیم حاصل نہیں کی۔ ١٨٦٤ء میں انہیں سیالکوٹ کی ضلع کچہری میں کلرک کی نوکری مل گئی۔ جہاں وہ چار سال کام کرتے رہے۔ مارچ ١٨٨٢ء میں مرزا غلام احمد نے اس الہام کا دعویٰ کیا کہ خدا نے ایک خاص کام ان کے سپرد کیا۔ بالفاظ دیگر انہوں نے ”مامور من اللہ“ ہونے کا دعویٰ کیا۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کا انکار

١٨٨٨ء میں ایک اور الہام کے تحت انہوں نے اپنے معتقدین سے بیعت کا مطالبہ کیا۔ ١٨٩٠ء کے اواخر میں مرزا غلام احمد کو پھر الہام ہوا کہ ”عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام صلیب پر فوت نہیں ہوئے نہ انہیں آسمان پر اٹھایا گیا۔ بلکہ ان کے شاگرد انہیں زخمی حالت میں صلیب سے اتار لے گئے اور ان کی تیمارداری کی۔ یہاں تک کہ ان کے زخم اچھے ہو گئے۔ پھر وہ بھاگ کر کشمیر چلے گئے جہاں وہ طبعی موت مرے۔“

مثیل عیسیٰ ہونے کا دعویٰ

نیز یہ کہ یہ عقیدہ غلط ہے کہ قیامت کے قریب وہ اپنی اصلی شکل میں دوبارہ ظاہر ہوں گے اور ان کے دوبارہ ظہور کا مطلب صرف یہ تھا کہ عیسیٰ ابن مریم کی صفات کا حامل دوسرا شخص پیغمبر اسلام کی امت میں ظاہر ہوگا اور یہ وعدہ مرزا صاحب کی ذات میں پورا ہو چکا ہے جو مثیل عیسیٰ ہیں اور اس لئے وہ ”مسیح“ ہیں جس کا وعدہ کیا گیا تھا۔

مسلمانوں میں اضطراب

اس عقیدہ کی اشاعت سے مسلمان بہت مضطرب ہوئے۔ کیونکہ یہ عقیدہ اس عام عقیدہ کے بالکل خلاف تھا کہ عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) اپنی اصلی شکل میں آسمان سے اتریں

٢٦٥

صفحہ ٢١٤٤

2144 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

گے اور مسلمان علماء نے اس کی شدید مخالفت کی۔

2274 دعویٰ مہدویت

کچھ عرصہ بعد مرزا صاحب نے مہدی ہونے کا دعویٰ بھی کیا...... وہ مہدی نہیں جس نے خونریزی کر کے فتوحات حاصل کرنی تھیں۔ بلکہ معقولیت پسند مہدی جس نے اپنے مخالفوں کو دلائل سے قائل کرنا تھا۔

جہاد حرام ہے

١٩٠٠ء میں انہوں نے ایک اور نیا نظریہ پیش کیا کہ آئندہ سے ”جہاد بالسیف“ نہیں ہو گا بلکہ مخالف کو دلائل سے مطمئن کرنے کی کوشش تک جہاد محدود ہوگا۔

ظلی نبی ہونے کا دعویٰ

١٩٠١ء میں مرزا غلام احمد نے ظلی نبی ہونے کا دعویٰ کیا اور ایک اشتہار ”ایک غلطی کا ازالہ“ کے ذریعہ یہ تشریح کی کہ ختم نبوت کے اصول کا مقصد یہ ہے کہ پیغمبر اسلام کی رحلت کے بعد کوئی نبی نئی شریعت لے کر نہیں آئے گا۔ لیکن شرع کے بغیر کسی نئے پیغمبر کا ظہور ختم نبوت کے اصول کے خلاف نہیں ہے۔

مثیل کرشن ہونے کا دعویٰ

نومبر ١٩٠٤ء میں سیالکوٹ کے جلسہ میں تقریر کرتے ہوئے مرزا غلام احمد نے مثیل کرشن ہونے کا دعویٰ کیا۔

مسلمانوں سے الگ مردم شماری

١٩٠١ء میں جماعت احمدیہ قائم ہوئی اور خود مرزا صاحب کی درخواست پر اس سال مردم شماری کے کاغذات میں انہیں مسلمانوں کا ایک الگ فرقہ دکھایا گیا۔

(رپورٹ تحقیقاتی عدالت ص ٢٠٨)

2275 مرزا غلام احمد کے پیروؤں کے ان عجیب و غریب عقائد و خیالات نے مسلمانوں اور قادیانیوں کے درمیان شدید مذہبی اختلافات پیدا کر دیئے۔ فاضل ججز نے مزید لکھا ہے:

(ص ١٩٦، ١٩٧)

٢٦٦

صفحہ ٢١٤٥

2145 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

احمدیہ فرقہ کے بانی مرزاغلام احمد کے نبی ہونے کے دعویٰ نے امت میں اضطراب پیدا کر دیا اور مسلمانوں کے خیال کے مطابق اس دعویٰ نے انہیں اسلام کے دائرے سے بالکل خارج کر دیا۔ ایک حدیث میں جسے عام طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ خدا نے انسانوں کی ہدایت کے لئے جو نبی بھیجے ہیں ان کی تعداد ایک لاکھ چوبیس ہزار ہے۔

حضرت محمد رسول اللہ ﷺ آخری نبی ہیں

مسلمان پیغمبر اسلام ﷺ کو انبیاء کے اس سلسلہ کا آخری نبی مانتے ہیں۔ قرآن اور انجیل میں ان میں سے بعض نبیوں کے اسماء بھی بتائے گئے ہیں۔ قرآن کریم کی حسب ذیل آیات سے یہ استنباط ہوتا ہے کہ نبی کریم کی وفات کے بعد نبوت ختم ہو گئی اور اب کوئی نیا نبی نہیں آئے گا۔

سب کچھ جانتا ہے۔“

(سورۃ ٣٣، آیت ٤٠)

تمہارے پاس ایک رسول آتا ہے جو اس کی بھی تصدیق کرتا ہے جو تمہارے پاس ہے۔ کیا تم اس پر ایمان لاؤ گے اور اس کی مدد کرو گے۔ خدا نے کہا کیا تم راضی ہو اور اس معاہدے کی پابندی کرو گے۔ انہوں نے کہا ہم راضی ہیں۔ اس نے کہا گواہ رہنا اور ہم بھی گواہوں میں شامل ہیں۔“

(سورۃ ٣، آیت ٨١)

امیدیں ختم کر دیں۔ ان سے خوف نہ کرو۔ بلکہ میرا خوف کرو۔ آج کے دن ہم نے تمہارا دین تمہارے لئے مکمل کر دیا اور اپنی نعمتیں تم پر تمام کر دیں اور تمہارے لئے مذہب کے طور پر اسلام کو پسند کیا۔“

(سورۃ ٥، آیت ٣)

2276اس کے علاوہ متعدد احادیث اور متذکرہ بالا آیات کی معیاری تفاسیر میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پیغمبر اسلام کے بعد کوئی نیا نبی نہیں آئے گا۔

لیفٹیننٹ نذیر الدین کے فاضل وکیل شیخ ظفر محمود نے اس سلسلہ میں رسالہ ”طلوع اسلام“ جولائی ١٩٥٢ء رسالہ ”فسخ نکاح مرزائیاں“ رسالہ ”ترجمان القرآن“ نومبر ١٩٥٣ء مسماۃ عائشہ بنام عبدالرزاق کے مقدمہ میں بہاول پور کے فاضل ڈسٹرکٹ جج ”منشی محمد اکبر کا فیصلہ“ اور مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کی کتاب ”قادیانی مسئلہ“ پیش کیا۔

٢٦٧

OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

گے اور مسلمان علماء نے اس کی شدید مخالفت کی 2274

کچھ عرصہ بعد مرزا صاحب نے نے خونریزی کر کے فتوحات حاصل کرنی تھیں دلائل سے قائل کرنا تھا۔

جہاد

١٩٠٠ء میں انہوں نے ایک اور ہوگا بلکہ مخالف کو دلائل سے مطمئن کرنے کی ک

ظلی نبی

١٩٠١ء میں مرزا غلام احمد نے ظلی ازالہ“ کے ذریعہ یہ تشریح کی کہ ختم نبوت کے کوئی نبی نئی شریعت لے کر نہیں آئے گا۔ ل اصول کے خلاف نہیں ہے۔

مثیل کرش

نومبر ١٩٠٤ء میں سیالکوٹ کے کرشن ہونے کا دعویٰ کیا۔

مسلمانوں پ

١٩٠١ء میں جماعت احمدیہ قائم مردم شماری کے کاغذات میں انہیں مسلمانو

2275مرزا غلام احمد کے پیروؤں اور قادیانیوں کے درمیان شدید مذہبی اختلا

صفحہ ٢١٤٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

(مدعیہ کے وکیل) میاں عطاء اللہ نے ”طلوع اسلام“ جولائی ١٩٥٢ء ”ختم نبوت کی حقیقت“ از مرزا بشیر احمد ایم۔اے (مرزا غلام احمد کے خلیفہ ثانی مرزا بشیر الدین محمود احمد کے چھوٹے بھائی) نیز احمدی فرقہ کے بانی کی لکھی ہوئی کتاب ”الحق“ المعروف بہ ”مباحثہ لدھیانہ“ ان کی ایک اور تصنیف ”حقیقت الوحی“ ١٩٥٣ء کے فسادات پنجاب کی تحقیقاتی رپورٹ، ابوالاعلیٰ مودودی کی ”قادیانی مسئلہ“ کا قادیانیوں کی طرف سے جواب، ”تحقیقاتی عدالت میں مرزا بشیر الدین محمود کا بیان“ اور ”مقدمہ بہاول پور“ از جلال الدین شمس ”تصدیق احمدیت“ از بشارت احمد وکیل حیدر آباد دکن۔ ”حقیقت الوحی“ چوتھا ایڈیشن ١٩٥٠ء ”تحقیقاتی عدالت کی رپورٹ پر ایک نظر“ از جلال الدین شمس صدر انجمن احمدیہ پاکستان کے تفصیلی حوالے دیئے ہیں۔ انہوں نے خاص طور پر قادیانیوں کے اس عقیدہ کی طرف توجہ دلائی جسے احمدیہ جماعت کے فاضل وکیل مسٹر عبدالرحمان خادم نے تحقیقاتی عدالت کے فاضل ججوں کے سامنے پیش کیا تھا اور جس کے لئے انہوں نے حسب ذیل آیات قرآنی سے استنباط کیا تھا۔

ہوں گے جن پر اللہ نے انعام فرمایا ہے۔ یعنی ”انبیاء“، ”صدیقین“، ”شہداء“ اور ”صلحاء“ اور یہ حضرات اچھے رفیق ہیں۔“

(سورہ ٤، آیت ٦٩)

نزدیک صدیق اور شہید ہیں۔ ان کے لئے ان کا اجر اور ان کا نور ہوگا اور جو لوگ کافر ہوئے اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہی لوگ جہنمی ہیں۔“

(سورہ ٥٧، آیت ١٩)

سنائیں پھر جو شخص ڈر گیا اور اصلاح کر لی، ایسوں پر کوئی خوف نہ ہوگا اور نہ وہ غم کھائیں گے اور جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور ان سے تکبر کیا وہی دوزخی ہیں۔

(سورہ ٧، آیت ٣٥، ٣٦)

اس سے میں باخبر ہوں۔

(سورہ ٢٣، آیت ٥١)

مندرجہ بالا آیات قرآنی پیش کر کے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ آئندہ بھی نبی کریم ﷺ کے بعد بعض ایسے لوگ ہوں گے جن پر نبی اور رسول کے لفظ کا اطلاق ہو سکے اور اس دلیل کو مزید تقویت پہنچانے کے لئے بعض احادیث اور ایسے محدثین اور علماء کے حوالے بھی دیئے گئے جن کی مذہبی حیثیت عام طور پر مسلمہ ہے۔ اگرچہ اس کی تردید نہیں کی گئی کہ مرزا غلام احمد نے

٢٦٨

صفحہ ٢١٤٧

2147 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

اپنے لئے نبی کا لفظ استعمال کیا۔ لیکن یہ کہا گیا ہے کہ انہوں نے یہ لفظ ایک خاص معنی میں استعمال کئے۔ وہ عام معنوں میں نبی نہیں تھے۔ یعنی ایسے نبی جو خدا کے سابقہ پیغام کو منسوخ کرنے یا اس میں ترمیم یا تبدیلی کرنے کا حق یا اضافہ کرنے کے لئے خدا کی طرف سے کوئی خاص پیغام لے کر آئے ہوں ان کا دعویٰ نبوت تشریعی کا نہیں تھا بلکہ ظلی یا بروزی نبوت کا تھا۔

مسلمانوں کی طرف سے جواب

دوسری طرف سے کہا گیا ہے کہ ظل یا بروز کا تصور جس کا ترجمہ ”اوتار“ کیا جاسکتا ہے۔ اسلام کے لئے قابل قبول نہیں ہے اور جو شخص یہ دعویٰ کرے کہ اس پر نبوت کی وحی آتی ہے ایک نئی امت قائم کرتا ہے۔ وہ خود بخود اسلام کے دائرے سے خارج ہو جاتا ہے۔ مرزا غلام احمد، 2278 احمدیہ جماعت کے موجودہ سربراہ اور اس جماعت کے نمائندہ مصنفین کی تحریروں سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ مرزا غلام احمد نے اپنے اوپر اس طرح کی وحی یا الہام آنے کا دعویٰ کیا ہے جو خدا نے اب تک صرف انبیاء کے لئے مخصوص رکھا تھا۔ لہٰذا اب سوال صرف یہ رہ جاتا ہے کہ آیا مرزا غلام احمد نے کبھی یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ ان پر ایسی وحی آئی تھی جسے وحی نبوت کہا جا سکتا ہو۔ اب سے پہلے جب بھی کوئی نبی آئے تو انہوں نے اس قوم سے جہاں وہ ظاہر ہوئے ایک مطالبہ کیا: ”ہمارے نبی نے سارے عالم انسانیت سے مطالبہ کیا کہ ان کے دعویٰ کو جانچے اور ان پر ایمان لائے۔“ اور جس نے نبوت سے انکار کیا یا اس میں شک کا اظہار کیا وہ نقصان کا سزاوار ٹھہرتا ہے۔ لہٰذا قوم کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ وہ نبوت کے دعویٰ کو منظور کرے یا اس سے انکار کردے۔

ایک اور مسیلمہ کذاب

دعویٰ کی منظوری ایک نئے مذہبی فرقہ کے قیام کا باعث بنتی ہے جسے پہلا فرقہ اپنی جماعت سے خارج تصور کرتا ہے۔ نیا فرقہ یہ سمجھتا ہے کہ جو لوگ نئے نبی پر ایمان نہیں لائے وہ ان کے فرقہ سے خارج ہیں۔ مرزا غلام احمد نے عوام کی طرف اپنا ہاتھ اس ہدایت کے ساتھ بڑھایا کہ اسے قبول بھی کر لیا جائے۔ نبی ہونے کے متعلق مرزا غلام احمد کے دعویٰ کو مسلمان مسیلمہ کذاب کی دوسری مثال سمجھتے ہیں۔

شریعت سے ایک انچ ہٹنے والا ”ملعون“ ہے

مرزا غلام احمد نے اپنی ابتدائی تحریروں میں یہ بات بہت وضاحت کے ساتھ لکھی تھی

٢٦٩

OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

(مدعیہ کے وکیل) میاں عطاء ا حقیقت‘ از مرزا بشیر احمد ایم اے۔ (مرزا غلام بھائی) نیز احمدی فرقہ کے بانی کی لکھی ہوئی ایک اور تصنیف ”حقیقت الوحی“ 1953ء ا مودودی کی ”قادیانی مسئلہ“ کا قادیانہ مرزا بشیر الدین محمود کا بیان‘ اور ’مقدمہ بہا بشارت احمد وکیل حیدر آباد دکن۔ ”حقیقت رپورٹ پر ایک نظر‘ از جلال الدین شمس صد انہوں نے خاص طور پر قادیانیوں کے اس عق وکیل مسٹر عبد الرحمان خادم نے تحقیقاتی عدالت لئے انہوں نے حسب ذیل آیات قرآنی سے

ہوں گے جن پر اللہ نے انعام فرمایا ہے۔ یعن حضرات اچھے رفیق ہیں۔“

نزدیک صدیق اور شہید ہیں۔ ان کے لئے ا ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہی لوگ جہنمی ہیں۔“

سنائیں پھر جو شخص ڈر گیا اور اصلاح کر لی، ا جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور ان سے

اس سے میں باخبر ہوں۔

مندرجہ بالا آیات قرآنی پیش کر نبی کریم ﷺ کے بعد بعض ایسے لوگ ہوں گے دلیل کو مزید تقویت پہنچانے کے لئے بعض ا گئے جن کی مذہبی حیثیت عام طور پر مسلمہ ہے

صفحہ ٢١٤٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

کہ مسلمان ہونے کے لئے اسلام کے بنیادی ارکان پر ایمان ضروری ہے۔ احمدیہ فرقہ کے بانی نے اپنی کتاب (ایام صلح ص ٨٧، خزائن ج ١٤ ص ٣٢٣) میں خود لکھا ہے کہ: 2279 ”وہ امور جو اہل سنت کی اجماعی رائے سے اسلام کہلاتے ہیں۔ ان سب کا ماننا فرض ہے۔“

ایک اور کتاب (انجام آتھم ص ١٤٤، خزائن ج ١١ ص ایضاً) میں انہوں نے یہی لکھا ہے کہ: ”جو شخص شریعت سے ایک انچ بھی ہٹتا ہے اور ان اصولوں کو ماننے سے انکار کرتا ہے جن پر امت کا اجماع ہے خدا اور اس کے فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت کا سزاوار ہے اور یہ کہ ان کا پختہ عقیدہ ہے۔“

اور اپنی کتاب (ازالۃ اوہام ص ٥٥٦، خزائن ج ٣ ص ٣٩٩) میں انہوں نے لکھا ہے: ”تواتر ایک ایسی چیز ہے کہ اگر غیر قوموں کی تواریخ کی رو سے بھی پایا جائے تو تب بھی ہمیں قبول کرنا ہی پڑتا ہے۔“

نبوت مرزا کی نوعیت

بعد میں مرزا غلام احمد نے خود اپنی نبوت کا دعویٰ کر دیا اور خود ان کی اپنی اور ان کے جانشینوں اور پیروکاروں کی تحریروں، اعلانات اور بیانات کے مطابق ان کی نبوت کی نوعیت کچھ حسب ذیل قسم کی ہے:۔

مصداق ہے۔ ھو الذی ارسل رسولہ بالھدیٰ ودین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ ١“

(اعجاز احمدی ص ٧، خزائن ج ١٩ ص ١١٣)

”نبی کے حقیقی معنوں پر غور نہیں کی گئی۔ نبی کے معنی صرف یہ ہیں کہ خدا سے بذریعہ وحی خبر پانے والا ہو اور شرف مکالمہ اور مخاطبہ الٰہیہ سے مشرف ہو۔ شریعت کا لانا اس کے لئے ضروری نہیں اور نہ یہ ضروری ہے کہ صاحب شریعت رسول کا متبع نہ ہو ...... اس امت کو آنحضرت ﷺ کے بعد قیامت تک مکالمات الٰہیہ سے بے نصیب قرار دیا جائے۔ وہ دین، دین نہیں ہے اور نہ وہ نبی نبی ہے۔ جس کی متابعت سے انسان خدا تعالیٰ سے اس قدر نزدیک نہیں ہو سکتا ...... وہ دین لعنتی اور قابل نفرت ہے جو یہ سکھلاتا ہے کہ صرف چند منقولی باتوں پر انسانی ترقیات کا انحصار ہے اور وحی الٰہی

١۔ حقیقت النبوۃ کے ضمیمہ ص ٢٦١ میں انہوں نے اپنے ایک الہام کے متعلق دعویٰ کیا ہے کہ خدا نے مجھے محمد اور رسول کہہ کر خطاب کیا ہے۔

٢٧٠

صفحہ ٢١٤٩

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

آگے نہیں بلکہ پیچھے رہ گئی ......سوایسا دین بنسبت اس کے کہ اس کو رحمانی کہیں شیطانی کہلانے کا زیادہ مستحق ہوتا ہے۔“

جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔“

اوائل میں میرا یہی عقیدہ تھا کہ مجھ کو مسیح ابن مریم سے کیا نسبت ہے وہ نبی ہے اور خدا کے بزرگ مقربین میں سے ہے اور اگر کوئی امر میری فضیلت کی نسبت ظاہر ہوتا تو میں اس کو جزئی فضیلت قرار دیتا تھا۔ مگر بعد میں جو خدا تعالیٰ کی وحی بارش کی طرح میرے پر نازل ہوئی اس نے مجھے اس عقیدہ پر قائم نہ رہنے دیا اور صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا۔“

(ازالہ اوہام طبع اوّل ص ٦٧٣، خزائن ج ٣ ص ٤٦٣)

نیز انہوں نے اسی کتاب کے (ص ٦٦٥ ، خزائن ج ٣ ص ٤٥٩) پر اپنے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔

انبیاء سے برتر ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔

منصب کا دعویٰ کیا ہے۔

کرشن ہوں۔

(لیکچر سیالکوٹ ص ٣٣، خزائن ج ٢٠ ص ٢٢٨)

ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔

ہوں۔ لیکن تمہارا حسین دشمنوں کا کشتہ ہے۔“

کے گھر والوں کے متعلق سخت ہرزہ گوئی کی ہے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ : ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی

٢٧١

LY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

کہ مسلمان ہونے کے لئے اسلام کے بنیادی ا نے اپنی کتاب (ایام صلح ص ٨٧، خزائن ج ١٤ ص ٤٢ کی اجماعی رائے سے اسلام کہلاتے ہیں۔ ان س ایک اور کتاب (انجام آتھم ص ٤٤، خزا شخص شریعت سے ایک انچ بھی ہٹتا ہے اور ان اصو ہے خدا اور اس کے فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعن اور اپنی کتاب (ازالہ اوہام ص ٥٥٦، خزا ایک ایسی چیز ہے کہ اگر غیر قوموں کی تواریخ کے پڑتا ہے۔“

نبوت مرز

بعد میں مرزاغلام احمد نے خود اپنی نب جانشینوں اور پیروکاروں کی تحریروں، اعلانات او حسب ذیل قسم کی ہے:۔

مصداق ہے۔ ھوالذی ارسل رسولہ بالھدی

”نبی کے حقیقی معنوں پر غور نہیں کی گئی۔ نبی کے والا ہو اور شرف مکالمہ اور مخاطبہ الٰہیہ سے مشرف ہ یہ ضروری ہے کہ صاحب شریعت رسول کا متبع نہ ہ تک مکالمات الٰہیہ سے بے نصیب قرار دیا جا جس کی متابعت سے انسان خدا تعالیٰ سے اس ق نفرت ہے جو یہ سکھلاتا ہے کہ صرف چند منقولی

١؎ حقیقت النبوۃ کے ضمیمہ ص ٢٦١ می ہے کہ خدا نے مجھے محمد اور رسول کہہ کر خطاب کیا۔ ا

صفحہ ٢١٥٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

تین نانیاں اور دادیاں زانی عورتیں تھیں۔ وہ خود جھوٹ بولتے تھے اور مسمریزم ١؎ اور فریب کے سوا ان کے پاس کچھ نہ تھا۔‘‘

نبوت کا دعویٰ کیا کہ وہ نبی ہیں اور اس امت میں نبی کا لفظ صرف ان کے لئے مخصوص کیا گیا ہے۔

نہیں بولتے۔‘‘ اور انہوں نے (حقیقۃ الوحی ص ٨٢، خزائن ج ٢٢ ص ٨٥) میں لکھا کہ: ’’خدا نے ان سے کہا ہے کہ انہیں رحمت للعالمین بنا کر دنیا میں بھیجا ہے۔‘‘ نیز (حقیقۃ الوحی ص ١٠٧، خزائن ج ٢٢ ص ١١٠) میں لکھا ہے کہ: ’’خدا نے کسی دوسرے انسان کو وہ اعزاز نہیں دیا تھا جو ان کو دیا گیا ہے اور یہ کہ وہ خدا کے رسول ہیں۔‘‘ اور نیز انہوں نے (انجام آتھم ص ٥٨، خزائن ج ١١ ص ٥٨، حقیقۃ الوحی ص ١٠٢، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٥) پر دعویٰ کیا کہ خدا نے انہیں کوثر دیا ہے۔ اور نیز (آئینہ کمالات اسلام ص ٥٦٤، ٥٦٥، خزائن ج ٥ ص ایضاً) پر وہ اپنے بزرگ اور برتر ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ خود خدا ہیں اور یہ کہ انہوں نے زمین اور آسمان پیدا کئے ہیں۔

اسی سبب سے اپنی کتاب (حقیقۃ الوحی ص ١٦٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٦٧) میں وہ اعلان کرتے ہیں کہ جو شخص اس پر ایمان نہیں لاتا وہ کافر ہے۔ اور (فتاویٰ احمدیہ ج ١ ص ١٨) پر انہوں نے اپنے پیروؤں کو ایسے شخص کے پیچھے نماز پڑھنے سے روکا ہے جو ان پر ایمان نہیں رکھتا۔ اور نیز انہوں نے (البشریٰ ص ٤٩) پر ایک الہام بیان کیا ہے کہ خدا نے انہیں اپنا بیٹا کہہ کر پکارا ہے۔ اور (حقیقۃ الوحی ص ٩٩، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٢) میں انہوں نے لکھا ہے کہ خدا نے ان سے کہا ہے کہ اگر وہ مرزا غلام احمد کو پیدا نہ کرتا تو اس نے کائنات ہی نہ پیدا کی ہوتی۔ مرزا غلام احمد کے ان بیانات کی بناء پر ١٩٢٥ء میں تمام فرقوں کے علماء سے فتویٰ حاصل کیا گیا۔

2282

اس دعویٰ کی کہ وہ نبی ہے مسلسل اشاعت کرتے رہے ہیں۔ چنانچہ (حقیقۃ النبوۃ ص ٢٢٨) پر انہوں نے لکھا ہے کہ: ’’یہ بات بالکل روز روشن کی طرح ثابت ہوگئی کہ پیغمبر اسلام کے بعد بھی نبوت کا دروازہ کھلا ہے۔‘‘

اور (انوار خلافت ص ٦٢) میں انہوں نے لکھا ہے کہ: ’’مسلمانوں نے یہ غلط سمجھ رکھا ہے

١؎ مسمریزم کے متعلق (ازالہ اوہام ص ٣١٤، خزائن ج ٣ ص ٢٥٩ حاشیہ) ناشر! ٢؎ جسے فسخ نکاح مرزائیاں کے نام سے دفتر اہل حدیث امرتسر سے شائع کیا گیا۔ ناشر!

٢٧٢

صفحہ ٢١٥١

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

کہ خدا کا خزانہ خالی ہو گیا ہے۔ مسلمانوں کو خدا کی قدرت کا احساس نہیں۔ ورنہ ایک نبی تو الگ رہا میں کہتا ہوں کہ ہزاروں نبی آ سکتے ہیں۔‘‘

نیز (انوار خلافت ص ٦٥) پر احمدیہ فرقہ کے موجودہ سربراہ نے لکھا ہے کہ: ”اگر میری گردن پر دونوں طرف تلوار رکھ دی جائے اور مجھ سے یہ کہنے کو کہا جائے کہ پیغمبر اسلام کے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا تو میں (مرزا بشیر الدین محمود) کہوں گا کہ ایسا شخص جھوٹا ہے۔ یہ کہ پیغمبر اسلام کے بعد نبی آ سکتے ہیں اور ضرور آ سکتے ہیں۔‘‘

اس طرح مرزا غلام احمد نے نئے نبیوں کے ظہور کے لئے دروازہ کھول دیا اور قادیانیوں نے مرزا غلام احمد کو سچا نبی مان لیا۔ اس سلسلہ میں حسب ذیل مثالیں دی جاتی ہیں۔

ادعائے نبوت کے حوالے

”ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم نبی و رسول ہیں۔‘‘

صحیح معنوں میں نبی ہیں اور شریعت کے مطابق وہ مجازی نبی نہیں ہیں بلکہ حقیقی نبی ہیں۔‘‘

نبوت کے ایسے اعلان کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جو بھی مدعی کی اس حیثیت کو ماننے سے انکار کرے کافر ہو جاتا ہے۔ چنانچہ قادیانی تمام ایسے مسلمانوں کو کافر سمجھتے ہیں جو مرزا غلام احمد کی حقیقی نبوت پر ایمان نہیں رکھتے۔ اس ضمن میں حسب ذیل مثالیں درج ہیں۔

نہ سنا ہو، کافر ہے اور اسلام کے دائرہ سے خارج ہیں۔‘‘ (آئینہ صداقت از مرزا بشیر الدین محمود ص ٣٥)

نہیں مانتا اور محمد ﷺ کو مانتا ہے پر مسیح موعود (مرزا قادیانی) کو نہیں مانتا وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔‘‘ (کلمۃ الفصل مندرجہ ریویو آف ریلیجنز ج ١٤ نمبر ٣، ٤ ص ١١٠)

(الفضل مورخہ ٢٦، ٢٩؍ جون ١٩٢٢ء ج ٩ نمبر ١٠١، ١٠٢) میں شائع ہوا: ”مرزا صاحب پر ہمارا ایمان ہے، غیر احمدیوں کا ان پر ایمان نہیں ہے۔ قرآن کریم کی تعلیم کے مطابق کسی نبی کو ماننے سے انکار کرنا کفر ہے اور تمام غیر احمدی کافر ہیں۔‘‘

٢٧٣

SEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

تین نانیاں اور دادیاں زانی عورتیں تھیں۔ وہ خود جھوٹے ان کے پاس کچھ نہ تھا۔‘‘

(حقیقت الوحی ص ٣٩١، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٦، ٤٠٧)

نبوت کا دعویٰ کیا کہ وہ نبی ہیں اور اس امت میں نبی کا لفظ

(اربعین نمبر ٣ ص ٣٦، خزائن ج

نہیں بولتے۔‘‘ اور انہوں نے

(حقیقت الوحی ص ٨٢، خزائن

سے کہا ہے کہ انہیں رحمت للعالمین بنا کر دنیا میں بھیجا۔

ص ١١٠) میں لکھا ہے کہ: ”خدا نے کسی دوسرے انسان کو

کہ وہ خدا کے رسول ہیں۔‘‘ اور نیز انہوں نے

(انجام

پر دعویٰ کیا کہ خدا نے ان

ص ١٠٢، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٥)

پر وہ اپنے بزرگ اور

ص ٥٦٤، ٥٦٥، خزائن ج ٥ ص ایضاً)

کہ وہ خود خدا ہیں اور یہ کہ انہوں نے زمین اور آسمان پ

اسی سبب سے اپنی کتاب (حقیقت الوحی ص

کرتے ہیں کہ جو شخص اس پر ایمان نہیں لاتا وہ کافر ہ نے اپنے پیروؤں کو ایسے شخص کے پیچھے نماز پڑھنے س انہوں نے (البشریٰ ص ٤٩) پر ایک الہام بیان کیا ہے ج

(حقیقت الوحی ص ٩٩، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٢) میں انہوں نے

مرزا غلام احمد کو پیدا نہ کرتا تو اس نے کائنات ہی نہ پیدا بناء پر ١٩٢٥ء میں تمام فرقوں کے علماء سے فتویٰ حاصل ک

اس دعویٰ کی کہ وہ نبی ہے مسلسل اشاعت کرتے رہے نے لکھا ہے کہ: ”یہ بات بالکل روزِ روشن کی طرح ثاب دروازہ کھلا ہے۔‘‘ اور (انوار خلافت ص ٦٢) میں انہوں نے لکھ

١؎ مسیلمہ کذاب کے متعلق (ازالۃ الاوہام ص ٤١٤، ٢؎ جس نے نکاح مرزائیاں کے نام سے دفت

٢٧٢

صفحہ ٢١٥٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN - 30th Aug, 1974 No:15

مرزا غلام احمد

انہوں نے حسب ذیل اشعار کہے ہیں۔

منم مسیح زماں منم کلیم خدا
منم محمد واحمد کہ مجتبیٰ باشد

(تریاق القلوب ص ٣، خزائن ج ١٥ ص ١٣٢)

میں کبھی آدم، کبھی موسیٰ، کبھی یعقوب ہوں
نیز ابراہیم ہوں، نسلیں ہیں میری بے شمار

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٠٣، خزائن ج ٢١ ص ١٣٣)

وہ اپنے لئے اس حیثیت کا دعویٰ کرتے ہیں اور ہر اس شخص کو کافر قرار دیتے ہیں جو ان کی اس حیثیت کو تسلیم نہیں کرتا۔ اپنی نبوت کے دعویٰ کو تقویت پہنچانے کے لئے انہوں نے مسلمانوں کے اس عقیدہ سے فائدہ اٹھایا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے صلیب پر وفات نہیں پائی۔ بلکہ وہ چوتھے آسمان پر اب تک زندہ ہیں۔ جہاں سے قیامت سے پہلے زمین پر اتریں گے اور یہ بھی قرب قیامت2284 کی نشانیوں میں سے ایک ہوگی۔ چنانچہ انہوں نے خود عیسیٰ علیہ السلام ہونے کا دعویٰ کیا اور اپنے آپ کو مسیح موعود کہا۔ یہ ان کے الہام کے سلسلہ کا دوسرا مرحلہ تھا۔

مسلمانوں کا ایک اور عقیدہ یہ ہے کہ حضرت امام مہدی علیہ الرضوان قیامت سے پہلے ظاہر ہوں گے۔ انہوں نے اپنے مہدی موعود ہونے کا بھی دعویٰ کیا۔ وہ یہ سمجھتے تھے کہ گزشتہ چودہ سو سال میں مسیلمہ کذاب کی طرح جس نے بھی اپنے نبی ہونے کا دعویٰ کیا۔ مسلمانوں نے اس کو کبھی برداشت نہیں کیا۔ اس لئے انہوں نے (مہربان حکومت برطانیہ کی) حفاظت حاصل کرنی چاہی۔ تحقیقاتی عدالت کے فاضل ججوں نے اس ضمن میں حسب ذیل رائے ظاہر کی ہے۔

انگریزوں کی پالیسی

”ایسے اختلافات انگریز کو بہت راس آتے تھے وہ یہی چاہتے تھے کہ جس قوم پر وہ حکومت کر رہے ہیں اسے مذہبی اختلافات میں الجھائے رکھیں۔ جب تک کہ یہ جھگڑے امن عامہ میں خلل ڈالنے کا باعث نہیں اگر لوگ جنت میں جانے کے استحقاق یا جہنم میں جانے کے اسباب پر جھگڑا کریں تو جب تک وہ ایک دوسرے کے سر نہیں توڑتے اور اپنے لئے دنیاوی مال و متاع کا مطالبہ نہیں کرتے اس وقت تک انگریز ان جھگڑوں کو انتہائی بے نیازی بلکہ اطمینان کی

٢٧٤

صفحہ ٢١٥٣

2153 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

نظروں سے دیکھتے تھے۔ لیکن جونہی سر اٹھانے کا وقت آیا، انگریز نہایت سخت ہو جاتا اور اس پر کسی مصلحت کے لئے تیار نہ تھا۔ مرزا صاحب برطانوی راج کی اس برکت سے پوری طرح واقف تھے جو صرف ان اختلافات کی اجازت ہی نہیں دیتا تھا۔ بلکہ ان کی حوصلہ افزائی بھی کرتا تھا۔ چنانچہ احمدی تحریک کے بانی اور رہنماؤں کے خلاف غیر احمدیوں کی ایک بہت بڑی شکایت یہ بھی تھی کہ وہ انگریزوں کے ذلیل خوشامدی ہیں۔"

(تحقیقاتی عدالت کی رپورٹ ص ٢٠٨)

قادیانی فرقہ کے بانی کو علم تھا کہ اسلام کے ظہور کے بعد سے مسیلمہ کذاب اور جس نے بھی نبوت کا دعویٰ کیا اس کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا۔ یہی وجہ تھی کہ اپنی نبوت جمانے کے لئے 2285 اس فرقہ کو انگریزی حکومت کی حفاظت کی سخت ضرورت تھی۔ اس سلسلہ میں مرزا غلام احمد کی حسب ذیل تحریروں کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔

انگریز کی مدح وثناء

پر اس قدر احسان ہیں کہ اگر ہم یہاں سے چلے جائیں تو مکہ یا قسطنطنیہ میں ہم نہیں گزارہ کر سکتے۔ ہم برطانوی حکومت کی مخالفت کا تصور کیونکر کر سکتے ہیں۔“

”میں اپنا کام مکہ میں نہ مدینہ میں جاری رکھ سکتا ہوں نہ روم میں نہ ایران میں نہ کابل میں۔ مگر اس گورنمنٹ میں جس کے اقبال کے لئے میں دعا کرتا ہوں۔“

”اگر تم اس گورنمنٹ کے سایہ سے باہر نکل جاؤ تو تمہارا کہاں ٹھکانہ ہے۔“

قادیانی اور پاکستان

ان اسباب کی بناء پر (تحقیقاتی رپورٹ ص ٢٠٨، ٢٠٩) میں فاضل ججوں نے پاکستان کے متعلق قادیانیوں کے رویہ کا خلاصہ ان الفاظ میں پیش کیا ہے: ”پہلی عالمگیر جنگ کے دوران میں جس میں ترکی کو شکست ہوئی تھی۔ ١٩١٨ء میں بغداد پر انگریزوں کی فتح پر قادیان میں خوشیاں منائی گئیں۔ جس سے مسلمانوں میں سخت بیزاری پھیلی اور احمدیت کو انگریزوں کی لونڈی سمجھا جانے لگا۔ ملک کو تقسیم کر کے مسلمانوں کے لئے ایک الگ وطن کے قیام کا امکان افق پر نظر آنے لگا تو آنے والے واقعات کے سایہ نے قادیانیوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا۔ ١٩٤٥ء سے ١٩٤٧ء کے

٢٧٥

صفحہ ٢١٥٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

آغاز تک ان کی بعض تحریروں سے یہ منکشف 2286 ہوتا ہے کہ انہیں پہلے انگریزوں کا جانشین بننے کی توقع تھی۔ لیکن جب پاکستان کا دھندلا سا خواب مستقبل کی ایک حقیقت کا روپ اختیار کرنے لگا تو ایک نئی مملکت پر راضی ہو جانا انہیں دشوار نظر آنے لگا۔ وہ یقیناً اپنے آپ کو دو گونا عذاب میں مبتلا پاتے ہوں گے۔ وہ ہندوستان میں اس لئے نہیں رہ سکتے تھے کہ اسے ایک لادینی ہندو مملکت بننا تھا اور نہ پاکستان کو پسند کر سکتے تھے جس میں فرقہ بازی کے روا رکھے جانے کی کوئی توقع نہ تھی۔ ان کی بعض تحریروں سے پتہ چلتا ہے کہ وہ تقسیم کے مخالف تھے۔ نیز یہ کہ اگر ملک تقسیم ہوا تو اس کے دوبارہ اتحاد کی کوشش کریں گے اس کی وجہ ظاہر یہ تھی کہ احمدیت کے مرکز قادیان کا مستقبل بالکل غیر یقینی نظر آ رہا تھا۔ جس کے متعلق مرزا صاحب بہت سی پیش گوئیاں کر چکے تھے۔‘‘

مسئلہ جہاد

’’ان ہی وجوہ کی بناء پر مرزا غلام احمد جہاد کا تیرہ سو سال پرانا اصول منسوخ کرنا چاہتے تھے۔ چنانچہ انہوں نے اعلان کر دیا کہ اب سے جہاد بالسیف ممنوع قرار پایا۔ اب جہاد صرف یہ ہے کہ اپنے مخالف کو دلائل سے مطمئن کیا جائے۔‘‘

جہاد کے بارے میں قرآن کریم میں یہ آیات موجود ہیں:

ظلم کیا گیا ہے اور پس اللہ ان کی مدد کرنے کے لئے بڑا طاقتور ہے۔ جو لوگ اپنے گھروں سے بے وجہ نکالے گئے۔ محض اتنی بات پر کہ وہ کہتے تھے کہ ہمارا رب اللہ ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ ایک دوسرے کے ہاتھوں لوگوں کا زور نہ گھٹاتا رہتا تو لا تعداد خانقاہیں اور کلیسے، گرجے اور مسجدیں جن میں اللہ کا نام لیا جاتا ہے۔ تباہ و برباد ہو جاتے۔ بے شک اللہ ان کی مدد کرے گا جو اس کی مدد کرتے ہیں۔ تحقیق اللہ بڑی طاقت والا اور بہت قدرت والا ہے۔‘‘

(سورہ٢٢، آیت٣٩، ٤٠)

زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا اور ان کو قتل کرو جہاں ان کو پاؤ اور انکو نکال باہر کرو۔ جہاں سے انہوں نے تم کو نکال باہر کیا ہے اور شرارت قتل سے بھی بڑھ کر ہے۔ لیکن مسجد حرام میں ان سے جنگ نہ کرو۔ جب تک کہ وہ وہاں تم سے لڑنے میں پہل نہ کریں۔ اگر وہ تم سے لڑیں تو انہیں قتل کرو کہ حق کا انکار کرنے والوں کی یہی سزا ہے۔ پھر اگر وہ لوگ باز آجائیں تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے اور ان کے ساتھ اس حد تک لڑو کہ فتنہ و شرارت باقی نہ رہے اور دین اللہ ہی کا ہو جائے اور اگر

٢٧٦

صفحہ ٢١٥٥

BLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

آغاز تک ان کی بعض تحریروں سے یہ منکشف ہو 2286 توقع تھی۔ لیکن جب پاکستان کا دھندلا سا خواب سق ایک نئی مملکت پر راضی ہو جانا انہیں دشوار نظر آنے ل پاتے ہوں گے۔ وہ ہندوستان میں اس لئے نہیں رہ اور نہ پاکستان کو پسند کر سکتے تھے جس میں فرقہ بازی بعض تحریروں سے پتہ چلتا ہے کہ وہ تقسیم کے مخال دوبارہ اتحاد کی کوشش کریں گے اس کی وجہ ظاہر یہ تھ غیر یقینی نظر آ رہا تھا۔ جس کے متعلق مرزا صاحب بہ

مسئلہ ج

"ان ہی وجوہ کی بناء پر مرزا غلام احمد جو تھے۔ چنانچہ انہوں نے اعلان کر دیا کہ اب سے ج ہے کہ اپنے مخالف کو دلائل سے مطمئن کیا جائے۔"

جہاد کے بارے میں قرآن کریم میں پا

ظلم کیا گیا ہے اور پس اللہ ان کی مدد کرنے کے لئے وہ نکالے گئے۔ محض اتنی بات پر کہ وہ کہتے تھے ک کے ہاتھوں لوگوں کا زور نہ گھٹاتا رہتا تو لا تعداد خانقا نام لیا جاتا ہے۔ تباہ وبرباد ہو جاتے۔ بے شک ا تحقیق اللہ بڑی طاقت والا اور بہت قدرت والا ہے

زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا اور ان کو قت سے انہوں نے تم کو نکال باہر کیا ہے اور شرارت قت جنگ نہ کرو۔ جب تک کہ وہ وہاں تم سے لڑنے ن کرو کہ حق کا انکار کرنے والوں کی یہی سزا ہے۔ پ ہے اور ان کے ساتھ اس حد تک لڑو کہ فتنہ و شرارت

٢٧٦

2155 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

وہ لوگ باز آجاویں تو بے انصافی کرنے والوں کے سوا سختی کسی پر نہیں ہوتی۔ حرمت والا مہینہ حرمت والے مہینہ کے عوض میں ہے اور یہ حرمتیں تو عوض معاوضہ کی چیزیں ہیں۔ پس جو تم پر زیادتی کرے اس پر تم بھی زیادتی کرو۔ جیسی زیادتی اس نے تم پر کی ہے۔ اللہ سے ڈرتے رہو۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ ڈرنے والوں کے ساتھ ہے۔"

(سورہ ٢، آیت ١٩٠ تا ١٩٤)

جو تم سے دین کے بارے میں نہیں لڑتے اور تم کو تمہارے گھروں سے نہیں نکالا۔ بے شک اللہ تعالیٰ انصاف کرنے والوں کو پسند فرماتے ہیں۔"

(سورہ ٦٠، آیت ٨)

دنیوی زندگی کو اختیار کئے ہوئے ہیں۔ جو شخص اللہ کی راہ میں لڑے پھر جان سے مارا جائے یا غالب آجائے تو ہم اسے اجر عظیم دیں گے اور تم کو کیا ہوا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں اور ان کمزوروں کی خاطر جہاد نہیں کرتے۔ جن میں کچھ مرد ہیں۔ کچھ عورتیں اور کچھ بچے ہیں اور جو دعا کر رہے ہیں کہ اے ہمارے رب ہمیں اس 2288 بستی سے نکال جس کے رہنے والے سخت ظالم ہیں اور اے خدا ہمارے لئے اپنے ہاں سے کوئی حمایتی کھڑا کر اور اپنی طرف سے کوئی مددگار روانہ فرما۔"

(سورہ ٤، آیت ٧٤، ٧٥)

انہیں گھیرو اور ان کی تاک میں ہر جگہ بیٹھو۔ پھر اگر وہ توبہ کریں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں تو ان کا راستہ چھوڑ دو۔ بے شک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔"

(سورہ ٩، آیت ٥)

کر۔"

(سورہ ٢٥، آیت ٥٢)

جہاد کے بارے میں احمدی نظریہ یہ ہے کہ جسے "جہاد بالسیف" کہا جاتا ہے اس کی اجازت صرف اپنی حفاظت کے لئے ہے۔ نیز یہ کہ اس مسئلہ پر اپنی رائے پیش کرتے ہوئے مرزا غلام احمد نے صرف قرآنی آیات پر مبنی اصولوں کی وضاحت کی ہے اور انہوں نے کسی قرآنی حکم یا ہدایت کو منسوخ نہیں کیا۔

دوسرے فریق کا کہنا ہے کہ مرزا صاحب نے اس مسئلہ پر اپنی رائے جن الفاظ میں ظاہر کی ہے۔ اس سے بالکل صاف واضح ہوتا ہے کہ وہ محض ایک قرآنی اصول کی وضاحت نہیں کر رہے تھے۔ بلکہ قرآن کے ایک مسلمہ قانون کو منسوخ کر رہے تھے۔

٢٧٧

صفحہ ٢١٥٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

اس سلسلہ میں ان کے حسب ذیل اعلانات پیش کئے جاتے ہیں:

کا خاتمہ ہے۔"

(گورنمنٹ انگریزی اور جہاد ص١٤، خزائن ج١٧ ص١٥)

(ضمیمہ خطبہ الہامیہ ص ت، خزائن ج١٦ ص١٧)

(خطبہ الہامیہ ص ز، خزائن ج١٦ ص٢٨)

(مجموعہ اشتہارات ج٢ ص٤٦٢)

کی ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں۔ میں نے ایسی کتابوں کو تمام ممالک عرب اور مصر اور شام اور کابل اور روم تک پہنچا دیا ہے۔"

(ستارہ قیصریہ ص١٥، خزائن ج١٥ ص١٥٥)

گئے۔"

(ضمیمہ خطبہ الہامیہ)

نافرمان ہے۔"

(ضمیمہ خطبہ الہامیہ ص ڈ، خزائن ج١٦ ص٢٨)

نہیں۔ یہ فرقہ اس بات کو قطعاً حرام جانتا ہے کہ دین کے لئے لڑائیاں کی جائیں۔"

(ضمیمہ نمبر ٥ تریاق القلوب، اشتہار واجب الاظہار ص١، خزائن ج١٥ ص٥١٧، مجموعہ اشتہارات ج٣ ص٤٥٧)

اور کوئی مسئلہ نہیں۔"

(تبلیغ رسالت ج١٠ ص١٢٢، مجموعہ اشتہارات ج٣ ص٥٨٢)

(تبلیغ رسالت ج٧ ص١٧، مجموعہ اشتہارات ج٣ ص١٩)

مرزا صاحب کی ان تحریروں اور ان کے دعوٰی سے کہ: ”میری وحی میں امر بھی ہے اور نہی بھی۔“

(اربعین نمبر٤ ص٦، خزائن ج١٧ ص٤٣٦)

٢٧٨

صفحہ ٢١٥٧

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

یہ بات شدت کے ساتھ پیش کی گئی ہے کہ یہ اعلان قرآن کریم کے ایک مسلمہ قانون کی تنسیخ یا ترمیم کے مترادف ہے۔

اپیل کنندگان کی طرف سے اس کا جواب یہ دیا گیا ہے کہ ان الفاظ اور فقروں میں کوئی تنسیخ نہیں ہے۔ بلکہ محض قرآن کے ایک ایسے اصول کی وضاحت ہے جس کے متعلق صدیوں سے غلط فہمی تھی اور بہرحال دوسروں نے ان عبارتوں کا جو بھی مطلب سمجھا ہو احمدیوں نے ہمیشہ اس کا 2290 یہ مطلب سمجھا کہ مرزا غلام احمد نے محض یہ کیا کہ اصل اصول کو گرد و غبار سے پاک کر کے اس کو اصل حالت میں پیش کر دیا۔ احمدیوں کی طرف سے اس سلسلہ میں ”یضع الحرب“ کی حدیث کا بھی حوالہ دیا گیا ہے کہ مرزا غلام احمد نے کسی قانون کو منسوخ کرنے کی بجائے صرف اس حدیث کے مطابق جنگ کو معطل کیا تھا۔ یہ نقطہ بہت اہم ہے۔ کیونکہ اگر یہ طے ہو جائے کہ مرزا غلام احمد کی ان آراء کا مقصد ایک مسلمہ قانون کی جگہ پر ایک نیا قانون نافذ کرنا یا جزوی طور پر ترمیم کرنا بھی تھا اور ان کے معتقدین بھی ایسا ہی سمجھتے ہیں تو پھر وہ بشر بھی نبی ہوئے۔

اس صورت میں خود احمدیوں کے یہاں آیت خاتم النبیین کی اپنی تفسیر بھی غلط ہو جائے گی۔ یہ صورت واضح تر ہو جائے گی۔ اگر یہ اصول کسی وحی یا الہام کی بناء پر طے کیا گیا ہو۔

غیر احمدی فریق نے اس دلیل کو یہ کہہ کر مزید آگے بڑھایا کہ ان تحریروں میں جو رائے ظاہر کی ہے وہ اگر سابقہ اصول کا اعادہ یا اعلان کرنے والے کی حیثیت سے پیش کئے گئے ہیں۔ جب بھی مرزا صاحب اصول کے تحت تشریحی نبی بن جاتے ہیں کہ اگر قانون کا اعلان کرنے والا اپنے لئے وضاحت کرنے کی بجائے اعلان کرنے کا حق مختص سمجھے تو قانون کا اعلان بجائے خود اصل قانون بن جاتا ہے۔ احمدی ان تحریروں کی وضاحت کے لئے قرآن کی وہ آیات پیش کرتے ہیں جن کا حوالہ اوپر دے چکا ہوں اور آیۃ سیف کے عام طور پر جو معنی سمجھے جاتے ہیں اسے وہ تسلیم نہیں کرتے۔

ناسخ منسوخ

احمدیوں کا ایک اہم عقیدہ یہ ہے کہ قرآن کی کوئی آیت دوسری آیت سے منسوخ نہیں ہوئی۔ نیز یہ کہ آیت سیف میں اور مکہ میں نازل شدہ آیات میں کوئی تصادم نہیں ہے۔ وہ ناسخ اور منسوخ کے سارے نظریہ ہی کو تسلیم نہیں کرتے۔ اس سلسلہ میں حسب ذیل دو آیتیں پیش کی جاتی ہیں:

ویسی ہی آیت بھیج دیتے ہیں۔ کیا تجھے معلوم نہیں کہ اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔“

(سورۃ ٢، آیت ١٠٦)

٢٧٩

OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

اس سلسلہ میں ان کے حسب ذیل

کا خاتمہ ہے۔“

کی ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی نے ایسی کتابوں کو تمام ممالک عرب اور مصر او

گئے ۔“

نافرمان ہے۔“

نہیں۔ یہ فرقہ اس بات کو قطعاً حرام جانتا ہے

(ضمیمہ نمبر ٥ تریاق القلوب، اشتہار واجب الاظہار

اور کوئی مسئلہ نہیں۔“ )

مرزا صاحب کی ان تحریروں اور ا نبی بھی۔“

صفحہ ٢١٥٨

2158 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

ہے اسے خوب جانتا ہے۔ لیکن یہ لوگ کہتے ہیں کہ تم جھوٹے اور جعلساز ہو۔“

(سورہ ١٦، آیت ١٠١)

چنانچہ ”مسلمانوں کے عقیدے کے مطابق قادیانی کافر ہیں اور دائرۂ اسلام سے خارج ہیں۔“ چونکہ:

پہناتے ہیں اور اس مذہب کو لعنتی اور شیطانی کہتے ہیں جن کے ماننے والے نبی کریم کو آخری نبی تسلیم کرتے ہیں۔

قرآن کریم کے برابر ہے۔

امام حسینؓ کی توہین کی ہے۔

2292 ١٩٥٣ء کے فسادات کے دوران اور ١٩٥٤ء میں تحقیقات سے پہلے قادیانی اپنے اکثر عقائد سے مکر گئے۔ اس لئے کہ تحقیقاتی عدالت کے سامنے انہوں نے جو مؤقف اختیار کیا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے اس فرقہ کے بانی اور اس کے جانشینوں کے پیش کردہ معانی و مطالب کو بدلنے کی کوشش کی۔ لیکن احمدی فرقہ کے بانی اور ان کے جانشینوں کی لکھی ہوئی جو کتابیں موجود ہیں ان سے ان کے عقائد کے فلسفہ کی جھلک نظر آ جاتی ہے۔ اس صورت میں حسب ذیل نتائج پر پہنچا ہوں۔

نتائج

کسی اور نبی کو نہیں آنا تھا۔

ہو وہ مسلمان نہیں ہے۔

٢٨٠

صفحہ ٢١٥٩

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

جو وحی نبوت کے برابر ہے۔

نبوت کی تکذیب کرتے ہیں۔

سے خارج ہے۔

2293 مندرجہ بالا استدلال اور نتائج کی بناء پر میں سمجھتا ہوں کہ ابتدائی سماعت کرنے والی عدالت کا فیصلہ صحیح ہے اور میں سارے فیصلہ کی توثیق کرتا ہوں۔ مسماۃ امۃ الکریم کی اپیل میں کوئی وزن نہیں اور میں یہ اپیل خارج کرتا ہوں۔

جہاں تک لیفٹیننٹ نذیر الدین کی اپیل کا تعلق ہے اس کے متعلق مسٹر ظفر محمود ایڈووکیٹ نے مجھے لیفٹیننٹ نذیر الدین کی اپیل کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔

مسماۃ امۃ الکریم کے جہیز کا سامان ثابت ہو چکا ہے کہ اس کے سابق خاوند کے قبضہ میں ہے۔ جس کی مناسب قیمت لگائی جا چکی ہے۔ اس کی بھی اپیل میں کچھ وزن نہیں۔ میں اسے بھی خارج کرتا ہوں۔

چونکہ فریقین اپنے اپیل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ لہٰذا میں مناسب سمجھتا ہوں کہ خرچہ کسی پر نہ ڈالا جائے۔ راولپنڈی کے کلکٹر کو ہدایت کر دی گئی ہے کہ کورٹ فیس وصول کر لیں۔ دستخط: محمد اکبر، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج راولپنڈی ٣ / جون ١٩٥٥ء

2294 مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان

یہ جماعت پاکستان بننے کے بعد حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری کی سرپرستی میں سیاسی مناقشات سے الگ ہو کر دینی تبلیغ میں عموماً اور رد قادیانیت کے سلسلہ میں خصوصاً سرگرم عمل رہی ہے۔ حضرت شاہ صاحبؒ کی وفات کے بعد حضرت خطیب پاکستان مولانا

٢٨١

PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

ہے اسے خوب جانتا ہے۔ لیکن یہ لوگ کہت چنانچہ ”مسلمانوں کے عقید خارج ہیں ۔“ چونکہ:

پہناتے ہیں اور اس مذہب کو لعنتی اور شید تسلیم کرتے ہیں۔

قرآن کریم کے برابر ہے۔

امام حسین ؓ کی توہین کی ہے۔

2292 ١٩٥٣ء کے فسادات اکثر عقائد سے مکر گئے۔ اس لئے کہ تحقیقا سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے اس ق و مطالب کو بدلنے کی کوشش کی۔ لیکن ا کتابیں موجود ہیں ان سے ان کے عقا حسب ذیل نتائج پر پہنچا ہوں۔

کسی اور نبی کو نہیں آنا تھا۔

ہو وہ مسلمان نہیں ہے۔

صفحہ ٢١٦٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

قاضی احسان احمد صاحب کی سرپرستی میں کام جاری رکھے ہوئے تھی۔ حضرت قاضی صاحب مرحوم کی وفات کے بعد اب حضرت مولانا محمد علی صاحب جالندھریؒ کی سرپرستی میں یہ جماعت کام کر رہی ہے اور بڑی مسرت کی بات ہے کہ استاذ العلماء حضرت مولانا خیر محمد صاحب جالندھریؒ مہتمم مدرسہ عربی خیرالمدارس ملتان، اور حضرت مولانا سید محمد یوسف صاحب بنوریؒ مہتمم مدرسہ عربیہ اسلامیہ نیو ٹاؤن کراچی نے مجلس ہذا کی رہنمائی بطور مشیر مجلس مشاورت قبول فرما کر دینی احساس کی بہت بڑی ذمہ داری کو اٹھایا ہے۔ ان مندرجہ بالا حضرات کی سرپرستی میں اس وقت مجلس تحفظ ختم نبوت کا کام باحسن وجوہ انجام پا رہا ہے۔ جس کے ماتحت تقریباً پینتیس علماء اسلام فریضۂ تبلیغ اسلام میں مصروف ہیں اور گزشتہ جون ١٩٦٧ء سے حضرت مناظر اسلام مولانا لال حسین صاحب اختر فریضۂ تبلیغ اسلام کے لئے لندن (ہڈرسفیلڈ) میں مقیم ہیں۔ جس کے شاندار نتائج آپ حضرات کے سامنے ہیں۔ اس کے بعد جزائر فجی میں جو برطانیہ کی نوآبادیات میں سے ہے۔ ان میں بھی مولانا موصوف وسط جولائی تک تشریف لے جانے والے ہیں۔ کیونکہ قادیانی وہاں بھی اپنی ریشہ دوانیاں پھیلا رہے ہیں۔ جن کے سدباب کے لئے مولانا لال حسین صاحب اختر کے لئے ہمارے مرکز سے مسلمانان فجی نے استدعا کی ہے جس کو مرکز نے تبلیغ اسلام کے پیش نظر قبول کر لیا ہے۔ اہل فجی مولانا موصوف کے ویزا کے انتظام میں مصروف ہیں۔ سب حضرات سے درخواست ہے کہ حضرت مولانا موصوف کی کامیابی اور صحت کے لئے دست بدعا رہیں اور خداوند قدوس ہماری ان مساعی حسنہ کو شرف قبول سے نوازے۔ آمین ثم آمین!

2295 مزید اس توسیع اشاعت کے سلسلہ میں جماعت کے قائم مقام ناظم مولانا عبدالرحیم اشعر نے ٢٠؍صفر سے ١٤؍ربیع الاول ١٣٨٨ھ تک مشرقی پاکستان پچیس روز کا دورہ کیا۔ جہاں گزشتہ سال سے مجلس تحفظ ختم نبوت قائم ہوچکی ہے اور اس کا الحاق بھی مرکزی مجلس ملتان سے ہوچکا ہے۔ چنانچہ قائمقام ناظم نے ضلع کمیلا میں برہمن باڑی کشور گنج کا دورہ کیا۔ شمالی بنگال میں دیناج پور، پنچا گڑھ اور اس کے ملحقہ گاؤں کا دورہ کیا۔ پنچا گڑھ میں ایک قادیانی شمس الدین نے توبہ کی اور قادیانی مظالم کی داستان خونچکاں سنائی۔ موصوف کے لئے دعا کریں کہ خدا اسے اسلام پر ثابت قدم رکھے۔ یہ احمد نگر کا باشندہ تھا۔

مندرجہ بالا علاقے قادیانی ریشہ دوانیوں کے مراکز بن چکے تھے۔ بعد ازاں ڈھاکہ،

٢٨٢

صفحہ ٢١٦١

2161 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

صوبائی دارالحکومت کے اہم مراکز میں تقریریں ہوئیں۔ خصوصاً چوک والی مسجد، لال باغ مدرسہ قرآنیہ اور بیت الکرم عظیم پور کالونی، نواب گنج بخشی بازار، فرید آباد ڈھاکہ اور اسلامی اکیڈمی میں خصوصی خطاب کا دانشور اور وکلاء حضرات کے لئے انتظام کیا گیا۔ مولانا موصوف کے نہایت کامیابی کے ساتھ دورہ پورا کر کے واپس لاہور تشریف لے آنے پر لاہور میں حضرات امیر مرکزیہ مولانا محمد علی صاحب جالندھری اور مولانا محمد حیات صاحب فاتح قادیان اور مولانا تاج محمود صاحب مدیر لولاک لائل پور کی سرکردگی میں چٹان پریس کی ضبطی کے معاملہ میں مذہبی رٹ جو دائر تھی، مولانا موصوف اس کی پیروی میں مصروف رہے۔ کافی مقدمات کی مذہبی بحث جس میں قادیانی مذہب کی نقاب کشائی کی گئی ہے۔ داخل عدالت کی گئی ہے جس کی سماعت جناب جسٹس محمد گل اور جناب جسٹس کرم الٰہی چوہان ہائیکورٹ کے جج صاحبان کر رہے تھے۔ خدا تعالیٰ ان حضرات کو اہل اسلام کے جذبات کے مطابق فیصلہ کی توفیق عطاء فرمائے۔ ناظم دفتر: مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان پاکستان ٢٨٣

NAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

قاضی احسان احمد صاحب کی سرپرستی میں کام جاری رکھے ہوئے کی وفات کے بعد اب حضرت مولانا محمد علی صاحب جالندھری رہی ہے اور بڑی مسرت کی بات ہے کہ استاذ العلماء حضرت مولا مدرسہ عربی خیر المدارس ملتان، اور حضرت مولانا سید محمد یوسف اسلامیہ نیو ٹاؤن کراچی نے مجلس ہذا کی رہنمائی بطور مشیر مجلس مشا بہت بڑی ذمہ داری کو اٹھایا ہے۔ ان مندرجہ بالا حضرات کی سر نبوت کا کام باحسن وجوہ انجام پا رہا ہے۔ جس کے ماتحت تقر اسلام میں مصروف ہیں اور گزشتہ جون ١٩٦٧ء سے حضرت مناظ اختر فریضہ تبلیغ اسلام کے لئے لندن (بلڈرسفیلڈ) میں مقیم ہ حضرات کے سامنے ہیں۔ اس کے بعد جزائر فجی میں جو برطانیہ میں بھی مولانا موصوف وسط جولائی تک تشریف لے جانے وال اپنی ریشہ دوانیاں پھیلا رہے ہیں۔ جن کے سدباب کے لئے م لئے ہمارے مرکز سے مسلمانان فجی نے استدعا کی ہے جس کو مرک کر لیا ہے۔ اہل فجی مولانا موصوف کے ویزا کے انتظام میں م درخواست ہے کہ حضرت مولانا موصوف کی کامیابی اور صحت کے قدوس ہماری ان مساعی حسنہ کو شرف قبول سے نوازے۔ آمین ث

2295 مزید اس توسیع اشاعت کے سلسلہ میں جما عبد الرحیم اشعر نے ٢٠ صفر سے ١٤ ربیع الاول ١٣٨٨ھ تک مشر جہاں گزشتہ سال سے مجلس تحفظ ختم نبوت قائم ہو چکی ہے اور ا سے ہو چکا ہے۔ چنانچہ قائمقام ناظم نے ضلع کمیلا میں برہمن بار میں دیناج پور، پنچا گڑھ اور اس کے ملحقہ گاؤں کا دورہ کیا۔ پنجا نے توبہ کی اور قادیانی مظالم کی داستان خونچکاں سنائی۔ موصوف اسلام پر ثابت قدم رکھے۔ یہ احمد نگر کا باشندہ تھا۔ مندرجہ بالا علاقے قادیانی ریشہ دوانیوں کے مراکز ٢٨٢

صفحہ ٢١٦٢

2162 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

2296 ضمیمہ نمبر : ٣

"قل جاء الحق وزهق الباطل ان الباطل كان زهوقا"

پاکستانی عدلیہ کا محققانہ فیصلہ

مرزائی مرتد و کافر ہیں

از

جناب شیخ محمد رفیق گوریجہ جج سول اور فیملی کورٹ

جیمس آباد سندھ

ناشر

مکتبہ مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان ، پاکستان

٢٨٤

2163 NATION

(٢٢

س تحفظ ختم نبوت ملتان

یر احمد روزنامہ مشرق لاہور

ہور

یہ ۔/٥٠ پیسے

ھ ، مطابق اکتوبر ١٩٧٠ء

م نبوت

مبر: ٣٣٤١

صفحہ ٢١٦٣

2163 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

2297 سلسلہ اشاعت نمبر (٢٣)

بار اوّل

ملنے کا پتہ:

مرکزی مکتبہ مجلس تحفظ ختم نبوت

تغلق روڈ ملتان شہر ۔ فون نمبر : ٣٣٤١

٢٨٥

SEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

2296 ضمیمہ نمبر ٦

"قل جاء الحق وزهق الباطل ان

پاکستانی عدلیہ کا محققانہ

مرزائی مرتدوں

از

جناب شیخ محمد رفیق گریجویٹ

جیمس آباد سندھ

ناشر

مکتبہ مجلس تحفظ ختم نبوت

٢٨٤

صفحہ ٢١٦٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

2298 پیش لفظ

”الحمد للہ وحدہ والصلوٰۃ والسلام علیٰ من لا نبی بعدہ وعلیٰ اصحابہ الذین اوفوا عہدہ“

سلسلہ نبوت جس کی ابتداء حضرت آدم علیہ السلام سے ہوئی اور انتہاء سرکار دو عالم ﷺ کی ذات گرامی پر ہو گئی۔ دین اسلام کی بنیاد وذریعۂ نجات تصدیق واقرار توحید الٰہی ورسالت محمدی اور عقیدہ ختم نبوت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امت مسلمہ نے بلا قید زمان ومکان ہر دور میں کسی مدعی نبوت کو تسلیم نہیں کیا اور اس کے وجود کو برداشت نہیں کیا۔ امیر المؤمنین خلیفہ اوّل حضرت ابو بکر صدیقؓ نے باتفاق تمام اصحاب کرام واہل بیت عظام مدعی نبوت مسیلمہ کذاب کے خلاف جہاد کیا۔ جس میں بارہ سو اصحاب رسول ﷺ نے جام شہادت نوش کیا اور مسیلمہ اپنے اٹھائیس ہزار پیروکاروں کے ساتھ ہلاک وبرباد ہوا۔ خلافت راشدہ سے لے کر چودھویں صدی تک تمام ممالک اسلامیہ میں جس شخص نے دعویٰ نبوت کیا۔ اگر بصورت بقائے ہوش وحواس کیا، مقتول ہوا اور اگر بوجہ خلل دماغی کیا محبوس ہوا۔

انیسویں صدی کا نصف آخر مسلمانوں کے زوال وانحطاط کا اندوہ ناک دور تھا۔ جس میں مسلمان باہمی اختلاف وافتراق کا شکار ہو گئے۔ عیسائی جو کبھی مسلمانوں کی قوت وطاقت کا مقابلہ نہ کر سکتے تھے۔ ان کے آپس میں اختلافات وتنازعات کی بدولت ہندوستان پر قابض ہو گئے۔ کفر کے تسلط پر ہندوستان دارالحرب ہو گیا۔ اسلامی وشرعی تعزیر وحدود یک قلم منسوخ کر دی گئیں۔ انا الحق کہو اور سولی نہ پاؤ والی حکومت قائم ہو گئی۔

ان حالات میں انگریزوں نے اپنے خودکاشتہ پودے مرزا غلام احمد قادیانی کو کھڑا کیا۔ جس نے اپنی خانہ ساز نبوت کا اعلان واشتہار دینا شروع کر دیا۔ اس دعویٰ نبوت پر ہندوستان کے جملہ مکاتب فکر مثلاً سنی، شیعہ، اہل حدیث، بریلوی، دیوبندی کے علماء وفضلاء نے متفقہ طور پر مرزا صاحب کے ارتداد وکفر کا فتویٰ دے دیا۔ نہ صرف ہندوستان کے علماء نے بلکہ افغانستان، ایران، 2299 مصر وحجاز، شام وعراق کے علمائے کرام نے بھی مرزا غلام احمد قادیانی کے کفر وارتداد پر مہر تصدیق ثبت کر دی۔

١٨٩١ء میں مرزا صاحب نے امیر عبدالرحمان والی افغانستان کو اپنی خود ساختہ نبوت کی تصدیق وتائید کے لئے خط ارسال کیا۔ جس کے جواب میں امیر موصوف نے لکھا کہ ایں جاہا۔۔

٢٨٦

صفحہ ٢٨٧

ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

پیش لفظ 2298

”الحمد للہ وحدہ والصلوۃ والسلام عل الذین اوفوا عہدہ“

سلسلۂ نبوت جس کی ابتداء حضرت آدم علیہ السلا کی ذات گرامی پر ہو گئی۔ دین اسلام کی بنیاد و ذریعہ نجات ق اور عقیدہ ختم نبوت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امت مسلمہ نے بل نبوت کو تسلیم نہیں کیا اور اس کے وجود کو برداشت نہیں کیا۔ صدیقؓ نے باتفاق تمام اصحاب کرام واہل بیت عظام مدعی کیا۔ جس میں بارہ سو اصحاب رسول ﷺ نے جام شہادت پیروکاروں کے ساتھ ہلاک و برباد ہوا۔ خلافت راشدہ سے اسلامیہ میں جس شخص نے دعویٰ نبوت کیا۔ اگر بصورت قا بوجہ خلل دماغی کیا محبوس ہوا۔

انیسویں صدی کا نصف آخر مسلمانوں کے زوال میں مسلمان باہمی اختلاف وافتراق کا شکار ہو گئے۔ عیسائی مقابلہ نہ کر سکتے تھے۔ ان کے آپس میں اختلافات وتنازع ہو گئے۔ کفر کے تسلط پر ہندوستان دارالحرب ہو گیا۔ اسلامی دی گئیں۔ انا الحق کہو اور سولی نہ پاؤ والی حکومت قائم ہو گئی۔

ان حالات میں انگریزوں نے اپنے خودکاشتہ پود جس نے اپنی خانہ ساز نبوت کا اعلان واشتہار دینا شروع کرد جملہ مکاتب فکر مثلاً سنی، شیعہ، اہل حدیث، بریلوی، دیوبن مرزا صاحب کے ارتداد وکفر کا فتویٰ دے دیا۔ نہ صرف ہند ایران، 2299 مصر و حجاز، شام و عراق کے علمائے کرام نے بھی م مہر تصدیق ثبت کردی۔

١٨٩١ء میں مرزا صاحب نے امیر عبدالرحمان وال تصدیق وتائید کے لئے خط ارسال کیا۔ جس کے جواب میں

٢٨٦

2165 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

یعنی یہاں آ کر بات کرو۔ مرزا صاحب میں اتنا حوصلہ و جرات کہاں؟ کہ افغانستان جاتے اور اسلامی حدود و تعزیرات کا سامنا کرتے۔

١٩٠٢ء میں عبداللطیف افغانی نے امیر حبیب اللہ صاحب والی افغانستان سے حج وزیارت کی اجازت حاصل کی۔ امیر موصوف نے نہ صرف فریضہ حج کی ادائیگی کی اجازت دی بلکہ اپنی طرف سے زادراہ کے لئے رقم بھی دی۔ عبداللطیف نے سفر حجاز براستہ ہندوستان اختیار کیا۔ یہاں پہنچ کر یہ سادہ لوح شخص مرزا غلام احمد قادیانی کے دام تزویر میں پھنس گیا اور متاع ایمان کھو بیٹھا۔ بجائے اس کے کہ یہ شخص فریضہ حج ادا کرتا اور زیارت حرمین شریفین سے مشرف ہوتا۔ افغانستان واپس چلا گیا۔ اس بات کا علم جب امیر موصوف کو ہوا تو انہوں نے اس معاملہ کو عدالت عالیہ افغانستان کے سامنے پیش کرنے کا حکم صادر فرمایا۔ عدالت عالیہ نے عبداللطیف کے بیان وعقیدہ کی بناء پر اس کے مرتد ہو جانے کا فیصلہ کیا اور چنانچہ عدالت کے اس فیصلہ کے مطابق عبداللطیف کو سنگسار کر دیا گیا۔ اس اسلامی فیصلے کا اثر و نتیجہ ہے کہ آج تک مملکت افغانستان میں ایک شخص بھی مرزائی نہیں ہوا۔

١٩٣٢ء میں حکومت افغانستان نے ملا عبدالحکیم قادیانی اور انور علی قادیانی کو مرتد ہونے اور انگریزوں کی جاسوسی کرنے پر پھانسی کی سزادی۔ ان اسباب و وجوہات کی بناء پر شاید سر ظفر اللہ نے اپنی وزارت خارجہ کے عہد میں پاکستان و افغانستان کو لڑانے کی ناپاک کوشش کی۔ ظفر اللہ کے فاسد خیالات اور مذموم حرکات کی وجہ سے ١٩٦٧ء میں جب یہ ساؤتھ افریقہ گئے تو وہاں کے مسلمانوں نے ان کا سیاہ جھنڈیوں سے استقبال کیا اور ظفر اللہ ”گوبیک“ کے نعرے لگائے۔

عقائد باطلہ کی بناء پر ان کے مرتد ہو جانے کا فیصلہ صادر فرمایا۔

٢٠ جنوری ١٩٣٥ء کو مصطفیٰ کمال نے ترکیہ کے علماء کے فتویٰ کی تصدیق کی اور مرزائیوں کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا۔

حال ہی میں حجاز، مصر، شام و عراق کی مقتدر حکومتوں نے مرزا قادیانی کو مرتد اور دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا ہے اور مقامی قادیانیوں کی املاک کو ضبط کر لیا ہے۔ ١٩٣٢ء میں ایک مسلمان عورت مسماۃ عائشہ نے اپنے خاوند مسمی عبدالرزاق مرزائی کے خلاف احمد پور شرقیہ کے سول جج کی عدالت میں تنسیخ نکاح کا دعویٰ دائر کر دیا۔ مقدمہ کی اہمیت کے پیش نظر والی ریاست بہاول پور عالی جناب سر محمد صادق نے مسٹر محمد اکبر صاحب ڈسٹرکٹ جج بہاول نگر کو بطور اسپیشل جج

٢٨٧

صفحہ ٢١٦٦

2166 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

خاص بہاول پور میں مقدمہ کی سماعت کا حکم صادر فرمایا۔ چنانچہ جج صاحب موصوف نے ٧ فروری ١٩٣٥ء کو طویل سماعت کے بعد اپنا تاریخی فیصلہ سنا دیا۔ جس کی گونج سارے ہندوستان میں سنی گئی۔ فاضل جج نے مرزائیوں کو کافر قرار دے کر مسماۃ عائشہ کے نکاح کے فسخ ہو جانے کا حکم دیا۔

٣؍ جون ١٩٥٥ء کو راولپنڈی کے سیشن جج جناب شیخ محمد اکبر نے ایک مسلمان عورت اور مرزائی مرد کے متنازعہ مقدمہ میں مرزائیوں کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا۔

زیر نظر کتابچہ عالی جناب شیخ محمد رفیق صاحب گوریجہ سول جج با اختیارات فیملی کورٹ جیمس آباد ضلع تھر پارکر سندھ کا فاضلانہ فیصلہ ہے جو موصوف نے مقدمہ تنسیخ نکاح مسماۃ امت الہادی مسلمہ بنام حکیم نذیر احمد برق مرزائی میں صادر فرمایا ہے۔ فاضل جج نے فریقین کے مذہبی عقائد و خیالات کے تفاوت کو قرآن وسنت اور مرزائیوں کی تصنیفات کی روشنی میں واضح کیا ہے۔ یہ فیصلہ انہوں نے مسلسل مطالعہ اور بڑی محنت شاقہ کے بعد کیا ہے۔ اس فیصلہ میں موصوف نے مرزائیوں کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیتے ہوئے اس نکاح کو غیر قانونی اور غیر مؤثر قرار دیا ہے۔ اس فاضلانہ فیصلہ کا خیر مقدم جس جوش وخروش سے مسلمانوں نے کیا ہے اور ہمارے 2301 اخبارات جرائد ورسائل نے پہلے صفحات اور جلی عنوانات کے ساتھ کیا ہے اس کی نظیر پہلے نہیں ملتی۔

اس فیصلے سے جہاں مسلمانوں میں بے پناہ مسرت ہوئی ہے۔ مرزائیوں کے گھروں میں صف ماتم بچھ گئی ہے۔ سنا جاتا ہے کہ اس محققانہ فیصلہ کے خلاف ہائیکورٹ میں اپیل دائر کرنے کے سلسلے میں ظفر اللہ، ناصر احمد، بھٹو اور قصوری باہم مشورے کر رہے ہیں۔ مرکزی مجلس تحفظ ختم نبوت بڑی بے تابی سے اس اپیل کی منتظر ہے اور اپنے اس یقین کا اظہار کرنا ضروری خیال کرتی ہے کہ؎

نہ خنجر اٹھے گا نہ تلوار ان سے
یہ بازو میرے آزمائے ہوئے ہیں

مرزائی قرآن وسنت اور علم ودانش کی روشنی میں اپنا مؤقف نہ آج تک صحیح ثابت کر سکے ہیں اور نہ قیامت تک ثابت کر سکیں گے۔

مجلس تحفظ ختم نبوت جناب محمد عثمان صاحب ایڈووکیٹ جیمس آباد کی شکر گزار ہے کہ انہوں نے مسلمانوں کی طرف سے نہایت فاضلانہ بحث کی اور قرآن وسنت کے ناقابل تردید براہین کی روشنی میں مرزائیوں کے خارج از اسلام ثابت کرنے میں فاضل عدالت کو امداد دی۔

"فجزاہ اللہ احسن الجزاء"

(شعبہ نشر واشاعت مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان، ملتان)

٢٨٨

صفحہ ٢١٦٧

SEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15 خاص بہاول پور میں مقدمہ کی سماعت کا حکم صادر فرمایا۔ ١٩٣٥ء کو طویل سماعت کے بعد اپنا تاریخی فیصلہ سنا دیا۔ گئی۔ فاضل جج نے مرزائیوں کو کافر قرار دے کر مسماۃ عا ٣؍جون ١٩٥٥ء کو راولپنڈی کے سیشن جج زیر نظر کتابچہ عالی جناب شیخ محمد رفیق صاح جیمس آباد ضلع تھر پارکر سندھ کا فاضلانہ فیصلہ ہے جو م الہادی مسلمہ بنام حکیم نذیر احمد برق مرزائی میں صادر فر عقائد و خیالات کے تفاوت کو قرآن وسنت اور مرزائیوں فیصلہ انہوں نے مسلسل مطالعہ اور بڑی محنت شاقہ کے مرزائیوں کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیتے ہوئے ہے۔ اس فاضلانہ فیصلہ کا خیر مقدم جس جوش وخروش 2301 اخبارات جرائد ورسائل نے پہلے صفحات اور جلی عنوانا

اس فیصلے سے جہاں مسلمانوں میں بے گھروں میں صف ماتم بچھ گئی ہے۔ سنا جاتا ہے کہ اس ف دائر کرنے کے سلسلے میں ظفر اللہ، ناصر احمد، بھٹو اور قصور تحفظ ختم نبوت بڑی بے تابی سے اس اپیل کی منتظر ۔ خیال کرتی ہے کہ؎

نہ خنجر اٹھے گا نہ
یہ بازو میرے آزما

مرزائی قرآن وسنت اور علم ودانش کی روش سکے ہیں اور نہ قیامت تک ثابت کر سکیں گے۔ مجلس تحفظ ختم نبوت جناب محمد عثمان صاح انہوں نے مسلمانوں کی طرف سے نہایت فاضلانہ براہین کی روشنی میں مرزائیوں کے خارج از اسلام ہو ”فجزاہ الله احسن الجزاء“ (شعـ ٢٨٨

2167 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15 تنسیخ نکاح کا یہ مقدمہ کراچی کی ایک خاتون امۃ الہادی کی طرف سے ایک شخص حکیم نذیر احمد برق (جو ساٹھ سالہ بوڑھا ہے) کے خلاف سول جج جناب شیخ محمد رفیق صاحب گوریجہ کی عدالت میں دائر کیا تھا۔ (جن کو فیملی کورٹ کے بھی اختیارات حاصل ہیں) جج صاحب کا فیصلہ انگریزی ٹائپ کے ٤٣ صفحات پر مشتمل ہے اور اس میں احمدیوں کے مذہبی عقائد پر تفصیلی بحث کی گئی ہے اور اس سلسلے میں فرقہ احمدیہ کے بانی مرزا غلام احمد کی تصانیف سے متعدد اقتباسات کے علاوہ قرآن وحدیث کے بے شمار حوالے دیئے گئے ہیں۔ حضرت علامہ اقبالؒ، سر امیر علی اور دیگر مسلمان اکابر کی آراء بھی درج کی گئی ہیں۔ 2302

مقدمہ کی بحث کے اہم نکات یہ ہیں:

بسم الله الرحمن الرحیم!

تنسیخ نکاح کے مقدمہ کے فیصلہ کے متن کا ترجمہ

(از حریت کراچی)

فیصلہ کا متن:

فیملی سوٹ نمبر ١٩٦٩/٩ء مسماۃ امۃ الہادی دختر سردار خان مدعیہ بنام حکیم نذیر احمد برق مدعاعلیہ

فیصلہ:

٢٨٩

صفحہ 2168

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

مدعیہ نے یہ مقدمہ مدعا علیہ کے ساتھ اپنے نکاح کی تنسیخ کے لئے مندرجہ ذیل امور کی بناء پر دائر کیا ہے۔ یہ کہ ۲۲؍ مارچ ۱۹۶۹ء کو جب مدعیہ کی عمر بمشکل ساڑھے چودہ برس تھی اس کے والد نے محمڈن لاء کے تحت اس کی شادی مدعا علیہ کے ساتھ کر دی۔ مدعیہ کا والد ایک ضعیف شخص ہے اور 2303 اپنا ذہنی توازن کھو چکا ہے اور اپنی روزی کمانے کے لائق نہیں ہے۔ اس لئے مدعیہ اور اس کے دوسرے بہن بھائیوں کی پرورش اس کے بڑے بھائی نے کی جو سرکاری ملازم ہے۔ مدعیہ کا والد مدعا علیہ کے روحانی اثر میں ہے۔ جس کی عمر ساٹھ سال ہے اور جو خود کو ایک ایسا مذہبی مصلح قرار دیتا ہے جس کے روابط اللہ تعالیٰ سے ہیں۔ مدعیہ کا والد عرصے سے مدعا علیہ کے ساتھ ہے اور اس پر ایمان رکھتا ہے اور مذہبی اختلافات کے باعث اس کے تعلقات کنبے کے دوسرے افراد کے ساتھ خوشگوار نہیں ہیں۔ مدعیہ اپنے بھائی کے ساتھ کھڑی میں رہائش پذیر تھی اور وہ اپنے باپ کو دیکھنے کے لئے گئی تھی۔ جب مؤخرالذکر نے اس کی شادی مدعا علیہ کے ساتھ کر دی۔ شادی کے فوراً بعد مدعیہ اپنی ماں کے پاس واپس آ گئی اور اسے دھوکے کی اس شادی اور اس سے اپنی ناراضگی کے بارے میں مطلع کیا۔ مدعا علیہ اور مدعیہ کے درمیان میاں بیوی کے تعلقات ابھی تک قائم نہیں ہوئے تھے۔ مدعا علیہ ساٹھ سال کی عمر کا ایک بوڑھا شخص ہے اور مدعیہ کی برادری کا آدمی نہیں ہے۔ ان کے درمیان مذہبی اختلافات کے علاوہ مدعا علیہ اور مدعیہ کے بھائی میں شادی کی بناء پر طویل عرصہ تک فوجداری مقدمہ بازی ہوتی رہی ہے اور یہ کہ مدعیہ اس شادی کے نتیجہ میں مدعا علیہ کے ساتھ خوش نہیں رہ سکتی۔ مدعا علیہ نے دو سال سے زائد عرصہ تک مدعیہ کو خرچ وغیرہ بھی نہیں دیا ہے۔ یہ کہ مدعیہ اب سن بلوغ کو پہنچ چکی ہے۔ وہ اس عدالت کے دائرہ اختیار میں ہے اور اب اس نے اس مقدمے کے ذریعے اپنا حق بلوغت استعمال کیا ہے یہ کہ بصورت دیگر بھی فریقین کے درمیان یہ شادی غیر قانونی اور ناجائز ہے۔ کیونکہ مدعیہ سنی مسلمان ہے اور مدعا علیہ احمدی (قادیانی) ہے۔

مدعا علیہ نے اس مقدمے کی سماعت کی مخالفت متعدد وجوہ کی بناء پر کی جو اس کے تیرہ صفحات پر مشتمل تحریری بیان میں شامل ہیں۔ میں ضروری نہیں سمجھتا کہ یہاں اس تحریری بیان کو دوبارہ پیش کروں۔ کیونکہ اس سے فیصلہ غیر ضروری طور پر طویل ہو جائے گا۔ تاہم اتنا کہہ دینا کافی ہے کہ مدعا علیہ نے مدعیہ کے تمام الزامات کی تردید کی ہے۔ اس نے عمر کے بارے میں بھی مدعیہ کے بیان اور مدعیہ کی رہائش کے سوال پر عدالت کے دائرہ اختیارات کو چیلنج کیا ہے اور حق زنا شوئی دلانے کا مطالبہ کیا ہے۔ مدعا علیہ نے مدعیہ کے والد سے اپنے تعلقات کی تفصیلات بھی 2304 بیان

۲۹۰

صفحہ 2169

2169 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

کی ہیں اور اپنے مذہبی عقائد کا تذکرہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ فریقین کے درمیان یہ شادی قانونی ہے۔ فیصلہ میں مناسب موقع پر مدعا علیہ کے مؤقف سے بحث کی جائے گی۔

فریقین کے بیانات کی روشنی میں مندرجہ ذیل امور تصفیہ طلب قرار پاتے ہیں:

مقدمہ دائر کرنے کا حق پہنچتا ہے؟

میں نے فریقین کے وکلاء کے دلائل سنے ہیں اور مدعا علیہ کا مؤقف بھی جو اس نے خود پیش کیا سنا ہے۔ مدعیہ کے فاضل وکیل مسٹر محمد عثمان نے مذہب اور قانون کے بارے میں کئی کتابوں کے حوالے دیئے۔ جن کا تذکرہ میں فیصلے میں کروں گا۔ دلائل کی سماعت اور مقدمے کے شواہد پر غور کرنے کے بعد میں نے مندرجہ نتائج اخذ کئے ہیں۔

مسئلہ نمبر: ۱

مدعیہ نے اپنی درخواست میں اور عدالت کے روبرو اپنے بیان میں کہا ہے کہ وہ سامارو میں رہائش پذیر ہے۔ مدعا علیہ نے اس کی نہ تو اپنے تحریری بیان میں تردید کی ہے اور نہ عدالت کے روبرو اسے چیلنج کیا ہے۔ اپنے تحریری بیان کے پیراگراف نمبر ۱۲ میں مدعا علیہ نے اعتراف کیا ہے 2305 کہ مدعیہ سامارو میں اپنے بھائی کے پاس رہائش پذیر رہی ہے۔ اس لئے مدعیہ کی عمومی رہائش گاہ وہ جگہ تصور کی جائے گی جہاں وہ واقعی رہ رہی ہے نہ کہ وہ جگہ جہاں اس کا باپ رہتا ہے۔ مغربی پاکستان فیملی کورٹ رولز مجریہ ۱۹۶۵ء کے ضابطہ نمبر ۶ کے تحت جس جگہ مدعی رہائش پذیر ہو۔ اس کی عدالت کو تنسیخ نکاح کے مقدمے کی سماعت کا حق حاصل ہے۔ سامارو یقیناً اس عدالت کے دائرۂ اختیار میں آتا ہے اور یہ عدالت زیر نظر مقدمے کی سماعت اور اس کا فیصلہ کرنے کی مجاز ہے۔ چنانچہ زیر بحث مسئلے کا تصفیہ مدعیہ کے حق میں کیا جاتا ہے۔

۲۹۱

ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

مدعیہ نے یہ مقدمہ مدعا علیہ کے ساتھ اپنے نکاح بناء پر دائر کیا ہے۔

یہ کہ ۲۲؍مارچ ۱۹۶۹ء کو جب مدعیہ کی عمر بمشکل سا محمڈن لاء کے تحت اس کی شادی مدعا علیہ کے ساتھ کر دی 2303 اپنا ذہنی توازن کھو چکا ہے اور اپنی روزی کمانے کے لائق دوسرے، بہن بھائیوں کی پرورش اس کے بڑے بھائی نے کی ہ علیہ کے روحانی اثر میں ہے۔ جس کی عمر ساٹھ سال ہے اور ج جس کے روابط اللہ تعالیٰ سے ہیں۔ مدعیہ کا والد عرصے سے م رکھتا ہے اور مذہبی اختلافات کے باعث اس کے تعلقات کی نہیں ہیں۔ مدعیہ اپنے بھائی کے ساتھ کٹری میں رہائش پذیر گئی تھی۔ جب مؤخر الذکر نے اس کی شادی مدعا علیہ کے سا ماں کے پاس واپس آگئی اور اسے دھوکے کی اس شادی اور ا مطلع کیا۔ مدعا علیہ اور مدعیہ کے درمیان میاں بیوی کے تعل مدعا علیہ ساٹھ سال کی عمر کا ایک بوڑھا شخص ہے اور مدعیہ کی درمیان مذہبی اختلافات کے علاوہ مدعا علیہ اور مدعیہ کے بھا فوجداری مقدمہ بازی ہوتی رہی ہے اور یہ کہ مدعیہ اس شاد نہیں رہ سکتی۔ مدعا علیہ نے دو سال سے زائد عرصہ تک مدعی مدعیہ اب سن بلوغ کو پہنچ چکی ہے۔ وہ اس عدالت کے دائ مقدمے کے ذریعے اپنا حق بلوغت استعمال کیا ہے یہ کہ بص شادی غیر قانونی اور ناجائز ہے۔ کیونکہ مدعیہ سنی مسلمان ہے او

مدعا علیہ نے اس مقدمے کی سماعت کی مخالفت صفحات پر مشتمل تحریری بیان میں شامل ہیں۔ میں ضروری دوبارہ پیش کروں۔ کیونکہ اس سے فیصلہ غیر ضروری طور پر طو ہے کہ مدعا علیہ نے مدعیہ کے تمام الزامات کی تردید کی ہے کے بیان اور مدعیہ کی رہائش کے سوال پر عدالت کے دائرہ ا دلانے کا مطالبہ کیا ہے۔ مدعا علیہ نے مدعیہ کے والد سے ا

۲۹۰

صفحہ 2170

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

مسئلہ نمبر:۲

اس مسئلہ کے تصفیہ کی ذمہ داری مدعاعلیہ پر ہے۔ جس نے اپنے موقف کی حمایت میں کوئی شہادت پیش نہیں کی۔ وہ یہ ثابت کرنے کے لئے کسی عدالت کا کوئی فیصلہ پیش نہیں کر سکا ہے کہ اب اس مقدمہ کو دوبارہ زیر بحث نہیں لایا جاسکتا۔ اس ضمن میں مدعاعلیہ کا موقف بے جان ہے اور اس میں کوئی وزن نہیں۔ اس لئے اس مسئلے کا فیصلہ مدعاعلیہ کے خلاف کیا جاتا ہے۔

مسئلہ نمبر:۵

یہ انتہائی اہم مسئلہ ہے اور اگر اس کا فیصلہ مدعیہ کے حق میں ہو جائے تو پھر اس مقدمے کے فیصلے کے لئے دوسرے امور پر غور کرنے کی ضرورت ہی نہیں رہے گی۔ فریقین کے فاضل وکلاء نے اس مسئلہ پر سیر حاصل بحث کی۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ مدعاعلیہ حکیم نذیر احمد نے اپنے وکیل مسٹر لطیف کی اعانت کے بغیر ہی اس مسئلہ کے قانونی پہلو پر پورے مذہبی جوش وخروش کے ساتھ اپنی خود وکالت کی۔

مدعاعلیہ کے فاضل وکیل مسٹر لطیف نے مغربی پاکستان فیملی کورٹ ایکٹ مجریہ ۱۹۶۴ء کی دفعہ ۲۳ پر انحصار کرتے ہوئے یہ مؤقف اختیار کیا کہ اس عدالت کو شادی کے قانون جواز کی سماعت کا اختیار نہیں۔ کیونکہ یہ شادی مسلم فیملی لاز آرڈیننس کے تحت انجام پائی تھی۔

دفعہ ۲۳ میں کہا گیا ہے۔

2306 ”کوئی فیملی کورٹ کسی شادی کے جواز پر غور نہیں کرے گی جو مسلم فیملی لاز آرڈیننس مجریہ ۱۹۶۱ء کے مطابق رجسٹر کی گئی ہو۔ اس سلسلے میں متذکرہ عدالت کے لئے کوئی شہادت بھی قابل قبول نہیں ہوگی۔“

متذکرہ دفعہ ۲۳ کا احتیاط کے ساتھ مطالعہ کرنے پر اس کی زبان ہی سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ شادی کے جواز پر غور کرنے کے سلسلہ میں پابندی صرف اس صورت میں ہے جب کوئی شادی مسلم فیملی لاز آرڈیننس کے تحت ہوئی ہو۔ اس لئے دفعہ ۲۳ کے مندرجات کا سہارا لینے سے پہلے مدعاعلیہ کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ فریقین کی شادی مسلم فیملی لاز آرڈیننس مجریہ ۱۹۶۱ء کے تقاضوں کے مطابق ہوئی تھی۔ مسلم لاز آرڈیننس کی دفعہ نمبر ۱ کی ذیلی دفعہ نمبر ۲ میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ اس کا اطلاق پاکستان کے تمام مسلمان شہریوں پر ہوتا ہے۔ متذکرہ آرڈیننس کی دفعہ ۵ کے تحت صرف وہ شادیاں رجسٹر کی جاسکتی ہیں جو مسلم لاء کے تحت انجام پائی ہوئی ہوں اور

۲۹۲

صفحہ 2171

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

آرڈیننس کی دفعہ نمبر ۵ کی ذیلی دفعہ نمبر ۱ میں کہا گیا ہے۔ ”ہر وہ شادی جو مسلم لاز کے تحت انجام پائی ہو۔ اس آرڈیننس کے مندرجات کے مطابق رجسٹر کی جائے گی۔“

مسلم فیملی لاء کے تحت کسی مخالف فرقے کے شخص کے ساتھ شادی کرنے کے سلسلے میں ایک مسلمان کے غیر محدود اختیار پر پابندیاں عائد ہیں۔ اس سلسلہ میں سب سے اہم پابندی فریقین کا مذہب یا عقائد ہیں۔ مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے مسلمان ایک دوسرے کے ساتھ آزادانہ شادی کر سکتے ہیں اور تھوڑا بہت فقہی مسلک کا اختلاف کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ فقہ حنفی میں ایک مرد کسی عورت یا کتابیہ سے شادی کر سکتا ہے۔ لیکن ایک مسلمان عورت مسلمان مرد کے علاوہ کسی سے شادی نہیں کر سکتی۔ ایک مسلمان عورت کسی کتابی سے بھی شادی نہیں کر سکتی اور کسی بھی غیر مسلم سے جن میں عیسائی، یہودی یا بت پرست شامل ہیں اس کی شادی ناجائز ہو گی۔ مدعیہ کے فاضل وکیل نے اس بات پر زور دیا ہے کہ مدعیہ اور مدعاعلیہ کے درمیان شادی غیر موثر ہے۔ 2307 کیونکہ موخر الذکر قادیانی (احمدی) غیر مسلم ہے۔ اس لئے اب یہ سوال تصفیہ طلب ہے کہ آیا فریقین کے درمیان شادی مسلم لاز کے تحت ہوئی ہے اور چونکہ یقینی طور پر شادی مسلم لاء کے تحت جائز نہیں ہے۔ اس لئے مقدمے کے اس پہلو کا تفصیلی جائزہ لینا اور بھی ضروری ہو گیا ہے۔ اس ضمن میں کسی نتیجے پر پہنچنے کے لئے یہ پتہ چلانا ضروری ہے کہ دونوں فریق مسلمان ہیں یا نہیں۔ چنانچہ اس سلسلہ میں یہ عدالت فریقین کے بارے میں چھان بین کر سکتی ہے۔ فیملی کورٹس ایسے ہی معاملات کا تعین کرنے کے لئے خاص طور پر تشکیل دی گئی ہیں۔ اس لئے میری رائے یہ ہے کہ فریقین کے درمیان شادی کے جواز کی چھان بین کی جاسکتی ہے۔

مدعیہ کے بیان کے مطابق مدعاعلیہ کے ساتھ اس کی شادی غیر موثر ہے۔ اس لئے اگر قانون کی نظر میں بھی نکاح غیر موثر ہے اور ایسا نکاح جو غیر قانونی طور پر مسلم فیملی لاز آرڈیننس کے تحت رجسٹر کیا گیا۔ کوئی قانونی حیثیت نہیں رکھتا اور یہ فیملی کورٹ کی دفعہ ۲۳ کے تحت مانع نہیں ہو سکتا۔ میں قانون کی اس تعبیر سے متفق ہوں اور یہ قرار دینے میں کوئی جھجک محسوس نہیں کرتا کہ دفعہ ۲۳ کے تحت جو ممانعت کی گئی ہے اس کا اطلاق صرف اسی صورت میں ہو سکتا ہے کہ جائز مسلم شادی کو مسلم فیملی لاز آرڈیننس کے تحت درج کیا گیا ہو اور اس مقصد کے تحت عدالت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ یہ دیکھے کہ آیا فریقین کے درمیان جو نکاح ہوا ہے وہ وجود بھی رکھتا ہے یا نہیں۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ مغربی پاکستان فیملی کورٹ میں ترمیمی آرڈیننس مجریہ

۲۹۳

L ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

مسئلہ نمبر:۲

اس مسئلہ کے تصفیہ کی ذمہ داری مدعاعلیہ پر ہے۔ کوئی شہادت پیش نہیں کی۔ وہ یہ ثابت کرنے کے لئے کسی عد کہ اب اس مقدمہ کو دوبارہ زیر بحث نہیں لایا جا سکتا۔ اس ضمن اور اس میں کوئی وزن نہیں۔ اس لئے اس مسئلے کا فیصلہ مدعاعلیہ

مسئلہ نمبر:۵

یہ انتہائی اہم مسئلہ ہے اور اگر اس کا فیصلہ مدعیہ کے کے فیصلے کے لئے دوسرے امور پر غور کرنے کی ضرورت ن وکلاء نے اس مسئلہ پر سیر حاصل بحث کی۔ یہ امر قابل ذکر ہ وکیل مسٹر لطیف کی اعانت کے بغیر ہی اس مسئلہ کے قانونی پ ساتھ اپنی خود وکالت کی۔

مدعاعلیہ کے فاضل وکیل مسٹر لطیف نے مغربی پا کی دفعہ ۲۳ پر انحصار کرتے ہوئے یہ مؤقف اختیار کیا کہ اس سماعت کا اختیار نہیں۔ کیونکہ یہ شادی مسلم فیملی لاز آرڈیننس ب دفعہ ۲۳ میں کہا گیا ہے۔

2306 ”کوئی فیملی کورٹ کی شادی کے جواز پر غور نہی مجریہ ۱۹۶۱ء کے مطابق رجسٹر کی گئی ہو۔ اس سلسلے میں متذکر قابل قبول نہیں ہو گی۔“

متذکرہ دفعہ ۲۳ کا احتیاط کے ساتھ مطالعہ کرنے ہو جاتی ہے کہ شادی کے جواز پر غور کرنے کے سلسلہ میں پابند کوئی شادی مسلم فیملی لاز آرڈیننس کے تحت ہوئی ہو۔ اس ل سے پہلے مدعاعلیہ کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ فریقین کی شادی مس تقاضوں کے مطابق ہوئی تھی۔ مسلم لاز آرڈیننس کی دفعہ نمب کہا گیا ہے کہ اس کا اطلاق پاکستان کے تمام مسلمان شہریہ دفعہ ۵ کے تحت صرف وہ شادیاں رجسٹر کی جاسکتی ہیں جو مسلم

۲۹۲

صفحہ 2172

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

۱۹۶۹ء کے ذریعے ترمیم کر دی گئی ہے۔ جس کے تحت کلاز نمبر ۷ کے شیڈول میں اضافہ کیا گیا ہے اور شادیوں کے جواز کے مقدمات کی سماعت کے لئے خصوصی اختیارات دیئے گئے ہیں۔ اس اضافے کے پیش نظر میری رائے یہ ہے کہ مغربی پاکستان فیملی کورٹ آرڈیننس کی دفعہ نمبر ۲۳ اس حد تک بالواسطہ طور پر منسوخ کر دی گئی ہے۔ اب اس امر کا جائزہ لینے سے پہلے کہ آیا مدعا علیہ ایک غیر مسلم ہے۔ میں مغربی پاکستان کے خلاف آغا شورش کاشمیری کی رٹ درخواست نمبر ۹۳۷ 2308(۱۹۶۸ء) کے ضمن میں مغربی پاکستان ہائیکورٹ کے ججوں کے ان مشاہدات کا حوالہ دینا ضروری سمجھتا ہوں۔ جن میں قرار دیا گیا ہے کہ عدالت یہ تعین کر سکتی ہے کہ احمدی مسلمان نہیں ہیں۔ اگر اس سلسلے کا تعلق کسی طور جائیداد یا کسی منصب کے حق سے ہو۔ یہ مشاہدات زیر بحث مقدمہ میں میری تائید کرتے ہیں کہ عدالت یہ چھان بین کرنے کی مجاز ہے کہ مدعا علیہ قادیانی (احمدی) ہونے کی وجہ سے مسلمان ہے یا نہیں۔ عدالت عالیہ کے فاضل ججوں نے رٹ درخواست نمبر ۹۳۷ (۱۹۶۸ء) میں جو مشاہدات پیش کئے تھے اور جن کا ذکر اوپر کیا گیا ہے وہ درج ذیل ہیں۔

”۷۴۔ جہاں تک تجارت اور پیشے کی آزادی اور تقریر کی آزادی سے متعلق بنیادی حقوق ۱۸ اور ۱۹ کا تعلق ہے وہ ہنگامی حالات کے اعلان کی وجہ سے معطل ہو گئے ہیں۔ مذہب پر عمل اور اس کے اعلان کی آزادی ہے۔ لیکن اس پر عمل کا مسئلہ قانون امن عامہ اور اخلاقیات کے تابع ہے۔ اس لئے یہ قطعی نہیں ہے۔ قانون کے تابع ہونے کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کے ہر شہری کے لئے یہی آزادی تسلیم کی گئی ہے جو قانون امن عامہ اور اخلاقیات کے تقاضوں کے تابع ہے۔ درخواست گزار کے فاضل وکیل کے تمام دلائل کا لب لباب یہ ہے کہ احمدی اسلام کا فرقہ نہیں ہے اور یہ بات کہنے کی ضمانت درخواست گزار کو آئین کی رو سے حاصل ہے۔ لیکن فاضل وکیل یہ حقیقت نظر انداز کر گئے ہیں کہ پاکستان کے شہریوں کی حیثیت سے احمدیوں کو بھی یہ آئینی ضمانت اور آزادی حاصل ہے کہ وہ اپنے اسلام کے دائرے میں ہونے کا اعلان کریں۔ درخواست گزار دوسروں سے وہ حق کیوں کر چھین سکتا ہے۔ جو وہ خود اپنے لئے طلب کرتا ہے۔ یہ بات ہماری فہم سے بالاتر ہے۔ وہ یقیناً انہیں دھمکا نہیں سکتا۔ اس وقت تصفیہ طلب بات یہ ہے کہ درخواست گزار اور ان کے دوسرے ہم خیال قانونی طور پر احمدیوں کو یہ ماننے سے کیونکر روک سکتے ہیں کہ اسلام کے دوسرے فرقوں کے نظریاتی اختلافات کے باوجود اسلام کے اتنے ہی اچھے پیرو ہیں۔ جتنا کہ کوئی اور شخص جو خود کو مسلمان کہتا ہے اس سوال کا جواب درخواست گزار کے 2309 وکیل نے بڑی صفائی سے نفی میں دیا کہ آیا ایسا کوئی مقدمہ یا اعلان جائز ہوگا۔ جس کے ذریعہ یہ طے کیا جائے کہ احمدی مسلمان نہیں ہیں یا جس کے ۔

۲۹۴

صفحہ 2173

2173 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

ذریعے سے احمدیوں کو خود کو مسلمان کہنے سے روک دیا جائے۔ یہ بات قابل اطمینان ہے اور یہ مجرد سوال اس وقت تک نہیں اٹھایا جانا چاہئے جب تک اس کا کوئی تعلق کسی جائیداد یا منصب کے حق سے نہ ہو۔ ایسی صورت میں ایک دیوانی مقدمہ جائز ہوگا۔ مؤخر الذکر کی معروف شکلوں کا تعلق سجادہ نشین یا خانقاہ کے متولی کے عہدوں اور ایسے دوسرے اداروں سے ہے جن میں بعض اوقات مذہبی عقائد ان عہدوں پر فائز ہونے کی بنیادی شرط ہوتے ہیں۔ ہمارے مقاصد کے تحت سب سے موزوں مثال آئین کا آرٹیکل نمبر ۴۱ ہے۔ جس کے مطابق دوسری خصوصیات کے علاوہ صدارتی انتخابات کے امیدوار کے لئے مسلمان ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ صدارتی انتخاب کے ایکٹ مجریہ ۱۹۶۴ء کی دفعہ ۸ کے تحت ریٹرننگ افسر کو یہ اختیار ہے کہ وہ اس بات کا اطمینان کرنے کے لئے سرسری تحقیقات کرے کہ کوئی صدارتی امیدوار آئین کے تحت صدر منتخب ہونے کا اہل ہے۔ اس میں یہ تحقیقات بھی شامل ہے کہ متذکرہ امیدوار مسلمان ہے۔ اگر کسی امیدوار کے کاغذات نامزدگی اس لئے مسترد کر دیئے جائیں کہ وہ مسلمان نہیں تو پھر الیکشن کمیشن کے روبرو اپیل کی جاسکتی ہے اور اس قسم کی اپیل پر کمیشن جو بھی فیصلہ دے گا وہ قطعی ہوگا۔ آئین کے آرٹیکل نمبر ۴۱ میں مزید کہا گیا ہے کہ انتخاب کے سلسلے میں کسی تنازعہ کا تصفیہ صرف طے شدہ طریق کار کے مطابق یا اس مقصد کے لئے قائم شدہ ٹریبونل کے ذریعے ہوگا۔ کسی اور طریق سے نہیں۔ آرٹیکل کے کلاز نمبر ۶ میں کہا گیا ہے کہ ”جب کسی شخص کے صدر منتخب ہونے کا اعلان کر دیا جائے تو انتخاب کے جواز کو کسی بھی طرح کسی بھی عدالت یا اتھارٹی کے روبرو زیر بحث نہیں لایا جا سکے گا“

اس طرح یہ بات ظاہر ہے کہ صدارتی انتخاب کے لئے بھی اس بات کا قطعی تعین کرنے کی غرض سے خصوصی اختیارات وضع کئے گئے ہیں کہ امیدوار مسلمان ہے یا نہیں اور دیوانی عدالت کا دائرہ اختیار محدود کر دیا گیا ہے۔

2310 اب ہم اس بات کا جائزہ لیتے ہیں کہ زیر بحث مقدمہ میں فریقین کے درمیان ہونے والی شادی مسلم شادی نہیں ہے۔ کیونکہ مدعیہ کے بیان کے مطابق مدعا علیہ قادیانی (احمدی) عقائد کا پیرو ہونے کے سبب غیر مسلم ہے۔ اس سلسلہ میں صرف ایک نقطہ غور طلب ہے اور وہ یہ کہ مدعا علیہ مسلمان ہے یا نہیں۔ جہاں تک مدعیہ کا تعلق ہے وہ حنفی (سنی) مسلم ہے جب کہ مدعا علیہ نے خود اقرار کیا ہے کہ وہ قادیانی (احمدی) ہے۔

مدعا علیہ کے عقیدے اور اس کے مذہب کے بارے میں صحیح رائے قائم کرنے کے لئے یہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس کے بیان کے ضروری حصے اور اس کے خطوط اور بعض دوسری

۲۹۵

Y OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

۱۹۶۹ء کے ذریعے ترمیم کر دی گئی ہے۔ جس ۔ اور شادیوں کے جواز کے مقدمات کی سماعت اضافے کے پیش نظر میری رائے یہ ہے کہ مغربی تک بالواسطہ طور پر منسوخ کر دی گئی ہے۔ اب غیر مسلم ہے۔ میں مغربی پاکستان کے خلاف 2308(۱۹۶۸ء) کے ضمن میں مغربی پاکستان ہا ضروری سمجھتا ہوں۔ جن میں قرار دیا گیا ہے کہ ع اگر اس سلسلے کا تعلق کسی طور جائیداد یا کسی منصب میری تائید کرتے ہیں کہ عدالت یہ چھان بین کر کی وجہ سے مسلمان ہے یا نہیں۔ عدالت عالی (۱۹۶۸ء) میں جو مشاہدات پیش کئے تھے اور جن ”۲۳۔ جہاں تک تجارت اور پیشے کی ۱۸ اور ۱۹ کا تعلق ہے وہ ہنگامی حالات کے اعلان ہ کے اعلان کی آزادی ہے۔ لیکن اس پر عمل کا مسئلہ لئے یہ قطعی نہیں ہے۔ قانون ہذا تابع ہونے کا م آزادی تسلیم کی گئی ہے جو قانون امن عامہ اور اخلا کے فاضل وکیل کے تمام دلائل کا لب لباب یہ ہے ضمانت درخواست گزار کو آئین کی رو سے حاصل ہیں کہ پاکستان کے شہریوں کی حیثیت سے احمدیو وہ اپنے اسلام کے دائرے میں ہونے کا اعلان کر چھین سکتا ہے۔ جو وہ خود اپنے لئے طلب کرتا ہے دھوکا نہیں سکتا۔ اس وقت تصفیہ طلب بات یہ ہے قانونی طور پر احمدیوں کو یہ ماننے سے کیونکر روک اختلافات کے باوجود اسلام کے اتنے ہی اچھے پیر اس سوال کا جواب درخواست گزار کے 2309 و مقدمہ یا اعلان جائز ہوگا۔ جس کے ذریعہ یہ طے

۴

صفحہ 2174

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

تحریریں پیش کر دی جائیں، اپنے بیان ایکس ۲۹ میں مدعا علیہ کہتا ہے: ”میں احمدی فرقہ سے تعلق رکھتا ہوں۔ میں ۸ نومبر ۱۹۶۵ء سے خلیفہ ہوں اور اسی وقت سے سردار محمد خان میرا پیروکار ہے۔ میں مرزا غلام احمد قادیانی کا تیسرا خلیفہ ہوں۔ یہ حقیقت ہے کہ سردست احمدی جماعت کے خلیفہ مرزا ناصر احمد ایم اے ہیں۔ جو مرزا غلام احمد کے دوسرے خلیفہ کے سب سے بڑے صاحبزادے ہیں۔ مرزا غلام احمد کے دوسرے خلیفہ بشیر الدین احمد تھے۔ یہ حقیقت ہے کہ اپنی درخواست کے پیراگراف نمبر ۳ میں میں نے بیان دیا تھا کہ مدعیہ کا باپ اسلام کے سنی فرقے سے تعلق رکھتا ہے۔ میں مرزا غلام احمد قادیانی کا سچا پیروکار ہوں اور ان کی تعلیمات پر مکمل ایمان رکھتا ہوں۔ میں نے مرزا غلام احمد قادیانی کی کتابوں کا مطالعہ کیا ہے۔“

”یہ حقیقت ہے کہ میں نے ایک خط میں لکھا ہے کہ قرآن پاک کے مطالعہ سے مجھ پر یہ انکشاف ہوا ہے کہ ۱۳۹۹ھ میں رمضان کے مہینے میں دو شنبے کی کسی شب کو مجھے امتی نبی اور رسول بنایا جائے گا۔ میں نے ایک ایکس ۳۴ اور خط میں لکھا ہے کہ عرش پر اور آسمان پر میرا حقیقی نام محمد احمد ہے۔ یہ میرا عقیدہ ہے کہ مرزا غلام احمد میری روحانی ماں اور حضرت محمد ﷺ میرے روحانی باپ ہیں اور میں ان کا مکمل روحانی بیٹا ہوں۔

2311 مجھے مرزا غلام احمد کی تحریروں پر ایمان ہے...... میں اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتا کہ مرزا غلام احمد نے اپنے نبی اور رسول ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ مرزا غلام احمد نے خود کو امتی نبی اور رسول قرار دیا تھا....... یہ حقیقت ہے کہ ۵؍ مارچ ۱۹۰۸ء کے ’بدر‘ کے شمارے میں مرزا غلام احمد کا ایک دعویٰ شائع ہوا تھا۔ جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ نبی اور رسول ہیں۔ اس میں انہوں نے یہ دعویٰ امتی نبی یا رسول کی حیثیت سے نہیں کیا تھا۔ میں نے مرزا بشیر الدین کی کتاب ”حقیقت النبوۃ“ پڑھی ہے۔ جس میں مرزا غلام احمد کو مجازی نہیں بلکہ حقیقی نبی قرار دیا گیا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ جو شخص نبی کے منصب کا منکر ہوتا ہے۔ وہ کافر قرار پاتا ہے۔ میں نے مرزا بشیر الدین کی کتاب آئینہ صداقت پڑھی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ جو شخص حضرت مرزا غلام احمد کی نبوت پر یقین نہیں رکھتا۔ وہ قطع نظر اس کے کہ اس نے ان کا نام سنا ہے یا نہیں ۔ کافر ہے اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ مرزا فضل احمد ولد مرزا غلام احمد نے مرزا غلام احمد کی بیعت نہیں کی تھی۔ یہ حقیقت ہے کہ مرزا غلام احمد نے اپنے بیٹے مرزا فضل احمد کی نماز جنازہ نہیں پڑھی تھی۔ اپنے عقیدے کے مطابق ہم ان لوگوں کی نماز جنازہ نہیں پڑھتے جو مرزا غلام احمد کی نبوت پر یقین نہیں رکھتے۔ ہمارے عقیدے کے مطابق مرزا غلام احمد کی پیروکار کسی عورت کی شادی کسی ایسے شخص سے نہیں ہو سکتی جو ان کے پیروکار نہیں۔“

۲۹۶

صفحہ ٢١٧٥

2175 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

اگزبٹ ٣٦ میں مدعا علیہ کہتا ہے: ”علیم و حکیم خدا تعالیٰ نے اپنے کل وعدوں وغیرہ اور ازلی وابدی ارادوں وغیرہ کے مطابق مجھ عاجز ٢٧۔١٢۔١٨٧٦ کو بروز اتوار اپنے الہامات کے ذریعے یہ علم بخشا کہ ہم نے اپنے ازلی وابدی ارادوں وغیرہ کے مطابق ٢٧/رمضان کی شب شنبہ ٢٩، ٣٠/نومبر ١٨٧٦ء کی درمیانی رات میں اپنے عرش بریں پر اور کل آسمانوں پر ایک اعلان کر کے یہ حقیقت ظاہر کر دی ہے کہ برق عرش کو (یعنی مدعاعلیہ) آج کی رات سے محمد مصطفٰے ﷺ اور احمد قادیانی کی نبوت و رسالت وغیرہ ظلی و بروزی راہ سے عطا کر کے ان کو روحانی طور پر احمد رسول اللہ اور محمد رسول اللہ ہونے کا کل شرف دے دیا ہے۔ بعدہ یہ علم ملا کہ 2313 ہم نے حضرت محمد رسول اللہ، احمد رسول اللہ کا شمس الانبیاء ہونا کل دنیا پر ظاہر و باہر کرنے کے لئے مجھے قمر الانبیاء یعنی کل رسولوں کا چاند ہونے کا مقام و مرتبہ عطا کر دیا ہے۔“

اگزبٹ ٣٨ میں مدعا علیہ کہتا ہے: ”میں عاجز آپ لوگوں کے نزدیک تو سب انسانوں سے ہر طرح بدترین ہوں اور آپ لوگ مجھ کو ہر طرح سے تباہ و برباد کر ، عین نیکی کا کام اور بہت بڑا ثواب وغیرہ جانتے ہیں۔ مگر خدا اور رسول کے نزدیک چونکہ خدا اور رسول کا بہت ہی شاندار غیر معمولی خلیفہ اور امام الزمان اور پندرھویں صدی ہجری کا مجدد اور کل روحانی آسمانوں وغیرہ کا شہنشاہ اور حضرت رسول وغیرہ کا کامل اور جامع بروز مظہر و مثیل وغیرہ ہوں۔“

اگزبٹ ٣٤ میں مدعا علیہ کہتا ہے: ”مرزا غلام احمد قادیانی میرے نزدیک بروزی و ظلی طور پر وہ کچھ تھے۔ جو حضرت رسول عربی تھے۔ میں عاجز بروزی اور ظلی طور پر وہی کچھ ہوں جو کہ حضرت مرزا صاحب تھے۔ آنحضرت میرے لئے روحانی طور پر باپ ہیں اور حضرت مرزا صاحب روحانی طور پر ماں ہیں اور میں ان دونوں سے پیدا ہونے والا کامل اور جامع روحانی بیٹا ہوں اور خدا تعالیٰ کے عرش اور آسمانوں پر میرا اصل نام محمد احمد ہے۔“

مدعا علیہ نے اعتراف کیا ہے کہ وہ مرزا غلام احمد کا پیروکار ہے۔ اس لئے یہ معلوم کرنا بے حد ضروری ہے کہ مرزا غلام احمد کی پیروی کرنے اور ان کی تعلیمات پر ایمان رکھنے کے باوجود مدعا علیہ کو مسلمان تصور کیا جاسکتا ہے یا نہیں۔ اس مقصد کے لئے احمدیوں کی تاریخ کی چھان بین کرنا غیر ضروری نہ ہوگا۔

2312 احمدیت کی تاریخ

اس فرقے کو سمجھنے کے لئے اس دور کا جائزہ لینا پڑے گا۔ جس میں یہ فرقہ معرض وجود

٢٩٧

MBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

تحریریں پیش کر دی جائیں، اپنے بیان ایکس ٢٩ میں رکھتا ہوں۔ میں ٨ نومبر ١٩٦٥ء سے خلیفہ ہوں اور ا میں مرزا غلام احمد قادیانی کا تیسرا خلیفہ ہوں۔ یہ حق مرزا ناصر احمد ایم۔اے ہیں۔ جو مرزا غلام احمد کے دو ہیں۔ مرزا غلام احمد کے دوسرے خلیفہ بشیر الدین ام پیرا گراف نمبر ٣ میں میں نے بیان دیا تھا کہ مدعیہ کا میں مرزا غلام احمد قادیانی کا سچا پیروکار ہوں اور ان مرزا غلام احمد قادیانی کی کتابوں کا مطالعہ کیا ہے۔“

”یہ حقیقت ہے کہ میں نے ایک خط میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ ١٨٩٩ء میں رمضان کے مہین رسول بنایا جائے گا۔ میں نے ایک ایکس ٣٤ اور خط محمد احمد ہے۔ یہ میرا عقیدہ ہے کہ مرزا غلام احمد میری باپ ہیں اور میں ان کا مکمل روحانی بیٹا ہوں۔

2311 مجھے مرزا غلام احمد کی تحریروں پر ایمان کہ مرزا غلام احمد نے اپنے نبی اور رسول ہونے کا دع رسول قرار دیا تھا ...... یہ حقیقت ہے کہ ٥/مارچ ١٩٠٨ دعویٰ شائع ہوا تھا۔ جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ امتی نبی یا رسول کی حیثیت سے نہیں کیا تھا۔ میں نے ہے۔ جس میں مرزا غلام احمد کو مجازی نہیں بلکہ حقیقی نبی کے منصب کا منکر ہوتا ہے۔ وہ کافر قرار پاتا ہے۔ م پڑھی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ جو شخص حضرت مرزا اس کے کہ اس نے ان کا نام سنا ہے یا نہیں۔ کافر ہے ولد مرزا غلام احمد نے مرزا غلام احمد کی بیعت نہیں کی تھ مرزا فضل احمد کی نماز جنازہ نہیں پڑھی تھی۔ اپنے عقید پڑھتے جو مرزا غلام احمد کی نبوت پر یقین نہیں رکھتے پیروکار کسی عورت کی شادی کسی ایسے شخص سے نہیں ہو

٢٩٦

صفحہ ٢١٧٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

میں آیا تھا۔ مرزا غلام احمد اس تحریک کے بانی تھے۔ ان کے والد مرزا غلام مرتضیٰ سکھ دربار میں تھے۔ مرزا غلام احمد ١٣؍ فروری ١٨٣٥ء کو ضلع گورداسپور کے ایک گاؤں (قادیان) میں پیدا ہوئے۔ ان کی تعلیم گھر پر ہی ہوئی اور وہ صرف عربی، فارسی اور اردو پڑھ سکتے تھے۔ ١٨٦٤ء میں وہ کلرک کی حیثیت سے ڈسٹرکٹ کورٹ سیالکوٹ میں ملازم ہوئے۔ جہاں وہ چار سال کام کرتے رہے۔ بعد ازاں انہوں نے ملازمت چھوڑ دی اور اپنا وقت تصنیف و تالیف اور مذہبیات کے مطالعے میں صرف کرنے لگے، مارچ ١٨٨٢ء میں مرزا غلام احمد نے دعویٰ کیا کہ خدا کی طرف سے انہیں الہام ہوا ہے۔ ١٩٠١ء میں انہوں نے نبی اور رسول ہونے کا دعویٰ کر دیا۔

یہ بات ذہن میں رکھنی ضروری ہے کہ اس سے تھوڑا ہی عرصہ پہلے برصغیر غیر ملکیوں کی محکومی میں آ گیا تھا۔ مسلمانوں نے اس خطہ زمین پر آٹھ سو سال سے زائد مدت تک حکمرانی کی تھی اور معاشرے پر ان کے اثرات، کلچر پر ان کی چھاپ اور نظم و نسق میں ان کی اصلاحات ابھی تک تازہ تھیں۔ اب وہ وقت آ گیا تھا کہ انحطاط کے اندرونی عمل کے علاوہ جو ان کے اقتدار کی جڑیں کھوکھلی کر رہا تھا بعض ایسی طاقتیں بھی ان کے درپے ہو گئی تھیں۔ جن پر ان کا کوئی کنٹرول نہیں تھا۔ جو عالمی سطح پر کام کر رہی تھیں۔ مغرب میں عیسائیت اسلام کے خلاف سرگرم عمل تھی۔ مشرق وسطیٰ میں عرب معاشرہ جو کسی زمانہ میں اپنی خوش بختی سے اسلام کا گہوارہ بنا۔ مکہ میں پیدا ہوا، مدینہ میں پروان چڑھا۔ دمشق میں روبہ زوال ہوا اور بغداد میں اس کی قبر کھد گئی۔ یہاں نظریئے اور عمل کا ایک ایسا ملغوبہ تیار ہوا جس کا اسلام سے دور کا بھی تعلق نہیں تھا۔ مسلمانوں کا نظریاتی انتشار شروع ہو چکا تھا اور اس سے برصغیر ہندوستان بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔ وہ غیر ملکی جو یہاں تجارت کے لئے آئے تھے، یہیں رہ پڑے۔ انہوں نے حصول اقتدار کے لئے سازشیں اور ریشہ دوانیاں شروع کر دیں اور بالآخر 2314 اپنی حکومت قائم کر لی۔ مسلمان اس ملک کی دوسری قوموں پر اب بھی فوقیت رکھتے تھے اور وہ اس ملک پر دوبارہ حکمرانی کرنے کے خواہش مند تھے۔ اس صورتحال نے غیر ملکیوں کے ذہنوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا اور انہوں نے سوچا کہ جب تک مسلمانوں کو بالکل فنا نہ کر دیا جائے ان غیر ملکیوں کے اقتدار کو دوام نہ مل سکے گا۔ چنانچہ انہوں نے مسلمانوں کے خلاف

١؎ مدعا علیہ قادیانی کا یہ بیان قادیانی کذب کا شاہکار ہے کہ مرزا ١٨٣٥ء میں پیدا ہوا۔ قادیانی گروہ اپنے چیف گرو مرزا قادیانی کی ”اسی سال عمر پاؤں گا“ کی پیش گوئی کو سچا ثابت کرنے کے لئے جھوٹ بولتے ہیں کہ وہ ١٨٣٥ء میں پیدا ہوا۔ ورنہ خود مرزا قادیانی نے کتاب البریہ میں صاف طور سے لکھا ہے کہ میں ١٨٣٩ء، ١٨٤٠ء میں پیدا ہوا تھا۔

٢٩٨٤ تھا۔

٢٩٨

صفحہ ۲۹۸

EMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

میں آیا تھا۔ مرزا غلام احمد اس تحریک کے بانی تھے۔ تھے۔ مرزا غلام احمد ۱۳ فروری ۱۸۳۵ء کو ضلع گورداسپ ہوئے۔ ان کی تعلیم گھر پر ہی ہوئی اور وہ صرف عربی، فا کلرک کی حیثیت سے ڈسٹرکٹ کورٹ سیالکوٹ میں م رہے۔ بعد ازاں انہوں نے ملازمت چھوڑ دی اور ا مطالعے میں صرف کرنے لگے، مارچ ۱۸۸۲ء میں مرزا انہیں الہام ہوا ہے۔ ۱۹۰۱ء میں انہوں نے نبی اور رسول

یہ بات ذہن میں رکھنی ضروری ہے کہ اس محکومی میں آ گیا تھا۔ مسلمانوں نے اس خطہ زمین پر آٹھ اور معاشرے پر ان کے اثرات، کلچر پر ان کی چھاپ ا تازہ تھیں۔ اب وہ وقت آ گیا تھا کہ انحطاط کے اندرون کھوکھلی کر رہا تھا بعض ایسی طاقتیں بھی ان کے درپے تھا۔ جو عالمی سطح پر کام کر رہی تھیں۔ مغرب میں عیسائیت وسطیٰ میں عرب معاشرہ جو کسی زمانہ میں اپنی خوش بختی سے میں پروان چڑھا۔ دمشق میں روبہ زوال ہوا اور بغداد میں ایک ایسا ملغوبہ تیار ہوا جس کا اسلام سے دور کا بھی تعلو ہو چکا تھا اور اس سے برصغیر ہندوستان بھی متاثر ہوئے کے لئے تھے، یہیں رہ پڑے۔ انہوں نے حصول اقتدار کر دیں اور بالآخر 2314 اپنی حکومت قائم کر لی۔ مسلما فوقیت رکھتے تھے اور وہ اس ملک پر دوبارہ حکمرانی کر غیر ملکیوں کے ذہنوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا اور انہوں نے سو کر دیا جائے ان غیر ملکیوں کے اقتدار کو دوام نہ مل سکے گا

١ ؂ مدعاعلیہ قادیانی کا یہ بیان قادیانی کذب قادیانی گروہ اپنے چیف گرو مرزا قادیانی کی ”اسی سال کرنے کے لئے جھوٹ بولتے ہیں کہ وہ ۱۸۳۵ء میں پ البریہ میں صاف طور سے لکھا ہے کہ میں ۱۸۳۹ء ، ۱۸۴۰ء

2177 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

اپنی عالمگیر سلطنت اور صنعتی اعتبار سے انتہائی ترقی یافتہ معیشت کے تمام وسائل استعمال کرنے شروع کر دیئے اور دغا فریب کا کوئی حربہ باقی نہ رہنے دیا۔ ہندو آبادی نے بھی اپنے مفادات غیر ملکیوں سے وابستہ کر لئے اور ان ہی مسلمانوں میں کچھ میر جعفر اور میر صادق میسر آ گئے۔ مسلمانوں نے غیر ملکی تسلط کے خلاف سرفروشانہ جدوجہد کی لیکن وہ اس سیلاب کے آگے بند نہ باندھ سکے۔ انیسویں صدی کے وسط میں سارا برصغیر برطانیہ کے زیر نگین آچکا تھا۔ غیر ملکی حکومت کے جلو میں عیسائی مشنری بھی برصغیر میں پہنچے اور اس کے بعد مسلمانوں کے لئے ابتلاء کا ایک طویل اور صبر آزما دور شروع ہو گیا۔

انگریزوں کے آلہ کار

عیار انگریز اس بات سے آگاہ تھے کہ برصغیر کے مسلمان مذہب کے بارے میں بے حد حساس ہیں اور یہ صرف اسلام ہی تھا جس نے انہیں متحد کر کے ایک عظیم طاقت بنا دیا تھا۔ اس لئے انگریزوں نے سوچا کہ اگر کسی طرح مسلمانوں کے اتحاد کو ختم کر کے ان کا شیرازہ بکھیر دیا جائے تو انہیں غلام بنانا زیادہ آسان ہو جائے گا۔ انگریزوں کو مرزا غلام احمد میں وہ تمام خصوصیات مل گئیں جو مسلمانوں میں انتشار وافتراق پیدا کرنے کے لئے ضروری تھیں۔ مرزا غلام احمد نے انگریزوں کی حمایت میں مسلمانوں کے درمیان پھوٹ اور بے اعتمادی کی فضا پیدا کرنی شروع کر دی۔ یہ بات ثبوت کی محتاج نہیں کہ مرزا غلام احمد مسلمانوں میں انتشار وافتراق پیدا کرنے کے لئے انگریزوں کے آلہ کار تھے۔ مسٹر جسٹس منیر اور مسٹر جسٹس کیانی نے بھی ۱۹۵۳ء میں پنجاب کے فسادات کے متعلق اپنی رپورٹ میں جو عام طور پر منیر رپورٹ کہلاتی ہے۔ اسی قسم کے خیالات کا اظہار کیا ہے۔

2315 اپنی کتاب (تبلیغ رسالت ج ۲ ص ۱۰، مجموعہ اشتہارات ج ۳ ص ۱۱) میں مرزا غلام احمد کہتے ہیں: ”میں ابتدائی عمر سے اس وقت تک جو قریباً ساٹھ برس کی عمر تک پہنچا ہوں اپنی زبان اور قلم سے اس اہم کام میں مشغول ہوں کہ مسلمانوں کے دلوں کو گورنمنٹ انگلشیہ کی سچی محبت اور خیر خواہی اور ہمدردی کی طرف پھیروں اور ان کے بعض کم فہموں کے دلوں سے، غلط خیالی جہاد وغیرہ دور کروں۔“

(شہادت القرآن ص ۳، خزائن ج ۶ ص ۳۸۰، اشتہار گورنمنٹ کی توجہ کے لائق) میں وہ کہتے ہیں: ”سو میرا مذہب جس کو میں بار بار ظاہر کرتا ہوں یہی ہے کہ اسلام کے دو حصے ہیں۔ ایک یہ کہ

۲۹۹

صفحہ ٢١٧٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

خدا تعالیٰ کی اطاعت کریں۔ دوسرے اس سلطنت کی جس نے امن قائم کیا ہو جس نے ظالموں کے ہاتھ سے اپنے سایہ میں ہمیں پناہ دی ہو۔‘‘

ایک اور مقام پر وہ کہتے ہیں: ”میں ایسی کتابیں فارسی، عربی اور اردو اور انگریزی میں شائع کر رہا ہوں۔ جن میں بار بار یہ لکھا گیا ہے کہ مسلمانوں پر یہ فرض ہے جس کے ترک سے وہ خدا تعالیٰ کے گنہگار ہوں گے کہ اس گورنمنٹ کے سچے خیر خواہ اور دلی جانثار ہو جائیں...... کیونکہ یہ گورنمنٹ ہمارے مال اور خون اور عزت کی محافظ ہے۔‘‘

(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ١٤٠)

ایک اور جگہ وہ لکھتے ہیں: ”میں یہ بات زور دے کر کہتا ہوں کہ مسلمانوں میں صرف میرا فرقہ ایسا تھا جو برطانوی حکومت کا انتہائی وفادار اور اطاعت شعار رہا اور کوئی ایسا قدم نہیں اٹھانا چاہئے جس سے برطانوی حکومت کو اپنا کام چلانے میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا ہو۔‘‘

١٩؍ اکتوبر ١٩١٥ء کے الفضل میں انہوں نے لکھا ہے: ”برطانوی حکومت احمدیوں کے لئے ایک نعمت اور ڈھال ہے اور صرف اسی کے سائے میں وہ پھل پھول سکتے ہیں...... ہمارے مفادات اس حکومت کے تحت بالکل محفوظ ہیں...... جہاں جہاں برطانوی حکومت کے قدم پہنچتے ہیں ہمارے لئے اپنے عقائد کی تبلیغ کا موقع نکل آتا ہے۔‘‘

2316(تبلیغ رسالت ج ٦، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٣٧٠) میں وہ کہتے ہیں: ”میں اپنے اس کام کو نہ مکہ میں اچھی طرح چلا سکتا ہوں نہ مدینہ میں، نہ روم میں، نہ شام میں نہ ایران میں نہ کابل میں ۔ مگر اس گورنمنٹ میں جس کے اقبال کے لئے دعا کرتا ہوں۔‘‘

اس سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ مرزا غلام احمد نے محض اپنے آقاؤں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے مسلمانوں میں انتشار و افتراق پھیلانے کا کھلا لائسنس حاصل کر لیا تھا۔ اپنی تحریروں میں انہوں نے خود اس بات کی شکایت کی ہے کہ انہیں برطانوی سامراج کا ایجنٹ قرار دیا جاتا ہے۔

ان حالات سے بحث کہ جن کے تحت یہ (احمدی) تحریک پروان چڑھی۔ معلوم کرنا ضروری ہے کہ مسلمان ہونے کی ضروری شرائط کیا ہیں۔ امیر علی اپنی کتاب محمدن لاء میں لکھتے ہیں: ”کوئی شخص جو اسلام لانے کا اعلان کرتا یا دوسرے لفظوں میں خدا کی وحدت اور محمد ﷺ کے پیغمبر ہونے کا اقرار کرتا ہے وہ مسلمان ہے اور مسلم لاء کے تابع ہے۔‘‘

ہر وہ شخص جو خدا کی وحدت اور رسول عربی ﷺ کی پیغمبری پر ایمان رکھتا ہے دائرہ اسلام میں آ جاتا ہے۔

٣٠٠

صفحہ ٢١٧٩

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

سر عبدالرحیم اپنی کتاب ”محمڈن جوریسپروڈنس“ میں لکھتے ہیں کہ اسلامی عقیدہ خدائے واحد کی حاکمیت اور محمد ﷺ کے نبی کی حیثیت سے مشن کی صداقت پر مشتمل ہے۔ انہی آراء کا اظہار متعدد دوسری کتابوں میں کیا گیا ہے۔ قرآن حکیم میں مسلمان ہونے کی شرائط سورۃ النساء میں درج کی گئی ہیں۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: اے ایمان والو! تم اعتقاد رکھو اللہ پر اس کے رسول پر جو اس نے اپنے رسولؐ پر نازل فرمائی اور ان کتابوں پر جو کہ پہلے نازل ہو چکی ہیں اور جو شخص اللہ تعالیٰ کا انکار کرے اور اس کے فرشتوں کا اور اس کے رسول کا اور روز قیامت کا تو وہ شخص گمراہی میں بڑی دور جا پڑا۔

(النساء: ١٣٦)

2317 قرآن مجید کی متذکرہ بالا آیت میں واضح طور پر سابق پیغمبروں، آسمانی صحیفوں اور رسول پاک اور ان کی کتاب کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ لیکن اس میں کہیں بھی مستقبل کے پیغمبروں اور ان کی کتب کا حوالہ موجود نہیں۔ اس سے اس کے سوا کوئی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ آنحضرت ﷺ آخری نبی ہیں اور ان پر جو کتاب نازل ہوئی وہ آخری کتاب ہے۔ یہی بات سورہ احزاب میں زیادہ زور دے کر کہی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ”محمد ﷺ تم میں سے کسی کے باپ نہیں۔ لیکن وہ اللہ کے پیغمبر اور خاتم النبیین ہیں اور اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے۔“

(٤٠:٣٣)

خود رسول پاک ﷺ نے بھی کئی حدیثوں میں صورتحال کی وضاحت فرمائی ہے۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں:

بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔

(بخاری)

(ترمذی)

(ابن ماجہ)

قرآن پاک اور رسول اکرم ﷺ کے مندرجہ بالا ارشادات کے بعد یہ جان کر حیرت ہوتی ہے کہ مدعاعلیہ نے خود کو (نعوذ باللہ) پیغمبروں کی صف میں کھڑا کر دیا ہے اور اس کے ممدوح مرزا غلام احمد نے بھی اپنے پیغمبر نبی اور رسول ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ میں مدعاعلیہ کے عقائد کا پہلے بھی ذکر کر چکا ہوں جو اس کے بیان اور خطوط میں درج ہیں۔ احمدیوں اور مسلمان کے واضح اختلافات پر روشنی ڈالنے کے لئے مرزا غلام احمد کے نام نہاد انکشافات میں سے بعض کا حوالہ دینا ضروری ہے۔

٣٠١

EMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

خدا تعالیٰ کی اطاعت کریں۔ دوسرے اس سلطنت کی کے ہاتھ سے اپنے سایہ میں ہمیں پناہ دی ہو۔“

ایک اور مقام پر وہ کہتے ہیں: ”میں ایسی ک شائع کر رہا ہوں۔ جن میں بار بار یہ لکھا گیا ہے کہ مسل خدا تعالیٰ کے گنہگار ہوں گے کہ اس گورنمنٹ کے سچے گورنمنٹ ہمارے مال اور خون اور عزت کی محافظ ہے۔

ایک اور جگہ وہ لکھتے ہیں: ”میں یہ بات ز میرا فرقہ ایسا تھا جو برطانوی حکومت کا انتہائی وفادار اور چاہئے جس سے برطانوی حکومت کو اپنا کام چلانے میں ١٩؍ اکتوبر ١٩١٥ء کے الفضل میں انہوں نے لئے ایک نعمت اور ڈھال ہے اور صرف اسی کے سائے مفادات اس حکومت کے تحت بالکل محفوظ ہیں....... ج ہیں ہمارے لئے اپنے عقائد کی تبلیغ کا موقع نکل آتا ہے

2316 (تبلیغ رسالت ج٦، مجموعہ اشتہارات ج٣ کام کو نہ مکہ میں اچھی طرح چلا سکتا ہوں نہ مدینہ میں، میں۔ مگر اس گورنمنٹ میں جس کے اقبال کے لئے دعا

اس سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے خوشنودی حاصل کرنے کے لئے مسلمانوں میں انتشار تھا۔ اپنی تحریروں میں انہوں نے خود اس بات کی ش ایجنٹ قرار دیا جاتا ہے۔

ان حالات سے بحث کہ جن کے تحت یہ ضروری ہے کہ مسلمان ہونے کی ضروری شرائط کیا ہیں ”کوئی شخص جو اسلام لانے کا اعلان کرتا یا دوسرے لفظ ہونے کا اقرار کرتا ہے وہ مسلمان ہے اور مسلم لاء کے ت ہر وہ شخص جو خدا کی وحدت اور رسول عر اسلام میں آ جاتا ہے۔

٣٠٠

صفحہ ٢١٨٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

(تحفہ گولڑویہ ص٩٦، خزائن ج١٧ ص٢٥٤)

میں وہ کہتے ہیں: 2318”مبشراً برسول یأتی من بعدی اسمہ احمد“ میں، میں آنحضرت ﷺ کا شریک ہوں۔

ایک اور جگہ انہوں نے کہا ہے: ”میں مسیح موعود ہوں۔“

(ازالہ اوہام حصہ اول ص٣٩، خزائن ج٣ ص١٢٢)

(معیار الاخیار ص١١، مجموعہ اشتہارات ج٣ ص٢٧٨)

پر وہ کہتے ہیں: ”میں مہدی ہوں اور کئی پیغمبروں سے برتر ہوں۔“

سیالکوٹ کی تقریر میں (ص٣٣، خزائن ج٢٠ ص٢٢٨) پر وہ دعویٰ کرتے ہیں: ”میں مسلمانوں کے لئے مسیح اور مہدی ہوں اور ہندوؤں کے لئے کرشن۔“

(حقیقت الوحی ص٣٩١، خزائن ج٢٢ ص٤٠٦)

پر وہ لکھتے ہیں: ”نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیا گیا ہوں۔“

اسی کتاب میں (ص٩٩، خزائن ج٢٢ ص١٠٢) پر وہ کہتے ہیں: ”خدا نے مجھ سے کہا ہے کہ لولاک لما خلقت الافلاک (اگر تم پیدا نہ ہوتے تو میں آسمان اور زمین تخلیق نہ کرتا)“

وہ پھر (حقیقت الوحی ص٨٢، خزائن ج٢٢ ص٨٥) پر کہتے ہیں: ”خدا نے مجھ سے کہا ہے کہ وما ارسلنک الا رحمۃ للعالمین (خدا نے تمہیں زمین پر رحمت بنا کر بھیجا ہے)“

اسی کتاب کے (ص١٠٧، خزائن ج٢٢ ص١١٠) پر وہ مزید کہتے ہیں: ”خدا نے مجھ سے کہا انک لمن المرسلین (یقیناً تم رسول ہو)“

2319اسی طرح (تذکرہ ص٣٥٢ طبع ٣) پر وہ مزید کہتے ہیں: ”مجھے الہام ہوا ہے جس میں کہا گیا ہے یایھا الناس انی رسول اللہ الیکم جمیعاً (اے لوگو! دیکھو میں تم سب کے لئے رسول ہوں)“

(حقیقت الوحی ص١٧٩، خزائن ج٢٢ ص١٨٥)

پر انہوں نے اپنے خیالات کا اظہار یوں کیا ہے: ”کفر کی ایک شکل یہ بھی ہے کہ کوئی شخص اسلام پر ہی یقین نہ رکھے اور رسولِ پاک حضرت محمد کو خدا کا پیغمبر تصور نہ کرے۔ کفر کی ایک دوسری شکل یہ ہے کہ کوئی شخص مسیح موعود پر ایمان نہ لائے اور اس کی صداقت کا قطعی ثبوت مل جانے کے باوجود اسے جعل ساز قرار دے۔ حالانکہ خدا اور اس کا رسول اس کی حقانیت کی گواہی دے چکے ہیں اور جس کے متعلق سابق پیغمبروں کے مقدس صحیفوں میں بھی تذکرہ موجود ہے۔ چنانچہ جو خدا اور اس کے پیغمبر کا فرمان مسترد کرتا ہے وہ کافر ہے۔ غور کیا جائے تو دونوں قسم کے کفر ایک ہی زمرے میں آتے ہیں۔“

(حقیقت الوحی ص١٦٣، خزائن ج٢٢ ص١٦٧)

پر وہ کہتے ہیں: ”جو شخص مجھ پر ایمان نہیں

٣٠٢

صفحہ ٢١٨١

2181 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

رکھتا وہ مسلمان نہیں۔‘‘

مرزا غلام احمد مزید کہتے ہیں: ”میرے ذریعے خدا نے اپنا چہرہ لوگوں کو دکھایا ہے۔ چنانچہ اے لوگوں جو رہنمائی کے طالب ہو اپنے تئیں میرے دروازے پر پہنچاؤ۔‘‘

(حقیقت الوحی ص ١٢٨، خزائن ج ٢٢ ص ١٣١ ملخص)

مرزا نے (اشتہار معیار الاخیار، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٧٥) پر لکھا: ”جو شخص پیروی نہیں کرے گا اور تیری بیعت میں داخل نہیں ہوگا اور تیرا مخالف رہے گا وہ خدا اور رسول کی نافرمانی کرنے والا اور جہنمی ہے۔‘‘

”خدا نے مجھ سے کلام کیا ہے اس دور میں خدا کے خلاف حسد پچھلے سارے زمانوں سے زیادہ پھیل گیا ہے۔ کیونکہ متذکرہ رسول کی اہمیت اب بہت کم ہوگئی ہے۔2320 اس لئے خدا نے مسیح موعود کے طور پر مجھے بھیجا ہے۔‘‘

(حقیقت الوحی ص ١٦٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٦٧) پر وہ کہتے ہیں: ”جو شخص مجھ پر ایمان نہیں رکھتا وہ مسلمان نہیں۔‘‘

انہوں نے (مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٩٧) میں اپنے خیالات کا اظہار یوں کیا ہے:

”ہمارے سید و آقا کی پیش گوئی پوری ہے کہ آنے والا مسیح امتی بھی ہوگا اور نبی بھی ہوگا۔‘‘

(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٩٧) پر لکھا ہے کہ: ”میں خدا کے حکم کے موافق نبی ہوں اور اگر میں اس سے انکار کروں تو میرا گناہ ہوگا اور جس حالت میں خدا میرا نام نبی رکھتا ہے تو میں کیونکر اس سے انکار کر سکتا ہوں۔ میں اس پر قائم ہوں اس وقت تک جو اس دنیا سے گزر جاؤں۔‘‘

(تذکرۃ الشہادتین ص ٤٣، خزائن ج ٢٠ ص ٤٥) پر لکھا ہے کہ: ”خدا نے مجھے پر انکشاف کیا ہے کہ اے احمد ہم نے تمہیں نبی بنایا ہے۔‘‘

(تتمہ حقیقت الوحی ص ٦٨، خزائن ج ٢٢ ص ٥٠٣) پر لکھا ہے کہ: ”میں اس خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کے ہاتھوں میں میری زندگی ہے کہ اس نے خود مجھے بھیجا ہے اور اس نے خود مجھے نبی بنایا ہے۔‘‘

(تذکرہ ص ٦٠٧ ، طبع سوم) پر لکھا ہے کہ: ”خدا نے مجھ پر انکشاف کیا ہے کہ ہر وہ شخص جس تک میرا پیغام پہنچے اور وہ مجھے قبول نہ کرے تو وہ مسلمان نہیں ہے۔‘‘

”اب یہ خدا کی مرضی ہے کہ مسلمانوں میں سے جو مجھ سے دور رہیں انہیں تباہ کر دیا جائے گا۔ خواہ وہ بادشاہ ہوں یا رعایا۔ میں یہ بات اپنی طرف سے نہیں کہہ رہا ہوں۔ بلکہ یہ وہ

٣٠٣

EMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

(تحفہ گولڑویہ ص ٩٦، خزائن ج ١٧ ص ٢٥٤) میں من بعدی اسمہ احمد“ میں، میں آنحضرت ﷺ

ایک اور جگہ انہوں نے کہا ہے: ”میں مسیح مـ

(معیار الاختیار ص ١١، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٨

پیغمبروں سے برتر ہوں۔‘‘

سیالکوٹ کی تقریر میں (ص ٣٣، خزائن جـ مسلمانوں کے لئے مسیح اور مہدی ہوں اور ہندوؤں کے

(حقیقت الوحی ص ٣٩١، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٦)

میں ہی مخصوص کیا گیا ہوں۔‘‘

اسی کتاب میں (ص ٩٩، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٢ لولاک لما خلقت الافلاك (اگر تم پیدا نہ ہوتے تو مـ

وہ پھر (حقیقت الوحی ص ٨٢، خزائن ج ٢٢ ص ٨ و ما ارسلنك الا رحمۃ للعالمین (خدا نے تمہیں زـ

اسی کتاب کے (ص ١٠٧، خزائن ج ٢٢ ص ١ـ انك لمن المرسلین (یقیناً تم رسول ہو)‘‘

2319 اسی طرح (تذکرہ ص ٣٥٢ طبع ٣) پر وہ مرـ ہے یا ایھا الناس انی رسول اللہ الیکم جمیعاً (اے لوگـ

(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٧٩، خزائن ج ٢٢ ص ١٨٥)

ہے: ”کفر کی ایک شکل یہ بھی ہے کہ کوئی شخص اسلام پر خدا کا پیغمبر تصور نہ کرے۔ کفر کی ایک دوسری شکل یہ ہـ اس کی صداقت کا قطعی ثبوت مل جانے کے باوجود اسـ رسول اس کی حقانیت کی گواہی دے چکے ہیں اور جسـ میں بھی تذکرہ موجود ہے۔ چنانچہ جو خدا اور اس کے رَـ جائے تو دونوں قسم کے کفر ایک ہی زمرے میں آتے ہـ

(حقیقت الوحی ص ١٦٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٦٧

٣٠٤

صفحہ ٢١٨٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

انکشاف ہے جو خدا نے مجھ سے کیا ہے۔“

(فتاویٰ احمدیہ ج١ ص ١٨) میں مرزا غلام احمد کہتے ہیں: ”ان لوگوں کے پیچھے نماز مت پڑھو جو مجھ پر ایمان نہیں رکھتے۔“

اس کی دوسری جلد کے ص ٧ پر وہ لکھتے ہیں: ”اپنی بیٹیاں ان لوگوں کے نکاح میں نہ دو جو مجھ پر ایمان نہیں رکھتے۔“

2321(انوار خلافت ص٩٣) پر وہ لکھتے ہیں: ”غیر احمدی تو حضرت مسیح موعود کے منکر ہوئے۔ اس لئے ان کا جنازہ نہیں پڑھنا چاہئے۔“

(ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص٧، خزائن ج١١ ص٢٩١) میں وہ کہتے ہیں: ”تین نانیاں اور تین دادیاں آپ کی (مسیح علیہ السلام) زنا کار اور کسبی تھیں۔“

(تذکرہ شہادتین ص٦٤، ٦٥، خزائن ج٢٠ ص٦٦، ٦٧) پر مرزا غلام احمد کہتے ہیں: ”وہ دن آتے ہیں بلکہ قریب ہیں کہ دنیا میں صرف یہی ایک مذہب ہوگا جو عزت کے ساتھ یاد کیا جائے گا۔ خود اس مذہب اور سلسلہ میں نہایت درجہ اور فوق العادت برکت ڈالے گا...... اور دنیا میں ایک ہی مذہب ہوگا، ایک ہی پیشوا، میں تو ایک تخم ریزی کرنے آیا ہوں۔ سو میرے ہاتھ سے وہ تخم بویا گیا اور اب وہ بڑھے گا اور پھولے گا اور کوئی نہیں جو اس کو روک سکے۔“

(تحفہ گولڑویہ ص٥٦، خزائن ج١٧ ص١٨٢) میں مرزا غلام احمد کہتے ہیں: ”وقت آنے والا ہے۔ بلکہ آ پہنچا ہے۔ جب یہ تحریک عالمگیر بن جائے گی اور اسلام اور احمدیت ایک دوسرے کے مترادف بن جائیں گے۔ یہ خدا کی طرف سے انکشاف ہے۔ جس کے لئے کوئی بھی چیز ناممکن نہیں۔“

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص١٦، خزائن ج١٧ ص٦١) پر ہے: ”صحیح بخاری، صحیح مسلم، بائبل، دانیال اور دوسرے پیغمبروں کی کتابوں میں جہاں میرا ذکر کیا گیا ہے وہاں لفظ ”پیغمبر“ کا اطلاق مجھ پر ہوتا ہے۔“

(دافع البلاء ص١٣، خزائن ج١٨ ص٢٣٣) پر وہ کہتے ہیں: ”آج تم میں ایک ہے کہ اس حسینؓ سے بڑھ کر ہے۔“

(آئینہ کمالات ص٥٦٤، خزائن ج٥ ص ایضاً) میں وہ کہتے ہیں: ”میں نے اپنے تئیں خدا کے طور پر دیکھا ہے اور میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ میں وہی ہوں اور میں نے آسمان کو تخلیق کیا ہے۔“

(کلمۃ الفصل ص١١٠) میں ایک مقام پر وہ کہتے ہیں: 2322 ”جو شخص موسیٰ علیہ السلام کو تو مانتا ہو۔ مگر عیسیٰ علیہ السلام کو نہیں مانتا یا عیسیٰ علیہ السلام کو مانتا ہو مگر محمد ﷺ کو نہیں مانتا اور یا جو محمد ﷺ کو مانتا ہے پر مسیح موعود کو نہیں مانتا وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔“

٣٠٤

صفحہ ٢١٨٣

2183 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

مدعا علیہ اور مرزا غلام احمد دونوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں ایک بالکل مختلف تصور پیش کیا ہے جو مسلمانوں کے مسلمہ عقائد کے یکسر منافی ہے اور قرآن پاک کی تعلیمات سے متصادم ہے۔ مرزا غلام احمد کہتے ہیں کہ یسوع مسیح کو صلیب پر چڑھایا گیا تھا۔ ان کی موت واقع نہیں ہوئی۔ وہ صلیب سے زندہ آئے اور کشمیر چلے گئے۔ جہاں ان کی طبعی موت واقع ہوگئی۔ مرزا غلام احمد کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوسرے مشن کی تکمیل یوں نہیں ہوگی کہ وہ شخصی طور پر دنیا میں آئیں گے۔ بلکہ ان کی روح ایک دوسرے شخص کے جسم میں حلول کر جائے گی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا یہ دوسرا روپ مرزا غلام احمد خود ہیں۔ لیکن قرآن مجید میں اس بارے میں بالکل مختلف بات کہی گئی ہے۔

سورۃ الزخرف میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

ترجمہ: ”اور جب مریم علیہا السلام کے بیٹے کو مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے تو لوگ ہنستے ہیں اور کہتے ہیں کہ کیا یہ ہمارے خداؤں سے بہتر ہے؟ وہ اعتراض کسی دلیل یا بحث کے لئے نہیں کرتے۔ بلکہ صرف شرارت سے ایسا کرتے ہیں۔ بلکہ وہ جھگڑالو ہیں۔ اس کی حیثیت ایک بندے سے زیادہ کچھ نہیں جس پر ہم نے اپنی رحمت نازل کی اور کھڑا کیا۔ بنی اسرائیل کے واسطے (نمونہ) اگر ہم چاہیں تو نکالیں۔ تم سے فرشتے جو زمین پر تمہاری جگہ بستے اور وہ نشان ہے اس گھڑی (قیامت) کا۔ سو اس میں شک نہ کرو اور میرا کہا مانو۔ یہ ایک سیدھی راہ ہے۔“ (٤٣، ٥٧تا ٦١)

آل عمران میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

ترجمہ: ”اے عیسیٰ علیہ السلام میں تیری عمر کو پورا کروں گا اور اٹھالوں گا اپنی طرف اور پاک کروں گا کافروں سے اور رکھوں گا اور تیرے تابعوں کو اوپر منکروں سے قیامت کے دن ٢٣٢٣تک پھر میری طرف تم کو پھر آنا ہے۔ پھر فیصلہ کروں گا تم میں اس بات میں تم جھگڑتے تھے۔“

(٥٥:٣)

النساء میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

ترجمہ: ”اور اس کے کہنے پر کہ ہم نے مارا مسیح عیسیٰ علیہ السلام مریم کے بیٹے کو جو رسول تھا اللہ کا، اور نہ اس کو مارا ہے اور سولی پر چڑھایا۔ لیکن وہی صورت بن گئی ان کے آگے، اور جو لوگ اس میں کئی باتیں نکالتے وہ اس جگہ شبہ میں پڑے ہیں۔ کچھ نہیں ان کو اس کی خبر، مگر اٹکل پر چلتے ہیں اور اس کو مارا نہیں یقین سے۔ بلکہ اس کو اٹھا لیا اللہ نے اپنی طرف، اور ہے اللہ زبردست حکمت والا۔“ (١٥٨،١٥٧:٤)

٣٠٥

SSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

انکشاف ہے جو خدا نے مجھ سے کیا ہے۔“ (فتاویٰ احمدیہ ج ١ ص ١٨) میں مرزا غلام احمد ک پڑھو جو مجھ پر ایمان نہیں رکھتے۔“

اس کی دوسری جلد کے ص ٧ پر وہ لکھتے ہیں: ” جو مجھ پر ایمان نہیں رکھتے۔“

٢٣٢١(انوار خلافت ص ٩٣) پر وہ لکھتے ہیں: ” ہوئے۔ اس لئے ان کا جنازہ نہیں پڑھنا چاہئے۔“

(ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ٧، خزائن ج ١١ ص ٢٩١ دادیاں آپ کی (مسیح علیہ السلام) زنا کار اور کسبی تھیں۔“

(تذکرہ شہادتین ص ٢٤، ٢٥، خزائن ج ٢٠ ص ٢٦ آتے ہیں بلکہ قریب ہیں کہ دنیا میں صرف یہی ایک مذ گا۔ خود اس مذہب اور سلسلہ میں نہایت درجہ اور فوق العا ہی مذہب ہوگا، ایک ہی پیشوا، میں تو ایک تخم ریزی کر گیا اور اب وہ بڑھے گا اور پھولے گا اور کوئی نہیں جو اس ک

(تحفہ گولڑویہ ص ٥٦، خزائن ج ١٧ ص ١٨٢) میں مرز بلکہ آ پہنچا ہے۔ جب یہ تحریک عالمگیر بن جائے گی اور اس بن جائیں گے۔ یہ خدا کی طرف سے انکشاف ہے۔ جس

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ١٦، خزائن ج ١٧ ص ٦١) پر دوسرے پیغمبروں کی کتابوں میں جہاں میرا ذکر کیا گیا ہے

(دافع البلاء ص ١٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣) پر و حسینؓ سے بڑھ کر ہے۔“

(آئینہ کمالات ص ٥٦٤، خزائن ج ٥ ص ایضاً) میں طور پر دیکھا ہے اور میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ میں و

(کلمۃ الفصل ص ١١٠) میں ایک مقام پر وہ کہت ہو۔ مگر عیسیٰ علیہ السلام کو نہیں مانتا یا عیسیٰ علیہ السلام کو مانت مانتا ہے پر مسیح موعود کو نہیں مانتا وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا کاف

٣٠٤٢

صفحہ ٢١٨٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

متذکرہ بالا سے یہ بات واضح ہے کہ احمدیوں اور مسلمانوں میں محض فلسفیانہ اختلافات ہی نہیں۔ اے ۔ آئی ۔ آر ١٩٢٣ء مدراس ١٧١ بھی میرے سامنے فریقین کے فاضل وکلاء نے پیش کی ہے۔ جس میں احمدیوں اور غیر احمدیوں کے اختلافات سے بحث کی گئی ہے۔ لیگل اتھارٹی کے پورے احترام کے ساتھ میں یہ کہنے کی جرأت کرتا ہوں کہ احمدیوں اور غیر احمدیوں میں نہ صرف یہ کہ بنیادی، نظریاتی اختلافات موجود ہیں۔ بلکہ ان میں عقیدے اور اعلان نبوت کے بارے میں بھی اختلافات موجود ہیں۔ نیز اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کا نزول، قرآن پاک کی آیات کو مسخ کرنا میری رائے میں کسی شخص کو بھی مرتد قرار دینے کے لئے کافی ہیں۔

مدعا علیہ اور غلام احمد کے عقائد کا جائزہ لینے سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ انہوں نے جان بوجھ کر دوسروں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی ہے اور اس مقصد کے لئے ایک طرف دشنام طرازی کا سہارا لیا ہے تو دوسری طرف بڑی فنکاری سے ناخواندہ اور کم علم لوگوں کو متاثر کرنے کی کوشش کی ہے۔ اسلام کی نظر میں یہ بہت بڑا گناہ ہے۔ ہز لارڈ شپ مسٹر جسٹس دلال نے کالی چرن شرما بنام شہنشاہ کے مقدمہ میں اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے: ”اس مقدمہ میں میں معاملات کو ایک ہائیکورٹ کے ایک فاضل جج کی حیثیت سے ہی نہیں بلکہ ہندوستان کے ایک قصبے کے ایک عام شہری کی حیثیت سے بھی 2324 دیکھتا ہوں۔ میں خود کو ایک مسلمان کی جگہ رکھتا ہوں جو اپنے پیغمبر کی عزت و آبرو کا احترام کرتا ہے اور پھر میں سوچتا ہوں کہ میرے جذبات اس ہندو کے بارے میں کیا ہوں گے جو اس پیغمبر کا مذاق اڑاتا ہے اور وہ یہ کام اس لئے نہیں کرتا کہ وہ سُنی ہو گیا ہے بلکہ وہ ایک ایسے پروپیگنڈے سے متاثر ہے جو ان لوگوں نے شروع کیا ہے جو مسلمان نہیں۔ ایسی صورت میں میں ایک عام آدمی کی حیثیت سے اسی نفرت کا مظاہرہ کروں گا جو مصنف کے طبقے سے مخصوص ہے۔ (اے ۔ آئی ۔ آر ١٩٢٧ء، اے۔ ایل ۔ ایل ٦٥٤)“

جیسا کہ میں نے پہلے وضاحت کی ہے۔ مدعا علیہ نے خود کو نعوذ باللہ پیغمبران کرام کی صف میں کھڑا کر دیا ہے اور اس کے ممدوح مرزا غلام احمد بھی یہ اعلان کر چکے ہیں کہ وہ پیغمبر، نبی اور رسول ہیں۔ مزید برآں مرزا غلام احمد نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دادیوں اور نانیوں کے خلاف غیر شائستہ زبان استعمال کی ہے اور اسی پر بس نہیں بلکہ آنحضرت ﷺ اور ان کے صحابہؓ کے بارے میں توہین آمیز کلمات کہے ہیں۔ اس سلسلے میں مرزا غلام احمد کے متذکرہ بالا نام نہاد انکشافات کے حوالے کے علاوہ ”ملفوظات احمدیہ“ میں ان کی تحریروں کو ثبوت کے طور پر پیش کیا

٣٠٦

صفحہ ٢١٨٥

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

جاسکتا ہے۔ رسول پاک کی اس سے زیادہ اور کوئی توہین نہیں ہو سکتی کہ مرزا غلام احمد جیسا شخص یا مدعاعلیہ یا کوئی اور خود کو پیغمبران کرام کی صف میں کھڑا کرنے کی جسارت کرے، کوئی مسلمان کسی شخص کی طرف سے ایسا دعویٰ برداشت نہیں کر سکتا اور نہ قرآن وحدیث سے اس طرح کے دعویٰ کی تائید لائی جاسکتی ہے۔

مرزا غلام احمد نے دانستہ طور پر قرآن پاک کی آیات خود سے منسوب کی ہیں اور انہیں خود ساختہ معنی پہنائے تا کہ وہ دوسروں کو گمراہ کر سکیں اور یہ بے خبر اور جاہل لوگوں کو گمراہ کرنے کی ایسی سنگین غلط بیانی ہے جو جان بوجھ کر روا رکھی گئی اور جو اسلام کی نظر میں گناہ کبیرہ ہے۔

احمدیوں نے ١٧؍جولائی ١٩٢٢ء کے الفضل میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ: ”2325 کوئی شخص بھی کسی منصب جلیلہ تک پہنچ سکتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ نعوذ باللہ محمد رسول اللہ سے بھی آگے نکل سکتا ہے۔“ ١٢؍جون ١٩٢٥ء کے الفضل میں احمدیوں نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے جس نے میرے ہاتھ پر بیعت کر لی اس کا مرتبہ وہی ہو گیا جو صحابہ رسول کا تھا۔“

(ملفوظات احمدیہ ج ١ ص ٣٠٠) میں ایک جگہ یہ کہا گیا ہے کہ: ”تمہارے درمیان ایک زندہ علی موجود ہے اور تم اسے چھوڑ کر مردہ علی کو تلاش کر رہے ہو!“ اس کے علاوہ مرزا غلام احمد نے اپنے پیروؤں کو یہ حکم دیا ہے کہ اپنی بیٹیوں کو غیر احمدیوں کے نکاح میں نہ دیں کیونکہ یہ لوگ کافر ہیں۔

شیخ الاسلام حضرت تقی الدین نے کہا ہے کہ: ”جو خدا سے ڈرتا ہے وہ کلمہ پر ایمان رکھنے والے کسی شخص کو کافر قرار نہیں دے سکتا۔ ایسا شخص ہمیشہ کے لئے مردود ہو گیا اور اسے کسی مسلمان عورت سے شادی کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔“

(ملفوظات الکبریٰ)

پیغمبران کرام کے بارے میں غیر شائستہ زبان کا استعمال ہی کسی کے ارتداد کے رجحان کی غمازی کرنے کے لئے کافی ہے۔ (١٠٦ پی۔آر ١٨٩١ء) مسلم لاء کی تشکیل کے ابتدائی دور میں ارتداد بہت بڑا گناہ تھا۔ جس کی سزا موت ہوتی تھی۔

(طحطاوی جلد دوم ص ٨٢) پر ہے: ”اگر میاں بیوی میں سے ایک بھی ارتداد کا مرتکب ہو تو ان کی شادی جو اسلامی شادی تھی، فوری طور پر فسخ ہو جائے گی اور انہیں لازمی طور پر ایک دوسرے سے الگ ہونا پڑے گا۔ مگر مرزا غلام احمد جیسا کہ میں قبل ازیں بتا چکا ہوں۔ اسلام کی تعلیمات کے علی الرغم اپنے پیروؤں کو یہ حکم دیتے ہیں کہ اپنی بیٹیاں غیر احمدیوں کے نکاح میں نہ دیں کیونکہ وہ کافر ہیں۔

٣٠٧

MBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

متذکرہ بالا سے یہ بات واضح ہے کہ احمد ہی نہیں۔ اے آئی ۔ آر ١٩٢٣ء مدراس ١٧١ بھی میرے ہے۔ جس میں احمدیوں اور غیر احمدیوں کے اختلافا پورے احترام کے ساتھ میں یہ کہنے کی جرأت کرتا ہ کہ بنیادی، نظریاتی اختلافات موجود ہیں۔ بلکہ ان بھی اختلافات موجود ہیں۔ نیز اللہ تعالیٰ کی طرف کرنا میری رائے میں کسی شخص کو بھی مرتد قرار دینے

مدعاعلیہ اور غلام احمد کے عقائد کا جائزہ جان بوجھ کر دوسروں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی ہے ا کا سہارا لیا ہے تو دوسری طرف بڑی فنکاری سے تا ہے۔ اسلام کی نظر میں یہ بہت بڑا گناہ ہے۔ ہزلا شہنشاہ کے مقدمہ میں اپنے خیالات کا اظہار کی ہائیکورٹ کے ایک فاضل جج کی حیثیت سے عی شہری کی حیثیت سے بھی 2324 دیکھتا ہوں۔ میں خو عزت و آبرو کا احترام کرتا ہے اور پھر میں سوچتا ہ کیا ہوں گے جو اس پیغمبر کا مذاق اڑاتا ہے اور وہ ایک ایسے پروپیگنڈے سے متاثر ہے جو ان ا صورت میں میں ایک عام آدمی کی حیثیت سے سے مخصوص ہے۔ (اے آئی ۔ آر ١٩٢٧ء، اے م

جیسا کہ میں نے پہلے وضاحت کی صف میں کھڑا کر دیا ہے اور اس کے ممدوح مرز اور رسول ہیں۔ مزید برآں مرزا غلام احمد نے خلاف غیر شائستہ زبان استعمال کی ہے اور اس کے بارے میں توہین آمیز کلمات کہے ہیں۔ انکشافات کے حوالے کے علاوہ ”ملفوظات ا

صفحہ ٢١٨٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

علامہ اقبال کا مشورہ 2326

اس سے یہ بات ظاہر ہے کہ احمدی مسلمانوں سے الگ مذہب کے پیروکار ہیں اور علامہ اقبال نے اس وقت کی حکومت ہند کو بالکل درست مشورہ دیا تھا کہ اس (طبقے) (احمدیوں) کو مسلمانوں سے یکسر مختلف تصور کیا جائے اور اگر انہیں علیحدہ حیثیت دی گئی تو مسلمان ان کے ساتھ اسی رواداری سے پیش آئیں گے۔ جس کا مظاہرہ وہ دوسرے مذاہب کے پیروؤں سے کرتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ احمدیوں کو احمدی کی حیثیت سے زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے۔ مدینہ کے منشور میں جسے اسلامی پالیسی کا میکنا کارٹا قرار دیا جاسکتا ہے رسول پاک ﷺ نے غیر مسلموں کو اجازت دی ہے کہ وہ اپنی مرضی کے مطابق اپنی مذہبی تعلیمات کے مطابق زندگی بسر کریں اور اس سلسلے میں کبھی کوئی جبر روا نہیں رکھا گیا۔ لیکن ایک الگ طبقے کی حیثیت سے زندگی گزارنے کا حق احمدیوں کو اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ وہ مسلمانوں کے پرسنل لاء میں مداخلت کریں اور انہیں مجبور کریں کہ وہ احمدیوں کو بھی صرف اس لئے اسلام کا ایک فرقہ تسلیم کرلیں کہ انہوں نے اپنے اوپر احمدی مسلم کا لیبل لگا رکھا ہے۔

امتی نبی کا تصور

مرزا غلام احمد یا مدعا علیہ کی نام نہاد نبوت پر ایمان حضرت محمد ﷺ کی نبوت کی کھلی تنقیص ہے۔ جس کی وضاحت خداوند تعالیٰ نے قرآن پاک میں اور رسول پاک ﷺ نے احادیث میں کر دی ہے۔ مدعا علیہ اور مرزا غلام احمد نے امتی نبی یا رسول یا ظلی اور بروزی نبی کا جو تصور پیش کیا ہے وہ قرآن اور حدیث سے نہیں ملتا اور نہ مدعا علیہ اور مرزا غلام احمد کے تصور کی تائید کسی اور ذریعہ سے ہوتی ہے۔ امتی نبی کا تصور غیر اسلامی ہے اور یہ مرزا غلام احمد اور مدعا علیہ کی من گھڑت تصنیف ہے۔ قرآن یا حدیث میں کہیں بھی ایسی کوئی بات نہیں ملتی۔ جس میں سے یہ بات ظاہر ہو کہ اسلام امتی نبی پر یقین رکھتا ہے۔ رسول پاک ﷺ نے یہ باب ہمیشہ کے لئے بند کر دیا ہے اور 2327 حدیث رسول کی موجودگی میں اس بات سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ حضرت محمد ﷺ کے بعد کسی طرح کا کوئی نبی نہیں آئے گا۔

اسلام کا یہ عقیدہ ضرور ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ایک بار پھر دنیا میں تشریف لائیں گے۔ لیکن وہ حضرت محمد ﷺ کے امتی کی حیثیت سے ظاہر ہوں گے۔ یسوع مسیح کوئی نئی

٣٠٨

صفحہ ٢١٨٧

ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

2326 علامہ اقبال کا مشورہ

اس سے یہ بات ظاہر ہے کہ احمدی مسلمانوں علامہ اقبال نے اس وقت کی حکومت ہند کو بالکل درست مشورہ مسلمانوں سے یکسر مختلف تصور کیا جائے اور اگر انہیں علیحدہ م اسی رواداری سے پیش آئیں گے۔ جس کا مظاہرہ وہ دوسر ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ احمدیوں کو احمدی کی حیثیت مدینہ کے منشور میں جسے اسلامی پالیسی کا میکنا کارٹا قرار غیر مسلموں کو اجازت دی ہے کہ وہ اپنی مرضی کے مطابق اپن کریں اور اس سلسلے میں کبھی کوئی جبر روا نہیں رکھا گیا۔ لیکن گزارنے کا حق احمدیوں کو اس بات کی اجازت نہیں دیت مداخلت کریں اور انہیں مجبور کریں کہ وہ احمدیوں کو بھی صرف کہ انہوں نے اپنے اوپر احمدی مسلم کا لیبل لگا رکھا ہے۔

امتی نبی کا تصور

مرزا غلام احمد یا مدعا علیہ کی نام نہاد نبوت پر ا تنقیص ہے۔ جس کی وضاحت خداوند تعالیٰ نے قرآن احادیث میں کر دی ہے۔ مدعا علیہ اور مرزا غلام احمد نے امتی تصور پیش کیا ہے وہ قرآن اور حدیث سے نہیں ملتا اور نہ مدع کسی اور ذریعہ سے ہوتی ہے۔ امتی نبی کا تصور غیر اسلامی من گھڑت تصنیف ہے۔ قرآن یا حدیث میں کہیں بھی ایس بات ظاہر ہو کہ اسلام امتی نبی پر یقین رکھتا ہے۔ رسول پاک دیا ہے اور 2327 حدیث رسول کی موجودگی میں اس بات س کے بعد کسی طرح کا کوئی نبی نہیں آئے گا۔

اسلام کا یہ عقیدہ ضرور ہے کہ حضرت عیسیٰ علی لائیں گے۔ لیکن وہ حضرت محمد ﷺ کے امتی کی حیثیت س

٣٠٨

2187 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

امت تخلیق نہیں کریں گے۔ بلکہ وہ محمد ﷺ کی شریعت کی پیروی کریں گے۔ میرے سامنے آنحضرت ﷺ کی حدیث کا حوالہ دیا گیا ہے۔ جس میں رسول پاک ﷺ نے فرمایا ہے کہ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر بن خطاب ہوتے۔ رسول پاک ﷺ کی یہ حدیث اور دوسری احادیث واضح طور پر یہ بات ظاہر کرتی ہیں کہ حضرت محمد ﷺ کے بعد کسی قسم کا کوئی نبی نہیں آئے گا۔ اس لئے مدعا علیہ اور مرزا غلام احمد نے امتی نبی یا ظلی اور بروزی نبی کا جو تصور پیش کیا ہے وہ سراسر غیر اسلامی اور قرآن وحدیث کی تعلیمات کے منافی ہے۔ نیز مسلمانوں کے اجماع سے بھی متصادم ہے۔ مرزا غلام احمد نے بروزی نبی ہونے کا جو دعویٰ کیا ہے علامہ اقبال نے اس پر تفصیل سے گفتگو کی ہے اور اسے مجوسیوں کا عقیدہ قرار دیا ہے۔ علامہ کی تحریر سے ہمیں بروزی نبی کے تصور کی حقیقت سمجھنے میں مدد ملے گی۔ اس لئے میں اس بحث کے متعلقہ حصے فیصلے میں شامل کرنا پسند کروں گا۔

احمدیت کے بارے میں علامہ اقبال کا نظریہ

”ختم نبوت کے تصور کی تہذیبی قدر و قیمت کی توضیح میں نے کسی اور جگہ کر دی ہے۔ اس کی معنی بالکل سلیس ہیں۔ محمد ﷺ کے بعد جنہوں نے اپنے پیروؤں کو ایسا قانون عطاء کر کے جو ضمیر انسانی کی گہرائیوں سے ظہور پذیر ہوتا ہے۔ آزادی کا راستہ دکھایا ہے۔ کسی اور انسانی ہستی کے آگے روحانی حیثیت سے سر نیاز خم نہ کیا جائے۔ دینیاتی نقطہ نظر سے اس نظریہ کو یوں بیان کر سکتے ہیں کہ وہ اجتماعی اور سیاسی تنظیم جسے اسلام کہتے ہیں مکمل اور ابدی ہے۔ محمد ﷺ کے بعد کسی ایسے الہام کا امکان ہی نہیں ہے۔ جس سے انکار کفر کو مستلزم ہو جو شخص ایسے الہام کا دعویٰ کرتا ہے وہ اسلام سے غداری کرتا ہے۔ قادیانیوں کا اعتقاد ہے کہ تحریک احمدیت کا بانی ایسے الہام کا حامل تھا۔ لہٰذا 2328 وہ تمام عالم اسلام کو کافر قرار دیتے ہیں۔ خود بانی احمدیت کا استدلال جو قرون وسطیٰ کے متکلمین کے لئے زیبا ہو سکتا ہے یہ ہے کہ اگر کوئی دوسرا نبی پیدا نہ ہو سکے تو پیغمبر اسلام کی روحانیت نامکمل رہ جائے گی۔ وہ اپنے دعوے کے ثبوت میں کہ پیغمبر اسلام کی روحانیت میں پیغمبر خیز قوت تھی خود اپنی نبوت پیش کرتا ہے۔ لیکن آپ اس سے پھر دریافت کریں کہ محمد ﷺ کی روحانیت ایک سے زیادہ نبی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے؟ تو اس کا جواب نفی میں ہے۔ یہ خیال اس بات کے برابر ہے کہ محمد ﷺ آخری نبی نہیں، میں آخری نبی ہوں۔ اس امر کے سمجھنے کی بجائے کہ ختم نبوت کا اسلامی تصور نوع انسانی تاریخ میں بالعموم اور ایشیاء کی تاریخ میں بالخصوص کیا

٣٠٩

صفحہ ٢١٨٨

تہذیبی قدر رکھتا ہے۔ بانی احمدیت کا خیال ہے کہ ختم نبوت کا تصور ان معنوں میں کہ محمد ﷺ کا کوئی پیرو نبوت کا درجہ حاصل نہیں کر سکتا۔ خود محمد ﷺ کی نبوت کو نامکمل پیش کرتا ہے۔ جب میں بانی احمدیت کی نفسیات کا مطالعہ ان کے دعویٰ نبوت کی روشنی میں کرتا ہوں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے دعویٰ نبوت میں پیغمبر اسلام کی تخلیقی قوت کو صرف ایک نبی یعنی تحریک احمدیت کے بانی پیدائش تک محدود کر کے پیغمبر اسلام کے آخری نبی ہونے سے انکار کر دیتا ہے۔ اس طرح یہ نیا پیغمبر چپکے سے اپنے روحانی مورث کی ختم نبوت پر متصرف ہو جاتا ہے۔‘‘

”اس کا دعویٰ ہے کہ میں پیغمبر اسلام کا بروز ہوں۔“ اس سے وہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ پیغمبر اسلام کا بروز ہونے کی حیثیت سے اس کا خاتم النبیین ہونا، دراصل محمد ﷺ کا خاتم النبیین ہونا ہے۔ پس یہ نقطہ پیغمبر اسلام کی ختم نبوت کو مسترد نہیں کرتا۔ اپنی ختم نبوت کو پیغمبر اسلام کی ختم نبوت کے مماثل قرار دے کر بانی احمدیت نے ختم نبوت کے روحانی مفہوم کو نظر انداز کر دیا ہے۔

بہر حال یہ ایک بدیہی بات ہے کہ بروز کا لفظ مکمل مشابہت کے مفہوم میں بھی اس کی مدد نہیں کرتا۔ کیونکہ بروز ہمیشہ اس شے سے الگ ہوتا ہے جس کا یہ بروز ہوتا ہے۔ صرف اوتار کے معنوں میں بروز اور اس شے میں عینیت پائی جاتی ہے۔ پس اگر ہم بروز سے ”روحانی صفات کی مشابہت“ مراد لیں تو یہ دلیل بے اثر رہتی ہے۔ اگر اس کے برعکس اس لفظ کے عبرانی مفہوم 2329 میں اصل شے کا اوتار مراد لیں تو یہ دلیل بظاہر قابل قبول ہوتی ہے۔ لیکن اس خیال کا موجد مجوسی بھیس میں نظر آتا ہے۔“

(حرف اقبال مؤلفہ لطیف احمد شیروانی ص ١٤٤ تا ١٤٧، ١٣٧ تا ١٤٠)

مذکورہ بالا بحث سے یہ بات واضح ہے کہ اسلام میں امتی نبی یا ظلی اور بروزی نبی کا کوئی تصور نہیں ہے۔ جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ مرزا غلام احمد نے اپنے پیروؤں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی بیٹیاں غیر احمدیوں کے نکاح میں نہ دیں اور نہ ان کی نماز جنازہ پڑھیں۔ اس طرح مرزا غلام احمد نے شریعت محمدی ﷺ سے انحراف کر کے اپنے ماننے والوں کے لئے ایک نئی شریعت وضع کی ہے۔ مسیح موعود کے بارے میں بھی ان کا تصور اسلامی نہیں ہے۔ مسیح کے صحیح اسلامی تصور کے مطابق وہ آسمان سے نازل ہوں گے۔ حدیث رسول ﷺ کے مطابق مسیح جب دوبارہ ظہور فرمائیں گے تو وہ دوسرا جنم نہیں لیں گے۔ اس طرح اس بارے میں مرزا غلام احمد کا دعویٰ بھی باطل قرار پاتا ہے۔

جہاد کے بارے میں بھی ان کا نظریہ مسلمانوں کے عقیدے سے بالکل مختلف ہے۔ مرزا غلام احمد کے مطابق اب جہاد کا حکم منسوخ ہو چکا ہے اور یہ کہ مہدی علیہ الرضوان اور مسیح علیہ

٣١٠

صفحہ ٢١٨٩

2189 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

اسلام کی حیثیت سے انہیں تسلیم کر لینے کا مطلب یہ ہے کہ جہاد کی نفی ہو گئی۔ ان کا یہ نظریہ قرآن پاک کی ٢٢ ویں سورۃ، آیت ٣٩، ٤٠ اور دوسری سورۃ کی آیت ١٩٢، ١٩٤ ساتویں سورۃ کی آیت ٨، چوتھی سورۃ کی آیت ٧٤، ٧٥ نویں سورۃ کی آیت ٥ اور سورۃ ٢٥ کی آیت ٥٢ کے برعکس اور منافی ہے۔ مندرجہ بالا امور کے پیش نظر میں یہ قرار دینے میں کوئی جھجک محسوس نہیں کرتا کہ مدعا علیہ اور ان کے ممدوح مرزا غلام احمد نبوت کے جھوٹے مدعی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے الہامات وصول کرنے کے متعلق ان کے دعوے بھی باطل اور مسلمانوں کے اس متفقہ عقیدے کے منافی ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے نزول وحی کا سلسلہ ختم ہو چکا ہے۔

مسلمانوں میں اس بارے میں بھی اجماع ہے کہ حضرت محمد ﷺ آخری نبی ہیں اور ان کے بعد کوئی اور نبی نہیں آئے گا اور اگر کوئی اس کے برعکس یقین رکھتا ہے تو وہ صریحاً کافر اور مرتد ہے۔

2330 مرزا غلام احمد نے قرآن پاک کی آیات مقدسہ کو بھی توڑ مروڑ کر اور غلط رنگ میں پیش کیا ہے اور اس طرح انہوں نے ناواقف اور جاہل لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے جہاد کو منسوخ قرار دیا ہے اور شریعت محمدی میں تحریف کی ہے۔ اس لئے مدعا علیہ کو جس نے خود اپنی نبوت کا اعلان کیا ہے۔ نیز مرزا غلام احمد اور ان کی نبوت پر اپنے ایمان کا اعلان کیا ہے۔ بلا کسی تردد کے غیر مسلم اور مرتد قرار دیا جاسکتا ہے۔

فریقین کے عقائد کے بارے میں گفتگو کے بعد میں شادی کے تصور کے بارے میں کچھ کہنا چاہوں گا جو زیر بحث مسئلے میں دوسرا اہم نکتہ ہے اس کے بعد میں مدعا علیہ کے عقائد کے بارے میں اپنے نتائج کی روشنی میں شادی کے جواز میں بحث کروں گا۔ اسلام کوئی مسلک نہیں بلکہ حال میں زندگی بسر کرنے کا نام ہے اور اسلام میں نکاح ایک اخلاقی رشتہ ہے۔ امیر علی نے شادی کی جو تعریف کی ہے اس کے مطابق یہ ایک ایسا ادارہ ہے جو معاشرے کے تحفظ کے لئے وضع کیا گیا ہے اور اس کا مقصد یہ ہے کہ بنی نوع انسان گمراہی اور بے عصمتی سے محفوظ رہے۔ شادی زندگی بھر کا عہد ہوتا ہے۔ جس کی سب سے اہم خصوصیات جنسی اختلاط کی قانونی یا جائز اجازت نہیں بلکہ اشتراک کار ہے۔ جس میں دو انسان دکھ سکھ خوشی اور غم میں ایک دوسرے کے ساتھ رہتے ہیں اور ایک دوسرے کو تسکین اور حوصلہ فراہم کرتے ہیں۔ یہ اتحاد تغیر حالات کے ذریعہ فریقین کے لئے باعث رحمت ہوتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جنسی اختلاط کا تصور بھی اس اشتراک یا اتحاد میں دخیل ہے جو فریقین کے جسمانی قرب کی اہمیت واضح کرتا ہے لیکن اس سلسلے میں باہمی موانست، یگانگت اور رفاقت بھی کچھ کم اہم نہیں ہوتے۔

٣١١

NAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

تہذیبی قدر رکھتا ہے۔ بانی احمدیت کا خیال ہے کہ ختم نبوت کا تقا کوئی پیرو نبوت کا درجہ حاصل نہیں کر سکتا۔ خود محمد ﷺ کی نبوت ک بانی احمدیت کی نفسیات کا مطالعہ ان کے دعویٰ نبوت کی روشنی میں اپنے دعویٰ نبوت میں پیغمبر اسلام کی تخلیقی قوت کو صرف ایک ج پیدائش تک محدود کر کے پیغمبر اسلام کے آخری نبی ہونے سے ا پیغمبر چپکے سے اپنے روحانی مورث کی ختم نبوت پر متصرف ہو جاتا ہ ”اس کا دعویٰ ہے کہ میں پیغمبر اسلام کا بروز ہوں۔“ ا پیغمبر اسلام کا بروز ہونے کی حیثیت سے اس کا خاتم النبیین ہونا ہ ہوتا ہے۔ پس یہ نقطہ پیغمبر اسلام کی ختم نبوت کو مسترد نہیں کرتا۔ ا نبوت کے مماثل قرار دے کر بانی احمدیت نے ختم نبوت کے روحانی م

بہر حال یہ ایک بدیہی بات ہے کہ بروز کا لفظ مکمل مشابہت ک محدود نہیں کرتا۔ کیونکہ بروز ہمیشہ اس شے سے الگ ہوتا ہے جس کا ی معنوں میں بروز اور اصل شے میں عینیت پائی جاتی ہے۔ پس ا کی مشابہت ”مراد لیں تو یہ دلیل بے اثر رہتی ہے۔ اگر اس کے ب 2329 میں اصل شے کا اوتار مراد لیں تو یہ دلیل بظاہر قابل قبول ہوت مجوسی بھیس میں نظر آتا ہے۔“

(حرف اقبال مؤلفہ لطیف ا

متذکرہ بالا بحث سے یہ بات واضح ہے کہ اسلام میں ن کوئی تصور نہیں ہے۔ جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ مرزا غلام احمد ن کہ وہ اپنی بیٹیاں غیر احمدیوں کے نکاح میں نہ دیں اور نہ ان کی ب مرزا غلام احمد نے شریعت محمدی ﷺ سے انحراف کر کے اپنے ل شریعت وضع کی ہے۔ مسیح موعود کے بارے میں بھی ان کا تصور اسلا تصور کے مطابق وہ آسمان سے نازل ہوں گے۔ حدیث رسول ﷺ ک ظہور فرمائیں گے تو وہ دوسرا جنم نہیں لیں گے۔ اس طرح اس بار باطل قرار پاتا ہے۔

جہاد کے بارے میں بھی ان کا نظریہ مسلمانوں کے ع مرزا غلام احمد کے مطابق اب جہاد کا حکم منسوخ ہو چکا ہے اور یہ ک

٣١٠

صفحہ ٢١٩٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

شیکسپیئر نے ہملٹ میں کہا ہے کہ میاں بیوی ایک جان دو قالب ہوتے ہیں۔ اسی طرح ارسطو نے ایک جگہ کہا ہے کہ بیوی کو زدوکوب کرنا اس بات کی نفی ہے کہ وہ تمہاری بیوی ہے۔ ان تمام باتوں کا ایک ہی مطلب ہے اور یہ کہ میاں بیوی کا رشتہ نیکی میں اشتراک کا رشتہ ہے۔ قرآن پاک میں شادی کا ذکر مودت رحمت اور سکون کی اصطلاحات کے ساتھ کیا گیا ہے۔ بائبل میں 2331 ایک جگہ آیا ہے کہ وہ میری ہی ہڈی کا ایک حصہ اور میرے ہی گوشت کا ایک ٹکڑا ہے۔ غرضیکہ ہر جگہ یگانگت پر ہی زور دیا گیا ہے۔ جولیس سیزر میں لارڈ بروٹس کے ساتھ پورشیا کا مکالمہ ایک بیوی اور داشتہ کے فرق کو بڑی خوبصورتی سے واضح کرتا ہے اور پھر انگلستان کے ایک ولی عہد کا یہ جملہ بھی تاریخی اہمیت رکھتا ہے کہ جب اسے ایک رومن کیتھولک شہزادی سے شادی کے لئے کہا گیا ..... تو اس نے کہا کہ دو مذہب ایک بستر میں اکٹھے نہیں ہو سکتے۔

آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے: ”اپنے تخم کے لئے (کردار کے اعتبار سے) موزوں عورت کا انتخاب کرو اور اپنے برابر والوں سے شادی کرو اور اپنی بیٹیاں ان کے نکاح میں دو۔“ (ابن ماجہ ص ٤٦) اس کا مطلب یہ ہے کہ شادی میں اکفاء بہت اہم کردار ادا کرتا ہے۔ نظریات کا اختلاف یا عقائد کی وسیع خلیج یا فریقین کے قول وفعل کی عدم یکسانیت ان کے مستقبل کو تاریک کر سکتی ہے۔ میاں بیوی کے درمیان موانست کا رشتہ ٹوٹ جانے کے بعد ان کا ایک دوسرے کے ساتھ رہنا شادی کے بنیادی تصور کی نفی ہے اور یہ بندھن کیف ومسرت کا پیغامبر بننے کی بجائے جہنم کا نمونہ بن جاتا ہے اور جب فریقین ایک دوسرے سے مسلسل جھگڑتے رہیں اور ایک دوسرے سے نفرت کرنے لگیں تو پھر سب کچھ جھوٹ اور فریب سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا۔ یہ صورتحال نہ صرف یہ کہ انفرادی طور پر نا قابل برداشت ہے بلکہ سماجی اعتبار سے تباہ کن ہے۔ جنس کے اسرار اسی وقت پوری طرح تسکین پاتے ہیں جب جسمانی رشتے کے ساتھ فریقین میں روحانی ہم آہنگی بھی موجود ہو۔ اگر مذہب کا فریقین کی زندگیوں پر واقعی کوئی اثر ہوتا ہے تو پھر اس بارے میں کوئی اختلاف ان کی زندگی پر پیدائش، نسل، زبان یا دنیاوی مرتبے غرضیکہ کسی اور چیز سے زیادہ اثر انداز ہوگا۔

سورۃ البقرہ میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

ترجمہ: ”اور نکاح مت کرو کافر عورتوں کے ساتھ جب تک کہ وہ مسلمان نہ ہو جائیں اور مسلمان عورت (چاہے) لونڈی کیوں نہ ہو وہ بدرجہا بہتر ہے کافر عورت سے، گو وہ تم کو اچھی ہی 2332 لگے اور عورتوں کو کافر مردوں کے نکاح میں مت دو جب تک کہ وہ مسلمان نہ ہو جائیں اور مسلمان مرد غلام بہتر ہے کافر مرد سے۔ گو وہ تم کو اچھا ہی لگے۔“

(البقرہ:٢٢١)

٣١٢

صفحہ ٢١٩١

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

مندرجہ بالا بحث سے یہ بات ظاہر ہوگئی ہے کہ زیر نظر مقدمے میں فریقین کے درمیان شادی اسلام میں قطعی پسندیدہ نہیں اور قرآن پاک اور حدیث کی تعلیمات کے یکسر منافی ہے۔ کیونکہ فریقین نہ صرف مختلف نظریات کے حامل ہیں۔ بلکہ انکے عقائد بھی ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں اور یہ بات اس رشتے کے لئے سم قاتل کا درجہ رکھتی ہے۔ جیسا کہ میں پہلے واضح کر چکا ہوں۔ اسلام میں کسی مسلمان کے لئے جنس مخالف کے ساتھ شادی کے سلسلے میں متعدد پابندیاں عائد کی گئی ہیں اور کسی بھی صورت میں کوئی مسلمان عورت کسی غیر مسلم مرد سے جائز شادی نہیں کر سکتی۔ جن میں عیسائی، یہودی یا بت پرست شامل ہیں اور ایک مسلمان عورت اور غیر مسلم مرد کا نکاح اسلام کی نظر میں غیر مؤثر ہے۔ اندریں حالات میں قرار دیتا ہوں کہ اس مقدمے کے فریقین کے درمیان شادی اسلامی شادی نہیں بلکہ یہ سترہ سال کی ایک مسلمان لڑکی کی ساٹھ سال کے ایک غیر مسلم (مرتد) کے ساتھ شادی ہے۔

لہٰذا یہ شادی غیر قانونی اور غیر مؤثر ہے۔

مندرجہ بالا امور کے پیش نظر مسئلہ نمبر ٣، ٤، ٦، ٧ اور ٨ ساقط ہوجاتے ہیں۔ ان پر غور کی ضرورت نہیں۔

مندرجہ بالا بحث کا نتیجہ یہ نکلا کہ مدعیہ جو ایک مسلمان عورت ہے، کی شادی مدعاعلیہ کے ساتھ، جس نے شادی کے وقت خود اپنا قادیانی ہونا تسلیم کیا ہے اور اس طرح جو غیر مسلم قرار پایا ہے غیر مؤثر ہے اور اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔ مدعیہ اسلامی تعلیمات کے مطابق مدعاعلیہ کی بیوی نہیں۔

تنسیخ نکاح کے بارے میں مدعیہ کی درخواست کا فیصلہ اس کے حق میں کیا جاتا ہے اور مدعاعلیہ کو ممانعت کی جاتی ہے کہ وہ مدعیہ کو اپنی بیوی قرار نہ دے۔ مدعیہ اس مقدمے کے اخراجات بھی وصول کرنے کی حقدار ہے۔

2333 فیصلے کے اختتام سے پہلے میں مدعیہ کے فاضل وکیل کا شکریہ ادا کرنا ضروری سمجھتا ہوں جنہوں نے متعدد کتابوں کے ذریعہ میری بے حد مدد کی۔ ان میں سے چند کتابیں مندرجہ ذیل ہیں۔

(١) حقیقت الوحی، (٢) ازالہ اوہام، (٣) ملفوظات احمدیہ، (٤) معیار الاخیار، (٥) آئینہ کمالات، (٦) تذکرۃ شہادتین، (٧) مسئلہ ختم نبوت از مولانا محمد شفیع، (٨) مسئلہ نبوت

٣١٣

MBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

شیکسپیئر نے ہملٹ میں کہا ہے کہ میاں طرح ارسطو نے ایک جگہ کہا ہے کہ بیوی کو زدوکوب کر ان تمام باتوں کا ایک ہی مطلب ہے اور یہ کہ میاں قرآن پاک میں شادی کا ذکر موّدت، رحمت اور سکو میں 2331 ایک جگہ آیا ہے کہ وہ میری ہی ہڈی کا ایک غرضیکہ ہر جگہ یگانگت پر ہی زور دیا گیا ہے۔ جو مکالمہ ایک بیوی اور داشتہ کے فرق کو بڑی خوبصور ولی عہد کا یہ جملہ بھی تاریخی اہمیت رکھتا ہے کہ جس کے لئے کہا گیا ...... تو اس نے کہا کہ دو مذہب ایک آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے: ”اپنے عورت کا انتخاب کرو اور اپنے برابر والوں سے شادی ماجہ ص٤٦) اس کا مطلب یہ ہے کہ شادی میں اکفاء عقائد کی وسیع خلیج یا فریقین کے قول وفعل کی عدم میاں بیوی کے درمیان موانست کا رشتہ ٹوٹ جائے کے بنیادی تصور کی نفی ہے اور یہ بندھن کیف و سر ہے اور جب فریقین ایک دوسرے سے مسلسل ج لگیں تو پھر سب کچھ جھوٹ اور فریب سے زیادہ ہ طور پر ناقابل برداشت ہے بلکہ سماجی اعتبار سے تسکین پاتے ہیں جب جسمانی رشتے کے ساتھ مذہب کا فریقین کی زندگیوں پر واقعی کوئی اثر ہوتا پر پیدائش، نسل، زبان یا دنیاوی مرتبے غرضیکہ کسی سورۃ البقرہ میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہی ترجمہ: ”اور نکاح مت کرو کافر عو اور مسلمان عورت (چاہے) لونڈی کیوں نہ ہو 2332 لگے اور عورتوں کو کافر مردوں کے نکاح می مسلمان مرد غلام بہتر ہے کافر مرد سے۔ گو وہ تم

صفحہ ٢١٩٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

از مولانا مودودی، (٩) قادیانی مسئلہ از مولانا مودودی، (١٠) ختم نبوت از مولانا ثناء اللہ، (١١) خاتم النبیین از حکیم عبداللطیف، (١٢) صحیفہ تقدیریہ از مولانا شبیر احمد عثمانی، (١٣) مرزائیت عدالت کے کٹہرے میں مؤلفہ جانباز مرزا، (١٤) فسخ نکاح مرزائیاں، (١٥) فیصلہ صادر کردہ مسٹر محمد اکبر ڈسٹرکٹ جج بہاول نگر، (١٦) فیصلہ صادر کردہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج کیمبل پور، (١٧) ترجمہ قرآن مجید از مسٹر پکتھال، (١٨) مرزا غلام احمد کی تصانیف کے تراجم از عبداللہ الدین۔

یہ فیصلہ ١٣؍جولائی (١٩٧٠ء) کو شیخ محمد رفیق کوریجہ کے جانشین جناب قیصر احمد حمیدی نے جو ان کی جگہ چشتیاں کے سول اور فیملی کورٹ جج مقرر ہوئے ہیں۔ کھلی عدالت میں پڑھ کر سنایا۔

تعجب ہے کہ ایک ریزہ چیں خوان نصاریٰ کا
گدائی کرتے کرتے مہدی موعود ہو جائے

ظفر علی خاں

مطالبہ

ہم محترم صدر مملکت عالی جناب آغا محمد یحییٰ خان صاحب سے درخواست کرتے ہیں کہ آنجناب مسئلہ ختم نبوت کی اہمیت و عظمت کو محسوس فرماویں اور ایک آرڈیننس کے ذریعہ مرزائیوں کو ایک غیر مسلم اقلیت قرار دیں۔ یہ پاکستان کی نامور اور منصف عدلیہ کا فیصلہ ہے اور عالم اسلام کے ہر مکتب فکر کے علماء کا فتویٰ اور امت مسلمہ کا دیرینہ متفقہ مطالبہ ہے اور شہدائے ختم نبوت کے مقدس خون کی پکار ہے۔ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان، ملتان

٣١٤

صفحہ ٢١٩٣

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

2334 ضمیمہ نمبر: ٤

مولانا سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاریؒ

کے

تاریخی

مقدمہ کا

فیصلہ

چوہدری افضل حقؒ ایم. ایل. سی. جنرل سیکرٹری

شعبہ تبلیغ مجلس احرار اسلام (ہند) لاہور

تعداد (کتبہ بشیر کاتب دفتر رسالہ اداکار لاہور) قیمت

٣١٥

صفحہ ٢١٩٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

2335 مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے مرافعہ پر سیشن جج گورداسپور کا تاریخی فیصلہ

قادیانیت کی سیاہ کاریوں پر فاضل جج کا محققانہ تبصرہ

مرزائے قادیان کی زشتی اخلاق اور اس کی امت کی شورہ پشتی کی داستان

حکومت کی ادائے فرض سے کوتاہی

مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے تاریخی مقدمہ میں ان کی اپیل پر مسٹر کھوسلہ سیشن جج گورداسپور نے بزبان انگریزی جو فیصلہ صادر کیا ہے اس کا اردو ترجمہ شائع کیا جاتا ہے۔

مرافعہ گزار سید عطاء اللہ شاہ بخاری کو تعزیرات ہند کی دفعہ ١٥٣۔الف کے ماتحت مجرم قرار دیتے ہوئے اس تقریر کی پاداش میں جو انہوں نے ٢١؍اکتوبر ١٩٣٤ء کو تبلیغ کانفرنس قادیان کے موقعہ پر کی چھ ماہ کی قید بامشقت کی سزا دی گئی ہے۔

مرزا اور مرزائیت

مرافعہ گزار کے خلاف جو الزام عائد کیا گیا ہے اس پر غور و خوض کرنے کے قبل چند ایسے حقائق و واقعات بیان کر دینا ضروری معلوم ہوتا ہے جن کا تعلق امور زیر بحث ہے۔ آج سے تقریباً پچاس سال قبل قادیان کے ایک باشندہ مسمی غلام احمد نے دنیا کے سامنے یہ دعویٰ پیش کیا کہ میں مسیح موعود ہوں۔ اس اعلان کے ساتھ ہی اس نے اسقف اعظم کی حیثیت بھی اختیار کر لی اور ایک نئے فرقہ کی بناء ڈالی۔ جس کے ارکان اگرچہ مسلمان ہونے کے مدعی تھے۔ لیکن ان کے بعض عقائد و اصول عام عقائد اسلامی سے بالکل متبائن تھے۔ اس فرقہ میں شامل ہونے والے لوگ قادیانی یا مرزائی یا احمدی کہلاتے ہیں اور ان کا مابہ الامتیاز یہ ہے کہ یہ لوگ فرقہ مرزائیہ کے بانی (مرزا غلام احمد) کی نبوت پر ایمان رکھتے ہیں۔

2336 قادیانیت کی تاریخ

بتدریج یہ تحریک ترقی کرنے لگی اور اس کے مقلدین کی تعداد چند ہزار تک پہنچ گئی۔ مسلمان کی طرف سے مخالفت ہونا ضروری تھا۔ چنانچہ مسلمانوں کی اکثریت نے مرزا قادیانی کے دعویٰ بلند بانگ خصوصاً اس کے دعویٰ تفوق دینی پر بہت ناک منہ چڑھایا اور مرزا نے ان

٣١٦

صفحہ ٢١٩٥

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

لوگوں پر کفر کا جو الزام لگایا۔ اس کے جواب میں ان لوگوں نے بھی سخت لہجہ اختیار کیا۔ مگر قادیانی حصار میں رہنے والے اس بیرونی تنقید سے کچھ بھی متاثر نہ ہوئے اور اپنے مستقر یعنی قادیان میں مزے سے ڈٹے رہے۔

قادیانیوں کا تمرد اور شورہ پشتی

قادیانی مقابلتاً محفوظ تھے۔ اس حالت نے ان میں متمردانہ غرور پیدا کر دیا۔ انہوں نے اپنے دلائل دوسروں سے منوانے اور اپنی جماعت کو ترقی دینے کے لئے ایسے حربوں کا استعمال شروع کیا۔ جنہیں ناپسندیدہ کہا جائے گا۔ جن لوگوں نے قادیانیوں کی جماعت میں شامل ہونے سے انکار کیا۔ انہیں مقاطعۂ قادیان سے اخراج اور بعض اوقات اس سے بھی مکروہ تر مصائب کی دھمکیاں دے کر دہشت انگیزی کی فضا پیدا کی۔ بلکہ بسا اوقات انہوں نے ان دھمکیوں کو عملی جامہ پہنا کر اپنی جماعت کے استحکام کی کوشش کی۔ قادیان میں رضا کاروں کا ایک دستہ (والنٹیر کور) مرتب ہوا، اور اس کی تربیت کا مقصد غالباً یہ تھا کہ قادیان میں ”لمن الملك الیوم“ کا نعرہ بلند کرنے کے لئے طاقت پیدا کی جائے۔

انہوں نے عدالتی اختیارات بھی اپنے ہاتھ میں لے لئے۔ دیوانی اور فوجداری مقدمات کی سماعت کی۔ دیوانی مقدمات میں ڈگریاں صادر کیں اور ان کی تعمیل کرائی گئی۔ کئی اشخاص کو قادیان سے نکالا گیا۔ یہ قصہ یہیں ختم نہیں ہوتا۔ بلکہ قادیانیوں کے خلاف کھلے طور پر الزام لگایا گیا ہے کہ انہوں نے مکانوں کو تباہ کیا، جلایا اور قتل تک کے 2337 مرتکب ہوئے۔ اس خیال سے کہ کہیں ان الزامات کو احرار کے تخیل ہی کا نتیجہ نہ سمجھ لیا جائے۔ میں چند ایسی مثالیں بیان کر دینا چاہتا ہوں جو مقدمہ کی مثل میں درج ہیں۔

سزائے اخراج

کم از کم دو اشخاص کو قادیان سے اخراج کی سزا دی گئی۔ اس لئے کہ ان کے عقائد مرزا کے عقائد سے متفاوت تھے۔ وہ اشخاص حبیب الرحمٰن گواہ صفائی نمبر ٢٨۔ اور مسمی اسمعیل ہیں۔ مثل میں ایک چٹھی (ڈی۔زیڈ٣٣) موجود ہے۔ جو موجودہ مرزا کے ہاتھ کی لکھی ہوئی ہے اور جس میں یہ حکم درج ہے کہ حبیب الرحمٰن (گواہ نمبر ٢٨) کو قادیان میں آنے کی اجازت نہیں۔ مرزا بشیر الدین گواہ صفائی نمبر ٣٧ نے اس چٹھی کو تسلیم کر لیا ہے۔ اسمعیل کے اخراج اور داخلہ کی ممانعت کو گواہ صفائی نمبر ٢٠ نے تسلیم کر لیا ہے۔ کئی اور گواہوں نے (قادیانیوں کے) تشدد و ظلم کی عجیب و

٣١٧

EMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

2335 مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری کے مرافعہ پر

قادیانیت کی سیاہ کاریوں پر فاض

مرزائے قادیان کی زشتی اخلاق اور اس کی حکومت کی ادائے فرض

مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری کے تاریخی م گورداسپور نے بزبان انگریزی جو فیصلہ صادر کیا ہے اس مرافعہ گزار سید عطاء اللہ شاہ بخاری کو تعزیر قرار دیتے ہوئے اس تقریر کی پاداش میں جو انہوں کے موقعہ پر کی چھ ماہ کی قید بامشقت کی سزادی گئی ہے۔

مرزا اور مرزا

مرافعہ گزار کے خلاف جو الزام عائد کیا گیا حقائق واقعات بیان کر دینا ضروری معلوم ہوتا ہے جن پچاس سال قبل قادیان کے ایک باشندہ مسمی غلام احم مسیح موعود ہوں۔ اس اعلان کے ساتھ ہی اس نے اس نئے فرقہ کی بناء ڈالی۔ جس کے ارکان اگرچہ مسلما عقائد واصول عام عقائد اسلامی سے بالکل متبائن ۔ قادیانی یا مرزائی یا احمدی کہلاتے ہیں اور ان کا مابہ ال (مرزاغلام احمد) کی نبوت پر ایمان رکھتے ہیں۔

2336 قادیانیت

بتدریج یہ تحریک ترقی کرنے لگی اور اس مسلمان کی طرف سے مخالفت ہونا ضروری تھا۔ چنا دعاوی بلند بانگ خصوصاً اس کے دعاوی تفویق د

٣١٦

صفحہ ٢١٩٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

غریب داستانیں بیان کی ہیں۔

بھگت سنگھ گواہ صفائی نے بیان کیا ہے کہ قادیانیوں نے اس پر حملہ کیا۔ ایک شخص مسمی غریب شاہ کو قادیانیوں نے زدوکوب کیا۔ لیکن جب اس نے عدالت میں استغاثہ کرنا چاہا تو کوئی اس کی شہادت دینے کے لئے سامنے نہ آیا۔ قادیانی ججوں کے فیصلہ کردہ مقدمات کی مسلیں پیش کی گئیں۔ (جو شامل مسل ہذا ہیں) مرزا بشیر الدین محمود نے تسلیم کیا ہے کہ قادیان میں عدالتی اختیارات استعمال ہوتے ہیں اور میری عدالت سب سے آخری عدالت اپیل ہے۔ عدالت کی ڈگریوں کا اجراء عمل میں آتا ہے اور ایک واقعہ سے تو ظاہر ہوتا ہے کہ ایک ڈگری کے اجراء میں ایک مکان فروخت کر دیا گیا۔ اشٹام کے کاغذ قادیانیوں نے خود بنا رکھے ہیں۔ جو ان درخواستوں اور عرضیوں پر لگائے جاتے ہیں۔ جو قادیانی عدالتوں میں دائر ہوتی ہیں۔ قادیان میں ایک والنٹیر کور کے موجود ہونے کی شہادت گواہ صفائی نمبر ٤٠ مرزا شریف احمد نے دی ہے۔

2338 عبدالکریم کی مظلومی اور محمد حسین کا قتل

سب سے سنگین معاملہ عبدالکریم (ایڈیٹر مباہلہ) کا ہے۔ جس کی داستان، داستان درد ہے۔ یہ شخص مرزا کے مقلدین میں شامل ہوا اور قادیان میں جا کر مقیم ہو گیا۔ وہاں اس کے دل میں (مرزائیت کی صداقت کے متعلق) شکوک پیدا ہوئے اور وہ مرزائیت سے تائب ہو گیا۔ اس کے بعد اس پر ظلم و ستم شروع ہوا۔ اس نے قادیانی معتقدات پر تبصرہ تنقید کرنے کے لئے ”مباہلہ“ نامی اخبار جاری کیا۔ مرزا بشیر الدین محمود نے ایک تقریر میں جو دستاویز ڈی۔ زیڈ (الفضل مورخہ یکم اپریل ١٩٣٠ء میں درج ہے) مباہلہ شائع کرنے والوں کی موت کی پیش گوئی کی ہے۔ اس تقریر میں ان لوگوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے جو مذہب کے لئے ارتکاب قتل پر بھی تیار ہو جاتے ہیں۔ اس تقریر کے بعد جلد ہی عبدالکریم پر قاتلانہ حملہ ہوا۔ لیکن وہ بچ گیا۔ ایک شخص محمد حسین جو اس کا معاون تھا اور ایک فوجداری مقدمہ میں جو عبدالکریم کے خلاف چل رہا تھا، اس کا ضامن بھی تھا۔ اس پر حملہ ہوا اور قتل کر دیا گیا۔ قاتل پر مقدمہ چلا اور اسے پھانسی کی سزا کا حکم ملا۔

محمد حسین کے قاتل کا رتبہ مرزائیوں کی نظر میں

پھانسی کے حکم کی تعمیل ہوئی اور اس کے بعد قاتل کی لاش قادیان میں لائی گئی اور اسے نہایت عزت و احترام سے بہشتی مقبرہ میں دفن کیا گیا۔ مرزائی اخبار الفضل میں قاتل کی مدح سرائی

٣١٨

صفحہ ٢١٩٧

ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

غریب داستانیں بیان کی ہیں۔ بھگت سنگھ گواہ صفائی نے بیان کیا ہے کہ قادیانیوں غریب شاہ کو قادیانیوں نے زدوکوب کیا۔ لیکن جب اس اس کی شہادت دینے کے لئے سامنے نہ آیا۔ قادیانی ججوں کی گئیں۔ (جو شامل مسل ہذا ہیں) مرزا بشیر الدین محمود اختیارات استعمال ہوتے ہیں اور میری عدالت سب سے ڈگریوں کا اجراء عمل میں آتا ہے اور ایک واقعہ سے تو ظاہر ایک مکان فروخت کر دیا گیا۔ اشٹام کے کاغذ قادیانیوں نے اور عرضیوں پر لگائے جاتے ہیں۔ جو قادیانی عدالتوں میں دا کور کے موجود ہونے کی شہادت گواہ صفائی نمبر ٤٠ مرزا شریف

2338 عبدالکریم کی مظلومی اور مجبوری

سب سے سنگین معاملہ عبدالکریم (ایڈیٹر مباہلہ ہے۔ یہ شخص مرزا کے مقلدین میں شامل ہوا اور قادیان میں (مرزائیت کی صداقت کے متعلق) شکوک پیدا ہوئے اور م بعد اس پر ظلم و ستم شروع ہوا۔ اس نے قادیانی معتقدات پر اخبار جاری کیا۔ مرزا بشیر الدین محمود نے ایک تقریر میں ج اپریل ١٩٣٠ء میں درج ہے) مباہلہ شائع کرنے والوں کی میں ان لوگوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے جو مذہب کے لئے ارت تقریر کے بعد جلد ہی عبدالکریم پر قاتلانہ حملہ ہوا۔ لیکن و معاون تھا اور ایک فوجداری مقدمہ میں جو عبدالکریم کے خ اس پر حملہ ہوا اور قتل کر دیا گیا۔ قاتل پر مقدمہ چلا اور اسے پ

محمد حسین کے قاتل کا رتبہ مرزا ک

پھانسی کے حکم کی تعمیل ہوئی اور اس کے بعد قات نہایت عزت و احترام سے بہشتی مقبرہ میں دفن کیا گیا۔ مرزا ٣١٨

2197 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

کی گئی۔ فعل قتل کو سراہا گیا اور یہاں تک لکھا گیا کہ قاتل مجرم نہ تھا۔ پھانسی کی سزا سے پہلے ہی اس کی روح قفس عنصری سے آزاد ہوگئی اور اسی طرح وہ پھانسی کی ذلت انگیز سزا سے بچ گیا۔ خدائے عادل نے یہ مناسب سمجھا کہ پھانسی سے پہلے ہی اس کی جان قبض کر لے۔

مرزا محمود کی دروغ گوئی

عدالت میں مرزا محمود نے اس کے متعلق بالکل مختلف داستان بیان کی اور کہا کہ محمد حسین کے قاتل کی عزت افزائی اس لئے کی گئی کہ اس نے اپنے جرم پر تاسف و ندامت کا اظہار کیا تھا 2339 اور اس طرح وہ گناہ سے پاک ہو چکا تھا۔ لیکن دستاویز ڈی زیڈ ٤٠ اس کی تردید کرتی ہے۔ جس سے مرزا کی دلی کیفیت کا پتہ چلتا ہے۔

عدالت عالیہ کی توہین

میں یہاں یہ بھی کہہ دینا چاہتا ہوں کہ اس دستاویز کے مضمون سے عدالت عالیہ لاہور کی توہین کا پہلو بھی نکلتا ہے۔

محمد امین کا قتل

محمد امین ایک مرزائی تھا اور جماعت مرزائیہ کا مبلغ تھا۔ اس کو تبلیغ مذہب کے لئے بخارا بھیجا گیا۔ لیکن کسی وجہ سے بعد میں اسے اس خدمت سے علیحدہ کر دیا گیا۔ اس کی موت کلہاڑی کی ایک ضرب سے ہوئی۔ جو چودھری فتح محمد گواہ صفائی نمبر ٢١ نے لگائی۔ عدالت ماتحت نے اس معاملہ پر سرسری نگاہ ڈالی ہے۔ لیکن یہ زیادہ غور و توجہ کا محتاج ہے۔ محمد امین پر مرزا کا عتاب نازل ہو چکا تھا اور اس لئے مرزائیوں کی نظر میں وہ موقر و حقدار نہیں رہا تھا۔ اس کی موت کے واقعات خواہ کیا ہوں۔ اس میں کلام نہیں کہ محمد امین تشدد کا شکار ہوا اور کلہاڑی کی ضرب سے قتل کیا گیا۔ پولیس میں وقوعہ کی اطلاع پہنچی لیکن کوئی کارروائی عمل میں نہ آئی۔ اس بات پر زور دینا فضول ہے کہ قاتل نے حفاظت خود اختیاری میں محمد امین کو کلہاڑی کی ضرب لگائی اور یہ فیصلہ کرنا اس عدالت کا کام ہے جو مقدمہ کی سماعت کرے۔ چودھری فتح محمد کا عدالت میں یہ اقرار صالح یہ بیان کرنا تعجب انگیز ہے کہ اس نے محمد امین کو قتل کیا۔ مگر پولیس اس معاملہ میں کچھ نہ کر سکی۔ جس کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ مرزائیوں کی طاقت اس حد تک بڑھ گئی تھی کہ کوئی گواہ سامنے آ کر سچ بولنے کی جرأت نہیں کر سکتا تھا۔ ہمارے سامنے عبدالکریم کے مکان کا واقعہ بھی ہے۔ عبدالکریم کو قادیان ٣١٩

صفحہ ٢١٩٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

سے خارج کرنے کے بعد اس کا مکان نذر آتش کر دیا گیا اور قادیان کی سمال ٹاؤن کمیٹی سے حکم حاصل کر کے نیم قانونی طریق پر اسے گرانے کی کوشش کی گئی۔

2340 قادیان کی صورت حالات اور مرزا کی دشنام طرازی

یہ افسوسناک واقعات اس بات کی منہ بولتی شہادت ہیں کہ قادیان میں قانون کا احترام بالکل اٹھ گیا تھا۔ آتش زنی اور قتل تک کے واقعات ہوتے تھے۔ مرزا نے کروڑوں مسلمانوں کو جو اس کے ہم عقیدہ نہ تھے، شدید دشنام طرازی کا نشانہ بنایا۔ اس کی تصانیف ایک اسقف اعظم کے اخلاق کا انوکھا مظاہرہ ہیں، جو صرف نبوت کا مدعی نہ تھا، بلکہ خدا کا برگزیدہ انسان اور مسیح ثانی ہونے کا مدعی بھی تھا۔

حکومت مفلوج ہو چکی تھی

معلوم ہوتا ہے کہ (قادیانیت کے مقابلہ میں) حکام غیر معمولی حد تک مفلوج ہو چکے تھے۔ دینی و دنیوی معاملات میں مرزا کے حکم کے خلاف کبھی آواز بلند نہیں ہوئی۔ مقامی افسران کے پاس کئی مرتبہ شکایت پیش ہوئی۔ لیکن وہ اس کے انسداد سے قاصر رہے۔ مسل پر کچھ اور شکایات بھی ہیں۔ لیکن یہاں ان کے مضمون کا حوالہ دینا غیر ضروری ہے۔ اس مقدمہ کے سلسلہ میں صرف یہ بیان کر دینا کافی ہے کہ قادیان میں جور و ستم رانی کا دور دورہ ہونے کے متعلق نہایت واضح الزامات عائد کئے گئے لیکن معلوم ہوتا ہے کہ قطعاً کوئی توجہ نہ ہوئی۔

تبلیغ کانفرنس کا مقصد

ان کارروائیوں کے سدباب کے لئے اور مسلمانوں میں زندگی کی روح پیدا کرنے کے لئے تبلیغ کانفرنس منعقد کی گئی۔ قادیانیوں نے اس کے انعقاد کو بنظر ناپسندیدگی دیکھا اور اسے روکنے کے لئے ہر ممکن کوشش کی۔ اس کانفرنس کے انعقاد کے لئے ایک شخص ایشر سنگھ نامی کی زمین حاصل کی گئی تھی۔ قادیانیوں نے اس پر قبضہ کر کے دیوار کھینچ دی اور اس طرح احرار اس قطعہ زمین سے بھی محروم ہو گئے جو قادیان میں انہیں مل سکتا تھا۔ مجبوراً انہوں نے قادیان سے ایک میل کے فاصلہ پر اپنا اجلاس منعقد کیا۔ دیوار کا کھینچا جانا اس حقیقت پر مشعر ہے کہ اس وقت 2341 فریقین کے تعلقات میں کتنی کشیدگی تھی اور قادیانیوں کی شورہ پشتی کس حد تک پہنچی ہوئی تھی کہ وہ اپنی دست درازی کے قانونی نتائج سے اپنے آپ کو بالکل محفوظ خیال کرتے تھے۔

٣٤٠

صفحہ ٢١٩٩

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری کا مقناطیسی جذب

بہر حال کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت کے لئے اپیلانٹ سے کہا گیا۔ وہ بلند پایہ خطیب ہے اور اس کی تقریر میں بھی جذب مقناطیسی موجود ہے۔ اس لئے اس نے اجلاس میں ایک جوش انگیز خطبہ دیا۔ اس کی تقریر کئی گھنٹوں تک جاری رہی۔ بتایا گیا ہے کہ حاضرین تقریر کے دوران میں بالکل مسحور تھے۔ اپیلانٹ نے اس تقریر میں اپنے خیالات ذرا وضاحت سے بیان کئے اور اس کے لئے دل میں مرزا اور اس کے معتقدین کے خلاف جو نفرت کے جذبات موجزن تھے۔ ان پر پردہ ڈالنے کی اس نے کوئی کوشش نہ کی۔ تقریر پر اخبارات میں اعتراض ہوا۔ معاملہ حکومت پنجاب کے سامنے پیش ہوا۔ جس نے عطاء اللہ شاہ بخاری کے خلاف مقدمہ چلانے کی اجازت دے دی۔

تقریر پر اعتراض

اپیلانٹ کے خلاف جو الزام ہے۔ اس کے ضمن میں اس تقریر کے ساتھ اقتباسات درج ہیں۔ جنہیں قابل گرفت ٹھہرایا گیا ہے۔ وہ اقتباسات یہ ہیں:

سے اردو، پنجابی، فارسی ہر معاملہ میں بحث کرے۔ یہ جھگڑا آج ہی ختم ہو جائے گا۔ وہ پردہ سے باہر آئے۔ نقاب اٹھائے۔ کشتی لڑے۔ مولا علی کے جوہر دیکھے۔ وہ ہر رنگ میں آئے۔ وہ موٹر میں بیٹھ کر آئے میں ننگے پاؤں آؤں۔ وہ ریشم پہن کر آئے میں گاندھی جی کی کھدری کھدر شریف۔ وہ مرغ، فرنی، کباب۔ 2342 یاقوتیاں اور پلومر کی ٹانک وائن اپنے ابا کی سنت کے مطابق کھا کر آئے اور میں اپنے نانا کی سنت کے مطابق جو کی روٹی کھا کر آؤں۔

کے بوٹ کی تہ صاف کرتا ہے۔ میں تکبر سے نہیں کہتا۔ بلکہ خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ مجھ کو اکیلا چھوڑ دو۔ پھر بشیر کے میرے ہاتھ دیکھو۔ کیا کروں لفظ تبلیغ نے ہمیں مشکل میں پھنسا دیا ہے۔ یہ اجتماع سیاسی اجتماع نہیں ہے۔ او مرزائیو! اگر باگیں ڈھیلی ہوتیں۔ میں کہتا ہوں اب بھی ہوش میں آؤ۔ تمہاری طاقت اتنی بھی نہیں جتنی پیشاب کی جھاگ ہوتی ہے۔

٣٢١

صفحہ ٢٢٠٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No: 15

مثال موجود ہے کہ جو فیل ہوا وہ نبی بن گیا۔

ہے۔ اس نے تم کو ٹکڑے کر دینا ہے۔

رکھتے۔

مرافعہ گزار نے عدالت ماتحت میں بیان کیا کہ اس کی تقریر درست طور پر قلمبند نہیں کی گئی۔ جملہ نمبر ٥ کے متعلق اس نے بہ صراحت کہا ہے۔ وہ اس کی زبان سے نہیں نکلا اور اگر چہ اس نے تسلیم کیا ہے کہ باقی جملوں کا مضمون میرا ہے۔ لیکن ساتھ ہی اس نے یہ کہا کہ عبارت غلط ہے۔ عدالت ماتحت نے قرار دیا ہے کہ ایک جملہ کی رپورٹ غلط ہے اور اس کے سلسلہ میں مرافعہ گزار کو مجرم قرار نہیں دیا جا سکتا لہٰذا مرافعہ گزار کی سزایابی کا مدار دوسرے چھ فقروں پر مبنی ہے۔ مرافعہ گزار کے وکیل نے تسلیم کیا کہ فقرات ١، ٤ ، ٦ ، ٧ مرافعہ گزار نے کہے۔ اب میرے سامنے یہ امر فیصلہ طلب ہے کہ کیا یہ چھ جملے جو مرافعہ گزار نے کہے۔ ١٥٣ الف کے ماتحت قابل گرفت ہیں اور آیا یہ الفاظ کہنے سے مرافعہ گزار کس جرم کا مرتکب ہوا ہے۔

عدالت کا استدلال

میں نے اس سے قبل وہ حالات و واقعات بہ تفصیل بیان کر دئیے ہیں۔ جن کے ماتحت تبلیغ کانفرنس منعقد ہوئی۔ مرافعہ گزار نے بہت سی تحریری شہادتوں کی بناء پر یہ دکھانے کی کوشش کی ہے کہ مرزا اور اس کے مقلدین کے ظلم وستم پر جائز اور واجبی تنقید کرنے کے سوا اس کا کچھ مقصد نہ تھا۔ اس کا بیان ہے کہ اس کی تقریر کا مدعا سوئے ہوئے مسلمانوں کو جگانا اور مرزائیوں کے افعال ذمیمہ کا بھانڈا پھوڑنا تھا۔ اس نے اپنی تقریر میں جابجا مرزا (محمود) کے ظلم و تشدد پر روشنی ڈالی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ جو مسلمان مرزا کی نبوت سے انکار کرنے اور اس کے خانہ ساز اقتدار کو تسلیم نہ کرنے کی وجہ سے مورد آفات و بلیات ہیں۔ ان کی شکایات رفع کی جائیں۔

میں نے قادیان کے حالات کی روشنی میں مرافعہ گزار کی تقریر پر غور کیا ہے۔ مجھے بتایا گیا ہے کہ یہ تقریر مسلمانوں کی طرف سے صلح کا پیغام تھی۔ لیکن اس تقریر کے سرسری مطالعہ سے ہر معقول شخص اسی نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ اعلان صلح کے بجائے یہ دعوت نبرد آزمائی ہے۔ ممکن ہے کہ

٣٢٢

صفحہ ٢٢٠١

2201 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

مرافعہ گزار نے قانون کی حدود کے اندر رہنے کی کوشش کی ہو۔ لیکن جوش فصاحت و طاقت میں وہ ان امتناعی حدود سے آگے نکل گیا ہے اور ایسی باتیں کہہ گیا ہے جو سامعین کے دلوں میں مرزائیوں کے خلاف نفرت کے جذبہ کے سوا اور کوئی اثر پیدا نہیں کر سکتیں۔ روما کے مارک انٹونی کی طرح مرافعہ گزار نے یہ اعلان تو کر دیا کہ وہ احمدیوں سے طرح آویزش نہیں ڈالنا چاہتا۔ لیکن صلح کا یہ پیغام ایسی گالیوں سے پر ہے۔ جن کا مقصد سامعین کے دلوں میں احمدیوں کے خلاف نفرت پیدا کرنے کے سوا کچھ نہیں ہو سکتا۔

2344 تنقید کی جائز حدود

اس میں کلام نہیں کہ مرافعہ گزار کی تقریر کے بعض حصے مرزا کے افعال کی جائز و واجبی تنقید پر مشتمل ہیں۔ غریب شاہ کو زدوکوب کرنے کا واقعہ، محمد حسین اور محمد امین کے واقعات قتل اور مرزا کے جبر و تشدد کے بعض دوسرے واقعات جن کا حوالہ دیا گیا ہے۔ ایسے ہیں جن پر تنقید کرنے کا ہر سچے مسلمان کو حق ہے۔ نیز اس تقریر کے دوران میں ان توہین آمیز الفاظ کا ذکر بھی کیا گیا ہے جو قادیانی، پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ کی شان میں استعمال کرتے رہتے ہیں اور جو مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنے کا باعث ہوتے ہیں۔

مرزائی اور مسلمان

مسلمانوں کے نزدیک محمد ﷺ خاتم المرسلین ہیں۔ لیکن مرزائیوں کا اعتقاد یہ ہے کہ محمد ﷺ کے بروز میں کئی نبی مبعوث ہو سکتے ہیں اور وہ سب مہبط وحی ہو سکتے ہیں۔ نیز یہ کہ مرزا غلام احمد قادیانی نبی اور مسیح ثانی تھا۔ اس حد تک مرافعہ گزار کی تقریر قانون کی زد سے باہر ہے۔ لیکن وہ جب دشنام طرازی پر آتا ہے اور مرزائیوں کو ایسے ایسے ناموں سے پکارتا ہے جنہیں سننا بھی کوئی آدمی گوارہ نہیں کر سکتا۔ تو وہ جائز حدود سے تجاوز کر جاتا ہے اور خواہ اس نے یہ باتیں جوش فصاحت میں کہیں یا دیدہ دانستہ کہیں۔ قانون انہیں نظر انداز نہیں کر سکتا۔

تقریر کے اثرات

مرافعہ گزار کو معلوم ہونا چاہئے کہ اس کے سامعین میں اکثریت جاہل دیہاتیوں کی تھی۔ نیز یہ کہ اس قسم کی تقریر ان کے دلوں میں نفرت وعناد کے جذبات پیدا کرے گی۔ واقعات مظہر ہیں کہ تقریر نے سامعین پر ایسا ہی اثر ڈالا اور مقرر کی لسانی سے متاثر ہو کر انہوں نے کئی بار

٣٢٣

SSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 o:15

مثال موجود ہے کہ جو فیل ہوا وہ نبی بن گیا۔

ہے۔ اس نے تم کو ٹکڑے کر دینا ہے۔

رکھتے۔

مرافعہ گزار نے عدالت ماتحت میں بیان کیا گئی۔ جملہ نمبر ٥ کے متعلق اس نے یہ صراحت کیا ہے۔ ا نے تسلیم کیا ہے کہ باقی جملوں کا مضمون میرا ہے۔ لیکن ۔ عدالت ماتحت نے قرار دیا ہے کہ ایک جملہ کی رپورٹ ا مجرم قرار نہیں دیا جا سکتا لہٰذا مرافعہ گزار کی سزا یابی کا مد گزار کے وکیل نے تسلیم کیا کہ فقرات ١، ٢، ٤ ، ٧ مرافعہ فیصلہ طلب ہے کہ کیا یہ چھ جملے جو مرافعہ گزار نے کہے۔ آیا یہ الفاظ کہنے سے مرافعہ گزار کس جرم کا مرتکب ہوا تے

عدالت کا استد

میں نے اس سے قبل وہ حالات و واقعات ماتحت تبلیغ کانفرنس منعقد ہوئی۔ مرافعہ گزار نے بہت کوشش کی ہے کہ مرزا اور اس کے مقلدین کے ظلم و ستم کچھ مقصد نہ تھا۔ اس کا بیان ہے کہ اس کی تقریر کا مدعا یہ کے افعال ذمیمہ کا بھانڈا پھوڑنا تھا۔ اس نے اپنی تقریر روشنی ڈالی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ جو مسلمان مرزا کی ا اقتدار کو تسلیم نہ کرنے کی وجہ سے مورد آفات وبلیات ہیں

میں نے قادیان کے حالات کی روشنی میں گیا ہے کہ یہ تقریر مسلمانوں کی طرف سے صلح کا پیغام معقول شخص اسی نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ اعلان صلح کے ہو

٣٢٤

صفحہ ٢٢٠٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

جوش و خروش کا مظاہرہ کیا۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ سامعین نے اس وقت کیوں مرزائیوں کے خلاف کوئی متشددانہ اقدام نہ کیا۔ اگرچہ فریقین کے تعلقات عرصہ سے اچھے نہ تھے۔ مگر اس تقریر نے راکھ میں دبے ہوئے شعلوں کو ہوا دے کر بھڑکایا۔

2345 تقریر کی قابل اعتراض نوعیت

فرد جرم میں جن سات فقروں کو قابل گرفت قرار دیا گیا ہے۔ ان میں سے تیسرا اور ساتواں سب سے زیادہ قابل اعتراض ہیں۔ ان میں اپیلانٹ نے مرزائیوں کو برطانیہ کے دم کٹے کتے کہا ہے۔ میرے نزدیک دوسرے حصے دفعہ ٥٣۔الف تعزیرات ہند کے ماتحت قابل گرفت نہیں ہیں۔ پہلا حصہ یعنی فرعونی تخت الٹا جا رہا ہے۔ میرے نزدیک قابل اعتراض نہیں۔ دوسرے حصہ کا تعلق مرزا کی غذا اور خوراک سے ہے۔ اس کے متعلق یہ امر قابل ذکر ہے کہ مرزائے اول نے اپنے مریدوں میں سے ایک کے نام ایک چٹھی لکھی تھی کہ جس میں ان کی خوراک کی یہ تمام تفصیلات درج تھیں۔ یہ خطوط کتابی شکل میں چھپ چکے ہیں اور ان کے مجموعہ کا ایک مطبوعہ نسخہ اس مسل میں بھی شامل ہے۔

شراب اور مرزا

معلوم ہوتا ہے کہ مرزا ایک ٹانک استعمال کرتا تھا۔ جس کا نام پلومر کی شراب تھا۔ ایک موقعہ پر اس نے اپنے مریدوں میں سے ایک کو لکھا کہ پلومر کی شراب لاہور سے خرید کے مجھے بھیجو۔ پھر دوسرے خطوط میں یاقوتی کا تذکرہ ہے۔ مرزا محمود نے خود اعتراف کیا ہے کہ اس کے باپ نے ایک دفعہ پلومر کی شراب دواً استعمال کی۔ چنانچہ میرے نزدیک یہ حصہ بھی قابل اعتراض نہیں۔ چوتھے حصہ میں مرزا غلام احمد کے امتحان میں ناکام ہونے کا تذکرہ ہے۔ چھٹے حصہ میں مرزا پر لابہ گوئی اور کاسہ لیسی کا الزام لگایا گیا ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ چاپلوسی اور لابہ گوئی پیغمبر کی شان کے خلاف ہے۔

عدالت کا تبصرہ

میری رائے میں تیسرے اور ساتویں حصہ کے سوا اور کوئی حصہ تقریر کا قابل گرفت نہیں۔ اس کا یہ مقصد نہیں کہ مرافعہ گزار کی تمام تقریر میں صرف وہ حصے قابل اعتراض ہیں۔ تقریر کے 2346 انداز سے معلوم ہوتا ہے کہ جہاں مرافعہ گزار مرزائیوں کے افعال شنیعہ کی دھجیاں بکھیرنا چاہتا تھا۔

٣٤٤

صفحہ ٢٢٠٣

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

وہاں وہ مسلمانوں کے دلوں میں ان کے خلاف نفرت بھی پیدا کرنا چاہتا تھا۔ یہ امر کہ سامعین اس کی تقریر سے متاثر ہو کر امن شکنی پر کیوں نہ اتر آئے۔ اس کے جرم کو ہلکا کرنے کا موجب ہو سکتا ہے۔ مجھے اس میں کلام نہیں کہ اپیلانٹ مرزائیوں پر تنقید کرنے میں حق بجانب تھا۔ لیکن وہ اس حق کو استعمال کرنے میں جائز حدود سے تجاوز کر گیا اور تقریر کے قانونی نتائج بھگتنے کا سزاوار بن گیا۔ مرافعہ گزار کے اس فعل کی مدح و ثناء کرنا آسان ہے۔ لیکن ایسے حالات میں جہاں جذبات میں پہلے ہی سے ہیجان و اشتعال ہو۔ اس قسم کی تقریر کرنا جلتی پر تیل ڈالنے کے مترادف ہے اور اگرچہ مرافعہ گزار نے صرف ایک اصطلاحی جرم کا ارتکاب کیا ہے۔ لیکن قانون کی ہمہ گیری کا احترام ازقبیل لوازم ہے۔

فیصلہ

مقدمہ کے تمام پہلوؤں پر نظر غائر ڈالنے اور سامعین پر مرافعہ نگار کی تقریر کے اثرات کا اندازہ کرنے سے میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ مرافعہ گزار تعزیرات کی دفعہ ١٥٣ کے ماتحت جرم کا مرتکب ہوا ہے اور اس کی سزا قائم رہنی چاہئے۔ مگر سزا کی سختی اور نرمی کا اندازہ کرتے وقت ان واقعات کو پیش نظر رکھنا بھی ضروری ہے جو قادیان میں رونما ہوئے۔ نیز یہ بات نظر انداز کئے جانے کے قابل نہیں کہ مرزا نے خود مسلمانوں کو کافر سور اور ان کی عورتوں کو کتیوں کا خطاب دے کر ان کے جذبات کو بھڑکایا۔ میرا خیال یہی ہے کہ اپیلانٹ کا جرم محض اصطلاحی تھا۔ چنانچہ میں اس کی سزا کو کم کر کے اسے اختتام عدالت قید محض کی سزا دیتا ہوں۔

گورداسپور ٦/ جون ١٩٣٥ء

دستخط جی۔ ڈی۔ کھوسلہ سیشن جج

2347 جناب چیئرمین: بہت بہت شکریہ۔ مولانا عبدالحق صاحب!

مولوی مفتی محمود: جناب والا! ایک بات عرض کرنا ہے کہ یہ بیان قومی اسمبلی کے ٣٧ ارکان کی طرف سے ہے اور اس وقت تک ہمارے پاس ٣٩ اراکین کے دستخط ہیں۔ یہ دستخط ہمارے پاس موجود ہیں اور یہ تمام پارٹیوں سے بالاتر ہو کر کیا ہے۔

جناب چیئرمین: ہم ساری پارٹیوں سے بالاتر ہو کر کریں گے۔

٣٢٥

صفحہ ٢٢٠٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

مولوی مفتی محمود: اگر کوئی رکن اس قرار داد پر دستخط کرنا چاہیں، تو کر دیں؟

جناب چیئرمین: اگر ان کو دینا چاہیں تو دے دیں۔ مولانا عبدالحکیم صاحب! آپ شروع کریں۔

مولانا عبدالحکیم: دستخط ہو جانے دیں۔

جناب چیئرمین: آپ شروع کریں۔

مولانا عبدالحکیم: باتیں ہو رہی ہیں۔

جناب چیئرمین: ملک اختر! باتیں نہ کریں۔ مولانا! شروع کریں۔

7th is comming to close.

سات تاریخ بہت قریب آ رہی ہے۔

آپ ٢٥٠ صفحات کی کتابیں لکھ کر لائے ہیں۔

If you read it,you have to sit.

اگر آپ یہ پڑھیں گے تو آپ کو بیٹھنا پڑے گا۔

مولانا غلام غوث ہزاروی: جناب والا!

جناب چیئرمین: مولانا! پہلے وہ ختم کرلیں، پھر اس کے بعد۔

2348 مولانا عبدالحکیم: بسم الله الرحمن الرحيم۔

الحمد لله وحده والصلوٰۃ والسلام على من لا نبی بعدہ۔

مرزائی قطعی کافر اور غیر مسلم اقلیت ہیں

قومی اسمبلی کو فیصلہ کرنے کا حق حاصل ہے

قادیانیوں کے خلیفہ ناصر احمد صاحب آف ربوہ نے بتاریخ ٢٢ / جولائی ١٩٧٤ء اپنی پارٹی سمیت پاکستان کی قومی اسمبلی کی کمیٹی کے سامنے (جو تمام ممبران قومی اسمبلی پر مشتمل ہے) ایک طویل بیان دیا۔ یہ بیان انہوں نے دو دن میں مکمل کیا۔

اس بیان کے چند عنوان ہیں:

پہلا عنوان ایوان کی حالیہ قراردادوں پر ایک نظر ہے۔ اس کے ذیل میں خلیفہ قادیانی نے ایک غلطی یہ کی ہے کہ صرف دو قراردادوں کا ذکر کیا ہے۔ ممکن ہے ان کو اطلاع ہی ایسی دی گئی ہو۔ مگر رہبر کمیٹی میں میں نے حضرت مولانا عبدالحکیم صاحب ایم۔ این۔ اے اور مولانا عبدالحق

٣٢٦

صفحہ ٢٢٠٥

SEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

مولوی مفتی محمود: اگر کوئی رکن اس قرارداد جناب چیئرمین: اگر ان کو دینا چاہیں تو شروع کریں۔ مولانا عبدالحکیم: دستخط ہو جانے دیں۔ جناب چیئرمین: آپ شروع کریں۔ مولانا عبدالحکیم: باتیں ہو رہی ہیں۔ جناب چیئرمین: ملک اختر ! باتیں نہ کر close.

سات تاریخ بہت قریب آرہی ہے۔ آپ ٢٥٠ صفحات کی کتابیں لکھ کر لائے ہی ave to sit.

اگر آپ یہ پڑھیں گے تو آپ کو بیٹھنا پڑ مولانا غلام غوث ہزاروی: جناب والا جناب چیئرمین: مولانا! پہلے وہ ختم کر

2348مولانا عبدالحکیم: بسم الله الرحم الحمد لله وحده والصلوة والسلا

مرزائی قطعی کافر اور غیر

قومی اسمبلی کو فیصلہ کرنے

قادیانیوں کے خلیفہ ناصر احمد صاحب آ پارٹی سمیت پاکستان کی قومی اسمبلی کی کمیٹی کے سامنے جواب، بیان دیا۔ یہ بیان انہوں نے دو دن میں مکمل

اس بیان کے چند عنوان ہیں:

پہلا عنوان ایوان کی حالیہ قراردادوں پر نے ایک غلطی یہ کی ہے کہ صرف دو قراردادوں کا ذکر ہو۔ مگر رہبر کمیٹی میں میں نے حضرت مولانا عبدالحکی

٣٢٦

2205 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

صاحب ایم۔ این۔ اے بلوچستان نے بھی ایک بل١؎ پیش کیا ہے۔ خلیفہ ربوہ نے ایک اصولی سوال اٹھایا ہے کہ آیا کسی اسمبلی کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کسی شخص سے یہ بنیادی حق چھین سکے کہ وہ جس مذہب کی طرف چاہے منسوب ہو، یا مذہبی امور میں دخل اندازی کرتے ہوئے اس بات کا فیصلہ کرے کہ کسی جماعت یا فرد کا کیا مذہب ہے؟ ربوہ جماعت کی طرف سے کہا گیا کہ ہم ان دونوں باتوں کو نہیں مانتے۔ اس سلسلے میں انہوں نے اقوام متحدہ کے دستور، انجمنوں اور اسی طرح پاکستانی دستور دفعہ نمبر ٢٠ کی آڑ لی ہے۔

2349مرزائیوں کو جواب

صرف قرآن و شریعت کی روشنی میں کرنا چاہتے ہیں اور اسی کو قانون زندگی کی بنیاد سمجھتے ہیں۔ مگر مرزائی اقوام متحدہ کو دیکھتے ہیں۔ کبھی عالمی انجمنوں کو اور کبھی انسان کے بنائے ہوئے دستور اور قانون کو، ہم تو تمام امور میں صرف دین اور اس کے فیصلے کو دیکھتے ہیں:

نہ شبم نہ شب پرستم کہ حدیث خواب گویم
چوں غلام آفتابم ہمہ ز آفتاب گویم

میں نہ رات ہوں نہ رات کا پجاری کہ خواب کی باتیں کروں۔ میں جب آفتاب (آفتاب رسالت) کا غلام ہوں تو میری باتوں کا ماخذ وہی آفتاب ہوگا۔

تعجب ہے کہ مرزا قادیانی کا دعویٰ نبوت جھوٹا ہے۔ مگر جھوٹے دعوے کی لاج بھی وہ اور اس کے جانشین نہیں رکھتے۔ پیغمبر تو دنیا بھر کے قوانین کو بدلنے آتے ہیں اور ساری دنیا کو اپنے پیچھے چلانا چاہتے ہیں۔

”وما ارسلنا من رسول الا ليطاع باذن الله“ ﴿اور ہم نے جو بھی پیغمبر بھیجے اسی لئے کہ لوگ خدا کے حکم سے اسی کی پیروی کریں۔﴾ تو ہم کو تو قرآن وحدیث کی رو سے دیکھنا ہے کہ مرزائی غیر مسلم ہیں یا نہیں اور اس مسئلے میں کسی بھی مسلمان کو شک نہیں ہے۔ صرف قانونی شکل دینے کی بات ہے۔

مسلمانوں کی سب سے پہلی اسمبلی انصار و مہاجرین کو دیکھتے۔ کیا انصار و مہاجرین کے مشورے

١؎ بل ہذا کتاب کے آخر میں ملاحظہ فرمائیں۔

٣٢٧

صفحہ ٢٢٠٦

2206 . NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

اسلامی روشنی میں نہ ہوتے تھے؟ مگر آپ سے یہ توقع ہی نہیں کہ آپ صحابہ کرام کے راستے پر چلیں۔ ورنہ انصار و مہاجرین کی اسمبلی نے 2350 منکرین زکوٰۃ اور منکرین ختم نبوت سے مسلمان کہلانے کا حق چھین کر ان سے جہاد کیا تھا۔

نہیں۔ ممبران اسمبلی کی سخت توہین کی ہے۔ ان کو معلوم ہونا چاہئے کہ وہ کروڑوں مسلمانوں کے نمائندے ہیں اور مسلمان بھی وہ جن کا کھلا دعویٰ ہے کہ ہمارا ”دین اسلام ہے“۔ کیا یہ ممبر صاحبان اتنا بھی نہیں جانتے کہ مسلمان کون ہیں اور غیر مسلم کون؟

مرزائیوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ کافر وہی ہوتا ہے جو ضروریات دین اور قطعیات دین کا انکار کرے۔ مسلمان کی تعریف کی بحث آگے آتی ہے۔ کیا کوئی ممبر اسمبلی یہ نہیں جانتا کہ پانچ ارکان اسلام فرض ہیں؟ کیا کوئی مسلمان نہیں جانتا کہ توحید و رسالت پر ایمان لانے کے سوا تمام پیغمبروں، آسمانی کتابوں، فرشتوں، قیامت، تقدیر اور دوبارہ زندگی کو دل سے قبول کرنا بھی جزو ایمان ہے؟ کیا کوئی مسلمان اس میں بھی شک کر سکتا ہے کہ حضور سرور کونین ﷺ کے بعد وحی نبوت کا دروازہ بند ہو گیا ہے؟ اب نہ براہ راست کسی کو نبی بنایا جاسکتا ہے نہ کسی کی متابعت سے۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ اسلام کے تقریباً ١٤سو سال میں جس کسی نے نبی ہونے کا دعویٰ کیا تو اس کو اہل اسلام نے ہرگز معاف نہیں کیا۔ مرزائی کہتے ہیں کہ مرزا جی، حضور ﷺ میں فنا ہو چکے تھے۔ اس لئے وہ عین محمد بن کر نبی ہوئے ”انا للہ وانا الیہ راجعون“ بہرحال اسلام کے بدیہی مسائل کو اسمبلی کے تمام ممبران سمجھتے ہیں اور تجربہ رکھتے ہیں۔ بلکہ مرزا ناصر احمد صاحب سے بھی زیادہ سمجھتے ہیں۔

کو امریکہ اور لندن کا مقتدی بنانا چاہتے ہیں؟

کو ختم نبوت اور قرآن و حدیث کے مقتضیات کو ماننے کا حلف اٹھانا پڑے گا۔ (شاید مرزائیوں کو اس سے بھی تکلیف ہوئی ہو)

ہو؟ کیا یہ بات دستور میں نہیں ہے؟

اکثریت کو قطعاً حق نہ ہو کہ وہ ان مٹھی بھر تازہ پیداوار اور مخصوص اغراض کے لئے کھڑے ہونے

٣٢٨

صفحہ ٢٢٠٧

SEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

اسلامی روشنی میں نہ ہوتے تھے؟ مگر آپ سے یہ توقع چلیں۔ ورنہ انصار و مہاجرین کی اسمبلی نے 2350 مگر ایک کہلانے کا حق چھین کر ان سے جہاد کیا تھا۔

نہیں۔ ممبران اسمبلی کی سخت توہین کی ہے۔ ان کو معلوم نمائندے ہیں اور مسلمان بھی وہ جن کا کھلا دعویٰ ممبر صاحبان اتنا بھی نہیں جانتے کہ مسلمان کون ہیں اور مرزائیوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ کافر وہی ہو کا انکار کرے۔ مسلمان کی تعریف کی بحث آگے آتی ۔ ارکان اسلام فرض ہیں؟ کیا کوئی مسلمان نہیں جانتا کہ پیغمبروں، آسمانی کتابوں، فرشتوں، قیامت، تقدیر اور ایمان ہے؟ کیا کوئی مسلمان اس میں بھی شک کر سکتا ۔ کا دروازہ بند ہو گیا ہے؟ اب نہ براہ راست کسی کو نبی بنا ہے کہ تاریخ اسلام کے تقریباً ١٤سو سال میں جس کسی ۔ نے ہرگز معاف نہیں کیا۔ مرزائی کہتے ہیں کہ مرزا جی ۔ عین محمد بن کر نبی ہوئے ’’اناللہ وانا الیہ راجعون‘‘ کا تمام ممبران سمجھتے ہیں اور تجربہ رکھتے ہیں۔ بلکہ مرزا ناصر

کو امریکہ اور لنڈن کا مقتدی بنانا چاہتے ہیں؟

کو ختم نبوت اور قرآن وحدیث کے مقتضیات کو ماننے اس سے بھی تکلیف ہوئی ہو )

ہو؟ کیا یہ بات دستور میں نہیں ہے؟

اکثریت کو قطعا حق نہ ہو کہ وہ ان مٹھی بھر تازہ پیدا وار

٣٢٨

2207 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

والوں کو غیر مسلم کہے۔ ہم کو حق ہے کہ اسمبلی کے اندر اپنے حق کا مطالبہ کریں یا اسمبلی سے باہر۔ پاکستانی حکومت اسمبلی کا نام ہے اور اسمبلی عوام کی نمائندہ ہے۔ ان کا فرض ہے کہ ملک کے نفع و نقصان پر سوچیں۔

اپنے کو نصرانی، عیسائی، قادیانی، احمدی، مرزائی وغیرہ مذاہب کی طرف منسوب کر سکتے ہیں۔ مگر جب آپ کو یہ حق ہے تو 99 فیصد اکثریت کو کیوں یہ حق نہیں کہ وہ اس پاک مذہب کی طرف منسوب ہو جس میں سرور کائنات ﷺ کے بعد کسی کو نبی بنانا کفر ہو اور ایسا سمجھنے والے کو اپنے سے خارج سمجھیں۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ اقل قلیل جو چاہے کہے اور کرے، اور غالب اکثریت صم بکم بنی رہے۔ اس کو بات کرنے کی اجازت نہ ہو۔

مسلمانوں کو کافر بھی کہیں۔ پھر انہی مسلمانوں کے نام سے عہدوں، منصبوں اور مختلف ملازمتوں پر قبضہ بھی کریں۔ آپ جب کروڑوں مسلمانوں کو مرزا قادیانی کو نہ ماننے کی وجہ سے مسلمان نہیں سمجھتے اور اسی طرح آپ کے غیر اسلامی عقیدوں 2352 کی وجہ سے مسلمان بھی آپ کو مسلمان نہ سمجھیں تو اب رونے کی کیا ضرورت ہے؟ اب تو آپ کی بات پوری ہو رہی ہے نہ تم ہم میں سے اور نہ ہم تم میں سے۔

اسمبلی قوم کی نمائندہ جماعت ہے۔ اس کو قوم کی نمائندگی کرنی ہے۔ جب قوم کا ایک متفقہ مطالبہ ہے تو وہ خود اسمبلی کا مطالبہ ہو جاتا ہے اور اس کے فرائض میں داخل ہو جاتا ہے۔

ہیں۔ مگر آپ پاکستان کی بنیاد بھول جاتے ہیں کہ پاکستان کا معنی کیا ہے۔ کیا پاکستان مسلم قومیت کے نام سے نہیں بنا۔ کیا مسلم قومیت کی بنیاد مذہب پر نہیں ہے اور کیا حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی اور علامہ اقبال کا نزاع لفظی ہو کر ختم نہیں ہو گیا تھا؟ اور کوئی مسلمان اس سے انکار کر سکتا ہے کہ دین اسلام، اعتقادات، معاملات، عبادات اور سیاسیات سب پر حاوی ہے؟ اور اب تو حکومت ہی عوامی ہے اور عوامی خیالات اور معتقدات کی ترجمان۔ پھر اس کو کیوں عوامی مطالبات پر خاص کر جو مذہبی ہوں، غور کرنے کا حق نہیں ہے۔ جبکہ سرکاری مذہب ہی اسلام ہے۔

٣٢٩

صفحہ ٢٢٠٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

زیادہ سے مسلمانوں کا متفقہ مسئلہ چلا آ رہا ہے۔ ١٩٥٣ء کی تحریک ختم نبوت سب کو معلوم ہے۔ ہاں فسادات اور فسادی مرزائیوں کی خرمستی نے اس کو قوت دے دی۔ بلکہ ہو سکتا ہے کہ مرزائیوں نے یہ فساد اور مسلمانوں کے پرامن جلوسوں پر گولیاں ہی دشمنان ملک کے ایماء پر چلائی ہوں۔ تا کہ پاکستان دوطرفہ مشکلات میں بھی گھرا ہو، اور اندر فسادات ہوں اور دشمن اپنا الو سیدھا کر سکے۔

2353 مرزا ناصر احمد صاحب کا اقرار

دوران جرح میں جب مرزا ناصر احمد صاحب نے یہ کہا کہ جو شخص اپنے کو مسلمان کہتا ہے ۔ کسی دوسرے شخص یا اسمبلی کو یہ حق نہیں کہ وہ اس کو غیر مسلم قرار دے۔ جب اسی سلسلہ میں محترم اٹارنی جنرل نے ان پر سوال کیا کہ ایک شخص یہودی اور عیسائی ہے۔ لیکن وہ غلط طور پر مفاد کی خاطر اپنے کو مسلمان کہتا ہے اور اس کی یہ فریب دہی اور بے ایمانی دیکھ کر اس کے خلاف عدالت میں دعویٰ دائر کر دیا جاتا ہے۔ تو کیا عدالت کو یہ حق نہیں کہ قطعی ثبوت ملنے کے بعد اس کے فریب کا پردہ چاک کر کے اس کو غیر مسلم، یہودی یا عیسائی قرار دے دیں۔

مرزا ناصر احمد نے بڑی ٹال مٹول کے بعد عدالت کے اس حق کو تسلیم کیا۔ گویا اس طرح مرزا ناصر احمد نے اقرار کر لیا کہ کسی بااختیار ادارے کو یہ حق حاصل ہے کہ نبوت کے بعد وہ کسی شخص کے دعوے کو غلط قرار دے دے۔

اب اس اقرار کے بعد قومی اسمبلی کو جس کا کام قانون سازی ہے، یہ حق کیوں حاصل نہیں کہ وہ مرزائیوں کے غلط دعویٰ اسلام کا بھانڈا پھوڑ کر عوام کو ان کے فریب سے بچائے؟

فرضی باتیں

آپ (مرزا ناصر احمد) نے صفحہ چار پر ’انسان کے بنیادی حق اور دستور‘ کے عنوان سے فرضی باتیں لکھ کر اپنا دل خوش کرنے کی کوشش کی ہے۔ مگر آپ یقین کریں کہ دنیا کی کسی حکومت نے اب تک اس قسم کے سوالات نہ اٹھائے، نہ امکان ہے۔ زیادہ سے زیادہ آپ کو بھارت کا خطرہ ہے۔ مگر وہاں بھی مسلمان ان کے مقابلہ میں ایک ہیں اور ایک ہی بات کہتے ہیں۔ کہتے ہیں چوہے کی نظر ایک بالشت تک ہوتی ہے۔ اس سے آگے نہیں دیکھ سکتا۔ مرزائیوں کو معلوم نہیں کہ خانہ کعبہ میں اہل اسلام کس طرح اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہیں؟ پھر بھارت میں کس طرح تمام مسلم جماعتیں اکٹھی ہو کر بھارتی گورنمنٹ کے سامنے اپنی بات رکھتی ہیں؟ پھر

٣٣٠

صفحہ ٢٢٠٩

2209 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

لاہور 2354 میں ماضی قریب میں کس طرح دنیا بھر کے سربراہان اسلام نے جمع ہو کر مرزائیوں اور دیگر دشمنان اسلام کے سینے پر مونگ دلے؟

مسلمانوں کو ڈراوا

مرزا ناصر احمد صاحب نے مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے بہت سے نقصانات صفحہ ٤ پر گنوائے ہیں اور یہ صرف رونے کے مترادف ہے، ورنہ ہمیں قرآن وحدیث اسلام وشریعت کو دیکھنا ہے۔ نہ یہ کہ دوسرے کیا کرتے ہیں اور اگر خود مسلمانوں کی مذہبی صلابت اور مضبوطی دوسرے دیکھیں تو ان کو بھی ہمارا لوہا ماننا پڑے۔ جیسے کہ خیر القرون میں تھا۔

مرزا ناصر احمد صاحب نے عیسائی حکومتوں کی عددی اکثریت کا ذکر کر کے وہاں مسلمانوں کو شہری حقوق سے محروم کرنے کا ڈراوا بھی سنایا ہے۔ دراصل تحریک (رد) مرزائیت اور قوم کی مشترکہ آواز کے مقابلے میں اب ان کو سوچنے اور سمجھنے کا ہوش بھی نہیں رہا۔ مرزا جی یہ کس نے کہا کہ ہم مرزائیوں کو ہندوؤں، سکھوں اور عیسائیوں کی طرح غیر مسلم اقلیت قرار دے کر ان کے شہری حقوق بھی غصب کرلیں گے۔ کیا اسلام نے کافر رعایا کی جان و مال اور عزت و آبرو بلکہ ان کے معاہد کی آزادی کی ضمانت نہیں دی۔ نہ ہم یہ معاملہ عیسائیوں سے کر رہے ہیں اور نہ مرزائیوں سے کریں گے۔ ہمارے ہاں پرانے مسیحی اور نئے مسیحی دونوں کے جان و مال کی حفاظت حکومت کے ذمے ہے۔ بشرطیکہ وہ ذمی بنے رہیں۔ اگر بغاوت کریں گے تو پھر ان کے ساتھ وہی سلوک کیا جائے گا جس کے وہ مستحق ہوں گے۔

ایک خطرناک دھوکہ

ایک خطرناک دھوکہ (ص٦) پر یہ دیا گیا ہے کہ ”اگر یہ اصول تسلیم کر لیا جائے تو دنیا کے تمام انبیاء علیہم السلام اور ان کی جماعتوں کے متعلق ان کے عہد کی اکثریت کے فیصلے قبول کرنے پڑیں گے ۔“ یہ کھلا دھوکہ ہے۔ مرزا ناصر احمد کو معلوم ہونا چاہئے کہ اسلام جامع مذہب ہے۔ اس میں مغلوب یا اقلیت میں ہونے کے وقت کے لئے بھی رہنمائی موجود ہے اور غلبہ اکثریت 2355 میں ہونے کے وقت کے لئے بھی احکام موجود ہیں۔ لیکن پیغمبروں کا ذکر اپنی روایتی گستاخی کی طرح خواہ مخواہ درمیان میں لا کر اپنا شوق پورا کیا ہے۔ اب اوپر کی عبارت دوبارہ پڑھیں کہ: ”آیا ان کے زمانے کی اکثریت یعنی غیر مسلم اکثریت کے فیصلے انبیاء علیہم السلام نے مانے۔“ اگر مرزا ناصر احمد صاحب یہ لکھ دیتے تو اپنے اوپر فتویٰ کفر کی ایک دفعہ کا اضافہ کرا دیتے۔

٣٣١

LY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

زیادہ سے مسلمانوں کا متفقہ مسئلہ چلا آ رہا ہے۔ ی فسادات اور فسادی مرزائیوں کی شرپسندی نے اس یہ فساد اور مسلمانوں کے پر امن جلوسوں پر گولیا پاکستان دو طرفہ مشکلات میں بھی گھرا ہو، اور اند

2353 مرزا ناصر اح

دوران جرح میں جب مرزا ناصر ا ہے۔ کسی دوسرے شخص یا اسمبلی کو یہ حق نہیں ک محترم اٹارنی جنرل نے ان پر سوال کیا کہ ایک خاطر اپنے کو مسلمان کہتا ہے اور اس کی یہ فریب میں دعویٰ دائر کر دیا جاتا ہے۔ تو کیا عدالت کو یہ پردہ چاک کر کے اس کو غیر مسلم، بہائی یا عیسائی قر مرزا ناصر احمد نے بڑی ٹال مٹول س مرزا ناصر احمد نے اقرار کر لیا کہ کسی بااختیار ادار کے دعوے کو غلط قرار دے دے۔

اب اس اقرار کے بعد قومی اسمبلی نہیں کہ وہ مرزائیوں کے غلط دعویٰ اسلام کا بھان

فرضی

آپ (مرزا ناصر احمد ) نے صفحہ ج سے فرضی باتیں لکھ کر اپنا دل خوش کرنے کی حکومت نے اب تک اس قسم کے سوالات ج بھارت کا خطرہ ہے۔ مگر وہاں بھی مسلمان ان کہتے ہیں چوہے کی نظر ایک بالی مرزائیوں کو معلوم نہیں کہ خانہ کعبہ میں اہل اسلا میں کس طرح تمام مسلم جماعتیں اکٹھی ہو کر ہ

صفحہ ٢٢١٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

مگر انہوں نے بڑی ہوشیاری سے لکھا کہ اکثریت کے فیصلے قبول کرنے پڑیں گے۔ مرزا صاحب! یہ فیصلے آپ قبول کریں ورنہ دنیا کا کوئی مسلمان، کافر اکثریت کے فیصلے پیغمبروں کے خلاف قبول کرنے کو تیار نہیں ہے اور آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ دارالندوہ (مکہ معظمہ میں قریش کی اسمبلی) نے حضور ﷺ کے خلاف فیصلے کئے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام، حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانہ کی کافر حکومتوں نے جو اس وقت کے رواج کے مطابق عوام کی نمائندہ تھیں۔ پیغمبروں کے خلاف فیصلے کئے۔ جن کو انہوں نے تسلیم نہیں کیا اور آج ہم اکثریت میں ہو کر اقلیت کے غیر شرعی مسائل کو نہ ٹھکرائیں؟ نہ غیر مسلم حکومتوں کے فیصلے بغیر قوت حاصل کرنے کے روکے جاسکتے ہیں۔ نہ اسلام ہم کو اس کے لئے مجبور کرتا ہے اور نہ ہم دوسروں کے کاموں کے خدا تعالیٰ کے ہاں ذمہ دار ہیں۔ ہم کو اپنے ہاں اور اپنے حدود اختیار واقتدار میں شریعت کی روشنی میں فیصلے کرنے ہیں۔

لا اکراہ فی الدین کے قرآنی ارشاد سے دھوکہ

مرزا ناصر احمد صاحب نے اپنے سارے بیان میں یہی ایک بات صحیح کی کہ کسی کا مذہب جبراً تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ آیت کا مفہوم بھی یہی ہے۔ مگر اپنے روایتی فریب کو یہاں بھی کام میں لائے کہ زبردستی کسی مسلمان کو غیر مسلم قرار دینا بھی جبکہ وہ اسلام پر شرح صدر رکھتا ہو۔ اس آیت کی نافرمانی میں داخل ہے۔ یہاں آیت کریمہ بھی قطعی ہے اور اس کا مطلب بھی واضح ہے۔ بھلا جس شخص نے دل سے اسلام کو قبول نہیں کیا۔ اس کو مسلمان بنا کر کیا کریں گے اور وہ مسلمان کیسے ہوگا؟ یہ درست ہے۔ مگر ہم نے کب کہا کہ مرزائیوں کو جبراً مسلمان کرو۔ آپ اپنی مرزائیت پر رہ کر 2356 اپنا شوق پورا کرتے رہیں۔ ہم آپ کو قطعاً تبدیل مذہب کے لئے مجبور نہ کریں گے۔

لیکن آپ کو مسلمان نہ سمجھنا یہ ہمارا اعتقاد اور مذہب ہے۔ کیا آپ اکثریت کو اس کے اپنے اعتقاد پر رہنے اور قانونی طور پر اس کی اشاعت کی اجازت نہیں دیتے؟ یہ سوچنا قومی اسمبلی کا کام ہے۔ جس کے سامنے سب سے پہلا اور بڑا کام قانون شریعت ہے کہ آیا آپ جیسی اقلیت کو مسلمان کے نام سے اکثریت کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کی اجازت دے یا آپ کو اسلام کی روشنی میں آپ کے ہی اقوال اور اعتقادات کے پیش نظر غیر مسلم اقلیت قرار دے کر ٩٩ فیصد کے حقوق غصب کرنے سے روک دے اور اس دھوکہ سے کہ نکاح، جنازہ وغیرہ کے احکام میں کھلم کھلا اسلامی اصول کی خلاف ورزی ہو، قوم کو نکال دے۔ اگر آپ اپنے کافرانہ مذہب پر قائم رہیں ہم

٣٣٢

صفحہ ٢٢١١

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

آپ پر جبر نہ کریں گے۔ مگر ہمیں اپنے اصول کے تحت نبوت کے مدعیوں اور ان کے پیروکاروں اور اس کو مجدد ماننے والوں کو غیر مسلم تصور کرنے دیں۔ کیا دنیا بھر کے مسلمان، مرزائیوں کو اسلام سے خارج نہیں کہتے؟ اور کیا آپ کے مرزا جی کو تکفیر عمومی کا یہ شوق نہیں چرایا، پھر بات تو ختم ہے۔ اب صرف بات اس قدر ہے آپ چاہتے ہیں کہ اسی طرح دوقو میں ہوتے ہوئے ہم مسلمان کے نام سے ان کے حقوق پر ڈاکہ ڈالتے رہیں اور ملک میں نفاق اور فساد جاری رہے۔ پھر کیوں نہ اس کو قانونی جامہ پہنا کر ہمیشہ کے لئے ختم کر دیا جائے؟ پھر آپ اپنے لئے آزادی چاہتے ہیں اور ہمارے لئے پابندی۔ ہم سرور کائنات ﷺ کی معراج جسمانی، حیات عیسیٰ علیہ السلام اور ختم نبوت کے منکر کو مسلمان کہنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ کیا آپ ہم کو اپنا عقیدہ بدلنے کے لئے مجبور کر کے قرآن پاک کی مذکورہ آیت کے خلاف نہیں کر رہے؟

آیت کریمہ سے غلط مطلب براری

مندرجہ آیت کریمہ سے قتل مرتد کے اسلامی مسئلہ کے خلاف بھی کام لیا جاتا ہے۔ مگر یہ بھی غلط ہے۔ جب ایک شخص پاکستان کی رعیت نہیں، اس پر کوئی پاکستانی قانون لاگو نہیں۔ مگر جب وہ خود پاکستانی بن جائے اور یہاں کے سارے قوانین کی پابندی کو مان لے۔ پھر اس کی خلاف ورزی پر اس کو سزا دی جائے گی۔ اسی اصول پر زنا، چوری، ڈاکہ، قتل، بغاوت اور ارتداد وغیرہ کی سزاؤں کا دارو مدار ہے۔ یہ اسلام کے اندر رہنے والوں کے لئے ہے۔ لیکن کسی باہر والے شخص کو اسلام لانے کے لئے مجبور نہیں کیا جاسکتا۔ یہی آیت کریمہ کا مفہوم ہے۔

سلام کرنے والے کو مومن نہ کہنے کا حکم

قرآن کی اس آیت سے بھی مرزا ناصر احمد صاحب نے ناجائز فائدہ اٹھایا ہے۔ مگر ہم یہ بحث مسلمان کی تعریف میں کریں گے (انشاء اللہ تعالیٰ) حضرت اسامہؓ کی حدیث بھی ناصر احمد صاحب نے نقل کی ہے کہ جنگ میں ایک شخص نے کلمہ پڑھا۔ انہوں نے پھر اس کو قتل کر دیا۔ اس پر سرور عالم ﷺ نے خفگی کا اظہار فرمایا۔ اس پر بھی مسلمان کی تعریف کے وقت روشنی ڈالی جائے گی۔ (انشاء اللہ تعالیٰ) ٣٣٣

AL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

مگر انہوں نے بڑی ہوشیاری سے لکھا کہ اکثریت کے فیصلے قبو یہ فیصلے آپ قبول کریں ورنہ دنیا کا کوئی مسلمان، کافر اکثریت کرنے کو تیار نہیں ہے اور آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ دارالند نے حضور ﷺ کے خلاف فیصلے کئے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام ابراہیم علیہ السلام کے زمانہ کی کافر حکومتوں نے جو اس وقت کی تھیں۔ پیغمبروں کے خلاف فیصلے کئے۔ جن کو انہوں نے تسلیم نہی اقلیت کے غیر شرعی مسائل کو نہ ٹھکرائیں؟ نہ غیر مسلم حکومتوں ۔ روکے جاسکتے ہیں۔ نہ اسلام ہم کو اس کے لئے مجبور کرتا ہے اور تعالیٰ کے ہاں ذمہ دار ہیں۔ ہم کو اپنے ہاں اور اپنے حدود اختیا فیصلے کرنے ہیں۔

لا اکراہ فی الدین کے قرآنی ارش

مرزا ناصر احمد صاحب نے اپنے سارے بیان میں جبراً تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔ آیت کا مفہوم بھی یہی ہے۔ مگر اپ لائے کہ زبردستی کسی مسلمان کو غیر مسلم قرار دینا بھی جبکہ وہ اسلا نافرمانی میں داخل ہے۔ یہاں آیت کریمہ بھی قطعی ہے اور اس شخص نے دل سے اسلام کو قبول نہیں کیا۔ اس کو مسلمان بنا کر کی یہ درست ہے۔ مگر ہم نے کب کہا کہ مرزائیوں کو جبراً مسلما اپنا شوق پورا کرتے رہیں۔ ہم آپ کو قطعاً تبدیل مذہب ک لیکن آپ کو مسلمان نہ سمجھنا یہ ہمارا اعتقاد اور مذہب اپنے اعتقاد پر رہنے اور قانونی طور پر اس کی اشاعت کی اجاز کام ہے۔ جس کے سامنے سب سے پہلا اور بڑا کام قانون ش مسلمان کے نام سے اکثریت کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کی اجا میں آپ کے ہی اقوال اور اعتقادات کے پیش نظر غیر مسلم اق غصب کرنے سے روک دے اور اس دھوکہ سے کہ نکاح ج اسلامی اصول کی خلاف ورزی ہو۔ قوم کو نکال دے۔ اگر آپ ٣٣٢

صفحہ ٢٢١٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

تہتر فرقوں والی حدیث

مرزا ناصر احمد نے نکتہ استحقاق پیش کیا ہے کہ حدیث میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ستفترق هذا الامة على ثلاث وسبعين فرقة كلها فى النار الا واحدة (مشكوة ص ٣٠ باب الاعتصام بالكتاب والسنة) ” ﴿یہ امت عنقریب تہتر فرقوں میں تقسیم ہو جائے گی۔ سب فرقے آگ میں ہوں گے سوائے ایک کے۔﴾

یہاں مرزاجی نے اگلے لفظ کھا لئے ہیں۔ مگر آگے چل کر مودودی صاحب کے ترجمان القرآن جنوری ١٩٤٥ء سے نقل کیا ہے۔ اس کے آخر میں باقی الفاظ نقل کر دیئے ہیں۔ ”قالوا من هى يارسول الله قال ما انا عليه واصحابی “ ﴿صحابہؓ نے عرض کیا کہ وہ نجات پانے والا فرقہ کون سا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا جو میرے اور میرے صحابہؓ کے طریقے پر ہو۔﴾

(صفحہ١٠) پر مرزا صاحب نے مودودی صاحب کی تحریر سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ہے۔ وہ مودودی صاحب کے حوالہ سے لکھتے ہیں: ”اس حدیث میں جماعت کی دو علامتیں نمایاں طور 2358 پر بیان کر دی گئی ہیں۔ ایک تو یہ کہ آنحضرت ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہؓ کے طریق پر ہو گی۔ دوسرے یہ کہ نہایت اقلیت میں ہوگی۔“

مرزا ناصر احمد صاحب کا نکتہ استحقاق یہ ہے کہ حضور ﷺ کے مندرجہ بالا فرمان کے بالکل برعکس اپوزیشن کے علماء کی طرف سے پیش کردہ ریزولیشن یہ ظاہر کر رہا ہے کہ امت مسلمہ کے بہتر فرقے تو جنتی ہیں اور صرف ایک دوزخی ہے جو قطعی طور پر حضرت خاتم الانبیاء ﷺ کی حدیث مبارک کے خلاف اور آپ ﷺ کی صریح گستاخی ہے۔

یہاں گویا مرزاجی کہہ رہے ہیں کہ صرف وہی جہنم کے ایندھن ہوں گے۔ باقی سب جنتی ہیں۔ یہ تمام تقریر بناء فاسد علی الفاسد ہے۔ اس حدیث میں بہتر فرقوں کے ناری اور ایک کی نجات کا ذکر ہے۔ یہ جنتی اور دوزخی ہونے کے بارہ میں ہے اور ظاہر ہے کہ بعض گناہ گار مسلمان بھی ایک بار جہنم میں داخل ہوں گے۔ بہر حال اس حدیث میں کافر اور مسلم کے الفاظ نہیں بلکہ دوزخی اور جنتی کے ہیں۔ اب ان دونوں نے اس حدیث سے غلط فائدہ اٹھایا اور خواہ مخواہ عوام کو دھوکہ دینے کی کوشش کی ہے۔

٣٣٤

صفحہ ٣٣٥

ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

تہتر فرقوں والی حدی

مرزا ناصر احمد نے نکتہ استحقاق پیش کیا ہے کہ حد ”ستفترق هذا الامة على ثلاث وسب (مشکوٰۃ ص ٣٠ باب الاعتصام بالكتاب والسنة) ﴿ جائے گی۔ سب فرقے آگ میں ہوں گے سوائے ایک ۔

یہاں مرزا جی نے اگلے لفظ کھا لئے ہیں۔ مگر آ القرآن جنوری ١٩٢٥ء سے نقل کیا ہے۔ اس کے آخر میں

”قالوا من هى يارسول الله قال ما انا عليه ﴿صحابہؓ نے عرض کیا کہ وہ نجات پانے والا ف میرے اور میرے صحابہؓ کے طریقے پر ہو۔﴾

(صفحہ١٠) پر مرزا صاحب نے مودودی صاحب ہے۔ وہ مودودی صاحب کے حوالہ سے لکھتے ہیں: ”اس طور 2358 پر بیان کر دی گئی ہیں۔ ایک تو یہ کہ آنحضرت ﷺ گی۔ دوسرے یہ کہ نہایت اقلیت میں ہوگی۔“

مرزا ناصر احمد صاحب کا نکتہ استحقاق یہ ہے بالکل برعکس اپوزیشن کے علماء کی طرف سے پیش کر دہ ریز بہتر فرقے تو جنتی ہیں اور صرف ایک دوزخی ہے جو قطعی ط مبارک کے خلاف اور آپ ﷺ کی صریح گستاخی ہے۔

یہاں گویا مرزا جی کہہ رہے ہیں کہ صرف وا جنتی ہیں۔ یہ تمام تقریر بناء فاسد علی الفاسد ہے۔ اس حد نجات کا ذکر ہے۔ یہ جنتی اور دوزخی ہونے کے بارہ میں بھی ایک بار جہنم میں داخل ہوں گے۔ بہر حال اس حد دوزخی اور جنتی کے ہیں۔ اب ان دونوں نے اس حدی دھوکہ دینے کی کوشش کی ہے۔

٣٣٤

2213 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

بہتر اور تہتر فرقے

نہ یہ تہتر واں فرقہ تمام بہتر فرقوں کو کافر کہتا ہے۔ نہ بہتر فرقے اس تہترویں فرقے کو کافر کہتے ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ ان فرقوں میں سے کوئی آدمی حد سے گزر کر صاف کفریہ عقیدے رکھے تو وہ مسلمان نہیں رہ سکتا مگر یہ ان بہتر فرقوں کے ساتھ خاص نہیں۔ تہترویں فرقہ اہل سنت و الجماعت کا کوئی فرد بھی اگر کسی بدیہی اور قطعی عقیدے کا انکار کرے تو وہ بھی مسلمان نہیں رہ سکتا۔

مثلاً ختم نبوت کا انکار کر دے یا زنا اور شراب کو حلال کہے۔ بہر حال اس حدیث کا کفر و اسلام کے مسئلے سے کوئی تعلق نہیں اور مرزائیوں کا مسئلہ اس کے بالکل برعکس ہے کہ وہ غیر مسلم اقلیت ہیں۔ وہ قطعی کافر ہیں۔ انہوں نے مرزا جی کو نبی مان رکھا ہے۔ یہ حیات مسیح علیہ السلام کا انکار کرتے ہیں۔ معراج جسمانی کے منکر ہیں۔ مرزا جی کی وحی کو قطعی کہتے اور اس پر قرآن کی طرح ایمان 2359 رکھتے ہیں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور تمام پیغمبروں کی توہین کرنے والے کو مجدد اور مسیح کہتے ہیں۔ ان کو کون ان بہتر فرقوں میں داخل کرتا ہے؟ بلکہ یہ ان سب سے خارج اور قطعی کافر ہیں۔ ہم نے یہ جو لکھا ہے کہ مرزا جی نے مودودی صاحب کی تحریر سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ہے۔ اس لئے کہ مودودی صاحب نے بقول مرزا ناصر احمد کے یہ لکھا ہے کہ ناجی فرقہ کی علامت یہ ہے کہ وہ نہایت اقلیت میں ہوگا۔ حالانکہ سرور عالم ﷺ کا ارشاد ہے: ”اتبعوا السواد الاعظم فانه من شذ شذ فى النار (مشکوٰۃ ص ٣٠ باب الاعتصام بالكتاب والسنة)“

﴿بڑی جماعت کے ساتھ رہو۔ اس لئے کہ جو علیحدہ ہوا وہ جہنم میں گیا۔﴾ (او کما قال)

پھر اپنے اس فریب کو ان الفاظ میں چھپایا اور ”اس معمورۂ دنیا میں اس کی حیثیت اجنبی اور بیگانہ لوگوں کی ہوگی۔“

معمورۂ دنیا میں تو کافر بھی ہیں جو زیادہ ہیں اور حدیث جو بڑے گروہ کے ساتھ رہنے کا حکم دیتی ہے۔ تو کیا وہ کفار کیساتھ بھی رہنے کا یہی حکم دیتی ہے؟ یہ ہیں چودھویں صدی کے مجتہد، مجدد اور خود ساختہ خلفاء۔ درحقیقت مسلمانوں کا ذکر ہے اور مسلمانوں ہی میں بڑی جماعت اور سواد اعظم کے اتباع کا حکم ہے۔

تو معلوم ہوا کہ بڑی جماعت ہمیشہ حق پر رہے گی۔ چنانچہ دنیا نے دیکھ لیا کہ چودہ سو سال گزرنے پر بھی دنیا بھر کے مسلمانوں میں صحابہ کرامؓ کا اتباع کرنے والوں کی کثرت ہے۔ یہی اہل سنت والجماعت ہیں۔ مگر اس حدیث میں باقی بہتر فرقوں کو کافر نہیں کہا گیا۔

٣٣٥

صفحہ ٢٢١٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

مرزائیوں سے نزاع کفر و اسلام کا ہے۔ اس لئے ناصر احمد صاحب کا یہ کلمۂ استحقاق بالکل غلط ہے۔ انہوں نے صرف مودودی صاحب کی عبارت سے اپنی اقلیت کو اشارۃً حق پر ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ یا غلط امید رکھی ہے۔ مرزا ناصر احمد کو معلوم ہونا چاہئے کہ مودودی صاحب نے بھی صحابہؓ کو معیار حق نہ مان کر اس حدیث کے معنی سے بغاوت کی ہے اور اقلیت کی بات اپنی طرف سے گھسیڑ کر اپنی مٹھی بھر جماعت کو مرزائیوں کی طرح برحق ثابت کرنے کی سعی لا حاصل کی ہے۔

2360 کہ غیر جانبدار دنیا میں پاکستان جو ہے یہ ہو جائے گا۔ وہ ہو جائے گا۔ وہاں جدوجہد کی عبارت ان کے محضر نامے میں نہیں ہے ١؎

صفحہ ١١ فضول ہے

جناب چیئرمین: یہ اس میں نہیں لکھا ہوا جو لکھا ہوا ہے، وہ پڑھیں یا زبانی بحث کریں۔

مولانا عبدالحکیم: اصل میں .......

جناب چیئرمین: اصل میں نہیں، جو لکھا ہوا ہے وہ پڑھیں۔

چوہدری جہانگیر علی: اس میں یہ وضاحت کچھ زیادہ ہی کر رہے ہیں۔

مولانا عبدالحکیم: بہت اچھا جی۔

مرزا ناصر احمد صاحب نے محضر نامے میں صفحہ ١١ پر اپنی گذشتہ تحریروں کا خلاصہ بیان کیا ہے۔ صرف احتیاط کا وعظ ہے اور غیر جانبدار دنیا میں تضحیک کا واویلا کر کے ڈرانے کی کوشش کی ہے۔

مرزا ناصر احمد صاحب سے

ہم بھی مرزا صاحب کو وعظ کرتے ہیں کہ لنڈن کی جمہوریت دنیا بھر کی جمہوریتوں میں مشہور ہے۔ لیکن وہاں کی پارلیمنٹ نے لواطت کو جائز قرار دیا ہے۔ کیا ہم ان لوگوں کے ہنسنے سے ڈریں یا ان پر ہنسیں یا امریکہ سے شرمائیں جو کسی کمیونسٹ کو کلیدی آسامی پر مقرر نہیں کر سکتا۔ یا روس کا خیال کریں جو کسی امریکی جمہوریت پسند کو ذمہ دارانہ عہدہ نہیں دے سکتا۔ کیونکہ وہ اصولی حکومتیں ہیں۔ جو شخص ان کے اصول نہ مانے اس کو وہ نہ رکھیں۔ پھر ہمارا مملکتی مذہب اسلام ہے۔ ہمارا دین اسلام ہے تو جو شخص اس اسلام کے اصول کے خلاف ہو۔ اس کو ہم کیوں برداشت کر کے اپنے اوپر مسلط کریں۔ اگر آپ (مرزا ناصر احمد) واقعی حق پسند ہیں تو مرزائیت ترک کردیں۔

١؎ یہاں مداخلت کے باعث متن خلط ہو گیا ہے۔ لیکن ہم نے اصل جوں کا توں رہنے دیا۔

٣٣٦

صفحہ ٢٢١٥

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

آپ کو اپنا اجر بھی ملے گا اور ان دوسرے مرزائیوں کا بھی جو مسلمان ہوں گے۔

2361 مرزا صاحب ! مغربی دنیا میں ابھی تو کالے، گورے کی تفریق موجود ہے۔ انہوں نے سیاست کو مذہب سے علیحدہ رکھا ہے۔ وہ سرقہ اور زنا کی اسلامی سزاؤں کے خلاف ہیں اور اسی لئے وہاں ان جرائم کی بھرمار ہے۔ وہ عورتوں کو وراثت دینے کے خلاف ہیں۔ وہ اسلامی طلاق اور متعدد ازدواج کو غلط کہتے ہیں۔ شرعی پردہ پر اعتراض کرتے ہیں۔ ان کی اخلاقی حالت تباہ ہو چکی ہے۔ وہ کبھی شراب کو قانونا بند کر دیتے ہیں اور کبھی اجازت دے دیتے ہیں۔ کیا ہم ان کی خاطر اسلام کے کسی حصے کو ترک کر سکتے ہیں؟ اور کیا ہم ان ہی کی طرف دیکھتے رہیں گے؟

اے تماشا گاہ عالم روئے تو
تو کجا بہر تماشائی روی

2362 مسلمان کی تعریف

2363 ”مسلمان“ کی تعریف کے لئے پاکستانی مسلمان عرصہ دراز سے مطالبہ کر رہے ہیں ۔ کیونکہ بغیر تعریف کے مسلمان کے نام سے پاکستان میں غیر مسلم مرزائی عہدوں پر قبضہ کر لیتے ہیں اور یہ سکیم انگریز کی تھی۔ جو اس وقت تو کامیاب نہ ہوئی۔ لیکن اس نے مسلمانوں کو الجھن میں ڈال رکھا ہے۔ بہر حال جب پہلے دستور میں صدر مملکت کے لئے مسلمان ہونا شرط کیا گیا۔ ہم نے اسی وقت سے مسلمان کی تعریف کا مطالبہ کرنا شروع کر دیا تھا اور یہ بالکل قانونی اور فطری بات تھی۔ جب صدر کے لئے مسلمان ہونا شرط ہے تو مسلمان کی تعریف خود آئین میں ہونی لازمی ہو گئی ۔ ورنہ ہر ایرا غیرا اپنے کو مسلمان کہہ کر صدارت کا امیدوار بن سکتا ہے اور اب نئی حکومت نے تو صدر اور وزیر اعظم دونوں کے لئے مسلمان ہونا شرط قرار دے دیا ہے اور اگر چہ صاف طور پر مسلمان کی تعریف سے گریز کیا گیا ہے۔

مگر صدر اور وزیر اعظم کے حلف کے لئے جو الفاظ تجویز کئے گئے ہیں۔ ان میں ختم نبوت پر ایمان اور سرور عالم ﷺ کے بعد کسی کے نبی نہ بننے ، قرآن وحدیث کے تمام مقتضیات پر ایمان لانے کا بھی ذکر شامل ہے۔ موجودہ حکومت کا یہ وہ کارنامہ ہے جس سے کفر کی دلدادہ طاقتیں بوکھلا گئی ہیں۔ اس سے مرزائی بھی خاص طور پر گھبرا گئے ہیں۔ انہوں نے پہلے پہل عہدوں اور ممبریوں پر قبضہ کرنے کی غرض سے پیپلز پارٹی کی حمایت کی تھی اور اب یکدم اصغر خان کے ساتھ شامل ہو گئے۔

(بحوالہ لولاک لائلپور)

٣٣٧

L ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

مرزائیوں سے نزاع کفر و اسلام کا ہے۔ اس لئے بالکل غلط ہے۔ انہوں نے صرف مودودی صاحب کی عبار ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ یا غلط امید رکھی ہے۔ مرزا ناصر صاحب نے بھی صحابہ کو معیار حق نہ مان کر اس حدیث کے م بات اپنی طرف سے گھسیڑ کر اپنی مٹھی بھر جماعت کو مرزائیوں لا حاصل کی ہے۔

2360 کہ غیر جانبدار دنیا میں پاکستان جو ہے یہ جدوجہد کی عبارت ان کے محضر نامے میں نہیں ہے۔

صفحہ ١١ پر فضول ہے

جناب چیئرمین: یہ اس میں نہیں لکھا ہوا جو لکھا ہو

مولانا عبدالحکیم: اصل میں ......

جناب چیئرمین: اصل میں نہیں، جو لکھا ہوا ہے

چوہدری جہانگیر علی: اس میں یہ وضاحت کچھ نـ

مولانا عبدالحکیم: بہت اچھا جی۔

مرزا ناصر احمد صاحب نے محضر نامے میں صفحہ ١١ پر ہے۔ صرف احتیاط کا وعظ ہے اور غیر جانبدار دنیا میں تضحیک کا واع

مرزا ناصر احمد صاحب ۔

ہم بھی مرزا صاحب کو وعظ کرتے ہیں کہ لنڈن کی مشہور ہے۔ لیکن وہاں کی پارلیمنٹ نے لواطت کو جائز قرار دیـ ڈریں یا ان پر ہنسیں یا امریکہ سے شرمائیں جو کسی کمیونسٹ کی روس کا خیال کریں جو کسی امریکی جمہوریت پسند کو ذمہ دارانہ حکومتیں ہیں۔ جو شخص ان کے اصول نہ مانے اس کو وہ نہ رکھیں ہمارا دین اسلام ہے تو جو شخص اس اسلام کے اصول کے خلاف اپنے اوپر مسلط کریں۔ اگر آپ ( مرزا ناصر احمد ) واقعی حق پـ

١؎ یہاں مداخلت کے باعث بحث میں خلط ہو گیا ہے۔ لیکن

٣٣٨

صفحہ ٢٢١٦

2216 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

At this stage Mr. Chairman vacated the Chair which was occupied by (Dr. Mrs. Ashraf Khatoon Abbasi)

(اس موقع پر جناب چیئرمین نے کرسی صدارت چھوڑ دی جسے ڈاکٹر مسز اشرف خاتون عباسی نے سنبھال لیا)

مولانا عبدالحکیم : پھر مرزائی ظفر چوہدری (سابق ایئر مارشل) نے جو کردار ادا کیا۔ جس کی اس کو سزا بھی مل گئی، وہ سب کے سامنے ہے۔ بعد ازاں بھارت نے ایٹمی دھماکہ کیا اور چند ہی دن کے بعد ربوہ اسٹیشن پر مرزائیوں نے فساد اور ظلم کا ارتکاب کیا۔ مرزائی لوگ کبھی ملک کے وفادار نہیں ہو سکتے۔ یہ حکومت کے پابند نہیں، اپنے خلیفہ کے پابند ہیں۔

2364 مسلمان کی تعریف

اب جبکہ ملک میں مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے مطالبہ میں بیس سال کے بعد پھر طاقت آئی ہے۔ تو مرزائیوں کو بھی مسلمان کی تعریف کا شوق چرایا تا کہ ہم کسی نہ کسی طرح مسلمانوں میں شمار ہو جائیں۔ اس عنوان کے تحت (ص ١٥) پر مرزائی محضر نامے کے بیان سے واضح ہوتا ہے کہ وہ کسی ایسی تعریف کو جائز نہیں سمجھتے جو کتاب اللہ اور خود سرور کائنات ﷺ کی فرمائی ہوئی تعریف کے بعد کسی زمانہ میں کی جائے۔

اس کی تائید (ص ١٦ سطر نمبر ٧) سے ہوتی ہے، جہاں لکھا ہے کہ: ”پس جماعت احمدیہ! کا ایک مؤقف یہ ہے کہ مسلمان کی وہی دستوری اور آئینی تعریف اختیار کی جائے جو حضرت ختم الانبیاء ﷺ نے اپنی زبان مبارک سے ارشاد فرمائی۔“ اس سلسلہ میں تین حدیثیں پیش کیں۔ گویا زبان نبوی کی تعریفیں ہیں۔ مگر آپ حیران ہوں گے کہ مرزا ناصر احمد نے (ص ٢٣ سطر نمبر ١٥) میں قرآن پاک سے اسلام کا ایک اور اصطلاحی معنی بیان کر دیا۔

دروغ گو را حافظہ نہ باشد

حالانکہ یہ تعریف پرانی تعریفوں کے زمانہ مرزائیت کی ہے۔ سچ ہے ”دروغ گو را حافظہ نہ باشد۔“ مرزا ناصر صاحب نے یہ اصطلاحی معنی مرزا غلام احمد قادیانی ہی کے الفاظ (آئینہ کمالات اسلام ص ٦٢٧، ٦٢٥ خزائن ج ٥ ص ایضاً) سے نقل کیا ہے۔ ان چار صفحات میں مرزا قادیانی نے اپنے تصوف کا سکہ جمانا چاہا ہے اور اپنی تقریر سے یہ تصور دینے کی کوشش کی کہ گویا وہ بھی کوئی خدا

٣٣٨

صفحہ ٢٢١٧

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

رسیدہ اور متصل الی اللہ ہے۔ مگر مرزا جی کا مقصد بھی دھوکہ دینا تھا اور یہی مقصد مرزا ناصر احمد کا بھی معلوم ہوتا ہے۔ ورنہ حدیث کی تین تعریفوں کے بعد مرزا جی کی اس چوتھی تعریف اور اس تقریر کے نقل کرنے کی کوئی ضرورت نہ تھی۔ مگر باور یہ کرانا تھا کہ مرزا جی اتنے فنا فی اللہ ہیں کہ ان کی کوئی حرکت حکم الہی کے سوا نہیں ہو سکتی۔ اس سلسلہ میں ہم مجبور ہیں کہ مرزا قادیانی کی معاشرتی زندگی قوم کے سامنے پیش کریں۔ کیا اس قماش کے آدمی کو اس تقریر سے ایک فی لاکھ بھی نسبت ہے۔ مگر پہلے ہم مسلمان کی تعریف کی بحث ختم کرنا چاہتے ہیں۔

2365 مسلمان کی تعریف میں منقولہ احادیث

پہلی تعریف: حضرت جبرائیل علیہ السلام انسانی بھیس میں آنحضرت ﷺ کی خدمت میں آ کر یوں گویا ہوئے: ”یا محمد! اخبرنی عن الاسلام قال الاسلام ان تشهد ان لا اله الا الله وان محمد رسول الله، وتقيم الصلوة، وتؤتى الزکوة وتصوم رمضان، وتحج البيت ان استطعت اليه سبيلاً قال صدقت فعجبنا له يسئله ويصدقه قال فاخبرنی عن الايمان قال ان تؤمن بالله وملئكته و كتبه ورسله واليوم الاخر وتؤمن بالقدر خيره وشره قال صدقت (مسلم شریف ج ١ ص ٢٧، کتاب الایمان) “

﴿اے محمد (ﷺ) مجھے اسلام بتائیے، آپ نے فرمایا کہ اسلام یہ ہے کہ تم گواہی دو کہ خدا تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور حضرت محمد اللہ کے رسول ہیں اور تم نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ دیتے رہو اور رمضان کے روزے رکھو اور حج بیت اللہ کرو، اگر وہاں جانے کی طاقت ہو۔ اس شخص نے کہا آپ نے سچ کہا۔ ہم متعجب ہوئے کہ پوچھتا بھی ہے، پھر تصدیق بھی کرتا ہے۔ پھر اس نے کہا مجھے ایمان بتائیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ وہ یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ پر ایمان لاؤ اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور قیامت کے دن پر اور تقدیر پر، چاہے اچھی ہو یا بری، اس شخص نے کہا آپ نے سچ فرمایا۔﴾

2366 دوسری حدیث: ”جاء رجل الى رسول الله ﷺ من اهل نجد ثائر الراس نسمع دوى صوته لا نفقه ما يقول حتى دنا فاذا هو يسئل عن الاسلام فقال رسول الله ﷺ خمس صلوة فى اليوم والليلة فقال هل على غيرها قال لا الا ان تطوع قال رسول الله ﷺ و صيام رمضان قال هل على غيرها قال لا الا ان تطوع وقال وذكر له رسول الله ﷺ الزكوة قال هل على غيرها قال لا الّا ان تطوع قال فادبر الرجل

٣٣٩

صفحہ ٢٢١٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

وهو يقول والله لا ازيد على هذا ولا انقص قال رسول اللہ ﷺ افلح ان صدق (صحيح بخاری ج ١ ص ١١، ١٢، باب الزکوة من الاسلام) “

﴿ نجد کا ایک آدمی سرور دو عالم ﷺ کے پاس آیا سر کے بال بکھرے ہوئے تھے۔ اس کی گنگناہٹ ، ہم سنتے تھے۔ مگر اس کا مفہوم نہیں سمجھ رہے تھے۔ یہاں تک کہ وہ قریب آگیا۔ دیکھا تو اس نے اسلام کے بارے میں پوچھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا۔ رات، دن میں پانچ نمازیں۔ اس نے کہا کیا اس کے سوا کوئی اور بھی میرے ذمہ ہے؟ آپ نے فرمایا، نہیں، ہاں نفل ہو سکتے ہیں۔ پھر آپ نے رمضان کے روزوں کا فرمایا۔ اس نے کہا کیا اس کے سوا کوئی چیز تو ضروری نہیں؟ آپ نے فرمایا نہیں، ہاں نفل کرو۔ (تو تمہارا اختیار ہے) پھر آپ نے زکوۃ کا ذکر فرمایا۔ اس نے پھر وہی سوال کیا کہ کیا اس کے سوا کچھ اور بھی ہے۔ آپ نے فرمایا، نہیں ہاں اگر نفل کرو۔ راوی کہتے ہیں کہ وہ آدمی یہ کہتے ہوئے واپس چلا گیا۔ خدا کی قسم ! میں اس پر نہ زیادہ کروں گا، نہ کم کروں گا۔ آپ نے فرمایا اگر اس نے سچ کہا ہے تو کامیاب ہو کر فلاح پا گیا۔ ﴾

2367 تیسری حدیث: ”من صلى صلوتنا و استقبل قبلتنا و اکل ذبيحتنا فذلك المسلم الذى له ذمة الله وذمة رسوله فلا تخفروا الله في ذمته (بخارى ج ١ ص ٥٦، باب فضل استقبال القبلة) “ ﴿ جس نے ہماری نماز پڑھی اور ہمارے قبلہ کی طرف منہ کیا اور ہمارے ہاتھ کا ذبح کیا ہوا جانور کھایا۔ تو یہ وہ مسلمان ہے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی ذمہ داری میں ہے۔ تو اللہ تعالیٰ کی ذمہ داری میں اس کے ساتھ دغابازی نہ کرو۔ ﴾ (یہ ترجمہ مرزا ناصر احمد صاحب کا کیا ہوا ہے۔ جو اس نے مودودی صاحب سے نقل کیا ہے)

٤...... ان تین حدیثی تعریفوں کے ساتھ اب مرزا قادیانی کی چوتھی تعریف بھی شامل کر دیں۔ جو مرزا ناصر احمد نے محضر نامے میں (ص ٢٣ تا ٢٦) نقل کی ہے۔

اب ہم چاہتے ہیں کہ جن امور کو مرزا ناصر احمد نے مسلمان کی تعریف سے جدا کر کے ضمنی طور پر بیان کر دیا ہے۔ ان کا ذکر بھی کر دیں تاکہ پھر اکٹھی سب پر بحث ہو سکے۔

٥...... خود مرزا ناصر احمد نے (ص ٧) پر قرآن پاک کی آیت لکھی ہے: ”ولا تقولوا لمن القى اليكم السلام لست مؤمنا (نساء: ٩٤) ﴿اور جو شخص تمہیں سلام کہے۔ اس کو (آگے سے ) یہ نہ کہو کہ تو مسلمان نہیں۔ ﴾ اس آیت سے یہ معلوم ہوا کہ سلام کہنے والے کو بھی آپ کافر یا غیر مسلم نہیں کہہ سکتے۔

2368 ٦...... مرزا ناصر احمد نے ایک اور روایت (ص ٧) پر نقل کی ہے کہ حضرت اسامہ بن زیدؓ

٣٤٠

صفحہ ٢٢١٩

2219 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15 فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے ہمیں جہینہ قبیلہ کے نخلستان کی طرف بھیجا۔ ہم نے صبح صبح ان کے چشموں پر ہی ان کو جالیا۔ میں نے اور ایک انصاری نے ان کے ایک آدمی کا تعاقب کیا۔ جب ہم نے اس کو جالیا اور اسے مغلوب کرلیا۔ تو وہ بول اٹھا ”لا الہ الا اللہ“ خدا کے سوا کوئی معبود نہیں ﴿ اس بات سے میرا انصاری ساتھی اس سے رک گیا۔ لیکن میں نے اس پر نیزے کا وار کر کے اس کو قتل کر دیا۔ جب ہم مدینہ واپس آئے اور آنحضرت ﷺ کو اس بات کا علم ہوا۔ تو آپؐ نے فرمایا کہ اسامہ! کیا ”لا الہ الا اللہ“ پڑھ لینے کے باوجود تم نے اسے قتل کر دیا؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! وہ صرف بچاؤ کے لئے یہ الفاظ کہہ رہا تھا۔ آپ ﷺ بار بار یہ دہرائے جاتے تھے۔ یہاں تک کہ میں نے تمنا کی کہ کاش آج سے پہلے میں مسلمان ہی نہ ہوتا۔

اور ایک اور روایت میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جب اس نے ”لا الہ الا اللہ“ کا اقرار کر لیا۔ پھر بھی تو نے اسے قتل کر دیا؟ میں نے عرض کیا ، اے اللہ کے رسول ! اس نے ہتھیار کے ڈر سے ایسا کیا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تو نے اس کا دل چیر کے دیکھا کہ اس نے دل سے کہا یا نہیں؟ حضور ﷺ نے یہ بات اتنی بار دہرائی کہ میں تمنا کرنے لگا کہ کاش آج میں مسلمان ہوا ہوتا۔

(بخاری کتاب المغازی)

اس سے بھی یہ ثابت ہوتا ہے کہ کلمہ پڑھ لینا اسلام ہے۔ دل چیر کر دیکھنا تو مشکل ہے۔

اب ہم چند اور روایات اسی قسم کی نقل کرتے ہیں۔

2369 ...... ”عن ابي هريرة قال قال لي رسول الله ﷺ واعطاني نعليه وقال اذهب فمن لقيت من وراء هذا الحائط يشهد ان لا اله الا الله مستيقنا بها قلبه فبشره بالجنة (مسلم ج ١ ص ٤٥ ، باب الدليل على من مات على التوحيد) “ ﴿ حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے مجھے اپنے نعلین (چپل مبارک) عطا فرمائے اور فرمایا کہ جاؤ جو ملے اور وہ لا الہ الا اللہ سچے دل سے پڑھتا ہو اس کو جنت کی بشارت دے دو۔ ﴾

”عن ابی ذرؓ قال قال رسول الله ﷺ ما من عبد قال لا اله الا الله ثم مات على ذلك الا دخل الجنة قال وان زنى وان سرق قال وان زنى وان سرق (بخاری ج ٢ ص ٨٦٧، باب الثياب البيض) “ ﴿ حضرت ابوذرؓ کو حضور ﷺ نے فرمایا کہ جو بندہ بھی لا الہ الا اللہ کہے پھر اسی عقیدہ پر مر جائے تو وہ جنتی ہے۔ ابوذرؓ نے پوچھا چاہے وہ زنا اور چوری بھی کرتا ہو؟ حضور ﷺ نے تین بار فرمایا، اگر چہ وہ زنا اور چوری بھی کرتا ہو۔ ﴾ ( متفق علیہ دونوں روایتیں اختصار سے بیان ہوئی ہیں )

(مشکوٰۃ ص ١٤، کتاب الایمان)

٤٤١

EMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

وهو يقول والله لا ازيد على هذا ولا انقص قال :

(بخاری ج ١ ص ١١، ١٢ ، باب الزکوۃ من الاسلام) “

﴿ نجد کا ایک آدمی سرور دو عالم ﷺ کے پا کی گنگناہٹ، ہم سنتے تھے۔ مگر اس کا مفہوم نہیں سمجھ دیکھا تو اس نے اسلام کے بارے میں پوچھا۔ آپؐ نمازیں۔ اس نے کہا کیا اس کے سوا کوئی اور بھی میرے سکتے ہیں۔ پھر آپؐ نے رمضان کے روزوں کا فرمایا۔ ا نہیں؟ آپؐ نے فرمایا نہیں، ہاں نفل کرو۔ (تو تمہارا ا اس نے پھر وہی سوال کیا کہ کیا اس کے سوا کچھ اور بھی راوی کہتے ہیں کہ وہ آدمی یہ کہتے ہوئے واپس چلا گیا۔ کروں گا۔ آپؐ نے فرمایا اگر اس نے سچ کہا ہے تو کام

2367 ...... تیسری حدیث: ”من صلى صلا فذلك المسلم الذي له ذمة الله وذمة رسو ج ١ ص ٥٦، باب فضل استقبال القبلة) “ ﴿ جس نے منہ کیا اور ہمارے ہاتھ کا ذبح کیا ہوا جانور کھایا۔ تو یہ وہ کی ذمہ داری میں ہے۔ تو اللہ تعالیٰ کی ذمہ داری میں ا

مرزا ناصر احمد صاحب کا کیا ہوا ہے۔ جو اس نے مودود

...... ان تین حدیثی تعریفوں کے ساتھ اب م دیں۔ جو مرزا ناصر احمد نے محضر نامے میں (ص ٢٣ تا ٢٦

اب ہم چاہتے ہیں کہ جن امور کو مرزا ناصر ضمنی طور پر بیان کر دیا ہے۔ ان کا ذکر بھی کر دیں تاکہ پ

...... خود مرزا ناصر احمد نے (ص ٧) پر قرآن پاک القى اليكم السلام لست مؤمنا (نساء: ٩٤) “ ﴿ سے ) یہ نہ کہو کہ تو مسلمان نہیں۔ ﴾ اس آیت سے یہ م غیر مسلم نہیں کہہ سکتے۔

2368 ...... مرزا ناصر احمد نے ایک اور روایت (ص

٤٤٠

صفحہ ٢٢٢٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

وہاں سے آذان کی آواز آتی، تو حملہ نہ کرتے۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آذان کہنے سے وہ مسلمان ثابت ہورہے تھے۔

نہ دینا یا اس کا انکار کفر ہے۔

ہوا کہ ختم نبوت کا مسئلہ بھی جزو ایمان ہے اور اس کا منکر اسلام سے خارج ہوجاتا ہے۔

2370 جسٹس منیر یا مرزا ناصر احمد صاحب

اب اگر جسٹس منیر یا مرزا ناصر احمد، علماء کرام کا مذاق اڑائیں یا اسلام کی تعریف پر متفق نہ ہونے کو قابل اعتراض قرار دیں۔ تو ان کا یہ اعتراض علماء کرام پر نہیں، خود سرور عالم ﷺ پر العیاذ باللہ ! ہو جاتا ہے۔

جسٹس منیر صاحب نے سپریم کورٹ کا چیف جسٹس ہو کر دنیوی مراد کو پہنچ گیا۔ قیامت کا تعلق اللہ تعالیٰ اور توبہ سے ہے۔ باقی مرزا ناصر احمد صاحب سے توبہ کی زیادہ امید نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کو مسلمان ہونے کی توفیق دیں تاکہ ان ہزاروں مرزائیوں کے مسلمان ہونے کا ثواب بھی اس کو مل جائے ورنہ پھر اللہ تعالیٰ نے جنت اور دوزخ دونوں تیار کر رکھے ہیں جو جہاں کا مستحق ہو گا وہاں پہنچ جائے گا۔

اظہار حقیقت: کیا جو باتیں مندرجہ بالا دس نمبروں میں بیان کی گئی ہیں، یہ اسلام کی یا مسلمان کی تعریف ہے اور کیا ان میں باہم کوئی تضاد یا کمی بیشی ہے یا نہیں۔ اگر یہ تعریفیں ایک طرح کی نہیں تو جسٹس منیر کا اعتراض سرور عالم ﷺ تک جا پہنچتا ہے اور بے چارہ مرزا ناصر احمد تو کسی شمار و قطار میں ہی نہیں۔

ان تعریفوں کا اختلاف

اب دیکھیں کہ حدیث نمبر ١....... جبرائیل علیہ السلام کی روایت میں ایمان و اسلام جدا جدا بیان کئے گئے ۔ نمبر ٢....... نجد والے سادہ شخص کے سامنے آپ نے اسلام کی تعریف میں حج کا بیان ہی نہیں کیا اور حدیث جبرائیل علیہ السلام کے مطابق ایمان کے ارکان کا ذکر ہی نہیں ہے۔ جن کو

٣٤٢

صفحہ ٢٢٢١

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

مانے بغیر کوئی مسلمان مسلمان نہیں ہو سکتا۔ نمبر ٣...... روایت میں تو ہماری طرح نماز پڑھنے، قبلہ رو ہونے اور ہمارے ہاتھ کا ذبیحہ کھانے کا ذکر ہے۔ باقی ان باتوں کا جو پہلی کی دو حدیثوں میں بیان ہوئیں کوئی ذکر ہی نہیں۔ حدیث نمبر ٥...... میں حکم ہے کہ سلام کہنے والے کو ہم غیر مسلم نہ کہیں۔ گویا سلام کرنا ہی اسلام اور ایمان کے لئے کافی ہے۔ نمبر ٦...... روایت میں آپ نے بار بار حضرت اسامہؓ سے فرمایا کہ ”لا الہ الا اللہ“ 2371 کہنے کے بعد تم نے اس کو قتل کر دیا۔ کیا تم نے اس کا دل چیر کے دیکھا تھا؟ اس روایت سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ صرف ”لا الہ الا اللہ“ کہنے سے مسلمان ہو گیا تھا۔ ابھی تک اس نے اور کوئی عمل نہیں کیا تھا۔ معلوم ہوا کہ مسلمان ہونے کے لئے یہی کلمہ کافی ہے۔ روایت نمبر ٧...... میں صرف ”لا الہ الا اللہ“ کہنے ہی کو سبب دخول جنت فرمایا گیا ہے۔

--------

[At this stage Dr. Mrs Ashraf Khatoon Abbasi vacated the Chair which was occupied by Mr. Chairman (Sahibzada Farooq Ali).]

(اس موقع پر ڈاکٹر مسز اشرف خاتون عباسی نے کرسیِ صدارت چھوڑ دی جسے جناب چیئرمین (صاحبزادہ فاروق علی) نے سنبھال لیا)

مولانا عبد الحکیم : بمطابق روایت نمبر ٩ اور نمبر ١٠ میں حضرت صدیقؓ نے مدعیان نبوت سے لڑائی کی اور منکرینِ زکوٰۃ سے بھی۔ جس کا معنی یہ ہے کہ ان دو جرموں کی وجہ سے وہ مسلمان نہ رہے تھے۔

مسیلمہ کذاب اور دوسرے مدعیان نبوت کی بات تو صاف ہے لیکن جب حضرت صدیقؓ نے منکرینِ زکوٰۃ سے جہاد کا اظہار فرمایا۔ حضرت عمرؓ نے کہا کہ وہ ”لا الہ الا اللہ“ کہتے ہیں۔ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے۔ ”امرت ان اقاتل الناس حتی یقولوا لا الہ الا اللہ “ (کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک لڑوں، جب تک وہ ”لا الہ الا اللہ“ نہ کہہ لیں) مطلب یہ ہے کہ ”لا الہ الا اللہ“ کہنے سے انہوں نے اپنے اموال اور جانیں بچالیں۔ حضرت صدیقؓ نے حضرت عمرؓ سے نہ مناظرہ کیا، نہ دلیل بازی، بلکہ فرمایا جو ایک تسمہ بھی زکوٰۃ کا حضور ﷺ کو دیتا تھا اور مجھے نہ دے۔ میں اس سے لڑوں گا۔ بعض روایتوں میں ہے کہ جو بھی زکوٰۃ و صلوٰۃ میں فرق کرے گا میں اس سے لڑوں گا۔ (اللہ اکبر) کیا باطن تھا۔ کیا صفائے قلب تھی؟ حضرت عمرؓ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ابوبکرؓ کا دل حق کے لئے کھول دیا ہے۔ پھر بالاتفاق جہاد شروع ہوا۔

٣٤٣

صفحہ ٢٢٢٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

2372 مسلمانوں کی تعریف کی تحقیق

پہلے آپ قرآن پاک کی آیات سنیں:

الظالمون (الانعام:٢١)" ﴿اور اس شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہے جو اللہ تعالیٰ پر افتراء کرے یا اللہ تعالیٰ کی آیتوں کو جھٹلائے۔ بے شک نہیں فلاح پاتے ظالم۔﴾

ونكون من المؤمنين (انعام:٢٧)" ﴿اور اگر تم دیکھو جب وہ لوگ دوزخ پر کھڑے کر دیئے جائیں گے اور کہیں گے کاش ہم واپس لوٹا دیئے جائیں اور ہم اپنے رب کی آیتوں کو نہ جھٹلائیں اور یہ کہ ہم ایمان والوں میں سے ہو جائیں۔﴾

والوں نے پیغمبروں کو۔﴾

ان يكذبون (قصص:٣٤)" ﴿اور میرا بھائی ہارون مجھ سے زیادہ فصیح ہے۔ اس کو میرے ساتھ رسول بنا دیں۔ (مددگار) جو میری تصدیق کریں۔ مجھے خطرہ ہے کہ وہ لوگ مجھے جھٹلا دیں گے۔﴾

لایا اور سچ کی تصدیق کی، وہ سب لوگ متقی ہیں۔﴾

تصدیق کی، نہ ہی نماز پڑھی۔ بلکہ جھٹلایا اور منہ پھیرا۔﴾

نے مال دیا اور تقویٰ اختیار کیا اور صحیح باتوں کی تصدیق کی، تو اس کو ہم یسریٰ کی توفیق دیں گے۔﴾

منہ پھیر دے۔﴾

٣٤٤

صفحہ ٢٢٢٣

OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

2372 مسلمانوں

پہلے آپ قرآن پاک کی آیات

الظالمون (الانعام: ٢١)" ﴿اور اس شخص اللہ تعالیٰ کی آیتوں کو جھٹلائے۔ بے شک نہیں

ونکون من المؤمنین (انعام: ٢٧)" ﴿ جائیں گے اور کہیں گے کاش ہم واپس لوٹا اور یہ کہ ہم ایمان والوں میں سے ہوجائیں۔

والوں نے پیغمبروں کو۔﴾

ان یکذبون (قصص: ٣٤)" ﴿اور میرا رسول بنا دیں۔ (مددگار) جو میری تصدیق

لایا اور سچ کی تصدیق کی، وہ سب لوگ متقی

تصدیق کی، نہ ہی نماز پڑھی۔ بلکہ جھٹلایا اور

نے مال دیا اور تقویٰ اختیار کیا اور سچی باتوں کی

منہ پھیر دے۔﴾

2223 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

قیامت کو جھٹلاتا ہے۔﴾

ہے۔ جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ وہ ایمان لائے اور نیک کام کئے۔ نیک کام تو حدیث جبرائیل علیہ السلام سے معلوم کئے جاچکے ہیں کہ اچھے کام ہیں۔ نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ اور اسی طرح آمنوا سے بھی اسی حدیث کے تحت ایمان کی تفصیل ہوگئی ہے۔

شرعی تصدیق

اب دیکھنا یہ ہے کہ قرآن پاک میں جا بجا تصدیق کو ایمان کہا گیا ہے اور تکذیب کو کفر۔ اگر کوئی شخص یہ پوری طرح سمجھ لے کہ اسلام سچا دین ہے اور اس کو یقین ہو۔ مگر اس کو حسد، تعصب، ہٹ دھرمی یا کسی جھوٹے وقار کی خاطر دل سے قبول کرنے کو تیار نہ ہو۔ وہ مسلمان نہیں، جیسے "شاہ روم ہرقل" نے اسلام کے اصول کو سچا قرار دیا۔ مگر اہل دربار کے شور سے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ قرآن پاک میں اہل کتاب کے بارہ میں ہے۔ "ویعرفونہ کما یعرفون ابناءھم (بقرہ: ١٤٦)" ﴿اور اس پیغمبر کو اس طرح پہچانتے ہیں۔ جیسے اپنے لڑکوں کو پہچانتے ہیں۔﴾

2374 مطلب یہ ہے کہ ان کو اسلام کی صداقت میں شبہ نہیں۔ مگر پھر بھی وہ اس کو قبول نہیں کرتے۔ اس لئے کافر ہیں۔

اس تمام تقریر سے میرا مطلب یہ ہے کہ قرآن وحدیث بالکل صاف ہیں۔ جن کے دلوں پر اللہ تعالیٰ نے مہر نہیں لگادی۔ وہ سمجھ سکتے ہیں۔ اب آپ خود غور فرمائیں کہ حضرت اسامہ بن زیدؓ کی روایت میں کلمہ پڑھ لینے کے بعد اس آدمی کے قتل پر کتنا رنج ظاہر فرمایا۔ حالانکہ اس وقت اس کے پلے میں سوائے کلمہ طیبہ کے اور کوئی عمل نہیں تھا تو اس کا معنی یہ تھا کہ اس نے دین اسلام قبول کر لیا تھا۔ اس کے خلاف تکذیب کا کوئی ثبوت نہیں تھا۔ اس لئے رحمۃ للعالمین نے رنج ظاہر فرمایا۔

اصل ایمان اور کفر

تو اصل ایمان خدا تعالیٰ اور اس کے رسول کو تمام باتوں میں سچا جاننا اور دل سے سچا قبول کرلینا، اور کفر اس کے مقابلے میں خدا تعالیٰ یا رسول کی کسی ایک بات کو بھی جھٹلا دینا ہے۔

اب آپ کو نہ علماء کی تعریفوں میں اختلاف نظر آئے گا، نہ سرور عالم ﷺ کے

٣٤٥

صفحہ ٢٢٢٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

ارشادات میں، نہ قرآن پاک کے مفہوم میں اس وقت سارے صحابہؓ جانتے تھے کہ حضورﷺ کو مان لینا ہی اسلام ہے اور حضورﷺ کو نہ ماننے کا نام کفر ہے اور یہ بات اتنی ظاہر تھی کہ ہر چھوٹا بڑا جانتا تھا۔ گویا ہر شخص اُس حقیقت کو جانتا تھا کہ دین کو دل سے قبول کر لینا مسلمانی ہے اور نہ کرنا بے ایمانی اور کفر۔

ایمان و کفر کی نشانیاں

بات یہ ہے کہ جو کچھ دس روایات میں بیان کیا گیا ہے، یہ سب نشانیاں ہیں۔ چونکہ دل سے ماننا یا نہ ماننا یہ دل کی باتیں ہیں۔ اس لئے قضاء و شریعت میں اس کی جگہ نشانیوں پر حکم لگایا جائے گا۔ اس لئے اگر آپ کسی شخص میں ایمان کی علامت دیکھیں تو اس کو مسلمان کہیں گے اور 2375 اگر کفر کی نشانی دیکھیں تو اس کو غیر مسلم تصور کریں گے۔

ماننے والا ہے۔ آپ کو حق نہیں کہ اس کو کہیں تو مومن نہیں یا کافر ہے۔ مگر یہی شخص تھوڑی دیر کے بعد باتوں باتوں میں قیامت کا انکار کر دے تو اب اس میں کفر کی نشانی پائی گئی۔ اس لئے اب اس کو کافر کہیں گے۔

اس کو مسلمان ہی سمجھیں گے۔ اگر وہی شخص تھوڑی دیر کے بعد کہے کہ زنا حلال ہے تو پھر ہم اس کو کفر اور جھٹلانے کی نشانی ظاہر ہونے کی وجہ سے کافر کہیں گے۔

سمجھے گا۔ کیونکہ ان میں تصدیق کی نشانی پائی گئی ہے۔ لیکن اگر وہ تھوڑی دیر کے بعد کہیں کہ حضورﷺ کے بعد کسی کو نبوت مل سکتی ہے۔ اب یہ تکذیب اور جھٹلانے کی نشانی ظاہر ہو گئی۔ اب ان کو کافر کہیں گے۔

چھوٹے ”ربڑیڑے“ بھی مانتے تھے۔ یعنی چھوٹے چھوٹے خدا، اس لئے اس وقت ”لا اله الا اللہ“ اس بات کی نشانی تھی کہ اس نے دین اسلام قبول کر لیا ہے۔ لیکن اگر ایسا شخص اس کے بعد سود، زنا کو حلال کہے اور نماز کو فرض نہ سمجھے تو اب اس کو کافر کہیں گے۔ کیونکہ اب اس میں تکذیب کی نشانی ثابت ہو گئی۔

٣٤٦

صفحہ ٢٢٢٥

2225 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

ماننے کا اقرار کرتا ہے۔ مگر پھر وہ قرآن پاک کو (العیاذ باللہ ) گندے نالے میں سب کے سامنے پھینک دیتا ہے تو اب یہ انکار اور تکذیب کی نشانی ظاہر ہو گئی۔ اب اس کو باقی باتیں کفر سے نہیں بچا سکتیں۔

2376

جہاد وقتال کے سوا ان کا کوئی علاج ہی نہیں سمجھا۔

کرنے میں تامل ہوا۔ مگر حضرت صدیقؓ کا ارشاد ان کا ہادی ثابت ہوا کہ جو نماز اور زکوٰۃ میں فرق کرے گا میں اس سے لڑوں گا۔ مطلب یہ تھا کہ یہ صرف عملی کوتاہی نہیں ہے۔ بلکہ یہ اس اسلامی حق کو معاف کرا کر اس کی فرضیت ہی کو ختم کرنا چاہتے ہیں اور یہ اسلامی احکام کی تکذیب ہے۔ سبحان اللہ العظیم! کیا اللہ والے تھے کہ بغیر بحث کے چند جملوں میں حضرت عمرؓ کو شرح صدر ہو گیا۔

پاک زمانہ

صحابہؓ کا زمانہ پاک زمانہ تھا۔ وہ حضرات بحث وتمحیص، حجت بازی اور لمبے چوڑے دلائل کے بغیر ہی منشاء نبوت کو سمجھ جاتے تھے۔ اسی لئے جب آنحضرت ﷺ ان کو کوئی مشورہ دینا چاہتے تو پہلے بڑے ادب سے دریافت فرما لیتے۔ یا رسول اللہ یہ حکم ہے یا مشورہ ہے۔ وہ جانتے تھے کہ رسول کا حکم نہ ماننے سے کفر کا خطرہ ہے۔ کیونکہ بالمشافہ حکم نہ ماننے کا معنی یہ ہو سکتا ہے کہ وہ گویا کم از کم اس خاص بات میں آنحضرت ﷺ کو سچا نہیں مانتا اور یہ قطعی کفر ہے۔ اس لئے صحابہ کرامؓ نے جب کبھی مشورہ دینا چاہا، پہلے دریافت فرما لیا۔ ورنہ حضور کا ایک حکم بھی نہ ماننا وہ دین کے خلاف سمجھتے تھے۔

”پس ایمان یہ ہے کہ خدا اور رسول کی تمام باتوں کو سچا سمجھے اور دل سے ان کو قبول کرے۔“ اور ”کفر یہ ہے کہ کسی ایک بات میں بھی رب العزت جل وعلا یا اس کے پاک رسول کو جھٹلایا جائے۔ تو یہ قطعی کفر ہے۔“ مگر یہ تصدیق وتکذیب دل کی صفات ہیں۔ اس لئے اسلام میں علامتوں اور نشانیوں پر حکم کا دارو مدار رکھا گیا اور دنیا کی ہر عدالت ظاہر ہی کو دیکھتی ہے۔

2377

صحابہ کرامؓ اور خیر القرون کے مسلمان ان حقائق کو ایمانی بصیرت، اپنی صحیح قرآن دانی اور صحبت نبوی کی برکت سے پوری طرح سمجھتے تھے اور یہ ان کے ہاں قابل بحث چیز ہی نہ تھی۔

٣٤٧

OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

ارشادات میں، نہ قرآن پاک کے مفہوم میں مان لینا ہی اسلام ہے اور حضور ﷺ کو نہ ما۔ جانتا تھا۔ گویا ہر شخص اس حقیقت کو جانتا تھا کہ ایمان اور کفر۔

ایمان‘

بات یہ ہے کہ جو کچھ دس روایات سے ماننا یا نہ ماننا یہ دل کی باتیں ہیں۔ اس جائے گا۔ اس لئے اگر آپ کسی شخص میں

2375

اگر کفر کی نشانی دیکھیں تو اس کو غیر مسلم ک

ماننے والا ہے۔ آپ کو حق نہیں کہ اس کو ک بعد باتوں باتوں میں قیامت کا انکار کرد۔ کو کافر کہیں گے۔

اس کو مسلمان ہی سمجھیں گے۔ اگر وہی شخص کفر اور جھٹلانے کی نشانی ظاہر ہونے کی و

سمجھے گا۔ کیونکہ ان میں تصدیق کی نشان حضور ﷺ کے بعد کسی کو نبوت مل سکتی ہ ان کو کافر کہیں گے۔

چھوٹے ”ربوں“ بھی مانتے تھے۔ یا اللہ ”اس بات کی نشانی تھی کہ اس نے سود، زنا کو حلال کہے اور نماز کو فرض نہ کی نشانی ثابت ہو گئی۔

صفحہ ٢٢٢٦

2226 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

وہ حضور ﷺ کے ماننے کو ایمان اور نہ ماننے کو کفر سمجھتے تھے اور یہی ہماری تحقیق کا خلاصہ ہے۔ اب آپ تمام احادیث، آیات و روایات کو اس پر منطبق کر سکتے ہیں۔ سارا قرآن پڑھنے والے اور برسوں آپ ﷺ کی صحبت میں رہنے والے صحابہؓ اس مسئلہ کو قابل بحث نہیں سمجھتے تھے کہ اسلام اور کفر کیا ہے؟ مسلمان اور کافر کون ہے؟ ان کے سامنے ایک ہی بات تھی جس نے آپ ﷺ کو مان لیا وہ مسلمان ہو گیا اور جس نے حضور کریم ﷺ کو نہ مانا وہ کافر ہے۔

مرزا ناصر احمد کی تردید خود مرزا قادیانی نے کر دی

مرزا ناصر احمد نے تین حدیثیں مسلمان کی تعریف میں پیش کیں۔ مگر مرزا قادیانی نے ”بلی من اسلم وجهه لله وهو محسن فله اجره عند ربه ولا خوف عليهم ولا هم يحزنون (بقرہ:١١٢)“ سے اس کی تردید کر دی۔ یعنی وہ مسلمان ہے جو خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنے تمام وجود کو سونپ دے۔ آگے دو صفحوں میں اس کی تفصیل بیان کی ہے۔ گویا یہ تین حدیثوں کے سوا چوتھی تعریف ہے۔ اس کو اپنی طرف سے اضافہ کر کے مسلمان کی تعریف بنا ڈالا ہے۔ دراصل آگے چار صفحات میں اس نے جو مضمون لکھا ہے وہ اس لئے ہے کہ پڑھنے والے سمجھیں کہ مرزا قادیانی ایسے ہی بلند مسلمان ہیں۔ اسی طرح محضر نامے میں مرزا ناصر احمد نے ذات باری کا عرفان اور دوسرا عنوان قرآن عظیم کی اعلیٰ وارفع شان کے تحت جو کچھ لکھا ہے وہ بھی اور شان خاتم الانبیاء ﷺ کے عنوان سے جتنے مضامین لکھے ہیں وہ مرزا غلام احمد کی کتابوں سے نقل کئے ہیں اور ان سب سے مقصد عوام پر اور ناواقف مسلمانوں پر اپنی بزرگی، تقدس اور معارف کا رعب ڈالنا ہے۔ حالانکہ یہ سب باتیں ہر وہ شخص کہہ اور لکھ سکتا ہے جس نے صوفیائے کرام کی کتابیں دیکھی ہیں۔ ان باتوں سے مرزا قادیانی نے اپنی نبوت، ظلی نبوت، بروزی نبوت، غیر تشریعی نبوت، تابع نبوت، لغوی نبوت، عین محمد اور فنا فی الرسول ہونا، ظاہر کر کے لوگوں کو دھوکہ دیا ہے۔

2378ساری بحث کا نتیجہ

کفر اور اسلام کی بحث سے آپ پر کافر کی تعریف واضح ہوگئی۔ اس تعریف کے لحاظ سے جس کی تردید نہیں کی جاسکتی۔ مرزا غلام احمد قادیانی قطعی کافر اور اسلام سے خارج ہے اور اسی لئے اس کے پیرو چاہے وہ قادیانی ہوں یا لاہوری۔ یعنی چاہے اس کو نبی مانیں یا مجدد یا مسیح“

٣٤٨

صفحہ ٢٢٢٧

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

بھی دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی میں تکذیب کی بہت سی نشانیاں اکٹھی پائی جاتی ہیں:

ہے اور اس دعویٰ کی اس کے جانشین مرزا ناصر احمد صاحب بھی تصدیق کرتے ہیں اور مرزا جی کو نبی مانتے ہیں اور اس کو امتی نبی کہہ کر اس کے دعویٰ نبوت کو ایک طرح چھپاتے ہیں۔ حالانکہ قادیانی مرزائی مرزا غلام احمد قادیانی کو ایسا حقیقی نبی تسلیم کرتے ہیں جس پر دیگر پیغمبروں کی طرح قطعی وحی آتی ہے۔ جو اسی طرح غلطی اور غلطیوں سے پاک ہے۔ جس طرح کہ قرآن اور اگر دعویٰ نبوت تکذیب کی نشانی نہیں ہو سکتی تو اس سے بڑھ کر کون سی چیز ہو سکتی ہے؟ ختم نبوت کا مسئلہ ایسا ہے جو قرآن پاک اور احادیث صحیحہ سے ثابت ہے اور اس کے معنی پر تمام امت کا اجماع ہے۔ جیسے کہ اپنی جگہ اس کا ذکر آئے گا۔

دین اور تکذیب رسل کی کھلی نشانی ہے۔ اس کا ذکر بھی اپنی جگہ آپ پڑھ سکتے ہیں۔

کھلی توہین کی ہے۔

کتابوں کی طرح قرار دیا۔

نبوت، نزول عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام، حیات مسیح علیہ السلام اور دیگر قطعی اور متواتر مسائل ثابت ہوتے ہیں جس کا مطلب زندقہ ہے کہ قرآن پاک کے الفاظ تو وہی رہیں لیکن ان کے معانی بالکل بدل دیئے جائیں۔ یہ تحریف قرآنی اور تیرہ سو سال کے اولیاء، صلحاء، علماء اور مجتہدین ومجددین امت کے متفقہ معانی ومطالب کے خلاف قطعی کفر ہے۔

کافر کہا جیسے خدا اور رسول کا انکار ہے۔ یہ بھی پرانے دین اسلام کی کھلی تکذیب اور قطعی کفر ہے۔

پس ثابت ہو گیا کہ مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے تمام پیرو چاہے لاہوری ہوں یا قادیانی قطعی کافر اور اسلام سے خارج ہیں۔

٣٣٩

صفحہ ٢٢٢٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

مرزائیوں کا نیا فریب

مرزائی فرقہ سمجھ چکا ہے کہ اب اس بات کا انکار نہیں کیا جا سکتا کہ مرزا قادیانی نے اپنے نہ ماننے والوں کو قطعی کافر کہا ہے اور مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے اس تکفیر کو اور بھی پکا کر کے اعلان کر دیا ہے کہ عام مسلمانوں (غیر احمدیوں) کا جنازہ نہ پڑھا جائے نہ ان کو رشتہ دیا جائے اور عام اہل اسلام کی اقتداء میں نماز کو تو خود مرزا قادیانی نے ہی بحکم خدا حرام قرار دے دیا تھا۔

اب انہوں نے مسلمانوں میں ملنے اور اسلام کے نام سے مسلمانوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کے لئے جس کا چسکہ ان کو انگریز پھر ظفر اللہ خان لگا چکا ہے۔ یہ بات گھڑی ہے کہ کفر کی دو قسمیں ہیں۔ ایک کفر تو ایسا ہے جس سے آدمی ملت اسلامیہ سے خارج ہو جاتا ہے اس کے ساتھ تو اسلامی تعلقات نہیں رکھے جاسکتے۔ مگر دوسرا کفر اس درجے کا ہے کہ وہ مسلمانوں میں ملے گھلے 2380 رہنے سے نہیں روکتا۔ مگر قیامت میں یہ ماخوذ ہوگا جو بات صرف خدا ہی جانتا ہے۔ ایسے لوگ جب تک اپنے کو مسلمان کہیں گے ان کو مسلمان ہی سمجھا جائے گا۔

یہ ہے تازہ بتازہ فریب

جس کا مطلب یہ ہے کہ مرزائی اور خود مرزا جی مسلمانوں کو ملت اسلامیہ سے خارج نہیں کہتے۔ مگر ہمارے محترم اٹارنی جنرل کے سوالات سے تنگ آکر مرزا ناصر احمد صاحب کو یہ ماننا ہی پڑا کہ عام مسلمان جو مرزاجی کو نہیں مانتے وہ کافر اور اسلام سے خارج ہیں۔ لیکن یہ اسلام کے چھوٹے دائرے سے خارج ہیں۔ بڑے سے خارج نہیں۔

ہمارا چیلنج

ہم مرزا ناصر احمد اور اس کے تمام مرزائیوں کو چیلنج کرتے ہیں کہ وہ تیرہ ساڑھے تیرہ سو برس کے عرصہ میں ایک آدمی ایسا ثابت کریں۔ جس نے زنا، شراب کو حلال کہا ہو یا نبوت اور وحی کا دعویٰ کیا ہو اور پھر مسلمانوں نے اس کو اس عقیدے پر رہتے ہوئے مسلمانوں میں ملائے رکھا ہو۔ اس کے مقابلہ میں ہم نے بتا دیا کہ صرف زکوٰۃ کا انکار کرنے سے صحابہؓ نے منکرین زکوٰۃ سے جہاد کیا۔ حالانکہ وہ باقی سارا اسلام مانتے اور اپنے کو مسلمان کہتے تھے۔

جناب چیئرمین: دو صفحے رہتے ہیں۔ چیپٹر ختم ہورہا ہے۔ Only two pages are left (صرف دو صفحے باقی رہتے ہیں)

٣٥٠

صفحہ ٢٢٢٩

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

ڈوبتے کو تنکے کا سہارا

مولانا عبدالحکیم: مرزا ناصر احمد نے مرزائیوں کو مسلمانوں میں ملے جلے رہنے کے لئے عام مسلمانوں کو بھی کافر اور اسلام سے خارج تو کہا مگر ملت اسلامیہ کا ایک بڑا دائرہ بنا کر اس کے اندر رہنے دیا۔ اس دائرے میں رکھ کر بھی ان سے نکاح، شادی، جنازہ، نماز، علیحدہ کرنے کو صحیح قرار دیا 2381 اور اس سلسلہ میں قرآن پاک میں ملت کا لفظ ڈھونڈ کر فتح کا نقارہ بجانے کی کوشش کی۔ کہا کہ قرآن میں ملت ابراہیمی کا ذکر تو ہے مگر دائرہ اسلام کا ذکر نہیں ہے اور پھر یہ آیت کریمہ پڑھی ”ملۃ ابیکم ابراھیم ھو سماکم المسلمین (الحج:٧٨)“ ”تمہارے باپ ابراہیم کی ملت (جماعت) انہوں نے ہی تمہارا نام مسلمان رکھا۔“

بھلا اس آیت میں کہاں ہے کہ خدا اور رسول کی قطعی باتوں کا انکار کر کے بھی وہ ملت ابراہیمی میں رہ سکتا ہے۔ خود اسی آیت میں ”ھو سماکم المسلمین“ فرما کر بتا دیا کہ اسلام ملت ابراہیمی ہی کا نام ہے۔ اب جو مسلمان ہی نہ ہو وہ ملت ابراہیمی میں کیسے رہ سکتا ہے۔ دوسری جگہ قرآن پاک میں صاف ارشاد ہے۔ ”ورضیت لکم الاسلام دینا (المائدہ:٣)“ ”اور ہم نے تمہارے لئے دین اسلام کو پسند کر لیا۔“

یہاں دین کا لفظ بھی ہے اور اسلام کا بھی۔ اب جو اسلام سے خارج ہو وہ دین اسلام میں کیسے رہ سکتا ہے؟ اور مرزا قادیانی محمدؐ کے قطعیات دین کا انکار کر کے کس طرح مسلمان کہلا سکتے ہیں؟ مرزا ناصر احمد صاحب نے یہ کہہ کر کہ جو اپنے کو مسلمان کہے اس کو اسلام سے خارج کرنے کا کسی کو حق نہیں۔ اگرچہ اس طرح پہلے سے انہوں نے خود اپنے دادا مرزا قادیانی اور اپنے والد مرزا بشیر الدین محمود کی تردید کر دی ہے۔ جنہوں نے مسلمانوں کو ایسا ہی کافر کہا جیسے کسی نبی کے منکر کو کہا جاتا ہے۔ مگر یہ کہہ کر انہوں نے اپنے کو مضحکۃ الناس بھی بنا ڈالا ہے۔

اتمام حجت

مرزا ناصر احمد صاحب نے ملت اسلامیہ سے خارج ہونے کے لئے جرح میں بار ہا اس شرط کا ذکر کیا ہے کہ اتمام حجت ہونے کے بعد جو انکار کرے وہ ملت اسلامی سے بھی خارج ہے۔ لیکن آپ مرزا ناصر احمد صاحب کو داد دیں گے جنہوں نے مقصد کے لئے ”اتمام حجت“ کا معنی ہی بدل ڈالا۔ یہ کہتے ہیں اتمام حجت کا معنی یہ ہے کہ دلائل سن کر دل مان جائے۔ مگر حق سمجھنے کے 2382 بعد پھر بھی انکار کرے۔ یہ شخص ایسا کافر ہے جو ملت اسلامیہ سے بھی خارج ہے۔ اس ٣٥١

ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

مرزائیوں کا نیا فریب

مرزائی فرقہ سمجھ چکا ہے کہ اب اس بات کا انکار نہ ماننے والوں کو قطعی کافر کہا ہے اور مرزا بشیر الدین محمود احمد اعلان کر دیا ہے کہ عام مسلمانوں (غیر احمدیوں) کا جنازہ عام اہل اسلام کی اقتداء میں نماز کو تو خود مرزا قادیانی نے اب انہوں نے مسلمانوں میں ملنے اور اسلام ڈالنے کے لئے جس کا چسکہ ان کو انگریز پھر ظفر اللہ خاں قسمیں ہیں۔ ایک کفر تو ایسا ہے جس سے آدمی ملت اسلام اسلامی تعلقات نہیں رکھے جاسکتے۔ مگر دوسرا کفر اس در رہنے سے نہیں روکتا۔ مگر قیامت میں یہ ماخوذ ہوگا جو 2380 جب تک اپنے کو مسلمان کہیں گے ان کو مسلمان ہی سمجھا جا

یہ ہے تازہ بتازہ فریب

جس کا مطلب یہ ہے کہ مرزائی اور خود مرزا نہیں کہتے۔ مگر ہمارے محترم اٹارنی جنرل کے سوالات ماننا ہی پڑا کہ عام مسلمان جو مرزا جی کو نہیں مانتے وہ کافر کے چھوٹے دائرے سے خارج ہیں۔ بڑے سے خارج

ہمارا چیلنج

ہم مرزا ناصر احمد اور اس کے تمام مرزائیوں کو برس کے عرصہ میں ایک آدمی ایسا ثابت کریں۔ جس نے دعویٰ کیا ہو اور پھر مسلمانوں نے اس کو اس عقیدے پر اس کے مقابلہ میں ہم نے بتا دیا کہ صرف زکوٰۃ کا انکار کر کیا۔ حالانکہ وہ باقی سارا اسلام مانتے اور اپنے کو مسلمان جناب چیئرمین: دو صفحے رہتے ہیں۔ چیپٹر are left (صرف دو صفحے باقی رہتے ہیں) ٣٥٠

صفحہ ٢٢٣٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

سلسلہ میں انہوں نے کئی بار یہ آیت کریمہ دہرائی۔ ”وجحدوا بھا واستیقنتھا انفسھم (نمل:١٤)“ ﴿اور ان کافروں، فرعونیوں اور اس کی جماعت نے انکار کر دیا۔ حالانکہ ان کے دلوں نے یقین کر لیا تھا۔﴾ مرزا جی ہم آپ کو آپ کے مطلب کی ایک اور آیت بھی پڑھ کر سنا دیتے ہیں۔ ”یعرفونہ، کما یعرفون ابناءھم (بقرہ:١٤٦)“ ﴿وہ اس قرآن یا نبی کو اس طرح جانتے ہیں جیسے اپنے بیٹوں کو۔﴾

مگر آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ پہلی آیت میں فرعونیوں کا ذکر ہے اور دوسری آیت میں اہل کتاب (یہود ونصاریٰ) کا۔ اس میں کیا شک ہے کہ بہت سے کافر اسلام کو صحیح سمجھ کر بھی از راہ ضد وعناد انکار کرتے تھے۔ وہ تو تھے ہی کافر، مرزا ناصر احمد صاحب نے اتمام حجت کے دو اجزاء یعنی اتمام اور حجت کے معنوں میں بحث کر کے وقت ضائع کیا ہے۔

حجت کا معنی دلیل اور اتمام کا معنی پورا کر دینا۔ اس میں لمبی چوڑی بحث کی ضرورت نہیں ہے۔ کسی شخص کے سامنے دعویٰ ثابت کرنے کے لئے پوری وضاحت ہو جائے۔ دعویٰ کے دلائل بیان کر دیئے جائیں۔ اب اگر وہ نہ مانے تو کہیں گے اس پر اتمام حجت ہو گئی۔ اس میں یہ شرط نہیں ہے کہ وہ دل سے آپ کے دعوے کو صحیح سمجھ کر بھی ماننے سے انکار کر دے۔ یہ نئے معنی مرزا جی ناصر احمد صاحب کی اپنی لیاقت ہے۔ قرآن پاک سنیں۔ ”لئلا یکون للناس علی اللہ حجۃ بعد الرسل (النساء:١٦٥)“ ﴿ہم نے مندرجہ بالا پیغمبر مبشر اور منذر بنا کر بھیجے، تاکہ پیغمبروں کے آنے کے بعد لوگوں کے پاس اللہ تعالیٰ (کے خلاف) پر کوئی دلیل باقی نہ رہے۔﴾ جب اللہ تعالیٰ نے رسول بھیج دیئے۔ انہوں نے ایمان والوں کو جنت کی خوشخبری سنادی اور کافروں کو دوزخ کا ڈر سنا دیا۔ توحید کی طرف دعوت دی اپنے کو دلیل کے ساتھ خدا تعالیٰ کا رسول بتایا تو اب کوئی یہ نہیں کہہ سکے گا۔ 2383 ”وما جاءنا من نذیر (مائدہ:١٩)“ ﴿کہ ہمارے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں آیا۔﴾

حجت پوری ہو گئی اب مانیں یا نہ مانیں۔ اگر مرزا ناصر احمد صاحب کا مطلب یہ ہے کہ ستر کروڑ مسلمانوں نے مرزا غلام احمد قادیانی کے دعویٰ نبوت وحی وغیرہ کو دل سے صحیح سمجھنے کے بعد انکار نہیں کیا۔ بلکہ وہ مرزا جی کے دعووں کو ہی غلط سمجھتے رہے۔ اس لئے یہ کافر تو ہیں مگر چھوٹے کافر ہیں۔ بڑے کافر نہیں۔ مگر ہم کہتے ہیں کہ جب مرزا قادیانی اپنے کو مسیح موعود نہ کہنے والوں کو خدا اور رسول کے منکر کی طرح کافر کہتے ہیں تو پھر خدا اور رسول کا منکر کس طرح کسی درجہ میں بھی مسلمان رہ سکتا ہے؟

٣٥٢

صفحہ ٢٢٣١

ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

سلسلہ میں انہوں نے کئی بار یہ آیت کریمہ دہرائی۔ ’ ’ وجحدوا بھا واستیقنتھا انفسھم ظلماً وعلوا ‘ ‘ (نمل: ١٤) ﴿اور ان کافروں، فرعونیوں اور اس کی جماعت نے محض ظلم اور تکبر سے ان کا انکار کر دیا حالانکہ ان کے دلوں نے یقین کر لیا تھا۔﴾ پھر مرزا جی ہم آپ کو آپ کے مطلب کی آیت سناتے ہیں جو آپ کے مطلب کو پورا کرتی ہیں۔ ” یعرفونہ ، کما یعرفون ابناءھم (بقرہ: ١٤٦)“ ﴿وہ رسول کو اس طرح پہچانتے ہیں جس طرح جانتے ہیں جیسے اپنے بیٹوں کو۔ ﴾

مگر آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ پہلی آیت میں آل فرعون کا ذکر ہے اور دوسری آیت میں اہل کتاب (یہود و نصاریٰ) کا۔ اس میں کیا شک ہے کہ وہ سچے دل سے حضور کو نبی مانتے تھے۔ لیکن از راہ ضد و عناد انکار کرتے تھے۔ وہ تو تھے ہی کافر، مرزا ناصر احمد صاحب کے نزدیک اتمام حجت کے کیا اجزاء یعنی اتمام اور حجت کے معنوں میں بحث کر کے وقت کو ضائع کرنا ہے۔ حالانکہ یہاں پر اتمام حجت کا معنی دلیل اور اتمام کا معنی پورا کر دینا ہے، یعنی کسی دعوے کے لئے پوری دلیل دے دینا۔ اور یہ نہیں ہے۔ کسی شخص کے سامنے دعویٰ ثابت کرنے کے لئے دلائل بیان کر دینا ہی کافی ہوتا ہے۔ اگر وہ دلائل بیان کر دیئے جائیں۔ اب اگر وہ نہ مانے تو کہیں گے کہ اس پر اتمام حجت ہو گیا۔ اس کے لئے یہ شرط نہیں ہے کہ وہ دل سے آپ کے دعوے کو سچ سمجھ کر انکار کر رہا ہو۔ اور وہ سمجھتا ہو کہ میں جھوٹا ہوں۔ یہ مرزا جی ناصر احمد صاحب کی اپنی لیاقت ہے۔ قرآن پاک میں اتمام حجت کا معنی یہ ہے: ” لئلا یکون للناس علی اللہ حجۃ بعد الرسل (النساء: ١٦٥)“ ﴿ہم نے منذر اور مبشر رسول بھیجے۔ تا کہ پیغمبروں کے آنے کے بعد لوگوں کے پاس اللہ تعالیٰ (کے سامنے پیش کرنے کے لئے) کوئی عذر نہ رہے۔﴾

جب اللہ تعالیٰ نے رسول بھیج دیئے۔ انہوں نے اللہ کے احکام لوگوں کو سنا دی اور کافروں کو دوزخ کا ڈر سنا دیا۔ توحید کی طرف بلایا۔ اگر اس پر بھی لوگ نہ مانیں تو اللہ تعالیٰ کا کا رسول بتایا تو اب کوئی یہ نہیں کہہ سکے گا۔ 2383 ”ما جاءنا من بشیر ولا نذیر “ ﴿کہ ہمارے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں آیا۔﴾

حجت پوری ہو گئی اب مانیں یا نہ مانیں۔ آخرت میں پکڑے جائیں گے۔ اب بتائیے کہ

ستر کروڑ مسلمانوں نے مرزا غلام احمد قادیانی کے دعویٰ نبوت کو تسلیم نہیں کیا اور اس کا انکار نہیں کیا۔ بلکہ وہ مرزا جی کے دعوؤں کو ہی غلط سمجھتے ہیں۔ لہٰذا وہ دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہیں۔ بڑے کافر نہیں۔ مگر ہم کہتے ہیں کہ جب مرزا قادیانی اپنے منکر کو رسول کے منکر کی طرح کافر کہتے ہیں تو پھر خدا اور رسول کا منکر کیسے ملت اسلامیہ کے اندر رہ سکتا ہے؟

٣٥٢

2231 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

پھر اگر مرزا ناصر احمد صاحب کی منطق درست مان لی جائے تو دنیا کے اکثر کافر جنہوں نے کسی پیغمبر کو دل سے سمجھا ہی نہیں۔ نہ ان کو اطمینان ہوا کہ یہ سچا نبی ہے۔ ان پر اتمام حجت نہ ہوا۔ پھر ان کے لئے خلود فی النار اور دائمی جہنم کیسے جو کافروں کے لئے مخصوص ہے۔ اپنے دادا کی پیروی میں ۔ یہاں تو مرزا ناصر احمد صاحب نے کھلم کھلا کہہ دیا کہ کافر بھی بالآخر جہنم سے نکال دیئے جائیں گے۔ جو قرآن پاک کی مندرجہ ذیل آیات کے خلاف ہے۔

” الاطریق جھنم خالدین فیھا ابداً (نساء:١٦٩)“ ﴿مگر جہنم کا راستہ جس میں وہ
ہمیشہ رہیں گے۔﴾
” ان اللہ لعن الکافرین واعدلھم سعیراً خالدین فیھا ابدا (احزاب:٦٤،٦٥)“ ﴿یقیناً
اللہ نے کافروں پر لعنت کی اور ان کے لئے آگ تیار کر رکھی ہے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔﴾
” ومن یعص اللہ ورسولہ فان لہ نار جھنم خالدین فیھا ابدا (الجن:٢٣)“
﴿اور جو خدا اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے تو اس کے لئے جہنم کی آگ ہے جس میں ہمیشہ
رہیں گے۔﴾

2384 مرزا ناصر احمد سے (سوال)

زبردست فیضان سے نبی بن سکتے ہیں پھر خاتم النبیین میں صیغہ جمع کا صیغہ ہے تو آپ کے فیضان سے کم از کم تین چار پیغمبر تو بننے چاہئیں تھے۔ جب کہ آپ مرزا جی کے بغیر کسی کا نبی ہونا قیامت تک تسلیم نہیں کرتے۔

مرزا جی میں آ گیا تو پھر سرور عالم ﷺ تو صاحب شریعت اور افضل الانبیاء تھے تو مرزا جی کیوں ذی ظل کے مطابق صاحب شریعت نبی نہ ہوں اور کیوں حضور (ﷺ) کی مطابقت سے ظلی طور پر افضل الانبیاء نہ ہوں؟

”حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیش گوئی ’ومبشراً برسول یأتی من بعدی اسمہ احمد‘ کے مصداق مرزا رسول ہیں۔“ تو رسول کے انکار سے کیسے ملت کے اندر رہ کر مسلمان رہ سکتے ہیں؟

٣٥٣

صفحہ ٢٢٣٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 30th Aug, 1974 No:15

در حقیقت ”اکمل“ کے اشعار جو مرزا قادیانی کے سامنے پڑھے گئے اور جن کی مرزا جی نے تصدیق کی۔ اس بات کے مظہر ہیں کہ مرزائی غلام احمد کو خود سرور عالم ﷺ سے بھی افضل تصور کرتے ہیں۔ ”اکمل“ کے اشعار یہ ہیں۔

محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں
اور آگے سے بڑھ کر ہیں اپنی شان میں
محمد جس نے دیکھنے ہوں اکمل
غلام احمد کو دیکھے قادیان میں

(بدر قادیان ج٢ نمبر ٤٣، ص١٤، مورخہ ٢٥؍اکتوبر ١٩٠٦ء)

”انا للہ وانا الیہ راجعون“

2385 ان کفریہ عقائد و خیالات کی وجہ سے مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے ماننے والے (قادیانی ولاہوری) قطعی کافر اور ملت اسلامیہ سے خارج ہیں۔

جناب چیئرمین: ایک چیپٹر اور پڑھ سکتے ہیں؟

مولانا عبدالحکیم: جیسے آپ حکم دیں۔

ایک رکن: صبح ذرا جلدی کرلیں۔

جناب چیئرمین: صبح ٩؍بجے شروع کردیتے ہیں اور ٢؍بجے تک ختم کردیں گے۔

----------

The House is adjourned to meet tomorrow at 9:00 am.

(ہاؤس کو کل صبح نو بجے تک برخاست کردیا گیا)

----------

[The Special Committee of the whole House adjourned to meet at nine of the Clock, in the morning, on Saturday, the 31st August, 1974.]

(کل ہاؤس خصوصی کمیٹی کا اجلاس ٣١؍اگست ١٩٧٤ء بروز ہفتہ صبح نو بجے تک کے لئے ملتوی کردیا گیا)

----------

٣٥٤