احتساب قادیانیت جلد 60 · مولوی صدرالدین گجراتی
Ahtasab-e-Qadyaniat · Vol. 60 · Maulvi Sadruddin Gujarati
PDF 1

رَدِّ قادیانیّت

رسائل

احتِساب قادیانیّت

جلد ٦٠

عَالَمِی مَجْلِسِ تَحَفُّظِ خَتْمِ نُبُوَّت

حضوری باغ روڈ ، ملتان - فون : 061-4783486

PDF 2

ردّ قادیانیت

رسائل

احتساب قادیانیت

٦٠

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

صفحہ ٣

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

نام کتاب : احتساب قادیانیت جلد ساٹھ (٦٠) مصنفین : مولوی صدر الدین گجراتی محمد رفیق باجوہ عزیز احمد ٹھیکیدار چک جھمرہ شفیق مرزا عبدالرحمن ڈیرہ غازیخان سہانور ملک عزیز الرحمن گجراتی طاہر رفیق اختر ڈاکٹر عبدالحکیم خان پٹیالوی عبدالرب خان برہم

صفحات : ٦٤٨ قیمت : ٤٠٠ روپے مطبع : ناصر زین پریس لاہور طبع اوّل : دسمبر ٢٠١٤ء ناشر : عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان

Ph: 061-4783486

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فہرست رسائل مشمولہ ...... احتساب قادیانیت

☆ ...... عرض مرتب حضرت مولانا ١ ...... خلیفہ ربوہ کے مظالم کی فہرست میں میری مولوی صدر الدین داستان مظلومیت کا اضافہ ٢ ...... چوہدری سر محمد ظفر اللہ خاں (قادیانی) کے نام بحیثیت مولوی صدر الدین معزز ممبر جماعت احمدیہ اتمام حجت کے طور پر کھلی چٹھی ٣ ...... ربوہ (چناب نگر) میں کیا کچھ ہو رہا ہے؟ محمد رفیق باجوہ ٤ ...... ربوہ کی کہانی ربوہ والوں کی زبانی عزیز احمد ٹھیکیدار ٥ ...... شہر سدوم شفیق مرزا ٦ ...... کھلا خط شفیق مرزا ٧ ...... پیر باپ کی پاکیزگی کے حلف سے مرید بیٹے عبدالرحمن ڈیرہ کا گریز بمع ضمیمہ تبلیغی سفر ٨ ...... چند قابل غور حقائق سہانور ٩ ...... جماعت احمدیہ کے فہمیدہ اصحاب سے ملک عزیز الرحمن ١٠ ...... ربوہ کا راسپوٹین (مرزا محمود کی کہانی مریدوں طاہر رفیق اختر کی زبانی) دور حاضر کا دجال ١١ ...... الذکر الحکیم نمبر : ٤ ڈاکٹر عبدالحکیم خان ١٢ ...... المسیح الدجال ڈاکٹر عبدالحکیم خان ١٣ ...... الذکر الحکیم نمبر : ٦ (عرف) کانا دجال ڈاکٹر عبدالحکیم خان ١٤ ...... بلائے دمشق اور خلافت اسلامیہ عبدالرب خان

صفحہ ٣

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

احتساب قادیانیت جلد ساٹھ (٦٠)

مولوی صدر الدین گجراتی محمد رفیق باجوہ عزیز احمد ٹھیکیدار چک جھمرہ شفیق مرزا عبدالرحمن ڈیرہ غازیخان سبط نور ملک عزیز الرحمن گجراتی طاہر رفیق اختر ڈاکٹر عبدالحکیم خان پٹیالوی عبدالرب خان برہم

٦٤٨ ٤٠٠ روپے ناصر زین پریس لاہور دسمبر ٢٠١٢ء عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان Ph: 061-4783486

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فہرست رسائل مشمولہ ...... احتساب قادیانیت جلد ٦٠

☆ ...... عرض مرتب حضرت مولانا اللہ وسایا ٤ ١ ...... خلیفہ ربوہ کے مظالم کی فہرست میں میری مولوی صدر الدین گجراتی ١١ داستان مظلومیت کا اضافہ ٢ ...... چوہدری سر محمد ظفر اللہ خاں (قادیانی) کے نام بحیثیت مولوی صدر الدین گجراتی ٢١ معزز ممبر جماعت احمدیہ اتمام حجت کے طور پر کھلی چٹھی ٣ ...... ربوہ (چناب نگر) میں کیا کچھ ہورہا ہے؟ محمد رفیق باجوہ ٢٧ ٤ ...... ربوہ کی کہانی ربوہ والوں کی زبانی عزیز احمد ٹھیکیدار چک جھمرہ ٣٣ ٥ ...... شہر سدوم شفیق مرزا ٤٥ ٦ ...... کھلا خط شفیق مرزا ١٢٧ ٧ ...... پیر باپ کی پاکیزگی کے حلف سے مرید بیٹے عبدالرحمن ڈیرہ غازیخان ١٣٦ کا گریز بمع ضمیمہ تبلیغی سفر ٨ ...... چند قابل غور حقائق سبط نور ١٥٣ ٩ ...... جماعت احمدیہ کے فہمیدہ اصحاب سے ملک عزیز الرحمن گجراتی ١٧١ ١٠ ...... ربوہ کا راسپوٹین (مرزا محمود کی کہانی مریدوں طاہر رفیق اختر ١٧٩ کی زبانی) دور حاضر کا دجال ١١ ...... الذکر الحکیم نمبر: ٤ ڈاکٹر عبدالحکیم خان پٹیالوی ٣٠٥ ١٢ ...... المسیح الدجال ڈاکٹر عبدالحکیم خان پٹیالوی ٣٧٩ ١٣ ...... الذکر الحکیم نمبر: ٦ (عرف) کانا دجال ڈاکٹر عبدالحکیم خان پٹیالوی ٤٣٧ ١٤ ...... بلائے دمشق اور خلافت اسلامیہ عبدالرب خان برہم ٥٩٣

صفحہ ٥

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

عرض مرتب

الحمد لله وكفى وسلام على عباده الذين اصطفى . اما بعد!

صدر الدین گجراتی، چک سکندر ضلع گجرات کا پیدائشی قادیانی تھا۔ سب کچھ بیچ کر قادیان جا کر رہائش رکھ لی۔ پاکستان بننے کے بعد سرکاری ملازمت سے ریٹائرمنٹ حاصل ہوئی تو مرزا محمود خلیفہ کے حکم پر چناب نگر قادیانی جماعت کی ملازمت کر لی۔ قادیانی بیت المال میں سے اس زمانہ میں تین لاکھ کا غبن اس نے پکڑا تو پوری قادیانی قیادت، ملعون خلیفہ قادیانی تک سب ان کی جان کے دشمن ہو گئے۔ اس نے اپنی جان بچانے کے لئے ضلع جھنگ کے ایس. پی کو درخواست دی۔ جس پر مقدمہ درج ہوا۔ ان تفصیلات پر مشتمل یہ پمفلٹ ہے۔ لکھنے والا قادیانی ہے اور قادیانی قیادت کے خلاف لکھا ہے۔ آپ بھی پڑھیں کہ خنزیر قادیان کے بچونگڑے چناب نگر میں کیا کیا گل کھلا رہے ہیں اور کس طرح حکومت ”زمین جنبد نہ جنبد گل محمد“ بنی ہوئی ہے؟

احمدیہ اتمام حجت کے طور پر کھلی چٹھی:

صدر الدین گجراتی قادیانی نے چوہدری ظفر اللہ قادیانی کو قادیانی مظالم، قادیانی بددیانتی اور قادیانی بدکرداری پر کھلی چٹھی ارسال کی، جسے احتساب قادیانیت کی اس جلد میں شائع کیا جارہا ہے۔ ”قادیانیت قادیانی کی نظر میں“

قادیانی جماعت کے اہم رکن جناب محمد رفیق باجوہ تھے جو چوڑہ سے تعلق رکھتے تھے اور چناب نگر کے رہائشی تھے۔ تعلیم الاسلام کالج چناب نگر میں پڑھتے تھے۔ انتظامی مسائل پر چناب نگر کالج کے قادیانی عملہ سے اختلاف ہوا تو قادیانیوں نے باجوہ صاحب کو ظلم وستم کے نشانہ

پر رکھ لیا گیا۔ یہ زخمی حالت میں فیصل آباد مولانا تاج محمود صاحب کے پاس آئے تھے۔ مولانا تاج محمود صاحب کے باوجود قادیانی ظلم کی چکی میں پس کر آئے تھے۔ مولانا تاج محمود نے اپنی خواہش پر پریس کلب فیصل آباد میں پریس کانفرنس کرائی۔ اس پریس کانفرنس کا اہتمام فقیر کے ذمہ تھا۔ مولانا تاج محمود کے اغوا کا ڈرامہ بھی ہو گیا تھا۔ سانحہ ربوہ ٢٩ مئی ١٩٧٤ء کی تحقیقات کے لئے جسٹس صمدانی ٹربیونل میں رفیق باجوہ کا عدالت میں بیان ہوا۔ جسے ٢ جولائی ١٩٧٤ء کے روزنامہ نوائے وقت نے شائع کیا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لاہور نے پمفلٹ کی شکل میں شائع کیا۔ جسے احتساب کا حصہ بنایا جارہا ہے۔

ایک قادیانی عزیز احمد ٹھیکیدار اپنی اندھی عقیدت کے باعث قادیانیت کو کردار کے میدان میں اپنے سامنے عریاں رقص کرتے دیکھ کر توبہ کر کے اسلام قبول کر لیا۔ قادیانی مرکز میں کیا دیکھا؟ اس سوال کے جواب کو احتساب کی اس جلد میں شامل کیا جارہا ہے۔

بہت ہی عالم فاضل بہت ہی اچھے اور نامور قلمکار، جناب لال حسین اختر چناب نگر تعلیم کے لئے گئے۔ چناب نگر میں کمینگی، فحاشی وعریانی، غنڈہ گردی اور بددیانتی کو دیکھا تو اپنی سلیم الفطرتی کے باعث قادیانیت پر لعنت بھیج کر دائرہ اسلام میں داخل ہو کر چناب نگر کو چھوڑ کر لاہور رہائش رکھ لی۔ تجربہ ہے کہ قادیانیت ترک کرنے والے خوش نصیب قادیانیت سے نکل آتے ہیں۔ لیکن قادیانیت ان سے نکلتے نکلتے نکلتی ہے۔ اس کلیہ سے جناب لال حسین اختر اور برادر شفیق مرزا کے متعلق علی وجہ البصیرت کہہ سکتا ہوں کہ انہوں نے قادیانیت کو چھوڑا تو پھر زندگی بھر قادیانیت ان کے نام سے لرزاں رہی۔ جناب لال حسین اختر نے شہرۂ آفاق کتاب ”شہر سدوم“ لکھی جو دیکھا تھا وہ لکھ کر پوری

صفحہ ٥

پر رکھ لیا گیا۔ یہ زخمی حالت میں فیصل آباد مولانا تاج محمود صاحب کے ہاں آئے۔ قادیانی ہونے کے باوجود قادیانی ظلم کی چکی میں پس کر آئے تھے۔ مولانا تاج محمود نے سینہ سے لگایا۔ اس کی خواہش پر پریس کلب فیصل آباد میں پریس کانفرنس کرائی۔ فقیر ان دنوں فیصل آباد کا مبلغ تھا۔ پریس کانفرنس کا اہتمام فقیر کے ذمہ تھا۔ مولانا تاج محمود کے اخلاق عالی دیکھ کر پھر یہ مسلمان بھی ہو گیا تھا۔ سانحہ ربوہ ٢٩ مئی ١٩٧٤ء کی تحقیقات کے لئے جب عدالتی ٹربیونل قائم ہوا تو جناب رفیق باجوہ کا عدالت میں بیان ہوا۔ جسے ٢ جولائی ١٩٧٤ء کے اخبار نوائے وقت لاہور سے لے کر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لاہور نے پمفلٹ کی شکل میں شائع کیا۔ اس پمفلٹ کو بھی اس کتاب کا حصہ بنایا جارہا ہے۔

ایک قادیانی عزیز احمد ٹھیکیدار اپنی اندھی عقیدت لے کر ربوہ آیا۔ یہاں پوری قادیانیت کو کردار کے میدان میں اپنے سامنے عریاں رقص کرتے دیکھا تو قادیانیت پر لعنت بھیج کر اسلام قبول کر لیا۔ قادیانی مرکز میں کیا دیکھا؟ اس سوال کا جواب یہ پمفلٹ ہے۔ اسے احتساب کی اس جلد میں شامل کیا جارہا ہے۔

بہت ہی عالم فاضل بہت ہی اچھے اور نامور قلمکار جناب ”شفیق مرزا“ نوجوانی میں چناب نگر تعلیم کے لئے گئے۔ چناب نگر میں کمینگی، فحاشی و عریانی، بے حیائی، بدکاری و بدکرداری کو دیکھا تو اپنی سلیم الفطرتی کے باعث قادیانیت پر لعنت بھیج کر دائرہ اسلام میں واپس آگئے اور بجائے چناب نگر کے لاہور رہائش رکھ لی۔ تجربہ ہے کہ قادیانیت ترک کرنے والے بہت سارے تو قادیانیت سے نکل آئے ہیں۔ لیکن قادیانیت ان سے نکلتے نکلتے نکلتی ہے۔ اپنے استاذ محترم مولانا لال حسین اختر اور برادر شفیق مرزا کے متعلق علی وجہ البصیرت کہا جاسکتا تھا کہ انہوں نے ایسے قادیانیت کو چھوڑا کہ پھر زندگی بھر قادیانیت ان کے نام سے لرزاں و ترساں رہی۔ جناب شفیق مرزا نے شہرۂ آفاق کتاب ”شہر سدوم“ لکھی جو دیکھا تھا وہ لکھ کر پوری قوم کو قادیانیت کی اندرونی کیفیت

صفحہ ٧

دکھادی۔ تکرار تو بعض جگہ حذف کیا کہ اس کے بغیر چارہ نہ تھا۔ باقی کتاب شامل جلد ہذا ہے۔

جناب شفیق مرزا نے اسلامیان وطن کے نام کھلا خط لکھا جس میں قادیانی عقائد وعزائم کو آسان فہم انداز میں سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ننکانہ صاحب نے اسے دورقی پمفلٹ کے طور پر شائع کیا تھا۔ اس جلد میں یہ بھی شامل اشاعت کر کے خوشی محسوس کرتا ہوں۔

مرزا غلام احمد قادیانی کا بیٹا محمود پیر تھا۔ جس پر غلام قادیان کے مریدوں نے بدکرداری کے سنگین و غلیظ الزام عائد کئے۔ اس کے باعث غلام قادیان کی جماعت ۔ لاہور وقادیان کے دو گروہوں میں تقسیم ہوئی۔ لاہوری جماعت کے مرزائی عبدالرحمن ساکن ڈیرہ غازیخان نے قادیانی گروہ پنجاب کے امیر مرزا عبدالحق ایڈووکیٹ سرگودھا کو اور عبدالرحمن کے بیٹے شفیق الرحمن خان ڈیرہ غازیخان نے مرزا محمود کے بیٹے مرزا رفیع کو خطوط لکھے کہ وہ مرزا محمود ملعون قادیان کی صفائی پر حلف اٹھائیں۔ دونوں نے حلف اٹھانے سے گریز و فرار اختیار کر کے اپنی اور مرزا محمود کی مزید رذالتوں کا ریکارڈ قائم کر دیا۔ عبدالرحمن لاہوری مرزائی ڈیرہ غازیخان نے چناب نگر و سرگودھا کا سفر بھی کیا۔ ”تبلیغی سفر“ کے نام پر ایک مضمون لکھا۔ یہ تمام خط و کتابت و تبلیغی سفر کی رپورٹ متذکرہ بالا پمفلٹ میں ایک ساتھ شائع کر رہے ہیں۔ یادرہے کہ اس میں کاتب و مکتوب الیہ سب قادیانی ہیں۔

مرزا محمود قادیانی کی بدکرداری کے عریاں ہونے پر قادیانی گروہ دوحصوں میں حصے بخرے ہوا۔ آگے چل کر پھر قادیانی گروہ کی کوکھ سے حقیقت پسند پارٹی نے جنم لیا۔ اس حقیقت پسند پارٹی کے ایک لکھاری نے قادیان کی عیاری وعریانی پر یہ رسالہ لکھا۔ جو دسمبر ١٩٦١ء میں شائع ہوا۔ اس کا لکھاری ”سبط نور“ تھا جو قادیانی تھا۔ اس نے مرزا محمود کی بدکاری کو اس پمفلٹ میں جگہ

جگہ طشت از بام کیا ہے۔

قادیانی خلیفہ میاں محمود پر بدکرداری کے الزامات خود قادیانی جماعت کی معتد بہ تعداد نے لگائے ان میں عزیز الرحمن گجراتی بھی تھے جو احمدیہ پاکٹ بک کے مؤلف ہیں۔ قادیانیوں کے مقدر کو دیکھو ایک بھائی مرزا محمود کو مصلح اور دوسرا مکار و بدکار یقین کرتا ہے۔ یہ رسالہ اسی تناظر میں پڑھا جاتا ہے اور قادیانی خلیفہ کو گالی دے رہا ہے۔

راسپوٹین نامی روس میں ایک عیاش تھا جس نے اس عیاش کو چیلا، اور مرزا محمود کو عیاشی کا گرو قرار دے دیا ہے۔ یہ ٹائٹل سٹوری ہے۔ اس کی تفصیلات پر مشتمل ایک کتاب رفیق اختر نے مرتب کی ہے۔ اس کو بھی احتساب کی اس جلد میں شامل کر دیا گیا ہے۔

پٹیالہ کے سرجن ڈاکٹر عبدالحکیم خان تھے جو مرزا کے مرید رہے۔ پندرہ بیس ہزار روپیہ اس زمانہ میں مرزا قادیانی پر دل و جان سے فدا تھا۔ مرزا قادیانی بھی اس کی تعریف کرتا تھا کہ مخلص ہے، ذہین ہے، مفسر قرآن ہے۔ اس ڈاکٹر عبدالحکیم خان نے مرزا قادیانی کو چھوڑ دیا۔ اس پر مرزا قادیانی بگڑا اور خوب بگڑا۔ عبدالحکیم نے لیکن مرزا اس تجویز پر اتنا سیخ پا ہوا اور نہایت ہی غصہ میں آ کر لکھا کہ ان سے تعلق رکھنا ایسا ہی ہے جیسا کہ

صفحہ ٧

جگہ طشت از بام کیا ہے۔

قادیانی خلیفہ میاں محمود پر بدکرداری، بدکاری، گندے اور کمینے، فحش و حیاسوز الزامات خود قادیانی جماعت کی معتد بہ تعداد نے لگائے اور ڈنکے کی چوٹ پر لگائے۔ ان میں ایک ملک عزیز الرحمن گجراتی بھی تھے جو احمدیہ پاکٹ بک کے مصنف عبدالرحمن خادم کے سگے بھائی تھے۔ قادیانیوں کے مقدر کو دیکھو ایک بھائی مرزا محمود کو مصلح موعود قرار دیتا ہے اور دوسرا اسے پرلے درجہ کا مکار و بدکار یقین کرتا ہے۔ یہ رسالہ اسی تناظر میں پڑھا جائے کہ اس کا لکھنے والا خود ایک قادیانی ہے اور قادیانی خلیفہ کو ڈانگ دے رہا ہے۔

راسپوٹین نامی روس میں ایک عیاش تھا جو دنیا بھر میں عیاشی کی ضرب المثل بن گیا۔ اسی عیاش کو چیلا اور مرزا محمود کو عیاشی کا گرو قرار دے کر راسپوٹین کو مرزا محمود کے قدموں میں بٹھا دیا ہے۔ یہ ٹائٹل سٹوری ہے۔ اس کی تفصیلات پر مشتمل یہ کتاب ہے۔ جو قادیانی رہنما جناب محمد رفیق اختر نے مرتب کی ہے۔ اس کو بھی احتساب کی اس جلد میں شائع کیا جارہا ہے۔

پٹیالہ کے سرجن ڈاکٹر عبدالحکیم خان تھے۔ جو بیس سال تک مرزا قادیانی کے مرید رہے۔ پندرہ بیس ہزار روپیہ اس زمانہ میں مرزا قادیانی کو چندہ مختلف اوقات میں دیا۔ مرزا قادیانی پر دل و جان سے فدا تھا۔ مرزا قادیانی بھی اس کی تعریف میں الہامی شگوفے چھوڑتا اور قلابے ملاتا تھا کہ مخلص ہے، ذہین ہے، مفسر قرآن ہے۔

اس ڈاکٹر عبدالحکیم خان نے مرزا قادیانی سے کہا کہ آپ اپنے کو ”مدار نجات“ قرار نہ دیں۔ اس پر مرزا قادیانی بگڑا اور خوب بگڑا۔ عبدالحکیم خان ابھی اسے ”مسیح الزمان“ قرار دیتا رہا۔ لیکن مرزا اس تجویز پر اتنا سیخ پا ہوا اور نہایت ہی غصہ سے لکھا: ”ان (مسلمانوں) کو اپنی جماعت کے ساتھ ملانا یا ان سے تعلق رکھنا ایسا ہی ہے جیسا کہ عمدہ اور تازہ دودھ میں بگڑا ہوا دودھ ڈال

صفحہ ٩

دیں۔ جو سڑ گیا ہے اور اس میں کیڑے پڑ گئے ہیں۔‘‘ (الذکر الحکیم نمبر: ٣، خط نمبر ٢، از مرزا قادیانی بنام ڈاکٹر عبد الحکیم خان) پوری امت مسلمہ کو سڑا ہوا دودھ، کیڑے پڑ گئے، کا مصداق بنا دیا۔ پھر بھی ڈاکٹر عبد الحکیم خان نے خط نمبر ٣ میں ”مسیح الزمان“ سے خط کا آغاز کیا۔ مگر مرزا قادیانی تو ”بھپھرے ہوئے بلڈاگ“ بگڑے ہوئے بیل کی طرح واہی تباہی پر اتر آیا۔ ”الذکر الحکیم نمبر ٤، خط نمبر ٤“ میں مرزا قادیانی نے ڈاکٹر عبدالحکیم خان کو لکھا کہ : ”ماسواء اس کے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مرتد کی سزا قتل ہے۔“ اسی طرح مرزا قادیانی نے رسالہ (تحفۃ الندوہ ص ٨، خزائن ج ١٩ ص ١٠١) کے حاشیہ پر لکھا ہے کہ: ”وہ قتل بھی کیا گیا ہو کیونکہ وہ مرتد تھا۔“

یہاں پر قادیانی حضرات سے میری درخواست ہے کہ آج کی پوری قادیانیت اس پر متفقہ موقف رکھتی ہے کہ : ”مرتد کی سزا قتل نہیں ۔“ مگر مرزا قادیانی کہتا ہے کہ : ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مرتد کی سزا قتل ہے ۔“ گویا خدائی حکم اور وہ بھی مرزا قادیانی کے قلم سے۔ لیکن قادیانیوں کی بد نصیبی ملاحظہ ہو کہ وہ مرزا قادیانی کے قلم سے نکلے ہوئے خدائی حکم کو نہیں مانتے ۔

برادران دینی !! یعقوب عرفانی قادیانی نے قادیان سے مرزا قادیانی کے مکتوبات کو سات حصوں میں شائع کیا۔ اب ان کو کمپیوٹر پر قادیان ولندن سے تین جلدوں میں شائع کیا گیا۔ لیکن ان دونوں ایڈیشنوں ( قدیم وجدید) میں مرزا قادیانی نے جو خطوط محمدی بیگم کے نکاح کے سلسلہ میں اس کے ورثاء کو لکھے تھے جن کو کلمہ فضل رحمانی میں قاضی فضل احمد گورداسپوری نے شائع کیا اور مرزا قادیانی نے عدالت میں تسلیم کیا کہ وہ میرے خطوط ہیں اور پھر وہ خطوط جو مرزا قادیانی نے ڈاکٹر عبدالحکیم خان کے خطوط کے جوابات میں تحریر کئے جو مرزا قادیانی کی زندگی میں ہی الذکر الحکیم نمبر ٤ میں ڈاکٹر عبد الحکیم خان نے شائع کر دیئے تھے۔ وہ تمام خطوط قادیانیوں کے شائع کردہ قدیم وجدید ایڈیشنوں میں موجود نہیں ۔ قادیانیوں نے اپنے خود ساختہ نبی کے قلم پر سنسر لگا رکھی ہے۔ وہ ان خطوط کو یوں چھپاتے پھرتے ہیں جیسے بلی اپنے گوہ کو چھپاتی ہے۔ ان خطوط سے قادیانی اس طرح بھاگتے ہیں جس طرح باؤلا کتا پانی سے اور کواغلیل سے بھاگتا ہے۔ ان خطوط سے قادیانیوں کے ایمان کی طرح جان بھی جاتی ہے۔ کیا قادیانی عوام سوچیں گے کہ مرزا قادیانی

کے اپنے ہاتھ سے لکھے ہوئے یہ خطوط کیوں شائع نہیں کئے عبد الحکیم خان کو مرزا قادیانی نے لکھے تھے بمع ان کے احتساب کی جلد میں ملاحظہ فرمائیں۔ ابتداء میں تو ڈاکٹر عبدالحکیم لکھتا رہا۔ بعد میں ”المسیح الدجال“ لکھنا شروع کر دیا۔ اس

یہ رسالہ بھی الذکر الحکیم نمبر ٤ کے بعد جناب شائع ہوا۔ اس میں اور الذکر الحکیم نمبر ٤ میں اکثر یکسانیت باتیں ایزاد بھی کی گئی ہیں۔ جو ایزاد کیا ہے وہ سونے پر سہاگہ کے باوجود محض بیس فیصد خوبصورت اضافی باتوں کے دیا ہے۔ جناب ڈاکٹر عبد الحکیم خان نے مرزا قادیانی کو مرزا قادیانی کا تمام خبث باطن اور فضلہ پیٹ، مرزا کے

جناب ڈاکٹر عبد الحکیم خان نے الذکر الحکیم نمبر اس میں مرزا قادیانی کے وہ لتے لئے کہ اگر مرزا کی جگہ کوئی دجال قادیان کا ہوا۔ اس کے بعد مرزا اپنی کتابوں میں کرتا ہے۔ وہ دلیل ہے کہ ڈاکٹر صاحب کے تمام تیر خطا پر دلیل دیتے دیتے آخر میں ”سچ ہے دجال کانا ہوگا کہہ دیتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے مرزا قادیانی کے خواب کا جواب اپنے الہامات سے ایسے دیتے ہیں۔ جیسے صبح صادق آجاتی ہے۔

عبدالرب خان برہم سکہ بند قادیانی تھے،

صفحہ ٩

کے اپنے ہاتھ سے لکھے ہوئے یہ خطوط کیوں شائع نہیں ہو رہے؟ لیجئے ! وہ تمام خطوط جو ڈاکٹر عبدالحکیم خان کو مرزا قادیانی نے لکھے تھے بمع ان کے جواب الجواب کے الذکر الحکیم نمبر ٤ اس احتساب کی جلد میں ملاحظہ فرمائیں۔ ابتداء میں تو ڈاکٹر عبدالحکیم خان مرزا قادیانی کو ’’مسیح الزمان‘‘ لکھتا رہا۔ بعد میں ’’المسیح الدجال‘‘ لکھنا شروع کر دیا۔ اس کی تفصیل بعد میں آئے گی۔

یہ رسالہ بھی الذکر الحکیم نمبر ٤ کے بعد جناب ڈاکٹر عبدالحکیم خان پٹیالوی کی جانب سے شائع ہوا۔ اس میں اور الذکر الحکیم نمبر ٤ میں اکثر یکسانیت ہے۔ البتہ بعض مقامات پر بہت سی نئی باتیں ایزاد بھی کی گئی ہیں۔ جو ایزاد کیا ہے وہ سونے پر سہاگہ ہے۔ اس لئے اسی (٨٠) فیصد تکرار کے باوجود محض بیس فیصد خوبصورت اضافی باتوں کے لئے اس کو حک واضافہ کے بغیر مکمل شائع کر دیا ہے۔ جناب ڈاکٹر عبدالحکیم خان نے مرزا قادیانی کی خوب خبر لی ہے۔ ایسا اپریشن کیا ہے کہ مرزا قادیانی کا تمام خبث باطن اور فضلہ پیٹ ، مرزا کے منہ کے راستہ سے بہہ نکلا ہے۔

جناب ڈاکٹر عبدالحکیم خان نے الذکر الحکیم نمبر ٦ عرف کانا دجال ١٩٠٧ء میں شائع کیا۔ اس میں مرزا قادیانی کے وہ لتے لئے کہ اگر مرزا کی جگہ ابلیس ہوتا تو اس کی نانی مرجاتی۔ یہی حال دجال قادیان کا ہوا۔ اس کے بعد مرزا اپنی کتابوں میں جس طرح جل بھن کر ڈاکٹر صاحب کو یاد کرتا ہے۔ وہ دلیل ہے کہ ڈاکٹر صاحب کے تمام تیر ٹھکانے پر لگے۔ ڈاکٹر صاحب مرزا کی تردید پر دلیل دیتے دیتے آخر میں ’’سچ ہے دجال کانا ہو گا پر خدا کانا نہیں‘‘ کا ٹانکا لگاتے ہیں تو کمال کر دیتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے مرزا قادیانی کے خواب اپنے خوابوں سے مرزا قادیانی کے الہامات کا جواب اپنے الہامات سے ایسے دیتے ہیں۔ جیسے مثل مشہور ہے کہ جیسا منہ ویسی چپیڑ کی مثال صادق آجاتی ہے۔

عبدالرب خان برہم سکہ بند قادیانی تھے۔ مرزا قادیانی کے ملعون الہامات کو معاذ اللہ

صفحہ ١٠

الہامات الہیہ اور قرآن مجید کے برابر مانتے تھے۔ البتہ مرزا محمود کو بدترین خلائق اور فرعون و دجال سمجھتے تھے۔ اس نے مرزا قادیانی کے الہامات کو کسوٹی بنا کر مرزا محمود کو ملعون ثابت کر دیا۔ یہ کتاب فروری ١٩٥٨ء میں ایک قادیانی مصنف نے لکھی ہے۔ اس میں بہت کچھ حذف کرنے کے بعد بطور خلاصہ جو باقی رہنے دیا ہے وہ پڑھیں کہ یہ بھی تاریخ کا حصہ ہے۔ پڑھتے ہوئے نہ بھولیں کہ یہ ایک قادیانی تصنیف ہے۔

احتساب قادیانیت کی جلد نمبر ٦٠ میں ذیل کے حضرات کے اس ترتیب سے رسائل جمع ہوگئے:

...................................................................... گویا کل سات حضرات کے ١٤ رسائل و پمفلٹ اس جلد میں جمع ہو گئے ہیں۔ سب کو جمع کرنا تو مشکل تھا جتنا یکجا ہو گیا اس سے خوشی ہوئی۔ حق تعالیٰ شانہ اپنے لطف و کرم سے اس کو خدمت کو شرف قبولیت سے سرفراز فرمائیں۔ آمین بحرمۃ النبی الکریم!

محتاج دعاء: فقیر اللہ وسایا! ١٠ صفر الخیر ١٤٣٦ھ، مطابق ٣ دسمبر ٢٠١٤ء

PDF 12

خاتم النبیین لا نبی بعدي

خلیفہ ربوہ کے مظالم کی فہرست میں

میری داستان مظلومیت کا اضافہ

مولوی صدر الدین گجراتی

صفحہ ١٢

انتساب!

یہ عاجز اپنی داستان مظلومیت ان

(قادیانی) مظلوم کی ارواح کے نام منسوب کرتا

ہے جو مرزا محمود خلیفہ قادیان کی اسکیموں اور

سازشوں کے نتیجہ میں قتل ہو گئے۔

صدرالدین!

٢

صفحہ ١٤

قادیانی جور وستم کا ایک منظر

ایک مظلوم کی داستان مظلومیت

میرے بیوی بچوں پر خلیفہ ربوہ کا قبضہ اور میری جان خطرہ میں

مرزا محمود خلیفہ ربوہ کی تحریرات اس امر پر شاہد ہیں کہ آنجناب کو ایک طویل عرصہ سے اپنی ریاست قائم کرنے کا شوق دامنگیر ہے اور اس مقصد کے حصول کے لئے اپنے معتقدین کو متواتر استعمال کیا جارہا ہے۔ اگر کبھی کبھار کوئی مرید ایسا پیدا ہو گیا جو اپنے انجام سے بے خوف اور خلیفہ ربوہ کی سزا سے لا پرواہ ہو کر مرزا محمود کے راز ہائے دروں پردہ کے انکشاف پر تل گیا تو اس کی زندگی خطرہ میں پڑ گئی اور اس پر مصائب کا دور دورہ شروع ہو گیا۔ موجودہ خلیفہ ربوہ کا سابقہ مرکز قادیان تھا۔ جہاں مختلف طور طریقوں اور ہتھکنڈوں سے مرزا محمود نے اپنے مریدوں کو اپنے جال میں کچھ اس طرح جکڑ لیا تھا کہ وہاں کی چار دیواری میں ان کے کسی ظلم کے خلاف فریاد تقریباً ناممکن تھی۔ قصبہ قادیان میں مرزا محمود کو جو طاقت حاصل ہو گئی اور بہشتی مقبرہ کی بدولت آمدنی کا جو ذریعہ پیدا ہو گیا تھا اس کے پیش نظر خلیفہ قادیان نے قیام پاکستان کی مخالفت میں ایڑی چوٹی کا زور لگاتے ہوئے اکھنڈ ہندوستان کا نعرہ بلند کیا۔ مگر جب پاکستان قائم ہو گیا اور مجبوراً آنجناب کو اپنی مصنوعی ریاست کو داغ مفارقت دینا پڑا تو رتن باغ لاہور کے قیام نے آپ کو یہ احساس دلایا کہ وہ دوبارہ اپنی ایسی رہائش کا انتظام کریں جہاں کی آبادی خالصتاً اپنے مریدوں پر مشتمل ہو تاکہ دوسرے لوگ آپ کے اندرونی حالات سے واقف نہ ہو سکیں۔ چنانچہ موضع ربوہ (چناب نگر) کی داغ بیل ڈالی گئی اور غریب معتقدین کو وہاں آباد ہونے کی دعوت دی گئی۔ چند ہی سالوں میں پھر انہی مظالم کا دور دورہ شروع ہو گیا۔ جو قبل از تقسیم قادیان میں جاری تھا۔ کیونکہ ربوہ (چناب نگر) میں بھی ان لوگوں کو آباد ہونے کی دعوت دی گئی۔ جن کی ضعیف الاعتقادی اندھی تقلید کا درجہ رکھتی ہے اور وہ کسی ظلم کے خلاف عینی شہادت (جو مرزا محمود کے خلاف ہو) کے لئے بھی تیار نہیں ہو سکتے۔ اندریں حالات مرزا محمود کو اپنی چار دیواری میں ظلم و ستم کی جسارت صرف اس لئے ہے کہ اُس کے خلاف گواہ میسر نہیں آسکتے اور اس نے اسی ہتھکنڈے کی بدولت قصبہ ربوہ (چناب نگر) میں اپنی متوازی حکومت قائم کر رکھی ہے۔ جہاں ان کی اپنی عدالت پولیس اور مختلف ادارے موجود ہیں۔

٣

صفحہ ١٥

چونکہ مرزا محمود اس وقت تک حکومت پاکستان کی گرفت سے محفوظ ہے اور ابھی تک حکومت اس کی حکومت در حکومت کو برداشت کر رہی ہے اور اسے مظلوم انسانوں کو خلیفہ ربوہ کے جور و ستم سے نجات دلانے کا احساس نہیں ہوا۔ اس لئے یہ ستم رسیدہ عاجز ان چند سطور کے ذریعہ اس ظلم و ستم کی داستان کو ان معزز حکام بالا کی خدمت میں پیش کرنا اپنا فرض سمجھتا ہے جو وقتاً فوقتاً پاکستان کے ہر شہری کو شہری آزادی اور شہری حقوق عطاء کئے جانے کا یقین دلاتے رہتے ہیں۔

مرزا محمود کے جور ستم کا قصہ کوئی نئی داستان نہیں۔ بلکہ اس کا سلسلہ ١٩١٤ء سے جاری ہے۔ جب آنجناب نے خلافت کی گدی سنبھالی۔ ظلم و ستم کا پہلا وار جماعت کے ان مقتدر ذی اثر مخلص اور اہل علم اصحاب پر ہوا جن کی قادیان میں موجودگی مرزا محمود کے راستہ میں سد راہ تھی۔ کیونکہ وہ خلیفہ کی علمی قابلیت اور اخلاق و کردار سے واقف تھے۔ چنانچہ ان سب کو دہشت انگیزی کے ذریعہ شہر بدر کر دیا گیا۔ خلیفہ اوّل مولانا حکیم نورالدین صاحب کے صاحبزادے میاں عبدالحی صاحب کی پراسرار موت کے بعد ان کے باقی خاندان کو ذلیل و خوار کرنے کے جو طور طریقے اختیار کئے گئے وہ بھی کسی سے پوشیدہ نہیں۔ کچھ زیادہ عرصہ گزرنے نہ پایا کہ مولانا محفوظ الحق علمی اور ان کے ساتھیوں کو قادیان سے نکال دیا گیا۔ یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا۔ مرزا محمود کے حوصلے بلند ہوتے گئے اور قتل و غارت کا سلسلہ شروع ہو گیا۔

مولانا عبدالکریم صاحب مباہلہ پر قاتلانہ حملے، ان کی بلڈنگ کو نذر آتش کرنا اور حاجی محمد حسین صاحب کا قتل و دیگر واقعات تو اس درجہ مشہور ہیں کہ ان کو دہرانے کی ضرورت ہی نہیں۔ جماعت قادیان کے چوٹی کے عالم مولانا عبدالرحمن صاحب مصری اور منشی فخرالدین صاحب ملتانی حکیم عبدالعزیز صاحب، مجاہد بخارا محمد امین خان کی داستان مظلومیت اور ملتانی صاحب کا دن دہاڑے قتل و دیگر واقعات کی تفصیلات میں ہم نہیں جانا چاہتے۔ کیونکہ یہ واقعات اس زمانہ سے تعلق رکھتے ہیں جس کو دور غلامی کا نام دیا جاتا ہے اور اس دور میں مرزا محمود اپنے پیشہ جاسوسی کی بدولت انگریز کو خوش کرنے میں کامیاب تھا اور اس وقت کے اکثر حکام مرزا محمود کی چاپلوسی اور خوشامد سے متاثر ہو کر اس کی پردہ پوشی کیا کرتے تھے۔ لیکن وہ وقت بیت گیا اور اب ہم ایک جمہوری نظام کے تحت اپنی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ اگر اس وقت بھی ہماری معروضات پر توجہ نہ دی گئی اور میرے ایسے مظلوم پاکستانی شہریوں کو مرزا محمود کے چنگل سے نجات نہ دلائی گئی تو یہ بنیادی اصولوں سے انحراف ہوگا۔ جو ایک جمہوری ملک کے طرۂ امتیاز ہیں۔

٤

چونکہ یہ عاجز اپنی داستان مظلومیت کو فرداً فرداً میں اس ٹریکٹ کے ذریعے اپنے دوست و احباب اور اہل سمجھتا ہوں۔ کیونکہ میری داستان اس شخص کے مظالم کے نام کو اپنی اغراض مخصوصہ کے لئے استعمال کرنے اور بنو فائدہ اٹھانے کا عادی ہو چکا ہے۔

یہ عاجز موضع چک سکندر ضلع گجرات کا باشندہ مقبرہ کی سند بھی حاصل کی ہوئی تھی۔ جوش عقیدت میں س ہونے کا شوق دامنگیر ہوا اور میں نے اپنی تمام وطنی جائید لیا۔ اس ہجرت کی محرک میری دوسری شادی تھی جو مرزا محمو کی۔ شادی کے ذریعہ جکڑ بندی کے قادیانی ہتھکنڈے ب ممکن تھا کہ میں غیر برادری میں شادی کے نتیجہ میں اپنے ہی یہ تھا کہ امام (مرزا محمود) کا ہر حکم خدائی حکم کا درجہ رکھ رشتہ داروں میں ہوئی تھی۔ میری بیوی کی رضامندی پر بھی مجھے رشتہ دینے پر آمادہ تھے۔ مگر چونکہ خلیفہ کا حکم یہ تھا کہ سکتا۔ بصورت حکم عدولی سزا دی جاتی۔ بدیں وجہ میں بہ درخواست پیش کی کہ مجھے مسلمانوں میں رشتہ کی اجازت اور مجبوراً مجھے خلیفہ قادیان کی منتخب کردہ جگہ (غیر برادری آج بھگت رہا ہوں اور مرزا محمود کی سیاست دانی کی داد دی قادیان میں ہوگئی۔ گو میں سرکاری ملازمت کے سلسلہ میں مہاجر آباد ہوا۔ ١٩٥٠ء میں میں سرکاری ملازمت سے پنش دفتر بیت المال میں کام کرنے کے لئے ربوہ بلا لیا۔ خلیف پوری محنت اور جانفشانی سے حسابات میں لاکھوں روپیہ ک وعظ کا نچوڑ یہ ہوتا تھا کہ دیانتداری ہمارا اصل الاصول ہے

٥

صفحہ ١٥

چونکہ یہ عاجز اپنی داستان مظلومیت کو فرداً فرداً بیان کرنے سے قاصر ہے۔ اس لئے میں اس ٹریکٹ کے ذریعے اپنے دوست و احباب اور اہل ملک تک اپنی آواز پہنچانا اپنا فرض منصبی سمجھتا ہوں۔ کیونکہ میری داستان اس شخص کے مظالم کے خلاف احتجاج ہے جو مذہب کے مقدس نام کو اپنی اغراض مخصوصہ کے لئے استعمال کرنے اور بندگان خدا کی ضعیف الاعتقادی کا ناجائز فائدہ اٹھانے کا عادی ہو چکا ہے۔

یہ عاجز موضع چک سکندر ضلع گجرات کا باشندہ ہے اور پیدائشی قادیانی تھا۔ حتیٰ کہ بہشتی مقبرہ کی سند بھی حاصل کی ہوئی تھی۔ جوش عقیدت میں ١٩٣٣ء میں مجھے قادیان میں سکونت پذیر ہونے کا شوق دامنگیر ہوا اور میں نے اپنی تمام وطنی جائیداد فروخت کر کے قادیان میں مکان خرید لیا۔ اس ہجرت کی محرک میری دوسری شادی تھی جو مرزا محمود کے حکم سے میں نے غیر برادری میں کی۔ شادی کے ذریعہ جکڑ بندی کے قادیانی ہتھکنڈے سے میں اس وقت واقف ہی نہ تھا۔ ورنہ ممکن تھا کہ میں غیر برادری میں شادی کے نتیجہ میں اپنے وطن کو نہ چھوڑتا۔ لیکن اس وقت کا ماحول ہی یہ تھا کہ امام (مرزا محمود) کا ہر حکم خدائی حکم کا درجہ رکھتا ہے۔ میری پہلی شادی میرے مسلمان رشتہ داروں میں ہوئی تھی۔ میری بیوی کی فوتیدگی پر بھی میری برادری کے مسلمان رشتہ دار بخوشی مجھے رشتہ دینے پر آمادہ تھے۔ مگر چونکہ خلیفہ کا حکم یہ تھا کہ کوئی قادیانی مسلمانوں میں رشتہ نہیں کر سکتا۔ بصورت حکم عدولی سزا دی جاتی۔ بدیں وجہ میں نے خلیفہ قادیان کی خدمت میں یہ تحریری درخواست پیش کی کہ مجھے مسلمانوں میں رشتہ کی اجازت دی جائے۔ مگر یہ درخواست منظور نہ ہوئی اور مجبوراً مجھے خلیفہ قادیان کی منتخب کردہ جگہ (غیر برادری) میں شادی کرنی پڑی۔ جس کی سزا میں آج بھگت رہا ہوں اور مرزا محمود کی سیاست دانی کی داد دے رہا ہوں۔ غرضیکہ میری مستقل رہائش قادیان میں ہو گئی۔ گو میں سرکاری ملازمت کے سلسلہ میں قادیان سے باہر ہی رہا۔ بدیں وجہ مجھ پر قادیان کے کسی راز کا انکشاف نہ ہوا۔ تقسیم ملک کے بعد میں کھاریاں ضلع گجرات میں بحیثیت مہاجر آباد ہوا۔ ١٩٥٠ء میں میں سرکاری ملازمت سے پنشن پا گیا۔ ١٩٥٣ء میں مجھے خلیفہ ربوہ نے دفتر بیت المال میں کام کرنے کے لئے ربوہ بلا لیا۔ خلیفہ کے مواعظ حسنہ سے متاثر ہو کر میں نے پوری محنت اور جانفشانی سے حسابات میں لاکھوں روپیہ کا ہیر پھیر مشاہدہ کیا۔ چونکہ منبر پر خلیفہ کی ہر وعظ کا نچوڑ یہ ہوتا تھا کہ دیانتداری ہمارا اصل الاصول ہے اور جماعت کی بہترین خدمت یہ ہے کہ

٥

صفحہ ١٧

کے اندرونی راز ہائے سربستہ سے بھی واقف ہو چکا ہوں اور خلیفہ ربوہ (جناب محمود) اور ان کے تقدس کا پردہ چاک ہو گیا ہے اور اب ان کا کوئی جادو مجھ پر چلنے والا نہیں۔ لہٰذا میری بابت حسب عادت میرے خاتمہ کا بھی فیصلہ ہو گیا اور جب مجھے حالات سے اس امر کا یقین ہو گیا تو پھر میرے لئے اس کے سوا اور کوئی چارہ کار باقی نہ رہ گیا کہ میں اپنی جان بچانے کے لئے ربوہ سے درخواست کر دوں۔ چنانچہ میں نے صاحب سپرنٹنڈنٹ پولیس گجرات کی خدمت میں حاضر ہو کر تحریری درخواست پیش کی۔ جس پر کارروائی شروع ہو چکی ہے۔ جس کی بناء پر ١٦ مئی ١٩٥٧ء جرم ٣٨٦/٤٠٦/٤٢٠ تعزیرات پاکستان مقدمہ درج رجسٹر ہوا۔

کارروائی ابتدائی رپورٹ

حسب آمد تحریری درخواست مرسلہ صاحب سپرنٹنڈنٹ پولیس ضلع گجرات بہ مضمون ذیل رپورٹ ہذا حسب حکم صاحب ممدوح مرتب کی جا کر تفتیش کی جاوے۔ نقل درخواست درج ذیل ہے۔

بحضور جناب صاحب سپرنٹنڈنٹ پولیس گجرات

جناب عالی!

خاکسار اصل باشندہ موضع چک سکندر تھانہ کھاریاں ضلع گجرات حال ربوہ مذہباً فرقہ احمدیہ سے تعلق رکھتا ہے۔ میری عمر اس وقت ٦٠ سال کے قریب ہے۔ میں نے سنہ ١٩٤٥ء میں برادری کو چھوڑا اور پھر اس کے نتیجہ میں گاؤں سے بھی قطع تعلق کر لیا اور اپنی تمام جائیداد فروخت کر کے قادیان میں سکونت اختیار کر لی اور وہیں کا ہو رہا۔ تقسیم ملک کے بعد میں اپنے علاقہ تھانہ کھاریاں ضلع گجرات میں آباد ہوا۔ مگر وہاں سے ٣ سال کا عرصہ ہوا ربوہ چلا گیا اور صدر انجمن احمدیہ کے دفتر بیت المال میں میرے سپرد کام کیا گیا۔ کچھ عرصہ کے بعد ربوہ میں لاکھوں روپے کا غبن ہوتا دکھائی دیا۔ جس کی رپورٹ میں نے ١٨ اپریل ١٩٥٥ء کو خلیفہ ربوہ کو پیش کی۔ یہ رقم قریباً ڈیڑھ لاکھ روپے کی ہے۔ جس پر انہوں نے مجھے تسلی دی اور ١١ مئی ١٩٥٥ء کو مجھے ٢ بجے دن کو بلایا اور حالات سننے کے بعد فرمایا کہ تم ان کو کیا کہتے ہو۔ میں جواب دوں گا اور اس کا جواب آدھے حصے پر بیت المال والے دیں گے۔ جس پر انہوں نے مجھے خود ذاتی طور سے پڑتال کر کے مجھے اصلیت سے آگاہ کر دیا تو میں نے چند دن کے بعد جو کچھ معلوم کیا

٧

صفحہ ١٧

کے اندرونی راز ہائے سربستہ سے بھی واقف ہو چکا ہوں۔ اس لئے ان کو یہ یقین ہو گیا کہ مجھ پر ان کے تقدس کا پردہ چاک ہو گیا ہے اور اب ان کا کوئی حربہ مجھ پر کامیاب نہ ہوگا۔ بدیں وجہ حسب عادت میرے خاتمہ کا بھی فیصلہ ہو گیا اور جب مجھے حالات انتہائی خطرناک ہوتے نظر آئے تو میرے لئے اس کے سوا اور کوئی چارہ کار باقی نہ رہ گیا کہ میں حکومت پاکستان سے دادرسی کی درخواست کروں۔ چنانچہ میں نے صاحب سپرنٹنڈنٹ بہادر پولیس ضلع جھنگ کی خدمت میں حاضر ہو کر تحریری درخواست پیش کی۔ جس پر کارروائی شروع ہوئی اور مقدمہ ٣٩ مورخہ ٢٣؍ اپریل ١٩٥٧ء جرم ٣٨٦/٣٤٢،٣٠٦/٤٤٨ تعزیرات پاکستان درج ہوا۔

کارروائی ابتدائی رپورٹ

حسب آمد تحریری درخواست ازاں صدرالدین ولد غلام قادر قوم گوجر سکنہ چک سکندر تھانہ کھاریاں ضلع گجرات بہ مضمون ذیل بثبت حکم صاحب ایس. پی بہادر جھنگ رپورٹ ابتدائی مرتب کی جا کر تفتیش کی جاوے جو درج ذیل ہے۔

بحضور جناب صاحب سپرنٹنڈنٹ بہادر پولیس ضلع جھنگ

جناب عالی!

خاکسار اصل باشندہ موضع چک سکندر تھانہ کھاریاں ضلع گجرات کا ہے اور پیدائشی طور پر فرقہ احمدیہ سے تعلق رکھتا ہے۔ میری عمر اس وقت ٦٠ یا ٦٢ سال ہے۔ امام جماعت احمدیہ کے حکم پر ١٩٣٥ء میں برادری کو چھوڑا اور پھر اس کے نتیجہ میں گاؤں بھی چھوڑا اور اپنی جدی جائیداد فروخت کر کے قادیان میں جائیداد خرید کی اور وہاں چلا گیا۔ ١٩٤٧ء میں تبادلہ آبادی کے بعد موضع کھاریاں ضلع گجرات میں آباد ہوا۔ مگر وہاں سے ١٩٥٣ء میں ربوہ (چناب نگر) بلا لیا گیا اور صدر انجمن کے دفتر بیت المال میں میرے سپرد کام کیا گیا۔ اس کام کے سلسلہ میں مجھے وہاں غبن ہوتا دکھائی دیا۔ جس کی رپورٹ میں نے ١٨ اپریل ١٩٥٤ء کو امام جماعت احمدیہ کے پیش کی کہ قریباً ڈیڑھ لاکھ روپے کا غبن ہے۔ جس پر انہوں نے مجھے معہ محمد اسماعیل معتبر، قاضی محمد رشید مورخہ ٢ مئی ١٩٥٤ء کو بلایا اور حالات سننے کے بعد فرمایا کہ تم پورے کاغذ کے آدھے حصہ پر حساب بناؤ اور اس کا جواب آدھے حصے پر بیت المال والے دیں اور مندرجہ بالا دونوں اشخاص میری طرف سے پڑتال کر کے مجھے اصلیت سے آگاہ کر دیں تو میں انتظام کروں گا۔

٧

صفحہ ١٨

لہذا میں نے جملہ حساب مورخہ ٥؍جولائی ١٩٥٤ء کو تیار کر کے چوہدری عزیز احمد نائب ناظر بیت المال کے حوالے کر دیا۔ جس میں کم وبیش ٣ لاکھ روپے کا غبن ثابت کیا گیا۔ اس کے بعد باقی حکم کی تعمیل آج تک نہیں ہوئی۔ مگر میری مخالفت آہستہ آہستہ بڑھتی گئی۔ جس کے نتیجہ میں میں نے اپریل ١٩٥٦ء کو ربوہ (چناب نگر) چھوڑنا چاہا اور اس کی تحریری طور پر اطلاع ذمہ دار افسران صدر انجمن ربوہ (چناب نگر) کو دی۔ جس پر انہوں نے مجھے روک لیا اور تسلی وغیرہ دی اور انسداد کا وعدہ کیا۔ مگر بجائے انسداد کے میری مخالفت دو چند ہوگئی جو مختلف رنگ اختیار کرتی گئی۔ پھر اس کے بعد دسمبر میں ایک واقعہ پیش آیا اور اندرونی مخالفت زیادہ تیز ہوگئی۔ اچانک مجھے پتہ چلا کہ صیغہ وصیت مجھ سے ناجائز وصولی کر رہا ہے۔ جس کا ان کو کوئی حق نہیں ہے۔ مجھے دھوکہ میں رکھا گیا ہے۔ لہذا میں نے ٢١؍جنوری ١٩٥٧ء کو ان کو ایک چٹھی لکھی کہ یہ روپیہ جو مجھ سے ناجائز طور پر وصول کیا گیا ہے واپس دے دو۔ جو جعلی پرچی کا مصداق بنی اور مجھے ربوہ (چناب نگر) چھوڑنا پڑا۔ چنانچہ میں نے مورخہ ٨؍فروری ١٩٥٧ء کو ٤ یوم کی رخصت لی اور چلا گیا اور جاکر ١٠؍فروری ١٩٥٧ء کو استعفیٰ بھیج دیا۔ ایک چٹھی امام جماعت احمدیہ کو مندرجہ بالا واقعات کے متعلق لکھی جو مورخہ ١٦؍فروری ١٩٥٧ء کو سپرنٹنڈنٹ دفتر پرائیویٹ سیکرٹری فتح الدین نے وصول کی۔ ناظر بیت المال نے میرے استعفیٰ کے جواب میں لکھا کہ آکر چارج دو تو استعفیٰ پر غور ہوسکتا ہے۔ میں ١٨؍فروری ١٩٥٧ء کو گیا اور چارج دیا۔ مگر مجھے فارغ نہ کیا گیا اور مجبوراً (جبراً) روکا گیا۔ اس کے بعد میں ١٠؍مارچ ١٩٥٧ء کو پھر ربوہ (چناب نگر) سے چلا گیا اور گھر جا کر سیکرٹری بہشتی مقبرہ کا نوٹس دیا کہ اگر ١٠ یوم تک میرے روپے واپس نہ کئے تو میں قانونی کارروائی کروں گا۔ یہ چٹھی مورخہ ٢٥؍مارچ ١٩٥٧ء کو انہوں نے وصول کی۔ میں مورخہ ٢٣؍مارچ ١٩٥٧ء کو بچوں کو لینے کے لئے ربوہ (چناب نگر) گیا۔ مگر جب وہاں پہنچا تو حالات بہت خراب نظر آئے۔ لہذا میں اپنی جان بچا کر واپس چلا گیا اور گھر جا کر ناظر امور عامہ کو چٹھی لکھی کہ میرے گھر اور بال بچوں پر ان کی (خود ساختہ) حکومت نے قبضہ کیا ہوا ہے جو ناجائز ہے۔ وہ میرے حوالے کر دیئے جاویں۔ ورنہ میں اس کے متعلق قانونی کارروائی کروں گا اور نوٹس میں دس دن کی میعاد مقرر کر دی۔ یہ چٹھی مورخہ ٢٧؍مارچ ١٩٥٧ء کو لکھی تھی۔ جو ٣٠؍مارچ ١٩٥٧ء کو انہوں نے وصول کی۔ جملہ خط و کتابت میں نے بصیغہ رجسٹری اکناج منٹ کی ہے۔ رسیدات نقل چٹھی ہائے میرے پاس موجود ہیں۔ چنانچہ مجھے مورخہ ٤؍اپریل ١٩٥٧ء کو امور عامہ کے محتسب (حکومت ربوہ (چناب نگر) کے تھانیدار)

٨

مولوی عبدالعزیز (بھانیڑی) کی طرف سے کے متعلق مجھے دفتر امور عامہ میں ملیں۔ لہذا اور ١٠؍اپریل ١٩٥٧ء کو دفتر میں ملا۔ جہاں (محتسب) وصیت کے کمرہ میں لے گیا اور ج اس دفتر میں قاضی عبدالرحمٰن سیکرٹری وصیت باتوں میں اپنی سوچی سمجھی سکیم کے ماتحت وہ وقت کی نزاکت کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے ا کہا کہ ایک تحریر لکھ دو۔ میں رضامند ہوگیا۔ ا کے دے دی۔ تحریر یہ تھی کہ میں نے حساب د غلط ہے۔ (رقم) ٧٥٧ روپے درست ہے۔ دوران میں عبدالعزیز پستول نکالے۔ میرے ساتھ شریک تھے۔ میں نے اس جبر کی وجہ سے میں تھا۔ یہ تحریر لکھ دی ورنہ میرا دو ہزار روپیہ ہی دیا گیا اور کہا کہ پرسوں تک تمہیں رقم دے دی جائے گی۔ مورخہ ١٣؍اپریل ١٩٥٧ء کو پھر بلایا گ نے کہا کہ روپے دے دو۔ رسید دے دیتا ہوں اور کہا کہ وہ روپے دو پہر تک دے دیگا۔ لہذا می میں اپنا بال بچہ لے کر چلتا ہوں۔ رسید بھی لکھ د کر لئے اور میں نے رقم کا مطالبہ کیا تو وہ کہنے کرو اور جو کاغذات تمہارے پاس ہیں وہ لا کر میں نے کہا کہ اگر میں ایسا نہ کروں تو پھر؟ اس پ وقت تھانہ لالیاں گیا ہوا تھا۔ آوے گا تو بات ک دھوکہ دے کر یہاں بلایا گیا ہے۔ چونکہ میرے سب کاغذات گاؤں م اس نے چھپا دیئے ہیں تو میں (ان کے رشتہ دار

صفحہ ١٩

مولوی عبدالعزیز (بھانبڑی) کی طرف سے چٹھی موصول ہوئی کہ ٢٧؍مارچ ١٩٥٧ء کی درخواست کے متعلق مجھے دفتر امور عامہ میں ملیں۔ لہٰذا میں مورخہ ٩؍اپریل ١٩٥٧ء کو ربوہ (چناب نگر) گیا اور ١٠؍اپریل ١٩٥٧ء کو دفتر میں ملا۔ جہاں انہوں نے مجھے بٹھائے رکھا۔ جب دفتر بند ہوا تو (محتسب) وصیت کے کمرہ میں لے گیا اور حساب وصیت کے متعلق باتیں شروع کیں۔ اس وقت اس دفتر میں قاضی عبدالرحمن سیکرٹری وصیت، محمد الدین، مسعود، ابراہیم کلرک موجود تھے۔ باتوں باتوں میں اپنی سوچی سمجھی سکیم کے ماتحت وہ تیز ہوگیا۔ پانچوں آدمی میرے گرد ہوگئے۔ میں نے وقت کی نزاکت کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے انداز میں یکدم تبدیلی پیدا کرلی۔ تب انہوں نے مجھے کہا کہ ایک تحریر لکھ دو۔ میں رضامند ہوگیا۔ اس پر عبدالعزیز نے تحریر لکھی۔ میں نے اس کی نقل کر کے دے دی۔ تحریر یہ تھی کہ میں نے حساب دیکھ لیا ہے۔ درست ہے جو (رقم) میں نے لکھی تھی وہ غلط ہے۔ (رقم) ٥٧٧ روپے درست ہے۔ جو ادا کئے جاویں۔ اس ساری جبری کارروائی کے دوران میں عبدالعزیز پستول نکالے میرے سر پر کھڑا رہا۔ دوسرے چاروں آدمی بھی اس کے ساتھ شریک تھے۔ میں نے اس جبر کی وجہ سے اور دوسرے اس لئے کہ میرا بال بچہ بھی ان کے قبضہ میں تھا۔ یہ تحریر لکھ دی ورنہ میرا دو ہزار روپیہ ہی قابل وصول تھا۔ تحریر حاصل کرنے کے بعد مجھے چھوڑ دیا گیا اور کہا کہ پرسوں تک تمہیں رقم دے دی جاوے گی۔ اس کے بعد مجھ پر سخت نگرانی شروع کر دی گئی۔ مورخہ ١٣؍اپریل ١٩٥٧ء کو پھر بلایا گیا اور کہا کہ رسید لکھ دو کہ روپے وصول کرلئے۔ میں نے کہا کہ روپے دے دو۔ رسید دے دیتا ہوں۔ محمد الدین کلرک نے ایک معمولی سی چٹ دے دی اور کہا کہ وہ روپے دوپہر تک دے دیگا۔ لہٰذا میں نے یہ سمجھتے ہوئے کہ کسی طرح روپے مل جائیں تو میں اپنا بال بچہ لے کر چلتا ہوں۔ رسید بھی لکھ دی۔ جب دوپہر کو (دفتر سے) اس نے روپے برآمد کرلئے اور میں نے رقم کا مطالبہ کیا تو وہ کہنے لگا کہ ان روپوں میں سے ٤٠٧ روپے چندہ عام ادا کرو اور جو کاغذات تمہارے پاس ہیں وہ لاکر مجھے دے دو۔ تب میں تم کو ١٧٠ روپے ادا کروں گا۔ میں نے کہا کہ اگر میں ایسا نہ کروں تو پھر؟ اس نے کہا تو پھر مولوی عبدالعزیز (بھانبڑی) جو کہ اس وقت تھانہ لالیاں گیا ہوا تھا۔ آوے گا تو بات کریں گے۔ اب میں اس بات کو بھانپ گیا کہ مجھے دھوکہ دے کر یہاں بلایا گیا ہے۔

چونکہ میرے سب کاغذات گاؤں میں ہیں۔ جب ان کو یہ معلوم ہوگیا کہ کاغذات تو اس نے چھپا دیئے ہیں تو میں (ان کے نرغہ سے) بچ نہیں سکتا۔ لہٰذا میں نے اس کو جھوٹی تسلی دی

٩

صفحہ ٢٠

اور کہا کہ کاغذات لا کر دیتا ہوں اور دفتر سے چلا گیا اور نہایت ہی احتیاط سے وہاں سے بھاگنے میں کامیاب ہوا اور وہاں سے بھاگ کر جھنگ پہنچا۔ اب میں ان کی دست برد سے باہر ہوں اور کاغذات بھی محفوظ ہیں۔ وہ ان دونوں چیزوں میں ایک پر یا تو میرے پر اور یا میرے کاغذات پر قابو پانا چاہتے تھے۔ کیونکہ اگر وہ مجھے ختم کر دیں تو کاغذات کسی کام کے نہیں اور نہ کسی کو علم ہے کہ انہوں نے کیا کام دینا ہے اور اگر وہ تمام کاغذات مجھ سے حاصل کر لیں تو میں کوئی چیز نہیں ہوں۔ ان حالات میں حضور کی خدمت میں التماس ہے کہ میری حق رسی فرمائی جاوے۔ میرے بچے اور سامان سب کچھ ان کی تحویل میں ہے۔ جہاں تک میرا پہنچنا ناممکن ہے۔ دستخط اردو، خاکسار صدرالدین ولد غلام قادر قوم گوجر سکنہ چک سکندر تھانہ کھاریاں ضلع گجرات۔ مورخہ ١٤؍اپریل ١٩٥٧ء

کارروائی پولیس: مضمون درخواست سے صورت جرم ٣٨٦/٣٤٢، ٤٠٦/٤٣٨ ت۔پ، پائی۔ جاکر رپورٹ ابتدائی ہذا مرتب ہوئی۔ سب انسپکٹر صاحب انچارج بسلسلہ تفتیش جرم ٤٥٧ ت۔پ درکہ گئے ہوئے ہیں۔ لہٰذا اصل رپورٹ ابتدائی بغرض تفتیش بخدمت سب انسپکٹر صاحب ارسال کی گئی۔ اصل کاغذات بھی شامل رپورٹ ابتدائی روانہ کئے گئے۔ دستخط: غلام عباس محرر، ہیڈ کانسٹیبل لالیاں

مورخہ ٢٣؍اپریل ١٩٥٧ء مقدمہ رجسٹر ہونے کے بعد میں بار ہا افسران متعلقہ کی خدمت میں حاضر ہوتا رہا۔ مگر یہ مقدمہ عدالت میں نہ بھیجا گیا۔ داد رسی سے مایوس ہو کر بالآخر میں نے مورخہ ٢٧؍ستمبر ١٩٥٧ء کو سیکرٹریٹ کے سامنے بھوک ہڑتال کر دی۔ جس پر صاحب ایڈیشنل انسپکٹر جنرل بہادر پولیس مغربی پاکستان نے مجھے داد رسی کا یقین دلایا اور میں نے بھوک ہڑتال ختم کر دی۔ میں نے صاحب موصوف سے صرف یہ مطالبہ کیا کہ اس مقدمہ کو عدالت میں پیش کر دیا جائے تا کہ خلیفہ ربوہ کے جور و ستم منظر عام پر آ جائیں۔ لیکن بھوک ہڑتال کے بعد بھی آج تین ماہ کا عرصہ ہو گیا ہے۔ ابھی تک یہ مقدمہ عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔ نتیجہ یہ ہے کہ میری زندگی بدستور خطرہ میں ہے۔ میرے بیوی بچوں پر مرزا محمود کا قبضہ ہے۔ ظاہر ہے کہ ایک مظلوم پاکستانی شہری کس درجہ عذاب کی زندگی بسر کر رہا ہے۔ پاکستانی اخبارات بھی خلیفہ ربوہ (چناب نگر) کے مجھ پر کئے گئے مظالم کے خلاف صدائے احتجاج بلند کر چکے ہیں۔ مگر ابھی تک یہ عاجز داد رسی سے محروم ہے۔ (مولوی) صدرالدین کھاریاں ضلع گجرات!

PDF 22

خاتم النبیین لا نبی بعدی

چوہدری سر محمد ظفر اللہ خاں (قادیانی) کے نام

بحیثیت معزز ممبر جماعت احمدیہ اتمام حجت کے طور پر

کھلی چٹھی

مولوی صدر الدین گجراتی

صفحہ ٢٣

یہ چٹھی مندرجہ ذیل اقوال بانی سلسلۂ احمدیہ کی روشنی میں لکھی جارہی ہے

قول نمبر ١:...... ’’دشنام دہی اور چیز ہے اور بیان واقعہ گو وہ کیسا ہی تلخ اور سخت ہو دوسری شے ہے اور ہر ایک محقق اور حق گو کا فرض ہے کہ سچی بات پورے طور پر مخالف گم گشتہ کے کانوں تک پہنچا دے۔ پھر اگر وہ سچ سن کر برافروختہ ہو تو ہوا کرے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص ١٩، ٢٠، خزائن ج ٣ ص ١١٢)

قول نمبر ٢:...... ’’مباہلہ صرف ایسے لوگوں سے ہوتا ہے جو اپنے قول کی قطع اور یقین پر بنیاد رکھ کر دوسرے کو مفتری اور زانی قرار دیتے ہیں۔‘‘

(اخبار الحکم مورخہ ٢٤ مارچ ١٩٠٢ء)

قول نمبر ٣:...... ’’مظلوموں کے بخارات نکلنے کے لئے یہ ایک حکمت عملی ہے کہ وہ بھی مباحثات میں سخت حملوں کا سخت جواب دیں۔‘‘

(کتاب البریہ ص ١٠، ١١، خزائن ج ١٣ ص ١٢)

قول نمبر ٤:...... ’’خائن، زانی، فاسق، فاجر، سود خور، ظالم، دروغ گو میری جماعت میں سے نہیں ہیں۔‘‘

(کشتی نوح ص ١٨، خزائن ج ١٩ ص ١٩)

گزارش !

مکرمی چوہدری (سر ظفر اللہ خاں قادیانی) صاحب

چونکہ آپ کو جماعت ہائے احمدیہ میں ایک خاص مقام حاصل ہے۔ نیز اس کے علاوہ آپ ایک بین الاقوامی شخصیت بھی ہیں جس کی وجہ سے آپ کی، جماعت، خاص طور پر عوام الناس کی نظر میں خاص اہمیت رکھتی ہے۔ نیز وقت بے وقت جماعت بھی آپ کی شخصیت اور اثر و رسوخ سے فائدہ اٹھاتی ہے اور چونکہ یہ عاجز اپنی داستان مظلومیت کو فرداً فرداً بیان کرنے سے قاصر ہے۔ اسی لئے اس کھلی چٹھی کے ذریعہ آپ کی وساطت سے جماعت ہائے احمدیہ کے فہمیدہ اشخاص سے خصوصاً اور اپنے دوست واحباب اور اہل ملک تک عموماً اپنی نحیف اور درد ناک آواز گوش گذار کرنا فرض منصبی سمجھتا ہے۔ کیونکہ میری درد بھری داستان اس شخص کے مظالم کے خلاف احتجاج ہے ۔ جو آیات استخلاف کے مطابق خلیفہ اللہ ہونے کا مدعی ہے اور بقول آپ کے خلیفہ صاحب (مرزا محمود احمد) کا ہر ارشاد دین کے معاملہ میں جماعت کے لئے قانون کا درجہ رکھتا ہے۔ (بیان تحقیقاتی عدالت ١٩٥٣ء) یہ عاجز آبائی طور پر چک سکندر ضلع گجرات کا باشندہ ہے۔ میری عمر اس وقت تقریباً ٦٢ سال ہے اور میں پیدائشی طور پر جماعت قادیان سے تعلق رکھتا تھا۔ میں نے ١٩٢٤ء میں دوسری

٢

شادی کے بعد مستقل طور پر قادیان رہائش اختیار ک رہا۔ جس کی وجہ سے مجھ پر قادیان کے کسی سربستہ کے بعد دوبارہ اپنے سابقہ وطن کھاریاں ضلع گجرات ملازمت سے پنشن حاصل کر لی اور ١٩٥٣ء میں خ ملازمت چھوڑنے کی وجہ سے بڑی سرکاری خدمت میں خلیفہ صاحب کے حکم سے صدر انجمن احمدیہ پا پر مامور ہوا۔ معمول کے مطابق خلیفہ صاحب کے اخلاص اور محنت اور جانفشانی سے کام کیا اور انجمن ثابت کیں اور ان کو میں نے تحریری طور پر خلیفہ صا کے وعظ کا نچوڑ یہ ہوتا تھا کہ دیانتداری ہمارا اصل اص کہ بددیانتوں کا سراغ لگایا جائے اور قومی بیت الما اشاعت اسلام کا بے نظیر کام صحیح اور عمدہ طریق پر چلا والے میری خاص دعاؤں کے مستحق ہوں گے۔ نتیج دامنگیر ہو گیا اور مجھے یقین تھا کہ میری دیانتدارانہ م واقعی سزا دی جائے گی اور میں اس خدمت کے صلہ ہوں گے تو خدا راضی ہو جائے گا۔ مگر وائے قسمت کئے۔ جن کا اس چٹھی میں دوبارہ بیان کرنا توضیح او ہے جسے چند جملوں میں بیان کرنا ممکن نہیں ۔ المختصر ا کی پاداش ہیں۔ ایک سوچی سمجھی سکیم کے ماتحت مجھے محض اپنے فضل سے محفوظ رکھا اور اس طرح جماع کرنے کی توفیق ملی۔ (الحمد للہ ) اور آج اس آواز کو میں نے حق وانصاف حاصل کرنے کی ہر ممکن کوش رفقاء اپنے اثر ونفوذ کو بروئے کار لاتے ہوئے میر ہے۔ مجھ سے میری جائیداد اور اولاد بھی چھین لی گئی۔

٣

صفحہ ٢٣

شادی کے بعد مستقل طور پر قادیان رہائش اختیار کر لی۔ مگر بسلسلہ ملازمت قادیان سے باہر ہی رہا۔ جس کی وجہ سے مجھ پر قادیان کے کسی سربستہ راز کا انکشاف نہ ہوا۔ حتیٰ کہ میں قیام پاکستان کے بعد دوبارہ اپنے سابقہ وطن کھاریاں ضلع گجرات میں بحیثیت مہاجر آباد ہو گیا اور ١٩٥٠ء میں ملازمت سے پنشن حاصل کر لی اور ١٩٥٣ء میں حسب ارشاد خلیفہ صاحب ربوہ چھوٹی سرکاری ملازمت چھوڑنے کی وجہ سے بڑی سرکاری خدمت کے لئے ربوہ (چناب نگر) حاضر ہو گیا۔ جہاں میں خلیفہ صاحب کے حکم سے صدر انجمن احمدیہ پاکستان ربوہ (چناب نگر) کے حسابات کی پڑتال پر مامور ہوا۔ معمول کے مطابق خلیفہ صاحب کے مواعظ حسنہ سے متاثر ہو کر میں نے انتہائی اخلاص اور محنت اور جانفشانی سے کام کیا اور انجمن میں لاکھوں روپے کا غبن اور مالی بدعنوانیاں ثابت کیں اور ان کو میں نے تحریری طور پر خلیفہ صاحب کے پیش کر دیا۔ چونکہ منبر پر خلیفہ صاحب کے وعظ کا نچوڑ یہ ہوتا تھا کہ دیانتداری ہمارا اصل اصول ہے اور جماعت کی بہترین خدمت یہ ہے کہ بددیانتوں کا سراغ لگایا جائے اور قومی بیت المال کو ایسے لوگوں سے صاف کیا جائے۔ تاکہ اشاعت اسلام کا بے نظیر کام صحیح اور عمدہ طریق پر چلایا جائے اور یہ کہ اس خدمت کو سر انجام دینے والے میری خاص دعاؤں کے مستحق ہوں گے۔ نتیجتاً مجھے بھی اس خدمت کے بجالانے کا شوق دامنگیر ہو گیا اور مجھے یقین تھا کہ میری دیانتدارانہ محنت کی حقیقی داد دی جائے گی اور ملزموں کو قرار واقعی سزادی جائے گی اور میں اس خدمت کے صلہ میں حضور کا مقرب بن جاؤں گا۔ حضور خوش ہوں گے تو خدا راضی ہو جائے گا۔ مگر وائے قسمت کہ بعد کے واقعات نے کچھ اور ہی منظر پیش کئے۔ جن کا اس چٹھی میں دوبارہ بیان کرنا تضییع اوقات ہے۔ نیز یہ ایک طویل لرزہ خیز داستان ہے جسے چند جملوں میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ المختصر اس سچ بولنے اور دیانتداری، اخلاص اور تقویٰ کی پاداش میں۔ ایک سوچی سمجھی سکیم کے ماتحت مجھے قتل کرنے کی سازش کی گئی۔ مگر اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے محفوظ رکھا اور اس طرح جماعت اور حکومت کے سامنے اصل حقائق پیش کرنے کی توفیق ملی۔ (الحمدللہ) اور آج اس آواز کو اٹھائے ایک سال سے زیادہ عرصہ ہو چکا ہے میں نے حق وانصاف حاصل کرنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ مگر خلیفہ ربوہ (چناب نگر) اور اس کے رفقاء اپنے اثر ونفوذ کو بروئے کار لاتے ہوئے میرے انصاف حاصل کرنے کی راہ میں حائل ہیں۔ مجھ سے میری جائیداد اور اولاد بھی چھین لی گئی ہے۔

٣

صفحہ ٢٤

جناب چوہدری صاحب! آپ چونکہ جماعت کے چوٹی کے بااثر بزرگ سمجھے جاتے ہیں اور جماعت کی نظر بھی خلیفہ کے بعد آپ ہی کی طرف اٹھتی ہیں۔ اس لئے میں اس کھلی چٹھی کے ذریعہ آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ آپ ایک معزز بین الاقوامی شخصیت ہونے کی حیثیت کا ہی ذرا خیال کرتے ہوئے حق کی آواز اٹھانے میں میری مدد کریں اور جماعت کے فہمیدہ اصحاب تک اصل واقعات پہنچانے میں تعاون کریں۔ میری شکایت حسب ذیل ہیں جو آپ کی جماعت کے بارے میں ہیں:

تحریک جدید سے کئی لاکھ روپیہ کا سرمایہ غائب ہے۔ یہ سرمایہ کہاں ہے؟ کس کے استعمال میں ہے اور اب تک اس قدر سرمایہ کس کے ذریعہ اور کس کے استعمال سے ضائع ہوا ہے؟

انسٹیٹیوٹ میں لگایا گیا ہے اور ان میں آج تک کیا ہوا ہے؟ گوشوارہ شائع کیا جائے تا کہ حقیقت واضح ہو۔

پرائیویٹ افراد کے پاس قرض ہے جس کے ذریعہ وہ لوگ اپنی ذاتی تجارت کے ذریعہ مالی فوائد حاصل کر رہے ہیں۔ یہ قرض کتنے سال سے ان لوگوں کے پاس ہے اور اس کی واپسی کیوں نہیں ہوتی اور انجمن کو اس سے کیا مالی فوائد حاصل ہو رہے ہیں؟

وسیع پیمانہ پر احمدیوں سے نفع کے نام پر سودی کاروبار کرتے ہیں۔ حالانکہ اسلام بنیادی طور پر سود کے لین دین کے خلاف ہے۔ اس قول اور فعل کے تضاد کی وضاحت کی جائے۔

لمیٹڈ کمپنیاں جو تقریباً دو درجن سے بھی زائد ہیں جعلی حساب کتاب بناتی ہیں اور اکثر چور بازاری میں اپنے کاروبار کرتی ہیں۔ اس کے اسباب کیا ہیں اور خلیفہ صاحب ربوہ باوجود ذاتی طور پر ان باتوں کا علم رکھنے کے ان باتوں کا تدارک کبھی نہیں کرتے۔ کیا اس کا صاف مطلب یہ نہیں کہ یہ سب کچھ ان کے ایماء اور ہدایت پر کیا جاتا ہے۔

قدر بھاری بھاری رقوم کی ڈگریاں دارالقضا دے چکی ہے جو بیچارے غریب احمدیوں کی نتیجہ میں ابنائے سلسلہ کے خاندان کے افراد ہے؟ اس کے برعکس خلیفہ صاحب نے جن ا جماعت کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔

حاصل کرتے ہیں اور بعض دیگر افراد کے وجوہات کیا ہیں۔ کیا یہ قومی اموال میں خیان

بجٹ میں (صدر انجمن اور تحریک جدید جو دو جماعت کے سامنے آخر ان تمام امور کو پیش خفیہ کارروائی ہے جو جماعت کے سامنے رکھن

مند تنقید پر مشتمل لٹریچر جن میں بیت المال کے مطالعہ سے جماعت کو منظم طور پر آخر کیوں والے شواہد پر غور کرنے کی دعوت دیتے ہیں پر قرار دادوں اور مرکز کے حکم ناموں کے ذری حضرات مرکز کے دھاندلی اور اصل حقائق

کریکٹر کے متواتر الزامات جو بار بار لگائے نہیں دیا جاتا۔ جب کہ محمد یوسف ناز صاحب دے رہے ہیں اور ابنائے سلسلہ کا قول نمبر ١١ الزام لگانے والے اصحاب کے خلاف ملکی

صفحہ ٢٥

قدر بھاری بھاری رقوم کی ڈگریاں دارالقضاء صدر انجمن احمدیہ ربوہ (جماعت کی عدالت عالیہ ) دے چکی ہے جو بیچارے غریب احمدیوں کی ساری عمر کی پونجی ہے جو وہ اپنے اخلاص اور عقیدہ کے نتیجہ میں بانی سلسلہ کے خاندان کے افراد کی نذر کر چکے ہیں۔ آخر ان کی ادائیگی میں روک کیا ہے؟ اس کے برعکس خلیفہ صاحب نے جن احمدیوں سے اپنا ذاتی روپیہ لینا ہوتا ہے ان کو خارج از جماعت کرنے میں بھی دریغ نہیں کرتے۔

حاصل کرتے ہیں اور بعض دیگر افراد کے نجی کام کیوں کرتے ہیں۔ آخر ان کے اسباب اور وجوہات کیا ہیں۔ کیا یہ قومی اموال میں خیانت نہیں اور ہر طرح قابل مذمت فعل نہیں؟

بجٹ میں (صدر انجمن اور تحریک جدید جو دونوں رجسٹرڈ شدہ ہیں) پیش کرنے سے روکا جاتا ہے۔ جماعت کے سامنے آخر ان تمام امور کو پیش کرنے سے کیا روک ہے۔ اس ادارے میں آخر کیا خفیہ کارروائی ہے جو جماعت کے سامنے رکھنا مناسب نہیں۔ اس سے کیا خطرات ہیں۔

مند تنقید پر مشتمل لٹریچر جن میں بیت المال صدر انجمن کی مالی بدعنوانیوں کو بے نقاب کیا جاتا ہے کے مطالعہ سے جماعت کو منظم طور پر آخر کیوں روکا جاتا ہے۔ جب کہ ان عیوب کی نشاندہی کرنے والے شواہد پر غور کرنے کی دعوت دیتے ہیں اور ان معترضین کا سوشل بائیکاٹ منظم طور پر وسیع پیمانہ پر قراردادوں اور مرکز کے حکم ناموں کے ذریعہ کیوں کیا جاتا ہے۔ کیا اس لئے تو نہیں کہ کہیں احمدی حضرات مرکز کی دھاندلی اور اصل حقائق سے واقف نہ ہو جائیں۔

کریکٹر کے متواتر الزامات جو بار بار لگائے جا رہے ہیں۔ ان کا جواب وضاحتی بیان سے کیوں نہیں دیا جاتا۔ جب کہ محمد یوسف ناز صاحب آف کراچی مباہلہ کے لئے مرزا محمود کو بار بار دعوت دے رہے ہیں اور بانی سلسلہ کا قول نمبر ٢ اوپر درج کیا گیا ہے۔ اگر مباہلہ مناسب نہ ہو تو پھر ان الزام لگانے والے اصحاب کے خلاف ملکی عدالت میں ہتک عزت کا دعویٰ کیوں نہیں کیا جاتا۔

٥

صفحہ ٢٦

الزام سے برأت کے یہی دو طریقے ہیں اور محض سکوت اور خاموشی سے الزام نہ صرف قائم رہتا ہے بلکہ مستحکم ہو جاتا ہے۔ (الخاموشی نیم رضا) اگر موجودہ خلیفہ کی زندگی میں ان الزامات کی صفائی نہ ہو سکی تو ان کی وفات کے بعد جماعت ربوہ (چناب نگر) مخالفین کے سامنے ان کا دفاع کیسے کرے گی اور خصوصاً ان کی اولاد کو صفائی پیش کرنا مشکل ہوگی۔

اور سب سے آخر میں یہ بھی عرض کرتا ہوں کہ میرے علم مشاہدہ اور تحقیقات کے نتیجہ سے یہ امر بھی ثابت ہے کہ آپ نے بھی صدر انجمن احمدیہ کے اکاؤنٹ سے مبلغ پچاس ہزار روپیہ سال ١٩٥٢ء میں وصول کیا ہے۔ جس کو خلیفہ صاحب نے خفیہ رکھنے کی ہدایت کی ہے اور رقم ابھی تک واپس نہیں ہوئی۔ یہ کیوں، بدیں وجہ آپ کے لئے یہ ضروری ہے کہ آپ اپنی پوزیشن پبلک کے سامنے واضح کریں اور صدر انجمن احمدیہ رجسٹرڈ کے موجودہ غبن سے لاتعلقی کا اظہار کریں اور میرے الزامات کی تحقیقات کے لئے جماعت کو مجبور کریں اور میرے خلاف موجودہ سماجی بائیکاٹ سے جماعت کو روکیں اور دنیا کو یہ بتادیں کہ آپ کی جماعت غیرت ایمانی رکھتی ہے اور پیر پرست نہیں صحیح روح اور خدمت ان کا نصب العین ہے۔ تاکہ کسی کو یہ کہنے کا موقع نہ ملے کہ اس جماعت کے قول اور فعل میں بڑا تضاد ہے۔

محترم چوہدری صاحب! ہم دونوں ہی تقریباً زندگی کے آخری حصہ میں ہیں اور آخر ہم نے اپنے مولا حقیقی کے پاس جانا ہے۔ اس لئے میں اس حقیقی عدالت کے عدل وانصاف کی یاد دلا کر آپ کو اپنے فرض کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔ آپ جماعت کے فہمیدہ اصحاب کی راہ نمائی کریں اور ان کو صحیح راہ پر لانے کے لئے پہل کریں اور اس طرح حق وانصاف حاصل کرنے میں میری مدد کریں۔ والسلام!

ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام
وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا

مورخہ ١٥؍مئی ١٩٥٨ء

خاکسار: (مولوی) صدر الدین ساکن چک سکندر تحصیل کھاریاں ضلع گجرات معرفت سیکرٹری مرکزی حقیقت پسند پارٹی رجسٹرڈ نمبر ٨۔ اے مدن ولا مسافر گلی کرشن نگر لاہور پوسٹ بکس نمبر ٣٣٢

PDF 28

خاتم النبیین لا نبی بعدی

مرکزی دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان

ربوہ (چناب نگر) میں

کیا کچھ ہورہا ہے؟

محمد رفیق باجوہ

صفحہ ٢٩

گواہ صالح نور اور مجھے قادیانیوں کی طرف سے خطرناک دھمکیاں دی جارہی ہیں

مسلمان طلباء کی جاسوسی کے لئے قادیانی طلباء کو بھیجا جاتا ہے

گواہ رفیق احمد باجوہ کا بیان!

لاہور یکم جولائی ١٩٧٤ء (نامہ نگار) سانحہ ربوہ (چناب نگر) کے تحقیقاتی ٹربیونل جج مسٹر جسٹس کے ایم اے صمدانی نے آج ایک اور گواہ ٹھیکیدار ثناء اللہ کا بیان قلمبند کیا۔ ثناء اللہ سمیت اب تک ٣٣ گواہوں کے بیانات قلمبند کئے جاچکے ہیں۔ ثناء اللہ سے قبل گواہ رفیق احمد باجوہ پر جرح مکمل ہوئی۔ ثناء اللہ نے آج عدالت میں احمدیہ فرقہ کے سربراہ اور خلیفہ اور ان کے عزیز واقارب اور ان کے زیر اثر ربوہ کے لوگوں پر الزام لگایا کہ وہ قریبی آبادیوں اور دیہات سے خوبصورت لڑکیوں کو اغوا کراتے ہیں اور پھر انہیں خلیفہ کے محل میں رکھنے کے بعد خلیفہ کے منظور نظر لوگوں کے حوالے کر دیا جاتا ہے۔ گواہ نے اس سلسلہ میں ٣ خواتین کا نام بھی فاضل جج کو لکھوائے اور بتایا کہ یہ اغوا شدہ خواتین اب بھی ربوہ (چناب نگر) میں بااثر لوگوں کے پاس موجود ہیں۔ لیکن ان کے ورثاء کی شکایات پر پولیس نے کبھی کوئی قانونی کارروائی نہیں کی۔ کیونکہ پولیس کا بڑے سے بڑا افسر بھی ربوہ (چناب نگر) میں قادیانی فرقہ کی تنظیم کی اجازت کے بغیر کوئی کارروائی نہیں کر سکتا۔ گواہ نے اس طرح قتل کے بھی تین واقعات کا ذکر کیا اور کہا کہ دو افراد کو بااثر لوگوں نے سنگسار کرا دیا اور ایک کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے پھینکوا دیا۔ فاضل ٹربیونل جج نے اس پر اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل مسٹر کمال مصطفیٰ بخاری کو ہدایت کی ہے کہ وہ سپرنٹنڈنٹ پولیس جھنگ سے اس ضمن میں فوری طور پر خصوصی رپورٹ طلب کریں۔

مختلف وکلاء کی جرح کے دوران گواہ نے بتایا کہ ربوہ (چناب نگر) میں ناکہ بندی کا رواج عام ہے۔ جب رابعہ انقلابیہ کی خفیہ تنظیم نے ١٩٧٢ء میں ربوہ میں جلسہ منعقد کرنے کی کوشش کی تو ان کی ناکہ بندی کی کوشش کی گئی۔ گواہ نے کہا کہ رابعہ انقلابیہ ایسی تحریک ہے جو موجودہ خلیفہ کی برادری کش پالیسی کے خلاف چلائی گئی ہے۔ گواہ نے بتایا کہ مرزا ناصر احمد (قادیانی خلیفہ) کا ایک باورچی محمد علی بھی تھا۔ باورچی گیری کے زمانہ میں وہ مرزا ناصر احمد کی نجی گھریلو زندگی کے بارے میں لوگوں کو باتیں بتاتا تھا۔ لہٰذا اسے چند ماہ پیشتر قتل کر دیا گیا۔ امورِ عامہ میں مقدمہ درج کرایا گیا۔ لیکن پھر اسے ختم کر دیا گیا اور آج تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی۔ گواہ نے کہا کہ وہ ذاتی طور پر اس باورچی کے بارے میں جانتا ہے۔ ویسے بھی ربوہ میں

سب کو معلوم تھا کہ وہ خلیفہ کے گھریلو امور کے بارے طور پر خلیفہ کے گھر سے نکال دیا گیا تھا۔ اس نے باتیں احمد اور بدرالدین نے ایک حادثہ میں جان دے دی دوران رونما ہوا۔ کوئی رپورٹ پولیس میں نہیں دی گئی کر لے اور جماعت سے نکل جائے تو اس کا نہ صرف یہ کیا جاتا ہے۔ گواہ نے بتایا کہ سرکاری افسروں کو جن انتظامیہ کے تابع ہونا پڑتا ہے۔ گواہ نے کہا کہ احمدی سے بعض طلباء کو غیر احمدی طلباء کے جلسوں میں شرکـ بات صحیح ہے کہ قادیانی مختلف سیاسی تنظیموں بشمول کمیـ آج عدالت سے یہ شکایت بھی کی کہ اسے اور گواہ صا انجام کی دھمکیاں مل رہی ہیں۔ گواہ نے اعجاز بٹالوی کے گھر رہا جو احمدی ہیں اور جن کے بیٹے سے میری میں تعلیم الاسلام کالج ربوہ چھوڑا۔ وہاں فزکس کے پڑھاتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ وہ احمدی ہیں۔ ٧٣ء میں شرکت کی اور تقریر بھی کی۔ میرے علاوہ مفتی محمو تاج محمود، آغا شورش کاشمیری اور سردار عبدالقیوم نے لائل پور (فیصل آباد) میں ملا ہوں۔ جو میرے ہاں مہمـ شورش سے میں ان کے دفتر میں لاہور ہی ملا ہو ملاقاتیں ہوئی ہیں۔

گواہ نے مسٹر خاقان بابر کے سوالوں کـ احمدیہ قادیان کے سربراہ ہیں اور موجودہ قادیانی خلیفـ بین الاقوامی جماعت سمجھتی ہے۔ یہ صحیح ہے کہ البدر نامی قیام کے دوران ہم یہ پوسٹر خلافت لائبریری میں پڑ بھارت سے وفاداری برقرار رکھی جائے۔ مرزا وسیم احـ میں نے انہیں دو تین مرتبہ دیکھا ہے۔ قادیان والو قائم ہے۔ میں نے ١٩٦٥ء میں سنا تھا کہ قادیانی فر

صفحہ ٢٩

سب کو معلوم تھا کہ وہ خلیفہ کے گھریلو امور کے بارے میں بازار میں باتیں بتایا کرتا تھا۔ اسے فوری طور پر خلیفہ کے گھر سے نکال دیا گیا تھا۔ اس نے باتیں بتانے کا سلسلہ ترک نہ کیا۔ دو افراد لطیف احمد اور بدرالدین نے ایک حادثہ میں جان دے دی۔ یہ واقعہ ربوہ میں اس سال گھوڑ دوڑ کے دوران رونما ہوا۔ کوئی رپورٹ پولیس میں نہیں دی گئی۔ اگر کوئی پیدائشی احمدی اپنے عقیدہ کو تبدیل کرلے اور جماعت سے نکل جائے تو اس کا نہ صرف یہ کہ کمرشل بائیکاٹ کیا جاتا ہے بلکہ اس پر تشدد کیا جاتا ہے۔ گواہ نے بتایا کہ سرکاری افسروں کو جن کا ربوہ (چناب نگر) سے تعلق ہے ربوہ کی انتظامیہ کے تابع ہونا پڑتا ہے۔ گواہ نے کہا کہ احمدی طلباء سے جاسوسی کا کام لینے کے لئے ربوہ سے بعض طلباء کو غیر احمدی طلباء کے جلوسوں میں شرکت کے لئے بھیجا جاتا ہے۔ گواہ نے کہا کہ یہ بات صحیح ہے کہ قادیانی مختلف سیاسی تنظیموں بشمول کمیونسٹ تنظیموں میں بھی شامل ہیں۔ گواہ نے آج عدالت سے یہ شکایت بھی کی کہ اسے اور گواہ صالح نور کو احمدیوں کی طرف سے عبرتناک انجام کی دھمکیاں مل رہی ہیں۔ گواہ نے اعجاز بٹالوی کی جرح پر بتایا کہ لاہور میں میں میجر ابوالخیر کے گھر رہا جو احمدی ہیں اور جن کے بیٹے سے میری ہمشیرہ کی شادی ہوئی ہے۔ میں نے ١٩٧٢ء میں تعلیم الاسلام کالج ربوہ چھوڑا۔ وہاں فزکس کے ڈیپارٹمنٹ میں مسٹر حبیب الرحمن پروفیسر پڑھاتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ وہ احمدی ہیں۔ ١٩٧٣ء میں میں نے چنیوٹ کی ختم نبوت کانفرنس میں شرکت کی اور تقریر بھی کی۔ میرے علاوہ مفتی محمود، عبداللہ درخواستی، مولانا ہزاروی اور مولانا تاج محمود، آغا شورش کاشمیری اور سردار عبدالقیوم نے بھی تقریر کی تھی۔ ان میں سے میں تاج محمود کو لائل پور (فیصل آباد) میں ملا ہوں۔ جو میرے ہاں میری عیادت کرنے چونڈہ بھی آئے تھے۔ آغا شورش کو میں نے ان کے دفتر میں لاہور ہی ملا ہوں۔ آغا شورش کے ساتھ میری اور بھی چند ملاقاتیں ہوئی ہیں۔

گواہ نے مسٹر خاقان بابر کے سوالوں کے جواب میں بتایا کہ مرزا وسیم احمد جماعت احمدیہ قادیان کے سربراہ ہیں اور موجودہ قادیانی خلیفہ ناصر احمد کے بھائی ہیں۔ جماعت احمدیہ خود کو بین الاقوامی جماعت سمجھتی ہے۔ یہ صحیح ہے کہ البدر نامی ایک پرچہ قادیان سے نکلتا ہے۔ ربوہ میں قیام کے دوران ہم یہ پرچہ خلافت لائبریری میں پڑھتے رہے ہیں۔ اس پرچہ کی پالیسی یہ تھی کہ بھارت سے وفاداری برقرار رکھی جائے۔ مرزا وسیم احمد سالانہ جلسوں میں ربوہ آتے رہے ہیں۔ میں نے انہیں دو تین مرتبہ دیکھا ہے۔ قادیان والوں کے ساتھ ربوہ کا راستہ انگلستان کی معرفت قائم ہے۔ میں نے ١٩٦٥ء میں سنا تھا کہ قادیانی خلیفہ کی تقریریں بھارت کے حق میں آرہی۔

٣

صفحہ ٣٠

جب کہ ١٩٧١ء میں میں نے خود مرزا وسیم کی تقریر ریڈیو پر خود بھی سنی جو کہ بھارت کے حق میں تھی۔ یہ بھی صحیح ہے کہ مرزا وسیم انتظامی امور کی رو سے ربوہ کے تحت ہیں اور کوئی تقریر ربوہ والوں کی مرضی و منشاء کے بغیر نہیں کر سکتے۔ اسرائیل کا مشن بھی اسی طرح اسرائیلی حکومت کا ساتھ دیتا ہے۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ ١٩٦٧ء میں ربوہ کی عبادت گاہوں میں شیرینی تقسیم کی گئی تھی۔ اس کی وجہ اسرائیل کا ١٩٦٧ء کی جنگ میں عربوں کے مقابلہ میں کامیابی حاصل کرنا تھا۔ یہ بھی صحیح ہے کہ قصر خلافت ربوہ کے سٹیشن ماسٹر مرزا عبد السمیع کو جانتا ہوں۔ ہر احمدی کی طرح مرزا سمیع بھی نظارت کا ایک حصہ تھے۔ تمام احمدیوں کا تعلق امور عامہ سے ہوتا ہے۔ سرکاری ملازمت کرنے والے احمدی اپنے اپنے محکمہ کی سرگرمیوں کے بارے میں امور عامہ کو اطلاع دیتے ہیں۔ جماعت احمدیہ لاہور کا اخبار ”لاہور“ ہے۔ ثاقب زیروی اس کے ایڈیٹر ہیں۔ اس پرچہ میں شاہ فیصل اور کرنل قذافی کے خلاف مضامین چھپتے رہے۔ میں احمدیہ تبلیغی مشن یوگنڈا کے انچارج حکیم ابراہیم کو جانتا ہوں۔ وہ پاکستان بھی آئے تھے۔ ایسے لوگوں کو پریس میں کوئی بات دینا منع ہے۔ کیونکہ خلیفہ کی اجازت کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا۔ حکیم ابراہیم کا گھر ربوہ میں ہے۔

گواہ کو اس مرحلہ پر ایک انگوٹھی دکھائی گئی۔ جس کے بارہ میں اس نے کہا کہ ایسی انگوٹھیاں عموماً ہر قادیانی پہنتا ہے۔ یہ خاص شناخت کے اعتبار سے پہنی جاتی ہے۔ قادیانیوں کا سب سے بڑا تبلیغی مرکز برطانیہ ہے۔ وقوعہ ربوہ کے بعد قصر خلافت میں ایک اجلاس بلوایا گیا۔ جس میں ٦٠٠ / ٧٠٠ افراد موجود تھے۔ یہ اجلاس اپنی مرضی کے آدمیوں کو گرفتار کرانے کے لئے بلوایا گیا۔

گواہ نمبر ٣٣، ثناء اللہ ٹھیکیدار سرگودھا

میں احمدی نہیں ہوں۔ ربوہ میں میں نے ایک پہاڑی کان کا ٹھیکہ ١٩٦٦ء میں حاصل کیا تھا۔ وقوعہ کے روز میں سرگودھا سے ربوہ کے لئے چناب ایکسپریس میں آ رہا تھا۔ منصور احمد میرے ڈبہ میں بیٹھا تھا۔ ظہور، مسعود اور گلزار ہر سٹیشن پر اترتے تھے اور ڈبوں کے آگے پھر کر سوار ہو جاتے تھے۔ انہیں عموماً مرزائی کہا جاتا ہے۔ میرے ڈبہ میں صرف منصور بیٹھا رہا۔ باقی تین کو صرف میں سٹیشنوں پر دیکھ لیتا تھا۔ منصور لالیاں ریلوے اسٹیشن پر اتر گیا۔ جب ربوہ اسٹیشن آنے لگا اور گاڑی بیرونی سگنل کے قریب پہنچی تو میں بھی ڈبہ کے دروازے پر آ گیا اور گاڑی ذرا آگے گئی تو پلیٹ فارم پر پہنچی تو گاڑی میں سوار متعدد لوگوں نے پلیٹ فارم پر آئے ہوئے مجمع کو ہاتھوں کے اشارے سے بلوایا۔ جب گاڑی آہستہ ہوئی تو مجمع بہت قریب آ گیا اور انہوں نے ”غلام احمد کی

٤

صفحہ ٣١

بجے“ کا نعرہ لگایا۔ میں اپنے ڈبے سے اترا وہاں سے اسٹیشن ماسٹر کا دفتر بھی نظر آتا ہے۔ گاڑی اتر کر میں اسٹیشن ماسٹر کے دفتر کی جانب گیا۔ مرزا سمیع اسٹیشن ماسٹر کو میں بخوبی جانتا تھا۔ لہٰذا میں نے سوچا کہ کچھ دیر وہاں گزاروں۔ میں نے باہر سے دفتر میں دیکھا تو بشیر احمد عمومی فون پر بات کر رہا تھا اور وہاں دو تین اور آدمی بھی موجود تھے۔ اسٹیشن ماسٹر وہاں موجود نہ تھا۔ میں وہیں کھڑا ہو گیا اور پلیٹ فارم پر ہونے والی گڑبڑ کو دیکھتا رہا۔ اسی اثناء میرے سامنے کے سیکنڈ کلاس کے ایک ڈبہ سے دو طلبہ کو گھسیٹ کر اتارا گیا اور انہیں پلیٹ فارم پر زدوکوب کیا گیا۔ گاڑی کے پچھلے حصہ کی جانب ہنگامہ زیادہ تھا۔ لہٰذا میں وہاں جا کر کھڑا ہوا۔ وہاں احمدیت زندہ باد، غلام احمد کی جے اور پکڑو، مارو، جانے نہ پائے کے نعرے سنائی دیئے۔ ہجوم کی تعداد تین چار ہزار تھی۔ البتہ مارنے والے کم تھے۔ گاڑی کے پچھلے حصہ میں لوگ طلباء کو مار رہے تھے اور وہاں کچھ لوگ اکسانے والے بھی تھے۔ جو دوسروں کو کہتے تھے کہ ”جاؤ احمدیت کا حق ادا کرو۔“ اکسانے والوں میں سے میں عبدالحمید چیمہ، ملک خدا بخش ریٹائرڈ تھانیدار اور مولوی برکات احمد کو جانتا ہوں۔ یہ سب ربوہ شہر کے رہنے والے ہیں۔ جب میں نے دو تین آدمیوں سے واقعہ پوچھا تو انہوں نے مجھے کہا کہ: ”جاؤ احمدیت کا حق ادا کرو۔“

کچھ دیر بعد اکسانے والوں نے مارنے والوں سے کہا کہ بس کرو۔ کافی ہو چکا۔ اس لئے واپس آ جاؤ۔ جب گاڑی چل پڑی تو یارڈ کی طرف میں نے کافی سامان بکھرا ہوا پایا۔ اس طرف کو سرظفر اللہ کی کوٹھی ہے۔ جہاں سے پانچ چھ آدمی کھڑے ہو کر دیکھ رہے تھے۔ ہنگامہ دیکھ کر میری طبیعت خراب ہو گئی اور میں سرگودھا جانے کے لئے چل پڑا۔ تا کہ بس اڈہ پر جاؤں۔ میرے آگے چند قدم کے فاصلہ پر کالج کے طلباء کی ایک ٹولی جا رہی تھی۔ ان میں سے ایک طالب علم شیر باز نے جسے میں جانتا ہوں میرے پوچھنے پر بتایا کہ آج ہم نے بتایا کہ ہمارے خلاف بولنے والوں کا کیا حشر ہوتا ہے۔ جب میں سرظفر اللہ خاں کی کوٹھی کے قریب سے گزرا تو میں نے میاں محمد رفیق، ظہور باجوہ اور راشد کو دیکھا۔ جن کے ساتھ دو اور آدمی بھی تھے۔ یہ لوگ کوٹھی کے برآمدہ میں کھڑے تھے۔ میاں محمد رفیق موجودہ خلیفہ ناصر احمد کے بھائی ہیں۔ وہاں دو باڈی گارڈ بھی کھڑے تھے۔ جن کے پاس غالباً جی تھری کی رائفلیں تھیں۔ پھر میں لاری اڈہ پر آگیا اور بس میں سوار ہو کر سرگودھا چلا گیا۔ سرگودھا سے دوسرے دن بس میں اڈہ پر آیا اور تانگہ میں بیٹھا۔ وہاں میں نے دیکھا کہ میاں رفیق اپنے ساتھیوں ملک خدا بخش ریٹائرڈ تھانیدار محمد منور وغیرہ کے ساتھ ایوان محمود کے سامنے کھڑے تھے۔ میاں رفیق نے مجھے کہا کہ پٹھان تم نے ہمارے خلاف بکنے

٥ خلاف بکنے

٥ ٥ تم نے ہمارے خلاف بکنے بکنے Wait, looking closer at the last line: "ایوان محمود کے سامنے کھڑے تھے۔ میاں رفیق نے مجھے کہا کہ پٹھان تم نے ہمارے خلاف بکنے" Wait, why did I split the last line into two lines? The image has it on one line: ایوان محمود کے سامنے کھڑے تھے۔ میاں رفیق نے مجھے کہا کہ پٹھان تم نے ہمارے خلاف بکنے

Correction to final line: ایوان محمود کے سامنے کھڑے تھے۔ میاں رفیق نے مجھے کہا کہ پٹھان تم نے ہمارے خلاف بکنے

٥ خلافWait, no, the line exactly is: ایوان محمود کے سامنے کھڑے تھے۔ میاں رفیق نے مجھے کہا کہ پٹھان تم نے ہمارے خلاف بکنے

Let me output exactly.

بجے“ کا نعرہ لگایا۔ میں اپنے ڈبے سے اترا وہاں سے اسٹیشن ماسٹر کا دفتر بھی نظر آتا ہے۔ گاڑی اتر کر میں اسٹیشن ماسٹر کے دفتر کی جانب گیا۔ مرزا سمیع اسٹیشن ماسٹر کو میں بخوبی جانتا تھا۔ لہٰذا میں نے سوچا کہ کچھ دیر وہاں گزاروں۔ میں نے باہر سے دفتر میں دیکھا تو بشیر احمد عمومی فون پر بات کر رہا تھا اور وہاں دو تین اور آدمی بھی موجود تھے۔ اسٹیشن ماسٹر وہاں موجود نہ تھا۔ میں وہیں کھڑا ہو گیا اور پلیٹ فارم پر ہونے والی گڑبڑ کو دیکھتا رہا۔ اسی اثناء میرے سامنے کے سیکنڈ کلاس کے ایک ڈبہ سے دو طلبہ کو گھسیٹ کر اتارا گیا اور انہیں پلیٹ فارم پر زدوکوب کیا گیا۔ گاڑی کے پچھلے حصہ کی جانب ہنگامہ زیادہ تھا۔ لہٰذا میں وہاں جا کر کھڑا ہوا۔ وہاں احمدیت زندہ باد، غلام احمد کی جے اور پکڑو، مارو، جانے نہ پائے کے نعرے سنائی دیئے۔ ہجوم کی تعداد تین چار ہزار تھی۔ البتہ مارنے والے کم تھے۔ گاڑی کے پچھلے حصہ میں لوگ طلباء کو مار رہے تھے اور وہاں کچھ لوگ اکسانے والے بھی تھے۔ جو دوسروں کو کہتے تھے کہ ”جاؤ احمدیت کا حق ادا کرو۔“ اکسانے والوں میں سے میں عبدالحمید چیمہ، ملک خدا بخش ریٹائرڈ تھانیدار اور مولوی برکات احمد کو جانتا ہوں۔ یہ سب ربوہ شہر کے رہنے والے ہیں۔ جب میں نے دو تین آدمیوں سے واقعہ پوچھا تو انہوں نے مجھے کہا کہ: ”جاؤ احمدیت کا حق ادا کرو۔“

کچھ دیر بعد اکسانے والوں نے مارنے والوں سے کہا کہ بس کرو۔ کافی ہو چکا۔ اس لئے واپس آ جاؤ۔ جب گاڑی چل پڑی تو یارڈ کی طرف میں نے کافی سامان بکھرا ہوا پایا۔ اس طرف کو سرظفر اللہ کی کوٹھی ہے۔ جہاں سے پانچ چھ آدمی کھڑے ہو کر دیکھ رہے تھے۔ ہنگامہ دیکھ کر میری طبیعت خراب ہو گئی اور میں سرگودھا جانے کے لئے چل پڑا۔ تا کہ بس اڈہ پر جاؤں۔ میرے آگے چند قدم کے فاصلہ پر کالج کے طلباء کی ایک ٹولی جا رہی تھی۔ ان میں سے ایک طالب علم شیر باز نے جسے میں جانتا ہوں میرے پوچھنے پر بتایا کہ آج ہم نے بتایا کہ ہمارے خلاف بولنے والوں کا کیا حشر ہوتا ہے۔ جب میں سرظفر اللہ خاں کی کوٹھی کے قریب سے گزرا تو میں نے میاں محمد رفیق، ظہور باجوہ اور راشد کو دیکھا۔ جن کے ساتھ دو اور آدمی بھی تھے۔ یہ لوگ کوٹھی کے برآمدہ میں کھڑے تھے۔ میاں محمد رفیق موجودہ خلیفہ ناصر احمد کے بھائی ہیں۔ وہاں دو باڈی گارڈ بھی کھڑے تھے۔ جن کے پاس غالباً جی تھری کی رائفلیں تھیں۔ پھر میں لاری اڈہ پر آگیا اور بس میں سوار ہو کر سرگودھا چلا گیا۔ سرگودھا سے دوسرے دن بس میں اڈہ پر آیا اور تانگہ میں بیٹھا۔ وہاں میں نے دیکھا کہ میاں رفیق اپنے ساتھیوں ملک خدا بخش ریٹائرڈ تھانیدار محمد منور وغیرہ کے ساتھ ایوان محمود کے سامنے کھڑے تھے۔ میاں رفیق نے مجھے کہا کہ پٹھان تم نے ہمارے خلاف بکنے... wait, it is: خلاف بکنے.

Let's do the actual output now.

بجے“ کا نعرہ لگایا۔ میں اپنے ڈبے سے اترا وہاں سے اسٹیشن ماسٹر کا دفتر بھی نظر آتا ہے۔ گاڑی اتر کر میں اسٹیشن ماسٹر کے دفتر کی جانب گیا۔ مرزا سمیع اسٹیشن ماسٹر کو میں بخوبی جانتا تھا۔ لہٰذا میں نے سوچا کہ کچھ دیر وہاں گزاروں۔ میں نے باہر سے دفتر میں دیکھا تو بشیر احمد عمومی فون پر بات کر رہا تھا اور وہاں دو تین اور آدمی بھی موجود تھے۔ اسٹیشن ماسٹر وہاں موجود نہ تھا۔ میں وہیں کھڑا ہو گیا اور پلیٹ فارم پر ہونے والی گڑبڑ کو دیکھتا رہا۔ اسی اثناء میرے سامنے کے سیکنڈ کلاس کے ایک ڈبہ سے دو طلبہ کو گھسیٹ کر اتارا گیا اور انہیں پلیٹ فارم پر زدوکوب کیا گیا۔ گاڑی کے پچھلے حصہ کی جانب ہنگامہ زیادہ تھا۔ لہٰذا میں وہاں جا کر کھڑا ہوا۔ وہاں احمدیت زندہ باد، غلام احمد کی جے اور پکڑو، مارو، جانے نہ پائے کے نعرے سنائی دیئے۔ ہجوم کی تعداد تین چار ہزار تھی۔ البتہ مارنے والے کم تھے۔ گاڑی کے پچھلے حصہ میں لوگ طلباء کو مار رہے تھے اور وہاں کچھ لوگ اکسانے والے بھی تھے۔ جو دوسروں کو کہتے تھے کہ ”جاؤ احمدیت کا حق ادا کرو۔“ اکسانے والوں میں سے میں عبدالحمید چیمہ، ملک خدا بخش ریٹائرڈ تھانیدار اور مولوی برکات احمد کو جانتا ہوں۔ یہ سب ربوہ شہر کے رہنے والے ہیں۔ جب میں نے دو تین آدمیوں سے واقعہ پوچھا تو انہوں نے مجھے کہا کہ: ”جاؤ احمدیت کا حق ادا کرو۔“

کچھ دیر بعد اکسانے والوں نے مارنے والوں سے کہا کہ بس کرو۔ کافی ہو چکا۔ اس لئے واپس آ جاؤ۔ جب گاڑی چل پڑی تو یارڈ کی طرف میں نے کافی سامان بکھرا ہوا پایا۔ اس طرف کو سرظفر اللہ کی کوٹھی ہے۔ جہاں سے پانچ چھ آدمی کھڑے ہو کر دیکھ رہے تھے۔ ہنگامہ دیکھ کر میری طبیعت خراب ہو گئی اور میں سرگودھا جانے کے لئے چل پڑا۔ تا کہ بس اڈہ پر جاؤں۔ میرے آگے چند قدم کے فاصلہ پر کالج کے طلباء کی ایک ٹولی جا رہی تھی۔ ان میں سے ایک طالب علم شیر باز نے جسے میں جانتا ہوں میرے پوچھنے پر بتایا کہ آج ہم نے بتایا کہ ہمارے خلاف بولنے والوں کا کیا حشر ہوتا ہے۔ جب میں سرظفر اللہ خاں کی کوٹھی کے قریب سے گزرا تو میں نے میاں محمد رفیق، ظہور باجوہ اور راشد کو دیکھا۔ جن کے ساتھ دو اور آدمی بھی تھے۔ یہ لوگ کوٹھی کے برآمدہ میں کھڑے تھے۔ میاں محمد رفیق موجودہ خلیفہ ناصر احمد کے بھائی ہیں۔ وہاں دو باڈی گارڈ بھی کھڑے تھے۔ جن کے پاس غالباً جی تھری کی رائفلیں تھیں۔ پھر میں لاری اڈہ پر آگیا اور بس میں سوار ہو کر سرگودھا چلا گیا۔ سرگودھا سے دوسرے دن بس میں اڈہ پر آیا اور تانگہ میں بیٹھا۔ وہاں میں نے دیکھا کہ میاں رفیق اپنے ساتھیوں ملک خدا بخش ریٹائرڈ تھانیدار محمد منور وغیرہ کے ساتھ ایوان محمود کے سامنے کھڑے تھے۔ میاں رفیق نے مجھے کہا کہ پٹھان تم نے ہمارے خلاف بکنے

٥

صفحہ ٣٢

والوں کا کل حشر دیکھ لیا ہے۔ میں نے جواب دیا کہ اچھی طرح دیکھا ہے۔ میں کام پر گیا تو ایک ٹرک آیا۔ ٹرک والوں نے بتایا کہ چنیوٹ میں جلوس نکلنے والا ہے۔ میں اسی ٹرک میں واپس چنیوٹ گیا اور اپنے ٹرک والوں سے اس روز کام بند کرنے کا حکم دیا۔ چنیوٹ میں بہت بڑا ہجوم تھا۔ میں نے ڈاکٹر شریف ڈینٹسٹ کی دکان کے باہر بڑا شور دیکھا۔ وہاں مجھے پتہ چلا کہ ڈاکٹر شریف نے گولی چلا دی ہے۔ جس کی وجہ سے کوئی زخمی ہو گیا ہے۔ ابھی میں وہیں تھا کہ ڈاکٹر شریف نے دوبارہ گولی چلائی۔ یہ گولی ڈاکٹر کے گھر سے چل رہی تھی۔ اسی اثناء میں سپرنٹنڈنٹ پولیس بارن خاں ایک لڑکے کو سٹینڈ پر لائے اور ٹرک والوں سے اسے ہسپتال لے جانے کے لئے کہا۔ مجمع اس قدر زیادہ تھا کہ میں پیچھے ہٹ گیا۔ پھر میں چنیوٹ سے سرگودھا آ گیا۔

ربوہ میں جب میں نے کام شروع کیا تو وہاں یہ اصول تھا کہ یا تو ١٥ فیصد منافع ہر ماہ جماعت کے خزانہ میں جمع کراؤ یا ربوہ کے کسی آدمی کو حصہ دار بناؤ۔ چنانچہ مجھے بھی یہ کہا گیا۔ میں نے انکار کر دیا۔ مجھے انجمن کی طرف سے کہا گیا کہ ہم آپ کے ٹرکوں کے لئے ربوہ کی سڑکیں بند کر دیں گے۔ مجھے یہ بات حمید بٹ نے کہی۔ ان سڑکوں کے بغیر میں اپنے کام پر نہیں جاسکتا تھا۔ میں نے پھر بھی انکار کر دیا اور کہا کہ تم بڑے شوق سے سڑکیں بند کرو۔ میں عدالت عالیہ میں بندش کے حکم کو چیلنج کروں گا۔ دوسرے دن میاں منور نے یہ پیغام بھیجا کہ آپ کام کرتے رہیں اور پہلے کے پیغام کو خارج سمجھیں۔ پیغام لانے والا آدمی شیر زمان ٹھیکیدار ہے۔ شیر زمان ربوہ کے آس پاس کی پہاڑیوں پر کام کر رہا ہے۔ اقصیٰ تک پختہ سڑک ہے۔ وہاں سے کچی سڑک پہاڑی کان تک چلی جاتی ہے۔ جہاں میں کام کر رہا تھا میرے ٹرک کچی سڑک سے ہو کر آتے تھے۔ اس سڑک کے اردگرد ایک شخص مبارک احمد کی زمین تھی۔ جس نے انجمن کے کہنے پر میرے ٹرک اپنی زمینوں کے بیچ سے گزارنے کو منع کر دیا اور کہا کہ یہ چار سو روپیہ ماہوار ادا کرو یا ٹرک بند کر دو۔ میں نے سول جج چنیوٹ کی عدالت میں دعویٰ دائر کر دیا ہے جو زیر سماعت ہے۔

٢٩ مئی ١٩٧٤ء کے واقعہ کی رپورٹ اس لئے درج نہیں کرائی۔ کیونکہ مجھے علم تھا کہ اس کا نتیجہ کچھ اچھا نہیں نکلے گا۔ میں نے ٣٠ مئی کو ربوہ میں پولیس بھی دیکھی تھی اور یہ بھی سنا تھا کہ انہوں نے کچھ لوگوں کو گرفتار کر لیا ہے۔ مسٹر شیر عالم نے جواب میں بتایا کہ ان کا تجربہ ہے کہ پولیس احمدیوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کر سکتی۔ کرم الٰہی بھٹی کے سوالوں کے جواب میں بتایا کہ لوٹ مار اور ظلم و تشدد اور امن عامہ تباہ کرنا ربوہ والوں کا معمول بن چکا ہے اور ٢٩ مئی کا واقعہ اس کی معمولی مثال ہے۔

٦

PDF 34

خاتم النبیین لا نبی بعدی

صحیح مسلم کتاب الفضائل، باب فضلہ صلی اللہ علیہ وسلم علی الانبیاء

ربوہ کی کہانی

ربوہ والوں کی زبانی

عزیز احمد ٹھیکیدار چک جھمرہ

صفحہ ٣٤

انتساب !

(قادیانی خاندان نبوت کے نام)

"بسم اللہ الرحمن الرحیم ....... نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم"

خاکسار عزیز احمد ٹھیکیدار منڈی چک جھمرہ نے ١٩٢٧ء میں جماعت قادیان میں شمولیت کی۔ گو ہمارے خاندان میں بعض افراد کا اس جماعت سے دخل تھا۔ مگر ہمارے گھر میں مجھ سے ہی ابتداء ہوئی۔ میرے والد محترم میاں فضل کریم صاحب مرحوم منڈی چک جھمرہ میں ایک بہترین نیک اور ذی عزت مسلمان تھے۔ شہر اور علاقہ کے ہندو اور مسلمانوں کو ان سے خاص عقیدت تھی۔ مگر میرے احمدیت کو قبول کرنے سے مسلمان صاحبان کو مجھ سے دینی اور دنیاوی اختلافات پیدا ہو گئے۔ میں نے اس مخالفت کے ان اثرات کو اہمیت نہ دی۔ اوائل میں تو شاید میری قبول احمدیت محض رسمی ہوگی۔ مگر متواتر قادیان میں آمد ورفت اور دیگر احمدی رشتہ داروں کے خوشگوار تعلقات سے متاثر ہو کر جماعت احمدیہ سے ایک عقیدت ہو گئی اور اس سلسلہ کو محض خدا تعالیٰ کی خوشنودی کے ماتحت دنیاوی تکالیفات پر ترجیح دی اور ہر رکاوٹ کا مقابلہ کیا۔ اپنی اس چوبیس سالہ زندگی میں سلسلہ احمدیہ سے خلوص دلی سے تعلقات رکھے۔ اپنے کئی عزیزوں، دوستوں اور ملازموں کا احمدیت سے تعارف کر دیا اور مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی تائید میں تبلیغی اجلاس منعقد کرائے اور احمدیت کا پیغام عوام تک پہنچایا اور اپنی فرض شناسی کا ثبوت دیا۔ تقسیم ملک سے پیشتر چک جھمرہ میں صرف خاکسار ہی مقامی احمدی تھا۔ چند احمدی ملازمین وقتی طور پر وہاں رہے اور ان کی نمونہ زندگی سے متاثر ہو کر اور کسی کو شامل ہونے کا موقع نہ ملا۔ ایک مویشی ہسپتال میں ویٹرنری اسسٹنٹ تھے۔ جن کو پتنگ بازی کا بہت شوق تھا۔ ہائی اسکول کے (قادیانی) ہیڈ ماسٹر صاحب ایک بدترین اخلاق سوز فعل کے مرتکب رہے۔ ایک (قادیانی) معزز چوہدری صاحب نے ہمیشہ شراب نوش فرمانے کا شغل جاری رکھا اور اب موجودہ (قادیانی) ایک عربی ٹیچر صاحب سود لینا معیوب خیال نہیں فرماتے۔ بلکہ ان کی مقرر کردہ شرح سود بہت زیادہ ہے۔ ایک (قادیانی) محترمہ اور (قادیانی) میں حالات بہت شرمناک رہے۔ موضع جندرانوالہ ایک قریبی گاؤں کے (قادیانی) مولوی نذیر احمد صاحب برق خاندانی احمدی نے کئی ہندو اصحاب کو حضرت

٢

صفحہ ٣٥

مسیح موعود کا خصوصی نمائندہ ظاہر کر کے بہت زیادہ لوٹا اور بدترین فعل کئے۔ میرے پاس ان کا ایک پارٹی کے نام خط موجود ہے۔ جس میں کہ انہوں نے اس پارٹی کو احمدیت میں شمولیت کی دعوت دی ہے اور اس کی چھوٹی بچی کا رشتہ خود اپنے لئے خدا کے حکم کے ماتحت طلب کیا ہے اور خود میں ایک سو مردی طاقت موجود ہونے کا اظہار کیا ہے۔ اس خط سے ان لوگوں میں ایک ہیجان پیدا ہو گیا تھا۔ وہ خط عنقریب آپ حضرات کے مطالعہ کی غرض سے شائع کر دیا جاوے گا۔ غرضیکہ ان حالات کے ماتحت اور کسی مسلمان کو چک جھمرہ سے احمدیت میں شامل ہونے کا حوصلہ نہ ہوا اور میرے لئے مزید مشکلات کا سامنا ہوا۔ مگر ان احمدی حضرات کے افعال میرے عقائد پر اثر انداز نہ ہو سکے۔ انفرادی کمزوریاں سمجھ کر جماعت احمدیہ کی تعلیم پر شک نہ کیا اور احمدیت کو خدا تعالیٰ کی طرف سے یقین کرتے ہوئے اپنے عقیدہ پر چٹان کی طرح قائم رہا۔ کراچی میں ایک (قادیانی) بہت بڑے ڈاکٹر ہیں جو کہ حضرت مسیح موعود کے عزیزوں سے ہیں اور موجودہ خلیفہ (مرزا محمود قادیانی) صاحب کے نزدیکی رشتہ دار ہیں۔ انہوں نے خانگی حالات کے زیر اثر چند ذی عزت احمدیوں کو ہم خیال بنا کر ایک پارٹی بنائی ہوئی ہے جو کہ اس موجودہ قادیانی جماعت اور ان کے امیر کے خلاف زہر اگلتی رہتی ہے۔ میں نے ہمیشہ اس پارٹی سے عدم تعاون رکھا اور کبھی بھول کر بھی ان کے بیانات پر یقین نہ کیا۔ بلکہ ذی اقتدار، اور کمزور احمدیوں کا ایک فتنہ سمجھا اور بعض گھریلو حالات کے غلط اثرات یقین کیا۔ میں بہر کیف ایک دنیا دار انسان تھا۔ مگر دینی عقائد پر عمل کرنے کی تمنا ضرور تھی۔ گنہگار ضرور تھا مگر ہمیشہ خدا تعالیٰ سے دینی اور دنیاوی برکات حاصل کرنے میں میری دعائیں شامل رہیں۔ چنانچہ ١٩٤٩ء کراچی میں مجھے اپنے نئے مرکز احمدیہ ربوہ (چناب نگر) میں ٹھیکیداری کا کام کرنے کی ترغیب دی اور وہاں پر ہونے والی تعمیری سرگرمیوں کا ذکر کیا اور ربوہ (چناب نگر) میں دینی اور دنیاوی لحاظ سے مجھے میرا مستقبل نہایت روشن دکھایا گیا۔

ربوہ (چناب نگر) جیسی مقدس جگہ پر سکونت اختیار کرنے اور بچوں کی بہترین تعلیم و تربیت کے ذرائع پیدا ہونے پر ایک والہانہ خوشی ہوئی۔ تھوڑے ہی عرصہ میں اپنے کاروبار کو سمیٹا، مکان وغیرہ فروخت کیا۔ دفتر اور کاروباری پلاٹ واقف کاروں کے سپرد کیا اور اپنے خانگی اور رہائشی سامان کو کھلے پلاٹ میں چھوڑ کر سالانہ جلسہ سے پہلے پہلے ربوہ (چناب نگر) آ گیا۔ ربوہ میں ابھی عمارتی نقشہ جات کی تکمیل ہونا باقی تھی۔ اس لئے عارضی طور پر ٹیوب ویل کا ایک سرکاری

٣

صفحہ ٣٦

کام حاصل کر لیا اور اپنی رہائش ایک واقفیت کی بناء پر کسی دوست کے ساتھ ربوہ میں اختیار کر لی اور ہر رات کو خود بھی وہاں آ جایا کرتا تھا۔ ربوہ میں سلسلہ عالیہ احمدیہ کے افسران اور ان کے متعلقہ عملہ سے بہترین تعلقات قائم کرلئے۔ گو ان کی طرف سے ناجائز فرمائشیں بھی ہوا کرتی تھیں اور میں محض تقدس کے ماتحت ان کی فرمائشیں پوری کر دیا کرتا تھا۔ کیونکہ مذہبی طور پر ان لوگوں کو حق بجانب خیال کیا جاتا تھا۔ مگر قابل برداشت حد تک آخر کار مجھے ٹی آئی ہائی سکول ربوہ کی عمارت بنانے کا ٹھیکہ مل گیا۔ تب میں نے اپنے میٹریل سے انجمن کی عارضی زمین پر اپنا رہائشی مکان تعمیر کر لیا اور اپنی مکمل ذمہ داری پر اس کی تعمیر شروع کر دی۔ تب تک میرے محترم حضرت صاحب کوئٹہ تشریف لے جا چکے تھے۔ سرکاری کام کو اپنے منشی کے سپرد کیا جو کہ اس کام کو چلا نہ سکا اور میں نے اس کام پر توجہ دینا اپنے لئے ناممکن خیال کیا۔ کام بند کر دیا گیا۔ اب سلسلہ کے ان افسران سے بھی ویسے ملاقات کرنے کا وقت نہ ملتا تھا۔ کیونکہ میرے نزدیک سب سے ضروری فرض سلسلہ کی تعمیر پر نگرانی کرنا تھا۔ میرے اس فرض کے ماتحت ان افسران کو میرا وہاں ان کے در دولت پر حاضر نہ ہونا یقیناً نا پسند آیا اور تعمیر افسر صدر انجمن احمدیہ ربوہ نے میرے دیئے ہوئے ٹینڈر پر میرے نام کے کام کا ایک حصہ اپنے ایک دوسرے ٹھیکیدار کو خود بخود دے دیا اور تعمیر کا میٹریل براہ راست اس دوسرے ٹھیکیدار کو سپلائی کیا جاتا تھا۔ پانی کی بھی سخت تکلیف دی گئی۔ اپنی ضرورت کے مطابق اپنے لئے میٹریل مجھے خود سپلائی کرنا پڑا۔ جو کہ معاہدہ کے خلاف تھا اور میرے لئے یہ کام سخت تکلیف دہ تھا۔ کیونکہ ہر کام جس کو کرنا پڑا وہ فوری ضرورت کے ماتحت ہوا اور بہت رکاوٹوں سے ہوا۔ افسران نے باقاعدہ مصدقہ طور پر کام کا ایگریمنٹ بھی نہ کیا۔ حالانکہ بار بار تحریری طور پر اس ضرورت کا اظہار کیا۔ مگر ہر وقت وعدوں پر ٹال مٹول ہوتی رہی۔ تعمیری کام میں جو مشکلات دی گئیں مختلف افسران کو مختلف اوقات میں موقع پر اس تکلیف کی اطلاع دی اور اس کے نقصانات کا اظہار کیا۔ حالانکہ بار بار تحریری طور پر اس ضرورت کا اظہار کیا۔ مگر کسی نے کوئی توجہ نہ دی اور کسی طریقے سے بھی کوئی مشکل حل نہ ہوئی۔ بلکہ ان میری تکلیفات میں ہمیشہ اضافہ ہوتا چلا گیا۔ جس قسم کے تعلقات یہ احمدیہ حضرات مجھ سے چاہتے تھے۔ وہ مجھے یقیناً پسند نہ تھے۔ کیونکہ محض ایمانداری اور نیک نیتی کے ماتحت اپنے مرکز میں کام شروع کیا تھا۔ اگر دنیا دارانہ طریقہ پر ہی کام کرنا تھا تو پھر دنیا بہت تھی۔ اس مقام کو تو دین کا مرکز سمجھا اور دینداری طریقہ پر کام کرنا پسند تھا۔

٤

صفحہ ٣٧

میرے نظریہ میں یہ کام قوم کا تھا۔ انجینئرنگ کے لحاظ سے کسی کو اعتراض کی گنجائش نہ ہو سکی اور اگر محض تعلقات اور میرے خوددارانہ رویہ کی وجہ سے یہ لوگ مجھ سے شاکی تھے۔ تو جھکنا ان کی خاطر کسی طرح بھی منظور نہ تھی۔ اب مجھے صرف حضور کی انتظار تھی۔ میرے خیال میں حضور کی آمد مبارک پر یہ تکلفات فوری طور پر دور ہونا لازمی امر تھا۔

یہ افسران لوگ محض غلط فہمی کی بناء پر خود کو عوام پر ہر لحاظ سے فوقیت دیتے تھے اور عوام کی نسبت ان کو ایک خاص امتیاز حاصل تھا۔ ان کا طرزِ عمل ان کے مذہب سے جداگانہ تھا۔ ملک کے دیگر سرمایہ دار لوگوں سے ان کی ذہنیت ملتی جلتی ہے اور ربوہ کے افسران بغیر سرمایہ کے ہی عوام احمدیہ صاحبان کو حقیر ترین مخلوق خیال کرتے ہیں۔ کیونکہ احمدیت کا ماحول بہرکیف امیرانہ ہے اور ان افسران کو تقریباً ہر وقت ایسے ہی لوگوں سے واسطہ رہتا ہے۔ اس لئے ان کی ذہنیت یقیناً سرمایہ دارانہ ہوچکی ہے۔ جس کو کوئی احمدی خوددار برداشت نہیں کرسکتا۔ چاہے وہ کس قدر غریب یا ان کے رحم پر ہی کیوں نہ ہو اور نہ ہی کوئی مؤمن اور نیک احمدی ان کے نمونہ زندگی کو دیکھ کر ان کو پسند کر سکتا ہے۔ ان لوگوں کے ظاہر و باطن میں ایک نمایاں فرق ہے۔ یہ لوگ نہ ہی صرف اپنے امیر المومنین کو دھوکا دیتے ہیں بلکہ یہ ہمیشہ ایک عورت کی طرح خود کو بھی دھوکے میں رکھتے ہیں۔ ان کی بول چال شکل و شباہت، میل ملاپ، رہنے سہنے غرضیکہ ہر فعل اور حرکت میں تصنع اور بناوٹ ہے۔ یہ لوگ کسی ناواجب حرکت یا عمل کو ظلم اور بے انصافی خیال ہی نہیں کرتے۔ جس احمدی دوست کو میرے اس بیان سے اختلاف ہو وہ اس کی صداقت کے امتحان کے لئے وہاں خود رہ کر دیکھے۔ وہاں رہنے سے اسے اس حقیقت کا پتہ بخوبی چل جائے گا۔

ٹی آئی ہائی سکول ربوہ کی عمارت چھت تک پہنچ کر نامکمل رہ گئی۔ کیونکہ چھت کا سامان انجمن نے جان بوجھ کر نہ منگوایا تھا۔ یہ ان لوگوں کی مکمل اور کامیاب سازش تھی۔ کیونکہ ان کی سابقہ چالیں اور طرزِ حکومت کام کو بند کرنے میں محض ناکام ہو کر رہ گئی تھیں۔ آخر انسانیت سوز ان لوگوں نے یہ حرکت بھی کی کہ میری لاگت شدہ رقم کو تا اختتام عمارت روکنے کا اعلان کر دیا۔ یہ ان کی ایک گہری چال تھی۔ ایک ٹھیکیدار یا کسی تجارتی معاملہ میں ایک معقول رقم حقدار کو ادا نہ کی جائے۔ تو یقیناً کاروباری صورت میں اس کا اثر بہت گہرا پڑے گا۔ حالانکہ عمارتی قانون کی رو سے اور ٹینڈر کی رو سے ان لوگوں کو میری لاگت معہ ہرجانہ کے ادا کرنی چاہئے تھی۔ مگر شاید ایسے لوگوں

٥

صفحہ ٣٨

کو انسانیت برقرار رکھنے کی چنداں ضرورت نہیں ہوتی۔ کیونکہ یہ لوگ خود کو مذہب کے اجارہ دار خیال کرتے ہیں۔ مذہبی لٹریچر یا اپنی الہامی کتاب کا صرف مطالعہ کر کے عوام کے سامنے اپنا مظاہرہ کرنا چاہتے ہیں اور شاید سننا بھی منظور نہ ہو۔ بلکہ ان کے سامنے بیٹھنا غرور خیال کرتے ہیں۔ تاکہ یہ ضروری اور لازمی دنیاوی روزگار ہمیشہ قائم رہ سکے۔ ورنہ ان کو نہ اپنی ذمہ داری کا احساس ہے اور نہ ہی اپنے امیر جماعت کی عزت کا پاس، غریب اور عوام احمدی کو تو ایک بدترین انسان بھی خیال نہیں کیا جاتا۔ چہ جائیکہ وہ زیادہ مخلص اور ایماندار اور ذمہ دار ہی کیوں نہ ہو۔ ان افسران کی ہمیشہ یہ کوشش رہتی ہے کہ کسی نو وارد احمدی کو ان کی سوسائٹی کے اندرونی حالات کا علم نہ ہوسکے۔ ان کی زندگی کا کوئی پہلو اجالے میں نہ آسکے۔ ہمیشہ اندھیرا رہے اور جو کوئی کچھ دیکھ پائے اس کی زبان بند کر دی جاوے اور دوسروں کی آنکھوں کو بند کر دیا جاوے۔ اپنی طاقت پر ناز ہوتا ہے اور خدا تعالیٰ کی گرفت کے منکر ہوتے ہیں۔ غرضیکہ اسی دوران میں جونیئر کوارٹرز تحریک جدید کے ٹینڈر ہوئے کم ریٹ ہونے کی بناء پر مجبوراً اس نئے محکمہ کو بھی میرا ٹینڈر ہی منظور کرنا پڑا۔ اس میں میٹریل ہمارے ذمہ تھا۔ اور سینئر صاحب نے تین دفعہ ٹینڈر کی رقومات میں کمی بیشی کرائی۔ ہر ٹھیکیدار سے طے یہ ایک انوکھی بات ہو سکتی ہے۔ مگر شاید ان کی روزمرہ کی عادت ہو۔

اس کل کام کا ١/٣ حصہ مجھے ملا ۔ ١/٣ حصہ مکرم نواب محمد احمد صاحب کو دیا گیا اور ١/٣ حصہ خود تعمیر کمیٹی نے خود تعمیر کرنے کے لئے ریزرو رکھا۔ مگر حسب قاعدہ خود شروع نہ کیا۔ اس میں بھی محکمہ کی خود بے ایمانی تھی۔ اگر وہ خود کام کرتے تو ان کا ایک نمونہ قائم ہو جاتا۔ مگر ان کی منشاء تو ہمارے کاموں میں نقص نکال کر ہم کو بھگانے کی تھی اور روزانہ اجرت پر کام چلانا تھا۔ جس میں کہ ان لوگوں کو بے ایمانی کی بنا پر ایک معقول بچت ہوتی ہے۔ جیسا کہ اب کام ہو رہا ہے۔ یہی ان کی منشاء تھی۔

ایگریمنٹ جونیئر کوارٹرز تحریک جدید ہونے کے دوسرے روز ہی دریائے چناب میں طغیانی آگئی اور ربوہ کے چاروں طرف کے راستے بند ہو گئے۔ ایگریمنٹ میں ایک شرط یہ بھی تھی کہ ارضی اور سماوی حادثات کی بناء پر ٹھیکیدار پابند اختتام کام وقت مقررہ نہ ہوں گے۔ چنانچہ حضور بھی واپس سیدھے ربوہ تشریف نہ لا سکے۔ بلکہ ان کو ایک عرصہ تک لاہور رکنا پڑا۔ چنانچہ جب کار کے ذریعے سڑک کچھ آمد ورفت کے قابل ہوئی تو حضور تشریف لائے کچھ روز ان کے آرام

٦

فرمانے کے بعد حضور کی خدمت میں عرض کرنے کے بعد جب حضور نے کوئی جواب تکلیفات کی تفصیل دی اور اپنے کچھ روپیہ کا کوئی تعلق نہ تھا اور حضور سے عرض کی گئی کہ نقصان دیا گیا ہے۔ کوئی حق رسی نہیں ہوئی۔ ب نظام کی برائیوں کی اطلاع حضور کی صحت پر ب ہے۔ میں نے اضافہ نہیں کرنا چاہا۔ اب حضو فرمادیں جو آزادانہ تحقیق کر کے تعمیری کام ک کرنے۔ نیز مجھے سکول کی رقم کی ادائیگی کا ہ کے کام کو بھی کرنا ہے۔ ٤ اکتوبر ١٩٥٠ء کو میں ن ہونے کا موقعہ ملا۔ مجھے بڑی خوشی ہوئی۔ س ملاقات نہ بخشا گیا۔ بلکہ تحریک جدید کی تعمیری ک نے بغیر مجھ سے کچھ دریافت کئے معزز صاح عزیز احمد صاحب ٹھیکیدار تصدیق شدہ احمدی ہ طور پر رجسٹرڈ ہیں اور تعمیری کمیٹی کے بھی ممبر کی تصدیق کی ہے اور ربوہ کے فاضل جج ۔ تحقیق کرنے کے بعد ان کا نام منظور فرمایا۔ م پیدا نہیں ہو سکا۔ حضور نے فرمایا کہ میاں ع تحریک جدید ربوہ بر وقت تعمیر نہ کرنے کے ب فرمایا۔ بہت اچھا حضور ۔

مگر چوہدری مشتاق احمد باجوہ ا عرض کی حضور جس روز ایگریمنٹ ہوا ہے ا راستے مسدود ہو گئے تھے اور معاہدہ میں حوا پابندی ضروری نہیں رہتی ۔

صفحہ ٣٩

فرمانے کے بعد حضور کی خدمت میں عمارت اسکول کی تکلیفات کا ذکر کیا۔ تین چار عریضے تحریر کرنے کے بعد جب حضور نے کوئی جواب نہ دیا تو پھر دوبارہ ایک مکمل خط تحریر کیا۔ جس میں سب تکلیفات کی تفصیل دی اور اپنے کچھ روپیہ کا مطالبہ کیا۔ جس کو اصل پیمائش یا نرخ کے جھگڑے سے کوئی تعلق نہ تھا اور حضور سے عرض کی گئی کہ میٹریل کی سپلائی میں بے انصافی کر کے مجھے شدید نقصان دیا گیا ہے۔ کوئی حق رسی نہیں ہوئی۔ سفر میں حضور کو اس لئے اطلاع نہیں دی گئی کہ مرکزی نظام کی برائیوں کی اطلاع حضور کی صحت پر مزید اثر انداز نہ ہو۔ حضور کی طبیعت متواتر ناساز رہی ہے۔ میں نے اضافہ نہیں کرنا چاہا۔ اب حضور تشریف لے آئے ہیں۔ ایک تحقیقاتی کمیٹی کا تقرر فرمادیں جو آزادانہ تحقیق کر کے تعمیری کاموں میں رکاوٹوں کی اصل وجوہات حضور کے پیش کرے۔ نیز مجھے سکول کی رقم کی ادائیگی کا ہونا اس لئے بھی ضروری ہے کہ سلسلہ کے تحریک جدید کے کام کو بھی کرنا ہے۔ ٤؍اکتوبر ١٩٥٠ء کو میں نے یہ خط لکھا۔ ٦؍اکتوبر کو مجھے حضور کے روبرو حاضر ہونے کا موقعہ ملا۔ مجھے بڑی خوشی ہوئی۔ سب رسومات ملاقات ادا کیں۔ مگر مجھے اکیلے کو شرف ملاقات نہ بخشا گیا۔ بلکہ تحریک جدید کی تعمیری کمیٹی کے ساتھ ہی مجھے کمرہ ملاقات میں بلایا اور حضور نے بغیر مجھ سے کچھ دریافت کئے معزز صاحب صدر مکرمی میاں عبدالرحیم احمد صاحب کو حکم دیا کہ عزیز احمد صاحب ٹھیکیدار تصدیق شدہ احمدی ہیں۔ جواب ملا۔ حضور نظارت امور عامہ میں مصدقہ طور پر رجسٹرڈ ہیں اور تعمیری کمیٹی کے بھی منظور شدہ ٹھیکیدار ہیں۔ مقامی امیر چک جھمرہ نے بھی ان کی تصدیق کی ہے اور ربوہ کے فاضل جج نے بھی ان کو تصدیق کیا ہے اور محتسب صاحب نے بھی تحقیق کرنے کے بعد ان کا نام منظور فرمایا ہے اور یہ واقعی دیرینہ مخلص احمدی ہیں۔ کوئی شک وشبہ پیدا نہیں ہوسکتا۔ حضور نے فرمایا کہ میاں عزیز احمد صاحب کے خلاف محکمہ قضاء میں جونیئر کوارٹرز تحریک جدید ربوہ بروقت تعمیر نہ کرنے کے جرم میں ہرجانہ کا دعویٰ دائر کر دو۔ صاحب صدر نے فرمایا۔ بہت اچھا حضور۔

مگر چوہدری مشتاق احمد باجوہ ایل ایل۔ بی جو انگلینڈ سے واپس تشریف لائے ہیں۔ عرض کی حضور جس روز ایگریمنٹ ہوا ہے۔ دوسرے ہی روز دریا کی طغیانی کے باعث سب راستے مسدود ہوگئے تھے اور معاہدہ میں حوادثات ارضی و سماوی کی رو سے میعاد مقررہ پر اختتام کی پابندی ضروری نہیں رہتی۔

٧

صفحہ ٤٠

حضور نے فرمایا کہ بجلی گر گئی تھی جس کی وجہ سے میعاد بڑھ سکتی ہے۔ مشتاق صاحب نے کہا کہ حضور پانی کی وجہ سے سب راستے بند ہوگئے تھے۔ بنیاد کے کام میں چونا روڑی میں ملایا جانا ضروری تھا۔ جو کہ باہر سے لایا جاتا تھا۔ چنیوٹ میں بھی نایاب تھا۔ اس لئے کام میں روک واقع ہو گئی۔ حضور نے فرمایا کہ نہیں ان کی نیت کام کو ختم کرنے کی نہیں ہے۔

مشتاق صاحب نے کہا کہ حضور جب بھی راستے قابل گزر ہوئے ہیں۔ انہوں نے چونے کی گاڑی لالیاں سٹیشن پر اتروالی ہے اور بذریعہ ٹرک سپلائی کرائی ہے۔ اب تک روڑی و چنائی پتھر کا کام ہو چکا ہے۔ مزید کام جاری ہے اور سرگودھا میں لکڑی کا کام ہو رہا ہے۔ اصل میعاد مطابق معاہدہ اگر نہ بھی بڑھائی جاوے تو ١٦ جنوری ١٩٥١ء ہے اور اب ١٦ اکتوبر ١٩٥٠ء ہے۔

حضور نے فرمایا کہ جلسہ کی ضرورت کے ماتحت ہم کو یہ کوارٹرز ٢٠ نومبر ١٩٥٠ء کو مکمل چاہئیں۔ معاہدہ کرنے والے افسروں نے غلطی کی ہے جو یہ میعاد رکھی ہے۔ اگر یہ جلسہ تک کام ختم نہ کریں گے تو بعد میں ہم ان کو کام کرنے ہی نہ دیں گے اور لیبر کو ان کے ہاں کام کرنے سے روک دیں گے اور پھر یہ اصل میعاد تک کام کو کیسے ختم کر سکیں گے۔

کچھ وقفہ کے بعد مشتاق صاحب مایوس ہو کر بولے کہ حضور معاہدہ کے قانون کے مطابق قبل از میعاد دعویٰ نہیں ہو سکتا۔ حضور نے فرمایا کہ قانون ہم بتائیں گے۔ آپ دعویٰ کریں۔

مشتاق صاحب نے دریافت کیا کہ حضور نواب محمد احمد صاحب جو کام چھوڑ ہی گئے۔ حضور نے فرمایا کہ ہاں ان پر دعویٰ کرنا ہی پڑے گا۔ چنانچہ ٨ اکتوبر ١٩٥٠ء کو جماعت احمدیہ کی خود ساختہ عدالت میں مجھ پر دعویٰ ہو گیا۔ پورے تین دن تک مقدمہ کی کارروائی ہوتی رہی۔ صبح چائے سے لے کر نماز ظہر تک اور نماز عصر سے لے کر نماز عشاء تک مقدمہ کی سماعت فاضل جج نے کی۔

مدعی کی طرف سے تین احمدی وکیل عدالت عالیہ احمدیہ میں ساتھ پیش ہوتے رہے اور میں غریب اکیلا بغیر کسی جرم کے قید محض میں رہا۔ مدعی کے وکیلوں نے وہ جھوٹ بولے کہ کوئی بڑے سے بڑا مفتری اور کاذب آدمی دیدہ دلیری کے ساتھ شاید قتل کے مقدمہ میں جھوٹ بول سکتا

٨

صفحہ ٤١

ہو، اور ہر جھوٹ بولنے کے بعد وہ احمدی حضرات تمسخر اپنے ہونٹوں پر لاتے تھے اور پیاری داڑھیوں پر فخریہ اور فتح مندانہ انداز میں ہاتھ پھیرتے تھے۔

محترم جج نے مضحکہ خیز فیصلہ کیا۔ پھر اس کی اپیل کو بھی غیر قانونی قرار دیا اور میرے اپیل میعاد کے مطالبہ پر بتایا گیا کہ یہ فیصلہ خود امیر المومنین ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کے ایماء اور منشا پر یوں کیا گیا ہے۔ اس لئے اپیل کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ چنانچہ جو فیصلہ ہوا اس کے مطابق میں نے کام کو پورا کر دیا اور تب فیصلہ شدہ جرمانہ منسوخ سمجھا گیا۔ فیصلہ کیونکہ شرطیہ تھا۔ عائد کردہ شرط جب میں نے پوری کر دی تو پھر سب عدالتی کارروائی محض میری شخصیت اور میرے وقار کو برباد کرنے کی بناء پر کی گئی۔ ورنہ یہی حکم مجھے اگر معمولی حالت میں بھی دیا جاتا تو میں پھر بھی اس کی تعمیل کرتا۔ جب کہ ہر دو فریق احمدی خیال کئے گئے تھے تو پھر اس بناوٹ اور دروغ گوئی کے کیا معنی تھے۔

اور میرے اس جائز مطالبہ کو جس کی بناء پر کہ مجھ پر دعویٰ کیا گیا تھا۔ یعنی اسکول رقم کی ادائیگی وہ جو آج تک بھی نہ ہوسکی۔ بلکہ تحریک جدید کے کام کو چلانے کے لئے چوہدری شریف احمد صاحب ٹھیکیدار ١٣ ایبٹ روڈ لاہور۔ جنہوں نے کہ بڑی جدوجہد اور خلوص دلی سے تعمیری کام شروع کیا تھا۔ نہایت اخلاق سوز اور وحشیانہ حرکات معزز احمدی افسران حضرات نے روا رکھیں اور ہم سے بصد مجبوری کام بند کروا دیا گیا۔

مندرجہ بالا ہر الزام کے ثبوت میں مصدقہ تحریریں موجود ہیں۔ احمدی حضرات ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔ میں اپنے معزز احمدی حضرات کو یقین دلاتا ہوں کہ ربوہ کے مرکزی احمدی ملازمین اور افسران سلسلہ کے اخلاقی اور عملی نمونہ کو اگر نزدیک سے دیکھا جائے تو احمدیت کی تعلیم پر قطعاً کوئی عمل نہیں ہے یا مجبوراً یوں کہا جائے گا کہ تعلیم کو سمجھنا ہی مشکل ہے اور یہ تعلیم میں ہی کوئی خاص فرق ہوگا۔ کیونکہ وہاں پر اکثریت ایسے احمدیوں کی ہے جو وہاں پر منافقانہ زندگی گزار رہے ہیں۔ ان کے دل احمدیت سے بیزار ہیں۔ بعض تو وہاں کی منظم برائیوں میں شامل ہیں اور بعض نفرت کا اظہار کرتے ہیں۔ مگر احمدیت کو چھوڑ نہیں سکتے۔ دنیاوی روزگار کا مسئلہ درپیش ہے۔ پھر رشتہ داروں کا بھی ایک ایسا جال ہے جس سے کہ نکلنا بہت مشکل ہے۔ افسران لوگ عوام کو بھائی تو

٩

PDF 43

درکنار انسان بھی خیال نہیں کرتے۔ ان کے دلوں میں ناجائز حکومت کرنے کا خبط سوار ہے۔ کوئی کسی کے ظلم کے خلاف آواز نہیں اٹھا سکتا۔ دھڑے بندیوں اور پارٹی بازیوں میں ہر ایک پھنسا ہوا ہے۔ وہاں پر جھوٹ، فریب، دھوکا، بے انصافی اور ظلم کا ایک منظم جال بنا ہوا ہے۔ قادیان میں جو تھوڑا بہت تقدس باقی رہ گیا تھا۔ افسوس کہ یہاں پر سب کچھ مفقود ہے اور خدا کے بندوں کو گمراہ کیا جا رہا ہے۔ حضور (قادیانی خلیفہ) کو سب کچھ علم ہے۔ حضور سے کوئی بات پوشیدہ نہیں ہے۔

بناء پر اس قدر عبرت ناک سزا دی کہ ربوہ کی پہاڑیاں بھی اس کی چیخ و پکار سے کانپ اٹھیں۔

وجہ سے زمین کے لئے نالاں ہیں۔ مگر کوئی شنوائی نہیں ہو رہی۔

بلکہ خود انجمن احمدیہ کو بہت بے دردی سے لوٹا جا رہا ہے۔

کیا گیا۔

١٠

دعویٰ کے بعد جو سراسر ناواجب اور غی رکھا۔ انسانیت کو بھی اس سے عار ہونی چاہئے۔ زیادتی کرنے میں کچھ بھی حجاب تھا۔ حضور کے ڈک دیکھ کر وہ لوگ بے انصافیوں، وعدہ خلافیوں ا انسانیت کے دائرہ سے بھی باہر ہو گئے۔ حتیٰ کہ ہما کچھ چھین لی گئی۔ ہمارا تعمیری سامان ضبط کر لیا گی رکھوایا۔ وہ بھی واپس نہیں کیا گیا۔ ہمارا کام بند کر نہیں کی گئی۔

اور بالکل یہی کچھ چوہدری شریف احم تحریرات کی نقل جو اس نے دوران تعمیر سلسلہ کے ا ٦ فروری ١٩٥٠ء سے لے کر آج ت میں ان مظالم کے خلاف احتجاج کیا گیا ہے۔ مگر ک ان مظالم کے انسداد کرنے پر توجہ دینی ضروری خیا ذی اقتدار لوگوں کی جماعت ہے اور ان کے نزد ورنہ کوئی وجہ نہیں ہو سکتی کہ یہ لوگ اس قدر جابرہ میری آواز کے خلاف آج تک ایک حرف بھی تر کہ میرے پاس صداقت ہے۔ میرے بیانات میرے پاس ان حقائق کی تائید میں تحریرات بھی م جماعت احمدیہ کی طرف سے تصدیق شدہ اور مہر ش اپنے ایک خطبہ میں خود میرے بیانات کی حرف ب تائید اپنے الفاظ میں کی ہے۔

بہر کیف اس سلسلہ کی صداقت پر قادیانیت سے علیحدگی اختیار کر لی ہے۔ کسی وج

صفحہ ٤٣

دعویٰ کے بعد جو سراسر ناواجب اور غیر منصفانہ سلوک ہمارے ساتھ افسران تعمیر نے روا رکھا۔ انسانیت کو بھی اس سے عار ہونی چاہئے۔ جن افسران کو حضور کی آمد سے پہلے ہم لوگوں سے زیادتی کرنے میں کچھ بھی حجاب تھا۔ حضور کے دعویٰ کرنے کے ارشاد ہونے پر اور حضور کے نظریہ کو دیکھ کر وہ لوگ بے انصافیوں، وعدہ خلافیوں اور مظالم ڈھانے میں بے باک ہو گئے۔ بلکہ انسانیت کے دائرہ سے بھی باہر ہو گئے۔ حتیٰ کہ ہمارا وقار، ہمارا مال، ہمارا گھر، ہماری آزادی سب کچھ چھین لی گئی۔ ہمارا تعمیری سامان ضبط کر لیا گیا۔ جو ہمارا سامان امیر محلہ نے اپنے پاس امانت رکھوایا۔ وہ بھی واپس نہیں کیا گیا۔ ہمارا کام بند کر دیا۔ تحریک جدید کی پیمائش اور کٹوتی کوئی رقم ادا نہیں کی گئی۔

اور بالکل یہی کچھ چوہدری شریف احمد ٹھیکیدار ایبٹ روڈ لاہور کے ساتھ ہوا۔ اس کی مکمل تحریرات کی نقل جو اس نے دوران تعمیر سلسلہ کے ارکان کو ارسال کی تھیں۔ میرے پاس موجود ہیں۔

٦ فروری ١٩٥٠ء سے لے کر آج تک متعدد بار اخبار آزاد، مغربی پاکستان زمیندار میں ان مظالم کے خلاف احتجاج کیا گیا ہے۔ مگر کوئی شنوائی نہیں ہوئی اور نہ ہی ارباب حکومت نے ان مظالم کے انسداد کرنے پر توجہ دینی ضروری خیال کی ہے۔ شاید جماعت احمدیہ سرمایہ داروں اور ذی اقتدار لوگوں کی جماعت ہے اور ان کے نزدیک ہر فعل قانون کی زد سے باہر خیال کیا گیا ہے۔ ورنہ کوئی وجہ نہیں ہو سکتی کہ یہ لوگ اس قدر جابرانہ حکومت کا مظاہرہ کر سکیں۔ جماعت احمدیہ نے میری آواز کے خلاف آج تک ایک حرف بھی تردید میں تحریر نہیں کیا۔ جس سے کہ صاف ظاہر ہے کہ میرے پاس صداقت ہے۔ میرے بیانات میں غلط بیانی کا شائبہ تک نہیں اور پھر کسی حد تک میرے پاس ان حقائق کی تائید میں تحریرات بھی موجود ہیں۔ جس سے کہ انحراف نہیں کیا جا سکتا۔ وہ جماعت احمدیہ کی طرف سے تصدیق شدہ اور مہر شدہ ثبت کی گئیں ہیں۔ حضور (قادیانی خلیفہ) نے اپنے ایک خطبہ میں خود میرے بیانات کی حرف بحرف تائید کر دی ہے اور جو کچھ میں نے اس کی تائید اپنے الفاظ میں کی ہے۔

بہرکیف اس سلسلہ کی صداقت پر شک کرتے ہوئے ١٥ مارچ ١٩٥١ء کو احمدیت قادیانیت سے علیحدگی اختیار کر لی ہے۔ کسی دنیاوی غرض کے ماتحت نہیں بلکہ جماعت مذکورہ کی

١١

صفحہ ٤٤

دنیا دارانہ رویہ سے متاثر ہو کر مگر میں جماعت کو واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ آخر مجھے بھی احمدیت کبھی پیاری تھی۔ میں اس پر دل و جان سے فدا تھا۔ تئیس چوبیس سال کا عرصہ عمر کا ایک خاص حصہ ہوتا ہے۔ تمام عمر اس سوسائٹی اور اسی ماحول میں گزری۔ کانوں نے یہی ایک آواز سنی تھی۔ یہ خیال بھی نہ تھا کہ کبھی ان کانوں میں اس کے خلاف آواز بھی قبول کی جاوے گی۔ یہ خدا تعالیٰ کی شان ہے۔ اللہ اکبر! بعض منافق اور بے ایمان احمدی کہیں گے کہ میرا ایمان پہلے ہی سے کمزور ہوگا۔ ان کو خدا تعالیٰ کے عذاب سے ڈرنا چاہئے اور ان کو فوراً خود اپنے گناہوں کا جائزہ لینا چاہئے۔

مجھے علم ہے کہ بیرونی جماعتوں کے احمدی حضرات صدق دل سے ایمان رکھتے ہیں اور ان کو مرکزی نام نہاد احمدی افسروں اور اہل کاروں کا کچھ بھی علم نہیں اور وہ محض خدا تعالیٰ کی رضا کے ماتحت یہاں جھکے ہوئے ہیں۔ ان کا ربوہ کے منافقین ظالموں سے کبھی واسطہ نہیں پڑا ہوگا۔ ان سے میری خاص طور پر درخواست ہے کہ میرے اس بیان کو کسی مخالف کا سمجھ کر پھینک نہ دیں۔ بلکہ مطالعہ فرمائیں اور پھر اس کا امتحان کریں اور اگر یہ سب کچھ ٹھیک ہو تو پھر ٹھنڈے دل سے غور کریں۔ یہ ضرور ہوگا۔ سوسائٹی کے لحاظ سے رشتہ داریوں کے تعلقات کی بناء پر اقتصادی طور پر بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ مجھ پر خود ان سب حالات نے اپنے اثرات ڈالے۔ مگر خدا تعالیٰ ہر مشکل کو آسان کر سکتا ہے۔ مؤمن کا ہر قدم خدا تعالیٰ کی رضا کے ماتحت اٹھتا ہے اور پھر جو قدم اٹھتا ہے وہ مضبوط ہوتا ہے۔ ظاہر و باطن ایک ہوتا ہے۔ مجھے بھی ربوہ کے ایک معمولی رشتہ دار نے منافقانہ زندگی گزارنے کی ترغیب دی تھی اور اپنی مثال پیش کی تھی۔ مگر منافق سے کافر ہزار درجہ بہتر ہے۔ جو احمدی اپنی زندگی منافقت میں گزار رہے ہیں۔ وہ اپنی زندگیوں پر اپنی اولادوں پر ظلم کرتے ہیں۔ ان سے انتقام لینے والا خود خدا تعالیٰ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ سب کو ہدایت دے۔ گمراہی سے بچائے اور ہر مشکل کو آسان کرے اور آخرت نیک کرے۔ آمین ثم آمین!

خاکسار عزیز احمد عفی عنہ ٹھیکیدار آف منڈی چک جھمرہ حال سرگودھا مورخہ ٢١؍اپریل ١٩٥١ء

١٢

PDF 46

خاتم النبيين لا نبي بعدي

میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں

شہر سدوم

شفیق مرزا

صفحہ ٤٦

قادیانی امت اور جنسی انارکی

کسی شخص یا گروہ کی جنسی انارکی کے واقعات کا تذکرہ یا ان کی اشاعت عام طور پر ناپسندیدہ خیال کی جاتی ہے۔ ہمیں بھی اصولاً اس سے اتفاق ہے۔ لیکن اس امر کی وضاحت ضروری سمجھتے ہیں کہ اگر کوئی شخص مذہب کا لبادہ اوڑھ کر خلق خدا کو گمراہ کرے اور ”تقدس“ کی آڑ میں مجبور مریدوں کی عصمتوں کے خون سے ہولی کھیلے، سینکڑوں گھروں کو ویران کردے، انبیاء علیہم السلام اور دیگر مقدس افراد کے بارے میں ژاژ خائی کرے تو اسے محض اس بناء پر نظر انداز کر دینا کہ وہ ایک مذہبی دکان کا تنہا مالک ہے۔ قانوناً، شرعاً، اخلاقاً ہر لحاظ سے نادرست اور ناواجب ہے۔ قرآن مجید نے مظلوم کو نہایت واضح الفاظ میں ظالم کے خلاف آواز حق بلند کرنے کی اجازت دی ہے۔ بقول تعالیٰ: ”لا یحب اللہ الجھر بالسوء من القول الا من ظلم“ مرزا غلام احمد نے جس زبان میں گل افشانی کی ہے کوئی بھی مہذب انسان اسے پسند نہیں کر سکتا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بطور خاص ان کا نشانہ بنے ہیں۔ گو دیگر انبیاء کرام اور صلحاء امت میں سے بھی شاید ہی کوئی فرد ایسا ہو گا جو ان کی ”سلطان القلمی“ کی زد میں نہ آیا ہو۔ مسلمانوں کو ”کنجریوں کی اولاد“ قرار دینا، مولانا سعد اللہ لدھیانوی کو ”بغی“ اور ”نطفہ السفہاء“ کے نام خطاب کرنا، مناظرہ مکہ میں مسلمانوں کے شہرہ آفاق مناظر کو ”بھونکنے والا کتا“ کے الفاظ سے یاد کرنا اور اس نوع کی دیگر بے شمار دشنام طرازیاں ہر سعید فطرت کو سوچنے پر مجبور کر دیتی ہیں کہ وہ کون سی نفسیاتی الجھن ہے۔ جو نبوت کا دعویٰ کرنے والے اس شخص کو ایسے الفاظ استعمال کرنے پر مجبور کر رہی ہے۔ مرزا غلام احمد کے بعد ان کے بیٹے مرزا محمود نے اپنے بلند بانگ دعاوی کی آڑ لے کر جن قبیح حرکات کا ارتکاب کیا۔ ان کی طرف سب سے پہلی انگلی پیر سراج الحق نعمانی نے اٹھائی اور اس ”ابن صالح“ کے کرتوتوں کے بارے میں ایک رقعہ لکھ کر مرزا غلام احمد قادیانی کی پگڑی میں رکھ دیا۔ گو پیر کا بیٹا ”مریدوں کی عدالت“ سے شبہ کا فائدہ حاصل کر کے بچ گیا۔ لیکن اس کے دل میں یہ بات پوری طرح جاگزیں ہو گئی کہ مریدوں کی تطہیر ذہنی ہی کافی نہیں۔ معاشی جبر کے ساتھ ساتھ ان پر ریاستی جبر کے ہتھکنڈے بھی استعمال کئے جائیں۔ تا کہ وہ کبھی سچ بات کہنے کی جرات نہ کر سکیں۔ پیر سراج الحق نعمانی نے اظہار حق کا جو ”جرم“ کیا تھا۔ اس کی پاداش میں مرزا محمود نے ساری عمر اسے چین نہ لینے دیا اور ہر ممکن طریقہ سے اس پر تشدد کیا۔ اطمینان کامل کے بعد مرزا محمود پھر اپنے دھندے میں مصروف ہو گیا اور اس کی انہی احتیاطوں کے باوجود ہر چند سال کے بعد

٢

صفحہ ٤٧

اس پر بدکاری کے الزامات لگتے رہے۔ مباہلے کی دعوتیں دی جاتی رہیں۔ مگر وہاں ایک خاموشی تھی سب کے جواب میں، جوں جوں وقت گزرتا گیا بڑے بڑے مخلص مرید واقف راز ہو کر ایک ہی نوعیت کے الزامات لگا کر علیحدہ ہوتے گئے اور انسانیت سوز بائیکاٹ کا شکار ہوتے رہے۔ حیران کن امر یہ ہے کہ تین تین یا پانچ پانچ سال بعد الزامات لگانے والے ایک دوسرے سے قطعاً نا آشنا ہیں۔ مگر الزامات کی نوعیت ایک ہی ہے اور واقعہ یہ ہے کہ مرزا محمود یا اس کے خاندان کے افراد نے کبھی بھی حلف مؤکد بعذاب اٹھا کر اپنے ”مصلح موعود“ کی پاکیزگی کی قسم نہیں کھائی۔ مرزا محمود کی سیرت کے تذکرہ میں ان کی ازواج اور بعض دیگر رشتہ داروں کا نام بھی آیا ہے۔ ہم ان کے نام حذف کر دیتے۔ کیونکہ وہ ہمارے مخاطب نہیں۔ لیکن اس خیال سے کہ ریکارڈ درست رہے۔ نیز اس بناء پر کہ وہ بھی اس بدکار اعظم کی شریک جرم ہیں۔ ہم نے ان کے نام بھی اسی طرح رہنے دیئے ہیں۔ حال ہی میں ہفت روزہ ”نصرت“ کراچی (١٤؍مارچ ١٩٧٩ء) سے متعلق ایک صحافی خاتون نے خلیفہ جی کی ایک سراپا مہر بیوی سے پوچھا کہ اتنی کمسنی میں آپ کی شادی مرزا محمود ایسے بوڑھے سے کیسے ہو گئی تو انہوں نے جواباً کہا جیسے حضرت عائشہ صدیقہؓ کی شادی حضور ﷺ سے ہو گئی تھی۔ (معاذ اللہ! مرعب) اس جواب سے آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ اس ظلمت کدے کا ہر فرد مقدسین امت پر کیچڑ اچھالنے کی مذموم سعی کس دیدہ دلیری سے کرتا ہے اور پھر ہمارے بعض اخبار نویس حضرات کس بے خبری سے اسے اچھالتے اور اجالتے ہیں۔ یاد رہے کہ یہ سراپا مہر بیوی وہ ہیں جن کے بارے میں ان کی خلوتوں کے ایک راز دار کا بیان عرصہ ہوا طبع ہو چکا ہے کہ ان کے موئے زہار موجود نہیں ہیں اور ان کی ”بے رحمی“ ایک ایسا امر ہے جس سے ہر باخبر قادیانی واقف ہے۔ ایک قادیانی مبلغ نے اپنی اہلیہ کے حوالے سے مؤلف کو حلفاً بتایا کہ ان صاحبہ نے خود اس پالتو مولوی کی بیوی کو بتایا کہ ”میں بے رحم ہوں“ میں ان کا نام بھی لکھ سکتا ہوں۔ مگر اس خیال سے کہ کہیں اس کی گزارہ الاؤنس والی ملازمت ختم نہ ہو جائے۔ اس سے احتراز کرتا ہوں یہ ایسی چیزیں ہیں جنہیں کسی بھی کلینک میں چیک کیا جا سکتا ہے۔ یہ ضیاع کس کشتی کی وجہ سے ہوا تھا۔ اس کا تحریر میں لانا مناسب نہیں۔ صرف ان سے اتنی گزارش ہے کہ وہ آئندہ حضرت خاتم الانبیاء ﷺ یا کسی اور مقدس ہستی پر الزام تراشی سے باز رہیں۔ ورنہ ساری داستان کھول دی جائے گی اور ”پھوپھا جی“ کی کارکردگی الم نشرح ہو جائے گی۔

مرزا محمود احمد کی ”جنسی عدوان“ پر جن لوگوں نے مؤکد بعذاب قسمیں کھائی ہیں یا ان کی زندگی کے اس پہلو سے نقاب سرکائی ہے۔ ان کا تعلق مخالفین سے نہیں ایسے مریدوں سے ہے

٣

صفحہ ٤٨-٤٩

جو قادیانیت کی خاطر سب کچھ تج کر گئے تھے۔ ان میں خود مرزا محمود کے نہایت قریبی عزیز، ہم زلف اور برادران نسبتی تک شامل ہیں اور بالواسطہ شہادتوں میں ان کے پسران اور دختران تک کے بیانات موجود ہیں۔ جن کی آج تک تردید نہیں ہوئی اور نہ ہی ان کے خلاف کوئی قانونی چارہ جوئی کی گئی ہے۔ اس کا سبب اشاعت فحش سے اجتناب و گریز نہیں۔ بلکہ یہ حقیقت ہے کہ واقعات کی تصدیق کے لئے اس قدر ثبوت، شہادتیں اور قرائن موجود ہیں۔ جن کا انکار ناممکن ہے۔

ان الزامات کی صحت و صداقت کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ ان مریدین میں سے جو لوگ انتہائی اخلاص کے ساتھ قادیانیت کو سچا سمجھتے تھے اور مرزا محمود کو خلیفہ برحق مانتے تھے۔ ان کی رنگین راتوں سے واقف ہو کر نہ صرف قادیانیت سے علیحدہ ہوئے۔ بلکہ خدا کے وجود سے بھی منکر ہو گئے۔ ایک شخص کو پاکبازی کا مجسمہ مان کر اس کو ”کار دگر“ میں مشغول دیکھ کر جس قسم کا ردّعمل ہو سکتا ہے۔ یہ اس کا لازمی نتیجہ ہے۔ ان میں سماجی یقین رکھنے والے لوگ ہی نہیں۔ عملی تجربہ سے گزرے ہوئے افراد بھی ہیں۔

دوسرا طبقہ مرزا محمود احمد کو تو ”جولیس سیزر“ کا ہم مشرب سمجھتا ہے۔ مگر کسی نہ کسی رنگ میں قادیانی عقائد سے چمٹا ہوا ہے۔ آپ اسے ہر دو طبقہ کی عدم واقفیت یا جہالت کہیں۔ میرے نزدیک دونوں قسم کا ردّعمل الزامات کی صحت پر برہان قاطع ہے۔ ماہرین جرائمات کا کہنا ہے کہ Perfect Crime وہ ہوتا ہے جو کبھی Trace نہ ہو سکے۔ مگر ساتھ ہی وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ آدم سے لے کر آج تک ایک بھی ایسا جرم سرزد نہیں ہوا جو اصطلاحاً پرفیکٹ کرائم کہلا سکے۔ کیونکہ جرم ذہن کی Abnormal حالت میں ہوتا ہے۔ اس لئے کوئی نہ کوئی ایسی حرکت ضرور ہو جاتی ہے۔ کوئی ایسا Flaw ضرور رہ جاتا ہے جس سے مجرم کی نشاندہی ہو جاتی ہے۔ مثلاً ایک قاتل نعش کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے انہیں چار پانچ مقامات پر پھینک کر یہ خیال کرتا ہے کہ اس نے قتل کے نشانہ تک کو مٹا دیا ہے۔ مگر عملاً وہ اتنے ہی مقامات پر اپنے جرم کے نشانات چھوڑ رہا ہوتا ہے۔ اس پس منظر میں اگر مرزا محمود کی تقاریر اور بیانات کا جائزہ لیں تو کئی شواہد ان کے جرائم کی چغلی کھاتے ہیں۔ پیرس میں عریاں رقص دیکھنے کا تذکرہ خود انہوں نے اپنی زبان سے کیا ہے۔ ملاحظہ فرمائیں:

”جب میں ولایت گیا تو مجھے خصوصیت سے خیال تھا کہ یورپین سوسائٹی کا عیب دار حصہ بھی دیکھوں گا۔ قیام انگلستان کے دوران میں مجھے اس کا موقع نہ ملا۔ واپسی پر جب ہم فرانس آئے تو میں نے چوہدری ظفر اللہ خان صاحب سے جو میرے ساتھ تھے کہا کہ مجھے کوئی ایسی جگہ ٤ دکھائیں جہاں یورپین سوسائٹی عریاں نظر آ سکے۔ وہ مجھے اوپیرا میں لے گئے۔ جس کا نام مجھے یاد نہیں رہا۔ چوہدری صاحب نے ایک دوربین دی کہ اسے دیکھ کر آپ اندازہ لگا سکتے ہیں۔ میری نظر اتنی کمزور ہے کہ میں یہاں سے نہیں دیکھ سکتا۔ تھوڑی دیر کے بعد میں نے چوہدری صاحب سے کہا کہ کیا یہ عورتیں ننگی ہیں یا انہوں نے باریک کپڑے پہنے ہوئے ہیں۔ مگر باوجود اس کے ننگی معلوم ہوتی ہیں

غرضیکہ مکر و فریب ایک ایسی چیز ہے کہ انسان کتنا ہی محتاط کیوں نہ ہو اس سے بچ نہیں سکتا۔ دانستہ یا نادانستہ ایسی باتیں زبان پر آ ہی جاتی ہیں۔ خلیفہ صاحب نے اپنی ایک شادی کے موقع پر کہا میں نے ایک خواب دیکھا ہے اور اس کی تعبیر میں نے یہ کی ہے کہ اس بیوی سے میرے کوئی اولاد نہیں ہوگی اور خلیفہ قادیان کا یہ خواب اس حد تک سچا ثابت ہوا کہ وہ بیوی اولاد کی نعمت سے محروم ہو چکی تھی۔ اب مرید اسے بھی اپنے پیر کا کمال ہی مانتے ہیں۔ حالانکہ یہ معاملہ پیش خبری کا نہیں ”پیش بینی“ بلکہ دور اندیشی کا ہے۔ خلیفہ جی کے ایک صاحبزادے کی رنگت اور ان کی صورت ایک ”ڈرائیور“ سے ملتی ہے۔ لوگوں کے نمائندوں نے خلیفہ جی کو اطلاع دی اور انہوں نے بچہ پیدا ہونے پر ایک خطبہ دے مارا۔ حالانکہ یہ کوئی انوکھی بات نہ تھی جس پر اتنا مزین لیکچر دیا جاتا۔ مگر کہتے ہیں چور کی داڑھی میں تنکا ہوتا ہے۔ ایسے ہی وہ اپنی ایک بیوی کی وفات پر ایک خطبہ میں فرماتے ہیں کہ ”شادی سے پیشتر جب کہ مجھے گمان بھی نہ تھا کہ یہ لڑکی میرے گھر میں داخل ہوگی تو میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک لڑکی سفید کپڑے پہنے میرے بستر کے ساتھ لگی کھڑی ہے۔“

خواب میں اب سفید لباس پر نظر پڑ سکتی ہے۔ لیکن بستر کے ساتھ کھڑے ہونے اور چہرے کی کیفیات کا تفصیلی جائزہ لینا ”رائل فیملی“ کے کسی فرد کے بارے میں نیک چلنی کا ثبوت تو کیا مانا جانا بھی ممکن نظر نہیں آتا۔ مگر ہم ان کے بارے میں ٥

صفحہ ٤٩

دیکھیں جہاں یورپین سوسائٹی عریاں نظر آ سکے۔ وہ بھی فرانس سے واقف تو نہ تھے۔ مگر مجھے ایک اوپیرا میں لے گئے۔ جس کا نام مجھے یاد نہیں رہا۔ چوہدری صاحب نے بتایا یہ وہی سوسائٹی کی جگہ ہے۔ اسے دیکھ کر آپ اندازہ لگا سکتے ہیں۔ میری نظر چونکہ کمزور ہے اس لئے دور کی چیز اچھی طرح سے نہیں دیکھ سکتا۔ تھوڑی دیر کے بعد میں نے جو دیکھا تو ایسا معلوم ہوا کہ سینکڑوں عورتیں بیٹھی ہیں۔ میں نے چوہدری صاحب سے کہا کیا یہ ننگی ہیں۔ انہوں نے یہ بتایا کہ یہ ننگی نہیں بلکہ کپڑے پہنے ہوئے ہیں۔ مگر باوجود اس کے ننگی معلوم ہوتی ہیں۔"

(الفضل مورخہ ٢٨؍ جنوری ١٩٤٣ء)

مگر فریب ایک ایسی چیز ہے کہ انسان زیادہ دیر تک اس پر پردہ ڈالنے میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔ دانستہ یا نادانستہ ایسی باتیں زبان پر آ جاتی ہیں جن سے اصلیت سامنے آ جاتی ہے۔ خلیفہ صاحب نے اپنی ایک شادی کے موقع پر کہا میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں خچر پر سوار ہوں اور اس کی تعبیر میں نے یہ کی ہے کہ اس بیوی سے اولاد نہیں ہو گی۔ اب واقعہ یہ ہے کہ اس بیوی سے کوئی اولاد نہیں اور خلیفہ قادیان کا یہ خواب اس پس منظر میں تھا کہ وہ ”خاتون جوہر نسائیت“ ہی سے محروم ہو چکی تھی۔ اب مرید اسے بھی اپنے پیر کا کمال سمجھتے ہیں کہ اس کی پیش گوئی کس طرح پوری ہوئی۔ حالانکہ یہ معاملہ پیش خبری کا نہیں ”پیش بینی“ بلکہ ”دروں بینی“ کا ہے۔

خلیفہ جی کے ایک صاحبزادے کی رنگت اور شکل و شباہت سے کچھ ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی صورت ایک ”ڈرائیور“ سے ملتی ہے۔ لوگوں میں چہ میگوئیاں شروع ہوئیں تو ”کار خاص“ کے نمائندوں نے خلیفہ جی کو اطلاع دی اور انہوں نے بگریہ عورتوں کے گھروں میں سیاہ فام بچے پیدا ہونے پر ایک خطبہ دے مارا۔ حالانکہ یہ کوئی ایسی بات نہ تھی کہ اس پر ایک طویل مثالوں سے مزین لیکچر دیا جاتا۔ مگر کہتے ہیں چور کی داڑھی میں تنکا۔

ایسے ہی وہ اپنی ایک بیوی کی وفات پر اپنی یادوں کا تذکرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”شادی سے پیشتر جب کہ مجھے گمان بھی نہ تھا کہ یہ لڑکی میری زوجیت میں آئے گی۔ ایک دن میں گھر میں داخل ہوا تو میں نے دیکھا کہ ایک لڑکی سفید لباس پہنے سمٹی سمٹائی، شرمائی لجائی دیوار کے ساتھ لگی کھڑی ہے۔“

(سیرۃ ام طاہر شائع کردہ مجلس خدام الاحمدیہ ربوہ)

اب سفید لباس پر نظر پڑ سکتی ہے۔ لیکن سمٹنے سمٹانے، شرمانے لجانے اور دیوار کے ساتھ کھڑے ہونے اور چہرے کی کیفیات کا تفصیلی معائنہ کسی نیک چلن انسان کا کام نہیں۔ ہمیں ”رائل فیملی“ کے کسی فرد کے بارے میں نیک چلنی کا حسن ظن نہیں۔ کیونکہ اس ماحول میں مجرداً بچ جانا بھی ممکن نظر نہیں آتا۔ مگر ہم ان کے بارے میں کف لسانی ہی کو پسند کرتے ہیں۔ چونکہ

٥

صفحہ ٥٠

سربراہان قادیانیت عموماً اور مرزا محمود خصوصاً اس ڈرامے کے خصوصی کردار ہیں۔ اس لئے ان کے بہروپ کو نوچ پھینکنا اور لوگوں کو گمراہی کی دلدل سے نکالنا انتہائی ضروری ہے۔ ضمناً قادیان اور ربوہ کی اخلاقی حالت کا ذکر بھی آگیا ہے۔ اگر درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا تو قادیانیت یقیناً ”شجرۂ خبیثہ“ ہے۔ لاہور کی سڑکوں پر گھومنے والی ”سلمیٰ میمن“ اور لنک میکلوڈ روڈ پر مقیم ”عفیفاں“ اس کی شاہد ہیں۔ قادیانی امت اپنے ”نبی“ کی اتباع میں اپنے ہر مخالف کی بے روزگاری، مصیبت اور موت پر جشن مناتی ہے اور اسے مطلقاً اس امر کا احساس نہیں ہوتا کہ یہ انتہاء درجہ کی قساوت قلبی، شقاوت ذہنی اور انسانیت سے گری ہوئی بات ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قادیانی امت پر ایسا عذاب نازل کیا ہے کہ اب ان کا ہر قابل ذکر فرد ایسی رسوا کن بیماری سے مرتا ہے کہ اس میں ہر صاحب بصیرت کے لئے سامان عبرت موجود ہے۔ فالج کی بیماری کو خود مرزا غلام احمد قادیانی نے ”دکھ کی مار“ اور ”سخت بلا“ ایسے الفاظ سے یاد کیا ہے اور اب قادیانی امت کی گندی ذہنیت کی وجہ سے یہ بیماری اللہ تبارک وتعالیٰ نے سزا کے طور پر قادیانیوں کے لئے کچھ اس طرح مخصوص کردی ہے کہ ایک واقف حال قادیانی کا کہنا ہے: ”اب تو حال یہ ہے کہ جو شخص فالج سے نہ مرے وہ قادیانی ہی نہیں۔“ مرزا محمود احمد نے اپنے دادا کی سنت پر عمل کرتے ہوئے امت مسلمہ کے اکابر اور جید علماء دین کے وصال پر جشن مسرت منایا اور ان کا یہ دھندا اب تک چل رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قادیانیت کے گوسالہ سامری مرزا محمود کو ”فالج کا شکار“ بنا کر دس سال تک ”رہین بستر و بالیں“ کردیا اور اس عبرتناک رنگ میں اس کو اعضاء و جوارح اور حافظہ سے محروم کردیا کہ وہ مجنونوں کی طرح سر ہلاتا رہتا تھا اور اس کی ٹانگیں بید مجنوں کا نظارہ پیش کرتی تھیں۔ گویا وہ ”لا یموت فیها ولا یحییٰ“ کی تصویر تھا۔ مگر قادیانی مذہبی انڈسٹری کے مالکان اس حالت میں بھی الٹا ”اخبار“ اس کے ہاتھ میں پکڑا کر ”زیارت“ کے نام پر مریدوں سے پیسہ بٹورتے رہے اور پھر سات بجے شام مرجانے والے اس ”مصلح موعود“ کی دو بجے شب تک صفائی ہوتی رہی اور ”سرکاری اعلان“ میں اس کی موت کا وقت دو بج کر دس منٹ بتایا گیا اور اس عرصہ میں اس کی اُلجھی ہوئی داڑھی کو ہائیڈروجن یا کسی اور چیز سے رنگ کر اسے طلائی کلر دیا گیا اور خط بنایا گیا اور غازہ لگا کر اس کے چہرے پر ”نور“ وارد کیا گیا۔ تاکہ مریدوں پر اس کی ”اولیائی“ ثابت کی جاسکے۔ حیرت ہے کہ جب کوئی مسلمان دنیاوی زندگی کے دن پورے کر کے اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہوتا ہے تو قادیانی اس کی بیماری کو ”عذاب الٰہی“ قرار دیتے ہیں۔ لیکن ان کے اپنے اکابر ذلیل موت کا شکار بنتے ہیں تو یہ ”ابتلاء“ بن جاتا ہے اور اس کے لئے دلائل دیتے ہوئے قادیانی تمام وہ روایات پیش

صفحہ ٥١

کرتے ہیں جن کو وہ خود بھی تسلیم نہیں کرتے۔ شاہ فیصل کی شہادت پر قادیانی امت کا خوشی منانا ایک ایسا المناک واقعہ ہے جس پر جس قدر بھی نفرین کی جائے کم ہے اور سابق وزیر اعظم پاکستان کے پھانسی پانے پر ہفت روزہ ”لاہور“ کا یہ لکھنا کہ اس سے مرزا غلام احمد قادیانی کی ایک پیشین گوئی پوری ہوئی ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے عہد میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا تھا۔ مسخ شدہ قادیانی ذہنیت کی شہادت ہے۔ حضورﷺ کے بعد جو جماعت یا فرقہ کسی شخص کو نبی تسلیم کرتا ہے وہ قرآن وحدیث کی رو سے کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ اسے کوئی شخص بھی مسلمان قرار نہیں دے سکتا اور خدا کے فضل سے تمام امت مسلمہ اب بھی بالاتفاق قادیانیوں کو کافر ہی سمجھتی ہے اور آئندہ بھی ایسا ہی ہوگا۔

آخر میں ان تمام بزرگوں اور دوستوں کے لئے قارئین سے دعا کی درخواست ہے جنہوں نے اس کتاب کی تیاری کے سلسلے میں کسی نوع کا تعاون فرمایا۔ اس سلسلے میں بطور خاص مکرمی میاں محمد رفیق صاحب کا تذکرہ ضروری ہے جن کے اصرار، لگن اور تعاون سے یہ کام پایۂ تکمیل تک پہنچا۔ میاں صاحب موصوف فخر کائنات سید ولد آدم حضورﷺ سے شدید محبت و وارفتگی کا تعلق رکھتے ہیں اور اس کے لازمی نتیجہ کے طور پر منکرین ختم نبوت سے محض خدا کی رضا کے لئے کدورت رکھتے ہیں۔ گویا ان کا عمل ”الحب لله والبغض لله“ کا مصداق ہے۔ قارئین سے درخواست ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیں کہ خداوند کریم انہیں دنیا میں حضورﷺ کی نظر رحمت کا مورد اور آخرت میں ان کی شفاعت کا مستحق بنائے۔ شفیق مرزا، لاہور!

اسلام کی دہلیز تک

”شہر سدوم“ کے اب تک کتنے ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں اور کتنی تعداد میں اس کی فوٹوسٹیٹ کاپیاں تقسیم ہو چکی ہیں۔ اس کے بارے میں وثوق اور قطعیت کے ساتھ کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ اندرون ملک ہی نہیں بیرون ملک تک سے اس کے متعلق اس قدر اطلاعات ملی ہیں کہ مجھے خود اس پر حیرت ہوئی ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کو کس قدر پذیرائی بخشی اور یہ صرف امت مسلمہ کے سرکار دو عالمﷺ سے فدائیت کا تعلق رکھنے والے سواد اعظم میں ہی ذوق و شوق اور تجسس سے نہیں پڑھی گئی بلکہ ”قصر خلافت“ کے ایوانوں میں بھی اس کی بھر پور گونج سنائی دی اور ربوہ کے واقفان حال نے تو تازہ کیک یا گرما گرم پکوڑوں کی طرح اس کی تلاش کر کے، اسے چھپ چھپ کر اس طرح پڑھا کہ انہوں نے مرزا غلام احمد قادیانی کی اپنی کتابوں کو بھی اس اشتیاق

٧

صفحہ ٥٢

سے نہ پڑھا ہوگا۔ خدا گواہ ہے کہ جب میں نے حصول تعلیم کے لئے ربوہ (چناب نگر) کی سرزمین پر قدم رکھا تو میرے حاشیہ خیال میں بھی یہ بات موجود نہ تھی کہ ”نبوت و خلافت“ کی جھوٹی رداؤں میں لپٹے ہوئے رویائے صادقہ اور کشوف کی دنیا میں ”سیر روحانی“ کا دعویٰ کرنے والے لاکھوں افراد سے ”دین اسلام“ کو اکناف عالم تک پہنچانے کے جھوٹے دعوے کر کے ان کی معمولی معمولی آمدنیوں سے چندے کے نام پر کروڑوں نہیں اربوں روپیہ وصول کرنے والے اور انہیں نان جویں پر گزارہ کی تلقین کر کے خود ان کے مال پر چھرے اڑانے والے اندر سے اس قدر غلیظ اس قدر گندے اور اس قدر ناپاک ہوں گے اور ایسی کسی تصوراتی لہر کا ذہن میں آجانا فی الواقع ممکن بھی نہ تھا۔ کیونکہ میرے والد محترم فوج سے قبل از وقت ریٹائرمنٹ کے بعد نہ صرف یہ کہ خود قادیانیت کے چنگل میں پھنس چکے تھے۔ بلکہ انہوں نے میرے دو بڑے بھائیوں کو بھی قادیانیت کی جانی، مالی، لسانی، حالی اور قلمی خدمت کے لئے وقف کر رکھا تھا۔

ان حالات میں، میں نے ربوہ (چناب نگر) کے شور زدہ زمین پر قدم رکھا تو چند ہی دنوں میں میرے تعلقات ہر کہ ومہ سے ہو گئے اور ہمارے خاندان کی یہ اتنی بڑی احمقانہ ”قربانی“ تھی۔ جسے وہاں ”اخلاص“ سمجھا جاتا تھا اور اس کا برملا اعتراف کیا جاتا تھا۔ لیکن جوں جوں میرے روابط کا دائرہ پھیلتا گیا اسی نسبت سے اس جبریت زدہ ماحول میں ربوہ (چناب نگر) کے باسیوں کی خصوصی اور دوسرے قادیانیوں کی عمومی بے چارگی اور بے بسی کا احساس میرے دل میں فزوں تر ہوتا گیا اور اس پر مستزاد کہ ”خاندان نبوت“ کے تمام ارکان بالخصوص مرزا محمود احمد کے بارے میں ایسے ایسے ناگفتہ بہ انکشافات ہونے لگے کہ ذہن ان کو قبول کرنے کے لئے تیار ہی نہیں ہوتا تھا کہ کہیں ایسا بھی ہو سکتا ہے۔ لیکن جب میں نے پرانے قادیانیوں سے اس بارے میں مزید استفسار کیا تو پھر تو مشاہدات اور آپ بیتیوں کی ایک ایسی پٹاری کھل گئی کہ میری کوئی تاویل بھی ان کے سامنے نہ ٹھہر سکی اور میں اپنے مشاہدات کی جو یہ تعبیر کر لیتا تھا کہ خلیفہ صاحب کے خاندان کے لوگ اور ان کے ارد گرد رہنے والے تو بدکردار ہیں۔ لیکن خود وہ ایسے نہیں ہو سکتے۔ وہ خود بخود ہوا ہو کر رہ گئی۔

اس دوران قلب و ذہن، کرب واذیت کی جس کیفیت سے گزر سکتا ہے اس سے میں بھی پورے طور پر گزرا۔ اس لئے اگر کسی قادیانی کے دل میں یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ محض الزام تراشی اور بہتان طرازی صرف ان کا دل دکھانے کے لئے ہے تو وہ یقین جانے کہ بخدا ایسا ہرگز نہیں۔ یہ سارے دلائل تو میں بھی اپنے آپ کو مطمئن کرنے کے لئے دیتا رہا۔ مگر دلائل کب ٨

صفحہ ٥٣

مشاہدے اور تجربے کے سامنے ٹھہر سکے ہیں کہ یہاں ٹھہر جاتے۔ پھر سوچنے کی بات یہ بھی ہے کہ یہ الزامات لگانے والے کوئی غیر نہیں بلکہ خود قادیانی امت کے لئے جان اور مال کی قربانیاں دینے والے اور اپنے خاندان اور برادریوں سے اس کے لئے کٹ کر رہ جانے والے لوگ ہیں۔ کیا وہ محض قیاس اور سنی سنائی باتوں پر اتنا بڑا اقدام کرنے پر عقلاً تیار ہو سکتے ہیں۔ ہرگز نہیں، ہرگز نہیں۔

انسان جس شخصیت سے ارادت و عقیدت کا تعلق رکھتا ہے اس کے بارے میں اس نوع کے کسی الزام کے بارے میں وہ سوچ بھی نہیں سکتا اور اگر وہ ایسا کرنے پر تل جاتا ہے تو پھر سوچنا پڑے گا کہ اس شخصیت سے ضرور کوئی ایسی انہونی بات سرزد ہوئی ہے کہ اس سے فدائیت کا تعلق رکھنے والے فرد بھی اس پر انگلی اٹھانے پر مجبور ہو گئے ہیں اور پھر یہ انگلی اٹھانے والے معمولی لوگ نہیں۔ ہر دور میں خاندان نبوت کے یمین و یسار میں رہنے والے ممتاز افراد ہیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی کے اپنے زمانے میں مرزا محمود احمد پر بدکاری کا الزام لگا۔ جس کے بارے میں قادیانیوں کی لاہوری پارٹی کے پہلے امیر مولوی محمد علی کا بیان ہے کہ یہ الزام تو ثابت تھا۔ مگر ہم نے شبہ کا فائدہ دے کر مرزا محمود احمد کو بری کر دیا۔ پھر محمد زاہد اور مولوی عبد الکریم مباہلہ والے اور ان کے اعزہ اور اقرباء نے اپنی بہن ”سکینہ“ کے ساتھ ہونے والی زیادتی کے خلاف احتجاج کے لئے با قاعدہ ایک اخبار ”مباہلہ“ کے نام سے نکالا اور خلیفہ صاحب کے اشارے پر ”میر قاسم علی“ جیسے چھٹ بھئیوں نے ان کے خلاف مستریاں مشین سویاں ایسی طعنہ زنی کر کے اصل حقائق کو چھپانے کی کوشش کی اس کے بعد مولوی عبد الرحمان مصری، عبد الرزاق مہتہ، مولوی علی محمد اجمیری، حکیم عبد العزیز، فخر الدین ملتانی، حقیقت پسند پارٹی کے بانی ملک عزیز الرحمن، صلاح الدین ناصر بنگالی اور دوسرے بے شمار لوگ وقتاً فوقتاً مرزا محمود احمد اور ان کے خاندان پر اسی نوعیت کے الزام لگا کر علیحدہ ہوتے رہے اور بدترین قادیانی سوشل بائیکاٹ کا شکار ہوتے رہے۔

ملازمتوں سے محروم اور جائیدادوں سے عاق کئے جاتے رہے۔ مگر وہ اپنے موقف پر قائم رہے۔ کیا محض یہ کہہ کر کہ یہ قریب ترین لوگ محض الزام تراشی کرتے رہے۔ اصل حقائق پر پردہ ڈالا جا سکتا ہے۔ اگر کوئی شخص اپنی ماں پر بدکاری کا الزام لگاتا ہے تو فقط یہ کہہ کر اس کی بات کو رد کر دینا کہ دیکھو کتنا برا آدمی ہے۔ اپنی ماں پر الزام لگاتا ہے۔ درست نہ ہوگا۔ یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ اس کی ماں نے گول بازار کے کس چوراہے میں بدکاری کی ہے کہ خود اس کے بیٹے کو بھی اس کے خلاف زبان کھولنا پڑی ہے۔ جس رفتار سے ان واقعات سے پردہ اٹھ رہا تھا۔ اسی سرعت سے میرے اعتقادات کی عمارت بھی متزلزل ہو رہی تھی اور میری زبان ایک طبعی رد عمل کے طور پر ربوہ

٩

صفحہ ٥٥

(چناب نگر) کے اس دجالی نظام کی قلعی کھولنے لگ پڑی تھی اور اس خباثت کو نجابت کہنے کے لئے تیار نہ تھی۔ مرزا محمود احمد بارہ سال کے بدترین فالج کے بعد جہنم واصل ہوا تو ربوہ کے قصر خلافت میں جس دو جانب کھلنے والے کمرے میں اس کی لاش رکھی ہوئی تھی میں بھی وہاں موجود تھا اور میرے دو ساتھی فضل الہی اور خلیل احمد، جو اب مربی ہیں۔ بھی میرے ساتھ ہاکیاں لئے وہاں پہرہ دے رہے تھے۔ میں نے مرزا محمود احمد کو انتہائی مکروہ حالت میں پاگلوں کی طرح سر ہلاتے اور کرسی پر ایک جگہ سے دوسری جگہ اسے لے جاتے ہوئے کئی مرتبہ دیکھا تھا۔ ربوہ کی معاشی چھوٹ پر پلنے والے اس حالت میں بھی اس کی ”زیارت“ کے نام پر لوگوں سے پیسے بٹورتے رہتے تھے اور کہتے تھے کہ بس گزرتے جائیں۔ بات نہ کریں۔ حسب توفیق نذرانہ دیتے جائیں۔ اس دور میں اس کے جسم کی ایسی غلیظ حالت تھی کہ بیوی بچے بھی انہیں چھوڑ چکے تھے اور سوئٹزرلینڈ سے منگوائی گئیں۔ نرسیں بھی دو ہی ہفتے کے بعد بھاگ کھڑی ہوتی تھیں۔ لیکن اب تو وہاں تراشی ہوئی داڑھی والا اور ابٹن و زیبائش کے تمام لوازمات سے بری طرح تھوپا گیا ایک لاشہ پڑا تھا۔

میں نے مذکورہ بالا دونوں نوجوانوں کو کہا کہ یار کل تک تو اس چہرے پر بارہ بجے ہوئے تھے۔ مگر آج اس پر بڑی محنت کی گئی ہے تو ان میں سے موخر الذکر کہنے لگا۔ ”توں ساڈا ایمان خراب کر کے چھوڑیں گا“ یہ دونوں اپنی ”پختہ ایمانی“ کی بناء پر ابھی تک قادیانیت کا دفاع کر رہے ہیں۔ لیکن میں نے اس ایمان کو ذہنی طور پر اسی وقت چناب کی لہروں کے سپرد کر دیا تھا۔

مرزا ناصر احمد کو ایک مخصوص پلاننگ کے تحت خلافت کے منصب پر بٹھایا گیا تو اس نے دوسرے امیدوار مرزا رفیع احمد پر عرصہ حیات تنگ کر دیا۔ اس سے ملنے جلنے والوں اور تعلق رکھنے والوں کو ملازمتوں سے محروم کرنے اور ربوہ بدر کرنے کے احکامات جاری ہونے لگے اور یہ سلسلہ اس حد تک بڑھا کہ گدی نشینی کی اس جنگ میں ہزاروں افراد ان کے خاندان خواہ مخواہ نشانہ بن گئے۔ سوشل بائیکاٹ کا شکار ہوئے یہ لوگ اپنی برادریوں سے مرزا غلام احمد کو نبی مان کر اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں کے جنازوں اور شادیوں تک میں شرکت کو حرام قرار دے کر ان سے پہلے ہی علیحدہ ہو چکے تھے۔ اس لئے ان کے لئے نہ جائے ماندن، نہ پائے رفتن کی کیفیت پیدا ہوگئی۔

ربوہ میں رہائشی زمین کسی کی ملکیت نہیں ہوتی اور صدر انجمن احمدیہ جو مرزا غلام احمد قادیانی کے خاندان کی گھریلو کنیز اور ذاتی تنظیم ہے وہ کسی بھی وقت باغیوں کو رہائش سے محروم کر دیتی ہے اور ان کی بڑی تعداد پھر اس خوف سے کہ وہ اس مہنگائی کے دور میں سر کہاں چھپائیں گے۔ دوبارہ ”خلیفہ خدا بناتا ہے“ کی ڈگڈگی پر رقص کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ اس دور میں بھی یہی کچھ ہوا۔

١٠

ان دنوں میں اقتدار کی اس کشمکش کو بہر لیکن اس دور میں میرا عقائد و نظریات کے حوالے سے اور ایک روایتی قادیانی کی طرح میں اتنا ہی غالی تھا جتنا کہ میں غالباً اپنی والدہ محترمہ کی تربیت کے زیر اثر قاد مخالف تھا۔ جس کے تحت وہ مرزا غلام احمد قادیانی اور حضور ﷺ سے موازنہ شروع کر دیتے تھے اور میری ا

قادیانیوں کی اس بارے میں دریدہ دہنی ایک بااثر مولوی جو آج کل اپنی اسی خناسیت کی وجہ کہ خاتم النبیین کی طرز پر ایسی ترکیبیں اس کثرت سے کی (نعوذ باللہ) کوئی اہمیت ہی نہ رہے۔

یاد رہے کہ میری والدہ محترمہ میرے والد میں نہیں پھنسیں اور میں نے کبھی ایک مرتبہ بھی ان کی زبا نہاد خلیفہ کا نام تک نہیں سنا۔ وہ کہا کرتی تھیں کہ میں پاک ہوں۔ تہجد بھی پڑھتی ہوں۔ اللہ تعالیٰ کی راہ میں صدقہ باوجود خدا تعالیٰ مجھے نہیں بخشا تو نہ بخشے۔ میں حضور ﷺ

مرزا ناصر احمد کی گدی نشینی کے سلسلے میں ج پر سخت تنقید کرتے ہوئے احتجاج کیا اور اپنی محفلوں می پر ہمارے ایک جھنگوی دوست نے مجھ سے پوچھا کہ ا پیر گدی پر بیٹھ جائیں تو ہم اسے گدی کہتے ہیں۔ لیکن کام کر لیں تو یہ خلافت کیوں کہلاتی ہے؟ تو میں نے خواب، خواب ہوتا ہے اور خلیفہ قادیانی کو آنے والا خلافت ہوتی ہے۔ مرزا ناصر احمد کے جاسوسوں نے فو خفا ہوئے اور ایک اجتماعی ملاقات میں میرے ساتھ گف کوئی بات نہیں مانتے۔ آپ کو خیال رکھنا چاہئے میں جلنے لگے ہیں اور وہ کوئی نہ کوئی بہانہ کر کے میرے خلا

واقعہ ہوا کہ میں لیہ میں مقیم تھا کہ بیت المال کا ایک ک

١١

صفحہ ٥٥

ان دنوں میں اقتدار کی اس کشمکش کو بہت قریب سے اور بہت غور سے دیکھ رہا تھا۔ لیکن اس دور میں میرا عقائد ونظریات کے حوالے سے قادیانی امت سے کوئی بنیادی اختلاف نہ تھا اور ایک روایتی قادیانی کی طرح میں اتنا ہی غالی تھا جتنا کہ ایک قادیانی ہوسکتا ہے۔ فرق صرف یہ تھا کہ میں غالباً اپنی والدہ محترمہ کی تربیت کے زیر اثر قادیانیوں کے اس عمومی طریق استدلال کا سخت مخالف تھا۔ جس کے تحت وہ مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کی اولاد کا معمولی معمولی باتوں میں بھی حضور ﷺ سے موازنہ شروع کر دیتے تھے اور میری اس پر بے شمار لڑائیاں ہوئیں۔

قادیانیوں کی اس بارے میں دریدہ دہنی کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ ان کا ایک بااثر مولوی جو آج کل اپنی اسی خناسیت کی وجہ سے گھٹنوں کے درد سے لاچار ہے کہا کرتا تھا کہ خاتم النبیین کی طرز پر ایسی ترکیبیں اس کثرت سے زور دار طریقے سے رائج کرو کہ اس ترکیب کی (نعوذ باللہ ) کوئی اہمیت ہی نہ رہے۔

یاد رہے کہ میری والدہ محترمہ میرے والد کے بے حد اصرار کے باوجود قادیانیت کے جال میں نہیں پھنسیں اور میں نے کبھی ایک مرتبہ بھی ان کی زبان سے مرزا غلام احمد قادیانی یا اس کے کسی نام نہاد خلیفہ کا نام تک نہیں سنا۔ وہ کہا کرتی تھیں کہ میں پانچ وقت نماز پڑھتی ہوں۔ حکم خداوندی ادا کرتی ہوں۔ تہجد بھی پڑھتی ہوں۔ اللہ تعالیٰ کی راہ میں صدقہ وخیرات بھی میرا معمول ہے۔ اگر اس کے باوجود خدا تعالیٰ مجھے نہیں بخشتا تو نہ بخشے۔ میں حضور ﷺ کے بعد کسی کو نبی نہیں مان سکتی۔

مرزا ناصر احمد کی گدی نشینی کے سلسلے میں جب ہارس ٹریڈنگ شروع ہوئی تو میں نے اس پر سخت تنقید کرتے ہوئے احتجاج کیا اور اپنی محفلوں میں اس پر خوب کھل کر تبصرے کئے۔ ایک موقع پر ہمارے ایک جھنگوی دوست نے مجھ سے پوچھا کہ اگر کسی دوسرے پیر کے بیٹے اور پوتے اس کے بعد گدی پر بیٹھ جائیں تو ہم اسے گدی کہتے ہیں۔ لیکن مرزا غلام احمد قادیانی کے بیٹے اور پوتے یہی کام کرلیں تو یہ خلافت کیوں کہلاتی ہے؟ تو میں نے اسے کہا کہ جس طرح عام آدمی کو آنے والا خواب، خواب ہوتا ہے اور خلیفہ قادیانی کو آنے والا خواب ”رویا“ ہوتا ہے۔ اسی طرح یہ گدی خلافت ہوتی ہے۔ مرزا ناصر احمد کے جاسوسوں نے فوراً اسے اس بات کی خبر کر دی اور وہ بہت چراغ پا ہوئے اور ایک اجتماعی ملاقات میں میرے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے اس نے مجھے دھمکی دی کہ آپ کوئی بات نہیں مانتے۔ آپ کو خیال رکھنا چاہئے میں اسی لحظہ سمجھ گیا کہ اب مرزا ناصر احمد کے توے جلنے لگے ہیں اور وہ کوئی نہ کوئی بہانہ کر کے میرے خلاف اقدامات کریں گے۔ اسی دوران ایک اور واقعہ ہوا کہ میں لیہ میں مقیم تھا کہ بیت المال کا ایک کلرک جسے ربوہ کی زبان میں انسپکٹر بیت المال

١١

صفحہ ٥٦

کہتے ہیں۔ میرے پاس ٹھہرا اور آزادانہ بات چیت کے دوران اس نے مجھے اندرونی حال بتاتے ہوئے کہا کہ خاندان والے خود تو کوئی چندہ نہیں دیتے لیکن ہمارے حقیر معاوضوں میں سے بھی چندہ کے نام پر جگا ٹیکس کاٹ لیتے ہیں۔ ان دنوں مرزا ناصر احمد کسی دورے پر افریقہ یا کسی دوسرے ملک گیا ہوا تھا۔ میں نے کہا اگر تم ایسے ہی دل گرفتہ ہو تو دعا کرو کہ اس کا جہاز کریش ہو جائے۔ اس آدمی نے یہ بات توڑ مروڑ کر ربوہ کے مقطوع النسل امیر جماعت فضل احمد کو بتائی تو اس نے نمبر بنانے کے لئے مرزا ناصر احمد کو فوری رپورٹ دی کہ شفیق تو تمہارا جہاز کریش ہونے کی دعا کرتا ہے۔ مرزا ناصر احمد کو یہ بات سن کر آگ لگ گئی۔ مجھے فوراً واپس بلایا گیا۔ سو پہلے تو ربوہ کے ڈی آئی جی عزیز بھاٹیڑی اور اس کے گماشتوں کے ذریعے قادیانی غنڈے میرے پیچھے لگائے گئے۔ مگر میں پھر بھی باز نہ آیا تو ربوہ کی تمام عبادت گاہوں میں میرے سوشل بائیکاٹ کا اعلان کر دیا گیا اور پاکستان کی تمام جماعتوں کے افراد کو خطوط کے ذریعے بھی اس کی اطلاع کر دی گئی اور مرزا ناصر احمد نے اس پر ایک پورا خطبہ بھی دے ڈالا جو آج تک شائع نہیں ہوا۔

میرا مزید ناطقہ بند کرنے کے لئے میرے دو بڑے بھائیوں سے تحریری عہد لیا گیا کہ وہ مجھ سے کوئی تعلق نہ رکھیں گے۔ سو انہوں نے بھی مجھے نقصان پہنچانے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی اور میرے آبائی گھر پر تسلط جما کر مجھے وہاں سے بھی نکال دیا۔ یہ واقعات صرف مجھ پر ہی نہیں بیتے اور سینکڑوں نہیں، ہزاروں افراد اس صورت حال سے دوچار ہوئے ہیں۔ مگر کسی حکومت نے، انسانی حقوق کی تنظیم نے اس پر آواز احتجاج بلند نہیں کی۔ کسی عاصمہ جہانگیر، آئی اے رحمان نے ان لوگوں کی بنیادی شہری اور انسانی حقوق کی بحالی اور ان کو پہنچائے جانے والے نقصان کی تلافی کے لئے آواز نہیں اٹھائی۔ مگر کسی قادیانی کے پاؤں میں کانٹا بھی چبھ جائے تو شور مچا دیا جاتا ہے۔

ایک طرف تو یہ صورتحال تھی تو دوسری طرف بڑے بڑے قادیانی عہدیدار مجھے ”حضور“ سے معافی مانگ لینے کی تلقین کر رہے تھے۔ لیکن میں ”قضیب احمر“ کو کسی بھی صورت میں گاجر کہنے کے لئے تیار نہ ہوا تو قادیانیوں نے لاہور میں میری رہائش گاہ پر آکر مجھے قتل کرنے اور سبق سکھا دینے کی دھمکیاں دیں۔ لاہور میں بہترین مکان خرید کر دینے کی پیش کش بھی ہوئی۔ مگر میں اس ترغیب و ترہیب کے جھانسے میں نہ آیا۔ قادیانی امت کا رخ اس بات سے مزید بڑھ گیا تھا کہ میرا اختلاف اب انگریز کے خود کاشتہ پودے کے صرف اعمال ہی سے نہیں تھا، نظریات سے بھی تھا اور میں مرزا غلام احمد قادیانی کی ظلی، بروزی، لغوی اور غیر تشریعی نبوت پر لعنت بھیج کر مکمل طور پر آنحضرت ﷺ کے سبز پرچم کے نیچے آچکا تھا۔ مرزا ناصر احمد کی گدی نشینی کے عہد میں

١٢

صفحہ ٥٧

ان کے مختلف ”مجلسی مشاغل“ کی کہانیاں ٹی آئی کالج سے لے کر ربوہ کے ہر اس گھر تک پھیلی ہوئی تھیں جہاں کسی خوش رو کا بسیرا تھا اور اس طرح ”خاندان نبوت“ کی دوسری ”کلیاں“ بھی اپنے اپنے ذوق کا سامان کرنے کی وجہ سے گوناگوں کہانیوں کی زد میں تھیں۔ لیکن مرزا ناصر احمد کے سینکڑوں ”کبوتروں“ کو ٹی آئی کالج کی رہائش گاہ سے ”قصر خلافت“ منتقل کرنا یا ان کے آزاد کر دینے کا معاملہ خاصے دنوں تک ایک مسئلہ بنا رہا اور مولوی تقی نے اس پر بڑا دلچسپ تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ”مغل“ کوئی ”بازی“ ترک کرنے پر تیار نہیں ہوتے۔

ایک دن مرزا ناصر احمد کے ”فیض جسمانی“ کے کرشموں کا بیان جاری تھا اور جودھا مل بلڈنگ میں واقعہ دواخانہ نورالدین میں حکیم عبدالوہاب بڑے مزے لے کر سنا رہے تھے کہ صاحبزادہ صاحب نے کس طرح ریلوے کے ایک کانٹے والے کی لڑکی ”ثریا“ کو اس کے باپ کی غیر موجودگی میں خود اس کے ریلوے کوارٹر میں جا لتاڑا۔ ابھی یہ حکایت ختم بھی نہ ہوئی تھی کہ الشرکۃ الاسلامیہ والی پرانی بلڈنگ کے مالک، حکیم صاحب کو ملنے کے لئے آگئے اور باتوں باتوں میں احمدیت کی مخالفت کرنے والوں کو ذلیل و خوار ہونے کے واقعات کا تذکرہ شروع ہو گیا اور تمام اکابر مسلمانان پاک و ہند کو پیش آنے والے مبینہ مصائب کو احمدیت کی مخالفت کی سزا قرار دے کر ”احمدیت“ کی سچائی ثابت کی جانے لگی۔

جب حکیم صاحب کے پرانے شناسا اس نووارد نے یہ داستان ختم کی تو حکیم صاحب نے بڑی آہستگی سے کہا کہ وہ آپ کی بیٹی کے ساتھ جو کچھ کیا گیا تھا اس کے بعد بھی آپ ربوہ میں ہی رہ رہے ہیں تو میں حیران رہ گیا کہ ایک طرف تو وہ ”احمدیت“ کی مخاصمت پر مخالفین کو پہنچنے والے نقصانات اور آلام و مصائب کو اپنے مسیح موعود اور مصلح موعود کی ”کرامات“ کے طور پر پیش کر رہا تھا۔ مگر جونہی اس نے حکیم صاحب کی زبان سے یہ الفاظ سنے تو اس کی آنکھیں بھر آئیں اور وہ گلو گیر آواز میں کہنے لگا حکیم صاحب انسان زندگی میں مکان ایک بار ہی بنا سکتا ہے اور پھر اب تو بچے بھی جوان ہو گئے ہیں۔ ان کی شادیوں کا مسئلہ بھی ہے۔ برادری سے پہلے ہی قطع تعلق کر چکے ہیں۔ اب جائیں تو جائیں کہاں؟ دواخانہ نورالدین کے انچارج اکرم بھی اس محفل میں موجود تھے۔ وہ اس روایت کی تصدیق کر سکتے ہیں۔ ”محمد علی سبزی فروش“ کا المناک قتل بھی ربوہ میں مرزا ناصر احمد کے عہد میں ہی ہوا اور اس کی بھی سب سے بڑی وجہ یہی تھی کہ چونکہ اس کا ”خاندان نبوت“ کے گھروں کے اندر آنا جانا تھا اور وہ راز ہائے درون خانہ کو بیان کرنے میں بھی کسی حجاب سے کام نہیں لیتا تھا۔ اس لئے بری طرح ذبح کر دیا گیا۔ مگر ”نیک اور پاکباز“ لوگوں کی اس بستی

١٣

صفحہ ٥٨

کے کسی ایک فرد نے بھی اس قتل کے راز سے پردہ اٹھانے کی جرات نہ کی۔ یوں تو قادیانی امت کے بزرجمہر مرزا محمود کے زمانے ہی سے سیاست کا کھیل بھی کھیلتے رہے ہیں۔ لیکن ١٩٥٣ء کی مجاہدانہ تحریک نے ان کو بڑی حد تک محدود کر کے رکھ دیا اور مرزا محمود نے ان تمام اسلامی اصطلاحات کا استعمال ترک کرنے کا عہد کر لیا۔ جو امت مسلمہ کے لئے اذیت کا موجب بنتی رہی ہیں۔ لیکن وہ قادیانی ہی کیا ہوا جو اپنی بات پر قائم رہ جائے۔ جونہی حالات بدلے مرزا محمود احمد نے بھی گرگٹ کی طرح پینترا بدل لیا اور دوبارہ وہی پرانی ڈگر اختیار کر لی۔ مرزا محمود احمد اس کے جلد ہی بعد ڈاکٹر ڈوئی کی طرح عبرت ناک فالج کی گرفت میں آیا تو مرزا ناصر احمد نے جس کے لئے اس کا شاطر والد جماعت کو اپنے خطوط کی ابتداء میں ”ہوالناصر“ لکھنے کی تلقین کر کے راہ ہموار کر چکا تھا اور پھر عیسائی طریقے کے مطابق اپنے حواریوں کی ایک منڈلی کے ذریعے اپنے آپ کو منتخب کروا لیا کھل کر پر پرزے نکالنے شروع کر دیئے۔ اس کے بعد مرزا طاہر احمد نے اپنی گیم آف نمبرز میں مرزا رفیع احمد کو مات دے کر اور مرزا لقمان احمد کے ساتھ اپنی بیٹی کی شادی کر کے گدی نشینی کے لئے اپنا راستہ بنایا۔ ذوالفقار علی بھٹو کو آگے لانے میں قادیانی امت نے قریباً ”١٦ کروڑ روپیہ“ صرف کیا اور اپنے تمام تنظیمی اور دوسرے وسائل اس کے لئے استعمال کئے۔ اس عہد میں مرزا طاہر احمد صاف طور پر سیکنڈ ان کمان بن کر سامنے آیا اور جماعت میں یوں تاثر دیا جانے لگا کہ اب احمدیت کا غلبہ ہوا ہی چاہتا ہے اور کوئی اس کو روک نہیں سکتا۔ لیکن جب آٹھویں عشرے کے اوائل میں تحریک ختم نبوت پوری قوت سے دوبارہ ابھری اور ذوالفقار علی بھٹو نے ہی ان کو غیر مسلم اقلیت دینے کا عظیم الشان کارنامہ انجام دیا تو قادیانی اپنے ہی زخموں کو چاٹ کر رہ گئے۔

پروفیسر سرور مرحوم نے ایک دفعہ بتایا کہ تحریک ختم نبوت کے ایام میں قادیانیوں نے ایک وفد ”خان عبدالولی خان“ سے ملنے کے لئے بھیجا اور جس وقت اس نے خان صاحب سے ملاقات کی میں بھی وہیں پر موجود تھا۔ جب قادیانیوں نے بھٹو کو لانے میں اپنی خدمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ ہمارا ساتھ چھوڑ گیا ہے۔ اس لئے آپ ہمارا ساتھ دیں اور اپنے سیکولر نظریات کے حوالے سے اس تحریک کے پس منظر میں ہمارے حق میں آواز اٹھائیں تو خان عبدالولی خان نے بے ساختہ کہا بھئی ”باچا خان“ کا بیٹا اتنا بے وقوف نہیں ہے کہ جس بھٹو کو لانے کے لئے تم نے ١٦ کروڑ روپے خرچ کیا ہے اس مسئلہ میں اس کی مخالفت کر کے خواہ مخواہ امت مسلمہ کی مخالفت مول لے لے۔

١٤

صفحہ ٥٩

تحریک ختم نبوت کے دنوں میں آغا شورش مرحوم کے ہفت روزہ ”چٹان“ میں بڑی با قاعدگی سے کبھی اپنے نام سے اور کبھی کسی قلمی نام سے قادیانی امت کے بارے میں لکھا کرتا تھا۔ آغا صاحب کے پاس یوں تو آنے جانے والوں کا عام دنوں میں بھی تانتا بندھا رہتا تھا۔ لیکن اس دوران تو وہاں سیاست دانوں، علماء اور دانش وروں کی آمد ایک سیلاب کی صورت اختیار کئے ہوئے تھی۔ آغا صاحب ہر قابل ذکر آدمی کو کہتے تھے کہ بھئی یہ کام صرف اور صرف ذوالفقار علی بھٹو ہی کر سکتا ہے۔ اس لئے تمام سیاسی اختلافات بالائے طاق رکھ کر اس کام کے لئے اس کی حمایت کریں۔ پھر جوں جوں وقت گزرتا جائے گا اس فیصلے کے اثرات اپنا رنگ دکھانا شروع کردیں گے اور قادیانی اپنے ہی زہر میں گھل گھل کر مرجائیں گے۔ یہ چند باتیں تو یونہی جملہ معترضہ کے طور پر آ گئیں۔ بیان ”خاندانِ نبوت“ میں ہونے والی جنگ اقتدار کا ہو رہا تھا۔ مرزا طاہر احمد کی جانب سے مرزا ناصر احمد سے رشتہ کو مضبوط کر لینے کے بعد اس کی لابی بہت مضبوط ہو چکی تھی اور مرزا رفیع احمد کے خلاف چھوٹی چھوٹی اور معمولی شکایتیں کر کے اس نے اپنا مقام مرزا ناصر احمد کی نظروں میں خوب بنالیا تھا۔ اس لئے جب مرزا ناصر احمد ایک نوخیز دوشیزہ کو ”ام المؤمنین“ بنا کر راہی ملک عدم ہوئے تو مرزا طاہر احمد کی گدی نشینی میں کوئی روک باقی نہ رہی اور اس نے اقتدار کی باگ ڈور سنبھال کر تمام وہ حربے اختیار کئے جو اورنگ زیب نے اپنے والد اور بھائیوں کے خلاف استعمال کئے تھے۔ اس ماحول میں پلنے والا مرزا طاہر احمد کس قدر نیک اور پاکباز ہو سکتا ہے اس کا اندازہ صرف اس ایک مثال سے ہو سکتا ہے کہ ربوہ میں تعلیم کے دوران ہی مجھے ”محمد ریاض سکنہ عالم گڑھ ضلع گجرات“ نے جو اب فوج میں ہیں، نے ایک چوکیدار کے حوالے سے بتایا کہ میاں طاہر روزانہ نمازِ فجر پڑھنے کے بعد ”ولی اللہ شاہ“ سابق ناظر امورِ عامہ کے گھر جاتا ہے اور اس کی لڑکیوں کو سینے کے گنبدوں سے پکڑ کر اٹھاتا ہے اور آخری فقرہ پنجابی میں خود چوکیدار ہی کی زبان میں صحیح مفہوم ادا کرتا ہے کہ ”اوہ حرامزادیاں وی لیریاں ہو کے پیاں رہندیاں نیں۔“

لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہ قصہ یہیں تمام ہوا۔ یہ تو ایک ایسا شہر طلسمات ہے کہ اس کا ہر حصہ طلسمِ ہوشربا کو بھی شرما کر رکھ دینے والا ہے اور بیدی کا یہ جملہ بلاشبہ اپنے اندر بے پناہ صداقت لئے ہوئے ہے کہ بڑے گھروں کی غلاظتیں بھی بہت ہی بڑی ہوتی ہیں۔

قادیانی امت کے راہنماؤں کی بداعمالیوں کے بارے میں جب میں حق الیقین کے مرتبے پر پہنچ گیا تو میں نے دنیا بھر کے مسلمان دانشوروں کی چیدہ چیدہ کتب کا بغور مطالعہ شروع کیا کہ قادیانیوں کے اعمال کے بعد ان کے افکار و نظریات کی صحت کا بھی جائزہ لوں تو چند ہی

١٥

صفحہ ٦١

دنوں میں قادیانی افکار و نظریات کا علمی و عقلی دامن بھی مجھ پر روز روشن کی طرح واضح ہو گیا اور خاص طور پر فلسفی شاعر علامہ ڈاکٹر اقبال کے نہرو کے نام خطوط اور تشکیل جدید الہیات اسلامیہ کے مطالعہ سے میرا ایمان اس بات پر چٹان کی طرح پختہ ہو گیا کہ ختم نبوت حضور ﷺ کی انٹلیکچوئل فکر ہے اور اس کی علت غائی یہ ہے کہ تمام مذاہب کے ماننے والوں کو وحدت خداوندی اور سرور دوعالم ﷺ کے خاتم النبیین ہونے کے ایک نقطے پر اکٹھا کیا جائے اور اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات اور صفات میں واحد ہے۔ اس لئے اس نے ہر شعبہ حیات میں اپنے انداز میں وحدت کا ایک سفر شروع کر رکھا ہے۔

مذاہب کی دنیا میں اس نے حضرت آدم علیہ السلام سے اس سفر کا آغاز کیا اور جب تک دنیا سفری و مواصلاتی اعتبار سے اس رنگ میں رہی کہ ہر گاؤں، ہر قریہ اور ہر بستی اپنی جگہ ایک الگ دنیا کی حیثیت رکھتی تھی تو ان لوگوں کی طرف قومی اور زبانی نبی تشریف لاتے رہے۔ لیکن جب علم الہی کے مطابق حضرت خاتم الانبیاء ﷺ کے زمانے میں دنیا کا سفر گلوبل ولیج کی جانب شروع ہوا تو اللہ تعالیٰ نے تمام سابق انبیاء کرام علیہم السلام کی اصولی تعلیم کو قرآن کریم میں جمع کر کے اسے خاتم الکتب بنا دیا اور ان کے اوصاف اور خوبیوں کو نہایت ارفع واعلیٰ شکل میں حضور ﷺ کی ذات مبارک میں جمع کر کے انہیں خاتم النبیین کے منصب پر سرفراز کر دیا۔ اس لئے جس طرح خاتم الکتب قرآن مجید کے بعد کسی دوسری کتاب کا تصور نہیں کیا جاسکتا، اسی طرح خاتم النبیین کے بعد کسی دوسرے نبی کا تصور نہیں کیا جاسکتا اور اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو وہ خدا تعالیٰ کے وحدت ادیان، وحدت انبیاء، وحدت کتب، وحدت انسانیت، وحدت کائنات اور وحدت انفس و آفاق کے اس پروگرام کو ڈائنامیٹ کرنا چاہتا ہے جو اس نے حضرت آدم علیہ السلام سے شروع کیا اور ایسا ہونا ناممکن ہے۔

ان چند سطور کی روشنی میں قادیانیوں کو خود سمجھ لینا چاہئے کہ وہ کتنی گمراہ کن، کتنی خوفناک اور کتنی تباہ کن منزل کی طرف جا رہے ہیں اور اس میں مرزا غلام احمد اور اس کے نام نہاد نظریات کی حیثیت کیا ہے؟ ان نظریات کو سنتے اور مانتے ہوئے ہم خود دیکھ رہے ہیں ان کا مٹنا اور پرچم ختم نبوت کی سربلندی تقدیر خداوندی ہے اور اسے دنیا کی کوئی بڑی سے بڑی طاقت نہیں روک سکتی۔

قادیانیت تو ویسے ہی اب فرنگ کی متروکہ کھیل بن کر رہ گئی ہے جس کے منہ میں دانت ہے نہ پیٹ میں آنت۔ اس لئے اب محض نعرے بازی اور ترقی کا پروپیگنڈا اسے زندہ نہیں رکھ سکتا عملی طور پر بھی اس نے امت مسلمہ کے انتشار میں اضافہ کرنے اور مختلف مذاہب کے بانیوں کے خلاف انتہائی غلیظ زبان استعمال کر کے ان کی باہمی منافرت کو تیز کرنے کا فریضہ ہی انجام دیا ہے۔ اس

١٦

لئے ہر صحیح الفکر آدمی یہ سمجھ رہا ہے کہ جس نام نہاد نبی نے اپنی ٨٦ سے زائد کتب میں برطانوی حکومت کے خلاف ایک لفظ تک نہیں لکھا اور محض اس کی مدح کے قصیدے ہی لکھے ہیں وہ کیا کسر صلیب کر سکتا ہے؟ اور جلد ہی یہ بات قادیانیوں کی سمجھ میں بھی آجائے گی اور اب مرزا طاہر احمد کو بھی اپنے دادا کی سنت پر عمل کرتے ہوئے ”ستارہ قیصرہ“ کی طرز پر کوئی ”تحفہ شہزادہ چارلس“ کے نام سے کوئی قصیدہ مدحیہ لکھ دینا چاہئے۔ تاکہ ”کسر صلیب“ کا جو کام مرزا غلام احمد کے ہاتھوں نامکمل رہ گیا ہے وہ مکمل ہو جائے اور قادیانیت کے مذہبی بلائنڈ کیمپ میں غلامی کی زندگی بسر کرنے والے جو ”ہاری“ ایک عرصہ سے یہ راگ الاپ رہے ہیں ؎

جب کبھی بھوک کی شدت کا گلہ کرتا ہوں
وہ عقیدوں کے غبارے مجھے لا دیتے ہیں

ان کی اشک شوئی کا بھی شاید کوئی اہتمام ہو جائے۔ اگرچہ یہ امکانات بہت ہی دور دراز کے ہیں۔ کیونکہ جس امت کے نام نہاد نبی کے لئے حقیقت الوحی کے ڈیڑھ سو کے قریب ”الہامات“ میں سے سو کے اوپر صرف دس روپے کی آمد کے بارے میں ہیں۔ ان کی دنائت سے اچھی امید کیونکر کی جاسکتی ہے۔ ہاں! البتہ یہ کام پاکستان کے انسانیت نواز حلقوں کا ہے کہ وہ اس معاملہ کو ایمنسٹی انٹرنیشنل، ایشیا واچ اور انسانی حقوق کی دوسری تنظیموں کے سامنے اٹھائیں اور قادیانیوں کے اس پروپیگنڈے کا توڑ کریں جو وہ بیرونی دنیا کے سامنے، پاکستان میں اپنے اوپر ہونے والے مصنوعی مظالم کے حوالے سے کر رہے ہیں۔

شفیق مرزا، لاہور

تقدیس کے بادہ خانے میں

١٨٥٧ء کی ناکام جنگ آزادی کے بعد مسلمانوں پر انگریزوں کے مظالم کی داستان اس قدر مہیب اور خونچکاں ہے کہ اس کا تصور کرتے ہوئے بھی روح کپکپاتی اور سینہ بریاں ہوتا ہے۔ معاشی طور پر ملت اسلامیہ پہلے ہی پسی ہوئی تھی، سیاسی آزادی کی اس عظیم تحریک نے دم توڑا تو انگریز کی اہریمنی فراست اس نتیجہ پر پہنچی کہ جب تک مسلمانوں سے دینی روح، انقلابی شعور اور جذبہ جہاد کو کھرچ کر انہیں چلتے پھرتے لاشے نہ بنا دیا جائے۔ اس وقت تک ہمارے سامراجی عزائم تشنہ تکمیل رہیں گے۔ جاگیر دار طبقہ اپنے مفادات کی خاطر پہلے ہی فرنگی حکومت کی مدح وثنا میں مصروف تھا۔ ”علماء“ کا ایک گروہ بھی قرآن حکیم کی آیات کو من مانے معانی پہنا کر تاج برطانیہ کی حمایت کر کے اپنی چاندی کر رہا تھا۔ مگر انگریز سرکار ان سارے انتظامات سے مطمئن نہ تھی۔ اس کے نزدیک مسلمانوں کا انقلابی شعور کسی وقت بھی سلطنت برطانیہ کے لئے خطرہ بن سکتا تھا۔

١٧

صفحہ ٦١

لئے ہر صحیح الفکر آدمی یہ سمجھ رہا ہے کہ جس نام نہاد نبی نے اپنی ٨٦ سے زائد کتب میں برطانوی حکومت کے خلاف ایک لفظ تک نہیں لکھا اور محض اس کی مدح کے قصیدے ہی لکھے ہیں وہ کیا کسر صلیب کر سکتا ہے؟ اور جلد ہی یہ بات قادیانیوں کی سمجھ میں بھی آ جائے گی اور اب مرزا طاہر احمد کو بھی اپنے دادا کی سنت پر عمل کرتے ہوئے ”ستارہ قیصرہ“ کی طرز پر کوئی ”تحفہ شہزادہ چارلس“ کے نام سے کوئی قصیدہ مدحیہ لکھ دینا چاہئے۔ تاکہ ”کسر صلیب“ کا جو کام مرزا غلام احمد کے ہاتھوں نامکمل رہ گیا ہے وہ مکمل ہو جائے اور قادیانیت کے مذہبی بیگار کیمپ میں غلامی کی زندگی بسر کرنے والے جو ”ہاری“ ایک عرصہ سے یہ راگ الاپ رہے ہیں۔

جب کبھی بھوک کی شدت کا گلہ کرتا ہوں
وہ عقیدوں کے غبارے مجھے لا دیتے ہیں

ان کی اشک شوئی کا بھی شاید کوئی اہتمام ہو جائے۔ اگرچہ یہ امکانات بہت ہی دور دراز کے ہیں۔ کیونکہ جس امت کے نام نہاد نبی کے لئے حقیقت الوحی کے ڈیڑھ سو کے قریب ”الہامات“ میں سے سو سے اوپر صرف دس روپے کی آمد کے بارے میں ہیں۔ ان کی دنائت سے اچھی امید کیونکر کی جاسکتی ہے۔ ہاں! البتہ یہ کام پاکستان کے انسانیت نواز حلقوں کا ہے کہ وہ اس معاملہ کو ایمنسٹی انٹرنیشنل، ایشیا واچ اور انسانی حقوق کی دوسری تنظیموں کے سامنے اٹھائیں اور قادیانیوں کے اس پروپیگنڈے کا توڑ کریں جو وہ بیرونی دنیا کے سامنے، پاکستان میں اپنے اوپر ہونے والے مصنوعی مظالم کے حوالے سے کر رہے ہیں۔ شفیق مرزا، لاہور!

تقدیس کے بادہ خانے میں

١٨٥٧ء کی ناکام جنگ آزادی کے بعد مسلمانوں پر انگریزوں کے مظالم کی داستان اس قدر مہیب اور خونچکاں ہے کہ اس کا تصور کرتے ہوئے بھی روح کپکپاتی اور سینہ بریاں ہوتا ہے۔ معاشی طور پر ملت اسلامیہ پہلے ہی پسی ہوئی تھی، سیاسی آزادی کی اس عظیم تحریک نے دم توڑا تو انگریز کی اہریمنی فراست اس نتیجہ پر پہنچی کہ جب تک مسلمانوں سے دینی روح، انقلابی شعور اور جذبہ جہاد کو محو کر کے انہیں چلتے پھرتے لاشے نہ بنا دیا جائے۔ اس وقت تک ہمارے سامراجی عزائم تشنہ تکمیل رہیں گے۔ جاگیردار طبقہ اپنے مفادات کی خاطر پہلے ہی فرنگی حکومت کی مدح وثنا میں مصروف تھا۔ ”علماء“ کا ایک گروہ بھی قرآن حکیم کی آیات کو من مانے معانی پہنا کر تاج برطانیہ کی حمایت کر کے اپنی چاندی کر رہا تھا۔ مگر انگریز سرکار ان سارے انتظامات سے مطمئن نہ تھی۔ اس کے نزدیک مسلمانوں کا انقلابی شعور کسی وقت بھی سلطنت برطانیہ کے لئے خطرہ بن سکتا تھا۔

١٧ سکتا تھا۔

١٧

صفحہ ٦٣

اس لئے اس نے مسلمانوں کی دینی غیرت، سیاسی بصیرت اور قومی روح پر ڈاکہ ڈالنے کے لئے ایک ایسے خاندان کا انتخاب کیا جو اپنی سفلگی و غداری میں کوئی ثانی نہ رکھتا تھا اور اس کا بڑے سے بڑا فرد بھی سرکاری دربار میں کرسی مل جانے کو باعث افتخار سمجھتا تھا۔ اس مکروہ منصوبہ کو انجام تک پہنچانے اور مسلمانوں کی وحدت ملی کو پاش پاش کرنے کے لئے مرزا غلام احمد قادیانی کا انتخاب عمل میں لایا گیا۔ جس نے حضور سرور کائنات ﷺ کی ختم نبوت کو داغ دار کرنے کے لئے (العیاذ باللہ) اپنی بے سروپا تاویلات سے امت مسلمہ میں اس قدر فکری انتشار برپا کیا کہ انگریز کو اپنے گھناؤنے مقاصد کے حصول کے لئے برصغیر میں ایک ایسی جماعت میسر آگئی جو ”الہامی بنیادوں“ پر غلامی کو آزادی پر ترجیح دیتی رہی اور آج انگریز کے چلے جانے کے بعد گو اس کی حیثیت ”متروکہ داشتہ“ کی سی رہ گئی ہے۔ مگر پھر بھی وہ اسرائیل سے تعلقات استوار کر کے، عربوں میں تنسیخ جہاد کا پرچار کر کے، انہیں یہود کی غلامی پر آمادہ کرنے کی مذموم جدوجہد میں مصروف ہو کر وہی فریضہ سرانجام دے رہی ہے جو اس کے آقایان ولی نعمت نے اس کے سپرد کیا تھا۔ حضرت سید الانبیاء ﷺ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے وحدت انسانیت کا جو انٹرنیشنل فکر، ختم نبوت کی شکل میں دیا تھا۔ قادیانی امت نے اس کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے نئی نبوت کا ناٹک رچا کر وحدت ملت اسلامیہ ہی کو سبوتاژ کرنے کی سعی نامسعود شروع کر دی۔ دین سے تلعب کے نتیجے میں اس مسیحیت جدیدہ پر اللہ تعالیٰ کی ایسی پھٹکار نازل ہوئی کہ خود ”نبوت باطلہ کا گھرانہ“ عصمت وعفت کی تمیز سے عاری ہو کر اس طرح معصیت کا ملعب و دوزخ بنا کہ قریب ترین مریدوں نے اسے ”فحش کا مرکز“ قرار دیا۔ گو یہ درست ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی پر واضح رنگ میں جنسی عصیان کا تو کوئی الزام نہ لگا مگر اس کو تسلیم کئے بغیر بھی کوئی چارہ نہیں کہ ان کی جنسی زندگی نا آسودگی کا شکار رہی۔ اگر ”محمدی بیگم کے پاجامے منگوا کر سونگھنے والی روایت“ کے ساتھ ساتھ، اس مظلوم خاتون کے بارہ میں آسمانی نکاح کے تمام الہامات بھی طاق نسیاں پر رکھ دیئے جائیں اور بڑھاپے میں مولوی حکیم نور الدین کے نسخہ ”زوجام عشق“ کے سہارے پچاس مردوں کی قوت حاصل کر لینے کے دعویٰ کے ساتھ ایک نوجوان لڑکی کو حبالہ عقد میں لانے اور پھر بوجوہ اس کی غیر معمولی فرمانبرداری کا تذکرہ نہ بھی کیا جائے تو بھی ان کی تحریرات میں ایسے شواہد بکثرت ملتے ہیں جو اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ان کی عائلی زندگی خوشگوار نہ تھی اور معاشرتی سطح پر پہلی بیوی کا اپنے شوہر کے گھر میں محض ”بچے دی ماں“ بن کر رہ جانا، بڑا دلدوز واقعہ ہے۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ اتنے بلند بانگ دعاوی کے باوجود مرزا قادیانی جب بھی اپنے ناقدین کو جواب دینے پر آمادہ ہوئے، انہوں نے الزامی جوابات کی

١٨

کمین گاہ پر بیٹھ کر درشت کلامی ہی پر اکتفا نہ کیا بلکہ احمقانہ الفاظ میں ایسی باتیں کہہ گئے جو ان کے دعاوی کی نقیض تھیں۔ مثلاً ہندوؤں کے خدا کو ’پرمیشور‘ طعنہ دینے پر کہ آپ تو لاچار اور غرض دار ہیں۔ عجیب یہ طریق ہے کہ جب انہوں نے کسی کو اپنی دختر نیک اختر دینی ہو تو اس کے کھاتے، کھیتوں اور خسرہ نمبر کا پتہ کرتے ہیں۔ مگر نہیں ۔ پنجابی میں یہ کہنے کے مترادف ہے کہ ’توں اپنی لڑکی خدا نوں دینی اے‘ اس کی تجویز خود قادیانی حضرات پر چھوڑ دیتے ہیں۔

قادیانی خلافت کی نیلی فلموں میں مرزا محمود کے ساتھ کسی ولن نے ٹکر لینے کی جسارت نہیں کی۔ ان پر جو الزام جوانی میں لگا اور ان کے والد مرزا غلام احمد نے اس کی تحقیق کی جس نے الزام ثابت ہو جانے کے باوجود چار گواہوں کا مطالبہ کیا۔ اس پر برہم ہو کر ١٣٤٥ھ میں ایک پمفلٹ شائع ہوا تھا جس میں مولوی محمد علی لاہوری سے انہوں نے اس بارہ میں استفسار کیا تھا کہ الزام تو ثابت ہو چکا تھا مگر ہم نے ملزم کو Benefit of Doubt دے دیا تھا۔ جب گدی نشینی کے لئے جنگ اقتدار چھڑی تو دہلی کی جماعت کی سربراہی کے لئے بائیس سال کے ایک لڑکے میں مرزا صاحب کا بیٹا ہونے کے علاوہ کوئی خصوصیت موجود نہ تھی۔ ایسا برخو ردار عین جوانی کے دور میں ایک ایسے منصب پر فائز ہوا جسے بظاہر ایک مقدس کٹہرے کو اپنے لئے پناہ گاہ سمجھتے ہوئے جنسی عصیان کی زندگی میں بلوغت سے لے کر مکمل طور پر مفلوج ہو جانے تک مقدس القابات کی رداؤں میں ملفوف اس پیر زادے پر الزامات ہر طرف سے لگتے رہے۔ مباہلہ کی دعوتیں دی جاتی رہیں ۔ اس سب کے باوجود اس کو کبھی بھی جرأت نہ ہوئی کہ کسی مظلو م کا سامنا کر سکے۔ جب بھی کسی ارادت مند نے واقف راز دروں ہو کر آواز اٹھائی تو عقیدت کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے ملاؤں نے ایک طرف

١٩

صفحہ ٦٣

کمین گاہ پر بیٹھ کر درشت کلامی ہی پر اکتفا نہ کیا بلکہ اشارے کنائے میں ہی نہیں، اکثر اوقات واضح الفاظ میں ایسی باتیں کہہ گئے جو ان کے دعاوی کی مناسبت سے ہرگز ان کے شایان شان نہ تھیں۔ مثلاً ہندوؤں کے خدا کو ’ناف سے چھ انچ‘ نیچے قرار دینا اور ماسٹر مرلی دھر کے محض یہ کہہ دینے پر کہ آپ تو لا چار اور قرض دار ہیں۔ انہیں یہ جواب دینا کہ ہمارے ہاں ہندو جاٹوں کا یہ طریق ہے کہ جب انہوں نے کسی کو اپنی دختر نیک اختر، نکاح میں دینی ہوتی ہے تو وہ خفیہ طور جاکر اس کے کھاتہ، کھیوٹ اور خسرہ نمبر کا پتہ کرتے ہیں۔ مگر ہمارے تمہارے درمیان تو ایسا کوئی معاملہ نہیں۔ پنجابی میں یہ کہنے کے مترادف ہے کہ ”توں مینوں کڑی تے نہیں دینی۔“ ہم اس جواب کا تجزیہ خود قادیانی حضرات پر چھوڑ دیتے ہیں۔

قادیانی خلافت کی نیلی فلموں میں مرزا محمود احمد ہمیشہ ہی ایک ایسا ہیرو رہا ہے جس کے ساتھ کسی ولن نے ٹکر لینے کی جسارت نہیں کی۔ ان پر جنسی بے اعتدالی کا سب سے پہلا الزام ١٩٠٥ء میں لگا اور ان کے والد مرزا غلام احمد نے اس کی تحقیقات کے لئے ایک چار رکنی کمیٹی مقرر کر دی۔ جس نے الزام ثابت ہو جانے کے باوجود چار گواہوں کا سہارا لے کر شبہ کا فائدہ دے کر ملزم کو بچایا۔ عبدالرب (مرحوم) مکان ١٣٣٥ اے پیپلز کالونی فیصل آباد کا حلفیہ بیان ہے کہ اس کمیٹی کے ایک رکن مولوی محمد علی لاہوری سے انہوں نے اس بارہ میں استفسار کیا تو مولوی صاحب نے بتایا کہ الزام تو ثابت ہو چکا تھا۔ مگر ہم نے ملزم کو Benefit of Doubt دے کر چھوڑ دیا۔ ١٩١٤ء میں جب گدی نشینی کے لئے جنگ اقتدار چھڑی تو دہلی کی محلاتی سازشوں کے ماہرین نے ایک مذہبی جماعت کے سربراہی کے لئے بائیس سال کے ایک ایسے چھوکرے کو منتخب کر لیا، جس میں پیر کا بیٹا ہونے کے علاوہ کوئی خصوصیت موجود نہ تھی۔ ایسا برخود غلط اور کندہ ناتراش قسم کا آدمی عمر کے ہیجانی دور میں ایک ایسے منصب پر فائز ہوا جسے بظاہر ایک تقدس حاصل تھا۔ مرزا محمود نے تقدس کے اس کٹہرے کو اپنے لئے پناہ گاہ سمجھتے ہوئے جنسی عصیان کا وہ ہولناک ڈرامہ کھیلا کہ الامان والحفیظ۔

بلوغت سے لے کر مکمل طور پر مفلوج ہو جانے تک ہر چند سال کے وقفہ کے بعد القابات کی رداؤں میں ملفوف اس پیر زادے پر مسلسل بدکاری کے الزامات مخلص مریدوں کی طرف سے لگتے رہے۔ مباہلہ کی دعوتیں دی جاتی رہیں۔ مگر ذہنی طور پر پورا ملحد و بے دین ہونے کے باوجود اس کو کبھی بھی جرأت نہ ہوئی کہ کسی مظلوم مرید کی دعوت مباہلہ پر میدان میں نکلے۔ جب بھی کسی ارادت مند نے واقف راز دروں ہو کر للکارا تو قادیانی گماشتوں اور معیشت کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے ملاؤں نے ایک طرف اخبارات و جرائد میں ہاہا کار شروع کر دی اور

١٩

صفحہ ٦٤

دوسری طرف اس محرم راز کو بدترین سوشل بائیکاٹ کا نشانہ بنایا گیا اور اسے اقتصادی و معاشرتی الجھنوں میں مبتلا کرنے پر ہزاروں روپے خرچ کر کے جب کسی قدر کامیابی ہوئی تو اسے اپنے بدمعاش پیر کا ”معجزہ“ قرار دیا گیا۔

کوئی شخص اپنی والدہ پر الزام تراشی کی جرأت نہیں کرتا اور اگر خدانخواستہ وہ اس پر مجبور ہو جاتا ہے تو صرف یہ کہہ کر اس کو خاموش کرانے کی کوشش کرتا کہ دیکھو یہ بہت بری بات ہے۔ مناسب نہیں۔ اس امر کا جائزہ لینا بھی تو ضروری ہے کہ وہ کن المناک حالات سے دوچار ہوا ہے کہ اسے اپنی اتنی عزیز ہستی کی اصل حقیقت کو دنیا کے سامنے پیش کرنا پڑا۔ پیر کی جلوتیں اگر اس کی خلوتوں سے نالاں ہوں تو مریدوں کا اسی سانچے میں ڈھل جانا، ایک لازمی امر ہے۔ مرزا محمود احمد جب گدی نشین ہوا تو اس نے اپنے باوا کی نبوت کو نعوذ باللہ

احمد ثانی نے رکھ لی احمد اوّل کی لاج

کے مقام پر پہنچایا۔ کبھی مسلمانوں کو اہل کتاب کے برابر قرار دیا اور کبھی انہیں ہندؤوں اور سکھوں سے مشابہت دے کر ان کے بچوں تک کے جنازوں کو حرام قرار دے دیا۔ قادیانیت کا غالب عنصر اس دور میں اس نچلے اور متوسط طبقے پر مشتمل تھا جو معاشی طور پر پسماندہ ہونے کی وجہ سے پیش گوئیوں کی فضا میں رہتے ہوئے گھٹن محسوس کرتا تھا اور انگریز سے وفاداری کی قادیانی سند اس کی ملازمت کو محفوظ رکھتی تھی۔ جب نئی نبوت، تکفیر مسلمین اور ان کے جنازوں کا بائیکاٹ، انتہاء کو پہنچا تو مذکورہ بالا دونوں طبقوں نے قادیان کی طرف بھاگنا شروع کر دیا کہ وہاں رہائش اختیار کریں۔ کیونکہ جس معاشرہ کو ایک ”نبی“ کے افکار کی بناء پر کافر قرار دے کر وہ علیحدہ ہوئے تھے۔ وہاں رہنا اب ان کے لئے ناممکن تھا۔ قادیان میں مرزا محمود احمد نے اپنے خاندان کی مالی حالت کو بہتر بنانے کے لئے مریدوں کے چندے سے خریدی ہوئی زمین کچھ اپنے عزیزوں کے ذریعے نہایت مہنگے داموں فروخت کی اور کچھ صدر انجمن احمدیہ کی معرفت اپنے ماننے والوں کو گراں قیمت پر فروخت کی۔ مگر رجسٹریشن ایکٹ کے ماتحت اس کا انتقال ان کے نام نہ کروایا گیا۔ اس طرح وہ اپنے معاشرہ سے کٹ کر قادیانیت کے دام میں اس طرح پھنسے کہ

نہ جائے رفتن نہ پائے ماندن

اپنی سوسائٹی سے علیحدہ ہو کر اب ایک نئی جگہ پر نئے حالات کا لازمی تقاضا یہ تھا کہ وہ ہر جائز و ناجائز خوشامد کر کے پیر اور اس کے لواحقین کا قرب حاصل کرتے اور انہوں نے وقت اور حالات کے دباؤ کے ماتحت ایسا ہی کیا۔ مگر پیر نے مجبور مریدوں کی عزتوں پر ڈاکے ڈال کر سینکڑوں ٢٠

٥ عصمتوں کے آئینے تار تار کر دیئے اور اگر کوئی بے مقاطعہ کر دینے کی دھمکیاں دے کر خاموش رہنے کروا کر دہشت کی فضا پیدا کی گئی مگر اس تمام بزدلا ڈھونگ رچانے میں کامیاب نہ ہو سکا۔ گاہے ماہے کے بارے میں جملہ الہامات کشوف اور رویا دھرے زندگی کا شاید ہی کوئی دن ایسا ہو جو بدکاری کی غلاظ کا الزام نہ لگا ہو۔ لیکن ذیل میں ہم ان الزامات اخبارات و رسائل ہی میں نہیں، ملک کی عدالتوں روایات بھی درج کرتے ہیں جو آج تک اشاعت پر اس سے پیشتر متعدد کتب آ چکی ہیں۔ لیکن وہ تقر کی گئیں۔ اس کی بہت سی وجوہ تھیں۔ آئندہ سطو وضاحت سے پیش کریں اور اس سے پیشتر جو چیز دیں۔ کیونکہ اگر اس وقت اس کام کو سرانجام نہ دی محروم ہو جائے گا۔ کیونکہ پرانے لوگوں میں سے ج نہ ان سے مل سکے گا اور نہ ان دل دوز واقعات کو ہیں۔ یہ سب شہادتیں موکّد عذاب قسموں کے سا خواص میں سے تھے۔ ان میں سے اکثر اللہ تعالیٰ مگر چند ایسے بھی ہیں جو اپنی برین واشنگ کی وجہ ہیں۔ مگر وہ قادیانی مصلح موعود کو پورے یقین، پو سیزر کا مثیل، راسپوٹین کا بروز اور ہرموئیس کا م ریکارڈ کرانے کے لئے تیار ہیں۔ ممکن ہے بعض طریق مناسب نہیں۔ ان کی خدمت میں گزارش مظلوموں کی طرف سے ہے جن میں سے بعض کو پاداش میں ان پر وہ مصائب ٹوٹے کہ اگر وہ دنوں مظلوموں کی طرف سے ہے جنہیں خدا نے بھی یہ ح

”لا یحب الله الجھر بالسؤ ٢١

صفحہ ٦٥

عصمتوں کے آبگینے تار تار کر دیے اور اگر کوئی بے بس مرید بلبلا اٹھا تو اسے شہر سے نکال دینے اور مقاطعہ کر دینے کی دھمکیاں دے کر خاموش رہنے کی تلقین کی ۔ فخر الدین ملتانی ایسے کئی لوگوں کو قتل کروا کر دہشت کی فضا پیدا کی گئی مگر اس تمام یزیدی اہتمام کے باوجود مرزا محمود، اپنی پاکبازی کا ڈھونگ رچانے میں کامیاب نہ ہو سکا۔ گاہے ماہے اس دریا سے ایسی موج اٹھتی کہ ذریت مبشرہ کے بارے میں جملہ الہامات کشوف اور رؤیا دھرے کے دھرے رہ جاتے۔ یوں تو مرزا محمود کی زندگی کا شاید ہی کوئی دن ایسا ہو جو بدکاری کی غلاظت سے آلودہ نہ ہو اور جس میں اس پر زنا کاری کا الزام نہ لگا ہو۔ لیکن ذیل میں ہم ان الزامات و بیانات کا تذکرہ کرتے ہیں جن کی گونج اخبارات ورسائل ہی میں نہیں، ملک کی عدالتوں تک میں سنی گئی اور اس کے ساتھ بعض بالکل نئی روایات بھی درج کرتے ہیں جو آج تک اشاعت پذیر نہیں ہو سکیں ۔ قادیانی امت کی جنسی تاریخ پر اس سے پیشتر متعدد کتب آچکی ہیں۔ لیکن وہ تقاضائے حالات کے ماتحت، جس رنگ میں پیش کی گئیں ۔ اس کی بہت سی وجوہ تھیں۔ آئندہ سطور میں ہم کوشش کریں گے کہ ان روایات کو ذرا وضاحت سے پیش کریں اور اس سے پیشتر جو چیزیں اجمال سے بیان ہوئی ہیں۔ ان کی تفصیل کر دیں۔ کیونکہ اگر اس وقت اس کام کو سر انجام نہ دیا گیا تو آنے والا مورخ بہت سی معلومات سے محروم ہو جائے گا۔ کیونکہ پرانے لوگوں میں سے جو لوگ صبح گئے یا شام گئے ، کی منزل میں ہیں۔ وہ نہ ان سے مل سکے گا اور نہ ان دل دوز واقعات کو سن سکے گا جو خود ان پر یا ان کی اولاد پر گزرے ہیں۔ یہ سب شہادتیں مؤکد بعذاب قسموں کے ساتھ دی گئی ہیں اور یہ تمام افراد قادیانی امت کے خواص میں سے تھے۔ ان میں سے اکثر اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے مشرف بہ اسلام ہو چکے ہیں۔ مگر چند ایسے بھی ہیں جو اپنی برین واشنگ کی وجہ سے کسی نہ کسی رنگ میں قادیانیت سے وابستہ ہیں۔ مگر وہ قادیانی مصلح موعود کو پورے یقین، پورے وثوق اور پورے ایمان کے ساتھ جولیس سیزر کا مثیل، راسپوٹین کا بروز اور ہرموڈیس کا ظل کامل سمجھتے ہیں اور ہر عدالت میں اپنی گواہی ریکارڈ کرانے کے لئے تیار ہیں۔ ممکن ہے بعض لوگ یہ بھی خیال کریں کہ برائی کی اشاعت کا طریق مناسب نہیں۔ ان کی خدمت میں گزارش ہے کہ وہ اس امر کو مد نظر رکھیں کہ یہ اظہار ان مظلوموں کی طرف سے ہے جن میں سے بعض کی اپنی عصمت کی ردا چاک ہوئی اور اظہار حق کی پاداش میں ان پر وہ مصائب ٹوٹے کہ اگر وہ دنوں پر وارد ہوتے تو راتیں بن جاتیں۔ یہ اظہار ان مظلوموں کی طرف سے ہے جنہیں خدا نے بھی یہ حق دے رکھا ہے۔

"لا یحب اللہ الجھر بالسوء من القول الا من ظلم"

٢١

صفحہ ٦٧

مباہلہ والوں کی للکار

مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم اور میاں زاہد، حال امرتسر مارکیٹ برانڈرتھ روڈ لاہور کے نام کے ساتھ ”مباہلہ والے“ کا لفظ نتھی ہو کر رہ گیا ہے۔ ان مظلوموں نے ١٩٢٧ء میں اپنی ایک ہمشیرہ ”سکینہ بیگم“ پر مرزا محمود کی دست درازی کے خلاف اس زور سے صدائے احتجاج بلند کی کہ بیت الخلافت میں مقیم مذہبی مہنتوں کی روحیں کپکپا اٹھیں۔ قادیانی غنڈوں نے ان کے مکان کو نذر آتش کر دیا اور جناب میاں زاہد کے اپنے بیان کے مطابق اگر مولانا حکیم نورالدین کی اہلیہ محترمہ ان کو بروقت خبردار نہ کر دیتیں تو وہ سب اسی رات قادیانیوں کے ہاتھوں جام شہادت نوش کر چکے ہوتے۔ انہوں نے مرزا محمود احمد کے ناقوسِ خصوصی ”الفضل“ کے کذب وافتراء کا جواب دینے کے لئے مباہلہ نامی اخبار جاری کیا۔ جس کی پیشانی پر یہ شعر درج ہوتا تھا۔

خونِ اسرائیل آجاتا ہے آخر جوش میں
توڑ دیتا ہے کوئی موسیٰ طلسم سامری

یہ مظلوم خاتون قادیانی فرقہ کے صوبائی امیر ”مرزا عبدالحق“ ایڈووکیٹ سرگودھا کی اہلیہ ہیں۔ وہ اپنے مشاہدہ اور تجربہ کی بناء پر اب بھی ربوہ کے پاپائے ثانی کو بدکردار سمجھتی ہیں۔ یہ سانحہ اس طرح ظہور میں آیا کہ وہ کسی کام کی خاطر ”قصر خلافت“ میں گئیں۔ مرزا محمود نے اپنی گھناؤنی فطرت کے مطابق ان کے ساتھ زیادتی کا ارتکاب کیا۔ انہوں نے واپس آ کر سارا معاملہ اپنے شوہر کے گوش گزار کر دیا۔ مرید خاوند نے اپنی زوجہ پر اعتماد کر کے پیر پر تین حرف بھیجنے کی بجائے اس معاملہ کی تحقیق کا ارادہ کیا اور پاپائے ثانی کے پاس پہنچا۔ پیر تو رنگ ماسٹر تھا۔ اس مریدوں کو نچانے کا فن خوب آتا تھا۔ اس نے بڑی معصومیت سے کہا مجھے خود اس معاملہ کی سمجھ نہیں آ رہی۔ ”سکینہ بیگم“ بڑی نیک اور پاک باز لڑکی ہے۔ اس نے ایسی حرکت کیوں کی ہے۔ میں دعا کروں گا آپ کل فلاں وقت تشریف لائیں۔ جب مرزا عبدالحق دوسرے دن پہنچے تو شاطر پیر اپنا عیارانہ منصوبہ مکمل کر چکا تھا۔ اس نے مرید کے لئے دام بچھاتے ہوئے کہا میں نے اس معاملہ پر بہت غور کیا ہے۔ دعا بھی کی ہے۔ ایک بات سمجھ میں آئی ہے کہ چونکہ میں خلیفہ ہوں۔ مصلح موعود ہوں۔ اس لئے ”سکینہ بیگم“ ایک روحانی تعلق کی بناء پر مجھ سے محبت رکھتی ہے اور اس قسم کا جذبہ الفت جب پوری طرح قلب و ذہن پر مستولی ہو جاتا ہے تو اس وقت بعض عورتیں خواب کے عالم میں دیکھتی ہیں کہ انہوں نے فلاں مرد سے ایسا تعلق قائم کیا ہے اور اس خیال کا استیلاء غلبہ ان پر

٢٢

اس قدر ہوتا ہے کہ وہ اس کو بیداری کا واقعہ سمجھ لیتی ہیں۔ ایک کتاب نکال کر دکھا دی کہ دیکھ لو۔ اطباء نے بھی یہی ہو کر گھر واپس آیا تو اہلیہ کے استفسار کرنے پر مرید خاوند صاحب بھی سچ کہتے ہیں۔“

مولوی محمد دین صاحب سابق ہیڈ ماسٹر حالی صاحب المعروف ’ماسٹر جی کام‘ کو بتایا کہ جن دنوں گورداسپور میں پریکٹس کر رہے تھے۔ ایک روز وہ مجھے شاگرد آتے تھے تو میں نے ان سے دریافت کیا کہ کیا بدکردار سمجھتی ہیں اور واقعہ کی صحت پر مصر ہیں تو انہوں

اس سلسلہ میں عبدالرحمان صاحب آف ڈیرہ جو خط و کتابت ہوئی اسے ملاحظہ فرمائیں۔

(نوٹ: وہ یہاں کتاب سے حذف کر دی کتاب میں دوسری جگہ درج ہیں۔ فقیر مرتب!)

ایک احمدی خاتون

مذکورہ بالا عنوان کے تحت ایک مظلوم خاتون کا خط ”مباہلہ“ بابت ١٠؍مئی ١٩٢٨ء میں شائع پذیر ہوا تھا۔ گو اس وقت یہ چیلنج بھی دے دیا گیا تھا کہ اگر تو نام کے اظہار میں کوئی ادنیٰ تامل بھی نہیں ہوگا۔ مگر چونکہ جرات نہ ہوئی۔ اس لئے نام کا اظہار نہیں کیا گیا تھا۔ اب چونکہ ہم اس خط کو تاریخ کا ایک حصہ بنا کر رہے ہیں کہ وہ خاتون قادیان کے دکاندار شیخ نورالدین ان کے بھائی شیخ عبداللہ المعروف عبداللہ سوداگر آج کل عرصہ ہوا، انتقال کر گئی ہیں۔ اب ہم وہ بیان درج کرتے ہیں

”میں میاں صاحب کے متعلق کچھ عرض کرنا چاہتی ہوں کہ وہ کیسی روحانیت رکھتے ہیں؟ میں اکثر اپنے زانی شخص ہیں۔ مگر اعتبار نہیں آتا تھا۔ کیونکہ ان کی مومنانہ اجازت نہ دیتی تھیں کہ ان پر ایسا الزام لگایا جاسکے۔ الخ!“

٢٣

صفحہ ٦٧

اس قدر ہوتا ہے کہ وہ اس کو بیداری کا واقعہ سمجھ لیتی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی مرزا محمود نے طب کی ایک کتاب نکال کر دکھادی کہ دیکھ لو۔ اطباء نے بھی اس مرض کا ذکر کیا ہے۔ اس پر مرید مطمئن ہو کر گھر واپس آیا تو اہلیہ کے استفسار کرنے پر مرید خاوند نے کہا۔ ”تم بھی سچ کہتی ہو اور حضرت صاحب بھی سچ کہتے ہیں۔“

مولوی محمد دین صاحب سابق ہیڈ ماسٹر حال صدر انجمن احمدیہ ربوہ نے مرزا محمد حسین صاحب المعروف ”ماسٹر بی کام“ کو بتایا کہ جن دنوں مرزا عبدالحق، انجمن کے وکیل کے طور پر گورداسپور میں پریکٹس کر رہے تھے۔ ایک روز وہ مجھے ملنے کے لئے آئے۔ جیسا کہ دوسرے شاگرد آتے تھے تو میں نے ان سے دریافت کیا کہ کیا آپ کی اہلیہ اب تک حضرت صاحب کو بدکردار سمجھتی ہیں اور واقعہ کی صحت پر مصر ہیں تو انہوں نے کہا: ”جی ہاں۔“

اس سلسلہ میں عبدالرحمان صاحب آف ڈیرہ غازی خاں اور مرزا عبدالحق کے درمیان جو خط و کتابت ہوئی اسے ملاحظہ فرمائیں۔

(نوٹ: وہ یہاں کتاب سے حذف کر دی ہے۔ اس لئے کہ وہ خود مستقل پمفلٹ اس کتاب میں دوسری جگہ درج ہیں۔ فقیر مرتب!)

ایک احمدی خاتون کا بیان

مذکورہ بالا عنوان کے تحت ایک مظلوم خاتون کا بیان اخبار مباہلہ قادیان میں اشاعت پذیر ہوا تھا۔ گو اس وقت یہ چیلنج بھی دے دیا گیا تھا کہ اگر خلیفہ صاحب مباہلہ کے لئے آمادہ ہوں تو نام کے اظہار میں کوئی ادنیٰ تامل بھی نہیں ہوگا۔ مگر چونکہ اس گوسالہ سامری کو مقابل پر نکلنے کی جرأت نہ ہوئی۔ اس لئے نام کا اظہار نہیں کیا گیا تھا۔ اب ہم ریکارڈ درست رکھنے کی خاطر یہ درج کر رہے ہیں کہ وہ خاتون قادیان کے دکاندار شیخ نورالدین صاحب کی صاحبزادی عائشہ تھیں۔ ان کے بھائی شیخ عبداللہ المعروف عبداللہ سوداگر آج کل ساہیوال میں مقیم ہیں۔ عائشہ بیگم تھوڑا عرصہ ہوا، انتقال کر گئی ہیں۔ اب ہم وہ بیان درج کرتے ہیں۔

”میں میاں صاحب کے متعلق کچھ عرض کرنا چاہتی ہوں اور لوگوں میں ظاہر کر دینا چاہتی ہوں کہ وہ کیسی روحانیت رکھتے ہیں؟ میں اکثر اپنی سہیلیوں سے سنا کرتی تھی کہ وہ بڑے زانی شخص ہیں۔ مگر اعتبار نہیں آتا تھا۔ کیونکہ ان کی مومنانہ صورت اور نیچی شرمیلی آنکھیں ہرگز یہ اجازت نہ دیتی تھیں کہ ان پر ایسا الزام لگایا جاسکے۔ الخ!

٢٣

صفحہ ٦٨

(نوٹ : یہ مکمل واقعہ احتساب قادیانیت ج ٥٨ میں تاریخ محمودیت کے عنوان سے درج ہے۔ اس لئے یہاں سے خارج کر دیا ہے۔ مرتب ! )

مرزا محمود اور مس روفو

مرزا محمود جنس کے میدان وغا میں نت نئے تجربات کرتے رہتے تھے۔ ایک مرتبہ لاہور سیسل ہوٹل میں آئے تو وہاں کی نوجوان اطالوی منتظمہ مس روفو کو دل دے بیٹھے اور پھر بہلا پھسلا کر اسے قادیان لے گئے۔ لاہور تو خبروں کا شہر ہے۔ بات نکلی تو مولانا ظفر علی خاں مرحوم تک پہنچ گئی۔ انہوں نے فوراً ایک نظم کہہ دی اور اگلی صبح اس کا ہر شعر لوگوں کی زبان پر تھا۔ بات بنتی نظر نہ آئی تو مرزا محمود نے حسب روایت بہانہ بنایا کہ میں اسے اپنی بیوی اور لڑکیوں کے انگریزی لہجہ کے لئے لایا تھا۔ (الفضل مورخہ ١٨؍ مارچ ١٩٣٣ء) اس پر اخبارات نے لکھا کہ اطالوی تو خود انگریزی کے بعض الفاظ صحیح طور پر نہیں بول سکتے۔ پھر ایک رقاصہ لڑکی کو گورنس کے طور پر رکھنا کون سی دانشمندی کی علامت ہے؟ اس پر قادیانی امت کے راسپوٹین کے لئے کوئی جائے فرار نہ رہی اور اس نے مس روفو کو اپنے محرم راز ڈرائیور (تحقیق کرنے پر معلوم ہوا کہ یہ ڈرائیور نذیر تھا) کے ہمراہ پانچ ہزار روپیہ دے کر واپس بھیج دیا۔ قادیان میں مس روفو تجربات کی جس بھٹی سے گزری، وہ اس قدر لرزہ خیز نوعیت کے تھے کہ اس نے آتے ہی ایک وکیل کو مرزا محمود کے خلاف کیس دائر کرنے کے لئے کہا کہ وہ اس کے ساتھ اپنی بیٹی کو سامنے بٹھا کر بدکاری کرتا رہا۔ (نقل از کمالات محمودیہ وفتنہ انکار ختم نبوت) وکیل نے اس کا کیس لینے سے انکار کر دیا۔ کیونکہ یہ کوئی معمولی گناہ نہ تھا۔ یہاں تو افشائے راز کا تحفظ بھی معصیت سے کیا گیا تھا۔ میں نے کئی باخبر لوگوں سے دریافت کیا کہ یہ وکیل کون تھے تو انہوں نے بتایا کہ وہ سابق چیف جسٹس محمد منیر تھے۔ جو اس وقت وکالت کی پریکٹس کیا کرتے تھے۔ واللہ اعلم !

اب آپ مولانا ظفر علی کی وہ نظم مطالعہ فرمائیں جو نہ صرف ادبی وفنی اعتبار سے ایک شاہکار ہے۔ بلکہ اس میں قادیانی نبوت وخلافت کی بھی دھجیاں بکھیر کر رکھ دی گئی ہیں۔

اطالوی حسینہ

از نقاش !

اے کشور اطالیہ کے باغ کی بہار لاہور کا دامن ہے تیرے فیض سے چمن
پیغمبر جمال تیری چلبلی ادا پروردگار عشق تیرا دل ربا چلن

٢٤

الجھے ہوئے ہیں دل تری زلف سیاہ میں
پروردہ فسوں ہے تیری آنکھ کا خمار
پیمانہ نشاط تیری ساق صندلیں
رونق ہے ہوٹلوں کی تیرا حسن بے حجاب
جب قادیان پہ تیری نشیلی نظر پڑی
میں بھی ہوں تیری چشم پرافسوں کا معترف

مقبول اختر صاحبہ کا خط

مقبول اختر صاحبہ حکیم قطب الدین انہیں مرزا محمود کے گھر میں رہنا پڑا۔ وہاں جو کچھ لکھ دیا۔ اصل خط میں بعض الفاظ غلط طور پر لکھے (نوٹ: یہ خط کمالات محمودیہ نامی موجود ہے۔ اس لئے یہاں سے خارج کر دیا ہ

شیخ عبدالرحمن صاحب م

شیخ عبدالرحمن مصری ٢٥ مئی کو بمبئی قادیانیت کے ہاتھ پر ہندومت ترک کر کے بیعت ہونے کے بعد، وہ عربی کی اعلیٰ تعلیم مدرسہ احمدیہ قادیان کے ہیڈ ماسٹر مقرر ہوئے۔ روانہ ہوئے تو شیخ صاحب بھی ان کے ساتھ ن کے لوگوں میں شامل تھے۔ نقائص سے مبرا تو ک ہے۔ مگر واقعہ یہ ہے کہ مرزا محمود اپنی تمام ریشہ د الزام نہ لگا سکا۔ ابتداء میں جب انہیں اپنے ب انہوں نے اپنے بیٹے کو عاق کرنے کا فیصلہ کر لی نے تحقیقات شروع کی تو اعتقاد کی دھند چھٹنی ش اولاد پر ہاتھ صاف نہیں ہو رہا ہر گھر میں ڈاکہ

صفحہ ٦٩
الجھے ہوئے ہیں دل تری زلف سیاہ میں ہیں جس کے ایک تار سے وابستہ سو فتن
پروردہ فسوں ہے تیری آنکھ کا خمار آوردۂ جنوں ہے تیری بوئے پیرہن
پیمانہ نشاط تیری ساق صندلیں میخانہ سرور تیرا سحریں بدن
رونق ہے ہوٹلوں کی تیرا حسن بے حجاب جس پر فدا ہے شیخ تو لٹو ہے برہمن
جب قادیان پہ تیری نشیلی نظر پڑی سب نشہ نبوت ظلی ہوا ہرن
میں بھی ہوں تیری چشم پرافسوں کا معترف جادو وہی ہے آج اے قادیاں شکن

(ارمغان قادیان ص ٥٠، شائع کردہ مکتبہ کارواں لاہور)

مقبول اختر صاحبہ کا خط مولانا مظہر علی اظہر کے نام

مقبول اختر صاحبہ حکیم قطب الدین صاحب آف بدوملہی کی عزیزہ ہیں۔ قادیان میں انہیں مرزا محمود کے گھر میں رہنا پڑا۔ وہاں جو کچھ انہیں نظر آیا، وہ انہوں نے مولانا مظہر علی اظہر مرحوم کو لکھ دیا۔ اصل خط میں بعض الفاظ غلط طور پر لکھے گئے ہیں۔ ہم تصحیح کے بغیر انہیں بعینہ نقل کر رہے ہیں۔

(نوٹ: یہ خط کمالات محمودیہ نامی کتاب مندرجہ احتساب قادیانیت جلد ٥٨ میں مکمل موجود ہے۔ اس لئے یہاں سے خارج کر دیا ہے۔ فقیر مرتب!)

شیخ عبدالرحمن صاحب مصری کے معرکہ آراء خطوط

شیخ عبدالرحمان مصری ٢٥ ٹی گلبرگ لاہور میں مقیم ہیں۔ ١٩٠٥ء میں انہوں نے بانی قادیانیت کے ہاتھ پر ہندومت ترک کر کے اسلام قبول کیا۔ مولانا حکیم نورالدین کے سربراہ جماعت ہونے کے بعد، وہ عربی کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لئے مصر چلے گئے۔ واپس آکر مدرسہ احمدیہ قادیان کے ہیڈ ماسٹر مقرر ہوئے۔ ١٩٣٣ء میں جب مرزا محمود انگلستان یاترا کے لئے روانہ ہوئے تو شیخ صاحب بھی ان کے ساتھ تھے۔ یوں سمجھئے کہ مرزا محمود رجیم میں آپ صف اوّل کے لوگوں میں شامل تھے۔ نقائص سے مبرا تو کوئی انسان نہیں ہوتا۔ نہ شیخ صاحب کو اس کا دعویٰ ہے۔ مگر واقعہ یہ ہے کہ مرزا محمود اپنی تمام ریشہ دوانیوں کے باوجود ان پر جنسی یا مالی بددیانتی کا کوئی الزام نہ لگا سکا۔ ابتداء میں جب انہیں اپنے بیٹے کے ذریعے مرزا محمود کی بدکرداری کا علم ہوا تو انہوں نے اپنے بیٹے کو عاق کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ مگر حقائق اپنا آپ منوا لیتے ہیں۔ جب انہوں نے تحقیقات شروع کی تو اعتقاد کی دھند چھٹنی شروع ہوئی اور وہ حیران رہ گئے کہ یہاں انہیں کی اولاد پر ہاتھ صاف نہیں ہو رہا ہر گھر میں ڈاکہ پڑ رہا ہے۔ اس پر انہوں نے مرزا محمود کو تین

٢٥

صفحہ ٧١

پرائیویٹ خطوط لکھے۔ یہ مکاتیب پڑھنے سے پیشتر یہ سمجھنا ضروری ہے کہ یہ ایک ایسے شخص نے لکھے ہیں جو ایک معاشرہ سے تعلقات منقطع کر کے ایک نئے قادیانی ماحول میں آیا تھا اور ایک لمبے عرصہ کے بعد جب اسے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس کی عزت، معاش، اولاد کوئی چیز اس قبائلی نظام میں محفوظ نہیں ہے تو وہ اضطراب اور کرب کی جس کیفیت سے گزرتا ہے اس کا اندازہ اس امر سے ہوسکتا ہے کہ وہ خلیفہ کو بدکار اور زانی سمجھتے ہوئے بھی اسے سیدنا کے لفظ سے خطاب کرتا ہے۔ وہ بعض تحفظات کے وعدہ پر اس ریاست میں اپنی بقیہ زندگی یہ سمجھ کر بھی گزار لینے پر آمادہ ہے کہ میں ایک ایسی ریاست میں رہ رہا ہوں جس کا والی بدچلن ہے۔

یہ چیزیں بتاتی ہیں کہ ایک مخصوص ماحول میں رہتے ہوئے سماجی و معاشی رشتے انسانی ذہن کی ساخت ایسی بنا دیتے ہیں کہ وہ ان علائق کے ٹوٹنے کے خوف سے غیر شعوری طور پر اپنے آپ کو ایسے ”دلائل“ سے مطمئن کرنے کی کوشش کرتا ہے، جن کی حیثیت تار عنکبوت ایسی بھی نہیں ہوتی۔ مرزا محمود نے توبہ کا مطالبہ یا بدکاری کے جواز پر کسی سند کا مانگنا اسی قبیل کی چیزیں ہیں۔ قبائلی سماج کے معروف طریقوں کے مطابق مرزا محمود نے ان کے خلاف اپنے تنخواہ دار ملاؤں سے پروپیگنڈا شروع کروا دیا۔ انہیں قتل کرنے کی دھمکیاں دیں اور مریدوں کی توجہ اپنی زنا کاری سے ہٹانے کے لئے اس امر کی تشہیر کی گئی کہ شیخ صاحب موصوف اپنی صاحبزادی کا رشتہ اسے دینا چاہتے تھے۔ مگر جب اس میں ناکامی ہوئی تو الزامات لگانے شروع کر دیئے۔ شیخ صاحب کو جب اصلاح کی کوئی صورت نظر نہ آئی تو انہیں سمجھ آگئی کہ معیشت، ماحول اور لایعنی عقائد کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے مجبور مریدوں سے سچ بولنے اور صداقت کی حمایت کرنے کی توقع کرنا حماقت ہے۔ اس پر انہوں نے چوبیس گھنٹے کا نوٹس دے کر خلیفہ سے علیحدگی اختیار کر لی۔ اب آپ وہ خطوط ملاحظہ فرمائیں۔

(نوٹ: یہ تمام خطوط ”کمالات محمودیہ“ نامی کتاب میں درج ہیں۔ جو احتساب قادیانیت جلد نمبر ٥٨ میں چھپ چکی ہے۔ اس لئے یہاں سے حذف کر دیا گیا ہے۔ فقیر مرتب!)

فیصلہ عدالت عالیہ ہائیکورٹ لاہور

بہ نگرانی شیخ عبدالرحمن مصری، قادیان

ڈپٹی کمشنر گورداسپور نے جو حکم شیخ عبدالرحمن مصری کی اپیل کے خلاف دیا ہے۔ اس پر نظر ثانی کے لئے موجودہ درخواست ہے۔ شیخ عبدالرحمن مصری سے مجسٹریٹ فرسٹ کلاس کے حکم

٢٦

کے ماتحت ١٤؍ مارچ ١٩٣٨ء کو ضمانت حفظ امن طلب ٢٤؍ مئی ١٩٣٨ء کو اپیل کو مسترد کر دیا تھا۔ لہٰذا اب وہ ہے۔ چنانچہ اس عدالت کے ایک فاضل جج نے حکوم

موجودہ کارروائی کی تحریک کا اصل باعث کے اندر رونما ہوا ہے۔ درخواست کنندہ اس انجمن باعث علیحدہ ہو چکا ہے۔ درخواست کنندہ کے خلاف کئے۔ اولاً پی اے ایگزبٹ جو مورخہ ٢٩؍ جون ١٩٣ ١٣؍ جولائی ١٩٣٧ء کو شائع کیا گیا۔ ان پوسٹروں کے بیان کرنے کی کوشش کی ہے اور یہ پوسٹر بجائے خود قادیا

مدعی نے ایگزبٹ پی جی میں سے ایک شروع ہوتا ہے۔

”میرے عزیزو، میرے بزرگو! آپ نے بھائی کو جس نے محض آپ لوگوں کو ایک خطرناک غل اپنے مال، اپنے ذریعہ معاش اور اپنے آرام کو قربان ک

مدعی کا دارومدار اس پیرا پر بھی ہے جس م میں ایسے عیوب ہیں کہ اسے معزول کرنا ضروری ہ لئے علیحدہ کیا ہے تاکہ میں ایک نئے خلیفہ کے انتخاب

میری رائے میں متذکرہ بالا قسم کے بیانا کسی شخص کی حفظ امن کی ضمانت طلب کی جائے۔ مگ بیان دیا ہے جس کے دوران میں اس نے کہا ہے۔ ” پردہ میں عورتوں کا شکار کھیلتا ہے۔ اس کام کے لئے ایجنٹ رکھا ہوا ہے۔ ان کے ذریعہ یہ معصوم لڑکیوں او بنائی ہوئی ہے اس میں مرد اور عورتیں شامل ہیں اور ا

درخواست کنندہ نے آگے چل کر بیان کی کے گندے شخص سے آزاد کرائے۔ اب اگر اس پوس

درخواست کنندہ کے بیان کی روشنی میں، جو اس نے ح ٢٧

صفحہ ٧١

کے ماتحت ١٤؍مارچ ١٩٣٨ء کو ضمانت حفظ امن طلب کی گئی تھی اور اس حکم کے خلاف ڈپٹی کمشنر نے ٢٤؍مئی ١٩٣٨ء کو اپیل کو مسترد کر دیا تھا۔ لہٰذا اب وہ عدالت ہٰذا میں نظر ثانی کی درخواست دے رہا ہے۔ چنانچہ اس عدالت کے ایک فاضل جج نے حکومت کو حاضری کا نوٹس دیا۔

موجودہ کارروائی کی تحریک کا اصل باعث وہ اختلاف ہے جو جماعت احمدیہ قادیان کے اندر رونما ہوا ہے۔ درخواست کنندہ اس انجمن کا صدر ہے جو خلیفہ سے شدید اختلاف کے باعث علیحدہ ہو چکا ہے۔ درخواست کنندہ کے خلاف اصل الزام یہ ہے کہ اس نے دو پوسٹر شائع کئے۔ اوّلاً پی۔اے ایگزبٹ جو مورخہ ٢٩؍جون ١٩٣٧ء کو شائع ہوا اور ثانیاً ایگزبٹ پی۔جی جو ١٣؍جولائی ١٩٣٧ء کو شائع کیا گیا۔ ان پوسٹروں کے ذریعے درخواست کنندہ نے اپنا مافی الضمیر بیان کرنے کی کوشش کی ہے اور یہ پوسٹر بجائے خود قابل اعتراض نہیں۔

مدعی نے ایگزبٹ پی۔جی میں سے ایک پیرا کی بناء پر اپنا دعویٰ قائم کیا ہے جو اس طرح شروع ہوتا ہے۔

"میرے عزیزو، میرے بزرگو! آپ نے اپنے ایک بے قصور بھائی، ہاں اپنے اس بھائی کو جس نے محض آپ لوگوں کو ایک خطرناک ظالم کے پنجہ سے چھڑانے کے لئے اپنی عزت، اپنے مال، اپنے ذریعہ معاش اور اپنے آرام کو قربان کر دیا ہے......"

مدعی کا دارومدار اس پیرا پر بھی ہے جس کا خلاصہ یوں دیا جا سکتا ہے۔ "موجودہ خلیفہ میں ایسے عیوب ہیں کہ اسے معزول کرنا ضروری ہے اور میں نے اپنے آپ کو جماعت سے اس لئے علیحدہ کیا ہے تا کہ میں ایک نئے خلیفہ کے انتخاب کے لئے جدوجہد کر سکوں۔"

میری رائے میں متذکرہ بالا قسم کے بیانات بجائے خود ایسے نہیں ہیں کہ ان کی بناء پر کسی شخص کی حفظ امن کی ضمانت طلب کی جائے۔ مگر عدالت میں درخواست کنندہ نے ایک تحریری بیان دیا ہے جس کے دوران میں اس نے کہا ہے۔ "موجودہ خلیفہ سخت بدچلن ہے۔ یہ تقدس کے پردہ میں عورتوں کا شکار کھیلتا ہے۔ اس کام کے لئے اس نے بعض مردوں اور بعض عورتوں کو بطور ایجنٹ رکھا ہوا ہے۔ ان کے ذریعہ یہ معصوم لڑکیوں اور لڑکوں کو قابو کرتا ہے۔ اس نے ایک سوسائٹی بنائی ہوئی ہے اس میں مرد اور عورتیں شامل ہیں اور اس سوسائٹی میں زنا ہوتا ہے۔"

درخواست کنندہ نے آگے چل کر بیان کیا ہے کہ اس کا مقصد یہ ہے کہ وہ قوم کو اس قسم کے گندے شخص سے آزاد کرائے۔ اب اگر اس پوسٹر کو، جس کا خلاصہ میں نے اوپر بیان کیا ہے درخواست کنندہ کے بیان کی روشنی میں، جو اس نے عدالت میں دیا ہے پڑھا جائے جیسا کہ بہت

٢٧

صفحہ ٧٢

سے پڑھنے والے ایسا کریں گے تو ان کا رنگ کچھ اور ہی ہو جائے گا اور میری رائے میں یہ امر قابلِ اعتراض ہو جاتا ہے اور حفظِ امن کی ضمانت کا متقاضی ہے۔

ایک اور بھی امر ہے۔ مورخہ ٢٣ جولائی کو خلیفہ نے ایک خطبہ دیا۔ جو بعد میں یکم اگست کے اخبار ”الفضل“ میں جو کہ جماعت کا سرکاری پرچہ ہے، چھپا۔

اس خطبہ میں جماعت سے علیحدہ ہونے والے شخصوں پر حملے کئے ہیں اور ایسے الفاظ ان کی نسبت استعمال کئے ہیں۔ جن کی نسبت میں یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ وہ منحوس Unfortunate اور افسوسناک تھے۔

اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ فخر الدین نے جو انجمن کا سیکرٹری تھا، جس کے صدر شیخ عبدالرحمٰن مصری ہیں، ان کا جواب لکھا، جس میں اس نے کہا: ”اسی لئے تو ہم بار بار جماعت سے آزاد کمیشن کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ تاکہ اس کے روبرو تمام امور اور شہادتوں اور مخفی در مخفی حقائق پیش ہو کر اس قضیہ کا جلد فیصلہ ہو جائے کہ کس کا خاندان ”فحش کا مرکز“ یا بالفاظ دیگر وہ ہے جو خلیفہ نے بیان کیا ۔“

اس بیان میں خلیفہ کے خطبہ کے بیان کی طرف اشارہ ہے۔ جس میں اس نے اپنے دشمنوں اور معترضین کے خاندانوں کے متعلق یہ کہا تھا: ”ان میں سے حیا اور پاکیزگی جاتی رہے گی اور فحاشی کا اڈہ بن جائیں گے۔“ میری رائے میں فخر الدین کے اس پوسٹر کا مطلب صاف اور واضح ہے اور ایسا ہی قادیان میں اس کا مطلب سمجھا گیا۔ کیونکہ صرف دو دن بعد سات اگست کو ایک متعصب مذہبی مجنون نے فخر الدین کو مہلک زخم لگایا۔

میاں محمد امین خان نے جو درخواست کنندہ کا وکیل ہے، اس امر پر زور دیا ہے کہ شیخ عبدالرحمٰن مصری اس آخری پوسٹر کے ذمہ دار نہیں ہیں۔ واقعات یہ ہیں کہ انجمن ایک مختصر سی حیثیت رکھتی تھی۔ جس کا صدر عبدالرحمٰن مصری تھا اور سیکرٹری فخر الدین تھے۔ اصل پوسٹر ہاتھ کا لکھا ہوا تھا جو اب دستیاب نہیں ہو سکتا۔ البتہ اس کی نقل ایک کانسٹیبل نے کی تھی۔ جس کا یہ بیان ہے کہ نیچے فخر الدین سیکرٹری مجلس احمدیہ کے دستخط تھے۔ مگر اس امر کے برخلاف فخر الدین کے لڑکے نے اصل مسودہ پیش کیا ہے جو اس کے باپ نے اس کی موجودگی میں لکھا تھا اور جس کے نیچے صرف اس قدر دستخط ہیں۔ فخر الدین ملتانی، میں کانسٹیبل کے بیان کو قابل قبول سمجھتا ہوں۔ کیونکہ اس کے جھوٹ کہنے کی کوئی وجہ معلوم نہیں ہوتی۔ جو وجہ صفائی کے گواہ میں پائی جاتی ہے اس کا مقصد اپنے لیڈر کو چھڑانا ہے۔

یہ امر کہ فخر الدین نے اصل مسودہ پر ”سیکرٹری“ کے الفاظ نہ لکھے تھے۔ ظاہر نہیں کرتا

٢٨

کہ صاف کردہ اور شائع کنندہ کاپی پر بھی عبدالرحمٰن پر بھی اس پوسٹر کی ذمہ داری عائد ہو عدالت میں دیا ہے۔

ان حالات میں، مقامی حکام نے کی ضمانت طلب کی، وہ مناسب تھی۔ ایک ہزا ضمانت دی جا چکی ہے اور نصف سے زائد عرصہ

شیخ مصری صاحب

مصری صاحب نے مؤلف کو بتایا ک پر مرزا محمود کے بارے میں تحقیقات شروع کی تو رہ گئے۔ اسی اثناء میں انہوں نے مرزا محمود ک معاملہ ہے تو وہ کہنے لگے: ”حضور سلسلے کا اتنا کا ہیں تو کیا حرج ہے۔“

شیخ صاحب

شیخ صاحب فرماتے ہیں کہ: ”جب تفصیلات کے بارہ میں ”پیغام صلح“ میں لکھنا ش خارج ہوتی تھی کہ مرنے کے بعد بھی بند نہیں ہو مضمون کی اشاعت کے بعد قاضی اکمل نے مجھے نہیں، پانچ کفن تبدیل کئے گئے تھے۔

مولانا محمد اسماعیل غ

مولانا محمد اسماعیل غزنوی حکیم نورالد بے تکلفی تھی۔ انہوں نے متعدد افراد کو بتایا کہ :

صفحہ ٧٣

کہ صاف کردہ اور شائع کنندہ کاپی پر بھی یہ الفاظ نہیں لکھے گئے تھے۔ میری رائے میں شیخ عبدالرحمن پر بھی اس پوسٹر کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ خصوصاً اس بیان کے پیش نظر جو انہوں نے عدالت میں دیا ہے۔

ان حالات میں، مقامی حکام نے شیخ عبدالرحمن کے برخلاف جو کچھ کاروائی حفظ امن کی ضمانت طلب کی، وہ مناسب تھی۔ ایک ہزار روپیہ کی ضمانت کچھ بھاری ضمانت نہیں ہے اور یہ ضمانت دی جا چکی ہے اور نصف سے زائد عرصہ گزر چکا ہے۔ لہٰذا درخواست مسترد کی جاتی ہے۔

دستخط ایف ڈبلیو سکیمپ جج

(عدالت عالیہ ہائیکورٹ لاہور)

مورخہ ٢٣ ستمبر ١٩٣٨ء

شیخ مصری صاحب اور میر محمد اسماعیل

مصری صاحب نے مؤلف کو بتایا کہ جب انہوں نے اپنے صاحبزادے کے انکشاف پر مرزا محمود کے بارے میں تحقیقات شروع کی تو اس قدر الم انگیز واقعات سامنے آئے کہ وہ حیران رہ گئے۔ اسی اثناء میں انہوں نے مرزا محمود کے ماموں ڈاکٹر میر محمد اسماعیل سے پوچھا کہ یہ کیا معاملہ ہے تو وہ کہنے لگے: ”حضور سلسلے کا اتنا کام کرتے ہیں، اگر تھوڑی بہت یہ تفریح بھی کر لیتے ہیں تو کیا حرج ہے۔“

شیخ صاحب اور قاضی اکمل

شیخ صاحب فرماتے ہیں کہ: ”جب میں نے خلیفہ صاحب“ کی اہلیہ مریم کی موت کی تفصیلات کے بارہ میں ”پیغام صلح“ میں لکھنا شروع کیا اور یہ بتایا کہ اسکے رحم سے اس قدر پیپ خارج ہوتی تھی کہ مرنے کے بعد بھی بند نہیں ہوتی تھی۔ اس لئے چار مرتبہ کفن تبدیل کیا گیا تو اس مضمون کی اشاعت کے بعد قاضی اکمل نے مجھے خط لکھا اور میری تصحیح کرتے ہوئے بیان کیا کہ چار نہیں، پانچ کفن تبدیل کئے گئے تھے۔

مولانا محمد اسماعیل غزنوی مرحوم کی تحقیق

مولانا محمد اسماعیل غزنوی حکیم نورالدین کے نواسے تھے اور مرزا محمود سے ان کی خاصی بے تکلفی تھی۔ انہوں نے متعدد افراد کو بتایا کہ: ”مرزا محمود احمد ایک عورت کو شب باشی کا پانچ صد

٢٩

صفحہ ٧٤

روپیہ ادا کرتا تھا۔“ مجھے علم ہوا تو میں نے کھوج لگانا شروع کیا اور بالآخر اسے ڈھونڈ نکالا اور پوچھا تم کیسے مرزا محمود سے پانچ سو روپیہ فی رات وصول کر لیتی ہو۔ اس عورت نے بے باکانہ جواب دیا: ”مولوی توں راتیں میرے نال سوں، جے صبح توں مینوں پنج سو روپیہ نہ دتا تے میں تینوں ہزار روپیہ دیواں گی۔“

مولوی صاحب یہ جواب سن کر حیران رہ گئے۔ ملک عزیز الرحمن صاحب کا کہنا ہے کہ یہ بیگم عثمانی تھیں۔

قادیان کا راجہ اندر...... دریا کے کنارے

مولانا موصوف ہی نے بتایا کہ مرزا محمود دریائے بیاس کے کنارے پھیروچی میں پکنک منایا کرتا تھا اور ایسے موقع پر وہاں متعدد خیمے لگائے جاتے تھے۔ ایک مرتبہ وہاں ڈاک بنگلہ تعمیر کرنے کا پروگرام بھی بنا تھا۔ ایسے ہی ایک جشن کے موقع پر، وہ وہاں گئے تو گیٹ کیپر نے انہیں روک لیا۔ ازاں بعد خلیفہ جی کو اطلاع دی گئی اور انہیں اندر بلا لیا گیا اور وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ مرزا محمود پندرہ بیس بالکل عریاں لڑکیوں کے جھرمٹ میں بیٹھا ہے اور اس کے اپنے جسم پر بھی کوئی کپڑا نہیں۔ وہ اس منظر کی تاب نہ لا سکے اور نگاہیں نیچی کر لیں تو مرزا محمود نے نہایت اوباشانہ طریقے سے پوچھا: ”مولانا کیا ہوا ہے۔“

مولوی ظفر محمد صاحب ظفر کا مقاطعہ کیوں؟

مولوی ظفر محمد صاحب ظفر عربی زبان کا نہایت اعلیٰ ذوق رکھتے ہیں اور عربی اور اردو ہر دو زبانوں میں اس قدر خوبصورت شعر کہتے ہیں کہ ان کے قادیانی ہونے پر شبہ ہونے لگتا ہے۔

ایک مرتبہ پاپائے ثانی نے ان کا سوشل بائیکاٹ کر دیا اور پھر بڑی مدت کے بعد ان کی جان چھوٹی۔ وہ کہا کرتے تھے کہ : ”جن باتوں کا مجھے علم ہے اگر میں تمہیں بتا دوں تو تم مرتد ہو جاؤ۔“

یہ فقرہ کسی تفسیر کبیر کا محتاج نہیں۔ البتہ قادیانیوں کی پختہ وفاداری کی ’داد‘ دینی پڑتی ہے کہ: ”وہ سب کچھ جان کر بھی ”انوار خلافت“ اور ”برکات خلافت“ کا ڈھنڈورا پیٹتے پھرتے ہیں۔“

جب میں نے مولوی صاحب ایسے بے ضرر انسان کے ساتھ اس بدترین سلوک کی تحقیقات شروع کی تو پتہ چلا کہ انہیں بھی یہ سزا ”اس جرم“ کی پاداش میں ملی تھی کہ انہیں اپنے ”مصلح موعود“ کی عدیم المثال جنسی انارکی کا علم ہو گیا تھا۔ اب ذرا تفصیل مطالعہ فرمائیں:

٣٠

صفحہ ٧٥

مولوی فرزند علی ان کے افسر اعلیٰ کے طور پر کام کر رہے تھے۔ یہ ان دنوں کا تذکرہ ہے جب خلیفہ جی مصری صاحب سے یدھ ہو رہا تھا۔ جن لوگوں کو قادیان اور ربوہ کے نظام حکومت کے بارہ میں علم ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ وہاں ہر کام، خواہ وہ کسی سطح پر ہو، خلیفہ جی کی اشیر باد اور اشارے کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ مگر مرید سادہ بعض اوقات ”حسن ظنی“ کے چکر میں پھنس جاتا ہے اور پھر قادیانی طلسم ہوشربا کی بھول بھلیوں میں بھٹکتا رہتا ہے۔ ظفر صاحب کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ خلیفہ جی نے سیکورٹی فورس کے نچلے عملہ کو بلا واسطہ یہ حکم دیا کہ مصری صاحب کی بیٹی ”امۃ الرحمٰن“ کو اغوا کر لیا جائے۔ انہی محافظین میں سے کسی نے مولوی ظفر صاحب کو بتایا کہ: ”حضرت صاحب نے حکم دیا ہے کہ مصری صاحب کی بیٹی امۃ الرحمٰن کو اغوا کر لیا جائے۔“

مولوی صاحب موصوف کو یقین نہ آیا کہ ”ہمارے حضرت یہ کام بھی کرتے ہیں۔“ انہوں نے اپنی اس بے یقینی کا ذکر اپنے افسر مولوی فرزند علی سے کیا اور اس نے فوراً مولوی ظفر محمد کی اس ”ایمانی کمزوری“ کی رپورٹ خلیفہ جی کو پہنچا دی اور اس طرح ان کا نام ”مقربین“ کی فہرست سے کٹ گیا۔

کر۔ جب خلیفہ جی کے نت نئے ”معرکوں“ کا چرچا بڑھنے لگا تو مولوی ظفر صاحب نے اپنے طور پر لڑکوں اور لڑکیوں کے بیانات لے کر انہیں ایک کاپی میں محفوظ کرنا شروع کر دیا۔ ایک دن وہ کاپی دفتر میں چھوڑ آئے اور مولوی تاج دین نے یہ کاپی اٹھا کر خلیفہ جی کو پہنچا دی اور اس طرح ”خدا کے مقرر کردہ خلیفہ“ کو یقین ہو گیا کہ مولوی ظفر محمد کا ایمان بہت کمزور ہو گیا ہے اور اس کا علاج یہ ہے کہ اس کا منہ بند کرنے کے لئے فوراً اس کا بائیکاٹ کر دیا جائے۔ کیونکہ ”چپ کا روزہ“ بعض قوٰی کی تقویت کے لئے خاصا مفید ہے۔

اب یہ بھی شبہ ہوا کہ کہیں انہوں نے کچھ ریکارڈ گھر میں نہ چھپا رکھا ہو۔ اس شک کو دور کرنے کے لئے امور عامہ کے ذریعے مولوی صاحب کے گھر میں چوری کروائی گئی اور معمولی معمولی چیزیں بھی اٹھوا لی گئیں۔ انہی چیزوں میں سے مولوی صاحب کے بیٹے ناصر احمد ظفر کے بچپن کا ایک فریم شدہ فوٹو بھی ہے جو اب کچھ عرصہ ہوا مرزا ناصر احمد پاپائے سوم نے ناصر احمد ظفر کو واپس کیا ہے۔ مگر دانشمند مرید نے نہ تو اپنے والد سے دریافت کیا اور نہ مرزا ناصر احمد سے کہ: ”حضور میرا یہ بچپن کا فوٹو کس ”معجزہ“ کے نتیجے میں آپ کے گھر پہنچا ہے۔“

٣١

صفحہ ٧٦

مولوی صدر الدین امیر احمدیہ انجمن اشاعت اسلام لاہور کا بیان

مولوی صدر دین صاحب کا بیان ہے کہ: ”مجھے یقینی ذرائع سے یہ علم ہو گیا تھا کہ مرزا محمود جنسی ذوق کا دلدادہ ہے۔ اس وجہ سے میں نے ہائی سکول میں مرزا محمود کا داخلہ بند کر دیا تھا۔ اور جب تک میں ٹی آئی ہائی سکول قادیان کا ہیڈ ماسٹر رہا ہوں میں نے کبھی اس کو سکول میں گھسنے نہیں دیا۔“

ڈاکٹر اللہ بخش سابق جنرل سیکرٹری احمدیہ انجمن اشاعت اسلام لاہور کا بیان

ڈاکٹر صاحب نے متعدد مرتبہ بیان کیا ہے کہ ایک مرتبہ وہ مرزا محمود کو ملنے کے لئے گئے تو مرزا محمود کے منہ سے شراب کی بو آ رہی تھی۔ کیمیکل ایگزامینر ہونے کی وجہ سے انہوں نے فوراً ہی پتہ لگا لیا کہ یہ بو شراب کی ہے۔

عبد العزیز نومسلم کی صاحبزادی ”خلافت مآب“ کے چنگل میں

عبد العزیز نومسلم کی صاحبزادی ایک مرتبہ بدقسمتی سے ”قصر خلافت“ میں چلی گئیں۔ وہاں کشتہ ”زہر جام عشق“ کی ہوسناکی سے وجود میں آنے والی ”ذریت مبشرہ“ پہلے ہی تاک میں بیٹھی تھی۔ مرزا محمود نے اپنے روحانی وجسمانی فیوض سے اسے مالا مال کر دیا۔ لڑکی نے ساری بپتا اپنے والد کو کہہ سنائی تو قادیانی ریاست کی خاندانی انتظامیہ حرکت میں آ گئی ۔ اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ خود عبد العزیز مذکور کی تحریر میں پڑھئے: ”مجھے ایک روز ولی اللہ شاہ (سالا خلیفہ قادیان) نے اپنے دفتر میں بلایا اور کہا کہ تمہارے متعلق جو افواہ فضل کریم ، عبد الکریم صاحبان نے پھیلائی ہے۔ اس کے متعلق تم ایک تحریر لکھ دو کہ وہ سراسر غلط ہے۔ میں نے بہت ٹالنے کی کوشش کی ۔ مگر انہوں نے ایک مسودہ لکھ کر میرے سامنے رکھ دیا اور کہا کہ دستخط کر دو۔ میں نے جواب دیا کہ میں غلط بات پر کیوں دستخط کر دوں۔ انہوں نے جواب دیا کہ بات تو دراصل تمہاری ٹھیک ہے مگر سلسلہ کی بدنامی ہوتی ہے۔ اس لئے تم دستخط کر دو۔ میں نے پھر جواب دیا کہ میں سچی بات سے کیسے انکار کروں اور خواہ مخواہ آپ تنگ نہ کریں ورنہ اصل حقیقت آپ کو سناؤں تو خلیفہ صاحب کی پردہ دری ہو گی۔ جب انہوں نے دیکھا کہ میں کسی طرح راضی نہیں ہوتا تو دھمکانا شروع کیا کہ تمہارا وظیفہ بند ہو جائے گا اور تم قادیان سے نکالے جاؤ گے۔“

(عبد العزیز نومسلم ”مباہلہ“ یکم / جنوری ١٩٢٩ء ص ٢٠)

٣٢

صفحہ ٧٧

مقدسین قادیان کی سیہ کاریاں اور خفیہ عیاشیاں

”میں ہی نہیں بلکہ قادیان کی نوے فیصد آبادی مقدسین قادیان کی سیہ کاریوں اور خفیہ عیاشیوں سے آگاہ ہے۔ اس لئے میں یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ اخبار ”مباہلہ“ نے میری معلومات میں اضافہ کیا۔ ہاں یہ کہہ سکتا ہوں کہ میں اخبار ”مباہلہ“ کے بیان کردہ واقعات کی تائید اور تصدیق کرتا ہوں۔

خاکسار پرانا قادیانی ہے اور قادیان کا ہر فرد و بشر مجھے خوب جانتا ہے۔ ہجرت کا شوق مجھے بھی دامن گیر ہوا اور میں قادیان ہجرت کر آیا۔ قادیان میں سکونت اختیار کی۔ خلیفہ قادیان کے محکمہ قضا میں بھی کچھ عرصہ کام کیا مگر دل میں آرزو آزاد روزگار کی تھی اور اخلاص مجبور کرتا تھا کہ اپنا کاروبار شروع کر کے خدمت دین بجالاؤں۔ چنانچہ خاکسار نے احمدیہ دواگھر کے نام سے ایک دواخانہ کھولا جس کے اشتہار عموماً اخبار ”الفضل“ میں شائع ہوتے رہے ہیں۔ اگر میں یہ کہوں تو بجا ہوگا کہ قادیان کی رہائش ہی میری عقیدت زائل کرنے کا باعث ہوئی۔ ورنہ اگر میں قادیانی بھائیوں کی طرح دور دور ہی رہتا تو آج مجھے اس تجارتی کمپنی کے ایکٹروں کے سربستہ رازوں کا انکشاف نہ ہوتا یا اگر میں خاص قادیان میں اپنا مکان بنالیتا تو خلیفہ قادیان کا ملازم ہوجاتا تو بھی مجھے آج اس اعلان کی ہرگز جرات نہ ہوتی۔ مختصراً یہ کہ آج میں اس قابل ہوں کہ اس دجالی فرقہ سے توبہ کروں۔ میری دعا ہے اور برادران اسلام سے بھی درخواست دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ قادیان کے واقف حال لوگوں کو سچی گواہی دینے کی جرات عطا فرمائے اور ان کو توفیق دے کہ وہ سچائی کے مقابلہ میں کسی تکلیف کو روک نہ سمجھیں۔“

(خاکسار شیخ مشتاق احمد ”احمدیہ دواگھر“ قادیان، اخبار ”مباہلہ“ دسمبر ١٩٢٩ء)

بدمعاشی سے مفاہمت، مردہ خراب ہونے کے ڈر سے

حکیم عبدالوہاب صاحب بیان کرتے ہیں کہ شیخ عبدالحمید ایڈیٹر ریلوے کی بیٹی اور عبدالباری سابق ناظر بیت المال قادیان کی ہمشیرہ ثریا اور مرزا محمود کی بیٹی ناصرہ بیگم آپس میں سہیلیاں تھیں۔ ثریا ایک دن اپنی سہیلی کو ملنے ”قصر خلافت“ گئی تو رات کو وہیں سوگئی۔ مرزا محمود نے بیٹی کی موجودگی ہی میں اس سے چھیڑ چھاڑ شروع کردی۔ ثریا نے باقاعدہ مقابلہ کیا تو مرزا محمود نے بہانہ بناتے ہوئے کہا: ”مجھے غلط فہمی ہوئی ہے۔ میں سمجھا میری اہلیہ ہیں۔“ ثریا نے جواب دیا:

٣٣

صفحہ ٧٩

"سہیلیاں تو اکٹھی سو جاتی ہیں مگر وہ بیوی جس کی باری چوتھے دن آتی ہے کس طرح یہ پسند کر سکتی ہے کہ وہ اپنی بیٹی کے پاس جاکر سو جائے۔ پھر بیٹی کی موجودگی میں ایسا کرنا شرافت کی کون سی علامت تھی۔" ثریا نے ...... واپس آ کر اپنی والدہ کو تمام واقعات سے آگاہ کر دیا تو اس کے بعد ثریا کے والد شیخ عبدالحمید نے اپنی وصیت منسوخ کر دی اور قادیان آنا جانا ترک کر دیا۔ تقریباً چار سال بعد پھر آنا جانا شروع کر دیا۔ کسی نے پوچھا: "شیخ صاحب کون سی نئی بات وقوع پذیر ہوئی ہے جو آپ نے آنا جانا شروع کر دیا ہے۔" شیخ صاحب نے جواب دیا: "ساری دنیا چھوڑ کر ہم یہاں آئے تھے۔ اب کہاں جائیں۔ اپنا مردہ کون خراب کرے۔ اس لئے ظاہر میں ہم نے تعلقات بحال کر لئے ہیں۔"

زکوٰۃ کا حسن استعمال

عرصہ ہوا "حقیقت پسند پارٹی" کی طرف سے مرزا محمود کی مالی بے اعتدالیوں کے متعلق ایک حیرت انگیز ٹریکٹ شائع ہوا تھا۔ جس کے ایک لفظ کی بھی تردید کرنے کی قادیانی امت کو ہمت نہیں ہوئی۔ اس میں مرزا محمود کے اس فرمان کو بھی ہدف تنقید بنایا گیا ہے کہ زکوٰۃ براہ راست "خلیفہ" کے نام آنی چاہئے۔ کیونکہ یہ خاص حق خلافت ہے۔ اسی ٹریکٹ میں مرقوم ہے۔

"ہم اپنے قطعی اور یقینی علم کی بناء پر جانتے ہیں کہ خلیفہ صاحب کی بہت سی بدکاریوں کا موجب یہ طریق عمل ہوا ہے۔ وہ زکوٰۃ کے روپیہ سے ان عورتوں اور لڑکیوں کی مالی امداد کرتے ہیں ۔ جن سے بدکاری کرتے اور کرواتے ہیں۔"

(خلیفہ ربوہ مرزا محمود کی مالی بے اعتدالیاں ص ٣٨)

مبلغین کو شادی کے فوراً بعد بیرون ملک بھیجنے کا فلسفہ

"اس (مرزا محمود) نے اپنے جنون فرج کی تسکین کے لئے اپنی "عبقریت" کو اپنی کمینگی میں غرق کر کے عصمت اور حیاء کے تصور کے استیصال کے لئے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کیا۔ وہ قادیان میں اپنے پرچارکوں کو شادی کے بعد معاً دور دراز ملکوں میں بھیج دیتا تھا۔ اس طرح ان کی متعلقہ بیویاں اس کے لئے کال گرلز (Call Girls) بن جاتیں۔ اس طرح یہ بھی ہوا کہ ان مظلوم عورتوں کو اپنے خاوندوں کی غیر موجودگی میں بچوں کی مائیں بننا پڑا۔ اسی طرح نائجیریا کے ایک "مبلغ" اور واقف زندگی کی بیوی کو یہی سانحہ المیہ پیش آیا۔ ذرا سی لہر اٹھی مگر جہاں جنسی معصیت کا دور دورہ تھا وہاں یہ الم ناک حادثہ دب کر رہ گیا۔"

(فتنہ انکار ختم نبوت ص ٤٥)

٣٤

خاندان نبوت کے اتالیق کا درد

مرزا محمد حسین صاحب ٣٢ اے، آریہ نگر، سمن نبوت کی مستورات کے اتالیق رہے ہیں۔ وہ ایک علم دوس اس کے باوصف لاہور کے علمی و ادبی حلقوں میں خاصے مع مرحوم نے اپنی کتاب "فاروق" میں ان کا تذکرہ کیا ہے۔ کیو کی داستان اپنے رفقاء کو سناتے رہتے ہیں۔ میرے است غربت، جوانی، علالت اور بڑھاپا کتابوں میں گزارا ہے۔ لی مستورات کا اتالیق رہا ہوں اور کسی (Society) می سربراہ کی خواتین کا استاد ہونا اس معاشرے کے لحاظ سے ا محمود احمد اور اس کے جلو میں رہنے والے افراد کی بدچلنی ن پہنچتا تو نہ قادیان کو چھوڑتا اور نہ قادیانیت کو ترک کرتا۔"

جب میں نے اس ایجاز و اختصار کی کچھ مزید ت گویا ہوئے: "مستورات کا استاد ہونے کی وجہ سے مجھے خ اور سوقیانہ طعنے بازی کا علم تو ہوتا رہتا تھا۔ مگر میں اسے زن احسان علی، مصلح الدین سعدی اور پھر نذیر ڈرائیور سے بڑ کہ "قصر خلافت" میں جنسی عصیان کا ناپاک دھندہ ہوتا ہ سے ان باتوں کو تسلیم کرنے کے لئے قطعاً تیار نہ تھا، گو خ بدمعاش ہیں۔ مگر خود ان کے بارے میں کوئی ایسی با آخر، میں نے اس امر کا ارادہ کر لیا کہ ان افراد میں سے ک ان لوگوں کی خباثتوں سے مکمل طور پر آگاہ کر دوں تاکہ اس ذ میں گزر رہا تھا۔ میں نے اپنے اس ارادہ کا مصلح الدین سع صاحب سے اجازت لے لیں۔ بعد ازاں مجھے بتایا گیا ک حیران تو ہوئے۔ مگر اب انہوں نے اجازت دے دی ہے ا تھا کہ یہ جھوٹ بول رہا ہے۔ تھوڑے وقفے کے بعد جب خ

٣٥

صفحہ ٧٩

خاندان نبوت کے اتالیق کا درس عبرت حاصل کرنا

مرزا محمد حسین صاحب ٢٤۔اے۔آریہ نگر، سمن آباد، لاہور قادیانی امت کے خاندان نبوت کی مستورات کے اتالیق رہے ہیں۔ وہ ایک علم دوست، خلوت پسند اور کم آمیز شخص ہیں۔ مگر اس کے باوصف لاہور کے علمی وادبی حلقوں میں خاصے معروف ہیں۔ حضرت آغا شورش کاشمیری مرحوم نے اپنی کتاب ”نورتن“ میں ان کا تذکرہ کیا ہے۔ گاہے بگاہے وہ قادیانیت سے اپنی علیحدگی کی داستان اپنے رفقاء کو سناتے رہتے ہیں۔ میرے استفسار پر انہوں نے بتایا کہ: ”میرا بچپن غربت، جوانی، علالت اور بڑھاپا کتابوں میں گزرا ہے۔ میں قادیان میں مرزا محمود احمد کے گھر میں مستورات کا اتالیق رہا ہوں اور کسی (Closed Society) میں رہتے ہوئے وہاں کے سربراہ کی خواتین کا استاد ہونا اس معاشرے کے لحاظ سے خاصی فخر کی بات ہوتی ہے۔ اگر میں مرزا محمود احمد اور اس کے جلو میں رہنے والے افراد کی بدچلنی کے بارہ میں حق الیقین کے مقام تک نہ پہنچتا تو نہ قادیان کو چھوڑتا اور نہ قادیانیت کو ترک کرتا۔“

جب میں نے اس ایجاز واختصار کی کچھ مزید تفصیل چاہی تو وہ قدرے تامل کے بعد گویا ہوئے: ”مستورات کا استاد ہونے کی وجہ سے مجھے خلیفہ جی کی مختلف بیویوں کی باہمی چپقلش اور سوتیانہ طعنے بازی کا علم تو ہوتا رہتا تھا۔ مگر میں اسے زیادہ اہمیت نہ دیتا تھا۔ رفتہ رفتہ مجھے ڈاکٹر احسان علی، مصلح الدین سعدی اور پھر نذیر ڈرائیور سے بڑے تواتر کے ساتھ یہ معلوم ہونا شروع ہوا کہ ”قصر خلافت“ میں جنسی عصیان کا ناپاک دھندہ ہوتا ہے۔ میں اپنی طبیعت اور مزاج کے اعتبار سے ان باتوں کو تسلیم کرنے کے لئے قطعاً تیار نہ تھا، گو حقائق اور واقعات دن بدن نکھر کر سامنے آرہے تھے۔ میں یہ سوچ کر دل کو تسلی دیتا رہا کہ ”خلیفہ صاحب“ کے ارد گرد رہنے والے لوگ بدمعاش ہیں۔ مگر خود ان کے بارے میں کوئی ایسی بات میرے حاشیہ خیال میں بھی نہ تھی۔ آخر میں نے اس امر کا ارادہ کرلیا کہ ان افراد میں سے کسی کو اعتماد میں لوں اور پھر خلیفہ صاحب کو ان لوگوں کی خباثتوں سے مکمل طور پر آگاہ کر دوں تاکہ اس ذہنی خلجان سے نجات پاؤں، جس سے میں گزر رہا تھا۔ میں نے اپنے اس ارادہ کا مصلح الدین سعدی سے ذکر کیا تو اس نے کہا پہلے حضرت صاحب سے اجازت لے لیں۔ بعد ازاں مجھے بتایا گیا کہ حضرت صاحب تمہارے متعلق سن کر حیران تو ہوئے۔ مگر اب انہوں نے اجازت دے دی ہے۔ میں اس وقت بھی اس یقین سے معمور تھا کہ یہ جھوٹ بول رہا ہے۔ تھوڑے وقفے کے بعد جب مجھے کوکین والا پان لا کر دیا گیا اور ساتھ

٣٥

صفحہ ٨١

ہی یہ ہدایت نامہ بھی کہ مریم کے پاس مت جانا، اسے مطمئن کرنا تمہارے لئے ممکن نہ ہو گا۔ جی کے پاس جانا، وہ تمہاری شاگرد ہے اور شاگرد ویسے بھی استاد سے دبتا ہے۔ اس لئے تم اس سے خوب نپٹ لوگے۔ اسی دوران مجھے نذیر ڈرائیور سے یہ بھی معلوم ہو چکا تھا کہ مرزا محمود بہت خوش ہے کہ میں بھی زیردام آگیا ہوں اور اس نے کہا یہ اب پھنسا ہے۔

گو اب میرا یقین تو ڈانواں ڈول ہو رہا تھا۔ لیکن پھر بھی میں نے اتمام حجت کی خاطر مزید آگے جانے کا تہیہ کر لیا اور مصلح الدین سعدی کی معیت میں کمرۂ خاص کی طرف روانہ ہوا۔ میرا ”راہبر“ بھی سوچ رہا ہو گا۔

کارواں غولان صحرائی کو رہبر مان کر
ہوچکا گمراہ گمراہی کو منزل جان کر

ابھی کچھ زینے باقی تھے کہ میرے گائیڈ نے مجھے کہا کہ حضرت صاحب کو کچھ لوگ ملنے آگئے ہیں۔ تھوڑی دیر ٹھہر جائیں۔ اتنا کہہ کر وہ اوپر چلا گیا اور میں ڈاکٹر حشمت اللہ کے کمرہ میں بیٹھ گیا۔ قریباً نصف گھنٹے کے بعد مصلح الدین سعدی واپس لوٹا تو اس کے چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں۔ اس نے آتے ہی مجھ سے کہا ماسٹر صاحب آپ اس سلسلہ میں اور لوگوں سے بھی باتیں کرتے رہے ہیں۔ اب انجام کے لئے تیار ہو جائیں۔“

تب یہ عقدہ کھلا کہ اس خلوت کدہ میں جانے کے لئے ایک ہی Source استعمال ہو سکتا تھا۔ کیونکہ مختلف ذرائع استعمال کرنے سے راز کھل جانے کا اندیشہ بھی تھا اور یہ فکر بھی کہ یہ لوگ کہیں اس عشرت کدے سے باہر بھی اپنا تعلق قائم نہ کر لیں۔

اس کے ساتھ ہی ”واقفان سرّ خلافت“ کی گفتگو میں سردمہری اور تہدید غالب آگئی۔ ہسپتال میں مرزا محمود کے حکم پر میری پٹی، بند کر دی گئی تاکہ میں T.B. of The Spine سے صحت یاب نہ ہوں اور مر جاؤں اور اس راز کو افشا نہ کر سکوں۔ اس طرح مجھے مرزا محمود کو اس کے ”حواریوں“ کی بدمعاشی سے آگاہ کرنے کی حسرت ہی رہی۔ البتہ خود مذہب کے پردہ میں ہونے والی جنسی یورشوں اور ان میں مرزا محمود اور اس کے خاندان اور ساتھیوں کے ملوث ہونے کا ایسا قطعی علم ہوا کہ میرے لئے اس فضا میں رہنا دوبھر ہو گیا۔ واپس گھر آیا تو دماغ سائیں سائیں کر رہا تھا۔ اعتقادات کی عمارتیں زمین بوس ہو چکی تھیں۔ جس شخص کے لئے مسلسل پانچ سال تک تہجد میں دعائیں کرتا رہا۔ اسے فداہ ابی وامی کہتا رہا وہ اس قدر بد کردار نکلا کہ اس کا مثیل تلاش کرنے نکلیں تو صدیوں بھٹکتے رہیں۔ اس بے قراری، بے چینی، بے کلی اور اضطراب کے عالم میں

٣٦

لیٹا تو خوفناک بخار نے آلیا۔ ساری رات انگاروں کے سارے بال ایک ہی رات میں جھڑ چکے تھے۔ تھا۔ میں نے قرآن پاک کو اٹھا کر گندگی میں پھینک مگر پھر اللہ تعالیٰ نے دستگیری فرمائی اور مجھے اس در نمازیں شروع کر دیں۔

اس کے کچھ عرصہ بعد کمالیہ میں ایک نا بالکل ”فارغ البال“ دیکھ کر کہا: ”اس عمر میں بالوں جڑیں ہی جل چکی ہیں۔ معلوم ہوتا ہے آپ کو کوئی ش کا مختصر سا ذکر کیا تو وہ کہنے لگے۔ مرزا صاحب خدا کا سب سے ہلکا اثر ہوا ہے۔ کیونکہ اکثر اوقات ایسے م اور کمترین اثر یہ ہوتا ہے کہ بال گر جاتے ہیں۔“

شاید اسی شدید صدمہ کا اثر ہے کہ وہ آج حیات مستعار کے دن پورے کر رہے ہیں۔

عبدالرب خاں صاحب

خان عبدالرب خاں صاحب برہم صدر آپ نے ایک مخلص قادیانی دوست کو مرزا محمود احمد اس پر اس ”مخلص“ قادیانی دوست نے مرزا محمود اح کی بدچلنی کے واقعات سنا کر مجھے محو حیرت کر دیا۔ و دماغ پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔ اس شکایت کے چن الانبیاء“ نے خان صاحب موصوف کو بلا کر سمجھایا کہ لاعلمی کا اظہار کر دینا۔ آپ خاموش ہو گئے۔ مرزا بم کا بم بن گیا۔

اس کے ایک آدھ گھنٹہ بعد برہم صاح جب آپ وہاں گئے تو وہ مخلص احمدی دوست بھی مو بھی وہیں تھے اور دو تین تنخواہ دار ایجنٹ بھی تھے اور

٣٧

صفحہ ٨١

لیٹا تو خوفناک بخار نے آلیا۔ ساری رات انگاروں پر جلتے ہوئے کٹی۔ صبح ہوش آیا تو دیکھا کہ سر کے سارے بال ایک ہی رات میں جھڑ چکے تھے۔ اب میں دہریت کے بدترین ریلے کی زد میں تھا۔ میں نے قرآن پاک کو اٹھا کر گندگی میں پھینک دیا۔ (استغفر اللہ ) چند دن یہی حالت رہی۔ مگر پھر اللہ تعالیٰ نے دستگیری فرمائی اور مجھے اس دوسری گمراہی سے بھی نکالا اور میں نے دوبارہ نمازیں شروع کردیں۔

اس کے کچھ عرصہ بعد کمالیہ میں ایک ماہر طبیب سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے مجھے بالکل ”فارغ البال“ دیکھ کر کہا: ”اس عمر میں بالوں کی جڑیں تو رہتی ہیں۔ آپ کے بالوں کی تو جڑیں ہی جل چکی ہیں۔ معلوم ہوتا ہے آپ کو کوئی شدید صدمہ پہنچا ہے۔ اس پر میں نے اس واقعہ کا مختصر ذکر کیا تو وہ کہنے لگے۔ مرزا صاحب خدا کا شکر ادا کریں کہ آپ پر اس Shock کا سب سے ہلکا اثر ہوا ہے۔ کیونکہ اکثر اوقات ایسے مواقع پر فالج ہو جاتا ہے یا دانت گر جاتے ہیں اور کمترین اثر یہ ہوتا ہے کہ بال گر جاتے ہیں۔“

شاید اسی شدید صدمہ کا اثر ہے کہ وہ آج بھی زندگی کے معبد میں ایک راہب کی طرح حیات مستعار کے دن پورے کر رہے ہیں۔

عبدالرب خاں صاحب برہم کی جرأت رندانہ

خان عبدالرب خاں صاحب برہم صدر انجمن کے دفتر بیت المال میں کام کرتے تھے۔ آپ نے ایک مخلص قادیانی دوست کو مرزا محمود احمد خلیفہ قادیان کی نجی زندگی کے واقعات سنائے۔ اس پر اس ”مخلص“ قادیانی دوست نے مرزا محمود احمد کو لکھ بھیجا کہ خاں صاحب موصوف نے آپ کی بدچلنی کے واقعات سنا کر مجھے محو حیرت کر دیا ہے اور دلائل بھی ایسے دیئے ہیں جو میرے دل و دماغ پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔ اس شکایت کے چند گھنٹے بعد مرزا بشیر احمد ایم.اے المعروف ”قمر الانبیاء“ نے خان صاحب موصوف کو بلا کر سمجھایا کہ اگر حضور کچھ باتیں دریافت کریں تو اس سے لاعلمی کا اظہار کر دینا۔ آپ خاموش ہو گئے۔ مرزا بشیر احمد صاحب کے دل میں خیال آیا۔ بس اب کام بن گیا۔

اس کے ایک آدھ گھنٹہ بعد برہم صاحب کو ”قصر خلافت“ میں مرزا محمود احمد نے بلایا۔ جب آپ وہاں گئے تو وہ مخلص احمدی دوست بھی موجود تھا اور خان صاحب موصوف کے والد محترم بھی وہیں تھے اور دو تین تنخواہ دار ایجنٹ بھی تھے اور سب کو اکٹھے کرنے کا مطلب یہ تھا تا کہ رعب

٤٧

صفحہ ٨٣

ڈال کر حق کو بدلا جاسکے۔ خلیفہ صاحب نے جب خان صاحب موصوف سے دریافت کیا تو اس بے خوف مجاہد نے کہا جو کچھ میں نے آپ کی بدچلنی کے متعلق ان صاحب سے کہا وہ حرف بحرف درست ہے۔ آخر جب کام نہ بنا تو کھڑے ہوکر خلیفہ صاحب نے احسان گنوانے شروع کر دیئے اور ساتھ ہی یہ کہا کہ تم نے میری ہمشیرہ کا دودھ پیا ہوا ہے۔ خان صاحب موصوف نے کہا، یہ درست ہے۔ لیکن یہ حق کا معاملہ ہے۔ دنیا داری کے مقابلہ میں حق مقدم ہے اور اس حق کے لئے ہی اس جماعت میں شامل تھے۔ خان صاحب موصوف نے ملاقات کے فوراً بعد دلیرانہ اقدام یہ کیا کہ ”قصر خلافت“ سے آکر از خود بیعت سے علیحدگی کا اعلان کر دیا۔ آپ نے ایک کتاب ”بلائے دمشق“ بھی لکھی ہے۔ خان صاحب کا حلفیہ بیان درج ذیل ہے: ”میں شرعی طور پر پورا پورا اطمینان حاصل کرنے کے بعد خدا کو حاضر و ناظر جان کر یہ کہتا ہوں کہ موجودہ خلیفہ صاحب یعنی مرزا محمود احمد کا چال چلن نہایت خراب ہے۔ اگر وہ مباہلہ کے لئے آمادگی کا اظہار کریں تو میں خدا کے فضل سے ان کے مد مقابل مباہلہ کے لئے ہر وقت تیار ہوں۔“

(عبدالرب خان برہم، فیصل آباد)

ایک مضطرب مرید کی چٹھی عیار پیر کے نام

بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم! سیدنا حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ بنصرہ العزیز السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!

با ادب گزارش ہے کہ ایک عرصہ سے بعض باتوں کے متعلق حضور کی خدمت عالیہ میں عرض کرنا چاہتا تھا۔ لیکن بعض مصروفیتوں کی وجہ سے حضور سے عرض نہ کر سکا۔ اب مورخہ ١٩؍اکتوبر ١٩٣٨ء خاکسار کو تبلیغ کا موقع ملا۔ جب خاکسار نے بعض لوگوں کو تبلیغ کی، تو انہوں نے میری گفتگو کو روک کر کہا۔ کیا تم لوگ ہم سیدھے سادھے مسلمانوں کو ورغلا کر ایسے شخص کا مرید بنانا چاہتے ہو جو کہ بدچلن اور زانی ہے۔ (نعوذ باللہ من ذالک) جس کی بدچلنی کے متعلق اس کے مرید بھی شور مچا رہے ہیں۔ جب تک تم اپنے خلیفہ کی پوزیشن صاف نہ کرو، اس وقت تک آپ لوگوں کو قطعاً حق حاصل نہیں کہ ہم مسلمانوں کو آکر پھسلانے کی کوشش کرو۔ سیدی، میں نے ان گندے الزامات کو غلط اور جھوٹا ثابت کرنے کی اپنی لیاقت کے مطابق ازحد کوشش کی۔ لیکن وہ یہی

٣٨

اعتراض کرتے رہے کہ اگر یہ الزامات جھوٹے بھی ہیں ت و اس طرح پوزیشن صاف کرنے کی کوشش کرنا ضروری ہے۔ ا ور اس قسم کے واقعات کئی بار سامنے آتے رہے ہیں ج و کہ تبلیغ کے لئے یقیناً رکاوٹوں کا موجب ہے اور حض ور کے نور کو اس طریق سے مدھم کرنے کی کوشش کی جارہی

ان حالات میں حضور پر نور جس طریق سے یہ ضروری ہے کہ کوئی تسلی بخش علاج تجویز فرمائیں کہ ج س سے دشمن کے حربہ کا پورے طور پر انسداد ہو جائے اور آ ئندہ الزامات لگانے کی کسی حریف سلسلہ کو جرأت نہ ہو۔

میرے پیارے آقا! اس قسم کے الزامات کا ب ہت سا حصہ عبدالعزیز نو مسلم کی لڑکی کا واقعہ، مستریوں کی لڑکی اور لڑکے کا واقعہ، پھر والدہ عبدالسلام کا واقعہ، اسی طرح محمودہ اور عائشہ کا واق عہ حضور سے پوشیدہ نہیں ہیں اور وقتاً فوقتاً حضور کو بدنام کرنے کے لئے اس قسم کے الزام حد سے تجاوز کر رہے ہیں۔ اس کے متعلق ح ضور نے بھی ذکر فرمایا تھا۔

تو بدیں حالات میرے آقا، از حد ضروری ہ ے کہ ایسا طریق اختیار فرمائیں کہ جس سے مخالف کا ہمیشہ کے لئے منہ بند ہو جائے جس سے دشمن کو لاجواب کیا جاسکے۔

مثلاً حضرت مسیح موعود (قادیانی) کی کتب م یں ہر چھوٹے سے چھوٹے الزام کا بھی عقلی ونقلی، غرضیکہ ہر طر ح سے وہ جواب بھی ایسا کہ دشمن کی نسلوں تک سے اس کا جواب نہ بن پڑا۔ باقی رہا یہ سوال کہ ہمارے علماء چار گواہوں کے مقابلہ میں ان کے پاس تو بیسیوں گواہ پیش کرنے کا دعویٰ ہے۔ پس ایسے لوگ بہتوں کے لئے ٹھوکر کا موجب بن رہے ہیں۔ ان حالات کو د یکھتے ہوئے ہر ایک احمدی یہ حق رکھتا ہے کہ حضور نہ صرف جماعت کی تسلی وتشفی کے لئے بلکہ ان لوگوں کی تسلی کے لئے بھی، جو کہ محض اس قسم کے وساوس کی وجہ سے احمدیت چھ

٣٩

صفحہ ٨٣

اعتراض کرتے رہے کہ اگر یہ الزامات جھوٹے بھی ہیں تو آپ کے خلیفہ کو اپنی طرف سے پوری طرح پوزیشن صاف کرنے کی کوشش کرنا ضروری ہے۔ اب تمہارا تبلیغ کرنے کا ہمیں کوئی حق نہیں ہے۔ اس قسم کے واقعات کئی بار سامنے آتے رہے ہیں اور دشمن کے پاس اس وقت حربہ ہی یہی ہے جو کہ تبلیغ کے لئے یقیناً رکاوٹوں کا موجب ہے اور حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے لائے ہوئے نور کو اس طریق سے مدھم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

ان حالات میں حضور پر نور جس طریق سے مناسب خیال فرمائیں۔ میرے نزدیک بھی ضروری ہے کہ کوئی تسلی بخش علاج تجویز فرمائیں کہ جس سے حضور والا کی پوزیشن ایسی صاف ہو کہ دشمن کے حربہ کا پورے طور پر انسداد ہو جائے اور آئندہ حضور کی ذات والاصفات پر ایسے الزامات لگانے کی کسی حریف سلسلہ کو جرات نہ ہو۔

میرے پیارے آقا اس قسم کے الزامات کا سلسلہ ایک عرصہ سے جاری ہے۔ چنانچہ عبد العزیز نو مسلم کی لڑکی کا واقعہ، مستریوں کی لڑکی اور لڑکے کا گند اچھالنا۔ پھر زینب اور حلیمہ کا واقعہ پھر والدہ عبدالسلام کا واقعہ، اسی طرح محمودہ اور عائشہ کا واقعہ اور اسی قسم کے اور کئی واقعات جو حضور سے پوشیدہ نہیں ہیں اور وقتاً فوقتاً حضور کو بدنام کرنے کے لئے الزام لگائے جارہے ہیں۔ اب اس قسم کے الزام حد سے تجاوز کر رہے ہیں۔ اس کے متعلق حضور نے ٦؍ اگست ١٩٣٧ء کے خطبے میں بھی ذکر فرمایا تھا۔

تو بدیں حالات میرے آقا، از حد ضروری ہے کہ حضور سنت نبویؐ کے مطابق کوئی ایسا طریق اختیار فرمائیں کہ جس سے مخالف کا ہمیشہ کے لئے منہ بند ہو جائے یا ہمیں کم از کم وہ ہتھیار مل جائے جس سے دشمن کو لاجواب کیا جاسکے۔

مثلاً حضرت مسیح موعود (قادیانی) کی کتب سے معلوم ہوا ہے کہ حضور نے دشمن کے چھوٹے سے چھوٹے الزام کا بھی عقلی و نقلی، غرضیکہ ہر طریق سے دندان شکن جواب دیا ہے اور پھر وہ جواب بھی ایسا کہ دشمن کی نسلوں تک سے اس کا جواب نہ بن سکا۔

باقی رہا یہ سوال کہ ہمارے علماء چار گواہوں کی شرط پیش کرتے ہیں۔ ہمارے مخالف کے پاس تو بیسیوں گواہ پیش کرنے کا دعویٰ ہے۔ پس اس قسم کے دلائل عوام الناس کے لئے بجائے تسلی کے ٹھوکر کا موجب بن رہے ہیں۔ ان حالات کو پیش کر کے عاجز ، حضور والا سے قوی امید رکھتا ہے کہ حضور نہ صرف جماعت کی تسلی و تشفی کے لئے بلکہ دیگر بندگان خدا کی ہدایت کے لئے بھی، جو کہ محض اس قسم کے وساوس کی وجہ سے احمدیت جیسی صداقت سے محروم ہو رہے ہیں۔ ان

٣٩

صفحہ ٨٥

الزامات سے اپنی ذات بابرکات کو پاک وصاف کر کے عنداللہ ماجور ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ حضور کا حافظ و ناصر اور دشمنوں کے ہر شر سے محفوظ رکھے۔ آمین! والسلام، فقط آداب! خاکسار: خادم عبدالرحیم مہاجر

مستورات کی چھاتیوں پر خفیہ دستاویزات

”جب اس شاطر سیاست کے خفیہ اڈوں پر حکومت چھاپہ مارتی تھی تو یہ اسلحہ اور کاغذات کمال ہوشیاری سے زیر زمین دفن کر دیتا تھا۔ قادیان کی سرزمین میں فسادات کے موقع پر احمدی نوجوانوں اور سابق فوجیوں کے ہاتھوں جو ماڈرن اسلحہ مہیا کیا اور ان کی فوجی گاڑیاں حرکت میں آئیں تو اس پر حکومت کی جانب سے یکدم چھاپہ پڑا۔ جس کی اطلاع قبل از وقت خلیفہ کو نہ ہوسکی۔ کیونکہ وہاں احمدی سی آئی ڈی ناکام رہی۔ لیکن خلیفہ کی اپنی اہریمنی فراست ان کے کام آئی۔ کیونکہ جب پولیس سر پر آ گئی تو اس ”مقدس پاکباز مصلح موعود“ نے اپنی مستورات کی چھاتیوں پر خفیہ دستاویزات باندھ کر کوٹھی دارالاسلام (قادیان) بھجوا دیں اور قادیانی فوجیوں نے فوراً اسلحہ زیر زمین کر دیا۔“

مخدرات میدان معصیت میں

”طویل مشاہدے کے بعد یقین ہوا اور پیر پرستی کے برگ حشیش کا اثر زائل ہوا۔ لیکن سارا ماجرا بیان کرنے کی استعداد مفقود ہو گئی۔ چونکہ سیاہ کاریاں محیر العقول تھیں۔ اس لئے ان کی نوعیت اس سیاہ کار کے لئے مدافعت بن گئی۔ کون مان سکتا کہ اس نے محرم اور غیر محرم کی تمیز کو روند کر رکھ دیا تھا اور اس کے لے وہ اپنی جہنمی محفل میں کہا کرتا تھا کہ: ”آدم کی اولاد کی افزائش ہی اس طرح ہوئی ہے کہ کوئی مقدس سے مقدس رشتہ مجامعت میں حائل نہیں ہو سکتا۔“ العیاذ باللہ! جیسا کہ اس تالیف میں ایک جگہ محمد یوسف ناز کا بیان نقل ہوا ہے۔ وہ اپنی مخدرات کو میدان معصیت میں پیش کرتا اور اس کے تربیت یافتگان ان سے حظ اندوز ہوتے اور خود اس روح فرسا منظر کا تماشا کر کے ابلیسی لذت محسوس کرتے۔“

خلوت سیئہ کے وقت کلام الہی کی توہین

”مبینہ طور پر خلوت سیئہ (خلوت صحیحہ ناقل) کے وقت قرآن کریم کو پاس رکھنے والا بھی خدا کی گرفت سے بچ جائے تو اللہ تعالیٰ کے عظیم صبر بخشنے کے بعد ہی اس کی سیاہ کاریوں کے

٤٠

وسیع وعریض رقبے کو جاننے والا اپنے ایمان کی دولت کو کو بھی نہیں بخشا تو یہ کیا نہ کرتا ہوگا۔“

مؤلف ”فتنہ انکار ختم نبوت“ سے ان الفا ”مصلح الدین سعدی نے مؤکد عذاب قسم کھا کر مجھے ایک لڑکی کے ساتھ دادِ عیش دے رہا تھا کہ وہ آیا۔ اس پاک نکالا۔“ (استغفر اللہ ) آخری فقرہ کے بارہ میں ان کا کہنا ہے کہ انہیں ان کے بڑے بھائی مولوی علی محمد صاحب اجمیر کہا کرتا تھا کہ ”حضرت مسیح موعود“ بھی یہی کام کرتے

تین سہیلیاں یتیم

قادیان اور ربوہ میں بے شمار ایسی کہانیاں قادیانی گشتاپو کے تشدد کے باعث ہمیشہ کے لئے دف کو مذہب کے لبادے میں ہر شرمناک کارروائی کر قانون، عاجز اور بے بس ہی نہیں، لاوارث اور یتیم ب غلام رسول پٹھان کی بیٹی کلثوم کی ہے۔ جس کی نعش نال بنت ابو الہاشم خاں بنگالی کو شکار کے بہانے باہر لے نشانہ بنایا گیا۔ تیسری سہیلی امت الحفیظ صاحبہ بنت ہیں۔ اگر وہ اپنی دو سہیلیوں کے ”اتفاقیہ“ قتل پر رو حروف سے لکھا جائے گا اور اس طرح مرزا محمود احمد کی

”مصلح موعود“ کی کہانی حکی

حکیم عبد الوہاب عمر قادیانی امت کے ہیں۔ ان کا بچپن اور جوانی قصر خلافت کے در و دیو سایہ جس پر بھی پڑا ہے اس نے مشاہدہ پر اکتفاء کی ہے۔ یہی حال حکیم صاحب کا ہے۔ اگرچہ اس مر ہیں۔ لیکن انہیں یہ امتیاز حاصل ہے کہ وہ اپنی داستا

٤١

صفحہ ٨٥

وسیع وعریض رقبے کو جاننے والا اپنے ایمان کی دولت کو محفوظ رکھ سکتا ہے۔ جب یہ شخص اپنے باپ کو بھی نہیں بخشا تو یہ کیا نہ کرتا ہوگا۔“

مؤلف ”فتنہ انکار ختم نبوت“ سے ان الفاظ کی وضاحت چاہی گئی تو انہوں نے کہا کہ:

”مصلح الدین سعدی نے مؤکد بعذاب قسم کھا کر مجھے بتایا کہ ایک دن، میں مرزا محمود کی ہدایت پر ایک لڑکی کے ساتھ داد عیش دے رہا تھا کہ وہ آیا۔ اس نے لڑکی کے سرینوں کے نیچے سے قرآن پاک نکالا۔“ (استغفر اللہ)

آخری فقرہ کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ مولوی فضل دین صاحب نے انہیں بتایا کہ انہیں ان کے بڑے بھائی مولوی علی محمد صاحب اجمیری نے بتایا تھا کہ مرزا محمود اپنی محفل خاص میں کہا کرتا تھا کہ ”حضرت مسیح موعود“ بھی یہی کام کرتے تھے۔

تین سہیلیاں تین کہانیاں

قادیان اور ربوہ میں بے شمار ایسی کہانیاں جنم لیتی ہیں جو مجبور مریدوں کی ارادت اور قادیانی گسٹاپو کے تشدد کے باعث ہمیشہ کے لئے دفن ہو جاتی ہیں اور اس ریاست اندر ریاست کو مذہب کے لبادے میں ہر شرمناک کارروائی کرنے کی کھلی چھٹی مل جاتی ہے اور حکومت کا قانون، عاجز اور بے بس ہی نہیں، لاوارث اور یتیم ہو جاتا ہے۔ انہی کہانیوں میں سے ایک کہانی غلام رسول پٹھان کی بیٹی کلثوم کی ہے۔ جس کی نعش تالاب میں پائی گئی۔ اس لڑکی کلثوم کی سہیلی عابدہ بنت ابوالہاشم خاں بنگالی کو شکار کے بہانے باہر لے جایا گیا اور ترکی ضلع جہلم میں ”اتفاقیہ“ گولی کا نشانہ بنایا گیا۔ تیسری سہیلی امت الحفیظ صاحبہ بنت چوہدری غلام حسین صاحب ابھی بقید حیات ہیں۔ اگر وہ اپنی دو سہیلیوں کے ”اتفاقیہ“ قتل پر روشنی ڈال سکیں تو تاریخ میں ان کا نام سنہرے حروف سے لکھا جائے گا اور اس طرح مرزا محمود احمد کی کرامات میں بھی اضافہ ہو جائے گا۔

”مصلح موعود“ کی کہانی حکیم عبدالوہاب کی زبانی

حکیم عبدالوہاب عمر قادیانی امت کے خلیفہ اوّل مولانا نورالدین کے صاحبزادے ہیں۔ ان کا بچپن اور جوانی قصر خلافت کے در و دیوار کے سائے میں گزری ہے اور اس آسیب کا سایہ جس پر بھی پڑا ہے اس نے مشاہدہ پر اکتفاء کم ہی کیا ہے۔ وہ حق الیقین کے تجربے سے گزرا ہے۔ یہی حال حکیم صاحب کا ہے۔ اگرچہ اس مرتبہ میں متعدد دوسرے افراد بھی ان کے شریک ہیں۔ لیکن انہیں یہ امتیاز حاصل ہے کہ وہ اپنی داستان بھی بغیر کسی لاگ لپٹ کے کہہ سناتے ہیں اور

٤١

صفحہ ٨٦

اپنے اوپر قادیانیوں کے معروف طریق کے مطابق تقدس کی جعلی ردا نہیں اوڑھتے اور اگر اس اظہار حقیقت میں ان کا کوئی عزیز زد میں آجائے تو وہ اسے بچانے کی بھی زیادہ جدوجہد نہیں کرتے۔ عموماً وہ اپنی آپ بیتی حکایت عن الغیر کے طور پر سناتے ہیں اور گو ان روایات کے مندرجات بتا دیتے ہیں کہ ان کا مرکزی کردار وہ خود ہی ہیں۔ لیکن اگر کوئی پیچھے پڑ کر کریدنا ہی چاہے کہ یہ نوجوان کون تھا تو وہ بتا دیتے ہیں کہ یہ میں ہی تھا۔ انہوں نے بتایا:

تیراکی میں مصروف تھے کہ مرزا محمود نے غوطہ لگا کر ایک سولہ سالہ نوجوان کے 'منارۂ وجود' کو اپنی گرفت میں لے لیا۔ وہ اتنا کہہ کر خاموش ہو گئے تو ان کے دواخانہ کے انچارج جناب اکرم بٹ نے پوچھا۔ آپ کو کیسے پتہ چلا؟ تو وہ بولے یہ میں ہی تھا۔"

نوجوان سے کہا: اندر ایک لڑکی ہے، جاؤ اس سے دل بہلاؤ۔ وہ اندر گیا اور اس کے سینے کے ابھاروں سے کھیلنا چاہا۔ اس لڑکی نے مزاحمت کی اور وہ نوجوان بے نیل مرام واپس لوٹ آیا۔ مرزا محمود نے اس نوجوان کو کہا: تم بڑے وحشی ہو۔ جواباً کہا گیا کہ اگر جسم کے ان ابھاروں کو نہ چھیڑا جائے تو مزہ کیا خاک ہوگا۔ مرزا محمود نے کہا: لڑکی کی اس مدافعت کا سبب یہ ہے کہ وہ ڈرتی ہے کہ: "اس طرح کہیں اس نشیب وفراز کا تناسب نہ بدل جائے۔"

گاہ (قادیان) کی چھت سے ملحقہ کمرہ کے پاس آکر دروازہ کھٹکھٹانا تو میں تمہیں اندر بلا لوں گی۔ دروازہ کھلا تو اس نوجوان کی حیرت کی کوئی انتہا نہ رہی۔ جب اس نے دیکھا کہ بیگم صاحبہ ریشم میں ملبوس سولہ سنگھار کئے موجود تھیں۔ اس نوجوان نے کبھی کوئی عورت نہ دیکھی تھی۔ چہ جائیکہ ایسی خوبصورت عورت۔ وہ مبہوت ہو گیا۔ اس نوجوان نے کہا کہ حضور اجازت ہے۔ انہوں نے جواب دیا۔ ایسی باتیں پوچھ کر کی جاتی ہیں۔ اس وقت نوجوان نے کچھ نہ کیا۔ کیونکہ اس کے جذبات مشتعل ہو چکے تھے۔ اس نے سوچا کہ 'گرو جی کچہرے ہی میں نہال ہو جائیں گے ۔' اس لئے اس وقت کنارہ کرنا ہی بہتر ہے۔ بیگم صاحبہ موصوفہ نے اس خط کی واپسی کا مطالبہ کیا۔ جو اس نوجوان کو لکھا تھا۔ اس نوجوان نے جواب دیا کہ میں نے اس کو تلف کر دیا ہے۔ تقسیم ملک کے بعد مرزا محمود احمد کے پرائیویٹ سیکرٹری میاں محمد یوسف صاحب اس نوجوان کے پاس آئے، کہا: میں نے سنا ہے کہ آپ کے پاس حضور کی بیویوں کے خطوط ہیں اور آپ اس کو چھاپنا چاہتے ہیں۔ اس

٤٢

صفحہ ٨٧

نوجوان نے جواب دیا۔ بہت افسوس ہے کہ آپ کو اپنی بیوی پر اعتماد ہوگا اور مجھے بھی اپنی بیوی پر اعتماد ہے۔ اگر کسی پر اعتماد نہیں تو وہ حضور کی بیویاں ہیں۔“

ہوس رانی کا نشانہ بنا ڈالا۔ وہ بے چاری بے ہوش ہو گئی۔ جس پر اس کی ماں نے کہا: اتنی جلدی کیا تھی، ایک دو سال ٹھہر جاتے۔ یہ کہیں بھاگی جارہی تھی یا تمہارے پاس کوئی اور عورت نہ تھی۔“

دواخانہ نورالدین کے انچارج جناب اکرم بٹ کا کہنا ہے کہ میں نے حکیم صاحب سے پوچھا یہ صاحبزادی کون تھی؟ تو انہوں نے بتایا: ”امتہ الرشید“

نوٹ...... اس روایت کی مزید وضاحت کے لئے صالح نور کا بیان غور سے پڑھیں جو اسی کتاب میں درج کیا جارہا ہے۔ ملک عزیز الرحمن صاحب بحوالہ ڈاکٹر نذیر ریاض اور یوسف ناز بیان کرتے ہیں کہ جنسی بے راہروی کے ان مظاہر پر جب مرزا محمود سے پوچھا جاتا کہ آپ ایسا کیوں کرتے ہیں تو وہ کہتا لوگ بڑے احمق ہیں۔ ایک باغ لگاتے ہیں۔ اس کی آبیاری کرتے ہیں جب وہ پروان چڑھتا ہے اور اسے پھل لگتے ہیں تو کہتے ہیں: ”اسے دوسرا ہی توڑے اور دوسرا ہی کھائے۔“

ربوہ کی معاشی نبوت کا عظیم فراڈ

حکومت کے خلوت خانہ خیال کی نذر

صدر انجمن احمدیہ قادیان ایک رجسٹرڈ باڈی ہے۔ تقسیم ملک سے قبل اس انجمن کی جائیداد ملک کے مختلف حصوں میں بھی تقسیم کے بعد ناصر آباد، محمود آباد، شریف آباد، کریم نگر فارم، تھر پارکر سندھ کی زمینیں پاکستان میں آگئیں تو مرزا محمود نے ربوہ میں ایک ڈمی انجمن ”ظلی صدر انجمن احمدیہ“ قائم کی اور چوہدری عبداللہ خاں برادر چوہدری ظفر اللہ خاں ایسے قادیانیوں کے ذریعے یہ زمین اپنے صاحبزادوں اور انجمن کے نام منتقل کرالی اور مقصد پورا ہو جانے کے بعد یہ ظلی صدر انجمن، مرزا غلام احمد کی ظلی نبوت کی طرح اصلی بن گئی اور صدر انجمن احمدیہ قادیان نے وہاں کی تمام جائیداد بھارتی حکومت سے واگزار کروالی اور اسی مقصد کے حصول کے لئے موجودہ خلیفہ مرزا ناصر احمد کے ایک بھائی مرزا وسیم احمد کو وہاں ٹھہرایا گیا۔ جو آج بھی وہیں مقیم ہے۔

کرتی تھی مگر وہ خریداروں کے نام رجسٹریشن ایکٹ کے ماتحت رجسٹر نہیں کروائی جاتی تھی۔ جیسا

٤٣

صفحہ ٨٨

کہ ربوہ میں ہوتا ہے۔ اس طرح سرکاری کاغذات میں زمین اصل مالکان کے نام ہی رہتی ہے۔ حالانکہ وہ اسے فروخت کر کے لاکھوں روپے ہضم کر چکے ہوتے ہیں۔ اس عیاری پر پردہ ڈالنے کے لئے خلیفہ ربوہ نے مہاجرین قادیان کو چکمہ دے کر کہ قادیان ”خدا کے رسول کا تخت گاہ“ ہے۔ (نعوذ باللہ) اور انہیں اس بستی میں واپس جانا ہے۔ انہیں قادیان کے مکانوں کا کلیم داخل کرنے سے منع کر دیا اور خود چار کروڑ روپے کا بوگس کلیم داخل کر دیا۔ اب اگر مرید بھی کلیم داخل کر دیتے تو حکومت اور مریدوں سے دہرے فراڈ کی قلعی کھل سکتی تھی۔ اس لئے مریدوں کو کلیم داخل کرنے سے منع کر دیا گیا۔ مگر بہت سے شاطر مرید اس عیاری کو سمجھ گئے اور انہوں نے خود بھی بے پناہ بوگس کلیم داخل کئے اور پھر قادیانی اثر و رسوخ سے منظور کروائے۔

اگر حکومت صرف قادیانیوں کی پاکستان میں جعلی اور بوگس الاٹمنٹوں کی تحقیقات کروائے تو کروڑوں روپے کے فراڈ کا پتہ لگ سکتا ہے اور مؤلف کتاب ہذا بعض جعلی کلیموں کے نمبر تک حکومت کو مہیا کرنے کا پابند ہے۔

تھی۔ مرزا محمود نے یہاں بھی قادیان والا کھیل دوبارہ کھیلا اور ٹوکن پرائس پر حاصل کردہ اس زمین کو ہزاروں روپے مرلہ کے حساب سے مریدوں کے نام فروخت کیا۔ مگر رجسٹریشن ایکٹ کے ماتحت سب لیز ہولڈرز کے نام زمین منتقل نہ ہونے دی۔ اس طرح مریدوں کا لاکھوں روپیہ بھی جیب میں ڈالا اور گورنمنٹ کے لاکھوں روپیہ کے ٹیکس بھی ہضم کئے گئے۔ مریدوں پر اتنا رعب بھی قائم رہا کہ وہ زمین خریدنے کے باوجود مالکانہ حقوق سے محروم رہے اور یہی وجہ ہے کہ جب بھی کسی نے خاندان نبوت کی عیاشیوں اور بدمعاشیوں کے متعلق آواز بلند کی، اسے اپنی ریاست سے باہر نکال دیا اور قبائلی نظام کے مطابق اس کا سوشل بائیکاٹ کر دیا۔ اب جو مرید ایک نبی کے انکار کی وجہ سے ساری ملت اسلامیہ کو کافر قرار دے کر علیحدہ ہوئے ہیں۔ وہ اپنی مخصوص Conditioning اور لایعنی علم الکلام کی وجہ سے واپس امت مسلمہ کے سمندر میں تو نہیں آسکتے۔ وہ اسی گندے اور متعفن جوہڑ میں رہنے پر مجبور ہیں۔ اس لئے ایسے مریدوں سے سچائی کی توقع عبث ہے۔

ربوہ کی لیز فوراً ختم کی جائے۔

٤٤

جائیں اور اندرون شہر خالی پڑی ہوئی زمین پر ق کارخانے قائم کئے جائیں اور اردگرد کے لوگو قادیانی یلغار اور لالچ کا ہدف نہ بن سکیں۔

مسلمان طلبہ کو کفر کی تعلیم دینے کی ناپاک جسار

کے ساتھ تعمیر کی جائے۔

احتساب) کو ختم کر کے ربوہ کا نام تبدیل کر قادیانی اپنی دجالیت نہ پھیلا سکیں۔ اگر مندرجہ ب گا۔ وہاں قادیان سے بدتر غنڈہ گردی ہو رہی ہ آبادی ہندوؤں، سکھوں اور مسلمانوں کی تھی۔ ہے ہی نہیں۔

پر فائز قادیانیوں کے سالانہ اجلاس، ربوہ کے حکومت کے راز منتقل ہوتے ہیں اور ملک کی مع بنتے ہیں۔ اس لئے تمام اعلیٰ عہدوں پر فائز قا اور ملک دشمن ذہنی ساخت کے باعث ملک و قو

جناب صلاح الد

جناب صلاح الدین ناصر ایک نہ خان بہادر ابوالہاشم بنگال میں ڈپٹی ڈائریکٹر آگئے۔ کچھ دیر ربوہ میں بھی مقیم رہے۔ لیکن چ کا یقینی علم حاصل ہو گیا تو وہ رات کی تاریکی میں مرزا محمود کی ننگ انسانیت حرکتوں کو بیان کر

صفحہ ٨٩

جائیں اور اندرون شہر خالی پڑی ہوئی زمین پر فوراً سرکاری عمارات تعمیر کی جائیں۔ ربوہ میں چند کارخانے قائم کئے جائیں اور اردگرد کے لوگوں کو وہاں معاش کی سہولتیں مہیا کی جائیں تاکہ قادیانی یلغار اور لالچ کا ہدف نہ بن سکیں۔

مسلمان طلبہ کو کفر کی تعلیم دینے کی ناپاک جسارت نہ کر سکیں۔

کے ساتھ تعمیر کی جائے۔

احتساب) کو ختم کر کے ربوہ کا نام تبدیل کر کے چک ڈھکیاں اسکا پہلا نام رکھ دیا جائے تاکہ قادیانی اپنی نجاست نہ پھیلا سکیں۔ اگر مندرجہ بالا امور پر عمل نہ کیا گیا تو ربوہ کبھی کھلا شہر نہ بن سکے گا۔ وہاں قادیان سے بدتر غنڈہ گردی ہو رہی ہے اور ہوتی رہے گی۔ کیونکہ قادیان میں تو پھر کچھ آبادی ہندوؤں، سکھوں اور مسلمانوں کی تھی۔ مگر یہاں تو انگریز کی معنوی ذریت کے علاوہ اور کوئی ہے ہی نہیں۔

پر فائز قادیانیوں کے سالانہ اجلاس، ربوہ کے سالانہ میلے پر منعقد ہوتے ہیں۔ جہاں خلیفہ کو حکومت کے راز منتقل ہوتے ہیں اور ملک کی معیشت پر قادیانی گرفت کو مضبوط کرنے کے پروگرام بنتے ہیں۔ اس لئے تمام اعلیٰ عہدوں پر فائز قادیانیوں کی چھٹی ضروری ہے تاکہ وہ اپنی اسلام دشمن اور ملک دشمن باطنی ساخت کے باعث ملک وقوم کو مزید نقصان نہ پہنچا سکیں۔

جناب صلاح الدین ناصر کا ازالہ اوہام

جناب صلاح الدین ناصر ایک نہایت معزز فیملی سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ کے والد خان بہادر ابو الہاشم بنگال میں ڈپٹی ڈائریکٹر مدارس تھے۔ ناصر صاحب پارٹیشن کے بعد پاکستان آگئے۔ کچھ دیر ربوہ میں بھی مقیم رہے۔ لیکن جب ان کو خلیفہ جی کی عدیم المثال، جنسی بے راہ روی کا یقینی علم حاصل ہو گیا تو وہ رات کی تاریکی میں والدہ اور ہمشیرگان کو ساتھ لے کر لاہور آگئے۔ وہ مرزا محمود کی ننگ انسانیت حرکتوں کو بیان کرتے ہوئے کبھی مداہنت سے کام نہیں لیتے۔ جب ان

٤٥

صفحہ ٩٠

کی قادیانیت سے علیحدگی کے بارے میں دریافت کیا گیا تو کہنے لگے : ”بھئی ہماری قادیانیت سے علیحدگی، لاہوریوں کے کسی اختلاف کا نتیجہ نہیں، ہم نے تو لیبارٹری میں ٹیسٹ کر کے دیکھا ہے کہ اس مذہبی انڈسٹری میں دین نام کی کوئی چیز نہیں۔ ہوس اور بوالہوس دو لفظوں کو اکٹھا کر دیں تو قادیانیت وجود میں آجاتی ہے۔“

اتنا کہہ کر خاموش ہو گئے تو میں نے کہا، جناب اس اجمال سے تو کام نہ چلے گا۔ کچھ بتائیں شاید کسی قادیانی کو ہدایت نصیب ہو جائے تو فرمانے لگے: ”یوں تو مرزا محمود یعنی ’محمودے‘ کی بے راہروی کے واقعات طفولیت ہی سے میرے کانوں میں پڑنا شروع ہو گئے تھے اور ہماری ہمشیرہ عابدہ بیگم کا ڈرامائی قتل بھی ان مذہبی سمگلروں کی بدفطرتی اور بدمعاشی کو Expose کرنے کے لئے کافی تھا، مگر ہم حالات کی آہنی گرفت میں اس طرح پھنس چکے تھے کہ ان زنجیروں کو توڑنے کے لئے کسی بہت بڑے دھکے کی ضرورت تھی اور جب دھکا بھی لگ گیا تو پھر عقیدت کے طوق وسلاسل اس طرح ٹوٹتے چلے گئے کہ خود مجھے ان کی کمزوری پر حیرت ہوتی تھی۔“

میں نے ہمت کر کے پوچھ لیا۔ جناب وہ دھکا تھا کیا؟ یہ سن کر ان کی آنکھوں میں نمی سی آ گئی۔ ماضی کے کسی دل دوز واقعہ نے انہیں چرکے لگانے شروع کر دیئے تھے۔ چند سیکنڈ کے بعد کہنے لگے: ”تقسیم برصغیر کے بعد ہم رتن باغ لاہور میں مقیم تھے۔ جمعہ پڑھنے کے لئے گئے تو مرزا محمود نے اعلان کیا کہ جمعہ کے بعد صلاح الدین ناصر مجھے ضرور ملیں۔ جمعہ ختم ہوا تو لوگ مجھے مبارکباد دینے لگے کہ ”حضرت صاحب نے تمہیں یاد فرمایا ہے۔“ میں نے خیال کیا شاید کوئی کام ہوگا۔ اس لئے میں جلد ہی اس کمرہ کی طرف گیا۔ جہاں اس دور کا شیطان مجسم مقیم تھا۔ میں کمرہ میں داخل ہوا تو میری آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ مرزا محمود پر شیطنت سوار تھی۔ اس نے مجھے اپنی ”ہومیو پیتھی“ کا معمول بنانا چاہا۔ میں نے بڑھ کر اس کی داڑھی پکڑ لی اور گالی دے کر کہا: ”اگر مجھے یہی کام کرنا ہے تو اپنے کسی ہم عمر سے کرلوں گا۔ تمہیں شرم نہیں آتی ، اگر جماعت کو پتہ لگ گیا تو تم کیا کرو گے۔“ میری یہ بات سن کر مرزا محمود نے بازاری آدمیوں کی طرح قہقہہ لگایا اور کہا: ”داڑھی منڈوا کر پیرس چلا جاؤں گا۔“

یہ دن میرے لئے قادیانیت سے ذہنی وابستگی رکھنے کا آخری دن تھا۔“

جناب صلاح الدین ناصر ”حقیقت پسند پارٹی“ کے پہلے جنرل سیکرٹری رہے ہیں۔ اس دور میں ملک کے گوشے گوشے میں تقاریر کر کے انہوں نے قادیانیت کی حقیقت کو خوب واشگاف کیا۔ اسی زمانہ کا ایک واقعہ سناتے ہوئے کہنے لگے: ”گجرات کے ایک جلسہ میں تقریر

٤٦

صفحہ ٩١

کرتے ہوئے میں نے مرزا محمود کے متعلق کہا کہ اس کی اخلاقی حالت سخت نا گفتہ بہ ہے۔ اس پر ایک قادیانی اٹھ کھڑا ہوا اور کہنے لگا اس کی وضاحت کریں۔ میں نے کہا یہ الفاظ بہت واضح ہیں۔ وہ پھر بولا ۔ کیا اس نے تمہاری شلوار اتاری تھی۔ میں نے جواب دیا۔ اسی بات کو بیان کرنے سے میں جھجک رہا تھا۔ آپ اپنے خلیفہ کے مزاج شناس ہیں۔ آپ نے خوب پہچانا ہے۔ یہی بات تھی۔ جلسہ کے تمام سامعین کھلکھلا کر ہنس پڑے اور وہ صاحب آہستہ سے کھسک گئے۔"

میں کہاں آ نکلا

جناب محمد صدیق ثاقب زیروی قادیانی امت کے خوش گلو شاعر ہیں۔ اگر وہ اپنی شاعری کو مرزا غلام احمد قادیانی کے خاندان کی قصیدہ خوانی کے لئے وقف کر کے تباہ نہ کرتے تو ملک کے اچھے شعراء میں شمار ہوتے ۔ سچ کہنے کی پاداش میں وہ ربوہ کی ریاست کے زیر عتاب رہ چکے ہیں۔ مگر اب چونکہ انہوں نے خوف فساد کی وجہ سے قادیانی امت کے سیاسی و معاشی مفادات کے لئے اپنے آپ کو رہن کر رکھا ہے اور ہفت روزہ ”لاہور“ قادیانی امت کا سیاسی آرگن بن گیا ہے۔ اس لئے اب ربوہ میں ان کی بڑی آؤ بھگت اور خاطر مدارت ہوتی ہے اور ہر طرف سے انہیں ”بشریٰ لکم“ کی نوید ملتی ہے۔ عرصہ ہوا انہوں نے ایک نظم اپنے خلیفہ صاحب کے بارہ میں لکھی تھی مگر اشاعت کے مرحلہ پر اس پر یہ نوٹ لکھ دیا گیا۔ ”ایک پیر خانقاہ کی لادینی سرگرمیوں سے متاثر ہو کر ۔“

قارئین غور فرمائیں کہ ”پیر خانقاہ“ اور ربوہ کے مذہبی قبرستان کے احوال میں کیسی مماثلت و مشابہت ہے۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ اسی کی تصویر ہے۔

شورش زہد بپا ہے میں کہاں آ نکلا
ہر طرف مکر و ریا ہے میں کہاں آ نکلا
نہ محبت میں حلاوت نہ عداوت میں خلوص
نہ تو ظلمت نہ ضیا ہے میں کہاں آ نکلا
چشم خود بیں میں نہاں حرص زرو گوہر کی
کذب کے لب پہ دعا ہے میں کہاں آ نکلا
راستی لحظہ بہ لحظہ ہے رواں سوئے دروغ
صدق پابند جفا ہے میں کہاں آ نکلا
دن دہاڑے ہی دکانوں پہ خدا بکتا ہے
نہ حجاب اور حیا ہے میں کہاں آ نکلا
یاں لیا جاتا ہے بالجبر عقیدت کا خراج
کیسی بے درد فضا ہے میں کہاں آ نکلا
خندہ زن ہے سفلگی اس کی ہراک سلوٹ میں
یہ جو سر سبز قبا ہے میں کہاں آ نکلا
دلنوازی کے پھریروں کی ہواؤں کے تلے
جانے کیا رینگ رہا ہے میں کہاں آ نکلا
عجز سے کھلتی سمٹتی ہوئی باچھوں پہ نہ جا
ان کے سینوں میں دغا ہے میں کہاں آ نکلا

٤٧

صفحہ ٩٢
یہ ہے مجبور مریدوں کی ارادت کا خمار یہ جو آنکھوں میں جلا میں کہاں آ نکلا
قلب مؤمن پہ سیاہی کی تہیں اتنی دبیز ناطقہ سہم گیا ہے میں کہاں آ نکلا
الغرض یہ وہ تماشا ہے جہاں خوفِ خدا چوکڑی بھول گیا ہے میں کہاں آ نکلا

مولوی عبدالستار نیازی اور دیوان سنگھ مفتون

مولانا عبدالستار صاحب نیازی کی شخصیت محتاج تعارف نہیں، بلکہ خود تعارف ان کا محتاج ہے۔ مذہبی و دینی علوم کے علاوہ سیاسی نشیب و فراز پر جس طرح وہ نظر رکھتے ہیں اور جس جرأت اور بے باکی سے باطل کو للکارتے ہیں، یہ انہی کا حصہ ہے۔ مولانا موصوف نے مؤلف اور امیر الدین صاحب سیمنٹ بلڈنگ تھارٹن روڈ لاہور کے سامنے بیان کیا ہے کہ: ”ایوب حکومت میں جب دیوان سنگھ مفتون پاکستان آئے تو مجھے ملنے کے لئے بھی تشریف لائے۔ دورانِ گفتگو انہوں نے بڑی حیرانگی سے کہا میں عرصہ دراز کے بعد ربوہ میں مرزا محمود سے ملا ہوں۔ خیال تھا کہ وہ کام کی بات کریں گے۔ مگر میں جتنا عرصہ وہاں بیٹھا رہا۔ وہ یہی کہتے رہے کہ فلاں لڑکی سے تعلقات استوار کئے تو اتنا مزہ آیا، فلاں سے کیے تو اتنا۔“

مرزا محمود احمد کی ایک بیوی کا خط دیوان سنگھ مفتون کے نام

حکیم عبدالوہاب عمر بیان کرتے ہیں کہ مرزا محمود خلیفہ ربوہ کی ایک بیوی نے ایک مرتبہ ایڈیٹر ”ریاست“ سردار دیوان سنگھ مفتون کو خط لکھا کہ تم راجوں مہاراجوں کے خلاف لکھتے ہو، ہمیں بھی اس ظالم کے تشدد سے نجات دلاؤ جو ہمیں بدکاری پر مجبور کرتا ہے۔ ایڈیٹر مذکور نے ظفر اللہ خاں وغیرہ قادیانیوں سے تعلق کی وجہ سے کوئی جرأت مندانہ اقدام تو نہ کیا۔ البتہ ”ریاست“ میں خلیفہ جی کی معزولی کے بارہ میں ایک نوٹ تحریر کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ جس شخص پر اہل خانہ تک جنسی بے راہ روی کے الزامات لگا رہے ہوں، اسے اس قسم کے عہدہ سے چمٹا رہنا سخت ناعاقبت اندیشانہ فعل ہے۔ قادیانی ”رائل پارک فیملی“ کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ بیوی مولوی نور الدین جانشین اوّل جماعت قادیان کی صاحبزادی امۃ الحئی بیگم تھیں۔

راجہ بشیر احمد رازی کی تجرباتی داستان

راجہ بشیر احمد رازی حال مشن روڈ بالمقابل ناز سینما لاہور، راجہ علی محمد صاحب کے صاحبزادے ہیں۔ جو ایک عرصہ جماعت ہائے احمدیہ گجرات کے امیر رہے۔ ١٩٤٥ء میں زندگی

٤٨

٣ وقف کرنے کے بعد ربوہ چلے گئے اور صدر انجمن ہوئے۔ اسی دوران ان کے تعلقات شیخ نور الحق ہو گئے جو مرزا محمود احمد کی خلوتوں سے پوری طر میں پلے تھے۔ اس لئے متعدد مرتبہ سننے کے باوجو کچھ قصر خلافت میں ہوتا ہے۔ انہوں نے ڈاکٹر نذ تمہاری باتوں کو ماننے کے لئے تیار نہیں۔ جب صاحب مذکور نے ان سے پختہ عہد لینے کے بع سٹینڈرڈ ٹائم کی حیثیت رکھتا ہے۔ جب اس پر ٩ نذیر کی معیت میں قصر خلافت پہنچے تو خلافِ توق معاملہ ہے۔ کہیں ڈاکٹر سچ ہی نہ کہہ رہا ہو۔ پھر بچوانے کا تو کوئی پروگرام نہیں۔ مگر انہوں نے ج کرتے گئے۔ جب اوپر پہنچے تو ڈاکٹر نے انہیں آ میں چلے گئے۔ راجہ صاحب نے پردہ ہٹا کر دروا مسحور کر دیا اور انہوں نے دیکھا کہ چھوٹی مریم آر جنسی ناول ”ٹینی بل“ کا مطالعہ کر رہی ہے۔ ر رونگٹے کھڑے ہو گئے اور میری سوچ کے دھارے اپنے والد محترم کو دیکھا اور کہا تم اس کام کے لئے کا خیال آیا جو انڈے بیچ کر بھی چندہ کے طور پر ر اور پلنگ پر بیٹھ گیا۔ وہاں تو دعوتِ عام تھی، مگر میں کا یہ مصرعہ یاد آ رہا تھا۔

یہ ناداں گر گئے سجدے

اصل میں مجھے اس قدر Shock میں نے بہانہ کیا کہ میں کھانا کھا کر آیا ہوں۔ غ اگر شکم سیری کی حالت میں، میں یہ کام کروں ت معرکہ اولیٰ میں ناکام واپس لوٹا اور آتے ہوئے نذیر بڑا بدنام آدمی ہے، اس کے ساتھ نہ آنا۔“

صفحہ ٩٣

وقف کرنے کے بعد ربوہ چلے گئے اور صدر انجمن احمدیہ ربوہ میں نائب ایڈیٹر کے عہدے پر فائز ہوئے۔ اسی دوران ان کے تعلقات شیخ نور الحق ”احمدیہ سنڈیکیٹ“ اور ڈاکٹر نذیر احمد ریاض سے ہوگئے جو مرزا محمود احمد کی خلوتوں سے پوری طرح آشنا تھے۔ راجہ صاحب ایک قادیانی گھرانے میں پلے تھے۔ اس لئے متعدد مرتبہ سننے کے باوجود انہیں اس بات کا یقین نہیں آتا تھا کہ یہ سب کچھ قصر خلافت میں ہوتا ہے۔ انہوں نے ڈاکٹر نذیر ریاض صاحب سے کہا کہ میں تو اس وقت تک تمہاری باتوں کو ماننے کے لئے تیار نہیں۔ جب تک خود اس ساری صورتحال کو دیکھ نہ لوں۔ ڈاکٹر صاحب مذکور نے ان سے پختہ عہد لینے کے بعد ان کو بتایا کہ محاسب کا گھڑیال ہمارے لئے سٹینڈرڈ ٹائم کی حیثیت رکھتا ہے۔ بجب اس پر ٩ بجیں تو آجانا۔ مقررہ وقت پر راجہ صاحب ڈاکٹر نذیر کی معیت میں قصر خلافت پہنچے تو خلاف توقع دروازہ کھلا تھا۔ راجہ صاحب کچھ ٹھٹکے کہ یہ کیا معاملہ ہے۔ کہیں ڈاکٹر سچ ہی نہ کہہ رہا ہو۔ پھر انہیں یہ بھی خیال آیا کہ کہیں انہیں قتل کروانے یا پٹوانے کا تو کوئی پروگرام نہیں۔ مگر انہوں نے حوصلہ نہ چھوڑا اور ڈاکٹر نذیر کے پیچھے زینے طے کرتے گئے۔ جب اوپر پہنچے تو ڈاکٹر نے انہیں ایک کمرہ میں جانے کا اشارہ کیا اور خود کسی اور کمرہ میں چلے گئے۔ راجہ صاحب نے پردہ ہٹا کر دروازے کے اندر قدم رکھا تو عطر کی لپٹوں نے انہیں مسحور کر دیا اور انہوں نے دیکھا کہ چھوٹی مریم آراستہ و پیراستہ بیٹھی ہے اور انگریزی کے ایک مشہور جنسی ناول ”فینی ہل“ کا مطالعہ کر رہی ہے۔ راجہ صاحب کہتے ہیں کہ: ”یہ منظر دیکھ کر میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے اور میری سوچ کے دھاروں میں تلاطم برپا ہو گیا۔ میں نے چشم تصور سے اپنے والد محترم کو دیکھا اور کہا تم اس کام کے لئے چندہ دیتے رہے ہو۔ پھر مجھے اپنی والدہ محترمہ کا خیال آیا جو انڈے بیچ کر بھی چندہ کے طور پر ربوہ بھجوا دیا کرتی تھیں۔ اسی حالت میں آگے بڑھا اور پلنگ پر بیٹھ گیا۔ وہاں تو دعوت عام تھی ،مگر میں سعی لاحاصل میں مصروف تھا اور مجھے ڈاکٹر اقبال کا یہ مصرعہ یاد آ رہا تھا۔

یہ ناداں گر گئے سجدے میں جب وقت قیام آیا

اصل میں مجھے اس قدر Shock ہوا تھا کہ میں کسی قابل ہی نہ رہا تھا۔ اس لئے میں نے بہانہ کیا کہ میں کھانا کھا کر آیا ہوں۔ مجھے پتہ نہیں تھا کہ مجھے یہ فریضہ سرانجام دینا ہے اور اگر شکم سیری کی حالت میں، میں یہ کام کروں تو مجھے اپنڈیکس کی تکلیف ہو جاتی ہے۔ اس طرح معرکہ اولیٰ میں ناکام واپس لوٹا اور آتے ہوئے مریم نے مجھے کہا: ”کل اکیلے ہی آجانا، یہ ڈاکٹر نذیر بڑا بدنام آدمی ہے، اس کے ساتھ نہ آنا۔“ دوسرے دن ڈاکٹر صاحب سے ملاقات ہوئی تو وہ

٤٩

صفحہ ٩٥

کہنے لگے کہ تمہاری شکایت ہوئی ہے کہ: ”یہ کون ہجڑہ سالے آئے تھے۔“ دوسرے دن میں ذہنی طور پر تیار ہو کر گیا اور گزشتہ شکایت کا ہی ازالہ نہ ہوا۔ میرے اعتقادات، نظریات اور خلیفہ جی اور ان کے خاندان کے بارہ میں میرا مریدانہ حسن ظن بھی حقائق کی چٹان سے ٹکرا کر پاش پاش ہو گیا اور میں نے واپس آ کر سب سے پہلا کام یہ کیا کہ ملازمت سے مستعفی ہو گیا۔ ازاں بعد مجھے رشوت کے طور پر لندن بھیجنے کی پیشکش ہوئی۔ مگر میں نے سب چیزوں پر لات مار دی۔“

اب آپ (کمالات محمودیہ ص ٥٥) سے ان کی تحریر کا متعلقہ حصہ ملاحظہ فرمائیں: ”یہ ان دنوں کی بات ہے جب ہم ربوہ کے کچے کوارٹروں میں، خلیفہ صاحب ربوہ کے کچے ”قصر خلافت“ کے سامنے رہائش پذیر تھے۔ قرب مکانی کے سبب شیخ نور الحق ”احمدیہ سنڈیکیٹ“ سے راہ ورسم بڑھی تو انہوں نے خلیفہ صاحب کی زندگی کے ایسے مشاغل کا تذکرہ کیا۔ جن کی روشنی میں ہمارا وقف کار احمقانہ نظر آنے لگا۔ اتنے بڑے دعوے کے لئے شیخ صاحب کی روایت کافی نہ تھی۔ خدا بھلا کرے ڈاکٹر نذیر احمد ریاض صاحب کا جن کی ہم رکابی میں مجھے خلیفہ صاحب کے ایک ذیلی عشرت کدہ میں چند ایسی ساعتیں گزارنے کا موقع ہاتھ آیا۔ جس کے بعد میرے لئے خلیفہ صاحب ربوہ کی پاک دامنی کی کوئی سی بھی تاویل و تحریف کافی نہ تھی اور اب میں بفضل ایزدی علی وجہ البصیرت خلیفہ صاحب ربوہ کی بداعمالیوں پر شاہد ناطق ہو گیا ہوں۔ میں صاحب تجربہ ہوں کہ یہ سب بداعمالیاں ایک سوچی سمجھی ہوئی سکیم کے تحت وقوع پذیر ہوتی ہیں اور ان میں اتفاق اور بھول کا دخل نہیں۔ محاسب کا گھڑیال (نوٹ: محاسب کے گھڑیال سے مراد یہ ہے کہ اگر ایک شخص کو رات نو بجے کا وقت، عشرت کدے کے لئے دیا گیا ہے تو اس کی گھڑی میں بے شک ٩ بج چکے ہوں، جب تک محاسب کا گھڑیال ٩ نہ بجائے، اس وقت تک وہ شخص اندر نہیں آ سکتا) ان رنگین مجالس کے لئے سٹینڈرڈ ٹائم (Standard Time) کی حیثیت رکھتا تھا۔ اب نہ جانے کون سا طریقہ رائج ہے۔ میرے اس بیان کو اگر کوئی صاحب چیلنج کریں تو میں حلف مؤکد بعذاب اٹھانے کو تیار ہوں۔“

والسلام!

(بشیر رازی سابق نائب ایڈیٹر، الفضل، ربوہ)

یوسف ناز ”بارگاہ نیاز“ میں

”ایک مرتبہ، جب کہ میاں صاحب چاقو لگنے کی وجہ سے شدید زخمی ہو گئے تھے۔ اس کے چند دن بعد مجھے ربوہ جانے کا اتفاق ہوا۔ میں نے دیکھا دفتر پرائیویٹ سیکرٹری کے سامنے

٥٠

مرزا صاحب کے مریدان باصفا کا ایک جم غفیر ہے۔ ہر صف صاف دکھائی دے رہی تھیں۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اپنے پیر کے دل ناصبور کو اطمینان بخش دے گی۔

پرائیویٹ سیکرٹری کے حکم کے مطابق کچھ احتیاط کی الگ الگ چار جگہوں پر جامہ تلاشی لی جاتی تھی اور اس اہ کے قریب پہنچ کر نہایت آہستگی سے السلام علیکم کہا جائے ا جائے۔ بلکہ فوراً دوسرے دروازے سے نکل کر باہر آ جایا حاضر ہوا تھا۔ گراں بندشوں نے کچھ آزردہ سا کر دیا اور میں دوپہر دوبارہ حاضر ہوا۔ شیخ نور الحق صاحب، جو ان کے اطلاع کے لئے کہا۔ حضرت اقدس نے خاکسار کو شرف ب مرید (میرے) اور ایک پیر (مرزا صاحب) کے درمیان ک میں نے نہایت بے تکلفی سے کام لیتے ہوئے آپ سے ملنا بھی کارے دارد ہے۔“

فرمایا: ”وہ کیسے؟“

عرض کیا کہ چار چار جگہ جامہ تلاشی لی جاتی ہے جواباً انہوں نے میرے ”عمودگی“ کو پکڑ کر ارش کہ جس مخصوص ہتھیار سے تمہیں کام لینا ہے وہ تو تمام احت لے آئے ہو۔“

اس حاضر جوابی کا بھلا میرے پاس کیا جواب بات جو میرے لئے معمہ بن گئی، وہ یہ تھی کہ سنا تو یہ تھا کہ ج جواب بھی نہیں دے سکتے تھے۔ مگر وہ میرے سامنے اس تکلیف نہیں تھی۔

میں میاں صاحب کی خدمت میں التماس کر ہمت رکھتے ہیں تو حلف مؤکد بعذاب اٹھائیں اور میں بھی

(یہاں عبارت کی عریانی دور کرنے

٥١

صفحہ ٩٥

مرزا صاحب کے مریدان باصفا کا ایک جم غفیر ہے۔ ہر شخص کے چہرے پر اضطراب کی جھلکیاں صاف دکھائی دے رہی تھیں۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اپنے پیر کے دیدار کی ایک معمولی سی جھلک ان کے دل ناصبور کو اطمینان بخش دے گی۔

پرائیویٹ سیکرٹری کے حکم کے مطابق کچھ احتیاطی تدابیر اختیار کی گئی تھیں۔ یعنی ہر شخص کی الگ الگ چار جگہوں پر جامہ تلاشی لی جاتی تھی اور اس امر کی تاکید کی جاتی تھی کہ حضرت اقدس کے قریب پہنچ کر نہایت آہستگی سے السلام علیکم کہا جائے اور پھر یہ کہ اس کے جواب کا منتظر نہ رہا جائے۔ بلکہ فوراً دوسرے دروازے سے نکل کر باہر آ جایا جائے۔ میں خود ملاقات کی غرض سے حاضر ہوا تھا۔ گراں بندشوں نے کچھ آزردہ سا کر دیا اور میں واپس چلا گیا۔ چنانچہ پھر دو بجے بعد از دوپہر دوبارہ حاضر ہوا۔ شیخ نور الحق صاحب، جو ان کے ذاتی دفتر کا ایک رکن ہے۔ اس سے اطلاع کے لئے کہا۔ حضرت اقدس نے خاکسار کو شرف باریابی بخشا۔ اس وقت کی گفتگو جو ایک مرید (میرے) اور ایک پیر (مرزا صاحب) کے درمیان تھی۔ ہدیہ ناظرین کرتا ہوں۔

میں نے نہایت بے تکلفی سے کام لیتے ہوئے حضور سے دریافت کیا کہ ”آج کل تو آپ سے ملنا بھی کارے دارد ہے۔“

فرمایا: ”وہ کیسے؟“

عرض کیا کہ چار چار جگہ جامہ تلاشی لی جاتی ہے تب جا کر آپ تک رسائی ہوتی ہے۔ جواباً انہوں نے میرے ”عمودگی“ کو پکڑ کر ارشاد فرمایا کہ: ”جامہ تلاشی کہاں ہوتی ہے کہ جس مخصوص ہتھیار سے تمہیں کام لینا ہے وہ تو تمام احتیاطی تدابیر کے باوجود اپنے ساتھ اندر لے آئے ہو۔“

اس حاضر جوابی کا بھلا میرے پاس کیا جواب ہو سکتا تھا۔ میں خاموش ہو گیا۔ مگر ایک بات جو میرے لئے معمہ بن گئی، وہ یہ تھی کہ سنا تو یہ تھا کہ چارپائی سے ہل نہیں سکتے۔ حتیٰ کہ سلام کا جواب بھی نہیں دے سکتے تھے۔ مگر وہ میرے سامنے اس طرح کھڑے تھے۔ جیسے انہیں قطعی کوئی تکلیف نہیں تھی۔

میں میاں صاحب کی خدمت میں التماس کروں گا کہ اگر وہ اس بات کو جھٹلانے کی ہمت رکھتے ہیں تو حلف مؤکد بعذاب اٹھائیں اور میں بھی اٹھاتا ہوں۔ ایم یوسف ناز، کراچی حال مقیم لاہور

(یہاں عبارت کی عریانی دور کرنے کی سعی کی گئی ہے) ٥١

صفحہ ٩٦

قادیانی امت کے نام نہاد ”خالد بن ولید“

قادیانی امت نے اپنے متنبی کی اتباع میں وحدت امت کو ملیا میٹ کرنے اور مسلمانوں میں فکری انتشار پیدا کرنے کے لئے اسلامی اصطلاحات کا جس بے دردی سے استعمال کیا اور ان مقدس ناموں کی جس قدر توہین کی ہے۔ ایک عامی تو درکنار، اچھے بھلے تعلیم یافتہ افراد کو بھی اس سے پوری شناسائی نہیں۔ مرزا غلام احمد کے لئے نبی اور رسول کا استعمال تو عام ہے۔ ان کی اہلیہ کے لئے ”ام المومنین“ جانشینوں کے لئے ”خلیفہ“ ان کے اولین پیروؤں کو ”صحابہ“ اور ”رضی اللہ عنہم“ کا خطاب ہی نہیں دیا۔ بلکہ انہیں بہر حال اصحاب نبی ﷺ سے بہتر سمجھا جاتا ہے۔

صحابہ سے ملا جو مجھ کو پایا

کہنے پر اکتفا نہیں کیا جاتا بلکہ ایک قرآنی آیت ”یأتی من بعدی اسمه احمد“ کی لایعنی تاویلات کر کے اسے بانی جماعت پر چسپاں کیا جاتا ہے اور ایک دوسری آیت کی غلط توجیہ کرتے ہوئے موسس قادیانیت کی ”بعثت“ کو محمد رسول اللہ ﷺ کی بعثت ثانیہ قرار دے کر اس کے ماننے والوں کو صحابہ سے افضل قرار دیا جاتا ہے۔ انبیاء علیہم السلام اور صلحا امت کی توہین ہر قادیانی اس طرح کر جاتا ہے کہ سلب ایمان کی وجہ سے اسے احساس ہی نہیں ہوتا کہ وہ کیا ناپاک حرکت کر رہا ہے۔ حیرت ہے کہ آئین مملکت کے بارہ میں ژاژ خائی کرنے پر تو قانون حرکت میں آجاتا ہے۔ مگر قرآن مجید، حضرت خاتم النبیین، صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین اور مقدس اسلامی اصطلاحات کے متعلق قادیانی امت کی دیدہ دلیری پر سرکاری مشینری کے کان پر جوں نہیں رینگتی۔

اگر پوری تفصیل درج کی جائے تو بجائے خود اسی کی ایک کتاب بنتی ہے۔ اسی بے راہروی میں قادیانی امت کے پوپ دوم نے ملک عبدالرحمن خادم گجراتی، مولوی اللہ دتہ جالندھری اور مولوی جلال الدین شمس کو ”خالد بن ولید“ کا خطاب دیا تھا کیونکہ ان ہر سہ افراد نے سب کچھ جان بوجھ کر جھوٹ بولنے، افتراء پردازی کرنے اور قادیانیت کی حمایت اور خلیفہ کی پاکبازی ثابت کرنے میں سب قوتیں ضائع کیں۔ گو یہ الگ امر ہے کہ ان میں سے ہر ایک کو ذاتی طور پر اسی گوسالہ سامری کی جانب سے ذلیل ترین الفاظ کا تحفہ ملا۔ کوئی ”طاعونی چوہا“ کہلایا اور کوئی ”لندن میں رہنے کے باوجود مولوی کا مولوی ہی رہا۔“

ان خطاب یافتہ پالتو مولویوں میں سے ایک کے متعلق اس کے سگے بھائی نے اپنی کتاب ”ربوہ کا مذہبی آمر“ میں لکھا ہے کہ ”وہ فن افلامیات میں ید طولیٰ رکھتے تھے“ دوسرے

٥٢

صفحہ ٩٧

صاحب اپنی گوناگوں ”صفات“ کی وجہ سے ”رحمت منزل“ گجرات کے اطفال وبنات سے ایسے گہرے مراسم رکھتے تھے کہ امیر ضلع تلاش کرتے رہے تھے۔ مگر وہ اچانک بلڈ پریشر کے دورہ کے باعث غائب ہو کر اسی مقام پر جا پہنچا کرتے تھے۔ تیسرے صاحب کی مساعی جمیلہ بھی کسی سے کم نہیں۔

قاضی خلیل احمد صدیقی ”حور و غلمان“ کے نرغے میں

قاضی خلیل احمد صدیقی اب بھی خاصے وجیہ ہیں۔ میٹرک کے بعد اپنے عنفوان شباب میں قادیانی امت کے بیگار کیمپ ”جامعہ احمدیہ“ یا مشنری ٹریننگ سنٹر میں داخل ہوئے۔ وہ خود بھی اس وقت قیامت تھے مگر ان پر کئی اور قیامتیں ٹوٹ پڑیں۔ جس کی تفصیل کچھ عرصہ بعد انہوں نے اپنے ٹریکٹ ”میں نے مرزائیت کیوں چھوڑی“ میں دی ملاحظہ فرمائیں۔

”میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کی جھوٹی قسم کھانا لعنتیوں کا کام ہے۔ حلف مؤکد بعذاب شہادت دیتا ہوں کہ میں نے خلیفہ صاحب ربوہ کے صاحبزادے مرزا نعیم احمد کے ایماء پر زنا کرنے میں شرکت کی۔ مرزا نعیم احمد نے اپنے گھر کی کوئی نوکرانی و مہترانی (جو کہ مسلمان ہیں) کو زنا کئے بغیر نہیں چھوڑا۔ نیز ایک واقعہ پر مرزا نعیم احمد نے مجھے خلیفہ صاحب کی بیوی (مہر آپا بنت سید عزیز اللہ شاہ) کے ساتھ برا کام (زنا) کرنے کو کہا۔ میں نے مرزا نعیم احمد صاحب کو جواباً کہا کہ میاں صاحب وہ تو ہماری ماں ہیں اور آپ کی بھی ماں ہیں...... یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ والدہ کے ساتھ برا کام کیا جائے؟ کچھ تو خدا کا خوف کرو اور حضور کی عزت کی طرف دیکھو۔ تو مرزا نعیم نے جواب دیا۔ ”بھائی ماں واں مت سمجھو، جو بات میں نے تم سے کہی ہے، یہ مہر آپا کے فرمان کے مطابق کہی ہے۔ تمہیں ان کا حکم ٹالنے کی اجازت نہیں۔“

میں آج تک یہی سمجھ رہا تھا کہ مرزا نعیم احمد نوجوان ہے۔ اگر وہ کسی بدی کا ارتکاب کرتا ہے یا کرواتا ہے تو عجوبہ کی بات نہیں۔ اس کے ذاتی چال چلن سے جماعت احمدیہ پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ لیکن مہر آپا کے متعلق جب مرزا نعیم نے بات کی تو بے اختیار میرے منہ سے نکل گیا۔

ایں خانہ ہمہ آفتاب است

واقعات اور حقائق مخفی و جلی تو بہت سے ہیں۔ لیکن مذکورہ بالا واقعہ کے بعد مجھے اچھی طرح علم ہو گیا کہ ”احمدیت“ کی آڑ لے کر شہوت پرستی کی تعلیم دی جاتی ہے اور نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں وغیرہ کی عصمتوں سے جو ہولی کھیلی جاتی ہے وہ ناقابل بیان ہے۔

٥٣

صفحہ ٩٨

تقدس وخلافت کے پردے میں عیاشیوں کا ایک وسیع جال بچھا ہوا ہے۔ جس میں بھولے بھالے لڑکوں لڑکیوں کو مذہب کے نام پر قابو کیا جاتا ہے۔ چنانچہ ان حالات کی وجہ سے میں ”ان“ سے بہت متنفر ہوگیا اور میں نے اب صدق دل سے اس ناپاک Society جماعت سے اپنا قطع تعلق کرلیا ہے اور توبہ کرکے صحیح معنوں میں مسلمان ہوگیا ہوں۔

یاد رہے کہ میں ربوہ کے قصر خلافت میں عرصہ چھ ماہ تک آتا جاتا رہا ہوں اور مجھ سے کوئی پردہ وغیرہ نہیں کیا جاتا تھا۔ نیز مجھے معلوم ہے کہ علاوہ قصر خلافت کے ”خاندانِ نبوت“ میں کیسے کیسے رنگین اور سنگین حالات رونما ہوتے ہیں جو وقت آنے پر بتلائے جاسکتے ہیں۔ اگر میرے مذکورہ بالا بیان کی صحت پر کسی کو کوئی اعتراض ہو تو میں ہر وقت ان کے بالمقابل مباہلہ کرنے کے لئے تیار ہوں۔ راقم الحروف: خلیل احمد، سابقہ متعلم جامعہ احمدیہ، ربوہ مورخہ ٢٧ نومبر ١٩٦١ء

راحت ملک کا چیلنج خلیفہ ربوہ کے نام

جناب عطاء الرحمن راحت ملک، گجرات کے مشہور لیبر لیڈر ہیں۔ کسی زمانہ میں وہ مرزا محمود آنجہانی کے چرنوں میں تھے۔ وہاں انہوں نے جنسی بے راہروی کا ایسا طوفان دیکھا کہ چکرا کر رہ گئے۔ جب انہیں یقین کامل ہوگیا کہ مرزا محمود ایک بدکردار اور بدکار انسان ہے تو انہوں نے بیعت کا طوق اپنے گلے سے اتار پھینکا اور ”دورِ حاضر کا مذہبی آمر“ کے نام سے ایک خوبصورت کتاب لکھی جس میں خلیفہ ربوہ کے دعوٰی الہام کی قلعی کھولتے ہوئے لکھا ہے:۔

جس کی آغوش میں ہر شب ہے نئی مہ لقا
اس سے خدا بولتا ہے مجھ کو یہ معلوم نہ تھا

اسی دور میں انہوں نے خلیفہ ربوہ کو ایک کھلی چٹھی لکھی تھی جو ہم درج ذیل کرتے ہیں۔

مکرمی میاں صاحب! اسلام مسنون!

آپ کا دعوٰی ہے کہ خدا آپ سے خلوت اور جلوت میں باتیں کرتا ہے اور نیز یہ کہ آپ صاحبِ الہام ہیں۔ علاوہ ازیں آپ کا یہ بھی دعوٰی ہے کہ آپ خدا کے محبوب ہیں۔ خدا آپ پر عاشق ہے اور ہر لمحہ آپ سے مکالمہ ومخاطبہ کرتا ہے۔ اگر آپ کے مندرجہ بالا دعوٰی درست ہیں تو میں یہ دریافت کرنے کی جسارت کروں گا کہ:

٥٤

کمینہ صفت، کتے ، مسیلمہ کذاب

میں سے بعض کو محض اس لئے خار

بڑے صاحبزادے کو جانشین بنان صاحبزادے مرزا ناصر احمد کے

سے اپنے عزیز واقربا کو فائدہ پہنچ سے نہیں لے رہے؟

ناجائز اسلحہ زیر زمین نہیں رکھا ہوا

طاری نہیں رہا؟

اور اس گڑبڑ کا آپ کو کوئی علم نہیں

سے خارج کیا گیا ہے ان کا قصور تنقید کرتے ہیں؟

نورالدین کی قدرومنزلت اور اح

مندرجہ بالا گیارہ شقوں کے علاوہ توجہ ان امور کی طرف مبذول کرانے کے لئے خدا کا محبوب کہتے ہیں تو آئیے فیصلہ الٰہی امور

صفحہ ٩٩

کمینہ صفت، کتے، مسیلمہ کذاب، بکواسی، لومڑی وغیرہ؟

میں سے بعض کو محض اس لئے خارج کر دیا ہو کہ وہ اس خلیفہ پر تنقید کرتے تھے؟

بڑے صاحبزادے کو جانشین بنانے کی دل میں آرزو نہیں کی اور موجودہ تحریک اپنے صاحبزادے مرزا ناصر احمد کے لئے زمین ہموار کرنے کی غرض سے نہیں چلائی؟

سے اپنے عزیز واقرباء کو فائدہ نہیں پہنچایا اور نیز یہ کہ آپ چھ ہزار روپیہ سالانہ انجمن سے نہیں لے رہے؟

ناجائز اسلحہ زیرزمین نہیں رکھا ہوا اور نہ ہی آپ کو اس کا علم ہے؟

طاری نہیں رہا؟

اور اس گڑ بڑ کا آپ کو کوئی علم نہیں یا یہ گڑ بڑ آپ کے ایماء پر نہیں ہو رہی ہے؟

سے خارج کیا گیا ہے ان کا قصور سوائے اس کے کچھ نہیں کہ وہ آپ کی بدعنوانیوں پر تنقید کرتے ہیں؟

نور الدین کی قدرومنزلت اور احترام ہے؟

مندرجہ بالا گیارہ شقوں کے علاوہ اور بھی بہت سے امور ہیں لیکن فی الحال میں آپ کی توجہ ان امور کی طرف مبذول کرانے کے لئے بھی آپ کو مباہلے کی دعوت دیتا ہوں اگر آپ خود کو خدا کا محبوب کہتے ہیں تو آئیے فیصلہ انہی امور پر ہو جائے۔ یقیناً خدا فیصلہ کرے گا اور ہم میں سے

٥٥

صفحہ ١٠١

جو بھی جھوٹا ہوگا وہ ڈاکٹر ڈوئی کی طرح فالج کی موت مرے گا۔ اگر آپ اپنے دعویٰ میں سچے ہیں تو آئیے اس چیلنج کو منظور فرمائیے اور فیصلہ خدا کے ہاتھ میں چھوڑ دیجئے۔ لیکن میں دعویٰ سے کہہ سکتا ہوں کہ آپ ان امور پر کبھی مباہلہ کے لئے تیار نہیں ہو سکتے۔ کیونکہ آپ اپنے اعمال سے بخوبی واقف ہیں اور ڈاکٹر ڈوئی کی موت مرنا پسند نہیں کریں گے۔

ڈاکٹر نذیر احمد ریاض کا خط اپنے ایک دوست کے نام

آپ کو یاد ہوگا کہ جب تک ہم ربوہ میں رہے، ہماری آپس میں کچھ ایسی قلبی مجالست رہی کہ باہم مل کر طبیعت بے حد خوش ہوتی تھی۔ کبھی شعر و شاعری کے سلسلہ میں تو کبھی مخلص کے معنوی تقدس پر نکتہ چینی کرنے میں بڑا لطف آتا تھا۔ دراصل خلیفہ صاحب کا اصول ہے کہ ؎

مست رکھو ذکر و فکر صبح گاہی میں انہیں
پختہ تر کر دو مزاج خانقاہی میں انہیں

اور خود خوب رنگ رلیاں مناؤ، عیش وعشرت میں زندگی بسر کرو۔ ہم نے تو بھائی خلوص دل سے وقف کیا تھا۔ خدا ہمیں ضرور اس کا اجر دے گا۔ انہیں یہ خلوص پسند نہ آیا۔ اللہ تعالیٰ بہتر حکم و عدل ہے۔ خود فیصلہ کر دے گا کہ ٹھکرائے ہوئے ہیرے کتنے عزیز تھے۔

شروع شروع میں میرے دل کی عجیب کیفیت تھی۔ ہر وقت دل مختلف افکار کی آماجگاہ بنا رہتا تھا۔ ماں باپ کی یاد، عزیزوں کی جدائی کا احساس، دوستوں کے بچھڑنے کا غم اور حاسدوں کے تیروں کی چبھن کبھی کچھ تھا۔ لیکن ؎

ہر داغ تھا اس دل میں بجز داغ ندامت

سب سے بڑا معلم انسان کی فطرت صحیحہ ہے۔ جس کی روشنی میں انسان اپنے قدموں کو استوار رکھتا ہے اور ہر افتاد پر ڈگمگانے سے بچاتا ہے۔ اگر یہ کلی طور پر مسخ ہو جائے تو پھر کسی بے راہ روی کا احساس دل میں نہیں رہتا۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنی رضا کی راہوں پر چلائے۔ آمین! آپ کا ریاض!

جناب غلام حسین صاحب احمدی فرماتے ہیں۔ میں نے اپنی شہادت کے علاوہ حبیب احمد کا بھی ذکر کیا تھا۔ وہ مجھے قادیان میں مل گئے۔ میں نے ان سے قسم دے کر دریافت کیا تو انہوں نے قسم کھا کر مجھے بتلایا کہ حضرت صاحب (مرزا محمود احمد) نے دومرتبہ ان سے لواطت کی ہے۔ ایک دفعہ قصر خلافت میں، دوسری دفعہ ڈلہوزی میں، میں نے اس سے تحریری شہادت مانگی تو پوری

٥٦

تفصیل کے ساتھ نہیں لکھی۔ بلکہ نامکمل لکھ کر دی۔ حبیب احمد صاحب اعجاز اس کی پوری پوری تصدیق کر سکتے ہیں

بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم وعلی عبدہ المسیح الموعود

بخدمت شریف جناب بھائی غلام حسین صاحب! التماس ہے کہ میں نے آپ کو جو بات بتائی تھی، میں خدا کو حاضر و ناظر جان کر کہتا ہوں کہ وہ بالکل صحیح ہے۔ اگر میں جھوٹ بولوں تو خدا کی لعنت ہو۔ محمد حبیب احمد۔

چوہدری علی محمد صاحب کی شہادت

چوہدری علی محمد صاحب ماحی روزنامہ ”نوائے وقت“ لاہور میں عرصہ سے ایک کارکن کے طور پر کام کرتے رہے ہیں۔ قادیانی امت کی متعدداور اہم شخصیات ان سے رابطہ قائم کرتی ہیں اور خلیفہ ربوہ کی مالی بے اعتدالیوں اور فراڈ کے دستاویزی ثبوت مہیا کرتی ہیں۔ آپ کا بیان ملاحظہ فرمائیں۔

”میں خدا کو حاضر و ناظر جان کر اس پاک ذات کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ یہ سراسر لعنتیوں کا کام ہے کہ صوفی روشنی دین صاحب ربوہ میں رہ کر (خلیفہ) مرزا محمود احمد کی مخالفت کرتے رہے اور وہ قادیان کے پرانے رہنے والوں میں سے تھے۔ انہوں نے جب کھلم کھلا مرزا محمود احمد صاحب اور ان کے خاندان کے بعض دوسرے افراد کے خلاف آواز اٹھائی کہ مرزا حنیف احمد بن مرزا محمود احمد کے صوفی صاحب موصوف کی اہلیہ سے ناجائز تعلقات قائم تھے۔ قلبی عقیدت کی بناء پر مرزا حنیف احمد گھنٹوں صوفی صاحب کے گھر بیٹھے رہتے تھے۔ اور خلوت خاص میں بھی لے جا کر ان کی خاطر مدارات کرتے تھے۔ ایک دفعہ مجھے یاد ہے کہ مرزا حنیف احمد خدا کی قسم کھا کر کہتا تھا کہ جس کو تم لوگوں نے خدا بنایا ہوا ہے، وہ خدا نہیں ہے۔ اور یہ کہ مرزا حنیف احمد نے اپنی آنکھوں سے اپنے والد کو برے فعل کرتے دیکھا ہے۔ میں نے بھی سنا کہ انہوں نے کئی دفعہ مرزا حنیف احمد سے کہا کہ اس شخص (مرزا محمود احمد) کو تم لوگ اپنی یادداشت پر زور ڈالو۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ جس کو تم نے خدا بنایا ہوا ہے، وہ شیطان کا مظہر نہیں۔ مبادا خدا کے قہر وغضب کے نیچے آ جاؤ۔ تو اس پر صوفی صاحب نے کوئی جواب نہیں دیا۔

٥٧

صفحہ ١٠١

تفصیل کے ساتھ نہیں لکھی۔ بلکہ نامکمل لکھ کر دی۔ حبیب احمد صاحب اعجاز اس کی پوری پوری تصدیق فرما رہے ہیں، جو درج ذیل ہے۔

بسم الله الرحمن الرحيم نحمده ونصلى على رسوله الكريم! وعلى عبده المسيح الموعود

بخدمت شریف جناب بھائی غلام حسین صاحب، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کے بعد

التماس ہے کہ میں نے آپ کو جو بات بتائی تھی، میں خدا کو حاضر و ناظر جان کر کہتا ہوں کہ وہ بات بالکل صحیح ہے۔ اگر میں جھوٹ بولوں تو خدا کی لعنت ہو مجھ پر...... خاکسار: حبیب احمد اعجاز

چوہدری علی محمد صاحب ماحی کا بیان

چوہدری علی محمد صاحب ماحی روزنامہ ”نوائے وقت“ لاہور اور ”کوہستان“ کے نمائندہ کے طور پر کام کرتے رہے ہیں۔ قادیانی امت کی متعدد فرموں میں بطور اکاؤنٹنٹ کام کرتے رہے ہیں اور خلیفہ ربوہ کی مالی بے اعتدالیوں اور فراڈ کے دستاویزی ثبوت اپنے پاس رکھتے ہیں۔ ان کا بیان ملاحظہ فرمائیں۔

”میں خدا کو حاضر و ناظر جان کر اس پاک ذات کی قسم کھاتا ہوں جس کی جھوٹی قسم کھانا لعنتیوں کا کام ہے کہ صوفی روشنی دین صاحب ربوہ میں انجمن کی چکی پر عرصہ تک بطور مستری کام کرتے رہے اور وہ قادیان کے پرانے رہنے والوں میں سے ہیں اور مخلص احمدی ہیں اور جن کے مرزا محمود احمد صاحب اور ان کے خاندان کے بعض افراد سے قریبی تعلقات تھے اور خصوصاً مرزا حنیف احمد بن مرزا محمود احمد کے صوفی صاحب موصوف کے ساتھ نہایت عقیدت مندانہ مراسم تھے۔ قلبی عقیدت کی بناء پر مرزا حنیف احمد گھنٹوں صوفی صاحب کو قصر خلافت میں اپنے ایک کمرہ خاص میں بھی لے جا کر ان کی خاطر و مدارت کرتے۔ انہوں نے مجھ سے بارہا بیان کیا کہ مرزا حنیف احمد خدا کی قسم کھا کر کہتا ہے کہ جس کو تم لوگ خلیفہ اور مصلح موعود سمجھتے ہو۔ وہ زنا کرتا ہے اور یہ کہ مرزا حنیف احمد نے اپنی آنکھوں سے اپنے والد کو ایسا کرتے دیکھا۔ صوفی صاحب نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے کئی دفعہ مرزا حنیف احمد سے کہا کہ تم ایسا سنگین الزام لگانے سے قبل اچھی طرح اپنی یادداشت پر زور ڈالو۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ جس کو تم کوئی غیر سمجھے ہو۔ وہ دراصل تمہاری والدہ ہی تھیں۔ مبادا خدا کے قہر وغضب کے نیچے آ جاؤ۔ تو اس پر مرزا حنیف احمد اپنی رویت عینی پر حلفاً مصر

٥٧

صفحہ ١٠٣

رہے کہ ان کا والد پاک سیرت نہیں ہے اور یہ بھی کہا کہ انہوں نے اپنے والد کی کبھی کوئی کرامت مشاہدہ نہیں کی۔ البتہ یہ تڑپ ان میں شدت کے ساتھ پائی جاتی ہے کہ کس طرح انہیں جلد از جلد دنیاوی غلبہ حاصل ہو جائے۔“

اگر میں اس بیان میں جھوٹا ہوں اور افراد جماعت کو اس سے محض دھوکا دینا مقصود ہے تو خدا تعالیٰ مجھ پر اور میری بیوی بچوں پر ایسا عبرت ناک عذاب نازل فرمائے جو ہر مخلص اور دیدہ بینا کے لئے ازدیاد ایمان کا موجب ہو۔

ہاں! اس نام نہاد خلیفہ کی مالی بدعنوانیوں، خیانتوں اور دھاندلیوں کے ریکارڈ کی رو سے میں عینی شاہد ہوں۔ کیونکہ خاکسار نے ساڑھے نو سال تحریک جدید اور انجمن احمدیہ کے مختلف شعبوں میں اکاؤنٹنٹ اور نائب ایڈیٹر کی حیثیت سے کام کیا ہے۔

(خاکسار چوہدری علی محمد عفی عنہ واقف زندگی، نمائندہ خصوصی ”کوہستان“ لائل پور)

محمد صالح نور کا لرزہ خیز بیان

مولوی محمد صالح نور، محمد یامین تاجر کتب کے بیٹے ہیں۔ قادیان اور ربوہ میں مختلف عہدوں پر فائز رہے۔ مرزا محمود کے داماد عبدالرحیم کے پرسنل سیکرٹری بھی رہے ہیں۔ ان کا حلفیہ بیان ملاحظہ فرمائیں: ”میں پیدائشی احمدی ہوں اور ١٩٥٧ء تک میں مرزا محمود احمد صاحب کی خلافت سے وابستہ رہا۔ خلیفہ صاحب نے مجھے ایک خود ساختہ فتنہ کے سلسلہ میں جماعت ربوہ سے خارج کر دیا۔ ربوہ کے ماحول سے باہر آ کر خلیفہ صاحب کے کردار کے متعلق بہت ہی گھناؤنے حالات سننے میں آئے۔ اس پر میں نے خلیفہ صاحب کی صاحبزادی امۃ الرشید بیگم (بیگم میاں عبدالرحیم احمد) سے ملاقات کی۔ ان سے خلیفہ صاحب کے بدچلن ہونے، بدقماش اور بدکردار ہونے کی تصدیق کی، باتیں تو بہت ہوئیں۔ لیکن خاص بات قابل ذکر یہ تھی کہ جب میں نے امۃ الرشید بیگم سے یہ کہا آپ کے خاوند کو ان حالات کا علم ہے تو انہوں نے کہا کہ صالح نور صاحب، آپ کو کیا بتلاؤں کہ ہمارا باپ ہمارے ساتھ کیا کچھ کرتا رہا ہے؟ اگر وہ تمام واقعات میں اپنے خاوند کو بتلادوں تو وہ مجھے ایک منٹ کے لئے بھی اپنے گھر میں بسانے کے لئے تیار نہ ہوگا۔ تو پھر میں کہاں جاؤں گی۔ اس واقعہ پر امۃ الرشید کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور یہ لرزہ خیز بات سن کر، میں بھی ضبط نہ کر سکا اور وہاں سے اٹھ کر دوسرے کمرے میں چلا گیا۔ اس وقت میں ان واقعات کی بناء پر جو میں ڈاکٹر نذیر احمد ریاض، محمد یوسف ناز، راجہ بشیر احمد رازی سے سن چکا ہوں۔ حق ٥٨

الیقین کی بناء پر خلیفہ صاحب کو ایک بدکردار اور بد خدا کے عذاب میں گرفتار ہیں۔“

(خاکسار، محمد صالح نور، واق

مولوی عمر الدین صاحب شملوی بم

بسم اللہ الرحمٰ نحمده ونصلي على

میں آج بتاریخ ٢٩ مئی ١٩٤٠ء کو خانہ خ اس کی قسم کھا کر اختصار کے ساتھ مندرجہ ذیل بیان نے اس کے بیان کرنے میں افتراء پردازی کی ہو پردازی کی سخت سے سخت سزا دے۔

مرید تھا۔ میرے پاس میاں عبدالسلام صاحب نے خراب ہے۔ اس لئے تم اس کو مصلح موعود نہ ثابت ک بڑا ہوں گا تو میاں محمود احمد سے مباہلہ کروں گا تاکہ بدچلنی کا الزام لگانے میں سچا ہوں اور میاں محمود احمد میں نے یہ واقعہ انہی دنوں تحریراً میاں میاں صاحب نے کہا کہ عبدالسلام کی ماں کی شرارت

اس وقت میر قاسم علی صاحب ایڈیٹر ”فاروق“ قا ہے۔ قادیان میں میاں محمود احمد کے خلاف گندے لگائے جاتے ہیں۔ یہ کون لوگ ہیں جو حضرت پر ات بجائے ان لوگوں کا کچھ ذکر کرنے کے فرمایا: اگر میاں صاحب کے متعلق میں تمہیں تو ایک میاں کا ذکر کرتے ہو۔ یہاں تو نہیں نانی ت امر کا میاں صاحب سے میرے نام پر ذکر کرو گے ٥٩

صفحہ ١٠٣

الیقین کی بناء پر خلیفہ صاحب کو ایک بدکردار اور بدچلن انسان سمجھتا ہوں اور اس کی بناء پر وہ آج خدا کے عذاب میں گرفتار ہیں۔“

(خاکسار محمد صالح نور، واقف زندگی سابق کارکن، وکالت تعلیم تحریک جدید ربوہ)

مولوی عمر الدین صاحب شملوی مبلغ جماعت قادیان کی روایات

بسم الله الرحمن الرحيم

نحمده ونصلى على رسوله الكريم!

میں آج بتاریخ ٢٩ مئی ١٩٣٠ء کو خانہ خدا مسجد میں بیٹھ کر خدا کو حاضر و ناظر جان کر اور اس کی قسم کھا کر اختصار کے ساتھ مندرجہ ذیل بیان دیتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ اے خدا، اگر میں نے اس کے بیان کرنے میں افتراء پردازی کی ہو، تو تیری ذات جو علیم خبیر ہے، مجھے اس افتراء پردازی کی سخت سے سخت سزا دے۔

مرید تھا۔ میرے پاس میاں عبدالسلام صاحب نے مجھے بتایا کہ میاں محمود احمد صاحب کا چال چلن خراب ہے۔ اس لئے تم اس کو مصلح موعود نہ ثابت کیا کرو اور میں اس کا عینی شاہد ہوں۔ جب میں بڑا ہوں گا تو میاں محمود احمد سے مباہلہ کروں گا تا کہ دنیا کو ثابت ہو جائے کہ: ”میں میاں محمود احمد پر بدچلنی کا الزام لگانے میں سچا ہوں اور میاں محمود احمد بدچلن ہے۔“

میں نے یہ واقعہ انہی دنوں تحریراً میاں محمود احمد کو لکھ کر بھیج دیا تھا۔ جس کے جواب میں میاں صاحب نے کہا کہ عبدالسلام کی ماں کی شرارت ہے۔

اس وقت میر قاسم علی صاحب ایڈیٹر ”فاروق“ قادیان سے نوشہرہ میں دریافت کیا کہ یہ کیا بات ہے۔ قادیان میں میاں محمود احمد کے خلاف گندے پوسٹر جن پر زنا کی تصویریں بنائی ہوئی ہیں، لگائے جاتے ہیں۔ یہ کون لوگ ہیں جو حضرت پر اتنا بڑا الزام لگاتے ہیں۔ میر قاسم علی صاحب نے بجائے ان لوگوں کا کچھ ذکر کرنے کے فرمایا:

اگر میاں صاحب کے متعلق میں تمہیں اصل بات بتادوں تو تم ابھی مرتد ہو جاؤ گے۔ تم تو ایک میاں کا ذکر کرتے ہو۔ یہاں تند نہیں تانی ہی ٹوٹی ہوئی ہے اور ساتھ ہی یہ فرمایا۔ اگر تم اس امر کا میاں صاحب سے میرے نام پر ذکر کرو گے تو میں صاف انکار کر دوں گا۔ میں نے قادیان

٥٩

صفحہ ١٠٤

جا کر یہ سب باتیں میاں صاحب کو بتا دیں تو انہوں نے فرمایا کہ: ”سب میر قاسم علی کی بیوی کی شرارت ہے۔“

ہسپتال میں ملازم تھے اور بیعت نہ کرتے تھے۔ بیعت کے لئے بہت مجبور کیا تو انہوں نے انکار کر دیا اور پورے وثوق سے کہا کہ میں محمود احمد کو خوب جانتا ہوں اور میں قادیان میں ہی پڑھا ہوں۔ میاں تو لواطت (یہاں عبارت کی عریانی کا ازالہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے) کا رسیا ہے اور یہ وبا آج کل عام ہے اور میاں اس کا شکار ہے۔ تب میں نے اس کو اس کے حال پر چھوڑ دیا۔ لیکن پھر بھی اس کو تاکید کی کہ وہ جماعت میں ضرور شامل ہو جائے۔

١٩٢٧ء کا واقعہ ہے کہ جناب میاں صاحب بھی شملہ میں تھے اور مولوی عبدالکریم اور ان کی ہمشیرہ ”سکینہ بی بی“ اور ان کے بھائی محمد زاہد نے میرے داماد بابو عبدالحمید صاحب کو بتایا کہ میاں محمود احمد سخت زنا کار ہے اور قوم کی عصمت سے کھیلتا ہے اور اس پر زاہد نے اپنی ذاتی شہادت دی اور ان کی ہمشیرہ سکینہ بی بی نے بھی اپنی ذاتی شہادت پیش کی اور کہا کہ ہم اپنی ذاتی شہادت کی بناء پر کہتے ہیں کہ میاں محمود احمد سخت بدچلن ہے۔ میں نے اس کو زنا کرتے دیکھا تھا اور اس پر میں نے جرح کر کے بیان کی تغلیط کی کوشش کی۔ لیکن وہ اپنے بیان پر پوری طرح قائم رہے تو میں حیرت میں پڑ گیا اور میاں صاحب کو ایک لمبی چٹھی لکھی۔ جس میں محمد زاہد اور سکینہ بی بی کے بیان کردہ واقعات کو پوری تفصیل سے لکھا گیا۔

میں، ان تمام واقعات کو سننے کے باوجود میاں صاحب کا دل سے مرید تھا۔ اس لئے میں نے میاں صاحب سے مرتد ہونے والے اپنے داماد اور ایک شخص کو زور سے نصیحت کی۔

میرا داماد بابو عبدالحمید، جو مخلص احمدی اور بہت صالح نوجوان ہے۔ اس نے میاں محمود احمد کو انہیں دنوں تمام حالات لکھ کر مباہلہ کا مطالبہ کیا اور میاں صاحب سے علیحدہ ہو گیا۔ مگر میں نے اسے بہت سمجھایا کہ جب تک شریعت کے مطابق چار گواہ الزام زنا کے ثبوت میں پیش نہیں ہوتے، ملزم کو بری ہی سمجھنا چاہئے۔ پھر ساتھ ہی حضرت مسیح موعود کا واسطہ دے کر اسے دوبارہ بیعت کی رغبت دی تو اس نے پھر بیعت کر لی۔ مگر جب وہ کچھ عرصہ قادیان، خلیفہ صاحب سے ملنے کے لئے گیا تو خلیفہ صاحب نے بہت محبت سے پرخلوص استقبال کیا اور اکیلے کمرہ میں بہت دیر تک باتیں ہوتی رہیں اور جب خلیفہ صاحب نے یہ دیکھ لیا کہ مرید واقعی اب بہت اخلاص رکھتا ہے تو اس سے کہا کہ عبدالحمید تمہاری وجہ سے سلسلہ کی بدنامی ہوئی۔ یعنی نہ تم میرے متعلق الزام زنا

٦٠

صفحہ ١٠٥

کو مشتہر کرتے اور نہ یہ رسوائیاں ہوتیں۔ اس لئے اب تم کو کفارہ اس طرح ادا کرنا چاہئے کہ کسی طرح سکینہ سے یہ تحریر لکھوا کر مجھے لادو کہ میں نے کسی شخص کو نہیں کہا کہ: ”میاں صاحب نے میرے ساتھ زنا کیا ہے۔ لوگ یونہی میرے نام سے میاں صاحب کو بدنام کر رہے ہیں۔“

اس پر مخلص مرید مذکور کو دل میں سخت شک پڑ گیا۔ کیونکہ وہ یہ جانتا تھا کہ یہ سب کچھ، جو اب کرنے کرانے کی تعلیم دے رہے ہیں، یہ بالکل جعلسازی ہے۔ خلیفہ صاحب کو خوب علم ہے کہ وہ لڑکی (سکینہ) ان پر الزام لگاتی ہے اور اس نے اپنے شوہر (عبدالحق مرزا) کو بھی، جو میاں صاحب کا مخلص مرید ہے، بتا دیا تھا اور وہ خود اس کا معترف ہے، پھر ایسی تحریر لکھوانا جعلسازی کے سوا کچھ نہیں۔ ان حالات میں اس مخلص مرید کو بالآخر میاں صاحب کی بیعت سے علیحدہ ہونا پڑا۔

مباہلہ والوں کا تمام و کمال واقعہ میرے سامنے ہے۔ وہ میرے قریبی رشتہ دار ہیں اور میں نے ان سب کے بیانات خود لئے ہیں اور خوب ٹھوک بجا کر ان بیانات کی پرکھ کی اور میاں صاحب کو تمام معاملہ سے مطلع کیا۔ ان حالات کے علاوہ شیخ عبدالرحمن صاحب مصری کا مطالبہ بھی ہے اور مولوی فخر الدین صاحب ملتانی جیسے مخلص احمدی کا، محض اس لئے قتل کروایا جانا ہے کہ وہ حقیقت کو طشت از بام کرنے کے لئے خلیفہ صاحب کے ظلم و تشدد کے باوجود پیچھے نہ ہٹتے تھے۔ معاملہ کو بالکل واضح کر دیتا ہے۔

چوہدری غلام رسول صاحب کا اعلان حق

نوٹ....... چوہدری صاحب موصوف آج کل گورنمنٹ کالج لاہور میں پروفیسر ہیں۔

”میرا خلیفہ صاحب کی بیعت سے علیحدگی کا سبب خلیفہ کی بدچلنی، بدکرداری، زنا کاری اور غیر فطری افعال کا ارتکاب ہے۔ یہ الزامات خلیفہ صاحب ربوہ کی ذات پر متواتر نصف صدی سے لگ رہے ہیں۔ اب خلیفہ صاحب اپنی بدکاریوں اور بدکرداریوں کی وجہ سے جنون کے ابتدائی دور سے گزر رہے ہیں اور مفلوج اور پیری کا شکار ہونے کی وجہ سے مختل الاعضاء اور مخبوط الحواس ہیں۔ اس وجہ سے الزامات کی تردید کے لئے ان سے مخاطب نہیں ہوتا۔ بلکہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے، مرزا شریف احمد صاحب (دونوں خلیفہ صاحب کے بھائی ہیں) نواب مبارکہ بیگم صاحبہ، امتہ الحفیظ صاحبہ (دونوں خلیفہ صاحب کی ہمشیرگان ہیں) مرزا ناصر احمد ایم اے آکسن، مرزا مبارک احمد بی اے، ڈاکٹر مرزا منور احمد صاحب ایم بی بی ایس اور دیگر خلیفہ کے صاحبزادگان و صاحبزادیاں اور خلیفہ کی ازواج اور خلیفہ کے مخلص مرید چوہدری سر محمد ظفر اللہ خاں

٦١

صفحہ ١٠٧

صاحب جج عالمی عدالت، سید نعیم احمد بن سید عزیز اللہ شاہ (خلیفہ صاحب کے نسبتی بھائی ہیں) اور مولوی عبدالمنان صاحب عمر ایم اے سے کہتا ہوں۔ اگر وہ خلیفہ صاحب کو نیک چلن، خدا رسیدہ اور حضرت مرزا غلام احمد صاحب کی پیش گوئی مصلح موعود کا حقیقی مصداق سمجھتے ہیں تو خلیفہ صاحب پر عائد کردہ الزامات بالمقابل حلف مؤکد بعذاب قسم کھا کر تردید کریں۔

میں قارئین سے کہوں گا کہ یہ لوگ خلیفہ صاحب ربوہ کی سیاہ بد اعمالیوں سے پوری طرح واقف ہیں۔ اس لئے یہ کبھی ان کی پاکیزگی کا حلف مؤکد بعذاب اٹھانے کے لئے تیار نہ ہوں گے۔‘‘

یوسف ناز کا حلفیہ بیان

بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمده ونصلى على رسوله الكريم! اشهد ان لا اله الا الله وحده لا شريك له واشهد ان محمد عبده ورسوله!

میں اقرار کرتا ہوں کہ حضرت محمد ﷺ خدا کے نبی اور خاتم النبیین ہیں اور اسلام سچا مذہب ہے۔ میں احمدیت کو برحق سمجھتا ہوں اور حضرت مرزا غلام احمد قادیانی کے دعوے پر ایمان رکھتا ہوں اور ان کو مسیح موعود مانتا ہوں اور اس کے بعد میں مؤکد بعذاب حلف اٹھاتا ہوں۔

میں اپنے علم، مشاہدہ اور رویت عینی اور آنکھوں دیکھی بات کی بناء پر خدا کو حاضر و ناظر جان کر اس پاک ذات کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ: ’’مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفہ ربوہ نے خود اپنے سامنے اپنی بیوی کے سامنے اپنی بیوی کے ساتھ غیر مرد سے زنا کروایا۔‘‘

اگر میں اس حلف میں جھوٹا ہوں تو خدا کی لعنت اور عذاب مجھ پر نازل ہو۔ میں اس پر مرزا بشیر الدین محمود احمد کے ساتھ بالمقابل حلف اٹھانے کو تیار ہوں۔

محمد یوسف ناز، معرفت عبدالقادر تیرتھ سنگھ، جے بلوانی روڈ، عقب شالیمار ہوٹل، کراچی

مصری عبدالرحمن صاحب کے بڑے لڑکے حافظ بشیر احمد نے میرے سامنے ہاتھ میں قرآن شریف لے کر یہ لفظ کہے، خدا تعالیٰ مجھے پارہ پارہ کر دے اگر میں جھوٹ بولتا ہوں کہ موجودہ خلیفہ صاحب نے میرے ساتھ بدفعلی کی ہے۔ میں خدا کی قسم کھا کر یہ واقعہ لکھ رہا ہوں۔

بقلم خود محمد عبداللہ احمدی، سینٹ فرنیچر ہاؤس، مسلم ٹاؤن لاہور

میں خدا کو حاضر و ناظر جان کر جس کی جھوٹی قسم کھانا کبیرہ گناہ ہے۔ یہ تحریر کرتا ہوں کہ

٦٢

میں نے حضرت مرزا محمود احمد صاحب قادیان کو اپنی آ کرتا ہوں کہ اس نے میرے ساتھ بھی بدفعلی کی ہے۔ ہو۔ میں بچپن سے وہیں رہتا تھا۔

مرد گل محمد صاحب مرحوم (آپ قادیان کے مالک تھے) مرزا غلام احمد صاحب کے خاندان کے را نے مجھے بیان کیا کہ خلیفہ صاحب کو میں نے اپنی آنکھو عورتوں کے ساتھ زنا کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ میں حضور یہ کیا معاملہ ہے؟

آپ نے فرمایا کہ: ”قرآن وحدیث میں پھیلانے کی ممانعت ہے۔‘ نعوذ بالله من ذالك!

میں خداوند تعالیٰ کو حاضر و ناظر جان کر حلفی اور بھائی اس سے کوئی سبق حاصل کریں۔ فقط! (

میں خدا تعالیٰ کو حاضر و ناظر جان کر، اسی کی کام ہے۔ یہ شہادت دیتا ہوں کہ میں اس ایمان اور دنیا دار، بدچلن اور عیش پرست انسان ہے۔ میں ان کی بیت اللہ شریف یا کوئی اور مقدس مقام ہو۔ حلف مؤ ہوں۔ اگر خلیفہ صاحب مباہلہ کے لئے نکلیں تو میں مباہلہ

یہ الفاظ میں نے دلی ارادہ سے لکھ دیئے ہ انکشاف ہوسکے۔ والسلام! (خاکسار: محمد عبد

جناب قریشی محمد صادق صاح

نظارت امور عامہ میں محتسب کوتوال شہر، کے سیکرٹری اور خلیفہ ربوہ کے بڑے چہیتے تھے۔ انہوں فرمائیں۔ ”جب میں لاہور میں آیا تھا تو میں نے آپ میاں شریف احمد صاحب اور میاں بشیر احمد صاحب اور باتیں سنی تھیں۔ لیکن خوش اعتقادی کی وجہ سے میں یقین

٦٣

صفحہ ١٠٧

میں نے حضرت مرزا محمود احمد صاحب قادیان کو اپنی آنکھ سے زنا کرتے دیکھا ہے اور میں اقرار کرتا ہوں کہ اس نے میرے ساتھ بھی بد فعلی کی ہے۔ اگر میں جھوٹ بولوں تو مجھ پر خدا کی لعنت ہو۔ میں بچپن سے وہیں رہتا تھا۔ منیر احمد !

مرزا گل محمد صاحب مرحوم (آپ قادیان کے رئیس اعظم تھے اور وہاں بڑی جائیداد کے مالک تھے ) مرزا غلام احمد صاحب کے خاندان کے رکن تھے۔ ان کی دوسری بیوہ (چھوٹی بیگم ) نے مجھے بیان کیا کہ خلیفہ صاحب کو میں نے اپنی آنکھوں سے ان کی صاحبزادی اور بعض دوسری عورتوں کے ساتھ زنا کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ میں نے خلیفہ صاحب سے ایک دفعہ عرض کی ، حضور یہ کیا معاملہ ہے؟

آپ نے فرمایا کہ : ” قرآن وحدیث میں اس کی اجازت ہے۔ البتہ اس کو عوام میں پھیلانے کی ممانعت ہے ۔ “ نعوذ بالله من ذلك!

میں خداوند تعالیٰ کو حاضر و ناظر جان کر حلفیہ تحریر کر رہی ہوں۔ شاید میری مسلمان بہنیں اور بھائی اس سے کوئی سبق حاصل کریں۔ فقط!

(سیدہ ام صالحہ بنت سید ابرار حسین سمن آباد لاہور )

میں خدا تعالیٰ کو حاضر و ناظر جان کر ، اسی کی قسم کھا کر ، جس کی جھوٹی قسم کھانا لعنتیوں کا کام ہے۔ یہ شہادت دیتا ہوں کہ میں اس ایمان اور یقین پر ہوں کہ موجودہ خلیفہ مرزا محمود احمد دنیا دار، بدچلن اور عیش پرست انسان ہے۔ میں ان کی بدچلنی کے متعلق خانہ خدا، خواہ وہ مسجد ہو یا بیت اللہ شریف یا کوئی اور مقدس مقام ہو۔ حلف مؤکد بعذاب اٹھانے کے لئے ہر وقت تیار ہوں ۔ اگر خلیفہ صاحب مباہلہ کے لئے نکلیں تو میں مباہلہ کے لئے حاضر ہوں۔

یہ الفاظ میں نے دلی ارادہ سے لکھ دیئے ہیں تا کہ دوسروں کے لئے ان کی حقیقت کا انکشاف ہو سکے۔ والسلام !

(خاکسار : محمد عبداللہ ، آنکھوں کا ہسپتال، قادیان، حال فیصل آباد )

جناب قریشی محمد صادق صاحب شبنم (بی.اے)

نظارت امور عامہ میں محتسب کوتوال شہر ، کے طور پر رہے ہیں۔ آل انڈیا نیشنل لیگ کے سیکرٹری اور خلیفہ ربوہ کے بڑے چہیتے تھے۔ انہوں نے اپنے طور پر خلیفہ کو جو خط لکھا ، ملاحظہ فرمائیں۔ ” جب میں لاہور میں آیا تھا تو میں نے آپ کے اخلاق اور آپ کی بیویوں، لڑکیوں اور میاں شریف احمد صاحب اور میاں بشیر احمد صاحب اور ان کے لڑکوں کے اخلاق کے متعلق بہت سی باتیں سنی تھیں ۔ لیکن خوش اعتقادی کی وجہ سے میں یقین نہ کرتا تھا۔ آخر جب میں قادیان آیا تو

٦٣

صفحہ ٠٩

سب سے پہلے غائب سے ان کے متعلق تحقیقات کرنے کی تحریک میرے دل میں ڈالی گئی تو پھر جب میں محتسب ہوا تو آفیشل طور پر بھی میں نے تحقیق کی اور جو جو معلومات مجھے اس بارہ میں ہوئیں، وہ میں نے کچھ تو نظارت کی معرفت اور کچھ براہ راست تحریری طور پر پہنچا دیں۔ ان معلومات میں سے بعض کا ذکر میں ذیل میں مجمل طور پر کرتا ہوں۔ کیونکہ مفصل طور پر رپورٹ کر چکا ہوں اور بعض کی رپورٹ کا موقع نہیں ملا۔

کریں۔ گویا آپ نے ایک حسن بن صباحی باطنی فرقہ بنایا ہوا ہے۔

ساتھ تعلق ہے۔ آپ نے نہ کوئی گواہ کو سزا دی اور نہ ہی اپنی بیوی کو اور نہ ہی شیخ بشیر احمد صاحب کو۔ معاملات بدستور ہیں۔ کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔

اور امۃ الرشید کا ایک غیر آدمی کے ساتھ تعلق ہے۔ آپ نے شہادت بھی لی۔ لیکن طرفین میں سے کسی کو بھی سزا نہ دی۔ ان تمام واقعات کے میرے پاس مکمل ثبوت ہیں۔ جن کو بروقت پیش کروں گا۔ انشاء اللہ تعالیٰ۔“

بیٹا بھی اپنے باپ کی پاکیزگی کی قسم کھانے کو تیار نہیں

بسلسلہ خط و کتابت شفیق الرحمٰن اور مرزا رفیع احمد ولد مرزا محمود احمد (نوٹ: اسی کتاب میں یہ خط و کتابت علیحدہ مستقل اشاعت پذیر ہے۔ اس لئے یہاں حذف کر دیا ہے:۔ مرتب)

٦٤

اہلیہ صاحبہ جناب عبدالر عبدالرب خان صاحب حال فیصل المعروف ”قمر الانبیاء“ کے گھر میں رہ رہے تھے کہ کمروں میں جانے لگے۔ میری اہلیہ مرحومہ برآمد آگئے اور انہوں نے میری اہلیہ کو چھاتیوں سے پکڑ نے ایک زناٹے دار تھپڑ میاں بشیر کے چہرے پر وقت انہوں نے مجھے ناشتے پر بلایا۔ میں نے ان آندھی تھی، کچھ مجھے نزلہ کی شکایت بھی تھی۔ اس ب انہوں نے اتنا ہی کہا تھا کہ میری اہلیہ اوپر سے آگئ کیا اور کہا: چلو اٹھو، تم اس بدمعاش کے پاس بیٹھے

”قمر الانبیاء“ غیور پٹھا

حکیم عبدالوہاب عمر صاحب کا بیان ہ پٹھان لڑکے ”غیور“ میں بڑی دلچسپی لیا کرتے تھ پارٹیشن کروا کے غیور کے لئے ایک علیحدہ کمرے ک ہی حسین و جمیل لڑکا تھا۔ میاں صاحب کو اسے و امتحان دینے کے لئے بٹالہ گیا اور پھر امتحان ختم ہو عمل تھا اور بارش ہو رہی تھی۔ میاں صاحب کو پت بارش میں بھیگتے ہوئے غیور کے کمرے کی کھڑکی ب گفتگو کرتے رہے۔ میاں صاحب کا ارادہ تھا کہ دیں۔ مگر خلیفہ جی راضی نہ ہوئے۔ اس پر میاں ص لئے سلسلہ جنبانی کی۔ خان صاحب مذکور نے ا بارہ میں تحقیقات کی تو مجھے معلوم ہوا کہ وہ منشیات صاحب نے ایسے لڑکے کے بارہ میں سفارش کیو رہا۔ منشیات کا عادی ہو گیا اور پھر انہی وجوہ کی بناء

٥

صفحہ ١٠٩

اہلیہ صاحبہ جناب عبدالرب خاں اور ”قمر الانبیاء“

عبدالرب خان صاحب حال فیصل آباد، بیان کرتے ہیں کہ: ”ہم مرزا بشیر احمد المعروف ”قمر الانبیاء“ کے گھر میں رہ رہے تھے کہ ایک رات کو آندھی سی آگئی۔ سب افراد خانہ کمروں میں جانے لگے۔ میری اہلیہ مرحومہ برآمدے سے گزر رہی تھیں کہ میاں بشیر سامنے سے آگئے اور انہوں نے میری اہلیہ کو چھاتیوں سے پکڑنا چاہا۔ وہ بڑی غیرت مند خاتون تھیں۔ انہوں نے ایک زناٹے دار تھپڑ میاں بشیر کے چہرے پر رسید کیا۔ جس سے وہ دہرے ہو گئے۔ صبح کے وقت انہوں نے مجھے ناشتے پر بلایا۔ میں نے انہیں اس بدمعاشی پر ڈانٹا تو وہ کہنے لگے، رات آندھی تھی، کچھ مجھے نزلہ کی شکایت بھی تھی۔ اس لئے میں نے سمجھا کہ شاید میری بیوی ہیں۔ ابھی انہوں نے اتنا ہی کہا تھا کہ میری اہلیہ اوپر سے آگئیں اور انہوں نے ایک دوہتڑ میری پشت پر رسید کیا اور کہا: چلو اٹھو، تم اس بدمعاش کے پاس بیٹھے ہوئے ہو۔“

”قمر الانبیاء“ غیور پٹھان کے کمرے میں

حکیم عبدالوہاب عمر صاحب کا بیان ہے کہ مرزا بشیر احمد المعروف ”قمر الانبیاء“ ایک پٹھان لڑکے ”غیور“ میں بڑی دلچسپی لیا کرتے تھے اور ٹی آئی ہائی سکول قادیان میں انہوں نے پارٹیشن کروا کے غیور کے لئے ایک علیحدہ کمرے کا اہتمام بھی کر دیا تھا۔ غیور، پیازی رنگ کا بہت ہی حسین و جمیل لڑکا تھا۔ میاں صاحب کو اسے دیکھے بغیر چین نہ آتا تھا۔ ایک دفعہ وہ میٹرک کا امتحان دینے کے لئے بٹالہ گیا اور پھر امتحان ختم ہونے کے بعد قادیان واپس پہنچا۔ آدھی رات کا عالم تھا اور بارش ہو رہی تھی۔ میاں صاحب کو پتہ لگا تو انہیں آتش شوق نے بے قرار کر دیا اور وہ بارش میں بھیگتے ہوئے غیور کے کمرے کی کھڑکی کے سامنے جا کھڑے ہوئے اور کافی دیر اس سے گفتگو کرتے رہے۔ میاں صاحب کا ارادہ تھا کہ غیور کی شادی، صاحبزادی ناصرہ بیگم سے کروا دیں۔ مگر خلیفہ جی راضی نہ ہوئے۔ اس پر میاں بشیر احمد نے خان بہادر دلاور خاں سے غیور کے لئے سلسلہ جنبانی کی۔ خان صاحب مذکور نے اپنی سوانح میں لکھا ہے کہ میں نے اس لڑکے کے بارہ میں تحقیقات کی تو مجھے معلوم ہوا کہ وہ نشیات کا عادی ہے۔ اس پر میں حیران ہوا کہ میاں صاحب نے ایسے لڑکے کے بارہ میں سفارش کیوں کی۔ غیور معروف و مجہول ہر رنگ میں طبع آزما رہا۔ نشیات کا عادی ہو گیا اور پھر انہی وجوہ کی بناء پر راہی ملک عدم ہوا۔

٦٥

صفحہ ١١١

دربارہ میاں شریف احمد

مولوی عبدالکریم کیمبل روڈ لاہور کے والد محترم ”خاندان نبوت“ کے گھر میں خانساماں کے طور پر کام کرتے تھے۔ اس وجہ ان کا بچپن انہی ”مقدسین“ کے درمیان گزرا ہے۔ انہوں نے متعدد افراد کے سامنے اور خود مؤلف کے سامنے متعدد مرتبہ بیان کیا کہ ایک مرتبہ وہ شام کے دھندلکے میں مختلف کمروں میں شمعیں روشن کر رہے تھے کہ انہیں ایک کمرے سے کچھ آوازیں سنائی دیں ۔ کمرے کے اندر گئے تو وہاں مرزا شریف احمد استانی میمونہ کی صاحبزادی صادقہ کے ساتھ مصروف پیکار تھے۔ دروازہ کھلا تو صادقہ کی جان میں جان آئی اور میاں شریف بھی آہستہ سے کھسک گیا اور صادقہ نے ان کا شکریہ ادا کیا۔

یہی صاحب بیان کرتے ہیں کہ فوج سے یک گونہ تعلق رکھنے کی وجہ سے میاں شریف کو انبالے جانے کا موقع ملتا تھا۔ ایک مرتبہ وہ ایک خوبصورت بے ریش، امرد ہندو لڑکے جگدیش کو بہلا پھسلا کر اپنے ساتھ لے آئے اور پھر ایک عرصہ تک اس کے ساتھ ان کے تعلقات اور ہم جنسی ذوق کے واقعات لوگوں کی زبان پر آتے رہے اور ”مخلص مرید“ بسا اوقات ان حالتوں میں بھی ان کی دست بوسی کر رہے ہوتے ، جب کہ وہ جنبی حالت میں ہوتے۔

میاں شریف کی ایک صاحبزادی امۃ الودود اچانک دماغ کی شریان پھٹ جانے کی وجہ سے فوت ہو گئی تھیں۔ اس کے متعلق مختلف نوع کی روایات واقفان حال بیان کرتے ہیں۔ مولوی صاحب موصوف کا کہنا ہے کہ چونکہ میں خود انہی کے گھروں میں پلا ہوں۔ اس لئے میں نے اس حادثہ فاجعہ کے بارہ میں مکمل تحقیقات کی تو مجھے معلوم ہوا کہ امۃ الودود کو اس کی سہیلی صادقہ ملنے کے لئے آئی۔ گرمی کے دن تھے۔ اس لئے اس نے کہا، میں ذرا غسل کرلوں۔ وہ غسل کرنے کے لئے باتھ روم میں چلی گئی۔ جب نہا دھو کر اس نے باتھ روم کا دروازہ کھولا تو اس نے دیکھا کہ میاں شریف کچھ فاصلے پر کھڑا ہے اور فحش اشارے کر رہا ہے۔ اتنے میں امۃ الودود بھی آگئی۔

اب یہ تینوں اس طرح کھڑے تھے کہ میاں شریف درمیان میں تھا اور صادقہ اور وہ دونوں آمنے سامنے تھے۔ امۃ الودود نے دیکھا کہ صادقہ کے چہرے پر ایک رنگ آ رہا ہے اور جارہا ہے۔ اس نے पूछा کیا معاملہ ہے۔ اس پر میاں شریف نے مڑ کر دیکھا تو اپنی صاحبزادی کو پیچھے کھڑا پایا۔ بیٹی اس صدمہ کو برداشت نہ کرسکی اور فوراً ہی ہلاک ہو گئی۔

٦٦

سدومیت اور ربوہ، ایک ب

تقسیم برصغیر سے قبل قادیان اور سدومیت کل سدومیت ربوہ کی کالج انڈسٹری ہے۔ جائے ربا ہوئے، معمولی تنخواہوں پر ”خدمت دین“ کا فریضہ سر لمبے عرصے تک رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے سے مح رہنا پڑتا ہے جہاں نہ کوئی پارک ہے نہ سینما، نہ ہوٹل صرف ایک خاندان کے لئے وقف ہیں۔ جو دوسروں کو

مرد وہ ہے جو جفاکش ہو لیکن خود موسم گرما کی پہلی کرن پڑنے پر بھو بجائے ”مہمات دینیہ“ کی سرانجام دہی کے لئے یور اب مجبور مریدوں کے لئے تفریح کا سوائے اس کے ک بہلا ئیں۔ اس لئے وہ دورانِ سال تو تعلیمی اداروں کے تلاش میں اپنے ”ظلی حج“ یعنی سالانہ جلسے کا انتظار ک موقع پر ڈیوٹی پر متعین نوجوان اپنے ساتھیوں اور ”افسر خود اس قدر عادی ہو جاتے ہیں کہ ان کی ”آتش شوق“ موقع کے علاوہ خدام الاحمدیہ کے اجتماعات اور تربیتی کلا دن ہوتے ہیں۔ ١٩٧٤ء میں ایسی ہی ایک تربیتی کلاس طلباء“ کی سترہ ایسی وارداتیں ہوئیں، جن کی ازاں ہو نئے شکاروں کی تعیین کے علاوہ کچھ نہ تھا۔ سو کچھ نہ ہوا ۔

ربوہ کے ایک پرائیویٹ سیکرٹری کے ایک نہایت قریبی سی ڈی اے راولپنڈی میں ملازم ہیں، مجھے بتایا کہ میں شمولیت کے لئے ربوہ بھیجا ہے۔ لیکن اسے یہ ہدایت ک کے شائق اور ایرانی مذاق کے رسیا ہیں۔ وہ ضرور تم پر ہا لئے اگر ایسا کوئی موقع پیش آجائے تو تم چیخ پکار کر آجانا

٦٧

صفحہ ١١١

سدومیت اور ربوہ، ایک رات میں ١٧......

تقسیم برصغیر سے قبل قادیان اور سدومیت کا آپس میں چولی دامن کا ساتھ تھا اور آج کل سدومیت ربوہ کی کاٹج انڈسٹری ہے۔ جائے رہائش سے محروم، قبائلی معاشرے میں جکڑے ہوئے، معمولی تنخواہوں پر ”خدمت دین“ کا فریضہ سرانجام دینے والے ملازمین یا مربیان ایک لمبے عرصے تک رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے سے محروم رہتے ہیں اور انہیں ایک ایسی بستی میں رہنا پڑتا ہے جہاں نہ کوئی پارک ہے نہ سینما، نہ ہوٹل ہے نہ تھیٹر، وہاں زندگی کی تمام آسائشیں صرف ایک خاندان کے لئے وقف ہیں۔ جو دوسروں کو تو اس امر کی نصیحت کرتا ہے ۔

مرد وہ ہے جو جفاکش ہو گل اندام نہ ہو

لیکن خود موسم گرما کی پہلی کرن پڑنے پر بھوربن کی طرف بھاگ کھڑا ہوتا ہے اور گاہے بگاہے ”مہمات دینیہ“ کی سرانجام دہی کے لئے یورپ اور امریکہ میں چھترے اڑاتا پھرتا ہے۔ اب مجبور مریدوں کے لئے تفریح کا سوائے اس کے کوئی ذریعہ نہیں کہ وہ ہمجنس ذوق سے اپنا دل بہلائیں۔ اس لئے وہ دورانِ سال تو تعلیمی اداروں کے طلباء سے دل بہلاتے ہیں اور پھر ورائٹی کی تلاش میں اپنے ”ظلی حج“ یعنی سالانہ میلے کا انتظار کرتے ہیں اور اس ”روحانیت سے معمور“ موقع پر ڈیوٹی پر متعین نوجوان اپنے ساتھیوں اور ”افسروں“ کا نشانہ ستم بنتے ہیں اور اکثر و بیشتر تو خود اس قدر عادی ہوجاتے ہیں کہ ان کی ”آتش شوق“ انہیں بے چین کئے رکھتی ہے۔ میلے کے موقع کے علاوہ خدام الاحمدیہ کے اجتماعات اور تربیتی کلاسیں اس ”فن شریف“ کے مظاہرے کے دن ہوتے ہیں۔ ١٩٧٤ء میں ایسی ہی ایک تربیتی کلاس کے موقع پر ایک ہی رات میں ”اساتذہ اور طلباء“ کی سترہ ایسی وارداتیں ہوئیں، جن کی ازاں بعد انکوائری ہوئی۔ مگر اس تحقیق کا مقصد بھی نئے شکاروں کی تعین کے علاوہ کچھ نہ تھا۔ سو کچھ نہ ہوا۔ ایسی ہی ایک تربیتی کلاس کے موقع پر خلیفہ ربوہ کے ایک پرائیویٹ سیکرٹری کے ایک نہایت قریبی عزیز اور ایک سابق مبلغ نے جو آج کل سی ڈی اے راولپنڈی میں ملازم ہیں، مجھے بتایا کہ میں نے اپنے ایک شاگرد کو تربیتی کلاس میں شمولیت کے لئے ربوہ بھیجا ہے۔ لیکن اسے یہ ہدایت کر دی ہے کہ وہاں اساتذہ کرام امرد پرستی کے شائق اور ایرانی مذاق کے رسیا ہیں۔ وہ ضرور تم پر ہاتھ صاف کرنے کی کوشش کریں گے۔ اس لئے اگر ایسا کوئی موقع پیش آجائے تو تم بچ بچا کر آ جانا تو یہ خدمت میں سرانجام دوں گا۔

٦٧

صفحہ ١١٣

ربوہ کے تعلیمی اداروں میں ایسی گھاتیں اور وارداتیں بکثرت ہوتی ہیں۔ ربوہ میں قادیانی امت کے شعراء کی اکثر بیشتر نظمیں اس قدر گندی اور اتنی غلیظ ہیں کہ ان کو نقل کرنا بھی بار خاطر ہے۔ یہ غلاظت ان کے قلب و ذہن میں اس طرح جاگزین ہوئی ہے کہ وہ اپنے ”نبی صاحب“ کو بھی معاف نہیں کرتے۔ مرزا غلام احمد کا ایک شعر ہے ؎

کس قدر ظاہر ہے نور اس مبداء الانوار کا
بن رہا ہے سارا عالم آئینہ ابصار کا

ایک قادیانی اپنے مزاج کے مطابق اس کی پیروڈی یوں کہتا ہے ؎

کس قدر ظاہر نور اس مبداء الانوار کا
جس پہ میں مرتا ہوں وہ لونڈا ہے تھانیدار کا

ہم علی وجہ البصیرت اپنی رویت عینی اور علم قطعی کی بناء پر جانتے ہیں کہ ربوہ میں سدومیت اس پیمانے پر ہے کہ اگر خدا نے ربوہ کو تباہ نہ کیا تو اسے سدوم اور عمورہ کی بستیوں سے معذرت کرنا پڑے گی۔ اس کی صداقت کی شہادت ہر وہ شخص دے گا جس کو ربوہ کے احوال وظروف سے ذرا سی بھی واقفیت ہے۔ نو عمر طلبہ کو پھانسنے کے لئے ایک نظم وہاں ماہرین نے لکھ رکھی ہے جو وہ امردوں کو سنا کر انہیں مائل بہ کرم کرتے ہیں۔ اس نظم کے چند بند پیش خدمت ہیں ؎

ذکر ماضی پہ ہے دنیا کا سبھی دارومدار روز ہیں عہد گزشتہ کے ہی ذکر و اذکار
فطرتاً یاد گزشتہ سے ہے انسان کو پیار میں بے چارہ بھی ہوا ہوں اسی عادت کا شکار
یاد گزرا ہوا آتا ہے زمانہ ہر دم دل کے پہلو میں ہے ماضی کا سینما ہردم
یاد آتے ہیں وہ دن جب کہ مسیحا میں تھا کشور عشق میں جب حسن کا داور میں تھا
کہیں شیریں کہیں عذرا کہیں لیلیٰ میں تھا شوخیاں بلکہ مجھے حسن سکھا دیتا تھا
میرے عشاق کے نمبر کو بڑھا دیتا تھا آئے دن میرے لئے جنگ ہوا کرتے تھے
روز عاشق میرے آپس میں لڑا کرتے تھے ہٹ کے بھی ترک نہ کرتے تھے خریدار مجھے
یاد کرتے تھے مرے عاشق بیمار مجھے جو کہ عشاق سے پر تھی وہ گلی میری تھی
جو کئی بار کھلی تھی وہ کلی میری تھی ہر طرف شہر میں اک شور تھا برپا میرا
خوب تھا کوچہ و بازار میں چرچا میرا سب مجھے جلوہ گہ شان خدا کہتے تھے
اور زاہد مجھے بیت اللہ نما کہتے تھے تانگے والے میرے جلوے کے تمنائی تھے

٦٨

سائیکلوں والے میرے عشق کے سودائی تھے
ان میں اکثر میرے بظاہر میں بڑے بھائی تھے
اور اکثر میرا ہو جاتا تھا جرمانہ معاف
رات کو گھر پہ بلاتے تھے پڑھانے کے لئے
عشق کا راز اندھیرے میں بتانے کے لئے
پاس ہر سال بڑی شان سے ہو جاتا تھا
ایک بھی حسن کے زنار میں دانا نہ رہا
دعوتوں میں مجھے منت سے بٹھانا نہ رہا
ہائے سب بھول گئے اب میری الطاف و نیاز
بے نیازی کا سبق دے دیا دیوانوں کو
چائے بھی پینا وہیں، کھانا وہیں پر کھانا
جان من اللہ مجھے اور نہ اب ترسانا
اپنے مجنوں سے خدا کے لئے حمل لے لیں
خود کشی کر کے زمانے سے گزر جاؤں گا
اشک آنکھوں میں یہ کیسے ہیں یہ رونا کیسا
آپ کے صدمہ فرقت کی مکافات سہی
جن کو گرنے نہ دئے ہجر میں نالے میں نے
خواب گاہوں میں کئے جن کے اجالے میں نے
دے رہے ہیں میرے احسانوں کا بدلہ الٹا
جڑھ سے مونچھوں کو بھی ہر روز اڑاتا ہوں میں
لوگ چالاک مگر راز سمجھ جاتے ہیں
ہائے سالوں نے میرا گلشن جوبن لوٹا
اے خدا حسن کا سرسبز گلستاں کر دے
پھر زمانے میں مجھے شاہ حسیناں کر دے
پھر میری وادی پرخار میں آ جائے بہار

☆ ....... ٭

٦٩

صفحہ ١١٣
سائیکلوں والے میرے عشق کے سودائی تھے سبھی استاد میرے وصل کے شیدائی تھے
ان میں اکثر میرے بظاہر ہیں بڑے بھائی تھے مجھ سے پیش آتا تھا اچھی طرح کالج کا سٹاف
اور اکثر میرا ہو جاتا تھا جرمانہ معاف میرے استاد مجھے ہاتھ میں لانے کے لئے
رات کو گھر پہ بلاتے تھے پڑھانے کے لئے کوششیں کرتے تھے پھر گھر پہ سلانے کے لئے
عشق کا راز اندھیرے میں بتانے کے لئے میں وفادار وہیں رات کو سو جاتا تھا
پاس ہر سال بڑی شان سے ہو جاتا تھا ہائے افسوس مگر اب وہ زمانہ نہ رہا
ایک بھی حسن کے زنار میں دانا نہ رہا اب آنا نہ رہا مجھ کو بلانا نہ رہا
دعوتوں میں مجھے منت سے بٹھانا نہ رہا دیکھتا کوئی نہیں اب مجھے با دیدۂ ناز
ہائے سب بھول گئے اب میرے الطاف و نیاز شمع نے خوب جلا کر میرے پروانوں کو
بے نیازی کا سبق دے دیا دیوانوں کو کوئی کہتا تھا میرے گھر پہ ذرا کل آنا
چائے بھی پینا وہیں، کھانا وہیں پر کھانا میٹھی باتوں سے ذرا دل بھی میرا بہلانا
جان من اللہ مجھے اور نہ اب ترسانا ٹکٹ کٹانے کے لئے لیں بھئی سائیکل لے لیں
اپنے مجنوں سے خدا کے لئے محمل لے لیں ورنہ اک روز گلا کاٹ کے مر جاؤں گا
خودکشی کر کے زمانے سے گزر چکا ہوں گا مسکرا کر میں کہا کرتا تھا اچھا اچھا
اشک آنکھوں میں یہ کیسے ہیں یہ رونا کیسا کل فلاں پل پہ سرشام ملاقات سہی
آپ کے صدمہ فرقت کی مکافات سہی جن کے سب حسرت و ارماں نکالے میں نے
جن کو کرنے نہ دئے ہجر میں نالے میں نے جن کے دل حسن کی آغوش میں پالے میں نے
خواب گاہوں میں کئے جن کی اجالے میں نے چھیڑتے ہیں وہ میرا کھینچ کے دامن الٹا
دے رہے ہیں میرے احسانوں کا بدلہ الٹا شیو دو بار صبح و شام کراتا ہوں میں
جڑھ سے مونچھوں کو بھی ہر روز اڑاتا ہوں میں گال پہ سرخی و پوڈر بھی لگاتا ہوں میں
لوگ چالاک مگر راز سمجھ جاتے ہیں اک بناوٹ ہے میرا ناز سمجھ جاتے ہیں
ہائے بالوں نے میرا گلشن جوبن لوٹا روسیاہوں نے میرے حسن کا خرمن لوٹا
اے خدا حسن کا سرسبز گلستاں کر دے میرے رخسار کے ہر بال کو پنہاں کر دے
پھر زمانے میں مجھے شاہ حسیناں کر دے پھر میرے واسطے عالم کو پریشاں کر دے
پھر میری وادی پرخار میں آ جائے بہار پھر میرے عشق کے ہو جائیں ہزاروں بیمار

٭ ...... ٭ ...... ٭

٦٩

صفحہ ١١٥

کوئی نہ ہو گا اور اسی سے روکنے کے لئے اسلام نے تہہ میں نے ایک بہت پرانے قادیانی سے، احمد تک کے جملہ حالات سے واقف ہیں اور سائل خود ظاہر نہیں کرنا چاہتے۔ اس بارے میں پوچھا تو کہنے بھی بڑھاپے میں ۔

ہر چہ باید نو عروسے را
داں چہ مطلوب شما باشد

کے تحت ایک نوجوان لڑکی سے شادی رچا تھا۔ لیکن فطرت کی تعزیروں نے وہاں بھی اپنا کام دک عصیان میں جس مقام تک پہنچی، یہ کام کُشتوں کی اولا کیونکہ کُشتوں کے پشتے لگا دینا اس کا کام ہی نہیں ۔

حج کی تیاری ....... پیکنگ

یہ ان دنوں کی بات ہے جب مرزا ناصر ا ایک ایسی طالبہ کو اپنے حبالہ عقد میں لے لیا تھا جس ڈورے ڈالے ہوئے تھے۔ انہی ایام میں قادیانی حلقہ اور مرزا لقمان میں شدید شکر رنجی ہی نہیں بلکہ باقاعد پرانے قادیانی خاندان کے کسی قدر مضطرب ایک فر چائے کی دکان کے مالک انیس احمد سے پوچھا کہ ان انہوں نے بے ساختہ کہا کہ ایسا ہونا تو لازمی تھا۔ کیونکہ صاحب نے اس پر پیکنگ اور ہاؤلنگ شروع کر دی ہ ہے کہ چڑھتی دھوپ اور ڈھلتی چھاؤں میں ایک دوسر مرزا ناصر احمد نے اپنے از کار رفتہ اعضاء میں جوانی ک علاج میسر ہونے کے باوجود کُشتے کا استعمال شروع کی گیا اور وہ آناً فاناً اللہ تعالیٰ کی عبرت ناک گرفت میں آ ایندھن بننے کے لئے عدم آباد سدھار گیا۔

٧١

صفحہ ١١٥

کوئی نہ ہوگا اور اس سے روکنے کے لئے اسلام نے تہمت کے مواقع سے بھی بچنے کی تلقین کی ہے۔ میں نے ایک بہت پرانے قادیانی سے، جو مرزا غلام احمد قادیانی سے لے کر مرزا طاہر احمد تک کے جملہ حالات سے واقف ہیں اور سال خوردگی کی انتہائی سٹیج پر ہونے کی وجہ سے اپنا نام ظاہر نہیں کرنا چاہتے۔ اس بارے میں پوچھا تو کہنے لگے مرزا صاحب (مرزا درزا غلام احمد ) نے بھی بڑھاپے میں ۔

ہرچہ باید نو عروسے را ہمہ ساماں بکنم
واں چہ مطلوب شما باشد عطائے آں کنم

کے تحت ایک نوجوان لڑکی سے شادی رچا کر اسے اللہ رکھی سے نصرت جہاں بیگم بنا دیا تھا۔ لیکن فطرت کی تعزیروں نے وہاں بھی اپنا کام دکھایا اور پھر ان کی اولاد نے جو کچھ کیا اور جنسی عصیان میں جس مقام تک پہنچی، یہ کام کشتوں کی اولاد ہی کرتی ہے۔ نارمل اولاد یہ کام نہیں کر سکتی۔ کیونکہ کشتوں کے پشتے لگا دینا اس کا کام ہی نہیں۔

میچ کی تیاری....... بیٹنگ اور باؤلنگ

یہ ان دنوں کی بات ہے جب مرزا ناصر احمد آنجہانی نے فاطمہ جناح میڈیکل کالج کی ایک ایسی طالبہ کو اپنے حبالہ عقد میں لے لیا تھا جس پر ان کے صاحبزادے مرزا لقمان احمد نے ڈورے ڈالے ہوئے تھے۔ انہی ایام میں قادیانی حلقوں میں یہ بھی سننے میں آیا کہ مرزا ناصر احمد اور مرزا لقمان میں شدید شکر رنجی ہی نہیں بلکہ باقاعدہ مخاصمت کا آغاز ہو گیا ہے۔ میں نے ایک پرانے قادیانی خاندان کے کسی قدر مضطرب ایک فرد وائی ایم سی اے کارنر (دی مال لاہور) پر چائے کی دکان کے مالک انیس احمد سے پوچھا کہ ان خبروں میں کس حد تک صداقت موجود ہے تو انہوں نے بے ساختہ کہا کہ ایسا ہونا تو لازمی تھا۔ کیونکہ کرکٹ میچ کی تیاری تو بیٹے نے کی تھی مگر والد صاحب نے اس پر بیٹنگ اور باؤلنگ شروع کر دی اور پھر وہی ہوا جو ایسے معاملات میں ہوا کرتا ہے کہ چڑھتی دھوپ اور ڈھلتی چھاؤں میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی دوڑ شروع ہو گئی۔ مرزا ناصر احمد نے اپنے ازکار رفتہ اعضاء میں جوانی کی امنگیں بھرنے کے لئے تمام جدید وسائل علاج میسر ہونے کے باوجود کُشتے کا استعمال شروع کیا جو راس نہ آیا اور اس کا جسم پھول کر کُپّا بن گیا اور وہ آناً فاناً اللہ تعالیٰ کی قہرناک گرفت میں آ کر کُشتے کی آگ میں جلنے کے بعد نار جہنم کا ایندھن بننے کے لئے عدم آباد سدھار گیا۔

٧١

صفحہ ١١٧

ہمارے ایک قادیانی دوست نے مرزا ناصر احمد کی اس شہادت پر انہیں ”شہید فرج“ کا خطاب دیا ہے اور ان کا اصل خط بھی میرے پاس محفوظ ہے۔ بعد میں ایک مشترکہ دوست کے ذریعے میں نے انہیں یہ پیغام بھیجا کہ اس خطاب کو تراشنے کے لئے آپ نے بلاوجہ زحمت کی۔ فیروز اللغات میں اس کے لئے ”چوتیا شہید“ کا محاورہ پہلے سے موجود ہے تو انہوں نے ہنستے ہوئے جواباً کہا کہ لغوی اعتبار سے یہ بات تو ٹھیک ہے لیکن یہ خاندان جنس کے طوفان میں جس طرح غرقاب ہے اس کے لئے لغت بھی نئی ہی کوائن Coin کرنی پڑے گی۔

آلہ واردات

ملک عزیز الرحمٰن ٨/بی عزیز ولا کرشن نگر لاہور میرے قریبی عزیز ہیں اور اپنی مخصوص ذہنی تطہیر کے باعث وہ ابھی تک مرزا غلام احمد کو مسیح موعود، مہدی موعود اور مجدد وقت تسلیم کرتے ہیں اور ہر وقت اس کا پرچار کرتے رہنے کو ہی ذریعہ نجات سمجھتے ہیں۔ ان کا کسی قدر مزید تعارف کرا دوں۔ یہ احمدیہ پاکٹ بک کے مصنف ملک عبدالرحمٰن خادم ایڈووکیٹ گجرات، جنہوں نے کسی زمانے میں ”احمدیہ پاکٹ بک“ لکھی، کے سگے بھائی ہیں۔ ان کے ایک دوسرے برادر معروف لیبر لیڈر راحت ملک بھی ان کے سگے بھائی ہیں۔ جنہوں نے کسی دور میں خلیفہ ربوہ کے بارے میں ”ربوہ کا مذہبی آمر“ کے نام سے ایک کتاب لکھی تھی اور انہوں نے خود ”خالد احمدیت“ کا خطاب پانے والے اپنے بھائی کے بارے میں لکھا ہے کہ ”وہ فن اظلامیات میں یدطولیٰ رکھتے تھے۔“

ملک عزیز الرحمٰن قصر خلافت میں سپرنٹنڈنٹ کے عہدہ پر فائز رہے اور جب انہیں مرزا محمود احمد کے بارے میں پورے یقین کے ساتھ یہ معلوم ہو گیا کہ وہ ایک بدمعاش اور بدکردار آدمی ہے تو انہوں نے اس سے ایسی مکمل علیحدگی اختیار کر لی کہ اپنے خالد احمدیت بھائی کا جنازہ اس بنا پر نہ پڑھا کہ اسے بھی یقینی علم تھا کہ مرزا محمود احمد بدمعاش ہے۔ مگر اس کے باوجود اسے مصلح موعود ثابت کرنے پر تلا رہا۔ وہ مرزا غلام احمد کو تو مجدد وقت اور مسیح موعود ثابت کرنے کے لئے تو غالباً نئے انداز میں تبلیغ کرتے رہتے ہیں۔ لیکن اسی تواتر سے مرزا محمود احمد کو بدمعاش اور بدکردار ثابت کرنے کے لئے بیسیوں پمفلٹ شائع کر چکے ہیں۔

اس سے ان کی اپنے افکار و نظریات میں پختگی کا اندازہ ہو سکتا ہے اور وہ اس معاملے میں اتنے متشدد ہیں کہ کہتے ہیں چونکہ مرزا محمود احمد اور ان کی والدہ ”نصرت جہاں بیگم“ دونوں ہی ایک قبیل سے تعلق رکھتے تھے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے دونوں کو مرزا غلام احمد کی پیش گوئی کے

٧٢

مطابق قادیان کی پاک سرزمین سے نکال کر ربوہ کی لعن وہ اسی پر اکتفا نہیں کرتے۔ بلکہ ”پسر موعو میں بھی ایسی ناگفتنی باتیں کہہ جاتے ہیں کہ میرے ج جہالت کی ساری کرتوتوں کے سلسلے میں کسی اشتباہ کا ش یہ سوچنا پڑتا ہے کہ یا الہی یہ ماجرا کیا ہے اور صرف یہ میں دھنستا ہے تو پھر اس حد تک کیوں دھنستا چلا جاتا ہے پہنچ جائے اس وقت تک اسے چین نہیں آتا۔

ملک عزیز الرحمٰن صاحب گھر کے بھیدی لئے کوئی زیادہ مشکل نہ تھا۔ لیکن جب وہ اپنی تحقیق کے متعلق ٹھوس معلومات ملنے اور مشاہدات سے اس زنجیروں کو ایک جھٹکے سے توڑنے کے لئے انہوں نے خلافت بھجوا دیا اور کہا اگر حضرت صاحب دست درا سے ہی محروم کر دینا۔ لیکن خلیفہ صاحب بھی گرگ با چھپانے کا بڑا فرعونی نظام وضع کر رکھا تھا۔ تلاشی لی گئی صاحب کو ان کے پورے خاندان سمیت ربوہ بدر کر د

صالح نور نے مجھے بتایا کہ میں نے از را کے موالید ثلاثہ یعنی جھبولا ناتھ کو کیوں کٹوانا چاہتے تے اور ویسے بھی ایک نادر چیز ہونے کے اعتبار سے اس اسے سرکے کی بوتل میں ڈال کے رکھتا۔

تکبر اور

میں نے مباہلہ والے زاہد سے پوچھا کہ تو مرزا محمود احمد کی تمام رنگینیوں کو بڑے مزے لے بھائی عبدالمنان عمر بڑی پراسرار خاموشی اختیار کئے ایک بدکردار آدمی تھے تو وہ کہنے لگے کہ میں اب بڑھ باتوں کے کرنے سے انسان طبعاً حجاب کرتا ہے۔

٧٣

صفحہ ١١٧

مطابق قادیان کی پاک سرزمین سے نکال کر ربوہ کی لعنتی سرزمین میں لا دفن کیا ہے۔ وہ اسی پر اکتفا نہیں کرتے۔ بلکہ ”پسر موعود“ اور ”زوجہ موعود“ کے ربط وضبط کے بارے میں بھی ایسی ناگفتنی باتیں کہہ جاتے ہیں کہ میرے جیسے بندے کو بھی جو قادیانی خلفاء سے لے کر جہلا تک کی ساری کرتوتوں کے سلسلے میں کسی اشتباہ کا شکار نہیں، تذبذب کی کیفیت سے دوچار ہو کر یہ سوچنا پڑتا ہے کہ یا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے اور صرف یہی خیال آتا ہے کہ آدمی جب گناہ کی دلدل میں دھنستا ہے تو پھر اس حد تک کیوں دھنستا چلا جاتا ہے کہ جب تک اسفل السافلین کے مقام پر نہ پہنچ جائے اس وقت تک اسے چین نہیں آتا۔

ملک عزیز الرحمن صاحب گھر کے بھیدی تھے۔ اس لئے تیقن کے مقام پر پہنچنا ان کے لئے کوئی زیادہ مشکل نہ تھا۔ لیکن جب وہ اپنی تحقیق عارفانہ سے مرزا محمود احمد اور اس شوق فروزاں کے متعلق ٹھوس معلومات ملنے اور مشاہدات سے اسے مزید پختہ کرنے تک پہنچ گئے تو پیریت کی زنجیروں کو ایک جھٹکے سے توڑنے کے لئے انہوں نے اپنی اہلیہ محترمہ عظمت بیگم کو استرا دے کر قصر خلافت بھجوا دیا اور کہا اگر حضرت صاحب دست درازی کی کوشش کریں تو پھر انہیں آلہ واردات سے ہی محروم کر دینا۔ لیکن خلیفہ صاحب بھی گرگ باراں دیدہ تھے اور انہوں نے اپنی مصیبتوں کو چھپانے کا بڑا فرعونی نظام وضع کر رکھا تھا۔ تلاشی لی گئی اور عظمت بیگم سے استرا برآمد ہو گیا اور ملک صاحب کو ان کے پورے خاندان سمیت ربوہ بدر کر دیا گیا۔

صالح نور نے مجھے بتایا کہ میں نے از راہ مذاق ملک صاحب سے پوچھا کہ آپ اس کے خصیتین بمعہ چھوٹا ہتھیار کو کیوں کٹوانا چاہتے تھے تو انہوں نے کہا کہ یہ ایک عملی ثبوت بھی ہوتا اور ویسے بھی ایک نادر چیز ہونے کے اعتبار سے اس کی قیمت کروڑوں سے کم نہ ہوتی اور میں تو اسے سرکے کی بوتل میں ڈال کے رکھتا۔

تکبیر اور ذبیحہ

میں نے مہلکہ والے زاہد سے پوچھا کہ حکیم عبد الوہاب جو نور الدین کے بیٹے ہیں، وہ تو مرزا محمود احمد کی تمام رنگینیوں کو بڑے مزے لے لے کر بیان کرتے رہتے ہیں۔ لیکن ان کے بھائی عبدالمنان عمر بڑی پراسرار خاموشی اختیار کئے رکھتے ہیں۔ کیا انہیں علم نہیں کہ مرزا محمود احمد ایک بدکردار آدمی تھے تو وہ کہنے لگے کہ میں اب بڑھاپے کی اس منزل میں ہوں۔ جہاں اس قسم کی باتوں کے کرنے سے انسان طبعاً حجاب کرتا ہے۔ لیکن چونکہ یہ ایک صداقت کا اظہار ہے۔ اس

٧٣

صفحہ ١١٩

لئے میں برملا اس امر کا اقرار کرتا ہوں کہ میاں عبدالمنان عمر کو مرزا محمود احمد کی تمام وارداتوں کا پوری طرح علم ہے اور ان کا ڈپلومیسی کے تحت اس بارے میں زبان نہ کھولنا محض منافقت ہے۔ ورنہ میں اپنی نوعمری میں جب خود شعلہ جوالہ ہوتا تھا تو مجھے علم ہے کہ قصر خلافت کے ایک دروازے پر میاں عبدالمنان عمر کھڑے ہوتے تھے اور دوسرے پر میں اور ہمیں اس بات کا یقینی علم ہوتا تھا کہ اندر کیا ہو رہا ہے اور انہی ایام میں وہ عیاش پیر کبھی مجھ پر تکبیر پھیر دیتا تھا اور کبھی میاں منان کا ذبیحہ کر دیتا تھا۔

اک تے تہاڈیاں نمازاں نے ......

فتنہ انکار ختم نبوت کے مؤلف مرزا محمد حسین اگرچہ خاندان نبوت کاذبہ کے درون حرم ہونے والے واقعات سے صرف آگاہ ہی نہیں تھے بلکہ مشاہدے کی سرحدوں سے نکل کر تجربے کی کٹھالی سے نکلنے کی دہلیز پر آ پہنچے تھے۔ لیکن اس مرحلے پر اپنی بزدلی یا نام نہاد پارسائی کی بناء پر ناکامی سے دوچار ہونے کے بعد انہیں مرزا محمود احمد اور ان کے چھٹے ہوئے بدمعاشوں کے ہاتھوں جس ذہنی تشدد اور اذیت کا شکار ہونا پڑا اور جس طرح ان کے جسم کے ناسور والے حصے پر پٹی لگانے سے ڈاکٹر کو حکماً منع کر دیا گیا، اس کا ان پر اتنا گہرا اثر رہا کہ وہ اپنے دم واپسیں تک مرزا محمود احمد کی خلوتوں کے بارے میں اشارتاً اور کنایتاً ہی گفتگو کرتے رہے اور مذکورہ بالا کتاب میں بھی جو باتیں اس ضمن میں انہوں نے درج کی ہیں۔ ان میں سریت اور اخفاء کا پہلو غالب ہے۔

ایک روایت انہوں نے مصلح الدین کے حوالے سے متعدد مرتبہ چیفرنج ہوم دی مال لاہور میں بیان کی، جسے سننے والے بیسیوں افراد خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے زندہ سلامت موجود ہیں۔ لیکن چونکہ وہ حسب معمول اسرار کے پردوں میں لپٹی ہوئی تھی، اسی لئے یہ یونہی ملفوف اور راز سر بستہ رہی۔ اس کا اصلی نقاب صلاح الدین ناصر بنگالی مرحوم نے سرکایا اور پھر چوہدری فتح محمد عرف بھتہ سابق منیجر ملتان آئل ملز حال شالیمار ٹاؤن لاہور نے رہی سہی کسر بھی نکال دی۔ میں نے کہا کہ چوہدری صاحب آپ تو علم وتحقیق کی دنیا کے آدمی نہیں آپ کو قادیان میں مرزا محمود احمد کی بدکرداری کا کیسے علم ہو گیا۔ تو کہنے لگے افسوس کہ بھر پور جوانی کی لہر میں میں بھی اس سیلاب میں بہہ گیا تھا تو میں نے کہا کہ پھر آپ اس سے نکلے کیوں کر؟ آپ کو تو ہر طرح کا خام مال میسر تھا۔ کہنے لگے کہ حضرت صاحب جس مقام تک چلے جاتے تھے وہاں تو عزرائیل کے پر بھی جلنے لگتے تھے۔ میں نے کہا آپ کو علم ہے کہ اس سے قادیانیوں کی تسلی ہوتی ہے نہ عام لوگوں

٧٤

کی اس لئے ذرا کھل کر بات کیجئے۔ کہنے لگے تم میرے بـ لیکن تمہارے اصرار پر حلفاً کہتا ہوں کہ ایک مرتبہ مرزا مـ تھی کہ مؤذن نے آ کر روایتی انداز میں آواز لگائی۔ ”حـ ہے تو حضور نے جو بڑے موڈ میں تھے، کہا: اک تے تہاڈیاں نمازاں نـ یہ جملہ کمرہ خاص میں بیٹھے ہوئے تمام رنداں اور پھر مؤذن کو کہہ دیا گیا کہ نماز پڑھا دی جائے حضور مصـ یہی وہ لمحہ تھا کہ میں نے اس صنم کدہ کو چھوڑنے کا فیصلہ کـ رخ تک نہ کیا اور اگرچہ میری معاشی اور معاشرتی زندگـ ہوئے ہیں مگر زہر ہلاہل کو قند کہنے پر تیار نہیں ہوں۔ اس سے اس خانوادہ کو نعوذ باللہ نبوت، رسـ پہنچانے والے خود سوچ لیں کہ کیا انگور کو کبھی حنظل کا پھل کیسے نبی ہیں کہ جس اولاد کو وہ ذریت مبشرہ قرار دیتے رہـ تک کہتے رہے کہ ؎

یہ پانچوں جو کہ نسل
یہی ہیں پنجتن جن

وہ اپنی بدکرداری اور اپنی اندرونی محفلوں مـ مقام تک چلی گئی کہ اس کا تصور بھی کسی مسلمان کے حاشیـ

لارڈ ملہی اور ظفر الـ

لاہور کے سیاسی و سماجی حلقوں کے لئے چوہدـ اجنبی نہیں۔ وہ ون یونٹ کے دوران مغربی پاکستان کے کلب میں اپنا ایسا مستقل ڈیرہ بنایا کہ یہ ان کی دوسری رہـ ہوا، انتقال ہوا ہے۔ ان کے بیٹے چوہدری افضال احمد لارڈ ملہی مرحوم نے ترقی پسندی سے لے کر بقول ممتاز مـ طرف مراجعت کا بڑا طویل سفر کیا۔ لیکن انہیں قریب سـ

٧٥

صفحہ ١١٩

کی اس لئے ذرا کھل کر بات کیجئے۔ کہنے لگے تم میرے بیٹوں کے برابر ہو۔ تم سے کیا بات کروں۔ لیکن تمہارے اصرار پر حلفاً کہتا ہوں کہ ایک مرتبہ مرزا محمود احمد نے محفل رنگ و شباب سجائی ہوئی تھی کہ مؤذن نے آ کر روایتی انداز میں آواز لگائی۔ ”حضور نماز کے لئے“ یعنی نماز کا وقت ہو گیا ہے تو حضور نے جو بڑے موڈ میں تھے، کہا:

اک تے تہاڈیاں نمازاں نے یہہ ماریا اے

یہ جملہ کمرہ خاص میں بیٹھے ہوئے تمام رندان بادہ خوار نے سنا اور کھلکھلا کر ہنس پڑے اور پھر موذن کو کہہ دیا گیا کہ نماز پڑھا دی جائے حضور مصروف ہیں۔ چوہدری صاحب کہتے ہیں کہ یہی وہ لمحہ تھا کہ میں نے اس صنم کدہ کو چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا اور ایسی توبہ کی کہ پھر قادیان و ربوہ کا رخ تک نہ کیا اور اگرچہ میری معاشی اور معاشرتی زندگی پر اس کے بڑے تباہ کن اثرات مرتب ہوئے ہیں مگر زہر ہلاہل کو قند کہنے پر تیار نہیں ہوں۔

اس سے اس خانوادہ کو نعوذ باللہ نبوت، رسالت، امامت اور اہل بیت کے مقام تک پہنچانے والے خود سوچ لیں کہ کیا انگور کو کبھی حنظل کا پھل لگ سکتا ہے اور اگر نہیں تو پھر مرزا غلام احمد کیسے نبی ہیں کہ جس اولاد کو وہ ذریت مبشرہ قرار دیتے رہے اور ان کے قصیدے لکھتے ہوئے یہاں تک کہتے رہے کہ ؎

یہ پانچوں جو کہ نسل سیدہ ہیں
یہی ہیں پنجتن جن پر بنا ہے

وہ اپنی بدکرداری اور اپنی اندرونی محفلوں میں اسلامی شعائر کا مذاق اڑانے میں اس مقام تک چلی گئی کہ اس کا تصور بھی کسی مسلمان کے حاشیہ خیال میں نہیں آسکتا۔

لارڈ ملہی اور ظفر اللہ خاں

لاہور کے سیاسی و سماجی حلقوں کے لئے چوہدری نصیر احمد ملہی المعروف لارڈ ملہی کا نام اجنبی نہیں۔ وہ ون یونٹ کے دوران مغربی پاکستان کے وزیر تعلیم رہے اور پھر انہوں نے پنجاب کلب میں اپنا ایسا مستقل ڈیرہ بنایا کہ یہ ان کی دوسری رہائش گاہ بن کر رہ گئی۔ ان کا تھوڑا ہی عرصہ ہوا، انتقال ہوا ہے۔ ان کے بیٹے چوہدری افضال احمد ملہی ایڈووکیٹ لاہور بار کے رکن ہیں۔ لارڈ ملہی مرحوم نے ترقی پسندی سے لے کر بقول ممتاز کالم نگار رفیق ڈوگر آخری عمر میں مذہب کی طرف مراجعت کا بڑا طویل سفر کیا۔ لیکن انہیں قریب سے جاننے والے جانتے ہیں کہ وہ جھوٹ

٧٥

صفحہ ١٢٠

نہیں بولتے تھے اور کسی واقعہ کے بیان میں ان کی ذات بھی ہدف بن جاتی تھی تو وہ اسے بچانے کی کوشش نہیں کرتے تھے۔

ایک مرتبہ کلاسک پر کھڑے کھڑے بات چل نکلی تو میں نے ان سے چوہدری ظفر اللہ خاں کے کردار کے بارے میں پوچھا تو کہنے لگے طالب علمی کے دور میں میں نے شاہنواز، (شاہنواز موٹرز اور شیزان والے) سے اس بارے میں پوچھا تو چونکہ وہ میرے بہت قریبی دوست اور عزیز تھے۔ اس لئے بے ساختہ کہنے لگے یار وہ تو جب آتا ہے، جان ہی نہیں چھوڑتا اور اس نے مجھے اپنی بیوی کے طور پر رکھا ہوا ہے۔ لارڈ ملہی نے مزید بتایا کہ : ”انہی ایام میں ظفر اللہ خان نے مجھے بھی پھانسنے کی کوشش کی تھی۔ لیکن میں اس کے قابو میں نہیں آیا۔“

یہ ہے جنرل اسمبلی میں قرآن کریم کی تلاوت کرنے والے، قائد اعظم کا اپنے نام نہاد عقائد و نظریات کی خاطر جنازہ نہ پڑھنے والے اور اپنے آپ کو ایک کافر حکومت کا مسلمان وزیر یا ایک مسلمان حکومت کا کافر وزیر قرار دینے والے کا اصل کردار اور یہ صرف ظفر اللہ خاں ہی سے مخصوص نہیں ہر بڑا قادیانی دہرے کردار کا مالک ہوتا ہے۔

امرود کھانے کا مصلح موعودی طریقہ

انگریزی اور اردو زبان کو یکساں قدرت کے ساتھ لکھنے کے ساتھ ساتھ فلسفہ، سیاست کے علاوہ قلم ، موسیقی اور آرٹ پر گہری نگاہ رکھنے والے معدودے چند نامی صحافیوں میں احمد بشیر کی شخصیت اپنی ایک چمک رکھتی ہے۔ وہ اپنے صاف ستھرے کردار، اکھڑ پن اور ہر حالت میں سچ کہہ کر اپنے دشمنوں میں اضافہ کرتے رہنے کی عادت کے باوصف حق گوئی و بے باکی میں ایک ایسا مقام رکھتے ہیں کہ اس عہد میں اس کی مثالیں اگر نادر الوجود نہیں تو خال خال ہو کر ضرور رہ گئی ہیں۔ ان سے ایک مرتبہ قادیانی امت کے مصلح موعود کے عجائب و غرائب کی ذیل میں آنے والے احوال و ظروف کا تذکرہ ہورہا تھا تو انہوں نے مرزا محمود احمد کے عشرت کدہ خلافت سے آگاہی رکھنے والے اپنے ایک قادیانی دوست کے حوالے سے بتایا کہ مرزا محمود احمد کو معکوس جنسی ذوق کی عادت بھی تھی اور ایک مرتبہ وہ بقول اس قادیانی دوست کے اس عمل سے بھی گزر رہے تھے اور ساتھ ساتھ امرود بھی کھاتے جارہے تھے۔

احمد بشیر صاحب خدا کے فضل و کرم سے زندہ موجود ہیں اور اس روایت کی تصدیق کر سکتے ہیں۔ میں اس پر صرف یہ اضافہ کرنا چاہوں گا کہ مذہب کا لبادہ اوڑھ کر اس نوع کے افعال

٧٦

صفحہ ١٢١

سے دل بہلانے والے ایک روحانیت کے پردے میں رومانیت کا کھیل کھیلنے والوں کی تو اس خطے میں کوئی کمی نہیں۔ لیکن امرود کھانے کا یہ مصلح موعودی طریقہ ایسا ہے کہ شاید ہی نہیں یقیناً پوری دنیا میں اس کی نظیر نہیں مل سکے گی۔ ایسے شخص کو آپ مفعول کہیں گے یا مفعول مطلق اس کا فیصلہ آپ خود کر لیں۔

مظہر ملتانی کی ایک حیران کن روایت

مظہر ملتانی نے جن کے والد فخر الدین ملتانی کو قادیان میں مرزا محمود احمد کی ناگفتہ بہ حرکات کو منظر عام پر لانے کے لئے پوسٹر لگانے کی پاداش میں قتل کر دیا گیا تھا، مجھے بتایا ایک مرتبہ ان کے والد محترم اپنے ایک دوست سے گفتگو کرتے ہوئے انہیں مرزا غلام احمد کے داماد نواب محمد علی آف مالیر کوٹلہ کے بارے میں یہ بتا رہے تھے کہ انہیں اواخر عمر میں کوئی ایسا عارضہ لاحق ہو گیا تھا کہ وہ اپنی کوٹھی کی سیڑھیاں ناٹھڑ لڑکوں کو احرام سینہ سے پکڑ کر چڑھتے تھے۔ لیکن اپنے خاندان کی خواتین کو سخت ترین پردے میں رکھتے تھے اور انہیں پالکیوں میں ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرتے تھے۔ یاد رہے کہ جب مرزا غلام احمد نے ان سے اپنی نوجوان بیٹی مبارکہ بیگم بیاہی تو ان کی عمر ستاون سال تھی اور حق مہر بھی ستاون ہزار ہی رکھا گیا تھا اور نواب مالیرکوٹلہ کو اپنے تفضیلی عقائد کو بھی برقرار رکھنے کی اجازت دے دی گئی تھی۔

قاضی اکمل اور مرزا بشیر احمد

قاضی اکمل بڑی معروف شخصیت تھے۔ اب تو عرصہ ہوا حاویہ میں پہنچ چکے ہیں۔ جس زمانے میں راقم الحروف ربوہ میں بسلسلہ تعلیم مقیم تھا۔ چند مرتبہ ان کے پاس بھی جانا ہوا۔ وہ صدر انجمن احمدیہ کے کوارٹرز میں رہتے تھے۔ بواسیر کے مریض تھے۔ اس لئے لیٹے ہی رہتے تھے اور ان کے پہلو میں ریڈیو مسلسل اپنی دھنیں بکھیرتا رہتا تھا۔ یہ خبیث الطرفین شخصیت ہی وہ ہے جس نے مرزا غلام احمد کے عہد میں خود ان کے سامنے اپنی یہ نظم پیش کی تھی جس کے یہ اشعار زبان زد عام ہیں۔

محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شان میں
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل غلام احمد کو دیکھے قادیان میں

ان کو ملنے کے لئے گئے تو نصر اللہ ناصر میرے ساتھ تھے۔ اگر ان کا حافظہ جواب نہ

٧٧

صفحہ ١٢٢

دے گیا ہو یا ملازمت کی مجبوریاں زیادہ نہ بڑھ گئی ہوں تو وہ تصدیق کر سکتے ہیں کہ قاضی اکمل نے تفنن طبع کے طور پر یہ واقعہ سنایا کہ ایک مرتبہ ہم چند دوست مرزا بشیر احمد کے پیچھے قادیان سے باہر سیر سپاٹے کے دوران نماز پڑھ رہے تھے۔ مرزا بشیر احمد نے امامت کروائی اور ابھی وہ نماز میں ہی تھے تو میں نے کہا: ”اوئے وضو کیتا سائیں“ یہ ہے قادیانی نماز ......

جب میں لاہور آیا تو مظہر ملتانی مرحوم نے قاضی اکمل کے اپنے ہاتھوں کا لکھا ہوا ایک شعر مجھے دکھایا جو ایک طویل نظم کا حصہ تھا۔ وہ شعر مجھے اب بھی یاد ہے جو یہ ہے۔

بدن اپنا پھر آگے اس کے ڈالا توکلت علی اللہ تعالیٰ

اس قادیانی کی خباثت کا اندازہ لگائیں کہ وہ اسلامی شعائر کی توہین کرنے میں کس قدر بے باک تھا۔ ایک دوسرا شعر بھی قاضی اکمل کے اپنے ہینڈ رائٹنگ میں مظہر ملتانی مرحوم نے مجھے دکھایا تھا۔ لیکن وہ اس قدر خستہ تھا کہ اس کا صرف ایک ہی مصرع پڑھا جا سکتا تھا۔ جو یہ ہے:

نہ چیخ مارو حبیب میرے کہ ہو چکا ہے دخول سارا

اب اگر قادیانی امت کے نام نہاد ”صحابیوں“ کی یہ حالت ہے تو پھر ان کے ”نبی صاحب“ خلفا اور دوسرے اہل بیت کی کیا حالت ہوگی؟ اس کا اندازہ کرنا مشکل نہیں۔

مرزا ناصر احمد نے اپنے ہی پوتے کے اغوا کا منصوبہ بنا لیا

ربوہ میں چارسدہ کی ایک ممتاز دیرینہ احمدی فیملی رہائش پذیر تھی۔ مرزا ناصر احمد کو پتہ نہیں کیا سوجھی کہ اس نے اپنے بیٹے مرزا لقمان احمد کا نکاح اس خاندان کے سربراہ کو باصرار راضی کر کے ان کی صاحبزادی سے کر دیا۔ یہ لڑکی ایک انتہائی شریف اور وضع دار خاندان سے تعلق رکھتی تھی۔ قصر خلافت میں آگئی تو اس نے اپنے خاوند، اس کے والد مرزا ناصر احمد اور دیگر افراد خانہ کی اصل ”روحانیت“ اور ”احمدیت“ کا حقیقی عکس دیکھا تو اس کے لئے ایک پل بھی یہاں رہنا ناممکن ہو گیا۔ ناچار اس شریف زادی نے ساری داستان اپنے گھر والوں کو بتائی اور مرزا لقمان سے طلاق لے لی۔

اس عرصہ میں ان کے ہاں ایک بیٹا تولد ہو چکا تھا۔ مرزا لقمان احمد نے مرزا ناصر احمد کی شہ پر اس بیٹے کو اغوا کر کے اسے فوری طور پر لندن سمگل کرنے کا منصوبہ بنایا اور اس کے لئے نہ صرف پاسپورٹ تیار کروایا گیا بلکہ ویزہ بھی حاصل کر لیا گیا۔ لیکن ”خاندان نبوت“ سے ہی قریبی تعلق رکھنے والے ایک معروف و متمول شخص نے نہایت خاموشی سے یہ اطلاع درانی صاحب کو پہنچا دی اور وہ اپنے بچوں کو بڑی مشکل سے ربوہ سے نکالنے میں کامیاب ہوئے۔ اب یہ لڑکا رضوان

٧٨

صفحہ ١٢٣

پشاور کے ایک کالج میں زیر تعلیم ہے۔ مگر ”خاندان نبوت“ کے غنڈے وہاں سے بھی اسے اغوا کرنے کے چکر میں رہتے ہیں۔ مگر مقامی مسلمان طالب علموں، اساتذہ اور پرنسپل کی خصوصی نگہداشت کے سبب وہ ابھی تک اس میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ اس کی ایک وجہ رضوان کے عزیز واقارب کا پوری طرح چوکس رہنا ہے۔ اگر وہ کہیں ربوہ میں ہی رہائش پذیر ہوتے تو پتہ نہیں قادیانی غنڈے ان کا کیا حشر کرتے اور اس بستی میں کوئی ایک شخص بھی سچی گواہی دینے کے لئے تیار نہ ہوتا۔

جب تک حکومت ربوہ کی رہائشی زمین کی (جو کراؤن لینڈ ایکٹ کے تحت کوڑیوں کے مول لی گئی تھی) لیز ختم کر کے لوگوں کو مالکانہ حقوق نہیں دیتی اور وہاں کارخانے لگا کر روزگار کے مواقع پیدا نہیں کرتی۔ ایک ہی اقلیت کے تسلط کے باعث یہاں غنڈہ گردی ہوتی رہے گی اور قانون بے بس اور لاچار رہے گا۔

عروسہ گیسٹ ہاؤس

جنرل ضیاء الحق مرحوم کے زمانے میں ”خاندان نبوت“ کے معتوب امیدوار ”خلافت“ مرزا رفیع احمد کے ایک انتہائی قریبی عزیز پیر صلاح الدین جو بیورو کریسی میں ایک اعلیٰ عہدے پر فائز رہے ہیں، راولپنڈی میں ”عروسہ گیسٹ ہاؤس“ کے نام سے فحاشی کا ایک اڈہ چلاتے ہوئے پکڑے گئے۔ جس پر ان کا منہ کالا کیا گیا اور اس کی روسیاہی کی تصویریں تمام قومی اخبارات میں شائع ہوئیں۔ جس کو اس بارے میں کوئی شک ہو، وہ نوائے وقت اور جنگ کے فائلوں میں یہ تصویر دیکھ سکتا ہے۔

فیر چندہ کتھے دیاں گے

قادیانی امت نے ماڈرن گداگروں کا روپ دھار کر اپنے مریدوں کی جیبیں صاف کرنے کے لئے چندہ عام، چندہ جلسہ سالانہ، چندہ نشر و اشاعت، چندہ وصیت، چندہ تحریک جدید، چندہ وقف جدید، چندہ خدام الاحمدیہ، چندہ انصار اللہ، چندہ اطفال الاحمدیہ، چندہ بہشتی مقبرہ اور اس طرح کے بیسیوں دیگر چندے وصول کرنے کے لئے گداگری کے اتنے کشکول بنائے ہوئے ہیں کہ عام قادیانیوں سے جینے اور مرنے کا بھی ٹیکس وصول کر لیا جاتا ہے اور خود تو ”خاندان نبوت“ کے افراد اندرون ملک اور بیرون ملک عیاشانہ زندگی بسر کرتے ہیں۔ لیکن اپنے مریدوں کو سادگی

٧٩

صفحہ ١٢٤

اور ”احمدیت“ اور ”اسلام“ کے فروغ کے لئے سادگی اختیار کرنے کی تلقین کرتے رہتے ہیں۔ اس مسلسل کنڈیشننگ کا یہ عالم ہے کہ عام قادیانی اسے بھی زندگی کا حصہ خیال کرنے لگ پڑتے ہیں۔ ماسٹر محمد عبداللہ ٹی آئی سکول کے ہیڈ ماسٹر تھے۔ انہیں اس بات کا یقینی اور قطعی علم ہو گیا کہ یہ مدرسہ خلیفہ جی اور ان کے حواریوں کو خام مال سپلائی کرنے کی نرسری ہے تو انہیں یہ باتیں زبان پر لانے کی پاداش میں جماعت سے ہی نہیں نکالا گیا بلکہ مذہبی جاگیرداریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہیں شہر بدر بھی کر دیا گیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ پھر ”احمدیت“ پر ہی تین حرف بھیج دیں۔ کیونکہ اس کے رہنماؤں کے احوال و ظروف سے تو آپ کو بخوبی آگاہی ہو چکی ہے تو وہ کہنے لگے: ”اے گل تے ٹھیک اے پر فیر چندہ کتے دیاں گے؟“ لاہوری پارٹی کے سابق امیر مولوی صدر الدین نے جب وہ قادیان میں ٹی آئی ہائی سکول کے ہیڈ ماسٹر تھے تو انہوں نے بھی اسی صورت حال کو ملاحظہ کیا تھا۔ ماسٹر عبداللہ اور مولوی صدر الدین نے ایک دوسرے کو ملنا تو درکنار شاید دیکھنا بھی نہ ہو لیکن ان کے بیانات میں مطابقت قادیانیوں کے لئے قابل غور ہے۔

یادوں کا کارواں ...... چند مزید جھلکیاں

”تبلیغی فرائض“ انجام دیتے رہے ہیں۔ جامعہ احمدیہ میں تعلیم کے دوران ہی اپنے مخصوص ایرانی ذوق کی وجہ سے خاصے معروف تھے اور سیالکوٹ کے نواحی قصبے کے ایک دوسرے طالب علم نصیر احمد سے ربط و ضبط کی وجہ سے رسوائی کی سرحدوں تک پہنچے ہوئے تھے۔ موخر الذکر کو قدرے بھاری سرینوں کی وجہ سے نصیر احمد ”ڈھوکی“ کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ آغا سیف اللہ نے میرے سامنے بوجوہ واضح طور پر یہ تو تسلیم نہیں کیا کہ ان کے نصیر احمد کے ساتھ تعلقات کی نوعیت کیا تھی۔ لیکن اتنا ضرور بتایا کہ ایک دوسرے مربی صاحب داؤد احمد حنیف نے نصیر احمد سے ”کرم فرمائی“ کی استدعا کی تھی۔ لیکن انہوں نے آغا صاحب کو بتا دیا۔ جس پر انہوں نے داؤد احمد حنیف کو خوب ڈانٹ ڈپٹ کی جو بالواسطہ اشارہ تھا کہ قادیانی امت کے قواعد و ضوابط کے مطابق کسی دوسرے کی جولانگاہ میں اس طرح کا کھلا تجاوز درست نہیں۔ آخر اجازت لے لینے میں ایسی کون سی قباحت ہے۔

٨٠

صفحہ ١٢٥

موصوف نے یہ بھی بتایا کہ وہ اپنے ایک ایم ایس سی دوست سے بھی مسلسل فیض یاب ہوتے رہتے ہیں اور انہیں اس بات پر خصوصی حیرت ہے کہ مردوزن اور دو مردوں کے درمیان جنسی مراسم میں کوئی فرق نہیں ہے۔ کیونکہ سارا پراسس بالکل ایک جیسا ہے۔ پھر پتہ نہیں لوگ ایک کو جائز اور دوسرے کو ناجائز کیوں سمجھتے ہیں؟ انہوں نے فن طفل تراشی کی کراہت کو کم کرنے کے لئے یہ بھی بتایا کہ مجید احمد سیالکوٹی مربی سلسلہ نے انہیں دوران تعلیم ہی ”سلوک“ کی ان منازل سے کچھ آگاہی بخشتے ہوئے کہا تھا کہ میر داؤد احمد آنجہانی سابق پرنسپل جامعہ احمدیہ جو ”حضرت مصلح موعود مرزا محمود احمد خلیفہ ثانی“ کے نہایت قریبی عزیز اور میر محمد اسحاق کے بیٹے تھے۔ انہیں بھی اس خاندانی علت المشائخ سے حصہ وافر ملا تھا اور موصوف (مجید احمد سیالکوٹی) کو افسر جلسہ سالانہ میر داؤد احمد کے ساتھ کئی سال تک پرنسپل اسسٹنٹ کے طور پر ڈیوٹی دیتے ہوئے بعض بڑے نادر تجربات ہوئے اور اسی تعلق میں انہوں نے یہ بھی بتایا: ”ایسے ہی ایک موقع پر رات کے پچھلے پہر جب سب اپنی اپنی ڈیوٹی سے تھک ہار کر سستانے کے لئے لیٹے تو میر داؤد احمد نے میرے شجر حیات کو پکڑ کر اپنی رانوں کے درمیان رکھ لیا اور اسی عالم میں میں نے ان سے یہ وعدہ لیا کہ وہ مجھے اندرون ملک مربی بنا کر نہیں رکھیں گے بلکہ کسی بیرونی ملک میں بھجوا دیں گے اور پھر انہوں نے اپنا یہ وعدہ پورا کر دیا۔“

راقم یہ گزارش کرنا ضروری سمجھتا ہے کہ مجھے فنون کثیفہ کی اس صنف کے ایک اور ماہر جامعہ احمدیہ کے پرانے طالب علم صادق سندھو نے بتایا کہ میر داؤد احمد انہیں تخلیہ میں بلا کر اکثر پوچھا کرتے تھے کہ تم سلسلۂ اغلامیات کے یہ مرحلے کس طریقے سے طے کرتے ہو۔ اس پس منظر میں یہ کہنا نامناسب نہ ہوگا کہ ان کمزور لمحات میں اگر مجید احمد سیالکوٹی میر داؤد احمد سے کچھ اور بھی منوا لیتے تو شاید وہ اس سے بھی انکار نہ کرتے اور یوں قادیانی کام شاستر کے کچھ نئے آسن بھی سامنے آجاتے۔

خیر یہ چند جملے تو یونہی طوالت اختیار کر گئے۔ تذکرہ ہورہا تھا آغا سیف اللہ صاحب کا جو آج کل قادیانی امت کے ناقوس خصوصی ”الفضل“ کے پبلشر ہیں۔ انہوں نے راقم الحروف کو خود بتایا کہ ان کی اہلیہ جو ”خاندان نبوت“ سے بڑی عقیدت رکھتی ہیں۔ ایک مرتبہ خلیفہ ثانی کے اس ”حرم پاک“ سے ملنے گئیں۔ جو ”بشریٰ مہر آپا“ کے نام سے معروف ہیں تو جب تکلفات سے بے نیاز ہو کر کھلی ڈلی گفتگو شروع ہوئی تو موصوفہ نے کسی لگی لپٹی کے بغیر کہا کہ ان کا تو رحم ہی موجود نہیں ہے۔ یہ رحم کس طرح ”معجزانہ“ طور پر غائب ہوا تھا اور عصمت کے اس ویرانے میں کس

٨١

صفحہ ١٢٦

انداز میں ”رؤیا و کشوف“ کی چادر چڑھا کر اس معاملے کو ٹھپ کر دیا گیا اور اندھے مریدوں اور مجبور عقیدت مندوں سے اس پر کیونکر ”زندہ باد“ کے نعرے لگوائے گئے۔ اس اجمال کی کسی قدر تفصیل پہلے آچکی ہے۔ اس لئے مزید طوالت سے اجتناب کرتے ہوئے اسی پر اکتفا کیا جاتا ہے۔ ورنہ یہ حقائق پر مبنی واقعات اتنے زیادہ ہیں کہ اگر انہیں پوری تفصیل سے لکھا جائے تو ”گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈز“ کے کئی ایڈیشن اسی کے لئے مخصوص ہو کر رہ جائیں۔

وہ لوگ جو طنزاً کہتے ہیں کہ اکثر و بیشتر مسالک و مکاتب فکر کے دینی مدرسوں میں فقہی موشگافیاں جدا جدا سہی، مگر عملی نصاب (کورس) ایک ہی ہے۔ وہ جامعہ احمدیہ کو اس فن میں وہ مقام دینے پر مجبور ہوں گے کہ پورے وثوق سے کہا جاسکے گا کہ یہاں سے ”احمدیت“ کی تبلیغ کے جو ”چراغ“ روشن ہوچکے اور ہورہے ہیں۔ وہ کون کون سی تاریک راہوں کو منور کریں گے اور ”احمدیت“ کا ”نور“ کس طریقے سے پھیلائیں گے۔

شہر سدوم کا نوحہ

عمر علوی ایڈووکیٹ

پتھروں کی برستی ہوئی چھاؤں میں کون سنائے گا
ایک قصہ سنانے کی خاطر
ان راہرووں کا
جو جلے شہر امید کو
اور صحرا میں بھٹکے ہوئے پھر رہے ہیں
جن کے اونٹوں کے کوہان سب گل چکے
اور محمل نشینوں کے ننگے بدن
باد صرصر کا ایندھن ہوئے
پتھروں کی برستی ہوئی چھاؤں میں کون سا اجنبی آ گیا
ایک قصہ سنانے کی خاطر
ان طلسمات کا
خواہشوں سے سلگتے ہوئے
شہزادوں کے دھڑ جن میں پتھر ہوئے

٨٢

PDF 128

انا خاتم النبیین لا نبی بعدی

کھلا خط

شفیق مرزا

صفحہ ١٢٩

بسم اللہ الرحمن الرحیم مکرمی ومحترمی السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ!

آپ اس امر سے بخوبی واقف ہیں کہ قوموں کی زندگی میں سب سے زیادہ نازک وقت وہ ہوتا ہے جب وہ غلامی کی خواب گراں سے بیدار ہو کر آزادی کے لئے تلملاتی ہیں اور آناً فاناً ہی ان کے قلب و ذہن میں کچھ کر گزرنے کے جذبات موجیں مارنے لگتے ہیں۔ ایسے لمحات میں غلاموں کی بیڑیوں کی چھنک دشمنانِ شعور و آگہی کے لئے بانگِ درا ہی نہیں تیغِ قضا بن جاتی ہیں اور ان کی نیندیں حرام ہو جاتی ہیں۔ انہیں اپنے ظلم و ستم، جبر و تشدد اور مکر و فریب کے سارے جال ٹوٹتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں تو وہ اپنے مذموم افعال کی جوابدہی کے تصور ہی سے لرزہ براندام ہو جاتے ہیں اور آزادی کی نیلم پری کو دوبارہ پا بہ زنجیر کرنے کے لئے سیاسی، معاشی اور مذہبی محاذ پر ہر جتن و ہر سامری کام میں لاتے ہیں۔ لیکن آزادی کا نشہ کچھ ایسا ہوتا ہے کہ یہ تمام حربے دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں اور ان نام نہاد آقاؤں کو ہلا کر اپنے کئے کا حساب دینا پڑتا ہے۔ اس وقت سے لے کر جب حضرت بلالؓ نے اپنے دل میں ایمان کی پہلی کرن پھوٹنے پر اپنے مالک کے حکم سے سرتابی کرتے ہوئے ایک مسلمان غلام پر کوڑے برسانے سے انکار کیا تھا۔ تا ایں دم یہی سلسلہ جاری ہے اور کرۂ ارض سے ہر قسم کی غلامی کے مٹنے اور اس کے ہر گوشے میں محمد عربی ﷺ کے پھریرے لہرانے تک چراغِ مصطفوی و شرارِ بولہبی کی یہ کشمکش جاری رہے گی۔ اس پس منظر میں برصغیر کے کروڑوں مسلمانوں نے ایک بھر پور انگڑائی لیتے ہوئے خوابوں کی دنیا کو الوداع کہنے کی تیاریاں شروع کیں تو فرنگی اقتدار کے رنگ محل میں ہلچل مچ گئی اور انہوں نے اپنے آزمودہ ہتھکنڈے استعمال کرتے ہوئے مسلمانوں میں تشتت و افتراق کو ہوا دینے، حریت پسندوں پر دنداں وا کرنے اور انہیں معاش سے محروم کر کے اپنے قدموں پر جھکانے کی ہر سعی کر ڈالی۔ لیکن اس دوا نے بھی کچھ کام نہ کیا تو دانش فرنگ نے پیغمبر آخرالزماں ﷺ کے خرمن فیض سے امتِ مسلمہ کو علیحدہ کرنے کی سازش کرتے ہوئے اپنے ایک پرانے نمک خوار سے جعلی نبوت کا دعویٰ کروا کے مسلمانوں کا رخ مدینہ سے موڑ کر قادیان کی طرف کرنے کا ناٹک رچایا اور یہ نبی تاج برطانیہ کا پکا وفادار اور اتنا غلامی پسند تھا کہ اس کے ذہن میں یہ بات سرے سے موجود ہی نہیں تھی کہ نبی کا کام لوگوں کو طوق و سلاسل سے آزاد کر کے ایک باوقار قوم کے طور پر کھڑا کرنا ہوتا ہے۔ سو وہ تمام سلسلۂ انبیاء کی انقلابی تاریخ کو طاق نسیاں پر رکھتے ہوئے مسلمانوں کو الہامی بنیادوں پر غلامی کو آزادی پر ترجیح دینے کا درس دیتے ہوئے بڑی ڈھٹائی سے یہ راگ الاپتا رہا ؎ ٢

تاج وتخت ہند قیصر کو مبارک ہو مدام

اس خودساختہ نبی کا اپنی ٨٥ کے قریب کتب تحریر نہ کرنا بلکہ خوشامد اور کاسہ لیسی کرتے ہوئے و مشاجراتی فضا پیدا کر کے امتِ مسلمہ ہند کی توجہ سیاست پھیرنا صرف اس عہد کے حکمران طبقے ہی کے لئے مسلمانانِ عالم کا حضورﷺ کے آخری نبی ہونے پر ایمان اس کی دلی خواہش تھی کہ کسی طرح کوئی ایسا اہتمام ہو جائے محبت اور جہاد کی روح دونوں ختم ہو جائیں۔ اب چونکہ کے ذریعے ہی سے ہوتی ہے۔ اس لئے برطانیہ ہی کی آپ کو ایک مسیحیت مخالف مناظر کی حیثیت سے متعارف ظلی نبی، بروزی نبی اور لغوی نبی کا دعویٰ کرتے ہوئے انجام تشریعی نبی ہونے تک جا پہنچا اور وحدتِ امتِ مسلمہ لگانے کی ناکام کوشش کر کے مسیلمہ پنجاب بن گیا اور کافر اور دائرہ اسلام سے خارج قرار دے کر ان سے بچوں تک کے جنازوں کو حرام قرار دے کر ایک نئی امت ایک نئی امت کھڑی کی۔ یہاں اس امر کا تذکرہ بے جا جانے والے اختلافات خواہ کتنے بھی سنگین نوعیت کے تغلیظ کے طور پر تکفیر تک ہی کیوں نہ جا پہنچے اس کی حیثیت کے آخری کتاب، امتِ مسلمہ کے آخری امت اور حضور دل سے ایمان رکھتے ہیں۔ لیکن مرزا غلام احمد قادیانی انکارِ نبوت کی بناء پر کافر سمجھتے ہیں۔ اس لئے یہ گروہ فکری و عملی دونوں اعتبار سے مسلمانوں سے سماجی انقطاع عمل پیرا ہیں تو مسلمانوں کا بھی یہی مطالبہ ہے کہ وہ خون مارنے اور معاشی فوائد حاصل کرنے کے لئے اپنے قومی اسمبلی کے فیصلہ اور خود اپنی تعلیمات کے مطابق چین سے رہیں اور ہر قسم کی اشتعال انگیزیوں سے پرہیز ٣

صفحہ ١٢٩
تاج و تخت ہند قیصر کو مبارک ہو مدام ان کی شاہی میں میں پاتا ہوں فلاح روزگار

اس خود ساختہ نبی کا اپنی ٨٥ کے قریب کتب میں انگریز حکومت کے خلاف ایک لفظ بھی تحریر نہ کرنا بلکہ خوشامد اور کاسہ لیسی کرتے ہوئے اس کی بدترین قصیدہ خوانی کرنا اور منافراتی و مشاجراتی فضا پیدا کر کے امت مسلمہ ہند کی توجہ سیاسی جدوجہد سے ہٹا کر مذہبی مناقشات کی طرف پھیرنا صرف اس عہد کے حکمران طبقے ہی کے لئے منفعت بخش ہو سکتا تھا۔ جس کے لئے تمام مسلمانان عالم کا حضورﷺ کے آخری نبی ہونے پر اجماع اور عقیدہ جہاد سوہان روح بنا ہوا تھا۔ اور اس کی دلی خواہش تھی کہ کسی طرح کوئی ایسا اہتمام ہو جائے کہ مسلمانوں کے دل سے تاجدار مدینہ کی محبت اور جہاد کی روح دونوں ختم ہو جائیں۔ اب چونکہ ایک نبی کے حکم میں ترمیم و تنسیخ دوسرے نبی کے ذریعے ہی سے ہوتی ہے۔ اس لئے برطانیہ ہی کی شہ پر مرزا غلام احمد قادیانی نے پہلے پہل اپنے آپ کو ایک مسیحیت مخالف مناظر کی حیثیت سے متعارف کروایا اور پھر مجدد، محدث، امتی نبی، ظلی نبی، بروزی نبی اور لغوی نبی کا دعویٰ کرتے ہوئے انجام کار باقاعدہ امر و نہی کے حامل ایک صاحب شریعت نبی ہونے تک جا پہنچا اور وحدت امت مسلمہ کی بنیادی اینٹ یعنی خاتمیت محمدی پر ضرب لگانے کی ناکام کوشش کر کے مسیلمہ پنجاب بن گیا اور اپنے اوپر ایمان نہ لانے والے مسلمانوں ہی کو کافر اور دائرہ اسلام سے خارج قرار دے کر ان سے مناکحت و مصاہرت کے رشتے توڑ کر ان کے بچوں تک کے جنازوں کو حرام قرار دے کر ایک نئی امت کی نیو رکھی اور امت محمدیہ کے مقابل میں ایک نئی امت کھڑی کی۔ یہاں اس امر کا تذکرہ بے جا نہ ہوگا کہ بعض مسلم فرقوں کے درمیان پائے جانے والے اختلافات خواہ کتنے بھی سنگین نوعیت کے کیوں نہ ہوں اور ان کے درمیان یہ شدت تغلیظ کے طور پر تکفیر تک ہی کیوں نہ جا پہنچے اس کی حیثیت فروعی ہے۔ کیونکہ تمام فرقے قرآن کریم کے آخری کتاب، امت مسلمہ کے آخری امت اور حضورﷺ کے آخری نبی ہونے پر پورے صدق دل سے ایمان رکھتے ہیں۔ لیکن مرزا غلام احمد قادیانی کے پیروکار اپنے نبی پر ایمان نہ لانے والوں کو انکار نبوت کی بناء پر کافر سمجھتے ہیں۔ اس لئے یہ فروعی نہیں بلکہ اصولی اختلاف ہے۔ جب قادیانی فکری و عملی دونوں اعتبار سے مسلمانوں سے سماجی انقطاع کیئے ہوئے ہیں اور اس پر پوری سختی سے عمل پیرا ہیں تو مسلمانوں کا بھی یہی مطالبہ ہے کہ وہ ہم سے الگ رہیں اور محض ملازمتوں پر شب خون مارنے اور معاشی فوائد حاصل کرنے کے لئے اپنے آپ کو مسلمان کہنے کی ضد ترک کر دیں اور قومی اسمبلی کے فیصلہ اور خود اپنی تعلیمات کے مطابق ایک غیر مسلم اقلیت کی حیثیت سے امن اور چین سے رہیں اور ہر قسم کی اشتعال انگیزیوں سے پرہیز کریں۔ مگر قادیانیوں کو مسلمانوں سے الگ

٣

صفحہ ١٣٠

بھی ہے اور لگاؤ بھی۔ وہ مسلمانوں سے نفرت بھی کرتے ہیں۔ لیکن گلشن کا کاروبار چلانے کے لئے ان سے محبت کا ڈھنڈورا بھی پیٹتے ہیں۔ وہ انبیاء علیہم السلام کے خلاف ژاژ خائی کرتے ہیں۔ آئمہ اطہار پر زبان طعن دراز کرتے ہیں۔ علماء کے خلاف مخصوص قادیانی لب ولہجہ میں سب وشتم کرتے ہیں۔ مگر رہنا مسلمانوں کے اندر ہی چاہتے ہیں کہ اس کے بغیر یہ ڈرامہ سٹیج نہیں ہو سکتا۔ مسلمانوں نے بعد از خرابی بسیار انہیں اپنے جسد ملی سے کینسر کی طرح کاٹ کر علیحدہ کر دیا ہے تو فرنگی کا یہ خود کاشتہ پودا ان کے اندر افتراق انتشار کو بھڑکانے کی ہی سعی مذموم نہیں کر رہا۔ اپنا شباب فرنگی سامراج کے پہلو میں گزار کر اب امریکہ کی نائکہ بن کر ملک وملت کے خلاف زہریلے پراپیگنڈے میں مصروف ہے اور واشنگٹن سے پاکستان کی امداد بند کرانے کے لئے کوشاں ہے اور اس امر کو فراموش کر رہا ہے کہ امداد نما امریکی قرضوں کے جال کے علاوہ بدترین امریکی عسکری معاہدہ سیٹو میں پاکستان کو پھنسانے والا اور ملکی کابینہ کی منظوری کے بغیر اس معاہدے پر دستخط کر کے اپنا استعفیٰ بھیج دینے والا ننگ وطن بھی ایک قادیانی چوہدری ظفر اللہ آنجہانی ہی تھا۔ حیرت ہے کہ ایک معمولی رجسٹرڈ کمپنی کو بھی اتنا تحفظ حاصل ہوتا ہے کہ جب وہ اپنے کسی پراڈکٹ کو رجسٹرڈ کر لیتی ہے تو کوئی دوسرا ادارہ ایسی کوئی پراڈکٹ اس پیکنگ یا اس سے ملتی جلتی پیکنگ میں اپنی پراڈکٹ نہیں بیچ سکتا۔ لیکن قادیانی مسلمانوں کو اتنا بھی حق دینے کے لئے تیار نہیں کہ وہ قرآن وسنت کی نصوص سے طے شدہ اور چودہ سو سال سے متفقہ ختم نبوت کے اس مفہوم کو کہ حضور ﷺ آخری نبی ہیں۔ مسلمانوں کی قطعی وحتمی شناخت کا معیار قرار دے سکیں۔ قادیانی اپنا کلمہ الگ بنائے ہوئے ہیں اور مسلمانوں کا کلمہ پڑھتے ہوئے محمد رسول اللہ سے مراد مرزا غلام احمد قادیانی لیتے ہیں۔ جیسا کہ ان کی کتب میں صراحت سے درج ہے۔ قادیان وربوہ کے جلسوں کو ظلی حج قرار دیتے ہیں اور اپنے نبی صاحب کے مرتبے کو یہاں تک پہنچا دیتے ہیں کہ ؎

احمد ثانی نے رکھ لی احمد اوّل کی لاج (نعوذ باللہ)

بلکہ یہاں تک کہنے میں بھی کوئی باک محسوس نہیں کرتے کہ: ”ان (مسلمانوں) کا خدا اور ہے اور ہمارا اور۔“ تو پھر ایک مسلمان کے لئے یہ فیصلہ کرنے میں کیا مشکل ہے کہ قادیانی اسلام ہی کے نہیں پاکستان کے بھی غدار ہیں۔ اس لئے ملک وملت کے بہی خواہ ہونے کے اعتبار سے آپ کا یہ فرض ہے کہ قادیانیوں کی ریشہ دوانیوں، تبلیغی سرگرمیوں اور چالبازیوں پر کڑی نظر رکھیں اور ان سے ایسی علیحدگی اور انقطاع اپنا شعار بنائیں جس سے آپ کی اسلامی غیرت اور حب الوطنی کا اظہار ہوتا ہو۔ خدا تعالیٰ آپ کا حامی وناصر ہو۔ آمین! والسلام! شفیق مرزا، لاہور

٤

نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم

پیر باپ کی پاکیزگی

مرید بیٹے

بمعہ

ضمیمہ تبلیغ

عبدالرحمن ڈیروی

PDF 132

خاتم النبیین لا نبی بعدی

ما کان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین

پیر باپ کی پاکیزگی کے حلف سے

مرید بیٹے کا گریز

بمع

ضمیمہ تبلیغی سفر

عبدالرحمن ڈیرہ غازیخان

صفحہ ١٣٢

پیش لفظ

راقم الحروف بانی سلسلہ احمدیہ مرزا غلام احمد قادیانی کے دعاوی کی صداقت کے متعلق ایک عرصے سے جستجو میں مصروف رہا۔ ان کی تصانیف اور ان کے دوسرے کارنامے نمایاں جو اعداء اسلام کے مقابل ہیں۔ انہوں نے سرانجام دیئے۔ وہ کاشف شکوک وظنون ہوئے۔ لیکن ایک سنگ راہ بدستور رہا۔ وہ آنجناب کے فرزند اکبر مرزا محمود احمد صاحب کا کردار وہ بڑے ذہین اور فطین انسان تھے۔ بہت عمدہ مقرر تھے۔ اعلیٰ درجے کے منتظم تھے۔ انہوں نے اپنے رنگ میں جماعت کو پروان چڑھایا۔ تنظیم میں ایک قسم کی بیداری پیدا کی۔ لیکن اپنی تقاریر و بیانات اور دعاوی سے ابتلاء بھی پیدا کئے۔ جماعت کی تنظیم اور اس کی اطاعت سے جو پیر پرستی سے بھی تجاوز کر گئی تھی۔ ان کی شخصیت کو بڑا فروغ حاصل ہوا۔ لیکن ان کے بعض جارحانہ دعاوی جماعت کے لئے زنجیر پا، بن جاتے رہے۔

لیکن سب سے زیادہ ابتلاء انگیز ان کے ذاتی کردار کا معاملہ تھا۔ سنگین الزامات سے ان کا گریز اور فرار جماعت کے اہل تقویٰ اور دوسرے جو یائے حق لوگوں کے لئے ایک معمہ بنا رہا۔ مجھے اس بات نے مرزا قادیانی کا حلقہ بگوش ہونے سے باز رکھا۔ آخر کار میں نے اور میرے لڑکے نے ان کے صاحبزادے مرزا رفیع احمد اور جماعت ربوہ کے صوبائی امیر مرزا عبدالحق صاحب سے خط و کتابت شروع کی۔ اوّل الذکر سے اس لئے کہ بیٹا باپ کے لئے بہت غیور ہوتا ہے۔ چونکہ میری جستجو کا سارا مدار مؤکد بالحلف حلف پر تھا۔ مجھے یقین تھا کہ مرزا رفیع احمد صاحب بلا حیل وحجت اپنے والد بزرگوار کی برأت میں حلف کے لئے تیار ہو جائیں گے اور میرے لئے راستہ صاف کر دیں گے۔ مثلاً میں خود اپنے والد بزرگوار کے کردار کی پاکیزگی کے متعلق سنگین سے سنگین حلف اٹھانے سے گریز نہیں کروں گا۔ جب دل کا معاملہ اس ایک نقطہ پر آکر ٹھہرا کہ وہ قسم کھائیں اور میں جماعت میں شامل ہو جاؤں تو تامل کا کوئی جواز نہیں رہتا۔ مؤخر الذکر بزرگ سے میں اس لئے مخاطب ہوا کہ الزامات کی موج تند جولاں ان کے گھر سے اٹھی اور قادیانی خلافت کے تھپیڑوں سے نشیمن تہ و بالا ہوئے۔ مرزا عبدالحق صاحب کے سسرال خم ٹھونک کر باہر آ گئے۔ دعوت مباہلہ سے للکارا۔ کیونکہ ان کو اپنی عزیزہ کی بات پر پورا پورا یقین تھا۔ کسی کو کیا ضرورت پڑی ہے کہ محض جھوٹ کی خاطر اتنی قربانیاں دے۔ جتنی ان کے سسرال نے دیں۔ جھوٹ اور سچ کا ایک امتیازی نشان یہ رہا ہے کہ انسان سچ کے لئے جان پر کھیل جاتا ہے۔ لیکن جھوٹ کے لئے معمولی سر درد سے بھی گریز کرتا ہے۔ علاوہ ازیں کون ہوشمند انسان اپنی عزیزہ کی بدکاری کا ڈھنڈورا دیتا ہے کہ پیر کو زانی ثابت کیا جائے۔

٢

صفحہ ١٣٣

حیرت کا مقام ہے کہ جب مباہلہ کا غلغلہ اٹھا۔ قتل و آتش تک تو نوبت آئی۔ لیکن خلیفہ صاحب نے اپنی پاکیزگی کی قسم کھانے سے گریز کو ایمان بنالیا۔ یہ بھی سنا جاتا رہا کہ انہوں نے باوجود گریز کے واقعہ افک کا ذکر کیا اور دعویٰ کیا کہ یہ واقعہ چودہ سو سال پہلے مشیت ایزدی سے ان کی برأت کے لئے ہوا اور سورۂ نور ان کے لئے نازل ہوئی۔ لیکن حضرت رسول اکرمﷺ کے اسوۂ حسنہ کے کسی پہلو کی اتباع نہ کی۔ کیا سرور کائنات نے اس فتنہ کے اٹھانے والوں کا بائیکاٹ کیا تھا؟

میں نے اور میرے لڑکے نے مذکورہ بالا حضرات سے رجوع کیا۔ لیکن وہ دونوں اپنے خلیفہ صاحب کے نقش قدم پر چلتے رہے۔ مجھے خدا کی تعزیر سے ڈراتے رہے۔ لیکن معاملہ کی روح سے دور رہے حالانکہ جو لوگ خلیفہ صاحب کے کردار کے خلاف بغاوت کر کے نکلے۔ وہ محض حق وصداقت کی پرکھ کے لئے ہزار حلف اٹھانے کے لئے ہر وقت تیار ہیں جو لوگ خلیفہ صاحب کو یوم تبلی السرائر سے پہلے فداہ امی وابی کا درجہ دیتے تھے۔ ان کو کیا ضرورت پڑی تھی کہ ایک صبح اٹھ کر محض افتراء کے طور پر ان پر جنسی معصیت کا الزام لگانا شروع کر دیں۔ کوئی انسان اپنی ماؤں کے گناہوں کی جستجو نہیں کرتا۔ وہ اس فضا اور ماحول سے گریزاں رہتا ہے۔ جس میں اس کی ماں پر زبان طعن دراز ہوتی ہے۔ بیٹے اور ماں کے گناہ میں ہمالیہ سے زیادہ سنگین پردہ حائل ہوتا ہے۔ جس وقت بیٹا ماں کے کردار کی شناخت سے بیزار ہو کر الگ ہوتا ہے تو وہ یقیناً ایسے انکشاف کے بعد ہوتا ہے۔ جس سے انکار ناممکن ہوتا ہے۔ یہی حال ان حضرات کا ہے جو ازخود تو خلیفہ صاحب کے متعلق کوئی بات نہیں کرتے۔ کیونکہ وہ اس سے عرق انفعال میں ڈوب جاتے ہیں۔ لیکن جب ان کو خدا اور رسول کا واسطہ دیا جاتا ہے اور ان کی حلف کو معیار حق وصداقت قرار دیا جاتا ہے تو وہ بڑی صفائی سے بات کرتے ہیں اور حلف اٹھاتے ہیں۔ لیکن مرزا رفیع احمد صاحب اور مرزا عبدالحق نے بڑے بھدے طریق سے حلف سے گریز کی ہے اور ایک جویائے حق کو مرزا قادیانی کی قبولیت سے محروم کیا ہے۔ یہ اس لئے کہ ربوہ کے خلیفہ ثانی کا دعویٰ تھا کہ وہ مرزا قادیانی کے موعود بیٹے اور ذریت طیبہ ہیں۔ وہ کئی روحانی مدارج کے مدعی بھی تھے۔ اس لئے ان کا معاملہ صاف ہونا از بس ضروری ہے وہ ہر وقت احتساب کے مستوجب ہیں۔ اگر یہ بات نہ ہوتی تو جویائے حق ان کو نظر انداز کر کے بھی رجوع کر سکتا تھا۔ خلیفہ ثانی کے کردار اور الزامات کی تسلی بخش صفائی سے گریز نے کم از کم مجھے مخمصے میں مبتلا کر دیا ہے۔ اس کی ساری ذمہ داری اس وقت مرزا رفیع احمد اور مرزا عبدالحق پر عائد ہوتی ہے۔ اگر الزام لگانے والے حلف عذاب کے لئے تیار ہیں تو ان کو کیا تأمل ہے جو خلیفہ ثانی کو مصلح موعود مانتے ہیں۔ لیکن خلیفہ ثانی

٣

صفحہ ١٣٤

اور ان کی جماعت نے جو طریق اختیار کر رکھا ہے وہ اس خطاکار ماں کا ہے۔ جو اپنے مجروح دل بیٹے کی علیحدگی کو سوسائٹی کے سامنے اس طرح پیش کرتی ہے۔ جیسے اس بیٹے نے صالح ماں کے خلاف بغاوت کی ہے اور ماں کی اطاعت اور احترام نہ کر کے حضور سرور کائنات ﷺ کی تعلیمات کی بے حرمتی کر رہا ہے۔ بیٹا شرم کے مارے سر بگریباں ہے۔ کیونکہ جو کچھ وہ اپنے رویے اور احتجاج کے حق میں کہے گا۔ اس میں اس کی ماں کی عصمت کا معاملہ طشت از بام ہوتا ہے۔ جب سماجی دباؤ سے وہ اذیت ناک حقیقت کا اظہار کرتا ہے تو ماں آسمان سر پر اٹھا لیتی ہے اور چلاتی ہے۔ دیکھو یہ نابکار بے حیا بیٹا ماں کی عصمت پر زبان طعن دراز کرتا ہے۔ لامحالہ لوگ ماں کے طرفدار ہو جاتے ہیں اور دکھی بیٹے کو ملامت کرتے ہیں۔ لیکن خدا کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ ماں کی فحش کاری کے نظارے نے بیٹے کے دل پر کتنی قیامتیں نازل ہوئیں۔ وہ حقیقت میں مظلوم بیٹا، ماں کے فریب کارانہ واویلا سے ظالم سمجھا جاتا ہے۔ یہی حال ان لوگوں کا ہوا۔ جو خلیفہ ثانی سے زخمی ہو کر نکلے اور خلیفہ صاحب نے اور جماعت نے واویلا مچایا کہ دیکھو مرید ہو کر زنا کا الزام لگاتے ہیں۔ حالانکہ یہی بات ان کی سچائی کے لئے کافی ہے۔ کیونکہ کوئی مرید مرشد پر الزام نہیں لگاتا۔ جب تک مرشد کی فحش کاریاں عریاں ہو کر اس کے سامنے نہ آ جائیں اور اس کے لئے نہ جائے انکار ہو اور نہ راہ فرار۔

میں ان دو حضرات سے پوچھتا ہوں کہ کیا مرزا قادیانی کا اپنے مخالفوں سے یہی رویہ تھا۔ کیا وہ ہر فیصلہ کن بات پر حق و صداقت کی خاطر مباہلے کے لئے تیار نہیں ہو جاتے تھے؟ کیا حضرت مولانا نور الدین کو اگر خدانخواستہ یہ سانحہ پیش آتا تو وہ اس طرح سے گریز کرتے جس طرح نام نہاد موعود بیٹے نے کیا تھا؟ چونکہ خط و کتابت سے معاملہ صاف نہیں ہوا اور مذکورہ بالا حضرات نے مجھے ڈرانے کی سعی کی ہے۔ کشف غطاء کے لئے ساعی نہیں ہوئے۔ ساری خط و کتابت شائع کر رہا ہوں۔ تاکہ قارئین خود فیصلہ فرمالیں۔ میں نے آخری خط میں اشاعت کا ذکر بھی کیا ہے۔ عبد الرحمن!

قرآن کی تضحیک سے رک جائیں؟

مکرم مرزا (عبد الحق سرگودھا) صاحب! آپ کا مضمون بعنوان ”حضرت خلیفہ المسیح الثانی کے کارنامے بلحاظ فیض روحانی“ ٤

صفحہ ١٣٥

رسالہ ”انصار اللہ“ ربوہ ماہ نومبر میں نظر سے گزرا اور لوگ لکھیں تو تعجب کی بات نہیں۔ کیونکہ وہ لوگ خلیفہ صاحب ثانی کی ذات بابرکات سے ناواقف ہیں۔ آپ کو تو آپ کی زوجہ محترمہ سکینہ بیگم نے آج سے کئی سال پہلے خلیفہ صاحب کی ناپاک زندگی سے آگاہ کر دیا تھا۔ کاش کہ آپ نے اپنی بیوی سے پوچھ لیا ہوتا۔ خلیفہ صاحب کے روحانی فیوضات کیا ہیں؟ آپ خدا کو کیا جواب دیں گے۔ خدا کے لئے تدبر سے کام لیں اور ایک ناپاک گندے، بدکار آدمی کو قرآنی آیات کا مصداق نہ ٹھہرائیں۔ قرآن کی تضحیک سے رک جائیں اور اپنی بیوی کی شہادت پر اعتبار کریں۔ عبدالرحمن! بلاک نمبر ٧٤، ڈیرہ غازی خان، مورخہ ١٠؍ فروری ١٩٦٦ء

خط نمبر : ١ ...... بجواب عبدالرحمن

بسم الله الرحمن الرحيم نحمده ونصلى على رسوله الكريم!

مرزا عبدالحق ایڈووکیٹ کوٹھی نمبر ٦، انکم ٹیکس روڈ سرگودھا چھاؤنی مکرمی السلام علیکم!

میں مشرقی پاکستان گیا ہوا تھا۔ وہاں سے واپس آکر آپ کا خط ملا۔ اگر اللہ تعالیٰ کسی کو نور فراست دے تو میرے مضمون سے سمجھ سکتا ہے کہ الزامات جو حضور کی ذات بابرکات پر لگائے جاتے ہیں، درست نہیں۔ ہم خدا کے فضل سے اہل غرض نہیں ہیں۔ بلکہ سینکڑوں روپے ماہوار چندہ دیتے ہیں اور نصف سے زیادہ وقت خدمت دین کے لئے خرچ کرتے ہیں۔ (جو محض اللہ تعالیٰ کا فضل اور احسان ہے) اگر ان میں سے کوئی بات بھی درست ہوتی تو تعلق اخلاص ممکن نہ ہوتا۔ ہم نے اس شخص کو دیکھا اور خوب گہرے طور پر دیکھا۔ وہ ایک نہایت قیمتی موتی تھا۔ لیکن پھر بھی ٹھوکر کھانے والوں نے ٹھوکر کھائی۔ یہ ان کی عقل اور فہم اور دینی حس کا قصور تھا۔ انہوں نے یہ بھی نہ سوچا کہ اگر وہ نعوذ باللہ ایسا ہی تھا۔ جیسا کہ وہ لوگ سمجھتے رہے تو اس کو اتنے میٹھے پھل کیسے لگ گے۔ اگر میں اس درخت کے پھل گنواؤں تو یہ جگہ کافی نہ ہوگی۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو برکت بخشی اور ہر طرف سے بخشی۔ اس پر بدظنی کرنے والے نور ایمان سے محروم رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ کا یہی قانون ہے۔ میں نے اس خیال سے یہ چند حروف لکھے ہیں کہ شاید یہ آپ کی ہدایت کا موجب ہوں۔ ورنہ میں اس کے جواب کی طرف مائل نہ ہوتا۔ والسلام!

عبدالحق، امیر جماعت احمدیہ سابق صوبہ پنجاب و بہاولپور!

٥

صفحہ ١٣٦

خط نمبر ٢: ..... عبدالرحمن

کیا آپ کی زوجہ محترمہ نے مرزا محمود پر زنا کا الزام لگایا تھا؟

اصل سوال کی یاد دہانی

بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم! محترم برادرم مرزا عبدالحق صاحب، سلمک اللہ تعالیٰ!

آپ کا جواب ملا۔ جس کا میں بہت شکر گزار ہوں۔ امید ہے کہ میرے شکوک دور کرنے میں میری رہنمائی کریں گے۔ کیونکہ وہی شکوک جماعت ربوہ میں داخل ہونے میں مانع ہیں۔ آپ نے اپنے خط میں جماعت سے خلوص اور دل بستگی کا اظہار کیا ہے۔ اس میں تو کسی کو شک و شبہ نہیں ہو سکتا۔ پہلے میں آپ سے جو کچھ لکھنا چاہتا ہوں، معذرت چاہتا ہوں میرے لکھنے کی غرض صرف حقیقت پر پہنچنا ہے۔ مجھے حسب ذیل سوالات کے جوابات درکار ہیں۔

جس کی وجہ سے آپ کی تسلی ہو گئی؟

ممکن ہے جو جواب آپ کی تشفی کا موجب بنا ہو، میرے لئے بھی ہدایت کا موجب بن جائے۔ مجھے امید کامل ہے کہ آپ ان متذکرہ بالا سوالات کے جوابات سیدھے سادھے الفاظ میں دے کر ممنون فرمائیں گے۔ والسلام ! عبدالرحمن لائبریرین! لائبریری احمدیہ انجمن اشاعت اسلام، بلاک نمبر ٤ ڈیرہ غازی خاں، مورخہ ٢٥ فروری ١٩٦٦ء

خط نمبر ٣: ..... عبدالرحمن، بطور یاددہانی

زنا کے الزام کی صفائی کیجئے !

بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم! مکرم و محترم مرزا صاحب، السلام علیکم!

آپ نے میرے ایک خط کا جواب نہایت محبت اور خلوص کے رنگ میں دیا تھا جس

٦

٧

میں آپ نے خلیفہ صاحب کی عظمت اور بزرگی اپنے شکوک و شبہات کے ازالہ کے لئے دوبارہ سوالات درج کئے تھے اور آپ سے درخواست سے بھی تاریکی کے بادل چھٹ جائیں اس خط یاددہانی کے طور پر خط لکھ رہا ہوں اور اس میں انہی سوالات کے جوابات دے کر ممنون فرمائیں گے

سوال:

خلیفہ ثانی پر زنا کا الزام نہیں لگایا تھا

چونکہ یہ الزامات آپ کی بیوی کی طر نہ کسی رنگ میں ذکر آتا ہے اور اس وجہ سے ان ا کہ برا نہ مناتے ہوئے جواب سے نوازیں گے شکریہ

خط نمبر ٣: ..... جواب عبدالرحمن

جواب

بسم اللہ الرح نحمدہ ونصلی ع مکرمی عبدالرحمن صاحب، السلام علیک

آپ کا خط ملا۔ اس سے پہلے خط ب نہیں ہیں۔ اگر خدا تعالیٰ آپ کو کسی وقت توفیق کی تسلی کی کوشش کروں گا۔ اگر آپ پسند کریں ب سمجھنے کے لئے صحت نیت ضروری ہوتی ہے۔ ال ہو تو وہ ہدایت سے محروم نہیں رہنے دیتا۔ ان الغر

صفحہ ١٣٧

میں آپ نے خلیفہ صاحب کی عظمت اور بزرگی کا اظہار کیا تھا۔ یہ رنگ مجھے پسند آیا تو میں نے اپنے شکوک و شبہات کے ازالہ کے لئے دوبارہ آپ کی خدمت میں ایک خط لکھا۔ جس میں تین سوالات درج کئے تھے اور آپ سے درخواست کی تھی کہ جواب سے نوازیں تاکہ ہمارے دلوں سے بھی تاریکی کے بادل چھٹ جائیں اس خط کا جواب دستیاب نہیں ہوا۔ اس وجہ سے دوبارہ یاددہانی کے طور پر خط لکھ رہا ہوں اور اس میں انہی سوالات کا اعادہ کرتا ہوں۔ امید ہے کہ آپ ان سوالات کے جوابات دے کر ممنون فرمائیں گے تاکہ شکوک کا ازالہ ہو سکے۔

سوال

خلیفہ ثانی پر زنا کا الزام نہیں لگایا تھا؟

چونکہ یہ الزامات آپ کی بیوی کی طرف سے منسوب کئے جاتے ہیں اور آپ کا بھی کسی نہ کسی رنگ میں ذکر آتا ہے اور اس وجہ سے ان الزامات کی صفائی آپ ہی کر سکتے ہیں۔ امید ہے کہ برا نہ مناتے ہوئے جواب سے نوازیں گے۔ ممکن ہے کہ یہ جوابات میری ہدایت کا موجب بنیں۔ عبدالرحمن، اپریل ١٩٦٦ء

خط نمبر: ٣...... بجواب عبدالرحمن

جواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم!

مکرمی عبدالرحمن صاحب، السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ!

آپ کا خط ملا۔ اس سے پہلے خط بھی ملا تھا۔ یہ باتیں خط و کتابت میں لانی مناسب نہیں ہیں۔ اگر خدا تعالیٰ آپ کو کسی وقت توفیق دے تو میرے پاس آئیں۔ میں انشاء اللہ! آپ کی تسلی کی کوشش کروں گا۔ اگر آپ پسند کریں گے تو آمدورفت کا کرایہ پیش کردوں گا۔ لیکن اسے سمجھنے کے لئے صحت نیت ضروری ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے حضور میں اخلاص کے ساتھ پورا جھکاؤ ہو تو وہ ہدایت سے محروم نہیں رہنے دیتا۔ ان الزامات میں بے حد مبالغے کئے گئے ہیں۔ الزامات

٧

صفحہ ١٣٨

لگانے والوں نے اس شخص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے سلوک کو نہیں دیکھا جو ان الزامات کی پوری تردید کرتا ہے۔ والسلام! خاکسار: مرزا عبدالحق، امیر جماعت ہائے احمدیہ، سابق صوبہ پنجاب و بہاولپور خط نمبر:٤ ..... عبدالرحمن، اصل سوال کی مزید یاددہانی

میرے سوال کی طرف توجہ دیجئے

محترم مرزا صاحب، السلام علیکم!

آپ کا خط مورخہ ١٢؍اپریل ١٩٦٦ء کو ملا۔ آپ نے لکھا ہے میں نے جن امور سے متعلق آپ سے دریافت کیا ہے۔ ان کو خط و کتابت میں لانا مناسب نہیں اور تسلی دلانے کے لئے آپ نے سرگودھا آنے کی دعوت دی ہے۔ اس بارہ میں یہ عرض ہے کہ مجھے سرگودھا آنے میں کوئی عذر نہیں۔ جو امر مجھے ربوہ جماعت سے دور رکھنے کا موجب ہے۔ وہ وہی الزامات ہیں جو وقتاً فوقتاً خلیفہ صاحب کی ذات پر لگتے رہے ہیں۔ پھر ان الزامات میں تواتر کا رنگ پایا جاتا ہے۔ سرگودھا صرف اس شرط پر آنے کو تیار ہوں کہ آپ مجھے ان الزامات کا جواب نفی یا اثبات میں دیں۔ جن کا تعلق آپ کی بیوی محترمہ سکینہ بیگم سے ہے۔ کیونکہ عام سماعت کے مطابق آپ کی محترمہ نے آپ کو ہی خلیفہ صاحب کے کردار سے آگاہ کیا تھا۔ میرے لئے اس وقت تک دوسرے دلائل تسلی کا موجب نہیں ہوں گے۔ جب تک آپ ان الزامات کی تردید نہ کریں۔ اگر خلیفہ صاحب کا کردار ہی محل نظر ہو تو دوسرے دلائل کی طرف توجہ کرنا بے فائدہ ہے۔ نہ کوئی سمجھ دار آدمی ان دلائل سے مطمئن ہو سکتا ہے اگر آپ مجھے ان الزامات کا جواب نفی یا اثبات میں دینے کو تیار ہوں تو مجھے سرگودھا آنے میں کوئی عذر نہیں ہے۔ امید ہے کہ میرے اس ذہن کو مدنظر رکھ کر جواب سے نوازیں گے۔ اگر دوسرے غیر متعلقہ مباحث میں ڈال کر تسلی دینے کی کوشش کرنا ہے تو پھر مجھے سرگودھا کا سفر اختیار کرنے میں کوئی فائدہ نظر نہیں آتا۔ عبدالرحمن!

خط نمبر:٥ ..... بطور یاددہانی ١٦؍اپریل ١٩٦٦ء

خلیفہ صاحب دوم کی ذات پر سنگین قسم کے الزامات کا تدارک کیجئے

آخری مزید یاددہانی

بسم اللہ الرحمن الرحیم

نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم!

٨

٩

مکرم ومحترم مرزا صاحب، السلام علیکم مورخہ ١٦؍اپریل ١٩٦٦ء کو آپ کی خ خاکسار نے تحقیق حق کے لئے سرگودھا آنے کی توثیق، جو آپ کی زوجہ محترمہ سکینہ بیگم نے خلیفہ ص افسوس ہے کہ آپ نے جواب تک نہیں دیا۔ آپ کی محترمہ نے خلیفہ صاحب دوم کی ذات پر کوئی ع میں رکھنا چاہتے ہیں اور اب مجھے اس امر کا حق پہ اپنے اور بیگانے خلیفہ صاحب کے دعویٰ مصلح موع

اب یہ خط و کتابت کا سلسلہ شفیق الرح الرشید تقدس مآب مرزا محمود احمد کے مابین ہوا ہ جماعت میں کثرت سے تقسیم کر کے ثواب دارین اور خصوصاً جماعت ربوہ کے لئے موجب ہدایت خط نمبر: ١ ..... شفیق الرحمن

بسم اللہ الرح نحمدہ ونصلی عل مکرم مرزا رفیع احمد صاحب! میں حضرت مرزا غلام احمد صاحب ؒ استعداد کے مطابق مطالعہ بھی کیا ہے۔ جن میں طرف سے، مرزا صاحب کے خلیفہ مرزا محمود احمد وہ الزامات ہیں بھی ان کے مریدوں کی طرف س قریب رہ چکے ہیں۔ ان میں ایک مولوی عبدالرحمٰ ان الزامات کی تردید یا تو خلیفہ صاحب کے عیوب سے بکلی واقف ہوتی ہے یا خلیفہ صاحب کے ماحول سے خوب واقف ہوتے ہیں۔ میں مر

صفحہ ١٣٩

مکرم و محترم مرزا صاحب، السلام علیکم! مزاج مبارک

مورخہ ١٦؍اپریل ١٩٦٦ء کو آپ کی خدمت میں جواباً مراسلہ ارسال کیا تھا کہ جس میں خاکسار نے تحقیق حق کے لئے سرگودھا آنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا تا کہ اس الزام کی تردید یا توثیق، جو آپ کی زوجہ محترمہ سکینہ بیگم نے خلیفہ صاحب دوم کی ذات پر لگایا تھا معلوم کر سکوں۔ افسوس ہے کہ آپ نے جواب تک نہیں دیا۔ آپ کی یہ خاموشی اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ آپ کی محترمہ نے خلیفہ صاحب دوم کی ذات پر کوئی سنگین قسم کا الزام عائد کیا تھا۔ جس کو آپ پردۂ راز میں رکھنا چاہتے ہیں اور اب مجھے اس امر کا حق پہنچتا ہے کہ میں تمام خط و کتابت شائع کر دوں تا کہ اپنے اور بیگانے خلیفہ صاحب کے دعویٰ مصلح موعودیت کی حقیقت سے آشنا ہو سکیں۔ والسلام!

عبدالرحمٰن لائبریرین، بلاک نمبر ٤ ڈیرہ غازی خاں، مورخہ یکم اکتوبر ١٩٦٦ء

اب یہ خط و کتابت کا سلسلہ شفیق الرحمٰن خان صاحب اور مرزا رفیع احمد صاحب خلف الرشید تقدس مآب مرزا محمود احمد کے مابین ہوا۔ جو ہدیہ ناظرین ہے۔ اس پمفلٹ کو ربوہ کی ہر جماعت میں کثرت سے تقسیم کر کے ثواب دارین حاصل کریں۔ یہ ٹریکٹ بنی نوع انسان کے لئے اور خصوصاً جماعت ربوہ کے لئے موجب ہدایت بن سکتا ہے۔

خط نمبر: ١....... شفیق الرحمٰن

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم نحمدہ و نصلی علیٰ رسولہ الکریم

مکرم مرزا رفیع احمد صاحب!

میں حضرت مرزا غلام احمد صاحب کے علم کلام سے متاثر ہوں، کتب دیکھی ہیں۔ اپنی استعداد کے مطابق مطالعہ بھی کیا ہے۔ جن میں سچائی رمق نظر آتی ہے۔ چونکہ اب ایک گروہ کی طرف سے، مرزا صاحب کے خلیفہ مرزا محمود احمد پر نہایت ہی بھیانک الزامات لگائے گئے ہیں۔ وہ الزامات ہیں بھی ان کے مریدوں کی طرف سے جو کسی زمانہ میں خلیفہ صاحب کے نہایت ہی قریب رہ چکے ہیں۔ ان میں ایک مولوی عبدالرحمٰن صاحب مصری بھی ہیں۔

ان الزامات کی تردید یا تو خلیفہ صاحب کی ازواج کر سکتی ہیں۔ کیونکہ بیوی اپنے خاوند کے عیوب سے بکلی واقف ہوتی ہے یا خلیفہ صاحب کے صاحبزادگان کر سکتے ہیں۔ کیونکہ وہ بھی گھر کے ماحول سے خوب واقف ہوتے ہیں۔ میں مرحوم خلیفہ صاحب کی بیوگان کی طرف تو خط نہیں لکھ

٩

صفحہ ١٤٠

سکتا۔ آپ کے نام سے واقف تھا۔ کیونکہ آپ ایک دفعہ ڈیرہ غازیخان تشریف لائے تھے۔ آپ سے خدا کے نام پر اپیل کرتا ہوں کہ میری تسلی حلف سے کریں کہ وہ تمام الزامات جو خلیفہ صاحب پر لگائے گئے ہیں، غلط ہیں۔ خلیفہ صاحب کی زندگی مقدس انسانوں کی طرح تھی۔ وہ مرزا صاحب کی پیش گوئی، مصلح موعود کے مصداق ہیں۔ مجھے اس بات سے تسلی نہیں ہے کہ آپ خلیفہ صاحب کو مان رہے ہیں۔ اس وجہ سے بعض اوقات وہ الزامات غلط ہو سکتے ہیں کہ ایک آدمی اپنے خاندان کے وقار کو ملحوظ رکھ کر بھی حقیقت سے چشم پوشی کرتا ہے اور اس کا اظہار نہیں کر سکتا۔ چونکہ یہ مذہب کا معاملہ ہے۔ اس وجہ سے نہیں ہے۔ خدا کے نام پر اپیل کی ہے اور حلف کا مطالبہ کیا ہے۔ اگر آپ نے خاموشی اختیار کی تو میں سمجھ لوں گا کہ عائد کردہ الزامات مبنی بر صداقت ہیں اور قیامت کے روز میرا ہاتھ آپ کے گریبان میں ہوگا۔

شفیق الرحمن خاں معرفت مولوی محمد افضل صاحب بلاک نمبر ١٢، ڈیرہ غازی خاں

خط نمبر:١....... بجواب شفیق الرحمن، جواب مرزا رفیع احمد صاحب

بسم اللہ الرحمن الرحیم

مکرم شفیق الرحمن خاں صاحب

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ!

آپ کا خط کچھ عرصہ ہوا، ملا تھا۔ چونکہ پچھلے دنوں میں دورہ پر رہا۔ اس لئے جلد جواب نہ دے سکا۔ آپ نے اپنے خط میں جو دل آزار مفتریانہ باتیں لکھی ہیں۔ ان کو میں حوالہ بخدا کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ ہی اس کا فیصلہ فرما دے گا۔ اس امر کا بہت افسوس ہے کہ آپ قرآن کریم کی تعلیم سے بالکل لاعلم ہیں۔ ان لوگوں کی جن باتوں کو آپ نے بیان کیا ہے، قرآن کریم نے جھوٹا قرار دیا ہے۔ آپ سورۃ نور پر غور کریں، اس کی آیت ١٢، ١٣ میں صاف طور پر ایسے لوگوں کو جھوٹا اور کاذب فرمایا گیا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی گواہی ہے۔ جب آپ اللہ تعالیٰ کی گواہی قبول نہیں کرتے تو میری گواہی اس کے مقابل پر کیا حیثیت رکھتی ہے۔ یہ یقین رکھیں اور مجھے اس بارے میں کوئی شبہ نہیں کہ قیامت کے دن میرا گریبان آپ کے ہاتھ میں نہیں ہوگا۔ میرا خدا مجھے یقیناً اس ذلت سے بچائے گا۔ میں نے اس کی اتنی عنایات دیکھی ہیں کہ میں اس بارہ میں شبہ کر ہی نہیں سکتا۔ ہاں! اگر آپ نے ان باتوں سے توبہ نہ کی اور قرآن کریم کے فیصلہ کو، جو سورۃ نور میں بیان ہوا ہے۔ قبول نہ کیا تو آپ کا گریبان قیامت کے دن میرے ہاتھ میں ہوگا اور آپ اس دن کی رسوائی سے بچ نہیں سکیں گے۔ انشاء اللہ!

والسلام! مرزا رفیع احمد

١٠

خط نمبر : ٢..... شفیق الرحمن

حلفیہ قسم

بسم اللہ الر

نحمدہ ونصلی ع

مکرم ومحترم مرزا صاحب، السلام علیک

مدت ہوئی ہے کہ آپ کی طرف الجواب ارسال کرنے میں تساہل ہوا ہے۔ میں حلفاً کریں جو خلیفہ صاحب کی ذات پر متواتر سورۃ نور کی آیت ١٢، ١٣ کی طرف توجہ دلائی ہے صاحب کی ذات پر عائد کردہ الزامات کی تردید بے بنیاد الزامات کی تردید خود اللہ تعالیٰ کر رہا ہے کی تردید کی ہے۔ اگر کی ہے تو کہاں؟

حضرت مرزا غلام احمد قادیانی کے خ نے مباہلہ کے لئے بلایا۔ لیکن خلیفہ صاحب مق فتویٰ کی بناء پر ہی ان کو مباہلہ پر آنا پڑتا تھا۔ نام سے وہ مباہلہ پر نہ اترے۔ آپ نے لکھا کہ ج گواہی پر کیسے یقین آئے گا۔ قرآن کی گواہی الزامات کی تردید نہیں کر رہی، باقی رہا آپ کی گ قسم اٹھائیں تو میں آپ کو صادق ہی گردانوں گا ہوتا ہے۔ حلف کے الفاظ یہ ہیں۔

"میں اس خدا کو حاضر جان کر کہتا ہو جھوٹی قسم کھانا لعنتیوں کا کام ہے کہ مرزا محمود احم لگتے رہے ہیں۔ وہ غلط اور بے بنیاد ہیں۔ میں ک کہتا ہوں کہ مرزا محمود احمد صاحب مرحوم مقدس ، اور خدا کے مقرر کردہ مصلح موعود ہیں۔ اگر میں ا

صفحہ ١٤١

خط نمبر ٢٠...... شفیق الرحمٰن

حلفیہ قسم کا مطالبہ

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم!

مکرم ومحترم مرزا صاحب، السلام علیکم!

مدت ہوئی ہے کہ آپ کی طرف سے میرے خط کا جواب موصول ہوا تھا۔ جواب الجواب ارسال کرنے میں تساہل ہوا ہے۔ میں نے آپ کو لکھا تھا کہ آپ ان الزامات کی تردید حلفاً کریں جو خلیفہ صاحب کی ذات پر متواتر لگتے رہے ہیں۔ آپ نے تردید کرنے کی بجائے سورۃ نور کی آیت ١٢، ١٣ کی طرف توجہ دلائی ہے۔ میں نے ان آیات کو غور سے پڑھا، وہاں تو خلیفہ صاحب کی ذات پر عائد کردہ الزامات کی تردید نظر نہیں آئی۔ وہاں صرف حضرت عائشہ صدیقہؓ پر بے بنیاد الزامات کی تردید خود اللہ تعالیٰ کر رہا ہے۔ کیا خدا تعالیٰ نے بھی خلیفہ صاحب کے الزامات کی تردید کی ہے۔ اگر کی ہے تو کہاں؟

حضرت مرزا غلام احمد قادیانی کے فتویٰ کی بناء پر خلیفہ صاحب کو الزام لگانے والوں نے مباہلہ کے لئے بلایا۔ لیکن خلیفہ صاحب مقابل پر نہ آئے۔ حالانکہ بڑے مرزا صاحب کے فتویٰ کی بناء پر ہی ان کو مباہلہ پر آنا پڑتا تھا۔ نامعلوم ان کے پاس کون سی شرعی دلیل تھی جس کی وجہ سے وہ مباہلہ پر نہ اترے۔ آپ نے لکھا کہ جب آپ کو قرآن کی گواہی میں یقین نہیں تو میری گواہی پر کیسے یقین آئے گا۔ قرآن کی گواہی کے متعلق تو لکھ چکا ہوں کہ وہ خلیفہ صاحب کے الزامات کی تردید نہیں کر رہی، باقی رہا آپ کی گواہی میں یقین سے کہتا ہوں کہ آپ ان الفاظ میں قسم اٹھائیں تو میں آپ کو صادق ہی گردانوں گا۔ کیونکہ ہر آدمی نے ایک دن خدا کے سامنے کھڑا ہونا ہے۔ حلف کے الفاظ یہ ہیں۔

”میں اس خدا کو حاضر جان کر کہتا ہوں کہ جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ جس کی جھوٹی قسم کھانا لعنتیوں کا کام ہے کہ مرزا محمود احمد صاحب کی ذات پر جو وقتاً فوقتاً زنا کے الزامات لگتے رہے ہیں۔ وہ غلط اور بے بنیاد ہیں۔ میں گھر کا ایک فرد ہونے کی وجہ سے حق الیقین کی بناء پر کہتا ہوں کہ مرزا محمود احمد صاحب مرحوم مقدس، پاکباز، اسلامی عبادات کو کما حقہ ادا کرنے والے اور خدا کے مقرر کردہ مصلح موعود ہیں۔ اگر میں اپنے حلف میں جھوٹا ہوں تو خدا تعالیٰ مجھ پر ایک

١١

صفحہ ١٤٢

سال تک ایسا عذاب نازل کرے جو تمام دنیا کے لئے عبرت کا موجب ہو۔"

مجھے امید ہے کہ آپ ان الفاظ میں قسم کھانے سے گریز نہیں کریں گے اور مجھے دوسرے دلائل لاطائل سے تسلی دلانے کی کوشش نہ کریں۔ میرے لئے اب صرف قسم ہی بریت کی دلیل ہے۔ وہ بھی خلیفہ صاحب کے خاندان کے کسی فرد کی۔ اس وجہ سے میں نے آپ کی طرف رجوع کیا ہے۔ جواب دے کر ممنون فرمائیں۔ والسلام!

شفیق الرحمٰن خاں معرفت مولوی محمد افضل صاحب بلاک نمبر ١٢، ڈیرہ غازی خاں، مورخہ ٩؍ جون ١٩٦٦ء

خط نمبر : ٣ ....... شفیق الرحمٰن

قصر خلافت کی رنگین اور سنگین محفلیں

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم!

مکرم و محترم جناب صاحبزادہ مرزا رفیع احمد صاحب السلام علیکم ...... مزاج شریف!

آپ کی خدمت میں مورخہ ٩؍ جون ١٩٦٦ء کو جواباً مراسلہ ارسال کیا تھا۔ آپ نے میرے پہلے خط مورخہ ٢؍ اپریل ١٩٦٦ء کے جواب میں سورۃ نور کی آیت نمبر ١١، ١٢ کی طرف اشارہ کیا تھا۔ اسی تحقیق کی خاطر آپ کی خدمت میں لکھا تھا کہ آیا خلیفہ صاحب ثانی کی ذات پر ان سنگین الزامات کی حلفاً تردید کر سکتے ہیں جو انہی کے مریدین کی طرف سے عائد کئے گئے ہیں۔ جب کہ مریدین کے علاوہ الزام لگانے والوں میں خلیفہ صاحب کے خاندان کے افراد اور ان کے قریبی رشتہ دار بھی شامل ہیں۔ مثلاً آپ کے چھوٹے بھائی مرزا حنیف احمد صاحب، بی اے، ایل، ایل، بی نے ربوہ میں اپنے دوستوں کے سامنے خلیفہ صاحب کی ذات پر عائد کردہ الزامات کی توثیق کی تھی۔ اس توثیق کی وجہ سے بعض افراد ربوہ چھوڑ کر پہلے جھنگ چلے گئے۔ بعدازاں اب وہ رحیم یار خاں میں آباد ہیں۔ بعض اب بھی ربوہ میں رہتے ہیں۔ وہ اپنی خاندانی مجبوریوں کی وجہ سے ربوہ کو چھوڑ نہیں سکتے۔ کیونکہ ان کا گزارہ آپ لوگوں کے ہاتھ میں ہے۔ اسی طرح سید خاندان (ام طاہر اور بشریٰ زوجین خلیفہ صاحب ثانی کا خاندان) کے افراد مثلاً سید فہیم احمد صاحب بھی ولایت جاتے ہوئے اپنے دوستوں کو قصر خلافت کی رنگین محافل کا حال بتا کر گئے تھے۔

جن افراد کا میں نے ذکر کیا ہے، وہ زندہ ہیں۔ وہ کبھی بھی حلفاً تردید نہیں کر سکتے کہ

١٢

صفحہ ١٤٣

انہوں نے خلیفہ صاحب ثانی کی ذات پر الزام نہیں لگائے۔ ان حقائق اور شواہد کی موجودگی میں جب آپ بھی خاموشی اختیار کر کے الزام لگانے والوں میں شامل ہوتے ہیں تو خلیفہ صاحب ثانی پر عائد کردہ الزامات کو غلط قرار دوں یا صحیح؟ فقط! خاکسار شفیق الرحمٰن خاں معرفت مولوی محمد افضل خان صاحب بلاک نمبر ١٢، ڈیرہ غازی خاں، مورخہ ١٠ جون ١٩٦٦ء

خط نمبر : ٢ ...... بجواب شفیق الرحمٰن

سوال گندم جواب چنا، جواب مرزا رفیع احمد

بسم اللہ الرحمن الرحیم شفیق الرحمٰن خاں صاحب، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!

آپ کا خط ملا۔ میرا جواب وہی ہے جو پہلے لکھ چکا ہوں۔ ایک ایسا انسان جس کا توکل اپنے حاضر و ناظر عالم الغیب اور قدرتوں والے خدا پر ہو، اسے دنیا کی کیا پرواہ ہوسکتی ہے۔ دنیا اسے گندہ کہے، حرام کار قرار دے یا جو چاہے وہ کہے۔ اسے اس سے کیا۔ اسے تو اپنے خدا سے واسطہ اور تعلق ہے اور وہ خدا کے حکم کے خلاف نہیں کرسکتا۔ یہی طریق میرے باپ نے اختیار کیا اور یہی میں بھی بتوفیق الٰہی اختیار کروں گا۔ رہا یہ کہ مرزا حنیف احمد یا کسی اور رشتہ دار نے ایسی بات کی، اوّل تو یہ بات جھوٹ اور خلاف عقل معلوم ہوتی ہے اور اگر صحیح ہے تو بھی جس نے ایسا کہا، وہ جھوٹا ہے۔ کیونکہ قرآن کریم اسے جھوٹا قرار دیتا ہے۔ کیا آپ کو علم نہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام پر ان کی اپنی بہن نے ایسا الزام لگایا تھا۔ کیا حضرت لوط علیہ السلام کے اپنے مریدوں اور قریبیوں نے ان پر اس سے بڑھ کر الزام نہیں لگایا کہ انہوں نے شراب کے نشہ میں اپنی ہی بیٹیوں کے ساتھ بدفعلی کی اور کیا حضرت سلیمان پر اس سے بڑھ کر الزام نہیں لگایا گیا کہ نعوذ باللہ وہ چھپ کر بت پرستی کرتے تھے اور اوریاہ کو قتل کرا کے اس کی بیوی سے زنا کیا۔ کیا آپ ان الزامات کو، جو ان معصوموں اور پاک بازوں پر لگائے گئے اور ان کے اپنے مریدوں اور قریبیوں کی طرف سے لگائے گئے، سچا مانتے ہیں اور دل میں نہانی کفر رکھتے ہیں۔ اگر سچا نہیں مانتے تو کیوں؟ اس لئے کہ قرآن کریم انہیں جھوٹا قرار دیتا ہے۔ میں بھی اسی وجہ سے ان لوگوں کو، جنہوں نے میرے باپ پر، یا ہمارے خلیفہ اوّل پر یا دوسرے پاک بازوں پر الزام لگائے ہیں، جھوٹا اور مورد نفرین سمجھتا ہوں۔ کیونکہ قرآن کریم انہیں جھوٹا قرار دیتا ہے۔ والسلام ! مرزا رفیع احمد

١٣

صفحہ ١٤٤

خط نمبر: ٤....... شفیق الرحمٰن

کیا خلیفہ صاحب کے خاندان کا کوئی فرد بھی خلیفہ کی پاک دامنی پر قسم کھا سکتا ہے؟

بسم الله الرحمن الرحيم نحمده ونصلى على رسوله الكريم! مکرم ومحترم جناب مرزا رفیع احمد سلمہ الرحمٰن السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!

آپ کا خط ملا ، جس میں آپ نے گزشتہ انبیاء علیہم السلام پر بائبل کی رو سے عائد کردہ الزامات کو دہرا کر یہ لکھا ہے کہ یہ الزامات ان کے مریدین نے لگائے تھے۔ افسوس اس امر کا ہے کہ آپ نے حقائق پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی ہے۔ کسی نبی پر بھی ان کی زندگی میں ان کے کسی مرید نے کبھی زنا وغیرہ کا الزام عائد نہیں کیا۔ جن الزامات کی آپ نے نشاندہی کی ہے ، وہ بائبل کے مرتبین نے انبیاء علیہم السلام کی طرف منسوب کئے ہیں۔ بائبل کے مفسرین اور قرآن مجید کے مفسرین کا اس امر پر اتفاق ہے کہ یہ باتیں بعد کی اختراع ہیں۔ اگر آپ کے پاس کوئی تاریخی ثبوت ہو کہ کسی نبی پر ان کی زندگی میں ، ان کے ماننے والوں میں سے کسی نے زنا کا الزام عائد کیا ہے تو مجھے حوالہ کے ساتھ تحریر کریں۔

دوم ...... تمام انبیاء علیہم السلام کی بریت اور عصمت پر قرآن مجید نے گواہی دی ہے۔ اس وجہ سے ہر مسلمان ہر ایک نبی کی پاک دامنی کے لئے ہر قسم کا حلف اٹھانے کو تیار ہے۔ بلکہ آپ سے بھی یہ کہا جائے کہ بائبل کے مطعون انبیاء علیہم السلام کی پاک دامنی پر حلف اٹھائیں تو آپ انشراح صدر سے تیار ہو جائیں گے۔

سوم ...... آپ، خلیفہ صاحب پر زنا کا الزام لگانے والوں کو قرآن کی کسی نامعلوم آیت کی روشنی میں قابل نفرین اور جھوٹا قرار دیتے ہیں۔ جب آپ کو خلیفہ صاحب کی پاک دامنی پر اتنا ہی یقین ہے تو پھر آپ مندرجہ ذیل قسم کھانے سے گریز کیوں کرتے ہیں۔ یہ الفاظ میں کسی اور خط میں بھی لکھ چکا ہوں۔ اب دوبارہ لکھ دیتا ہوں۔

”میں اپنے خدا کو حاضر و ناظر جان کر قسم کھاتا ہوں، جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ جس کی جھوٹی قسم کھانا لعنتیوں کا کام ہے کہ مرزا محمود احمد خلیفہ ثانی کی ذات پر جو وقتاً فوقتاً الزامات لگتے رہے ہیں وہ غلط اور بے بنیاد ہیں۔ میں گھر کا ایک فرد ہونے کی وجہ سے حق الیقین کی بناء پر کہتا ہوں کہ مرزا محمود احمد صاحب مقدس، پاکباز، اسلامی عبادات کو کما حقہ ادا کرنے والے اور مرزاغلام

١٤

٤٥

احمد قادیانی کی پیش گوئی مصلح موعود کے حقیقی مصدا مجھ پر ایک سال تک ایسا عذاب نازل کرے جو تمام

مجھے اب امید ہے کہ میرے متذکرہ میرے نزدیک خلیفہ صاحب کی بریت کے لئے دو ایک ...... ان کا خود مباہلہ کرنا۔ دوم ...... آپ کے گھر کے کسی ممبر کا حلف اٹھ لڑکے ہیں) چونکہ خلیفہ صاحب اپنی زندگی میں آئے۔ اب کسی متذبذب آدمی کے اطمینان کا حلف اٹھانا۔ اس وجہ سے میں نے آپ کی خدمت ہیں۔ لیکن حلف نہیں اٹھاتے۔ آپ کا حلف نہ اٹ جا رہا ہے۔ آپ قرآن کی روشنی میں الزام لگانے کی پاک دامنی پر حلف نہیں اٹھاتے ، اس کی کیا وجہ میرے نزدیک تو قرآن مجید کی کسی بریت ظاہر نہیں ہوتی۔ معلوم نہیں کہ آپ سورۂ نور کس طرح استدلال کرتے ہیں۔ میں تمام بحثو استدعا کرتا ہوں کہ آپ متذکرہ بالا لفظوں میں قسم اس وجہ سے کر رہا ہوں کہ ڈیرہ غازی خان میں اس ہیں کہ خلیفہ صاحب کے خاندان کا کوئی فرد بھی آپ بلا تب

صفحہ ١٤٥

احمد قادیانی کی پیش گوئی مصلح موعود کے حقیقی مصداق ہیں۔ اگر میں حلف میں جھوٹا ہوں تو خدا تعالیٰ مجھ پر ایک سال تک ایسا عذاب نازل کرے جو تمام دنیا کے لئے عبرت کا موجب ہو۔“ مجھے اب امید ہے کہ میرے متذکرہ بالا حلف کے الفاظ کو لکھ کر دستخط کر دیں گے۔

میرے نزدیک خلیفہ صاحب کی بریت کے لئے دو ہی راستے تھے۔

ایک ....... ان کا خود مباہلہ کرنا۔

دوم ....... آپ کے گھر کے کسی ممبر کا حلف اٹھانا۔ (گھر کے ممبر سے مراد آپ کی ازواج اور لڑکے ہیں) چونکہ خلیفہ صاحب اپنی زندگی میں مباہلہ کی دعوت دینے والوں کے مقابل پر نہیں آئے۔ اب کسی متذبذب آدمی کے اطمینان کا ایک ہی طریقہ ہے۔ وہ ہے گھر کے کسی آدمی کا حلف اٹھانا۔ اس وجہ سے میں نے آپ کی خدمت میں لکھا تھا۔ افسوس یہ ہے کہ آپ جواب دیتے ہیں۔ لیکن حلف نہیں اٹھاتے۔ آپ کا حلف نہ اٹھانے کی وجہ سے میرا شک یقین میں متبدل ہوتا جا رہا ہے۔ آپ قرآن کی روشنی میں الزام لگانے والوں کو جھوٹا قرار دیتے ہیں۔ لیکن خلیفہ صاحب کی پاک دامنی پر حلف نہیں اٹھاتے، اس کی کیا وجہ ہے؟

میرے نزدیک تو قرآن مجید کی کسی آیت سے اشارۃ النص کے طور پر بھی (ان کی) بریت ظاہر نہیں ہوتی۔ معلوم نہیں کہ آپ سورۂ نور کی آیت ١٢، ١٣ سے خلیفہ صاحب کی پاک دامنی پر کس طرح استدلال کرتے ہیں۔ میں تمام بحثوں کو ایک طرف رکھتے ہوئے صرف آپ سے یہ استدعا کرتا ہوں کہ آپ متذکرہ بالا لفظوں میں قسم کھا کر مجھے اطمینان دلا دیں۔ میں قسم کا مطالبہ صرف اس وجہ سے کر رہا ہوں کہ ڈیرہ غازی خان میں اس قسم کے آدمی بھی ہیں جو اس تحدی سے دعویٰ کرتے ہیں کہ خلیفہ صاحب کے خاندان کا کوئی فرد بھی آپ کی پاک دامنی پر قسم نہیں کھا سکتا۔ والسلام!

شفیق الرحمن خاں معرفت مولوی محمد افضل صاحب بلاک نمبر ١٢، ڈیرہ غازی خان، مورخہ ٧؍نومبر ١٩٦٦ء

تبصرہ

ملک عزیز الرحمن قادیانی، گجرات

١٥

صفحہ ١٤٦

اظہار حقیقت

اس پمفلٹ میں جماعت احمدیہ ربوہ کے دو ممتاز ارکان کے خطوط شائع کئے جارہے ہیں ۔ جن سے یہ بات عیاں ہے کہ یہ لوگ حقیقت کو چھپانے کے لئے کس طرح گریز کی راہ اختیار کرنے میں مہارت رکھتے ہیں ۔ ہمارا ان سے مطالبہ یہ ہے کہ اپنے نام نہاد مصلح موعود کی پاکیزگی کو حلف مؤکد بعذاب کے ذریعہ ثابت کریں ۔ لیکن یہ لوگ مرزا قادیانی کے واضح تحریروں کی موجودگی میں بھی نہ صرف گریز ہی کرتے ہیں بلکہ یہاں تک لکھ دیتے ہیں کہ ایسا کرنا جائز نہیں۔

مرزا محمود احمد پر خدا تعالیٰ کے واضح عذاب کو دیکھتے اور سمجھتے ہوئے بھی یہ لوگ نہایت بے باکی سے کہتے جارہے ہیں کہ خدا تعالیٰ کا میاں صاحب مرحوم کے ساتھ سلوک نہایت اچھا تھا۔ جن لوگوں کے ساتھ خدا تعالیٰ کا سلوک اچھا ہوتا ہے وہ فالج جیسی خبیث مرض کا شکار ہو کر گیارہ سال چارپائی پر بیمار رہ کر مرزا قادیانی کے الہام ”کلب یموت علیٰ کلب“ کے مصداق نہیں بنتے ۔ میاں صاحب مرحوم کا وجود مرزا غلام احمد قادیانی کی سچائی کا ایک بین ثبوت تھا۔ خدا تعالیٰ نے مرزا قادیانی کے ساتھ کشتی نوح میں یہ وعدہ فرمایا تھا کہ جو تیرے اس گھر کی چاردیواری میں داخل ہو گیا ہے اس پر بلا نازل نہیں ہو سکتی ۔ اس کی تشریح فرماتے ہوئے مرزا قادیانی نے کہا تھا کہ اس سے مراد یہ ہے کہ جو میری تعلیم کی چار دیواری یعنی اس پر عمل پیرا رہے گا اس پر بلا نازل نہیں ہو سکتی اور اس شخص پر بھی بلا نازل نہیں ہو سکتی ۔ جو میرے دنیاوی گھر کی چار دیواری کے اندر رہتا ہے ۔

چنانچہ اپنے وعدہ کی لاج رکھتے ہوئے خدا تعالیٰ نے جب فالج کی بلا مرزا محمود احمد پر نازل کرنی تھی جو مرزا قادیانی کی تعلیم سے منحرف ہو چکے تھے اور جن پر خدائی وعدہ کے مطابق اس گھر کی چاردیواری میں بلا نازل نہیں ہو سکتی ان کو اس گھر کی چاردیواری سے نکال باہر کیا اور ربوہ جیسے کلر شور زمین میں لا کر میاں محمود احمد کو فالج کی بلا میں مبتلا کر دیا اور اس طرح اس بہشتی مقبرہ میں دفن ہونے سے روک لیا جس میں دفن ہونے سے کوئی دنیاوی طاقت مرزا محمود احمد یا ان کے خاندان کو روک نہیں سکتی تھی ۔ خدا تعالیٰ نے کمال قدرت نمائی سے اپنے ہر دو دعوؤں کی لاج رکھی ۔ قادیان سے نکال کر اس کے گھر کی چاردیواری سے باہر فالج کا شکار کیا اور ساتھ ہی بہشتی مقبرہ کو بھی محفوظ رکھ لیا ۔ یہ ہے وہ سلوک جو میاں محمود احمد کے ساتھ خدا تعالیٰ کا تھا اور جس پر جماعت احمدیہ ناز کر رہی ہے۔ اب میں مکرم مرزا عبدالحق صاحب ایڈووکیٹ صوبائی امیر جماعت ہائے احمدیہ اور میاں

صفحہ ١٤٧

رفیع احمد صاحب ابن میاں محمود احمد صاحب کے خطوط پر مختصر سا تبصرہ کرتا ہوں۔

مسیح موعود کی صداقت اور بدکار کا عبرتناک انجام

ان خطوط میں مکرم مرزا عبدالحق صاحب ایڈووکیٹ سرگودھا لکھتے ہیں کہ: ”الزام لگانے والوں نے اس شخص (یعنی مرزا محمود احمد صاحب ناقل) کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے سلوک کو نہیں دیکھا۔ جو ان الزامات کی پوری تردید کرتا ہے۔“

اب ہم دیکھتے ہیں کہ: ”اس انسان“ کے ساتھ خدا تعالیٰ کا سلوک مرزا غلام احمد قادیانی مجدد صدی چہار دہم کی مندرجہ ذیل تحریرات کی روشنی میں کیا ہوا۔

(حقیقت الوحی ص ٢٢٣، خزائن ج ٢٢ ص ٢٣٣)

(انجام آتھم ص ٦٦، ٦٧ ملخص، خزائن ج ١١ ص ایضاً)

اس میں شماتت اعداء ہے۔“

(تذکرہ ص ٦٧٦، ٦٧٧ بطبع سوم)

شہر صیہون سے نکالا گیا۔ کئی لاکھ کی جائیداد سے بے دخل ہوا اور آپ مرض فالج میں گرفتار ہو گیا اور اب وہ ایک قدم چل نہیں سکتا۔ ہر ایک جگہ اٹھا کر لے جاتے ہیں اور امریکہ کے ڈاکٹروں نے رائے دی ہے کہ اب یہ قابل علاج نہیں۔

(حقیقت الوحی ص ٢١٦، خزائن ج ٢٢ ص ٢٢٦ ملخص)

ان مذکورہ بالا حوالہ جات کی رو سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ جھوٹا دعویٰ کرنے والا اگر فالج کا شکار ہو جائے، اپنے شہر سے نکال دیا جائے، جائیداد سے بے دخل ہو جائے اور وہ چلنے کے قابل بھی نہ رہے اور ڈاکٹر اس کو لاعلاج قرار دے دیں تو سمجھ لو کہ خدا تعالیٰ نے اس پر غضب الہی نازل کیا۔ سو عرض ہے کہ مرزا (عبدالحق سرگودھا) ایڈووکیٹ صاحب کے خلیفہ ثانی کے ساتھ خدا تعالیٰ کا سلوک بمثل ڈوئی آف امریکہ تھا۔ چنانچہ وہ اپنے شہر قادیان سے نکالے گئے۔ لاکھوں کی جائیداد سے بے دخل ہوئے اور ٢٦ فروری ١٩٥٥ء کو ان پر فالج کا حملہ ہوا۔ وہ اپنا ایک قدم بھی زمین پر رکھنے کے قابل نہ تھے اور ڈاکٹروں نے انہیں لاعلاج قرار دے دیا تھا۔ آخر کار اسی مرض میں گیارہ سال مبتلا رہ کر ٨ نومبر ١٩٦٦ء کو وفات پا گئے۔ خلیفہ صاحب خود ہی اپنی کتاب دعوت الامیر میں فالج کو غضب الہی قرار دے چکے ہیں۔ خود اپنے بارہ میں یوں لکھتے ہیں: ”٢٦ فروری ١٩٥٥ء کو مجھ پر فالج کا حملہ ہوا۔ اب میں عملاً بیکار ہوں۔“

(اشتہار ١٩٥٥ء)

١٧

صفحہ ١٤٨

(الفضل مورخہ ٤ اگست ١٩٥٦ء)

تھی کہ معلوم ہوتا تھا کہ فالج میں اضافہ ہو رہا ہے۔"

(الفضل مورخہ ٥ فروری ١٩٥٨ء)

ان بینہ ثبوتوں کے بعد بھی اگر مرزا (عبدالحق) ایڈووکیٹ صاحب کی سمجھ میں بات نہ آئے کہ خدا تعالیٰ کا سلوک ان کے خلیفہ ثانی کے ساتھ ایک مفتری، مضل و غوی تھا، نہ کسی مصلح کی طرح تھا، تو اس کا علاج سوائے خدا کے اور کسی کے پاس نہیں۔ خدا کا سلوک تو ایسا عبرتناک ہے جس کی مثال دنیا میں نہیں مل سکتی۔

مرزا قادیانی نے لکھا کہ: "جھوٹا دعویٰ کرنے والا ٢٣ سال کے اندر اندر مارا جاتا ہے اور ٢٣ سال زندہ نہیں رہ سکتا۔" چنانچہ مرزا قادیانی کے اس حوالہ کو جو (اربعین نمبر ٣ ص ٧٠، خزائن ج ١٧ ص ٤٢٧، ملخص) میں ہے پیش کر کے ہم نے اپنے ٹریکٹ ایک قادیانی دوست کا خط اور اس کے جواب میں لکھا تھا کہ میاں صاحب ٢٣ سال کے عرصہ کے اندر اندر قہر اور غضب الٰہی کا شکار ہو گئے ہیں۔ چنانچہ مرزا قادیانی کی تحریر کے مطابق جھوٹا دعویٰ مصلح کرنے کے سبب وہ ٢٣ سال کے اندر راہی ملک بقاء ہو گئے۔ یادرہے کہ محمود احمد نے دعویٰ مصلح موعود ایک حلفیہ بیان کے تحت یکم مارچ ١٩٤٤ء کو کیا تھا۔ اس کے مطابق ان کو اٹھائیس فروری ١٩٦٧ء سے قبل وفات پا جانا ضروری تھا۔ چنانچہ وہ آٹھ نومبر ١٩٦٦ء کو وفات پاگئے اور مرزا قادیانی کے اس الہام کو بھی پورا کر گئے جو (تذکرہ ص ١٨٠) پر درج ہے اور جس کے الفاظ یہ ہیں ۔ "کلب یموت علیٰ کلب" اس حوالہ کی رو سے بقول مرزا قادیانی ایسے شخص کا ٥٢ سال کے اندر اندر فوت ہونا ضروری تھا۔

مرزا قادیانی اگر بہ نظر غور دیکھیں تو ان کو معلوم ہو جائے گا کہ خدا تعالیٰ کا ان کے ساتھ وہی سلوک تھا جو وہ ازل سے لے کر ابد تک مفتریوں کے ساتھ کرتا چلا آیا ہے۔

میاں محمود احمد کا اپنا قدم زمین پر نہ رکھ سکنے اور ڈاکٹروں کے لا علاج کر دینے کا ثبوت ان کے لڑکے ڈاکٹر مرزا منور احمد صاحب ایم. بی. بی. ایس کی زبانی ملاحظہ فرمائیں۔

رپورٹ مجلس مشاورت ١٩٦٤ء

اس کے بعد میں مرزا رفیع احمد کے خط کے بارے میں کچھ تحریر کرنا چاہتا ہوں۔ انہوں نے لکھا ہے کہ خدا تعالیٰ نے قرآن شریف سورۂ نور کی آیت ١٢، ١٣ میں محمود احمد کی بریت کی

١٨

ہے۔ مرزا رفیع احمد نے یہ تحریر کر کے ایک بہت عائشہ صدیقہ کی بریت کرتے ہوئے حکم دیا ہے رہے کہ چار گواہ کی شرط سزا کے نفاذ کے لئے رکھی مقصود ہو وہاں چار گواہ نہیں صرف مباہلہ رکھا گیا گواہوں کی شہادت درکنار، ہم چار عورتیں گوا اب ہم مرزا غلام احمد قادیانی کے ہ سے یہ بات عیاں ہے کہ سچے اور جھوٹے کی تمیز

دوسرے کو مفتری اور زانی قرار دیتے ہیں۔"

ایک مستورہ عورت کو کہتا ہے کہ میں یقیناً جانت اس کو زنا کرتے دیکھا ہے یا چشم خود اس کو شر ہے۔ کیونکہ اس جگہ کوئی اجتہادی اختلاف نہیں ایک مؤمن بھائی کو ذلت پہنچانا چاہتا ہے۔

کرتے دیکھا ہے۔ اگر میں اس بے بنیاد افتر

مرزا رفیع احمد صاحب کو اپنے باپ اپنے باپ کی طرح ہر کس و ناکس کو ظالم قرار حوالہ جات پیش کر کے گذارش کرتا ہوں کہ یہ چار دہم ہونے کا دعویٰ تھا اور مرزا رفیع احمد سورۂ نور کی آیت ١٢، ١٣ کی موجودگی میں زنا تک لکھ دیا ہے کہ مباہلہ لئے ضروری ہے۔ اجتہادی اختلاف نہ ہو تو مباہلہ کرنا ہی برائے نور کو پیش کر کے اپنے دادا کی تحریروں کو وقع

صفحہ ١٤٩

ہے۔ مرزا رفیع احمد نے یہ تحریر کر کے ایک بہت بڑے گناہ کا ارتکاب کیا۔ اس میں تو صرف حضرت عائشہ صدیقہ کی بریت کرتے ہوئے حکم دیا ہے کہ ایسی صورت میں چار گواہ پیش ہونے چاہیں۔ یاد رہے کہ چار گواہ کی شرط سزا کے نفاذ کے لئے رکھی گئی ہے اور جہاں صرف سچے اور جھوٹے کی تمیز کرنا مقصود ہو وہاں چار گواہ نہیں صرف مباہلہ رکھا گیا۔ جیسا کہ میں آگے چل کر ثابت کروں گا۔ رہا چار گواہوں کی شہادت درکنار، ہم چار چھوڑ تیس گواہ پیش کر سکتے ہیں اور یہ گواہ ہم پیش بھی کر چکے ہیں۔

اب ہم مرزا غلام احمد قادیانی کے چند ایک حوالہ جات ذیل میں درج کرتے ہیں۔ جن سے یہ بات عیاں ہے کہ سچے اور جھوٹے کی تمیز کے لئے مباہلہ ضروری ہے۔ مرزا قادیانی لکھتے ہیں:

دوسرے کو مفتری اور زانی قرار دیتے ہیں۔“

(الحکم مورخہ ٢٤؍ مارچ ١٩٠٢ء)

ایک مستورہ عورت کو کہتا ہے کہ میں یقینا جانتا ہوں کہ یہ عورت زانیہ ہے۔ کیونکہ میں نے بچشم خود اس کو زنا کرتے دیکھا ہے یا بچشم خود اس کو شراب پیتے دیکھا ہے تو اس حالت میں بھی مباہلہ جائز ہے۔ کیونکہ اس جگہ کوئی اجتہادی اختلاف نہیں۔ کیونکہ ایک شخص اپنے یقین اور رویت پر بناء رکھ کر ایک مؤمن بھائی کو ذلت پہنچانا چاہتا ہے۔

(الحکم مورخہ ٢٤؍ مارچ ١٩٠٢ء)

کرتے دیکھا ہے۔ اگر میں اس بے بنیاد افتراء کے لئے مباہلہ نہ کرتا تو اور کیا کرتا۔“

(تبلیغ رسالت ج ٢ ص ١١، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٤١٤)

مرزا رفیع احمد صاحب کو اپنے باپ کی طرح قرآن دانی پر بڑا ناز معلوم ہوتا ہے اور وہ اپنے باپ کی طرح ہر کس و ناکس کو لاعلم قرار دینے میں یدطولیٰ رکھتے ہیں۔ ان کی خدمت میں یہ حوالہ جات پیش کر کے گزارش کرتا ہوں کہ یہ تحریریں ان کے دادا بزرگوار کی ہیں۔ جن کو مجدد صدی چہاردہم ہونے کا دعویٰ تھا اور مرزا رفیع احمد کے خیالات کے مطابق نبوت کا۔ انہوں نے تو اس سورۂ نور کی آیت ١٢، ١٣ کی موجودگی میں زنا کا الزام لگنے پر مباہلہ کو ہی جائز قرار دیا ہے اور یہاں تک لکھ دیا ہے کہ مباہلہ لئے ضروری ہے۔ کیونکہ اس جگہ کوئی اجتہادی اختلاف نہیں۔ گویا جب اجتہادی اختلاف نہ ہو تو مباہلہ کرنا ہی برأت کا راستہ ہے۔ لیکن موجودہ دور کے قرآن دان سورۂ نور کو پیش کر کے اپنے دادا کی تحریروں کو وقعت نہیں دیتے۔ حالانکہ جماعت احمدیہ کے ساتھ جو

١٩

صفحہ ١٥١

سلوک بھی خدا تعالیٰ کا ہے وہ محض اور محض مرزا قادیانی کی وجہ سے ہے نہ کہ میاں محمود احمد کی وجہ سے یا ان نام نہاد قرآن دانوں کی بدولت میاں صاحب کے ساتھ خدا کا سلوک تو مرزا قادیانی کے اسی فرمودہ کے مطابق تھا جو انہوں نے کشتی نوح میں یوں تحریر کیا ہے۔

"آخر کار ایک مجرم اس عذاب میں ڈالا جاتا ہے۔ جس میں نہ وہ زندہ رہے نہ مرے۔" دیکھ لو میاں محمود احمد پر ١٩٥٤ء میں قطع وتین کے قرآن میں خدائی وعدہ کے مطابق گردن پر چاقو سے حملہ ہوا۔ ١٩٥٥ء میں فالج کا حملہ ہوا وہ جان لیوا ثابت ہوا۔ پورے گیارہ سال بیمار رہ کر ٨؍نومبر ١٩٦٦ء کو خلافت کے ٥٢ سال پورے کرنے سے قبل وفات پا گئے اور اس الہام کو پورا کر گئے۔ جو (تذکرہ ص ١٨٠) پر درج ہے۔ جس کے الفاظ یہ ہیں: "کلب یموت علیٰ کلب" جس کی تفسیر خود مرزا قادیانی نے کی کہ یہ شخص ٥٢ سال پورا کرنے سے قبل وفات پائے گا۔ ان واقعات اور نشانات کے باوجود بھی اگر کوئی نہ مانے اور میدان مباہلہ میں نہ آئے تو پھر اس کا علاج کیا ہو سکتا ہے۔ سوائے اس کے یہی کہا جا سکتا ہے کہ لوگ جھوٹے ہیں۔ اگر سچے ہوتے تو ضرور میدان مباہلہ میں آتے۔ یوسف ناز نے مباہلہ کی دعوت ١٩٥٦ء سے دی ہوئی ہے اور وہ (دور حاضر کے مذہبی آمر ص ٥٣، ٥٤) پر درج ہے۔ مگر آج پورے گیارہ سال گزر چکے ہیں۔ کسی کو مباہلہ کے میدان میں آنے کی ہمت نہیں ہوئی اور نہ ہوگی۔ یہ بات عیاں ہوگئی ہے کہ الٹی سیدھی باتیں پیش کر کے سیدھے سادھے عوام کو پیروں کی طرح دھوکا دینا ان لوگوں کا شیوہ بن چکا ہے۔ دعا ہے کہ خدا تعالیٰ ان کو سچائی کے قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین! والسلام!

ملک عزیز الرحمٰن جنرل سیکرٹری حقیقت پسند پارٹی عزیز ولا مسافر گلی کرشن نگر لاہور!

(نوٹ: اس رسالہ میں مرزا عبد الحق قادیانی ایڈووکیٹ سرگودھا اور مرزا رفیع احمد قادیانی چناب نگر کے خطوط کے عکس بھی ہیں۔ چونکہ خط درج ہو گئے عکس کا حصہ ہم نے ترک کر دیا ہے۔ مرتب!)

ضمیمہ تائید مزید خط و کتابت مابین مرزا عبد الحق ومولوی عبد الرحمٰن لائبریرین

تبلیغی سفر

کافی عرصہ سے میرے دل میں خلیفہ ثانی ربوہ کے متعلق چند شبہات کھٹکتے تھے جو کہ ان کے مریدوں نے ان کی ذات گرامی پر لگائے تھے۔ بغرض تحقیق حق خاکسار نے مرزا عبد الحق ٢٠

صاحب ایڈووکیٹ سرگودھا اور میرے لڑکے شفیق صاحب سے خط و کتابت اس بارے میں کی جو کہ چھ خاکسار لاہو گیا۔ اپنے ضروری کام سے فارغ ہو صاحب سے سرگودھا جا کر ملاقات کروں۔ چنانچہ میں پہنچا اور مرزا عبد الحق صاحب ایڈووکیٹ کی کوٹھی پر حض کے دریافت کرنے پر خاکسار نے عرض کیا میرا نام ع خلیفہ ثانی کے متعلق خط و کتابت کی تھی۔ مگر آپ نے م خود ہی جناب کی خدمت میں تحقیق حق کے لئے حا سرگودھا آنے کی دعوت دی تھی۔ اس کے بعد مرزا عرض کی کہ کلب جانا کوئی اتنا ضروری نہیں جتنا دینی کا کو کہا۔ مگر وہ ماننے کے لئے تیار نہ ہوئے اور کئی د جاتے۔ آخر کار مجبور ہو کر مرزا نے کہا کہ آپ کل صبح ک کرا دوں گا۔ کیونکہ میرے پاس لائبریری ہے۔

میں نے کہا کہ مرزا صاحب یہ کوئی کتابی گے۔ یہ تو ایک سیدھی سادی بات ہے کہ خلیفہ ثانی ک الزام لگایا تھا یا نہ؟

اس بارہ میں آپ کی بیوی صاحبہ کی شمو نے آپ کو بتایا اور آپ اپنے پیر خلیفہ صاحب کے چاہتا ہوں کہ خلیفہ ثانی نے آپ کی تسلی کس طرح کرا تشفّی کرائی تھی اسی طرح سے آپ ہماری بھی تشفّی ک میرے ساتھی کو چھوڑ کر چلتے بنے اور چلتے چلتے یہ فرما جس طرح آج آپ نے ہمارے ساتھ برتاؤ کیا ہے

دوسرے دن صبح ساڑھے سات بجے ہ موجود نہ تھے۔ ان کی کوٹھی کے مالی سے ہم نے دریاف ٢١

صفحہ ١٥١

صاحب ایڈووکیٹ سرگودھا اور میرے لڑکے شفیق الرحمٰن خان نے صاحبزادہ مرزا رفیع احمد صاحب سے خط و کتابت اس بارے میں کی جو کہ چھپ کر تقسیم ہو چکی ہے۔ نومبر کے مہینے میں خاکسار لاہور گیا۔ اپنے ضروری کام سے فارغ ہونے کے بعد دل میں خیال آیا کہ مرزا عبدالحق صاحب سے سرگودھا جا کر ملاقات کروں۔ چنانچہ میں سید غلام اکبر شاہ صاحب کے ہمراہ سرگودھا پہنچا اور مرزا عبدالحق صاحب ایڈووکیٹ کی کوٹھی پر عصر کی نماز مرزا عبدالحق کے ساتھ ادا کی۔ ان کے دریافت کرنے پر خاکسار نے عرض کیا میرا نام عبدالرحمان ہے اور خاکسار نے ہی آپ سے خلیفہ ثانی کے متعلق خط و کتابت کی تھی۔ مگر آپ نے میرے شبہات کا ازالہ نہیں کیا۔ اس لئے میں خود ہی جناب کی خدمت میں تحقیق حق کے لئے حاضر ہوا ہوں۔ ایک خط میں آپ نے مجھے سرگودھا آنے کی دعوت دی تھی۔ اس کے بعد مرزا نے کہا کہ میں نے کلب جانا ہے۔ خاکسار نے عرض کی کہ کلب جانا کوئی اتنا ضروری نہیں جتنا دینی کام کی اہمیت ہوتی ہے۔ خاکسار نے بہتیرا ان کو کہا۔ مگر وہ ماننے کے لئے تیار نہ ہوئے اور کئی دفعہ اٹھ اٹھ کر کلب کو جانے کے لئے تیار ہو جاتے۔ آخر کار مجبور ہو کر مرزا نے کہا کہ آپ کل صبح آٹھ بجے میرے پاس آنا اور میں آپ کی تشفی کرا دوں گا۔ کیونکہ میرے پاس لائبریری ہے۔

میں نے کہا کہ مرزا صاحب یہ کوئی کتابی مسئلہ نہیں ہے جو آپ مجھے کتب سے دکھائیں گے۔ یہ تو ایک سیدھی سادی بات ہے کہ خلیفہ ثانی کی ذات گرامی پر ان کے مریدوں نے زنا کا الزام لگایا تھا یا نہ؟

اس بارہ میں آپ کی بیوی صاحبہ کی شمولیت بھی ضروری ہے۔ جیسا کہ آپ کی بیوی نے آپ کو بتایا اور آپ اپنے پیر خلیفہ صاحب کے پاس تشریف لے گئے تھے۔ میں صرف یہی چاہتا ہوں کہ خلیفہ ثانی نے آپ کی تسلی کس طرح کرائی تھی۔ جس طرح خلیفہ صاحب نے آپ کی تشفی کرائی تھی اسی طرح سے آپ ہماری بھی تشفی کر دیں۔ مگر مرزا نے ایک نہ مانی اور مجھے اور میرے ساتھی کو چھوڑ کر چلتے بنے اور چلتے چلتے یہ فرما گئے کہ کل صبح آٹھ بجے آنا۔ خاکسار نے کہا کہ جس طرح آج آپ نے ہمارے ساتھ برتاؤ کیا ہے کل بھی اسی طرح سے کریں گے؟

دوسرے دن صبح ساڑھے سات بجے ہم دونوں ان کی کوٹھی پر پہنچے مگر مرزا عبدالحق موجود نہ تھے۔ ان کی کوٹھی کے مالی سے ہم نے دریافت کیا کہ مرزا صاحب کہاں ہیں؟ اس نے کہا

٢١

صفحہ ١٥٢

کہ مرزا صاحب یہاں کوٹھی پر نہیں ہیں اور کہیں چلے گئے ہیں۔ آخر ہم دونوں ٣ گھنٹے تک انتظار کرنے کے بعد گیارہ بجے کوٹھی سے واپس آئے۔ مرزا عبدالحق ہمیں اس دن نہ ملے۔ آخر ہم اس نتیجہ پر پہنچے کہ مرزا نے عمداً جواب دینے سے گریز کیا۔ یقیناً اس معاملہ میں ضرور کچھ نہ کچھ حقیقت ہے جو کہ مرزا نے ہم کو دوبارہ وعدہ کر کے بھی جواب دینے سے گریز کیا ہے۔ سرگودھا سے واپسی پر اپنے ساتھی سمیت ربوہ (چناب نگر) اترا اور رات مہمان خانہ میں گزاری

نسیم سیفی صاحب، قاضی نذیر احمد صاحب لائل پوری، میاں غلام محمد صاحب اختر سے فرداً فرداً ملاقاتیں ہوئیں۔ ان حضرات نے اصولی مباحث مسئلہ کفر و اسلام، مسئلہ نبوت وغیرہ کو چھوڑ کر مولوی محمد علی صاحب کی ذات کو مرکز موضوع بنالیا۔ سب سے بڑا اعتراض یہ تھا کہ وہ قرآن مجید چوری لے آئے تھے۔ میں نے عرض کیا کہ جو ترجمہ کرے یا جو کوئی کتاب لکھے وہ ترجمہ اور کتاب تو اسی شخص کے نام سے شائع ہوگی۔ اگر وہ قادیان کی جماعت کو ترجمہ دے آتے تو وہ اس ترجمہ کو ہرگز شائع نہ کرتے۔ وہی ترجمہ احمدیہ انجمن اشاعت اسلام لاہور نے مولوی صاحب کے نام سے شائع کر دیا ہے۔ اس میں کون سی قباحت ہے اور کون سی چوری ہے؟ اس طرح جماعتوں کی تعداد کی کثرت قلت چندہ کی زیادتی اور کمی پر باتیں ہوئیں۔ میں نے ہر چند ان حضرات سے کہا کہ میں اس غرض کے لئے نہیں آیا میں تو صرف بعض اصولی باتوں کی تحقیق کے لئے آیا ہوں جن سے آپ لوگ عمداً گریز کر رہے ہیں۔ پھر میں نے خلیفہ ثالث سے ملاقات کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ مجھے یہ سن کر نہایت ہی صدمہ ہوا کہ خانہ ساز خلافت کو خلافت راشدہ کے برابر قرار دینے والا شخص تفریح اور شکار پر ربوہ (چناب نگر) سے باہر گیا ہوا ہے۔ مجھے شکار کے حلال و حرام پر بحث کرنا مقصود نہیں۔ صرف یہ عرض کرنا ہے کہ خلفائے راشدینؓ کب تفریح کے لئے شکار کو جاتے تھے۔ پھر مسیح موعود اور خلیفہ اوّل نے کتنے دن شکار کے لئے ہفتہ میں مقرر کئے تھے؟

عبدالرحمان لائبریرین لائبریری احمدیہ انجمن اشاعت اسلام بلاک نمبر ٤، ڈیرہ غازی خان

٢٢

PDF 154

انا خاتم النبیین لا نبی بعدی

صلی اللہ علیہ وعلی آلہ واصحابہ وسلم

چند قابل غور

حقائق

سبط نور

صفحہ ١٥٥

چند قابل غور حقائق

امریکن مدعی رسالت ڈاکٹر ڈوئی کی ہلاکت کا واقعہ ان عظیم الشان نشانات میں سے ہے جو مسیح موعود کے ہاتھ پر اسلام کی تائید میں ظاہر ہوئے۔ میاں محمود احمد نے اپنی کتاب (دعوت الامیر ص ٢١٣، ٢١٤) میں اس نشان کا ذکر حسب ذیل الفاظ میں کیا ہے۔

"اس وقت ڈوئی کا ستارہ بڑے عروج پر تھا۔ اس کے مریدوں کی تعداد بہت بڑھ رہی تھی اور وہ لوگ اس قدر مالدار تھے کہ ہر نئے سال کے شروع میں ٣٠ لاکھ روپے کے تحائف اس کو پیش کرتے تھے اور کئی کارخانے اس کے جاری تھے۔ چھ کروڑ کے قریب اس کے پاس روپیہ تھا اور بڑے نوابوں سے زیادہ اس کا عملہ تھا۔ اس کی صحت ایسی اچھی تھی کہ وہ اس کو اپنا معجزہ قرار دیتا تھا اور کہتا تھا کہ میں دوسروں کو بھی اپنے حکم سے اچھا کر سکتا ہوں۔ غرض مال، صحت، جماعت، اقتدار، ان چاروں باتوں سے اس کو وافر حصہ ملا تھا۔ (مرزا کے ) اس اشتہار کے شائع ہونے پر لوگوں نے اس سے سوال کیا کہ وہ کیوں آپ (مرزا قادیانی) کے اشتہارات کا جواب نہیں دیتا تو اس نے کہا کہ لوگ کہتے ہیں کہ تم فلاں فلاں بات کا جواب کیوں نہیں دیتے۔ کیا تم خیال کرتے ہو کہ ان کیڑوں مکوڑوں کو جواب دوں گا۔ اگر میں اپنا پاؤں ان پر رکھ دوں تو ایک دم میں ان کو کچل سکتا ہوں۔ مگر میں ان کو موقعہ دیتا ہوں کہ میرے سامنے سے دُور چلے جاویں اور کچھ دن اور زندہ رہ لیں۔"............. اس کی سرکشی اور تکبر یہیں پر ختم نہ ہوا اس نے کچھ دن بعد آپ کا ذکر کرتے ہوئے آپ کی نسبت یہ الفاظ استعمال کئے۔ ”بیوقوف محمدی مسیح“ اور یہ بھی لکھا: ”اگر میں خدا کی زمین پر خدا کا پیغمبر نہیں تو پھر کوئی بھی نہیں ۔“ اور دسمبر ١٩٠٣ء کو تو کھلا کھلا مقابلے پر آ کھڑا ہوا اور اعلان کیا کہ ایک فرشتے نے مجھے کہا ہے کہ تو اپنے دشمنوں پر غالب آئے گا۔ گویا حضرت اقدس کی پیش گوئی کے مقابلے میں آپ کی ہلاکت کی پیش گوئی شائع کر دی۔ یہ اس کا مقابلہ جو پہلے اشارۃً شروع ہوا اور آہستہ آہستہ صراحت کی طرف آتا گیا۔ جلد پھل لے آیا اور اس آخری حملے کے بعد چونکہ وہ مقابل پر آ گیا تھا۔ مسیح موعود نے اس کے خلاف لکھنا چھوڑ دیا اور ”فَانْتَظِرْ اِنَّهُمْ مُنْتَظِرُوْنَ“ کے حکم کے مطابق خدائی فیصلے کا انتظار شروع کر دیا۔ آخر اللہ تعالیٰ جو پکڑنے میں دھیما ہے۔ مگر جب پکڑتا ہے تو سخت پکڑتا ہے۔ اپنا ہاتھ اس کی طرف بڑھایا اور وہ پاؤں جن کو وہ اس کے مسیح پر رکھ کر کچلنا چاہتا تھا اس نے معطل کر دیئے۔ اس کے مسیح پر پاؤں رکھنے کی طاقت تو اس کو کہاں مل ٢

سکتی تھی وہ اس پاؤں کو زمین پر رکھنے کے قابل بھی نہ رہا پر نازل ہوا۔ کچھ دن کے بعد افاقہ ہو گیا۔ مگر دو ماہ بعد ١٩ طاقتیں بھی توڑ دیں۔ جب وہ بالکل لاچار ہو گیا تو اس ۔ ایک جزیرہ میں جس کی آب و ہوا فالج کے لئے اچھی تھ غضب نے اس کو اب بھی نہ چھوڑا اور چاہا کہ جس طرح کیڑے کی طرح ثابت کر کے دکھائے اور وہ چیزیں جو انہیں کے ذریعہ اسے ذلیل کرے۔ چنانچہ ایسا ہوا کہ مریدوں کے دل میں شک پیدا ہوا کہ یہ تو اوروں کو دعا بیمار کیوں ہوا اور انہوں نے اس کے بعد اس کے کمروں تلاشی لی تو ان میں سے شراب کی بہت سی بوتلیں نکلیں اور چھپ کر خوب شراب پیا کرتا تھا۔ حالانکہ وہ اپنے مرید کسی نشہ کی چیز کی اجازت نہیں دیتا تھا۔ حتیٰ کہ تمباکو نوشی کہ میں اس کی سخت غربت کے ایام میں بھی وفادار رہ افسوس ہوا ہے کہ اس نے ایک مالدار بڑھیا سے شادی ک کہ ایک سے زیادہ شادیاں جائز ہیں۔ درحقیقت اس م چنانچہ اس نے اس بڑھیا کے خطوط جو ڈوئی کے خطوط اس پر لوگوں کا غصہ اور بھی بھڑکا اور جماعت کے اس رو تھا اور معلوم ہوا کہ اس نے اس میں سے پچاس لاکھ رو کئی نوجوان لڑکیوں کو اس نے خفیہ طور پر ایک لاکھ سے اس کی جماعت کی طرف سے اسے ایک تار دیا گیا جس تمہاری فضول خرچی، ریاکاری، غلط بیانی، مبالغہ آمیز ک اور غضب پر سخت اعتراض کرتی ہے۔ اس واسطے تمہیں ب ڈوئی ان الزامات کی تردید نہ کر سکا اور آخر چاہا کہ خود اپنے مریدوں کے سامنے آ کر ان کو اپنی ص لوگوں میں سے کوئی اس کے استقبال کو نہ آیا اور کسی نے اس ٣

صفحہ ١٥٥

سکتی تھی وہ اس پاؤں کو زمین پر رکھنے کے قابل بھی نہ رہا۔ یعنی خدا کا غضب فالج کی شکل میں اس پر نازل ہوا۔ کچھ دن کے بعد افاقہ ہو گیا۔ مگر ٢؍ ماہ بعد ١٩؍ دسمبر کو دوسرا حملہ ہوا اور اس نے رہی سہی طاقتیں بھی توڑ دیں۔ جب وہ بالکل لاچار ہو گیا تو اس نے اپنا کام اپنے نائبوں کے سپرد کیا اور خود ایک جزیرہ میں جس کی آب و ہوا فالج کے لئے اچھی تھی بود و باش اختیار کر لی۔ مگر اللہ تعالیٰ کے غضب نے اس کو اب بھی نہ چھوڑا اور چاہا کہ جس طرح اس نے اس کے مسیح کو کیڑا کہا تھا اس کو کیڑے کی طرح ثابت کر کے دکھائے اور وہ چیزیں جن پر گھمنڈ کر کے اس نے یہ جرأت کی تھی انہیں کے ذریعہ اسے ذلیل کرے۔ چنانچہ ایسا ہوا کہ اس کے بیمار ہو کر چلے جانے پر اس کے مریدوں کے دل میں شک پیدا ہوا کہ یہ تو اوروں کو دعا سے نہیں بلکہ حکم سے اچھا کرتا تھا یہ خود ایسا بیمار کیوں ہوا اور انہوں نے اس کے بعد اس کے کمروں کی جن میں وہ کسی کو جانے نہیں دیتا تھا تلاشی لی تو ان میں سے شراب کی بہت سی بوتلیں نکلیں اور اس کی بیوی اور لڑکے نے گواہی دی کہ وہ چھپ کر خوب شراب پیا کرتا تھا۔ حالانکہ وہ اپنے مریدوں کو سختی سے شراب پینے سے روکتا تھا اور کسی نشہ کی چیز کی اجازت نہیں دیتا تھا۔ حتیٰ کہ تمباکو نوشی سے بھی منع کرتا تھا اور اس کی بیوی نے کہا کہ میں اس کی سخت غربت کے ایام میں بھی وفادار رہی ہوں۔ مگر اب مجھے یہ معلوم کر کے سخت افسوس ہوا ہے کہ اس نے ایک مالدار بڑھیا سے شادی کی خاطر یہ نیا مسئلہ بیان کرنا شروع کیا ہے کہ ایک سے زیادہ شادیاں جائز ہیں۔ درحقیقت اس مسئلہ کی تہہ میں اس کا اپنا ارادہ شادی کا ہے۔ چنانچہ اس نے اس بڑھیا کے خطوط جو ڈوئی کے خطوں کے جواب میں آتے تھے لوگوں کو دکھائے۔ اس پر لوگوں کا غصہ اور بھی بھڑکا اور جماعت کے اس روپیہ کا حساب دیکھا گیا جو اسی کے پاس رہتا تھا اور معلوم ہوا کہ اس نے اس میں سے پچاس لاکھ روپیہ غبن کر لیا ہے اور یہ بھی ظاہر ہوا کہ شہر کی کئی نوجوان لڑکیوں کو اس نے خفیہ طور پر ایک لاکھ سے زائد روپیہ کے تحائف دیئے ہیں۔ اس پر اس کی جماعت کی طرف سے اسے ایک تار دیا گیا جس کے الفاظ یہ ہیں: ”تمام جماعت بالاتفاق تمہاری فضول خرچی، ریا کاری، غلط بیانی، مبالغہ آمیز کلام، لوگوں کے مال کے ناجائز استعمال، ظلم اور غضب پر سخت اعتراض کرتی ہے۔ اس واسطے تمہیں تمہارے عہدے سے معطل کیا جاتا ہے۔“

ڈوئی ان الزامات کی تردید نہ کر سکا اور آخر سب مرید اس کے مخالف ہو گئے۔ اس نے چاہا کہ خود اپنے مریدوں کے سامنے آ کر ان کو اپنی طرف مائل کر لے۔ مگر سٹیشن پر سوائے چند لوگوں کے کوئی اس کے استقبال کو نہ آیا اور کسی نے اس کی بات کی طرف توجہ نہ کی۔ آخر وہ عدالتوں ٣

صفحہ ١٥٦

کی طرف متوجہ ہوا۔ مگر وہاں سے بھی اس کو قومی فنڈ پر قبضہ نہ ملا اور صرف ایک قلیل گذارہ دیا گیا اور اس کی حالت ناچاری کی یہاں تک پہنچ گئی کہ اس کے حبشی نوکر اس کو اٹھا اٹھا کر ایک جگہ سے دوسری جگہ پر رکھتے تھے اور سخت تکلیف اور دکھ کی زندگی وہ بسر کرتا تھا۔ اس کی تکلیف اور دکھ کو دیکھ کر اس کے دو چار ملنے والوں نے جو ابھی تک اس سے ملتے تھے مشورہ دیا کہ وہ اپنا علاج کروائے۔ مگر وہ علاج کروانے سے اس بناء پر انکار کرتا تھا کہ لوگ کہیں گے کہ یہ لوگوں کو علاج سے منع کرتا تھا اور خود علاج کراتا ہے۔ آخر جب اس کے ایک لاکھ مریدوں میں سے صرف دوسو کے قریب باقی رہ گئے اور عدالتوں میں بھی ناکامی ہوئی اور بیماری کی بھی تکلیف بڑھ گئی تو وہ ان تکالیف کو برداشت نہ کر سکا اور پاگل ہو گیا اور ایک دن اس کے چند مرید اس کا وعظ سننے کے لئے گئے تو انہوں نے دیکھا کہ اس کے تمام جسم پر پٹیاں بندھی ہوئی ہیں۔ اس نے ان سے کہا کہ اس کا نام جیری ہے اور وہ ساری رات شیطان سے لڑتا رہا اور اس جنگ میں اس کا جرنیل مارا گیا ہے اور وہ خود زخمی ہو گیا ہے۔ اس پر ان لوگوں کو یقین ہو گیا کہ یہ شخص بالکل پاگل ہو گیا ہے اور وہ بھی اس کو چھوڑ گئے۔“

کس قدر عبرت انگیز واقعہ ہے جو میاں محمود احمد نے اپنے قلم سے لکھا ہے۔ لیکن یہ امر اور بھی عبرت انگیز ہے کہ آج خود میاں محمود احمد پر بعینہ وہی کیفیت طاری ہے جو ڈاکٹر ڈوئی پر وارد ہوئی تھی۔ اس میں شک نہیں کہ میاں صاحب کا دعویٰ رسالت و نبوت کا نہیں، ڈوئی عیسائی اور رسول کریم ﷺ کا سخت ترین دشمن تھا۔ لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ میاں صاحب نے آج سے سولہ سترہ برس پہلے مؤکد بعذاب حلف اٹھا کر بڑی تحدی کے ساتھ یہ دعویٰ کیا تھا کہ: ”میں اس واحد و قہار خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ جس کی جھوٹی قسم کھانا لعنتیوں کا کام ہے اور جس پر افتراء کرنے والا اس کے عذاب سے کبھی بچ نہیں سکتا کہ خدا نے مجھے اس شہر لاہور ١٤۔ ٹیمپل روڈ پر شیخ بشیر احمد صاحب ایڈووکیٹ کے مکان میں یہ خبر دی کہ میں ہی مصلح موعود کی پیش گوئی کا مصداق ہوں اور میں ہی مصلح موعود ہوں۔ جس کے ذریعہ سے اسلام دنیا کے کناروں تک پہنچے گا اور توحید دنیا میں قائم ہو گی۔“

میاں صاحب کے اس مؤکد بعذاب حلف پر ابھی گیارہ برس بھی گذرنے نہ پائے تھے کہ انہیں اسی فالج کی بیماری نے آن پکڑا۔ جو ڈوئی کو لاحق ہوئی تھی اور آج ان کی جو کچھ حالت ہے وہ خود ان کے فرزند ڈاکٹر مرزا منور احمد صاحب نے مندرجہ ذیل الفاظ میں بیان کی ہے: ”اعصابی بے چینی بصورت نسیان اور جذبات کی شدت یعنی رقت جو مقدس ہستیوں یا مقدس مقامات کے ذکر پر عموماً پیدا ہو جاتی ہے۔ کم و بیش جاری ہے۔ چند دن ان علامتوں میں قدرے ٤

صفحہ ١٥٧

فرق محسوس ہوتا ہے تو پھر چند دن زیادتی معلوم دیتی ہے اور اس طرح یہ سلسلہ چلا جاتا ہے۔ لیٹے رہنے کے باعث ٹانگوں میں کھچاوٹ اور اکڑاؤ بھی بدستور ہے۔ کوئی ممکن کوشش حضور کو چلانے کی کامیاب نہیں ہورہی۔ سابقہ ڈاکٹروں کے علاوہ اس عرصہ میں جرمنی کے مشہور ڈاکٹر (بحروف انگریزی) پروفیسر پینے سے مشورہ کر کے ان کا علاج بھی کیا گیا۔ مگر اس سے بھی ابھی تک کوئی فرق محسوس نہیں ہورہا۔ اس طرح جاپان کے ایک ماہر ڈاکٹر کو بھی اس سلسلہ میں مشورہ کے لئے لکھا ہے۔ مگر ان کی طرف سے ابھی تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ یہ حالات عرض کرتے ہوئے خاکسار احباب جماعت کی خدمت میں دردمندانہ دل سے درخواست کرتا ہے کہ حضور کی شفا اب دوائیوں سے نہیں بلکہ محض اللہ تعالیٰ کے خاص فضل اور دست شفا سے ہی انشاء اللہ ہوگی۔“

اس کے ساتھ ہی مسیح موعود کے اس بیان کو بھی پڑھ لیجئے جو حضور نے ڈوئی کے انجام کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے: ”آخر کار اس پر فالج گرا، اور ایک تختہ کی طرح چند آدمی اس کو اٹھا کر لے جاتے رہے اور پھر بہت سے غموں کے باعث پاگل ہو گیا اور حواس بجا نہ رہے۔“

(تتمہ حقیقت الوحی ص ٧٦، خزائن ج ٢٢ ص ٥١٢)

یہ امر بھی قابل غور ہے کہ مسیح موعود نے فالج کے مرض کو ’دکھ کی مار‘ قرار دیا ہے۔

(انجام آتھم ص ٦٦، خزائن ج ١١ ص ایضاً ملخص)

کہا جاتا ہے کہ میاں صاحب کا دعویٰ ماموریت کا نہیں تھا۔ لیکن جو شخص یہ اعلان کرے کہ اسے مصلح موعود کے منصب پر کھڑا کیا گیا ہے اور مؤکد بعذاب حلف اٹھا کر ایسا کہے اس کا یہ دعویٰ ماموریت کا دعویٰ نہیں تو اور کیا ہے؟ بہر حال جہاں تک ان کی مؤکد بعذاب حلف کا تعلق ہے۔ یہ امر قابل غور ہے کہ ان کی موجودہ بیماری کا اس سے بہت بڑا تعلق نظر آتا ہے۔ اگر وہ فی الواقع اللہ تعالیٰ کی طرف سے مصلح موعود جیسے عظیم منصب پر فائز ہوتے تو وہ اس مؤکد بعذاب حلف کی زد میں نہ آتے اور ایسی ”دکھ کی مار“ جس میں ڈوئی کی طرح نہ ان کے ہوش و حواس بجا ہیں نہ وہ اپنے پاؤں پر چل پھر سکتے ہیں۔ بلکہ تختہ کی طرح انہیں اٹھا کر ادھر ادھر لے جایا جاتا ہے۔ ہرگز ان پر نہ ہوتی۔ اس حقیقت پر بعض دیگر امور کو آئندہ صفحات میں واضح کیا گیا ہے۔ میاں صاحب کے فدائیوں اور ان کی جماعت کے سمجھدار لوگوں کے لئے اس میں درس عبرت ہے اور امید ہے کہ وہ ہر قسم کے متعصبانہ خیالات اور محبت کے جذبات کو دل سے نکال کر ان مضامین پر ٹھنڈے دل سے غور کریں گے۔ ”وما ارید الا اصلاح وما توفیقی الا باللہ“ والسلام!

٥

صفحہ ١٥٨

قادیانی خلافت کی بے اعتدالیاں

مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی بعثت کا مقصد وحید تھا۔ باطل عقائد کا استیصال۔ حضور (مرزا) کے وصال کے بعد جماعت کو مولوی نورالدین جیسا عظیم الشان خلیفہ ملا۔ جس کے چھ سالہ عہد مسعود میں جماعت کے عروج اور فروغ کے لئے مساعد حالات پیدا ہوئے۔ دشمنوں نے عناد اور فساد کا جو الاؤ روشن کر رکھا تھا وہ حضرت ممدوح کی مساعی جمیلہ اور جماعت کے امن پسندانہ رویے سے ٹھنڈا ہو گیا۔ احیاء دین اور تجدید دین اور تجدید ملت کا عصر آفرین ورثہ حضرت موصوف کو ملا اور اس کی قبولیت اور پذیرائی کے آثار ہر طرف سے نمودار ہونے لگے۔ حکیم الامت شخصی سطوت وصولت سے ہمیشہ مجتنب رہے۔ اس اجتناب نے ان کی شخصیت کو محبوب بنا دیا۔ ان کو امام زمان کے مقدس مشن سے عشق تھا۔ اسی لئے انہوں نے اپنی ذات کو اس مشن میں ضم کر دیا۔ اپنے علم وعرفان سے تعصب کے خارزار کو ہموار کیا اور پرامن اور نتیجہ خیز تبلیغ کو جولانگاہ بنا دیا۔ ان کی وفات جماعت کے لئے سانحہ المیہ بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ خوفناک موڑ ثابت ہوئی۔ کیونکہ ان کے بعد قادیان میں جو نظام پروان چڑھا اس میں شخصی آمریت کے جراثیم مضمر تھے۔ میاں محمود احمد اپنی عمر کے لحاظ سے نہایت ناپختہ اور خام فکر تھے۔ حالانکہ سنت اللہ یہ ہے کہ دینی قیادت بڑی ریاضت اور مجاہدے کے بعد تفویض ہوتی ہے۔ خود مسیح موعود کو امامت کا درجہ ایک طویل تربیت کے بعد خدا نے بخشا۔ ١٩١٤ء میں جماعت کی قیادت ایک ایسے انسان نے غصب کر لی جس کی قابلیت صرف اتنی تھی کہ اس نے Coup کے لئے پہلے سے تیاریاں کر رکھی تھیں۔ وہ اس قیادت کی صحیح اہلیت واستعداد سے بالکل عاری تھا۔ اس فقدان کی تلافی کے لئے اس نے اپنے آپ کو گوناگوں القاب سے نوازنا شروع کر دیا۔ کبھی ”فضل عمر“ بن کر حضرت فاروق اعظمؓ سے برتری کا مدعی بن بیٹھا۔

جن لوگوں نے میاں صاحب کو حضرت عمرؓ سے افضل تسلیم کر لیا اور کرتے چلے گئے ۔ وہ ..... حضرت عمرؓ کو کیا سمجھتے ہوں گے۔ اس پر مستزاد کہ میاں صاحب نے اپنے لئے His Holiness کا عیسائی لقب بھی منتخب کر لیا۔ عقل وخرد کا یہ حال تھا کہ کسی نے اس کی بے ربطی پر لب کشائی تک نہ کی۔ یہ بے قاعدگیاں اور بے عنوانیاں اس واسطے جماعتی عقائد پر حاوی ہو گئیں کہ ایک شخص کی ذات میں ”قیادت اور اہلیت“ جمع ہو گئی تھی۔ ایسا امتزاج ہمیشہ فتنے برپا کیا کرتا ہے۔ تاریخ اس کی شاہد ناطق ہے۔ چنانچہ قادیان میں بھی یہی کچھ ہوا۔ میاں صاحب ..... ساری جماعت کو مرکب بنا

٦

صفحہ ١٥٩

کر آپ راکب ہو گئے۔ جماعت کو اس کا احساس تک نہ ہوا کہ ان کے خلیفہ صاحب اپنی رنگین بیانیوں سے عمل کے فقدان کا مداوا کر رہے ہیں۔

چونکہ خلیفہ صاحب پر کوئی ضابطہ نافذ نہ تھا۔ انہوں نے وقتی مصلحتوں کے پیش نظر عقائد سے بھی تلعب شروع کر دیا۔ مثلاً غلبہ حاصل کرتے ہی مسیح موعود پر دعویٰ نبوت کا افتراء باندھا اور ان کی نبوت کی تبلیغ شروع کر دی۔ اس سے انہوں نے اپنی خلافت تو بنالی۔ لیکن مسلمانوں کو کافر کہہ کر اور ان سے عمرانی روابط منقطع کر کے مسیح موعود کے اسلام افروز پیغام کے آگے اپنی تخلیقات کی دیواریں کھڑی کر دیں۔ غیر فطری عقائد کے نفاذ کے لئے انہوں نے ایک آہنی نظام برپا کیا۔ جماعت کے افراد کی عقول وقلوب پر اپنی تعزیرات کے قفل لگا دیئے۔ معمولی انحراف پر شدید سزائیں دیں۔ سینکڑوں بلکہ ہزاروں قادیانی احمدی جماعت سے خارج کر دیئے گئے کہ انہوں نے کسی مسلمان کا جنازہ پڑھایا۔ کسی غیر احمدی رشتہ دار سے رشتہ ناطہ کیا۔ اس قسم کے مقاطعہ سے ارباب پیغام صلح بھی نہ بچ سکے۔ حالانکہ وہ مسیح موعود کے حلقہ بگوش اور سر بکف خدام تھے۔ ان کے متعلق مسیح موعود سے دوری کے افسانے تراش کر جماعت کو ان سے ایسا متنفر کیا کہ وہ عملاً ان کو غیر احمدیوں سے بھی زیادہ برا سمجھنے لگے۔ اس کی ایک مثال ملاحظہ ہو۔ حضرت مولوی محمد علی کی وفات کی خبر ”الفضل“ نے ایک تاریک گوشے میں نہایت بے رغبتی سے شائع کی۔ لیکن مولوی ظفر علی خاں کی وفات کی خبر کو نمایاں جگہ ملی اور اس وفات پر یہ کہہ کر ماتم کیا گیا کہ مولوی ظفر علی خاں کی موت سے پنجاب کی علمی ادبی اور ثقافتی تاریخ کا ایک درخشندہ باب ختم ہو گیا ہے۔ حالانکہ یہ باب مسیح موعود کے خلاف شدید اور غلیظ دشنام سے لبریز ہے۔

خلیفہ صاحب اپنے مریدوں سے یہ توقع کرتے تھے کہ وہ ان کی تعلیم پر اپنا تن من دھن قربان کر دیں۔ لیکن جب خلیفہ کے لئے امتحان کا وقت آیا کہ وہ اپنی عناد انگیز تعلیم کے لئے کیا قربانی کرتے ہیں تو وہ ١٩٥٣ء میں منیر ٹریبونل کے سامنے اپنی تعلیم کی بنیادی باتوں سے بھی منحرف ہو گئے۔ تکفیر مسلمین سے انکار کیا اور اعلان کیا کہ مسیح موعود کا ماننا جزو ایمان نہیں ہے۔ مسلمانوں کے جنازوں میں شرکت کی ممانعت سے بھی منحرف ہو گئے اور ٹریبونل کے سامنے اعلان کیا کہ وہ اس امتناع کی نظر ثانی کر رہے ہیں۔ حالانکہ وہ قریباً نصف صدی سے ارباب ”پیغام صلح“ کو اس بات پر مطعون کرتے تھے کہ وہ مسلمانوں کو کافر کیوں نہیں کہتے اور ان کے جنازوں میں شرکت کو ممنوع کیوں نہیں سمجھتے۔

٧

صفحہ ١٦٠

اس طرح اپنی واضح اور صریح تحریرات سے میاں صاحب منکر ہو گئے اور ان کی ذمہ داری دوسروں پر ڈال دی۔ وہ اپنے ساختہ پرداختہ عقائد کے لئے اتنا بھی نہ کر سکے کہ ان کو تسلیم ہی کر لیں۔ قادیانیوں نے اپنی آنکھوں سے اپنے مصلح موعود کی اولوالعزمی کا تماشا دیکھا۔ حالانکہ یہ لوگ ان کے حکم کے ماتحت قائد اعظم کے جنازے میں شریک نہ ہوئے تھے اور اپنی عدم شرکت کو اپنی احمدیت کا تقاضا سمجھتے تھے۔ درحقیقت میاں صاحب موصوف نے جو عقائد منیر ٹربیونل کے سامنے تسلیم کئے۔ وہ ارباب پیغام صلح کے عقائد سے بھی فروتر تھے۔ اب ارباب بصیرت نے دیکھ لیا کہ مصلح موعود کی تعلیم کی صحیح حامل دونوں جماعتوں میں سے کون سی جماعت ہے۔

چونکہ میاں صاحب نے ایک خواب کی بناء پر مصلح موعود کا دعویٰ کر رکھا تھا اور اس دعوٰی میں مسیح موعود کی قوت قدسی پر ایک قسم کا حملہ تھا۔ خدا نے ان کو ڈھیل دی۔ لیکن میاں صاحب نے اس تلبیس و اجمال کو اپنے لئے تائید ایزدی سمجھا۔ چنانچہ خدا تعالیٰ نے اب ان کو ’لَوْ تَقَوَّلَ عَلَیْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِیْلِ‘ کی قرآنی دفعہ کے ماتحت اپنی گرفت میں لے لیا۔ تین سال سے ہوش وحواس سے عاری ہیں۔ تختے کی مانند سٹیج پر لائے جاتے ہیں۔ کبھی الٹی سیدھی باتیں کرتے ہیں اور اکثر رونے لگ جاتے ہیں۔ اسی دماغی حالت کا آغاز فالج سے ہوا جس کو مسیح موعود نے دکھ کی مار کہا ہے اور اپنے دشمنوں کے لئے مجنون اور مفلوج ہونے کی بددعا بھی کی ہے۔ چونکہ قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ خلیفہ معزول نہیں ہو سکتا۔ اس واسطے وہ ایک مریض اور از کار رفتہ انسان کو خلیفہ تسلیم کرتے ہیں۔ حالانکہ خدا نے اپنے ہاتھوں سے اس کو معزول کر دیا ہے اور اپنی حکمت بالغہ کے ماتحت باوجود صدقات اور دعاؤں کی بھر مار کے بیماری کو ممتد کر دیا ہے۔ تاکہ خبط ابیض خبط اسود سے ممیز ہو جائے۔ جس زبان کی بدولت میاں صاحب موصوف نے سلطان البیان ہونے کا دعویٰ کیا تھا وہ آج نطق اور گویائی سے عاجز ہے۔ جس دماغ نے گونا گوں عقائد ایجاد کئے تھے۔ وہ ذہول ونسیان کا بسیرا ہے جو علماء ایمان بالمخالفت کی رٹ لگا رہے تھے اور ارباب ”پیغام صلح“ پر زبان طعن دراز کر رہے تھے وہ خود ساختہ ”مصلح موعود“ کی عملی معزولی پر انگشت بدنداں اور سربگریباں ہیں۔ کیونکہ ...... خدا کے فرستادہ لیڈر کبھی مجنون اور مفلوج ہو کر نکمے نہیں ہو جاتے۔

فاعتبروا یا اولو الابصار

لو تقول کی آیت کے ماتحت خدائی گرفت

مندرجہ بالا مضمون کے آخری پیرا کے جواب میں خلافت مآب کے برادر خورد

٨

صفحہ ١٦١

مرزا بشیر احمد نے جو کچھ لکھا وہ بروایت ”الفضل“ مورخہ ١٥؍ اکتوبر ١٩٢١ء میں حسب ذیل ہے: ”باقی رہا حضرت خلیفہ المسیح الثانی کی موجودہ بیماری کا سوال سو حضرت میاں صاحب موصوف نے اپنے اس مضمون میں یہ بھی واضح کر دیا تھا کہ یہ ایک بشری لازمہ ہے جو حضور کی مظفر و منصور زندگی اور نصرت من اللہ کے مقام کو ہرگز مشکوک نہیں کر سکتا اور ساتھ ہی یہ وضاحت بھی کر دی تھی کہ یہ بیماری بھی پندرہ سولہ سال کی ایسی شاندار اور کامیاب زندگی کے بعد آئی ہے جو ہر بد باطن معاند کا منہ بند کرنے کے لئے کافی ہے۔“

اس سے صاف ظاہر ہے کہ مرزا بشیر احمد کے نزدیک خلیفہ صاحب کی موجودہ بیماری ایک بشری لازمہ ہے اور ان کی پندرہ سولہ سال کی شاندار کامیاب زندگی کے ہوتے ہوئے ’لَو تَقَوَّلَ ..... الخ “ کی آیت کے ماتحت خدائی گرفت کا نتیجہ نہیں۔ لیکن مسیح موعود کی تحریرات کو اگر بغور پڑھا جائے تو ان سے صاف طور پر پتہ لگتا ہے کہ ایک سچے ملہم اور مامور کی شاندار اور کامیاب زندگی کے علاوہ یہ بھی ضروری ہے کہ اس کے دعوٰی ماموریت پر کم از کم تئیس سال کا عرصہ گزر چکا ہو۔ چنانچہ اربعین نمبر ٣ ص ٨، خزائن ج ١٧ ص ٣٩٣ میں آپ لکھتے ہیں: ”ہزار ہا نامی علماء اور اولیاء ہمیشہ اسی دلیل کو کفار کے سامنے پیش کرتے رہے اور کسی عیسائی یا یہودی کو طاقت نہ ہوئی کہ کسی ایسے شخص کا نشان دے جس نے افتراء کے طور پر مامور من اللہ ہونے کا دعوٰی کر کے زندگی کے تئیس برس پورے کئے ہوں۔“

لیکن آج مرزا بشیر احمد کے نزدیک تئیس برس کی میعاد مدعی ماموریت کے لئے ضروری نہیں ۔ کامیاب زندگی کے سولہ سترہ سال بھی کافی ہیں۔ اس کے بعد اگر مدعی ماموریت کسی ایسی بیماری میں پکڑا جائے جس کو مسیح موعود نے خبیث مرض اور دکھ کی مار قرار دیا اور جس کے لاحق ہونے پر آپ نے ڈوئی کے خاتمہ کو انجام بد قرار دیا تو مرزا بشیر احمد کے نزدیک یہ کوئی ایسی بات نہیں جس کو خدائی گرفت کہا جاسکے۔ بلکہ یہ محض لازمۂ بشریت ہے۔ اگر یہ صحیح ہے تو مسیح موعود کے مندرجہ بالا بیان کو آپ کیا کہیں گے اور ڈوئی کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے کیا اس کا مفلوج ہونا بھی لازمہ بشریت ہی ہے؟ اور مسیح موعود نے جو اس مرض کو اس کے مفتری علی اللہ ہونے کی دلیل ٹھہرایا تھا۔ یہ صحیح نہیں؟ پھر ہم ان سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ کیا وہ کسی ایسے صادق مامور من اللہ کی مثال پیش کر سکتے ہیں جس کو دعوٰی ماموریت کے بعد اس قسم کی امراض لاحق ہوئی ہوں؟ اگر ایک بھی مثال آپ پیش نہیں کر سکتے اور نہ مسیح موعود کی کھلی تحریرات اس کی مؤید ہیں تو خلیفہ کی مرض کو لازمۂ بشریت قرار دے کر ٹال دینا کہاں تک صحیح ہو سکتا ہے؟

٩

صفحہ ١٦٢

قادیانی ”قمر الانبیاء“ کی عتاب کاریاں

الفضل مورخہ ١٩؍ستمبر ١٩٤١ء میں قادیانی حضرت ”قمر الانبیاء“ نے میرے ایک مضمون کا سات ماہ بعد جواب دیا ہے۔ میرے مضمون کو ناپاک لکھا ہے اور حرفِ اوّل سے لے کر آخر تک درشت کلامی کا سہارا لے کر بات بنانے کی کوشش کی ہے۔ عادت مستمرہ کے مطابق میرے مضمون کا کوئی فقرہ نقل تک نہیں کیا۔ مبادا ”ناپاک“ ہونے کا الزام طشت از بام ہو جائے۔ اگر ”قمر الانبیاء“ کا لہجہ نرم اور مصالحانہ ہوتا تو مجھے نہ صرف حیرت ہوتی بلکہ صدمہ بھی ہوتا۔ کیونکہ اس سے میرا سارا نظریہ باطل ہو جاتا۔ ان کے مضمون کا لب و لہجہ اس آب و ہوا کی غمازی کرتا ہے جس میں انہوں نے گذشتہ نصف صدی تربیت حاصل کی ہے۔ اربابِ پیغام صلح اور ان کے زعماء کرام ان کی تلخ نوائی کے خوگر ہو گئے ہیں۔ جب بھی الفضل میں پیغام صلح کے خلاف سب و شتم کا نعرہ بلند ہوا تو ادھر سے جو جواب ملا وہ بقول غالب یہ تھا؎

کتنے شیریں ہیں تیرے لب کے رقیب گالیاں کھا کے بے مزہ نہ ہوا

پیغام صلح کی اسی درخشندہ روایت کا دامن تھام کر میں ”قمر الانبیاء“ کی عتاب ناک درشت کلامی کے جواب میں چند معروضات پیش کروں گا۔ ان میں جواب آں غزل کا اندازہ نہیں۔ کیونکہ مجھے اس صلب کا احترام مقصود ہے۔ جس سے مکرم مضمون نگار کا تعلق ہے۔ اگرچہ انہوں نے اپنے صلیبی رویّے سے اس مقدس صلب کی تقدیس کو بھی ملحوظ نہیں رکھا۔ ہاں! سخن گسترانہ انداز میں یہ ضرور کہوں گا؎

شعلوں کا تو کیا ذکر کہ بدنام ہیں شعلے شبنم میں شراروں کی جلن دیکھ رہا ہوں

اپنے مضمون میں انہوں نے مجھے کیا سمجھ کر کیا کچھ کہہ ڈالا۔ اس کے متعلق عرض ہے۔

سخن شناس نہ دلبر، خطا ایں جا است

قمر الانبیاء نے خلیفہ اوّل کو محبوب امام تسلیم کیا ہے۔ حالانکہ ١٩٥٦ء میں اسی مہینے میں انہوں نے خلیفہ اوّل کو اپنے مصلح موعود سے کہتر قرار دیا تھا اور اس کی تصدیق میں قرآن کریم کی آیت: ”فضلنا بعضہم علی بعض“ نقل کر دی تھی۔ حالانکہ اس آیت کا اشارہ انبیاء کی طرف ہے اور اس میں تقابل کی ممانعت مضمر ہے۔ کیا محبوب امام کے ساتھ یہ سلوک ہونا چاہئے۔ اسی پر بس نہیں کی۔ مکرم مضمون نگار نے خلیفہ اوّل کی اولاد میں سے ایک کو تلقین فرمائی کہ وہ مصلح موعود کی

١٠

صفحہ ١٦٣

برتری اور افضلیت پر مضمون شائع کر کے اپنی جان بخشی کا سامان کرے۔ جب انکار ہوا تو اس سے اپنی ہستی کے لئے جواز نکالا گیا۔ اوّل تو خلیفہ اوّل کی کوئی یادگار قائم نہیں ہوئی جو تھی نور ہسپتال تھا۔ ربوہ (چناب نگر) میں اس کا فضل عمر ہسپتال کے نام سے احیاء کیا گیا۔ قمر الانبیاء کو خوب یاد ہوگا کہ جب جماعت کی طرف سے اس دلآزار ترمیم پر استفسار ہوا تو مصلح موعود نے کس لب ولہجے میں خلیفہ اوّل کے متعلق بات کی۔ پھر مولوی صاحب کی شان میں ایک سالانہ جلسے میں گہر باری کی۔ اس سے عیاں ہے کہ یہ لوگ مولوی صاحب کو جماعت میں کیا درجہ دیتے ہیں۔ حالانکہ مسیح موعود نے خلیفہ اوّل کو عبقری کہا ہے۔ میر محمد اسحاق مرحوم کی روایت ہے کہ حضور کی زندگی میں مولوی صاحب سخت بیمار ہوئے۔ مرض نے مہلک صورت اختیار کر لی۔ حضور خود علاج کرتے تھے۔ جب کوئی فائدہ نظر نہ آیا تو اماں جان نے رقت کے لہجے میں حضور سے کہا کہ وہ دعا کریں کہ مولوی عبدالکریم کے بعد یہ سلسلے کے بڑے ستون ہیں۔ اس میں کوئی تقابل کا پہلو نہ تھا۔ پھر بھی مسیح موعود نے فرمایا کہ مولوی نور الدین ہزار مولوی عبدالکریم سے بھی بڑا ہے۔ کسی مرشد نے اپنے مرید کی وہ تعریف نہیں کی جو امام الزمان نے مولوی نور الدین کی کی ہے۔ کیا میاں محمود احمد اور ان کے برادر خورد نے اس کیفیت کو کبھی پیش نظر رکھا؟ مسیح موعود احمدیت کی روح تھے اور مولوی صاحب اس کی ضمیر، وہ ایک بارش کے قطرے کی طرح دریائے معرفت میں گرے۔ اپنی بے بضاعتی کا اقرار کیا۔ اس انکسار پر آسمانی صدف نے اپنی آغوش کو وا کر دیا اور یہ قطرہ در شہوار بن کر احمدیت کی زینت بن گیا۔ لیکن اس کے بعد ان کی تصانیف کو نسیاً منسیاً کیا گیا۔ پھر یہی عتاب ان کی صلبی تصانیف پر نازل ہوا۔ اس پر بھی دعوٰی ہے کہ مولوی صاحب کو اپنا محبوب امام تسلیم کرتے ہیں اور جماعت لاہور کے خلاف گلہ ہے کہ وہ مرکز سے ہٹ گئی ہے اور بزرگوں کا احترام نہیں کرتی۔

کھلی ہوتی ہیں آنکھیں مگر بینا نہیں ہوتیں

خلافتی استبداد کے ماتحت مسیح موعود کے دعاویٰ کی تحریف کی گئی۔ ایک آہنی آمرانہ نظام کی تخلیق ہوئی۔ جس کے بل بوتے پر خاص قسم کے عقائد کو منوایا گیا۔ چونکہ سکہ رواں تھا۔ مصلح موعود کے دعوٰی کا اعلان بھی ١٩٤٤ء میں ہو گیا۔ لیکن تقریباً نصف صدی کے بعد نبوت سے تدریجاً انکار شروع ہو گیا۔ اب انہی تحریروں کو پیش کیا جاتا ہے جو ١٩١٤ء سے جماعت لاہور پیش کرتی رہی ہے۔ تکفیر سے بھی دست کشی بڑے زوروں سے شروع ہے۔ اب مسلمانوں کے اسلام کو بھی تسلیم کیا جارہا ہے۔ کیا اس تغیر و تبدل سے جماعت لاہور کے عقائد کی سرخروئی ثابت نہیں ہوتی۔ اس

١١

صفحہ ١٦٥

لئے جو کچھ اس کے خلاف لکھا گیا صریحاً ناروا تھا۔ راقم الحروف کے مضمون کا مفاد صرف اتنا ہے کہ مسیح موعود کی تعلیم کا صحیح چہرہ اب افق پر ابھر رہا ہے۔ جس قوت نے مؤکد بعذاب قسمیں اٹھا اٹھا کر آپ پر افتراء باندھے اور دعویٰ الہام کے ماتحت مصلح موعود کے منصب پر تسلط جمایا۔ وہ اب بطش شدید گرفت میں ہے۔

جب ١٩٤٤ء میں مکرم خلیفہ صاحب نے مصلح موعود ہونے کا دعویٰ کیا تو انہوں نے اور ان کی جماعت نے سمجھ لیا کہ اب جماعت لاہور اور اس کا مسلک ہباء منثورا ہو جائے گا۔ چونکہ یہ خانہ ساز بات تھی اور خدا کی طرف منسوب ہو رہی تھی۔ اس کے نتائج کے رونما ہونے کے لئے ایک معیاری میعاد کی ضرورت تھی۔ وہ ہے ٢٣ سال۔ یہ اس لئے کہ حضرت سرور کونین ﷺ کے دعویٰ رسالت کے بعد ٢٣ سال تک رونق بزم حیات رہے۔ اسی طرح مفتری کہنے والوں کی ضلالت عریاں ہوئی۔ اب ”قمر الانبیاء“ نے اس مسلّمہ مسئلے سے بھی روگردانی فرمائی ہے اور فرماتے ہیں کہ چونکہ مصلح موعود اپنے دعویٰ کے بعد پندرہ سال کے اندر مبتلاء مرض نہیں ہوئے۔ اس واسطے ان پر قرآنی دفعہ قطع وتین کا اطلاق نہیں ہوتا۔ یہ پندرہ سال کی میعاد پر اصرار، بوکھلائے ہوئے دماغ کا کرشمہ ہے۔ کیونکہ اس کی تائید میں کوئی سند نہیں پیش کی گئی۔ محض تربص وامہال کے عقیدہ سے انکار کر دیا ہے۔ ”قمر الانبیاء“ نے مصلح موعود کی موجودہ مرض سے پہلے پندرہ سالوں کو مبارک دور قرار دیا ہے۔ اس دور میں جو برکات نازل ہوئیں ان میں پہلی برکت تو یہ ہے کہ مصلح موعود خود قادیان سے پاکستان خیریت سے پہنچے۔ لیکن وہ کیا دعویٰ کرنے کے بعد قادیان سے آئے اور کس روپ میں تشریف لائے۔ برکت کے اس پہلو کو اجاگر کرنا مکرم مضمون نگار بھول گئے ہیں۔ پھر انہیں پندرہ سال میں انہوں نے تبلیغ احمدیت سے دستبرداری کا اخبارات میں اعلان کیا۔

ایک روایت کے مطابق ایک اسلامی جماعت کے لیڈر سے بالواسطہ استفسار کیا کہ وہ اپنے عقائد میں کتنی ترمیم کریں کہ مسلمان مطمئن ہو جائیں۔ اسی دور مسعود میں احمدیت کی اصطلاح کو ساقط کرنے کے ارادہ کا اعلان بھی ہوا۔ تاکہ حکومت وقت اور علماء خوش ہو جائیں۔ پھر غیر معمولی نصرت کا اور پہلو یہ بھی ہے کہ عدالت میں اعلان کیا کہ مسیح موعود کا ماننا جزو ایمان نہیں ہے۔ اس اعلان کے بعد بھی یہ کتنا اعجوبہ روزگار دعویٰ ہے کہ جماعت قادیان کو جو ایمان اور محبت مسیح موعود سے ہے وہ جماعت لاہور کو نہیں۔ حالانکہ موخرالذکر جماعت نے کبھی یہ اعلان نہیں کیا کہ مسیح موعود کو ماننا ضروری نہیں۔ اب قمر الانبیاء خود ہی فیصلہ فرمائیں کہ کس جماعت کا مسیح موعود

١٢

کے ساتھ گہرا تعلق ہے اور کس جماعت نے اس ت ہے۔ ١٩٥٤ء میں بقول قمر الانبیاء جو خطرناک آگ کس نے جان بچانے کے لئے عقائد کا سودا کیا خارج ہو کر امام الزمان کی غلامی سے محروم ہونے ک سرِمو انحراف کیا تھا۔ لیکن جب اپنے تسلیم کرنے ک مرعوب ہو کر ان کی منسوخی کا اعلان کر دیا ۔

یہ شہادت گہ الفت میں قدم رکھنا ہے

خدا گواہ ہے کہ مکرم خلیفہ صاحب کی بیما یہ شیوہ و شعار ارباب ربوہ (چناب نگر) کا ہے کہ و حاصل کرتے ہیں۔ کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ان کے خلا موت سے دوچار ہوتے ہیں۔ چونکہ خلیفہ صاحب م ہونے پر سزا کی استدعا کی۔ اس لئے ان کی موجو قیادت کے ابتدائی فرائض ادا کرنے سے قاصر و عاج

جناب ”قمر الانبیاء“ اور ان کے ہمنواؤں لئے اس علم الکلام کا سہارا نہ لینا چاہئے۔ جس سے کیونکہ ان کے پیروکار آج تک یہ تسلیم نہیں کرتے ک مدعی مسیح موعود کے قول مبارک کے مطابق فالج گر بھی دستخط تو کر لیتا ہوگا۔ اس کی سزا تو یہ تھی کہ فالج پر یہ عذاب نازل ہوا تھا۔ پیش گوئی میں مصلح موعود ک السماء “ کہا گیا۔ نیز یہ بھی فرمایا گیا ہے کہ خد ہے کہ ایسی پیش گوئی کا مصداق کسی ایسی مرض میں جائے ۔ جو نفس قدسی خدا کے عطر سے ممسوح ہوگ آسمان سے اس واسطے نازل ہو کہ خدا کے دین کا چینی اور بے قراری کی نذر ہو کر رہ جائے۔ ویسے ت کہ نسیان نبوت کے منافی نہیں ہے۔ حالانکہ نبوت

٣

صفحہ ١٦٥

کے ساتھ گہرا تعلق ہے اور کس جماعت نے اس تعلق کو سیاست کے تابع رکھ کر اس کی اہانت کی ہے۔ ١٩٥٤ء میں بقول قمرالانبیاء جو خطرناک آگ مشتعل ہوئی۔ اس میں کس کا ایمان راکھ ہوا۔ کس نے جان بچانے کے لئے عقائد کا سودا کیا سینکڑوں احمدی اس پاداش میں جماعت سے خارج ہو کر امام الزمان کی غلامی سے محروم ہوئے کہ انہوں نے مصلح موعود کے تجویز کردہ عقائد سے سرمو انحراف کیا تھا۔ لیکن جب اسے تسلیم کرنے کا موقعہ آیا تو محض اندیشہ ہائے دور دراز سے مرعوب ہو کر ان کی منسوخی کا اعلان کر دیا ۔

یہ شہادت گہ الفت میں قدم رکھنا ہے لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلمان ہونا

خدا گواہ ہے کہ مکرم خلیفہ صاحب کی بیماری پر ہم میں سے کسی کو کوئی انتقامی خوشی نہیں۔ یہ شیوہ و شعار ارباب ربوہ (جناب قمر) کا ہے کہ وہ مخالفین کی مرض اور مرگ سے گوناں مسرت حاصل کرتے ہیں۔ کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ان کے خلافتی نظام کے انکار کی پاداش میں لوگ مرض اور موت سے دوچار ہوتے ہیں۔ چونکہ خلیفہ صاحب مکرم نے ایک دعویٰ کیا اور خدائے قہار سے جھوٹا ہونے پر سزا کی استدعا کی۔ اس لئے ان کی موجودہ بیماری جب کہ وہ دینی اور دنیوی امور میں قیادت کے ابتدائی فرائض ادا کرنے سے قاصر و عاجز ہیں۔ ایک فرقانی پہلو رکھتی ہے۔

جناب ”قمرالانبیاء“ اور ان کے ہمنواؤں کو اس بصیرت افروز بیماری پر پردہ ڈالنے کے لئے اس علم الکلام کا سہارا نہ لینا چاہئے۔ جس سے آتھم اور ڈوئی کا انجام مشتبہ ہو کر رہ جائے۔ کیونکہ ان کے پیروکار آج تک یہ تسلیم نہیں کرتے کہ ان پر کوئی آسمانی تعزیر نازل ہوئی۔ آخر ڈاکٹر ڈوئی مسیح موعود کے قول مبارک کے مطابق فالج گرنے کے بعد تختے کی مانند سٹیج پر لایا جاتا تھا اور وہ بھی دستخط تو کر لیتا ہوگا۔ اس کی سزا تو یہ تھی کہ فالج کے بعد وہ کچھ نہ کر سکا۔ جس کی پاداش میں اس پر یہ عذاب نازل ہوا تھا۔ پیش گوئی میں مصلح موعود کو ”مظہر الحق والعلیٰ كان الله نزل من السماء“ کہا گیا۔ نیز یہ بھی فرمایا گیا ہے کہ خدا اس کو اپنے عطر سے ممسوح کرے گا۔ کیا یہ ممکن ہے کہ ایسی پیش گوئی کا مصداق کسی ایسی مرض میں مبتلا ہو جائے۔ جس سے وہ بالکل ناکارہ ہو کر رہ جائے۔ جو نفس قدسی خدا کے عطر سے ممسوح ہوگا۔ کیا وہ ذہول اور نسیان کا شکار ہو سکتا ہے جو آسمان سے اس واسطے نازل ہو کہ خدا کے دین کا بول بالا کرے۔ کیا یہ گوارہ ہو سکتا ہے کہ وہ بے چینی اور بے قراری کی نذر ہو کر رہ جائے۔ ویسے تو قمرالانبیاء نے ایک مضمون میں اعلان کر دیا تھا کہ نسیان نبوت کے منافی نہیں ہے۔ حالانکہ نبوت سے نسیان کے امکان کی بھی نفی ہو جاتی ہے۔

١٣

صفحہ ١٦٦.

ایک سانس میں یہ اعلان ہوتا ہے کہ مسیح موعود کا ماننا جزو ایمان نہیں۔ دوسرے سانس میں ایمان بالخلافت کا عقیدہ تراش لیا جاتا ہے کہ وہ ایمان ایک ایسی ہستی کے ساتھ وابستہ کر دیا جاتا ہے جو مجبور و معذور ہے۔ کہاں یہ دعویٰ کہ خلیفہ مکرم، حضرت فاروق اعظمؓ سے افضل ہیں۔ کہاں یہ کہ موجودہ معذوری میں محض دستخط ہی کر سکنا کافی سمجھ لیا گیا ہے۔ قمر الانبیاء نے تاریخ کا سہارا لیا ہے کیا وہ بتا سکتے ہیں کہ تاریخ میں کوئی ایسا وجود بھی ہوا ہے جو خدا کا فرستادہ ہو اور اس کا ماننا ضروری ہو۔ لیکن وہ عمر کے ایک حصے میں بالکل ناکارہ اور نکما ہو کر رہ گیا ہو، اور اس کی حالت بقول قرآن مجید ”لا یموت ولا یحییٰ“ کی مصداق ہو کر رہ گئی ہو۔ یہ ٹھیک ہے۔ انبیاء اور اولیاء بیمار ہوتے ہیں۔ لیکن وہ کبھی نکمے ہو کر نہیں رہ جاتے۔ کیونکہ یہ سراسر خدا کی سنت کے خلاف ہے۔

یہ تو قمر الانبیاء کو مسلم ہے کہ ان کے مصلح موعود کو فالج کا مرض لاحق ہے۔ وہ اس سے بھی انکار نہیں کر سکتے کہ مسیح موعود (مرزا) نے فالج کو دکھ کی مار اور خبیث مرض کہا ہے اور ان کا عقیدہ تھا کہ یہ مرض اہل اللہ کو نہیں لگتی۔ بلکہ خدا کے دشمن اس کا شکار ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مامور زماں نے اپنے دشمنوں کے لئے دعا کی کہ خدا ان کو مفلوج اور مجنون کرے تاکہ حق و باطل میں تمیز ہو جائے۔ اس لئے حضرت اقدس کے مشن کا موجود حامل اس مرض کا کیسے شکار ہو سکتا ہے۔ اگر اس کو یہ خبیث مرض لاحق ہو گیا ہے تو یہ اس بات کا بین ثبوت ہے کہ اس کو خدا کے نزدیک حضرت اقدس کے مشن سے نہ صرف واسطہ ہی نہیں۔ بلکہ اس کے وجود سے اس مشن کو نقصان کا اندیشہ ہے۔ اس ایک دلیل سے موعودیت الف لیلوی داستان باطل ہو کر رہ جاتی ہے۔ شاید وہ ان بودی دلیلوں سے یہی ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ یہ ایک خدائی نشان ہے کہ قادیانی آمرانہ نظام کے شکمی انقراض سے مامورانہ مشن کے تقدس کی تصدیق ہو رہی ہے۔ کیونکہ یہ نظام جذام بن کر مشن کی روح کو مجروح کر رہا تھا۔ خلافتی استبداد سے روحانی استعداد مٹ رہی تھی۔ ١٩١٤ء سے یہ نعرہ لگ رہا تھا کہ انجمن کی کوئی حیثیت نہیں۔ سب کچھ خلیفہ ہی کی ذات ہے۔ اس تیزابی عقیدہ نے جماعت کی وحدت کو پھاڑ دیا۔ اس کی تقویت کے لئے ایک اور عقیدہ بروئے کار آیا کہ خلیفہ معزول نہیں ہوسکتا۔ اب خلیفہ صاحب مکرم کی ہوش ربا علالت نے ان عقائد کے تار و پود بکھیر دیئے ہیں۔ ان کی زندگی میں نگران کمیشن ربوہ (چناب نگر) میں بن گیا ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ اصل چیز انجمن ہی ہے۔ کیونکہ کمیشن کے پس منظر میں انجمن کا نظریہ ہی کارفرما ہے۔ اسی لئے خلیفہ صاحب کی عملی معزولی کا راز بھی افشاء ہو گیا ہے۔ گویا خدا نے جماعت سے خلیفہ صاحب کو معزول کرایا ہے۔ اس

١٤

پر طرہ یہ کہ اس کمیشن کے خالق اور صدر ”خو میں زجر و توبیخ کا نشانہ بنے رہتے تھے اور استعمال ہوتے تھے۔ اب خلیفہ صاحب کی جا رہے ہیں اور اپنے لئے زمین ہموار کرنے تاکہ جماعت ان کے لئے دیدہ براہ اور گو آسان ہے۔ لیکن اس سے کوئی مسئلہ حل نہیں کاریوں سے اجتناب کی صورت پیدا ہو سکے

کار ذاتی سے ہیں عاجز پاکبازانِ جہاں

روشن حقائق کے خلاف

رگ و پے میں جب اترے زہر تعصب دیکھتے کیا ہو

چشم فسوں گر کا اشارہ پا کر ”الفض ٤ اکتوبر ١٩٦٠ء میں شائع ہوا۔ ”ایک اور نا اپنے الزام کے اثبات میں میرے مضمون کا نقل کرنے کے بعد ناپاک کہنے کی جرأت بھی ”پیغام صلح“ والے مضمون کو پڑھنے کی جستجو نہ ہونے والے آقائے ولی نعمت کے افکار پریش ہوا ہے کہ وہ اداریہ بھی میاں بشیر احمد کا رقم فرم اور دلائل کے فقدان کا کج کلامی سے مداوا کی

اتنا کہاں بہار کی رنگینوں میں جوش

الفضل نے واعظانہ کلوخ انداز ک موعود کے الہاموں کو ہنسی کا نشانہ نہ بناؤ۔“

حالانکہ میرے معروضات کا مفاد تحقیر ہوتی ہے۔ اس احتجاج کو یہ کہہ کر تسلیم کر دعویٰ کیا تھا۔ گویا اس غلط اطلاق سے جو کئی سا صاحب نے خود اپنے الفاظ میں دستبرداری ک

صفحہ ١٦٧

پر طرہ یہ کہ اس کمیشن کے خالق اور صدر ”خود قمر الانبیاء“ ہیں۔ جو خلیفہ صاحب کی ہوش کی زندگی میں زجر و توبیخ کا نشانہ بنے رہتے تھے اور ان کی انبساط کے لئے گونا گوں القاب خطبوں میں استعمال ہوتے تھے۔ اب خلیفہ صاحب کی طویل علالت کے صدقے ..... وہ کرتا دھرتا بنے جارہے ہیں اور اپنے لئے زمین ہموار کرنے کی خاطر آڑے ترچھے مضمون رقم فرماتے رہتے ہیں تاکہ جماعت ان کے لئے دیدہ براہ اور گوش برآواز ہو جائے۔ دوسروں کا سنگین احتساب بڑا آسان ہے۔ لیکن اس سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہوتا۔ کبھی کبھار اپنے نفس کا محاسبہ بھی ہو تو شاید عتاب کاریوں سے اجتناب کی صورت پیدا ہو سکے۔ لیکن بقول شاعر

کار ذاتی سے ہیں عاجز پاکبازان جہاں اپنے منہ کی گرد پانی آپ دھو سکتا نہیں

روشن حقائق کے خلاف الفضل کا دشنام آمیز احتجاج

رگ پے میں جب اترے زہر تنقید کہتے کیا ہو ابھی تو تلخیئے کام و دہن کی آزمائش ہے

چشم فسوں گر کا اشارہ پا کر ”الفضل“ نے میرے تفصیلی مضمون کو جو پیغام صلح مورخہ ٤؍ اکتوبر ١٩٦٠ء میں شائع ہوا ۔ ”ایک اور ناپاک مضمون“ قرار دیا ہے۔ عادت مستمرہ کے مطابق اپنے الزام کے اثبات میں میرے مضمون کا ایک لفظ تک نقل نہیں کیا۔ کیونکہ وہ کوئی ایک مکمل فقرہ نقل کرنے کے بعد ناپاک کہنے کی جرات نہیں کر سکتا۔ اس کو یہ بھی پورا یقین تھا کہ کسی قادیانی کو ”پیغام صلح“ والے مضمون کو پڑھنے کی جستجو نہیں ہو گی۔ جو کچھ ”الفضل“ نے رقم فرمایا ہے وہ اپنے ہونے والے آقا یعنے ولی نعمت کے افکار پریشان کا بے ربط اعادہ ہے۔ معتبر ذرائع سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ وہ اداریہ بھی میاں بشیر احمد کا رقم فرمودہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس میں حقائق سے فرار ہے اور دلائل کے فقدان کا تلخ کلامی سے مداوا کیا گیا ہے۔

اتنا کہاں بہار کی رنگینیوں میں جوش شامل کسی کا خون تمنا ضرور ہے

الفضل نے واعظانہ کلوخ اندازی بھی کی ہے۔ اس نے فرمایا ہے: ”خدا سے ڈرو اور مسیح موعود کے الہاموں کو ہنسی کا نشانہ نہ بناؤ۔“

حالانکہ میرے معروضات کا مفاد یہ تھا کہ غیر صالح اطلاق سے حضور کے الہاموں کی تحقیر ہوتی ہے۔ اس احتجاج کو یہ کہہ کر تسلیم کر لیا گیا کہ صاحبزادہ صاحب نے قمر الانبیاء ہونے کا کب دعویٰ کیا تھا۔ گویا اس غلط اطلاق سے جو کئی سالوں سے ہو رہا تھا۔ تحاشی کی گئی ہے۔ اگرچہ صاحبزادہ صاحب نے خود اپنے الفاظ میں دستبرداری کا کوئی اعلان نہیں کیا۔ کیونکہ ایک جلسے میں ان کی تقریر

١٥

صفحہ ١٦٨

بعنوان ”ذکر حبیب“ کے موقعہ پر ایک ہمہ گیر شہرت والے احمدی صدر نے یہ اعلان فرمایا تھا کہ ان کو قمر الانبیاء کی تقریر کی صدارت کی سعادت نصیب ہوئی ہے۔ اس وقت صاحبزادہ صاحب نے اس اعلان کی نفی نہیں کی تھی۔ بلکہ مصداق بنے بیٹھے رہے۔ جب راقم الحروف نے احتجاج طبع کیا تو اس پر الفضل نے یہ فرمایا: ”اگر تمہاری خوشی اور تمہارے دل کی تسلی اسی میں ہے تو تم بے شک اس الہام کو کالے چور پر چسپاں کر لو۔ مگر خدا کے لئے مسیح موعود کے ایک الہام کو ہنسی کا نشانہ نہ بناؤ۔“ گویا اولاد مبشرہ پر اطلاق سے تو اس الہام کی تضحیک ہوتی ہے اور کالے چور پر چسپاں کرنے کی ”الفضل“ نے کھلی چھٹی دے دی ہے۔ ”دراز دستی کوتاہ آستیناں بیں“ اگر پہلی بات ہے تو اس کے مجرم ارباب ربوہ (چناب نگر) اور ان کے احبار و رہبان ہیں۔ جنہوں نے قمر الانبیاء والے الہام کو صاحبزادہ صاحب پر چسپاں کئے رکھا۔ اب کالے چور پر اطلاق کے خلاف ان کو کوئی حرج نہیں معلوم ہوتا۔ یہ تقابل کتنا لچر اور اذیت ناک ہے۔ عجب تر بات یہ ہے کہ اب صاحبزادہ صاحب کو اپنے مصداق ہونے میں اس عظیم الشان الہام کی تحقیر نظر آنے لگی ہے۔ لیکن ان کے نزدیک کالے چور کی پھبتی سے استخفاف کا کوئی اذیت ناک پہلو نہیں نکلتا۔ ان کے توقیر کے پیمانے دنیا سے نرالے ہیں۔ انہوں نے ١٩٥٩ء میں برادر اکبر کے روز افزوں جنون کی پردہ داری کرنے میں نسیان کا نبوت سے ناطہ جوڑا، صلح حدیبیہ کو شدید ہزیمت قرار دیا۔ حالانکہ از روئے قرآن کریم سرور کائنات کی یہ فتح مبین تھی۔ اس ذریت طیبہ نے مسیح موعود کی پہلی اہلیہ کو ”بجّے کی ماں“ کہہ کر احمدیت کا مؤرخ ہونے کا لقب پایا۔ الفضل نے میرے مضمون کو ناپاک قرار دیا ہے۔ حالانکہ اس میں مسیح موعود کی عظمت اور رفعت اور ان کے مشن کے تقدس کا ذکر کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی خلیفہ اول کی بزرگی اور برتری کا تذکرہ ہے۔ کیونکہ جادوئے محمود کی تاثیر سے اسی فلک پیما بزرگ اور فقید المثال عالم کے ایمان افروز محاسن جماعت سے اوجھل ہو کر جماعت کے سوادِ اعظم میں تیرگی اور خیرگی کا سماں پیدا کر رہے ہیں۔ ایسے تذکرے کو ناپاک کہنا زَیغِ نظر، عَمَاوۃ بصر اور وقرِ اذن کا دردناک مظاہرہ ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اب قادیانی جماعت میں خلیفہ اوّل کا ذکر کرنا ایسا ہی ہے جیسے قبرستان میں کوئی اذان دے۔ میرا مضمون ان کے لئے آئینہ حقیقت نما ثابت ہوا۔ انہوں نے اس کو ناپاک کہہ دیا جس طرح ایک زنگی نے آئینے میں اپنی شکل دیکھتے ہی اس کو ناپاک کہہ کر پھینک دیا تھا۔ اب میں یہی کہہ سکتا ہوں؎

یارب وہ نہ سمجھے ہیں نہ سمجھیں گے میری بات دے اور دل ان کو جو نہ دے مجھ کو زباں اور

میرے مضامین کی محرک ایک بات ہے وہ یہ کہ اب ربوہ (چناب نگر) میں فکر گستاخ

١٦

صفحہ ١٦٩

کے بطن سے ایسی بجلیاں نکل رہی ہیں۔ جن سے نظر بظاہر احمدیت کا نشیمن خطرے میں ہے۔ چونکہ ارباب اقتدار نے مقدس مشن کو اپنی آرزوں اور امنگوں کا تابع مہمل بنا دیا ہے۔ اس واسطے اس محرک اور متحرک سلسلہ پر جمود اور خمود طاری ہے۔ اس لئے دلسوزی کا تقاضہ تھا کہ ان کے افکار وافعال کو کاغذی پیرہن میں پیش کیا جائے تاکہ ”ساءت مستقراً ومقاماً“ اور ”حسنت مستقراً ومقاماً“ میں تمیز نمایاں ہو جائے۔ جس طرح قمر الانبیاء والے الہام سے ان لوگوں نے اب توبہ کر لی ہے۔ وہ مصلح موعود والے الہام کی عظمت اور عصمت کا خیال کرتے ہوئے اس کو اس ”وجود قدسی“ پر چسپاں نہ کریں۔ جو ایک طویل عرصے سے موت اور زندگی کے برزخ میں ہے۔ لیکن بوقلموں پروپیگنڈے کے بل بوتے پر ان کے احبار و رہبان نے اس عظیم الشان الہام کو ایک ایسے نقش پر چسپاں کر رکھا ہے جس کی اپنی ہوش کے زمانہ میں یہ حالت تھی کہ اس کے اجالے داغ داغ ۔ اس کی سحر شب گزیدہ اس کی خلوتیں اس کی جلوتوں سے خائف اور جلوتیں اس کی خلوتوں سے ہراساں تھیں۔ لیکن اب جب کہ وہ معمولی بشری تقاضوں کو پورا کرنے سے بھی عاجز و درماندہ ہے اور خود جماعت نے ہونے والے خلیفہ کے ایماء پر اس کو معذور سمجھ کر عملاً معزول کر دیا ہے۔ اس کو مسیح موعود کے الہاموں کا مصداق مانتے چلے جانا ان کو ”الفضل“ کے الفاظ میں ہنسی کا نشانہ بنانا ہے۔ کیا مسیح موعود (مرزا) نے ایسے ہی آدمی کے لئے پیش گوئیاں کی تھیں؟ یا کیا اب اللہ تعالیٰ نے دنیوی حکومتوں کی طرح اس کو سولہ سال کے بعد ریٹائر کر دیا ہے۔ اس کیفیت کو دیکھ کر ایک عامی بھی فیصلہ کر سکتا ہے کہ حق پوش کون ہے اور حق کوش اور خادم دین کون؟

”الفضل“ نے اپنے آقائے ولی نعمت کے نقش قدم پر چل کر ”مصلح موعود“ کے علمی ودینی اور تبلیغی کارناموں کا ذکر کیا ہے۔ لیکن نہ اس نے کبھی پہلے تفصیل دی ہے نہ اب۔ اگر واقعی کوئی نیک کارنامہ سرانجام پایا ہے تو خدا جو ذرہ نواز ہے وہ مصلح موعود کو ان کی دعا کے مطابق ان کو کام کرنے والی زندگی عطاء کرتا، نہ کہ ایسے امراض میں مبتلا کر دیتا جن کو اس کے مسیح نے خبیث امراض قرار دیا ہے۔ کیا خدا کو اپنے دین کی خدمت عزیز نہ تھی؟ اگر خلافت ربوہ شاخ مثمر ہوتی تو باغبان اس کو کبھی خشک نہ ہونے دیتا۔ اس کے اثبات میں ہمارے سامنے مسیح موعود کی درخشندہ سنت موجود ہے جنہوں نے اپنی بیماریوں کے باوصف اعداء کو یہ چیلنج دیا تھا۔

اے آنکہ سوئے من بہ دویدی بصد تجبر از باغباں بترس کہ من شاخ مثمرم

مامور کی مسیحی شان کا تقاضا ہے کہ اس کے مشن کا حامل اور عامل نکما ہو کر نہ رہ جائے۔ ان کو خود آخری عمر میں انوار الوہاب سے خدا نے نوازا۔ ان کی آنکھوں کو اپنے نور سے منور کیا۔ اسی

١٧

صفحہ ١٧٠

سنت الٰہی کا تقاضا تھا کہ قادیانی دوستوں کے مصلح موعود بھی اسی سلوک سے سرفراز ہوتے۔ اگر وہ مقدس تحریک کے صحیح سربراہ ہوتے۔ اب جب کہ خدا نے ان کے ساتھ یہ سلوک نہیں کیا اور وہ نہ صرف بیمار ہی نہیں بلکہ بیکار بھی ہیں۔ ان کو ”مظہر الحق والعلاء کان الله نزل من السماء“ کہنا اس پر جلال الہام کا ایسا استخفاف ہے جو خدائی تقدیر کو دعوت دے رہا ہے اور خلیفہ صاحب مکرم کی مرض کو ممتد کر رہا ہے تاکہ ان کی زندگی میں خدا اسیران فریب پر یہ واضح کردے۔

جو شاخ نازک پہ آشیاں بنے گا وہ ناپائیدار ہوگا

قادیانی احباب اور ان کے اخبار کا یہ کہنا کہ: ”حضرت مصلح موعود“ پر پندرہ سال تک کوئی گرفت نہیں ہوئی یا مسیح موعود کی ایک عبارت کا حوالہ دینا جس میں انہوں نے فرمایا ہے کہ ان کے دعویٰ کے گیارہ سال بعد بھی ان کو خدا کی تائید حاصل ہے۔ کیا اس سے وہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ حضور نے کوئی خاص میعاد مقرر کی تھی۔ جس میں وہ سرفراز و کامران رہیں گے۔ ان کا چیلنج تھا کہ وہ یوم وصال تک خدا کی گود میں رہیں گے۔ اس لئے انہیں فرمایا تھا۔

کبھی نصرت نہیں ملتی در مولیٰ سے گندوں کو کبھی ضائع نہیں کرتا وہ اپنے نیک بندوں کو

اب اس ترازو میں خلیفہ صاحب مکرم کی موعودیت کو تول کر قادیانی احباب خود فیصلہ فرمالیں کہ ان کو در مولیٰ سے کتنی نصرت حاصل ہے اور وہ کس زمرے میں شمار ہو سکتے ہیں۔ ان کے مزعومہ کارناموں کا ذکر تو اس لئے ہوتا ہے کہ لوگ خود فریبی میں مگن رہیں۔ اس پر یہ شعر صادق آتا ہے ۔

رکھ دیئے مرجھائے ہوئے پھول قفس میں شاید کہ گوارا ہو اسیروں کو اسیری

خدا نے امراض کا ہجوم اس واسطے کیا کہ مکائد کا پردہ چاک ہو جائے۔ لیکن قادیانی رہبان و احبار کی چابکدستی ملاحظہ ہو کہ انہوں نے خدا کی تقدیر پر بھی عنکبوت کی تاروں سے پردہ دری شروع کر دی ہے۔ ایسا ہی جیسے عیسائیوں نے کیا تھا۔ چونکہ ابن اللہ کے شرک افزا عقیدے سے خدا کی وحدانیت پر ضرب پڑتی تھی۔ خدا نے صلیب کا سانحہ برپا کیا۔ عیسائیوں نے کمال عیاری سے اس عبرتناک سانحہ سے کفارہ کا عقیدہ تراش لیا۔ اب خلافت مآب کی علالت پر فریب نظر کے پردے ڈالے جارہے ہیں۔ مبادا سنگین حقائق کے عالم آشکار ہونے سے بیت عنکبوت تار تار ہو جائے۔ چونکہ خلافت مآب نے حق پرستی کے نخلستان کو پیر پرستی کا ریگزار بنا دیا ہے۔ اس میں ان کی موعودیت جلوۂ سراب بنی ہوئی ہے۔ لیکن کب تک؟ انجام کار خدائی تقدیر اس انتباہ کا اعادہ کر کے رہے گی جو ١٩١٥ء میں مسیح موعود کے صحابیوں نے کیا تھا اور بانگ دہل کہا تھا: ”کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ زرکم عیار ہو گا ۔“

١٨

PDF 172

خاتم النبیین لا نبی بعدی

میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں

جماعت احمدیہ

کے

فہمیدہ اصحاب سے

ملک عزیز الرحمن گجراتی

صفحہ ١٧٢

خلیفہ ربوہ کا یہ شیوہ ہے کہ ہر وہ کام جس کو وہ خود سر انجام دیتے ہیں۔ اسے تو شریعت کے مطابق گردانتے ہیں۔ مگر جب وہی کام دوسرے لوگ کریں تو یہ شور برپا کر دیا جاتا ہے کہ یہ کام خلاف شریعت ہے۔ چنانچہ وہ ان افراد کا مکمل سوشل بائیکاٹ اور ان کی جائیدادیں ضبط کر لینے سے قطعاً دریغ نہیں کرتے جو خلیفہ سے بہ تمام انشراح صدر عدم وابستگی کا اعلان کر چکے ہیں۔ مگر جب دوسرے لوگ بھی تبدیلی عقیدہ کی بناء پر ہی ان کو مقاطعہ کا ہدف بناتے ہیں تو ان کے سامنے قرآنی آیت ”لا اكراه فى الدين“ پیش کر کے یہ کہا جاتا ہے کہ ”بائیکاٹ کرنا تو یہودیوں اور کافروں کا شیوہ ہے۔“

(الفضل مورخہ ١٠ جون ١٩٥٦ء)

اسی طرح مرزا محمود احمد اپنے مخالفین کو بدکار وغیرہ کہنے سے خود بھی گریز نہیں کرتے۔ چنانچہ اس ضمن میں ان کی تحریر ملاحظہ ہو ۔ ” وہ مسلمان جو سخت حکومت پر متمکن ہیں اور جو بادشاہت کے دعویدار ہیں اور وہ کسی ملک کی باگ اپنے ہاتھوں میں رکھتے ہیں۔ اوّل درجہ کے بدکار ...... پھر اخلاق اور عادات میں نہایت گندے اور خطرناک قسم کی بدکاریوں میں گرفتار پائے جاتے ہیں۔“

(الفضل مورخہ ١٢ نومبر ١٩١٣ء)

جب اسی طرح خلیفہ قادیانی پر بھی ١٩٢٧ء، ١٩٣٧ء، ١٩٤٧ء اور ١٩٥٦ء میں ہر دس سال بعد تقریباً بعینہ وہی الزام بدکاری کا لگا جس کا ہدف مذکورہ بالا عبارت میں انہوں نے مسلمان بادشاہوں کو بنایا تھا۔ تو خلیفہ صاحب پھر اپنے دکھاوے کے اصول کے مطابق قرآنی آیات پیش کر کے یہ کہنے لگا کہ اس ضمن میں الزام لگانے والوں کو چار گواہ پیش کرنے چاہئیں۔ حالانکہ جب بدکاری کا الزام خود انہوں نے بادشاہوں پر لگایا تھا تو اس وقت انہوں نے چار عینی شاہد پیش کرنے والی آیت کو مدنظر نہ رکھا تھا۔ کیا روحانی راہ نما کو چار عینی گواہوں کے بغیر کسی پر الزام لگانے کی اجازت ہے؟ کیونکہ دوسروں کی طرف سے جب یہی الزام ان پر لگتا ہے تو وہ یہ کہہ دیتے ہیں کہ چار گواہوں کے بغیر الزام لگانا خلاف شریعت ہے۔ چنانچہ اس ضمن میں ہماری طرف سے چار عینی شاہد بھی پیش کرنے کا مطالبہ تسلیم کر لیا گیا اور قادیانی خلیفہ سے پوچھا گیا کہ وہ عدالت بتائیں جس میں ایسے چار عینی شاہد پیش کئے جاسکیں۔ اس پر انہوں نے چپ سادھ لی اور اب تک جواب دینے سے قاصر ہیں۔ مگر ہم نے اس پر اکتفاء نہ کیا۔ بلکہ اس بات کو ثابت کرنے کے لئے دوسرا شرعی طریقہ پیش کر کے خلیفہ کو میدان میں نکلنے کی دعوت دی۔ یہ وہ طریقہ تھا جس کو مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے دنیا کے سامنے آ کر پیش کیا یعنی مباہلہ۔ اسی پر جماعت احمدیہ نے اپنی سچائی کی اساس رکھی تھی۔ جھوٹے الہام اور خوابیں تو خلیفہ نے ثابت کر دیا کہ ان کی تخلیق تو دائیں ہاتھ کا

٢

کام ہے اور یہ کہ ایسے الہامات و کشوف تو جمع کا وہ کوئی حل نہ کر سکے۔ جو تھا قرآن کریم م موت کی تمنا نہیں کر سکتا۔ چنانچہ قرآن کریم م هادوا ان زعمتم انكم اولياء الله صدقين . ولا يتمنونه ابداً بـ (الجمعہ : ٦، ٧) ”یہودی کہتے ہیں کہ ہم فرمایا ان سے کہہ دو کہ اے یہودیو! اگر تم اپنے تمنا کرو۔ مگر یہ یاد رکھو کہ یہ لوگ کبھی بھی موت اچھی طرح جانتے ہیں۔

چنانچہ اس خدائی فیصلہ کو مد نظر رکھ اصول پیش کیا اور ان کو للکارا کہ میدان مباہلہ نے تو چپ کا روزہ رکھ لیا۔ مگر اپنے جعلی خالد بدکاری کا الزام لگنے کی صورت میں مباہلہ جا حوالہ جات پیش خدمت ہیں۔ جن سے ثابت کے سوا کوئی چارہ کار ہی نہیں۔ مسیح موعود (مرزا

دوسرے کو مفتری اور زانی قرار دیتے ہیں۔“

مثلاً ایک مستورہ عورت کو کہتا ہے کہ میں یقیناً خود اس کو زنا کرتے دیکھا ہے۔ یا مثلاً ایک ہے۔ کیونکہ بچشم خود اسے شراب پیتے دیکھ جگہ کوئی اجتہادی اختلاف نہیں۔ کیونکہ ایک بھائی کو ذلت پہنچانا چاہتا ہے۔“

کرتے دیکھا ہے یا بچشم خود شراب پیتے دی کرتا تو اور کیا کرتا۔“

صفحہ ١٧٣

کام ہے اور یہ کہ ایسے الہامات و کشوف تو جھوٹے بن سکتے ہیں۔ مگر سچائی کے پرکھنے کی ایک دلیل کا وہ کوئی حل نہ کر سکے۔ وہ تھا قرآن کریم کا اور جماعت احمدیہ کا مسلمہ اصول کہ جھوٹا کبھی بھی موت کی تمنا نہیں کر سکتا۔ چنانچہ قرآن کریم میں خدائے علیم و خبیر فرماتا ہے: ”قل یایھا الذین هادوا ان زعمتم انکم اولیاء الله من دون الناس فتمنوا الموت ان کنتم صدقین ۔ ولا یتمنونه ابداً بما قدمت ایدیھم والله علیم بالظالمین (الجمعہ: ٦، ٧) ”یہودی کہتے ہیں کہ ہم خدا کے دوست ہیں اور یہ کہ خدا ہم سے پیار کرتا ہے۔ فرمایا ان سے کہہ دو کہ اے یہودیو! اگر تم اپنے آپ کو خدا کے دوست سمجھتے ہو، تو اپنے لئے موت کی تمنا کرو۔ مگر یہ یاد رکھو کہ یہ لوگ کبھی بھی موت کی تمنا نہیں کریں گے۔ کیونکہ یہ اپنی بداعمالیوں کو اچھی طرح جانتے ہیں۔

چنانچہ اس خدائی فیصلہ کو مد نظر رکھتے ہوئے ہم نے ان کے سامنے قرآن کریم کا مباہلہ کا اصول پیش کیا اور ان کو للکارا کہ میدان مباہلہ میں نکلو۔ اگر تم بدکار نہیں تو موت کی تمنا کرو۔ گو خلیفہ نے تو چپ کا روزہ رکھ لیا۔ مگر اپنے چمچہ خالد بن ولید کو چپکا دیا۔ چنانچہ انہوں نے یہ شور برپا کر دیا کہ بدکاری کا الزام لگنے کی صورت میں مباہلہ جائز نہیں۔ اس ضمن میں مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے چند حوالہ جات پیش خدمت ہیں۔ جن سے ثابت ہے کہ زنا کا الزام لگنے پر مباہلہ جائز ہی نہیں۔ بلکہ اس کے سوا کوئی چارہ کار ہی نہیں۔ مسیح موعود (مرزا قادیانی) فرماتے ہیں:

دوسرے کو مفتری اور زانی قرار دیتے ہیں۔“

(الحکم مورخہ ٢٣ مارچ ١٩٠٢ء)

مثلاً ایک مستورہ عورت کو کہتا ہے کہ میں یقیناً جانتا ہوں کہ یہ عورت زانیہ ہے۔ کیونکہ میں نے بچشم خود اس کو زنا کرتے دیکھا ہے۔ یا مثلاً ایک شخص کو کہتا ہے کہ میں یقیناً جانتا ہوں کہ یہ شراب خور ہے۔ کیونکہ بچشم خود اسے شراب پیتے دیکھا ہے تو اس حالت میں بھی مباہلہ جائز ہے۔ کیونکہ اس جگہ کوئی اجتہادی اختلاف نہیں۔ کیونکہ ایک شخص اپنے یقین اور رویت پر بناء رکھ کر ایک مومن بھائی کو ذلت پہنچانا چاہتا ہے۔“

(الحکم مورخہ ٢٣ مارچ ١٩٠٣ء)

کرتے دیکھا ہے یا بچشم خود شراب پیتے دیکھا ہے۔ اگر میں اس بے بنیاد افتراء کے لئے مباہلہ نہ کرتا تو اور کیا کرتا۔“

(تبلیغ رسالت ج ٢ ص ٢، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢١٣)

٣

صفحہ ١٧٥

ان مذکورہ بالا تین حوالہ جات سے جو مسیح موعود کے ہیں زنا کے الزام پر مباہلہ کرنے کی پوری پوری وضاحت موجود ہے۔ اس سے یہ امر بھی ثابت شدہ ہے کہ زنا کا الزام لگانے والے خواہ چار گواہ پیش نہ بھی کریں ۔ مگر وہ میدان مباہلہ میں اتر آئیں تو ان سے مباہلہ کرنا چاہئے ۔ چنانچہ خلیفہ اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے دھوکہ دہی کی غرض سے یوں لکھتے ہیں : ” مباہلہ اخبار وہی ہے جو کسی زمانہ میں جھوٹے خط بنا کر اپنے اخبار میں شائع کرتا تھا اور ان پر لکھا ہوتا تھا۔ ایک معصوم عورت کا خط لیکن ہر خط گمنام ہوتا تھا اور اوپر لکھا ہوتا تھا ۔ نقل مطابق اصل اور اندر اکثر خطوں میں یہ لکھا ہوتا تھا کہ میں مباہلہ کرنے کے لئے تیار ہوں۔ ہر عقلمند انسان سمجھ سکتا ہے کہ گمنام شخص سے مباہلہ کون کر سکتا ہے ۔“

(الفضل مورخہ ٣١ جولائی ١٩٥٦ء)

اس اقتباس کو پڑھنے کے بعد یہ دھوکا لگتا ہے کہ خلیفہ تو مباہلہ کے لئے تیار ہیں ۔ مگر چونکہ گمنام آدمی دعوت مباہلہ دے رہا ہے۔ اس لئے اس سے مباہلہ کا سوال ہی پیدا نہیں ہو سکتا۔ مگر خلیفہ کو کیا معلوم تھا کہ ایک شخص خدا تعالیٰ ایسا کھڑا کر دے گا جو نام کے ساتھ خلیفہ کو دعوت مباہلہ دے گا ۔ جو ”دور حاضر کے مذہبی آمر“ نامی کتاب ( مصنفہ راحت ملک ) کے ص ١٥٤، ١٥٥ سے درج کرتا ہوں ۔

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم!

”اشهد ان لا اله الا الله وحده لا شريك له واشهد ان محمداً عبده ورسوله“ میں اقرار کرتا ہوں کہ حضرت محمد مصطفے ﷺ خدا کے نبی اور خاتم النبیین ہیں اور اسلام سچا مذہب ہے۔ میں احمدیت کو بھی برحق سمجھتا ہوں اور مرزا غلام احمد قادیانی کے دعویٰ پر ایمان رکھتا ہوں اور مسیح موعود مانتا ہوں اور اس کے بعد میں ..... مؤکد بعذاب حلف اٹھاتا ہوں ۔ میں اپنے علم مشاہدہ اور رؤیت عینی اور آنکھوں دیکھی بات کی بناء پر خدا کو حاضر ناظر جان کر اس پاک ذات کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفہ ربوہ نے خود اپنے سامنے اپنی بیوی کے ساتھ ایک غیر مرد سے زنا کروایا ۔ اگر میں اس حلف میں جھوٹا ہوں تو خدا کی لعنت اور عذاب مجھ پر نازل ہو۔ اس بات پر مرزا بشیر الدین محمود احمد کے ساتھ بالمقابل حلف اٹھانے کے لئے تیار ہوں۔

دستخط : محمد یوسف ناز، معرفت عبدالقادر تیرتھ سنگھ جے بھوانی روڈ عقب شالیمار ہوٹل کراچی حال مقیم نور ایگریکلچرل فارم چک نمبر ١٤٦۔ای۔بی براستہ اقبال نگر ضلع منٹگمری

٤

اس اعلان کے شائع ہونے کی دیر تھی خلیفہ گھبرا مؤکد بعذاب کو اٹھاتے ہوئے پورا ڈیڑھ سال ہو چکا ہے کے لئے تیار نہیں ہوئے۔ صرف حیلوں بہانوں سے کام ۔ محمد یوسف ناز اس حلف کے بعد خدا تعالیٰ کے انعامات ۔ میں خدا تعالیٰ نے جب کہ وہ خلیفہ کے مرید بھی تھے۔ ادلا علیحدگی اختیار کر لینے پر خدائے رحیم و کریم نے ان کو اچھ جھوٹے مصلح موعود کو خدا تعالیٰ نے یہ توفیق نہ دی کہ سچائی تمنا کرتے۔ اگر محترم یوسف ناز کا بیان جھوٹا تسلیم کیا جائے بھی جھوٹا اور غلط کہنا پڑتا ہے جس میں اس نے کہا ہے کہ ح ہو کر موت کی تمنا کرنا خدا کے فیصلہ کے سراسر خلاف ہے ۔ باللہ جھوٹا قرار دے رہے ہیں۔ اگر یوسف ناز جھوٹے ہو برعکس مرزا محمود احمد بقول آپ کے سچے ہوتے ہوئے موت کی تمنا نہ کرنا اس کی سچائی کی دلیل ہے یا جھوٹے ہو کے اپنی سچائی منوایا کرتے تھے۔ مگر جب اپنی باری آئی تو ہے ۔ آپ لوگوں کے لئے یہ امر نہایت درجہ مشکل ہے کہ مؤکد بعذاب کے ذریعہ موت کی تمنا کرنے پر مجبور کر ہیں ۔ خلیفہ موت کی تمنا نہیں کرتے تو نہ کریں۔ خدا تعالیٰ انہوں نے مصلح موعود کا دعویٰ ایک خواب کو پیش کر کے بعذاب حلف نہ تھی ) مگر تا ہم خدا تعالیٰ کے نزدیک ان پر تھی۔ چنانچہ وہ آج کل مندرجہ ذیل خدائی عذاب کا شکار

وہ بستی تھی کہ جس کے نام کی بدولت انہوں نے جماعت جس کی مقدس سرزمین میں وہ پسر نوح ہوتے ہوئے بھی رہے تھے اور قادیان کی سرزمین بھی ان ہی کی بے اعتدالی سے چھن گئی ۔ اگر ”یہ لوگ زندگی کے فیشن سے دور نہ جا سے الگ کیا جاتا ۔

٥

صفحہ ١٧٥

اس اعلان کے شائع ہونے کی دیر تھی خلیفہ گھبرا گئے اور آج اس دعوت مباہلہ اور حلف مؤکد بعذاب کو اٹھاتے ہوئے پورا ڈیڑھ سال ہو چکا ہے۔ مگر وہ آج تک اس دعوت کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہوئے۔ صرف حیلوں بہانوں سے کام لے رہے ہیں۔ ایک طرف تو مکرم ومحترم محمد یوسف ناز اس حلف کے بعد خدا تعالیٰ کے انعامات کے وارث بن چکے ہیں۔ پورے نو سال میں خدا تعالیٰ نے جب کہ وہ خلیفہ کے مرید بھی تھے۔ اولاد عطا نہ کی مگر اس حلف کے بعد خلیفہ سے علیحدگی اختیار کر لینے پر خدائے رحیم و کریم نے ان کو اولاد نرینہ سے نوازا تو دوسری طرف اس جھوٹے مصلح موعود کو خدا تعالیٰ نے یہ توفیق نہ دی کہ سچائی کے دعویدار ہوتے ہوئے بھی موت کی تمنا کرتے۔ اگر محترم یوسف ناز کا بیان جھوٹا تسلیم کیا جائے تو امت احمدیہ پر خدا تعالیٰ کے اس فیصلہ کو بھی جھوٹا اور غلط کہنا پڑتا ہے جس میں اس نے کہا ہے کہ جھوٹا کبھی بھی موت کی تمنا نہیں کرتا۔ جھوٹا ہو کر موت کی تمنا کرنا خدا کے فیصلہ کے سراسر خلاف ہے۔ آپ یوسف ناز کو جھوٹا کہہ کر قرآن کو نعوذ باللہ جھوٹا قرار دے رہے ہیں۔ اگر یوسف ناز جھوٹے ہو کر بھی موت کی تمنا کر رہے ہیں تو اس کے برعکس مرزا محمود احمد بقول آپ کے سچے ہوتے ہوئے بھی موت کی تمنا کیوں نہیں کرتے۔ کیا موت کی تمنا نہ کرنا اس کی سچائی کی دلیل ہے یا جھوٹے ہونے کی۔ آپ لوگ اسی آیت کو پیش کر کے اپنی سچائی منوایا کرتے تھے۔ مگر جب اپنی باری آئی تو اس قرآنی اصول ہی کو غلط قرار دیا جا رہا ہے۔ آپ لوگوں کے لئے یہ امر نہایت درجہ مشکل ہے کہ مرزا محمود احمد کو جھوٹا قرار دیں یا ان کو حلف مؤکد بعذاب کے ذریعہ موت کی تمنا کرنے پر مجبور کریں۔ مگر خدا تعالیٰ کے طریقے بھی نرالے ہیں۔ خلیفہ موت کی تمنا نہیں کرتے تو نہ کریں۔ خدا تعالیٰ کی گرفت میں وہ ١٩٤٤ء سے آچکے ہیں۔ انہوں نے مصلح موعود کا دعویٰ ایک خواب کو پیش کر کے حلفیہ بیان کے ساتھ کیا۔ (گو وہ مؤکد بعذاب حلف نہ تھی) مگر تاہم خدا تعالیٰ کے نزدیک ان پر عذاب نازل کرنے کے لئے یہ قسم ہی کافی تھی۔ چنانچہ وہ آج کل مندرجہ ذیل خدائی عذاب کا شکار ہیں۔

وہ بستی تھی کہ جس کے نام کی بدولت انہوں نے جماعت احمدیہ کو گمراہ کرنے کی مکمل کوشش کی اور جس کی مقدس سرزمین میں وہ ملعون ہوتے ہوئے بھی بہشتی مقبرہ میں دفن ہونے کے خواب دیکھ رہے تھے اور قادیان کی سرزمین بھی ان ہی کی بے اعتدالیوں اور بے راہ رویوں کی بدولت پاکستان سے چھن گئی۔ اگر ”یہ لوگ زندگی کے فیشن سے دور نہ جا پڑتے“ تو کوئی وجہ نہ تھی کہ قادیان پاکستان سے الگ کیا جاتا۔

٥

صفحہ ١٧٧

ڈاکٹر صاحب خلیفہ کے دانت کی درد کی تکلیف کی خبر سن کر بغرض علاج دہلی سے قادیان پہنچ جایا کرتے تھے۔ مگر جب ان کو رتن باغ لاہور میں مع اپنی اہلیہ کے اپنے ہم زلف خلیفہ کی صحبت نصیب ہوئی تو ان کو علم ہو گیا کہ یہ شخص اوّل درجہ کا بدکار ہے۔ چنانچہ انہوں نے بھی اپنی طاقت اور بساط کے مطابق کراچی کے حلقہ میں خوب اس کی تشہیر کی۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ: ”ان کی بے وقت موت بھی خلیفہ کا ہی کرشمہ ہے۔“

تحقیقاتی عدالت کے سامنے اپنے عقائد میں تبدیلی کر لی۔ کہاں خلیفہ حتمی طور پر کہا کرتے تھے کہ: ”احمق ہے جو یہ کہتا ہے کہ مسیح موعود کا ماننا جزو ایمان نہیں۔ کس کا دل گردہ ہے جو یہ کہے کہ مسیح موعود کا ماننا جزو ایمان نہیں۔“

(الفضل مورخہ ٢٧؍ ستمبر ١٩٢٩ء، مورخہ ٢٦ مئی ١٩١٣ء، مورخہ ٣٠ مئی ١٩١٤ء)

مگر کہاں تحقیقاتی عدالت کے اس سوال کے جواب میں کہ: ”کیا مسیح موعود کا ماننا جزو ایمان ہے۔“ خلیفہ نے جواباََ کہا: ”جی نہیں۔“

ان پر ایک شخص نے چاقو کا حملہ کیا تو اس شاطرِ اعظم نے یہ اعلان جاری کر دیا کہ اگر میں چاقو کے حملہ سے مارا جاتا تو میری مماثلت (نعوذ باللہ۔ ناقل) حضرت عمر فاروقؓ سے قائم ہو جاتی۔ مگر خدا تعالیٰ نے مجھے اس حملہ سے اس لئے بچایا کہ میں (نعوذ باللہ۔ ناقل) حضرت عمرؓ سے افضل ہوں۔ گویا چاقو کے حملہ سے مارے یا نہ مارے جانے کی صورت میں فیصلہ انہی کے حق میں رہا۔ پس خدا تعالیٰ نے ان کے لئے عذاب کو ایسی شکل دی جس سے اب وہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ ان پر انعام خداوندی ہے۔ وہ عذاب کیا ہے؟ ان پر عذاب الٰہی بذریعہ فالج اور یہ پانچواں عذاب ہے۔

چنانچہ خلیفہ لکھتے ہیں: ”پھر ...... مجھ پر فالج کا حملہ ہوا۔“

(الفضل مورخہ ٢٨ جولائی ١٩٥٦ء)

”اب میں ٦٨ سال کی عمر کا ہوں اور فالج کی بیماری کا شکار۔“

(الفضل مورخہ ٤؍ اگست ١٩٥٦ء)

مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے فالج اور پاگل پن کو نہایت سخت دکھ کی مار قرار دیا ہے۔ نیز ان کو خبیث امراض قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو اربعین نمبر ٣ ص ٣٠ حاشیہ) مسیح موعود تحریر فرماتے

٦

ہیں: ”تو ان مخالفون کو جو اس وقت حاضر ہیں ایک ب مبتلا کر کے کسی کو اندھا کر دے کسی کو مجذوم کسی کو مفلوج

پس پسر نوح کا نہایت سخت دکھ کی مار اور م آنکھیں کھولنے کے لئے کافی تھا۔ خلیفہ کے پاگل ہو ربوہ میں مسیح موعود کی ایک خواب شائع کر کے کیا ہ ”میرا دایاں ہاتھ دیوانہ کے ساتھ میں ہے۔“ اس رویا سے بھی ثابت ہے کہ مسیح موعود ک آدمی ایک منٹ کے لئے بھی یہ برداشت کر سکتا ہے ک کریں کہ کیا پاگل سے یہ امید ہو سکتی ہے کہ وہ کوئی اص ذرا آنکھیں کھول کر عقل و خرد سے سوچو کہ کیوں مسیح خوش ہو رہے ہو۔ مسیح موعود سے محبت اور اس کا تقاضہ آزاد کرایا جاتا۔ چہ جائیکہ آپ پاگل کی امداد پر کمر ب اور سخت کر دے۔ ہوش میں آؤ اور ہمارے ساتھ مل چھڑانے کی کوشش میں شریک ہو جاؤ۔ تا خدا کے حض نافرمانوں اور جھوٹوں کے لئے تیار ہے۔ آپ ایک سخت دکھ کی مار میں مبتلا ہے۔ اس کو کسی پر حسنِ ظن نہ سلوک نہیں کیا۔ اس کی نمازوں کی یہ حالت ہے کہ طرح تو نمازوں کا مقصد فوت ہو جاتا ہے۔ نام نہا بدکار ہوتا اسے فوراََ چھوڑ دینا چاہئے۔“

(الفضل مورخہ ٣٠ رج

آپ اس قول پر ہی عمل کرتے ہوئے ا کرنا آپ کے لئے ممکن نہیں تو کم از کم پھر سچائی کی ت نے اپنے ووٹوں سے ان کو خلیفہ بنایا اور خود ہی یہ کہ ہے۔ لہٰذا ان کو کوئی ہٹا نہیں سکتا۔ گویا بقول آپ ک خلیفہ منتخب کر لیا۔ اب اس خدا میں یہ طاقت نہیں کہ خ

٧

صفحہ ١٧٧

ہیں۔ ”تو ان مخالفوں کو جو اس وقت حاضر ہیں ایک سال کے عرصہ تک نہایت سخت دکھ کی مار میں مبتلا کر کے کسی کو اندھا کر دے کسی کو مجذوم کسی کو مفلوج اور کسی کو مجنون۔“

(انجام آتھم ص٦٦، خزائن ج١١ ص٦٦)

پس پسر نوح کا نہایت سخت دکھ کی مار اور خبیث مرضوں میں مبتلا ہونا جماعت احمدیہ کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی تھا۔ خلیفہ کے پاگل ہونے کا اعتراف مجھلے میاں بشیر احمد نے الفضل ربوہ میں مسیح موعود کی ایک خواب شائع کر کے کیا ہے۔ اس خواب میں مسیح موعود نے دیکھا کہ: ”میرا دایاں ہاتھ دیوانہ کے ہاتھ میں ہے۔“

(الفضل مورخہ ٢٧؍ جنوری ١٩٥٧ء)

اس رؤیا سے بھی ثابت ہے کہ مسیح موعود کی جماعت پر پاگل کا قبضہ ہوگا۔ کیا کوئی عقلمند آدمی ایک منٹ کے لئے بھی یہ برداشت کر سکتا ہے کہ وہ پاگل کے تابع ہو۔ آپ سوچیں اور غور کریں کہ کیا پاگل سے یہ امید ہو سکتی ہے کہ وہ کوئی احسن کام کرے۔ اے مسیح موعود کے نام لیواؤ۔ ذرا آنکھیں کھول کر عقل و خرد سے سوچو کہ کیوں مسیح موعود کے ہاتھ کو پاگل کے ہاتھ میں دے کر خوش ہو رہے ہو۔ مسیح موعود سے محبت اور انس کا تقاضا تو یہ تھا کہ ان کے ہاتھ کو پاگل کے چنگل سے آزاد کرایا جاتا۔ چہ جائیکہ آپ پاگل کی امداد پر کمر بستہ ہیں تا وہ مسیح موعود کے ہاتھ پر اپنی گرفت اور سخت کر دے۔ ہوش میں آؤ اور ہمارے ساتھ مل کر مسیح موعود کے ہاتھ کو پاگل کے ہاتھ سے چھڑانے کی کوشش میں شریک ہو جاؤ۔ تا خدا کے حضور قبول کئے جاؤ۔ ورنہ اس آگ سے ڈرو جو نافرمانوں اور جھوٹوں کے لئے تیار ہے۔ آپ ایک ایسے انسان کی اتباع کر رہے ہیں جو نہایت سخت دکھ کی مار میں مبتلا ہے۔ اس کو کسی پر حسن ظن نہیں۔ کیونکہ اس نے تمام عمر کسی سے کوئی نیک سلوک نہیں کیا۔ اس کی نمازوں کی یہ حالت ہے کہ مجبوراً سر محمد ظفر اللہ خاں کو بھی یہ کہنا پڑا کہ اس طرح تو نمازوں کا مقصد فوت ہو جاتا ہے۔ نام نہاد خلیفہ کا اپنا قول ہے: ”کہ اگر روحانی خلیفہ بدکار ہو تو اسے فوراً چھوڑ دینا چاہئے۔“

(الفضل مورخہ ٣٠؍ جون ١٩٢٨ء، رسالہ تشحیذ الاذہان ماہ دسمبر ١٩١٥ء، ص٨)

آپ اس قول پر ہی عمل کرتے ہوئے اس سے دستبرداری کا اعلان کر دیں۔ اگر ایسا کرنا آپ کے لئے ممکن نہیں تو کم از کم پھر سچائی کی خاطر خلیفہ کو مباہلہ کے لئے ہی تیار کریں۔ آپ نے اپنے ووٹوں سے ان کو خلیفہ بنایا اور خود ہی یہ کہنا شروع کر دیا کہ ان کو خدا تعالیٰ نے خلیفہ بنایا ہے۔ لہٰذا ان کو کوئی ہٹا نہیں سکتا۔ گویا بقول آپ کے جس خدا نے آپ کے دلوں کو پھیر کر انہیں خلیفہ منتخب کرایا۔ اب اس خدا میں یہ طاقت نہیں کہ وہ اب آپ ہی کے دلوں کو اس سے پھیر دے۔

٧

صفحہ ١٧٨

کتنا بڑا ہے یہ گناہ جس کے آپ مرتکب ہو رہے ہیں۔ آپ کے خود ساختہ غیر شرعی عقیدہ کو خدا تعالیٰ نے باطل قرار دینے کے لئے آپ کے خلیفہ کو مفلوج اور پاگل کر دیا۔ اب وہ عملاً معزول ہیں ان کے اپنے قول کے مطابق وہ ایک بے معنی اور سانس لینے والی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسی حالت میں میرا وجود سلسلہ کے لئے مفید نہیں ہو رہا۔ اب آپ کی دعائیں اور بکرے خدائی عذاب سے انہیں ہرگز ہرگز بچا نہیں سکتے نہ آپ لوگوں کو تنظیم اور تعمیر مساجد کے دھوکے دیئے جا رہے ہیں۔ کہا جا رہا ہے تنظیم سب سے مقدم ہے۔ حالانکہ تنظیم کو مقدم کرنے والا خلیفہ کا اپنا نظریہ تنظیم کے بارہ میں یہ ہے: ”میں نے پورے پورے طور پر تہیہ کر لیا ہے کہ چاہے وہ کتنا شور مچائیں اور لوگوں کو ابھاریں قطع نظر اس کے میری جان خلافت بلکہ سلسلہ رہے یا نہ رہے۔ میں نے ان کے پول ضرور کھولوں گا۔“

(الفضل مورخہ ١٨؍فروری ١٩٣٠ء)

آپ کے خلیفہ کو تو صرف لوگوں کے پول کھولنے کی خاطر خلافت اور سلسلہ کی تباہی کی بھی کوئی پرواہ نہیں۔ ان کو تو صرف اور صرف اپنی گدی عزیز ہے۔ خلافت ،سلسلہ رہے یا نہ رہے۔ اس سے انہیں کیا ہے وہ اپنی اغراض کی خاطر اس سلسلہ اور خلافت کی قربانی بھی دینے کے لئے تیار ہیں۔ مگر آپ کو یہ تلقین کر رہے ہیں کہ: ”تنظیم کو اپنی جان و مال اور عزت سے زیادہ عزیز سمجھو بلکہ سلسلہ کا اتحاد دس ہزار نور الدین سے بھی زیادہ ہیں۔“

(الفضل مورخہ ٢؍اگست ١٩٥٦ء)

پس جس سلسلہ کے اتحاد پر دس ہزار نور الدین قربان کئے جا سکتے ہیں۔ وہ سلسلہ لوگوں کے پول کھولنے کی خاطر اگر تباہ و برباد ہو جائے تو خلیفہ کو اس سے کوئی سروکار نہیں۔

یاد رکھو! اگر ایسی تنظیم ضروری ہوتی تو مسیح موعود ایسی تنظیم کو قائم کرتے یا یہ کہنا پڑے گا کہ نعوذ باللہ مسیح موعود میں تنظیم قائم کرنے کی اہلیت ہی نہ تھی۔ مگر پسر نوح ان سے زیادہ اہلیت رکھتا ہے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ مؤمنوں کو ہدایت فرماتا ہے کہ: ”عقل و خرد سے سوچو۔ چنانچہ اس ضمن میں ایک مقولہ درج کر کے اس مضمون کو ختم کرتا ہوں۔“

والسلام ! داعی الی الخیر ! ملک عزیز الرحمن ، جنرل سیکرٹری احمدیہ حقیقت پسند پارٹی (مورخہ ٢٣؍مئی ١٩٥٨ء)

۞ ...... ☆ ...... ۞ ٨

خاتم النبیین

ربوہ کا راس

(مرزا محمود کی کہانی مریدا

دور حاضر ک

طاہر رفیق

PDF 180

خاتم النبیین لا نبی بعدی

ربوہ کا راسپوٹین

(مرزا محمود کی کہانی مریدوں کی زبانی)

دور حاضر کا دجال

طاہر رفیق اختر

صفحہ ١٨١

انتساب

”اندھی عقیدت میں ڈوبے ہوئے

احمدیوں کے نام جو پلید عقیدہ اجرائے نبوت اور

مرزا محمود کے مصلح موعود (مامور) ہونے پر ایمان

رکھتے ہیں۔ انہی دو عقائد کی وجہ سے وہ ذلت کی

وادی میں بھٹک رہے ہیں۔“

٢

فہرست

باب نمبر: ١...... جنسیت...... جنسیت کیا ہے؟ جنس باب نمبر: ٢...... روس کا راسپوٹین باب نمبر: ٣...... مرزا محمود احمد کا اپنا اقرار، افراد خانہ خلیفہ مرزا محمود احمد کا اپنا اقرار حکیم عبدالوہاب کا بیان ساس صغریٰ بیگم پر دست درازی امتہ الحفیظ دختر مرزا محمود احمد کا بیان بیگم صاحبہ ڈاکٹر عبداللطیف کا حلفیہ بیان ڈاکٹر مبشر احمد پوتا مرزا محمود احمد کا معصومانہ بیان مولوی عبد المنان صاحب عمر کی شہادت اور نواب مبارکہ بیگم مرزا حنیف احمد کا حلفیہ بیان بروایت علی محمد ماچھی مرزا محمود احمد کا مس روتھ کو قادیان لے جانا اور پریس کا ردعمل باب نمبر: ٤...... مریدین اور اغیار کی حلفیہ شہادتیں پہلا الزام اور مولوی محمد علی امیر جماعت لاہور کی شہادت مباہلہ والوں کی للکار مولوی صدر الدین امیر جماعت احمدیہ لاہور کا بیان آفتاب اقبال ابن ڈاکٹر محمد اقبال کی شہادت مبارک شاہ ابن مولوی محمد سرور کی شہادت مرزا طاہر احمد پسر مرزا عبدالحق کا بیان نذیر احمد ڈرائیور کا بیان ”کوئی قادیانی میرے جنازے کو ہاتھ نہ لگائے“ داؤد کا بیان قریشی نذیر احمد کی شہادت ڈاکٹر محمد احمد کی شہادت جناب صدر الدین ناصر کا بیان امتہ الودود کا قصہ جناب مصلح الدین سعدی کی شہادت مصلح الدین کی دوسری شہادت

٣

صفحہ ١٨١

فہرست

باب نمبر :١....... جنسیت ...... جنسیت کیا ہے، جنسی انحراف کی مختلف شکلیں ١٨٧ باب نمبر:٢....... روس کا راسپوٹین ١٩٥ باب نمبر:٣....... مرزا محمود احمد کا اپنا اقرار، افراد خانہ اور اعزہ کے حلفیہ بیانات ٢٠٨ خلیفہ مرزا محمود احمد کا اپنا اقرار ٢٠٨ حکیم عبدالوہاب کا بیان ٢٠٨ ساس صغریٰ بیگم پر دست درازی ٢١٢ امۃ الحفیظ دختر مرزا محمود احمد کا بیان ٢١٣ بیگم صاحبہ ڈاکٹر عبداللطیف کا حلفیہ بیان ٢١٣ ڈاکٹر مبشر احمد پوتا مرزا محمود احمد کا معصومانہ بیان ٢١٤ مولوی عبدالمنان صاحب عمر کی شہادت اور نواب مبارکہ بیگم کے کردار پر مزید روشنی ٢١٤ مرزا حنیف احمد کا حلفیہ بیان بروایت علی محمد ماحی ٢١٥ مرزا محمود احمد کا مس روتھ کو قادیان لے جانا اور پریس کا ردعمل ٢١٦ باب نمبر:٤....... مریدین اور اغیار کی حلفیہ شہادتیں ٢١٨ پہلا الزام اور مولوی محمد علی امیر جماعت لاہور کی شہادت ٢١٨ مباہلہ والوں کی للکار ٢١٩ مولوی صدر الدین امیر جماعت احمدیہ لاہور کا بیان ٢٢٠ آفتاب اقبال ابن ڈاکٹر محمد اقبال کی شہادت ٢٢١ مبارک شاہ ابن مولوی محمد سرور کی شہادت ٢٢١ مرزا طاہر احمد پسر مرزا عبدالحق کا بیان ٢٢٣ نذیر احمد ڈرائیور کا بیان ٢٢٣ ”کوئی قادیانی میرے جنازے کو ہاتھ نہ لگائے“ دادو کا بیان ٢٢٤ قریشی نذیر احمد کی شہادت ٢٢٥ ڈاکٹر محمد احمد کی شہادت ٢٢٥ جناب صدر الدین ناصر کا بیان ٢٢٥ امۃ الودود کا قصہ ٢٢٧ جناب مصلح الدین سعدی کی شہادت ٢٢٨ مصلح الدین کی دوسری شہادت ٢٢٩

٣

صفحہ ١٨٣

١٨٢ چوہدری محمد نصر اللہ ابن چوہدری عبداللہ بھتیجا چوہدری ظفر اللہ سابق وزیر خارجہ پاکستان کی شادی کا قصہ ٢٢٩ ایک نوجوان مبشر احمد کی منگنی کا قصہ ٢٣٠ عبدالرشید ابن مولوی نذیر محمد کارکن امور عامہ کا بیان ٢٣١ عبدالمجید اسلحہ والے کا بیان ٢٣٢ رفیق احمد لاہوری بی۔اے، ایل۔ایل۔بی کا بیان ٢٣٣ بے وضو نماز پڑھانا ”تواڈی نمازاں نے یہہ ماریا ائے“ ٢٣٤ دوسری شہادت فتح محمد المعروف فتا شیر ٢٣٤ ایک احمدی خاتون عائشہ بنت شیخ نورالدین کا بیان ٢٣٥ مولانا اسماعیل غزنوی مرحوم کی تحقیق ٢٣٦ ڈاکٹر اللہ بخش سابق جنرل سیکرٹری احمدیہ انجمن لاہور کا بیان ٢٣٨ عبدالعزیز نو مسلم کی صاحبزادی خلافت مآب کے چنگل میں ٢٣٨ حکیم عبد العزیز (سابق پریذیڈنٹ انجمن انصار احمدیہ قادیان، پنجاب) کا مرزا محمود کے سامنے غصے میں اعلان حق ٢٣٨ شیخ مشتاق احمد مالک احمدیہ دوا گھر کا بیان ٢٣٩ ڈاکٹر محمد عبداللہ ”آنکھوں کا ہسپتال“ قادیان (حال فیصل آباد) کا بیان ٢٤٠ مرزا محمد حسین اتالیق خاندان مرزا محمود احمد کی کہانی ٢٤١ مشہور کالم نگار احمد بشیر کا بیان ( سدومیت اور امرد رکھنا ) ٢٤٣ محمد یوسف ناز کا دوسرا بیان ٢٤٤ محمد عبداللہ احمدی کا بیان ٢٤٤ منیر احمد کا بیان ٢٤٤ سیدہ ام صالحہ بنت سید ابرار حسین سمن آباد کا بیان ٢٤٤ قاضی خلیل احمد کا بیان ٢٤٥ راحت ملک کا چیلنج خلیفہ ربوہ کے نام ٢٤٦ چوہدری غلام رسول کا اعلان حق ٢٤٨ عبدالرب خان برہم کا حلفیہ بیان ٢٤٨ آغا سیف اللہ کا بیان ٢٤٩ مظہر الدین ملتانی کی ایک حیران کن روایت ٢٥٠ ماسٹر محمد عبداللہ سابق ہیڈ ماسٹر سنٹر ماڈل گورنمنٹ ہائی سکول کا بیان ٢٥٠ عبدالمجید اکبر کا حلفیہ بیان ٢٥٠ ٤

١٨٣ عتیق احمد فاروق سابق مبلغ کا حلفیہ بیان میاں محمد زاہد (مباہلے والا) کا مباہلہ حافظ عبدالسلام کا حلفیہ بیان غلام حسین احمدی کا بیان شیخ بشیر احمد مصری کی شہادت ثریا بنت شیخ عبدالمجید کا بیان زکوٰۃ فنڈ اور بدچلنی مبلغین کو شادی کے فوراً بعد بیرون ملک بھیجنے کا فلسفہ باب نمبر: ٥ ....... خطوط ڈاکٹر نذیر احمد ریاض کا خط اپنے ایک دوست کے نام باب نمبر: ٦ ....... مرزا بشیر احمد ابن مرزا قادیانی فصیح الدین کا بیان اہلیہ صاحبہ جناب عبدالرب خان اور مرزا بشیر احمد مرزا بشیر احمد کا خوبرو غیور سے معاشقہ باب نمبر: ٧ ....... مرزا شریف ابن مرزا قادیانی عبدالکریم کی شہادت باب نمبر: ٨ ....... مرزا ناصر احمد ابن مرزا محمود کے متعلق چوہدری عبدالحمید اشرف کے بیانات باب نمبر: ٩ ....... قتل امتہ الحی زوجہ مرزا محمود احمد کی وفات کا قصہ مرزا احمد اسحاق کی وفات کا قصہ سارہ اور ام وسیم پاگل ہوگئیں روزی کا قتل فخر الدین ملتانی کی شہادت باب نمبر: ١٠ ....... عبرت ناک انجام باب نمبر: ١١ ....... جماعت احمدیہ کا فکری انحطاط باب نمبر: ١٢ ....... مرزا محمود احمد کا حکومتی خاکہ

صفحہ ١٨٣

عتیق احمد فاروقی سابق مبلغ کا حلفیہ بیان ٢٥١ میاں محمد زاہد (مباہلے والا) کا مباہلہ ٢٥٢ حافظ عبد السلام کا حلفیہ بیان ٢٥٣ غلام حسین احمدی کا بیان ٢٥٣ شیخ بشیر احمد مصری کی شہادت ٢٥٣ ثریا بنت شیخ عبد المجید کا بیان ٢٥٣ زکوۃ فنڈ اور بدچلنی ٢٥٤ مبلغین کو شادی کے فوراً بعد بیرون ملک بھیجنے کا فلسفہ ٢٥٥ باب نمبر: ٥ ....... خطوط ٢٥٥ ڈاکٹر نذیر احمد ریاض کا خط اپنے ایک دوست کے نام ٢٥٨ باب نمبر: ٦ ....... مرزا بشیر احمد ابن مرزا قادیانی کے کردار کی ایک جھلک ٢٥٩ فصیح الدین کا بیان ٢٥٩ اہلیہ صاحبہ جناب عبد الرب خان اور مرزا بشیر احمد ٢٦١ مرزا بشیر احمد کا خوبرو بیوہ سے معاشقہ ٢٦١ باب نمبر: ٧ ....... مرزا شریف ابن مرزا قادیانی کے کردار کی ایک جھلک ٢٦٢ عبد الکریم کی شہادت ٢٦٢ باب نمبر: ٨ ....... مرزا ناصر احمد ابن مرزا محمود احمد سربراہ ثالث جماعت احمدیہ ربوہ کے متعلق چوہدری عبد الحمید بدوملہی ضلع نارووال اور چوہدری محمد اشرف کے بیانات ٢٦٣ باب نمبر: ٩ ....... قتل ٢٦٥ امۃ الحئی زوجہ مرزا محمود احمد کی وفات کا قصہ ٢٦٥ مرزا محمد اسحاق کا وفات کا قصہ ٢٦٦ سارہ اور ام وسیم پاگل ہو گئیں ٢٦٦ روزی کا قتل ٢٦٧ فخر الدین ملتانی کی شہادت ٢٦٧ باب نمبر: ١٠ ....... عبرتناک انجام ٢٦٧ باب نمبر: ١١ ....... جماعت احمدیہ کا فکری انتشار اور مستقبل ٢٦٩ باب نمبر: ١٢ ....... مرزا محمود احمد کا حکومتی خاکہ ٢٧٧

٥

صفحہ ١٨٥

تقدیم

مرزا محمود احمد قادیانی پر مرزا غلام احمد قادیانی کی حیات سے لے کر تا مرگ احمدی حضرات در پردہ اور اعلانیہ سنگین قسم کے زنا کے الزامات لگاتے چلے آرہے ہیں۔ مباہلے والے (عبدالکریم و محمد زاہد ) عبدالرحمان مصری فاضل ازہر یونیورسٹی ، فخرالدین ملتانی اور حقیقت پسند پارٹی کے معزز اراکین خصوصاً قابل ذکر ہیں۔ مختلف اوقات میں پمفلٹوں ، اشتہارات، رسالہ جات اور اخبارات میں زنا کے متعلق مضامین تو شائع ہوتے رہے ہیں۔ لیکن وہ مواد کتابی شکل اختیار نہ کر سکا۔ حقیقت پسند پارٹی کے خروج کے بعد مرزا محمود احمد کے اندرونی سربستہ راز کتابی شکل میں آنے شروع ہوئے۔ چنانچہ سب سے پہلے راحت ملک برادر خورد ملک عبدالرحمان خادم مؤلف احمدیہ پاکٹ بک نے ”ربوہ کا مذہبی آمر“ کے نام سے کتاب شائع کی۔ دینی حلقوں میں خاص مرکز توجہ بنی۔ ہاتھوں ہاتھ بک گئی۔ اس کتاب میں سابقہ منتشر مواد کو جمع کر دیا گیا۔ اس میں ایک لطیفہ کی بات یہ ہے۔ کتاب میں مرزا محمود احمد اور اللہ رکھا درویش کے فوٹو قابل دید ہیں۔ مصنف نے مرزا محمود احمد کو ذلیل کرنے کے لئے اللہ رکھا درویش کے فوٹو کے نیچے مرزا محمود احمد کا نام اور مرزا محمود احمد کے فوٹو کے نیچے اللہ رکھا کا نام لکھا تھا۔ اس کتاب میں جماعت احمدیہ کے احباب کو خصوصاً اس طرف توجہ دلائی ہے کہ مرزا محمود احمد نے جس فتنہ کا صور پھونکا ہے اس کا ہیرو اللہ رکھا ہے۔ جس کا نہ اپنا گھر بار ہے، نہ بال بچہ ہے، غریب و نادار ۔ دوست یاروں کے ٹکڑوں پر کھانا کھانے والے کو اپنا مدّ مقابل بنا کر لا کھڑا کیا ہے۔ یہ ہے مرزا محمود احمد کا وہ حریف جس کے کندھوں پر ١٩٥٦ء میں ”عظیم فتنہ“ کا اعلان کر کے تمام جماعت سے از سر نو بیعت لی تھی۔ بہر حال مرزا محمود احمد کے جابرانہ، قہارانہ اور منتقمانہ مزاج کے لحاظ سے کتاب کا نام موزوں ہے۔ اس کے بعد دوسری کتاب شہید فخرالدین صاحب ملتانی کے صاحبزادے مظہر الدین ملتانی نے ”تاریخ محمودیت“ تالیف کر کے اپنے باپ کی شہادت کا بدلہ لے لیا۔ جن خطوط اور مواد کے شائع ہونے کے خوف سے ملتانی صاحب کو شہید کیا گیا تھا۔ مظہر الدین نے وہ مواد اور بعض دوسری شہادتیں شائع کر دیں۔ اس کتاب میں عبدالرحمان مصری کے خطوط تاریخی حیثیت رکھتے ہیں اور میرا خیال ہے ان خطوط سے بڑھ کر خلیفہ ربوہ کی بدکرداری پر کوئی دستاویز نہیں ہے۔ کیونکہ یہ خطوط مرزا محمود احمد کے حوالے کئے گئے۔ جواب دینے کا مطالبہ کیا۔ اس کتاب کا نام بھی مرزا محمود احمد کی ٦

بدکرداری کے لحاظ سے موزوں ہے۔ گو یہ کتاب او ہوئی۔ بہر حال ایک عرصہ تک لوگوں کی توجہ کا مرکز ب کتاب ”شہر سدوم“ تحریر کی۔ دیباچہ میں اپنے حالات وقف کرنا۔ سربستہ رازوں کا علم ہونا۔ جماعت سے ہیں۔ یہ دیباچہ مرزا شفیق کی مجاہدانہ زندگی کی عکاس چکی ہے۔ مرزا شفیق نے دلآویز انداز میں واقعات اصطلاحات کا اضافہ کیا ہے۔ بلکہ یوں کہہ لیجئے اردو کتب کی نسبت بدکاری کا زیادہ مواد مہیا کیا ہے۔ اس کرتے ہیں۔ مجھ سے خود ایک سابق احمدی مبلغ نے کتاب کو کثرت سے پڑھتے ہیں۔ لیکن میں بڑی م سنگین بدکاری کی نسبت سے ”شہر سدوم“ نام موزوں ”سدومیت“ محض ”منہ کا مزہ“ بدلنے کے کیا کرتے متعلق لکھا جا رہا ہو تو پھر یہ نام بہت موزوں ہے۔ کے بغیر اپنی زندگی بے کیف محسوس کرتا تھا۔ کیونکہ یہ کی مقبول کتاب ہے۔ اس لئے میں اس کتاب جب ایک قاری اس کتاب کو پڑھتا ہے تو ایک شیطا ہے۔ بلکہ یوں محسوس کرتا ہے کہ وہ خود بھی مرزا محمود متین خالد کی مشہور کتاب ”قادیانیت اس بازار میں سے مواد جمع کیا ہے۔ اخبارات میں اچھے تبصرے شائع ہو چکے ہیں۔ فاضل مؤلف نے یہ کتاب محض مطلوب نہیں۔ احمدیوں کو راہ راست پر لانا مقصود ہے۔ فاضل مؤلف نے مرزا محمود احمد کو اس بازار لذت خواہی مرزا محمود کی سنگین بدکاری سے کوئی مناس کچھ قواعد وضوابط ہیں۔ مثلاً جب محرم کا مہینہ آئے دیگر مذہبی تہوار ہوں تو بھی ان تہواروں کی حرمت ک ٧

صفحہ ١٨٥

بدکرداری کے لحاظ سے موزوں ہے۔ گو یہ کتاب اولین ماخذ ہے۔ لیکن کسی سلیقہ سے شائع نہیں ہوئی۔ بہرحال ایک عرصہ تک لوگوں کی توجہ کا مرکز یہ کتاب رہی ہے۔ اس کے بعد شفیق مرزا نے کتاب ”شہر سدوم“ تحریر کی۔ دیباچہ میں اپنے حالات زندگی (جماعت احمدیہ کے لئے اپنی زندگی وقف کرنا۔ سربستہ رازوں کا علم ہونا۔ جماعت سے نکلنا اور مصائب سے دوچار ہونا) بیان کئے ہیں۔ یہ دیباچہ مرزا شفیق کی مجاہدانہ زندگی کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ کتاب ہزاروں کی تعداد میں بک چکی ہے۔ مرزا شفیق نے دلاویز انداز میں واقعات کو بیان کیا ہے۔ علم جنسیت میں بے شمار اصطلاحات کا اضافہ کیا ہے۔ بلکہ یوں کہہ لیجئے اردو ادب کی بھی خدمت کی ہے۔ پہلی شائع شدہ کتب کی نسبت بدکاری کا زیادہ مواد مہیا کیا ہے۔ اس کتاب کا اکثریت پر احمدی حضرات مطالعہ بھی کرتے ہیں۔ مجھ سے خود ایک سابق احمدی مبلغ نے ذکر بھی کیا تھا۔ درپردہ احمدی حضرات اس کتاب کو کثرت سے پڑھتے ہیں۔ لیکن میں بڑی معذرت کے ساتھ یہ لکھوں گا۔ مرزا محمود احمد کی سنگین بدکاری کی نسبت سے ”شہر سدوم“ نام موزوں نہیں۔ مرزا جنس لطیف کے شوقین تھے۔ ہاں ”سدومیت“ محض ”منہ کا مزہ“ بدلنے کے کیا کرتے تھے۔ اگر مرزا بشیر احمد کے حالات خبیثہ کے متعلق لکھا جا رہا ہو تو پھر یہ نام بہت موزوں ہے۔ کیونکہ موصوف سدومیت کا ”بادشاہ“ تھا۔ اس کے بغیر اپنی زندگی بے کیف محسوس کرتا تھا۔ کیونکہ یہ کتاب موضوع کے لحاظ سے بہتر ہے۔ عوام کی مقبول کتاب ہے۔ اس لئے میں اس کتاب کے اس ”نقص“ سے صرف نظر کرتا ہوں۔ لیکن جب ایک قاری اس کتاب کو پڑھتا ہے تو ایک شیطان کی تصویر اس کی آنکھوں کے سامنے آ جاتی ہے۔ بلکہ یوں محسوس کرتا ہے کہ وہ خود بھی مرزا محمود کی سنگین محفل میں بیٹھا ہوا ہے۔ اس کے بعد متین خالد کی مشہور کتاب ”قادیانیت اس بازار میں“ کا ذکر کرتا ہوں۔ بڑی محنت اور جانفشانی سے مواد جمع کیا ہے۔ اخبارات میں اچھے تبصرے ہوئے ہیں۔ عوام میں مقبول ہے۔ کئی ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں۔ فاضل مؤلف نے یہ کتاب محض آخرت کے زاد راہ کے لئے لکھی ہے۔ پیسہ کمانا مطلوب نہیں۔ احمدیوں کو راہ راست پر لانا مقصود ہے۔ مجھے اس کتاب کے نام پر بھی شکایت ہے۔ فاضل مؤلف نے مرزا محمود احمد کو اس بازار سے تشبیہ دی ہے۔ جب کہ اس بازار کی تماش بینی لذت خواہی مرزا محمود کی سنگین بدکاری سے کوئی مناسبت نہیں رکھتی۔ اس بازار کے دھندے کے بھی کچھ قواعد وضوابط ہیں۔ مثلاً جب محرم کا مہینہ آئے گا اس بازار کے دروازے بند ہو جائیں گے یا دیگر مذہبی تہوار ہوں تو بھی ان تہواروں کی حرمت کی وجہ سے تماش بینوں کے لئے دروازے بند کر ٧

صفحہ ١٨٦

دینے پڑ جاتے ہیں۔ پھر کسی دروازہ بند کر کے پردہ میں رہ کر لذت خواہ سے ہم آغوش ہوتی ہے۔ لیکن مرزا محمود احمد کے ہاں حجاب فضول ہے۔ رؤف کو سیمل ہوٹل سے اغوا کر کے قادیان لے جایا گیا تو حصول لذت کے وقت اپنی بیٹی کو پاس بٹھا لیا۔ قارئین اندازہ لگا لیں گے۔ اس بازار کی مرزا محمود کی رنگین محفل کے ساتھ کیا مناسبت ہے۔ میرے خیال میں خالد متین صاحب نے ”اس بازار“ کے رہنے والوں کے ساتھ ”زیادتی“ کی ہے۔

بہر حال یہ کتاب اپنے مواد کے لحاظ سے بہترین کتاب ہے۔ لہٰذا کتاب کے نام کو نظر انداز ہی کرنا پڑے گا۔ میں نے اپنی کتاب کا نام ”ربوہ کا راسپوٹین“ رکھا ہے۔ گو ”راسپوٹین“ مرزا محمود احمد کے پاؤں کی خاک ہے۔ بدکاری کے لحاظ سے راسپوٹین کی مرزا محمود احمد کے سامنے کوئی حیثیت ہی نہیں۔ جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے کسی ماں نے اس سے بڑھ کر بدکار نہیں جنا۔ نہ جنے گی۔ جس کے سامنے کوئی رشتہ بھی حرمت والا نہیں۔ مجھے مرزا محمود کی اپنی والدہ کے ساتھ لذت خواہی کی کوئی شہادت نہیں ملی۔ جو ملی ہیں وہ ثقہ نہیں لیکن اپنے گھرانے اور رشتے داروں کی کوئی عورت اور بچہ اس کی گرفت سے نہیں بچ سکا۔ اب میں عبدالمنان عمر سے رجوع کروں گا۔ ممکن ہے وہ کچھ روشنی ڈال سکیں۔ میں نے راسپوٹین کی نسبت سے اس لئے کتاب کا نام رکھا ہے۔ راسپوٹین دنیا کی ادبیات میں بدکاری کی ایک علامت ہے۔

میں آخر میں احمدی حضرات کی خدمت میں درخواست کروں گا۔ مجھے مرزا محمود احمد سے کوئی بیر نہیں۔ تمہارا دل دکھانا مطلوب نہیں۔ بڑی سوچ بچار کے بعد اس فیصلہ پر پہنچا کہ سابقہ کتب کے مواد کے علاوہ جو میرے پاس مواد ہے وہ بھی احاطہ تحریر میں آجائے۔ خصوصاً ڈاکٹر مبشر احمد ابن ڈاکٹر منور احمد ابن مرزا محمود احمد کے ساتھ سدومیت ولواطت کا واقعہ۔ یہ دل ہلا دینے والا واقعہ ہے۔ میں نے کتاب کو ابواب میں تقسیم کیا ہے۔ جب کہ دیگر مؤلفین نے یہ رنگ اختیار نہیں کیا۔ بہر حال پہلی کتب اپنی جگہ، یہ کتاب اپنی جگہ۔ مزید اضافوں کے ساتھ قارئین کے سامنے پیش کر رہا ہوں۔

آخر میں اپنی گذارشات کو اس قسم کے ساتھ ختم کرتا ہوں ۔ ”میں اس واحد قہار کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کی جھوٹی قسم کھانا لعنتیوں، مردودوں اور فاسقوں کا کام ہے۔ میں خدائے عزیز کو حاضر ناظر جان کر کہتا ہوں کہ مرزا محمود احمد پرلے درجہ کا بدکار تھا۔ اگر کوئی اس کا رشتہ دار یا احمدی مباہلہ کے لئے تیار ہو تو وہ پروپرائٹر قلم و عرفان اردو بازار، لاہور سے رابطہ قائم کرے ۔“ والسلام !

رفیق طاہر

٨

صفحہ ١٨٧

باب نمبر: ١

جنسیت

مرزا محمود احمد کی جنسی کجرویوں سے متعلق لکھنے سے قبل ”جنسیات“ کا مختصر مطالعہ ضروری ہے۔ تاکہ موصوف کی جنسی سنگینی کو پڑھتے ہوئے ذہن کے کسی گوشے میں بھی شک وشبہ نہ رہے۔ کیونکہ بعض جنسی واقعات میں اتنی سنگینی پائی جاتی ہے سلیم فطرت اسے ماننے سے ابا کرتی ہے کہ ایک انسان شہوت کی اس گہرائی میں گر سکتا ہے۔ ایک دو واقعات محض اس وجہ سے اس کتاب میں شامل نہیں کئے گئے۔ وہ مسلمانوں کی دل آزاری کا موجب ہیں۔ میرے قلم نے بھی یہ پسند نہیں کیا کہ ان کو صفحہ قرطاس پر لایا جائے۔ دنیا کے ہر لٹریچر میں جنسیات کا کھوج ملتا ہے۔ اس ضمن میں افلاطون کے شاگرد ہیر مقلیدیز پوٹائی کی کتاب جنسی حظ، اووڈ کی فن عشق بازی جونیال، مارشل اور ہوریس کی نظمیں اور موساد کے دو ناول جسٹن اور جولیٹ قابل ذکر ہیں۔ ان میں اس دور کے معاشرے کی عکاسی ہوتی ہے۔ افلاطون کے مکالمے سمپوزیم، اور فیدو اور سیفو کی نظمیں ہم جنس عشق کی حسین مرقع ہیں۔ قدیم چینی لٹریچر میں دو کتابیں ”سنہرا کنول“ اور چنگ پنگ می قابل ذکر ہیں۔ سنہرا کنول میں تاؤمت کے متبعین کے لئے اعادہ شباب اور جنسی حظ کے طریقے درج کئے گئے ہیں اور جنسی ترغیبات سے بحث کی گئی ہے۔ چنگ پنگ می میں ایک شخص سہمی ہمن کی عشقیہ داستان بیان کی گئی ہے۔ ہندوستان میں جنسی موضوع پر وتسیان کی کتاب ”کام شاستر“ مشہور ہے۔ وتسیان (اصلی نام ملی ناگا تھا) ایک سنیاسی تھا۔ اس کا زمانہ پہلی اور چوتھی صدی بعد از مسیح کے درمیان بتایا جاتا ہے۔ ہندوؤں میں لنگ شیو دیوتا اور یونی شکتی دیوی کی علامتیں ہیں اور ان کی مندروں میں پوجا کی جاتی ہے۔ اس نے اس کتاب میں جنسی کجرویوں کا تفصیلاً ذکر کیا ہے۔ ”کام شاستر“ کا ترجمہ یورپ کی زبانوں میں ہو چکا ہے۔ جنسی مقاربت پر ایک اور کتاب ککو شاستر (کوک شاستر) لکھی گئی۔ دتا کا نے پاٹلی پتر کی کسبیوں کی فرمائش پر ایک رسالہ لکھا تھا۔ وہ دست برد زمانہ کا شکار ہو چکا ہے۔ البتہ اس کے حوالہ جات کتب میں ملتے ہیں۔ ہمارے دور میں ملک راج آنند نے اپنی کتاب ”کام کلا“ میں قدماء ہند کے جنسی نظریات قلمبند کئے ہیں۔

عربی زبان میں جنسیت پر وسیع ادب ہے۔ جاحظ کی کتاب ”العرس والعرائس، المہلی کی کتاب الباہ۔ ابن حاجب النعمان کی کتاب الغلمان۔ جلال الدین سیوطی کی کتاب ”الایضاح فی علم النکاح“ الف لیلہ ولیلہ اور شیخ نغزاوی کی ”الروضة العاطر فی نزهة

٩

صفحہ ١٨٨

الخاطر‘ میں جنسی مباحث ہیں۔ شیخ نفزاوی نے جنسی مقاربت کے تمام طور و طریقوں کو شرح و بسط سے بیان کیا ہے۔

جنسی بے راہ روی کا تسلسل اب تک قائم ہے۔ دور حاضر میں ہر زبان میں نثر اور نظم میں یہ ادب پیدا ہو رہا ہے۔ چنانچہ بوکاچیو اور شہزادی مارگریٹ کی کہانیاں۔ بڈارکا کے سانیٹ۔ بڈلیر کی نظمیں، چاسر کی شاعری، شیکسپیئر اور مولیئر کی تمثیلات، ڈاونچی، مائیکل انجلو اور رافیل کی تصاویر ذوق جمالیات کی عکاسی کرتی ہیں۔ اٹھارھویں صدی، یورپ کی جنسی کجروی کا دور کہلاتا ہے۔ ادباء نے جنسی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کیا۔ مارگن، رابرٹس سمتھ، ٹائلر، فریزر، رابرٹ برفالٹ، ایڈورڈ وسٹرمارک اور رچرڈ لیوں نے علم جنسیات کو وسعت دی۔ ہرش فیلڈ، پولی ایڈلر، فرینڈو ہنریک نے عصمت فروشی کو اپنا موضوع بنایا۔ جنسی نفسیات میں فرائڈ ہیولاک ایلس، ہرش فیلڈ، کرافٹ ایبنگ نے اہم انکشافات کئے۔ برٹرنڈ رسل، ڈی ایچ لارنس، ہنری ملر، سارتر، سمون دیوا، ماسٹرز، جائس وغیرہ کے خیالات نے یورپ میں جنسیت کی نئی نئی راہیں وا کیں۔

مرزا محمود احمد کی جنسی بے راہ روی کو قارئین کے ذہن کے قریب تر کرنے کے لئے چند ایسے سچے جنسی واقعات درج کئے جاتے ہیں۔ تاکہ مرزا قادیانی کے جنسی واقعات پڑھنے سے قاری کے دل کے کسی گوشہ میں کوئی شک و شبہ پیدا ہو تو وہ دور ہو سکے۔ گو مرزا قادیانی کی جنسی انحرافی میں وہ سنگینی پائی جاتی ہے وہ ان واقعات میں نہیں پائی جاتی۔ لیکن کسی حد تک مماثلت ضرور ملتی ہے۔

زرینہ کا روح فرسا حادثہ

علی عباس جلالپوری نے اپنی کتاب ”جنسیاتی مطالعے“ میں ایک واقعہ بیان کیا ہے۔ لکھتے ہیں: ”زرینہ ...... یہ نام فرضی ہے...... ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہوئی۔ وہ سرخ اور سفید خوب رو لڑکی تھی اور کئی بھائیوں کی ایک بہن تھی۔ وہ دس برس ہی کی عمر میں بالغ ہوگئی۔ لکھتی ہے: ”میں دس برس کی عمر ہی میں جوان ہوگئی۔ ان دنوں امی سخت بیمار تھیں اور میری خالہ جو مجھ سے چند سال بڑی ہیں آئی ہوئی تھیں۔ انہوں نے مجھے سمجھایا چند بڑی عمر کی لڑکیوں نے بتایا تھا میں نے امی سے چھپایا مگر انہیں پتہ چل گیا۔ وہ بہت روئیں۔ یقین نہ آیا اور مجھے ایک ماہر انگریز لیڈی (ڈاکٹر کے پاس) (قوسین کے اندر کے الفاظ کتاب میں نہیں ہیں۔ یا تو زرینہ نے ہی نہیں لکھے یا کتابت کرتے وقت کاتب چھوڑ گیا ہے اور پروف ریڈنگ میں بھی رہ گئے ہیں) لے گئیں۔ معائنہ کرایا۔ وہ بچی حیران رہ گئی۔“

١٠

زرینہ کے مصائب کا آغاز

لئے کسی دوسرے شہر کو جانا پڑا۔ زرینہ گھر اس بھولی بھالی لڑکی کو بہلا پھسلا کر اپنی ہو کا علم ہوا تو وہ بھی اپنی بہن کی آبرو ریزی جلالپوری صاحب کو لکھتی ہے ) ”میں نے کا ماحول تھا۔ میں کس جگر سے بتاؤں ک نشانہ بناتے رہے۔ میں کچھ نہیں جانتی کہ کی تعداد کا اندازہ ہے۔ میں آپ کو ان اتنی کم عمری میں کیونکر سمجھتی تھی کہ بری او جولیاں اور ایسی لڑکیاں جو خود ان باتوں مگر مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ان کے ذہن ہو کر خود کو بچانے کے ایسے جتن نہ کرتی تھی سے نفرت ہو جاتی ہے۔ یقین کیجئے کہ م آج بھی کانپ اٹھتی ہوں۔“

زرینہ کی ماں گھر لوٹی تو زر بہن کو بیٹے کے خلاف خوب بھڑکایا۔ زری ہے۔ زرینہ نے رو رو کر کہا کہ وہ خود بھی گلے لگا کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ م کہ زرینہ جنس زدہ ہے اور جو بھی مرد اس میں فرض کر لیتی ہے کہ میرا اس سے جنسی لکھا ہے حرف بہ حرف صحیح ہے۔“

زرینہ کے اس حادثے کے آنے والا حادثہ بیان کرتے ہیں۔ زری

١؎ مرزا محمد حسین بی کام اور مجلس میں جو مشاہدات کئے ہیں ان کی ہو گئے اور داؤد احمد زندہ ہیں۔ لیکن شاد

صفحہ ١٨٩

زرینہ کے مصائب کا آغاز اسی وقت سے ہوا۔ ایک دفعہ اس کی امی کو کسی کام کے لئے کسی دوسرے شہر کو جانا پڑا۔ زرینہ گھر میں اکیلی رہ گئی۔ انہی ایام میں اس کے سگے ماموں نے اس بھولی بھالی لڑکی کو بہلا پھسلا کر اپنی ہوس کا نشانہ بنایا۔ جب اس کے بڑے بھائی کو اس بات کا علم ہوا تو وہ بھی اپنی بہن کی آبروریزی پر کمر بستہ ہو گیا اور یہ سلسلہ دور تک چلا گیا۔ (زرینہ، جلالپوری صاحب کو لکھتی ہے) "میں نے جس ماحول میں آنکھ کھولی۔ وہ درندوں اور لٹیروں کا ماحول تھا۔ میں کس جگر سے بتاؤں کہ میرا سگا بھائی اور سگا ماموں، سگا چچا مجھے اپنی ہوس کا نشانہ بناتے رہے۔ میں کچھ نہیں جانتی کہ یہ حادثہ کب اور کس طرح پیش آیا اور نہ ہی ان حادثات کی تعداد کا اندازہ ہے۔ میں آپ کو ان دنوں کی ذہنی کیفیت رتی رتی بتا سکتی ہوں۔ ان باتوں کو اتنی کم عمری میں کیونکر سمجھتی تھی کہ بری اور گناہ ہیں۔ پھر بھی کسی کو بتا نہیں سکتی تھی۔ ہاں! چند ہم جولیاں اور ایسی لڑکیاں جو خود ان باتوں سے دو چار تھیں۔ واقف تھیں میری مصیبتوں سے۔ مگر مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ان کے ذہن پر تو بری طرح بوجھ نہ رہتا تھا وہ تو میری طرح پریشان ہو کر خود کو بچانے کے ایسے جتن نہ کرتی تھیں۔ جب کہ ماضی کے یہ روپ سامنے آتے ہیں تو جنس سے نفرت ہو جاتی ہے۔ یقین کیجئے کہ میں نے ایسے ہولناک بھیانک چہرے دیکھے ہیں کہ میں آج بھی کانپ اٹھتی ہوں۔"

زرینہ کی ماں گھر لوٹی تو زرینہ کے ماموں نے زرینہ کے بھائی کی شکایت کی اور اپنی بہن کو بیٹے کے خلاف خوب بھڑکایا۔ زرینہ کی ماں نے بیٹی سے پوچھ گچھ کی کہ تمہارا ماموں یہ کہتا ہے۔ زرینہ نے رو رو کر کہا کہ وہ خود بھی تو ایسا ہی کرتے رہے ہیں۔ یہ سن کر زرینہ کی ماں بیٹی کو گلے لگا کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ مطالعے کی ابتداء میں مجھے (علی عباس جلالپوری) شک تھا کہ زرینہ جنس زدہ ہے اور جو بھی مرد اس سے مخاطب ہوتا ہے وہ اس کے بارے میں خیال ہی خیال میں فرض کر لیتی ہے کہ میرا اس سے جنسی تعلق ہے۔ لیکن بعد میں مجھے یقین آ گیا کہ جو کچھ اس نے لکھا ہے حرف بہ حرف صحیح ہے۔"

(جنسیاتی مطالعے ص ٤٤، ٤٥)

زرینہ کے اس حادثے کے لکھنے کے بعد مزید ایک عطائی اور ڈاکٹر صاحب کا پیش آنے والا حادثہ بیان کرتے ہیں۔ زرینہ نے جو اپنی سرگزشت جلالپوری صاحب کو رقم کی یہ ظاہر

١؎ مرزا محمد حسین بی کام اور داؤد احمد کا بھی یہی حال ہے۔ انہوں نے مرزا محمود کی جنسی مجلس میں جو مشاہدات کئے ہیں ان کی وجہ سے شادی سے متنفر ہو گئے۔ محمد حسین تو بغیر شادی فوت ہو گئے اور داؤد احمد زندہ ہیں۔ لیکن شادی نہیں کی۔

١١

صفحہ ١٩٠

کرتی ہے۔ معاشرے میں ایسے بھی بدکردار ہوتے ہیں۔ جن کی نظر میں محرمات اور غیر محرمات سب برابر ہیں۔ جب آتش شہوت بھڑکتی ہے تو اس کی زد میں آجاتے ہیں۔ رئیس امروہوی اپنی تصنیف ”جنسیات“ میں بیٹی کے ساتھ والد کا جنسی ہوس کو پورا کرنے کا المناک واقعہ رقمطراز ہیں۔ مرزا الف (کراچی) کا بیان ہے کہ: جس سانحے نے میری روح کے ٹکڑے اڑا دیئے ہیں۔ اس کا تعلق میری ازدواجی زندگی سے ہے۔ پانچ سال قبل میری شادی اپنے ہی جیسے ایک متوسط اور بظاہر شریف گھرانے میں ہوئی۔ شادی میری پھوپھی کی پسند سے طے پائی تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ مقام تک پہنچنے میں میری پھوپھی کا بڑا ہاتھ ہے۔ میں ان کے احسانات کبھی نہیں بھلا سکتا۔ جب انہوں نے یہ رشتہ تجویز کیا تو میں نے آنکھ بند کر کے ہاں کر لی۔ ہامی بھر لی۔ اس میں شک نہیں کہ میری بیوی نہایت حسین اور تین حسین بچوں کی ماں ہے۔ پانچ سال کی ازدواجی زندگی میں بیوی کا کردار ہر طرح کے شک وشبہ سے بلند رہا ہے۔ کسی حد تک خدمت گزار بھی ہے۔ انہی خوبیوں کی بدولت میں باوجود یہ کہ اس کی تعلیم واجبی ہے۔ دل سے اس کا قدر دان رہا اور اسے ہر طرح میری بھر پور محبت حاصل ہے۔

اب یہاں سے اس المیے کا آغاز ہوتا ہے۔ جس نے مجھے جہنمی زندگی بسر کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ چھ مہینے قبل میں اپنے سسرال گیا ہوا تھا۔ ایک روز میرے چھوٹے سالے اور سالی کھیلتے ہوئے میرے پاس آئے۔ ان بچوں کے پاس ١٩٦٠ء کی ایک بوسیدہ بیاض (ڈائری) تھی۔ یہ بیاض سسر صاحب کی تحریر کردہ تھی۔ وہ اس میں اپنی زندگی کے نجی واقعات قلم بند فرمایا کرتے تھے۔ (کاش میں اس بیاض کو نہ دیکھتا)

میں یونہی اس بیاض کی ورق گردانی کر رہا تھا کہ ٢٠ فروری کی تاریخ کے نیچے انہوں نے اپنے سفر حیدرآباد کا روزنامچہ تحریر کیا تھا۔ اس سفر میں ان کی بیٹی اور میری بیوی ان کی ہم رکاب تھی۔ انہوں نے حیدرآباد کے ایک ہوٹل میں قیام کیا تھا اور اپنی اور اپنی لڑکی کی داستان بیان کی تھی۔ ٢٠ فروری کا یہ اعتراف پڑھتے ہی مجھے محسوس ہوا کہ روح میں جیسے ایٹم بم کا دھماکہ ہوا ہے۔ اگر اس روزنامچے کو شیطان کی ڈائری کہا جائے تو بجا ہے ڈائری میں ہمارے خسر صاحب کے سیاہ نامہ اعمال تھے۔

کہیں ایک عورت کا ذکر کہیں دوسری کا اور یہ سب انہی کے خاندان عالیشان کی لڑکیاں تھیں۔ مارچ، اپریل، جون، اگست اور دسمبر کے مہینے میں میری بیوی کے ساتھ شب گزاری کی کہانیاں تحریر تھیں۔ یہ حادثہ نا قابل برداشت، میں نے اس کا ذکر بیوی سے کیا۔ پہلے تو اس نے

١٢

١٩١ سختی کے ساتھ تردید کی۔ مگر جب یہ بیاض، شیطان دہشت اور احساس جرم کے زبردست صدمے سے ہاں! مجھ پر یہ قیامت ٹوٹ چکی ہے۔“

جنسی انحرافی کی مختلف شکلیں (اقسام)

جنسی انحرافات سے مراد جنسی خواہش معمول سے مختلف ہو۔ ماہرین علم جنسیات اور تحلیلی ہیں۔ ان میں سے بعض مرزا محمود احمد میں پائی جاتی

اٹھایا جائے۔ اس موضوع پر ڈ ساد نے دو ناول جـ میں موجود تھے) لکھے۔ جو دس جلدوں میں شا اپنے ناولوں میں ایذا کوشی کی مثالیں اپنے معاشر کے بدن میں نشتر چھبو کر حظ اٹھاتے ۔ اٹھارھویں کوڑے مارنے اور کھانے کا عام رواج تھا۔

مرزا محمود احمد میں ایذا کوشی کی عادت بـ ام طاہر (مریم) کے مرنے پر خطبہ دیا اور میں نے ایک بیہودہ دلیل دی کہ وہ پنجابی بولتی تھی۔ میں یـ بتایا کہ ام طاہر کو اتنا مارا کرتا تھا کہ اس کی چیخیں (مرزا محمود احمد کی ماں) کو کہتیں کہ جا کر چھڑائیں طرح امتہ الحی کو بھی سخت ایذائیں دی جاتی تھیں

میرا یہ خیال ہے کہ بیوی کے لئے مخـ سے مجامعت کی جائے اور اسے دوسرے مردوں مشغلہ یہی تھا۔ مرزا محمود احمد صرف اپنی بیویوں کو کو پورا کرنے کے لئے اپنے مریدوں کو بھی تخـ بچوں اور والدین اور دیگر رشتے داروں کو حکم دے آنکھوں سے سرور شاہ صاحب (سرور شاہ صاحـ آئندہ کے صفحات میں آئے گا) رئیس جامعہ احمـ

صفحہ ١٩١

سختی کے ساتھ تردید کی۔ مگر جب یہ بیاض، شیطان کی ڈائری اس کے سامنے پیش کی گئی تو وہ خوف دہشت اور احساس جرم کے زبردست صدمے سے ماؤف سی ہو گئی اور اس نے اعتراف کیا۔ جی ہاں! مجھ پر یہ قیامت ٹوٹ چکی ہے۔“

(جنسیات ص ٧٩ ، ٨٠)

جنسی انحرافی کی مختلف شکلیں (اقسام)

جنسی انحرافات سے مراد جنسی خواہش کی تسکین کے لئے ایسا طریقہ اختیار کرنا جو طبعی معمول سے مختلف ہو۔ ماہرین علم جنسیات اور تحلیل نفسی نے جنسی انحرافات کی مختلف شکلیں بیان کی ہیں۔ ان میں سے بعض مرزا محمود احمد میں پائی جاتی ہیں۔ وہ درج کر دیتا ہوں۔

اٹھایا جائے۔ اس موضوع پر دساد نے دو ناول جسٹن اور جولیٹ (مرزا محمود احمد کی ذاتی لائبریری میں موجود تھے) لکھے۔ جو دس جلدوں میں شائع ہوئے۔ فحش کاری کا شاہکار ہیں۔ دساد نے اپنے ناولوں میں ایذا کوشی کی مثالیں اپنے معاشرے سے ہی دی ہیں۔ اس قبیل کے افراد کسبیوں کے بدن میں نشتر چبھو کر حظ اٹھاتے ۔ اٹھارھویں صدی کے انگلستان اور فرانس میں قحبہ خانوں میں کوڑے مارنے اور کھانے کا عام رواج تھا۔

مرزا محمود احمد میں ایذا کوشی کی عادت بدرجہ اتم موجود تھی۔ اپنی بیویوں کو سخت مارا کرتا تھا۔ ام طاہر (مریم) کے مرنے پر خطبہ دیا اور میں نے خود سنا تھا کہ میں مریم کو بہت مارا کرتا تھا۔ ساتھ ہی ایک بیہودہ دلیل دی کہ وہ پنجابی بولتی تھی۔ میں پنجابی بولنے کو نا پسند کرتا ہوں۔ مجھے محمد احمد حامی نے بتایا کہ ام طاہر کو اتنا مارا کرتا تھا کہ اس کی چیخیں دور تک جاتی تھیں۔ دوسری بیویاں اماں جان (مرزا محمود احمد کی ماں) کو کہتیں کہ جا کر چھڑائیں۔ اماں جان کہتیں یہ میاں بیوی کا معاملہ ہے۔ اسی طرح امۃ الحی کو بھی سخت ایذائیں دی جاتی تھیں۔ حتی کہ اس کو زہر دے کر مار دیا گیا۔

میرا یہ خیال ہے کہ بیوی کے لئے سخت ایذا کوشی یہ ہے کہ اس کے سامنے کسی غیر عورت سے مجامعت کی جائے اور اسے دوسرے مردوں کو پیش کر دیا جائے۔ مرزا محمود احمد کا تو دن رات مشغلہ یہی تھا۔ مرزا محمود احمد صرف اپنی بیویوں کو ہی ایذا پہنچا کر محظوظ نہیں ہوتا تھا۔ بلکہ جنسی لذت کو پورا کرنے کے لئے اپنے مریدوں کو بھی سخت ایذا دیا کرتا تھا۔ کسی مرد کا بائیکاٹ کر دیا اور بیوی بچوں اور والدین اور دیگر رشتے داروں کو حکم دے دیا کہ اس سے کلام نہیں کرنی۔ میں نے خود اپنی آنکھوں سے سرور شاہ صاحب (سرور شاہ صاحب مبارک شاہ کے والد بزرگوار تھے جن کا ذکر آئندہ کے صفحات میں آئے گا) رئیس جامعہ احمدیہ کو مبارک مرکز میں مرزا محمود احمد کے قدموں میں

١٣

صفحہ ١٩٢

پڑے ہوئے دیکھا تھا۔ وہ گڑگڑاہٹ سے اپنے ناکردہ گناہ کی معافی مانگ رہے تھے۔ محمود فرعونی رعونت سے شاہ صاحب کے ماتھے کو اپنے قدموں سے جھٹکتے ہوئے اپنے گھر میں چلے گئے اور وہ زار و قطار روتے رہے تھے۔ اس قسم کی ایذا رسانی بھی جنسی حظ کا ایک حصہ ہے۔ ایذا کوشی کی مختلف شکلیں ہیں اور ماہرین علم جنسیات کے نزدیک یہ عادت مرد اور عورت دونوں میں پائی جاتی ہے۔ کالی گولا قیصر روم جب کسی عورت سے مجامعت کرتا تو جنسی عمل کرتے ہوئے کہا کرتا: ”میں منہ سے ایک کلمہ نکالوں تو یہ مرمریں گردن اپنی تن سے جدا ہو جائے۔“ اسی طرح جیمز دوم شاہ انگلستان ایذا رساں تھا اور اپنی ملکہ ”میری اوسمودینہ“ کو تخلیے میں بید مارا کرتا تھا۔ اسی طرح رومہ کی ایک ملکہ تھیوڈورا اپنے عاشق کو ذہنی کوفت دینے کے لئے اپنے محبوب کے سامنے دوسروں سے ہم بستری کرتی تھی۔

ایک عالم جنسیات برڈاخ نے کہا ہے کہ ایذا کوشی طبعی طور پر جنسی ملاپ میں مشمول ہے اور حظ نفسانی اور اذیت کے امتزاج ہی سے جنسی جبلت ترکیب پاتی ہے۔ کلو پیٹرا کہتی ہے: ”موت کی ضرب عاشق کی چٹکی کی طرح ہے کہ تکلیف بھی دیتی ہے اور مرغوب بھی ہوتی ہے۔ علم جنسیات کی کتب میں ایسے ایسے واقعات بھی پڑھنے میں آتے ہیں کہ مرد نے اپنی محبوبہ سے اختلاط کیا۔ جنسی حظ نقطۂ عروج کو پہنچ کر محبوبہ کا گلا گھونٹ (دبا) کر ہلاک کر دیا۔“

ایذا طلبی

جہاں اپنی بیوی کو دوسروں کو بناؤ سنگھار کر کے پیش کرنا بیوی کے لئے ایذا کوشی ہے۔ وہاں خاوند کے لئے ایذا کا پہلو بھی نکلتا ہے۔ مرزا محمود احمد جہاں ایذا کوش تھے۔ وہاں ایذا طلب بھی، ایذا طلبی بھی جنسی انحراف کی ایک بگڑی ہوئی شکل ہے۔ مرزا محمود احمد اپنی بیویوں کو بناؤ سنگھار کا حکم دیتے۔ پھر ان کو دوسروں کے سامنے پیش کرتے جیسا کہ بعد کے واقعات سے اس صورت کی بھی وضاحت ہوگی۔

جنسی کتب میں اس قسم کی ایذا طلبی کی بہت مثالیں ملتی ہیں۔ صرف ایک بیان کی جاتی ہے۔ میزوخ ایک مشہور ماہر علم جنسیات ہے۔ اس نے ایک دن اپنی بیوی وانڈا کو بناؤ سنگھار کر کے اپنے ایک دوست کے پاس بھیجا۔ مرزا محمود احمد کی طرح جب وانڈا اس کا حکم مان کر اس کے دوست کے پاس جانے لگی تو خوشی کے مارے ناچنے لگا۔

نرگسیت

جنسیات کی اصطلاح میں جو مرد یا عورت اپنے ہی حسن پر فریفتہ ہو وہ نرگسیت کا

١٤

صفحہ ١٩٣

مریض ہوتا ہے۔ اس مرض کا شخص مختلف انداز سے اپنی ذات کا اظہار کرتا ہے اور جنسی لذت محسوس کرتا ہے۔ مرزا محمود احمد اس مرض میں بری طرح مبتلا تھا اور یہی سمجھتا تھا کہ عورتیں ان کے حسن پر فریفتہ ہیں۔ اس کی ایک مثال یہ ہے جب مرزا محمود احمد نے مرزا عبدالحق کی بیوی سکینہ سے جنسی خواہش پوری کی تو اس نے اپنے خاوند کو بتا دیا۔ مرزا عبدالحق نے غلام فرید اور اس کے ساتھیوں سے اس کا اظہار کیا۔ ملک غلام فرید نے کہا حضور سے جا کر بات کریں۔ مرزا عبدالحق نے مرزا محمود احمد سے وقت لے کر ملاقات کی۔ مرزا محمود احمد نے نہایت سکون سے اپنی ایک بیوی کو بلایا اور پوچھا سکینہ مجھے کیسے سمجھتی ہے۔ بیوی نے جواب دیا وہ تو آپ سے بہت پیار اور محبت کرتی ہے اور دلی لگاؤ رکھتی ہے۔ مرزا محمود احمد نے مرزا عبدالحق سے کہا۔ مرزا صاحب! بات یہ ہے میں مغل ہونے کی وجہ سے بہت خوبصورت ہوں۔ عورتیں میرے حسن پر فریفتہ ہیں۔ دوم میں پیر بھی ہوں۔ پیر ہونے کے ناطے سے مجھ سے محبت کرتی ہیں۔ نفسیات اور طبی کتب میں یہ لکھا ہے کہ جب کوئی عورت کسی مرد پر فریفتہ ہو جاتی ہے اور اس سے کسی وجہ سے جنسی تعلق پیدا نہیں کر سکتی تو وہ عالم تخیل میں ہی یہ محسوس کرتی ہے کہ وہ مرد اس سے جنسی حظ اٹھا رہا ہے۔ وہ عالم تخیل میں اتنی لذت محسوس کرتی ہے وہ یوں سمجھ رہی ہوتی ہے وہ عالم وجود میں ہی اس مرد سے مجامعت کر رہی ہے۔ دراصل سکینہ کا جنسی حظ اٹھانا عالم تخیل کا معاملہ ہے۔ مرزا عبدالحق اس دلیل سے قائل بلکہ گھائل ہوئے کہ وہ سکینہ پر اپنی جان دینے لگے۔ میری بیوی میرے پیر سے والہانہ محبت کرتی ہے۔

مرزا محمود احمد اپنی نرگسی مرض کا اظہار اور بھی مختلف رنگوں میں کیا کرتا تھا۔ مثلاً مجھ سے بڑھ کر کوئی قرآن نہیں جانتا۔ انسان روحانیت میں ترقی کرتا کرتا رسول کریمﷺ سے بڑھ سکتا ہے۔ اسلام کی فتح میرے ہاتھ پر ہی مقدر ہے۔ میں اس وقت تک نہیں مروں گا جب تک اسلام کا غلبہ تمام دنیا میں نہ ہو جائے۔ یہ سب تعلیاں تھیں۔ اس طرح اپنی بڑائی کا اظہار کر کے اس قسم کا جنسی حظ اٹھاتا تھا۔ نرگسی مرض کے اظہار کے کئی طریقے ہیں۔ اس مرض میں مبتلا آدمی اپنی بڑائی کا بہت اظہار کرتا ہے۔ نرگسیت میں بچگانہ عادات کا بھی اظہار ہو جاتا ہے۔ مرزا محمود احمد اپنی والدہ کی گود میں بیٹھ جاتا اور ان سے پیار کرتا نرگسی بیماری والا شخص عموماً سدومیت کا مریض ہو جاتا ہے۔ قارئین اس کتاب میں پڑھیں گے کہ مرزا محمود احمد بھی اس علت میں مبتلا تھا۔

نمائشیت

خود نمائی انسان کی ایک کمزوری ہے۔ لیکن جنسیات کی اصطلاح ”نمائشیت“ یہ ہے کہ

١٥

صفحہ ١٩٤

صنف مخالف کے سامنے اپنا ستر کھول دیتا۔ یہ مرض عورتوں میں بھی ہوتا ہے اور مردوں میں بھی۔ یہ مرض مرزا محمود احمد میں بدرجہ اتم موجود تھا۔ مجلس خاص میں جہاں عورتیں عریاں ہوتی تھیں وہاں مرزا محمود بالکل ننگا دھڑنگا بیٹھا ہوا ہوتا تھا۔ جیسا کہ مولوی محمد اسماعیل غزنوی کی شہادت سے واضح ہو جائے گا۔ مرزا قادیانی کے مصاحبین کا متفقہ بیان ہے۔ ”جب ایک کمرے میں کئی جوڑے جنسی حظ اٹھا رہے ہوتے ہیں تو مرزا محمود احمد بالکل عریاں ہو کر چیختا اور یوں محسوس ہوتا کہ جنسی شہوت کے غلبہ سے پاگل ہو چکا ہے۔“

روسو کے اعترافات میں بھی یہ ہے کہ وہ عورتوں کے سامنے ستر کھول دیتا تھا۔ مجھے ایک دوست حافظ غلام حسین نے جنسیات پر ایک کتاب دی تا کہ میں زیر طبع کتاب کے لئے کچھ مواد لے سکوں۔ اس کتاب میں دو سہیلیوں کا ذکر ہے۔ وہ اپنے ڈرائیور کو ساتھ لے کر ساحل سمندر پر جاتی ہیں۔ جب نہا کر اپنے ہٹ میں آتی ہیں تو لباس کو اتارتی ہیں اور اپنے ڈرائیور کو آواز دیتی ہیں۔ وہ ہٹ کے اندر داخل ہوتا ہے تو دونوں سہیلیوں کو ننگا دیکھ کر واپس جانے کا ارادہ کرتا ہے۔ ایک سہیلی اس کو مردانہ غیرت دلاتی ہے تو وہ دونوں ڈرائیور کے ساتھ مجامعت اور مجانست کرتی ہیں۔ اسی طرح مرزا محمود احمد کے ایک خاص مصاحب پروفیسر عبدالسلام اختر ایم اے کے متعلق کسی نے بتایا کہ: ”وہ اپنے گھر کے اندر عریاں پھرتا تھا۔ یہ شخص مرزا محمود احمد کی خاص چہیتی بیوی بشریٰ کا اتالیق تھا۔“

ہوس دید

یعنی جنسی عمل کو دیکھ کر محظوظ ہونا۔ یہ ان لوگوں کا انحراف ہے۔ جب وہ بوڑھے ہو جاتے ہیں۔ عملی رنگ میں کچھ کر نہیں پاتے تو دوسرے جوڑوں کے ملاپ اور مجانست کو دیکھ کر جنسی حظ اٹھاتے ہیں۔ یہ بیماری بھی مرزا محمود احمد میں پائی جاتی تھی۔ جیسا کہ محمد یوسف ناز کی شہادت سے بھی عیاں ہے۔ ناز صاحب پروگرام کے مطابق مرزا قادیانی کی ملاقات کو گئے۔ جس کمرہ میں بیٹھے ہوئے تھے۔ وہاں مرزا محمود نے اپنی لڑکی کو بلایا۔ دیوانوں کی طرح چیخ کر ناز کو کہا۔ اس کے کپڑے اتار کر اس کی ...... پھاڑ دو۔ ناز مرزا محمود کے حکم پر اس لڑکی پر ٹوٹ پڑا۔ اسی طرح دیگر مصاحب بھی یہی کہتے ہیں کہ مرزا محمود جب قوت مجانست سے عاری ہو گیا تو پھر ہوس دید سے ہی حظ اٹھایا کرتا تھا۔

جنسی عفریت

یہ وہ شخص ہوتا ہے جو حد درجہ مغلوب الشہوت ہوتا ہے۔ مرزا محمود احمد انہی لوگوں میں

١٦

صفحہ ١٩٥

سے تھا۔ جیسا کہ اس کتاب میں سعدی صاحب کی شہادت سے ظاہر ہوتا ہے کہ بعض اوقات مرزا محمود پر شہوت کا اتنا غلبہ ہو جاتا تھا۔ اس کی والدہ چارپائی سے باندھ دیتی تھیں۔ ماہرین نفسیات نے اس قسم کے آدمی کی جسمانی علامتیں بیان کی ہیں۔ وہ یہ ہیں جسم گھٹا ہوا اور گردن موٹی اور کندھوں میں دھنسی ہوئی چھوٹا قد، موٹی آنکھیں کان نکیلے، آواز گہری ہوتی ہے۔ اس قسم کے آدمی اپنی بیویوں کے لئے عذاب ہوتے ہیں۔ شیخ النفزاوی نے زہرہ کی کہانی میں ایک جنسی عفریت میمون کا ذکر کیا ہے جو صرف شہد، پیاز اور انڈا کھایا کرتا تھا۔ مرزا محمود احمد مقوی ادویہ یعنی کشتے وغیرہ کا بہت استعمال کرتا تھا۔ ان کے بیٹے مرزا حنیف احمد نے اپنے بیان میں کہا کہ ابا حضور ہزاروں روپوں کے کشتے تیار کرواتے رہتے ہیں۔ مشہور فلسفی ابن سینا، لوئی پنزدہم شاہ فرانس، مشہور افسانہ نویس موپاساں بھی جنسی عفریت تھے۔ لوئی پنزدہم شاہ فرانس اور موپاساں دونوں مرزا محمود احمد کی طرح آتشک میں مبتلا اور پاگل ہو کر مرے تھے۔

باب نمبر : ٢

روس کا راسپوٹین

دنیا کے ادب میں جنسی عفریت کے لحاظ سے ”راسپوٹین“ ضرب المثل ہے۔ اس لئے میں نے یہ مناسب سمجھا کہ راسپوٹین کے جنسی پہلو کو قارئین کے سامنے پیش کروں۔ تاکہ ان کا قلب مرزا محمود احمد کی جنسی بے راہ روی کی سنگینی کو قبول کرنے کے لئے آمادہ ہو جائے۔ بعض اوقات مرزا محمود کا شدید دشمن بھی سن کر انکار کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔ اسی لئے مولانا عطاء اللہ بخاری کہا کرتے تھے۔ مرزا محمود احمد کی بدکاریاں لوگوں کو نہ بتایا کرو۔ وہ تمہیں ہی جھوٹا اور کذاب سمجھیں گے۔

راسپوٹین ١٨٧١ء میں روس کے علاقہ سائبیریا کے ایک گاؤں ”پوکرووسکی“ میں پیدا ہوا۔ نام ”گریگوری یوفیمو وچ راسپوٹین“ یا ”گریگوری یوفیمو وچ“ ( Grigori Yefimovitch) تھا۔ اسے پیار سے گریشا کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ باپ کا نام ”ایفم اینڈری وچ“ اور ماں کا نام ”اینا ایگورونا“ تھا۔ باپ ایک معمولی گاڑی بان تھا۔ کبھی کبھار راسپوٹین بھی باپ کے ساتھ دوسری گاڑی میں سوار ہو کر دوسرے علاقوں میں چلا جاتا تھا۔ راسپوٹین بچپن سے ہی تعلیم کی طرف راغب نہ تھا۔ آوارگی میں وقت گزار دیتا۔ زیادہ تر اصطبل میں رہنا پسند کرتا۔ اس طرح بچپن کے بارہ سال اصطبل اور آوارگی میں گزارے۔ سائبیریا میں

١٧

صفحہ ١٩٧

سردی کی شدت کی وجہ سے گاؤں کے لوگ شام کو کاموں سے فارغ ہو کر کسی ایک گھر میں چولہے کے گرد بیٹھ کر اپنے مسائل اور حالات کا ذکر کرتے۔ یہ لوگ گھوڑے کی چوری کو انسان کا قتل خیال کرتے تھے۔ ان دنوں کسی کا گھوڑا چوری ہو گیا۔ رات کو گاؤں کے لوگ راسپوٹین کے گھر چولہے کے گرد بیٹھے گھوڑے کے چور کو ڈھونڈنے کی باتیں کر رہے تھے۔ حاضرین مجلس میں ایک دولت مند شخص پیٹر الیگزینڈروچ بھی شامل تھا۔ لوگ اس کو احترام کی نظر سے دیکھتے تھے۔ راسپوٹین بھی باتیں سن رہا تھا۔ دفعتاً چلا اٹھا کہ گھوڑے کا چور پیٹر الیگزینڈروچ ہے۔ حاضرین دم بخود رہ رہ گئے۔ ماں نے پیٹر سے بار بار معافی مانگی۔ لیکن لوگوں نے اسی رات تاریکی میں پیٹر کو اسی گھوڑے کے ساتھ دیکھا اور خوب پیٹا۔ لوگوں نے صبح علی الاعلان راسپوٹین کی پیش گوئی کو درست قرار دیا۔ اس طرح گاؤں میں عقیدت کی نظروں سے دیکھا جانے لگا۔

گاؤں کے ایک میلے میں راسپوٹین کی ایک خوبصورت دوشیزہ اس ”کو دیا فیڈ رونا“ سے ملاقات ہو گئی۔ بڑی کوشش سے دونوں شادی کے بندھن میں بندھ گئے۔ اس کے بطن سے دو بیٹیاں ”میٹر یونا“ اور ”وپریا“ اور ایک لڑکا ”میٹیا“ پیدا ہوئے۔ لڑکے کا ذہنی توازن صحیح نہ تھا۔ راسپوٹین ویران علاقوں یا دریا کے کنارے چلا جاتا اور پر اسرار قوتوں سے امداد کا طالب رہتا۔ اس کے ایک دوست چیچر کن کے بقول راسپوٹین نے اسے بتایا کہ: ”دریائے تورا کے کنارے اس نے فضا میں ہزاروں فرشتوں اور حوروں کو نہایت سریلی میٹھی آواز میں وہی گانا گاتے ہوئے سنا جو گاؤں کی لڑکیاں مل کر گاتی ہیں۔ یہ حوریں چاندی روپہلی چاندنی میں جھولا جھول رہی تھیں۔ وہ مستی میں سرشار اسی حالت میں جب اصطبل پہنچا تو اسے سرگوشی میں ہدایت کی گئی کہ وہ سب کچھ چھوڑ کر صحراؤں اور جنگلوں میں نکل جائے اور راستی کو تلاش کرلے۔“

راسپوٹین نے بھی آبائی پیشہ اختیار کیا۔ بعض اوقات اس کے ساتھ مذہبی مبلغ بھی سفر کرتے وہ ان سے الہیات پر بحث کرتا تو وہ دم بخود رہ جاتے۔ ایک دن ایک مسافر سے مذہبی موضوع پر بحث ہوئی تو اس نے راسپوٹین کا مذہب کی طرف رجحان دیکھ کر مشورہ دیا کہ وہ ”درخوٹور“ کی درسگاہ میں تعلیم حاصل کرنے کے لئے داخل ہو جائے۔ چنانچہ ٣٣ سال کی عمر میں اس نے درخوٹور درس گاہ میں داخلہ لے لیا۔ یہ خانقاہ سائبیریا کی خانقاہوں میں سے نمایاں ترین تھی۔ اس خانقاہ کے پیروکاروں کو خلاسی کہا جاتا تھا۔ اس خانقاہ میں الوہیت کے علاوہ یہ تعلیم دی جاتی تھی کہ کوئی شخص خواہ کتنا ہی گنہگار کیوں نہ ہو خلاسی فرقہ کے مخصوص ضابطوں کو اپنانے سے دنیا میں جنت پا لیتا ہے۔ یہ فرقہ فری میسن کی تحریک کی طرز پر کام کرتا تھا۔ فرقہ کا یہ عقیدہ تھا کہ خدا کئی ١٨

بار روس کی سرزمین میں مختلف انسانوں کی شکل میں نمودار کہ انسان گناہوں کے ذریعہ ہی خدا کی رحمت کا دروازہ کھٹ کہ جو اس فرقہ کا رئیس ہوتا ہے۔ وہ خدا کا مظہر ہوتا ہے ہے۔ ان کے نزدیک ان کے جسم میں گناہ گناہ نہیں رہتا رسول راجیکی کا یہ عقیدہ تھا ”الولی قد یزنی“ ولی کبھی ک ہو جاتے ہیں جو عورتیں بھی اس کے ساتھ جنسی لذت میں ش عورتوں سے بدرجہا بہتر ہیں۔ جو اس کے قریب آنے سے ک

اس فرقہ کے لوگ اپنی مذہبی رسوم ادا کرنے کے ل ہوتے تمام رات رقص کرتے صبح نمودار ہوتے ہی اپنی قمیض عریاں زیب تن کر کے رقصاں رہتے۔ روشنی گل ہو جاتی تو ا ہو کر جنسی اختلاط میں مشغول ہو جاتے۔ راسپوٹین کو اس فرق اور اس کو یقین ہو گیا کہ انسان گناہ کے ارتکاب کے ذریعہ خ نزدیک عیسائیت کے قدیم طریقہ عبادت اور دعائیں لاحا راست پر ہے۔ اس فرقہ کے بانی ”راڈیوف“ کو پیغمبر سمجھ

راسپوٹین نے ”درخوٹور“ کی خانقاہ کے تہہ خانوں میں سالہ اندر بے انتہا قوت ارادی پیدا کر لی تھی۔ اسی قوت ارادی س دیا ”درخوٹور“ خانقاہ چھوڑنے سے قبل یہ فیصلہ نہ کر پایا ک راہبانہ زندگی گزارے۔ کیونکہ خلاسی فرقے کے لوگ اپن کے جنسی اختلاط کو جائز قرار دے کر انہیں روحانی شفا ب راسپوٹین نے اپنی ذہنی خلش کو دور کرنے کے لئے ایک راہ کیا۔ چنانچہ راسپوٹین جنگل میں آستانہ میکاری پر گیا۔ میکا کی۔ جس پر راسپوٹین نے راہبانہ زندگی اختیار کر لی۔ راسپو گزاری کشکول ہاتھ میں لے کر قریہ قریہ پھرتا رہا۔ اس دور عورتوں کو گناہ کے ذریعہ نجات حاصل کرنے کی تلقین کر کہتا، بدکار بنو اور اپنے جسم کا امتحان لو۔“ اس کے وعظ سے متاث چھوڑ کر راسپوٹین کی مصاحب بن گئیں۔ وہ آگ کا الاؤ جلا ١٩

صفحہ ١٩٧

زار روس کی سرزمین میں مختلف انسانوں کی شکل میں نمودار ہوا۔ اس کے ساتھ ان کا یہ بھی عقیدہ تھا کہ انسان گناہوں کے ذریعہ ہی خدا کی رحمت کا دروازہ کھولتا ہے۔ اس فرقہ کے لوگ یہ سمجھتے تھے کہ جو اس فرقہ کا رئیس ہوتا ہے۔ وہ خدا کا مظہر ہوتا ہے۔ اس کی ذات باعث صد فخر و مباہات ہے۔ ان کے نزدیک ان کے جسم میں گناہ گناہ نہیں رہتا۔ (ربوہ کے مشہور جعل ساز صوفی غلام رسول راجیکی کا یہ عقیدہ تھا ”الولی قدیزنی “ ولی بھی کبھار زنا کر لیا کرتا ہے) تمام بداثرات ختم ہو جاتے ہیں جو عورتیں بھی اس کے ساتھ جنسی لذت میں شریک ہوتی ہیں۔ وہ خدا کی نظر میں ان عورتوں سے بدرجہا بہتر ہیں۔ جو اس کے قریب آنے سے انکار کرتی ہیں۔

اس فرقہ کے لوگ اپنی مذہبی رسوم ادا کرنے کے لئے رات کو کسی خفیہ مسکن میں جمع ہوتے تمام رات رقص کرتے صبح نمودار ہوتے ہی اپنی قمیص سینوں تک اٹھا لیتے اور رفتہ رفتہ لباس عریاں زیب تن کر کے رقصاں رہتے۔ روشنی گل ہو جاتی تو تمام مردوزن رشتہ کی قیود سے بے نیاز ہو کر جنسی اختلاط میں مشغول ہو جاتے۔ راسپوٹین کو اس فرقہ کی اس قسم کی رسوم نے بہت متاثر کیا اور اس کو یقین ہو گیا کہ انسان گناہ کے ارتکاب کے ذریعہ ہی حیات نو پا سکتا ہے۔ راسپوٹین کے نزدیک عیسائیت کے قدیم طریقہ عبادت اور دعائیں لایعنی ہیں۔ صرف ”فرقہ خلائسٹی“ ہی راہ راست پر ہے۔ اس فرقہ کے بانی ”راڈیوف“ کو پیغمبر سمجھتا۔ اس پر خدا کی وحی نازل ہوتی تھی۔ راسپوٹین نے ”ورخو رٹو“ کی خانقاہ کے تہہ خانوں میں سالہا سال تنہائی میں گزارنے سے اپنے اندر بے انتہا قوت ارادی پیدا کر لی تھی۔ اسی قوت ارادی نے ہی اس کو روس کی تاریخ میں یہ مقام دیا ”ورخو رٹوژ“ خانقاہ چھوڑنے سے قبل یہ فیصلہ نہ کر پایا کہ وہ اپنے بال بچوں میں چلا جائے یا راہبانہ زندگی گزارے۔ کیونکہ خلائسٹی فرقے کے لوگ ازدواجی زندگی کو لعنت سمجھتے تھے اور ہر قسم کے جنسی اختلاط کو جائز قرار دے کر انہیں روحانی شادیوں کے نام سے موسوم کرتے تھے۔ راسپوٹین نے اپنی ذہنی خلش کو دور کرنے کے لئے ایک راہب ماکاری سے ملاقات کرنے کا ارادہ کیا۔ چنانچہ راسپوٹین جنگل میں آستانہ ماکاری پر گیا۔ ماکاری نے راہبانہ زندگی گزارنے کی تلقین کی۔ جس پر راسپوٹین نے راہبانہ زندگی اختیار کر لی۔ راسپوٹین نے کئی سالوں تک سیلانی زندگی گزاری کشکول ہاتھ میں لے کر قریہ قریہ پھرتا رہا۔ اس کی کرامات کی دھوم مچ گئی۔ مردوں اور عورتوں کو گناہ کے ذریعہ نجات حاصل کرنے کی تلقین کرتا اور کہتا ”اپنے غرور کو گناہ سے نیست ونابود کر دو اور اپنے جسم کا امتحان لو۔“ اس کے وعظ سے متاثر ہو کر خوب رو لڑکیاں اپنے والدین کو چھوڑ کر راسپوٹین کی مصاحب بن گئیں۔ وہ آگ کا آلاؤ جلا کر لڑکیوں کے ہمراہ رقص کرتا۔ ایک

١٩

صفحہ ١٩٩

کہانی کے مطابق وہ اپنی مداح عورتوں کے جھرمٹ میں جوہڑوں اور تالابوں میں عریاں کھڑا ہو جاتا اور عورتیں اس کے غلیظ جسم سے میل اتارتیں۔

رفتہ رفتہ راسپوٹین خلائسٹی فرقہ کا ایک اہم ترین رکن بن گیا۔ اس فرقہ کے لوگ اس کو ولی اور اس کی باتوں کو وحی قرار دینے لگے۔ پیش گوئیوں کو مبالغہ آمیز صورت میں بیان کرنے لگے۔ آخر سیلانی زندگی ترک کر کے راسپوٹین اپنے گھر آ گیا۔ باپ، بیوی اور بال بچوں نے بمشکل شناخت کی۔ رات کے وقت بیوی سے تہہ خانہ کھولنے کو کہا۔ تمام رات عریاں عبادت میں مصروف رہا۔ لیکن اپنی بیوی کی طرف رغبت نہ کی۔ گناہ کے ذریعہ نجات کا حصول مسیحی تعلیم کے خلاف تھا۔ لہٰذا پادری پیٹر اور دیگر اہل کلیسا راسپوٹین کے اس فلسفہ کی وجہ سے اس کو گمراہ اور قرین ابلیس قرار دینے لگے اور فادر پیٹر نے راسپوٹین کے افعال شنیعہ اور اس کے گمراہ کن نظریات کے تعفن کی رپورٹ گورنمنٹ کو بھیجی۔ گورنمنٹ نے پروکریٹر لارڈ بشپ کی سرکردگی میں ایک تحقیقاتی کمیشن قائم کیا۔ (مرزا محمود احمد کے زنا پر بھی مرزا غلام احمد قادیانی کی حیات میں ایک کمیشن تشکیل دیا گیا تھا اور شرعی ثبوت نہ ملنے کی وجہ سے بری کر دیا گیا تھا) لارڈ بشپ نے مقامی لوگوں کے بیانات قلمبند کئے۔ مقامی لوگوں نے راسپوٹین کو عبادت گزار، پاک باز، متقی، خدا رسیدہ اور دعا گو قرار دیا اور اس کی دعاؤں اور بددعاؤں میں جادو کا اثر ہے۔ لارڈ بشپ نے لارڈ پیٹر کی درخواست پر ایک سپاہی کے ذریعہ راسپوٹین کو کمیشن کے سامنے طلب کیا۔ جب سپاہی تہہ خانہ میں پہنچا تو اس وقت راسپوٹین عبادت میں مشغول تھا۔ سپاہی بھی راسپوٹین کے ساتھ دعاؤں میں مشغول ہو گیا اور فرط عقیدت سے راسپوٹین کے ہاتھ چومنے لگا۔ سپاہی نے کمیشن کو بتایا کہ راسپوٹین کے خلاف لگائے گئے تمام الزامات غلط ہیں۔ اس خدا رسیدہ شخص کو کمیشن کے سامنے لانے کی جرات نہیں رکھتا۔ لہٰذا کمیشن نے ثبوت مہیا نہ ہونے کی وجہ سے بری کر دیا تو راسپوٹین کی جائے رہائش ایک زیارت گاہ بن گئی۔

جب راسپوٹین گھر کے تہہ خانہ میں چلہ کشی کرنے کے بعد باہر آیا تو لوگ زیارت کے لئے دیوانہ وار کھڑے تھے۔ اس وقت اس نے اپنا پہلا مذہبی خطاب کیا وہ یہ تھا۔ ”میں تمہیں وہ مسرت بخش پیغام دینا چاہتا ہوں جو مادر وطن نے مجھے دیا ہے اور وہ ہے گناہ کے ذریعے نجات کا راستہ۔ گناہوں میں سرتا پا غرق ہو جاؤ۔ تا کہ گناہ خود ہار مان جائے۔ اس کے بعد جنت تمہارے قدموں میں ہوگی۔“

راسپوٹین کی ”روحانی شہرت“ ہر سو پھیل گئی۔

٢٠

شاہی محل میں آمد اور بیمار شہزادے کا علاج

زار روس نکولاس دوم کے ہاں چار بچیوں یہ لڑکا پیدائشی طور پر موروثی مرض ہیموفیلیا میں مبتلا تھا ہو جاتا اور تکلیف سے نڈھال ہو جاتا۔ ایک دفعہ نوکر اور ہڈیاں ٹوٹ گئیں۔ شہزادہ مارے درد چیختا اور اس تھیں۔ شاہی حکیم اور ڈاکٹر نے بہت علاج کیا۔ لیک گھر میں کوئی مصیبت آ جائے تو بڑے بڑے آدمی بھ بادشاہ اور ملکہ بچے کی بیماری کی وجہ سے توہم پرست ہو اسٹانا اور ملٹیا دو سگی بہنیں تھیں۔ وہ شروع ہی اس پارٹی کا ممبر بن چکا تھا۔ فادر فیوفان نے راسپوٹین اور غیبی قوت کے حوالہ سے تعارف کرایا۔ وہ اس سے نے شہزادہ ہلکسی کی بیماری کے متعلق بتایا تو راسپوٹی دلاتے ہوئے کہا: ”جاؤ ملکہ کو کہہ دو کہ اب اسے رو ہلکسی بالکل تندرست ہو جائے گا ۔“ دوسرے دن راسپوٹین کی بہت تعریف کی تو ملکہ کو راسپوٹین سے کا علاج کرانے کی بہت خواہش پیدا ہوئی۔ چنانچہ خی راسپوٹین نے تمام شاہی آداب کو بالائے طاق رکھ لیا اور اس کو شہزادہ کے کمرہ میں لے جایا گیا۔ جب را سینہ پر صلیب کا نشان بنایا۔ صلیب کا نشان بنتے ہی ش نظر شہزادہ کے چہرہ پر جمی ہوئی تھی۔ شہزادہ کا کرب ہو گئے اور راسپوٹین نے شہزادے سے کہا: ”میں تکلیف نہیں پہنچائے گی اور کل تک تم بالکل ٹھیک ہو کھیلیں گے۔“

شہزادہ بستر مرگ سے صحت یاب ہو کر ا گیا۔ راسپوٹین مسکرایا اور کہا: ”تمہیں آئندہ کچھ نہی دنیا کی کوئی طاقت تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکتی۔“

٢١

صفحہ ١٩٩

شاہی محل میں آمد اور بیمار شہزادے کا علاج

زار روس نکولاس دوم کے ہاں چار بچیوں کے بعد شہزادہ ”الکسی“ وارث تخت پیدا ہوا۔ یہ لڑکا پیدائشی طور پر موروثی مرض ہیموفیلیا میں مبتلا تھا۔ اگر اس کو چوٹ لگ جاتی تو سارا جسم متورم ہو جاتا اور تکلیف سے نڈھال ہو جاتا۔ ایک دفعہ نوکر کے لڑکے سے کھیلتے ہوئے اونچی جگہ سے گرا اور ہڈیاں ٹوٹ گئیں۔ شہزادہ مارے درد چیختا اور اس کی درد بھری چیخیں سارے محل میں سنائی دیتی تھیں۔ شاہی حکیم اور ڈاکٹر نے بہت علاج کیا۔ لیکن بے سود اور درد سے آرام نہ آیا۔ جب گھر میں کوئی مصیبت آ جائے تو بڑے بڑے آدمی بھی توہم پرست ہو جاتے ہیں۔ اس وجہ سے بادشاہ اور ملکہ بچے کی بیماری کی وجہ سے توہم پرست ہو چکے تھے۔

استانا اور ملنیا دو سگی بہنیں تھیں۔ وہ ٹرو رشین پیوپل پارٹی کی رکن تھیں۔ راسپوٹین بھی اس پارٹی کا ممبر بن چکا تھا۔ فادر فیوفان نے راسپوٹین کا تعارف ان دو بہنوں سے اس کی کرامات اور غیبی قوت کے حوالہ سے تعارف کرایا۔ وہ اس سے بہت متاثر ہوئیں۔ دوسری ملاقات میں استانا نے شہزادہ الکسی کی بیماری کے متعلق بتایا تو راسپوٹین نے استانا کو الکسی کی صحت یابی کا یقین دلاتے ہوئے کہا: ”جاؤ ملکہ کو کہہ دو کہ اب اسے رونے کی ضرورت نہیں ہے۔ میں آ گیا ہوں۔ الکسی بالکل تندرست ہو جائے گا۔“ دوسرے دن دونوں بہنوں نے ملکہ سے ملاقات کی اور راسپوٹین کی بہت تعریف کی تو ملکہ کو راسپوٹین سے ملنے اور بادشاہ سے ملانے اور اس سے شہزادہ کا علاج کرانے کی بہت خواہش پیدا ہوئی۔ چنانچہ خفیہ دروازے سے راسپوٹین کو محل میں لایا گیا۔ راسپوٹین نے تمام شاہی آداب کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ملکہ اور بادشاہ کو اپنی بانہوں میں بھینچ لیا اور اس کو شہزادہ کے کمرہ میں لے جایا گیا۔ جب راسپوٹین شہزادہ کے کمرہ میں گیا تو شہزادہ کے سینہ پر صلیب کا نشان بنایا۔ صلیب کا نشان بنتے ہی شہزادہ نے آنکھیں کھولیں۔ راسپوٹین کی طلسمی نظر شہزادہ کے چہرہ پر جمی ہوئی تھی۔ شہزادہ کا کرب، سکون اور آرام میں بدل گیا۔ ہونٹ گلابی ہو گئے اور راسپوٹین نے شہزادے سے کہا: ”میں نے تمہارا درد بھگا دیا ہے۔ اب تمہیں کوئی چیز تکلیف نہیں پہنچائے گی اور کل تک تم بالکل ٹھیک ہو جاؤ گے۔ پھر ہم دونوں بڑے پیار سے کھیل کھیلیں گے۔“

شہزادہ بستر مرگ سے صحت یاب ہو کر اٹھا اور فرط محبت سے راسپوٹین کے ساتھ لپٹ گیا۔ راسپوٹین مسکرایا اور کہا: ”تمہیں آئندہ کچھ نہیں ہو گا۔ جب تک میں تمہارے ساتھ رہوں گا دنیا کی کوئی طاقت تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکتی۔“

٢١

صفحہ ٢٠١

ٹیلیگرام میں الیکسی کی بیماری کے لئے کچھ صحت یاب ہونے لگا۔ بادشاہ کے اصرار پر راسپوٹین کو وہ سینٹ پیٹرز برگ میں منتقل ہو گیا۔ محل سے آخری اور کرامات قلمبند کئے تھے۔ وہ ملکہ کو دیئے۔ اب راسپو اس کی اقامت گاہ پر حفاظتی پہرہ متعین کر دیا گیا۔

الیکسی کو اس کے اصرار پر فوجی مشقوں کے الیکسی کے ناک سے خون بہنا شروع ہو گیا۔ شاہی ڈا کے ناک کا خون نہ بند ہوا۔ الیکسی کو محل میں لایا گیا میں داخل ہوتے ہی صلیب کا نشان بناتے ہوئے شا دفعہ پھر تمہارے بچے کی جان بچائی ہے اور اسے نئی زن عمل ضروری ہوگا۔ اب شاہ اور ملکہ کی عقیدت اور محبت جب مجھے کوئی فکر دامنگیر ہوتی ہے تو فادر راسپوٹین کرتا ہوں۔ ملکہ اپنے ہاتھ سے کپڑے سی کر اور ان پر

راسپوٹین کے جنسی تعلقات

راسپوٹین کی روحانی مجلس میں اکابرین خاندان کی لڑکیاں شامل ہوتی تھیں۔ ان کو گناہ کے اح جاتا تھا۔ اس طرح فلسفہ گناہ کی وجہ سے حسین عورتوں رپورٹ کے مطابق جب راسپوٹین اونچے درجے کی تو پھر نچلے طبقے کی عورتوں کو اپنی ہوس کا شکار کرتا۔

پولیس کی رپورٹ کے مطابق ڈوینا راسپو خوبصورت اور حسین دیہاتی لڑکی تھی۔ جب راسپوٹ کپڑے تبدیل کرتی اور بستر پر لٹاتی جب راسپوٹین ک کی زینت بنتی تھی۔

١۔ مرزا محمود احمد نے بھی عورتوں کے لئے عبادت گاہ مبارک میں منعقد ہوتی تھی۔

٢٣

صفحہ ٢٠١

ٹیلیگرام میں الیکسی کی بیماری کے لئے کچھ ہدایات بھی تھیں۔ الیکسی ٹیلیگرام ملتے ہی صحت یاب ہونے لگا۔ بادشاہ کے اصرار پر راسپوٹین کو محل میں آنے جانے کی درخواست کی گئی اور وہ سینٹ پیٹر برگ میں منتقل ہو گیا۔ محل سے آخری راہبانہ سفر میں جو اپنے تجربات، مشاہدات اور کرامات قلمبند کئے تھے۔ وہ ملکہ کو دیئے۔ اب راسپوٹین ملک کی اہم شخصیت قرار دیا جانے لگا۔ اس کی اقامت گاہ پر حفاظتی پہرہ متعین کر دیا گیا۔

الیکسی کو اس کے اصرار پر فوجی مشقوں کے ساتھ لے جایا گیا۔ ابھی ٹرین چلی ہی تھی ، الیکسی کے ناک سے خون بہنا شروع ہو گیا۔ شاہی ڈاکٹر ڈریونکو نے بہت علاج کیا۔ لیکن الیکسی کے ناک کا خون نہ بند ہوا۔ الیکسی کو محل میں لایا گیا۔ راسپوٹین کو مطلع کیا گیا۔ راسپوٹین نے محل میں داخل ہوتے ہی صلیب کا نشان بناتے ہوئے شاہ سے کہا: ”خدا کا شکر ہے کہ اس نے ایک دفعہ پھر تمہارے بچے کی جان بچالی ہے اور اسے نئی زندگی بخش دی ہے۔ آئندہ میرے مشوروں پر عمل ضروری ہوگا۔ اب شاہ اور ملکہ کی عقیدت اور محبت نقطہ عروج پر پہنچ گئی۔ زار روس کہا کرتا تھا کہ جب مجھے کوئی فکر دامنگیر ہوتی ہے تو فادر راسپوٹین سے چند منٹ گفتگو کرنے سے راحت محسوس کرتا ہوں۔ ملکہ اپنے ہاتھ سے کپڑے سی کر اور ان پر بیل بوٹے کاڑھ دیا کرتی تھی۔“

راسپوٹین کے جنسی تعلقات

راسپوٹین کی روحانی مجلس میں اکابرین (وزراء، امراء، جرنیل) کی بیگمات اور شاہی خاندان کی لڑکیاں شامل ہوتی تھیں۔ ان کو گناہ کے ارتکاب سے ہی نجات حاصل کرنے کا سبق دیا جاتا تھا۔ اس طرح فلسفہ گناہ کی وجہ سے حسین عورتوں کے ساتھ جنسی روابط بڑھنے لگے۔ پولیس کی رپورٹ کے مطابق جب راسپوٹین اونچے درجے کی عورتوں کے ساتھ جنسی اختلاط سے سیر ہو جاتا تو پھر نچلے طبقے کی عورتوں کو اپنی ہوس کا شکار کرتا۔

پولیس کی رپورٹ کے مطابق ڈوینا راسپوٹین کے گھر کی خادمہ تھی۔ وہ سڈول جسم کی خوبصورت اور حسین دیہاتی لڑکی تھی۔ جب راسپوٹین شراب میں دھت ہوتا تو ڈوینا اس کے کپڑے تبدیل کرتی اور بستر پر لٹاتی جب راسپوٹین کو کوئی شکار نہ ملتا تو ڈوینا ہی راسپوٹین کے بستر کی زینت بنتی تھی۔

١؎ مرزا محمود احمد نے بھی عورتوں کے لئے درس قرآن جاری کیا اور ایک مجلس عرفان عبادت گاہ مبارک میں منعقد ہوتی تھی۔

٢٣

صفحہ ٢٠٢

روزمرہ آنے والی حسین عورتوں میں نن اکولینا ، اولگاولا ڈیمیرونا (حکومت وقت کے مشیر نزشین کی بیوی) مادام گولوود ینا۔ انا میر یاوشنا، پرنس ڈولگوروکیا، پرنس شاخو وسکیا تھیں۔

پولیس کی ایک رپورٹ میں ماسکو کی فرانسیسی نژاد اداکارہ ویرا کا بیان تحریر کیا گیا ہے۔ جس میں وہ کہتی ہے کہ: ”جب میں راسپیوٹین سے ملنے کے لئے اس کے گھر گئی تو ”اولگا“ چیختی ہوئی آسمان سر پر اٹھائے کمرے میں داخل ہوئی اور راسپیوٹین کی کرسی کے قریب فرش پر گر پڑی وہ بدستور چلاتی رہی۔ میرے مسیح، میرے مسیح اور راسپیوٹین کے جوتوں کو چومتی رہی۔ پھر اٹھی اور راسپیوٹین کا سر دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر دیوانہ وار چومنے لگی۔ ساتھ ہی وہ چلاتی جاتی تھی۔ میری جان، میری روح، یہ تمہاری پیاری پیاری داڑھی، یہ خوبصورت بال، میری زندگی، میرا ایمان، میرے معبود، میرے خداوند، لیکن راسپیوٹین اسے بار بار جھڑکتا اور اسے کتیا، وحشی ابلیس کہتے ہوئے نفرت کا اظہار کرتا۔ پھر وہ خوابگاہ میں چلی گئی۔ اس کے پیچھے راسپیوٹین بھی گیا۔ راسپیوٹین کی بھاری بھرکم آواز باہر تک آرہی تھی اور پھر جب اولگا اور مونیا خوابگاہ سے واپس آئیں تو ”اولگا“ بدلی ہوئی عورت تھی اور وہ بڑے شاہانہ انداز سے ہمارے ساتھ کھانے میں شریک ہوئی۔ مادام گولو و بینا (زار روس کے سابق مشیر گولون کی بیوہ اور ملکہ کی قریبی سہیلی پرو بودا کی قریبی رشتہ دار) اس کی خوبصورت بیٹی مونیا محبت میں ناکامی کے بعد اس کے ساتھ رہتی تھی۔ دونوں ماں بیٹی راسپیوٹین کے حلقہ جنسی ارادت میں شامل تھیں۔ ان کے علاوہ ایک کرنل کی گلو کارہ بیوی بھی بڑی مداح تھی۔ وہ گیت گاتی تو راسپیوٹین پر وجد طاری ہو جاتا اور رقص کرنا شروع کر دیتا۔“

شہزادہ الیکسی کی انا میر یا وشنا (شاہی محل میں آمد کے چند روز بعد ہی راسپیوٹین کے جذبہ شہوت کا شکار ہوئی) پرنس ڈولگوروکیا اور پرنس شاخو وسکیا دونوں راسپیوٹین کی محبت میں گرفتار تھیں اور اپنے گھروں کو چھوڑ کر کرایہ کے مکانوں میں رہائش پذیر تھیں۔ پولیس رپورٹوں کے مطابق راسپیوٹین کے خلوت کدہ کی زینت بنتیں اور جنسی اختلاط سے حظ اٹھاتی تھیں۔ راسپیوٹین ”حلقہ پاک بازاں“ میں شمولیت کرنے والی عورتوں سے گناہ کی فلاسفی اس رنگ میں کرتا۔

” یہ مت سمجھو کہ میں تمہیں خراب کر رہا ہوں ۔ بلکہ میں تمہیں پاک اور مقدس کر رہا ہوں۔ ہمیں گناہ ضرور کرنا چاہئے تاکہ ہمیں پچھتانے اور تائب ہونے کا موقعہ مل سکے۔ اگر خدا ہماری آزمائش کے لئے ترغیب گناہ کا کوئی ذریعہ پیدا کرتا ہے تو ہمیں اس کی رضا کا احترام کرتے ہوئے خود کو رضا کارانہ طور پر گناہ کے حوالے کر دینا چاہئے ۔ تاکہ ہم اس کے بعد انتہائی ندامت سے توبہ کریں۔“

٢٤

صفحہ ٢٠٣

اس مجلس میں کسی حسین عورت کو اپنے قریب بلاتا اس کا سر اپنی گود میں لے کر اپنی انگلیوں سے اس کے بالوں میں کنگھی کرتا۔ اس کے ہونٹوں اور گالوں کو چومتا۔ لیکن اس کی زبان پر خدا اور عیسیٰ علیہ السلام کی باتیں ہوتیں۔ لیکن جسم کا ایک ایک انگ فعل شنیعہ میں مصروف ہوتا اور اس کی باتیں پورے انہماک سے سنتیں۔

راسپوٹین کی تمام زندگی جنسی افعال قبیحہ سے پر ہے۔ دنیا کی ہر زبان کا ادب ان افعال شنیعہ سے بھرا ہوا ہے۔ صرف دو عورتوں کے واقعات بیان کر کے اس بات کو ختم کرتا ہوں۔ کیونکہ قارئین پاکستان کے جنسی عفریت مرزا محمود احمد کی زندگی کے بے راہ روی کے واقعات پڑھنے کے لئے بے تاب ہوں گے۔

ویرا الگویزنڈرانکووسکیا بیان کرتی ہیں کہ: ”جب وہ راسپوٹین کی خوابگاہ میں جہاں ایک مسہری ایک سنگھار میز دو کرسیاں اور ایک چھوٹا میز جس پر رائٹنگ پیڈ اور قلم پڑے ہوئے تھے داخل ہوئی تو دیکھ کر حیران رہ گئی کہ خوابگاہ میں نہ تو شبیہ مسیح تھی اور نہ ہی صلیب بلکہ ایک دیوار پر نیم تاریکی میں رنگا رنگ ربن میں لپٹی ہوئی فریم شدہ دراز ریش شخص کی تصویر آویزاں تھی۔ خلائسٹی فرقے کے لوگ اکثر اپنے بزرگوں کی تصویر رنگا رنگ ربن میں رکھتے تھے۔ لہٰذا مجھے اس دن معلوم ہوا کہ راسپوٹین بھی خلائسٹی فرقہ سے تعلق رکھتا ہے۔ راسپوٹین دبے پاؤں کمرے میں داخل ہوا اور دروازے کی کنڈی لگا دی۔ پھر کرسی پر بیٹھے ہوئے میری دونوں ٹانگیں اپنے گھٹنوں میں دبائیں میں نے پیچھے ہٹنے کی کوشش کی۔ مگر اس کی گرفت بہت مضبوط تھی۔ وہ کہنے لگا کہ: ”کچھ کہنے آئی ہو۔“ میں نے کہا کہ: ”دنیا میں کہنے کے لئے رکھا ہی کیا ہے۔“ اس نے میرے گالوں کو تھپتھپاتے ہوئے کہا کہ: ”جو کچھ میں کہتا ہوں غور سے سنو۔“ کیا تمہیں وہ شعر یاد ہیں۔ جس میں کہا گیا ہے کہ نوجوانی ہی سے جسمانی لذت کی خواہش مجھے اذیت پہنچاتی رہی ہے اور صبح مجھے اس کی سزا مت دے۔“ میں نے چونک کر کہا کہ مجھے یاد ہے۔ اس نے میری رانوں پر زور دیتے ہوئے کہا: ”میں سمجھتا ہوں کہ یہ سب کچھ کس طرح ہوتا ہے۔ لوگ تیس سال کی عمر تک تو بخوشی گناہ کر سکتے ہیں۔ اس کے بعد نہیں۔ اس وقت خدا سے لو لگانا چاہئے۔ پھر جب دل و دماغ مکمل طور پر خدا کی طرف لگ جائے تو اس وقت گناہ کیا جا سکتا ہے۔ لیکن یہ گناہ ایک خاص قسم کا ہوگا۔ گناہ تائب ہونے سے دھل جاتا ہے اور انسان پھر ویسے کا ویسا نیک بن جاتا ہے۔ سب سے اہم چیز محبت ہے۔ مجھ سے محبت کرو۔ محبوب کی ہر بات دل میں اتر جاتی ہے۔ میں تمہیں بہت اسرار و رموز سے آشنا کر دوں گا۔ میں تمہیں گناہ کی باریکیاں بتاؤں گا۔ جس سے نہ صرف سکون قلب ملے گا۔ بلکہ راہ نجات

٢٨

صفحہ ٢٠٤

بھی نظر آئے گی اور تم خود کو جنت میں محسوس کرو گی۔ یہ موٹی موٹی کتابیں جو پڑھی جاتی ہیں بے معنی ہوتی ہیں۔ ان کے پڑھنے سے ذہنی خلفشار بڑھتا ہے۔ ویرا کہتی ہے کہ میری قوت مدافعت جواب دے گئی۔ میرے اعضاء مفلوج ہو گئے اور میری تمام طلب سلب ہو گئی تھی ۔“ راسپوٹین نے مجھے اگلے ہفتے عبادت میں شریک ہونے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ : ” تم اتنے لوگوں سے تعلقات رکھنے کی کیوں مصیبت اٹھاتی ہو۔ صرف میری بن جاؤ۔ ان سب کو جہنم میں جانے دو۔ پھر میں تمہیں بتاؤں گا کہ زندگی کیا ہے۔“

اس کی سخت انگلیاں میرے جسم کو ٹٹولتی رہیں۔ اس نے میرے پے در پے بوسے لئے۔ ویرا کے قول کے مطابق راسپوٹین نے اسے گود میں بٹھانے کی کوشش کی۔ مگر وہ دروازہ کھول کر باہر چلی گئی۔

”ویرا الیگزینڈر“ ایک اور کمسن لڑکی کی داستان غم بیان کرتی ہے۔ (پولیس کی رپورٹوں میں بھی درج ہے) جس نے ویرا کو بتایا کہ راسپوٹین نے اسے ہفتے کی عبادت میں شریک ہونے کے لئے کہا۔ جب وہ عبادت میں شریک ہونے کے لئے اس کی خوابگاہ میں گئی تو خدا اور یسوع علیہ السلام پر پورا یقین ہونے کے باوجود میری کسی نے مدد نہ کی۔ کمرے میں اس کے اور میرے سوا کوئی نہ تھا۔ اس نے میرا بازو پکڑا اور دوسرے کمرے میں لے گیا۔ جہاں نہ صلیب تھی نہ شبیہ مسیح۔ ایک دراز ریش بزرگ کی تصویر تھی۔ راسپوٹین نے مجھے تصویر کے سامنے دوزانو ہونے کو کہا۔ ابھی میں جھکی ہوئی تھی کہ راسپوٹین نے تصویر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: ”اے ورخوتور کے پیغمبر سائیمون ۔“ ہمارے گناہ پر کرم کرو اور اس کے ساتھ ہی میرے کپڑے تار تار کر دیئے۔ میں بے ہوش ہو گئی اور جب ہوش آیا تو میں فرش پر برہنہ پڑی تھی اور راسپوٹین میرے سامنے مادر زاد برہنہ کھڑا تھا۔ اس نے مجھے بازوؤں میں اٹھایا تو میری چیخ نکل گئی۔ چیخ سن کر ایک عورت اندر آئی۔ اس نے مجھے نیا جوڑا پہنایا اور دوسرے کمرے میں چھوڑ آئی۔ جس میں دو کرسیاں اور بستر پڑا تھا۔ وہ عورت میرے لئے چائے اور کھانے کے لئے ٹوسٹ وغیرہ لائی۔ تھوڑی دیر کے بعد ایک فوجی آفیسر کمرے میں داخل ہوا۔ میں نے سوچا کہ اسے تمام واردات بتاتے ہوئے مدد طلب کروں۔۔ لیکن وہ بھی بھیڑیا نکلا۔ اس دن سے اس قحبہ خانہ میں راسپوٹین کے دوستوں کی ضیافت کا سامان بنی ہوئی ہوں۔

روسو لکھتا ہے کہ اوائل شباب میں ایک دن وہ ایک کوچے سے گزر رہا تھا۔ جس میں ایک کنواں تھا۔ نوجوان لڑکیاں پانی بھرنے کنویں پر آ رہی تھیں۔ میں نے ایک طرف کھڑے ہو کر

٢٦

ان کے سامنے ستر کھول دیا۔ ان میں سے چند ایک بلند آواز میں مجھے گالیاں دینے میری طرف لپکا۔ میں بھاگ نکلا۔ جلد پکڑ نے معذور سمجھ کر اسے چھوڑ دیا۔

وفات

فادر راسپوٹین کی وفات چند بے محل دو مکالمے کہے تھے ان کا جاننا ضرو اور اس کی ملکہ کو مخاطب ہو کر سلطنت کے ہے۔ قادیانیوں کو بتانا مقصود ہے کہ اس صداقت کی مہر ثبت کر دیتا ہے۔ کسی پیش قادیانیوں کو یہ بتانا بھی مطلوب پر ملکہ اور بادشاہ کو کتنی عقیدت تھی۔

راسپوٹین مادام گولوبینا کے یہ بتا رہا تھا کہ یہ لوگ مجھے ختم کرنے کے مسیح اپنے سچے اور مخلص مقلد (راسپوٹین متکبرانہ لہجے میں با آواز بلند کہا: ”مجھے لئے میز پر مکا مار دینا ہی کافی ہے۔ صر سے نپٹ سکتا ہوں ۔“

اس مجلس میں پرنس فیلکس یوسوپوف راسپوٹین کی شخصیت سے متاث کیا۔ پرنس کی بے اعتنائی اور بے رخی کی کر اٹھا اور کہا ”شادی کی سالگرہ کے مو بغیر تو پھیکی رہے گی ۔“ اپنا ہاتھ پرنس پر اس کے پے در پے بوسے لینے شروع کی بہت برا جانا اور راسپوٹین کو آخری ٹھکا اپنے دوست ڈمٹری پالو وچ (زار کا عما

صفحہ ٢٠٥

ان کے سامنے ستر کھول دیا۔ ان میں سے بعض نے شرما کر منہ پھیر لیا۔ بعض مسکرانے لگیں اور چند ایک بلند آواز میں مجھے گالیاں دینے لگیں۔ ان کا شور و غل سن کر ایک راہگیر ادھر متوجہ ہوا اور میری طرف لپکا۔ میں بھاگ نکلا۔ جلد پکڑا گیا۔ روسو کہتا ہے کہ میں پاگل بن گیا۔ جس پر راہگیر نے معذور سمجھ کر اسے چھوڑ دیا۔

وفات

فادر راسپوٹین کی وفات چند حروف یا چند سطور میں بھی لکھی جاسکتی ہے۔ لیکن وفات سے قبل جو مکالمے کہے تھے ان کا جاننا ”قادیانیوں“ کے لئے ضروری ہے۔ دوم راسپوٹین نے زار اور اس کی ملکہ کو مخاطب ہو کر سلطنت کے چلے جانے کی پیش گوئی کی تھی۔ جس کا ذکر پہلے ہو چکا ہے۔ قادیانیوں کو بتانا مقصود ہے کہ اس قسم کے بدکار بھی ایسی باتیں کر جاتے ہیں جن پر زمانہ صداقت کی مہر ثبت کر دیتا ہے۔ کسی پیش گوئی کا پورا ہو جانا بدکاری یا پاکیزگی کا ثبوت نہیں۔ قادیانیوں کو یہ بتانا بھی مطلوب ہے کہ اتنے بڑے بدکار کے ساتھ لوگوں اور خاص طور پر ملکہ اور بادشاہ کو کتنی عقیدت تھی۔

راسپوٹین مادام گولووینا کے گھر اپنے خلاف سازشوں کا ذکر کر کے اپنے معتقدین کو یہ بتا رہا تھا کہ یہ لوگ مجھے ختم کرنے کے منصوبے تیار کر رہے ہیں۔ لیکن خداوند کریم اور یسوع مسیح اپنے سچے اور مخلص مقلد (راسپوٹین) کو دشمنوں کے حملوں سے محفوظ و مصون رکھے گا اور متکبرانہ لہجے میں بآواز بلند کہا: ”مجھے جس چیز کی ضرورت ہو (عورت کی) اس کے حصول کے لئے میز پر مکا مار دینا ہی کافی ہے۔ صرف یہی ایک طریقہ ہے جس کے ذریعہ میں روسی امراء سے نپٹ سکتا ہوں ۔“

اس مجلس میں پرنس فیلکس، یوسوپوف، مادام گولووینا کی بیٹی مونیا بھی حاضر تھے۔ یوسوپوف راسپوٹین کی شخصیت سے متاثر نہ ہوا۔ بلکہ اس نے راسپوٹین کے متکبرانہ لہجے کو ناپسند کیا۔ پرنس کی بے اعتنائی اور بے رخی کی وجہ سے راسپوٹین بوکھلا گیا۔ پرنس کے ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر اٹھا اور کہا ”شادی کی سالگرہ کے موقع پر ہمیں بھولئے نہ۔“ پرنس نے کہا: ”سالگرہ آپ کے بغیر تو پھیکی رہے گی ۔“ اپنا ہاتھ پرنس کے ہاتھ سے نکال کر مونیا کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیا اور اس کے پے در پے بوسے لینے شروع کر دیئے۔ لیکن پرنس نے اس کی نازیبا اور ناشائستہ حرکت کو بہت برا جانا اور راسپوٹین کو آخری ٹھکانے لگانے کا عزم بالجزم کر لیا۔ آخر کار اپنے منصوبہ میں اپنے دوست ڈمٹری پاولووچ (زار کا محافظ) کو اعتماد میں لیا اور زہر کھلانے کا پروگرام بنایا۔ زہر ملا

٢٧

صفحہ ٢٠٧

پل یورشکیوچ (روس کی ریڈ کراس تنظیم کا سربراہ) کی معرفت زارین کے انچارج ڈاکٹر یزووث (یہ شخص بھی راسپوٹین سے سخت نفرت کرتا تھا) سے حاصل کیا۔ آخر کار اکتوبر ١٩١٦ء میں راسپوٹین کے قتل کے منصوبے کو آخری شکل دی گئی۔

پرنس یوسوسوف نے مونیا کی معرفت گہرے روابط قائم کر لئے۔ پرنس خانہ بدوشوں کے گیت بربط پر بہت عمدہ گاتا تھا۔ راسپوٹین خود بھی اس قسم کے گیت بہت ہی پسند کرتا تھا۔ مونیا نے پرنس سے کہا کہ راسپوٹین آپ سے گیت سننا چاہتا ہے۔ پرنس کی امید پوری ہوئی۔ مونیا پرنس کی موجودگی میں اس کی بیوی ارنیا کی خوبصورتی کا ذکر راسپوٹین سے بہت کیا کرتی تھیں۔ راسپوٹین کا شیطانی قلب ارنیا کو دیکھنے اور جنسی حظ اٹھانے کے لئے بے تاب تھا۔ آخر کار قتل کے منصوبے کی تمام کڑیوں کو مکمل کرنے کے بعد پرنس نے ١٦ دسمبر ١٩١٦ء کو راسپوٹین کو اپنے محل میں شام کو آنے کی دعوت دی۔ راسپوٹین نے راز داری قائم رکھنے کے لئے رات ساڑھے گیارہ بجے محل میں جانے کا پروگرام بنایا، وہ ارنیا کی ملاقات کی سوچوں کے سمندر میں گم تھا۔ وزیر داخلہ نے فون پر آگاہ کیا کہ کچھ لوگ اس کی جان کے درپے ہیں۔ لیکن اس جنسی عفریت نے یہ کہتے ہوئے ٹیلی فون بند کر دیا کہ: ”مجھے مارنے والے کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔ ان کے ہاتھ اتنے لمبے نہیں کہ میری گردن تک پہنچ سکیں۔“

رات کے ساڑھے گیارہ بجے راسپوٹین ایلچی کے ذریعہ شہزادہ فلیکس یوسوسوف کے تہہ خانہ میں پہنچ گیا۔ سیر ہو کر شراب پی کر یوسوسوف کو مخاطب ہو کر کہا کہ: ”لوگ مجھے جادوگر کہتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ میں صرف شہروں کو خاک تو دوں، آبادیوں کو لق دق صحرا اور بارونق ملکوں کو ہولناک قبرستان بنانے کی صلاحیت رکھتا ہوں۔ مگر وہ یہ نہیں سمجھتے کہ میں بہترین تعبیر گو اور عیسیٰ دوراں ہوں۔ پر اسرار روحانی طاقتوں اور قوتوں کا مالک ہوں۔ اللہ نے مجھے ہدایت کا رہنما بنایا ہے اور امن ونجات کی کلید میرے ہاتھ میں دی ہے۔ دنیا و آخرت میں میرا مقام بہت بلند ہے ١؎۔ میں خدا کا بھیجا ہوا پیغمبر ہوں۔“

اس کے بعد عورت کی ان الفاظ میں تعریف کی: ”عورت کائنات میں سب سے زیادہ خوبصورت اور انسانی راحت کا اعلیٰ سرچشمہ ہے۔ انسان کی انسانیت اس کے طفیل ہے۔ عورت فرشتوں سے زیادہ بندگی گزار، پیکر بے مثال، نیلگوں فلک کا درخشندہ تابندہ ستارہ، ایک گوہر بے بہا جوہر نایاب، محبت کا خزانہ، تمناؤں کی جان، آرزووں کا ایمان ہے جسے قدرت نے حسن

١؎ مرزا محمود احمد کو بھی دعویٰ ہے کہ وہ خدا کی طرف سے مصلح موعود ہیں۔

٢٨

وجمال کی معصومیت اور عشق ومحبت کی پاکیزہ روح قرا خوشبو، نگاہ مضطرب کی تسکین، اقلیم حیات کی ملکہ، بہار کی درد کی دوا ہوتی ہے۔“

اس کے بعد شہزادہ یوسوسوف کو جھنجوڑتے ہو آفرینش کے تاج کے پاس لے چلو جو آفریدۂ آسمان ہے میں ساری دنیا دیکھی جاسکتی ہے۔ اس کتاب کو پڑھنا چاہ جاسکتا ہے۔ جس کا دل بظاہر سمندر کی خاموش سطح دکھائی د طرح انگڑائیاں لے رہا ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ وہ محبت کی ہیرا ہے۔ ہم اسے جھوٹی خوشیوں سے بھر دیں گے اور ا و آسمان میں نہیں ہوگی۔“

راسپوٹین شراب کی مستی کے عالم میں ارینا آیا۔ لیکن شہزادہ نے نہایت تحمل اور صبر سے کام لیا اور اس شہزادہ نے مؤدبانہ لہجے میں راسپوٹین سے کہا کہ ”شہزا انتظار کر رہی ہیں۔ یہ ان کے نام کا آخری جام نوش فرما ک راسپوٹین نے تمام شراب پی لی۔ لیکن حاضرین حیران باوجود زندہ ہے۔ لہٰذا شہزادہ یوسوسوف اور ڈیوک نے را دی۔ خنجر اس کے پیٹ میں گھونپ دیا گیا۔ جسم میں ابھی کنارے لے گئے اور رسیوں سے باندھ کر دریا میں پھینک زار نے راسپوٹین کی لاش کو تلاش کرنے کا حکم بعد لاش تلاش کی گئی۔ لاش کا معائنہ کروایا گیا تو معلوم ہوا حیران تھے خطرناک زہر اور گولیوں کی بوچھاڑ اور پیٹ میں ٢١ دسمبر ١٩١٦ء کو راسپوٹین شاہی اعزازات کے ساتھ زار کے

مرزا محمود احمد کو راسپوٹین سے کئی باتوں میں م دونوں سخت جان تھے۔ مرزا محمود احمد بھی دس سال فالج ک تھا۔ صرف نلی یا نالی کے ذریعے سیال خوراک دی جاتی لیکن گھر والے حیران تھے کہ اس کی جان کہاں اٹکی ہوئی ہ

٢٩

صفحہ ٢٠٧

و جمال کی معصومیت اور عشق ومحبت کی پاکیزہ روح قرار دیا ہے۔ عورت گل مسرت کی لطیف خوشبو، نگاہ مضطرب کی تسکین، تعلیم حیات کی ملکہ، بہار کی جان، حیات کی روح، بیتاب کی تمنا اور درد کی دوا ہوتی ہے۔“

اس کے بعد شہزادہ یوسوف کو جھنجھوڑتے ہوئے کہا کہ: ”مجھے اس آسمانی ہستی اور آفرینش کے تاج کے پاس لے چلو جو آفریدہ آسمان ہے۔ ہم اس تصور کو دیکھنا چاہتے ہیں۔ جس میں ساری دنیا دیکھی جاسکتی ہے۔ اس کتاب کو پڑھنا چاہتے ہیں، جس میں ساری دنیا کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے۔ جس کا دل بظاہر سمندر کی خاموش سطح دکھائی دیتا ہے۔ مگر باطن گہرائیوں میں طوفان کی طرح انگڑائیاں لے رہا ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ وہ محبت کی دیوی ہے۔ وہ رات کا تارہ ہے اور صبح کا ہیرا ہے۔ ہم اس کی جھولی خوشیوں سے بھر دیں گے اور ایسا نور عطاء کریں گے جس کی مثل زمین و آسمان میں نہیں ہوگی۔“

راسپیوتین شراب کی مستی کے عالم میں ارینا کی تعریف کرتے کرتے یاوہ گوئی پر اتر آیا۔ لیکن شہزادہ نے نہایت تحمل اور صبر سے کام لیا اور اس کا خاص آدمی زہر آلود شراب لے آیا۔ شہزادہ نے مؤدبانہ لہجے میں راسپیوتین سے کہا کہ ”شہزادی صاحبہ خواب گاہ میں مقدس باپ کا انتظار کر رہی ہیں۔ یہ ان کے نام کا آخری جام نوش فرما کر انہیں روحانیت سے مستفید فرمائیں۔“ راسپیوتین نے تمام شراب پی لی۔ لیکن حاضرین حیران تھے کہ زہر ہلاہل والی شراب پینے کے باوجود زندہ ہے۔ لہٰذا شہزادہ یوسوف اور ڈیوک نے راسپیوتین کے جسم پر گولیوں کی بوچھاڑ کر دی۔ خنجر اس کے پیٹ میں گھونپ دیا گیا۔ جسم میں ابھی بھی زندگی کی رمق تھی اور اٹھا کر دریا کے کنارے لے گئے اور رسیوں سے باندھ کر دریا میں پھینک دیا۔

زار نے راسپیوتین کی لاش کو تلاش کرنے کا حکم دیا۔ آخر کار دو روز کی مسلسل جدوجہد کے بعد لاش تلاش کی گئی۔ لاش کا معائنہ کروایا گیا تو معلوم ہوا۔ اس کی موت ڈوبنے سے ہوئی ہے۔ ڈاکٹر حیران تھے خطرناک زہر اور گولیوں کی بوچھاڑ اور پیٹ میں خنجر گھونپنے کے باوجود کیسے زندہ رہا۔ آخر کار ٢١ دسمبر ١٩١٦ء کو راسپیوتین شاہی اعزازات کے ساتھ زار کے سکویلو کے باغ میں دفن کیا گیا۔

مرزا محمود احمد کو راسپیوتین سے کئی باتوں میں مشابہت حاصل ہے۔ لیکن موت میں بھی دونوں سخت جان تھے۔ مرزا محمود احمد بھی دس سال فالج کی بیماری میں مبتلا رہا۔ کھانا پینا چھوٹ چکا تھا۔ صرف نلکی یا نالی کے ذریعے سیال خوراک دی جاتی تھی۔ جسم گل سڑ چکا تھا۔ بدبو تک آتی تھی۔ لیکن گھر والے حیران تھے کہ اس کی جان کہاں اٹکی ہوئی ہے۔

٢٩

صفحہ ٠٩

باب نمبر:٣

مرزا محمود احمد کے افراد خانہ اور اعزہ کے حلفیہ بیانات

خلیفہ مرزا محمود احمد کا اپنا اقرار فرانس کے نیم عریاں کلبوں کی سیر

مرزا محمود نے اپنے ایک خطبہ میں خود اقرار کیا: ”جب میں ولایت گیا تو مجھے خصوصیت سے خیال تھا کہ یورپین سوسائٹی کا عیب والا حصہ بھی دیکھوں گا۔ قیام انگلستان کے دوران میں مجھے اس کا موقعہ نہ ملا۔ واپسی پر جب ہم فرانس آئے تو میں نے چوہدری ظفر اللہ خان سے جو میرے ساتھ تھے کہا کہ مجھے کوئی ایسی جگہ دکھائیں جہاں یورپین سوسائٹی عریاں نظر آسکے۔ وہ بھی فرانس سے واقف تو نہ تھے۔ مگر مجھے ایک ادھیڑ میں لے گئے جس کا نام مجھے یاد نہیں رہا۔ چوہدری صاحب نے بتایا کہ یہ وہی سوسائٹی کی جگہ ہے اسے دیکھ کر آپ اندازہ لگا سکتے ہیں میری نظر چونکہ کمزور ہے اس لئے دور کی چیز اچھی طرح سے نہیں دیکھ سکتا۔ تھوڑی دیر کے بعد میں نے جو دیکھا تو ایسا معلوم ہوا کہ سینکڑوں عورتیں بیٹھی ہیں۔ میں نے چوہدری صاحب سے کہا کیا ننگی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ یہ ننگی نہیں بلکہ کپڑے پہنے ہوئے ہیں۔ مگر باوجود اس کے وہ ننگی معلوم ہوتی ہیں۔“

(الفضل مورخہ ٢٨ جنوری ١٩٢٤ء)

احمدی حضرات کی خدمت میں عرض کروں گا کہ وہ کون سی شریعت ہے جس کی رو سے یہ جائز ہو کہ محض یورپین تہذیب دیکھنے کے لئے نیم عریاں کلبوں کی سیر کی جائے۔ یہ محض تماش بینی تھی جس کے لئے خلیفہ ١٩٢٤ء میں یورپ گئے تھے۔ اس کے بعد روفو کا واقعہ بھی اس بات کی دلالت کرتا ہے۔ احمدی حضرات کی خدمت میں گزارش کروں گا۔ ان واقعات پر غور کریں اپنی آخرت کو برباد نہ کریں۔

حکیم عبدالوہاب سالار مرزا محمود احمد کی شہادت

احمد کے سالے تھے۔ جسمانی لحاظ سے مضبوط ، درمیانہ قد، رنگ گندمی ، موٹی آنکھیں، ایک ہی نظر میں عورت کو اپنی طرف مائل کر لیتے تھے یا عورت مائل ہو جاتی۔ تقسیم ہند کے بعد ان کا مطب جودھامل بلڈنگ بالمقابل رتن باغ حال میو ہسپتال میں تھا۔ تقسیم کے بعد ضمیر کی آزادی نصیب ہوئی تو حکیم صاحب ان احباب میں سے ایک تھے جنہوں نے مرزا محمود احمد کے عیوب کی خوب

٣٠

پردہ دری کی۔ اپنی آپ بیتی بھی بیان کی اور دوسر واقعات بھی بیان کئے۔ موصوف کی یہ عادت تھی ک بلڈنگ ) پر آجاتا تو اب واقعات بیان کرنے سے کر دیتے۔ بعض اوقات سامع حیران رہ جاتا کہ باتیں دکھی اور زخمی دل کی آہیں ہوتی تھیں۔ جو زبا ہے جس کے دل میں اپنے کردہ گناہوں کی آگ کبھی خاکسار کو بھی حکیم صاحب کی صحبت میں جا چھڑ گیا تو حکیم صاحب نے آنکھیں بند کرلیں۔ مگ طاہر کی ’جائے لذت‘ کیا تھی گویا پان کا پتا۔ پھ اس رنگ میں کیا۔ وہ رنگ بھی رومانوی اور افسانوی پروگرام کے مطابق اس عورت کے پاس میری با تھی۔ بھینی بھینی خوشبو آ رہی تھی۔ پلنگ پر خوبصو قیمتی قالین تھا۔ جس پر پاؤں دھنس جاتے تھے۔ لپٹ گئی اور میرے جذبہ شہوت کو تیز کرنے لگی۔ کبھ لے کر چومتی ، کبھی میرے گالوں کو نرم ہاتھوں ک میرے ”آلہ حیات“ کو مس کرتی۔ آدھ گھنٹے تک کرتی رہی۔ جب اس عورت (ام طاہر ) کے جذ چند ساعت کے بعد میری قمیص بھی اتروا دی۔ ا بھی دور ہو گیا۔ اوپر کا عریاں جسم ملنے سے تپش ش اس عورت نے اپنی شلوار کو یوں اتار پھینکا جیسے کس کے بعد اس بوجھ کو اتار پھینکتا ہے۔ اسی لمحہ میری ش میرے ساتھ اٹھکیلیاں کرنا شروع کر دیں۔ کبھی می کبھی چند ساعات کے لئے بغل میں لیتی اور کبھی د لیٹ کر چومتی۔ کبھی بستر پر لیٹتی۔ مجھے اوپر لٹا ل میرے اوپر لیٹ جاتی اور مردانہ حرکات کرکے ج اور ہونٹ چوستے۔ کبھی میرا عضو تناسل ہاتھ میں پ

٣١

صفحہ ٢٠٩

پردہ دری کی۔ اپنی آپ بیتی بھی بیان کی اور دوسروں کے رونگٹے کھڑے کر دینے والے چشم دید واقعات بھی بیان کئے۔ موصوف کی یہ عادت تھی کہ جو کوئی بھی احمدی دواخانہ نور الدین (جو دیامل بلڈنگ) پر آ جاتا تو اب واقعات بیان کرنے سے نہیں چوکتے تھے۔ بغیر کسی تمہید کے گفتگو کا آغاز کر دیتے۔ بعض اوقات سامع حیران رہ جاتا کہ حکیم صاحب کیا بیان کر رہے ہیں۔ دراصل وہ باتیں دکھی اور زخمی دل کی آہیں ہوتی تھیں۔ جو زبان پر آئے نہیں رہتی تھیں۔ وہ وہی شخص جان سکتا ہے جس کے دل میں اپنے کردہ گناہوں کی آگ جل رہی ہو۔ وہ گفتگو، اقرار جرم ہوتی تھی۔ کبھی کبھی خاکسار کو بھی حکیم صاحب کی صحبت میں جانے کا اتفاق ہوتا۔ ایک دفعہ ام طاہر صاحبہ کا ذکر چھڑ گیا تو حکیم صاحب نے آنکھیں بند کر لیں۔ گویا پرانی یادوں میں گم ہو گئے ہیں۔ کہنے لگے ام طاہر کی ”جائے لذت“ کیا تھی گویا پان کا پتا۔ پھر کلام جاری رکھا۔ ایک عورت (ام طاہر) کا ذکر اس رنگ میں کیا۔ وہ رنگ بھی رومانوی اور افسانوی تھا۔ کہنے لگے اس عورت کا کیا کہنا۔ ایک دفعہ پروگرام کے مطابق اس عورت کے ہاں میری باری تھی۔ کمرے میں داخل ہوا تو ایک عجیب فضا تھی۔ بھینی بھینی خوشبو آ رہی تھی۔ پلنگ پر خوبصورت نرم بستر بچھا ہوا تھا۔ فرش پر ایک بوٹے دار قیمتی قالین تھا۔ جس پر پاؤں دھنس جاتے تھے۔ داخل ہوتے ہی ایک حسین پری میرے ساتھ لپٹ گئی اور میرے جذبہ شہوت کو تیز کرنے لگی۔ کبھی میرے ہونٹ چوستی، کبھی میری زبان منہ میں لے کر چوستی، کبھی میرے گالوں کو نرم ہاتھوں کے ساتھ تھپکتی، کبھی رخساروں پر گدگدی کرتی۔ کبھی میرے ”آلہ حیات“ کو مس کرتی۔ آدھ گھنٹے تک اسی طرح میرے ساتھ لہو ولعب اور اٹھکیلیاں کرتی رہی۔ جب اس عورت (ام طاہر) کے جذبہ شہوت کی تپش تیز ہوئی تو اپنی قمیص اتار پھینکی۔ چند ساعت کے بعد میری قمیص بھی اتروا دی۔ اب دونوں کے جسم کے درمیان جو کپڑا حائل تھا وہ بھی دور ہو گیا۔ اوپر کا عریاں جسم ملنے سے تپش شہوت بڑھنا شروع ہو گئی۔ تھوڑا ہی وقت گزرا کہ اس عورت نے اپنی شلوار کو یوں اتار پھینکا جیسے کسی شخص نے بھاری بوجھ اٹھایا ہوا ہو۔ تھک جانے کے بعد اس بوجھ کو اتار پھینکتا ہے۔ اسی لمحہ میری شلوار کو بھی اتار پھینکا۔ اب پوری شہوت کے ساتھ میرے ساتھ اٹھکیلیاں کرنا شروع کر دیں۔ کبھی میرا عضو تناسل بغل میں لیتی۔ کبھی ران میں لیتی۔ کبھی چند ساعات کے لئے فرج میں لیتی اور کبھی دبر میں بھی لے لیتی اور باہر نکلوا دیتی۔ کبھی منہ میں لنڈ لے کر چوستی۔ کبھی بستر پر لیٹتی۔ مجھے اوپر لٹا لیتی اور اپنی نرم نرم رانوں میں خوب دباتی۔ کبھی میرے اوپر لیٹ جاتی اور مردانہ حرکات کر کے حظ اٹھاتی۔ دونوں ایک دوسرے کے رخسار، زبان اور ہونٹ چومتے۔ کبھی میرا عضو تناسل ہاتھ میں پکڑ کر مسلتی۔ میں اپنا مردانہ مدعا اور غرض بیان کرتا

٣١

صفحہ ٢١٠

تو کہتی جوان! ابھی آپ کی جوانی اور طاقت کو دیکھ لیتی ہوں۔ ذرا ٹھہریئے! غرض تقریباً چار گھنٹے تک اسی وادی گناہ میں کھیلتے رہے۔ اس کے بعد آرام سے نرم و گداز بسترے پر چت لیٹ گئی اور آخری گناہ کی طرف بلایا۔ یہ بھی عجیب لمحات تھے۔ یونہی قبل میں عضو تناسل داخل ہوا۔ یوں درد ناک آواز نکالی جیسے ایک باکرہ پہلی رات مرد کے ساتھ مجامعت کے وقت نکالتی ہے۔ ایک خاص آواز میں کہتی۔ وہاب! مجھے مار دیا ہے۔ مجھ سے الگ ہو جاؤ۔ میرے جانی مجھے چھوڑ دو۔ میں مر جاؤں گی۔ گویا ان الفاظ سے میری مردانگی کی داد دے رہی تھی۔ اپنی بیتی بیان کرنے کے بعد عجیب لہجے میں کہا: ”یہ عجیب عورت تھی۔“

عمل لواطت

آؤ شیزان میں آپ کو چائے پلاؤں۔ راستے میں مرزا محمود احمد کی بدکاریوں کی باتیں کرتے رہے۔ جب واپس آ رہے تھے پہلے صیغہ غیب میں بیان کرنے لگے۔ ایک شخص مرزا محمود کے ساتھ عمل لواطت کر رہا تھا۔ فارغ ہونے میں دیر ہو گئی تو (پھر متکلم صیغہ پر آگئے) مجھے کہا جلدی کرو میں نے دعوت پر جانا ہے۔ میں ہنس پڑا اور کہا وہ آدمی آپ ہی تھے۔ کہنے لگے ”ہاں“ میں نے پوچھا کیا مرزا محمود احمد کو یہ علت تھی۔ کہنے لگے نہیں یہ پرورشن کی انتہاء ہے۔

میں نے سوال کیا۔ آپ کو کس طرح اس برائی کی طرف مائل کیا اور کب شامل ہوئے۔ کہنے لگے ایک دفعہ کشمیر میں مرزا محمود احمد کے ساتھ جانا ہوا۔ ایک چشمہ میں نہا رہے تھے۔ محمود نے غوطہ لگا کر نیچے سے میرے عضو تناسل کو پکڑ لیا۔ میں کچھ شرمندہ سا ہو گیا۔ علیحدگی میں کہنے لگے وہاب! اس کو کبھی استعمال بھی کیا ہے۔ میں نے کہا نہیں۔ اس کے بعد مجھے اس برائی کی تاریک وادی میں دھکیل دیا۔ پھر کہنے لگے جوانی ہو، پیسہ بھی ہو، ہر قسم کی سہولتیں بھی میسر ہوں۔ کسی گرفت کا بھی خوف نہ ہو تو پھر کون برائی سے بچتا ہے۔ بہر حال بدقسمتی سے ابتدائے جوانی میں عمر کا ایک حصہ گزارا ہے۔

احمد نے کہا گیارہ بارہ سال کی عمر میں اس کام میں پڑا ہوں۔ پانچ صد عورتوں سے مجامعت کر چکا ہوں۔ میرا کچھ بھی نہیں بگڑا۔ پھر کہنے لگا۔ عورت کا کیا ہے۔ خواہ کتنی ہی مضبوط اور پر شہوت ہو تو اس کے ساتھ بغیر مجامعت کئے ہاتھوں میں ہی اس کو فارغ کر سکتا ہوں۔

٣٢

نے ایک نوجوان سے کہا: اندر ایک لڑکی ہے۔ سے کھیلنا چاہا۔ اس لڑکی نے مزاحمت کی اور وہ نو اس نوجوان کو کہا: تم بڑے وحشی ہو۔ اس نوجوا جائے تو مزہ خاک ہوگا۔ مرزا محمود نے کہا: لڑکی خوبصورتی کو برقرار رکھنے کے لئے یہ نہیں چاہتی

گناہ کا آغاز

حکیم صاحب اپنا واقعہ آغاز گناہ میں احمد کی بیوی مریم نے ایک نوجوان کو خط لکھا کہ خ سے ملحقہ کمرہ کے پاس آکر دروازہ کھٹکھٹانا تو می کی حیرت کی کوئی انتہاء نہ رہی۔ جب اس نے موجود تھیں۔ اس نوجوان نے کبھی کوئی عورت مبہوت ہو گیا۔ اس نوجوان نے کہا کہ اجازت جاتی ہیں۔ اس وقت نوجوان نے کچھ نہ کہا۔ کیو اس نے سوچا کہ اس وقت کنارہ کرنا ہی بہتر موصوفہ نے اس خط کی واپسی کا مطالبہ کیا جو اس میں نے اس کو تلف کر دیا ہے۔ تقسیم ملک کے یوسف اس نوجوان کے پاس آئے۔ کہا: میں نے ہیں اور آپ اس کو چھپانا چاہتے ہیں۔ اس نوجو بیوی پر اعتماد ہوگا اور مجھے بھی اپنی بیوی پر اعت ہیں۔ (دریافت پر کہا وہ نوجوان میں ہی تھا)

ہوس رانی کا نشانہ بنا ڈالا۔ وہ بے چاری بے ہوش ہو ایک دو سال ٹھہر جاتے۔ یہ کہیں بھاگی جارہی تھی

دواخانہ نورالدین کے انچارج جناب پوچھا: یہ صاحبزادی کون تھی؟ تو انہوں نے بتایا: ”اسے دوسرا ہی توڑ دے اور دوسرا ہی

صفحہ ٢١١

نے ایک نوجوان سے کہا: اندر ایک لڑکی ہے۔ جاؤ اس سے دل بہلاؤ۔ وہ اندر گیا اور اس کی چھاتی سے کھیلنا چاہا۔ اس لڑکی نے مزاحمت کی اور وہ نوجوان بے نیل مرام واپس لوٹ آیا۔ مرزا محمود نے اس نوجوان کو کہا: تم بڑے وحشی ہو۔ اس نوجوان نے جواباً کہا کہ اگر جسم کے ان ابھاروں کو مسلا نہ جائے تو مزہ خاک ہوگا۔ مرزا محمود نے کہا: لڑکی کی اس مدافعت کا سبب یہ ہے کہ وہ اپنی چھاتیوں کی خوبصورتی کو برقرار رکھنے کے لئے یہ نہیں چاہتی کہ اس کے نشیب و فراز کا تناسب بدل جائے۔

گناہ کا آغاز

حکیم صاحب اپنا واقعہ آغاز گناہ صیغہ غیب میں بیان کرتے ہیں: ”ایک دفعہ مرزا محمود احمد کی بیوی مریم نے ایک نوجوان کو خط لکھا کہ فلاں وقت عبادت گاہ مبارک (قادیان) کی چھت سے ملحقہ کمرہ کے پاس آ کر دروازہ کھٹکھٹانا تو میں تمہیں اندر بلالوں گی۔ دروازہ کھلا تو اس نوجوان کی حیرت کی کوئی انتہاء نہ رہی۔ جب اس نے دیکھا کہ بیگم صاحبہ ریشم میں ملبوس سولہ سنگھار کئے موجود تھیں۔ اس نوجوان نے کبھی کوئی عورت نہ دیکھی تھی۔ چہ جائیکہ ایسی خوبصورت عورت۔ وہ مبہوت ہو گیا۔ اس نوجوان نے کہا کہ اجازت ہے۔ اس نے جواب دیا۔ ایسی باتیں پوچھ کر کی جاتی ہیں۔ اس وقت نوجوان نے کچھ نہ کیا۔ کیونکہ اس کے جذبہ شہوت اس قدر مشتعل ہو چکا تھا۔ اس نے سوچا کہ اس وقت کنارہ کرنا ہی بہتر ہے۔ چنانچہ بے نیل مرام واپس آ گیا۔ بیگم صاحبہ موصوفہ نے اس خط کی واپسی کا مطالبہ کیا جو اس نوجوان کو لکھا تھا۔ اس نوجوان نے جواب دیا کہ میں نے اس کو تلف کر دیا ہے۔ تقسیم ملک کے بعد مرزا محمود احمد کے پرائیویٹ سیکرٹری میاں محمد یوسف اس نوجوان کے پاس آئے۔ کہا: میں نے سنا ہے کہ آپ کے پاس حضور کی بیوی کے خطوط ہیں اور آپ اس کو چھاپنا چاہتے ہیں۔ اس نوجوان نے جواب دیا: بہت افسوس ہے کہ آپ کو اپنی بیوی پر اعتماد ہوگا اور مجھے بھی اپنی بیوی پر اعتماد ہے۔ اگر کسی پر اعتماد نہیں تو وہ حضور کی بیویاں ہیں۔“ (دریافت پر کہا وہ نوجوان میں ہی تھا)

ہوس رانی کا نشانہ بنا ڈالا۔ وہ بے چاری بیہوش ہوگئی۔ جس پر اس کی ماں نے کہا: اتنی جلدی کیا تھی، ایک دو سال ٹھہر جاتے۔ یہ کہیں بھاگی جا رہی تھی یا تمہارے پاس کوئی اور عورت نہ تھی۔“

دواخانہ نورالدین کے انچارج جناب اکرم بٹ کا کہنا ہے کہ میں نے حکیم صاحب سے پوچھا: یہ صاحبزادی کون تھی؟ تو انہوں نے بتایا۔ ”امۃ الرشید۔“

”اسے دوسرا ہی توڑے اور دوسرا ہی کھائے۔“

٣٣

صفحہ ٢١٢

امۃ الرشید بنت مرزا محمود کا بیان بروایت محمد صالح نور

مولوی محمد صالح نور، محمد یامین تاجر کتب کے بیٹے ہیں۔ قادیان اور ربوہ میں مختلف عہدوں پر فائز رہے۔ مرزا محمود کے داماد عبدالرحیم کے پرسنل سیکرٹری بھی رہے ہیں۔ ان کا حلفیہ بیان ملاحظہ فرمائیں: ”میں پیدائشی احمدی ہوں اور ١٩٥٧ء تک میں مرزا محمود احمد کی خلافت سے وابستہ رہا۔ خلیفہ نے مجھے ایک خود ساختہ فتنہ کے سلسلہ میں جماعت ربوہ سے خارج کر دیا۔ ربوہ کے ماحول سے باہر آ کر خلیفہ کے کردار کے متعلق بہت ہی گھناؤنے حالات سننے میں آئے۔ اس پر میں نے خلیفہ کی صاحبزادی امۃ الرشید بیگم (بیگم میاں عبدالرحیم احمد ) سے ملاقات کی۔ ان سے خلیفہ کے بدچلن ہونے، بدمعاش اور بدکردار ہونے کی تصدیق کی۔ باتیں تو بہت ہوئیں۔ لیکن خاص بات قابل ذکر یہ تھی کہ جب میں نے امۃ الرشید بیگم سے کہا آپ کے خاوند کو ان حالات کا علم ہے تو انہوں نے کہا کہ صالح نور صاحب آپ کو کیا بتلاؤں کہ ہمارا باپ ہمارے ساتھ کیا کچھ کرتا رہا ہے؟ اگر وہ تمام واقعات میں اپنے خاوند کو بتلا دوں تو وہ مجھے ایک منٹ کے لئے بھی اپنے گھر میں بسانے کے لئے تیار نہ ہوگا۔ تو پھر میں کہاں جاؤں گی۔ اس واقعہ پر امۃ الرشید کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور یہ لرزہ خیز بات سن کر میں بھی ضبط نہ کر سکا اور وہاں سے اٹھ کر دوسرے کمرے میں چلا گیا۔ اس وقت میں ان واقعات کی بناء پر جو میں ڈاکٹر نذیر احمد ریاض، محمد یوسف ناز، رابعہ بشیر احمد رازی سے سن چکا ہوں حق الیقین کی بناء پر خلیفہ کو ایک بدکردار اور بدچلن انسان سمجھتا ہوں اور اسی کی بناء پر وہ آج خدا کے عذاب میں گرفتار ہیں۔“

(خاکسار محمد صالح نور، واقف زندگی، سابق کارکن، وکالت تعلیم تحریک جدید، ربوہ)

اپنی ساس صغریٰ بیگم پر دست درازی

یہ واقعہ کئی احمدیوں نے بیان کیا ہے۔ مثلاً مظہر الدین صاحب ملتانی، عبدالوہاب، ڈاکٹر محمد احمد جامی نے مولوی عبدالمنان (مولوی عبدالمنان عمر مولوی نور الدین کے بیٹے ہیں اور زندہ ہیں) کی وساطت سے بیان کیا ہے۔ ایک دفعہ امۃ الحئی زوجہ مرزا محمود احمد (بنت مولوی نور الدین) روتی پیٹتی زخموں سے چور گھر آئی۔ اپنی ماں (زوجہ مولوی نور الدین) سے کہنے لگی۔ مجھے کس عذاب میں ڈال دیا ہے۔ زندہ ہوں اور نہ مردہ۔ مرزا محمود مجھے بدکاری کی طرف بلاتا ہے۔ انکار پر مار مار کر لہولہان کر دیا ہے۔ کوئی چھڑانے والا نہیں۔ صغریٰ بیگم (والدہ امۃ الحئی) کہنے لگیں۔ چلو میں چلتی ہوں۔ مرزا محمود سے کہتی ہوں جب مرزا محمود کے پاس کمرہ میں گئیں تو ناصحانہ انداز میں کہنے لگیں محمود! اب آپ خلیفہ بن گئے ان برائیوں کو ترک کر دو۔ ابھی وہ ناصحانہ

٣٤

انداز میں گفتگو کر رہی تھیں۔ مرزا محمود نے انہیں تھپڑ رسید کر دیا۔ یہ کہتی ہیں بمشکل اپنی جان اور عزت بچا ک

اس واقعہ کی تائید اس حوالہ سے بھی ہوتی ہے (بیوہ مولوی نورالدین) مرزا محمود کی سخت دشمن تھی کہ م ایک جلسہ میں اس بات کا اقرار کرتا ہے۔ صغریٰ ب

قارئین ذرا غور کریں کیا کوئی ماں ایسا عمل کرتی ہے۔ وہی ساس یہ عمل کرتی ہے جب کہ سا یہ واقعہ دو بیٹوں نے بیان کیا ہے اور قادیاں میں عام بات تھی۔ یہ تو قادیان میں عام مشہور تھا۔ مولو وہ شدید مخالف ہے اور اپنے داماد کو اچھا نہیں

امۃ الحفیظ دختر مرزا غلام احمد قادیا

سیدہ امۃ الحفیظ مرزا غلام احمد قاد کی بیٹی تھیں۔ مرزا محمد حسین اتالیق خاندان مرز ان کے مطابق یہی عورت باحیا اور باوقار تھی ان کو پڑھانے جایا کرتا تھا۔ جب موصوفہ کو یہ عل کہ محمود سے کوئی محرم رشتہ بھی نہیں بچ سکا تو ایک دن اماں جان سے ملنے کی خواہش پیدا ہو تو میں ساتھ لے جاتی ہوں اور بچیوں کو سخت ہدایت کر دیتی تھی کہ وہاں اکیلے نہ جانا۔ مطلب یہ تھا کہ میں یا میری بچیاں محمود کے کمرہ میں نہیں جاسکتیں۔ اس طرح ان کو (مرزا محمود) کے گھر نہیں جانا۔ اس ضمن م ہے۔ اس سے بھی یہ اندازہ ہو جائے گا کہ وہ م عقیدت رکھتے ہیں۔ پاشا نواب خاندان میں بہت اچھے گھرانے میں ہوگئی۔ پہلے تو وہ اس خاندان کی کسی لڑ سے کی گئی۔ لیکن جلدی ہی اس لڑکی کو طلاق دے

صفحہ ٢١٣

انداز میں گفتگو کر رہی تھیں۔ مرزا محمود اٹھا تو صغریٰ بیگم (اپنی ساس) پر ہاتھ ڈال دیا۔ بعض تو یہ کہتے ہیں بمشکل اپنی جان اور عزت بچا کر آئیں اور بعض کہتے ہیں مرزا محمود احمد کے منہ پر ایک تھپڑ رسید کر دیا۔

اس واقعہ کی اس حوالہ سے بھی تصدیق ہو جاتی ہے کہ صغریٰ بیگم (زوجہ مولوی نور الدین) مرزا محمود کی سخت دشمن تھی کہ مولوی دوست محمد شاہد مؤلف تاریخ احمدیت کی انیسویں جلد میں اس بات کا اقرار کرتا ہے۔ صغریٰ بیگم نے خلیفہ المسیح الثانی کو زہر دینے کی کوشش کی۔

قارئین ذرا غور کریں کیا کوئی ساس اپنے داماد کو بھی زہر دینے کا خیال دل میں لا سکتی ہے۔ وہی ساس یہ عمل کرتی ہے جب کہ ساس اور داماد کے درمیان سخت قسم کی دشمنی ہو۔ بہر حال یہ واقعہ دو بیٹوں نے بیان کیا ہے اور قادیان میں اس کی بازگشت کئی دوسرے لوگوں نے بھی سن لی تھی۔ یہ تو قادیان میں عام مشہور تھا۔ مولوی نور الدین کی زوجہ صغریٰ بیگم اپنے داماد مرزا محمود احمد کی شدید مخالف ہے اور اپنے داماد کو اچھا نہیں سمجھتیں۔

امۃ الحفیظ دختر مرزا غلام احمد قادیانی کا بیان

امۃ الحفیظ مرزا غلام احمد قادیانی کی بیٹی تھی۔ ان کی شادی نواب عبداللہ سے ہوئی تھیں۔ مرزا محمد حسین اتالیق خاندان مرزا محمود احمد کا یہ بیان ہے کہ اس خاندان میں ان کے خیال کے مطابق یہی عورت با حیا اور باوقار تھی۔ مرزا محمد حسین بیان کرتے ہیں کہ وہ امۃ الحفیظ کے گھر پڑھانے جایا کرتا تھا۔ جب موصوفہ کو یہ علم ہو گیا کہ مجھے محمود کے کردار کا علم ہو گیا ہے اور اس کی زد سے کوئی محرم رشتہ بھی نہیں بچ سکا تو ایک دفعہ کہنے لگیں مرزا صاحب! جب مجھے یا میری بچیوں کو اماں جان سے ملنے کی خواہش پیدا ہو تو میں اپنی بچیوں کو اپنے ساتھ لے جا کر اماں جان سے ملانے لے جاتی ہوں اور بچیوں کو سخت ہدایت ہوتی ہے۔ مجھے چھوڑ کر کسی اور کے کمرہ میں نہیں جانا۔ مطلب یہ تھا کہ میں یا میری بچیاں اماں جان کے گھر جاتی ہیں تو وہ بھائی مرزا محمود احمد کے کمرہ میں نہیں جاسکتیں۔ اس طرح ان کو یہ سختی سے ہدایت ہے کہ کسی کے ساتھ اپنے ماموں (مرزا محمود) کے گھر نہیں جانا۔ اس ضمن میں امۃ الحفیظ کے ایک فرزند ”پاشا“ کا ذکر بھی کر دیتا ہوں۔ اس سے بھی یہ اندازہ ہو جائے گا کہ وہ مرزا محمود احمد اور ان کے بیٹوں کی بچیوں کے متعلق کیا سوچ رکھتے ہیں۔ پاشا نواب خاندان میں بہت خوبصورت تھے۔ اس کی شادی مرزا محمود احمد کے خاندان میں ہو گئی۔ پہلے تو وہ اس خاندان کی کسی لڑکی سے شادی کرنا پسند ہی نہیں کرتا تھا۔ طوعاً و کرھاً کرنا پڑ گئی۔ لیکن جلدی ہی اس لڑکی کو طلاق دے دی اور ایک درزی سعید احمد کی صاحبزادی سے شادی کر

٣٥

صفحہ ٢١٤

لی۔ اس طلاق کی وجہ سے اس کی مالی حالت بہت پتلی ہو گئی ہے۔ سنا ہے کہ اس نے ربوہ میں ایک جنرل سٹور کھول رکھا ہے۔ لیکن اب مجھے معلوم نہیں کہ طلاق کی وجہ سے اس کو کن کن مصائب سے گزرنا پڑ رہا ہے۔ وہ پاکستان میں ہی ہیں یا باہر چلے گئے ہیں۔ احمدی حضرات پاشا صاحب سے پوچھ سکتے ہیں کہ تم نے اپنے خاندان کی ایک عورت کو کیوں طلاق دی۔ وہ باکردار شخص یہی جواب دے گا کہ مرزا محمود احمد کے خاندان سے کوئی بچی شادی کر کے لانا ایسا ہی ہے جیسے اس ''اس بازار'' سے کسی بیسوا کو گھر لے آنا۔

بیگم ڈاکٹر عبد اللطیف کا حلفیہ بیان

بیگم ڈاکٹر عبد اللطیف ہم زلف خلیفہ ربوہ فرماتی ہیں: ''مرزا محمود احمد خلیفہ ربوہ بدچلن، زنا کار انسان ہیں۔ میں نے ان کو خود زنا کرتے ہوئے دیکھا اور میں اپنے دونوں بیٹوں کے سر پر ہاتھ رکھ کر مؤکد بعذاب حلف اٹھاتی ہوں۔''

(ماخوذ از تاریخ محمودیت ص ٣٣)

ڈاکٹر مبشر احمد پوتا مرزا محمود احمد کا معصومانہ بیان

مجھ سے ''حضور ابا'' نے بدکاری کی ہے۔ پروفیسر سمیع اللہ قریشی کا بیان ہے کہ جب ماسٹر فقیر اللہ نے وفات پائی تو بیوی کی طرف سے رشتے داری کی وجہ سے نماز جنازہ کے لئے ربوہ گئے۔ ماسٹر صاحب کی یہ عادت تھی کہ وہ روزمرہ کی ڈائری لکھا کرتے تھے۔ ان کی ڈائری میں ان کے قلم سے لکھا ہوا یہ واقعہ پڑھا کہ ''ایک دن مبشر احمد آئے تو رو رہے تھے۔ میں نے رونے کی وجہ دریافت کی تو بڑے معصومانہ انداز میں کہا کہ آج مجھ سے ''حضور ابا'' نے بدکاری کی ۔''

مولوی عبد المنان عمر کی شہادت

مولوی عبد المنان عمر، مولوی نور الدین کے بیٹے ہیں۔ مولوی فاضل اور ایم۔ اے ہیں جامعہ احمدیہ میں رئیس الحدیث تھے۔ انسائیکلوپیڈیا آف اسلام اردو میں بحیثیت مدیر کے کام کیا

١؎ پروفیسر صاحب پیدائشی احمدی تھے۔ لیکن مرزا محمود احمد کی بدکاریوں اور غلط عقائد کی وجہ سے جماعت سے الگ ہو گئے ہیں۔ اسلامیہ کالج ریلوے روڈ سے رئیس اساتذہ کے عہدہ سے سبکدوش ہوئے ہیں۔ جانے پہچانے ادیب، شاعر اور استاد ہیں۔ کئی کتب کے مصنف ہیں۔ اگر کسی کو شک ہو تو وہ قریشی صاحب سے اب بھی اس واقعہ کی تصدیق کر سکتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب بھی انکار نہیں کرتے۔

ع مبشر احمد ماسٹر فقیر اللہ سے قرأۃ سیکھنے جاتے تھے۔

٣٦

تھا۔ قرآن مجید کا انگریزی زبان میں ترجمہ بھ سب سے اہم اور علمی کام تبویب احمد بن حنبل امریکہ میں مقیم ہیں۔ سنا ہے اردو زبان میں ت ہیں۔ مولوی صاحب نے ڈاکٹر محمد احمد حامی ک خراب کیا۔ مجھے مولوی عبد المنان سے اس با مبارکہ بیگم کو مرزا محمود احمد نے خراب کیا تھا۔ بھ ننگے سوئے ہوئے پائے گئے اور اماں جان نے جگایا۔ دونوں بہن بھائی بہت ننگی شاعری بھی ک

''میں بار بار مانگوں تو بار بار دے''

مبارکہ صاحبہ نے کہا جانی محمود! بات تو تب بن نے نواب مبارکہ کا یہ چیلنج منظور کرتے ہوئے ثاقب پڑھے گا۔ چنانچہ یہ نظم پڑھوائی گئی۔

نواب مبارکہ کے کردار پر مزید روشنی

نواب مبارکہ بیگم مرزا غلام احمد قادی سے نواب مبارکہ بیگم کہلاتی تھی۔ بہت ہی خوبصو دونوں کی عمروں میں بہت فرق تھا۔ مبارکہ آغوش وجہ سے زہریہ کا تودا، بھلا نواب صاحب مبارکہ نواب صاحب سے صرف یہ کام لیتی تھی۔ اپنے لگا کر چسولیا کرتی تھی اور سکول سے خوبصورت است مولوی عبد المنان کے علاوہ مجھے مظہ بیان کی تھی۔ لیکن مظہر الدین نے صرف چسوانے

مرزا حنیف احمد کا حلفیہ بیان بروایت

علی محمد ماہی صدر انجمن احمدیہ شیل احمدیوں اور فراڈ کے دستاویزی ثبوت اپنے خدا کو حاضر و ناظر جان کر اس پاک ذات کی ق ہے کہ صوفی روشن دین صاحب ربوہ میں انجمن

صفحہ ٢١٥

تھا۔ قرآن مجید کا انگریزی زبان میں ترجمہ بھی کیا ہے۔ قرآن مجید کی لغت کے بھی مؤلف ہیں۔ سب سے اہم اور علمی کام تبویب احمد بن حنبل ہے غالباً اس کی تین جلدیں چھپ چکی ہیں۔ آج کل امریکہ میں مقیم ہیں۔ سنا ہے اردو زبان میں تفسیر مرتب کر رہے ہیں۔ مرزا محمود احمد کے سالے بھی ہیں۔ مولوی صاحب نے ڈاکٹر محمد احمد حامی کو بتایا کہ مرزا محمود کو اس کی بہن نواب مبارکہ بیگم نے خراب کیا۔ مجھے مولوی عبدالمنان سے اس بارے میں اختلاف ہے۔ میرا مؤقف یہ ہے کہ نواب مبارکہ بیگم کو مرزا محمود احمد نے خراب کیا تھا۔ بقول مولوی عبدالمنان دونوں بہن بھائی اکٹھے کئی دفعہ ننگے سوئے ہوئے پائے گئے اور اماں جان نے کئی بار ان کو ایک بستر میں اکٹھے سوئے ہوئے پایا اور جگایا۔ دونوں بہن بھائی بہت تکی شاعری بھی کیا کرتے۔ ایک دن اس مصرعہ پر طبع آزمائی ہوئی۔

”میں بار بار مانگوں تو بار بار دے“ الغرض اس طرح مصرعہ پر طبع آزمائی کی گئی۔ نواب مبارکہ صاحبہ نے کہا جانی محمود! بات تو تب بنتی ہے یہ نظم جلسہ سالانہ پر پڑھوائیں۔ مرزا محمود احمد نے نواب مبارکہ کا یہ چیلنج منظور کرتے ہوئے کہا۔ پیاری جان! جلسہ سالانہ کے موقع پر اس نظم کو ثاقب پڑھے گا۔ چنانچہ یہ نظم پڑھوائی گئی۔

نواب مبارکہ کے کردار پر مزید روشنی

نواب مبارکہ بیگم مرزا غلام احمد قادیانی کی بیٹی تھی۔ نواب محمد علی کے عقد میں آنے کی وجہ سے نواب مبارکہ بیگم کہلاتی تھی۔ بہت ہی خوبصورت اور خوش ذوق تھی۔ نواب محمد علی اور نواب مبارکہ دونوں کی عمروں میں بہت فرق تھا۔ مبارکہ آتش شہوت کی مجسمہ اور نواب صاحب ڈھلی ہوئی جوانی کی وجہ سے زمہریر کا تودا، بھلا نواب صاحب مبارکہ کی آتش شہوت کب بجھا سکتے تھے۔ نواب مبارکہ، نواب صاحب سے صرف یہ کام لیتی تھی۔ اپنے پستانوں اور ”جائے لذت“ پر بلائی یا کوئی اور میٹھی چیز لگا کر چسوایا کرتی تھی اور سکول سے خوبصورت استاد انگریزی پڑھنے کے بہانے بلا لیا کرتی تھی۔

مولوی عبدالمنان کے علاوہ مجھے مظہر الدین ملتانی، پسر فخر الدین ملتانی نے بھی یہ بات بیان کی تھی۔ لیکن مظہر الدین نے صرف چسوانے کا ذکر کیا تھا۔ اساتذہ کے آنے جانے کا ذکر نہیں کیا۔

مرزا حنیف احمد کا حلفیہ بیان بروایت علی محمد ماہی

علی محمد ماہی صدر انجمن احمدیہ میں اکاؤنٹنٹ رہے ہیں اور خلیفہ ربوہ کی مالی بے اعتدالیوں اور فراڈ کے دستاویزی ثبوت اپنے پاس رکھتے ہیں۔ ان کا بیان ملاحظہ فرمائیں: ”میں خدا کو حاضر و ناظر جان کر اس پاک ذات کی قسم کھاتا ہوں جس کی جھوٹی قسم کھانا لعنتیوں کا کام ہے کہ صوفی روشن دین صاحب ربوہ میں انجمن کی چکی پر عرصہ تک بطور مستری کام کرتے رہے

٣٧

صفحہ ٢١٦

اور وہ قادیان کے پرانے رہنے والوں میں سے ہیں اور مخلص احمدی ہیں اور جن کے مرزا محمود احمد صاحب اور ان کے خاندان کے بعض افراد سے قریبی تعلقات تھے اور خصوصاً مرزا حنیف احمد بن مرزا محمود احمد کے صوفی صاحب موصوف کے ساتھ نہایت عقیدت مندانہ مراسم تھے۔ غلبہ عقیدت کی بناء پر مرزا حنیف احمد گھنٹوں صوفی صاحب کو قصر خلافت میں اپنے ایک کمرۂ خاص میں بھی لے جا کر ان کی خاطر مدارات کرتے۔ انہوں نے مجھ سے بارہا بیان کیا کہ مرزا حنیف احمد خدا کی قسم کھا کر کہتا ہے کہ جس کو تم لوگ خلیفہ اور مصلح موعود سمجھتے ہو۔ وہ زنا کرتا ہے اور یہ کہ مرزا حنیف احمد نے اپنی آنکھوں سے اپنے والد کو ایسا کرتے دیکھا۔ صوفی صاحب نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے کئی دفعہ مرزا حنیف احمد سے کہا کہ تم ایسا سنگین الزام لگانے سے قبل اچھی طرح اپنی یادداشت پر زور ڈالو۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ جس کو تم کوئی غیر سمجھے ہو۔ وہ دراصل تمہاری والدہ ہی تھیں۔ مبادا خدا کے قہر و غضب کے نیچے آ جاؤ۔ تو اس پر مرزا حنیف احمد اپنی رویت عینی پر حلفاً مصر رہے کہ ان کا والد پاک سیرت نہیں ہے اور یہ بھی کہا کہ انہوں نے اپنے والد کی کبھی کوئی کرامت مشاہدہ نہیں کی۔ البتہ یہ تڑپ ان میں شدت کے ساتھ پائی جاتی ہے کہ کس طرح انہیں جلد از جلد دنیاوی غلبہ حاصل ہو جائے۔“

اگر میں اس بیان میں جھوٹا ہوں اور افراد جماعت کو اس سے محض دھوکا دینا مقصود ہے تو خدا تعالیٰ مجھ پر اور میری بیوی بچوں پر ایسا عبرت ناک عذاب نازل فرمائے جو ہر مخلص اور دیدہ بینا کے لئے ازدیاد ایمان کا موجب ہو۔

ہاں! اس نام نہاد خلیفہ کی مالی بدعنوانیوں، خیانتوں اور دھاندلیوں کے ریکارڈ کی رو سے میں عینی شاہد ہوں۔ کیونکہ خاکسار نے ساڑھے نو سال تحریک جدید اور انجمن احمدیہ کے مختلف شعبوں میں اکاؤنٹنٹ اور نائب ایڈیٹر کی حیثیت سے کام کیا ہے۔

(خاکسار چوہدری علی محمد، علیحدہ واقف زندگی، نمائندہ خصوصی ”کوہستان“ لائل پور)

مرزا محمود کا مس روفو کو قادیان لے جانا اور پریس کا ردّعمل

مرزا محمود وہ بھونرا تھا جو ہر قسم کی تازہ کلی پر بیٹھتا اور اس کا رس چوستا تھا۔ ایک مرتبہ لاہور سیسل ہوٹل میں آئے تو وہاں کی نوجوان اطالوی معلمہ مس روفو کو دل دے بیٹھے اور پھر بہلا پھسلا کر اسے قادیان لے گئے۔ لاہور تو خبروں کا شہر ہے۔ بات نکلی تو مولانا ظفر علی خاں مرحوم تک پہنچ گئی۔ انہوں نے فوراً ایک نظم کہہ دی اور اگلی صبح اس کا ہر شعر لوگوں کی زبان پر تھا۔ بات بنتی نظر نہ آئی تو مرزا محمود نے حسب روایت بہانہ بنایا کہ میں اسے اپنی بیوی اور لڑکیوں کے

٣٨

صفحہ ٢١٧

انگریزی لہجہ کے لئے لایا تھا۔ (الفضل مورخہ ١٨؍مارچ ١٩٤٤ء) اس پر اخبارات نے لکھا کہ اطالوی تو خود انگریزی کے بعض الفاظ صحیح طور پر نہیں بول سکتے۔ پھر ایک رقاصہ لڑکی کو گورنس کے طور پر رکھنا کون سی دانشمندی کی علامت ہے؟ اس پر قادیانی امت کے راسپوٹین کے لئے کوئی جائے فرار نہ رہی اور اس نے مس روفو کو اپنے محرم راز ڈرائیور (تحقیق کرنے پر معلوم ہوا کہ یہ ڈرائیور نذیر تھا) کے ہمراہ پانچ ہزار روپیہ دے کر واپس بھیج دیا۔ قادیان میں مس روفو تجربات کی جس بھٹی سے گزری، وہ اس قدر لرزہ خیز نوعیت کے تھے کہ اس نے آتے ہی ایک وکیل کو مرزا محمود کے خلاف کیس دائر کرنے کے لئے کہا کہ وہ اس کے ساتھ اپنی بیٹی کو سامنے بٹھا کر بدکاری کرتا رہا۔ (ملخص از کمالات محمودیہ و فتنہ انکار ختم نبوت) وکیل نے اس کا کیس لینے سے انکار کر دیا۔ کیونکہ یہ کوئی معمولی گناہ نہ تھا۔ یہاں تو افشائے راز کا تحفظ بھی معصیت سے کیا گیا تھا۔ میں نے کئی باخبر لوگوں سے دریافت کیا کہ یہ وکیل کون تھے تو انہوں نے بتایا کہ وہ سابق چیف جسٹس محمد منیر تھے۔ جو اس وقت وکالت کی پریکٹس کیا کرتے تھے۔ خاکسار نے ایک دفعہ عطاء اللہ بخاری سے ملاقات کی تو موصوف نے فرمایا میں نے ہی مقدمہ دائر نہ کرنے کا مشورہ دیا تھا کہ روفو جو واقعہ بیان کر رہی ہے جج روفو کے بیان کو سچا بھی نہ سمجھے گا۔ مرزا محمود احمد بری قرار دے دیا جائے گا۔ اب مولانا ظفر علی کی نظم ملاحظہ فرمائیے:

اطالوی حسینہ

از نقاش!

اے کشور اطالیہ کے باغ کی بہار لاہور کا دامن ہے تیرے فیض سے چمن
پیغمبر جمال تیری چلبلی ادا پروردگار عشق تیرا دل ربا چلن
الجھے ہوئے ہیں دل تری زلف سیاہ میں ہیں جس کے ایک تار سے وابستہ سو فتن
پروردہ فسوں ہے تیری آنکھ کا خمار آوردۂ جنوں ہے تیری بوئے پیرہن
پیمانۂ نشاط تیری ساق صندلیں بیعانہ سرور تیرا مرمریں بدن
رونق ہے ہوٹلوں کی تیرا حسن بے حجاب جس پر فدا ہے شیخ تو لٹو ہے برہمن
جب قادیان پہ تیری نشیلی نظر پڑی سب نشہ نبوت ظلی ہوا ہرن
میں بھی ہوں تیری چشم پر افسوں کا معترف جادو وہی ہے آج اے قادیاں شکن

(ارمغان قادیان ص ٥٠، شائع کردہ مکتبہ کارواں لاہور)

٣٩

صفحہ ٢١٩

خاں ١٣٣٥ اے پیپلز کالونی فیصل آباد کا حلفیہ بیان لاہور سے انہوں نے اس بارہ میں استفسار کیا تو مولا تھا۔ مگر ہم نے ملزم کو Benefit of Doubt

مباہلہ والوں کی للکار

مولوی عبدالکریم مرحوم اور میاں زاہد ”م مجاہدین نے ١٩٢٧ء میں اپنی ہمشیرہ سکینہ بیگم پر مرزا احتجاج بلند کیا۔ قادیانی غنڈوں نے ان کے مکان کو نا بیان کے مطابق اگر مولانا حکیم نورالدین کی اہلیہ صغریٰ سبب اسی رات قادیانیوں کے ہاتھوں راہی عدم ہوئے۔ وافتراء کا جواب دینے کے لئے ”مباہلہ“ نامی اخبار جار

خونِ احرار آ جاتا ہے
توڑ دیتا ہے کوئی مو

یہ مظلوم خاتون قادیانی فرقہ کے صوبائی ام تھیں۔ وہ اپنے مشاہدہ اور تجربہ کی بناء پر عمر بھر مرزا محمو میں آیا کہ وہ قادیان میں کسی کام کی خاطر ”قصر خلافت زیادتی کا ارتکاب کیا۔ انہوں نے واپس آ کر سار مرزا عبدالحق، خلیفہ کے پاس پہنچا تو کہا کہ سکینہ یہ بات مجھے خود اس معاملہ کی سمجھ نہیں آ رہی۔ سکینہ بیگم بڑی نیک کیوں کی ہے۔ میں دعا کروں گا، آپ کل فلاں وقت م دن پہنچا تو خلیفہ مرزا محمود نے کہا: میں نے اس معاملہ بات سمجھ میں آئی ہے کہ: ”چونکہ میں خلیفہ ہوں، مصلح تعلق کی بناء پر مجھ سے محبت رکھتی ہے اور اس قسم کا جذ مستولی ہو جاتا ہے تو اس وقت بعض عورتیں عالم تخیل میں تعلق قائم کیا ہے اور اس خیال کا استیلاء و غلبہ ان پر اس لیتی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی مرزا محمود نے طب کی ایک ک اس مرض کا ذکر کیا ہے۔ اس پر مرید مطمئن ہو کر گھر واپس

٣١

صفحہ ٢١٩

خاں ١٣٣٥اے پیپلز کالونی فیصل آباد کا حلفیہ بیان ہے کہ اس کمیٹی کے ایک رکن مولوی محمد علی لاہور سے انہوں نے اس بارہ میں استفسار کیا تو مولوی صاحب نے بتایا کہ الزام تو ثابت ہو چکا تھا۔ مگر ہم نے ملزم کو Benefit of Doubt دے کر چھوڑ دیا۔

مباہلہ والوں کی للکار

مولوی عبدالکریم مرحوم اور میاں زاہد ”مباہلے والے“ کے نام سے مشہور ہیں۔ ان مجاہدین نے ١٩٢٧ء میں اپنی ہمشیرہ سکینہ بیگم پر مرزا محمود کی دست درازی کے خلاف صدائے احتجاج بلند کی۔ قادیانی غنڈوں نے ان کے مکان کو نذر آتش کر دیا اور جناب میاں زاہد کے اپنے بیان کے مطابق اگر مولانا حکیم نور الدین کی اہلیہ صغریٰ بیگم محترمہ ان کو بروقت خبردار نہ کر دیتیں تو وہ سب اسی رات قادیانیوں کے ہاتھوں راہی عدم ہو چکے ہوتے۔ انہوں نے مرزا محمود کے کذب وافتراء کا جواب دینے کے لئے ”مباہلہ“ نامی اخبار جاری کیا۔ جس کی پیشانی پر یہ شعر درج ہوتا تھا۔

خون اسرائیل آ جاتا ہے آخر جوش میں
توڑ دیتا ہے کوئی موسیٰ طلسم سامری

یہ مظلوم خاتون قادیانی فرقہ کے صوبائی امیر مرزا عبدالحق ایڈووکیٹ سرگودھا کی اہلیہ تھیں۔ وہ اپنے مشاہدہ اور تجربہ کی بناء پر عمر بھر مرزا محمود کو بدکار سمجھتی رہیں۔ یہ سانحہ اس طرح ظہور میں آیا کہ وہ قادیان میں کسی کام کی خاطر ”قصر خلافت“ میں گئیں۔ مرزا محمود نے جبراً ان کے ساتھ زیادتی کا ارتکاب کیا۔ انہوں نے واپس آ کر سارا معاملہ اپنے شوہر کے گوش گزار کر دیا۔ مرزا عبدالحق، خلیفہ کے پاس پہنچا تو کہا کہ سکینہ یہ بات کہتی ہے اس نے بڑی ”معصومیت“ سے کہا: مجھے خود اس معاملہ کی سمجھ نہیں آ رہی۔ سکینہ بیگم بڑی نیک اور پاکباز لڑکی ہے۔ اس نے ایسی حرکت کیوں کی ہے۔ میں دعا کروں گا، آپ کل فلاں وقت تشریف لائیں۔ جب مرزا عبدالحق دوسرے دن پہنچا تو خلیفہ مرزا محمود نے کہا: میں نے اس معاملہ پر بہت غور کیا ہے۔ دعا بھی کی ہے۔ ایک بات سمجھ میں آئی ہے کہ: ”چونکہ میں خلیفہ ہوں، مصلح موعود ہوں، اس لئے سکینہ بیگم ایک روحانی تعلق کی بناء پر مجھ سے محبت رکھتی ہے اور اس قسم کا جذبہ الفت جب پوری طرح قلب و ذہن پر مستولی ہو جاتا ہے تو اس وقت بعض عورتیں عالم تخیل میں دیکھتی ہیں کہ انہوں نے فلاں مرد سے ایسا تعلق قائم کیا ہے اور اس خیال کا استیلاء و غلبہ ان پر اس قدر ہوتا ہے کہ وہ اس کو بیداری کا واقعہ سمجھ لیتی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی مرزا محمود نے طب کی ایک کتاب نکال کر دکھا دی کہ دیکھ لو اطباء نے بھی اس مرض کا ذکر کیا ہے۔ اس پر مرید مطمئن ہو کر گھر واپس آیا تو اہلیہ کے استفسار کرنے پر مرید خاوند

٤١

صفحہ ٢٢٠

نے کہا: ”تم بھی سچ کہتی ہو اور حضرت صاحب بھی سچ کہتے ہیں۔“

مولوی محمد دین سابق ہیڈ ماسٹر تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان نے مرزا محمد حسین المعروف ماسٹر جی کام کو بتایا کہ جن دنوں مرزا عبدالحق، انجمن کے وکیل کے طور پر گورداسپور میں پریکٹس کر رہے تھے۔ ایک روز وہ مجھے ملنے کے لئے آئے۔ جیسا کہ دوسرے شاگرد آتے تھے تو میں نے ان سے دریافت کیا کہ کیا آپ کی اہلیہ اب تک ”حضرت صاحب“ کو بدکردار سمجھتی ہیں اور واقعہ کی صحت پر مصر ہیں تو انہوں نے کہا۔ ”جی ہاں“

مولوی صدرالدین امیر جماعت لاہور کا بیان

مولوی صدرالدین سیالکوٹ کے رہنے والے اور ککے زئی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ ١٩٠٠ء سے پہلے کے گریجویٹ تھے۔ بی، ٹی کا امتحان پاس کیا۔ ٹریننگ کالج میں ہی بحیثیت پروفیسر ملازمت مل گئی۔ جب مولوی نورالدین کے دور میں قادیان میں ہائی سکول بنانے کا منصوبہ تجویز ہوا تو مولوی نورالدین نے مولوی صدرالدین کو بحیثیت ہیڈ ماسٹر مقرر کر دیا اور انہوں نے گورنمنٹ ٹریننگ کالج سے استعفیٰ دے دیا۔ ١٩١٣ء تک رئیس الاساتذہ کے طور پر کام کیا۔ جب مولوی نورالدین کی وفات ہوئی اور جماعت میں اختلاف پیدا ہوا تو مولوی صدرالدین ان اصحاب میں سے تھے جو قادیان کو چھوڑ کر لاہور آگئے۔ احمدیہ جماعت لاہور نے لاہور میں مسلم ہائی سکول رام گلی میں جاری کیا تو اس کے ہیڈ ماسٹر مقرر ہوئے۔ پھر جرمن چلے گئے۔ وہاں تبلیغی مشن کھولا اور عبادت گاہ تعمیر کی۔ جماعت احمدیہ لاہوری کا تبلیغی مشن کا مرکز ہے۔ مولوی صدرالدین نے جرمن زبان میں قرآن مجید کا ترجمہ بھی کیا ہے۔ مختصر حالات زندگی بیان کرنے کی غرض صرف یہ ہے کہ کن کن لوگوں نے خلیفہ محمود کی زندگی پر گندے الزامات لگائے ہیں۔

(مؤلف کتاب ہذا) میں حلفاً بیان کرتا ہوں کہ مولوی صدرالدین سے یہ سنا تھا کہ تینوں بھائی ہی بڑے بدکار تھے۔ ان کو ہاسٹل میں آنے کی اجازت نہیں تھی۔ مولوی صاحب نے کہا اگر اس (مرزا محمود) کے عقائد صحیح بھی ہوتے تو میں نے اس کے ہاتھ پر بیعت نہیں کرنی تھی۔ خلیفہ مرزا محمود کی زندگی میں مولوی صاحب نے اپنے ایک جمعہ کے خطبہ میں اس دور کا ابرہہ کہا تھا۔ ابرہہ نے تو بیت اللہ کی اینٹوں کو گرانے کے لئے لشکر کشی کی تھی۔ اس کم بخت نے بیت اللہ کی تکریم پر ان الفاظ سے حملہ کیا ہے کہ ”مکہ کی چھاتیوں سے دودھ خشک ہو چکا ہے۔“ جب کہ اللہ تعالیٰ نے بیت اللہ کو ہمیشہ کے لئے باعث برکت قرار دیا ہے اور اس کے فیوض تا قیامت جاری رہیں گے۔

٤٢

صفحہ ٢٢١

آفتاب اقبال ابن ڈاکٹر محمد اقبال کی شہادت

جب مولوی نورالدین کے دور میں تعلیم الاسلام ہائی سکول کے نظم و نسق اور پڑھائی کی شہرت عام ہوئی تو ڈاکٹر محمد اقبال نے اپنے صاحبزادہ آفتاب اقبال کو پڑھائی کے لئے قادیان بھیج دیا اور وہاں سے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ آفتاب کی زوجہ محترمہ بیگم رشیدہ نے آفتاب اقبال کے حالات زندگی اپنی تصنیف ”علامہ اقبال اور ان کے فرزند اکبر آفتاب اقبال“ میں بیان کئے ہیں۔ اس میں مرزا محمود احمد کی زندگی کے متعلق شہادت بیان کرتے ہوئے رقمطراز ہیں ۔ ”قادیان میں قیام کی بدولت آفتاب اقبال اس جماعت (جماعت احمدیہ قادیان) کے دوسرے خلیفہ مرزا بشیرالدین محمود کے اخلاق سیاہ سے باخبر ہوئے اور انہوں نے مرزا بشیر الدین محمود کے ایسے ایسے کارہائے نمایاں سے آگاہ کیا تھا کہ میں ایک عورت کے ناطے اپنے قلم سے اس روداد کو بیان کرنے سے لرزہ محسوس کرتی ہوں ۔“ (علامہ اقبال اور ان کے فرزند اکبر آفتاب اقبال مؤلفہ بیگم رشیدہ آفتاب اقبال بہ اہتمام فیروزسنز پرنٹرز (پرائیویٹ) لمیٹڈ کراچی اشاعت اگست ١٩٩٩ء)

قارئین توجہ فرمائیں: آفتاب اقبال صاحب ایک طالب علم تھے جن کا مطمح نظر صرف پڑھائی تھا۔ مرزا محمود احمد اپنی نوعمری میں ہی اپنی بدکرداری کی وجہ سے اتنے مشہور ہو چکے تھے کہ طلباء کو بھی ان کی بدکرداری کا بخوبی علم تھا اور بدکرداری بھی اس نہج تک جس کو ایک عورت بیان کرنے سے لرزہ محسوس کرے۔ اس شہادت سے بھی مولوی صدر الدین کا بیان صحیح ثابت ہوتا ہے کہ میں نے تینوں بھائیوں کا داخلہ ہاسٹل میں ممنوع قرار دے دیا تھا۔

مبارک شاہ ابن مولوی محمد سرور شاہ کی شہادت

مرزا محمود احمد کے عمل بدکاری کے وقت بیٹی کا رقص

ڈاکٹر محمد احمد حامی بیان کرتے ہیں کہ میں نے مبارک شاہ پسر مولوی سرور شاہ سے ایک واقعہ کی تصدیق چاہی۔ وہ یہ کہ کیا کبھی ایسا بھی ہوا تھا کہ ایک آدمی مرزا محمود کی لڑکی یا بیوی پر سوار ہو اور اس آدمی کے اوپر مرزا محمود سوار ہو گیا ہو۔ حامی صاحب کہتے ہیں کہ شاہ صاحب بولے کہ اس قسم کی کہانیاں صحیح ہیں۔ یہ واقعہ میرے ساتھ بھی ہوا تھا۔ میں اُم طاہر پر تھا۔ مرزا محمود مجھ پر سوار تھا اور اس کی ایک لڑکی پاس ہنستی، خوش ہوتی رقص کر رہی تھی۔

١؎ مولوی سرور شاہ جامعہ احمدیہ کے پرنسپل تھے۔ سلسلہ کے مفتی بھی۔ کتب سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے موصوف نے کوئی تفسیر بھی لکھی تھی۔ بہر حال جماعت احمدیہ کی ایک جانی پہچانی شخصیت تھے۔ مبارک شاہ ان کے بیٹے ہیں۔

٤٣

صفحہ ٢٢٢

حامی صاحب بیان کرتے ہیں: شاہ صاحب کہنے لگے صرف میں ہی زندہ رہ گیا ہوں جس نے ام طاہر کے ساتھ اپنا جسم تنہائی میں ملایا تھا۔ باقی فوت ہو چکے ہیں۔ حامی صاحب کہنے لگے کہ مبارک شاہ ان واقعات کو یاد کر کے بہت ہی روتے ہیں اور خدا سے توبہ استغفار کرتے رہتے ہیں۔ میں (مؤلف کتاب ہذا) مبارک شاہ کی خدمت میں گزارش کروں گا ۔ اللہ تعالیٰ سے اپنے کردہ گناہوں کی حقیقی توبہ اس رنگ میں ہوگی کہ وہ واقعات یا تو خود احاطہ تحریر لے آئیں جو مرزا محمود احمد کی صحبت میں پیش آئے یا کسی کو لکھوا دیں ۔ تا کہ ریکارڈ کے طور پر ضبط تحریر میں آجائیں۔ کیونکہ مرزا محمود کی بدکاریوں کی پردہ دری عین عبادت ہے۔ کیونکہ اس شخص نے صرف بدکاری ہی نہیں کی بلکہ اللہ اور اس کے رسول اور قرآن کی توہین بھی کی ہے۔ مبارک شاہ خوب جانتے ہیں۔

مبارک! تمہارے نطفہ سے فلاں عورت سے بچہ پیدا ہونا چاہئے

قاری بعض واقعات میں ابہام اور الجھاؤ محسوس کرے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کافی عرصہ پہلے یہ باتیں سنی تھیں۔ اس وقت لکھنے کا کوئی ارادہ نہ تھا۔ مرور وقت سے بعض نام ذہن سے اتر گئے ۔ دوم اس وقت راوی سے مزید تحقیق بھی نہ کی ۔ اب جب وہ باتیں لکھ رہا ہوں تو نام ذہن سے اتر جانے اور مزید تحقیق نہ کرنے کی وجہ سے قاری کچھ ابہام محسوس کرے گا۔ اس وجہ سے معذرت خواہاں ہوں۔ لکھ اس لئے رہا ہوں۔ ممکن ہے کہ کوئی اس بات کو جاننے والا اس کتاب کو پڑھ لے تو اس واقعہ کو مفصل لکھ دے یا مجھے معرفت پبلشر بھیج دے۔ عبدالرحمان مصری سے ایک واقعہ ایسا ہوا۔ جب ام طاہر نے آتشک وسوزاک کے موذی مرض سے وفات پائی تو اس کے اندر سے اتنی پیپ نکلی کہ کفن چار دفعہ تبدیل کیا۔ مصری صاحب ام طاہر کی بیماری اور کفن کا پیپ سے آلودہ ہونے کا واقعہ پیغام صلح میں لکھا تو مصری صاحب نے لکھا کہ تین دفعہ کفن تبدیل کیا گیا تو اکمل صاحب نے لکھ بھیجا کفن تین دفعہ تبدیل نہیں ہوا۔ بلکہ چار دفعہ تبدیل ہوا تھا۔ میں بھی صرف ریکارڈ کے لئے کچھ ادھورے واقعات لکھ رہا ہوں تاکہ کوئی واقف کار ان کو مکمل کر دے۔ یہ جو روایت لکھنے لگا ہوں ۔ یہ مبارک شاہ سے تعلق رکھتی ہے۔ وہ زندہ ہیں۔ ممکن ہے میرے اس ادھورے واقعہ کی کسی طرح تکمیل ہو جائے۔ ڈاکٹر محمد احمد حامی کے سید مبارک شاہ کے ساتھ قریبی تعلق ہیں اور خط و کتابت ہے۔ اس کی خدمت میں گذارش ہے کہ اس واقعہ کی جہاں کڑیاں غائب ہیں وہ مکمل کروا دیں۔ یہ واقعہ مجھ سے میجر محمد یونس نے بیان کیا۔ میجر صاحب پیدائشی احمدی تھے۔ ڈاکٹر محمد اسماعیل کے بیٹے اور حکیم قطب الدین کے پوتے تھے۔ غالباً ان کے ابا و اجداد بدوملہی کے رہنے

٤٤

والے تھے۔ تقسیم ہند کے بعد ڈاکٹر اسماعیل پنڈی وزیر خارجہ پاکستان کے ساتھ گہرے مراسم تھے ملاقات کرتے۔ چوہدری محمد ظفر اللہ میں دوست ایک دفعہ چوہدری، والد کو ملنے آئے تو مجلس میں جائے۔ اس کے علاوہ دوسری زبان کا کوئی لفظ جائے۔ چنانچہ میں حیران رہ گیا۔ چوہدری صا دوسری زبان کا لفظ نہ استعمال کیا ۔ جب ہم اس ہے کہ تاکہ قاری کو یہ معلوم ہو جائے۔ یہ واقعہ ہیں۔ عجیب بات یہ ہے چوہدری ظفر اللہ کو یہ ب ذہن نہیں رکھتے۔

تمہید کچھ طویل ہو گئی ہے۔ یہ واقعہ (غالباً عبدالرزاق مہتہ ہے) کے ساتھ یہ واقعہ شاہ کا یہ بیان ہے۔ مرزا محمود نے کہا کہ فلاں مبارک! تیرے نطفہ سے اس کے ہاں بچہ پیدا شخص دفتر میں جاتا تو میں اس کے گھر داخل ہو زوجہ کے بطن سے ایک بچہ پیدا کر دیا۔ اس بچہ کی

مرزا طاہر احمد پسر مرزا عبدالحق کا بیان

”میری شکل دیکھو کیا میری شکل مرزا

پیدا کرنے کا ذکر ہوا ہے۔ مزید دو واقعات پڑھ راجا غالب احمد سابق چیئرمین تعلیمی بورڈ سرگو ہو رہی تھیں ۔ اسی دوران مرزا طاہر احمد پسر عبد نے تعارف کراتے ہوئے کہا۔ حامی انہیں جا راجا صاحب نے کہا یہ مرزا عبدالحق ایڈووکیٹ نہیں میں تو مرزا محمود احمد کا بیٹا ہوں ۔ حامی کی مرزا عبدالحق جیسی ہے یا مرزا محمود احمد سے ملتی گیا۔ راجا صاحب نے اپنی نظریں نیچے جھکا

صفحہ ٢٢٣

والے تھے۔ تقسیم ہند کے بعد ڈاکٹر اسماعیل پنڈی میں مقیم ہوئے۔ چوہدری سر ظفر اللہ مرحوم سابق وزیر خارجہ پاکستان کے ساتھ گہرے مراسم تھے۔ جب پاکستان میں آتے تو ڈاکٹر کے ساتھ ضرور ملاقات کرتے۔ چوہدری محمد ظفر اللہ میں دوست نوازی کی بہت عادت تھی۔ میجر محمد یونس نے بتایا ایک دفعہ چوہدری والد کو ملنے آئے تو مجلس میں یہ قرار پایا۔ جس زبان میں گفتگو کرنا قرار پائی جائے۔ اس کے علاوہ دوسری زبان کا کوئی لفظ استعمال نہ کیا جائے۔ قرار یہ پایا پنجابی میں گفتگو کی جائے۔ چنانچہ میں حیران رہ گیا۔ چوہدری صاحب نے اپنی تمام گفتگو میں پنجابی کے علاوہ کوئی دوسری زبان کا لفظ نہ استعمال کیا۔ جب ہم اس بات سے عاجز آگئے یہ بات اس وجہ سے بیان کی ہے کہ تاکہ قاری کو یہ معلوم ہو جائے۔ یہ واقعات بیان کرنے والے جماعت کے معتبر اشخاص ہیں۔ عجیب بات یہ ہے چوہدری ظفر اللہ کو یہ بھی علم تھا کہ ڈاکٹر اسماعیل مرزا محمود سے متعلق اچھا ذہن نہیں رکھتے۔

تمہید کچھ طویل ہو گئی ہے۔ یہ واقعہ غالباً ١٩٥٥ء یا ١٩٥٦ء کا ہے جس شخص کی بیوی ( غالباً عبد الرزاق مہتہ ہے ) کے ساتھ یہ واقعہ ہوا اس کا نام بھول گیا ہوں۔ واقعہ یہ ہے مبارک شاہ کا یہ بیان ہے۔ مرزا محمود نے کہا کہ فلاں آدمی ”خالی“ ہے۔ اس کا کوئی بچہ پیدا نہیں ہوگا۔ مبارک! تیرے نطفہ سے اس کے ہاں بچہ پیدا ہونا چاہئے۔ مبارک شاہ صاحب کہتے ہیں جب وہ شخص دفتر میں جاتا تو میں اس کے گھر داخل ہو جاتا تو مرزا محمود احمد کے حکم کے مطابق اس آدمی کی زوجہ کے بطن سے ایک بچہ پیدا کر دیا۔ اس بچہ کی شکل میری ہی جیسی تھی۔

مرزا طاہر احمد پسر مرزا عبد الحق کا بیان

”میری شکل دیکھو کیا میری شکل مرزا محمود احمد سے نہیں ملتی۔“ اوپر غیر کے نطفہ سے بچہ پیدا کرنے کا ذکر ہوا ہے۔ مزید دو واقعات پڑھ لیجئے۔ ڈاکٹر محمد احمد حامی کا بیان ہے کہ ایک دفعہ وہ راجا غالب احمد سابق چیئرمین تعلیمی بورڈ سرگودھا کو ان کے دفتر میں ملنے گیا۔ ادھر ادھر کی گپیں ہو رہی تھیں۔ اسی دوران مرزا طاہر احمد پسر عبد الحق ایڈووکیٹ دفتر میں داخل ہوئے تو راجا صاحب نے تعارف کراتے ہوئے کہا۔ حامی! انہیں جانتے یہ کون ہیں۔ حامی صاحب نے جواب دیا نہیں راجا صاحب نے کہا یہ مرزا عبد الحق ایڈووکیٹ کے صاحبزادے ہیں۔ طاہر احمد نے چہکتے ہی کہا۔ نہیں میں تو مرزا محمود احمد کا بیٹا ہوں۔ حامی کی طرف مخاطب ہو کر کہا۔ کیا تم میری شکل دیکھتے ہو۔ مرزا عبد الحق جیسی ہے یا مرزا محمود احمد سے ملتی ہے۔ حامی صاحب کہتے ہیں یہ الفاظ کہہ کر وہ چلا گیا۔ راجا صاحب نے اپنی نظریں نیچے جھکا دیں اور شرمندہ ہو گئے۔ دل میں یہ کہتے ہوں گے

٤٥

صفحہ ٢٢٥

میں نے کیوں بے وجہ تعارف کرا دیا ہے۔ مرزا محمود کو غیر کے نطفہ سے بچہ پیدا کرانے کا شوق اپنی بیویوں سے بھی تھا۔ میاں اظہر احمد (اجی) صاحب کی شکل بالکل محمود احمد کے ڈرائیور نذیر احمد سے ملتی ہے۔ رمز شناس اور واقف حال مرزا اظہر احمد کو نذیر احمد ڈرائیور کا بچہ ہی کہا کرتے تھے۔ ایک دفعہ چوہدری عبدالحمید ڈاڈا نے اس کے منہ پر یہ کہہ دیا ” چل نذیر ڈرائیور کے بیٹے ۔“

نذیر احمد ڈرائیور کا بیان

بیگم مرزا محمود احمد کی شب عروسی نذیر احمد ڈرائیور کے ساتھ

نذیر احمد ڈرائیور گندمی رنگ مضبوط جسامت اور دراز قد کا مالک تھا۔ مرزا محمود احمد کی مجلس بدکاری کا ایک اہم ممبر تھا۔ اس کا بیان ہے کہ جب مرزا محمود احمد ڈاکٹر اسماعیل (مرزا محمود احمد کا ماموں) کی بیٹی کو شادی کر کے گھر لایا تو اس کی پہلی رات میرے ساتھ گزری۔ ڈرائیور بیان کرتا ہے کہ جب میں پہلی رات حجرہ عروسی میں داخل ہوا تو وہ پریشان ہوگئی۔ ویسے تو پہلے سے ہی مرزا محمود کی بدکاریوں سے آشنا تھی۔ لیکن وہ یہ امید نہیں کرتی تھی کہ پہلی رات ہی ایک ڈرائیور کے ساتھ گزارنا پڑے گی۔ پہلا سوال یہ کیا۔ کیا امّ ناصر کے ساتھ بھی یہی سلوک ہوتا ہے۔ نذیر نے کہا جو عورت بھی اس چار دیواری میں قدم رکھے گی اس کے ساتھ یہی سلوک ہوگا۔ امّ ناصر اس سے مستثنیٰ نہیں۔

”کوئی قادیانی میرے جنازے کو ہاتھ نہ لگائے“ بیان داؤد احمد

داؤد احمد ابن راجا مدد علی کے کئی بھائی ہیں۔ میں صرف دو کے نام جانتا ہوں۔ میجر محمد احمد۔ میجر الیاس احمد۔ میجر محمد یونس پھر ڈاکٹر محمد اسماعیل کا یہ بیان ہے کہ داؤد اس کے دوست تھے۔ قادیان میں تو اس نے مرزا محمود احمد کی بدکاری کا کبھی ذکر نہیں کیا تھا۔ تشکیل پاکستان کے بعد مرزا محمود احمد کی مجلس بدکاری کا ممبر بننے اور امّ وسیم کے ساتھ ناجائز تعلقات کے بارے میں ذکر کیا۔ میجر بیان کرتے ہیں داؤد نے کہا کہ جس رنگ میں طریقے کے ساتھ مرزا محمود احمد کے ساتھ بدکاریوں میں شامل ہوا اب عورت کی صحبت سے اتنی نفرت ہوگئی ہے کہ شادی کرنے کا ارادہ ہی نہیں۔ پاکستان کے بننے کے بعد مرزا محمود احمد کے رہائش کدہ کے قریب تک نہیں پھٹکا۔ پھر انگلستان چلے گئے تو ڈاکٹر محمد احمد حامی نے بیان کیا۔ وہ احمدیوں سے اتنی نفرت کرتے ہیں۔ اس نے یہ وصیت کر دی ہے کہ اس کے جنازے کو کوئی قادیانی ہاتھ نہ لگائے۔

٤٦

قریشی نذیر احمد کی شہادت ...... مرزا محمود احمد

ڈاکٹر محمد احمد حامی واقف زندگی تھے۔ بم پاس جانا پڑتا تھا۔ جب قریشی کو یہ علم ہوا تو کہنے لگ ہوا ہو تو اس کے سامنے نہ جانا۔ قریشی نذیر احمد مولو رشتے دار تھے۔

ڈاکٹر محمد احمد حامی کی شہادت

روزی، ڈیزی پر مجرمانہ حملہ :

ڈاکٹر محمد احمد حامی نے بیان کیا: ٥٢۔١٩٥١ گرلز ہائی سکول کی استانی) کے پاس گیا۔ وہ بہت ح پریشانی کی حالت دیکھ کر پوچھا۔ خالہ! کیا بات ہے پوچھنے پر پھٹ پڑیں۔ ”کہا آپ کو مرزا محمود کے کرتو اور ڈیزی پر مجرمانہ حملہ کیا ہے۔ وہ آج شام کو اپنی بچیو بچیوں کو ساتھ لے کر جارہی ہوں۔“

ابوالہاشم بنگال کے رہنے والے تھے۔ تب پر فائز تھے۔ انگریزی دانی کی یہ حالت تھی کہ ایک دفع کی زیر صدارت تقریر کی۔ چوہدری صاحب کی وجہ س سننے کے لئے آئے تھے۔ تقریر کیا تھی ایک جادو تھا ج تھے۔ ”انگریزی زبان“ کا مزہ لے رہے تھے۔ چوہد کے بعد صدارتی تقریر کی۔ تقریب جلسہ ختم ہونے پ اور مبلغ انگلستان) نے چوہدری صاحب سے مخاطب ہ تھی۔ چوہدری صاحب نے بے ساختہ جواب دیا انگریزی آتی تھی وہ بول دی۔ تقریر تو مقرر ابوالہاشم ک ابوالہاشم۔ ان کے خاندان کے ساتھ جو کچھ ہوا اس کا

جناب صلاح الدین ناصر کا بیان

جناب صلاح الدین ناصر خان بہادر ابوال تھے۔ کچھ دیر ربوہ میں بھی مقیم رہے۔ لیکن جب ان کو

٤٧

صفحہ ٢٢٥

قریشی نذیر احمد کی شہادت ...... مرزا محمود احمد کی شراب نوشی

ڈاکٹر محمد احمد حامی واقف زندگی تھے۔ بعض تعلیمی معاملات میں حامی کو مرزا محمود کے پاس جانا پڑتا تھا۔ جب قریشی کو یہ علم ہوا تو کہنے لگے حامی ! جب اس (محمود احمد ) نے پیالہ پیا ہوا ہو تو اس کے سامنے نہ جانا۔ قریشی نذیر احمد مولوی فاضل جامعہ احمدیہ میں استاد اور حامی کے رشتے دار تھے۔

ڈاکٹر محمد احمد حامی کی شہادت

روزی ، ڈیزی پر مجرمانہ حملہ:

ڈاکٹر محمد احمد حامی نے بیان کیا: ٥٢۔١٩٥١ء کا واقعہ ہے کہ میں اپنی خالہ فاطمہ (نصرت گرلز ہائی سکول کی استانی) کے پاس گیا۔ وہ بہت ہی پریشان حالت میں بیٹھی ہوئی تھیں۔ ان کی پریشانی کی حالت دیکھ کر پوچھا۔ خالہ ! کیا بات ہے۔ آپ پریشان حالت میں معلوم ہوتی ہیں۔ تو پوچھنے پر پھٹ پڑیں۔ ”کہا آپ کو مرزا محمود کے کردار کا علم نہیں۔ آج ابوالہاشم کی بیٹیوں روزی اور ڈیزی پر مجرمانہ حملہ کیا ہے۔ وہ آج شام کو اپنی بچیوں کو لے کر لاہور چلی گئی ہیں۔ میں بھی اپنی بچیوں کو ساتھ لے کر جا رہی ہوں۔“

ابوالہاشم بنگال کے رہنے والے تھے۔ تقسیم ہند سے پہلے وہ محکمہ تعلیم میں اعلیٰ عہدے پر فائز تھے۔ انگریزی دانی کی یہ حالت تھی کہ ایک دفعہ لاہور میں برکت ہال میں چوہدری ظفر اللہ کی زیر صدارت تقریر کی۔ چوہدری صاحب کی وجہ سے لاہور کا تعلیم یافتہ خصوصاً وکلاء کا طبقہ تقریر سننے کے لئے آئے تھے۔ تقریر کیا تھی ایک جادو تھا۔ تمام سامعین مبہوت اور سکوت کے عالم میں تھے۔ ”انگریزی زبان“ کا مزہ لے رہے تھے۔ چوہدری صاحب نے ابوالہاشم کی تقریر ختم ہونے کے بعد صدارتی تقریر کی۔ تقریب جلسہ ختم ہونے کے بعد غلام فرید (مترجم قرآن مجید انگریزی اور مبلغ انگلستان) نے چوہدری صاحب سے مخاطب ہو کر کہا۔ آپ کی تقریر بھی بہت اچھی پرفارمنس تھی۔ چوہدری صاحب نے بے ساختہ جواب دیا۔ فرید ! میری کیا تقریر تھی میں نے جو مجھے انگریزی آتی تھی وہ بول دی۔ تقریر تو مقرر ابوالہاشم کی تھی۔ انگریزی کا ایک بہتا ہوا دریا تھی۔ یہ تھا ابوالہاشم۔ ان کے خاندان کے ساتھ جو کچھ ہوا اس کا مزید ذکر آگے آئے گا۔

جناب صلاح الدین ناصر کا بیان

جناب صلاح الدین ناصر خان بہادر ابوالہاشم کے بیٹے اور روزی اور ڈیزی کے بھائی تھے۔ کچھ دیر ربوہ میں بھی مقیم رہے۔ لیکن جب ان کو خلیفہ کی جنسی بے راہ روی کا یقینی علم ہو گیا تو وہ

٤٧

صفحہ ٢٢٦

رات کی تاریکی میں والدہ اور ہمشیرگان کو ساتھ لے کر لاہور آ گئے۔ وہ مرزا محمود کی ننگ انسانیت حرکتوں کو بیان کرتے ہوئے کبھی مداہنت سے کام نہیں لیتے تھے۔ جب ان کی قادیانیت سے علیحدگی کے بارہ میں دریافت کیا گیا تو کہنے لگے: ”بھئی ہماری قادیانیت سے علیحدگی، لاہوری کے کسی اختلاف کا نتیجہ نہیں۔ ہم نے تو لیبارٹری میں ٹیسٹ کر کے دیکھا ہے کہ اس مذہبی انڈسٹری میں دین نام کی کوئی چیز نہیں۔ ہوس اور بوالہوس دولفظوں کو اکٹھا کر دیں تو قادیانیت وجود میں آجاتی ہے۔“

ناصر صاحب نے اس اجمال کو ذرا تفصیل سے بیان کرتے ہوئے فرمایا: ”یوں تو مرزا محمود یعنی ”مودے“ کی بے راہروی کے واقعات طفولیت ہی سے میرے کانوں میں پڑنا شروع ہو گئے تھے اور ہماری ہمشیرہ عابدہ بیگم کا ڈرامائی قتل بھی ان مذہبی منکروں کی بدفطرتی اور بدمعاشی کو Expose کرنے کے لئے کافی تھا۔ مگر ہم حالات کی آہنی گرفت میں اس طرح پھنس چکے تھے کہ ان زنجیروں کو توڑنے کے لئے کسی بہت بڑے دھکے کی ضرورت تھی اور جب دھکا بھی لگ گیا تو پھر عقیدت کے طوق و سلاسل اس طرح ٹوٹتے چلے گئے کہ خود مجھے ان کی کمزوری پر حیرت ہوتی تھی۔“

دھکے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا: ”تقسیم برصغیر کے بعد ہم رتن باغ لاہور میں مقیم تھے۔ جمعہ پڑھنے کے لئے گئے تو مرزا محمود نے اعلان کیا کہ جمعہ کے بعد صلاح الدین ناصر مجھے ضرور ملیں۔ جمعہ ختم ہوا تو لوگ مجھے مبارکباد دینے لگے کہ: ”حضرت صاحب نے تمہیں یاد فرمایا ہے۔“ میں نے خیال کیا شاید کوئی کام ہوگا۔ اس لئے میں جلدی اس کمرہ کی طرف گیا، جہاں اس دور کا شیطان مجسم مقیم تھا۔ میں کمرہ میں داخل ہوا تو میری آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ مرزا محمود پر شیطنت سوار تھی۔ اس نے مجھے اپنی ’ہومیو پیتھی‘ کا معمول بنانا چاہا۔ میں نے بڑھ کر اس کی داڑھی پکڑ لی اور گالی دے کر کہا: ”اگر مجھے یہی کام کرنا ہے تو اپنے کسی ہم عمر سے کرلوں گا۔ تمہیں شرم نہیں آتی۔ اگر جماعت کو پتہ لگ گیا تو تم کیا کرو گے۔“ میری یہ بات سن کر مرزا محمود نے بازاری آدمیوں کی طرح قہقہہ لگایا اور کہا ”داڑھی منڈوا کر پیرس چلا جاؤں گا۔“ یہ دن میرے لئے قادیانیت سے ذہنی وابستگی رکھنے کا آخری دن تھا۔“

جناب صلاح الدین ناصر ”حقیقت پسند پارٹی“ کے پہلے جنرل سیکرٹری رہے ہیں۔ اس دور میں ملک کے گوشے گوشے میں تقاریر کر کے انہوں نے قادیانیت کی حقیقت کو خوب واشگاف کیا۔ اہم تقریر عبدالرحمان خادم کے شہر گجرات میں کی تھی۔ خادم نے جلسہ کے قریب ایک

٤٨

مکان میں وہ ولولہ انگیز تقریر سنی تھی۔ ہوائیوں حالت سخت ناگفتہ بہ ہے۔ اس پر ایک شخص نے الفاظ بہت واضح ہیں۔ وہ پھر بولا کیا تمہاری بات کو بیان کرنے سے میں جھجک رہا تھا۔ آخ پہچاننا یہی بات تھی۔ جلسہ کے تمام سامعین کھل گئے ۔ صلاح الدین ناصر کی اس بے باکی کی یہا

امتہ الودود کا قصہ

سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے خا کے ٹینک میں ڈوب کر مری تھی۔ اس کو ڈوبنے مرزا محمود نے یہ کام کیا تھا کہ امتہ الودود کو ڈبونا بیان کی کہ مرزا محمود احمد کے نطفہ سے حاملہ ہو گئی ”امتہ الودود مرزا شریف احمد کی بیٹ حاجی صاحب نے پٹھان غلام رس ذکر کیا تھا۔ وہ بھی مرزا محمود احمد کے نطفہ سے خوبصورت تھی۔ اس کا لڑکا عبدالکریم تھا۔ غال غلام رسول کی ایک بیٹی مصلح الدین کے عقد میں تعلیم کے دوران ہی فوج میں بھرتی ہو گیا تھا او چوہدری عبدالحمید ڈاڈھا کا یہ کہنا ہے۔ غلام رس مرزا منصور احمد مرزا شریف احمد کا بیٹا اور جماع والد تھا۔ ساری عمر نماز روزہ کے قریب تک نہیں اصل حقیقت یہ ہے۔ حسین لڑکی تھی تعلق ہوا۔ بلکہ میں تو یہ کہوں گا منصور کیا دوسر سے تعلق ہوگا۔ بہر حال وہ لڑکی حاملہ ہونے مرزا محمود احمد کا تھا یا منصور کا۔

نوٹ ........ حاجی صاحب نے کالج کے تالاب ایک رشتے دار کے حوالے سے۔ لیکن جہاں

صفحہ ٢٢٧

مکان میں وہ ولولہ انگیز تقریر سنی تھی۔ ہوا یوں کہ صلاح الدین ناصر نے کہا کہ محمود مرزا کی اخلاقی حالت سخت ناگفتہ بہ ہے۔ اس پر ایک شخص نے کہا اس کی وضاحت کریں۔ ناصر صاحب نے کہا یہ الفاظ بہت واضح ہیں۔ وہ پھر بولا کیا تمہاری شلوار اتاری تھی۔ ناصر نے برجستہ جواب دیا۔ اسی بات کو بیان کرنے سے میں جھجھک رہا تھا۔ آپ اپنے خلیفہ کے مزاج شناس ہیں۔ آپ نے خوب پہچانا یہی بات تھی۔ جلسہ کے تمام سامعین کھلکھلا کر ہنس پڑے اور وہ صاحب آہستہ سے کھسک گئے۔ صلاح الدین ناصر کی اس بے باکی کی یہ سزا ملی موصوف کو زہر دے کر مروا دیا گیا۔

امتہ الودود کا قصہ

سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے خالہ صاحبہ نے کہا: ”آپ کو معلوم ہے کہ امتہ الودود کالج کے ٹینک میں ڈوب کر مری تھی۔ اس کو ڈوبنے میں میرا اور استانی میمونہ کا ہاتھ تھا۔ دونوں کے سپرد مرزا محمود نے یہ کام کیا تھا کہ امتہ الودود کو ڈبونا ہے۔ ڈاکٹر محمد احمد حامی کی خالہ نے ڈبونے کی وجہ یہ بیان کی کہ مرزا محمود احمد کے نطفہ سے حاملہ ہو گئی تھی۔“

”امتہ الودود مرزا شریف احمد کی بیٹی اور مرزا محمود احمد کی بھتیجی تھی۔“

حامی صاحب نے پٹھان غلام رسول شیر فروش کی بیٹی کلثوم کو ڈاب میں ڈبونے کا بھی ذکر کیا تھا۔ وہ بھی مرزا محمود احمد کے نطفہ سے حاملہ ہو گئی تھی۔ پٹھان غلام رسول کی اولاد بہت ہی خوبصورت تھی۔ اس کا لڑکا عبد الکریم تھا۔ غالباً ٹی وی پر کسی ڈرامے میں بھی کوئی کردار ادا کیا تھا۔ غلام رسول کی ایک بیٹی مصلح الدین کے عقد میں آئی تھی۔ مصلح الدین مدرسہ احمدیہ کا طالب علم تھا۔ تعلیم کے دوران ہی فوج میں بھرتی ہو گیا تھا اور مشرقی پاکستان کے سانحہ کے دوران وفات پائی۔ چوہدری عبد الحمید ڈاڈھا کا یہ کہنا ہے۔ غلام رسول پٹھان کی بیٹی مرزا منصور احمد سے حاملہ ہوئی تھی۔ مرزا منصور احمد مرزا شریف احمد کا بیٹا اور جماعت احمدیہ ربوہ کے موجودہ سربراہ مرزا مسرور احمد کا والد تھا۔ ساری عمر نماز روزہ کے قریب تک نہیں گیا۔

اصل حقیقت یہ ہے۔ حسین لڑکی تھی۔ مرزا منصور احمد اور مرزا محمود احمد دونوں کا اس سے تعلق ہوا۔ بلکہ میں تو یہ کہوں گا منصور کیا دوسرے تمام بالغ افراد خاندان مرزا محمود احمد کا بھی اس بچی سے تعلق ہوگا۔ بہر حال وہ لڑکی حاملہ ہونے کی وجہ سے ڈاب میں ہلاک کی گئی تھی۔ خواہ حمل مرزا محمود احمد کا تھا یا منصور کا۔

نوٹ ...... حامی صاحب نے کالج کے تالاب میں ڈوبنے کا ذکر امتہ الودود کا کیا ہے۔ پھر اپنی ایک رشتے دار کے حوالے سے۔ لیکن جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے کہ ٹینک میں ڈوبنے سے غلام

٤٩

صفحہ ٢٢٨

رسول پٹھان کی بچی کلثوم کی موت واقع ہوئی تھی اور امتہ الودود کی موت دماغ کی رگ پھٹنے کی وجہ سے ہوئی تھی۔ مولوی عبدالمنان عمر یا اور کسی محرم راز سے حقیقت معلوم کرنے کی کوشش کروں گا۔

جناب مصلح الدین سعدی کی شہادت

مصلح الدین سعدی، جناب عبدالرحیم درد کے چھوٹے بھائی اور مشہور سائنس دان ڈاکٹر عبدالسلام کے ہم زلف تھے۔ جناب عبدالرحیم درد مرزا محمود احمد کے سیکرٹری اور انگلستان کے تبلیغی مشن کے انچارج بھی رہے تھے۔ ایم اے انگریزی تھے۔ غالباً چیف جسٹس منیر احمد کے کلاس فیلو بھی تھے۔ جماعت احمدیہ کی جانی پہچانی شخصیت تھے۔ ذہنی طور پر زیادہ سیاسی تھے۔ تاریخی ریکارڈ ہے کہ ملک صاحب جب انگلستان کے مشن کے انچارج تھے تو موصوف نے احمدیہ دارالذکر میں قائد اعظم کو بھی بلایا تھا اور قائد اعظم نے وہاں ایک مختصر تقریر بھی کی تھی جو جماعت احمدیہ کے لٹریچر میں موجود ہے۔ غالباً اس وقت کے انگلستان کے کسی اخبار میں بھی شائع ہوئی تھی۔ یہ تمہید اس غرض سے لکھ رہا ہوں تاکہ قاری کو مصلح الدین سعدی کی شخصیت کا علم ہوسکے۔ وہ کس گھرانے سے تعلق رکھتے تھے سعدی صاحب مرزا محمود احمد کی مجلس بدکاری کے نورتن تھے۔ یہاں تک کہ مرزا محمود احمد کے جعلی دستخط کر کے ان کے اکاؤنٹ سے پیسے بھی نکلوا لیا کرتے تھے۔

تقسیم ہند کے بعد مرزا محمود احمد کے قریب نہیں پھٹکے۔ سعدی صاحب چٹاگانگ میں گئے تو حامی صاحب کو بھی کسی کام کے سلسلہ میں چٹاگانگ جانا پڑا۔ ان کو معلوم ہوا کہ سعدی صاحب یہاں ہیں۔ مرزا محمد حسین کی اس شہادت کی تصدیق کرنے کے لئے سعدی صاحب ان کے پاس گئے۔ مرزا محمد حسین صاحب (جو مرزا محمود احمد کے خاندان کے اتالیق اور استاد تھے) نے سعدی صاحب کے حوالہ سے یہ بیان کیا کہ جب مرزا محمود احمد صاحب پر جنسی دورہ پڑتا تھا تو اماں جان (والدہ مرزا محمود احمد) سعدی کو بلاتی تھیں کہ مرزا محمود کو چارپائی پر مضبوطی سے باندھ دو۔ اس جنسی دورہ کے دوران جو بھی سامنے آ جاتا وہ مرزا محمود کے فعل بد سے بچ نہیں سکتا۔ اس وجہ سے اماں جان اپنے بیٹے کو چارپائی پر بندھوا دیا کرتی تھیں۔ اس کے بعد جنسی دورے کو ہلکا کرنے کے لئے بار بار مشت زنی کی جاتی تھی۔ سعدی صاحب نے اس واقعہ کی نہ صرف تصدیق کی بلکہ کہا حامی صاحب! کن کن چھوٹی چھوٹی باتوں کے پیچھے پڑے ہو۔ جو باتیں میں جانتا ہوں ان کے سامنے یہ واقعہ تو بالکل ہیچ ہے۔ دیکھ لیں قادیان سے آنے کے بعد رتن باغ (رہائش گاہ) مرزا محمود احمد کی طرف منہ نہیں کیا۔ دور چٹاگانگ آگیا ہوں۔ یہی دعا ہے کہ مرزا محمود احمد سے دور ہی مروں۔

٥٠

صفحہ ٢٢٩

مصلح الدین سعدی کی دوسری شہادت

”مبینہ طور پر خلوت سیہ (خلوت صحیحہ ناقل) کے وقت قرآن کریم کو پاس رکھنے والا بھی خدا کی گرفت سے بچ جائے تو اللہ تعالیٰ کے عظیم صبر دیکھنے کے بعد ہی اس کی سیاہ کاریوں کے وسیع وعریض رقبے کو جاننے والا اپنے ایمان کی دولت کو محفوظ رکھ سکتا ہے۔ جب یہ شخص اپنے باپ کو بھی نہیں بخشتا تو یہ کیا نہ کرتا ہوگا۔“

مؤلف ”فتنہ انکار ختم نبوت“ سے ان الفاظ کی وضاحت چاہی گئی تو انہوں نے کہا کہ:

”مصلح الدین سعدی نے مؤکد بعذاب قسم کھا کر مجھے بتایا کہ ایک دن، میں مرزا محمود کی ہدایت پر ایک لڑکی کے ساتھ داد عیش دے رہا تھا کہ وہ آیا۔ اس نے لڑکی کے سرینوں کے نیچے سے قرآن پاک نکالا۔“ (استغفر اللہ)

چوہدری محمد نصر اللہ ابن چوہدری عبداللہ بھتیجا

چوہدری ظفر اللہ سابق وزیر خارجہ پاکستان کی شادی کا قصہ

نواب شاہ صاحب کی شادی کا ذکر کیا ہے۔ ایک اور خوبصورت جوان محمد نصر اللہ کی شادی کا قصہ بھی لکھ دیتا ہوں۔ جس سے مرزا محمود احمد کے خاندان کی گندگی کا نقشہ قارئین کے سامنے آ جائے گا۔ چوہدری محمد نصر اللہ کی والدہ چوہدری فتح محمد سیال کی بیٹی آمنہ تھیں۔ چوہدری فتح محمد سیاسی زمیندار گھرانے کے چشم و چراغ تھے۔ ایم اے (انگلش) تھے۔ انگلستان میں جماعت احمدیہ قادیان کی طرف سے مشنری بھی رہ چکے تھے۔ تقسیم ہند کے وقت گورداسپور سے آزاد ایم ایل اے بھی منتخب ہوئے۔ سیال صاحب محمد نصر اللہ کے رشتے میں نانا لگے۔ گویا محمد نصر اللہ نجیب الطرفین تھے اور جماعت احمدیہ قادیان میں یہ دونوں بڑے گھرانے تھے۔ آمنہ صاحبہ کی بڑی خواہش تھی کہ ان کے کسی بیٹے کی شادی مرزا محمود احمد کے گھرانے میں ہو جائے تاکہ احمدی لوگوں کی نظر میں ان کا مقام مزید بڑھ جائے۔ بہرحال آمنہ صاحب کی کوششوں سے محمد نصر اللہ کی منگنی مرزا محمود کے گھرانے میں ہو گئی۔ تاریخ مقرر ہو گئی۔ ذرا خیال کیجئے۔ جماعت کے دو بڑے گھرانوں کے چشم و چراغ کی شادی اور مرزا محمود احمد کے گھر کی دلہن، کسی قسم کے بڑے لوگوں کی بارات ہوگی۔ اسی بارات میں چوہدری ظفر اللہ اور ان کے بھائی چوہدری اسد اللہ خان بارایٹ لاء بھی شامل تھے۔ جب لاہور سے بارات روانہ ہونے لگی تو غیور نوجوان، چوہدری محمد نصر اللہ نے اہل خانہ سے کہا کہ آپ لوگ چلیں میں آپ کے پیچھے اپنے ایک دوست کو لے کر آ جاؤں گا۔ تمام

٥١

صفحہ ٢٣٠

بارات ربوہ چل پڑی۔ والدہ صاحبہ خوش کہ آج اس کی امید بر آئی ہے۔ ”حضور“ کے گھر کی دلہن بنا کر لا رہی ہوں۔ لیکن قدرت کو کوئی اور ہی منظور تھا۔ محمد نصر اللہ اس دلہن کی بدکرداری کی وجہ سے گھر نہ لانے کا پکا ارادہ کر چکے تھے۔ دولہا کار میں سوار ہو کر پشاور کی طرف چل دیا۔ اب بارات ربوہ میں بیٹھی چوہدری محمد نصر اللہ کی آمد کا انتظار کر رہی ہے دیر ہو گئی تو سوچا ایسا نہ ہو کہ راستے میں کوئی حادثہ پیش آ گیا ہو۔ چوہدری ظفر اللہ کے تعاون سے پولیس کے ذریعہ معلومات حاصل کیں کہ کہیں حادثہ تو نہیں ہوا۔ اس کے ساتھ کار کے ذریعے دو آدمی واپس لاہور بھیجے کہ پولیس چوکیوں اور تھانوں سے معلوم کرتے جاؤ کہ کہیں کوئی حادثہ تو نہیں ہوا۔ تھانوں، چوکیوں سے معلومات حاصل کرتے ہوئے لاہور پہنچے تو گھر سے معلوم کیا کہ وہ تو بارات کی روانگی سے تھوڑی دیر بعد ہی لاہور سے چلا گیا ہے۔ ادھر ربوہ (چناب نگر) میں مرزا محمود احمد آتش غضب میں جل رہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ میری خاندانی پالیسی ہی صحیح ہے کہ شادیاں اپنے ہی گھرانوں میں کریں۔ آج ایک لڑکی باہر دے کر ذلت اور رسوائی کا سامنا کر رہا ہوں۔ چوہدری خاندان مارے ندامت گردنیں جھکائے بیٹھے ہیں۔ آخر اسی بارات کی موجودگی میں کسی دوسرے لڑکے کے ساتھ رخصتی کر دی گئی۔

محمد نصر اللہ کے نہ آنے کی وجہ دریافت کی کہ شاید جوانی میں کوئی طبی نقص ہو جس کی وجہ سے شادی سے گریز کر گیا ہے۔ لیکن چوہدری محمد نصر اللہ نے نہایت صفائی سے کہا کہ میں اپنے گھر میں بیوی لانا چاہتا ہوں کوئی داشتہ نہیں۔ بے شک مجھے عاق کر دیں۔ مجھے اس کا کوئی غم نہیں۔ مجھے (مؤلف) یہ تو معلوم نہیں کہ آیا اس کو عاق کر دیا گیا تھا یا نہیں۔ لیکن میں یہ جانتا ہوں کہ وہ اپنے خاندان سے الگ خوش وخرم زندگی گزار رہا ہے۔ اس کا خاندان کے ساتھ کوئی معاشرتی تعلق نہیں۔

ایک اور نوجوان مبشر احمد کی منگنی کا قصہ

ہر احمدی کھاتے پیتے خاندان کی یہی خواہش ہے کہ کسی طرح مرزا محمود احمد کے خاندان سے تعلق قائم ہو جائے۔ چک نمبر ٩٨ شمالی ضلع سرگودھا کا ایک نوجوان مبشر احمد مقابلے کے امتحان میں شعبہ پولیس میں منتخب ہو گیا۔ والدین کی خواہش ہوئی کہ مرزا محمود احمد کے گھرانے کی خوبصورت دلہن لائی جائے اور جماعت میں مقام عزت پائیں۔ کسی طرح خاندان کی یہ امید بر آئی کہ بچے کی منگنی مرزا محمود احمد کے خاندان میں ہو گئی۔ منگنی کی وجہ سے مرزا خاندان کے افراد (لڑکیوں اور لڑکوں) سے روابط بڑھے تو نوجوان کی آنکھوں سے عقیدت کا پردہ چاک ہوا۔ حقیقت آشکار ہوئی۔ معلوم ہوا اس حسن کے پیچھے گند کا ڈھیر ہے۔ والدین کی ناراضگی کے باوجود ٥٢

اپنی منگنی توڑ دی۔ غالباً چک نمبر ٣٣ جنوبی کے ایک

ممکن ہے کہ کسی قاری کے دل میں یہ کردار سے کیا تعلق ہے۔ کسی خاندان میں برے میں یہ عرض ہے۔ اس خاندان میں تمام گندگی ا سے نہ کوئی بیٹی بچی ہے اور نہ کوئی بیٹا۔ نہ کوئی ہے۔ کئی نسلیں اس گند کے اثرات سے محفوظ ر کہ وہ اس گند سے پاک صاف رہیں۔ ابھی و سے آشنا ہیں۔ میرا یہ بھی یقین ہے اس خاندا احمدیت سے تائب ہو جائیں گے۔ جیسا کہ کہا جاتا تھا۔ غالباً موصوف کا نام مشہود یا شمـ (سالہ مرزا محمود احمد سابق ہیڈ ماسٹر ٹی آئی ہائی ہے اور ایک اچھی زندگی گزار رہا ہے۔

عبدالرشید ابن مولوی نذیر محمد کارکن امـ

رشید، مولوی نذیر محمد کا بیٹا ہے۔ موصو اس سے ملاقات ہو گئی۔ کم تعلیم کے باوجود ایک کیسے مل گئی۔ کہنے لگا مریم صدیقہ کی بدولت۔ بـ صلاح الدین ڈپٹی کمشنر تھے۔ اس پوسٹ کا اشتہا تمہارے رشتے دار ہیں۔ یہ ملازمت ہی دلوا دیـ اس نوجوان کی ہمارے خاندان کے لئے بہت چاہئے۔ اس ملاقات سے پہلے میرزا محمود احـ جب میں تفصیل میں گیا تو عبد الرشید نے اپنے مـ وقت گرم پانی کی طرح ابل رہا تھا۔ یوں معلوم ہـ گناہوں کی فلم چل رہی ہے۔

قارئین کی دلچسپی کے لئے ایک بات صرف دونوں تھے تیسرا خدا، اور کوئی شخص نہیں تھا بات ہے تمہارے ساتھ ملاقات کا علم خلیفہ (مرز

صفحہ ٢٣١

اپنی منگنی توڑ دی۔ غالباً چک نمبر ٣٣ جنوبی کے ایک احمدی گھرانے میں شادی کر لی۔

ممکن ہے کہ کسی قاری کے دل میں یہ خیال پیدا ہو کہ ان منگنیوں کا مرزا محمود احمد کے کردار سے کیا تعلق ہے۔ کسی خاندان میں برے بچے، بچیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔ اس کی خدمت میں یہ عرض ہے۔ اس خاندان میں تمام گندگی کی وجہ مرزا محمود احمد کی ذات ہے۔ موصوف کی زد سے نہ کوئی بیٹی بچی ہے اور نہ کوئی بیٹا۔ نہ کوئی اور رشتے دار۔ اگر کوئی بچا ہے تو وہ خوش قسمت ہے۔ کئی نسلیں اس گند کے اثرات سے محفوظ رہنے کے لئے گزریں گی۔ پھر کہیں جا کر ممکن ہے کہ وہ اس گند سے پاک صاف رہیں۔ ابھی وہی نسلیں ہیں جو یقینی طور پر مرزا محمود احمد کے گند سے آشنا ہیں۔ میرا یہ بھی یقین ہے اس خاندان کے وہی افراد اس گند سے محفوظ رہیں گے جو احمدیت سے تائب ہو جائیں گے۔ جیسا کہ شودی (بچپن میں محمود کے بیٹے کو شودی شودی کہا جاتا تھا۔ غالباً موصوف کا نام مشہود یا شہود ہے۔ ابھی بقید حیات ہے ) سید محمد اللہ شاہ (سالہ مرزا محمود احمد سابق ہیڈ ماسٹر ٹی آئی ہائی سکول) ہے۔ جماعت احمدیہ سے الگ ہو چکا ہے اور ایک اچھی زندگی گزار رہا ہے۔

عبد الرشید ابن مولوی نذر محمد کارکن امور عامہ کا بیان

رشید، مولوی نذر محمد کا بیٹا ہے۔ موٹا تازہ درمیانے قد کا مالک ہے۔ ایک دفعہ اتفاقیہ اس سے ملاقات ہو گئی۔ کم تعلیم کے باوجود ایک اچھی ملازمت پر فائز تھا۔ پوچھا یار ! یہ ملازمت کیسے مل گئی۔ کہنے لگا مریم صدیقہ کی بدولت۔ میں نے استفسار کیا تو جواباً کہا۔ مظفر گڑھ میں پیر صلاح الدین ڈپٹی کمشنر تھے۔ اس پوسٹ کا اشتہار آیا تو میں نے مریم صدیقہ سے کہا پیر صاحب تمہارے رشتے دار ہیں۔ یہ ملازمت ہی دلوا دیں تو کہنے لگا۔ مریم صدیقہ صاحبہ نے رقعہ کر دیا کہ اس نوجوان کی ہمارے خاندان کے لئے بہت خدمات ہیں۔ اس کو ہر صورت میں پوسٹ ملنی چاہئے۔ اس ملاقات سے پہلے میرا مرزا محمود احمد کے کردار کے متعلق کشف الغطاء ہو چکا تھا۔ جب میں تفصیل میں گیا تو عبد الرشید نے اپنے دل کا دکھ کہہ سنایا اور اس کا سینہ دکھ کے اظہار کے وقت گرم پانی کی طرح ابل رہا تھا۔ یوں معلوم ہوتا تھا کہ اس کی آنکھوں کے سامنے ماضی کے گناہوں کی فلم چل رہی ہے۔

قارئین کی دلچسپی کے لئے ایک بات عرض کرتا ہوں وہ یہ ہے کہ ملاقات کے وقت ہم صرف دونوں تھے تیسرا خدا، اور کوئی شخص نہیں تھا۔ کچھ دیر بعد رشید مجھے ملا تو اس نے کہا یار ! عجیب بات ہے تمہارے ساتھ ملاقات کا علم خلیفہ (مرزا محمود احمد ) کو ہو گیا ہے۔ تم نے تو خود ہی میری

٥٣

صفحہ ٢٣٢

رپورٹ کر دی ہے۔ میں آج تک حیران ہوں ملاقات کا علم مرزا محمود احمد کو کیسے ہو گیا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ میں نے اس ملاقات کا ذکر کسی سے کیا ہو اس نے ” دربار خلافت“ میں لکھ دیا ہو۔

عبدالمجید اسلحے والے کا بیان

”کتابچہ پڑھ کر دیکھنے لگا ہوں کہ میرے علم میں بھی کچھ اضافہ ہوا ہے۔“ عبدالمجید قادیان میں بندوقوں کی مرمت وغیرہ کا کام کیا کرتے تھے۔ بہت ہی معمولی سے آدمی تھے۔ لیکن مرزا محمود احمد کے خاندان سے بہت ہی قریبی تعلقات تھے۔ ان کے ساتھ شکار کے لئے بھی جایا کرتے تھے۔ تقسیم ہند کے بعد کسی بڑے احمدی افسر کی سفارش پر نیلا گنبد میں اسلحہ کی ایک دکان الاٹ ہو گئی۔ امیر بن گئے۔

مجید صاحب مرزا محمود احمد کے خاندان سے قریبی تعلق کی وجہ سے مرزا محمود احمد کی گندی زندگی سے بخوبی آگاہ تھے۔ ١٩٥٦ء میں حقیقت پسند پارٹی کے نوجوان جماعت احمدیہ سے الگ ہوئے اور مرزا محمود احمد کی زندگی پر اخبارات رسالہ جات اور کتابچوں میں لکھنے لگے تو مجید صاحب لٹریچر کی اشاعت میں کافی مدد کیا کرتے تھے۔ ایک دفعہ حقیقت پسند پارٹی کا ایک ممبر کتابچہ دینے آیا تو مجید صاحب کہنے لگے۔ یار! دیکھنے لگا ہوں کہ میرے علم میں کوئی اضافہ ہوا ہے؟ اس فقرے کا کہنے کا مطلب یہ تھا کہ میرے سینے میں اتنے راز پوشیدہ ہیں کیا کوئی مزید راز بھی میرے علم میں اضافے کا موجب بنتا ہے یا نہیں۔

قارئین ذرا خیال کریں۔ مجید صاحب قادیان میں مرزا محمود کی پر معصیت زندگی سے خوب واقف ہیں۔ ایسے معاشرتی اور دنیاوی امور سامنے ہیں۔ قادیان کو چھوڑ کر کہیں نہیں جا رہے اور کس طرح برائی سے مفاہمت کی ہوئی تھی۔ تقسیم ہند کے بعد آزاد فضا میں آئے تو وہی مجبور آدمی مرزا محمود احمد کی پر معائب زندگی کو احمدیوں تک پہنچانے میں نوجوانوں کی مدد کر رہا ہے۔ یہ بھی ایک عجیب بات ہے۔ مجید صاحب نے کھل کر مرزا محمود احمد کی بدکاری کا اظہار تو کیا کہ وہ بڑا بدکار تھا۔ لیکن واقعاتی حقائق پر پردہ ہی ڈالے رکھا۔ اس طرح نہ معلوم کتنے حقائق لوگوں کے سینوں میں زیر مٹی چلے گئے اور صفحہ قرطاس میں نہیں آسکے۔ میں تو یہ کہتا ہوں کہ اگر تمام حقائق سامنے آجائے تو تمام زمین کا حسین چہرہ سیاہ ہو جاتا۔ ان پوشیدہ حقائق میں سے کچھ لوگوں کے سامنے آئے ہیں۔ ان کو پڑھ کر قاری کا جسم کانپنے لگ جاتا ہے اور اس وہم میں ڈوب جاتا ہے۔ معلوم نہیں کہ لکھنے والے نے کہیں محض دشمنی کی وجہ سے تو نہیں لکھ دیئے یہ کون سلیم طبع آدمی یہ یقین کر سکتا ہے۔ بیوی پر کوئی غیر آدمی چڑھا ہوا ہو ، اس آدمی پر مرزا محمود احمد خود سوار ہو جائے اور پاس لڑکی

٥٤

صفحہ ٢٣٣

رقص کر رہی ہو یا روفو کے ساتھ ہم بستری کی تو اپنی لڑکی کو پاس بٹھا لیا۔ مرزا محمد حسین کہا کرتے تھے۔ اس ظالم نے معصیت پر پردہ معصیت سے ڈالا۔ وہ اس طرح کہ روفو کے ساتھ ہم بستری کرنے لگا ہے تو اس معصیت پر دوسری معصیت کے ساتھ یوں پردہ ڈالا کہ لڑکی پاس بٹھالی۔ اگر روفو باہر جا کر حال بیان کرے گی تو اس معصیت کا بھی ذکر کرے گی کہ زنا کے وقت اپنی لڑکی کو بھی پاس بٹھا لیا تھا۔ تو اس کے بیان کو کون سچا مانے گا؟

رفیق احمد لاہوری بی۔اے، ایل۔ایل۔بی کا بیان

”میں تو قادیان سے ”خلیفہ“ کی برائیوں سے واقف تھا۔“

رفیق احمد کے والد آسٹریلیا میں کاروبار کے لئے چلے گئے تھے۔ ان کی زوجہ محترمہ اقبال بیگم قادیان میں ہی مقیم تھیں۔ اقبال بیگم یہ وہی خاتون ہیں جب ام طاہر سوزاک اور آتشک کی موذی بیماری میں مبتلا ہو کر میو ہسپتال میں داخل ہوئیں تو ام طاہر کے کہنے پر اقبال بیگم نے بیماری کے ایام میں خدمت سرانجام دی اور جب ام طاہر فوت ہوگئیں تو مرزا محمود نے اقبال بیگم کی خدمات کی بہت تعریف کی اور اس کے بچوں کے لئے بہت دعائیں دیں۔ ان کی دعاؤں کا یہ اثر نکلا رفیق احمد بھی بغیر اولاد انگلستان میں فوت ہوگئے اور ان کے بھائی وحید نے شادی کی۔ ایک بچی پیدا ہوئی تو وحید اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔ اس مختصر تمہید سے یہ بیان کرنا مطلوب ہے اس خاندان کے ام طاہر سے کتنے قریبی تعلقات تھے۔ انہی تعلقات کی وجہ سے رفیق کو بھی سوزاک ہوگئی تھی۔ رفیق احمد کو کبڈی کا بہت شوق تھا۔ اچھا خاصا جسم تھا بہت جلد ہی قادیان کو چھوڑ کر لاہور آگیا۔ اپنی تعلیم مکمل کرنے کے لئے اسلامیہ کالج ریلوے روڈ میں داخل ہو گیا اور اسی کی وجہ سے اسلامیہ کالج کبڈی کی ٹرافی جیتا کرتا تھا۔ جب تقسیم ہند کے بعد تعلیم الاسلام کالج لاہور منتقل ہوا۔ رفیق نے تعلیم الاسلام میں داخلہ لے لیا۔ رفیق احمد صرف کالج کی سطح کے کبڈی کے کھلاڑی نہ تھے۔ بلکہ پنجاب کی سطح کے جانے پہچانے کھلاڑی تھے۔

لاہور میں ایک دفعہ میرا (مؤلف کتاب ہذا) ان سے ٹاکرا ہوگیا۔ میں اس وقت خلیفہ کی کرتوتوں سے واقف ہوچکا تھا۔ دوران گفتگو خلیفہ کی بدکاریوں کا ذکر چل پڑا تو میں حلفاً کہتا ہوں کہ رفیق احمد نے کہا میں تو قادیان سے ہی سب کچھ جانتا تھا۔ میں نے کہا یار! وہاں تو آپ نے کبھی بھی اشارۃً کنایۃً اس کا ذکر تک نہیں کیا تھا۔ کہنے لگے ذکر کر کے مرنا تھا۔ خلیفہ کی بدکاریوں کا ذکر کر کے کوئی شخص قادیان میں رہ سکتا تھا؟ قادیان میں ہمارا مکان تھا۔ باپ باہر گیا ہوا تھا۔ والدہ رہتی تھیں۔ کیا ہم خلیفہ کی دشمنی مول لے کر قادیان میں رہ سکتے تھے؟

٥٥

صفحہ ٢٣٤

بے وضو نماز پڑھانا ”تہاڈی نمازاں نے بیڑہ ماریا اے“

مرزا محمود احمد کا بے وضو نماز پڑھانے پر تمام ”اہل محفل بتاں“ متفق ہیں۔ خواہ مولوی عبدالوہاب ہوں، خواہ نذیر ریاض ہو، خواہ عبدالسلام اختر ہو، خواہ یوسف ناز ہوں، خواہ مبارک شاہ۔ سب کا یہی متفقہ بیان ہے کہ مرزا محمود احمد جنابت کی حالت میں نماز پڑھا دیا کرتے تھے۔ ڈاکٹر محمد احمد حامی (ڈاکٹر، مرزا محمود احمد کی رنگین محفل کے رکن نہیں تھے ) بیان کرتے ہیں مجھ سے مبارک شاہ نے بیان کیا۔ کہ ایک دن مرزا محمود احمد ”محفل بتاں“ میں بیٹھا ہوا تھا۔ خوش گپیاں چل رہی تھیں۔ اتنے میں موذن آیا اور اس نے آواز دی۔ ”حضور نماز کا وقت ہو گیا ہے۔“ آواز سنتے ہی بے ساختہ کہا۔ ”تہاڈی نمازاں نے بیڑہ ماریا اے“ بے وضو حالت میں گیا اور مسجد مبارک میں نماز پڑھا دی۔ پھر واپس آکر ”بتوں“ سے چھیڑ چھاڑ شروع کر دی۔ سب کا اس بات پر بھی اتفاق ہے کہ مرزا محمود احمد نے کبھی روزہ نہیں رکھا تھا۔ اس کی وجہ یہی تھی کہ وہ حسین عورت کی صحبت کے بغیر رہ نہیں سکتا تھا۔ اس طرح شعائر اللہ کا قطعاً احترام نہ کرتا تھا۔ یہ شخص عجیب شخصیت کا مالک تھا۔ نجی محفل میں ایک شیطان کے روپ میں ہوتا تھا۔ جب باہر مریدوں میں آتا کسی نماز جمعہ یا جلسہ سالانہ کے موقع پر تو یوں ظاہر کرتا کہ اس سے بڑھ کر خدا کا کوئی پیارا نہیں۔ خدا اس کے وجود میں حلول کر آیا ہے۔ اس سے وابستہ رہنے سے ہی خدا کی رضا حاصل ہوتی ہے۔ اس کو چھوڑنے سے انسان دہریہ ہو جاتا ہے اور آخرت میں وقود نار بنتا ہے۔ مرید بیچارے اپنی اندھی عقیدت کی جہالت سے یہی سمجھتے ہیں کہ ان کی نجات محمود کا منور چہرہ دیکھنے میں ہی ہے۔

اس کے دیدار سے تمام گناہوں کے دھبے دھل جاتے ہیں۔ اگر کوئی خلیفہ کی برائی کا ذکر کر دے تو بڑی معصومیت سے کہہ دیتے ہیں کہ یہ احراریوں کی شرارت ہے یا پیغامیوں (لاہوری احمدیوں کو مرزا محمود احمد حقارت کی وجہ سے ان کے اخبار پیغام صلح کی طرف نسبت کر کے پیغامی کہا کرتا تھا) کی طرف منسوب کر دیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ مرزا محمود احمد کا وجود جاہل احمدیوں کے نزدیک رب من دون اللہ ہے۔ یہ ہے وہ دجال جس کا ذکر حدیث میں آیا ہے۔

دوسری شہادت فتح محمد المعروف ”قاشیر“ کی

میں حلفاً کہتا ہوں کہ ایک مرتبہ مرزا محمود احمد نے محفل رنگ و شباب سجائی ہوئی تھی کہ موذن نے آ کر روایتی انداز میں آواز لگائی۔ ”حضور نماز کے لئے“ یعنی نماز کا وقت ہو گیا ہے تو حضور نے جو بڑے موڈ میں تھے، کہا: ”اک تے تہاڈیاں نمازاں نے بیڑہ ماریا اے۔“

٥٦

صفحہ ٢٣٥

یہ جملہ کمرہ خاص میں بیٹھے ہوئے تمام مصاحبین نے سنا اور کھلکھلا کر ہنس پڑے اور پھر مؤذن کو کہہ دیا گیا کہ نماز ”پڑھا دی جائے“۔ تقسیم ہند کے بعد فتح محمد نے ایسی توبہ کی کہ پھر ربوہ کا رخ تک نہ کیا اور بدحالی کی زندگی میں اس دنیا سے گزر گئے۔

چوہدری فتح محمد نے خلیفہ کے اندرون خانہ کہانی سے تقسیم ہند کے بعد پردہ اٹھایا تھا۔ چوہدری صاحب موصوف میرے قریبی دوستوں میں سے تھے۔ قادیان میں اشارۃً کنایۃً تک بات بیان نہیں کی تھی۔ جب موصوف نے تقسیم ہند کے بعد ربوہ جماعت سے عملاً لاتعلقی کر لی تو پھر دریافت کرنے پر پھٹ پڑے اور خلیفہ مرزا محمود کی چشم دید بدکاریوں کا ذکر کیا۔ ان میں سے ایک مذکورہ قصہ ”نماز کی بے حرمتی“ کا ہے۔

ایک احمدی خاتون عائشہ بنت شیخ نورالدین کا بیان

مذکورہ بالا عنوان کے تحت ایک مظلوم خاتون کا بیان اخبار ”مباہلہ“ قادیان میں اشاعت پذیر ہوا تھا۔ گو اس وقت یہ چیلنج بھی دے دیا گیا تھا کہ اگر ”خلیفہ صاحب“ مباہلہ کے لئے آمادہ ہوں تو نام کے اظہار میں کوئی ادنیٰ تامل بھی نہیں ہوگا۔ مگر چونکہ خلیفہ مباہلہ کے لئے تیار نہیں ہوا تھا۔ اس لئے نام کا اظہار نہیں کیا گیا تھا۔ اب ہم ریکارڈ درست رکھنے کی خاطر یہ درج کر رہے ہیں کہ وہ خاتون قادیان کے دکاندار شیخ نورالدین کی صاحبزادی عائشہ تھیں۔ ان کے بھائی شیخ عبداللہ المعروف عبداللہ سوداگر آج کل ساہیوال میں مقیم ہیں۔ عائشہ بیگم تھوڑا عرصہ ہوا انتقال کر گئی ہیں۔ اب ہم وہ بیان درج کرتے ہیں: ”میں میاں صاحب کے متعلق کچھ عرض کرنا چاہتی ہوں اور لوگوں میں ظاہر کر دینا چاہتی ہوں کہ وہ کیسی روحانیت رکھتے ہیں۔ میں اکثر اپنی سہیلیوں سے سنا کرتی تھی کہ وہ بڑے زانی شخص ہیں۔ مگر اعتبار نہیں آتا۔ کیونکہ ان کی مؤمنانہ صورت اور نیچی شرمیلی آنکھیں ہرگز یہ اجازت نہ دیتی تھیں کہ ان پر ایسا بڑا الزام لگایا جاسکے۔ ایک دن کا ذکر ہے کہ میرے والد صاحب جو ہر کام کے لئے حضور سے اجازت حاصل کیا کرتے ہیں اور بڑے مخلص احمدی ہیں۔ ایک رقعہ حضرت صاحب کو پہنچانے کے لئے دیا جس میں اپنے ایک کام کے لئے اجازت مانگی تھی۔ خیر میں رقعہ لے کر گئی۔ اس وقت میاں صاحب اپنے مکان (قصر خلافت) میں مقیم تھے۔ میں نے اپنے ہمراہ ایک لڑکی لی جو وہاں تک میرے ساتھ گئی اور ساتھ ہی واپس آگئی۔ چند دن بعد مجھے پھر ایک رقعہ لے کر جانا پڑا۔ اس وقت بھی وہی لڑکی میرے ہمراہ تھی جونہی ہم دونوں میاں صاحب کی نشست گاہ میں پہنچیں تو اس لڑکی کو کسی نے پیچھے سے آواز دی۔ میں اکیلی رہ گئی۔ میں نے رقعہ پیش کیا اور جواب کے لئے عرض کیا۔ مگر انہوں نے فرمایا کہ میں تم کو

٥٧

صفحہ ٢٣٦

جواب دے دوں گا۔ گھبراؤ مت۔ باہر ایک دو آدمی میرا انتظار کر رہے ہیں ان سے مل آؤں۔ مجھے یہ کہہ کر اس کمرے کے باہر کی طرف چلے گئے اور چند منٹ بعد پیچھے کے تمام کمروں کو قفل لگا کر اندر داخل ہوئے اور اس کا بھی باہر والا دروازہ بند کر دیا اور چٹخنیاں لگا دیں۔ میں جس کمرہ میں بیٹھی تھی وہ اندر کا چوتھا کمرہ تھا۔ میں یہ حالت دیکھ کر سخت گھبرائی اور طرح طرح کے خیال دل میں آنے لگے۔ آخر میاں صاحب نے مجھ سے چھیڑ چھاڑ شروع کی اور مجھ سے برا فعل کروانے کو کہا، میں نے انکار کیا۔ آخر زبردستی انہوں نے مجھے پلنگ پر گرا کر میری عزت برباد کر دی اور ان کے منہ سے اس قدر بدبو آ رہی تھی کہ مجھ کو چکر آ گیا اور وہ گفتگو بھی ایسی کرتے تھے کہ بازاری آدمی بھی ایسی نہیں کرتے۔ ممکن ہے جسے لوگ شراب کہتے ہیں۔ انہوں نے پی ہو کیونکہ ان کے ہوش وحواس بھی درست نہیں تھے۔ مجھ کو دھمکایا کہ اگر کسی سے ذکر کیا تو تمہاری بدنامی ہوگی مجھ پر کوئی شک بھی نہ کرے گا۔"

(مباہلہ جون ١٩٢٩ء)

مولانا محمد اسماعیل غزنوی مرحوم کی تحقیق (غیر از جماعت)

ایک دفعہ خاکسار مولانا کی خدمت میں حاضر ہوا تو مرزا محمود کے متعلق یہ دو واقعے سنائے۔ مولانا محمد اسماعیل غزنوی حکیم نورالدین کے نواسے تھے اور مرزا محمود سے ان کی خاصی بے تکلفی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ: "مرزا محمود احمد ایک عورت کو شب باشی کا پانچ صد روپیہ ادا کرتا تھا۔" مجھے علم ہوا تو میں نے کھوج لگانا شروع کیا اور بالآخر اسے ڈھونڈ نکالا اور پوچھا تم کیسے مرزا محمود سے پانچ سو روپیہ فی رات وصول کر لیتی ہو۔ اس عورت نے بے باکانہ جواب دیا: "مولوی توں راتیں میرے نال سوں، جے صبح توں مینوں پنج سو روپیہ نہ دتے میں تینوں ہزار روپیہ دیواں گی۔"

مولوی صاحب یہ جواب سن کر حیران رہ گئے۔ ملک عزیز الرحمن کا کہنا ہے کہ یہ بیگم عثمانی تھیں اور اس کا بیٹا سعود عثمانی بھی مرزا محمود کی رنگین محفل کا ممبر تھا۔

قادیان کا راجہ اندر ...... عریاں عورتوں کے جھرمٹ میں

مولانا (محمد اسماعیل غزنوی) نے بتایا کہ مرزا محمود دریائے بیاس کے کنارے پھیروچی میں پکنک منایا کرتا تھا اور ایسے موقع پر وہاں متعدد خیمے لگائے جاتے تھے۔ ایک مرتبہ وہاں ڈاک بنگلہ تعمیر کرنے کا پروگرام بھی بنا تھا۔ ایک موقع پر مجھے دریائے بیاس پر پکنک منانے کی دعوت دی تو میں جب وہاں پہنچا تو دربان نے ہمیں روک لیا۔ ازاں بعد خلیفہ جی کو اطلاع دی گئی اور مجھے اندر

٥٨

بلالیا گیا اور وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ مرزا م بیٹھا ہے اور اس کے اپنے جسم پر بھی کوئی کپڑا لیں تو مرزا محمود نے نہایت اوباشانہ طریقے سے

مولوی ظفر محمد ظفر کا مقاطعہ کیوں؟

مولوی ظفر محمد ظفر ڈیرہ غازی کے عربی زبان کا اعلیٰ ذوق رکھنے کی وجہ سے جامعہ اور اردو ہر دو زبانوں میں شعر بھی کہتے تھے کہ دیا اور پھر بڑی مدت کے بعد ان کی جان چھوڑ اگر میں تمہیں بتا دوں تو تم مرتد ہو جاؤ۔"

مولوی صاحب کا سوشل مقاطعہ ش

افسر اعلیٰ۔ یہ ان دنوں کا تذکرہ ہے جب مصر کو اجاگر کر رہے تھے۔ مرزا محمود نے کارکن امۃ الرحمان صاحبہ کو اغوا کر لیا جائے کسی محافظ نے حکم دیا ہے کہ مصری صاحب کی بیٹی امۃ الرحمٰن مولوی صاحب موصوف کو یقین ہیں۔" انہوں نے اپنی اس بے یقینی کا ذکر مولوی ظفر محمد کی اس "ایمانی کمزوری" کی سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

کر۔ جب خلیفہ کی بدکاریوں کا چرچا بڑھنے ل بیانات لے کر انہیں ایک کاپی میں محفوظ کرنا ش مولوی تاج دین نے یہ کاپی اٹھا کر خلیفہ کو پہنچا اب یہ بھی شبہ ہوا کہ کہیں انہوں کرنے کے لئے امور عامہ کے ذریعے مولو معمولی چیزیں بھی اٹھوا لی گئیں۔ انہی چیزوں

صفحہ ٢٣٧

بلالیا گیا اور وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ مرزا محمود پندرہ بیس بالکل عریاں لڑکیوں کے جھرمٹ میں بیٹھا ہے اور اس کے اپنے جسم پر بھی کوئی کپڑا نہیں۔ میں اس منظر کی تاب نہ لا سکا اور نگاہیں نیچی کر لیں تو مرزا محمود نے نہایت اوباشانہ طریقے سے پوچھا: ”مولانا کیا ہوا ہے؟“

مولوی ظفر محمد ظفر کا مقاطعہ کیوں؟

مولوی ظفر محمد ظفر ڈیرہ غازی کے رہنے والے تھے۔ مولوی فاضل کا امتحان پاس کیا۔ عربی زبان کا اعلیٰ ذوق رکھنے کی وجہ سے جامعہ احمدیہ میں ادب کے استاد مقرر کر دیئے گئے۔ عربی اور اردو ہر دو زبانوں میں شعر بھی کہتے تھے کہ ایک مرتبہ خلیفہ مرزا محمود نے ان کا سوشل بائیکاٹ کر دیا اور پھر بڑی مدت کے بعد ان کی جان چھوٹی۔ وہ کہا کرتے تھے کہ: ”جن باتوں کا مجھے علم ہے۔ اگر میں تمہیں بتا دوں تو تم مرتد ہو جاؤ۔“

مولوی صاحب کا سوشل مقاطعہ خلیفہ کی جنسی انارکی کا علم ہو جانے کی وجہ سے ہوا تھا۔

افسر اعلیٰ۔ یہ ان دنوں کا تذکرہ ہے جب مصری صاحب اور فخر الدین ملتانی، خلیفہ محمود کی بدکاریوں کو اجاگر کر رہے تھے۔ مرزا محمود نے کارکنان نظارت امور عامہ کو حکم دیا کہ مصری کی لڑکی امۃ الرحمان صاحبہ کو اغوا کر لیا جائے کسی محافظ نے مولوی ظفر صاحب کو بتایا کہ: ”حضرت صاحب نے حکم دیا ہے کہ مصری صاحب کی بیٹی امۃ الرحمان کو اغوا کر لیا جائے۔“

مولوی صاحب موصوف کو یقین نہ آیا کہ: ”ہمارے حضرت صاحب یہ کام بھی کرتے ہیں۔“ انہوں نے اپنی اس بے یقینی کا ذکر اپنے افسر مولوی فرزند علی سے کیا اور اس نے فوراً مولوی ظفر محمد کی اس ”ایمانی کمزوری“ کی رپورٹ خلیفہ کو پہنچا دی اور اس طرح اپنی ملازمت سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

کر۔ جب خلیفہ کی بدکاریوں کا چرچا بڑھنے لگا تو مولوی ظفر نے اپنے طور پر لڑکوں اور لڑکیوں کے بیانات لے کر انہیں ایک کاپی میں محفوظ کرنا شروع کر دیا۔ ایک دن وہ کاپی دفتر میں بھول گئے اور مولوی تاج دین نے یہ کاپی اٹھا کر خلیفہ کو پہنچا دی تو مرزا محمود نے مولوی صاحب کا مقاطعہ کر دیا۔

اب یہ بھی شبہ ہوا کہ کہیں انہوں نے کچھ ریکارڈ گھر میں نہ چھپا رکھا ہو۔ اس شک کو دور کرنے کے لئے امور عامہ کے ذریعے مولوی صاحب کے گھر میں چوری کروائی گئی اور معمولی معمولی چیزیں بھی اٹھوا لی گئیں۔ انہی چیزوں میں سے مولوی کے بیٹے ناصر احمد ظفر کے بچپن کا

٥٩

صفحہ ٢٣٨

ایک فریم شدہ فوٹو بھی تھا۔ جو اب کچھ عرصہ ہوا، مرزا ناصر احمد نے ناصر احمد ظفر کو واپس کیا ہے۔ سوال صرف یہ ہے۔ ناصر احمد ظفر کا فوٹو مرزا محمود احمد کے گھر کیسے چلا گیا؟

ڈاکٹر اللہ بخش صاحب سابق جنرل سیکرٹری احمدیہ کا بیان

ڈاکٹر نے ایک مرتبہ بیان کیا کہ ایک مرتبہ وہ مرزا محمود کو ملنے کے لئے گئے تو مرزا محمود کے منہ سے شراب کی بو آ رہی تھی۔ کیمیکل ایگزامینر ہونے کی وجہ سے انہوں نے فوراً ہی پتہ لگا لیا کہ یہ بو شراب کی ہے۔

عبدالعزیز نومسلم کی صاحبزادی ربوائی راسپوٹین کے چنگل میں

عبدالعزیز نومسلم کی صاحبزادی ایک مرتبہ بدقسمتی سے ”قصر خلافت“ میں چلی گئیں تو مرزا محمود نے اس پر مجرمانہ حملہ کر کے اس کی عصمت چاک چاک کر دی۔ لڑکی نے سارا ماجرا اپنے والد کو سنایا۔ اس کے بعد جو کچھ ہوا، وہ خود عبدالعزیز مذکور کی تحریر میں پڑھئے۔ ”مجھے ایک روز ولی اللہ شاہ (سالا خلیفہ قادیان) نے اپنے دفتر میں بلایا اور کہا کہ تمہارے متعلق جو افواہ فضل کریم عبدالکریم صاحبان نے پھیلائی ہے۔ اس کے متعلق تم ایک تحریر لکھ دو کہ وہ سراسر غلط ہے۔ میں نے بہت ٹالنے کی کوشش کی مگر انہوں نے ایک مسودہ لکھ کر میرے سامنے رکھ دیا اور کہا کہ دستخط کر دو۔ میں نے جواب دیا کہ میں غلط بات پر کیوں دستخط کردوں۔ انہوں نے جواب دیا کہ بات تو دراصل تمہاری ٹھیک ہے۔ مگر سلسلہ کی بدنامی ہوتی ہے۔ اس لئے تم دستخط کر دو۔ میں نے پھر جواب دیا کہ میں سچی بات سے کیسے انکار کروں اور خواہ مخواہ آپ تنگ نہ کریں۔ ورنہ اصل حقیقت آپ کو سناؤں تو خلیفہ کی پردہ دری ہوگی۔ جب انہوں نے دیکھا کہ میں کسی طرح راضی نہیں ہوتا تو دھمکانا شروع کیا کہ تمہارا وظیفہ بند ہو جائے گا اور تم قادیان سے نکالے جاؤ گے۔“

(عبدالعزیز نومسلم رسالہ ”مباہلہ“ ١٩٢٩ء ص ٢٠)

حکیم عبدالعزیز (سابق پریذیڈنٹ انجمن انصار احمدیہ قادیان پنجاب) کا

مرزا محمود کے سامنے اقصیٰ میں اعلانِ حق

حکیم عبدالعزیز صاحب نے خلیفہ محمود کی بدچلنی کے متعلق جب کہ (مرزا محمود) اقصیٰ میں تقریر کر رہے تھے علی الاعلان لکھ کر دیا کہ آپ زنا کار اور بدچلن ہیں۔ اس لئے میں آپ کی بیعت سے الگ ہوتا ہوں۔ آپ پر بھی ١٩٣٧ء میں حملہ کروایا گیا۔ آپ نے مرزا محمود احمد کو ایک خط لکھا جس میں آپ نے تحریر کیا کہ: ”سنا ہے کہ آپ نے چار گواہوں کا ذکر لوگوں سے کیا ہے۔

٦٠

صفحہ ٢٣٩

اگر چہ ہم سے تو نہیں کہا۔ اگر یہ بات درست ہے تو پھر آپ اس کے لئے تیاری فرمالیں۔ ہم صرف چار ہی نہیں بلکہ بہت سی شہادتیں علاوہ عورتوں، لڑکیوں اور لڑکوں کی شہادت کے خود جناب والا کی اپنی شہادت بھی پیش کریں گے ۔ اگر ہم ثبوت نہ دے سکے تو آپ کی بریت ہو جائے گی اور ہم ہمیشہ کے لئے ذلیل ہونے کے علاوہ ہر قسم کی سزا بھگتنے کے لئے تیار ہیں۔“

(تاریخ محمودیت ص ٤٢)

”میں خدا کو حاضر و ناظر جان کر اس کی قسم کھا کر جس کی جھوٹی قسم کھانا لعنتیوں کا کام ہے یہ تحریر کرتا ہوں کہ میں مرزا محمود احمد کی بیعت سے اس لئے علیحدہ ہوا تھا کہ میرے پاس ان کے خلاف احمدی لڑکوں، لڑکیوں اور عورتوں کے صحیح واقعات پہنچے تھے۔ جن کے ساتھ مرزا محمود احمد نے بدکاری کی تھی۔ اسی بنیاد پر میں نے مرزا محمود احمد کو لکھا تھا کہ آپ کے خلاف احمدی لڑکے، لڑکیاں اور عورتیں ایسے بیان کرتی ہیں ایسی صورت میں آپ یا جماعتی کمیشن کے سامنے معاملہ پیش ہونے دیں یا مباہلہ کے لئے تیار ہوں یا حلف مؤکد بعذاب اٹھائیں ۔ یا ہمیں موقعہ دیں کہ ہم تمام واقعات پیش کر کے جلسہ سالانہ کے موقع پر تمام احمدیوں کی موجودگی میں آپ کے سامنے حلف مؤکد بعذاب اٹھائیں تا کہ روز بروز کا جھگڑا ختم ہو کر حق کا بول بالا ہو ۔ لیکن مرزا محمود احمد کو کسی طریق پر بھی عمل پیرا ہونے کی جرات نہیں ہوئی ۔ سوائے کفار والا حربہ بائیکاٹ مقاطع استعمال کرنے کے ، ١٩٣٧ء سے لے کر آج تک میں اسی عقیدہ پر علیٰ وجہ البصیرت قائم ہوں کہ میاں محمود احمد ایک زانی اور بدچلن انسان ہے۔ جس کو خدا رسول اور اس کے خادم حضرت مسیح موعود سے کسی قسم کی کوئی نسبت نہیں ۔ اگر میں اپنے اس عقیدہ میں باطل ہوں تو اللہ تعالیٰ کی مجھ پر لعنت ہو۔“

حکیم عبدالعزیز سابق پریذیڈنٹ انجمن انصار احمدیہ ( قادیان )

حکیم صاحب کو میں ذاتی طور پر جانتا تھا۔ بڑا سچا اور دیانتدار شخص تھا۔ موصوف کو جماعت سے علیحدگی کی وجہ سے مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ پیپلز پارٹی سے تعلق تھا۔ غالباً ایک بیٹی کی شادی شیخ رشید احمد سابق وزیر کے بیٹے سے ہوئی تھی۔ تمام عمر مرزا محمود احمد کی سیاہ کاریوں کو لوگوں تک پہنچاتے رہے۔ جب مرزا محمود کا ذکر موصوف کی زبان پر آتا تو غصہ اور نفرت کی آگ برسانا شروع کر دیتے تھے۔ یوں معلوم ہوتا تھا کہ موصوف کسی ذہنی کربناک اذیت میں مبتلا ہیں۔

(مؤلف)

شیخ مشتاق احمد مالک احمدیہ دوا گھر کا بیان

”میں ہی نہیں بلکہ قادیان کی نوے فیصد آبادی مقدسین قادیان کی سیہ کاریوں اور

٦١

صفحہ ٢٤٠

خفیہ عیاشیوں سے آگاہ ہے۔ اس لئے میں یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ اخبار ”مباہلہ“ نے میری معلومات میں اضافہ کیا۔ ہاں یہ کہہ سکتا ہوں کہ میں اخبار ”مباہلہ“ کے بیان کردہ واقعات کی تائید اور تصدیق کرتا ہوں۔

خاکسار پرانا قادیانی ہے اور قادیان کا ہر فرد بشر مجھے خوب جانتا ہے۔ ہجرت کا شوق مجھے بھی دامن گیر ہوا اور میں قادیان ہجرت کر آیا۔ قادیان میں سکونت اختیار کی۔ خلیفہ قادیان کے محکمہ قضا میں بھی کچھ عرصہ کام کیا مگر دل میں آرزو آزاد روزگار کی تھی اور اخلاص مجبور کرتا تھا کہ اپنا کاروبار شروع کر کے خدمت دین بجالاؤں۔ چنانچہ خاکسار نے احمدیہ دواگھر کے نام سے ایک دواخانہ کھولا جس کے اشتہار عموماً اخبار ”الفضل“ میں شائع ہوتے رہے ہیں۔ اگر میں یہ کہوں تو بجا ہوگا کہ قادیان کی رہائش ہی میری عقیدت زائل کرنے کا باعث ہوئی۔ ورنہ اگر میں قادیانی بھائیوں کی طرح دور دور ہی رہتا تو آج مجھے اس تجارتی کمپنی کے ایکٹروں کے سربستہ رازوں کا انکشاف نہ ہوتا یا اگر میں خاص قادیان میں اپنا مکان بنالیتا تو خلیفہ قادیان کا ملازم ہو جاتا تو کبھی مجھے آج اس اعلان کی ہرگز جرات نہ ہوتی۔ مختصراً یہ کہ آج میں اس قابل ہوں کہ اس دجالی فرقہ سے توبہ کروں۔ میری دعا ہے اور برادران اسلام سے بھی درخواست دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ قادیان کے واقف حال لوگوں کو سچی گواہی دینے کی جرات عطا فرمائے اور ان کو توفیق دے کہ وہ سچائی کے مقابلہ میں کسی تکلیف کو روک نہ سمجھیں۔“

(خاکسار شیخ مشتاق احمد ’احمدیہ دوا گھر‘ قادیان، اخبار ”مباہلہ“ دسمبر ١٩٢٩ء)

ڈاکٹر محمد عبداللہ آنکھوں کا ہسپتال قادیان (حال فیصل آباد) کا بیان

ڈاکٹر محمد عبداللہ آنکھوں کے معالج تھے۔ بہت متقی، پرہیزگار، صادق القول اور نڈر قسم کے آدمی تھے۔ تمام قادیان والے خلیفہ سے مخالفت کے باوجود ڈاکٹر کو عزت کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ موصوف دکھی انسانوں کے ہمدرد اور غمگسار تھے۔ قادیان سے آکر فیصل آباد میں مقیم ہوئے اور وہیں وفات پائی۔ بیان کرتے ہیں: ”میں خدا تعالیٰ کو حاضر و ناظر جان کر اس کی قسم کھا کر جس کی جھوٹی قسم کھانا لعنتیوں کا کام ہے۔ یہ شہادت دیتا ہوں کہ میں اس ایمان اور یقین پر ہوں کہ موجودہ خلیفہ مرزا محمود احمد دنیا دار، بدچلن اور عیش پرست انسان ہے۔ میں ان کی بدچلنی کے متعلق خانہ خدا خواہ وہ مسجد ہو یا بیت اللہ شریف یا کوئی اور مقدس مقام ہو۔ میں حلف مؤکدہ بعذاب اٹھانے کے لئے ہر وقت تیار ہوں۔ اگر خلیفہ مباہلہ کے لئے نکلیں تو میں مباہلہ کے لئے حاضر ہوں۔“

٦٢

صفحہ ٢٤١

یہ الفاظ میں نے دلی ارادہ سے لکھ دیئے ہیں تاکہ دوسروں کے لئے ان کی حقیقت کا انکشاف ہو سکے۔ والسلام!

(ڈاکٹر محمد عبداللہ آنکھوں کا ہسپتال قادیان حال لائل پور)

مرزا محمد حسین اتالیق خاندان مرزا محمود احمد کی کہانی

مرزا محمد حسین صاحب ١٤٤۔ اے، آریہ نگر، سمن آباد، لاہور قادیانی امت کے خاندان نبوت کی مستورات کے اتالیق رہے ہیں۔ وہ ایک علم دوست، خلوت پسند اور کم آمیز شخص ہیں۔ مگر اس کے باوصف لاہور کے علمی وادبی حلقوں میں خاصے معروف ہیں۔ حضرت آغا شورش کاشمیری مرحوم نے اپنی کتاب ”نورتن“ میں ان کا تذکرہ کیا ہے۔ گاہے ماہے وہ قادیانیت سے اپنی علیحدگی کی داستان اپنے رفقاء کو سناتے رہتے ہیں۔ میرے استفسار پر انہوں نے بتایا کہ: ”میرا بچپن غربت، جوانی، علالت اور بڑھاپا کتابوں میں گزرا ہے۔ میں قادیان میں مرزا محمود احمد کے گھر میں مستورات کا اتالیق رہا ہوں اور کسی (Closed Society) میں رہتے ہوئے وہاں کے سربراہ کی خواتین کا استاد ہونا اس معاشرے کے لحاظ سے خاصی فخر کی بات ہوتی ہے۔ اگر میں مرزا محمود احمد اور اس کے جلو میں رہنے والے افراد کی بدچلنی کے بارہ میں حق الیقین کے مقام تک نہ پہنچتا تو نہ قادیان کو چھوڑتا اور نہ قادیانیت کو ترک کرتا۔“

اس کے بعد اپنی دکھ بھری کہانی بیان کرتے ہوئے یوں گویا ہوئے: ”مستورات کا استاد ہونے کی وجہ سے مجھے خلیفہ جی کی مختلف بیویوں کی باہمی چپقلش اور سوقیانہ طعنے بازی کا علم تو ہوتا رہتا تھا۔ مگر میں اسے زیادہ اہمیت نہ دیتا تھا۔ رفتہ رفتہ مجھے ڈاکٹر احسان علی (قادیان کا سانڈ)، مصلح الدین سعدی اور پھر نذیر ڈرائیور سے بڑے تواتر کے ساتھ یہ معلوم ہونا شروع ہوا کہ ”قصر خلافت“ میں جنسی عصیان کا ناپاک دھندہ ہوتا ہے۔ میں اپنی طبیعت اور مزاج کے اعتبار سے ان باتوں کو تسلیم کرنے کے لئے قطعاً تیار نہ تھا، گو حقائق اور واقعات دن بدن نکھر کر سامنے آ رہے تھے۔ میں یہ سوچ کر دل کو تسلی دیتا رہا کہ ”خلیفہ صاحب“ کے ارد گرد رہنے والے لوگ بدمعاش ہیں۔ مگر خود ان کے بارے میں کوئی ایسی بات میرے حاشیہ خیال میں بھی نہ تھی۔ آخر، میں نے اس امر کا ارادہ کر لیا کہ ان افراد میں سے کسی کو اعتماد میں لوں اور پھر خلیفہ صاحب کو ان لوگوں کی خباثتوں سے مکمل طور پر آگاہ کر دوں تا کہ اس ذہنی خلجان سے نجات پاؤں، جس سے میں گزر رہا تھا۔ میں نے اپنے اس ارادہ کا مصلح الدین سعدی سے ذکر کیا تو اس نے کہا پہلے حضرت صاحب سے اجازت لے لیں۔ بعد ازاں مجھے بتایا گیا کہ حضرت صاحب تمہارے متعلق سن کر حیران تو ہوئے۔ مگر اب انہوں نے اجازت دے دی ہے۔ میں اس وقت بھی اس یقین سے معمور

٦٣

صفحہ ٢٤٢

تھا کہ یہ جھوٹ بول رہا ہے۔ تھوڑے وقفے کے بعد جب مجھے کوئین والا پان لاکر دیا گیا اور ساتھ ہی یہ ہدایت نامہ بھی کہ مریم کے پاس مت جانا، اسے مطمئن کرنا تمہارے لئے ممکن نہ ہوگا۔ تمی کے پاس جانا، وہ تمہاری شاگرد ہے اور شاگرد ویسے بھی استاد سے دبتا ہے۔ اس لئے تم اس سے خوب نپٹ لوگے۔ اسی دوران مجھے نذیر ڈرائیور سے یہ بھی معلوم ہو چکا تھا کہ مرزا محمود بہت خوش ہے کہ میں بھی زیر دام آ گیا ہوں اور اس نے کہا: ”یہ اب پھنسا ہے۔“

گو اب میرا یقین تو ڈانواں ڈول ہورہا تھا۔ لیکن پھر بھی میں نے اتمام حجت کی خاطر مزید آگے جانے کا تہیہ کرلیا اور مصلح الدین سعدی کی معیت میں کمرۂ خاص کی طرف روانہ ہوا۔ میرا ”راہبر“ بھی سوچ رہا ہوگا ؎

کارواں غولانِ صحرائی کو رہبر مان کر
ہوچکا گمراہ گمراہی کو منزل جان کر

ابھی کچھ زینے باقی تھے کہ میرے گائیڈ نے مجھے کہا کہ حضرت صاحب کو کچھ لوگ ملنے آگئے ہیں۔ تھوڑی دیر ٹھہر جائیں۔ اتنا کہہ کر وہ اوپر چلا گیا اور میں ڈاکٹر حشمت اللہ کے کمرہ میں بیٹھ گیا۔ قریباً نصف گھنٹے کے بعد مصلح الدین سعدی واپس لوٹا تو اس کے چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں۔ اس نے آتے ہی مجھ سے کہا ماسٹر صاحب آپ اس سلسلہ میں اور لوگوں سے بھی باتیں کرتے رہے ہیں۔ اب انجام کے لئے تیار ہوجائیں۔“

تب یہ عقدہ کھلا کہ اس خلوت کدہ میں جانے کے لئے ایک ہی Source استعمال ہوسکتا تھا۔ کیونکہ مختلف ذرائع استعمال کرنے سے راز کھل جانے کا اندیشہ بھی تھا اور یہ فکر بھی کہ یہ لوگ کہیں اس عشرت کدے سے باہر بھی اپنا تعلق قائم نہ کرلیں۔

اس کے ساتھ ہی ”واقفان سر خلافت“ کی گفتگو میں سرد مہری اور تہدید غالب آگئی۔ ہسپتال میں مرزا محمود کے حکم پر میری پٹی ، بند کر دی گئی تاکہ میں T.B of The Spine سے صحت یاب نہ ہوں اور مرجاؤں اور اس راز کو افشاء کر سکوں۔ اس طرح مجھے مرزا محمود کو اس کے ”حواریوں“ کی بدمعاشی سے آگاہ کرنے کی حسرت ہی رہی۔ البتہ خود مذہب کے پردہ میں ہونے والی جنسی یورشوں اور ان میں مرزا محمود اور اس کے خاندان اور ساتھیوں کے ملوث ہونے کا ایسا قطعی علم ہوا کہ میرے لئے اس فضا میں رہنا دوبھر ہوگیا۔ واپس گھر آیا تو دماغ سائیں سائیں کر رہا تھا۔ اعتقادات کی عمارتیں زمین بوس ہو چکی تھیں۔ جس شخص کے لئے مسلسل پانچ سال تک تہجد میں دعائیں کرتا رہا۔ اسے فداہ ابی و امی کہتا رہا وہ اس قدر بدکردار نکلا کہ اس کا مثیل تلاش

٦٤

کرنے نکلیں تو صدیوں بھٹکتے رہیں۔ اس بے لیٹا تو خوفناک بخار نے آلیا۔ ساری رات اڑت کے سارے بال ایک ہی رات میں جھڑ چکے تھا۔ میں نے قرآن پاک کو اٹھا کر گندگی میں مگر پھر اللہ تعالیٰ نے دستگیری فرمائی اور مجھے نمازیں شروع کردیں۔

اس کے کچھ عرصہ بعد کالیہ میں آ بالکل ”فارغ البال“ دیکھ کر کہا: ”اس عمر میں جڑیں ہی جل چکی ہیں۔ معلوم ہوتا ہے آپ ک کا مختصراً ذکر کیا تو وہ کہنے لگے۔ مرزا صاحب سب سے ہلکا اثر ہوا ہے۔ کیونکہ اکثر اوقات اور بدترین اثر یہ ہوتا ہے کہ بال گر جاتے ہیں، مشہور کالم نگار احمد بشیر (غیر از جماعت مشہور کالم نگار احمد بشیر نے مرزا والے اپنے ایک قادیانی دوست کے حوالے اور ایک مرتبہ وہ بقول اس قادیانی دوست کے بھی کھاتے جارہے تھے۔

میں کہاں آ نکلا (ثاقب زیروی)

جناب محمد صدیق ثاقب زیروی خا تھا۔ خلیفہ کی جنسی بے راہروی سے واقف تھے، (نوٹ: یہ نظم احتساب قادیانی حذف کر دیا۔ مرتب !)

مولوی عبدالستار نیازی اور دیوان سنگھ

(نوٹ: یہ روایت بھی احتساب حذف کر دیا گیا۔ مرتب !)

صفحہ ٢٤٣

کرنے نکلیں تو صدیوں بھٹکتے رہیں۔ اس بے قراری، بے چینی ، بے کلی اور اضطراب کے عالم میں لیٹا تو خوفناک بخار نے آلیا۔ ساری رات انگاروں پر جلتے ہوئے کٹی ۔ صبح ہوش آیا تو دیکھا کہ سر کے سارے بال ایک ہی رات میں جھڑ چکے تھے۔ اب میں دہریت کے بدترین ریلے کی زد میں تھا۔ میں نے قرآن پاک کو اٹھا کر گندگی میں پھینک دیا۔ (استغفر اللہ ) چند دن یہی حالت رہی۔ مگر پھر اللہ تعالیٰ نے دستگیری فرمائی اور مجھے اس دوسری گمراہی سے بھی نکالا اور میں نے دوبارہ نمازیں شروع کر دیں۔

اس کے کچھ عرصہ بعد کمالیہ میں ایک ماہر طبیب سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے مجھے بالکل ” فارغ البال “ دیکھ کر کہا: ”اس عمر میں بالوں کی جڑیں تو رہتی ہیں۔ آپ کے بالوں کی تو جڑیں ہی جل چکی ہیں۔ معلوم ہوتا ہے آپ کو کوئی شدید صدمہ پہنچا ہے۔ اس پر میں نے اس واقعہ کا مختصراً ذکر کیا تو وہ کہنے لگے۔ مرزا صاحب خدا کا شکر ادا کریں کہ آپ پر اس Shock کا سب سے ہلکا اثر ہوا ہے۔ کیونکہ اکثر اوقات ایسے مواقع پر فالج ہو جاتا ہے یا دانت گر جاتے ہیں اور کمترین اثر یہ ہوتا ہے کہ بال گر جاتے ہیں ۔“

مشہور کالم نگار احمد بشیر (غیر از جماعت) کا بیان سدومیت اور امرود کھانا

مشہور کالم نگار احمد بشیر نے مرزا محمود احمد کے عشرت کدہ خلافت سے آگاہی رکھنے والے اپنے ایک قادیانی دوست کے حوالے سے بتایا کہ مرزا محمود احمد کو سدومیت کی عادت بھی تھی اور ایک مرتبہ وہ بقول اس قادیانی دوست کے اس عمل سے بھی گزر رہے تھے اور ساتھ ساتھ امرود بھی کھاتے جا رہے تھے۔

میں کہاں آ نکلا (ثاقب زیروی)

جناب محمد صدیق ثاقب زیروی خوش گلو شاعر تھے۔ قادیان میں ام طاہر کے پاس آنا جانا تھا۔ خلیفہ کی جنسی بے راہروی سے واقف تھے۔ اپنی قلبی اور ذہنی اذیت کو اپنی اس نظم میں بیان کیا ہے؟

(نوٹ: یہ نظم احتساب قادیانیت جلد ٥٨ میں چھپ چکی ہے۔ اس لئے یہاں سے حذف کر دیا۔ مرتب !)

مولوی عبدالستار نیازی اور دیوان سنگھ مفتون (غیر از جماعت)

(نوٹ: یہ روایت بھی احتساب قادیانیت ج ٥٨ میں چھپ چکی ہے۔ یہاں سے حذف کر دیا گیا۔ مرتب !)

٦٥

صفحہ ٢٤٤

مرزا محمود احمد کی ایک بیوی کا خط دیوان سنگھ مفتون کے نام

(نوٹ: یہ خط بھی احتساب قادیانیت ج ٥٨ میں شائع ہو چکا ہے۔ اس لئے یہاں حذف کر دیا۔ مرتب !)

راجہ بشیر احمد رازی کی ہڈ بیتی

(نوٹ: یہ بھی احتساب قادیانیت ج ٥٨ میں شائع ہو چکا ہے۔ اس لئے یہاں سے حذف کر دیا ہے۔ مرتب !)

محمد یوسف ناز کا لرزا دینے والا حلفیہ بیان

(نوٹ: یہ اور اس کے بعد والا، دونوں بیان احتساب قادیانیت ج ٥٨ میں شائع ہو چکے ہیں۔ اس لئے یہاں سے خارج کر دیئے ہیں۔ مرتب !)

یوسف ناز کا دوسرا حلفیہ بیان

محمد عبداللہ احمد کا بیان

مصری عبدالرحمن صاحب کے بڑے لڑکے حافظ بشیر احمد نے میرے سامنے ہاتھ میں قرآن شریف لے کر یہ لفظ کہے، خدا تعالیٰ مجھے پارہ پارہ کر دے اگر میں جھوٹ بولتا ہوں کہ موجودہ خلیفہ صاحب نے میرے ساتھ بدفعلی کی ہے۔ میں خدا کی قسم کھا کر یہ واقعہ لکھ رہا ہوں۔ بقلم خود محمد عبداللہ احمدی سیمنٹ فرنیچر ہاؤس، مسلم ٹاؤن لاہور

منیر احمد کا بیان

میں خدا کو حاضر و ناظر جان کر جس کی جھوٹی قسم کھانا کبیرہ گناہ ہے۔ یہ تحریر کرتا ہوں کہ میں نے حضرت مرزا محمود احمد صاحب قادیان کو اپنی آنکھ سے زنا کرتے دیکھا ہے اور میں اقرار کرتا ہوں کہ اس نے میرے ساتھ بھی بدفعلی کی ہے۔ اگر میں جھوٹ بولوں تو مجھ پر خدا کی لعنت ہو۔ میں بچپن سے وہیں رہتا تھا۔ منیر احمد !

سیدہ ام صالحہ کا حلفیہ بیان

مرزا گل محمد صاحب مرحوم (آپ قادیان کے رئیس اعظم تھے اور وہاں بڑی جائیداد کے مالک تھے) مرزا غلام احمد صاحب کے خاندان کے رکن تھے۔ ان کی دوسری بیوہ (چھوٹی بیگم) نے مجھے بیان کیا کہ خلیفہ صاحب کو میں نے اپنی آنکھوں سے ان کی صاحبزادی اور بعض دوسری

٦٦

٢٤٥

عورتوں کے ساتھ زنا کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ نیز حضور یہ کیا معاملہ ہے؟ آپ نے فرمایا کہ: ”قرآن وحدیث میں پھیلانے کی ممانعت ہے۔ نعوذ بالله من ذالك میں خدا وند تعالیٰ کو حاضر و ناظر جان کر حلفاً اور بھائی اس سے کوئی سبق حاصل کریں۔ فقط!

قاضی خلیل احمد صدیقی کا اعلان

قاضی خلیل احمد صدیقی اب بھی خاصے وم میں قادیانی امت کے بیکا کیمپ ”جامعہ احمدیہ“ یا ”مبشر اس وقت قیامت تھے مگر ان پر کئی اور قیامتیں ٹوٹ پڑ اپنے ٹریکٹ ”میں نے مرزائیت کیوں چھوڑی“ میں ” میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس مؤکد بعذاب شہادت دیتا ہوں کہ میں نے خلیفہ صا ایما پر زنا کرنے میں شرکت کی۔ مرزا نعیم احمد نے اس ہیں) کو زنا کے بغیر نہیں چھوڑا۔ نیز ایک واقعہ پر مرز آپا بنت سید عزیز اللہ شاہ) کے ساتھ برا کام (زنا) جواباً کہا کہ میاں صاحب وہ تو ہماری ماں ہیں اور آپ والدہ کے ساتھ برا کام کیا جائے؟ کچھ تو خدا کا خو مرزا نعیم نے جواب دیا ۔ ”بھائی ماں واں مت سمجھو فرمان کے مطابق کہی ہے۔ تمہیں ان کا حکم ٹالنے کی میں آج تک یہی سمجھ رہا تھا کہ مرزا نعیم ہے یا کرواتا ہے تو عجوبہ کی بات نہیں۔ اس کے ذائ پڑتا۔ لیکن مہر آپا کے متعلق جب مرزا نعیم نے بات

ایں خانہ ہمہ

واقعات اور حقائق مخفی و مخفی تر بہت سے طرح علم ہو گیا کہ ”احمدیت“ کی آڑ لے کر شہوت

٧

صفحہ ٢٤٥

عورتوں کے ساتھ زنا کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ میں نے خلیفہ صاحب سے ایک دفعہ عرض کی، حضور یہ کیا معاملہ ہے؟ آپ نے فرمایا کہ: ”قرآن وحدیث میں اس کی اجازت ہے۔ البتہ اس کو عوام میں پھیلانے کی ممانعت ہے۔“ نعوذ باللہ من ذالک ! میں خداوند تعالیٰ کو حاضر و ناظر جان کر حلفیہ تحریر کر رہی ہوں۔ شاید میری مسلمان بہنیں اور بھائی اس سے کوئی سبق حاصل کریں۔ فقط!

(سیدہ ام صالحہ بنت سید ابرار حسین، سمن آباد لاہور)

قاضی خلیل احمد صدیقی کا اعلان

قاضی خلیل احمد صدیقی اب بھی خاصے وجیہ ہیں۔ میٹرک کے بعد اپنے عنفوان شباب میں قادیانی امت کے بیگار کیمپ ”جامعہ احمدیہ“ یا مشنری ٹریننگ سنٹر میں داخل ہوئے۔ وہ خود بھی اس وقت قیامت تھے مگر ان پر کئی اور قیامتیں ٹوٹ پڑیں۔ جس کی تفصیل کچھ عرصہ بعد انہوں نے اپنے ٹریکٹ ”میں نے مرزائیت کیوں چھوڑی“ میں دی ملاحظہ فرمائیں۔

”میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کی جھوٹی قسم کھانا لعنتیوں کا کام ہے۔ حلف مؤکد بعذاب شہادت دیتا ہوں کہ میں نے خلیفہ صاحب ربوہ کے صاحبزادے مرزا نعیم احمد کے ایما پر زنا کرنے میں شرکت کی۔ مرزا نعیم احمد نے اپنے گھر کی کوئی نوکرانی و مہترانی (جو کہ مسلمان ہیں) کو زنا کے بغیر نہیں چھوڑا۔ نیز ایک واقعہ پر مرزا نعیم احمد نے مجھے خلیفہ صاحب کی بیوی (مہر آپا بنت سید عزیز اللہ شاہ) کے ساتھ برا کام (زنا) کرنے کو کہا۔ میں نے مرزا نعیم احمد صاحب کو جواباً کہا کہ میاں صاحب وہ تو ہماری ماں ہیں اور آپ کی بھی ماں ہیں ...... یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ والدہ کے ساتھ برا کام کیا جائے؟ کچھ تو خدا کا خوف کرو اور حضور کی عزت کی طرف دیکھو۔ تو مرزا نعیم نے جواب دیا۔ ”بھائی ماں واں مت سمجھو، جو بات میں نے تم سے کہی ہے، یہ مہر آپا کے فرمان کے مطابق کہی ہے۔ تمہیں ان کا حکم ٹالنے کی اجازت نہیں۔“

میں آج تک یہی سمجھ رہا تھا کہ مرزا نعیم احمد نوجوان ہے۔ اگر وہ کسی بدی کا ارتکاب کرتا ہے یا کرواتا ہے تو عجوبہ کی بات نہیں۔ اس کے ذاتی چال چلن سے جماعت احمدیہ پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ لیکن مہر آپا کے متعلق جب مرزا نعیم نے بات کی تو بے اختیار میرے منہ سے نکل گیا۔

ایں خانہ ہمہ آفتاب است

واقعات اور حقائق مخفی در مخفی تو بہت سے ہیں۔ لیکن مذکورہ بالا واقعہ کے بعد مجھے اچھی طرح علم ہو گیا کہ ”احمدیت“ کی آڑ لے کر شہوت پرستی کی تعلیم دی جاتی ہے اور نوجوان لڑکوں اور

٧٧

صفحہ ٢٤٦

لڑکیوں وغیرہ کی عصمتوں سے جو ہولی کھیلی جاتی ہے وہ نا قابل بیان ہے۔ تقدس و خلافت کے پردے میں عیاشیوں کا ایک وسیع جال بچھا ہوا ہے۔ جس میں بھولے بھالے لڑکوں لڑکیوں کو مذہب کے نام پر قابو کیا جاتا ہے۔ چنانچہ ان حالات کی وجہ سے میں ”ان“ سے بہت متنفر ہو گیا اور میں نے اب صدق دل سے اس ناپاک Society جماعت سے اپنا قطع تعلق کر لیا ہے اور توبہ کر کے صحیح معنوں میں مسلمان ہو گیا ہوں۔

یاد رہے کہ میں ربوہ کے قصر خلافت میں عرصہ چھ ماہ تک آتا جاتا رہا ہوں اور مجھ سے کوئی پردہ وغیرہ نہیں کیا جاتا تھا۔ نیز مجھے معلوم ہے کہ علاوہ قصر خلافت کے ”خاندان نبوت“ میں کیسے کیسے سنگین اور رنگین حالات رونما ہوتے ہیں جو وقت آنے پر بتلائے جا سکتے ہیں۔ اگر میرے مذکورہ بالا بیان کی صحت پر لعین کو کوئی اعتراض ہو تو میں ہر وقت ان کے بالمقابل مباہلہ کرنے کے لئے تیار ہوں۔

راقم الحروف: خلیل احمد، سابقہ متعلم جامعہ احمدیہ، ربوہ مورخہ ٢٧؍نومبر ١٩٦١ء

راحت ملک کا چیلنج خلیفہ ربوہ کے نام

جناب عطاء الرحمن راحت ملک، گجرات کے مشہور لیبر لیڈر ہیں۔ کسی زمانہ میں وہ مرزا محمود آنجہانی کے چیلوں میں تھے۔ وہاں انہوں نے جنسی بے راہروی کا ایسا طوفان دیکھا کہ چکرا کر رہ گئے۔ جب انہیں یقین کامل ہو گیا کہ مرزا محمود ایک بدکردار اور بدکار انسان ہے تو انہوں نے بیعت کا طوق اپنے گلے سے اتار پھینکا اور ”دور حاضر کا مذہبی آمر“ کے نام سے ایک خوبصورت کتاب لکھی جس میں خلیفہ ربوہ کے دعویٰ الہام کی قلعی کھولتے ہوئے لکھا ہے۔

جس کی آغوش میں ہر شب ہے نئی مہ لقا
اس سے خدا بولتا ہے مجھ کو یہ معلوم نہ تھا

اسی دور میں انہوں نے خلیفہ ربوہ کو ایک کھلی چٹھی لکھی تھی جو ہم درج ذیل کرتے ہیں۔

مکرمی میاں صاحب! سلام مسنون!

آپ کا دعویٰ ہے کہ خدا آپ سے خلوت اور جلوت میں باتیں کرتا ہے اور نیز یہ کہ آپ صاحب الہام ہیں۔ علاوہ ازیں آپ کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ آپ خدا کے محبوب ہیں۔ خدا آپ پر عاشق ہے اور ہر لمحہ آپ سے مکالمہ و مخاطبہ کرتا ہے۔ اگر آپ کے مندرجہ بالا دعویٰ درست ہیں تو میں یہ دریافت کرنے کی جسارت کروں گا کہ:

صفحہ ٢٤٧

کمینہ صفت، کتے، مسیلمہ کذاب، بکواسی، لومڑی وغیرہ؟

مریدوں میں سے بعض کو محض اس لئے خارج کر دیا ہو کہ وہ اس خلیفہ پر تنقید کرتے تھے؟

صاحبزادے کو جانشین بنانے کی دل میں آرزو نہیں کی اور موجودہ تحریک اپنے صاحبزادے مرزا ناصر احمد کے لئے زمین ہموار کرنے کی غرض سے نہیں چلائی؟

اپنے عزیز و اقربا کو فائدہ نہیں پہنچایا اور نیز یہ کہ آپ چھ ہزار روپیہ سالانہ انجمن سے نہیں لے رہے؟

ایک ٹرانسمیٹر زیر زمین نہیں رکھا ہوا اور نہ ہی آپ کو اس کا علم ہے؟

طاری نہیں رہا؟

اور اس گڑ بڑ کا آپ کو کوئی علم نہیں یا یہ گڑ بڑ آپ کے ایماء پر نہیں ہو رہی ہے؟

جماعت سے خارج کیا گیا ہے ان کا قصور سوائے اس کے کچھ نہیں کہ وہ آپ کی بدعنوانیوں پر تنقید کرتے ہیں؟

کی قدر و منزلت اور احترام ہے؟

مندرجہ بالا گیارہ شقوں کے علاوہ اور بھی بہت سے امور ہیں لیکن فی الحال میں آپ کی توجہ ان امور کی طرف مبذول کرانے کے لئے میں آپ کو مباہلے کی دعوت دیتا ہوں اگر آپ خود کو خدا کا محبوب کہتے ہیں تو آئیے فیصلہ انہی امور پر ہو جائے۔ یقیناً خدا فیصلہ کرے گا اور ہم میں سے جو بھی جھوٹا ہوگا وہ ڈاکٹر ڈوئی کی طرح فالج کی موت مرے گا۔ اگر آپ اپنے دعاوی میں سچے ہیں

٦٩

صفحہ ٢٤٨

تو آئیے اس چیلنج کو منظور فرمائیے اور فیصلہ خدا کے ہاتھ میں چھوڑ دیجئے۔ لیکن میں دعویٰ سے کہہ سکتا ہوں کہ آپ ان امور پر کبھی مباہلہ کے لئے تیار نہیں ہو سکتے۔ کیونکہ آپ اپنے اعمال سے بخوبی واقف ہیں اور ڈاکٹر ڈوئی کی موت مرنا پسند نہیں کریں گے۔

مولوی عمر الدین شملوی مبلغ جماعت قادیان کی روایات

(نوٹ: یہ روایت دوسری جگہ موجود ہے۔ یہاں سے حذف کر دی۔ مرتب!)

چوہدری غلام رسول کا اعلان حق

نوٹ....... چوہدری صاحب موصوف آج کل گورنمنٹ کالج لاہور میں پروفیسر ہیں۔

”میرا خلیفہ صاحب کی بیعت سے علیحدگی کا سبب خلیفہ کی بدچلنی، بدکرداری، زنا کاری اور غیر فطری افعال کا ارتکاب ہے۔ یہ الزامات خلیفہ صاحب ربوہ کی ذات پر متواتر نصف صدی سے لگ رہے ہیں۔ اب خلیفہ صاحب اپنی بدکاریوں اور بدکرداریوں کی وجہ سے جنون کے ابتدائی دور سے گزر رہے ہیں اور مفلوج اور پیری کا شکار ہونے کی وجہ سے مضمحل الاعضاء اور مخبوط الحواس ہیں۔ اس وجہ سے الزامات کی تردید کے لئے ان سے مخاطب نہیں ہوتا۔ بلکہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے، مرزا شریف احمد صاحب (دونوں خلیفہ صاحب کے بھائی ہیں) نواب مبارکہ بیگم صاحبہ، امۃ الحفیظ صاحبہ (دونوں خلیفہ صاحب کی ہمشیرگان ہیں) مرزا ناصر احمد ایم اے آکسن، مرزا مبارک احمد بی اے، ڈاکٹر مرزا منور احمد صاحب ایم بی بی ایس اور دیگر خلیفہ کے صاحبزادگان و صاحبزادیاں اور خلیفہ کی ازواج اور خلیفہ کے مخلص مرید چوہدری سر محمد ظفر اللہ خاں صاحب جج عالمی عدالت، سید میم احمد بن سید عزیز اللہ شاہ (خلیفہ صاحب کے نسبتی بھائی ہیں) اور مولوی عبدالمنان صاحب عمر ایم اے سے کہتا ہوں۔ اگر وہ خلیفہ صاحب کو نیک چلن، خدا رسیدہ اور حضرت مرزا غلام احمد صاحب کی پیش گوئی مصلح موعود کا حقیقی مصداق سمجھتے ہیں تو خلیفہ صاحب پر عائد کردہ الزامات بالمقابل حلف مؤکد بعذاب قسم کھا کر تردید کریں۔ میں قارئین سے کہوں گا کہ یہ لوگ خلیفہ صاحب ربوہ کی سیاہ بداعمالیوں سے پوری طرح واقف ہیں۔ اس لئے یہ کبھی ان کی پاکیزگی کا حلف مؤکد بعذاب اٹھانے کے لئے تیار نہ ہوں گے۔“

عبدالرب خاں برہم کا حلفیہ بیان

خان عبدالرب خاں صاحب برہم صدر انجمن کے دفتر بیت المال میں کام کرتے تھے۔ آپ نے ایک مخلص قادیانی دوست کو مرزا محمود احمد خلیفہ قادیان کی نجی زندگی کے واقعات سنائے۔

٧٠

اس پر اس ”مخلص“ قادیانی دوست نے کی بدچلنی کے واقعات سنا کر مجھے تو حیر و دماغ پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔ اس شکا الانبیاء“ نے خان صاحب موصوف کو بلا لا علمی کا اظہار کر دیا۔ آپ خاموش ہو برہم صاحب خاموش رہیں گے۔

اس کے ایک آدھ گھنٹہ بعد جب آپ وہاں گئے تو وہ مخلص احمدی دو بھی وہیں تھے اور دو تین تنخواہ دار ایجنٹ ب ڈال کر حق کو بدلا جا سکے۔ خلیفہ صاحب ۔ بے خوف مجاہد نے کہا جو کچھ میں نے آپ درست ہے۔ آخر جب کام نہ بنا تو کھڑے اور ساتھ ہی یہ کہا کہ تم نے میری ہمشیرہ درست ہے۔ لیکن یہ حق کا معاملہ ہے۔ در ہی اس جماعت میں شامل تھے۔ خان صا کیا کہ ”قصر خلافت“ سے آکر از خود بیا ”بلائے دمشق“ بھی لکھی ہے۔ خان صاح پورا اطمینان حاصل کرنے کے بعد خدا کو مرزا محمود احمد کا چال چلن نہایت خراب خدا کے فضل سے ان کے مد مقابل مباہلہ

آغا سیف اللہ کا بیان ”مہر آپا کا

آغا سیف اللہ قادیانی اخبار ” سدوم کو بتایا کہ ان کی بیوی کا میل ملاپ مر دوران گفتگو بیان کیا کہ ان کا رحم ہی نہیں سے ہوئی تھی۔ مرزا محمود احمد نے شادی سے ہی اس کی یہ تعبیر بیان کی کہ ایک ایسی لڑکی

صفحہ ٢٤٩

اس پر اس ”مخلص“ قادیانی دوست نے مرزا محمود احمد کو لکھ بھیجا کہ خاں صاحب موصوف نے آپ کی بدچلنی کے واقعات سنا کر مجھے محو حیرت کر دیا ہے اور دلائل بھی ایسے دیئے ہیں جو میرے دل و دماغ پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔ اس شکایت کے چند گھنٹے بعد مرزا بشیر احمد ایم اے المعروف ”قمر الانبیاء“ نے خان صاحب موصوف کو بلا کر سمجھایا کہ اگر حضور کچھ باتیں دریافت کریں تو اس سے لاعلمی کا اظہار کر دینا۔ آپ خاموش ہو گئے۔ مرزا بشیر احمد کو یقین ہو گیا کہ ان کی ہدایت کے مطابق برہم صاحب خاموش رہیں گے۔

اس کے ایک آدھ گھنٹہ بعد برہم صاحب کو ”قصر خلافت“ میں مرزا محمود احمد نے بلایا۔ جب آپ وہاں گئے تو وہ مخلص احمدی دوست بھی موجود تھا اور خان صاحب موصوف کے والد محترم بھی وہیں تھے اور دو تین تنخواہ دار ایجنٹ بھی تھے اور سب کو اکٹھے کرنے کا مطلب یہ تھا تا کہ رعب ڈال کر حق کو بدلا جا سکے۔ خلیفہ صاحب نے جب خان صاحب موصوف سے دریافت کیا تو اس بے خوف مجاہد نے کہا جو کچھ میں نے آپ کی بدچلنی کے متعلق ان صاحب سے کہا وہ حرف بحرف درست ہے۔ آخر جب کام نہ بنا تو کھڑے ہو کر خلیفہ صاحب نے احسان گنوانے شروع کر دیئے اور ساتھ ہی یہ کہا کہ تم نے میری ہمشیرہ کا دودھ پیا ہوا ہے۔ خان صاحب موصوف نے کہا، یہ درست ہے۔ لیکن یہ حق کا معاملہ ہے۔ دنیا داری کے مقابلہ میں حق مقدم ہے اور اس حق کے لئے ہی اس جماعت میں شامل تھے۔ خان صاحب موصوف نے ملاقات کے فوراً بعد دلیرانہ اقدام یہ کیا کہ ”قصر خلافت“ سے آ کر از خود بیعت سے علیحدگی کا اعلان کر دیا۔ آپ نے ایک کتاب ”بلائے دمشق“ بھی لکھی ہے۔ خان صاحب کا حلفیہ بیان درج ذیل ہے: ”میں شرعی طور پر پورا پورا اطمینان حاصل کرنے کے بعد خدا کو حاضر و ناظر جان کر یہ کہتا ہوں کہ موجودہ خلیفہ صاحب یعنی مرزا محمود احمد کا چال چلن نہایت خراب ہے۔ اگر وہ مباہلہ کے لئے آمادگی کا اظہار کریں تو میں خدا کے فضل سے ان کے مد مقابل مباہلہ کے لئے ہر وقت تیار ہوں۔“

آغا سیف اللہ کا بیان ”مہر آپا کا رحم نہیں“

آغا سیف اللہ قادیانی اخبار ”الفضل“ کے پبلشر ہیں۔ انہوں نے شفیق مرزا مصنف شہر سدوم کو بتایا کہ ان کی بیوی کا میل ملاپ مرزا محمود احمد کی زوجہ بشریٰ ”مہر آپا“ سے ہو گیا۔ تو ایک دفعہ دوران گفتگو بیان کیا کہ ان کا رحم ہی نہیں۔ مہر آپا کی شادی ایم طاہر کی وفات کے بعد مرزا محمود احمد سے ہوئی تھی۔ مرزا محمود احمد نے شادی سے پہلے اپنا ایک رؤیا بیان کیا کہ وہ شتر مرغ پر سوار ہیں۔ خود ہی اس کی یہ تعبیر بیان کی کہ ایک ایسی لڑکی سے شادی ہوگی جس کے ہاں اولاد نہ ہوگی۔ مرزا محمود کو تو

٧١

صفحہ ٢٥٠

پہلے علم تھا کہ بشریٰ سے اولاد پیدا نہیں ہوگی۔ کیونکہ زیادہ فربہی کی وجہ سے بشریٰ کو جلد حمل ہو جاتا تھا۔ حمل بار بار گرنے کی نوبت آتی تھی اس وجہ سے مرزا محمود نے اس کا رحم ہی نکلوا دیا تھا۔

مظہر الدین ملتانی کی ایک حیران کن روایت

مظہر ملتانی مرحوم نے جن کے والد فخر الدین ملتانی کو قادیان میں مرزا محمود احمد کی ناگفتہ بہ حرکات کو منظر عام پر لانے کے لئے پوسٹر لگانے کی پاداش میں قتل کر دیا گیا تھا۔ مجھے بتایا ایک مرتبہ ان کے والد محترم اپنے ایک دوست سے گفتگو کرتے ہوئے انہیں مرزا غلام احمد کے داماد نواب محمد علی آف مالیر کوٹلہ کے بارے میں یہ بتا رہے تھے کہ انہیں اواخر عمر میں کوئی ایسا عارضہ لاحق ہو گیا تھا کہ وہ اپنی کوٹھی کی سیڑھیاں نابالغ لڑکیوں کو ابھرے سینہ سے پکڑ کر چڑھتے تھے۔ لیکن اپنے خاندان کی خواتین کو سخت ترین پردے میں رکھتے تھے اور انہیں پالکیوں میں ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرتے تھے۔ یادرہے کہ جب مرزا غلام احمد نے ان سے اپنی نوجوان بیٹی مبارکہ بیگم بیاہی تو ان کی عمر ستاون سال تھی اور حق مہر بھی ستاون ہزار ہی رکھا گیا تھا اور نواب مالیر کوٹلہ کو اپنے تشیعی عقائد کو بھی برقرار رکھنے کی اجازت دے دی گئی تھی۔

ماسٹر محمد عبداللہ سابق ہیڈ ماسٹر گورنمنٹ ہائی سکول لاہور

ربوہ میں مقیم ہونے کا خیال اس طرح پیدا ہوا۔ ہیڈ ماسٹر جب اپنی ملازمت سے سبکدوش ہوئے تو مرزا محمد حسین بی کام سے تعلقات کی بنیاد پر موصوف کے پاس گئے اور کہا۔ مرزا صاحب! میں سبکدوش ہو گیا ہوں۔ کہاں رہائش اختیار کروں۔ لاہور، آبائی وطن سیالکوٹ یا ربوہ۔ مرزا صاحب کو علم تھا یہ شخص برائی سے مفاہمت کرنے والا نہیں۔ ربوہ میں مستقل رہائش پذیر ہونے کی وجہ سے عقیدت کے تمام حجاب اٹھ جائیں گے اور جماعت سے الگ ہو جائے گا۔ ممکن ہے عبداللہ کا ربوہ میں مقیم ہونے کا ارادہ بھی ہو۔ بہر حال ربوہ چلے گئے۔ تھوڑے ہی عرصہ میں ہیڈ ماسٹر کو ربوہ میں صدر عمومی بنا دیا گیا۔ دیکھا ”شاہی خاندان“ کے افراد نماز تک نہیں پڑھتے اور بدکردار اور بے نمازی ہیں۔ آخر کار رات کے اندھیرے میں لطیف غزنوی کی راہنمائی میں ربوہ کو چھوڑنا پڑا۔ راجہ بشیر احمد رازی کی ملاقات مال روڈ پر ہوئی۔ راجہ صاحب نے حال احوال پوچھا تو جماعت کو چھوڑنے کو کہا تو اس موقع پر کہا: ”فیر چندہ کتھے دیاں گے۔“

عبدالمجید اکبر کا حلفیہ بیان

عبدالمجید اکبر کی شناسائی ١٩٥٦ء سے ہوئی ہے۔ جب حقیقت پسند پارٹی اخبار نوائے

٧٢

پاکستان کی معرفت خلیفہ مرزا محمود احمد پر ا - خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ بڑے بیبا عادی تھے۔ غالباً محمد یوسف ناز کے رشت معرفت ہوا تھا۔ مدت ہوئی اکبر سے مل کرتے ہیں: ”قسم ہے مجھ کو خدا تعالیٰ ک ہے مجھ کو حبیب کبریا کی معصومیت کی کہ کو ایک ناپاک انسان سمجھنے میں حق الیقی آپ جیسے شعلہ بیان یعنی (سلطان البیا امراض کا شکار ہونا مثلاً نسیان، فالج وغی اس کی قدیم سنت کے مطابق مفتریان علاوہ دیگر واسطوں کے آ گھناؤنے کردار کے بارے میں عجیب وغر کے ایک مخلص مرید محمد صدیق شمس نے ا کے مرتکب ہونے کے بارے میں بہت س / اس جگہ میں احتیاطاً یہ لکھ د میرے بیان بالا کی صحت کے بارے میں ک صداقت پر مباہلہ کے لئے تیار ہوں۔“

عتیق احمد فاروق مبلغ کا حلفیہ بی

”میری قادیانی جماعت س اعظم خلیفہ کی سیاہ کاریاں اور بدکاریاں بلکہ نہایت ہی سیاہ کار اور بدکار ہے۔ اگ میں بطیب خاطر میدان مباہلہ میں آ

علی حسین کی شہادت

علی حسین بیان کرتے ہیں کی جھوٹی قسم کھانا لعنتیوں کا کام ہے۔

صفحہ ٢٥١

پاکستان کی معرفت خلیفہ مرزا محمود احمد پر سنگین الزامات کی بوچھاڑ کر رہی تھی۔ اکبر صاحب کشمیری خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ بڑے بیباک نڈر اور سچے تھے۔ بغیر کسی لگی لپٹی کے بات کرنے کے عادی تھے۔ غالباً محمد یوسف ناز کے رشتہ دار تھے۔ محمد یوسف ناز کا مشہور زمانہ بیان ان کی ہی معرفت ہوا تھا۔ مدت ہوئی اکبر سے کبھی علیک سلیک نہیں ہوئی۔ زندگی موت کا علم نہیں۔ وہ بیان کرتے ہیں: ”قسم ہے مجھ کو خدا تعالیٰ کی وحدانیت کی، قسم ہے مجھ کو قرآن پاک کی سچائی کی، قسم ہے مجھ کو حبیب کبریا کی معصومیت کی کہ میں اپنے قطعی علم کی بناء پر مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفہ ربوہ کو ایک ناپاک انسان سمجھنے میں حق الیقین پر قائم ہوں۔ نیز مجھے اس بات پر بھی شرح صدر ہے کہ آپ جیسے شعلہ بیان یعنی (سلطان البیان) مقرر سے قوت بیان کا چھن جانا اور دیگر بہت سے امراض کا شکار ہونا مثلاً نسیان، فالج وغیرہ یقیناً خدائی عذاب ہیں جو کہ خدائے عزیز کی طرف سے اس کی قدیم سنت کے مطابق مفتریان کے لئے مقرر کئے گئے ہیں۔

علاوہ دیگر واسطوں کے آپ کے مخلص ترین مریدوں کی زبان وقتاً فوقتاً آپ کے گھناؤنے کردار کے بارہ میں عجیب وغریب انکشافات اس عاجز پر ہوئے۔ مثال کے طور پر آپ کے ایک مخلص مرید محمد صدیق شمس نے بارہا میرے سامنے خلیفہ کے چال چلن اور غیر شرعی افعال کے مرتکب ہونے کے بارہ میں بہت سے دلائل اور ثبوت اور خلیفہ کے پرائیویٹ خط پیش کئے۔

اس جگہ میں احتیاطاً یہ لکھ دینا ضروری خیال کرتا ہوں کہ اگر محترم صدیق صاحب کو میرے بیان بالا کی صحت کے بارہ میں کوئی اعتراض ہو تو میں ہر دم ان کے ساتھ اپنے اس بیان کی صداقت پر مباہلہ کے لئے تیار ہوں۔“

(احقر العباد، عبدالمجید اکبر مکان نمبر ٥، بلاک ڈی کیمبل روڈ لاہور)

عتیق احمد فاروق مبلغ کا حلفیہ بیان

”میری قادیانی جماعت سے علیحدگی کی وجوہات منجملہ دیگر دلائل و براہین کے ایک وجہ اعظم خلیفہ کی سیاہ کاریاں اور بدکاریاں ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ خلیفہ مقدس اور پاکیزہ انسان نہیں۔ بلکہ نہایت ہی سیاہ کار اور بدکار ہے۔ اگر خلیفہ صاحب اس امر کے تصفیہ کے لئے مباہلہ کرنا چاہیں تو میں بطیب خاطر میدان مباہلہ میں آنے کے لئے تیار ہوں۔“

(فقط: خاکسار عتیق احمد فاروقی، سابق مبلغ جماعت احمدیہ قادیان)

علی حسین کی شہادت

علی حسین بیان کرتے ہیں: ”میں خدا تعالیٰ کو حاضر و ناظر جان کر اس کی قسم کھا کر جس کی جھوٹی قسم کھانا لعنتیوں کا کام ہے۔ مندرجہ ذیل شہادت لکھتا ہوں۔ بیان کیا مجھے میری والدہ

٧٣

صفحہ ٢٥٢

صاحبہ نے کہ میں خلیفہ مرزا محمود احمد کے رہا کرتی تھی۔ میں نے دیکھا کہ حضرت صاحب جوان محرم لڑکیوں پر عمل مسمریزم کر کے انہیں سلا دیا کرتے تھے۔ پھر آپ ان کو کئی جگہ سے ہاتھ سے مسلتے تب بھی انہیں ہوش نہ ہوتی تھی۔

صاحب سیڑھیوں پر اترتے آ رہے تھے۔ جب میرے مقابل پہنچے تو انہوں نے میری چھاتی پکڑی۔ میں نے زور سے چھڑائی۔“

(ماخوذ از تاریخ محمودیت ص ٣٦، خاکسار علی حسین)

میاں محمد زاہد (مباہلہ والا) کا اعلان مباہلہ

میاں زاہد میاں عبدالکریم کے چھوٹے بھائی تھے۔ خوب رو جسیم، پرکشش شخصیت کے مالک تھے۔ مرزا عبدالحق کے سالے اور مرزا طاہر احمد (سرگودھا والے) کے ماموں تھے۔ اپنی پرکشش شخصیت کی وجہ سے مرزا محمود کی محفل کے ”نورتنوں“ میں تھے۔ انہی کی ہمشیرہ سکینہ تھیں۔ جن پر مرزا محمود احمد نے مجرمانہ حملہ کیا تھا۔ اسی بناء پر ”فتنہ مباہلہ“ والوں کا آغاز ہوا۔ میاں صاحب بیان کرتے ہیں: ”خاکسار اپنے فرض سے سبکدوش ہونے کے لئے اور دنیا پر حقیقت کو بے نقاب کرنے اور جملہ برادران اسلام کی آگاہی کے لئے بذریعہ اشتہار ہذا اس امر کی اطلاع دیتا ہوں کہ یہ عاجز بھی عرصہ سے خلافت مآب کو یہی چیلنج دے رہا ہے کہ اگر ان کی ذات پر عائد کردہ الزامات غلط ہیں تو میدان مباہلہ میں آ کر اپنی روحانیت، صداقت کا ثبوت دیں۔ مگر خلافت مآب نے آج تک اس چیلنج کو قبول ہی نہیں کیا۔ آج پھر اتمام حجت بذریعہ اعلان ہذا میں خلیفہ قادیان کو چیلنج دیتا ہوں کہ ان کے دعاوی میں ذرہ بھر بھی صداقت ہے تو اپنے چال چلن پر الزامات کے خلاف دعا مباہلہ کریں تاکہ فریقین میں سے جو جھوٹا اور کاذب ہو وہ سچے کی زندگی میں ہلاک ہو جائے اور دنیا میں اس مباہلہ کے نتیجے میں حق و باطل میں فیصلہ کر سکے۔

کیا میں امید کروں کہ آنحضرت ﷺ کی مماثلت کا دعویٰ کر کے اہل اسلام کے دلوں کو مجروح کرنے والا اور تمام انبیاء کی پیش گوئیوں کے مصداق ہونے کا دعویدار اس دعوت مباہلہ کو قبول کر کے اپنی صداقت کا ثبوت دے گا۔

ذیل میں یہ عاجز اس ہستی کا فتویٰ درج کرتا ہے۔ جس کے قائم مقام ہونے کا خلافت مآب کو دعویٰ ہے۔ جس کو آپ بعد آنحضرت ﷺ حقیقی نبی تسلیم کرتے ہیں۔ تاکہ خلیفہ یہ کہنے کی جرأت نہ کر سکیں کہ ایسا مباہلہ جائز نہیں۔“

٧٢

صفحہ ٢٥٣

"مباہلہ ایسے لوگوں سے ہوتا ہے جو اپنے قول کی قطع اور یقین پر بنیاد رکھ کر دوسرے کو مفتری اور زانی قرار دیتے ہیں۔"

(اخبار الفضل قادیان بحوالہ ایک ٹریکٹ محررہ مدیر اخبار مباہلہ قادیان)

حافظ عبدالسلام کی حلفیہ شہادت

حافظ عبدالسلام تقسیم ہند سے قبل ہی قادیان کو چھوڑ آئے تھے۔ بائیں بازو کی مشہور شخصیت تھے۔ قادیان سے آنے کے بعد مزدور راہنما بنے۔ کئی دفعہ جیل میں گئے۔ اپنے مؤقف پر مستقل مزاجی سے قائم رہے۔ جب فیض احمد فیض روس گئے تو سلام صاحب بحیثیت سیکرٹری کے ساتھ گئے تھے۔ اوکاڑہ کی ملوں میں مزدوروں کی قیادت کی۔ اس قسم کا انقلابی شخص کسی پر غلط بہتان نہیں باندھ سکتا۔ مرزا محمود احمد کے بیٹے مرزا خلیل احمد کے ساتھ بہت گہرے مراسم تھے۔ ان کی شہادت پڑھئے: ”میں خدا کو حاضر و ناظر جان کر جس کے ہاتھ میں میری جان ہے جو جبار اور قہار ہے جس کی جھوٹی قسم کھانا لعنتیوں اور مردود کا کام ہے۔ حسب ذیل شہادت دیتا ہوں۔

میں ١٩٣٢ء سے لے کر ١٩٣٦ء تک مرزا گل محمد رئیس قادیان کے گھر میں رہا۔ اس دوران میں کئی مرتبہ مسماۃ عزیزہ بیگم کے خطوط خفیہ طریقے سے ان کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے کہ ان خطوط کا کسی سے بھی ذکر نہ کرنا خلیفہ محمود کے پاس لے جاتا رہا۔ خلیفہ مذکور بھی اس طریقہ سے اور ”ہدایت بالا“ کو دہراتے ہوئے جواب دیتا رہا۔ خطوط انگریزی میں تھے۔ اس کے علاوہ اس عورت کو رات کے دس بجے بیرونی راستے سے لے جاتا رہا۔ جب کہ اس کا خاوند کہیں باہر ہوتا۔ عورت غیر معمولی بناؤ سنگھار کر کے خلیفہ کے دفتر میں آ جاتی تھی۔ میں بموجب ہدایت اسے گھنٹہ یا دو گھنٹہ بعد لے آتا تھا۔ ان واقعات کے علاوہ بعض اور واقعات سے اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ خلیفہ کا چال چلن خراب ہے اور میں ہر وقت ان سے مباہلہ کرنے کے لئے تیار ہوں۔“

حافظ عبدالسلام پسر حافظ سلطان حامد خان صاحب استاد میاں ناصر احمد۔

غلام حسین احمدی کا حلفیہ بیان

”میں خدا کو حاضر و ناظر جان کر اور اس کی قسم کھاتا ہوں کہ میں نے اپنی آنکھوں سے حضرت صاحب (یعنی مرزا محمود احمد) کو صادقہ کے ساتھ زنا کرتے دیکھا۔ اگر میں جھوٹ لکھ رہا ہوں تو اللہ تعالیٰ کی مجھ پر لعنت ہو۔“

(غلام حسین احمدی)

شیخ بشیر احمد مصری کی شہادت

شیخ بشیر احمد مصری، عبدالرحمان مصری کے صاحبزادے تھے۔ خوبصورت، وجیہہ اور

٧٥

صفحہ ٢٥٤

مردانہ حسن کے مالک تھے۔ انہی کی معرفت عبدالرحمان مصری کو مرزا محمود احمد کے کردار کا علم ہوا تھا۔ ان کی ہمشیرہ امۃ الرحمان صاحبہ جو محکمہ تعلیم سے ایک اعلیٰ عہدے سے سبکدوش ہوئی تھیں بھی مرزا محمود احمد کی سیہ کاری میں پھنسی ہوئی تھیں۔ ساری عمر شادی نہ کی، زندہ ہیں۔ بشیر احمد کو انجمن احمدیہ اشاعت لاہور (لاہوری جماعت) نے ووگنگ کی مسجد کا امام بنایا۔ بشیر نے ووگنگ مشن کو مسلمانوں کے حوالے کر دیا۔ بشیر ان تمام واقعات کے چشم دید گواہ ہیں۔ بشیر کے والد عبدالرحمان مصری کے تاریخی خطوط اس کتاب میں پڑھیں گے۔ یہی خطوط احمدیوں کے لئے اتمام حجت ہیں۔ اب شہادت پڑھئے: ”میں خداوند تعالیٰ کو حاضر و ناظر جان کر بیان کرتا ہوں کہ میں نے مرزا بشیر الدین محمود کو چشم خود زنا کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ اگر میں جھوٹ بولوں تو مجھ پر خدا کی لعنت ہو۔“

(شیخ بشیر احمد مصری)

ثریا بنت شیخ عبدالحمید کا بیان

حکیم عبدالوہاب بیان کرتے ہیں کہ شیخ عبدالحمید ایڈیٹر ریلوے کی بیٹی اور عبدالباری سابق ناظر بیت المال قادیان کی ہمشیرہ ثریا اور مرزا محمود کی بیٹی ناصرہ بیگم آپس میں سہیلیاں تھیں۔ ثریا ایک دن اپنی سہیلی کو ملنے ”قصر خلافت“ گئی تو رات کو وہیں سو گئی۔ مرزا محمود نے بیٹی کی موجودگی ہی میں اس سے چھیڑ چھاڑ شروع کر دی۔ ثریا نے باقاعدہ مقابلہ کیا تو مرزا محمود نے بہانہ بناتے ہوئے کہا: ”مجھے غلط فہمی ہوئی ہے۔ میں سمجھا میری اہلیہ ہیں۔“ ثریا نے جواب دیا: ”سہیلیاں تو اکٹھی سو جاتی ہیں مگر وہ بیوی، جس کی باری چوتھے دن آتی ہے کس طرح یہ پسند کر سکتی ہے کہ وہ اپنی بیٹی کے پاس جا کر سو جائے۔ پھر بیٹی کی موجودگی میں ایسا کرنا شرافت کی کون سی علامت تھی۔“ ثریا نے واپس آ کر اپنی والدہ کو تمام واقعات سے آگاہ کر دیا تو اس کے بعد ثریا کے والد شیخ عبدالحمید نے اپنی وصیت منسوخ کر دی اور قادیان آنا جانا ترک کر دیا۔ تقریباً چار سال بعد پھر آنا جانا شروع کر دیا۔ کسی نے پوچھا: ”شیخ صاحب کون سی نئی بات وقوع پذیر ہوئی ہے جو آپ نے آنا جانا شروع کر دیا ہے۔“ شیخ صاحب نے جواب دیا: ”ساری دنیا چھوڑ کر ہم یہاں آئے تھے۔ اب کہاں جائیں۔ اپنا مردہ کون خراب کرے۔ اس لئے ظاہراً میں نے تعلقات بحال کر لئے ہیں۔“

زکوٰۃ فنڈ اور بدچلنی

عرصہ ہوا ”حقیقت پسند پارٹی“ کی طرف سے مرزا محمود کی مالی بے اعتدالیوں کے متعلق ایک حیرت انگیز ٹریکٹ شائع ہوا تھا۔ جس کے ایک لفظ کی بھی تردید کرنے کی قادیانی امت کو ہمت نہیں ہوئی۔ اس میں مرزا محمود کے اس فرمان کو بھی ہدف تنقید بنایا گیا ہے کہ زکوٰۃ براہ

٧٦ ۃ براہ براہ٧٦ کوٰۃ براہ

٧٦

صفحہ ٢٥٥

راست ”خلیفہ“ کے نام آنی چاہئے۔ کیونکہ یہ خاص حق خلافت ہے۔ اسی ٹریکٹ میں مرقوم ہے۔

”ہم اپنے قطعی اور یقینی علم کی بناء پر جانتے ہیں کہ خلیفہ کی بہت سی بدکاریوں کا موجب یہ طریق عمل ہوا ہے۔ وہ زکوٰۃ کے روپے سے ان عورتوں اور لڑکیوں کی مالی امداد کرتے ہیں۔ جن سے بدکاری کرتے اور کرواتے ہیں۔“

(خلیفہ ربوہ مرزا محمود کی مالی بے اعتدالیاں ص ٤٨)

مبلغین کو شادی کے فوراً بعد بیرون ملک بھیجنے کا فلسفہ

”اس (مرزا محمود) نے اپنے جنون زوج کی تسکین کے لئے اپنی ”عبقریت“ کو اپنی کو، ریت میں غرق کر کے عصمت اور حیاء کے تصور کے استیصال کے لئے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کیا۔ وہ قادیان میں اپنے پرچارکوں کو شادی کے بعد معاً دور دراز ملکوں میں بھیج دیتا تھا۔ اس طرح ان کی معلقہ بیویاں اس کے لئے کال گرلز (Call Girls) بن جاتیں۔ اس طرح یہ بھی ہوا کہ ان مظلوم عورتوں کو اپنے خاوندوں کی غیر موجودگی میں بچوں کی مائیں بننا پڑا۔ اسی طرح نائیجیریا کے ایک ”مبلغ“ اور واقف زندگی کی بیوی کو یہی سانحہ المیہ پیش آیا۔ ذرا سی لہر اٹھی مگر جہاں جنسی معصیت کا دور دورہ تھا۔ وہاں یہ الم ناک حادثہ دب کر رہ گیا۔“

(فتنہ انکار ختم نبوت ص ٤٥)

باب نمبر : ٥

خطوط

شیخ عبدالرحمان مصری کے خطوط

شیخ عبدالرحمان مصری ٢٥ جی گلبرگ لاہور میں مقیم ہیں۔ ١٩٠٥ء میں انہوں نے بانی قادیانیت کے ہاتھ پر ہندو مت ترک کر کے اسلام قبول کیا۔ مولانا حکیم نور الدین کے سربراہ جماعت ہونے کے بعد، وہ عربی کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لئے مصر چلے گئے۔ واپس آکر مدرسہ احمدیہ قادیان کے ہیڈ ماسٹر مقرر ہوئے۔ ١٩٢٤ء میں جب مرزا محمود انگلستان یاترا کے لئے روانہ ہوئے تو شیخ صاحب بھی ان کے ساتھ تھے۔ یوں سمجھئے کہ مرزا محمود کی حریم میں آپ صف اوّل کے لوگوں میں شامل تھے۔ نقائص سے مبرا تو کوئی انسان نہیں ہوتا۔ نہ شیخ صاحب کو اس کا دعویٰ ہے۔ مگر واقعہ یہ ہے کہ مرزا محمود اپنی تمام ریشہ دوانیوں کے باوجود ان پر جنسی یا مالی بددیانتی کا کوئی الزام نہ لگا سکا۔ ابتداء میں جب انہیں اپنے بیٹے کے ذریعے مرزا محمود کی بدکرداری کا علم ہوا تو انہوں نے اپنے بیٹے کو عاق کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ مگر حقائق اپنا آپ منوا لیتے ہیں۔ جب انہوں

٧٧

صفحہ ٢٥٦

نے تحقیقات شروع کی تو اعتقاد کی دھند چھٹنی شروع ہوئی اور وہ حیران رہ گئے کہ یہاں انہیں کی اولاد پر ہاتھ صاف نہیں ہو رہا ہر گھر میں ڈاکہ پڑ رہا ہے۔ اس پر انہوں نے مرزا محمود کو تین پرائیویٹ خطوط لکھے۔ یہ مکاتیب پڑھنے سے پیشتر یہ سمجھنا ضروری ہے کہ یہ ایک ایسے شخص نے لکھے ہیں جو ایک معاشرہ سے تعلقات منقطع کر کے ایک نئے قادیانی ماحول میں آیا تھا اور ایک لمبے عرصہ کے بعد جب اسے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس کی عزت، معاش، اولاد کوئی چیز اس قبائلی نظام میں محفوظ نہیں ہے تو وہ اضطراب اور کرب کی جس کیفیت سے گزرتا ہے اس کا اندازہ اس امر سے ہوسکتا ہے کہ وہ خلیفہ کو بدکار اور زانی سمجھتے ہوئے بھی اسے سیدنا کے لفظ سے خطاب کرتا ہے۔ وہ بعض تحفظات کے وعدہ پر اس ریاست میں اپنی بقیہ زندگی یہ سمجھ کر بھی گزار لینے پر آمادہ ہے کہ میں ایک ایسی ریاست میں رہ رہا ہوں جس کا والی بدچلن ہے۔

یہ چیزیں بتاتی ہیں کہ ایک مخصوص ماحول میں رہتے ہوئے سماجی و معاشی رشتے انسانی ذہن کی ساخت ایسی بنا دیتے ہیں کہ وہ ان علائق کے ٹوٹنے کے خوف سے غیر شعوری طور پر اپنے آپ کو ایسے ”دلائل“ سے مطمئن کرنے کی کوشش کرتا ہے، جن کی حیثیت تار عنکبوت ایسی بھی نہیں ہوتی۔ مرزا محمود سے توبہ کا مطالبہ یا بدکاری کے جواز پر کسی سند کا مانگنا اسی قبیل کی چیزیں ہیں۔ قبائلی سماج کے معروف طریقوں کے مطابق مرزا محمود نے ان کے خلاف اپنے تنخواہ دار ملاؤں سے پروپیگنڈا شروع کروا دیا۔ انہیں قتل کرنے کی دھمکیاں دیں اور مریدوں کی توجہ اپنی زنا کاری سے ہٹانے کے لئے اس امر کی تشہیر کی گئی کہ شیخ صاحب موصوف اپنی صاحبزادی کا رشتہ اسے دینا چاہتے تھے۔ مگر جب اس میں ناکامی ہوئی تو الزامات لگانے شروع کر دئیے۔ شیخ صاحب کو جب اصلاح کی کوئی صورت نظر نہ آئی تو انہیں سمجھ آگئی کہ معیشت، ماحول اور لایعنی عقائد کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے مجبور مریدوں سے سچ بولنے اور صداقت کی حمایت کرنے کی توقع کرنا حماقت ہے۔ اس پر انہوں نے چوبیس گھنٹے کا نوٹس دے کر خلیفہ سے علیحدگی اختیار کر لی۔ اب آپ وہ خطوط ملاحظہ فرمائیں۔

(نوٹ: یہ خطوط احتساب قادیانیت جلد ٥٨ میں شائع ہو چکے ہیں۔ اس لئے یہاں سے حذف کر دئیے ہیں۔ مرتب!)

فیصلہ عدالت عالیہ ہائیکورٹ لاہور

(نوٹ: یہ فیصلہ بھی دوسری جگہ احتساب میں آگیا ہے۔ اس لئے یہاں سے حذف کر دیا ہے۔ مرتب!)

٧٨

صفحہ ٢٥٧

شیخ مصری صاحب اور میر محمد اسماعیل

مصری صاحب نے مؤلف کو بتایا کہ جب انہوں نے اپنے صاحبزادے کے انکشاف پر مرزا محمود کے بارے میں تحقیقات شروع کی تو اس قدر الم انگیز واقعات سامنے آئے کہ وہ حیران رہ گئے۔ اسی اثناء میں انہوں نے مرزا محمود کے ماموں ڈاکٹر میر محمد اسماعیل سے پوچھا کہ یہ کیا معاملہ ہے تو وہ کہنے لگے:”حضور سلسلے کا اتنا کام کرتے ہیں، اگر تھوڑی بہت یہ تفریح بھی کرلیتے ہیں تو کیا حرج ہے۔“

شیخ صاحب اور قاضی اکمل

شیخ صاحب فرماتے ہیں کہ:”جب میں نے خلیفہ صاحب“ کی اہلیہ مریم کی موت کی تفصیلات کے بارے میں ”پیغام صلح“ میں لکھنا شروع کیا اور یہ بتایا کہ اسکے رحم سے اس قدر پیپ خارج ہوتی تھی کہ مرنے کے بعد بھی بند نہیں ہوتی تھی۔ اس لئے چار مرتبہ کفن تبدیل کیا گیا تو اس مضمون کی اشاعت کے بعد قاضی اکمل نے مجھے خط لکھا اور میری تصحیح کرتے ہوئے بیان کیا کہ چار نہیں، پانچ کفن تبدیل کئے گئے تھے۔

خط و کتابت مابین عبدالرحمان اور مرزا عبدالحق

(نوٹ: یہ تمام خط و کتابت مستقل پمفلٹ کے طور پر اسی جلد میں دوسری جگہ موجود ہے۔ اس لئے یہاں سے حذف کر دیا۔ مرتب !)

مقبول اختر صاحبہ کا خط مولانا مظہر علی اظہر کے نام

مقبول اختر صاحبہ حکیم قطب الدین صاحب آف بدوملہی کی عزیزہ ہیں۔ قادیان میں انہیں مرزا محمود کے گھر میں رہنا پڑا۔ وہاں جو کچھ انہیں نظر آیا، وہ انہوں نے مولانا مظہر علی اظہر مرحوم کو لکھ دیا۔ اصل خط میں بعض الفاظ غلط طور پر لکھے گئے ہیں۔ ہم تصحیح کے بغیر انہیں بعینہ نقل کر رہے ہیں۔

(نوٹ: یہ خط احتساب میں دوسری جگہ موجود ہے۔ اس لئے یہاں سے حذف کر دیا ہے۔ مرتب!)

فسخ بیعت بنام خلیفہ قادیان

(نوٹ: یہ مستقل پمفلٹ احتساب کا جزو ہے۔ یہاں سے حذف کر دیا ہے۔ مرتب!)

٧٩

صفحہ ٢٥٨

ڈاکٹر نذیر احمد ریاض کا خط اپنے ایک دوست کے نام

آپ کو یاد ہوگا کہ جب تک ہم ربوہ میں رہے، ہماری آپس میں کچھ ایسی قلبی مجالست رہی کہ باہم مل کر طبیعت بے حد خوش ہوتی تھی۔ کبھی شعر و شاعری کے سلسلہ میں، تو کبھی مجلس کے مصنوعی تقدس پر نکتہ چینی کرنے میں بڑا لطف آتا تھا۔ دراصل خلیفہ کا اصول ہے کہ۔

مست رکھو ذکر و فکر صبح گاہی میں انہیں پختہ تر کر دو مزاج خانقاہی میں انہیں

اور خود خوب رنگ رلیاں مناؤ، عیش و عشرت میں زندگی بسر کرو۔ ہم نے تو بھائی خلوص دل سے وقف کیا تھا۔ خدا ہمیں ضرور اس کا اجر دے گا۔ انہیں یہ خلوص پسند نہ آیا۔ اللہ تعالیٰ بہتر حکم وعدل ہے۔ خود فیصلہ کردے گا کہ ٹھکرائے ہوئے ہیرے کتنے عزیز تھے۔

شروع شروع میں میرے دل کی عجیب کیفیت تھی۔ ہر وقت دل مختلف افکار کی آماجگاہ بنا رہتا تھا۔ ماں باپ کی یاد، عزیزوں کی جدائی کا احساس، دوستوں کے بچھڑنے کا غم اور حاسدوں کے تیروں کی چبھن سبھی کچھ تھا۔ لیکن۔

ہر داغ تھا اس دل میں بجز داغ ندامت

سب سے بڑا معلم انسان کی فطرت صحیحہ ہے۔ جس کی روشنی میں انسان اپنے قدموں کو استوار رکھتا ہے اور ہر افتاد پر ڈگمگانے سے بچاتا ہے۔ اگر یہ کلی طور پر مسخ ہو جائے تو پھر کسی بے راہ روی کا احساس دل میں نہیں رہتا۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنی رضا کی راہوں پر چلائے۔ آمین! آپ کا ریاض!

جناب غلام حسین صاحب احمدی فرماتے ہیں۔ میں نے اپنی شہادت کے علاوہ حبیب احمد کا بھی ذکر کیا تھا۔ وہ مجھے قادیان میں مل گئے۔ میں نے ان سے قسم دے کر دریافت کیا تو انہوں نے قسم کھا کر مجھے بتلایا کہ حضرت صاحب (مرزا محمود احمد) نے دو مرتبہ ان سے لواطت کی ہے۔ ایک دفعہ قصر خلافت میں، دوسری دفعہ ڈلہوزی میں، میں نے اس سے تحریری شہادت مانگی تو پوری تفصیل کے ساتھ نہیں لکھی۔ بلکہ نامکمل لکھ کر دی۔

حبیب احمد صاحب اعجاز اس کی پوری پوری تصدیق فرما رہے ہیں، جو درج ذیل ہے۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم! وعلیٰ عبدہ المسیح الموعود

بخدمت شریف جناب بھائی غلام حسین صاحب، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کے بعد

٨٠

صفحہ ٢٥٩

التماس ہے کہ میں نے آپ کو جو بات بتائی تھی ، میں خدا کو حاضر و ناظر جان کر کہتا ہوں کہ وہ بات بالکل صحیح ہے۔ اگر میں جھوٹ بولوں تو خدا کی لعنت ہو مجھ پر ....... خاکسار: حبیب احمد اعجاز

باب نمبر: ٦

مرزا بشیر احمد ابن مرزا غلام احمد کے کردار کی ایک جھلک

فصیح الدین کا بیان منجھلے میاں بشیر احمد کے متعلق

فصیح الدین مدرسہ احمدیہ کا ایک حسین لڑکا تھا۔ درمیانہ قد، گندمی رنگ، نقش تیکھے، ابھرے ہوئے پس اور اعلیٰ گلوکار تھا۔ جب قادیان میں آل انڈیا کبڈی ٹورنامنٹ ہوا تھا تو اس لڑکے نے نظم ”قادیان“ پڑھی ۔ تو اپنی خوش الحانی کی وجہ سے بہت مشہور ہوا۔ ویسے تو اپنے حسن اور ابھرے ہوئے پس کی وجہ سے تو پہلے ہی کافی جانا پہچانا تھا تو اس کی شہرت مرزا بشیر احمد کے پاس بھی پہنچی تو اس کو اپنی خلوت گاہ میں بلایا۔ ابھرے ہوئے پس اور موٹے ران دیکھ کر دیوانہ ہو گیا اور اپنی لذت شہوت کے لئے پسند کر لیا۔ بقول فصیح الدین پھر ............ ”حوض“ کر دی۔ ( فصیح الدین بہت منہ پھٹ تھا)

فصیح الدین نے کہا ایک دن مرزا بشیر احمد نے کہا اور بھی آپ کی طرح کا کوئی لڑکا ہے۔ میں نے جواب دیا بالکل مجھ سے بھی زیادہ خوبصورت اور موٹی رانوں والا ہے۔ مرزا بشیر احمد نے کہا تو اس کو آج میرے پاس فلاں دروازے سے بھیجو۔ فصیح کہتا ہے میں بورڈنگ میں آیا۔ مشتاق احمد شیخوپوری سے کہا۔ ”حضرت میاں بشیر احمد آپ کو یاد کر رہے ہیں ۔“ مشتاق تو پھولے نہ سمایا۔ زہے قسمت ! حضرت مرزا بشیر احمد صاحب اور میں۔ الغرض مشتاق بتائے ہوئے دروازے سے مرزا بشیر احمد کے خلوت خانہ میں داخل ہوا تو ساتھ ہی اس کی عقیدت کا شیشہ چکنا چور ہو گیا۔ اس کے ساتھ جو بیتی وہ مشتاق ہی جانتا ہے۔

فصیح کہتا ہے میں اب مشتاق کا انتظار کرنے لگا۔ وہ آئے تو اس کا حال پوچھوں۔ چنانچہ کچھ عرصہ بعد منہ لٹکائے پریشانی کے عالم میں بورڈنگ میں آ گیا۔ میں نے دیکھتے ہی پوچھا سناؤ مشتاق حضرت میاں بشیر احمد صاحب “ نے کس غرض اور مقصد کے لئے بلایا تھا۔ مشتاق نے جواب دیا۔ ” بکواس مت کرو۔“ میں نے گالی دے کر کہا۔ مرزا بشیر احمد نے تو میری ”حوض“ کر دی ہوئی ہے۔ تم صرف ایک بار تنگ پڑ گئے ہو۔

٨١

صفحہ ٢٦٠

فصیح الدین نے اس واقعہ کے بیان کرنے کے دوران کہا: مرزا بشیر احمد کا حسین بیٹا مرزا حمید بھی مجھ سے لوطی ذوق کی تسکین کیا کرتا تھا۔ ایک دن جب اپنا ذوق شہوت پورا کر چکا تو میں نے کہا آپ کے والد مرزا بشیر احمد بھی مجھے اسی ذوق کی تسکین کے لئے بلایا کرتے ہیں۔ حمید نے کہا میرا نام تو نہیں بتایا۔ فصیح کہنے لگا میں نے سرسری طور پر آپ کو بتایا ہے۔ آپ کے نام کا کبھی ذکر نہیں کیا۔

یہ واقعہ فصیح الدین نے مجھ سے خود بیان کیا اور یہ بھی بیان کیا تشکیل پاکستان کے بعد جب کہ میری عمر تباہ اور مستقبل تاریک ہو چکا تھا۔ شکایت کے طور پر میں نے مرزا محمود احمد کو اپنے دکھ کی کہانی لکھی اور ساتھ یہ بھی لکھا میں اب دیکھتا ہوں کہ آپ کیا انصاف کرتے ہیں۔ اس شکایت میں عبدالسلام اختر ایم اے کا بھی ذکر کیا تھا۔ انصاف کیا دینا تھا جب ١٩٥٦ء میں حقیقت پسند پارٹی والوں نے اخبارات میں مرزا محمود احمد پر الزامات کی بھرمار کر دی تو امور عامہ کا ایک کارکن میرے پاس آیا اور کہا۔ مجھے مرزا بشیر احمد کے اعلیٰ کردار کا مالک ہونے کے بارے میں چند سطور لکھ دو۔ میں نے کہا۔ بھئی میری چند سطور لکھنے سے بھلا مرزا بشیر احمد کا اخلاقی رتبہ کیا بڑھے گا۔ میں تو ایک چھوٹا سا آدمی ہوں۔ کسی عالم فاضل واقف کار سے لکھوائیے۔ کہنے لگا نہیں آپ ہی لکھ کر دیں۔

فصیح الدین کہنے لگا۔ بھلا ان کارکنوں اور بھیجنے والوں سے کوئی یہ پوچھے کہ جو مجھ سے لکھوا رہے ہو۔ یہ بات خود مرزا بشیر احمد کے حقیقی روپ کو ظاہر کر رہی ہے۔

لگتے ہاتھ مغل شہزادہ حمید احمد کا ایک مزید واقعہ سن لیجئے۔ وہ لوطی فعل کے لحاظ سے قادیان میں مشہور تھا اور سکول کالج اور ہوسٹل کے ارد گرد منڈلاتا رہتا تھا۔ منظور احمد میاں چنوں کا ایک حسین لڑکا تھا۔ قادیان میں پڑھتا تھا۔ جو ”بلیک بیوٹی“ کے نام سے مشہور تھا۔ گو رنگ ذرا سنولا تھا۔ لیکن نقش تیکھے، آنکھیں موٹی ، ران ابھرے ہوئے تھے۔ لوطی ذوق والے شخص کو اپنی زلف محبت کا اسیر بنا لیتا تھا۔ مرزا حمید احمد کی بھی اس پر نظر پڑی تو فریفتہ ہو گیا۔ منظور احمد نے ایک دوست سے بیان کیا کہ میرے پیچھے گرمیوں کی رخصتوں میں میاں چنوں تک آیا۔

ضمنی طور پر مرزا حمید کا ذکر صرف اس وجہ سے کیا ہے تاکہ ایک قاری قادیان کی فضا سے واقف ہو سکے اور احمدی حقیقت حال سے واقف ہو سکیں اور ان کی آنکھوں سے اندھی عقیدت کی پٹی اتر جائے۔ کسی کی بدنامی مقصود نہیں۔ صرف مقصد اظہار حقیقت ہے۔

٨٢

صفحہ ٢٦١

اہلیہ جناب عبدالرب خاں اور مرزا بشیر احمد

عبدالرب خاں حال فیصل آباد، بیان کرتے ہیں کہ: ”ہم مرزا بشیر احمد المعروف ”قمر الانبیاء“ کے گھر میں رہ رہے تھے کہ ایک رات کو آندھی سی آگئی۔ سب افراد خانہ کمروں میں جانے لگے۔ میری اہلیہ مرحومہ برآمدے سے گزر رہی تھیں کہ میاں بشیر سامنے سے آ گئے اور انہوں نے میری اہلیہ کو چھاتیوں سے پکڑنا چاہا۔ وہ بڑی غیرت مند خاتون تھیں۔ انہوں نے ایک زناٹے دار تھپڑ میاں بشیر کے چہرے پر رسید کیا۔ جس سے وہ خیرہ ہو گئے۔ صبح کے وقت انہوں نے مجھے ناشتے پر بلایا۔ میں نے انہیں اس بدمعاشی پر ڈانٹا تو وہ کہنے لگے، رات آندھی تھی، کچھ مجھے نزلہ کی شکایت بھی تھی۔ اس لئے میں نے سمجھا کہ شاید میری بیوی ہیں۔ ابھی انہوں نے اتنا ہی کہا تھا کہ میری اہلیہ اوپر سے آگئیں اور انہوں نے ایک دو ہتڑ میری پشت پر رسید کیا اور کہا: چلو اٹھو، تم اس بدمعاش کے پاس بیٹھے ہوئے ہو ۔“

مرزا بشیر احمد کا خوبرو غیور سے معاشقہ

حکیم عبدالوہاب عمر کا بیان ہے کہ مرزا بشیر احمد المعروف ”قمر الانبیاء“ ایک پٹھان لڑکے غیور میں بڑی دلچسپی لیا کرتے تھے اور ٹی آئی ہائی سکول قادیان میں انہوں نے پارٹیشن کروا کے غیور کے لئے ایک علیحدہ کمرے کا اہتمام بھی کر دیا تھا۔ غیور، پیازی رنگ کا بہت ہی حسین وجمیل لڑکا تھا۔ میاں کو اسے دیکھے بغیر چین نہ آتا تھا۔ ایک دفعہ وہ میٹرک کا امتحان دینے کے لئے بٹالہ گیا اور پھر امتحان ختم ہونے کے بعد قادیان واپس پہنچا۔ آدھی رات کا وقت تھا اور بارش ہو رہی تھی۔ میاں کو پتہ لگا تو انہیں آتش شوق نے بے قرار کر دیا اور وہ بارش میں بھیگتے ہوئے غیور کے کمرے کی کھڑکی کے سامنے جا کھڑے ہوئے اور کافی دیر اس سے گفتگو کرتے رہے۔ میاں بشیر کا ارادہ تھا کہ غیور کی شادی، صاحبزادی ناصرہ بیگم سے کروا دیں۔ مگر خلیفہ راضی نہ ہوئے۔ اس پر میاں بشیر احمد نے خان بہادر دلاور خان سے غیور کے لئے سلسلہ جنبانی کی۔ خان مذکور نے اپنی سوانح میں لکھا ہے کہ میں نے اس لڑکے کے بارہ میں تحقیقات کی تو مجھے معلوم ہوا کہ وہ منشیات کا عادی ہے۔ اس پر میں حیران ہوا کہ میاں بشیر نے ایسے لڑکے کے بارہ میں سفارش کیوں کی۔ غیور معروف ومجہول ہر رنگ میں طبع آزما رہا۔ منشیات کا عادی ہو گیا اور پھر انہی وجوہ کی بناء پر راہی ملک عدم ہوا۔

٨٣

صفحہ ٢٦٣

باب نمبر : ٧

مرزا شریف احمد ابن مرزا غلام احمد کے کردار کی ایک جھلک

عبدالکریم کی شہادت

پر کام کرتے تھے۔ اس وجہ سے ان کا بچپن مرزا شریف احمد کے گھر میں گزرا۔ انہوں نے متعدد افراد کے سامنے اور خود مؤلف کے سامنے متعدد مرتبہ بیان کیا کہ ایک مرتبہ وہ شام کے دھندلکے میں مختلف کمروں میں شمعیں روشن کر رہے تھے کہ انہیں ایک کمرے سے کچھ آوازیں سنائی دیں۔ کمرے کے اندر گئے تو وہاں مرزا شریف احمد استانی میمونہ کی صاحبزادی صادقہ کے ساتھ مصروف پیکار تھا۔ دروازہ کھلا تو صادقہ کی جان میں جان آئی اور میاں شریف بھی آہستہ سے کھسک گیا اور صادقہ نے ان کا شکریہ ادا کیا۔

گاہے ماہے انبالے جانے کا موقع ملتا تھا۔ ایک مرتبہ وہ ایک خوبصورت بے ریش، امرد ہندو لڑکے جگدیش کو بہلا پھسلا کر اپنے ساتھ لے آئے اور پھر ایک عرصہ تک اس کے ساتھ بہیمیت کے واقعات لوگوں کی زبان پر آتے رہے۔

کی سہیلی صادقہ ملنے آگئی۔ مرزا شریف احمد اس لڑکی کو دیکھ کر ایک قدآور شیشہ کے سامنے بالکل عریاں کھڑے ہو گئے اور ناشائستہ حرکتیں شروع کر دیں۔ جب امۃ الودود نے اس نازیبا حرکت کو دیکھا تو مارے صدمہ اس کے دماغ کی رگ پھٹ گئی۔ کوئی قاری اس پر کئی سوال اٹھا سکتا ہے۔ کیا عبدالکریم نے خود مرزا شریف احمد کو عریاں کھڑے دیکھا تھا۔ یا عبدالکریم کے خاندان کے کسی فرد نے یہ حرکت دیکھی۔ جب عبدالکریم نے مجھ سے یہ بات بیان کی تو میں نے اس سے مزید سوالات نہیں کئے تھے۔ اس کو یہ خبر کیسے اور کہاں سے ملی۔ جو لوگ مرزا شریف احمد کے کردار کو

١؎ قادیان میں یہی مشہور تھا کہ امۃ الودود کے دماغ کی رگ کسی صدمہ سے پھٹی ہے۔ اس عقدہ کو عبدالکریم نے پاکستان میں آ کر کھولا۔ حامی صاحب نے امۃ الودود کی موت کو کالج کے تالاب میں ڈوبنے سے تعبیر کیا ہے۔ میں نے وہاں بھی شک کا اظہار کیا تھا۔ میرا خیال ہے کہ حامی صاحب کو غلط فہمی ہوئی ہے۔ تالاب میں غلام رسول پٹھان کی بیٹی ہی ڈوبی گئی تھی۔

٨٤

جانتے ہیں۔ ان سے اس قسم کی حرکت بعید نہیں میں مرزا شریف احمد کا کردار اپنے بھائی مرزا محمود تھا۔ اکثر قادیان میں یہ ہوا ہے کہ کوئی لڑکی مرزا گزرتی تو اس کو پکڑ کر منہ سے پردہ الگ کر دیتے آجاتی تو اپنے گھر لے جاتے۔

میں نے ریکارڈ کے طور پر اس بیان ذریعہ سے بھی ہو جائے۔ عبدالکریم جماعت احمدیہ حلفاً یہ بیان کی کہ ایک دفعہ موصوف نے رؤیاء میں چپ چپ کرتے پانی پیتے دیکھا ہے۔ موصوف خاندان کی بدکرداری سے قادیان سے واقف تھا

باب نمبر : ٨

مرزا ناصر احمد ابن مرزا محمود احمد

مرزا ناصر احمد ”خلیفہ الثالث“ کے متعلق

چوہدری عبدالحمید صاحب بھو والی

ٹی آئی کالج کے بیانات :

چوہدری عبدالحمید صاحب بھو والی تقسیم ہند کے بعد ایک دفعہ میری ان سے ملاقات مرزا ناصر احمد کے کردار سے متعلق پوچھا (اس وقت موصوف نے کہا۔ ”بلیک بیوٹی“ کو جانتے ہو میں نے عبدالحمید صاحب نے کہا مرزا ناصر احمد اس بیوٹی کرتے تھے۔ جب کہ ان کے دفتر میں کئی پروفیسر چند لڑکوں نے بلیک بیوٹی سے پوچھا۔ یار ! میاں میں بھی بلا لیتے ہیں۔ آپ کو بہت لفٹ دیتے ہیں یار کچھ بھی نہیں۔ صرف بوس و کنار کر لیتے ہیں۔

صفحہ ٢٦٣

جانتے ہیں۔ ان سے اس قسم کی حرکت بعید نہیں۔ نشہ کرتے تھے۔ نشہ کا ٹیکا لگواتے تھے۔ حقیقت میں مرزا شریف احمد کا کردار اپنے بھائی مرزا محمود احمد سے بھی زیادہ غلیظ ناپاک اور ناقابل یقین تھا۔ اکثر قادیان میں یہ ہوا ہے کہ کوئی لڑکی مرزا شریف احمد کو دیکھ کر پردہ کر لیتی تو جب پاس سے گزرتی تو اس کو پکڑ کر منہ سے پردہ الگ کر دیتے اور کہتے مجھ سے کیا شرم محسوس کرتی ہو۔ اگر پسند آجاتی تو اپنے گھر لے جاتے۔

میں نے ریکارڈ کے طور پر اس بیان کو لکھ دیا ہے۔ ممکن ہے اس کی تصحیح کسی دوسرے ذریعہ سے بھی ہو جائے۔ عبدالکریم جماعت احمدیہ ربوہ سے الگ ہو گئے تھے۔ الگ ہونے کی وجہ حلفاً یہ بیان کی کہ ایک دفعہ موصوف نے رویاء میں مرزا محمود احمد کو ایک گندی نالی سے کتے کی طرح چپ چپ کرتے پانی پیتے دیکھا ہے۔ موصوف نے بیان کیا کہ وہ مرزا محمود احمد اور دیگر افراد خاندان کی بدکرداری سے قادیان سے واقف تھا۔

باب نمبر :٨

مرزا ناصر احمد ابن مرزا محمود احمد سر براہ ثالث جماعت احمدیہ ربوہ

مرزا ناصر احمد ”خلیفہ الثالث“ کے متعلق چند حقائق

چوہدری عبدالحمید صاحب بھو والی ضلع نارووال اور متعلم چوہدری محمد اشرف متعلم ٹی آئی کالج کے بیانات:

چوہدری عبدالحمید صاحب بھو والی ضلع نارووال ٹی آئی کالج قادیان کے متعلم تھے۔ تقسیم ہند کے بعد ایک دفعہ میری ان سے اتفاقاً لاہور میں ملاقات ہوگئی۔ میں نے ان سے مرزا ناصر احمد کے کردار سے متعلق پوچھا (اس وقت مجھے مرزا محمود احمد کی بدچلنیوں کا علم ہو چکا تھا) موصوف نے کہا۔ ”بلیک بیوٹی“ کو جانتے ہو میں نے کہا بخوبی تعلیم الاسلام کالج میں پڑھتا تھا۔ عبدالحمید صاحب نے کہا مرزا ناصر احمد اس میں بڑی دلچسپی لیتے تھے۔ اپنے دفتر میں بھی بلا لیا کرتے تھے۔ جب کہ ان کے دفتر میں کسی پروفیسر کو بھی جانے کی اجازت نہ ہوتی تھی۔ ایک دن چند لڑکوں نے بلیک بیوٹی سے پوچھا۔ یار! میاں صاحب آپ کے ساتھ بڑا پیار کرتے ہیں۔ دفتر میں بھی بلا لیتے ہیں۔ آپ کو بہت لفٹ دیتے ہیں۔ خیر ہے۔ بلیک بیوٹی بڑی سادگی سے کہنے لگا۔ یار کچھ بھی نہیں۔ صرف بوس و کنار کر لیتے ہیں۔ کبھی کبھی آغوش میں بٹھا کر پیار کر لیتے ہیں۔

٨٥

صفحہ ٢٦٤

قارئین کی دلچسپی کے لئے بلیک بیوٹی سے متعلق مزید چند سطور لکھتا ہوں۔ بلیک بیوٹی اپنے حسن و زیبائش میں قادیان کی ایک جانی پہچانی شخصیت تھی اور اسی نام سے مشہور تھا۔ قادیان میں بعض شخصیات اپنے وصفی ناموں سے مشہور تھیں۔ کئی لوگ ان کے ذاتی ناموں سے بھی ناواقف ہوتے تھے۔ مثلاً مولوی جٹ (مولوی عبدالرحمن ہیڈ ماسٹر مدرسہ احمدیہ) مولوی جنگلی (مولوی ظہور الحسن) ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں سینیٹر بھی رہا تھا۔ ڈاہڈا (عبدالحمید) سید صاحب (محافظ مرزا محمود احمد) لاہوری (رفیق احمد) وغیرہ۔

حقیقت یہ ہے کہ میں اس متعلم کے نام سے ناواقف ہوں۔ اس لڑکے کو اللہ تعالیٰ نے حسن کی نعمت سے نوازا تھا۔ گورا رنگ ذرا گندمی تھا۔ کسی حد تک نسوانی مائل تھا۔ لیکن اعضاء کی موزونیت اور اعتدال کی وجہ سے حسن کا ایک شاہکار تھا۔ انگ انگ سے رعنائی ٹپکتی تھی۔ عجیب موٹی نیم وا آنکھیں تھیں۔ (جن میں مستی چھائی رہتی تھی) خوبصورت کپڑے زیب تن کرتا تھا۔ بلا کا نخرہ تھا۔ معلوم ہوتا تھا کہ اپنے حسن پر نازاں ہے۔ جب ہاسٹل (واقع محلہ دارالعلوم) سے نماز جمعہ پڑھنے کے لئے اقصیٰ آتا تو اس کی ایک جھلک دیکھنے کے لئے لڑکیاں اپنے گھر کے دروازے کی اوٹ میں کھڑی رہتی تھیں۔ گویا وہ جیتا جاگتا قادیان میں ایک فتنہ حسن تھا۔

محمد اشرف صاحب کا اپنے قلبی دکھ کا اظہار

محمد اشرف گورداسپور کے کسی گاؤں کا رہنے والا تھا۔ ٹی۔آئی کالج کا طالب علم تھا۔ جسیم اور خوبصورت تھا۔ کبڈی کا کھلاڑی بھی تھا۔ مرزا ناصر احمد کا بہت ہی چہیتا تھا۔ اس کو بھی ایک لڑکے مجید سے پیار ہو گیا۔ مدتوں ہاسٹل میں اکٹھے ہی سوئے رہتے تھے۔ ہاسٹل سپرنٹنڈنٹ اس وجہ سے نالاں تھا۔ اس بناء پر سپرنٹنڈنٹ سے اکثر جھگڑا رہتا تھا۔ اشرف تھا میاں صاحب کا چہیتا۔ جب بات انتظامی لحاظ سے سنگین ہوئی تو مرزا ناصر احمد اشرف کو اپنے گھر میں لے گیا۔ کوٹھی کا ایک کمرہ سجا کر دے دیا۔ ساتھ ہی اچھے دستر خوان کا بندوبست ہو گیا۔ دراصل گھر میں لے جانے کی وجہ اپنی بیوی کی ”خدمت“ کروانا تھی۔ مرزا ناصر احمد کی بیوی نواب مبارکہ کی بیٹی تھی۔ ماں کی طرح وہ بھی شہوت کا جوالہ تھی۔ اس کی آتش شہوت کو بجھانا مرزا ناصر احمد کے بس کا روگ نہیں تھا۔ مرزا ناصر موٹے جسم بھدے اعضاء کا مالک تھا۔ بقول مولوی حکیم عبدالوہاب قوت رجولیت کے لحاظ سے کمزور تھا۔ اشرف چند ہی مہینوں میں چوسا ہوا آم ہو گیا۔ تمام موصوف کو جاننے والے حیران ہو گئے کہ اس جسیم نوجوان کو کیا ہو گیا ہے۔ ممکن ہے رازداں جانتے ہوں۔

٨٦

صفحہ ٢٦٥

بہر حال مجھے قادیان میں اس کی گرتی ہوئی صحت کا راز معلوم نہیں تھا۔ جب تقسیم ہند کے بعد مرزا محمود احمد کی بدچلنیوں کا علم ہوا تو اس وقت اس کے خاندان کے افراد کی بھی بدکاریوں کی کہانیاں سنیں تو پھر اشرف کی صحت کے گرنے کا راز معلوم ہوا۔

دوم اشرف کی زبانی بھی یہ الفاظ سنے ۔ ”بڑے مرزا صاحب کی عزت کی وجہ سے تو میری زبان گنگ ہے۔“ یہ دکیا کلمہ مگر تفصیل تو پھر پوچھی کہ وہ کون سے حقائق ہیں جو بڑے مرزا قادیانی کی عزت کی خاطر اپنی زبان پر نہیں لاتے تھے۔ بہر حال اشرف کا ماضی میری آنکھوں کے سامنے آ گیا کہ وہ یہ کلمہ کہہ کر بیان کر رہا ہے۔ محمد اشرف صاحب ائیر فورس میں کسی اچھے عہدے پر فائز ہو گئے تھے۔ اب معلوم نہیں وہ کہاں ہیں ۔ غالباً احمدیت سے تائب ہو چکے ہیں اس کا ربوہ میں آنا جانا کبھی نہیں دیکھا۔ اگر کسی کو اس کا علم ہو تو وہ مجھے علم و عرفان اردو بازار لاہور کے پتہ پر مطلع کرے۔

باب نمبر: ٩

مرزا محمود کے قتل

امتہ الحئی کی وفات کا قصہ

امتہ الحئی صاحبہ کا پہلے ذکر آچکا ہے تو گویا خلیفہ کی بدکاریوں کو اجاگر کرنے کے لئے دیوان سنگھ مفتون کو ایک خط لکھا۔ اس خط کا ذکر قادیان میں بھی سننے میں آیا تھا۔ تقسیم ہند کے بعد میں نے محمد شفیع صاحب ایک احراری سے بھی سنا تھا۔ محمد شفیع نے بیان کیا کہ ایک دفعہ امرتسر میں دیوان سنگھ مفتون کے گرفتاری کے وارنٹ نکلے تو میرے گھر آئے تو کچھ قیمتی کاغذات دیئے ۔ ایک ڈبیہ بھی تھی ۔ مفتون صاحب نے کہا شفیع ! اس ڈبیہ کا خاص خیال رکھنا اس میں مرزا محمود احمد خلیفہ قادیان کی بیوی امتہ الحئی کا ایک خط ہے ۔ شفیع صاحب کہنے لگے۔ مفتون صاحب اپنی رہائی کے بعد اپنی امانت لے گئے ۔ شفیع صاحب نے مفتون صاحب سے پوچھا اس خط کا متن کیا ہے۔ کہا مرزا محمود کی بدکاریاں ۔

غرض مرزا محمود احمد کو اس خط کا علم ہو گیا تو امتہ الحئی کو زہر دے کر مروا دیا گیا۔ امتہ الحئی کی والدہ اور اس کے بھائی مولوی حکیم عبد الوہاب ، مولوی عبد السلام ، مولوی عبد المنان اور دیگر افراد خانہ یہی کہتے ہیں کہ مرزا محمود نے امتہ الحئی کو زہر دے کر مروایا تھا ۔

٨٧

صفحہ ٢٦٦

میر محمد اسحاق کی وفات کا قصہ

میر محمد اسحاق، میر ناصر ١؎ کے لڑکے تھے اور مرزا محمود احمد کے ماموں، میر صاحب ایک اعلیٰ درجے کے مقرر اور مناظر تھے۔ حدیث کا درس اقصیٰ میں دیا کرتے تھے۔ مدرسہ احمدیہ کے ہیڈ ماسٹر تھے اور مہمان خانے کے بھی انچارج تھے۔ اعلیٰ مقرر ہونے کی وجہ سے مرزا محمود احمد موصوف کو تقریر کرنے کے لئے سٹیج پر نہیں آنے دیتے تھے۔ مہمان خانہ میں درس قرآن بھی دیا کرتے تھے۔ میر صاحب کی مقبولیت بڑھ جانے کی وجہ سے درس قرآن بھی بند کروا دیا۔

مرزا محمود احمد نے ایک جمعہ کے خطبہ میں مصلح موعود (خدا کا مامور ہونے کا دعویٰ ہے) ہونے کا دعویٰ کر دیا۔ بقول مولوی عبدالمنان عمر چند مخصوص دوست میر محمد اسحاق کے پاس بیٹھے ہوئے تھے تو کہنے لگے۔ لو اب اس بدکار نے بھی مصلح موعود (مامور) ہونے کا دعویٰ کر دیا ہے۔ نامعلوم یہ خبر مرزا محمود احمد تک کیسے پہنچ گئی۔ سازش سے شاہ ولی اللہ کی زیر صدارت کسی معاملہ پر مشورہ کرنے کے لئے ایک اجلاس بلایا۔ اجلاس کے اختتام پر حاضرین اجلاس کو چائے دی گئی۔ میر صاحب کی چائے میں سم قاتل ملا دیا گیا۔ دفتر سے نکل کر چوک میں آئے ہی تھے کہ گر جان دے دی۔ منہ سے خون جاری تھا۔ ان کے بھائی میر ڈاکٹر محمد اسماعیل کو وفات کا علم ہوا تو موقع پر آئے تو ان کی زبان سے بے ساختہ نکل گیا کہ ”میرے بھائی کو زہر دیا گیا ہے۔“

سارہ اور ام وسیم پاگل ہوگئیں

کون سی عورت ہے جو یہ پسند کرے کہ اس کا خاوند دوسری عورتوں کے پاس جائے۔ اس سے بڑھ کر اس کا خاوند دوسروں سے ہم بستری پر بھی مجبور کرے۔ سارہ اور ام وسیم بھی ان بدنصیب عورتوں میں سے تھیں۔ جو مرزا محمود احمد کے عقد نکاح میں آئیں۔ پھر ان کی دوسروں کے ہاتھوں عصمت تار تار ہوئی۔ کربِ مسلسل گناہ کی زندگی گزارنے کی وجہ سے بقول ڈاکٹر محمد احمد حامی پاگل ہوگئی تھیں۔

١؎ پیر ناصر نواب دہلی کے رہنے والے تھے۔ ملازمت کے سلسلہ میں قادیان کے

قریب ایک نہر پر کام کرنے والے مزدوروں پر ہیڈ سپر وائزر تھے۔ ملازمت سے سبکدوشی کے بعد قادیان میں سبزی کی دکان کھول لی تھی۔ جب مرزا غلام احمد قادیانی کی پہلی بیوی سے جدائی ہوگئی۔ خاندان میں سے کوئی شخص بھی مرزا قادیانی کی بیکاری کی وجہ سے لڑکی دینے پر رضامند نہ ہوا تو کسی نے میر ناصر نواب کی لڑکی سے مرزا قادیانی کی شادی کروا دی۔ اس کے دو بیٹے تھے۔ میر محمد اسحاق اور میر محمد اسماعیل۔

٨٨

ڈاکٹر محمد احمد حامی کا بیان (روزی ابوالہاشم کی لڑکی محمد یوسف ٹھیک ڈیزی پر مرزا محمود احمد نے مجرمانہ حملہ کیا تھا کیا۔ بعض مواقع پر برملا اس کا اظہار کیا تو بیوی کو آج ہی ختم کر دو۔ میں تمہاری ایک ٹھیکیدار نے اپنی بیوی کو گولی کا نشانہ بنا امریکہ) سے گولی چل گئی ہے۔ لہٰذا مقدمہ سے اس کی شادی کر دی گئی۔ ظفر آج کل کروا سکتے ہیں۔ یا ظفر اس کی خود شہادت ک

حضرت مولانا فخر الدین ملتانی کا

جناب عبدالرحمان مصری کے کیا۔ بدکرداری کے الزامات لگائے۔ فخرا اور لٹریچر شائع ہوتا تھا۔ مرزا محمود احمد کو اطلا ہے تو اپنے خطبہ میں جماعت کا اشتعال د فخرالدین ملتانی پر قاتلانہ حملہ کیا۔ ١٤؍ اگس صاحب نے بھی کیا کہ فخر الدین ملتانی کی م

باب نمبر : ١٠

مرزا محمو

مرزا محمود احمد کی بیماری کے آخری

سید شہود احمد (شودی) سید خو وجہ سے مرزا محمود احمد کے خاندان کا حصہ تھی۔ جس کا بیٹا طاہر احمد جماعت احمدیہ سید خاندان کے اکثر افراد مرزا محمود کی بدا الگ ہوچکے ہیں۔ بلکہ وہ مرزا محمود احمد کی

صفحہ ٢٦٧

ڈاکٹر محمد احمد حامی کا بیان (روزی کا قتل)

ابوالہاشم کی لڑکی محمد یوسف ٹھیکیدار کے نکاح میں تھی۔ جب ان کی دو بہنوں روزی اور ڈیزی پر مرزا محمود احمد نے مجرمانہ حملہ کیا تو محمد یوسف کی بیوی روزی اور ڈیزی نے سخت احتجاج کیا۔ بعض مواقع پر برملا اس کا اظہار کیا تو مرزا محمود احمد نے محمد یوسف ٹھیکیدار کو بلایا اور کہا۔ اپنی بیوی کو آج ہی ختم کردو۔ میں تمہاری ایک حسین و جمیل لڑکی کے ساتھ شادی کروادوں گا۔ چنانچہ ٹھیکیدار نے اپنی بیوی کو گولی کا نشانہ بنا کر قتل کردیا۔ مقدمہ یہ بنایا کہ میرے بیٹے ظفر (حال امریکہ) سے گولی چل گئی ہے۔ لہذا مقدمہ رفع دفع ہوگیا۔ ایک ہفتہ کے بعد خان فرزند علی کی لڑکی سے اس کی شادی کردی گئی۔ ظفر آج کل امریکہ میں کسی جگہ مقیم ہے۔ احمدی اس سے تصدیق کرواسکتے ہیں۔ یا ظفر اس کی خود شہادت کی تصدیق یا تکذیب کرسکتا ہے۔

حضرت مولانا فخر الدین ملتانی کا قتل

جناب عبدالرحمان مصری کے ساتھ مولانا فخر الدین ملتانی نے بھی جماعت سے خروج کیا۔ بدکرداری کے الزامات لگائے۔ فخر الدین ملتانی کے گھر ہی مرزا محمود احمد کے خلاف پمفلٹ اور لٹریچر شائع ہوتا تھا۔ مرزا محمود احمد کو اطلاع ملی کہ ”فحش مرکز“ کے نام کا ایک اشتہار شائع ہورہا ہے تو اپنے خطبہ میں جماعت کا اشتعال دلایا۔ چنانچہ ایک عزیز احمد نامی شخص نے جوش میں آکر فخر الدین ملتانی پر قاتلانہ حملہ کیا۔ ١٣؍اگست ١٩٣٧ء کو اس دنیا سے کوچ کرگئے۔ جس کا اقرار جج صاحب نے بھی کیا کہ فخر الدین ملتانی کی موت اشتعال انگیز خطبہ کی وجہ سے ہوئی ہے۔

باب نمبر:١٠

مرزا محمود کا عبرتناک انجام

مرزا محمود احمد کی بیماری کے آخری دس سالوں کی کہانی بزبان سید شہود احمد

سید شہود احمد (شوری) سید خاندان کا چشم و چراغ ہے۔ یہ خاندان رشتے داریوں کی وجہ سے مرزا محمود احمد کے خاندان کا حصہ ہی سمجھا جاتا ہے۔ ام طاہر اسی خاندان کی مظلوم عورت تھی۔ جس کا بیٹا طاہر احمد جماعت احمدیہ ربوہ کے چوتھا سربراہ بنا۔ ضمنی طور پر یہ بیان کرتا چلوں۔ سید خاندان کے اکثر افراد مرزا محمود کی بدکاریوں کی وجہ سے پاکستان سے باہر جاکر جماعت سے الگ ہوچکے ہیں۔ بلکہ وہ مرزا محمود احمد کی بدکاری کی اشاعت کے مبلغ ہیں۔ گورنمنٹ کی وجہ سے

٨٩

صفحہ ٢٦٨

لکھنے سے ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں۔ ایک وقت آئے گا انہی کی قلموں سے اس قسم کی کتابیں منصہ شہود پر آئیں گی۔

سید شہود احمد مرزا محمود احمد کی بیماری کے آخری دس سالوں کا نقشہ کھینچتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا عذاب تو میں نے مرزا محمود احمد کی زندگی کے آخری سالوں میں دیکھ لیا تھا۔ مرزا محمود ذہنی طور پر بالکل ماؤف ہو چکا تھا۔ جسم سکڑ گیا تھا۔ زبان گنگ تھی۔ جسم زخموں سے بھرا ہوا تھا۔ زخموں سے بدبو آتی تھی۔ کوئی آدمی پاس کھڑا نہ ہو سکتا تھا۔ کبھی کبھی اپنا گند منہ پر بھی مل لیتا تھا۔ اس وجہ سے اس کے ہاتھ باندھ دیئے جاتے۔ ہر وقت سر دائیں بائیں ہلاتا رہتا۔ خاندان کے تمام افراد کو اتنی نفرت تھی اس کے کمرہ میں جانا پسند نہیں کرتے تھے۔ بیویاں تو بالکل ہی چھوڑ چکی تھیں۔ جو ملازم خدمت کے لئے رکھا تھا وہ بھی بدبو کی وجہ سے ناک پر کپڑا رکھ لیتا۔ مشکل سے خوراک کھلاتا۔ کمرے اور بستر کی صفائی کرتا۔ ڈیوٹی پر کیا عذاب تھا۔ وہ بیچارا سہاروں سے چل پھر نہ سکتا تھا۔ یہ بد بخت تو اپنے پاؤں زمین پر بھی نہیں رکھ سکتا تھا۔ جب لوگوں کو ملاقات کروائی ہوتی تا کہ ان کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالا جا سکے۔ مرزا محمود کو بیہوشی کا ٹیکا لگا دیا جاتا۔ تمام جسم پر سفید چادر ڈال دی جاتی اور منہ پر میک اپ کر دیا جاتا۔ خوشبو انڈیلی جاتی۔ ہدایت ہوتی کہ روپے پھینکتے جاؤ اور چارپائی کے پاس سے گزرتے جاؤ۔

ایک دفعہ چوہدری محمد ظفر اللہ ملاقات کے لئے گئے۔ ملاقات کیا کرنی تھی صرف بیماری کی کیفیت معلوم کرنا تھی۔ ان کی ملاقات سے پہلے ٹیکہ لگا دیا گیا۔ خوشبو لگائی گئی۔ میک اپ کیا گیا۔ ملاقات کے بعد چوہدری صاحب نے تقریر کی اور کہا میں نے حضور کی جو ناگفتہ بہ حالت دیکھی میں اس کو بیان نہیں کر سکتا۔ یہ ہمارے بداعمالیوں کا نتیجہ ہے۔ (گویا مرزا محمود احمد ہمارے گناہوں کی سزا بھگت رہے ہیں۔ یہ وہی عیسائیوں کا بدعقیدہ ہے کہ یسوع مسیح ہمارے گناہوں کا بوجھ اٹھا کر صلیب پر چڑھ گئے) یہ تقریر مرزا رفیع احمد کی زیر صدارت ہو رہی تھی۔ تقریر کے بعد صدارتی تقریر میں مرزا رفیع نے حاضرین کو تنبیہ کیا کہ ”حضور“ کی بیماری کے متعلق چوہدری صاحب تو تبصرہ کر سکتے ہیں۔ لیکن کسی دوسرے کو اجازت نہیں دی جا سکتی۔

خلیفہ محمود خود اپنی بیماری سے متعلق لکھتا ہے: ”مجھ پر فالج کا حملہ ہوا اور اب میں پاخانہ پیشاب کے لئے بھی امداد کا محتاج ہوں۔ دو قدم بھی چل نہیں سکتا۔“

(الفضل مورخہ ١٢؍ اپریل ١٩٥٥ء)

”٢٦؍ فروری کو مغرب کے قریب مجھ پر بائیں طرف فالج کا حملہ ہوا اور تھوڑے وقت کے لئے میں ہاتھ پاؤں سے معذور ہو گیا...... دماغ کا عمل معطل ہو گیا اور دماغ نے کام کرنا چھوڑ دیا۔“

٩٠

صفحہ ٢٦٩

”میں اس وقت بالکل بیمار ہوں اور ایک منٹ نہیں سوچ سکتا۔“

(الفضل مورخہ ٢٦؍اپریل ١٩٥٥ء)

ذرا مرزا محمود احمد کی بیماری کا جائزہ ڈاکٹر اسماعیل کے اس بیان کی روشنی میں لیجئے تو مرزا محمود احمد کی بدکاری کا الزام خود ثابت ہو جاتا ہے۔

ڈاکٹر موصوف لکھتے ہیں: ”بڑا الزام یہ لگایا جاتا ہے کہ خلیفہ عیاش ہے۔ اس کے متعلق میں کہتا ہوں میں ڈاکٹر ہوں اور میں جانتا ہوں کہ وہ لوگ جو چند دن بھی عیاشی میں پڑ جائیں وہ وہ ہو جاتے ہیں۔ جنہیں انگریزی میں (Wreck) کہتے ہیں۔ ایسے انسان کا دماغ کام کا رہتا ہے نہ عقل درست رہتی ہے۔ نہ حرکات صحیح طور پر کرتا ہے۔ غرض سب قویٰ اس کے برباد ہو جاتے ہیں اور سر سے لے کر پیر تک اس پر نظر ڈالنے سے فوراً معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ عیاشی میں پڑ کر اپنے آپ کو برباد کر چکا ہے۔ اسی لئے کہتے ہیں ”الزنا یخرج البناء“ کہ زنا انسان کو بنیاد سے نکال دیتا ہے۔“

(الفضل مورخہ ١٠؍ جولائی ١٩٣٧ء)

بقول میاں عبد المنان عمر جب خلیفہ کو مشہور ڈاکٹر جما کے پاس طبی معائنہ کے لئے لے جایا گیا تو کسی نے ڈاکٹر صاحب سے پوچھا کہ خلیفہ کو کیا بیماری ہے تو ڈاکٹر نے کہا: ”یہ بیماری کسی شریف آدمی کو نہیں لگتی۔“

مرزا محمود جس کربناک موذی اور دکھ دینے والی بیماری میں مبتلا ہوا تھا وہ ان کی بدکاری اور سیہ کاری پر ایک واضح برہان اور قاطع دلیل ہے۔

باب نمبر: ١١

جماعت احمدیہ کا فکری انتشار اور مستقبل

جماعت احمدیہ کا فکری انتشار

جماعت احمدیہ شروع سے ہی فکری انتشار کا شکار ہے۔ بعض لوگ مرزا قادیانی کو نبی مانتے ہیں اور بعض مجدد اور مصلح۔ جب مولوی نور الدین مرزا قادیانی کے حلقہ ارادت میں آئے تو ہزاروں لوگ مولوی کے علم اور عقیدت کی وجہ سے جماعت میں داخل ہو گئے۔ بعض وہ بھی لوگ تھے جو جماعت میں تو داخل نہ ہوئے لیکن جماعت کے ساتھ عقیدت ضرور رکھتے تھے۔ یہ لوگ مولوی نور الدین کو مرزا غلام احمد پر فضیلت دیتے تھے۔ جیسا کہ مرزا خدا بخش نے اپنی کتاب عسل مصفےٰ میں مولوی نور الدین کے ذکر کے ضمن میں بیان کیا ہے۔ یہ کتاب مرزا قادیانی کی زندگی میں

٩١

صفحہ ٢٧٠

ہی چھپ گئی تھی۔ مرزا قادیانی کے آخری سالوں میں یہ فکری انتشار مزید بڑھ گیا تھا۔ مرزا قادیانی کی وفات کے بعد مولوی نور الدین پہلے سربراہ جماعت متفقہ طور پر منتخب ہو گئے۔ مولوی کے دور سربراہی میں ہی جماعت فکری لحاظ سے دوگروہوں میں بٹ گئی۔ ایک گروہ کا قائد مرزا محمود احمد اور دوسرے گروہ کے خواجہ کمال الدین تھے۔ مرزا محمود کے رشتہ داروں (نواب محمد علی، میر محمد اسحاق، میر ناصر وغیرہ ) نے مولوی نور الدین پر دباؤ ڈالا کہ اپنے بعد مرزا محمود احمد کو جماعت کا سربراہ نامزد کر دیں۔ مولوی نور الدین ، مرزا محمود احمد کی سیاہ کاریوں سے واقف ہو چکے تھے۔ نامزد کرنے سے انکار کر دیا تو پھر مرزا محمود احمد اور ان کے رفقاء نے جماعت کی سربراہی کے حصول کے لئے ایک تنظیم قائم کر لی۔ جس کا نام ” انصار اللہ“ رکھا۔ ایک اخبار ” الفضل“ جاری کیا۔ چندے لینا شروع کر دیئے۔ ایک مضبوط تنظیم قائم کر لی۔ اس تنظیم میں زیادہ تر نوجوان تھے۔ ان نوجوانوں کا قائد فتح محمد سیال تھا۔ میر ناصر نواب نے ہندوستان کی تمام جماعتوں میں جاکر اپنے نواسے محمود کی خلافت کا پروپیگنڈا کیا۔ اس کے ساتھ مولوی نور الدین کے متعلق یہ ریمارکس بھی دیئے کہ یہ تو بھیرہ کا نائی ہے اور جماعت کے ٹکڑوں پر پل رہا ہے۔ مرزا محمود کے سامنے اس کی علمی اور روحانی حیثیت ہی کیا ہے؟ جو لوگ مولوی نور الدین کے ساتھ عقیدت رکھتے تھے وہ بددل ہو گئے۔ جب مولوی نور الدین فوت ہوا تو بقول میر محمد اسحاق ” نور دیئے “ جماعت سے الگ ہو گئے۔ میں ان خاندانوں کے ناموں کا ذکر نہیں کرتا۔ اب ان کا پاکستان کی سیاست اور ملازمتوں میں ایک نام ہے۔

جماعت سے علیحدگی اس فکری انتشار کا نتیجہ تھی۔ اس کے علاوہ خلافت کا جھگڑا بھی فکری انتشار کی وجہ سے ہوا تھا۔ مولوی نور الدین کے شاگردوں (مولوی محمد علی، مولوی صدر الدین، خواجہ کمال الدین وغیرہ ) نے مرزا محمود احمد کو بداعتقادی اور بدکاری کی وجہ سے سربراہ جماعت تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ آخر کار ان کو قادیان سے نکلنا پڑا یا ان کو زبردستی نکال دیا۔ وہ لاہور میں آگئے۔ ان کے سامنے دو راستے تھے یا اپنے اپنے روزگار تلاش کر کے اپنی زندگی گزاریں یا جماعت بندی کریں۔ ان نوجوانوں نے دوسرا راستہ ” جماعت بندی “ کا اختیار کیا اور اپنے ہم خیال اور ”نور دیئے“ اکٹھے کئے۔ احمدیہ جماعت لاہور کی بنیاد رکھ کر کام کرنا شروع کر دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ مرزا محمود احمد کو علم ہی نہیں تھا کہ یہ نوجوان الگ جماعت بندی کرلیں گے۔ اگر ان کو علم ہوتا اس کے بالمقابل ایک جماعت قائم ہو جائے گی تو ان نوجوانوں کو اپنی بیعت میں نہ لیتے ہوئے بھی قادیان میں ہی جماعت کے ساتھ وابستہ رہنے کی ترجیح دیتا۔ اس طرح جماعت احمدیہ (قادیانیت) دوگروہوں قادیانی اور لاہوری میں بٹ گئی۔ یہ گروہ بندی بھی فکری انتشار کی وجہ سے ہوئی تھی۔

٩٢

صفحہ ١٧١

قادیانی گروہ میں کئی قسم کے لوگ ہیں۔ بعض وہ لوگ تھے اور ہیں جو مرزا محمود احمد کو بدکار اور بداعتقاد مانتے تھے اور ہیں۔ صرف معاشرتی اور مالی مجبوریوں کی وجہ سے جماعت میں شامل رہے۔ مثلاً بابو غلام فرید (ایم اے انگلش) انگریزی زبان میں قرآن مجید کا ترجمہ بھی کیا۔ ریویو آف ریلیجنز کے ایڈیٹر اور انگلستان میں احمدیہ مشن کے انچارج بھی رہے ہیں۔ چوہدری عبدالرحمان (جٹ خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ تعلیم الاسلام ہائی سکول کے ہیڈ ماسٹر رہے ہیں) محمد جی فاضل (پٹھان تھے۔ مدرسہ احمدیہ میں مدرس تھے۔ عربی ڈکشنری مرتب کی تھی) چوہدری حاکم علی (چک نمبر ٩ شمالی ضلع سرگودھا کے رہنے والے تھے۔ انہی کی بیوی نے مرزا محمود احمد کے منہ پر تھپڑ مارا تھا) مذکورہ ٹولے کا یہ کام تھا کہ عصر کی نماز کے بعد اکٹھے ہوتے اور ریلوے اسٹیشن کی طرف سیر کو نکل جاتے۔ خلیفہ کی بدکاریوں کا ذکر ہوتا۔ مرزا محمد حسین صاحب بی کام کہتے ہیں کہ ان اصحاب کے ساتھ وہ بھی سیر کرنے جایا کرتے تھے۔ ایک دن میں نے بابو غلام فرید سے مخاطب ہو کر کہا۔ دوسروں کی لڑکیوں کا ذکر تو کرتے ہو۔ ان حالات میں تمہاری لڑکیاں کیونکر محفوظ رہ سکتی ہیں؟ ملک غلام فرید نے جواب دیا ایک تو ہم مرزا محمود احمد کی بدکاریوں سے واقف ہیں۔ انہی لوگوں کی بچیاں دام تزویر میں پھنستی ہیں جن کے والدین محمود کے متعلق اندھی عقیدت رکھتے ہیں۔

ہم بچیوں کو خود سکول چھوڑنے جاتے ہیں اور خود جا کر لاتے ہیں۔ سختی سے منع کیا ہوا ہے کہ کسی کے ساتھ کسی جگہ نہیں جانا۔ حتیٰ کہ مرزا محمود نے عورتوں میں درس قرآن جاری کیا ہوا ہے۔ وہی درس قرآن ہی عورتوں کے لئے ایک جال ہے۔ ہماری بچیاں اس درس میں بھی نہیں جاتیں۔ اس جنگل میں شیر سے بچانے کے لئے کچھ طریقے ہی ہیں وہ ہم اختیار کرتے ہیں۔ عبدالرحمان مصری اپنی اندھی عقیدت کی وجہ سے اپنی بچیوں کی عصمت کو تار تار کر بیٹھے۔ مولوی ابو العطاء، مولوی جلال الدین شمس (شمس کا خاندان مرزا محمود احمد کی رنگین محفل کا ممبر تھا۔ خصوصاً شمس صاحب کی لڑکی جمیلہ ضلع ڈیرہ غازیخان میں ایک وکیل سے بیاہی ہوئی ہے) ، مولوی نذیر احمد قریشی (جامعہ احمدیہ کے مدرس تھے) چوہدری ظفر اللہ (چوہدری ظفر اللہ خود ان کو فرانس کی نیم عریاں نائٹ کلب میں لے کر گئے تھے جس کا ذکر گزر چکا ہے) چوہدری ظفر اللہ کے بھتیجے محمد نصر اللہ اور اعجاز نصر اللہ (چوہدری اعجاز نصر اللہ کے متعلق مزید سن لیجئے چوہدری ربوہ میں شاہ ولی اللہ کے کچے کوارٹر کے پاس رہائش پذیر تھے۔ بقول چوہدری، شاہ صاحب کی لڑکیاں رات کو سونے ہی نہیں دیتی تھیں۔ ایک جاتی ہے دوسری آ جاتی ہے۔ شاہ صاحب کی بچیوں سے ہی اعجاز نصر اللہ کو خلیفہ کے کردار کا علم ہوا تھا اور اپنا وقف توڑ کر بار ایٹ لاء کرنے انگلستان چلے

٩٣

صفحہ ٢٧٢

گئے۔ مرزا محمود احمد کے تربیت یافتہ نوجوان نے انگلستان میں جا کر گل کھلائے۔ اعجاز اپنے دوستوں کو خود یہ کہتا ہے کہ عابد بٹلر کی بیوی کو انگلستان کے چاروں کونے دکھائے۔ (اس وقت اس لڑکی کی عابد کے ساتھ شادی نہیں ہوئی تھی) سید صاحب ابن ڈاکٹر غلام غوث، (مرزا محمود احمد کا مستقل باڈی گارڈ)، مولوی عبدالواحد (مدرسہ احمدیہ کے مدرس) میں نے خود تقسیم ہند کے بعد مولوی سے پوچھا تھا۔ کیا آپ کو مرزا محمود احمد کی بدکاریوں کا علم تھا۔ مولوی نے مثبت میں جواب دیا۔ مرزا عبدالحق ایڈووکیٹ (جس کی بیوی سکینہ کا سکینڈل مرزا محمود احمد کے ساتھ مشہور ہے۔ مرزا عبدالحق کے سالے اسی سکینڈل کی وجہ سے جماعت سے الگ ہو گئے تھے جن کا ذکر گزر چکا ہے) شاہ ولی اللہ کا تمام خاندان، نواب محمد علی کا تمام خاندان، مولوی نورالدین کا تمام خاندان، مرزا محمود احمد کے تمام بچے بچیاں (جن کی شہادتیں کتاب میں درج ہوچکی ہیں) حافظ مبارک احمد بھیروی (جامعہ احمدیہ کا مدرس) کلاس میں کسی لڑکے نے تفریحی طبع کے لئے سوال کیا۔ حافظ شادی کیوں نہیں کرتے۔ حافظ نے بے ساختہ کہہ دیا اگر کوئی لڑکی خلیفہ سے بچے گی تو ہم بھی شادی کر لیں گے۔ یہ بات مرزا محمود احمد کے کانوں تک پہنچی تو حافظ کو حیدرآباد دکن جانا پڑ گیا۔ (تقسیم ہند کے بعد ایک دن بھی ربوہ میں نہیں ٹھہرے سیدھے اپنے آبائی شہر بھیرہ چلے گئے) بھائی محمود قادیانی (ان کا خاندان سرگودھا میں مقیم ہے) کے خاندان کی عورتیں۔ میں یقین سے یہ نہیں کہہ سکتا کہ آیا بھائی محمود اور ان کا بیٹا مسعود، مرزا محمود احمد کی بدکاری پر یقین رکھتا تھا یا نہیں۔ میرے خیال میں بدکاری کا علم تو تھا۔ لیکن یقین نہیں رکھتے تھے۔ سردار مصباح الدین کا خاندان (اس خاندان کا نوجوان ظفر اقبال جماعت سے الگ ہو چکا ہے) مبشر احمد راجیکی، مولوی غلام رسول راجیکی کے صاحبزادے تھے۔ شاعر اور فاضل آدمی تھے۔ میں نے خود کئی بار مرزا محمود احمد کی بدکاری کے متعلق باتیں کرتے ہوئے سنا تھا۔ چوہدری محمد شریف باجوہ سابق واقف زندگی (چک نمبر ٣٣ جنوبی ضلع سرگودھا کے رہنے والے تھے) مولوی عبدالمالک پسر ذوالفقار علی (علی برادران محمد علی جوہر اور شوکت علی کے چھوٹے بھائی) یہ مرزا محمود احمد کی بدکاری سے متعلق فکری اور ذہنی انتشار ہے۔ قادیانیوں میں آج کل عقیدے کے متعلق بھی بڑا انتشار ہے۔ کسی صاحب علم سے پوچھیں کہ مرزا قادیانی کو کیا مانتے ہو۔ جواب دے گا ہم مجدد کی حیثیت سے بڑھ کر کچھ نہیں مانتے۔ نہ ہی مسلمانوں کو مرزا قادیانی کے انکار کی وجہ سے کافر کہتے ہیں۔ لیکن کسی ان پڑھ قسم کے قادیانی سے مرزا قادیانی کے متعلق بات کریں تو فوراً کہہ دے گا۔ ہم تو رسول کریم ﷺ کے بعد نبوت جاری مانتے ہیں اور مرزا قادیانی نبی ہیں ان کا نہ ماننے والا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ٩٤

صفحہ ٢٧٣

ہے ۔ اب قادیانیوں میں کھلا فکری انتشار ہے۔ تیسرا طبقہ تعلیم یافتہ نوجوانوں کا ایسا بھی ہے جو سرے سے تسلیم ہی نہیں کرتے۔ وہ محض والدین کی قادیانیت سے وابستگی کی وجہ سے ساتھ ہیں۔ وہ جلد جماعت سے علیحدگی اختیار کرلے گا۔ کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جنہوں نے علیحدگی اختیار کر لی ہوئی ہے۔ اب ایک طبقہ پاکستان سے باہر کی دنیا میں جنم لے چکا ہے۔ جو جماعت احمدیہ کی تنظیم کو مرزا خاندان کی گدی قرار دیتا ہے اور وہ سخت بیزار ہے۔ بعض لوگوں نے علیحدگی اختیار کر لی ہے۔ مختلف مواقع پر سربراہ جماعت بھی علیحدگی کا اعلان کرتے آئے ہیں۔ ذہنی وفکری انتشار کی ایک بڑی وجہ مسلمانوں سے دینی و معاشرتی علیحدگی ہے۔ نوجوان نسل شدت سے محسوس کر رہی ہے کہ وہ غلط پالیسی کی وجہ سے اسلامی دھارے سے بالکل الگ ہو گئے ہیں وہ نسل مسلمانوں میں ضم ہوتی جارہی ہے۔

ایک طبقہ ایسا بھی پیدا ہو چکا ہے جو سلسلہ احمدیہ کو ایک تصوف کا سلسلہ خیال کرتا ہے اور مرزا غلام احمد کو ایک صوفی سے بڑھ کر کچھ حیثیت نہیں دیتا اور نہ ہی ان کے کشف اور الہامات کو اپنے لئے حجت گردانتا ہے اور نہ وہ مرزا قادیانی کو منزہ عن الخطاء مانتا ہے۔ یہ لوگ مرزا قادیانی کا ماننا ضروری نہیں سمجھتے۔

ایک گروہ ایسا بھی ہے جو مرزا قادیانی کی تبلیغ کرنا بدعت اور خلاف شریعت سمجھتا ہے۔ یہ لوگ اپنے آپ کو احمدی کہلانا بھی غلط سمجھتے ہیں۔ دلیل یہ دیتے ہیں کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے ہمارا نام مسلمان رکھا ہے۔ ہم اپنے آپ کو احمدی کیوں کہلائیں۔ ١٩٧٤ء کے بعد ایک ایسا طبقہ پیدا ہو گیا ہے جو یہ سمجھتا ہے کہ اب احمدیہ تنظیم کے نام کے ساتھ لفظ احمدیہ ختم کر دینا چاہئے۔

بہت کم لوگ جانتے ہیں جماعت احمدیہ دو مشہور گروہوں (قادیانی اور لاہوری) کے علاوہ مزید گروہوں میں بھی منقسم ہے۔ ایک گروہ امریکہ میں کالوں کی تنظیم کا ہے جو خواجہ کمال الدین اور ماسٹر عبداللہ کو اپنا پیر و مرشد مانتے ہیں۔ ان کا مطمح نظر صرف اشاعت اسلام ہے۔ خواجہ صاحب کی کتب اور مولوی محمد علی کا ترجمہ قرآن انگریزی کی زیادہ تر اشاعت کرتے ہیں۔ جب محمد علی کلے پاکستان آیا تھا تو اس نے دس تولے کی ڈلی امیر جماعت لاہور (مولوی صدر الدین) کو عقیدت کے طور پر بھیجی تھی۔ ایک گروہ ”منانے“ ہیں جو عبد المنان عمر کو اپنا مذہبی رہنما مانتے ہیں۔ اس گروہ نے ایک خاص حکمت عملی سے تنظیم قائم نہیں کی۔ تاکہ ممبران کو معاشرتی مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ کیونکہ جماعت ربوہ کے سربراہ کا یہ طریقہ کار رہا ہے۔ کسی بھی رکن کے متعلق یہ خیال

٩٥

صفحہ ٢٧٤

گزرے کہ وہ باغی ہو گیا ہے تو اس کو جماعت سے خارج کر دیتا ہے۔ اس طرح اس کے لئے بہت سی معاشرتی اور مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان کی تعداد بیرون پاکستان بڑھ رہی ہے۔ مولوی عبدالمنان نے دینی کتب شائع کرنے کا کروڑوں روپے کا منصوبہ بنایا ہوا ہے۔ مولوی کے اتنے ذرائع وسائل نہیں کہ اتنے بڑے منصوبے کو چلایا جاسکے۔ ”مبایعے“ (جماعت احمدیہ ربوہ کے امیر لوگ) اس پراجیکٹ کے لئے خطیر رقم دے رہے ہیں۔ کیونکہ اس گروہ نے ابھی اپنا نام ظاہر نہیں کیا۔ اس وجہ سے میں نے مولوی عبدالمنان کو ماننے والوں کو ”مبایعے“ کا لفظ دے دیا ہے۔ جیسا کہ تاریخ میں بانی کے نام پر بھی فرقے وجود میں آتے رہے ہیں۔ اس وجہ سے یہ گروہ گو تنظیم سے عاری ہے۔ لیکن زیادہ پھیلتا جارہا ہے۔ سنا ہے کافی علمی کتب شائع کر چکا ہے۔ پاکستان میں بھی کچھ لوگوں کو میں ذاتی طور پر جانتا ہوں۔ وہ اس گروہ میں شامل ہیں اور دینی کتب کی اشاعت کے لئے مولوی عبدالمنان کو دل کھول کر چندہ دیتے ہیں۔ لاہوری جماعت کے بھی بعض صاحب ثروت مولوی عبدالمنان کے پراجیکٹ میں معاون و مددگار ہیں۔ اسی طرح جماعت احمدیہ میں ایک نوجوانوں کا گروہ ”حقیقت پسند پارٹی“ کہلاتا ہے۔ اس کا صرف ایک ہی کام ہے وہ ہے مرزا محمود احمد کی بدکاری احمدیوں تک پہنچانا۔ ان کی ایک خفیہ تنظیم ہے مرزا محمود احمد کی بدکاریاں جہاں منصہ شہود پر آئی ہیں۔ ان کی مساعی اور کوششوں کا نتیجہ ہے کہ ١٩٥٦ء میں یہ گروہ جماعت سے الگ ہوا تھا۔ اب تک یہ مرزا محمود کے کردار پر تابڑ توڑ حملے کر رہا ہے۔ اس گروہ کی آواز اخبار ”نوائے پاکستان“ تھا۔

اس گروہ کی مختلف ملکوں میں خفیہ شاخیں ہیں۔ جرمن میں ظفر اقبال ابن سردار مصباح الدین اور منیر الدین، انگلستان میں محمد احمد حامی ہیں۔ امریکہ میں مولوی عبدالمنان عمر ایک حد تک انجام دے رہے ہیں۔ گو عبدالمنان عمر حقیقت پسند پارٹی کے ممبر تو نہیں۔ لیکن مرزا محمود احمد کی بدکاری پر متفق ہیں۔ پاکستان میں دارالسلام، عثمان بلاک نیو گارڈن لاہور میں چوہدری عبدالحمید بڑی سرگرمی سے یہ کام کر رہے ہیں۔ اپنی تقاریر اور مجالس میں مرزا محمود کی فحاشی کو طشت از بام کرنے میں مصروف و مشغول ہیں۔

جماعت احمدیہ کا مستقبل

جس جماعت یا تنظیم میں اس قسم کا شدید ذہنی اور فکری انتشار ہو تو اس تنظیم کا مستقبل تو ظاہر و باہر ہے۔ لیکن پھر بھی قارئین کے سامنے ایک تجزیہ کی روشنی میں بیان کر دیتا ہوں۔ میرے خیال میں اس جماعت کا مستقبل بالکل تاریک ہے۔ بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ اس جماعت کے

٩٦

صفحہ ٢٧٥

بڑے بڑے خاندان جن کے وجود سے اس جماعت کا ہیولیٰ تیار ہوا تھا وہ اس جماعت کو چھوڑ چکے ہیں۔ مثلاً مولوی نورالدین (پہلے سربراہ جماعت احمدیہ) کا خاندان، مولوی محمد علی کا آدھا خاندان۔ مولوی صدر الدین کا خاندان، خواجہ کمال الدین کا خاندان، شاہ ولی اللہ کا خاندان، مولوی شیر علی کا خاندان، ذوالفقار علی (برادران علی کا چھوٹا بھائی) کا خاندان، چوہدری سر ظفر اللہ کے خاندان کے نوجوان مثلاً محمد نصر اللہ (جس کا پہلے ذکر ہو چکا ہے) مولوی عبدالرحمن مصری کا سارا خاندان، ڈاکٹر خلیل احمد سابق واقف زندگی (امریکہ میں کسی یونیورسٹی میں پڑھاتے تھے) کا خاندان، ناصر احمد سابق واقف زندگی کا خاندان، مودود احمد سابق انچارج احمدیہ مشن انگلستان فاروقی خاندان، مرزا محمود احمد کا سسر خلیفہ رشید الدین بعض ریاستوں کے امیر اور نواب جو حلقہ احمدیت میں داخل ہوئے چھوڑ چکے ہیں۔

محمد متین خالد نے اپنی کتاب ”قادیانیت سے اسلام تک“ میں بھی تقریباً سو اشخاص کا ذکر کیا ہے۔ جیسا کہ میں نے پہلے ذکر کیا ہے کہ مولوی نورالدین کی وفات کے بعد ہزاروں گھرانے جماعت کو چھوڑ گئے تھے۔ اگر کسی نے تفصیل معلوم کرنا ہو تو مرزا قادیانی کی کتب کے آخر یا شروع میں پرانے قادیانیوں کے ناموں کا ذکر ہے۔ اسی طرح اس دور کے اخبارات میں بھی۔ وہ تمام خاندان جماعت کو چھوڑ چکے ہیں۔ میں نے محض جماعت احمدیہ کا چہرہ دکھانے کے لئے چند بڑے خاندانوں کا ذکر کیا ہے۔ رہا اس جماعت کا مستقبل میرے علم کی رو سے اس جماعت کا مستقبل بالکل تاریک ہے۔ ایک وجہ تو ابھی میں نے بیان کی ہے کہ یہ جماعت ذہنی انتشار کا شکار ہے جو جماعت فکری انتشار کا شکار ہو وہ جماعت کیسے ترقی کے راستے پر گامزن رہ سکتی ہے؟ ذہنی انتشار سے بچنے اور بچانے کے لئے دو چیزیں ضروری ہیں۔ ایک علم اور دوم قیادت۔ علم کے لحاظ سے یہ جماعت عقیم ہے۔ قیادت کا حال ہمارے سامنے ہے۔ ربوہ جماعت کا قائد مرزا مسرور احمد ہے۔ اس کا مرزا شریف احمد کا پوتا اور مرزا منصور احمد کا بیٹا ہونا ہی نااہلی کا بڑا ثبوت ہے۔ قائدانہ صلاحیتوں سے بالکل محروم اور کورا ہے۔ علوم اسلامیہ سے صرف نابلد ہی نہیں۔ بلکہ قرآن مجید کو صحیح نہیں پڑھ سکتا۔ ایک پورا ہفتہ جمعہ کے خطبہ کی تیاری کرائی جاتی ہے۔ سب سے بڑی بات مذہبی جماعتوں کے لئے قائد کا باکردار ہونا ضروری ہے۔ ربوہ جماعت کے تمام قائد پرلے درجے کے بدکار تھے اور مرزا مسرور احمد بھی مرزا شریف احمد کا پوتا ہونے کے ناطے کیسے صاحب کردار ہو سکتا ہے۔ یہ جماعت ایک خیال پر کھڑی ہے۔

”یہ سلسلہ خدا کے ہاتھ کا لگایا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ خود ہی اس کی حفاظت کرے گا۔“ جب

٩٧

صفحہ ٢٧٦

کسی جماعت میں اس قسم کی سوچ آ جائے۔ وہ جماعت موت کے دھانے پر کھڑی ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے ہی میں کہتا ہوں کہ جماعت کا مستقبل تاریک ہے اور مر چکی ہے۔

میرے نزدیک جماعت احمدیہ پر موت وارد ہونے کے اسباب یہ ہیں:

کہ ہم ہی خدا کی چہیتی جماعت ہیں۔ خدا اس جماعت کو کبھی ضائع نہیں کرے گا۔ آسمان سے فرشتے نازل ہوں گے۔ وہ لوگوں کے دلوں میں احمدیت کی سچائی الہاماً ڈال دیں گے۔ اس طرح لوگ فوج در فوج حلقہ احمدیت میں داخل ہو جائیں گے۔ اس طرح تمام عالم اسلام پر احمدیت کا پرچم لہرائے گا۔ قارئین کرام جماعت احمدیہ کے مستقبل کا اندازہ اسی موہوم تصور سے لگالیں۔

میں نے پہلے تین گروہوں کا ذکر کیا تھا۔ امریکہ میں کالوں کی تنظیم، حقیقت پسند پارٹی اور مولوی عبد المنان کے پیروکار (مبائعے) کالوں کی تنظیم کا جماعت احمدیہ کی دونوں تنظیموں (قادیانی اور لاہوری) سے کوئی تعلق نہیں، نہ وہ اپنے آپ احمدی کہلاتے ہیں نہ وہ جماعت احمدیہ کی تبلیغ کرتے ہیں۔ چونکہ ان پر خواجہ کمال الدین اور مولوی محمد علی کے لٹریچر کا اثر ہے۔ وہ صرف ان کی تعظیم کرتے ہیں۔ ختم نبوت کے قائل ہیں۔ تکفیر بازی نہیں کرتے۔ اپنے آپ کو مسلمانوں کا حصہ سمجھتے ہیں۔ ممکن ہے مرزا غلام احمد کے نام سے بھی نا آشنا ہوں۔ یہ تنظیم کبھی بھی اپنے اوپر احمدیت کا لیبل نہیں لگائے گی۔ چونکہ یہ تنظیم خواجہ کمال الدین کی معتقد ہے۔ اس وجہ سے میں نے جماعت احمدیہ کے گروہوں میں شامل کیا ہے۔ حقیقی معنوں میں اس تنظیم کا جماعت احمدیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ حقیقت پسند پارٹی ہزاروں کی تعداد میں ہے۔ ان کا مشن صرف مرزا محمود احمد کی بدکاریوں کو اجاگر کرنا ہے۔ یہ گروہ عملاً مسلمانوں کا حصہ بن چکا ہے۔ عبد المنان عمر کے پیروکار۔ یہ بھی ہزاروں کی تعداد میں ہیں۔ لفظ احمدیہ کا ترک کر چکے ہیں۔ ان کی اولادیں مسلمانوں کا حصہ ہیں۔ یہ لوگ مولوی عبد المنان عمر کی تصنیفات کے لئے فنڈ مہیا کرتے ہیں۔ خلاصہ کلام یہ ہے ربوہ جماعت سے تعلق رکھنے والے اسلامی معاشرہ میں چوہڑے چماروں کی طرح رہ جائیں گے۔

٩٨

صفحہ ٢٧٧

حقیقت پسند پارٹی اور مولوی عبدالمنان عمر کے پیروکار پہلے ہی مسلمانوں میں ضم ہو چکے ہیں۔ یہ ہے جماعت احمدیہ کے مستقبل کے متعلق جائزہ۔ میں علماء کرام خصوصاً احرار اور ختم نبوت کی تنظیم کے علماء کی خدمت میں عرض کروں گا جو احمدی پاکستان میں چلتے پھرتے نظر آ رہے ہیں وہ مردہ ہیں۔ مردوں کے متعلق واویلا کیا کرنا ہے۔ اب کوشش یہ ہونی چاہئے کہ جو کوئی ان میں سعید روح ہے۔ اس کو دائرہ اسلام میں لائیں۔ ان کو بتائیں کہ رسول کریم ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا اور جس کو تم نے مصلح موعود بنا رکھا ہے وہ پرلے درجے کا عیاش تھا۔ مسلمانوں کے دھارے میں آ جاؤ یقیناً بعض سعید روحیں اپنے باطل عقائد سے تائب ہو جائیں گے۔

باب نمبر: ١٢

مرزا محمود احمد کا حکومتی خاکہ ...... دین کے پردے میں سیاست کاری

کسی جماعت کے لئے اس سے زیادہ معیوب بات کوئی نہیں کہ وہ مذہب کا لبادہ اوڑھ کر چور دروازے سے سیاسی اقتدار، دنیاوی غلبہ اور جماعتی تفوق حاصل کرنے کی کوشش کرے۔ کسی مذہبی تحریک یا اس سے پیدا شدہ مذہبی جماعت کو حکومت کی طرف سے جو حمایت حاصل ہوتی ہے۔ وہ ہمیشہ اس حد تک ہوتی ہے۔ جس حد تک وہ مذہبی جماعت اپنے آپ کو خالصتاً مذہبی مشن کے دائرہ کے اندر محدود رکھتی ہے اور سیاسی امور سے مجتنب رہتی ہے۔ لیکن یہ ایک المناک حقیقت ہے کہ مرزا محمود احمد کی گندی سیاست کا سب سے گھناؤنا پہلو یہ ہے کہ انہوں نے حکومت کے خواب دیکھنے شروع کر دیئے۔

خلیفہ کی یہ خواب کاری برطانوی سنگینوں کے سائے میں خوب پروان چڑھی۔ کیونکہ سفید فام آقاؤں کا یہی منشاء تھا کہ خلیفہ سیاسی منصوبوں میں خود بھی مستغرق رہے اور جماعت کے عقول و قلوب کو بھی اس میں الجھائے رکھے۔ انگریز کی پشت پناہی کا یہ نتیجہ ہوا کہ برطانوی حکومت کو بھی احساس ہوا کہ اس کا قانون قادیان میں بالکل بے کار ہو چکا ہے۔ وہاں قتل ہوتے ہیں۔ ان کا سراغ بھی مل جاتا ہے۔ لیکن عدالت میں آ کر پولیس ناکام ہو جاتی ہے۔ اس سے انگریز کی

١؎ ١٩٥٦ء میں حقیقت پسند پارٹی نے ایک پمفلٹ شائع کیا تھا۔ اس کو بقدر تنسیخ و ترمیم کے ساتھ کتاب ہذا میں شامل کیا جا رہا ہے۔ اسی پمفلٹ کی اشاعت پر مرزا بشیر احمد نے الفضل میں یہ مضامین شائع کئے کہ جماعت احمدیہ کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ ایک مذہبی جماعت ہے۔

٩٩

صفحہ ٢٧٨

حکومتی غیرت پر تازیانہ لگا اور اس نے اس متوازی حکومت کے خلاف اقدام شروع کر دیا۔ اس کا پہلا سراغ مسٹر جی ڈی کھوسلہ کے فیصلہ میں ملتا ہے۔ فاضل جج نے اپنے فیصلے میں مرزا محمود کی ان جارحانہ کارروائیوں کا ذکر کیا ہے۔ جو انہوں نے مولوی عبدالکریم (مباہلہ والے) کے خلاف کیں۔ کس طرح ان کے خطبے کے نتیجے میں مولوی صاحب مذکور پر قاتلانہ حملہ ہوا۔ لیکن ان کا ایک مددگار محمد حسین قتل ہو گیا۔ جب قادیانی قاتل عدالت کے فیصلے کے بعد پھانسی پا گیا تو اس کی لاش کو بڑے تزک و احتشام کے ساتھ قادیان کے بہشتی مقبرے میں دفن کیا گیا۔ اس فیصلے میں محمد امین کے قتل کا بھی ذکر ہے اور فاضل جج نے لکھا ہے کہ محمد امین مورد عتاب ہو کر کلہاڑی کے وار سے قتل ہوا۔ اس کے قاتل فتح محمد نے اقرار کیا کہ اس نے قتل کیا ہے۔ لیکن پولیس کارروائی کرنے سے قاصر رہی۔ فیصلہ مذکور میں مرقوم ہے کہ: ”مرزائی طاقت اتنی بڑھ گئی تھی کہ کوئی سامنے آ کر سچ بولنے کے لئے تیار نہ تھا۔ ہمارے سامنے عبدالکریم کے مکان کا واقعہ بھی ہے۔ عبدالکریم کو قادیان سے نکالنے کے بعد اس کا مکان جلا دیا گیا۔ اسے قادیان کی سمال ٹاؤن کمیٹی سے حکم حاصل کر کے نیم قانونی طریقے سے گرانے کی کوشش بھی کی گئی۔ یہ افسوس ناک واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ قادیان میں طوائف الملوکی تھی جس میں آتش زنی اور قتل تک ہوئے تھے۔“

”ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حکام ایک غیر معمولی درجہ کے فالج کے شکار ہو چکے تھے اور دنیاوی اور دینی معاملات میں مرزا محمود احمد کے حکم کے خلاف کبھی آواز نہ اٹھائی گئی۔ مقامی افسروں کے پاس کئی مرتبہ شکایات کی گئیں۔ لیکن کوئی انسداد نہ ہوا۔ مسل پر ایک دو ایسی شکایات ہیں۔ لیکن ان کے مضمون کا حوالہ دینا غیر ضروری ہے اور اس مقدمہ کے لئے یہ بیان کر دینا کافی ہے کہ قادیان میں ظلم وجور جاری ہونے کے متعلق غیر مشتبہ الزام عائد کئے گئے۔ لیکن معلوم ہوتا ہے کہ ان کی طرف مطلقاً توجہ نہ کی گئی۔“

پھر فیصلہ میں یہ بھی لکھا ہے کہ: ”مرزا (یعنی مرزا محمود احمد) نے مسلمانوں کو کافر، سور اور ان کی عورتوں کو کتیوں کا خطاب دے کر ان کے جذبات کو مشتعل کر دیا کرتا تھا۔“

(فیصلہ جی ڈی کھوسلہ، سیشن جج گورداسپور)

یہ عدالتی فیصلہ محمودی سیاست کاریوں کی غمازی کرتا ہے۔ قادیان میں ”خلیفہ“ کے لئے قتل کرنا اور قتل کے عواقب سے بچ نکلنا یا کم از کم ”خلیفہ“ کا محفوظ و مصون رہنا ایک ضرب المثل بن چکا تھا۔

١٠٠

صفحہ ٢٧٩

یہی معاملہ بدرجہ اتم ربوہ میں رونما ہو چکا ہے۔ کیونکہ یہ خالص قادیانی بستی ہے۔ یہاں قانون کی بے بسی نا قابل بیان ہے۔ اگر حکومت دوراندیشی سے کام لیتی اور مرزا محمود احمد کو پاکستان کی پاک سرزمین کا ایک خطہ کوڑیوں کے مول نہ دیتی بلکہ اس کو مجبور کرتی کہ وہ اور اس کی جماعت کسی شہر میں آباد ہوں یا حکومت کے تجویز کردہ مضافاتی قصبوں میں سکونت پذیر ہوں تو ”خلیفہ“ کی سیاست کاریوں اور سازشوں پر قفل پڑ جاتے۔ مگر ایسا نہ ہوا۔ چنانچہ ان کو ضلع جھنگ میں ایک وسیع رقبہ قادیانیوں کو آباد کرنے کے لئے ملا اور انہوں نے کمال چابکدستی سے اس کو پاکستان کی دوسری آبادیوں سے منقطع کر کے ایک یاغستان سا بنا دیا اور اس کا نام ربوہ رکھ دیا۔ اس میں خلیفہ کا سکہ رواں تھا۔ اس مطلق العنانی کی کیفیت کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان کی منیر ٹربیونل رپورٹ میں مرقوم ہے: ”١٩٤٥ء سے لے کر ١٩٤٧ء کے آغاز تک احمدیوں کی بعض تحریرات منکشف ہیں کہ وہ برطانیہ کا جانشین بننے کے خواب دیکھ رہے تھے۔ وہ نہ تو ایک ہندو دنیاوی حکومت یعنی ہندوستان کو اپنے لئے پسند کرتے تھے اور نہ پاکستان کو منتخب کر سکتے تھے۔“

(رپورٹ منیر انکوائری کمیٹی ص ١٩٦)

اب ہم خلیفہ کی سیاست میں مداخلت کوئی غیر دینی فعل نہیں بلکہ یہ ایک دینی مقاصد میں شامل ہے۔ جس کی طرف توجہ کرنا وقتی ضروریات اور حالات کے مطابق لیڈران قوم کا فرض ہے۔...... پس قوم کے پیش آمدہ حالات کو مدنظر رکھنا اور اس کی تکالیف کو دور کرنے کی تدبیر کرنا اور ملکی سیاسیات میں رہنمائی کرنا خلیفہ وقت سے بہتر اور کوئی نہیں کر سکتا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی نصرت اور تائید اس کے شامل حال ہوتی ہے اور اس زمانہ میں گزشتہ پندرہ سال کے تاریخی واقعات ہمارے اس بیان کی صداقت پر مہر لگا رہے ہیں۔ (الفضل مورخہ ٢٥؍دسمبر ١٩٣٢ء)

”اسلام کی ترقی احمدیہ سلسلہ سے وابستہ ہے اور چونکہ یہ سلسلہ مسلمان کہلانے والی حکومتوں میں پھیل نہیں سکتا اس لئے خدا نے چاہا ہے کہ ان کی جگہ اور حکومتوں کو لے آئے۔...... پس مسلمانوں کی بداعمالیوں کی وجہ سے خدا تعالیٰ نے تمہاری ترقی کا راستہ کھول دیا ہے۔“

(الفضل مورخہ ١٢؍نومبر ١٩١٤ء)

”ہمیں نہیں معلوم ہمیں کب خدا کی طرف سے دنیا کا چارج سپرد کیا جاتا ہے۔ ہمیں اپنی طرف سے تیار ہو کر رہنا چاہئے کہ دنیا کو سنبھال سکیں۔“ (الفضل مورخہ ٤؍جون ١٩٣٠ء)

”انگریز اور فرانسیسی وہ دیواریں ہیں جن کے نیچے احمدیت کی حکومت کا خزانہ مدفون ہے اور خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ یہ دیوار اس وقت تک قائم رہے جب تک کہ خزانہ کے مالک جوان

١٠١

صفحہ ٢٨١

نہیں ہو جاتے۔ ابھی احمدیت چونکہ بالغ نہیں ہوئی اور بالغ نہ ہونے کی وجہ سے وہ اس خزانہ پر قبضہ نہیں کر سکتی۔ اس لئے اگر اس وقت یہ دیوار گر جائے تو نتیجہ یہ ہوگا کہ دوسرے لوگ اس پر قبضہ جمالیں گے۔“

(الفضل مورخہ ٢٧؍ فروری ١٩٢٤ء)

”اصل تو یہ ہے کہ ہم نہ انگریز کی حکومت چاہتے ہیں نہ ہندوؤں کی۔ ہم تو احمدیت کی حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں۔“

(الفضل مورخہ ١٤؍ فروری ١٩٢٢ء)

”میں تو اس بات کا قائل ہوں کہ انگریزی حکومت چھوڑ، دنیا میں سوائے احمدیوں کے اور کسی کی حکومت نہیں رہے گی۔ پس جب کہ میں اس بات کا قائل ہوں بلکہ اس بات کا خواہشمند ہوں کہ دنیا کی ساری حکومتیں مٹ جائیں اور ان کی جگہ احمدی حکومتیں قائم ہو جائیں تو میرے متعلق یہ خیال کرنا کہ میں اپنی جماعت کے لوگوں کو انگریزوں کی دائمی غلامی کی تعلیم دیتا ہوں کہاں تک درست ہو سکتا ہے۔“

(الفضل مورخہ ٢١؍ نومبر ١٩٤٩ء)

”ہم میں سے ہر ایک آدمی یہ یقین رکھتا ہے کہ تھوڑے عرصہ کے اندر ہی (خواہ ہم اس وقت زندہ رہیں یا نہ رہیں لیکن بہرحال وہ عرصہ غیر معمولی طور پر لمبا نہیں ہو سکتا) ہمیں تمام دنیا پر نہ صرف عملی برتری حاصل ہوگی بلکہ سیاسی اور مذہبی برتری بھی حاصل ہو جائے گی۔ یہ خیال ایک منٹ کے لئے کسی سچے احمدی کے دل میں غلامی کی روح پیدا نہیں کر سکتا۔ جب ہمارے سامنے بعض حکام آتے ہیں تو ہم اس یقین اور وثوق کے ساتھ ان سے ملاقات کرتے ہیں کہ کل یہ نہایت عجز وانکسار کے ساتھ ہم سے استمداد کر رہے ہوں گے۔“

(الفضل مورخہ ٢٢؍ اپریل ١٩٣٨ء)

”اس وقت حکومت احمدیت کی ہوگی آمدنی زیادہ ہوگی۔ مال واموال کی کثرت ہوگی۔ جب تجارت اور حکومت ہمارے قبضہ میں ہوگی اس وقت اس قسم کی تکلیف نہ ہوگی۔“

(الفضل مورخہ ١٨؍ جون ١٩٢٦ء)

”اس وقت تک کہ تمہاری بادشاہت قائم نہ ہو جائے۔ تمہارے راستے سے یہ کانٹے ہرگز دور نہیں ہو سکتے۔“

(الفضل مورخہ ٨؍ جولائی ١٩٣٠ء)

دیکھ لیجئے! ”خلیفہ صاحب“ مستقبل قریب میں حصول اقتدار کی امیدیں کس قدر وثوق کے ساتھ لگائے بیٹھے ہیں اور حصول آزادی ہی نہیں بلکہ حصول حکومت کے لئے ان کی راہیں دوسرے ابنائے وطن اور دوسرے مسلمانوں سے کس قدر مختلف تھیں اور یہ اعلان بالوضاحت کیا جا رہا تھا کہ مسلمانوں کی بداعمالیوں کی وجہ سے حکومت ان کو نہیں بلکہ صرف اور صرف احمدیوں کو ہی ملے گی اور مسلمان جنہوں نے احمدیت سے اپنا تعلق نہیں جوڑا وہ گرتے ہی جائیں گے اور گرتے ١٠٢

گرتے یہودیوں کی طرح ہو جائیں گے۔ یہودی مغضو سے ذلیل ہوئے تھے۔......’ ’اور محمد رسول اللہ ﷺ کی ن ہے۔ اس لئے آپ کے نائب کا انکار کرنے والوں کو

ظاہر ہے کہ مسلمانوں سے پہلے ان کے نہیں مل سکی اور نہ ہی یہ حکومت برطانیہ کے جانشین بقول ان کے احمدیت کا خزانہ مدفون تھا اور جس کے تھا تو پاکستان کا استقلال اور اس کا قیام اور اس کی خصوصاً جب کہ حکومت ان مسلمانوں کو مل گئی جن کے احمدی سلسلہ کے ساتھ وابستہ ہے اور چونکہ یہ سلسلہ سکتا۔ اس لئے خدا نے چاہا ہے کہ ان کی جگہ اور حکومت کے لئے دروازے کھولے جائیں۔“

چنانچہ ان کی اس نیت کو کہ وہ پاکستان بنے ارشاد پیش خدمت ہے: ”ہندوستان کی تقسیم پر اگر مجبوری بنے اور پھر یہ کوشش کریں گے کہ یہ کسی نہ کسی ط

پھر فرمایا: ”بہرحال ہم چاہتے ہیں کہ شیروشکر ہو کر رہیں۔“

پس ان اقتباسات سے مرزا محمود احمد کی ہے۔ اس کے یہ اقوال اس کی نیت کی غمازی کر رہے اور ہندوستان کی باؤنڈریاں ختم کرنے کے الہامات منافقت اور سیاسی دجل کا بھانڈا پھوڑا ہے میں چھوڑتا نہیں بلکہ جماعت احمدیہ کو حکومت اور آزادی ملے گی ان کے شانہ بشانہ حصول آزادی کی کوششیں نہیں کرتے ان الفاظ نے خلیفہ ربوہ کی تمام جدوجہد سے پردہ اٹھا ہے۔ کسی قدر غداری کے ساتھ اور کس قدر دجل کے ١٠٣

صفحہ ٢٨١

گرتے یہودیوں کی طرح ہو جائیں گے۔ یہودی موسیٰ علیہ السلام کے نائب کا انکار کرنے کی وجہ سے ذلیل ہوئے تھے...... ”اور محمد رسول اللہ ﷺ کی شان، موسیٰ علیہ السلام کی شان سے بہت بلند ہے۔ اس لئے آپ کے نائب کا انکار کرنے والوں کو ذلت یہودیوں سے بڑھ کر ہوگی۔“

(الفضل مورخہ ١٢ نومبر ١٩١٤ء)

ظاہر ہے کہ مسلمانوں سے پہلے ان کے پروگرام اور دعوؤں کے مطابق حکومت ان کو نہیں مل سکی اور نہ ہی یہ حکومت برطانیہ کے جانشین بن سکے اور وہ دیوار بھی گر گئی جس کے نیچے بقول ان کے احمدیت کا خزانہ مدفون تھا اور جس کے بل بوتے پر انہوں نے ہر پنپنے والے سے نپٹنا تھا تو پاکستان کا استقلال اور اس کا قیام اور اس کی سالمیت انہیں کس طرح گوارا ہو سکتی تھی اور خصوصاً جب کہ حکومت ان مسلمانوں کو مل گئی جن کے متعلق خلیفہ فرماتے ہیں: ”پس اسلام کی ترقی احمدی سلسلہ کے ساتھ وابستہ ہے اور چونکہ یہ سلسلہ مسلمان کہلانے والی حکومتوں میں نہیں پھیل سکتا۔ اس لئے خدا نے چاہا ہے کہ ان کی جگہ اور حکومتوں کو لے آئے تاکہ اس سلسلہ حقہ کے پھیلنے کے لئے دروازے کھولے جائیں۔“

(الفضل مورخہ ١٢ نومبر ١٩١٤ء)

چنانچہ ان کی اس نیت کو کہ وہ پاکستان بننے سے خوش نہیں ہوئے تھے۔ خلیفہ کا اپنا ایک ارشاد پیش خدمت ہے: ”ہندوستان کی تقسیم پر اگر ہم رضامند ہوتے ہیں تو خوشی سے نہیں بلکہ مجبوری سے اور پھر یہ کوشش کریں گے کہ یہ کسی نہ کسی طرح پھر متحد ہو جائے۔“

(الفضل مورخہ ١٦ مئی ١٩٤٧ء)

پھر فرمایا: ”بہرحال ہم چاہتے ہیں کہ اکھنڈ ہندوستان بنے اور ساری قومیں باہم شیر وشکر ہو کر رہیں۔“

(الفضل مورخہ ٥ اگست ١٩٤٧ء)

پس ان اقتباسات سے مرزا محمود احمد کی حکومت کے بارہ میں ریشہ دوانیوں کا علم ہو جاتا ہے۔ اس کے یہ اقوال اس کی نیت کی غمازی کر رہے ہیں۔ اکھنڈ ہندوستان کی تجویزیں پاکستان اور ہندوستان کی باؤنڈریاں ختم کرنے کے الہامات مملکت در مملکت کا بین ثبوت ہیں۔ اس خلیفہ کی منافقت اور سیاسی دجل کا بھانڈا چوراہے میں پھوٹتا ہے۔ اس کے اپنے دعوے یہ تھے کہ مسلمانوں کو نہیں بلکہ جماعت احمدیہ کو حکومت اور آزادی ملے گی اور یہ کہ احمدی مسلمانوں کے ساتھ مل کر اور ان کے شانہ بشانہ حصول آزادی کی کوششیں نہیں کر رہے بلکہ وہ ان سے الگ کوشش کر رہے ہیں۔ ان الفاظ نے خلیفہ ربوہ کی تمام جدوجہد سے پردہ اٹھا دیا ہے اور انہیں بالکل عریاں کر کے رکھ دیا ہے۔ کس قدر غداری کے ساتھ اور کس قدر دجل کے ساتھ مسلمانوں کا جزو ہو کر اور ان کا حصہ بن

١٠٣

صفحہ ٢٨٢

کر ان کے نام پر سیاسی حقوق لے کر سوچا یہ جا رہا تھا کہ آزادی اور حکومت مسلمانوں سے پہلے ان کی ہی سرکوبی کے لئے حاصل کی جائے گی۔ خلیفہ ربوہ کے سرکاری گزٹ الفضل نے لکھا تھا: ”جو فتح اپنے وقت سے ذرا پیچھے ہٹ جاتی ہے اس کی کوئی وقعت نہیں رہتی۔“

(الفضل ٨ نومبر ١٩٣٠ء)

اب اپنی فتح کی امیدوں کو پاش پاش ہوتا دیکھ کر زخمی سانپ کی طرح بے تاب ہیں اور مسلمانوں میں انتشار پھیلانے کے لئے سیاسی جوڑ توڑ میں مشغول ہیں۔

ہم حکومت کو اس بات سے آگاہ کر دینا اپنا فرض سمجھتے ہیں کہ وہ جماعت احمدیہ کی سازشوں اور حرکات کو اپنی نگاہ میں رکھے اور اسے سمجھنے کی کوشش کرے۔ کسی دشمن کا مقابلہ اس کے طریق کار کو سمجھنے کے بعد ہی کامیابی سے کیا جاسکتا ہے۔ پس ضروری ہے کہ اس کی دسیسہ کاریوں اور روباہی چالوں کو پہلے سے سمجھ لیا جائے۔ ”دنیا کا چارج سنبھالنا، حکومت پر قبضہ کرنا، اپنا اقتدار قائم کرنا۔“ یہی وہ تصورات تھے جن کی بدولت خلیفہ ربوہ کے بعض سادہ لوح مریدوں کا ذہنی توازن بگڑ گیا اور بنگال کی گورنری وغیرہ کے خواب دیکھنے لگ گئے۔ لیکن یہ محض تصورات و نظریات ہی نہ تھے بلکہ خلیفہ ربوہ نے اپنی جماعت کو ان نظریات کی عملی تعبیر کے لئے جماعت کی باقاعدہ تربیت کی اور اپنی ”سحر سامری“ سے اپنے مریدوں کو حکومت پر قبضہ کرنے کے لئے شعوری اور غیر شعوری طور پر ابھارتے رہے۔ اس ضمن میں خلیفہ محمود کے اپنے ارشادات ملاحظہ فرمائیے: ”اس وقت اسلام کی ترقی خدا تعالیٰ نے میرے ساتھ وابستہ کر دی ہے۔ یاد رکھو کہ سیاسیات اور اقتصادیات اور تمدنی امور حکومت کے ساتھ وابستہ ہیں۔ پس جب تک ہم اپنے نظام کو مضبوط نہ کریں اور تبلیغ اور تعلیم کے ذریعہ سے حکومتوں پر قبضہ کرنے کی کوشش نہ کریں۔ ہم اسلام کی ساری تعلیموں کو جاری نہیں کر سکتے۔“

(الفضل مورخہ ٥ جنوری ١٩٣٧ء)

”یہ مت خیال کرو کہ ہمارے لئے بھی حکومتوں اور ملکوں کا فتح کرنا ایسا ہی ضروری ہے۔“

(الفضل مورخہ ٨ جنوری ١٩٣٧ء)

اسی طرح خلیفہ ربوہ کے ہاں جو بھی اندرونی نظام ہے وہ حفاظت مرکز، خدام الاحمدیہ، احمدیہ کور، یا دیگر کسی نام سے بھی قائم کیا جاتا ہے۔ خلیفہ خود ہی اس کا سالار اعظم اور فیلڈ مارشل ہوتا ہے اور جماعت کی ہر قسم کی فوجی تنظیموں کی سربراہی اور سر پرستی آپ کو حاصل ہے۔

خود خلیفہ فرماتے ہیں: ”مجلس شوریٰ ہو صدر انجمن احمدیہ۔ انتظامیہ ہو یا عدلیہ فوج ہو یا غیر فوج۔ خلیفہ کا مقام بہر حال سرداری کا ہے۔“

(الفضل مورخہ یکم ستمبر ١٩٣٦ء)

انتظامی لحاظ سے صدر انجمن کے لئے بھی راہ نما ہے اور آئین سازی و بحث کی تعیین

١٠٤

صفحہ ٢٨٣

کے لحاظ سے بھی وہ مجلس مشاورت کے نمائندوں کے لئے بھی صدر اور راہنمائی کی حیثیت رکھتا ہے۔ ”جماعت کی فوج کے الگ دو حصے تسلیم کر لئے جائیں تو وہ اس کا بھی سردار ہے اور اس کا بھی کمانڈر ہے اور دونوں کے نقائص کا ذمہ دار ہے اور دونوں کی اصلاح اس کے ذمہ واجب ہے۔“

(الفضل مورخہ ٢٧؍اپریل ١٩٣٨ء)

غرض جماعت احمدیہ میں خلافت ایک دنیاوی بادشاہت کی حیثیت رکھتی ہے۔ خلیفہ کا ہر حکم احمدیوں کے نزدیک قانون کی حیثیت رکھتا ہے۔ خلیفہ کے ادنیٰ اشارہ پر اپنی جان و مال قربان کر دیا جاتا ہے۔ احمدیوں کی کمائی کا اکثر حصہ خلیفہ کی جیب کی نذر ہو جاتا ہے۔ پاکستان کے علاوہ دنیا کے مختلف ممالک میں جو مبلغ ہیں وہ دراصل خلیفہ کے کارخاص اور سفارت خانے ہیں اور تمام بیرونی ممالک کی کرنسی جو چندہ کی صورت میں ان کو ملتی ہے وہ اس کو استعمال کرتے ہیں۔ خلیفہ کا نظام اس قدر خطرناک ہے کہ ایک بڑی سے بڑی حکومت کے نظام کا مقابلہ کرنے کے لئے کافی ہے۔ دوسری حکومتوں میں اپنے حلیف پیدا کئے جاتے ہیں۔ خلیفہ کا کہنا ہے کہ حکومتیں، ملک اور قومیں مجھ سے ڈرتی ہیں۔ خلیفہ اپنی ”کارخاص“ کے ذریعہ مملکت کے راز معلوم کرتا ہے۔ اس کی اپنی عدلیہ، مقننہ، انتظامیہ، فوج اور بینک تھے۔ مملکت محمودیہ ربوہ میں کسی احمدی کو قبل از وقت اجازت حاصل کئے بغیر داخل ہونے کی اجازت نہیں۔ اس بارہ میں سرکاری گزٹ الفضل کا مندرجہ ذیل اعلان ملاحظہ فرمائیے:

مضافات قادیان، منگل، باغبان بانگر خوردوکلاں، نواں پنڈ

قادر آباد اور احمد آباد وغیرہ میں سکونت اختیار کرنے کے لئے باہر سے آنے والے احمدی دوستوں کے لئے ضروری ہوگا کہ وہ پہلے نظارت ہٰذا سے اجازت حاصل کریں۔

(الفضل مورخہ ٢٥؍جنوری ١٩٣٩ء)

پھر ربوہ میں آکر ١٩٤٨ء میں خلیفہ اعلان فرماتے ہیں: ”سب تحصیل لالیاں میں کوئی احمدی بلا اجازت انجمن زمین نہیں خرید سکتا۔“

پھر ربوہ میں داخل ہونے کے بارے میں خلیفہ کا حکم امتناعی ملاحظہ ہو: ”ہم یہ اعلان کرتے ہیں کہ آئندہ ایسے لوگوں کو جن کو یا تو ہم نے جماعت سے نکال دیا ہے یا جنہوں نے خود اعلان کر دیا ہوا ہے کہ وہ ہماری جماعت میں شامل نہیں۔ آئندہ انہیں ہماری مملوکہ زمینوں میں آکر ہمارے جلسوں میں شامل ہونے کی اجازت نہیں۔“

(الفضل مورخہ ٤؍فروری ١٩٥٦ء)

١٠٥

صفحہ ٢٨٤

اب اس اعلان کی رو سے وہ لوگ جنہوں نے انجمن کی مملوکہ زمین میں سے زمین خرید کی ہوئی ہے ان کو ربوہ میں جا کر اپنی زمین اور مکان کی حفاظت کی اجازت نہیں۔ کیونکہ اگر وہ وہاں جائیں گے تو ان پر پولیس کی امداد سے کوئی جھوٹا مقدمہ کھڑا کر دیا جائے گا۔ گویا ان کی زمینیں بھی ضبط کر لی گئی ہیں۔ یہ بھی ریاست اندر ریاست کا ایک بین ثبوت ہے۔

مملکت محمودیہ میں کاروبار کرنے کے لئے ہر شخص کو ذیل کا معاہدہ کرنا پڑتا ہے: ”میں اقرار کرتا ہوں کہ ضروریات جماعت قادیان کا خیال رکھوں گا اور مدبر تجارت جو حکم کسی چیز کے بہم پہنچانے کا دیں گے۔ اس کی تعمیل کروں گا اور جو حکم ناظر امور عامہ دیں گے اس کی بلا چون و چرا تعمیل کروں گا۔ نیز جو ہدایات وقتاً فوقتاً جاری ہوں گی ان کی پابندی کروں گا اور اگر کسی حکم کی خلاف ورزی کروں گا تو جو جرمانہ تجویز ہوگا ادا کروں گا۔ میں عہد کرتا ہوں کہ جو میرا جھگڑا احمدیوں سے ہو گا اس کے لئے امام جماعت احمدیہ کا فیصلہ میرے لئے حجت ہو گا اور ہر قسم کا سودا احمدیوں سے خرید کروں گا۔ نیز میں عہد کرتا ہوں کہ احمدیوں کی مخالف مجالس میں بھی شریک نہ ہوں گا۔“

یہ ہے وہ معاہدہ جو خلیفہ ربوہ کی ریاست میں ہر اس شخص سے لکھوایا جاتا ہے جو وہاں کا جزو بن کر رہنا چاہے۔ نظارت امور عامہ سے ایک اجازت نامہ حاصل کرنا پڑتا تھا اور غیر از جماعت لوگوں کو ایک معاہدہ تجارت پر دستخط کرنے کے بعد احمدیوں کے ساتھ لین دین کی اجازت ملتی تھی۔ بلکہ ہر شخص کی شخصی جائیداد پر بھی ان کا تصرف تھا۔ اس ضمن میں ذیل کا اعلان پڑھئے:

اعلان

قبل ازیں میاں فضل حق موچی سکنہ دارالعلوم کے مکان کی نسبت اعلان کیا تھا کہ کوئی دوست نہ خریدیں۔ اب اس میں ترمیم کی جاتی ہے کہ اس کے مکان کا سودا رہن و بیع نظارت ہند کے توسط سے ہو سکتا ہے۔

(الفضل مورخہ ١٨ اگست ١٩٣٧ء)

قادیان میں جس شخص کا سوشل بائیکاٹ کیا جاتا تھا اس کے ساتھ لین دین کے تعلقات بھی منقطع کر دیئے جاتے تھے۔ چنانچہ اس بارہ میں خلیفہ کا بتوسط ناظر امور عامہ حکم سنئے: ”یعنی میاں فخرالدین ملتانی، شیخ عبدالرحمان مصری اور حکیم عبدالعزیز ان کے ساتھ اگر کسی دوست کا لین دین ہو تو نظارت ہذا کی وساطت سے طے کریں۔ کیونکہ ان کے ساتھ تعلقات رکھنے ممنوع ہیں۔“

(الفضل مورخہ ٧ جولائی ١٩٣٧ء)

پس خلیفہ ربوہ کا یہ عذر لنگ پیش کرنا کہ لین دین منع نہیں صرف تعلقات منقطع کرنے سے مراد جزوی بائیکاٹ یعنی سلام کلام تک ہے اس کی روشنی میں سراسر جھوٹ اور فریب ہے۔

١٠٦

صفحہ ٢٨٥

سوشل بائیکاٹ میں صرف لین دین ہی منع نہیں۔ بلکہ کسی سے کسی قسم کا تعلق رکھنا ، اس کے گھر جانا، حتیٰ کہ رشتہ تک کرنا ممنوع ہے۔ اس ضمن میں یہ ارشاد ملاحظہ فرمائیں: ”میں چوہدری عبداللطیف کو اس شرط پر معاف کرنے کو تیار ہوں کہ آئندہ اس کے مکان واقع نسبت روڈ پر وہ افراد نہ آئیں جن کا نام اخبار میں چھپ چکا ہے۔...... چوہدری عبداللطیف نے یقین دلایا کہ میں ذمہ لیتا ہوں کہ وہ آئندہ اس جگہ پر نہیں آئیں گے اور میں نے اس کو کہہ دیا ہے کہ جماعت لاہور اس کی نگرانی کرے گی اور اگر اس نے پھر ان لوگوں سے تعلق رکھا یا، اپنے مکان پر آنے دیا تو پھر اس کی معافی کو منسوخ کر دیا جائے گا۔“

(الفضل مورخہ ٢٢؍نومبر ١٩٥٦ء)

اسی طرح خلیفہ نے اپنے ایک رشتہ دار ڈاکٹر علی اسلم کی بیگم امتہ السلام کا سوشل بائیکاٹ کرتے ہوئے اپنی بہو کو جو امتہ السلام کی ہمشیرہ ہے یہ دھمکی دی تھی کہ: ”اب اگر تنویر بیگم جو میری بہو ہے۔ الفضل میں اعلان نہ کرے کہ میرا اپنی بہن سے کوئی تعلق نہیں تو میں اس کے متعلق الفضل میں اعلان کرنے پر مجبور ہوں گا کہ لجنہ (قادیانی عورتوں کی انجمن) اس کو کوئی کام سپرد نہ کرے اور میرے خاندان کے وہ افراد جو مجھ سے تعلق رکھنا چاہتے ہیں اس سے تعلق نہ رکھیں۔“

(الفضل مورخہ ٢١؍جون ١٩٥٧ء)

چنانچہ خلیفہ کا یہ اعلان شائع ہونے کی دیر تھی۔ فوراً تنویرالاسلام نے سوشل بائیکاٹ کے ڈر سے اپنی بہن کے خلاف یہ اعلان الفضل میں شائع کرا دیا۔ ”ڈاکٹر سید علی اسلم صاحب (حال ساکن نیروبی) اور سیدہ امتہ السلام، (بیگم ڈاکٹر علی اسلم) نے جماعت کے نظام کو توڑنے کی وجہ سے میرے رشتہ کو بھی توڑ دیا ہے۔ لہٰذا آئندہ ان سے میرا کسی قسم کا کوئی تعلق نہ ہوگا۔“

(الفضل مورخہ ٢٥؍جون ١٩٥٧ء)

یہ ہیں چند مثالیں سوشل بائیکاٹ وغیرہ کی جن کی طرف تمام ملکی اخبار اور جرائد نے ارباب بست و کشاد کی توجہ دلائی اور خصوصاً نوائے وقت نے بھی اس ریاست اندر ریاست کے کھیل کو ختم کرنے کا حکومت پر زور دیا۔ مگر یہ آواز بھی صدا بصحرا ثابت ہوئی۔ کیونکہ گورنمنٹ نے اس وقت تک اس ریاست کے بارے میں کوئی واضح اور ٹھوس قدم نہیں اٹھایا۔ یہاں ہم یہ بات واضح کر دینا ضروری خیال کرتے ہیں کہ خلیفہ ربوہ ہر اس آدمی کو شدید نقصان پہنچانے سے بھی گریز نہیں کرتے جو ان کے احکام کی تعمیل نہ کرے اور ان کی مخالفت کرے۔ چنانچہ انہی دنوں اسی سوشل بائیکاٹ پر عمل نہ کرنے کے سبب اور سوشل بائیکاٹ کئے گئے افراد کو اشیاء خوردونوش مہیا کرنے کے جرم کی پاداش میں اللہ یار بلوچ پر قاتلانہ حملہ کیا گیا جس کا مقدمہ چل رہا ہے۔

١٠٧

صفحہ ٢٨٦

خلیفہ کا دستور ہے کہ وہ اپنے مخالفین کے خلاف اپنے مریدوں کو ابھارتے ہیں۔ چنانچہ اس ضمن میں ان کی تقریر کا ایک اقتباس ملاحظہ ہو: ”اگر تم میں رائی کے دانہ کے برابر بھی حیا ہے اور تمہارا سچ مچ یہی عقیدہ ہے کہ دشمن کو سزا دینی چاہئے تو پھر یا تم دنیا سے مٹ جاؤ گے یا گالیاں دینے والوں کو مٹادو۔ اگر کوئی انسان سمجھتا ہے کہ اس میں مارنے کی طاقت ہے تو میں اسے کہوں گا اے بے شرم! تو آگے کیوں نہیں جاتا اور اس منہ کو کیوں نہیں توڑتا۔“

(الفضل مورخہ ٥ جون ١٩٤٧ء)

ان مذکورہ بالا امور کی طرف توجہ دلانے کے بعد ہم گورنمنٹ کی توجہ ان بنیادی اجزاء اور عناصر کی طرف مبذول کرانا چاہتے ہیں۔ جو ریاستوں اور حکومتوں میں پائے جاتے ہیں اور جو ربوہ ریاست میں بدرجہ اتم موجود ہیں چنانچہ وہ یہ ہیں۔ سربراہ، مقننہ، عدلیہ، انتظامیہ، فوج، دارالحکومت اور بینک وغیرہ وغیرہ۔ اپنے انتظام کے بارہ میں خلیفہ کا اپنا دعویٰ یہ ہے: ”ان کی جماعت کا نظام ایک مضبوط سے مضبوط گورنمنٹ کے نظام کا مقابلہ کر سکتا ہے۔“

(الفضل مورخہ ١١ جولائی ١٩٤٧ء)

اب ہم مختصراً ان مذکورہ بالا امور کے بارہ میں اگلے باب میں علیحدہ علیحدہ روشنی ڈالیں گے۔ یہاں ایک اور بات کا ذکر کرنا نہایت ضروری ہے۔ وہ قادیان میں چھوڑی ہوئی جائیداد کے بارہ میں ہے۔ مہاجرین جو قادیان میں جائیداد چھوڑ آئے ان کو خلیفہ ربوہ نے کلیم داخل کرنے سے منع کردیا ہے۔ جس کی وجہ سے لاکھوں روپے کے کلیم احمدیوں نے داخل نہیں کئے اور گورنمنٹ پاکستان کو اس وجہ سے لاکھوں روپے کے کلیم آئے۔ کیا یہ گورنمنٹ کے حکم کی صریحاً خلاف ورزی نہیں۔

خلافتی حکومت کا مختصر خاکہ

اب ہم ذیل میں ربوہ مملکت کے اجزائے ترکیبی کے ہر جزو پر ”خلیفہ“ کی زبان سے روشنی ڈالیں گے۔

سربراہ

”ریاست میں حکومت اس نیابتی فرد کا نام ہے۔ جس کو لوگ اپنے مشترکہ حقوق کی نگرانی سپرد کرتے ہیں۔“

(الفضل مورخہ ١٥ اکتوبر ١٩٣٦ء)

خلیفہ ربوہ کی اصطلاح میں اسے خلیفہ کہتے ہیں اور ایسا خلیفہ اگرچہ غلطی سے منزہ نہیں کہلاسکتا۔ لیکن احتساب سے بالا ضرور ہوتا ہے۔ خلیفہ ربوہ کے اپنے ارشادات گرامی ملاحظہ

١٠٨

فرماتے ہیں: ”جس مقام پر ان کو کھڑا کیا جاتا ہے اس ٹھوکر سے بچ نہیں سکتے۔“ ”مجھ پر سچا اعتراض کرنے والا خدا برباد کرے گا۔“

مقننہ (یعنی مجلس مشاورت)

مقننہ کو خلیفہ ربوہ کے نظام میں مجلس م کلیتاً خلیفہ کے ماتحت ہوتی ہے اور خلیفہ ربوہ کے راشدین میں قائم شدہ مجلس شوریٰ کو حاصل تھی۔ ا میں خلیفہ مشورہ طلب کرے۔ اس کا کوئی مشورہ ب صدر انجمن کے لئے واجب التعمیل نہ ہوگا۔ اس اس ضمن میں ان کا قول ملاحظہ ہو۔ ”تمام محکموں پ

”اسے یہ حق ہے (یعنی خلیفہ کو) ک کرے۔ لیکن اسے یہ بھی حق حاصل ہے کہ مشور

مقننہ کے ممبروں کی تعداد مقرر نہیں ب جو جماعتوں کی طرف سے آتے ہیں۔ لیکن ا جماعت کے چنے ہوئے نمائندے خلیفہ رد کرسکت ہے۔ اس کے علاوہ خلیفہ خود جتنے افراد کو چاہے اس اجلاس میں کوئی شخص بغیر اجازت خلیفہ بات اس مجلس سے باہر جاسکتا ہے۔ اس ضمن میں خلیف

”پارلیمنٹوں میں وزراء کو وہ جھاڑ پ ہوں۔ گالی گلوچ کو سپیکر روکتا ہے۔ سخت تنقید کو تو لیکن خلیفہ کو حق حاصل ہے کہ وہ مش سے بالکل محروم کردے۔

صفحہ ٢٨٧

فرمائیے: ”جس مقام پر ان کو کھڑا کیا جاتا ہے اس کی بات کی وجہ سے ان پر اعتراض کرنے والے ٹھوکر سے بچ نہیں سکتے۔“

(الفضل مورخہ ١٨ جون ١٩٢٦ء)

”مجھ پر سچا اعتراض کرنے والا خدا کی لعنت سے نہیں بچ سکتا اور خدا تعالیٰ اسے تباہ وبرباد کرے گا۔“

(الفضل مورخہ ٢٩ مئی ١٩٢٨ء)

مقننہ (یعنی مجلس مشاورت)

مقننہ کو خلیفہ ربوہ کے نظام میں مجلس شوریٰ کہا جاتا ہے۔ یہ بھی دیگر محکمہ جات کی طرح کلیۃ خلیفہ کے ماتحت ہوتی ہے اور خلیفہ ربوہ کے نزدیک اس مجلس کی وہی پوزیشن ہے جو خلفائے راشدین میں قائم شدہ مجلس شوریٰ کو حاصل تھی۔ اس مجلس کا کام ہے کہ ان امور میں مشورہ دے جن میں خلیفہ مشورہ طلب کرے۔ اس کا کوئی مشورہ جب تک خلیفہ منظوری نہ دے اور جاری نہ فرمائے صدر انجمن کے لئے واجب التعمیل نہ ہوگا۔ اس کے علاوہ ہر محکمہ کی نگرانی خلیفہ ربوہ خود کرتا ہے۔ اس ضمن میں ان کا قول ملاحظہ ہو۔ ”تمام محکموں پر خلیفہ کی نگرانی ہے۔“

(الفضل مورخہ ١٥ نومبر ١٩٣٠ء)

”اسے یہ حق ہے (یعنی خلیفہ کو) کہ جب چاہے جس امر میں چاہے مشورہ طلب کرے۔ لیکن اسے یہ بھی حق حاصل ہے کہ مشورہ لے کر رد کردے۔“

(الفضل مورخہ ٢٧ اپریل ١٩٣٧ء)

مقننہ کے ممبروں کی تعداد مقرر نہیں۔ اس میں دو قسم کے نمائندے ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو جماعتوں کی طرف سے آتے ہیں۔ لیکن ان کی منظوری بھی خلیفہ کی طرف سے ہوتی ہے۔ جماعت کے چنے ہوئے نمائندے خلیفہ رد کر سکتا ہے اور ان کو مقننہ میں شامل ہونے سے روک سکتا ہے۔ اس کے علاوہ خلیفہ خود جتنے افراد کو چاہے اپنی طرف سے مقننہ کا ممبر بنا سکتا ہے۔ مقننہ کے اس اجلاس میں کوئی شخص بغیر اجازت خلیفہ ہاؤس کو خطاب نہیں کر سکتا اور نہ ہی بغیر منظوری خلیفہ اس مجلس سے باہر جا سکتا ہے۔ اس ضمن میں خلیفہ کا ارشاد بغرض تصدیق پیش ہے۔

”پارلیمنٹوں میں وزراء کو وہ جھاڑیں پڑتی ہیں جن کی حد نہیں۔ یہاں تو میں روکنے والا ہوں۔ گالی گلوچ کو سپیکر روکتا ہے۔ سخت تنقید کو نہیں۔“

(الفضل مورخہ ٢٧ اپریل ١٩٣٨ء)

لیکن خلیفہ کو حق حاصل ہے کہ وہ جسے چاہے بولنے کا موقع دے اور جسے چاہے اس حق سے بالکل محروم کر دے۔

١٠٩

صفحہ ٢٨٨

یہ مجلس صرف ایک دفعہ سال میں منعقد ہوتی ہے اور اس میں بجٹ وغیرہ کی منظوری کو اہمیت دی جاتی ہے۔ مگر بجٹ کی منظوری کے متعلق بھی خلیفہ کہہ دیا کرتے ہیں کہ بعد میں اس پر غور کر کے میں خود ہی دے دوں گا۔ یعنی اس مقننہ کو اصل میں کوئی اختیار نہیں۔

انتظامیہ

اس کے بعد ہم خلیفہ کی انتظامیہ کے بارے میں کچھ عرض خدمت کریں گے۔ بہتر معلوم ہوتا ہے کہ ہم اس ضمن میں خلیفہ کے ”ارشادات“ ہی نقل کر دیں جس میں اس انتظامیہ کی ضرورت اور ماہیت کا اجمالی نقشہ موجود ہے۔ خلیفہ فرماتے ہیں: ”تیسری بات تنظیم کے لئے یہ ضروری ہوگی کہ اس کے مرکزی کام کو مختلف ڈیپارٹمنٹوں میں اس طرح تقسیم کیا جائے جس طرح گورنمنٹوں کے محکمے ہوتے ہیں۔ سیکرٹری شپ کا طریق نہ ہو۔ بلکہ وزراء کا طریق ہو اور ہر ایک صیغہ کا ایک انچارج ہو۔“

(الفضل مورخہ ١٨؍ جولائی ١٩٢٥ء)

خلیفہ کی اس انتظامیہ کو جسے صدر انجمن احمدیہ ربوہ کی اصطلاح میں ”نظارت“ کہا جاتا ہے۔ ”ان کے ہاں ہر ایسے وزیر کو ناظر کہا جاتا ہے۔“ ایسے ناظران کی نامزدگی، اخلاء، ترقی یا تنزل خلیفہ کے اپنے ہاتھ میں ہے۔ نامزدگی کا اصول ملاحظہ کیجئے: ”ناظر ہمیشہ میں نامزد کرتا ہوں۔“

(الفضل مورخہ ٢٣؍ اگست ١٩٣٢ء)

یہ انتظامیہ اپنے سارے کام خلیفہ کی قائم مقامی میں ادا کرتی ہے۔ اس کے ہر فیصلہ کی اپیل خلیفہ سنتا ہے اور اس کے لئے خلیفہ کا حکم قطعی ہوتا ہے۔ یہ اپنے قواعد خلیفہ کی منظوری کے بغیر تبدیل نہیں کر سکتی اور اس کے فیصلوں کی تمام تر ذمہ داری خلیفہ پر ہوتی ہے۔ کیونکہ یہ انتظامیہ خلیفہ کی نمائندہ ہوتی ہے۔ ”صدر انجمن جو کچھ کرتی ہے چونکہ وہ خلیفہ کے ماتحت ہے۔ اس لئے خلیفہ بھی اس کا ذمہ دار ہے۔“

(الفضل مورخہ ٢٣؍ اپریل ١٩٢٨ء)

لیکن اس انتظامیہ کو بھی خلیفہ کی برائے نام نمائندگی کا حق ہے۔ عملاً خلیفہ کی حیثیت ایک آمر مطلق کی ہے۔ خود خلیفہ فرماتے ہیں: ”ناظر یعنی (وزراء) بعض دفعہ چلا اٹھتے ہیں کہ ہمارے کام میں رکاوٹیں پیدا کی جا رہی ہیں۔“

(الفضل مورخہ ٢٧؍ اپریل ١٩٣٨ء)

صدر انجمن احمدیہ

ہر صوبہ میں ایک انجمن ہوتی ہے۔ یہ انجمن ضلعوں کی انجمنوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ ہر ضلع کی انجمن تحصیلوں کی انجمنوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ ان کی حد بندی صدر انجمن متعلقہ انجمنوں کے مشورہ کے بعد کرتی ہے۔

(الفضل مورخہ ١٢؍ اگست ١٩٢٩ء)

١١٠

صفحہ ٢٨٩

اغراض

اس انجمن کے اغراض میں وہ سب کام شامل ہیں جو خلفاء سلسلہ کی طرف سے سپرد کئے جاتے ہیں یا آئندہ کئے جائیں۔

اراکین

تمام صیغہ جات سلسلہ کے ناظر اور تمام اصحاب جنہیں خلیفہ وقت کی طرف سے صدر انجمن کا زائد ممبر مقرر کیا جائے۔ ناظر سے مراد سلسلہ کے ہر مرکزی صیغہ کا وہ افسر اعلیٰ ہے۔ جسے خلیفہ وقت نے ناظر کے نام سے مقرر کیا ہے۔

تقرر، علیحدگی ممبران صدر انجمن

خلیفہ وقت کی ہدایت کے ماتحت ممبران صدر انجمن کا تقرر اور علیحدگی عمل میں آتی ہے۔

اندرونی انتظام

صدر انجمن کے فیصلے کثرت رائے سے ہوتے ہیں۔ لیکن ان کا صدر ان کو ویٹو کر سکتا ہے۔ اس وقت ربوہ میں صدر انجمن احمدیہ کی جو نظارتیں (وزارتیں) قائم ہیں ان کا ایک خاکہ درج ذیل ہے:

ناظر اعلیٰ

ناظر اعلیٰ سے مراد وہ ناظر ہے جس کے سپرد تمام محکمہ جات کے کاموں کی عمومی نگرانی ہوگی اور وہ خلیفہ اور صدر انجمن احمدیہ یعنی کابینہ کے درمیان واسطہ ہوگا۔

سے روابط قائم کرنا اس محکمہ کا کام ہے)

کارروائیاں اور سیاسی گٹھ جوڑ)

١١١

صفحہ ٢٩٠

حفاظت کا بندوبست)

اختیارات وفرائض ناظران ”وزراء“

ناظران کے اختیارات وفرائض وقتاً فوقتاً خلیفہ کی طرف سے تفویض ہوتے رہتے ہیں۔ ناظروں کی تعداد خلیفہ کی طرف سے مقرر ہوتی ہے۔ صدر انجمن کے تمام فرائض وہی ہیں جو خلیفہ کی طرف سے تفویض ہیں۔ جنہیں وہ خلیفہ کی قائم مقامی کے طور پر ادا کرتی ہے۔ تمام ماتحت مجالس خواہ مرکزی ہو یا مقامی۔ قواعد کا نفاذ، خلیفہ کی منظوری کے بعد ہوتا ہے۔ بجٹ خلیفہ کی منظوری سے طے اور اس کی منظوری سے جاری ہوتا ہے۔ صدر انجمن کے ہر فیصلے کے خلاف بتوسط صدر انجمن خلیفہ کے پاس اپیل ہوتی ہے۔ ہر ایک معاملہ میں صدر انجمن کا اس کی ماتحت مجالس اور تمام مقامی انجمنوں کے لئے حکم قطعی ہوتا ہے۔ قواعد اساسی اور ان کے متعلق نوٹوں میں تغیر وتبدل صرف خلیفہ کی منظوری سے ہو سکتا ہے۔ اپنے قواعد وضوابط میں جو خلیفہ نے تجویز کئے ہوں۔ صدر انجمن تبدیل نہیں کر سکتی۔ صدر انجمن کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ کوئی ایسا قاعدہ یا حکم جاری کرے جو خلیفہ کے کسی حکم کے خلاف ہو یا جس سے خلیفہ کی مقرر کردہ پالیسی میں کوئی تبدیلی آتی ہو۔ ناظروں اور مفتی سلسلہ کا تقرر وترقی وتنزلی وتبدیلی وبرطرفی وغیرہ صرف خلیفہ کے اختیار میں ہے۔ صدر انجمن کو سلسلہ کی جائیداد غیر منقولہ کی فروخت، ہبہ، رہن وتبدیل کرنے کا بغیر منظوری خلیفہ ربوہ اختیار نہیں اور خلیفہ ربوہ ہی ناظر اعلیٰ کا قائم مقام مقرر کرتا ہے۔ ناظران اور افسران صیغہ جات کے کام کی ہفتہ وار رپورٹ خلیفہ کی خدمت میں پیش کرے۔ ناظر اعلیٰ کا یہ فرض ہے کہ خلیفہ کی تحریری وتقریری ہدایات کے علاوہ ان کے تمام خطابات وتقاریر وغیرہ میں جو احکام وہدایات جماعت کے نظام کے متعلق ہوں ان کی تعمیل کروائے۔ اسی طرح قاعدہ ہے کہ جب کوئی ناظر بہ حیثیت ناظر کسی جگہ جائے تو جماعت کا فرض ہے کہ اس کا استقبال کرے اور اس کا مناسب اعزاز کریں۔ (مذکورہ بالا تمام کوائف، قواعد صدر انجمن طبع شدہ سے لئے گئے ہیں)

عدلیہ

انتظامیہ کے علاوہ خلیفہ کے ہاں ایک مربوط عدلیہ بھی ہے۔ خلیفہ خود آخری عدالت

١١٢

صفحہ ٢٩١

ہیں اور وہ خود ہی ناظم قضا یا رجسٹرار مقرر کرتے ہیں اور اس کا عزل اور ترقی بھی خود ان ہی کے ہاتھ میں ہے۔

ربوہ سپریم کورٹ کے جج یا اپیل بورڈ کے ممبران کی نامزدگی بھی خلیفہ خود کرتے ہیں اور وہ جس مرحلہ پر چاہیں مقدمہ کی مسل اپنے ملاحظہ کے لئے طلب کر لیتے ہیں اور جس جج کو چاہیں مقدمہ سننے کا نا اہل قرار دے دیتے ہیں۔ ایسے مقدمات میں جو وکیل پیش ہوتے ہیں انہیں ناظم ہٰذا سے باقاعدہ اجازت نامہ دیا جاتا ہے۔ اس کے بغیر خلیفہ کی عدالتوں میں کسی وکیل کو حکومت کے اجازت نامہ کے باوجود پیش ہونے کا حق نہیں دیا۔ خلیفہ کا یہی ناظم قضا یا رجسٹرار مقدمہ مختلف قاضیوں کے سپرد کرتا ہے اور فیصلوں کی نقول مہیا کرنے پر جو آمدنی ہوتی ہے۔ اس کو داخل خزانہ کرنے کا بھی ذمہ دار ہے۔ سلسلہ احمدیہ کے فرائض دربارہ قضا اور فیصلہ تنازعات کی ادائیگی کے لئے یہی محکمہ قضا ہے۔ اس میں ناظم کا یہ کام بھی ہوتا ہے کہ احمدیوں کے تنازعات کے فیصلوں کے لئے مناسب انتظام کرے۔ اس کو حسب ضرورت خلیفہ کے ایماء سے قاضی اور قاضی القضاء مقرر کرنے کا اختیار ہے۔ آخری اپیل خلیفہ کے پاس ہوتی ہے۔

(الفضل مورخہ ٦؍ جنوری ١٩٢١ء)

قاضی سلسلہ سمن جاری کرنے کا مجاز ہے۔ نوٹس بھی دیتا ہے۔ ڈگریوں کا اجراء بھی کرایا جاتا ہے۔ یک طرفہ اور ضابطہ کی کاروائیاں بھی یہاں ہوتی ہیں۔ مثال ملاحظہ ہو:

نوٹس: بنام شیخ منظور احمد۔ مدعی: مستری بدرالدین معمار ساکن قادیان۔ بنام: شیخ منظور احمد ولد شیخ محمد حسین مرحوم۔ دعویٰ: اجراء ڈگری مبلغ۔

مقدمہ مندرجہ عنوان میں محکمہ قضا نے ٤؍ اگست ١٩٣٣ء کو یک طرفہ ڈگری کر دی تھی۔ مدعی نے امور عامہ میں اجرا ڈگری کی درخواست ١٤؍ اگست ١٩٣٣ء کو دی۔ لہٰذا آپ کو بذریعہ اخبار نوٹس دیا جاتا ہے کہ مندرجہ بالا زر ٢٣؍ دسمبر ١٩٣٣ء تک دفتر امور عامہ میں جمع کروائیں تو بہتر ورنہ آپ کے خلاف ضابطہ کی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

(الفضل مورخہ ١٩؍ دسمبر ١٩٣٣ء)

اس سمن کے بارہ میں سنئے: ”ملک عبدالحمید ولد غلام حسین محلہ دارالرحمت قادیان کے خلاف چند مقدمات برائے ڈگری دائر ہیں۔ کئی دفعہ ان کے نام علیحدہ علیحدہ مقدمات میں

١١٣

صفحہ ٢٩٢

سمن جاری کئے گئے ہیں۔ مگر وہ تعمیل سے پہلو تہی کرتے ہیں۔ چنانچہ یکم ستمبر ١٩٣٣ء کو ایک سمن اگلے روز کی حاضری کے لئے جاری کیا گیا۔ اس پر ملک عبدالحمید نے عذر کیا میں ١٥؍ یوم کے لئے باہر جارہا ہوں۔ لہذا مجبور ہوں۔ اس پر اسی وقت ان کو اطلاع بھیجی گئی کہ آپ کو اس سمن کی اطلاع یابی کے بعد باہر جانے کی اجازت نہیں۔ بلکہ اس سمن کی تعمیل واجب ہے۔ اگر واقعی آپ کو کوئی اتنا اشد ضروری کام ہے جو رک نہیں سکتا تو آپ کو لازم ہے کہ درخواست پیش کرکے عدم حاضری کی اجازت حاصل کریں۔....... لہذا ان کو بذریعہ اخبار اطلاع دی جاتی ہے کہ اگر وہ اس اعلان کی تاریخ سے دس روز کے اندر اندر دفتر امور عامہ میں حاضر نہ ہوئے تو سخت نوٹس لیا جائے گا۔" (ناظر امور عامہ)

(الفضل مورخہ ٩؍ دسمبر ١٩٣٣ء)

خلیفہ کا عسکری نظام

اپنی ریاست قادیان کی فوجی ضروریات کی تکمیل کا ابتدائی بندوبست تو خلیفہ نے یہ کیا کہ ایک رؤیا کا سہارا لے کر جماعت کو یہ تلقین کی کہ میری ٹیریٹوریل فوج میں بھرتی جماعت کے لئے نہایت ضروری اور مفید ہے اور مجھے اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ یہ کام آئندہ جماعت کے لئے بابرکت ہوگا۔

(الفضل مورخہ ١٦؍ اکتوبر ١٩٣٩ء)

بار بار جماعت کے نوجوان طبقہ کو یہ بھی تحریک کی جاتی تھی: "احمدی نوجوانوں کو چاہئے کہ ان میں سے جو بھی شہری میری ٹیریٹوریل فورس میں شامل ہو سکتے ہوں شامل ہو کر فوجی تربیت حاصل کریں۔"

(الفضل قادیان مورخہ ١٨؍ مارچ ١٩٣٩ء)

اس کے بعد اپنی مستقل فوجی تنظیم ضروری قرار دی گئی۔ "جیسا کہ پہلے ہی اعلان کیا جا چکا ہے۔ یکم ستمبر ١٩٣٢ء سے قادیان میں فوجی تربیت کے لئے ایک کلاس کھولی جائے گی۔ جس میں بیرونی جماعتوں کے نوجوانوں کی شمولیت نہایت ضروری ہے۔ ہندوستان میں حالات جس سرعت کے ساتھ تغیر پذیر ہورہے ہیں ان کا تقاضا ہے کہ مسلمان جلد از جلد اپنی فوجی تنظیم کی طرف متوجہ ہوں اور خاص کر جماعت احمدیہ ایک لمحہ کے لئے بھی اس میں توقف نہ کرے اور یہ اس طرح ممکن ہے کہ ہر مقام کے نوجوان پہلے خود فوجی سکھلائی کریں۔ پھر اپنے اپنے مقام پر دوسرے نوجوانوں کو سکھلائیں اور ان کی ایسی تنظیم کریں کہ ضرورت کے وقت مفید ثابت ہو سکیں۔"

(الفضل مورخہ ٧؍ اگست ١٩٣٢ء)

١١٤

صفحہ ٢٩٣

”صدر انجمن نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ انجمن کے تمام کارکن والنٹیر کور کے ممبر ہوں گے اور مہینہ میں کم سے کم ایک دن اپنے فرائض منصبی کور کی وردی میں ادا کریں گے۔ نیز بیرونی جماعتوں کے امراء و پریذیڈنٹ بہ حیثیت عہدہ مقامی کور کے افسر اعلیٰ ہوں گے۔ ہر مقام کی احمدی جماعتوں کو اپنے ہاں کور کی بھی بھرتی لازمی ہوگی۔“ جہاں کور کے ایک سے تین دستے ہوں گے جن میں سے ہر ایک سات آدمیوں پر مشتمل ہوگا۔ وہاں ہر دستہ کا ایک افسر دستہ مقرر ہوگا اور جہاں چار دستے ہوں گے وہاں ایک پلٹون سمجھی جائے گی۔ جس پر ایک افسر دستہ کے علاوہ ایک افسر پلٹون بھی ہوگا اور ایک نائب افسر پلٹون مقرر کیا جائے گا۔ جہاں چار پلٹونیں ہوں گی وہاں پر پلٹون کے مذکورہ بالا افسروں کے علاوہ ایک افسر کمپنی اور ایک نائب افسر کمپنی بنا دیا جائے گا۔

حضرت امیر المومنین نے احمدیہ کور کو اپنی سرپرستی کے فخر سے بھی سرفراز کرنا بھی منظور فرما لیا ہے۔

(الفضل مورخہ ٧؍اگست ١٩٣٢ء)

حضور کا منشاء و ارشاد اس تحریک کو نہایت باقاعدگی اور عمدگی کے ساتھ چلانے کا تھا۔

(الفضل مورخہ یکم ستمبر ١٩٣٢ء)

”یکم ستمبر صبح سات بجے تعلیم الاسلام ہائی سکول کے گراؤنڈ میں احمدیہ کور ٹریننگ کلاس کا آغاز زیر نگرانی حضرت صاحبزادہ کیپٹن مرزا شریف احمد ہوا۔“

(الفضل مورخہ یکم ستمبر ١٩٣٢ء)

یہ فوج علاوہ دوسرے کاموں کے اپنے سربراہ کی سلامی بھی اتارا کرتی تھی۔ چنانچہ ایک دفعہ مرزا شریف احمد ناظم احمدیہ کور کو بذریعہ تار خبر موصول ہوئی کہ ”خلیفہ یکم اکتوبر ١٩٣٢ء صبح دس بجے یا تین بجے بعد دوپہر تشریف فرما دارالامان ہوں گے“ احمدیہ کور کارکنان صدر انجمن احمدیہ اور بہت سے دیگر افراد حسب الحکم حضرت میاں شریف احمد کور کی وردی میں ملبوس ہو کر ہائی سکول کے گراؤنڈ میں جمع ہو گئے۔ جہاں سے مارچ کرا کر بٹالہ والی سڑک پر کھڑے کر دیئے گئے۔ خلیفہ تشریف لائے۔ فوج نے فوجی طریقہ پر سلامی اتاری۔ ”حضور نے ہاتھ کے اشارے سے فوجی سلام کا جواب دیا۔“

(الفضل مورخہ ٤ اکتوبر ١٩٣٢ء)

اس فوج کا اپنا ایک خاص جھنڈا بھی تھا جو سبز رنگ کے کپڑے کا تھا اور اس پر منارۃ المسیح بنا کر ایک طرف اللہ اکبر اور دوسری طرف ”عباداللہ“ لکھا ہوا تھا۔ جو اس فوج کا اصلی نام تھا۔ یہی وہ فوج تھی جو Camp وغیرہ کرنے دریائے بیاس کے کنارے بھی بھیجی گئی تھی۔

(الفضل مورخہ ١٤ ستمبر ١٩٣٣ء)

١١٥

صفحہ ٢٩٤

یادرہے دریائے بیاس کا ہی وہ رنگین اور پر بہار کنارہ تھا جہاں خلیفہ اپنی مستورات اور دیگر نامحرم لڑکیوں کو لے جا کر چاند ماری کی مشق کرایا کرتے تھے۔

جبری بھرتی

اس فوج کے لئے خلیفہ نے جبری بھرتی کا اصول اختیار کیا تھا۔ ”امور عامہ کو توجہ دلاتا ہوں کہ میرا فیصلہ یہ ہے کہ پندرہ سال کی عمر سے لے کر پینتیس سال کی عمر تک کے تمام نوجوان کو اس میں جبری طور پر بھرتی کیا جائے۔“

(الفضل مورخہ ٥؍ اکتوبر ١٩٣٣ء)

اس فوج کی باقیات الصالحات تھی جس کے باوردی والنٹیرز نے سر ڈگلس ینگ کو جو اس وقت پنجاب ہائیکورٹ کے چیف جسٹس تھے کا استقبال کیا تھا۔ (الفضل مورخہ ٦؍ اپریل ١٩٣٩ء) لاہور جا کر پنڈت جواہر لال نہرو کو بھی سلامی دی تھی۔ ابتداء میں ناظر امور عامہ نے اس فوج کی کمان سنبھالی تھی۔ لیکن جلد ہی خلیفہ کی بارگاہ سے اس بارہ میں سرزنش آ گئی۔ ”کمانڈر انچیف اور وزارت کا عہدہ کبھی بھی اکٹھا نہیں ہوا۔“

(الفضل مورخہ ٥؍ اپریل ١٩٣٣ء)

اس فوجی تنظیم کے قیام پر خلیفہ کو اتنا ناز تھا کہ سرکاری گزٹ الفضل نے ایک موقعہ پر لکھا کہ حضور نے احمدیہ کور کی جو سکیم آج سے تقریباً پانچ سال پہلے تجویز فرمائی تھی اس کی اہمیت اور افادیت کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ عام اقوام تو الگ رہیں اس وقت بعض بڑی بڑی حکومتیں بھی اپنی قوت مدافعت میں اضافہ کرنے کے لئے بعض ایسے احکام نافذ کر رہی ہیں کہ جو اس تحریک کے اجزاء ہیں۔

(الفضل مورخہ ١٢؍ اگست ١٩٣٩ء)

اگر قادیانی خلافت کا مقصد محض اشاعت اسلام تھا تو اس مقدس مقصد کے لئے تصنیفی، تالیفی اور اشاعتی ادارے قائم ہوتے نہ کہ فوجی تربیت پر زور دیا جاتا اور اس کے لئے ایک باقاعدہ عسکری نظام قائم کیا جاتا۔ اصل میں خلیفہ کے لاشعور میں بادشاہ بننے کی آرزوئیں انگڑائیاں لے رہی تھیں۔ ”اشاعت اسلام“ کا نعرہ محض دھوکے کی ٹٹی تھی۔ کیونکہ قادیانی عوام کا اس نام سے روپیہ وصول کرنے کا اور کوئی طریق نہیں تھا۔ اسلام کے نام پر حاصل کیا ہوا روپیہ ہوس اقتدار کی تسکین پر صرف ہو جاتا۔ یہ طرز عمل نہ صرف ان کی نیت اور ارادے کی غمازی کرتا ہے۔ بلکہ ان کے سیاسی منصوبوں کو بھی طشت از بام کرتا ہے۔ اپنے عسکری مقاصد کے حصول کے لئے خدام الاحمدیہ قائم کی گئی۔ اس کا باقاعدہ ایک پرچم بنایا گیا۔ اس کے متعلق خلیفہ فرماتے ہیں: ”خدام الاحمدیہ میں داخل ہونا اور اس کے مقررہ قواعد کے ماتحت کام کرنا ایک اسلامی فوج تیار کرنا ہے۔“

(الفضل مورخہ ٧؍ اپریل ١٩٣٩ء)

١١٦

صفحہ ٢٩٥

یہ تنظیم مع پرچم اب بھی موجود ہے۔ پھر خلیفہ فرماتے ہیں: ”میں نے ان ہی مقاصد کے لئے جو خدام الاحمدیہ کے ہیں۔ نیشنل لیگ کو تیار کرنے کی اجازت دی تھی۔ پھر جس قدر احمدی برادران کسی فوج میں ملازم ہیں۔ خواہ وہ کسی حیثیت میں ہوں ان کی فہرستیں تیار کروائی جائیں۔“

(الفضل مورخہ ١٠؍ اپریل ١٩٣٨ء)

اسی طرح جماعت کو یہ حکم دیا کہ ”جو احباب بندوق کا لائسنس حاصل کر سکتے ہیں وہ لائسنس حاصل کریں اور جہاں تلوار رکھنے کی اجازت ہے وہ تلوار رکھیں۔“

(الفضل مورخہ ٢٢ جولائی ١٩٣٠ء)

امن پسندانہ اشاعت اسلام کی دعویدار جماعت کی قادیان میں احمدیہ کور ایک خالص فوجی تنظیم تھی۔ برعظیم کا ہر احمدی باشندہ عمر ١٥ سال سے ٤٠ سال تک اس کا جبری ممبر بنایا گیا۔ ٹیریٹوریل فورس میں انگریزی حکومت کی طرف سے فوجی تربیت یافتہ پھر ١٥/٨ پنجاب رجمنٹ میں احمدیہ کمپنیوں کا ہونا اور تمام احمدی جوانوں کو فوج میں بھرتی ہو جانے کا حکم کن مقاصد کے لئے تھا۔ سندھ میں حر تحریک، احمدیہ کمپنیوں کے فوجیوں کے گولہ بارود سے ہی کیوں کچل دیا گیا۔ تقسیم ملک کے بعد سیالکوٹ ، جموں سرحد پر ان ہی احمدیہ کمپنیوں کے ریلیز شدہ سپاہی منظم طور پر کیوں پہنچ گئے اور ان کو دھڑا دھڑ اسلحہ کہاں سے ملتا رہا۔ فرقان فورس احمدیہ کشمیر میں کیوں کھڑی کی گئی اور خلیفہ نے اپنی جماعت کی فوجی تنظیم اور محاذ جنگ کا خود ملاحظہ کیونکر کیا؟

انڈیا کو جنگ کی دھمکی

اس فوج کو استعمال کرنے کے لئے خلیفہ فرماتے ہیں: ”انڈین یونین کا مقابلہ کوئی آسان بات نہیں مگر انڈین یونین چاہے صلح سے ہمارا مرکز ہمیں دے چاہے جنگ سے دے ہم نے وہ مقام لینا ہے اور ضرور لینا ہے۔ اگر جنگ کے ساتھ ہمارے مرکز کی واپسی مقدر ہے۔ تب بھی ضروری ہے کہ آج ہی سے ہر احمدی اپنی جان قربان کرنے کے لئے تیار رہے۔“

(الفضل مورخہ ٣٠؍ اپریل ١٩٤٨ء)

اب اس اقتباس کو ملاحظہ فرمائیے کہ کس طرح خلیفہ ربوہ انڈین یونین جو ایک بہت بڑی حکومت ہے اس کے ساتھ جنگ کرنے کے لئے کس طرح تیار ہو رہے ہیں۔ نیز کسی حکومت کے بنیادی عناصر سے اس کے Base مرکز اور دارالخلافہ کا مسئلہ بھی ہے اور خلیفہ نے ١٣؍ اگست ١٩٤٨ء کو جب کہ پاکستان قائم ہوئے ابھی سال بھی نہیں گزرا تھا اپنے عزائم خبیثہ پر ایک ہیجان خیز خطبہ دیا اور فرمایا: ”یاد رکھو تبلیغ اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتی جب تک ہماری Base مضبوط نہ ہو۔ پہلے Base مضبوط ہو تو تبلیغ مضبوط ہو سکتی ہے۔...... بلوچستان کو

١١٧

صفحہ ٢٩٧

احمدی بنایا جائے تاکہ ہم کم از کم ایک صوبہ کو تو اپنا کہہ سکیں ...... میں جانتا ہوں کہ اب یہ صوبہ ہمارے ہاتھوں میں سے نکل نہیں سکتا۔ یہ ہمارا ہی شکار ہوگا۔ دنیا کی ساری قو میں مل کر بھی ہم سے یہ علاقہ چھین نہیں سکتیں۔“

(الفضل مورخہ ١٣ اگست ١٩٣٨ء)

یہ واقعہ اخبارات میں آچکا ہے۔ لیکن بہت کم لوگ اس حقیقت سے آگاہ ہوں گے کہ خلیفہ کا یہ عسکری پلان بہت پرانا ہے۔ تقسیم ملک سے پہلے آپ کی نظر ضلع گورداسپور پر تھی۔ خلیفہ کہتے ہیں : ”گورداسپور کے متعلق میں نے غور کیا ہے اگر پورے زور سے کام کریں تو ایک سال میں فتح کر سکتے ہیں ...... اس وقت ڈائنامیٹ رکھا جاچکا ہے اور قریب ہے کہ مخالفت کا قلعہ اڑا دیا جائے۔ اب صرف دیا سلائی دکھانے کی دیر ہے۔ جب دیا سلائی دکھائی گئی قلعہ کی دیوار پھٹ جائے گی اور ہم داخل ہو جائیں گے۔“

(الفضل مورخہ ١٢ مارچ ١٩٣٦ء)

پھر فرماتے ہیں: ”مردم شماری کے دنوں میں گورنمنٹ بھی جبراً لوگوں کو اس کام پر لگاسکتی ہے۔ اگر کوئی انکار کرے تو سزا کا مستوجب ہوتا ہے۔ پس میں بھی ناظروں کو حکم دیتا ہوں کہ جسے چاہیں مدد کے لئے پکڑ لیں مگر کسی کو انکار کا حق نہ ہوگا اور اگر کوئی انکار کرے تو میرے پاس اس کی رپورٹ کریں۔“

(الفضل مورخہ ١٢ جون ١٩٢٢ء)

انہی مقاصد کے پیش نظر قادیان اور ماحول قادیان کا نقشہ بھی تیار کروایا گیا۔ ”ایک تو جماعت کو اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ اور نہیں تو اس ضلع ( گورداسپور ) کو تو اپنا ہم خیال بنالیں۔ احمدیوں کے پاس کوئی ایسی جگہ نہیں۔ جہاں وہ ہی ہوں اور دوسروں کا کچھ اثر نہ ہو۔ احمدیوں کے پاس ایک چھوٹے سے چھوٹا نکرہ بھی نہیں ہے۔ جہاں احمدی ہی احمدی ہوں۔ کم از کم ایک علاقہ کو مرکز بنالو اور جب تک اپنا مرکز نہ ہو جس میں کوئی غیر نہ ہو۔ اس وقت تک تم مطلب کے مطابق امور جاری نہیں کر سکتے ۔ ایسا علاقہ اس وقت تک ہمیں نصیب نہیں ہوا جو خواہ چھوٹے سے چھوٹا ہو۔ مگر اس میں غیر نہ ہوں۔ جب تک یہ نہ ہو اس وقت تک ہمارا کام بہت مشکل ہے۔“

(الفضل مورخہ ١٢ جون ١٩٢٢ء)

یہ ہے وہ منصوبہ جو خلیفہ کے ذہن پر مسلط تھا۔ کیا خالص اشاعت اسلام کرنے والی جماعت کو ایسے علاقے مطلوب ہیں خواہ بڑے پیمانے پر خواہ چھوٹے پیمانے پر کچھ علاقے ہوں جو بلاشرکت غیر کلیتہً ان کی ملکیت ہوں۔ کیا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے اپنے لئے ایسے صدر مقام کی تلاش کی تھی جس میں کوئی غیر نہ ہو۔ جہاں سے وہ تبلیغ اسلام کے کام کو جاری رکھ سکیں۔ پس یہ کام ”جس کی تکمیل کے خلیفہ متمنی تھے کہ ان کو ایسی جگہ مل جائے جہاں وہ ہی ہوں۔ ان کا قانون وہاں

١١٨

صفحہ ٢٩٧

چل سکے اور اپنی ریاست کا قیام عمل میں لایا جاسکے اور قادیان میں بھی اس لحاظ سے کامیابی کا حصول اپنے لئے مشکل سمجھتے تھے۔ مگر ربوہ میں ان کو یہ بات میسر آگئی وہ یہ ”ریاست“ اپنی پوری شان سے قائم کر چکے ہیں۔ کیونکہ اس میں سوائے ان کے قادیانی مریدوں کے اور کوئی آباد نہیں۔ پاکستان میں صرف ایک حصہ ہے۔ جس میں ایک ہی فرقے کے لوگ بستے ہیں اور وہ ایک آہنی تنظیم میں جکڑے ہوئے ہیں۔ ظاہر ہے ملک کا قانون ان کے لئے حرف غلط سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا۔ ایسی آئین سوز کیفیت کو مدنظر رکھتے ہوئے صوبائی پریس ایک عرصہ سے یہ مطالبہ کررہا ہے کہ ربوہ کو کھلا شہر قرار دیا جائے۔ یعنی اس میں دوسرے لوگ ایک عمرانی منصوبے کے ماتحت بسائے جائیں۔ تاکہ محمودی آمریت قانون کے رستے میں حائل نہ ہوسکے۔ لیکن ابھی تک یہ مطالبہ صدا بصحرا ثابت ہورہا ہے۔“

نظام بینکاری

ربوہ میں سٹیٹ بینک آف پاکستان کے بالمقابل مرزا محمود کی زیر نگرانی ایک غیر منظور شدہ بینک بھی جاری ہے۔ جسے خلیفہ کی خود ساختہ اصطلاح میں ”امانت فنڈ“ کہا جاتا ہے۔ ربوہ کے اس جعلی بینک کی طرف سے باقاعدہ چیک بک اور پاس بک بھی جاری کی جاتی ہے۔ جن کا ڈیزائن عام مروجہ بینکوں کی چیک بکوں اور پاس بکوں سے ملتا جلتا ہے۔ سطحی نظر سے کوئی شخص ان کے متعلق یہ گمان نہیں کرسکتا کہ یہ چیک بک یا پاس بک کسی جعلی اور گورنمنٹ کے غیر منظور شدہ بینک کی ہے۔ اس بینک کے متعلق بعض اعلانات پڑھئے:

”چالیس سال سے قائم شدہ صیغہ امانت صدر انجمن احمدیہ اس صیغہ کو حضرت خلیفۃ المسیح ایدہ اللہ کی بابرکت سرپرستی کے علاوہ بفضلہ تعالیٰ اس وقت مشہور انگلش بینک سے تربیت یافتہ ٹرینڈ اور مخلص نوجوانوں کی خدمات حاصل ہیں۔ آپ کا یہ قومی امانت فنڈ اس وقت خدا کے فضل و رحم سے ملکی بینکوں کے دوش بدوش اپنے حساب داران امانت کی خدمت پورے اخلاص اور محنت سے سرانجام دے رہا ہے۔ تقسیم ملک کے بعد اس صیغہ نے جو شاندار خدمات سرانجام دی ہیں وہ بھی آپ سے پوشیدہ نہیں۔ اس لئے اب آپ کو اپنا فالتو روپیہ ہمیشہ صیغہ امانت صدر انجمن احمدیہ میں ہی جمع کروانا چاہئے۔“

(الفضل مورخہ ١٩/مارچ ١٩٥٧ء)

١؎ اقلیت دیئے جانے کے بعد مجھے علم نہیں کہ آیا امانت فنڈ کا صیغہ ہے یا بند ہوگیا ہے۔ ممکن ہے اب یہ صیغہ مرکز انگلستان میں جاری ہو۔

١١٩

صفحہ ٢٩٨

”کیا آپ کو علم ہے کہ صدر انجمن احمدیہ پاکستان کے خزانہ میں احباب اپنی امانت ذاتی کا حساب کھول سکتے ہیں اور جو روپیہ اس طرح پر جمع ہو وہ حسب ضرورت جس وقت بھی حساب دار چاہے واپس لے سکتا ہے۔ جو روپیہ احباب کے پاس بیاہ شادی ، تعمیر مکان ، بچوں کی تعلیم یا کسی اور ایسی ہی غرض کے لئے جمع ہو اس کو بجائے ڈاکخانہ یا دوسرے بینکوں میں رکھنے کے خزانہ صدر انجمن احمدیہ میں جمع کرانا چاہئے ۔“

(الفضل مورخہ ١٠؍ فروری ١٩٣٨ء)

ملاحظہ ہو کس طرح کھلم کھلا گورنمنٹ کے ڈاکخانوں اور بینکوں میں روپیہ جمع کرنے سے لوگوں کو روکا گیا۔ ہمارے خیال میں کسی بڑے سے بڑے بینک نے بھی یہ جرأت نہیں کی ہوگی کہ وہ لوگوں کو یہ تلقین کرے کہ رقم صرف اسی ایک بینک میں جمع کرائی جائے۔

یہ بینک خلیفہ کی ریاست کو بوقت ضرورت روپیہ مہیا کرتا ہے۔ خود خلیفہ اور ان کے عزیزوں کو (Overdraft) کے ذریعہ متعدد بار رقمیں مہیا کر چکا ہے۔ اس وقت خلیفہ اور ان کا خاندان اسی بینک سے مبلغ سات لاکھ روپے کی رقم لے چکے ہیں۔ اسی بینک کی سیاسی افادیت کا حال بھی خلیفہ کی زبانی سنئے: ”اس کے علاوہ اس کے ذریعہ احرار کو خطرناک شکست ہوئی۔“

(الفضل مورخہ ١٣؍ جنوری ١٩٣٧ء)

نیز فرمایا: ”اگر دس بارہ سال تک ہماری جماعت کے لوگ اپنے نفسوں پر زور ڈال کر اس میں روپیہ جمع کرواتے رہیں تو خدا تعالیٰ کے فضل سے قادیان ...... اور اس کے گردونواح میں ہماری جماعت کی مخالفت ٩٥ فیصد کم ہو جائے۔“

(الفضل مورخہ ١٣؍ جنوری ١٩٣٧ء)

پس کس طرح قادیان اور اس کے ماحول کو سنبھالنے کی اس بینک کے ذریعہ تجاویز مرتب کی گئیں اور پھر کس طرح احرار کو اسی بینک کی طاقت سے شکست دی گئی۔ کیا یہی بینک کل کسی اور کو شکست دینے کے لئے استعمال نہیں کیا جائے گا؟ کیونکہ خلیفہ خود فرماتے ہیں: ”ہم اس روپیہ سے تمام وہ کام کر سکتے ہیں جو حکومتیں کیا کرتی ہیں۔“

(الفضل مورخہ ١٠؍ فروری ١٩٣٨ء)

اور پھر بالفاظ ’خلیفہ‘ : ”میں اس مد (امانت تحریک) کی تفصیلات کو بیان نہیں کرسکتا۔“

(الفضل مورخہ ١٣؍ جنوری ١٩٣٧ء)

”اور یہ بھی یاد رکھئے کہ امانت فنڈ کی تحریک الہامی تحریک ہے۔“

(الفضل مورخہ ١٨؍ فروری ١٩٣٧ء)

صیغہ امانت ”بینک“ ہے۔ لیکن بینک کی سی کوئی ذمہ داری اس پر عائد نہیں ہوتی۔ لیکن

١٢٠

صفحہ ٢٩٩

یہ ایسا بینک ہے جس کا نام امانت فنڈ ہے۔ جو اگر ضائع ہو جائے تو امین اس کا شرعاً ذمہ دار نہیں ہوتا۔ تقسیم ہند کے بعد جن احمدی احباب کے اکاؤنٹ قادیان میں امانت فنڈ میں تھے ان کو کچھ نہیں ملا تھا۔ حالانکہ وہ تمام رقم مرزا محمود کے ذاتی ہوائی جہاز کے ذریعہ پاکستان لائی گئی تھی۔ صیغہ امانت میں گورنمنٹ کے افسروں کے کھاتے کھلے ہیں۔ ہم محکمہ انکم ٹیکس والوں کو بھی توجہ دلاتے ہیں کہ وہ بھی اس امر کی چھان بین کریں۔ انہیں بڑی مفید معلومات حاصل ہوں گی اور وہ تمام لوگ جو گورنمنٹ ٹیکسوں سے بچنے کے لئے بینکوں کی بجائے یہاں روپیہ رکھتے ہیں۔ منظر عام پر آجائیں گے اور گورنمنٹ ملازم جن کے لئے اپنی مالی پوزیشن کو صاف رکھنا ضروری ہے۔ ان کے متعلق تمام کوائف طشت از بام ہو جائیں گے۔ بینکاری کا معاملہ بڑا سنگین معاملہ ہے۔ اگر کوئی بینک بیٹھ جائے تو کتنے لوگ برباد ہو جاتے ہیں۔ پیپلز بینک جب دیوالیہ ہوا تھا تو کس طرح ملک میں کہرام مچ گیا تھا۔ بینک تو بند ہو گیا۔ مگر ان بیواؤں اور یتیموں کا رونا کس طرح بند نہ ہوا۔ جن کا روپیہ اس میں امانت پڑا ہوا تھا۔ گورنمنٹ نے اس کا کیا انسداد کیا ہے۔ اگر ”خلیفہ“ کی بے تدبیری اور بڑھتے ہوئے اخراجات کی اور آئے دن کی اوور ڈرافٹس (Overdrafts) اور صیغۂ امانت سے قرض کے نام پر نکلوائی ہوئی بھاری رقم سے یہ بینک دیوالیہ ہوگا جس کا دیوالیہ ہو جانا ایک یقینی امر ہے تو امانت والوں کا کیا بنے گا۔ پاکستان کے شہریوں کے اموال کی حفاظت کا کیا بندوبست کیا ہے۔ حکومت کو اس حقیقت سے آگاہ ہونا چاہئے کہ ربوہ کا یہ بینک ”خلیفہ“ کی بے اعتدالیوں کے باعث شدید مالی بحران کا شکار ہے اور اس کے کل سرمایہ میں سے جو تقریباً ٢٣ لاکھ روپیہ ہے۔ ١٨ لاکھ روپے کی گرانقدر رقم عملاً خورد برد کی جاچکی ہے۔ اگر اس بینک کا کوئی باقاعدہ میزانیہ تیار کرایا جائے تو حکومت کو خود علم ہو جائے گا کہ یہ عملاً دیوالیہ ہو چکا ہے اور اس کے واجبات زیادہ اور اثاثہ اس کے بالمقابل برائے نام ہے۔

مخفی اخراجات

حکومت کو بعض اوقات مخفی طور پر بعض اخراجات برداشت کرنے پڑتے ہیں۔ خلیفہ کے ریاستی بجٹ میں بھی یہ مد موجود ہے۔ خلیفہ خود فرماتے ہیں: ”صرف ایک مد خاص ایسی ہے جس کے اخراجات مخفی ہوتے ہیں۔ مگر میں ان کے متعلق بھی بتا دینا چاہتا ہوں کہ ان مخفی اخراجات کی مد میں سے جو بعض دفعہ خبر رسانیوں اور ایسے ہی اور اخراجات پر جو ہر شخص کو بتائے نہیں جاسکتے۔ خرچ ہوئے ہیں۔“

(الفضل مورخہ ٢؍ جولائی ١٩٤٧ء)

١٢١

صفحہ ٣٠٠

آزادی رائے پر پہرے

آمرانہ حکومتوں میں آزادی رائے عنقا ہوتی ہے۔ ایسا ہونا آمریت کے مزاج کے مطابق ہے۔ بلکہ وہاں افکار پر سنگین پہرے ہوتے ہیں۔ ہٹلر کے دور اقتدار میں کوئی جرمن باشندہ آزادی سے سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں سے بڑے بڑے مفکر اور سائنس دان بھاگ کر جمہوری ملکوں میں آباد ہو گئے تھے۔ جاپان میں دوسری عالمگیر جنگ سے پہلے شاہ میکاڈو کی حکومت میں پولیس کا ایک حصہ تھا۔ جس کو (Thought Police) کہتے تھے۔ اس کا یہ فرض تھا کہ وہ ملک میں گفتار و کردار کے علاوہ افکار کا جائزہ لیتی رہے۔ یہی حال قادیانی میکاڈو کا ہے۔ یہ بھی اپنی مملکت میں کسی کو نہ سوچنے دیتا ہے نہ ہی کسی کو یہ اجازت ہے کہ وہ آزادانہ طور پر تصنیفی یا تالیفی کام کرے۔ ان کے ہاں اس (Thought Police) کو نظارت تالیف واشاعت کہتے ہیں۔ بظاہر یہ کتنی بھلی اصطلاح ہے۔ حالانکہ اس کا اولین فرض ہے کہ تالیف اور اشاعت پر قفل لگا دے۔ اگر اس کو نظارت تعزیر و احتساب کہا جاتا تو زیادہ صحیح ہوتا۔ قاعدہ یہ ہے کہ ”تمام وہ لٹریچر جو احمدی احباب تصنیف فرمادیں۔ اگر وہ کسی موضوع پر ہو تو محکمہ تالیف واشاعت میں روانہ فرمادیں اور محکمہ مذکورہ بعد ملاحظہ و تصحیح ضروری اسے اشاعت کے لئے منظور کرے اور کوئی کتاب یا رسالہ بغیر محکمہ مذکورہ کے پاس کرنے کے احمدیہ لٹریچر میں شائع نہیں ہو سکتا۔“

(الفضل مورخہ ١٨ مئی ١٩٢٢ء)

”اسی طرح مجلس معتمدین صدر انجمن احمدیہ نے بمنظوری حضرت خلیفہ المسیح بذریعہ ریزولیوشن نمبر ایک ١٩٢٨ء یہ فیصلہ کیا تھا کہ سلسلہ کی طرف سے کوئی کتاب ٹریکٹ وغیرہ بغیر منظوری نظارت تالیف واشاعت چھپنے اور شائع ہونے نہ پائے۔ اگر اس کی خلاف ورزی ہوئی تو اس کتاب کی اشاعت بند کر دی جائے گی۔“

(الفضل مورخہ ٢٩ جنوری ١٩٣٣ء)

چنانچہ ان تجاویز پر عمل شروع کر دیا گیا۔ المحشر نام سے قادیان سے ایک رسالہ نکلتا تھا۔ جس کے ایڈیٹر ایک مشہور قادیانی صحافی تھے۔ لیکن ریاست محمودیہ کے نزدیک بعض نقائص ایسے تھے کہ ان کے ہوتے ہوئے ”المحشر“ کو مرکز سلسلہ سے شائع کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی تھی۔

(الفضل مورخہ ٢٨ اگست ١٩٣٧ء)

”اسی طرح اعلان کیا گیا کہ کتاب ”بیان الجاہل“ (جو مولوی غلام احمد سابق پروفیسر جامعہ احمدیہ (تعلیم الاسلام کالج) نے شائع کی ہے۔ کوئی صاحب اس وقت تک نہ خریدیں جب تک

١٢٢

صفحہ ٣٠١

نظارت دعوۃ وتبلیغ کی طرف سے اس کی خریداری کا اعلان نہ ہو۔"

(الفضل مورخہ ١٠ ستمبر ١٩٣٤ء)

ایک ٹریکٹ کے متعلق اعلان کیا گیا کہ : ”اس ٹریکٹ کو ضبط کیا جاتا ہے اور اعلان کیا جاتا ہے کہ جس کے پاس یہ ٹریکٹ موجود ہو وہ اسے فوراً تلف کر دیں اور شائع کرنے والے صاحب سے جواب طلب کیا گیا ہے اور انہیں ہدایت کی گئی ہے کہ جس قدر کاپیاں اس ٹریکٹ کی ان کے پاس ہوں وہ سب تلف کر دی جائیں۔“

(الفضل مورخہ ٧ دسمبر ١٩٣٤ء)

جب نظارت تالیف وتصنیف کو اس ٹریکٹ کی اشاعت کا علم ہوا تو اس نے اس کی اشاعت ممنوع قرار دے دی اور اسے بحق جماعت ضبط کر کے تلف کر دینے کا حکم دے دیا۔ نیز ٹریکٹ شائع کرنے والے سے جواب طلب کیا۔

(الفضل مورخہ ٤ دسمبر ١٩٣٤ء)

غور فرمائیے کہ اب ریاست کے مکمل ہونے میں کوئی شک باقی رہ جاتا ہے۔ خلیفہ فرماتے ہیں: ”اب تک تین رسالوں کو میں اس جرم میں ضبط کر چکا ہوں۔“

(الفضل مورخہ ٤ مارچ ١٩٣٦ء)

اس سلسلہ میں خلیفہ کی ریاست کا سب سے گندہ پہلو یہ ہے کہ جن کتب اور اخبارات کو ضبط نہیں کر سکتے یا کروا سکتے، ان کے متعلق اپنی رعایا یا مریدوں کو یہ ارشاد ہوتا ہے کہ وہ اسے پڑھیں نہیں۔ کیا ایک مذہبی، دینی اور تبلیغی جماعت جنہوں نے دوسروں تک اپنی بات پہنچانی ہوتی ہے۔ ان کی طرف سے تعزیری اقدام ان کے لئے باعث فخر ہو سکتے ہیں۔ چنانچہ روزنامہ ”نوائے پاکستان“ جو وقتاً فوقتاً خلیفہ کے متعلق بعض اہم حقائق کو منظر عام پر لاتا رہتا ہے۔ خلیفہ نے اپنے ہوم سیکرٹری (ناظر امور عامہ) کے ذریعہ اس اخبار کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا۔ اس سے پہلے جلسہ سالانہ ١٩٥٦ء کے موقعہ پر اعلان ہو چکا ہے کہ حقیقت پسند پارٹی کا شائع کردہ لٹریچر کوئی احمدی نہ پڑھے۔ بلکہ پھاڑ کر پھینک دے یا خلیفہ کے ہوم سیکرٹری یا محکمہ حفاظت مرکز کے پاس بحفاظت پہنچا دیں۔

(الفضل مورخہ ٧ اپریل ١٩٥٧ء)

خلیفہ اپنے دارالخلافہ میں جس طرح لوگوں کو اپنی ریاست کا مطیع اور فرمانبردار بنا رکھا ہے۔ باشندگان ربوہ یہ یقین رکھتے ہیں کہ ان کے حاکم اعلیٰ ان کے خلیفہ ہیں۔ حکومت بھی ان کو خلیفہ کے چنگل سے نہیں بچا سکتی۔ ان کے سامنے قادیان سے لے کر ربوہ تک کی مثالیں موجود ہیں کہ حکومتی نظام سنگین واردات کی کھوج لگانے میں ناکام رہا۔ اگر کھوج لگا سکا تو عدالت میں جا کر مقدمات فیل ہو گئے۔

١٢٣

صفحہ ٣٠٢

خلیفہ کی خروجی تدابیر

سیاست کاری اور سیاست بازی ”خلیفہ محمود“ کا اوڑھنا بچھونا تھا۔ مذہب یا تو محض زیب داستان کے لئے تھا یا اس کا مصرف سیاست کی پردہ داری تھا۔ اگر بغور مطالعہ کیا جائے اور ان کے اعلانات کا نفسیاتی تجزیہ کیا جائے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ محراب و منبر کے سیاق و سباق میں پناہ گزین ہوکر وہ سیاست کا کھیل کھیلتے تھے۔ وہ سیاست کی سربلندیوں سے سرفراز تو ہونا چاہتے تھے۔ مگر اس کی ابتلاء انگیزیوں کے حریف نہیں ہو سکتے۔ اس واسطے ان کا نظریہ خروج پہلو دار باتوں میں ملفوف ہوکر ان کے مریدوں کے سامنے آتا ہے۔ مثلاً وہ اکثر کہا کرتے ہیں: ”ہم قانون کے اندر رہتے ہوئے اس کی روح کو کچل دیں گے ۔“ ایسے ہی مقاصد کے لئے یہ دفتر امور عامہ ایسے احمدی افسران جو گورنمنٹ یا ڈسٹرکٹ بورڈوں یا فوج یا پولیس، سول، بجلی، جنگلات، تعلیم وغیرہ کے محکموں میں کام کرتے ہیں۔ ان کے مکمل پتے مہیا رکھتا ہے۔ (الفضل مورخہ ٨ نومبر ١٩٣٢ء)

کبھی ان پر سیاست کا ایسا جنون مسلط ہو جاتا ہے کہ وہ حزم و احتیاط کے سارے پردے چاک کر کے برملا کہہ دیتے ہیں: ”پس وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ ہم میں سیاست نہیں وہ نادان ہیں وہ سیاست کو سمجھتے ہی نہیں۔ جو شخص یہ نہیں مانتا کہ خلیفہ کی بھی سیاست ہے وہ بیعت ہی کیا کرتا ہے۔ اس کی کوئی بیعت نہیں۔ دراصل بات تو یہ ہے کہ ہماری سیاست گورنمنٹ کی سیاست سے بھی زیادہ ہے۔ پس اس مسئلہ کو اگر میں نے بار بار بیان نہیں کیا تو اس کی وجہ صرف یہی ہے کہ میں نے اس سے جان بوجھ کر اجتناب کیا۔ آپ لوگوں کو یہ بات خوب سمجھ لینی چاہئے کہ خلافت کے ساتھ ساتھ سیاست بھی ہے اور جو شخص یہ نہیں مانتا وہ جھوٹی بیعت کرتا ہے۔“

(الفضل مورخہ ٣ اگست ١٩٢٦ء)

اسی دھن میں خروجی عزائم کو یوں بے نقاب کر جاتے ہیں: ”میرا یہ خیال ہے کہ ہم حکومت سے صحیح تعاون کر کے جس قدر جلد حکومت پر قابض ہو سکتے ہیں عدم تعاون سے نہیں اگر ہم کالجوں اور سکولوں کے طلباء کے اندر یہ روح پیدا کر دیں تو جو ان میں سے ملازمت کو ترجیح دیں اور اس غرض سے ملازمت کریں کہ اپنی قوم اور اپنے ملک کو فائدہ پہنچائیں گے تو یہ لوگ چند ماہ میں ہی حکومت کو اپنی آزاد رائے اور بے دھڑک مشورے سے مجبور کر سکتے ہیں کہ وہ ہندوستانی نقطہ نگاہ کی طرف مائل ہو۔ بے شک ایسے لوگوں کی ملازمت خطرہ میں ہوگی۔ مگر جب یہ لوگ ملازم ہی اس خطرہ کو مد نظر رکھ کر ہوئے ہوں گے ان کے دل اس بات سے ڈریں گے نہیں۔ دوسرے کوئی

١٢٤

صفحہ ٣٠٣

گورنمنٹ ایک وقت میں ہزاروں لاکھوں ملازموں کو اس جرم میں الگ نہیں کرسکتی کہ تم کیوں سچائی سے اصل واقعات پیش کرتے ہو اگر پولیس کے محکمہ پر ہی ایسے حب الوطنی سے سرشار لوگ قبضہ کر لیں تو حکومت ہند میں بہت کچھ اصلاح ہو سکتی ہے۔“

(الفضل مورخہ ١٨ جولائی ١٩٢٥ء)

جب اس شاطر سیاست کے خفیہ اڈوں پر حکومت چھاپہ مارتی ہے تو یہ اسلحہ اور کاغذات کمال ہوشیاری نے زیر زمین دفن کر دیتا ہے۔ قادیان کی سر زمین میں فسادات کے موقعہ پر احمدی نوجوانوں اور سابق فوجیوں کے ہاتھوں جو ماڈرن اسلحہ مہیا کیا اور ان کی فوجی گاڑیاں حرکت میں آئیں تو اس پر حکومت کی طرف سے یک دم چھاپہ پڑا۔ جس کی اطلاع قبل از وقت خلیفہ کو نہ ہوسکی۔ کیونکہ وہاں احمدی سی آئی ڈی ناکام رہی۔ لیکن خلیفہ کی اپنی اہریمنی فراست ان کے کام آئی۔ کیونکہ جب پولیس سر پر آ گئی تو اس ”مقدس، پاکباز، ملہم، مصلح دوراں“ نے اپنی مستورات کی چھاتیوں پر خفیہ دستاویزات باندھ کر کوٹھی دارالسلام (قادیان) بھجوا دیں اور قادیانی فوجیوں نے فوراً اسلحہ زیر زمین کر دیا۔ ١٩٥٣ء کے فسادات اور پھر مارشل لاء کے اختتام پر جب گورنمنٹ نے یہ فیصلہ کیا کہ ربوہ کے فوجی اور ربوی پولیس کے دفاتر اور قصر خلافت پر چھاپہ مارا جائے تو یہ خبر دو دن قبل ربوہ پہنچ گئی۔ خفیہ اور ضروری کاغذات جن پر خلیفہ کے دستخط تھے۔ ان کو دو حصوں میں تقسیم کر کے ایک حصہ تلف کر دیا گیا اور دوسرا حصہ چناب ایکسپریس پر سندھ روانہ کر دیا گیا۔ جب پولیس دفتر کی تلاشی لے رہی تھی۔ خفیہ کاغذات قادیانی اٹیچیوں میں چھپائے جا رہے تھے۔ خلیفہ ہر اس فرد کو بغاوت کا حق دیتے ہیں۔ جس نے دل سے اور عمل سے حکومت وقت کی اطاعت نہ کی ہو۔ ایک دفعہ کسی شخص نے خلیفہ سے پوچھا کہ جس ملک کے لوگوں نے کسی حکومت کی اطاعت نہ کی ہو۔ کیا انہیں حق ہے کہ وہ اس حکومت کا مقابلہ کرتے رہیں تو ارشاد ہوا کہ: ”اگر کسی قوم کا ایک فرد بھی ایسا باقی رہتا ہے جس نے اطاعت نہیں کی نہ عمل سے نہ زبان سے تو وہ آزاد ہے اور دوسرے لوگوں کو اپنے ساتھ شامل کر کے مقابلہ کر سکتا ہے۔“

(الفضل مورخہ ١٩؍ ستمبر ١٩٢٤ء)

پھر فرماتے ہیں: ”اگر تبلیغ کے لئے کسی قسم کی رکاوٹ پیدا کی جائے تو ہم یا تو اس ملک سے نکل جائیں گے یا پھر اگر اللہ تعالیٰ اجازت دے تو پھر ایسی حکومت سے لڑیں گے۔“

(الفضل مورخہ ١٣ نومبر ١٩٣٥ء)

یعنی ایک حکومت میں رہ کر اس کے متعلق اعلان جنگ کے مواقع اور ان پر غور سب کچھ ہو سکتا ہے۔ بغاوت کا ذکر ہو رہا ہے تو ایک اور ارشاد بھی سنئے۔ فرماتے ہیں: ”شاید کابل کے لئے کسی وقت جہاد کرنا پڑجائے۔“

(الفضل مورخہ ٢٧؍ فروری ١٩٢٤ء)

١٢٥

صفحہ ٣٠٤

خلیفہ نے ایک مرتبہ یہ بھی کہا تھا کہ ”جماعت ایک ایسے مقام پر پہنچ چکی ہے کہ بعض حکومتیں بھی اسے ڈر کی نگاہ سے دیکھنے لگی ہیں اور قومیں بھی اسے ڈر کی نگاہ سے دیکھنے لگی ہیں۔“

(الفضل مورخہ ٢٠/ اپریل ١٩٣٨ء)

ان اقتباسات سے بالکل عیاں ہے کہ خلیفہ محمود اپنی جماعت کے ذہنوں میں اسی جنون کی پرورش کرتا رہا ہے۔ جو ان کے اپنے ذہن میں سمایا ہوا تھا۔ انہوں نے ربوہ کو اپنی کمین گاہ بنا رکھا تھا اور اسی تاک میں بیٹھا ہوا تھا کہ کب وطن عزیز میں انتشار ہو اور وہ اس سے فائدہ اٹھا کر اقتدار کی نشستوں پر قابض ہو کر ملک کے حکمران بن جائیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ قبولیت کی رو چلانے کے لئے طاقت کی ضرورت ہوتی ہے۔

(الفضل مورخہ ١١/ جولائی ١٩٣٦ء)

ان کا اپنا قول ہے کہ: ”پنجاب جنگی صوبہ کہلاتا ہے۔ شاید اس کے اتنے یہ معنی نہیں کہ ہمارے صوبہ کے لوگ فوج میں زیادہ داخل ہوتے ہیں۔ جتنے اس کے یہ معنی ہیں کہ ہمارے صوبہ کے لوگ دلیل کے محتاج نہیں بلکہ سوٹے کے محتاج ہیں۔“

(الفضل مورخہ ٢٧/ جولائی ١٩٣٦ء)

گویا خلیفہ مغرب کی (Bigstick) پالیٹکس کے قائل ہیں۔ چنانچہ محکومی کی حالت میں بھی خارجی حکومتوں سے ساز باز کے متمنی ہیں اور اس کی تلقین بھی کرتے ہیں۔ مثلاً فرماتے ہیں: ”کہ کوئی قوم دنیا میں بغیر دوستوں کے زندہ نہیں رہ سکتی۔ اس لئے زیادہ مجرم اور کوئی قوم نہیں ہو سکتی جو اپنے لئے دشمن تو بناتی ہے مگر دوست نہیں کیونکہ یہ سیاسی خودکشی ہے۔“

(الفضل مورخہ ١٨/ جون ١٩٤٦ء)

اب پاکستان میں رہتے ہوئے اس کے دشمنوں کے حلیف بننے کی کوشش کیوں نہیں کریں گے۔ چاہے اس کی کوئی سی بھی صورت ہو مثلاً وہ راز افشاء کر کے پاکستان کے دشمنوں کے دلوں میں جگہ پیدا کرنے کی کوشش بھی کریں گے۔ انہوں نے فوج کے ایک کرنل کی طرف یہ منسوب کیا کہ اس نے دوران گفتگو میں ان سے یہ کہا کہ: ”حالات پھر خراب ہورہے ہیں۔ لیکن اس دفعہ فوج آپ کی مدد نہیں کرے گی۔“

(الفضل مورخہ ٨/ مارچ ١٩٥٧ء)

”جب پہلی دفعہ خلیفہ کی یہ تقریر ’الفضل‘ میں چھپی تو اس میں یہ بھی لکھا تھا کہ کرنل نے کہا کہ فوج آپ کی مدد نہیں کرے گی۔ کیونکہ وہ بدنام ہوچکی ہے۔“

جب اخبارات میں اس قابل اعتراض بات پر تبصرے ہوئے تو خلیفہ کے ایماء سے ان کی وہی تقریر دوبارہ شائع ہوئی اور اس میں سے وہ فقرہ حذف کردیا گیا۔ جس میں فوج کی بدنامی کی طرف اشارہ تھا۔ تردید کرنے کی اخلاقی جرات نہ تھی۔ ہاں قانون سے بچنے کا حیلہ نکال لیا۔

١٢٦

PDF 306

خاتم النبیین لا نبی بعدی

میں آنحضرت ﷺ کو آخری نبی مانتا ہوں

الذکر الحکیم نمبر ٤

ڈاکٹر عبدالحکیم خان پٹیالوی

صفحہ ٣٠٦

اس کو کوئی نہ پڑھے مگر وہی جو خدا کے خدمت گار ہیں نہ کہ نفس کے

الذکر الحکیم نمبر: ٤

یعنی وہ خط کتابت جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے مجھ کو اپنی جماعت سے خارج کر دیا۔ اس کے مطالعہ سے صاف طور پر معلوم ہو جائے گا کہ مرزا قادیانی کیسے علم وعقل اور کیسے اخلاق کے انسان ہیں۔ میں لکھتا کچھ ہوں اور وہ سمجھتے کچھ ہیں۔ میں ہر امر میں بینات قرآنی پیش کرتا ہوں اور وہ ان کو رد کرتے اور میرا قول قرار دیتے ہیں۔ مسلمانوں کو بلا وجہ خارج از اسلام اور غیر ناجی بتلاتے اور تمام عالم کو جہنمی قرار دیتے ہیں۔ خداوند عالم، اسلام اور قرآن کو جب تک مرزا کی شمولیت نہ ہو مردہ کہتے ہیں۔ تمام زلزلوں، آتش فشانیوں، وباؤں اور حوادثات کو خواہ ایکوے ڈور میں ہوں یا اٹلی میں یا فارموسیٰ میں یا سان فرانسسکو میں۔ الغرض کسی شہر یا گاؤں میں ہو۔ خواہ ان کو حضرت کی خبر بھی ہو یا نہ ہو۔ اپنی تکذیب کا نتیجہ بتلاتے ہیں نہ کہ فسق و فجور، دہریت، کفر، شرک، توہین اسلام، توہین وتکذیب قرآن، توہین محمدﷺ وغیرہ جرائم کا، خداوند عالم کو ایک باؤلا کتا اور بلی سمجھ لیا ہے۔ (معاذ اللہ) جو جوش حمایت میں ازخود رفتہ ہو کر مرزا کی خاطر دنیا کو تباہ کرتا پھر رہا ہے اور اتنا بھی نہیں سوچتا کہ اس کے اصل مکذب کون ہیں۔ دنیا میں کہیں تباہی آئے تو خود مرزا قادیانی اور ان کے مرید بغلیں بجاتے اور عید مناتے ہیں کہ یہ ہمارے واسطے ایک نشان ظاہر ہوا ہے اور ہر وقت اسی ہوس اور انتظار میں ہیں کہ دنیا تباہ ہو۔ فلاں ہلاک ہو۔ جس قدر زیادہ تباہی آئی اسی قدر ان کی گہری عید ہوئی۔ وغیرہ وغیرہ! چونکہ وہ میرے خلاف البدر اور الحکم میں ایک اعلان شائع کر چکے ہیں اور میرا کوئی خط شائع نہیں کیا۔ اس لئے مجھے یہ خط و کتابت شائع کرنی پڑی۔ التماس بخدمت جملہ ایڈیٹران اخبارات و رسالہ جات۔ بغرض رفاہ عام آپ اس تمام خط و کتابت کو تھوڑی تھوڑی کر کے اپنے رسالہ یا اخبار میں شائع کرنا شروع کر دیں اور بطور ریویو کچھ عبارت لکھ کر یہ اعلان شائع کر دیں کہ یہ کل خط و کتابت جس کا نام ”الذکر الحکیم نمبر ٤“ ہے ایک آنہ کا ٹکٹ بھیجنے پر پتہ ذیل سے مل سکتی ہے۔ منیجر مطبع عزیزی مقام ترآوڑی ضلع کرنال، سب صاحب اپنی اپنی رائے سے مجھے بھی اطلاع دیں تاکہ مجھے اصلاح واثبات خیالات موجودہ میں امداد ملے۔ مؤلفہ: مولوی ڈاکٹر محمد عبدالحکیم خان، ایم ۔ بی اسسٹنٹ سرجن ٢٤ مئی ١٩٠٦ء، مطابق ٢٩ ربیع الاول ١٣٢٤ھ

٢

صفحہ ٣٠٧

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

”نحمده ونصلى على رسوله الكريم“

خدا کے واسطے غور سے پڑھو شتاب کاری اور غصہ بڑے شیطان ہیں

مرزا غلام احمد قادیانی مجھ سے خود بخود بگڑ بیٹھے۔ میں نے تعطیلات محرم و ہولی میں جماعت احمدی کو بمقام پٹیالہ چند ضروری مضامین پر لیکچر دینے شروع کئے اور ابتداء اسماء الہی، دلائل ہستی باری تعالیٰ اور تفسیر الحمد سے کی۔ کیونکہ جماعت احمدی میں خاص مرزا قادیانی کے اذکار...... کا جوش ایسا غالب ہو گیا ہے کہ تسبیح و تقدیس اور تحمید و تمجید باری تعالیٰ قریب قریب مفقود ہو گئے یا محض برائے نام رسمی طور پر رہ گئے اور سوائے اس ایک مسئلہ کے اور تمام قرآنی تعلیموں کا چرچا جاتا رہا اور اس ایک ہی مسئلہ کا مذاق رہ گیا۔ گویا کہ پرستش باری تعالیٰ کی بجائے مرزا قادیانی کی پرستش قائم ہوگئی اور عملی طور پر ان کا کلمہ ”لا الہ الا المرزا“ ہو گیا۔ کیونکہ الہ یعنی معبود و مطلوب وہی ہے جس کی سب سے زیادہ طلب کی جائے اور جس کی سب سے زیادہ پرستش کی جائے۔ چنانچہ خود مرزا قادیانی کو بھی یہ الہام ہوئے۔ ”يايها الناس اعبدوا ربكم الذي خلقكم والذين من قبلكم“ یعنی اے لوگو! تم اپنے اس رب کی پرستش کرو جس نے تم کو اور ان تمام کو جو تم سے پہلے تھے پیدا کیا، اور یہ بھی الہام ہوا۔ ”بل تؤثرون الحيوة الدنيا “ بلکہ تم حیات دنیاوی کو اختیار کر رہے ہو۔ یہ ہر دو الہامات ان کی تنبیہ اور تادیب کے لئے کافی تھے۔ اگر وہ ان الہامات کو نظر غور اور نیت عمل سے دیکھتے۔ مگر ذکر مرزا کا مذاق ایسا غالب ہو گیا ہے کہ دن رات ان کی مجلسوں میں یہی ذکر غالب تر ہوتا ہے۔ اخبارات الحکم اور البدر میں بھی یہی ذکر ہوتا ہے۔ مگر اس ذکر سے وہ کبھی نہیں اکتاتے۔ یہ مذاق قرآن مجید کے بالکل مخالف ہے۔ کیونکہ قرآن مجید از اول تا آخر اللہ تعالیٰ کی عظمت و جلال اور قدرت و حکمت کا بیان رنگارنگ پیرائوں میں کرتا ہے یا تزکیہ نفس اور اصلاح اعمال کا اور بشری ضروریات کے ہر پہلو پر علیٰ التناسب نہایت مدلل اور معقول بحثیں کرتا ہے۔ ایسا نہیں کہ خدا کی حمد و ثنا اور تزکیہ نفس کے تمام پہلوؤں کو چھوڑ کر ایک محمدﷺ کی ہی حمد و ستائش تمام افکار پر مقدم اور غالب کر لی ہو۔ جیسا کہ خود مرزا قادیانی اور ان کی جماعت کا عموماً حال ہے۔ خود

٣

صفحہ ٣٠٨

مولوی نورالدین نے بھی جو جماعت احمدی میں ایک اعلیٰ نمونہ ہیں ان ایام میں جب کہ میں تفسیر القرآن بغرض اصلاح مرزا قادیانی اور آنجناب کو سنایا کرتا تھا۔ فرمایا کرتے تھے کہ مرزا قادیانی کو تو بس ایک وفات مسیح کی بحث سنا دیا کرو۔ پھر اس پر طرفہ تو یہ ہے کہ تیرہ کروڑ مسلمانوں کو جو تیرہ سو سال میں تیار ہو رہے ہیں بلا تبلیغ کامل خارج از اسلام سمجھنے لگ گئے ہیں۔ میں نے توحید و عظمت باری تعالیٰ پر تین یا چار ہی لیکچر دیئے تھے کہ احمدی لوگ گھبرائے اور ایک شخص عبدالغنی خاں نام نے جماعت کی طرف سے کہا کہ آپ مرزا قادیانی کا ذکر کیوں نہیں کرتے۔ میں نے جواب دیا کہ ابھی تو حمد ہو رہی ہے اور الحمد للہ کی تفسیر ہے۔ ابھی تو رب العالمین۔ الرحمٰن۔ الرحیم اور مالک یوم الدین کی تفسیر بھی نہیں ہوئی۔ حمد کے بعد نعت رسولﷺ پھر مناقبت مرزا قادیانی ہوگی۔ حاضرین میں سے بعض نے یہ بھی کہا کہ توحید و تحمید باری تعالیٰ بھی مرزا قادیانی کا خاص مشن ہے۔ مگر ان باتوں سے پکے احمدی مطمئن نہ ہوئے اور روز بروز واویلا بڑھتا گیا۔ آخر کار ایک روز عبدالغنی خاں نے یہ کہا کہ آپ تو حمد الٰہی کے ساتھ مرزا قادیانی کا ذکر کرنا شرک سمجھتے ہیں۔ مگر میں اس بات کو شرک سمجھتا ہوں کہ حمد الٰہی کے ساتھ مرزا قادیانی کا ذکر نہ کیا جائے۔ ان حالات سے مجھ کو سخت افسوس ہوا۔ جس قدر میں اس بات پر زور دیتا تھا کہ کوئی انسان کامل نہیں ہو سکتا۔ جب تک کہ قرآن مجید کے تمام مسائل پر علیٰ التناسب زور نہ دیا جائے۔ ایک ہی مسئلہ پر ٹل جانا اور اسی کو تمام امور پر مقدم اور غالب کرنا ایک قسم کا جنوں اور سخت فسادات کی بنا ہے۔ چنانچہ قرآن مجید فرماتا ہے...... ”جعلوا القراٰن عضین“ یعنی قرآن کو بوٹی بوٹی کرو...... ”واعتصموا بحبل اللہ جمیعاً ولا تفرقوا“ اللہ کی رسی کو اکٹھے ہو کر مضبوط پکڑو اور تفرقہ اندازی مت کرو اور تمام تفرقہ و فسادات کی بنا یہ بتلائی ہے۔ ”کل حزب بما لدیھم فرحون“ تمام فریق اپنی اپنی بات پر اتراتے ہیں۔ مگر وہ مرزا قادیانی کے دیوانے کب سنتے تھے۔ اتفاقاً مولوی مبارک علی (قادیانی) سیالکوٹی پٹیالہ میں تشریف لائے اور ان کے وعظ شروع ہوئے۔ میں نے ان سے ذکر کیا کہ آپ اپنے تمام وعظوں میں قرآنی عظمت اور قرآنی تعلیم کی ضرورت اور عمل بالتناسب پر زور دیں۔ اگر ہماری جماعت کے لوگ قرآن مجید کے عاشق ہو جائیں یا کم سے کم قرآنی مطالعہ کا اس قدر ہی چرچا ہو جائے جتنا الحکم اور البدر اور مرزا قادیانی کے اشتہار کا تو ہر قسم کی اخلاقی کمزوریاں اور نقص رفتہ رفتہ دور ہو سکتے ہیں۔

٤

صفحہ ٣٠٩

کیونکہ تمام امراض انسانی کا یہی ایک کامل اور یقینی نسخہ ہے۔ ”فیہ شفاء لما فی الصدور“ مولوی موصوف نے بھی اپنے وعظوں میں جب یہ ذکر غالب کیا تو مرزا قادیانی کے دیوانے اور پکے مرزائی تاڑ گئے کہ یہ تو ڈاکٹر کی تلقین ہے اور انہیں بہکانا چاہا اور کثیر التعداد ہونے کی وجہ سے غالب آگئے۔ تب تو انہوں نے قرآن مجید کے انہیں مضامین پر وعظ شروع کر دیئے۔ جن میں مرزا قادیانی کی نسبت استدلال ہو سکتا تھا اور ہر وعظ میں مرزا قادیانی کو محمد ﷺ کا مظہر اتم ثابت کرنا شروع کیا۔ اس سے میرا افسوس اور مایوسی اور بھی زیادہ ہو گئے۔ پھر طرفہ تر یہ کہ جب مولوی انشاء اللہ خان صاحب ایڈیٹر الوطن کی تحریک پر مولوی محمد علی و خواجہ کمال الدین وغیرہ نے یہ تجویز پاس کی اور شائع کی کہ ریویو آف ریلیجنز قادیان میں عام اسلامی مضامین شائع ہوا کریں اور خاص مرزا قادیانی کے متعلق ابحاث علیحدہ ضمیمہ میں شائع ہوا کریں۔ جن کو خاص مریدوں کے نام جاری کیا جائے یا دیگر ایسے اشخاص کے نام جو اس کے خود خواستگار ہوں۔ اس تجویز کی اشاعت سے میرا دل قدرے ٹھنڈا ہوا اور میں نے کہا کہ ہماری جماعت میں عالی خیال اور عالی ظرف لوگ بھی ہیں اور اب یہ کام قرآنی رنگ اور خدائی پر چلے گا اور ہمارا پیغام احسن اور بلیغ صورت میں تمام دنیا کو پہنچے گا۔ مگر وہ تمام خوشی خاک میں مل گئی۔ جب پکے مرزائیوں یا مرزا کے شیدائیوں نے اس تجویز کے خلاف شور مچانا شروع کیا اور وہ تجویز خاک میں مل گئی۔ مولوی محمد علی کو مرزائیوں کا شور دبانے کی غرض سے اپنے اقرار اور عقائد شائع کرنے پڑے۔ ”انا للہ وانا الیہ راجعون“ انہی ایام میں میں نے تین ماہ کی رخصت استحقاقی کے لئے درخواست پیش کر دی اور دل میں آرزو تھی کہ قادیان پہنچ کر خالص قرآنی مضامین اور اسی کی ترغیب اور تناسب پر لیکچر دیا کروں گا۔ ممکن تھا کہ ان لیکچروں سے ہی یہ مانو مانیا اور آکسٹر پٹی دور ہو کر کل قرآن مجید کا مذاق پیدا ہو جائے۔ مگر میں زیادہ صبر نہ کر سکا اور مضامین ذیل پر ایک خط میں نے مرزا قادیانی کی خدمت میں نہایت بے قراری اور جوش کی حالت میں لکھا۔ چونکہ اصل خط کی نقل میرے پاس موجود نہیں اور میری بار بار کی درخواستوں پر مرزا قادیانی نے اس کو واپس بھی نہیں کیا اور نہ نقل بھیجی اور نہ اخباروں میں شائع کرایا بلکہ اپنے خیالات سے ہی ایک اعلان البدر اور الحکم میں ٣ مئی ١٩٠٦ء کو شائع کرا دیا۔ اس لئے میں اپنی یادداشت کی ہی بنا پر وہ خط ذیل میں درج کرتا ہوں۔

٥

صفحہ ٣١٠

خط نمبر: ١

ڈاکٹر عبدالحکیم خان بنام غلام احمد قادیانی

حضرت مسیح الزمان

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ

میں نے تین ماہ کی رخصت استحقاقی کے لئے درخواست پیش کر دی ہے۔ آپ بھی دعا فرمائیں۔ میری جدائی قادیان سے اس الہام کے بعد ہوئی تھی۔ سال دیگر را کہ میداند حساب۔ تا کجا رفت آں کہ باما بود یار ! اور اب میں امید کرتا ہوں کہ آپ کے وہ الہامات پورے ہوں۔

رسید مژدہ کہ ایام نوبہار آمد

(تذکرہ ص ٥٢٢)

رسید مژدہ کہ آں یار دل پسند آمد واللہ اعلم!

(تذکرہ ص ٥٧٦)

اس وقت میں چند امور کی طرف جو نہایت ضروری ہیں آپ کی توجہ دلانا چاہتا ہوں۔

کے ساتھ تو بیشک نماز نہیں ہو سکتی ۔ مگر جو لوگ ہمیں صریحاً کافر نہیں کہتے ان تمام کو کافر نہ سمجھا جائے ۔ بلکہ حسن ظنی سے کام لیا جائے اور ان کے ساتھ نمازیں پڑھنے کی اجازت دی جائے ۔ تاکہ ہماری تبلیغ آسان اور وسیع ہو سکے۔

شائع کی تھی کہ ریویو آف ریلیجنز میں عام اسلامی مضامین شائع ہوا کریں اور خاص مضامین جو آپ کی ذات سے متعلق ہیں۔ وہ ایک علیحدہ ضمیمہ میں شائع ہو جایا کریں۔ اس سے ہمارے مشن کی تبلیغ بہت جاری اور عمدگی سے پھیل سکتی ہے اور قرآن مجید کی رو سے مدار نجات بھی اللہ پر ایمان اور اعمال صالحہ ہیں ۔ ” ان الذين آمنوا والذين هادوا والنصارى والصابئين من آمن بالله واليوم الآخر وعمل صالحاً فلهم اجرهم عند ربهم فلا خوف عليهم ولا هم يحزنون“ جو لوگ مسلمان ہو گئے اور جو یہودی اور نصاریٰ اور آتش پرست یا ستارہ پرست وغیرہ ہیں جو کوئی اللہ کو اور یوم آخرت کو مانتا اور اچھے عمل کرتا ہے ان کے واسطے ان کے رب کے پاس اجر ہے۔ پس ایسے لوگوں پر کوئی خوف نہیں اور وہ غمگین ہوں گے۔

٦

صفحہ ٣١١

”وقالوا لن يدخل الجنة الا من كان هود او نصارى تلك امانيهم قل هاتوا برهانكم ان كنتم صادقين“ وہ کہتے ہیں بہشت میں اور کوئی شخص داخل نہ ہوسکے گا۔ مگر وہی جو یہودی ہوگیا یا عیسائی یہ ان کی بے بنیاد آرزوئیں ہیں۔ ان سے کہہ کہ تم اپنی دلیل پیش کرو۔ اگر سچے ہو۔

”بلی من اسلم وجهه لله وهو محسن فله اجره عند ربه فلا خوف عليهم ولا هم يحزنون “ نہیں بلکہ (بہشت میں وہی داخل ہوگا) جو اپنے آپ کو اللہ کے قربان کردے اور نیکی کرنے والا ہو۔

ایک موقعہ پر اہل کتاب کو محض توحید کی طرف دعوت کی ہے۔ ”تعالوا الی كلمة سواء بيننا وبينكم ان لا نعبد الا الله ولا نتخذ بعضنا بعضاً ارباباً من دون الله“ ایک کلمہ کی طرف آجاؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان برابر ہے۔ یعنی یہ کہ ہم اللہ کے سوائے اور کسی کی پرستش نہ کریں اور نہ بعض ہم میں سے بعض کو اللہ کے سوائے رب بنائیں۔

الغرض مدار نجات قرآن مجید نے توحید اور اعمال صالحہ کو رکھا ہے۔ اسی مضمون کی مؤید اور صدہا آیات ہیں۔ تین آیتیں میں اور نقل کرتا ہوں۔

”ان الله لا يغفر ان يشرك به ويغفر ما دون ذالك لمن يشاء“ بے شک اللہ شرک کو نہیں بخشتا۔ مگر اس کے سوائے (اور تمام گناہوں کو) جس کے لئے چاہے۔ بخش دیتا ہے۔

”واما من خاف مقام ربه ونهى النفس عن الهوى فان الجنة هى الماوى“ جو اپنے رب کے مقام سے ڈرتا ہے اور اپنے نفس کو ہوا و ہوس سے روکتا ہے پس اس کا ٹھکانا بہشت ہے۔

”قد افلح من زکها“ تحقیق فلاح وہ پاتا ہے جو اپنے نفس کو پاک کرتا ہے۔

پس جب بنائے نجات توحید اور تزکیہ نفس ہوئی۔ تو فروعیات یا مؤیدات کی خاطر تمام دنیا کو اصل بناء سے محروم کرنا سخت غلطی ہے۔

سوئم...... آپ کا وجود خادم اسلام ہے نہ وجود اسلام۔ پس اپنے وجود کی خاطر اصل اشاعت اسلام کو روکنا حکمت و دانائی کے خلاف ہے۔ کیونکہ حکم ہے ”وادع الى سبيل ربك بالحكمة والموعظة الحسنة “ اور حکم ہے۔ ”واتبعوا احسن ما انزل الیکم “ جب اصل پر لوگ قائم ہوں گے تو فرع پر خود قائم ہوجائیں گے۔

٧

صفحہ ٣١٢

چہارم ...... عام حکمت کا یہ قاعدہ ہے کہ پہلے بڑے امراض کا علاج کیا جاتا ہے۔ ہلکی غذائیں دی جاتی اور قوی ثقیل غذاؤں سے پرہیز کرایا جاتا ہے۔ رفتہ رفتہ بڑے امراض سے صحت ہو جاتی ہے۔ تب خفیف اور ضمنی امراض خود رفع ہو جاتے اور طبیعت معمولی غذاؤں کی خود متحمل ہوتی جاتی ہے۔ ایسا ہی اس وقت بہت سے سخت روحانی امراض پھیلے ہوئے ہیں۔ جو وبائے عالمگیر کی طرح مسلمانوں کو اور عام خلائق کو تباہ کر رہے ہیں۔ اس لئے ان کے حسب برداشت اور حسب خواہش پہلے ہلکی غذا دینی چاہئے اور اصل امراض کا علاج کرنا چاہئے۔ رفتہ رفتہ جب اور غذاؤں کی خواہش اور برداشت زیادہ ہوتی جائے۔ تب نئی نئی غذائیں دینی چاہئیں۔ یعنی پہلے اسلام کو عام صورتوں میں پیش کرنا چاہئے۔ رفتہ رفتہ علیٰ قدر عقول الناس جیسا کہ انبیاء علیہم السلام کا طریق رہا ہے۔ اس کے اسرار اور معارف پیش کرنے چاہئیں۔

پنجم ...... محض ایک مسئلہ وفات مسیح اور آمد مسیح یا پیشین گوئیوں پر تمام زور خرچ کرنا اور باقی اجزائے اسلام کو نظر انداز کر دینا یا غیر ضروری و حقیر سمجھنا سخت نادانی، پست خیالی، تنگ ظرفی اور ضد وتعصب میں داخل ہے۔ اسلام ایک کامل جسم ہے۔ کوئی اس کا ناک کاٹ کر لئے پھرتا ہے۔ کوئی ٹانگ کو، کوئی دل کو، کوئی جگر کو، کوئی دماغ کو علیحدہ علیحدہ ٹکڑے پیش کرنے میں اس کی خوشنما صورت نظر نہیں آسکتی۔ بلکہ ایک مکروہ اور بد نما نظارہ ہو جاتا ہے۔ ”جعلوا القرآن عضین“ قرآن مجید کو بوٹی بوٹی کر دیا۔ اپنی اپنی بات پر اترانا ان تمام اختلافات اور فسادات کی بنیاد ہے۔ جنہوں نے اسلام کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور کل فرقوں کو ہوا پرست اور نفس پرست بنا دیا۔ ”كل حزب بما لديهم فرحون“ تمام فریق اپنی اپنی بات پر اتراتے ہیں۔ پس اگر احمدی جماعت بھی اسلام کا دل یا دماغ کاٹ کر علیحدہ لئے پھرے تو ایسی مکروہ اور فتنہ انگیز بات ہو گی جیسا کہ کسی انسان کا دل یا دماغ نکال کر لئے پھرنا۔

ششم ...... محض پیشین گوئیوں یا نشانات کی بناء پر مرید ہو جانے سے تزکیہ نفس اور اصلاح عقائد واخلاق حاصل نہیں ہو سکتے۔ جیسے کہ عقیدت کے طور پر لاکھوں رنڈیاں، چور، ڈاکو، حرامکار اور خونی اسلام میں داخل ہیں اور آنحضرت ﷺ کے معجزات کے بھی قائل ہیں۔ مگر تزکیہ نفس اور معراج روحانی کی طرف ان کی کوئی توجہ نہیں۔ ایسا ہی ہزار ہا لوگ برائے نام آپ کی بیعت میں داخل ہو گئے ہیں اور چونکہ ان کی تعلیم و تربیت اور اصلاح کے لئے کوئی خاص انتظام نہیں اس لئے ان کی

٨

صفحہ ٣١٣

حالتوں میں کوئی نمایاں ترقی نہیں۔ اس وقت جب کہ مریدوں کی تعداد اور زیادہ ہو چکی ہے۔ سب سے مقدم یہ امر ہے کہ ان کی اخلاقی اور ایمانی اصلاحوں کی طرف خاص توجہ کی جائے اور بجائے خالی باتوں، خالی دعوؤں اور کاغذی پتنگ بازی کے اسلام کا عملی نمونہ ایک فیصدی بھی ہو جائیں جو مولوی نورالدین کی طرح تمام قرآن مجید پر علی التناسب عامل ہوں تو وہ لاکھ اخباروں اور کتابوں کی نسبت بدرجہا زیادہ مفید اور مؤثر ہو سکتے ہیں۔ اس کے لئے میں یہ تجویز پیش کرتا ہوں کہ پہلے خاص طور پر ان لوگوں میں سے جو قادیان میں رہتے ہیں ایک جماعت تیار کی جائے۔ پھر ان کی تعلیم و تربیت جماعت کے لئے بطور واعظ و نمونہ مختلف شہروں میں بھیجا جائے۔

ہفتم........ ہماری جماعت میں مشن کا کوئی عملی انتظام نہیں۔ بلکہ سستی یا آرام طلبی یا خوف تکالیف کی وجہ سے ایسے قادیان میں اپنے اپنے مقامات میں دبے ہوئے بیٹھے ہیں کہ باوجود آزاد اور فارغ ہونے کے بھی بطور مشن نہیں پھرتے۔ عیسائیوں اور آریاؤں کے مشن اپنے اپنے نمونے سے بتلا رہے ہیں کہ کسی مذہب کی اشاعت اس طرح پر ہوتی ہے۔ مذہبی جان نثاری شجاعت ہم سے سیکھو۔ یہ پھر تعجب ہے کہ جو ہمیشہ کے سکھوں اور عزتوں کے مدعی ہیں اور بہشت بریں کے وارث ہیں اور باقی تمام مخلوق خدا کو محروم النجات یقین کئے بیٹھے ہیں۔ ان کے مقابلہ پر کچھ بھی عملی ہمت شجاعت و استقلال اور جان نثاری نہ دکھائیں۔ اگر ہمارے پاس خداوند عالم کے ایسے اہم احکام ہیں کہ ان کے ماننے کے بغیر ہر کوئی جہنم میں جائے گا تو پھر کیوں فوراً ہم تمام دنیا میں منتشر نہیں ہو جاتے اور وہ پیغام تمام دنیا کو نہیں سناتے۔ عدم تبلیغ کے مجرم ہم ہیں اور سرکشی یا عدول حکمی کا جرم تمام جہان پر قائم کر رہے ہیں۔ یہاں تک کہ غیر احمدی مسلمانوں سے ترک سلام بھی کر بیٹھے کیا یہ انصاف ہے؟

ہشتم....... اسلام کی طرف اصل رہبر فطرت اور سچی تعلیم ہے نہ کہ محض پیشین گوئیاں۔ چنانچہ قرآن مجید نے سچی تعلیم اور فطرت کو ہی اصل رہنما اور رہبر قرار دیا ہے نہ کہ پیشین گوئیوں کو۔ جیسا کہ آیات ذیل سے صاف ظاہر ہوتا ہے: ”انا ہدیناہ السبیل اما شاکرا واما کفورا فطرت الله التي فطر الناس علیہا لا تبدیل لخلق الله ذالك الدین القیم ولکن اکثر الناس لا یعلمون یہدی للتي هي اقوم“ ”نشانات کی بابت فرمایا ہے ۔“ ولو اننا نزلنا علیہم الملائکۃ وکلمہم الموتی وحشرنا علیہم کل شئ قبلاً ما كانوا

٩

صفحہ ٣١٤

لیؤمنو الا ان یشاء اللہ “ اگر ان پر فرشتے بھی اتار دیں اور ان سے مردے بھی کلام کریں اور ہر شے ہم ان کے سامنے لا کھڑی کر دیں وہ ایمان نہیں لاسکیں گے۔ مگر جب اللہ چاہے۔ پس محض پیش گوئیوں کو ہی ذریعہ ہدایت سمجھنا سراسر خلاف قرآن ہے اور قرآنی تعلیمات کو مردہ اسلام قرار دینا انتہاء درجہ کی بے باکی اور بدفہمی ہے۔ اگر ریویو آف ریلیجنز میں قرآنی مضامین کی اشاعت علی التناسب کی جاوے۔ گویا اس کو ایک تذکرۃ القرآن بنادیا جائے تو تمام مسلمان اس کی طرف جھک سکتے ہیں اور پھر رفتہ رفتہ اندفاع مرض اور اصلاح مذاق ہو کر آپ کے ضمیمہ کے خواہشمند ہو سکتے ہیں۔ مگر افسوس کہ خالص قرآن کو تو ”مردہ اسلام“ قرار دیا گیا۔ اس سے بڑھ کر آنحضرت ﷺ اور قرآن مجید کی کیا توہین ہو سکتی ہے؟ اگر احمد اور محمد جدا نہیں تو جس رنگ میں محمدی تعلیم تیرہ سو تک دنیا میں جاری رہی۔ اس کو کیوں مردہ اسلام قرار دیا گیا۔ کیا قرآن مجید میں ہزار ہا پیشین گوئیاں اور عملی اسرار موجود نہیں؟ جن کی تصدیق ہر زمانہ میں ہوتی رہی اور اب بھی ہو رہی ہے۔ اس سے بڑھ کر قرآن اور اسلام کی اور کوئی توہین نہیں ہو سکتی کہ اس کی حیات کا دارو مدار ایک شخص کی ذات پر منحصر تھا جو آج تیرہ سو سال کے بعد پیدا ہوا۔ پس یہ نہایت ہی رذیل اور گستاخانہ کلمات تھے جو کلام الہی کی نسبت شائع ہوئے۔ اللہ تعالیٰ تو قرآن مجید کو شفا نور اور حیات بخش فرماتا ہے۔ مگر احمدی جماعت اس کو مردہ کلام، بے اثر اور بودا کلام قرار دیتی ہے۔ اسی توہین قرآن اور اسلام کا نتیجہ ہے جو یہ اعتراض آپ پر پلٹ پڑے۔

نہم ...... یہ زمانہ علمی ترقیات کا ہے۔ اگر قرآن مجید کے علمی اور تعلیمی کمالات کا صاف صاف اظہار کیا جائے تو زیادہ مؤثر ہو سکتا ہے۔ آپ کے خاص دعاوی اور پیش گوئیاں ضمیمہ میں شائع ہونے سے ان کی اشاعت میں کمی تو کسی طرح نہیں آسکتی۔ کیونکہ مرید اور معتقد لوگوں میں تو وہ ضرور ہی جائے گا۔ مگر توسیع اشاعت کی بڑی امید تھی۔ مگر افسوس اس معاملہ میں احمدی جماعت نے ایسی تنگ خیالی اور ضد و تعصب کا نمونہ دکھایا کہ ساری قوموں سے سبقت لے گئے اور اپنے ہاتھ سے اس دیوار کو جو پست خیال اور تنگ ظرف مولویوں نے احمدیوں اور غیر احمدیوں کے درمیان حائل کیا تھا اور اب وہ شکستہ ہو کر گرنے کے قریب ہو گئی تھی۔ اس کو اپنے ہاتھوں سے پھر کھڑا کر دیا۔ اب ہم کسی فریق کی تنگ ظرفی اور پست خیالی کا شکوہ نہیں کر سکتے۔ الغرض یہ ایک نہایت ہی رذیل نمونہ ہے۔ جو ہم نے اشاعت حق اور قبولیت حق کے لئے پیش کیا اور قرآن مجید کی اس پاک تعلیم کو پامال ١٠

صفحہ ٣١٥

کیا۔ جس میں حکم تھا۔ ”وادع الیٰ سبیل ربک بالحکمة والموعظة الحسنة وجادلهم بالتی ھی احسن واتبعوا احسن ما انزل الیکم من ربکم“ دہم ...... تجویز خواجہ کمال الدین اور مولوی محمد علی کے خلاف چونکہ مضامین اخبارات الحکم والبدر میں شائع ہو چکے ہیں۔ اس لئے یہ میری ناچیز تجاویز بھی ان میں شائع کرادیں۔ کیونکہ جب تک کسی معاملہ میں طرفین کے خیالات اور دلائل شائع نہ کئے جائیں اس وقت تک صحیح نتیجہ نکالنا ناممکن ہے۔

آخر میں یہ عرض ہے کہ میں اس قدر طول طویل عریضہ آپ کی خدمت میں بھیجنے کی جرأت ہرگز نہ کرتا۔ اگر میں اپنی جماعت میں تزکیہ نفس، اصلاح اخلاق اور قرآنی تعلیم کی طرف سے سخت درجہ کی غفلت اور لاپرواہی نہ دیکھتا اور توہین قرآن واسلام کی اشاعت اخباروں میں نہ پڑھتا اور خالی باتوں اور دعوؤں اور یکسوئی جنوں کا رنگ ان کے اقوال اور افعال میں مشاہدہ نہ کرتا۔ نیز میری اس تحریک کے مؤید چند خوابات بھی ہوئے۔ ایک خواب میں کسی نے مجھے کہا یا میری زبان پر جاری ہوا۔ ”انا ارسلنٰک بالحق بشیراً ونذیراً ولا تسئل عن اصحاب الجحیم“ ایک خواب میں میرا نام محمود رکھا گیا۔ وہ اس طرح ہے کہ یونیورسٹی کے کیلنڈر میں پاس شدہ طلباء کے نام شائع ہوئے ہیں۔ اس میں میرا نام ڈاکٹر عبدالحکیم خاں ایم۔ بی بہت سی تعریفوں کے ساتھ شائع ہوا ہے۔ اسی خواب میں میں نے اپنے چچا حشمت علی خاں مرحوم کو دیکھا اور ان سے میں نے ذکر کیا۔ انہوں نے فرمایا کہ وہ مقام مجھے بھی دکھاؤ جب میں نے اس رجسٹر کو شروع سے کھولا تو کیا دیکھتا ہوں کہ پہلے مولوی عالم اور مولوی فاضل کے امتحانوں میں پاس شدہ اشخاص کے نام ہیں اور تمام ناموں پر گاڑھی سبز دانہ دار سیاہی پھری ہوئی ہے۔ پھر اوراق پلٹنے کے بعد جب میرا نام نکلا تو میرا نام بجائے ڈاکٹر عبدالحکیم خاں ایم۔بی کے ”محمود“ تھا۔ پھر اور خوابات میں میرا نام سراج الحق اور عبدالحکیم بھی معلوم ہوا ہے۔ والسلام!

الراقم: خاکسار عبدالحکیم خاں ایم۔بی اسسٹنٹ سرجن از پٹیالہ

خط نمبر: ٢

مرزا قادیانی بنام ڈاکٹر عبدالحکیم خان

خان صاحب!١ آپ کا خط میں نے بہت افسوس سے پڑھا۔ اس خط کے پڑھنے سے صرف یہی معلوم نہیں ہوتا کہ آپ ہمارے اس سلسلہ سے خارج ہیں بلکہ یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ

١ شروع میں نہ بسم اللہ ہے نہ حمد نہ نعت نہ سلام علیک۔

١١

صفحہ ٣١٦

آپ دین اسلام سے بھی منہ پھیر رہے ہیں۔ آپ کہتے ہیں کہ ہر ایک شخص جو یہود اور نصاریٰ اور دوسری قوموں سے اللہ پر ایمان لائے اور اپنے طور پر نیک عمل کرے تو نجات پانے کے لئے یہی عمل اس کے لئے کافی ہے۔ اگر ان آیات کے یہی معنی ہیں تو گویا آنحضرت ﷺ نے بڑی غلطی کی کہ دین اسلام کی دعوت کے لئے زمین میں خون کی نہریں چلادیں۔ کیا یہودی آپ کے قول کے موافق اللہ پر ایمان نہیں لائے تھے یا تمام عیسائی عیسیٰ پرستی میں ہی غرق تھے؟ خدا نے تو صاف فرمادیا ہے:”ان الدین عند اللہ الاسلام ومن یبتغ غیر الاسلام دینا فلن یقبل منہ وہم فی الآخرۃ من الخاسرین“ یعنی دین اسلام ہی ہے اور جو شخص بجز اسلام کے کسی اور دین کا خواہاں ہے وہ مردود ہے۔ مگر آپ کے قول کے موافق مومن بننے کے لئے آنحضرت ﷺ پر ایمان لانا شرط نہیں ہے۔ اگر ایک شخص آنحضرت ﷺ کا منکر ہے مگر اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتا ہو۔ وہ نجات یافتہ ہے۔ یہ عقیدہ ایک ”سخت گمراہ سید احمد خاں“ کا تھا۔ جس کا آخری مقولہ یہ تھا کہ اگر عیسیٰ کو کوئی خدا بھی کہے تب بھی کوئی حرج نہیں۔ عیسائی بھی ایسے ہی نجات یافتہ ہیں جیسے مسلمان۔ بلکہ بقول اس کے دہریہ بت پرست، سب نجات یافتہ ہیں اور جو آپ نے

١؎ آنحضرت ﷺ نے ایک جنگ بھی دعوت اسلام کے لئے نہیں کیا بلکہ حفاظت اسلام کے لئے تھا۔ جن اندفاعی جنگوں میں مجبوراً آپ کو شامل ہونا پڑا وہ محض اس نیت سے تھے کہ خداوند عالم کا عظمت و جلال دنیا میں قائم ہو جائے۔ تمام شرک اور بد رسومات مٹ جائیں اور ان کی بجائے توحید اور نیکی قائم ہو جائیں۔ آپ نے یہ کبھی نہیں فرمایا کہ جو یہود و نصاریٰ خدا پرست اور نیک چلن ہیں۔ اگر مجھ کو نہیں مانیں گے تو وہ نجات نہیں پائیں گے۔ بلکہ ان کی یہی دعوت تھی "تعالوا الی کلمۃ سواء بیننا وبینکم ان لا نعبدوا الا اللہ ولا نشرک بہ شیئا“ ایک بات کی طرف آجاؤ جو ہم میں اور تم میں برابر ہیں۔ یعنی ہم اللہ کے سوائے اور کسی کی عبادت نہیں کریں اور کسی چیز کو اس کا شریک نہ ٹھہرائیں اور فرمایا : ”من قال لا الہ الا اللہ فدخل الجنۃ“ اور فرمایا: ”ولو انہم اقامو التوراۃ والانجیل وما انزل الیہم من ربہم لا کلوا من فوقہم ومن تحت ارجلہم“ اگر وہ لوگ تورات اور انجیل کو قائم کریں اور ان صحیفوں کو جو ان پر ان کے رب کی طرف سے نازل ہوئے تو ان کو اوپر سے رزق ملے اور پاؤں کے نیچے سے بھی۔ (یعنی آسمانی اور زمینی رزق ملیں) اور فرمایا: ”بلیٰ من اسلم وجہہ للہ وہو محسن فلہ اجرہ عند ربہ “ بلکہ جو اپنے آپ کو اللہ کے قربان کر دے اور نیکی کرنے والا ہو۔ اس کے واسطے اس کے رب کے پاس اجر ہے۔ الغرض تمام قرآن مجید حمد الٰہی سے گونج رہا ہے اور توحید و تزکیہ نفس کو ہی مدار نجات قرار دیتا ہے نہ کہ محمد پر ایمان لانے کو یا مسیح پر اگر کہیں کہا ہو تو وہ آیت بتلائی ہوتی..... آنحضرت ﷺ نے جو بڑے سے بڑا خطاب یا عہدہ اپنے لئے شائع کیا وہ عبدہ ورسولہ ہے نہ کہ مدار نجات۔ آپ کی طرح آنحضرت ﷺ نے کہیں نہیں فرمایا کہ عام دنیا میں جس قدر موحد، خدا پرست اور نیک بندے ہیں وہ سب پکے جہنمی ہیں۔ جب تک مجھ پر ایمان نہ لائیں۔

١٢

صفحہ ٣١٧

میری جماعت پر تہمت لگائی ہے کہ وہ ایسے ہی بے عمل ہیں جیسے دوسرے، یہ آپ نے سخت ظلم کیا۔ میں حلفاً کہہ سکتا ہوں کہ ہماری تھوڑی سی جماعت میں ہزارہا ایسے آدمی موجود ہیں جو متقی اور نیک طبع اور خدا تعالیٰ پر پختہ ایمان رکھتے ہیں اور دین کو دنیا پر مقدم رکھتے ہیں اور رہا یہ کہ جو ہم نے ”دوسرے مدعیان اسلام سے قطع تعلق“ کیا ہے۔ اوّل تو خدا تعالیٰ کے حکم سے تھا نہ اپنی طرف سے اور دوسرے وہ لوگ ریا پرستی اور طرح طرح کی خرابیوں میں حد سے بڑھ گئے ہیں اور ان کو ان کی ایسی حالت کے ساتھ اپنی جماعت کے ساتھ ملانا یا ان سے تعلق رکھنا ایسا ہی ہے جیسا کہ ”عمدہ اور تازہ دودھ میں بگڑا ہوا دودھ ڈال دیں۔ جو سڑ گیا ہے اور اس میں کیڑے پڑ گئے ہیں ۔“ اسی وجہ سے ہماری جماعت کسی طرح ان سے تعلق نہیں رکھ سکتی اور نہ ہمیں ایسے تعلق کی حاجت ہے۔ چونکہ آپ محض نام سے ہماری بیعت میں داخل ہوئے تھے اور حقیقت سے سراسر بے خبر اس لئے آپ کو نہ یہ معلوم ہے کہ ایمان کس کو کہتے ہیں اور اللہ کس کا نام ہے اور نہ یہ خبر کہ اسلام کی حقیقت کیا ہے؟ اس لئے آپ کو سخت لغزش ہوئی اور لغزش بھی ایسی کہ ارتداد تک پہنچ گئے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کو کسی کی پروا نہیں۔ اگر ایک مرتد ہو جائے تو اس کی عوض میں ہزار ہا لے آئے گا۔ آپ کا خط اخبار میں شائع کرنے کے لائق نہیں۔ بلکہ ایک ایک حرف اس کا رد کرنے کے لائق ہے۔ جو خدا تعالیٰ کے سلسلہ سے ایسا مخالف ہے جیسا کہ روح القدس کا مخالف اور آپ نے ”جو الہام ذکر کئے ہیں یہ سب شیطانی ہیں“ اور آپ کو خدا تعالیٰ سے ڈرنا چاہئے اور جلد توبہ کرنا چاہئے کہ موت کا کچھ بھی اعتبار نہیں اور خدا کے سلسلہ کا کچھ بگاڑ نہیں سکتے۔ بجز اس کے کہ اپنا خاتمہ بد کرلیں اور نامرادی کی موت سے مریں اور آپ کا یہ کہنا کہ فطرتی ایمان کافی ہے۔ نشانوں کی ضرورت نہیں۔ آپ کو یاد رہے کہ فطرتی ایمان ایک لعنتی چیز ہے۔ جب تک اس کو نشانوں سے قوت نہ ملے۔

خاکسار: مرزا غلام احمد قادیانی

١؎ یہ تہمت نہیں واقعی امر ہے۔ آپ مختلف شہروں اور مقامات میں پھر کر ملاحظہ فرماویں اور ان کے چلن اور رسومات کی تحقیق کریں۔ پھر دوسرے مسلمانوں کے ساتھ مقابلہ کر کے معلوم کریں کہ کس قدر تفاوت ہے۔ قادیان میں بیٹھے ہوئے ان کے اندرونی حالات کیسے معلوم ہو سکتے ہیں۔

٢؎ براہ کرم اس حکم کے الفاظ تو درج فرمائے ہوتے۔ تاکہ معلوم ہو جاتا کہ وہ حکم خاص منکرین و ملحدین کے لئے ہے یا بلا استثناء تمام امت محمدیہ مرحومہ کے واسطے وہ قرآن اور ربوبیت عامہ کے موافق ہے یا مخالف۔ میرے خط کا جواب تو بطور اعلان شائع فرمادیا گیا۔ مگر کوئی خط ساتھ ہی شائع نہ فرمایا تا کہ کسی کو غور کرنے کا موقعہ مل جاتا کہ دراصل وہ گالیاں ہیں یا عظمت و جلال باری تعالیٰ کی وکالت اور پردہ حمایت۔ (بقیہ حاشیہ نمبر ٣ و ٤ اگلے صفحہ پر)

١٣

صفحہ ٣١٨

خط نمبر: ٣

ڈاکٹر عبدالحکیم خان بنام مرزا قادیانی

بسم اللہ الرحمن الرحیم! ”نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم . واعوذ باللہ من الشیطان الرجیم“ حضرت مسیح الزماں السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ میں علی وجہ البصیرت کامل یقین سے جانتا ہوں کہ تمام کمالات کا مالک اللہ تعالیٰ ہے۔ وہ رب العالمین ہے۔ اس کی ربوبیت نے ہر انسان وحیوان کے واسطے اس کے مطابق حال جسمانی وروحانی رزق ہر جگہ مہیا کیا ہے۔ ”هو رب کل شے ، ربّ السمٰوات والارض“ وہ الرحمٰن ہے۔ اس کی رحمانیت نے تمام حیوانات اور انسانوں کو ان کے مطابق حال اعضاء دیئے اور ان سے کام لینا سکھایا اور ہر قسم کی ضروری تعلیمیں اور قابلیتیں ان کی فطرتوں میں ودیعت رکھیں۔ ”هدیناہ السبیل اما شاکراً وامّا کفوراً “ وہ الرحیم ہے۔ اس کی رحمت کی تعریف اس نے خود یہ کی ہے۔ ”وسعت رحمتی کل شے ، سبقت رحمتی علیٰ غضبی ان الله لا یغفر ان یشرك به ویغفر مادون ذالك لمن یشاء“ اسلام ایک عالمگیر مذہب ہے۔ ”له اسلم من فی السمٰوات والارض طوعاً وکرھاً والیه یرجعون“ اس کی عام تعریف یہ ہے۔ ”من آمن بالله والیوم الآخِر وعمل صالحاً“ دوسرے الفاظ میں اس کی یہ تعریف ہے۔ ”بلےٰ من اسلم وجهه لله وهو محسن“ حسب ارشاد الٰہی آنحضرت ﷺ

٣؎ اگر فطرت کشا چیز جو خداداد قوتوں اور قابلیتوں کا نام ہے تو پھر وہ کون سی قابلیتیں ہیں جو انسان کی رہبر اور رہنما ہو سکتی ہیں؟

٤؎ میں نے یہ ہرگز نہیں کہا کہ نشانوں کی ضرورت نہیں بلکہ یہ کہا ہے کہ اصل رہبر انسان کے لئے علوم حقہ اور فطرتی استعداد ہیں نہ کہ نشانات۔ نشانات سے علوم پیدا نہیں ہوتے۔ بلکہ وہ مفید یا مؤید ایمان ہوتے ہیں۔ ایسا ہی جا بجا قرآن مجید سے ثابت ہے۔ ”و ان یروا کل آیة لا یؤمنوا بھا“ پہلے بھی میں آیات پیش کر چکا ہوں۔ مگر افسوس کہ آپ آیات سے اعراض کر کے اس کے مضمون کو میرا قول بتلا دیتے ہیں۔ یہ تو ایک موٹی سی بات ہے کہ نشانات خارجی ہیں۔ جب تک ان کی قدر اور قبولیت کے واسطے ہمارے اندر علم یا فطرتی استعداد موجود نہ ہو اس وقت تک وہ کسی کام کے نہیں۔ مثلاً جب تک ہماری فطرت میں غذا کی ضرورت ہو اس کی قبولیت کی طاقت موجود نہ ہو اس وقت تک کوئی غذا کسی کام کی نہیں۔ ایسا ہی آیت ذیل سے ظاہر ہے۔ ”ولو اننا نزلنا علیھم الملائکة وکلمھم الله الموتی وحشرنا علیھم الملائکة کل شے قبلاً ما کانوا لیؤمنوا الا ان یشاء الله“ پھر تعجب ہے کہ آپ فطرت اللہ کو لعنت بتلاتے ہیں اور قرآنی آیات سے صاف اعراض کرتے ہیں۔ گویا کہ وہ لغو ہیں۔

١٤

صفحہ ٣١٩

نصاریٰ کو دعوت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”قل تعالوا الیٰ کلمۃ سوآء بیننا وبینکم ان لا نعبد الا الله ولا نشرك به شيئاً ولا نتخذ بعضنا بعضاً ارباباً من دون الله“ محمد مصطفیٰ ﷺ سید المرسلین خاتم النبیین اور رحمۃ اللعالمین ہیں جو شخص عمداً ان کی مخالفت کرتا ہے۔ وہ شقی اور بدبخت ہے۔ ہاں جن لوگوں پر آپ کی تبلیغ نہیں ہوئی یا جو نقص علم یا نقص فہم سے نہ ضد اور تعصب کی رو سے غافل ، مخالف ہیں۔ ان کی نسبت قرآن مجید یہ فرماتا ہے: ”و ما کنا معذبین حتیٰ نبعث رسولاً ، لا يكلف الله نفساً الا وسعها“ جو اصول اللہ کریم کی ربوبیت ورحمانیت عامہ اور رحمت واسعہ کے منافی ہوں میں اس کو کبھی تسلیم نہیں کرسکتا۔ نہ ایسی کسی بات کو مان سکتا ہوں جو قرآن مجید کی آیات بینات کے صریح معنوں کے خلاف ہو۔ ہر الہام اور وحی جو قرآنی بیّنات کے مخالف ہو وہ بلاشک شیطانی ہے۔ متشابہات سے اپنے اپنے خیال کی تائید کرنا اور بیّنات کو رد کرنا بیشک شیطانی حرکت ہے۔ میں آپ کو ”مسیح الزمان مانتا ہوں“ اور جو لوگ جماعت میں مولوی نورالدین کا نمونہ ہیں اور قرآن مجید کے ہر ارشاد پر علی التناسب عامل ہیں۔ واجب التعظیم اور واجب الاطاعت سمجھتا ہوں۔ لیکن جو لوگ قرآن مجید کے خلاف چلتے یا کسی ایک حصہ کو ہی تحریف کرکے توحید ورسالت محمدی کی تحقیر کرتے ہیں ان کا میں مخالف ہوں۔ ہر امر میں استمساک بالقرآن اور استمساک بالفطرت جو دو سرمایائے مقابلہ کے طور پر ہیں عین حکمت اور عین رشد وسعادت سمجھتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت کو نہایت وسیع اور غیر محدود مانتا ہوں اور دیکھ رہا ہوں وہ ہمیشہ میرے ساتھ ہے اور چھوٹے چھوٹے معاملات میں بھی میری ہمدردی اور رہنمائی کرتی ہے اور سینکڑوں معاملات کی خبر مجھے قبل از وقت ملتی اور صحیح ثابت ہوتی ہے۔ اس جگہ پر محض دو خوابات موقعاً عرض کرتا ہوں۔

اوّل...... ایک مولوی محمد حسن بیگ میرے خالہ زاد بھائی تھے۔ حضور کے سخت مخالف تھے۔ ان کی نسبت خواب میں مجھے معلوم ہوا کہ اگر وہ مسیح الزمان کی مخالفت پر اڑا رہا تو پلیگ سے ہلاک ہو جائے گا۔ اس کی سکونت بھی شہر سے باہر ایک کشادہ صاف ہوا دار مکان میں تھی۔ یہ خواب میں نے اس کے حقیقی بھائی اور چچا اور دیگر عزیزوں کو سنا دیا تھا۔ ایک سال بعد وہ پلیگ سے ہی فوت ہوا۔ پھر اس کے بعد خواب میں مجھے معلوم ہوا کہ پلیگ کیسی ہی شدت سے پھیلے مگر تو پلیگ سے فوت نہیں ہوگا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ تجھ کو ایک نشان بنانا چاہتا ہے۔

١٥

صفحہ ٣٢٠

دوم ...... میری بیوی نے خواب میں دیکھا کہ پٹیالہ سے سراج الحق نے ایک چھاغ بھیجا ہے جو نہایت خوبصورت اور وہ اس کو دیر تک دیکھتی رہی۔ پھر خواب میں ہی مجھ کو اس کی تعبیر یہ معلوم ہوئی کہ پٹیالہ کا ”سراج الحق“ میں ہوں اور وہ ایک بشارت تھی۔ پھر ٢٦ مئی ١٩٠٣ء کو میں نے خواب میں دیکھا کہ فتح محمد خاں نے میرے نام ایک کارڈ بھیجا وہ درمیان سے شق ہو کر قریب شکستہ ہونے کے تھا۔ اس کے بالائی حصہ پر لکھا تھا۔ بہ تقریب دورہ تمہارے کوشک میں ایک لڑکا پیدا ہوا۔ اس کا نام مبارک احمد رکھا گیا ہے۔ یہ خواب میں نے بہتوں کو سنا دیا تھا۔ فالحمد للہ! ١٨ مارچ ١٩٠٥ء کو جب کہ میں دورہ پر تھا اور میری بیوی میرے گھر میں تھی۔ ایک لڑکا پیدا ہوا۔ اس کی پیدائش سے دو یوم پیشتر میاں عبدالحق نے خواب میں دیکھا کہ میرا تمام مکان اوپر اور نیچے اور اندر اور باہر سے سفید پوش لوگوں سے بھر گیا ہے اور سب مبارک باد دے رہے ہیں اور کہتے ہیں ڈاکٹر صاحب کہاں ہیں۔ ان کو مبارک باد دو۔ پھر بمقام سری نگر مجھے اس مولود مسعود کی نسبت خواب میں معلوم ہوا۔ ”واجتبيناه في الدنيا وانه في الاخرة لمن الصالحين . الحمد لله الحمد لله الحمدلله“

رات بھی بہت سا حصہ ان مضامین کا جو میں لکھ رہا ہوں خواب میں دیکھا اور یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ کریم مجھے فتح یاب کرے گا۔

کوئی شب ایسی گزرتی ہوگی جس میں مجھے خوابات نہیں آتے اور وہ پورے نہیں ہوتے جو خوابات پیش گوئیوں پر مشتمل ہوں اور سچے ثابت ہوں اور قرآنی وحی کے مطابق ہوں وہ شیطانی نہیں ہو سکتے۔ پھر سراج الحق والی خواب کے مصداق تو میری بیوی اور میاں عبدالحق کے خوابات بھی ہیں۔ ان میں کوئی مشرکانہ رنگ میں بھی نہیں ہے اور وہ تین سال کے بعد سچے بھی ثابت ہوئے۔

میں نے حضور (مرزا قادیانی) کی تائید میں جو ناچیز خدمت کی وہ یہ ہے کہ قریباً چھ ہزار روپیہ صرف کر کے قرآنی تفاسیر اردو، انگریزی میں شائع کی جس میں حضور کے متعلق تمام تائیدی مضمون جو مختلف کتابوں میں شائع ہوئے موقعہ بموقعہ درج کئے گئے ہیں۔ میری رائے میں احسن طریق کسی اسلامی خدمت کا یہی ہے کہ قرآن مجید کے ساتھ ساتھ علیٰ التناسب اس کو پیش کیا جائے اور یہی قیم اور پائیدار طریقہ ہے۔ دیگر کتب اور اخبارات محض ایک دفعہ دیکھ لینے کے ہوتے ہیں۔ مگر قرآن کریم دائمی تلاوت اور مطالعہ کی چیز ہے۔ پانچ سو کے قریب تفاسیر اردو، انگریزی غیر احمدی لوگوں میں شائع بھی ہو چکی ہیں۔ اس قدر مصارف کثیر کے کام کے واسطے میں نے ہر

١٦

صفحہ ٣٢١

طرح سے حتی الامکان تنگی کر کے اپنی تنخواہ اور مفید عام کی آمد سے یہ کام کیا اور مشکل آسان جس قدر ممکن ہو سکا۔ لنگر اور اسلامیہ سکول قادیان میں چندہ بھی ادا کرتا رہا۔ اگرچہ میں زیر بار بھی ہوا اور مقروض بھی ہوا اور میری بیویاں اور بچے کھانے پینے میں بہت تنگ ہوئے۔ مگر میں نے اس اسلامی خدمت کو ہی مقدم سمجھا۔ لوگوں نے مجھے یہ بھی نصیحت کی اور خطوط بھی بکثرت آئے کہ اگر مرزا قادیانی کے متعلق اس میں سے مضامین نکال دیئے جائیں تو اس تفسیر کی اشاعت ہزاروں تک پہنچ سکتی ہے۔ بلکہ بعض مسلمان مشنریوں نے اپنی زندگی اس کی امداد میں وقف کرنی ظاہر کی۔ مگر میں نے توکل بخدا ان تمام باتوں کو نظر انداز کیا اور خلاف ایمان کوئی بات نہیں کی۔ خواہ ظاہری نظر میں لاکھوں کا نقصان نظر آیا۔ مگر اللہ کریم کے اندرونی امدادوں پر بھروسہ رہا اور ہے۔ اللہ کریم میرے ساتھ ہے میری مخلصانہ اور بے ریا خدمتوں کو وہ خوب جانتا ہے۔ ”وکفی بالله حسیبا وکفی بالله وکیلاً ، وکفی بالله علیماً“

میری بے ریا خدمت بہتوں کے لئے ٹھوکر کا موجب ہوئی۔ اس لئے مجھے اس قدر ظاہر کرنے کی ضرورت پڑی۔ اگر میرے ان عقائد اور اعمال میں غلطی ہے تو براہ کرم و ترحم قرآنی بینات سے صاف طور پر مجھ پر ظاہر فرمادی جائے تاکہ میں اس کی اصلاح کر سکوں۔ جو کچھ میں نے ظاہر کیا وہ صدق اور خلوص کے ساتھ علی وجہ البصیرت ایک مشہودی علم کے طور پر عرض کیا ہے۔ پیر پرستوں اور بت پرستوں کے طریق پر کوئی بات نہ میرے اندر اثر کرتی نہ کسی اور راست مؤمن کے اندر اثر کر سکتی ہے۔ اگر استمساک بالقرآن اور استمساک بالفطرت ہے۔ قابل اعتبار رہبر نہیں تو پھر اور کیا شے رہبر ہو سکتی ہے۔ نہیں کوئی نہیں، ہرگز نہیں۔ اگرچہ میں سخت سیاہ کار ہوں۔ مگر خداوند کریم کی رحمت کو میں بدرجہا وسیع اور غافر پاتا ہوں۔ اگر صدق اور خلوص کے ساتھ میں غلطی بھی کر بیٹھوں تو اللہ کریم معاف کرنے والا ہے۔

تو برائے وصل کردن آمدی
نہ برائے فصل کردن آمدی

”بل تؤثرون الحیوة الدنيا يايها الناس اعبدوا ربكم الذی خلقکم“ پس اس قدر مختصر وضاحت کے بعد میں خدا پر توکل کرتا ہوں۔ والسلام! رات پھر میری زبان پر یہ آیت جاری ہوئی ۔ ”یا ایھا النفس المطمئنة ارجعی الی ربک راضیة مرضیة فادخلی فی عبادی وادخلی جنتی“

١٧

صفحہ ٣٢٢

اور ایک خواب میں دیکھا کہ چند لوگ ایک نعش کو لئے پھر رہے ہیں اور مولوی عبداللہ خان صاحب کو دیکھا۔ میں نے ان سے کہا عیسیٰ تو مر گیا اور جو آنے والا تھا وہ آگیا اب نعش کو کیوں لئے پھرتے ہیں۔

الغرض میں خداوند عالم کے غیر متناہی کمالات اور محامد اور اس کی غیر محدود ربوبیت اور رحمانیت اور رحیمیت کو...... کسی انسان کے تابع نہیں مان سکتا۔ ایسا ماننا بدیہی نظر میں باطل ہے۔ میرے پہلے خط کی چونکہ میرے پاس کوئی نقل نہیں۔ اس لئے عرض پرداز ہوں کہ وہ واپس عنایت فرما دیا جائے تاکہ میں اس پر غور کر سکوں کہ اس میں وہ کیا الفاظ ہیں۔ جن پر آپ کو اس قدر غصہ ہوا کہ میری مدت العمر کی بے ریا اور مخلصانہ اور صادقانہ خدمات کو خاک میں ملا دیا اور فطرت اللہ کو لعنت قرار دے دیا۔ والسلام !

خاکسار: عبدالحکیم خان !

مورخہ ٢٧؍مارچ ١٩٠٦ء

خط نمبر ٤٠

مرزا قادیانی بنام ڈاکٹر عبدالحکیم خان

بسم الله الرحمن الرحيم !

”نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم“

خان صاحب ! آپ کا عنایت نامہ مجھ کو ملا۔ افسوس کہ آپ دو غلطیوں میں مبتلا ہیں :

ہیں۔ ناجی یعنی نجات یافتہ فرقے قرار دیتے ہیں۔ اس صورت میں آپ کے نزدیک کسی مسلمان کا عیسائی ہو جانا کوئی گناہ کی بات نہیں۔ کیونکہ وہاں بھی نجات موجود ہے اور پھر عیسائی ہونے کی حالت میں عیسائیوں کے مذہب کے موافق شراب پینا اور دوسرے طریق فسق و فجور اختیار کرنا آپ کے نزدیک سب روا ہیں۔ پھر گویا آنحضرت ﷺ کا تمام جدوجہد اور اس قدر ہنگامہ کہ زمین ٢ خون سے بھر گئی تھی۔ وہ آپ کے نزدیک سب غلطیاں تھیں۔

١؂ میں نے جو کچھ کہا اپنی طرف سے نہیں کہا بلکہ آیات قرآنی پیش کی ہیں۔ اگر وہ باطل ہیں یا میری پیش کردہ معانی باطل ہیں تو اس کا ثبوت کیا ہے۔

٢؂ زمین خون سے نہیں بھری بلکہ ملک عرب بھی خون سے نہیں بھرا۔ بلکہ مکہ اور مدینہ بھی خون سے نہیں بھرے۔ ہاں ! مجبوراً جس قدر جنگ آنحضرت ﷺ کو پیش آئے وہ حفاظت اسلام اور مذہبی آزادی کے واسطے تھے نہ کہ اپنا سکہ جمانے کے واسطے۔ جیسا کہ تمام قرآن کریم سے صاف طور پر ظاہر ہے اور چند آیات پیش کر چکا ہوں۔ مگر آپ کی طرف سے ان کا کوئی جواب نہیں۔ بلکہ صاف اعراض ہے۔ قرآنی حقائق کے خلاف اس قدر جوش تعصب ہے۔

١٨

صفحہ ٣٢٤

یہ تو وہ ہی ناپاک اصول ہیں جس پر سید احمد خاں کی موت ہوئی۔ کیونکہ آخری عقیدہ ان کا جو اس دنیا سے لئے گئے یہی تھا کہ جیسا کہ ایک مسلمان خدا کو واحد لاشریک جاننے والا نجات پائے گا۔ ایسا ہی ایک عیسائی خدا کو تین کہنے والا نجات پائے گا۔ اس صورت میں تو آپ عیسائی مذہب کے بڑے ممد و معاون ہیں اور یہ سب لوگ آپ کے بھائی ہیں۔ گویا آپ کے نزدیک نعوذ باللہ خدا نے یہ جھوٹ بولا : ”ومن يبتغ غير الاسلام ديناً فلن يقبل منه وهو في الاخرة من الخاسرين “ یعنی جو شخص بغیر دین اسلام کے کسی اور دین کو اختیار کرے گا تو ہرگز وہ دین اس سے قبول نہیں کیا جائے گا اور وہ آخرت میں زیاں کاروں میں سے ہوگا اور پھر اللہ تعالیٰ آنحضرت ﷺ کو مخاطب کرکے فرماتا ہے۔ ”قل ان كنتم تحبون الله فاتبعوني

١ ؎ یہ ایک علیحدہ امر ہے۔ متنازعہ فیہ امر مدار نجات ہے۔ اس میں کوئی کلام نہیں کہ اتباع محمدی ﷺ نجات کا سیدھا صاف اور آسان راستہ ہے۔ مگر یہ نہیں کہ اس بے انت ذات کے تمام قوانین رحمت و مغفرت ایک انسان کے ہی تابع ہوگئے۔ خداوند عالم کی توہین اس سے بڑھ کر اور کیا ہو سکتی ہے کہ اس کا ماننا اور اس کی عطا کردہ عقل اور فطرت کے مطابق اعمال صالحہ کرنا اور بدی سے بچنا موجب نجات نہیں ہو سکتے۔ تاوقتیکہ ایک انسان کو ساتھ نہ مانا جائے۔ میں سخت افسوس کے ساتھ ظاہر کرتا ہوں کہ آپ کو اپنی کبریائی کے نشہ میں کلمہ حصر کی بھی تمیز نہیں رہی جو یہ آیت پیش کر دی۔ ایسی آیات تو ہزاروں قرآن مجید میں ہیں جن سے عام طور پر ثابت ہوتا ہے کہ نجات تزکیہ نفس سے ملتی ہے نہ کہ مرزا غلام احمد کے ماننے سے۔ مثلاً : ”اما من خاف مقام ربه ونهى النفس عن الهوى فان الجنة هى الماوى ، قد افلح من زكها وقد خاب من دسها ، ان الله لا يضيع اجر المحسنين ، فمن يعمل مثقال ذرة خيرا يره ومن يعمل مثقال ذرة شرا يره ان الا برار لفي نعيم وان الفجار لفي جحيم “ الغرض یہ ایک مسئلہ کہ آپ کے ماننے پر نجات منحصر ہے۔ ایسا خبیث اور باطل ہے کہ اس سے ساری خدائی باطل ٹھہرتی ہے۔

(اوّل) تو یہ ربوبیت باری تعالیٰ کے خلاف ہے۔ کیونکہ جس قدر کسی شے کی زیادہ ضرورت ہے۔ اسی قدر رب العالمین نے وہ چیز زیادہ عام کی ہے۔ مثلاً ہوا اور پانی۔ پس اگر آپ کے ماننے پر نجات کا انحصار ہوتا تو رب العالمین اپنی قدرت سے اس کا ایسا انتظام کرتا کہ ہر ایک شخص کی فطرت میں جیسا کہ اس کی ربوبیت منقوش ہے۔ ویسا ہی مرزا غلام احمد نام بھی منقوش ہو جاتا۔ بلکہ زمین و آسمان میں منادی پڑ جاتی کہ نجات کا مدار غلام احمد کے ماننے پر ہے۔ اس پر ایمان لانے کے بغیر توحید، عبادت اور اعمال سب باطل ہیں۔ (دوم) ایسا ایمان رحمانیت کے منافی ہے۔ کیونکہ الرحمن نے ہر حیوان کو اس کے مطابق حال اعضاء اور علوم دیئے ہیں۔ مثلاً ہر حیوان فطرتی طور پر اپنی غذا اپنے طریق بود و باش اور اپنے اپنے کاموں کو جانتا ہے۔ ایسا ہی ہر انسان چلنا پھرنا، دیکھنا سننا، سونا جاگنا، فطرتاً جانتا ہے اور نیکی و بدی پہچانتا ہے۔ مگر یہ ایمان کہ مرزا غلام احمد کا ماننا نجات کے واسطے لازمی ہے۔ کسی کی فطرت میں نہیں۔ (سوم) یہ ایمان رحیمیت باری تعالیٰ کا منافی ہے کہ جب تک کوئی انسان مرزا غلام احمد پر ایمان نہ لائے۔ اس وقت تک اس کا رحم ممکن نہیں۔ (چہارم) یہ ایمان مالک یوم الدین کا معطل کنندہ ہے۔ کیونکہ نجات مرزا غلام احمد قادیانی کے ہی ماننے نہ ماننے پر منحصر ہے۔ (پنجم) یہ ایمان تمام خدائی اور فطرت اللہ کا باطل کنندہ ہے۔ غور کرو مساوات جبریہ پر۔ پس: خدا کا ماننا + اعمال صالحہ + مرزا پر ایمان = نجات (بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر)

١٩

صفحہ ٣٢٤

يحببكم الله" یعنی ان کو کہہ دے کہ اگر تم خدا تعالیٰ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو۔ تا خدا بھی تم سے محبت کرے۔ اب ظاہر ہے کہ عیسائی آنحضرت ﷺ کی پیروی نہیں کرتے۔ بلکہ گالیاں دیتے ہیں۔ پس آپ کے اصول کے موافق لازم آتا ہے کہ دشمن رسول اللہ ﷺ بھی ناجی ہیں۔ ماسوا اس کے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ: ”مرتد کی سزا قتل ہے“۔ مگر آپ کے نزدیک مرتد ہونا نجات سے محروم نہیں رکھتا۔ غرض آپ کی حالت سخت خطرناک ہے۔ معلوم نہیں اس کا کیا نتیجہ ہے۔

پھر باوجود اس مخالفت کے آپ کہتے ہیں کہ میں آپ کے مسیح موعود ہونے کا مصدق ہوں۔ یہ عجیب بات ہے کہ ایک طرف تو آپ مصدق بھی ہیں اور ایک طرف آپ ان تمام تعلیموں کے مخالف ہیں جو خدا تعالیٰ کی خاص وحی سے میرے پر ظاہر ہوئی ہیں۔ تمام نبی وصیت کرتے آئے ہیں کہ مسیح موعود کے احکام کو دل سے قبول کرو۔ آنحضرت ﷺ نے بھی یہی نصیحت کی ہے اور مسیح موعود کا نام حکم رکھا ہے۔ مگر آپ بات بات میں مخالفت اور مقابلہ سے پیش آتے ہیں۔ کیا یہی تصدیق ہے۔ پھر آپ کہتے ہیں کہ صرف ایک حکیم مولوی نور الدین اس جماعت میں عملی رنگ اپنے اندر رکھتے ہیں۔ دوسرے ایسے اور ایسے ہیں۔ میں نہیں جانتا کہ آپ اس افتراء کا کیا خدا تعالیٰ

(بقیہ حاشیہ گزشتہ صفحہ) خدا کا ماننا + اعمال صالحہ = یعنی نجات پس آپ کا کلمہ یہ ہوا: ”لا اله الا انا مرزا“ کیونکہ مدار نجات اللہ کے ماننے اور اعمال صالحہ پر نہیں بلکہ مرزا کے ماننے پر ہے۔ خدا کا ماننا اور اعمال صالحہ دوئم درجہ پر ہو گئے۔

ہشتم ....... یہ ایمان قواعد عدل و انصاف کے خلاف ہے۔ کیونکہ جس قدر کوئی قانون نہایت اہم ہوتا ہے۔ اسی قدر اس کی اشاعت عام کی جاتی ہے اور جب تک کسی شخص پر ایک حکم پہنچنا قطعی ثابت نہ ہو جائے اس وقت تک وہ اس کے خلاف سرکشی اور عدول حکمی کا مجرم نہیں ٹھہرایا جاتا۔ آپ کا مقدمہ ہی آپ کی رہبری کے لئے کافی تھا کہ محض ازالہ حیثیت عرفی کا جرم قائم کرنے میں ہی ..... عدالت نے کس قدر تحقیقات کی۔ گواہوں کے بیانات لئے۔ آپس کی جرح و قدح تک سنی۔ آخر میں فریقین کے بیانات کا موازنہ کر کے مدلل فیصلہ لکھا۔ مگر آپ تو تمام دنیا کو جہنمی بنانے کے لئے تنہا بھی کسی سے نہیں پوچھتے کہ تیرے پاس ہم پر لانے کے لئے کافی دلائل پہنچے یا نہیں۔ پھر تو کس وجہ سے مخالف ہے۔ کیوں نہ ہو آسمانی حکم جو ہوئے۔ علام الغیوب اور ہر جگہ حاضر و ناظر جو ہوئے۔ کچھ تو سوچو۔ خداوند عالم ! قرآن مجید اور اسلام کو کیوں ذلیل کرتے ہو۔ براہ خدا ایک لمحہ تو اپنے گریبان میں منہ ڈال کر دیکھو کہ کیا تمام دنیا کے ہر فرد پر آپ حجت کر چکے یا آپ کے مرید ہر فرد کو آپ کی مسیحیت کا قائل کر چکے؟ نہیں ہرگز نہیں۔ بلکہ عدم تبلیغ کے مجرم آپ اور آپ کی جماعت ہیں جو ایسے اہم احکام کو دبائے ہوئے گھر میں بیٹھے ہیں اور تمام دنیا کو سرکش اور کافر بنا رہے ہیں۔

١؎ مرزا قادیانی کا اقرار کہ مرتد کی سزا قتل ہے۔

٢؎ میں ان تمام احکام کو قبول کرتا ہوں جو ”قال اللہ“ اور ”قال الرسول“ کے مطابق ہوں نہ کہ مخالف۔ اسی شرط پر میں نے بیعت کی تھی۔

٢٠

صفحہ ٣٢٥

کو جواب دیں گے۔ حلفاً کہہ سکتا ہوں کہ کم از کم ایک لاکھ آدمی میری جماعت میں ایسے ہیں کہ سچے دل سے میرے پر ایمان لائے ہیں اور اعمال صالحہ بجالاتے ہیں اور باتیں سننے کے وقت اس قدر روتے ہیں کہ ان کے گریبان تر ہو جاتے ہیں۔ میں اپنے ہزار ہا بیعت کنندوں میں اس قدر تبدیلی دیکھتا ہوں کہ موسیٰ نبی کے پیروان سے جو ان کی زندگی میں ان پر ایمان لائے تھے ہزار ہا درجہ ان کو بہتر خیال کرتا ہوں اور ان کے چہروں پر صحابہ کے اعتقاد اور صلاحیت کا نور پاتا ہوں۔ ہاں ۔ شاذ و نادر کے طور پر اگر کوئی اپنی فطرتی نقص کی وجہ سے صلاحیت میں کم رہا ہو تو وہ شاذ و نادر میں داخل ہیں۔ میں دیکھتا ہوں کہ میری جماعت نے جس قدر نیکی اور صلاحیت میں ترقی کی ہے یہ بھی ایک معجزہ ہے۔ ہزار ہا آدمی دل سے فدا ہیں۔ اگر آج ان کو کہا جائے کہ اپنے تمام اموال سے دست بردار ہو جاؤ تو وہ ...... دست بردار ہو جانے کے لئے مستعد ہیں۔ ١؎ پھر بھی میں ہمیشہ ان کو اور ترقیات کے لئے ترغیب دیتا ہوں اور ان کی نیکیاں ان کو نہیں سناتا۔ مگر دل میں خوش ہوں۔ آپ کی یہ تمام حجاب بباعث دوری اور بعد کے سبب ہیں۔ بہتر یہی ہے کہ تین ماہ کی رخصت لے کر آ جاؤ۔ کیونکہ موت کا اعتبار نہیں۔ ایسا نہ ہو کہ محجوب ہونے کی حالت میں موت آ جائے اور اپنے الہامات سے دھوکہ مت کھاؤ۔ ایسے الہامات ایک مشرک اور ہندو کو بھی ہو سکتے ہیں۔ بلکہ میں نے ہوتے دیکھے ہیں۔ خاکسار: مرزا غلام احمد از قادیان خط نمبر: ٥

ڈاکٹر عبدالحکیم خان بنام غلام احمد قادیانی

بسم الله الرحمن الرحیم! ”نحمده ونصلى على رسوله الكريم . ونعوذ بالله من الشيطان الرجيم . التوحيد رأس الطاعات والشرك ظلم عظيم“

حضرت مسیح الزماں السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ

میں حیران ہوں کہ میری نسبت یہ کیسے تحریر فرمایا گیا کہ میں تمام عیسائیوں، دہریوں، مرتدوں اور کافروں وغیرہ کو جو آنحضرت ﷺ کی عمداً مخالفت کرتے ہیں ناجی سمجھتا ہوں۔ نہیں ٢؎

١؎ جب عملاً وہ ایسا کر دکھائیں گے تو دیکھا جائے گا۔ اس وقت تو ایک لنگر کے واسطے ہمیشہ اخباروں اور اشتہاروں میں ہاتھ پسارنے پڑتے ہیں۔ تین لاکھ کی جماعت میں سے اوسطاً ایک پیسہ ماہوار بھی وصول نہیں ہو رہا۔

٢؎ یہ نمونہ فہم انسانی کے تدبر اور فیصلہ کا کہ میں لکھتا کچھ ہوں اور وہ سمجھتے کچھ ہیں اور اپنے خیال کی بناء پر ہی الزام لگاتے جاتے ہیں۔

٢١

صفحہ ٣٢٦

ہرگز نہیں۔ ہاں قرآن مجید کی آیات بینات واحادیث صحیحہ وعقل سلیمہ اور فطرت اللہ کی بناء پر یہ ضرور مانتا ہوں کہ جن لوگوں پر اسلام کی تبلیغ نہیں ہوئی ان میں جو خدا پرست اور صالح لوگ ہیں وہ ضرور نجات پائیں گے۔ جو لوگ نقص علم یا نقص فہم کی وجہ سے نہ شرارت اور عناد کی وجہ سے مخالف بھی ہوں اور حقیقت میں راست باز خدا پرست اور نیک عمل ہوں وہ بھی قابل معافی ہیں۔

جو تعلیمات آپ کی مجھ کو الہام الٰہی کے الفاظ میں معلوم ہوتی ہیں میں ان کی مخالفت ہر گز نہیں کرتا۔ ہاں آپ کے استنباط اور اجتہاد کو قطعی اور معصوم نہیں مانتا۔ مثلاً مولوی عبدالکریم کے ایام مرض میں باوجود مخالف الہامات کے آپ بہت سے خوابات کو مبشر فرماتے رہے اور ان سے صحت وحیات کی طرف استدلال کرتے رہے۔ مجھے کبھی ایک منٹ کے واسطے بھی صحت وحیات کا خیال نہیں ہوا۔ بلکہ میں الحکم والبدر میں وہ اقوال پڑھ کر صاف کہہ دیا کرتا تھا کہ ان میں کوئی مبشر خبر نہیں۔ بلکہ آخری ناکامی اور مایوسی پر دلالت کرتے ہیں اور یہ بھی کہا کرتا تھا کہ یہ اقوال قابل اشاعت نہیں۔ کیونکہ یہ اکثر کے واسطے موجب ابتلاء ہوں گے۔

کسی بات کو میں شاعرانہ اور مجنونہ رنگ میں نہیں مان سکتا۔ نہ ایسی بات کو جو واقعات کے صریح خلاف ہو۔ حکم کے لفظ سے میں ہمیشہ امید کیا کرتا ہوں کہ تفاسیر قرآنی میں جو ہزارہا اختلافات ہیں اور ہزارہا مشکلات ہیں ان پر آپ کی طرف سے نہایت معقول اور مدلل محاکمہ اور فیصلہ شائع ہوں اور مسلمانوں کے تمام ...... مقدمات واقعی طور پر نہیں عملی طور پر تو طے ہو جائیں اور لفظ عدل سے سمجھا کرتا ہوں کہ عدالت کے ساتھ ہر فریق کی سچی بات کی دلائل کے ساتھ تصدیق ہو جائے اور جھوٹی بات کی تردید۔ میں نے یہ کب کہا کہ مولوی نورالدین کے سوائے احمدی جماعت میں کوئی عملی رنگ نہیں رکھتا۔ بلکہ میں تو یہ کہتا ہوں کہ ہماری جماعت میں تو ہزاروں سچے اور باعمل اشخاص ہونے ہی تھے۔ بلکہ تیرہ کروڑ محمدی جماعت میں جو ہزار ہا بزرگوں کے جان و مال قربان ہو کر صدیوں میں تیار ہوئی ہے اس میں بھی لاکھوں باخدا باعمل اور جان نثار اشخاص موجود ہیں۔ بلکہ کل مخلوقات عالم میں جن کو قرآن اور اسلام کی خبر تک بھی نہیں ان میں بھی رب العالمین الرحمٰن اور الرحیم کا فیض عام جاری ہے اور ان میں بھی لاکھوں راست باز خدا پرست انسان موجود ہیں۔ جو ان خبیث اور ہر قسم کے شرک اور بیہودگی کا خلاف کر رہے ہیں۔ کیا آپ کے نزدیک تیرہ کروڑ مسلمانوں میں کوئی بھی سچا خدا پرست، راست باز نہیں۔ کیا محمدی اثر

٢٢

صفحہ ٣٢٧

اس تمام جماعت پر سے اٹھ گیا۔ کیا اسلام بالکل مردہ ہو گیا۔ کیا قرآن مجید بالکل بے اثر ہو گیا۔ کیا رب العالمین، محمد، قرآن، فطرت اللہ اور عقل انسان بالکل معطل اور بیکار ہو گئے کہ آپ کی جماعت کے سوائے نہ باقی مسلمانوں میں راست باز ہیں نہ باقی دنیا میں۔ بلکہ تمام کے تمام سیاہ باطن سیاہ کار اور جہنمی ہیں۔ کیا رب العالمین اور الرحمن اور الرحیم کے تمام فیضان محض احمدی جماعت کے واسطے ہی محدود ہو گئے؟

جب ہم صریحاً دیکھ رہے ہیں کہ تمام ظاہری کمالات میں وہ اعلیٰ درجہ کی ترقی کر رہے ہیں۔ معاملات میں سچے اور نیک ہیں۔ خدا پرست، ہمدرد بنی نوع اور راست باز ہیں۔ تو ہم کیسے کہہ سکتے ہیں کہ رب العالمین ...... ان کا سراسر دشمن ہے اور ان کے لئے کامیابی اور ترقی کی راہیں بالکل بند ہیں۔ فرق محض اس قدر ہے کہ مقابلہ آپ کی جماعت میں سعید اور رشید بہت زیادہ ہیں۔ اس کے بعد عیسائیوں میں سائنس اور برہموں میں موحد راست باز باعمل اور جان نثار بکثرت ہیں۔ بعض مسائل فروعی میں اختلافات ایک علیحدہ امر ہے۔ یہ اختلاف ایسا ہی اٹل ہے جیسا کہ ظاہری صورت کے اختلافات نہ خاص، آنحضرت ﷺ کے ارشاد کے مطابق جب ابو ہریرہؓ اعلان کرنے چلے۔ ”من قال لا اله الا الله فدخل الجنة“ اور راستہ میں حضرت عمرؓ ملے تو آپ نے ایک مکا ان کی چھاتی میں مارا اور گرا دیا اور ابو ہریرہؓ کو واپس لے چلے۔ محمد مصطفےٰ ﷺ نے یہ حال سن کر حضرت عمرؓ کو مرتد نہیں کہا۔ حالانکہ ایک صریح مخالفت تھی۔ الاعمال بالنیات۔ یہی انشراح تمام حکمت کی بنیاد ہے۔ جو شخص کوئی مخالف بات اپنی نسبت برداشت نہیں کر سکتا۔ بلکہ خدا کی طرح اپنے آپ کو علیم اور قدوس سمجھتا ہے وہ کبھی کل بنی آدم کا رہبر نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ بنی نوع کی فطرتیں اور مذاق نہایت ہی مختلف اور متفاوت واقع ہوئے ہیں۔ اس لئے ایک حد تک اختلاف لابد ہے۔

ایسا ہی قیدیان بدر کی بابت حضرت عمرؓ کی رائے جناب باری میں قبول ہوئی اور ابوبکر صدیقؓ اور آنحضرت ﷺ کے فیصلہ پر عتاب نازل ہوا۔ اس سے جناب رسول خدا ﷺ کی شان میں کوئی فرق نہیں آیا اور نہ حضرت عمرؓ مرتدوں میں شمار ہوئے۔ بلکہ یہی ثابت ہوا کہ وہ ایک بشر بھی تھے۔ اس لئے مشورہ کی ضرورت تھی۔

جو قوم باہمی مشورہ اور مباحثہ کی عادی نہیں وہ نہ کبھی اپنی اصلاح کر سکتی ہے نہ دوسروں

٢٣

صفحہ ٣٢٨

کی۔ نہ وہ مخلص ہے۔ یہ بھی سچ ہے کہ جماعت احمدی میں بہت سے نمازوں میں روتے اور بہت التجائیں کرتے ہیں۔ مگر کیا اسلام اسی قدر ہے۔ کیا فرشتوں نے دعویٰ نہیں کیا تھا۔ ”نحن نسبح بحمدک ونقدس لک“ میں تو یہ دیکھنا چاہتا ہوں کہ ان میں کامل انسان کس قدر ہیں۔ کس قدر ایسے ہیں جو باوجود مشاغل ملازمت وخانہ داری، عیش و تنعم میں غرق نہیں ہوئے۔ بلکہ ذکر خدا اور خدمت اسلام میں لگے ہوئے ہیں۔ کس قدر ایسے ہیں جو محض پتنگ بازیوں اور کبوتر بازیوں میں وقت گزار رہے ۔ بلکہ مرد میدان بن کر افریقہ، امریکہ، یورپ، جاپان میں اشاعت اسلام کے لئے منتشر ہو گئے ہیں۔ کس قدر ایسے ہیں جو گھروں کے آرام وعیش کو چھوڑ کر افریقہ کے بیابان میں نکل پڑے ہیں۔ جہاں پانی بھی بآسانی میسر نہیں آسکتا۔ کس قدر ایسے ہیں جنہوں نے گیہوں، دال، گوشت، نمک، مرچ، سبزی، پھل اور میوہ جات کی افراط کو چھوڑ کر حصول کھان کے وعدہ پر دشت وبیابان کا سفر اختیار کیا ہے۔ جہاں من وسلویٰ کچھ بھی نہیں۔ کس قدر ایسے ہیں جو قوم کے حالات پر نظر غور اور رحم سے دیکھتے اور شفیق دوستوں کی طرح سچی خیر خواہی کے ساتھ ان کو آتش جہنم سے بچاتے اور بہشت کا وارث بنارہے ہیں۔ کس قدر ایسے ہیں جو بنی نوع کے سچے ہمدرد ہیں۔ کون کون ہیں جو عالی ظرفی اور عالی حوصلگی کے ساتھ اپنے مخالفوں اور بدگویوں کے مباحثات میں راستی اور سلامت روی کو ہاتھ سے نہیں دیتے۔ کون کون ہیں جو واقعی طور پر اپنے آپ کو ہمدرد اور محسن بنی نوع ثابت کرتے ہیں۔ کون کون ہیں جو گھروں میں آرام سے کاغذی گھوڑے نہیں دوڑاتے اور خالی شیخیاں نہیں بگھارتے۔ بلکہ دنیا کی تمام قوموں سے بڑھ کر اپنے آپ کو مرد میدان، جان نثار، محنت کش، ثابت قدم، حلیم اور راست باز ثابت کرتے ہیں۔ ”افحسب الذين آمنوا ان يقولوا آمنا وهم لا يفتنون“ الغرض شیخ چلی والی خالی شیخیاں اور لفظی بڑائیاں مجھ کو مطمئن نہیں کر سکتیں۔ کیونکہ میں نے علوم میں پرورش پائی ہے نہ کہ شاعری میں۔ اس لئے میں یہ دیکھنا چاہتا ہوں کہ اسلام کی خاطر کس کس نے کیا کچھ ترک کیا۔ کیا کچھ محنتیں اٹھائیں۔ کیا کچھ مصیبتیں اٹھائیں اور کیا کچھ دنیا سے بڑھ کر انہوں نے کر دکھایا۔ تیرہ کروڑ مسلمانوں اور کل مخلوق خدا کی گھر بیٹھے تحقیر اور تکفیر کرنا کوئی بڑا کام نہیں ہے۔ بلکہ شیروں اور بھیڑیوں، سانپوں اور بچھوؤں کے بنوں میں گھس کر وحوش اور حیوانوں کو انسان بنادینا بڑا کام ہے۔ جیسا کہ خاتم النبیین ﷺ نے کر کے دکھایا۔ مجھ پر بھی افتراء کیا گیا ہے کہ میں نے امام الوقت ہونے کا دعویٰ کیا ٢٤

صفحہ ٣٢٩

ہے اور یہ کہ امام صلح ہوں اور کل مذاہب کو حق سمجھتا ہوں۔ ایسا میں نے نہ کبھی کہا اور نہ لکھا۔ میری تفاسیر اردو وانگریزی تین بار شائع ہو چکی ہیں۔ میرے خیالات وعقائد کوئی خفیہ اور خانگی امور نہیں ۔ بلکہ کل ...... ہندوستان اور یورپ اور امریکہ میں شائع ہو چکے ہیں۔ میں حیران ہوں کہ ان افتراؤں کی کیا بنیاد ہے اور یہ کس کی ایجاد ہے۔ میں اپنے خوابات کو قطعی اور یقینی بھی نہیں خیال کرتا۔ بلکہ اصل حکم اور میزان قرآن کریم اور فطرت اللہ ہیں اور عقل سلیمہ۔ اگر ہم عقل سے کام نہ لیں تو بت پرستوں پر ہم کیا اعتراض کر سکتے ہیں؟ اگر قرآن کریم اور فطرت اللہ کو حکم نہ بنائیں جو رب العالمین کا قول اور فعل ہیں تو پھر اور کس چیز کو حکم اور میزان بنا سکتے ہیں؟ کیا اللہ تعالیٰ کی طرح رسول بھی رب کل شے اور خالق کل شے ہوتے ہیں کہ جس طرح ہر انسان کی فطرت میں رب کی تلاش اور عبودیت مخمر کی گئی ہے۔ ویسی ہی ہر رسول کا ماننا جرم قرار دیا جا سکے؟ کیا راست باز بھی مرتد ہوتے ہیں؟ کیا خدا پرستی اور راست روی داخل ارتداد ہیں۔ کیا سید المرسلین اور صحابہ کرام علیہم السلام کی تمام جان نثاریوں کا یہی نتیجہ ہوا کہ دنیا میں تیرہ کروڑ انسان مسلمان کہلا کر جہنمی بن گئے (یعنی مرزا کو نہ ماننے سے مسلمان جہنمی ہوئے) اور باقی تمام عدم قبولیت اسلام کی وجہ سے جہنمی ۔ کیا رحمۃ اللعالمین کے آنے کا یہی نتیجہ ہے کہ کل دنیا جہنمی ہو جائے؟ کچھ قبول اسلام کی وجہ سے اور کچھ خلاف سے۔ کیا ربوبیت عامہ اور رحمت کاملہ کے یہی معنی ہیں کہ کل دنیا جہنم میں ڈالی جائے؟ نہیں ہرگز نہیں۔ بلکہ ”ان الابرار لفی نعیم وان الفجار لفی جحیم ، فمن يعمل مثقال ذرة خيراً يره ، ومن يعمل مثقال ذرة شراً يره ، وان حييتم بتحية فحيوا باحسن منها او ردوها “ کیا یہ امر قرآنی منسوخ ہو چکا؟ اور ” اذا خاطبهم الجاهلون قالوا سلاماً “ بھی منسوخ ہو چکا۔ اس لئے میرے خطوں کے جواب میں سلام کا جواب سلام بھی نہیں ہوتا۔ اگر خدائی آپ کے تابع ہوتی تو پہلے صد ہا بار جو السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ مجھے لکھا گیا اس کا نتیجہ یہ نہ ہوتا۔

جب بھلائی میں خدائی آپ کے تابع نہیں تو برائی میں کیسے ہو سکتی ہے؟ جب آنحضرت ﷺ کو تو یہ ارشاد ہے۔ ” انك لا تهدی من احببت ولكن الله يهدی من يشاء “ تو پھر میں کیسے سمجھ سکتا ہوں کہ اب خدا و حدیث معطل ہو گئے اور آپ کے خیالات کی حکومت کل عالم پر قائم ہو گئی ہے۔ پس برائے خدا اگر آپ میری کسی غلطی کی اصلاح کرنا چاہتے

٢٥

صفحہ ٣٣٠

ہیں تو بینات قرآنی سے معقول طور پر مجھے مطلع فرماویں۔ مجھے کسی بات پر ضد نہیں۔ بلکہ قبولیت حق کے لئے ہر وقت مستعد ہوں۔ ”ومن يحكم بما انزل الله فاولئك هم الكافرون“ براہ مہربانی میرا پہلا خط واپس فرماویں یا اس کی نقل تاکہ میں اس پر دوبارہ غور کر سکوں کہ اس قدر طوفان جس کی وجہ سے پیدا ہوئے شاید سہواً اس میں ہی کوئی الفاظ درج ہو گئے ہیں۔ کیونکہ میں نے اس کو دوپہر کے وقت میں غلبہ نیند کے وقت لکھا تھا اور یہ گمان نہ تھا کہ ایک طوفان بے تمیزی پیدا ہو جائے گا۔ والسلام!

مورخہ ١٠؍اپریل ١٩٠٦ء خاکسار: عبدالحکیم خان از پٹیالہ!

خط نمبر: ٦

مرزا غلام احمد قادیانی بنام ڈاکٹر عبدالحکیم خان

بسم اللہ الرحمن الرحیم! ”نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم“

خان صاحب! آپ کا خط پہنچا میں چند ہفتہ سے بیمار ہوں اور بہت کمزور ہو گیا ہوں۔ مجھے مباحثات کے لئے سر میں قوت نہیں۔ ہر ایک شخص اپنے عمل سے پوچھا جائے گا۔ مجھے آپ کی اس تحریر سے بہت افسوس ہوا کہ آپ نے لکھا ہے کہ گویا مولوی عبدالکریم کی نسبت قطعی طور پر صحت پانے کے لئے خبر تھی وہ غلط نکلی۔ جس حالت میں اور لوگ طرح طرح کے میرے پر افتراء کرتے ہیں۔ اگر آپ نے یہ افتراء کیا تو محل افسوس نہیں۔ ہر ایک کو معلوم ہے کہ جو کچھ مولوی صاحب مرحوم کی نسبت الہام کے ذریعہ سے معلوم ہوا وہ ان کی موت تھی۔ چنانچہ بار بار ان کے انجام کی نسبت اخبارات میں یہ الہام چھپوائے گئے۔ ”ان المنايا لا تطيش سهامها“ یعنی موت کے تیر نہیں ٹلیں گے۔ مبرم موت ہے۔ پھر الہام میں کفن میں لپیٹا گیا۔ پھر الہام ہوا سینتالیس برس کی عمر۔ ”انا للہ وانا اليه راجعون“ چنانچہ پورے سینتالیس برس کی عمر میں فوت ہو گئے۔ ہاں ایک خواب میں میں نے دیکھا کہ ان کو مرض سے صحت ہو گئی اور میں نے سورۃ فاتحہ ان کے سر پر پڑھی ہے۔ پس در حقیقت وہ اصل مرض سے صحت یاب ہو چکے تھے اور ذات الجنب سے ان کا انتقال ہوا اور اسی بارے میں مرزا یعقوب بیگ صاحب نے ان کی نسبت اخبار البدر میں شائع کیا اور وہی ان کے معالج تھے۔ آپ کا یہ مقولہ شوخی اور جرأت سے خالی نہیں کہ ایسا الہام کیوں شائع کیا؟ اس سے معلوم

٢٦

صفحہ ٣٣١

ہوا کہ آپ کی فطرت میں شوخی اور گستاخی حد سے بڑھ گئی ہے اور اپنے تئیں کچھ خیال کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نے ہمیشہ کے لئے آپ سے قطع تعلق کردیا۔ اگر یہ صریح صریح الہامات موت کے مولوی صاحب کی نسبت نہ ہوتے تب بھی آپ کا حق نہیں تھا کہ اعتراض کرتے۔ آپ تو اپنی بدقسمتی کی وجہ سے محض بیگانہ اور بے خبر ہیں اور اس جگہ دس ہزار سے زیادہ نشان خدا تعالیٰ کے ظاہر ہو چکے ہیں اور ایسا کوئی مہینہ نہیں جس میں کوئی نشان ظاہر نہیں ہوتا۔ پس یہ امر حق کے طالبوں پر مشتبہ نہیں ہوسکتا۔ ہر ایک دشمن نامراد مرے گا اور ہر ایک منکر ناکام مرے گا۔ پہلے نبیوں کے وقت میں بھی بعض بدقسمت مرتد ہو جاتے تھے۔ اگر میرے زمانہ میں بھی کوئی ”یہودا اسکریوطی“ پیدا ہو جائے تو وہ خدا کے سلسلہ کو کبھی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ یہ بات بھی صحیح نہیں ہے کہ وہ یہود ونصاریٰ وغیرہ جو آنحضرت ﷺ کی نبوت کی نسبت مطمئن نہ ہو سکے وہ نجات پائیں گے۔ اگر یہی بات تھی تو یہود ونصاریٰ سے مقابلہ بیکار تھا۔ کیونکہ وہ لوگ اپنی دانست میں اپنے مذہب کو اچھا خیال کرتے تھے۔ اسلام کی سچائی کی نسبت وہ اپنے خیال میں مطمئن نہیں تھے۔ پس بقول آپ کے اس سے لازم آتا ہے کہ وہ سب ناجی تھے اور آنحضرت ﷺ کا آنا ہی بے فائدہ تھا۔ ماسوا اس کے اگر یہی حق بات ہے کہ جس یہود ونصاریٰ کو اسلام پر تسلی نہ ہو وہ نجات یافتہ ہیں تو کیا وجہ ایسا شخص نجات نہیں پائے گا کہ مسلمانوں میں پیدا تو ہو مگر اسلام پر اس کو یقین حاصل نہیں ہوا۔ اس کے وہ مساوی ہوگا۔

اگر آپ کا یہ خیال ہے کہ ہزار ہا آدمی جو میری جماعت میں شامل نہیں۔ کیا راست بازوں سے خالی ہیں تو ایسا ہی آپ کو یہ خیال بھی کر لینا چاہئے کہ وہ ہزار ہا یہود اور نصاریٰ جو اسلام نہیں لائے کیا وہ راست بازوں سے خالی تھے۔ بہر حال جب کہ ”خدا تعالیٰ نے میرے پر ظاہر کیا ہے کہ ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچتی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں ہے اور خدا کے نزدیک قابل مواخذہ ہے۔“ تو یہ کیونکر ہو سکتا ہے کہ اب میں ایک شخص کے کہنے سے جس کا دل ہزاروں تاریکیوں میں مبتلا ہے۔ خدا کے حکم کو چھوڑ دوں۔ اس سے سہل تر یہ بات ہے کہ ایسے شخص کو اپنی جماعت میں سے خارج کر دیا جائے۔ اس لئے میں آج کی تاریخ سے آپ کو اپنی جماعت سے خارج کرتا ہوں۔ ہاں اگر کسی وقت صریح الفاظ سے آپ اپنی توبہ شائع کریں

١؎ اس قدر تو صحیح و بجا ہے مگر ان بیچاروں کا کیا قصور جن پر آپ کی دعوت نہیں پہنچی اور اگر پہنچی تو مخالف یا ضعیف و ناقص صورت میں؟

(حاشیہ نمبر ٢ اگلے صفحہ پر)

٢٧

صفحہ ٣٣٢

اور اس خبیث عقیدہ سے باز آجائیں تو رحمت الٰہی کا دروازہ کھلا ہے۔ وہ لوگ جو میری دعوت کے رد کرنے کے وقت قرآن شریف کی نصوص صریحہ کو چھوڑتے ہیں اور خدا تعالیٰ کے کھلے کھلے نشانوں سے منہ پھیرتے ہیں۔ ان کو راست باز قرار دینا اسی شخص کا کام ہے جس کا دل شیطان کے پنجہ میں گرفتار رہے۔ والسلام علیٰ من اتبع الہدیٰ! خاکسار: مرزا غلام احمد از قادیان خط نمبر: ٧

ڈاکٹر عبدالحکیم خان بنام مرزا غلام احمد قادیانی

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم!

”نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم“

حضرت مسیح الزمان السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

میں حیران ہوں کہ یہ الزام آپ نے مجھ پر کیسے لگایا کہ میرا یہ خیال ہے کہ آپ نے مولوی عبدالکریم کی صحت وحیات کی بابت قطعی خبر دی تھی اور وہ غلط نکلی۔ نہیں ہرگز نہیں۔ میں نے ہرگز نہیں لکھا بلکہ میں نے تو یہ لکھا تھا کہ میں آپ کے استنباط اور استدلال کو معصوم نہیں مانتا۔ چنانچہ آپ مولوی عبدالکریم کی نسبت اپنے اور دوسروں کے خوابوں کو مبشر فرماتے رہے۔ حالانکہ وہ مبشر نہ تھے۔ بلکہ ان کی موت کی نسبت قطعی خبر تھی۔ نہ میں نے یہ لکھا کہ وہ الہامات شائع نہ ہوئے

(حاشیہ گذشتہ صفحہ) یہ تعجب ہے کہ میں ہر امر میں قرآنی بینات سے متواتر اور بکثرت پیش کر رہا ہوں۔ آپ ان کا کوئی جواب نہیں دیتے۔ بلکہ ان پر عمل کرنا خدا کے حکم کو چھوڑنا ظاہر فرماتے ہیں۔ میں تو بار بار عرض کر رہا ہوں کہ براہ کرم مجھے وہ الفاظ خداوندی بتلادیجئے۔ جن میں تمام امت محمدیہ خارج از اسلام قرار دی گئی ہے۔ خواہ ان پر تبلیغ ہوئی ہو یا نہ ہوئی ہو۔ کیا محض قادیان میں بیٹھے رہنے یا چند اخبارات واشتہارات کے شائع ہونے کے یہ معنی ہیں کہ دنیا کے ہر فرد پر تبلیغ ہوچکی اور ان کا خلاف اور ارتداد اس حد تک پہنچ گیا کہ ان پر فردِ جرم قائم کردی جائے۔ اللہ تعالیٰ تو قتلِ مؤمن کو بھی اسی حالت میں کفر قرار دیتا ہے۔ جب کہ وہ قتلِ عمد ثابت ہوجائے۔ آپ اس وقت نہ محض قرآن کو پس پشت ڈال رہے ہیں۔ بلکہ عام عرف اور عقل کو بھی جواب دے رہے ہیں۔ کیا تو وہ وقت تھا کہ آپ مولویوں پر طنز کیا کرتے تھے کہ وہ کلمہ گویوں کو کافر کہتے ہیں اور قول امام نقل کیا کرتے تھے کہ جس شخص میں ٩٩ اجزاء کفر کے ہوں اور ایک جز اسلام کا ہو۔ اس کو بھی کافر نہ کہنا چاہئے، میں اب تک اسی تعلیم پر قائم ہوں اور آپ اس سے مرتد ہوگئے۔ آپ کا قول تھا۔ گالیاں سن کے دعا دیتا ہوں۔ ان گالیوں کو میں تو اس پر عامل ہوں۔ مگر آپ میرے سلام اور دعائیں سن کر مجھے بھی خارج از اسلام اور مرتد بتارہے ہیں اور جماعت سے خارج کرتے اور سلام تک نہیں لکھتے۔ آپ کا قول تھا۔ اے دل تو نیز خاطر ایناں نگاہدار آخر کنند دعویٰ حب پیمبرم۔ یہ آپ کے الہامی قصیدہ کا شعر ہے۔ مگر آپ اس سے مرتد ہوگئے اور میں اس پر قائم ہوں اور امت محمدی کو بلاوجہ صریح کافر نہیں کہہ سکتا اور آپ بلاوجہ کافر کہتے ہیں۔ اچھی خاطر ہوئی۔ لے یہ ہے نمونہ حلم آسمانی کی قوت فہم اور فیصلہ کا۔

٢٨٠

صفحہ ٣٣٣

چاہئیں تھے۔ بلکہ یہ لکھا تھا کہ آپ کا استنباط تشریعی میرے نزدیک اس وقت غلط تھا اور قابل اشاعت نہ تھا۔ چنانچہ ایسا ہی ثابت ہوا۔ کاربنکل ہمیشہ اسی طرح مہلک ثابت ہوتا ہے کہ اس کا زہر دماغ یا پھیپھڑوں میں پہنچ کر زہریلی ورم پیدا کر دیتا ہے۔ بیرونی کاربنکل بذات خود عموماً مہلک نہیں ہوتا۔ جس خداوند نے آپ کو مسیح بنایا اور آپ کی تعریف کی ، وہی آپ کی کمزوریاں اور غلط فہمیاں ثابت کر رہا ہے تاکہ آپ خدا اور ابن اللہ نہ مانے جائیں اور آپ کا منارہ اور قبرستان، بت خانہ نہ بن جائیں۔ مگر زمانہ کی بگڑی ہوئی حالت اور عالم میلان جو شرک کی طرف ہے وہ پکار پکار کہہ رہے ہیں کہ ایک وقت آپ ضرور خدا بنائے جائیں گے۔ آپ کا مینار گوگے کی ماڑیوں کی طرح پرستش گاہ بنے گا اور اس کی نقلیں بطور بت دنیا میں رائج ہوں گی۔ آپ کا قبرستان پوجا جائے گا اور جن لوگوں کی سرشت میں شرک کا خمیر ہے اور جو احمقانہ طور پر انسان پرستی کے عادی ہیں وہ ”انت منی وانا منك ، انت منی بمنزلة اولادی“ یا شمس یا قمر بہشتی مقبرہ الہامات کو آپ کی خدائی اور ابن اللہ ہونے کی دلیل ٹھہرائیں گے۔ کیونکہ فی زمانہ میں دیکھتا ہوں ایسی صورتیں شروع ہو گئی ہیں۔ کھرد والوں کا حال تو آپ کو معلوم ہی ہے۔ پٹیالہ کی ایک مثال میں آپ کو سناتا ہوں۔ عام طور پر جماعت احمدی کا یہ مذاق ہو گیا ہے کہ مسیح آگیا اور مسیح مر گیا۔ اس کے سوا اور کوئی لگن ان کو نہیں۔ تعطیلات محرم، ہولی کے ایام میں میں نے چاہا کہ ان ایام میں صفات باری تعالیٰ اور دلائل ہستی باری تعالیٰ پر لیکچر دوں تاکہ خدا کی عظمت دلوں میں پیدا ہو۔ وسعت ایمان حاصل ہو اور عوام الناس کو یہ کہنے کا موقعہ نہ رہے کہ احمدیوں کا دین وایمان سوائے ذکر مرزا قادیانی کے اور کچھ نہیں رہا۔ دن رات اخبارات الحکم اور البدر تو پڑھتے ہیں۔ مگر قرآن سے مس و مذاق بالکل نہیں رہا۔

چنانچہ میں نے دلائل ہستی باری تعالیٰ وصفات باری تعالیٰ پر تین ہی لیکچر دیئے تھے جن سے عام لوگ بہت محظوظ ہوئے۔ مگر احمدی لوگوں نے شور مچانا شروع کیا کہ آپ کے لیکچر میں مرزا قادیانی کا ذکر نہیں۔ بلکہ ایک خوش عقیدت نے یہاں تک کہا کہ جس حمد کے ساتھ مرزا قادیانی کا ذکر نہ ہو وہ شرک ہے۔ میں نے جواب میں یہی کہا کہ ابھی الحمد للہ کی تفسیر ہو رہی ہے۔ پھر رب العالمین کی ہوگی۔ پھر الرحمن اور الرحیم کی پھر مالک یوم الدین کی پہلے حمد اس کے بعد نعت پھر مناقبت ہوگی۔ مگر وہ میرے جواب سے مطمئن نہیں ہوئے۔ میں نے اور میرے

٢٩

صفحہ ٣٣٤

ساتھ بعض نے یہ بھی کہا کہ توحید اور تحمید تو مرزا قادیانی کا عین مشن ہے اور وہ اسی بات کے واسطے مامور ہیں اور تمام مرسلین خدام توحید ہوتے ہیں نہ خدام نفس مگر مرزا پرست لوگ ان باتوں سے مطمئن نہ ہوئے اور فساد بڑھتا گیا۔ اس واقعہ کے بعد میں نے پہلا عریضہ آپ کی خدمت میں بھیجا تھا۔ جس کا جواب اناپ شناپ شوریدہ وار مجھے ملا اور ایسا ہونا ہی تھا۔ کیونکہ جلال باری تعالیٰ کے مقابلہ میں بطور شرک آپ کو کھڑا کیا گیا۔ اس کی غیوری اور کبریائی کب متحمل ہو سکتی تھی کہ حمد میں دوسرے کو شریک کیا جائے۔ جس نے نوح کو اپنے جلال کے وقت ”انی اعظک ان تکون من الجاھلین“ کلیم اللہ کو جواب دیا۔ لن ترانی۔ خاتم النبیین کو فرمایا: ”انک لا تھدی من احببت لولا کتاب من اللہ سبق لمسکم فیما اخذتم عذاب عظیم“ یہی وجہ ہے کہ آپ کی طرف سے خلاف معمول عام عقل سے گری ہوئی تحریریں میرے پاس پہنچیں۔ یہ خدا کی شان ہے۔ ”وھو العزیز الجبار المتکبر سبحان اللہ عما یشرکون“ صحیح کہ آپ کے دشمن ناکام مریں گے۔ مگر میں آپ کا دشمن ہرگز نہیں۔ بلکہ سچا خیر خواہ اور وفادار مرید ہوں۔ ہاں پیر پرست مشرک نہیں ہوں۔

میں نے جو یہ ظاہر کیا جو لوگ نقص فہم یا نقص علم کی وجہ سے دین اسلام سے منحرف ہوں وہ نجات پاسکتے ہیں۔ بشرطیکہ وہ ایک خدا کے پرستار اور نیک عمل ہوں۔ اس خیال کی بنا آیات ذیل ہیں: ”ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ ویغفر مادون ذلک لمن یشاء لا یکلف اللہ نفساً الا وسعھا ما کنا معذبین حتی نبعث رسولاً“ جو عمداً سرکشی کرتا ہے وہ بیشک کافر اور جہنمی ہے۔ ایسے عقیدہ سے توبہ کرنا جو قرآنی بینات سے صاف اور سیدھے طور پر ظاہر ہو۔ قرآن مجید کا خلاف کرنا ہے۔ پس آپ مجھ کو سمجھا دیں کہ میں بینات قرآنی کا خلاف کیسے کروں۔ تیرہ کروڑ مسلمانوں کو جو تیرہ سو سال میں تیار ہوئے ایک قلم بلا تبلیغ کامل اسلام سے خارج کر دینا آپ کا ہی حوصلہ ہے۔ آج تیرہ کروڑ کی تیار شدہ جماعت کو اپنے اسلام سے خارج کر دیا۔ کل کو اور امام پیدا ہوگا جو نہ مانے گا وہ آپ کے تین چار لاکھ کی جماعت کو اسلام سے نکال دے گا۔ یہ عجیب تماشا ہے کہ آج ایک مکان تیار ہوا وہ کل گرا دیا گیا جو کل تیار ہوا وہ پرسوں گرا دیا جائے۔ یہ فعل اس علیم و حکیم خدا کا تو نہیں ہو سکتا۔ ہاں مداری اور بچہ اکثر ایسا کیا ہی کرتے ہیں۔ میں اپنے تمام عقائد بینات قرآنی کی بناء پر پیش کر رہا ہوں۔ مگر آپ ان کے جواب میں نہ تو ان آیات کے ٣٠

صفحہ ٣٣٥

معنی اور طرح پر صاف کرتے ہیں اور نہ اور آیات بینات اپنے استدلال میں پیش کرتے ہیں۔ بلکہ میری پیش کردہ آیات بینات سے صاف اعراض کر کے ان کے خلاف سوالات شروع کر دیتے ہیں۔ یہ تو بازاریوں کا منطق ہوتا ہے۔ نہ کہ اہل علم کا آپ یہ فرما کر مرتد کی سزا قتل ہے اور میں اپنی جماعت سے آج کی تاریخ سے آپ کو خارج کرتا ہوں۔ وغیرہ وغیرہ! دھمکیوں سے آیات بینات کے خلاف منوانا چاہتے ہیں اور معقول جواب مطلق نہیں دیتے۔ کیا دھینگا مشتی کا ایمان بھی کوئی چیز ہے۔ کیا سچ مچ وہ آیت منسوخ ہوگئی جس میں ارشاد تھا ۔ ” لا اکراہ فی الدین “ یا آپ کا ایمان وعمل اس آیت کے خلاف ہے۔ پھر تعجب ہے کہ آپ تیرہ کروڑ مسلمانوں کو جو تیرہ سو سال میں پیدا ہوئے ہیں۔ اپنے استدلال کے خلاف کرنے سے کافر کہتے ہیں کہ وہ قرآن شریف کے نصوص کو چھوڑتے اور کھلے نشانوں سے منہ پھیرتے ہیں۔ حالانکہ ان نشانات کی اور نہ ان کو یہ علم ہے کہ نشانات کیا ہوتے ہیں۔ پھر ان پر سرکشی اور کفر کا جرم کیسے عائد ہو سکتا ہے۔ کیونکہ اگر آپ کی تبلیغ ایک فیصدی پر بھی تصور کی جائے تو تیرہ کروڑ میں سے تیرہ لاکھ مسلمان بیٹھتے ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ اگر تیرہ لاکھ کی تحقیقات کی جائے تو یہی ثابت ہو گا کہ عمداً آیات قرآنی کا خلاف کرنے والے دو چار ہزار ہی ہوں گے۔ باقی اس یقین میں ہیں کہ آپ کے دعاوی باطل ہیں اور قرآن وحدیث کے سراسر مخالف ہیں۔ کیونکہ پرانی تفاسیر پرانی تعلیموں اور پرانے وعظوں نے ان کے دلوں پر ایسا ہی ذہن نشین کر رکھا ہے کہ قرآن مجید و احادیث صحیحہ سے خاص مسیح ابن مریم علیہ السلام کا آسمان پر زندہ جانا اور پھر نازل ہونا ثابت ہے۔ جیسا کہ پچاس سال کی عمر تک باوجود عالم قرآن وحدیث ہونے کا آپ کا بھی یہی عقیدہ رہا۔ جب تک وہ خود عالم و فاضل ہو کر آپ کی تصانیف کو نہ دیکھیں یا احمدی مولویوں کے وعظوں کو بکثرت نہ سنیں۔ تب تک وہ کیسے قائل ہو سکتے ہیں کہ پہلی تعلیمیں غلط تھیں اور اب یہ نئی تعلیمیں صحیح ہیں۔ مگر احمدی جماعت کے مشن کہیں کہیں پھر رہے ۔ صرف چار اخباروں کے ذریعہ سے کاغذی گھوڑے ضرور دوڑائے جارہے ہیں۔ جن کو عموماً احمدی لوگ ہی دیکھتے ہیں۔ اگر یہی بات ہے کہ آپ پر ایمان لانے کے بغیر تمام مسلمان کافر اور جہنمی ہیں تو پھر کیوں ایک ایک احمدی اپنے گھر سے نہیں نکل پڑتا کہ کروڑ ہا مخلوق خدا کو جہنم میں گرنے سے بچا دے۔ جب وہ اپنی نظروں سے دیکھتے ہیں کہ وہ آگ میں گر رہی ہے اور خود بچے ہوئے ہیں تو پھر ان پر کھانا پینا، آرام سے گھر میں بیٹھنا اور بے فکر سونا سب حرام اور مطلق حرام ہیں۔ کیونکہ جب

٠٣١

صفحہ ٣٣٦

ایک شہر میں آگ لگ جائے اور تمام شہر میں پھیلتی جائے تو کوئی دانا انسان بے فکری سے کھانا پینا بیٹھنا اور سونا ایک منٹ کے واسطے بھی گوارا نہیں کرسکتا۔ اصل بات یہ ہے کہ یہ سب باتیں کہنے کی ہیں۔ عملی ایمان ایسے عقیدہ پر ایک منٹ کے واسطے بھی کسی ذی ہوش کا نہیں ہوسکتا کہ میں مؤمن ہوں اور باقی سب کافر اور جہنمی ہیں۔ ہاں! محمد ﷺ اور صحابہ کرام کا یہ واقعی ایمان تھا کہ تمام مشرکین عرب جہنمی ہیں۔ اس لئے انہوں نے ان کے بچانے کے لئے جان توڑ کوششیں کیں اور تمام عمر میں ایک ماہ بھی گھر میں آرام سے بیٹھ کر بے فکری کے ساتھ گوشت روٹی اور پلاؤ نہ کھایا اور نہ ساری عمر ان کا یہی مشن رہا کہ بیٹھے بٹھائے لنگر کے نام پر روپیہ جمع کیا ہو۔ خود بے فکری سے کھایا اور اوروں کو کھلایا ہو اور ایک لنگر کی ہی امداد کو اسلام اور اشاعت اسلام سمجھا ہو کہ جو لنگر میں چندہ نہ دے وہ اسلام سے خارج۔ بلکہ وہ اپنے جھولوں میں اپنی اپنی کھجوریں اور ستو بھر کر نکلتے تھے۔ اگر آپ کا اور آپ کی جماعت کا واقعی یہی ایمان ہوتا کہ ہم سب تو نجات یافتہ ہیں۔ باقی تیرہ کروڑ مسلمان جو تیرہ سو سال میں تیار ہوئے یک قلم سب کے سب جہنمی تو آپ بھی صحابہ کرام کا نمونہ بن جاتے۔ گھر میں بیٹھ کر بے فکری کے ساتھ گوشت روٹی اور مرغن پلاؤ کھانا آرام سے بستروں پر سونا چھوڑ کر دنیا میں نکل پڑتے۔ کیونکہ آج کل دنیا میں پھر جانا اس سے بھی زیادہ آسان تر ہے۔ جو حضرت ﷺ کے وقت میں ایک عرب میں پھرنا تھا۔ دعوے تو آپ کے ایسے ہیں کہ لوگوں نے آپ کو خدائی کے ساتھ جا ملایا۔ مگر عملی کمزوریاں اس درجہ کی ہیں۔ جیسے کہ ایک سخت دنیا پرست اور نفس پرست میں ہو سکتی ہیں۔ مثال کے طور پر چند ایک نمونتاً عرض کرتا ہوں۔ نہ اس نیت سے کہ آپ کی توہین ہو۔ بلکہ محض اس نیت سے کہ لوگ آپ کو خدا نہ بنائیں۔ نہ محمد ﷺ کا مظہر اتم ٹھہرائیں نہ دیگر انبیاء اور اولیاء کی تحقیر کریں اور نہ آپ کے منار اور قبرستان کو مساجد۔ واللہ علیٰ ما اقول شہید!

سے مامور و ملہم ہو کر دیا۔ مگر وہ آج تک مکمل نہیں ہوئی۔ تین سو بے نظیر دلائل میں سے محض چند ایک ہی شائع ہوئیں۔ حالانکہ یہ کام جس کا اشتہار الہامی بناء پر دیا گیا۔ سب سے مقدم تھا۔

واپس آنا ظاہر فرمایا۔ حالانکہ اس کے خلاف صریح آیات و احادیث موجود ہیں۔

٣٢

صفحہ ٣٣٧

بلکہ خریداروں کا عموماً روپیہ بھی واپس نہیں کیا۔

گھنٹوں بیوی صاحبہ نے بھی اس کی دلجوئی اور خوشامد کی اور آپ نے بھی مگر اس نے نہ مانا۔ آپ نے اس کو جماعت سے خارج بھی نہ کیا۔ خلیفہ محمد حسن وزیر اعظم ریاست پٹیالہ کی چندہ براہین دینے پر بے حد تعریف کی گئی اور اب وہ وقت ہے کہ جو شخص پندرہ بیس ہزار روپیہ اور تمام زندگی و آسائش آپ کی امداد میں صرف کر چکا۔ اس کو محض چند تجاویز اصلاحی مشورہ پیش کرنے پر خارج از جماعت کیا جاتا ہے۔

نہیں نکلے۔ بلکہ لنگر کے نام پر روپیہ جمع کیا۔ خود مزے سے کھایا اور دوسروں کو کھلایا۔ یہاں تک کہ ایک عبد الکریم کی بیماری میں من ڈیڑھ من پختہ برف لگا تار لاہور سے آتی رہی اور جو لنگر میں چندہ نہ دے اس کی نسبت جماعت سے خارج کر دینے کا اعلان دیا گیا۔ کیا یہی اسلام اور اشاعت اسلام ہے تو پھر جو لوگ اپنی ذاتی تنخواہوں اور آمدنیوں پر گھروں میں بیٹھے ہوئے عیش و آرام کریں وہ تو آپ کے نمونہ کے لحاظ سے زیادہ مستحق ہوئے۔ جب کہ آپ نے قومی روپیہ اور اسلامی خدمت کے روپیہ پر ایسا عیش کیا اور آپ کے بال بچے نوابوں کی طرح عیش و تنعم میں پلے۔ اگر سفر بھی کیا تو سیکنڈ کلاس میں محض بیوی صاحبہ کی خاطر دہلی کا، نہ اسلام کی خاطر اور شہروں کا بے حد جماعت کے اصرار اور الحاح ...... پر سیالکوٹ اور پٹیالہ تک (کبھی سفر نہ کیا)

ہزاروں کوسوں سے تکالیف اور صرفہ اٹھا کر قادیان محض کلمۃ الحق سننے کے واسطے پہنچتے ہیں ان کے واسطے کوئی انتظام نہیں کہ کسی بڑے مکان میں یا سایہ دار درخت کے نیچے ایک وقت پر سب جمع ہو کر ضروریات وقت پر وعظ سنا کریں۔ زیادہ نہیں تو ایک آدھ گھنٹہ ہی سہی۔ بلکہ دھینگا مشتی کے طور پر دس بیس ...... آدمی جو آپ کے قریب کسی وقت پر جب آپ خود ہی اپنی فراغت سے باہر تشریف لائیں۔ جمع ہو کر کچھ سن لیں تو سن لیں۔ وہ بیچارے خود عقیدگی سے ادھر ادھر بیٹھ کر وقت گذار آنے کو ہی غنیمت سمجھ لیتے ہیں۔ کیا مہمانداری اور مسافر نوازی اور تعلیم و تربیت کا یہی کامل نمونہ ہے؟

٣٣

صفحہ ٣٣٨

انجمن حمایت اسلام ، ندوۃ العلماء اور ایجوکیشنل کانفرنس بھی جب اپنی اغراض کے لئے لوگوں کو بلاتے ہیں تو عالم فاضل لوگوں کو ضروریات وقت پر لیکچر دینے کے لئے منتخب کرتے ہیں۔ تاکہ تین چار روز میں دور دراز کے لوگ مفید اور ضروری معلومات ساتھ لے کر واپس جائیں اور ان کا وقت عمدگی کے ساتھ صرف ہو اور پھر مفید معلومات کے ساتھ وہ مفید کاموں میں کارآمد ہو سکیں۔ مگر افسوس خود تو یہ خیالات نہ ہوئے۔ دوسرے کی تحریک کو دشمنی اور ارتداد میں شمار کیا گیا۔ خوش قسمتی سے ایک مولوی نور الدین کا درس قرآن اور علمی مجلس ہے۔ جس میں ہر وقت کوئی طالب بیٹھ کر مستفیض ہو سکتا ہے۔ مگر آپ کی طرف سے لوگوں کو اس قدر بھی تاکید نہیں کہ سب لوگ مولوی کے درس قرآن میں شریک ہوا کریں۔

صفائی کا کوئی خاص انتظام نہیں۔ ”الطهور شطر الایمان “ ان کا نمونہ علی گڑھ میں بیشک ہے۔ جس جگہ کی ٹٹیاں بھی قادیان کے مکانات سے زیادہ صاف رکھی جاتی ہیں۔

حساب اور انتظام نہیں۔ کیا یہ بھی کوئی اسوۂ حسنہ ہے کہ قومی روپیہ کا کوئی حساب نہ رکھا جائے۔ بلکہ ایسی لاپروائی، بے دردی سے اس کو صرف کیا جائے نہ کوئی اس کا حساب کتاب ہو۔ نہ کوئی اس کا نگراں، باہر سے روپیہ لیا اور بیوی کے سپرد کر دیا۔ جب جماعت سیالکوٹ نے خط لکھوایا کہ لنگر کے اخراجات کا حساب اور انتظام رہنا چاہئے تو جواب دیا گیا میں خزانچی ہوں؟ پھر جب کسی نے مہمانوں کے کھانے کی بابت بد نظمی ظاہر کی تو جواب دیا گیا میں بھٹیاری ہوں؟ سبحان اللہ! عجب اسوۂ حسنہ اور مزکی ہیں کہ قوم سے لنگر کے نام پر ہزار بارہ سو روپیہ تو وصول کیا جائے اور اس کے انتظام کے سوال پر جوش و غضب میں آجائیں۔ حضرت عمرؓ تو بیت المال میں سے اپنی ذات اور اولاد پر کچھ بھی صرف نہیں کرتے تھے۔ کیا وہ اسوۂ حسنہ تھا یا یہ کہو شعبدہ ۔

مستحقین زکوٰۃ ہوں ۔ ان کی دستگیری کے لئے کوئی انتظام نہیں۔ آنحضرت ﷺ کے وقت میں تمام مسلمان ایک ہی جگہ تھے۔ زکوٰۃ کا تمام روپیہ یکساں طور پر مستحقین کو تقسیم ہوتا تھا۔

موجودہ خط و کتابت سے ہی ظاہر ہے کہ میں لکھتا کچھ ہوں اور آپ سمجھتے کچھ ہیں۔ جو بینات قرآنی پیش کرتا ہوں۔ ان سے صاف اعراض کر رہے ہیں۔

٣٤

احمدی میں داخل ہو گئے ہیں۔ مگر جو سعادت سے ترقی کر رہے ہیں۔ مگر ہیں۔ جو رنڈی باز تھے وہ بدستور رنڈ کی کچھ خبر ہے اور نہ ان کی اصلاح کا میں دو چار روز کھانا کھا کر چلے آئے تعلیم کے بارے میں ان کا سخت خلا کتاب کہا گیا۔ مگر آپ نے علم ہو ہیں وہ بے حد ہیں۔ کیونکہ جماعت نہیں نہ کوئی تفسیر القرآن شائع ہوئی عقائد و اعمال کی صورت پیدا ہو جا مسئلہ پر مولوی نور الدین کا کلام شا گواہ چست۔

میں۔ احمدی جماعت میں باہم رش میں مشن تبت و کشمیر میں وغیرہ وغیر

پھر اس کو کیوں پورا کر کے نہ دکھایا انگریزی تعلیم کی یہ غرض ہے کہ دو عمریں اس امید پر خرچ کی جاتی مانگ سکتے۔ کیا یورپ کو اشاعت پشیمانی لا حاصل ہے یا ان تمام کا القرآن ہونے کا دعویٰ بار بار شا کے نزدیک غیر ضروری اور بے

صفحہ ٣٣٩

احمدی میں داخل ہو گئے ہیں۔ مگر جو پہلے سے خدا پرست اور متقی تھے۔ وہ اب بھی ہیں یا اپنی فطری سعادت سے ترقی کر رہے ہیں۔ مگر جو لوگ آوارہ گرد، بدچلن تھے وہ بدستور آوارہ گرد بدچلن ہیں۔ جو رنڈی باز تھے وہ بدستور رنڈی باز ہیں۔ جو راشی تھے وہ بدستور راشی ہیں۔ مگر آپ کو نہ ان کی کچھ خبر ہے اور نہ ان کی اصلاح کا کوئی فکر ہے۔ ان میں سے ایسے بھی ہیں جو قادیان پہنچے اور لنگر میں دو چار روز کھانا کھا کر چلے آئے۔ بلکہ خاص قادیان میں مولوی نور الدین کو دجال کہا گیا۔ دینی تعلیم کے بارے میں ان کا سخت خلاف کیا گیا۔ مولوی محمد احسن کی شمس بازغہ کو برسر عام لغو اور بیہودہ کتاب کہا گیا۔ مگر آپ نے علم ہونے پر بھی ان امور کی کچھ اصلاح نہ کی۔ عقائد میں جو اختلافات ہیں وہ بے حد ہیں۔ کیونکہ جماعت کی رہبری کے واسطے عقائد واعمال اسلامی پر آپ کا کوئی فتاویٰ نہیں نہ کوئی تفسیر القرآن شائع ہوئی۔ جس میں تمام اختلافات پر معقول فیصلہ ہو جائے اور وحدت عقائد واعمال کی صورت پیدا ہو جائے۔ محض دعویٰ تو حکم ہونے کا ضرور کر لیا ہے۔ ہاں کبھی کسی مسئلہ پر مولوی نور الدین کا کلام شائع ہو جاتا ہے اور کبھی مولوی محمد احسن کا۔ بقول شخصے مدعی سست گواہ چست۔

میں۔ احمدی جماعت میں باہم رشتہ و ناتے ہونے میں۔ سلسلہ واعظین دور دراز ملکوں میں بھیجنے میں مشن تبت و کشمیر میں وغیرہ وغیرہ۔ کیا خدا کی پیش کردہ تجاویز انجام یہی ہوتا ہے۔

پھر اس کو کیوں پورا کر کے نہ دکھایا۔ ایک طرف تو آپ بار بار ظاہر فرماتے ہیں کہ سکول قادیان میں انگریزی تعلیم کی یہ غرض ہے کہ وہ خدمت دین کے کارآمد ہو سکے۔ گویا کہ غریب طالب علموں کی عمریں اس امید پر خرچ کی جاتی ہیں کہ وہ خادم دین بنیں۔ مگر آپ تین تہجدوں میں دعا بھی نہیں مانگ سکتے۔ کیا یورپ کو اشاعت اسلام کی ضرورت نہیں۔ جس کے واسطے آپ کو تین رات محنت اٹھانی لاحاصل ہے یا ان تمام کا جہنم میں جانا آپ کے نزدیک ضروری ہے۔ ایسا ہی مفسر اور عالم القرآن ہونے کا دعویٰ بار بار شائع ہوا۔ مگر کوئی تفسیر آج تک شائع نہ ہوئی۔ کیا تفسیر القرآن آپ کے نزدیک غیر ضروری اور بے فائدہ شے تھی۔ جس کی طرف آپ نے توجہ نہیں کی۔ سوائے

٣٥

صفحہ ٣٤٠

اجرائے لنگر کے آپ نے اور کوئی عملی کام بذات خود خاص تردد اور محنت سے نہیں کیا جو ایک قسم کی کبوتر بازی ہے یا چار اخبار قادیان سے نکلے جو ایک قسم کی پتنگ بازی ہے۔ مرد میدان بن کے نہ آپ کہیں نکلے اور نہ آپ کی جماعت کے لوگ۔ مولوی محمد احسن اس کام کے لئے ملازم بھی ہوئے۔ نہ معلوم وہ کس کس شہر یا ضلع پھرے۔ میں تو اخباروں میں یہی دیکھتا رہا کہ اپنے وطن تشریف لے گئے اور پھر قادیان رونق افروز ہو گئے۔ قادیان سے امرتسر تک جو شہر راستے میں آئے۔ ان میں بھی وعظوں کا چرچا نہ سنا اور ایسا ممکن بھی نہیں جب تک خود امام کسی عمل کا نمونہ نہ بنے۔ جیسا کہ حضور ﷺ نے اپنے ہر قول میں آپ نمونہ بن کر دکھایا۔ اس لئے آپ کے تمام اصحاب لفظی دیندار نہیں تھے۔ بلکہ باعمل دیندار تھے۔

خوانی ہوئی۔ مسلمان شکم پروری، فضول خرچی اور آرام طلبی میں بدنام ہیں۔ آپ کا لنگر خانہ اور قادیان میں پڑے رہنا ان علتوں کا کیسا عملی نمونہ اور مؤید ہے۔ زمانہ حال کی تعلیم پر عام اعتراض ہے کہ مصنف، لیکچرار، اخبار نویس، مضمون نویس اعلیٰ درجہ کے ہوتے ہیں۔ مگر عملاً نہ تو خود کچھ کرتے ہیں اور نہ اوروں سے کراسکتے ہیں۔ یہ مظہر آپ نے اور آپ کی جماعت قادیانی نے پیش کر رکھا ہے۔ جماعت محمدی ﷺ کا حال بالکل برعکس تھا۔ یعنی ان کی باتیں تھوڑی اور عمل زیادہ تھے اور اب عمل تھوڑے مگر باتیں زیادہ ہیں۔ پھر بیچارہ سجادہ نشینوں اور گوشہ نشینوں پر اعتراض کئے جاتے ہیں اور تیرہ کروڑ مسلمانوں کو یک قلم بلاوجہ اسلام سے خارج کیا جاتا ہے۔ ایک حقہ کے خلاف آپ کی باتیں نکلیں۔ مگر میں نے نہیں دیکھا کہ جو حقہ نوش تھے انہوں نے آپ کی تحریر شائع ہونے کے بعد حقہ چھوڑ دیا ہو۔ خاتم النبیین کے بھی کلمات تھے کہ شراب کا امتناع ہوتے ہی تمام خم یک قلم توڑ دیئے گئے اور مدینہ کے کوچوں میں شراب پانی کی طرح بہ نکلی۔ حالانکہ شراب کا چھوڑنا نہایت دشوار ہے اور حقہ کا چھوڑنا نہایت آسان۔

ہزاروں روپیہ اور تمام عمر اور اپنی تمام عزت و آسائش آپ کی حمایت میں قربان کر چکا ہے۔ اس کو محض اصلاح تجاویز پیش کرنے پر جو مستقل اور عظیم الشان ترقیات کی بنیاد ہو سکتی تھیں۔ فوراً بزعم خود جہنم میں جھونک دیا۔ تحمل سے کوئی معقول جواب نہ دیا نہ مولوی نور الدین جیسے باخدا اور با علم

٣٦

صفحہ ٣٤١

شخص کو اس کی اصلاح کے واسطے بھیجا۔ ایسا ہی تیرہ کروڑ امت محمدیہ کو یک قلم خارج از اسلام قرار دیا۔ عدم تبلیغ کے مجرم آپ، اور خلق خدا کو کافر ٹھہرایا جارہا ہے۔ ایسے ہی اور صد ہا نقص اور کمزوریاں ہیں۔ یہ محض نمونتاً میں نے پیش کر دی ہیں۔ تاکہ اہل دانش لوگ آپ کی نسبت بیجا غلو سے بچ سکیں اور آپ کی توجہ اپنی اور جماعت کی اصلاح کی طرف پھر سکے اور مشرک لوگ جلال و جمال باری تعالیٰ میں آپ کو شریک نہ ٹھہرا سکیں۔ میں ہرگز ایسا نہ کرتا اگر میں صریحاً آپ کی جماعت میں مشرکانہ تحریکیں اور انبیاء و اولیاء کی توہین بذات خود نہ دیکھتا۔ ورنہ میں وہی عبدالحکیم ہوں جس کو آپ ”اول المومنین“ فرمایا کرتے تھے جس کی نکتہ چینیوں کو آپ قدر کی نگاہ سے دیکھتے اور قبول فرمایا کرتے تھے۔ جس کے ذہن کو نہایت رسا اور فہم کو سلیم فرمایا کرتے تھے۔ میرے جو عقائد ابتدائی زمانہ میں تھے بعینہ وہی اب ہیں اور آپ کی عزت عظمت بلحاظ جزو رسالت کے میرے اندر وہی ہے جو اس وقت تھی۔ مگر بشری پہلو سے جو آپ میں کمزوریاں اور نقص ہیں ان کو میں اس وقت بھی دیکھتا تھا اور بوقت موقعہ ظاہر بھی کر دیا کرتا تھا۔ مگر آپ کا مزاج روز بروز جماعت کثیر ہو جانے کی وجہ سے بدلتا گیا۔ یہاں تک کہ معمولی اصلاحی تجاویز کو بھی آپ نے ارتداد میں شمار کر لیا۔ خیر میں خدا کو رب العالمین الرحمن اور الرحیم مانتا ہوں۔ کوئی کم عقل مغلوب الغضب تنگ ظرف وجود نہیں مانتا کہ کسی ایک کے ماتحت ہے۔ میں یہ کبھی نہیں مان سکتا کہ خدا کا ماننا اور اعمال صالحہ میں کوشش کرنا تو بے سود رہے گا اور آپ کا ماننا کارگر ہوگا۔ بلکہ میں اس پر توکل کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ وہ وقت عنقریب ہے۔ رسید مژدہ کہ آں یار دل پسند آمد۔ زمین و آسمان ٹل جائیں اور چاند و سورج اندھے ہو جائیں پر خدا کی باتیں نہیں ٹل سکتیں۔ میری رخصت ماہ اپریل سے منظور ہوچکی ہے اور اب فی الحال میں ترآؤڑی میں مقیم ہوں۔ دیکھئے قادیان کب پہنچتا ہوں۔ کل امر مرہون باوقات تھا۔ والسلام!

دو اور امور نہایت ضروری ہیں جو آپ کی خاص توجہ کے قابل ہیں۔ اوّل آپ کی وحی اور قرآنی وحی میں اختلاف۔ خداوند عالم کا نزول۔ ہر انسان پر اس کے ایمان اور اختلافِ حالت کے مطابق ہو گیا ہے۔ ”انی عند ظن عبدی بی“ چنانچہ حضرت ﷺ کے اندر ہر وقت حمد الٰہی اور اصلاح عالم کا جوش تھا۔ اس لئے زمین و آسمان، پرند و چرند، بحر و بر، حجر و شجر، بادل اور گرج، شمس و قمر، لیل و نہار سب کچھ آپ کو حمد الٰہی کرتے ہوئے دکھائی اور سنائی دیتے تھے۔ تمام قرآن

٣٧

صفحہ ٣٤٢

از اوّل تا آخر تحمید و تسبیح، تقدیس و تہلیل، توحید اور تمجید الٰہی سے بھرا ہوا ہے۔ ”لا الہ الا الله ، سبحان الله، يسبح لله ما فى السمٰوات والارض. يسبح الرعد بحمده الحمد لله رب السمٰوات والارض “ وغیرہ اپنی نسبت اسی قدر بیان ہے ۔ ”انما انا بشر مثلكم ويوحىٰ الیٰ ما محمد الا رسول محمد عبده ورسوله “ جا بجا ایمانی اور اخلاقی اصلاحوں کی تعلیم ہے اور مدار نجات آپ ہمیشہ یہی فرمایا کرتے تھے ۔”من قال لا اله الا الله فدخل الجنة “ کل مخلوق کی نیکیوں کو نظر انصاف سے دیکھتے تھے۔ چنانچہ حاتم طائی کی بیٹی جو قیدیوں کے ساتھ آئی اور نوشیروان عادل کی آپ نے تعریف کی اور عام طور پر فرمایا: ” خيارهم فى الجاهلية خيارهم فى الاسلام “ مگر آپ کے اندر جو اپنی مسیحیت کا خیال ہر وقت جوش زن ہے ۔ خلق خدا سے مطلق ہمدردی نہیں۔ خداوند عالم کی عظمت آپ کے اندر بہت کم ہے۔ اس لئے آپ کے الہامات اسی رنگ کے ہوتے ہیں ۔ ”والله يحمدك من السماء “ اللہ تیری آسمانوں میں حمد کرتا ہے۔ تو مجھ سے اور میں تجھ سے ہوں ۔ سنو مجھے ایسا ہے جیسا کہ میری اولاد اے شمس اے قمر ۔ قرآنی وحی میں کہیں یہ رنگ نہیں ہے۔ بلکہ ولد کے لفظ پر یہاں تک غضب ظاہر فرمایا ہے ۔ ”تكاد السمٰوات يتفطرون منه وتنشق الارض وتخر الجبال هذا ان دعوا للرحمٰن ولداً “ کہیں محمد کی تحمید نہیں ۔ کہیں محمد کی نسبت ایسے الفاظ نہیں بلکہ جا بجا خداوند عالم کی ہی تحمید اور تقدیس ہے اور خلق خدا کے لئے وعظ ونصیحت ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ مجھ پر ایمان لانے کے بغیر نجات نہیں ۔ مگر محمد ﷺ فرماتے تھے : ”من قال لا اله الا الله دخل الجنة ولو سرق وزنى “ آپ کا تمام دارومدار پیش گوئیوں پر ہے۔ مگر محمد ﷺ ہر وقت اصلاح ایمان واعمال واخلاق کی طرف مشغول تھے۔ قرآن مجید فرماتا ہے: ”ان الله لا يغفر ان يشرك به ويغفر ما دون ذلك لمن يشاء “ مگر آپ کی وحی شاید یہ کہتی ہے ۔” ان الله لا يغفر لمن لا يؤمن بغلام احمد ويغفر مادون ذلك لمن يشاء “ جیسا کہ آپ کی تحریر سے ظاہر ہوتا ہے۔ آپ کی وحی کے اصل الفاظ مجھے معلوم نہیں کہ وہ کیا ہیں۔ پس میں باادب ملتمس ہوں کہ آپ کی وحی بذات خود کسی اصلاح کی بنیاد نہیں ہوسکتی۔ تاوقتیکہ آپ اس کے ہر لفظ کو قرآنی وحی کے تابع نہ بنائیں۔ آپ کی وحی نے تو خداوند عالم کی نسبت روزہ رکھنا ، روزہ کھولنا بھی منسوب کیا۔ مگر قرآنی وحی ایسے استعارات اور تشبیہات استعمال کرنے سے منزہ اور پاک ہے۔ خاص مسیح ٣٨

صفحہ ٣٤٣

علیہ السلام کو بھی انبیائے سابق کی وحی نے چالیس یوم کے بعد شیطانی پنجہ سے چھڑایا تھا اور آپ کو بھی قرآنی وحی ہر قسم کے غلو اور دھوکے سے بچا سکتی ہے۔ مگر افسوس کہ آپ اور آپ کی جماعت تو قرآن مجید کی طرف سے ایسے ہی لاپرواہ ہو گئے۔ جیسا کہ عام مسلمان ہیں۔ اگر آپ کو اصلاح عالم مدنظر ہے اور کچھ بھی خلق خدا سے ہمدردی ہے تو میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اب آپ اپنی زندگی کا اصول ذاتی مشیخت اور شکم پروری کی بجائے یہی قائم کریں کہ جماعت میں قرآن مجید کے پڑھنے اور پڑھانے اور سمجھنے و سمجھانے اور اس کے مطابق اپنی اصلاح ایمانی و عملی کرنے کا چرچا اور مذاق ہو جائے۔ ایک ہی مسئلہ پر پل پڑنا ایک قسم کا جنون اور تمام فسادات کی بناء ہے۔ اگر آپ تفسیر القرآن نہیں لکھ سکتے ہیں تو کوئی مضائقہ نہیں۔ مگر آپ کی جماعت آپ کی تعلیم سے بہت جلد قرآن مجید کی عاشق ہو سکتی ہے اور آپ جانتے ہیں کہ سوائے قرآن کے اور ابدی و کامل دستور الایمان و دستورالعمل اور کیا ہو سکتا ہے۔ اس کے بغیر آپ کی جماعت میں کبھی وحدت ایمانی وعملی قائم نہیں ہو سکتی۔ میں تو بول اٹھا اس واسطے مطعون ہو گیا۔ ورنہ تمام جماعت میں عملی اور ایمانی اختلافات بے حد و بے حساب ہیں۔ ہر شخص اپنے اپنے خیال میں مست اور نازاں ہے اور اس کی وجہ یہی ہے کہ آپ کی آمد نے ان کے اندر ایک جوش تو پیدا کر دیا مگر ان کی رہبری کے واسطے کامل قانون کوئی پیش نہیں کیا۔ میرے خیالات سے تو متفق کم از کم ٩٩ فیصدی ہیں۔ کیونکہ جس قدر احمدیوں کو میں نے اپنے خطوط دکھائے۔ ان سب نے ان کی تصدیق کی اور کہا کہ ہمارے اندر بھی یہی خیال جوش مارا کرتے تھے اور جب کبھی ہم نے لکھا تو مولوی عبدالکریم کی طرف سے اناپ شناپ غضب آلود جواب وصول ہوتے رہے۔

الغرض آپ کو اگر مسلمانوں سے یا دیگر مخلوق خدا سے کچھ بھی ہمدردی ہے تو قرآن مجید کی ایک مختصر تفسیر پیش کر جائیں۔ اس کی مشکلات کو حل کر جائیں اور اس کے اختلافات پر فیصلہ لکھ جائیں۔ ورنہ ہمارا زندہ مذہب اور پیش گوئیوں کا شور چند روز میں ختم ہوتا ہے۔ آپ نے یہ تو فرمایا۔ مصلحے باید کہ در ہر جا مفاسد زادہ اند۔ مگر افسوس ان مفاسد کی اصلاح کے لئے کوئی انتظام نہیں کیا اور کبھی یہ نہ سوچا کہ کیا کیا فسادات اس وقت موجود ہیں اور کن کن کی اصلاح ہو چکی اور کون کون سے فسادات باقی ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ ان تمام فسادات کا ذکر مکمل طور پر قرآن مجید میں موجود ہے اور ان سب کا علاج بھی اس میں ہے۔ آپ کا کام محض اس قدر ہے کہ قرآن کی

٣٩

صفحہ ٣٤٤

محبت اور عظمت اپنی تعلیم و تلقین سے یا دعائے سحری سے تمام مسلمانوں کے دلوں میں قائم کر جائیں۔ بلکہ تمام عالم کے دلوں میں بس یہی سب سے بڑا نشان ہوگا۔ سو مسیحا ہوا کرے کوئی میرے دکھ کی دوا کرے کوئی، آپ کی پیش گوئیاں مجھے مطمئن نہیں کر سکتیں۔ کیونکہ خود مجھے ہزارہا امور کی خبر قبل از وقت ملتی اور پوری ہوتی ہے۔ کوئی شب بھی خالی نہیں جاتی۔ اس سے ایک فطری اور دماغی قوت ثابت ہوتی ہے نہ کہ عملی کمال۔ عملی لحاظ سے تو مولوی نورالدین درجہ کمال کو پہنچے ہوئے ہیں۔ مگر ایک گائے کو ہزار غذا دو اس میں اسپ تازی یا ہرن کی چستی پیدا نہیں ہو سکتی۔ پس خدا کے واسطے اور اپنے عظمت و جلال کے واسطے اور بیچاری خلق خدا کے واسطے اگر آپ کچھ کرنا چاہتے ہیں تو اور سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر ایک قرآن کی طرف جھک جائیں۔ شروع میں آپ قرآن ہی قرآن پیش کیا کرتے تھے اور امید تھی کہ اب قرآن سب کے لئے دلکش اور دلربا بن جائے گا۔ مگر آپ تو اپنی مشیخت یا مسیحیت پھیلانے میں ایسے محو ہوئے کہ وحی میں بھی ذاتی حمد و جلال ہونے لگا۔ خدا بھی بھول گیا اور قرآن بھی اس لئے یہ حکم ملا۔ ”بل تؤثرون الحیوة الدنيا يايها الناس اعبدوا ربكم الذی خلقکم“ والسلام!

خاکسار: عبدالحکیم خاں اسسٹنٹ سرجن از تر آوڑی ضلع کرنال!

خط نمبر:٧

ڈاکٹر عبدالحکیم خان بنام مرزا غلام احمد قادیانی

حضرت مسیح الزمان السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ

رات سونے سے پہلے میں نے بڑے عجز و نیاز اور تضرع کے ساتھ اپنے خداوند کو پکارا اور دعا کی کہ اے خداوند عالم ایک طرف تیرا کلام ہے۔ ”ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ ویغفر ما دون ذالک لمن یشاء“ دوسری طرف تیرا مسیح یہ کہتا ہے: ”ان اللہ لا یغفر ان لا یؤمن بی ویغفر مادون ذالک لمن یشاء“ اب میں تیرے کلام سے انکار کروں یا تیرے مسیح سے اے خداوند جو کچھ اپنی عزت، دولت، عمر اور آسائش میں نے خالصاً تیری رضا کے واسطے قربان کی، تو بہتر جانتا ہے اور میری سیاہ کاریاں بھی تیرے سامنے ہیں۔ مگر اس معاملہ میں میں نے ریا، نفس پرستی یا کذب سے ہرگز کام نہیں لیا تو ہمیشہ میرے ساتھ رہا ہے تو نے ہمیشہ میری سنی ہے تو نے ہمیشہ مجھے جواب دیا ہے۔ تو نے ہمیشہ میرے ساتھ ہمدردی کی ہے تو مرزا قادیانی کی طرح سنگدل، جبروت، ظالم اور ناشکرا نہیں ہے۔ میں صدق اور خلوص کے ساتھ قبولیت حق کے

٤٠

صفحہ ٣٤٥

لئے ہر وقت مستعد ہوں۔ مگر افسوس سنگدل ، خودستا اور خود پرست مرزا نے میرے سوال کا کوئی جواب نہ دیا۔ اب میں کیا کروں۔ صبح خواب میں کیا دیکھتا ہوں کہ میرے مکان پر کرنل فتح محمد خاں آئے ہیں اور دہلیز ..... سے مجھے آواز دی ہے۔ میں ملنے کے لئے دہلیز میں گیا سلام کیا ، بیٹھا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ عبدالغنی خاں افسردہ حال بیٹھا ہے اور اپنے والد کے واسطے قولنج کا علاج پوچھتا ہے اور اس نے ایک نسخہ مجھے دکھایا جس میں بہت سی ریاح شکن ادویہ درج تھیں اور کہا اس سے کچھ فائدہ نہیں ہوا۔ پھر میں نے فتح محمد خاں سے کہا مبارک ہو مرزا قادیانی نے مجھے اپنی جماعت سے خارج کر دیا۔ اچھا ہوا کہ اس مشرک گروہ سے میں محض توحید اور عظمت باری تعالیٰ کے بیان کرنے کے جرم میں علیحدہ کیا گیا ہوں۔ پھر میں نے اپنے ان لیکچروں کا بیان کیا جو اثبات توحید اور اظہار جلال خداوند عالم میں واقعی بے نظیر تھے اور جن کو سن کر مرزا پرست لوگ چار یوم میں پکار اٹھے کہ مرزا قادیانی کا ذکر ان لیکچروں میں کیوں نہیں۔ پھر خواب میں ہی میں کہتا ہوں کہ جلال الٰہی کے مقابلہ میں مرزا کون ہے۔ نہ محمد نہ اور کوئی ، اور قریب تھا کہ اس مشرکانہ شرک کی پاداش میں ان پر صاعقہ آسمان پر سے گر پڑتا اور اس جماعت کو ہلاک کر دیتا۔

اس لئے اس خواب کی بناء پر اب پھر میں آپ کی خدمت میں لکھنے کی جرات کرتا ہوں کہ شرک کی خبر ملنے پر موسیٰ علیہ السلام نے تمام مشرکین کے قتل کا حکم دیا تھا۔ مگر آپ نے الٹی بیجا حمایت شروع کر دی۔ افسوس ! آپ کی توجہ کے لئے میں آپ کے چند اور الہامات کا مقابلہ قرآن کریم سے کرتا ہوں۔ آپ کے الہام میں ہے۔ ”رب سلطنی علی النار “ اے میرے رب تو مجھے آگ پر اختیار دے۔ قرآن مجید فرماتا ہے: ”الله مالك یوم الدین “ ہے۔ ”لمن الملك الیوم لله الواحد القهار من ذاالذی یشفع عنده الا باذنه “ آپ کے الہام میں آپ کی نسبت ہے۔ ”یا شمس یا قمر “ کیا سورج کی طرح آپ کے وجود پر ہمیشہ سے کسی عالم کا نظام قائم ہے۔ جیسا کہ نظام شمسی پر زمین اور سیاروں کا ہے۔ کیا سورج کی طرح ہمیشہ آپ کا یکساں طور پر کل دنیا کو پہنچ رہا ہے۔ کیا شمس کی طرح ایک سیکنڈ کے لئے بھی آپ آرام نہیں کرتے۔ جیسا کہ سورج کے طفیل ہوائیں چلتی ، بادل آتے ، بجلیاں کڑکتی ۔ تمام دنیا کے کھیت اور باغات پرورش پاتے اور پکتے اور تمام دنیا کے کام چلتے ہیں۔ کیا ویسا ہی آپ کے طفیل تمام عالم کو ہمیشہ سے اور ہر وقت روحانی رزق ملتا ہے۔ روحانی پرورش ہوتی اور تمام دنیا کا دارو مدار آپ کے ہی نور پر ہے۔ ہرگز نہیں بلکہ آپ کے نور نے ایک قادیان کو کیا اپنی جماعت اور اپنے کنبہ کو بھی منور...... نہیں کیا۔ بلکہ یہ محض ایک نہایت ہی بعید استعارہ ہے۔ آپ کی رہنمائی کے لئے یہی ایک ٤١

صفحہ ٣٤٦

مثال کافی ہے کہ آپ کے الہامات میں نہایت ہی بعید استعارات ہیں۔ ان پر شرعی مسائل قابل کرنا غلطی ہے۔ قرآنی وحی میں سید المرسلین کا نام محض سراج منیر یعنی چراغ روشن ہے نہ کہ شمس وقمر، قرآنی وحی میں الحمدللہ ہے۔ آپ کی وحی میں ہے: ”الله يحمدك من السماء“ حمد کا لفظ محمد اور محمود میں بصیغہ مفعول ضرور آیا ہے جس میں اصلی معنوں سے کبھی تنزل ہو جایا کرتا ہے۔ مگر آنحضرت ﷺ کی نسبت کہیں نہیں۔ ”الله يحمدك من السماء یا محمد “ آپ کی وحی میں یہی ہوتا ہے۔ ”زلزلة الساعة“ اور بعد میں آپ کی طرف سے حاشیہ چڑھائے جاتے ہیں کہ میری تکذیب کی وجہ سے زلزلہ آیا ہے۔ خواہ وہ کولمبیا میں آیا ہو یا اٹلی میں یا فرانسکو میں یا جزیرہ فارموسا میں جہاں ...... آپ کی تبلیغ نہیں ہوئی۔ جہاں آپ کا کوئی باقاعدہ مشن نہیں پہنچا۔ اگر تکذیب کا ہی نتیجہ طاعون اور زلزلہ ہوں تو پہلے آپ کے سخت مخالفین ۔ مثلاً پیسہ اخبار، مولوی ثناء اللہ مولوی محمد حسین، گروہ پشاوریان ۔ سب سے پہلے مخالفین قادیان جن پر تبلیغ کما حقہ ہو چکی مبتلا ہوں۔ جیسا کہ موسیٰ علیہ السلام کے مقابلہ پر قوم فرعون غرق ہوئی۔ نوح علیہ السلام کی مخالفت سے انہیں کے مقام سے طوفان شروع ہوا۔ قوم لوط، قوم ہود، قوم صالح وغیرہ ہلاک ہوئے۔ خاتم النبیین ﷺ کے مقابلہ پر مشرکین اور مخالفین عرب کا خاتمہ ہوا۔ مگر ان زلزلوں اور آتش فشانیوں کی نسبت قرآنی وحی میں کیسا صاف درج ہے۔ ”تكاد السمٰوت يتفطرن منه وتنشق الارض وتخر الجبال هداً ان دعوا للرحمٰن ولداً“ افسوس آپ نے اور آپ کے مریدوں نے ان زلزلوں کی بناء پیش کی بلکہ خدا اور رسول اور قرآن کو پس پشت ڈال کر آپ کو ہی آگے کرلیا۔ ”ان ھذا لظلم عظيم ، فتدبروا واعملوا ان علی کل ذی علم علیم “ کیا آپ کی خاطر میں خداوند عالم کو چھوڑ دوں۔ اس کے کلام پاک سے انکاری ہو جاؤں۔ آپ ذرا غور فرماویں۔ آپ نے ان آیات کا کیا جواب دیا جو اپنے خیالات کی تائید میں نے سیدھے طریق پر پیش کیں اور آپ نے اس مسئلہ پر کوئی دلیل پیش نہ کی کہ آپ پر ایمان لانے کے بغیر کوئی نجات نہیں پاسکتا۔ کیا خداوند عالم کی ربوبیت و رحمانیت ورحیمیت منسوخ ہو چکی اور اس کا مالک یوم الدین ہونا باطل ہو چکا اور اس کی رحمت واسعہ جس کی تعریف ”وسعت رحمتی کل شے“ ہے، منسوخ ہو چکی اور غضب میں متبدل ہو گئی اور اب جنت و جہنم کا کلی اختیار آپ کو مل گیا۔ کیا توحید کے تمام اصول آج غلط ٹھہر گئے۔ قرآن مجید تو خاتم النبیین کی نسبت فرماتا ہے:” انك لا تهدی من احببت“ اور محمد ﷺ کا فرمانا ہے۔ اگر تو ستر بار بھی مشرک کی بابت مغفرت مانگے گا میں ہرگز نہ بخشوں گا۔ مگر آج یہ ہو گیا کہ جس سے تو راضی اس سے خدا راضی اور جس سے تو ناخوش

٤٢

صفحہ ٣٤٧

خدا اس سے ناخوش۔ قرآنی وحی کا تو یہ رنگ تھا کہ اوّل سے آخر تک خداوند عالم کی ہی توحید و تسبیح و تقدیس تحمید اور تمجید رنگارنگ ...... بیانات اور نشانات میں تھی اور آج خداوند عالم کا ذکر منسوخ ہو کر مرزا قادیانی ...... کی ہی حمد و ستائش زمین و آسمان میں رہ گئی۔ آپ برائے خدا اپنی جماعت کی اور اپنی تحریرات کو قرآنی محک پر کس کر دیکھیں کہ کہاں تک ان میں خدا پرستی اور کہاں تک آدم پرستی ہے۔ قرآن مجید ہی ایک کلام ہے جو لاریب فیہ ہے جو نور مبین ہے جو ”بالحق نزل“ ہے۔ جو میزان اور ”مهیمن تبیان لکل شے“ اور قول فیصل ہے۔ براہ مہربانی میرا پہلا خط واپس فرماویں۔ کیونکہ میں اس خط و کتابت کو چھپوانا چاہتا ہوں تا کہ سعید فطرتیں اپنی اپنی استعداد کے مطابق استفادہ کرسکیں۔ اگر آپ میرا خط واپس نہ فرماویں گے تو اپنی یادداشت کی بناء پر اس مضمون کو لکھ کر شائع کروں گا۔ کیونکہ میرے پاس اس کی نقل موجود نہیں ہے۔ پہلے بھی تین چار بار آپ کی خدمت میں اس خط کی بابت لکھ چکا ہوں۔ اصل نہیں تو نقل ہی ارسال فرماویں۔ میں نے پھر خواب میں رات کو دیکھا کہ میں قادیان پہنچا ہوں اور آپ سے ملا ہوں اور یہی آیت اپنی تائید میں پیش کر رہا ہوں۔ یعنی ”ان الله لا يغفر ان يشرك به ويغفر ما دون ذلك لمن يشاء“ آپ میری تقریر سن کر خاموش ہیں۔ شیخ یعقوب علی تراب بھی موجود ہیں۔ ان کا چہرہ یہ بتلاتا ہے کہ یہ باتیں صحیح ہیں۔ ان پر سوال کی کیا ضرورت پیدا ہوئی۔ صبح کا وقت ہے۔ وضو کے لئے جب میں باہر نکلا تو حافظ عظیم بخش مرحوم ملے۔ وہ بھی میری تائید میں کلام کرتے رہے۔ ایک اور خواب میں نے دیکھا تھا وہ یہ ہے کہ ایک مجلس میں مولوی نور الدین استادہ ہو کر نہایت سلاست اور سنجیدگی کے ساتھ وعظ فرما رہے ہیں۔ آپ بھی اس مجلس میں بیٹھے ہوئے ہیں اور آپ کی بائیں طرف ساتھ ہی ملا ہوا میں بیٹھا ہوں اور چند اور اشخاص ایک حلقہ میں ہیں جو شخص سوال کرتا ہے مولوی صاحب نہایت خلوص اور توجہ کے ساتھ جواب دیتے ہیں۔ میں پبلک میں پٹیالہ کے سینکڑوں دیہات میں پھرا ہوں اور ہزارہا لوگ اور بیسیوں دیہات ویسے تباہ ہوئے ہیں جن کو آپ کے نام کی خبر تک نہیں۔ آپ کو بہ تقاضائے انسانیت بنی نوع کے ساتھ ہمدردی چاہئے۔

بنی آدم اعضائے یک دیگر اند
کہ در آفرینش ز یک جوہر اند
چو عضوی بدرد آورد روزگار
دگر عضو ہا را نماند قرار

خداوند عالم بہتر جانتا ہے کہ کن کن وجوہات سے بنی نوع کا شمار کم کیا جارہا ہے۔ ان

٤٣

صفحہ ٣٤٨

میں سے شاید ایک یہ بھی سبب ہو کہ زمین کی آبادی اس کی گنجائش کے مطابق رہے۔ مولوی عبدالکریم کی نہایت ہی دردناک موت کم عبرت خیز نظارہ نہیں تھا جو آپ کو اوروں کے دکھوں پر ہنسنے کے قابل چھوڑتا۔ مگر افسوس کہ ہر وقت کی ست بچنی نے جو شب و روز آپ کے گرد رہتی ہے۔ اس نے آپ کو سخت متکبر اور سنگدل اور جاہل بنا دیا۔ ”ان الانسان ليطغى ان راه استغنى“ کیا تو آپ مسیح علیہ السلام کے معجزات کو مسمریزی کھیل اور نا قابل التفات حرکات بتلاتے تھے اور کیا خود ہی پیشین گوئیوں کے تماشے میں ایسے محو ہو گئے کہ قرآن مجید کا مذاق بالکل مفقود ہو گیا۔ کوئی علمی معجزہ نہ دکھایا جس کا زمانہ تھا۔ کیا اچھا ہوتا کوئی معجزانہ تفسیر لکھ جاتے جو تمام اختلافات کا فیصلہ کرتی اور ہمیشہ کے لئے قرآن کریم کی طرح ایک زندہ معجزہ قائم رہتی اور خلق خدا کی اصلاح کرتی۔ فقط: والسلام! خاکسار: عبدالحکیم خاں اسسٹنٹ سرجن از پنڈوری ضلع کرنال!

آخری ہر دو خطوط کا کوئی جواب وصول نہیں ہوا

بلکہ ایک اعلان تمام جماعت احمدیہ کے لئے ٣؍ مئی (١٩٠٧ء) کو اخبارات الحکم والبدر میں شائع کرا دیا۔ جس سے مجھ کو اور بھی زیادہ پریشانی اور حیرانی ہوئی۔ جو حسب ذیل ہے۔

”تمام جماعت احمدیہ کے لئے اعلان

چونکہ ڈاکٹر عبدالحکیم اسسٹنٹ سرجن پٹیالہ نے جو پہلے اس سلسلہ میں داخل تھا۔ نہ صرف یہ کام کیا کہ ہماری تعلیم سے اور ان باتوں سے جو خدا نے ہم پر ظاہر کیں۔ منہ پھیر لیا۔ بلکہ اپنے خط میں وہ سختی اور گستاخی دکھلائی اور وہ گندے اور ناپاک الفاظ میری نسبت استعمال کئے کہ بجز ایک سخت دشمن اور سخت کینہ ور کے کسی کی زبان اور قلم سے نکل نہیں سکتے اور صرف اسی پر کفایت نہیں کی بلکہ بے جا تہمتیں لگائیں اور اپنے صریح لفظوں میں مجھ کو ایک حرام خور اور بندہ نفس اور شکم پرور اور لوگوں کا مال فریب سے کھانے والا قرار دیا اور محض تکبر کی وجہ سے مجھے پیروں کے نیچے پامال کرنا چاہا اور بہت سی ایسی گالیاں دیں جو ایسے مخالف دیا کرتے ہیں جو پورے جوش عداوت سے ہر طرح سے دوسرے کی ذلت اور توہین چاہتے ہیں اور یہ بھی کہا کہ پیش گوئیاں جن پر ناز کیا جاتا ہے۔ کچھ چیز نہیں مجھ کو ہزار ہا ایسے الہام اور خوابیں آتی ہیں۔ جو پوری ہو جاتی ہیں۔ غرض اس شخص نے محض توہین اور تحقیر اور دل آزاری کے ارادہ سے جو کچھ اپنے خط میں لکھا ہے اور جس طرح اپنی ناپاک بد گوئی کو انتہاء تک پہنچا دیا ہے ان تمام تہمتوں اور گالیوں اور عیب گیریوں کے لکھنے کے لئے اس اشتہار میں گنجائش نہیں۔ علاوہ اس کے میری تحقیر کی غرض اس نے جھوٹ بھی پیٹ بھر کر بولا۔

٤٤

صفحہ ٣٤٩

ہے۔ مگر مجھے ایسے مفتری اور بدگو لوگوں کی کچھ پرواہ نہیں۔ کیونکہ اگر جیسا کہ مجھے اس نے دغاباز، حرام خور، مکار، فریبی اور جھوٹ بولنے والا قرار دیا ہے اور طریق اسلام اور دیانت اور پیروی آنحضرت ﷺ سے باہر مجھے ثابت کرنا چاہا ہے اور میرے وجود کو محض فضول اور اسلام کے لئے مضر ٹھہرایا ہے۔ بلکہ مجھے محض شکم پرور اور دشمن اسلام قرار دیا ہے۔ اگر یہ باتیں سچ ہیں تو میں اس کیڑے سے بھی بدتر ہوں جو نجاست سے پیدا ہوتا اور نجاست میں ہی مرتا ہے۔ لیکن اگر یہ باتیں خلاف واقعہ ہیں تو میں امید نہیں رکھتا کہ خدا ایسے شخص کو اس دنیا میں بغیر مواخذہ کے چھوڑ دے گا جو مرید ہو کر اور پھر مرتد ہو کر اس درجہ تک پہنچ گیا ہے کہ جو ذلیل سے ذلیل زندگی بسر کرنے والے جیسے چوہڑے اور چمار جو شکم پرور کہلاتے ہیں اور مردار کھانے سے بھی عار نہیں رکھتے۔ ان کی مانند مجھے محض شکم پرست اور بندۂ نفس اور حرام خور قرار دیتا ہے۔ اب میں ان باتوں کو زیادہ طول دینا نہیں چاہتا اور خدا کی شہادت کا منتظر ہوں اور اس کے ہاتھ کو دیکھ رہا ہوں اور اس اشارہ پر ختم کرتا ہوں۔ ”انما اشکو بثی وحزنی الی الله واعلم من الله ما لا تعلمون“

اب چونکہ یہ شخص اس درجہ پر میرا دشمن معلوم ہوتا ہے۔ جیسا کہ عمر بن ہشام آنحضرت ﷺ کی عزت اور جان کا دشمن تھا۔ اس لئے میں اپنی تمام جماعت کو متنبہ کرتا ہوں کہ اس سے بکلی قطع تعلق کر لیں۔ اس کے ساتھ ہرگز واسطہ نہ رکھیں۔ ورنہ ایسا شخص ہرگز میری جماعت میں سے نہیں ہوگا۔ ”ربنا افتح بيننا وبين قومنا بالحق وانت خير الفاتحین۔ آمین! آمین!! آمین“ المشتہر: خاکسار مرزا غلام احمد مسیح موعود از قادیان!“

٧؍ مئی ١٩٠٦ء سے پہلی رات کو میں نے خواب میں دیکھا کہ اسسٹنٹ سرجن محمد عظیم جو میرے ایک پرانے دوست اور ہم جماعت ہیں۔ خواب میں مجھ سے ملے۔ انہوں نے ترجمہ قرآن مجید کی نسبت جو میں نے انگریزی میں کیا ہے کچھ ایسا ذکر کیا کہ حمایت اسلام نے اس کو پسند کیا ہے۔ یا اس پر ریویو لکھا ہے۔ اس پر میں نے کہا کہ اس کی اشاعت یورپ اور امریکہ میں ہو رہی ہے۔ تب انہوں نے کہا کہ آپ اس کی قیمت کم کردیں۔ میں نے جواب دیا کہ دوسری طبع ہلکے کاغذ اور باریک ٹائپ میں چھپوا لوں گا۔ اسی اثناء میں میں نے ان سے ذکر کیا کہ میرا اور مرزا قادیانی کا بگاڑ ہو گیا۔ تب انہوں نے پوچھا کہ کیوں میں نے اخبارات الحکم و البدر کی طرف اشارہ کیا کہ آپ ان کو دیکھیں اور میں نے یہ بھی کہا کہ وہ خود بگڑ بیٹھے۔

اب ناظرین خود غور فرمالیں کہ محض چند اصلاحی تجاویز کے پیش کرنے پر مرزا قادیانی

صفحہ ٣٥٠

نے کس قدر دریا دلی ، عالی دماغ اور خوش اخلاقی ظاہر فرمائی ہے کہ ان آیات قرآنی کے کوئی اور معنے کر کے دکھائے جو میں نے اپنے خیالات کی تائید میں پیش کیں ۔ نہ ان واقعات کی تردید کی جو ان کی بشری کمزوریوں اور غلط کاریوں پر صریح دلیل ہیں اور صاف طور پر ثابت کرتے ہیں کہ ان کا فہم اور ان کے الہامات اس پایہ کے نہیں جن کی بناء پر بینات قرآنی کا صریح خلاف کیا جاسکے ۔ ان کی وصیت متعلقہ بہشتی مقبرہ اور تعمیر منار کو بلا چون و چرا مان لیا جائے اور ان کے کہنے سے تیرہ کروڑ مسلمانوں کو جو تیرہ سو برس میں تیار ہوئے ہیں یک قلم خارج از اسلام مان لیا جائے ۔ ان کی وصیت مقبرہ کو وصیت قرآنی کی ترمیم سمجھ لیا جائے ۔ ان کو محمدﷺ کا مظہر اتم اور خاتم الاولیاء یقین کر لیا جائے اور ان کے الہامات متشابہ کو کسی ایمان کی بنیاد قرار دیا جائے ۔ مثلاً الہامات ذیل کو ”انت منی وانا منک ، یا شمس یا قمر انت منی بمنزلة اولادی“ یا جس قدر یورپ امریکہ فارموسا افریقہ وغیرہ میں حادثات ہوں زلزلے آئیں۔ آتش فشاں پھٹیں ۔ ان تمام کو ان کی تکذیب کا ہی نتیجہ سمجھ لیا جائے ۔ اپنے اعلان میں وہ ظاہر فرماتے ہیں کہ میری نسبت گندے اور ناپاک الفاظ استعمال کئے مگر جو واقعی سہو اور چشم دید کمزوریاں اور نقص میں نے شمار کئے ہیں کسی ایک کی نسبت بھی یہ ظاہر نہیں فرمایا کہ یہ غلط ہے یا سنت انبیاء اسی طرح رہی ہے ۔ بلکہ قرآن مجید سے بتواتر سنت انبیاء یہی ظاہر ہوتی ہے ۔ ”لا اسئلکم علیه من اجر“ میں تم سے اس تعلیم دین پر کوئی مزدوری نہیں مانگتا۔

یہ بھی ظاہر کیا کہ جھوٹ پیٹ بھر کر بولا مگر کسی ایک امر کی نسبت ثابت یا ظاہر نہیں کیا کہ فلاں امر جھوٹ ہے ۔ میں آپ کے لکھنے پر ہی اس کو واپس کر لیتا اور معافی مانگتا۔ میں نے یہ تمام اس وجہ سے لکھا کہ آپ کے مرید آپ کو خدا سے ملانے اور آپ کو محمدﷺ کا مظہر اتم بتانے لگے اور آپ کے وجود کو مدار نجات قرار دیا جو صریحاً قرآن مجید کے خلاف ہے ۔ قرآن مجید نے مدار نجات سوائے توحید اور تزکیہ نفس کے اور کسی امر کو قرار نہیں دیا ۔ جس خدا کی تعریف سے قرآن مجید بھرا ہوا ہے جو ربّ السمٰوت والارض ، الرحمٰن ، الرحیم ، مالک یوم الدین ، الملک القدوس ، ذوالجلال والاکرام ، علی کل شئ قدیر ، علیٰ کل شئ حفیظ ، العلیم ، الحکیم“ اور ”العلیّ والعظیم“ جس کی قدرتوں حکمتوں اور رحمتوں کا حد وانتہاء نہیں ۔ جس کی حمد تمام عالم کی ہر ایک مخلوق اور اس کا ذرہ ذرہ ہر وقت گا رہا ہے ۔ جس کی قدرت و حکمت پر تمام علوم کیا حکمت کیا طب کیا طبعی کیا سما کی ہیئت کیا تشریح کیا اسرار الاعضاء

٤٦

صفحہ ٣٥١

وغیرہ بنتی ہیں۔ اس کی نسبت یہ مان لینا کہ وہ ایک کمزور خطا کار انسان کے ماتحت ہو گیا ہے اور دوزخ و بہشت کا کل اختیار اس کو دے دیا ہے۔ یہ سخت درجہ کا شرک اور خداوند عالم کی سخت توہین ہے۔ کون ہے جو اس کے قوانین رحمت و مغفرت پر حاوی ہو سکے۔ ”من ذالذی یشفع عندہ الا باذنہ“ کون ہے جو اس کے اذن کے بغیر اس کی جناب میں شفاعت بھی کر سکے۔ پس جو عقائد رب العالمین کی بے حد قدرتوں اور حکمتوں اور رحمتوں کو محدود کرنے والے ہیں اور خداوند عالم کو ایک شخص واحد کا تابع بنانے والے ہیں وہ شرک سے بھی بدتر ہیں۔ محمد ﷺ نے اپنی لازمی تعریف جو کلمہ میں سکھلائی وہ یہ ”عبدہ ورسولہ“ ہے۔ مجھے آپ سے اور کوئی اختلاف نہیں۔ میں آپ کو مسیح الزمان مانتا ہوں۔ آپ کے الہامات کو مانتا ہوں۔ مگر ایسا کوئی عقیدہ نہیں مان سکتا۔ جس میں صریح شرک ہو یا رب العالمین کی صریح توہین یا قرآن مجید کی آیات بینات کا صریح خلاف ہو۔ یا محمد رسول اللہ ﷺ اور دیگر انبیائے علیہم السلام کی توہین ہو۔ آپ محض ایک تمثیلی نبی ہیں اور امتی نبی ہیں اور بس۔ اس سے جو زائد ہے وہ غلو ہے اور اپنے تخیلات کا ہی نتیجہ ہے جو مرض ہسٹیریا میں لازمی ہوتے ہیں۔ میں آپ کو مسیح مانتا ہوں مگر یہ نہیں مان سکتا کہ تمام عالم کی نجات آپ کے ماننے پر منحصر ہو گئی یا خداوند عالم کی لا انتہاء حکمت ورحمت اور اس کی تمام قدرت آج کلی طور پر آپ کے تابع ہو گئی۔ ”نعوذ باللہ ، نعوذ باللہ ، ان ھذا الشرک عظیم ، ان ھذا لظلم عظیم“ آپ تھوڑی دیر کے لئے برائے خدا ان واقعی کمزوریوں اور خطا کاریوں پر تحمل اور صبر کے ساتھ غور کریں کہ کیا آپ جیسا انسان خاتم النبیین کا مظہر اتم اور تمام عالم کی نجات کا مدار ہو سکتا ہے؟ نہیں ہرگز نہیں۔ پس جن الہامات میں آپ کو عیسیٰ یا احمد یا ابراہیم وغیرہ کر کے پکارا گیا وہ ایسے ہی بعینہ استعارات ہیں جیسا کہ ”یا شمس و یا قمر ، انت منی وانا منک“ پھر میں عرض کرتا ہوں اور خداوند عالم گواہ ہے کہ سچے دل سے عرض کرتا ہوں کہ اس وقت آپ غلطی میں ہیں۔ جب تک قرآن کریم کو اپنے ہر الہام میں حکم نہ بنائیں گے۔ اس غلطی سے کہیں نجات نہیں پاسکیں گے۔ میں دعا کرتا ہوں کہ خداوند عالم آپ کو اور مجھ کو قرآن کی سچی محبت اور عظمت اور سچی اطاعت عطاء فرمائے۔ میں آپ کا دشمن ہرگز نہیں ہوں۔ بلکہ آپ کی سلامتی اور سچی کامیابی کے لئے دعا کرتا ہوں۔ خداوند عالم نے میرے سینہ کو خود اپنے ہاتھ سے صاف کیا ہے۔ اس لئے مجھے اب تک آپ کی طرف سے کوئی نفرت نہیں۔ وہی ایمان کہ آپ مثیل مسیح ہیں۔ سچے ہیں۔ مثیل انبیاء ہیں۔ میرے دل میں جو بھی تھا اور اب بھی ہے۔ آپ کی اجتہادی غلطیاں کمزوریاں اور ٤٧

صفحہ ٣٥٢

خطا کاریاں جو بشریت کے ساتھ لازمی ہیں۔ اس وقت بھی دیکھا کرتا تھا اور اب بھی دیکھ رہا ہوں۔ ہاں اُن کو ظاہر کرتے ہوئے ڈرا کرتا تھا اور اب سخت مجبور ہو کر ظاہر کرنا پڑا۔ جب کہ جماعت کا غلو انتہاء کو پہنچتا چلا گیا۔ یہاں تک کہ آپ نے لکھ دیا کہ تیرہ کروڑ مسلمان جو تیرہ سو سال میں تیار ہوئے سب کے سب خارج از اسلام ہیں۔ جیسا کہ تمام یہود و نصاریٰ آنحضرت ﷺ کے آنے سے خارج ہو گئے تھے۔ گویا کہ اب کلمہ بھی یہ چاہئے: ”لا الہ الا انا المرزا“ کیونکہ ”لا الہ الا الله محمد رسول الله“ کہنا تو اب کار آمد نہیں رہا۔ تا وقتیکہ آپ کو نہ مانا جائے۔ آنحضرت ﷺ نے تو اپنی نسبت عبدہ و رسولہ ہی فرمایا تھا اور یہ کہیں نہیں فرمایا کہ دنیا میں جس قدر موحد خدا پرست اور نیک بندے ہیں وہ کبھی نجات نہیں پائیں گے۔ جب تک مجھ پر ایمان نہ لائیں مگر آپ نہ تو صاف لکھتے ہیں کہ مجھ پر ایمان لانے کے بغیر نجات نہیں۔ پہلے مجدد و امام بنے۔ پھر جزوی نبی اور امتی نبی بنے۔ پھر جزوی نبی سے کامل نبی اور امتی نبی سے مستقل نبی اور اب رسولوں سے کیا بلکہ خدا سے بھی بڑھ گئے۔ کیونکہ خدا کے ماننے سے تو نجات نہیں مگر آپ کے ملنے سے نجات ہے۔ پھر آپ کی جماعت قرآن مجید اور احادیث اور تیرہ سو سالہ اسلام کو مردہ اسلام پکار اٹھی۔ افسوس توہین باری تعالیٰ، توہین خاتم النبیین، توہین قرآن، توہین اسلام اور مشرکانہ شور جو آپ کی جماعت میں پیدا ہوئے اور میں نے صاف صاف آپ کے کانوں تک پہنچائے۔ ان کا خیال آپ کو مطلق نہ ہوا۔ بلکہ اپنی توہین کے جوش میں خلاف واقعہ خطوط لکھتے رہے اور خلاف واقعہ اعلان شائع کر دیا۔ میں ہر امر کے ثبوت میں قرآنی بینات، عقلی اور فطری دلائل اور اپنے خوابات کی شہادتیں پیش کرتا رہا۔ مگر آپ نے شروع سے نہ تو ان دلائل کو توڑا نہ اپنے خیالات کی تائید میں کوئی دلیل پیش کی۔ بلکہ تنگ آمد بجنگ آمد کے طور پر شروع سے ہی گالیوں پر جمے رہے۔ کہیں مرتد کہا کہیں کافر کہا۔ کہیں خارج از اسلام کہیں دشمن کہا۔ پیٹ بھر جھوٹ بولنے والا کہیں مفتری، کوئی افتراء اور جھوٹ ہی ثابت کیا ہوتا اور مجھے کیا شکوہ ہے جب خدا اللہ تعالیٰ آپ کے نزدیک ایسا حقیر ہو گیا کہ اس کا ماننا ہیچ اور اعمال صالحہ ہیچ جب تک آپ کو نہ مانا جائے۔ خداوند عالم کی قدرت آپ کے نزدیک لعبت ہو گئی۔ جب تک آپ کے نشانات اس کے ساتھ نہ ہوں اور خداوند عالم ایسا باولا جھلا ہو گیا کہ تکذیب تو قادیان بٹالہ امرتسر اور لاہور میں ہو اور وہ تباہ کرتا پھرے کولمبو، فرانسسکو، فارموسا اور دیگر بلاد و دیہات کو جن کو آپ کی خبر تک نہیں۔ مگر آپ کو توہین باری تعالیٰ، توہین اسلام، توہین فطرت، توہین قرآن مجید اور توہین انبیاء اور کفر و شرک

٤٨

صفحہ ٣٥٣

بدعادات ، فسق و فجور اور دہریت کا مطلق خیال نہیں رہا۔ بلکہ مدتوں سے اپنی کبریائی اور خودنمائی میں ایسے محو ہیں کہ اپنی نسبت واقعی امور کو بھی دشنام اور کذب اور اتہام اور توہین نام رکھ دیا اور یہ سبق بھی مجھے آپ سے ہی ملا ہے۔ کیونکہ آپ نے بھی مسیح علیہ السلام اور حسین علیہ السلام کے نقص اور کمزوریوں کے بیان کرنے میں کوئی کمی نہیں کی۔ تا کہ ان کی شان میں جو غلو کیا گیا ہے۔ اس کا مقابلہ ہوسکے۔ آپ مجھے دشمن سمجھتے ہیں۔ ایک اسلام سے بھی بیدخل کرتے ہیں۔ بلکہ میری تباہی کے منتظر ہیں۔ مگر میں بقول مسیح علیہ السلام اپنے دشمنوں کو دعا دوں۔ آپ کو دعا دیتا ہوں اور سلام جو اخلاق کا ایک ادنیٰ درجہ ہے۔ ترک کرنا انتہاء درجہ کا بخل اور کمینہ پن سمجھتا ہوں۔ کیونکہ قرآن مجید نے عبادالرحمٰن کی یہی تعریف کی ہے۔ ”واذا خاطبهم الجاهلون قالوا سلاماً “ والسلام! خاکسار: عبدالحکیم خاں ایم۔ بی اسسٹنٹ سرجن از تر آؤڑی!

خط نمبر: ٨

حکیم نورالدین بنام ڈاکٹر عبدالحکیم خاں

جناب عبدالحکیم خان، اسسٹنٹ سرجن، بالقابہ

آپ کی تفسیر القرآن اردو زبان اور مفید عام اور تشخیص الامراض اس خاکسار کے پاس تھی۔ وہ اس لئے واپس کی ہے کہ آپ کے موجودہ تغیرات میں آپ کی مدد ملے۔ آپ کا خیال جو کچھ ہم لوگوں کی نسبت ہے اس کی تو اب شکایت نہیں۔ کیونکہ خود ہمارا امام آپ کے خیالات میں ناگفتہ بہ ہے تو ہم کس ہستی کے ہیں۔

ہمیں بحمداللہ کوئی ضرورت نہیں جو ہم ایسے شخص کی کتاب رکھیں جو ہمارے سے بدظن ہے۔ اللہ تعالیٰ کی عجائبات ہیں جو ہم نے آپ کے متعلق دیکھیں۔ مرزا آپ کی اس تفسیر تک تو مسیح ومہدی تھا۔ اب دجال وضال ہو گیا تو آپ کا استقلال اور آپ کی تحقیق گزشتہ کی بے ثباتی تو ظاہر ہو گئی۔ آئندہ موجودہ حالت پر آپ ٹھہریں گے یا ترقی کریں گے ۔ آئندہ ظاہر ہوگا۔ تمہارے متعلق ایک حیرت زدہ انسان۔ نورالدین مورخہ ٢؍ مئی ١٩٠٦ء

خط نمبر: ٩

ڈاکٹر عبدالحکیم خان بنام حکیم نورالدین

مولانا ومخدومنا مولوی نورالدین صاحب السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

آپ کا عنایت نامہ معرفت مولوی عبداللہ خاں میرے پاس تر آؤڑی پہنچا۔ میری

صفحہ ٣٥٤

تحقیق گزشتہ میں کوئی تغیر نہیں ہوا۔ میں اسی طرح مرزا قادیانی کو مسیح الزماں اور ملہم من اللہ مانتا ہوں۔ آپ کو اسلام کا عملی نمونہ اور عالم قرآن جانتا ہوں۔ جماعت احمدی میں جو نئے خیالات پیدا ہوئے اور وہ قرآنی بینات کے صریح خلاف ہیں۔ وہ بیشک میں نہیں مان سکتا۔ جب تک قرآن کریم سے ان کی مطابقت ثابت نہ کی جائے مختصراً وہ مسائل حسب ذیل ہیں:

ترک کر دینا جو لوگ صریحاً ہم کو کافر کہتے ہیں ان کے ساتھ تو نمازیں اور سلام ترک کرنا درست تھا۔ مگر جو لوگ خاموش ہیں یا کم علمی یا کم فہمی یا خلاف معلومات کی وجہ سے منکر یا مخالف ہیں ان کا کیا قصور؟ کیونکہ ان کا خلاف اس بناء پر ہے کہ یہ جدید مسائل قرآن اور حدیث کے خلاف ہیں۔ پر جو تبلیغ کامل کے بعد عمداً خلاف قرآن وحدیث کریں وہ بیشک کافر ہیں۔ یہی ایمان میرا شروع سے تھا اور اب تک ہے۔

مرزا قادیانی ہیں۔ وہ خداوند جو ”رب العالمین ، الرحمٰن ، الرحیم ، مالک یوم الدین ، العلیم الحکیم ، الملک القدوس“ ہے اس کے علوم پر کون محیط ہو سکتا ہے۔ پھر اس کی رحمت ومغفرت کے لا انتہاء قوانین کسی ایک انسان کے کیسے ماتحت ہو سکتے ہیں۔ اس سے بڑھ کر اور کون سا شرک ہو سکتا ہے اور خداوند عالم کی توہین اس سے زیادہ اور کیا ہو سکتی ہے کہ اس کی رحمت اور مغفرت کو کسی انسان کے ماننے پر منحصر سمجھا جائے۔ مدار نجات قرآن مجید نے توحید اور اعمال صالحہ کو بتایا ہے۔ ”من آمن باللہ والیوم الآخر وعمل صالحاً بلیٰ من اسلم وجہہ للہ وہو محسن ، ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ ویغفر مادون ذلک لمن یشاء“ پھر یہ کہنا کہ تیرہ کروڑ مسلمان جو تیرہ سو سال میں تیار ہوئے وہ خواہ کیسے ہی موحد، خدا پرست اور باعمل ہوں۔ جو مرزا قادیانی کو نہیں مانتے وہ سب کے سب خارج از اسلام ہیں اور قابل نجات نہیں۔ یہ مسئلہ بینات قرآنی کے خلاف صریح طور پر معلوم ہوتا ہے۔ یہ کیسے مانا جا سکتا ہے۔ اگر میں غلطی پر ہوں تو از روئے بینات قرآنی میرا اطمینان کر دیا جائے۔ مگر افسوس کہ میں مانگتا دودھ ہوں اور مجھے پلایا جاتا ہے زہر۔ میں طالب حق ہوں اور اطمینان ہونے پر ہر ایک پرانی بات کے چھوڑنے اور نئی بات کے اختیار کرنے پر تیار ہوں۔ بشرطیکہ قرآنی اور فطری طور پر میرا اطمینان کر دیا جائے۔ میرا یہ ایمان بھی شروع سے ہے۔ آج کا نہیں۔

٥٠

صفحہ ٣٥٥

نقص ان میں ظاہر ہوتے ہیں میں اس وقت بھی دیکھتا تھا اور اب بھی دیکھ رہا ہوں۔ مثلاً براہین احمدیہ میں منن الرحمن اور اربعین کا باوجود اشتہارات دینے کے آج تک مکمل نہ ہونا۔ منارہ کا نامکمل رہنا جماعت کی عملی اصلاح کی طرف توجہ نہ ہونا۔ سارا زور حیات وممات مسیح کے مسئلہ پر خرچ کرنا۔ قرآنی تعلیمات پر کلی طور پر علی التناسب توجہ نہ ہونا۔ تبلیغ کی غرض سے اور شہروں میں نہ جانا۔ دہلی کا سفر اگر کیا تو محض بیوی صاحبہ کی خاطر۔ لنگر کے نام پر روپیہ جمع کرنا۔ آپ بے فکری سے کھانا اور دوسروں کو کھلانا اور اس کو درد اور کفایت کے ساتھ خرچ نہ کرنا نہ اس کا کوئی حساب کتاب رکھنا۔ احمدی جماعت میں داخل ہو کر سوائے ایک وفات و آمد مسیح کی عملی اصلاح اور تزکیہ نفس کی طرف کوئی خیال نہ ہونا۔ جو لوگ پہلے سے جس حال میں ہیں اس میں کوئی نمایاں ترقی نہ ہونا۔ اب جب میں نے دیکھا کہ احمدیوں میں مرزا پرستی کا مونومانیا اس انتہاء کو پہنچ گیا کہ سوائے اس کے اور سب اذکار برائے نام رہ گئے اور شرک تک نوبت پہنچ گئی۔ انبیاء علیہم السلام کی توہین ہونے لگی۔ تب مجھ کو مرزا قادیانی کے واقعی نقص اور کمزوریاں گنانی پڑیں۔ نہ اس نیت سے کہ ان کی توہین ہو۔ بلکہ اس نیت سے کہ ان کو خدا یا شریک خدا نہ ٹھہرایا جائے۔ جیسا کہ خود مرزا قادیانی مسیح اور حسین علیہم السلام کی کمزوریاں گناتے رہے ہیں۔ وہی نیت میری ہے۔ اگر ان کمزوریوں میں کوئی خلاف واقعہ امر میں نے گنایا ہو تو مجھے بتلایا جائے میں اسے واپس لے لوں گا اور تائب ہو جاؤں گا۔ مگر افسوس تو یہ ہے کہ میں تو آپ کی طرف آتا ہوں اور آپ مجھ کو دور سے دھکے دے رہے ہیں۔ میرا یہ مرض کچھ اور ہے اور دوا کچھ اور زبردستی میرے حلق میں ٹھونسی جارہی ہے۔ پھر اعلان بھی شائع کر دیا اور کتابیں واپس ہو رہی ہیں اور اس کا نام رکھا جاتا ہے۔ ”انما اشکو بثی وحزنی الی اللہ تعالیٰ“ کیا اس کے یہی معنی ہیں کہ بر سر بازار شور مچایا جائے۔ میرا کوئی خط شائع نہیں کیا۔ میرے مقاصد کچھ تھے۔ مگر غیظ وغضب کی حالت میں کچھ سے کچھ سمجھ کر کوسنے پر آپڑے اور میری تباہی کے منتظر ہو گئے۔ مگر میں یقینا جانتا ہوں کہ میرا خدا ایسا مغلوب الغضب اور بد فہم نہیں ہے کہ ایک شخص جو قرآنی رو سے ایک امر کا فیصلہ چاہتا ہے اس کو کافر اور مرتد کہا جائے۔ جو آیات قرآنی میں اپنے استدلال میں پیش کرتا ہوں نہ ان کے دوسرے طور پر معنے کر کے دکھائے جاتے ہیں نہ کوئی اور معقول جواب ملتا ہے۔ بلکہ شروع سے ہی خارج از اسلام، مرتد، دشمن کذاب مفتری نام سے پکارا جاتا ہے جو امر مجھ کو صریحاً قرآن کریم کے خلاف معلوم ہوں تو میں ان کو کیسے مان سکتا ہوں جو تجاویز اصلاح اور استحکام جماعت کے واسطے میں نے پیش کی ان کو ارتداد شمار کیا جاتا ہے۔ میں یقینا جانتا ہوں کہ مسیح کا خلاف نہایت ہی خطرناک امر ہے۔ مگر قرآن کریم کا ٥١

صفحہ ٣٥٦

خلاف اس سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ بدیہی امور اور واقعات سے انکار کرنا کذب اور سخت کفر ہے۔ خداوند عالم کو ایسا حقیر سمجھنا کہ وہ ایک انسان کے تابع ہو گیا ہے۔ نہایت ہی غضبناک شرک اور ظلم ہے۔

اولادی ، یا شمس و یا قمر “ وغیرہ متشابہات میں سے ہیں۔ ان کی بناء پر کوئی شرعی مسائل قائم کرنا غلطی ہے۔ جیسا کہ آپ شمس و قمر ہیں۔ ویسے ہی آپ محمد، احمد، عیسیٰ اور ابراہیم بھی ہیں۔ ایسے ہی بہشتی مقبرہ اور تعمیر مینار ہے۔ ان تمام کو قرآنی میزان میں رکھ کر دیکھنا چاہئے۔ نزولِ خداوندی ہر بشر پر اس کی استعداد اور قابلیت کے مطابق ہوتا ہے۔ قرآنی وحی سب سے اعلیٰ اور مصفےٰ اور اجلے ہے۔

آپ دیکھیں گے کہ مرزا قادیانی کے الہامات انبیائے بنی اسرائیل کی وحی کے مشابہ ہیں۔ جس میں استعارات بعیدہ بکثرت ہیں۔ اس لئے یہ لا ریب فیہ نہیں ہو سکتے۔ لا ریب فیہ ایک ہی وحی ہے جو قرآن مجید ہے۔ ہر وحی کو اس کے تابع کرنا ضروری ہے۔ محمدﷺ کا کوئی مظہر اتم نہیں ہو سکتا۔ اس لئے کوئی وحی نہ اس کے ہمسر ہو سکتی ہے اور نہ اس کی ناسخ۔ یہی ایمان میرا براہین کے وقت تھا اور یہی اب ہے۔ ایک ذرہ تفاوت نہیں۔ اس نکتہ کی لاعلمی نے اکثر علماء کے لئے مرزا قادیانی کے الہامات ٹھوکر کا موجب ہوئے۔ جب بشیر کی نسبت الہامات ہوئے۔ ”کان الله نزل من السماء “ وہ ایک یوم میں ایسا بڑھے گا جیسا کہ ہفتوں میں اور ہفتوں میں ایسا جیسا کہ مہینوں میں۔ اس وقت بھی میں یہی سمجھتا تھا کہ یہ ظاہری معنوں میں کبھی پورا نہ ہوگا۔

احسان ہے۔ اس لئے سلام کا ترک کرنا سخت درجہ کا بخل ہی نہیں بلکہ یہ بھی ثابت کرتا ہے کہ وہ شخص دشمن اور بدخواہ ہے۔ قرآن مجید نے عبادالرحمٰن کی پہچان یہ بتلائی ہے۔ ”اذا خاطبهم الجاهلون قالوا سلاما“ جب کفار تک سے سلام کی مناہی نہیں تو پھر کلمہ گو مسلمان سے سلام ترک کرنا قرآن مجید کے سخت مخالف ہے اور اچھا محسن اور ہمدرد بنی نوع ہے جو ذرا سی اختلافِ رائے پر بھی سلام ترک کر دیتا ہے۔ آپ خود مجھ سے دشمنی کریں۔ میری تباہی کے منتظر رہیں۔ مگر میں تو اے نورالدین تیرا وہی روحانی فرزند ہوں جو پہلے تھا۔ سچ کا مرید ہوں اور تم سب کے لئے سلامتی اور کامیابی کی دعا کرتا ہوں۔ ہاں جو امور قرآن مجید کے خلاف بدیہی طور پر معلوم ہوں تو قرآن مجید کی عظمت کو اور خداوند عالم کے جلال کو مقدم کر کے ان کے مقابلہ پر ضرور گستاخی کر بیٹھا

٥٢

صفحہ ٣٥٧

ہوں۔ کیونکہ میری عقل میں اصل توحید اور تمجید باری تعالیٰ کے یہی معنی ہیں کہ جہاں اس کے کلام یا جلال کا مقابلہ ہو وہاں دوسروں کو ہیچ سمجھا جاوے۔ آپ یا آپ کے مسیح خواہ اس کو کفر کہیں یا ارتداد یا دشمنی یا گستاخی۔ ہاں اس کے خلاف آپ مجھ کو قرآن مجید سے سمجھا دیں تو میں باز آجاؤں گا۔

سے بڑھ گئی۔ یہاں تک کہ ریویو آف ریلیجنز میں جب عام اسلامی مضامین شائع ہونے کی تجویز پاس ہوئی اور ضمیمہ میں خاص تو کس قدر احمدی جماعت نے شور مچایا۔ حالانکہ ضمیمہ نے جماعت میں اور دیگر خواستگاروں میں جانا ہی تھا۔ خاص مضامین کی اشاعت میں اس سے کوئی کمی واقعہ نہیں ہو سکتی تھی۔ مگر عام اشاعت زیادہ ہونے کے ساتھ رفتہ رفتہ خاص اشاعت بڑھنے کی بھی امید تھی وہ دیوار جو مولویوں نے درمیان میں حائل کی تھی۔ اس کو گرتے گرتے پھر کھڑا کر دیا گیا۔ نہ صرف اتنا ہی کیا بلکہ خداوند عالم ۔ قرآن مجید کو اور تیرہ سو سال کے اسلامی مضامین کو مردہ اسلام بتلایا گیا۔ گویا کہ خدا اور اسلام میں آج مرزا قادیانی کی پیشین گوئیوں سے جان آئی اور تیرہ سو سال تک وہ مردہ ہی تھے۔ قرآن مردہ، محمد مردہ، تیرہ سو سال کے تمام مسلمان مردہ۔ کیا قرآن مجید بذات خود ایک زندہ معجزہ اور اس کی تعلیمات بذات خود حیات بخش نہیں۔ کیا اس میں ہزار ہا پیشین گوئیاں اور علمی اسرار نہیں۔ افسوس "انہم فی طغیانہم یعمہون" کیا میری باتیں تمام افتراء اور دلخراش ہیں کہ ان پر مطلق غور نہ کیا جائے۔ بلکہ فوراً لعنت شروع کر دی جائے اور انتظار کیا جائے کہ کب یہ تباہ ہوتا ہے۔ میں اگر اس حرکت سے تباہ بھی ہو جاؤں تو ہو جاؤں۔ مگر خداوند عالم کا عظمت وجلال اور قرآن مجید کی عزت ومرتبت دوسرے انسان یا کلام کو نہیں دے سکتا۔ پس اگر توحید ہی ارتداد ہے تو گواہ رہو کہ میں سخت مرتد ہوں۔ اگر قرآنی وحی کو تمام وحیوں کا حکم اور میزان ماننا ہی گستاخی اور کذب ہے تو میں سخت گستاخ اور کذاب ہوں۔ میرا خداوند گواہ ہے کہ جو کچھ میں نے اس وقت کیا وہ خداوند عالم کے عزوجلال کے واسطے کیا۔ اپنی عزت کو کھویا۔ اپنے آپ کو بدنام کیا۔ مسیح کی کمزوریاں خطا کاریاں گنائیں۔ ان کو ناراض کیا۔ یہ سب کچھ رب العالمین کے جاہ وجلال اور قرآنی وحی کی عظمت وشوکت کی خاطر۔ اگر میں نے خالصتاً خدا کے واسطے اور اس کی عظمت وجلال کی خاطر نہیں کیا تو میں آج ہی تباہ ہو جاؤں۔ مسیح تو میری ہلاکت اور تباہی اپنی نفسانی اغراض کے بناء پر کسی اور وقت پر چاہتا ہوگا۔ مگر میں کہتا ہوں اے خداوند میں نے اگر یہ سب کچھ تیری عظمت وجلال کی خاطر نہیں کیا تو مجھے ابھی ایک منٹ کے اندر ہی اس دنیا سے اٹھا لے۔ "آمیـــــــــن"

٥٣

صفحہ ٣٥٨

آمین ، آمین ، والسلام، والسلام، والسلام ، الف الف سلام عليكم ، وعلى المسيح ، وعلى كل من لديكم“

اے خداوند رب العالمین میں کیسے سمجھ لوں کہ ایک کمزور انسان جو سیدھی سیدھی تحریرات کو بھی نہیں سمجھ سکتا۔ جو آج کچھ اور کل کچھ کہتا ہے۔ جو بڑے بڑے ارادے کرتا اور ناکام رہتا ہے۔ میں لکھتا کچھ ہوں اور وہ سمجھتا کچھ ہے۔ جو آرام طلب ہے اور عیش پسند ہے۔ جو ایک گاؤں میں بیٹھے بٹھائے محض اپنے نہ ماننے کی بناء پر تیرہ کروڑ مسلمانوں اور کل دنیا کو محروم النجات قرار دے رہا ہے۔ جو مجھ جیسے طالب حق کو جو محض قرآنی دلائل کا طالب ہے۔ مرتد اور کافر اور اپنا دشمن اور تیرا مغضوب علیہ قرار دے رہا ہے جو بہت ہی کم علم اور کم فہم زُود رنج ہے۔ وہ وہی خدائی میں شریک ہے یا اس کے ماننے پر نجات منحصر ہے یا محض اس کے نہ ماننے سے تمام خدا پرست اور نیک انسان نا قابلِ نجات اور جہنمی ہیں۔ اے خداوندا اگر میری سمجھ ناقص یا کج ہے تو اسے کامل اور درست کرائے۔ خداوند تیری قدرت اور حکمت لا انتہاء ہے۔ تیری رحمت و مغفرت کی کوئی حد نہیں۔ وہ کبھی کسی ایک انسان کے ماننے یا نہ ماننے پر منحصر نہیں ہو سکتی ۔ "تعالیٰ الله عمّا يشركون ، تعال الله عمّا يصفون" اپنے عملوں سے کوئی نجات نہیں پا سکتا۔ ہاں تیری رحمت سے سب نجات پائیں گے۔ ہاں محمد بھی تیری رحمت سے نجات پائے گا۔ ” لا تجزی نفس عن نفس شیئاً“

ے ....... مہدی خونی ظاہر کئے جاتے ہیں مگر آپ کا یہ حال ہے کہ دنیا تباہ ہو جائے اور اپنی عید ہو۔ زلزلہ سانس فرانسسکو میں آئے یا فارموسا میں یا کولمبیا میں یا اٹلی میں۔ کہیں طاعون ہو کہیں کالرا پھیلے۔ اس کو تکذیب مرزا کا نتیجہ بتلایا جائے۔ کیا دنیا میں سوائے اس ایک جرم کے اور کوئی جرمِ خداوندی میں قابلِ سزا نہ رہا۔

کیا تمام عالم کے ہر شہر اور گاؤں میں اور ہر مقام کے ہر فردِ بشر پر مرزا قادیانی کی تبلیغ اس کمال کو پہنچ چکی کہ اور سارے جرموں پر یہی ایک جرم غالب آ گیا۔ کیا خداوند عالم کا کام سوائے اس کے اور کچھ نہیں رہا کہ مسیح کی خاطر تمام عالم کو تباہ کرتا پھرے۔ کیا دہریت، کفر، شرک، زنا، توہینِ اسلام، افتراء علی اللہ، توہینِ قرآن، توہینِ محمد، خلافِ فطرت وغیرہ کوئی جرم قابلِ مواخذہ نہیں رہے۔ کیا اس سے بڑھ کر خداوند عالم کی کوئی تحقیر ہو سکتی ہے کہ اس کی لا انتہاء قدرت و حکمت محض ایک مرزا کے تابع ہو گئی۔ کیا مرزا قادیانی کے لئے اس سے بڑھ کر اور کبریائی ہو سکتی ہے کہ خداوند عالم کے سارے کاموں کو مرزا قادیانی کی خوشی اور ناخوشی کے ماتحت مان لیا جائے۔ نعوذ

٥٤

صفحہ ٣٥٩

باللہ! ہاں ! جن مصائب یا تباہیوں کی نسبت خداوند عالم خود بتلا دے کہ یہ میرے مسیح کی تکذیب کا نتیجہ ہے تو اس کی نسبت ایسا ظاہر کرنا علیحدہ امر ہے۔ مگر اوروں کی نسبت جن میں محض اسی قدر علم دیا گیا ہو کہ زلزلہ آئے گا یا مری پڑے گی تو اس کو ایک ہی وجہ یا مقام یا وقت سے مخصوص کرنا نہ محض افتراء علی اللہ ہے بلکہ اس کی لا انتہاء حکمتوں کی سخت توہین ہے۔ پر اس وقت نہ توہین باری تعالیٰ کی پرواہ کی گئی ، نہ توہین قرآن کی ، نہ توہین محمدی کی، نہ توہین اسلام کی ، نہ توہین فطرت کی۔ بلکہ ذاتی توہین کے خیال سے ایک غیظ وغضب سے بھرا ہوا اعلان جو سراسر غلط فہمی اور شتاب کاری پر مبنی ہے۔ شائع کر دیا گیا۔ غور کرو خدا کے واسطے غور کرو۔ شتاب کاری اور بیجا غضب بڑے شیطان ہیں۔ وہ خداوند بڑا غیور اور متکبر خدا ہے۔ اس کے حکموں کو ذلیل مت سمجھو۔ اسے پامال مت کرنا چاہو۔ اس کے قرآن سے اس قدر اعراض مت کرو۔ اگر آپ نے موجودہ خط و کتابت کو میرے اور مرزا قادیانی کے درمیان ہوئی ہے غور سے پڑھا ہو تو آپ کو معلوم ہوگا کہ میں نے ہر اختلاف کے ثبوت میں آیات قرآنی پیش کیں۔ مگر مرزا قادیانی نے ان تمام سے اعراض کیا اور جواب میں ایک دلیل بھی پیش نہ کی بلکہ بے محل اور خلاف واقعہ باتیں لکھتے رہے۔ میں حیران ہوں یہ کیا تماشہ ہے۔ ”ومن اظلم من ذکر بایت ربہ ثم اعرض عنھا، انا من المجرمون منتقمون“ والسلام! مورخہ ٨؍مئی ١٩٠٦ء

خط و کتابت بالا کے چند خوابات متعلقہ مرزا قادیانی

ہے۔ اس میں اس کا حلول کلی یا جزئی طور پر ہو گیا ہے۔ ایسا ہی اللہ کریم جب کسی عبدصالح کا نام ابراہیم یا موسیٰ یا عیسیٰ یا محمد یا احمد رکھتا ہے تو وہ ایک تشبیہ یا استعارہ کے طور پر ہوتا ہے۔ نہ کہ کسی حقیقی حلول یا مساوات کا اظہار۔

ایک مرزائی جس کا نام میرے یاد نہیں رہا وہ میرے اقتداء کے واسطے کھڑا ہوا ہے۔ میں اس کو کہتا ہوں کہ اگر مرزا قادیانی آپ کو میرے پیچھے نماز پڑھتے دیکھ لیں گے تو وہ آپ کو کیا کہیں گے؟ اس کے بعد میں کہتا ہوں کہ جب تک مرزا قادیانی اپنی موجودہ زیادتیوں کی اصلاح نہ کرلیں میں بھی اپنی بیعت واپس لیتا ہوں۔ پس میں اس تاریخ سے اپنی بیعت واپس لیتا ہوں۔ میری تفاسیر اور تذکرۃ القرآن میں جو مضامین مرزا قادیانی کے متعلق شائع ہو چکی ہے ان کو مشکوک سمجھا جاوے۔ اگر مرزا قادیانی نے موجودہ زیادتیوں کی اصلاح نہ کی اور توبہ شائع نہ کی تو آئندہ میں ان تمام

٥٥

صفحہ ٣٦٠

مضامین کو اپنی تفاسیر میں سے نکال دوگا۔

ہے۔ اس میں تین شخص ایسے ہیں ایک ڈاکٹر صاحب اور دو صاحب اور ہیں جن میں سے ایک صاحب نہایت لحیم شحیم ہیں اور دوسرے ضعیف العمر۔ ڈاکٹر صاحب دلائل بر ہستی باری تعالیٰ اور اس کی غیر محدود صفات کا اظہار کر رہے ہیں۔ پہلے صاحب جو لحیم و شحیم ہیں کہتے ہیں ٹھیک ہے۔ درست ہے۔ دوسرے صاحب جو ضعیف العمر ہیں وہ چشم نم ہیں اور کہتے ہیں کہ تم اپنی کہتے ہو ہماری نہیں سنتے۔ ڈاکٹر صاحب اور وہ پہلے صاحب جو ان کے مصدق تھے کرسیوں پر بیٹھے تھے اور دوسرے صاحب ایک بینچ پر تھے۔

الدین نے ان سے سوال کیا کہ ڈاکٹر صاحب اور مرزا قادیانی کا کیوں خلاف ہو گیا۔ اس کے جواب میں ضلع دار نے کہا کہ بنائے مخالفت سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہ ڈاکٹر توحید و تمجید باری تعالیٰ پر زور دیتے ہیں اور اصلاح چاہتے ہیں۔

پھر ایک جگہ محمد حسین مراد آبادی خوشنویس ملے۔ چہرہ افسردہ ہے۔ میں ان سے کہتا ہوں کہ آنحضرت ﷺ کی ایک حدیث بھی آپ ایسی ثابت نہیں کر سکے۔ جس پر ساتھ کے ساتھ عمل قائم نہ ہوا ہو۔ مگر مرزا قادیانی کے اقوال میں باتیں ہی باتیں ہوتی ہیں اور عمل مطلق نہیں۔

خواب میں ایک چٹھی رساں میرے نام چند خطوط لے کر آیا۔ مولوی فضل متین نے میری طرف اشارہ کر کے چٹھی رساں کو بتلایا۔ جب وہ چٹھیاں لے کر میرے پاس پہنچا جب میں نے دو بند خطوط جن کے لفافہ تار کے لفافوں سے مشابہ تھے۔ اپنے نام کے دیکھے ان پر پتہ اس طرح پر لکھا تھا۔ بخدمت مولوی ڈاکٹر محمد عبدالحکیم خان صاحب میں نے اس وقت خیال کیا کہ مولوی کے لفظ سے لوگوں کو اب اشتباہ ہوتا ہے۔ کیونکہ اب تک میں مولوی کے نام سے مشہور نہ تھا۔ پھر ایک خط کو کھولا تو اس میں مرزا قادیانی کی تصویر نکلی وہ گویا کہ تیرہ یا چودہ سال کے بچے کی ہے۔ پھر وہ لڑکا اصل ہیئت پر بن گیا۔ اس کا بایاں پاؤں باہر کی طرف مڑا ہوا ہے اور ٹخنہ پر پٹی بندھی ہوئی ہے۔ دوسرا لفافہ کھولا تو اس میں بھی مرزا قادیانی کے ایک پہلو کی تصویر نکلی اس کی رنگ سیاہ اور ناک پتلا لمبا اونچا ہے جو سونڈ کی طرح ہل رہا ہے۔ جس شخص نے وہ دو تصاویر بھیجی ہیں وہ دریافت کرتا ہے

٥٦

صفحہ ٣٦١

کہ ان دونوں میں سے آپ کے نزدیک مرزا قادیانی کی کون سی تصویر صحیح ہے۔ کیونکہ آپ ان کو دیکھ چکے ہیں۔

نتیجہ

تمام خط و کتابت بالا سے صاف ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی کو اس وقت اصلاح جماعت اور ہمدردی خلائق سے کچھ غرض نہیں۔ بلکہ سخت اعراض ہے۔ غالباً وہ ڈرتے ہیں کہ جماعت کی نکتہ چینی اور اصلاحی تدابیر میں جماعت کے اختلاف اور انتشار کا اندیشہ ہے اور بدنامی بھی ہے۔ اس لئے وہ محض تجاویز اصلاحی سے ایسے برافروختہ ہوئے کہ ازخود رفتہ ہو کر شروع سے ہی تردید و تکفیر پر تل پڑے۔ نہ قرآن و اسلام سے کچھ تعلق ہے۔ کیونکہ جس قدر فریاد میں نے کی اس کی طرف کوئی توجہ نہیں ہوئی۔ توحید و تمجید وتحمید وتہلیل اور تقدیس باری تعالیٰ کے متعلق میں نے ہر چند شور مچایا اور عظمت انبیاء پر بہت کچھ لکھا اور کھول کھول کر بیان کیا کہ آپ کا یہ مسئلہ خداوند عالم کو ماننا اور رسول کو ماننا اور اعمال صالحہ میں کوشش کرنا بلکہ مسلمان بننا بھی متکفل نجات نہیں ہو سکتا۔ جب تک مرزا غلام احمد کو مدار نجات نہ ٹھہرایا جائے۔ تمام توحید وتحمید وتہلیل اور تقدیس باری تعالیٰ کو بیخ وبن سے اکھاڑ دینے والا، تمام انبیاء کا نام دنیا سے مٹا دینے والا۔ قرآنی وحی کو ذلیل اور نابود کرنے والا۔ شرک کو پھیلانے والا اور آپ کی خدائی قائم کرنے والا ہے۔ پھر مینار اور قبرستان بت پرستی اور قبر پرستی کی عملی بنیاد ہیں۔ آپ کے الہامات جدید مشرک پسند طبیعتوں کے واسطے آپ کے خدا ہونے پر علمی دلائل ہیں۔ مثلاً الہامات ذیل خدا عرش پر تیری حمد کرتا ہے تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے ہوں۔ تو مجھے ایسا ہے جیسا کہ میری اولاد۔ اگر تو نہ ہوتا تو میں آسمانوں کو پیدا نہ کرتا۔ میں نے چشم دید واقعات کی بناء پر ظاہر کیا کہ انبیاء علیہم السلام کے مقابلہ پر آپ کوئی چیز نہیں بلکہ ایک ناقص العلم، ناقص الفہم، ناقص العمل، ضعیف الخلقت، زود رنج، شتاب کار اور نہایت ہی تنگ ظرف انسان ہیں۔ ان تمام امور کا ثبوت آپ نے اپنی موجودہ خط و کتابت میں خود اپنے قلم سے دے دیا۔ آپ انبیاء علیہم السلام کے مظہر یا بروز ایسے ہی بعینہ طور پر ہیں۔ جیسا کہ آپ شمس وقمر ہیں۔ مگر افسوس کہ ان تمام صاف صاف اور واقعی باتوں کی طرف آپ کو مطلق توجہ نہ ہوئی۔ بلکہ ایک مجنون انسان یا کانے دجال کی طرح آپ کی نظر اپنی مشیخت اور کبریائی کی ہی طرف رہی اور بار بار یہی لکھتے رہے کہ خدا کو ماننا، محمد کو ماننا، اعمال صالحہ اور تمام اسلام کی پابندی لغو اور باطل ہے۔ جب تک مرزا غلام احمد کو مدار نجات نہ ٹھہرایا جائے۔ ”نعوذ بالله، نعوذ بالله ۔ ان هذا لظلم عظيم ۔ ان هو الا شرك عظيم ۔ سبحان الله عمّا يصفون ۔ تعالیٰ الله عمّا يصفون“ اب ٥٧

صفحہ ٣٦٢

اگر حسن عقیدت سے کام لیا جائے تو یہی کہا جاسکتا ہے کہ اس قسم کے مشرکانہ الہامات یا تو کثرت مسک وعنبر ومرکبات و دیگر محرکات و مفرحات کا نتیجہ ہیں جو آپ ہمیشہ بکثرت استعمال کرتے رہتے ہیں یا مرض ہسٹریا کا نتیجہ ہیں۔ جس میں آپ مدت سے مبتلا ہیں۔ کیونکہ ذاتی منفعت اور کبریائی کے خیالات پیدا ہونا اور اپنی وسعت وطاقت سے بڑھ کر کاموں اور محال وغیر ممکن امور کے لئے حوصلہ اور ارادہ ہونا۔ ہسٹریا کی علامات میں سے ہیں یا کچھ عرصہ کے لئے شیطان آپ پر مسلط ہوگیا ہے۔ کیونکہ ہر الہام جو قرآن کے مخالف ہو شیطانی ہے اور قرآنی ارشاد ہے۔ "ومن يعش عن ذكر الرحمن نقيض له شيطان فهو له قرين" باقی کمزوریاں بہ تقاضائے بشریت ہیں اور اگر عام طور پر دیکھا جائے تو اس قسم کے عقائد، اعمال اور الہامات پرلے درجہ کے دجل اور فریب پر دلالت کرتے ہیں۔ کیونکہ کسی نبی نے موجودہ فسادات کی اصلاح سے اعراض نہیں کیا۔ ہاں نفس پرست اور دنیا پرست ہمیشہ ایسا کیا کرتے ہیں۔ کسی نبی نے خدائی کا دعویٰ نہیں کیا۔ ہاں دجال کی نسبت ایسا ضرور مذکور ہے۔ کسی نے ایسا ظاہر نہیں کیا کہ بہشت و دوزخ میری مرضی پر منحصر ہے۔ ہاں دجال کی نسبت ضرور مذکور ہے کہ اس کے ایک ہاتھ پر بہشت اور ایک ہاتھ پر دوزخ ہوگا۔ کسی نبی نے محض اسی بات پر زور نہیں دیا کہ میں مدار نجات ہوں اور خداوند عالم، اسلام، فطرت اور اعمال ہیچ ہیں۔ ہاں دجال کی نسبت ضرور مذکور ہے کہ وہ کانا ہوگا اور اس کا کفر صریح ہوگا۔ کسی نبی نے اپنی نسبت یہ نہیں کہا اگر میں نہ ہوتا تو آسمان ہی نہ ہوتے۔ بلکہ قرآن مجید نے اس کے خلاف یہ فرمایا ہے: "خلق السمٰوت اكبر من خلق الناس" خلقت انسان کی نسبت آسمانوں کی خلقت اعظم ہے۔ کسی نبی نے لنگر کے نام پر روپیہ جمع کر کے نہ آپ بیٹھے بٹھائے مزے سے کھایا نہ اوروں کو کھلایا۔ بلکہ ان کی نسبت قرآن مجید میں بار بار یہی ذکر ہے۔ "لا اسئلكم عليه من اجر" میں تم سے اس کام کی کوئی مزدوری نہیں مانگتا۔ بلکہ قرآن مجید نے اس بات کو ان کی صداقت کے ثبوت میں پیش کیا کہ جو تم سے وعظ کی بابت کوئی اجرت نہیں مانگتا۔ اس کی بات مانو۔ ہاں دجال کی نسبت ضرور مذکور ہے کہ اس کی ساتھ روٹیوں کا پہاڑ ہوگا۔ اب رہا بعض بعض پیشین گوئیوں کا پورا ہونا تو اس کی بابت خود لکھ چکے ہیں کہ سچی خوابات اور الہامات مشرکوں کو بھی ہوا کرتے ہیں۔ آپ نے جب دیکھا کہ موت قریب ہے اور دنیا سے گزر جانے کے بعد کوئی کام یا تصنیف ایسی نظر نہ آئی۔ جس پر آپ عیال و اطفال کا گزر ہو سکے یا آپ کے لئے پائدار عزت کا موجب ہو سکے اور قرآن کریم کے مقابلہ میں ٹھہر سکے۔ کیونکہ دنیا میں وہی شے پائیدار ہو سکتی ہے جو نافع خلق ہو۔ "اما ما ينفع الناس فيمكث فى الارض" پر یہ خوب ٥٨

صفحہ ٣٦٣

سوجھی اور دور کی سوجھی کہ ایک مینار اور ایک بہشتی مقبرہ کی بنیاد ڈال دی۔ یہ سبق آپ کو اغلباً اجمیر، سرسید اور پیران کلیر وغیرہ کے مقبروں سے ملا۔ مگر ایک بات میں بڑھ گئے کہ اس میں مدفون ہونے کے لئے دسویں حصہ جائیداد کی وصیت بھی لازم کردی جو قرآنی وصیت میں ایک قسم کی ترمیم اور مقبرہ رسول خدا ﷺ کی سخت توہین ہے۔ کاش آپ کو یہی خیال ہوتا کہ آپ کی نعش کو مدینہ میں پہنچا دیں۔ دہلی میں مقبروں کی زیارت سے اپنی جماعت کو عملی سبق بھی دے دیا کہ بعد المرگ میری قبر کی زیارت کیا کرنا۔ ”اللهم انی اعوذ بك من فتنة المسيح الدجال“ ”اے خداوند میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں۔ اس مسیح کے فتنہ سے جو درحقیقت دجال ہے۔ یہ دعا ایک طول طویل حدیث کا جز ہے۔ جس میں آنحضرت ﷺ نے ایک مسیح کے فتنہ سے پناہ مانگی ہے جو مسیح کے نام سے مشہور ہوگا۔ مگر درحقیقت دجال ہوگا۔ اس واسطے اس کا نام ”المسیح الدجال“ بطور صفت موصوف کے فرمایا۔ مسیح دجال کے فتنہ سے تمام انبیاء ڈراتے رہے ہیں اور آنحضرت ﷺ نے بھی مسیح دجال کو اعظم ترین فتنوں میں شمار کیا ہے۔ کیونکہ اس کے ساتھ بہت سے نشانات ہوں گے۔ یہ تمام نتیجہ اس خلاف واقعہ اعلان کا ہے جو آپ نے ذاتی مشیخت کے جذبہ اور غیظ و غضب میں از خود رفتہ ہو کر البدر والحکم میں تین مئی کو شائع کرایا۔ اس لئے اب میں متردد ہوں۔ آیا کہ یہ نتیجہ بشری کمزوری کا ہے یا حقیقت میں ایک دجل ہے۔ اس لئے اب میں اپنے رب سے دعا کرتا ہوں کہ وہ اصل حقیقت کو جلد تر اپنے فضل سے مجھ پر منکشف کر دے اور تمام شکوک کو جو اعلان پر طغیان سے پیدا ہوئے ہیں۔ رفع فرمادے۔ ”ربنا افتح بيننا وبين قومنا بالحق وانت خير الفاتحين“ ”آمين برحمتك يا ارحم الرحمين!“

مرزا قادیانی کی چند اور اختلاف بیانیاں

میں نے خود تیار کی تھی جو دافع الوسواس میں شائع ہوئی۔ بعد ازاں جو حدیث کہ عمداً آپ کو معلوم ہوئی جس میں یہ ذکر ہے کہ مہدی اپنے اصحاب کو جمع کرے گا۔ ان کی تعداد اہل بدر کے مطابق ٣١٣ ہوگی اور ان کے نام معہ سکونت و ولدیت و پیشہ وغیرہ ایک کتاب مطبوعہ درج کرے گا۔ تب آپ نے اصل فہرست میں تراش خراش کر کے ٣١٣ ناموں کی فہرست انجام آتھم میں شائع کر دی۔ بعض نام پہلی فہرست میں سے نکال دیئے اور بعض نئے نام ایزاد کر دیئے۔

معنوں سے انکار کیا گیا۔

٥٩

صفحہ ٣٦٤

درج فرمائی۔ پھر (مسیح ہندوستان میں ص ٢٢، خزائن ج ١٥ ص ٢٢) پر درج کیا۔ قریباً دو گھنٹہ سے بھی کم وقت رہے۔ پھر (ص ٣٨١ خزائن ج ٣ ص ٢٩٦) پر لکھا چند منٹ میں ہی مسیح کو صلیب پر سے اتار لیا۔

ایمانی ظاہر کی گئی اور الہام بھی تھا۔ ”ان الله لا يغير ما بقوم حتى يغيروا ما بانفسهم“ مگر بعد میں اس کو اپنی تکذیب کا نتیجہ بار بار ظاہر کیا گیا۔

اشعار میں جو اس پر تک بندی کی گئی اس میں یہ ظاہر کیا ہے۔ کیوں غضب بھڑکا خدا کا مجھ سے پوچھو غافلو۔ ہو گئے ہیں اس کا موجب میرے جھٹلانے کے دن۔

خط نمبر: ١٠

حکیم نورالدین بنام ڈاکٹر عبدالحکیم خان

مولوی نورالدین کا خط جو میرے خط مورخہ ٨/ مئی کے جواب میں بعد اشاعت ذکر الحکیم نمبر ٤ موصول ہوا:

تجویز کیا گیا ہے اچھے معنی نہیں رکھتا۔ اس لئے میں کیا لکھوں۔

مگر میں نے اپنے دل میں بہت سوچا تو جوش کو ساتھ پایا۔ اس لئے تامل ہوا۔ اب بہت دن گزر گئے اور یقین ہو گیا کہ اس وقت کوئی جوش میرے قلب پر نہیں تو خط لکھنے بیٹھا ہوں۔ اس وقت مجھے تھوڑا سا زکام ہے۔ مگر مجھے یقین ہے کہ آپ اسے رائے العلیل علیل پر محمول نہ کریں گے۔ آپ کے سارے خط کا مضمون میں نے تین حصوں پر تقسیم کر دیا ہے۔ پہلا حصہ وہ ہے جس میں آپ نے ایک عقیدہ بیان فرمایا ہے اور اس کی بنیاد عقل، فطرت اور قرآن پر رکھی ہے۔ دوسرا حصہ وہ ہے جس میں آپ نے مرزا پر اعتراض کئے ہیں۔ تیسرا حصہ مرزائیوں پر مطاعن کا ہے۔ میں نے آپ کی وہ خط و کتابت نہیں پڑھی جو آپ نے مرزا سے کی ہے۔ ہاں ایک آپ کا آخری خط مجھے مسجد میں ملا اس کو سرسری نظر سے دیکھا چونکہ اس مسل پر بحث مقدم ہے جس کے باعث آپ نے مرزا اور مرزائیوں پر مطاعن شروع کئے ہیں۔ اس لئے میں اسی پہلے حصہ کی طرف توجہ کرتا ہوں۔ آپ نے مجھ سے فرزندی کا دعویٰ کیا ہے اور حسن ظنی کو کام میں لائے ہیں۔ اگر یہ حسن ظن اب تک کچھ قائم

٦٠

صفحہ ٣٦٥

ہے تو یہ خط بے ربط ایک مخلص انسان کا خط ہے۔ جس کو فطرتاً اللہ پر ایمان اور شرک سے نفرت تھی اور قدرت نے اس کو ایسے سامان دیئے کہ جوں جوں وہ ترقی کرتا گیا اس کو جناب الٰہی سے محبت بڑھی اور شرک سے پوری نفرت ہوئی۔ گو مجھے ڈر ہے کہ آپ نے جس جوش سے اخباری دنیا میں پیسہ اخبار سے تعلق پیدا کیا وہ اس میرے مضمون کی طرف متوجہ ہونے سے سد راہ ہو۔ کیونکہ ایک قانون الٰہی ”لا تركنوا الى الذين ظلموا فتمسكم النار“ ہمیں قرآن میں نظر آتا ہے۔ پھر اس کی تصدیق نیچر سے ان بیماروں میں نظر آتی ہے۔ جن میں آپ کے ساتھ ایک امتحان دینے والا مبتلا ہوا اور اس کے لئے اس کی محنت ومشقت نے اپنے نتائج سے اس کو محروم کر دیا اور اس طرح کے ہزارہا مقدمات نظر آتے ہیں۔ اب میں اصل بات عرض کرتا ہوں۔

ہے۔ تمام انبیاء ہادی خلائق ہیں نہ مدار نجات۔ پھر آپ کہتے ہیں کہ رب العالمین الرحمن الرحیم الی آخرہ۔ اس کے علوم پر کیوں محیط ہو سکتا ہے۔ پھر اس کی رحمت ومغفرت کے لا انتہاء قوانین کسی ایک انسان کے ماتحت کیسے ہو سکتے ہیں اور اس سے بڑھ کر اور کون سا شرک ہو سکتا ہے۔ اگرچہ آپ کے اس کلام میں مدار نجات کا لفظ تو گول مول ہے۔ مگر لا انتہاء قوانین رحمت ومغفرت کا فقرہ اس کو حل کر دیتا ہے۔ ان آپ کے فقرات سے نجات کا دائرہ بہت بڑا وسیع ہے اور تمام الٰہی کتابیں اور تمام رسولوں کی تعلیمات آپ کی اس تحریر سے رد ہو سکتی ہیں۔ کیونکہ خدا کی رحمت ومغفرت کے لا انتہاء قوانین ان محدود کتابوں اور محدود انسانوں کے ماتحت کیسے ہو سکتے ہیں۔ پس ان کی کارروائی بھی آپ کے نزدیک بہت بڑا شرک ہوا۔ پھر آپ نے مرزا اور مرزائیوں کو ”ومن اظلم ممن ذكر بآيت ربه ثم اعرض عنها انا من المجرمين منتقمون“ کی آیت سے مجرم اور مجرم کے ساتھ محل انتقام تجویز فرمایا اور اپنے اس اصول کو غیظ وغضب کے باعث بھول گئے کہ رب العالمین الرحمن الرحیم اور اس کی رحمت ومغفرت کے لا انتہاء قوانین مرزا اور مرزائیوں کو نجات نہیں دے سکتے۔

سے مرزا اور مرزائیوں سے انتقام لیا جائے اور تمام انبیاء کی خلاف ورزی سے انتقام نہ ہو اور وہ مدار نجات نہ ہوں۔

اعمال صالحہ مدار نجات آخرت ہیں۔ رب العالمین کے لا انتہاء قوانین مغفرت کو ہم ایک طرف

٦١

صفحہ ٣٦٦

رکھیں اور ان میں مدار نجات کو ایک طرف تو کیسا تعجب آتا ہے۔ پھر معلوم ایسا ہوتا ہے کہ مسلمانوں کو ملزم کرنے کے واسطے یہ لکھ دیا ہے۔ پھر آپ نے آگے چل کر دائرہ نجات کو وسیع بھی کیا ہے اور تنگ بھی کر دیا ہے۔ جہاں یہ لکھا ہے کہ ”ان الله لا يغفر ان يشرك“ حکیم اور خان پھر ڈاکٹر صاحب شرک معاف نہ ہو یہ کیا بات ہے۔ کیا اس کے لا انتہاء قوانین نجات میں مشرک کی نجات کا کوئی قانون نہ ہو۔ بلکہ ضرور ہونا چاہئے۔ کیونکہ وہ رب العالمین، الرحمن، الرحیم ہے۔ ایک انسان نے اگر ایسا کیا ہے تو آپ کے نزدیک اس کا گناہ چیز ہی کیا ہے اور اس کا مدار نجات کیا ہے۔

نہیں ۔ اس کے لئے تو نجات کا دروازہ آپ کے نزدیک بند ہو ہی نہیں سکتا۔

کروڑ مسلمان تیار ہوئے ہیں۔ سب کو نجات حاصل کرنا چاہئے۔ حکیم ڈاکٹر صاحب سب اللہ کی مخلوق ہیں۔ وقت موجود ہے۔ تیرہ کروڑ اگر محمد رسول اللہ کے باعث تیار ہوئے ہیں تو دو ارب اللہ کی مخلوق ڈارون کے طریق سے لاکھوں برس اور معلوم نہیں کہ کب سے جو تیار ہوئی ان سب نے اگر نجات نہ پائی تو تیرہ کروڑ چیز ہی کیا ہیں۔

آیت ہے کہ قرآن میں موجود ہے اور سردست بظاہر آپ کو مسلم بھی ہوگی۔ تیرہ کروڑ مسلمانوں میں سے اس آیت کے بموجب اکثر مشرک ہوں گے اور مشرک نجات نہیں پا سکتا۔ پھر یہ تیرہ سو سال میں تیار ہوئے اور ان میں سے اکثر مشرک نکلے اور مشرک کو نجات نہیں۔

الى امم من قبلك فاخذناهم بالباساء والضراء لعلهم يتضرعون فلولا اذجاء هم باسنا تضرعوا ولكن قست قلوبهم وزين لهم الشيطان ماكانوا يعملون فلما نسوا ما ذكروا به فتحنا عليهم ابواب كل شئ حتي اذا فرحوا بما اوتوا اخذناهم بغتة فاذا هم مبلسون“ اس آیت پر غور کرو۔

اور یورپ اور جزائر کے زلازل اور طاعون اور آتشزدگیاں اور لڑائیاں مرزا کی طرف منسوب کرنا شرک ہیں۔ حکیم و ڈاکٹر صاحب مرسل تو اس وقت مامور ہوتے ہیں جب دنیا علی العموم غفلت کے پیچھے دب جاتی ہے اور خدائے تعالٰی سے اعراض کرکے ملکی دنیا کی طرف لوگ جھک جاتے ہیں۔

٦٢

خدا کا رحم اور فضل ان مجرموں میں سے موسیٰ کے آئے بغیر فرعون اور قوم نوح

مدار نجات نہ تھا تو اس کی اطاعت چی قرار دیا اور یہ خیال نہ کیا کہ آپ کا دا بالآخر کے لوازمات بیان کئے ہیں اور آیت یہ ہے۔

يحافظون“ یہاں ایمان بالآخر کو لازم قرار دیا ہے اور یہ تو ان کی فطر

دلاتا ہوں ۔ ”ومن يقتل مؤمن عذاباً اليماً“

يكفرون بالله ورسله وير ببعض ونكفر ببعض الكافرون حقاً واعتدنا للك اور مسیح کو مسیح اور مہدی بھی مانتے ہیں آپ میں ہو تو جو قاعدہ نجات کا آ ہے اور یہ اگر نجات کے اسباب ہو الی الذين ظلموا“ کی بھی سے ہے اور اس فضل کا جاذب تقو وجوهکم“ میں ہے۔ آ ”وينجى الله الذين اتقو“ بعد کہ نجات تقویٰ سے ہے اور تقو

صفحہ ٣٦٧

خدا کا رحم اور فضل ان مجرموں میں سے بعض کو بچانے کے لئے مرسل مقرر فرماتا ہے۔ کیا نوح اور موسیٰ کے آئے بغیر فرعون اور قوم نوح ہلاک ہو گئی تھی۔

مدار نجات نہ تھا تو اس کی اطاعت چیز ہی کیا تھی۔ پھر آپ نے ایمان بالآخر کو نجات کا مدار تجویز قرار دیا اور یہ خیال نہ کیا کہ آپ کا دائرہ نجات تنگ ہوا جاتا ہے۔ سنئے قرآن شریف نے ایمان بالآخر کے لوازمات بیان کئے ہیں اور ان لوازمات نے مدار نجات کو اور بھی تنگ کر دیا ہے اور وہ آیت یہ ہے۔

يحافظون“ یہاں ایمان بالآخرة کو ملزوم ٹھہرایا ہے اور ایمان بالقرآن اور محافظت علی الصلوٰۃ کو لازم قرار دیا ہے اور یہ تو ان کی فطرت کہتی ہوگی کہ لازم وملزوم جدا نہیں ہوتے ہوں گے۔

دلاتا ہوں ۔ ”ومن يقتل مؤمناً متعمداً فجزاءه جهنم خالداً فيها ولعنة واعدله عذاباً اليماً“

يكفرون بالله ورسوله ويريدون ان يفرقوا بين الله ورسله ويقولون نؤمن ببعض ونكفر ببعض ويريدون ان يتخذوا بين ذالك سبيلاً اولئك هم الكافرون حقاً واعتدنا للكفرين عذاباً مهينا“ آپ ابھی تو میرے روحانی فرزند ہیں اور مسیح کو مسیح اور مہدی بھی مانتے ہیں۔ اگر ” ابی واستکبر “ کا کوئی مادہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے آپ میں ہو تو جو قاعدہ نجات کا آپ نے لکھا ہے اسی غلطی سے میرے بیان سے بھی ظاہر ہوتا ہے اور یہ اگر نجات کے اسباب بہت ہیں اور اب آپ مخالفت کا اظہار کر چکے ہیں اور ”لا تركنوا الى الذين ظلموا“ کی بھی پرواہ نہیں کی تو زیادہ مباحثات سے بھی کام نہیں نکلتا۔ نجات فضل سے ہے اور اس فضل کا جاذب تقویٰ ہے اور اس تقویٰ کا مختصر بیان آیت: ”ليس البر ان تولوا وجوهكم“ میں ہے۔ آپ اس پر غور کریں۔ کیونکہ تقویٰ سے نجات کا ہونا تو آیت کریمہ: ”وينجى الله الذين اتقو“ اور ”ثم ننجی الذین اتقوا“ سے ظاہر ہے اور اس یقین کے بعد کہ نجات تقویٰ سے ہے اور تقویٰ ان امور کی پابندی کا نام ہے تو آپ کا وہ قاعدہ ٹوٹ جاتا

٦٣

صفحہ ٣٦٨

ہے ۔ ”لیس البر “ اس آیت کریمہ کے درمیان تقویٰ کے چند اصول بیان ہوئے ہیں جن میں شاید مرزا کا بھی کہیں ذکر آیا ہو اور دوسری آیت ”ثم ننجی الذین اتقوا “ ظاہر کرتی ہے کہ مدار نجات تقویٰ لا انتہاء قوانین نجات کے لئے نہیں۔ پھر مرکز نجات کا مسئلہ ہمیں صرف انبیاء کی ذریعہ بھی معلوم ہو سکتا تھا اور دوسرا کوئی طریق نہیں اور دنیا میں نجات بخلاف آپ کی منشاء کے بہت ہی کم لوگوں میں قرآنی ہی نظر آتی ہے۔ آپ اپنا ہی حال دیکھیں بڑی محنتوں کے بعد تو آپ ڈاکٹر مصنف کتب اور صاحب اولاد ہوئے۔ مگر بیوی اور بچوں اور ریاست والوں سے نجات ملی یا نہ ملی۔ آپ کا دل ہی جانتا ہوگا۔ میں اس پہلے حصہ سے ایک حد تک جواب دینے سے سبکدوش ہوا ہوں۔ اگر یہ حصہ آپ کے لئے کچھ بھی مفید ثابت ہوا تو اس کی تفصیل کو بھی تیار ہوں اور باقی حصوں کے جواب دینے کو تیار ہوں گا۔ اگر اس حصہ کے متعلق بھی مجھے یہی سنانا ہو کہ میں دودھ مانگتا ہوں اور مجھے زہر پلایا جاتا ہے اور میں قریب ہوتا ہوں اور مجھے دور کیا جاتا ہے اور میں اپنا بنتا ہوں اور مجھے اجنبی کہا جاتا ہے تو میں مصلحت نہیں سمجھتا کہ باقی حصوں کا جواب دوں یا اس کو اور زیادہ کروں۔ اگر امام صاحب کے حضور شوخی کرنے سے پہلے مجھے براہ راست آپ خط و کتابت کرتے تو مجھے بہت پیارے الفاظ بولنے کا موقعہ ملتا۔ مگر محبوب پر سخت کلامی کو ایک لخت فطرتاً پسند نہیں کر سکتا اور وہ بھی ہے۔ پھر خدا کی لا انتہاء قوانین مغفرت بھی موجود ہیں۔ اس سے میں یقین کرتا ہوں کہ میرا کوئی لفظ بھی ایسا نہ ہوگا جو میرے لئے نجات کا محروم کرنے والا ہو۔ قرآن کریم سے الگ ہو کر آپ بہت سے قوانین ایجاد کر سکتے ہیں۔ مگر قرآن کے ماتحت ہو کر ایسا کرنا آپ کے لئے محال ہے۔ قرآن ایک مفصل کتاب ہے۔ اگر ایک شخص کو ایک مقام پر کوئی آیت متشابہ معلوم ہو تو اس کے لئے اور بہت سے محکمات موجود ہیں جو ام الکتاب کا کام دے سکتے ہیں۔

نور الدین مورخہ ٢٦ مئی ١٩٠٦ء

خط نمبر: ١١

ڈاکٹر عبد الحکیم خان بنام نور الدین

من رب الرحیم . واذا حييتم بتحية فحيوا باحسن منه او ردوها واذ جاءك الذين يؤمنون بآيتنا فقل سلام عليكم “ آپ نے تو میرے لفظ مدار نجات کو گول مول بتایا ہے۔ مگر آپ کا سارا خط ہی گول مول ہے۔ میں نے تو ہر امر کے ثبوت میں آیات بینات پیش کیں۔ آپ کی طرف سے ان کا جواب ندارد۔ بلکہ ان کو میرا قول قرار دے کر تردید شروع کر دی۔

٦٤

صفحہ ٣٦٩
وزیر چنیں شہریار چناں جہاں چوں نگر و قرار چناں

قرآن مجید سے صریح اعراض و انحراف کی حالت میں کہاں تک حسن ظنی کی جائے؟

ہے اس کو میں ہر وقت قبول کرنے کے لئے مستعد ہوں۔ خواہ وہ بات کسی مریض کے منہ سے نکلے یا تندرست کے منہ سے۔ کسی عالم فاضل کے منہ سے نکلے یا کسی امی و جاہل کے منہ سے۔ اسی امید و بناء پر میں نے مرزا قادیانی سے بیعت کی تھی۔ مگر افسوس کہ عرصہ بیس سال میں نہ تو ان کے کلام میں تحریر میں کوئی ایسی معارف سننے یا پڑھنے میں آئے جو مجھ کو علیحدہ طور پر معلوم نہ ہوئی ہوں۔ کہ ان کی صحبت میں ہی کوئی خاص اثر دیکھا۔ ہاں علم قرآن اور اثر صحبت کی نسبت ان کے خالی دعوٰی ضرور بار بار شائع ہوتے رہے۔ جن ایام میں مرزا قادیانی کو میں تفسیر القرآن سنایا کرتا تھا۔ آپ کو بھی یاد ہوگا کہ تمام تفسیر میں مرزا قادیانی نے کسی ایک مقام پر بھی نہ تو کوئی اصلاح کی نہ کوئی خاص نکتہ معرفت بتایا۔ آپ نے بیشک بعض غلطیاں بھی درست کیں اور بعض نئے نکات بھی بتلائے۔ آپ کی عدم موجودگی میں حضرت سلیمان علیہ السلام کی نسبت بحث شروع ہوئی تو مرزا قادیانی اس کو صاف نہ کر سکے۔ بلکہ فرمایا کہ اچھا ہم تفسیر کبیر میں دیکھ کر پھر بتلائیں گے۔ نہ معلوم ان کی تفسیر کتاب عزیز کہاں گئی۔ جس کا اشتہار دے چکے تھے۔ یہ امر ظاہر بدیہی ہے کہ اگر میری تفسیر کا مقابلہ مرزا قادیانی کی کتابوں سے کیا جائے تو معلوم ہو جائے گا کہ کوئی مقام بھی مرزا قادیانی کی کسی کتاب سے اخذ کردہ نہیں ہے تو میری تفسیر کو سن کر بس تعریف ہی تعریف کرتے رہے کہ نکات قرآنی خوب بیان کئے ہیں۔ ”نہایت عمدہ ہے۔ شیریں بیان ہے۔ دل سے نکلی اور دلوں پر اثر کرنے والی ہے۔ فصیح و بلیغ ہے۔ بعض مقامات کی نسبت فرمایا حد ہی کردی۔“ وغیرہ وغیرہ ! چنانچہ ان کی اجازت سے یہ الفاظ الحکم اور البدر میں شائع بھی ہوتے تھے۔ مگر اب تو آپ نے میری تفسیر پاس رکھنے کے بھی قابل نہ سمجھی اور واپس کردی۔ (قادیانی مفتی) محمد صادق نے تو حد ہی کردی کہ جس قدر تفاسیر ان کے پاس جمع تھیں ان کو ایسی بیہودہ طور پر ایک بوری میں بھر کر واپس کیا کہ وہ راستہ میں شکستہ اور دریدہ ہو کر تودہ اوراق ہو گئیں۔ افسوس کہ مجھ سے تو حسد و عناد ہوا مگر قرآن مجید کا بھی کچھ پاس ادب نہ کیا اور نہ دیانت و امانت کا لحاظ کیا اور تودہ اوراق ان کے ملاحظہ کے لئے علیحدہ رکھا ہوا ہے۔ حکیم فضل الدین نے جو کتابیں واپس کیں وہ اچھی حالت میں پہنچ گئیں۔ ”جزاک اللہ خیر الجزا“ اثر صحبت کی نسبت ہمیشہ اشتہار شائع ہوتے ہیں۔ اس کے نام پر سینکڑوں روپیہ ماہوار وصول ہوتا ہے اور بنام لنگر خرچ ہوتا ہے۔ مگر میں نے کوئی اثر نہیں دیکھا۔

٦٥

صفحہ ٣٧٠

میری حالت جیسی غیبت میں رہتی تھی وہی مرزا قادیانی کی صحبت میں رہی۔ یہی وجہ ہے کہ سینکڑوں لوگ بیعت میں داخل ہو کر اور صحبت کے نتائج دیکھ کر منحرف ہوتے رہے۔ مثلاً منشی الٰہی بخش اکاؤنٹنٹ، منشی عبدالحق اکاؤنٹنٹ، حافظ محمد یوسف، صوفی عباس علی، میاں فتح خاں، محمد سعید خاں وغیرہ میں بھی یہی دیکھ رہا ہوں کہ روز بروز ذاتی مشیخت کے خیالات ترقی پر ہیں۔ قرآنی عظمت ومحبت دلوں سے اٹھتی جا رہی ہے۔ تمام انبیاء علیہم السلام کو حقیر کیا جا رہا ہے۔ کیا ”لولاك لما خلقت الافلاك“ میں وہ التزام بہشتی مقبرہ میں تمام انبیاء کی سخت توہین وتحقیر نہیں ہے۔ ایک وقت تو مرزا قادیانی تحریر فرماتے تھے ۔ ”میرے دعویٰ کے انکار سے کوئی شخص کافر دجال نہیں ہو سکتا۔ میں اس کا نام بے ایمان نہیں رکھتا ہوں ۔“ ”کبھی کلمہ گو کا نام کافر نہیں رکھتا ۔“ (تریاق القلوب ص ١٣٠، خزائن ج ١٥ ص ٣٣٢، ٣٣٣) ”اپنے دعویٰ سے انکار کرنے والے کو کافر کہنا صرف ان نبیوں کی شان ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے شریعت اور احکام جدیدہ لاتے ہیں۔ ماسوا اس کے ملہم ومحدث کیسا ہی اعلیٰ شان رکھتے ہوں اور مکالمہ الٰہیہ سے سرفراز ہوں ان کے انکار سے کوئی کافر نہیں بن جاتا۔“ (تریاق القلوب حاشیہ ص ١٣١، خزائن ج ١٥ ص ٣٣٢) سید عبدالقادر جیلانی فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ شیطانی الہام مجھے بھی ہوا تھا۔ شیطان نے کہا اے عبدالقادر جیلانی تیری عبادتیں قبول ہوئیں۔ اب جو دوسروں پر حرام ہے وہ تیرے پر حلال اور نماز سے بھی اب تجھے فراغت ہوئی جو چاہے کر۔ تب میں نے کہا اے شیطان دور ہو وہ باتیں میرے لئے کب روا ہو سکتی ہیں جو نبی علیہ السلام پر روا نہیں۔ تب شیطان معہ اپنے سنہری تخت کے میری آنکھوں کے سامنے سے گم ہو گیا...... کاہنوں کو بکثرت شیطان الہام ہوتے اور بعض وقت وہ پیش گوئیاں بھی الہام کے ذریعہ سے کرتے تھے۔

(ضرورۃ الامام ص ١٧، خزائن ج ١٣ ص ٤٨٧، ٤٨٨)

”میرا یہ دعویٰ نہیں کہ دمشق میں کوئی مثیل مسیح پیدا ہو جائے۔ میں نے صرف مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ میرا یہ بھی دعویٰ نہیں کہ صرف مثیل ہونا یا میرے پر ہی ختم ہو گیا بلکہ ممکن ہے کہ آئندہ زمانوں میں میرے جیسے اور دس ہزار مثیل مسیح آ جائیں ۔“

(ازالۃ اوہام ص ١٩٩، ٢٠٠، خزائن ج ٣ ص ١٩٧)

”مجدد صاحب سرہندی نے ایک کشف میں دیکھا کہ آنحضرت ﷺ کو ان کے طفیل خلیل اللہ کا مرتبہ ملا اور اس سے بڑھ کر شاہ ولی اللہ نے دیکھا کہ گویا آنحضرت ﷺ نے ان کے ہاتھ پر بیعت کی ہے۔ مگر انہوں نے بہ باعث بسط علم کے وہ خیال نہ کیا۔ بلکہ تاویل کی۔“

(ضرورۃ الامام ص ٤٠، خزائن ج ١٣ ص ٥٠٠)

٦٦

صفحہ ٣٧١

”سچ تو یہ ہے کہ امت محمدیہ میں کئی کروڑ ایسے بندے ہوں گے جن کو الہام ہوتا ہوگا۔“

(ضرورۃ الامام ص ٢٤،خزائن ج ١٣ ص ٤٩٤)

بھی۔ چنانچہ قرآن مجید فرماتا ہے: ”لا يحيطون بشئ من علمه الا بما شاء لا علم لنا الا ما علمتنا يغفر لمن يشاء ويعذب من يشاء ويرحم من يشاء قل لو كان البحر مدادا لكلمات ربى لنفد البحر قبل ان تنفد كلمات ربى ولو جئنا بمثله مدداً “ پس ایسے صاف مسئلہ پر بحث کرنا نہ محض عمداً قرآن مجید کا خلاف کرنا ہے بلکہ عام مشاہدہ قدرت کو بھی جھٹلانا ہے۔ کیونکہ خدا کی قدرتوں اور حکمتوں کا غیر محدود ہونا عالم کے ذرہ ذرہ سے ظاہر ہے۔ جسکی تحقیقات میں تمام حکماء آج تک حیران و سرگرداں ہیں۔

اعتراض و مخالفت دیکھ کر آیت قرآنی پیش کی ہے۔ ”ومن اظلم ممن ذكر بايت ربه ثم اعرض عنها انا من المجرمين منتقمون“

علمتنا“ میں نے چند آیات قرآنی پیش کی ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ مدار نجات کسی ایک انسان کے ماننے یا نہ ماننے پر منحصر نہیں بلکہ خدا کے ماننے اور اعمال صالحہ پر منحصر ہے۔

قدر علم ضرور ملا ہے۔ ”من قال لا اله الا الله دخل الجنة“ قرآن کریم نے بھی فرمایا ہے۔ ”وسعت رحمتى كل شئ“

کامیابی کا کوئی راستہ نہیں رکھا۔ بلکہ میں تو اسی پاک کتاب میں جو تذکرۃ للعالمین ہے صاف پاتا ہوں۔ ”هديناه السبيل اما شاكراً واما كفوراً ونفس وماسواها فالهمها فجورها وتقوها قد افلح من زكها وقد خاب من دسها فطرة الله التى فطر الناس عليها لا تبديل لخلق الله ذلك الدين القيم له اسلم من فى السموت والارض طوعاً وكرها واليه يرجعون“

٦٧

صفحہ ٣٧٢

فیصدی ہیں۔ کیونکہ وہ عام طور پر مرزا قادیانی کی نسبت مان رہے ہیں: ”انت منی وانا منك انت منى بمنزلة اولادى . الله يحمدك من العرش . لولاك لما خلقت الا افلاك“ اس آخری الہام سے تو ظاہر ہے کہ تمام انبیاء بھی مرزا قادیانی کی خاطر ہی پیدا ہوئے تھے۔ ”کہ بر درش رسولاں ناز کردند“ بھی اسی تحقیر رسل کا مصداق ہے۔ پھر منارہ اور بہشتی مقبرہ کے واسطے چندہ دے کر یہ لوگ شرک کا عملی ثبوت دے رہے ہیں۔

تو رسول نہیں۔ چنانچہ وہ اپنے الہامی قصیدہ میں خود ظاہر کر چکا ہے۔

من نیستم رسول ونیاوردہ ام کتاب
ہاں ملہم ہستم و ز خداوند منذرم

اس کی خلاف ورزی سے کوئی شخص بے ایمان یا کافر نہیں ہو سکتا۔ جیسا کہ اس خط کی ذیل ٢ میں خود مرزا قادیانی کے اقوال درج ہیں۔ جن میں وہ یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ مجھ جیسے دس ہزار مثیل مسیح امت محمدیہ میں ہو سکتے ہیں۔

آیت آپ نے نقل کی اس میں اُمم کا لفظ ہے اور ایک دوسری آیت میں ہے: ”وما ارسلنا فی قرية من نبى الا اخذنا اهلها بالباساء والضرآء لعلهم يضرعون“ اس آیت میں فی قریۃ اور اھلھا کا لفظ صاف بتلا رہے ہیں کہ جس قریہ میں کوئی نبی آتا ہے اور صاف طور پر اپنے بیان اور نشانات سے تبلیغ کرتا ہے۔ تب وہاں کے لوگ مصائب اور نقصانات اٹھاتے ہیں نہ کہ دور دراز دیہات اور امصار کے لوگ۔ جن کو اس نبی کی خبر تک بھی نہیں ہوتی۔ ایسا ہی آیات ذیل سے ظاہر ہے: ”وان من قرية الا خلا فيها نذير وان من امة الا خلا فيها نذير“ چنانچہ واقعات سے بھی یہی ثبوت ملتا ہے کہ موسیٰ علیہم السلام کی مخالفت سے فرعون اور اس کا لشکر تباہ ہوئے۔ ایسا ہی قارون معہ اپنے آدمیوں کے ہلاک ہوا، ایسا ہی اقوام ہود وصالح ونوح ولوط وغیرہ علیہم السلام کا حال ہوا۔ آنحضرت ﷺ کی مخالفت سے گردن کشاں مکہ ہلاک ہوئے اور وہ بھی کامل تبلیغ اور سخت مخالفت کے بعد ایسا کبھی نہیں ہوا کہ نبی کی مخالفت تو مکہ میں ہوئی اور ہلاک ہوئے کلکتہ، عدن، جاپان، روس، کانگڑہ، فارموسا اور سانس فرانسسکو۔ یہ ایک صاف بات ہے کہ مرزا قادیانی کی خلاف ورزی کے مجرم وہی لوگ ہو سکتے ہیں جن پر پہلے تو یہ بات ثابت ہو جائے کہ...... فی الحقیقت مرزا قادیانی خدا کا مرسل ہے۔ پھر یہ ثابت ہو جائے کہ جو تعلیمیں پہلے سے ان

٦٨

صفحہ ٣٧٣

کوئی ہیں باطل ہیں۔ پھر جو حکم مرزا قادیانی کی طرف سے پہنچتا ہے وہ بیشک خدا کا حکم ہے۔ اس کے بعد اگر وہ عمداً حکم الٰہی کا خلاف کریں تب وہ بیشک مجرم اور قابل سزا ہیں۔ اے نورالدین یہ باتیں آپ کی شان سے بہت بعید ہیں۔

العالمین تھے نہ کہ مرزا قادیانی کی طرح دنیا کے خون کے پیاسے۔ اس لئے سخت سے سخت دکھ اور ذلت اٹھا کر بھی آپ کے اندر انتقامی جوش پیدا نہیں ہوا تھا۔ بلکہ رحم ہی جوش میں تھا۔ اس لئے مکہ والوں پر عذاب ہجرت کے بعد آیا۔ بٹالہ، امرتسر اور لاہور میں بھی تو مرزا قادیانی کی سخت مخالفت ہو رہی ہے۔ پھر وہ کیوں نہیں ہلاک ہوتے۔ مگر سان فرانسسکو، فارموسا، اٹلی اور کولمبیا اور ایکواڈور تباہ ہو گئے۔ اے نورالدین ایسی اندھی باتیں تو آپ کے علم اور فہم اور خلوص سے بہت بعید ہیں۔ کیا سچ ہے ”حب الشیء یعمی ویصم“

انکار کرنا یا ان کی مخالفت کرنا شقاوت اور بے ایمانی کی دلیل ہے۔ آسمانی کتابوں میں جہاں اور ہزاروں حکم ہیں ان میں اطاعت رسول کا حکم بھی بکثرت ہے۔ مگر ان تمام میں سب سے بڑا حکم جس کے بغیر نجات مل ہی نہیں سکتی۔ وہ توحید ہے۔ جیسا کہ آیات ذیل سے صاف ظاہر ہے۔ ”ان الله لا یغفر ان یشرك به ویغفر ما دون ذلك لمن یشاء بلی من اسلم وجهه لله وهو محسن فله اجره عند ربه فلا خوف علیهم ولا هم یحزنون“

علیٰ التناسب عامل ہونا لازمی ہے۔ تمام اوامر کی پابندی اور تمام نواہی سے بچنا اور تمام عقائد پر ایمان رکھنا لوازمات ایمان وتقویٰ میں سے ہیں۔ مگر کم سے کم درجہ ایمان وتقویٰ کا جو کشتی نجات ہوسکتا ہے وہ بحکم قرآن وحدیث اسی قدر ہے۔ ”من قال لا اله الا الله فدخل الجنة“ نور الدین اور ایسے مغالطہ آمیز دلائل۔

ہم دیکھتے ہیں کہ ظاہری مجسٹریٹ تمام جرم کی سزا قانون کے مطابق پوری نہیں دیا کرتے۔ خدائے عالم تو ارحم الراحمین اور مختار مطلق ہے۔ اس کی شان ہے: ”یغفر لمن یشاء ویعذب من یشاء“ وہ جس کو چاہے معاف بھی کر سکتا ہے۔ جیسا کہ اس نے خود فرمایا ہے: ”ان الله لا یغفر ان یشرك به ویغفر ما دون ذلك لمن یشاء“ ایسا ہی خلاف مہدی اس طرف اور کذب کے

٦٩

صفحہ ٣٧٤

جرم مرزا قادیانی کی نسبت ظاہر ہیں۔ اگر ایک ایک جرم پر پکڑ ہو تو کیا ٹھکانا ہے۔ ”فامّا من خفّت موازینه فهو فی عیشة راضیة واما من خفت موازینه فامّه هاویه“ صحیح اور بالکل صحیح کہ ہر انسان کی نجات اس کے رحم اور فضل سے ہو سکتی ہے۔

”كل آمن بالله وملئكته وكتبه ورسله لا نفرق بين احد من رسله“ اسی طرح پر میں تمام انبیاء علیہم السلام کو بلا تفریق مانتا ہوں۔ ہاں! مرزا قادیانی نے ضرور تفریق کی جب یہ کہا کہ خدا کا ماننا اور تمام رسولوں کا ماننا اور تمام اعمال ہیچ جب تک مجھ کو نہ مانا جائے۔ مرزا قادیانی نے خدا کی عظمت و جلال کو خاک میں ملا دیا اور تمام انبیاء کو اپنا خادم ہونا ظاہر کر دیا۔ جب یہ شائع کیا کہ خدا فرماتا ہے کہ اگر تو نہ ہوتا تو میں آسمانوں کو پیدا نہ کرتا۔ میں تو یقیناً جانتا ہوں کہ قرآن مجید اور احادیث صحیحہ کا ماننا ہے۔ تمام رسولوں کا ماننا ہے۔ تمام غلطیوں سے بچنے کا سیدھا اور آسان راستہ یہی ہے جو ان کے خلاف ہے۔ وہ سراسر لغو اور شیطانی امر ہے۔ اسی بناء پر مجھے مرزا قادیانی کا خلاف کرنا پڑا۔ صد ہا عمل خلاف شان انبیاء جو مرزا قادیانی سے صادر ہوئے ان میں سے چند ایک آپ کی توجہ کے لئے پیش کرتا ہوں۔

کتاب کی طبع میں کبھی توقف نہ ہوگا۔ مگر اب تک نہ باقی کتاب چھپی اور نہ چندوں کا کچھ فیصلہ ہوا۔ پھر سراج منیر کی مفت اشاعت کے لئے چودہ سو روپیہ چندہ کا اعلان شائع کیا گیا اور بہت سا چندہ وصول بھی ہوا۔ مگر جب وہ مدتوں کے بعد شائع ہوا تو قیمتًا دیا گیا۔ پھر رسالہ ماہواری یعنی قرآنی صداقت جلوہ گاہ کا اشتہار دیا گیا کہ وہ ٢٠؍ جون ١٨٨٥ء سے ماہ بماہ نکلا کرے گا۔ پھر نشان آسمانی کے ص ٤٢، ٤٣ میں باہمت دوستوں سے امداد چاہی۔ اے مرداں بکوشید و برائے حق جوشید! اور یہ بھی ارشاد جاری کیا کہ ایک رسالہ جو میری طرف سے شائع ہو میرے دوست اس میں پوری مدد دیں اور ذی مقدر لوگ زکوٰۃ سے میری کتابیں خرید کر مفت تقسیم کریں اور میری تالیفات اور بھی ہیں جو نہایت مفید ہیں۔ مثلاً رسالہ احکام القرآن، اربعین، فی علامات المقربین، سراج منیر، تفسیر کتاب عزیزی پھر جلسہ دسمبر ١٨٩٣ء میں پریسوں کے لئے ٢٥٠ روپیہ ماہوار کی ضرورت پیش کی اور فرمایا کہ ہر ایک دوست اس میں بلا توقف شریک ہو اور ماہوار چندہ تاریخ مقررہ پر بھیجتا رہے۔ اس سے بقیہ براہین اور اخبارات اور آئندہ رسائل کا کام جاری رہ سکتا ہے۔ اب چندوں کی امداد ڈھائی سو سے بھی تین چار گنی زیادہ ہے مگر براہین احمدیہ، تفسیر کتاب عزیزی اور

٧٠

صفحہ ٣٧٥

رسائل ماہوار وغیرہ کا کہیں نام ونشان نہیں۔ جو کتابیں نکلتی بھی ہیں ان کی قیمت اصل سے تین چار گنی زیادہ وصول کی جاتی ہے۔ تمام چندہ بمعہ مد زکوٰۃ سب بلا حساب پیٹ میں ہی ہضم ہو رہی ہے۔ کیا تمام نبی اور رسول ایسے ہی بدعہد اور شکم پرور تھے؟ کیا عمل قابل متابعت ہے۔ اے نورالدین آپ نے مرزا قادیانی کو رسول مان کر اطیعون تو سنا دیا پر ان کے عملوں کو بھی دیکھا کہ وہ عمل انبیاء علیہم السلام کی طرح واجب الاطاعت بھی ہیں یا نہیں؟

دوم ..... کذب بیانی: جب براہین کی طبع کے واسطے تو روپیہ موجود نہیں تھا نہ چھوٹے سے رسالہ سراج منیر کے لئے۔ پھر ہزاروں روپیہ کے انعامی اشتہار کیسے دیئے گئے۔ کیا یہ کذب میں داخل نہیں؟ فہرست حاضرین جلسہ ١٨٩٣ء کی فہرست جو دافع الوساوس میں شائع ہوئی تھی۔ مزید چھپنے کے بعد اس میں تراش خراش کرکے ٣١٣ کی تعداد انجام آتھم میں شائع کی گئی۔ کیا یہ کذب نہیں؟ بلا علم غیب لوگوں کو حرام زادہ اور بددیانت کہنا کذب نہیں ہے؟ تو کیا ہم بھی اسی طرح جھوٹ بولا کریں۔ تا کہ ان کی متابعت پوری پوری ہو جائے؟

سوم ..... فحش گوئی: بیچارے مولویوں کو جو محض اسلام کی خاطر خلاف کرتے رہے ان کو ولد الحرام، خنازیر، کور چشم، درندہ، ذریت شیطان، حرام زادہ، شیطان، دیو، گمراہ، فرعون، خبیث القلب ان پر لعنتوں کی جوتیاں پڑیں۔ ہزاروں لاکھوں بار۔ اندھیرے کے کیڑے، اوباش، لومڑی۔ تمام دنیا سے بدتر دجال، بطال، جھوٹ کا گوہ کھانے، چوہڑے چمار، جاہل وحشی، سور، بندر، زندیق، سفلہ، کتے، بچھو، مادر زاد اندھے، مردار خور مولوی، نمک حرام، ہامان، ہندوزادہ تو پھر کیا یہ عمل مرزا قادیانی کا واجب الاطاعت ہے؟ اور ہم دن رات لوگوں کو فحش گالیاں نکالا کریں؟ یا قرآن کریم کی اطاعت کریں جو فرماتا ہے۔ ”لا تسبو الذین یدعون من دون اللہ “ یا ارشاد خاتم النبیینؐ کا جو فرماتے ہیں: ”لیس المؤمن بالطعان ولا باللعان ولا الفاحش ولا البذی“

چہارم ..... آرام طلبی اور شکم پروری: مرزا قادیانی کا تو یہ حال ہے کہ اسلامی خدمت کے نام پر سات آٹھ سو روپیہ ماہوار چندہ جمع کیا۔ خود مزے سے کھایا اور دوسروں کو کھلایا۔ عنبر، مشک، کیوڑا، بید مشک، مقویات محرکات اور مغز جات بکثرت استعمال ہوتے رہے۔ ایک عبدالکریم کی بیماری میں من ڈیڑھ من پختہ برف لگاتار لاہور سے آتی رہی۔ بیوی صاحبہ کے پاس زیور اور روپیہ اس قدر ہو گیا کہ مرزا قادیانی نے چار ہزار روپیہ کا زیور اور ایک ہزار روپیہ نقد ان سے لے کر اپنا باغ تئیس سال کی میعاد پر ان کے پاس رہن رکھا۔ سفر بھی کیا تو محض بیوی صاحبہ کی خاطر سیکنڈ کلاس میں

٧١

صفحہ ٣٧٦

دہلی کا۔ مکانات بھی وسیع اور فراخ بناو۔ برعکس اس کے خاتم النبیین سید المرسلین کا یہ حال کہ سونے کے لئے اکثر زمین پر بستر ۔ رہنے کے لئے ایک چھوٹا سا جھونپڑا۔ کھانے کے لئے عموماً ستو یا نان جو اور وہ بھی اکثر ندارد۔ کبھی تین تین یوم کا فاقہ۔ اب فرمائیے کہ مرزا قادیانی کی آرام طلبی اور شکم پرستی واجب الاطاعت ہے یا سید المرسلین کی جفاکشی اور ایثار اور نفس کشی۔

ارشادات سید المرسلین کی اطاعت جن میں حج کی بابت سخت تاکید ہے۔

سے سہ چند چہار چند رکھ کر ان کا نفع اپنے صرف میں لانا۔ کیا میں بھی اپنی دینی کتابوں کے لئے ایسا ہی کیا کروں؟

ڈریں؟

پشت در پشت چلے آتے تھے بند ہو گئے اور ان میں باہم صلح و محبت ہو گئی۔ چنانچہ قرآن مجید فرماتا ہے: ”اذ کنتم اعداء فالف بین قلوبکم فاصبحتم بنعمته اخوانا وکنتم علی شفا حفرة من النار فانقذکم منها “ مگر آج گالم گلوچ ہو کر مرزا قادیانی نے مسلمانوں کو ایسا پھاڑ دیا کہ ظاہر اتفاق ناممکن ہو گیا۔ اب فرمائیے خاتم النبیین ﷺ کے صلح خیز اخلاق قابل اتباع تھے یا مرزا قادیانی کے فتنہ انگیز عمل؟

در فوج اسلام میں داخل ہو کر یہ الہامات الٰہی نازل ہوئے ۔ ” اذا جاء نصر الله والفتح ورایت الناس یدخلون فی دین الله افواجا فسبح بحمد ربک واستغفرہ انہ کان توابا “ مگر آج تیرہ کروڑ مسلمانوں کو اسلام سے خارج کر کے اور ملعون و جہنمی بنا کر مرزا قادیانی پر یہ الہام نازل ہوتے ہیں کہ تو مجھ سے اور میں تجھ سے ہوں ۔ تو میرے واسطے ایسا ہے جیسا کہ میری اولاد۔ جس سے تو راضی اس سے میں راضی۔ اگر تو نہ ہوتا تو میں آسمانوں کو پیدا نہ کرتا ۔ خدا عرش پر تیری حمد کرتا ہے۔ ”سبحان الله ماشاء الله “

خط میں پہلی کتابوں میں تو یہ شائع کیا تھا کہ میرے نہ ماننے سے کوئی کافر نہیں بن جاتا ۔ یہ تو ان ہی

٧٢

صفحہ ٣٧٧

نبیوں کی شان ہوتی ہے۔ جو نئی تعلیم اور کتاب لے کر آتے ہیں۔ میرے جیسے دس ہزار مثیل مسیح امت محمدیہ میں ہو سکتے ہیں۔ مگر آج یہ کہتے ہیں کہ مجھ کو نہ ماننے والا کافر اور جہنمی ہے۔

روپے برباد کرنے کا فضول عمارات بنوانا ہے۔

قرآنی تفاسیر مفت شائع ہو سکتی ہیں۔ ایسے وقت میں جب کہ اسلام مفلس ہے۔ اسلامی روپیہ کو فضول عمارات میں صرف کرنا سخت ظلم ہے۔

ضرور مسئلہ پر جو باعث نجات ہو سکتا ہے، کوئی ارشاد نہیں فرمایا۔

جائیں نہ ان پر عمارتیں بنائی جائیں اور نہ ان پر کتبے لکھے جائیں۔

بنیں۔ غلام احمد کا مدفن بہشتی مقبرہ بن جائے۔

بلکہ ایسے آسان طریق نجات سے دنیا کو محروم چھوڑ گئے۔

اپنے انبیاء کی قبروں کو مساجد بنالیا۔

نَفْسٍ شَیْئاً" جب کوئی نفس ہی کام نہیں آسکتا تو اس کا مقبرہ دوسروں کے کیسے کام آسکتا ہے۔

٧٢

صفحہ ٣٧٨

منك : لولاك لما خلقت الافلاک “ اے نورالدین میں آپ کو زیادہ کیا لکھوں اور کیا سمجھاؤں آپ تو میرے سے بدرجہا زیادہ واقف ہیں۔ پس کیا یہ صحیح بات نہیں کہ جو الہامات قرآنی وحی کے خلاف ہوں۔ ان کو شیطانی سمجھا جائے اور ہر الہام کے لئے قرآن کریم کو میزان اور حکم بنایا جائے؟

چہار دہم ...... نبوت انبیاء کی تحقیر: ازالہ اوہام میں مسیح علیہ السلام کی پیشین گوئیوں پر طنزاً کہا۔ کیا یہ بھی کوئی پیشین گوئی ہے کہ زلزلے آئیں گے۔ مری پڑے گی۔ لڑائیاں ہوں گی اور قحط پڑیں گے۔ پھر ایسی پیشین گوئیوں کو عظیم الشان بتایا جا رہا ہے۔

پانزدہم ...... مسیح علیہ السلام کے معجزات: کو مسمریزم کے کرشمے قرار دے کر فرمایا کہ اگر یہ عاجز اس عمل کو مکروہ اور قابل نفرت نہ جانتا تو ان اعجوبہ نمائیوں میں حضرت مریم سے کم نہ رہتا۔ اس خالی شیخی کا ثبوت کیا ہے؟

شانزدہم ...... بھیک مانگنا: البدر ٢٣، ٣٠ جنوری میں شائع کیا ہر ایک بیعت کنندہ پر فرض ہے کہ حسب توفیق ماہواری یا سہ ماہی لنگر خانہ کا چندہ روانہ کرتا رہے۔ ورنہ ہر تین ماہ کے بعد اس کا نام بیعت سے خارج ہوگا۔ کیا تمام انبیاء ایسے ہی پیٹ پالتے؟ کیا اس میں ”لا اسئلکم عليه من اجر“ کا خلاف نہیں ہے۔ امید ہے کہ اب جو کچھ آپ تحریر فرماویں گے وہ معقولیت اور خدا پرستی کے ساتھ ہوگا۔ اگر آپ یہ ثابت کر سکیں کہ مرزا قادیانی کے تمام الہامات اور اعمال قرآن مجید وسنن انبیاء کے موافق ہیں تو میں فوراً ذکر الحکیم نمبر ٤ کو جلا دوں گا اور تائب ہو جاؤں گا۔ قبولیت حق سے جب وہ مجھ پر ظاہر ہو جائیں گے۔ انکار ہرگز نہ کروں گا۔ میں تلواروں سے نہیں ڈرتا۔ جیسا کہ مرزا قادیانی گول مول طور پر ٣٠؍ مئی کو وحی میں مجھے ڈراتے ہیں۔ بلکہ خداوند عالم سے دعا کرتا ہوں کہ اگر میری گردن سے اسلام کی کوئی خدمت ہو اور اس رب کا جلال ظاہر ہو تو ایک بار نہیں بلکہ ہزار بار کٹ جائے۔ ہاں! بلا دلیل میں قرآن مجید وسنن انبیاء سے انحراف نہیں کر سکتا۔ مرزا قادیانی کی یہ وحی پڑھنے کے بعد مجھے الہامات ہوئے۔ ”انك لمن المرسلين“ ”تیرے ہاتھ سے دجالی فتنہ پاش پاش کرایا جائے گا۔“ مرزا قادیانی کی نسبت تفہیم ہوئی۔ ”ففريقا كذبتم وفريقاً تقتلون“ اس رسالہ کی بابت الہام ہوا۔ ”ان هو الا ذكر لمن شاء منكم ان يستقيم“ خاکسار: عبدالحکیم خاں ایم بی، از تراوڑی ضلع کرنال، مورخہ ٢٨ مئی ١٩٠٦ء

٧٢

PDF 380

اَنَا خَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ

(صحیح بخاری، مسلم، ترمذی، ابوداؤد، مسند احمد)

المسیح الدجال

ڈاکٹر عبدالحکیم خان پٹیالوی

صفحہ ٣٨٠

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ”نحمده ونصلى على رسوله الكريم“

الذکر الحکیم نمبر : ٥ (مسیح الدجال)

پہلے میرا یہ عقیدہ تھا کہ مسیح علیہ السلام جو رسول تھے فوت ہو چکے اور آنے والے مسیح مرزا غلام احمد قادیانی ہیں جو آچکے۔ عرصہ پچیس سال تک میرا یہی ایمان رہا اور بڑی ارادات کے ساتھ میں مرزا قادیانی کا مرید رہا۔ ان کے عیب اور خطاؤں کو بشری کمزوریوں پر محمول کرتا رہا۔ عالم قرآن اور مزکی خلق ہونے کی نسبت خالی دعوٰی سنتا رہا۔ مگر نہ کبھی کوئی قرآنی مشکل ہی ان کی طرف سے حل ہوئی نہ کوئی نکتہ معرفت ایسا سنا جو مجھے اپنے طور معلوم نہ ہوا ہو۔ نہ ان کی صحبت میں تزکیہ نفس اور رفع الی اللہ کی خاص تاثیر دیکھی جو غیبت میں میسر نہ آئی ہو۔ پھر بھی حسن عقیدت کے طور پر قریباً بیس روپیہ ماہوار سے حتی الامکان ان کے لنگر، سکول، اخبارات اور کتب وغیرہ کی امداد کرتا رہا۔ اردو، انگریزی تفاسیر اور تذکرۃ القرآن ہزاروں روپیہ کے صرف سے ان کی تائید میں شائع کرتا رہا۔ حسن عقیدت کے غلبہ نے کبھی سوچنے نہ دیا۔ ذکر مرزا کی وجہ سے عام مسلمان میری تفاسیر اور دینی رسائل سے فائدہ نہ اٹھا سکے۔ اکثر منصف مذاق اور غیر متعصب اشخاص نے جو میری دینی تصانیف کو پڑھا ان سے بہت مستفید اور محظوظ ہوئے اور میرے نام لکھتے رہے کہ مرزا کے متعلق جو مضامین ان تفاسیر میں ہیں آپ ان کو نکال دیجئے تاکہ عام مسلمان اس سے مستفید ہوسکیں۔ مگر میں نے ان کی تحریروں پر کچھ خیال نہ کیا۔ ”کُل امر مرهون باوقاتها“ آخر کار جماعت کثیر ہو جانے کی وجہ سے جب مرزا قادیانی کی مشیخت اور کبریائی حد سے بڑھتی گئی اور ان کی جماعت میں تمام اسلام پر مرزا پرستی غالب ہوگئی۔ خداوند عالم اور تمام انبیاء کا استہزاء ہونے لگا۔ تب میں نے تعطیلات محرم وہولی میں مرزائیوں کو بمقام پٹیالہ چند ضروری مضامین پر لیکچر دینے شروع کئے اور ابتداء اسماء الہی، دلائل بر ہستی باری تعالیٰ اور تفسیر الحمد سے کی۔ کیونکہ جماعت احمدی میں خاص مرزا قادیانی کے اذکار کا جوش ایسا غالب ہو گیا کہ تسبیح و تقدیس اور تحمید باری تعالیٰ قریب قریب مفقود ہو گئے۔ یا محض برائے نام رسمی طور پر رہ گئے اور سوائے اس ایک مسئلہ کے اور تمام قرآنی تعلیموں کا چرچا جاتا رہا اور اس ایک ہی مسئلہ کا مذاق رہ گیا ہے۔ گویا پرستش باری تعالیٰ کی بجائے مرزا قادیانی کی پرستش قائم ہو گئی اور عملی طور پر ان کا کلمہ ”لا اله الا المرزا“ ہو گیا۔ کیونکہ الہ یعنی معبود و مطلوب وہی ہے جس کی سب سے زیادہ طلب کی جائے اور جس کی سب سے زیادہ ٢

پرستش کی جائے۔ چنانچہ خود مرزا ق الذي خلقكم والذين من قب کو اور ان تمام کو جو تم سے پہلے تھے بلکہ تم حیات دنیاوی کو اختیار کر ر تھے۔ اگر وہ ان الہامات کو نظر غور ا دن رات ان کی مجلسوں میں یہی ا ہوتا ہے۔ مگر اس ذکر سے وہ کبھی نہیں قرآن از اوّل تا آخر اللہ تعالیٰ کی کرتا ہے۔ با تزکیہ نفس اور اصلاح مدلل اور معقول بحثیں کرتا ہے۔ اِس ایک محمدﷺ کی ہی حمد و ستائش نما ان کی جماعت کا عموماً حال ہے۔ عملی نمونہ ہیں ان ایام میں جب کہ کرتا تھا۔ فرمایا کرتے تھے کہ مرزا

پھر اس پر طرفہ تر یہ تبلیغ کامل خارج از اسلام سمجھے ا لیکچر دیئے تھے کہ احمدی لوگ گھبر کہ آپ مرزا قادیانی کا ذکر کیو الحمد للہ کی تفسیر ہے۔ ابھی تو ”رب الدین “ کی تفسیر بھی نہیں ہوئی سے بعض نے یہ بھی کہا کہ توحید احمدی مطمئن نہ ہوئے اور روز بر کہا کہ آپ تو حمد الہی کے ساتھ سمجھتا ہوں کہ حمد الہی کے ساتھ مر ہوا۔ جس قدر میں اس بات پر ز کے تمام مسائل پر علی التناسب

صفحہ ٣٨١

پرستش کی جائے۔ چنانچہ خود مرزا قادیانی کو بھی یہ الہام ہوئے: ”یایھا الناس اعبدوا ربکم الذی خلقکم والذین من قبلکم“ یعنی اے لوگو! تم اپنے اس رب کی پرستش کرو جس نے تم کو اور ان تمام کو جو تم سے پہلے تھے پیدا کیا اور یہ بھی الہام ہوا: ”بل تؤثرون الحیوۃ الدنیا“ بلکہ تم حیات دنیاوی کو اختیار کر رہے ہو۔ یہ ہر دو الہامات ان کی تنبیہ اور تادیب کے لئے کافی تھے۔ اگر وہ ان الہامات کو نظر غور اور نیت عمل سے دیکھتے۔ مگر ذکر مرزا کا مذاق ایسا غالب ہو گیا کہ دن رات ان کی مجلسوں میں یہی ذکر غالب تر ہوتا ہے۔ اخبارات الحکم اور البدر میں بھی یہی ذکر ہوتا ہے۔ مگر اس ذکر سے وہ کبھی نہیں اکتاتے۔ یہ مذاق قرآن مجید کے بالکل مخالف ہے۔ کیونکہ قرآن از اول تا آخر اللہ تعالیٰ کی عظمت و جلال اور قدرت و حکمت کا بیان رنگارنگ پیرایوں میں کرتا ہے۔ یا تزکیہ نفس اور اصلاح اعمال کا اور بشری ضروریات کے ہر پہلو پر علی التناسب نہایت مدلل اور معقول بحثیں کرتا ہے۔ ایسا نہیں کہ خدا کی حمد و ثناء اور تزکیہ نفس کے تمام پہلوؤں کو چھوڑ کر ایک شخص کی ہی حمد و ستائش تمام اذکار پر مقدم اور غالب کر لی ہو۔ جیسا کہ خود مرزا قادیانی اور ان کی جماعت کا عموماً حال ہے۔ خود مولوی نورالدین نے بھی جو جماعت مرزا میں اسلام کا ایک عملی نمونہ ہیں ان ایام میں جب کہ میں تفسیر القرآن بغرض اصلاح مرزا قادیانی اور آنجناب کو سنایا کرتا تھا۔ فرمایا کرتے تھے کہ مرزا کو تو بس ایک وفات مسیح کی بحث سنا دیا کرو۔

پھر اس پر طرفہ تر یہ ہے کہ تیرہ کروڑ مسلمانوں کو جو تیرہ سو سال میں تیار ہوئے ہیں بلا تبلیغ کامل خارج از اسلام سمجھنے لگ گئے ہیں۔ میں نے توحید و عظمت باری تعالیٰ پر تین یا چار ہی لیکچر دیئے تھے کہ احمدی لوگ گھبرائے اور ایک شخص عبدالغنی خاں نام نے جماعت کی طرف سے کہا کہ آپ مرزا قادیانی کا ذکر کیوں نہیں کرتے۔ میں نے جواب دیا کہ ابھی تو حمد ہو رہی ہے اور الحمد للہ کی تفسیر ہے۔ ابھی تو ”رب العالمین، الرحمن، الرحیم“ اور ”مالک یوم الدین“ کی تفسیر بھی نہیں ہوئی۔ حمد کے بعد نعت رسول ﷺ پھر منقبت مرزا ہو گی۔ حاضرین میں سے بعض نے یہ بھی کہا کہ توحید و تحمید باری تعالیٰ بھی مرزا کا مشن ہے۔ مگر ان باتوں سے پکے احمدی مطمئن نہ ہوئے اور روز بروز واویلا بڑھتا گیا۔ آخر کار ایک روز عبدالغنی خاں نے مسجد میں یہ کہا کہ آپ تو حمد الٰہی کے ساتھ مرزا قادیانی کا ذکر کرنا شرک سمجھتے ہیں۔ مگر میں اس بات کو شرک سمجھتا ہوں کہ حمد الٰہی کے ساتھ مرزا قادیانی کا ذکر نہ کیا جائے۔ ان حالات سے مجھ کو سخت افسوس ہوا۔ جس قدر میں اس بات پر زور دیتا تھا کہ کوئی انسان کامل نہیں ہو سکتا۔ جب تک کہ قرآن مجید کے تمام مسائل پر علی التناسب زور نہ دیا جائے۔ ایک ہی مسئلہ پر تل جانا اور اسی کو تمام امور پر

٣

صفحہ ٣٨٢

غالب اور مقدم کرنا ایک قسم کا جنون اور سخت فسادات کی بناء ہے۔ چنانچہ قرآن مجید فرماتا ہے: ”جعلوا القران عضین“ یعنی قرآن کو بوٹی بوٹی کر دیا۔”واعتصموا بحبل اللہ جمیعاً ولا تفرقوا“ اللہ کی رسی کو اکٹھے ہو کر مضبوط پکڑو اور تفرقہ اندازی مت کرو اور تمام تفرقہ اور فسادات کی بناء یہ بتلائی ہے۔”کل حزب بما لدیھم فرحون“ تمام فریق اپنی اپنی بات پر اتراتے ہیں۔ مگر وہ مرزا قادیانی کے دیوانے کب سنتے تھے۔ اتفاقاً مولوی مبارک علی صاحب سیالکوٹی پٹیالہ میں تشریف لائے اور ان کے وعظ شروع ہوئے۔ میں نے ان سے ذکر کیا کہ آپ اپنے تمام وعظوں میں قرآنی عظمت اور قرآنی تعلیم کی ضرورت اور عمل بالکتاب پر زور دیں۔ اگر ہماری جماعت کے لوگ قرآن مجید کے عاشق ہو جائیں یا کم سے کم قرآنی مطالعہ کا اس قدر ہی چرچا ہو جائے۔ جیسا کہ البدر اور الحکم اور مرزا قادیانی کے اشتہارات کا تو ہر قسم کی اخلاقی کمزوریاں اور نقص رفتہ رفتہ دور ہو سکتے ہیں۔ کیونکہ تمام امراض انسانی کا یہی ایک کامل اور یقینی نسخہ ہے۔ ”فیہ شفاء لما فی الصدور“ مولوی صاحب نے بھی اپنے وعظوں میں جب یہ ذکر غالب کیا تو مرزا قادیانی کے دیوانے اور پکے مرزائی تاڑ گئے۔ کہ یہ ڈاکٹر صاحب کی تلقین ہے اور انہیں بہکانا چاہا اور کثیر التعداد ہونے کی وجہ سے غالب ہوئے۔ تب تو انہوں نے قرآن مجید کے انہیں مضامین پر وعظ شروع کر دیئے۔ جن میں مرزا قادیانی کی نسبت استدلال ہو سکتا تھا اور ہر وعظ میں مرزا قادیانی کو محمدﷺ کا مظہر اتم ثابت کرنا شروع کیا۔ اس سے میرا افسوس اور مایوسی اور بھی زیادہ ہو گئی۔ پھر طرفہ تر یہ کہ جب مولوی انشاء اللہ خان صاحب ایڈیٹر الوطن کی تحریک پر مولوی محمد علی و خواجہ کمال الدین وغیرہ نے یہ تجویز پاس کی اور شائع کی کہ ریویو آف ریلیجنز قادیان میں عام اسلامی مضامین شائع ہوا کریں اور خاص مرزا قادیانی کے متعلق ابحاث علیحدہ ضمیمہ میں شائع ہوا کریں۔ جن کو خاص مریدوں کے نام جاری کیا جائے یا دیگر ایسے اشخاص کے نام جو اس کے خود خواستگار ہوں۔ اس تجویز کی اشاعت سے میرا دل قدرے ٹھنڈا ہوا اور میں نے کہا کہ ہماری جماعت میں عالی خیال اور عالی ظرف لوگ بھی ہیں اور اب یہ کام قرآنی رنگ اور خدائی آئین پر چلے گا اور ہمارا پیغام احسن اور بلیغ صورت میں تمام دنیا کو پہنچے گا۔ مگر وہ تمام خوشی خاک میں مل گئی جب پکے مرزائیوں یا مرزا کے شیدائیوں نے اس تجویز کے خلاف شور مچانا شروع کیا اور تیرہ سو سال کے اسلام اور قرآن کی نسبت الحکم والبدر میں شور مچایا۔ کیا ہم مردہ اسلام پیش کریں؟ افسوس کیا قرآن مجید میں کوئی اسرار معرفت اور حیات بخش باتیں نہیں؟ کیا خداوند عالم اور اسلام آج مرزا قادیانی کی وجہ سے زندہ ہوئے اور پہلے مردہ تھے؟ مولوی محمد علی کو مرزائیوں کا شور دبانے کی غرض سے اپنے ٤

اقرار اور عقائد شائع کرنے پڑ... ماہ کی رخصت استحقاقی کے لئے... قرآنی مضامین اور اسی کی ترتیب... اکثر یہی دور ہو کر کل قرآن مجید... تجاویز پر ایک خط و کتابت شروع... خارج کر دیا۔ وہ خط و کتابت علی... پر نیچر مطبع عزیزی مقام ترآؤ... معلوم ہو جائے گا کہ مرزا قادیانی... اور وہ سمجھتے کچھ ہیں۔ بہر امر میں... دیتے ہیں۔ مسلمانوں کو بلاوجہ... ہیں۔ خداوند عالم اسلام اور قرآن... زلزلوں، آتش فشانیوں، وباؤ... میں یا سانس فرانسسکو میں۔ ا... نہ ہو۔ اپنی تکذیب کا حق نتیجہ... و تکذیب قرآن، توہین محمد مصط... جوش حمایت میں از خود رفتہ ہو... کے اصل اور بڑے مکذب کہلائے... بغلیں بجاتے اور عید مناتے ہ... انتظار میں ہیں کہ دنیا تباہ ہو،... ہو۔ وغیرہ وغیرہ!

چونکہ انہوں نے ... خط شائع نہیں کیا۔ اس لئے ... خواب کی بناء پر میں نے یہ ... اصلاح نہ کر لیں۔ میں اپنی ... ان کے متعلق ہیں وہ مشکوک ... اور توبہ شائع نہ کی تو آئند...

صفحہ ٣٨٣

اقرار اور عقائد شائع کرنے پڑے۔ ”انا للہ وانا الیہ راجعون“ انہی ایام میں میں نے تین ماہ کی رخصت استحقاقی کے لئے درخواست پیش کر دی اور دل میں آرزو تھی کہ قادیان پہنچ کر خالص قرآنی مضامین اور اسی کی ترتیب پر لیکچر دیا کروں گا۔ ممکن تھا کہ ان لیکچروں سے ہی یہ مانو مانیا اور اکنٹرکیسی دور ہو کر کل قرآن مجید کا مذاق پیدا ہو جائے۔ مگر میں زیادہ صبر نہ کر سکا اور چند ضروری تجاویز پر ایک خط و کتابت شروع کی جس کا یہ نتیجہ ہوا کہ مرزائے قادیانی نے مجھ کو اپنی جماعت سے خارج کر دیا۔ وہ خط و کتابت علیحدہ بنام الذکر الحکیم نمبر ٤ میں شائع ہو گئی ہے جو ایک آنہ کا ٹکٹ بھیجنے پر منیجر مطبع عزیزی مقام تر آوڑی ضلع کرنال سے مل سکتی ہے۔ اس کے مطالعہ سے صاف طور پر معلوم ہو جائے گا کہ مرزا قادیانی کیسے علم وعمل اور کیسے اخلاق کے انسان ہیں۔ میں لکھتا کچھ ہوں اور وہ سمجھتے کچھ ہیں۔ بہر امر میں بینات قرآنی پیش کرتا ہوں اور وہ ان کو رد کرتے اور میرا قول قرار دیتے ہیں۔ مسلمانوں کو بلا وجہ خارج از اسلام اور غیر ناجی بتلاتے اور تمام عالم کو جہنمی قرار دیتے ہیں۔ خداوند عالم اسلام اور قرآن کو جب تک مرزا قادیانی کی شمولیت نہ ہو مردہ کہتے ہیں۔ تمام زلزلوں، آتش فشانیوں، وباؤں اور حوادثات کو خواہ چلی ایکوے ڈور میں ہوں یا اٹلی میں یا فارموسا میں یا سان فرانسسکو میں۔ الغرض کسی شہر یا گاؤں میں ہوں خواہ ان کو مرزا قادیانی کی خبر بھی ہو یا نہ ہو۔ اپنی تکذیب کا ہی نتیجہ بتلاتے ہیں نہ کہ فسق وفجور، دہریت، کفر شرک، توہین اسلام، توہین وتکذیب قرآن، توہین محمد مصطفے ﷺ وغیرہ جرائم کا۔ خداوند عالم کو ایک باؤلا جھلا اردلی سمجھ لیا۔ جو جوش حمایت میں از خود رفتہ ہو کر مرزائی خاطر دنیا کو تباہ کرتا پھر رہا ہے اور اتنا بھی نہیں سوچتا کہ اس کے اصل اور بڑے مکذب کون ہیں۔ دنیا میں کہیں تباہی آئے تو خود مرزا قادیانی اور ان کے مرید بغلیں بجاتے اور عید مناتے ہیں کہ یہ ہمارے واسطے ایک نشان ظاہر ہوا اور ہر وقت اسی ہوس اور انتظار میں ہیں کہ دنیا تباہ ہو۔ فلاں ہلاک ہو، جس قدر زیادہ تباہی آئے اسی قدر ان کی گہری عید ہو۔ وغیرہ وغیرہ!

چونکہ انہوں نے میرے خلاف البدر اور الحکم میں ایک اعلان شائع کر دیا اور میرا کوئی خط شائع نہیں کیا۔ اس لئے میں نے وہ تمام خط و کتابت علیحدہ شائع کر دی۔ چونکہ ١٣؍مئی کو ایک خواب کی بناء پر میں نے یہ بھی شائع کر دیا تھا کہ جب تک مرزا قادیانی اپنی موجودہ زیادتیوں کی اصلاح نہ کرلیں۔ میں اپنی بیعت واپس لیتا ہوں۔ میری تفاسیر اور تذکرۃ القرآن میں جو مضامین ان کے متعلق ہیں وہ مشکوک سمجھے جائیں اور اگر مرزا قادیانی نے موجودہ زیادتیوں کی اصلاح نہ کی اور توبہ شائع نہ کی تو آئندہ میں ان تمام مضامین کو اپنی تفاسیر میں سے نکال دوں گا۔ چونکہ

٥

صفحہ ٣٨٤

مرزا قادیانی کی طرف سے اصلاح اور توبہ کی کوئی امید نہیں رہی۔ اس لئے جس قدر تفاسیر میرے پاس تھیں ان میں سے وہ مضامین نکال دیئے ہیں اور ان کی بجائے حاشیہ لگا دیا ہے اور تمام خریداران تفاسیر کے نام بھی یہ اوراق بھیج دیئے ہیں تاکہ وہ اپنی تفاسیر میں سے اوراق از صفحہ ٢٣٩ تا ص٢٩٠ نکال کر یہ اوراق چسپاں کر لیں۔ جن بناؤں میں عقیدہ مسیحیت ومہدویت ومجددیت مرزا سے تائب ہوا ہوں وہ مختصراً حسب ذیل ہیں:

کے ساتھ تعلق رکھنے کو حرام بتلانا۔ چنانچہ (تحفہ گولڑویہ ص٢٨ حاشیہ، خزائن ج١٧ ص٦٤) پر لکھتے ہیں: ”یاد رکھو کہ جیسا خدا نے مجھے اطلاع دی ہے تمہارے پر حرام ہے اور قطعی حرام کہ کسی کافر اور مکذب یا متردد کے پیچھے نماز پڑھو۔“

پھر الحکم مورخہ ٢٤ مئی ١٩٠٥ء میں شائع کیا کہ: ”وہ شخص میری جماعت سے خارج ہے جو احمدی ہو کر بھی اپنے رشتہ ناطے غیر احمدیوں سے کرے۔“

موجودہ خط و کتابت میں تو مکفر یا مکذب یا متردد کی شرط بھی اڑا دی۔ بلکہ بار بار یہی لکھتے رہے کہ: ”تیرہ کروڑ مسلمان جو مجھ کو نہیں مانتے سب کے سب جہنمی اور خارج از اسلام ہیں۔ خواہ ان پر تبلیغ ہوئی ہو یا نہ ہوئی ہو ۔“ میں نے جب لکھا کہ امت محمدیہ میں جو لوگ ہماری تکذیب نہیں کرتے اور ہمیں صریحاً کافر نہیں کہتے ان تمام کو کافر نہ سمجھا جاوے۔ بلکہ حسن ظنی سے کام لیا جائے اور ان کے ساتھ نماز پڑھنے کی اجازت دی جائے۔ میری اس تحریر پر ایسے طیش میں آئے کہ: ”مجھے مرتد قرار دیا“ اور حواس باختہ ہو کر میرے خطوں کا جواب کچھ سے کچھ دیتے رہے۔ یہ ایک مسئلہ کہ مرزا قادیانی کے ماننے پر نجات منحصر ہے۔ ایسا خبیث اور باطل ہے کہ اس سے ساری خدائی باطل ٹھہرتی ہے۔ اول تو یہ ربوبیت باری تعالیٰ کے خلاف ہے۔ کیونکہ جس قدر کسی شئے کی زیادہ ضرورت ہے۔ اسی قدر رب العالمین نے وہ چیز زیادہ عام کی ہے۔ مثلاً ہوا اور پانی پس اگر مرزا قادیانی کے ماننے پر نجات کا انحصار ہوتا تو رب العالمین اپنی قدرت سے اس کا ایسا انتظام کرتا کہ ہر ایک شخص کی فطرت میں جیسا کہ اس کی ربوبیت منقوش ہے۔ ویسا ہی مرزا غلام احمد مسیح بھی منقوش ہو جاتا۔ بلکہ زمین و آسمان میں پکار پڑجاتی کہ نجات کا مدار غلام احمد کے ماننے پر ہے۔ اس پر ایمان لانے کے بغیر توحید، عبادت اور اعمال سب باطل ہیں۔

اعضاء اور علوم دیئے ہیں۔ مثلاً ہر حیوان فطرتی طور پر اپنی غذا، اپنے طریق بودو باش اور اپنے

اپنے کاموں کو جانتا ہے۔ ایسا ہی ہر نیکی وبدی کو پہچانتا ہے۔ مگر یہ ایمان فطرت نہیں۔

ایمان نہ لائے۔ اس وقت تک اس

ماننے پر منحصر ہے۔

خدا کا ماننا + خدا کا ماننا + پس آپ کا کلمہ یہ ہوا ” صالحہ پر نہیں بلکہ مرزا کے ماننے پر م

ہوتا ہے۔ اسی قدر اس کی اشاعت سے ثابت نہ ہو جائے۔ اس وقت جاتا۔ آپ کا مقدمہ ہی آپ کی کرنے میں عدالت نے کس قدر سنی۔ آخر میں فریقین کے بیانات کے لئے اتنا بھی کسی سے نہیں پوچ نہیں۔ پھر تو کس وجہ سے مخالف حاضر وناظر جو ہوئے کچھ تو سوچ خدا ایک لمحہ تو اپنے گریبان میں ج یا آپ کے مرید ہر فرد بشر کو آپ آپ اور آپ کی جماعت ہیں ج اور کافر بنا رہے ہیں۔ عام م محسن، ہمدرد، خیرخواہ، راست ر

صفحہ ٣٨٥

اپنے ناموں کو جانتا ہے۔ ایسا ہی ہر انسان چلنا، پھرنا، دیکھنا، سننا، سونا، جاگنا، فطرتاً جانتا ہے اور نیکی و بدی کو پہچانتا ہے۔ مگر یہ ایمان کہ مرزا غلام احمد کا ماننا نجات کے واسطے لازمی ہے۔ کسی کی فطرت نہیں۔

سوم...... یہ ایمان رحمانیت باری تعالیٰ کا منافی ہے کہ جب تک کوئی انسان مرزا غلام احمد قادیانی پر ایمان نہ لائے۔ اس وقت تک اس کا رحم ممکن نہیں۔

چہارم...... یہ ایمان مالک یوم الدین کا معطل کنندہ ہے۔ کیونکہ نجات مرزا غلام احمد قادیانی کے ہی ماننے پر منحصر ہے۔

پنجم...... یہ ایمان تمام خدائی اور فطرت اللہ کا باطل کنندہ ہے۔ غور کرو مساوات جبریہ پر۔

خدا کا ماننا + اعمال صالحہ + مرزا پر ایمان = نجات
خدا کا ماننا + اعمال صالحہ = یعنی ہیچ

پس آپ کا کلمہ یہ ہوا ”لا الہ الا المرزا“ کیونکہ مدار نجات اللہ کے ماننے اور اعمال صالحہ پر نہیں بلکہ مرزا کے ماننے پر ہے۔ خدا کا ماننا اور اعمال صالحہ سب ہیچ ہیں۔

ششم...... یہ ایمان قواعد عدل و انصاف کے خلاف ہے۔ کیونکہ جس قدر کوئی قانون نہایت اہم ہوتا ہے۔ اسی قدر اس کی اشاعت عام کی جاتی ہے اور جب تک کسی شخص پر ایک حکم پہنچنا قطعی طور سے ثابت نہ ہو جائے۔ اس وقت تک وہ اس کے خلاف سرکشی اور عدول حکمی کا مجرم نہیں ٹھہرایا جاتا۔ آپ کا مقدمہ ہی آپ کی رہبری کے لئے کافی تھا کہ محض ازالہ حیثیت عرفی کا جرم قائم کرنے میں عدالت نے کس قدر تحقیقات کی گواہوں کے بیانات لئے۔ آپس کی جرح مدتوں تک سنی۔ آخر میں فریقین کے بیانات کا موازنہ کر کے مدلل فیصلہ لکھا۔ مگر آپ تو تمام دنیا کو جہنمی بنانے کے لئے اتنا بھی کسی سے نہیں پوچھتے کہ تیرے پاس ہم پر ایمان لانے کے لئے کافی دلائل پہنچے یا نہیں۔ پھر تو کس وجہ سے مخالف ہے۔ کیوں نہ ہو آسمانی حکم جو ہوئے۔ علام الغیوب اور ہر جگہ حاضر و ناظر جو ہوئے کچھ تو سوچو۔ خداوند عالم، قرآن مجید اور اسلام کو کیوں ذلیل کرتے ہو۔ براہ خدا ایک لمحہ تو اپنے گریبان میں منہ ڈال کر دیکھو کہ کیا تمام دنیا کے ہر فرد بشر پر آپ خود تبلیغ کر چکے یا آپ کے مرید ہر فرد بشر کو آپ کی مسیحیت کا قائل کر چکے؟ نہیں ہرگز نہیں۔ بلکہ عدم تبلیغ کے مجرم آپ اور آپ کی جماعت ہیں جو ایسے اہم احکام کو دبائے ہوئے گھر بیٹھے ہیں اور تمام دنیا کو سرکش اور کافر بنا رہے ہیں۔ عام مسلمانوں میں لاکھوں خدا پرست، پابند صوم صلوٰۃ، تہجد گذار، محسن، ہمدرد، خیر خواہ، راست باز، متقی، منصف مزاج، حلیم، شریف، پارسا، اوامر پر عامل اور

٧

صفحہ ٣٨٦

منہیات سے بچنے والے ہیں۔ خدا کے واسطے روزہ رکھنے، حج کرنے، فسق و فجور، جھوٹ، ظلم، فریب اور ریا سے بچتے اور اللہ تعالیٰ کے واسطے جان و مال نثار کرنے کو تیار ہیں۔ کبھی انجمن حمایت اسلام، ندوۃ العلماء اور کانفرنس کے جلسوں میں شریک ہو کر تو دیکھو۔ مگر آپ تمام کو بلا تفتیش یک قلم خارج از اسلام اور جہنمی بتلا رہے ہیں۔ یہ کیسا غضب ہے جو عالی شان عمارت اسلام تیرہ سو سال میں تیار ہوئی تھی۔ وہ آپ نے گرا دی اور جو ایک دو لاکھ جماعت آپ نے تیار کی وہ کل کو کسی اور امام کے آنے سے ہلاک ہو جائے گی۔

خاتم النبیین سید المرسلین حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ نے ایسے شخصوں کو جو خدا پرست موحد، مخیر، عابد اور عادل تھے کبھی جہنمی قرار نہیں دیا۔ بلکہ اویس قرنی، حاتم طائی اور نوشیرواں کو عزت کے الفاظ سے یاد فرمایا۔ اہل کتاب کو بدیں الفاظ دعوت فرمائی۔ ”تعالوا الی کلمۃ سواء بیننا وبینکم ان لا نعبد الا اللہ ولا نشرک بہ شیئا“ ایک بات کی طرف آ جاؤ جو ہم میں اور تم میں برابر ہے۔ وہ یہ کہ ہم اللہ کے سوائے اور کسی کی عبادت نہ کریں اور نہ کسی شئے کو اس کا شریک ٹھہرائیں۔ ”ولو انہم اقاموا التوراۃ والانجیل وما انزل الیہم من ربہم لا کلوا من فوقہم ومن تحت ارجلہم“ اور اگر وہ تورات و انجیل کو اور اس (تعلیم) کو قائم کرتے جو ان کی طرف ان کے رب کی طرف سے نازل ہوئی وہ اپنے اوپر سے بھی کھاتے اور اپنے پاؤں کے نیچے سے بھی: ”ان الذین آمنوا والذین ہادوا والنصاریٰ والصابئین من آمن باللہ والیوم الآخر وعمل صالحاً فلہم اجرہم عند ربہم ولا خوف علیہم ولا ہم یحزنون“ جو لوگ مسلمان ہو گئے یا جو یہودی یا عیسائی یا ستارہ پرست وغیرہ ہیں جو کوئی اللہ کو اور یوم آخرت کو مانے اور اچھے عمل کرے ان کے واسطے ان کے رب کے پاس اجر ہے۔ پس ان پر کوئی خوف نہیں اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ ”بلیٰ من اسلم وجہہ للہ وہو محسن فلہ اجرہ عند ربہ ولا خوف علیہم ولا ہم یحزنون“ بلکہ جو کوئی آپ کو اللہ کے حوالہ کر دے اور محسن بنے اس کے واسطے اس کے رب کے پاس اجر ہے۔ پس ان پر کوئی خوف نہیں نہ وہ غمگین ہوں گے۔ اکثر آیات میں ایک ایک کمال کے ساتھ مغفرت اور فلاح کے وعدے ہیں مثلاً آیات ذیل میں: ”ان الابرار لفی نعیم وان الفجار لفی جحیم“ تحقیق نیک لوگ بہشت میں ہیں اور بدکار لوگ دوزخ میں ۔ ”قد افلح من زکہا وقد خاب من دسہا“ تحقیق مراد کو پہنچا وہ جس نے نفس کو پاک کیا اور نامراد رہا وہ جس نے اسے ناپاک کیا۔ ”ان رحمت اللہ قریب من المحسنین“ تحقیق اللہ کی رحمت محسنوں کے

٨

صفحہ ٣٨٧

قریب ہے۔ ”لمن خاف مقام ربہ جنتان“ جو اپنے رب کے جاہ و جلال سے ڈرتا ہے اس کے واسطے دو بہشتیں ہیں۔ ”ومن یتوکل علی اللہ فھو حسبہ“ جو اللہ پر بھروسہ کرے اس کے واسطے کافی ہے۔ ”ومن یتق اللہ یجعل لہ مخرجاً ویرزقہ من حیث لا یحتسب“ جو اللہ سے ڈرتا ہے وہ اس کے واسطے خلاصی کے راستہ پیدا کر دیتا ہے اور اس کو ایسی جگہ سے رزق دیتا ہے جہاں سے وہ گمان نہیں کرتا۔

حدیث صحیح میں ہے: ”من قال لا الہ الا اللہ فدخل الجنۃ“ جس نے اپنے حال اور قال سے یہ بتایا کہ اللہ کے سوائے کوئی معبود اور مطلوب نہیں ہے۔ پس وہ بہشت میں داخل ہوگیا۔ ”ان الدین عند اللہ الاسلام“ ”ومن یبتغ غیر الاسلام دیناً فلن یقبل منہ وہو فی الاخرۃ من الخاسرین“ تحقیق اللہ کے نزدیک مقبول دین اسلام ہے جو اسلام کے سوائے اور کسی دین کا متلاشی ہو وہ کبھی مقبول نہ ہوگا اور وہ آخرت میں زیاں کاروں میں سے ہوگا۔ اس اسلام کی وسعت فرمائی۔ ”ولہ اسلم من فی السمٰوٰت والارض طوعاً وکرھا“ اس کے واسطے مسلمان ہے جو کوئی بھی آسمانوں میں ہے یا زمین میں۔ خواہ رضا و رغبت سے ہو یا مجبوراً اس عالمگیر اسلام کا نام فطرت اللہ بھی رکھا۔ جیسا کہ آیات ذیل میں ہے: ”فطرت اللہ التی فطرالناس علیھا لا تبدیل لخلق اللہ ذالك الدین القیم ولکن اکثر الناس لا یعلمون“ فطرت اللہ وہ ہے جس پر لوگ پیدا کئے گئے ہیں۔ خلق اللہ کے واسطے کوئی تبدیلی نہیں۔ یہ دین راست اور پائیدار ہے۔ حضرت رحمت للعالمین نے فرمایا بچے فطرت اسلامی پر پیدا ہوتے ہیں۔ پھر ان کے ماں باپ ان کو یہودی کر لیتے ہیں یا نصرانی۔ اسی فطرت دینی کی نسبت قرآن مجید فرماتا ہے۔ ”انا ھدیناہ السبیل اما شاکراً واما کفوراً“ ہم نے اس کو راستہ بتلادیا مگر کوئی اس کی قدر کرتا ہے اور کوئی ناقدری۔ ”فالھمھا فجورھا وتقوٰھا“ نفس کے اندر بدی اور نیکی کا علم ڈال دیا۔ پس سچا اور پائیدار یہی دین ہے جو ہر ایک انسان کی فطرت میں منقوش کیا گیا ہے۔ جس کا خلاف کرنا نور باطن سے سرکشی کرنا اور اپنی فطرت کو بگاڑنا ہے۔ جو دین اس فطری دین یعنی اسلام کے خلاف ہے وہ صریحاً مردود ہے۔ مگر افسوس اس عالمگیر فطری اسلام کی نسبت ہر فریق اور ہر مذہب یہی سمجھتا ہے کہ وہ اسلام جو مدار نجات ہے۔ میرے ہی حصہ میں آگیا۔ چنانچہ آج مرزائی کہتے ہیں کہ وہ اسلام ہمارا ہے۔ باقی تمام مسلمان اور تمام دنیا خارج از اسلام اور جہنمی ہے۔ خواہ وہ کیسے ہی موحد، خدا پرست، صالح، راست باز، عابد، زاہد، عادل، رحیم، حلیم، نیک اور متقی کیوں نہ

٩

صفحہ ٣٨٨

ہوں۔ گویا کہ خدا رب العالمین تو نہیں۔ بلکہ وہ کسی ایک فریق کا رشتہ دار یا غلام ہے۔ اعمال ١٠/٣٥ میں ہے۔ ”اب مجھے یقین ہو گیا کہ خدا کسی کا طرفدار نہیں بلکہ ہر قوم میں جو اس سے ڈرتا ہے اور راست بازی کرتا ہے۔ وہ اس کو پسند آتا ہے۔“

ہاں! جو لوگ مسلمان ہو چکے یا جن پر تبلیغ کامل ہو کر حقانیت قرآن مجید اور افضلیت اسلام ثابت ہو چکی ہو وہ عمداً ارتداد یا خلاف کریں تو بیشک شقی اور جہنمی ہیں۔ مگر جن لوگوں پر اسلام کی صحیح تبلیغ نہیں ہوئی مثلاً اہالیان یورپ و امریکہ وجزائر پر وہ ان حکموں کے نیچے نہیں آسکتے جو مسلمانوں کے لئے ہیں۔ بلکہ وہ آیات ذیل کے تحت میں ہیں۔ ”وما کنا معذبین حتی نبعث رسولا “ ہم کسی کو عذاب کرنے والے نہیں۔ جب تک ہم رسول نہ بھیج لیں۔ ”لا یکلف الله نفساً الا وسعها “ اللہ کسی نفس کو اس کی وسعت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔ ”ان الله لا یغفر ان یشرک بہ ویغفر ما دون ذلک لمن یشاء “ اللہ شرک کو نہیں بخشتا اور اس کے سوائے ہر گناہ کو جس کے لئے چاہے بخش دیتا ہے۔ اب میں ان آیات قرآنی کو ذیل میں پیش کرتا ہوں جن سے مرزا قادیانی اور اس کے مرید استدلال کرتے ہیں کہ مرزا قادیانی کے ماننے کے بغیر نہ تو کوئی مسلمان نجات پاسکتا ہے نہ کوئی اور انسان۔

ذنوبکم “ تو سنادے اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری اتباع کرو۔ اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے لئے تمہارے گناہ بخش دے گا۔ یہ صحیح اور بالکل صحیح ہے کہ ہر نبی اور امام کا اتباع خدا رسی کا آسان اور سیدھا راستہ ہے۔ مگر اس میں یہ کہاں ارشاد ہے کہ جن لوگوں کو رسول کی خبر نہیں اور وہ خدا پرست اور نیک عمل ہیں جہنمی اور غیر ناجی ہیں۔

الحق من ربهم کفر عنهم سیاتهم واصلح بالهم “ جو لوگ مسلمان ہوگئے اور اچھے عمل کرتے ہیں اور جو محمد پر اتارا گیا ہے اور وہ ان کے رب کی طرف سے حق ہے، ایمان لاتے ہیں۔ اللہ ان کی بدیوں کو ان سے دور کرے گا اور ان کے حال کو درست کرے گا۔ یہ بھی حق اور سراسر حق ہے کہ جو مسلمان باعمل ہیں اور محمدی تعلیمات کو مانتے ہیں وہ بخشے جائیں گے اور نجات پائیں گے۔ مگر اس آیت میں یہ کہاں ارشاد ہے کہ جن بیچاروں پر قرآن مجید کی تبلیغ نہیں ہوئی ان کے ایمان اور اعمال صالحہ اکارت جائیں گے۔

١٠

صفحہ ٣٨٩

شقاق" پس اگر وہ بھی ایسا ہی ایمان لائیں جیسا کہ تم ایمان لائے ہو پس وہ مراد کو پہنچ گئے اور اگر وہ پھر جائیں تو بیشک ایک سخت اختلاف میں ہیں۔ اس آیت میں بھی ان خدا پرست اور نیک لوگوں کو جو اسلام سے بے خبر ہیں جہنمی قرار نہیں دیا گیا۔

بیشک جن لوگوں پر رسالت کی تبلیغ ہو چکی اور یہ حکم بھی پہنچ گیا اور وہ منکر رہے تو وہ بیشک کافر اور سزاوار جہنم ہیں۔ مگر جن لوگوں پر کسی رسول کی تبلیغ کما حقہ نہیں ہوئی وہ تو اسی حکم سے مستفید رہیں گے۔ "ما کنا معذبين حتی نبعث رسولاً" ہم کسی کو عذاب کرنے والے نہیں جب تک رسول نہ بھیج لیں۔ "لا يکلف الله نفساً الا وسعها" اللہ کسی نفس کو اس کی وسعت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔ پس کوئی انسان غیب داں تو ہے نہیں کہ بلا تبلیغ بھی وہ کسی حکم کا جواب دہ ہو سکے۔

کے اقوال قرآن مجید میں بکثرت ہیں کہ ہماری اطاعت کرو اور بیشک انبیاء علیہم السلام کی اطاعت نجات کا آسان اور سیدھا راستہ ہے اور دانستہ ان سے انکار کرنا یا ان کی مخالفت کرنا شقاوت اور بے ایمانی کی دلیل ہے۔ آسمانی کتابوں میں جہاں اور ہزاروں حکم ہیں ان میں اطاعت رسول کا حکم بھی بکثرت ہے۔ مگر ان تمام میں سب سے بڑا حکم جس کے بغیر نجات مل ہی نہیں سکتی وہ توحید ہے۔ جیسا کہ آیات ذیل سے صاف ظاہر ہے: "ان الله لا يغفر ان يشرك به ويغفر ما دون ذلك لمن يشاء" ، "بلی من اسلم وجهه لله وهو محسن فله اجره عند ربه ولا خوف عليهم ولاهم يحزنون"

يحافظون" جو لوگ آخرت کو مانتے ہیں وہ اس کو بھی مانتے اور اپنی نمازوں کی محافظت کرتے ہیں۔ ایمان کے لوازمات محض اسی قدر نہیں جو ان آیات میں مذکور ہوئے۔ بلکہ تمام قرآن پر علی التناسب عامل ہونا لازمی ہے۔ تمام اوامر کی پابندی اور تمام نواہی سے بچنا اور تمام عقائد پر ایمان رکھنا لوازمات ایمان وتقویٰ میں سے ہیں۔ مگر کم سے کم درجہ ایمان وتقویٰ کا جو مقتضی نجات ہو سکتا ہے وہ بحکم قرآن وحدیث اسی قدر ہے۔ "من قال لا اله الا الله فدخل الجنة" جو شخص مسلمان ہو چکا وہ تو تمام احکام قرآنی کے نیچے آ چکا۔ مگر جو شخص مسلمان نہیں ہوا یا جس کو اسلام کی خبر نہیں اور اگر خبر ہے تو غلط خبر ہے۔ وہ تو اپنے فطری ایمان کی رو سے جوابدہ ہو سکتا ہے۔

١١

صفحہ ٣٩٠

اور خدا ترس کا مفہوم مختلف انسانوں میں مختلف ہے۔ خود مفسرین قرآن نے اس کے معنوں میں بڑے اختلاف کئے ہیں۔ اس میں تو کوئی کلام نہیں کہ اتقاء مدار نجات ہے۔ مگر جو شخص قرآن مجید سے واقف ہے اس کے نزدیک تو اتقاء کی تفصیلات کچھ اور ہیں اور جو ناواقف ہیں اس کے نزدیک اور، پس عالم القرآن تو قرآن مجید کی رو سے پکڑا جائے گا کہ اس نے اس کے مطابق پوری اصلاح کی یا نہیں اور جس شخص کو قرآن مجید کی مطلق خبر نہیں وہ اپنے فطری نور کے مطابق پکڑا جائے گا کہ اس نے اس کے مطابق اصلاح کی یا نہیں بدی سے بچا، یا نہیں۔

الغرض یہ ایک صاف اور بدیہی الثبوت بات ہے کہ جن لوگوں کو قرآن مجید کی تعلیم مل چکی وہ اس کی اطاعت کے ذمہ دار ہیں۔ جن کو قرآنی تعلیم میسر نہیں ہوئی وہ اپنی فطری تعلیم کی رو سے نیکی اور بدی کے ذمہ دار ہیں۔ نیکی کا اجر پائیں گے اور بدی کی سزا۔ ”فالهمها فجورها وتقوٰها قد افلح من زكّٰها وقد خاب من دَسّٰها“ مرزا قادیانی کا یہ مسئلہ کہ میرے ماننے کے بغیر نجات نہیں۔ رب العالمین کی ربوبیت عامہ، الرحمٰن اور الرحیم کی رحمانیت ورحیمیت تامہ کو پامال کرنے والا اور کل عالم کی سعید فطرتوں اور نیک عملوں پر جھاڑو پھیرنے والا ہے۔ کسی نبی یا رسول نے آج تک یہ نہیں فرمایا کہ کل دنیا کے خدا پرست لوگ قطعی جہنمی ہیں۔ جب تک وہ مجھ پر ایمان نہ لائیں خواہ ان پر میری تعلیم کی تبلیغ ہوئی ہو یا نہ ہوئی ہو۔ الغرض یہ مسئلہ کہ خدا کا ماننا اور تمام اعمال صالحہ ہیچ ہیں۔ جب تک مرزا قادیانی کو مدار نجات نہ مانا جائے۔ محض قرآن وحدیث، فطرت صحیحہ اور عقل سلیمہ کے خلاف ہے۔ بلکہ عالمگیر فسادوں کی جڑ اور تمام اخلاق حمیدہ کا زائل کرنے والا ہے۔ کیونکہ جب ایک فریق دوسروں کو کافر اور جہنمی کہتا ہے تو ہر فریق کا حق ہے کہ باقیوں کو ایسی ہی حقارت اور نفرت سے دیکھے اور تمام تعلقات اخوت انسانی کو توڑ کر ایک دوسرے کا جانی دشمن بن جائے۔ مسلمان جو مغربی تہذیب کے اثر سے وسیع الظرف ہو کر اتفاق کے قریب ہو چلے تھے۔ مرزا قادیانی کی گالم گلوچ اور تکفیر بازی نے سخت اختلاف اور عداوت کی تحریک پیدا کر دی۔

ورسله ویقولون نؤمن ببعض ونکفر ببعض ویریدون ان یتخذوا بین ذلك سبیلاً ٠ اولئك هم الکفرون حقاً واعتدنا للکفرین عذاباً مهیناً“ یہ آیت مولوی نور الدین نے اپنے خط میں پیش کی تھی۔ جس سے ان کا یہ مطلب معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی

١٢

صفحہ ٣٩١

بھی ایک رسول ہے۔ اس کو نہ ماننا کفر اور جہنمی بننا ہے۔ اول: تو یہ دعوٰی بلا دلیل ہے۔ دوم: خود مرزا قادیانی اپنے الہامی قصیدہ میں شائع کر چکے ہیں ۔

من نیستم رسول و نیاوردہ ام کتاب
ہاں ملہم استم وز خداوند منذرم

ازالہ اوہام میں جو خدائی امداد سے تیار ہوا تھا شائع کر چکے ہیں کہ میرے نہ ماننے سے کوئی مسلمان کافر یا بے ایمان نہیں ہو جاتا۔ یہ تو ان ہی نبیوں کی شان ہے جو نئی کتاب اور شریعت لے کر آتے ہیں کہ ان کی مخالفت سے انسان کافر ہو جاتا ہے۔ چہارم: مرزا قادیانی کے اعمال ایسے ہیں جو خلاف سنت انبیاء اور معمولی دیانت و امانت سے بھی گرے ہوئے ہیں جن کا بیان آگے آتا ہے۔ پنجم: خود مرزا قادیانی نے انبیاء میں تفریق کی۔ جب کہ (دافع البلاء ص ١٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣) میں شائع کیا ۔ ”آج تم میں ایک ہے جو اس مسیح سے بڑھ کر ہے۔ آج تم میں ایک ہے جو اس حسین سے بڑھ کر ہے۔“ ششم: مرزا نے (اعجاز احمدی ص ٥٨ ،خزائن ج ١٩ ص ١٧٠) میں یہ شائع کیا۔ ”تکدرماء السابقین وعیننا الی آخر الایام لا تتکدر“ پہلوں کے پانی مکدر ہو گئے۔ مگر ہمارا چشمہ تاقیامت مکدر نہ ہوگا۔ ہفتم: مرزا قادیانی نے تمام نبیوں کو ہیچ سمجھا۔ جب یہ الہام شائع کیا ۔ ”لولاك لما خلقت الافلاك“

دوم....... ذاتی مشیخت کا جنون اور اسی کے مطابق حدیث النفس۔ جیسا کہ الہامات ذیل سے صاف ظاہر ہے۔ اگر تو نہ ہوتا تو میں آسمانوں کو پیدا نہ کرتا۔ تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے ہوں۔ اے شمس اور اے قمر۔ تو مجھے ایسا ہے جیسا کہ میری اولاد عرش پر خدا تیری حمد کرتا ہے۔ ایک طرف تو رسالت کا دعوٰی ۔ دوسری طرف ایسے خلاف شریعت الہامات اگر منہاج نبوت کا دعوٰی نہ ہوتا تب بھی ایسے الہامات کا جواز نہ ہوتا۔ حضرت محمد ﷺ کے اندر ہر وقت حمد الٰہی اور اصلاح عالم کا جوش تھا۔ اس لئے زمین و آسمان ، پرند و چرند ، بحر و بر ، شجر بادل و گرج شمس و قمر لیل و نہار سب کچھ آپ کی حمد الٰہی کرتے ہوئے دکھائی اور سنائی دیتے تھے۔ تمام قرآن مجید از اول تا آخر تحمید و تسبیح، تقدیس و تہلیل ، توحید اور تمجید باری تعالیٰ سے بھرا ہوا ہے ۔ ”لا اله الا الله، سبحان الله، يسبح لله ما في السمٰوات والارض“ وغیرہ اپنی نسبت اسی قدر بیان ہے ۔ ”انما انا بشر مثلكم يوحى الى، ما محمد الا رسول، محمد عبده ورسوله“ جا بجا ایمانی اور اخلاقی اور روحانی اصلاحوں کی تعلیم ہے۔ مگر آپ کے اندر جو اپنی مشیخت کا خیال ہر وقت جوش زن ہے خلق خدا سے مطلق ہمدردی نہیں۔ خداوند عالم کی عظمت آپ کے اندر بہت کم ہے۔ اس لئے

١٣

صفحہ ٣٩٢

آپ کے الہامات اسی رنگ کے ہوتے ہیں۔ ”واللہ یحمدک من السماء“ اللہ تیری آسمانوں میں حمد کرتا ہے تو مجھ سے اور میں تجھ سے ہوں۔ تو مجھ سے ایسا ہے جیسا کہ میری اولاد۔ اے شمس اے قمر، قرآنی وحی میں کہیں یہ رنگ نہیں ہے۔ بلکہ ولد کے لفظ پر یہاں تک غضب ظاہر فرمایا ہے: ”تکاد السمٰوات یتفطرن منہ وتنشق الارض وتخر الجبال ھداً ان دعوا للرحمن ولداً“ تمام قرآن میں کہیں محمدﷺ کی تحمید نہیں۔ کہیں محمد کی نسبت ایسے الفاظ نہیں۔ بلکہ جابجا خداوند عالم کی ہی تحمید اور تقدیس ہے اور خلق خدا کے لئے وعظ ونصیحت ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ مجھ پر ایمان لانے کے بغیر نجات نہیں۔ مگر محمدﷺ فرماتے ہیں۔ ”من قال لا الہ الا اللہ دخل الجنۃ ولو سرق وزنی“ آپ کا دارو مدار پیش گوئیوں پر ہے۔ مگر محمدﷺ ہر وقت اصلاح ایمان اعمال واخلاق کی طرف مشغول تھے۔ آپ کے الہام میں ہے۔ ”رب سلطنی علی النار“ اے میرے رب مجھے آگ پر اختیار دے۔ قرآن مجید فرماتا ہے۔ اللہ مالک یوم الدین ہے۔ ”لمن الملک الیوم للہ الواحد القھار من ذالذی یشفع عندہ الا باذنہ“ آپ کے الہام میں آپ کی نسبت ہے۔ ”یا شمس یا قمر“ کیا سورج کی طرح آپ کے وجود پر ہمیشہ سے کسی عالم کا نظام قائم ہے۔ جیسا کہ نظام شمسی پر زمین اور سیاروں کا ہے۔ کیا سورج کی طرح ہمیشہ آپ کا نور یکساں طور پر کل عالم دنیا کو پہنچ رہا ہے۔ کیا شمس کی طرح ایک سیکنڈ کے لئے بھی آپ آرام نہیں کرتے۔ جیسا کہ سورج کے طفیل ہوائیں چلتی، بادل آتے، بجلیاں چمکتی، تمام دنیا کے کھیت اور باغات پرورش پاتے اور پکتے اور تمام دنیا کے کام چلتے ہیں۔ کیسا ویسا ہی آپ کے طفیل تمام عالم کو ہمیشہ سے اور ہر وقت روحانی رزق ملتا ہے۔ روحانی پرورش ہوتی ہے اور تمام دنیا کا دارومدار آپ کے ہی نور پر ہے۔ ہرگز نہیں بلکہ آپ کے نور نے ایک قادیان کو کیا اپنی جماعت اور اپنے کنبہ کو بھی منور نہیں کیا۔ قرآنی وحی میں سید المرسلین کا نام محض سراج منیر یعنی روشن چراغ ہے نہ کہ شمس قمر، قرآنی وحی میں الحمد للہ ہے۔ آپ کی وحی میں ”اللہ یحمدک من السماء“ ہے۔ حمد کا لفظ محمد اور محمود میں بصیغہ مفعول ضرور آیا ہے۔ جسمیں اصلی معنوں سے کبھی تنزل ہو جایا کرتا ہے۔ مگر آنحضرت ﷺ کی نسبت کہیں نہیں۔ ”اللہ یحمدک من السماء یا محمد“

سوم ..... بہشتی مقبرہ کی بنیاد: اس سے اوّل تو قرآن مجید کے مفصل اور کامل ہونے کا دعویٰ باطل ہوتا ہے۔ کیونکہ اس نے ایسے ضروری مسئلہ پر جو باعث نجات ہو سکتا ہے کوئی ارشاد نہیں فرمایا۔ دوم: ان تمام احادیث صحیحہ کی تردید ہوتی ہے جن میں ارشاد ہے کہ قبریں اونچی نہ کی جائیں نہ ان پر

١٤

عمارتیں بنائی جائیں اور نہ ان پر کتبہ لکھے جا توہین ہے کہ ان کے مدفن بہشتی مقبرہ نہ بنے۔ النبیین کی نادانی ثابت ہوتی ہے کہ آخر وقت طریق نجات سے دنیا کو محروم چھوڑ گئے۔ ی یہود پر خدا کی لعنت انہوں نے اپنے انبیاء کے درگاہ کے لئے ایک مستقل اور عظیم ال اغلباً پیران کلیر، سرہند، اجمیر، نظام الدین جس میں اس وقت اکثر مسلمان مبتلا ہیں صاف فرماتا ہے: ”لا تزر وازرۃ وزر جب کوئی نفس ہی کام نہیں آسکتا تو اس استدلال ہے جو میں نے مرزا قادیانی مقبرہ دوسروں کے کیسے کام آسکتا ہے؟ ”انت منی وانا منک“ (ایک ”لولاک لما خلقت الافلاک“ چہارم ..... رب العالمین کو ایک باؤلا مح شہروں کو ..... تباہ کرتا پھر رہا ہے اور اتا کون ہیں۔ قرآن مجید تو یہ فرماتا ہے: ” بالباسآء والضرآء لعلھم ی بتلا رہے ہیں کہ جس قریہ میں کوئی نبی آ ہے۔ وہاں کے لوگ مصائب اور نقصا جن کو اس نبی کی خبر تک نہیں ہوتی۔ ایسا ”ان من امۃ الا خلا موسیٰ علیہ السلام کی مخالفت سے فرعون کے ہلاک ہوا۔ ایسا ہی اقوام ہود وصال کی مخالفت سے گردن کشان مکہ ہلاک بعد۔ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ نبی کی مخالفت

صفحہ ٣٩٣

عمارتیں بنائی جائیں اور نہ ان پر کتبہ لکھے جائیں۔ سوم: سید المرسلین اور خلفائے راشدین کی سخت توہین ہے کہ ان کے مدفن بہشتی مقبرہ نہ بنیں۔ غلام احمد کا مدفن بہشتی مقبرہ بن جائے۔ چہارم: خاتم النبیین کی نادانی ثابت ہوتی ہے کہ آخر وقت تک بہشتی مقبرہ کا کوئی انصرام نہ کیا۔ بلکہ ایسے آسان طریق نجات سے دنیا کو محروم چھوڑ گئے۔ پنجم: اس حدیث کا سخت خلاف ہے جس میں ارشاد ہے:۔ یہود پر خدا کی لعنت انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مساجد بنالیا۔ بہشتی مقبرہ کی بنیاد سے آپ کے ورثاء کے لئے ایک مستقل اور عظیم الشان ریاست تو ضرور پیدا ہو جائے گی۔ یہ سب آپ کو انبیاء، پیران کلیر، سرہند، اجمیر، نظام الدین اولیاء وغیرہ کے مزاروں سے ملا ہے۔ ششم: عام قبر پرستی جس میں اس وقت اکثر مسلمان مبتلا ہیں اس کی عملی تائید اور پورا استحکام ہے۔ ہفتم: قرآن مجید صاف فرماتا ہے: ”لا تزر وازرة وزرا اخرى“ ”لا تجزى نفس عن نفس شيئا“ جب کوئی نفس ہی کام نہیں آسکتا تو اس کا مقبرہ دوسروں کے کام کیسے آسکتا ہے۔ (یہ الہامی استدلال ہے جو میں نے مرزا قادیانی کے سامنے کیا) جب کوئی نفس ہی کام نہیں آسکتا تو اس کا مقبرہ دوسروں کے کیسے کام آسکتا ہے؟ نہم: قرآن مجید میں کسی نبی کی نسبت یہ الفاظ نہیں ہیں: ”انت منى وانا منك“ (ایک خواب میں میں نے مرزا کے ساتھ ان الفاظ پر بحث کی) ”لولاک لما خلقت الافلاک“

چہارم....... رب العالمین کو ایک باؤلا جھلا اردلی سمجھنا: جو مرزا قادیانی کی خاطر دور دراز ملکوں اور شہروں کو...... تباہ کرتا پھر رہا ہے اور اتنا بھی نہیں دیکھتا کہ مرزا قادیانی کے اصلی اور بڑے مکذب کون ہیں۔ قرآن مجید تو یہ فرماتا ہے: ”وما ارسلنا فى قرية من نبى الا اخذنا اهلها بالبأساء والضراء لعلهم يضرعون“ اس آیت میں فی قریہ اور اہلہا کا لفظ صاف بتلا رہے ہیں کہ جس قریہ میں کوئی نبی آتا ہے اور صاف طور پر اپنے بیان اور نشانات سے تبلیغ کرتا ہے۔ وہاں کے لوگ مصائب اور نقصان اٹھاتے ہیں نہ کہ دور دراز دیہات اور امصار کے لوگ۔ جن کو اس نبی کی خبر تک نہیں ہوتی۔ ایسا ہی آیات ذیل میں۔ ”ان من امة الا خلا فيها نذیر“ چنانچہ واقعات سے بھی یہی ثبوت ملتا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کی مخالفت سے فرعون اور اس کا لشکر تباہ ہوئے۔ ایسا ہی قارون مع اپنے آدمیوں کے ہلاک ہوا۔ ایسا ہی اقوام ہود وصالح ولوط وغیرہ علیہم السلام کا حال ہوا۔ آنحضرت ﷺ کی مخالفت سے گردن کشان مکہ ہلاک ہوئے اور وہ بھی دس سال کی کامل تبلیغ اور سخت مخالفت کے بعد۔ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ نبی کی مخالفت تو مکہ میں ہوئی اور ہلاک ہوئے کلکتہ، عدن، جاپان، روس،

١٥

صفحہ ٣٩٤

کاگڑہ، فارموسا اور سانس فرانسسکو۔

اگر تکذیب کا ہی نتیجہ طاعون اور زلزلہ ہوں تو پہلے آپ کے سخت مخالفین ۔ مثلاً پیسہ اخبار، مولوی ثناء اللہ، مولوی محمد حسین، جعفر زٹلی، مولوی کرم دین گروہ پشاوریاں۔ سب سے پہلے مخالفین قادیان جن پر تبلیغ کماحقہ ہو چکی مبتلا ہوں۔ ان زلزلوں اور آتش فشانیوں کی نسبت قرآنی وحی میں کیسا صاف درج ہے۔ ”تکاد السمٰوت يتفطرن منه وتنشق الارض وتخر الجبال هداً ان دعوا للرحمن ولداً“ افسوس آپ نے اور آپ کی جماعت نے اپنی کبریائی کے نشہ میں قرآنی پیش گوئی کو ایسا حقیر سمجھا کہ ذاتیات سے باہر مطلق نظر نہ رہی۔

پنجم ...... قرآن، حدیث اور تیرہ سو سالہ اسلام کو مردہ قرار دینا۔

ششم ...... خداوند عالم کی فطرت کو لعنت قرار دینا: چنانچہ آپ پہلے خط کے آخر میں لکھتے ہیں کہ

”فطری ایمان ایک لعنتی چیز ہے۔ جب تک اس کو نشانوں سے قوت نہ ملے۔“

ہفتم ...... متواتر خلاف عہدیاں: براہین احمدیہ کے سرورق پر شائع کیا کہ اب اس کتاب کی طبع میں کبھی توقف نہ ہوگا۔ مگر اب تک نہ باقی کتاب چھپی اور نہ چندوں کا کچھ فیصلہ ہوا۔ پھر سراج منیر کی مفت اشاعت کے لئے چودہ سو روپیہ چندہ کا اعلان شائع کیا گیا اور بہت سا چندہ وصول بھی ہوا۔ مگر جب وہ مدتوں کے بعد شائع ہوا تو قیمتًا دیا گیا۔ پھر رسالہ ماہواری یعنی قرآنی طاقتوں کے جلوہ گاہ کا اشتہار دیا گیا کہ وہ ٢٠؍ جون ١٨٨٥ء سے ماہ بماہ نکلا کرے گا۔ پھر (نشان آسمانی ص ٤٤، ٤٣، خزائن ج ٨ ص ٤٠٨، ٤٠٩) میں باہمت دوستوں سے امداد چاہی۔ ”اے مرداں بکوشید و برائے حق جوشید! اور یہ بھی ارشاد جاری کیا کہ ہر ایک رسالہ جو میری طرف سے شائع ہو میرے دوست اس میں پوری مدد دیں اور ذی مقدرت لوگ زکوٰۃ سے میری کتابیں خرید کر مفت تقسیم کریں اور میری تالیفات اور بھی ہیں جو نہایت مفید ہیں۔ مثلاً رسالہ احکام القرآن، اربعین، فی علامات المقربین، سراج منیر، تفسیر کتاب عزیز۔“ پھر جلسہ دسمبر ١٨٩٣ء میں پریسوں کے لئے ٢٥٠ روپیہ ماہوار کی ضرورت پیش کی اور فرمایا کہ ہر ایک دوست اس میں بلا توقف شریک ہو اور ماہوار چندہ تاریخ مقررہ پر بھیجتا رہے۔ اس سے بقیہ براہین اور اخبار آئندہ رسائل کا کام جاری رہ سکتا ہے۔

اب چندوں کی آمد ڈھائی سو سے بھی تین چارگنی زیادہ ہے۔ مگر براہین احمدیہ، تفسیر کتاب عزیز اور رسائل ماہوار وغیرہ کا کہیں نام و نشان نہیں۔ جو کتابیں نکلتی بھی ہیں ان کی قیمت اصل سے تین چارگنی زیادہ وصول کی جاتی ہے۔ تمام چندہ بمعہ مد زکوٰۃ سب بلا حساب پیٹ میں ہی ہضم ہو رہے ہیں۔ کیا تمام نبی اور رسول ایسے ہی بدعہد اور شکم پرور تھے؟ بیعت کی شرائط ایسی جو

١٦

صفحہ ٣٩٥

اسلام کی روح کہی جاسکتی ہیں تاکہ بہت مسلمان داخل ہو جائیں۔ مگر بعد میں یہ اعلان دیا گیا کہ جو لنگر کا چندہ ادا نہ کرے وہ جماعت سے خارج کیا جائے گا۔ پھر جب اہلیان سیالکوٹ نے ایک تحریک پیش کی کہ لنگر کی آمد و خرچ کے انتظام کے واسطے ایک کمیٹی مقرر ہونی چاہئے تو آپ نے طیش میں آکر یہ جواب دیا۔ ”کیا میں کسی کا خزانچی ہوں ۔“ اور جب یہ تحریک پیش ہوئی کہ لنگر کا انتظام توجہ طلب ہے مہمانوں کو تکلیف ہوتی ہے تو از خود رفتہ ہو کر جواب دیا ”کیا میں بھٹیاری ہوں؟“ سبحان اللہ ! وصولیت چندہ کے تو ہمیشہ تقاضے اخباروں اور اشتہاروں میں شائع ہوتے رہیں جو تین ماہ تک چندہ ادا نہ کر سکے وہ جماعت سے خارج کیا جائے۔ مگر اس کا انتظام یا حساب کتاب ندارد۔

پھر بیچارے مسافروں کی تعلیم و تربیت کے واسطے کوئی خیال نہیں۔ نہ کوئی ایسا مکان ہے جس میں بیچارے کسی وقت مقررہ پر جمع ہو کر ضروری باتوں پر تعلیم حاصل کیا کریں۔ جو پہنچتے ہیں محض خوش عقیدگی کے طور پر دو چار یوم مکلف کھانے کھا کر چلے آتے ہیں۔ انجمن حمایت اسلام جو مرزا قادیانی کے نزدیک ایک جہنمی اور گمراہ فرقہ ہے اس کی تواضع کا یہ حال ہے کہ جب دو چار یوم کے واسطے دور دراز سے لوگوں کو مدعو کرتی ہے تو ان کی مہمانی کے انتظام کے علاوہ لائق و فائق لیکچراروں کو مقرر کرتی ہے تاکہ وہ ضروریات وقت پر لیکچر دیں اور تمام لوگ ایک جگہ جمع ہو کر ان کو سن سکیں۔ تاکہ ضروری اور مفید معلومات کے ساتھ واپس ہو کر اپنی اپنی جگہ اسلام کے لئے مفید اور کارآمد ہو سکیں۔ مگر قادیان میں نہ کوئی درخت ہے نہ مکان ہے۔ بلکہ جس وقت مرزا قادیانی اپنی فراغت سے باہر آ بیٹھے تو دھینگا مشتی کے طور پر جو قریب بیٹھ گئے سو بیٹھ گئے۔ پھر سوائے خود ستائی، خود نمائی، تکفیر عالم اور عالمگیر سب و شتم کے اور کچھ گفتگو بھی نہیں ہوتی۔ جیسا کہ البدر والحکم بڑے فخر کے ساتھ ان ...... بیہودگیوں کو شائع کرتے رہتے ہیں جس قدر قرآنی نکات اور قرآنی مشکلات کے حل مرزا قادیانی کی زبان سے البدر اور الحکم اور ریویو میں نکلتے ہیں۔ وہ بھی معلوم ہیں۔ مولوی نور الدین کا درس نکال کر باقی اکثر حصہ مرزا پرستی اور خود ستائی کا ہوتا ہے یا عالم کی تحقیر و تکفیر کا۔

ہشتم ....... جب براہین کے طبع کے واسطے تو روپے موجود نہ تھا نہ چھوٹے سے رسالہ سراج منیر کے لئے ۔ پھر ہزاروں روپیہ کے انعامی اشتہار کیسے دیئے گئے۔ کیا یہ کذب میں داخل نہیں؟ فہرست حاضرین جلسہ دسمبر ١٨٩٣ء کی فہرست جو دافع الوساوس میں شائع ہوئی تھی حدیث کدرع کے بعد اس میں تراش خراش کر کے ٣١٣ کی تعداد انجام آتھم میں شائع کی گئی۔ یہ کیا کذب نہیں؟ بلا علم غیب لوگوں کو حرامزادہ اور بد دیانت کہنا کذب نہیں ہے؟ دوسرے کے الہاموں کو بلا تحقیق شیطانی

١٧

صفحہ ٣٩٦

بتانا کیا کذب نہیں ہے؟ مدت صلیب مسیح علیہ السلام ازالہ اوہام میں تین گھنٹہ درج کی پھر ص ٣٨١ پر چند منٹ۔ کیا یہ کذب نہیں؟

الحرام، خنازیر، کور چشم، درندہ، ذریت شیطان، حرامزادہ، شیطان، دیو، گمراہ، فرعون، خبیث القلب ان پر لعنتوں کی جوتیاں پڑیں۔ ہزاروں لاکھوں بار۔ اندھیرے کے کیڑے ۔ اوباش لومڑی ۔ تمام دنیا سے بدتر، دجال، بطال، جھوٹ کا گوہ کھایا۔ چوہڑے چمار، جاہل، وحشی، سور اور بندر، زندیق، بہائم، کتے، بچھو، اور مادر زاد اندھے، مردار خور مولوی، نمک حرام، ہامان، ہندوزادہ۔ تو پھر کیا یہ عمل مرزا قادیانی کا واجب الاطاعت ہے اور ہم دن رات لوگوں کو فحش گالیاں نکالا کریں یا قرآن کریم کی اطاعت کریں۔ جو فرماتا ہے: ” ولا تسبوا الذين يدعون من دون الله فيسبوا الله عدو بغير علم “ یا ارشادات خاتم النبیین کو جو فرماتے ہیں: ”لیس المؤمن بالطعان ولا باللعان ولا الفاحش ولا البذى“

سات آٹھ سو روپیہ ماہوار چندہ جمع کیا۔ خود مزے سے کھایا اور دوسروں کو کھلایا۔ عنبر، مشک، کیوڑا، بید مشک، مقویات محرکات اور مفرحات بکثرت استعمال ہوتے رہے۔ ایک عبد الکریم کی بیماری میں من دیڑھ من پختہ برف لگا تار لاہور سے آتی رہی۔ بیوی صاحبہ کے پاس زیور اور روپیہ اس قدر ہو گیا کہ مرزا قادیانی نے چار ہزار روپیہ کا زیور اور ایک ہزار روپیہ نقد ان سے لے کر اپنا باغ تیس سال کی میعاد پر ان کے پاس رہن رکھا۔ جو جائیداد وغیرہ منقولہ خریدی گئی وہ علاوہ ہے۔ سفر بھی کیا تو محض بیوی کی خاطر سیکنڈ کلاس میں دہلی گیا۔ مکانات بھی وسیع اور فراخ بنائے اور وہ سب ملکیت مرزا ہے۔ وقف کوئی بھی نہیں۔ برعکس اس کے خاتم النبیین سید المرسلین ﷺ کا یہ حال کہ سونے کے لئے اکھڑ زمین پر بستر، رہنے کے لئے ایک چھوٹا سا جھونپڑا، کھانے کے لئے عموماً ستو یا نان جو اور گھی اکثر ندارد۔ کبھی تین تین یوم کا فاقہ اب فرمائیے کہ مرزا قادیانی کی آرام طلبی اور شکم پروری واجب الاطاعت ہے یا سید المرسلین ﷺ کی جفاکشی اور ایثار اور نفس کشی۔

ارشادات سید المرسلین کی اطاعت جن میں حج کی بابت سخت تاکید ہے۔

چند چہار چند رکھ کر ان کا نفع اپنے صرف میں لانا۔

١٨

پشت در پشت چلے آتے تھے بند ہو گئے اور ہے: ” اذ كنتم اعداء فالف بين قل شفا حفرة من النار فانقذكم منه ایسا پھاڑ دیا کہ ظاہر اتفاق ناممکن ہو گیا۔ م میں شروع ہوئی تھی۔ اس کو مرزا قادیانی کی تکفیر میں بدل دیا۔ کیونکہ اس کے نمونہ کے جہنمی کہے اور ہر قسم کی ہمدردی کو چھوڑ دے سکھ، نہ ہندو۔ مگر باتوں باتوں میں صلیبی تمام جھوٹے مذاہب پاش پاش ہو گئے ۔ پاش پاش ہو گیا۔ اب فرمائیے : خاتم النبی کے فتنہ انگیز عمل؟

اسلام میں داخل ہو کر یہ الہامات الہی ناز الناس يدخلون في دين الل توابا “ مگر آج تیرہ کروڑ مسلمانوں کو پر یہ الہام نازل ہوتے ہیں کہ تو مجھ سے میری اولاد۔ جس سے تو راضی اس سے عرش پر تیری حمد کرتا ہے۔ ” سبحان ا

از خروارے بیان کی جاتی ہیں:

دجال نہیں ہو سکتا۔ میں اس کا نام ۔ دعویٰ سے انکار کرنے والے کو کافر کہ

صفحہ ٣٩٧

سیزدہم....... تصاویر کھنچوانا کیا سب مسلمان ایسا ہی کیا کریں یا احادیث صحیحہ کی تہذیب سے ڈریں؟ چہاردہم....... تفرقہ اندازی: تعلیمات محمدی ﷺ کا یہ نتیجہ ہوا تھا کہ عرب کے خونخوار جنگ جو پشت در پشت چلے آتے تھے بند ہو گئے اور ان میں باہم صلح ومحبت ہوگئی۔ چنانچہ قرآن مجید فرماتا ہے: ”اذ كنتم اعداء فالف بين قلوبكم فاصبحتم بنعمته اخوانا وكنتم على شفا حفرة من النار فانقذكم منها “ مگر آج گالم گلوچ ہو کر مرزا قادیانی نے مسلمانوں کو ایسا پھاڑ دیا کہ ظاہر اتفاق ناممکن ہو گیا۔ مغربی تہذیب سے وسیع الظرفی پیدا ہو کر اتفاق کی تحریک میں شروع ہوئی تھی۔ اس کو مرزا قادیانی کی گالم گلوچ اور عالمگیر تکفیر و تحقیر نے سخت تنفر و عداوت اور تکفیر میں بدل دیا۔ کیونکہ اس کے نمونہ کے مطابق ہر فریق کا حق ہے کہ بلا دلیل دوسروں کو کافر اور جہنمی کہے اور ہر قسم کی ہمدردی کو چھوڑ دے۔ نہ کہیں دو چار ہزار عیسائی مسلمان ہوئے، نہ آریہ، نہ سکھ، نہ ہندو۔ مگر باتوں باتوں میں صلیبی مذہب بھی ٹوٹ گیا۔ تمام ادیان پر اسلام غالب آ گیا۔ تمام جھوٹے مذاہب پاش پاش ہو گئے۔ کیا ایسی فتح مجھے نہیں ہوئی کہ میرے ہاتھ سے دجالی فتنہ پاش پاش ہو گیا۔ اب فرمائیے: خاتم النبیین ﷺ کے صلح خیز اخلاق قابل اتباع تھے یا مرزا قادیانی کے فتنہ انگیز عمل؟

پانزدہم....... جھوٹی شیخی اور کبریائی: قرآنی تعلیم کا یہ نتیجہ ہوا کہ مشرکین اور وحوش عرب فوج در فوج اسلام میں داخل ہو کر یہ الہامات الٰہی نازل ہوئی ۔ ”اذا جاء نصر الله والفتح ورایت الناس يدخلون فى دين الله افواجا فسبح بحمد ربك واستغفره انه كان توابا“ مگر آج تیرہ کروڑ مسلمانوں کو اسلام سے خارج کر کے اور ملعون و جہنمی بنا کر مرزا قادیانی پر یہ الہام نازل ہوتے ہیں کہ تو مجھ سے اور میں تجھ سے ہوں ۔ تو میرے واسطے ایسا ہے جیسا کہ میری اولاد ۔ جس سے تو راضی اس سے میں راضی ۔ اگر تو نہ ہوتا تو میں آسمانوں کو پیدا نہ کرتا ۔ خدا عرش پر تیری حمد کرتا ہے۔ ”سبحان الله، ماشاء الله“

شانزدہم....... خلاف بیانیاں: جن کی کوئی انتہاء نہیں۔ اس جگہ پر محض چند ایک بطور مشتے نمونہ از خروارے بیان کی جاتی ہیں:

و دجال نہیں ہو سکتا۔ میں اس کا نام بے ایمان نہیں رکھتا۔ میں کبھی کلمہ گو کا نام کافر نہیں رکھتا۔ اپنے دعوٰی سے انکار کرنے والے کو کافر کہنا صرف ان نبیوں کی شان ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے

١٩

صفحہ ٣٩٨

شریعت اور احکام جدیدہ لاتے ہیں۔ ماسوا اس کے ملہم ومحدث کیسی ہی اعلیٰ شان رکھتے ہوں اور مکالمہ الٰہیہ سے سرفراز ہوں۔ ان کے انکار سے کوئی کافر نہیں بن جاتا۔“

پھر اس امر کے ثبوت میں کہ اولیاء اللہ کو شیطانی الہام بھی ہو جایا کرتے ہیں۔ لکھتے ہیں کہ: ”سید عبدالقادر جیلانیؒ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ شیطانی الہام مجھے بھی ہوا تھا۔ شیطان نے کہا اے عبدالقادر جیلانیؒ تیری عبادتیں قبول ہوئیں۔ اب جو دوسروں پر حرام ہے وہ تیرے پر حلال اور نماز سے بھی اب تجھے فراغت ہوئی۔ جو چاہے کر۔ تب میں نے کہا اے شیطان دور ہو وہ باتیں میرے لئے کب روا ہو سکتی ہیں جو نبی علیہ السلام پر روا نہیں۔ تب شیطان معہ اپنے سنہری تخت کے میری آنکھوں کے سامنے سے گم ہو گیا۔“

پھر دوسرے ملہموں کی تردید میں لکھتے ہیں کہ کاہنوں کو بکثرت شیطانی الہام ہوتے اور بعض وقت پیش گوئیاں بھی الہام کے ذریعہ سے کرتے تھے۔

(ضرورۃ الامام ص ١٧)

”میرا یہ دعویٰ نہیں کہ دمشق میں کوئی مثیل مسیح پیدا نہ ہوگا۔ ممکن ہے کہ کسی آئندہ زمانہ میں خاص کر دمشق میں بھی کوئی مثیل مسیح پیدا ہو جائے۔ میں نے صرف مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ میرا یہ بھی دعویٰ نہیں کہ صرف مثیل ہونا میرے پر ختم ہو گیا۔ بلکہ ممکن ہے کہ آئندہ زمانوں میں میرے جیسے اور دس ہزار مثیل مسیح آجائیں۔“

(ازالہ اوہام ص١٩٩، ٢٠٠)

مجدد سرہندیؒ نے ایک کشف میں دیکھا کہ آنحضرت ﷺ کو ان کے طفیل خلیل اللہ کا مرتبہ ملا اور اس سے بڑھ کر شاہ ولی اللہؒ نے دیکھا کہ گویا آنحضرت ﷺ نے ان کے ہاتھ پر بیعت کی ہے۔ مگر انہوں نے بباعث بسطت علم کے وہ خیال نہ کیا۔ بلکہ تاویل کی۔

(ضرورۃ الامام)

”سچ تو یہ ہے کہ امت محمدیہ میں کئی کروڑ ایسے بندے ہوں گے جن کو الہام ہوتا ہوگا۔“

(ضرورۃ الامام)

الغرض جب مسلمانوں کو گھیرنا منظور تھا تب تو یہ قول تھے کہ میں رسول نہیں ہوں۔ میرے انکار سے کوئی مسلمان کافر نہیں بن جاتا۔ اولیاء اللہ کو شیطانی الہام بھی ہو جاتے ہیں۔ شیطانی الہاموں میں سچی پیش گوئیاں بھی ہو سکتی ہیں۔ مگر اب جو جماعت کافی ہو گئی تب یہ ہو گیا کہ جو مرزا قادیانی کو نہ مانے خارج از اسلام اور غیر ناجی ہے۔ مرزا قادیانی کے جس قدر الہامات ہیں خواہ وہ مخالف القرآن وحدیث ہوں۔ سب رحمانی اور آمیزش شیطانی سے بالکل پاک ہیں۔ تمام پیش گوئیاں خواہ وہ کیسے ہی مبہم اور مہمل ہوں اور کیسی ہی صورت میں ظہور پذیر ہوں وہ عظیم الشان نشان ہیں۔

٢٠

صفحہ ٣٩٩

گئے۔ پھر (لیکچر سیالکوٹ ص ٤٩، خزائن ج ٢٠ ص ٢٤٠) میں اس معنی کیڑے کئے گئے ہیں۔

نے خود تیار کی تھی۔ جو دافع الوساوس میں شائع ہوئی۔ بعد ازاں جو حدیث مرفوع آپ کو معلوم ہوئی جس میں یہ ذکر ہے کہ مہدی اپنے اصحاب کو جمع کرے گا ان کی تعداد اہل بدر کے مطابق ٣١٣ ہوگی اور ان کے نام معہ سکونت و ولدیت و پیشہ وغیرہ ایک کتاب مطبوعہ میں درج کرے گا۔ تب آپ نے اصل فہرست میں تراش خراش کر کے ٣١٣ ناموں کی فہرست انجام آتھم میں شائع کر دی۔ بعض نام پہلی فہرست میں سے نکال دیئے اور بعض نئے نام ایزاد کر دیئے۔

معنوں سے انکار کیا گیا۔

٣٤٢ پر درج کیا۔ قریباً دو گھنٹہ سے بھی کم وقت رہے۔ پھر ص ٣٨١ پر لکھا چند منٹ میں ہی مسیح کو صلیب سے اتار لیا۔

ایمانی ظاہر کی گئی اور الہام بھی تھا ۔ ”ان اللہ لا یغیر ما بقوم حتى یغیروا ما بانفسھم“ مگر بعد میں اس کو بار بار اپنی تکذیب کا نتیجہ ظاہر کیا گیا۔

اشعار میں جو اس پر تک بندی کی گئی اس میں یہ ظاہر کیا۔

کیوں غضب بھڑکا خدا کا مجھ سے پوچھو غافلو
ہو گئے ہیں اس کا موجب میرے جھٹلانے کے دن

بیانیاں اور پھر اس پر دعویٰ یہ ہے پہلوں کے پانی گدلے ہو گئے۔ مگر ہمارا چشمہ تا قیامت گدلا نہ ہوگا۔ گویا کہ پہلی تمام کتابیں اور تمام حقائق رد اور آج مرزا قادیانی کے ڈھکوسلے صاف چشمہ بن گئے جو تا قیامت مکدر نہ ہوگا۔

٢١

صفحہ ٤٠٠

بیان ہے۔ نکات قرآنی خوب بیان کئے ہیں۔ دل سے نکلی اور دلوں پر اثر کرنے والی ہے۔“ مگر اب البدر مورخہ ٧؍ جون ١٩٠٦ء میں شائع کرتے ہیں۔ ”ڈاکٹر عبدالحکیم کا تقویٰ صحیح ہوتا تو وہ کبھی تفسیر لکھنے کا نام نہ لیتا۔ کیونکہ وہ اس کا اہل نہیں ہے۔ اس کی تفسیر میں ایک ذرہ روحانیت نہیں اور نہ ظاہری علم کا کچھ حصہ ہے۔“ (بھلا مرزا تو اہل ہے اس کی تفسیر کہاں گئی۔ تا کہ اس کی روحانیت کا مقابلہ اپنی تفسیر سے کر لیا جائے یا جس قدر مرزا قادیانی کی تصانیف اب تک شائع ہو چکی ہیں تو ان میں ہی کوئی نکتہ روحانیت ایسا بتایا جائے جو میری تفسیر میں مذکور نہ ہو) پھر اسی البدر کے ص ٣ میں یہ بھی درج ہے کہ میں نے اس کی تفسیر کو کبھی نہیں پڑھا۔ (پھر کل کی نسبت رائے کیسے قائم کر دی)

اپنی تفسیر از اوّل تا آخر سنائی تو کہیں بھی کوئی نکتہ معرفت نہ بتلایا نہ غیر حل شدہ مشکلات کا کوئی حل کیا۔ ایک بار تو شائع کیا کہ انگریزی زبان میری تین تیجوں کی مار ہے۔ میں حسین سے بڑھ کر ہوں۔ میری جماعت موسیٰ علیہ السلام کی جماعت سے لاکھوں درجہ بڑھ کر ہے۔ مسیح علیہ السلام کے معجزات کو مسمریزی کرشمہ ظاہر کر کے دعویٰ کیا کہ اگر میرے نزدیک یہ فعل مکروہ نہ ہوتے تو میں ان سے بڑھ جاتا۔ (جواباً میں بھی عرض کرتا ہوں کہ اگر خودنمائی اور خودستائی کو میں مکروہ نہ سمجھتا تو میں گوئیوں کی کثرت اور صفائی میں میں مرزا قادیانی سے بڑھ جاتا) میں محمدی فوجوں کا سپہ سالار ہوں اور خدا کا ارادہ ہے کہ اس کے ہاتھ پر دین کی فتح ہو۔ (کیا خوب تمام اسلامی فوج آپ سے باغی اور کافر شدہ۔ بڑی فتح ہوئی) چونکہ مجھے دنیا کے بے ادبوں اور بدزبانوں سے مقابلہ پڑتا ہے۔ اس لئے اخلاقی قوت اعلیٰ درجہ کی دی گئی ہے۔ (سارے مولوی کافر، سور، حرامزادہ! سبحان اللہ کیسی اعلیٰ درجہ کی قوت اخلاقی ہے؟) اس زمانہ میں کوئی نہیں جو قرآنی معارف اور کمالات کے افاضہ اور اتمام حجت میں میرے برابر ہو سکے۔ (نہ معلوم پھر تفسیر کیوں نہیں نکلی اور اندرونی و بیرونی مخالف کیوں نہیں مانتے) میرے انفاس کفر شکن ہیں۔ (تیرہ کروڑ مسلمانوں اور کل عالم کو کافر جو بنا دیا) جو صاحب مرزا قادیانی کے خالی دعوؤں اور شیخیوں کا طومار دیکھنا چاہیں وہ ان کے رسالہ ضرورۃ الامام کو ملاحظہ کریں۔

خوانی ہوئی۔ مسلمان شکم پروری، فضول خرچی اور آرام طلبی میں بدنام ہیں۔ آپ کا لنگر خانہ اور قادیان میں پڑے رہنا ان علتوں کا کیسا عملی نمونہ اور موید ہے۔ زمانہ حال کی تعلیم پر اعتراض ہے

٢٢

صفحہ ٤٠١

کہ مصنف لیکچرار، اخبار نویس، مضمون نویس، اعلیٰ درجہ کے ہوتے ہیں۔ مگر عمداً نہ تو خود کچھ کرتے ہیں اور نہ اوروں سے کرا سکتے ہیں، یہی منظر آپ نے اور آپ کی جماعت قادیانی نے پیش کر رکھا ہے۔ جماعت محمدی ﷺ کا حال بالکل برعکس تھا۔ یعنی ان کی باتیں تھوڑی اور عمل زیادہ تھے اور اب عمل تھوڑے مگر باتیں زیادہ ہیں پھر بیچارہ سجادہ نشینوں اور گوشہ نشینوں پر اعتراض کئے جاتے ہیں۔ قبر پرستی کی تائید میں بہشتی مقبرہ اور عمارت پرستی کی تائید میں منارہ کی بنیاد ڈال دی۔

نوزدہم...... تعمیر منارہ: اوّل تو بذات خود ایک لغو اور نمائشی عمارت ہے۔ دوم اس تعمیر میں ان احادیث صحیحہ کی تردید ہے۔ جن میں ارشاد ہے کہ سب سے برا طریق روپیہ برباد کرنے کا فضول عمارات بنوانا ہے۔ سوم اسلام کو اس وقت اشاعت القرآن کی ضرورت ہے۔ دس ہزار روپیہ میں دس ہزار قرآنی تفاسیر مفت شائع ہو سکتی ہیں۔ ایسے وقت میں جب کہ اسلام مفلس ہے۔ اسلامی روپیہ فضول عمارات میں صرف کرنا سخت ظلم ہے۔ مگر افسوس نفسانی نشہ میں آپ نے کچھ خیال نہ کیا۔ چہارم یہ شرک پسند طبع کے واسطے ایک بت ہو سکتا ہے۔

بستم...... انبیاء کی تحقیر: ازالہ اوہام میں مسیح علیہ السلام کی پیش گوئیوں پر طنزاً کہا کہ یہ بھی کچھ پیش گوئی ہے کہ زلزلے آئیں گے۔ مری پڑے گی۔ لڑائیاں ہوں گی اور قحط پڑیں گے۔ پھر ایسی پیش گوئیوں کو عظیم الشان بنایا جا رہا ہے۔ مسیح علیہ السلام کے معجزات کو مسمریزم کا کرشمہ قرار دے کر فرمایا کہ اگر یہ عاجز اس عمل کو مکروہ اور قابل نفرت نہ جانتا تو ان اعجوبہ نمائیوں میں ابن مریم سے کم نہ رہتا۔ اس خالی شیخی کا ثبوت کیا ہے؟ اعجاز احمدی میں شائع کیا۔”تکدر ماء السابقین وعیننا، الیٰ آخر الا تنکدر “ پہلوں کے پانی مکدر ہو گئے۔ ہمارا چشمہ تا قیامت مکدر نہ ہوگا۔ سبحان اللہ! کیا وہی چشمہ ہے کہ وفائے عہد نہ کرنا، جھوٹ بولنا، اسراف بیجا، خلاف بیانی جھوٹی شیخی، فحش گوئی، شکم پروری، نفس پرستی، آرام طلبی، توہین رب العالمین، توہین انبیاء، کثرت مفرحات ومقویات، تفرقہ اندازی، گدائی، تغییر القرآن میں خلاف بیانیاں۔

بست ویکم...... بھیک مانگنا: البدر ٢٣، ٣٠ جنوری میں شائع کیا۔ ہر ایک بیعت کنندہ پر فرض ہے کہ حسب توفیق ماہواری یا سہ ماہی لنگر خانہ میں چندہ روانہ کرتا رہے۔ ورنہ ہر تین ماہ کے بعد اس کا نام بیعت سے خارج ہوگا۔ کیا تمام انبیاء ایسے ہی پیٹ گدھے تھے؟ کیا اس میں ”لا اسئلکم علیہ اجراً“ کا خلاف نہیں ہے۔ اس حساب سے جو بیچارہ نادار ہو اور چندہ نہ دے سکے۔ وہ گویا اسلام سے خارج اور جہنم میں جھونکا جائے گا۔ بنئے بقال تو اپنے روپیہ کی وصولیت میں مکان اور زمین وغیرہ ہی قرق کرایا کرتے تھے۔ جس کو شائستہ گورنمنٹ نے خود بند کیا اور قید بھی بلا مشقت معہ

٢٣

صفحہ ٤٠٢

خوراک جائز قرار دی ۔ مگر مرزا قادیانی اپنے سوال کی عدم ادائیگی میں ہمیشہ کی جہنم میں گراتے ہیں۔ ایک تو گدائی پھر بیچارہ ناداروں کو ہمیشہ کا جہنم، مسجدوں کے مُلّاؤں پر تو دین فروشی کا الزام لگایا کرتے ہیں اور خود بے عمل ہیں۔ حمایت الاسلام، ندوۃ العلماء، ایجوکیشنل کانفرنس، محسن الملک اور تمام اسلامی خادم قوم کی تعلیم و تربیت یتیموں کی پرورش، غریبوں کی امداد، نو مسلموں کی تالیف اور قومی ترقی کے واسطے ضرور چندہ کرتے ہیں۔ مگر اس میں اپنے اور کنبہ کے پیٹ نہیں پالے جاتے نہ ان کے بانیوں کی بیویاں زیورات سے لدتی اور جائیدادیں خریدتی ہیں۔ نہ ان کے ساس سسر اور سالے اس میں پرورش پاتے اور نہ ان کے بھانڈ اور مداح موٹے ہوتے ہیں اور نہ وہ اپنی ذاتی عمارت کو وسیع کرتے ہیں اور نہ اس قومی روپیہ سے کتابیں چھپوا کر ان کا منافع آپ خورد برد کرتے ہیں۔ پھر وہ مرزا قادیانی کے نزدیک کافر، جہنمی اور دجال ہیں۔ ہزاروں آفریں ایسے کافروں پر جیسا کہ محسن الملک اور شمس الدین ہیں۔

واتخذوا آياتی ورسلى هزواً اولئك هم الكافرون حقا ولا تطع من اغفلنا قلبه عن ذكرنا واتبع هواه وكان أمره فرطاً“

من شذ شذ في النار، سنسمه على الخرطوم“

کذاب، خوانا اثيما“ جو اور کا چیتے برا اس کا برا ہو جائے گا۔ ”سنسمه على الخرطوم“ عیسیٰ نتواں کُشت بہ تصدیق خرے چند۔ زیادہ تفصیل کے لئے دیکھو۔

(عصائے موسیٰ ص٧٥ تا ٨٢ ، ص ٢٣٩ تا ٢٤٥)

”وما يعدهم الشيطان الا غروراً لو يواخذهم الله بما كسبوا لعجل لهم العذاب“

بیگ سامانوی کو الہام ہوا: ”انهم فی طغیانهم يعمهون“ مجھے خواب میں معلوم ہوا کہ قریب تھا اس مشرکانہ جماعت پر صاعقہ گر پڑتا۔

٢٤

صفحہ ٤٠٣

الہام ہوا۔ ”واللہ یختص برحمتہ من یشاء“

ہوئی تلوار تیرے آگے ہے۔“ مجھے خیال گزرا کہیں ابن صباح والی کارستانی نہ ہو جائے جو ایک بڑا عالم فاضل گزرا ہے۔ جس کے ہزاروں ایسے مخلص مرید ہو گزرے تھے کہ اس کے اشارہ سے بڑے بڑے آدمیوں کا خون کر دیتے تھے۔ تو میں نے اپنے رب کی طرف رجوع کیا۔ تب مجھے الہامات ذیل ہوئے۔ ”انک لمن المرسلین“ اس سے مجھے اطمینان ہو گیا کہ اللہ کریم مجھے محفوظ رکھے گا اور میرے دشمن ہلاک ہوں گے۔ پھر الہام ہوا۔ دجالی فتنہ تیرے ہاتھ سے پاش پاش کرایا جائے گا۔ پھر الذکر الحکیم نمبر ٤ کی نسبت الہام ہوا۔ ”ان ھو الا ذکر للعالمین لمن شاء منکم ان یستقیم“ پھر مرزا قادیانی کی نسبت دل میں ڈالا گیا۔ ”ففریقاً کذبتم وفریقاً تقتلون“ ایک خواب میں کیا دیکھتا ہوں ایک چارپائی پر میں اور مرزا ہیں اور سرہانے کی طرف اسی چارپائی پر ان کی بیوی صاحبہ اور میں بہشتی مقبرہ کے خلاف آیات ذیل پیش کرتا ہوں۔ ”لا تزر وازرۃ وزر اخریٰ ۔ لا تکلف نفس عن نفس شیئاً“ بیوی صاحبہ کہتی ہیں ہمارا اس قدر روپیہ جو صرف ہو چکا وہ برباد جائے گا۔ میں جواب دیتا ہوں کہ اسلام کے مقابلہ پر آپ کے روپیہ کی کیا حقیقت ہے اور ان سے اعراض کر کے اس نے مرزا قادیانی کو مخاطب کیا۔ پھر ”انت منی وانا منک“ والے الہام پر جرح کی۔ وہ کہنے لگے پھر بیعت کر لو۔ میں نے جواب دیا کہ مخالف تحریکات جو ہو رہی ہیں پہلے اپنی اصلاح کرو۔ پھر دعا کرو۔ کیونکہ میں مدتوں آپ کا مرید رہا ہوں اور بڑی خدمتیں کی ہیں۔ کم سے کم چار روز تو آپ میرے واسطے دعا کرنے میں وقف کریں۔ ”ھل جزاء الاحسان الا الاحسان“

چند پیش گوئیوں کا ذکر کرتے ہیں جن کو مرزا قادیانی نے اپنے صدق کی بنیاد ٹھہرایا اور جن کو قبل از وقت دعوؤں کے ساتھ شائع کیا کہ اگر یہ جھوٹی نکلیں تو مجھ کو دجال، کذاب، خائن، مفتری، شریر، بدترین خلائق، زندیق، کافر سمجھا جاوے اور مجھے ہر قسم کی سزا دی جائے۔

١٨٨٦ء ”خوبصورت پاک لڑکا تمہارا مہمان آتا ہے۔ اس کا نام عمانوائیل اور بشیر بھی ہے۔ وہ سخت ذہین و فہیم ہوگا اور دل کا حلیم اور علوم ظاہری و باطنی سے پر کیا جائے گا اور وہ تین کو چار کرنے

٢٥

صفحہ ٤٠٤

والا ہوگا۔ دوشنبہ ہے مبارک دوشنبہ فرزند دلبند گرامی ارجمند مظہر الاول والآخر مظہر الحق والعلاء کان الله نزل من السماء ‘‘ وہ جلد جلد بڑھے گا۔ وہ صاحب شکوہ و دولت و عظمت ہوگا۔ بہتوں کو بیماریوں سے صاف کرے گا۔ اسیروں کی رستگاری کا موجب ہوگا۔ زمین کے کناروں تک شہرت پائے گا اور قومیں اس سے برکت پائیں گی اور خواتین مبارکہ سے جن میں سے تو بعض کو اس کے بعد پائے گا تیری نسل بہت ہوگی۔ پھر ١٨؍ اپریل ١٨٨٦ء کو شائع کیا کہ اگر وہ حمل موجود میں پیدا نہ ہوا تو دوسرے حمل میں جو اس کے قریب ہے ضرور پیدا ہوگا۔ ٧؍ اگست ١٨٨٧ء کو خوشخبری شائع کی کہ وہ مولود مسعود ڈیڑھ بجے رات کے پیدا ہو گیا ہے۔ فالحمد لله على ذالك ! اب دیکھنا چاہئے کہ یہ کس قدر بزرگ پیش گوئی ہے جو ظہور میں آئی۔ اس کے عقیقہ پر نہایت دھوم دھام کی اور دور دور سے احباب کو اس تقریب پر بلایا۔ مگر وہ فرزند طفولیت میں ہی فوت ہو گیا۔ خواتین مبارکہ بھی جنہوں نے اس پیش گوئی کے بعد آنا تھا نہ معلوم کہاں رہی یا نکل گئی ؟

٢....... متعلقہ ڈپٹی عبداللہ آتھم جو ٥؍ جون ١٨٩٣ء کو امرتسر ایک مباحثہ کے خاتمہ پر کی اس بحث میں دونوں فریقوں میں سے جو فریق عمداً جھوٹ کو اختیار کر رہا ہے اور عاجز انسان کو خدا بنا رہا ہے۔ وہ انہیں دنوں مباحثہ کے لحاظ سے یعنی فی دن ایک مہینہ لے کر یعنی پندرہ ماہ تک ہاویہ میں گرایا جائے گا اور اس کو سخت ذلت پہنچے گی۔ بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے اور جو شخص سچ پر ہے اور سچے خدا کو مانتا ہے اس کی اس سے عزت ظاہر ہوگی اور اس وقت جب پیش گوئی ظہور میں آئے گی بعض اندھے سوجاکھے کئے جائیں اور بعض لنگڑے چلنے لگیں گے اور بعض بہرے سننے لگیں گے۔

(جنگ مقدس ص ١٨٨)

پھر روئیداد مقدمہ میں مرزا قادیانی نے بعدالت مجسٹریٹ گورداسپور اقرار کیا کہ فریق سے مراد صرف آتھم ہے۔ ڈاکٹر کلارک وغیرہ کو اس سے کوئی تعلق نہیں۔ رسالہ کرامات الصادقین کے سرورق پر بھی ظاہر کیا کہ عبداللہ آتھم کے مرنے کی مجھے بشارت ملی۔ مگر جب عبداللہ آتھم میعاد مقررہ کے اندر فوت نہیں ہوا بلکہ اس کے بعد مذہب عیسویت پر ہی فوت ہوا۔ تب مرزا قادیانی نے ہزاری، دو ہزاری، سہ ہزاری اور چہار ہزاری اشتہار بدیں مضمون شائع کیا کہ عبداللہ آتھم پیش گوئی کی وجہ سے موت سے ڈرتا رہا ہے۔ اس لئے موت اس سے ٹل گئی۔ اگر وہ نہیں ڈرا تو قسم کھا کر ظاہر کرے اور یہ بھی ظاہر کیا کہ انذاری پیش گوئیاں اکثر ٹل جایا کرتی ہیں۔ جیسا کہ قوم یونس پر سے عذاب ٹل گیا تھا۔ پھر انجام آتھم کے ص ١٤ پر رجوع آتھم پر یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ جب

٢٦

صفحہ ٤٠٥

سے اس نے پیش گوئی سنی تھی۔ عیسائیت کی حمایت پر ایک سطر بھی نہیں لکھی۔ کشتی نوح میں مرزا قادیانی نے پھر یہ نئی بات ظاہر کی کہ آتھم نے عین جلسہ مباحثہ میں ستر ہزار آدمیوں کے روبرو آنحضرت کو دجال کہنے سے رجوع کیا تھا اور پیش گوئی کی بناء یہی تھی۔ پھر سب سے عجب تر خلاف بیانی ایک اور ہے جو مرزا قادیانی کے ہی الفاظ درج ذیل ہے۔ ”اگر آتھم رجوع بحق نہ کرے گا تو ہاویہ میں گرایا جائے گا۔“ یعنی اس کا رجوع بحق کرنا ہاویہ میں گرائے جانے کو مانع ہے۔ گویا ان دونوں باتوں میں تضاد کا علاقہ ہے۔ جیسی رات اور دن میں یا سیاہ اور سفید میں کہ ایک ہوتے دوسرے کا ہونا ناممکن ہے۔ مگر (انوار الاسلام ص ٥) میں لکھتے ہیں۔ ”وہ ہاویہ میں گرایا جانا عبداللہ آتھم نے اپنے ہاتھ سے پورا کیا۔ جن مصائب میں اس نے اپنے تئیں ڈالا اور جس طرز سے مسلسل گھبراہٹوں کا سلسلہ ان کے دامنگیر ہوا اور ہول اور خوف نے اس کے دل کو پکڑ لیا۔ یہی اصل ہاویہ تھا اور سزائے موت اس کے کمال کے لئے ہے۔ جس کا ذکر الٰہی عبارت میں موجود تھی۔ نہیں بیشک یہ مصیبت ایک ہاویہ تھا۔ جس کو عبداللہ آتھم نے اپنی حالت کے موافق بھگت لیا۔“

(کشتی نوح ص ٦)

پھر ایک اور خلاف بیانی کی ہے۔ ”پیش گوئی میں یہ بیان کیا کہ فریقین میں سے جو شخص اپنے عقیدہ کی رو سے جھوٹا ہے وہ پہلے مر گیا۔“ سو وہ آتھم پہلے مر گیا۔ یہ کیسا سفید جھوٹ اور افتراء علی اللہ ہے۔ اصل الہام کے الفاظ کچھ ہیں اور آپ کبھی کچھ بیان کرتے ہیں اور کبھی کچھ۔ گویا کہ اپنے منہ سے اقرار کر رہے ہیں کہ وہ سب من گھڑت الہام تھا۔ ”ولو كان من عند غير الله لوجدوا فيه اختلافاً كثيراً“ اگر اللہ کے سوائے کسی اور کے پاس سے ہوتا تو اس میں بہت سے اختلافات پاتے۔

مگر عبداللہ آتھم نہ تو میعاد مقررہ کے اندر فوت ہوا اور نہ اس نے جھوٹ بولنا اور عاجز انسان کو خدا بنانا چھوڑ کر رجوع الی الحق کیا۔ مرزا قادیانی کی تاویلات بے بنیاد ہیں۔ اول تو اصل پیش گوئی کے یہ الفاظ ہیں کہ جو فریق عمداً جھوٹ کو اختیار کر رہا ہے اور عاجز انسان کو خدا بنا رہا ہے۔ بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے۔ صاف بتا رہے ہیں کہ رجوع سے مراد الوہیت مسیح سے تائب ہونا اور اسلام کی طرف جھکنا ہے نہ کہ محض موت سے ڈرنا۔ دوم: ایسا ڈر تو مرزا قادیانی کو بھی آریہ کی دھمکی پر ہوا تھا اور گورنمنٹ عالیہ کی خدمت میں امداد اور حفاظت کی درخواست پیش کی تھی۔ پھر کیا اس ڈر کے یہی معنی ہیں کہ آپ نے اس الہام سے رجوع کی جو اللہ تعالیٰ نے آپ کی حفاظت کے لئے بالفاظ ذیل نازل کیا تھا۔ ”یا عیسی انی متوفيك . والله يعصمك من

٢٧

صفحہ ٤٠٦

الناس“ سوم : محض خوف عذاب پیش گوئی کو نہیں ٹال سکتا۔ جیسا کہ حدیث بخاری میں ہے کہ سعد نے امیہ بن خلف کو آنحضرت ﷺ کی پیش گوئی سنا دی تھی کہ تو ایک روز مسلمانوں کے ہاتھ سے مارا جائے گا۔ اس سے امیہ سخت گھبرایا اور قسم کھائی کہ مکہ سے باہر کبھی نہ نکلوں گا۔ جب جنگ بدر کا موقعہ ہوا تو ابو جہل نے اس کو سخت مجبور کیا۔ تب اس کی بیوی نے وہ پیش گوئی اسے یاد دلائی۔ امیہ نے کہا میں تھوڑی دور انہیں رخصت کرنے جاؤں گا۔ راستہ میں وہ کوشش کرتا رہا کہ قابو پا کر واپس ہو جائے۔ مگر خدا نے اسے بدر کی لڑائی میں قتل کرایا۔

الغرض باوجود یکہ امیہ بن خلف پیش گوئی کو سچ سمجھ کر ڈرتا رہا۔ مگر وہ موت سے نہ بچ سکا۔ چہارم: عبداللہ آتھم سے قسمیہ اقرار لینا مذہب عیسوی کے خلاف تھا۔ اس لئے اس نے جواب دیا کہ باختیار خود قسم کھانا میرے مذہب میں حرام ہے۔ اگر مجھے حلف کرانا ہے تو عدالت میں طلب کرو۔ عدالت کے جبر سے میں قسم کھالوں گا۔

(نور افشاں مورخہ ١٠ اکتوبر ١٨٩٤ء)

پنجم: قوم یونس سے جو التوائے عذاب ہوا وہ ایمان لانے سے ہوا تھا۔ جیسا کہ قرآن مجید فرماتا ہے: ”فلولا كانت قرية آمنت فنفعها ايمانها الا قوم يونس لما آمنوا كشفنا عنهم عذاب الخزى فى الحيوة الدنيا ومتعنهم الى حين“، ششم : یہ دعویٰ کہ عبداللہ آتھم نے پیش گوئی کے بعد عیسائیت کی حمایت میں ایک سطر نہیں لکھی۔ محض غلط ہے۔ کیونکہ خلاصہ مباحثہ جو آتھم نے پیش گوئی کے بعد تحریر کیا۔ اس کے ص ٤ پر لکھتے ہیں کہ: ”مہذب منشوں کو ہم مسئلہ تثلیث و توحید کیا سمجھا سکتے تھے۔ جس سے ظاہر ہے کہ وہ مباحثہ کے بعد اسلام کے خلاف تثلیث پر برابر جما رہا۔“ پھر اسی رسالہ ص ٨ میں مرزا قادیانی کے الہامات ”انت منی وانا منك“ پر لکھتے ہیں۔ ہم کو تو اس آئینہ میں چہرہ کسی دہریہ یا ہمہ اوست کا جو برادر توام دہریہ کا ہے نظر آتا ہے اور اشارتاً مرزا قادیانی کو دجال اور جھوٹا کہا ہے۔ ہفتم : پہلے التوائے موت کا سبب موت سے فرار و ڈرنا ظاہر کرتے رہے۔ پھر (کشتی نوح ص ٦) میں یہ ظاہر کیا کہ آتھم نے عین جلسہ میں آنحضرت ﷺ کو دجال کہنے سے رجوع کر لیا تھا۔ یہ تحریر الفاظ پیش گوئی کے خلاف ہے۔ کیونکہ ان میں عاجز انسان کو خدا بنانا اور عمداً جھوٹ بولنا سزائے موت و جہنم قرار دیئے گئے تھے اور اگر عبداللہ آتھم نے آنحضرت ﷺ کو دجال کہنے سے رجوع کیا تھا تو اسی وقت اس امر کا اعلان کر دینا چاہئے تھا کہ وہ رجوع کر چکا ہے۔ اس لئے اب پندرہ ماہ کے اندر نہیں مرے گا۔ بلکہ بعد کی تقریروں اور تحریروں میں یہی ظاہر کرتے رہے کہ آتھم ضرور مرے گا۔ ہشتم : کبھی تو یہ ظاہر کیا کہ وہ موت سے ڈرتا رہا۔ کبھی یہ کہ آنحضرت ﷺ کو دجال کہنے سے رجوع کیا۔ اس لئے ہاویہ میں نہیں

٢٨

صفحہ ٤٠٧

گرایا گیا۔ کبھی یہ ظاہر کیا کہ وہ ہاویہ میں گرایا گیا۔ نہم: پیشین گوئی کے الفاظ میں ہے۔ ”جو سچ پر ہے اور سچے خدا کو مانتا ہے اس کی اس سے عزت ظاہر ہوگی ۔“ یہ الفاظ مرزا قادیانی کی صاف تکذیب کرتے ہیں۔ کیونکہ اختتام میعاد پر نہایت کثرت سے اور سخت از سخت اشتہارات ورسالہ جات مرزا قادیانی کے خلاف عیسائیوں اور مسلمانوں کی طرف سے شائع ہوئے اور کل ہندوستان میں مرزا قادیانی کی سخت از سخت ذلت و رسوائی ہوئی۔ دہم: پیش گوئی کے اجزا یہ بھی تھے۔ اس وقت یہ پیش گوئی ظہور میں آوے گی۔ بعضے اندھے سوجاکھے کئے جاویں گے اور بعض لنگڑے چلنے لگیں گے۔ یہ صریحاً باطل ثابت ہوئے۔ کیونکہ کوئی سخت مخالف جو لنگڑے اور بہرے اور اندھے کے مشابہ ہو سکتے تھے۔ اس پیش گوئی کے خاتمہ پر مرزا قادیانی کے مریدوں میں داخل نہیں ہوئے۔ بلکہ بعض مرید ارتداد میں پڑگئے۔ مسلمانوں نے یہاں تک شائع کیا کہ جولوگ اسلام کی آڑ میں ہو کر اس کو بگاڑنا چاہیں وہ ہمیشہ ذلیل اور خوار ہوتے ہیں۔ چنانچہ مرزا قادیانی کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہوا۔ اس ذلت کا اقرار خود مرزا قادیانی نے (سراج منیر ص ٤٧)........... کیا۔ ”انہوں نے پشاور سے لے کر الہ آباد اور بمبئی اور کلکتہ اور دور دور کے شہروں تک نہایت شوخی سے ناچنا شروع کیا اور دین اسلام پر طعنے کسے اور سب مولوی یہودی صفت اور اخباروں والے ان کے ساتھ خوش خوش اور ہاتھ میں ہاتھ ملائے ہوئے تھے۔“

نواب محمد علی خاں صاحب رئیس مالیر کوٹلہ نے اس پیش گوئی کے خاتمہ پر ایک خط میں یہ لکھا تھا اب کیا یہ پیش گوئی آپ کی تصریح کے موافق پوری ہو گئی؟ نہیں ہرگز نہیں۔ عبداللہ اب تک صحیح و سالم موجود ہے اور اس کو بسزائے موت ہاویہ میں نہیں گرایا گیا۔ اگر ہاویہ کے معنی صرف ذلت و رسوائی کے لئے جائیں تو بیشک ہماری جماعت ذلت ورسوائی کے ہاویہ میں گر گئی۔ میرے خیال میں اب کوئی تاویل نہیں ہو سکتی۔ ہم لوگوں کو کیا منہ دکھائیں۔ (انجام آتھم ص ١٧) پر مرزا قادیانی نے خود بعض مریدوں کا پھر جانا مانا ہے۔ (تو کیا یہی اندھے تھے جو دیکھنے لگے اور لنگڑے تھے جو چلنے لگے اور بہرے تھے جو سننے لگے؟) اس سے تو کھلے طور پر مرزا قادیانی کا جھوٹا ہونا ثابت ہو گیا اور وہ ہر قسم کی ذلت اور سزا کے مستحق ٹھہر گئے۔

”عجل جسد لہ خوار لہ نصب وعذاب“ اور خدا کی طرف سے ظاہر کیا کہ آج کی تاریخ جو ٢٠؍ فروری ١٨٩٣ء سے چھ برس کے عرصہ تک یہ شخص اپنی بدزبانیوں کی سزا میں یعنی بے ادبیوں کی سزا میں جو اس شخص نے رسول اللہ ﷺ کے حق میں کی ہیں۔ عذاب شدید میں مبتلا ہو جائے گا۔

٢٩

صفحہ ٤٠٨

پھر یہ بھی لکھا کہ اگر اس شخص پر چھ سال کے عرصہ میں آج کی تاریخ سے کوئی ایسا عذاب نازل نہ ہوا جو معمولی تکلیفوں سے نرالا اور خارق عادت اور اپنے اندر الٰہی ہیبت رکھتا ہو تو سمجھو کہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہوں اور ہر قسم کی سزا کا مستحق۔

اصل پیش گوئی میں دکھ اور عذاب کے الفاظ ہیں۔ پھر ان کی تشریح یہ کی ہے کہ وہ عذاب خارق عادت ہوگا اور الٰہی ہیبت رکھتا ہوگا۔ مگر کرامات الصادقین میں ہے۔ ”فبشرنی ربی بموته فی ست سنة“ (قاعدہ نحو کی رو سے یہ جملہ غلط ہے۔ فی ست سنین چاہئے) میرے رب نے مجھے بشارت دی کہ وہ چھ سال کے اندر مر جائے گا۔ مورخہ ٦؍مارچ ١٨٩٧ء کو لیکھرام چھری سے مارا گیا۔ کیا اس کو خرق عادت عذاب اور الٰہی ہیبت والا عذاب کہہ سکتے ہیں؟ کیا جس قدر قتل ہوتے ہیں وہ خرق عادت اور معجزہ میں داخل ہیں۔ ایسے معجزات تو سرحد کابل پر ہمیشہ ہوتے رہتے اور جنگ ٹرانسوال اور جنگ روس و جاپان میں تو لاکھوں ہوئے۔ کیا ان سب کو خرق عادت کہہ سکتے ہیں؟ مرزا قادیانی نے سراج منیر میں یہ بھی ظاہر فرمایا ہے کہ اگر پیش گوئی فی الواقع ایک عظیم الشان ہیبت کے ساتھ ظہور پذیر ہو تو وہ خود بخود دلوں کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔ پس وہ کون کون سے لوگ ہیں جن کے دلوں کو اس پیش گوئی کی عظیم الشان ہیبت نے اپنی طرف کھینچ لیا ہے۔

١٨٨٨ء کا اقتباس۔

پیش گوئی کا جب انجام ہویدا ہو گا قدرت حق کا عجب ایک تماشا ہو گا
جھوٹ اور سچ میں جو ہے فرق وہ پیدا ہوگا کوئی پا جائے گا عزت کوئی رسوا ہو گا

اس خدائے قادر وحکیم مطلق نے مجھے فرمایا کہ اس شخص کی دختر کلاں کے نکاح کے لئے سلسلہ جنبانی کر اور ان کو کہہ دے کہ تمام سلوک ومروت تم سے اسی شرط سے کیا جاوے گا اور یہ نکاح تمہارے لئے ایک موجب برکت اور رحمت کا نشان ہوگا اور تمام رحمتوں اور برکتوں سے حصہ پاؤ گے جو اشتہار ٢٠؍فروری ١٨٨٦ء میں درج ہے۔ لیکن اگر نکاح سے انحراف کیا تو اس لڑکی کا انجام بہت برا ہوگا۔ جس کسی دوسرے شخص سے بیاہی جائے گی وہ روز نکاح سے اڑھائی سال تک اور ایسا ہی والد اس دختر کا تین سال تک فوت ہو جائے اور ان کے گھر پر تفرقہ اور تنگی اور مصیبت پڑے گی اور درمیانی زمانہ میں بھی اس دختر کے لئے کراہت اور غم کے امر پیش آئیں گے۔ عربی الہام اس بارہ میں یہ ہے: ”انا زوجنکھا“ ہم نے تیرا نکاح اس سے کر دیا۔ ”کذّبوا بایتنا

٣٠

صفحہ ٤٠٩

وكانوا بها يستهزؤن . فسيكفيكهم الله ويردها اليك لا تبديل لكلمات الله ان ربك فعال لما يريد . انت معى وانا معك عسى ان يبعثك ربك مقاما محموداً “ یعنی انہوں نے ہمارے نشانوں کو جھٹلایا اور وہ پہلے سے ہنسی کر رہے تھے۔ سو خدا تعالیٰ ان سب کے تدارک کے لئے جو اس کام کو روک رہے ہیں تمہارا مددگار ہوگا اور انجام کار اس کی اس لڑکی کو تمہاری طرف واپس لائے گا۔ کوئی نہیں جو خدا کی باتوں کو ٹال سکے۔ تیرا رب وہ قادر ہے کہ جو کچھ چاہے وہی ہو جاتا ہے تو میرے ساتھ ہے اور میں تیرے ساتھ ہوں اور عنقریب تجھے وہ مقام ملے گا جس میں تیری تعریف کی جاوے گی۔ رسالہ شہادت القرآن میں اس کی میعاد ٢١؍ستمبر ١٨٩٣ء سے قریباً گیارہ مہینہ باقی بتلائے ہیں۔ اس لئے ٢١؍اگست ١٨٩٤ء کو مرزا غلام احمد کا داماد فوت ہونا چاہئے تھا ۔ مگر وہ فوت نہیں ہوا اور اب تک زندہ ہے اور بدستور مرزا کا مخالف ہے۔ پہلے نان کمیشن افسر تھا اب کمیشن افسر ہے۔ مرزا قادیانی نے ظاہری اسباب میں بھی اس نکاح کے لئے بڑی کوششیں کیں۔ چنانچہ جب مرزا قادیانی کو خبر ملی کہ احمد بیگ اپنی لڑکی کی شادی اور جگہ کرنے والا ہے۔ تب ٤؍مئی ١٨٩١ء کو انہوں نے ایک طول طویل خط بڑے زور شور سے مرزا علی شیر بیگ کے نام لکھا جس میں یہ مضمون بھی ہے کہ: ”اگر آپ اپنے بھائی کو اس نکاح سے روک نہ دیں تو میں اپنے بیٹے فضل احمد سے اس کی بیوی کو طلاق دلوا دوں گا۔ ایک طرف جب محمدی کا کسی شخص سے نکاح ہوگا تو دوسری طرف فضل احمد آپ کی لڑکی کو طلاق دے دے گا۔ اگر نہیں دے گا تو میں اس کو عاق اور لاوارث کر دوں گا اور اگر میرے لئے احمد بیگ سے مقابلہ کرو گے اور اس کا یہ ارادہ بند کرا دو گے تو میں بدل و جان حاضر ہوں اور فضل احمد کو جو اب میرے قبضہ میں ہے۔ ہر طرح سے درست کر کے آپ کی لڑکی کی آبادی کے لئے کوشش کروں گا اور میرا مال ان کا مال ہوگا۔“

اسی تاریخ کو ایک خط عزت بی بی کی والدہ کے نام لکھا جس کے چند سطور حسب ذیل ہیں: ”والدہ عزت بی بی کو معلوم ہو کہ مجھ کو خبر پہنچی ہے کہ چند روز تک محمدی یعنی مرزا احمد بیگ کی لڑکی کا نکاح ہونے والا ہے اور میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا چکا ہوں کہ اس نکاح سے سارے رشتے ناطے توڑ دوں گا اور کوئی تعلق نہیں رہے گا۔ اس لئے نصیحت کی راہ سے لکھتا ہوں کہ اپنے بھائی مرزا احمد بیگ کو سمجھا سکتی ہو اس کو سمجھا دو اور اگر ایسا نہیں ہوگا تو آج میں نے مولوی نورالدین اور فضل احمد کو لکھ دیا ہے کہ اگر تم اس ارادہ سے باز نہ آؤ تو فضل احمد عزت بی بی کے لئے طلاق نامہ لکھ کر بھیج دے اور اگر فضل احمد طلاق نامہ لکھنے میں عذر کرے تو اس کو عاق کیا جاوے اور اپنے بعد اس کو وارث نہ سمجھا جاوے اور ایک پیسہ وراثت کا اس کو نہ ملے۔ سو امید کرتا ہوں کہ شرعی طور پر اس کی

٣١

صفحہ ٤١٠

طرف سے طلاق نامہ لکھا جاوے گا۔ سو محمدی کا دوسری جگہ نکاح ہوتے ہی طلاق پڑ جائے گی۔“

تیسرا خط اسی مضمون کا مرزا قادیانی نے اپنی بہو سے لکھوا کر اس کی والدہ کی طرف بھیجا۔ چوتھا خط مرزا قادیانی نے احمد بیگ کے نام اسی مضمون پر لکھا کہ اگر مرزا تمام تدابیر میں ناکام رہے اور ان کی آسمانی منکوحہ اب تک مرزا سلطان محمد کے تحت میں ہے جس کو ٢١/اگست ١٨٩٤ء تک فوت ہو جانا چاہئے تھا۔ مگر مرزا قادیانی اس میں بھی یہی کہتے ہیں کہ احمد بیگ تو مر گیا اور اس کا داماد سلطان محمد خوف اور توبہ کی وجہ سے بچ گیا۔ کیا سلطان محمد مرزا قادیانی کا مرید ہو گیا اور ان کی آسمانی منکوحہ کو چھوڑ کر مرزا قادیانی کے حوالہ کر دیا ہے؟ اور الہام کا اصل جز یعنی محمدی کا مرزا کے نکاح میں آنا پورا ہو گیا۔ جو تمام قضیہ کی بنیاد ہے اور جس کی نسبت الہام میں یہ الفاظ تھے۔ ”انا زوجنکها فسیكفكهم الله ويردها اليك لا تبديل لكلمات الله ان ربك فعال لما يريد“ کہ اللہ ان سب کے مقابلہ پر تیرے واسطے کافی ہوگا اور اس کو تیری طرف واپس لے آئے گا۔ اللہ کے الفاظ بدل نہیں سکتے۔ تیرا رب جو چاہے کر سکتا ہے۔ قدرت حق کا عجب ایک تماشا ہوگا۔ کیونکہ اس کے یہی معنی ہیں کہ آپ کی آسمانی منکوحہ دوسرے انسان کے تحت میں ہے اور گیارہ بچہ جن چکی ہے۔

مولوی ابوالحسن تبتی : اقتباس از اشتہار مورخہ ٢١/نومبر ١٨٩٨ء ”میں نے خدا تعالیٰ سے دعا کی ہے کہ وہ مجھ میں اور محمد حسین میں آپ فیصلہ کرے اور وہ دعا جو میں نے کی ہے یہ ہے کہ اے میرے ذوالجلال پروردگار اگر میں تیری نظر میں ایسا ہی ذلیل اور جھوٹا اور مفتری ہوں جیسا کہ محمد حسین بٹالوی نے اپنے رسالہ ”اشاعة السنة “ میں بار بار مجھ کو کذاب اور دجال اور مفتری کے لفظ سے یاد کیا ہے اور جیسا کہ اس نے اور محمد بخش جعفر زٹلی اور ابوالحسن تبتی نے اس اشتہار میں جو ١٠/نومبر ١٨٩٧ء کو چھپا ہے میرے ذلیل کرنے میں کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھا تو اے میرے مولا اگر میں تیری نظر میں ایسا ہی ذلیل ہوں تو مجھ پر تیرہ ماہ کے اندر یعنی ١٥/دسمبر ١٨٩٨ء سے ١٥/جنوری ١٩٠٠ء تک ذلت کی مار کر اور ان لوگوں کی عزت اور وجاہت ظاہر اور اس روز کے جھگڑے کو فیصلہ فرما۔ لیکن اگر اے میرے آقا! اے میرے مولیٰ ! میرے منعم ! میرے ان نعمتوں کے دینے والے جو تو جانتا ہے اور میں جانتا ہوں۔ تیری جناب میں میری کچھ عزت ہے تو میں عاجزی سے دعا کرتا ہوں کہ ان تیرہ مہینوں میں جو ١٥/دسمبر ١٨٩٨ء سے ١٥/جنوری ١٩٠٠ء تک شمار کئے جائیں گے شیخ

٣٢

محمد حسین اور جعفر زٹلی اور مخفی مذ کی مار سے دنیا میں رسوا کر۔ فر اور مفتری ہوں تو مجھے ان تیر وجاہت اور عزت ہے تو میرے عليهم الذلة“ کا مصداق کر یہ دعا تھی جو میں کروں گا اور وہ اپنے ہاتھ کا ہیں: ”ان الذين يصدو اشد من ضرب الناس اتعجل لا مرى انى م الظالم على يديه ويضر من الله من عاصم فاع ١٩٠٠ء گزر گئی اور محمد حسین وب باعزت رہے۔ جیسا کہ پہ مرزا قادیانی نے ایک تعلی کی ہے۔ اس پر علماء نے جو فتویٰ ٧/جنوری ١٨٩٩ء کو ایک اشتہ کا لگایا تھا اس پر بھی لگ گیا الفاظ کہ میں ظالم کو ذلیل اور ضرب الناس! اور کہاں خود بھی تو اس مہدی کے منکر تفسیر کی تھی کہ ظالم ناجائز فخر و ملا محمد بخش و ابوالحسن صاحبا ہیں۔ پھر یہ تاویل بھی خلاف جس میں ذلت کے اسباب

صفحہ ٤١١

محمد حسین اور جعفر زٹلی اور متقی مذکور کو جنہوں نے میرے ذلیل کرنے کے لئے یہ اشتہار لکھا ہے ذلت کی مار سے دنیا میں رسوا کر۔ غرض اگر یہ لوگ تیری نظر میں سچے اور متقی اور پرہیز گار اور میں کذاب اور مفتری ہوں تو مجھے ان تیرہ مہینوں میں ذلت کی مار سے تباہ کر اور اگر تیری جناب میں مجھے وجاہت اور عزت ہے تو میرے لئے نشان ظاہر فرما کہ ان تینوں کو ذلیل اور رسوا اور ”ضربت علیهم الذلة“ کا مصداق کر۔ آمین ثم آمین!

یہ دعا تھی جو میں نے کی اس کے جواب میں الہام ہوا کہ میں ظالم کو ذلیل اور رسوا کروں گا اور وہ اپنے ہاتھ کاٹے گا اور چند عربی الہامات ہوئے جو ذیل میں درج کئے جاتے ہیں: ”ان الذين يصدون عن سبيل الله سينالهم غضب من ربهم ضرب الله اشد من ضرب الناس انما امرنا اذا اردنا شيئاً ان نقول له كن فيكون . اتعجل لامرى انى مع العشاق . انى انا الرحمن ذوالمجد والعلى ويعض الظالم على يديه ويطرح بين يدى جزاء سيئة بمثلها وترهقهم ذله . مالهم من الله من عاصم فاصبر حتى ياتى الله مع الذين هم محسنون “ ١٥؍ جنوری ١٩٠٠ء گزر گئی اور محمد حسین و ملا محمد بخش اور مولوی ابو الحسن تبتی سب ہی حال میں زندہ و سلامت اور باعزت رہے۔ جیسا کہ پہلے سے تھے جب کہ پیش گوئی کی میعاد قریب الاختتام ہوئی۔ تب مرزا قادیانی نے ایک شخص کی معرفت علماء سے فتویٰ حاصل کیا کہ حضرت مہدی کے منکر کا کیا حکم ہے۔ اس پر علماء نے جو فتویٰ دیئے اور مرزا قادیانی نے ان کو مولوی محمد حسین پر چسپاں کر کے ٧؍ جنوری ١٨٩٩ء کو ایک اشتہار شائع کر دیا کہ جس طرح مولوی محمد حسین نے میرے اوپر فتویٰ کفر کا لگایا تھا اس پر بھی لگ گیا۔ پس یہی میری پیش گوئی کا مدعا تھا اور بس ! کہاں تو الہام کے یہ الفاظ کہ میں ظالم کو ذلیل اور رسوا کروں گا اور وہ اپنے ہاتھ کاٹے گا ۔ ضرب الله اشد من ضرب الناس ! اور کہاں یہ فتویٰ جو خود مرزا قادیانی پر بھی ایسا ہی چسپاں ہو سکتا ہے۔ کیونکہ وہ خود بھی تو اس مہدی کے منکر ہیں جو عام طور پر مانا جاتا ہے۔ ہاتھ کاٹنے کی خود مرزا قادیانی نے یہ تفسیر کی تھی کہ ظالم ناجائز تحریر پر پچھتائے گا کہ کیوں یہ ہاتھ ایسے کام پر چلے۔ مگر مولوی محمد حسین و ملا محمد بخش وابو الحسن صاحبان آج تک اسی طرح مرزا قادیانی کے مخالف اور مکذب اور مکفر ہیں۔ پھر یہ تاویل بھی خلاف بیانیوں سے نہیں بچی۔ چنانچہ ١٧؍ دسمبر ١٨٩٩ء کو ایک اشتہار دیا جس میں ذلت کے اسباب حسب ذیل گنائے:

٣٣

صفحہ ٤١٢

کا صلہ لام فصحائے کے کلام میں موجود ہے۔ اس سے اس کی بے عزتی ہوئی۔

کہ آئندہ کو وہ مجھے دجال قادیانی کافر وغیرہ نہ کہے گا۔

آلات داخل ہوں وہ ذلیل ہو جاتا ہے۔

لام صلہ کے تو انکار کا کوئی ثبوت نہیں۔ بلکہ ایک خط میں ابوسعید محمد حسین جو بنام مولوی ابوالوفا ثناء اللہ بھی لکھتے ہیں۔ السلام علیکم! مرزا جھوٹ لکھتا ہے میں نے یہ نہیں کہا تھا کہ عجیب کا صلہ لام کبھی نہیں آتا۔ حدیث مشکوٰۃ ”عجبنا لہ یسئلہ ویصدقہ“ مجھے بھول نہیں گئی۔ میں نے یہ کہا تھا کہ قرآن میں عجب کا صلہ من آیا ہے۔ ”قالوا اتعجب من امر اللہ“

(ابوسعید)

پھر اگر صرفی یا نحوی غلطی (تسامحہ) ہونا کوئی بڑی ذلت ہے تو مرزا قادیانی کی کس قدر ذلت ہوئی۔ جب محمد حسین نے آپ کی غلطیوں کی طویل فہرست شائع کی اور خاص کر جب آپ کی الہامی عبارتوں میں غلطیاں ثابت کی گئیں۔

زمینداری کی ذلت محمد حسین کو آج ملی۔ مگر مرزا پشت در پشت سے اس ذلت میں مبتلا ہیں۔ باقی رہا مقدمہ کے فیصلہ کی رو سے اس میں طرفین برابر قرار دئیے گئے ہیں۔ چنانچہ اس فیصلہ کی کل دفعات حسب ذیل ہیں:

خیال کئے جاسکیں کہ کسی شخص کو (یعنی مسلمان ہو خواہ ہندو یا عیسائی وغیرہ ) ذلت پہنچے گی یا وہ مورد عتاب الٰہی ہوگا۔

شخص کو (یعنی مسلمان ہو یا ہندو ہو) یا عیسائی وغیرہ کو ذلیل کرے۔ یا ان سے نشان ظاہر کرنے سے کہ وہ مورد عتاب الٰہی ہے یہ ظاہر کرے کہ مذہبی مباحثہ میں کون سچا اور کون جھوٹا ہے۔

منشاء رکھنے کی معقول وجہ رکھتا ہو کہ فلاں شخص (یعنی مسلمان ہو خواہ ہندو یا عیسائی ) ذلت اٹھائے گا یا مورد عتاب الٰہی ہوگا۔

٣٤

صفحہ ٤١٤

کے ساتھ مباحثہ کرنے میں دشنام آمیز فقرہ یا دل آزار لفظ استعمال کروں یا کوئی ایسی تحریر یا تصویر شائع کروں جس سے ان کو درد پہنچے۔ میں اقرار کرتا ہوں کہ ان کی ذات کی نسبت یا ان کے کسی دوست اور پیرو کی نسبت کوئی لفظ مثل دجال، کافر، کاذب، بطالوی نہیں لکھوں گا۔ میں ان کی پرائیویٹ زندگی یا ان کے خاندانی تعلقات کی نسبت کچھ شائع نہیں کروں گا جس سے ان کو تکلیف پہنچنے کا عقلاً احتمال ہو۔

پیرو کو اس امر کے مقابلہ کے لئے بلاؤں کہ وہ خدا کے پاس مباہلہ کی درخواست کریں تاکہ وہ ظاہر کریں۔ فلاں مباحثہ میں کون سچا اور کون جھوٹا ہے۔ نہ میں ان کو یا ان کے کسی دوست یا پیرو کو کسی شخص کی نسبت کوئی پیش گوئی کرنے کے لئے بلاؤں گا۔

ترغیب دوں گا کہ وہ بھی بجائے خود اسی طریق پر عمل کریں جس طریق پر کاربند ہونے کا میں نے دفعہ ١، ٢، ٣، ٤، ٥، ٦ میں اقرار کیا ہے۔ مولوی محمد حسین نے اشاعۃ السنہ نمبر ٤ جلد ٩ بابت ١٩٠٢ء ص ١٠٧ پر مرزا قادیانی کے جواب میں عبارت ذیل شائع کی۔

مرزا قادیانی نے اپنے اشتہار ١٨٩٩ء میں مضمون غلط اور خلاف واقعہ مشتہر کیا ہے کہ ابوسعید محمد حسین نے اس اقرار نامہ پر دستخط کر کے اپنے فتویٰ کو اشاعۃ السنۃ جلد ١٣ میں شائع کیا تھا منسوخ کر دیا ہے اور اسی بناء پر مرزا قادیانی نے اس اشتہار میں یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ وہ فیصلہ ابوسعید محمد حسین کے منشاء کے برخلاف ہوا۔ ہم کو مرزا قادیانی سے بحث و خطاب منظور نہیں۔ ہم صرف پبلک کو آگاہ کرنے کی غرض سے اس امر کا اظہار واجب سمجھتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے اس بیان میں مجھ پر اور مجسٹریٹ ضلع پر افتراء کیا اور پبلک کو دھوکا دیا۔ خاکسار بشمول تمام مسلمانوں کے جو مذہب باطل مرزا کے مخالف ہیں مرزا قادیانی کو اس کے عقائد باطلہ مخالف اسلام کے سبب ویسا ہی گمراہ جانتا ہے۔ جیسا کہ اس اقرار نامہ پر دستخط کرنے سے پہلے جانتا تھا اور اس کے حق میں وہی فتویٰ دیتا ہے جس کو جلد اشاعۃ السنۃ میں مشتہر کر چکا ہے۔ اب رہا حدیث پیش کردہ مرزا قادیانی کی تفسیر۔ وہ فاتح قوم کے حق میں ہے۔ چنانچہ حضرت عمرؓ عربی سپاہی کو ایک چپہ بھر زمین بھی نہ دیتے تھے...... اسی اصول کو آج گورنمنٹ برطانیہ نے موجب استحکام سلطنت سمجھا ہے کہ جو فاتح قوم

٣٥

صفحہ ٤١٤

زمینداری کی طرف جھک جائے تو وہ جلدی کمزور اور ذلیل ہو جاتی ہے۔ رہا مولوی محمد حسین کی طرح زمینداری اس قسم کی تو خود آنحضرت ﷺ اور صحابہ کرام کو بھی حاصل تھی۔ چنانچہ خیبر کی زمین اسی طریق پر دی گئی تھی۔ پھر عجب تر تماشہ اس پیش گوئی میں یہ ہے کہ ملا محمد بخش لاہوری اور ابوالحسن ثقفی جو اس میں شامل تھے ان کی نسبت مرزا قادیانی اشتہار مورخہ ١٧؍ دسمبر ١٨٩٩ء میں یہ فرماتے ہیں کہ ان کی عزت و ذلت دونوں طفیلی ہیں۔ پھر اسی اشتہار میں لکھتے ہیں۔ وہ جعفر زٹلی جو گندی گالیوں سے باز نہیں آتا۔ اب اگر ذلت کی موت اس پر وارد نہیں ہوئی تو اب کیوں نہیں گالیاں نکالتا۔ یہ سفید جھوٹ ہے۔ کیونکہ اس کے بہت سے اشتہارات مرزا قادیانی کے خلاف نکلتے رہے۔ مثلاً ”مرزا کاذب اور ہم۔“ مورخہ ٢٠؍ اپریل ١٨٩٩ء کو بعنوان ”مسیح کاذب کے ساتھ باتیں۔“ ٢٥؍ جون ١٨٩٩ء کو بعنوان ”قادیان کا جھوٹا مسیح“، یکم؍ اکتوبر ١٨٩٩ء بعنوان ”الحکم کی غلط فہمی“ ١٥؍ دسمبر ١٨٩٩ء کو بعنوان ”عجیب جواب۔“ بندہ ملا محمد بخش از لاہور، یکم؍ اکتوبر ١٨٩٩ء، ”پیش گوئی متعلقہ نشان آسمانی میعادی سہ سالہ“ اقتباس از اشتہار مورخہ ٥؍ نومبر ١٨٩٩ء۔

اے میرے مولا ! قادر خدا ! اب مجھے راہ بتلا (آمین) اگر میں تیری جناب میں مستجاب الدعوات ہوں تو ایسا کر کہ جنوری ١٩٠٠ء سے آخیر دسمبر ١٩٠٢ء تک میرے لئے کوئی اور نشان دکھلا اور اپنے بندے کے لئے گواہی دے۔ جس کو زبانوں سے کچلا گیا ہے۔ دیکھ میں تیری جناب میں عاجزانہ ہاتھ اٹھاتا ہوں کہ تو ایسا ہی کر۔ اگر میں تیرے حضور میں سچا ہوں اور جیسا کہ خیال کیا گیا ہے۔ کافر، کاذب نہیں ہوں تو ان تین سال میں جو آخیر دسمبر ١٩٠٢ء تک ختم ہو جائیں گے۔ کوئی ایسا نشان دکھلا کہ جو انسانی ہاتھوں سے بالاتر ہو۔ (اشتہار مورخہ ٥؍ نومبر ١٨٩٩ء) گویا الفاظ دعائیہ ہیں۔

مگر مرزا قادیانی اپنے رسالہ (اعجاز احمدی ص ٨٨) پر اس دعا کو پیش گوئی قرار دیتے ہیں اور اپنی دعا کی نسبت اسی اشتہار کے ص ٤ پر فرماتے ہیں کہ: ”سلطان ایسی دلیل کو کہتے ہیں کہ جو اپنی قبولیت اور روشنی کی وجہ سے دلوں پر قبضہ کرلے۔“ (اشتہار مورخہ ٢٢؍ اکتوبر ١٨٩٩ء) پھر ص ٣ پر عبارت ذیل ہے۔ ”اگر تو اے خدا تین برس کے اندر جو جنوری ١٩٠٠ء سے شروع ہو کر دسمبر ١٩٠٢ء تک پورے ہو جائیں گے۔ میری تائید میں اور میری تصدیق میں کوئی نشان نہ دکھلاوے اور اپنے بندے کو ان لوگوں کی طرح رد کردے جو تیری نظر میں شریر اور پلید اور بے دین اور کذاب اور دجال اور خائن اور فاسد ہیں تو میں تجھے گواہ کرتا ہوں کہ میں اپنے تئیں مصداق سمجھ لوں گا جو میرے پر لگائے جاتے ہیں۔ میں نے اپنے لئے یہ قطعی فیصلہ کرلیا ہے کہ اگر میری یہ دعا قبول نہ ہو تو میں ایسا ہی

٣٦

صفحہ ٤١٥

مردود و ملعون اور کافر اور بے دین اور خائن ہوں۔ جیسا کہ مجھے سمجھا گیا ۔" پھر اس پیش گوئی کو اس طرح پورا کیا کہ ایک رسالہ اعجاز احمدی لکھا۔ مولوی ابوالوفا ثناء اللہ کے نام بھیج کر مبلغ دس ہزار روپیہ کا انعامی اشتہار دیا کہ مولوی ثناء اللہ امرتسری اتنی ہی ضخامت کا رسالہ اردو عربی نظم جیسا میں نے بنایا ہے۔ پانچ روز میں بنا دے تو میں دس ہزار روپیہ ان کو انعام دوں گا اور اس قصیدہ کا نام قصیدہ اعجازیہ رکھا اور فرمایا کہ یہ قصیدہ ایسا فصیح و بلیغ ہے کہ جیسا قرآن آنحضرت کا معجزہ ہے اور اس سے میری وہ پیش گوئی جو سہ سالہ میعاد کی میں نے طلب کی تھی وہ پوری ہوئی۔ سبحان اللہ ! اسکا جواب ثناء اللہ نے دیا اور جو ٢٩؍ نومبر ١٩٠٢ء کے پیسہ اخبار میں شائع ہوا۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ پہلے مرزا قادیانی اس قصیدہ اعجازیہ کو ان غلطیوں سے جو میں پیش کروں صاف کر دیں تو پھر میں آپ کا شاگرد ہو جاؤں گا۔ یہ کیا بات ہے کہ آپ گھر سے تمام زور لگا کر ایک مضمون اچھی خاصی مدت میں لکھیں اور مخاطب کو جسے آپ کی مہلت کا کوئی علم نہیں محدود وقت کا پابند کریں۔ اگر واقعی آپ خدا کی طرف سے ہیں اور جدھر آپ کا منہ ہے ادھر ہی خدا کا منہ ہے۔ جیسا کہ آپ کا دعویٰ ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ آپ میدان میں آکر طبع آزمائی نہ کریں اور حرم سرائے سے گولہ باری کریں اور دراصل یہ قصیدہ اعجازی ہے تو پانچ روز کی قید کیوں لگائی ؟ کیا قرآن شریف نے اپنے مقابلہ پر قید لگائی ہے کہ اگر اتنی مدت سے زائد ایام میں اس کے مقابل کوئی سورت لاؤ گے تو وہ ردی میں پھینک دی جائے گی۔ پھر ساتھ ہی اس قدر مدت میں چھپ جانے کی شرط ہے۔ گویا کہ آپ کا یہ بھی معجزہ ہے کہ دو پریس آپ کے پاس موجود ہیں جو دن رات آپ کو کام دے سکتے ہیں اور میرے پاس نہیں ہیں ۔ ناظرین یہ ہیں مرزا قادیانی کی بھول بھلیاں ۔ پھر اس قصیدہ اعجازیہ میں صرفی نحوی اور عروضی غلطیوں کی ایک فہرست پیش کی ۔ اگر بالفرض یہ مان بھی لیا جائے کہ یہ قصیدہ اعجازی ہے تو یہ معجزہ تو بقول آپ کے اس تین سالہ میعاد سے پہلے کا حاصل تھا۔ چنانچہ ١٣١١ھ سے آپ ایسے ہی متعدد اعجازی تصانیف مثل نور الحق، کرامات الصادقین اور سرالخلافہ شائع کرتے رہے ہیں اور نیز ٢٢؍ نومبر ١٩٠٢ء کو پیسہ اخبار میں آپ نے شائع کرایا تھا کہ عرصہ دس سال سے میرا دعویٰ عربی میں اعجاز نمائی کا ہے۔ پھر جو نشان اور معجزہ اس پیش گوئی سے سات سال پہلے کا آپ کو حاصل ہے۔ وہ اب پیش گوئی کا مصداق کیسے ہوسکتا ہے۔ کیا گذشتہ امور بھی پیش گوئی میں داخل ہیں؟ پھر پیش گوئی میں تو یہ بھی الفاظ ہیں کہ وہ آسمانی نشان ہوگا جو انسانی ہاتھوں سے بالا ہوگا اور یہ فعل آپ کا ہے تو کیا آپ انسان نہیں اور اگر یہ انسانوں کے ہاتھوں سے بالا ہے تو پانچ یوم کی

٣٧

صفحہ ٤١٦

میعاد کیوں لگائی گئی۔ ایک خط مولوی حاجی محمد یونس نے اس اعجازی قصیدہ کے مقابل پر لکھا جس کی چند سطور یہ ہیں۔ ”اب میں بذریعہ تحریر مرزا قادیانی سے گزارش کرتا ہوں کہ آپ فوراً قصیدہ مذکور میرے نام روانہ فرماویں یا اخبار میں شائع فرماویں اور اپنے اعجاز کے زمانہ کو ذرا وسعت بخشیں۔ جس دن وہ قصیدہ میرے پاس پہنچے گا اس سے بیس دن کے اندر انشاء اللہ تعالیٰ اس سے بہتر جواب آپ کی خدمت میں حاضر کیا جائے گا۔“

(پیسہ اخبار مورخہ ١٤؍ دسمبر ١٩٠٢ء)

اس خط کا کوئی جواب نہیں دیا گیا۔

پنجاب کے مختلف مقامات میں سیاہ رنگ کے پودے لگا رہے ہیں اور وہ درخت نہایت بدشکل اور سیاہ رنگ اور خوفناک اور چھوٹے چھوٹے قد کے ہیں۔ میں نے بعض لگانے والوں سے پوچھا کہ یہ کیسے درخت ہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ طاعون کے درخت ہیں۔ جو عنقریب ملک میں پھیلنے والی ہے۔ میرے پر یہ امر مشتبہ رہا کہ اس نے یہ کہا کہ آئندہ جاڑے میں یہ مرض پھیلے گا یا کہ اس کے بعد کے جاڑے میں پھیلے گا۔“

(اشتہار ٦؍ فروری ١٨٩٨ء)

مرزا قادیانی کی آخری مدت کے لحاظ سے بھی طاعون کا زور شور ١٩٠٠ء میں ہونا چاہئے تھا۔ مگر ایسا نہیں ہوا۔ بلکہ ١٩٠٢ء میں یعنی مرزا قادیانی کی پیش گوئی سے دو سال بعد طاعون کا زور شور بعض شہروں اور بعض قصبوں میں ہوا۔ پھر خدائے قدوس اور ذوالجلال کی شان میں کیا اچھے الفاظ ہیں۔ ابتداء نومبر ١٩٠٢ء سے خدا تعالیٰ روزہ کھولے گا۔ اس وقت معلوم ہو جائے گا کہ اس افطار کے وقت کون کون ملک الموت کے قبضہ میں آیا ہے۔

اشتہار ٦؍ فروری میں یہ درج ہے کہ اب تک اس کے معنی میرے پر نہیں کھلے دافع البلاء میں شائع کیا گیا کہ خدا نے سبقت کر کے قادیان کا نام لے دیا ہے۔ قادیان اس کی خوفناک تباہی سے محفوظ رہے گا۔ کیونکہ یہ اس کے رسول کا تخت گاہ ہے۔ پھر تمام قوموں، انجمنوں اور ان کے سر برآوردہ اشخاص کو للکار للکار کر چیلنج دیا کہ کوئی مولوی پنڈت، پادری، صوفی، مہاتما، سجادہ نشین، درویش ایسا ہے جو اپنی بستی کی نسبت ایسی حفاظت کا دعویٰ کرے۔ اگر کوئی بستی یا شہر یا گاؤں اس وقت تک طاعون سے بچا ہوا بھی ہے تو ایسے دعویٰ کی اشاعت کے بعد وہ ضرور مبتلائے طاعون ہو جائے گا۔ خاص کر انجمن حمایت اسلام، علی گڑھ کالج اور مشنریوں کو تو بہت ہی ابھارا ہے کہ آؤ اب اس رسول

٤٨

صفحہ ٤١٧

کے مقابلہ پر ایسا نشان دکھاؤ۔ غرض ان تمام دعوؤں اور مقابلہ آرائیوں سے صاف ظاہر ہوتا تھا کہ قادیان طاعون سے ایسی محفوظ رہے گی کہ کوئی بستی یا گاؤں یا شہر ایسا محفوظ نہیں رہ سکے گا اور یہ صاف و بین نشان ہوگا۔ جیسا کہ موسیٰ علیہ السلام کے نشانات تورات میں مذکور ہیں۔ مصر میں شدت کی وبا پڑی فرعونی بکثرت ہلاک ہوئے۔ مگر بنی اسرائیل مطلق بچے رہے۔ پلوٹھے مرنے شروع ہوئے تو فرعونیوں میں تو آدمیوں، گھوڑوں، بیلوں، گدھوں، خچروں اور اونٹوں کے سب پلوٹھے فنا ہوئے۔ مگر بنی اسرائیل کے پلوٹھے سب بچ رہے۔ مویشی میں وبا آئی۔ جس سے فرعونیوں کے مویشی ہلاک ہوئے۔ مگر بنی اسرائیل کے مویشی بچے رہے۔ کھیتوں میں وبا آئی تو فرعونیوں کے کھیت جل گئے ۔ مگر بنی اسرائیل کے کھیت بچ رہے۔ چیچڑی، جوں، کھٹمل، مینڈک اور خون کی کثرت ہوئی۔ جس سے فرعونیوں کے در و دیوار، صحن و مکان، برتن و صندوق سب پر ہو گئے۔ مگر بنی اسرائیل کے مکانات، صندوق اور ظروف سب بچے رہے۔ حالانکہ فرعونی اور بنی اسرائیل ملے جلے رہتے تھے۔ مگر دافع البلاء میں پڑھ کر دیکھو کہ بڑائی اور ادّعا کا کوئی حد و انتہاء نہیں۔ مگر نتیجہ یہ ہوا کہ آخر کار طاعون قادیان میں پھیلا۔ جس کی نسبت البدر مورخہ ١٦ اپریل میں یہ الفاظ شائع ہوئے کہ خود طاعون نے صفائی شروع کر دی اور مارچ و اپریل ١٩٠٤ء میں ١٣٣ آدمی طاعون سے ہلاک ہوئے۔ حالانکہ کل آبادی ٢٨٠٠ کی ہے۔ قادیان میں طاعون پھوٹنے کے بعد عجیب عجیب تاویلات ہوئیں۔

کہا جا سکتا ہے۔ پھر وہ امتیازی نشان کا دعویٰ اور گھمنڈ کہاں گیا) ایسے تو اکثر گاؤں اور شہر میں پھر نشان بین کیا ہوا۔

ہے۔ جس کے معنی جمع ہونے اور اکٹھے بیٹھ کر کھانے کے ہیں۔ یعنی وہ لوگ جو آپس میں مواکلت رکھتے ہیں۔ اس میں ہندو اور چوہڑے بھی داخل نہیں (تو گویا قرآن مجید میں ”ان من قرية الا خلا فیها نذیر“ ہے تو اس کے یہی معنی ہیں کہ ایک ایک گھر میں یا ایسے لوگوں میں جو آپس میں مواکلت رکھتے ہیں نذیر آئے اور ہندوؤں اور چوہڑوں میں نہیں آئے تو آپ کرشن کیسے بنے۔ کیا یہ گھمنڈ اور دعویٰ تھے۔ مگر الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے۔ یہ مرزا قادیانی اور اس کی جماعت کا ہی عمل

٣٩

صفحہ ٤١٨

ہے ۔ چنانچہ البدر مورخہ ٢٤؍اپریل ١٩٠٤ء رقمطراز ہے۔ ”قادیان میں طاعون کی جو چند وارداتیں ہوئیں۔ ہم افسوس سے بیان کرتے ہیں کہ سوائے اس کے کہ اس نشان سے ہمارے منکر اور مکذب کوئی فائدہ اٹھاتے اور خدا کے کلام کی قدر اور عظمت اور جلال ان پر کھلتی۔ انہوں نے پھر سخت ٹھوکر کھائی ۔“ پھر ١٦ مئی کے پرچہ میں لکھتا ہے۔ قادیان میں طاعون حضرت مسیح علیہ السلام کے ماتحت اپنا کام برابر کر رہی ہے۔ خود محمد افضل ایڈیٹر البدر بھی طاعون سے ہلاک ہوا اور میری رائے میں مولوی عبد الکریم کو بھی نیومانک پلیگ ہوا تھا۔ کیونکہ وہ دفعتاً نیومانک پلیگ ہو کر ہلاک ہوا۔ ”انى احافظ كل من فى الدار الا من استعلى بالاستكبار“ اب کہاں گئی وہ کشتی نوح جس میں بیٹھنے والے نجات یافتہ تھے۔ اب خاص گھر کے اندر کی نسبت پیش گوئی ہے۔ اس کی نسبت آگے دیکھا جائے گا۔ اس پیش گوئی کے متعلق جو جو رنگ بدلے گئے اور خلاف بیانیاں ہوئیں کچھ تو اوپر بیان ہوچکیں۔ ایک اور بھی قابل ذکر ہے۔ دافع البلاء میں یہ بھی ظاہر کیا گیا کہ جو کوئی باہر کا آدمی قادیان میں آجاتا ہے تو وہ بھی اچھا ہو جاتا ہے اور قادیان کو دار الامان اور طاعون سے محفوظ قرار دے کر ظاہر کیا گیا کہ دور دور سے بکثرت لوگ آکر طاعون سے قادیان میں پناہ لیں گے۔ اس لئے توسیع مکانات کے واسطے چندہ کی درخواست پیش کی گئی اور چندہ آنے بھی شروع ہوگئے۔ مگر جب اپنے ہوائی بلبلے پھوٹتے ہوئے نظر آئے تو ایک اعلان حسب ذیل شائع کر دیا۔

اعلان ...... چونکہ آج کل مرض طاعون ہر ایک جگہ بکثرت زور پر ہے۔ اس لئے اگرچہ قادیان میں نسبتاً آرام ہے۔ لیکن مناسب معلوم ہوتا ہے کہ برعایت اسباب ہذا مجمع جمع ہونے سے پرہیز کیا جاوے۔ اس لئے یہ قرین مصلحت ہوا کہ دسمبر کی تعطیلوں میں جیسے اکثر پہلے احباب قادیان میں جمع ہو جایا کرتے تھے۔ اب کی دفعہ اس اجتماع کو بلحاظ مذکورہ بالا ضرورت کے موقوف رکھیں اور اپنی اپنی جگہ پر خدا سے دعا کرتے رہیں کہ وہ اس خطرناک ابتلاء سے ان کو اور ان کے اہل و عیال کو بچاوے۔ اگر ظاہر اسباب پر ہی مدار نجات تھا تو وہ فوق العادت اور معجزانہ حفاظت کہاں گئی جس کا اعلان اس قدر زور شور کے ساتھ دافع البلاء میں شائع کیا گیا تھا اور دہریہ و نیچریوں کو جو ظاہری اسباب پر بھروسہ کرتے ہیں۔ مقابلہ پر للکارا گیا تھا۔

قادیان میں آکر کسی پیش گوئی کو جھوٹی تو ثابت کریں اور ان کو ہر ایک پیش گوئی کے لئے ایک ایک سو روپیہ انعام دیا جائے گا اور آمد و رفت کا کرایہ علیحدہ ۔ ص ١١) مولوی ثناء اللہ نے کہا تھا کہ سب

٤٠

صفحہ ٤١٩

پیش گوئیاں جھوٹی نکلیں۔ اس لئے ہم ان کو مدعو کرتے ہیں اور خدا کی قسم دیتے ہیں کہ وہ آ کر تحقیق کے لئے قادیان میں آئیں۔ ”نزول المسیح “ میں ڈیڑھ سو پیش گوئی میں نے لکھی ہے تو گویا جھوٹ ہونے کی حالت میں پندرہ ہزار روپیہ مولوی ثناء اللہ لے جائیں گے۔ اس وقت ایک لاکھ سے زیادہ میری جماعت ہے۔ پس اگر میں مولوی صاحب موصوف کے لئے ایک ایک روپیہ بھی اپنے مریدوں سے لوں گا تب بھی ایک لاکھ روپیہ ہو جائے گا۔ وہ سب ان کی نذر ہوگا۔ ص ٢٣

”اور واضح رہے کہ مولوی ثناء اللہ کے ذریعہ سے عنقریب تین نشان میرے ظاہر ہوں گے:

اور سچی پیشین گوئیوں کی اپنے قلم سے تصدیق کرنا ان کے لئے موت ہوگی۔

کی روسیاہی ثابت ہوگی۔“

(اعجاز احمدی ص ٣٧)

اس تحدی کے بعد مولوی ثناء اللہ قادیان پہنچے۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم

بخدمت جناب مرزا غلام احمد قادیانی رئیس قادیان

خاکسار آپ کی حسب دعوت مندرجہ اعجاز احمدی ص ٢٣ قادیان میں اس وقت حاضر ہے۔ جناب کی دعوت کے قبول کرنے میں آج تک رمضان شریف مانع رہا۔ ورنہ اتنا توقف نہ ہوتا۔ میں اللہ جل شانہ کی قسم کھاتا ہوں کہ مجھے جناب سے کوئی ذاتی خصومت اور عناد نہیں۔ چونکہ آپ بقول خود ایک ایسے عہدہ جلیلہ پر ممتاز و مامور ہیں جو تمام بنی نوع کی ہدایت کے لئے عموماً اور مجھ سے مخلصوں کے لئے خصوصاً ہند سے اس لئے مجھے قوی امید ہے کہ آپ میری تفہیم میں کوئی دقیقہ باقی نہیں چھوڑیں گے اور حسب وعدہ خود مجھے اجازت بخشیں گے کہ میں مجمع میں آپ کی پیش گوئیوں کی نسبت اپنے خیالات ظاہر کروں۔ میں مکرر آپ کو اپنے اخلاص اور صعوبت سفر کی طرف توجہ دلا کر اسی عہدہ جلیلہ کا واسطہ دیتا ہوں کہ آپ مجھے ضروری موقع دیں۔ ”راقم ابو الوفاء ثناء اللہ “ ١٠ جنوری ١٩٠٣ء سوا چار بجے اس کے جواب میں جو ٹال بازی کا خط طول طویل مرزا قادیانی نے لکھا اس کی چند سطور حسب ذیل ہیں جو کل کا خلاصہ ہے۔ ”یاد رہے کہ یہ ہرگز نہیں ہوگا کہ عوام کالانعام کے روبرو وعظ کی طرح لمبی گفتگو شروع کر دیں۔ بلکہ آپ نے

٤١

صفحہ ٤٢٠

بالکل منہ بند رکھنا ہوگا۔ جیسے صم بکم ۔ یہ اس لئے کہ گفتگو مباحثہ کے رنگ میں نہ ہو جائے۔ اول صرف ایک پیش گوئی کی نسبت سوال کریں۔ تین گھنٹہ تک میں اس کا جواب دے سکتا ہوں اور ایک ایک گھنٹہ کے بعد آپ کو متنبہ کیا جائے گا کہ اگر ابھی تسلی نہیں ہوئی تو اور لکھ کر پیش کرو۔ آپ کا کام نہیں ہوگا کہ اس کو سناویں۔ ہم خود پڑھ لیں گے...... چاہئے کہ دو تین سطر سے زیادہ نہ ہو ۔ “ اس طولانی خط کے جواب میں ابوالوفا نے حسب ذیل خط بھیجا۔

الحمد لله وسلام على عباده الذي اصطفى ، اما بعد

از خاکسار ثناء اللہ!

بخدمت مرزا غلام احمد صاحب! آپ کا طولانی رقعہ مجھے پہنچا۔ مگر افسوس کہ جو کچھ تمام ملک کو گمان تھا وہی ظاہر ہوا۔ جناب والا جب کہ میں آپ کی حسب دعوت مندرجہ اعجاز احمدی ص ١١، ٣٣ حاضر ہوا ہوں اور صاف لفظوں میں رقعہ اولیٰ میں انہیں صفحوں کا حوالہ دے چکا ہوں۔ تو پھر اتنی طویل کلامی جو آپ نے کی ہے بجز ” العادة طبيعة ثانية “ کے اور کیا معنی رکھتی ہے۔ جناب من کس قدر افسوس کی بات ہے کہ آپ اعجاز احمدی کے صفحات مذکورہ پر تو اس نیازمند کو تحقیق کے لئے بلاتے ہیں اور لکھتے ہیں کہ میں (خاکسار) آپ کی پیش گوئیوں کو جھوٹی ثابت کروں تو میں پیش گوئی مبلغ ایک سو روپیہ انعام لوں اور اس رقعہ میں آپ مجھ کو ایک دو سطر میں لکھنے کے پابند کرتے ہیں اور اپنے لئے تین گھنٹہ تجویز کرتے ہیں۔” هذا قسمة ضيزى “ وغیرہ وغیرہ۔ ١١؍ جنوری ١٩٠٣ء اس کا جواب مرزا قادیانی نے خود کچھ نہیں دیا۔ بلکہ مولوی محمد احسن سے ایک پرچہ لکھوا دیا۔ جس کا خلاصہ یہ ہے۔ آپ کی اصلاح جو بطرز شان مناظرہ آپ نے لکھی ہے وہ ہرگز منظور نہیں۔

” لك الخطاب العزت “ والی، قیصر ہند کی شکریہ والی، گرامیدے وہم مدار عجب والی۔

پیشگی لے کر ایک سال دعا کرنے کا وعدہ کیا تھا اور جس کی تاریخ ١٥؍ اگست ١٨٨٨ء سے ١٥؍ اگست ١٨٨٩ء تک تھی۔ ان کے نام دعویٰ سے لکھا تھا کہ اگر آپ کی نسبت کوئی کھلی کھلی بشارت نہ ملی یا اس بشارت کے موافق نتیجہ ظہور میں نہ آیا تو پھر میری نسبت آپ جس طور کا بد اعتقاد چاہیں اختیار کریں۔ مگر اس تمام دعویٰ کا نتیجہ کچھ بھی نہیں ہوا۔

٤٢

عجیب رنگ آمیزیوں اور ذومعنی تشریحات کے ساتھ الہامات ذیل کو جو ١٨٨٤ء میں شائع ہو چکی تھیں للجبل جعله دكا والله موهن كيد الكافرين اس کے اشعار ذیل کو اس پر منطبق کیا۔ کفر کی سے قیامت۔ مجھے یہ بات مولا نے بتادی۔“ ذیل کو جو الحکم ٣٠؍ مئی ١٩٠٤ء کو شائع ہوا تھا۔ محلها ومقامها “ حالانکہ اس کے ساتھ یہ بھی گی اور سخت پڑے گی۔ ١٩؍ اپریل ١٩٠٥ء کو ایک شائع کی۔ پھر خدا تعالیٰ نے مجھے ایک سخت زلزلہ لك نرى آيات ونهدم ما يعمرون انى کو اشتہار الانذار میں شائع کیا۔ تازہ نشان یہ بات پھر پوری ہوئی۔ ساتھ ہی یہ ظاہر کیا کہ زلزلہ شدید آفت۔ مجھے علم نہیں دیا گیا کہ ایسا حادثہ ہو یا بعید پہلے سے بہت خطرناک ہے۔ بہار کی بہار سے کچھ اور مراد ہو۔ خدا تعالیٰ کے کلام کوئی باہر ہو۔ ٢٩؍ اپریل ١٩٠٥ء کو پھر زلزلہ کی ہے جو پہلے کسی آنکھ نے نہیں دیکھا اور نہ کسی آؤں گا۔ میں اپنی فوجوں کے ساتھ اس وقت والا ہے۔ ٢٠؍ دسمبر ١٩٠٥ء کو شائع کیا۔ پھر بیداری شدت سے آیا۔ زمین تہ و بالا کر دی۔ ٢٠؍ مارچ زلزلہ آنے کو ہے اور میرے دل میں ڈالا گیا بلکہ آنے کو ہے اور یہ زلزلہ اس کا پیش خیمہ گوئیوں میں امورات ذیل قابل غور ہیں۔

صفحہ ٤٢١

عجیب رنگ آمیزیوں اور ذومعنی تشریحات کے ساتھ شائع ہورہی ہے۔ اوّل تو براہین احمدیہ کے الہامات ذیل کو جو ١٨٨٤ء میں شائع ہو چکی تھی اس زلزلہ پر چسپاں کیا گیا۔ ”فلما تجلی ربه للجبل جعله دکا والله موهن كيد الكافرين“ پھر آمین محمود جو ١٩٠١ء میں شائع ہوئی تھی اس کے اشعار ذیل کو اس پر منطبق کیا۔ کھڑی ہے سر پہ ایسی ایک ساعت کہ یاد آ جائے گی جس سے قیامت۔ مجھے یہ بات مولا نے بتا دی۔ ”سبحان الذی اخزئی الاعادی“ اور نیز الہام ذیل کو جو الحکم ٣٠؍ مئی ١٩٠٤ء کو شائع ہوا تھا۔ اس زلزلہ کا مصداق ٹھہرایا گیا۔ ”عفت الدیار محلها ومقامها“ حالانکہ اس کے ساتھ یہ نوٹ بھی تھا۔ یعنی طاعون کی وبا ہر جگہ عام طور پر پڑے گی اور سخت پڑے گی۔ ١٩؍ اپریل ١٩٠٥ء کو ایک اشتہار بنام النداء شائع کیا۔ جس میں یہ پیش گوئی شائع کی۔ پھر خدا تعالیٰ نے مجھے ایک سخت زلزلہ کی خبر دی جو نمونہ قیامت اور ہوش ربا ہوگا۔ ”نزلت لك نرى آيات ونهدم ما يعمرون انى مع الافواج آتيك بغتة“ پھر ١٨؍ اپریل ١٩٠٥ء کو اشتہار الانذار میں شائع کیا۔ تازہ نشان، تازہ نشان کا دھکہ زلزلہ الساعۃ پھر بہار آئی۔ خدا کی بات پھر پوری ہوئی۔ ساتھ ہی یہ ظاہر کیا کہ مجھے علم نہیں دیا گیا کہ زلزلہ سے مراد زلزلہ ہے یا اور کوئی شدید آفت۔ مجھے علم نہیں دیا گیا کہ ایسا حادثہ کب ہوگا۔ بہرحال وہ حادثہ زلزلہ ہو یا کچھ اور قریب ہو یا بعید پہلے سے بہت خطرناک ہے۔ بہار کی نسبت لکھا ممکن ہے اس وحی کے اور کچھ معنی ہوں اور بہار سے کچھ اور مراد ہو۔ خدا تعالیٰ کے کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بہار کے دن ہوں گے۔ خواہ کوئی باہر ہو۔ ٢٩؍ اپریل ١٩٠٥ء کو پھر زلزلہ کی خبر بار سوم شائع کی۔ وہ زلزلہ اس ملک پر آنے والا ہے جو پہلے کسی آنکھ نے نہیں دیکھا اور نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی دل میں گذرا۔ میں چھپ کر آؤں گا۔ میں اپنی فوجوں کے ساتھ اس وقت آؤں گا کہ کسی کو گمان بھی نہ ہوگا کہ ایسا حادثہ ہونے والا ہے۔ ٢٠؍ نومبر ١٩٠٥ء کو شائع کیا۔ پھر بہار آئی۔ خدا کی بات پھر پوری ہوئی۔ بھونچال آیا اور شدت سے آیا۔ زمین تہ و بالا کر دی۔ ٢٠؍ مارچ ١٩٠٦ء کو ٢٨؍ فروری کے زلزلہ کے بعد شائع کیا۔ زلزلہ آنے کو ہے اور میرے دل میں ڈالا گیا کہ وہ زلزلہ جو قیامت کا نمونہ ہے وہ ابھی آیا نہیں۔ بلکہ آنے کو ہے اور یہ زلزلہ اس کا پیش خیمہ ہے جو پیش گوئی کے مطابق پورا ہوا۔ ان تمام پیش گوئیوں میں امورات ذیل قابل غور ہیں۔

٤٣

صفحہ ٤٢٢

اول ...... جو الہامات زلزلہ کی بابت براہین میں شائع ہوئے ان کی بابت پچیس سال تک یہ سمجھ میں نہ آیا کہ وہ زلزلہ کی نسبت ہیں۔ بلکہ عفت الدیار محلھا ومقامھا کے معنی الحکم ٣٠ مئی ١٩٠٣ء میں یہ شائع کئے گئے کہ طاعون ہر جگہ پڑے گی اور سخت پڑے گی اور بعد میں اس کے معنے زلزلہ کئے گئے ۔ پھر یہ کیسے یقین کیا جائے ۔ عقائد جدیدہ کے الہامات کی بناء پر آپ نے قائم کئے وہ غلطی سے خالی نہیں۔

دوم ...... سابقہ پیش گوئیوں اور تفہیمات کے غلط ثابت ہونے پر جب آپ نے زلزلہ کی پیش گوئیوں میں یہاں تک احتیاط کیا کہ زلزلہ سے مراد زلزلہ ہے یا کوئی اور شدید آفت وہ قریب ہے یا بعید ۔ بہار سے مراد بہار ہے یا کچھ اور ۔ اگر بہار مراد ہے تو یہی بہار مراد ہے یا کوئی اور ۔ پھر جن الہامات کی بناء پر آپ تمام مسلمانوں کو غیر ناجی اور خارجی از اسلام قرار دیتے اور تمام بنی نوع کو جہنمی بتلاتے ہیں ان میں کیوں تاویل نہیں کرتے ۔ خاص کر جب کہ وہ ربوبیت عامہ اور رحمانیت ورحمیت تامہ خداوند عالم کے منافی ہیں۔

سوم ...... مسیح علیہ السلام کی پیش گوئیاں متعلقہ زلزلہ انجیل میں موجود ہیں۔ ان کی نسبت یہ کیوں لکھا تھا کہ یہ بھی کوئی پیش گوئیاں ہیں کہ زلزلہ آئے گا اور مری پڑے گی؟ اور اب اپنی پیش گوئیوں کے متعلق زلزلہ وطاعون کو کیوں عظیم الشان ظاہر کیا جاتا ہے۔

نتیجہ ..... عموماً جو تیرہ پیش گوئیوں پر غور سے نظر کی گئی تو صاف معلوم ہوا کہ جس دعویٰ اور تحدی کے ساتھ پیش گوئیاں شائع کی گئی تھیں ویسا کسی ایک میں بھی ظہور نہ ہوا۔ شروع میں ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ان کا ظہور نہایت ہی حیرت انگیز اور عبرت خیز طریق پر ہوگا۔ جس سے جھوٹے اور سچے میں صاف امتیاز ہو جائے گا۔ مگر ہر پیش گوئی میں نتیجہ برعکس ہی ہوتا رہا اور وہ ان شیطانی الہامات کا مصداق ثابت ہوئیں۔ جن میں کوئی جز پورا ہو جایا کرتا ہے اور اکثر حصہ جھوٹ ثابت ہوتا ہے۔ جیسا کہ قرآن مجید کی آیات ذیل سے ثابت ہوتا ہے : ” هل انبئكم على من تنزل الشيطين تنزل على كل افاك اثيم يلقون السمع واكثرهم لكاذبون “ دوسرے مقامات پر شیاطین کے علم غیب کی نسبت اس طرح فرمایا ہے ۔ ” الا من خطف الخطفة الا من استرق السمع “ ان پیش گوئیوں کے واقعات سے یہ بھی ثبوت ملتا ہے کہ مرزا قادیانی کی دعائیں مردود ہوتی رہیں۔ چنانچہ بشیر موعود کے بارہ میں قبل از وقت اور نیز ایام بیماری میں بے حد دعائیں کی گئیں۔ مگر سب مردود ہوئیں۔ پھر عبداللہ کی وفات کی نسبت بے حد دعائیں کی گئیں۔ مگر سب مردود ہوئیں۔ آسمانی منکوحہ، ذلت مولوی محمد حسین وملا محمد بخش وابو الحسن کے واسطے نشان

٤٤

صفحہ ٤٢٣

آسمانی میعادی سہ سالہ کے لئے اور حفاظت قادیان کے لئے بے حد دعائیں کیں تا کہ مرزا قادیانی کا جلال دنیا پر ظاہر ہو۔ مگر سب مردود ہوئیں۔ بلکہ ہر پیش گوئی کے انجام پر مرزا قادیانی کی سخت ذلت ہوتی رہی۔ سید امیر شاہ صاحب رسالدار میجر سے پانچ سو روپیہ پیشگی لے کر پوری جدوجہد کے ساتھ ایک سال تک فرزند نرینہ کے واسطے دعائیں کیں۔ مگر سب مردود رہیں۔ ”و مــا دعـــاء الکافرین الا فی ضلال “ اس میعار کے لحاظ سے مرزا قادیانی کے کفر کا ایک ثبوت ملتا ہے۔ پھر ان تمام پیش گوئیوں میں سفید جھوٹ متضاد بیانات اس کثرت سے ہیں کہ مرزا قادیانی کا کذاب ہونا صاف طور پر ثابت ہوتا ہے۔ بے حیائی بھی ایسی ہے کہ جہاں ایک پیش گوئی غلط ثابت ہوتی نظر آئی تو فوراً تاویل کر دی اور آئندہ کے واسطے اور میعادی پیش گوئی زیادہ زور اور تحدّی کے ساتھ شائع کر دی کہ اگر یہ جھوٹی ثابت ہوئی تو مرزا قادیانی کو کذاب، دجال، ملعون، مردود اور کافر سمجھا جائے۔ فالحمدللہ ! کہ ایسا ہی ثابت ہوتا رہا۔ پھر آخر کار زلزلہ کی پیش گوئیوں میں عجیب رنگ آمیزیاں کیں کہ نہ زلزلہ کا یقین ہے نہ اس کے وقت کا، نہ لفظ بہار کا نہ زلزلہ کی تعداد کا۔ ٢٨ فروری کو شائع کر دیا کہ وہ تباہی خیز زلزلہ آنے کو ہے۔ پھر جب تاخیر ہوتی گئی تو شائع کر دیا کہ اس زلزلہ میں تاخیر ہوگئی۔ سچ ہے:”یعدھم و یمنیھم و ما یعدھم الشیطان الا غروراً “ شیطان ان کو وعدے دیتا اور امید دلاتا ہے۔ مگر شیطان جو ان کو وعدے دیتا ہے وہ جھوٹے ہی ہوتے ہیں۔ یہاں تک یہ تو صاف طور پر ثابت ہو چکا کہ مرزا قادیانی ایک سخت عیار، مصرف، کذّاب، خائن، آرام پسند، شکم پرور، بدفہم، بدعقل، تنگ ظرف، بے حیا، مغلوب الغضب، متکبر، خود پسند، خودستا، شیخی باز، بدچلن، سنگ دل، فحش گو اور بدظن انسان ہے۔ خداوند عالم، انبیاء علیہم السلام، فطرت اللہ اور کتب سماوی کی تحقیر وتوہین کرتا ہے اور سوائے اپنی بڑائی اور کبریائی کے اس کا کوئی اور مشن نہیں۔ پس ایسا انسان ایک نبی یا مجدد یا امام یا بزرگ ہرگز نہیں ہوسکتا۔ اب ذیل میں چند آیات و احادیث مختصراً پیش کرتا ہوں۔ جن سے مرزا قادیانی کا دجال، کذاب ہونا، صاف طور پر ثابت ہوتا ہے۔

جھوٹے ہوں گے اور دعویٰ نبوت کریں گے۔ مرزا کا کذاب ہونا تو بخوبی ثابت ہو چکا۔ اس جگہ دو اور سفید جھوٹ جو انبیاء علیہم السلام کی نسبت ہیں بیان کئے جاتے ہیں۔

(ازالۃ اوہام ص ٦٢٩) پر شائع کیا کہ ایک سلاطین ٢٢/١٩ میں ہے کہ ایک بادشاہ کے وقت میں چار سو نبی نے اس کی فتح کے بارے میں پیش گوئی کی اور وہ جھوٹے نکلے اور بادشاہ کو شکست

٤٥

صفحہ ٤٢٤

آئی ۔ حالانکہ وہ محض بعل کے پجاری اور جھوٹے نبی تھے۔ چنانچہ ایک سلاطین ٣١/١٩ سے ظاہر ہے کہ ایلیا نبی نے ان سب کے خلاف فرمایا کہ بادشاہ کی بیگم نے فلاں غریب ہمسایہ کی زمین جور و ستم سے لے کر اور اس کو تہمت دے کر قتل کرایا ہے۔ اس لئے جس جگہ کتوں نے نبات کا لہو چاٹا ہے اسی جگہ تیرا ہاں تیرا بھی لہو کتے چاٹیں گے۔ خداوند ایزبل کے حق میں بھی فرماتا ہے کہ یزرعیل کی دیوار کے پاس اس کو کتے کھائیں گے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ پھر ایک سلاطین ١٨/٤٠ سے ظاہر ہے کہ ایلیا نبی نے ان ساڑھے چار سو نبیوں کو قتل کیا۔ یہ سفید جھوٹ مرزا قادیانی نے تقریر دلپذیر برکات بشیر کے ص ٧ کے حاشیہ میں بھی درج کیا ہے۔ پھر اپنی مسیحیت پر ازالہ میں دلیل پیش کی کہ موسیٰ علیہ السلام کے بعد چودھویں صدی میں مسیح علیہ السلام آئے تھے۔ اسی طرح یہ مثیل مسیح بھی مثیل موسیٰ یعنی محمد کے بعد چودھویں صدی میں ظاہر ہوا ہے۔

خاندان رسالت لکھتے اور آپ کی بیوی کو ام المؤمنین کا لقب دیتے ہیں۔ قادیان کو تخت گاہ رسول قرار دیا گیا۔ بلکہ مرزا قادیانی نے یہاں تک لکھا کہ آج تم میں ایک ہے جو اس مسیح سے بڑھ کر ہے۔

فرشتے تلواروں کے ساتھ ان کے دروازوں پر حفاظت کریں گے۔ چنانچہ مرزا قادیانی اور اس کی جماعت مدینہ میں آج تک نہ داخل ہوئے اور نہ موجودہ عقائد کے ساتھ آئندہ کبھی داخل ہو سکتی ہیں۔ اس لیئے اپنے مقبرہ کی بنیاد بھی قادیان میں ڈال دی ہے۔

انی اعوذ بك من عذاب القبر واعوذبك من فتنة المسيح الدجال واعوذ بك من فتنة المحيا فتنة الممات اللهم انی اعوذ بك من المأثم ومن الغرم“ یہ تمام حدیث مرزا قادیانی کی دجالیت کی طرف صاف دلالت کرتی ہے۔ کیونکہ مرزا قادیانی کے ساتھ وہ تمام فتنہ پیدا ہوئے جو دجال کے ساتھ مذکور ہیں۔ اوّل تو گناہ اور بدکاری کا فتنہ جیسا کہ خود مرزا قادیانی کی ذات میں شکم پرستی ، آرام طلبی ، خیانت ، اسراف، کذب، بد دیانتی، بے حیائی ، تکبر، خلاف بیانی، افتراء اور مسیحیت وغیرہ کا ثبوت دیا جا چکا اور مرزائیوں کی نسبت خود مرزا قادیانی نے ان کی درندگی ، وحشت طبعی ، بدتہذیبی ، بدکلامی ، سب وشتم اور فحش گوئی کا ذکر شہادت القرآن کے آخری اشتہار میں کیا ہے اور حکیم نورالدین کی رائے لکھی ہے کہ یہ لوگ یہاں آ کر بجائے درست ہونے کے زیادہ خراب ہو جاتے اور آپس میں ذرہ بھی پاس اور لحاظ نہیں رکھتے ہیں۔ لہٰذا یہ سالانہ

٤٦

جلسہ بند کیجئے اور مریدوں کا اس طرح میری جماعت موسیٰ کی جماعت ہے ہے۔ سچ ہے دروغگورا حافظہ نباشد!

جاتا ہے اور ان غریبوں کے خون سے رہی۔ بیوی سونے کے زیورات سے کھایا جاتا ہے اور حکم جاری کیا گیا ہے کیا جائے گا۔

جو حقیقت میں دجال ہے۔ کیسا مرزا ہیں۔

دجال کی نسبت یہ ہیں۔ نہیں بلکہ حضرت نے مشرق کی طرف اشارہ بجانب مشرق واقع ہے۔

کہ اگر ممکن ہوتا تو برگزیدوں کو بھی قدرت اور جلال کے ساتھ آتے دیکھ دیکھو وہ جنگل میں ہے تو باہر مت ج پورب سے کوندتی ہے اور پچھم تک مرزا قادیانی جو نشان اور کرامتوں کا وجلال کے ساتھ نہیں ہوا۔ جیسا کہ علامات ہیں جو احادیث صحیحہ میں مر مہدی کا موجود ہونا مسلمانوں میں منارہ شرقی دمشق پر دوزرد چادروں

صفحہ ٤٢٥

جلسہ بند کیجئے اور مریدوں کا اس طرح جمع ہونا بند فرمائیے۔ پھر انہیں کی نسبت یہ بھی لکھا ہے کہ میری جماعت موسیٰ کی جماعت سے ہزاروں درجہ بڑھ کر ہے۔ ان میں صحابہ کی صلاحیت پائی جاتی ہے۔ سچ ہے دروغگو را حافظہ نباشد!

جاتا ہے اور ان غریبوں کے خون سے کیوڑا، عنبر، مشک، بید مشک اور مفرحات و مقویات کی بھر مار رہی۔ بیوی سونے کے زیورات سے لد گئی۔ مکانات وسیع ہو گئے۔ بیٹھے بٹھائے قورمہ پلاؤ بافراط کھایا جاتا ہے اور حکم جاری کیا گیا ہے کہ جو شخص تین ماہ تک چندہ ادا نہ کرے وہ جماعت سے خارج کیا جائے گا۔

جو حقیقت میں دجال ہے۔ کیسا مرزا قادیانی پر صادق آتا ہے کہ دعویٰ مسیحیت کا اور افعال دجالی ہیں۔

دجال کی نسبت یہ ہیں۔ نہیں بلکہ وہ مشرق کی طرف ہے۔ نہیں بلکہ وہ مشرق کی طرف ہے پھر حضرت نے مشرق کی طرف اشارہ بھی کیا۔ چنانچہ قادیان جو مرزا قادیانی کا مولد ہے۔ مدینہ سے بجانب مشرق واقع ہے۔

کہ اگر ممکن ہوتا تو برگزیدوں کو بھی گمراہ کرتے اور اس وقت انسان کے بیٹے کو بادلوں پر بڑی قدرت اور جلال کے ساتھ آتے دیکھیں گے۔ دوسرے مقام پر ہے۔ پس اگر وہ تمہیں کہیں دیکھو وہ جنگل میں ہے تو باہر مت جاؤ۔ دیکھو وہ کوٹھڑی میں ہے تو باور مت کرو۔ کیونکہ جیسے بجلی پورب سے کوندتی ہے اور پچھم تک چمکتی ہے۔ ویسا ہی انسان کے بیٹے کا آنا بھی ہوگا۔“ پس مرزا قادیانی جو نشان اور کرامتوں کا گھمنڈ کرتا ہے وہ جھوٹا نبی ہے۔ کیونکہ اس کا ظہور اس قدرت و جلال کے ساتھ نہیں ہوا۔ جیسا کہ مسیح کی آمد ثانی کے ساتھ لازمی ہے اور نہ اس کے ساتھ وہ علامات ہیں جو احادیث صحیحہ میں مسیح موعود کی نسبت مذکور ہیں۔ مثلاً ان کے نزول سے پیشتر امام مہدی کا موجود ہونا مسلمانوں میں مال کی افراط ہونی۔ مسیح موعود کا ابن مریم نبی اللہ ہونا۔ ان کا منارۂ شرقی دمشق پر دو زرد چادروں میں دو فرشتوں کے بازوؤں پر ہاتھ رکھے ہوئے اترنا۔ ان کا

٤٧

صفحہ ٤٢٦

حج کرنا۔ روضہ رسول اللہ ﷺ میں آپ کی قبر کے نزدیک مابین ابوبکر عمر مدفون ہونا اور باہمی بغض و حسد کا دور ہو جانا۔

امت میں سے ستر ہزار لوگ دجال کے تابع ہو جائیں گے۔ جن کی پوشاک بڑے لمبے لمبے سبز کپڑے ہوں گے۔ چنانچہ امت محمدیہ میں سے اس مسیح دجال کے تابع ستر ہزار لوگ ہو چکے ہیں۔ جن میں چغہ پوش مولوی بھی ہیں۔

کلہم یزعم انه نبی الله وانا خاتم النبیین لا نبی بعدی“ پھر ایک حدیث متفق علیہ کے یہ الفاظ ہیں۔ ”دجالون کذابون قریباً من ثلثین کلہم یزعم انه رسول الله“

مسیح موعود کی علامات جو احادیث میں بیان ہوئی ہیں مرزا قادیانی میں نہیں پائی جاتیں۔

ان کی سلطنت ظاہری پر دلالت کرتے ہیں۔ چنانچہ حکم و عدل وہی ہو سکتا ہے جو بادشاہ وقت ہو۔ وہی کسر صلیب کر سکتا۔ تمام سوروں کو مروا سکتا اور جزیہ موقوف کر سکتا۔ مرزا قادیانی کی تعلیمات سے تو اختلافات اور زیادہ سخت ہو گئے۔ تیرہ سو سال میں جو مسلمان تیار ہوئے تھے سب کافر بن گئے۔ صلیبی مذہب بڑے زور کے ساتھ پھیلتا جا رہا ہے۔ ہزاروں صلیبیں نئی قائم ہو رہی ہیں۔ غذا کے واسطے خنزیر بکثرت پالے جا رہے ہیں۔ حکم و عدل کے الفاظ سے اگر محض نظری فیصلے سمجھے جائیں، تب بھی مرزا ان کا مصداق نہیں۔ کیونکہ جس قدر اختلافات کے فیصلہ امام اعظم علیہ الرحمۃ کر گئے جو اپنے آپ کو عاجز امتی سمجھتے تھے۔ مرزا نے ان کا ہزارواں حصہ بھی نہیں کیا جو آسمانی حکم و عدل ہونے اور منصب نبوت کے مدعی ہیں۔ کسر صلیب سے مراد اگر دلائل سے عیسویت کو باطل کرنا لیا جائے تو کیا قرآن مجید نے اس کے ابطال میں کوئی کمی چھوڑی؟ خود فطرت انسان اور علوم جدیدہ کم باطل کنندہ ہیں۔ جنہوں نے یورپ و امریکہ میں کثرت سے مخالفین تثلیث و کفارہ کھڑے کر دیئے ہیں۔

کی دوسری حدیث میں ہے کہ انسان اپنے مال کی زکوٰۃ نکالے گا تو کوئی لینے والا نہ ملے گا۔ مگر اس وقت مسلمان تمام قوموں سے زیادہ مفلس اور نادار ہیں اور مرزا قادیانی بجائے اس کے کہ اوروں کو

٤٨

صفحہ ٤٢٧

مال تقسیم کرے خود اپنے واسطے ہاتھ پھیلائے رہتا اور زکوٰۃ کا مال اپنی کتابوں کے واسطے مانگتا ہے۔ پھر قدیم چالاکی کی رو سے مال کے معنے علوم اور معارف کر کے اس حدیث کو ٹالنا چاہتا ہے۔

اور شیر بکری کے ساتھ کھیلیں گے۔ تعصب کی زہریں نکل جائیں گی اور ایک بھائی دوسرے بھائی پر نیک ظن پیدا کرے گا۔ مگر مرزا کی عالمگیر تنفر اور تکفیر کی تعلیمات نے تباغض اور تحاسد کی ایسی تخم ریزی کر دی ہے کہ گزشتہ تاریخ میں اس کی کوئی مثال نہیں مل سکتی۔

عیسیٰ ابوبکرؓ اور عمرؓ کے درمیان سے اٹھیں گے۔ ابن مودود سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ کے روضہ مبارک میں اب تک ایک قبر کی جگہ خالی ہے۔ عائشہ صدیقہؓ نے درخواست کی تھی کہ یا حضرت میں بھی آپ ﷺ کے پہلو میں مدفون ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا نہیں۔ یہاں تو میں ابوبکر عمر اور عیسیٰ ابن مریم مدفون ہوں گے۔ خود مرزا قادیانی نے ازالہ میں درج کیا ہے کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک فرشتہ روضہ رسول کی خالی زمین پر سرکنڈا مار کر کہہ رہا ہے کہ یہ تیری دفن ہونے کی جگہ ہے۔ مگر جب دیکھا کہ میری شرارتیں مسلمانوں کو معلوم ہو چکیں اور مجھ پر عام طور پر کفر کے فتوے لگ چکے۔ ظاہری طور پر روضہ رسول میں دفن ہونا تو درکنار حج کرنا بھی محال ہو گیا ہے تو جھٹ کذابانہ طریق پر دوسرا پہلو اختیار کر لیا اور لکھ دیا کہ: ”یہ مسلمانوں کی غلطی ہے کہ مسیح آنحضرت ﷺ کی قبر میں دفن کیا جائے گا۔ لیکن وہ اس بے ادبی کو نہیں سمجھتے کہ ایسے نالائق اور بے ادب انسان کون ہوں گے کہ جو آنحضرت ﷺ کی قبر کھودیں گے اور پاک نبی کی ہڈیاں لوگوں کو دکھائیں گے۔“

کے اوّل میں میں ہوں اور بیچ میں مہدی ہیں اور آخر میں عیسیٰ۔ پھر حدیث مسلم میں ہے کہ میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر لڑتا اور قیامت تک غالب رہے گا۔ عیسیٰ ابن مریم انہیں میں نازل ہوں گے۔ گروہ کا امیر کہے گا۔ آئیے نماز پڑھائیے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں گے نہیں تم آپس میں ایک دوسرے کے امیر ہو۔ یہ خدا نے اس امت کو اکرام دیا ہے۔ مگر ان حدیثوں کے خلاف مرزا قادیانی نے یہ عجیب چالاکی کی کہ ”لا مہدی الا عیسیٰ“ جو ایک وضعی قول ہے پیش کر کے ان کو غیر صحیح قرار دے دیا اور نعمت اللہ ولی کے شعر میں مہدی اور عیسیٰ علیہما السلام کا دو ہونا صاف ظاہر ہے۔ مگر عجیب چالاکی سے ان کو ایک ہی بنا گئے وہ شعر یہ ہے؎

٤٩

صفحہ ٤٢٨
مہدی وقت و عیسیٰ دوراں
ہم دورا شہسوار بے بیم

ایسا ہی حدیث صحیح میں ہے۔"كيف انتم اذا نزل عيسى ابن مريم فيكم وامامكم منكم" اس کے واؤ کو بیانیہ قرار دے کر عیسیٰ ابن مریم اور امام کو ایک قرار دے دیا۔

مهرودتين واضعاً كفيه على اجنحة ملكين " پس نازل ہو گا سفید منارہ کے قریب جو دمشق کے مشرق میں ہے۔ درمیان دو زرد چادروں کے ہوگا اور اپنی ہتھیلیاں دو فرشتوں کے بازؤں پر رکھے ہوئے ہوگا۔

میں آکر حج اور عمرہ کریں گے۔ مگر مرزا قادیانی تو کیا اس کی جماعت کا بھی کوئی فرد بشر حج نہ کر سکا۔ مولوی عبد اللطیف جو کابل سے بارادہ حج روانہ بھی ہوا وہ قادیان پہنچ کر حج سے محروم رہا۔

مرزا قادیانی کا مقابلہ ابن صیاد سے

ابن صیاد آنحضرت ﷺ کو رسول مانتا تھا۔ مرزا قادیانی بھی آپ ﷺ کو رسول مانتا ہے۔ ابن صیاد خود مدعی رسالت تھا۔ مرزا قادیانی بھی مدعی رسالت ہے۔ مگر ساتھ ہی یہ بھی کہتا ہے کہ جب تک اس کو مدار نجات نہ مانا جائے۔ کوئی شخص نجات یاب نہیں ہو سکتا۔ ابن صیاد نے خود اقرار کیا تھا کہ میرے پاس کچھ سچے اور کچھ جھوٹے خبر رساں آتے ہیں۔ چنانچہ اس کے اصل الفاظ یہ ہیں۔"یأتینی صادق وکاذب" دوسری حدیث میں یہ الفاظ ہیں۔"أرى صادقین وكاذباً أو كاذبين وصادقاً " مرزا قادیانی کا بھی یہی حال ہے کہ کبھی کوئی پیش گوئی سچی ثابت ہو جاتی اور اکثر غلط نکلتی ہیں۔ مگر ابن صیاد نے سچا اقرار کیا اور مرزا قادیانی بے حیائی کے طور پر جھوٹا گھمنڈ رکھتا ہے کہ اس کی ساری خبریں سچی ثابت ہوتی اور اس کے الہامات قرآنی وحی کی طرح قطعا یقینی اور آمیزش شیطانی سے منزہ ہیں۔ ابن صیاد کے الہامات کی نسبت مشکوٰۃ نبوت نے فرمایا تھا۔"خلط عليك الامر " تجھ پر بات خلط ملط ہو گئی۔ مرزا قادیانی کو پیش گوئیوں کے بدانجام سے اللہ کریم نے بتا دیا کہ تجھ پر بات خلط ملط ہو گئی ہے۔ ابن صیاد کو مدینہ اور مکہ میں جانا نصیب ہوا۔ مگر مرزا قادیانی کے لئے یہ نصیب نہیں۔ ابن صیاد نے آنحضرت ﷺ کے ساتھ بھی گفتگو کی تھی۔"اتشهد انی رسول اللہ " کیا تم شہادت دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ توحید و تمجید باری تعالیٰ یا اصلاح خلائق کے لئے کوئی گفتگو نہیں کی۔ مرزا قادیانی بھی توحید و تمجید

٥٠

صفحہ ٤٢٩

باری تعالیٰ اور اصلاح خلائق سے قطع تعلق کر کے اپنی رسالت ونبوت کے اثبات میں ہی دن رات غرق ہے۔ اس طرح پر ابن صیاد بھی کانا تھا اور مرزا قادیانی بھی کانا ہے۔ ابن صیاد نے اپنی دجالیت کے خلاف یہ عذر کئے تھے کہ رسول اللہ ﷺ فرمایا کرتے ہیں کہ دجال کی اولاد نہ ہوگی۔ مگر میرے اولاد ہے۔ دجال کافر ہوگا۔ میں مسلمان ہوں۔ دجال مکہ اور مدینہ میں داخل نہ ہوگا۔ مگر میں مدینہ سے آرہا ہوں اور مکہ کا ارادہ رکھتا ہوں۔ پھر اس نے یہ خبر دی خدا کی قسم میں دجال کا وقت پیدائش اور مکان جانتا اور جانتا ہوں کہ وہ کہاں ہے اور اس کے باپ اور ماں کو پہچانتا ہوں۔ ایسا ہی مرزا قادیانی کے بھی عذرات ہیں۔ ما مسلمانیم از فضل خدا۔ مصطفےٰ مارا امام و پیشوا۔ خدا نے مجھے اولاد کی برکت دی ہے اور بڑے دعووں کے ساتھ قسمیہ پیش گوئیاں کرتے رہتے ہیں۔ زیارت مکہ و مدینہ کی نسبت مرزا اور اس کی جماعت پر دوسرے دجالوں کی علامات منطبق ہوتی ہیں۔ جن میں یہ مذکور ہے کہ دجال مدینہ میں داخل نہ ہو سکے گا نہ مکہ میں۔ ابن صیاد کی نسبت ابن عمر کہا کرتے تھے کہ خدا کی قسم مجھے شک نہیں کہ ابن صیاد المسیح الدجال ہے۔ مرزا قادیانی کی نسبت امت محمدیہ کے علماء کہہ رہے ہیں کہ یہ دجال ہے۔ ”المسیح الدجال“ کی اکثر علامات جو احادیث میں مذکور ہیں۔ مرزائے قادیانی پر منطبق ہوتی ہیں۔ مجھے الہام بھی ہوا کہ دجالی فتنہ تیرے ہاتھ سے پاش پاش کرایا جائے گا۔ ”انه اعور وان الله ليس باعور “ دجال کانا ہے مگر اللہ کانا نہیں۔ کانا دجال اپنی نسبت کہتا ہے: ”الله یحمدک من العرش “ مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”الم تر ان الله يسبح له من فى السموت والارض “ کانا دجال کہتا ہے جو مجھ پر ایمان لائیں گے وہ نجات پائیں گے۔ مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ”بلیٰ من اسلم وجهه لله وهو محسن “ کانا دجال کہتا ہے کہ جس سے میں خوش اس سے خدا خوش۔ جس سے میں ناراض اس سے خدا ناراض۔ مگر اللہ تعالیٰ جو کانا نہیں اپنے رسول کو فرماتا ہے۔ ”انك لا تهدى من احببت ولكن الله يهدى من يشاء “ کانا دجال کہتا ہے جو میرے مقبرہ میں مدفون ہوگا۔ وہ بہشتی ہو جائے گا۔ مگر اللہ تعالیٰ جو کانا نہیں فرماتا ہے: ”لا تجزى نفس عن نفس شيئاً ولا تزر وازرة وزر اخرى “ کانا دجال کہتا ہے کہ جو میرا چندہ تین ماہ تک ادا نہ کرے وہ میری جماعت سے خارج اور جہنمی مگر اللہ تعالیٰ جو کانا نہیں اپنے رسولوں کی نسبت یہ فرماتا ہے: ”لا اسئلكم عليه من اجر “ کانا دجال لوگوں سے چندہ وصول کر کے خود عیش وعشرت کرتا۔ مکانات بناتا۔ کتابیں چھپوا کر روپیہ کماتا۔ جائیدادیں خریدتا۔ اپنے سسروں اور سالوں اور مداحوں کو موٹا کرتا۔ مگر اللہ تعالیٰ کے پیارے جو کانے نہ تھے۔ اپنا جان و مال خدا کی

٥١

صفحہ ٤٣٠

عظمت اور اصلاح خلائق میں نثار کرتے رہے۔ کانا دجال خدا کی طرف سے کہتا ہے۔ ”انت منی وانا منك انت منى بمنزلة اولادى انت منى بمنزلت توحيدى وتفريدى“ مگر اللہ تعالیٰ جو کانا نہیں ہے۔ فرماتا ہے: ”سبحان الله عما يشركون ، تكاد السمٰوت يتفطرن منه وتنشق الارض وتخر الجبال هداً ان دعوا للرحمٰن ولداً“ کانا دجال کہتا ہے مجھے باہر پھرنے اور پیر گھسائی کی کیا ضرورت ہے۔ میں بیٹھے بٹھائے دعاؤں سے سب کچھ کر سکتا ہوں۔ مگر اللہ تعالیٰ جو کانا نہیں فرماتا ہے۔ ”ولنبلونكم حتٰی نعلم المجاهدين منكم وجاهدوا فی اللہ حق جهادہ“ کانا دجال لب مرگ پر پہنچ کر منارہ بطور نشان بنواتا ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ جو کانا نہیں اس نے اپنے مسیح کا نزول منارہ پر فرمایا ہے۔ کانا دجال خود گھر سے نکلنے اور واعظین بھیجنے کو عبث پیر گھسائی قرار دیتا ہے۔ مگر خدا کے سچے رسول خدا کے راستہ میں سخت سے سخت محنتیں اٹھاتے اور سفر جہاد کے دکھ اٹھاتے ہیں۔ مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”ان الله لا يخلف الميعاد “ کانا دجال کہتا ہے کہ دنیا میں تمام مصائب اور نقصانات میرے نہ ماننے سے واقع ہو رہے ہیں۔ پر اللہ کریم جو کانا نہیں فرماتا ہے جس قریہ میں کوئی نبی آیا ہم نے اسی کے لوگوں پر مصائب اور نقصانات پہنچائے۔ تاکہ وہ گڑ گڑائیں۔ کانا دجال فقط اپنی کبریائی کے لئے دنیا سے جھگڑتا ہے۔ مگر اللہ کے سچے رسول خداوند عالم کی توحید و تمجید اور اصلاح خلائق کے واسطے جھگڑتے رہے۔

قادیانی دلائل کا رد

ان دلائل کا رد جو مرزا قادیانی اپنے دعاوی کے ثبوت میں پیش کرتا ہے اور جن کو میں نے بھی حسن عقیدت کی وجہ سے اقتباس کے طور پر اپنی تفاسیر میں درج کر دیا تھا۔

ہے ۔ چونکہ ان ہر دو قسم کے دلائل کا خاص مرزا قادیانی کی ذات سے کوئی تعلق نہیں۔ اس لئے ہم سردست ان کے موافق یا مخالف کچھ نہیں لکھتے۔ بلکہ اصل الفاظ پیش گویوں پر ہی جو پیش کئے جاچکے ہیں قناعت کرتے ہیں۔ کیونکہ اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ مسیح علیہ السلام فوت ہو چکے اور یہ

١؎ جھوٹے نبی جو ٢٣ سال سے زیادہ بعد دعویٰ نبوت والہام زندہ رہے۔ عبداللہ مہدی، زمانہ مہدویت ٢٤ سال سے زیادہ (ابن اثیر ج ٨ ص ٩٠) حسن ابن صباح زمانہ ولایت وحکومت ٣٥ سال۔ سجاح زمانہ نبوت ٣٠ سال۔ (ابن اثیر ج ٢ ص ١٣٦)

٥٢

زمانہ ظہور مسیح علیہ السلام کا ہے تو اس مسیح علیہ السلام سے پیشتر جھوٹے نبی مہدی سومانی، مہدی سوڈانی، مسٹر ڈو

منه الوتین“ اس آیت سے مر نبی ٢٣ سال سے زیادہ زندہ نہیں رہ بہت سے مفتری ٢٣ سال سے زیاد ہیں کہ مفتری کا تار پود آخر کار ٹو آنحضرت ﷺ نے مسیلمہ کذاب

آسمان و زمین پیدا کئے گئے وہ دو پہلی رات میں ماہ رمضان میں اور وقت میں ظاہر ہوئے مثلاً مرزا، طرح مہدی ہو ہی نہیں سکتا۔ جیس جھوٹ نہیں ہو سکتا۔

کہ مہدی نکلے گا اور اللہ تعالیٰ اس اہل بدر کی تعداد پر جو تین سو تیرہ میں اس کے اصحاب مخلصین کا شما اس حدیث میں مرزا قادیانی قادیان سے مشابہ ہو جائے۔ دو سن ١٨٩٣ء میں آئینہ کمالات میں تراش خراش کر کے ١٨٩٦ء میں حاشیوں میں بھی درج کئے گئے۔

صفحہ ٤٣١

زمانہ ظہور مسیح علیہ السلام کا ہے تو اس سے یہ کہاں ثابت ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی مسیح ہے؟ بلکہ نزول مسیح علیہ السلام سے پیشتر جھوٹے نبیوں اور مسیحوں کا ظاہر ہونا لازمی ہے۔ جیسا کہ خود مرزا قادیانی مہدی سومالی، مہدی سوڈانی، مسٹر ڈوئی، رپچٹ وغیرہ ہیں۔

سوم ...... وہ دلائل جن کو مرزا قادیانی نے خاص اپنی ذات سے منسوب کیا ہے:

منه الوتين“ اس آیت سے مرزا قادیانی اپنی نسبت اس طرح پر استدلال کرتا ہے کہ کوئی جھوٹا نبی ٢٣ سال سے زیادہ زندہ نہیں رہ سکتا۔ جو زمانہ نبوت محمدی ﷺ کا ہے یہ عین غلط ہے۔ کیونکہ بہت سے مفتری ٢٣ سال سے زیادہ رہے۔ مثلاً ابن صباح، اکبر وغیرہ اس آیت کے بس یہی معنی ہیں کہ مفتری کا تار پود آخر کار ٹوٹ جاتا ہے اور ان کا کارخانہ آخر کار تباہ ہو جاتا ہے۔ جیسا کہ آنحضرت ﷺ نے مسیلمہ کذاب کے جواب میں لکھا تھا۔ "والعاقبة للمتقين"

آسمان وزمین پیدا کئے گئے وہ دونوں نشان کسی کی تصدیق کے واسطے نہیں ہوئے۔ چاند گرہن پہلی رات میں ماہ رمضان میں اور سورج گرہن نصف میں ۔ اس سے تمام مدعی نبوت جو ایسے وقت میں ظاہر ہوئے مثلاً مرزا، مہدی سوڈانی وغیرہ سچے ثابت نہیں ہو سکتے اور کذاب تو کسی طرح مہدی ہو ہی نہیں سکتا۔ جیسا کہ حدیث صحیح میں ہے کہ مؤمن میں اور خصلتیں ہو سکتی ہیں مگر جھوٹ نہیں ہو سکتا ۔

کدعہ ہے نکلے گا اور اللہ تعالیٰ اس کو سچا کرے گا اور اس کے اصحاب بڑے دور دراز شہروں سے اہل بدر کی تعداد پر جو تین سو تیرہ ہیں جمع کرے گا اور اس کے پاس ایک کتاب مختوم ہو گی جس میں اس کے اصحاب مخلصین کا شمار معہ ان کے ناموں اور شہروں اور عادتوں کے درج کرے گا۔ اس حدیث میں مرزا قادیانی نے بہت سے تصرفات کئے۔ اوّل تو لفظ کدعہ کو کدہ بنایا تا کہ قادیان سے مشابہ ہو جائے۔ دوم کتاب مختوم کا ترجمہ کتاب مطبوعہ کیا گیا۔ سوم اصل فہرست جو ١٨٩٣ء میں آئینہ کمالات میں شائع ہوئی۔ ٣٢٧ نام تھے۔ پھر اس حدیث کے علم کے بعد تراش خراش کر کے ١٨٩٦ء میں ضمیمہ انجام آتھم میں ٣١٣ کر دیئے گئے ۔ (١٤) نام فوت شدوں کے بھی درج کئے گئے ۔

٥٣

صفحہ ٤٣٢

کردہ اور شائع کردہ ہیں۔ جب ان کے بہت سے افتراء اور کذب معلوم ہو چکے تب یہ شہادت متعلقہ خود کیسے قابل تسلیم ہو سکتی ہے؟

کھیل ہے۔ اس طرح پر ہر زمانہ کے واسطے تواریخ مستنبط ہوسکتی ہیں۔ مثلاً قاضی فضل احمد نے مرزا قادیانی کی پیدائش کا سن ”الا فی الفتنة سقطوا“ /١٢٥٩، اور بلوغ کا سن ”شباب قلم“ /١٢٧٥ ثابت کیا۔ مولوی عبدالکریم کی وفات کا سن۔ ”اعدلہ عذاب الیما“ اور ”مریا مردود نہ فاتحہ نہ درود“ شائع کئے گئے۔ مرزا قادیانی کی یہ عجیب چال ہے کہ جن احادیث کو وضعی اور نا قابل اعتبار قرار دے کر وجود مہدی علیہ السلام سے ہی انکاری ہوا تھا انہیں کو اپنے دعاوی کے ثبوت میں پیش کرتا ہے اور علماء کے ساتھ جب کبھی موقع بحث ہو تو وفات مسیح علیہ السلام کے ہی متعلق گفتگو شروع کرتا ہے۔

حقیقت خوب منکشف ہو چکی۔

الذکر الحکیم نمبر ٤ کے جواب میں مرزا قادیانی اور مرزائیوں کی چند مذبوحی حرکتیں

حرکت اوّل

مرزا قادیانی کے الہامات...... اللہ تعالیٰ اس کو سلامت رکھنا نہیں چاہتا۔”انا اخذنه بعذاب الیم“ (الحکم مورخہ ١٠ جون ١٩٠٦ء) ان کے جواب میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھے یہ الہامات ہوئے۔”ولمن خاف مقام ربه جنتان “ سرداد و نداد دست در دست یزید!

حرکت دوم

یہ نادان کہتے ہیں کہ وہ اپنی جگہ پر بیٹھے ہیں اور کچھ کام نہیں کرتے۔ مگر وہ خیال نہیں کرتے مسیح موعود کے متعلق کہیں یہ نہیں لکھا کہ وہ تلوار پکڑے گا اور نہ یہ لکھا ہے کہ وہ جنگ کرے گا۔ بلکہ یہی لکھا ہے کہ مسیح کے دم سے کافر مریں گے۔ یعنی وہ اپنی دعا کے ذریعہ سے تمام کام کرے گا۔ اگر میں جانتا کہ میرے باہر نکلنے سے اور شہروں میں پھرنے سے کچھ فائدہ ہو سکتا ہے تو میں ایک سیکنڈ بھی یہاں نہ بیٹھتا۔ مگر میں جانتا ہوں کہ پھرنے میں سوائے پاؤں گھسانے کے اور کوئی فائدہ نہیں ہے اور یہ سب مقاصد جو ہم حاصل کرنا چاہتے ہیں صرف دعا کے ذریعہ سے

٥٤

حاصل ہوسکیں گے۔

یہ تمام عبارت ایک س سے نکلنے اور واعظین بھیجنے کا نام ”لعنت الله علی الکاذبی باہر نکلنا عبث پیر گھسانا ہے اور آ خاطر دہلی کا سفر کیوں کیا۔ دہلی کو نے؟ مریدوں کو دور دور سے کیو نہیں رہ سکتا؟ پیٹ بھرنے کے وا بھر سکتا؟ اگر محض دعاؤں سے آ ذریعہ پتنگ بازی کیوں کی جاتی خراب کئے جاتے ہیں؟ مہمانوں مقدمہ، چندہ کتب، چندہ مسجد، کیوں بار بار ہاتھ پھیلائے جا کیوں انہوں نے خدا کے راست معاذ اللہ غلط تھے یا آپ پاگل ہ

حرکت سوم

جب مرزائیوں س کیا؟ کس قدر نئے مسلمان ک اسلامی کو رفع کیا؟ یا کم از کم کس لاکھ اشخاص جو ان کی جماعت مسلمان آپ کے نئے عقائد میں مرزائی کبریائی کا یہ چوچلا

حرکت چہارم

الحکم مورخہ ١٠ رجو

ہوا ہو اور پھر اللہ تعالیٰ نے اس

صفحہ ٤٣٤

حاصل ہوسکیں گے۔

یہ تمام عبارت ایک سفید جھوٹ اور شرمناک چال ہے۔ اشاعت اسلام کے لئے گھر سے نکلنے اور واعظین بھیجنے کا نام تلوار اٹھانا رکھا گیا۔ شاباش! ایں کار از تو آید و مرداں چنیں کنند! ”لعنت اللہ علی الکاذبین“ کہ تختہ مشق ہو چکے اب کچھ شرم و خوف باقی نہیں۔ اگر گھر سے باہر نکلنا عبث پیر گھسانا ہے اور آپ کے تمام کام دعا سے ہی چل سکتے ہیں تو آپ نے بیوی کی خاطر دہلی کا سفر کیوں کیا۔ دہلی کو ہی قادیان کیوں نہ بنالیا۔ سیالکوٹ اور لاہور پہنچ کر بے نقط کیوں سنے؟ مریدوں کو دور دور سے کیوں بلایا جاتا ہے؟ کیا محض دعاؤں سے نذرانوں کا پورا سلسلہ قائم نہیں رہ سکتا؟ پیٹ بھرنے کے واسطے دانت گھسائی کیوں کی جاتی ہے؟ کیا دعاؤں سے پیٹ نہیں بھر سکتا؟ اگر محض دعاؤں سے آپ کے سارے کام چل سکتے ہیں تو اخباروں اور اشتہاروں کے ذریعہ پتنگ بازی کیوں کی جاتی ہے؟ اور فرحت کے واسطے مشک و عنبر، کیوڑا اور بیدمشک کیوں خراب کئے جاتے ہیں؟ مہمانوں کے واسطے مکانات کیوں وسیع کئے جاتے ہیں؟ چندہ مینار، چندہ مقدمہ، چندہ کتب، چندہ مسجد، چندہ توسیع مکان، چندہ سکول، چندہ لنگر، چندہ مہمانان کے واسطے کیوں بار بار ہاتھ پھیلائے جاتے ہیں؟ کیا انبیاء علیہم السلام کو دعائیں کرنی نہیں آتی تھیں؟ پھر کیوں انہوں نے خدا کے راستہ میں پیر گھسائی کی، گھر بار چھوڑے اور عیش و تنعم کو ترک کیا؟ کیا وہ معاذ اللہ غلط تھے یا آپ پاگل ہیں؟

حرکت سوم

جب مرزائیوں سے سوال کیا جائے کہ مرزا قادیانی نے اسلام اور دنیا کے واسطے کیا کیا؟ کس قدر نئے مسلمان کئے۔ کس قدر بد رسومات دور کیں؟ بحیثیت حکم کس قدر اختلافات اسلامی کو رفع کیا؟ یا کم از کم کس قدر اختلافات پر فیصلہ ہی فیصلہ لکھے؟ تو جواب دیتے ہیں کہ ایک دو لاکھ اشخاص جو ان کی جماعت میں داخل ہیں ان کو مسلمان کیا؟ سبحان اللہ! کیا تیرہ صدیوں میں جو مسلمان آپ کے نئے عقائد سے محروم گزر گئے وہ مسلمان نہ تھے؟ کیا صحابہ کرام اور رسول خدا جن میں مرزائی کبریائی کا یہ چرچا نہ تھا۔ مسلمان نہ تھے؟

حرکت چہارم

الحکم مورخہ ١٠؍ جون ١٩٠٦ء میں چند سوالات:

ہوا ہو اور پھر اللہ تعالیٰ نے اس کو معزول کر دیا ہو۔

٥٥

صفحہ ٤٣٤

سے اب بھی وہی مضمون نکلتا ہے یا نہیں؟ اور وہ آیات حضرت مسیح موعود کی سچائی کی مثبت ہیں یا نہیں؟

گا) اس کی تلافی کیونکر ممکن ہوگی؟

گے یا نہیں؟

جواب...... اوّل تو ایسے سوالات کرنے کا حق...... مرزا قادیانی یا مرزائیوں کو مطلق حاصل نہیں۔ کیونکہ خود مرزا قادیانی نے ازالہ اوہام میں ایک کروڑ مسلمانوں کا اس وقت اہل الہام ہونا ظاہر کیا۔ پھر اب ان تمام کو کافر اور غیر ناجی قرار دیا جا رہا ہے۔ عباس علی صوفی کی بابت الہام شائع کیا ”اصلها ثابت وفرعها فی السماء“ پھر وہ مرزا قادیانی کا مخالف ہوا۔ مسیح علیہ السلام کے نشانات کو مکروہ اور قابل نفرت بیان کیا۔ مرزا قادیانی کو آسمانی منکوحہ کی نسبت وعدہ ملا کہ خدا اس کو واپس لائے گا تیرے پاس اور اللہ ان تمام کے مقابلہ پر تیرے لئے کافی ہوگا۔ مگر وہ وعدہ جھوٹ ثابت ہوا۔ الٰہی بخش اکاونٹنٹ کو بے شرف انسان اور ملہم من اللہ مان کر اس کی کتاب کو جو سراسر قرآن وحدیث ہے اور زہر بتلایا میری تفسیر کی بابت پہلے شائع کیا۔ شیریں بیان ہے۔ نکات قرآنی خوب بیان کئے ہیں۔ نہایت عمدہ ہے دل سے نکلی اور دلوں پر اثر کرنے والی ہے۔ مگر اب لکھتا ہے کہ ہمیں روحانیت نہیں۔ عبدالحکیم اس کا اہل نہ تھا۔ اس کا دیکھنا تضیع اوقات ہے۔

دوم...... تحقیقی جواب یہ ہے کہ خبیث نفس مکروہ بظاہر معلوم۔ حسن ظنی کے طور پر براہین احمدیہ کا اشتہار دیکھ کر میں معتقد ہوا تھا کہ اسلام کی فضیلت وحقانیت تمام ادیان عالم پر تین سو قوی اور بے نظیر دلائل سے مرزا قادیانی کے ہاتھ پر ثابت ہوگی۔ بیس سال تک ان کے انتظار میں خاموش رہا۔ غلبہ حسن ظنی کی وجہ سے ان کے موافق خوابات بھی مجھ کو آتے رہے۔ جیسا کہ مسیح پرستوں کو مسیح علیہ السلام، خدائی کی نسبت آیا کرتے ہیں اور مشرکین کو اپنے اپنے بتوں اور اوتاروں اور دیویوں اور دیوتاؤں کی نسبت اور ان میں سے بعض اجزاء سچی پیشین گوئیاں ثابت ہوتی ہیں۔ اسی طرح پر محمد حسین بیگ والا خواب مجھ کو دکھایا گیا اور اس کا ایک جز پورا بھی ہو گیا۔ یعنی محمد حسین بیگ

٥٦

صفحہ ٤٣٥

پلیگ سے فوت ہو گیا۔ ایسا ہی مرزا قادیانی کے الہامات میں بعض اجزاء پورے ہو جاتے اور اکثر غلط نکلتے ہیں۔ جیسا کہ عموماً تیرہ پیش گوئیوں میں بیان کیا جاچکا۔ آخر کار جب سے یہ معلوم ہوا کہ بجائے حمایت اسلام کے مرزا قادیانی تو اسلام کو بیخ و بن سے اکھاڑ رہا ہے۔ خداوند عالم کی عظمت وجلال ظاہر کرنے کی بجائے اپنی خدائی قائم کر رہا ہے۔ انبیاء علیہم السلام کے بروز کا دعویٰ کر کے اپنی نفس پرستی وشکم پروری، خلاف عہدی، کذب، تکبر، سنگدلی، بے رحمی، ذاتی مشیخت، بدعقلی، بدفہمی، توہین فطرت، توہین باری تعالیٰ، توہین اسلام اور ان پاک نفسوں کو بدنام کر رہا ہے۔ قرآنی بیّنات اور احادیث صحیحہ سے نہ صرف اعراض کرتا بلکہ تاویلوں سے شاعرانہ طور پر نئے نئے معنی گھڑتا ہے۔ تب میں چونکا اور خواب غفلت سے بیدار ہو کر جو غور کیا۔ خط و کتابت شروع کی اور مخالف تصانیف کو دیکھا تو ثابت ہوا کہ تمام مرزائی تار و پود نفسانی امراض کے واسطے ایک سخت دجل ہے اور اسلام کا سخت دشمن، جو دلائل ازروئے قرآن وحدیث میں نے مرزا قادیانی کی تائید میں مرزائی تصانیف سے اقتباس کر کے اپنی تفاسیر میں درج کی تھیں وہ غلط تھیں۔ مرزا قادیانی نے ان میں بڑے دھوکہ دیئے ہیں۔ موضوع احادیث پر تک بندیاں کر کے صحیح احادیث کو رد کیا ہے۔ شاعرانہ رنگ میں اصل الفاظ میں عجیب عجیب تاویلیں کیں ہیں۔ اس لئے میں نے ان تمام مضامین کو مشتبہ اور غلط سمجھ کر اپنی تفاسیر سے نکال دیا اور جن صاحبوں کے نام تفاسیر جا چکی تھیں ان کے نام حالیہ ترمیم و تردید چھپوا کر مفت بصیغہ پیڈ روانہ کر رہا ہوں۔

بر رسولاں بلاغ باشد وبس

کیا مرزا قادیانی کی پہلی کتابوں میں جو غلط مضامین شائع ہوتے رہے۔ مثلاً براہین احمدیہ، ازالہ اوہام وغیرہ میں تو کیا مرزا قادیانی نے ان تمام کو واپس منگا کر اور ان کی قیمت ادا کر کے جلا دیا ہے؟ مرزا قادیانی نے تو ان کی ترمیمات وتردیدات کے اوراق بھی علیحدہ شائع نہیں کئے۔ قرآن مجید میں ایک شخص کی نظیر موجود ہے۔ جس کو نشانات عطاء ہوئے تھے پھر اس سے وہ چھینے گئے جو مرزا قادیانی کے عین مطابق حال ہے۔ ”واتل علیهم نبا الذی اتینه ایتنا فانسلخ منها فاتبعه الشیطن فکان من الغوین ٠ ولو شئنا لرفعنه بها ولكنه اخلد الى الارض واتبع هوه فمثله کمثل الکلب ان تحمل عليه يلهث او تترکه یلهث ذلك مثل القوم الذين کذبوا بایتنا فاقصص القصص لعلهم يتفكرون“ اور ان پر اس شخص کی خبر پڑھ کر سنا جس کو ہم نے اپنی نشانیاں دی تھیں۔ پھر اس سے

٨

صفحہ ٤٣٦

چھین لیں۔ پس شیطان اس کے پیچھے لگا اور وہ گمراہوں میں سے ہو گیا اور اگر ہم چاہتے تو اس کے سبب ہم اس کے مدارج بلند کرتے۔ مگر وہ زمین کی طرف پڑا رہا۔ گری ہوئی خواہش کا تابع ہو۔ پس اس کی مثال کتے کی مثال ہے کہ اگر تو اس کو کچھ لادے تو ہانپے اور اگر اس کو چھوڑ دے تب ہانپے۔ یہ ان لوگوں کی مثال ہے جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا۔ پس ( نصیحت آمیز ) قصہ بیان کرتا رہ تا کہ وہ فکر کریں۔

مرزا قادیانی کو بیشک آیات ملیں تھیں۔ اگر وہ نفس پرستی، زرطلبی اور تکبر میں غرق نہ ہوتا۔ آیات قرآنی واحادیث صحیحہ کی تکذیب ومخالفت نہ کرتا اور فطرت اللہ کو لعنت قرار نہ دیتا تو اللہ کریم اس کے مقامات کو ضرور بلند کرتا۔ مگر وہ زمین کی طرف جھکا رہا۔ اس لئے نفس پرستی اور ذاتی مشیخت کے سوائے اب اس کا کوئی شغل نہیں۔ ”فاعتبروا یا اولی الابصار“ خود مسیح الدجال کی ترکیب میں اشارہ ہے کہ پہلے وہ مسیح ہوگا یا مسیح مانا جائے گا۔ مگر بعد میں دجال ثابت ہوگا اور مسیح الدجال کہلائے گا۔

مرزا قادیانی کے خلاف ایک الہام: ”میں خدائے واحد کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ مجھے ایسا ہی الہام ہوا۔ میں نے خواب میں نہیں بلکہ بیداری میں، میں اقرار کرتا ہوں کہ اگر اس میں جھوٹا نکلوں تو وہ سب سزائیں عملاً اٹھانے کو تیار ہوں جو شیطان قادیانی نے آتھم کی پیش گوئی کے عدم وقوع پر عملاً اٹھائیں تھیں۔ غرضیکہ فیصلہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مرزا قادیانی کو ٣٠؍ ستمبر ١٩٠٠ء سے مدت بضع سنین کے اندر ایک عجیب وغریب موت کے ساتھ ہاویہ میں گرائے گا۔ یہ موت ایسی ہوگی جو انسانی طاقت سے باہر ہو۔ بشرطیکہ وہ اپنی دعاوی باطلہ سے نادم ہو کر راجع الی الحق نہ ہو میں نے موت کے عجیب ہونے میں کچھ تعجب کیا تھا کہ واللہ اعلم! وہ کیسی موت ہوگی۔ مگر اللہ تعالیٰ نے اس کا نقشہ میرے تصور میں کھینچ دیا۔ جس کے متصور ہوتے ہی میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ یعنی قادیانی کا پیٹ انبان کی طرح پھولا ہے۔ آنکھوں کی سفیدی زردی سے مبدل ہوگئی ہے۔ ناک عریض ہو کر افطس کی طرح بیٹھ گئی ہے اور ہونٹ آگے کو بڑھ گئے ہیں اور کان بھی برغز کی طرح کسی قدر لمبے ہوگئے ہیں۔ بات کرنا چاہتا ہے۔ مگر زبان سکڑ کر اندر کو کھنچ گئی ہے اور بات نہیں کر سکتا۔ میں دعوٰی سے کہتا ہوں کہ ایسا ہی ہوگا۔ زمین و آسمان ٹل جائیں مگر خدا کی باتیں نہیں ٹل سکتیں۔ اس روز بہت بے ایمان، ایماندار بن جائیں گے اور بہت سے مردود زمرہ مقبولین میں شامل ہونے کی خواہش کریں گے۔ فقط : ” وما علینا الا البلاغ “ المشتہر : غلام احمد امرتسری !

تمــــــــــــــــــــــــــــــــت ٥٨

PDF 438

خاتم النبیین لا نبی بعدی

میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں

الذکر الحکیم نمبر ٦

(عرف)

کانا دجال

ڈاکٹر عبدالحکیم خان پٹیالوی

صفحہ ٤٣٨

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

”الذين أمنوا يقاتلون في سبيل الله والذين كفروا يقاتلون في سبيل الطاغوت“ مؤمن تو اللہ کے واسطے لڑتے ہیں اور جو کافر ہیں وہ شیطان (خود پرست) کے واسطے لڑتے ہیں۔ ﴾

الذکر الحکیم نمبر ٦ (عرف) کانا دجال

اس رسالہ میں مرزائے قادیانی کے تمام دعاوی اور دلائل کی ایسی کامل تردید ہے کہ فی الحقیقت بشارت خداوندی کے مطابق دجالی فتنہ پاش پاش ہو چکا۔ اس میں دس باب ہیں۔

باب اوّل...... میں یہ ثابت کیا گیا ہے کہ مرزا اور مرزائی صریحاً اسلام سے مرتد اور قرآن اور رسول کے مخالف ہیں۔ یا یوں کہو کہ منہاج نبوت کی رو سے وہ قطعاً مردود ہیں۔

باب دوم...... میں یہ ثابت کیا گیا ہے کہ مرزائے قادیانی نبوت ورسالت کا مدعی ہے اور ہر ایسے شخص کو جو اسے نہ مانے ملعون اور کافر اور جہنمی اور خدا کا مغضوب قرار دیتا ہے۔

باب سوم...... میں یہ ثابت کیا گیا ہے کہ مرزا قادیانی تمام عالم کے خون کا پیاسا اور ہر قوم کی تباہی کا طالب و منتظر ہے۔ عالم کی تباہی اس کی فتح اور دنیا کی مصیبت اس کی شادمانی ہے۔

باب چہارم...... میں یہ ثابت کیا گیا ہے کہ مرزائے قادیانی کے اصول مشتہرہ کے مطابق قرآن وحدیث کا کوئی لفظ قابل اعتبار نہیں اور جس قدر پیش گوئیاں مرزا قادیانی نے صاف الفاظ میں بڑے دعوؤں کے ساتھ شائع کیں اور جن کو اس نے اپنے کذب یا صدق کا معیار ٹھہرایا وہ تمام غلط ثابت ہوئیں۔

باب پنجم...... میں مرزا قادیانی اور مرزائیوں کی اس عیاری، بدعہدی، بددیانتی، جھوٹی شیخی اور بے حیائی کا بیان ہے جو انہوں نے براہین احمدیہ کے متعلق ظاہر کی۔

باب ششم...... میں یہ ثابت کیا گیا ہے کہ تمام اہل الہام لوگ جو دجال کے جال میں پھنس بھی جائیں وہ آخر کار ہدایت غیبی کے ذریعہ سے اس کے مخالف ہو جاتے ہیں۔

باب ہفتم...... میں مرزائی مباہلوں کے تماشوں کا بیان ہے۔

باب ہشتم...... میں قطع وتین پر ایسی مدلل اور مبسوط بحث ہے کہ فی الحقیقت مرزائیوں کی اس میں گردن قطع ہوگئی۔

٢

باب نہم...... میں یہ ثابت کیا گیا ہے

ہم تو مانیں گے
باقی سب

باب دہم...... میں مرزا قادیانی کی ہر باب ایسا مدلل اور مکمل

باب پانچ سو روپیہ نقد بطور انعام دے دیں جن کو فریقین سے کوئی تعلق کیشن ۔ تمام اہل وسعت لوگوں کو ملنے کا پتہ : مبارک برادران پٹیالہ پر ریویو لکھیں اور اُس کے مضامین کی مصنف

(نوٹ از مرتب:) موضوع سے متعلق نہیں اس لئے محذوف

”نحمدہ مرزا اور مرزائی مرتد منہاج نبوت کی رو سے قطعاً مردود سلسلۂ رسل کے انقطاع کی خبر دی گے جو سب کے سب نبی اور رسول میرے بعد کوئی نبی نہیں اور وہ ”انه سيكون في امتي النبيين لا نبي بعدی

صفحہ ٤٣٩

باب نہم...... میں یہ ثابت کیا گیا ہے کہ ان کا عملی نقشہ یہ ہے۔

ہم تو مانیں گے وہی جس میں ہو مطلب کا نشان
باقی سب لغو ہے اور جھوٹ ہے حدیث اور قرآن

باب دہم...... میں مرزا قادیانی کی کتاب حقیقت الوحی کا رد ہے۔

ہر باب ایسا مدلل اور مکمل ہے کہ اگر کوئی مرزائی ان کا معقول جواب دے سکے تو میں فی باب پانچ سو روپیہ نقد بطور انعام اس کو دوں گا۔ بشرطیکہ تین ایسے منصف اس کے حق میں فیصلہ دے دیں جن کو فریقین سے کوئی تعلق نہ ہو۔ قیمت چار آنے، سو سے زائد کے خریدار پچیس فیصدی کمیشن۔ تمام اہل وسعت لوگوں کو چاہئے کہ اس کی بہت بہت کاپیاں خرید کر مفت تقسیم کریں۔ ملنے کا پتہ: مبارک برادران پٹیالہ۔ تمام اہل اخبار و رسائل اپنے اپنے اخباروں اور رسالوں میں اس پر ریویو لکھیں اور اس کے مضامین کو شائع کرتے رہیں۔

مصنفہ ڈاکٹر عبدالحکیم خاں صاحب ایم۔بی، اسسٹنٹ سرجن فرسٹ گریڈ

دیباچہ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

(نوٹ از مرتب: مؤلف نے طویل دیباچہ میں خامہ فرسائی کی۔ لیکن وہ ہمارے موضوع سے متعلق نہیں اس لئے اسے حذف کر دیا ہے۔ مرتب!)

”نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم“

باب اوّل

مرزا اور مرزائی صریحاً اسلام سے مرتد اور قرآن و رسول کے مخالف ہیں یا یوں کہو کہ منہاج نبوت کی رو سے قطعاً مردود ہیں۔ قرآن مجید نے آنحضرت ﷺ کو خاتم النبیین فرمایا اور سلسلہ رسل کے انقطاع کی خبر دیتا ہے۔ احادیث صحیحہ میں ہے کہ تیس کے قریب دجال کذاب ہوں گے جو سب کے سب نبی اور رسول ہونے کا دعویٰ کریں گے۔ خبردار میں خاتم النبیین ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں اور وہ میری امت میں ہوں گے۔ چنانچہ ایک حدیث صحیح مسلم میں ہے۔ ”انه سيكون فى امتى كذابون ثلثون كلهم يزعم انه نبى الله وانا خاتم النبيين لا نبى بعدى“ ایک متفق علیہ حدیث کے یہ الفاظ ہیں۔ ”دجالون کذابون

٣

صفحہ ٤٤٠

قریب من ثلثین کلهم یزعم انه رسول اللہ “ تمام امت محمدیہ کا اس سلسلہ میں اجماع چلا آیا ہے کہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے بعد کوئی نبی اور رسول نہیں۔ مگر مرزا خود نبی اور رسول ہونے کا مدعی ہے۔ تمام مرزائی اس کو نبی اور رسول مانتے اور اس کے نہ ماننے کو موجب کفر وعذاب قرار دیتے ہیں۔

مرزا قادیانی، حضرت مسیح علیہ السلام سے افضل؟

ساتھ ہی بروزی یا ظلی یا جزوی نبی اور امتی نبی ہونا ظاہر کر دیتے ہیں۔ ساتھ ہی مرزا کے اس قول کی تصدیق کرتے ہیں۔ شعر ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو۔ اس سے بڑھ کر غلام احمد ہے۔ (دافع البلاء ص ١١، خزائن ج ١٨ ص ٢٤٠) ایک طرف تو جزوی نبی اور امتی ہونے کا اقرار ۔ دوسری طرف ایک عظیم الشان رسول سے بڑھ کر ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ سچ فرمایا ہے۔ نبی صادق ﷺ نے دجال کانا ہوگا پر خدا کا نہیں۔

ایک مرزائی عبدالحق نام کہنے لگا کہ نبی کے معنی ہیں خبر دہندہ۔ پس اس لحاظ سے مرزا نبی ہے۔ میں نے سوال کیا کہ جس وقت خداوند عالم نے محمد مصطفیٰ ﷺ کو خاتم النبیین فرمایا تو کیا خداوند عالم کو نبی کے معنی نہ آتے تھے؟ یا محمد مصطفیٰ ﷺ نے جب یہ فرمایا۔ خبر دار میرے بعد کوئی نبی نہیں اور میں خاتم النبیین ہوں تو آنحضرت ﷺ کو نبی کے معنے نہ آتے تھے؟ اور جزوی نبی اور ظلی نبی کا علم نہ تھا؟ آج تک امت محمدیہ میں سے ان ( قادیانی ) دجالوں کے سوائے کسی کو یہ علم نہ ہوا کہ جزوی یا تمثیلی لحاظ سے نبی اور رسول آتے رہیں گے؟ مگر حق اور بالکل حق ہے۔ "فاما الذین فی قلوبهم زیغ فیتبعون ماتشابه منه ابتغاء الفتنة وابتغاء تاویله (آل عمران: ٧) “ ایک موقعہ پر مولوی عبداللہ خان مرزائی نے کہا کہ چونکہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ حضرت موسیٰ سے بڑھ کر ہیں۔ اس لئے مرزا غلام احمد جو محمد ﷺ کے تابع ہیں عیسیٰ سے بڑھ کر ہیں جو موسیٰ علیہ السلام کے تابع ہیں۔

ہم نے جواب دیا کہ قرآن مجید تو فرماتا ہے کہ ہر ایک نبی مطاع ہوتا ہے نہ کہ مطیع اور تورات مقدس سے ثابت ہوتا ہے کہ نبی ماں کے پیٹ سے نبی ہوتا ہے۔ نبی کے کمالات کسبی نہیں ہوتے۔ بلکہ وہبی ہوتے ہیں۔ آپ فرماتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام شریعت موسوی کے اتباع سے نبی بنے تھے۔ اگر یہی بات ہے تو امت محمدیہ میں کروڑوں نبی پہلے انبیاء سے بڑھ کر ہو سکتے ہیں۔ کیونکہ وہ ناقص شریعتوں کے تابع تھے۔ پھر ”لا نبی بعدی “ اور خاتم النبیین بے معنی اور لغو ٹھہرتے ہیں۔ سچ ہے ”دجال کانا ہوگا پر خدا کا نہیں ۔“

٤

صفحہ ٤٤١

اے مرزا! یہ آج تو بتاؤ کہ قرآن مجید اور احادیث صحیحہ کے صریح الفاظ تمام امت محمدیہ کے متفق علیہ مسئلہ کے خلاف دعویٰ کرنا۔ طرح طرح کی تاویلات اور بہانوں سے اس پر اصرار کرنا ارتداد نہیں تو اور کیا ہے؟ کیا صاف الفاظ کو چھوڑ کر تاویلات کو اختیار کرنا راست روی میں داخل ہے یا کج روی میں؟ کیا قرآن شریف کا یہ ارشاد کہ تاویلات کی طلب کرنا کجرووں کا کام ہے۔ لغو اور باطل ہے؟

علماء امت انبیاء بنی اسرائیل کی طرح؟

پھر بے حیائی سے مرزا اور مرزائی آیات بینات اور احادیث صحیحہ کے مقابلہ پر حدیث ”علماء امتی کانبیائے بنی اسرائیل“ پیش کر دیا کرتے ہیں۔ اول ...... تو اس کو دمیری، زرکشی، عسقلانی اور ابن حجر وغیرہ ائمہ حدیث نے لکھا ہے۔ ”لا اصل له“ دوم ...... اگر یہ صحیح حدیث ہے تو علمائے امت کو مرزا کیوں ملعون اور کافر کہتا اور ان کو مباہلہ کے واسطے بلاتا ہے؟

صراط مستقیم کا جواب

کبھی ”اهدنا الصراط المستقيم صراط الذين انعمت عليهم“ کو دلیل میں پیش کر دیتے ہیں۔ تو گویا آج تک خود اللہ تعالیٰ کو یہ علم نہ تھا کہ اس سے مراد یہ ہے کہ ہم کو نبی یا رسول بنادے۔ جس نے آنحضرت ﷺ کو خاتم النبیین قرار دیا۔ آنحضرت ﷺ کو بھی معلوم نہ ہوا کہ بار بار لا نبی بعدی فرماتے رہے اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی نسبت فرمایا کہ: ”انت منی بمنزلة هارون بموسى“ ساتھ ہی تنبیہ فرمادی۔ ”انه لا نبى بعدی (بخاری، مسلم)“ صحابہ کرام اور اولیائے عظام میں سے سوائے کسی کا اس طرف خیال نہ ہوا کہ میں نبی یا رسول ہوں؟

نبی کے لغوی معنی سے قادیانی استدلال

پھر ایک دلیل پیش کرتے ہیں کہ نبی کے لغوی معنی ہیں خبر دہندہ، چونکہ مرزا کو الہامات غیب ہوتے ہیں۔ اس لئے وہ نبی ہیں۔ تو پھر اس دلیل سے میں یہی کہتا ہوں۔ کیونکہ میری بھی ہزارہا پیش گوئیاں پوری ہوتی ہیں۔ ایسا ہی آج تک ہزاروں لوگ امت محمدیہ میں گزرے ہیں۔ اب بھی موجود ہیں۔ جن کو غیب کی خبریں ملتی ہیں۔ ایسا ہی آج تک ہزاروں لوگ امت محمدیہ میں گزرے ہیں۔ جن کو سچے خوابات آتے ہیں اور الہام ہوتے ہیں تو گویا سب کے سب نبی ہوئے۔ ابن صیاد جس کو غیب کی خبریں ملتی ہیں۔ وہ بھی نبی ٹھہرا۔ گویا کہ آنحضرت ﷺ اور آپ کے صحابہؓ نے بڑا ہی ظلم کیا جو اس نبی کو دجال قرار دیا۔ کیا ہی سچ ہے کہ: ”دجال کانا ہوگا پر خدا کانا نہیں۔“

٥

صفحہ ٤٤٢

مرزا کی چندہ خوری

عليه من اجرا (الشوری:٢٣) ”میں تم سے اس محنت پر کوئی مزدوری نہیں مانگتا۔ سورہ یٰسین میں جس کا ارشاد ہے۔ ”اتبعوا من لا یسئلکم اجرا (یٰسین:٢١) ”اس شخص کی پیروی کرو جو تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا۔ مگر مرزا کھلے میدان ہاتھ پھیلاتا اور اعلان کرتا ہے کہ جس شخص کا چندہ تین مہینہ تک نہ پہنچے گا اس کا نام جماعت سے خارج کر دیا جائے گا۔ ایسا کرنا سنن انبیاء اور قرآن کریم سے ارتداد نہیں تو اور کیا ہے؟ پھر اپنی تصدیق میں قرآن اور سنت کو چھوڑ کر پشتی سجادہ نشینوں کی مثالیں پیش کرنا بے حیائی نہیں تو اور کیا ہے؟ تین ہزار روپیہ ماہوار لنگر کی آمد اور دو یتیموں کی امداد کے واسطے اخباروں میں اشتہار دینا بے شرمی نہیں تو اور کیا ہے؟ محمد احسن کی تیس روپیہ ماہوار اجرت بطور واعظ مقرر کرنا۔ مگر اس کا بطور واعظ نہ پھرنا حرام خوری میں داخل نہیں تو اور کیا ہے؟ مولوی عبدالقادر کا باوجود علم صحت اور قابلیت کے ریاست کی رسدات بن کے واسطے سرگرداں پھرنا اور اس پر گزران کرنا حرام نہیں تو اور کیا ہے؟ اے دجالو! کیا یہی نمونہ ہے۔ اسلام، ایثار، ترک نفس، جانفشانی، احسان بالخلق اور خدمت دین کا جو آپ نے پیش کیا ہے اور جس کی بناء پر خود راست باز اور ناجی ہونے کے مدعی ہو اور تمام عالم کو جھوٹا، کافر اور جہنمی قرار دیتے ہو؟ تین ہزار روپیہ ماہوار سے زیادہ آمد، مگر اس سے نہ کوئی اسلامی خدمت ہے۔ نہ کوئی مشن ہے۔ نہ کتب کی اشاعت ہے۔ محض پیٹ کا بھرنا، بیویوں کو زیورات سے لاد دینا، بیٹوں کی شادیاں کرنا، سالوں اور سسروں کو پالنا، یہی اسلام اور اخلاص اور ترک نفس ہے؟ شرم ! شرم !! پھر دعویٰ ہے۔ ”ظهورك ظهوری لولاك لما خلقت الافلاك، الله يحمدك من العرش “ سچ ہے ”دجال کتا ہوگا پر خدا کتا نہیں ۔“

فطرتی دین لعنتی ہے...... مرزا کا اقرار

میں نے جو بار بار مرزا کے نام یہ لکھا کہ خدا کے ماننے اور اعمال صالحہ کے بغیر کوئی شخص نجات نہیں پاسکتا۔ کیونکہ خدا کی ربوبیت اور نیکی بدی کی تمیز ہر فطرت میں منقوش ہے۔ چنانچہ آیات ذیل اس دعویٰ پر دلیل ہے۔ ”فالهمها فجورها وتقواها (الشمس:٨) هديناه السبيل اما شاكرا واما كفورا (الدهر:٣) فطرت الله التي فطر الناس عليها لا تبديل لخلق الله، ذلك الدين القيم (الروم: ٣٠) ”ساتھ ہی حدیث ذیل بھی پیش کی۔ ”كل مولود يولد على فطرة الإسلام “ مرزا قادیانی نے ان آیات بینات اور حدیث

صحیحہ سے محض اعراض اور ارتداد ہی بیٹھا اور جوش میں از خود رفتہ ہو کر نہ ملے ۔“ طرفہ یہ کہ جب کسی مر نے آیات بینات کے صاف الفا اس مردود قول کی حمایت کی۔ کیوں وعيننا الى يوم الآخر لا ت کہ قرآن اور حدیث تو مکدر ہو لکھا کہ نبوت سے بے خبر لوگ شامل۔ مگر جب مرزا قادیانی نے ک ان پر پوری تبلیغ نہیں ہوئی تو فضل کافر ہی کیوں نہ ہوں۔

مرزا بمنزلہ اولاد خدا

السَّمٰوتِ يَتَفَطَّرن منه ولداً (مریم: ٩٠، ٩١) ”مگر م بمنزلہ اولاد الہی قرار دیتے ہیں او الہام سے تمام قرآنی بینات کو پا الله نزل من السماء “ ہو۔ تو مرزا کیا ہوا؟

مرزا کی رضا، خدا کی رضا

نہیں کر سکتا۔ بلکہ اللہ جس کو چا دوسرے نفس کے کام نہیں آسکت نہیں کر سکتا۔ نوح علیہ السلام سفارش رد ہوئی اور حکم ملتا ہے ک میں سے مت ہو جا۔ مسیح علیہ ال

صفحہ ٤٤٤

مجھ سے محض اعراض اور ارتداد ہی نہیں کیا بلکہ ”فاطر السمٰوات والارض“ کے فعل پر حملہ کر بیٹھا اور جوش میں از خود رفتہ ہو کر لکھ مارا کہ ”فطرتی دین لعنتی چیز ہے۔ اگر اس کو نشانوں سے قوت نہ ملے ۔“ طرفہ یہ کہ جب کسی مرزائی نے مرزا قادیانی کے اس قول پر اعتراض کیا تو فضل الدین نے آیات بینات کے صاف الفاظ سے ارتداد کر کے تاویلات رکیکہ کے ساتھ مرزا قادیانی کے اس مردود قول کی حمایت کی۔ کیوں نہ ہو ان کا پیر جو یہ اعلان دے چکا۔ ”تکدر مـاء السـابقـين وعيننا الى يوم الآخر لا تتكدر“ (اعجاز احمدی ضمیمہ نزول المسیح ص ٨١، خزائن ج ١٩ص ١٧٠) گویا کہ قرآن اور حدیث تو مکدر ہوچکے۔ صاف تعلیم تو اب مرزا قادیانی کی ہے اور بس جب میں نے لکھا کہ نبوت سے بے خبر لوگ ایمان باللہ و اعمال صالحہ سے نجات پاسکتے ہیں تو یہ ارتداد میں شامل۔ مگر جب مرزا قادیانی نے لکھا کہ اگر اہل امریکہ ہمارا انکار کریں تو وہ معذور ہیں۔ کیونکہ ابھی ان پر پوری تبلیغ نہیں ہوئی تو فضل دین نے لکھا کہ بے خبر لوگوں کو عذاب نہ ہوگا۔ خواہ وہ مشرک اور کافر ہی کیوں نہ ہوں۔

مرزا بمنزلہ اولاد خدا

السمٰوت يتفطرن منه وتنشق الارض وتخر الجبال هدا ان دعوا للرحمن ولداً (مریم: ٩٠، ٩١)“ مگر مرزا ہے اور مرزائی کہ ان الفاظ قرآنی کی مطلق پرواہ نہ کر کے مرزا کو بمنزلہ اولاد الٰہی قرار دیتے ہیں اور ”أنت منى بمنزلة اولادى“ (تذکرہ طبع اوّل ص ٤٧٢) کے الہام سے تمام قرآنی بینات کو پاؤں میں روندنا چاہتے ہیں۔ پھر بیٹے کی نسبت مرزا کا الہام ”کان الله نزل من السماء“ (انجام آتھم ص ٦٢ ، خزائن ج ١١ص ٦٢) جب مرزا قادیانی کا بیٹا بمنزلہ خدا ہو۔ تو مرزا کیا ہوا؟

مرزا کی رضا، خدا کی رضا

نہیں کر سکتا۔ بلکہ اللہ جس کو چاہے ہدایت کرتا ہے۔ بنی اسرائیل کو بار بار فرماتا ہے کہ کوئی نفس دوسرے نفس کے کام نہیں آسکتا۔ شفاعت کی نسبت فرماتا ہے کہ اذن الٰہی کے بغیر کوئی شفاعت نہیں کر سکتا۔ نوح علیہ السلام جب اپنے بیٹے کی سفارش کرتے ہیں تو جناب باری سے ان کی سفارش رد ہوتی اور حکم ملتا ہے کہ وہ تیرا بیٹا نہیں۔ وہ بدعمل ہے۔ میں تجھ کو سمجھاتا ہوں کہ تو جاہلوں میں سے مت ہو جا۔ مسیح علیہ السلام کی شفاعت کا ، خاص میدان حشر میں رد ہونا بیان فرماتا ہے۔

٧

صفحہ ٤٤٤

ایسا ہی آنحضرت ﷺ کی شفاعت کا بعض صحابہ کے بارہ میں رد ہونا حدیث بخاری میں مذکور ہے۔ مگر مرزا کو الہام ہوتا ہے۔ ”جس سے تو راضی اس سے خدا راضی۔ جس سے تو نا خوش اس سے خدا نا خوش۔“ (تذکرہ ص ٦٠٠، طبع سوم) ”میرے رب تو مجھ کو دوزخ کا اختیار دے دے۔“ (تذکرہ ص ٦٠٦، طبع سوم) تمام تعلیم قرآنی کے کیسے مخالف یہ الہامات ہیں۔ قرآن کا رد منظور۔ تمام انبیاء علیہم السلام کی توہین منظور۔ مگر مرزا کا خلاف کسی طرح منظور نہیں۔ اگر یہ قرآنی تعلیم سے صریح ارتداد نہیں تو اور کیا ہے؟

(النصر: ٣) ”اپنے رب کی حمد کر اور اس سے استغفار کر۔ مگر مرزا قادیانی کو الہام ہوتا ہے۔ ”خدا تیری حمد کرتا ہے۔“ (تذکرہ ص ٢٧٦، طبع سوم) ”اور تیرا ظہور خدا کا ظہور ہے۔“ (تذکرہ ص ٧٠٤) کیا اس میں قرآن مجید کا ارتداد اور رب العالمین اور سید المرسلین کی توہین نہیں؟

نفس دوسرے کا بوجھ نہیں بٹا سکتا۔ قبروں کی بابت احادیث صحیحہ میں ارشاد ہے کہ وہ پختہ نہ بنائی جائیں۔ نہ ان پر عمارتیں بنائی جائیں اور نہ ان پر کتبہ لگائے جائیں۔ یہود و نصاریٰ پر قبروں کی پرستش کی وجہ سے لعنت کی گئی ہے۔ مگر ان صاف ارشادات کے خلاف صاف ارتداد کر کے آج مرزا قادیانی ”بہشتی مقبرہ“ کا اعلان دیتا اور اس کا خاص اہتمام کر رہا ہے۔ ١٩٠٦ء میں اس پر تین ہزار روپیہ صرف کیا اور ١٩٠٧ء کے لئے گیارہ ہزار کا مطالبہ ہے اور صاف لفظوں میں اعلان دیتا ہے کہ ”جو کوئی اس مقبرہ میں مدفون ہو گا وہ بہشتی ہو جائے گا۔“ کیا اس میں اسلام کا خلاف اور محمد مصطفیٰ ﷺ اور تمام انبیاء علیہم السلام کی سخت توہین نہیں ہے؟ آج تک مکہ، مدینہ، بیت المقدس اور تمام عالم میں کہیں بہشتی مقبرہ نہ بنا اور قادیان میں بہشتی مقبرہ ہو گیا۔ کیا صحف و کتب سابقہ سے یا تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ کسی اور نبی کا مقبرہ بھی موجب نجات اور کل عالم کے واسطے بہشتی مقبرہ ہو گیا تھا؟ کیا کتب قیمہ اور فطرت اللہ میں کہیں اس کا نشان ہے یا تمام کتب سماوی بھی فطرت اللہ کی طرح لعنتی چیز ہیں۔ اسی وجہ سے مرزائی قادیان کو مکہ، مدینہ اور بیت المقدس پر صاف الفاظ میں ترجیح دینے لگے۔ چنانچہ ایک مرزائی کا شعر اخبار بدر مورخہ ٩؍ اگست ١٩٠٦ء مرزا قادیانی کی مدح میں شائع ہوا ہے۔

ہندوستان کا رتبہ بڑھا تیرے فیض سے اب اس کو فخر سارے زمین و زمن پر ہے

٨

صفحہ ٤٤٥

کی گونج تمام دنیا میں پیدا کر دی ہے۔ تمام انبیاء علیہم السلام کی نسبت اسی قدر ذکر ہے کہ وہ خدا کے بندے اور خدا کے رسول ہوتے تھے۔ خداوند عالم کی ذات کو بے مثل اور وہم و گمان سے برتر فرمایا ہے۔ مگر آج مرزا قادیانی کو الہام ہوتے ہیں۔ ”أنت منی وأنا منك“ (تذکرہ ص٤٤٢) ”ظهورك ظهوری“ (تذکرہ ص٧٠٤) ”أنت منی بمنزلة توحیدی وتفریدی“ (تذکرہ ص ٦٦) کیا یہ صاف خدائی کا دعویٰ نہیں؟ کیا اس میں قرآنی تعلیمات کا صاف خلاف نہیں؟ کیا ایک شخص جو بدعہد، دائم المرض اور چندوں کا محتاج ہے۔ سچ مچ خدا کا ظہور ہے؟ کیا ہی سچ ہے۔ ”دجال کانا ہوگا پر خدا کانا نہیں۔“ کیا ”سبحان ربی الاعلیٰ ۔ سبحان ربی العظیم “ جو بار بار رکوع و سجود میں دہرایا جاتا ہے۔ ایک بیہودہ بکواس ہے؟ اور صحیح یہی ہے کہ ”خدا مرزا قادیانی کی حمد کرتا ہے۔“ (تذکرہ ص ٧٩) مرزا قادیانی کا ظہور خدا کا ظہور ہے۔ ”اگر مرزا نہ ہوتا تو خدا زمین و آسمان کو پیدا نہ کرتا۔“ (تذکرہ ص ٦٥٤،٦١١) مرزا قادیانی اور خدا ایک ہی ہیں۔ مرزا قادیانی خدا سے اور خدا مرزا سے ہے۔ اے طعنو! کیا تسبیح ، تقدیس ، تمجید باری تعالیٰ کے یہی معنی ہیں؟

(آل عمران:١٠٣) ”اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑو اور تفرقہ اندازی مت کرو۔“ ان الذين فرّقوا دينهم وكانوا شيعًا لست منهم فی شئ (الانعام:١٥٩) ”جن لوگوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور الگ فریق ہو گئے تو ان میں سے اے (محمد) تو کسی بات میں نہیں ہے۔ مگر مرزا اور مرزائیوں کو ان آیات کی مطلق پرواہ نہیں۔ بلکہ ان سے صاف ارتداد کر کے تمام مسلمانان عالم کو کافر اور جہنمی قرار دیتے ہیں۔ گویا کہ قرآن کو بوٹی بوٹی کر دیا ہے۔ اپنی ذاتی اغراض اور مشیخت کی بناء پر بیّنات قرآنی ، احادیث صحیحہ اور اجماع امت کا صریح خلاف کر رہے اور اشارات بعیدہ و تاویلات رکیکہ پر اڑے ہوئے ہیں۔

مرزا قادیانی نے براہین کے متعلق بدعہدی کی، تفسیر کتاب عزیز کی نسبت ہمیشہ وعدے کئے۔ مگر پورے نہ کئے۔ قرآنی طاقتوں کا جلوہ گاہ کی نسبت وعدہ کیا۔ ایفا ندارد۔ مولوی ابوالوفا ثناء اللہ صاحب کو پیش گوئیوں کے امتحان کے واسطے بلایا۔ مگر جب وہ قادیان پہنچے تو سوائے سب و شتم کے اور کچھ نہ کیا۔ مولوی محمد احسن کو بطور مشنری پھرنے پر مامور کیا اور تنخواہ کا چندہ کیا۔ چندہ وصول مگر ادائے فرض منصبی ندارد۔ ایسا ہی الحکم اور البدر میں ہمیشہ طرح طرح کے وعدہ چھپتے ہیں اور بلاوجہ توڑے جاتے ہیں اور کچھ پرواہ نہیں کی جاتی کہ بدعہد کو اللہ فاسق اور گمراہ فرماتا ہے۔ ”يضل به

٩

صفحہ ٤٤٦

كثيرا ويهدى به كثيرا وما يضل به الا الفاسقين الذين ينقضون عهد الله من بعد ميثاقه (البقره: ٢٦، ٢٧) ”اگر مرزا قادیانی اور مرزائیوں کی مشتہرہ بدعہدیوں کا شمار کیا جائے تو ایک علیحدہ کتاب بن سکتی ہے۔

مسیح علیہ السلام کی اہانت

کلمتہ اللہ اور ان کی والدہ کو صدیقہ فرماتا ہے۔ یہود و نصاریٰ نے آنحضرت ﷺ کے برخلاف ہر چند قوموں کو بھڑکایا اور جنگ کئے اور سخت کشت خون کی نوبت پہنچی۔ مگر کسی آیت یا حدیث میں مسیح علیہ السلام یا کسی اور نبی کی شان میں گالی نہیں۔ آج مرزا قادیانی اور مرزائی ہیں کہ کفر تو بکیں عیسائیان حال اور حملے کئے جائیں مسیح علیہ السلام کی ذات پر۔ نقل کفر کفر نباشد۔ ذیل میں چند سطور درج کی جاتی ہیں۔ مسیح کی نسبت (ضمیمہ انجام آتھم ص ٤ تا ٧، خزائن ج ١١ ص ٢٨٧ تا ٢٩١) میں لکھا: ”شریر، مکار، موٹی عقل والا، بدزبان، غصہ ور، گالیاں دینے والا، جھوٹا، علمی اور عملی قوائے سے کچا، چور، شیطان کا ملہم، اس کی نانیاں اور دادیاں زناکار، اس کا کنجریوں سے میلان تھا۔ پھر مسلمانوں کی تکفیر سے ڈر کر (انجام آتھم ص ١٣، خزائن ج ١١ ص ١٣) پر لکھ دیا کہ یسوع کی قرآن شریف میں کچھ خبر نہیں کہ وہ کون تھا۔“ مگر سچ ہے کہ دروغ گو را حافظہ نباشد۔ خود ہی الحکم مورخہ ١١؍ مئی ١٩٠١ء میں اقرار کیا کہ ”یسوع اور مسیح ایک ہی شخص ہیں۔“ اور پھر بعض مقامات پر مسیح کے نام پر مسیح کے نام سے بھی گالیاں دیں۔ مثلاً (نورالقرآن حصہ دوم ص ١٢، خزائن ج ٩ ص ٣٩٤) میں لکھا: ”مسیح کی دادیوں اور نانیوں کی نسبت جو اعتراض ہے۔“ (آئینہ کمالات اسلام ص ٥٩٨) پر ہے۔ ”مسیح کا کسی فاحشہ کے گھر میں چلے جانا۔“ پھر مسیح علیہ السلام کی پیش گوئیوں کو قیافہ اور اٹکل بتایا اور لکھا۔ کیا ”یہ بھی پیش گوئیاں ہیں کہ مری پڑے گی اور زلزلے آئیں گے۔“ مگر اپنے مطلب کے وقت انہیں پیش گوئیوں کو عظیم الشان بنالیا جاتا ہے۔ (دفع البلاء ص ١٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣) میں ہے۔ ”خدا نے اس امت میں سے مسیح موعود بھیجا جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے۔“ (حقیقت الوحی ص ١٤٨، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٢) میں ہے: ”مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر مسیح ابن مریم میرے زمانہ میں ہوتا تو وہ کام جو میں کر سکا ہوں اور وہ نشان جو مجھ سے ظاہر ہو رہے ہیں وہ ہرگز دکھا نہ سکتا۔“ پھر بدر مورخہ ٥؍ مئی ١٩٠٧ء میں شائع کیا: ”ایک بار حضرت عیسیٰ زمین پر آئے تو اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کئی کروڑ مشرک دنیا میں ہو گئے۔ دوبارہ آ کر وہ کیا کریں گے۔ جو لوگ ان کے خواہشمند ہیں۔“

صفحہ ٤٤٧

مرزا قادیانی کے جھوٹ

خصلتیں ہو سکتی ہیں۔ مگر جھوٹ نہیں ہو سکتا۔ مگر مرزا اور مرزائی ہیں کہ ان کے لئے جھوٹ بولنا ایک معمولی بات ہے۔ مرزا قادیانی نے (ازالہ اوہام حصہ دوم ص ٦٢٩، خزائن ج ٣ ص ٤٣٩) پر شائع کیا کہ ”ایک بادشاہ کے وقت میں چارسو نبیوں نے اس کی فتح کی پیش گوئی کی تھی اور جھوٹی نکلی۔“ یہ کیسا گستاخانہ جھوٹ ہے؟ اوّل تو انبیاء علیہم السلام کی توہین، دوم ان پر جھوٹا الزام۔ اگر انبیاء علیہم السلام کی پیش گوئیاں جھوٹی نکلیں تو معاد کے حالات پر کیا اعتبار ہو سکتا ہے۔ کتاب سلاطین سے ظاہر ہے کہ وہ جھوٹے نبی بعل کے پجاری تھے۔ جن کو ایلیا نبی نے قتل کیا۔ اگر مرزا قادیانی اور مرزائیوں کے جھوٹ جمع کئے جائیں تو ایک مبسوط کتاب تیار ہو جائے۔ مرزا قادیانی کی کذب بیانیوں کا بیان ”المسیح الدجال“ میں دیکھو۔ قدرت اللہ سنوری، محمد افضل ومحمد صادق ایڈیٹران البدر کی بددیانتی اور دروغ گوئی کا بیان کانے دجال میں اور مقام پر آیا ہے۔ ریویو آف ریلیجنز کے تین جھوٹ بھی قابل ذکر ہیں۔ اوّل: بار بار شائع کرنا کہ ملّاں عبداللطیف کو محض اس وجہ سے امیر کابل نے قتل کرایا کہ وہ جہاد کا مخالف اور سلطنت برطانیہ کا خیر خواہ تھا۔ دوم: میری نسبت دعوائے نبوت شائع کیا۔ سوم: الٰہی بخش کی نسبت لکھتا ہے کہ وہ عصائے موسیٰ ہونے اور مرزا کو غرق کرنے کا مدعی تھا اور خود نامراد غرق ہو گیا۔

تابع ہیں، نہ کہ وہ اوروں کے ارادہ کا متبوع۔ اگر ایسا ہو تو فساد ہو جائے۔ چنانچہ قرآن مجید فرماتا ہے: ”وما تشآؤن الا ان یشآء اللہ رب العالمین (التکویر:٢٩) الم تعلم ان اللہ علی کل شئ قدیر (البقرہ:١٠٦)“ مگر شیطان قادیانی اور کانا دجال بار بار الہاماً شائع کرتا ہے ”کلّ لک ولا مرک“ (تذکرہ ص ٧٠٦) سب کچھ تیرے واسطے اور تیرے حکم کے واسطے ہے اور جو کچھ زمین و آسمان میں ہے وہ مرزا کے واسطے ہے اور خدا معطل اور معذور ہو چکا۔

ہیں۔ اگرچہ بہت سے قوانین سزا و جزا، قرآن شریف میں مذکور ہیں۔ تاہم کسی انسان کی ظاہری حالت کو دیکھ کر انسان یہ فتویٰ نہیں لگا سکتا کہ فلاں شخص ضرور بہشتی ہے اور فلاں ضرور جہنمی۔ چنانچہ میدان حشر میں خاص آنحضرت محمد مصطفیٰ ﷺ چند اصحاب کو دوزخ کی طرف جاتے ہوئے دیکھ کر عرض کریں گے۔ اصحابی۔ جس پر اللہ کریم فرمائے گا کہ تجھ کو معلوم نہیں کہ تیرے بعد انہوں نے

صفحہ ٤٤٨

کیا کیا۔ طوفان کے وقت حضرت نوح علیہ السلام اپنے بیٹے کی سفارش کرتے ہیں۔ ابراہیم علیہ السلام آذر کی نسبت دعا کرتے ہیں اور آنحضرت ﷺ اپنے چچا سے بڑی محبت کرتے ہیں اور ان کی ہدایت کے طالب ہیں اور خداوند عالم کی طرف سے ان تمام کی خواہشیں رد ہوئی ہیں۔ قرآن مجید میں ہے: ”یغفر لمن یشاء ویعذب من یشاء (آل عمران:١٢٩) ”جس کو چاہے اللہ بخشے اور جس کو چاہے عذاب کرے۔“ من ذاالذي یشفع عنده الا باذنه (البقره:٢٥٥) ”کون ہے جو اس کی جناب میں اس کی اجازت بغیر سفارش کر سکے۔ مگر کانا دجال اپنی نسبت الہام شائع کرتا ہے جس سے تو راضی اس سے خدا راضی۔ جس سے تو ناخوش اس سے خدا ناخوش۔“ رب سلطنی علی النار“

مرزا کے مباہلے

واسطے مسیح علیہ السلام کو خدا اور راہبوں کو رب پکارے جانے کے خلاف تھا۔ کسی ایسے مباہلہ کا پتہ نہیں ملتا جس میں کسی نبی نے موحد اور خدا پرست لوگوں کو محض اپنی کبریائی منوانے کے لئے کیا ہو۔ جیسا کہ مرزا موحد، مومن، خدا پرست، مسلمان، علماء اور فضلاء کو محض اپنی کبریائی منوانے کے واسطے کرتا اور ہمیشہ تمام موحد مسلمانوں پر لعنتیں اور بددعائیں کرتا رہتا ہے اور محض اپنے نہ ماننے کی بناء پر تمام اقوام کی تباہی اور مصیبت کو عید سمجھتا اور تمام خادمان اسلام اور معلمان حدیث وقرآن کی ہلاکت کا ایسا مشتاق رہتا ہے جیسا کوئی روزہ دار عید کے چاند کا۔ اگر مرزا قادیانی کے دل میں قرآن وحدیث کی ذرہ بھر عظمت ہوتی اور اسلام اور توحید سے کچھ بھی محبت ہوتی۔ تمام خدام اسلام اور معلمان قرآن وحدیث کی خاص عظمت کرتا۔ ان کے مخلصانہ اور مؤمنانہ خلاف سے متنبہ ہوتا۔ جو محض قرآن واحادیث کی حمایت کے واسطے تھا۔ نہ اپنی امامت یا نبوت یا خدائی قائم کرنے کے واسطے۔ نہ لنگر، مکانات، منارہ، کتب اور مقبرہ کے نام پر چندہ اور جائیداد وصول کرنے کی غرض سے۔ میرے نیاز مندانہ خطوط جو محض توحید باری تعالیٰ وعظمت قرآن اور اصلاح مسلمانان کے واسطے تھے ارتداد قرار نہ دیتا۔

مرزا قادیانی کی کبریائی

پرستش کرو۔ چنانچہ سورۂ اعراف وہود ومؤمن میں انبیاء علیہم السلام کا یہ قول بار بار مذکور ہے۔ ”یقوم اعبدوالله مالکم من اله غیره “ اور (سورۂ بینہ:٥) میں ہے: ”وما امروا الا

١٧

صفحہ ٤٤٩

لیعبدوالله مخلصین له الدین حنفاء" مسیح علیہ السلام کا قول ہے۔"یا بنی اسرائیل اعبدوالله ربی وربکم" تمام رسولوں کا قول ہے:"اعبدوا الله واجتنبو الطاغوت (النحل:٣٦) وما ارسلنا من قبلك من رسول الا نوحى اليه انه لا اله الا انا فاعبدون (الانبیاء:٢٥) ربنا إننا سمعنا منادياً ينادى للإيمان (آل عمران:١٩٣)" مگر مرزا قادیانی حامیان اسلام اور ذاکرین خدا کو ملعون اور کافر کہتا اور اپنے نفس کو ہی مدار نجات ٹھہراتا ہے۔ تمام دنیا کے سامنے اپنی کبریائی کا ہی جھگڑا ہے نہ کہ پرستش باری تعالیٰ کا۔ مرزا قادیانی کی مجلسوں میں ذکر خدا اور اصلاح نفوس کے بجائے بھکلو شاعروں کے قصائد مرزا قادیانی کی حمد میں پڑھے جاتے ہیں۔ جس میں مرزا قادیانی کو مظہر نور کبریا، سب اولیاء سے افضل ۔ بعض انبیاء سے بڑھ کر کہا جاتا ہے۔ یا نبی اللہ یا رسول اللہ کے نام سے پکارا جاتا اور جھوٹ بکواس مارا جاتا ہے کہ تو نے صلیب کو توڑ دیا۔ شرک و کفر کو مٹا دیا۔ آریاؤں، نیچریوں اور دہریوں کا ناک میں دم کر دیا وغیرہ وغیرہ۔ حالانکہ خود کبھی مشابہ خدا بنتا ہے کبھی بمنزلہ اولاد خدا (تذکرہ طبع سوم ص ٣٩٩) وتوحید خدا (تذکرہ طبع سوم ص ٦٦) کبھی کہتا ہے"كل لك ولا مرك "(تذکرہ طبع سوم ص ٧٠٦) "نسرك سرى" (تذکرہ طبع سوم ص ٩٤) "ظهورك ظهورى "(تذکرہ طبع سوم ص ٧٠٤) بہشت و دوزخ کا مالک ومختار، مظہر خدا، نہ دو چار لاکھ عیسائی مسلمان ہوئے۔ نہ مسلمانوں کا عیسائی بننا بند ہوا۔ نہ ہندوستان سے بت پرستی اور قبر پرستی صاف ہوئی اور بلکہ خود قبر پرستی اور منارہ پرستی کی بنیاد ڈال دی۔ نہ آریاؤں کی ترقی کم ہوئی۔ نہ مسلمانوں کے اندرونی فسادات کم ہوئے۔

مرزا کی پرستش

حمد و ستائش سے بھرا ہوا ہے۔ مگر مرزا قادیانی اپنی پرستش چاہتا ہے۔ دیکھو اس کے منہ پر اس کی حمد ہوتی، حمدیہ قصائد اس کی شان میں سنائے جاتے اور اخباروں میں شائع ہوتے ہیں اور وہ بڑے فخر سے ان کو سنتا ہے۔ شاعری ہوا سے اس کو آسمان پر چڑھایا جاتا ہے۔ شعروں میں اس کو سنایا جاتا ہے کہ تو مظہر نور کبریا ہے۔ تو محمد کا مظہر ہے۔ تو نے صلیب کو توڑ دیا۔ تو نے نیچریوں اور آریاؤں اور برہموں کی گردن توڑ دی۔ تجھ سے شرک اور کفر کافور ہو گئے۔ تجھ سے اسلام تازہ ہو گیا۔ تو نے عیسائیوں کے خدا کو مردہ ثابت کر دیا۔ یہ تمام شاعرانہ گپ ہے اور سفید جھوٹ ہے۔ کیونکہ مرزا قادیانی کے ہاتھ پر نہ تو دو چار لاکھ عیسائی مسلمان ہوئے، نہ مسلمانوں کا عیسائی ہونا بند ہوا۔

١٣

صفحہ ٤٥٠

بلکہ جب سے وہ پیدا ہوا ہے اس وقت سے آج تک لاکھوں مسلمان عیسائی ہوچکے۔ نیچریوں اور آریاؤں کا زور شور دن بدن بڑھتا جا رہا ہے۔ تمام تعلیم یافتہ لوگ بکثرت دہریہ اور لامذہب ہوتے جاتے ہیں۔ قبر پرستی، تعزیہ پرستی، منارہ پرستی مسلمانوں میں اسی طرح زور پر ہے۔ بلکہ مرزا قادیانی نے قبر پرستی اور منارہ پرستی کی تو ایسی مستحکم بنیاد قائم کر دی کہ خدا کی پناہ۔ ہندوستان میں بت خانہ اور شوالے اسی رونق پر ہیں۔ آج تک نہ تو دو چار ہزار مشرک مسلمان ہوئے نہ ہندو، نہ سکھ نہ برہمو نہ آریہ ......مسلمانوں کی تو اس ملعون نے یہ گت بنائی کہ جس قدر ذاکرین، عابدین، ساجدین، حامدین اور علمائے دین ہیں سب پر لعنتیں برساتا اور سب کو گالیاں نکالتا اور تمام مسلمانان عالم کو کافر اور جہنمی قرار دیتا ہے۔ تمام علم حدیث و قرآن اور تمام عبادات و اعمال اور فطرت اللہ کو لعنت قرار دیتا ہے۔ تیس کروڑ مسلمان جو آج تک تیرہ سو سال میں تیار ہوئے تھے وہ سب مرزا قادیانی کے وجود سے کافر ہو گئے۔”یفرحون بما اتوا ويحبون ان يحمدوا بما لم يفعلوا (آل عمران: ١٨٨)“ وہ پیش کرتے ہیں اس پر اتراتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ایسے کاموں پر ان کی حمد ہو۔ جو انہوں نے نہیں کئے۔ حمد کا لفظ قرآن مجید میں غیر اللہ پر سوائے خود پرست اور منافق لوگوں کے نہیں آیا۔ حقیقت میں یہ ایک زبردست پیش گوئی تھی جو مرزا قادیانی کے وجود پر پوری ہوئی۔

کا مشن سوائے خود پرستی اور خودنمائی کے اور کچھ نہیں۔ ہاں خالی گھمنڈ بہت ہے۔ ”الذين يزکون انفسهم (النساء: ٤٩)“ عین ان کے حال کے مطابق ہے۔

فلا خوف عليهم ولاهم يحزنون (البقره: ٣٨)“ گویا کہ نجات ہدایت کی پیروی سے ہوگی۔ مگر مرزا قادیانی کو اصلاح اعمال پر مطلق نظر نہیں تمام زور اپنی کبریائی اور چندہ اور گھرانے پر ہے۔

جاءکم رسول مصدق لما معکم لتؤمنن به ولتنصرنه (آل عمران: ٨١)“ مرزا قادیانی نے بیڑا تو قرآن مجید اور اسلام کی حمایت کا اٹھایا اور بڑے دھڑلے اور زور شور سے براہین احمدیہ کے اشتہار دیئے تھے۔ یہاں تک کہ لاکھوں متفرق اشتہاروں کے علاوہ ٢٨ صفحہ ایک جلد ہی اشتہار میں سیاہ کر دی تھی اور ظاہر کیا تھا کہ یہ تین سو جز کی کتاب ہے اور اس میں تین سو بینظیر دلائل سے اسلام کی فضیلت تمام مذاہب پر ثابت کی گئی ہے۔ مگر جب اس کا تمام روپیہ پیشگی وصول ہوچکا تو ستائس سال میں اس کا نام تک بھی نہ لیا۔

١٤

صفحہ ٤٥١

کرے۔ مگر مرزا قادیانی نے براہین کا روپیہ، سراج منیر کا روپیہ، ڈھائی سو روپیہ ماہوار مفت اشاعت کا روپیہ، منارہ کا روپیہ غبن کیا اور اپنی اور اپنے بیٹوں کی بیویوں کو زیورات سے لاد دیا۔ اپنے بیٹوں کی شادیاں چھوٹی عمر میں ہی کر دیں اور الٹا لوگوں پر لعنتیں برساتا رہا۔

(النساء:٩٤) "جو شخص تم پر سلام کرے اور اس کو یہ مت کہو کہ تو مؤمن نہیں۔ مگر خود مرزا قادیانی، نورالدین، رشیدالدین اور عبدالعزیز کو میں نے خطوں میں السلام علیکم لکھا۔ مگر انہوں نے اس آیت سے صاف ارتداد کیا اور مجھ کو لست مؤمنا ہی کہتے رہے۔

یا اسی کو رد کر دو۔ مگر مرزا قادیانی اور مرزائی اس حکم قرآنی سے صاف مرتد ہیں۔ میرے سلاموں کا جواب مرزا قادیانی، نورالدین، رشید الدین اور عبد العزیز نے بہتر تو کیا اسی قدر بھی نہ دیا۔ حالانکہ خود نورالدین کا قول اخباروں میں شائع ہو چکا تھا کہ سلام تو کافر کے لئے بھی جائز ہے اور قرآنی ارشاد ہے: "ان ہؤلاء قوم لا یؤمنون فاصفح عنہم وقل سلام (الزخرف:٨٨، ٨٩) "یہ لوگ ایمان نہیں لائیں گے پس ان سے درگزر کرو اور سلام کہہ۔

الضرر والمجاهدون فی سبیل الله باموالہم وانفسہم (النساء:٩٥)" جو مؤمن آرام سے بیٹھے رہتے ہیں وہ ان مؤمنوں کے برابر نہیں ہو سکتے جو اپنے مالوں اور جانوں سے خدا کے راستہ میں کوشش کرتے ہیں۔ مرزا قادیانی نے اس آیت سے صریح ارتداد کیا اور لکھا کہ میرا بطور وعظ پھرنا مفت پیر گھسائی ہے۔ کیونکہ حدیث میں ہے کہ عیسیٰ کے دم سے کافر مریں گے۔ مگر کیا حدیث کا یہ مطلب بھی ہے کہ وہ ہاتھ پاؤں اور قلم سے مطلق کام نہ لے گا۔ پھر گھر بیٹھے ستر ہزار روپیہ ماہوار کیوں اڑائے جاتے ہیں اور نذرانے وصول کرنے کی غرض سے لوگوں کو کیوں بلایا جاتا ہے؟

تقولون ما لا تفعلون ، کبر مقتا عند الله ان تقولوا مالا تفعلون (الصف:٢، ٣)" مگر مرزا اور مرزائیوں میں خالی باتوں اور خیالی بحثوں کے سواے کچھ بھی نہیں۔ دوسروں کو تو مرزا قادیانی کہتا ہے کہ صحابہ نے تمام جان و مال دین کے راستہ میں قربان کر دیا تھا۔ تم

١٥

صفحہ ٤٥٢

بھی کرو۔ مگر خود چندوں اور نذرانوں کے روپیہ سے عیش و تنعم میں زندگی بسر کرتا اور مفرحات ومقویات کھاتا رہتا ہے۔ اپنی اور اپنے بیٹوں کی بیویوں کو زیورات سے لاد دیا اور سسروں اور سالوں اور اولاد کو موٹا بنا رہا ہے۔ خود نہ کبھی اسلامی انجمنوں اور مدرسوں کی امداد کی۔ نہ تعلیم اسلام سکول قادیان سے ہی اس کو دلچسپی ہے کہ دو چار بار مہینہ میں ملاحظہ کر لیا کرے اور استادوں اور لڑکوں کو دینیات کی طرف رغبت و تحریص دے آیا کرے۔ ریویو آف ریلیجنز اور الحکم والبدر سے اتنی بھی دلچسپی نہیں کہ قبل از اشاعت ان کا ملاحظہ تو کر لیا کرے۔ تا کہ یہ اخبار شستہ اور سنجیدہ ہو جائیں اور خیالی گپ شپ اور واہیات ڈھکونسلوں سے صاف رہیں۔ بلکہ تحریراً ان اخبارات سے اپنی علیحدگی شائع کر چکا ہے۔ مولوی نورالدین صاحب کے درس قرآنی سے بھی اس کو کوئی خاص دلچسپی نہیں۔ بلکہ دن رات منی آرڈروں کی وصولیت اور چندوں کی ترقی کے سوائے اس کا کوئی مشغلہ نہیں۔ ایک یتیم کے واسطے اسی (٨٠) روپیہ سالانہ کے لئے الحکم والبدر میں اشتہار نکل رہے ہیں۔

ترک دنیا بدیگر آموزند
خویشتن سیم و غلہ اندوزند

اور تو اور اپنی اولاد کی تعلیم و تربیت کی طرف بھی مطلق توجہ نہیں۔ آج محمود کی نسبت کچھ راز معلوم ہوتے ہیں۔ کل بشیر کی نسبت یا شریف کی نسبت۔

قادیانی مشرک جماعت

قرآن مجید سے ثابت ہے۔ رسول امین، صدیق نبی، صادق الوعد کے جملہ انبیاء علیہم السلام کی نسبت قرآن مجید میں بکثرت آئے ہیں۔ حدیث صحیح میں ہے کہ مؤمن میں اور تمام خصلتیں ہو سکتی ہیں۔ مگر جھوٹ نہیں ہو سکتا۔ مگر مرزا قادیانی اور مرزائیوں میں کذب، بدعہدی اور بددیانتی ایک سنت مستمرہ ہے۔ مرزا قادیانی کے کذب، بدعہدیوں اور بددیانتیوں کا بیان نمونجاً ”المسیح الدجال“ میں ہو چکا ہے۔ محمد علی، یعقوب علی اور محمد صادق کے جھوٹ، امیر حبیب اللہ خاں کی سیاحت ہند کے وقت خوب ظاہر ہوئے۔ یہ بار بار لکھتے رہے کہ امیر صاحب مرحوم نے ملاں عبدالطیف کو محض اس بات پر قتل کرا دیا تھا کہ وہ گورنمنٹ ہند کا خیر خواہ اور جہاد کا مخالف تھا۔ یہ کیسا سفید جھوٹ ہے۔ گورنمنٹ برطانیہ کے خیر خواہ علی گڑھ کالج اور انجمن حمایت اسلام بھی تو ہیں۔ مگر ان کو ہز ہائنس امیر صاحب نے بیس بیس ہزار روپیہ نقد اور چھ سو روپیہ سالانہ برائے دوام عطا فرمایا۔ جہاد کے مخالف بولنا قرآن اور احادیث پر ایک ظالمانہ حملہ ہے۔ کیونکہ جو جہاد اسلام نے جائز قرار دیا ہے

١٦

صفحہ ٤٥٣

وہ کسی مذہب اور کسی قانون کی رو سے ناجائز ہو ہی نہیں سکتا۔ تمام اسلامی جہاد دشمنوں کو حملوں سے روکنے اور آزادی قائم کرنے کے واسطے تھے۔ مرزا قادیانی نے تو مجھے ملحد محض اس قدر لکھنے پر کہ خدا کو ماننے اور اچھے عمل کرنے سے ہر قوم اور ہر ملت کا انسان نجات پاسکتا ہے۔ مرتد اور واجب القتل قرار دیا اور جب میرے سوالوں کا کوئی جواب معقول نہ دے سکا تو فوراً گالیوں اور بددعاؤں پر اتر آیا اور کھینچی ہوئی تلوار کی دھمکی دی۔ بلکہ وہ ساری دنیا کو بمعہ گورنمنٹ اسی طرح دھمکاتا ہے۔ چنانچہ وہ الہاماً شائع کرتا ہے۔ ”كل هالك الا من قعد في سفينتي“ (تذکرہ طبع سوم ص ٧١٣) سب ہلاک ہونے والے ہیں۔ سوائے اس شخص کے جو میری کشتی میں بیٹھا۔ ”ما ارسل من نبی الا اخزى به الله قوما لا يؤمنون“ (تذکرہ طبع سوم ص ٦٤١) اللہ نے کوئی نبی نہیں بھیجا مگر اس نے اس کے ذریعہ سے اس قوم کو رسوا کیا جو اس کو نہیں مانتی تھی۔ خود تمام دنیا کے خون کے پیاسے اور پھر کہتے ہیں کہ ہم جہاد کے مخالف ہیں۔ ریویو آف ریلیجنز نے ایک سفید جھوٹ رسالہ دسمبر ١٩٠٦ء میں میری نسبت شائع کیا کہ ”ایک چھوٹا نبی پٹیالہ میں ظاہر ہوا ہے۔ جس کا نام عبدالحکیم خاں ہے۔“ محمد افضل صاحب منیجر البدر مجھ سے پانچ روپیہ سالانہ البدر کی بابت بذریعہ وی پی پارسل وصول کر کے دو روپے آٹھ آنے سالانہ درج کرتا رہا اور باقی خود غبن کرتا رہا۔ اس پر محمد صادق نے میرے خلاف ایک اناپ شناپ گالیوں کا طومار اپنے اخبار میں شائع کر دیا۔ جب پوسٹ ماسٹر جنرل صاحب پٹیالہ سے تصدیق میں نے چاہی تو جواب ندارد۔

مرزا کی انا پرستی

على النبى يا ايها الذين امنوا صلوا عليه وسلموا تسليما (الاحزاب: ٥٦)“ پھر دفع شرک کے لئے درود کو غیر نبیوں کے واسطے بھی جائز فرما دیا ہے۔ جیسا کہ آیت ذیل میں ہے: ”هو الذى يصلى عليكم وملئكته ليخرجكم من الظلمات الى النور (الاحزاب: ٤٣)“ حمد کو قرآن مجید نے اللہ تعالیٰ کے واسطے مخصوص فرمایا ہے۔ چنانچہ قرآن مجید ”الحمدلله“ سے شروع ہوتا ہے۔ آنحضرت ﷺ کو حکم ہے: ”فسبح بحمد ربك (النصر: ٣)“ عربی اور فارسی اور اردو وغیرہ۔ اسلامی زبانوں میں بھی حمد کا لفظ مخصوص بذات باری تعالیٰ ہو گیا ہے۔ چنانچہ محمد و احمد دونوں کلمے حمد الٰہی کے واسطے آتے ہیں۔ محض صیغہ مفعول مثلاً مقام محمود اور صفات حمیدہ اور اسم محمد، یہ لفظ غیر اللہ کے واسطے آیا ہے۔ مگر مرزا قادیانی کو تمام قرآن اور اجماع اسلام کے خلاف الہام ہوتا ہے۔ ”یحمدک الله من العرش“ (تذکرہ

١٧

صفحہ ٤٥٤

ص ٤٧) پھر طرفہ یہ کہ اس کی مجلسوں میں اب اغلب ذکر سوائے حمد وستائش مرزا کے اور کچھ نہیں ہوا۔ نہ ان کو اس بات کا درد ہے کہ نکبت وافلاس کی وجہ سے امت محمدیہ تباہ ہوگئی۔ اکثر لامذہب اور دہریہ ہوگئے۔مختلف فرقہ ایک دوسرے کے سخت مکفر اور مکذب ہیں۔ اکثر نیچری اور فیشن پرست لاکھوں عیسائی ہوتے جاتے ہیں۔قبر پرستی، توہم پرستی، منارہ پرستی، رسم پرستی، تعزیہ پرستی اور ہزارہا قسم کا شرک بڑے زور پر ہے۔ اسلام پر بیرونی حملہ بے حد اور عجیب عجیب رنگوں میں ہو رہے ہیں۔مگر وہ دن رات اسی نشہ میں غرق ہیں کہ چندے اور نذرانے خوب وصول ہوتے ہیں اور مریدوں کی تعداد بڑھتی جاتی اور طاعون دنیا کو ہلاک کررہا ہے۔

مرزا اور شیطان

اور مرزائیوں کے مذاق کو ایسا بگاڑ دیا ہے کہ بت پرستوں، گنگا پرستوں، کرک چھتر پرستوں اور دیوی پرستوں کی طرح وہ اپنے بت کا ذکر تو دن رات گرما گرم رکھتے ہیں۔ مگر خدا کے ذکر سے ایسا بھاگتے ہیں جیسا کہ ”لاحول“ سے شیطان۔ ”اذا ذكر الله وحده اشمأزت قلوب الذین لایؤمنون بالآخرة واذا ذكر الذین من دونه اذاهم يستبشرون (الزمر:٤٥)“ ”جب اکیلے خدا کا ذکر کیا جائے تب ان لوگوں کے دل جو آخرت کو نہیں مانتے گھبرا جاتے ہیں اور جونہی غیر خدا کا ذکر شروع ہو وہ ہشاش بشاش ہو جاتے ہیں۔ یہی وجہ میری علیحدگی کی ہوئی۔ جب میں نے شروع میں مرزائیوں کا بگڑا ہوا مذاق دیکھا اور توحید وتمجید باری تعالیٰ پر لیکچر دینے شروع کئے تو وہ بگڑے اور گھبرائے اور آخر کار فضل ایزدی سے مجھے اس مشرک جماعت سے نجات ملی۔

مخلوقات عالم میں غور کرنے کے واسطے ارشاد فرماتا اور علوم کا نام خیر کثیر رکھتا ہے۔ احادیث صحیحہ میں ہے کہ عالم کو عابد پر اس قدر فضیلت ہے۔ جیسا کہ آنحضرت ﷺ کو ادنیٰ امتی پر۔ مگر مرزا قادیانی کو مسلمانوں کے کسی سکول اور کالج سے مطلق ہمدردی نہیں۔ خاص اپنے بیٹوں کی تعلیم کا بھی مطلق خیال نہیں۔ دن رات چندوں اور نذرانوں کی وصولیت اور مریدوں کی تعداد بڑھانے کی فکر میں مستغرق رہنا اور تمام علمائے دین اور معلمان قرآن وحدیث پر لعنتیں برسانا اور گالیاں نکالنا رہتا ہے۔

١٨

(الاعراف:١٨٨) ”مجھ کو ا لا املك لكم ضراً ولا ہے نہ ہدایت کا۔ مگر مرزا قادیا ص ٧٠٦) سب کچھ تیرے وال

تخلف منّا وابى“ ( خلاف کیا اور انکار کیا۔ انجام اس شخص پر کہ اس رسالہ کے ک آتھم ص ٢٧، خزائن ج ١١ ص ٢٧ محض اس بناء پر قتل ہوا کہ وہ گو

مانتے اور قرآن وحدیث پر ع الحميد (البروج:٨) ذاکرین، خدا اور تمام لوگوں ا

قادیانی طاغوت

واجتنبوا الطاغوت ( اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت (التغابن:١١) ”اور جو باللہ کو لغو سمجھتے۔ مرزا قادیانی میں ہیں۔ مرزا قادیانی سے ”كل لك ولامرك“ س ١٩٠٧ء) ”سرك سرى“ ”انت منى بمنزلة او وتفريدي“ (تذکرہ طبع س لما خلقت الا فلاك“

صفحہ ٤٥٥

(الاعراف:١٨٨) ”مجھ کو اپنے نفس کے نفع اور نقصان کا اختیار نہیں ہے۔ مگر جو اللہ چاہے۔“ انی لا املك لكم ضراً ولا رشداً (الجن:٢١) ”مجھ کو تمہارے واسطے کسی نقصان کا اختیار نہیں ہے نہ ہدایت کا۔ مگر مرزا قادیانی کو الہام ہوتے ہیں۔ ”كل لك ولامرك“ (تذکرہ طبع سوم ص٧٠٦) سب کچھ تیرے واسطے اور تیرے حکم کے واسطے ہے۔

٣١........ تمام مسلمانوں اور تمام دنیا کی نسبت مرزا قادیانی کہتا ہے: ”لعنة الله على من تخلف منا وابى“ (مجموعہ اشتہارات ج٣ ص٣٣١) خدا کی لعنت اس شخص پر جس نے ہم سے خلاف کیا اور انکار کیا۔ انجام آتھم میں شائع کیا۔ ”گواہ رہ اے زمین اور اے آسمان کہ خدا کی لعنت اس شخص پر کہ اس رسالہ کے پہنچنے کے بعد نہ مباہلہ میں حاضر ہو اور نہ تکفیر و توہین کو چھوڑے۔“ (انجام آتھم ص٢٧، خزائن ج١١ ص٢٧) پھر کہتا ہے کہ میں گورنمنٹ برطانیہ کا خیر خواہ ہوں اور ملاں عبد اللطیف محض اس بناء پر قتل ہوا کہ وہ گورنمنٹ برطانیہ کا خیر خواہ اور جہاد کے مخالف تھا۔

٣٢........ تمام مسلمانوں کے خون کا پیاسا محض اس بناء پر ہے کہ وہ خدا کو اور اس کے رسولوں کو مانتے اور قرآن وحدیث پر عامل ہیں۔ ”وما نقموا منهم الا ان يؤمنوا بالله العزيز الحميد (البروج:٨)“ انجام آتھم کو دیکھو کہ کس شدت اور بے باکی کے ساتھ علمائے دین، اکابرین، خدا اور تمام لوگوں اور قوموں پر لعنتیں برسائیں، بد دعائیں کیں اور گالیاں نکالی ہیں۔

قادیانی طاغوت

٣٣........ قرآن مجید میں ارشاد ہے۔ ”ولقد بعثنا فى كل امة رسولا ان اعبدوالله واجتنبوا الطاغوت (النحل:٣٦)“ ”تحقیق ہم نے ہر امت میں رسول یہ حکم دے کر بھیجے کہ اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت سے پرہیز کرو۔“ ومن يؤمن بالله يهدى قلبه (التغابن:١١) ”اور جو اللہ کو مانے وہ اس کے قلب کو ہدایت کرتا ہے۔ مگر مرزائی ہیں جو ایمان باللہ کو لغو سمجھتے۔ مرزا قادیانی کو مدار نجات قرار دیتے اور خدا کی عبادت چھوڑ کر دن رات مرزا پرستی میں ہیں۔ مرزا قادیانی سے زیادہ اور کون سا طاغوت ہو سکتا ہے جو اپنی نسبت الہام شائع کرتا ہے۔ ”كل لك ولامرك“ سب کچھ تیرے واسطے اور تیرے حکم کے واسطے ہے۔ (البدر مورخہ ٢١؍مارچ ١٩٠٧ء) ”سرك سرى“ (تذکرہ طبع سوم ص٩٤) ”ظهورك ظهورى“ (تذکرہ طبع سوم ص٧٠٤) ”انت منى بمنزلة اولادى“ (تذکرہ طبع سوم ص٣٩٩) ”انت منى بمنزلة توحيدى وتفريدى“ (تذکرہ طبع سوم ص٦٦) ”انت منى وانا منك“ (تذکرہ طبع سوم ص٤٢٢) ”لولاك لما خلقت الافلاك“ (تذکرہ طبع سوم ص٦١٢) جس سے تو راضی اس سے میں راضی۔ جس سے تو

١٩

صفحہ ٤٥٦

ناخوش ان سے میں ناخوش ۔ گویا کہ اللہ آسمان سے اتر آیا۔ بہشتی مقبرہ ہے (جو اس میں مدفون ہوگا وہ بہشتی ہو جائے گا) ”ارید ما تریدون“ (تذکرہ طبع سوم ص ٥٥٠) میں تیرے لئے برساؤں گا اور زمین سے نکالوں گا۔ پر جو تیرے مخالف ہیں پکڑے جائیں گے۔ کیا یہ مشرکانہ اور ظالمانہ کلمات عیسائیوں کے کلمات سے کسی طرح کم ہیں۔ کیا ان میں صاف خدائی یا دہریت یا ہمہ اوست کا دعویٰ نہیں ہے؟ ٢١ مئی ١٩٠٧ء کو خواب میں میں نے مولوی نور الدین کو یہ آیت سنائی: ”الذین آمنوا یقاتلون فی سبیل اللہ والذین کفروا یقاتلون فی سبیل الطاغوت (النساء:٧٦)“ جو مومن ہیں وہ راہ خدا میں جنگ کرتے ہیں اور جو کافر ہیں وہ راہ طاغوت میں لڑتے ہیں۔ اور مرزا قادیانی کا طاغوت ہونا ظاہر کرتا رہا۔ یہ چند مثالیں محض نمونہ کے طور پر ہیں۔ حقیقتاً مرزا قادیانی اور مرزائی قرآن اور اسلام سے سخت مرتد، سنن انبیاء کے مخالف ہیں۔ قرآن وحدیث اور اسلام کو اپنی مطلب برآری کے واسطے محض ایک جال بنا رکھا ہے۔ کیونکہ اگر ایسا نہ کریں تو مسلمان کس طرح ان کے دام میں گرفتار ہوں؟ اسی واسطے مرزا قادیانی کا نام ”المسیح الدجال“ ہے۔ یعنی جس قدر مسیحیت کی باتیں وہ ظاہر کرتا ہے۔ مثلاً نمازوں کی پابندی، دعا، تقویٰ، راست بازی، ایثار، نفس کشی، صبر اور تحمل کی تعلیم، مصیبت کے وقت بہت دعائیں مانگنا اور خدا کے آگے عاجز ہونا وغیرہ۔ یہ تمام ایک جال ہے۔ جس میں مسلمان پھنس کر قرآن اور اسلام سے مرتد ہوتے جاتے ہیں۔ اگر وہ ظاہری اسلام کی حمایت نہ کرتا اور نہ تقویٰ و دعا کی تعلیم دیتا تو جیسے ہندوؤں نے اس کا کرشن ہونا تسلیم نہیں کیا۔ اسی طرح کوئی مسلمان بھی اس کو تسلیم نہ کرتا۔ پس واقعی مرزا المسیح الدجال ہے۔ یعنی یہ ایک ایسا مرکب ہے جس میں مسیحیت اور دجالیت ملے ہوئے ہیں۔ پس جو کچھ وہ توحید و تمجید باری تعالیٰ، تقدیس انبیاء، تعلیم دعا وتقویٰ کے متعلق لکھتا ہے وہ مسیحیت ہے۔ مگر چونکہ یہ سب مسلمانوں کے پھنسانے کے واسطے ہوتا ہے نہ کہ خلوص اور سچائی کے ساتھ۔ اس لئے یہ ایک دجال ہے۔ کیونکہ اس کے ساتھ قرآن واحادیث اور اسلام سے صریح ارتداد، علمائے دین اور ذاکرین خدا کی تکفیر اور تحقیر، نفس پرستی، خودستائی، دعویٰ الوہیت، نبوت، ورسالت شامل ہیں۔ بعض پیش گوئیوں کا پورا ہونا اس کی مسیحیت کا نتیجہ ہے اور اکثر کا جھوٹے ثابت ہونا اس کی دجالیت کا نتیجہ ہے۔

مرزا مسلمانوں کا جانی دشمن

حال میں جو اس نے ایک اعلان مئی ١٩٠٧ء کے اخبارات الحکم، البدر، ریویو وغیرہ میں شائع کیا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ تمام مسلمانوں کا جانی دشمن ہے اور اگر روئے زمین کے

٢٠

صفحہ ٤٥٧

تمام مسلمان توپ اور بندوق سے اڑا دیئے جائیں تو وہ ٹھنڈا ہو جائے۔ حالانکہ جو احمقانہ شورش اس وقت پنجاب اور بنگال میں ہو رہی ہے وہ محض ہندؤوں کی طرف سے ہے۔ مسلمانوں کی شرکت کسی کسی جگہ محض استثنائے شاذہ کے طور پر ہے۔ مگر وہ (مرزا) اپنی جماعت کے سوائے مسلمانوں کو اس میں شریک قرار دیتا اور جلتی آگ پر یہ تیل ڈالتا ہے کہ خونی مہدی کے انتظار نے تمام مسلمانوں کے دل سیاہ کر دیئے اور ان کے اندر بغاوت کا مادہ رکھ دیا ہے جو کبھی بھڑک اٹھے گا۔ یہ ایک ایسا ظالمانہ اتہام ہے جس کا جواب رب الافلاک کی طرف سے اس کو ملے گا اور ضرور ملے گا۔ کیا مسلمان اس حکم قرآنی سے ناواقف ہیں کہ شاہ وقت کی اطاعت کرو۔ کیا وہ یوسف علیہ السلام کے حالات سے ناواقف ہیں۔ جنہوں نے مشرک مالک کی اطاعت کا کامل نمونہ دکھایا۔ کیا قرآن وحدیث میں اعلیٰ درجہ کی اخلاقی تعلیم نہیں ہے۔ کیا تیرا یہ دعویٰ کہ ہماری تعلیم یہ ہے کہ زمینوں پر رحم کرو تاکہ خدا تم پر رحم کرے۔ ایک حدیث کا ترجمہ نہیں ہے۔ کیا تو تمام اسلامی اخباروں میں تمام مسلمانوں کی وفاداری اور اطاعت کے مضامین نہیں دیکھتا؟ جس وقت سے ہم کو یہ الہامات ہوئے ہیں۔ ’’اے خدا ان ظالموں کو غارت کر۔ اے خدا ان بدمعاشوں کو غارت کر۔‘‘ اس وقت سے ان کی عجیب عجیب بدمعاشیاں اور ظالمانہ حرکات ظاہر ہوتی جاتی ہیں۔ اے ظالم اگر تجھ کو گورنمنٹ برطانیہ سے دلی ہمدردی ہے تو پھر تیرے کلمات ذیل کے کیا معنی ہیں۔ ’’دنیا کی تباہی اور ہمارے لئے عید کا دن۔ اللہ کی لعنت اس شخص پر جو ہم سے خلاف کرے یا انکار کرے۔ ہر نبی کے آنے سے وہ قوم ذلیل ہو جاتی ہے جو اس کو نہیں مانتی۔‘‘ دنیا تباہ اور ہلاک ہوئی۔ مگر ہماری خوشی اور فتح حمامۃ البشریٰ میں طاعون پھیلنے کی دعا کی تھی۔ کشفی حالت میں دو فرشتوں سے ایک لاکھ فوج کی ضرورت ظاہر کی، جواب ملا۔ پانچ ہزار سپاہی دیا جائے گا۔ پھر دل میں کہا کہ اگر خدا چاہے تو تھوڑے بہتوں پر فتح پاسکتے ہیں۔ کم من فئة قليلة غلبت فئة كثيرة باذن الله (ازالہ اوہام حاشیہ ص٩٧، ٩٨، خزائن ج٣ ص ١٤٩) تمام حقوق پر خدا تعالیٰ کا حق غالب ہے اور ہر ایک جسم اور روح اور جان اسی کی ملک ہے۔ پھر جب انسان نافرمان ہو جاتا ہے تو اس کی ملک اصل مالک کی طرف عود کرتی ہے۔ پھر اس مالک حقیقی کو اختیار ہوتا ہے کہ چاہے تو بلاواسطہ رُسل نافرمانوں کے مالوں کو تلف کرے اور ان کی جانوں کو معرض عدم میں پہنچا دے اور کسی رسول کے واسطے سے یہ تجلی قہری نازل فرمادے۔ بات ایک ہی ہے۔ (آئینہ کمالات اسلام ص٦٠١، خزائن ج٥ ص ٦٠١) کیا یہ الہامی خوبی زیادہ خطرناک ہے جس نے دعاؤں سے پچاس لاکھ انسانوں کو گھر بیٹھے بٹھائے ہلاک کر دیا اور تمام غیر مؤمن قوموں کے مال وجائیداد کی ملکیت کا دم مار رہے ہیں۔ یا وہ خیالی مہدی

٢١

صفحہ ٤٥٨

زیادہ نہ خطرناک ہوگا جو کسی فرقہ کے خیال میں میدان میں نکل کر بالمقابل جنگ کرے گا۔

خود پرستی کا پتلا

”قل ان كان للرحمن ولد فانا اول العابدين . سبحان رب السموات والارض رب العرش عما يصفون (الزخرف: ٨١، ٨٢) “ اے کذاب! اگر تجھے اسلام سے ہمدردی ہے۔ مکہ اور مدینہ اور روم اور ایران اور افغانستان کو کیوں ہر موقعہ پر کوستا ہے؟ کیا تیرا یہی منشاء ہے کہ اسلام کے چند کھنڈرات جو روئے زمین پر رہ گئے ہیں وہ بالکل صاف ہو جائیں۔ تا کہ تیرے قبرستان اور منارہ کی خوب پرستش ہو۔ تیری الوہیت، ولدیت اور والدیت کے خلاف کوئی قوم تقدیس و تحمید و توحید و تمجید باری تعالیٰ کا نام لینے والی نہ رہے۔ اصل تو یہ ہے کہ تجھے نہ گورنمنٹ برطانیہ سے ہمدردی ہے نہ عیسائیوں سے نہ مسلمانوں سے۔ بلکہ تو تو سراسر خود غرضی اور خود پرستی کا پتلہ ہے۔ تجھے تو اپنے مریدوں اور چندوں کی کثرت چاہئے۔ خواہ عیسائیوں کی ہلاکت سے یہ مراد ملے یا مسلمانوں کی ہلاکت سے یا کل دنیا کی تباہی سے یا انگریزوں کی تباہی یا عروج سے یا روس کی تباہی اور عروج سے۔ چنانچہ گورنمنٹ برطانیہ کی حمایت میں تیرے یہی الفاظ ہیں کہ ان کے زیر سایہ ہم ایسی ترقی کر رہے ہیں۔ جو نہ مکہ میں ہو سکتا ہے نہ مدینہ میں، نہ روم میں نہ ایران میں۔ نہ افغانستان میں۔ پس یہ تو خود غرضی کی ہمدردی ہوئی نہ کہ حق اور انصاف کی۔

باب دوم

مرزائے قادیانی نبوت و رسالت کا مدعی ہے اور ہر ایسے شخص کو جو اسے نہ مانے ملعون،

کافر اور جہنمی اور خدا کا مغضوب قرار دیتا ہے۔

دے کہ اگر اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو۔ اللہ تم سے محبت کرے گا۔ مرزا قادیانی کا اپنی نسبت الہام دیکھو (براہین احمدیہ ص ٢٣٩، خزائن ج ١ص٢٦٣ حاشیہ) پر یہ آیت ہے۔ ”یایها الذين أمنوا من يرتد منكم عن دينه فسوف ياتى الله بقوم يحبهم ويحبونه . اذلة على المؤمنين اعزة على الكافرين“

(براہین احمدیہ ص ٥٠٤، خزائن ج ١ص٦٠٠)

نور تمہارے پاس پہنچ چکا ہے۔ پس کفر مت کرو۔ اگر تم مؤمن ہو۔“ مرزا کا اپنی نسبت الہام۔

(براہین احمدیہ حصہ چہارم ص ٥٦١، خزائن ج ١ص٦٧٠ حاشیہ)

٢٢

صفحہ ٤٥٩

(توضیح المرام ص ١٨، خزائن ج ٣ ص ٦٠)

(انجام آتھم ص ٦٢، خزائن ج ١١ ص ٦٢)

کے رہنے والے ہوں۔ خواہ ایشیاء کے، خواہ امریکہ کے۔"

(مرزا کی تحریر اپنی جماعت کے لئے ص ٤ مطبوعہ ١٨٩٩ء)

وہ خدا اور رسول کی نافرمانی کرنے والا اور جہنمی ہے۔"

(تذکرہ طبع سوم ص ٣٤٦)

اور مکذب یا متردد کے پیچھے نماز پڑھو۔"

(اربعین نمبر ٣ حاشیہ ص ٢٨، خزائن ج ١٧ ص ٤١٧)

کے بارے میں قبول نہ ہوں گی۔ کیونکہ تمہارے مناسب حال اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں حکم دیا ہے : ما دعاؤ الكافرين الا في ضلال"

(دفع البلاء ص ١١، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٦)

خلاف کیا یا انکار کیا۔" بنام پیر مہر علی شاہ۔ (مورخہ ٢٠/جولائی ١٩٠٠ء، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٣٤١)

دے رہا ہے۔ پس سوچو اور ایمان لاؤ تاکہ نجات پاؤ۔" مرزا کا اشتہار النداء من وحی السماء

(مورخہ ٢١/اپریل ١٩٠٥ء)

عبدالکریم کے مقبرہ پر مرزا کا کتبہ جو مرزا قادیانی نے لکھوایا۔

(مرزا قادیانی کو نہ مانے گی) مرزا قادیانی کا الہام۔

(مشتہرہ البدر مورخہ ١٩/جنوری ١٩٠٦ء، تذکرہ طبع سوم ص ٥٩٠)

٢٤٣

صفحہ ٤٦٠

اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا۔ وہ مسلمان نہیں ہے اور خدا کے نزدیک قابل مواخذہ ہے۔“ دیکھو

(تذکرہ طبع سوم ص ٧٠٧، مرزا قادیانی کا خط مندرجہ الحکم نمبر ١٤ ص ١٣)

کسے آرد شکے درشان او آں کافر است۔ جائے او باشد جہنم بیشک و ریب و گمان“۔

(نورالدین کا خط مندرجہ الحکم مورخہ ١٧ اگست ١٨٩٩ء)

رحمت اور برکت ہے۔ ہاں جو اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے کو نہ مانے گا۔ وہ جہنم میں اوندھا گرے گا۔“

(الحکم مورخہ ٢٤ اکتوبر ١٨٩٩ء)

(الحکم مورخہ ٢٤ اکتوبر ١٨٩٩ء)

(الحکم مورخہ ٣ مارچ ١٩٠٠ء)

اس قسم کے اور صدہا مقامات ہیں جن میں مرزا اور مرزائیوں نے یہ ظاہر کیا ہے کہ جو کوئی مرزا کو نہیں مانتا وہ کافر، ملعون، جہنمی اور مغضوب علیہ ہے۔ خواہ وہ مسلمان ہو یا عیسائی یا سکھ ، یا آریا یا انگریز ہو یا روسی یا جاپانی یا چینی وہ تمام ذلیل اور ہلاک ہوں گے۔ ان تمام کی جڑ کٹ جائے گی۔ ان صاف اور صریح الفاظ پر نظر ڈالنے سے صاف ظاہر ہے کہ بعض بعض مقامات پر جو مرزا یا مرزائی ظلی و بروزی کا لفظ استعمال کرتے ہیں وہ محض دفع الوقتی یا تقیہ کے طور پر ہوتے ہیں اور رفتہ رفتہ منسوخ الفاظ قرار دے لئے جائیں گے۔ بلکہ ”اللہ یحمدك من العرش“ (تذکرہ طبع سوم ص ٣٩٩) ”انت منی وانا منك “ (تذکرہ طبع سوم ص ٤٢٢) ”ظهورك ظهورى“ (تذکرہ طبع سوم ص ٧٠٤) ”انت منى بمنزلة اولادى“ (تذکرہ طبع سوم ص ٣٩٩) ”انت منى بمنزلة توحیدی وتفریدی“ (تذکرہ طبع سوم ص ٧٦) ”لولاك لما خلقت الافلاك“ (تذکرہ طبع سوم ص ٦١٢) وغیرہ الہامات اس امر کی دلیل ٹھہرائے جائیں گے کہ مرزا خدا اور خدا کا فرزند اور افضل الانبیاء ہے۔ حوالہ جات بالا سے یہ بھی صاف ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی اپنے منکروں کو ہی کافر نہیں

٢٤

صفحہ ٤٦١

کہتا بلکہ ان کو بھی جو اس کو نہیں مانتے۔ کافر اور جہنمی قرار دیتا ہے۔ بعض اوقات مرزا قادیانی یا مرزائیوں کا یہ کہہ دینا کہ ہم محض ان لوگوں کو کافر کہتے ہیں۔ جنہوں نے پہلے ہمیں کافر کہا۔ سفید جھوٹ اور کافی بات ہے۔ مگر واہ رے دجال با وجود اس قدر تحریرات کے پھر ایک چٹھی میں جو ڈاکٹر محمد حسین کے نام لکھی اور البدر میں شائع ہوئی۔ لکھتا ہے کہ ہماری کوئی تحریر دکھلاؤ جس میں ہم نے سوائے اپنے مکفرین کے دوسروں کو کافر کہا ہو اور پھر بے حیائی اور چالاکی کے طور پر لکھتا ہے کہ مسلمان ہم کو کافر نہ کہیں۔ ہم انہیں کافر نہ کہیں گے۔ آپ توہین رب العالمین تحقیر انبیاء اور تذلیل اسلام چھوڑ دیں تو آپ کو دوسرے مسلمان کافر نہ کہیں گے۔

باب سوم

مرزا قادیانی تمام عالم کے خون کا پیاسا اور ہر قوم کی تباہی کا طالب و منتظر ہے۔ عالم کی تباہی اس کی فتح اور دنیا کی مصیبت اس کی خوشی ہے۔ چنانچہ ان تمام افراد اور اقوام کی نسبت جو اس کو نہ مانیں مرزا قادیانی اور مرزائیوں کے چند کلمات حسب ذیل ہیں:

١٩٠٦ء) دیکھو دنیا کی تباہی میں مرزا قادیانی اور مرزائیوں کی عید ہے۔

کوئی نبی نہیں بھیجا گیا۔ مگر اللہ اس سے اس قوم کو جو ایمان نہیں لاتی ذلیل کرتا ہے۔ مرزا قادیانی کا الہام آج تک نہ عیسائی ذلیل ہوئے نہ آریہ، نہ سکھ، نہ ہندو، نہ انگریز، نہ روس۔ حالانکہ وہ ایمان نہیں لائے۔ مگر دعویٰ یہ ہے کہ مرزا قادیانی کے وجود سے خدا کا جلال دنیا پر ظاہر ہوا۔

ڈائنڈ ٹو گرلز، پھر ان ناموں کی تفسیر کی۔ بشیر الدولہ اس واسطے نام ہے کہ وہ ہماری دولت و اقبال کی بشارت ہے اور عظیم الشان فتح ہوگی۔ عالم کباب اس واسطے نام ہے کہ اس کے پیدا ہونے کے بعد دنیا پر ایک سخت تباہی آئے گی۔ گویا دنیا کا خاتمہ ہو جائے گا۔ شادی خان اس واسطے کہ وہ اس جماعت کے لئے شادی کا موجب ہوگا۔ ایک کلمہ اور دو لڑکیاں۔ اس سے یہ مراد ہے کہ منظور محمد کے دولڑکیاں موجود ہیں اور اب وہ کلمہ پیدا ہوگا۔ (حقیقت الوحی ص ١٠٠، ١٠١) ساتھ ہی اس الہام کو اپنے الفاظ میں گول مول کر دیا کہ اگر خدا کو کچھ مہلت دینی منظور ہے تو ابھی وہ لڑکا پیدا نہ ہوگا جب اس الہام کے بعد تیسری لڑکی پیدا ہوئی اور ایک کلمہ اور دولڑکیوں والا الہام نشانہ تضحیک و تکذیب بنا

٢٥

صفحہ ٤٦٢

تو جھوٹ بول اٹھے کہ یہ پیش گوئی تھی۔ وہ کلمہ پھر پیدا ہوگا تو کیا وہ پہلی لڑکیاں منظور محمد کی لڑکیوں میں بھی شمار نہ ہوں گی۔ اس پر طرفہ یہ ہے کہ ایسی گول مول اور لنگڑی پیش گوئیوں کو جن کے مقابلہ پر پانڈوں اور رمالوں کے الفاظ بھی زیادہ صاف ہوتے اور اوسطاً زیادہ صحیح نکلتے ہیں۔ عظیم الشان نشان قرار دیا جاتا ہے اور بتلایا جاتا ہے کہ ان سے خدا کا ظہور ہوا اور ان کے بغیر فطرتی دین ایک لعنت ہے۔ جب عالم تباہ ہوگا اور دنیا کا خاتمہ ہوگا تب مرزائیوں کی خوشی اور فتح ہوگی۔ کیوں نہ ہو رحمت اللعالمین جو ہوئے۔

مخالف ہیں پکڑے جائیں گے۔“ (مرزا قادیانی کا الہام مندرجہ البدر مورخہ ١٦ اگست ١٩٠٦ء)

اچانک تیرے پاس آؤں گا۔

پھر چلے آتے ہیں یار زلزلہ آنے کے دن زلزلہ کیا اس جہاں سے کوچ کر جانے کے دن
کیوں غضب بھڑکا خدا کا مجھ سے پوچھو غافلو ہو گئی ہیں اس کا موجب میرے جھٹلانے کے دن
دل گھٹا جاتا ہے ہر دم جان ہے زیر و زبر ایک نظر فرما کہ جلدا ئیں تیرے آنے کے دن

دیکھو مرزا قیامت خیز زلزلہ اور عالمگیر تباہی کا کیسا مشتاق ہے۔

ہے۔ اس وقت (مارننگ پوسٹ مورخہ ٢٦ جنوری ١٩٠٧ء) میرے سامنے پڑا ہوا ہے۔ اس کے لیٹسٹ ٹیلی گراموں کے کالموں میں سخت موسم سرما یورپ میں۔ سرخی کے نیچے ٢٣ جنوری ١٩٠٧ء کا تار شائع ہوا ہے۔ جس میں یہ تحریر ہے کہ مغربی جانب موسم سرما آ رہا ہے اور برلن میں سردی نہایت شدت سے بڑھ رہی ہے۔ آلہ مقیاس الحرارت درجہ صفر پر پہنچ گیا ہے اور آسٹریا و ہنگری میں صفر سے پندرہ درجہ اور کم ہو گیا ہے۔ اس سے بہت سی اموات ہو رہی ہیں اور براعظم کی ریلوے نہایت ابتر حالت میں ہے۔ کیونکہ انجن کے پائپ بوجہ ان کے اندر کے پانی جم جانے سے پھٹ رہے ہیں اور دریائے ڈینیوب اور ڈینیسٹر کی ہاربرز بالکل منجمد ہو گئی ہیں۔ یہ دیکھ کر مجھے حضرت اقدس کا وہ الہام جو (بدر مورخہ ١٠ مئی ١٩٠٦ء ص ٢ کالم ١) میں شائع ہوا تھا یاد آ گیا اور وہ یہ ہے۔ (٥ مئی ١٩٠٦ء)

پھر بہار آئی تو آئے ثلج کے آنے کے دن

(تذکرہ طبع سوم ص ٦١٣)

٢٦

اب موسم بہار شروع ہے اور کے زلزلہ کی وجہ سے جو حالت ہے وہ ناگ واقف بھی نہیں ہونے پائی تھی کہ ایک جو آدمی تھے زلزلہ کے دھکہ سے غائب ہو گ یہ لوگ خواب خرگوش سے جاگ اٹھیں اور اس سے بدتر اور کئی گنا تباہی کا ہندوستان ک

طاعون پھیلی۔ کذاب اور بے حیاء

سے ایک شعر یہ ہے۔

زلزلہ آتش
ہو گئے باعث

الہامات و اقوال بالا سے صا عید اور فتح ہے۔ کہیں دنیا میں آتش فشانی آدمی ہلاک ہو جائے۔ یہ فوراً شادیا نے ب کامیابی کا اعلان کرتے ہیں اور ہمیشہ تا آئے یا کسی بستی کی تباہی کی ۔ مگر ہیں بد ہیں اسی منہ سے یہ بھی کہتے ہیں کہ جہاد کہ بہار کا موسم ٢١ مارچ سے جنوری میں ہی شروع ہو گئی۔ مخالفت ہو آرچی، بلیکو اور برف زدہ ہوں برٹن و یو کی تباہی کے وقت مرزا قادیانی اور مرزا آپ ہی مرزا قادیانی نے شائع بھی کر د نہ کی جائے اور مرزائی شائع کرتے ہیں کیوں نہ ہو۔ سچ ہے کہ دروغ گو را حافظ

صفحہ ٤٦٤

اب موسم بہار شروع ہے اور حج کے دن بھی آئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ رحم فرماوے۔ کنگسٹن کے زلزلہ کی وجہ سے جو حالت ہے وہ ناگفتہ بہ ہے۔ ابھی لوگ اس تباہی کی خبر سے پورے طور سے واقف بھی نہیں ہونے پائی تھی کہ ایک جزیرہ بنام سال ایسٹ انڈین آرچی پلیکو جن میں پندرہ سو آدمی تھے زلزلہ کے دھکہ سے غائب ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ مخالفین پر کیسی کیسی حجتیں پوری کر رہا ہے۔ کاش یہ لوگ خواب خرگوش سے جاگ اٹھیں اور دعاؤں میں لگ جائیں۔ ورنہ یاد رکھیں کہ یہ کیا ہے۔ بلکہ اس سے بدتر اور کئی گنا تباہی کا ہندوستان کو سامنا کرنا پڑے گا اور پھر کچھ بنائے نہ بنے گا۔

طاعون پھیلی۔

(حقیقت الوحی ص ٢٢٣، خزائن ج ٢٢ ص ٢٣٥)

کذاب اور بے حیاء

سے ایک شعر یہ ہے۔

زلزلہ آتش فشانی سیل اور طاعون کا
ہو گئے باعث غلام احمد کے جھٹلانے کے دن

الہامات واقوال بالا سے صاف ظاہر ہے کہ دنیا کی تباہی مرزا قادیانی اور مرزائیوں کی عید اور فتح ہے۔ کہیں دنیا میں آتش فشانی ہو، طوفان آئے، زلزلے سے تباہی ہو، وبا پھیلے، کوئی بڑا آدمی ہلاک ہو جائے۔ یہ فوراً شادیانے بجاتے ہیں۔ اخباروں اور اشتہاروں میں اپنی شادمانی اور کامیابی کا اعلان کرتے ہیں اور ہمیشہ تاک میں لگے رہتے ہیں کہ کہیں سے کسی کے مرنے کی خبر آئے یا کسی بستی کی تباہی کی۔ مگر ہیں بڑے کذاب اور بے حیاء جس منہ سے دنیا کی تباہی چاہتے ہیں اسی منہ سے یہ بھی کہتے ہیں کہ جہاد منع ہے۔ دل سے زلازل، آتش فشانیوں، طوفان اور

ا۔ بہار کی موسم ٢١/ مارچ سے ٢١/ جون تک شمار ہوتی ہے۔ مگر مرزائیوں کی بہار دسمبر اور جنوری میں ہی شروع ہو گئی۔ مخالفت ہو ہندوستان میں اور تباہ ہو جائیں کنگسٹن ویسٹ انڈین۔ آرچی پلیکو اور برف زدہ ہوں برٹن و یورپ۔ ایسا ہی ایکوے ڈور، سانس فرانسسکو، اٹلی، فارموسا کی تباہی کے وقت مرزا قادیانی اور مرزائیوں نے شادیانے بجائے اور شیخیاں بگھاری تھیں۔ پھر آپ ہی مرزا قادیانی نے شائع بھی کر دیا کہ اہل امریکہ انکار کا حق رکھتے ہیں۔ جب تک ان پر تبلیغ نہ کی جائے اور مرزائی شائع کرتے ہیں کہ بے خبر کو خدا عذاب نہیں کرتا۔ خواہ وہ مشرک اور ظالم ہی کیوں نہ ہو۔ سچ ہے کہ دروغ گو را حافظہ نباشد۔ دجال کا پتا ہو گا پر خدا کا پتا نہیں۔

٢٧

صفحہ ٤٦٤

وبائوں کی خبریں کمال شوق اور انبساط کے ساتھ سنتے ہیں۔ ساتھ ہی مہدی خونی پر طعنہ کرتے اور شاہ کابل کی سیاحت ہند کے ایام میں الحکم والبدر بار بار یہی اعلان کرتے رہے کہ ملاں عبداللطیف کو امیر صاحب نے محض اس بناء پر قتل کروایا تھا کہ وہ جہاد کے خلاف تعلیم دیتا اور گورنمنٹ انگریزی کا خیر خواہ تھا۔ خود تو یہ حال کہ جب میں نے چند اصلاحی تجاویز پر ایک نیاز نامہ بھیجا تو فوراً مجھ کو مرتد اور واجب القتل قرار دے دیا اور صاف الفاظ میں لکھ دیا کہ آنحضرت ﷺ نے محض اپنے منوانے کے لئے خون کی نہریں چلا دی تھیں اور زمین کو خون سے بھر دیا تھا۔ جس میں صاف اشارات تھے کہ جو مرزا قادیانی کو نہ مانے وہ واجب القتل ہے اور اگر کوئی فدائی حوصلہ کر کے ایسا کرے تو غازی اور شہید بن سکتا ہے۔ اس غربت اور مسکینی کی حالت میں تو دل کے ولولوں اور پھپھولوں سے دنیا کو ہلاک کر رہے ہیں اور دنیا کی تباہی میں خوشیاں منا رہے ہیں۔ اگر کچھ طاقت ہاتھ میں آجائے تو خدا جانے عملاً کیا کر دکھائیں۔ سچ ہے۔

گربہ مسکین اگر پر داشتے
تخم کنجشک از جہاں برداشتے

جہاد منع ہے۔ یہ لفظ منہ سے نکال کر بڑے اتراتے اور اخباروں میں بار بار شائع کرتے ہیں۔ اے کافر کیا قرآن مجید نے نہیں فرمایا ”لا اكراه فى الدين (البقرة:٢٥٦)“ دین میں کوئی زبردستی جائز نہیں۔ ”فمن شاء فليؤمن ومن شاء فليكفر (الکهف:٢٩)“ پس جو چاہے مومن بنے اور جو چاہے انکار کرے۔ کیا آنحضرت ﷺ کے تمام جہاد ناجائز اور ظالمانہ تھے جو آج آپ کو بند کرنے پڑے؟ کیا آنحضرت ﷺ کے تمام جہاد اندفاعی نہ تھے؟ اور آج آزادی دین اور حفاظت جان و مال کے واسطے حملہ آوروں کے مقابلہ پر کھڑا ہونا بھی جائز نہیں؟ کیا قرآن مجید میں پہلے سے یہ حکم موجود نہیں۔ ”وقاتلوا فی سبیل الله الذین یقاتلونکم ولا تعتدوا ان الله لا یحب المعتدین (البقرة:١٩٠)“ کیا یہ اصول باطل تھا اور آج پولیٹیکل اغراض سے اس کی تردید ضروری ہے۔ ...... پھر آپ کا بار بار یہ جتلانا کہ ملا عبداللطیف محض اس وجہ سے مارا گیا کہ وہ گورنمنٹ انگریزی کا خیر خواہ تھا اور جہاد کے مخالف وعظ کیا کرتا تھا۔ یہ صاف جھوٹ اور ایک دجل ہے۔ آپ کی جماعت کا یہ کوئی خاص مشن نہیں۔ بلکہ آپ کا مشن یہی ہے کہ آپ کے ماننے کے بغیر کوئی نجات پا نہیں سکتا۔ خواہ وہ کیسا ہی خدا پرست اور باعمل کیوں نہ ہو۔ آپ خدا کا مظہر ہیں۔ خدا آپ سے اور آپ خدا سے ہیں۔ آپ خدا سے بمنزلہ اولاد بلکہ بمنزلہ توحید وتفرید ہیں۔ پہلی تعلیمیں مکدّر (گدلی) ہیں اور محض آپ کی تعلیم ایسی

٢٨

صفحہ ٤٦٥

ہے جو قیامت تک مکدر نہ ہوگی۔ آپ کے مقبرہ میں دفن ہونے والا بہشتی ہے۔ تمام علمائے دین سور، حرامزادہ، چوہڑے، چمار، کتے، ملعون، جہنمی اور سانپ ہیں۔ یسوع، اور مسیح کو آپ فحش گالیاں نکالتے ہیں۔ آنحضرت ﷺ کی نسبت آپ لکھتے ہیں کہ انہوں نے محض اپنے منوانے کے واسطے خون کی نہریں چلا دی تھیں اور زمین کو خون سے بھر دیا تھا۔ محمد ﷺ تو خدا کا ایک بندہ تھا اور آپ کہتے ہیں کہ خدا میری حمد کرتا ہے۔ باوجود بددیانت، خائن، شکم پرور، نفس پرست، آرام طلب، کذاب، مغلوب الغضب، بد فہم اور متکبر ہونے کے آپ دعوے کرتے ہیں۔

منم مسیح زمان و منم کلیم خدا
منم محمد و احمد کہ مجتبیٰ باشد

(درثمین فارسی)

آپ ساری دنیا کی تباہی اور تمام قوموں کی ذلت و ہلاکت کے مشتاق ہیں اور دن رات اسی امید اور اسی طلب میں رہتے ہیں اور یہی دعا مانگتے رہتے ہیں کہ طاعون پھیلے اور دنیا تباہ ہو۔ براہین کے بہانہ سے ہزاروں روپیہ ٹھگا۔ پھر سراج منیر کے بہانہ سے۔ پھر کتابوں کی مفت اشاعت کے لئے ڈھائی سو روپیہ ماہوار۔ پھر طاعون اور توسیع مکان کے بہانہ سے۔ پھر مینارہ کے بہانہ سے اور بہشتی مقبرہ کے بہانہ سے۔

الغرض جس قدر غضبناک توہین خدا تعالیٰ، وتذلیل انبیاء وتحقیر ایمان واعمال آپ کے وجود سے ہوئی ہے آج تک نہیں ہوئی تھی۔ انہیں بناؤں پر علمائے اسلام نے آپ کی تکفیر اور تکذیب کی اور آپ کو مرتد اور واجب القتل ٹھہرایا نہ کہ گورنمنٹ کی خیر خواہی اور منع جہاد پر۔ یہ مسائل تو میری تفاسیر اور تمام علمائے محققین کی تصانیف میں بھی موجود ہیں۔ سرسید احمد مرحوم نے ان امور میں اعلیٰ درجہ کا علمی اور عملی نمونہ پیش کیا۔ اگر محض خلاف جہاد اور وفاداری گورنمنٹ کی وجہ سے عبداللطیف مرتد ٹھہرایا جاتا اور قتل ہوتا تو آج امیر حبیب اللہ خان، علی گڑھ کالج اور اسلامیہ کالج لاہور کی کیوں اس قدر تعریف کرتے اور ٢٠ ہزار روپیہ نقد اور ٦ ہزار روپیہ سالانہ سے امداد فرماتے۔ کیا ہی سچ ہے۔ ”دجال کا انا ہوگا پر خدا کا انا نہیں۔“

باب چہارم

مرزا کی پیش گوئیاں

مرزائے قادیانی کے اصول مشتہرہ کے مطابق قرآن اور حدیث کا کوئی لفظ قابل اعتبار

٢٩

صفحہ ٤٦٦

نہیں اور جس قدر پیش گوئیاں مرزا قادیانی نے صاف الفاظ میں بڑے دعوؤں کے ساتھ شائع کیں اور جن کو اس نے اپنے صدق و کذب کا معیار ٹھہرایا وہ تمام غلط ثابت ہوئیں۔

اشتہار (مورخہ ٥ نومبر ١٩٠١ء، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٤٣٥) میں مرزا قادیانی نے شائع کیا۔ ”میں جیسا قرآن شریف کی آیات پر ایمان رکھتا ہوں ایسا ہی بغیر فرق ایک ذرہ کے اس کھلی کھلی وحی پر ایمان لاتا ہوں جو مجھے ہوئی۔“ اس مضمون کا تکرار اخباروں اور رسالوں میں ہوتا رہتا ہے کہ مرزا قادیانی اپنی وحی کو ایسا ہی یقینی اور قطعی مانتا ہے جیسا کہ قرآنی وحی کو اور ایک ذرہ برابر فرق نہیں سمجھتا۔ ذیل کی چند مثالوں سے ظاہر ہو جائے گا کہ مرزا قادیانی کو اپنی وحی کے الفاظ پر مطلق اعتبار نہیں۔ اس لئے قرآن مجید پر بھی نہیں۔ جن الفاظ سے کوئی مطلب برآمد ہو ان کو آگے رکھ لیتا ہے۔ باقی سب کچھ سروکار نہیں۔

زلزلۃ الساعۃ

کا دھکا، زلزلۃ الساعۃ۔“ (تذکرہ طبع سوم ص ٥٢٤) ”پھر بہار آئی۔ خدا کی بات پھر پوری ہوئی۔“ (تذکرہ طبع سوم ص ٥٤١) اس وحی کے الفاظ کی یہ تشریح ہے۔ ”مجھے علم نہیں دیا گیا کہ زلزلہ سے مراد زلزلہ ہے یا اور کوئی شدید آفت۔“ بہار کی نسبت لکھا۔ ”ممکن ہے کہ اس وحی کے کچھ اور معنے ہوں اور بہار سے کچھ اور مراد ہو۔“ اے دجال اور دجالپو! کیا قرآنی الفاظ پر بھی آپ کا یہی ایمان ہے کہ لغت کے خلاف جو چاہیں معنی لے لیں۔

بشیر موعود

ہوا تو دوسرے حمل میں جو اس کے قریب ہے ضرور پیدا ہوگا۔“ (تبلیغ رسالت ج اول ص ٩٩، ١٠٠) حمل موجودہ میں تو لڑکی پیدا ہوئی اور دوسرے حمل میں لڑکا پیدا ہوا تھا جو فوت ہو گیا۔ جس کی نسبت پیش گوئی میں یہ الفاظ بھی تھے کہ ”وہ علوم ظاہری و باطنی سے پر کیا جائے گا۔ وہ جلد جلد بڑھے گا۔ صاحب شکوہ دولت وعظمت ہوگا۔ امیروں کی رستگاری کا موجب ہوگا۔ وہ مظہر الاول والآخر، مظہر الحق والعلا ہوگا۔ گویا کہ اللہ آسمان سے اتر آیا ہے۔“

(تذکرہ طبع سوم ص ١٣٩)

مگر ظاہری الفاظ کے لحاظ سے یہ پیش گوئی سراسر غلط ثابت ہوئی۔ اے کانے دجال اور کانے دجالپو! کیا لغوی معنوں کے لحاظ سے قرآن بھی سراسر غلط ہے۔ مبارک احمد جو تین کو چار کرنے والا تھا وہ ١٦؍ ستمبر ١٩٠٧ء کو فوت ہو گیا۔.......... تین کو چار کرنے والا کہاں ہے؟

٣٠

خواتین مبارکہ

خواتین مبارکہ سے جن میں سے تو بعض ک بائیس سال میں آج تک ایک بھی نئی خا خاتون جس کی نسبت بڑے دعوؤں کے طلاق اور عاق کیا۔ وہ آج تک دوسرے لحاظ سے یہ پیش گوئی سراسر غلط ثابت ہوئی یہی کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی کی وحی ایسی ہی

سخت زلزلہ

الفاظ سے صاف ظاہر ہے کہ ٨؍مارچ ١٩٠٧ء لکھتا ہے کہ اسی دن بارش حیثیت قرآنی الفاظ کی ہے؟

بہار اور یخ کے دن

پھر یخ جس کے معنے برف ب بارش، یا شدت سردی یا اطمینان قلب، یا م نشانات، واللہ اعلم بالصواب۔ کیا یہی وقع

زلزلہ اور مرزا کا منہ کالا

کیا۔ زلزلہ آنے کو ہے۔ (تذکرہ طبع سوم ص زیرو زبر کر دے گا آنے کو ہے۔ خود بھی ت کے نام اشتہارات بھیج دیئے۔ مگر ظاہر الف

صفحہ ٤٦٧

خواتین مبارکہ

خواتین مبارکہ سے جن میں سے تو بعض کو اس کے بعد پائے گا تیری نسل بہت ہوگی۔“ گذشتہ بائیس سال میں آج تک ایک بھی نئی خاتون اس کو نہیں ملی۔ چہ جائیکہ خواتین؟ اور ایک خاص خاتون جس کی نسبت بڑے دھڑلے کے ساتھ پیش گوئیاں کیں۔ جس کی خاطر بیوی اور بیٹوں کو طلاق اور عاق کیا۔ وہ آج تک دوسرے کے نکاح میں ہے اور گیارہ بچہ جن چکی ہے۔ الفاظ کے لحاظ سے یہ پیش گوئی سراسر غلط ثابت ہوئی۔ مگر مرزا قادیانی اور مرزائیوں کو کچھ پرواہ نہیں اور ہمیشہ یہی کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی کی وحی ایسی ہی قطعی اور یقینی ہے جیسا کہ قرآنی وحی۔

سخت زلزلہ

(تذکرہ طبع سوم ص ٦٩٩)

الفاظ سے صاف ظاہر ہے کہ زلزلہ آچکا اور اس کے بعد بارش بھی ہوگی۔ مگر الحکم مورخہ ٨/ مارچ ١٩٠٧ء لکھتا ہے کہ اسی دن بارش ہوگئی اور ٢/ مارچ کے بعد رات کو زلزلہ آگیا۔ کیا یہی حیثیت قرآنی الفاظ کی ہے؟

بہار اور ثلج کے دن

(تذکرہ ص ٦١٣)

پھر ثلج جس کے معنے برف ہیں۔ اس کی نسبت لکھا کہ ثلج سے مراد یا تو برف ہے یا بارش، یا شدت سردی یا اطمینان قلب، یا خوشی و راحت، یا شبہ و شک کو دور کرنا اور تسلی بخشنا یا کثرت نشانات، واللہ اعلم بالصواب۔ کیا یہی وقعت قرآنی الفاظ کی ہے؟

زلزلہ اور مرزا کا منہ کالا

کیا۔ زلزلہ آنے کو ہے۔ (تذکرہ طبع سوم ص٥٩٩) یعنی وہ قیامت خیز زلزلہ جو دنیا کو ایک دم میں زیر و زبر کر دے گا آنے کو ہے۔ خود بھی قادیان سے نکل کر خیموں میں مقیم ہو گیا اور تمام مریدوں کے نام اشتہارات بھیج دیئے۔ مگر ظاہر الفاظ کے لحاظ سے یہ بھی غلط ثابت ہوئی اور تین ماہ بعد منہ

٣١

صفحہ ٤٦٨

کالا کرا کر قادیان میں جا گھسا۔

بارش اور مخالف

مخالف ہیں پکڑے جائیں گے۔“ (الحکم مورخہ ١٧ اگست ١٩٠٧ء) اگست و جون میں جب بارشیں ہوئیں تو مرزائیوں نے بارشوں کے لفظ کو پکڑ کر اس کی دھوم مچائی۔ چنانچہ ایک سیالکوٹی مرزائی نے اپنا سیلاب میں مبتلا ہونا اور ایک دہلوی مرزائی نے اپنے مکان کا گرنا شائع کیا۔ مگر دوسری شق کا کچھ خیال نہ کیا۔ پر وہ جو تیرے مخالف ہیں پکڑے جائیں گے۔

موت ١٣ ماہ حال

سے مراد یہی شعبان ہے یا کوئی آئندہ کا شعبان۔ پھر جب تیس شعبان کو صاحب نور کا انتقال ہو گیا تو فوراً یہ کہہ دیا کہ الہام میں تیرہ تھا یا تیس یا تئیس ٹھیک یاد نہیں۔ تو گویا قرآن مجید کے الفاظ بھی ایسے ہی مشکوک ہیں۔ کیونکہ مرزائی اور قرآنی وحی ایک ہی پایہ کی ہیں۔

ڈاکٹر عبدالحکیم خان

ہے۔“ (تذکرہ طبع سوم ص ٦٢٠) جس کے معنی الفاظ کے لحاظ سے فوری موت کے سوائے اور کچھ نہیں ہو سکتے تھے۔ مگر خدا کے فضل سے میں آج تک صحیح سلامت ہوں۔ دجالی فتنہ کو پاش پاش کر رہا ہوں۔ مفہوم کے لحاظ سے یہ الفاظ بالکل غلط ثابت ہوئے۔

ایک ہفتہ تک باقی نہیں رہے گا

ص ٦٩٦) آج اگست ١٩٠٧ء تک الفاظ کے مطابق کچھ بھی نہیں ہوا۔

قرآن مجید کا مقابلہ

سوم ص ٦٧٤، الہام مورخہ ١٧ نومبر ١٩٠٦ء) ظاہری مفہوم کے لحاظ سے یہ قول بالکل غلط ہے۔ کیونکہ قرآن مجید نے روحانیت اور اخلاق کے ہر پہلو پر کامل تعلیم پیش کی ہے۔ مگر کانے دجال نے سوائے اپنی مشیخت اور کبریائی کے اور کچھ بھی نہیں کیا۔ قرآن مجید نے عرب کے بت خانوں کو

٣٢

صفحہ ٤٦٩

صاف کر دیا۔ مرزا قادیانی سے ایک قادیان کے بت بھی صاف نہیں ہوئے۔ قرآن مجید نے سوا لاکھ مشرکین اور کفار کو مسلمان بنا دیا۔ مرزا قادیانی سے ایک بھی ویسا مسلمان نہ ہوا۔ قرآن مجید نے اقوام عرب کی پشتینی وحشت اور خونخواری کو دور کر کے ان کو بھائی بنا دیا۔ مگر مرزا قادیانی نے برعکس مسلمانوں کو باہم پھاڑ دیا۔ قرآن مجید نے اوّل سے آخر تک باری تعالیٰ کی تحمید، تقدیس، تمجید اور توحید کا بیان کیا۔ مگر مرزا قادیانی دن رات اپنی ہی تحمید، تقدیس، تمجید اور توحید کا بیان کرتا ہے۔ قرآن مجید نے آنحضرت ﷺ کو حکم دیا۔ ”فسبح بحمد ربك واستغفره (النصر:٣)“ اور فرمایا ”الحمد لله“ مگر مرزا قادیانی کہتا ہے کہ خدا میری حمد کرتا ہے۔ قرآن مجید فرماتا ہے: ”ليس كمثله شئ (الشوریٰ:١١)“ مرزا قادیانی اپنے بیٹے کو کہتا ہے۔ ”كأن الله نزل من السماء“ (تذکرہ طبع سوم ص ١٤٩) قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی نسبت ارشاد فرماتا ہے۔ ”قل هو الله احد، الله الصمد، لم يلد ولم يولد ولم يكن له كفواً احد (الاخلاص: ١ تا ٤)“ مگر مرزا قادیانی کہتا ہے کہ میرا بیٹا گویا کہ خدا ہے۔ میں خدا کی توحید اور تفرید کے برابر ہوں۔ (تذکرہ طبع سوم ص ٦٦) اگر میں نہ ہوتا تو خدا زمین و آسمان کو پیدا نہ کرتا۔ (تذکرہ طبع سوم ص ٦١٢) میں خدا کی اولاد کے برابر ہوں۔ (تذکرہ طبع سوم ص ٤٩٩) خدا مجھ سے اور میں خدا سے ہوں۔ (تذکرہ طبع سوم ص ٤٢٢) قرآن مجید فرماتا ہے: ”من يعتصم بالله فقد هدیٰ الیٰ صراط مستقیم (آل عمران: ١٠١)“ مگر مرزا قادیانی کہتا ہے کہ میرے بغیر خدا کوئی چیز نہیں ۔ قرآن مجید فطرت کے عین مطابق ہے اور فطرت اللہ کو دین قیم فرماتا ہے۔ مگر مرزا قادیانی فطری دین کو لعنت قرار دیتا ہے۔ قرآن مجید نے بددیانتی، حرامخوری، آرام طلبی، کذب، ریا، لغو، بدعہدی، فحش، تکبر، قبر پرستی، منارہ پرستی، سب و شتم، خونخواری اور کینہ وری کو دور کیا۔ مگر مرزا قادیانی نے براہین کا پیشگی چندہ، سراج منیر کا چندہ، منارہ کا چندہ، ڈھائی سو روپیہ ماہوار مفت اشاعت کتب کا چندہ، توسیع مکان و مسجد کا چندہ خورد برد کیا۔ ہر معاملہ میں بددیانتی ظاہر کی۔ آرام طلب، کذاب، ریا کار، لغوگو، بدعہد، فحش گو، متکبر اور تمام قوموں کے خون کا پیاسا اور ان کی تباہی کا مشتاق ہے۔ دنیا کی تباہی اس کے واسطے عید ہے۔ کسی عالم، فاضل اور مجاہد کی موت اس کے واسطے جشن کا موجب ہوتی ہے۔ قبر پرستی اور منارہ پرستی اور تصویر پرستی کا خود بانی اور مبانی ہے۔ قرآن مجید خالص اسلام کی تعلیم دیتا ہے۔ مگر مرزا قادیانی انسان پرستی کی، مغلوب الغضب، فحش گو اور بدزبان ایسا ہے کہ الامان، خدا کی فطرت کو لعنت کہتا ہے۔ انبیاء کو گالیاں نکالتا ہے۔ ایک ذرہ بھر اختلاف پر فوراً بددعاؤں اور گالیوں پر اتر آتا ہے۔ قرآن مجید میں خالص سچائی اور ہر بات میں علمی رنگ ٣٣

صفحہ ٤٧٠

ہے ۔ مگر مرزا قادیانی کی ہر ایک بات یا تو ”تقولون مالا تفعلون (الصف:٢)“ کی مصداق ہے یا ”یحبون ان یحمد وابما لم یفعلوا (آل عمران:١٨٨)“ کی اوروں سے وصول کرنے کو کہتا ہے کہ صدیق اکبرؓ کی طرح سارا مال دین کے واسطے قربان کرو۔ مگر خود ایک حبه دین کے واسطے نہیں نکالتا۔ بلکہ اوروں سے ٹھگتا رہتا ہے۔ کہیں براہین کے نام سے ٹھگا، کہیں سراج منیر کے نام سے، کہیں مفت اشاعت کتب کے نام سے، کہیں لنگر کے نام سے، کہیں توسیع مکانات کے نام سے، کہیں منارہ کے نام سے، کبھی بہشتی مقبرہ کے نام سے، کہیں توسیع مسجد کے نام سے۔ مفسر القرآن ہونے کا دعویٰ، مگر تفسیر ندارد۔ حکم ہونے کا دعویٰ مگر فیصلہ ندارد، فانی الرسول ہونے کا دعویٰ مگر عمل میں مخالف، مظہر محمد ہونے کا دعویٰ مگر اعمال میں مفر، یا خلاف۔

ترک دنیا بدیگر آموزند
خویشتن سیم و غلہ اندوزند

اب گھر کے چوباروں کا نام مسجد رکھ کر توسیع مسجد کے نام پر چندے وصول کر رہا ہے۔

لی گئی ۔ یہی وجہ ہے کہ مرزائیوں کا ایمان قرآن واحادیث کے الفاظ پر مطلق نہیں رہا۔ بلکہ محض اپنے مفید مطلب اشارات نکال کر صریح الفاظ سے ارتداد کرتے ہیں۔ ختم نبوت پر ایمان نہیں۔ ”لا نبی بعدی“ پر ایمان نہیں۔ ”الحمدللہ“ پر ایمان نہیں۔ فطرت اللہ پر ایمان نہیں۔ نزول مسیح پر ایمان نہیں۔ منارہ دمشق پر ایمان نہیں۔ ”من آمن بالله واليوم الاخر“ پر ایمان نہیں۔ ”لم یلد ولم یولد“ پر ایمان نہیں۔ خداوند عالم کے بعد ”صمد ۔ لیس کمثلہ شئ“ ہونے پر ایمان نہیں۔ ”انك لا تهدی من احببت“ پر ایمان نہیں۔ ”لا تجزی نفس عن نفس شيئاً“ پر ایمان نہیں۔ ”لا تزر وازرة وزر اخری“ پر ایمان نہیں۔ حرمت تصویر پر ایمان نہیں۔ ”واعتصموا بحبل الله جميعاً“ پر ایمان نہیں۔ ”من شذ فقد شذ فی النار“ پر ایمان نہیں۔ ”اوفوا بالعهد“ پر ایمان نہیں۔ ”لعنة الله علی الکاذبین“ پر ایمان نہیں۔ ”ماکان لنبی ان یغل“ پر ایمان نہیں۔ توحید و تقدیس باری تعالیٰ پر ایمان نہیں۔ نزول عیسیٰ ابن مریم پر ایمان نہیں۔ روپیہ کی ہوس دل میں اٹھی تو براہین کی قیمت پیشگی ملنے کے لئے بڑے زور وشور سے اشتہار دیا۔ یہاں تک کہ ایک جلد ہی اشتہار میں ختم کر دی اور لاکھوں اشتہار علیحدہ شائع کئے۔ جب کل روپیہ وصول ہو چکا تو اس کا نام تک نہیں لیا۔ نہ ایفائے عہد کا خیال ہوا۔ نہ ادائے امانت کا براہین کے بعد سراج منیر کے نام پر۔ پھر اس کے بعد مفت اشاعت

٣٤

کتب کے نام پر پھر لنگر کے نام پر۔ پھر روپیہ کمایا اور مزے سے اڑایا۔ نبی بننے تمام قرآن وحدیث کو پس پشت ڈال دیا كنا نبيياً فى بنى اسرائيل“ کو پکڑ ہیں۔ منارہ سے خوب روپیہ وصول ہو اٹھالیا۔ خدائی منصب کا شوق ہوا تو خد اعلان دے دیا کہ خدا میری حمد کرتا ہے ناراض اس سے خدا ناراض۔ میرا مقبر باقی ہے کہ اے لوگو! مجھے سجدہ کرو۔ کیونکہ پرستش کرو۔ فطرت کا خیال مت کرو۔ کیو کیونکہ انہوں نے تیس کروڑ مسلمانوں کیونکہ وہ کوئی چیز نہیں۔ آدمؑ پر سجدہ

ریب مما نزلنا على عبدنا فلت (تذکرہ طبع سوم ص ١١٧) یعنی تیری طرف جوانی کا آئے گا۔ یعنی جوانی کی قوتیں لوگو! ہمارے اس نشان سے شک میں م تازگی روکی جائے گی۔

”ان الہامات کا باعث ی ہو گئی ہے۔ بجز دو وقت ظہر اور عصر کی نما اگر ایک سطر بھی کچھ لکھوں یا فکر کروں ہے۔ جسم بالکل بیکار ہو رہا ہے اور جسما مسلوب القوائے ہوں اور آخری وقت دامنگیر ہیں۔ پس میں نے دعا کی تھی کہ کچھ خدمت دین کر سکوں اور اپنی بیوی ہیں جو اوپر ذکر کئے گئے۔ خدا تعالیٰ ا

صفحہ ٤٧١

کتب کے نام پر پھر لنگر کے نام پر۔ پھر توسیع مکانات کے نام پر۔ پھر بہشتی مقبرہ کے نام پر خوب روپیہ کمایا اور مزے سے اڑایا۔ نبی بننے کا شوق ہوا۔ تو ظلی اور بروزی کے الفاظ ایجاد کر لئے اور تمام قرآن وحدیث کو پس پشت ڈال دیا۔ ہاں! نادانوں کو پھنسانے کے واسطے ”العلماء امتي كانبياء بني اسرائيل“ کو پکڑ لیا۔ مگر ساتھ علمائے امت پر دن رات لعنتیں برسائی جاتی ہیں۔ منارہ سے خوب روپیہ وصول ہوتا معلوم ہوا تو نزول کے لفظ کو نظر انداز کر کے تعمیر کا بیڑا اٹھا لیا۔ خدائی منصب کا شوق ہوا تو خدا کی اولاد اور خدا کی توحید کے برابر ہو بیٹھے اور برسر بازار اعلان دے دیا کہ خدا میری حمد کرتا ہے۔ جس سے میں خوش اس سے خدا خوش۔ جس سے میں ناراض اس سے خدا ناراض۔ میرا مقبرہ بہشتی مقبرہ ہے۔ آدم تو بن ہی چکے، اب محض اس قدر حکم باقی ہے کہ اے لوگو! مجھے سجدہ کرو۔ کیونکہ قرآن میں حکم ہے۔ ”اسجدوا لادم“ اے لوگو! میری پرستش کرو۔ فطرت کا خیال مت کرو۔ کیونکہ وہ لعنتی شے ہے۔ اے لوگو! قرآن وحدیث کو چھوڑو۔ کیونکہ انہوں نے تیس کروڑ مسلمانوں کو ملعون اور کافر اور جہنمی بنا دیا۔ اے لوگو! خدا کو چھوڑو۔ کیونکہ وہ کوئی چیز نہیں۔ آؤ میری پرستش کرو۔ میرے بہشتی مقبرہ میں چندہ دو اور بہشتی بنو۔

١٣...... ”ترد عليك انوار الشباب سياتى عليك زمن الشباب وان كنتم في ريب مما نزلنا على عبدنا فاتوا بشفاء من مثله رد عليها روحها وريحانها“ (تذکرہ طبع سوم ص٦١٧) یعنی تیری طرف نوجوانی کی قوتیں......رد کی جائیں گی اور تیرے پر زمانہ جوانی کا آئے گا۔ یعنی جوانی کی قوتیں دی جائیں گی تا خدمت دین میں حرج نہ ہو اور اگر تم اے لوگو! ہمارے اس نشان سے شک میں ہو تو اس کی نظیر پیش کرو اور تیری بیوی کی طرف بھی صحت اور تازگی رد کی جائے گی۔

”ان الہامات کا باعث یہ ہے کہ عرصہ تین چار ماہ سے میری طبیعت نہایت ضعیف ہوگئی ہے۔ بجز دو وقت ظہر اور عصر کی نماز کے لئے بھی نہیں جاسکتا اور اکثر بیٹھ کر نماز پڑھتا ہوں اور اگر ایک سطر بھی کچھ لکھوں یا فکر کروں تو خطرناک دوران سر شروع ہو جاتا ہے اور دل ڈوبنے لگتا ہے۔ جسم بالکل بیکار ہورہا ہے اور جسمانی قوائے ایسے مضمحل ہو گئے ہیں کہ خطرناک حال ہے۔ گویا مسلوب القوائے ہوں اور آخری وقت ہے ایسا ہی میری بیوی دائم المرض ہے۔ امراض رحم وجگر دامنگیر ہیں۔ پس میں نے دعا کی تھی کہ خدا تعالیٰ مجھے پہلی قوت جوانی کے عالم کی عطاء کرے تا میں کچھ خدمت دین کرسکوں اور اپنی بیوی کی صحت کے لئے بھی دعا کی تھی۔ اس دعاء پر یہ الہام ہوئے ہیں جو اوپر ذکر کئے گئے۔ خدا تعالیٰ ان کے معنے بہتر جانتا ہے۔ صرف اس قدر معلوم ہوتا ہے کہ

٣٥

صفحہ ٤٧٢

خدا تعالیٰ ہمیں صحت عطاء فرمائے گا اور مجھے وہ قوتیں عطاء کرے گا جن سے میں خدمت دین کر سکوں۔واللہ اعلم بالصواب!‘‘

(تذکرہ طبع سوم ص٦١٧)

اور اس میں یہ بھی خوشخبری ہے کہ اللہ تعالیٰ میری بیوی کو بھی صحت اور تندرستی عطاء کرے گا۔ چونکہ مرزا قادیانی کو اپنے الہاموں کی نسبت خوب تجربہ ہو چکا تھا کہ وہ واقعی طور پر کبھی بھی پورے نہیں ہوئے۔ ایسا ہی واقعات اس کو بھی جھوٹا ثابت کریں گے۔ اس لئے پہلے ہی ’’ان کنتم فی ریب من نزلنا علی عبدنا فاتوا بشفاء من مثلہ ‘‘کے دعویٰ کی اپنے الفاظ میں ہی تردید کر دی۔ گویا کہ الہام میں کوئی دعویٰ تھا ہی نہیں یا الہام کے لفظ نا قابل اعتبار۔ بلکہ سراسر لغو اور جھوٹ ہوتے ہیں۔ صاف الفاظ میں تحدی آمیز دعوے اور اس پر یہ حاشیہ کہ ’’خدا تعالیٰ ان کے بہتر معنی جانتا ہے۔ صرف اس قدر معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ ہمیں صحت عطاء فرمائے گا۔‘‘ کیا قرآنی وحی کی بھی یہی عزت و عظمت ہے کہ اس کے الفاظ بھی قابل اعتبار نہیں۔ بلکہ سراسر لغو اور جھوٹ ہوتے ہیں؟ اے کانے دجالو! یہی قرآنی عظمت ہے جس کو تم دنیا میں قائم کرنا چاہتے ہو؟ اسی حوصلہ پر مرزا قادیانی دجال سے حقیقت الوحی کے پھنکارے مار رہا ہے۔

ہوا۔ مگر کوئی مرزائی نہیں سوچتا۔

بلکہ ہر ارادہ اسی کے ارادہ کے موافق ہوتا ہے۔ چنانچہ قرآن مجید فرماتا ہے۔ ”وما تشاؤن الا ان یشآء اللہ رب العالمین (التکویر:٢٩) وهو علی کل شئ قدیر“ پس یہ الہام صریحاً باطل ہے۔

عورت اور اس کے خاوند کے واسطے عذاب ہے۔ یہ ایک مرزائی بھید کے متعلق ہے۔ جس پر کوئی مرزائی روشنی ڈال سکتا ہے۔ دو سال سے یہ الہام ہو رہے ہیں۔ مگر وہ بیچارے بیگناہ مرد و عورت اب تک صحیح و سلامت ہیں۔ ہاں! قادیان سے ضرور نکالے گئے۔

دلجوئی ہوگی۔ (تذکرہ طبع سوم ص٥٩٦) آج اگست ١٩٠٧ء تک اس کا کوئی نتیجہ نہیں۔ نہ معلوم اب اور دلجوئی سے کیا مراد ہے؟

٣٦

عبداللہ آتھم

اختیار کر رہا ہے اور عاجز انسان کو مہینے لے کر یعنی پندرہ ماہ تک ہا طرف رجوع نہ کرے اور جو شخص اس وقت جب پیش گوئی ظہور لنگڑے چلنے لگیں گے اور بعض ص ٢٩٢، تذکرہ طبع سوم ص ٢٣٥، ٢٣٦ نے عاجز انسان کو خدا بنانے سے ہوئے، نہ لنگڑے چلے، بہرے عبداللہ آتھم ڈرتا رہا تھا۔ اس کے ساتھ سینکڑوں صفحے لکھ مارے

محمدی بیگم

زوجنکھا“ ہم نے اس کے تبدیل لکلمات الله ان مقابلہ پر تجھے کفایت کرے گا سکتا۔ بے شک جو تیرا رب چا اگر وہ لڑکی کسی اور سے بیاہی جا گا اور اس کا والد تین سال تک میں اس لڑکی کا نکاح سلطان م جانا چاہئے تھا۔ مگر وہ فوت نہیں ہے اور اس بیوی سے گیارہ ب تمام دعوے خاک میں مل گئے

صفحہ ٤٧٣

عبداللہ آتھم

اختیار کر رہا ہے اور عاجز انسان کو خدا بنا رہا ہے وہ انہیں دنوں مباحثہ کے لحاظ سے یعنی فی دن ایک مہینہ لے کر یعنی پندرہ ماہ تک ہاویہ میں گرایا جائے گا اور اس کو سخت ذلت پہنچے گی۔ بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے اور جو شخص سچ پر ہے اور سچے خدا کو مانتا ہے اس کی اس سے عزت ہوگی اور اس وقت جب پیش گوئی ظہور میں آئے گی۔ بعض اندھے سوجاکھے کئے جائیں گے اور بعض لنگڑے چلنے لگیں گے اور بعض بہرے سننے لگیں گے۔“ (جنگ مقدس ص١٨٨،١٨٩، خزائن ج٦ ص٢٩٢، تذکرہ طبع سوم ص٢٣٥،٢٣٦) پندرہ مہینہ گزر گئے مگر نہ عبداللہ آتھم اس عرصہ میں مرا، نہ اس نے عاجز انسان کو خدا بنانے سے رجوع کیا، نہ اس کو سخت ذلت پہنچی اور نہ بعض اندھے سوجاکھے ہوئے، نہ لنگڑے چلنے، بہرے سننے لگے۔ مگر میعاد گزرنے کے بعد مرزا قادیانی نے یہ کہہ دیا کہ عبداللہ آتھم ڈرتا رہا تھا۔ اس واسطے موت ٹل گئی اور اتنی ہی بات پر عجیب عجیب رنگ آمیزیوں کے ساتھ سینکڑوں صفحہ لکھ مارے۔ کیا کذاب ہونے کا ثبوت اس سے بھی کوئی بڑھ کر ہو سکتا ہے؟

محمدی بیگم

زوجناکها“ ہم نے اس کے ساتھ تیرا نکاح کر دیا۔ ”فسیکفیکهم الله ویردها اليك لا تبديل لكلمات الله ان ربك فعال لما یرید“ (تذکرہ طبع سوم ص١٥٩) اللہ ان سب کے مقابلہ پر تجھے کفایت کرے گا اور ان کو تیرے پاس واپس لائے گا۔ اللہ کے کلمات کو کوئی بدل نہیں سکتا۔ بے شک جو تیرا رب چاہے کر سکتا ہے۔ مگر ٢٠؍ فروری ١٨٨٦ء کے اشتہار میں یہ بھی تھا کہ اگر وہ لڑکی کسی اور سے بیاہی جائے گی تو اس کا خاوند روز نکاح سے اڑھائی سال تک فوت ہو جائے گا اور اس کا والد تین سال تک اور ان کے گھر پر تنگی اور تفرقہ اور مصیبت پڑیں گے۔“ مگر ١٨٩٢ء میں اس لڑکی کا نکاح سلطان محمد سے ہوا۔ جس کو پیش گوئی کے مطابق ٢١؍ اگست ١٨٩٤ء کو فوت ہو جانا چاہئے تھا۔ مگر وہ فوت نہیں ہوا اور اب تک زندہ ہے۔ پہلے ایک سپاہی تھا اب نان کمیشن آفیسر ہے اور اس بیوی سے گیارہ بچے ہوچکے ہیں۔ مرزا احمد بیگ ضرور تین سال کے اندر فوت ہوا۔ باقی تمام دعوے خاک میں مل گئے۔

٣٧

صفحہ ٤٧٤

مولانا محمد حسین بٹالوی

اور عذاب کی بابت بڑے زبردست الفاظ میں پیش گوئی کی کہ ١٥؍جنوری ١٩٠٠ء تک تیرہ ماہ میں وہ سخت ذلیل ہوں گے اور عذاب شدید میں مبتلا۔ تب وہ اپنے کئے پر پچھتائیں گے۔ اللہ کے عذاب سے کوئی ان کو بچا نہ سکے گا۔ (تذکرہ طبع سوم ص ٤٢٣، ٤٢٤) وہ اگست ١٩٠٧ء تک صحیح سلامت اور باعزت موجود ہیں۔

دلوں پر قبضہ

گوئی کی کہ: ”وہ آخیر دسمبر ١٩٠٢ء تک نازل ہوگا اور وہ بطور سلطان کے ہوگا۔ جو اپنی قبولیت اور روشنی کی وجہ سے دلوں پر قبضہ کر لے گا اور اگر ایسا نہ ہوا تو میں مردود، ملعون، کافر، بے دین، اور خائن۔“ وہ تیس سال بھی گزر گئے اور کوئی زبردست آسمانی نشان ایسا ظاہر نہ ہوا جو دلوں پر قبضہ کر لیتا۔

قادیان کشتی نوح

شائع کیا کہ طوفان طاعونی میں قادیان کشتی نوح کی طرح محفوظ رہے گی اور بے حد دعوؤں کے ساتھ، تمام مسلمان، نیچریوں، عیسائیوں اور آریاؤں کو للکارا اور کہا کہ آؤ میرے مقابلہ پر کسی دوسری بستی کو تو طاعون سے ایسا بچا کر دکھاؤ۔ جیسا کہ میرے ذریعہ سے خرق عادت کے طور پر قادیان بچائی گئی ہے۔ مگر جب مارچ واپریل ١٩٠٤ء تک ٢٨٠١ کی آبادی میں سے ٣١٣ آدمی طاعون سے ہلاک ہو گئے تو جھٹ ”نَسْیًا“ کا لفظ پکڑ لیا اور ”اِنّی اُحَافِظُ كُلَّ مَنْ فِى الدَّارِ“ (تذکرہ طبع سوم ص٤٠٨) کا الہام شائع کر دیا۔ مگر خاص ان کے گھر میں بھی عبدالکریم سیالکوٹی اور پیرو دتا مرزا کا خاص ملازم طاعون سے فوت ہوئے اور محمد اسحق کو پلیگ ہوا۔ اب اس کی یہ صورت رہ گئی۔ ”اِنّى اُحَافِظُ كُلَّ مَنْ فِى الدَّارِ وَاَنَا اُحَافِظُكَ خَاصَّةً “ میں ان سب کی حفاظت کروں گا جو گھر میں ہیں اور خاص کر تیری حفاظت کروں گا۔

مولوی ثناء اللہ کی قادیان آمد

کی پڑتال کے لئے میرے پاس ہرگز نہ آئیں گے۔ مگر اس تحدی کے بعد مولوی ثناء اللہ صاحب ١٠؍جنوری ١٩٠٣ء کو قادیان پہنچ گئے۔

٣٨

صفحہ ٤٧٥

باون سال کا کتا

کہتا ہے اور کلب کے معنی باون سال کی عمر میں فوت ہو جائے گا۔ مگر وہ ستر سال کی عمر کو پہنچ چکے۔

تجھے عزت کا خطاب

قیصر ہند کی شصت جوبلی کے مقام پر یہ الہامات شائع کئے۔ مگر آج تک کوئی نتیجہ نہیں۔

٥٠٠ صد کی دعا

کے ذریعہ سے فرزند نرینہ دلانے کا وعدہ کیا۔ جس کی میعاد ١٥ اگست ١٨٨٩ء تک تھی۔ مگر نتیجہ کبھی نہیں ہوا۔

تباہی خیز زلزلہ

ہو گا جو کسی آنکھ نے نہیں دیکھا اور نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی دل میں گذرا۔ ٢٨؍ فروری ١٩٠٦ء کے زلزلہ کے بعد ٢؍ مارچ کو شائع کیا۔ زلزلہ آنے کو ہے۔ (تذکرہ طبع سوم ص ٥٩٩) پہلے اپریل ١٩٠٤ء میں قیامت خیز زلزلہ کے خوف سے میدانوں میں خیمہ زن ہو گئے تھے۔ پھر مارچ ١٩٠٦ء کو زلزلہ آنے کو ہے، والے الہام کے بعد میدانوں میں چلے گئے اور مریدوں کے لئے اشتہارات جاری کر دیئے کہ وہ بھی خیموں میں رہیں۔ الغرض دونوں دفعہ چند مہینے انتظار کے بعد گاؤں میں واپس چلے گئے اور اب دنیا کے کسی حصہ سے زلزلہ کی خبر آئے تو فوراً شائع کر دیتے ہیں کہ زلزلہ کا نشان پورا ہو گیا۔ اگر یہ خبر ملے کہ شدت زلزلہ سے فلاں شہر یا جزیرہ تباہ ہو گیا تب تو ان کی عید ہو جاتی اور فتح و شادمانی کے اشتہار شائع ہوتے ہیں اور دنیا کو سنایا جاتا ہے کہ دیکھو مامور کے خلاف سے اٹلی تباہ ہوئی۔ ایکوے ڈور تباہ ہوا۔ کنگسٹن تباہ ہوا، فارموسا تباہ ہوا۔ سانس فرانسسکو تباہ ہوا۔ اگر اب بھی نہ مانو گے تو یہ حال ہوگا۔ دنیا کی تباہی اور ہمارے واسطے عید کا دن، عالم کباب ہوگا اور ہماری فتح ، خوشی اور کامیابی ہوگی۔ کیا ہی سچ ہے۔ ”وہاں کانا ہوگا پر خدا کانا نہیں ۔“ مخالفت ہو پنجاب میں اور تباہ ہو جائیں اٹلی، فارموسا، ایکوے ڈور، سانس فرانسسکو، کنگسٹن، لندن، فرانس اور سویڈن وغیرہ۔

٣٩

صفحہ ٤٧٦

پھر زلزلوں کی کثرت اور تواتر سے ثابت کیا جاتا ہے کہ زلزلہ کا نشان کس طرح متواتر پورا ہو رہا ہے۔ اگر مرزا قادیانی کی بھی پیش گوئی تھی کہ زلزلہ بکثرت اور متواتر آئیں گے تو وہ الفاظ کہاں ہیں۔ ہاں غیر متعلق طور پر اس قدر ضرور ہے۔ میں زلزلہ کا نشان دکھا دوں گا۔ پنج بار پچاس ساٹھ زلزلے آئیں گے۔ مگر کتنے عرصہ میں اور کس کس جگہ محض یہ کہہ دینا کہ زلزلے آئیں گے یا پچاس ساٹھ زلزلے آئیں گے۔ کوئی پیش گوئی نہیں۔ کیونکہ زلزلہ ہمیشہ آتے ہی رہتے ہیں۔ چنانچہ ڈاکٹر جان ملٹی جو علم زلازل میں ایک مشہور و معروف شخص ہیں۔ انہوں نے ایک چٹھی اخباروں میں شایع کرائی ہے۔ جس میں وہ ظاہر کرتے ہیں کہ یہ خیال کرنا غلط ہے کہ گزشتہ بارہ مہینوں میں زمین غیر معمولی زلازل سے ہلائی گئی۔ زمین میں ہر سال پچاس ساٹھ زلزلے آتے ہیں۔ جن میں سے زیادہ تر غیر آباد قطعات میں واقعہ ہوتے ہیں۔ اکیلے جاپان کو بارہ سو صدمہ سالانہ پہنچتے ہیں۔ ایسے صدمہ لندن میں دو صدیوں میں یک دفعہ ہوتا ہے۔ مورخہ ١٣/فروری ١٩٠٧ء کثرت زلازل کے متعلق مرزا قادیانی اور مرزائیوں کی شیخی اور مرزائیوں کا یہ کافی جواب ہے۔

سعد اللہ لدھیانوی

لدھیانوی کی نسبت الہام ذیل شائع کیا۔ ”ان شانئک ھو الابتر“ (تتمہ حقیقت الوحی ص ١١، ١٢، خزائن ج ٢٢ ص ٤٤٢، ٤٤٣) اور ہم نے اس طرح آتھم کا رجوع بحق ہونا بے ثبوت نہیں کیا۔ مگر ٤/جنوری ١٩٠٧ء کو مولوی سعد اللہ کا انتقال ہوا تو جھٹ مرزائیوں نے اپنے اخباروں اور رسالوں میں شور محشر برپا کر دیا کہ وہ ابتر مرا۔ ایک تو سلسلہ اولاد کے لحاظ سے، دوسرے اپنی امیدوں میں نامرادی کے لحاظ سے۔ سوم باوجود جوان اور قوی الجثہ ہونے کے مرزا کی زندگی میں فوت ہوا۔ ان ہر سہ امور کا جواب نہایت معقول اہل حدیث مورخہ ٨/فروری ١٩٠٧ء میں چھپا تھا۔ جس کو ہم باختصار اس جگہ درج کرتے ہیں۔ ”اس مضمون میں ایڈیٹر الحکم نے کمال جسارت سے کام لیا ہے اور دروغ گویم بروئے تو کی مثال کو بالکل صادق کر دکھایا ہے۔ منشی سعد اللہ مرحوم کو جوان اور قوی الجثہ لکھا ہے۔ حالانکہ وہ پنشن یاب تھے جو گورنمنٹ کے قاعدہ سے کسی طرح مضبوط اور قوی الجثہ اور کم عمر نہیں ہو سکتے۔ پھر مرحوم کی عمر کا مقابلہ کرشن جی سے کرتا ہے۔ مگر افسوس کہ مولوی عبدالکریم کرشن جی کے امام سے نہیں کرتا۔ جس کی نسبت حضرت کو کئی ایک الہام ہوئے تھے کہ بیماری سے صحت یاب ہوگا۔ مگر آخر کار وہ اسی بیماری میں مرا۔ خیر یہ تو اس کی معمولی لاف و گزاف ہے۔ اب سنئے ! اصل مضمون کا جواب۔

٤٠

صفحہ ٤٧٧

ہم بتلاتے ہیں کہ کرشن جی کی پیش گوئی بالکل جھوٹی ہوئی۔ کیونکہ کرشن قادیانی کا الہام تھا کہ منشی مرحوم ابتر ہوگا اور ابتر کے معنے ہیں جس کی اولاد نہ ہو۔ چنانچہ مفردات راغب (جس کو حکیم نورالدین قابل اعتماد لغات قرآنی جان کر حوالے کر دیا کرتے ہیں) لکھا ہے۔ ”فقیل فلان ابتر اذا لم یکن لہ عقب تخلفہ“ یعنی ابتر اس شخص کو کہتے ہیں جس کے پیچھے اولاد نہ ہو اور سنئے قاموس میں ہے۔ ”الذی لا عقب لہ ولا نسل لہ“ یعنی ابتر وہ ہے جس کی اولاد اور نسل نہ ہو اور سنئے صراح میں ہے۔ بے فرزند شدن۔ چونکہ کرشن قادیانی فقہ حنفیہ کی نسبت لکھا کرتے ہیں کہ میرا اس پر عمل ہے۔ سنئے فقہ کی کتاب ردالمحتار ج ٥ ص ٣٥٥ پر ہے۔ ”العقب عبارة عمن وجد من الولد بعد موت الانسان“ یعنی عقب اس کو کہتے ہیں جو مرنے کے بعد انسان کی اولاد رہتی ہے۔ پس ان حوالہ جات کے ملانے سے ثابت ہوا کہ جس انسان کی اولاد خصوصاً نرینہ اولاد ہو۔ وہ ابتر نہیں۔ چنانچہ تم خود ہی لکھتے ہو کہ منشی مرحوم نے حکیم نورالدین کے بیٹا مرنے پر حکیم کے لئے ابتر ہونے کی آرزو کی تھی جن کے جواب میں یہ آیت ابتر والی نازل ہوئی تھی۔ منشی سعد اللہ مرحوم کے ہاں جوان لڑکا ہے۔ پھر وہ ابتر کیسے ہوئے؟

چونکہ مرزائیوں کو معلوم تھا کہ منشی صاحب مرحوم کے ہاں لڑکا ہے۔ جس کی عمر خدا کے فضل سے ١٩ برس کی ہے اور وہ دفتر سرکاری میں ملازم ہے اور اس کی نسبت بھی حضرت حاجی عبدالرحیم خان ساکن کوٹلہ ضلع لدھیانہ کی دختر نیک اختر سے ہو چکی ہے اور عنقریب شادی ہونے والی تھی کہ منشی صاحب کا انتقال ہو گیا۔ اس لئے بڑی چالاکی اور ہوشیاری یا مکاری سے اس بات کو تسلیم کر کے کہ منشی صاحب مرحوم کا لڑکا ہے۔ یہ ہذیان بک دی کہ لڑکا ہے۔ مگر آگے کو اس کے اولاد نہیں۔ اس لئے منشی صاحب ابتر ہیں۔ تف ہے ایسی نبوت پر اور لعنت ہے ایسی بیجا حمایت پر۔ مرزائیو! ایمان سے کہنا یہی تمہاری ایمانداری ہے کہ پیش گوئی تو منشی سعد اللہ کے بے اولاد ہونے کی کی جاوے اور ثبوت اس کے بیٹے کے بے اولاد ہونے سے دیا جاوے۔ شرم چہ کتی ست کہ پیش مردماں بیاید۔

یہاں تک تو ابتر اور جوان موت مرنے کا جواب آگیا۔ اب رہا دوسرا شق کہ وہ اپنی امیدوں میں نامراد مرا۔ مرزا کو اپنے بامراد رہنے کا بڑا گھمنڈ اور دعویٰ ہے۔ حالانکہ اس کو اس قدر کامیابی بھی نہیں ہوئی۔ جو دیانند سرسوتی کو قوم ہنود میں اور سرسید کو مسلمانوں میں ہوئی۔ آج تک مرزا قادیانی اور مرزائیوں کے ہاتھ پر اس قدر ہندو، عیسائی، سکھ، آریا اور مشرک بھی مسلمان نہیں ہوئے۔ جس قدر اور عام مولویوں کے ہاتھ پر ہوتے ہیں۔ ریاست پٹیالہ میں ایک مولوی محمد

٤١

صفحہ ٤٧٨

اسحاق ، کے ہاتھ پر سینکڑوں لوگ مسلمان ہو چکے ، نہ مسلمانوں کا عیسائی ہونا مسدود ہوا۔ بلکہ ہزاروں مسلمان ہر سال عیسائی ہوتے جاتے ہیں ۔ مسلمان یتامیٰ کی بھی انجمن حمایت اسلام نے دستگیری کی۔ مگر مرزا قادیانی کو سوائے اپنے لنگر اور منارہ اور بہشتی مقبرہ اور توسیع مکان اور عیش و تنعم کے کچھ اور فکر ہی نہیں۔ ہاں منشی سعد اللہ مرحوم اور دیگر علمائے اسلام کو جو کامیابی ہوئی وہ ظاہر ہے کہ دجالی طوفان جو سیلاب کی طرح بڑھنا چاہتا ہے۔ اس کو ہر طرف سے بندھ لگ گئے۔ باوجودیکہ دجالیت کی حمایت میں ساٹھ ہزار اخبار، اشتہارات اور رسائل ماہوار شائع ہوتے ہیں اور ایک دو لاکھ کے قریب دجالی گرگے یا ایجنٹ ذریت شیطان کی طرح جا بجا پھیلے ہوئے ہیں۔ مگر پھر بھی تیس کروڑ مسلمانان عالم میں سے اس وقت انتیس کروڑ اور اٹھانوے لاکھ شیطانی مکاید سے بچے ہوئے ہیں اور محض دو لاکھ کے قریب پھنسے ہیں۔ یہ تعداد ہالوے صاحب کے مرہم اور حبوب کے خریداروں سے بھی بدرجہا کم ہے۔ جس نے اشتہار بازی کے ذریعہ سے اپنے مرہم اور حبوب کے اس قدر خریدار پیدا کر لئے تھے کہ مرتے ہوئے تین کروڑ روپیہ خیرات دے کر مرا تھا۔ اگر علمائے کرام اس وقت اسلام کی حفاظت نہ کرتے تو آج تک تمام مسلمان مرتد ہوجاتے۔ بلکہ مکہ ، مدینہ اور بیت المقدس میں بھی دجال کا قدم پہنچ جاتا۔ مرزا قادیانی نے اس کے متعلق (تتمہ حقیقت الوحی ص ٤، خزائن ج ٢٢ ص ٤٣٥) میں حسب ذیل لکھا ہے۔

”اور وہ پیش گوئی جس میں میں نے لکھا تھا کہ (سعد اللہ ) نامرادی اور ذلت کے ساتھ میرے روبرو مرے گا۔ وہ انجام آتھم کے عربی شعروں میں ہے اور وہ یہ ہے ( صفحہ کا حوالہ ندارد تا کہ کوئی مقابلہ نہ کر سکے)

يا ربنا افتح بيننا بكرامة
يا من يرى قلبي ولبّ خفائي

اے میرے خدا مجھ میں اور سعد اللہ میں فیصلہ کر یعنی جو کاذب ہے اس کو صادق کے سامنے ہلاک کر۔ اے وہ علیم وخبیر جو میرے دل کو اور میرے اندر کی پوشیدہ باتوں کو دیکھ رہا ہے۔

يا من ارى ابوابه مفتوحة
للسائلين فلا ترد دعائي

اے میرے خدا میں تیری رحمت کے دروازہ دعا کرنے والوں کے لئے کھلے دیکھتا ہوں۔ پس یہ جو میں نے سعد اللہ کے حق میں دعا کی ہے اس کو قبول فرما اور رد نہ کر یعنی میری زندگی میں اس کو ذلت کی موت دے۔“

٤٢

صفحہ ٤٧٩

مگر جب انجام آتھم کو از اوّل تا آخر دیکھا تو (ص ٢٨٢، خزائن ج ١١ ص ٢٨٢) پر ان شعروں کا ترجمہ حسب ذیل ملا۔

”يَا ربنا افتح بيننا بكرامة
يا من يرٰى قلبى ولـبّ لحائى

اے خدائے در ما بکرامت خود فیصلہ کن ...... اے آنکہ دل مرا و مغز پوست مرا می بینی۔

يا من ارٰى ابوابه مفتوحة
للسائلين فلا ترد دعائى

اے آنکہ درہائے او را ...... برائے سائلان کشادہ می بینم دعائے مرا رد مکن ۔“

اب ناظرین غور فرماویں کہ اوّل تو تتمہ حقیقۃ الوحی میں ان شعروں کا ترجمہ کرتے وقت الفاظ ذیل بڑھا دیئے ”یعنی کاذب کو صادق کے سامنے ہلاک کر۔ یعنی میری زندگی میں سعد اللہ کو ذلت کی موت دے۔“ اصل الفاظ میں نہ تو سعد اللہ کے مرنے یا مرزا قادیانی کی زندگی میں مرنے کا ذکر ہے۔ دوم: یہ مرزا قادیانی کی ایک بددعا ہے کہ پیش گوئی اور اس کی جس کی جبلی عادت ہے کہ تمام مسلمان، علماء، فضلاء کو ہمیشہ کوستا رہتا ہے۔ جب کوئی مر جاتا ہے تو اپنے کوسنے اور سب وشتم کو پیش گوئی بنالیتا ہے۔ سوم: اپنی طرف سے اکثر پیش گوئیاں کرتا رہتا ہے۔ جب کوئی پیش گوئی پوری نہ ہو تو اس کو اپنی آرزو میں شمار کرلیتا ہے۔ چنانچہ مولوی محمد حسین اور اس کے رفقاء کی پیش گوئی کی نسبت (حقیقۃ الوحی ص ١٨٨، خزائن ج ٢٢ ص ١٩٥) میں لکھتا ہے۔ ”صرف میری طرف سے دعا تھی کہ اتنی مدت میں ایسا ہو۔ سو خداوند تعالیٰ اپنی وحی کا پابند ہوتا ہے۔ اس پر فرض نہیں ہے جو اپنی طرف سے التجا کی جائے۔ بعینہ اس کو ملحوظ رکھے۔“ پس جو دعا یا بددعا اتفاقاً پوری ہوگئی وہ پیش گوئی بن گئی اور جو پوری نہ ہوئی اس کا کوئی ذکر نہیں۔

ڈوئی کی نسبت

گوئی کا الحکم یا البدر نے کوئی پتہ نہیں دیا کہ وہ کب اور کن الفاظ میں کی گئی تھی۔ تاکہ اصل الفاظ سے انجام کا مقابلہ کیا جائے۔ ہاں مرزا قادیانی نے اپنے الفاظ میں ضرور اس کو مباہلہ کے واسطے مدعو کیا تھا۔ اس طرح پر تو اس نے (انجام آتھم ص ٦٩ تا ٧٢، خزائن ج ١١ ص ٦٩ تا ٧٢) میں ایک سو چار مشائخ کا نام گنا کہ کل علماء اور مشائخ کو مباہلہ کے واسطے مدعو کیا تھا اور جتلا دیا تھا کہ اگر مباہلہ میں میرے مقابلہ پر آئے تو سب کے سب ایک سال کے اندر فنا ہو جائیں گے یا مہلک امراض میں

٤٣

صفحہ ٤٨٠

مبتلا اور اگر ان تمام میں سے خواہ ہزار ہی کیوں نہ ہوں ایک بھی بچا رہا تو میں جھوٹا۔ ساتھ ہی یہ بھی لکھ دیا تھا کہ اگر ستانے اور تکفیر و تکذیب سے باز آئے تو خدا کی لعنت کے نیچے مریں گے۔ ڈوئی بھی گویا کہ اسی فہرست میں شامل تھا۔ کیونکہ اسی قسم کے تحدیانہ الفاظ میں اپنی طرف سے ہی اس کو بھی مدعو کیا تھا۔ نہ کسی خاص الہام کی بناء پر۔ پس جب کہ اس فہرست میں سے ایک سال کے اندر کوئی نہ مرا۔ بلکہ چند ایک مرے بھی وہ مرزا قادیانی کی روسیاہ کرنے کو سالہا سال کے بعد مرے تو مرزا قادیانی جھوٹا ٹھہرا۔ پھر یہ کیسی بے شرمی ہے کہ ایک کی موت کو پکڑ کر مرزائی بغلیں بجانے لگ جاتے اور ڈینگیں مارتے ہیں۔ مثلاً منشی سعد اللہ کی موت پر جو اس مباہلہ سے بارہ سال بعد قدرت طور پر واقع ہوئی مرزائیوں نے جھٹ ان کا نام فہرست مباہلہ میں دس نمبر پر پیش کر کے ظاہر کر دیا کہ اس کے ساتھ مباہلہ ہو چکا تھا۔ اس لئے وہ صادق کے سامنے مر گیا۔ حالانکہ دعویٰ یہ تھا کہ اگر ایک سال کے اندر ایک بھی ان میں سے باقی رہا تو میں جھوٹا۔ (انجام آتھم ص ٦٧ خزائن ج ١١ ص ٦٧) ایسا ہی ڈوئی کی موت پر لم ترانیاں اور بیحد لاف و گزاف جب مرزا قادیانی کا کوئی الہام پیش نہیں کر سکتے تو یہ کہہ دیتے ہیں کہ وہ کاذب نبی تھا۔ اس لئے مرزا قادیانی کے سامنے جو سچا نبی ہے فوت ہو گیا۔ اگر یہ قطعی اصول ہے کہ صادق کے سامنے تمام کاذب فنا ہو جائیں تو پھر مسیلمہ سجاح اور عکرمہ کے سامنے کاذب نبی ٹھہرے۔ (نعوذ باللہ نعوذ باللہ) کیا مرزا قادیانی کے مرنے کے بعد مدعیان الہام یا فہرست مباہلہ میں سے جو شخص زندہ رہ جائیں گے وہ سب صادق ہوں گے اور مرزا قادیانی کاذب ٹھہرے گا۔ پس جب تک کلام الٰہی سے کسی کی موت کا تعین نہ ہو جائے۔ اس کا پہلے یا پیچھے مرنا کوئی معنی نہیں رکھتا۔

منشی الٰہی بخش

الہام ذیل کو موت کی پیش گوئی قرار دے دیا۔ بر مقام ہلاک شدہ یا رب۔ گر امیدے دہد مدار عجب عدد ١١ (گیارہ) اس کے ساتھ (اربعین نمبر ٣ ص ٢١ حاشیہ، خزائن ج ١٧ ص ٤٠٥) پر نوٹ ہے۔ ”میں نہیں جانتا کہ گیارہ دن ہیں، یا گیارہ ہفتہ یا گیارہ مہینے۔ مگر بہر حال ایک نشان میری بریت کے لئے اس مدت میں ظاہر ہو گا جو آپ کو سخت شرمندہ کرے گا۔ میں ہرگز یقین نہیں رکھتا کہ میں اس وقت سے پہلے مروں۔ جب تک کہ میرا قادر خدا ان جھوٹے الزاموں سے مجھے بری کر کے آپ کا کاذب ہونا ثابت نہ کرے۔“ اصل الہام اور مرزا قادیانی کی تفہیم و تشریح میں کوئی لفظ ایسا نہیں جو یہ ثابت کرے کہ منشی الٰہی بخش مرحوم مرزا قادیانی سے پہلے فوت ہو جائیں گے۔ موت

٤٤

صفحہ ٤٨١

کی طرف اشارہ تک نہیں بلکہ یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس کی زندگی میں کوئی نشان مرزا قادیانی کی بریت میں ظاہر ہوگا۔ جس سے وہ سخت شرمندہ ہوگا۔ گویا کہ وہ زندہ رہے گا۔ پھر یہ بات اڑاتے ہیں کہ وہ موسیٰ ہونے اور فرعون کو غرق کرنے کا مدعی تھا۔ مگر خود ہی طوفان طاعون میں غرق ہو گیا اور نامراد دنیا سے چل دیا۔ حالانکہ وہ خود عصائے موسیٰ کے سرورق پر اس کی تردید کر چکا ہے کہ میرا ہرگز ہرگز یہ دعویٰ نہیں کہ میں موسیٰ ہوں۔ ہاں ایک خواب میں اس نے دیکھا تھا کہ تین ملکوں کا پتنگ تیس تار کی ڈور پر اڑایا گیا ہے۔ جس کو انہوں نے عصائے موسیٰ کے ذریعہ سے اتار لیا۔ سو اس خواب کے بعد مرزا قادیانی کا رسالہ ضرورۃ الامام معہ خط عبدالکریم و معافی ٹیکس پہنچا۔ جس کے تیس صفحے تھے۔ سو یہ تیس تاروں کی ڈور والا تین ملکوں کا پتنگ تھا۔ جس کی تردید مرحوم نے ایک نہایت ہی زبردست کتاب میں کی اور خواب کی بناء پر اس کا نام ”عصائے موسیٰ“ رکھا جو سراسر قرآن اور احادیث صحیحہ سے لبریز ہے۔ ان کو مرزا نالی و بدرو، گوہ گند اور کیچڑ سے بھری ہوئی یا سنڈاس پاخانہ سے بھرا ہوا کہتا ہے۔ پس الٰہی بخش مرحوم نے اس کتاب کو کمال خوبی کے ساتھ پورا کیا اور شائع کرا دیا۔ یہی اس کی مراد تھی جس میں وہ کامیاب ہوا۔ چنانچہ خود اس کا الہامی شعر جو (عصائے موسیٰ ص٢٣) پر درج ہے۔ شاہد ہے ؎

ایں قدرم بس است کہ چوں زاہدان شہر
ناز و کرشمہ برسر منبر نمی کنم

مگر مرزا قادیانی اپنی ساری مرادوں میں نامراد رہا۔ مثلاً تکمیل براہین احمدیہ، من الرحمان، تفسیر کتاب مبین، تعمیر منارہ، کسر صلیب، اصلاح اندرونی اور اشاعت اسلام میں، اب رہا الٰہی بخش مرحوم کی موت سے مرزا قادیانی کی بریت۔ تو اس کی موت سے یہ کیسے ثابت ہو گیا کہ مرزا قادیانی نے براہین کی نسبت کوئی بدعہدی نہیں کی۔ بلکہ وہ اس کے تین سو دلائل اور تین سو جزو بکمال و تمام چھپوا کر شائع کر چکا۔ اس نے پانچ ہزار کا مال اپنی بیوی سے لے کر اس کے نام پر جدی باغ بہ نیت فاسد تیس سال کے واسطے رہن نہیں کیا۔ سراج منیر کا پیشگی چندہ اس نے خورد برد نہیں کیا۔ بلکہ اس کو چھپوا کر مفت شائع کر دیا۔ فتح علی شاہ رسالدار میجر سے پانچ سو روپیہ پیشگی دعائے فرزند نرینہ کے واسطے نہیں لیا تھا۔ یا اس میں نامراد نہیں رہا۔ مرزا قادیانی نے علمائے دین اور ذاکرین خدا کو محض اپنے منوانے کی خاطر حرامزادہ، ملعون، سور، چوہڑے، چمار، کتے، عليهم نعال لعن الله الف الف مرۃ نہیں کہا۔ کیا الٰہی بخش مرحوم کی وفات سے مرزا قادیانی کی صدہا ہفوات وکذب کی تحقیق اور تصدیق ہو گئی؟ کیا اس کی موت سے یہ ثابت ہو گیا کہ مرزا قادیانی کے

٤٥

صفحہ ٤٨٢

جس قدر الہامات جھوٹے ثابت ہوئے تھے وہ سچے ہیں؟ مسیح علیہ السلام کی پیش گوئیاں واقعی محض قیافہ اور قیاس تھے اور ان کے معجزات مسمریزی کرشمے تھے اور چار سو نبیوں کی پیش گوئی جھوٹی نکل گئی تھی۔ اگر ایک ڈوئی یا لاکھ مخالفین کا کسی مدعی نبوت کی زندگی میں مرجانا اس کی صداقت کا یقینی اور قطعی ثبوت ہو سکتا ہے تو پھر وہ کون سا نبی ہے جس کی صداقت اس طرح پر ثابت نہ ہو سکے؟ اور اگر اسی قدر ثبوت کافی و وافی تھا تو سارا قرآن شریف لغو ٹھہرتا ہے۔ کیونکہ وہ توحید، نبوت، جزائے اعمال، حشر و نشر اور ہر مسئلہ کے متعلق رنگارنگ دلائل پیش فرماتا ہے۔

ہاں! مرحوم الٰہی بخش کی موت نے مرزا قادیانی کی اس پیش گوئی کو ضرور جھوٹا کر دیا۔ جس میں مرزا قادیانی بڑے زور کے ساتھ شائع کیا تھا کہ مولوی محمد حسین اور الٰہی بخش صاحبان اس پر ایمان لے آئیں گے۔ چنانچہ وہ پیش گوئی (اعجاز احمدی ص ٥١، خزائن ج ١٩ ص ١٦٣) پر اشعار میں معہ ترجمہ حسب ذیل ہے۔

اقلب حسین یهتدی من یظنه
عجیب وعند اللّٰه هین والیسیر

کیا محمد حسین کا دل ہدایت پر آجائے گا یہ کون گمان کر سکتا ہے...... عجیب بات ہے اور خدا کے نزدیک سہل اور آسان ہے۔

ثلثه اشخاص به قد رائیتهم
ومنهم الهی بخش فاسمع و فکر

تین آدمی اس کے ساتھ اور ہیں..... ایک ان میں سے الٰہی بخش اکاؤنٹنٹ ملتان ہے۔ پس سن اور فکر کر۔

مگر (تتمہ حقیقت الوحی ص ١٠٣، خزائن ج ٢٢ ص ٥٣٩) پر بڑی چالاکی سے یہ لکھ دیا ہے کہ ”جب الٰہی بخش مبتلائے طاعون ہوا اور موت یقیناً سامنے آئی اور سخت دکھ اس کو پہنچا تو وہ اپنی غلطی پر متنبہ ہوا ہوگا ۔“ پھر اس خیال کو واقعی امر بنا کر لکھا ہے۔ ”چنانچہ اس واقعہ سے بہت پہلے میرے پر خدا نے ظاہر کر دیا تھا کہ وہ ان خیالات فاسدہ پر قائم نہیں رہے گا اور آخر ان خیالات سے رجوع کرے گا۔“ اب ناظرین سابقہ الفاظ اور موجودہ الفاظ کا خود مقابلہ کرلیں اور واقعی حالت سے ان کو ملا لیں۔ منشی عبدالحق کے مکان پر ان کا انتقال ہوا۔ ”یا حی یا قیوم برحمتک استغیث“ اخیر دم تک ان کی زبان پر جاری تھا۔

٤٦

بیٹا نامبارک

بخار مسلسل میں مبتلا ہوا۔ مرزا قاد ٹوٹ گیا۔“ چند یوم کے بعد جو کچھ میں شائع کیا گیا اور جھٹ اس کی ٦؍ ستمبر ١٩٠٧ء کی صبح کو وہ فوت ہو گ ے١٩٠ء کو عین مرزا قادیانی کے جلس ٹوسٹ میں قلق ہے۔“ دوم:” ایک گئے جو گاؤ خوردہ تھے۔“

مرزا قادیانی کے الہامات شیطانی

دن رات اپنی کبریائی اور روپیہ کما

مرزا کے الہامات

سے زیادہ ایسے جیسے کہ ابن صیاد س کچھ جھوٹے خبر رساں آتے ہیں آنحضرت ﷺ نے ابن صیاد کو فر پیش گوئیوں کا انجام دیکھ کر ہر ایک ہے۔ جیسا کہ ضمناً اوپر ظاہر کیا جا کہ اس کے سارے الہام قرآنی و

monic Inspiration. یعنی مرزا قادیانی کے

شیطانی کہہ دیتا ہے۔

صفحہ ٤٨٣

بیٹا نامبارک

٣٢....... مبارک احمد اس کے متعلق مرزا قادیانی کی بہت سی بشارات تھیں۔ وہ ستمبر ١٩٠٧ء میں بخار مسلسل میں مبتلا ہوا۔ مرزا قادیانی نے بہت دعا کی۔ الہام ہوا۔ ”قبول کی گئی۔ ٹووٹن کا تپ ٹوٹ گیا۔“ چند یوم کے بعد جو کچھ تخفیف ہوئی تو اس تخفیف کو کھلا نشان کی نشانیوں سے اخباروں میں شائع کیا گیا اور جھٹ اس کی شادی کر دی۔ مگر وہ تمام خوشی شادی مرگ ثابت ہوئی۔ کیونکہ ١٦ ستمبر ١٩٠٧ء کی صبح کو وہ فوت ہو گیا۔ جس سے میرے دو الہام پورے ہوئے۔ اوّل: یہ کہ ١٧ ستمبر ١٩٠٧ء کو عین مرزا قادیانی کے جشن صحت وشادی پر مجھے الہام ہوا تھا۔ ”آج مرزا قادیانی کے ٹوسٹ میں قلق ہے۔“ دوم: ”ایک خواب میں تین مرزائی ڈھائی ککڑیوں کی صورت میں کھائے گئے جو گاؤ خوردہ تھے۔“

نتیجہ....... الہامات بالا کے الفاظ اور ان کے نتائج پر مجموعی نظر کرنے سے صاف ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی کے الہامات شیطانی ہیں اور ابن صیاد کے الہامات سے مشابہہ۔ کیونکہ:

اوّل....... مرزا قادیانی کے تو سارے الہامات شیطانی ہوئے جو استکبار اور نفس پرستی کا پتلا ہے اور دن رات اپنی کبریائی اور روپیہ کمانے کی چالوں میں غرق رہتا ہے۔

مرزا کے الہامات

دوم....... جن الہامات میں کسی واقعہ کی پیش گوئی ہوتی ہے وہ عموماً غلط ثابت ہوتے ہیں۔ یا زیادہ سے زیادہ ایسے جیسے کہ ابن صیاد نے اپنے الہامات کی نسبت اقرار کیا تھا کہ میرے پاس کچھ سچے اور کچھ جھوٹے خبر رساں آتے ہیں۔ کبھی دو سچے اور ایک جھوٹا، اور کبھی دو جھوٹے اور ایک سچا۔ آنحضرت ﷺ نے ابن صیاد کو فرمایا تھا۔ تجھ پر بات خلط ملط ہو گئی۔ ایسا ہی مرزا قادیانی اپنی متحدیانہ پیش گوئیوں کا انجام دیکھ کر ہر ایک پیش گوئی کو رنگا رنگ حاشیوں اور تاویلوں کے ساتھ شائع کرتا ہے۔ جیسا کہ عموماً اوپر ظاہر کیا جاچکا۔ مگر آخر پکا دجال پھر بھی یہ کہنے اور لکھنے سے باز نہیں آتا کہ اس کے سارے الہام قرآنی وحی کی طرح قطعاً یقینی اور شیطانی آمیزش سے پاک ہیں۔

سوم....... مجھ کو مرزا قادیانی کے الہامات کی نسبت خواب میں مفصلہ ذیل انگریزی فقرہ دکھایا گیا۔ The Revelations of Mirza are Demonic Inspiration. یعنی مرزا قادیانی کے الہامات شیطانی القاء ہیں۔

چہارم....... اوروں کو جب مرزا قادیانی کی طرح کے الہامات ہوتے ہیں تو وہ ان کو سن کر فوراً شیطانی کہہ دیتا ہے۔

٤٧

صفحہ ٤٨٤

پنجم ...... اس کے اپنے الہام ”قرآنی وحی“ کے صریحا خلاف ہوتے ہیں۔

ششم ...... ان کا اکثر حصہ جھوٹا ثابت ہوتا ہے اور جن الہامات میں کثیر حصہ جھوٹ ہو، وہ شیطانی ہیں ۔ جیسا کہ قرآن مجید فرماتا ہے ۔ ”هل انبئكم على من تنزل الشياطين تنزل على افاك اثيم يلقون السمع واكثرهم لكاذبون (الشعراء:٢٢١ تا ٢٢٣)“

ہفتم ...... مرزا قادیانی کا بدعہد، خائن، متکبر، فحش گو، کذاب، طعان، لعان، خود پسند، نفس پرست ہونا خداوند عالم کی توہین، انبیاء علیہم السلام اور اسلام کی تحقیر کرنا، مسیح الدجال اور کانے دجال میں بخوبی ثابت کر دیا گیا اور قرآن مجید کی اسی آیت سے صاف ظاہر ہے کہ مفتری، بدعمل لوگوں پر ہی شیاطین نازل ہوا کرتے ہیں۔

ہشتم ...... جھوٹے وعدے دینا، بے بنیاد آرزوں میں پھولنا، چکنی چپڑی باتوں اور بے حد لم ترانیوں، خالی مشیخت اور دھوکے سے پر ہونا، زخرف القول اور غرور کا پورا نقشہ ہونا، شیطانی الہاموں کی خاص شناخت ہے۔ چنانچہ قرآن مجید فرماتا ہے۔ ”يعدهم ويمنيهم وما يعدهم الشيطان الا غروراً (النساء: ١٢٠)“ شیطان ان کو وعدے دیتا اور امید دلاتا ہے۔ مگر شیطان جو ان کو وعدے دیتا ہے وہ جھوٹے ہی ہوتے ہیں۔ ”وكذالك جعلنا لكل نبى عدوالشياطين الجن والانس يوحى بعضهم الى بعض زخرف القول غرورا (الانعام:١١٢)“ اسی طرح ہم نے ہر نبی کے واسطے شیاطین جن و انس مقرر کئے ہیں جن میں سے بعض بعض کی طرف چکنی چپڑی اور دھوکہ آمیز باتیں وحی کرتے رہتے ہیں۔ مرزا قادیانی کے الہامات عموماً اسی قسم کے ہوتے ہیں۔ جیسا کہ نمونتاً اوپر بیان کئے گئے اور اب خود مرزا قادیانی کو بھی ان پر اعتبار نہیں رہا۔

نہم ...... مولوی عبدالرحمان لکھوکے والے اور شیخ الہی بخش اکاونٹنٹ کے الہامات مرزا قادیانی کی نسبت ہیں۔ ”وما يعدهم الشيطان الا غروراً“

مرزا کے الہامات

دہم ...... اگر مرزا قادیانی کے بعض خوابات یا الہامات سچ بھی ہو جائیں تو شیطانی الہامات کا مصداق ہوں گے۔ جیسا کہ شیطانی الہامات کی نسبت قرآن مجید فرماتا ہے: ”واكثرهم لكاذبون“ یا زیادہ سے زیادہ ابن صیاد کے الہامات کا نمونہ جس نے کہا تھا کہ میرے پاس دو جھوٹے خبر رساں آتے ہیں اور ایک سچا اور کبھی دو سچے آتے ہیں اور ایک جھوٹا اور جس کی نسبت مشکوٰۃ نبوت نے یہ فیصلہ دیا تھا۔ خلط علیک الامر ۔ تجھ پر خلط ملط ہو گئی۔ وہ رحمانی الہامات کسی طرح

٤٨

نہیں ہو سکتے ۔ کیونکہ وہ اکثر ہوتا ہے اور اکثر قرآن مجید او

قرآن مجید کی طرح برا

براہین احمدیہ کی دلائل سے قرآن مجید کی حقا اپنی کتابوں میں دکھا سکے یا اس کو دس ہزار روپیہ انعام چاہی۔ اس طرح پر جب ک کتاب تین سو جز تک پہنچ گ حد انتظار کے بعد لوگوں نے ذیل ہیں۔ ”اس توقف کو ہونے کی تیس برس میں ت براہین کی تکمیل میں توقف پیشگی خریداروں سے روپی احمدیہ کا حصہ مفت تقسیم کیا ہے اور ایسے لوگ بہت کم وہ تو صرف چند ہی انسان مطیع ہو کر خریداروں کو ف کمینگی اور سفاہت ہے، مرتبہ اشتہار دیدیا کہ جو پاس روانہ کر دے اور اپن اندر رکھتے تھے انہوں نے خراب کر کے بھیجا۔ مگر ہما تابعداری کرنا نہیں چاہ

صفحہ ٤٨٥

نہیں ہو سکتے۔ کیونکہ وہ اکثر جھوٹے نکلتے ہیں۔ اکثر میں ذاتی مشیخت ، کبریائی اور اغراض کا آمیز ہوتا ہے اور اکثر قرآن مجید اور احادیث صحیحہ کے خلاف ہوتے ہیں۔

باب پنجم

قرآن مجید کی طرح براہین کے تئیس برس

براہین احمدیہ کی نسبت مرزا قادیانی نے ١٨٨٠ء میں شائع کیا کہ اسمیں تین سو بے نظیر دلائل سے قرآن مجید کی حقانیت و افضلیت ثابت کی گئی ہے۔ اگر کوئی شخص ان کا پانچواں حصہ بھی اپنی کتابوں میں دکھا سکے یا ہمارے دلائل کو ہی نمبر وار توڑ سکے تو میں حلفیہ شرعی اقرار کرتا ہوں کہ اس کو دس ہزار روپیہ انعام دوں گا۔ اس کی اشاعت کے لئے پانچ روپیہ قیمت رکھ کر پیشگی امداد چاہی۔ اس طرح پر جب کافی روپیہ وصول ہو لیا تو اس کی اشاعت بند کر دی اور یہ ظاہر کیا کہ یہ کتاب تین سو جز تک پہنچ چکی ہے اور اس کی قیمت دس روپیہ اور پچیس روپیہ رکھ دی۔ جب بے حد انتظار کے بعد لوگوں نے تقاضے شروع کئے تو ایک عجیب اشتہار شائع کیا جس کے الفاظ حسب ذیل ہیں۔ ”اس توقف کو بطور اعتراض پیش کرنا محض لغو ہے۔ قرآن کریم بھی باوجود کلام الٰہی ہونے کے تئیس برس میں نازل ہوا۔ پھر اگر خدا تعالیٰ کی حکمت نے بعض مصالح کی غرض سے براہین کی تکمیل میں توقف ڈال دی تو اس میں کون سا ہرج تھا اور اگر یہ خیال کیا جائے کہ بطور پیشگی خریداروں سے روپیہ لیا ہے تو ایسا خیال کرنا بھی حمق اور نادانشی ہے۔ کیونکہ اکثر براہین احمدیہ کا حصہ مفت تقسیم کیا گیا ہے اور بعض سے پانچ روپیہ اور بعض سے آٹھ آنہ تک قیمت لی گئی ہے اور ایسے لوگ بہت کم ہیں جن سے دس روپیہ لئے گئے اور جن سے پچیس روپیہ لئے گئے ہوں وہ تو صرف چند ہی انسان ہیں۔ پھر باوجود اس قیمت کے جو ان حصص براہین احمدیہ کے مقابل جو مطبع ہو کر خریداروں کو دیئے گئے کچھ عجب نہیں۔ بلکہ عین موزوں ہے۔ اعتراض کرنا سراسر کمینگی اور سفاہت ہے۔ مگر پھر بھی ہم نے بعض جاہلوں کے ناحق شور و غوغا کا خیال کر کے دو مرتبہ اشتہار دیدیا کہ جو شخص براہین احمدیہ کی قیمت واپس لینا چاہے وہ ہماری کتابیں ہمارے پاس روانہ کر دے اور اپنی قیمت واپس لے لے۔ چنانچہ وہ تمام لوگ جو اس قسم کی جہالت اپنے اندر رکھتے تھے انہوں نے کتابیں واپس کر دیں اور قیمت لے لی اور بعض نے کتابوں کو بہت خراب کر کے بھیجا۔ مگر ہم نے قیمت دے دی اور کئی دفعہ ہم لکھ چکے ہیں کہ ہم ایسے کمینہ طبعوں کی ناز برداری کرنا نہیں چاہتے اور ہر ایک وقت قیمت واپس دینے پر تیار ہیں۔ چنانچہ خدا تعالیٰ کا

٤٩

صفحہ ٤٨٦

شکر ہے کہ ایسے دنی الطبع لوگوں سے خدا تعالیٰ نے ہم کو فراغت بخشی۔“

(تبلیغ رسالت ج٧ ص ٧٧، ٧٨، مجموعہ اشتہارات ج٣ ص ٨٦، ٨٧)

کیا کوئی شریف یا خبیث اور باحیا آدمی سفلہ اور کمینہ اور احمق اور دنی الطبع کہلا کر واپسی قیمت کا مطالبہ کر سکتا تھا؟ واپسی قیمت کا عجب اعلان ہے۔

تین سو نہیں صرف تیس

اب ناظرین انصاف سے اس اشتہار کی عیاریوں پر غور فرماویں:

ہو گئی اور مرزا قادیانی اس کام کو نہ کر سکا تو معذرت کے ساتھ لوگوں کا روپیہ بلا طلب واپس کر دیتا اور ان کی پریشانی و مایوسی کی بابت معافی مانگتا یا افسوس کے ساتھ یہی ظاہر کرتا کہ جو صاحب پیشگی روپیہ عنایت فرما چکے ہیں ان میں سے جو اپنی امداد کو واپس لینا چاہیں ہمیں اطلاع دیں۔ بلکہ برعکس ان محسنوں کو جنہوں نے قبل از وقت کتاب کے بغیر امداد دی اور پھر بے حد انتظار کے بعد طلب حق کیا تو ان کو سفلہ، کمینہ، جاہل، دنی الطبع، احمق، سفیہ وغیرہ الفاظ سے پکارا گیا۔ اس سے یہ فائدہ ہوا کہ بہت ہی کم لوگوں نے ایسے الفاظ دیکھ کر مطالبہ کیا۔ قیمتی کتابوں کے خریدار عموماً اہل ثروت اور اہل دل لوگ ہوتے ہیں تو وہ عموماً کیوں مطالبہ کرنے لگے تھے۔ اس طرح دو چار فیصدی کو روپیہ واپس دے کر تین سو جز کی کتاب دینے کی بجائے تیس جز میں ہی فراغت حاصل کر لی۔ خلیفہ سید محمد حسن صاحب مرحوم وزیر اعظم ریاست پٹیالہ نے صما، پانچ سو روپیہ (حقیقت الوحی) جیب خاص سے اور پچھتر روپیہ اوروں سے جمع کر کے بھیجا تھا جو براہین کے حصہ دوئم میں شائع ہو چکا ہے اوروں کی رقومات شائع نہیں ہوئیں۔ جب وہ توہین حسین علیہ السلام کی بناء پر مرزا قادیانی سے سخت بیزار ہو گئے تو انہوں نے واپسی کا کوئی مطالبہ نہیں کیا۔

ساڑھے آٹھ ہزار

بن بیٹھے۔ کیا عمدہ حساب ہے جو کتاب براہین کی طرح کثیرالاشاعت ہو جو ستائیس برس میں چار دفعہ چھپ چکی ہے۔ اس کی قیمت پانچ سو صفحہ کے لئے آٹھ آنہ ہو سکتی ہے۔ پس اگر یہ مان لیا جائے کہ اوسطاً پانچ روپیہ ہی فی کتاب وصول ہوئے تو دو ہزار کتابوں کی قیمت دس ہزار روپیہ ہوئے۔ اگر پانچ فیصدی قیمت واپس کر دی گئی ہو تو دو ہزار میں سے سو اشخاص کی قیمت واپس ہوئی۔ یعنی کل پانچ سو روپیہ تب بھی ٩٥٥٠ روپیہ پس انداز رہے۔ اس حجم کی کتابوں پر دو ہزار

٥٠

صفحہ ٤٨٧

کے لئے زیادہ سے زیادہ ایک ہزار روپیہ صرف آ سکتا ہے۔ اس لئے یہ صرف نکال کر بھی آٹھ ہزار پانچ سو پچاس روپیہ پس انداز رہا۔ جو مخلوق خدا کی امانت ہے۔ یا تو حصہ رسد سب کو واپس ہونا چاہئے یا تین سو جزو جو عرصہ ستائیس سال سے حسب تحریر مرزا لکھے ہوئے پڑے ہیں۔ مکمل چھپ کر خریداران کو ملنی چاہئے۔

حصص کی قیمت پانچ روپیہ موزوں ہے۔ اگر بد دیانتی اور بے حیائی نہیں تو اور کیا ہے؟

چھپی۔ اس پر کل اس قدر صرف ہوا، مفت اس قدر گئی۔ پانچ روپیہ میں اس قدر، دس روپیہ میں اس قدر، پچیس روپیہ میں اس قدر، امداداً اس قدر، موصول ہوا کل اس قدر ادا کیا گیا۔ باقی اس قدر محسنین براہین احمدیہ کی امانت ہے۔ جس سے دنیا صحیح نتیجہ نکال سکتی کیا ایسا گول مول حساب پیش کرنا ابلہ فریبی اور دھوکہ نہیں تو اور کیا ہے؟

کردی۔ مگر یہ نہ جتایا کہ آٹھ آنہ کی چیز کے بعض سے پانچ سو اور بعض سے سو سو روپیہ لیا۔

تنزیل قرآنی سے تشبیہ

کیا ہے؟ کیا قرآن مجید کی نسبت پیشگی روپیہ وصول کر لیا گیا تھا؟ کیا قرآن مجید کی نسبت خریداروں کو وعدہ دیا گیا تھا کہ اب اس کی طبع میں دیر نہ ہوگی؟ کیا آپ کی براہین کی طرح قرآن مجید آنحضرت ﷺ کی تصنیف تھا۔ کیا قرآن مجید تکمیل کو پہنچ کر ستائیس سال تک پوشیدہ رکھا گیا تھا؟ جب مرزا قادیانی خود اشتہار دے چکا کہ اس میں تین سو دلائل سے اسلام کی افضلیت کل مذاہب پر ثابت کی گئی ہے اور کتاب تین سو جز کو پہنچ گئی ہے پھر اس تمام کو کیوں شائع نہ کیا گیا۔ اگر اس میں یہ حکمت نہیں کہ اس کی اشاعت سے اپنی لیاقت اور حقیقت کا دعویٰ طشت از بام ہو جائے گا اور دس ہزار روپیہ انعام کے مدعی کھڑے ہو جائیں گے یا خریداروں کا ہضم کیا ہوا روپیہ اگلنا پڑے گا تو اور کیا مصلحت ہے؟

خدا نے وعدہ خلافی کرائی

اس میں کیا حرج ہے۔ کیا تین سو بے نظیر اور قوی دلائل کا پوشیدہ رکھنا جن سے اسلام کی افضلیت

٥١

صفحہ ٤٨٨

روز روشن کی طرح ظاہر ہو جاتی کوئی مصلحت رکھتا ہے؟ کیا یہ ایسا ہی جواب نہیں جیسا ایک چور یا خونی ثبوت جرم کے بعد یہ کہہ دے کہ تقدیر نے ایسا کر دیا۔ میرا کیا قصور ہے؟

کمینہ کون؟

جاہل، احمق، سفلہ، کمینہ، دنی الطبع، سفیہ ٹھہرے۔ تو مرزا قادیانی جس نے تھوڑے ہی دنوں کے بعد براہین کی پہلی جلد کی بابت جو محض ایک اشتہار ہے۔ تمام لوگوں سے اس کی واپسی یا پیشگی قیمت کا مطالبہ سخت الفاظ میں شروع کر دیا تھا۔ کیا ٹھہرا؟ احمق یا جاہل، یا سفلہ، کمینہ، دنی الطبع یا سب کچھ؟

اشتہار دیتا ہے کہ ستائیس سال سے یہ کتاب شائع ہو چکی ہے۔ لیکن کسی کو اس کا مقابلہ کرنے اور انعام کے مطالبہ کرنے کا حوصلہ ہی نہیں پڑا۔ کیا یہ سفید جھوٹ نہیں ہے؟ کیا وہ تین سو بے نظیر دلائل جن کے مقابلہ کے واسطے دس ہزار روپیہ انعام رکھا گیا تھا۔ ان حصوں میں آچکی، کیا کل براہین احمدیہ اسی قدر تھی اور مرزا قادیانی کا یہ شائع کرنا کہ اب یہ کتاب تین سو جز تک پہنچ چکی۔ اس میں تین سو بے نظیر دلائل ہیں۔ محض جھوٹ تھا؟ کیا انہی حصوں کی قیمت پچیس روپیہ اور سو روپیہ رکھی گئی تھی؟

مرزا کی عیاری

مصنف نے اس کتاب کو چھپوایا تھا تو اس کی قیمت پچیس روپیہ رکھی تھی۔ پھر اس کا حجم اتنا بڑھ گیا کہ اگر سو روپیہ بھی قیمت رکھی جاتی تو کم تھی۔ لیکن محض ہمدردی خلائق کے لحاظ سے انہوں نے اس کی قیمت نہ بڑھائی اور کتاب ہاتھوں ہاتھ اٹھ گئی۔ کیا سو روپیہ قیمت کے بھی تین جز تھے؟ پھر موجودہ ایڈیشن کی بابت لکھتا ہے کہ باوجود ان تمام خوبیوں کے قیمت بلا جلد کے صرف پانچ روپیہ اور مجلد کے پانچ روپے بارہ آنے رکھی ہے۔ اے کانے دجالو! کیا اسی کا نام دیانت، امانت، خدا پرستی، راست بازی اور خدا ترسی ہے کہ صریح جھوٹ بولا جائے۔ دھوکہ دیا جائے۔ آٹھ آنہ کی شے کی قیمت پانچ روپیہ رکھ کر اس کا نام ہمدردی خلائق رکھا جائے۔ تمہید اور دیباچہ کو پوری کتاب بتلا کر پوری قیمت وصول کی جائے۔ پوری قیمت وصول کر کے اور سو سو آدمیوں کو قیمت واپس دے کر کل کی طرف سے اپنے آپ کو فارغ البال سمجھا جائے۔ محض ایک دلیل کو تین سو دلائل کے برابر مشتہر کیا جائے۔ اے کانے دجالو! کیا نجات یافتہ ہونے کے یہی دلائل ہیں؟ کیا سچے رسولوں اور امتیوں کی یہی علامات ہیں؟ کیا انہی خوبیوں میں تمام دنیا پر فوق لے جانا، اپنے لئے بہشتی

٥٢

صفحہ ٤٨٩

ہونے کی دلیل اور دوسروں کے واسطے جہنمی ہونے کی دلیل ہے؟ کیا قبل از وقت یہ شائع کرنا کہ براہین میں تین سو بے نظیر دلائل سے اسلام کی افضلیت تمام مذاہب پر ثابت کی گئی ہے۔ سراسر جھوٹ اور جھوٹی شیخی نہیں تھا؟ اے کانے دجالو! کیا ایسے مکاید سے دنیا کو اپنے جال میں پھنسا لینا اور روپیہ ٹھگ لینا۔ تمہارے الٰہی کارخانہ کی عظیم الشان کامیابی کی دلیل ہے؟ کیا سچ ہے کہ ”دجال کانا ہو گا مگر خدا کانا نہیں۔“

تحریر بالا جو اخبارات میں شائع ہوئی تھی۔ اس کا جواب بدر مورخہ ٢٥؍ اکتوبر ١٩٠٦ء میں شائع ہوا ہے جو مرزائیوں کی معقولیت اور شائستگی اور راست بازی کا نمونہ ہے۔ اس لئے لفظ بلفظ ذیل میں درج کیا جاتا ہے۔ مرزائی تو کبھی میری تحریر کو اپنے رسالوں اور اخباروں میں شائع نہیں کرتے اور یک طرفہ غل مچاؤہ مارا کرتے ہیں۔ کیونکہ ”کانے دجال“ ہیں۔ تاکہ اصل بات دبی رہے اور مشرک طبع، انسان پرست، دام افتادوں کی تسلی ہو جائے۔ میں ہمیشہ ان کے اصل الفاظ نقل کر کے اس پر قلم اٹھاتا ہوں تاکہ حق و باطل کا مقابلہ ہو جائے، مگر باطل پرستوں میں یہ طاقت کہاں ان کا تو کام ہی خیانت، افتراء اور شور و غوغا سے چلتا ہے۔ وہ تحریر بدر حسب ذیل ہے۔

ڈاکٹر عبدالحکیم خاں مرتد کی دروغ بیانیاں

”اخویم منشی حبیب الرحمن صاحب رئیس حاجی پورہ نے ڈاکٹر مرتد سے خرید کی ہوئی چند ایک کتابیں اسے واپس کی ہیں۔ اس پر خان صاحب یک دفعہ آگ بگولا ہو کر ناپاک طبع لوگوں کی طرح مرزا قادیانی کو گالیاں دینے اور چوہڑے چماروں میں جیسے ناپاک الفاظ بولے جاتے ہیں وہ بولنے لگ پڑے ہیں اور اس گندہ دہانی کے اظہار کے واسطے آپ نے پیسہ اخبار کے پرچے کو برگزیدہ کیا ہے۔ پیسہ اخبار نے بھی غالباً غنیمت سمجھا ہے کہ ہندوؤں کے حق میں منافقانہ مضامین لکھ کر جو وہ اسلامی پبلک کو ناراض کر چکا ہے تو شاید اس کا عوض اس طرح ہو جائے کہ حضرت امامنا (مرزا قادیانی) کے حق میں دشنام دہی کے ساتھ اپنے اخبار کے کالم سیاہ کر کے پھر عوام کالانعام کو فریفتہ بنائے۔ کتابیں تو حبیب الرحمن نے واپس کیں اور ڈاکٹر صاحب نے گالیوں کی بوچھاڑ حضرت (مرزا قادیانی) پر شروع کر دی ہے۔ لیکن یہ تعجب کی بات نہیں۔ کمینے لوگوں میں لڑائی کا ہمیشہ سے یہی دستور چلا آیا ہے کہ جب کسی پر خفا ہوتے ہیں تو اس کے پیر کو گالیاں دیا کرتے ہیں۔ اس مضمون میں ڈاکٹر مرتد نے اوّل سے آخر تک یہ رونا رویا ہے کہ براہین کی قیمت حضرت صاحب نے پیشگی وصول کر لی تھی۔ جس طرح جاہل عیسائیوں نے یہ طرز اختیار کیا ہوا ہے کہ مسئلہ جہاد، غلامی، قصہ زینب وغیرہ کے متعلق ہزاروں دفعہ تسلی بخش جواب دیئے جا چکے ہیں۔ مگر کورے

٥٣

صفحہ ٤٩٠

اور کالے پادری سر بازار پھر وہی مرنے کی ایک ٹانگ کا راگ الاپے چلے جاتے ہیں۔ اسی طرح ہمارے مخالف بھی انہی باتوں کے معقول جوابات ہزاروں دفعہ سن کر پھر وہی بات رٹے چلے جاتے ہیں۔ اگر ڈاکٹر صاحب میں کچھ دیانت اور امانت کی بو ہوتی تو ان کو مناسب تھا کہ اوّل ان لوگوں کی فہرست پیش کرتے۔ جنہوں نے قیمت پیشگی دی تھی۔ جو چند ایک معدود آدمی تھے اور پھر اس کے مقابل میں ان لوگوں کی فہرست بھی رکھ لیتے جن کو کتاب مفت تقسیم کی گئی تھی یا صرف برائے نام قیمت پر اور پھر اس زمانہ میں لکھائی، چھپائی، کاغذ وغیرہ کے خرچ کا اندازہ کرتے۔ کیونکہ اس زمانہ میں قادیان میں کوئی مطبع نہ تھا۔ کام امرتسر میں چھپتا تھا۔ ریل بھی نہ تھی۔ پھر حضرت صاحب کے اشتہار پر جن لوگوں نے قیمتیں واپس لے لیں ان کی فہرست پیش کرتے۔ پھر اس کتاب کے ذریعہ سے غیر مسلمین پر جو حجت قائم ہو چکی ہے اس کی طرف نگاہ کرتے۔ پھر اسی براہین کے معاملہ میں مخالفین کو جو جواب وہ خود (خواہ صدق دل سے خواہ منافقانہ طور پر) دیا کرتے تھے ان پر ہی غور کر لیتے تو ان کو اس قدر دکھ نہ اٹھانا پڑتا۔ خیر اس پر بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے اور ایسا ہی حضرت صاحب کے پاس چندوں کے بہت آنے، یا گھر میں زیور کے ہونے پر جو کچھ مارے حسد کے ڈاکٹر صاحب یا ان کے ہم خیالوں کے سینوں کے اندر نار جہنم شعلہ زن ہے۔ اس پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے اور لکھا جا سکتا ہے۔ جس کے واسطے سردست گنجائش نہیں۔ میں نے اس وقت ایک نہایت مختصر لیکن ضروری بات کے لکھنے کے واسطے قلم اٹھایا ہے اور وہ یہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے اسی مضمون میں جہاں لنگر اور مدرسہ اور میگزین اور الحکم کو بڑے بڑے چندے دینے کا احسان جتلایا ہے۔ وہاں اس اخبار کو بھی پانچ روپے سالانہ چندہ عطاء کرنے کا ممنون احسان بتایا ہے۔ حضرت کے پاس جو چندہ آتا ہے اس کا تو کوئی حساب نہیں رکھا جاتا۔ کوئی اپنی خوشی سے کچھ حضرت کے پیش کرتا ہے تو وہ لیتے ہیں۔ ورنہ وہ کبھی کسی سے نہ مانگتے ہیں نہ جتلاتے۔ اس واسطے اس کے متعلق ڈاکٹر صاحب کو ہزاروں چھوڑ لاکھوں کا جھوٹ بولنے کی بھی گنجائش ہے۔ مدرسہ کا انتظام بھی کچھ مدت عاجز کے پاس رہا تھا۔ مجھے یاد نہیں پڑتا کہ ڈاکٹر صاحب کے نام پر کبھی کوئی ایسی رقم دیکھی گئی ہو جس پر وہ ڈینگیں مار رہے ہیں۔ لیکن ڈاکٹر صاحب کے ان تمام دعوؤں کی حقیقت کی مثال میں صرف اس اخبار کے ہی دلیرانہ جھوٹ کا افشاء کرنا کافی ہوگا۔ آج ڈیڑھ سال سے اخبار بدر کا چارج میرے پاس ہے اور آج تک اخبار برابر ڈاکٹر صاحب کو بھیجا جاتا ہے۔ ١٩٠٥ء اور ١٩٠٦ء کے چندے میرے سامنے لوگوں سے وصول ہوئے ہیں۔ بلکہ ١٩٠٧ء کی بھی پیشگی قیمت بعض سے وصول ہو رہی ہے۔ لیکن اس ڈیڑھ سال کے عرصہ میں ڈاکٹر

٥٢

صفحہ ٤٩١

صاحب نے ایک پائی بھی آج تک میرے سامنے اخبار کو نہیں دی۔ میں تعجب کرتا ہوں کہ ڈاکٹر صاحب نے مرزا قادیانی کو چھوڑا۔ آنحضرت ﷺ کی رسالت کو بے کار مانا۔ انبیاء پر ایمان لانا غیر ضروری قرار دیا۔ مگر کیا عام اخلاقی باتیں بھی اب ان کے نزدیک قابل عمل نہیں اور کیا اب وہ ایسے خطرناک ہو گئے کہ صریح جھوٹ بولنا ان کے نزدیک نہ صرف جائز بلکہ فرض اور واجب کا درجہ رکھتا ہے۔ میں نے اس خیال سے کہ شاید گذشتہ سالوں میں برادر محمد افضل کو وہ پانچ پانچ روپیہ دیا کرتے ہوں پرانے رجسٹر نکال کر بھی دیکھے ہیں۔ مگر ان سے بھی کہیں شہادت نہیں ملتی کہ ڈاکٹر صاحب نے کبھی اخبار بدر کی ٥ روپے قیمت سالانہ دی ہو۔ رجسٹروں سے معلوم ہوا ہے کہ ١٩٠٣ء کی قیمت آپ نے صرف دو روپے چھ آنہ دی تھی اور اس کے بعد کے سالوں کی قیمت دو روپے آٹھ آنہ سالانہ کے حساب سے دی تھی۔ حالانکہ قیمت دو روپے بارہ آنہ سالانہ ہے۔ اس سے قیاس کیا جاسکتا ہے کہ لنگر کو جو آپ نے ہزاروں روپے دیئے ان کی حقیقت کیا ہے۔ باوجود اس جھوٹ کی عادت کے پھر ملہم ہونے کا دعویٰ جس شخص نے ایسی بے باکی سے دروغ بیانی پر کمر باندھی ظاہر ہے کہ اس کے الہامات میں شیطان کا کس قدر حصہ ہوگا اور رحمان کا کس قدر۔ اوّل تو خود ہی یہ کمینگی اور سفلہ پن ہے کہ میں نے یہ دیا تھا۔ وہ دیا تھا اور پھر اس پر جھوٹ۔ دراصل ڈاکٹر نے معلوم ہوتا ہے کہ خیال کیا ہوگا کہ وہاں کسی نے پڑتال تو کرنی ہی نہیں۔ چلو پیٹ بھر کر جھوٹ بولو کہ میں نے ہزاروں دے اور سینکڑوں خرچ، مگر جھوٹے کی عقل ماری جاتی ہے۔ ساتھ ہی اخبار بدر کے متعلق بھی پانچ روپیہ سالانہ چندہ دینے کا ذکر لکھ مارا اور یہ سوچ لیا ہوگا کہ محمد افضل مرحوم فوت ہو گیا ہے۔ کون پوچھے گا مگر یہ نہ سوجھا کہ ممکن ہے کہ پرانا ریکارڈ موجود ہو اور موجودہ کارکنان پرانے رجسٹروں کی پڑتال ہی کر بیٹھیں۔ نہایت افسوس ہے کہ اس کم حوصلگی اور دروغ بیانی کے ساتھ ایک شخص الٰہی سلسلے کی مخالفت میں خم ٹھونکتا ہے اور نہیں خیال کرتا کہ اس کی ہستی کیا ہے۔ باقی آئندہ!“

جواب بدر از ڈاکٹر

باقی آئندہ کی توفیق باطل کو نہ ملی اور نہ مل سکے گی۔ بحکم ”جاء الحق وزھق الباطل ان الباطل کان زھوقا“ میرے سوالات کے جوابات خوب دیئے گئے۔ اب ان پر کچھ اور لکھنے کی مجھے ضرورت نہیں۔ ہاں! اس تحریر میں جو نئے دجل کھلے ہیں اور جھوٹ بکواس مارا ہے۔ اس کو جتلائے بغیر نہیں رہ سکتا۔

٥٥

صفحہ ٤٩٢

دجل و جھوٹ و بکواس

اول...... تو مجھ سے پیشگی قیمت دینے والوں کی فہرست طلب فرمائی ہے۔ سبحان اللہ ! روپیہ تو وصول کرے مرزا اور فہرست طلب ہو مجھ سے؟ پہلے ایڈیشن کی تمام جلدیں فروخت ہوچکیں۔ اس کا ثبوت اسی قدر کافی ہے کہ پہلی ایڈیشن کے بعد براہین احمدیہ کئی بار چھپ چکی ہے۔ جن لوگوں نے پانچ روپیہ سے زیادہ قیمت دی۔ ان میں سے چند ایک کے نام جو مجھے معلوم ہیں حسب ذیل ہیں۔

آنریبل خلیفہ سید محمد حسن صاحب بہادر مرحوم وزیر ریاست پٹیالہ، پانچ سو روپیہ۔ منشی الہی بخش صاحب اکاونٹنٹ مصنف عصائے موسیٰ، دو سو روپیہ۔ مقبول شاہ صاحب شملہ پندرہ روپیہ، منشی وزیر علی صاحب شملہ دس روپیہ۔ میاں چراغ الدین صاحب کلرک چالیس روپیہ۔ پیر بخش صاحب دس روپیہ۔ شیخ عبداللہ صاحب دس روپیہ۔ میر عبداللہ صاحب دس روپیہ۔ مولوی علی محمد صاحب دس روپیہ۔ داروغہ عبدالرحیم خان صاحب دس روپیہ۔ منشی غلام محی الدین صاحب پندرہ روپیہ۔ منشی عبدالعلی صاحب اکاونٹنٹ دس روپیہ۔ ڈاکٹر سید امیر شاہ صاحب دس روپیہ۔ میاں غلام رسول صاحب دس روپیہ۔ شیخ شمس الدین صاحب دس روپیہ۔ میاں چراغ الدین صاحب تاجر کتب دس روپیہ۔

اب رہا واپسی کا حساب سو اس کی کیفیت یہ ہے کہ جو جلدیں واپس ہوئیں تھیں وہ بھی فروخت ہوچکی۔ جو باقی رہی یا مفت دی گئی اس کا حساب البدر کو دینا چاہئے جو مرزا قادیانی کا اخبار ہے۔ نہ کہ غیر کو سچ ہے ” دجال کا نا ہوگا پر خدا کا نا نہیں ۔“

مرزا کا چندہ مانگنا

دوم...... مرزا قادیانی کی نسبت لکھا ہے کہ وہ کسی سے کچھ طلب نہیں کرتے اور نہ جتلاتے ہیں۔ یہ سفید جھوٹ ہے۔ بار بار اخباروں اور اشتہاروں اور پرائیویٹ خطوں میں مرزا قادیانی اور مرزائیوں کے سوالات پہنچتے ہیں۔ ٢٣، ٣٠؍ جنوری ١٩٠٧ء کے البدر میں مرزا قادیانی نے شائع کیا کہ ہر ایک بیعت کنندہ پر فرض ہے کہ حسب توفیق ماہواری یا سہ ماہی لنگر خانہ کا چندہ روانہ کرتا رہے۔ ورنہ ہر تین ماہ کے بعد اس کا نام بیعت سے خارج کیا جائے گا۔ اب رہا جتلانا تو یہ حق دینے والے کا ہے۔ نہ کہ لینے والے کا۔ لینے والا تو خاص کر جب بد نیتی اور بے ایمانی ساتھ ہو تو ہمیشہ چھپایا کرتا ہے۔ نہ کہ جتایا کرتا ہے۔ ”سچ ہے دجال کا نا ہوگا پر خدا کا نا نہیں ۔“

٥٦

صفحہ ٤٩٣

البدر کے جھوٹ کی دستاویزی تردید

سوم...... لکھتا ہے کہ: ”آج ڈیڑھ سال سے اخبار البدر کا چارج میرے پاس ہے اور آج تک اخبار بنام ڈاکٹر صاحب کو بھیجا جاتا ہے۔ ١٩٠٥ء اور ١٩٠٦ء کے چندہ مجھ کو میرے سامنے وصول ہوئے۔ بلکہ ١٩٠٧ء کی بھی قیمت پیشگی بعض سے وصول ہورہی ہے۔ لیکن اس ڈیڑھ سال کے عرصہ میں ڈاکٹر صاحب نے ایک پائی بھی آج تک میرے سامنے نہیں دی۔ پھر بقول شخصے، دروغگو را حافظہ نباشد۔ اسی اخبار میں آگے چل کر لکھتا ہے۔ رجسٹروں سے معلوم ہوا ہے کہ ١٩٠٣ء کی قیمت آپ نے صرف دو روپیہ چھ آنہ دی تھی اور ١٩٠٤ء کی بھی دو روپیہ چھ آنہ اور اس کے بعد سالوں کی قیمت سالانہ دو روپیہ آٹھ آنہ کے حساب سے دی تھی۔ حالانکہ قیمت سالانہ دو روپیہ بارہ آنہ ہے۔ پہلے تو لکھا کہ ١٩٠٥ء، ١٩٠٦ء میں ایک پائی نہیں دی اور پھر لکھا کہ ١٩٠٤ء کے بعد سالانہ دو روپیہ آٹھ آنہ کے حساب سے قیمت دی ۔“ ماشاء اللہ نجات یافتہ جو ہوئے۔ سب جھوٹ معاف ہے۔ دروغ گویم بروئے تو ۔ یہ صادق کا جھوٹ ہوا۔ اب محمد افضل سابق منیجر البدر کی بدیانتی اور کذب کا حال ملاحظہ فرمائیے۔ میں ہمیشہ بدر کی قیمت پانچ روپیہ سالانہ کے حساب سے دیتا رہا اور ١٩٠٥ء، ١٩٠٦ء کی بابت محمد افضل سابق منیجر البدر نے کارخانہ البدر کی نازک حالت ظاہر کر کے پیشگی قیمت کی بابت درخواست شائع کی تھی۔ اس پر میں نے اس کو اجازت دے دی تھی کہ ایک بار اخبار دس روپیہ میں وی پی بھیج کر مجھ سے دو سال کی قیمت وصول کرلے۔ چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا۔ اس بیان کی تصدیق کے لئے میں پوسٹ ماسٹر جنرل صاحب ڈاکخانہ جات ریاست کی اصل چٹھی کا ترجمہ ذیل میں شائع کرتا ہوں۔

محکمہ ڈاکخانہ جات ریاست پٹیالہ نمبر ١٢٢١١

از جانب لالہ رگھبر چند صاحب پوسٹ ماسٹر جنرل ڈاکخانہ جات ریاست پٹیالہ بنام اسسٹنٹ سرجن عبدالحکیم خان صاحب ریاست پٹیالہ

جناب من! آپ کی چٹھیات مورخہ ١٥؍دسمبر ١٩٠٦ء و ٥؍جنوری ١٩٠٧ء کے جواب میں، میں آپ کو اطلاع دیتا ہوں کہ مفصلہ ذیل قیمت طلب پارسل آپ کے نام قادیان سے ماہ جنوری ١٩٠٥ء میں پہنچے تھے جو سنور کے برانچ آفس سے تواریخ ذیل پر آپ کو دے گئے۔ میں افسوس کرتا ہوں کہ جو قیمت طلب پارسل آپ کو مارچ ١٩٠٣ء میں ملے تھے۔ میں ان کا سراغ نہیں لگا سکتا۔ کیونکہ اس وقت کا ریکارڈ اس وقت موجود نہیں ہے۔

دستخط: پوسٹ ماسٹر جنرل ریاست پٹیالہ

٥٧

صفحہ ٤٩٤

پارسل نمبر ٢٣٥، قیمتی پانچ روپیہ بتاریخ ٣١؍دسمبر ١٩٠٤ء پارسل نمبر ٨٥٥، قیمتی دس روپیہ تین آنہ بتاریخ یکم؍جنوری ١٩٠٥ء ہر دو پارسل آپ کو بتاریخ ٨؍جنوری ١٩٠٥ء کو ادا کئے گئے۔

درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے۔ صادق کا جھوٹ تو خود اس کی تحریر میں دیکھ لو اور محمد افضل کا پوسٹ ماسٹر جنرل صاحب کی تصدیق سے۔ یہ ہر دو مرزائی تعلیمات کے پھیلانے کے ذمہ دار وجود ہیں۔ میں نے صادق مرتد کے نام پوسٹ ماسٹر جنرل صاحب کی تصدیق بھیج کر لکھا کہ آپ معذرت کے ساتھ اس کو شائع کردیں۔ ورنہ آپ جانتے ہیں کہ لائے بل کے واسطے یہ معاملہ کیسا صاف ہے۔ مگر جوابے ندارد۔

ایک الحکم کا بھی قولِ صادق سنئے۔ ٧؍نومبر ١٩٠٦ء کو مرزا قادیانی کے کلمات اخبار البدر میں حسب ذیل شائع ہوئے۔ ”آج رات لنگر خانہ کے اخراجات کی نسبت میں قریباً ١٢ بجے رات کے اپنے گھر کے لوگوں سے بات کر رہا تھا کہ اب خرچ ماہواری لنگر خانہ کا پندرہ سو سے بھی بڑھ گیا ہے۔ کیا قرضہ لے لیں۔“ مگر ٧؍جنوری کا اخبار الحکم یہ لکھتا ہے کہ ”کسی صورت میں لنگر خانہ کا خرچ تین ہزار روپیہ ماہوار سے کم نہیں۔“ سالانہ جلسہ کے اخراجات کے لئے الحکم ١٧؍دسمبر ١٩٠٦ء میں کم از کم ڈیڑھ ہزار روپیہ علیحدہ طلب کیا۔ اب نہ معلوم پیر سچا ہے یا مرید؟ مگر دیانت وامانت اور صفائی حساب میں دونوں کامل ہیں۔ یہ کسی نے نہیں بتلایا کہ سال بھر میں مہمانوں کی اوسط کیا ہے۔ جس کے واسطے بقول پیر ڈیڑھ ہزار روپیہ ماہوار سے زیادہ چاہئے اور بقول مرید تین ہزار سے زیادہ اور سالانہ جلسہ کے لئے ڈیڑھ ہزار علیحدہ۔ کیا کوئی مرزائی سچ بولنے کا حوصلہ کر کے البدر یا الحکم کے ذریعہ شائع کرسکتا ہے کہ سال گذشتہ میں مہمانوں کی اوسط یومیہ کیا رہی۔ ریویو آف ریلیجنز کے دو جھوٹ بھی قابل بیان ہیں۔ اوّل: تو یہ کہ میری نسبت شائع کیا کہ پٹیالہ میں بھی ایک جھوٹا نبی ظاہر ہوا ہے۔ جس کا نام عبدالحکیم خاں ہے۔ (میگزین دسمبر ١٩٠٦ء) امیر حبیب اللہ خان شاہ افغانستان کے ایام سیاحت میں محمد علی ایم۔اے نے شائع کیا کہ امیر صاحب مرحوم نے ملا عبداللطیف کو محض اس بنا پر قتل کرایا کہ وہ گورنمنٹ برطانیہ کا وفادار اور جہاد کا مخالف تھا۔ یہی سفید جھوٹ مرزا قادیانی نے البدر مورخہ ٩؍مئی ١٩٠٧ء میں شائع کیا اور اسی کا اعادہ بار بار حقیقت الوحی میں کیا ہے۔

٥٨

صفحہ ٤٩٥

باب ششم

تمام اہل الہام لوگ جو دجال کے جال میں پھنس بھی جائیں

آخر کار ہدایت غیبی کے ذریعہ سے اس کے مخالف ہو جاتے ہیں

اس امر کی تشریح کے لئے ہمیں بہت سے نظائر جمع کرنے کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ اس بارہ میں خود مرزا قادیانی بدر مورخہ ١٣؍فروری ١٩٠٧ء میں شائع ہو چکا ہے۔ جس کو اکمل آف گولیکے نے شائع کرایا ہے اور وہ اسی کے الفاظ میں حسب ذیل ہے۔

”ازاں بعد میں نے عرض کیا ایک نوجوان احمدی یہ الہامات سناتا ہے۔ رؤیا میں خلقت نے مجھے سجدہ کیا۔ بہشت کی سیر کی اور الہام ہوا۔ ”انا النذیر المبین“ فرمایا یہ بڑے ابتلاء کا مقام ہے۔ میرا مذہب تو یہ ہے کہ جب تک درخشاں نشان اس کے ساتھ بار بار نہ لگائے جائیں۔ تب تک الہام کا نام لینا بھی سخت گناہ اور حرام ہے۔ پھر یہ بھی دیکھنا ہے کہ قرآن مجید اور میرے الہامات کے خلاف تو نہیں۔ اگر ہے تو یقیناً خدا کا نہیں ہے۔ بلکہ شیطانی القاء ہے۔ اصل میں ایسے تمام لوگوں کی نسبت میرا تجربہ ہے کہ انجام کار ہلاک ہوتے ہیں۔“

خود ہی تو اپنے الہامات شائع کر چکے ہیں اور تورات سے تصدیق پیش کیا کرتے ہیں کہ اہل الہام لوگ مسیح کے مریدوں میں بکثرت ہوں گے اور خدا الہام کے ذریعہ سے لوگوں کو اس کی طرف متوجہ کرے گا اور عام اعلان شائع کرتے رہے ہیں کہ جن لوگوں کو ہماری نسبت خوابات آئیں یا الہامات ہوں۔ وہ قسمیہ ہمارے نام لکھتے اور اخباروں میں شائع کراتے رہیں۔ چنانچہ الحکم اور البدر میں مدتوں مرزا قادیانی کی تائید میں لوگوں کے خوابات اور الہامات شائع ہوتے رہے۔ ایک خط میں یہاں تک لکھا کہ فطری دین ایک لعنت ہے۔ جب تک اس کو نشانوں سے قوت نہ ملے۔ مگر بتجربہ معلوم ہو گیا کہ تمام اہل الہام لوگ آخر کار ہدایت ربانی سے اس کے خلاف ہی ہوتے رہے تو صاف اقرار کرنا پڑا کہ اصل میں ایسے لوگوں کی نسبت میرا تجربہ ہے کہ انجام کار ہلاک ہوتے ہیں۔ سچ ہے۔ ”الحق یعلوا ولا یعلیٰ“ حق غالب ہوتا ہے۔ مغلوب نہیں ہوتا۔ آخر کار سچا اقرار منہ سے نکل ہی گیا۔ مگر ساتھ دجالیت ضرور ملا دی۔ یعنی تمام اہل الہام لوگوں کا آخر کار اس کے مخالف ہو جانا تو صحیح امر ہے اور مسیحیت کا جزو ہے۔ مگر ساتھ ہی یہ کہہ دینا کہ وہ ہلاک ہوتے ہیں۔ یہ اس کی دجالیت ہے۔ اس واسطے ”مرزا قادیانی کا نام احادیث صحیحہ میں المسیح الدجال ہے۔“ یعنی جس قدر خداوند عالم کی توحید، تمجید، تحمید، تسبیح اور تقدیس میں یا نعت رسول

٥٩

صفحہ ٤٩٦

اللہ ﷺ میں یا تائید اسلام اور تقدیس انبیاء میں یا تعلیم، دعاء، تقویٰ اور اخلاق میں اس کی قلم سے نکلتا ہے۔۔۔۔۔۔۔ یہ سب کچھ خلوص نیت سے نہیں ہوتا۔ بلکہ مسلمانوں کو پھنسانے کے واسطے ایک جال ہوتا ہے اور ساتھ ہی صریح دجالیت کے قول اور فعل اس سے صادر ہوتے ہیں۔ مثلاً دعویٰ نبوت ورسالت، بدعہدی، بددیانتی، کسی کام کے واسطے بڑے بڑے اشتہار دے کر روپیہ وصول کرلینا۔ اس کو خورد برد کرجانا، کذابی، عیاری، اصراف، بہشتی مقبرہ کی تیاری، منارہ کی تعمیر۔ اپنے آپ کو بمنزلہ خدا یا بمنزلہ توحید وتفرید خدا۔ یا بمنزلہ اولاد خدا کہنا۔۔۔۔۔۔ یہ اس کی دجالیت کا تقاضا ہے۔ پس اس کی بعض پیش گوئیوں اور اچھی باتوں سے مطلق انکار کرنا بھی غلطی ہے۔ کیونکہ نبی صادق ﷺ نے اس کو مسیحیت اور دجالیت کا مرکب فرمایا ہے۔ اگر اس میں مسیحیت کے اجزاء نہ ہوں اور خالص دجالیت ہی ہو تو مسلمان کیسے اس کے جال میں پھنسیں اور رسول صادق کی پیش گوئی کیسے پوری ہو۔ جس میں آپ نے فرمایا ہے کہ ستر ہزار چوغہ پوش میری امت میں سے اس کے تابع ہو جائیں گے۔ المسیح الدجال کا نام اس پر کیسے منطبق ہو اور انجیل شریف کے وہ الفاظ کیسے صادق ہوں کہ جھوٹے مسیح اٹھیں گے اور نشان دکھلائیں گے اور قریب ہے کہ برگزیدوں کو بھی گمراہ کرلیں۔ اگر بڑے بڑے نشانات کے ساتھ کافی باتیں ملی جلی نہ ہوں تو پھر حدیث کے وہ الفاظ کیا معنی رکھ سکتے ہیں کہ ”دجال کانا ہوگا پر خدا کانا نہیں ۔“

ایک طرف تو یہ قول کہ دنیا میں تمام تباہی، مصیبت، زلزلہ، آتش فشانی، وباء طوفان وغیرہ اسی کے خلاف کا نتیجہ ہے۔ ساتھ ہی کسی ارادے میں کامیاب نہ ہونا اور سخت از سخت مخالفوں کا صحیح وسلامت رہنا۔ گویا کہ خدائی کا کانا دعویٰ ہے۔ ”الغرض سچ مچ یہ المسیح الدجال کانا دجال ہے۔“

میرے خواب

اب میں تمثیلاً اپنے ان خوابات والہامات کا مختصر ذکر کرتا ہوں۔ جن کے ذریعہ سے خداوند عالم نے میری رہنمائی کی اور آخر کار مجھ کو دجالی پھندے سے نجات بخشی۔ ان پر غور کرنے سے معلوم ہوگا کہ ابتداء سے مجھ کو الہامات مرزا قادیانی کے برخلاف ہوتے رہے۔ مگر اس کی مسیحیت کے جالوں نے مجھے کچھ سمجھنے نہ دیا۔ آخرکار خداوند عالم کے زبردست ہاتھ نے اپنے خاص فضل سے مجھے اس دلدل سے نکالا۔ فالحمد للہ! الحمد للہ! جب مجھے الہامات مرزا قادیانی کے خلاف بکثرت ہونے شروع ہوئے۔ تب میں نے خیال کیا کہ یہ خلاف اور رنج کی وجہ سے شیطانی القاء نہ ہوں اور میں نے دعاء کی کہ اے خداوند اپنے کلام کے طفیل میرا اطمینان فرما۔ تب آیات قرآنی واحادیث صحیحہ مرزا قادیانی کی تردید میں بذریعہ خواب والہام معلوم ہونی شروع ہوئیں۔

٦٠

جیسا کہ تمثیلات ذیل سے ظاہر ہوا ١٥؍ جولائی ١٨٩٧ء کو م ”نسب (مخالف) میری نسبت دعا پاس لکھ کر بھیجیں میں شائع کردوں اس وعدے کا ایفا نہ کیا۔ میں نے شائع نہ کئے۔ بلکہ نور الدین کے خط کے جوابات پہنچے وہ مطلق شائع نہ اپنے اس رسالہ میں شائع کرنا پڑا۔

مرزا کی تائید آنحضرت ﷺ

پہلے پہل جب میں نے شروع کیا تو مجھے خواب میں یہ ارشاد الله محمد رسول الله العالمین ہے۔ اللہ کے سوائے کوئی نہیں۔ نہ کسی اور کی رسالت کی ضر اور توحید اور محمد مصطفی ﷺ کی رسال کچھ دیکھنے نہ دیا۔ پھر جب مرزا قا عذاب اليم بما كانوا يكذبو طرف اشارہ ہے۔ حالانکہ اگر مخال ”یکذبون“ تاہم چونک مرزا قادیانی کی تائید میں کچھ معلوم اس آیت کو مرزا قادیانی کے حق القائے شیطانی ہے۔ دوم: اگر ا انسانیت سے دور اور ایک حریص دیتے رہو۔ مرزا چندوں سے موٹا ہو گے ایک خواب میں دیکھ

صفحہ ٤٩٧

جیسا کہ تمثیلات ذیل سے ظاہر ہوا۔ ١٥ جولائی ١٨٩٧ء کو مرزا قادیانی نے ایک درخواست الفاظ ذیل میں شائع کی تھی کہ ”سب (مخالف) میری نسبت دعا کریں اور جو حال میرا ان پر خوابوں میں ظاہر ہو۔ اس کو میرے پاس لکھ کر بھیجیں میں شائع کر دوں گا۔“ مگر مرزا قادیانی نے حسب عادت مستمرہ وسنت موکدہ خود اس وعدے کا ایفا نہ کیا۔ میں نے جس قدر خوابات لکھ کر بھیجے۔ وہ اس نے اپنے اخبارات میں شائع نہ کئے۔ بلکہ نورالدین کے خطوط تو الحکم و البدر میں شائع ہوئے۔ مگر میری طرف سے جو ان کے جوابات پہنچے وہ مطلق شائع نہ کئے۔ اس لئے حسب درخواست مرزا اس کے متعلق خوابات کو اپنے اس رسالہ میں شائع کرنا پڑا۔

مرزا کی تائید آنحضرت ﷺ سے علیحدگی

پہلے پہل جب میں نے الذکر الحکیم نمبر:١، ١٨٩١ء میں مرزا قادیانی کی تائید میں لکھنا شروع کیا تو مجھے خواب میں یہ ارشاد ہوئے تھے۔ ”قل الحمدلله رب العلمين . لا اله الا الله محمد رسول الله “ ان الہامات میں صاف ارشاد تھا کہ اس خدا کی حمد کر۔ جو رب العالمین ہے۔ اللہ کے سوائے کوئی اور معبود نہیں اور محمد اللہ کا رسول ہے اور کسی شخص کی حمد کی ضرورت نہیں۔ نہ کسی اور کی رسالت کی ضرورت ہے۔ مرزا قادیانی کی تائید میں کچھ لکھنا گویا کہ خدا کی حمد اور توحید اور محمد مصطفیٰ ﷺ کی رسالت سے علیحدہ ہونا تھا۔ مگر مسیح الدجال کے اندھیروں نے مجھے کچھ دیکھنے نہ دیا۔ پھر جب مرزا قادیانی کے بارہ میں استخارہ کیا تو خواب میں ارشاد ہوا۔ ”ولهم عذاب اليم بما كانوا يكذبون “ مگر مرزا پرستی کے نشہ میں میں نے یہ سمجھا کہ یہ مخالف علماء کی طرف اشارہ ہے۔ حالانکہ اگر مخالفوں کی طرف اشارہ ہوتا تو ”یکذبون “ چاہئے تھا نہ کہ ”یکذبون “ تاہم چونکہ دل میں مرزا قادیانی کی طرف سے تردد ہوا اور دل نے چاہا کہ مرزا قادیانی کی تائید میں کچھ معلوم ہو تو پھر خواب میں معلوم ہوا۔ ”ناقة الله وسقیها “ میں نے اس آیت کو مرزا قادیانی کے حق میں اچھے معنوں میں لیا اور یہ نہ سوچا کہ اوّل: تو تمنا کی وجہ سے القاء شیطانی ہے۔ دوم: اگر اس کو رحمانی مانا جائے تو اس کے صحیح معنی یہ ہیں کہ مرزا قادیانی انسانیت سے دور اور ایک حریص اونٹنی کے مشابہ ہے۔ اس کا مشن محض یہی ہے کہ اس کو چندے دیتے رہو۔

مرزا چندوں سے موٹا ہو گیا

ایک خواب میں دیکھا کہ مرزا قادیانی ایک جسیم وشحیم جرنیل کی صورت میں ایک تیز

٦١

صفحہ ٤٩٨

گھوڑے پر سوار تیزی کے ساتھ دوڑائے جا رہا ہے اور میں ایک پیپل کے درخت کے نیچے کھڑا ہوں۔ اس کی تعبیر ظاہر یہ ہے کہ پیپل کا درخت اسلام ہے۔ مرزا قادیانی کو اس سے کچھ تعلق نہیں اور چندوں سے موٹا تازہ ہو کر اپنے نفس کے راستہ پر سوار چلا جا رہا ہے۔ تمام خوابات متذکرہ بالا الذکر الحکیم نمبر: ١ میں درج ہیں۔ جو ١٨٩١ء میں چھپا تھا۔ الذکر الحکیم نمبر : ٤ کا دوسرا خط جب میں نے لکھا تو اس سے پہلی رات کو مجھے نہایت صفائی کے ساتھ یہ الہام ہوا ۔ ”يا ايها النفس مطمئنة ارجعى الى ربك راضية مرضية ، فادخلى فى عبادى وادخلى جنتی“ اے نفس اطمینان یافتہ تو اپنے رب کی طرف واپس آ۔ تو اس کو خوش کرنے والا اور وہ تجھے خوش کرنے والا ہے۔ پس میرے بندوں میں داخل ہو اور میری جنت میں داخل ہو ۔ گویا کہ مرزا قادیانی کے مخالف ہونا ، انسان پرست جماعت سے نکل کر خدا پرستوں میں داخل ہونا اور جنت میں داخل ہونا تھا۔

بر ہنہ مرزائی ، بر ہنہ لاش

پھر اسی رات کو مرزا قادیانی مشن کا خاکہ دکھایا گیا کہ چند برہنہ مرزائی ہیں جو ایک سیاہ ننگی نعش کو اٹھائے جاتے ہیں اور کہتے ہیں عیسیٰ آگیا، عیسیٰ مر گیا، عیسیٰ آگیا عیسیٰ مرگیا۔ الذکر الحکیم نمبر :٤ کی نسبت الہام ہوا...... دجالی فتنہ تیرے ہاتھ سے پاش پاش کرایا جائے گا ۔ مرزا قادیانی کی نسبت الہام ہوا۔ ” فریقاً كذبتم وفريقاً تقتلون “ مرزا قادیانی نے جو میری ہلاکت کا الہام شائع کیا اور رو رو کر میرے برخلاف بددعائیں کیں تو اس کے مقابلہ پر مجھے یہ الہامات ہوئے ۔ سرداد و نداد دست در دست یزید۔ آسماں بار امانت نتوانست کشید۔ لاجرم قرعہ بنام من دیوانہ زدند۔

تمام خوابات والہامات متذکرہ بالا الذکر الحکیم نمبر :٤ میں درج ہیں ۔ ذیل میں بے شمار خوابات میں سے چند ایک اور درج کرتا ہوں۔

سلامتی وعزت کی:

مرزا قادیانی کذاب

سامنے شریر فنا ہو جائے گا اور اس کی میعاد تین سال بتلائی گئی۔

٦٢

مرزا دجال

اپنے نجات یافتہ ہونے کا دعویٰ کر اور وہ کسی اور کی نہیں سنتا؟ ایک میلے حیثیت ضرور ایسی معلوم ہوتی ہے مرزا قادیانی کا خیمہ ہے۔ اس کے اس خیمہ کے قریب سے ایک راستہ ظالموں کو غارت کر۔ اے خداوند صاحب ایڈیٹر پیسہ اخبار ملے وہ ہ غصہ ہے۔ میں نے جواب دیا کہ الفاظ ہیں۔ حالانکہ یہی الفاظ حدیـ نبوت کا مدعی وہ بلاشک دجال ہے کہ کرامتیں اور نشانات دکھائے شریف میں اس طرح پر آیا ہے کہ گے۔ اس پر منشی محبوب عالم صاحب

مرزا شیطان

کرے گا۔ (تذکرہ طبع سوم ص ٦٧٠ کہ ملا محمد بخش کا کیا بگڑ گیا جو میر نسبت کہہ رہا ہوں۔ شیطان ، شیـ وہ سن رہا ہے۔ پھر لفظ جو شریف کارخانہ تباہ ہو جائے گا۔ مگر چونکہ

کہا کہ خدا اپنے بندے کو سلامت

سے ہیں ۔ ”یلقی الروح علی

صفحہ ٤٩٩

مرزا دجال

اپنے نجات یافتہ ہونے کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ میں نے کہا کہ کیا خداوند عالم رب العالمین نہیں رہا اور وہ کسی اور کی نہیں سنتا؟ ایک میلے پوش مرزائی نے کہا کہ ہماری ہی سنتا ہے۔ میں نے کہا کہ تیری حیثیت ضرور ایسی معلوم ہوتی ہے۔ پھر وہ مرزائی ایک میلے خیمہ کی طرف چلے۔ جو گویا کہ مرزا قادیانی کا خیمہ ہے۔ اس کے اندر مرزا قادیانی ہے اور اس کے اندر دیوں کی روشنی ہے۔ میں اس خیمہ کے قریب سے ایک راستہ کی طرف روانہ ہوا اور دعا کرتا جا رہا ہوں۔ اے خداوند! ان ظالموں کو غارت کر۔ اے خداوند! ان بدمعاشوں کو غارت کر۔ پھر ایک جگہ مجھے منشی محبوب عالم صاحب ایڈیٹر پیسہ اخبار ملے وہ کہنے لگے۔ ڈاکٹر صاحب آپ کو مرزا قادیانی کے برخلاف بہت غصہ ہے۔ میں نے جواب دیا کہ کیا آپ کے نزدیک اس کو دجال، عیار اور کذاب کہنا غصہ کے الفاظ ہیں۔ حالانکہ یہی الفاظ حدیث شریف میں دجال کے واسطے آئے ہیں جو شخص کذاب ہو اور نبوت کا مدعی وہ بلاشک دجال ہے۔ پھر اس کی عیاری کا بیان انجیل شریف میں اس طرح پر آیا ہے کہ کرامتیں اور نشانات دکھائے گا اور قریب ہے کہ برگزیدوں کو بھی گمراہ کر دے، اور حدیث شریف میں اس طرح پر آیا ہے کہ ستر ہزار سبز پوش میری امت میں سے دجال کے تابع ہو جائیں گے۔ اس پر منشی محبوب عالم صاحب نے جواب دیا کہ نہیں یہ الفاظ غصہ کے نہیں ہیں۔

مرزا شیطان

کرے گا۔ (تذکرہ طبع سوم ص ٦٧٠) دوپہر کے وقت میں نے خواب میں دیکھا کہ میں کہہ رہا ہوں کہ ملا محمد بخش کا کیا بگڑ گیا جو میرا کچھ بگڑ جائے گا اور پھر ایک کمرہ میں پھرتا ہوا مرزا قادیانی کی نسبت کہہ رہا ہوں۔ شیطان، شیطان، شیطان اور گویا کہ قریب کے کمرہ میں مرزا قادیانی ہے اور وہ سن رہا ہے۔ پھر لفظ جو شریف کی نسبت میں شائع کر چکا تھا۔ اس کی نسبت معلوم ہوا کہ دجالی کارخانہ تباہ ہو جائے گا۔ مگر چونکہ فنا کا لفظ شائع ہو چکا ہے۔ اس لئے اللہ اس کو بھی پورا کرے گا۔

کہا کہ خدا اپنے بندے کو سلامت رکھے گا۔

سے ہیں۔ ”یلقی الروح علی من یشاء من عبادہ“ اشارہ سہ سالہ پیش گوئی کی طرف۔

٦٣

صفحہ ٥٠٠

کی پیشانی پر لکھا ہے: ”حکم حاکم سے۔“ میں اوّل تو پیشانی دیکھ کر بہت ڈرا کہ یہ کیا فوجداری معاملہ ہے۔ مگر جب اس کو پڑھا تو معلوم ہوا کہ میری نسبت بہت تعریفی الفاظ ہیں۔ (٢) ایک جگہ چارپائی پر میں پڑا ہوں اور ڈپٹی نصر اللہ خان میرے سامنے کی طرف بیٹھے اور مجھ سے نسخہ پوچھتے ہیں۔ میں گویا بخار میں مبتلا اور حالت ضعف میں ہوں اور جواب نہیں دیتا۔ تب حکیم عبدالرحمٰن نے جو میرے داہنی طرف پائنتی کی طرف بیٹھے تھے میری پیشانی پر ہاتھ رکھ کر دیکھا کہ بخار ہے اور کہا کہ میں آپ کے واسطے نسخہ لکھ دوں۔ میں نے کہا اچھا لکھ دو۔ منگوا لیا جائے گا۔ اتنے میں ایک شخص کہتا ہے کہ آپ کے مکان کی چھت پر دھنکری نے ایک سانپ مارا ہے۔ یہ سن کر میں ایک لکڑی لے کر اس کے مارنے کے واسطے بھاگا اور اوپر چڑھا۔ دیکھتا کیا ہوں کہ سانپ حرکت کر رہا ہے۔ تب قریب پہنچ کر میں نے اسے لکڑی سے چھیڑنا شروع کیا۔ پھر اس سانپ کے چند ٹکڑے ہو گئے ۔ مگر تب بھی وہ بولتا اور شور کرتا رہا۔ ایک ٹکڑا اچھل کر اڑا۔ میں نے لکڑی سے مار کر اسے ایک طرف پھینک دیا۔ پھر وہ اچھلا۔ پھر لکڑی سے اسے ایک طرف پھینک کر چھیڑنا شروع کیا۔ دل میں یہ بھی خیال ہے کہ کہیں یہ اڑ کر کاٹ نہ لے۔ مگر جب اس ٹکڑے کو غور سے دیکھا تو معلوم ہوا کہ اس میں اس کا سر نہیں ہے۔

عمدہ سا بنا ہوا ہے۔ سانپ والی عورت سانپ لئے بیٹھی ہے۔ مبارکہ بھی دیکھنے گئی۔ جب مجھے خبر ہوئی کہ مبارکہ گئی ہوئی ہے تب میں نے اسے بلوانا چاہا۔ تب میری ممانی خورد نے کہا کہ وہ سانپ کا تماشا میں اسے تو سانپ والی گلے میں ڈالتی ہے اور ہاتھ میں پکڑتی ہے۔ میں نے مبارکہ کو بلوالیا۔ پھر میں نے ڈاکٹر صاحب سے کہا۔ پھر انہوں نے کہا کہ آج تو سانپ کو پکاؤ۔ میں نے کہا کہ سانپ والوں کی تو یہ کمائی ہے۔ وہ پکانے کے واسطے کیوں دیوے گی۔ خیر اتنے میں وہ سانپ والی عورت سانپ لے کر ہمارے پاس آئی اور کہنے لگی کہ سانپ پکا لو۔ بہت عمدہ ہوتا ہے۔ میں نے کہا سانپ میں تو زہر ہوتا ہے۔ میں نہیں پکاتی۔ اس نے کہا کہ زہر تو پونچھ میں ہوتی ہے۔ خیر وہ یہ کہہ کر چاقو لے کر اسے کاٹنے لگی اور اسے اس کا نام لے کر بلاتی جاتی تھی جو کہ میرے یاد نہیں رہا اور کہتی تھی کہ خوب ہوشیاری سے لے پھر وہ کاٹ کر جب قریب سر کے آئی۔ میں نے کہا مجھے ڈر لگتا ہے۔ پھر سانپ والی نے اس کا منہ کھولا۔ اس کی زبان منہ تک نکلی ہوئی

٦٤

تھی۔ اسے کہا کہ اس کی زبان زبان پر انگلی رکھی مجھے انگلی میں ہاتھ روک دیا۔ پھر اس عورت نے تو نہیں پکاتی۔ مجھے تو اس سے

مرزا پر لعنت اور تف

میں اس کو کہہ رہا ہوں کہ تو خر ہے۔ جب تک مجھ کو نہ مانا جا اور تف کے الفاظ مجھے اچھی ط

کے مرض سے ہلاک ہو گیا۔

الفاظ ذیل جاری ہوئے۔ پـ صاحب کو امتحان میں پاس ک

خواب میں کہا۔ u have done

مرزا پر الٹ گئیں

اب وہی لعنتیں جو مرزا قاد پکڑ ڈالیں گی اور تمہارا چـ

باشد۔ (٢) شب دام ملاز

صفحہ ٥٠١

تھی۔ اسے کہا کہ اس کی زبان پر ہاتھ لگا۔ زہر نہیں۔ پھر میں نے اس کے کہنے سے اس سانپ کی زبان پر انگلی رکھی مجھے انگلی میں اکڑ سی معلوم ہوئی۔ پھر مبارکہ زبان پکڑنے لگی میں نے اس کا ہاتھ روک دیا۔ پھر اس عورت نے گوشت کاٹ کر دیا کہ لو پکا لو۔ بہت عمدہ ہوگا۔ میں نے کہا میں تو نہیں پکاتی۔ مجھے تو اس سے ڈر لگتا ہے۔

مرزا پر لعنت اور تف

میں اس کو کہہ رہا ہوں کہ تو خداوند عالم کا یہی جلال قائم کرنے آیا تھا کہ خداوند عالم کی پرستش ہیچ ہے۔ جب تک مجھ کو نہ مانا جائے لعنت ہے تیری اس توحید پر اور تف ہے تیری اس تفرید پر۔ لعنت اور تف کے الفاظ مجھے اچھی طرح سے یاد ہیں۔

کے مرض سے ہلاک ہو گیا ہے۔“

الفاظ ذیل جاری ہوئے۔ یا اللہ! یا وحدہ لاشریک۔ صدقہ اپنے حبیب محمد رسول اللہ ﷺ کا۔ ڈاکٹر صاحب کو امتحان میں پاس کر دے۔

خواب میں کہا۔

Well Abdul Hakim Khan, you have done exvellently.

مرزا پر الٹ گئیں

اب وہی لعنتیں جو مرزا قادیانی اور اوروں پر برسایا کرتا تھا اب اس پر الٹ پڑیں اور وہ جہنمیں اب کچل ڈالیں گی اور تمہارا بھیجا ہوا ہو جائے گا۔

باشد۔ (٢) شب رام ملازم شفا خانہ نے مجھ سے کہا کہ کاکو ہو گیا۔ پھر یہ الہام ہوا۔ ”انا نبشرک

٦٥

صفحہ ٥٠٢

غلام اسمه یحییٰ، فالحمد للہ“ کہ یہ لڑکا ٢٨، ٢٩ اپریل کی درمیانی رات میں پیدا ہوگا۔

پھٹے منہ

ذیل کی کی۔ اسلام ایک ایسی رسی کے مشابہ ہے جو مختلف قسم کے ریشوں سے بنی ہوئی ہے۔ جن میں بعض روئی کے، بعض اون کے، بعض ریشم کے اور بعض پٹ سن کے۔ پس اگر آپ اپنے ریشوں کو الگ کرلیں اور میں اپنوں کو۔ تو وہ رسی نہ رہے۔ اسی مثال کے ساتھ قرآن مجید میں حکم ہے۔ ”واعتصموا بحبل الله جميعاً ولا تفرقوا“ اور بھی آیات بینات میں نے بلا کسی تحریف و تاویل کے اس ثبوت میں پیش کیں۔ مرزائی عبدالکریم نے ان کا خلاف کرنا چاہا۔ میں نے کہا۔ ”پھٹے منہ تیری اس سمجھ اور مخالفت پر۔“ پھر میں نے مرزا قادیانی کی خود پرستی پر گفتگو کرتے ہوئے مرزا قادیانی اور اس کے ایک ساتھی کے طرف خطاب کر کے کہا۔ لعنت ہے تیری اس توحید پر۔ کیا تو یہی جلال الٰہی ظاہر کرنے آیا تھا کہ فطرت اللہ لعنت سے خدا کا ماننا۔ اعمال اور فطرت ہیچ ہیں۔ جب تک تجھ کو نہ مانا جائے۔ اے خدا ان بدمعاشوں کو غارت کر۔ اے خدا ان ظالموں کو غارت کر۔ اے خدا ان حرامزادوں کو غارت کر۔ اس کے بعد آیت ذیل میری زبان پر جاری ہوئی اور میں بیدار ہو گیا۔ ”یاعیسیٰ انی متوفیک ورافعک الی ومطهرک من الذين کفروا وجاعل الذين اتبعوک فوق الذين كفروا الی يوم القيامة“

چودہ ماہ میں مرزا مر جائے گا

ہاویہ میں گرایا جائے گا۔

کے حق میں دکھائی گئیں:

مجھے ملے۔ میں ان سے کہتا ہوں کہ احقاق حق کے طور پر آپ گفتگو کر لیں۔ تب میں نے حدیث ذیل پڑھی۔ ”ثلثون دجالون کذابون، كلهم يزعم انه نبی الله الا لا نبی بعدی وانا خاتم النبیین“ یہ حدیث سنا کر میں نے کہا کہ آنحضرت ﷺ نے اس حدیث میں چار بار کیسی وضاحت کے ساتھ فرمایا ہے کہ میرے بعد جو نبی ہونے کا دعویٰ کرے وہ دجال، کذاب ہے۔ مرزا قادیانی نبوت کا دعویٰ کرتا ہے۔ اس لئے وہ دجال، کذاب ہے۔ اس پر ایک مرزائی بولا

٦٦

صفحہ ٥٠٣

کہ مرزا قادیانی کا دعویٰ نبوت کا نہیں اس پر مولوی عبداللہ خان نے کہا کہ نہیں نبی ہونے کا دعویٰ تو ہے۔ اس کے بعد میں بیدار ہو گیا۔

٢...... ٢٧ نومبر ١٩٠٦ء کی رات کو مولوی عبداللہ خاں نے ایک کاغذ میرے پیش کیا۔ جس میں کچھ چندہ یا کسی درخواست کے واسطے چند لوگوں کی ایک فہرست ہے۔ میرا نام مولوی عبداللہ خان نے خود ہی خوشخط عبدالحکیم لکھ رکھا تھا اور اس کے نیچے وہ میری قلم سے رقم یا دستخط لکھوانا چاہتے تھے۔ میں نے اس کاغذ کو دیکھ کر کہا یہ معاملہ دین کا نہیں۔ بلکہ مسجد ضرار کے مشابہ ہے۔ اس لئے میں اس پر دستخط نہیں کرتا۔ پھر میں نے یہ حدیث سنائی۔ "ومن شذ فقد شذ فی النار" اس کے علاوہ اور چند حدیثیں مرزا قادیانی کی تردید میں سنائیں جو یاد نہیں۔

٣...... ٢٨ نومبر ١٩٠٦ء، قریب ٥ بجے صبح کے۔ منشی عبدالحق و الٰہی بخش صاحبان کو خواب میں دیکھا۔ پھر خلیفہ رشیدالدین کو۔ گویا کہ میں کھانا کھا رہا ہوں اور کھاتے کھاتے خلیفہ سے گفتگو کرنے کے واسطے اٹھا اور تقریر ذیل شروع کی۔

خلیفہ صاحب! آپ نے میرے خط کا عجب جواب دیا۔ سوال دیگر جواب دیگر۔ مرزا قادیانی انبیاء علیہم السلام کی سخت توہین کرتا ہے۔ چنانچہ مسیح علیہ السلام کی نسبت اس نے (نورالقرآن میں) شائع کیا کہ اس کی نانیاں اور دادیاں حرام کار تھیں۔ اس کے خون میں حرام کا آمیز تھا۔ وہ حرام مادہ جوش مارتا تھا۔ اس وجہ سے مسیح فاحشہ عورتوں سے ملا کرتے اور ان کا مساس کیا کرتے تھے۔ (نورالقرآن حصہ دوم ص ٤٦، خزائن ج ٩ ص ٤٣٨، معیار المذاہب ص ١٠١، خزائن ج ٩ ص ٢٨٠) حالانکہ قرآن مجید میں مسیح علیہ السلام کی تعریف ایسی کثرت اور تواتر کے ساتھ ہے کہ ظاہراً وہ سارے انبیاء سے بڑھ کر معلوم ہوتے ہیں۔ خداوند عالم کو تو مرزا قادیانی نے کچھ سمجھا ہی نہیں۔ بلکہ صاف لکھتا ہے کہ خدا کے ماننے سے نجات نہیں...... یہ تقریر سن کر خلیفہ مسکرائے اور قائل معلوم ہوئے۔ تب میں نے ان کی پشت پر تھپکی دے کر کہا کہ حق طلبی کی یہی علامت ہے کہ جب حق ظاہر ہو جائے تو انسان فوراً مان جائے۔

٤...... ١١ دسمبر ١٩٠٦ء۔ مولوی نورالدین کو خواب میں دیکھا۔ پہلے متفرق گفتگو ہوتی رہی اور مولوی صاحب مرزا قادیانی کی تصدیق کرتے رہے۔ بعد میں میں نے تقریر شروع کی جو نہایت ہی پر زور اور مؤثر تھی۔ کل تقریر میرے یاد نہیں رہی۔ مگر اس کا مضمون یہ تھا۔ مرزا قادیانی نے جلال باری تعالیٰ پر کیسا سخت حملہ کیا۔ جب یہ کہا کہ خدا کا ماننا ہیچ، جب تک کسی انسان کو ساتھ نہ مانا جائے پھر فطرت اللہ پر کیسا غضبناک حملہ کیا۔ جب یہ کہا کہ فطرت ایک لعنت ہے۔ جب تک اس کے

٦٧

صفحہ ٥٠٤

ساتھ نشان نہ ہو۔ فطرت تو بذات خود ایک بے نظیر نشان ہے۔ جس امر کی استعداد اور قابلیت، انسان کے اندر نہ ہو۔ اگر تمام انبیاء علیہم السلام از ازل تا ابد زور لگائیں تو وہ استعداد اور قابلیت پیدا نہیں کر سکتے۔ میری تقریر کے بعد مولوی نورالدین کہنے لگے کہ یہ مرزا قادیانی کی غلطی ہے۔

نورالدین پر سواری

میں گویا ان کے کندھوں پر سوار ہوں اور بار بار دعا کر رہا ہوں کہ اے خداوند اس بندہ کو ہدایت کر۔ اے خداوند اس مسکین پر رحم کر۔ اصل الفاظ میرے یاد نہیں رہے۔ مگر ان کے لئے ہدایت اور رحمت کی دعا دیر تک بار بار کرتا رہا اور خواب میں ایسا معلوم ہوتا تھا کہ میں بیدار ہوں۔

قادیانی بدمعاش ہیں

ہوں....... مرزا قادیانی کے ماننے سے نجات ہے؟ تقریر نہایت پر زور اور مدلل ہے۔ آخر میں ان کی بدحالت دیکھ کر میں دعا کرتا ہوں۔ اے خدا ان بد معاشوں کو غارت کر۔ اے خدا ان ظالموں کو غارت کر۔

قادیانی فتنہ پاش پاش ہوگا

ہیں۔ جس میں زیادہ تر غیر مرزائی ہیں۔ اثنائے وعظ میں انہوں نے میری طرف مخاطب ہو کر فرمایا کہ میں تمہارے تھپڑ مارتا۔ اس پر لوگ برافروختہ ہو کر میری طرف دیکھنے لگے۔ مگر میں نے یہی کہا کہ تھپڑ مارنے سے کیا حاصل ہوگا۔ آپ مجھے قائل کر دیں۔ وہ نطفہ حرام ہے جو قائل ہو کر پھر انکار کرے۔ اس پر مولوی صاحب نے فرمایا کہ مجمع میں فتنہ کا اندیشہ ہے۔ میں نے کہا مجمع میں نہیں علیحدگی میں ہی سہی۔ پھر میں ایک علیحدہ مکان میں گیا۔ مگر مولوی صاحب وہاں نہیں پہنچے۔ ایک اور خواب میں معلوم ہوا کہ دجالی فتنہ میرے ہاتھ سے پاش پاش ہوگا۔

مرزا بد زبان

دیتے ہیں۔ میں ان کی آواز سن کر اس خیال سے کہ یہ مرزائی ہیں۔ السلام علیکم نہ کہیں۔ ایک چک کے پیچھے ہو گیا ہوں۔ مگر انہوں نے دور سے السلام علیکم کہا۔ میں نے جواب دیا پھر باہر نکلا۔ پھر

٦٨

دہلیز میں بیٹھنے کا ارادہ کیا۔ بعد نکلوالیں اور دروازہ کے آگے بیٹھے خلاف تقریر شروع کی کہ قرآن مجید احسن (العنكبوت:٤٦) تھے۔ مگر مرزا قادیانی مسلمان علما کتے، سور، حرامزادہ، گوہ کھانے و الف الف مرۃ وغیرہ کہتا ہے۔ آ اس پر مرزا مراد بیگ بولے کہ پھر خلاف الہاموں کا ذکر شروع کیا فی طغیانهم يعمهون " الہامات کی طرف اشارہ کیا۔

میں کہہ رہا ہوں کہ خداوند میری الہام شائع ہو چکا ہے۔ مگر میں امراض میں مبتلا ہوا۔

مرزا ٹھگ ہے

بھاگتے ہیں۔ ان میں مولوی عب حدیث پڑھ کر سنائی جس کا مطل اس سے مرزا قادیانی کی صداق اس پر وہ مرزائی بولا کہ آپ کے میرے پاس سینکڑوں اور ہزار بڑا ناز ہے۔ میری پیش گوئیوں بڑھ کر ہیں۔ اگر ایثار اور جان درجہ بڑھ کر ہے۔ کیونکہ مرزا قا ٹھگا ہے۔ میں نے ہزاروں ج

صفحہ ٥٠٥

دہلیز میں بیٹھنے کا ارادہ کیا۔ بعد میں کرسیاں اور چارپائیاں باہر کشادہ ہوا میں بیٹھنے کے واسطے نکلوالیں اور دروازہ کے آگے بیٹھے۔ بیس تیس لوگ جمع ہو گئے ہیں۔ تب میں نے مرزا قادیانی کے خلاف تقریر شروع کی کہ قرآن مجید میں تو حکم ہے: ”لا تجادلوا اهل الكتاب الا بالتى هى احسن (العنكبوت: ٤٦) “ حالانکہ وہ اہل کتاب سخت مشرک اور خلاف کتاب چلنے والے تھے۔ مگر مرزا قادیانی مسلمان علماء کو جو قرآن و حدیث کی بناء پر مرزا قادیانی کا خلاف کرتے ہیں۔ کتے، سور، حرامزادہ، گوہ کھانے والے، چوہڑے، چمار، ہندوزادہ، ملعون، لئیم، دجال، لعن الله، الف الف مرة وغیرہ کہتا ہے۔ آج تک کسی نبی نے کسی موحد، خدا پرست کو گالیاں نہیں نکالیں۔ اس پر مرزا مراد بیگ بولے کہ پھر ہم خلیفہ اکرم کی بت پرستی ہی کرتے رہے۔ پھر مرزا قادیانی کے خلاف الہاموں کا ذکر شروع کیا۔ پہلے میں نے مرزا مراد بیگ کو ان کا اپنا الہام یاد دلایا۔ ”انھم فى طغيانهم يعمهون“ تحقیق وہ اپنی سرکشیوں میں اندھے ہوئے پھر رہے ہیں۔ پھر اپنے الہامات کی طرف اشارہ کیا۔

میں کہہ رہا ہوں کہ خداوند میری گردن کو تلوار سے محفوظ رکھے گا۔ قریباً ٨؍ ماہ سے مرزا قادیان کا یہ الہام شائع ہو چکا ہے۔ مگر میں فضل خداوندی سے ہر طرح سلامت ہوں۔ مگر مرزا قادیانی سخت امراض میں مبتلا ہوا۔

مرزا ٹھگ ہے

بھاگتے ہیں۔ جن میں مولوی عبداللہ خان اور محمد حسین مراد آبادی بھی ہیں۔ ایک مرزائی نے ایک حدیث پڑھ کر سنائی جس کا مطلب یہ تھا کہ ایک امام آئے گا۔ اس کے جواب میں میں نے کہا کہ اس سے مرزا قادیانی کی صداقت کہاں ثابت ہوئی۔ میں بھی کہہ سکتا ہوں کہ میں وہی امام ہوں۔ اس پر وہ مرزائی بولا کہ آپ کے پاس کیا نشانات ہیں۔ میں نے کہا کہ مرزا قادیانی کے مقابلہ میں میرے پاس سینکڑوں اور ہزاروں درجہ بڑھ کر نشانات ہیں۔ اگر پیش گوئیاں لیتے ہو جس پر تمہارا بڑا ناز ہے۔ میری پیش گوئیوں پر بہ لحاظ کثرت اور صفائی کے مرزا قادیانی کی نسبت سینکڑوں درجہ بڑھ کر ہیں۔ اگر ایثار اور جان نثاری کا حساب کرتے ہو تو میرا حساب مرزا قادیانی سے ہزاروں درجہ بڑھ کر ہے۔ کیونکہ مرزا قادیانی تو دینی کتابوں اور رسالوں کے نام پر آج تک ہزاروں روپیہ ٹھگا ہے۔ میں نے ہزاروں جیب سے خرچ کیا ہے۔ پھر اس کی تمام کتابوں میں خود پرستی، خودستائی

٦٩

صفحہ ٥٠٦

اور ذاتی مشیخت کے سوائے اور کچھ نہیں۔ میری تصانیف میں نفسانیت کا نام نہیں بلکہ سراسر تذکرۃ القرآن، توحید وتمجید باری تعالیٰ اور اشاعت اسلام ہے۔ پھر میں جوش میں آ کر کہتا ہوں کہ جو ظاہر طور پر خائن، بدعہد، بددیانت، کذاب، فحش گو، بدمعاش، خود پسند، خود ستا، نفس پرست، آرام طلب اور متکبر ہے۔ وہ کیسے امام ہو سکتا ہے۔ بلکہ وہ مومن بھی کیسا ہے؟ مولوی عبداللہ خان بولے کہ آپ کی پیش گوئیاں شیطانی ہیں۔ میں نے کہا کہ آپ لوگ مرزا قادیانی کی حمایت میں قرآن مجید پر بھی لات مارتے ہو۔ کیا تمھیں ارشاد قرآنی یاد نہیں۔

کرتے ہیں کہ میں نبی ہوں۔ رسول ہوں۔ خواب آنا یا الہام ہونا خاص آدمی کا کام نہیں۔ پھر میں ایک شخص سے کہتا ہوں۔ یا اللہ، یا رحمٰن، یا رحیم پڑھتے ہوئے سو جایا کرو۔ الہام اور خواب آنے شروع ہو جائیں گے۔

نثر کا مضمون یاد نہیں۔ مگر نظم کا مضمون استغفار اور توبہ پر ہے۔ تین شعر میں نے پڑھے ہیں۔ ہر شعر کے ساتھ مجھ پر عجب رقت طاری ہوئی اور آنکھوں سے آنسو بکثرت جاری ہوئے۔ اتنے میں مولوی نور الدین یہاں میرے مکان پر تشریف لائے ہیں اور میں بغلگیر ہو کر ان سے ملا ہوں اور ان کو اندر اپنے مکان میں لے آیا ہوں۔ میں اور وہ دونوں کھانا کھانے بیٹھے ہیں۔ کھانا کھاتے ہوئے میں نے ذکر کیا کہ مرزا قادیانی نے مجھے محض اس بات پر مرتد ٹھہرایا کہ میں خدا پر ایمان اور نیک عملوں کو مدار نجات کہتا ہوں اور وہ نہیں مانتے۔ مولوی صاحب نے کہا کہ مرزا قادیانی کی اس بات سے تو مجھے اتفاق نہیں۔ مرتد تو وہ ہو سکتا ہے جو مشرک اور کافر ہو۔ پھر مولوی صاحب تو تھوڑا سا کھانا کھا کر ہٹ گئے اور میں کھاتا رہا۔ پھر مولوی صاحب نے کہا کہ جب تمہارا پہلا خط مرزا قادیانی کے پاس پہنچا تو وہ اس کو پڑھ کر حیران ہوئے اور کسمسا کر کہنے لگے میر کا پتر من کے پتھر کو توڑنا چاہتا ہے۔ پھر میں نے کہا کہ جس پتھر کو معماروں نے رد کیا وہی کونے کا سرا ہوا۔

آفت آنے والی ہے۔ خدا کی بہت یاد کرو۔ تقوے اور راست بازی اختیار کرو۔

بیعت سے نکلنے اور خلاف پر ہونے کی طرف اشارہ۔ ”الحمدلله الذی ھدانا لھذا وما کنا لنھتدی لولا ان ھدانا الله (الاعراف: ٤٣)“

٧٠

صفحہ ٥٠٧

پھر ایک خواب میں محمد حسین مراد آبادی اور عبد الصمد سنوری کو دیکھا۔ میں ان سے بڑے زور کے ساتھ کہہ رہا ہوں کہ ایک طرف تو مرزا قادیانی یہ کہتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے ماننے سے نجات ملتی ہے۔ دوسری طرف تمام مسلمانوں کو جو آنحضرت ﷺ کو مانتے اور حتی الوسع متابعت کرتے ہیں۔ کفار جہنمی قرار دیتا ہے۔ تمہیں اس بات کا جواب دینا ہوگا۔

صورت میں دکھائی گئی۔ جس پر سیاہی پھری ہوئی ہے اور درمیان سے کچھ حصہ صاف ہے۔

پھر الہام ہوا۔ May lord, Mombine the two into one

نے کہا۔ دیکھو سلام کرنا تو کافروں کے واسطے بھی جائز ہے۔ چنانچہ قرآن مجید فرماتا ہے۔ ”اذا خاطبهم الجاهلون قالوا سلاما (الفرقان:٦٣)“ (مومنوں کی یہ بھی شناخت ہے) کہ جب جاہل لوگ ان سے مخاطب ہوتے ہیں۔ تب وہ سلام کہتے ہیں۔ جاہلوں میں کافر بھی داخل ہیں۔ دوسری آیت میں ہے۔ ”اذا حييتم بتحية فحيوا باحسن منها او ردوها (النساء:٨٦)“ جب تمہیں کسی طرح سلام کہنا بھی جائز قرار نہیں دیتا۔ اور ہمدردی کیا کر سکتا ہے۔ وہ تو حیوانوں سے بھی بدتر ہے۔

قادیان میں جھوٹ وفریب

جاتے ہو۔ وہاں تو سوائے جھوٹ اور فریب کے اور کچھ نہیں۔

مرزا قادیانی کے خلاف دلائل پیش کر رہا ہوں۔ اتنے میں خلیفہ رشید الدین آئے۔ بدن دبلا اور اترا ہوا ہے۔ میں نے انہیں دیکھ کر کہا کہ آپ کب آئے اور مجھے کیوں اطلاع نہیں کی۔ مجھے آپ سے محبت ہے۔ آج آپ میری دعوت قبول کریں۔ انہوں نے جواب دیا کہ آپ مرزا قادیانی کے خلاف تقریر کرتے رہتے ہیں۔ میں نے کہا اگر تقریر کمزور اور جھوٹی ہو تو آپ بآسانی تردید کر سکتے ہیں اور اگر صحیح اور مدلل ہو تو آپ کو قبول کرنی چاہئے۔ اگر مرزا قادیانی سچا اور برگزیدہ خدا ہوتا

٧١

صفحہ ٥٠٨

تو اس کے خلاف سے میں ملعون ہو جاتا اور مجھے بشارتیں نہ ملتی۔ مجھے ایام مخالفت میں اس قدر بشارتیں ملی ہیں کہ پہلے کبھی نہ ملی تھیں۔ منجملہ ان کے ایک امتحان فرسٹ گریڈ میں کامیاب ہونے کی بشارت ہے اور ایک یہ ہے: ”انا نبشرك بغلام اسمه یحییٰ“ یہ پوری ہو چکی۔ پھر ایک یہ ہے ”لڑکوں کا سلسلہ“ مبارکہ بی بی، تو عصمت بی بی کو کہلایا کر۔ اگر میں جھوٹ بولتا ہوں تو خداوند عالم مجھے ایک منٹ کے اندر ہی ہلاک کر دے۔

سب مرزائی کافر

الہام قطعی و یقینی کی بناء پر میں نے شائع کی تھی۔ مگر مرزائیوں نے اس کو نہیں مانا۔ اس لئے وہ سب کافر ہیں۔ ان کو میرے الہامات سن کر قرآن مجید کی اس آیت پر عمل کرنا چاہئے تھا۔ ”ان يك كاذباً فعليه كذبه وان يك صادقاً يصبكم بعض الذى يعدكم“

چودہ ماہ سے دو ماہ گزر گئے

منجملہ ان کے مولوی عبدالعزیز اور ان کی اہلیہ اور میری بیوی ہیں۔ مولوی عبدالعزیز کہتے ہیں کہ آپ نے مولوی نورالدین کو السلام علیکم کیوں نہیں لکھا۔ میں نے جواب میں کہا کہ میں تو لکھتا رہا پھر وہ کہنے لگے کہ آپ نے خلاف کیوں کیا۔ میں نے جواب دیا کہ میں اپنے خداوند عالم، عقل اور وجدان سے کام نہ لیتا۔ کیا جب تک زبان آپ کے منہ میں ہے۔ آپ اس سے بولنا چھوڑ دیں گے اور اگر آپ کو کوئی گالیاں دے تو آپ کچھ نہ بولیں گے۔ پھر انہوں نے کہا کہ یہ بحث اور اختلاف کب تک رہے گا۔ میں نے کہا کہ چودہ مہینہ والی پیش گوئی کے پورا ہونے میں بارہ مہینہ اور پانچ یوم باقی ہیں۔ تب آپ بھی ایمان لے آئیں گے۔ دیکھو ان الفاظ میں مرزائی پیش گوئیوں کی طرح کوئی الہام اور گولائی نہیں۔ بلکہ صاف ہیں۔ مولوی عبدالعزیز نے اقرار کیا کہ ہاں بے شک صاف ہیں۔ پھر ان کے کندھے پر ہاتھ مار کر کہتا ہوں کہ تم مجھ پر ایمان لاؤ گے۔ پھر دو اور مرزائیوں کے کندھے پر تھپکی دے کر کہتا ہوں کہ تم بھی ایمان لے آؤ گے۔

ٹھیک کہتے ہیں کہ مرزائیوں نے جو اپنے اخباروں میں ان کا الہام برخلاف مرزا شائع کیا۔ یہ امداد الٰہی ہے۔ ورنہ وہ کیوں ایسا کرتے۔

(قاضی محمد سلیمان)

٧٢

صفحہ ٥٠٩

باب ہفتم

مرزائی مباہلوں کا تماشہ

مرزا قادیانی نے مفصلہ ذیل علماء و مشائخ کو ١٨٩٧ء میں مباہلہ کے لئے انجام آتھم میں مدعو کیا تھا: (١) مولوی نذیر حسین صاحب، (٢) شیخ محمد حسین صاحب بٹالوی ایڈیٹر اشاعۃ السنہ، (٣) عبدالحمید صاحب دہلوی مہتمم مطبع انصاری، (٤) مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی، (٥) مولوی عبدالحق صاحب دہلوی مؤلف تفسیر حقانی، (٦) مولوی عبدالعزیز صاحب لدھیانوی، (٧) مولوی محمد صاحب لدھیانوی، (٨) مولوی محمد حسین صاحب رئیس لدھیانہ، (٩) سعد اللہ صاحب نو مسلم مدرس لدھیانہ، (١٠) مولوی احمد اللہ صاحب امرتسری، (١١) مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری، (١٢) مولوی غلام رسول صاحب عرف رسل بابا امرتسری، (١٣) مولوی عبدالجبار صاحب غزنوی، (١٤) مولوی عبدالواحد صاحب غزنوی، (١٥) مولوی عبدالحق صاحب غزنوی، (١٦) محمد علی صاحب بھوپوری واعظ، (١٧) مولوی غلام دستگیر صاحب قصوری، (١٨) مولوی عبداللہ صاحب ٹونکی، (١٩) مولوی اصغر علی صاحب (روحی) لاہور، (٢٠) حافظ عبدالمنان صاحب وزیر آبادی، (٢١) مولوی محمد بشیر صاحب بھوپالی، (٢٢) شیخ حسین صاحب عرب یمانی، (٢٣) مولوی محمد ابراہیم صاحب آڑہ، (٢٤) مولوی محمد حسین صاحب مؤلف تفسیر امروہی، (٢٥) مولوی احتشام الدین صاحب مراد آباد، (٢٦) مولوی محمد اسحق صاحب اجراڑوی، (٢٧) مولوی عین القضاۃ صاحب لکھنؤ فرنگی محل، (٢٨) مولوی محمد فاروق صاحب کانپور، (٢٩) مولوی عبدالوہاب صاحب کانپور، (٣٠) مولوی سعید الدین صاحب کانپور رام پوری، (٣١) مولوی حافظ محمد رمضان صاحب پشوری، (٣٢) مولوی دلدار علی صاحب انور مسجد دائرہ، (٣٣) مولوی محمد رحیم اللہ صاحب مدرس مدرسہ اکبر آباد، (٣٤) مولوی ابوالانوار نواب محمد رستم علی خان صاحب چشتی، (٣٥) مولوی ابوالمؤید صاحب امروہی مالک رسالہ مظہر الاسلام اجمیر، (٣٦) مولوی محمد حسین صاحب گوٹلہ والے دہلی، (٣٧) مولوی احمد حسن صاحب شوکت مالک اخبار شحنہ ہند میرٹھ، (٣٨) مولوی نذیر حسین ولد امیر علی صاحب امبیٹھ ضلع سہارنپور،

٧٣

صفحہ ٥١٠

(٣٩) مولوی احمد علی صاحب سہارنپور، (٤٠) مولوی عبدالعزیز صاحب دینا نگر ضلع گورداسپور، (٤١) قاضی عبدالاحد صاحب خانپور ضلع راولپنڈی، (٤٢) مولوی احمد صاحب رامپور ضلع سہارنپور، (٤٣) مولوی محمد شفیع رامپور ضلع سہارنپور، (٤٤) مولوی فقیر اللہ صاحب مدرس مدرسہ نصرت الاسلام واقعہ لال مسجد بنگلور، (٤٥) مولوی محمد امین صاحب بنگلور، (٤٦) مولوی قاضی حاجی شاہ عبدالقدوس صاحب پیش امام جامع مسجد بنگلور، (٤٧) مولوی عبدالغفار صاحب فرزند قاضی شاہ عبدالقدوس صاحب بنگلور، (٤٨) مولوی محمد ابراہیم صاحب دہلوی حال مقیم بنگلور، (٤٩) مولوی عبدالقادر صاحب پیارم پیٹی ساکن پیارم پیٹ علاقہ بنگلور، (٥٠) مولوی محمد عباس صاحب ساکن وانمباڑی علاقہ بنگلور، (٥١) مولوی آل حسن شاہ صاحب میرٹھ، (٥٢) امیر علی شاہ صاحب اجمیر، (٥٣) مولوی احمد حسن صاحب بجنوری حال دہلی خاص جامع مسجد، (٥٤) مولوی محمد عمر صاحب دہلی فراشخانہ، (٥٥) مولوی مستعان شاہ صاحب سانبھر علاقہ جے پر، (٥٦) مولوی حفیظ الدین صاحب دوجانہ ضلع رہتک، (٥٧) مولوی فضل کریم صاحب نیازی غازی پور، (٥٨) مولوی حاجی عابد حسین صاحب دیوبند۔

اور سجادہ نشینوں کے نام یہ ہیں: (١) غلام نظام الدین صاحب سجادہ نشین نیاز احمد صاحب بریلی، (٢) میاں اللہ بخش صاحب سجادہ نشین سلیمان صاحب تونسوی منکیرہ، (٣) سجادہ نشین صاحب شیخ نور احمد صاحب مہارنوالہ، (٤) میاں غلام فرید صاحب چشتی چاچڑاں علاقہ بہاول پور، (٥) التفات احمد شاہ صاحب سجادہ نشین ردولی، (٦) مستان شاہ صاحب کابلی، (٧) محمد قاسم صاحب سجادہ نشین شاہ معین الدین شاہ خاموش حیدرآباد دکن، (٨) محمد حسین صاحب گدی نشین شیخ عبدالقدوس صاحب گنگوہی، (٩) گدی نشین اوچہ شاہ جلال الدین صاحب بخاری، (١٠) ظہور الحسین صاحب گدی نشین بٹالہ ضلع گورداسپور، (١١) صادق علی شاہ صاحب گدی نشین اتر چھتر ضلع گورداسپور، (١٢) سید صوفی جان صاحب مراد آبادی صابری چشتی، (١٣) مہر شاہ صاحب سجادہ نشین گولڑہ ضلع راولپنڈی، (١٤) مولوی قاضی سلطان محمود صاحب آہی اعوان والہ پنجاب، (١٥) حیدر شاہ صاحب جلال پور کٹکیاں والہ، (١٦) محمد توکل شاہ صاحب انبالہ، (١٧) مولوی عبداللہ صاحب تلونڈی والہ، (١٨) محمد امین صاحب چکوڑی علاقہ گجرات پنجاب، (١٩) مولوی عبدالغنی صاحب جانشین قاضی اسماعیل صاحب مرحوم بنگلور، (٢٠) مولوی ولی النبی شاہ صاحب

٧٢

نقشبند رامپور دارالریاست، (٢١) حاجی (٢٢) میر امداد علی شاہ صاحب سجادہ مودودی دہلی، (٢٣) عبداللطیف شاہ ص (٢٥) قطب علی شاہ صاحب دیوگڑھ علاقہ (٢٧) مولوی عبدالوہاب صاحب جانشین صاحب کچھوچھا ضلع فیض آباد، (٢٩) تر لاہور، (٣٠) حافظ صابر علی صاحب راج صاحب دہلی، (٣٢) منور شاہ صاحب صاحب نبیرہ شاہ ابو سعید صاحب رام پ پھلوارے ضلع پٹنہ، (٣٥) شاہ اشرف صاحب سجادہ نشین نوادا ضلع پٹنہ، (٣٧) شاہ صاحب الور دارالریاست، (٣٩) (٤٠) مولوی سلام الدین شاہ صاحب ضلع حصار، (٤٢) سید اصغر علی شاہ صا آباد ضلع اکبر آباد، (٤٤) سید احمد شاہ شاہجہاں پور، (٤٦) مولوی نظام الدی صاحب اعظم گڑھ ضلع خاص، (٤٨) محم

پھر اس فہرست کو الفاظ ذیل مباہلہ کے لئے بلائے گئے ہیں اور ان در حقیقت ہر ایک شخص جو باخدا اور صا کراہیت رکھتا ہے۔ وہ مکذبین میں د اور اسی صفحہ پر یہ ظاہر کیا کہ: ”میں ان اور مقام مقرر کر کے جلد میدان مباہلہ م خدا کی لعنت کے نیچے مریں گے۔“ مو سے بھرا ہوا عذاب ایک برس کے اندر ا اور کسی کو مجنون اور کسی کو مصروع اور کس

صفحہ ٥١٢

نقشبند رامپور دار الریاست، (٢١) حاجی وارث علی شاہ صاحبؒ مقام دیوا مقام دریوا ضلع لکھنؤ، (٢٢) میر امداد علی شاہ صاحبؒ سجادہ نشین شاہ ابوالعلا نقشبند، (٢٣) سید حسین شاہ صاحبؒ مودودی دہلی، (٢٤) عبد اللطیف شاہ صاحبؒ خلف حاجی نجم الدین شاہ صاحب چشتی جودھپور، (٢٥) قطب علی شاہ صاحبؒ دیوگڑھ علاقہ اودے پور میواڑ، (٢٦) میر زاہد علی شاہ صاحبؒ بدایونی، (٢٧) مولوی عبد الوہاب صاحبؒ جانشین عبد الرزاق صاحب لکھنؤ فرنگی محل، (٢٨) علی حسین شاہ صاحبؒ کچھوچھا ضلع فیض آباد، (٢٩) شیخ غلام محی الدین صاحبؒ صوفی وکیل انجمن حمایت اسلام لاہور، (٣٠) حافظ صابر علی صاحبؒ رامپور ضلع سہارنپور، (٣١) امیر حسن صاحبؒ خلف پیر عبداللہ صاحب دہلی، (٣٢) منور شاہ صاحبؒ فاضل پور ضلع گوڑگانوہ قریب دہلی، (٣٣) محمد معصوم شاہ صاحبؒ نبیرہ شاہ ابوسعید صاحبؒ رام پور دارالریاست، (٣٤) بدرالدین شاہ صاحبؒ سجادہ نشین پھلوارے ضلع پٹنہ، (٣٥) شاہ اشرف صاحبؒ سجادہ نشین پھلواری ضلع پٹنہ، (٣٦) مظہر علی شاہ صاحبؒ سجادہ نشین نوادہ ضلع پٹنہ، (٣٧) لطافت حسین شاہ صاحبؒ سجادہ نشین نوادہ، (٣٨) نثار علی شاہ صاحبؒ الور دار الریاست، (٣٩) وزیر الدین شاہ صاحب سجادہ نشین مخدوم صاحبؒ الور، (٤٠) مولوی سلام الدین شاہ صاحبؒ بم ضلع روہتک، (٤١) غلام حسین خاں شاہ صاحبؒ تھانوی ضلع حصار، (٤٢) سید اصغر علی شاہ صاحبؒ نیازی اکبر آباد، (٤٣) واجد علی شاہ صاحبؒ فیروز آباد ضلع اکبر آباد، (٤٤) سید احمد شاہ صاحبؒ ہردوئی ضلع لکھنؤ، (٤٥) مقصود علی شاہ صاحبؒ شاہجہاں پور، (٤٦) مولوی نظام الدین صاحبؒ چشتی صابری جھجر، (٤٧) مولوی محمد کامل شاہ صاحبؒ اعظم گڑھ ضلع خاص، (٤٨) محمود شاہ صاحبؒ سجادہ نشین بہار ضلع خاص۔

پھر اس فہرست کو الفاظ ذیل سے غیر محدود بنا دیا۔ بہر حال یہ تمام مکفرین اور مکذبین مباہلہ کے لئے بلائے گئے ہیں اور ان کے ساتھ وہ سجادہ نشین بھی ہیں جو مکفر یا مکذب ہیں اور در حقیقت ہر ایک شخص جو با خدا اور صوفی کہلاتا ہے اور اس عاجز کی طرف رجوع کرنے سے کراہت رکھتا ہے۔ وہ مکذبین میں داخل ہے۔‘‘ (انجام آتھم ص ٦٩ تا ٧٢، خزائن ج ١١ ص ٦٩ تا ٧٢) اور اسی صفحہ پر یہ ظاہر کیا کہ: ”میں ان سب کو اللہ جل شانہ کی قسم دیتا ہوں کہ مباہلہ کے لئے تاریخ اور مقام مقرر کر کے جلد میدان مباہلہ میں آئیں اور اگر نہ آئے اور نہ تکفیر و تکذیب سے باز آئے تو خدا کی لعنت کے نیچے مریں گے۔“ مباہلہ کا نتیجہ جو ص ٦٦ میں بیان کیا گیا یہ ہے ۔ ”دکھ اور ذلت سے بھرا ہوا عذاب ایک برس کے اندر نازل کر اور کسی کو اندھا کر دے اور کسی کو مجذوم اور کسی کو مفلوج اور کسی کو مجنون اور کسی کو مصروع اور کسی کو سانپ یا سگ دیوانہ کا شکار بنا اور کسی کے مال پر آفت

٧٥

صفحہ ٥١٢

نازل کر اور کسی کی جان پر اور کسی کی عزت پر۔“

(انجام آتھم ص٦٦، خزائن ج١١ ص٦٦)

پھر (انجام آتھم ص٦٧، خزائن ج١١ ص٦٧) پر یہ شائع کیا ۔ ”میں یہ بھی شرط کرتا ہوں کہ میری دعا کا اثر صرف اس صورت میں سمجھا جائے کہ جب وہ تمام لوگ جو مباہلہ کے لئے میدان میں بالمقابل آویں۔ ایک سال تک ان بلاؤں میں سے کسی بلا میں گرفتار ہو جائیں۔ اگر ایک بھی باقی رہا تو میں اپنے تئیں کاذب سمجھوں گا۔ اگرچہ وہ ہزار ہوں یا دو ہزار اور پھر ان کے ہاتھ پر توبہ کرلوں گا۔ گواہ رہ اے زمین اور اے آسمان کہ خدا کی لعنت اس شخص پر کہ اس رسالہ کے پہنچنے کے بعد نہ مباہلہ میں حاضر ہو اور نہ تکفیر اور توہین چھوڑے اور نہ ٹھٹھا کرنے والوں کی مجلسوں سے الگ ہو اور اے مومنو! برائے خدا تم سب کہو۔ آمین!“

گویا کہ تمام علماء، مشائخ، صوفی، سجادہ نشین مرزا قادیانی کے مباہلہ میں آچکے اور ان تمام کے خلاف مرزا قادیانی کی بددعا اور لعنت ہو چکی۔ اب دیکھنا یہ تھا کہ وہ تمام ایک سال کے اندر ہلاک یا ذلیل، یا مبتلائے عذاب یا سخت مریض، یا اندھے یا مجذوم، مفلوج، مجنون، مصروع ہوئے یا نہیں؟ اگر ہوئے تو مرزا قادیانی سچا اور اگر نہیں ہوئے یا ان تمام میں سے ایک دو بھی بچ رہے تو مرزا جھوٹا۔ مگر مرزائیوں نے ایک سال کے اندر سب کے مبتلا ہونے کی شرط کو مطلق نظر انداز کردیا اور جو کوئی ان تمام میں سے کبھی مرجاتا ہے یا کسی مرض، یا نقصان، یا ذلت میں مبتلا ہوتا ہے تو فوراً اخباروں میں شور مچانا شروع کردیتے ہیں کہ دیکھو فلاں شخص جو مرزا قادیانی کا بڑا مخالف تھا فوت ہو گیا۔ یا سخت بیمار ہو گیا یا قید ہو گیا۔ یا اس پر عدالت سے جرمانہ ہو گیا۔ دنیا کے تین کروڑ مسلمانوں میں سے انتیس کروڑ ستانوے لاکھ تو مرزا قادیانی کے مخالف کذاب، مکار، یا اس کے نہ ماننے والے اور جب کبھی ان میں سے کوئی مر جائے یا کسی بلا میں پھنس جائے تو جھٹ مرزائیوں کے شادیانے بجنے شروع ہو جائیں اور ستر ہزار اخباروں میں غوغا مچایا جائے۔ دیکھو فلاں مرگیا یا ذلیل ہوگیا اور سرخی یہ دی جاتی ہے۔ ”انی مہین من اراد اہانتک“ (تذکرہ طبع سوم ص٣٣) یا صادق کے سامنے شریر فنا ہو گیا۔ یا ایک نشان ظاہر ہوا۔ کیا ہی سچ ہے ”دجال کانا ہوگا پر خدا کانا نہیں ۔“

اوّل ...... تو یہ مباہلہ قرآنی مباہلہ کے مخالف ہے۔ کیونکہ قرآن مجید میں جس مباہلہ کا ذکر ہے وہ خاص توحید اور عظمت باری تعالیٰ کے واسطے مسیح علیہ السلام کو خدا اور راہبوں کو رب پکارے جانے کے خلاف تھا۔ کسی نبی یا رسول نے آج تک ایسی قوم سے کبھی مباہلہ نہیں کیا۔ جو خدا کو احــــــد،

٧٦

صمد، لم یلد، ولم یولد، و مالك یوم الدین مانتے غیر محرف صورت میں موجود تھی اسلام کو محض اپنے منوانے کے وا مرزا کی اس میں مثال انبیاء کی حال ہوں۔ جس طرح پر چاہے اطمینا مولانا عبدالحق غزنوی نے

دوم ...... مرزا قادیانی کا مباہل سال کے اندر ہلاک نہیں ہوئے

سوم ...... تمام انبیاء علیہم السلا ثابت ہوتا ہے۔ وہ ایک خدا کی انبیاء علیہم السلام کے خلاف ہے ہی مباہلہ کے واسطے بلاتا، اپنی ک خواہ وہ کیسے ہی عابد و زاہد کیوں نہ

چہارم ...... غیر خدا کے واسطے م خلاف ہوتے رہے ہیں۔ جیسا ک ذاکرین خدا سے جھگڑتا ہے۔ ”اتحاجوننا فی اللہ و مخلصون (البقرة:١٣٩)“ اور مباہلوں کا ہونا چاہئے۔

پنجم ...... مرزا قادیانی تمام مخا ہے۔ یہاں تک کہ اس کو الہام ہ اصحاب خندق کے مشابہ ہے۔ قرآن کریم فرماتا ہے۔ ”قتل قعود وهم على ما يفعلون

صفحہ ٥١٣

صمد، لم يلد، ولم يولد، وليس كمثله شی، رب العالمين، الرحمن، الرحيم اور مالك يوم الدين ماننے والی تھی اور ان کے ہاتھ میں قرآن کریم جیسی کامل کتاب محفوظ اور غیر محرف صورت میں موجود تھی۔ جس پر وہ عامل تھے۔ جیسا کہ مرزا قادیانی تمام علماء ومشائخ اسلام کو محض اپنے منوانے کے واسطے مباہلہ کے لئے مدعو کرتا اور ان پر لعنتیں برساتا ہے۔ اگر کوئی مرزا کی اس کی مثال انبیاء کی حالات سے پیش کر سکے تو میں پانچ سو روپیہ بطور انعام دینے کو تیار ہوں۔ جس طرح پر چاہے اطمینان کر لے۔ ورنہ لعنت الله علی الکاذبین !

مولانا عبدالحق غزنوی سے مباہلہ

دوم....... مرزا قادیانی کا مباہلہ واقعی مولوی عبدالحق صاحب غزنوی کے ساتھ ہوا تھا۔ وہ ایک سال کے اندر ہلاک نہیں ہوئے۔ نہ مبتلائے امراض مہلکہ۔ پس مرزا قادیانی جھوٹا ثابت ہوا۔

سوم....... تمام انبیاء علیہم السلام کا خاص مشن۔ جو قرآن مجید کی آیات بینات سے صاف طور پر ثابت ہوتا ہے۔ وہ ایک خدا کی پرستش اور اصلاح اعمال ہے۔..... مگر مرزا قادیانی کا خاص مشن تمام انبیاء علیہم السلام کے خلاف ہے۔ کیونکہ وہ تمام موحد، خدا پرستوں، علمائے دین اور ذاکرین خدا کو ہی مباہلہ کے واسطے بلاتا، اپنی کبریائی جتلاتا اور اپنے نہ ماننے والوں کو لعنتی اور جہنمی ٹھہراتا ہے۔ خواہ وہ کیسے ہی عابد وزاہد کیوں نہ ہوں۔

چہارم....... غیر خدا کے واسطے کفار اور مشرکین کے جھگڑے انبیاء علیہم السلام اور موحدین کے خلاف ہوتے رہے ہیں۔ جیسا کہ مرزا قادیانی محض اپنے منوانے کے واسطے کل علمائے اسلام اور ذاکرین خدا سے جھگڑتا ہے۔ ان کو انبیاء علیہم السلام کی طرف سے یہی جواب ملتا تھا۔ ”اتحاجوننا فی الله وهو ربنا وربکم ولنا اعمالنا ولکم اعمالکم ونحن له مخلصون (البقرة:١٣٩)“ سو یہی جواب تمام مسلمانوں کی طرف سے مرزا قادیانی کی دعوتوں اور مباہلوں کا ہونا چاہئے۔

پنجم....... مرزا قادیانی تمام خدا پرستوں پر لعنت برساتا اور ان کی عام تباہی اور ہلاکت کا مشتاق ہے۔ یہاں تک کہ اس کو الہام ہوتے ہیں۔ دنیا کی تباہی اور ہمارے لئے عید کا دن۔ یہ حالت اصحاب خندق کے مشابہ ہے۔ جنہوں نے خدا پرستوں کو آتشین خندق میں جلایا تھا۔ جیسا کہ قرآن کریم فرماتا ہے۔ ”قتل اصحاب الاخدود النار ذات الوقود اذ هم علیها قعود وهم علی ما یفعلون بالمؤمنین شهود وما نقموا منهم الا ان یؤمنوا بالله

٧٧

صفحہ ٥١٤

العزیز الحمید الذی له ملك السموات والارض (البروج: ٤ تا ٩) ”ہلاک ہوں آگ کی خندق والے لوگ جس میں ایندھن جلایا گیا۔ جب وہ اس کے کناروں پر بیٹھے ہوئے دیکھ رہے تھے جو وہ مؤمنین کے ساتھ کرتے تھے۔ انہوں نے ان کا کوئی جرم نہیں پکڑا۔ مگر یہی کہ وہ اللہ کو مانتے ہیں۔ جو تمام عزت اور خوبیوں کا مالک ہے۔ جس کی ملکیت آسمان اور زمین ہیں۔

ششم ..... قرآن مجید نے نصاریٰ کو دعوت توحید دی تھی۔ ”تعالوا الى كلمة سواء بيننا وبينكم الا نعبد الا الله ولا نشرك به شيئاً ولا نتخذ بعضنا بعضاً ارباباً من دون الله (آل عمران: ٦٤) ”(اے عیسائیو ) ایک بات کی طرف آجاؤ۔ جو ہم اور تم میں برابر ہے۔ یعنی کہ سوائے اللہ کے اور کسی کی پرستش نہ کریں اور کسی شے کو اس کا شریک نہ ٹھہرائیں اور نہ بعض ہم میں سے بعض کو اللہ کے سوائے رب سمجھیں۔ مگر مرزا قادیانی تمام موحد اور خدا پرستوں کو عام طور پر کہتا ہے ۔ ”لعنت الله علی من تخلف منا وانکر“ اللہ کی لعنت اس پر جو ہم سے خلاف کرے اور انکار کرے۔

ہفتم ...... قرآنی اصول پر مرزا قادیانی کا مباہلہ مئی ١٩٠٦ء میں محض میرے ساتھ تھا۔ کیونکہ میں نے بار بار لکھا کہ مدار نجات توحید اور اعمال صالحہ ہیں اور قرآنی آیات نہایت تواتر اور کثرت کے ساتھ اس مسئلہ کی تائید میں پیش کیں۔ مگر مرزا قادیانی اس کے مقابلہ پر بھی لکھتا رہا کہ مدار نجات میں ہوں۔ میرے ماننے کے بغیر توحید اور اعمال صالحہ کوئی چیز نہیں۔ یہاں تک کہ آخر کار اس نے ایک اعلان پُر طغیان (٣؍ مئی ١٩٠٦ء) کو میرے برخلاف شائع کر دیا۔ جس میں اس نے سراسر دشنام دہی اور دروغگوئی سے کام لیا۔ بددعائیں کیں اور گول مول طور پر ظاہر کیا۔ ”انما اشکو بثی وحزنی الی الله تعالیٰ واعلم من الله ما لا تعلمون“ میں اپنا دکھ اور درد محض اللہ کے آگے روتا ہوں اور اللہ کی طرف سے وہ باتیں جانتا ہوں۔ جو تم نہیں جانتے ۔ ٨ مئی ١٩٠٦ء کو جو میں نے ایک خط مولوی نورالدین صاحب کی خدمت میں لکھا۔ اس میں میں نے اپنے خلاف کی بابت جتلا دیا کہ اگر میں نے خالصاً خدا کے واسطے اور اس کی عظمت و جلال کے واسطے نہیں کیا تو میں آج ہی تباہ ہو جاؤں ۔ مسیح تو میری ہلاکت اور تباہی اپنی نفسانی اغراض کی بناء پر کسی اور وقت پر چاہتا ہوگا۔ مگر میں کہتا ہوں۔ اے خداوند میں نے اگر یہ سب کچھ تیری عظمت و جلال کی خاطر نہیں کیا تو مجھے ابھی ایک منٹ کے اندر ہی اس دنیا سے اٹھالے۔ آمین۔ آمین۔ آمین !

(الذکر الحکیم نمبر ٤ ص ٤٧)

٧٨

صفحہ ٥١٥

مارچ ١٩٠٦ء میں میرے پہلے خط کے جواب میں ہے۔ مرزا قادیانی نے قرآنی بینات سے صاف اعراض اور ارتداد شروع کر دیا تھا۔ اس لئے ”ویل لکل افاک اثیم یسمع آیات اللہ تتلی علیہ ثم یصر مستکبراً کان لم یسمعہا فبشرہ بعذاب الیم (الجاثیہ:٧، ٨)“ ہر ایک جھوٹے بدکار پر لعنت ہے۔ جو اللہ کی آیتوں کو جو اس پر پڑھی جاتی ہیں۔ سنتا مگر تکبر سے اصرار کرتا ہے۔ گویا کہ اس نے ان کو سنا ہی نہیں۔ پس اس کے واسطے عذاب دردناک ہے۔ اس قرآنی ارتداد اور مباہلہ کے بعد جو مرزا قادیانی کی حالت ہوئی۔ اس کے متعلق مرزا قادیانی کے الفاظ جو اخباروں میں شائع ہوتے رہے۔ ”کافی عرصہ تین چار ماہ سے میری طبیعت نہایت ضعیف ہو گئی ہے۔ بجز دو وقت ظہر و عصر کے نماز کے لئے بھی مسجد میں نہیں جا سکتا اور اکثر بیٹھ کر نماز پڑھتا ہوں۔ اگر ایک سطر بھی لکھوں یا کچھ فکر کروں تو خطرناک دوران سر شروع ہو جاتا ہے اور دل ڈوبنے لگ جاتا ہے۔ جسم بالکل بیکار ہو رہا ہے۔ جسمانی قوائے ایسے مضمحل ہو گئے ہیں کہ خطرناک حالت ہے۔ گویا مسلوب القوائے ہوں اور آخری وقت ہے۔ ایسا ہی میری بیوی دائم المرض ہے۔ امراض رحم و جگر دامنگیر ہیں۔“

(الحکم مورخہ ٢٤؍مئی ١٩٠٦ء)

”حضرت اقدس (مرزا قادیانی) کی طبیعت بدستور ناساز رہی۔ تکلیف درد پا کی ہے۔ نقرس کا درد بتایا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ رحم فرماوے۔“

(الحکم مورخہ ٣٠؍جون ١٩٠٦ء)

اس ہفتہ حضرت اقدس کی طبیعت زیادہ علیل رہی۔ (البدر مورخہ ٢٥؍اکتوبر ١٩٠٦ء، ١٦؍ستمبر ١٩٠٧ء) کو اس کا مبشر بیٹا مبارک احمد فوت ہو گیا۔

خان صاحب فتح محمد خان صاحب منیجر مطبع عزیزی کا مضمون

ڈاکٹر عبدالحکیم خان صاحب کی سہ سالہ پیش گوئی جو انہوں نے ١٢؍جولائی ١٩٠٦ء کو کی تھی۔ مرزائی اصولوں کے مطابق پوری ہو چکی۔ اصل پیش گوئی کے الفاظ یہ ہیں۔ ”مرزا مسرف کذاب ہے اور عیار ہے۔ صادق کے سامنے شریر فنا ہو جائے گا۔“ اور اس کی میعاد تین سال بتائی گئی ہے۔

مرزا قادیانی کے اپنے الفاظ اور الہامات جو اخبارات بدر والحکم میں شائع ہوتے رہے۔ ان سے ظاہر ہے کہ جس بناء پر مرزا قادیانی نے ڈاکٹر عبدالحکیم خاں سے خلاف کیا۔ اس عرصہ میں اس نے اس سے صاف رجوع کیا۔ ڈاکٹر عبدالحکیم خان سے خوابوں میں بھی ڈرتا رہا۔ الفاظ ذیل اس کے منہ سے نکلے۔ ”اے سیف تو اپنا رخ پھیرے۔“

(تذکرہ طبع سوم ص ٦٨٢، الحکم مورخہ ٧؍نومبر ١٩٠٦ء)

٧٩

صفحہ ٥١٦

”اے عبدالحکیم خدا تعالیٰ تجھے ہر ایک ضرر سے بچاوے، اندھا ہونے ، مفلوج ہونے اور مجذوم ہونے سے۔“

(تذکرہ طبع سوم ص ٦٧٦، بدر مورخہ ١١؍اکتوبر ١٩٠٦ء)

”کترین کا بیڑا غرق ہو گیا۔“

(تذکرہ طبع سوم ص ٦٨٣، الحکم مورخہ ١٧؍نومبر ١٩٠٦ء)

ڈاکٹر عبدالحکیم خاں نے یہ مسئلہ پیش کیا تھا کہ جن لوگوں پر کسی رسول کی تبلیغ نہیں ہوئی۔ ان میں جو خدا کو مانتے اور عمل صالح کرتے ہیں نجات پاسکتے ہیں۔ اس پر مرزا قادیانی نے ان کو مرتد قرار دیا تھا۔ مگر اب الحکم میں فضل دین کے الفاظ شائع ہوتے ہیں ۔ ”بے خبر کو خدا تعالیٰ عذاب نہیں دیتا۔ جب کہ وہ انذار اور منذر سے غافل ہے ۔ خواہ وہ مشرک اور ظالم ہی کیوں نہ ہو۔“

ڈاکٹر عبدالحکیم خاں نے جب یہ لکھا کہ اٹلی ، فارموسا، ایکوے ڈور، کانگڑہ اور سانس فرانسسکو کے زلازل و آتش فشانیاں آپ کے خلاف کا نتیجہ کیسے ہوسکتی ہیں۔ جب کہ ان پر آپ کی پوری تبلیغ ہی نہیں ہوئی۔ اس کے جواب میں مرزا غضبناک ہو کر بیہودہ جواب دیتا رہا۔ نورالدین نے یہ لکھا کہ نبیوں کے آنے سے ساری دنیا پکڑی جاتی ہے۔ اب خود مرزا قادیانی کے الفاظ الحکم مورخہ ١٠؍مارچ ١٩٠٧ء میں شائع ہوتے ہیں کہ اگر اہل امریکہ ویورپ ہمارے سلسلہ کی طرف توجہ نہیں کرتے ۔ تو وہ معذور ہیں اور جب تک ہماری طرف سے ان کے آگے اپنی صداقت کے دلائل نہ پیش کئے جائیں۔ وہ انکار کا حق رکھتے ہیں۔

خواب میں عبدالحکیم سے مرزا کا ڈرنا

خوابات میں ڈاکٹر عبدالحکیم خاں سے ڈرنا مرزا قادیانی کے خواب ذیل سے ظاہر ہے۔ جو بدر مورخہ ١٣؍ستمبر ١٩٠٦ء میں شائع ہوا۔ ”میں نے دیکھا کہ ڈاکٹر عبدالحکیم ہمارے مکان کے پاس کھڑا ہے اور والدہ محمد اسحق اس کو اپنے گھر میں بلاتی ہیں۔ مگر میں نے اسے اندر نہیں آنے دیا اور میں نے کہا کہ میں نہیں آنے دیتا۔ اس میں ہماری بے عزتی ہے۔ دشمن کے گھر میں داخل ہونے سے مراد کوئی مصیبت یا موت ہوتی ہے۔“ ڈاکٹر عبدالحکیم خاں کی مخالفت کے بعد مرزا قادیانی مسلسل بیماریوں میں مبتلا چلا آتا ہے۔ بار بار دوار اور صداع کے دور ہوتے ہیں۔ مرض نقرس میں مبتلا رہا۔ ایک بار فالج بھی محسوس ہوا۔ الغرض جیسا کہ اس نے شائع کیا تھا۔ ”خدا اس کے واسطے سلامتی نہیں چاہتا۔“ ”انا اخذناه بعذاب الیم“ (تذکرہ طبع سوم ص ٦٢٣) فرشتوں کی کھینچی ہوئی تلوار تیرے آگے ہے۔ (تذکرہ طبع سوم ص ٦٢٠) یہ ہو بہو نقشہ

٨٩

صفحہ ٥١٧

مرزا قادیانی کی حالت کا ہے ١؎۔

اس عرصہ میں ڈاکٹر عبدالحکیم خان صاحب غیر معمولی طور پر صحیح و تندرست رہے۔ فرسٹ گریڈ کے امتحان میں بعزت کامیاب ہوئے۔ صدہا بشارات پوری ہوئیں۔ ١٥؍اپریل ١٩٠٧ء کو بشارت ہوئی ۔ ” انا نبشرك بغلام اسمه يحيیٰ “ یہ بشارت ڈاکٹر صاحب نے مولوی نورالدین کے نام بھی ایک خط میں لکھ دی تھی۔ سو الحمد للہ! کہ ٢٩؍ اپریل ١٩٠٤ء کو رات کے ١٢ بجے کے قریب ان کے گھر میں ایک لڑکا پیدا ہوا اور اس کا نام حسب بشارت خداوندی یحییٰ رکھا گیا۔ پٹیالہ میں یہ بشارت قبل از وقت بہت اشخاص کو سنادی گئی تھی۔ جن میں سے چند ایک یہ ہیں۔ مولوی فضل حق و محمد بیگ۔ یہ دونوں مرزائی ہیں۔ مولوی فضل متین صاحب جنرل رجسٹرار ریاست پٹیالہ، سردار سروپ سنگھ فرسٹ گریڈ ہاسپٹل اسسٹنٹ۔ یہ تو مرزا قادیانی کے دکھ درد، امراض توحش، رجوع اور پریشانی دماغ کا بیان ہوا۔ اب اصل موت کا ذکر اس کے الفاظ میں سنئے وہ کتنی بار اس پر وارد ہوئی اور کس طرح ٹلی۔

مرزا اور موت کے نظارے

متعین نہیں ہوا کہ کس کی موت آئی ہے۔ تب اس کشفی حالت میں میں نے دعا کی۔ الہام ہوا۔ ”ان المنایا لا تطیش سہامھا“ یعنی موتوں کے تیر خطا نہیں جاتے۔ تب میں نے اسی کشفی حالت میں ہی پھر دعا کی کہ اے خدا تو ہر چیز پر قادر ہے۔ تب الہام ہوا۔ ”ان الـمـنـایـا قـد تطیش سہامھا “ (موتوں کے تیر کبھی ٹل بھی جایا کرتے ہیں) اس کے بعد یہ بھی الہام ہوا۔ رسیدہ بود بلائے ولے بخیر گذشت۔ میں نہیں کہہ سکتا کہ ہم سب میں سے کسی کے حق میں ہے۔

(تذکرہ طبع سوم ص ٦٧٨)

ہو گیا۔“

(تذکرہ طبع سوم ص ٦٨٣)

١؎ مرزا قادیانی کا الہامی لڑکا مبارک احمد فوت ہو گیا۔ باوجودیکہ اس کی ایام بیماری میں اس کی نسبت بہت دعا کی اور الہام بھی ہوا کہ قبول کی گئی اور ٹائیفائیڈ کا تپ ٹوٹ گیا۔ کچھ افاقہ ہونے پر اس کی شادی بھی کر دی۔ ڈاکٹر صاحب کو ٧؍ستمبر ١٩٠٧ء کو الہام ہوا۔ آج مرزا قادیانی کے ٹرسٹ میں قلق ہے۔ ١٦؍ستمبر ١٩٠٧ء کو مبارک احمد کا افاقہ اور شادی کے بعد انتقال ہوا۔

٨١

صفحہ ٥١٨

کی۔ ”دشمن کے گھر میں داخل ہونے سے مراد کوئی مصیبت یا موت ہوتی ہے۔“

الحکم مورخہ ٣١؍ جولائی ١٩٠٦ء۔

کہنے لگے کہ تار آگئی ہے۔ دو پل ٹوٹ گئے ہیں۔“

(تذکرہ طبع سوم ص ٦٢٣)

چونکہ مرزا قادیانی کے خود اپنے الفاظ خوابات اور الہامات سے ڈرنا، متوحش رہنا، عدم تبلیغ کی حالت میں یورپ و امریکہ کو معذور سمجھنا، عبدالحکیم خاں کے حق میں دعا کرنا، بے خبر لوگوں کو معاف سمجھنا، پھر موت، تباہی اور مصیبت کا مختلف صورتوں میں سامنے آنا، موت کا اس کی دعا اور زاری کے بعد ٹلنا، رسید بود بلائے ولے بخیر گذشت اس کے بعد منہ سے نکلنا۔ صاف طور پر ظاہر ہے۔ اس لئے انجام آتھم کی طرح ہمیں ضرورت نہیں کہ پیش گوئی کی میعاد گذر جانے کے بعد ہم خود ہی مدعی بنیں اور مکرر و مبسوط اشتہارات و رسالہ جات میں شاعری انشاء پردازی اور فسانہ طرازی پر سارا زور خرچ کر کے دنیا کو دکھانا چاہیں کہ وہ ڈر گیا تھا۔ ہمیں آتھم کی طرح مرزا قادیانی کو قسم دینے کی ضرورت بھی نہیں۔ کیونکہ خود مرزا قادیانی کے بیانات پہلے ہی صاف طور پر اسی کے اخباروں میں شائع شدہ ہیں۔ عبداللہ آتھم کے محض ڈرنے کو ناکافی سمجھ کر مخالفین نے جو شور مچایا تو مرزا قادیانی نے ان کو بے شرم، جاہل اور یہودی صفت کہا تھا۔ اب دیکھئے مرزائی اس پیش گوئی کی نسبت کیا کہتے اور کہاں تک راستی اور ایمانداری دکھاتے ہیں۔ ڈاکٹر عبدالحکیم خان صاحب ایم۔ بی کے دیگر خوابات جو مرزا قادیانی کے متعلق پورے ہوچکے:

مرزا لنگڑا

ہوا ہے اور ٹخنہ پر پٹیاں بندھی ہوئی ہیں۔ دیکھو (الذکر الحکیم نمبر ٤ ص ٥، مطبوعہ ٢٣؍ مئی ١٩٠٦ء) اس کے بعد مرزا قادیانی نقرس میں مبتلا ہوا اور اس کے پاؤں میں درد ہوا۔ دیکھو الحکم۔

٨٢٠

صفحہ ٥١٩

پھر ایک جگہ محمد حسین مرادآبادی خوشنویس ملا۔ چہرہ افسردہ ہے۔ میں اسے کہتا ہوں کہ آنحضرت ﷺ کی آپ ایک حدیث بھی ثابت نہیں کرسکتے۔ جس پر ساتھ کے ساتھ عمل قائم نہ ہوا ہو۔ مگر مرزا قادیانی کے اقوال میں باتیں ہی باتیں ہوتی ہیں اور عمل مطلق نہیں ہوتا۔ دیکھو (الذکر الحکیم نمبر ٤ ص ٤٩) چنانچہ اشاعت (الذکر الحکیم نمبر ٤) کے بعد ڈاکٹر صاحب کا مولوی فضل حکیم صاحب کے مکان پر بکثرت جانا ہوا۔ محمد حسین مرادآبادی بھی وہاں ملتا رہا اور یہی اذکار ہوتے رہے۔

رسالہ المسیح الدجال ایسا ایک زبردست حربہ ڈاکٹر کے ہاتھ سے نکلا۔ جس سے حقیقت میں دجالی فتنہ پاش پاش ہوگیا۔ جس شخص کو یہ رسالہ یاد ہوتا ہے۔ مرزائی اس کے مقابل بالکل نہیں ٹھہر سکتے اور حیلہ بہانہ کرکے بھاگ جاتے ہیں جس شہر یا گاؤں میں یہ رسالہ پہنچ چکا ہے۔ مرزائیوں کا جوش دب گیا۔ ان کے طوفان کا سیلاب بند ہوگیا اور سینکڑوں مریدان مرزا رجوع کرچکے ہیں۔ جن کی فہرست علیحدہ شائع کی جائے گی۔ جن صاحبوں نے ابھی تک طبع کرکے شائع کی جاوے۔

"ولمن خاف مقام ربہ جنتان" جس کی تعبیر ڈاکٹر صاحب نے یہ کی کہ وہ دشمنوں کے گزند سے محفوظ رہیں گے اور دشمن کی بددعائیں اور رونا، پیٹنا اس پر کچھ اثر نہ کرسکیں گے۔ چنانچہ گذشتہ سولہ ماہ میں ڈاکٹر صاحب خدا کے فضل سے صحیح سلامت رہے۔ ترقی حاصل کی اور مرزا سخت دکھ اور مصیبت کی حالت میں رہا۔ اس کا مبشر بیٹا فوت ہوا۔

کہ اب وہی لعنتیں جو مرزا قادیانی اوروں پر برسایا کرتا تھا اب اس پر الٹ پڑیں اور وہ تمہیں کچل ڈالیں گی اور تمہارا خاتمہ ہوجائے گا۔ اس خواب کے بعد سنور، سمانہ اور محمود پور میں مرزائی بکثرت مرے۔ ابراہیم اور اس کی بیوی اور اس کے دونوں بیٹے اور ان کی بیویاں پلیگ سے فوت ہوئیں اور ان کا گھر بند ہوگیا۔

باب ہشتم

مرزائے قادیانی کی مطلب پرستی

میں تو مانوں گا وہی جس میں ہو مطلب کا نشاں
باقی سب لغو ہے اور جھوٹ حدیث اور قرآن

٨٣

صفحہ ٥٢٠

مرزا قادیانی اور مرزائی قرآن مجید اور احادیث صحیحہ کے صاف الفاظ اور محکمات سے صاف اعراض کر کے متشابہات کو پکڑ لیتے اور شاعرانہ رنگ آمیزیوں سے ایک ذرہ کو پہاڑ بنا دیتے ہیں۔

تعمیر مینار قادیان

میں ہے۔ مگر جب دیکھا کہ مینارہ کی تعمیر کی بناء پر خوب روپیہ وصول ہوگا تو فوراً دس ہزار کا تخمینہ تیار کرا کے سو اہل وسعت مریدوں سے سو سو روپیہ وصول کر لیا۔ متفرق رقومات علیحدہ لیتا رہا۔ یہاں تک کہ دس ہزار سے کئی گنا زیادہ روپیہ وصول ہو گیا اور ظاہر کیا کہ مینارہ کی تعمیر سے آنحضرت ﷺ کی پیشین گوئی کی تصدیق ہوگی۔ حالانکہ یہ کہیں ارشاد نہیں کہ مسیح منارہ تعمیر کرائے گا۔ مگر تعمیر سے چونکہ ہزاروں روپیہ وصول ہوتا تھا۔ اس لئے اس کے نقشوں، تخمینوں اور چندوں کے واسطے بڑی مستعدی کے ساتھ اخبار میں اشتہارات دیئے۔ الفاظ ابن مریم بنزول اور مشرق دمشق سے صاف اعراض کیا اور ان میں رکیک تاویلات کیں۔ پھر جب تک اس کا چندہ وصول نہ ہوا۔ تب تک تیاری اور اشتہارات میں بہت مستعدی دکھائی۔ مگر جب دس ہزار سے بھی کئی گنا روپیہ وصول ہو چکا تو تعمیر بند کر دی۔

بہشتی مقبرہ

مقبروں کی آمد تمام اسلامی دنیا میں خوب ہے تو فوراً اپنی موت کا اشتہار دے کر الہام ذیل شائع کر دیا۔ "جاء اجلك المقدر" تیری اجل مقدر آن پہنچی تاکہ اس کی موت کی خبر سے تمام مریدوں میں جوش پیدا ہو جائے اور فوراً وہ مال و جان قربان کرنے کے لئے مستعد ہو جائیں۔ رسالہ الوصیت شائع کیا جس میں ایک بہشتی مقبرہ کا اعلان دیا گیا جو کوئی اسلامی خدمات کے لئے بہشتی مقبرہ کے نام پر اپنی جائیداد منقولہ و غیر منقولہ کا دسواں حصہ وقف کر دے گا۔ اس کو اس مقبرہ میں جگہ مل سکے گی اور وہ بہشتی ہو جائے گا۔ اس کی تیاری کے لئے اس وقت ہزاروں روپیہ علیحدہ وصول ہو رہا ہے۔ مگر بہشتی مقبرہ کی آمد میں سے کوئی اسلامی خدمت نہیں کی جاتی۔ تعلیم الاسلام سکول قادیان جو ایک طرح پر خدمت کر رہا ہے۔ چونکہ مرزا قادیانی کی ذات کو اس سے کچھ فائدہ نہیں۔ اس لئے اس سے آپ کو اس قدر بھی ہمدردی نہیں کہ اس کی شاخوں کو مہینہ میں ایک دو بار ملاحظہ کر لیا کریں۔ ہاں مینارہ، مقبرہ اور لنگر کے نام پر جو منی آرڈر آتے ہیں ان کی وصولیت کے لئے ہر وقت منتظر اور مستعد رہتے ہیں۔

٨٤

منی آرڈروں کی وصولیت لنگر کی مطلق فرصت نہیں۔ کیا کوئی بتا مہمانوں کی خوراک پر کیا صرف ہوا اور آج تک مینارہ کے نام پر کس قدر رو مرزا قادیانی کی ذاتیات پر کس قدر؟ ہوئی اور اس میں سے کس قدر صرف مرزا قادیانی کو نذرانوں میں کس قدر ر کے نذرانوں اور جائیداد اور آمد لنگر سے مرزا قادیانی اپنے صرف میں لاتے ہیں

لنگر خانہ

روپیہ ماہوار ہو جاتی ہے۔ اس لئے ا جاری ہوتے رہتے ہیں۔ مگر سارا ز و کتاب کی طرف کوئی توجہ کی نہیں۔ یہ بدنظمی کی طرف توجہ دلائی اور زبانی بعض ہوں یا کوئی بنیا بقال ہوں یا کوئی بھٹیار

حساب سے اعراض

بڑی تاکید ہے۔ مگر مرزا قادیانی خود معلوم کر سکتی ہے کہ مہمانوں پر کیا صرف ذاتیات پر کیا صرف ہوتا ہے اور اسلا استقلال سے جمے ہوئے ہیں۔

براہین احمدیہ کا چندہ

تعداد میں شائع کئے۔ پہلی جلد تمام اش سے اسلام کی افضلیت تمام مذاہب پ

صفحہ ٥٢١

یعنی آرزوؤں کی وصولیت کے واسطے فرصت ہے۔ مگر اس کے حساب و کتاب اور نگرانی لنگر کی مطلق فرصت نہیں۔ کیا کوئی بتلا سکتا ہے کہ ١٩٠٦ء میں لنگر کی آمد کیا ہوئی؟ اس میں سے مہمانوں کی خوراک پر کیا صرف ہوا اور مرزا قادیانی کی ذاتیات پر کس قدر؟ کیا کوئی بتلا سکتا ہے کہ آج تک مینارۃ کے نام پر کس قدر روپیہ وصول ہوا اور اس میں سے مینارۃ پر کس قدر صرف ہوا اور مرزا قادیانی کی ذاتیات پر کس قدر؟ کیا کوئی بتلا سکتا ہے کہ بہشتی مقبرہ کے نام پر کل آمد کس قدر ہوئی اور اس میں سے کس قدر صرف ہوا اور مرزا قادیانی کی ذاتیات پر کس قدر؟ آج تک مرزا قادیانی کو نذرانوں میں کس قدر وصول ہوا اور کس قدر ان کی جائیداد کی آمد ہے۔ مرزا قادیانی کے نذرانوں اور جائیداد اور آمد لنگر مقبرہ و مینارۃ میں سے کس قدر صرف ہوتا ہے اور کس قدر مرزا قادیانی اپنے صرف میں لاتے ہیں۔

لنگر خانہ

روپیہ ماہوار ہو جاتی ہے۔ اس لئے اس کی آمد کے متعلق عجیب عجیب طریقوں میں اشتہارات جاری ہوتے رہتے ہیں۔ مگر سارا زور وصولیت پر ہی خرچ ہوتا ہے۔ اس کے انتظام و حساب و کتاب کی طرف کوئی توجہ کی نہیں۔ یہاں تک کہ جب جماعت سیالکوٹ نے ایک خط میں لنگر کی بد نظمی کی طرف توجہ دلائی اور زبانی بعض مریدوں نے عرض کی تو جواب دیا کہ کیا میں قوم کا خزانچی ہوں یا کوئی بنیا بقال ہوں یا کوئی بھٹیارا ہوں؟

حساب سے اعراض

بڑی تاکید ہے۔ مگر مرزا قادیانی خوب سمجھتے ہیں کہ حساب کتاب رکھنے میں قلعی کھلتی ہے اور دنیا معلوم کر سکتی ہے کہ مہمانوں پر کیا صرف ہوا ہے۔ لنگر کی اصل آمد کیا ہے اور اس میں سے آپ کی ذاتیات پر کیا صرف ہوتا ہے اور اسلامی خدمات پر کیا۔ اس لئے وہ حساب کتاب کے نہ رکھنے پر استقلال سے جمے ہوئے ہیں۔

براہین احمدیہ کا چندہ

تعداد میں شائع کئے۔ پہلی جلد تمام اشتہار سے ہی بھر دی اور ظاہر کیا۔ اس میں تین سو دلائل بینظیر سے اسلام کی افضلیت تمام مذاہب پر ثابت کی گئی ہے اور یہ کتاب تین سو جزو کو پہنچ گئی ہے۔ مگر

٨٥

پر

صفحہ ٥٢٢

جب فرسٹ ایڈیشن کے ٥٦٢ صفحہ شائع ہو چکے اور کل کتاب کی قیمت پیشگی وصول ہو چکی ۔ تب ایسے خاموش ہوئے کہ باوجود دنیا کے طعن وطنز اور تقاضا ہائے شدید کے پچیس سال سے اس کا نام تک نہیں لیا اور اپنا پیچھا چھڑانے اور بدعہدی کا الزام خدا وند عالم پر رکھنے کے لئے یہ لکھ دیا کہ ” اب اس کا متولی اور مہتمم رب العالمین ہے۔“

کے مدفن میں مدفون ہوں گے تو اس سے صاف انکار کرتے ہیں یا اس کے خلاف عقلی ڈھکوسلے نکالتے ہیں یا یہ تاویل کرتے ہیں کہ قبر سے مراد ظاہری قبر نہیں ۔ بلکہ عالم برزخ میں کوئی قبر ہے ۔ مگر جب اپنے بہشتی مقبرہ کا اعلان دیا تو اس سے ایک خاص مقام مراد لے کر اس کا بڑا اہتمام ہو رہا ہے ۔

علامات مسیح

احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں جو آپ کے بعد رسالت ونبوت کا دعویٰ کرے ۔ وہ کذاب اور دجال ہے۔ اسی مسئلہ پر تمام امت محمدیہ کا آج تک اجماع چلا آیا ہے۔ مگر ان تمام الفاظ سے صریح انکار کرتے اور کہہ دیتے ہیں کہ آنے والے مسیح کی نسبت احادیث میں نبی ورسول کا لفظ آیا ہے۔ پھر جب ان سے سوال کیا جائے کہ جب اس درجہ کی احادیث کے الفاظ ورسول کو لفظاً مانتے ہو تو اعلیٰ درجہ کی احادیث کے صاف الفاظ میں کیوں تاویل کرتے ہو۔ جن میں یہ ارشاد ہے کہ حضرت کے بعد کوئی نبی نہیں جو مسیح آنے والا ہے۔ وہ ابن مریم ہوگا۔ اس کے وقت میں مال کی اس قدر فراوانی ہوگی کہ کوئی زکوٰۃ لینے والا نہ ملے گا۔ وہ آنحضرت ﷺ کے مدفن میں دفن ہوگا۔ وہ تمام مسلمانوں کو ایک کر دے گا اور الحرب کو بند کر دے گا۔ تمام دجال نبوت کا دعویٰ کریں گے ۔ دجال مکہ نہ جاسکے گا۔

کر دیا ہے۔ قرآن مجید الحمد للہ سے شروع ہوتا ہے۔ پھر مرزا قادیانی کا یہ الہام ” یحمدک اللہ من العرش “ غیر خدا کی طرف سے نہیں تو پھر کیا ہے۔ خاص آنحضرت ﷺ کو تو حکم ملتا ہے کہ ”سبح بحمد ربك واستغفره (النصر:٣) “ مگر مرزا قادیانی کو الہام ہوتا ہے کہ اللہ تیری حمد کرتا ہے تو کہتے ہیں جو حدیثوں میں آیا ہے کہ لوگ مہدی کی تسبیح کریں گے ۔ آپ ہی تو کہا کرتے تھے کہ مہدی کے متعلق تمام حدیثیں غیر صحیح ہیں اور قرآن کے خلاف جو حدیث ہو وہ قابل

٨٦

صفحہ ٥٢٣

سند نہیں۔ مگر جب اپنا مطلب نکلتا دیکھا تو فوراً انہیں حدیثوں سے دلیل لانے لگے اور قرآنی آیات سے صاف انکار کرنے لگے۔ جن میں ارشاد ہے۔ ”يسبح الله ما في السموات وما فی الارض (الجمعه:١) سبح اسم ربک الاعلیٰ (الاعلیٰ:١)“ خدا مرزا قادیانی کی تعریف کرتا ہے اور مجلس ہی میں بیٹھ کر مرزا قادیانی اپنی نسبت حمدیہ شعر بڑے شوق سے سنتے اور مریدوں سے تسبیح کرواتے ہیں۔ امید ہے کہ عنقریب یہ حکم بھی ہو جائے کہ اے لوگو! مجھے سجدہ کرو۔ کیونکہ میرا نام اللہ تعالیٰ نے آدم رکھا ہے اور آدم کے واسطے حکم ہے کہ ”اسجدوا لادم“

نفس کے کام نہیں آسکتا۔ آنحضرت ﷺ کو ارشاد ہے کہ جس سے تو محبت کرے تو اس کو ہدایت نہیں کرسکتا۔ نوح علیہ السلام کو بیٹے کی نسبت اور ابراہیم علیہ السلام کو آذر کی نسبت سفارش کرنے پر تنبیہ ہوتی ہے۔ پھر مرزا قادیانی کا یہ الہام کیسے صحیح ہوسکتا ہے کہ جس سے تو راضی اس سے خدا راضی۔ جس سے تو ناخوش اس سے خدا ناخوش؟ اور مرزا قادیانی کا مقبرہ دوسروں کے لئے نجات کا موجب کیسے ہوسکتا ہے؟ تو تمام آیات قرآنی کو لغو اور باطل سمجھ کر اور تعلیمات انبیاء علیہم السلام سے صاف انکار کر کے کہنے لگتے ہیں کہ خدا ایسوں کو ہی اس جگہ دفن ہونے کا سامان میسر کرے گا جو بہشتی ہوں تو ظاہر النص میں قادیان اور اس کے قرب وجوار کے واسطے تو بہشت میں داخل ہونا نہایت آسان ہوا اور باقی دنیا کے لئے مشکل اور ناممکن۔ مثلاً مکہ، مدینہ اور بیت المقدس والوں کے واسطے عام طور پر اس بہشتی مقبرہ میں مدفون ہونا۔ ایسا ہی ناممکن ہے جیسا کہ مرزا قادیانی کو باوجود اس قدر ثروت اور جماعت کے مدفن رسول اللہ میں مدفون ہونا۔

خلاف کے مجرم ہوسکتے ہیں اور قرآنی آیات اس کے ثبوت میں پیش کیں۔ ”لا یکلف الله نفساً الا وسعها (البقرة:٢٨٩) وما کنا معذبین حتی نبعث رسولا (الاسراء:١٥)“ ان آیات سے صاف انکار کرتے رہے اور آنحضرت ﷺ پر خود پرستی اور خونریزی کے الزام لگاتے رہے۔ مگر جب بابوں کی جماعت امریکن کا حال سنا اور دیکھا کہ وہاں لوگوں میں اس کی قبولیت ہو کر خوب کام چل سکتا ہے تو جھٹ کہہ دیا کہ امریکہ کے لوگ اگر ہمارا انکار کریں تو ان کا حق ہے۔ جب تک ان پر پورے طور پر تبلیغ نہ ہو جائے اور محمد علی ایم۔اے کو حکم دیا کہ ایک مبسوط کتاب ہمارے دعوے پر تصنیف کر کے بھیجنی چاہئے۔

٨٧

صفحہ ٥٢٤

نجات پاسکتے ہیں جو خدا کو مانتے اور عمل صالحہ کرتے ہیں اور قرآنی آیات اس کے ثبوت میں پیش کریں۔ تب ان سے صاف انکار کیا اور آنحضرت ﷺ پر خود پرستی اور خونریزی کا الزام لگایا۔ مگر جب کسی شخص نے یہ اعتراض کیا کہ قرآن کریم کی رو سے مکہ، مدینہ اور بیت المقدس کے متولی وہی لوگ ہوں گے جو متقی ہوں گے اور وہ ہیں آپ کے مخالف تو وہ متقی کیسے ہوئے؟ تو جھٹ پہلو بدل گئے اور مولوی فضل دین نے الحکم میں شائع کرا دیا کہ بے خبر کو خدا عذاب نہیں کرتا۔ خواہ وہ مشرک اور ظالم کیوں نہ ہو۔

الغرض مرزا قادیانی اور مرزائی قرآن وحدیث کے انہیں الفاظ کو پکڑتے ہیں۔ جن سے ان کی مطلب براری ہو سکتی ہو۔ خواہ کیسی ہی بعید تاویلات کرنی پڑیں اور کتنا ہی آیات محکمات اور احادیث صحیحہ کا انکار کرنا پڑے۔

میر ناصر نواب دہلوی خسر مرزا قادیانی کے چند اشعار حالات مرزا میں

(منقول از اشعۃ السنۃ نمبر ١١ ج ١٣)

ہے کہیں نوٹس بزرگی کا لگا آؤ لوگو ہم پہ ہے فضل خدا
ہو ہمارے فضل میں تم بھی شریک ہم تمہیں دیں فیض تم دو ہم کو بھیک
مال و دولت اور بیٹے پاؤ گے گر بجا خدمت ہماری لاؤ گے
تم پھلو پھولو گے دشمن ہوں گے خوار تم پہ رحمت ان پہ ہو گی حق کی مار
مال جو دے وہ مرید خاص ہے اس کے دل میں بالخصوص اخلاص ہے
جو نہ دے کچھ مال وہ کیسا مرید شمر اس کو جان لو یا ہے یزید
ہے مریدی واسطے پیسوں کے اب ہائے دنیا میں پڑا ہے یہ غضب
ہر گھڑی ہے مالداروں کی تلاش تا کہ حاصل ہو کہیں وجہ معاش
قرض سے ایک دفعہ ہو جائے نجات گو ملے صدقہ کہ مل جائے زکوٰۃ
ہو یتیموں ہی کا یا رانڈوں کا ہو رنڈیوں کا مال یا بھانڈوں کا ہو
کچھ نہیں تفتیش سے ان کو غرض حرص کا ہے اس قدر ان کو مرض
آج کل مکار ایسے پیر ہیں ان کے حال و قال بے تاثیر ہیں
اور کہیں تصنیف کے ہیں اشتہار یہ ہی لوگوں نے کیا ہے روزگار
پیشگی قیمت مگر لیتے ہیں وہ خلق کو اس طرح دم دیتے ہیں وہ
بعض کھا جاتے ہیں قیمت سب کی سب اس طرح کا پڑ گیا یارو غضب

٨٨

صفحہ ٥٢٥
قیمتیں کھا کر نہیں لیتے ڈکار جیسے آتا تھا کہیں ان کا ادھار
جو کوئی مانگے وہ بے ایمان ہے وہ بڑا ملعون اور شیطان ہے
بد گمانی کا اسے آزار ہے سارے بدبختوں کا وہ سردار ہے
ایک تو پلہ سے اس نے زر دیا دوسرے بدنام اپنے کو کیا
کھا گیا جو مال وہ اچھا رہا کچھ گھٹا ہر گز نہ اس کا اتقا
بدمعاش اب نیک از حد بن گئے بوسلم آج احمد بن گئے
عیسیٰ دوراں بنے دجال ہیں ہر طرف مارے انہوں نے جال ہیں
ظاہری افعال ان کے نیک ہیں سارے عالم میں وہ گویا ایک ہیں
عالم وصوفی ہیں اور شب خیز ہیں مال پر لوگوں کے دندان تیز ہیں
ہر طرح سے مال ہیں وہ نوچتے ہیں یہی تدبیر ہر دم سوچتے
جس طرح ہو مال کچھ ہاتھ آ جائے کچھ نیا اب شعبدہ دکھلائے
ہو کوئی کیسا ہی گرچہ بدمعاش میوہ زر کی وہ دے دے ان کو قاش
پھر تو وہ مقبول رحمن ہے ضرور ان کے دل کو اس نے پہنچایا سرور
متقی ان کو نہ دے تو ہے شقی جو شقی دے ان کو ہے وہ متقی
ہیں امیروں سے بڑھاتے میل جول کر کے تعریفیں اڑا لیتے ہیں مول
جو کوئی دے ہاتھ کر دیں گے دراز اس قدر ہے ان کے دل میں حرص و آز
ہیں امیر اور لیتے ہیں صدقہ زکوٰۃ دینداری کی نہیں ہے کوئی بات
علم ہے دنیا کمانے کے لئے دولت دنیا ہے کھانے کے لئے
دل میں اپنے منفعل ہوتے نہیں ہنستے رہتے ہیں کبھی روتے نہیں
عیش میں بدمست ہو جاتے ہیں وہ اپنی چالاکی پہ اتراتے ہیں وہ
اپنی تعریفوں سے بھرتے ہیں کتاب آیت قرآن ہیں گویا ان کے خواب

دیگر

مہدی وقت ہے کوئی مشہور کوئی بنتا ہے عیسیٰ دوراں
نہ عیاں اس میں عیسوی برکت نہ ہدایت کا اس میں نام و نشاں
نہ فقیروں میں صبر باقی ہے نہ امیروں میں شکر کا ہے نشاں

٨٩

صفحہ ٥٢٦
مرغ بریاں کا شوق ہے ان کو ہیں ملائک خصال جو انساں
قورمہ اور پلاؤ کھاتے ہیں لوگ کہتے ہیں جن کو قطب زماں
جو ولایت میں ہیں قدم رکھتے ان کی صدقہ پہ ہے فقط گزراں
جب حقیقت کھلے بزرگی کی ان کے دیکھے اگر کوئی ساماں
ٹھاٹھ ہیں ان کے سب امیرانہ در دولت پہ ہیں کئی درباں
رات دن ہیں عمارتیں بنتیں مال کرتے ہیں مفت میں ویراں
ناصر اب ختم کر کلام اپنا حق تیری مشکلیں کرے آساں

باب نہم

قطع وتین

مرزائیوں کی یہ دلیل بڑی مایہ ناز ہے اور حسب معمول مرزا قادیانی نے اس کے متعلق بھی اربعین اور دوسری کتابوں میں سخت دجالیت اور کذابی سے کام لیا ہے اور سخت طول کلامی، انشاء پردازی، تکرار اور بے جا تصرفات سے حق کو دبانا چاہا ہے۔

اس لئے میں پہلے تلخیصاً چند فقرات اربعین سے نقل کر کے اظہار حقیقت کروں گا۔

"انه لقول رسول كريم وما هو بقول شاعر قليلاً ما تؤمنون ولا بقول كاهن قليلاً ما تذكرون . تنزيل من رب العالمين ولو تقول علينا بعض الا قاويل لاخذنه باليمين ثم لقطعنا منه الوتين فما منكم من احد عنه حاجزين (الحاقه:جزء:٢٩)" اور ترجمہ اس کا یہ ہے کہ یہ قرآن کلام رسول کا ہے۔ یعنی وحی کے ذریعہ سے اس کو پہنچا ہے اور یہ شاعر کا کلام نہیں۔ مگر چونکہ تمہیں فراست سے کم حصہ ہے۔ اس لئے تم اس کو پہچانتے نہیں اور یہ کاہن کا کلام نہیں۔ یعنی اس کا کلام نہیں جو جنات سے کچھ تعلق رکھتا ہو۔ مگر تمہیں تدبر اور تذکر کا بہت کم حصہ دیا گیا ہے۔ اس لئے ایسا خیال کرتے ہو۔ تم نہیں سوچتے کہ کاہن کیسی پست اور ذلیل حالت میں ہوتے ہیں۔ بلکہ یہ رب العالمین کا کلام ہے جو عالم اجسام اور عالم ارواح دونوں کا رب ہے۔ یعنی جیسا کہ وہ تمہارے اجسام کی تربیت کرتا ہے۔ ایسا ہی وہ تمہاری روحوں کی تربیت کرنا چاہتا ہے اور اسی ربوبیت کے تقاضا کی وجہ سے اس نے اس رسول کو بھیجا ہے اور اگر یہ رسول کچھ اپنی طرف سے بنالیتا اور کہتا کہ فلاں بات خدا نے میرے پر وحی کی ہے۔ حالانکہ وہ کلام اس کا ہوتا، نہ خدا کا، تو ہم اسکا دایاں ہاتھ پکڑ لیتے اور پھر اس کی رگ

٩٠

صفحہ ٥٢٧

جان کاٹ دیتے اور کوئی تم میں سے اس کو بچا نہ سکتا۔ یعنی اگر وہ ہم پر افتراء کرتا تو اس کی سزا موت تھی۔ کیونکہ وہ اس صورت میں اپنے جھوٹے دعوے سے افتراء اور کفر کی طرف بلا کر ضلالت کی موت سے ہلاک کرنا چاہتا تو اس کا مرنا اس حادثہ سے بہتر ہے کہ تمام دنیا اس کی مفسدانہ تعلیم سے ہلاک ہو۔ اس لئے قدیم سے ہماری یہی سنت ہے کہ ہم اسی کو ہلاک کر دیتے ہیں جو دنیا کے لئے ہلاکت کی راہیں پیش کرتا ہے اور جھوٹی تعلیم اور جھوٹے عقائد پیش کر کے مخلوق خدا کی روحانی موت چاہتا ہے اور خدا پر افتراء کر کے گستاخی کرتا ہے۔“

(اربعین نمبر ٣ ص ٤٤، خزائن ج ١٧ ص ٤٨٨، ٤٨٩)

نوٹ ...... جن الفاظ کے نیچے خط کھینچا گیا ہے وہ مرزا قادیانی کا اپنا تصرف ہے۔ زاید اور بے جا تصرفات سے آیت قرآنی کو اپنے خیال کے سانچہ میں ڈھالنا چاہا ہے۔ اگر مفتری کو اس قصور پر ہلاک کیا جانا ضروری ہے کہ وہ دنیا کو بگاڑتا ہے تو پھر شیطان کو کیوں مہلت دی گئی جس نے ساری دنیا کو بگاڑ دیا۔ ظالم، بت پرست، قبر پرست، منارہ پرست، چور، ڈاکو، رنڈیاں، اور دیگر بدکار لوگ کیوں دنیا میں باقی ہیں۔ جن کی بدتعلیم، بدصحبت اور بدنمونے سے تمام دنیا تباہ ہو گئی اور بگڑ گئی۔ پھر آیات ذیل کے کیا معنی ہوں گے۔ ”نمد هولاء وهولاء من عطاء ربك“ ”ہم ان لوگوں کی بھی مدد کرتے ہیں اور ان لوگوں کی بھی (یعنی نیکوں کی بھی اور شریروں کی بھی) تیرے رب کی عطاء ہے۔ ”ولو شاء الله لهديكم اجمعين (النحل:٩)“ ”اور اگر اللہ چاہتا تو سب کی ہدایت کر دیتا۔ اور پھر واقعی دنیا میں ایسا نظر کیوں آتا ہے کہ دنیا میں ہلاک شدہ لوگ زیادہ ہیں۔ چنانچہ خود مرزا قادیانی بھی اپنے ایک دو لاکھ مریدوں کے علاوہ تمام دنیا کو ملعون اور جہنمی قرار دیتا ہے۔

(اربعین نمبر ٣ ص ٤٤، خزائن ج ١٧ ص ٤٨٩) ”اللہ تعالیٰ آنحضرتﷺ کی سچائی پر یہ دلیل پیش کرتا ہے کہ اگر وہ ہماری طرف سے نہ ہوتا تو ہم اس کو ہلاک کر دیتے اور وہ ہرگز زندہ نہ رہ سکتا۔ گو تم لوگ اس کے بچانے کے لئے کوشش بھی کرتے۔“

استخفاف قرآن یا دلیل کلمۂ کفر ہے۔ اگر قرآن شریف کی ایک دلیل کو رد کیا جائے تو ایمان اٹھ جائے گا۔ جس امر میں قرآن اور رسول کریمﷺ پر زد آتی ہو ایماندار کا کام نہیں کہ اس پلید پہلو کو اختیار کرے۔ یہ سب قول صحیح اور بالکل صحیح مگر اس مسیحیت کے ساتھ وہی دجالیت ملی ہوئی ہے۔ میں تو مانوں گا وہی جس میں ہو مطلب کا نشاں۔ باقی سب لغو ہے اور جھوٹ حدیث وقرآن۔ کیوں جناب پھر آپ ان تمام دلائل و آیات قرآنی کا استخفاف کیوں کرتے ہیں جو آپ کے دعاوی اور الہامات کے خلاف ہوں؟ جیسا کہ آپ میرے خطوں کے جواب میں کرتے

٩١

صفحہ ٥٢٨

رہے ۔ کیا جس قدر آپ کے عقائد والہامات قرآن واحادیث کے خلاف اس رسالہ میں ثابت کئے گئے ہیں۔ ان تمام سے آپ فوراً رجوع کریں گے۔ یا قرآن مجید کا استخفاف؟ ہاں! ہاتھی کے دانت دکھانے کے اور ہوتے ہیں اور کھانے کے اور۔

زمانہ نہایت صحیح پیمانہ ہے اور ہرگز ممکن نہیں کہ کوئی شخص جھوٹا ہو کر اور خدا پر افتراء کر کے آنحضرت ﷺ کے زمانہ نبوت کے موافق یعنی تیئس برس تک مہلت پاسکے۔“

نوٹ...... اس کا جواب قطع وتین سے لفظ بلفظ نقل کیا جاتا ہے۔

٢٣ سالہ مہلت کی قید مرزا قادیانی اور ان کے مریدوں کی اپنی اختراع ہے۔ ورنہ آیت ”لو تقول“ سے جس پر ان کو بہت کچھ ناز و دارومدار ہے۔ یہ میعاد بالکل ثابت نہیں ہوتی اور ہم اختیار دیتے ہیں کہ مرزا قادیانی کسی طرح اور ہی آیت یا حدیث سے یہ میعاد ثابت کر دیویں۔ مرزا قادیانی کے اس قاعدہ ٢٣ سالہ سے ایک بڑی بھاری خرابی پیدا ہوتی ہے کہ کئی سچے نبی ٢٣ سال سے پہلے ہی مر گئے یا ہلاک کر دیئے گئے تو وہ بقول مرزا قادیانی کے کاذب ہوئے اور اگر بالفرض آیت کے معنی موت لئے جائیں تو پھر کیا وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جھوٹے نبی کو ایک دن کی بھی مہلت دیوے اور کیوں اس کو فوراً ہلاک نہ کر دیوے تا کہ لوگ اس کی ضلالت سے بچ جاویں اور جب کہ بقول مرزا قادیانی مسیلمہ کذاب یا کسی اور مفتری کو ٢٢ سال تک مہلت مل جانی محال نہیں ہے اور اس عرصہ تک اس کا لوگوں کو گمراہ کرنا اللہ تعالیٰ پسند رکھتا ہے تو ٢٣ سال یعنی اور دو سال تک اس کی گمراہی کو پسند نہ کرنے کی کیا وجہ ہے۔ پس مرزا قادیانی کے نزدیک اس آیت ”لو تقول“ کے یہ معنی ہوئے کہ اللہ تعالیٰ ٢٢ سال تک مفتری کی تعلیم و تضلیل کو پسند فرماتا ہے اور اس سے ایک ماہ بعد پسند نہیں فرماتا۔ یہ تو ہوا مرزا قادیانی کا خدا۔ مگر محمد رسول اللہ ﷺ کے خداوند تعالیٰ نے اس کو یہ حکم دیا تھا کہ مسیلمہ کذاب کا فوراً قلع قمع کیا جاوے۔ افسوس ہے آپ کی تفسیر دانی پر۔ مرزا قادیانی کے اس معنی سے ایک اور مسئلہ بھی مستنبط ہوا کہ اگر کوئی مفتری مامور من اللہ یا ملہم ہونے کا دعویٰ کرے تو اس کی تبلیغ کو چپ چاپ ٢٢ سال تک سنتے رہنا چاہئے اور اس کی تردید وغیرہ نہیں کرنی چاہئے اور اس پر قبل از ٢٣ سال ایمان بھی نہیں لانا چاہئے۔ کیونکہ اس کی معیار شناخت بقول ان کے ٢٣ سالہ میعاد ہے۔ مگر اپنے خود ہی اس قاعدہ کو توڑ دیا اور باوجودیکہ ان کے دعوے کو ابھی دس سال ہوئے اور ٢٣ سال نہیں ہوئے۔ آپ لوگوں کو اپنی بیعت کی ترغیب دیتے ہیں اور ادھر منشی الہی بخش صاحب ملہم ربانی کی تردید بھی آپ نے شروع کر دی اور ٢٣ سال تک انتظار نہیں کیا۔

٩٢

اور منجملہ دلائل صدق نبوت کے یہ کہ جھوٹا دعویٰ کرنے والا ہلاک ہو بطور دلیل ٹھہر سکتا ہے۔“

سبحان اللہ عجب منطق کی طرح چند کانی باتیں پیش کرتا ہو

الذين ظلموا (الانعام:٤٥)

ان الباطل كان زهوقا بھاگنے والا ہی تھا۔

خداوند عالم فرما چکا ہے۔ ”يمحـ مٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھا مرزا قادیانی کی طرح کہہ سکتا ہوں۔ کیونکہ خدا تعالیٰ کے قول میں باقی نہ ہو اور چونکہ ہر ایک بگاڑتا ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ ا

امت محمدیہ میں ہے اور دنیا میں منقطع ہوتے ہوتے خاتمہ ہو لربك وانحر ان شانئک بہتات دی ہے۔ پس تو اپنے النسل ہے۔ پس اس دلیل قرآ عزت، نہ تجارت، نہ حرفت، نـ ہے۔ اگر سچا مسلمان نہ ہوتا تـ

صفحہ ٥٢٩

اور منجملہ دلائل صدق نبوت کے یہ بھی ایک دلیل ہے اور خدا تعالیٰ کے قول کی تصدیق تبھی ہوتی ہے کہ جھوٹا دعویٰ کرنے والا ہلاک ہو جائے۔ ورنہ یہ قول منکر پر حجت نہیں ہوسکتا اور نہ اس کے لئے بطور دلیل ٹھہر سکتا ہے۔“

سبحان اللہ عجب منطق ہے۔ میں بھی چاروں طرف سے آنکھیں بند کر کے مرزا قادیانی کی طرح چند کافی باتیں پیش کرتا ہوں اور دیکھتا ہوں کہ مرزا قادیانی اور مرزائی اس میں کیا بولتے ہیں؟

الذین ظلموا (الانعام:٤٥)“ ظالم لوگوں کی جڑ کاٹ دی گئی۔

ان الباطل کان زھوقا (الاسراء:٨١)“ حق آ گیا اور باطل بھاگ گیا۔ کیونکہ باطل تو بھاگنے والا ہی تھا۔

خداوند عالم فرما چکا ہے۔ ”یمحق اللہ الربا ویربی الصدقات (البقرۃ:٢٧٦)“ اللہ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے۔ ہر ایک ظالم ہر ایک باطل پرست اور ہر ایک سود خور مرزا قادیانی کی طرح کہہ سکتا ہے کہ میں ظالم نہیں ہوں، باطل پرست نہیں ہوں اور سود خور نہیں ہوں۔ کیونکہ خدا تعالیٰ کے قول کی تصدیق تبھی ہوتی ہے کہ کوئی ظالم، باطل پرست اور سود خور دنیا میں باقی نہ ہو اور چونکہ ہر ایک ظالم، باطل پرست اور سود خور اپنی ناپاک تعلیم اور مثال سے دنیا کو بگاڑتا ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ ان کو بھی مفتریوں کی طرح نیست و نابود کر چکا ہے۔

امت محمدیہ میں ہے اور دنیا میں آنحضرت ﷺ کا کوئی دشمن موجود نہیں۔ تمام دشمنان محمدی کی نسل منقطع ہوتے ہوتے خاتمہ ہو چکا۔ کیونکہ قرآن مجید فرماتا ہے: ”انا اعطینٰک الکوثر فصل لربک وانحر ان شانئک ھو الابتر (الکوثر:١ تا ٣)“ (اے محمد) ہم نے تجھے ہر قسم کی بہتات دی ہے۔ پس تو اپنے رب کے واسطے نماز ادا کر اور قربانی کر۔ بے شک تیرا دشمن مقطوع النسل ہے۔ پس اس دلیل قرآنی کی رو سے عیسائیوں کے ہاتھ میں نہ سلطنت ہے، نہ دولت، نہ عزت، نہ تجارت، نہ حرفت، نہ دنیا میں کوئی محمد ﷺ کا دشمن موجود ہے۔ بلکہ تمام یورپ سچا مسلمان ہے۔ اگر سچا مسلمان نہ ہوتا تو یورپ تنگ، ذلیل اور مقطوع النسل ہو جاتا۔ تمام عیسائی حضرت

٩٣

صفحہ ٥٣٠

سے دشمنی کرتے ہیں۔ وہ مقطوع النسل ہیں اور جن پادریوں کی اولاد ہوتی ہے وہ حضرت کے دشمن نہیں ہیں۔ اے کانے دجالو! جو کچھ تم ان آیات کا جواب تجویز کرو گے وہی آپ کے استدلال ”لو تقول“ کا جواب ہوگا۔

توریت میں لکھا ہے کہ ”اگر تمہارے درمیان کوئی نبی یا خواب دیکھنے والا ظاہر ہو اور تمہیں کوئی نشان اور معجزہ دکھلاوے اور اس نشان یا معجزہ کے مطابق جو اس نے تمہیں دکھایا بات واقع ہو اور وہ تمہیں کہے آؤ ہم غیر معبودوں کی جنہیں تم نے نہیں جانا پیروی کریں۔ یعنی خدا کے سوا کسی اور کا حکم منوانا چاہے یا اپنی ہی پیروی ان باتوں میں کرانا چاہے جو توریت کے مخالف ہیں تو ہرگز اس نبی یا خواب دیکھنے والے کی بات پر کان مت دھرو کہ خداوند تعالیٰ خدا تمہیں آزماتا ہے۔ تا دریافت کرے کہ تم خداوند اپنے خدا کو اپنے سارے دل اور ساری جان سے دوست رکھتے ہو کہ نہیں۔ چاہئے کہ تم خداوند اپنے خدا کی پیروی کرو۔ (یعنی اسی کی ہدایتوں کے موافق چلو۔ دوسرا شخص کو کوئی فلاسفر ہو، یا حکیم ہو اس کی بات نہ مانو) اور اس سے ڈرو اور اس کے حکموں کو حفظ کرو اور اس کی بات مانو، تم اسی کی بندگی کرو اور اسی سے لپٹے رہو اور وہ نبی یا وہ خواب دیکھنے والا قتل کیا جائے گا۔“

(دیکھو توریت استثناء باب ١٣)

سے یہ ثابت ہوا کہ جھوٹا نبی بھی نشان اور معجزہ دکھلا سکتا ہے اور اس کے مطابق بات واقع ہو سکتی ہے۔ جیسا کہ مرزا قادیانی کے بعض نشانات پورے ہو جائیں۔ دوم: جھوٹے نبی کی یہ شناخت ہے کہ اس کی تعلیم کتب مقدسہ کے خلاف ہوگی۔ جیسا کہ مرزا قادیانی کی تعلیم سراسر قرآن مجید کے خلاف ہے۔ جیسا کہ ہم عموماً باب اوّل میں بیان کر چکے ہیں۔ سوم: جھوٹا نبی قتل کیا جائے گا۔ مگر مولوی چراغ الدین اور منشی الٰہی بخش جو مرزا قادیانی کے زعم میں جھوٹے نبی تھے قتل نہیں ہوئے۔ اس لئے وہ جھوٹے نہ ٹھہرے اور چونکہ ان کی تمام تعلیمات، تورات و انجیل و قرآن کے مطابق تھیں۔ اس لئے وہ اپنے دعوؤں میں سچے ٹھہرے۔ چہارم: مرزا قادیانی جھوٹا نبی ثابت ہوا۔ کیونکہ اس کی تعلیم قرآن مجید اور احادیث صحیحہ کے مخالف ہے۔

میرے نام سے کہے۔ جس کے کہنے کا میں نے اسے حکم نہیں دیا تو وہ نبی قتل کیا جائے۔“

(تورات استثناء باب ١٨، ٢٠)

اس آیت کے مقدم و موخر کو مرزا قادیانی نے دور کر کے سخت دھوکا دینا چاہا ہے۔ جیسا

٩٤

صفحہ ٥٣١

کہ بے نماز لوگ کہہ دیا کرتے ہیں کہ ”لا تقربو الصلوۃ “ کا حکم قرآن مجید میں ہے۔ ہم اس پر عامل ہیں۔ یہی مقام تو مرزا قادیانی کے لاطائل دعاوی کو بیخ و بن سے اکھاڑنے والا اور آیت ”لو تقول“ کا مفسر ہے۔ اس لئے ہم اس مقام کو پورے طور پر ذیل میں درج کرتے ہیں۔ ”میں ان کے لئے ان کے بھائیوں میں سے تجھ سا ایک نبی برپا کروں گا اور اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالوں گا اور جو کچھ میں اسے فرماؤں گا وہ سب ان سے کہے گا اور ایسا ہو گا کہ جو کوئی میری باتوں کو جنہیں وہ میرا نام لے کر کہے گا نہ سنے گا تو میں اس کا جواب اس سے لوں گا۔“ ”لیکن وہ نبی جو ایسی گستاخی کرے کہ کوئی بات میرے نام سے کہے جس کے کہنے کا میں نے اسے حکم نہیں دیا یا اور معبودوں کے نام سے کہے تو وہ نبی قتل کیا جاوے اور اگر تو اپنے دل میں کہے کہ میں کیونکر جانوں کہ یہ بات خداوند کی کہی ہوئی نہیں؟ تو جان رکھ کہ جب نبی خداوند کے نام سے کچھ کہے اور جو اس نے کہا ہے واقع نہ ہو یا پورا نہ ہو تو وہ بات خداوند نے نہیں کہی، بلکہ اس نبی نے گستاخی سے کہی ہے۔ تو اس سے مت ڈر۔“

اب ان آیات سے صاف ظاہر ہے کہ یہ تمام پیش گوئی آنحضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے حق میں ہے جو مثیل موسیٰ علیہ السلام ہیں اور جو بنی اسرائیل کے بھائیوں بنی اسماعیل میں پیدا ہوئے۔ جن کی شان ہے۔ ”ما ينطق عن الهوى ان هو الا وحی یوحٰی“ جن کا ہر قول اور ہر فعل ہمیشہ کے واسطے ایک پاک سنت قرار پایا جو روحانیت اور اخلاق میں اعلیٰ درجہ رکھتے ہیں۔ پس ان کا ہر فعل اور ہر قول تعلیم الٰہی کے مطابق ہونا ضروری تھا۔ اس لئے یہ آپ کے لئے مخصوص ہے کہ اگر وہ نبی گستاخی سے کوئی بات اپنی طرف سے خدا کے نام پر کہے تو قتل کیا جائے گا۔ اسی توراتی پیشگوئی کے مطابق ان یہود و نصاریٰ پر حجت قائم کی گئی ہے۔ جو آنحضرت ﷺ کے حالات اور تعلیمات سے خوب واقف تھے۔ اکثر باتوں کو تسلیم کرتے اور بعض سے انکاری ہو جاتے تھے۔ ان کو پوری اطاعت اور کامل ایمان کے واسطے ارشاد ہوتا ہے کہ اس کی تمام باتیں جن کو یہ خدا کے نام سے کہتا ہے۔ فی الحقیقت خدا کی طرف سے ہیں۔ اگر گستاخی سے بعض باتیں اپنی طرف سے بنا کر خدا کی طرف منسوب کرتا تو قتل کیا جاتا۔ اگر اس خاص بات کو عام کیا جائے اور اس آیت کے یہ معنی لئے جائیں کہ جھوٹے نبی کی یہی شناخت ہے کہ قتل کیا جائے تو ماننا پڑے گا کہ جو انبیاء علیہم السلام مقتول ہوئے۔ وہ سب جھوٹے تھے۔ ”يقتلون الانبياء بغير حق (آل عمران:١١٢) وقتلهم الانبياء (النساء:١٥٥)“ جو یہودیوں کی حالت میں وارد ہیں۔ شاہد ناطق ہیں کہ سچے نبی قتل ہوتے رہے۔ ورنہ قرآن مجید کا یہ بیان خلاف واقعہ ٹھہرتا

٩٥

صفحہ ٥٣٢

ہے۔ انجیل سے یوحنا نبی کا قتل ہونا ثابت ہے۔ (متی باب ١٤ ص١٠) خود مرزا قادیانی نے (حقیقت الوحی ص ١٦٤، خزائن ج ٢٢ ص ١٦٨) پر ان کو ”یحییٰ شہید“ لکھا ہے۔ مگر مرزا قادیانی ہے کہ ہر موقعہ پر صاف معنی سے اعراض کر کے من گھڑت معنے اور من گھڑت دلائل میں کتابیں لکھ مارتا ہے۔ مرزا قادیانی کا اس خاص نشان کو عام بنا کر اپنی تائید میں دلیل پکڑنا ایسا ہی بیہودہ ہے۔ جیسا کہ کوئی دشمن اسلام ”اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَر “ کو عام کر کے استدلال کرے کہ میں محمدﷺ کا دشمن نہیں ہوں۔ کیونکہ میں صاحب اولاد اور صاحب جاہ وحشم ہوں۔ پھر بیہودگی پر یہ اور بیہودگی ہے جو ٢٣ سال کی قید لگائی جاتی ہے۔ کیونکہ تورات وانجیل میں ٢٣ سال کی قید کہاں لگائی گئی تھی کہ جھوٹا نبی ٢٣ سال تک مہلت پاسکتا ہے۔ زیادہ نہیں تاکہ ان پر ٢٣ سال کی تبلیغ حجت ہوسکے۔ انسائیکلوپیڈیا سے ثابت ہے کہ یوحنا نبی ٧٢ سال کی عمر میں ہی مقتول ہو گئے تھے تو کیا وہ جھوٹے نبی تھے؟ طرفہ تر یہ ہے کہ ایک طرف تو مدعی ہے کہ خدا اس کا محافظ ہے۔ کوئی دشمن اس کو قتل نہیں کرسکا اور نہ کر سکتا ہے۔ دوسری طرف یہ اقرار ہے کہ وہ اور اس کی جماعت مکہ یا مدینہ یا کسی اور اسلامی ملک میں چلی جائے تو ایک ہفتہ کے اندر قتل کر دیئے جائیں اور ان کا نام ونشان دنیا سے اڑا دیا جائے۔

(الحکم ١٠؍ اگست ١٩٠٦ء)

چونکہ اس آیت کے متعلق مرزائی دفتر کے دفتر سیاہ کر چکے ہیں۔ اس لئے یہ امر فضول نہ ہوگا۔ کہ ان کی تصانیف کا کچھ حصہ اس جگہ نقل کر دیا جائے ۔ ”اب اس موقعہ پر بھی ایک فہرست مفتریان درج کی جاتی ہے تاکہ عام مسلمین اس بات سے بخوبی آگاہ ہو جاویں کہ زمانہ گذشتہ میں ایسے بہت سے مفتریان گذر چکے ہیں۔ جیسا کہ مرزا قادیانی اور ان میں سے اکثروں نے مثل مرزا قادیانی دعویٰ مہدی معہود کا اور بعض نے مسیح موعود کا کیا۔ جیسا کہ اس زمانہ میں مرزا قادیانی کرتے ہیں۔ مگر سب کے سب آخر کار اس قدر مہلت کے بعد جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے ازل میں مقرر کی ہوئی تھی۔ نابود و ذلیل و خوار ہو گئے اور ان کے سلسلے نابود ہو گئے۔“

عبید اللہ مہدی

اس شخص نے ٢٩٦ ہجری میں دعویٰ مہدی موعود کا کیا۔ اس نے افریقہ میں خروج کیا اور ایک مذہب جدید جاری کیا۔ جماعت کثیر اس کے ساتھ ہو گئی۔ کئی مقامات طرابلس وغیرہ کو فتح کر کے مصر کو بھی فتح کر لیا اور ٣٢٢ ہجری میں اپنی موت سے مر گیا۔ تاریخ کامل (ابن اثیر ج ٨ ص ٩٠) میں درج ہے کہ ”اس کا زمانہ مہدویت ٢٣ سال ایک ماہ ٢٠ یوم رہا۔“

٩٦

حسن بن صباح

اس شخص نے بھی ایک کیا اور مدعی الہام بھی تھا۔ ایک کے طور پر کہا کہ خدا نے مجھ سے کہ میں اس دنیا پر متصرف ہوں روگرداں ہوا۔ وہ خدا سے روگر بہشت بھی بنایا ہوا تھا۔ چنانچہ ی اس مذہب کے ذریعہ حکمران بھی کو گمراہ کر کے ٥١٨ھ میں اپنی مو

سجاح

اس عورت نے مسیل کے مرید ہو گئے اور بہت سے اس کا زمانہ ٣٠ سال سے بھی ز سجاح ہمیشہ اپنی قوم تغلب میں گئے اور سب نے وہاں اسلام ق

عبدالمومن مہدی

یہ شخص بھی افریقہ ہزارہا لوگ اس کے مرید ہو گ موت سے مر گیا۔ اس کا زمانہ

حاکم بامر اللہ

اس شخص نے ملکی کتاب اپنے گروہ کے لئے بنا سجدہ کرواتا تھا۔ شراب وزنا خ کے ہیں۔ کذا فی حج الکرامہ م کے مر گیا۔

صفحہ ٥٣٣

حسن بن صباح

اس شخص نے بھی ایک جدید مذہب ملک عراق، آذربائیجان و افریقہ وغیرہ میں جاری کیا اور مدعی الہام بھی تھا۔ ایک جہاز جس میں وہ سوار تھا۔ طوفان میں آ گیا۔ اس نے پیش گوئی کے طور پر کہا کہ خدا نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ یہ جہاز نہیں ڈوبے گا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ وہ کہتا تھا کہ میں اس دنیا پر متصرف ہوں اور اس کے حکم کی تعمیل مثل تعمیل حکم خدا کے ہے اور جو اس سے روگرداں ہوا۔ وہ خدا سے روگرداں ہوا اور اس نے اپنے مریدوں کو پھسلانے کے واسطے ایک بہشت بھی بنایا ہوا تھا۔ چنانچہ ہزارہا آدمی اس کے مرید ہو گئے اور اس کے گروہ کا نام فدائی تھا۔ اس مذہب کے ذریعہ حکمران بھی ہو گیا۔ آخر ٣٥ برس ولایت و حکومت کر کے اور ہزار ہا مسلمانوں کو گمراہ کر کے ٥١٨ھ میں اپنی موت سے مر گیا۔

سجاح

اس عورت نے مسیلمہ کذاب کے وقت میں دعویٰ نبوت کیا اور گروہ کثیر قبیلہ تمیم۔ اس کے مرید ہو گئے اور بہت سے رؤسا اس کے ساتھ ہو گئے اور بعہد خلافت معاویہ تائب ہو گئے۔ اس کا زمانہ ٣٠ سال سے بھی زیادہ ہوا۔ جیسا کہ تاریخ کامل (ابن اثیر ج ٢ ص ٥٦) میں لکھا ہے کہ سجاح ہمیشہ اپنی قوم تغلب میں رہی۔ یہاں تک کہ حضرت معاویہ اس کو اور اس کی قوم کو بغداد لے گئے اور سب نے وہاں اسلام کو قبول کیا۔

عبدالمومن مہدی

یہ شخص بھی افریقہ میں مہدی بنا اور صدہا آدمیوں نے اس کے ہاتھ پر بیعت کی اور ہزار ہا لوگ اس کے مرید ہو گئے اور حاکم مراکو وغیرہ سے مقابلہ و جنگ کرتا رہا اور ٣٥٨ھ میں اپنی موت سے مر گیا۔ اس کا زمانہ ولایت و مہدویت ١٣ سال سے بہت زیادہ ہے۔

حاکم بامر اللہ

اس شخص نے ملک مصر میں دعویٰ نبوت سے گزر کر خدائی کا دعویٰ کیا ہوا تھا اور ایک کتاب اپنے گروہ کے لئے تالیف کی اور ایک نیا فرقہ قائم کیا۔ جن کو دروز کہتے ہیں اور اپنے آپ کو سجدہ کرواتا تھا۔ شراب و زنا عام کر دیئے تھے اور علیحدہ شریعت بنائی ہوئی تھی اور بہت خرافات اس کے ہیں۔ کذا فی حجج الکرامہ۔ تاریخ کامل ابن اثیر کی ج ٩ میں لکھا ہے کہ یہ ٢٥ برس تک حکومت کر کے مر گیا۔

٩ ٩٧ ٩ کے مر گیا۔

٩٧ مر گیا۔

٩٧

صفحہ ٥٣٤

اکبر بادشاہ ہند

اس بادشاہ نے دعویٰ نبوت کیا اور ایک نیا مذہب جاری کیا جس کا نام مذہب الٰہی رکھا اور کلمہ لا الہ الا اللہ اکبر خلیفۃ اللہ ایجاد کیا اور کہتا تھا کہ مذہب اسلام پرانا ہوگیا۔ اس کی ضرورت اب نہیں رہی اور لوگوں سے اقرار نامے لکھوائے جاتے تھے کہ مذہب اسلام آبائی کو چھوڑ کر مذہب الٰہی اکبر شاہی میں داخل ہوا ہوں۔ نماز، روزہ، حج ساقط ہوا تھا۔ شیخ عبدالقادر بدایونی کی تاریخ میں اس کے مفصل حال درج ہیں۔ اس نے ١٥٨١ء میں دعویٰ نبوت کیا اور ١٦٠٥ء میں اپنی موت سے مر گیا۔

عبداللہ بن تومرت

یہ شخص بھی مہدی موعود بنا ہوا تھا اور ہزار ہا لوگ اس نے مرید بنائے ہوئے تھے اور اس امامت کے ذریعہ اس نے حکومت بھی حاصل کرلی اور موقعہ جنگ پر پیش گوئیاں بھی کرتا تھا۔ چنانچہ اس نے ایک موقعہ پر پیش گوئی کے طور پر کہا کہ خدا کی طرف سے ہم کو اس جماعت پر نصرت اور مدد پہنچے گی اور ہم اس امداد اور فتح سے خوشحال ہوجائیں گے۔ چنانچہ یہ بات سچی ہوگئی اور لوگوں کو اس کے مہدی ہونے کا یقین کامل ہوگیا اور ہزار ہا لوگوں نے اس کے ساتھ بیعت کی۔ یہ شخص عالم، فاضل تھا اور بڑے عروج میں اپنی موت کے ساتھ مرگیا۔ تاریخ کامل ابن اثیر میں لکھا ہے کہ اس کی حکومت کا زمانہ ٢٠ سال کا تھا اور بزور حکومت حاصل کرنے کے پہلے چار پانچ سال مہدی بنا اور بعدہ حاکم بنا۔

محمد علی بابی

اس شخص نے ملک فارس میں بعہد محمد شاہ کاچار جو ١٢٥٠ھ میں تخت نشین ہوا تھا ایک نیا مذہب بابی نام جاری کیا اور کہتا تھا کہ میں مہدی موعود ہوں اور کہتا تھا کہ میری کلام میرا معجزہ ہے اور اپنا ایک نیا قرآن تصنیف کیا۔ جس کو وہ مثل قرآن شریف اور بجائے قرآن شریف کے تعلیم دیتا اور الہام و وحی کا مدعی تھا۔ شراب کو حلال کردیا۔ رمضان کے روزے ١٩ کردیئے۔ عورتوں کو ٩ شوہر تک اجازت دی۔ حسن خاں حاکم فارس نے اس کے شعبدہ ہائے دیکھ کر اس پر اعتقاد کرلیا۔ یہ شخص چالیس سال سے زیادہ زندہ رہ کر مر گیا اور اس کا گروہ ’بابی‘ اب تک ملک فارس میں موجود ہے۔ مفتریوں کی سزا ہم اور آیات قرآنی میں بھی دیکھتے ہیں۔

”قال اللہ تعالیٰ: ومن اظلم ممن افتریٰ علی اللہ کذباً او قال اوحی ولم یوح الیہ ومن قال سانزل مثل ما انزل اللہ ولوترى اذا الظالمون فی غمرات الموت والملائکۃ باسطوا ایدیہم اخرجوا انفسکم الیوم تجزون عذاب

٩٨

صفحہ ٥٣٥

الهون بما كنتم تقولون على الله غير الحق وكنتم عن آياته تستكبرون (الانعام:٩٣) ”دوسری آیت:”فمن اظلم ممن افترى على الله كذباً او كذب باياته اولئك ينالهم نصيبهم من الكتاب حتى اذا جاء تهم رسلنا يتوفنهم قالوا اينما كنتم تدعون من دون الله قالوا ضلّوا عنّا وشهدو اعلى انفسهم انهم كانوا كافرين (الاعراف:٣٧)“ تیسری آیت: ”ومن اظلم ممن افترى على الله كذباً او كذب باياته انه لا يفلح الظالمون (الانعام:٢١)“ چوتھی آیت:”قل ان الذين يفترون على الله الكذب لا يفلحون متاع فى الدنيا ثم الينا مرجعهم ثم نذيقهم العذاب الشديد بما كانوا يكفرون (یونس:٦٩، ٧٠)“ پانچویں آیت:”ان الذين يتخذوا العجل سينالهم غضب من ربهم وذلة فى الحيوة الدنيا وكذالك يجزى المفترين (الاعراف:١٥٢)“

ان آیات خمسہ مبارکہ اور امثالہا میں سے ایک پر بھی نظر ڈالنے سے صاف روشن ہوا ہے کہ مفتریان کے لئے اللہ تعالیٰ کے دربار میں جو سزا مقرر ہے۔ وہ ذلت وخواری و ناکامیابی ہے اور یہ بھی روشن ہے کہ بعضوں کو یہ ذلت ان کی موت اور جانکنی کے وقت ملائکہ کے ہاتھوں سے ملتی ہے اور یہ بھی روشن ہے کہ جو ان کا نصیب نوشتہ میں سے یعنی رزق اور عمر وہ ان کو پہنچتے رہتے ہیں۔ ان میں کمی نہیں ہوتی۔ نہ رزق کی تنگی اور نہ اجل مسمّیٰ میں کوتاہی ان آیات شریفہ میں ایک لفظ بھی ایسا نہیں جس سے سزائے موت نکلتی ہو۔ بلکہ سارے قرآن میں بھی اس کا پتہ نہیں اور شریعت میں جو مدعی نبوت وامثالہ کے لئے سزا مقرر ہے۔ اس لئے نہیں کہ وہ مفتری علی اللہ ہے۔ بلکہ اس لئے کہ اس نے اس ایک نص قطعی ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین کا انکار کیا اور مرتد ہوا۔ پس مرتدین کی ذیل میں بسزائے ارتداد قتل کیا جائے۔ نہ بسزاء افتراء یہی سبب ہے جو مرزا قادیانی بھی سوائے ولو تقول علینا کے کوئی دوسری آیت جس میں مفتری کی سزا جان سے مار ڈالنا ہو، نہیں لا سکے۔ (اربعین نمبر ٤ ص ٤، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٣) میں دو آیتیں لائے ہیں۔ ایک کے معنی میں خود لفظ مرنا زیادہ کردیا۔ یعنی آیت ”قد خاب من افتریٰ “ کا ترجمہ یوں کردیا کہ مفتری نامراد مرے گا۔ باوجودیکہ خاب کے معنی میں موت داخل نہیں ہے۔ دوسری آیت کا اخیر وہی ہے جو ہم آیات خمسہ میں پورا پورا لکھ آئے ہیں۔ یعنی ”من اظلم ممن افترى على الله كذباً “ اور ”كذب باياته أولئك ينالهم نصيبهم من الكتاب حتى اذا جاء تهم رسلنا يتوفنهم “ مرزا قادیانی نے ”ينالهم نصيبهم من الكتاب “ اخیر تک چھوڑ دیا۔

٩٩

صفحہ ٥٣٦

(اربعین نمبر ٤) میں اس کو نہیں لایا۔ کیونکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ مفتریوں کو ان کا نصیب نوشتہ سے پہنچ رہتا ہے۔ یعنی عمر اور رزق جو ان کے واسطے ہے۔ وہ ان کو دیا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ جب فرشتے جان لینے کو آتے ہیں تو ان کو زجر ملامت کرتے ہیں۔ دوسری جگہ اس آیت کے آخر صرف ”انه لا يفلح الظالمون (الانعام:٢١)“ ہے یعنی وہ ظالم مفتری کامیاب نہیں ہوتے۔ مرزا قادیانی نے یہ عبارت آخیر سے گرادی اور تمام آیت کو جو ان کے دعوٰی کے مخالف تھی، چھوڑ دیا۔ دعوٰی یہ تھا کہ صدہا جگہ قرآن میں پاؤ گے۔ خدا مفتریوں کو ہلاک کرتا ہے۔ مگر ایک آیت بھی پیش نہ کر سکے۔ بجز ”لو تقول“ کے یہ تو قرآن ہے۔ احادیث میں بھی جہاں ان دجالوں، کذابوں کا ذکر ہے۔ آنحضرت علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ان کے خروج کی خبر دی ہے اور ان کی ہلاکت اور کوئی عذاب آسمانی کی ان کے حق میں پیش گوئی نہیں فرمائی۔ ”وانـــــــه سيكون فى امتى كذابون ثلثون كلهم يزعم انه نبى الله وانا خاتم النبيين لا نبى بعدى (الحديث)“ ان کے قتل و ہلاکت کا کچھ ذکر نہیں فرمایا۔ بلکہ ”ولا تزال طائفة من امتى على الحق ظاهرين لا يضرهم من خالفهم حتى ياتى امر الله“ جس میں صاف اشارہ ہے کہ اسی اہل حق طائفہ کے ہاتھ سے وہ کذاب مفتری ذلت اور خواری اٹھاویں گے اور ان پر حجت قائم ہوگی اور اہل حق غالب رہیں گے۔

باب دہم

مرزا قادیانی کی حقیقت الوحی کے رد میں

کانے دجال کا مسودہ میں ختم کر چکا تھا کہ مرزائے قادیانی کی ”حقیقت الوحی“ میرے نظر سے گذری۔

سینکڑوں دفعہ مرزا قادیانی کی کتابوں، رسالوں، اشتہاروں، اخباروں اور دیگر مرزائیوں کی تصنیفات میں بے حد طوالت و تکرار کے ساتھ شائع ہوچکے ہیں اور جن کا ذکر تمام مرزائیوں میں دن رات دیوانوں کی طرح ہوتا رہتا اور ہمیشہ بحثیں ہوتی ہیں اور یہ باتیں عموماً تمام مرزائیوں کے ازبر ہو چکی ہیں۔

آنے فی جلد ہو سکتا ہے۔ دو آنے فی جلد منافع لگا کر آٹھ آنے ہوجاتے۔ مگر مرزا قادیانی نے پانچ روپیہ

١٠٠

قیمت رکھ دی۔ میری تفسیر سینکڑوں گئی ہے۔ کیونکہ ا سینکڑوں مضامین پر محنت اناپ شناپ قلم برداشتہ سـ نمبر درج ہیں۔ باوجود سینکڑ مرزا قادیانی نے اس اناپ

چاہئے تھی۔ جیسا کہ اہل یو تو یہ ہے کہ وہ فانی اللہ ہے کلیۃً ہلاک کر دیا ہے۔ مگر لوگ تو مذہبی کتابوں کو قری قیمت پر فروخت کرتا ہے یـ پر حرام ہے کہ بلا تردد زیـ کہ اسلامی خدمت کے بعـ کیا تمام انبیاء علیہم السلام نـ

یہی تمام مضامین سو صفحہ مجـ اس میں ایک تو یہ چال ہے خلاف عقل امور کو بت پر

آ جاتے اور بعض سچے الہام سے کچھ تعلق نہیں ہوتا۔ ...

سچے خواب آئے اور سچے ا

پاتے اور کامل طور پر شرفـ

صفحہ ٥٣٧

قیمت رکھ دی۔ میری تفسیر القرآن حجم میں اس کی نسبت چار چند ہے۔ مضامین کے لحاظ سے سینکڑوں گنی ہے۔ کیونکہ اس میں محض ایک ہی مضمون پر بحث ہے اور میری تفسیر القرآن میں ایسے سینکڑوں مضامین پر محنت کے لحاظ سے اس سے ہزاروں گنی سمجھنی چاہئے۔ کیونکہ اس کی تمام تحریر اناپ شناپ قلم برداشتہ ہے۔ مگر میری تفسیر میں فی صفحہ بیسیوں آیات، تورات، انجیل و قرآن معہ نمبر درج ہیں۔ باوجود سینکڑوں گنی زیادتی کے قیمت دو روپیہ آٹھ آنہ ہے۔ بلا کسی محنت و تردد کے مرزا قادیانی نے اس اناپ شناپ تحریر سے چار ہزار روپیہ نقد کما لیا۔

سوم ...... اصول رفاہ عام کے لحاظ سے اس کی قیمت اصل مصارف سے کچھ ہی زیادہ ہونی چاہئے تھی۔ جیسا کہ اہل یورپ اپنی تمام اشیاء کی قیمت رکھتے ہیں۔ مگر افسوس مرزا قادیانی کا دعویٰ تو یہ ہے کہ وہ فانی فی اللہ ہے۔ وہ خدا کے راستہ میں اپنا سب کچھ قربان کر چکا ہے۔ اس نے نفس کو کلیۃً ہلاک کر دیا ہے۔ مگر عملی اسلام عیسائیوں کے برابر بھی نہیں۔ جن کو وہ دجال کہتا ہے۔ عیسائی لوگ تو مذہبی کتابوں کو قریب قریب اصل قیمتوں پر فروخت کرتے ہیں۔ مگر مرزا قادیانی عموماً دس گنی قیمت پر فروخت کرتا ہے۔ کیا سود در سود کی نسبت اس میں زیادہ خود غرضی نہیں ہے؟ اگر سود اس بناء پر حرام ہے کہ بلا تردد زیادہ منافع لیا جاتا اور خود غرضی اور بیدردی پیدا ہوتی ہے تو پھر کیا یہ حرام نہیں کہ اسلامی خدمت کے روپیہ سے ایک کتاب اناپ شناپ چھپوا کر دس گنی قیمت وصول کی جائے؟ کیا تمام انبیاء علیہم السلام ایسا ہی کیا کرتے تھے؟

چہارم ...... ہر مضمون میں بے حد تکرار اور طوالت کے ساتھ بے فائدہ کتاب کا حجم بڑھا دیا ہے۔ یہی تمام مضامین سو صفحہ میں نہایت صفائی کے ساتھ آسکتے تھے۔ یہ اسراف بے جا ہے۔ ساتھ ہی اس میں ایک تو یہ چال ہے کہ حجم بڑھا کر زیادہ روپیہ وصول کر لیا جائے۔ دوم یہ کہ خلاف علم اور خلاف عقل امور کو بت پرستی کی طرح ذہن نشین کر دیا جائے۔

پہلے باب ...... میں مرزا قادیانی نے یہ بیان کیا ہے کہ بعض لوگوں کو سچے خواب آجاتے اور بعض سچے الہام ہو جاتے ہیں۔ خواہ وہ کیسے ہی فاسق و فاجر کیوں نہ ہوں۔ ان کو خدا سے کچھ تعلق نہیں ہوتا۔

دوسرے باب ...... میں یہ بیان ہے کہ بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ ان کو بعض اوقات سچے خواب آتے اور سچے الہام ہو جاتے ہیں۔ ان کو خدا سے کچھ تعلق بھی ہوتا ہے۔

تیسرے باب ...... میں ایسے لوگوں کا ذکر ہے جو خدا تعالیٰ سے اکمل اور مصفیٰ طور پر وحی پاتے اور کامل طور پر شرف مکالمہ و مخاطبہ ان کو حاصل ہوتا ہے۔ خوابیں بھی ان کو فلق الصبح کی طرح

١٠١

صفحہ ٥٣٨

سچی آتی ہیں اور خدا تعالیٰ سے اکمل اور اتم طور پر محبت کا تعلق رکھتے ہیں۔

یہ ہر سہ امورات بدیہی الثبوت ہیں۔ ہر صحیح الفطرت انسان ان کو خود بخود تسلیم کر سکتا ہے۔ مرزا قادیانی نے بے حد تکرار اور طوالت کے ساتھ ان سادہ اصول کو پچپن صفحہ میں پھیلا دیا ہے۔ مگر ان کے متعلق ایک ضروری مسئلہ کو بالکل مس نہیں کیا۔ وہ یہ کہ جن لوگوں کے دماغ فطرتاً الہامات اور خوابات کے مناسب ہیں۔ وہ خاص مشغلہ اور توجہ سے اس ملکہ کو بہت ترقی دے سکتے ہیں۔ خواہ ان کے اور عمل کیسے ہی کیوں نہ ہوں۔ مثلاً جس شخص کا دماغ فطرتاً الہامات و خوابات کے موزوں ہے۔ اگر وہ ہمیشہ اپنے خوابات والہامات کا چرچا رکھے اور سوتے ہوئے یا اور اوقات میں اللہ کو اس کے مبارک ناموں سے پکارتا رہے۔ لوگوں میں اپنی عزت بڑھانے کے واسطے ہمیشہ اپنے رب سے اس امر کا طالب اور خواہاں رہے کہ اس کو غیب کی خبریں ملتی رہیں تو کثرت سے اس کو غیب کی خبریں ملتی رہیں گی۔ خواہ اور طرح پر وہ بددیانت، بدعہد، فاسق، فاجر، کذاب، مسرف اور عیار ہی کیوں نہ ہو۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کسی مؤمن یا غیر مؤمن۔ نیک یا بد سچے یا جھوٹے کی محنت کو ضائع نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ خود فرماتا ہے۔ "انا لا نضيع اجر العاملين " پس جو قانون میں محنت کرتا ہے۔ وہ آخر کار مقنن بن جاتا ہے۔ جو ڈاکٹری میں محنت کرتا ہے۔ وہ ڈاکٹر بن جاتا ہے جو مسمریزم میں مشق کرتا ہے۔ وہ مسمرائزر بن جاتا ہے۔ جو خوشنویسی میں محنت اٹھاتا ہے۔ وہ خوشنویس بن جاتا ہے جو زراعت میں محنت کرتا ہے۔ وہ اس کا پھل پالیتا ہے۔ خواہ وہ مؤمن ہو یا غیر مؤمن۔ نیک ہو یا بد۔ خدا رسیدہ ہو یا مردود۔ اسی طرح پر جو شخص ہمیشہ خدا سے اخبار غیب کا طالب رہتا ہے۔ ہر مشکل کے وقت اضطراری دعائیں کرتا ہے تو ضرور اس کو غیب کی خبریں ملتی اور اس کی دعائیں قبول ہوتی ہیں۔ خواہ وہ دراصل مؤمن ہو یا غیر مؤمن ہو۔ کیونکہ جیسی اللہ تعالیٰ کی ظاہری ربوبیت عام ہے۔ ویسی ہی باطنی ربوبیت بھی عام ہے۔ اسی واسطے اس کا نام ہے۔ رب العالمین اس نے خود فرمایا ہے۔ "اجيب دعوة الداع اذا دعان (البقرة:١٨٦)" میں پکارنے والے کی پکار کو سنتا ہوں ۔ جب وہ مجھے پکارتا ہے۔ مشرکوں کے حالات میں ہے۔ ”اذا ركبوا في الفلك دعو الله مخلصين له الدين فلما نجهم الى البر اذاهم يشركون (العنکبوت:٦٥)“ جب وہ کشتی میں سوار ہوتے ہیں ۔ اللہ کو خالص دین کے ساتھ پکارتے ہیں۔ پس جب ہم ان کو حفاظت سے خشکی پر لے آتے ہیں تو وہ وہیں شرک کرنے لگتے ہیں۔ پٹیالہ میں ایک سردار کنہیا سنگھ نام مہاراجہ بہادر کے اہلکاروں میں سے ہیں۔ ان کو کثرت سے خواب آتے ہیں۔ جن میں غیب کی خبریں بکثرت ہوتی ہیں اور

١٠٢

صفحہ ٥٣٩

بڑے بڑے عظیم الشان تغیرات کی نسبت اس کو قبل از وقت خبر مل جاتی ہے۔ ایسا ہی لالہ بھگوان داس صاحب ممبر کونسل ہیں۔ جن کو بڑے معاملات میں قبل از وقت خواب آتے ہیں۔ پس جب تک کسی شخص کے معاملات اور اخلاق اعلیٰ درجہ کے نہ ہوں۔ اس کے ہر فعل سے ایثار، نثار، ہمدردی اور راست بازی ثابت نہ ہو۔ اس وقت تک محض کثرت رؤیائے صادقہ والہامات غیبیہ اس کی ولایت کی دلیل نہیں ہو سکتے۔ اس اصول کو مرزا قادیانی نے عمداً بدنیتی سے بیان نہیں کیا۔ کیونکہ اس سے اس کی تردید ہوتی تھی۔ بلکہ تمام کتاب میں اپنی پیش گوئیوں کا ہی ذکر کر کے یہ ثابت کرنا چاہا ہے کہ وہ خدا کا برگزیدہ ہے۔ وہ اعلیٰ درجہ کے نبیوں اور رسولوں میں سے ہے۔ حالانکہ اس نے براہین کی نسبت لمبے چوڑے اشتہارات دے کر تمام روپیہ پیشگی وصول کیا۔ مگر تین سو جزو میں سے محض تیس جزو، تین سو دلائل میں سے محض ایک دلیل شائع کر کے ایسا دم بخود ہوا کہ اٹھائیس سال سے اس کتاب کا نام تک نہیں لیا۔ سراج منیر کی مفت اشاعت کے واسطے چودہ سو روپیہ چندہ وصول کر کے خورد برد کر گیا۔ چند سال کے بعد سراج منیر شائع ہوا اور آٹھ گنی قیمت پر فروخت کیا گیا۔ ایسا ہی ڈھائی سو روپیہ ماہوار چندہ جو کتابوں کے مفت اشاعت کے واسطے مقرر ہوا تھا۔ سالہا سال بلا حساب و کتاب خورد برد ہوتا رہا اور آخر کار اس کا نام لنگر خانہ کا چندہ رکھا گیا۔ ایسا ہی منارہ کے نام پر تیس ہزار سے زیادہ چندہ جمع ہوا اور وہ سب ہضم ایسے ہی توسیع مکان اور مسجد کا چندہ۔ براہین کے معاملہ میں بدعہدی کی۔ سراج منیر کے معاملہ میں، مشن تبت کے معاملہ میں، تفسیر کتاب عزیز، منارہ، اربعین، منن الرحمان وغیرہ کے معاملہ میں۔ دماغ ایسا آتشیں اور قلب ایسا کینہ توز اور دل ایسا عالم سوز ہے کہ دنیا کی تباہی اور مرزا قادیانی کے واسطے عید کا دن۔ عالم کباب ہو اور مرزا کی شادی اور فتح ہو۔ گورنمنٹ برطانیہ کی خیر خواہی جتلانے لگے۔ مکہ، مدینہ، روم، ایران اور افغانستان کی بربادی کے ولولے جوش زن ہو گئے۔ دعویٰ تو محمدؐ کے اتباع اور محبت کا۔ مگر اس کے تیس کروڑ جان نثار امت کے جانی دشمن۔ یہاں تک کہ کتابوں میں دعائیں شائع کی جاتی ہیں کہ طاعون پھیلے اور مرزا قادیانی کے مخالف ہلاک ہوں۔ پھر طاعون کے پھیلنے پر خوشیاں منائی جاتی ہیں۔ جب کہ اس کے ظاہری اعمال، اخلاق اور دین کا یہ حال ہے کہ اس قدر بغض اور کینہ عیسائیوں اور آریاؤں کو بھی امت محمدی سے نہیں۔ جس قدر کہ مرزا قادیانی اور مرزائیوں کو ہے۔ پس صاف ظاہر ہے کہ اگر اس کے بعض خوابات اور الہامات سچے بھی ہوئے ہیں تو وہ اس کی ولایت یا نبوت یا رسالت کی دلیل ہرگز نہیں ہو سکتے۔ جب تک کہ وہ تمام بنی نوع کا عموماً اور مسلمانوں کا خصوصاً سچا ہمدرد اور خیرخواہ ثابت نہ ہو جائے۔ جب تک عملاً یہ نظر نہ آئے کہ اور لوگ ١٠٣

صفحہ ٥٤٠

نادان بچہ کی طرح دن رات اس پر بول و براز کرتے اور ہر وقت اس سے بلاکسی عوض کے خدمت لیتے ہیں۔ مگر وہ رحیم ماں کی طرح ہر وقت ان سے محبت کرتا، ان کی خیر خواہی کرتا، ان کی خدمت کرتا، ان کو پالتا اور ان کے تمام دکھ خوشی کے ساتھ برداشت کرتا ہے۔ وہ کبھی برگزیدہ خدا اور فنا فی اللہ اور فنا فی الرسول ہونے کے دعوے میں سچا نہیں ٹھہر سکتا۔ خاتمہ حقیقت الوحی میں مرزا قادیانی نے معترضین کے اعتراضات کا جواب دینا چاہا ہے۔ جس کو پڑھ کر میں یہ سمجھا کہ یہ میرے ان خوابات کی تاویل ہے جس میں میں نے یہ دیکھا تھا کہ ایک بڑا سانپ ہے۔ جس کو دھنکری نے مارا ہے۔ پھر ایک لکڑی لے کر میں بھی مارنے کے واسطے پہنچا۔ اس سانپ کے ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے مگر پھر بھی بولتا رہا اور اس کی بیوی نے دیکھا کہ سانپ نے جس کو اس نے کاٹ کر ہنڈیا میں بھوننا شروع کیا۔ مگر پھر بھی وہ بولتا رہا۔ چنانچہ اصح الدجال نے مرزا قادیانی کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے اور کوئی معقول جواب اس سے بن نہیں سکتا۔ مگر پھر بھی وہ بولنے سے باز نہیں آتا۔ عذر نامعقول ثابت میکند الزام را۔

میرے اعتراضات کا جواب شروع کرتے ہوئے مرزا قادیانی لکھتا ہے۔ ”سو پہلے وہ امر لکھنے کے لائق ہے۔ جس کی وجہ سے عبدالحکیم خاں ہماری جماعت سے علیحدہ ہوا ہے اور وہ یہ ہے کہ اس کا عقیدہ یہ ہے کہ نجات اخروی حاصل کرنے کے لئے آنحضرت ﷺ پر ایمان لانے کی ضرورت نہیں۔ بلکہ ہر ایک جو خدا کو وحدہ لاشریک جانتا ہے گو آنحضرت ﷺ کا مکذب ہے۔ وہ نجات پائے گا۔ اس سے ظاہر ہے کہ اس کے نزدیک ایک شخص اسلام سے مرتد ہو کر بھی نجات پا سکتا ہے اور ارتداد کی سزا اس کو دینا ظلم ہے۔ مثلاً حال میں ہی جو ایک شخص عبدالغفور نام مرتد ہو کر آریہ سماج میں داخل ہوا اور دھرم پال نام رکھا اور آنحضرت ﷺ کی توہین اور تکذیب میں دن رات کمر بستہ ہے۔ وہ بھی عبدالحکیم خاں کے نزدیک سیدھا بہشت میں جائے گا۔“ (حقیقت الوحی ص ١٠٩، خزائن ج ٢٢ ص ١١٢) یہ ہے مرزا قادیانی کی دیانت اور امانت۔ میری کوئی عبارت نقل نہیں کی۔ بلکہ اپنے الفاظ میں ہی ایک بہتان باندھ کر اس پر انشاء پردازی شروع کر دی اور کمال چالاکی سے اس افتراء کی تردید میں چالیس صفحہ سیاہ کرتا چلا گیا ہے۔ میرے رسائل الذکر الحکیم نمبر ٤ اور اصح الدجال میں سے اگر کوئی مرزائی یہ عبارت دکھا دے یا کوئی ایسی عبارت دکھا دے۔ جس کا یہ مفہوم ہو۔ جیسا کہ مرزا قادیانی نے بیان کیا ہے تو پانچ سو روپیہ انعام۔ اس بارہ میں چند فقرات اپنے اور مرزا قادیانی کے بالمقابل ذیل میں درج کر کے پیش کرتا ہوں۔ تا کہ ناظرین بآسانی غور فرما سکیں۔

١٠٤

ڈاکٹر عبدالحکیم خان کے کفر

محمد مصطفیٰ ﷺ سید المرسلین خاتم النبیین العالمین ہیں۔ جو شخص عمداً ان کی مخالفت اور بدبخت ہے۔ ہاں جن لوگوں پر آپ ہوئی یا جو شخص علم یا نقص فہم سے نہ ضداً تو غافل یا مخالف ہیں۔ ان کی نسبت قرآ ہے۔ ”وما کنا معذبین حتی نبع یکلف الله نفساً الا وسعها (ا (الذکر الحکیم نمبر ٤ ص ١١، ١٢) جو لوگ قرآن چلنے یا کسی ایک حصہ کو ہی پکڑ کر توحید و تحقیر کرتے ہیں۔ ان کا میں مخالف ہو استمساک بالقرآن اور استمساک بالسنہ مقابلہ ہیں۔ عین حکمت اور عین رش ہوں۔ (الذکر الحکیم نمبر ٤ ص ١٢) میں حیرا نسبت یہ کیسے تحریر فرمایا گیا کہ میں دہریوں، مرتدوں اور کافروں وغیرہ کو ن کی عمداً مخالفت کرتے ہیں ناجی سمجھتا نہیں۔ ہاں ! قرآن مجید کی آیات بین صحیحہ اور عقل سلیم اور فطرت اللہ کی بن ہوں کہ جن لوگوں پر اسلام کی تبلیغ مخلص جو خدا پرست اور صالح لوگ ہیں وہ ض گے۔ جو لوگ نقص علم یا نقص فہم کی وجہ عناد کی وجہ سے مخالف بھی ہوں اور حق باز خدا پرست اور نیک عمل ہوں۔ وہ ف دیکھو (ال

صفحہ ٥٤١

ڈاکٹر عبدالحکیم خان کے فقرات

محمد مصطفیٰ ﷺ سید المرسلین خاتم النبیین اور رحمۃ اللعالمین ہیں۔ جو شخص عمداً ان کی مخالفت کرتا ہے وہ شقی اور بدبخت ہے۔ ہاں جن لوگوں پر آپ کی تبلیغ نہیں ہوئی یا جو شخص علم یا نقص فہم سے نہ ضد و تعصب کی رو سے غافل یا مخالف ہیں۔ ان کی نسبت قرآن کریم فرماتا ہے "وما كنا معذبين حتى نبعث رسولا لا يكلف الله نفساً إلا وسعها" (البقرة:٢٨٦) (الذکر الحکیم نمبر ٢ ص ١١، ١٢) جو لوگ قرآن مجید کے خلاف چلے یا کسی ایک حصہ کو ہی پکڑ کر توحید ورسالت محمدی کی تحقیر کرتے ہیں۔ ان کا میں مخالف ہوں۔ ہر امر میں اعتصام بالقرآن اور استمساک بالفطرت جو مرا مایہ مقابلہ ہیں۔ عین حکمت اور عین رشد وسعادت سمجھتا ہوں۔ (الذکر الحکیم نمبر ٤ ص ١١) میں حیران ہوں۔ میری نسبت یہ کیسے تحریر فرمایا گیا کہ میں تمام عیسائیوں، دہریوں، مرتدوں اور کافروں وغیرہ کو جو آنحضرت ﷺ کی عمداً مخالفت کرتے ہیں ناجی سمجھتا ہوں۔ نہیں ہرگز نہیں۔ ہاں! قرآن مجید کی آیات بینات اور احادیث صحیحہ اور عقل سلیم اور فطرت اللہ کی بناء پر یہ ضرور مانتا ہوں کہ جن لوگوں پر اسلام کی تبلیغ نہیں ہوئی۔ ان میں جو خدا پرست اور صالح لوگ ہیں وہ ضرور نجات پائیں گے۔ جو لوگ نقص علم یا نقص فہم کی وجہ سے نہ شرارت اور عناد کی وجہ سے مخالف بھی ہوں اور حقیقت میں راست باز خدا پرست اور نیک عمل ہوں۔ وہ قابل معافی ہیں۔ دیکھو (الذکر الحکیم نمبر ٢ ص ١٨)

مرزا قادیانی اور اس کے چیلوں کے فقرات

"ہاں! جن لوگوں کو خدا تعالیٰ کا کلام نہیں پہنچا اور وہ بالکل بے خبر ہیں۔ ان سے ان کے علم اور عقل اور فہم کے موافق مواخذہ ہوگا۔"

(حقیقت الوحی ص ١٧١، خزائن ج ٢٢ ص ١٧٦)

"جو شخص نام سے بھی بالکلی بے خبر ہے۔ اس پر مواخذہ کیونکر ہو سکتا ہے۔"

(حقیقت الوحی ص ١٧٨، خزائن ج ٢٢ ص ١٨٢)

"جس پر خدا کے نزدیک اتمام حجت نہیں ہوا اور وہ مکذب اور منکر ہے تو گو شریعت نے جس کی بناء ظاہر پر ہے اس کا نام بھی کافر رکھا ہے اور ہم اس کو باتباع شریعت کافر کے نام سے پکارتے ہیں۔ مگر پھر بھی وہ خدا کے نزدیک بموجب آیت "لا يكلف الله نفساً الا وسعها" قابل مواخذہ نہیں ہوگا۔"

(حقیقت الوحی ص ١٨٠، خزائن ج ٢٢ ص ١٨٦)

"اگر اہل امریکہ و یورپ ہمارے سلسلہ کی طرف توجہ نہیں کرتے تو وہ معذور ہیں اور جب تک ہماری طرف سے ان کے آگے اپنی صداقت کے دلائل نہ پیش کئے جائیں وہ انکار کا حق رکھتے ہیں۔"

(الحکم مورخہ ١٠ مارچ ١٩٠٧ء)

بے خبر کو اللہ تعالیٰ عذاب نہیں دیتا۔ جیسا کہ فرمایا: "لم يكن ربك مهلك القرى بظلم واهلها غافلون" اللہ تعالیٰ کسی بستی کو ہلاک نہیں کرتا۔ باوجود یکہ وہ مشرک، شریر، اور ظالم بھی ہوں۔ جب کہ وہ لوگ انذار منذر سے بے خبر ہوں اور ایسا کرنا ظلم ہے اور تیرا رب بندوں پر ظلم نہیں کرتا۔

ان تمام فقرات کا نتیجہ اگر اسی طریق سے نکالا جائے جس طرح کہ مرزا اور مرزائیوں نے میرے کلمات سے نکالا ہے تو یہی نکلتا ہے کہ نجات کے واسطے تو خدا کی ضرورت ہے اور نہ رسول کی ضرورت ہے۔ نہ اعمال کی ضرورت ہے نہ مدار نجات، نہ خدا ہے۔ نہ محمد ہے۔ نہ تعلیم قرآن وحدیث ہے۔ بلکہ مدار نجات یا تو مرزائے قادیانی ہے یا بے خبر رہنا۔

١٠٥

صفحہ ٥٤٢

مرزا قادیانی نے میرے صرف ایک ہی اعتراض کو لیا اور کس دیانت اور خوبی کے ساتھ جواب دیا۔ اس سے ناظرین خود سمجھ گئے ہوں گے کہ ایک خائن اور کذاب کے طریق پر مرزا قادیانی نے خاص چالا کی سے اپنے ہی الفاظ میں مجھ پر ایک بہتان شائع کر دیا ہے تا کہ لوگ مجھ سے متنفر ہو کر میرے رسائل کو نہ دیکھ سکیں۔ ورنہ دیانت کا یہ طریق تھا کہ میرے الفاظ اور دلائل کو نقل کر کے پھر ان پر جرح کرتا۔ باقی الزامات جو واقعی طور پر خود مرزا قادیانی اور مرزائیوں کی تصانیف سے المسیح الدجال میں صاف طور پر ثابت کئے گئے ہیں مثلاً: (١) خلاف شرع دعاوی والہامات۔ (٢) بہشتی مقبرہ۔ (٣) رب العالمین اور انبیاء علیہم السلام کی سخت توہین وتذلیل۔ (٤) قرآن وحدیث اور تیرہ سو سالہ اسلام کو مردہ قرار دینا۔ اتباع محمدی، ایمان بالقدر اور تمام اعمال کو ہیچ قرار دینا۔ بلکہ تمام علمائے اسلام اور متبعین قرآن وحدیث کو کافر اور جہنمی قرار دینا۔ (٥) خداوند عالم کی فطرت کو لعنتی شے ٹھہرانا۔ (٦) متواتر خلاف وعدیاں۔ (٧) لمبے چوڑے اشتہارات سے روپیہ وصول کرنا۔ (٨) فحش گوئی۔ (٩) تمام مسلمانوں اور تمام قوموں پر لعنتیں برسانا اور ان کی ہلاکت میں خوشیاں منانا۔ (١٠) آرام طلبی وشکم پروری۔ (١١) ترک حج۔ (١٢) اپنی کتابوں کے لئے مال زکوٰۃ طلب کرنا۔ (١٣) تصاویر کھنچوانا۔ (١٤) تمام مسلمانوں سے پھٹ جانا۔ (١٥) جھوٹی شیخی اور کبریائی۔ (١٦) بے حد غلو اور بے ایمانیاں۔ (١٧) خالی دعوے۔ (١٨) خالی شاعری، خوش خوری، نفس پرستی اور بیہودہ انشاء پردازی۔ (١٩) تعمیر منارہ۔ (٢٠) انبیاء علیہم السلام کی تحقیر۔ (٢١) بے حد بھیک مانگنا اور جس کا چندہ تین ماہ تک نہ پہنچے اس کے اخراج کا اعلان دینا۔ (٢٢) اس کی پیشین گوئیوں میں بے حد غلو اور کذب کی آمیزش۔ (٢٣) اس کے الہامات کا شیطانی الہامات سے مشابہ ہونا۔ (٢٤) مسیح موعود کے متعلق جو احادیث صحیحہ ہیں ان سے مرزا قادیانی کی حالت کا مطابق نہ ہونا۔ (٢٥) اس کے دعاوی اور نشانات کی مشابہت ابن صیاد اور المسیح الدجال اور احادیث صحیحہ وسنن انبیاء کا صریح خلاف۔ (٢٦) ان تمام واقعی امور کا جواب مرزا قادیانی نے محض اس قدر دیا ہے ۔ ”کہ اگر میں ایسا ہی ہوں جیسا کہ عبدالحکیم اور اس کے ہم جنسوں نے مجھے سمجھا ہے تو پھر خدا تعالیٰ سے بڑھ کر میرا دشمن اور کون ہو گا اور اگر میں خدا تعالیٰ کے نزدیک ایسا نہیں ہوں تو پھر میں یہی بہتر طریق سمجھتا ہوں کہ ان باتوں کا جواب خدا تعالیٰ پر چھوڑ دوں ۔“

(حقیقۃ الوحی ص ١٨٢، خزائن ج ٢٢ ص ١٨٨)

١٠٦

صفحہ ٥٤٣

ثابت شدہ الزامات کا جواب ایسے طریق پر حلاف اور کذاب لوگ تو ضرور دیا کرتے ہیں جو بات بات پر قسمیں کھایا کرتے اور خدا کو گواہ بنایا کرتے ہیں۔ مگر قرآن مجید اور سنت انبیاء میں ایسے جوابات کا کہیں پتہ نہیں چلتا نہ انسانی عدالتوں اور قوانین میں واقعی شہادتوں کے خلاف ایسے بیان قبول کئے جاتے ہیں۔ کٹے ہوئے اور بپھرے ہوئے سانپ کی طرح پھنکارنے سے بہتر ہوتا کہ مرزا قادیانی مطلق خاموشی اختیار کر لیتے اور عبدالحکیم خان کے اعتراضات کا نام ہی نہ لیتے۔ میرے رسالہ اصح الدجال کی تردید کی طرف اشارہ تک نہ کرتے۔

اس قدر تمہیدی بیان کے بعد اب میں مرزا قادیانی کے ٢٠٨ نشانات کی طرف نظر اور چند فقروں میں تقسیم کر کے ان کا رد و کد کرتا ہوں۔

فصل اول: ان نشانات کے بیان میں جو سراسر غلط ثابت ہوئے

السماء“ (مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٠١) اور جس کی ١٨؍اپریل ١٨٨٦ء کو اشاعت کی گئی کہ اگر وہ حمل موجودہ میں پیدا نہ ہوا تو دوسرے حمل میں جو اس کے قریب ہے ضرور پیدا ہوگا۔

(اشتہار مورخہ ٢٠؍فروری ١٩٠٦ء، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ١٠٢)

(ایضاً)

تک بتلائی۔

مخالف ہیں پکڑے جائیں گے۔ مرزا قادیانی کے کوئی مخالف بارشوں میں نہیں پکڑے گئے۔

شعبان کو کوئی موت نہیں ہوئی۔

تلوار تیرے آگے ہے۔“ (مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٥٩، ٥٦٠) آج ٢٠؍ستمبر ١٩٠٧ء تک میں بالکل صحیح سلامت ہوں اور دجالی فتنہ (ملعون قادیان) کو پاش پاش کر رہا ہوں۔

١٠٧

صفحہ ٥٤٤

(تذکرہ ص ٦٩٦)

گا۔

(آئینہ کمالات اسلام ص ٣٢٥، خزائن ج ٥ ص ٣٢٥، مورخہ ١٠؍ جولائی ١٨٨٨ء)

ضرور واپس آئے گی۔

(آئینہ کمالات اسلام ص ٣٢٥، خزائن ج ٥ ص ٣٢٥، مورخہ ١٠؍ جولائی ١٨٨٨ء)

ص ٦٤٩، طبع اول) جو کچھ اصلاحیں قرآن مجید نے کیں اس کا کروڑواں حصہ بھی مرزا قادیانی سے آج تک نہیں ہوسکا۔

(مورخہ ٢٣؍ مئی ١٩٠٦ء)

جوانی واپس لائی جائے گی۔

(تذکرہ ص ٦٧٥، طبع اول)

(١١؍ فروری ١٩٠٦ء)

کے اندر نہ تو فوت ہوا نہ اس نے عاجز انسان کو خدا بنانے سے رجوع کیا، نہ اندھے دیکھنے لگے نہ لنگڑے چلنے لگے، نہ بہرے سننے لگے، نہ سچے کی بڑی عزت ہوئی، نہ جھوٹے کی ذلت۔

(تذکرہ ص ٣٠٢، طبع اول)

آئے گا۔

(اعجاز احمدی ص ٥١، خزائن ج ١٩ ص ١٦٢، ١٦٣)

١٠٨

صفحہ ٥٤٥

جائے گا۔ مگر اب ان کی عمر ستر سالہ ہے۔

مرزا قادیانی کے گھر میں عبد الکریم سیالکوٹی اور پیر اندتہ طاعون سے ہلاک ہوئے۔

مگر بڑے بڑے مرزائی طاعون سے ہلاک ہوئے۔ مثلاً مولوی برہان الدین جہلمی، محمد افضل ایڈیٹر البدر اور اس کا لڑکا، مولوی عبد الکریم سیالکوٹی، مولوی محمد یوسف سنوری، عبد اللہ سنوری کا بیٹا، ڈاکٹر بوڑے خاں، قاضی ضیاء الدین، ملاں جمال الدین سید والہ، حکیم فضل الٰہی، مرزا افضل بیگ وکیل، مولوی محمد علی ساکن زیرہ، مولوی نور احمد ساکن لودھی ننگل، ڈنگہ کا حافظ، زیادہ تفصیل کے لئے دیکھو: کانا دجال، باب چہارم۔

فصل دوم: ان نشانات کے ذکر میں جو محض ایک زمانہ کی طرف دلالت کرتے ہیں:

مگر مرزا قادیانی نے اپنے نشانات کی تعداد بڑھانے کے واسطے محض چالاکی سے ان کو اپنی تصدیق میں پیش کر دیا ہے۔

اس کے بعد ویسا ہی زلزلہ آئے گا۔

بستی ایسی نہیں جس کو ہم یوم قیام سے پہلے ہلاک نہ کریں گے یا عذاب نہ دیں گے۔

(نزول مسیح ص١٨، خزائن ج١٨ ص٣٩٦)

١٠٩

صفحہ ٥٤٦

میں اس کی تصریح نہیں ہے۔

فصل سوم: ان نشانات کے بیان میں جو فی الحقیقت مرزا قادیانی کے مخالف ہیں مگر چالاکی سے اس نے ان کو نشان بنا لیا ہے:

قربانی موقوف کی جائے گی اور مکروہ چیز جو خراب کرتی ہے قائم کی جائے گی ایک ہزار دو سو نوے دن ہوں گے۔ مبارک وہ جو انتظار کرتا ہے اور ایک ہزار تین سو پینتیس دن تک آتا ہے۔“ مرزا قادیانی خود لکھتا ہے کہ اس کو ١٢٩٠ھ سے شرف مکالمہ حاصل ہے۔ پس یہی وہ مکروہ چیز ہے جس نے ہزاروں مسلمانوں کو خراب کیا۔ مبارک وہ ہے جو انتظار کرتا ہے اور ١٣٣٥ سال تک آتا ہے۔

مہدی وقت وعیسی دوراں ہر دو را شہسوار می بینم

اس شعر میں مہدی اور عیسیٰ دو علیحدہ وجود بیان کئے گئے ہیں۔ مگر مرزا قادیانی ان کو ایک ہی بناتا ہے۔

مرزا قادیانی کے گھر میں پیراں دتہ اور عبدالکریم طاعون سے ہلاک ہوئے۔ دوم: مرزا قادیانی نے لفظ فی الدار میں تمام مرید شامل کر لئے تھے۔ (کشتی نوح ص ١٠، خزائن ج ١٩ ص ١٠) مگر بڑے بڑے مرید ہلاک ہوئے۔ مثلاً محمد افضل، مولوی برہان الدین، مولوی محمد یوسف، مولوی نور احمد۔ سوم: اب اس کے خلاف یہ الہام ہو چکا۔ ”انی احافظ كل من فی الدار واحافظك خاصة“

ويبدؤ منك“

یوم ہے۔ پھر دعا سے پندرہ سال زندہ رہنا۔

١١٠

صفحہ ٥٤٧

کے چھینٹے کرتے پر پڑے۔ ایسی بدتمیزی تقدیس باری تعالیٰ کے خلاف ہے۔

مرزا شیطان مردود

مرزا قادیانی کا مخالف ہو گیا اور سخت مخالفت کی حالت میں ہی مرا۔ پس ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی کلمہ طیبہ کے خلاف ہے۔ کیونکہ قرآن مجید میں یہ الفاظ کلمہ طیبہ کی نسبت ہیں اور مرزا قادیانی دراصل شیطان مردود ہے۔ جس سے اللہ کریم نے عباس علی جیسے کلمہ گو کو نجات دی اور اس کو اس نجات سے ایسا ہی ثابت کر دکھایا کہ اس کی جڑ قائم تھی اور اس کی شاخیں آسمان میں تھیں۔

ہیں، نہ کہ محمدی۔

الہام ہوا۔ ”ھزی الیک بجذع النخلۃ تساقط علیک رطبا جنیا “ (براہین احمدیہ ص ٢٢٦، حاشیہ در حاشیہ، خزائن ج ١ ص ٢٥٠) چنانچہ میں نے خلیفہ سید محمد حسن صاحب وزیر ریاست پٹیالہ کی طرف خط لکھا۔ انہوں نے ڈھائی سو روپیہ ایک بار اور ڈھائی سو روپیہ ایک بار بھیجے۔ اس سے معلوم ہوا کہ براہین سے تمام مدعاء روپیہ کمانا اور نفس پروری تھا۔ سو روپیہ تو اور مرزا قادیانی نے پختہ کھجوریں مزے سے کھائیں۔ مگر ستائیس سال سے براہین کا نام ندارد ہے۔ اسی کا مؤید ومصداق میرا وہ الہام ہے جو مجھے مرزا قادیانی کی نسبت ١٨٩١ء میں ہوا تھا۔ ”نــــــــــــــاقۃ الله وسقیہا“ بموجب استدلال مرزا جو اس نے عباس علی صوفی کے بارہ میں کیا تھا ضمیر مؤنث سے مراد ضعف اور حرص ہے۔

یہ کلام پورا ہو کہ براہین احمدیہ کو بطور نشان بناؤں گا۔ سو اس عرصہ میں بہت سی پیش گوئیاں پوری ہوئیں۔ اگر پیش گوئیاں پوری ہونے سے پہلے ختم ہو جاتی تو وہ ایک ناقص کتاب ہوتی۔ یہ صاف بناوٹ ہے۔ اوّل: تو کل کتاب کا پہلے شائع ہو جانا پیش گوئیوں کی تصدیق کا منافی نہیں ہو سکتا تھا۔ کیونکہ ان کی اشاعت ساتھ کے ساتھ جب کہ اب اخباروں اور کتابوں میں ہو رہی ہے۔ تکمیل براہین کے بعد بھی ہو سکتی تھی۔ دوم: وہ خدا کا کون سا حکم ہے جس میں براہین کی اشاعت کو روکا گیا۔ سوم: خلاف عہد ایک جرم ہے۔

صفحہ ٥٤٨

مرزا قادیانی فرعون

مر گئے۔ حالانکہ فرعون موسیٰ کی زندگی میں مرا تھا۔ یہ بھی ایک بناوٹ ہے۔ اگر فرعون نام ہو جانے سے یہ امر لازمی رہے کہ عبدالرحمن مرحوم موسیٰ بن گئے اور ان کی زندگی میں مرزا قادیانی کو غرق ہو جانا چاہئے تھا تو مرزا قادیانی کے محمد نام ہونے سے لازمی ہے کہ ہندوستان کے بت خانہ ہمیشہ کے واسطے منہدم ہو جائیں۔ اس کے موسیٰ نام ہونے سے لازمی ہے کہ مسلمان آزاد ہو کر کسی کنعان کے وارث بنیں۔ ابراہیم نام ہونے سے لازمی ہے کہ مرزا قادیانی آگ میں ڈالا جائے اور زندہ رہے۔ یوسف نام سے لازمی ہے کہ وہ چاہ میں گرایا جائے۔ غلام بنے اور قید میں پڑے۔

قوماً ما انذر اباؤھم فھم غافلون “ مرزا قادیانی کے متعلق یہ تمام الفاظ غلط ثابت ہوئے۔ کیونکہ مرزا قادیانی ایسی قوم میں ہے جس میں دن رات قرآن اور احادیث کے وعظ ہوتے ہیں۔

مسلمان اور بائیس کروڑ دیگر اقوام مرزا قادیانی کی دشمن اور مرزا قادیانی کی مٹی پلید کرتے ہیں۔ جب کبھی اتفاقات سے کسی پر کوئی آفت آتی ہے تو فوراً اس پر اس کو منطبق کر لیتے ہیں۔ اگر ایسا ہوتا کہ جس کسی نے مرزا قادیانی کی توہین کی وہ ذلیل ہو جایا کرتا۔ جیسا کہ ان الفاظ کا ظاہری مفہوم ہے۔ تو بات صاف تھی۔ اگر مرزائیوں کا کسی مخالف کی ذلت پر بغلیں بجانا، اور ہر ایک نکتہ چیں کے ابتلاء کو اسی پیش گوئی کی تصدیق میں شائع کرنا صحیح ہے تو مجھے حق ہے کہ جو کوئی مرزائی مرتا جائے تو میں شائع کرا دیا کروں کہ فلاں دشمن دین واصل جہنم ہو چکا۔ کیونکہ مجھے بعض مرزائیوں کی نسبت الہام ہو چکا ہے۔ ”انھم لصالوا الجحیم“ وہ جہنم میں داخل ہونے والے ہیں۔

فصل چہارم: ان نشانات کے بیان میں جن کو مرزا قادیانی نے

بار بار درج کیا ہے تا کہ اس کے نشانات کی تعداد بڑھ جائے

احمدیہ ص ٥١٢، حاشیہ در حاشیہ، خزائن ج ١ ص ٦١١) سے عبدالرحمن اور عبداللطیف کی شہادت۔ نمبر ١٣٥، ١٢٦ پر ذکر ہے۔

١١٢

صفحہ ٥٤٩

ج١٨ ص ٥٩٢) نمبر ١٣٥، ١٦٦ پر درج ہے۔

غارت کردوں گا۔ میں غضب نازل کروں گا۔ اگر چراغ دین نے شک کیا۔ (دافع البلاء ص ٢٣ حاشیہ نمبر ٢، خزائن ج ١٨ ص ٢٤٣) چنانچہ تین سال کے بعد وہ طاعون سے مر گیا۔ نمبر ٣٧،٥ پر درج ہے۔

فصل پنجم: ان نشانات کے بیانات میں جو فی الحقیقت کچھ بھی نہیں

مگر مرزا قادیانی نے رنگ آمیزیوں اور چالاکیوں سے ان کو نشان بنا لیا ہے

ہے تو پھر پچاس ہزار سے زیادہ عالم فاضل بابی جو ایران میں قتل ہو چکے۔ وہ ہزاروں گنے سچے ہوئے۔ ابن صباح کے ہزار روح فدائی تھے۔ ایسا ہی رام سنگھ کوکے پر ہزاروں نے جان قربان کی۔ مسیلمہ کذاب کے ساتھ ہزاروں نے جان دی۔

یہ الفاظ تھے۔ ”شاتان تذبحان“ (براہین احمدیہ ص ٥١٢، حاشیہ در حاشیہ، خزائن ج١ ص ٦١٠) سو اس میں کسی کا نام نہیں۔ پہلے یہی الفاظ مرزا احمد بیگ اور اس کے داماد پر چسپاں کئے گئے تھے۔ اگر یہ الہام رحمانی ہے تو اس کے یہ معنی ہیں کہ جیسے بکری ذبح کیا جانا حلال ہے۔ ایسا ہی دونوں کی گردن زنی جائز تھی۔

کے الفاظ ندارد۔ حوالہ ندارد۔

اور حوالہ ندارد۔

١١٣

صفحہ ٥٥٠

ہو گیا۔ حوالہ ندارد۔

الله تعالیٰ" مگر وہ خود ہی معہ اپنے مددگار بھائی نور محمد کے مر گیا۔

ہلاک ہو گیا۔

ماہ کے اندر وہ خود ہی ہلاک ہو گیا۔

خلاف سخت الفاظ کہے۔ تھوڑے دنوں بعد اس کے گھر میں نقب پڑ کر چوری ہوئی اور بہت سا مال چوری ہوا۔

چند روز بعد وہ طاعون سے ہلاک ہو گیا۔

تکذیب قادیانی" رکھا۔ مگر وہ ایک سال اور تین ماہ بعد مر گیا۔

اچھر چند اور بھگت رام طاعون سے ہلاک ہو گئے۔

وہی طاعون سے مر گیا۔

١١٤

سے ہلاک ہوا۔

نتیجہ

نمبر ٨ سے نمبر ٢٢ تک اتفاقات ہیں۔ ہزاروں شہروں او ہی رہتے ہیں۔ کہیں مرزائیوں کا ممانعت ہے۔ کہیں مرزا قادیانی کو کہیں گالیاں سنائی جاتی ہیں۔ ج لازمی ہے۔ خاص کر ایسے زمانہ میں ہورہی ہیں۔ دس بیس ایسی اموات ہوئیں۔ ان کو مرزا قادیانی کے خلا اور چالا کی ہے۔ اگر یہ طریق است تمام مسلمان کہہ سکتے ہیں کہ یہ مسل ایسا نہیں جس کو مسلمانوں کے سات انبیاء علیہم السلام اور ان کے صحابہ سکتے ہیں۔

ڈاکٹر عبدالحکیم خان کی طرف

ہم ایک ناچیز گنہگار ہاتھ سے پاش پاش کرایا جائے گ کرتا ہے۔

نیومونیا کی نہایت دردناک موت

خود طاعون سے ہلاک ہوا۔

طاعون سے ہلاک ہوئے۔

صفحہ ٥٥١

سے ہلاک ہوا۔

نتیجہ

نمبر ٨ سے نمبر ٢٢ تک جن واقعات کو مرزا قادیانی نے نشانات بتایا ہے۔ یہ محض اتفاقات ہیں۔ ہزاروں شہروں اور دیہات میں جہاں جہاں مرزائی ہیں اکثر یہ معاملات ہوتے ہی رہتے ہیں۔ کہیں مرزائیوں کا مسلمانوں کے ساتھ بحث ہے۔ کہیں باہمی تکفیر وتکذیب اور ملاعنت ہے۔ کہیں مرزا قادیانی کی تردید دلائل سے کی جاتی ہے۔ کہیں بددعائیں دی جاتی ہیں اور کہیں گالیاں سنائی جاتی ہیں۔ جب ہزاروں جگہ ایسا ہوتا ہے تو دس بیس جگہ اموات کا ہونا بھی لازمی ہے۔ خاص کر ایسے زمانہ میں جب کہ ہندوستان میں دس بارہ ہزار اموات روزانہ پلیگ سے ہو رہی ہیں۔ دس بیس ایسی اموات کو جو مرزا قادیانی کے مکفرین، مکذبین، لاعنین وغیرہ میں واقعہ ہوئیں۔ ان کو مرزا قادیانی کے خلاف کا نتیجہ قرار دے دینا سراسر حماقت یا پرلے درجہ کی بے حیائی اور چالاکی ہے۔ اگر یہ طریق استدلال صحیح ہے تو جس قدر مرزائی مرتے جاتے ہیں ان کی نسبت تمام مسلمان کہہ سکتے ہیں کہ یہ مسلمانوں کی تکفیر، تکذیب اور بدخواہی کا نتیجہ ہے۔ کیونکہ کوئی مرزائی ایسا نہیں جس کو مسلمانوں کے ساتھ تنازع اور تلاعن کا موقعہ نہ ملتا ہو۔ کیا مرزا قادیانی اور مرزائی انبیاء علیہم السلام اور ان کے صحابہ کے حالات سے اس قسم کی بددعاؤں اور مباہلوں کا وجود ثابت کر سکتے ہیں۔

ڈاکٹر عبد الحکیم خان کی طرف سے جواب

ہم ایک ناچیز گنہگار انسان ہے جس کو خداوند عالم نے فرمایا ہے۔ دجالی فتنہ تیرے ہاتھ سے پاش پاش کرایا جائے گا۔ اس لئے وہ عاجز ان نشانات کا جواب بھی ترکی بہ ترکی عرض کرتا ہے۔

نیومونیا کی نہایت دردناک موت سے ہلاک ہوا۔

خود طاعون سے ہلاک ہوا۔

طاعون سے ہلاک ہوئے۔

١١٥

صفحہ ٥٥٢

اس کا بیٹا حشمت اللہ طاعون سے ہلاک ہوا۔

طرح میرے سامنے مہمل بتلایا تھا۔ مجھے الہام ہوا کہ اس نے انبیاء علیہم السلام کی توہین کی ہے۔ اس لئے وہ امتحان ایف۔اے میں فیل ہو جائے گا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔

کہ مولوی عبداللہ خاں کا چھوٹا بھائی اور انہیں کے ساتھ رہتا ہے۔ ایک بت پیدا ہوا۔

عذاب میں مبتلا ہوا۔

اور مرزائی قرآن اور احادیث صحیحہ سے سخت مرتد اور سنت انبیاء کے سخت مخالف ہیں۔ اس طرح پر اسلام کی سنور میں تبلیغ ہوئی۔ مگر مرزائیوں نے نہیں مانا۔ اس لئے بہت سے مرزائی طاعون سے ہلاک ہوئے اور بہت سے خانہ ویران ہو گئے۔ مثلاً محمد ابراہیم پٹواری، محمد مصطفیٰ ولد منشی ابراہیم، محمد مرتضیٰ ولد منشی ابراہیم، زوجہ محمد مصطفیٰ، زوجہ محمد ابراہیم، محمد ابراہیم خورد پٹواری، اہلیہ شیخ محمد نواز، محمد زکریا ولد ابراہیم، دختر عبدالصمد پٹواری، زوجہ رحمت اللہ، زوجہ عبدالرحمٰن پٹواری، زوجہ برادر غلام داد، دختر عبداللہ، محمد اختر ولد اختر محمد یسین، یہ کل ٢١ نشان ہوئے۔

جب تک وہ ڈاکٹر عبدالحکیم خاں صاحب سے علاج نہ کرائے گا۔ ہرگز اچھا نہ ہوگا۔ آخیر وقت ہوش تک وہ یہی کہتا رہا کہ مجھے ڈاکٹر عبدالحکیم خان صاحب کے پاس لے چلو۔ مگر ایک لنگڑا مرزائی اس بات پر اڑا رہا کہ ہم وہاں نہیں لے جاتے۔ اس بیچارہ مرحوم نے یہاں تک کہا کہ پھر میں کسی طرح نہیں بچ سکتا۔ مگر اوروں نے نہ مانا۔ مرزائیاں پٹیالہ میں یہ اک انسان آدمی تھا۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اسے ضائع ہونے نہیں دیا۔

قرآن وحدیث سے ارتداد ظاہر کیا۔ اس لئے اس کی اہلیہ طاعون سے ہلاک ہو گئی۔

کیوں جناب وہ الہام پورا ہوا کہ نہیں۔ جس پر کہ مرزا قادیانی کو بڑا ناز ہے۔ اے بسا خانہ دشمن کہ تو ویران کردی۔

١١٦

صفحہ ٥٥٣

اگر اتنے پر بس نہیں تو اور سنو۔ سمانہ میں میری تبلیغ رسائل کے ذریعہ سے بخوبی ہوچکی۔ مگر مرزائی بدستور قرآن وحدیث سے مرتد بنے رہے۔ اس لئے اموات ذیل طاعون سے ہوئیں۔ غلام محمد ولد برکت خیاط ، اللہ دی زوجہ توماں خیاط۔ بی بی زوجہ نتھو خیاط ۔ سوندہا ولد نبو خیاط ۔ والدہ عطاء محمد خیاط۔ اہلیہ شیخ نور محمد ۔

محمود پور جو سمانہ کے قریب ہے۔ اس میں حسب ذیل مرزائی طاعون سے ہلاک ہوئے۔ پیرا ولد کریم بخش، نور محمد ولد اللہ بخش، کماں بافتہ، انور محمد ولد مولی ، مسماۃ وزیراں زوجہ رحیم بخش، مسماۃ اسو زوجہ عبدالکریم۔

مرزائیاں ذیل کی نسبت یہ اطلاع ملی ہے کہ وہ طاعون سے ہلاک ہوئے ہیں۔ ڈاکٹر بوڑے خاں، مولوی برہان الدین جہلمی، قاضی ضیاء الدین، ملاں جمال الدین سیدوالہ، حکیم فضل الہی، مرزا یعقوب بیگ کا بہنوئی، مرزا افضل بیگ وکیل اور اس کا کنبہ، معراج الدین عمر کی والدہ، حکیم محمد حسین قریشی کی لڑکی، ڈنگہ کا حافظ ، مولوی محمد علی ساکن زیرہ ضلع فیروز پور، مولوی نور احمد ساکن لودھی ننگل۔

جو مرزائی طاعون سے مرتا ہے اس کا نام دعائے جنازہ کے واسطے بھی اخبارات الحکم والبدر میں شائع نہیں ہوتا۔ کیا کوئی مرزائی حوصلہ کر کے کل فوت شدہ مرزائیوں کی تعداد شائع کر سکتا ہے۔ تاکہ پبلک اندازہ لگا سکے کہ مرزائیوں میں تو فیصدی اموات کس قدر ہوئیں۔ باقی مسلمانوں اور ہندوؤں میں کس قدر۔ مرزائیوں کا پتہ تو مرزائیوں سے ہی لگ سکتا ہے۔ باقیوں کا نمبر جو اخبارات میں شائع ہو چکا حسب ذیل ہے۔ ١٨٩٦ء میں ١٧٠٤ ۔ ١٨٩٧ء میں ٥٦٠٠٠ ۔ ١٨٩٨ء میں ١١٨٠٠٠ ۔ ١٨٩٩ء میں ١٣٥٠٠٠ ۔ ١٩٠٠ء میں ٩٣٠١٠ ۔ ١٩٠١ء میں ٢٧٤٠٠٠ ۔ ١٩٠٢ء میں ٥٧٠٠٠٠ ۔ ١٩٠٣ء میں ٥١٠٠٠٠ ۔ ١٩٠٤ء میں ١٠٢٢٠٠٠ ۔ ١٩٠٥ء میں ٩٥١٠٠٠ ۔ ١٩٠٦ء میں ٣٣٢٠٠٠ ۔ ١٩٠٧ء میں ١٠٦٠٠٦٧۔

مرزائیو! اظہار حق کا حوصلہ کرو گے یا گول مول دعوؤں اور اناپ شناپ پکاروں میں ہی خیر مناؤ گے۔ مرزا قادیانی کا دعویٰ تھا کہ میرا کوئی مخلص مرید طاعون سے نہ مرے گا۔ کیا یہ سب جو مر گئے منافق تھے اور جو بچیں گے وہی مخلص ہوں گے۔ باقی سب منافق۔

٢٣....... دہلی والی شادی کی نسبت پیش گوئی۔ ”الحمدلله الذی جعل لکم الصهر والنسب “ تمام حمد اللہ کے واسطے ہے۔ جس نے تمہارے واسطے ناتے اور نسب بنائے ۔ اس میں دہلی والی شادی کی طرف اشارہ کہاں ہے۔

١١٧

صفحہ ٥٥٤

لڑکے کو سانس آنے لگا۔ ایسے نظارے اکثر دیکھنے میں آتے ہیں۔ یہ نشان کیسے ہوا۔

مرزا قادیانی کے لئے کوئی نشانی ہے۔

مان کر درخواست دعا کی۔ اس کے لئے دعا کی گئی اور وہ بری ہو گیا۔

زندہ ہو گئی۔

بعد میں اس کو تشنجوں کا دور ہوا۔ کوئی امید زیست نہ تھی۔ اس کے لئے دعا کی گئی اور وہ صحت یاب ہو گیا۔ گویا کہ مردہ زندہ ہو گیا۔

نمبر ٢٧ سے ٣٤ تک سراسر چالاکی ہے یا حماقت۔ جب ہزاروں کی درخواستیں دعا کے واسطے پیش ہوتی ہیں اور سب کے واسطے دعا کی جاتی ہے تو پھر دو چار فیصدی کی کامیابی کو دعا کا نتیجہ سمجھ لینا کیسے صحیح ہو سکتا ہے؟ کیا یہ اسی قسم کا استدلال نہیں ہے۔ جو بت پرست، تعزیہ پرست، قبر پرست پیش کیا کرتے ہیں کہ فلاں فلاں شخص نے منت مانی تھی۔ فلاں کو بیٹا ملا۔ فلاں کو نوکری مل گئی۔ فلاں مقدمہ جیت گیا۔ فلاں کا مرض دور ہو گیا؟ مرزا قادیانی نے تو چند مثالیں پیش کیں۔ مگر ایک تعزیہ پرستوں میں اس قسم کی لاکھوں مثالیں مل جائیں گی۔ یہی وجہ ہے کہ کروڑ ہا لوگ، بت پرستی، مقبرہ پرستی اور تعزیہ پرستی میں غرق ہیں اور گنڈے و تعویزوں پر یقین کرتے ہیں۔

١١٨

صفحہ ٥٥٥

طرفہ تر یہ ہے کہ مولوی محمد حسین صاحب کی رجوع کی نسبت (حجۃ الاسلام ص٢٢، خزائن ج٦ ص٥٩) میں صاف پیش گوئی کی تھی۔ پھر اسی کو (اعجاز احمدی ص٥١، خزائن ج١٩ ص١٦٣) میں الفاظ میں دہرایا ہے۔ ”کیا محمد حسین کا دل ہدایت پر آجائے گا۔ کون گمان کر سکتا ہے۔ عجیب بات ہے اور خدا کے نزدیک سہل و آسان ہے۔“ مگر اب اس کی نسبت (حقیقت الوحی ص١٨٧، ١٨٨، خزائن ج٢٢ ص١٩٥) پر لکھتا ہے: ”صرف میری دعا میں اپنے الفاظ تھے۔ الہامی الفاظ نہ تھے اور صرف میری طرف سے دعا تھی کہ اتنی مدت میں ایسا ہو۔ سو خداوند تعالیٰ اپنی وحی کا پابند ہوتا ہے۔ اس پر فرض نہیں جو اپنی طرف سے التجا کی جائے۔ بعینہ اس کو ملحوظ رکھے۔“ یہ ہیں مرزا قادیانی کے ہتھکنڈے، ہزاروں کے واسطے دعائیں، بددعائیں شائع کرتے رہے۔ جس کے مطابق وقوع ہو گیا۔ وہ ایک نشان اور خدائی قول بن گیا۔ جس کے مطابق کچھ وقوع نہ ہوا۔ وہ فوراً ذاتی آرزو اور انسانی کلام بن گیا۔

پیش گوئی نہیں۔

لعنتوں اور دعاؤں والی چالاکی ہے۔ مرزا قادیانی کی لڑکی عصمت کو بھی تو ہیضہ ہوا تھا تو پھر مسلمانوں کی تحقیر کا نتیجہ تھا۔

ہر ایک قسم سے خدا تعالیٰ نے مجھے ترقی دی۔ ہماری جماعت کو ہزار ہا تک پہنچا دیا۔ ہماری علمیت کا لاکھوں کو قائل کر دیا اور الہام کے مطابق مباہلہ کے بعد ایک اور لڑکا عطاء کیا اور پھر ایک چوتھے لڑکے کے لئے مجھے متواتر الہام آئے اور ہم عبدالحق کو یقین دلاتے تھے کہ وہ نہیں مرے گا۔ جب تک کہ اس الہام کو پورا ہوتا نہ سن لے اب اس کو چاہئے کہ اگر وہ کچھ چیز ہے تو دعا سے اس پیش گوئی کو ٹال دے۔“

(حقیقت الوحی ص٣٥١، ٣٥٢، خزائن ج٢٢ ص٣٦٤، ٣٦٥)

(انجام آتھم ص٥٨) کو جو پڑھا تو کہیں یہ پیش گوئی نہ ملی۔ اوّل تو مرزا قادیانی کسی کتاب کے صفحوں کا حوالہ ہی نہیں دیا کرتا۔ اس مقام پر جو دیا بھی وہ غلط۔ جب تحریر میں یہ حال ہے تو زبانی حکایتوں میں کیا کچھ مغالطہ ہوگا۔

١١٩

صفحہ ٥٥٦

خدا تعالیٰ میرا کوئی نشان دکھائے گا۔ سو ٢٦ مارچ کو لیکھرام مر گیا۔“ ذاتی وعدہ کوئی شے نہیں۔ جب تک الہاماً وعدہ نہ ہو۔ اگر آپ کے ذاتی وعدہ الہام الٰہی کے برابر ہیں تو براہین کا وعدہ کیوں پورا نہیں کیا؟ حالانکہ اس کی تمام قیمت پیشگی وصول ہو چکی تھی۔ سراج منیر کا وعدہ کیوں پورا نہ کیا۔ منارہ کا وعدہ کیوں پورا نہ کیا۔ تفسیر کتاب عزیز کا وعدہ کیوں پورا نہ کیا۔ کمیشن تبت کا وعدہ کیوں پورا نہ کیا۔ مفت اشاعت کا وعدہ کیوں پورا نہ کیا؟

دیانند کی نسبت کوئی الہام نہیں۔ ”سیھزم الجمع ویولون الدبر “ کا ایک الہام ضرور ہے۔ آریاؤں کی نسبت اشعار ذیل پیش گوئی قرار دیے گئے۔

شرم وحیا نہیں ہے آنکھوں میں ان کے ہرگز وہ بڑھ چکے ہیں حد سے اب انتہاء یہی ہے
ہم نے ہے جس کو مانا قادر ہے وہ توانا اس نے ہے کچھ دکھانا اس سے رجا یہی ہے
میرے مالک تو ان کو خود سمجھا آسمان سے پھر ایک نشان دکھلا

یہ مرزا قادیانی کے شاعرانہ ترانے اور اس کے خونی دماغ اور کینہ توز قلب کے ولولہ ہیں۔ مگر ان کو بھی وہ پیش گوئیاں قرار دے کر کہتا ہے کہ ان کے مطابق شبھ چنتک کے ایڈیٹر اور مالک طاعون سے ہلاک ہوئے۔ پنجاب کے سرگروہ آریہ باغیانہ خیالات سے سزایاب ہوئے اور بعض جلا وطن کئے گئے۔

فصل ششم: ان نشانات کے بیان میں جو مرزا قادیانی کے آدم خور دماغ اور

عالم کش قلب کا اظہار ہیں اور ثابت کرتے ہیں کہ مرزا ابولہب ہے

١٤٠

ذیل پیش گوئی ہے۔ ”اعلم ان اللہ رمضان ایتان مخوفتان لقوم

(حقیقۃ الوحی ص ٢٢٤، خزائن ج ٢٢ ص ٢٥ طرف دیکھی تو منع جہاد اور وفاداری کے کسی فرقہ کے خیال میں میدانوں میں بھوکوں سے ہلاک کر رہا ہے۔

طاعون کا غلبہ ہوا۔ اب یہ الہامی خونی فرضی مہدی زیادہ خطرناک ہے جو میر کی طرف سے انسداد طاعون کے متعل اعلان شائع کرتا ہے۔

رشید احمد گنگوہی، مولوی شاہ دین و لکھوکے والے۔

اگر یہ نشان ہے تو بڑے مفتری اکاذبین کہنے کے مشاق تھے وہ الدین جہلمی، مولوی عبدالکریم سیالکو مولوی نور احمد، قاضی ضیاء الدین، ڈ زیرہ ڈنگہ کا حافظ، عبداللہ سنوری کا لڑ

فصل ہفتم: ان نشا

بہ تقاضائے دجالیت

عبدالحکیم خان کا تجزیہ

جن لوگوں کا دماغ خ

صفحہ ٥٥٧

ذیل پیش گوئی ہے۔ "اعلم ان الله نفث فی روعی ان هذا الخسوف والکسوف فی رمضان ایتان مخوفتان لقوم اتبعو الشیطان ولئن ابوا فان العذاب قدحان"

(حقیقت الوحی ص ٢٢٣، خزائن ج ٢٢ ص ٢٣٥) مگر جب گورنمنٹ کی خاص توجہ فتنہ پردازان کی سرکوبی کی طرف دیکھی تو منع جہاد اور وفاداری کے اعلان شروع کر دیئے۔ کیا وہ مہدی زیادہ خطرناک ہوگا جو کسی فرقہ کے خیال میں میدانوں میں لڑے گا یا یہ الہامی خونی زیادہ خطرناک ہے جو گھر بیٹھے اپنی پھونکوں سے ہلاک کر رہا ہے۔

طاعون کا غلبہ ہوا۔ اب یہ الہامی خونی زیادہ خطرناک ہے۔ جس نے دعا سے دنیا کو تباہ کر دیا۔ یا وہ فرضی مہدی زیادہ خطرناک ہے جو میدانوں میں جنگ کرے گا؟ پھر طرفہ یہ ہے کہ جب ملک معظم کی طرف سے انسداد طاعون کے متعلق ایک چٹھی شائع ہوئی تو کمال بے حیائی سے شکر گزاری کے اعلان شائع کرتا ہے۔

رشید احمد گنگوہی، مولوی شاہ دین، عبدالعزیز، مولوی محمد، مولوی عبداللہ، عبدالرحمٰن محی الدین لکھو کے والے۔

اگر یہ نشان ہے تو بڑے بڑے مرزائی مولوی جو مسلمانوں کے مقابلہ میں لعنۃ اللہ علی الکاذبین کہنے کے مشاق تھے وہ کیوں فوت ہو گئے۔ مثلاً مولوی یوسف سنوری، مولوی برہان الدین جہلمی، مولوی عبدالکریم سیالکوٹی، محمد افضل ایڈیٹر البدر، حکیم فضل الہی، مرزا افضل بیگ وکیل، مولوی نور احمد، قاضی ضیاء الدین، ڈاکٹر بوڑے میاں، ملاں جمال الدین سید والہ، مولوی محمد علی ساکن زیرہ ڈنگہ کا حافظ، عبداللہ سنوری کا لڑکا۔

فصل ہفتم: ان نشانات کے بیان میں جو مرزا قادیانی نے

بہ تقاضائے دجالیت ان کو اپنی نبوت و رسالت کی دلیل بنا لیا

عبدالحکیم خان کا تجزیہ

جن لوگوں کا دماغ خوابات اور الہامات کے مناسب ہے وہ اگر اپنے الہامات

١٢١

حوالہ ندارد۔

کے آدم خور دماغ اور مرزا ابولہب ہے

ندارد۔

صفحہ ٥٥٨

، خوابات کا چرچا رکھیں اور خداوند عالم کو یا علیم یا خبیر، یا رب، یا اللہ، یا رحمن، یا رحیم کے نام سے اکثر پکارتے رہیں۔ خاص کر سونے کے وقت تو وہ اس ملکہ میں بہت جلد ترقی پاسکتے ہیں۔ خواہ ان کے اعمال اعلیٰ درجہ کے ہوں یا نہ ہوں۔ میں ایک گنہگار اور بے عمل انسان ہوں۔ انبیاء علیہم السلام کے ادنیٰ خدام کے برابر بھی اپنے آپ کو سمجھنا سخت ظلم اور گستاخی جانتا ہوں۔ مگر میرا دماغ الہامات اور خوابات کے لئے فطرتاً موزوں ہے۔ اس لئے مجھے غیب کی خبریں اور خوابات اور الہامات کے ذریعہ سے بکثرت ملتی ہیں۔ یہاں تک کہ کوئی رات اور کوئی دن ایسا نہیں جس میں مجھے دو چار سچے خوابات نہ آتے ہوں یا الہامات نہ ہوتے ہوں۔ ادنیٰ ادنیٰ معاملات میں نہایت صفائی کے ساتھ مجھے خبر ملتی رہتی ہے۔ کبھی کبھی میں ان کا ذکر اپنے ہم نشینوں سے بھی کرتا رہتا ہوں اور میں سچ کہتا ہوں کہ اگر میں خاص توجہ اور محنت کے ساتھ مشق کروں تو مرزائے قادیانی سے سینکڑوں درجہ بڑھ جاؤں۔ اس لاپروائی کی حالت میں میرے خوابات اور الہامات کی یہ کثرت اور صفائی ہے کہ مرزا قادیانی سے بڑھ کر ہیں ..... مگر یہ تمام کسی ادنیٰ مناسبت اور فضل خداوندی کا اظہار ہے۔ ورنہ من آنم کہ من دانم۔ اس جگہ پر میں اپنے چند خوابات والہامات جن کے شاہد بہت لوگ ہیں اور جنہیں بعض وقتاً فوقتاً شائع بھی ہوتے رہے۔ مرزا قادیانی کے سچے الہامات وخوابات کے مقابلہ پر درج کر کے واقعات سے ثابت کرنا چاہتا ہوں کہ جب مجھ سے گنہگار اور بے عمل انسان کو مرزا قادیانی جیسے رؤیا صادقہ آتے اور الہامات صحیحہ ہوتے ہیں پھر مرزا قادیانی کیسے ان کی بناء پر نبوت ورسالت کا مدعی بنتا۔ اپنے ماننے کو مدار نجات قرار دیتا اور خداوند عالم و نبوت محمدیہ اور اعمال صالحہ کو ہیچ بتلاتا ہے۔ نبوت محمدی کو تو نہ محض منسوخ کہتا بلکہ تمام امت محمدیہ کو جنہیں لکھوکھا عالم قرآن وحدیث وفقہہ اور مطیع قرآن وحدیث ہیں اپنے نہ ماننے کی حالت میں کافر اور جہنمی قرار دیتا ہے۔ عجب بات ہے کہ ایک طرف تو مجھ پر یہ الزام لگاتا ہے کہ عبدالحکیم خاں آنحضرت ﷺ کو نہیں مانتا۔ بلکہ خداوند عالم اور اعمال صالحہ کو ہی مدار نجات کہتا ہے۔ دوسری طرف خود محمدؐ کے ماننے والوں کو ملعون اور کافر اور جہنمی بتلاتا اور ان کو مباہلہ کے لئے بلاتا ہے۔ الغرض یہ اس کا صریح کفر اور نہایت ہی خطرناک دجل ہے۔ مرزا قادیانی کی بے حد الہام بافیوں، عیاریوں اور کذب پر نظر کرنے سے تو یہی اغلب معلوم ہوتا ہے کہ ہزاروں میں سے چند الہامات ذیل اتفاقیہ طور پر پورے ہوگئے ہیں۔ میرے الہامات بھی اسی کے مؤید ہیں۔ مرزا قادیانی بالکل جھوٹا ہے۔ مرزا قادیانی کے الہامات شیطانی القاء ہیں۔ مرزا مسرف، کذاب اور عیار ہے۔ مرزا قادیانی شیطان اور

١٢٢

الطاغوت ہے۔ تاہم استدلال بالا درج کرتا ہوں۔ جن کے شاہد بہ گوئیاں ہیں۔ مرزا قادیانی کے خوابات و

ہی ہوا اور اس کا نام محمود احمد رکھا گیا

زیور میں نشو نما پائے گی۔ چنانچہ ا

ایک لڑکی پیدا ہوئی اور وہ چند ماہ کی

الحفیظ رکھا گیا۔

بعد چار لڑکے پیدا ہوئے۔

من عندی“ چنانچہ محمود احمد کے

تھا۔ چنانچہ عبدالحی پیدا ہوا جس ہ

صفحہ ٥٥٩

الطاغوت ہے۔ تاہم استدلال بالا کے طریق پر میں ان کو صحیح فرض کر کے اپنی پیش گوئیاں بالمقابل درج کرتا ہوں۔ جن کے شاہد بہت سے مرزائی اور وہ تمام معزز اشخاص ہیں جن کے متعلق وہ پیش گوئیاں ہیں۔

مرزا قادیانی کے خوابات والہامات

ہی ہوا اور اس کا نام محمود احمد رکھا گیا۔

زیور میں نشو و نما پائے گی۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور اس کا نام مبارکہ بیگم رکھا گیا۔

ایک لڑکی پیدا ہوئی اور وہ چند ماہ کی ہو کر فوت ہوگئی۔

الحفیظ رکھا گیا۔

بعد چار لڑکے پیدا ہوئے۔

من عندی“ چنانچہ محمود احمد کے لڑکا پیدا ہوا۔ جس کا نام نصیر احمد رکھا گیا۔

تھا۔ چنانچہ عبدالحئی پیدا ہوا جس کے بدن پر پھوڑے بکثرت نکلے۔

١٢٣

صفحہ ٥٦٠

سامنے آیا۔

المؤمنين“

اپنے بدن پر ملو۔

١٤٢

آیا۔ پر دنیا نے اس کو قبول نہ سچائی ظاہر کر دے گا۔

وسلاماً ”وہ صحت یاب ہو

فریق ثانی نے کرم دین کے

کہ یہ ٹھیک نہیں اور پھر یہ الہام

کے ایک نسخہ کی طرف اشار

اس کی تاویل لنگر خانہ ہوا۔

وہ اس زمانہ میں رائج الاعتق والے الہام کے الفاظ ندارد نجات دے کر سواد اعظم میں

”یموت قبل یوحی

صفحہ ٥٦١

آیا۔ پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا۔ لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔

وسلاماً“ وہ صحت یاب ہو گیا۔

فریق ثانی نے کرم دین کے مقدمہ میں یہی سوال کیا اور یہی جواب دیا گیا۔

کہ یہ ٹھیک نہیں اور پھر یہ الہام ہونا ”ستذکرون ما اقول لکم وافوض امری الی الله“

کے ایک نسخہ کی طرف اشارہ۔

اس کی تاویل لنگر خانہ ہوا۔

وہ اس زمانہ میں راسخ الاعتقاد تھا۔ پھر اس کی نسبت معلوم ہوا کہ عباس علی ٹھوکر کھائے گا۔ ٹھوکر کھانے والے الہام کے الفاظ ندارد ہیں۔ پہلا الہام ضرور سچا نکلا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو دجالی فتنہ سے نجات دے کر سواد اعظم میں شامل ہونے کی توفیق عطا فرمائی۔ ایسا ہی میرا الہام نمبر ٣٦ ہے۔

”یموت قبل یوحی ھذا“ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔

١٤٥

صفحہ ٥٦٢

مجھے ملا۔ اس نے کہا کہ آگے فرشتوں کا پہرہ ہے۔ پھر الہام ہوا ۔ ’’امن است در مقام محبت سرائے ما‘‘ اس کے بعد بشن سنگھ چور رات کو آیا اور پکڑا گیا۔

اچھا ہوگیا۔

درخواست پر میں نے دعا کی اور بریت کی خبر اس کو سنادی۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔

بہت سا روپیہ میرے دامن میں ڈال دیا۔ میں نے اس کا نام پوچھا۔ بعد اصرار اس نے کہا کہ میرا نام ہے ٹیچی ٹیچی۔ (وقت پر آنے والا ) چنانچہ اس کے بعد بہت سی فتوحات ہوئیں۔

رحیم‘‘ اس کے بعد صبح کے چھ بجے سے پہلے صحت ہوگئی۔

سلامت۔ پس میں سلامت رہا۔

اور ایک شخص متنافس کی ذلت اور اہانت۔

تقریر کرو۔ تمہیں قوت دی گئی اور نیز یہ الہام ہوا ۔ ’’کلام افصحت من لدن رب کریم‘‘ اسی روز میں نے عید کا خطبہ عربی زبان میں پڑھا جو فی البدیہہ میرے منہ سے نکلا۔ جس کا نام خطبہ الہامیہ رکھا گیا۔

بلاحلف میری گواہی لی۔ چنانچہ دوسرے، تیسرے دن ڈپٹی کمشنر صاحب ملتان کا سمن ایک گواہی کے لئے میرے نام آیا اور بلاحلف میرا اظہار لینا شروع کر دیا۔ بعد میں حلف لینا یاد آیا۔

١٢٦

میرے سامنے آگیا۔ میں نے اس دن انہیں آریوں میں سے ایک شخص

”منعه مانع من السماء“

دالان بن جائے اور اس زمین پ نے آمین کہی۔ چنانچہ وہ دونوں

کی میں نے دعا کی تب یہ الہام کے بعد ان کی مشکل دور ہوئی او

ہوگئے۔ مگر خدا تعالیٰ کی طرف

ہو گیا۔ چنانچہ تھوڑی دیر کے بعد

پاس آیا اور کہتا ہے ۔ ’’تبا پانی دہ

ڈاکٹر عبدالحکیم خاں کے ت

ہوں گے۔ پھر الہام ہوا۔ لڑکوں

اس کے بعد چند مرزائی طاعون پیش گوئیاں تھیں۔ وہ ١٦/ ستمبر ١

لمن المرسلين ولمن میری گردن کو تلوار سے محفوظ ر

صفحہ ٥٦٣

میرے سامنے آگیا۔ میں نے اس کو پڑھا اور چند آریوں کو اس کے مضمون سے اطلاع کر دی۔ دوسرے دن انہیں آریوں میں سے ایک شخص ڈاکخانہ سے اگنی ہوتری کا ایک خط لے آیا۔ جس کا وہی مضمون تھا۔

”منعه مانع من السماء“ تب وہ ساکت اور لاجواب ہو گیا۔

دالان بن جائے اور اس زمین کے مشرقی حصہ نے ہماری عمارت کے بننے کی دعا کی اور مغربی حصہ نے آمین کہی۔ چنانچہ وہ دونوں مکان بذریعہ خریداری و وراثت ہمارے قبضہ میں آگئے۔

کی میں نے دعا کی تب یہ الہام ہوا۔ چل رہی ہے۔ نسیم رحمت کی جو دعا کیجئے قبول ہے آج۔ اس کے بعد ان کی مشکل دور ہوئی اور انہوں نے شکرگزاری کا خط لکھا۔

ہو گئے۔ مگر خدا تعالیٰ کی طرف سے الہام ہوا کہ یہ خبر وفات صحیح نہیں ہے۔ سو ایسا ہی ہوا۔

ہو گیا۔ چنانچہ تھوڑی دیر کے بعد ایسا ہی ہوا۔

پاس آیا اور کہتا ہے۔ ”تپا پانی دو۔“ چنانچہ تھوڑی دیر کے بعد ایسا ہی ہوا۔

ڈاکٹر عبدالحکیم خاں کے خوابات والہامات جو سچے ثابت ہوئے

ہوں گے۔ پھر الہام ہوا۔ لڑکوں کا سلسلہ۔ پھر ستمبر ١٩٠٧ء میں ایک لڑکا دکھایا گیا جس کا نام مسلم ہے۔

اس کے بعد چند مرزائی طاعون سے ہلاک ہوئے۔ مبارک احمد جس کی نسبت مرزا قادیانی کی بہت پیش گوئیاں تھیں ۔ وہ ١٦؍ ستمبر ١٩٠٧ء کو ایک خاص پیش گوئی کے مطابق فوت ہو گیا۔

لمن المرسلين ولمن خاف مقام ربه جنتان“ خداوند عالم ہے میرا محافظ ۔ اللہ تعالیٰ میری گردن کو تلوار سے محفوظ رکھے گا۔ فالحمد للہ کہ ایسا ہی ہوا۔

١٢٧

PDF 565

جاؤں گا۔ پھر ١٠؍نومبر ١٩٠٦ء کو الہام ہوا۔ Dr. Charles apperared in a dream into me and said: "Well Abdul Hakim Khan, you have done excellently."

میں فیل ہو جائے گا۔ کیونکہ اس نے انبیاء علیہم السلام کی توہین کی ہے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔

اور اس کے بالائی حصہ پر لکھا تھا: ”تمہارے کوشک میں بتقریب دورہ ایک لڑکا پیدا ہوا۔ جس کا نام مبارک احمد رکھا گیا ہے۔“ چنانچہ ٨؍مارچ ١٩٠٥ء کو جب میں دورہ میں تھا اور میری بیوی میرے مکان میں تھی ایک لڑکا پیدا ہوا۔ اس کی پیدائش سے دو یوم پیشتر عبدالحق کو٭ بتمام مکان اندر اور باہر اور اوپر سے سفید پوش لوگوں سے پُر نظر آیا۔ جو یہ کہتے تھے کہ ڈاکٹر صاحب کہاں ہیں۔ ان کو مبارک باد دو۔

٢٨؍اپریل ١٩٠٧ء کو ایک لڑکا پیدا ہوا اور بعد کے خوابوں میں بتلایا گیا کہ یحییٰ یہی ہے۔

(بکری کا بچہ) پیدا ہوا ہے۔ اس کو دیکھ کر وہ اور ان کے دونوں بیٹے سخت متوحش ہو گئے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ ان کے چھوٹے بھائی سعداللہ کے جو ان کے ساتھ ہی اسی گھر میں رہتا ہے ایک بُت خلاف معمول پیدا ہوا۔

خشک نالے میں جارہے ہیں اور رفتہ رفتہ زمین میں غائب ہو گئے۔ اس خواب کے بعد ان کا انتقال ہوگیا۔

والطوبٰی“ اس کے بعد میرا پوتا لڑکا عبدالعزیز نام پیدا ہوا۔

نے خواب دیکھا تھا کہ وہ ایک کھیت میں پھر رہا ہے اور رفتہ رفتہ زمین میں دھنس گیا۔ اس خواب سے ایک سال بعد وہ فوت ہو گیا۔

١٢٨

میعاد کے اندر نہیں مرا۔ چنانچہ اـ اخبار میں بھی شائع ہوئی تھی۔

ایک خواب دیکھا کہ ان کے باـ سے علیحدہ کئے گئے اور ان کے ـ

سے ایک بلائے ناگہانی ان کے موقوف ہو گئے۔

ہیں ۔ میں ان سے ملنے گیا۔ مگر ہوئی کہ مہاراج راجندر سنگھ بہاـ لگائے گئے اور کرنل بہادر علی ان تھا۔ جب سادھووں میں ان کو اپنـ

ان کی انگلی میں سے مہر نکالی گئی جواب تک مرزائی ہے۔ اُن کرـ

مرشد کو دیکھا۔ میں نے بھی ان ہوئی۔ چنانچہ وہ تین چار یوم مـ

نسبت میں نے خواب دیکھا کـ کہا۔ by God that of the Council. جواب دیا کہ ایسا کیسے ہو سکتـ کہ میں چیف کورٹ کا جج ہو

صفحہ ٥٦٥

میعاد کے اندر نہیں مرا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ عبداللہ آتھم کے زندہ رہنے کی نسبت ایک پیش گوئی پیسہ اخبار میں بھی شائع ہوئی تھی۔

ایک خواب دیکھا کہ ان کے باغ کا مکان شکستہ ہو گیا ہے اور باغ ویران۔ اس کے بعد وہ وزارت سے علیحدہ کئے گئے اور ان کے باغ میں جو میلہ لگا رہتا تھا وہ بند ہو گیا۔

سے ایک بلائے ناگہانی ان کے سر پر آن پڑی ہے۔ اس خواب سے چار پانچ ماہ بعد وہ اچانک موقوف ہو گئے۔

ہیں۔ میں ان سے ملنے گیا۔ مگر انہوں نے مجھ سے رخ پھیر لیا۔ چنانچہ ان کی بحالی اس طرح شروع ہوئی کہ مہاراج راجندر سنگھ بہادر بمحکمہ مراتب کے انتقال پر مشتبہ لوگوں کی دربندی کی گئی اور پہرہ لگائے گئے اور کرنل بہادر علی ان کی نگرانی پر مامور ہوئے۔ میں ان کی بحالی کا خواب پہلے ان کو سنا چکا تھا۔ جب سادھوں میں ان کو اپنا خواب میں نے یاد دلانا چاہا تب انہوں نے رخ پھیر لیا۔

ان کی انگلی میں سے مہر نکالی گئی۔ چنانچہ اس خواب سے چند روز بعد ایسا ہی ہوا اور مرزا مراد بیگ نے جو اب تک مرزائی ہے۔ آ کر مجھے خبر دی کہ آپ کا خواب جو میر منشی کی نسبت تھا وہ پورا ہو چکا۔

مرشد کو دیکھا۔ میں نے بھی ان کی بحالی کے واسطے دعا کی اور اس بزرگ نے بھی دعا کی جو قبول ہوئی۔ چنانچہ وہ تین چار یوم میں بحال ہو گئے۔

نسبت میں نے خواب دیکھا کہ وہ کونسل کے ممبر ہو گئے ہیں۔ خواب میں ہی میں نے ان سے مل کر کہا۔ It is decreed by God, it is destined by God that you have become a member of the Council. انہوں نے جواب دیا کہ ایسا کیسے ہو سکتا ہے۔ میں اس وقت معزول حالت میں ہوں۔ اس کی یہی تعبیر ہوتی کہ میں چیف کورٹ کا جج ہو جاؤں۔ اس کا میں نے نہایت زور کے ساتھ یہ جواب دیا۔ No, it

١٢٩

صفحہ ٥٦٦

is decreed by God, it is destined by God that you hae become a member of the Council. پھر بھی ان کو کچھ یقین نہ آیا۔ تب میں نے ان کو زور سے بھینچا اور وہی الفاظ دہرائے اور یہ کہ اگر یہ خواب پورا نہ ہو تو جو سزا چاہو تم مجھے دینا۔ اسی روز میں نے یہ خواب لالہ صاحب موصوف اور بعض احباب کو سنا دیا تھا۔ اس سے قریباً ایک ماہ بعد آنجناب کونسل کے ممبر ہو گئے۔

سے پھیلے تو طاعون سے ہلاک نہ ہوگا۔ کیونکہ خدا تجھ کو ایک نشان بنانا چاہتا ہے۔ چنانچہ اس کے متعلق چار نشانات ذیل قابل غور ہیں۔

میرے قریب سے بھی وہ گزرا۔ مگر مجھے اس نے کاٹا نہیں۔ اگلے دن ایسا ہوا کہ دوپہر کے وقت میں اپنے کمرہ میں لیٹا ہوا تھا۔ ایک شخص اپنے لڑکے کو گود میں اٹھائے ہوئے آ گھسا اور مجھے دکھانے لگا کہ اس کو طاعون ہو گیا ہے۔ بدیں نکلی ہوئی ہیں۔ میں اسی وقت رات کے دیوانہ بھیڑیے کا خیال کر کے کمرہ سے باہر دھوپ میں نکل آیا اور اس شخص سے کہا کہ لڑکے کو باہر دھوپ میں لا کر دکھاؤ۔

بڑا کتا نظر آیا۔ مجھے خوف ہوا کہ یہ کاٹ نہ کھائے۔ اسی وقت مجھے یہ الہام ہوا۔ ”خداوند عالم ہے میرا محافظ۔“ اگلے دن میں مولوی فضل متین صاحب کے مکان پر بیٹھا تھا اور اس خواب کا ذکر کر چکا تھا کہ اتنے میں ایک شخص آ کر میرے قریب بیٹھ گیا اور کہنے لگا کہ مجھے پلیگ ہویا ہے۔ میری ہمشیرہ پلیگ سے فوت ہو چکی ہے۔ یہ سنتے ہی میں نے جنرل فضل متین سے کہا کہ باہر آ جاؤ اور اس شخص کو رخصت کر کے مکان کا ڈس انفکشن کرالو۔

ڈیڑھ سو آدمی فوت ہو گیا۔ مگر میرے لڑکوں عزیزوں اور مطبع کے کارکنوں اور ملازموں میں سے کسی کو بھی طاعون نہیں ہوا۔ حالانکہ وہ تمام طاعونی نعشوں کے ساتھ جاتے رہے۔

کی بدوں میں شگاف دیئے۔ مریضوں کے گھروں میں گھسا۔ مگر طاعون سے وعدہ خداوندی کے مطابق محفوظ رہا۔

١٣٠

شکل میں دکھایا گیا۔ شہروں کے نشانات مطابق ہر شہر میں سیاہی دی گئی تھی اور کو طاعون شروع ہوا۔

کیدا انا سنلقی عليك قولاً تھا۔ اس وقت میں اس کے کچھ معنی ن میڈیکل آفیسر مقرر ہوا۔ ١٩ / فروری خلاف سخت بلوہ ہو گیا۔ میں اس وقت لاہوری دروازہ کے قریب پہنچا تب یہ ہوئے ملے۔ انہوں نے مجھے دیکھ کر ب میں سخت بلوہ ہو گیا ہے۔ آپ ہرگز انہوں نے گاڑی شہر کو دوڑالی میں باہر قول رشید تھا جس نے اس روز مجھ کو بچ

فاصلہ پر ایک قلعہ کی فصیل کے ساتھ سا

بھیجا ہے۔ اس کے بعد ایک خواب میں اور پٹیالہ کا سراج الحق میں ہوں۔ اس الہام ہوا۔ ”واجتبيناه في الدني

ہے۔ ایک گوشہ میں سے ناظم ہرنام غائب ہو گئے۔ نارنول کے تمام پیرزا پولیٹیکل ایجنٹ دورہ پر تشریف لے ا تحصیلدار، اور سپرنٹنڈنٹ وغیرہ کو م بعد فوت بھی ہو گئے۔

صفحہ ٥٦٧

شکل میں دکھایا گیا۔ شہروں کے نشانات چھوٹے دائروں میں دکھائے گئے اور وسعت طاعون کے مطابق ہر شہر میں سیاہی دی گئی تھی اور کوئی گاؤں یا شہر بالکل بچا ہوا نہ تھا۔ اس کے بعد پنجاب میں طاعون شروع ہوا۔

کیدا انا سنلقي عليك قولا ثقیلا‘‘ یہ الہام میں نے اپنے مطبع کے ملازموں کو سنا دیا تھا۔ اس وقت میں اس کے کچھ معنی نہ سمجھ سکا۔ اس کے بعد فروری ١٩٠٢ء میں پلیگ میڈیکل آفیسر مقرر ہوا۔ ١٩ فروری کو شام کے ٤ بجے کے قریب شہر میں انتظام طاعون کے خلاف سخت بلوہ ہو گیا۔ میں اس وقت شہر سے باہر پلیگ کیمپ میں تھا۔ شہر کو آتے ہوئے جب لاہوری دروازہ کے قریب پہنچا تب سپرنٹنڈنٹ صاب پولیس سردار پریم سنگھ شہر کو گاڑی دوڑاتے ہوئے ملے۔ انہوں نے مجھے دیکھ کر ہاتھ سے ٹھہرنے کا اشارہ کیا اور اپنی گاڑی ٹھہرا کر کہا کہ شہر میں سخت بلوہ ہو گیا ہے۔ آپ ہرگز اندر نہ جائیں۔ ورنہ مارے جائیں گے۔ پھر اسی وقت انہوں نے گاڑی شہر کو دوڑالی میں بارہ دری کی طرف روانہ ہو گیا۔ الغرض خدا کی طرف سے یہ قول رشید تھا جس نے اس روز مجھ کو بچایا۔

فاصلہ پر ایک قلعہ کی فصیل کے ساتھ ساتھ چلا جا رہا ہوں۔ اس کے بعد پٹیالہ میں شدت کا پلیگ ہوا۔

بھیجا ہے۔ اس کے بعد ایک خواب میں مجھے اس خواب کی نسبت یہ الہام ہوا۔ وہ ایک بشارت تھی اور پٹیالہ کا سراج الحق میں ہوں۔ اس سے تین سال بعد مبارک احمد پیدا ہوا۔ جس کی نسبت پھر یہ الہام ہوا۔ ’’ واجتبیناہ فی الدنیا وانہ فی الاخرة لمن الصالحین‘‘

ہے۔ ایک گوشہ میں سے ناظم ہر نام سنگھ روتے ہوئے نکلے اور پھر ایک نہایت ہی عمیق خندق میں غائب ہو گئے۔ نارنول کے تمام پیر زادوں اور شرفاء میں یہ خواب مشہور ہو گیا تھا اس کے بعد جب پولیٹیکل ایجنٹ دورہ پر تشریف لے گئے تب وہاں کے حکام کے مظالم پر مطلع ہو کر ناظم، نائب، تحصیلدار، اور سپرنٹنڈنٹ وغیرہ کو موقوف کر آئے۔ ناظم ہر نام سنگھ بغل کے پھوڑے سے چند یوم بعد فوت بھی ہو گئے۔

١٤١

صفحہ ٥٦٨

ان کی بحالی کی ظاہراً کوئی صورت نہ تھی۔ مجھے ان کی نسبت خواب میں معلوم ہوا کہ یہ مظلوم بحال کیا جائے گا۔ خواب میں نے ان کو سنا دیا تھا اور اس سے چند یوم بعد وہ بحال ہو گئے۔

غلام علی نے میری طرف پتھر پھینکنے شروع کئے۔ میں نے کہا کہ کیوں ناحق مجھ پر پتھر چلاتے ہو۔ ایک پتھر پلٹ کر ان کی داہنی ران پر جالگا۔ جس سے وہ ران ٹوٹ گئی۔ جب میں ایک ہفتہ کی رخصت لے کر سیکنڈ گریڈ کے امتحان کے واسطے گیا اور ڈاکٹر غلام علی میری بجائے سپرنٹنڈنٹ بورڈنگ ہاؤس ہوئے۔ انہوں نے دشمنوں کے طور پر تمام اخراجات کی پڑتال شروع کر دی۔ تاکہ کوئی غبن ثابت کریں۔ مگر وہ ناکام رہے اور خود ہی ایک مواخذہ میں آگئے۔ جس کے نتیجہ میں ان کی تنخواہ بجائے سو روپیہ ماہوار کے پچاس روپیہ کی گئی اور آخر کار ریاست سے علیحدہ ہو گئے۔

گروہ بندوقیں لئے ہوئے میرے مکان پر آن پڑا۔ میں اپنے گھر کی چھت پر چڑھ کر پڑوسیوں کے مکان سے باہر آیا تو دروازہ پر کیا دیکھتا ہوں کہ کرنل فتح محمد خان میری امداد کے واسطے کھڑے ہیں۔ میں نے ان سے کہا کہ ڈاکو میرے مکان پر آپڑے۔ فوج کو فوراً بلاؤ۔ انہوں نے فرمایا کہ ابھی آتی ہے۔ چنانچہ ڈاکٹر غلام علی نے جو مثل میرے برخلاف بنانی چاہی تھی وہ دائر بھی نہ کی گئی اور ڈاکو میرے مکان کے اندر داخل نہ ہو سکے۔ یہ خواب میں نے قبل از وقت لالہ بھگوانداس ممبر کونسل اور خلیفہ محمد محسن مجسٹریٹ کو سنا دیا تھا۔

بڑے توم تراق کے ساتھ اکڑتا ہوا میرے آگے سے گذرا اور ٹمٹم پر سوار ہو کر چل دیا۔ تھوڑی دور جاکر ٹمٹم ایک نالی میں پھنس کر الٹ گئی اور وہ زخمی ہوا۔ اس خواب کے بعد وہ مرض سل میں مبتلا ہو کر فوت ہو گیا۔

پاؤں باہر کی طرف مڑا ہوا ہے اور ٹخنہ پر پٹی بندھی ہوئی ہے۔ دیکھو اخبار الحکم نمبر ٢ ص ١٥٠ اس کے بعد مرزا نقرس میں مبتلا ہوا اور اس کے پاؤں میں درد ہوا۔

مرزا قادیانی کی تمام زندگی سے یہی ثابت ہوا کہ وہ انسانیت سے خارج ایک حریص اونٹنی ہے۔

١٣٢

جس کا مشن سوائے اس کے اور کچھ

”ولهم عذاب اليم بما کا رہے۔ ہمیشہ درد سر اور دوار کے دو بعد تو مسلسل بخار چلا آتا ہے۔

”ياايتها النفس المطم عبادى وادخلى جنت واپس ہونے اور سواد اعظم اسلا اطمینان عطا فرمایا۔

تیرے آگے ہے۔‘‘ اس کے بعد گا۔‘‘ حالانکہ میں اس وقت تک ہوا اور ’’اشیخ الدجال‘‘ اور ’’کانا پاش پاش ہو گیا۔ ان کے مقابلہ پھر ٢٥؍ اپریل ١٩٠٧ء کو الہام ہ باشد‘‘ اس کے بعد ایک تو اللہ کر اطلاع قادیان بھی پہنچ چکی تھی۔ نکلتے ہی ایک ہفتہ میں اس کا کال ان کے نشانات کا طلسم ٹکڑے ٹکڑے اچانک فوت ہو گیا۔

کر رہا ہے۔ میں نے اس کی بج ہوا اور اپنے مریدوں سے کہ کہ آپ کیا کہتے ہیں۔ میں نے اس کے بعد مرزا قادیانی کی م

صفحہ ٥٦٩

جس کا مشن سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہ پانی پلاتے رہو۔ یعنی چندے دیتے رہو۔

"ولهم عذاب اليم بما كانوا يكذبون" چنانچہ پہلے مرزا کو ہسٹریا کے دورے ہوتے رہے۔ ہمیشہ درد سر اور دوار کے دور ہوتے ہیں اور نقرس بھی دوبارہ ہو چکا ہے۔ میری مخالفت کے بعد تو مسلسل بیمار چلا آتا ہے۔

"ياايتها النفس المطمئنة ارجعي الى ربك راضية مرضية فادخلي في عبادى وادخلي جنتي " اس الہام سے قریباً دوماہ بعد اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنی طرف واپس ہونے اور سواد اعظم اسلام میں داخل ہونے کی توفیق عطاء فرمائی اور ہر طرح سے مجھے اطمینان عطاء فرمایا۔

تیرے آگے ہے“ اس کے بعد مجھے الہام ہوا۔ ”میرے ہاتھ سے دجالی فتنہ پاش پاش کرایا جائے گا۔“ حالانکہ میں اس وقت تک مسیح مانتا تھا۔ مگر آخر کار یہی ہوا کہ المسیح الدجال کی نسبت مجھے الہام ہوا اور ”المسیح الدجال“ اور ”کانا دجال“ دو رسالہ میری قلم سے ایسے نکلے کہ دجالی فتنہ واقعی طور پر پاش پاش ہو گیا۔ ان کے مقابلہ پر مرزائیوں سے سوائے فرار کے نہ کچھ بن سکا اور نہ بن سکے گا۔ پھر ٢٥ / اپریل ١٩٠٧ء کو الہام ہوا۔ ”مرزا پر ایک کٹی گرے گی۔ تاسیاہ روئے شود ہر کہ دروغش باشد“ اس کے بعد ایک تو اللہ کریم نے مجھے ایک لڑکا یحییٰ نام حسب بشارت عطاء فرمایا جس کی اطلاع قادیان بھی پہنچ چکی تھی۔ دوم حقیقت الوحی جس کی دھوم دو سال سے پڑ رہی تھی۔ اس کے نکلتے ہی ایک ہفتہ میں اس کا کامل رد تیار ہو گیا ہے جس سے مرزا قادیانی کی ساری شیخی خاک ہوگئی اور ان کے نشانات کا طلسم ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا۔ سوم اس کا الہامی بیٹا مبارک احمد شادی سے چند یوم بعد اچانک فوت ہو گیا۔

کر رہا ہے۔ میں نے اس کی بعض باتوں کی تصدیق کی۔ اس پر مرزا قادیانی میری طرف متوجہ ہوا اور اپنے مریدوں سے کہنے لگا کہ ان کے ساتھ بہت تواضع سے پیش آؤ اور مجھ سے پوچھا کہ آپ کیا کہتے ہیں۔ میں نے کہا دجالی فتنہ میرے ہاتھ سے پاش پاش ہوگا اور میں سچ ہوں۔ اس کے بعد مرزا قادیانی کی حقیقت الوحی شائع ہوئی اور اتفاقاً ٣٠ / جون ١٩٠٧ء کو میری نظر

١٣٣

صفحہ ٥٧٠

سے گذری۔ میں نے ایک ہفتہ میں اس تمام کو دیکھ کر اس کی سچی باتوں کی تصدیق بھی لکھ دی اور باقی دجل کی تردید۔ بہت مدت سے اس حقیقت الوحی کی ایسی دھوم مچ رہی تھی جیسا کہ روس کے بالٹک فلیٹ کی اور مرزائی شور مچا رہے تھے کہ اس میں مرزا قادیانی تمام دشمنوں کا منہ بند کر دیں گے۔ مگر پہنچتے ہی اس کے ایسے پرخچے اڑائے گئے جیسی کہ جاپان نے ایک دن رات میں بالٹک فلیٹ کے اڑا دیئے تھے۔

تعبیر فساد ہوتی ہے۔ چنانچہ چار پانچ یوم کے بعد اس بورڈنگ میں فساد ہوا اور مجھے وہ بورڈنگ چھوڑنا پڑا۔

دکھایا گیا۔ چنانچہ اسی سال میں فارسی میں فیل ہوگیا۔

للمتقین مفازاً“ چنانچہ میں اس امتحان میں کامیاب ہوا۔

میرے سے کم درجہ پر رہیں گے اور یہ الہام ہوا۔ ”کتب اللہ لا غلبن انا ورسلی“ چنانچہ فرسٹ ایم بی میں وہ دوم رہے اور میں اوّل رہا۔ آخری امتحان میں وہ فیل ہوئے اور میں پاس ہوا۔

دوم۔ چنانچہ ہم دونوں امتحان میں کامیاب ہوئے۔ بلحاظ تنخواہ وعزت میں اوّل رہا۔ وہ دوم ہیں۔ میں ٥ نومبر ١٩٠٦ء سے فرسٹ گریڈ ہو چکا۔ میرے ساتھ پاس ہونے والوں میں سے کوئی بھی اس تاریخ سے فرسٹ گریڈ نہیں ہوا۔ مجھے اس وقت تنخواہ تین سو پچاس روپیہ ماہوار ملتی ہے جو اپنے ہم جماعتوں میں سب سے زیادہ ہے۔

گے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔

گے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔

١٤٣٣

چنانچہ ایسا ہی ہوا۔

گے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔

جائیں گے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔

جائیں گے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔

گے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔

گے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔

گے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔

گے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔

گے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔

پاس ہوئے۔

میں کالج کی تعلیم تباہ کرسکوں گا۔ ا

ڈاکٹری میں۔ الہام ہوا کہ ڈاکٹر

جاری رکھنا محال ہوجائے گا۔ الہا

صفحہ ٥٧١

چنانچہ ایسا ہی ہوا۔

گے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔

جائیں گے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔

جائیں گے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔

گے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔

گے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔

گے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔

گے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔

گے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔

پاس ہوئے۔

میں کالج کی تعلیم نباہ کر سکوں گا۔ الہام ہوا۔ ”والآخرة خیر لک من الاولیٰ“

ڈاکٹری میں۔ الہام ہوا کہ ڈاکٹری بہتر ہے۔

جاری رکھنا محال ہو جائے گا۔ الہام ہوا۔ ”دوستاں را کجا کنی محروم تو کہ با دشمنان نظر داری“

١٤٥

صفحہ ٥٧٢

خواب میں دکھایا گیا کہ میں پروفیسر چارلس سے ملا۔ انہوں نے پوچھا۔ عبدالحکیم خان تم کیسے آئے ہو۔ میں نے عرض کی کہ جناب نے میرا ایک سال علم حیوانات میں شمار نہیں کیا۔ حالانکہ میری حاضری اس مضمون میں دو تہائی ہے۔ ڈاکٹر چارلس نے فرمایا کہ تمہاری حاضریاں کافی ہیں۔ یہ میری غلطی ہے جو تمہارا نام نہیں بھیجا جاتا۔ محرر دفتر سے ابھی رجسٹر لاؤ۔ میں تمہارا نام ایم۔ بی میں لکھ دوں گا۔ اس خواب میں خوش وخرم اٹھا اور دوپہر کے وقت ڈاکٹر چارلس سے ملا۔ وہی گفتگو ہوئی اور ڈاکٹر موصوف نے فوراً پرنسپل کے نام یہ چٹ لکھ دیا۔

Abdul Hakim Khan has completed his course in zoology, but over sight his name was not sent up.

پرنسپل صاحب نے اس چٹ کو دیکھ کر میرا نام امتحان ایم۔ بی کے واسطے بھجوا دیا۔

طلائے طاعون (یہ میرا ایک نسخہ ہے) لگاؤ، صبح اٹھتے ہی میں نے جو طلائے طاعون لگایا تو فوراً درد بھی موقوف ہو گیا اور مسوڑھے کا ورم بھی تحلیل ہو گیا۔

میرے نام پکار آیا۔ رات کو خواب میں دکھایا گیا کہ میں کلمات ذیل ان پر دم کر رہا ہوں۔ ”یاشافی، یا دافی، یا رب العالمین، یا رحمن، یا رحیم “ ادھر ان کی نکسیر بند ہو گئی۔ اگلے دن جو میں پہنچا تو ان کو آرام ہو چکا تھا۔

روزانہ کھانسی میں خارج ہوتی تھی۔ میں نے ان کے علاج کی بابت توجہ کی تو انگریزی میں الہام ہوا۔

....................................................................

”لا الہ اللہ “ یعنی خدا بافراط اور ”لا الہ الا اللہ “ پھر ایک خواب میں بتلایا گیا کہ دس یوم تک آرام ہو جائے گا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔

عجیب وغریب نقش و نگار تھے اور سبز روشنی اس میں سے جھلکتی تھی۔ اس کے بعد تفسیر القرآن میری

١٣٦

صفحہ ٥٧٣

قلم سے نکلی ۔ بعدازاں ایک خواب میں مجھے دکھایا گیا کہ لوگ اپنے اپنے اعمال لئے ہوئے میدان حشر میں جارہے ہیں اور نہایت ہی سرور کی حالت میں یہ کہتا جارہا ہو ”من نیز حاضر میشوم تفسیر قرآن در بغل“۔

وعن اصحاب الجحیم“ اور میرا نام محمد رکھا گیا۔ اس کے بعد تفسیر القرآن اردو و انگریزی اور مفتاح القرآن میری قلم سے نکلے۔

ہوگیا ہے۔ خوشیاں مناؤ۔ اس وقت وہ مڈل میں تھا۔ اب ١٩٠٧ء میں وہ انٹرینس میں پاس ہوا۔

تلطف ولا تخف ان الله معنا“ نہ نرمی کرو۔ نہ خوف کرو۔ اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ اس کے بعد خدمت گار مرد اور عورتوں کی افراط ہوگئی۔

ساتھ چھپا ہے۔ خواب میں ہی میں نے اپنے چچا حشمت علی خان مرحوم سے ذکر کیا کہ میرا نام ڈاکٹر عبدالحکیم خان ایم۔بی بڑی تعریفوں کے ساتھ شائع ہوا ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ ہمیں دکھلاؤ۔ جب میں کیلنڈر کی ورق گردانی کرنے لگا تو پہلے مولوی عالم اور مولوی فاضل کے پاس شدہ اشخاص کی فہرست نکلی ۔ جس پر گہری دانے دار سبز سیاہی پھری ہوئی تھی۔ آخر کار میرا نام بجائے ڈاکٹر عبدالحکیم خان کے محمود نکلا ۔ اس خواب کے بعد میری تفسیر القرآن بالقرآن نکلی ۔ جو بینظیر تفسیر ہے۔ گویا کہ میرے اس کام نے تمام علماء و فضلاء حال کو مات دے دی۔

تھا۔ خواب میں دکھایا گیا کہ پٹیالہ میں میرے لئے ایک پختہ مکان تیار ہوا۔ اس کے بعد ٢٧ مارچ کو میری ماموری خاص پٹیالہ میں ہوگئی۔

نہایت عمدہ بید کا عصا میرے ہاتھ میں ہے۔ وہ درمیان سے ٹوٹ گیا۔ اس کے بعد ایسا ہوا کہ پہلا کاتب نجم الدین نصف کے قریب لکھ چکا تھا۔ وہ فوت ہو گیا۔ پھر خواب دیکھا کہ وہ عصا جڑ گیا۔ مگر گانٹھ دار ہوگیا۔ اس کے بعد دوسرے کاتب نے جو حصہ تفسیر کا لکھا وہ پہلے کے مقابلہ میں کم درجہ کا ہے۔ مگر آخر کار تفسیر مکمل ہوگئی۔

١٣٧

صفحہ ٥٧٤

امتحان میں پارہ کے مرکبات کی بابت سوال ہے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔

چنانچہ ایسا ہی ہوا۔

نے مبارک احمد کی صحت یابی کو خوشیاں منائی اور اس کی شادی بھی کر دی اور اس کی اخباروں میں دھوم دھام سے مبارکبادیاں شائع ہوئیں کہ مبارک احمد کی نسبت وہ الہام پورا ہو گیا ہے۔ جس کے الفاظ تھے دعائے صحت قبول کی گئی۔ نو دن کا تپ ٹوٹ گیا۔ مگر وہ ١٦؍ ستمبر ١٩٠٧ء کو فوت ہو گیا۔ تمام خوشیاں خاک میں مل گئی۔ تمام الہام شیطانی ثابت ہوئے اور تمام دعوے باطل ہو گئے۔ مجھے تین مرزائی ڈھائی لکڑیوں کی صورت میں دکھائے گئے تھے جو گاؤ خوردہ تھیں۔ جن میں چھوٹی لکڑی تو مبارک احمد ہو اور وہ بڑی لکڑیوں کا انتظار ہے۔ ٢٥؍ اپریل ١٩٠٧ء کو یہ الہام ہوا تھا۔ ”مرزا قادیانی پر ایک بجلی گرے گی۔ تا سیاہ روئے شود ہر کہ دروغش باشد“ مبارک احمد کی اچانک موت جو شادی اور صحت کی خوشی سے چند یوم بعد ہوئی۔ فی الحقیقت بجلی کے گرنے کی منشاء ہوئی۔ جس سے مرزا قادیانی کے تمام الہامات دروغ ثابت ہوئے اور اس کی روسیاہی ہوئی۔ کیونکہ تین کو چار کرنے والا یہی لڑکا تھا۔ جس کی نسبت مرزا قادیانی کے الہامات تھے۔ ”كأن الله نزل من السماء“ اسیروں کو رستگاری دے گا۔ علوم ظاہری و باطنی سے پر ہوگا۔ وغیرہ وغیرہ۔

نوٹ....... یہ ٧٢ خوابات عموماً مرزا قادیانی کے ٧١ خوابات کے مقابلہ پر بیان کئے گئے ہیں۔ جن کے پورا ہونے کے شاہد اول تو وہ لوگ ہیں جن کی نسبت وہ خوابات ہیں۔ دوم میرے ہم جنس اور معزز دوست ہیں۔ سوم میڈیکل کالج کے متعلقہ خوابات کے شاہد وہ صاحبان ہیں جو میرے ہم جماعت تھے۔ ہر خواب کے متعلق علیحدہ علیحدہ شاہد طوالت کے خوف سے درج نہیں کئے گئے۔ ہزار ہا خوابات ایسے ہیں جو روزمرہ آتے اور پورے ہو جاتے ہیں۔ ان کے ذکر کرنے کا موقعہ نہیں ملتا اور بہت سے ایسے ہیں کہ ان کا ذکر کر دیا جاتا ہے۔ اس جگہ پر مرزا قادیانی کا ایک کذب عمد قابل ذکر ہے۔ مولوی محمد حسن بیگ والا خواب ذکر کر کے لکھا ہے ”مگر ہم یہ قبول نہیں کر سکتے کہ یہ شیطانی خواب ہے۔ کیونکہ شیطان کو کسی کے ہلاک کرنے کے لئے قدرت نہیں دی گئی۔ ہاں!

١٣٨

صفحہ ٥٧٥

شیطانی خوابیں اور شیطانی الہام وہ ہیں جو اب میری مخالفت کی حالت میں اس کو ہوتے ہیں۔ کیونکہ ان کے ساتھ کوئی نمونہ خدائی طاقت کا نہیں۔“ (حقیقت الوحی ص ١٨٥، خزائن ج ٢٢ ص ١٩٢) اس میں کئی امور قابل غور ہیں۔ اوّل: تو یہ کہ کسی موقعہ پر مرزا قادیانی مخالفین کی عبارت نقل نہیں کیا کرتے۔ تاکہ مصنفین کو مقابلہ اور فیصلہ کا موقعہ نہ ملے۔ مگر اس موقعہ کو مفید مطلب دیکھ کر میری تمام عبارت لفظ بلفظ جلی حروف میں نقل کی ہے۔ دوم: پہلے میرے خوابوں کو کلیۃً شیطانی لکھ دیا تھا۔ حالانکہ وہ بھی پیدائش اور موت کے متعلق تھے۔ سوم: یہ جھوٹ فرض کر لیا کہ مخالفت کے بعد کوئی ایسے خواب نہیں آئے جن میں خدائی قدرت کا اظہار ہو۔ حالانکہ یحییٰ کی بشارت کے خواب کے خطوط میں ٢٦؍اپریل ١٩٠٧ء کو بنام مولوی نور الدین ومیاں محمد بمقام قادیان ارسال کر چکا تھا اور ٢٨؍اپریل ١٩٠٧ء کی رات کو وہ لڑکا پیدا ہوا۔ مبارک احمد کی موت کے الہامات کی اطلاع بھی انہیں قبل از وقت مل چکی تھی۔ (حقیقت الوحی ص ١٧٦، خزائن ج ٢٢ ص ١٨١، ١٨٢) پر مرزا قادیانی نے ایک دعویٰ پیش کیا ہے۔ جس کو پڑھ کر اس کے مرید تو واہ واہ اور سبحان اللہ کے نشہ میں لٹو ہو گئے ہوں گے اور شاید چودہ مہینہ تک وہ مطلق بیہوش رہیں۔ وہ دعویٰ انہیں کے الفاظ میں یہ ہے۔ ”اگر میرے مقابل پر تمام دنیا کی قومیں جمع ہو جائیں اور اس بات کا بالتقابل امتحان ہو کہ کس کو خدا غیب کی خبریں دیتا ہے اور کس کی دعائیں قبول کرتا ہے اور کس کی امداد کرتا ہے اور کس کے لئے بڑے بڑے نشان دکھاتا ہے تو میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں ہی غالب رہوں گا۔ کیا کوئی ہے کہ اس امتحان میں میرے مقابل پر آوے۔“

مرزا کے مقابلہ کے لئے تیار ہوں

تمام دنیا کی قوموں کا جمع ہونا تو محال ہے۔ ایسی ناممکن الوقوع دعوت میں تو آپ بیشک سچے ہی اتریں گے۔ ہاں! ایک عاجز گنہگار انسان ہے۔ قبولیت دعا، پیش گوئیوں اور امداد غیبی میں مقابلہ کے لئے تیار ہے۔ بفضلہ تعالیٰ اگر منظور ہو تو اپنے اخبارات، الحکم، البدر، ریویو کو اجازت دے دیں کہ آپ کے مقابلہ پر میرے الہامات اور خوابات اور دعائیں بھی شائع کر دیا کریں۔ پھر جو صاف طور پر پوری ہوں ان کو زائد حاشیوں اور لغو تاویلات کے بغیر شائع کر دیا کریں۔ تاکہ دنیا خود فیصلہ کر لے۔ اگر ایسا منظور ہو تو مجھے اطلاع دیں اور یہ مقابلہ تاریخ اطلاع سے شمار ہو۔

١٤٩

صفحہ ٥٧٦

فصل ہشتم: ان نشانات کے بیان میں جو گول مول ہیں

جس واقعہ پر چاہا ان کو منطبق کر لیا

ایک ماہ بعد ڈاکٹر بوڈھن خاں پر اسے چسپاں کیا گیا۔

میں اس الہام کو سیٹھ عبدالرحمٰن پر چسپاں کیا گیا۔

گورنر سر فلر مستعفی ہو گیا۔

میں مبتلا ہو کر فوت ہو گئی۔

اس پیش گوئی کو چسپاں کر لیا۔

فصل نہم: مختلف لوگوں کے خوابات مرزا قادیانی کی تصدیق میں

جن کو اس نے بطریق نشانات درج کیا ہے

ان کو ہم بلا کسی جرح کے صحیح مان لیتے ہیں۔ ساتھ ان کے ان بزرگان کے الہامات و خوابات بھی ملاتے ہیں۔ جن کو مرزا قادیانی کے خلاف میں الہامات ہوئے یا خواب آئے۔ مثلاً:

والے کے الہامات ہیں۔ ’’وما یعدھم الشیطان الا غرورا واتخذوا ایاتی ورسلی

١٤٠

صفحہ ٥٧٧

هزوا اولئك هم الكافرون حقا ولا تطع من اغفلنا قلبه عن ذكرنا واتبع هواه وكان امره فرطا“ (٣) مولوی عبدالحق غزنوی کے الہامات ”وما کيد فرعون الا فی تباب “ (٤) مولوی الہی بخش اکاؤنٹنٹ کے الہامات۔ ”ان الله لا يهدی من هو مسرف کذاب“ (٥) قاضی محمد سلیمان منصور پوری کے خوابات۔ (٦) قاضی فضل احمد کے خوابات۔ (٧) اس عاجز کے خوابات والہامات ۔ (٨) دانیال نبی کی پیش گوئی کہ وہ مکروہ شے جو خراب کرنے والی ہے۔ ١٢٩٠ھ میں قائم کی جائے گی ۔ جو مرزا قادیانی کے ظہور اور اشاعت براہین احمدیہ کا زمانہ ہے۔ جو مبارک شے ہے۔ وہ ١٣٣٥ھ میں آئے گی۔

ہر دو جانب کے خوابات والہامات پر مجموعی نظر ڈالنے سے یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ مرزا ’مسیح الدجال‘ ہے۔ یعنی مرزا قادیانی کا وجود مسیحیت اور دجالیت کا مرکب ہے۔ بہ لحاظ مسیحیت کے کبھی کبھی بعض لوگوں کو اس کی نسبت اچھے خوابات آجاتے ہیں یا الہام ہوتے ہیں۔ مگر کثرت سے تمام اہل الہام لوگوں کو اس کے خلاف ہی الہام ہوتے ہیں۔ جیسا کہ وہ خود بار بار اقرار کر چکا ہے کہ سارے اہل الہام لوگ آخر کار میرے مخالف ہو جاتے ہیں۔

پس میں سچ کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایسا دماغ عطاء فرمایا ہے جو خوابات والہامات کے موزوں ہے اور ایسا دل دیا ہے جو بہت جلد خدا کی طرف جھکنے والا اور اس کے آگے گڑ گڑانے والا ہے۔ اگر آپ نفس پرستی، خودستائی ، خود پسندی کو چھوڑ دیں یعنی اپنا گزران اپنی جائیداد کی آمد پر محدود کر دیں جو نذرانے آتے ہیں ان کو اسلامی خدمات کے لئے وقف کر دیں جو لنگر کے نام پر وصول ہوتا ہے۔ اس کے حساب کتاب کی ذمہ دار علیحدہ کمیٹی مقرر کر دیں جو اس کی بچت ہو۔ وہ اسلامی خدمات میں لگایا کریں۔ قرآن مجید واحادیث صحیحہ کو نجات کے لئے کافی مان کر مسلمانوں کی تکفیر وتحقیر سے باز آ جائیں۔ انبیاء علیہم السلام کی برابری کے دعوے سے تائب ہو جائیں۔ رب العالمین کو رب العالمین مانیں۔ شاعری اور رنگ آمیزی کو ترک کر کے خلوص اور راستی اختیار کریں تو آپ بہت ترقی کر سکتے ہیں۔ جب مجھ جیسے فاسق وفاجر کو آپ جیسے خوابات آتے اور الہام ہوتے ہیں تو پھر آپ کس بناء پر اتنا دعویٰ کرتے ہیں۔ جس سے انبیاء علیہم السلام کی تحقیر ہوتی اور اسلام اور وحی کی عزت خاک میں مل جاتی ہے۔ ایک سیکنڈ کے لئے بھی یہ خیال کرنا کہ انبیاء علیہم السلام ایسے ہی کذاب، بدعہد، خائن، عیار، مسرف ، مفت خور، متکبر، بدعقل، فحش گو، بدعمل اور نفس پرست ہوتے تھے۔ جیسا کہ آپ میں سخت درجہ کا ظلم اور پرلے درجہ کی بدعقلی اور

١٤١

صفحہ ٥٧٨

گستاخی ہے۔ اگر آپ اب بھی نہ سمجھیں تو خدا آپ سے سمجھے گا۔ وہ اب زیادہ مہلت آپ کو نہ دے گا۔ کیونکہ اس نے آپ کو بہت مہلت دی اور اب اس کا وہ قانون عمل کرے گا۔ جو آیت ذیل میں مذکور ہے۔

”فلما نسوا ما ذكّروا به فتحنا عليهم ابواب كل شئ حتّى اذا فرحوا بما اوتوا اخذناهم بغتة فاذاهم مبلسون“ پس جب انہوں نے ان نصیحتوں کو بھلا دیا جو ان کو کی گئیں تھیں۔ ہم نے ان پر ہر شئے کے دروازے کھول دیئے۔ یہاں تک کہ ہماری نعمتوں پر وہ اترانے لگے۔ تب ہم نے ان کو اچانک پکڑ لیا اور ناگہاں وہ مایوس ہوکر رہ گئے۔ ”وما علينا الا البلاغ المبين والسلام علىٰ من اتّبع الهدیٰ“

فصل دہم: مرزا قادیانی کی چند عیاریوں کا ذکر

جو اس نے حقیقت الوحی میں ظاہر کیں

کتاب عصائے موسیٰ میں پیش گوئی کی تھی کہ مرزا قادیانی اس کی زندگی میں طاعون سے مرے گا۔ اور اس کی تصدیق میں (عصائے موسیٰ ص ٨٣) سے الہام ذیل نقل کرکے ترجمہ میں حسب منشاء الفاظ بڑھا دیئے۔ ”سنسمه علی الخرطوم ما رمیت اذرمیت ولکن اللہ رمیٰ“ ترجمہ: اس مفتری کو یعنی اس مفتری کے ناک پر یا منہ پر ہم آگ کا داغ لگادیں گے۔ یعنی اس کو طاعون سے ہلاک کریں گے یا یہ کہ جہنم کی آگ میں ڈالیں گے۔ یہ تیر تو نے نہیں چلایا۔ بلکہ خدا نے چلایا۔“

(تتمہ حقیقت الوحی ص ١١٢، خزائن ج ٢٢ ص ٥٥٠)

مگر (عصائے موسیٰ ص ٨٣) پر ان فقرات کا ترجمہ حسب ذیل ہے: ”شتاب داغ دیویں گے ہم اس کو اوپر ناک کے۔ نہ پھینکا تو نے جب کہ پھینکا تو نے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے پھینکا۔“ اب دیکھئے مرزا قادیانی کا کذب اور افتراء۔ یہ افتراء اس واسطے ہے کہ اپنے دام افتادوں کو یہ جتلایا جائے کہ الہی بخش نے میرے واسطے طاعونی موت کی پیش گوئی کی تھی اور خود ہی طاعون سے مر گیا۔ چونکہ وہ خود کانے ہیں۔ دوسری طرف نظر اٹھا کر دیکھ ہی نہیں سکتے۔ اس لئے اس قسم کے کلمات جادو کا اثر کر جاتے ہیں۔ ایسے ہی تصرفات اور تاویلات کے ساتھ الہی بخش مرحوم کے ذکر کو ص ٥٥ پر پھیلا کر لکھ دیا ہے تا کہ اس کے کذب پر پردہ پڑجائے۔

١٤٢

صفحہ ٥٧٩

الہام ہے جو ان کی کتاب کے ص٢٢٣ میں درج ہے اور وہ یہ ہے۔ ”ان یقولون الا کذبا اتبع ھواہ وکان امرہ فرطا“ یعنی جو دعویٰ یہ شخص کرتا ہے اس کا جھوٹا دعویٰ ہے اور اپنی خواہش نفسانی کے پیچھے چلتا ہے اور وہ حد سے بڑھ گیا ہے۔ یعنی اب اس کی ہلاکت کے دن آ گئے۔“

(عصائے موسیٰ ص٢٤٢) پر یہ الہامات نہیں ہیں۔ ہاں ٢٤٤ صفحہ پر ضرور ہیں۔ مگر ان کا ترجمہ اس جگہ پر یہ ہے: ”وہ مرزا قادیانی جھوٹ بکتے ہیں۔ وہ اپنی ہوائے نفس کا تابع ہوا ہے اور اس کا کام حد سے بڑھا ہوا ہے۔“ مگر مرزا قادیانی نے اس کو جھوٹا بنانے کے واسطے اپنے ترجمہ میں یہ الفاظ بڑھا دیئے ہیں کہ: ”اس کی (مرزا قادیانی کی) ہلاکت کے دن آ گئے ہیں۔“ اسی کا نام ہے آنکھوں میں خاک ڈالنا یا کانی بات۔

٣....... (تتمہ حقیقت الوحی ص ٦٤، خزائن ج ٢٢ ص ٤٩٨) پر لکھا ہے: ”اور یہ کہنا کہ قرآن شریف میں مسیح موعود کا کہیں ذکر نہیں۔ یہ سراسر غلطی ہے۔ کیونکہ قرآن شریف نے ...... صریح طور پر فرمایا ہے کہ آخری زمانہ میں جب کہ آسمان اور زمین میں طرح طرح کے خوفناک حوادث ظاہر ہوں گے۔ وہ عیسیٰ پرستی کی شامت سے ظاہر ہوں گے اور پھر دوسری طرف یہ بھی فرما دیا۔ ”وما کنا معذبین حتی نبعث رسولاً“ پس اس سے مسیح موعود کی نسبت پیش گوئی کھلے کھلے طور پر قرآن شریف میں ثابت ہوتی ہے۔“ (خلاصہ مطلب کے طور پر) اس مضمون میں بہت سے مغالطے دیئے گئے ہیں:

اول...... تو یہ کہ قرآن مجید سے ظاہر ہے کہ آخری زمانہ میں آسمان اور زمین میں طرح طرح کے خوفناک حوادث ظاہر ہوں گے۔ حالانکہ کسی قرآنی آیت سے ایسا ظاہر نہیں۔

دوم...... یہ کہ اس زمانہ میں غیر معمولی حوادث ظاہر ہو رہے ہیں۔ مثلاً طاعون ہے۔ اس کی بابت کومپنز ڈکشنری آف میڈیسن سے ظاہر ہوتا ہے کہ یورپ میں یہ مرض چھٹی صدی عیسوی سے شروع ہو کر ١٨٤٤ء تک رہا۔ چودھویں صدی عیسوی میں اس شدت سے ہوا کہ دس کروڑ کی آبادی میں سے چار کروڑ انسان تلف ہو گئے۔ قحط ہے۔ جس شدت سے پہلے ہوتے تھے۔ اب ان کا نام و نشان نہیں۔ زلازل ہیں۔ ان کی نسبت انسائیکلو پیڈیا بری ٹینیکا کو ملاحظہ کرو۔ جس سے ظاہر ہے کہ ہر سال پچاس ساٹھ زلازل زمین پر آتے ہیں۔ پھر ڈاکٹر جان ملی کی چٹھی جو اخباروں میں شائع ہوئی تھی مرزا قادیانی کی نظر سے گزری ہوگی۔ جس کا یہ مطلب ہے کہ یہ خیال کرنا غلط ہے کہ گزشتہ بارہ مہینوں میں زمین غیر معمولی زلازل سے ہلائی گئی۔ زمین میں ہر سال پچاس ساٹھ زلزلے آتے ہیں۔ جن میں سے زیادہ تر غیر آباد قطعات میں واقع ہوتے ہیں۔

١٤٣

صفحہ ٥٨٠

الغرض مرزا قادیانی کی یہ صاف دھوکہ بازی ہے کہ اس وقت طاعون، زلازل، مری، قحط اور شہابوں وغیرہ کی غیرمعمولی کثرت ہے۔ ہر ملک کی تاریخ اس کا رد کرتی ہے۔ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ مرزا قادیانی اور اس کے چیلے تمام کے تمام تواریخ عالم سے مطلق بے خبر ہیں۔ بلکہ وہ دانستہ جھوٹ بولتے اور سادہ لوح مسلمانوں کو دھوکا دیتے ہیں کہ دیکھو طاعون اور زلازل مرزا قادیانی کی تصدیق اور تائید کے واسطے ہیں، اور ایک الہام گھڑ رکھا ہے جسے وہ دہراتے ہوئے نہیں تھکتے۔ ”دنیا میں ایک نذیر آیا۔ دنیا نے اسے قبول نہ کیا۔ پر خداوند اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کردے گا ۔“ بقول شخصے سوال از آسمان و جواب از ریسمان ۔

جب تک کسی انسان کے چلن اور اخلاق کی صفائی نہ ہو اس وقت تک زلازل وبائیں اور دیگر حوادثات اس کی بریت کی کیسے دلیل ہو سکتے ہیں۔ زیادہ تفصیل کے لئے اس جگہ پر ایک مضمون اخبار اہل حدیث سے لفظ بلفظ نقل کرتا ہوں۔

مرزا قادیانی کے دھوکہ کا اظہار

”اے لوگو! خبردار ہو جاؤ۔ قادیانی دھوکہ میں مت آؤ۔ اے ان پڑھ لوگو! تم پر افسوس۔ اے لکھے پڑھے لوگو! تم پر ڈبل افسوس۔ اس واسطے کہ جب کبھی خدا کی قدرت کا کوئی نشان آسمان سے یا زمین سے ظاہر ہوتا ہے تو قادیانی اس کو اپنا نشان بنا کر اخباروں اور اشتہاروں کے ذریعہ سے پیش کرتے ہیں۔ اس کے مرید جو کتب تاریخ سے واقف نہیں جھٹ کہہ دیتے ہیں کہ یہ نشان مرزا قادیانی کے دعوئی کے ثبوت میں ظاہر ہوا ہے اور جو مرید اپنے آپ کو مولوی بلکہ ڈبل مولوی کے نام سے مشہور کر رہے ہیں وہ بھی دیدہ دانستہ ہاں ہاں کرتے جاتے ہیں۔ اگرچہ ان پر کتب تاریخ سے یہ بات بخوبی واضح ہے کہ خداوند تعالیٰ کی قدرت کے عجائب نشان ہمیشہ سے دنیا میں ظاہر ہوتے رہے ہیں اور آئندہ بھی ہوتے رہیں گے۔ پس میں اپنے اس دعویٰ کے ثبوت میں اور مریدان مرزا کو خواب غفلت سے بیدار کرنے کے لئے تاریخ الخلفاء مترجم اردو سے اصل عبارت معہ پتہ صفحہ ذیل میں نقل کروں گا۔ جس میں خداوند تعالیٰ کی قدرت کے عجائب نشانات کا ذکر ہوگا اور تاریخ الخلفاء کا مصنف مرزا قادیانی کے نزدیک معتبر ہے۔ جس کے غیر معتبر کہنے کی مریدان مرزا کو گنجائش نہیں ہوگی۔

”١٨٠ھ میں سخت زلزلہ آیا۔ جس سے اسکندریہ کے منارے گر گئے ۔“ دیکھو ص ١٥٨ میں ہو ہذا۔ ”٢٣٣ھ میں عراق میں ایسی بادِ سموم چلی کہ کوفہ کی تمام کھیتیاں جل گئیں اور بغداد میں

١٤٤

صفحہ ٥٨١

بصرہ میں مسافر مر گئے۔ پچاس روز یہی قیامت کا نقشہ رہا۔ حتیٰ کہ ہمدان میں زراعت جل گئی اور مویشی مر گئے اور راستوں میں مسافر ہلاک ہو گئے۔ اس کے بعد دمشق میں ایسا سخت زلزلہ آیا کہ ہزاروں مکان گر گئے اور خلقت ان کے نیچے دب گئی۔ انطاکیہ اور جزیرہ کا بھی یہی حال ہوا۔ اس واقعہ میں پچاس ہزار آدمیوں سے کم کا نقصان نہ ہوا ہوگا۔

پھر ٢٣٢ھ میں تارے بہت سے ٹوٹے اور بڑی رات گئی تک آسمان میں ستارے ٹڈیوں کی طرح اڑتے ہوئے معلوم ہوتے تھے۔

پھر ٢٣٣ھ میں تونس اور قرب و جوار، نیز ری، خراسان، نیشا پور، طبرستان، اصفہان میں سخت زلزلہ آیا۔ پہاڑوں کے ٹکڑے اڑ گئے۔ اکثر جگہ سے اتنی جگہ پھٹ گئی کہ آدمی سما جائے۔

مصر کے ایک گاؤں پر آسمان سے پتھر گرے۔ جس کا وزن ١٠ رطل کے قریب تھا۔

یمن میں پہاڑوں نے کچھ ایسی حرکت کی کہ کھیت ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہو گئے۔ حلب میں بماہ رمضان ایک پرند کو لوگوں نے یہ کہتے سنا۔ اے لوگو! اللہ سے ڈر جاؤ۔ اللہ اللہ چار مرتبہ کہہ کر اڑ گیا۔ دوسرے روز بھی ایسا ہی ہوا۔ وہاں کے لوگوں نے اس واقعہ کی رپورٹ صدر میں کی اور قریباً پانچ سو آدمیوں نے اس کی شہادت دی۔

دیکھو ص ١٨٦ میں ہو ہذا۔ ”٢٤٥ھ میں تمام دنیا میں سخت زلزلے آئے۔ شہر اور قلعہ اور پل گر کر پڑے اور انطاکیہ میں ایک پہاڑ سمندر میں گر گیا۔ آسمان سے سخت ہولناک آوازیں سنائی دیں اور ............ میں بہت آدمی ہلاک ہو گئے اور مکہ شریف کے چشموں کے پانی غائب ہو گئے۔ متوکل نے عرفات سے پانی لانے کے لئے ایک لاکھ دینار دیئے۔“

دیکھو ص ١٩٤ میں ہو ہذا۔ ”عراق میں وبا پھیلی جو بربادی جنگ سے کم نہ تھی۔ اس میں بے تعداد آدمی مرے۔ وبا کے بعد بہت سے زلزلے آئے۔ جن میں ہزاروں جانیں تلف ہوئیں۔“

دیکھو ص ١٩٧ میں ہو ہذا۔ ”٢٨٠ھ میں دبل سے اطلاع آئی کہ ماہ شوال میں چاند گرہن ہوا اور عصر کے وقت سخت اندھیرا ہو گیا۔ اس کے بعد کالی آندھی آئی۔ جس نے تین روز متواتر اندھیرا رکھا۔ اس کے بعد فرو ہونے پر ایسا سخت زلزلہ آیا۔ ہزاروں گھر گر گئے۔ یہاں تک کہ قریب ڈیڑھ لاکھ آدمیوں کے مکانات کے نیچے سے نکالے گئے۔“

دیکھو ص ١٩٨ میں ہو ہذا۔ ”٢٣٥ھ میں بصرہ میں ایک آندھی آئی۔ جس کا رنگ پہلے زرد تھا پھر سبز ہو گیا اور پھر کالی ہو گئی اور کئی روز تک رنگ بدلتی رہی۔ آخر میں ایک چادر گری جس کا

١٤٥

صفحہ ٥٨٢

وزن سو درم تھا۔ اس کے بعد یہ آندھی بند ہوگئی۔ قریباً پانچ سو درخت گر گئے اور آسمان سے سفید وسیاہ پتھر برسے۔‘‘

دیکھو ص ١٩٩ میں ہو ہذا۔ ’’٢٨٩ھ میں کئی روز تک سخت زلزلے آتے گئے اور بصرہ میں سخت آندھی آئی۔ ہزاروں درخت گر گئے۔‘‘

دیکھو ص ٢٠١ میں ہو ہذا۔ ’’٣٠٠ھ میں ایک پہاڑ زمین میں دھنس گیا اور اس کے نیچے سے پانی نکلنے لگا۔ جس سے بہت سے قریہ ڈوب گئے۔ اسی سال ایک مادہ خچر نے بچھڑا دیا۔ خدا قادر ہے جو کچھ چاہے کرے۔‘‘

دیکھو ص ٢١١ میں ہو ہذا۔ ’’٣٢٠ھ میں بغداد میں گرانی کی یہ حالت ہوئی کہ گیہوں کی ایک بوری تین سو دینار کو بکی۔ لوگوں نے مردار چیزیں کھائیں۔‘‘

دیکھو ص ٢١٣ میں ہو ہذا۔ ’’٣٣٤ھ میں مصر میں تین ساعت برابر سخت زلزلہ رہا۔ جس سے ہزاروں مکانات گر گئے۔ لوگوں نے بڑے خشوع وخضوع سے جناب احدیت سے دعائیں مانگیں۔

پھر ٣٤٦ھ میں سمندر اتنا اتر گیا۔ یہاں تک کہ پہاڑ نظر آنے لگے اور ایسی چیزیں نظر پڑیں جو کبھی نہ دیکھی تھیں۔ بہت سے چھوٹے جزیرے بن گئے۔

ری اور نواح ری میں زلزلہ عظیم آیا۔ شہر طالقان خسف ہو گیا۔ کل تیس آدمی بچ سکے۔ باقی سب ہلاک ہو گئے۔ ری اور مضافات میں بھی کوئی ڈیڑھ سو گاؤں خسف ہو گئے۔ شہر حلوان کا اکثر حصہ زمین میں دھنس گیا۔ زمین میں سے مردوں کی ہڈیاں باہر نکل پڑیں۔ ری میں ایک پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ ایک گاؤں ہوا میں معلق لٹک گیا اور پھر گر گیا۔ زمین سے پانی نکل آیا۔ بعض جگہ زمین میں بڑے بڑے شگاف ہو گئے اور ان میں سے سخت بد بو نکلی اور بعض جگہ سے دھواں۔

پھر ٣٤٧ھ میں قم اور حلوان میں پھر زلزلہ آیا اور بہت سی خلق اللہ تلف ہو گئی اور ٹڈی آئی اور تمام غلوں اور درختوں کو صاف کر گئی۔‘‘

دیکھو ص ٢١٤ میں ہو ہذا۔ ’’۔۔۔۔۔۔۔۔ میں عراق میں ایک تارہ ٹوٹا۔ جس کی روشنی آفتاب جیسی تھی اور بعد میں بادل کے گرجنے کی آواز سنائی دی۔‘‘

دیکھو ص ٢٢٢ میں ہو ہذا۔ ’’٢٥٠ھ میں دروازے اوج کی طرف ایک لڑکی پیدا ہوئی۔ جس کے دو سر، دو چہرے اور دو گردنیں تھیں۔‘‘

’’پھر اسی سال میں ایک ستارہ چاند کے برابر نمودار ہوا اور دس راتوں کے بعد غائب ہو گیا۔ لوگ اس ستارے کو دیکھ کر ڈرتے تھے۔‘‘

١٤٦

’’پھر ٢٦٠ھ میں رملہ میں آیا۔ پچیس ہزار آدمی ہلاک ہوگئے۔ س تھے۔ یکا یک پانی چڑھا آیا۔ لوگ وہیں

دیکھو ص ٢٢٤ میں ہو ہذا غارت ہوگئے۔‘‘

دیکھو ص ٢٣٢ میں ہو ہذا روز لوگوں نے روزہ رکھا۔ شام کے ایسی بات ہے کہ ایسا کبھی نہیں ہوا تھا

دیکھو ص ٢٣٢ میں ہو ہذا ایک پہاڑ ٹوٹ کر گر گیا۔‘‘

دیکھو ص ٢٣٢ میں ٢٥ لوگوں کے کپڑوں پر نشان باقی رہے

دیکھو ص ٢٤٠ میں ہو ہذا آئیں جس سے مکان اور دیواریں قیامت آگئی۔‘‘

دیکھو ص ٢٤١ میں ہو ہذا جس سے بہت سے مکانات گر گ ہوگئے۔‘‘

دیکھو ص ٢٤٦ میں ہو شرارے رات کو سمندر کی طرف چل

پھر ٢٤٥ھ میں مدین مدینہ منورہ سے خطوط پہنچے کہ شب پھر سخت زلزلہ آیا اور تھوڑی دیر تک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں قرطبہ کے قریب سخت آ گ تو یہ معلوم ہوا تھا کہ ہمارے پاس

صفحہ ٥٨٣

”پھر ٤٦٠ھ میں رملہ میں ایسا زلزلہ آیا کہ اس کو بالکل تباہ کر دیا۔ زمین سے پانی نکل آیا۔ پچیس ہزار آدمی ہلاک ہو گئے۔ سمندر بقدر ایک روز راہ ہٹ گیا۔ لوگ وہاں مچھلیاں پکڑ رہے تھے۔ یکا یک پانی چڑھ آیا۔ لوگ وہیں رہ گئے۔“

دیکھو ص ٢٢٤ میں ہو ہذا۔ ”٤٦٤ھ میں جانوروں میں سخت وبا پڑی۔ جس میں ریوڑ غارت ہو گئے۔“

دیکھو ص ٢٤٢ میں ہو ہذا۔ ”٥٤١ھ میں ٣٠ رمضان کو بھی چاند نہ دکھائی دیا۔ دوسرے روز لوگوں نے روزہ رکھا۔ شام کے وقت بھی چاند نہ دکھائی دیا۔ حالانکہ مطلع صاف تھا۔ یہ ایک ایسی بات ہے کہ ایسا کبھی نہیں ہوا تھا۔“

دیکھو ص ٢٤٤ میں ہو ہذا۔ ”٥٤٣ھ میں بغداد میں نو، دس دفعہ زلزلہ آیا اور حلوان کا ایک پہاڑ ٹوٹ کر گر گیا۔“

دیکھو ص ٢٤٤ میں ”٥٤٥ھ یمن میں خون کا مینہ برسا۔ کئی روز تک زمین سرخ رہی اور لوگوں کے کپڑوں پر نشان باقی رہے۔“

دیکھو ص ٢٤٠ میں ہو ہذا۔ ”٥٩٢ھ میں ایک بڑا تارا ٹوٹا اور اس کے بعد سخت آوازیں آئیں جس سے مکان اور دیواریں ہل گئیں۔ لوگوں نے بڑی دعائیں مانگیں اور خیال کیا کہ قیامت آگئی۔“

دیکھو ص ٢٤١ میں ہو ہذا۔ ”٥٩٧ھ میں مصر میں اور شام میں جزیرہ میں سخت زلزلہ آیا جس سے بہت سے مکانات گر گئے اور قلعہ گر پڑے اور بصرہ کے پاس بہت سے گاؤں خسف ہو گئے۔“

دیکھو ص ٢٤٦ میں ہو ہذا۔ ”٦٠٢ھ میں عدن میں ایک آگ ظاہر ہوئی۔ جس سے شرارے رات کو سمندر کی طرف چلتے معلوم ہوتے تھے اور دن کو دریا سے دھواں اٹھتا دکھائی دیتا تھا۔“

پھر ٦٤٥ھ میں مدینہ منورہ میں آگ ظاہر ہوئی۔ ابوشامہ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس مدینہ منورہ سے خطوط پہنچے کہ شب چہارشنبہ ٣ جمادی الآخر کو مدینہ منورہ میں گرج کی آواز آئی اور پھر سخت زلزلہ آیا اور تھوڑی دیر تک برابر زلزلہ آتا رہا۔ یہ حالت ٥ جمادی الآخر تک رہی۔ پھر حرہ

میں قریظہ کے قریب سخت آگ معلوم ہوئی۔ شہر مدینہ شریف میں ہم گھروں میں بیٹھے ہوئے تھے تو یہ معلوم ہوا تھا کہ ہمارے پاس ہی آگ لگی ہوئی ہے۔ اس کے اثر سے وادی شظا میں پانی نکل

١٤٧

صفحہ ٥٨٤

آیا اور اس بڑے قصر کے برابر شرارے نکلتے معلوم ہوتے تھے۔ یہاں تک کہ مکہ کے رہنے والوں کی آنکھیں ان شراروں سے چندھیا جاتی تھیں۔ لوگ قبر شریف حضور ﷺ پر حاضر ہو کر توبہ اور استغفار کرنے لگے۔ یہ حالت کئی مہینہ تک باقی رہی۔“

دیکھو ص ٢٦٠ میں ہو ہذا۔ ”٧٤٩ھ میں ایسا سخت طاعون ہوا کہ اس کی مثل کبھی نہ سنا گیا ۔“

دیکھو ص ٢٦١ میں ہو ہذا۔ ”٧٥٤ھ میں طرابلس میں ایک لڑکی نصیبہ نامی تھی۔ تین مردوں سے اس کا نکاح ہوا۔ مگر کوئی اس پر قادر نہ ہو سکا۔ جب اس کی عمر پچیس برس کی ہوئی تو اس کے پستان غائب ہو گئے۔ پھر اس کی شرمگاہ سے کچھ گوشت ابھرنا شروع ہو گیا۔ رفتہ رفتہ کئی انگشت کے مرد کی علامت بن گئی ۔“

دیکھو ص ٢٦٢ میں ”٧٧٨ھ میں آفتاب اور ماہتاب دونوں کو پورا گہن لگا۔ ١٤ شعبان کو چاند نکلا تو گہن لئے ہوئے اور ٢٨ شعبان کو آفتاب کو گہن لگا ۔“

تمام دینی بھائیوں کی خدمت میں التماس ہے اگر کوئی صاحب ہمت ٧٧٨ھ کے بعد کے خدا کی قدرت کے عجائب نشانات تسلسل وار درج اخبار اہل حدیث یا رسالہ مرقع قادیانی میں درج کروائے تو میں امید کرتا ہوں کہ انشاء اللہ تمام لوگ خدا کی قدرت کے عجائب نشانات پڑھ سن کر قادیانی کے دھوکہ سے بچ جاویں گے۔

سوم ........ یہ کہنا کہ یہ حوادث عیسیٰ پرستی کا نتیجہ ہیں۔ بدیہی البطلان ہے۔ کیونکہ اگر عیسیٰ پرستی کی وجہ سے یہ حوادثات ہوتے تو چاہئے یہ تھا کہ عیسائی لوگ ہی طاعون سے بکثرت ہلاک ہوتے ۔ نہ کہ ہندو اور مسلمان۔ تمام زلازل عیسائی ملکوں میں ہی آتے ۔ نہ کہ کانگڑہ اور فارموسا اور جاپان میں ۔ قحط اور ہیضہ سے عیسائی لوگ ہی تباہ ہوتے ۔ نہ کہ ہندو اور مسلمان۔

چہارم...... جو باتیں مشاہدہ اور تاریخ عالم کے خلاف ہوں ان کی بناء پر ہمیشہ اپنی نبوت اور رسالت ثابت کرتے رہنا اور ان کو قرآن کی طرف منسوب کرنا، اگر کفر اور ارتداد اور آبلہ فریبی نہیں تو اور کیا ہے؟

٤...... شہاب ثاقب اور دمدار ستاروں کو جب کبھی وہ ظاہر ہوتے ہیں، اپنی تصدیق میں دلائل قاطعہ بنا لیتے ہیں۔ حالانکہ علم ہیئت و نجوم کا یہ مسئلہ ہے کہ کروڑ ہا اجسام سورج کے گرد گھومتے رہتے ہیں۔ جب وہ کرہ ہوائی متعلقہ زمین کے اندر آتے ہیں تو رگڑ سے گرم اور روشن ہو جاتے ہیں۔ بعض اوقات یہ اجسام یا ان کے اجزاء زمین پر آ گرتے ہیں۔ ہر سال اگست اور نومبر

١٤٨

میں ان کی بوچھاڑ نہایت کثرت سے درجہ کی روشنی ہوتی ہے اور مہینوں میں دار ستارے بھی ہمیشہ کے بعد ہمیشہ نظر آتے رہتے ہیں پچھتر سال کے بعد نظر آتا ہے۔ کمیٹ ۔ (٤) لائیڈ صاحب نے مشرق سے مغرب کو چلتے ہیں اور ف کی شاخوں یا دندانوں والی۔ الغرض قدرت الہی کا اور مقررہ مدتوں کے بعد بار بار نظر مسخر اپنے اپنے اوقات پر ظہور کر بنا رکھا ہے۔ جیسا کہ قرآن مجید فرماتا وجعلناہ رجوما للشيطن انہیں میں سے مرزا قاد للغیب کرتے رہتے اور ان کے علم ........... الہامات قدیم جو پہلے ہوتے رہے۔ پھر (اربعین ص ٣٦ ( حقیقت الوحی ص ١٠٨، ١٨٦، خزائن ج .......... خاتمہ کی پیشانی تو یہ د کی عبارتیں نقل نہیں کیں نہ ان کے ہے یا ایک مرید کے سوالات در الدجال، بار بار کھٹکھٹایا ہے۔ مگر کوئی بلکہ ابلہ فریبی ، بددیانتی اور دھوکہ دہی ہی جواب لکھ مارا۔ جس سے م عبدالحکیم خاں کی کتاب کو نہیں پڑھے

صفحہ ٥٨٥

میں ان کی بوچھاڑ نہایت کثرت سے نظر آتی ہے۔ نومبر کی بوچھاڑ میں ہر ٣٣ سال کے بعد انتہاء درجہ کی روشنی ہوتی ہے اور مہینوں میں بوچھاڑیں کم ہوتی ہیں۔ دیکھو انسائیکلو پیڈیا بری ٹینیکا۔

دمدار ستارے بھی ہمیشہ گردش میں ہیں۔ ان میں سے ایک ایسے ہیں جو خاص مدت کے بعد ہمیشہ نظر آتے رہتے ہیں۔ ان میں سے بڑے مشہور یہ ہیں: (١) ہیلے صاحب کا جو قریباً پچہتر سال کے بعد نظر آتا ہے۔ (٢) اینکی صاحب کا جس کا زمانہ ١٢٦٠ دن ہے۔ (٣) بیلاز کیمٹ۔ (٤) لالینڈ صاحب نے سو کے قریب دمدار ستارے شمار کئے ہیں۔ جن میں سے نصف مشرق سے مغرب کو چلتے ہیں اور نصف ان کے مخالف سمت میں بعض کی دم ایک ہوتی ہے۔ بعض کی شاخدار یا دو دموں والی۔

(دیکھو ماڈرن انسائیکلو پیڈیا)

الغرض قدرت الٰہی کا یہ بھی ایک انتظام ہے کہ دمدار ستارے ایک خاص رفتار سے چلتے اور مقررہ مدتوں کے بعد بار بار نظر آتے رہتے ہیں۔ شہاب ثاقب بھی اسی کی قدرت اور نظام کے مسخر اپنے اپنے اوقات پر ظہور کرتے ہیں۔ مگر شیطانوں نے ان کو ڈھکونسلے بازیوں کا ذریعہ بنا رکھا ہے۔ جیسا کہ قرآن مجید فرماتا ہے: ”ولقد زینا السماء الدنیا بمصابیح وجعلناہ رجوما للشیطن“

انہیں میں سے مرزا قادیانی اور مرزائی ہیں جو شہابوں اور دمدار ستاروں کی نسبت رجماً للغیب کرتے رہتے اور ان کے ظہور کو اپنی تصدیق میں پیش کیا کرتے ہیں۔

ہوتے رہے۔ پھر (اربعین ص ٣٦ تا ٥٢، خزائن ج ١٧ ص ٤٥١، ٤٨٥) شائع ہوئے۔ انہیں کو پھیلا کر (حقیقت الوحی ص ٧٠ تا ١٠٨، خزائن ج ٢٢ ص ٧٣ تا ١١١) شائع کر دیا۔

کی عبارتیں نقل نہیں کیں نہ ان کے دلائل کو توڑا۔ بلکہ اپنے ہی الفاظ میں ایک اعتراض پیش کر دیا ہے یا ایک مرید کے سوالات درج کر دیئے ہیں اور انہیں کا جواب دینا شروع کر دیا ہے۔ المسیح الدجال، بار بار کھٹکھٹایا ہے۔ مگر کوئی اعتراض اس نے نقل نہیں کیا۔ نہ اس کی کوئی دلیل نقل کی ہے۔ بلکہ ابلہ فریبی، بددیانتی اور دھوکہ دہی کے طریق پر اپنی طرف سے ایک آسان سوال گھڑ لیا اور آپ ہی جواب لکھ مارا۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی کو یہ کامل یقین ہے کہ اس کے مرید عبدالحکیم خاں کی کتاب کو نہیں پڑھتے۔ اس لئے ان کے لئے اسی قدر کافی ہے کہ المسیح الدجال کا نام

١٤٩

صفحہ ٥٨٨

معاملہ میں اس کے تحدیانہ الفاظ کیسے کلام خدا ٹھہر سکتے ہیں۔ چونکہ ڈوئی امریکہ و یورپ میں مشہور ہو چکا تھا۔ اس لئے وہاں کے اخبارات نے مرزا قادیانی کی دعوت مباہلہ کو شائع کر دیا تھا۔ اب مرزا قادیانی نے بے فائدہ بتیس اخبارات یورپ و امریکہ کے حوالہ جات اپنی تائید میں پیش کر دیئے ہیں۔ جن میں وہ دعوت مباہلہ شائع ہو چکی تھی۔ بتیس اخبار تو کیا۔ اگر کروڑ اخباروں کے حوالے بھی دیئے جائیں کہ ان میں دعوت مباہلہ شائع ہو گئی تھی تو اس سے یہ کیسے ثابت ہو سکتا ہے کہ مرزا قادیانی کا اور ڈوئی کا مباہلہ ہو چکا تھا۔ اس لئے وہ مرزا قادیانی کی زندگی میں مر گیا یا مرزا قادیانی نے اس کی بابت کوئی پیش گوئی کی تھی۔ اس کے مطابق وہ مرا۔ ایک بے بنیاد بات پر بارہ صفحہ بھرتے چلے جانا صاف عیاری اور دھوکہ دہی کی دلیل ہے۔

ہیں۔ خواہ کسی طاعونی موت پر چسپاں کر لیتے۔ خواہ کسی زلزلہ پر۔ مگر ٣١؍ مارچ کو جب شہاب ثاقب کا ظہور ہوا تو فوراً اس پر چسپاں کر لیا اور باون مقامات سے مریدوں کے خطوط آمدہ درج کر کے اس کو روشن نشان بناتے چلے گئے۔ ٣١؍ مارچ کو جو شہاب نمودار ہوئے۔ مرزا قادیانی کو اس کے ثبوت کی ضرورت نہیں تھی۔ کیونکہ ان کا ذکر تو تمام اخبارات میں تھا۔ مرزا قادیانی کو تو یہ ثابت کرنا تھا کہ شہاب ثاقب کی بابت فلاں فلاں اخبار یا اشتہار یا کتاب میں پیش گوئی کی گئی تھی۔

دکھایا۔ حالانکہ دکھانا محض اس قدر تھا کہ ہم نے اس کی موت کی پیش گوئی کی تھی یا یہ کہا تھا کہ وہ میری زندگی میں طاعون سے ہلاک ہو جائے گا یا اس کے ساتھ کوئی مباہلہ ہوا تھا۔ مگر افسوس کہ ان کے معاملہ میں عیاری اور چالاکی کی کوئی حد نہیں رکھی۔ ہاں! اس کی نسبت مرزا قادیانی کا یہ الہام تو ضرور تھا کہ ”وہ اور مولوی محمد حسین اس پر ایمان لے آئیں گے۔“ سو اس داغ کو مٹانے کے واسطے رنگ آمیزیوں اور بے بنیاد تاویلات اور تحریفات میں ہی ٥٥ صفحہ سیاہ کر دیئے۔ میں نے ان تمام صفحوں کو ہر چند غور سے پڑھا۔ مگر سوائے بے فائدہ تکرار اور بیہودہ تاویلات کے کچھ بھی نہ ملا۔

تحدی کے اور باقی تمام الہامات کے مجموعہ سے بھی زیادہ تھے۔ ان کے متعلق کچھ بھی ذکر نہیں کیا اور تمام بے حد لم ترانیاں خاک میں مل گئیں۔ کیا تو یہ شور و شر۔ ”کان الله نزل من السماء“ کیا یہ مطلق خاموشی۔

١٥٢

صفحہ ٥٨٩

فصل یازدہم: دلیل خسوف و کسوف کا ابطال

”ان لمهدينا ايتين لم تكونا منذ خلق السموات والارض تنكسف القمر لاول ليلة من رمضان وتنكسف الشمس فى النصف منه“ ہمارے مہدی کے واسطے دو نشان ہیں جو ابتدائے پیدائش زمین و آسمان سے آج تک نہیں ہوئے۔ یعنی قمر تو رمضان کے اوّل شب میں گہنائے گا اور سورج اس کے نصف میں گہنائے گا۔ یہ ایک موضوع قول ہے جس کو دارقطنی میں امام محمد باقر علیہ السلام کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔ اس کو مرزائیان بڑے دعووں کے ساتھ ہمیشہ مرزا قادیانی کی تصدیق میں پیش کیا کرتے ہیں۔ حالانکہ یہ ایک صریحاً باطل امر ہے۔ اوّل: تو علم حدیث کی رو سے یہ ایک ضعیف قول ہے۔ کیونکہ محدثین رحمہم اللہ نے اس قول کے دو راویوں یعنی عمرو اور جابر جعفی کو کذاب اور وضاع احادیث بیان کیا ہے۔ مگر مرزا قادیانی نے اس وضعی قول کو رسائل اربعہ کے ص ٤٦ پر حدیث نبی قرار دیا اور ”مــــن كذب على متعمدا فليتبوا مقعده من النار “ کا مصداق بنا ہے۔ دوم: یہ وضعی قول اس حدیث صحیحین کے خلاف ہے جس میں آنحضرتﷺ نے چاند سورج کو اللہ تعالیٰ کی دو نشانیاں بتلا کر فرمایا ہے کہ ان کو گرہن لگنا کسی کی موت وحیات سے کچھ تعلق نہیں رکھتا۔ سوم: الفاظ کے لحاظ سے یہ قول صریحاً باطل ہے۔ کیونکہ چاند گرہن پہلی رات کو نہیں ہوا کرتا اور نہ سورج گرہن نصف مہینہ میں ہوتا ہے۔ مگر مرزا قادیانی تحریف معنی کر کے اس کا ترجمہ اس طرح کرتے ہیں کہ چاند اس پہلی رات کو گہنائے گا جو اس کے خسوف کی راتوں یعنی تیرھویں، چودھویں اور پندرھویں میں سے پہلی رات ہے اور سورج گرہن اپنے گرہن کے ایام یعنی ٢٧، ٢٨، ٢٩ تواریخ کے نصف گہنائے گا۔ چہارم: علم نجوم اور ہیئت کی رو سے یہ خیال بالکل غلط ہے کہ جس ترتیب سے کسی رمضان میں چاند و سورج گرہن ایک بار ھویں پھر کبھی نہ ہوں۔ کیونکہ قمری دور ٢٢٣ سال کا ہوتا ہے اور شمسی دور ١٨ سال ١٠ دن (کبھی ١١ یا ١٢ دن) ٧ گھنٹہ ٤٢ منٹ اور ٣٣ سیکنڈ کا۔ ایک دور کے بعد چاند اور سورج گرہن پھر اسی ترتیب سے واقع ہونے شروع ہو جایا کرتے ہیں کہ جس ترتیب سے دور گذشتہ میں واقع ہوئے تھے۔ (حدائق النجوم ص ٧٠٦ تا ٧٠٧، مسٹر نارمن لوکئیر کی اسٹرانومی ص ١٠٢) اس قاعدہ کے بموجب سٹر کیتھ نے اپنی کتاب یوز آف دی گلوبس میں کسوف وخسوف کی جدول ص ٢٧٣ تا ٢٧٦ تک شائع کی ہے اور کلیہ قواعد بیان کئے ہیں جن کی رو سے ابتدائے سنہ ہجری سے ١٣١٢ھ تک جن سالوں میں اسی التزام سے چاند و سورج گرہن ماہ رمضان المبارک میں واقع ہوئے۔ حسب ذیل ہیں۔

١٥٣

صفحہ ٥٩٠

ایک گرہن دور دور دور دور دور دور دوسرے گرہن اول دوم سوم چہارم پنجم ششم سے کتنے عرصہ بعد ہوگا ایک سال بعد ١٨ ٢٤١ ٤٦٤ ٦٨٧ ٩١٠ ١١٣٣ اس نقشہ سے ظاہر ہے کہ ٤٤ سال بعد ٦٢ ٢٨٥ ٥٠٨ ٧٣١ ٩٥٤ ١١٧٧ ٢٢٣ سال کے ایک دور قمری ایک سال بعد ٦٣ ٢٨٦ ٥٠٩ ٧٣٢ ٩٥٥ ١١٧٨ میں دس دفعہ ماہ رمضان المبارک ٢٢ سال بعد ٨٥ ٣٠٨ ٥٣١ ٧٥٤ ٩٧٧ ١٢٠٠ میں چاند وسورج گرہن ہوتے ٢٢ سال بعد ١٠٧ ٣٣٠ ٥٥٣ ٧٧٦ ٩٩٩ ١٢٢٢ ہیں۔ مرزا قادیانی نے (حقیقت ایک سال بعد ١٠٨ ٣٣١ ٥٥٤ ٧٧٧ ١٠٠٠ ١٢٢٣ الوحی ص ١٩٥، خزائن ج ٢٢ ص ٢٠٢) پر ٤٤ سال بعد ١٥٢ ٣٧٥ ٥٩٨ ٨٢١ ١٠٤٤ ١٢٦٧ یہ بھی جتلا یا ہے کہ مہدی موعود ٤٤ سال بعد ١٩٦ ٤١٩ ٦٤٢ ٨٦٥ ١٠٨٨ ١٣١١ کے وقت میں دو دفعہ چاند سورج ایک سال بعد ١٩٧ ٤٢٠ ٦٤٣ ٨٦٦ ١٠٨٩ ١٣١٢ گرہن لگے۔

ماہ رمضان میں ہونے کی حدیثوں میں خبر دی گئی ہے۔ چنانچہ دوسری مرتبہ ان ہی تاریخوں ١٣/ ٢٨ کو چاند گرہن ملک امریکہ میں ہوا۔ حکیم نورالدین نے رسالہ نورالدین کے ص ٦٨ پر لکھا کہ دوسری مرتبہ ملک امریکہ میں ١٣١٢ھ میں ہوا تھا۔ مگر آپ نے وہ حدیث نہیں لکھی جس سے ثابت ہوتا ہے کہ مہدی کے وقت میں دومرتبہ چاند سورج گرہن ١٣/ ٢٨ تاریخ کو ہوں گے اور رمضان المبارک ١٣١٢ھ میں جو چاند گرہن اور سورج گرہن امریکہ میں ہوئے وہ تیرھویں رات اور ٢٨ ویں دن کو نہیں ہوئے بلکہ چودھویں رات اور ٢٩ ویں دن کو ہوئے تھے۔ ہاں! یہ ضرور ہے کہ ہندوستان میں ١٣ اور ٢٨ ہی تاریخیں تھیں۔ اس حساب سے وہ تمام کسوف وخسوف جو جدول متذکرہ بالا میں دکھائے گئے ہیں سب کے سب کسی نہ کسی ملک کے لحاظ سے ١٣ اور ٢٨ تاریخوں میں شمار ہو سکتے ہیں اور قول متنازعہ فیہ میں اوّل اور نصف کی قید بھی کل دنیا کے لحاظ سے باطل ہے۔

پنجم...... جب مرزا قادیانی کو یہ جتلایا گیا کہ تیرھویں اور اٹھائیسویں رمضان میں چاند وسورج گرہن اکثر ہوتے رہے ہیں تو جھٹ چالا کی سے یہ شرط لگا دی کہ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ اس وقت کوئی مدعی مہدویت یا رسالت (سچا یا جھوٹا) موجود ہو۔ (رسالہ اربعین ص ٣٦) اگر کسی کا یہ دعویٰ ہے کہ: ”کسی مدعی مہدویت یا نبوت یا رسالت کے وقت میں رمضان میں کبھی کسی زمانہ میں کسوف

١٥٤

وخسوف اس ترتیب سے جمع ہوئے ص ١٩٦، خزائن ج ٢٢ ص ٢٠٣، ٢٠٤) اب میں چند ایسے مدعیان مہدویت کا ثبوت گرہن اسی ترتیب سے جمع ہوئے ۔ ہو چکے ہوں گے۔

مدعی مہدویت سن پیدائش یا رسالت یا دعویٰ جو محمد بن حنفیہ ٢١ھ امام جعفر ٨٠ھ موسیٰ کاظم ١٢٨ھ حسن عسکری ٢٣١ھ محمد بن حسن عسکری پیدائش ٢٣٥ھ عباس ٩٠ھ تو ریزی صدی ؟ محمد ١٠٧ھ محمد بن عبداللہ بصری ٩١ھ عیسی بن مردویہ شامی ٢٩١ھ سید محمد ٧٠٠ھ سید احمد بریلوی تیرہویں صدی محمد عبداللہ مہدی ٢٩٦ھ محمد احمد سوڈانی ١٢٩٩ھ محمد عبداللہ بن عمر ١٣٠١ھ محمد علی بابی ١٢٣٩ شیخ محمد خراسانی دسویں صدی محمد سینوسی ١٢٧٦ھ ڈوئی رسول امریکہ ١٣٢٥ھ مہدی شامی ١٣١٣ وجیہ الدین حیدر آبادی ١٣١٣ حسن بن صباح دعویٰ ٤٨٣ عبدالمومن ٤٩٠

صفحہ ٥٩١

وخسوف اس ترتیب سے جمع ہوئے تو اس کا فرض ہے کہ اس کا ثبوت دیوے۔“ (حقیقت الوحی ص ١٩٦، خزائن ج ٢٢ ص ٢٠٣، ٢٠٤) اب ہم جھوٹے گو گھر تک پہنچانے کی غرض سے تیرہ سو سالہ ہجری میں چند ایسے مدعیان مہدویت کا ثبوت دیتے ہیں جن کے وقت میں ماہ رمضان میں چاند و سورج گرہن اسی ترتیب سے جمع ہوئے۔ اس حساب سے ابتدائے آفرینش سے تو ایسے گرہن لاکھوں ہو چکے ہوں گے۔

مدعی مہدویت سن پیدائش یا وفات حوالہ کتاب سنین قمری جن میں ماہ رمضان نبوت یا رسالت یا دعویٰ جو معلوم ہے میں کسوف وخسوف واقع ہوا۔ بموجب یوز آف دی گلوبس محمد بن حنفیہ ٢١ھ تا ٨١ھ غایت المقصود ص ٣٨ ٦٢ھ، ٦٣ھ امام جعفر ٨٠ھ تا ١٤٨ھ غایت المقصود ص ٣٨ ١٠٧ھ، ١٠٨ھ، ١٠٩ھ موسیٰ کاظم ١٢٨ھ تا ١٨٣ھ ابن خلکان ١٥٢ھ حسن عسکری ٢٣١ھ تا ٢٦٠ھ ابن خلکان ص ١٤٧ ٢٣١ھ، ٢٣٢ھ محمد بن حسن عسکری پیدائش ٢٢٥ھ، غیبت ٢٦٦ھ ابن خلکان ٢٣١ھ، ٢٣٢ھ عباس ٩٠ھ میں دعویٰ کیا عسل مصفیٰ ٧٦ھ، ٧٧ھ، ٧٨ھ تویزی صدی ہشتم کا شروع حدیث الغاشیہ ص ٣٤١ ٧٢٦ھ، ٧٢٧ھ محمد ١٠٧٠ھ میں دعویٰ کیا مہدی نامہ ص ٩ ١٠٨٨ھ، ١٠٨٩ھ محمد بن عبداللہ بصری ٨٩١ھ میں دعویٰ کیا ہدیۃ المہدیہ ص ١٨٩ ٩١٠ھ، ٩١١ھ عیسیٰ بن مہرویہ شامی ٢٩١ھ میں فوت ہوا تاریخ الخلفاء ص ٢٥٨ ٢٨٥ھ، ٢٨٦ھ سید محمد ٧٠٠ھ میں دعویٰ کیا مہدی نامہ ٦٨٧ھ، ٦٨٨ھ سید احمد بریلوی تیرہویں صدی کے شروع تواریخ احمدی ١٢٠٠ھ، ١٢٢٢ھ، ١٢٢٣ھ محمد عبداللہ مہدی ١٢٩٦ھ میں دعویٰ کیا عسل مصفیٰ ١٢٨٥ھ، ١٢٨٦ھ، ١٣٠٨ھ محمد احمد سوڈانی ١٢٩٩ھ میں دعویٰ کیا عسل مصفیٰ ١٣١١ھ، ١٣١٢ھ، ١٢٦٧ھ محمد عبداللہ بن عمر ١٣٠١ھ میں دعویٰ کیا عسل مصفیٰ ١٣١١ھ، ١٣١٢ھ محمد علی بابی ١٢٣٩ھ تا ١٢٦٦ عسل مصفیٰ ١٢٦٧ھ شیخ محمد خراسانی دسویں صدی ہجری تک ہدیۃ المہدیہ ص ١٦١ ٩١٠ھ، ٩١١، ٩٥٤ھ، ٩٥٥ھ محمد سینوسی ١٢٧٦ھ میں انتقال عسل مصفیٰ ١٢٦٧ھ ڈوئی رسول امریکہ ١٣٢٥ھ میں فوت ہوا آبزرور، حقیقت الوحی ١٣١١ھ، ١٣١٢ھ مہدی شامی ١٣١٣ھ میں دعویٰ کیا عسل مصفیٰ ١٢١٠ھ، ١٢٢٢ھ، ١٢٢٣ھ وجہ الدین حیدر آبادی ١٣١٣ھ میں دعویٰ کیا عسل مصفیٰ ١٣١١ھ، ١٣١٢ھ حسن بن صباح دعویٰ ٤٨٣ھ، فوت ٥١٨ھ عسل مصفیٰ ٥٠٨ھ، ٥٠٩ھ عبدالمومن ٤٩٠ھ تا ٥٥٨ھ عسل مصفیٰ ٥٠٨ھ، ٥٠٩ھ، ٥٣١ھ، ٥٥٣ھ، ٥٥٤ھ

١٥٥

صفحہ ٥٩٠

٥٩٠

ایک گرہن دور دور دور دور دور دور دوسرے گرہن اول دوم سوم چہارم پنجم ششم سے کتنے عرصہ بعد ہوگا ١٨ ٢٤١ ٤٦٤ ٦٨٧ ٩١٠ ١١٣٣ اس نقشہ سے ظاہر ہے کہ ایک سال بعد ١٩ ٢٤٢ ٤٦٥ ٦٨٨ ٩١١ ١١٣٤ ٢٢٣ سال کے ایک دور قمری ٤٣ سال بعد ٦٢ ٢٨٥ ٥٠٨ ٧٣١ ٩٥٤ ١١٧٧ میں دس دفعہ ماہ رمضان المبارک ایک سال بعد ٦٣ ٢٨٦ ٥٠٩ ٧٣٢ ٩٥٥ ١١٧٨ میں چاند و سورج گرہن ہوتے ٢٢ سال بعد ٨٥ ٣٠٨ ٥٣١ ٧٥٤ ٩٧٧ ١٢٠٠ ہیں۔ مرزا قادیانی نے (حقیقت ٢٢ سال بعد ١٠٧ ٣٣٠ ٥٥٣ ٧٧٦ ٩٩٩ ١٢٢٢ الوحی ص ١٩٥، خزائن ج ٢٢ ص ٢٠٢) پر ایک سال بعد ١٠٨ ٣٣١ ٥٥٤ ٧٧٧ ١٠٠٠ ١٢٢٣ یہ بھی جتلایا ہے کہ مہدی موعود ٤٤ سال بعد ١٥٢ ٣٧٥ ٥٩٨ ٨٢١ ١٠٤٤ ١٢٦٧ کے وقت میں دو دفعہ چاند سورج ٤٤ سال بعد ١٩٦ ٤١٩ ٦٤٢ ٨٦٥ ١٠٨٨ ١٣١١ گرہن لگے۔ ایک سال بعد ١٩٧ ٤٢٠ ٦٤٣ ٨٦٦ ١٠٨٩ ١٣١٢

ماہ رمضان میں ہونے کی حدیثوں میں خبر دی گئی ہے۔ چنانچہ دوسری مرتبہ ان ہی تاریخوں ١٣/ ٢٨ کو چاند گرہن ملک امریکہ میں ہوا۔ حکیم نورالدین نے رسالہ نورالدین کے ص ٦٨ پر لکھا کہ دوسری مرتبہ ملک امریکہ میں ١٣١٢ھ میں ہوا تھا۔ مگر آپ نے وہ حدیث نہیں لکھی جس سے ثابت ہوتا ہے کہ مہدی کے وقت میں دو مرتبہ چاند سورج گرہن ١٣/ ٢٨ تاریخ کو ہوں گے اور رمضان المبارک ١٣١٢ھ میں جو چاند گرہن اور سورج گرہن امریکہ میں ہوئے وہ تیرھویں رات اور ٢٨ ویں دن کو نہیں ہوئے بلکہ چودھویں رات اور ٢٩ ویں دن کو ہوئے تھے۔ ہاں ! یہ ضرور ہے کہ ہندوستان میں ١٣ اور ٢٨ ہی تاریخیں تھیں۔ اس حساب سے وہ تمام کسوف وخسوف جو جدول متذکرہ بالا میں دکھائے گئے ہیں سب کے سب کسی نہ کسی ملک کے لحاظ سے ١٣ اور ٢٨ تاریخوں میں شمار ہو سکتے ہیں اور قول متنازعہ فیہ میں اوّل اور نصف کی قید بھی کل دنیا کے لحاظ سے باطل ہے۔

پنجم ...... جب مرزا قادیانی کو یہ جتلایا گیا کہ تیرھویں اور اٹھائیسویں رمضان میں چاند و سورج گرہن اکثر ہوتے رہے ہیں تو جھٹ چالاکی سے یہ شرط لگا دی کہ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ اس وقت کوئی مدعی مہدویت یا رسالت ( سچا یا جھوٹا) موجود ہو۔ (رسالہ اربعین ص ٤٦) اگر کسی کا یہ دعویٰ ہے کہ ”کسی مدعی مہدویت یا نبوت یا رسالت کے وقت میں رمضان میں کبھی کسی زمانہ میں کسوف

١٥٤

وخسوف اس ترتیب سے جمع ہوئے تو اس کا ص ١٩٦، خزائن ج ٢٢ ص ٢٠٣، ٢٠٤) اب ہم جھوٹے میں چند ایسے مدعیان مہدویت کا ثبوت دیتے گرہن اسی ترتیب سے جمع ہوئے۔ اس حساب ہو چکے ہوں گے۔

مدعی مہدویت سن پیدائش یا وفات نبوت یا رسالت یا دعویٰ جو معلوم ہے محمد بن حنفیہ ١٦ھ تا ٨١ھ امام جعفر ٨٠ھ تا ١٤٨ھ موسیٰ کاظم ١٢٨ھ تا ١٨٣ھ حسن عسکری ٢٣١ھ تا ٢٦٠ھ محمد بن حسن عسکری پیدائش ٢٢٥ھ، غیبت ٢٦ عباس ٩٠ھ میں دعویٰ کیا تویزی صدی ہشتم کا شروع محمد ١٢٧٠ھ میں دعویٰ کی محمد بن عبداللہ بصری ٩١ھ میں دعویٰ کی عیسیٰ بن مہرویہ شامی ٢٩١ھ میں فوت ہو سید محمد ٧٠٠ھ میں دعویٰ کی سید احمد بریلوی تیرھویں صدی کے شر محمد عبداللہ مہدی ٢٦٦ھ میں دعویٰ کی محمد احمد سوڈانی ١٢٩٩ھ میں دعویٰ محمد عبداللہ بن عمر ١٣٠١ھ میں دعویٰ محمد علی باب ١٢٣٩ھ تا ١٢٦٩ شیخ محمد خراسانی دسویں صدی ہجری محمد سینوسی ١٢٧٦ھ میں انتقال ڈوئی رسول امریکہ ١٣٢٥ھ میں فوت ہ مہدی شامی ١٣١٣ھ میں دعویٰ وجہ الدین حیدرآبادی ١٣١٣ھ میں دعویٰ حسن بن صباح دعویٰ ٤٨٣ھ فوت ٨ عبدالمومن ٤٩٠ھ تا ٥٥٨ھ

صفحہ ٥٩١

وخسوف اس ترتیب سے جمع ہوئے تو اس کا فرض ہے کہ اس کا ثبوت دیوے۔“ (حقیقت الوحی ص١٩٦،خزائن ج٢٢ ص٢٠٣،٢٠٢) اب ہم جھوٹے کو گھر تک پہنچانے کی غرض سے تیرہ سو سالہ ہجری میں چند ایسے مدعیان مہدویت کا ثبوت دیتے ہیں جن کے وقت میں ماہ رمضان میں چاند و سورج گرہن اسی ترتیب سے جمع ہوئے۔ اس حساب سے ابتدائے آفرینش سے تو ایسے گرہن لاکھوں ہوچکے ہوں گے۔

مدعی مہدویت سن پیدائش یا وفات حوالہ کتاب سنین قمری جن میں ماہ رمضان نبوت یا رسالت یا دعویٰ جو معلوم ہے میں کسوف وخسوف واقع ہوا۔ بموجب پور آف دی گلوبس محمد بن حنفیہ ٢١ھ تا ٨١ھ غایت المقصود ص ٣٨ ٦٢ھ، ٦٣ھ امام جعفر ٨٠ھ تا ١٤٨ھ غایت المقصود ص ٣٨ ٨٥ھ، ١٠٧ھ، ١٠٨ھ موسیٰ کاظم ١٢٨ھ تا ١٨٦ھ ابن خلکان ١٥٢ھ حسن عسکری ٢٣١ھ تا ٢٦٠ھ ابن خلکان ص١٤٧ ٢٣١ھ، ٢٣٢ھ محمد بن حسن عسکری پیدائش ٢٢٥ھ، غیبت ٢٦٦ھ ابن خلکان ٢٤١ھ، ٢٤٢ھ عباس ٢٩٠ھ میں دعویٰ کیا عسل مصفیٰ ٢٧٦ھ، ٢٧٧ھ نوریزی صدی ہشتم کا شروع حدیث الغاشیہ ص ٣٤١ ٧٣١ھ، ٧٣٢ھ محمد ١٠٧٠ھ میں دعویٰ کیا مہدی نامہ ص٩ ١٠٨٨ھ، ١٠٨٩ھ محمد بن عبداللہ بصری ٩١٠ھ میں دعویٰ کیا ہدیہ مہدویہ ص١٨٩ ٩١٠ھ، ٩١١ھ عیسیٰ بن مہرویہ شامی ٢٩١ھ میں فوت ہوا تاریخ الخلفاء ص ٢٥٨ ٢٨٥ھ، ٢٨٦ھ سید محمد ٩٠٠ھ میں دعویٰ کیا مہدی نامہ ٦٨٧ھ، ٦٨٨ھ سید احمد بریلوی تیرہویں صدی کے شروع تواریخ احمدی ١٢٠٠ھ، ١٢٢٢ھ، ١٢٢٣ھ محمد عبداللہ مہدی ٢٩٦ھ میں دعویٰ کیا عسل مصفیٰ ٢٨٥ھ، ٢٨٦ھ، ٣٠٨ھ محمد احمد سوڈانی ١٢٩٩ھ میں دعویٰ کیا عسل مصفیٰ ١٣١١ھ، ١٣١٦ھ، ١٢٦٧ھ محمد عبداللہ بن عمر ١٣٠١ھ میں دعویٰ کیا عسل مصفیٰ ١٣١١ھ، ١٣١٢ھ محمد علی بابی ١٢٣٩ھ تا ١٢٦٩ عسل مصفیٰ ١٢٦٧ھ شیخ محمد خراسانی دسویں صدی ہجری تک ہدیہ مہدویہ ص ١٦١ ٩١١ھ، ٩٥٢ھ، ٩٥٥ھ محمد سینوسی ١٢٧٦ھ میں انتقال عسل مصفیٰ ١٢٦٧ھ ڈوئی رسول امریکہ ١٣٢٥ھ میں فوت ہوا آبزرور، حقیقت الوحی ١٣١١ھ، ١٣١٢ھ مہدی شامی ١٣١٣ھ میں دعویٰ کیا عسل مصفیٰ ١٢١٠ھ، ١٢٢٢ھ، ١٢٢٣ھ وجہ الدین حیدرآبادی ١٣١٣ھ میں دعویٰ کیا عسل مصفیٰ ١٣١١ھ، ١٣١٢ھ حسن بن صباح دعویٰ ٤٨٣ھ، فوت ٥١٨ھ عسل مصفیٰ ٥٠٨ھ، ٥٠٩ھ عبدالمومن ٣٩٠ھ تا ٥٥٨ھ عسل مصفیٰ ٥٠٨ھ، ٥٠٩ھ، ٥٣١ھ، ٥٥٣ھ، ٥٥٤ھ

١٥٥

صفحہ ٥٩٢

اکبر بادشاہ ہند ٩٨٧ھ تا ١٠١٤ھ تاریخ ہند ٩٩٩ھ، ١٠٠٠ھ محمد تو مرت مہدی ٤٨٥ھ تا ٥٢٤ھ ابن خلکان ص ٣٠ ٥٠٨ھ، ٥٠٩ھ محمود ١١١٨ھ میں مدعی ہوا فصل عمیق ١١٣٢ھ، ١١٣٤ھ، ١٠٨٨ھ، ١٠٨٩ھ

ششم....... اپنی معمولی چالاکی اور افتراء سے (حقیقت الوحی ص ١٩٥) پر یہ لکھ دیا کہ مہدی موعود کے وقت میں دو دفعہ چاند و سورج گرہن کا ماہ رمضان میں ہونا احادیث میں مذکور ہے۔ چنانچہ ایک بار تو ١٣١١ھ میں ہندوستان میں پھر ١٣١٢ھ میں امریکہ میں ہوا۔ اس افتراء سے اغلباً اس کا یہ خیال ہوگا کہ اگر بالفرض کوئی صاحب کسی مدعی مہدویت یا رسالت کے وقت میں ایک بار چاند و سورج گرہن کا ماہ رمضان میں ہونا ثابت کردیں تو اغلباً دوبارہ ثابت کرنا محال ہے۔ مگر نقشہ بالا سے ظاہر ہے کہ ٢٦ مدعیوں میں سے ٢٣ کے وقت میں دوبار چاند و سورج گرہن ماہ رمضان میں ہوئے۔ یہ تو محض ان چند مدعیان کا بیان ہوا جو تیرہ سو سال ہجری میں زیادہ مشہور و معروف ہوئے اور جن کا نام بڑی تاریخوں میں درج ہوگیا۔ ابتدائے آفرینش سے جو سچے یا جھوٹے مہدی و رسول ہوئے ان کا تو کیا حد و حساب ہے۔

ہفتم....... ایک قول مردود کو نبھانے کے واسطے مرزا قادیانی نے قرآن دانی کا بھی خوب ثبوت دیا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ : ”اگر اس حدیث میں مہینے کی پہلی رات مراد ہوتی تو اس جگہ ہلال کا لفظ چاہئے تھا نہ کہ قمر کا۔ کیونکہ کوئی شخص اہل لغت واہل زبان میں سے پہلی رات کے چاند پر قمر کا لفظ اطلاق نہیں کرتا۔ بلکہ وہ تین رات تک ہلال کے نام سے موسوم ہوتا ہے۔“ مرزا کمپنی بتلائے کہ آیاتِ ذیل میں کیا قمر سے مراد محض وہ چاند ہے جو تین تاریخوں سے بعد کا ہو؟

زبان عرب میں چاند کے واسطے اسم جنس سوائے ”قمر“ کے اور کیا ہے؟ کیا قرآن مجید نے لغت عرب کے خلاف قمر کا لفظ چاند کے واسطے غلطی سے استعمال کیا ہے؟

یہ ہے مرزا قادیانی کی سب سے بڑی دلیل جو محدثین کے نزدیک موضوع ہے۔ جو علم ہیئت کے لحاظ سے سراسر لغو اور باطل ہے۔ جو لغت عرب کی رو سے لغو اور باطل ہے اور عام مشاہدہ کی رو سے لغو اور باطل ہے اور جس کے متعلق مرزا قادیانی اور مرزائی بار بار لاف و گزاف شائع کرتے نہیں تھکتے۔

١٥٦

PDF 594

خاتم النبیین لا نبی بعدی

سمعت رسول الله صلی الله علیه وسلم یقول انه لا نبی بعدی

بلائے دمشق

اور

خلافت اسلامیہ

عبدالرب خان براہیم

صفحہ ٥٩٤

اعوذ بالله من الشیطن الرجیم بسم الله الرحمن الرحیم! نحمده ونصلی علیٰ رسوله الکریم! ”ربنا لا تزغ قلوبنا بعد اذ هدیتنا وهب لنا من لدنک ...... انک انت الوهاب“

بالائے دمشق اور خلافت اسلامیہ

آج ہم ایک ایسے موضوع پر قلم اٹھا رہے ہیں جس کی وضاحت نہ صرف اس زمانے کے لئے ضروری ہے بلکہ شاید یہ موضوع دوصدیوں تک لوگوں کی رہنمائی کا کام دے۔ اگر ہم اس موضوع کی پوری تفصیلات میں جائیں تو ایک ضخیم کتاب تالیف ہو جائے۔ لیکن فی الحال ہمارے مدنظر اختصار ہے اور چونکہ مسئلہ کے تمام پہلو ہی نہایت اہم ہیں۔ لہٰذا یہ اختصار ہمارے لئے ایک ذہنی کوفت کا باعث بن رہا ہے اور قلم کی رفتار کے ساتھ ساتھ ذہن میں ایک جنگ جاری ہے کہ کس پہلو کو چھوڑیں اور کسے تحریر میں لاویں۔ ہمیں علم ہے کہ ہمارے بیشتر نقاد پیشہ ور اور ملازم ہیں اور بعض ان میں اپنی کارکردگی کے پیش نظر خطاب یافتہ ہیں اور پھر ان کی رہنمائی کے لئے زمانہ حال کا ایک نہایت خطرناک پرکار وعیار دماغ کام کر رہا ہے جس کے پاس نہ مال کی کمی ہے اور نہ وسائل کی۔ ان خطاب یافتہ پالتو مولویوں اور ان کے سرگروہ کو ہم پیشگی ہی خبردار کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اختصار سے کسی غلط فہمی میں مبتلا نہ ہوں۔ ان کی ذلت و رسوائی کی نوبت قریب آ پہنچی ہے۔ اگرچہ ہماری یہ تحریر مختصر ہے۔ مگر یہ تخم کاری کا کام دے گی اور اس سے انشاء اللہ تعالیٰ حق و صداقت کا ایک ایسا تناور درخت پیدا ہوگا کہ جس کی جڑوں کو یہ باطل پرست چوہے کوئی گزند نہ پہنچا سکیں گے اور اگر بیخ کنی کی نیت سے دانت ماریں گے تو اس کی تاثیرات سے ہی خود بخود ہلاک ہو جائیں گے کہ ان دابۃ الارض اور طاعون کے چوہوں کے لئے اب یہی مقدر ہے کہ ہلاک کئے جاویں۔

ہماری اس تحریر کا فوری محرک خلیفہ ربوہ (مرزا محمود قادیانی) کی وہ تقریر ہے کہ جو انہوں نے جلسہ سالانہ ١٩٥٦ء پر ”خلافت حقہ اسلامیہ“ کے عنوان سے کی۔ ہمارے خیال میں یہ تقریر لوگوں کے دین وایمان کو تباہ اور روحانی قدروں کو پامال کرنے میں اپنی نظیر آپ ہے اور خلیفہ صاحب نے خلافت کو گھر کی لونڈی بنانے کے لئے گمراہی کا ایک ایسا جال تیار کیا ہے کہ جس میں آئندہ نسلوں کے پھنسنے اور اپنے دین وایمان کو برباد کرنے کا خطرہ ہے۔ یہ ایک عظیم فتنہ ہے جس کا

٢

صفحہ ٥٩٥

سر کچلنے کے لئے ہم نے اپنی ناتوانی کے باوجود پہل کی ہے اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ مردانِ خدا کی ایک فوج اس عفریت کا سر کچلنے کے لئے تیار کی جائے گی کہ جو اس گمراہی کو جو اسلام کے نام پر پھیلائی جا رہی ہے بیخ و بن سے اکھاڑ کر رکھ دے گی اور خدا تعالیٰ خود بھی جیسا کہ اس کے کلام اور مواعید سے ظاہر ہے ایسے سامان پیدا کرے گا کہ جس سے پرستاران باطل کی کمر ٹوٹ جائے گی اور حق ظاہر ہو جائے گا۔ پس جیسا کہ ہماری اس تحریر کا فوری محرک خلیفہ صاحب کی تقریر ہے۔ ہمارا موضوع زیر بحث بھی خلیفہ ربوہ، ان کی خلافت اور ان کی مصلحت ہے۔

قارئین کو شاید معلوم نہ ہو کہ ہم نے آج سے بیس سال قبل خلیفہ سے ان کے اس وقت کے مستحکم اور مضبوط ترین قلعہ یعنی قصر خلافت قادیان میں ان کے بعض خاص درباریوں کی موجودگی میں ان کے احوال کے بارے میں ان سے بالمشافہ گفتگو کی تھی۔ یہاں اس گفتگو کی تفصیلات کا موقعہ نہیں۔ پھر ہم نے ان کو ایک رجسٹری چٹھی بھی جو کہ چھیالیس فل سکیپ سائز کے صفحوں پر مشتمل تھی مورخہ ٢٠ مئی ١٩٣٨ء کو تحریر کی تھی......

ہم اوپر تحریر کر چکے ہیں کہ ہمارا موضوع سخن قادیانی ثم ربوہ (چناب نگر) خلافت ہے۔ اگر یہ خلافت درست ہے تو مذہبی تاریخ میں اس کی کوئی مثال ہونی چاہئے تھی۔ مگر ہمیں ابتدائے آفرینش سے لے کر آج تک ایسی خلافت کا کہیں نام و نشان نہیں ملتا اور قرآن شریف اور جملہ آسمانی صحیفوں میں اس قسم کی خلافت کی کوئی ایک مثال بھی نہیں ملتی۔ اگر کوئی ایسی انوکھی خلافت قائم ہونی تھی تو کم از کم مسیح موعود کی تحریرات اور الہامات میں اس کا ذکر ضروری تھا کہ ہر مامور کو بطور نشان اور ازدیاد ایمان اور رہنمائی کے لئے ایسے امور غیب کی اطلاع دی جاتی ہے کہ جو آئندہ زمانے کے واقعات پر مشتمل ہوتے ہیں۔ لیکن بسیار تلاش کرنے پر بھی ہمیں مسیح موعود کے الہامات اور تحریرات میں اس خلافت کا کوئی سراغ نہیں ملا۔ بلکہ اس کے برخلاف ایک عظیم فتنہ کی خبر ملتی ہے جس میں کہ جماعت مبتلا ہو کر گمراہ ہو جائے گی......

یہی وجہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ مسیح موعود کے ذریعہ جہاں خدا تعالیٰ نے ایک عظیم مصلح موعود کی خبر دی وہاں ”الفتنة هاهنا“ (تذکرہ ص ١٠٨) میں ایک عظیم فتنہ کی بھی خبر دی اور ہماری اس تحریر کا عنوان بلائے دمشق اسی فتنہ کی نشان دہی کر رہا ہے۔

ہم مانتے ہیں کہ مصلح موعود کی پیش گوئی کا اپنوں اور غیروں میں بہت چرچا رہا ہے اور اس کے مقابل فتنہ والی پیش گوئی اتنی مشہور نہیں بلکہ وہ پس پردہ رہی ہے۔ حالانکہ جہاں تک الہامی

٣

صفحہ ٥٩٦

تفصیلات کا تعلق ہے۔ فتنہ والی پیش گوئی بہت وسیع ہے اور ہم دعویٰ سے کہتے ہیں کہ کوئی شخص ہمیں مصلح موعود کی پیش گوئی کے بارے میں الہامی تصریحات یک جا کر دیوے تو ہم اس سے دو چند الفاظ میں ایسی الہامی تفصیلات پیش کر دیں گے کہ جو فتنہ کے بارے میں ہیں۔ دراصل مسیح موعود کے الہامات میں یہ دونوں پیش گوئیاں متوازی چلتی ہیں اور بسا اوقات ان دونوں پیش گوئیوں کا مشترکہ ذکر کیا گیا ہے اور یہ دونوں پیش گوئیاں مسیح موعود (مرزا) کے ہی دو لڑکوں کے بارے میں ہیں جن میں سے ایک نے ایک عظیم الشان مصلح بننا تھا اور دوسرے نے ایک عظیم فتنہ کی بنیاد رکھنی تھی اور فتنہ پرداز لڑکے کا پہلے آنا مقدر تھا اور مصلح موعود نے بعد میں آکر اس کے پیدا کئے ہوئے بگاڑ کی اصلاح کرنی تھی۔ ہمیں افسوس ہے کہ ہم طوالت کے خوف سے حوالہ جات نہیں دے سکتے کہ اگر ہم حوالہ جات دینے لگیں تو ہماری یہ تحریر ایک ضخیم کتاب کی صورت اختیار کر جائے۔ فی الحال ہمارے پیش نظر ان الہامی حقائق کو سمجھنے کے لئے ایک فہم پیدا کرنا ہے۔ ورنہ ہمارے پاس حوالہ جات کے ذخیروں کی کمی نہیں۔ مثلاً مصلح موعود کی آمد اور پھر اس کے غلبہ پر ”وامتاز وا الیوم ایھا المجرمون“ (تذکرہ ص ٦٢٣ طبع دوم) یعنی فتنہ پردازوں اور مجرموں کا ظاہر ہو جانا اور پھر ان کا یہ کہنا: ”انا کنا خاطئین“ (تذکرہ ص ٢٥١ طبع دوم) کہ واقعی ہم خطا کار تھے۔ اس بات کی طرف صاف دلالت کرتا ہے کہ فتنہ پرداز لڑکا پہلے پیدا ہوگا اور مصلح موعود بعد میں آئے گا۔ خدا تعالیٰ کا کلام بلاغت وفصاحت کے لحاظ سے بے مثال ہوتا ہے اور پھر ہر لفظ اپنے مقام کے لحاظ سے بھی ایک حکمت اپنے اندر رکھتا ہے۔ قرآن شریف میں ”انا کنا خاطئین“ کے الفاظ میں یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے اعتراف جرم کیا تھا اور مصلح موعود کا بھی ایک الہامی نام یوسف ہے۔ پس ان الہامات سے بھی فتنہ پردازوں اور مصلح موعود میں رشتہ اخوت ثابت ہے۔ لیکن ہم طوالت کے خوف سے ان تفصیلات کو چھوڑتے جاتے ہیں۔

پس اپنی اولاد کے بارے میں مسیح موعود کو خدا تعالیٰ کی طرف سے صرف ایک لڑکے کی اطلاع نہیں دی جاتی رہی۔ بلکہ دو لڑکوں کے بارے میں اطلاع دی جاتی رہی ہے جن میں سے ایک نے فتنہ پرداز ہونا تھا اور دوسرے نے مصلح موعود۔ لیکن جب مسیح موعود کو ایک عظیم الشان لڑکے کی بشارت دی گئی تو انہوں نے اس پیش گوئی کو شان دار طریق پر شائع اور مشتہر کر دیا۔ لیکن الہامات کی زبان میں لڑکے کا مفہوم بہت وسیع تھا اور پھر وقت کی تعیین بھی نہیں کی گئی تھی۔ اب بجز خدا تعالیٰ کے یہ کون جان سکتا تھا کہ لڑکے سے مراد پہلی نسل کا لڑکا ہے یا آئندہ نسل کا کوئی

٤

صفحہ ٥٩٧

فرد یا اس سے مراد روحانی اولاد میں سے کوئی لڑکا ہے۔ لیکن پیش گوئی کے شان نزول سے مسیح موعود نے یہی تاثر لیا کہ مصلح موعود فوری طور پر پیدا ہونے والا ہے۔ چنانچہ حضور خود بھی اس کی پیدائش کے لئے دعائیں فرمایا کرتے تھے اور اپنے اصحاب کو بھی دعا کے لئے کہا کرتے تھے۔

(تذکرہ ص ٧٥٩، ٧٦٠)

یہی وہ تاثر تھا کہ جس نے ”عبدا غیر صالح“ کی پیش گوئی کو پس حجاب ڈال دیا۔ اب جب کہ ملک بھر میں اس عظیم الشان پیش گوئی کی تشہیر کی جا چکی اور اپنے اور پرائے محو انتظار ہو گئے۔ تو ہوا یہ کہ پہلے حمل سے لڑکی پیدا ہوگئی۔ جس پر مخالفوں نے شور برپا کر دیا اور ملک بھر میں ہنسی مذاق اور تمسخر کا ایک طوفان برپا ہو گیا۔ لیکن الہامات میں چونکہ پہلے حمل کی شرط نہ تھی۔ لہٰذا مسیح موعود نے مخالفوں کا منہ بند کرنے کے لئے اشتہارات چھپوائے۔ یہ پیش گوئی چونکہ ایک بہت بڑی خوشخبری تھی اور مامورین کو یہ شوق دامنگیر رہتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے منہ کی باتیں جلد جلد پوری ہو کر تقویت ایمان کا باعث بنیں۔ لہٰذا یہی نیک خواہش تعجیل کے رنگ میں (مرزا قادیانی کی) اجتہادی غلطیوں کا باعث بنی۔ مسیح موعود کا ذہن اس خوش کن اور پرشوکت پیش گوئی کے گرد گھومتا رہا اور انہوں نے لڑکے کے عام مفہوم کو ذہن میں رکھ کر اور نیز اس تاثر کے تحت کہ لڑکا موجودہ نسل سے ہوگا پے در پے اعلانات کئے اور پہلے حمل سے لڑکی کی ولادت پر جو مخالفت کا طوفان اٹھا تھا اسے فرو کرنے کی حتی الوسع کوشش کی۔ آخر کار دوسرے حمل میں بشیر اول پیدا ہوا۔ جس پر مسیح موعود نے یہ خیال کر لیا کہ یہی مصلح موعود ہے اور اس خیال سے استہزاء اور تمسخر کرنے والے مخالفوں کو للکارا۔ مگر قدرت کی ستم ظریفی یہ ہوئی کہ بشیر اول بھی ایک سال بعد فوت ہو گیا۔ بس پھر کیا تھا ملک بھر میں تمسخر کا ایک ایسا طوفان بدتمیزی برپا ہوا کہ الامان والحفیظ! ان حالات میں حضرت مسیح موعود مصلح موعود کی پیش گوئی کے بارے میں جہاں بہت زیادہ محتاط ہو گئے تھے وہاں وہ بہت زیادہ حساس بھی ہو گئے تھے۔ وہ مخالفوں کا منہ بند کرنے کے لئے برابر اپنی اولاد میں مصلح موعود کی تلاش کرتے رہے اور جہاں اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ انہوں نے فوت شدہ لڑکوں یعنی بشیر اول اور مبارک احمد پر حتمی طور پر تو نہیں لیکن ظنی طور پر اس پیش گوئی کو چسپاں کر دیا تھا۔ وہاں موجودہ خلیفہ صاحب کی پیدائش پر بھی ان کا نام بطور نیک فال محمود احمد رکھا جو کہ در حقیقت مصلح موعود کا ہی الہامی نام ہے۔ اسی طرح ہمیں مصلح موعود کے ایک دو الہامی نام جیسا کہ ”قمر الانبیاء“ اور ”بادشاہ“ مرزا بشیر احمد اور مرزا شریف احمد کے ساتھ بھی منسلک نظر آتے ہیں۔

٥

صفحہ ٥٩٨

پس اس (مرزا کی) تعجیل پسندی کی وجہ سے جس کا سرچشمہ نیک خواہشات تھیں مسیح موعود کو مصلح موعود کی پیش گوئی کے بارے میں بار بار اجتہادی ٹھوکریں کھانی پڑیں۔ حالانکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے اس تعجیل پسندی اور اجتہادی قیاس آرائیوں کو دور کرنے کے لئے بار بار بکثرت الہامات ہوئے۔ جیسا کہ الہام ”اتی امر الله فلا تستعجلوہ“ (تذکرہ ص٤٦٥) اور تم ظاہر لفظ اور الہام پر قانع ہو اور اصل حقیقت تم پر مکشوف نہیں اور الہام ”وہ کام جو تم نے کیا خدا کی مرضی کے موافق نہ ہوگا“ سے ظاہر ہے۔ مگر مصلح موعود کی عظیم الشان اور پر شوکت پیش گوئی مسیح موعود کے دل و دماغ پر ایسی چھائی ہوئی تھی اور اس کے متعلق وہ ایسے حساس ہو چکے تھے کہ ان کا ذہن مبارک احمد کی وفات تک دوسری طرف منتقل نہ ہوا اور صاحبزادہ مرزا مبارک احمد کی وفات ستمبر ١٩٠٧ء میں ہوئی اور مسیح موعود کا وصال اس کے سات ماہ بعد مئی ١٩٠٨ء میں ہوا۔ اب قارئین خود ہی غور فرمالیں کہ مسیح موعود کا یہ تاثر کہ مصلح موعود موجودہ نسل سے ہی ہوگا کب دور ہوا۔

صاحبزادہ مبارک احمد کی وفات کے معا بعد مصلح موعود کے بارے میں پھر الہامات ہونے شروع ہوگئے۔ جیسا کہ ان الہامات سے ظاہر ہے۔ ”انا نبشرک بغلام حلیم“

(تذکرہ ص٧٣٣)

”سأهب لک غلام ذکیا“

(تذکرہ ص٤٣٨)

”انا نبشرک بغلام اسمه یحییٰ“

(تذکرہ ص٤٣٨)

اور ان کے ساتھ ”جاء الحق وزهق الباطل“ کا الہام شامل کر کے بتلا دیا کہ یہ الہامات مصلح موعود کے بارے میں ہیں کہ درحقیقت حق کا غلبہ اور باطل کی شکست اسی کے زمانے میں مقدر تھی اور پھر ان الہاموں کے درمیان ایک اور الہامی دعا حضرت اقدس کی زبان پر جاری کر کے اس امر کی طرف ایک لطیف اشارہ بھی کر دیا کہ موجودہ اولاد طیب اور پاک نہیں ہے۔ جیسا کہ الہام ”رب هب لی ذریة طیبة“ (تذکرہ ص٧٣٨) سے ظاہر ہے کہ اس الہامی دعا کے بعد مرزا قادیانی کے ہاں کوئی اولاد پیدا نہیں ہوئی اور اگر پہلے ہی پاک اور طیب اولاد موجود تھی تو پھر یہ الہامی دعا بے معنی اور فضول تھی اور خدا تعالیٰ کی طرف سے کسی عبث اور فضول کلام کی توقع ممکن نہیں۔ پس اس سے معلوم ہوا کہ موجودہ اولاد پاک اور طیب نہیں تھی اور ”رب هب لی ذریة طیبة“ کے الہامی الفاظ میں بھی پاک اولاد کی صورت میں مصلح موعود کی ہی پیش گوئی پنہاں تھی۔ پس اس حقیقت کے پیش نظر کہ صاحبزادہ مرزا مبارک احمد کی وفات کے بعد مرزا قادیانی کے ہاں

٦

صفحہ ٥٩٩

کوئی اولاد پیدا نہیں ہوئی۔ ان الہامات کے حتمی طور پر یہ معنی تھے کہ مصلح موعود کسی آئندہ زمانے میں پیدا ہوگا۔ پس ٢٠؍ فروری ١٨٨٦ء کی مصلح موعود والی پیش گوئی کے متعلق جس کو بڑے طمطراق اور تحدی سے بار بار مشتہر کیا جاتا رہا بار بار اجتہادی قیاس آرائیوں کا غلط ثابت ہونا ایک صدمہ تھا۔ جس سے مسیح موعود اور اس کے رفقاء کو دو چار ہونا پڑا اور اس تمام عرصہ میں مسیح موعود اس پیش گوئی کے بارے میں بڑے حساس ہو چکے تھے۔

مرزا کو بدکار لڑکا ہوگا

ایسے حالات میں استعارۃً اور تمثیلاً ایک بدکار لڑکے کے بارے میں بھی مسیح موعود کو الہامات ہو رہے تھے۔ مگر وہ ذہن کہ جو اولاد میں مصلح موعود کی تلاش میں مستغرق اور محو تھا اور مخالفوں کے تیروں کا نشانہ بنا ہوا تھا ان الہامی استعارات اور تمثیلات پر پورا پورا دھیان نہ دے سکا۔ گویا مصلح موعود کی پیش گوئی نے بدکار لڑکے کی پیش گوئی پر ایک حجاب ڈالے رکھا اور یہ حجاب، ذہنی کیفیت، تمثیلات اور استعارات کے رنگ میں ہونا بھی چاہئے تھا کہ اگر مسیح موعود کو صاف اور کھلے الفاظ میں اور نام لے کر بتا دیا جاتا کہ آپ کا فلاں لڑکا بدکار اور جماعت کے لئے فتنہ کا باعث بنے گا تو اس سے مسیح موعود کو کس قدر تکلیف ہوتی اور دینی مہمات میں کس قدر رخنہ اور تعطل پڑ جاتا اور پھر مسیح موعود ایسے لڑکے کو گھر میں رہنے ہی کیوں دیتے، فوراً عاق کر کے لاتعلقی کا اعلان فرما دیتے اور گھر سے نکال دیتے۔ جیسا کہ موجودہ خلیفہ پر ایک شکایت کی بناء پر جو کہ ان کی بدچلنی کے ہی متعلق تھی۔ مسیح موعود نے عاق اور گھر سے نکال دینے کا ارادہ ظاہر کر دیا تھا۔ ایسی صورت میں یہ لڑکا خلیفہ کیوں کر بنتا اور وہ سارا فتنہ جس کا ذکر الہامات الٰہی میں موجود ہے کیونکر پیدا ہوتا۔ پس دین کے اس حصہ کو جو امور غیب اور پیش گوئیوں پر مشتمل ہوتا ہے پر اسرار رکھا جاتا ہے اور ان کے بیان کرنے میں استعارات اور تمثیلات سے کام لیا جانا ضروری اور لابدی ہوتا ہے۔ تا الہامی حقائق لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہو کر یکے بعد دیگرے وقوع پذیر ہوتے رہیں۔ تا وقتیکہ وہ وقت آن پہنچے کہ جو پیش گوئی کے ظاہر ہونے کے لئے مقدر ہو۔ پس اس بات میں خدا تعالیٰ کے کلام کے پر اسرار ہونے میں بھی ایک حکمت ہوتی ہے۔

مقدر میں مصلح نہیں بدکار؟

اب یہ کس قدر پر اسرار کام ہے کہ مامور تو ایک مصلح کی تلاش میں مضطرب ہے۔ لیکن فی البدیہہ مقدر میں ایک بدکار لڑکا ہے۔ یہ مضمون اگرچہ مزید وضاحت طلب ہے۔ مگر ہم

٧

صفحہ ٦٠٠

طوالت کے خوف سے معذور ہیں۔ مامور کا قیاس غلط ہو سکتا ہے۔ مگر خدا تعالیٰ کا کلام اٹل اور حتمی ہوتا ہے۔ زمین اور آسمان اپنے مقام سے ٹل سکتے ہیں۔ مگر خدا کے منہ سے نکلی ہوئی بات نہیں ٹل سکتی۔ جیسا کہ مسیح موعود فرماتے ہیں۔ ٹلتی نہیں وہ بات خدا کی یہی تو ہے۔ اب ہم مصلح موعود کے ذکر کو یہاں پر چھوڑتے ہوئے پیش گوئیوں کے اس حصہ کو لیتے ہیں کہ جو ”الفتنة هاهنا“ اور ”انه عبد غير صالح“ (تذکرہ ص ٨٨) کے الہامی الفاظ میں ایک فتنہ باز اور بدکار لڑکے کے بارے میں ہے۔

مرزا کی لاعلمی

ہم اوپر لکھ چکے ہیں کہ مسیح موعود سلسلہ مامورین کے اسی خصوصی گروہ سے متعلق تھے جنہوں نے موجودہ زمانہ کے مفاسد کی اصلاح کے علاوہ آئندہ واقعات کی تعیین و تصدیق بھی کرنی تھی۔ اس ضمن میں براہین احمدیہ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ جہاں ان کے ذریعہ مفاسد زمانہ کی اصلاح کے لئے علوم ظاہری و باطنی پھیلائے جارہے تھے۔ وہاں ان کے ذریعہ امور غیب پر مشتمل پیش گوئیوں کا ایک سلسلہ جاری تھا۔ آج وہ باتیں جو براہین احمدیہ کے زمانہ میں خواب و خیال اور فہم انسانی سے بالاتر معلوم ہوتی تھیں اور جن کے متعلق خود مسیح موعود سوائے یہ کہنے کے کہ یہ استعارات اور تمثیلات ہیں اور خدا ہی ان بھیدوں کو بہتر جاننے والا ہے اور کوئی وضاحت نہ کر سکے۔ اب واقعات کے رنگ میں پوری ہو کر ہمارے سامنے آ گئی ہیں اور اب ہمارے ایسے معمولی فہم کے انسان بھی خدا کے کلام کی اعجازی شان اور صداقت کو دیکھ کر ایمان تازہ کر رہے ہیں۔ پس جہاں ہم دیکھتے ہیں کہ الہام ”تری نسلاً بعیداً “ کے ذریعہ مسیح موعود کو خدا تعالیٰ نے نہایت ابتدائی ایام میں اشارۃً مصلح موعود کی خبر دے دی تھی۔ وہاں فتنہ کے بارے میں بھی ابتدائی سے الہامات شروع ہو گئے تھے۔ ”الفتنة هاهنا“ اور ”انه عبد غير صالح “ (تذکرہ ص ٨٨) اور ”ایلی ایلی لما سبقتنی “ (تذکرہ ص ٩٤) جن میں اس فتنہ کی طرف اشارہ ہے۔ ابتدائی زمانہ کے ہیں اور پھر رفتہ رفتہ خدا تعالیٰ ان اشارات کی مزید وضاحت کرتا گیا۔ یہاں تک کہ یہ داستان مکمل ہو کر الہامات کے رنگ میں محفوظ ہو گئی۔

یہ فتنہ جس کی خبر مامور زمانہ کو دی گئی کوئی معمولی فتنہ نہ تھا اور نہ ہی معمولی واقعات سے خدا تعالیٰ مامورین کو اطلاع دیتا ہے۔ جو بات جناب الٰہی کے حضور میں نہایت اہم اور سنگین ہو اس کی اطلاع دی جاتی ہے۔ ہاں بعض اوقات حاضرین مجلس کے ازدیاد ایمان کے لئے یعنی ان

٨

صفحہ ٦٠١

لوگوں کی تقویت کے لئے جو کسی مامور کے گرد جمع ہوتے ہیں بعض چھوٹی چھوٹی اور وقتی باتوں کی اطلاع بھی دے دی جاتی ہے۔ مگر وہ پیش گوئیاں کہ جن میں آئندہ زمانے کے حالات مخفی ہوتے ہیں۔ نہایت خاص اور اہم واقعات پر مشتمل ہوتی ہیں۔ پس معلوم ہونا چاہئے کہ جس فتنہ کے بارے میں خدا تعالیٰ کو پیش از وقت اپنے مامور کو اطلاع دینی پڑی وہ کوئی معمولی فتنہ نہیں ہو سکتا۔ پھر بغیر کوئی تفصیل بتلانے کے محض یہ کہہ دینا کہ فتنہ یاں ہے اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ یہ کوئی معروف فتنہ ہے جس کا ذکر پہلے بھی موجود ہے۔

مرزا محمود کا فتنہ دجالی ہے

گویا احادیث نبویؐ میں حضرت مسیح موعود کے زمانہ کے لئے جس فتنہ دجال کا ذکر ہے یہ فتنہ بھی اسی کی ایک داخلی شاخ ہے۔ ”هاهنا“ کا لفظ صاف طور پر اس فتنہ کی داخلی اور اندرونی ہونے کی طرف دلالت کرتا ہے۔ دراصل حق و باطل کی جنگ تا ہنوز نا تمام ہے۔

شیطان بر کارواں

شیطان کو جب جملہ خارجی محاذوں پر خدا تعالیٰ کے مامور سے شکست فاش ہوئی تو اس نے داخلی طور پر ایک فتنہ عظیم کی طرح ڈالی اور مذہبی نقاب اوڑھ کر مسیح موعود کی جماعت میں داخل ہو گیا اور شدہ شدہ میر کارواں بن گیا۔ شیطان کی یہ چال نہایت خطرناک ثابت ہوئی اور وہ مامور کی جماعت کے بیشتر حصہ کو گمراہ کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ آخر ”ایلی ایلی لما سبقتنی“ یعنی اے میرے خدا اے میرے خدا تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا، کی الہامی فریاد جو مامور وقت کی زبان سے نکالی گئی عبث اور فضول نہ تھی کہ خدا تعالیٰ سے کسی عبث بات کا سرزد ہونا محال ہے۔ پس مسیح موعود کی اس الہامی فریاد سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ کوئی معمولی فتنہ نہیں تھا۔ معلوم ہونا چاہئے کہ مامورین بہت بڑے دل گردے کے مالک ہوتے ہیں اور انتہائی مایوسی اور جان کنی کی حالت میں بھی فریاد نہیں کرتے۔ البتہ جب وہ مشن جس کے لئے وہ مامور ہوتے ہیں بالکل تباہ ہوتا نظر آئے تو پھر اضطراب و بے بسی کے عالم میں بے ساختہ منہ سے فریاد نکل جاتی ہے۔ ”ایلی ایلی لما سبقتنی“ کی فریاد اس سے قبل مسیح ناصری نے تختہ دار پر لٹکائے جانے سے قبل کی تھی۔ جب مسیح ناصری علیہ السلام کو صلیبی موت یقینی نظر آنے لگی اور اس کے ساتھ ہی وہ مشن بھی تباہ ہوتا نظر آیا کہ جس کے لئے ان کو مبعوث کیا گیا تھا اور حالات انتہائی مایوس کن اور بظاہر ناامیدی کے ہو گئے تھے اور خدا کا رسول بھی گھبرا گیا تھا۔ اس وقت یہ الفاظ بے ساختہ فریاد کی شکل

٩

صفحہ ٦٠٢

میں زبان پر آئے۔ اسی فریاد کا مسیح موعود کی زبان پر دہرائے جانا اور بار بار دہرائے جانا کیا خدا تعالیٰ کا ایک عبث فعل تھا۔ ”فتدبروا“ پس معلوم ہوتا ہے کہ یہاں بھی مسیح موعود کے مشن کی قریباً قریباً تباہی تھی اور جماعت کے بیشتر حصہ نے گمراہ ہو جانا تھا۔ تبھی تو مسیح موعود کو روحانی طور پر ”ایلی ایلی لما سبقتنی“ اور ”رب انی مغلوب فانتصر“ کہنا پڑا۔ اب ”رب انی مغلوب فانتصر“ سے بھی یہی مراد ہے کہ حق مغلوب ہو جائے گا اور باطل کو اپنی اکثریت و کامرانی پر ناز ہوگا۔

خلیفہ قادیان کے مظالم

ان الہامات کے پیش نظر جب ہم خلیفہ صاحب ربوہ اور ان کے پیروکاروں کی حالت کو دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ واقعی یہ کوئی معمولی فتنہ نہیں۔ قادیان میں ان لوگوں نے ایسے ایسے مظالم کئے کہ انسانیت کے رونگٹے کھڑے ہو گئے اور ہم بچشم خود ان مظالم کو دیکھتے رہے ہیں اور ان حقائق کے پیش نظر خدا تعالیٰ کے الہامات میں بھی ان ظالموں کا خاص طور پر ذکر کیا گیا ہے۔ چنانچہ الہام: ”انی احافظ کل من فی الدار الا الذین علو باستکبار“ میں ”الا الذین علو باستکبار“ میں انہی ظالموں کا ذکر ہے اور مسیح موعود کو متعجب ہونا پڑا اور فرمایا: ”الا الذین علو“ ہمیشہ ساتھ ہی ہوتا ہے۔ خدا معلوم اس کے کیا معنی ہیں اور اکثر الہامات میں مسیح موعود نے ”واللہ اعلم“ اور خدا معلوم فرما کر اس بات کو کھول دیا ہے کہ ان کے بیان کردہ معانی صرف قیاسی ہیں اور ان الہامی پیش گوئیوں کی اصل حقیقت صرف خدا تعالیٰ کو ہی معلوم ہے جو کہ اپنے وقت پر خود بخود ظاہر ہو جائے گی۔ بھلا مسیح موعود کے وقت جب کہ جماعت نور علیٰ نور تھی ان الفاظ کے معانی کیا کھلتے۔ ان الفاظ کے معنی تو بعد میں ہی کھلنے تھے جب کہ ظالموں کو ان کے ظلم و تشدد کی وجہ سے اس بستی سے نکال دیا جانا تھا۔ وقت گذرتا گیا اور موجودہ خلیفہ کا دور آیا اور رفتہ رفتہ ان کے چلن کے بارے میں خبریں پھیلنی شروع ہوئیں جو کہ دن بدن شدت اختیار کرتی گئیں۔ جب عام چرچا ہو گیا تو خلافت مآب کو فکر دامن گیر ہوا اور ان خبروں کو دبانے کے لئے گوناگوں ظالمانہ کارروائیوں کا سہارا لیا گیا۔ خلیفہ صاحب کو رات دن منافقوں کے بارے میں خوابیں آنے لگ گئیں۔ غریبوں کا مقاطعہ شروع ہوا۔ ان کو قادیان سے نکالا جانے لگا۔ پالتو مولویوں کو فعال کیا گیا۔ جنہوں نے اشارہ پاتے ہی اپنے ولی نعمت کی خوشنودی کے لئے جابجا جلسے کئے اور جلوس نکالے اور ایک طرف تو انہوں نے خلافت مآب پر تقدس کے غلاف چڑھانے ١٠ شروع کر دیئے اور دوسری معترضین کو مرتد و منافق قرار معترضین اور ناقدین پر سر جانے لگا۔ ایک بار ہمیں مو میں رہنے کا اتفاق ہوا۔ گرم رات گذرنے کے بعد مکان ہی ہم بیدار ہو گئے تھے۔

قادیانی ملا چور

پہلے خیال گذرا ٹارچ اور تلوار لے کر اول اس آواز بدستور آ رہی تھی۔ ہم بولنے اور چلنے کی آواز آئی چوروں کے سامنے سے گزر حملہ کے لئے بالکل تیار ہو ک مولانا تھے اور مولوی عبدالکر کی امداد سے اپنے گھر لے سوچنے لگے کہ ادھر مولویوں جانے اس وقت کیا رنگ ہ یہاں تک ظلم کیا کہ اس پاک صاحب ملتانی کے نام نامی ان کو بلوایا خلیفہ صاحب نے دلنگار نعش کو بھی دیکھا ہے ا ہے۔ اگر ہم ان مظالم کی ط خاطر غریبوں پر کئے گئے تو میں لانے کے لئے ضخیم کتا

صفحہ ٦٠٣

شروع کر دیئے اور دوسری طرف بیکس ناقدین کے خلاف پبلک کو مشتعل کرنا شروع کر دیا اور معترضین کو مرتد ومنافق قرار دے کر کعب بن اشرف کے نام سے یاد کیا جانے لگا۔ نتیجہ واضح تھا۔ معترضین اور ناقدین پر سرِ بازار قاتلانہ حملے شروع ہو گئے۔ غریبوں کے مکانوں کو جلایا اور لوٹا جانے لگا۔ ایک بار ہمیں مولوی عبد الکریم صاحب مباہلہ والے کے سوختہ مکان سے ملحقہ مکان میں رہنے کا اتفاق ہوا۔ گرمیوں کا موسم تھا اور ہم مکان کے صحن میں سوئے ہوئے تھے کہ آدھی رات گزرنے کے بعد مکان کے پچھواڑے سے کھٹ پٹ کی آواز آئی اور اس کھڑاک کی وجہ سے ہی ہم بیدار ہو گئے تھے۔

قادیانی ملّا چور

پہلے خیال گزرا کہ شاید کوئی مکان کے پچھواڑے سے نقب لگا رہا ہے۔ سو بطور احتیاط ٹارچ اور تلوار لے کر اوّل اپنے کمرے کو کھولا۔ مگر خیریت نظر آئی۔ مگر پچھواڑے سے کھٹ پٹ کی آواز بدستور آ رہی تھی۔ ہم سوچ ہی رہے تھے کہ ہمیں اپنے صحن کی دیوار کے ساتھ آدمیوں کے بولنے اور چلنے کی آواز آئی۔ ہم نے آہستہ سے اس طرف کا دروازہ کھول لیا اور تلوار سونت کر چوروں کے سامنے سے گزرنے کا انتظار کرنے لگے۔ جب چور ہمارے مقابل پر آئے تو ہم نے حملہ کے لئے بالکل تیار ہو کر اوّل ٹارچ روشن کی۔ ٹارچ کی روشنی اوّل جس چور پر پڑی وہ ایک مولانا تھے اور مولوی عبد الکریم صاحب کے سوختہ مکان سے آہنی گاڈر نکال کر اپنے چند ساتھیوں کی امداد سے اپنے گھر لے جا رہے تھے۔ ہم نے لاحول پڑھا اور دروازہ بند کر کے پھر لیٹ گئے اور سوچنے لگے کہ ادھر مولویوں کا تو یہ حال ہے اور دوسری طرف خلیفہ صاحب کے خلوت خانوں کا نہ جانے اس وقت کیا رنگ ہو۔ ہاں اس واقعہ کو تو ہم نے ضمناً لکھ دیا ہے۔ غرض ان ظالموں نے یہاں تک ظلم کیا کہ اس پاک بستی کی گلیوں کو غریبوں کے خون سے لالہ زار بنا دیا۔ مولوی فخر الدین صاحب ملتانی کے نام نامی سے کون ناواقف ہے۔ وہ سلسلہ کی بیشتر کتب کے ناشر تھے اور ہم نے ان کو بارہا خلیفہ صاحب سے بے تکلف باتیں کرتے بھی دیکھا ہے اور پھر ان کی سینہ چاک اور دلفگار نعش کو بھی دیکھا ہے اور ان کی نعش پر ان کی بیوہ کو بین کرتے اور معصوم بچوں کو بلکتے بھی دیکھا ہے۔ اگر ہم ان مظالم کی طویل داستان کو تحریر میں لاویں کہ جو خلیفہ کے مصنوعی تقدس کے قیام کی خاطر غریبوں پر کئے گئے تو اس دلخراش داستان سے انسانیت کانپ اٹھے اور ہمیں ان باتوں کو تحریر میں لانے کے لئے ضخیم کتابیں لکھنی پڑیں۔ اب ان واقعات کی روشنی میں ’’ اِلا الذین علو

صفحہ ٦٠٤

باستکبار“ کا مفہوم کس قدر واضح ہو جاتا ہے۔

مرزا محمود کی رنگین داستانیں

ان روح فرسا مظالم کے باوجود خلیفہ کے خلوت خانوں کی رنگین داستانیں دن بدن زیادہ شدت کے ساتھ منظر عام پر آنے لگیں اور بات اپنوں کے ہاتھوں سے نکل کر غیروں کی محفلوں میں جا پہنچی۔ اگر کوئی ایک آدھ واردات ہوتی اور پھر توبہ کر لی جاتی تو شاید یہ بات بھی دب جاتی۔ مگر شہوات نفسانیہ کا طوفان برپا تھا۔ اس طوفان کو کون روک سکتا تھا۔ اس بپھرے ہوئے طوفان کے آگے بیواگان کے بین اور یتیم بچوں کے بلکنے کی کیا حقیقت تھی اور پھر ناقدین کوئی غیر نہ تھے۔ بلکہ سب کے سب قریبی لوگ اور خلیفہ کے حاشیہ نشین تھے۔ غرض اس ظلم و تشدد کے باوجود ان رنگین داستانوں نے اس قدر طول کھینچا کہ ملک کا کوئی اخبار ایسا نہ ہوگا کہ جس کے صفحات کی زینت یہ داستانیں نہ بنی ہوں اور آج تک پریس میں حلفیہ شہادتیں شائع ہورہی ہیں اور مباہلہ کے پوسٹر دیواروں کی زینت بنے ہوئے ہیں۔ چنانچہ ہمیں آج ہی ایک پوسٹر موصول ہوا ہے کہ جس میں خلیفہ کو مباہلہ کے لئے للکارا گیا ہے۔ مگر مباہلہ کون کرے۔ کوئی نیک اور پاک طینت ہو تو میدان میں اترے۔ ہمیں افسوس ہے کہ ہم اس ضمن میں خلیفہ کے موقف کی جو کہ سراسر روباہ کاریوں کا مرقع ہے اور ان کے پالتو مولویوں کی ابلہ طرازیوں کی وضاحت نہیں کر سکتے۔ ان سب مسائل پر ہم نے اپنی اس چٹھی میں کسی حد تک روشنی ڈالی ہے جس کا ہم پیچھے ذکر کر چکے ہیں اور اگر خدا تعالیٰ کو منظور ہوا تو ہم اس تحریر کے بعد اس چٹھی کو بھی شائع کردیں گے۔ اس چٹھی میں ہم نے ایک پالتو مولوی کا نام لے کر ذکر کیا ہے جو کہ آج کل خطاب یافتہ ہو چکے ہیں۔ غرض خلیفہ کی پروپیگنڈا تکنیک اور پالتو مولویوں کی جان توڑ کار گزاریوں کے باوجود یہ داستان اس ملک کے ہر شہر کے گلی کوچوں کے درودیوار پر ثبت ہو گئی اور جماعت خلافت مآب کے تقدس کی تطہیر پر کروڑوں روپے صرف کرکے اور قریباً نصف صدی کا طویل عرصہ گزارنے پر بھی آج اسی مقام پر کھڑا ہے۔ جہاں آج سے تیس سال قبل تھا۔ اس عرصہ میں تحریک احمدیت کی اس قدر بدنامی ہوئی کہ سر ندامت کے مارے جھک جاتا ہے اور یہ روحانی تحریک لوگوں کی نظروں میں مشتبہ اور مشکوک ہو کر رہ گئی اور ایسی قعر مذلت میں جا گری کہ رسوائی کے لحاظ سے کوئی دوسری تحریک اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی اور اس حقیقت سے کوئی فہمیدہ انسان انکار نہیں کر سکتا کہ مذہبی لیڈروں میں خلیفہ صاحب ربوہ زمانہ حال کی بدنام ترین شخصیت ہیں۔......

١٢

صفحہ ٦٠٥

اخلاقی اور روحانی لحاظ سے کس قدر روح فرسا اور مکروہ اور ناقابل تسلیم نوعیت کی عکاسی کرتا ہے۔ مگر نفسیاتی اعتبار سے یہ حقیقت شہوانی بے اعتدالیوں کا ایک لازمی نتیجہ ہوتی ہے اور اس کے علاوہ بھی بعض عینی شاہدوں نے ہمارے روبرو اس قسم کے مکروہ حقائق کا اعتراف کیا ہے۔ مگر یہ پروپیگنڈے اور اندھی عقیدت کی کرشمہ سازی ہے کہ کسی مرید سے جا کر پوچھو تو وہ فوراً خجالت کے مارے یہ کہہ کر بھاگ جائے گا کہ جناب مطہر لوگوں پر اس قسم کا گند اچھالا ہی جاتا ہے اور پالتو مولویوں نے تو اس قسم کے جعلی اور گمراہ کن قصے ازبر کئے ہوئے ہیں۔ ”نعوذ باللہ من ھذا الخرافات“ غرض یہ ایک اور ظلم ہے کہ جو ان لوگوں اور ان کے سرغنہ کی بدولت جو مطہر ہیں واقعتاً پر ہو رہا ہے۔ بھلا اس سے بڑا ظلم اور کیا ہو سکتا ہے کہ جملہ روحانی قدروں کو مشکوک بنا کر رکھ دیا جائے۔ یہ درندے ہر مزکی پر حملہ آور ہو رہے ہیں اور یہ سانپ ہر متقی کو ڈس رہے ہیں۔ لیکن ہم ان خطاب یافتہ پالتو مولویوں کو کس طرح سمجھائیں.......

مرزا محمود کی قلابازی

مسلمانوں کے معصوم بچوں کو ہندوؤں اور عیسائیوں کے بچوں سے تشبیہ دے کر ان کے جنازوں تک کو ناجائز قرار دیتے رہے اور جب محاسبہ کا وقت آیا تو یہ اولوالعزم خلیفہ گھبرا کر ریشہ خطمی ہو گئے اور اگر چہ مگر چہ چونکہ چنانچہ کی فرسودہ اور رکیک تاویلات کی آڑ لے کر بمشکل تمام اپنے پچاس سالہ عقائد سے جان چھڑائی۔ غرض کوئی دین ہوتا تو اس پر قائم رہتے۔ ایک خانہ ساز بات تھی جب حالات سازگار نظر آئے۔ اقرار کر لیا اور جب ذرا دگرگوں دکھائی دیئے انکار کر دیا۔ خلیفہ خود تو کسی دین کے پیرو نہیں۔ البتہ جو بات ان کے منہ سے نکل جائے وہ پالتو مولویوں کی بدولت دین بن جاتی ہے۔ فی الحال ہمارے مدنظر ان کے خود ساختہ عقائد کا بطلان نہیں کہ یہ کام خادمان مسیح یعنی لاہور کے پاک ممبر بوجہ احسن سر انجام دے رہے ہیں۔ ہم اس تحریر کے ذریعہ خلیفہ کے دعاوی کی جانچ پڑتال کرنا چاہتے ہیں اور لوگوں کو ان کے اصل مقام سے روشناس کروانا چاہتے ہیں کہ جو خدا تعالیٰ کے کلام میں ان کے لئے متعین اور مخصوص کیا گیا ہے۔

کاٹھ کی ہنڈیا

چونکہ خلیفہ کے پرانے عقائد کی قلعی ١٩٥٣ء میں برسر عدالت کھل گئی تھی اور ان کے عقائد محاسبہ کی ٹھوکر سے ایسے گرے کہ گرتے ہی چکنا چور ہو گئے۔ دنیا ان جعلی عقائد کی تباہی و بربادی پر انگشت بدنداں تھی۔ کاٹھ کی ہنڈیا کب تک چولہے پر رہتی۔ آخر جلنا تھا جل گئی اور خلیفہ

١٣

صفحہ ٦٠٦

کو پناہ حاصل کرنے کے لئے ایک نئے قلعے کی ضرورت تھی۔ مرید تو پہلے ہی افراط عقیدت سے اندھے تھے۔ پالتو مولویوں کی پلٹنیں موجود تھیں۔ اخبار اور پریس صرف ایک اشارہ کے منتظر تھے۔ غریبوں سے جمع کئے ہوئے چندوں کے انبار لگے ہوئے تھے اور خلیفہ بھی یورپ کے شاہانہ ہوٹلوں کا طوفانی دورہ فرما کر تازہ دم ہو چکے تھے۔ سوچا کہ لوگ ہمارے پرانے عقائد کی الجھنوں میں پھنسے ہوئے ہیں اور ہمارے چکنا چور عقائد کے انبار پر سے فی الحال اگرچہ، مگر چہ، چونکہ، چنانچہ کے فرسودہ پردے اٹھا رہے ہیں۔ کیوں نہ ہم عقیدت کے بندوں کو ایک نیا جل دیویں۔ ظاہر ہے کہ خلیفہ کا سارا تانا بانا ہی بکھر چکا تھا اور وہ بہت زیادہ فکرمند تھے اور ایک عرصہ سے ایک گہری سوچ میں ڈوبے ہوئے تھے۔ آخر کار جلسہ سالانہ ١٩٥٦ء کا موقع آیا اور خلیفہ نے آیت استخلاف کے تحت خلیفہ ہونے کا دعویٰ کر دیا۔ نہ صرف یہ کہ خود آیت استخلاف کے تحت خلیفہ ہونے کا دعویٰ کر دیا۔ بلکہ قیامت تک کے لئے آیت استخلاف کے تحت خلافت سازی کے قواعد وضوابط بھی بنا کر پیش کر ڈالے۔

شیطان سجدے میں

اور پھر اس خلافت کو گھر کی لونڈی بنانے کے لئے ابنائے فارس کی توحید پرستی پر بھی وعظ فرمایا اور بظاہر خلیفہ اوّل کی اولاد کو نشانہ بنا کر درپردہ خلیفہ پر اجارہ داری حاصل کرنے کی ایسی چال چلی کہ ابلیس بھی شکرانے کے طور پر اس دن سجدے میں گر گیا ہوگا۔ ہم حیران ہیں کہ الہام ”خذو التوحید التوحید یا ابناء الفارس“ (تذکرہ ص ٢٧٨) میں یہ ضمانت کہاں ہے کہ اب ابنائے فارس تا قیامت توحید پرست اور نیکوکار رہیں گے اور اس سے یہ نتیجہ کیوں کر نکل آیا کہ ابنائے فارس سے خدا تعالیٰ کا کوئی خاص لگاؤ اور تعلق ہے۔

مرزا محمود شیطان

جو شخص ”نحن ابناء اللہ“ اور ”نحن ابناء الفارس“ کا قائل ہے۔ وہ تو مکتب توحید میں داخل کئے جانے کے لائق ہی نہیں اور ”انا خیر منہ“ کا نعرہ شیطانی ہے۔ لہٰذا جو شخص اس قسم کا نعرہ بلند کرتا ہے۔ وہ بلاشبہ شیطان الرجیم ہے اور اس کی گمراہی سے بچنے کے لئے اس کی شناخت از بس ضروری ہے۔ پس ہمارے نزدیک خلیفہ کی تقریر جلسہ سالانہ ١٩٥٦ء بعنوان ”خلافت حقہ اسلامیہ“ ایک ایسا دجل ہے جس کی مثال ملنی محال ہے۔ پھر اس دجل کاری کو مریدوں کو ذہن نشین کرانے کا خاص اہتمام کیا گیا۔ پالتو مولویوں کو حکم دیا گیا کہ وہ لوگوں کو یہ تقریر

١٤

صفحہ ٦٠٧

ازبر کرا دیں۔ لہٰذا انہوں نے تقریر کے مضمون کے پیش نظر نوجوانوں کے علاوہ بچوں، بوڑھوں اور خواتین تک سے امتحان لئے، باقاعدہ پرچے بنائے گئے اور جو لوگ کامیاب ہوئے ان کے نام اخبارات میں شائع کئے گئے۔ مدارس میں جن بچوں اور بچیوں نے کسی وجہ سے ان امتحانات میں شرکت نہ کی ان کو سخت سرزنش کی گئی اور سنا ہے کہ بعض کو جرمانے بھی کئے گئے اور جو بدقسمت اس دجل کاری میں اول نمبر پر آئے ان کو انعامات دیئے گئے۔ تا خلافت سازی کا یہ خانہ ساز طریقہ مریدوں کو ازبر ہو جائے اور آیت استخلاف کی عملی تفسیر ایک ناٹک کی صورت میں لوگوں کے سامنے آجائے۔ گویا خلیفہ صاحب نے بزعم خود آئندہ کے لئے خدا تعالیٰ کو اپنے ان قوانین سے سبکدوش کر کے جس کے تحت وہ خلیفے مبعوث کرتا ہے اور حدیث مجددین کو منسوخ قرار دے کر یہ کار خداوندی بھی خود سنبھال لیا اور اس کوشش میں انہوں نے اپنے بزرگ باپ کی مثال کو بھی نظر انداز کر کے روحانی طور پر اپنے ناخلف ہونے کا ثبوت فراہم کر دیا۔ کیا مسیح موعود نے لوگوں کے بنائے ہوئے قواعد وضوابط کے تحت مامور اور آیت استخلاف کے تحت خلیفہ ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ اگر نہیں تو پھر کیا اس دجل کاری سے حدیث نبوی کی تصدیق نہیں ہوتی کہ دجال نبوت اور خدائی کا دعویٰ کرے گا۔ خلیفہ آیت استخلاف کے تحت خلافت کا دعویٰ کر کے اس قباء کو تار تار کر رہے ہیں کہ جو مامورین کے لئے مخصوص ہے اور پھر جعلی طور پر مصلح موعود بنے بیٹھے ہیں۔ حالانکہ کوئی آسمان سے نہیں آتا۔ جب تک موعود نہ ہو اور کوئی موعود نہیں ہو سکتا۔ جب تک مامور نہ ہو ہم خطاب یافتہ پالتو مولویوں کے علم کو کیا کریں کہ انہیں الٰہیات کی ”ا،ب،ت“ کا بھی علم نہیں۔ ان کی مثال کمثل الحمار یحمل اسفارا کی ہے۔ گدھے پر اگر علم و حکمت کی کتابوں کا انبار بھی لاد دیا جائے تو پھر بھی وہ گندگی اور غلاظت پر منہ مارنے سے نہیں رکے گا۔ یہ اسی فتنے کا دوسرا رخ ہے۔

اب ہم اس فتنہ اور اس فتنہ باز لڑکے کے بارے میں خدا تعالیٰ کے کلام میں جو اطلاعات بطور پیش گوئی پائی جاتی ہیں۔ ان کی چند ایک مثالیں تحریر کرتے ہیں۔ ہم بار بار تحریر کر چکے ہیں کہ یہاں تفصیلات کی گنجائش نہیں۔ ورنہ اس بارے میں خدا تعالیٰ کے کلام میں اس قدر تفاصیل ہیں کہ اگر محض حوالہ جات درج کئے جائیں تو ایک کتاب کی صورت اختیار کر جائیں۔ لیکن پھر بھی جو کچھ ہم تحریر کریں گے وہ حقیقت حال کو سمجھنے کے لئے کافی ہوگا اور اس کی تردید انشاء اللہ تعالیٰ محال ہوگی۔

١٥

صفحہ ٦٠٨

مرزا محمود پسر نوح

تفصیل نمبر ١:...... یہ حقیقت سب پر واضح ہے کہ مسیح موعود کو خدا تعالیٰ نے مختلف ناموں سے پکارا ہے اور ہر ایک نام سے پکارے جانے میں کوئی خاص حکمت اور مناسبت ہے۔ پس منجملہ ان ناموں کے خدا تعالیٰ نے مسیح موعود کو نوح کے نام سے بھی پکارا ہے اور ساتھ ہی ”اصنع الفلک باعیننا ووحينا “ (تذکرہ ص ٢١٩) کا حکم صادر فرمایا اور ”انه عبدا غیر صالح“ اور ”انه عمل غیر صالح“ کے الہامات کے ذریعہ کسی بدکار لڑکے کی نشان دہی فرمائی اور یہ حکم بھی دیا کہ: ”ولا تخاطبنی فی الذین ظلموا انهم مغرقون“ (تذکرہ ص ٨٨) جس کی دوسری قرأت یوں بھی ہے۔ ”ولا تکلمنی فی الذین ظلموا انهم مغرقون“ (تذکرہ ص ٦٠٧) اب جب ہم قرآن شریف کو اٹھا کر دیکھتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ یہ قریباً قریباً اسی وحی کے الفاظ ہیں جو حضرت نوح علیہ السلام پر نازل ہوئی اور ”انه عمل غیر صالح“ کے الفاظ نوح علیہ السلام کے اپنے لڑکے کے بارے میں استعمال ہوئے ہیں۔ اب کیا یہ وحی جو حضرت نوح علیہ السلام کی طرف نازل ہوئی تھی۔ بغیر کسی مناسبت اور مشابہت کے حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر نازل ہو گئی اور ”نعوذ بالله من ھذا الخيال“ کیا خدا تعالیٰ کا یہ کلام عبث، بے معنی اور بے وجہ تھا۔ اگر خدا تعالیٰ ایسی حکیم و علیم ذات پر ایسا بیہودہ اور لغو گمان نہیں کیا جا سکتا تو ”انه عمل غیر صالح“ کا مفہوم صاف اور واضح ہے کہ مسیح موعود کو ایک سرکش اور غیر صالح لڑکے کی اطلاع دی جا رہی ہے اور بعد میں واقعات نے بھی خدا تعالیٰ کے کلام کی صداقت ثابت کر دی اور ”عمل غیر صالح“ کے خلوت خانوں کی داستان اُس ملک کے ہر اخبار میں شائع اور ہر شہر کے در و دیوار پر چسپاں ہو گئی اور آج ہم حضرت اقدس کے ایک لڑکے کو شہوات نفسانیہ کے طوفان میں مبتلا دیکھتے ہیں۔ اگر کوئی کہے کہ شہوات نفسانیہ کے طوفان کی اصطلاح ایجاد بندہ ہے اور نوح کے طوفان سے اسے کیا نسبت ہے تو مسیح موعود کا اپنا فیصلہ ملاحظہ فرمائیں:

”کیونکہ شہوات نفسانیہ کا طوفان ایک ایسا خوفناک اور پُر آشوب طوفان ہے کہ بجز خاص رحم حضرت احدیت کے فرو نہیں ہو سکتا۔ اسی وجہ سے حضرت یوسف کو کہنا پڑا۔ ”وما ابرئ نفسی ان النفس لامارة بالسوء الا من رحم ربی“ یعنی میں اپنے نفس کو بری نہیں کرتا۔ نفس نہایت درجہ بدی کا حک دینے والا ہے اور اس کے حملہ سے مخلصی غیر ممکن ہے۔ مگر یہ کہ خود خدا تعالیٰ رحم فرمائے۔ اس آیت میں جیسا کہ فقرہ ”الا ما رحم ربی“ ہے۔ طوفان نوح کے ذکر

١٦

کے وقعت بھی اس کے مشابہ الفاظ ؟ امر الله الا من رحم “ میں عظمت اور ہیبت میں نوح کے طوفان

مسیح موعود فرماتے ہیں کہ اوقات ایک ادنیٰ مماثلت کی وجہ سے دوسری چیز پر اطلاق کر دیتے ہیں۔

شہوات کا طوفان

لیکن یہاں تو تطبیق کی و شور اٹھ رہا ہے کہ وہ شہوات نفسانیہ اس پر شاہد ہیں۔ مگر لڑکے نے ایک تو اپنی صفائی باطن کے بارے میں سے انسان تو انسان پہاڑوں کے و جاتا اور وہ ہیبت کے مارے ایسا نکم کے متعلق آدھا لفظ ہی منہ سے نکال نکل جاتا اور خدا تعالیٰ کے خوف او اصل معاملہ پر تو بالکل خاموشی ہے کے دامن عفت کو پھاڑنے کی کوش کہ وہ ایک مسودہ کو ہی شائع کرے اٹھائی ہے وغیرہ وغیرہ۔

مرزا محمود کا منہ کالا

دوسری طرف خلیفہ کا پروپیگنڈا تکنیک سے چہروں کی ب قول کے مطابق ”شاهت الو یافتہ پالتو مولویو ! دیکھو تم سب م

صفحہ ٦٠٩

کے وقت بھی اس کے مشابہ الفاظ ہیں۔ کیونکہ وہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”لا عاصم الیوم من امر اللہ الا من رحم“ پس یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ طوفان شہوات نفسانیہ اپنی عظمت اور ہیبت میں نوح کے طوفان سے مشابہ ہے۔“

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٤٩، خزائن ج ٢١ ص ٢٠٦)

مسیح موعود فرماتے ہیں کہ تشبیہات میں پوری پوری تطبیق کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ بسا اوقات ایک ادنیٰ مماثلت کی وجہ سے بلکہ صرف ایک جزو میں مشارکت کے باعث ایک چیز کا نام دوسری چیز پر اطلاق کر دیتے ہیں۔

(ازالہ اوہام ص ٧٢، خزائن ج ٣ ص ١٤٨)

شہوات کا طوفان

لیکن یہاں تو تطبیق کی حد ہوگئی اور عرصہ تیس سال سے اس لڑکے کے بارے میں ایک شور اٹھ رہا ہے کہ وہ شہوات نفسانیہ کے طوفان میں مبتلا ہے اور انسان تو انسان اس ملک کی در و دیوار اس پر شاہد ہیں۔ مگر لڑکے نے ایک چپ سادھی ہوئی ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ اگر کوئی پاک دامن ہوتا تو اپنی صفائی باطن کے بارے میں ایسی شدید اور ہیبت ناک مؤکد بعذاب حلفیہ بیان دیتا کہ جس سے انسان تو انسان پہاڑوں کے دل بھی لرزہ براندام ہو جاتے اور لوگوں میں ایک کپکپی اور سناٹا چھا جاتا اور وہ ہیبت کے مارے ایسا کلمہ زبان پر لانے سے خوف کھاتے اور اگر کسی نے خلیفہ کی ذات کے متعلق آدھا لفظ ہی منہ سے نکالا ہوتا تو اس ہیبت ناک بیان کو دیکھ کر باقی کا آدھا لفظ منہ میں ہی نکل جاتا اور خدا تعالیٰ کے خوف اور اس کے عذاب کی دہشت سے کانپ اٹھتا۔ مگر یہاں کیا ہے کہ اصل معاملہ پر تو بالکل خاموشی ہے۔ مگر پالتو مولویوں اور مریدوں کے ذریعہ جملہ اتقیاء واصفیاء کے دامن عفت کو پھاڑنے کی کوشش کی جاتی ہے اور ایک خطاب یافتہ پالتو مولوی تو خلیفہ کے تحریر کردہ ایک مسودہ کو ہی شائع کر کے لوگوں کو مغالطہ دیتا پھرتا ہے کہ دیکھئے صاحب انہوں نے حلف اٹھالی ہے وغیرہ وغیرہ۔

مرزا محمود کا منہ کالا

دوسری طرف خلیفہ کو متعارف کرانے پر کروڑوں روپے خرچ کئے جا چکے ہیں۔ غرض پروپیگنڈا تکنیک سے چہروں کی اس سیاہی کو دور کرنے کی بے انتہاء کوشش کی گئی۔ مگر خدا تعالیٰ کے قول کے مطابق ”شاہت الوجوہ“ (تذکرہ ص ٥٥٤) یعنی منہ کالے ہی رہے۔ اے خطاب یافتہ پالتو مولویو! دیکھو تم سب مل کر کروڑوں روپے کے اصراف سے خدا کے کلام کو جھٹلا نہیں سکے

١٧

صفحہ ٦١٠

اور یاد رکھو کہ اب اگر تمہاری نسلیں بھی اس کام میں لگ جاویں تو بھی خدا کے کلام کی تکذیب محال ہے۔ اے نادانوں ”انه عبد غیر صالح“ خدا تعالیٰ کا کلام ہے اور اس کی صداقت کو روز روشن کی طرح ثابت کرنے کے لئے وہ خود تمہارے مقابل پر کھڑا ہے۔ پس اے جہلاء! ذرا غور کرو کہ تمہارا مقابلہ کس سے ہے۔ پھر ”انه عبد غیر صالح“ میں کسی ایک مخصوص شخصیت کی طرف اشارہ ہے اور ”انهم مغرقون“ میں بہت سے افراد یعنی ایک جماعت کی طرف اشارہ ہے۔ پس ایک لڑکے کا علیحدہ طور پر خصوصیت سے ذکر اور اس کے مقابل ایک جماعت کے ذکر سے صاف ظاہر ہے کہ یہ لڑکا جس کا دیگر لوگوں سے علیحدہ طور پر خصوصیت سے ذکر کیا گیا ہے۔ ان کا سرگروہ ہے۔ یہاں کوئی شخص یہ خیال نہ کرے کہ یہ سب معانی اور مطالب ہم اپنے پاس سے نکال رہے ہیں۔ اگر چہ ان الہامات اور واقعات کے ہوتے ہوئے اس کے یہی معنی ہیں کہ جو ہم نے بیان کئے اور کوئی دیگر معنی ہو ہی نہیں سکتے۔ مگر خود مسیح موعود نے بھی ”ولا تکلمنی فی الذين ظلموا“ کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا: ”میرے خیال میں یہ الہام ہماری جماعت کے بعض افراد کی نسبت ہے۔“

(تذکرہ ص ٦٠٧ طبع دوم)

ہمارے خیال میں یہ بھی خدا تعالیٰ کی قدرت اور تصرف کا ایک کرشمہ ہے کہ مسیح موعود کے ذریعہ ہی یہ تشریح بھی کروا دی۔ ورنہ حضرت اقدس کے وقت لوگوں کے اخلاص و ایثار اور تقویٰ وطہارت کے پیش نظر بھلا کون یہ خیال کر سکتا تھا کہ یہ جماعت بھی کبھی گمراہ ہو کر ”انهم مغرقون“ کے وعید کے نیچے آ جائے گی اور یہ الہامی شعر بھی اسی مفہوم کا آئینہ دار ہے۔

قادر ہے وہ بارگاہ ٹوٹا کام بنادے
بنا بنایا توڑ دے کوئی اس کا بھید نہ پاوے

(تذکرہ ص ٣٣٢ طبع ٢)

یعنی پہلے حضرت اقدس کے ذریعہ بگڑا کام بنایا تھا اور پھر وہ بنا بنایا کام ایک غیر صالح لڑکے کے ذریعہ ٹوٹ بھی گیا۔ پس ہم خطاب یافتہ پالتو مولویوں سے گذارش کریں گے کہ وہ ناقدین کو منافق و مرتد کہنے اور لوگوں کو بہکانے سے باز آجائیں اور دیکھیں کہ خود خدا بھی ان کا ہمنوا ہو کر پکار رہا ہے کہ آپ کا خلیفہ غیر صالح ہے۔ غریبوں کو تو منافق و مرتد کہہ لیا۔ اے خطاب یافتہ پالتو مولویو! اب خدا تعالیٰ کو کیا کہو گے۔ باز آ جاؤ۔ تم نے خدا کے کلام کی طاقت کو دیکھ لیا ہے۔ اس کا مقابلہ ترک کر دو۔ ورنہ پیس ڈالے جاؤ گے۔

١٨

قادیان سے یزیدی نکالے

تفصیل نمبر ٢:...... مسیح موعود ”اخرج منه اليزيديون ہوئے ہے۔ سب سے اول اخرا ہوں گے اور یہ معنی بھی ہیں کہ پیدا ہ بلاغت اور وسعت معانی کا اندازہ عادات و خصلات کے لوگ پیدا ہو

دوئم...... پھر خدا تعالیٰ ان یزید یزیدیوں پر غور فرمائیے۔ سبحان اللہ کر رکھ دی ہے۔ ظاہر ہے کہ یزید اس کے پیروکاروں کو یزیدی کہا جا موجودگی ظاہر کرتی ہے کہ کوئی یزید ہوگا اور پھر یزید پلید کی طرح اس اسباب پیدا کر دے گا کہ دور حاضر پیش گوئی معانی و معارف کے لحا حالات میں جن کا وہم و گمان بھی کی دریافت کرتے ہیں کہ یزید پلید کی کے پیروکاروں کی تعداد یزید کی ط اپنے وسیع وسائل پر نازاں ہے۔

پھر جو قادیان میں من نشانہ بنے ہوں۔ غریبوں کا مقاطع املاک کو لوٹا گیا ہو اور گھروں کو جلا شہید کر دیا گیا ہو۔ ”انا لله وانا ا

قادیان کون بھاگا ؟

پھر وہ اولوالعزم کون

صفحہ ٦١١

قادیان سے یزیدی نکالے جائیں گے

تفصیل نمبر:٢....... مسیح موعود فرماتے ہیں کہ قادیان کے متعلق مجھے یہ الہام بھی ہوا ہے کہ ”اخرج منه اليزيديون“ (تذکرہ ص١٨١) یہ چھوٹا سا الہام اپنے اندر بہت بڑا مفہوم لئے ہوئے ہے۔ سب سے اوّل اخرج کو لیجئے۔ اس کے یہ معنی بھی ہیں کہ یزیدی اس بستی میں پیدا ہوں گے اور یہ معنی بھی ہیں کہ پیدا ہو کر پھر نکالے بھی جائیں گے۔ سبحان اللہ! خدا تعالیٰ کے کلام کی بلاغت اور وسعت معانی کا اندازہ نہیں ہو سکتا۔ یعنی اوّل قادیان میں یزیدی الطبع اور یزید پلید کی عادات و خصلات کے لوگ پیدا ہوں گے۔

دوئم....... پھر خدا تعالیٰ ان یزیدیوں اور ظالم لوگوں کو قادیان سے نکال بھی دے گا۔ اب لفظ یزیدیوں پر غور فرمائیے۔ سبحان اللہ! اس کے اندر تو خلیفہ اور اس کے پیروکاروں کی ساری تصویر کھینچ کر رکھ دی ہے۔ ظاہر ہے کہ یزیدی کسی خاص قوم قبیلہ کا نام نہیں۔ بلکہ یزید پلید کی رعایت سے اس کے پیروکاروں کو یزیدی کہا جاتا ہے۔ یزید نہ ہوتا تو یزیدی بھی نہ ہوتے۔ پس یزیدیوں کی موجودگی ظاہر کرتی ہے کہ کوئی یزید بھی ہے۔ جو کہ یزید پلید کی طرح خلافت حقہ اسلامیہ کا دعویدار ہوگا اور پھر یزید پلید کی طرح اس کے پیروکاروں کی تعداد بھی کثیر ہوگی اور پھر خدا تعالیٰ ایسے اسباب پیدا کر دے گا کہ دور حاضر کا یزید اپنے لاؤ لشکر سمیت قادیان سے نکال دیا جائے گا۔ یہ پیش گوئی معانی و معارف کے لحاظ سے جو وسیع مفہوم اپنے اندر رکھتی ہے اور پھر جن غیر معمولی حالات میں جن کا وہم و گمان بھی کسی انسان کو نہیں ہو سکتا....... ہم ٹائٹل اور خطاب یافتہ مولویوں سے دریافت کرتے ہیں کہ یزید پلید کی طرح قادیان میں خلافت حقہ اسلامیہ کا دعویدار کون ہے۔ جس کے پیروکاروں کی تعداد یزید کی طرح کثیر ہے۔ جس کو اپنے مریدوں کی کثرت اپنی دولت اور اپنے وسیع وسائل پر ناز ہے۔

پھر جو قادیان میں من مانی کارروائیاں کرتا رہا ہو اور سینکڑوں لوگ جس کے ظلم وتشدد کا نشانہ بنے ہوں۔ غریبوں کا مقاطعہ کیا جاتا ہو۔ قادیان سے خارج کیا جاتا ہو اور پھر غریبوں کی املاک کو لوٹا گیا ہو اور گھروں کو جلایا جاتا رہا ہو۔ یہاں تک کہ بعض کو زدوکوب کر کے زخمی اور بعض کو شہید کر دیا گیا ہو۔ ”انا للہ وانا الیہ راجعون“

قادیان کون بھاگا؟

پھر وہ اولوالعزم کون تھا۔ جس نے پہلے قادیان سے نہ نکلنے کا عہد کیا اور یہی عہد

١٩

صفحہ ٦١٢

مریدوں اور مریدنیوں تک سے لیا اور پھر ”ان بطش ربک لشديد“ کے تحت جب خدائے جبار و قہار کی گرفت مضبوط ہوئی اور جان کے لالے پڑ گئے تو سب عہدوں اور قسموں کو بھول بھلا کر سر پر پاؤں رکھ کر بھاگا۔ ہمیں پالتو مولوی بتائیں کہ یہ پیش گوئی بھی ”انہ عبدا غیر صالح“ کی طرح کس شوکت اور ہیبت سے پوری ہوئی۔ اے خطاب یافتہ پالتو مولویو! اے تذکرہ نویسو! یہ ایک بہت بڑا نشان تھا کہ تم آنکھیں کھولتے اور یزید کو چھوڑ کر اپنی عاقبت درست کرتے اور خود بھی سمجھتے اور لوگوں کو بھی سمجھاتے۔ اے نادانوں یہ تمہاری بدبختی کی انتہاء ہے کہ تم پھر اسی یزید کے گرد جمع ہو گئے اور تم نے اپنا خانہ ساز دین چلانے کے لئے ایک اور مرکز اور کفر گڑھ بنالیا۔ قادیان سے اپنے نکالے جانے کو یاد کر کے خدا تعالیٰ کی طاقت کا اندازہ کرو کہ وہ تمہارے اس کفر گڑھ کو بھی تباہ کر سکتا ہے۔ باز آجاؤ کہ ”فسحقہم تسحیقاً“ کا وعید تمہارے تعاقب میں ہے۔ کیوں ایک غیر صالح شخص کے گرد جمع ہو کر اور اس کے ہمنوا بن کر اپنی تباہی و بربادی کا سامان کر رہے ہو۔ اپنی حالتوں پر رحم کرو۔

پس جیسا کہ انہ عبدا غیر صالح“ اور ”انہم مغرقون“ میں خلیفہ اور جماعت دونوں کا الگ الگ ذکر الہامات الٰہی میں کر دیا گیا۔ اسی طرح یزیدیوں کا لفظ بھی دونوں مفہوم اپنے اندر لئے ہوئے ہے۔ لیکن اس کے علاوہ یزید کی تخصیص یہاں بھی موجود ہے۔ ”بلائے دمشق“ (تذکرہ ص ٧١١، طبع دوم) جو کہ مسیح موعود کا ایک الہام ہے اور ہماری اس تحریر کا عنوان بھی ہے۔ میں صاف بتلا دیا گیا ہے کہ قادیان میں نہ صرف یہ کہ یزیدی پیدا ہوں گے۔ بلکہ ”بلائے دمشق“ یعنی یزید بھی پیدا ہوگا اور بلا کے لفظ میں وہ سب بدکاریاں اور ظلم و ستم کے معانی پنہاں ہیں۔ جن کا ذکر ”یعمل غیر صالح “ اور ”الا الذین علو باستکبار “ کے الفاظ میں پایا جاتا ہے۔ پس ”انہ عبدا غیر صالح“ کی طرح یہاں بھی بلائے دمشق کہہ کر خلیفہ کا خصوصیت سے ذکر کیا گیا ہے اور پھر اس ایک جملہ سے اس تمام داستان کی تصدیق کر دی ہے کہ جس کا آج ہم ذکر کر رہے ہیں اور جس کا چرچا متواتر تیس سال سے زبان زد خاص و عام ہے۔ گویا خدا تعالیٰ ”انہ عبداً غیر صالح“ اور بلائے دمشق کہہ کر خود گواہی دے رہا ہے کہ خلیفہ ظالم و غاصب اور غیر صالح ہیں۔ اب ہم حیران ہیں کہ اس سے زیادہ وضاحت اور پیش گوئی کی صداقت اور کیا ہو سکتی ہے اور پھر ان پیش گوئیوں کا ایک حصہ ہیبت ناک طور پر پورا بھی ہو چکا ہے۔ ”انہ عبدا غیر صالح“ کی تصدیق واقعات نے ڈنکے کی چوٹ سے کر دی ہے اور دور حاضر کا یزید اور اس کے

٢٠

صفحہ ٦١٣

پیروکار نہایت بے بسی کی حالت میں قادیان سے نکال بھی دیئے گئے۔ پھر بھی یہ لوگ نہیں سمجھتے۔

اے لوگو! کیا تمہارے مقدر میں ہلاکت ہی ہے۔ خدا سے ڈرو اور اپنی کثرت اور خلیفہ کے خانہ ساز القابات اور حسب و نسبت کو حاضر میں نہ لاؤ۔ کوئی معمولی آدمی تمہیں بھلا کب بہکا سکتا تھا۔ تمہارے بہکانے کے لئے ایک بہت بڑی بلا یعنی بلائے دمشق کی ضرورت تھی اور بہت بڑے تقدس اور مذہبی نقاب کی ضرورت تھی۔ قومیں اسی طرح مغالطہ کھاتی اور بہک جاتی ہے۔ ہماری تحریر پر بار بار غور کرو۔ اگر آپ لوگ ہماری تحریر پر ٹھنڈے دل سے غور فرمائیں گے تو آپ کے تمام وسوسے دور ہو جائیں گے۔ اے لوگو! عرصہ قریباً نصف صدی سے آپ کو دھوکا دیا جارہا ہے اور دین کے بارے میں بہت غلط نقوش آپ کے ذہن نشین کرائے گئے ہیں۔ آپ جب اپنے ذہنی تانے بانے کو ٹوٹتا دیکھتے ہیں تو گھبرا جاتے ہیں۔ ہم آپ کو یقین دلاتے ہیں کہ گھبرانے کی کوئی بات نہیں ہے۔ ہم ہر اس بات کا کہ جو غلط طور پر آپ کے ذہن نشین کرائی گئی ہے، تشفی بخش جواب دیں گے۔ خلافت کے دائیں بائیں آگے پیچھے لڑنے والو رک جاؤ کہ ایک بہت بڑا فریب اور دھوکہ تمہیں دیا گیا ہے۔ دیکھو ہم خدا کے نام کا واسطہ دیتے ہیں اور خدا کے کلام کو اپنی تائید میں پیش کرتے ہیں۔ کیا تم خدا کے کلام کو بھی رد کر دو گے۔ اپنے خداداد فہم کو اب مزید عرصہ کے لئے رہن نہ رکھو۔ اس سے خود کام لو اور کسی کی بات کو نہ سنو۔ خدا کے کلام کی طرف آؤ خدا کے کلام کو سنو اور اس خانہ ساز دین پر لعنت بھیجو۔ جیسا کہ ہم آئندہ چل کر بیان کریں گے۔ خدا تعالیٰ بھی اس خانہ ساز دین پر لعنت بھیجتا ہے۔

قادیان کی گمراہی

تفصیل نمبر:٣....... مسیح موعود فرماتے ہیں کہ میں اپنی جماعت کے لئے اور پھر قادیان کے لئے دعا کر رہا تھا تو یہ الہام ہوا:

(تذکرہ ص٥١٢)

(تذکرہ ص٥١٢ طبع دوم)

خدا تعالیٰ کے مامور امین ہوتے ہیں اور بالخصوص الہامات کے بارے میں بڑے محتاط ہوتے ہیں۔ اب اس وقت جب کہ جماعت کی روحانی حالت بے مثال تھی ان الہامات کو کہ جو بظاہر ناممکن الوقوع نظر آتے ہیں صاف صاف بیان فرما دیا۔

٢١

صفحہ ٦١٤

اب ان الہامات میں تو معاملہ ہی بالکل صاف اور واضح کر دیا گیا ہے۔ دین حسن معاشرت کا ہی دوسرا نام ہے۔ جسے الہام الٰہی میں زندگی کے فیشن سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یعنی قادیان کی جماعت اسلام یعنی حسن معاشرت کو ترک کر کے خانہ ساز خیالات کی پیرو ہو جائے گی اور ”فسحقهم تسحيقاً“ کے معنی ہیں کہ ان کو اس گمراہی کی وجہ سے پیس ڈالا جائے گا۔ یہ الہام خدا تعالیٰ کے غضب کا آئینہ دار ہے۔ واضح ہو کہ محض گمراہی ایک ذاتی بات ہے۔ مگر جب اس کے ساتھ علو استکبار اور ظلم و تعدی شامل ہو جائے تو خدا تعالیٰ کی طرف سے سرزنش یقینی ہوتی ہے۔ پس ”فسحقهم تسحيقاً “ سے معلوم ہوتا ہے کہ قادیانی جماعت نہ صرف یہ کہ اسلام کو چھوڑ کر گمراہ ہو جائے گی بلکہ اس سے ظالمانہ کارروائیاں بھی ہوں گی اور جب کوئی شخص یا جماعت ظلم کرتی ہے تو اپنی کسی کمزوری کو چھپانے کے لئے ہی ایسا کرتی ہے اور دوسرے الہامات ”عمل غیر صالح“ کی صورت میں اس کمزوری کی وضاحت کر رہے ہیں۔ پس الہامات کے ان چھوٹے چھوٹے دو فقروں میں بھی وہی داستان پوشیدہ ہے کہ جو ”انه عمل غير صالح“ اور ”انهم مغرقون“ اور ”اخرج منه اليزيدیون“ اور بلائے دمشق سے ظاہر ہوتی ہے۔ لیکن ان الہامی پیش گوئیوں کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں قادیان کی جماعت کا نام لے کر فتنہ پردازوں کو بالکل بے نقاب کر دیا گیا ہے اور نام لے کر واضح کر دیا گیا ہے کہ اس جماعت کا سرگروہ بوجہ غیر صالح اعمال کے اور یزیدی خصلات کے اپنے عیوب پر پردہ ڈالنے کے لئے ظلم و تشدد کرے گا اور واقعات نے ان الہامی پیش گوئیوں کی حرف بحرف تصدیق کر کے خدا کے کلام کی صداقت کو ظاہر کر دیا۔ لیکن شاید ظالم لوگوں کو انہی کرتوتوں پر ندامت محسوس کرنے کا موقع نہ ملے کہ ہر سال لاکھوں روپے کے پروپیگنڈہ اور پبلسٹی کی بدولت ان کے ذہنوں کو متواتر ماؤف کیا جارہا ہے اور بدبختی کی انتہاء یہ ہے کہ خود ملزم عدالت عالیہ کی کرسی پر بیٹھا ہوا ہے۔ لہٰذا اس کا علاج بجز ”فسحقهم تسحيقاً“ یعنی پیس ڈالے جانے کے اور کیا ہو سکتا ہے۔ سو خدا تعالیٰ کے کلام کے مطابق کام شروع ہو چکا ہے۔ قادیان سے زمانہ حاضر کے یزید اور اس کے پیروکاروں کو نکال دیا گیا ہے اور پھر خلیفہ کو مفلوج بھی کر دیا گیا ہے اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ دن بدن خدا تعالیٰ کے وعید کے دائرے تنگ ہو رہے ہیں اور ہمیں یقین کامل ہے کہ اس خانہ ساز دین کو بیخ و بن سے اکھاڑ دیا جائے گا اور ان کے بانیوں کو پیس ڈالا جائے گا ......

٢٢

سگان قادیان

شاید پالتو مولوی ہمارے اس بطلان کی ایک دلیل ہوگی۔ انہیں یاد رکھ ہے کہ جو سگان راہ کی سرکوبی اور ان کے قارئین خود بخود غور فرمالیں تصدیق مسیح موعود کے مندرجہ بالا تحریر استخلاف کے تحت خلافت سازی کے ق گھر کی لونڈی بنی رہے اور لاکھوں روپ کس قدر یہ گمراہی ہے کہ قیامت تک کی جا رہی ہے اور ساتھ کے ساتھ اپن پھر خلافت سازی کی شرائط ایسی مقرر دے کر ربوے کے ٹوکری پیشہ ملازمی کے ہاتھوں میں بے بس و مجبور ہیں۔ ا بے بس اور ضمیر فروش جی حضور پول مبعوث کردہ خلیفہ منصور ہو گا۔ گویا جس پالتو مولوی آیت استخلاف کے تحت خل اپنی فرعونیت کا کیا حال ہوگا۔ کیا یہ ”ان رات دن دین کی قدروں عقیدت مندوں کی بھرمار نے ان لوگ مرید کو خوف زدہ کر دیتے ہیں کہ جو اہ کوئی غریب سر اٹھائے تو اس کی سرکوب پالتو مولویوں کو بھی اس کے پیچھے ڈال د حرم خانے یا محل خانے کی زینتوں کو ب ہوٹلوں کا مہینوں تک طواف کرتا پھر دیوی یعنی خلافت کی بدولت یہ سب کی

صفحہ ٦١٥

سگان قادیان

شاید پالتو مولوی ہمارے اس ناتمام اشارہ کی طرف لپکیں۔ لیکن ہمارے لئے یہی ان کے بطلان کی ایک دلیل ہوگی۔ انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ خدا تعالیٰ نے ہمیں دلائل کا ایک ایسا عصا عطا فرمایا ہے کہ جو سگان راہ کی سرکوبی اور ان کے حملے سے ہمیں مامون و محفوظ رکھنے کے لئے کافی ہے۔

قارئین خود بخود غور فرمالیں کہ جو کچھ ہم نے اب تک تحریر کیا ہے کیا اس کی حرف بحرف تصدیق مسیح موعود کے مندرجہ بالا تحریر سے نہیں ہوتی۔ یہ کس قدر سرکشی اور بغاوت ہے کہ آیت استخلاف کے تحت خلافت سازی کے قواعد بنا دیئے گئے ہیں۔ تاکہ دولت کی یہ دیوی یعنی خلافت گھر کی لونڈی بنی رہے اور لاکھوں روپے نذرانوں کی صورت میں ہڑپ کئے جاتے رہیں اور پھر کس قدر یہ گمراہی ہے کہ قیامت تک کے لئے مریدوں کو انہی قواعد و ضوابط پر قائم رہنے کی تلقین کی جارہی ہے اور ساتھ کے ساتھ ابنائے فارس کی توحید پرستی کا سبق بھی ازبر کروایا جارہا ہے اور پھر خلافت سازی کی شرائط ایسی مقرر کر دی ہیں کہ بیرونی جماعتوں کے انتظار کو غیر ضروری قرار دے کر ربوے کے نوکری پیشہ ملازمین اور پالتو مولویوں کو کہ جو پہلے ہی خلیفہ اور ان کے خاندان کے ہاتھوں میں بے بس و مجبور ہیں۔ اختیار دے دیا گیا ہے کہ وہ خلیفہ مقرر کر لیا کریں اور ان مجبور و بے بس اور ضمیر فروش جی حضوریوں کا بنایا ہوا خلیفہ گویا آیت استخلاف کے تحت خدا تعالیٰ کا مبعوث کردہ خلیفہ متصور ہوگا۔ گویا جب خلیفہ کے یہ دفتری ملازم اور رکابی چٹ تنخواہ خور خطاب یافتہ پالتو مولوی آیت استخلاف کے تحت خلیفہ گر بنا دیئے گئے کہ جو ایک خدائی کام ہے۔ تو پھر خلیفہ کی اپنی فرعونیت کا کیا حال ہوگا۔ کیا یہ ”انا ربکم الاعلیٰ“ کا مقام نہیں ......

رات دن دین کی قدروں کو ملیا میٹ کرنے میں مصروف ہیں۔ نذرانوں کی جھنکار اور عقیدت مندوں کی بھرمار نے ان لوگوں کو فرعون الطبع بنا دیا ہے۔ یہ اپنی چیرہ دستیوں سے ہر اس مرید کو خوف زدہ کر دیتے ہیں کہ جو اپنے ماحول پر ناقدانہ نظر ڈالنے کی کوشش کرتا ہے اور اگر پھر بھی کوئی غریب سر اٹھائے تو اس کی سرکوبی کے لئے دیگر وسائل اختیار کرنے سے بھی نہیں چوکتے اور پالتو مولویوں کو بھی اس کے پیچھے ڈال دیتے ہیں۔ کوئی نواب اور رئیس بھی یہ جرات نہیں کر سکتا کہ اپنے حرم خانے یا محل خانے کی زینتوں کو اور ستر اسی درباریوں کو اپنے ساتھ لے کر یورپ کے شاہانہ ہوٹلوں کا مہینوں تک طواف کرتا پھرے۔ مگر خلیفہ کے لئے یہ ایک معمولی بات ہے۔ پھر جس لکشمی دیوی یعنی خلافت کی بدولت یہ سب عیش آرام میسر ہو، اسے اپنے خاندان کی زینت بنانے کے لئے

٢٣

صفحہ ٦١٦

کیوں نہ قواعد بنائے جاتے۔ یہ اس شخص کے تقدس کا حال ہے کہ جو خود کو فضل عمر کہتا ہے ......

”یہی حال ہماری جماعت کے لوگوں کا ہے کہ غریب ہوتے ہیں۔ گھر میں فاقہ ہوتا ہے۔ مگر پھر بھی آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم سے اتنا چندہ لے لیا جائے۔ بعض اوقات عورتیں آجاتی ہیں کہ یہ چار انڈے ہیں۔ انہیں بیچ کر جو کچھ ملے چندہ میں دے دیں۔ اب انڈے بیچنے والی کی کیا حیثیت ہوتی ہے۔ ایک یا دو مرغیاں انہوں نے رکھی ہوئی ہوتی ہیں اور وہ مرغیاں ایک دو انڈے دے دیتی ہیں اور وہ ان انڈوں کو بھی چندہ میں دے دیتی ہیں۔“

(خطبہ جمعہ مورخہ ٣٠؍نومبر ١٩٥٦ء مندرجہ الفضل مورخہ ١٢؍دسمبر ١٩٥٦ء)

یہ ہیں یورپ کے شاہانہ ہوٹلوں کے طواف کرنے والے پیر اور انڈے بیچ کر چندہ دینے والے مریدوں کا حال۔ ہمیں افسوس ہے کہ ہم خلیفہ صاحب کی مالی دراز دستیوں کی داستان بخوف طوالت بیان نہیں کر سکتے۔ ورنہ یہ داستان بھی ہوش ربا ہے۔ یہ شخص غریب قوم کے بل بوتے پر شاہانہ زندگی بسر کرتا ہے اور ساتھ کے ساتھ یہ فسوں بھی کرتا جاتا ہے کہ میں فضل عمر ہوں۔ غرض ان لوگوں کی گمراہی و سرکشی کا کوئی ایک پہلو نہیں۔ مذہبی نقاب کے پیچھے لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم ہے اور نعروں اور ریزولیوشنوں کا شور برپا ہے۔ حال ہی میں حضرت خلیفہ اوّل کی اولاد کے ناطے کو اس بری طرح سے اپنی راہ سے دور کیا گیا ہے کہ دنیا حیران ہے۔ اس ضمن میں خلیفہ کی گوہر افشانی کی ایک ادنیٰ مثال ملاحظہ ہو۔

”کیا ایسے خبیثوں کا ہم ادب کریں گے یا ان کا مقابلہ کریں گے۔ ہم نے ان کے باپ کو اس لئے مانا تھا کہ وہ مسیح موعود کا غلام تھا۔“

(خطبہ جمعہ مورخہ ١٧؍جولائی مندرجہ الفضل مورخہ ١٢؍اگست ١٩٥٦ء)

گویا خلیفہ نے خلیفہ اوّل کی اولاد اور اپنے حقیقی سالوں کو خبیث کہہ کر مسیح موعود کے مندرجہ بالا بیان کو پورا کر دیا کہ میرا قبیلہ خبث اور عناد میں بڑھ جائے گا۔ جب خلافت کی گدی پر قبضہ رکھنے کے لئے بلائے دمشق کا اپنے قریب ترین رشتہ داروں اور خلیفہ اوّل کی اولاد سے یہ سلوک ہے تو دوسرے لوگوں سے جو سلوک کیا جاتا ہوگا اس کا اندازہ قارئین کر لیں۔ ہم ان سادہ لوح مخلصین کو بھی جن کو اپنے اخلاص پر ناز ہے دعوت دیتے ہیں کہ وہ خلیفہ کی کسی کارستانی پر تنقید کر کے دیکھ لیں۔ انجام وہی ہوگا جو دوسروں کا ہوا ہے۔ وہی خطبے، وہی گالی گلوچ، وہی جلسے، وہی نعرے، وہی ریزولیوشن، وہی ہنگامہ برپا کیا جائے گا جو کہ اب یہ سادہ لوح مخلصین کار ثواب سمجھ کر

٢٤

اپنے بھائیوں کے خلاف برپا کر خدا تعالیٰ نے بلائے دمشق کا نام ڈال رکھا ہے۔ ہمیں افسوس ہے دے سکتے کہ اس قسم کی گالیاں ا روشنی ڈال سکتے ہیں۔ ان کے سا گھرانہ رکھتے ہیں۔ خلیفہ نے دونوں بھائی ایک ہی باپ کی اول اور نذرانوں کا فرق ہے۔ غرض چہرے کو بگاڑا جارہا ہے اور غنڈے مولوی موجود ہیں۔ مال وزر کی ا بھی ملازم ہیں۔ غرض اچھی خا ہوئی۔ ادھر پریس چلنا شروع ہ میں تقسیم کر دیئے گئے۔

قادیانی جماعت کی حالت

اس پر بھی جو کمی رہ حق بات کو زبان پر لانے کی ج ملازمت والے کو ملازمت سے ہے۔ مار پیٹ املاک کو لوٹنا اور مشینری حرکت میں آتی ہے۔ اخباروں کی زینت دوچند ہو وضاحتیں فرماتے ہیں اور اس ہے۔ بس پھر کیا نہیں ہوتا۔ سب پدرم سلطان بود کے شور سے آ کی جھلک اور اِنَّہٗ عَمَلٌ غَیْرُ کی آن میں ایک فتنہ کا قلع قمع

صفحہ ٦١٧

اپنے بھائیوں کے خلاف برپا کر رہے ہیں۔ یہی چکر چلے گا۔ یہ لوگ گرفتار ہو چکے ہیں۔ وہ بلا جسے خدا تعالیٰ نے بلائے دمشق کا نام دیا ہے اور جس نے یزید کی طرح خلافت حقہ اسلامیہ کا نقاب بھی ڈال رکھا ہے۔ ہمیں افسوس ہے کہ ہم خلیفہ کی گوہر افشانیوں کی بوجہ خوف طوالت مزید مثالیں نہیں دے سکتے کہ اس قسم کی گالیاں ان کا تکیہ کلام بن چکی ہیں اور نہ ہی ان کے مالی وسائل پر کچھ مزید روشنی ڈال سکتے ہیں۔ ان کے ایک سب سے چھوٹے بھائی ہیں جو خلیفہ کے مقابل ایک ثقیل سا گھرانہ رکھتے ہیں۔ خلیفہ نے تو ماشاء اللہ سات شادیاں کی ہیں اور کثیر الاولاد ہیں۔ اب یہ دونوں بھائی ایک ہی باپ کی اولاد ہیں۔ ان دونوں میں مالی لحاظ سے جو فرق ہے وہ صرف خلافت اور نذرانوں کا فرق ہے۔ غرض ایک طرف لوٹ کھسوٹ جاری ہے اور دوسری طرف دین کے چہرے کو بگاڑا جا رہا ہے اور بغی اور طغیٰ کی کوئی انتہاء نہیں رہی۔ سینکڑوں تنخواہ خور ملازم اور پالتو مولوی موجود ہیں۔ مال و زر کی انتہاء نہیں۔ ہمہ وقت دھن کی بارش ہوتی رہتی ہے۔ ایڈیٹر صاحبان بھی ملازم ہیں۔ غرض اچھی خاصی نوکر شاہی موجود ہے۔ ادھر خلافت مآب کے لبوں میں جنبش ہوئی۔ ادھر پریس چلنا شروع ہوا۔ آن کی آن میں کاغذوں کے انبار کے انبار سیاہ کر کے مریدوں میں تقسیم کر دیئے گئے۔

قادیانی جماعت کی حالت

اس پر بھی جو کمی رہ جاتی ہے۔ وہ خطاب یافتگان پوری کر دیتے ہیں۔ اگر کوئی غریب حق بات کو زبان پر لانے کی جرأت کرے تو اوّل اس کا انسانیت سوز بائیکاٹ کر دیا جاتا ہے۔ ملازمت والے کو ملازمت سے علیحدہ کر دیا جاتا ہے۔ کاروبار والے کا کاروبار ٹھپ کر دیا جاتا ہے۔ مار پیٹ املاک کو لوٹنا اور جلانا اس کے علاوہ ہیں۔ ان سب ضروری اقدامات کے بعد پھر وہ مشینری حرکت میں آتی ہے۔ خلیفہ منبر پر جلوہ گر ہوتے ہیں۔ پریس چلنے شروع ہو جاتے ہیں۔ اخباروں کی زینت دوچند ہو جاتی ہے۔ خطاب یافتہ پالتو مولوی قال اللہ اور قال الرسول کی وضاحتیں فرماتے ہیں اور اس کی روشنی میں اوّل ربوہ کی جماعت ریزولیوشنز رقعے کی طرح ڈالتی ہے۔ بس پھر کیا نہیں ہوتا۔ سب جماعتوں کو یہی دورہ پڑ جاتا ہے اور فضا نعروں ،ریزولیوشنوں اور پدرم سلطان بود کے شور سے گونج اٹھتی ہے۔ یہ ہے تحریک احمدیت کے موجودہ دور کی ایک معمولی سی جھلک اور ”انہ عمل غیر صالح“ کی اپنی سیاہ کاریوں کو چھپانے کا ایک طریق۔ غرض آن کی آن میں ایک فتنہ کا قلع قمع کر دیا جاتا ہے۔ میرے دوستو! آپ لوگوں کی گمراہی کی حد ہو چکی

٢٥

صفحہ ٦١٨

ہے۔ میرے بھائیو! آپ کے ظلم و تشدد کی انتہاء ہو چکی ہے۔ کہ ہم اصل حقائق قلم کی نوک پر لائیں تو انسانیت کا حیرت کے مارے منہ کھلا کا کھلا رہ جائے۔ آپ لوگ کیا تھے اور کیا بن کر رہ گئے۔ آپ کو مسلمان تو درکنار ہمیں انسان کہنے میں حجاب محسوس ہوتا ہے۔ آپ کا کیا حلیہ ہو گیا ہے۔ ہمیں علم ہے کہ آپ آیت استخلاف کے تحت خلیفہ ساز تو بن گئے۔ مگر اپنی انسانیت کو کھو بیٹھے۔

اے ظالمو! مسیح موعود کی اس فریاد کو سنو۔ یہ فریاد انتہائی کرب واضطراب کی آئینہ دار ہے۔ باز آ جاؤ کہ یہ فریاد کبھی بھی رائیگاں نہ جائے گی۔ یہ مامور وقت کی چیخ و پکار ہے۔ رک جاؤ کہ تم خدا کے وعید کی حدود میں داخل ہو چکے ہو۔ اپنے آپ پر رحم کرو۔ اپنی نسلوں پر رحم کرو۔ ورنہ ایسے پسے جاؤ گے جیسا کہ پسے جانے کا حق ہے۔ ان قہری پیش گوئیوں کا جو حصہ پورا ہو چکا ہے۔ اس سے عبرت حاصل کرو۔ دیکھو تم قادیان سے نکال دیئے گئے اور اب تمہارا محبوب خلیفہ بھی مفلوج ہو چکا ہے۔ حالانکہ اس بیماری سے خدا کے بندوں کو محفوظ کیا جاتا ہے۔ جیسا کہ خدا تعالیٰ مسیح موعود کو عبدالکریم کے الہامی نام سے پکار کر فرماتا ہے۔

”اے عبد الکریم خدا تعالیٰ تجھے ہر ایک ضرر سے بچا دے۔ اندھا ہونے مفلوج ہونے اور مجذوم ہونے سے۔“

(تذکرہ ص ٧١، طبع دوم)

پس خدا کے بندوں کو فالج نہیں ہوا کرتا۔ مگر تمہارا مصلح موعود خلیفہ جسے حسن واحسان میں مسیح موعود کے نظیر ہونے کا دعویٰ ہے۔ مفلوج ہو چکا ہے۔ ممکن ہی نہیں بلکہ اغلب ہے کہ یہ بیماری پھر حملہ کرے اور وہ بالکل شل اور مختل ہو کر رہ جائے۔ پھر کیا کرو گے۔ کیا پھر بھی جیسا کہ تمہیں قبل از وقت مرزا بشیر احمد نے ایک مضمون لکھ کر تیار کر لیا ہے۔ ”جسد له خوار“ کا پیچھا نہ چھوڑو گے اور عبرت حاصل نہ کرو گے۔ اب انتہا ہو چکی ہے۔ رک جاؤ اور دین کا تمسخر نہ بناؤ۔ روحانی قدروں کو پامال نہ کرو۔ کچھ عقل خدا داد سے کام لو۔ جس خلافت پر تمہیں اس قدر ناز ہے۔ اسلام میں اس کا کوئی مقام نہیں۔ ہماری تحریر کو غور سے پڑھو۔ اس میں خدا کا کلام ہے۔ بیشتر فقرے ہماری تحریر کے الہامات ہی کا ترجمہ ہیں۔ مگر ہم طوالت کے خوف سے حوالہ نہیں دے سکتے۔ یاد رکھو خدا تعالیٰ سے لغو اور فضول باتیں ممکن نہیں۔ ”ایلی ایلی لما سبقتنی“ کی فریاد تمہاری انتہائی گمراہی پر دلالت کرتی ہے۔ اس الہامی فریاد پر کان دھرو۔ خدا کا مسیح کیوں فریاد کناں ہے۔ یہ فریاد محض تمہاری گمراہی کا نتیجہ ہے۔ ورنہ مسیح موعود کی اس دنیا میں کھیتیاں نہیں کہ جو اجڑ رہی ہیں اور وہ فریاد کناں ہیں۔ اے ظالمو! ہماری تحریر پر کان نہیں دھرتے تو نہ دھرو۔ خدا کے پیارے مسیح اپنے پیارے مسیح موعود کی اس فریاد کو تو سنو کہ جو حسب ذیل ہے۔

٢٦

صفحہ ٦١٩

ایک نیک دل انسان کا اس فریاد سے سینہ شق ہو جاتا ہے۔ اس وقت کہ ہم یہ سطور لکھ رہے ہیں۔ ہماری آنکھوں سے آنسو جاری ہیں اور اپنی تحریر نظر نہیں آتی۔ ایک طرف قلم چل رہا۔

.......آہ! کیا پھر بھی تم غور نہیں کرو گے۔ اے جماعت کے عالمو! اے بڑے لوگو! اپنے علم اور اپنی بڑائی اور اپنے باہمی تعلقات کو نظر انداز کر کے خدا کے پیارے مسیح کی فریاد کو سنو اور اس خانہ ساز دین سے باز آ جاؤ۔ کم از کم ایک بار تو اپنا محاسبہ کرو۔ تھوڑی دیر کے لئے ہی رک جاؤ اور اپنے ماحول کی طرف تنقیدی نظر ڈالو۔ دیکھو! مسیح موعود فرماتے ہیں کہ میرا قبیلہ بار دوم فساد کرے گا اور خبث اور عناد میں بڑھ جائے۔ میرے قبیلہ کے لوگ باغی و طاغی بدسیرت اور شقی القلب ہو جائیں گے اور لوگوں کو گمراہ کریں گے۔ خدا تعالیٰ بذریعہ الہام قبیلہ کے سرگروہ کا تعارف ’’انہ عمل غیر صالح‘‘ اور بلائے دمشق کے الفاظ سے کرواتا ہے اور الہاماً جماعت قادیان کی گمراہی کی اطلاع دیتا ہے اور ’’اے ازلی ابدی خدا بیڑیوں کو پکڑ کے آ‘‘ کی فریاد تو یقیناً یقیناً بیڑا غرق ہونے پر ہی کی جاسکتی ہے۔ اے لوگو! تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم عقل نہیں کرتے۔ کیا تمہاری جمعیت فرعون سے بھی زیادہ ہے۔ پھر وہ غرق کیا گیا کہ نہیں۔ دیکھو تمہارے لئے بھی ’’انہم مغرقون‘‘ کا وعید موجود ہے۔ رک جاؤ قبل اس کے کہ پکڑے جاؤ اور یقین جانو کہ ساری دنیا مل کر بھی آیت استخلاف کے تحت روحانی خلیفہ نہیں بنا سکتی۔ یہ بہت بڑا فریب ہے کہ جو تمہیں دیا گیا اور یہ بہت بڑی گمراہی ہے جس میں کہ تم مبتلا کر دیئے گئے۔

محمدی بیگم

حضرت اقدس کے الہامات میں محمدی بیگم عورت کا جو قصہ ہے جسے حضرت اقدسؒ اجتہادی طور پر کبھی احمد بیگ کی لڑکی اور کبھی پیر منظور محمد کی بیوی خیال کرتے رہے۔ اس سے مراد بھی جماعت ہی ہے۔ جس کے بطن سے مصلح موعود نے پیدا ہونا ہے اور ’’ویردھا الیک‘‘ (تذکرہ ص ٢٨٣ طبع دوم) اور ’’انا رادوہا الیک‘‘ میں اس گمراہ شدہ عورت کے بارے میں دوبارہ روحانیت اور اسلام پر لوٹ آنے کی پیش گوئی کی گئی ہے اور الہامات ’’ویردھا الیک‘‘ اور ’’انا رادوہا الیک‘‘ کے اور الہام ’’یصلح الله جماعتی انشآء الله تعالیٰ‘‘ (تذکرہ

٢٧

صفحہ ٦٢٠

ص ١٧٤، طبع دوم) کے ایک ہی معنی ہیں۔ افسوس ہے کہ ہم الہامات کے اس سلسلہ کی بخوف طوالت مزید تشریح نہیں کر سکتے اور اس کو آئندہ کسی وقت پر اٹھا رکھتے ہیں۔ بہر حال ہم یہ بیان کر رہے تھے کہ عورت سے مراد جماعت ہوتی ہے اور قرآن شریف میں بعض جماعتوں کی تشبیہ عورت سے دی گئی ہے اور الہامات کی زبان میں یہ ایک مشہور عالم تشبیہ اور استعارہ ہے۔ چنانچہ مسیح موعود بھی فرماتے ہیں: ”خدا کی کتب میں نبی کے تحت امت کو عورت کہا جاتا ہے۔ جیسا کہ قرآن شریف میں ایک جگہ نیک بندوں کی تشبیہ فرعون کی عورت سے دی گئی ہے اور دوسری جگہ عمران کی بیوی سے مشابہت دی گئی ہے۔“

(تذکرہ ص ٥٥٦، طبع دوم)

قادیانیوں کی مہار شیطان کے ہاتھ میں

اے نادانو! تم نے ان خانہ ساز عقائد کو اپنا کر اپنی مہار ابلیس کے ہاتھ میں دے دی ہے کہ وہ تمہیں جہاں چاہے لے جائے۔ اے نادانوں کیا اب مجددین نہیں آیا کریں گے۔ مامور نہیں آیا کریں گے۔ کیا اب آسمان سے کوئی نہیں آئے گا۔ خلیفہ کا دفتری اور تنخواہ دار پالتو عملہ ہی جسے چاہے گا مجددیت اور ماموریت کے مقام پر کھڑا کر دیا کرے گا۔ اگر ایسا نہیں ہے تو پھر تمہاری خلافت کیا ہے۔ جس کے آگے پیچھے اور دائیں بائیں لڑ کر مر مٹنے کی بلائے دمشق نے تمہیں تعلیم دی ہے۔ رک جاؤ! خدارا ان شاطرانہ چالوں کو سمجھو۔ بلائے دمشق تم پر مسلط ہے۔ یعنی ملزم خود عدالت کی کرسی پر بیٹھا ہے۔ جس نے تمہاری چال بگاڑ دی ہے اور تم زندگی کے فیشن یعنی اسلام سے دور جا پڑے ہو۔ عورت کی چال کے الفاظ کے بعد مامور وقت کی الہامی فریاد کے یہی معنی ہیں کہ عورت کی چال بگڑ چکی ہے اور وہ زندگی کے فیشن یعنی اسلام کو چھوڑ بیٹھی ہے اور ایک عیار کے ہاتھوں میں پڑ کر سراسر گمراہی و ضلالت پر قدم مار رہی ہے اور اس کی گمراہی اس قدر بڑھ چکی ہے کہ وہ کسی کی آواز پر کان نہیں دھرتی۔ حق مغلوب ہو چکا ہے اور بلائے دمشق یعنی باطل کا غلبہ ہے ......

مگر ہم طوالت کے خوف سے بہت کچھ چھوڑتے جاتے ہیں۔ ہمارے اشارے کو سمجھو۔ ایک ایک اشارہ تمہاری اصلاح کے لئے کافی ہے۔ کچھ تو اپنے ذہنوں کو بھی کھولو اور ٤٣ سالہ گمراہیوں کے اثر کو دور کرو۔ اے اس جعلی خلافت کے دائیں بائیں آگے پیچھے لڑنے والو۔ رک جاؤ۔ شاید کہ تم طاغوت کے دائیں بائیں آگے پیچھے لڑ کر اپنی روحانیت کو تباہ کر رہے ہو۔ تمہیں فریب دیا گیا ہے۔ خدا کے لئے اس ظلم وتعدی اور بغاوت وسرکشی اور خانہ ساز دین سے باز آ جاؤ۔ کیا تم ابنائے فارس کے خیال میں خدا کو بھی چھوڑ دو گے تو گوش ہوش سے دور حاضر کی

٢٨

صفحہ ٦٢١

اس سب سے بڑی سچائی کو ہم سے سن لو کہ تمہاری گمراہی بھی ابنائے فارس کے ہاتھوں ہی مقدر تھا۔ ہوش میں آؤ۔ ابنائے فارس کا کچھ حال سن چکے ہو اور سنو۔

دیکھو خلیفہ اور جماعت کا کس طرح الگ الگ اور واضح بیان یہاں بھی موجود ہے۔ ہم کہاں تک اس داستان کو بیان کریں۔ اے لوگو! ہم تفصیلات میں جانے سے معذور ہیں۔ خلیفہ صاحب شامت اعمال کی وجہ سے خود تو جسمانی طور پر مفلوج ہوئے ہیں۔ لیکن آپ لوگوں کو ذہنی طور پر مفلوج کر چکے ہیں۔

اے لوگو! خدارا اپنی اس ذہنی بیماری کا علاج کرو اور کچھ غور و فکر کی عادت ڈالو۔ یہ کیا بیماری ہے کہ جو کچھ الفضل کے اندھیروں نے خلیفہ کے ایماء اور پالتو مولویو کے ذریعہ سامنے کر دیا وہ تو آپ کو نظر آتا ہے اور اس کے ماسوا کچھ بھی نظر نہیں آتا۔ آنکھیں کھولو۔ شاید آنکھیں کھولنے کا بھی یہ آخری موقعہ ہو۔ دیکھو قرآن شریف کی گمراہ کن تفسیر کی جا رہی ہے۔ مسیح موعود کے الہامات اور تحریرات کو نظر انداز اور مسخ کیا جا رہا ہے۔ کبھی مصلح موعود ہونے کا دعویٰ ہے اور کبھی آیت استخلاف کے تحت خلیفہ ہونے کا۔ پھر خلافت سازی کے قواعد بنائے جا چکے ہیں۔ یہ سب کچھ کیا ہے۔ کیا یہ قرآن شریف اسلام اور دین سے مذاق نہیں۔ کیا دور حاضر کی بدنام ترین شخصیت مصلح موعود اور آیت استخلاف کے تحت خلیفہ بن سکتی ہے۔ اس طرح اگر آسمانی رشتوں کے بغیر مصلح موعود بننے لگیں اور آیت استخلاف کے تحت خلیفے آنے لگیں تو دین پر سے امان اٹھ جاتی ہے اور جانتے ہو کہ آسمان پر سے جو آتا ہے وہ کون ہوتا ہے۔ وہ مامور ہوتا ہے۔ اے خطاب یافتہ پالتو مولوی کیا اس زمانے میں کوئی آسمان سے نہیں آیا۔ جس نے مصلح موعود اور آیت استخلاف کے تحت خلیفہ ہونے کا دعویٰ کیا ہو۔ اے ظالمو! کیا تم مرزا غلام احمد قادیانی مصلح اور خلیفہ ربانی کے نام نامی سے واقف ہو کہ نہیں۔ پھر بتاؤ کہ کیا ان کو تم نے یا تمہارے باپ دادوں نے خود منتخب کیا تھا۔ اگر جواب نفی میں ہے تو پھر بتاؤ کہ اب تم کو کون سے سرخاب کے پر لگ گئے کہ تم نے اس خدائی کام کو بھی اپنے ہاتھ میں لے لیا اور اب مصلحین اور خلفائے روحانی کو لانا تمہارے ایک اشارہ ابرو پر موقوف ہو گیا۔ کیا تم نے وہ حدیث نہیں پڑھی کہ دجال خدائی اور نبوت کا دعویٰ کرے گا۔ کیا یہ دعویدار وہی تو نہیں کہ جس نے نہایت عیاری سے قوم کی مالیات پر پورا پورا قبضہ کر کے تمہیں اپنا ملازم اور پھر ہمنوا بنا کر زمین کے رشتوں کو آسمان سے توڑنے کی کوشش کی ہے۔ آہ! تم کہاں تھے اور کہاں آ رہے۔ "شرا الذین انعمت علیھم" میں ان لوگوں کو سزادوں گا۔ میں اس عورت کو

٢٩

صفحہ ٦٢٢

سزا دوں گا۔ اس میں تمہاری اور تمہارے خلیفہ کی ہی داستان بیان کی گئی ہے۔ عالم ہو کر جاہل نہ بنو اور خدا کے کلام کو سمجھنے کی کوشش کرو اور اس گمراہی اور لعنت کو چھوڑ دو۔ جس میں کہ تم مبتلا ہو گئے ہو۔ مامورین کسی نسل اور قوم قبیلے کو آسمان پر چڑھانے کے لئے نہیں آیا کرتے۔ اے ابنائے فارس کے متوالو، رب العالمین ہر گورے کالے شرقی غربی کا رب ہے اور عنداللہ اکرم وہی ہے جو اتقی ہے۔ ابنائے فارس اگر نیک نمونہ نہیں تو کچھ بھی نہیں اور یہاں تو خدا تعالیٰ کھول کھول کر بیان کر رہا ہے کہ یہ لوگ گمراہی کا باعث بنیں گے۔ ہماری تحریر کا ایک ایک لفظ دجل کاری اور فسوں کاری کا توڑ ہے۔ اے نادانوں! ہماری تحریر کو سمجھنے کی کوشش کرو اور خدا کے لئے ان لعنت کے خطابات کو اس کے منہ پر دے مارو۔ جس نے ان خطابات کے ذریعہ تمہیں الو بنایا ہے۔ دیکھو یہ داستان طویل ہے اور ہم اشارات میں بیان کرنے پر مجبور ہیں۔ ان اشارات کو ہی غنیمت جانو اور کچھ خود بھی عقل خداداد سے کام لو۔

اے دوستو! الفضل کی طرف نہ دیکھو کہ الفضل اور اس کے ایڈیٹر صاحب تو ہزماسٹر وائس ہیں اور اس طاغوتی نظام کے کل پرزے ہیں جو تمہیں گمراہ کرنے کے لئے قائم کیا گیا ہے۔ نظام سلسلہ کے متوالو! ”عمل غیر صالح“ اور بلائے دمشق اپنے عیوب پر پردہ ڈالنے کے لئے اس نظام کے ذریعہ ایک بیٹے کو اس کے حقیقی باپ سے اور ایک بھائی کو اس کے حقیقی بھائی بہنوں سے عمر بھر کے لئے جدا کر دیتا ہے اور اس جذباتی نعرے سے بہت بڑا فائدہ حاصل کرتا ہے۔ پس اس انسانیت سوز نظام سلسلہ کے نعرے کو سمجھو کہ اس خوش کن نعرے کے نیچے ہزاروں مظلوموں کی آہیں دبی ہوئی ہیں......

اور اب یہ جماعت بغیر کسی اصول اور روحانیت کے گمراہی میں مبتلا ہے اور ناک کٹنے کا محاورہ تو آپ نے سنا ہو گا۔ ناک بطور استعارہ نیک نامی کی علامت ہے اور ناک کے زیور گم ہونے سے مراد بدنامی ہے۔ جب تم اپنے خلیفہ کے اعمال بد کے بارے میں بڑے بڑے پوسٹر اس ملک کے شہروں کی درودیوار پر چسپاں پاتے ہو تو اپنی عزت محسوس کرتے ہو یا بے عزتی؟ بس یہی مفہوم لونگ کے گم ہونے کا ہے اور یہ رؤیا بھی ”عمل غیر صالح“ کے الہام کی مصدق ہے اور پھر اس لونگ کے مل جانے سے مراد جماعت کی اصلاح ہے جو کہ الہام ”یصلح اللہ جما عتی انشاء اللہ تعالیٰ“ سے واضح ہے۔ مگر یہ لونگ زمین کی بلندی سے ملا ہے۔ یعنی اب جو تم خود ہی آیت استخلاف کے تحت خلیفے بناتے پھرتے ہو یہ زمین اور سفلہ مکر ہیں۔ نور ہمیشہ آسمان

٣٠

صفحہ ٦٢٣

سے ہی نازل ہوتا ہے۔ اس لئے موعود مصلح بھی آسمان سے ہی نازل ہو گا نہ کہ وہ جس کو دفتری اور ملازم عملہ اور پالتو مولوی منتخب کریں اور کاغذ کے اندر لپیٹنے کے یہ معنی ہیں کہ بالآخر حضرت اقدس کے ہی الہامی مندرجات سے جماعت کو اپنی عظیم غلطی کا احساس ہو جائے گا اور جعلی اور حقیقی مصلح موعود کی پیش گوئی واضح ہو جائے گی۔ دیکھو ہم بھی یہ حقائق کاغذ کے ذریعہ ہی آپ تک پہنچا رہے ہیں۔ اب یہ کس قدر صاف اور واضح حقائق ہیں۔ کاش کہ آپ ان پر غور کریں اور ان باتوں میں کس قدر تسلسل اور ربط ہے۔ افسوس کہ ہم اس تسلسل اور ربط کی پوری طرح وضاحت نہیں کر سکتے کہ اس سے ہماری تحریر بہت طول پکڑ جائے گی۔ عورت کے مفہوم کو حضرت اقدس کی زبان سے ایک دفعہ پھر ذہن نشین کرلو۔ فرماتے ہیں: ”خدا کی کتب میں نبی کے ماتحت امت کو عورت کہا جاتا ہے۔ جیسا کہ قرآن شریف میں ایک جگہ نیک بندوں کی تشبیہ فرعون کی عورت سے دی گئی اور دوسری جگہ عمران کی بیوی سے مشابہت دی گئی ۔“

(تذکرہ ص ٥٥٦ طبع دوم)

آؤ! ہم آپ کو آپ کا پورا ناک نقشہ دکھائیں۔ شاید آپ کو خود بھی اپنی مکروہ شکل آئینے میں دیکھ کر گھن آئے۔ مگر یقین جانو کہ یہ آپ لوگوں کی ہی مکروہ تصویر ہے۔ جسے کہ خدا تعالیٰ نے امام وقت پر ظاہر فرمایا۔

کمینہ عورت سے مراد مرزا محمود

تفصیل نمبر:٤....... مسیح موعود فرماتے ہیں کہ:”قبل از نماز صبح رؤیا دیکھا کہ میں اپنے مکان میں کمرے کے اندر کھڑا ہوں۔ اس وقت دیکھا کہ باہر ایک عورت زمین پر بیٹھی ہے جو مخالفانہ رنگ رکھتی ہے۔ وہ بہت بری حالت میں ہے اور اس کے سر کے بال مقراض سے کٹے ہوئے ہیں۔ کوئی زیور نہیں اور نہایت ردی اور مکروہ حالت میں ہے اور سر پر ایک میلا کپڑا پگڑی کی طرح لپٹا ہوا ہے۔ اس کے ساتھ بات کرنے سے مجھ کو کراہت آتی ہے۔ نماز عصر کا وقت ہے۔ میں جلدی سے اٹھا ہوں کہ نماز کے لئے چلا جاؤں۔ کچھ کپڑے میں نے ساتھ لئے ہیں کہ نیچے جاکر پہن لوں گا۔ یہ جلدی اس لئے کہ اس عورت کو میرے ساتھ بات کرنے کا موقعہ نہ ملے۔ پس میں نے جلدی کے سبب پگڑی کو ہاتھ میں لیا اور پشمینہ کی سرخ چادر اوپر لے لی اور کمرے سے نکلا۔ جب میں اس کے برابر سے گزرا تو میرے منہ سے یا آسمان سے آواز آئی کہ: ”لعنت اللہ علی الکاذبین“ ساتھ ہی الہام ہوا۔ اس پر آفت پڑی آفت پڑی۔“

اب آپ نے دیکھ لیا اپنا پورا ناک نقشہ۔ زمین پر بیٹھنے سے مراد سفلی خیالات اور خانہ

٣١

صفحہ ٦٢٤

فاسد عقائد ہیں۔ سر کے بال کٹے ہوئے سے مراد بدنامی اور روحانی حالت کی ابتری ہے۔ کوئی زیور نہ ہونے سے مراد اخلاق باختگی ہے۔ سر پر بطور پگڑی ایک میلے کپڑے کے لپٹے ہونے سے مراد تمہارا غیر صالح خلیفہ ہے۔ جو بطور شامت اعمال ایسا لپٹا ہے کہ رہائی مشکل ہے اور جو کہ روحانیت سے کلیۃً عاری ہے اور بدنام ترین شخصیت ہے۔ نماز عصر کے وقت سے مراد ”والعصر ان الانسان لفی خسر“ کے تحت جماعت کی اکثریت کے زوال اور خسران و عتاب کا وقت ہے اور حضرت اقدس جو آپ سے بات کرنا نہیں چاہتے تو اس کا یہ مطلب ہے کہ اب آپ کا مسیح موعود سے دور کا تعلق بھی نہیں۔ آپ کی ایسی مکروہ حالت پر خدا تعالیٰ کی لعنت ہی پڑنی چاہئے تھی۔ چنانچہ خدا تعالیٰ نے آپ پر ”لعنت اللہ علی الکاذبین“ کہہ کر لعنت ڈالی اور ساتھ ہی حضرت اقدس کو بھی الہام ہوا۔ اس پر آفت پڑی آفت پڑی۔

دیکھو یہ ساری رؤیا ہماری اس تحریر کی تصدیق کر رہی ہے۔ اس سے قبل خدا تعالیٰ نے فرمایا تھا۔ میں ان لوگوں کو سزا دوں گا۔ میں اس عورت کو سزا دوں گا۔ میں ان کو پیس ڈالوں گا۔ میں ان کو غرق کر دوں گا اور یہاں پھر الہاماً بیان فرمایا کہ اس عورت پر آفت پڑی آفت پڑی۔ غرض ہر جگہ مضمون واحد ہے اور پیرایہ مختلف ہے۔

قادیانیوں پر لعنت

اخبار الحکم میں جب یہ رؤیا شائع ہوئی تو ایڈیٹر صاحب الحکم نے لکھا کہ یہ وہی عورت معلوم ہوتی ہے کہ جس کے متعلق اخبار میں درج ہوا تھا کہ میں ان لوگوں کو سزا دوں گا۔ میں اس عورت کو سزا دوں گا اور اس زمانہ کے اخبار کے مندرجات حضرت اقدس کی نظر سے گزرتے تھے۔ چنانچہ حضور نے الحکم کی رائے پر خاموش رہ کر اس بات کی تصدیق فرمادی کہ ایڈیٹر الحکم کا نوٹ اور ہماری یہ تحریر درست ہے۔ ہمیں بہت افسوس ہے کہ ہم اس ضمن میں الہامات کا ایک کثیر حصہ چھوڑتے جاتے ہیں کہ ہماری تحریر طولانی ہوتی جاتی ہے۔ اس طرح حضرت اقدس کی دیگر رؤیا کو بھی ہم لکھنے سے معذور ہیں۔ ان سب رؤیا کشوف اور الہامات میں ایک گہرا ربط ہے۔ مگر ہم کیا کریں۔ ہماری تحریر ہمارے اندازے سے کہیں بہت بڑھ چکی ہے۔ ہم حیران ہیں کہ ہم چند اشارات لکھنے بیٹھے تھے۔ مگر ان اشارات کا بھی دامن دراز ہوتا جاتا ہے۔ پس اے لوگو ہمارے لکھنے سے کوئی کام نہیں۔ خود اپنے ذہنوں کو کھولو اور عقل خداداد سے کام لو۔ تم کیوں اپنے ہی بنائے ہوئے بت سے اس قدر خائف ہو کہ اس سے صفائی باطن کے بارے میں عرصہ تیس سال سے ایک

٣٢

صفحہ ٦٢٥

مؤکد عذاب حلف تک نہیں دے سکے اور زمانے بھر میں خود بھی رسوا ہو رہے ہو اور تحریک احمدیت کو بھی بدنام کر رہے ہو۔ خود اس کو لاکھوں روپے کے نذرانے دیتے ہو اور خود اس کو پال پوس رہے ہو اور پھر خود ہی اس سے خائف بھی ہو۔ بتاؤ کہ اس کی ذات سے تمہیں رسوائی اور روسیاہی کے سوا اور کیا حاصل ہوا۔ یہ دو چار مشن اور مساجد کیا ہیں یہ تو تم جس سے چاہتے چندہ دے کر بنوا سکتے تھے۔ خلیفہ صاحب کو تو عمر بھر زنان خانے سے باہر نکلنے کی توفیق نہیں ملی۔ دیکھو انکا قصر خلافت ایک زنان خانہ ہے۔ ان کو عام دفتروں کی طرح مردانے میں صدر انجمن کے دفاتر میں ایک کمرہ مخصوص کر کے ایک دن بھی کام کرنے کی دفتریوں سے باہر آنے کی تکلیف گوارا نہ کی۔ آخر ان باتوں نے رنگ لانا تھا۔ پھر تمہارا یہ عقیدہ جو بتا دیا گیا ہے کہ کوئی غیر مامور بھی مصلح موعود ہو سکتا ہے۔ روحانی قدروں کے منافی ہے۔ پھر تمہاری یہ تعلیم کہ تم خود آیت استخلاف کے تحت روحانی خلیفے برپا کر سکتے ہو۔ سراسر کار شیطانی ہے۔ پھر نظام سلسلہ کے خوش کن نعروں کے تحت جو تم سے ظلم و تشدد کروایا جاتا ہے۔ یہ وہ باتیں ہیں جن کی وجہ سے تمہاری وہ مکروہ شکل بن گئی ہے جو حضرت اقدس کو رؤیا میں دکھلائی گئی اور تم پر خدا تعالیٰ نے لعنت ڈالی۔ آفات کے نزول کی ابتداء بھی ہو چکی ہے۔ تم کو روحانی مرکز سے نکال دیا گیا۔ عدالت میں تمہارے مایہ ناز عقائد کا کھوکھلا پن ظاہر ہو گیا اور تمہارے خلیفہ فالج کے حملہ کے شکار بھی ہو چکے ہیں۔ ان باتوں سے عبرت حاصل کر کے اپنی اصلاح کر لو۔ ورنہ آفات کی نوعیت دن بدن شدید ہوتی جائے گی اور تم حسب فرمان الٰہی ضرور پیس ڈالے جاؤ گے۔

دابۃ الارض مرزا محمود ہے

تفصیل نمبر:٥....... ہم بار بار عرض کر چکے ہیں کہ ہم صرف نمونہ از خروار آپ لوگوں کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں اور ہم نے جو کچھ پیش کیا ہے۔ اس کی بھی پوری پوری وضاحت نہیں کی۔ مگر ہم مزید وضاحت کریں تو ہمیں ان سینکڑوں الہامات پر سیر کن بحث کرنی پڑے گی کہ جو بیان کردہ الہامات کی ذیل میں آتے ہیں۔ دیکھو مسیح موعود ”دابۃ الارض“ کے متعلق فرماتے ہیں: ”یہی وہ ”دابۃ الارض“ ہے جو ان آیات میں مذکور ہے۔ جس کا مسیح موعود کے زمانہ میں ظاہر ہونا ابتداء سے مقرر ہے۔“

دابۃ الارض سے صرف طاعون کے چوہے ہی مراد نہیں۔ جیسا کہ حضرت اقدس کے مندرجہ بالا بیان سے ظاہر ہے۔ بلکہ اکثر امور غیب کی پیش گوئیاں ذوالوجوہ ہوتی ہے۔ لہٰذا دابۃ

٣٣

صفحہ ٦٢٦

الارض کے معنی کا دوسرا پہلو بھی حضرت اقدس کی قلم سے ہی ملاحظہ فرمائیں۔ حضرت اقدس اپنے زمانہ ظہور کی علامات کی وضاحت فرماتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں۔

”گیارھویں علامت دابۃ الارض کا ظہور میں آنا یعنی ایسے واعظوں کا بکثرت ہو جانا جن میں آسمانی نور ایک ذرہ بھی نہیں اور صرف وہ زمین کے کیڑے ہیں۔ اعمال ان کے دجال کے ساتھ ہیں اور زبانیں ان کی اسلام کے ساتھ یعنی عملی طور پر وہ دجال کے خادم اور ممسوخ الصورت اور حیوانی شکل ظاہر کر رہے ہیں۔ مگر زبانیں ان کی انسان کی سی ہیں۔“

(شہادۃ القرآن ص ٢٥، خزائن ج ٦ ص ٣٢١)

اب دابۃ الارض کے ان دونوں پہلوؤں پر غور کرتے وقت ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ قرآن شریف میں حضرت سلیمان علیہ السلام کی سلطنت کو تباہ کرنے کا باعث بنا تھا۔ پس جہاں دابۃ الارض کے دوبارہ آخری زمانہ میں پیدا ہونے کا ذکر موجود ہے۔ وہاں آخری زمانہ میں جس موعود مرد خدا نے آنا تھا اس کا نام بھی خدا تعالیٰ نے سلیمان رکھا۔ سبحان اللہ وبحمدہ! ہم نے شروع ہی میں لکھا تھا کہ ”الفتنة هاهنا“ میں جس فتنہ کی خبر دی گئی ہے۔ وہ مشہور فتنہ دجال کی داخلی شاخ ہے اور دابۃ الارض کے ظہور کی علامت نے ہماری تحریر کردہ حقیقت کی تصدیق کر دی۔ پس جیسا کہ حضرت اقدس کو نوح کا نام دے کر نوح ہی کی طرح ”انّہ عمل غیر صالح“ کے الفاظ میں ایک بدکار لڑکے کی خبر دی۔ اس طرح حضرت اقدس کو سلیمان کا نام دے کر سلیمان ہی کی طرح دابۃ الارض کے الفاظ میں ایک بدکار لڑکے کی خبر دی۔ سبحان اللہ وبحمدہ! دیکھو کس طرح قرآن شریف اور حضرت اقدس کے الہامات ایک دوسرے کے مصدق ہیں اور جس طرح حضرت سلیمان کے دور کے زوال کا علم ایک عرصہ تک لوگوں کو نہ ہو سکا۔ ایسا ہی یہاں بھی رجعت ثانی کے پیروکاروں کو ہم اکثریت کے نشہ میں چور پاتے ہیں۔ مگر اب تقدیر کے نوشتے پورے ہو چکے ہیں اور ربعام ثانی اور اس کے پیروکاروں کو مکافات عمل کا سامنا ہے اور اب خلیفہ ربوہ کے مفلوج ہو جانے سے ہر ایک دل میں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ کیا ہوا۔ درحقیقت یہ فتنہ ایک عظیم ابتلاء تھا اور جیسا کہ خدا تعالیٰ کے کلام سے ظاہر ہوتا ہے۔ اس کی بیخ کنی بھی خدا تعالیٰ نے خود ہی کرنی تھی۔ سو اوّل اس نے ان کو روحانی مرکز سے نکال دیا اور اب اس فتنہ کے بانی مبانی کو مفلوج کر دیا ہے اور کل کو جو ہونے والا ہے وہ انتہائی عبرت آموز ہوگا۔ اے لوگو! اگر تمہیں علم ہو جائے کہ ہم تمہیں کتنی بڑی تباہی سے خبردار کر رہے ہیں۔ تو تم ضرور ہمارا شکر ادا کرو۔ دیکھو ہم چیخ چیخ کر پکار

٣٤

صفحہ ٦٢٧

رہے ہیں۔ خود مسیح موعود کی چیخ و پکار اور دلدوز فریاد بھی تم کو سنا چکے ہیں۔ لیکن اے بہروپئے تمہاری بدبختی کو کوئی انتہاء نظر نہیں آتی......

جعلی مصلح موعود

اب ہم اصل موضوع کی طرف لوٹتے ہیں اور خطاب یافتہ مولویوں سے عرض کرتے ہیں کہ تمہارے بنائے کیا بنتا ہے۔ تم نے ایک جعلی مصلح موعود اور خلیفہ بنایا اور خبیث کو طبیعت ثابت کرنے کی از بس کوشش کی۔ مگر خدا تعالیٰ نے خبیث اور طیب میں امتیاز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ (تذکرہ ص ٣٩٥ طبع دوم) ”ويمكرون ويمكر الله والله خير الماكرين ، وما كان الله يتركك حتى يميز الخبيث من الطيب“ یعنی یزیدیوں نے مکر کیا اور خبیث کو بطور طیب پیش کیا۔ مگر خدا تعالیٰ ان کے مکر کو توڑ دے گا اور خبیث و طیب میں امتیاز کر کے چھوڑے گا اور ہمارے اس خیال کی تصدیق ان الہامات سے بھی ہوتی ہے۔ ”وما كان الله ليتركك حتى يميز الخبيث من الطيب انظر الى يوسف واقباله “ یہاں یوسف سے مراد مصلح موعود ہے اور یہاں بھی خبیث اور طیب میں امتیاز کرنے کا وعدہ ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی خبیث اور جعلی مدعی بھی ہوگا۔ لیکن طیب اور حقیقی مصلح موعود با اقبال ہوگا۔ پس جیسا کہ ہم شروع میں تحریر کر آئے ہیں۔ مسیح موعود کے الہامات میں ”عمل غیر صالح “ اور مصلح موعود دو لڑکوں کے بارے میں پیش گوئیاں ہیں اور جب وہ مصلح موعود اور قمر الانبیاء اور یوسف آئے گا تو اس کے جعل ساز بھائی ”انا كنا خاطئين “ کہہ کر اپنی خطا کاری اور جعلسازی کا اقرار کریں گے اور ایسا ہی خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ ”ما كان الله ليتركك حتى يميز الخبيث من الطيب ، اذا جاء نصر الله والفتح وتمت كلمة ربك ، هذا الذى كنتم به تستعجلون “ یعنی خدا تعالیٰ خبیث اور طیب میں امتیاز کر کے چھوڑے گا۔ جب خدا کی فتح اور نصرت آئے گی یعنی جب مصلح موعود آئے گا (کہ درحقیقت فتح و نصرت مصلح موعود کے آنے کے ساتھ مقدر ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”كمل الفتح بعده “ یعنی مکمل فتح اس کے آنے کے بعد ہوگی) اس دن خدا تعالیٰ خبیث کے پیروکاروں کو کہے گا۔ دیکھو یہ ہے وہ موعود مصلح جس کے لئے تم شتاب کاری کر رہے تھے اور ایک جعلی دعویدار کے پیچھے لگ گئے تھے اور تذکرہ میں ”هذا الذى كنتم به ستعجلون “ کئی پیرایوں میں آیا ہے۔ جس سے صاف ظاہر ہے کہ اس ضمن میں جماعت تخیل کاری کا شکار ہو کر ایک جعلی مدعی کے پیچھے لگ چکی ہوگی اور حقیقی مصلح موعود کے آنے پر اس کے

٣٥

صفحہ ٦٢٨

جعلساز بھائی اور ان کے ہمنوا جو اس وقت تک باقی رہ گئے ہوں گے۔ یوسف علیہ السلام کے بھائیوں کی طرح ”انا کنا خاطئین“ اور ”ھذا الذی کنتم به تستعجلون“ میں خبیث اور طیب یعنی جعلی اور حقیقی مصلح موعود کا حال کھول کر بیان کر دیا گیا ہے اور دیکھو خدا تعالیٰ کے دونوں کلام یعنی قرآن شریف اور الہامات مسیح موعود کس طرح ایک دوسرے کے شارح اور ایک دوسرے کی تصدیق کرتے ہیں۔ ہمیں افسوس ہے کہ ہم طوالت کے خوف سے اس قسم کی تفصیلات بیان کرنے سے قاصر ہیں۔ ورنہ ان سب الہامات میں ایک ربط ہے اور کئی پیرائے ہیں۔ جن سے حقیقت روز روشن کی طرح واضح ہو کر سامنے آ جاتی ہے۔ پس الہامات الٰہی تو پکار پکار کر کہہ رہے ہیں کہ مصلح موعود کے بارے میں جماعت تعجیل کاری کا شکار ہو گی اور ایک جعلی مدعی کے پیچھے لگ جائے گی۔ کیا خطاب یافتہ مولوی اس قدر گمراہ اور غبی الذہن ہیں کہ اس صاف اور کھلے کلام کو سمجھنے کی اہلیت نہیں رکھتے اور تازیانہ پر تازیانہ کھانے کے بغیر باز نہیں آئیں گے۔ دیکھو قادیان سے تمہارا اور تمہارے مصلح موعود کا نکالے جانا ایک تازیانہ تھا۔ پھر عدالت میں تمہارے خلیفہ کا اگرچہ، مگرچہ، چونکہ، چنانچہ کی رکیک اور فرسودہ تاویلات سے اپنے پچاس سالہ عقائد سے پیچھا چھڑانا ایک دوسرا تازیانہ تھا اور پھر اب تمہارے خلیفہ کا مفلوج ہو جانا ایک تیسرا تازیانہ ہے۔ یہ عجیب اور انوکھی فتح و نصرت ہے کہ جو مصلح موعود کے دعویٰ کے بارے تمہارے اور تمہارے خلیفہ کے حصہ میں آئی۔ کیا یہی وہ عدیم المثال اور عظیم الشان فتح و نصرت ہے جس کا خدا تعالیٰ نے وعدہ کیا تھا اور جس کے ذکر سے تذکرہ بھرا پڑا ہے اور جو مصلح موعود کے آنے کے ساتھ مقدر تھی اور یہ جو اس ملک کے شہروں کی در و دیوار خلیفہ کے خلوت خانوں کی رنگین داستانوں سے آئے دن آراستہ اور مزین ہوتی رہتی ہیں۔ یہ کیا تماشا ہے۔ ہم نے مانا کہ تم کو ساتھ کے ساتھ جل دیا جا رہا ہے۔ مگر فریب خوردگی کی بھی انتہاء ہوتی ہے۔ تمہاری سادہ لوحی اور گمراہی کی تو کوئی حد نظر نہیں آتی۔ اگر تم یونہی ان تازیانوں اور زناٹے دار تھپڑوں کو خدا کی طرف سے میٹھی لوریاں قرار دیتے رہے تو سنو ان لوریوں سے ایک دن تمہارا بھیجہ نکل جائے گا کہ ”فسحقھم تسحیقا“ کے یہی معنی ہیں۔ پھر تم یہ بتاؤ کہ اپنے جعلی مصلح موعود کے دعویٰ پر تم نے ”وامتازوا الیوم ایھا المجرمون“ کا نظارہ کب دیکھا اور کب مجرمین نے خلافت مآب کے سامنے قطار اندر قطار دست بستہ کھڑے ہو کر ”انا کنا خاطئین“ کا نعرہ لگایا۔ کیا ہماری یہ تحریر ”انا کنا خاطئین“ کا نعرہ ہے اور پھر وہ کون لوگ تھے جنہوں نے حقیقی مصلح موعود کی آمد سے قبل ہی تعجیل کے رنگ میں ایک جعلی مصلح

٣٦

صفحہ ٦٢٩

موعود کو مان لیا تھا..... کہ حقیقی مصلح موعود کی آمد پر خدا تعالیٰ کو کہنا پڑا ۔ ”هذا الذی کنتم به تستعجلون “ اے نادانوں یہاں ایک الہام جو مصلح موعود کے ضمن میں بار بار مختلف پیرایوں میں آیا ہے۔ تمہاری آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہے۔ اس سے یہ صاف طور پر واضح ہوتا ہے کہ حقیقی مصلح موعود سے قبل ایک جعلی مصلح موعود ہو گزرے گا اور جماعت شتاب کاری کے طور پر اس کے پیچھے لگ جائے گی۔ اب یا تو اپنے مصلح موعود کے علاوہ کسی جھوٹے دعویدار کی نشان دہی کرو۔ جس کے پیچھے جماعت لگ گئی ہو اور یا پھر اگر اوّل اور جعلی مدعی یہی ہے اور بعد میں آنے والا حقیقی مصلح موعود کوئی اور ہے تو اے ظالمو ! ایک بار تو اپنی عجل پسندی کا اقرار کر کے ”انا کنّا خاطئین“ کا نعرہ بلند کرو اور اپنی عاقبت کو سنوار لو اور خبیث اور طیب میں امتیاز کر لو۔ دیکھو ”هذا الذی کنتم به تستعجلون“ کے الہام سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ حقیقی مصلح موعود جلدی نہیں آئے گا۔ اے مولویو ! تمہاری عقل خداداد اور فہم وفراست کو کیا ہو گیا۔ دیکھو ہم کس کس طرح تم کو سمجھا رہے ہیں۔ ہماری کسی ایک بات پر بھی اگر ٹھنڈے دل سے غور کر لو گے تو اس گمراہی اور خانہ ساز دین سے بچ جاؤ گے......

ہم تو شروع میں ہی تحریر کر آئے ہیں کہ شیطان کو جب جملہ خارجی محاذوں پر خدا تعالیٰ کے مامور سے شکست فاش ہوئی تو اس نے خفیہ طور پر چھپ کر حملہ کرنے کی ٹھانی اور داخلی طور پر ایک فتنہ عظیم کی طرح ڈالی اور مذہبی نقاب اوڑھ کر مسیح موعود کی جماعت میں داخل ہو گیا اور شدہ شدہ میر کارواں بن بیٹھا۔ شیطان کی یہ خفیہ چال نہایت خطرناک ثابت ہوئی اور وہ مامور وقت کی جماعت کے بیشتر حصہ کو گمراہ کرنے میں کامیاب ہو گیا......

اگر سب مسلمان اسم با مسمیٰ ہوتے تو معاشرہ نور علی نور ہو جاتا اور یہاں تو محمود احمد خلیفہ ربوہ کا حقیقی نام نہیں۔ یہ نام تو محض بطور نیک فال کے رکھا گیا تھا۔ درحقیقت خلیفہ ربوہ کے الہامی نام تو ”عبدا غیر صالح“ ”بلائے دمشق“ اور دابۃ الارض وغیرہ ہیں اور حضرت اقدس نے یہاں پر ابتلاء کے انجام اچھے ہونے کا جو تاثر لیا ہے۔ وہ محض ان ناموں کی وجہ سے نہیں بلکہ اس اچھے تاثر کی زیادہ تر وجہ الہام بریت ہے۔ جس میں قطعیت پائی جاتی ہے۔ ورنہ کسی بھی مسلمان کے بارے میں کسی بھی خواب کی کوئی بری تعبیر کرنا محال ہو جائے گا......

ہم ان گدھوں کی بات نہیں کرتے کہ جن پر کتابوں کا بوجھ لدا ہوا ہو۔ البتہ ایک ادنیٰ سے ادنیٰ انسان بھی یہ جانتا ہے کہ بیڑے سے مراد خاندان اور قبیلہ ہوتا ہے۔ یہ ایک

٣٧

صفحہ ٦٣٠

مشہور عام محاورہ ہے۔ ایک شخص جب دوسرے کو کہتا ہے کہ تیرے بیڑی یا بیڑا غرق ہو تو اس کے یہ معنی نہیں ہوتے کہ فی الواقعہ دوسرے شخص کی بیڑیاں یا بیڑے ہیں۔ بلکہ اس سے مراد خاندان اور قبیلہ ہوتا ہے۔ پس مندرجہ بالا الہامی فریاد کا مفہوم صاف ہے کہ وہ حضرت اقدس کے قبیلہ کی ہی غرقابی کے پیش نظر کی گئی ہے اور اس میں جسمانی اور روحانی دونوں قبیلے شامل ہیں..... کہ زمین اپنی فراخی کے باوجود مجھ پر تنگ ہو گئی اور میں مغلوب ہو چکا ہوں سے یہ مراد ہے کہ جماعت خود ہی بلائے دمشق کو زمام اقتدار سونپ کر اور اس کے دام عقیدت میں گرفتار ہو کر گمراہ ہو جائے گی اور بلائے دمشق نہایت دقیق اور نظر فریب مکر کے ساتھ اسلامی نظریات کو مسخ کرتا جائے گا اور ایسا سوانگ رچائے گا کہ لوگوں کو اس پر اصل حقیقت کا گمان ہوگا اور اصلاح حال کی کوئی صورت باقی نہ رہے گی۔ علماء کی حیثیت خیمہ برداروں کی سی ہوگی اور حق مغلوب اور باطل کو اپنی اکثریت پر ناز ہوگا اور نظام سلسلہ کے نعروں کی گونج میں انسانیت سوز بائیکاٹ اور ظلم وتشدد کیا جائے گا اور خدا کے دین اور اس کے بندوں پر زمین تنگ کر دی جائے گی اور ستم ظریفی کی انتہاء نہ ہوگی کہ یہ سب کچھ مسیح موعود کے نام سے کیا جائے گا۔ اس وحشت ناک منظر کے پیش نظر مامور وقت کی زبان پر یہ الہامی فریاد جاری کی گئی۔

....... دوستو جو احمدی کہتے ہو کیا تم میں کوئی ”رجل رشید“ ہے کہ جو مسیح موعود کی اس دلدوز و دلفگار الہامی فریاد پر ایک آنسو بہا دیوے اور اپنی اصلاح کر لیوے۔

ہم دراصل مسیح موعود کی ایک خواب کا ذکر کر رہے تھے۔ آؤ اب ہم آپ کو اس خواب کی تعبیر بتائیں کہ جو واقعات کے رنگ میں پوری ہو چکی ہے۔ مسیح موعود کو جو پھل دکھایا گیا ہے وہ روحانی پھل تھا کہ جو ان کی دن رات کی روحانی کاوشوں کا نتیجہ تھا۔ یعنی معاشرے کا اسلامی رنگ میں رنگین ہو جانا اور ہنوز دنیا نے اس سے متمتع ہونا تھا کہ محمود ایک فرنگی یعنی دجال کو لے کر گھر میں داخل ہو گیا اور اوّل اوّل وہ وہاں گئے جہاں پانی رکھا ہوا تھا۔ پانی سے مراد روحانی پانی یعنی روحانیت ہے۔ یعنی سب سے اوّل محمود نے دجال کی معیت یا تتبع میں جماعت کی روحانیت کو پامال کیا۔ اب آپ خود دیکھ لیں کہ جماعت کے پاس بجز جلسوں،

٣٨٠

صفحہ ٦٣١

جلوسوں، نعروں اور ریزولیوشنوں کے سوا رکھا ہی کیا ہے۔ پھر وہ حضرت اقدس کی تالیفات پر متوجہ ہوا۔ خواب کے اس حصہ کی اگر واقعاتی تعبیر بیان کی جائے تو ایک ضخیم کتاب تالیف ہو جائے کہ کس طرح میاں محمود احمد نے مسیح موعود کی تالیفات کو مسخ اور نظر انداز کیا۔ انہوں نے جلسہ سالانہ ١٩٥٦ء پر خلافت حقہ اسلامیہ کے عنوان سے ایک گمراہ کن تقریر کی۔ جس میں آیت استخلاف موضوع سخن تھی۔ مگر اس ساری تقریر میں انہوں نے حضرت اقدس کی مایہ ناز تصنیف ”شہادت القرآن“ کا نام تک نہیں لیا۔ حالانکہ شہادت القرآن آیت استخلاف کی ہی پر از معارف تفسیر ہے اور اگر میاں محمود احمد شہادت القرآن کا کوئی ایک حوالہ بھی دے دیتے تو ان کی ساری دجل کاری کا محل دھڑام سے زمین پر آ رہتا اور پھر محولہ بالا تقریر میں انہوں نے حدیث مجددین کا بھی ذکر نہیں کیا کہ جو درحقیقت آیت استخلاف کی ہی شارح ہے۔ غرض دین میں ان کے تصرف بے جا کی یہ ایک ادنیٰ مثال ہے۔ پھر انہوں نے حضرت اقدس کی الہامی پیش گوئیوں میں بھی اس قدر تصرف کیا ہے کہ الامان والحفیظ ! ایک مصلح موعود کی پیش گوئی کے ہی جملہ الہامات زیب تن کئے بیٹھے ہیں اور تذکرہ کو دیکھنے سے اس قسم کے بے جا تصرفات کی کئی ایک مثالیں ملتی ہیں۔ جن کا ایک آدھ نمونہ آئندہ چل کر ہماری اس تحریر میں بھی آوے گا۔ غرض ان لوگوں پر حضرت اقدس کا مندرجہ ذیل الہام بالکل صادق آتا ہے۔

”ان علماء نے میرے گھر کو بدل ڈالا۔ میری عبادت گاہ میں ان کے چولہے ہیں۔ میری پرستش کی جگہ میں ان کے پیالے اور ٹھوٹھیاں رکھی ہوئی ہیں اور چوہوں کی طرح میرے نبی کی حدیث کو کتر رہے ہیں۔“

(ازالہ اوہام ص ٧٦ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ١٤٠)

غرض ان لوگوں نے ایک ایسا سوانگ رچایا ہے اور ایسی گمراہی پھیلائی ہے کہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے اور پالتو مولوی سارے کے سارے قرآن شریف کو اور احادیث نبوی کو دھڑا دھڑ خلیفہ کی تعریف وتوصیف میں چسپاں کئے جاتے ہیں اور ان کی طاغوتی یلغار سے نہ قرآن شریف محفوظ ہے نہ اسلام محفوظ ہے اور نہ ہی پاک اور مطہر لوگ محفوظ ہیں۔ کروڑوں روپے کے اصراف سے ایک ایسا شیطانی چکر چلایا ہے کہ ہم تو ہم خود مامور وقت کی روح گھبرا گئی اور چلا اٹھی۔

”عورت کی چال ایلی ایلی لما سبقتنی“

(تذکرہ ص ٥٩٨ طبع دوم)

پس قادیان کو الہامی طور پر دمشق قرار دینے اور پھر بلائے دمشق کی الہامی اطلاع دینے کے بعد حضرت اقدس کا حسب ذیل بیان ان لوگوں کے احوال کے عین مطابق ہے: ”جس میں

٣٩

صفحہ ٦٣٢

(یعنی قادیان میں) ایسے لوگ رہتے ہیں جو یزید الطبع اور یزید پلید کی عادات اور خیالات کے پیرو ہیں جن کے دلوں میں اللہ تعالیٰ اور رسول کی کچھ محبت نہیں اور احکام الٰہی کی کچھ عظمت نہیں ...... اور اپنے نفس امارہ کے حکموں کے ایسے مطیع ہیں کہ مقدسوں اور پاکوں کا خون بھی ان کی نظر میں سہل اور آسان امر ہے۔“

(ازالہ اوہام حاشیہ ص ٦٦ خزائن ج ٣ ص ١٣٥)

اب اس وقت جب کہ یہ سب باتیں پردہ غیب میں تھیں اور جماعت کی روحانی حالت قابل رشک تھی۔ حضرت اقدس کی قلم سے یہ سب کچھ لکھا جانا ایک کرشمہ سے کم نہیں اور ان الہامات کی روشنی میں جن کا ہم اب تک ذکر کر چکے ہیں۔ حضرت اقدس کی مندرجہ بالا تحریر خدا تعالیٰ کے تصرفات کی ایک مثال ہے۔

مرزا محمود دجال ہے

پس علاوہ ان سب وضاحتوں کے مندرجہ بالا خواب میں محمود احمد کا دجال کو لے کر مسیح موعود کے گھر میں داخل ہونا کلی اور واقعاتی رنگ میں بھی پورا ہو چکا ہے۔ دیکھو خلیفہ اپنی تقریر خلافت حقہ اسلامیہ میں کہتے ہیں: ”لیکن میں نے ایک کمیٹی بھی بنائی ہے جو عیسائی طریقہ انتخاب پر غور کرے گی۔ کیونکہ قرآن شریف نے فرمایا ہے کہ: ”وعداللہ الذین امنوا منکم وعملوا الصلحت لیستخلفنهم فی الارض کما استخلف الذین من قبلهم“ جس طرح اس نے پہلوں کو خلیفہ بنایا تھا۔ اسی طرح تم کو بھی بنائے گا۔ سو میں نے کہا کہ عیسائی جس طرح انتخاب کرتے ہیں۔ اس کو بھی معلوم کر لو۔ ہم نے اس کو دیکھا ہے۔ گو پوری طرح تحقیق نہیں ہوئی اس میں جو بڑے بڑے علماء ہیں ان کی ایک چھوٹی سی تعداد پوپ کا انتخاب کرتی ہے اور باقی عیسائی دنیا اسے قبول کر لیتی ہے۔“

(خلافت حقہ اسلامیہ ص ٢١،٢٢)

اے وے پالتو مولویو! جو خطاب یافتہ ہو۔ تم اس وقت کہاں تھے جب کہ یہ خرافات قرآنی آیات شریفہ سے مزین کر کے سنائی جارہی تھیں۔ کیا تم اس وقت بقائمی ہوش وحواس زندہ تھے۔ کیا تم میں ایک بھی رجل رشید نہ تھا کہ جو خلیفہ صاحب کا منہ بند کر دیتا اور پکار اٹھتا کہ یا حضرت اب کفریات کی حد ہو گئی ہے۔ تم نے پاپائیت کو قرآن شریف کا شارح اور قاضی بنادیا ہے۔ ان خرافات اور کفریات کو اب بند کیجئے۔ ہم ان دجلیات کو نہیں سن سکتے اور ہم اس دجل کاری کو اپنے گھر یعنی احمدیت میں دخل نہیں ہونے دیں گے۔ شاید تمہارا خیال اس وقت کھانے کی خوشبوؤں میں الجھا ہوا تھا۔ اے رکابی مذہب کے پرستارو تف ہے تمہارے اس علم پر اور حیف ہے

٤٠

صفحہ ٦٣٣

تمہاری اس عقل پر…… ہمارے خیال میں عالم ہو کر ایسی خرافات اور کفریات کو سننا اور احتجاج نہ کرنا پیشاب پینے سے بھی بدتر ہے۔ دیکھو قادیانیوں کی دیوی یعنی خلافت کو ابنائے فارس کی لونڈیا بنانے کے لئے تمہارے خلیفہ کیا کیا پر از معارف شاطرانہ چالیں بیان کرتے ہیں۔ کیا اس تقریر کے بعد بھی حضرت اقدس کے خواب کی تصدیق نہیں ہوئی کہ محمود دجال کو لے کر ہمارے گھر میں داخل ہو گیا۔ ہمارے خیال میں اس تقریر کے بعد ابلیس نے بھی شکرانے کے نوافل ادا کئے ہوں گے۔ کیا اب بھی آپ کو ”عورت کی چال ایلی ایلی لما سبقتنی“ کے معنی سمجھ نہیں آئے……

اگر چہ ہمیں خلیفہ کی اس بات سے اتفاق ہے کہ ان کی خلافت بھی پوپ کی شکل میں عیسائیوں کی طرح ہی کی ایک خلافت ہے اور اس میں بھی کوئی کلام نہیں کہ ابلیس قیامت تک خدا کے بندوں کو گمراہ کرنے کا تہیہ کر چکا ہے۔ مگر یہاں موضوع سخن آیت استخلاف ہے۔ لہٰذا خلیفہ کے مذکورہ اقتباسات پر غور کرنے سے پہلے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر پاپائیت بگڑ چکی ہے تو پھر پاپائیت کی بگڑی ہوئی شکل کو بطور رہنما تسلیم کر کے اس کے اصولوں کو معلوم کرنے کے لئے ایک ایسی کمیٹی کیوں بنائی گئی کہ جس کی پیش کردہ سفارشات کی روشنی میں آیت استخلاف کے تحت خلافت سازی کے قواعد مرتب کئے جائیں گے۔ کیا قرآن شریف کی آیات کی تفسیر بگڑی ہوئی پاپائیت کے اصولوں کی روشنی میں کی جائے گی۔ کیا پاپائیت کی بگڑی ہوئی شکل میں بھی اس قدر سکت ہے کہ وہ قرآن شریف کی آیات کے مفہوم کو سمجھنے کے لئے اور ان پر عمل پیرا ہونے کے لئے بطور رہنما کام آئے۔ دوسرے الفاظ میں خلیفہ کے نزدیک جن کو قرآن دانی کا بہت بڑا دعویٰ ہے۔ اسلامی خلافت کو کج راستوں پر چلانے کے لئے بگڑی ہوئی پاپائیت کے نقش قدم پر چلانے چاہئے۔ پالتو مولویو! اس سے بڑھ کر دجال نوازی اور دجل کاری اور کیا ہو سکتی ہے کہ جماعت کو ضال اور مغضوب قوموں کے نقش قدم پر چلا دیا جائے۔ واقعی خدا کے مامور کی خواب حرف بحرف پوری ہو گئی کہ محمود دجال کو لے کر ہمارے گھر میں داخل ہو گیا۔ مسیح موعود تو پادریوں کو دجال کہتے کہتے نہیں تھکتے تھے۔ چنانچہ حضور فرماتے ہیں: ”یہی علامت اس پادریوں کے گروہ پر فتن کی ہے جس کا نام دجال معہود ہے۔“

(شہادت القرآن ص ٦١)

اور خلیفہ ان دجالوں کی پیروی اور تتبع میں آیت استخلاف کے تحت خلافت سازی کی مہم چلانے کے لئے ایک کمیٹی مقرر کرتے ہیں اور کمیٹی قائم کرنے کا تو ایک بہانہ تھا۔ ورنہ خلیفہ نے پاپائیت کے تتبع میں اسی تقریر میں قواعد اور شرائط مقرر کر ڈالے۔ چنانچہ عیسائیوں کے طریق

صفحہ ٦٣٤

انتخاب کے متعلق وہ کہتے ہیں کہ: ”وہ بہت سادہ طریق ہے۔ اس میں جو بڑے بڑے علماء ہیں ان کی ایک چھوٹی سی تعداد پوپ کا انتخاب کرتی ہے اور باقی عیسائی دنیا اسے قبول کر لیتی ہے۔“

(تقریر خلیفہ ص٢٢)

اس کے مطابق خلیفہ حکم دیتے ہیں کہ: ”آئندہ یہ نہ رکھا جائے کہ ملتان اور کراچی اور حیدرآباد اور کوئٹہ اور پشاور سب جگہ کے نمائندے جو پانچ سو کی تعداد سے زیادہ ہوتے ہیں۔ وہ آئیں تو انتخاب ہو۔ بلکہ صرف ناظروں اور وکیلوں اور مقررہ اشخاص (یعنی ملازم عملہ) کے مشورہ کے ساتھ اگر وہ حاضر ہوں خلیفہ کا انتخاب ہوگا۔ جس کے بعد جماعت میں اعلان کر دیا جائے گا اور جماعت اس شخص کی بیعت کرے گی۔“

(تقریر خلیفہ ص٢٠)

عیسائیوں کے پادری تو شاید صاحب الرائے ہوں۔ مگر خلیفہ تو سراسر اپنے ملازم عملہ اور پالتو مولویوں کو یہ اختیار دے رہے ہیں کہ وہ آیت استخلاف کے تحت خلیفے مقرر کر لیا کرے اور باقی جماعت کو پابند کرتے ہیں کہ وہ اس کی بیعت کرے۔ پس کمیٹی وغیرہ مقرر کرنے کا تو ایک بہانہ تھا۔ خلیفہ کی یہ تقریر لوگوں کو ازبر کروائی جا چکی ہے اور وسیع پیمانے پر اس کے امتحانات لئے جاچکے ہیں اور ہم نے سنا ہے کہ دجل کاری میں اوّل نمبر پر آنے والے مریدوں کو انعامات بھی دیئے گئے ہیں۔

محمودی فتنہ دجالی فتنہ ہے

پس جیسا کہ ہم شروع میں تحریر کر آئے ہیں۔ یہ فتنہ بھی دجالی فتنہ کی ہی ایک داخلی شاخ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خلیفہ کو اپنی خلافت اور خلافت سازی کے قواعد کو مستند بنانے کے لئے بار بار پاپائیت کا حوالہ دینا پڑا اور بگڑی ہوئی پاپائیت کو قرآنِ شریف کا شارح اور قاضی بنانا پڑا اور ”کُل شئ یرجع الی اصلہ“ کے اصول کے تحت اس فتنہ کو بھی اپنے مورث اعلیٰ دجال کی طرف رجوع کرنا پڑا اور اس طرح حضرت اقدس کے خواب کی پوری پوری تصدیق ہو گئی کہ محمود دجال کو لے کر میرے گھر میں داخل ہو گیا ہے۔

دوم....... دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعی پاپائیت آیت استخلاف کے تحت خلافت الٰہیہ کی آئینہ دار ہے۔ خلیفہ صاحب کہتے ہیں کہ پاپائیت کی موجودہ شکل بگڑی ہوئی ہے۔ مگر ہم کہتے ہیں کہ خلیفہ اور ان کے خطاب یافتہ پالتو مولوی پاپائیت کے کسی ایسے دور کی نشان دہی کریں کہ جب کہ وہ آیت استخلاف کے تحت خلافت الٰہیہ کہلانے کی مستحق تھی۔ ہمیں وہ اس دور کے پاپاؤں کا

٤٢

صفحہ ٦٣٥

نام بتلائیں اور اس بات کا ثبوت فراہم کریں کہ واقعی میں فلاں فلاں پوپ فلاں فلاں سنہ میں آیت استخلاف کے تحت خلیفہ اللہ تھے اور پھر ان کے طریق انتخاب پر تاریخی طور پر روشنی ڈالیں کہ نصرانیوں نے ان کو منتخب کیا ہو اور پھر وہ اس انتخاب کے وجہ سے خلیفہ اللہ بن گئے ہوں۔ اگر خلیفہ اور ان کے خطاب یافتہ پالتو مولوی پاپائیت کے کسی ایسے دور کی نشان دہی نہ کرسکیں اور وہ قیامت تک نہیں کر سکیں گے تو پھر اے خطاب یافتہ مولویو! تم خود ہی بتاؤ کہ ہم خلیفہ کی اس فریب کاری کا کیا نام رکھیں کہ وہ بار بار اپنی تقریر میں پاپائیت کے حوالہ سے اپنی خلافت کو مستند اور اپنے خلافت سازی کے طریقوں کو جائز قرار دیتے رہے ہیں۔

اے پالتو مولویو! دیکھو ہم تمہارے خلیفہ کے تبحر علمی کے دعویٰ کی قلعی کھول رہے ہیں۔ کچھ تو غیرت علمی دکھاؤ اور کسی ایک پوپ کا ہی نام لے دو کہ وہ حقیقی معنوں میں خلیفہ اللہ تھا اور ساری عیسائی دنیا نے متفقہ طور پر اس کا انتخاب کیا ہوا تھا۔ تمہارے خلیفہ کی تفسیر دانی کو تو ہم بخوبی جانتے ہیں کہ جو سالہا سال تک تفسیر کبیر لکھنے کی کوشش میں درجن بھر پالتو مولویوں کو کبھی پہاڑوں پر اور کبھی میدانوں میں اپنے ساتھ نتھی کر کے گھسیٹتے پھرے۔ مگر کیا تم کو بھی یہ علم نہیں کہ اب تک دنیا کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تاریخ وفات کا ہی علم نہیں۔ واقعہ صلیب اور محلہ خانیار میں ان کی موجودگی کے درمیان قریباً نوے برس کا طویل زمانہ حائل ہے۔ آخر کس تاریخ سے ان کی خلافت کے سلسلہ کو شروع کرو گے۔ ان کی خلافت کا مرکز ناصرہ تھا یا سری نگر۔ پاپائیت کو قرآن پر قاضی بنانے والو! کہیں تو شرم سے ڈوب مرو۔ کیا تمہیں علم نہیں کہ رومیوں نے عیسائیوں پر عرصہ حیات تنگ کر دیا تھا اور واقعہ صلیب کے بعد کوئی بھی خوف کے مارے عیسائیت کا نام تک نہ لے سکتا تھا۔ کیا قرآن شریف میں اصحاب کہف کا صدیوں تک غاروں میں چھپے رہنے کا کوئی تذکرہ ہے کہ نہیں ۔ اے ظالمو! کچھ تو اپنے ذہنوں کو بھی کھولو۔ آخر ہم اس فریب کاری کی تردید میں ساری تاریخ تو نہیں لکھ سکتے۔ دیکھو تمہارے خلیفہ اپنی تقریر میں خلافت موسویہ کے دو دور بتلاتے ہیں اور کہتے ہیں: ”اور ایک دور حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے لے کر آج تک چلا آرہا ہے۔“

(تقریر خلیفہ ص٤)

...... پس میاں محمود کو تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعد مسلسل خلافت کا ایک سلسلہ آج تک چلا آتا نظر آتا ہے اور اس کے بزرگ باپ مسیح موعود کو کوئی ولی تک نظر نہیں آتا۔ اب جس امت میں ولی ہی کوئی نہیں ہوا۔ اس میں آیت استخلاف کے تحت خلیفہ صاحب والا خلفاء کا سلسلہ کیوں کر قائم ہو سکتا ہے۔ اے پالتو مولویو! بتاؤ کہ کیا تمہیں بھی ہماری باتوں کی سمجھ آتی ہے کہ

٤٣

صفحہ ٦٣٦

نہیں اور اگر آتی ہے تو شرم بھی آتی ہے کہ نہیں۔ یا تم اس مادے کو جو نصف ایمان کا درجہ رکھتا ہے بالکل ضائع کرچکے ہو۔ آگے چلئے .......

اے پالتو مولویو! ان حوالوں کا سلسلہ تو بہت لمبا ہے۔ مگر ہم تمہارے فہم کا کیا علاج کریں۔ اے ظالمو! خلیفہ کی تمام تقریر ہی کفریات اور دجلیات کا مرقع ہے۔ ہمارا دل چاہتا ہے کہ ہم اس تقریر کے ایک ایک لفظ پر بحث کر کے یہ ثابت کریں کہ جملہ الفاظ کا تانا بانا فریب کاری ہی فریب کاری ہے اور خلیفہ کی تقریر کو اسلام اور الہیات سے دور کا بھی تعلق نہیں۔ اب دیکھو مسیح موعود تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر موسوی خلافت کو ختم قرار دیتے ہیں اور خلیفہ پاپائیت کو بھی آیت استخلاف کے تحت گردان کر قرآن شریف کو اس پر پیش کرتے ہیں۔ کیا یہ دجل کاری کی انتہاء نہیں اور کیا اب بھی تمہیں حضرت اقدس کے اس خواب کی تعبیر سمجھ نہیں آئی کہ محمود دجال کو لے کر ہمارے گھر احمدیت میں داخل ہو گیا ہے اور اس نے جماعت کو نصاریٰ کے رنگ میں رنگین کر دیا ہے۔

....... یقیناً تینوں بھائیوں میں سے خلیفہ سب سے بڑے مجرم ہیں اور ان پر عذاب نازل ہو چکا ہے اور وہ مفلوج ہو چکے ہیں اور وہ اپنی مفلوجیت کو چھپانے کی بہت کوشش کرتے ہیں، مگر خدا کے کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ ان پر خدا کی گرفت دن بدن مضبوط ہوتی چلی جائے گی اور نہ مال نہ اولاد اور نہ جماعت خدا کے عذاب سے ان کو بچا سکے گی۔ ان کا جرم نہایت سنگین اور شدید قسم کا ہے۔ غیر صالح اعمال اور مظالم کے علاوہ انہوں نے خدا کے اس نور کو بجھانے کی کوشش کی ہے۔ جو چودہ صد سال کے بعد آسمان سے نازل ہوا تھا۔ اے خطاب یافتہ پالتو مولوی اور پاپائیت کو آیت استخلاف کے تحت خلافت الٰہیہ قرار دینے والو اور قرآن شریف کو پاپائیت پر پیش کرنے والو۔ سن لو اور گوش ہوش سے سن لو کہ تمہارا اور تمہارے خلیفہ کا انجام نہایت عبرت ناک ہونے والا ہے۔ دور حاضر کے سب سے بڑے مجرم ضمیر کو مکافات عمل کا سامنا ہے۔ عجب نہیں کہ وہ بالکل شل اور مختل کر دیا جائے اور ساری دنیا کے ساتھ تم بھی اس کی تلف شدہ ذہنی صلاحیتوں کا تماشا کرلو۔

....... اب آپ نے دیکھ لیا کہ خلیفہ خلافت کی جعلی تیسری قسم کی سند کہاں سے لائے ہیں۔ کہتے ہیں چنانچہ عیسائی اس کے لئے انتخاب کرتے ہیں۔ اے پالتو مولویو! کیا یہ عبرت کا مقام نہیں۔ واقعی پاپائیت کے علاوہ تمہاری اس جعلی خلافت کی کہیں اور سے سند نہیں مل سکتی تھی۔ شاید قارئین خیال کریں کہ ہم جواب تو خلیفہ کی تقریر کا دے رہے ہیں اور دیگر احوال بھی ان کا ہی تحریر کر رہے ہیں۔ پھر بار بار خطاب یافتہ پالتو مولویوں کو مخاطب کیوں کرتے ہیں۔ دراصل خلیفہ

٤٤

نے تو ایک بار جو دعویٰ کرنا ہوتا ہے کر دیتے ہوتی ہے پھیلا دیتے ہیں۔ پھر ان کے پالتو ناکام تطبیق دینے کی مہم یہی پالتو مولوی چلاتے رہے ہیں کہ اجی حضور آپ کی کیا شان مصلحت کا دعویٰ نہیں کیا تھا کہ یہ پالتو مولوی پس مسیح موعود کی جماعت کو گمراہ کرنے میں خوشامدیوں کو بار بار مخاطب کرنے پر مجبور گئی ہو اور یہ خوابیدہ لوگ ہوش میں آئیں قوم کی طرح یہاں بھی ایک نسل تباہ ہو خلافت کو مستحکم کرنے کے لئے پاپائیت کے خلیفہ نے خود ہی اپنا نام اور پتہ مکمل طور پر کہ محمود دجال کو لے کر مسیح موعود کے گھر میں اور اگر تم واقعی حیادار ہو تو آیت استخلاف ہی نہیں بلکہ تاریخ ادیان میں کسی بھی ایک تھا اور جو لوگوں کی انتخاب کی وجہ سے رو

مرزا محمود کی دجالیت

....... خلیفہ کی تقریر کو ازبر کرکے ایمان تازہ ہوتا ہے۔ خلیفہ کا بیان تو یہ دہندوں سے اپنا کام چلاتے ہیں۔ اوّل ظاہری خلافت کو حضرت علیؓ پر ختم کر کے وقت ظاہری خلافت یعنی حکومت نہ تھی۔ پر ختم کہتے ہیں۔ غرض خلیفہ کی تقریر علمی او چھاننے کے لئے وہ تیار کرتے ہیں۔ بچھ اب تک جاری و ساری رہا اور ہر صدی حضرت حسنؓ کے زمانہ سے ہی مسلمانوں

صفحہ ٦٣٧

نے تو ایک بار جو دعویٰ کرنا ہوتا ہے کر دیتے ہیں اور دین اور اسلام کے نام پر جو دجل کاری پھیلانی ہوتی ہے پھیلا دیتے ہیں۔ پھر ان کے بیان کو جائز اور ”قال اللہ“ اور ”قال الرسول“ سے ناکام تطبیق دینے کی مہم یہی پالتو مولوی چلاتے ہیں۔ بلکہ بطور خوشامد خلیفہ کے منہ میں نوالے دیتے رہتے ہیں کہ اجی حضور آپ کی کیا شان ہے اور واللہ آپ تو مصلح موعود ہیں۔ یعنی خلیفہ نے ہنوز مصلح ہونے کا دعویٰ نہیں کیا تھا کہ یہ پالتو مولوی اپنی تحریرات میں خلیفہ کو مصلح موعود لکھنے لگ گئے تھے۔ پس مسیح موعود کی جماعت کو گمراہ کرنے میں ان پالتو مولویوں کا بھی بہت بڑا دخل ہے۔ لہٰذا ہم ان خوشامدیوں کو بار بار مخاطب کرنے پر مجبور ہیں کہ شاید ان میں کہیں غیرت اور ایمان کی رتی باقی رہ گئی ہو اور یہ خوابیدہ لوگ ہوش میں آئیں کہ ان کی مدہوشی اور گمراہی کی وجہ سے موسیٰ علیہ السلام کی قوم کی طرح یہاں بھی ایک نسل تباہ ہوگئی ہے۔ ہاں تو ہم بیان کر رہے تھے کہ خلیفہ کو اپنی جعلی خلافت کو مستند کرنے کے لئے پاپائیت کے سوا اور کہیں سے ثبوت نہ مل سکا۔ اے پالتو مولویو! اب تو خلیفہ نے خود ہی اپنا نام اور پتہ مکمل طور پر بتا دیا ہے۔ اب تو حسب خواب مسیح موعود ایک ہار مان لو کہ محمود دجال کو لے کر مسیح موعود کے گھر یعنی احمدیت میں داخل ہو گیا ہے۔ ورنہ اگر تم واقعی عالم ہو اور اگر تم واقعی حیادار ہو تو آیت استخلاف کے تحت صرف موسوی خلافت کے چودہ صد سالہ دور میں ہی نہیں بلکہ تاریخ ادیان میں کسی بھی ایک ایسے روحانی خلیفہ کی مثال پیش کرو جو مامور اور رسول نہ تھا اور جو لوگوں کی انتخاب کی وجہ سے روحانی خلیفہ بن گیا تھا۔

مرزا محمود کی دجالیت

...... خلیفہ کی تقریر کو ازبر کر کے امتحان دینے والو! دیکھو یہ وہ معارف ہیں کہ جن سے ایمان تازہ ہوتا ہے۔ خلیفہ کا بیان تو سراسر عیاری پر مبنی ہوتا ہے۔ وہ تو اگر چہ مگر چہ کے گورکھ دھندوں سے اپنا کام چلاتے ہیں۔ اوّل وہ اصطلاحات کو ایک دوسرے میں گڈ مڈ کر دیتے ہیں۔ ظاہری خلافت کو حضرت علیؓ پر ختم کر کے نورالدین سے شروع کرتے ہیں۔ حالانکہ نورالدین کے وقت ظاہری خلافت یعنی حکومت نہ تھی۔ پھر کبھی ظاہری خلافت کو حضرت علیؓ پر اور کبھی حضرت حسنؓ پر ختم کہتے ہیں۔ غرض خلیفہ کی تقریر علمی اور تاریخی نہیں ہوتی۔ بلکہ ایک جال ہوتا ہے۔ جو مریدوں کو پھانسنے کے لئے وہ تیار کرتے ہیں۔ پھر وہ روحانی خلافت کا ذکر تک نہیں کرتے۔ جو اسلام میں اب تک جاری و ساری رہا اور ہر صدی کے سر پر آیت استخلاف کے تحت مجدد آتے رہے اور حضرت حسنؓ کے زمانہ سے ہی مسلمانوں کو کامل مؤمن خیال نہیں کرتے اور پھر کمال عیاری سے غلط

٤٥

صفحہ ٦٣٨

اصطلاح استعمال کر کے ظاہری خلافت کے تحت اپنی خلافت کا ذکر تو کرتے ہیں اور روحانی خلافت کا نام تک نہیں لیتے۔ اب اس ساری دجل کاری کا تجزیہ کون کرے۔ اس تحریر میں ہمارے لئے مشکل ہے کہ ہم خلیفہ کے عیارانہ بیان کے ایک ایک لفظ کی وضاحت کریں۔ جس طرح ان کا دین خانہ ساز اور انوکھا ہے۔ ان کی سب اصطلاحیں خانہ ساز اور انوکھی ہیں۔ جیسا کہ ہم پیچھے حوالے دے چکے ہیں۔ مسیح موعود نے خلافت کی ظاہری شکل سے حکومت مراد لی ہے۔ مگر خلیفہ کمال عیاری سے کہتے ہیں کہ دوبارہ خلافت کی ظاہری شکل نور الدین سے شروع ہوئی۔ اب ایسا مہمل بیان یا تو کسی کودن کا ہو سکتا ہے اور یا کسی عیار کا۔

مرزا محمود کے پالتو

پس اے وے پالتو مولویو! جو خطاب یافتہ ہو ۔ ”ما هذا لتماثيل التى انتم لها عاکفون“ کیا تمہارا خلیفہ آیت استخلاف کی ظاہری شکل کے تحت کسی سلطنت کا سربراہ ہے یا اس کی باطنی اور روحانی شکل کے تحت مجدد اور مامور ہے۔ اگر آیت استخلاف کی ان دونوں صورتوں میں سے کوئی بھی صورت تمہارے مناسب حال نہیں تو اے ظالمو! اے فتنہ پرورو! کیا پاکھنڈ تم نے رچایا ہے اور تمہارے خلیفہ اپنی تقریر کے ص ١٥ پر کون سے آسمان سے حکم دیتے ہیں: ”کہ آئندہ خلافت کے لئے میں یہ قاعدہ منسوخ کرتا ہوں کہ شوریٰ انتخاب کرے۔ بلکہ میں یہ قاعدہ مقرر کرتا ہوں ۔“ اب یہ کون سی طاغوتی خلافت ہے کہ جس کے قاعدے منسوخ ہو رہے ہیں اور مقرر کئے جا رہے ہیں۔ کیا اس خلافت کا بجز پاپائیت کے قرآن شریف اسلام اور تاریخ ادیان میں کوئی مثال ملتی ہے۔ اے ظالمو! یہ کس دجل کاری میں تم مبتلا کر دیئے گئے ہو۔ خلیفہ کی تقریر میں خدا کا نام تو محض بطور تبرک استعمال ہوتا ہے۔ ورنہ جملہ قواعد تو وہ خود ہی بنا رہے ہیں اور ان قواعد کے تحت خلافت سازی کے اختیارات خود ہی اپنی پالتو اور ملازم عملہ کو دے رہے ہیں اور سراسر ایک کارِ خداوندی پر پنجہ مار رہے ہیں۔ اے ظالمو! ہم تمہیں تمہارے خلیفہ کی ہی زبان میں آگاہ کرتے ہیں۔ جیسا کہ وہ اپنی تقریر کے ص ١٩ پر کہتے ہیں کہ : ”شیطان نے بتا دیا ہے کہ ابھی اس کا سر نہیں کچلا گیا۔ وہ ابھی تمہارے اندر داخل ہونے کی امید رکھتا ہے۔“ الخ

پیغام صلح کی تائید اور محمد حسین چیمہ کا مضمون بتاتا ہے کہ ابھی مارے ہوئے سانپ کی دم ہل رہی ہے۔ اور وہ مفلوج ہونے کے باوجود اپنی سرشت سے باز نہیں آتا اور اپنی فطرت کے

٤٦

صفحہ ٦٣٩

مطابق برابر گمراہی پھیلا رہا ہے اور مسیح موعود کے فرمودات کو چوہوں کی طرح کتر کتر کر ایک خانہ ساز طاغوتی دین کی بنیاد رکھ چکا ہے اور تمہیں الو بنا کر برابر اپنے دائیں بائیں آگے پیچھے لڑ کر مر مٹنے کی تعلیم دے رہا ہے اور تمہیں پاپائیت کی مکمل تقلید کرنے پر مجبور کر رہا ہے۔ ......اے وے پالتو مولویو! جو خطاب یافتہ ہو تم نے دیکھ لیا کہ تمہارے خلیفہ کوئی بیان بھی قرآن، اسلام اور فرمودات مسیح موعود سے مطابقت نہیں رکھتا۔ ان کا سارا دھندا ہی عیاریوں پر چل رہا ہے۔ لہٰذا اب ہم پر زور الفاظ میں یہ اعلان کرتے ہیں کہ کوئی ایک شخص تو کجا ساری دنیا مل کر بھی آیت استخلاف کے تحت روحانی خلیفہ بر پا نہیں کر سکتی۔ نہ پہلے کبھی ایسا ہوا اور نہ آئندہ ہوگا۔ یہ ایک بہت بڑا دجل ہے۔ جس میں کہ تم مبتلا کر دئے گئے ہو اور اگر تمہیں ہمارے اس اعلان میں کچھ کلام ہے اور پھر اگر تم اپنے علم اور اپنے محبوب خلیفہ کے لئے کوئی غیرت رکھتے ہو تو ہمارے اس اعلان حق کی تردید میں کوئی ایک مثال لاؤ اور یاد رکھو تم کیا تمہاری نسلیں بھی ایسی کوئی مثال نہ لا سکیں گے۔

اے دوستو! ہم علیل ہیں اور باوجود علیل ہونے کے جب ہم نے خلیفہ کی تقریر پڑھی اور دوسری طرف مسیح موعود کی دلدوز فریاد سنی تو بغیر کسی ساز و سامان کے لکھنے بیٹھ گئے اور بخار کی حالت میں بھی ہمارا قلم چلتا رہا۔ ہم نہ تو کوئی مولوی ہیں اور نہ ہی عالم ہیں۔ صرف آگ لگی دیکھی اور ننگے پاؤں اور ننگے سر بجھانے کے لئے دوڑ نکلے۔ ہم نے شروع ہی میں تحریر کیا تھا کہ خدا تعالیٰ نے اپنے بندوں کی ہدایت کا کام اپنے ذمہ لیا ہوا ہے۔ نہ صرف یہ کہ لوگوں کے لئے دین برپا کرنے کا کام اپنے ذمہ لیا ہوا ہے۔ بلکہ حسب آیت استخلاف تجدید دین کا کام بھی اپنے ذمہ لیا ہوا ہے۔ اب تم لوگوں نے کسی عیار کے ہاتھوں میں پڑ کر اور اس کام کو اپنے ہاتھوں میں لے کر اپنا انجام دیکھ لیا۔ ایک تو ”عبد غیر صالح“ کے ذریعہ تمہاری دنیا و جہاں میں جگ ہنسائی ہوئی اور اس ملک کے ہریا کے در و دیوار نے سیاہ ہو کر تمہارے چہروں کی سیاہی کو ظاہر کیا۔ پھر عقائد میں تمہارا یہ حال ہے کہ لڑھکتے پھرتے ہو اور اسلام تو کجا کبھی دین میں تمہیں قدم رکھنے کی جگہ نہیں ملتی اور تھک ہار کر تمہارے خلیفہ تمہیں دجال کے گھر یعنی پاپائیت میں لے گھسے اور تمہیں یہ کہہ کر الو بنایا کہ یہی پاپائیت ہی اسلام ہے۔ اسی کے مطابق عمل کرو۔ یہ سب گمراہیاں تمہیں اس لئے نصیب ہوئیں کہ تم نے الو بن کر خدائی کام میں ہاتھ ڈال دیا۔ پس خدا تو تم نے کیا بننا تھا تم اپنی انسانیت کو بھی کھو بیٹھے اور ”واشربوا فی قلوبهم الخلیفہ“ کے تحت تمہیں ایک زمینی خلیفہ کا تخیل گھوٹ گھوٹ

٤٧

صفحہ ٦٤٠

کر پلایا گیا۔ حتی کہ وہ تمہاری رگ رگ اور نس نس میں رچ گیا اور اس طرح حسب الہام مسیح موعود اور ارشاد الہی تمہاری ایک نسل کی نسل گمراہ ہو گئی اور تقدیر کے نوشتے پورے ہو گئے۔ اب ہلاکت کے دن آچکے ہیں۔

مرزا محمود سانپ ہے

....... خلیفہ کا بیان نہیں ہوتا جال ہوتا ہے۔ وہ ہمیشہ سانپ کی طرح بل ڈال ڈال کر چلتے ہیں۔ اب مندرجہ بالا بیان اس قدر لایعنی ہے کہ اگر ہم صرف اس بیان کی گول باتوں کی وضاحت کرنے لگیں تو ہماری وضاحت حد درجہ طویل ہو جائے۔ اس بیان میں بلکہ اور اس کی یہ صورت بن گئی اور چنانچہ آپ کا الہام اور پھر مسیح موعود اور اس کی ذریت کا خاص طور پر ذکر یہ سب جال کے پھندے ہیں۔ جن کی وضاحت سے ہم بخوف طوالت معذور ہیں۔ بہر حال انجیل کے ذکر کو چھوڑ کر یہ سوال پیدا ہوتا ہے۔ کیا قرآن شریف میں توحید کی تعلیم کی کوئی کمی رہ گئی ہے۔ اے ظالمو! قرآن شریف تو آخری اور مکمل صحیفہ آسمانی ہے۔ پھر اگر خلافت کا انحصار محض توحید کی تعلیم پر ہے۔ تو پھر تمہارے خلیفہ کے اس بیان کو کیا قرار دیں کہ اسلام کے پہلے دور کی خلافت حضرت علیؓ پر ختم ہو گئی تھی۔ اگر خلافت کو توحید کی تعلیم پر مدار ہے تو پھر وہ تو بقول تمہارے خلیفہ ابتدائے اسلام میں تیس سال کے اندر اندر ختم ہو گئی تھی۔ اب کیا تمہارے خلیفہ کے اصول کے مطابق یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ ”نعوذ بالله“ توحید کے بارے میں قرآن شریف کی تعلیم نامکمل ہے۔ جسے کہ مسیح موعود نے ”خذوالتوحيد التوحيد يا ابناء الفارس“ کہہ کر مکمل کر دیا ہے اور چونکہ اس الہام کے مخاطب ابنائے فارس ہیں۔ لہٰذا ان کی توحید پرستی پر قیامت تک شک وشبہ نہیں کیا جا سکتا اور اگر یہ الہام نہ ہوتا تو پھر ایک بہت بڑا نقص لازم آتا کہ اب تو ابنائے فارس توحید پرستی پر قائم ہیں۔ پھر کوئی بھی نہ ہوتا۔ تمہارے خلیفہ کی ایسی ہی گول باتوں پر ہم ان کو خاص وہ سمجھتے ہیں۔

مرزا محمود یہودی ہے

....... جس سے معلوم ہوا ہے کہ یہودیوں والی صورت یہاں بھی پیدا ہو چکی ہے۔ ورنہ خدا تعالیٰ تو ہر ایک انسان سے توحید پرستی کا خواہاں ہے۔ اگر ابنائے فارس کو خاص طور پر خبردار کیا گیا ہے تو جان لینا چاہئے کہ یہودیوں کی طرح کوئی خاص انتباہ ہے۔ مگر ابنائے فارس نے انتباہ کی پرواہ نہیں کی اور آیت استخلاف کے تحت خلافت سازی کو اپنے ہاتھ میں لے کر سراسر ایک خدائی کام پر پنجہ مارا اور خود بھی سخت گمراہ ہو چکے ہیں اور دوسروں کو بھی گمراہ کر رہے ہیں اور آج

٣٨

صفحہ ٦٤١

خلیفہ اور ان کے پیروکاروں سے کون زیادہ گمراہ ہو سکتا ہے کہ جو روحانی قدروں کو ملیا میٹ کرنے اور آسمانی رشتوں کو ہمیشہ کے لئے زمین سے توڑنے کی کوشش میں مصروف ہیں اور جیسا کہ ہم وضاحت کر چکے ہیں۔ یہ دلدوز و دلفگار الہامی فریاد انہی لوگوں کی سرکشی و بغاوت کے پیش نظر مامور وقت کی زبان سے نکلی ہے۔ اے ازلی ابدی خدا بھیڑیوں کو پکڑ کے آ۔

مرزا محمود کا تانا بانا

یہ سب کچھ کیا خرافات ہے۔ ان باتوں کو تو صرف پالتو مولوی ہی مان سکتے ہیں۔ اے خطاب یافتہ پالتو مولویو! خلیفہ کوئی معارف بیان نہیں کر رہے تھے۔ بلکہ وہ تو ایک ایسا تانا بانا بنا کر لائے تھے۔ جس کی رو سے یہ ثابت ہو جائے کہ اوّل خلیفہ منتخب ہو سکتا ہے اور دوئم اب قیامت تک ابنائے فارس ہی خلافت کے اہل ہیں۔ اسلام میں ان کو یہ دور صرف تیس برس تک نظر آیا۔ اس کا ذکر کر دیا اور چونکہ وہ اپنی خلافت کو زیادہ مستند اور تاریخی بنانا چاہتے تھے۔ صرف تیس سال سے کام نہیں چلتا تھا۔

مصلح موعود

قارئین کو ہماری تحریر کے مطالعہ سے معلوم ہو گیا ہو گا کہ ہم جو بات بھی تحریر کرتے ہیں علیٰ وجہ البصیرت تحریر کرتے ہیں۔ ان مسائل کے بارے میں ہمارے دل میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے۔ بلکہ اس کے برعکس ہمارا دل نورِ یقین سے بھرپور ہے اور اس ضمن میں ہم نے علماء کی ٤٣ سالہ بحث و تمحیص اور اسلوب بیان کو اختیار نہیں کیا کہ ہمارے نزدیک وہ تمام راستے صاف اور ہموار نہیں اور ہمیں خدا کے فضل سے اس بات کا پورا پورا یقین ہے کہ ہم نے ایک نئے علم الکلام کی بنیاد رکھی ہے اور انشاء اللہ العزیز یہی وہ علم الکلام ہے جس سے بالآخر اس فتنہ عظیم کی سرکوبی ہو گی۔ ہم نے ہنوز بہت اختصار سے کام لیا ہے۔ لیکن یقیناً یقیناً ایسے مردانِ خدا پیدا ہوں گے کہ جو ان حقائق پر مزید روشنی ڈالیں گے۔ ہم تو کچھ بھی نہیں اور جہاں تک تعلیم و تدریس کا تعلق ہے ہم بالکل صفر ہیں۔

اے فخر رسل قرب تو معلوم شد
دیر آمدہ ز رہ دور آمدہ

اس الہامی شعر سے ثابت ہوتا ہے کہ مصلح موعود دیر سے آئے گا اور دور کے راستہ سے آئے گا اور نیز اس الہامی شعر سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ مصلح موعود مامور ہو گا کہ فخر رسل کوئی غیر رسول نہیں ہو سکتا۔ ایسا ہی الہام ”تری نسلاً بعیداً“ بھی مصلح موعود کے دور کی نسل میں ہونے کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ لڑکے کی اولاد کو دیکھنا کوئی عجوبہ بات نہیں اور اکثر صاحب اولاد لوگ

٤٩

صفحہ ٦٤٣

چالیس برس کی عمر میں ہی اپنے لڑکوں کی اولاد کو دیکھ لیتے ہیں۔ ہاں ! خدا تعالیٰ کا کلام بیشتر طور پر ذوالوجوہ اور ذوالمعارف ہوتا ہے اور اولاد کی اولاد کو دیکھنا ایک عام بات ہے۔ سو ہم اس کے عمومی پہلو سے انکار نہیں کرتے۔ مگر اس کی خصوصیت دیر آمدہ ذرہ دور آمدہ کے ساتھ شامل کرنے سے ہوتی ہے۔ بالخصوص جب کہ اس الہام کے ساتھ وہ الہامات بھی شامل ہوں جو مصلح موعود کے متعلق ہوں۔ تو پھر اس بات میں کوئی شبہ نہیں رہتا کہ یہ الہام بالخصوص مصلح موعود کی نشاندہی کر رہا ہے۔ جیسا کہ الہامات کے سلسلہ سے واضح ہے۔ ”وترى نسلاً بعيداً مظهر الحق والعلاء كان الله نزل من السماء “ پھر دوسری جگہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے ۔ ”ياتيك عليك زمان زوج مختلفة وترى نسلا بعيداً“ پس ان الہامات کا یہ مفہوم تو نہیں کہ حضرت اقدس دوبارہ زندہ ہو کر شادیاں کریں گے۔ بلکہ ازواج مختلفہ سے مراد جماعت کے مختلف دور ہیں۔ جس کے آخر میں مصلح موعود آئے گا۔ پس الہامات کے مندرجہ بالا ہر دو سلسلوں پر غور کرنے سے یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ مصلح موعود نے دیر سے مبعوث ہونا ہے۔ پھر حضرت اقدس کے الہامات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور کی ابتدائی نسل پاک اور مطہر نہ ہوگی۔ جیسا کہ ہم بلائے دمشق کے بیان میں بھی کئی پیرایوں سے یہ ثابت کر چکے ہیں کہ ابتدائی نسل کے لوگ بجائے پاک اور مطہر ہونے کے شرارت کریں گے اور ایک عظیم ابتلاء کا باعث بنیں گے۔ جیسا کہ الہام ”شر الذين انعمت عليهم “ سے ظاہر ہے کہ شرارت منعم علیہ کریں گے۔ اسی طرح زندگی کے آخری ایام میں اس الہامی دعا کہ ”رب هب لي ذرية طيبة “ سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ جو اولاد موجود ہے وہ پاک اور طیب نہیں۔ ان سب الہامات کے علاوہ اس الہام سے قطعی طور پر ثابت ہوتا ہے کہ حضرت اقدس کی ابتدائی اولاد بجائے پاک و صاف ہونے کے ابتلاء کا باعث بنے گی۔

”میں تیری نسل کو جڑ سے معدوم نہیں کروں گا بلکہ جو کچھ کھو گیا وہ خدائے کریم واپس دے گا۔“

(تذکرہ ص ٧٣٥، طبع دوم)

اب مندرجہ بالا الہام سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ حضرت اقدس کی نسل کے ابتدائی برگ و بار بوجہ غیر صالح ہونے کے کاٹ دیئے جائیں گے اور صرف جڑ باقی رہ جائے گی۔

گوسفندی دین

....... یہ گوسفندی دین جو تم نے اختیار کیا ہے اس لائق نہیں کہ غیور انسان اسے خاطر میں لائیں۔ یہ تو سراسر ایک چکر اور پالتو مولویوں کی کرشمہ سازی ہے۔ اے ابنائے فارس کے پرستارو خدا تعالیٰ فارسی، رومی، یا افغانی نہیں۔ وہ بزرگ و برتر رب العالمین خدا ساری کائنات

٥٠

صفحہ ٦٤٣

اور سب انسانوں کا خدا ہے۔ وہ کسی ایک انسان یا ایک خاندان کا خدا نہیں۔ بلکہ وہ ان انسانوں میں سے ہر ایک انسان کا خدا ہے جو ازل سے لے کر اب تک پیدا ہوئے اور پیدا ہوتے رہیں گے۔ ان میں سے کسی ایک انسان یا خاندان کو خصوصیت دینا پرلے درجے کی جہالت اور سراسر گمراہی ہے۔ خدا کا قرب کسی حسب نسب کی وجہ سے نہیں بلکہ عمل کی وجہ سے حاصل ہو سکتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ کسی فارسی النسل کو جہنم کی آگ میں دھکیل دیا جائے۔ کسی کعدوش کے استقبال کے لئے جنت کے فرشتے حاضر کئے جاویں۔ پس ہم خود ابنائے فارس کے لئے دعا گو ہیں کہ خدا تعالیٰ کو اس گمراہی سے نکالے اور ان میں سے ہر ایک کا انجام بخیر کرے۔ اے ابنائے فارس کے متوالو! اپنے گم کردہ ضمیر کی تلاش کرو۔ ہماری یہ باتیں کسی بغض کی وجہ سے نہیں۔ درد کی وجہ سے ہیں۔ اگر ابنائے فارس کا دامن نعروں، ریزولیشنوں، انسانیت سوز مقاطعوں اور ظلم اور طاغوتی نظام سے پاک ہوتا اور اگر وہ پاک طینت ہوتے تو ان پر جانثاری میں ہم کسی سے پیچھے نہ رہتے۔ احمدیت کے لئے ہمارے اسلاف نے اپنا خون تک پیش کیا ہے اور ابھی ربوہ میں ایسے لوگ موجود ہیں کہ جو اس بات کی شہادت دے سکتے ہیں کہ ہمارے دادا (مہرو زماں خاں عرف ملا میرو صاحبؒ) کی مشکیں کس کر اور گدھے سے ان کے پاؤں باندھ کر سنگلاخ راستوں پر قریہ بہ قریہ گھسیٹا گیا۔ یہاں تک کہ ان کی کھال اتر گئی اور راستے ان کے خون کی گلکاری سے لالہ زار بن گئے۔ پھر ان کے کانوں اور ہاتھوں میں میخیں ٹھونک کر جیل خانے کی دیوار سے لٹکا دیا گیا۔ ہم نے وہ داغدار کان اور ہاتھ خود اپنی آنکھوں سے دیکھے ہیں۔ پھر اسی احمدیت کے لئے اب اس انسانیت سوز مقاطعہ کی وجہ سے جو تکالیف ہم نے اٹھائیں وہ نعرے لگانے والوں کو کیا معلوم۔ ہم پر پانی تک بند کر دیا گیا اور ہم مجبور کر دیئے گئے کہ اپنے گھر کے پاخانوں کو خود صاف کر کے غلاظت کو اپنے ہاتھوں باہر پھینکیں۔ ماں باپ اور بھائی بہنوں کو عمر بھر کے لئے ہم سے جدا کر دیا گیا اور اب کہیں جا کر محض خدا تعالیٰ کے فضل سے ایسے سامان پیدا ہو گئے کہ خدا تعالیٰ نے ٤٧ کے گڑبڑ کے دنوں میں ایک خاندان سے ہمارے رشتے قائم کر دیئے۔ جن سے کچھ باز پرس تو ہوئی مگر وہ خدا کے فضل سے مقاطعہ کی دراز دستیوں کے اثر سے بہت دور رہائش پذیر ہیں۔ لیکن ان تمام چیرہ دستیوں کے باوجود کیا کوئی ہماری یہ تحریر پڑھ کر کہہ سکتا ہے کہ ہمارا ایمان متزلزل ہو گیا ہے۔ پس ہمیں کسی سے کوئی بغض و عناد نہیں۔ بالخصوص مسیح موعود کے اہل بیت سے بغض رکھنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ مگر اگر کوئی اس باغ کو ہی پامال کرنے لگ جائے۔ جو مسیح موعود نے لگایا ہے۔ خواہ وہ پامالی مسیح موعود کی اولاد کے ہاتھوں ہی کیوں نہ ہو رہی ہو تو ہم مجبور ہیں کہ احتجاج کریں اور اپنے بھائیوں کو

٥١

صفحہ ٦٤٤

سمجھائیں کہ محض اس بات سے مطمئن ہو کر آنکھیں بند مت کرو کہ حضرت اقدس کے اہل بیت ہی ان کے باغ میں چل پھر رہے ہیں۔ نہیں بلکہ وہ اس باغ کو پامال کر رہے ہیں جو حضرت اقدس کی بعثت کی غرض وغایت تھا۔ خدارا اس کی تباہی سے اہل فارس کو روکو اور اس ضمن میں حضرت اقدس کے اس خواب کو پڑھو جو تذکرہ ص ٢٢٦ تا ص ٢٣٢ میں درج ہے۔

پس اے پالتو مولویو! ایسے علم سے تو بہتر تھا کہ بھاڑ جھونک لیتے۔ بھلا کوئی مصلح موعود بھی غیر مامور ہو سکتا ہے۔ اگر ہو سکتا ہے تو قرآن شریف اور تاریخ ادیان سے اس کی کوئی ایک مثال تو لاؤ۔ اگر نہ لا سکو تو پھر خود ہی بتاؤ کہ تم نے اور تمہارے خلیفہ نے یہ کیا پاکھنڈ رچایا ہے۔ اے عقل کے دشمنو! تمہیں اتنا بھی علم نہیں کہ دین کی راہیں مامورین کے ذریعہ سیدھی کی جاتی ہیں یا غیر مامورین کے ذریعہ کیا اصلاح خلق کے لئے خدا تعالیٰ غیر مامورین کو بھیجا کرتا ہے۔ تف ہے تمہارے اس علم پر اور حیف ہے تمہاری اس عقل پر اور ویل ہے تمہارے اس دین پر اور لعنت ہے تمہاری اس جعلسازی پر۔ تم نے ایک غیر مامور کو آسمان پر اٹھا کر رکھ لیا اور ایک غیر مامور کو خدا تعالیٰ کے وعدوں کا مصداق بنا کر رکھ لیا۔ اس نے تمہارا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیا۔ اس نے تمہاری صورتوں کو اس قدر مسخ کیا کہ روحانیت کا نام ونشان تک باقی نہ رہا۔ اس نے اپنے اعمال سے تحریک احمدیت کو مشکوک اور بدنام کر دیا۔ پھر بھی وہ جو چاہے کرتا پھرے۔ تم مجبور ہو کہ اس کا ڈھنڈورا پیٹو۔ اے نادانو! اگر وہ واقعی مصلح موعود ہوتا تو حسب قاعدہ کسی آئندہ آنے والے مامور کی تصدیق کرتا۔ مگر وہ تو قوم کو قیامت تک کے لئے ملازم اور پالتو عملہ کے سپرد کر رہا ہے۔ اس پر بھی تمہاری آنکھیں نہیں کھلتیں۔ یا تم ٤٣ سال کے عرصہ میں روحانی بینائی سے محروم کر دیئے گئے ہو۔ یاد رکھو یہ خانہ ساز دین بیخ و بن سے اکھاڑ دیا جائے گا۔ یہ ایک کھلا کھلا چیلنج ہے کہ جو آسمان والے کے پیش نظر ہے اور یہی وہ مکروہ اور مسخ شدہ صورت تھی جس کے پیش نظر مامور وقت کی زبان پر یہ الہامی فریاد جاری ہوئی۔

محمدی بیگم

.......اے پالتو مولویو! بتاؤ کہ اس تلخ صور سے حسب بیان مسیح موعود کوئی مجدد اور مامور اور مصلح موعود مراد ہے کہ نہیں۔ پھر دیکھو قمر الانبیاء کو بھی تلخ صور سے تشبیہ دی گئی ہے۔ یعنی مصلح موعود اور قمر الانبیاء ایک ہیں کہ مسیح موعود کے کام کی تکمیل میں حق کا غلبہ مصلح موعود ہی کے زمانہ میں مقدر ہے۔ پھر ان الہامات میں چھ مرتبہ نہایت تحدی سے یہ یقین دلایا گیا ہے اور اس حقیقت کو اٹل اور حتمی قرار دیا گیا ہے کہ یہ عورت حضرت اقدس کی طرف لوٹائی جائے گی۔ اے نادانوں!

٥٢

صفحہ ٦٤٥

محمدی بیگم تو ایکبار بھی نہ لوٹی۔ پھر بتاؤ کہ تم ذہنی طور پر کودن اور مفلوج ہو یا نعوذ باللہ خدا تعالیٰ دروغ گو ہے۔ شاید یہ مشہور عام پیشگوئی تم پر نہیں بلکہ تم پر لعنتیں ڈالنے کے لئے تمہاری نسلوں پر ظاہر ہو گی کہ الہامات کی زبان میں عورت سے مراد جماعت ہوتی ہے اور پھر اس سب الہامی بیان میں ٭ نفخ صور کی پیش گوئی لا کر خدا تعالیٰ نے سارے معاملہ کو واضح کر دیا ہے کہ اس جماعت کی گمراہی کی اصلاح مصلح موعود کے وقت میں ہو گی۔ دیکھو حضرت اقدس فرماتے ہیں: ”خدا کی کتب میں نبی کے ماتحت امت کو عورت کہا جاتا ہے۔“

شیطانی دعویٰ

اے پالتو مولویو! جو خطاب یافتہ ہو تمہارا اور تمہارے خلیفہ کا یہ دعویٰ کہ تم آیت استخلاف کے تحت روحانی خلیفہ برپا کر سکتے ہو اور کہ کوئی غیر مامور بھی مصلح موعود ہو سکتا ہے۔ ایک بہت بڑا دعویٰ ہے جو شیطان نے روئے زمین پر کسی سے کرایا۔ یہ دعویٰ خدا تعالیٰ کے ازلی قوانین اور روحانی اقدار کے لئے ایک چیلنج ہے اور ایک سرکش و مغرور انسان کا یہ چیلنج قبول کر لیا گیا ہے۔ اب کون ہے کہ جو اس کے ہولناک اور عبرتناک انجام سے اس کو بچاوے۔ اس فتنہ عظیم کو ضرور کچل کر رکھ دیا جائے گا۔ خواہ اس کے لئے زمین کو تہہ و بالا اور پہاڑوں کو ریزہ ریزہ کرنا پڑے۔ یہ فقط ہمارے منہ کی باتیں نہیں بلکہ خدا کا کلام ہے۔ ہوش میں آؤ کہ خدا تعالیٰ کا غضب بھڑک رہا ہے۔ اے دوستو! جو احمدی کہلاتے ہو اگر امن اور سلامتی چاہتے ہو تو ان طاغوتی خیالات اور عزائم پر لعنت ڈال کر خدا تعالیٰ سے صلح کر لو اور ”ایدہ اللہ بنصرہ“ سے پرے ہٹ جاؤ اور دیکھو کہ خدا تعالیٰ ”ایدہ اللہ بنصرہ“ سے کیا سلوک کرتا ہے۔ جہاں تک دلائل اور خبردار کرنے کا کام تھا وہ تو ہم نے کر دیا۔ مگر ہم تقدیر کے نوشتوں کو نہیں بدل سکتے اور ان بدبختوں کا مداوا نہیں کر سکتے جن کے لئے ہلاکت اور گمراہی مقدر ہو......

مگر ہماری یہ مختصر تحریر ان تفصیلات کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ ہمارا خیال تھا کہ ہم چالیس پچاس صفحات میں اپنا مافی الضمیر بیان کر دیں گے۔ لیکن خیالات کو نگارش کا پیراہن پہنانے کا ہمیں کوئی تجربہ نہ تھا۔ جس کی وجہ سے ہماری موجودہ تحریر ہی قریباً دو صد صفحات پر پھیل گئی ہے۔ لہٰذا ہم ایک دو ضروری وضاحتوں کے بعد اپنی تحریر کو یہیں پر ختم کرتے ہیں۔ دراصل یہ موضوع اس قدر طویل ہے کہ بلائے دمشق اور آیت استخلاف اور مصلح موعود کے عنوان پر علیحدہ علیحدہ ضخیم کتابیں لکھی جا سکتی ہیں اور دراصل ان مسائل پر روشنی ڈالنا علماء کا کام تھا۔ لیکن ان کی مسلسل خاموشی نے ہمیں مجبور کیا کہ ہم قلم اٹھائیں۔ پس ہماری تحریر میں عبارات آرائی اور ادب کی تلاش عبث ہے۔ اس

٥٣

صفحہ ٦٤٦

شخص کے لئے جس نے مضمون نویسی کا کام کبھی نہ کیا ہو اور نہ ہی وہ ادیب عالم اور مولوی ہو۔ یہ ایک مشکل کام ہے۔ مگر جب خدا تعالیٰ کسی کے دل میں کوئی تحریک پیدا کرے تو مشکلیں آسان ہوجاتی ہیں۔ مسیح موعود کا ایک الہام ہے۔ ”النا لك الحديد“ یعنی تیرے لئے ہم نے لوہے کو نرم کر دیا۔ لوہا ایک سخت چیز ہے اور لوہے کو نرم کر کے کوئی اولوالعزم ہی کام لے سکتا ہے۔ جیسا کہ آج کل کی ترقی یافتہ اقوام لوہے سے گوناگوں طور پر کام لے رہی ہیں اور جیسا کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے زمانہ میں لوہے کو نرم کر کے کام لیا جاتا رہا اور شاید مصلح موعود کے وقت میں بھی اس سے کام لیا جائے۔ لیکن جہاں تک دلائل کا اس الہام سے تعلق ہے یہ ایک مشکل کام ہے کہ ہمارے جیسا بے علم انسان خلیفہ اور ان کے مایہ ناز علماء سے خطاب کرے۔ ہمارے خیال میں ہمارے ذریعہ صرف آغاز اور تخم کاری کا کام ہو رہا ہے اور ہنوز الہام ”النا لك الحديد“ کئی رنگوں میں اپنی شکل دکھائے گا۔ پس ہماری یہ تحریر محض خدا تعالیٰ کے فضل و کرم کا نتیجہ ہے۔ وگرنہ ہم کون ہیں اور ہماری بساط کیا ہے۔ ہم نے اپنی اس حقیر اور ناچیز کوشش کے ذریعہ آئندہ آنے والے مجدد اور مصلح موعود کی راہوں کو صاف کیا ہے اور ہم الجلیل القدر انسانوں کی خدمت میں اپنا سلام عرض کرتے ہیں اور اپنی بخشش کے لئے دعا کی درخواست کرتے ہیں۔ ”ربنا ظلمنا انفسنا وانلم تغفر لنا وترحمنا لنكونن من الخسرين“

فتنہ خلیفہ ربوہ کا

حسب الہام مندرجہ بالا آپ لوگوں نے دیکھ لیا کہ ابی لہب کو فالج کے ذریعہ کچھ کچھ شل کر دیا گیا ہے اور جو کچھ آئندہ ہونے والا ہے۔ اس کے دیکھنے کے لئے بھی منتظر رہو کہ خدا تعالیٰ کے قول اٹل اور حتمی ہوتے ہیں۔ پس دراصل ”الفتنة هاهنا“ کا اصل مصداق خلیفہ ربوہ ہی ہے کہ یہ الہام کہ جو پہلے پہل ١٨٨٠ء کے قریب ہوا تھا۔ اس کے متعلق ٢٥ سال بعد حضرت اقدس کو دوبارہ اطلاع دی گئی کہ فتنہ بڑا ہو گیا ہے یا جوان ہو گیا ہے۔ جیسا کہ الہام ”کبرت فتنة“ سے واضح ہے۔ یہ الہامی اطلاع ١٣؍ دسمبر ١٩٠٥ء کو دوبارہ دی گئی۔ جب کہ مولوی محمد حسین حضرت اقدس کی ترقی اور ان کے ساتھ تائید الٰہی کو دیکھ کر خاموش ہو چکا تھا اور شغل تکفیر سے باز آ چکا تھا اور مولوی نذیر حسین دہلوی غالباً فوت ہو چکا تھا اور فتویٰ کفر پر بھی چودہ پندرہ سال کا عرصہ گزر چکا تھا۔ پس ١٣؍ دسمبر ١٩٠٥ء کا الہام ”کبرت فتنة“ بتلاتا ہے کہ فتنہ یا فتنہ باز جواں ہو چکا ہے اور اس نے اپنے مشاغل کی ابتداء کر دی ہے اور اس الہام الٰہی کے وقت تک موجودہ خلیفہ کے متعلق آلودہ چلن کی شکایت بھی پیدا ہو چکی تھی۔ پس ”کبرت فتنة“ نے ثابت کر دیا کہ الہام ”الفتنة هاهنا“ کا

٥٤

صفحہ ٦٤٧

اصل مصداق ”عبد غیر صالح“ اور بلائے دمشق یعنی خلیفہ ربوہ ہی ہے۔

خلیفہ صاحب نے اپنی تقریر میں بار بار جماعت احمدیہ لاہور کو شیطانی قرار دیا ہے۔ جیسا کہ وہ اپنی تقریر کے ص ١٤ پر کہتے ہیں کہ شیطان ابھی مایوس نہیں ہوا۔ پہلے تو شیطان نے پیغامیوں کی جماعت بنائی۔ اور یہ ان کا آزمودہ ہتھیار ہے کہ جب ان کے خلوت خانوں کی بھنک قصر خلافت سے باہر نظر آنے لگے تو وہ مریدوں کی آنکھوں پر جماعت احمدیہ لاہور کی دشمنی کی پٹی باندھ دیتے ہیں اور ان کو شیطان وغیرہ کہہ کر مریدوں میں یہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ عقیدت کے بندو یا اندھو کوئی نئی بات نہیں ہے۔ یہ تو ١٩١٤ء والے جھگڑے کا ہی ایک شاخسانہ ہے۔ اب کہاں خلیفہ کے خلوت خانوں کی رنگین داستانیں اور کہاں ١٩١٤ء کا ایک اصولی اختلاف۔ افسوس کہ ہم فی الحال حربہ بائیکاٹ اور فتنہ منافقین پر روشنی نہیں ڈال سکتے۔ دراصل خلیفہ خود ہی بعض نوجوانوں کو اپنی بعض کمزوریوں میں ملوث کرتے ہیں اور پھر ان میں اگر کسی ایک کے منہ سے بے احتیاطی سے یا کسی اور وجہ سے کوئی بات نکل جائے تو پھر اس کو منافق و مرتد قرار دے کر درپے آزار ہو جاتے ہیں اور مریدوں کے ذہنوں کو پلٹا دینے کے لئے بطور ردیف پیغامیوں کو ضرور گالیاں نکالتے ہیں۔ اگر خلیفہ واقعی مصلح موعود ہوتے تو گالیاں دینے اور منافقین کے خواب دیکھنے کی بجائے قصر خلافت کی رعنائیوں سے باہر نکلتے اور پرویز کو للکارتے کہ جو الہام وغیرہ سے انکاری ہے اور اپنے موقف کی تائید میں ضخیم کتابیں لکھ چکے ہیں کہ موعود مصلحین ان روحانی قدروں کے احیاء کے لئے ہی مبعوث ہوتے ہیں۔ اگر آج مسیح موعود زندہ ہوتے جو مصلح موعود بھی تھے تو سب سے اول پرویز صاحب کو للکارتے اور خدا تعالیٰ کے کلام کے نمونے پیش کرتے اور عجوبہ ہوتا کہ پرویز کی ذات ہی کسی زندہ جاوید نشان کی مثال بن جاتی۔ اے پالتو مولویو! تمہارے فکر و فہم اور عقل کو کیا ہو گیا ہے کہ خبیث اور طیب اور اصلی اور جعلی میں امتیاز کرنے سے قاصر ہو۔ پھر یہ نظام سلسلہ کی رٹ کیا لگا رکھی ہے۔ آخر بقول تمہارے خلیفہ طاغوت یعنی پاپائیت کا بھی تو ایک مضبوط نظام ہے جس کی پیروی کے لئے انہوں نے تمہیں تیار کیا ہے۔ پھر خود سوچو کہ محض نظام سلسلہ کا نعرہ لعنتی اور طاغوتی بھی تو ہو سکتا ہے اور جہاں تک تمہارا تعلق ہے حقیقت بھی یہی ہے کہ مرکز اور نظام سلسلہ کے نعروں میں خلیفہ کی ذات چھپی بیٹھی ہے اور یہی وہ گمراہ کن ہتھکنڈے ہیں جن سے لوگوں کو جھانسہ دیا جاتا ہے۔ مگر ان ہتھکنڈوں اور دجل کاریوں کے دن اب بیت چکے ہیں۔ خدا تعالیٰ کے قول ”انہ عمل غیر صالح“ کو نہ پہلے جھٹلایا جاسکا اور نہ اب جھٹلایا جاسکے گا اور اب خدا تعالیٰ خبیث اور طیب میں تمیز کرنے کے لئے بعض قہری نشان بھی دکھلائے گا۔ خلیفہ عمر بھی منافقین کا رونا روتے رہے ہیں۔ مگر

٥٥

صفحہ ٦٣٨

یہ حیرت کا مقام ہے کہ جس طرح مسیح موعود کے الہامات اور تحریرات میں کہیں بھی اپنے بعد کسی خلافت کا ذکر نہیں۔ وہاں ہمارے خیال میں حضرت اقدس کے الہامات میں منافق کا لفظ تک موجود نہیں۔ سارے تذکرے میں جو حضرت اقدس کے الہامات کا مجموعہ ہے اور جو کہ ٨٤٠ صفحات کی کتاب ہے۔ منافقوں کا ذکر تو درکنار ہمیں لفظ منافق سوائے ایک غیر متعلق جگہ کے اور کہیں نظر نہیں آیا۔ پس خلیفہ کا سارا کاروبار ہی جعل سازی پر مبنی ہے۔ جو احمدیوں کے لئے ایک ابتلاء کا باعث اور ان کے لئے ایک دھندا بنا ہوا ہے۔ خلیفہ اپنی تقریر میں کہتے ہیں۔ اتنی بڑی جماعت کے لئے میں یہ کہہ رہا ہوں کہ ان میں سے کوئی خلیفہ ہو اس کا نام اگر یہ رکھا جائے کہ میں اپنے فلاں بیٹے کو کرنا چاہتا ہوں تو ایسے قائل سے بڑا گدھا اور کون ہو سکتا ہے۔ خلیفہ کی اس بات کا ہم صرف اسی قدر جواب دینا چاہتے ہیں کہ ہر وہ شخص کہ جو خلیفہ کی ساری تقریر کو پڑھ لیوے اور تقریر میں ابنائے فارس کی توحید پرستی کے خصوصی بیان کو نوٹ کر لیوے اور خلافت سازی کے قواعد پر بھی غور کر لیوے کہ جن کی رو سے جی حضوریوں اور تنخواہ خور ملازموں کو یہ اختیار دے دیا گیا ہے کہ وہ جھٹ پٹ خلیفہ بنالیویں اور پھر بھی وہ شخص یہ سمجھ نہ سکے کہ خلیفہ یزید کی طرح خلافت کو موروثی بنانا چاہتے ہیں تو اس سے بڑا کودن اور گدھا اور کوئی نہیں ہو سکتا۔

ہم نے اس تحریر میں زیادہ تر پالتو مولویوں کو مخاطب کیا ہے۔ عجب نہیں کہ جماعت میں بعض علماء کو تحقیق نہ ہو اور وہ اپنی طرف سے پورے خلوص سے اس طاغوتی کاروبار میں شریک ہوں اور اب ہماری تحریر کو پڑھ کر اپنی غلطی کا احساس کریں۔ سو ایسے تمام علماء اور نیک نفس لوگ ہمارے نزدیک قابل قدر ہیں اور اس لائق ہیں کہ ہمیشہ ان کا احترام کیا جائے۔ ان تمام نیک بزرگوں سے ہماری گذارش ہے کہ خدا کی عبودیت میں سے اس جعلی خلیفہ کے تصور کو نابود کرنے کے لئے جہاد کرو اور اپنے بھائیوں کو اس ابتلائے عظیم سے نکالو اور اس انسانیت سوز بائیکاٹ کے خلاف شدید احتجاج کرو اور اس فتنہ عظیم کو بیخ و بن سے اکھیڑ کر روحانی قدروں کے تقدس کو استوار کرنے کی کوشش کرو اور احمدی بھائیوں کے ذہنوں سے ان طاغوتی خیالات کو کھرچ ڈالو کہ لوگوں کا کوئی ٹولہ انتخاب کے ذریعہ آیت استخلاف کے تحت روحانی خلیفہ برپا کر سکتا ہے اور کہ موعود مصلحین غیر مامور بھی ہو سکتے ہیں اور اس مجسمہ پرستی کا قلع قمع کر کے جماعت کو از سر نو امام وقت کی وصیت کے مطابق مل کر کام کرنے کی تلقین کرو۔ تا آنکہ کوئی روح القدس کی تائید سے کھڑا ہو کر زمام کار کو اپنے ہاتھ میں نہ لے لے۔ ”وآخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمین“

عبدالرب خاں برہم !

٥٦