گستاخِ رسول ﷺ کی شرعی حیثیت · مولانا مفتی محمد گل حسن قادری
Ghustakh-e-Rasool ki Sharai Hasiyat · Maulana Allama Mufti Muhammad Gul Rehman Qadri
PDF 1

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

قُلْ اَبِاللّٰهِ وَاٰیٰتِهٖ وَرَسُوْلِهٖ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِءُوْنَ لَا تَعْتَذِرُوْا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ اِيْمَانِكُمْ کہہ دیجئے کہ اللہ اسکی آیتیں اور اس کا رسول ہی تمہارے ہنسی مذاق کیلئے رہ گئے ہیں تم بہانے نہ بناؤ یقیناً تم اپنے ایمان کے بعد بے ایمان ہو گئے

(التوبہ : ۶۵، ۶۶)

گستاخِ رسول

صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم

کی شرعی حیثیت

ایمان، کفر اور شرک کی حقیقت کیا ہے؟ اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت کیا ہے؟ ضروریاتِ دین میں تفریق نہیں ہو سکتی، شاتمِ رسول (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) مرتد ہے مرتد کا حکم کیا ہے؟ گستاخ مرتد کا حکم احادیث میں، دورِ خلافتِ راشدہ میں جھوٹے مدعیِ نبوت کا حکم؟ اور بارگاہِ رسالت کی عظمت و جلالت

تصنیف مولانا علامہ مفتی محمد گل حسن قادری مدظلہ العالی (مبلغِ یورپ)

ناشر فرید بک سٹال (رجسٹرڈ) ۳۸۔ اردو بازار لاہور

PDF 2

بسم اللہ الرحمن الرحیم

جملہ حقوق بحق ناشر محفوظ ہیں

نام کتاب : گستاخ رسول کی شرعی حیثیت تصنیف : مولانا علامہ مفتی محمد گل رحمن قادری مطبع : ہاشم اینڈ حماد پرنٹرز لاہور الطبع الاول : شعبان 1424ھ / ستمبر 2003ء ہدیہ : -/- روپے

ناشر:

(رجسٹرڈ) فرید بک سٹال ۳۸۔ اُردو بازار، لاہور فون نمبر 0092-42-7312173 - 7123435 فیکس نمبر 0092-42-7224899 Email:info@faridbookstall.com ای۔میل Visit us at:faridbookstall.com ویب سائٹ فرید بک سٹال ۳۸۔ اردو بازار، لاہور

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت

نبی کی دعوت میں خلوص معجزات تاثر : علامہ محمد عبد الحکیم شرف قادری

حضور ﷺ کی گستاخی کفر و ارتداد ہے رسول کریم ﷺ کے گستاخوں سے اجتناب ضروری اہل ایمان کی گستاخی مسلمان کی حیثیت سے کفر و گمراہی ہے شان نزول مسلمان مذہبی رہنماؤں کے نام ضروری

مطالبہ ایمان و عبادت ایمان محبوب ہے کفر مردود ہے دین اسلام میں ایمان کے چند بنیادی ہیں ۔

حقیقت ایمان نفاق کفر ہے شرک اسلام میں کفر و ارتداد کا معیار کیا ہے؟ اصلی کافر اور مرتد و شاتم رسول کا فرق مرتد شاتم رسول ﷺ

صفحہ ۳

بسم الله الرحمن الرحيم حقوق ناشر محفوظ ہیں گستاخ رسول کی شرعی حیثیت مولانا علامہ مفتی محمد گل رحمٰن قادری ایم اینڈ حماد پرنٹرز لاہور شعبان 1424ھ / ستمبر 2003ء روپے

ناشرین فرید بک سٹال (رجسٹرڈ) ۳۸۔ اُردو بازار لاہور 0092-42-7312173 - 7123435 فیکس نمبر 7224899-42-0092 Email: info@faridbookstall.com Visit us at: faridbookstall.com

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت فہرست

فہرست

نبی کی دعوت میں خلوص ۵ موجود ہے ۵۸ معجزات ۵ تشریح ۵۹ تاثر: علامہ محمد عبدالحکیم شرف قادری خاص نکتہ ۶۱

حضور ﷺ کی گستاخی کفر و ارتداد ہے ۳۰ تعظیم رسول ﷺ ۷۲ رسول کریم ﷺ کے گستاخوں سے مرتد گستاخ کا حکم احادیث سے ۷۴ اجتناب ضروری ۳۴ نتیجہ ۷۶ اہل ایمان کی گستاخی مسلمان کی حیثیت سے دور خلافت راشدہ پر چند نظریں ۷۸ یہ کفر و گمراہی ہے ۳۶ مرتد کے قتل پر ائمہ مجتہدین کا اتفاق ۸۰ شان نزول ۴۱ گستاخ مرتد کے قتل کرنے پر اجماع مسلمان مذہبی رہنماؤں کے نام ضروری اپیل ۴۲ امت ہے ۸۵

مطالبۂ ایمان و عبادت ۴۶ شان مصطفیٰ اور آپ کی تعظیم وتوقیر ۹۲ ایمان محبوب ہے کفر مردود ہے ۴۷ حضور ﷺ کی بارگاہ میں ذو معنیین کلمہ کہنے دین اسلام میں ایمان کے چند بنیادی اجزاء کی ممانعت ۹۴ ہیں ۔ ۴۹ علماء اسلام کی طرف سے شاتم رسول کو قتل

حقیقت ایمان ۵۲ ضروری تنبیہ ۱۰۱ نفاق کفر ہے ۵۵ مسیلمہ کذاب کا دعویٰ نبوت ۱۰۲ شرک ۵۶ اجماع علماء ۱۱۴ اسلام میں کفر و ارتداد کا معیار کیا ہے؟ ۵۶ حکم مرتد ۱۲۷ اصلی کافر اور مرتد و شاتم رسول کا فرق ۵۶ مکالمہ میں کفریہ کلمات بولنے کا حکم ۱۴۲ مرتد ۵۷ حضرت علی کا زندیق کے بارے میں شاتم رسول ﷺ ۵۸ فیصلہ قتل ۱۴۵

٭٭٭

صفحہ ۴

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت ایمان و ارتداد کی حقیقت

ایمان و ارتداد کی حقیقت

کسی چیز کے بارے میں ایسا پختہ یقین کہ اس کے خلاف کا ادنیٰ احتمال بھی باقی نہ رہے اور وہ چیز مرتبہ علم میں روزِ روشن کی طرح بدیہہ اور واضح ہو جائے اور پھر اس چیز کے بارے میں اس یقینی حقیقت کو تسلیم کر لینا ایمان ہے۔

شرعی اصطلاح میں ایمان کا معنیٰ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مبعوث کردہ شخصیت (نبی) کی رہنمائی میں اللہ تعالیٰ کی ذات، صفات، وحدانیت اور اس کے احکام کو مذکورہ بالا پختہ یقین کے بعد تسلیم کرنا اور عقیدہ بنانا۔

ایمان کے اصطلاحی معنیٰ سے واضح ہوا کہ ایمان کی بنیاد نبی کی ذات ہے، جس کے ذریعہ باقی امور کو تسلیم کرنا لازم آتا ہے اس لئے پہلے نبی کے خصوصی منصب کے بارے یقین کا حصول درکار ہے جس کو تسلیم کرنے پر نبی پر ایمان کا تحقق ہو سکے گا۔

نبی کے بارے یقین کے عوامل چار ہیں: (۱) نبی کا ذاتی کردار (۲) اس کی دعوت (۳) دعوت کے عمل میں خلوص (۴) معجزات۔

نبی کا ذاتی کردار یہ ہے کہ بعثت کی مدت (۴۰ سال کی عمر) تک وہ اپنے قول و فعل اور عمل و کردار کو انسان کے عادی عیوب و نقائص سے پاک رکھتا ہے۔ نبی کا یہ حسی عمل ہر دیکھنے سننے والے کو روزِ روشن کی طرح بدیہی طور پر نبی کی پاکیزگی کا یقین دلاتا ہے حتیٰ کہ دشمن بھی نبی کے کردار پر طعن کرنے سے قاصر رہتا ہے۔

نبی کی دعوت، نبی جن امور کی دعوت دیتا ہے وہ انسانی فطرت کے عین مطابق ہوتے ہیں اس لئے ہر انسان خواہ وہ کسی بھی براعظم سے تعلق رکھتا ہو ان امور کو فطری پا کر ان کی حقانیت کو بالکل واضح اور بدیہی طور پر معلوم کرتا ہے لہٰذا ہر انسان فطری طور پر ان امور کی حقانیت پر یقین کر لیتا ہے۔

۵ گستاخ رسول کی شرعی حیثیت

نبی کی دعوت میں خلوص

انسان کی بھلائی کی خاطر حق کی اطلاع دینے اغراض سے بالاتر ہو کر نبی اپنے دعوتی عمل میں برداشت کرتا ہے جس سے دیکھنے اور سننے والے پر جاتا ہے۔

معجزات

مزید تصدیق کی خاطر نبی سے معجزات ظاہر شخصیت کے نبی اور مبعوث من اللہ ہونے میں کسی اس کا نبی ہونا ہر مخاطب پر واضح اور عیاں ہو جاتا اختیاری طور پر یقین حاصل ہو جاتا ہے کہ مدعی نبوت

اگر چہ نبی کا کردار، فطری امور کی طرف دعوت من اللہ کے دعوے کے لئے تصدیق کے طور پر کافی کے بارے اس کی خصوصی حیثیت کا یقین دلاتے کے جمع ہو جانے پر نبی کے بارے ایسا کامل یقین ذرّہ برابر بھی احتمال نہیں رہتا جس سے بدیہی اور خصوصی منصب کا فطری طور پر یقین حاصل ہو جاتا

جب نبی کے خصوصی منصب کے متعلق یقین کردہ ہر چیز کے بارے یقین ایک فطری نتیجہ ہوتا نبی اور اس کے بیان کردہ امور کے بارے اور اگر اس یقینی حقیقت کو اپنے اختیار اور ارادے لیا جائے تو ایمان کی دوسری شرط بھی حاصل ہوتی محض فطری یقین کے باوجود ایمان متحقق نہ ہوگا

ایمان کی اجمالی تعبیر یہ ہے کہ نبی اور اس رکھتے ہوئے ان کو تسلیم کرنا ۔

ایمان کی تعریف سے واضح ہو گیا کہ

صفحہ ۵

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت ایمان و ارتداد کی حقیقت

نبی کی دعوت میں خلوص

انسان کی بھلائی کی خاطر حق کی اطلاع دینے کیلئے اپنے ذاتی اور دنیاوی مفادات و اغراض سے بالاتر ہو کر نبی اپنے دعوتی عمل میں درپیش مصائب کو خندہ پیشانی سے برداشت کرتا ہے جس سے دیکھنے اور سننے والے ہر انسان کو نبی کے خلوص کا فطری یقین ہو جاتا ہے۔

معجزات

مزید تصدیق کی خاطر نبی سے معجزات کا صدور بھی ہوتا ہے جنہیں دیکھ کر اس شخصیت کے نبی اور مبعوث من اللہ ہونے میں ذرا سا بھی شک و شبہہ باقی نہیں رہتا اور اس کا نبی ہونا ہر مخاطب پر واضح اور عیاں ہو جاتا ہے جس سے مخاطب کو فطری اور غیر اختیاری طور پر یقین حاصل ہو جاتا ہے کہ مدعی نبوت برحق ہے۔

اگرچہ نبی کا کردار، فطری امور کی طرف دعوت، دعوت میں خلوص، نبوت اور مبعوث من اللہ کے دعوے کے لئے تصدیق کے طور پر معجزات۔ ان چاروں میں سے ہر عنصر نبی کے بارے اس کی خصوصی حیثیت کا یقین دلانے کے لئے کافی ہے مگر ان چاروں عناصر کے جمع ہو جانے پر نبی کے بارے ایسا کامل یقین حاصل ہو جاتا ہے کہ اس کے خلاف کا ذرّہ برابر بھی احتمال نہیں رہتا جس سے بدیہی اور روزِ روشن کی طرح واضح طور پر نبی کے خصوصی منصب کا فطری طور پر یقین حاصل ہو جاتا ہے۔

جب نبی کے خصوصی منصب کے متعلق یہ فطری یقین حاصل ہو جائے تو اس کی بیان کردہ ہر چیز کے بارے یقین ایک فطری نتیجہ ہے۔

نبی اور اس کے بیان کردہ امور کے بارے یقین سے ایمان کی پہلی شرط متحقق ہو گئی اور اگر اس یقینی حقیقت کو اپنے اختیار اور ارادہ سے تسلیم کر لیا جائے اور اس کو اپنا عقیدہ بنا لیا جائے تو ایمان کی دوسری شرط بھی حاصل ہو جائے گی اور ایمان متحقق ہو جائے گا ورنہ محض فطری یقین کے باوجود ایمان متحقق نہ ہوگا۔

ایمان کی اجمالی تعبیر یہ ہے کہ نبی اور اس کے تمام پیش کردہ امور کی حقانیت پر یقین رکھتے ہوئے ان کو تسلیم کرنا۔

ایمان کی تعریف سے واضح ہو گیا کہ یقین کے حصول کے لئے جن بدیہی اور واضح

صفحہ ٦

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت ٦ ایمان و ارتداد کی حقیقت

امور کو مبادی قرار دیا گیا ہے ان سب کا تعلق نبی کی ذات سے ہے جن سے نبی کے خصوصی منصب کا یقین ہوتا ہے اور نبی کے بارے یقین سے باقی ایمانیات کا یقین حاصل ہوتا ہے اور بدیہی امور پر مبنی اس یقین کو تسلیم کرنے اور عقیدہ بنانے کا نام ایمان ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ایمان کے باب میں مرکزی اور خصوصی مقام صرف نبی کو حاصل ہے۔ نبی کے اس خصوصی مقام کو دستوری حیثیت حاصل ہے۔ اگر نبی کے بارے یقین ختم ہو جائے یا یقین کے باوجود اپنے اختیار سے تسلیم نہ کیا جائے تو ایمان حاصل نہ ہو گا کیونکہ ایمان کا مرکزی نقطہ نبی کی ذات ہے جس کے بغیر ایمان لا حاصل ہے لہٰذا ایمان کے بعد نبی کے خصوصی اور دستوری منصب کا تحفظ ضروری ہے تا کہ ایمان کا دستور محفوظ رہے نبی کے دستوری منصب و مقام کے خلاف کوئی بات ایمان سے بغاوت اور ارتداد ہے اور باغی کی سزا موت ہے اسی لئے نبی کی توہین کو نبوت اور ایمان سے بغاوت قرار دے کر اس کی سزا موت قرار دی گئی ہے جس طرح بین الاقوامی طور پر صدارتی دستور میں صدر کو پارلیمانی دستور میں پارلیمنٹ کو اور شاہی دستور میں شہنشاہ کو دستوری طور پر خصوصی مقام حاصل ہوتا ہے، ان کی یا ان کے دستور کی توہین ان کے منصب کی توہین قرار دے کر دستور کا باغی قرار دیا جاتا ہے اور باغی کی بین الاقوامی سزا صرف اور صرف موت ہے۔

اسلام بھی ایک عالمی دستور ہے جس میں دستور دینے والے نبی کو دستوری تحفظ حاصل ہے جس کی توہین کو بغاوت قرار دیا گیا ہے اور باغی کی سزا تمام بین الاقوامی دساتیر میں موت ہی ہے۔ عزیزم محترم مولانا مفتی گل رحمٰن صاحب نے زیر نظر مقالہ میں مذکورہ بالا حقائق کو قرآن و حدیث اور اقوال ائمہ کرام کی روشنی میں مدلل بیان فرمایا ہے اور ثابت کیا ہے کہ اسلام میں نبی کی حیثیت کے پیش نظر اس کے گستاخ کی سزا قتل ہے جو ناقابل معافی ہے کیونکہ یہ سزا شرعی حد ہے جس کو ساقط کرنے یا معاف کرنے کا کسی کو اختیار نہیں ہے اس لئے کہ اس سزا کا تعین خود شارع نے فرمایا ہے۔

امید ہے کہ یہ مدلل مقالہ اہل علم حضرات کے لئے بصیرت افروز ثابت ہو گا جس میں ایمان و ارتداد کے متعلق مواد کو جمع کر دیا گیا ہے۔

مفتی محمد عبدالقیوم ہزاروی جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور

صفحہ ۷

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت ایمان و ارتداد کی حقیقت

بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی و نسلم علی رسولہ الکریم و علی آلہ و اصحابہ اجمعین

انسانی جذبات کا فطری تقاضا ہے کہ جس ہستی یا چیز سے والہانہ محبت ہو اس کی توہین و تنقیص نا قابل برداشت ہوتی ہے یہ ایسی حقیقت ہے جسے کوئی ذی ہوش رد نہیں کر سکتا‘ کسی بھی ملک کا باشندہ جب اس ملک کے مفادات کے خلاف کاروائی میں ملوث یا ثابت ہو جائے کہ وہ کسی دوسرے ملک کا جاسوس ہے تو اسے ملک کا غدار قرار دے کر سزائے موت کا مستحق قرار دیا جاتا ہے۔

ایک انسان کلمہ طیبہ پڑھ کر حلقہ بگوش اسلام ہو جاتا ہے اسے مسلمانوں والے تمام حقوق حاصل ہو جاتے ہیں اب اگر وہ دین اسلام سے برگشتہ اور مرتد ہو جائے تو وہ اسلام کا غدار ہونے کے سبب قتل کا مستحق ہے۔ نبی اکرم حبیب مکرم ﷺ پر ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ دل و جان سے آپ کی نبوت و رسالت کو مانا جائے اور تمام مخلوق سے زیادہ آپ سے محبت کی جائے اور آپ کی شان اقدس میں گستاخی اور توہین کے مرتکب کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا جائے۔ بطل حریت علامہ محمد فضل حق خیر آبادی رحمہ اللہ تعالیٰ شفاء قاضی عیاض سے نقل کرتے ہیں۔

حضرت محمد بن سحنون نے فرمایا علماء کا اس امر پر اتفاق ہے کہ نبی اکرم ﷺ کو گالی دینے والا اور آپ کی تنقیص شان کرنے والا کافر ہے اور اللہ تعالیٰ کے عذاب کی وعید اس پر جاری ہے اور امت یعنی تمام ائمہ کے نزدیک اس کا حکم قتل ہے اور جو شخص اس کے کفر میں شک کرے وہ بھی کافر ہے۔“ (ترجمہ) امام احمد رضا بریلوی رحمہ اللہ تعالیٰ نے اللہ تعالیٰ کے حبیب محمد مصطفیٰ ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی اور توہین کرنے والوں کے خلاف سخت علمی اور قلمی جہاد کیا اور فتنہ تنقیص رسالت کے سیلاب کے آگے بند باندھ دیا‘ وہ فرماتے ہیں:

صفحہ ۸

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت ایمان وارتداد کی حقیقت

سید عالم ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والے کی توبہ ہزار ہا ائمہ دین کے نزدیک اصلاً قبول نہیں (اس کے بعد نو ائمہ حنفیہ کے نام گنوائے) عدم قبول توبہ صرف حاکم اسلام کے یہاں ہے کہ وہ اس معاملہ میں بعد توبہ بھی سزائے موت دے ورنہ اگر توبہ صدق دل سے ہے تو عنداللہ مقبول ہے۔

غزالی زماں علامہ سید احمد سعید رحمہ اللہ تعالیٰ نے چیف جسٹس وفاقی شرعی عدالت پاکستان کو ۲۵ نومبر ۱۹۸۵ء بسلسلہ شریعت پٹیشن در توہین رسالت ایک تحریری بیان پیش کیا جس میں انہوں نے تحریر فرمایا۔

کتاب وسنت، اجماع امت اور تصریحات ائمہ دین کے مطابق توہین رسول کی سزا صرف قتل ہے۔

اس دعویٰ کو انہوں نے تفصیلی دلائل سے ثابت کیا تفصیل کے لئے اس رسالے کا مطالعہ کیا جائے۔

شیطان رشدی نے اپنی کتاب میں نبی الانبیاء امام المرسلین ﷺ اور آپ کے صحابہ اور اہل بیت کی شان میں گستاخی اور دریدہ دہنی کا مظاہرہ کر کے کروڑوں مسلمانوں کے دلوں کو مجروح کیا ہے اور نہایت دکھ کا مقام ہے کہ دنیائے عیسائیت نہ صرف اسے تحفظ فراہم کر رہی ہے بلکہ اس کی پیٹھ تھپک رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کے ہاتھوں سے بچ بھی گیا تو خدائے قہار و جبار کی گرفت سے اسے کون بچا سکے گا اور یہ عذاب بھی کیا کم ہے کہ حکومت برطانیہ کو اس کی حفاظت پر لاکھوں پونڈ سالانہ خرچ کرنا پڑ رہے ہیں اور وہ قید تنہائی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔

پیش نظر کتاب ”گستاخ رسول کی شرعی سزا“ اہل سنت کے مایہ ناز عالم مولانا علامہ مفتی محمد گل رحمٰن قادری ہزاروی کی عالمانہ کاوش کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے اپنے موضوع کے ہر پہلو پر محض جذباتی انداز میں نہیں بلکہ دلائل و براہین کی روشنی میں گفتگو کی ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی اس محنت کو شرف قبولیت عطا فرمائے مسلمانوں کے لئے ذریعہ بصیرت اور غیر مسلموں کے لئے ذریعہ ہدایت بنائے۔

یاد رہے کہ مسلمان اللہ تعالیٰ کے تمام انبیاء کرام پر ایمان رکھتے ہیں اور ان کی عزت و ناموس کے محافظ ہیں۔ ہمارا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے کسی بھی نبی کی شان میں گستاخی

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت

کرنے والا کافر و مرتد ہے اور دائرہ اسلام گستاخی اور بے ادبی کو برداشت نہیں کر مولیٰ محمد مصطفےٰ ﷺ کی شان اقدس میں دل آزاری کا باعث نہ بنیں۔

صفحہ ۹

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت ایمان و ارتداد کی حقیقت

کرنے والا کافر و مرتد ہے اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ جب ہم کسی نبی کی شان میں گستاخی اور بے ادبی کو برداشت نہیں کرتے تو غیر مسلموں کو بھی چاہئے کہ ہمارے آقا و مولیٰ محمد مصطفےٰ ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کر کے دنیا بھر کے کروڑوں مسلمانوں کی دل آزاری کا باعث نہ بنیں۔

علامہ محمد عبدالحکیم شرف قادری جامعہ نظامیہ لاہور

صفحہ 10

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت ۱۰ اظہار رائے

بسم اللہ الرحمن الرحیم

اظہار رائے

الحمد لله وكفى وسلام على عباده الذين اصطفى.

فتنہ ارتداد کے متعلق ابتدائے اسلام سے ہی سزا کی تعین ہو چکی تھی، سید کل علیہ السلام کی شان اقدس میں گستاخی ارتداد کی بدترین صورت ہے لہٰذا اس کی سزا قتل ہی رہی ہے، قرآن وسنت نے واضح احکام سے ایسے گستاخوں کی سزا کا اعلان فرمایا ہے۔

فقہائے امت : حنفی، مالکی، شافعی، حنبلی وغیرہم نے بیک زبان ارتداد اور گستاخ رسول کی سزا موت ہی کہی ہے ۔ انداز استدلال میں اختلاف فطری بات ہے مگر مقصد میں کوئی اختلاف نہیں اور مقصد ایسے نابکار کا قتل ہے ۔

دور جدید: جاہلیت جدیدہ نے آزادی افکار کی آڑ میں ہادی اعظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلاف ایسی ہفوات کو جائز قرار دینے کی کوشش کی، اُن کا مقصد اہل ایمان کے سینوں سے ایمان کی حرارت کو ختم کرنا تھا اور یہ سلسلہ مغربی ملکوں میں عرصۂ دراز سے جاری ہے مشرقی ملکوں میں مسلمان اقلیت میں ہیں وہاں انہیں ایذاء دینے کے لئے یہ مکروہ دھندا پوری قوت سے چلایا گیا ہے۔

مشرقی ملکوں میں ایسی ہر خباثت کے پیچھے ہنود ہوتے ہیں اور اب ان کی تائید یہود کرتے ہیں۔ علوم جدیدہ کے کچھ نام نہاد مسلمان فضلاء بھی رجعت پسندی کے طعنے سے بچنے کے لئے ان کی ہاں میں ہاں ملا کر اپنی علمی عظمت کا بزعم خویش سکہ بٹھانے کی مکروہ کوشش کرتے ہیں، اس سارے شیطانی اجماع کو عام مسلمانوں کا ذہن کبھی بھی قبول نہیں کر سکا۔

ردعمل کے طور پر مسلمان مجاہدوں نے ایسے گستاخوں کے سر ہمیشہ نوچ لئے ہیں اور ان کی زبانیں کھینچ لی ہیں، کبھی یہ کام غازی علم الدین شہید نے کیا ہے تو کبھی غازی دوست محمد اور غازی منیر احمد آگے بڑھے ہیں، کبھی ملک میاں محمد نے یہ فریضہ سرانجام دیا ہے۔

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت

دور جدید کے مکروہ عمل کا یہ حسین ردعمل آڑ میں چھپانا چاہتے ہیں، یہ حسین ردعمل اشرف اور اس کے ہمنواؤں کے مکروہ عمل کا جس کی گواہ احادیث کی سب کتابیں ہیں۔ ہمارے محدثین کرام نے کمال دیان پہنچائی ہیں اور گستاخوں کی مکروہ چیخیں ہم ابجد سے واقف کوئی شخص بھی یہ جرات کر علیہ وآلہ وسلم کی ذات اقدس کو نفاق سے نشا دور حاضر کے سب سے بڑے مفکر موت ہے مگر وہ ایک ارب مسلمانوں کے دی استکبار کی آنکھوں کا تارا بن گیا ہے، مغرب بش سمیت آزادی فکر کے حوالہ سے غذا دینے میں مصروف ہیں اور ہندو مغرب

ایک ارب مسلمان تڑپ رہے ہیں پایا؟ انگریز پولیس رشدی کو پالتو کتے کی طر رسول پر جو تیر مسلمانوں نے اس کے سب تحفظات کی دبیز تہوں اور موٹی دیوارو بغض رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا لاو حضرت علامہ مولانا محمد گل رحمن مد تصنیف و تالیف میں اترے ہیں۔ حضرت کے زبردست عالم ہیں، وہ مایہ ناز استاد ہی ہے، اُن کا سینہ عشق رسول علیہ السلام کی کرتے ان کی زندگی گزری ہے ۔ اب تو وہ خود بھی انگلینڈ میں مقیم ہی

عالمی مجلس کانفرنس نمبر 3 مقالہ

صفحہ 11

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت 11 اظہار رائے

دور جدید کے مکروہ عمل کا یہ حسین ردّعمل نیا نہیں ہے جسے کچھ مفکر محض جذباتیت کی آڑ میں چھپانا چاہتے ہیں یہ حسین ردّعمل تو دور نبوی میں شروع ہو چکا تھا۔ کعب بن اشرف اور اس کے ہمنواؤں کے مکروہ عمل کا حسین ردعمل وہی تھا جو صحابہ کرام نے عملاً دیا جس کی گواہ احادیث کی سب کتابیں ہیں۔

ہمارے محدثین کرام نے کمال دیانتداری سے سب احادیث من وعن ہم تک پہنچائی ہیں اور گستاخوں کی مکروہ چیخیں ہم نے ردّعمل کے طور پر سنی ہیں۔ کیا اخلاق کی ابجد سے واقف کوئی شخص بھی یہ جرأت کر سکتا ہے کہ کروڑہا انسانوں کے ہادی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات اقدس کو نفاق سے نشانہ بنایا جائے اور پھر ردعمل سے بچایا جا سکے۔

دور حاضر کے سب سے بڑے مفتری، کذاب اور گستاخ کی سزا بدترین قسم کی موت ہے مگر وہ ایک ارب مسلمانوں کے دل دکھانے کی وجہ سے مغربی استعمار اور یہو دی استکبار کی آنکھوں کا تارا بن گیا ہے، انگریز اسے جسمانی تحفظ دے رہا ہے تو سارا مغرب بش سمیت آزادی فکر کے حوالہ سے اسی کا حامی بنا ہوا ہے۔ یہودی اسے ”روحانی غذا“ دینے میں مصروف ہیں اور ہندو مغرب کا ہمنوا ہو کر اسلام دشمنی کا ثبوت دے رہا ہے۔

ایک ارب مسلمان تڑپ رہے ہیں کہ چنڈال ملعون تک ابھی رشدی کیوں نہیں پہنچ پایا؟ انگریز پولیس رشدی کو پالتو کتے کی طرح اپنے گھیرے میں لئے ہوئے ہے مگر گستاخئ رسول پر جو تیر مسلمانوں نے اس کے لئے تیار کیا ہوا ہے وہ انشاء اللہ ضرور ان سب تحفظات کی دبیز تہوں اور موٹی دیواروں کو چیرتا اس خبیث جگر سے پار ہوگا جس میں بغض رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا لاوا ابل رہا ہے۔

حضرت علامہ مولانا محمد گل رحمن مدظلہ العالی مسلمانوں کی ترجمانی کے لئے میدان تصنیف و تالیف میں اترے ہیں۔ حضرت مولانا ایک منجھے ہوئے خطیب اور علوم اسلامیہ کے زبردست عالم ہیں، وہ مایہ ناز استاد ہیں، فنون اسلامیہ پڑھاتے ان کی زندگی گزری ہے، ان کا سینہ عشق رسول علیہ السلام کی بہاروں کا امین ہے۔ سرکار علیہ السلام کا دفاع کرتے ان کی زندگی گزری ہے۔

اب تو وہ خود بھی انگلینڈ میں مقیم ہیں جہاں سے یہ فتنہ ابھرا ہے، وہ شیطان رشدی

صفحہ ۱۲

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت ۱۲ اظہار رائے

اور اس کی ”حرکات مذمومہ“ کے عینی شاہد ہیں انہوں نے دلائل کی شکل میں مسلمانوں کو ایک تیز تلوار اپنی کتاب کے ذریعہ پیش کرنے کی بڑی مبارک اور کامیاب کوشش فرمائی ہے۔

حضرت مولانا ممدوح سنی حنفی ہیں لہٰذا ان کا استدلال خالص حنفی انداز فکر لئے ہوئے ہے اور کون نہیں جانتا کہ حنفی مکتب فکر تحقیق و تدقیق میں ساری امت میں ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔

پھر وہ سید کائنات علیہ اکمل التحیات والصلوات کی درگاہ انسانیت پناہ میں یہ مقدمہ لے کر پیش ہوئے ہیں اور ارشادات رسالت سے اپنے سامعین کے ایمان کی تازگی کا سامان لائے ہیں ارشادات نبوی کو صحابہ کرام نے سب سے پہلے عملی جامہ پہنایا۔ کعب بن اشرف اور اس کے ہمنواؤں کے لاشے ہمیں خاک وخون میں تڑپتے نظر آئے ہیں، ان کی مکروہ چیخیں مدینہ کی فضاؤں میں بکھرتی سنی گئی ہیں اور پوری فضاؤں میں مسلمانوں کی واہ واہ کی مسرت انگیز صدائیں بھی سنی گئی ہیں۔

انہی فرمودات خدا اور ارشادات مصطفیٰ علیہ التحیۃ والثناء کے انوار کو فقہائے امت نے قانونی شکل دی ہے، اس قانونی ارتقاء کے سارے مراحل میں امت کے سارے سلاسل کے فقہاء نے گستاخیٔ رسول کو ناقابل معافی جرم قرار دیتے ہوئے ایسے جرم کے مرتکب انسانیت کے ماتھے کے کلنک نابکار کو موت کے ذریعے جہنم کی سیر کرانے کا فرمان دیا ہے۔

ہمارے علامہ دوست نے ائمہ اربعہ اور ان کے مقلدین کی آراء نقل کرنے میں اپنی فنی مہارت اور استاذانہ قابلیت کا بھر پور مظاہرہ فرمایا ہے۔

میں سمجھتا ہوں کہ کتاب ”خاصے کی شے“ ہے، اسے جلد از جلد عالم اسلام میں پھیل جانا چاہئے تاکہ تشکیک کا شکار لوگ بھی اس سے استفادہ کریں اور کم علم دوست اس کے دلائل کو پا کر مطمئن ہو جائیں۔

مولانا ممدوح نے قرآن وسنت اور مجتہدین کی آراء کے ساتھ ساتھ کئی سوالات کے جو جوابات عطا فرمائے ہیں وہ بذات خود اپنے اندر شانِ اجتہاد لئے ہوئے ہیں، یہ مولانا کے علمی تبحر کا شاندار اظہار ہے۔

صفحہ ۱۳

اظہار رائے

انہوں نے دلائل کی شکل میں مسلمانوں کو کی بڑی مبارک اور کامیاب کوشش فرمائی

ان کا استدلال خالص حنفی انداز فکر لئے تحقیق و تدقیق میں ساری امت میں ایک

صلوات کی درگاہ انسانیت پناہ میں یہ مقدمہ سے اپنے سامعین کے ایمان کی تازگی کا نے سب سے پہلے عملی جامہ پہنایا۔ کعب خاک و خون میں تڑپتے نظر آئے ہیں ان گئی ہیں اور پوری فضاؤں میں مسلمانوں کی

علیہ التحیۃ والثناء کے انوار کو فقہائے امت کے سارے مراحل میں امت کے سارے معافی جرم قرار دیتے ہوئے ایسے جرم کے ت کے ذریعے جہنم کی سیر کرانے کا فرمان

کے مقلدین کی آراء نقل کرنے میں اپنی ہے۔

اسے جلد از جلد عالم اسلام میں پھیل استفادہ کریں اور کم علم دوست اس کے

کی آراء کے ساتھ ساتھ کئی سوالات اندر شانِ اجتہاد لئے ہوئے ہیں یہ

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت اظہار رائے

حضرت مولانا ایک اچھے خطیب، اچھے استاذ، جامع العلوم مدرس تو تھے ہی اب انہیں ایک اچھا مصنف ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہو گیا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ وہ اپنی علمی ندرتِ فکری اور تحقیقی اندازِ استدلال سے قوم کی دستگیری فرماتے ہوئے کئی اور کتابیں بھی تحریر فرما کر مسلمانوں کی دستگیری فرمائیں گے۔

فقیر سید محمد ذاکر حسین شاہ سیالوی ۲۹ رمضان ۱۴۱۱ھ / ۱۵ اپریل ۱۹۹۱ء سوموار پرنسپل انوار القرآن، مولوی محلہ صدر راولپنڈی

صفحہ ۱۴

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت مقدمہ

مقدمہ

اللہ تعالیٰ کا علم ازلی ابدی ہے جس کی وسعتوں کی ابتداء ہے نہ انتہا‘ بے حد وبے عدد ہے اس کے کمال قدرت کے تحت ہر شے ہے جو شے بھی امکان کے دائرہ میں ہوگی وہ کمال قدرت کے تحت ہی رہے گی‘ چاہے حقائق واشیاء کائنات جن وانس ہوں یا عالم انوار کی جنس سے ہوں یا عالم اجسام کے اعراض ہوں سب ہی باری تعالیٰ کی تخلیق سے مخلوق وممکن بنے اور بنتے رہیں گے جس طرح عالم جن وغیرہ اپنے وجود وہستی میں آنے میں خالق حقیقی کے محتاج ہیں ایسے ہی وجود میں آنے کے بعد بقاء قرار میں بھی اس مالک حقیقی کے حاجت مند رہیں گے۔

وجود میں مخلوق کو لانا یہ اللہ تعالیٰ کا بے مثال کرم واحسان ہے ایسے ہی وجود میں لاکر انسانوں کو آسمانی دین کی ہدایات وانوار کو کتاب و وحی کی شکل میں انبیاء کرام کے توسط سے عطا کرنا بھی بے مثل فضل خاص ہے جس کا جتنا شکر‘ حمد وثنا کی جائے اتنا ہی کم ہے ۔ چاہئے تو یہ تھا کہ انسان شکر وحمد میں ہمیشہ مصروف رہتے اور ایمان وعمل کے اندر استحکام واستقامت میں اضافہ کرتا رہتا۔ اگرچہ انسانی طاقت واستطاعت شکر وحمد کے دوام کی متحمل نہیں تو نہ سہی کیونکہ ”لا یکلف اللہ نفسا الا وسعہا اللہ کسی جان پر بوجھ نہیں ڈالتا مگر اس کی طاقت بھر“ کا ارشاد الٰہی کرم وفضل کا پروانہ ہے لیکن اس کے باوجود کم ازکم لوگ سستی وغفلت کے شکار نہ ہوتے‘ بے اعتنائی اور بے پرواہی کے مریض نہ بنتے یا ناشکری وبے قدری کی نحوستوں سے بچنے کی کوشش تو کرتے لیکن یہ دیکھا جا رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں اور آسمانی کتابوں کے احترام وتعظیم کا حق ادا نہیں کیا جا رہا ہے اور نہ اس پر پوری توجہ سے تبلیغ کی جارہی ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ کئی فرقے اور ان کے بانی وقائد دینی احترام وتعظیم نہیں کرتے اور ایسے لٹریچر اور بیانات معرض وجود میں لا رہے ہیں جن کو پڑھ کر‘ سن کر ایک سچے کامل مسلمان کے جذبات مجروح ہو جاتے ہیں اور یہ سمجھنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ جن لٹریچرز اور بیانات میں دینی ادب واحترام کی روح نہ ہو

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت ان کا دین اسلام سے کوئی تعلق نہیں شخص مسلمانوں کی نئی نسل کو ان عظمتوں کی روح نئی نسل میں منتقل بے ادب و گستاخ شیطان صفت ہر دور میں ابتلاء و آزمائش کے مع دوچار ہونا پڑے گا۔

یہ ساری بے ادبی کی خرافات جب بے ادبی کے نتیجے میں خبائث ربانیین اسلام کے دفاع کا فریضہ سے اہل ادب و احترام اور سرفراز دباتے ہوئے قیامت میں سرخرو جب حق و باطل کا معرکہ مسلمانوں کو نئی اصطلاحات فتنہ اسلام کے جاں نثار اور باوفا مسل حالانکہ اسلام امن وسلامتی کا داعی محبت کا داعی ہے، بے ادبی و لہو ادائیگی حق پر سختی کرتا ہے، تمسخر روشن خیالی کا جوہر دماغوں میں ب حامل ہے، یہ شکوک کا ازالہ کرتا پر چار کرتا ہے، عقلیت کا خاتمہ کر عبادات ہے، اس کا اپنا دائرہ اسلام عقائد و عبادات، معاملات میں خود کفیل ہے اور جامع ہدایات کے لئے کافی وشافی دستور حیات ہیں۔ اعمال میں کوتاہی کی اصلاح

مقالہ ۲ عالمی کانفرنس مکہ

صفحہ ۱۵

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت مقدمہ

ان کا دین اسلام سے کوئی تعلق نہیں اور ایسے لٹریچر کو پڑھنے والا اور اسے قبول کرنے والا شخص مسلمانوں کی نئی نسل کو اسلام سے دور ہی کرتا جائے گا وہ اسلامی قدروں اور عظمتوں کی روح نئی نسل میں نہیں ڈال سکے گا جس کے نتیجہ میں سلیمان رشدی جیسی بے ادب و گستاخ شیطان صفت نسل ابھرتی رہے گی جس سے اسلام واہل اسلام کے لئے ہر دور میں ابتلاء و آزمائش کے معرکے وجود میں آتے رہیں گے اور مسلمانوں کو ان سے دوچار ہونا پڑے گا۔

یہ ساری بے ادبی کی خرابیاں ناقص تعلیم اور اسلام سے بے خبری سے پیدا ہوتی ہیں جب بے ادبی کے نتیجے میں خرابیاں اور فتنے پیدا ہوتے ہیں تو اہل حق و صداقت علماء ربانیین اسلام کے دفاع کا فریضہ ادا کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں، تحریر و تقریر، جان و مال سے اہل ادب و احترام اور سراپا عشق و محبت والے مسلمان بے ادبی کے ان فتنوں کو دباتے ہوئے قیامت میں سرخروئی حاصل کر پاتے ہیں۔

جب حق و باطل کا معرکہ شروع ہو جاتا ہے تو اسلام دشمن قوتیں سچے اور مخلص مسلمانوں کو نئی اصطلاحات فنڈا منٹلسٹ اور بنیاد پرست کے نام سے یاد کرتے ہیں اسلام کے جاں نثار اور باوفا مسلمانوں کو فنڈا منٹلزم کے ناروا خطاب سے نوازا جاتا ہے حالانکہ اسلام امن و سلامتی کا دین ہے اور ابدی پیغام ہدایت ہے، اسلام نفرت کی بجائے محبت کا داعی ہے، بے ادبی و اہانت کی جگہ ادب و احترام پر زور دیتا ہے، حق تلفی کی نسبت ادائیگی حق پر سختی کرتا ہے، تمسخر و استہزا کے خلاف تعظیم و توقیر کی تلقین کرتا ہے اور اسلام روشن خیالی کا جوہر دماغوں میں پہنچاتا ہے۔ اسلام وہمی دین نہیں ہے بلکہ ایقان و اذعان کا حامل ہے، یہ شکوک کا ازالہ کرتا ہے، اسلام صلاحیت و اصلیت کا درس دیتا ہے، حقیقت کا پرچار کرتا ہے، نقلیت کا خاتمہ کرتا ہے، اسلام مکمل ضابطہ حیات ہے، اس کا اپنا نظام عقائد و عبادات ہے، اس کا اپنا دائرہ اخلاق ہے، اسلام مکمل نظام معیشت و حکومت رکھتا ہے، اسلام عقائد و عبادات، معاملات، نظام حکومت و سیاست، اخلاق اور زندگی کے تمام شعبوں میں خود کفیل ہے اور جامع ہدایت ہے، اسلام اپنے اصول و فروع میں ہر دور اور ہر قوم کے لئے کافی و شافی دستور حیات ہے، اسلام کے عقائد و ایمانیات قطعی و یقینی نوعیت کے ہیں۔ اعمال میں کوتاہی کی اصلاح اس کی ادائیگی کی صورت میں ہو سکتی ہے، کفارہ اور فدیہ

صفحہ ۱۶

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت مقدمہ

بھی بعض اعمال کے لئے متبادل صورت ہوتی ہے۔ قصاص و حدود میں اسلام کے اپنے مخصوص قوانین ہیں جن میں رعایت نہیں دی جاسکتی۔ قصاص و حدود کے ذریعہ ادائے حقوق اور فتنوں کا سد باب اور حیات کی بقاء کے لئے ضمانت میسر ہوتی ہے۔

اسلام کے عقائد قطعیہ اصل میں ایمانیات ہوتے ہیں اور ایمان کے خلاف کفر ہوتا ہے اور توحید کی ضد شرک ہوتا ہے، تعظیم کی ضد توہین ہوتی ہے، ان کا تعارف اپنی ضد سے واضح ہو جاتا ہے۔ جس طرح اضداد کا اجتماع محال ہے ایسے ہی ان کا انکار بھی ممنوع ہے اور شریعت وعقل کے لحاظ سے انقلاب حقیقت بھی محال ہے یعنی ایمان کفر میں، توحید شرک میں، تعظیم توہین میں نہیں بدلے جاسکتے ہیں یہ ایسی حقیقتیں ہیں کہ ان میں نہ ابہام ہے نہ خفاء ہے، ان کے حقائق ومفاہیم ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتے کہ ایک کا مفہوم اپنی ضد میں بدلا جاسکے، ایمان کفر نہیں بن سکتا، توحید شرک نہیں ہو سکتی، تعظیم توہین میں نہیں بدلی جاسکتی۔ اس پر شریعت وعقل شاہد ہیں جو ایسا سوچے یا کہے اسے دیوانہ یا پرلے درجے کا ضدی، ناقابل معافی شخص سمجھا جائے گا ۔ اسلام کو اپنی اصلی حقیقت میں سمجھنے کے لئے توفیق خداوندی کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ توفیق وہی پاسکتے ہیں جو اسلام کے حق میں مخلص ہوں اور با ادب بھی ہوں، بے ادبوں کو اسلام کا نور نہیں مل سکتا ہے۔ اسلام کا مطالعہ کرنا اور بات ہے جو اہل کفر و عناد بھی کیا کرتے ہیں لیکن وہ اسلام کا نور و فیضان نہیں پاتے ہیں۔ اہل ایمان با ادب اسلام کے نور و فیضان کو اپنے دامنوں میں بھر لیتے ہیں، قلبی تقویٰ، دلی پرہیزگاری اور نور بصیرت وہی پاتے ہیں جو شعائر اسلام کی تعظیم واحترام کرتے ہیں، ارشاد الٰہی ہے:

وَمَنْ يُّعَظِّمْ حُرُمٰتِ اللّٰهِ فَهُوَ خَيْرٌ اور جو اللہ تعالیٰ کی حرمتوں کی تعظیم لَّهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ . (حج:۳۰) کرے تو وہ اس کے لئے اس کے رب کے ہاں بھلا ہے۔

صاف واضح مفہوم ہے کہ جن چیزوں کا شرعی احترام ہے ان کا ادب کرنا ضروری ہے، اگر اللہ تعالیٰ کی محترم چیزوں کی تعظیم ان کے آداب وشرائط کے ساتھ کی جائے تو اللہ تعالیٰ اس تعظیم کا اجر خیر عطا فرمائے گا۔

ان حرمت والی چیزوں سے خانہ کعبہ، قرآن مجید، ماہ رمضان، مسجد حرام، مدینہ منورہ کا

صفحہ 17

١٦ مقدمہ

ت ہوتی ہے۔ قصاص و حدود میں اسلام کے اپنے نہیں دی جا سکتی۔ قصاص و حدود کے ذریعہ ادائے لی بقاء کے لئے ضمانت میسر ہوتی ہے۔ ایمانیات ہوتے ہیں اور ایمان کے خلاف کفر ہوتا م کی ضد توہین ہوتی ہے، ان کا تعارف اپنی ضد سے اجتماع محال ہے ایسے ہی ان کا انکار بھی ممنوع ہے حقیقت بھی محال ہے یعنی ایمان کفر میں توحید شرک تے ہیں یہ ایسی حقیقتیں ہیں کہ ان میں نہ ابہام ہے نہ بکہ جمع نہیں ہو سکتے کہ ایک کا مفہوم اپنی ضد میں بدلا رگ نہیں ہو سکتی، تعظیم توہین میں نہیں بدلی جا سکتی۔ ہوچے یا کہے اسے دیوانہ یا پرلے درجے کا ضدی، سلام کو اپنی اصلی حقیقت میں سمجھنے کے لئے توفیق فیق وہی پاسکتے ہیں جو اسلام کے حق میں مخلص ہوں م کا نور نہیں مل سکتا ہے۔ اسلام کا مطالعہ کرنا اور ہوتا لیکن وہ اسلام کا نور و فیضان نہیں پاتے ہیں۔ اہل کو اپنے دامنوں میں بھر لیتے ہیں، قلبی تقویٰ ، دلی ں جو شعائر اسلام کی تعظیم و احترام کرتے ہیں ، ارشاد

اور جو اللہ تعالیٰ کی حرمتوں کی تعظیم
کرے تو وہ اس کے لئے اس کے رب کے
یہاں بھلا ہے ۔

چیزوں کا شرعی احترام ہے ان کا ادب کرنا ضروری ہم ان کے آداب و شرائط کے ساتھ کی جائے تو اللہ کعبہ قرآن مجید ماہ رمضان، مسجد حرام مدینہ منورہ کا

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت ۱۷ مقدمہ

ادب نبی کریم ﷺ کی ذات گرامی اور آپ کی سنتیں داخل ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہدی کے جانور کو کعبہ کی نسبت سے اور صفا و مروہ کے پہاڑ کو حضرت بی بی ہاجرہ کی نسبت سے شعائر اللہ فرمایا ہے : إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ بے شک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں (البقرہ: ۵۸) سے ہیں۔

اس سے معلوم ہوا کہ جس چیز کی نسبت صالحین سے ہو جائے وہ چیز عظمت والی ہو جاتی ہے۔ صفا اور مروہ حضرت بی بی ہاجرہ کے قدم کی برکت سے اللہ کی نشانی بن گئے۔ اس سے ایک مسئلہ یہ بھی واضح ہو گیا کہ عظمت والی چیزوں کی تعظیم دین میں داخل ہے اسی لئے صفا اور مروہ کی سعی حج میں شامل ہوئی۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اگر شعائر اللہ کی تعظیم و محبت دل میں ہو تو مسلمان کی عبادت قابل قبول ہے اور اگر دل میں شعائر اللہ کی تعظیم و محبت نہیں ہے تو یہ ظاہری عبادت قابل قبول نہیں ہے۔

دیکھئے شیطان کی عبادتیں اسی لئے برباد ہوئیں کہ اس کے دل میں حضرت سیدنا آدم علیہ السلام کی تعظیم نہ تھی، شیطان کا علم اور اس کی عبادت بہت زیادہ تھی لیکن ایک توہین نے سب کو ضائع کر کے رکھ دیا، مزید ملاحظہ کریں :۔ وَمَنْ يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّهِ فَإِنَّهَا مِنْ اور جو اللہ کے نشانوں کی تعظیم کرے تو تَقْوَى الْقُلُوْبِ (الحج: ۳۲) یہ دلوں کی پرہیزگاری سے ہے۔

اس آیت سے معلوم ہوا کہ ظاہری عبادت تو ظاہری جسم کا تقویٰ ہے اور دل میں شعائر اللہ کی تعظیم کا ہونا دلی تقویٰ ہے۔ جب مندرجہ بالا عظمت والی چیزوں کی تعظیم قلبی تقویٰ ہے تو انبیاء کرام علیہم السلام اور آخری رسول اکرم ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام واہل بیت عظام اور ازواج مطہرات امہات المومنین اور اولیاء کرام کی تعظیم کتنی بڑی دلی پرہیز گاری ہوگی اور ان کی اہانت و بے ادبی دنیا و آخرت میں کتنی بڑی ذلت و رسوائی ہوگی۔

سورۃ حج کی آیت ۳۰ اور آیت ۳۲ کے اول و آخر پر غور کریں کہ اول میں بھی تعظیم شعائر اللہ کا ذکر آتا ہے اور آخر میں بھی تعظیم شعائر کو دلی تقویٰ قرار دیا گیا ہے گویا اول و آخر تعظیم کرنے کا ذکر ہے اور درمیان میں شرک سے اجتناب کا بیان ہے۔ فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْأَوْثَانِ پس دُور ہو بتوں کی گندگی سے اور بچو وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّوْرِ (الحج: ۳۰) جھوٹی بات سے۔

صفحہ ۱۸

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت مقدمہ

معلوم ہوا کہ شرک الگ حقیقت ہے جو سراسر جھوٹ ہے اور گندگی ہے اور صالحین کی تعظیم اور شعائر اللہ کا احترام الگ حقیقت ہے جو تمام کا تمام صداقت ہے۔ عبادت غیر اللہ ہی شرک ہے لیکن شعائر اللہ اور صالحین کی تعظیم ایمان اور دلی تقویٰ ہے شرک کی مذمت ہے اور اس سے اجتناب کا حکم ہے اور تعظیم کے ارتکاب کا حکم ہے اور اس پر اجر و ثواب اور دلی تقویٰ کا اعلان ہے لہٰذا عبادت اور تعظیم دونوں جداگانہ حقیقتیں ہیں، ہم صالحین کی عبادت کو شرک جانتے ہیں لیکن ان کی تعظیم کو واجب مانتے ہیں کہ شعائر اللہ کی تعظیم سے دل نیک ہو جایا کرتے ہیں اور تعظیم کرنے والے نیک اور ایماندار لوگ ہوتے ہیں اور توہین کرنے والے نہ نیک نہ ایمان والے ہوتے ہیں شعائر کی تشریح میں ہے: ’’وشعائرہ التي جعلها امارات بين الحق والباطل (قرطبی) شعائر شعیرہ کی جمع ہے یعنی وہ علامت جس سے کسی چیز کی پہچان ہو سکے‘‘۔

یہاں اس آیت میں اس سے مراد اللہ تعالیٰ کی وہ چیزیں ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے حق و باطل کے درمیان امتیازی نشانیاں قرار دیا ہے۔ یہ شعائر ان مکانات، اوقات اور علامات کا نام ہے جو عبادت کی طرف منسوب ہیں، مکانات عبادت جیسے کعبہ، عرفہ، مزدلفہ، تینوں جمار، صفا، مروہ، منیٰ اور تمام مساجد ہیں، یہ سب عبادت کے لئے بابرکت مقامات مقدسہ ہیں۔ اوقات عبادت جیسے رمضان مبارک، حرمت والے مہینے، عید الفطر، عید الاضحیٰ، جمعہ، ایام تشریق وغیرہ بابرکت دن، راتیں اور مہینے ہیں، یہ سب شعائر اللہ ہیں، ان کی تعظیم واجب ہے اور ان کا احترام روحِ ایمان ہے کیونکہ یہ سب علاماتِ دین ہیں، یہ سب چیزیں معبودِ حقیقی کی یاد دلاتی ہیں (از تفسیر عزیزی)

شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے اللہ تعالیٰ کے بڑے شعائر چار قرار دیئے ہیں:

(۱) قرآن (۲) کعبہ (۳) نبی ﷺ (۴) نماز (حجۃ اللہ البالغہ)

ان سب شعائر اللہ کی تعظیم سے رحمت الٰہی کا نزول ہوتا ہے اور اجر و ثواب اور دلی تقویٰ نصیب ہوتا ہے اور ان کی توہین اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا سبب ہوتی ہے۔ اور اس کے عذاب کا استحقاق ہوتا ہے اور ایمان سے دوری کا وبال نازل ہوتا ہے،

ہمارے رسول کریم ﷺ اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی علامت مقدسہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی برہان و دلیل قرار دیا ہے:

صفحہ 19

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت مقدمہ

يٰاَيُّهَا النَّاسُ قَدْ جَاءَكُمْ بُرْهَانٌ اے لوگو! بے شک تمہارے پاس اللہ کی مِّنْ رَّبِّكُمْ وَاَنْزَلْنَا اِلَيْكُمْ نُوْرًا مُّبِيْنًا o طرف سے واضح دلیل آئی اور ہم نے (نساء:۱۷۴) تمہاری طرف روشن نور اتارا۔

جب کہ ساری مخلوق میں سے رسول و نبی سب سے بڑی دلیل قدرت ہوتے ہیں اسی لئے انہیں منصب نبوت و رسالت عطا کیا جاتا رہا تاکہ توحید اور دین الہی کو کھل کر بیان فرمایا کریں اور نبوت و رسالت کی تصدیق کے لئے معجزات حسی و معنوی دیئے گئے۔ اللہ تعالیٰ کی معرفت کے لئے نبی ﷺ تو دلیل اعظم و برہان کامل ہیں۔

اس آیت میں حضور ﷺ اللہ تعالیٰ کی دلیل و علامت بتائے گئے ہیں اور قرآن کو واضح نور فرمایا گیا ہے۔ آپ کی آمد مقدم تھی اور قرآن کا نزول مؤخر تھا، اس ترتیب کو اس آیت میں ذکر کیا گیا ہے۔ پہلے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانا ضروری ہے پھر قرآن پر ایمان لانا ہوگا کیونکہ قرآن آپ پر نازل کیا گیا ہے اور قرآن آپ ہی نے ہمیں عطا کیا ہے لہذا قرآن و صاحب قرآن دونوں پر ایمان لانا اور دونوں کی تعظیم بجالانا لازمی ہے اور ان کی توہین اصل میں اللہ تعالیٰ کی توہین ہوتی ہے کیونکہ یہ دونوں اللہ تعالیٰ کی طرف سے دلیل و برہان بنا کر بھیجے گئے ہیں۔

ارشاد الٰہی ہے: هُوَ الَّذِيْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَهُ بِالْهُدٰى وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت وَدِيْنِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّيْنِ كُلِّهِ اور سچے دین کے ساتھ بھیجا کہ اسے سب وَكَفٰى بِاللّٰهِ شَهِيْدًا o (الفتح: ۲۸) دینوں پر غالب کرے اور اللہ کافی ہے گواہ۔

اس آیت سے یہ دعویٰ واضح ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ کی معرفت اور اس کی شانوں کی پہچان کا مظہر و آئینہ نبی کریم ﷺ ہیں، ان کی شانوں کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ کی شان سمجھ میں آجاتی ہے، وہ اس طرح کہ جس رب تعالیٰ کے نبی و رسول اتنی بڑی شانوں والے ہیں خود اُس رب تعالیٰ کی شانیں کتنی ارفع و اعلیٰ ہوں گی نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم توحید باری تعالیٰ کے گواہ ہیں اور خود اللہ تعالیٰ اپنے محبوب کی نبوت و ختم نبوت کا گواہ ہے۔

اب اس حقیقت حال میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ دونوں کی تعظیم ظول ﷺ دونوں کی تعظیم فرض

صفحہ ۲۰

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت ۲۰ مقدمہ

ہے۔ رسول کی تعظیم اللہ کی تعظیم ہے اور ان کی توہین اللہ تعالیٰ کی توہین ہوگی۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کی تعظیم وتوقیر کو بطور حکم جاری فرمایا ہے ارشاد ہے:

اِنَّا اَرْسَلْنٰکَ شَاہِدًا وَّ مُبَشِّرًا بیشک ہم نے تمہیں بھیجا مشاہدہ فرمانے وَّ نَذِیْرًا o لِّتُؤْمِنُوْا بِاللّٰہِ وَ رَسُوْلِہٖ والا اور خوشی اور ڈر سنانے والا تاکہ اے لوگو! وَ تُعَزِّرُوْہُ وَ تُوَقِّرُوْہُ وَ تُسَبِّحُوْہُ تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور بُکْرَۃً وَّ اَصِیْلًا o (الفتح: ۸-۹) رسول کی تعظیم وتوقیر کرو اور صبح و شام اللہ کی پاکی بولو۔

ان دو آیتوں سے پہلی آیت کے اندر آپ کی رسالت کا ذکر ہے‘ مشاہدہ کرنا‘ بشارت دینا اور ڈر سنانا جیسے اوصاف کا ذکر ہے دوسری آیت میں تمام جہان سے تا قیامت حکم ہے کہ تم سب اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اطاعت کرو اور یہ کہ ہمارے ایمان کا دارو مدار آپ کی بشارت و شہادت پر موقوف ہے‘ ہم براہ راست نہ بشارت دینے کے قابل ہیں اور نہ ہی براہ راست عالم غیب کا مشاہدہ کر سکتے ہیں اور یہ بھی حکم ہے کہ رسول کریم کی تعظیم وتوقیر ہر حال میں کریں اور ہر وہ تعظیم کریں جو شریعت اسلامیہ کے خلاف نہ ہو‘ خوب ادب کرو‘ نہ ان کو خدا مانو اور نہ خدا جیسا تسلیم کرو‘ اس کے سوا ہر احترام و ادب کا حق بجا لاؤ‘ سر سے سجدہ نہ کرو‘ باقی ہر قسم کی تعظیم کرو‘ تعظیم وتوقیر کو خوب سے خوب تر کرو اور اللہ کی نماز پڑھو اور صبح و شام اللہ کی حمد وثنا کرو‘ نبی اکرم ﷺ کی تعظیم وتوقیر ہر حال میں ضروری ہے اور یہ بھی تعظیم ہے کہ جب آپ پر اعتراضات ہوں تو ان کو دور کرو۔

ایمان کا ذکر پہلے آیا پھر تعظیم وتوقیر کا بیان آیا‘ آخر میں اللہ کی عبادت کا ذکر آیا‘ اس سے یہ بات یقین کی حد تک معلوم ہوئی کہ ایمان مقدم ہے اور ایمان کے ساتھ تعظیم و توقیر ضروری ہے‘ بعد میں نوافل کا ذکر آیا ہے۔ معلوم ہوا کہ عبادت وہی مقبول ہے جو تعظیم وتوقیر کے ساتھ ہو‘ بغیر تعظیم کے نہ ایمان ہاتھ آئے گا اور نہ عبادت قبول ہوگی۔

تجربہ سے ثابت ہے کہ بعض لوگ عبادت پر ہر طرح سے زور دیتے ہیں اور تعظیم نبی کا نہ ذکر کرتے ہیں نہ پرچار کرتے ہیں حالانکہ تعظیم نہیں تو نہ ایمان ہے نہ عمل ہے‘ بغیر تعظیم کے عبادت کا انجام قرآن نے خود بیان کیا ہے۔

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت

وَقَدِمْنَا اِلٰى مَا عَمِلُوْا مِنْ فَجَعَلْنٰهُ هَبَآءً مَّنْثُوْرًا o (الفرقان:

معلوم ہوا کہ نبی اکرم ﷺ

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِہٖ وَ عَزَّرُوْ نَصَرُوْہُ وَ اتَّبَعُوا النُّوْرَ الَّذِیْ اُنْـ اُولٰئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُوْنَ o

(الاعراف

اس آیت میں ایمان و کریم ﷺ کی تعظیم کریں اور ان گیا ہے‘ مراد یہ ہے کہ قرآن و تشریح ہے‘ قولی حدیث ہو یا عمـ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی واضح طور پر آیا ہے۔ رسالت سبب ہے۔ آپ کی رسالت عا سے اعلیٰ مرتبہ ہے جس کی وجہ عطا کی گئیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشا

قُلْ یٰٓاَیُّہَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْ اِلَیْکُمْ جَمِیْعًا o (الاعراف: ۱۵۸

آپ کو رسول ماننے سـ جاتا ہے جب آپ رسول ہیں تو تعظیم روح ایمان ہے اور توہیـ پائے جاسکتے۔ مزید ارشاد ملا

وَ اٰمَنْتُمْ بِرُسُلِیْ وَ عَزَّرْتُمُـ

صفحہ ۲۱

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت ۲۱ مقدمہ

وَقَدِمْنَا إِلَى مَا عَمِلُوْا مِنْ عَمَلٍ جو اعمال انہوں نے کئے ہم نے سب فَجَعَلْنَاهُ هَبَاءً مَّنْثُوْرًا O (الفرقان:۲۳) برباد کر دیئے۔

معلوم ہوا کہ نبی اکرم ﷺ کی تعظیم مدار ایمان و مدار نجات اور مدار قبول اعمال ہے‘ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

فَالَّذِيْنَ آمَنُوْا بِهِ وَ عَزَّرُوْهُ وَ تو وہ جو اس پر ایمان لائیں اور اس کی نَصَرُوْهُ وَاتَّبَعُوْا النُّوْرَ الَّذِيْ أُنْزِلَ مَعَهُ تعظیم کریں اور اسے مدد دیں اور اس نور کی أُولٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ O پیروی کریں جو اس کے ساتھ اترا وہی بامراد (الاعراف: ۱۵۷) ہوئے۔

اس آیت میں ایمان والوں کے لئے ہدایات ہیں کہ وہ ایمان کے ساتھ نبی کریم ﷺ کی تعظیم کریں اور ان کی مدد کریں اور اس نور کی پیروی کریں جو آپ کو عطا کیا گیا ہے‘ مراد یہ ہے کہ قرآن و حدیث دونوں کی اتباع کریں کیونکہ حدیث قرآن کی تفسیر و تشریح ہے‘ قولی حدیث ہو یا کہ فعلی ہو نیز تعظیم و مدد کا ذکر خصوصی مدد کے طور پر آیا ہے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت عامہ کے منصب عالی کا ذکر بڑی جامعیت اور واضح طور پر آیا ہے۔ رسالت عامہ کا مرتبہ سبب ہے اور سب جہانوں کے لئے رحمت ہونا مسبب ہے۔ آپ کی رسالت عامہ تھی تو رحمت عامہ بھی عطا کی گئی ہے کیونکہ رسالت سب سے اعلیٰ مرتبہ ہے جس کی وجہ سے اَن گنت ظاہری‘ باطنی‘ حسی‘ معنوی اور دوسری خوبیاں عطا کی گئیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

قُلْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّيْ رَسُوْلُ اللَّهِ تم فرماؤ! اے لوگو! میں تم سب کی إِلَيْكُمْ جَمِيْعًا O (الاعراف: ۱۵۸) طرف اس اللہ کا رسول ہوں۔

آپ کو رسول ماننے سے ایمان ملتا ہے اور بے ادبی کرنے سے ایمان کا رشتہ کٹ جاتا ہے جب آپ رسول ہیں تو آپ کی تعظیم و توقیر بھی رسالت کی وجہ سے ضروری ہوگئی تعظیم روحِ ایمان ہے اور توہین روحِ کفر ہے۔ ایمان اور تعظیم ایک دوسرے کے بغیر نہیں پائے جاسکتے۔ مزید ارشاد ملاحظہ کریں:

وَأَمَنْتُمْ بِرُسُلِيْ وَعَزَّرْتُمُوْهُمْ اور میرے رسولوں پر ایمان لاؤ اور ان (المائدہ: ۱۲) کی تعظیم کرو۔

صفحہ ۲۲

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت ۲۲ مقدمہ

اس کلام میں تمام سچے رسولوں پر ایمان لانا اور ان کی تعظیم کرنا بیان کیا گیا ہے جس کا نتیجہ یہ کہ ایمان اور تعظیم دونوں کو ایک ساتھ ملا کر ذکر کرنے سے واضح ہو گیا کہ صرف زبانی اقرار کافی نہیں ہے جبکہ ایمان کے ساتھ دلی اور عملی تعظیم و احترام نہ ہو اور یہ بھی معلوم ہوا کہ بلا تفریق تمام سچے نبیوں اور رسولوں پر ایمان لانا اور ان کی شرعی تعظیم کرنا ضروری ہے، اسلام کا یہ اہم امتیاز ہے کہ اسلام میں اللہ تعالیٰ کے تمام پیغمبروں پر ایمان لانا اور ان کی تعظیم و احترام ضروری ہے

ہمارے رسول اکرم ﷺ کا ادب ایمان کا رکن ہے جس کا ذکر ہو چکا ہے مزید ملاحظہ فرمائیے :

يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُقَدِّمُوا بَيْنَ اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول يَدَيِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ سے آگے نہ بڑھو اور اللہ سے ڈرو بے شک سَمِيعٌ عَلِيمٌ O (الحجرات: ۱) اللہ سنتا جانتا ہے۔

کتاب وسنت کی خلاف ورزی نہ کرو کہ یہ اصل میں اللہ اور اس کے رسول کی بے ادبی ہے۔ اس آیہ مبارکہ کا شان نزول یہ ہے کہ بعض صحابہ نے بقر عید کے دن نبی اکرم سے پہلے یعنی نماز عید سے قبل قربانی کر لی اور بعض صحابہ رمضان سے ایک دن پہلے روزے شروع کر دیتے تھے چنانچہ ان لوگوں کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی اور اس سے یہ بات واضح ہوئی کہ قربانی اور روزے عبادات ہیں اس کے باوجود اگر یہ عبادتیں نبی کریم ﷺ کی ظاہری موجودگی میں ان سے پہلے کی جائیں تو یہ ہرگز قابل قبول نہیں ہوسکتیں کیونکہ اس سے نبی کریم کی بے ادبی ہوتی ہے کہ جو کام حضور خود کرنے والے ہیں وہ کام ایک صحابی آپ کی موجودگی میں آپ سے پہلے کرے تو یہ اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں ہے اور اس پیش قدمی کو قرآن میں ناگوار قرار دیا گیا یونہی راستہ پر چلتے بات کرنے اور دیگر ایسے موقعوں پر حضور سے آگے بڑھنا منع ہے یہ عموم لا تقدموا سے ثابت ہے۔ مزید ارشاد باری ہے:

يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا اے ایمان والو! اپنی آوازیں اونچی نہ اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَلَا کرو (اس غیب بتانے والے نبی کی) آواز تَجْهَرُوا لَهُ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ سے اور ان کے حضور بات چلا کر نہ کہو جیسے لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَاَنْتُمْ لَا آپس میں ایک دوسرے کے سامنے چلاتے

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت

تَشْعُرُونَ O (الحجرات: ۲)

اس آیت میں واضح حکم ملا کہ سے بلند نہ ہوں حالانکہ آوازیں کئی ہے کہ اس میں بھی میرے محبوب کی ال یہ واقعہ حضرت ثابت بن قیس سنتے تھے اور خود بھی بلند آواز تھے ان ثابت اس آیت کے نزول کے بعد تو حضور نے حضرت سعد سے ان ک ہو چکا ہوں میری آواز اونچی ہو گئی تھی معلوم ہوا کہ آواز کی بلندی ن اہل محبت و ادب ہو پھر بھی یہ صور کریم ﷺ کی ادنیٰ بے ادبی کفر ہے بارگاہ میں اونچی آواز میں بولنے پر نیک

اس اخیر آیت کا مطلب یہ ہے پکارو جن سے ایک دوسرے کو پکارتے اللہ رؤف و رحیم وغیرہ پیاری پیاری

اِنَّ الَّذِينَ يَغُضُّونَ أَصْوَاتَهُمُ رَسُولِ اللَّهِ أُولَئِكَ الَّذِينَ اللَّهُ قُلُوبَهُمْ لِلتَّقْوَى لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ عَظِيمٌ O إِنَّ الَّذِينَ يُنَادُونَ وَرَاءِ الْحُجُرَاتِ أَكْثَرُ يَعْقِلُونَ O (الحجرات: ۴٬۳)

اس آیت میں اللہ تعالیٰ جو حضور ﷺ کے پاس آپ

صفحہ ۲۳

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت ۲۳ مقدمہ

تَشْعُرُوْنَ (الحجرات : ۲) ہو کہ کہیں تمہارے عمل اکارت نہ ہو جائیں اور تمہیں خبر نہ ہو۔

اس آیت میں واضح حکم ملا کہ بات کرنے میں تمہاری آوازیں میرے محبوب کی آواز سے بلند نہ ہوں حالانکہ آوازیں کئی قسم کی ہوتی ہیں‘ فطری آواز کی بلندی کو بھی منع کیا گیا ہے کہ اس میں بھی میرے محبوب کی توہین ہو جاتی ہے۔

یہ واقعہ حضرت ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ صحابی کے متعلق ہے‘ آپ اونچا سنتے تھے اور خود بھی بلند آواز تھے‘ انہیں حکم ہوا کہ اس بارگاہ میں آواز پست رکھو‘ حضرت ثابت اس آیت کے نزول کے بعد خانہ نشین ہوئے‘ بارگاہ نبوی میں کئی روز حاضر نہ ہوئے تو حضور نے حضرت سعد سے ان کی غیر حاضری کا سبب پوچھا‘ وہ بولے کہ میں تو دوزخی ہو چکا ہوں میری آواز اونچی ہو گئی تھی‘ حضور نے فرمایا ان سے کہہ دو کہ وہ جنتی ہیں۔

معلوم ہوا کہ آواز کی بلندی اگرچہ فطری ہو اور اونچی بات کرنے والا صحابی ہو اور اہلِ محبت و ادب ہو پھر بھی یہ صورۃً بے ادبی ہے جو اللہ تعالیٰ کو گوارا نہیں ہے۔ نبی کریم ﷺ کی ادنیٰ بے ادبی کفر ہے اور کفر ہی سے نیکیاں برباد ہوتی ہیں۔ جب اس کی بارگاہ میں اونچی آواز میں بولنے پر نیکیاں برباد ہوتی ہیں تو دوسری بے ادبی کا ذکر ہی کیا ہے۔

اس اخیر آیت کا مطلب یہ ہے کہ نہ ان کے حضور چلا کر بولو نہ انہیں عام القاب سے پکارو جن سے ایک دوسرے کو پکارتے ہو‘ چچا‘ ابا‘ بھائی اور بشر نہ کہو بلکہ رحمت دو عالم‘ رسول اللہ‘ رؤف و رحیم وغیرہ پیاری پیاری صفتوں سے پکارو۔ ارشاد باری تعالیٰ ہوتا ہے:

اِنَّ الَّذِيْنَ يَغُضُّوْنَ اَصْوَاتَهُمْ عِنْدَ بے شک وہ جو اپنی آوازیں پست رَسُوْلِ اللّٰهِ اُولٰٓئِكَ الَّذِيْنَ امْتَحَنَ کرتے ہیں رسول اللہ کے پاس وہ ہیں جن اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ لِلتَّقْوٰی لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ کا دل اللہ نے پرہیزگاری کے لئے پرکھ لیا‘ عَظِيْمٌ o اِنَّ الَّذِيْنَ يُنَادُوْنَكَ مِنْ ان کے لئے بخشش اور بڑا ثواب ہے۔ بے وَّرَاءِ الْحُجُرَاتِ اَكْثَرُهُمْ لَا شک وہ جو تمہیں حجروں کے باہر سے يَعْقِلُوْنَ o (الحجرات : ۳‘ ۴) پکارتے ہیں ان میں اکثر بے عقل ہیں۔

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی دلی پرہیزگاری اور قلبی تقویٰ کو بیان فرمایا جو حضور ﷺ کے پاس آپ کی ظاہری حیات میں ادب کے لئے اپنی آوازوں کو پست

صفحہ ۲۴

مقدمہ گستاخ رسول کی شرعی حیثیت

کرتے رہے جن میں حضرت ابو بکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہما خصوصی طور پر شامل ہیں جیسا کہ آیت کے شان نزول سے ثابت ہے نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ تمام عبادات بدن کا تقویٰ ہیں اور حضور ﷺ کا ادب دل کا تقویٰ ہے اور صحابہ کرام کے دل رب نے تقویٰ کے لئے پرکھ لئے ہیں اور اس کی گواہی و بشارت رب نے دی ہے۔ اب صحابہ کرام و اہل بیت عظام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی شان عظمت و رفعت والی ہے، ادب کے نتیجہ میں اللہ نے ادب والوں کے لئے مغفرت و اجر عظیم کی خوشخبری دی ہے یعنی ان کے لئے بخشش بھی ہے اور بڑا ثواب اس کے علاوہ ہے۔

سابقہ آیت لا ترفعوا اصواتکم کے نزول کے بعد حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے تو عہد کیا اور زندگی بھر آہستہ آہستہ کلام کرنے کو اپنا معمول بنالیا تا کہ رسول کریم ﷺ کی آواز مبارک سے ان کی آواز ادب و احترام کے با وجود اونچی نہ ہو جائے اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں عرض کیا یا رسول اللہ ! مجھے اس ذات کی قسم جس نے آپ پر قرآن نازل فرمایا، میں آخری وقت تک حضور سے آہستہ آہستہ بات عرض کروں گا۔

جب کوئی وفد رسول کریم سے ملاقات کرنے کے لئے مدینہ منورہ حاضر ہوتا تو آپ کسی آدمی کو وفد کے ہاں بھیجتے جو انہیں حاضری کے آداب بتاتا اور ہر ادب و احترام ملحوظ رکھنے کی تلقین کرتا۔ (روح المعانی)

آج جو لوگ حضور ﷺ کی شان رفیع میں بے سوچے اور بے باکی کے ساتھ خلاف ادب باتیں کرتے ہیں اور ادب و احترام کو عملاً ملحوظ نہیں رکھتے، اپنے علم پر اپنی نیکیوں پر اور اپنے ایمان سوز لمبے لمبے وعظوں پر اور بے ادب طرز تحریر پر مغرور ہیں وہ ان آیات پر خوب غور کر لیں کہ ان کا انجام کیا ہوگا۔ وہ لوگ اس غلط فہمی میں پڑے ہوئے ہیں کہ ان کی لمبی لمبی نمازیں اور زندگی بھر کے روزے اور مالی قربانیاں اور تفسیر و حدیث کی ماہرانہ علمی خدمات، آتش بیان وعظ اور یہ درس و تدریس اور تصنیف و تالیف قیامت میں کام آئیں گی لیکن جب یہی بے ادب ادیب، گستاخ واعظ، توہین کا مرتکب مفسر و محدث قیامت میں میزان اعمال پر حاضری دے گا تو اس کی ساری خوش فہمیاں اور اس کی ساری امیدیں یک لخت رائیگاں ہو جائیں گی کیونکہ بے ادبی کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ سب سے پہلے

صفحہ ۲۵

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت مقدمہ

ایمان ختم ہو جاتا ہے اور اس کے ساتھ ہی اعمال کا سرمایہ ضائع ہو جاتا ہے اور آخر ندامت و شرمندگی کے سوا کچھ بھی قیامت کی خوفناک منزلوں میں نہیں پائے گا۔

اس آیت سے علماء نے یہ بھی اخذ کیا ہے کہ روضہ مقدسہ پر حاضری کے وقت آواز اونچی نہ کرے، درسِ حدیث ہو رہا ہو وہاں بھی ادب کے لئے آواز بلند نہ کرے، علماء ربانیین کی خدمت میں حاضر ہو تو اس وقت بھی پست آواز سے باتیں کرے، حضرات مشائخ اولیاء کرام سے بھی ادب واحترام کو ملحوظ رکھے ہاں اگر ضرورتِ شرعی کے لئے حکم ہو تو پھر حرج نہیں جیسے حضرت بلال حضور ﷺ کی موجودگی میں بلند آواز سے اذان دیتے تھے جنگ میں بلند آواز سے نعرے لگائے جاتے تھے خود حضور ﷺ نے جنگ حنین میں حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ صحابہ کرام کو بلند آواز سے بلاؤ۔ حضرت حسان رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضور ﷺ کی موجودگی میں بلند آواز سے آپ کے قصیدے اور نعتیں سناتے تھے۔ (روح البیان)

ادب ہو، نیت احترام کی ہو تو تب بات بنتی ہے ورنہ محرومی کے سوا کچھ نہیں ملتا۔

ارشاد باری تعالیٰ پر غور کریں۔

اِنَّ الَّذِيْنَ يُنَادُوْنَكَ مِنْ وَّرَاءِ بے شک وہ جو تمہیں حجروں کے باہر الْحُجُرَاتِ اَكْثَرُهُمْ لَا يَعْقِلُوْنَ o سے پکارتے ہیں ان میں اکثر بے عقل ہیں وَلَوْ اَنَّهُمْ صَبَرُوْا حَتّٰى تَخْرُجَ اِلَيْهِمْ اور اگر وہ صبر کرتے یہاں تک کہ تم ان کے لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ ط وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ پاس تشریف لاتے تو یہ ان کے لئے بہتر تھا رَّحِيْمٌ o (الحجرات: ۴، ۵) اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

یہ آیت قبیلہ بنو تمیم کے وفد کے متعلق نازل ہوئی جو دوپہر کے وقت حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ اس وقت قیلولہ فرما رہے تھے۔ انہوں نے باہر ہی سے پکارنا شروع کر دیا، سرکار تشریف لے آئے، تب یہ آیت اتری۔ ان لوگوں کی اس غیر شائستہ حرکت پر ان کی سرزنش فرمائی گئی اور پھر انہیں ادب سکھایا گیا کہ انہیں چاہیے یہ تھا کہ صبر سے باہر بیٹھتے، جب آپ خود تشریف لاتے تو عرض معروض کرتے، یہ ان کے لئے بہتر تھا۔

اس آیت میں حضور ﷺ کے آستانہ نبوت کے آداب کا ذکر ہے جو رب تعالیٰ نے

صفحہ ۲۶

مقدمہ گستاخ رسول کی شرعی حیثیت

خود ہی بنائے اور اسی نے سکھائے اور یہی آداب سب انسانوں فرشتوں اور جنات وغیرہ کے لئے ہیں اور سب پر حاوی ہیں۔ فرشتے بھی اجازت لے کر حاضری دیتے تھے۔ پھر یہ آداب ہمیشہ کے لئے ہیں چنانچہ ان لوگوں نے توبہ کی اور اللہ تعالیٰ نے انہیں معافی دے دی حالانکہ یہ حکم بعد میں آیا لیکن واقعہ پہلے کا ہے۔

اس آیت سے معلوم ہوا کہ دربار رسالت کا ادب واحترام فطری چیز ہے جو قانون بننے سے پہلے بھی ضروری ہے۔ اس آیت سے علماء نے اخذ کیا ہے کہ اپنے مشائخ اور اساتذہ حضرات سے استفادہ کے لئے جب حاضری دو تو انتظار کرو کہ وہ خود تشریف لائیں۔ اس پر علماء نے عمل بھی کیا ہے اور اس کے بہتر نتائج نکلے ہیں۔ (روح المعانی)

اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو یہ عظمت دی ہے کہ ان کے فیصلے کو پوری طرح تسلیم کرو ان کے فیصلے کے خلاف کسی مسلمان مرد وعورت کو کسی قسم کا اختیار نہیں ہے اور اگر کسی نے آپ کی مخالفت کی یا نافرمانی کی آپ کے فیصلے کو نظر انداز کیا تو ایسے شخص کو قرآن نے گمراہ قرار دیا ہے۔

مَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَنْ يَّكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ وَمَنْ يَّعْصِ اللّٰهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِينًا ہ

(الاحزاب: ۳۶)

اور کسی مسلمان مرد نہ مسلمان عورت کو حق پہنچتا ہے کہ جب اللہ اور اس کے رسول کچھ حکم فرما دیں تو انہیں اپنے معاملہ کا کچھ اختیار ہے اور جو حکم نہ مانے اللہ اور اس کے رسول کا وہ بے شک صریح گمراہی میں بہکا۔

یہ آیت حضرت زینب بنت جحش اسدیہ اور ان کے بھائی عبداللہ بن جحش اور ان کی والدہ امیمہ بنت عبدالمطلب حضور کی پھوپھی کے حق میں نازل ہوئی کہ حضور نے زید بن حارثہ جو حضور کے لے پالک تھے ان کے نکاح کے لئے زینب کو پیغام دیا جس کو زینب اور دیگر حضرات نے قبول نہ کیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور حضرت زینب وغیرہ راضی ہو گئے اور حضرت زید کا نکاح زینب کے ساتھ کر دیا گیا۔

اس آیت میں کتنی بڑی تعظیم کا ذکر ہے کہ رسول اکرم ﷺ اگر کوئی فیصلہ کر لیں تو اہل ایمان کو جان و مال میں کسی طرح کا اختیار باقی نہیں رہتا کیونکہ ہماری عقلوں سے

صفحہ ۲۷

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت مقدمہ

آپ کے فیصلے بلند تر ہیں اور ان کے مفادات جو ہیں وہ ہماری بہتری کے لئے ہیں گو کہ ہم اس کی گہرائی تک نہ پہنچ سکیں۔

یہ بھی معلوم ہوا کہ نبی کے حکم اور مشورے میں فرق ہے، حکم کو ہر حال میں قبول کرنا ہوگا اور مشورے کے قبول کرنے میں اختیار ہو گا نیز اس آیت سے یہ بھی معلوم ہو گیا کہ اس کے الفاظ عام ہیں ان میں کسی خصوصی واقعہ کو صراحۃً نام لے کر ذکر نہیں کیا گیا ہے لہٰذا اس کے عام حکم کے تحت کسی مسلمان فرد، قوم، حکومت یا حکومت اسلامیہ کے مقرر کئے ہوئے کسی کمیشن اور قانون ساز ادارہ کو اس امر کا اختیار نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے رسول کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ارشاد کو نظر انداز کر کے اپنے لئے کوئی راہ عمل تجویز کرے مسلمان ہوتے ہوئے اطاعتِ رسول کے بغیر چارہ کار نہیں۔

ایک طرف ہم سچے مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اور دوسری طرف ادنیٰ سے فائدہ کے لئے ہم احکام اسلام کو بڑی آسانی سے پس پشت ڈال دیتے ہیں۔ ہماری اس دوغلی پالیسی کے باعث اسلام کو رسوا کیا جا رہا ہے اور ہمیں اس چشمۂ فیض سے فیضیاب ہونے کا موقع نہیں مل رہا بلکہ دوسروں کی محرومی کا باعث بن رہے ہیں لہٰذا قرآن وسنت ہی انسانی ہدایات کے لئے دائمی قوانینِ ہدایت ہیں۔ اسلامی ممالک کی ترقی کا راز اور امن وسلامتی کا راستہ صرف اسلام ہے۔

يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ کے بلانے پر حاضر ہو جب رسول تمہیں اس (انفال: ۲۴) چیز کے لئے بلائیں جو تمہیں زندگی بخشے گی۔

اس آیت میں یہ حکم دیا گیا کہ جب رسول اللہ ﷺ تمہیں بلائیں تو تم فوراً حاضر ہو اور یہ کہ رسول کا بلانا اللہ تعالیٰ ہی کا بلانا ہے کہ اللہ تعالیٰ بھی حضور کے واسطے سے بلاتا ہے بلا واسطہ کسی کو نہیں بلاتا، ہر حال میں حاضر ہو۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اکرم ﷺ کی غلامی اور تعظیم و ادب کو ہر حال میں جاری رکھا ہے اور یہ بھی ظاہر ہے کہ رسول اکرم ﷺ ہمیشہ ایسی چیز کی طرف دعوت دیتے ہیں جو تمہاری زندگی کا باعث ہے۔

اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان پر یہ فیصلہ و حکم جاری فرمایا کہ مسلمان ہر حال میں اپنے نبی کریم ﷺ کو حاکم و فیصل تسلیم کریں، یہی ایمان کا تقاضا ہے اور منشا یہی ہے:

صفحہ ۲۸

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت مقدمہ

فَلَا وَ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتّٰى تو (اے محبوب) تمہارے رب کی قسم وہ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا مسلمان نہ ہوں گے جب تک اپنے آپس يَجِدُوا فِيْ أَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا کے جھگڑے میں تمہیں حاکم نہ بنائیں پھر جو قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوْا تَسْلِيمًا O کچھ تم حکم فرماؤ اپنے دلوں میں اس سے (النساء:۶۵) رکاوٹ نہ پائیں اور جی سے نہ مان لیں۔

اس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے فیصلوں کو نہ ماننے والا اصلاً مسلمان نہیں رہتا اور اسلام سے خارج ہو جاتا ہے، گناہ کرنے والا کیسا ہی مجرم ہو وہ فاسق تو ہوگا لیکن مسلمان بھی رہے گا کیونکہ وہ کلمہ پڑھتا ہے اور اس پر یقین کرتا ہے اور رسول کریم ﷺ کے فیصلوں کا انکار نہیں کرتا بلکہ دل سے تصدیق کرتا ہے اور زبان سے اقرار کرتا ہے اور آپ کے سب فیصلوں کو مان کر تعظیم و ادب کرتا ہے، انکار اور بے ادبی کا انداز اختیار نہیں کرتا اور جو لوگ کلمہ پڑھنے کے باوجود اسلامی احکام میں نقص نکالیں اور اسلامی قوانین کے مقابلہ میں غیر اسلامی قوانین کو اچھا جانیں، ایسے لوگ اسلام سے خارج ہو جاتے ہیں جو اس آیت سے ظاہر ہے۔ نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ حقیقی حاکم مطلق اللہ تعالیٰ ہے:

إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ حکم صرف اللہ کا ہے۔

یعنی حقیقی حکم اللہ کا ہے یا تکوینی حکم صرف اللہ کا ہوتا ہے۔ نبی کریم ﷺ کا حکم حقیقت میں ان کا ذاتی حکم نہیں ہوتا بلکہ آپ کا حکم بھی اصل میں اللہ کا حکم ہوتا ہے کیونکہ آپ پیغمبر کی حیثیت سے اللہ تعالیٰ کے نائب ہیں لہٰذا حضور کے سارے فیصلے برحق اور واجب العمل ہیں۔

یہ تو واضح امر ہے کہ آپ کے فیصلوں کو نہ ماننا اور زبان درازی کرنا کفر و ارتداد ہے بلکہ اس آیت میں تو یہاں تک کہا گیا کہ آپ کے فیصلوں کو قبول کر لینا اور دل سے راضی نہ ہونا یہ کفار کا طریقہ ہے، اس سے ایک مسلمان کافر ہو جاتا ہے کہ اس عمل سے ایک مسلمان توہین و بے ادبی کا مرتکب ہو جاتا ہے اور ایمان کا تقاضا ادب و احترام و تسلیم ہے، دل سے نہ ماننے سے تصدیق نہیں تکذیب ہے اور تکذیب توہین کا اعلیٰ فرد ہے اور زبان سے تصدیق اور دل سے تکذیب منافقت بھی ہے۔

صفحہ 29

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت مقدمہ

اس آیت کے نزول کا اصل واقعہ یہ تھا کہ اہل مدینہ پہاڑی پانی سے اپنے کھیت سیراب کرتے تھے‘ حضرت زبیر اور ایک انصاری کے کھیت ملے ہوئے تھے‘ ان دونوں کا اس پانی کے متعلق جھگڑا ہو گیا کہ پہلے کون اپنے کھیت کو پانی دے‘ یہ مقدمہ بارگاہ رسالت میں پیش ہوا‘ حضور نے فیصلہ فرمایا کہ پہلے حضرت زبیر پانی دیں پھر انصاری‘ کیونکہ حضرت زبیر کا کھیت اوپر کی جانب تھا۔ یہ فیصلہ انصاری کو ناگوار گزرا‘ اس کے منہ سے نکل گیا کہ زبیر آپ کے پھوپھی زاد قریبی ہیں‘ اس پر یہ آیت اتری۔

ظاہر ہے کہ انصاری پر مرتد کا حکم نہیں لگایا گیا ہو گا کیونکہ اس واقعہ سے قبل اس قانونی آیت کا نزول نہیں ہوا تھا لیکن آج اگر کوئی اس قسم کے انکار کا ارتکاب کرتا ہے تو یقیناً مرتد ہو جائے گا۔

مسلمانوں کے لئے وہی فیصلے قابل قبول ہونے چاہئیں جو اسلامی قانون کے زیر اثر ہوں اور رسول کریم ﷺ کے فیصلوں کی پیروی کریں اور ہر نزاع کا حل اللہ اور رسول اللہ ﷺ کے بتائے ہوئے اسلامی قوانین کی روشنی میں تلاش کریں۔ رسول اللہ ﷺ معصوم ہیں‘ ان کے تمام شرعی احکام ہر خطاء سے محفوظ ہیں‘ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے غیر مشروط اطاعت کا حکم دیا ہے‘ ملاحظہ ہو:

يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَ اے ایمان والو! حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو اَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُولِى الْاَمْرِ مِنْكُمْ رسول کا اور ان کا جو تم میں حکومت والے فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ ہیں پھر اگر تم میں کسی بات کا جھگڑا اُٹھے تو وَالرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ اسے اللہ اور رسول کے حضور رجوع کرو‘ اگر وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَّ اَحْسَنُ اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتے ہو‘ یہ بہتر ہے تَاْوِيْلًا o (النساء:۵۹) اور اس کا انجام سب سے اچھا۔

اس آیت میں اللہ و رسول ﷺ کی اطاعت کا حکم دیا گیا ہے جس میں کسی شرط کی پابندی نہیں ہے اور حاکم‘ قاضی اور حکمران طبقہ کی اطاعت کا بھی حکم ہے بشرطیکہ ان کے فیصلے اللہ اور رسول ﷺ اور قرآن و سنت کے موافق ہوں اور حضور کی اطاعت ہر حکم میں واجب ہے‘ اسی طرح ائمہ مجتہدین اور فقہاء کاملین اور علماء ربانیین کی اطاعت بھی ضروری ہے اس اطاعت میں تعظیم ہے اور نافرمانی میں سراسر بے ادبی ہے۔

صفحہ ۳۰

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت مقدمہ

حضور ﷺ کی گستاخی کفر و ارتداد ہے

رسول اللہ ﷺ کی اطاعت تعظیم کے ساتھ ہو تو عین ایمان ہے اور آپ کی توہین کفر و ارتداد ہے‘ قرآن پاک میں ہے:

يٰأَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقُوْلُوْا رَاعِنَا وَقُولُوا انْظُرْنَا وَاسْمَعُوْا وَلِلْكٰفِرِيْنَ عَذَابٌ اَلِيْمٌ O (البقره: ۱۰۴)

اے ایمان والو! راعنا نہ کہو اور یوں عرض کرو کہ حضور ہم پر نظر رکھیں‘ اور پہلے ہی سے بغور سنو اور کافروں کے لیے درد ناک عذاب ہے۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم حضور کے وعظ میں عرض کرتے تھے راعنا یا رسول اللہ! یعنی رعایت فرماتے ہوئے یہ کلام واضح فرمادیں۔ یہود کی زبان میں یہ لفظ گالی تھا‘ انہوں نے بری نیت سے یہی لفظ کہنا شروع کیا‘ حضرت سعد نے یہود سے کہا اگر تم نے آئندہ یہ لفظ بولا تو تمہاری گردن مار دوں گا کیونکہ آپ یہود کی زبان سے واقف تھے۔ یہود بولے کہ مسلمان بھی تو یہ لفظ بولتے ہیں چنانچہ تب یہ آیت نازل ہوئی اور مسلمانوں کو بھی اس لفظ کے استعمال سے منع کر دیا گیا۔ معلوم ہوا کہ حضور ﷺ کی شان میں ہلکا لفظ بولنا حرام ہے اگرچہ توہین کی نیت نہ بھی ہو اور توہین کی نیت سے بولنا کفر ہے نیز جس لفظ کے دو معنی ہوں اچھے اور برے تو وہ بھی اللہ تعالیٰ اور حضور کے لئے استعمال نہ کئے جائیں تا کہ دوسروں کو بد گوئی کا موقع نہ ملے لہٰذا اللہ تعالیٰ کو ”میاں“ نہ کہو کیونکہ اس کے دو معنی ہیں خاوند اور مالک لیکن مالک گو کہ اچھا معنی ہے لیکن چونکہ اس کا دوسرا معنی خاوند اور شوہر بھی مشہور ہے لہٰذا مالک کی نیت سے بھی اللہ کو میاں کہنا منع ہے۔

اس آیت سے واضح ہے کہ رسول کریم کی بے ادبی کرنے والا کافر ہے اور کافر کے لئے درد ناک عذاب ہے‘ عذاب سے بچنا اس صورت میں ہو سکتا ہے کہ رسول کریم ﷺ کی اہانت و ایذاء سے اپنے آپ کو بچایا جائے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ایمان و تعظیم پر ہی قائم و دائم رکھے۔ (آمین)

وَالَّذِيْنَ يُؤْذُوْنَ رَسُوْلَ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ O (التوبہ: ۶۱)

اور جو رسول اللہ کو اذیت دیتے ہیں ان کے لئے درد ناک عذاب ہے۔

صفحہ ٣١

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت ٣١ مقدمہ

آیت مندرجہ سے ظاہر ہے کہ نبی کریم ﷺ کو اذیت دینا کفر ہے اور اس کی سزا درد ناک عذاب کی صورت میں ہوگی۔

قرآن پاک نے ایسے افراد و جماعتوں کو کھلے انداز سے رد کر دیا ہے جو اپنی خواہشات نفسانی کے باعث اپنی ہی خواہشوں کو معبود کا درجہ دیتے ہیں اور اپنے حقیقی معبود کے احکام کو ترک کر کے انکاری ہو گئے ہیں۔ ارشاد ربانی ہے:

اَرَءَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰهَهٗ هَوٰهُ بھلا دیکھ تو جس نے اپنی خواہش کو اپنا اَفَاَنْتَ تَكُوْنُ عَلَيْهِ وَكِيْلًا O اَمْ خدا بنا لیا۔ تو کیا تو اس کا ذمہ لے گا یا تجھے تَحْسَبُ اَنَّ اَكْثَرَهُمْ يَسْمَعُوْنَ گمان ہے کہ ان میں بہت کچھ سنتے یا عقل اَوْ يَعْقِلُوْنَ ط اِنْ هُمْ اِلَّا كَالْاَنْعَامِ بَلْ رکھتے ہیں وہ تو نہیں مگر جیسے چوپائے بلکہ وہ هُمْ اَضَلُّ سَبِيْلًا O (الفرقان: ۴۳، ۴۴) تو ان سے بھی بڑھ کر گمراہ ہیں۔

اس آیت سے ظاہر ہے کہ جو لوگ نفس کی خواہشوں کو ہی سب کچھ سمجھ لیں وہ بے عقل جانوروں کی طرح ہیں بلکہ جانوروں کو تو شعور ہوتا ہے اور یہ لوگ تو جانوروں سے بھی بدتر حالت گمراہی میں ہیں خاص کر اللہ کے مقابلہ میں خواہشوں کی پیروی کرنا اور نصوص کے احکام کے بدلے نفس کا حکم ماننا بدترین گمراہی ہے۔

یاد رہے مشرکین عرب کا دستور تھا کہ ان میں سے ہر ایک کسی پتھر کو پوجتا رہتا پھر جب کبھی اس پتھر سے اچھا مل جاتا تو پہلے کو پھینک کر دوسرے کو اٹھا لیتا اور اسے پوجنے لگتا۔ اس آیت میں ان مشرکین کی مذمت آئی ہے۔

قابل غور بات یہ ہے کہ آزادی اچھی چیز ہے مگر بے قیدی اور لاقانونیت بری چیز ہے۔ آزادی رائے وہ قابل قبول چیز ہے جو کسی مذہب یا کسی مذہب کے بانی کی گستاخی پر مبنی نہ ہو خاص کر جبکہ کسی قسم کا اشتعال نہ ہو تو کسی مذہب یا کسی شخصیت کا مذاق اڑانا یہ فتنہ کا دروازہ کھولنا ہے لہٰذا ایسی بے لگام توہین آمیز آزادی رائے عالمی امن کے لئے خطرہ کا باعث ہے۔

غزوہ تبوک میں جاتے ہوئے تین منافقوں میں سے دو آپس میں بولے کہ حضور کا خیال ہے ہم روم پر غالب آ جائیں گے یہ بالکل غلط ہے تیسرا خاموش تھا مگر ان کی باتوں پر ہنستا تھا۔ حضور نے ان تینوں کو بلا کر پوچھا تو وہ بولے کہ ہم راستہ کاٹنے کے لئے دل لگی

صفحہ ۳۲

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت مقدمہ

کرتے جارہے تھے اس پر یہ آیت اتری‘ اس سے یہ معلوم ہوا کہ کفر کی باتیں سن کر رضا کے طور پر خاموش رہنا یا ہنسنا بھی کفر ہے کیونکہ کفر پر راضی ہونا کفر ہے۔ حضور کی توہین اللہ کی توہین ہے‘ ان منافقوں نے صرف نبی کریم علیہ السلام کی بے ادبی کی تھی لیکن اللہ تعالیٰ نے اسے اپنی توہین قرار دیا‘ ایسے ہی حضور کی تعظیم اللہ کی تعظیم ہے‘ ملاحظہ کریں:

وَلَئِنْ سَاَلْتَهُمْ لَیَقُوْلُنَّ اِنَّمَا كُنَّا اور اے محبوب! اگر تم ان سے پوچھو تو نَخُوْضُ وَنَلْعَبُ ط قُلْ اَبِاللّٰهِ وَ اٰیٰتِهٖ کہیں گے کہ ہم تو یونہی ہنسی کھیل میں تھے‘ وَرَسُوْلِهٖ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِءُوْنَ o لَا تم فرماؤ کیا اللہ اور اس کی آیتوں اور اس تَعْتَذِرُوْا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ اِیْمَانِكُمْ کے رسول سے ہنستے ہو؟ بہانے نہ بناؤ تم (التوبہ: ۶۵‘ ۶۶) کافر ہوچکے مسلمان ہو کر۔

معلوم ہوا کہ حضور ﷺ کی گستاخی کفر و ارتداد ہے اگرچہ نیت نہ بھی کرے کیونکہ اس آیت میں استہزاء کو کفر قرار دیا گیا اور یہ بھی معلوم ہوا کہ حضور ﷺ کا گستاخ بغیر کسی تردد کے مرتد ہے۔

یَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ لَكُمْ لِیُرْضُوْكُمْ تمہارے سامنے اللہ کی قسم کھاتے ہیں وَاللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗٓ اَحَقُّ اَنْ یُّرْضُوْهُ اِنْ کہ تمہیں راضی کرلیں اور اللہ ورسول کا حق كَانُوْا مُؤْمِنِیْنَ o (التوبہ: ۶۲) زائد تھا کہ اسے راضی کرتا اگر ایمان رکھتے تھے۔

یہ آیت منافقین کی مذمت میں اتری ہے۔ منافق عناصر اکیلے میں اسلام اور مسلمانوں کا مذاق اڑاتے تھے اور مسلمانوں کے پاس آکر جھوٹی قسمیں کھا جاتے تھے کہ ہم نے ایسا نہیں کیا چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کی جھوٹی قسموں کا ذکر فرمایا اور دوسری بات یہ بیان کی گئی کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کریم دونوں کو راضی کرنے سے ایمان ملتا ہے اور ہر حال میں رسول اللہ کو راضی رکھا جائے کیونکہ ان کی رضا اللہ ہی کی رضا ہے‘ اسی لئے ”ان یرضوہ“ میں واحد کی ضمیر حضور ﷺ کی طرف لوٹتی ہے:

اَلَمْ یَعْلَمُوْٓا اَنَّهٗ مَنْ یُّحَادِدِ اللّٰهَ کیا انہیں خبر نہیں کہ جو خلاف کرے اللہ وَرَسُوْلَهٗ فَاَنَّ لَهٗ نَارَ جَهَنَّمَ خَالِدًا فِیْهَا اور رسول کا تو اس کے لئے جہنم کی آگ

صفحہ ۳۳

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت مقدمہ

ذٰلِكَ الْخِزْىُ الْعَظِيْمُ

(التوبہ:۶۳)

ہے ہمیشہ اس میں رہے گا یہی بڑی رسوائی ہے۔

معلوم ہوا کہ سرکار دو عالم کی مخالفت اور بے ادبی و گستاخی کی سزا رسوائی و ذلت کا دائمی عذاب ہے۔ رسول کریم ﷺ کے احکام کو ناحق جان کر خلاف کرنے والا مرتد ہے اور حق جان کر ان پر عمل نہ کرنے والا مسلمان فاسق ہے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ حضور کی مخالفت مطلقاً کفر ہے۔

وَمَا كَانَ لَكُمْ اَنْ تُؤْذُوْا رَسُوْلَ اللّٰهِ وَلَا اَنْ تَنْكِحُوْا اَزْوَاجَهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖ اَبَدًا ط اِنَّ ذٰلِكُمْ كَانَ عِنْدَ اللّٰهِ عَظِيْمًا

(الاحزاب:۵۳)

اور تمہیں حق نہیں پہنچتا کہ رسول اللہ کو ایذاء دو اور نہ یہ کہ ان کے بعد کبھی ان کی بیویوں سے نکاح کرو بیشک یہ اللہ کے نزدیک بڑی سخت بات ہے۔

اس آیت سے واضح ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ کو اذیت پہنچانا حرام و کفر ہے بشرطیکہ نیت اذیت پہنچانے کی ہو اور اگر ہمارے برے اعمال کی وجہ سے آپ کو تکلیف پہنچتی ہو تو اس میں ہماری نیت شامل نہیں ہوتی اور اگر نیت ایذا کی ہو تو یہ کفر ہے اور حضور ﷺ کے وصال کے بعد ازواج مطہرات میں سے کسی سے مناکحت کو ہمیشہ کے لئے حرام قرار دے دیا گیا بلکہ ان سے مناکحت کا وہم بھی سخت گناہ ہے اور اس حرمت میں شک کرنے والا بھی کافر ہے کہ اس میں بے ادبی ہے کیونکہ ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن اہل ایمان کی مائیں ہیں کیونکہ ان کی زوجیت کی نسبت رسول کریم علیہ السلام کی طرف ہے۔

ان پاک دامن روحانی ماؤں کی بے ادبی رسول کریم کی بے ادبی ہے۔ رسول کریم علیہ السلام کی اذیت سے دنیا و آخرت میں لعنت پڑتی ہے، قیامت میں ذلت کا عذاب ہوگا، ارشاد باری ہے:

اِنَّ الَّذِيْنَ يُؤْذُوْنَ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فِى الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ وَاَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِيْنًا

(الاحزاب:۵۷)

بے شک جو ایذا دیتے ہیں اللہ اور اس کے رسول کو ان پر اللہ کی لعنت ہے دنیا و آخرت میں اور اللہ نے ان کے لئے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے۔

صفحہ ۳۴

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت مقدمہ

رسول کریم ﷺ کے گستاخوں سے اجتناب ضروری

افسوس ہے ان لوگوں پر جو ایمان کے دعوے کرتے ہیں اور محبت کے مدعی بنتے ہیں مگر ان کے ایمانی دعوے اس وقت آزمائے جاتے ہیں جب اللہ و رسول کے دشمنوں اور گستاخوں کے ساتھ ان کی دلی دوستی ظاہر ہوتی ہے ایسے لوگوں کی مذمت میں قرآن کا ارشاد ملاحظہ ہو:

لَا تَجِدُ قَوْمًا يُّؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ تو نہ پائے گا انہیں جو ایمان لاتے ہیں الْاٰخِرِ يُوَآدُّوْنَ مَنْ حَادَّ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ اللہ اور قیامت پر کہ ان کے دل میں ایسوں وَلَوْ كَانُوْا اٰبَآءَهُمْ اَوْ اَبْنَآءَهُمْ اَوْ کی محبت آنے پائے جنہوں نے خدا و رسول اِخْوَانَهُمْ اَوْ عَشِيْرَتَهُمْ اُولٰئِكَ كَتَبَ سے مخالفت کی چاہے وہ ان کے باپ یا فِيْ قُلُوْبِهِمُ الْاِيْمَانَ وَ اَيَّدَهُمْ بِرُوْحٍ بیٹے یا عزیز ہی کیوں نہ ہوں یہ ہیں وہ لوگ مِّنْهُ (المجادلہ: ۲۲) جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان نقش کر دیا اور اپنی طرف کی روح سے ان کی مدد فرمائی۔

اس آیت سے واضح ہوا کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والا چاہے کتنا ہی قریبی رشتہ دار کیوں نہ ہو وہ گستاخی کے بعد تمہارے لئے اس قابل نہیں رہا کہ اس سے دلی دوستی رکھو یا اس کا دلی احترام کرو لہٰذا اس آیت کا مفاد یہ ہوا کہ جو اس سے دوستی کرے وہ مسلمان نہ ہوگا۔

مزید فرمایا کہ ایمان والے کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ کفر کے چاہنے والوں کو قلبی دوست بنائیں۔ ارشاد ہوتا ہے:

يٰاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا اے ایمان والو! اپنے باپ اور اپنے اٰبَآءَكُمْ وَاِخْوَانَكُمْ اَوْلِيَآءَ اِنِ بھائیوں کو دوست نہ بناؤ اگر وہ ایمان پر کفر اسْتَحَبُّوا الْكُفْرَ عَلَى الْاِيْمَانِ وَ مَنْ کو پسند کریں اور تم میں جو ان سے رفاقت يَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاُولٰئِكَ هُمُ کریں پس وہی لوگ ظالم ہیں۔ الظّٰلِمُوْنَ o (التوبہ: ۲۳)

ارشاد الٰہی ہے:

صفحہ ۳۵

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت مقدمہ

يٰاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا عَدُوِّىْ وَعَدُوَّكُمْ اَوْلِيَآءَ (الی قولہ تعالیٰ) تُسِرُّوْنَ اِلَيْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ وَاَنَا اَعْلَمُ بِمَا اَخْفَيْتُمْ وَمَا اَعْلَنْتُمْ وَمَنْ يَّفْعَلْهُ مِنْكُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِيْلِ (الی قولہ تعالیٰ) لَنْ تَنْفَعَكُمْ اَرْحَامُكُمْ وَلَا اَوْلَادُكُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ يَفْصِلُ بَيْنَكُمْ وَاللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ o (الممتحنہ:۱ تا ۳)

اے ایمان والو! میرے اور اپنے دشمن کو دوست نہ بناؤ تم چھپ کر ان سے جو ایسا کرتے ہو اور میں خوب جانتا ہوں جو تم چھپاتے ہو اور جو تم ظاہر کرتے ہو اور تم میں جو ایسا کرے گا وہ ضرور سیدھی راہ سے بہکا۔ تمہارے رشتے دار اور تمہارے بچے تمہیں نفع نہیں دیں گے قیامت کے دن تم میں اور تمہارے پیاروں میں جدائی ڈال دے گا کہ ایک دوسرے کے کچھ کام نہ آسکے گا اور اللہ تمہارے اعمال کو دیکھ رہا ہے۔

وَمَنْ يَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاِنَّهٗ مِنْهُمْ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهْدِى الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ o (المائدہ:۵۱)

اور جو تم میں ان سے دوستی کرے گا تو بیشک وہ انہی میں سے ہے بیشک اللہ ہدایت نہیں کرتا ظالموں کو۔

ان آیات سے یہ معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ سے جو لوگ عداوت رکھتے ہیں اور ان کی گستاخی کرتے ہیں، اہلِ ایمان ان سے کسی قسم کی دوستی نہیں کر سکتے کیونکہ ایمان کا تقاضا ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول علیہ السلام کے گستاخوں سے محبت و رغبت نہیں رکھی جا سکتی ورنہ ایمان باقی نہیں رہے گا اور ایسے لوگ خود ظالم و گمراہ ہیں اور یہ بھی بتایا گیا کہ جو گستاخوں سے دوستی رکھتے ہیں وہ بھی گستاخوں میں شامل ہوں گے (اللہ کی پناہ) اور جو لوگ بظاہر گستاخوں سے دوستی نہیں رکھتے مگر چھپ کر دوستی نبھا رہے ہیں تو یہ اور گستاخ طبقہ ایک جیسے ہوں گے۔

یہ توقع نہ کی جائے کہ وہ اللہ ورسول کے گستاخ کی عزت کرے گا اور اللہ ورسول کے مقابلہ میں اس کو ترجیح دے گا یا وہ رسول اللہ ﷺ کی گستاخی کو آسانی کے ساتھ برداشت کرے گا یا سچا مسلمان گستاخوں کی رعایت وتعاون کو اختیار کرے گا۔ ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ مسلمان اللہ ورسول علیہ السلام کے ادب وعزت کی خاطر جان قربان کر دے گا اور اللہ ورسول علیہ السلام کی عزت واحترام میں کسی مداہنت ومنافقت کو قبول نہیں

صفحہ ۳۶

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت مقدمہ

کرے گا جس کی تفصیل اس مقدمہ کے بعد آ رہی ہے اللہ تعالیٰ اور اس کے آخری نبی ﷺ اور سابقہ انبیاء کرام علیہم السلام و آسمانی کتابوں خاص کر قرآن مجید کی توہین و گستاخی تو بہت بڑا جرم و ارتداد ہے، اس میں نہ شک ہے اور نہ شک کی گنجائش ہے۔

اہل ایمان کی گستاخی مسلمان کی حیثیت سے کفر و گمراہی ہے

قرآن تو رسول کریم ﷺ کے صحابہ کرام، اہل بیت عظام اور ازواج مطہرات کی توہین و گستاخی کی بھی مذمت کرتا ہے بلکہ عام اہل ایمان، اہل ادب و احترام سچے مسلمانوں کا ایمان اور دینی علم و عمل کی بنیاد پر گستاخی و توہین کو قرآن رد کرتا ہے اور اس کی سخت مذمت کرتا ہے۔

اصل میں مغرب پرست عناصر اور اسلام دشمن قوتیں علماء حق اور اہل ایمان و اسلام اور مسلمانوں کی گستاخی اور لعن و طعن اس لئے کرتے ہیں کہ اس ناپاک تحریک کی وجہ سے مسلمانوں کے عقائد و اعمال میں کمزوری پیدا کی جائے اور اللہ تعالیٰ کے راستہ سے ان کو روکا جائے اور اسلام کے متعلق شک و تردد کی فضا پیدا کی جاسکے۔ قرآن پاک میں اس موضوع پر دو قسم کی آیات ہیں۔

پہلی قسم: یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ خبر دی ہے کہ کافروں کی یہ عادت و فطرت ہے کہ اہل ایمان کے ساتھ اس لئے مذاق، ٹھٹھا و ہنسی کرتے ہیں کہ وہ اہل ایمان واہل توحید ہیں یعنی گستاخی کا اصلی سبب ان کا ایمان ہے اور اسلام کو ماننا یہ کفار کی موت ہے کیونکہ ساری دشمنی اسلام سے ہے۔ اس حقیقت کو اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بیان فرمایا:

زُيِّنَ لِلَّذِينَ كَفَرُوا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا کافروں کی نگاہ میں دنیا کی زندگی وَيَسْخَرُونَ مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ آراستہ کی گئی اور مسلمانوں سے ہنستے ہیں اور اتَّقَوْا فَوْقَهُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ وَاللَّهُ يَرْزُقُ ڈر والے ان سے اوپر ہوں گے قیامت کے مَنْ يَّشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ O (البقرة:۲۱۲) دن اور خدا جسے چاہے بے گنتی دے۔

دنیا کی زندگی وہ زندگی ہے جو نفس کی خواہشات میں صرف ہو اور جو توشہ آخرت جمع کرنے میں خرچ ہو وہ بفضلہ تعالیٰ دینی زندگی ہے، اس میں وہ لوگ داخل ہیں جو آخرت سے غافل ہیں اور یہ بھی معلوم ہوا کہ غریب مسلمانوں کا مذاق اڑانا، کسی مومن کو ذلیل یا کمینہ جاننا کافروں کا طریقہ ہے۔

صفحہ ۳۷

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت مقدمہ

کافر فاسق اگرچہ مالدار ہے، ذلیل ہے، مومن اگرچہ غریب ہو، کسی قوم سے ہو، عزت والا ہے بشرطیکہ متقی ہو کیونکہ ”ان اکرمکم عند اللہ اتقکم“ سے ثابت ہے کہ تقویٰ والے ہی عزت والے ہوتے ہیں اور تقویٰ ایمان کے بغیر نہیں ہوتا۔۔۔مومن غریب متقی ہو تو عزت والا ہے، ارشاد الٰہی ہے:

وَلِلّٰهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِہٖ وَ عزت اللہ اور اس کے رسول کی ہے اور لِلْمُؤْمِنِيْنَ (المنافقون:۸) ایمان والوں کی ہے۔

یہ بھی ظاہر ہوا کہ دنیا میں مال کی زیادتی محبوبیت کی علامت نہیں، بہت دفعہ کافر مالدار ہو جاتے ہیں، مومن غریب۔

حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے، یزیدیوں کی بظاہر فتح ہوئی، اس سے یہ دلیل نہیں ملتی کہ فاتح یا مالدار عزت والا بن جاتا ہے بلکہ فاتح ظالم، مالدار بخیل یا مالدار کافر ہی ذلیل ہوتے ہیں، محبوبیت کی علامت اللہ کی طرف سے خیر اور نیک اعمال کی توفیق ہے۔

آیت مندرجہ بالا میں ایمان والوں سے ہنسی کو ایمان کی بنیاد پر کفر قرار دیا گیا ہے، ارشاد الٰہی ہوتا ہے:

اِنَّ الَّذِيْنَ اَجْرَمُوْا كَانُوْا مِنَ الَّذِيْنَ بے شک مجرم ایمان والوں سے ہنسا اٰمَنُوْا يَضْحَكُوْنَ o وَاِذَا مَرُّوْا بِهِمْ کرتے تھے اور جب وہ ان پر گزرتے تو یہ يَتَغَامَزُوْنَ o وَاِذَا انْقَلَبُوْا اِلٰى اَهْلِهِمُ آپس میں ان پر آنکھوں سے اشارے کرتے انْقَلَبُوْا فَكِهِيْنَ o وَاِذَا رَاَوْهُمْ قَالُوْا اِنَّ اور جب اپنے گھر پلٹتے خوشیاں کرتے پلٹتے هٰؤُلَآءِ لَضَآلُّوْنَ o وَمَا اُرْسِلُوْا عَلَيْهِمْ اور جب مسلمانوں کو دیکھتے تو کہتے بیشک یہ حٰفِظِيْنَ o (المطففین ۲۹: ۳۳) لوگ بہکے ہوئے ہیں اور یہ کچھ ان پر نگہبان بنا کر نہ بھیجے گئے۔

ان آیات سے معلوم ہوا کہ دنیا میں کافر تین بڑے جرم کرتے تھے:

صفحہ ۳۸

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت مقدمہ

اس آیت سے معلوم ہوا کہ صحابہ کو گمراہ کہنا کافروں کا کام ہے اور صحابہ کرام و اہلبیت عظام کا مذاق اڑانا کفر ہے کیونکہ صحابہ کرام کے ذریعے سے ہی اسلام پچھلوں تک پہنچتا رہا۔

ان حضرات صحابہ کرام واہل بیت عظام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی عظمتیں قرآن وحدیث میں موجود ہیں‘ ارشاد الٰہی ہے:

كَمْ اَرْسَلْنَا مِنْ نَّبِیٍّ فِی الْاَ وَّلِیْنَo ہم نے کتنے نبی اگلوں میں بھیجے اور ان وَمَا یَأْتِیْهِمْ مِّنْ نَّبِیٍّ اِلَّا كَانُوْا بِهِ کے پاس جو نبی آیا ان کا مذاق ہی اڑاتے یَسْتَهْزِءُ وْنَo (الزخرف:۶‘۷) رہے۔

ان آیات میں ان نبیوں کا ذکر ہے جو کفار کی طرف بھیجے گئے تھے اور یہ بھی بتایا گیا کہ جب بھی کوئی نبی ان کا فروں کی طرف آتے تو وہ نبیوں سے ہنسی کرتے رہے‘ یہ عادت کافروں کی ہے ۔اس کفر والی عادت سے مسلمانوں کو بچنا ضروری ہے ورنہ اس گستاخی کے باعث ایک مسلمان کافر ہو جائے گا:

وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ فِیْ شِیَعِ اور بے شک ہم نے تم سے پہلے اگلوں الْاَوَّلِیْنَ o وَمَا یَأْتِیْهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا میں رسول بھیجے اور ان کے پاس کوئی رسول كَانُوْا بِهِ یَسْتَهْزِءُ وْنَ o (الحجر:۱۰‘۱۱) نہیں آتا مگر اس سے ہنسی کرتے ہیں۔

اس آیت سے معلوم ہوا کہ ہر زمانہ اور زمانہ والوں کے لئے علیحدہ علیحدہ رسول تشریف لائے۔ ہمارے حضور ﷺ سارے عالم کے لئے رسول ہیں‘ چراغ ہر گھر کا الگ الگ ہے مگر سورج سب کا ایک ہے اور یہ مقصد بھی ظاہر ہے کہ کافروں کی عادت ہے کہ وہ انبیاء کرام علیہم السلام اور اہل ایمان سے مذاق وہنسی کرتے ہیں اور اگر مسلمان بھی ایسا ہی کریں تو پھر مسلمان مسلمان نہیں رہتا۔

ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمایا کہ اہل ایمان مسلمانوں کے ساتھ ہنسی و مذاق کرنا کافروں کی عادت ہے‘ کافروں کا اس سے مقصد یہ ہے کہ لوگوں کو اسلام کی دعوت کو قبول کرنے سے روکا جائے اور مسلمانوں کے عقائد میں کمزوری پیدا کی جائے یہ ساری کوشش اس لئے رہی ہے کہ کافروں کی اسلام سے دشمنی ہے اور ان کی یہ دشمنی ہمیشہ رہے گی اور اہل ایمان اس کا دفاع کرتے رہیں گے۔ کافر ایمان کی بنیاد پر

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت

مسلمانوں سے دشمنی اور ایک ہی زبان وا تحریک ہے جو شروع

دوسری قسم : تشریف لائے تو پر کریں اور جوان کے

قَالُوا أَنُؤْمِنُ الْأَرْذَلُونَ o (الشعراء

ایسے لوگ ایما ہمارے لئے باعث غریب ہی انبیاء کرام کمینہ کہنا اور ذلیل سمجھ شرافت و کرامت ایما شریف نہیں۔

اصل میں ایمان نمائندوں کو گوارا نہیں

فَقَالَ الْمَلَأُ قَوْمِهِ مَا نَرٰىكَ نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ إِلَّا بَادِیَ الرَّأْیِ وَمَا نَرٰ فَضْلٍ بَلْ نَظُنُّكُمْ كٰذِ

اس سے معلوم ہو اور گمراہی کی سیڑھی ہے

صفحہ ۳۹

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت مقدمہ

مسلمانوں سے دشمنی اور ہنسی کرتے رہے حالانکہ مسلمان بھی اسی زمین میں، اسی قوم سے اور ایک ہی زبان والے تھے صرف ایمان کی مخالفت کافروں اور ان کے ایجنٹوں کی تحریک ہے جو شروع سے چلی آرہی ہے۔

دوسری قسم: اللہ تعالیٰ نے جب یہ خبر دی ہے کہ جس قوم کے پاس کوئی رسول یا نبی تشریف لائے تو پہلا کام ان کافروں کا رہا کہ وہ رسول یا نبی کے ساتھ گستاخی ہنسی کریں اور جو ان کے ماننے والے ہیں ان کے ساتھ بھی ہنسی کریں ملاحظہ کریں:

قَالُوْا اَنُؤْمِنُ لَكَ وَاتَّبَعَكَ بولے کیا ہم تم پر ایمان لے آئیں اور الْاَرْذَلُوْنَ ٥ (الشعراء: ١١١) تمہارے ساتھ کمینے ہوئے ہیں؟

ایسے لوگ ایمان لائے ہیں کہ وہ غرباء و مساکین ہیں جن کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا ہمارے لئے باعث شرم ہے اس سے معلوم ہوا کہ اسلام ہمیشہ غریبوں نے قبول کیا اور غریب ہی انبیاء کرام علیہم السلام کی اطاعت کرتے رہے۔ دوسرا یہ بھی معلوم ہوا کہ مومن کو کمینہ کہنا اور ذلیل سمجھنا کفار کا کام ہے حالانکہ کوئی مومن کمینہ نہیں ہے سب شریف ہیں، شرافت و کرامت، ایمان وتقویٰ سے حاصل ہوتی ہے اور مومن کے مقابلہ میں کوئی کافر شریف نہیں۔

اصل میں ایمان کی دعوت دینا اور دعوت ایمان کو قبول کرنا کافروں اور کافروں کے نمائندوں کو گوارا نہیں۔

فَقَالَ الْمَلَاُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ تو اس کی قوم کے سردار جو کافر تھے قَوْمِهٖ مَا نَرٰىكَ اِلَّا بَشَرًا مِّثْلَنَا وَمَا بولے ہم تو تمہیں اپنے ہی جیسا آدمی نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِيْنَ هُمْ اَرَاذِلُنَا دیکھتے ہیں اور ہم نہیں دیکھتے کہ تمہاری بَادِيَ الرَّاْيِ ۚ وَمَا نَرٰى لَكُمْ عَلَيْنَا مِنْ پیروی کسی نے کی ہو مگر ہمارے کمینوں نے فَضْلٍ بَلْ نَظُنُّكُمْ كٰذِبِيْنَ ٥ سرسری نظر سے اور ہم تم میں اپنے اوپر کوئی (ھود: ۲۷) بڑائی نہیں پاتے بلکہ ہم تمہیں جھوٹا خیال کرتے ہیں۔

اس سے معلوم ہوا کہ نبیوں کو اپنے جیسا بشر کہنا یا سمجھنا اور مساوی درجہ دینا کفر کی جڑ اور گمراہی کی سیڑھی ہے اور یہ کہ صحابہ کرام اور اہل بیت عظام رضی اللہ تعالیٰ عنہم جو ایمان

صفحہ ۴۰

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت مقدمہ

کی دولت سے سرفراز تھے انہیں حقارت کی نظر سے دیکھنا کافروں کا کام ہے اہل ایمان کی عزت و احترام کرنا یہ مسلمانوں کا کام ہے دونوں طریقوں میں واضح فرق ہے۔

اس آیت میں نبی اور ان کے ماننے والوں کے خلاف کافروں کے طریقہ کار کا ذکر ہے کہ کافر ان مقبولوں کی گستاخی کرتے رہے اور آج بھی کافر اور ان کے نمائندے مومنوں سے مذاق کرتے ہیں۔

قَالَ الْمَلَأُ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ قَوْمِهِ اس کی قوم کے سردار بولے بیشک ہم إِنَّا لَنَرٰكَ فِي سَفَاهَةٍ وَإِنَّا لَنَظُنُّكَ تمہیں بیوقوف سمجھتے ہیں اور بیشک ہم تمہیں مِنَ الْكَاذِبِينَ ہ قَالَ يَقَوْمِ لَيْسَ بِي جھوٹوں میں گمان کرتے ہیں۔ کہا اے میری سَفَاهَةٌ وَلٰكِنِّي رَسُولٌ مِّنْ رَّبِّ قوم مجھے بے وقوفی سے کیا علاقہ میں تو الْعَالَمِينَ ہ (الاعراف: ۶۶، ۶۷) پروردگار عالم کا رسول ہوں۔

ان آیتوں سے معلوم ہوا کہ جو شخص یا کوئی طبقہ نبی کی عقل یا نبی کا علم کسی سے کم مانے وہ بے دین ہے حالانکہ انبیاء کرام علیہم السلام علم و عقل کے انتہائی اعلیٰ درجہ میں ہوتے ہیں جیسے حضرت ہود علیہ السلام کو قوم نے اپنے سے کم عقلمند سمجھا اور یہی ان کی بڑی بے وقوفی ہے۔ کیونکہ نبوت انتہائی کمال کا نام ہے اور سفاہت بے وقوفی انتہائی نقص ہے اور نبی ہدایت کا سرچشمہ ہوتے ہیں۔ تمام جہان کی عقل نبی کی عقل کی نسبت سے ایسی ہے جیسے قطرہ سمندر کی نسبت سے اور تمام رسولوں کی عقل حضور کی نسبت سے ایسی ہے جیسے قطرہ سمندر کی نسبت سے ہے۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام اور فرعون کے قصہ میں ہے۔

فَلَمَّا جَاءَ هُمْ بِآيَاتِنَا إِذَا هُمْ مِّنْهَا پھر جب وہ ان کے پاس ہماری يَضْحَكُونَ ہ (الزخرف: ۴۷) نشانیاں لایا جبھی وہ اس پر ہنسنے لگے۔

اس آیت میں بھی فرعون اور اس کے حمایتیوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ہنسی کی تھی۔ کافروں کی عادت ہے کہ وہ دعوت انبیاء کرام علیہم السلام کو گوارا نہیں کرتے تھے اس وجہ سے کافر لوگ انبیاء کرام علیہم السلام اور ان کے ماننے والوں سے ہر طرح کی گستاخیاں اور ہنسیاں کرتے تھے اور آج کا ماڈرن مسلمان اس پر غور کرے کہ وہ کس روش کا شکار ہے خود نبی کریم ﷺ کے ساتھ کافر اس قسم کی ہنسی کرتے رہے۔

صفحہ ۴۱

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت مقدمہ

وَإِذَا رَاَكَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا إِنْ اور جب کافر تمہیں دیکھتے ہیں تو تمہیں يَتَّخِذُوْنَكَ إِلَّا هُزُوًا (الانبیاء: ۳۶) نہیں ٹھہراتے مگر ٹھٹھا۔

شان نزول

ابو جہل جب حضور علیہ السلام کو دیکھتا تو ہنسا کرتا تھا‘ دوسری آیت میں اس کی تاریخ و تحریک بیان کی گئی:

وَلَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ اور بے شک تم سے اگلے رسولوں کے فَحَاقَ بِالَّذِيْنَ سَخِرُوْا مِنْ هُمْ مَّا ساتھ ٹھٹھا کیا گیا تو تمسخر ہی کرنے والوں کا كَانُوْا بِهِ يَسْتَهْزِءُوْنَ o (الانعام: ۱۰) ٹھٹھا انہیں کو لے بیٹھا۔

اللہ تعالیٰ اپنے محبوب ﷺ کو تسلی دیتا ہے کہ اے محبوب! آپ ان کمینوں کی کمینگی پر دل تنگ نہ ہوں‘ گذشتہ کفار بھی انبیاء کرام علیہم السلام کے عذاب کی خبروں پر مذاق اڑاتے تھے اچانک ان پر وہ عذاب آ جاتے تھے‘ یہی حال ان مذاق اڑانے والوں کا ہوگا:

قَالُوْا إِنَّا مَعَكُمْ إِنَّمَا نَحْنُ تو کہیں ہم تمہارے ساتھ ہیں‘ ہم تو مُسْتَهْزِءُوْنَ o اَللّٰهُ يَسْتَهْزِئُ بِهِمْ یوں ہی ہنسی کرتے تھے۔ اللہ ان سے استہزاء وَيَمُدُّ هُمْ فِيْ طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُوْنَ o فرماتا ہے (جیسا کہ اس کی شان کے لائق (البقرة: ۱۴، ۱۵) ہے) اور انہیں ڈھیل دیتا ہے کہ وہ اپنی سرکشی میں بھٹکتے ہیں۔

معلوم ہوا کہ کافر‘ منافق اور ان کے خفیہ نمائندے اسلام کے حق ہونے میں بھٹکتے پھر رہے ہیں‘ ان کو حیرانی ہے کہ اسلام اور مسلمان کیسے ترقی کئے جارہے ہیں‘ کافر و منافق کے مقابلہ میں مسلمان کو قلبی سکون حاصل ہے اور یہی حیات طیبہ والے بھی ہیں۔

ان آیات مبارکہ سے معلوم ہوا کہ کافر‘ منافق اور ان کے نمائندے انبیاء کرام علیہم السلام اور ان کے ماننے والے اہل ایمان‘ عشق و محبت‘ اطاعت کرنے والے مسلمانوں کے خلاف ہمیشہ سے گستاخی اور ہنسی کرتے رہے ہیں اور آج بھی مسلمانوں کو ناکام اور گرانے کی بین الاقوامی کوششیں ہو رہی ہیں۔

نیز یہ معلوم ہوا کہ یہ ہنسی‘ مذاق و بے ادبی‘ تذلیل و تحقیر بے ایمانوں کا شیوہ ہے‘ یہ ان کی تاریخ ہے اور تحریک بھی ہے جو مسلسل چلی آرہی ہے‘ عصر حاضر میں بھی کئی رنگوں

صفحہ ۴۲

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت مقدمہ

میں بے دینوں کے وارث پائے جاتے ہیں جو اپنی پوری کوششوں اور مالی، فنی اور صحافتی قوتوں کو اسلام اور مسلمانوں کے خلاف استعمال کر رہے اور کمزور مسلمانوں کو خریدا جا رہا ہے۔ انفرادی اور اجتماعی سطح پر بھی، اسلامی ممالک کی سطح پر بھی اور بین الاقوامی سطح پر بھی مسلمانوں کو سیاسی و غیر سیاسی ہر میدان میں خرید رہے ہیں۔ مسلمانوں کو غیر مسلمانوں سے نہ پہلے کہیں خطرہ رہا اور نہ آئندہ کوئی ناقابل مقابلہ خطرہ رہے گا لیکن خطرہ و نقصان ہمیشہ مسلمانوں کو مسلمانوں سے پہنچتا رہا، ان کے باہمی تصادم و اختلافات، سیاسی و غیر سیاسی معرکے نفسانی خواہش پرستی اور اقتدار پرستی نے مسلمانوں کو مفلوج و مغلوب و مرعوب کر رکھا ہے، مسلمان جب بھی سچائی کے ساتھ متحد ہوئے تو فتح و نصرت خداوندی نے ان کا استقبال کیا ہے اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمتوں کے مشاہدے ہوتے رہے، مسلمانوں کے انتشار نے یہ المیے اور مشکلات پیدا کیں کہ اپنے ملکوں کو غلامی میں دیتے رہے اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اہانت اور گستاخیاں اسلام دشمنوں کی طرف سے ہوتی رہیں۔

مسلمان مذہبی رہنماؤں کے نام ضروری اپیل

اسلام آخری دین ہے، اسلام انسانی حاجتوں کا جامع پروگرام ہے، اسلام عالمی امن و سلامتی کا عملی رہنما دستور ہے، اسلام نور ہے، ہدایت ہے، نجات اخروی کا ضامن ہے، ہر کمال اسلام میں موجود ہے۔ مسلمان کی عمدہ حیات اسلام سے وابستہ ہے بلکہ مسلمانوں کی بقا بھی اسلام کی رہین منت ہے۔

جب یہ حقیقت ہے تو مسلمان رہنماؤں پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ اپنے تمام مسائل و مشکلات اور باہمی تنازع قرآن و سنت کی روشنی میں حل کریں یہی قرآن کا قانون ہے۔

فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوْهُ إِلَى جب تم کسی چیز میں جھگڑا کرو تو اللہ اور اللَّهِ وَالرَّسُوْلِ (النساء:۵۹) رسول کی طرف لوٹو۔

اس قانون کی موجودگی میں مسلمانوں کے باہمی مذہبی و سیاسی تمام باہمی نزاع کو باہمی مجالس و کانفرنس کے ذریعے بالکل ختم کر دیں یا کم کر دیں تا کہ وحدت امت مسلمہ کا

صفحہ ۴۳

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت ۴۳ مقدمہ

خواب شرمندۂ تعبیر ہو سکے اور ایک بار پھر عرب و عجم کی امت مسلمہ اتحاد کے ذریعے دنیا بھر میں قوت بن کر اسلام کی عظمتوں اور صداقتوں کا بول بالا کر دیں اور حقیقی امن عالم کی عملاً ضمانت دیں اور پوری زمین پر بھٹکی ہوئی انسانیت کی قیادت کریں اور اس اہم کام کو اسلامی تنظیم کی کانفرنس انجام دے سکتی ہے بشرطیکہ اسلامی تنظیم کو صحیح معنوں میں با اختیار فعال اور پر وقار و طاقتور بنایا جائے۔ اس تنظیم کے تحت اسلام کے ماننے والے سنی شیعہ کے اندر اصولی اختلافات کو بھی ختم کیا جائے، اس کے بعد ان کے مذہبی رہنماؤں کو اتحاد و تنظیم کی خاطر ضوابط کے تحت باضابطہ پابند کیا جائے تا کہ مذہبی اشتعال پیدا نہ کریں، ایسے ہی سنی فرقوں اور جماعتوں کے اندر اصولی و فروعی نزاعوں کو شرعی دلائل کی روشنی میں حل کیا جائے اور وہ تمام عبارات جو صریح و غیر صریح طور پر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کریم علیہ السلام کی شان میں اہانت و گستاخی کے مفاہیم پر دلالت کرتی ہوں ان سب کو اپنے اپنے رسائل و کتابوں سے بالکل نکال دیا جائے تا کہ ایسی کوئی تحریر باقی نہ رہے جو قرآن و سنت سے ٹکراتی ہوں اور توہین و تضعیف کے مذموم معانی پیدا کرتی ہوں اور ایسے مذہبی پیشواؤں کی لغزشوں کو درست ثابت کرنے کے لئے مذہبی سرٹیفکیٹ جاری کر کے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کریم ﷺ کی توہین و ناراضگی کو مول لینا اس کی اجازت قرآن و سنت کے قوانین میں اور صحابہ کرام اور اہل بیت عظام علیہم الرضوان کی سیرت مبارکہ میں کہیں نہیں ملتی ہے۔؎

بمصطفیٰ برساں خویش را کہ دیں ہمہ اوست
اگر باو نرسیدی تمام بولہبی ست

نفسانی خواہشات کی اتباع کرنا اور فرقہ واریت کو ہوا و اشتعال دینا اسلام کی کوئی خدمت نہیں ہے، صرف اسلام کی احیاء کے لئے اپنی تمام توانائیوں اور علم و فضل کو وقف کیا جائے اور ہر موضوع و تحقیق کو مثبت انداز سے پیش کیا جائے اور موعظت حسنہ قرآنی طریقہ تبلیغ کو اختیار کیا جائے اور منفی و جارحانہ تحریر و تقریر سے مکمل اجتناب کیا جائے، اس وقت مقابلہ مسلمانوں کے اندر نہیں ہے بلکہ دنیا بھر میں اسلام کو غیر اسلام کے چیلنج کا سامنا ہے، اسلام سر بلند و زندہ رہے گا تو مسلمان بھی با وقار طور پر زندہ ہوں گے ورنہ مسلمان کی حیات ذلت کی موت سے بدتر ہوگی۔

صفحہ ۴۴

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت مقدمہ

وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِيْعًا وَّ لَا اور اللہ کی رسی کو تمام مضبوطی سے تھامو تَفَرَّقُوْا (آل عمران: ۱۵۳) اور تفرقہ بازی نہ کرو۔

اسی صورت میں عمل ہو سکتا ہے کہ مسلمان اسلام کے اصولوں اور بنیادی عقائد پر جمع ہوں اور فروعی مسائل کے اختلافات کو کم سے کم کریں اور تمام مسائل و مشکلات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت و ادب میں ڈوب کر قرآن و سنت کی روشنی میں حل کریں تب کہیں سلمان رشدی جیسے اسلام دشمنوں کا مقابلہ و دفاع ہو سکے گا اور اگر ناروا فتوؤں کے تیروں سے مسلمانوں کو ہی نشانہ بناتے رہیں تو پھر اس سے اسلام کے دشمنوں ہی کو تقویت ملے گی۔

حقیقت یہ ہے کہ اسلام دشمنوں کے مذموم عزائم کا دفاع ہمارا مذہبی فریضہ ہے، اللہ تعالیٰ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت و تعظیم و اطاعت ہمارے ایمان کی جان ہے۔

کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
محمد کی محبت دین حق کی شرط اول ہے
اسی میں ہو اگر خامی تو سب کچھ نامکمل ہے
در دلِ مسلم مقامِ مصطفےٰ است
آبروئے ما ز نامِ مصطفےٰ است

وما توفیقی الا با للہ العلام

مفتی محمد گل رحمن ۴ رمضان ۱۴۱۲ھ / ۸ مارچ ۱۹۹۲ء برمنگھم

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت

اسلام میں

اللہ تعالیٰ نے ساری ابتداء ہی سے جو جو چاہا ہوئے پیدا کر دے گا قرآ بَدِيْعُ السَّمٰوَاتِ وَ قَضٰی اَمْرًا فَاِنَّمَا فَيَكُوْنُ O (البقرہ: ۱۱۷) اللہ نے ہر چیز کو وج جانتا ہے ظاہر و باطن آغا ابتداء ہی سے ہر شے کو عد ہے وہی بے مثل ذات حقیق وَخَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ وَّ عَلِیْمٌ O (الانعام: ۱۰۱) مزید فرمایا: ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُم خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ فَاعْبُد كُلِّ شَيْءٍ وَّكِيْلٌ O (ال

عالمی سیرت کانفرنس مکہ

صفحہ ۴۵

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت ۴۵ اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم

بسم الله الرحمن الرحيم

اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم

اللہ تعالیٰ نے ساری مخلوق کو پیدا فرمایا ہے اور بغیر کسی سابقہ مادہ، مثال و نمونہ کے ابتداء ہی سے جو جو چاہا پیدا فرما دیا اور آئندہ بھی اسی طرح جو چاہے گا ارادہ فرماتے ہوئے پیدا کر دے گا‘ قرآن پاک میں اس کا اعلان ہے:

بَدِيْعُ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ وَاِذَا نیا پیدا کرنے والا آسمانوں اور زمین کا قَضٰى اَمْرًا فَاِنَّمَا يَقُوْلُ لَهٗ كُنْ اور جب کسی بات کا حکم فرمائے تو اس سے فَيَكُوْنُ O (البقرہ: ۱۱۷) یہی فرماتا ہے کہ ہو جا‘ وہ فوراً ہو جاتی ہے۔

اللہ نے ہر چیز کو وجود بخشا ہے اور وہی پیدا کرنے والا ہے ہر شے کو پوری طرح جانتا ہے‘ ظاہر و باطن‘ آغاز و انجام‘ کمال و نقصان سب کچھ جانتا ہے کیونکہ جو ذات کاملہ ابتداء ہی سے ہر شے کو عدم کے اندھیروں سے نکال کر وجود کی روشنیوں میں لانے والی ہے وہی بے مثل ذات حقیقی تربیت اور نگہبانی بھی فرماتی ہے‘ ارشاد ربانی ہے:

وَخَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ وَّهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ اور پیدا فرمایا ہے اس نے ہر چیز کو اور عَلِيْمٌ O (الانعام: ۱۰۱) وہ ہر چیز کو اچھی طرح جاننے والا ہے۔

مزید فرمایا:

ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ لَا اِلٰهَ اِلَّا هُوَ یہ اللہ ہے (جو) تمہارا پروردگار ہے‘ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ فَاعْبُدُوْهُ وَهُوَ عَلٰى نہیں کوئی معبود سوائے اس کے پیدا کرنے كُلِّ شَيْءٍ وَّكِيْلٌ O (الانعام: ۱۰۲) والا ہے ہر چیز کا پس عبادت کرو اس کی اور وہ ہر چیز پر نگہبان ہے۔

اللہ تعالیٰ ہی ہر چیز کا مالک حقیقی ہے‘ زمین و آسمان اور ان میں خاکی‘ ناری و نوری‘ بے جان اور جان دار‘ بے شعور اور باشعور جو کچھ بھی اللہ کے سوا ہے وہ سب کچھ اللہ وحدہ لا شریک لہ کی ملکیت ہے‘ سب اس کے بندے اور سب اس کے حکم کے پابند ہیں‘ ہر چیز

صفحہ ۴۶

اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم ۴۶ گستاخ رسول کی شرعی حیثیت

اسی کے قبضہ و اختیار میں ہے‘ ارشاد ربانی ہے : لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اللہ ہی کے لئے ہے سب بادشاہی سب وَمَا فِيْهِنَّ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ o آسمانوں کی اور زمین کی اور جو کچھ ان میں (المائدہ : ۱۲۰) ہے اور وہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھنے والا ہے۔

مطالبۂ ایمان و عبادت

جب یہ حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی تنہا و یکتا ہمارا حقیقی مالک و خالق ہے اور وہی موت وحیات دینے والا ہے‘ ارشاد ربانی ہے : هُوَ الَّذِيْ يُحْيٖ وَ يُمِيْتُ وہی خدا پیدا فرماتا ہے اور وہی مارتا ہے۔

اور ہماری ابتداء وانتہاء اپنے خداوند کریم کے ہاں ہے‘ کسی دوسری ہستی کے ہاں سے نہ کسی کو وجود و کمال ملا ہے اور نہ ہی اللہ تعالیٰ کے سوا ہمارا کوئی مرکز رجوع ہے قرآن پاک میں ہے: ”والیہ المصیر اور اللہ ہی کے ہاں ٹھکانا ہے“ تو اس بناء پر اللہ تعالیٰ تمام انسانوں کو ایمان وعبادت کا حکم دیتا ہے کیونکہ صرف وہی عبادت کے لائق ومستحق ہے تو ارشاد فرمایا:

يٰاَيُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوْا رَبَّكُمُ الَّذِى اے لوگو ! عبادت کرو اپنے رب کی خَلَقَكُمْ وَالَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ جس نے پیدا فرمایا تمہیں اور جو تم سے پہلے تَتَّقُوْنَ o (البقرہ : ۲۱) تھے تاکہ تم پرہیز گار بن جاؤ۔

چونکہ عبادت ایمان پر موقوف ہوتی ہے اور ایمان عبادت پر مقدم ہوتا ہے تو مطلب یہ ہوا کہ ایمان لاکر عبادت کرو گویا اللہ تعالیٰ پوری انسانیت سے ایمان کا مطالبہ کرتا ہے اور اسلام کے بنیادی مقاصد‘ توحید‘ صداقت قرآن اور حقانیت نبوت وغیرہ پر ایمان لانے کی دعوت دے رہا ہے۔

اسلام چونکہ عالمگیر دین ہے اس لئے تمام انسانوں کو خطاب فرمایا اور ایمان وعبادت کا سب کو پابند و مامور فرمایا۔

صفحہ ۴۷

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت ۴۷ اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم

ایمان محبوب ہے کفر مردود ہے

اللہ پاک کے ہاں ایمان محبوب و پسندیدہ ہے اور ایمان کو اہل ایمان کے لئے اللہ نے حسین و جمیل بنا دیا ہے اور ایمان کی ضد و مقابل کفر کو نا پسندیدہ و قابل نفرت بنایا ہے۔

قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:

وَلٰكِنَّ اللّٰهَ حَبَّبَ اِلَيْكُمُ الْاِيْمَانَ اور لیکن اللہ تعالیٰ نے محبوب بنا دیا ہے وَزَيَّنَهٗ فِیْ قُلُوْبِكُمْ وَكَرَّهَ اِلَيْكُمُ الْكُفْرَ تمہارے لئے ایمان کو، آراستہ کر دیا ہے وَالْفُسُوْقَ وَالْعِصْيَانَ ط اُولٰٓئِكَ هُمُ اسے تمہارے دلوں میں اور قابل نفرت بنا الرّٰشِدُوْنَ ٥ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَنِعْمَةً ط دیا ہے تمہارے لئے کفر، فسق اور نافرمانی وَاللّٰهُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ ٥ (الحجرات : ٧،٨) کو، یہی لوگ راہ حق پر ثابت قدم ہیں (یہ سب کچھ) محض اللہ کا فضل اور انعام ہے اور اللہ سب کچھ جاننے والا بڑا دانا ہے۔

صاف واضح ہے کہ ایمان اللہ تعالیٰ کو محبوب و مقبول ہے اور کفر اللہ کے ہاں مبغوض و نامقبول ہے اور صحابہ کرام، اہلبیت عظام و ازواج مطہرات علیہم الرضوان کی نگاہوں میں ایمان کو محبوب و حسین و جمیل اللہ تعالیٰ نے بنا دیا تھا ورنہ بندہ بذات خود اس مرتبہ کو حاصل نہیں کر سکتا ہے اور ایمان پر استقامت اور کفر سے نفرت احسان خداوندی کی انتہا ہے اسی لئے اس مرتبہ کو فضل و نعمت قرار دیا گیا۔

ایمان ایک ایسی حقیقت ہے جس کی بدولت دنیا میں حیات طیبہ، پاکیزہ زندگی نصیب ہوتی ہے اور آخرت میں جنت اور جنت کی نعمتیں اور پھر جنت میں بھی حیات ابدی ملے گی، اس سے بڑھ کر انسان کے لئے بڑا اعزاز و اکرام اور کیا ہو سکتا ہے۔ قرآن پاک اس حقیقت کو ان الفاظ میں بیان کرتا ہے:

وَمَنْ يُّؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ وَ يَعْمَلْ صَالِحًا اور جو اللہ پر ایمان لائے اور اچھا کام يُّدْخِلْهٗ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا کرے وہ اسے باغوں (جنتوں) میں لے الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَآ اَبَدًا ط قَدْ اَحْسَنَ جائے گا جن کے نیچے نہریں بہیں جن میں اللّٰهُ لَهٗ رِزْقًا ٥ (الطلاق: ١١) ہمیشہ ہمیشہ رہیں بے شک اللہ نے اس کے لئے اچھی روزی رکھی۔

صفحہ ۴۸

اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم ۴۸ گستاخ رسول کی شرعی حیثیت

اللہ تعالیٰ اہل ایمان پر استقامت، ثابت قدم رہنے کا حکم دیتا ہے اس لئے کہ ایمان لانے کے بعد ایک مومن کو اپنا ایمان بچانا ضروری ہو جاتا ہے اور اسلام و ایمان کے خلاف جتنی متصادم قوتیں ہوں ان سب کا مقابلہ بھی کرنا پڑ جاتا ہے اور یہ مقابلہ ایمان پر ثابت قدمی سے انجام پذیر ہو سکتا ہے۔ اس مقام پر پہنچ کر اہل ایمان، کامل ایمان بھی ہو جاتا ہے اور قابل نصرت بھی ہو جاتا ہے۔ قرآن پاک میں ہے:

يٰاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ وَالْكِتٰبِ الَّذِيْ نَزَّلَ عَلٰى رَسُوْلِهٖ وَالْكِتٰبِ الَّذِيْ اَنْزَلَ مِنْ قَبْلُ

(النساء:۱۳۶)

اے ایمان والو! ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول پر اور اس کتاب پر جو نازل فرمائی ہے اللہ نے اپنے رسول پر اور اس کتاب پر جو نازل کی اس سے پہلے۔

اللہ تعالیٰ اسلام میں اہل ایمان کو پورا پورا داخل ہونے اور مکمل طور پر اسلام میں ہمیشہ کے لئے رہنے کا حکم دیتا ہے ایسا نہ ہو کہ ایمان لانے کے بعد کفر و ارتداد میں نہ گر پڑیں جس کا بدترین انجام دنیا و آخرت میں اٹھانا پڑے ارشاد ربانی ہوتا ہے:

يٰاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِي السِّلْمِ كَآفَّةً وَّلَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّيْطٰنِ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِيْنٌ O

(البقرہ:۲۰۸)

اے ایمان والو! داخل ہو اسلام میں پورے پورے اور نہ چلو شیطان کے قدم پر بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔

یعنی اسلام کو غیر مشروط طور پر اطاعت وتسلیم کے لئے اختیار کرو کیونکہ اسلام دین مستقل ضابطہ حیات اور مکمل دستور العمل ہے اسلام کے اپنے عقائد اور اصول ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ضروری قرار دیئے ہیں، ان میں انکار و ترمیم کی گنجائش کسی فرد، جماعت اور اسلامی ریاست کو بھی حاصل نہیں ہے:

اِنَّ الدِّيْنَ عِنْدَ اللّٰهِ الْاِسْلَامِ

بے شک دین اللہ کے نزدیک صرف اسلام ہی ہے۔

اسلام کے عقائد ضروریہ وہی ہیں جن کی تبلیغ سابقہ انبیاء کرام علیہم السلام اپنی اپنی امتوں کو فرماتے رہے۔ چونکہ انبیائے کرام علیہم السلام کا سلسلہ ہمارے نبی کریم حضرت سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ پر ختم فرما دیا گیا ۔ اب آپ کے بعد نئی نبوت و رسالت اور نئی شریعت کا دروازہ ہمیشہ کے لئے بند ہو چکا ہے اور اسلام تمام خوبیوں کا عالمگیر دین بن کر

صفحہ ۴۹

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم

قیامت تک قائم رہے گا۔ اسلام صرف چند عبادتوں کا نام نہیں بلکہ عبادت‘ عقائد‘ معاملات اور سیاست وغیرہ کا جامع دستور ہے اور موجودہ دور میں اسلام حکومت اسلامی کی صورت میں بھی نافذ العمل ہے ۔ اسلام میں سیاست اور مذہب دو الگ راستے اور دو جدا گانہ مقاصد نہیں ہیں بلکہ مذہب و سیاست دونوں ایک دوسرے سے الگ نہیں ہو سکتے ہیں کیونکہ اسلام فرد و جماعت اور حاکم و محکوم کی اصلاح کرتا ہے اور قیامت کے دن فلاح و نجات کی ضمانت دیتا ہے۔

دین اسلام میں ایمان کے چند بنیادی اجزاء ہیں

اجزائے ایمان جن پر ایمان لائے بغیر کوئی انسان اہل ایمان نہیں ہو سکتا ہے اور ایسے ہی سابقہ انبیاء کرام علیہم السلام میں سے کسی ایک کا انکار سب نبیوں کا انکار ہوتا ہے‘ فرق و امتیاز انبیاء کرام علیہم السلام کے درمیان نفس نبوت و رسالت کے اعتبار سے کرنا‘ اسلام اس کو رد کرتا ہے ہاں مراتب و عموم رسالت اور خصوصیات کے اعتبار سے افضلیت کے پہلو ملحوظ ہیں لیکن اسلام میں ایمان کے چند ایسے اجزاء ہیں جن پر ایمان لانا ضروری ہے جیسے اللہ تعالیٰ‘ ملائکہ‘ تمام آسمانی کتابیں‘ تمام رسولوں پر بلا استثناء ایمان لانا اور قیامت پر یقین رکھنا اور تقدیر پر ایمان رکھنا‘ یہ سب ضروریات دین ہیں‘ قرآن پاک کی اس آیہ کریمہ میں ضروریات دین کے چند امور اجمالاً ذکر ہوئے ہیں:

اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَیْہِ مِنْ ایمان لایا یہ رسول (کریم) اس (کتاب) رَّبِّہٖ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ كُلٌّ اٰمَنَ بِاللّٰهِ پر جو اتاری گئی اس کی طرف اس کے رب وَمَلٰٓئِكَتِہٖ وَ كُتُبِہٖ وَ رُسُلِہٖ لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ کی طرف سے اور (ایمان لائے) مومن یہ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِہٖ (البقرہ: ۲۸۵) سب مانتے ہیں اللہ کو اور اس کے فرشتوں کو اور اس کی کتابوں کو اور اس کے رسولوں کو (نیز یہ کہتے ہیں) ہم فرق نہیں کرتے کسی میں اس کے رسولوں سے۔

ایمان کے یہ ضروری امور مشہور حدیث جبریل علیہ السلام میں بھی آئے ہیں :

قال فاخبرنی عن الایمان قال عرض کیا (حضرت جبریل علیہ السلام ان تومن باللہ وملئکتہ و کتبہ نے) کہ مجھے ایمان کے متعلق بتائیے فرمایا

صفحہ ۵۰

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت ۵۰ اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم

ورسله واليوم الاخر وتومن بالقدر کہ اللہ اور اس کے فرشتوں‘ کتابوں‘ اس خیره وشره (متفق علیہ‘ مشکوٰۃ شریف) کے رسولوں اور آخری دن کو مانو اور اچھی بری تقدیر کو مانو۔

یہ مذکورہ عقائد ضروریات دین ہیں‘ ان پر ایمان لائے بغیر کوئی شخص مسلمان نہیں ہو سکتا ہے‘ ان میں سب کو بغیر کسی ایک کے مانتے ہوئے بھی مسلمان نہیں ہو سکتا‘ ان میں کسی ایک کا انکار سب کا انکار تصور ہو گا۔ ایمان کے ضروری دینی امور میں کسی قسم کی تفریق و ترمیم باطل اور کفر ہے:

اَفَتُؤْمِنُوْنَ بِبَعْضِ الْكِتٰبِ تو کیا تم ایمان لاتے ہو کتاب کے کچھ وَتَكْفُرُوْنَ بِبَعْضٍ فَمَا جَزَاءُ مَنْ يَّفْعَلُ حصہ پر اور انکار کرتے ہو کچھ حصہ کا‘ (تم ذٰلِكَ مِنْكُمْ اِلَّا خِزْيٌ فِي الْحَيٰوةِ خود ہی کہو) کیا سزا ہے ایسے نابکار کی تم میں الدُّنْيَا وَيَوْمَ الْقِيٰمَةِ يُرَدُّوْنَ اِلٰى اَشَدِّ سے سوائے اس کے کہ رسوا رہے دنیا کی الْعَذَابِ وَمَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا زندگی میں اور قیامت کے دن تو انہیں تَعْمَلُوْنَ (البقرہ: ۸۵) پھینک دیا جائے گا سخت ترین عذاب میں اور اللہ بے خبر نہیں ان (کرتوتوں) سے جو تم کرتے ہو۔

ضروریات دین میں تفریق کفر ہے

ایمان سے متعلق ضروریات دین میں تفریق کفر ہے مثلاً اللہ کو تو مان لیا جائے اور رسولوں کا انکار کیا جائے یا رسولوں (علیہم السلام) کی اہانت و گستاخی کی جائے تو اس کو قرآن مجید نے صراحۃً کفر قرار دیا ہے۔

اِنَّ الَّذِيْنَ يَكْفُرُوْنَ بِاللّٰهِ وَ رُسُلِہٖ بے شک جو لوگ کفر کرتے ہیں اللہ وَ يُرِيْدُوْنَ اَنْ يُّفَرِّقُوْا بَيْنَ اللّٰهِ وَرُسُلِہٖ تعالیٰ اور اس کے رسولوں کے ساتھ اور چاہتے وَ يَقُوْلُوْنَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَّنَكْفُرُ بِبَعْضٍ ہیں کہ فرق کریں اللہ اور اس کے رسولوں کے وَّ يُرِيْدُوْنَ اَنْ يَّتَّخِذُوْا بَيْنَ ذٰلِكَ درمیان اور کہتے ہیں ہم ایمان لائے ہیں سَبِيْلًا o اُولٰٓئِكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ حَقًّا بعض رسولوں پر اور ہم کفر کرتے ہیں بعض وَ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِيْنَ عَذَابًا مُّهِيْنًا o کے ساتھ اور چاہتے ہیں کہ اختیار کر لیں کفر و

گستاخ رسول کی شرعی

اس صراحت دین کی تصدیق و ت سے ثابت ہے اور ک نیز یہ بھی معلو کو الگ کرنا کفر کی اہانت کرنا ویسے ہی پیغمبروں اور آسمانی ک دینیہ کو بلا استثناء دل وَ الَّذِيْنَ اٰمَ يُفَرِّقُوْا بَيْنَ اَحَدٍ يُؤْتِيْهِمْ اُجُوْرَہُ رَّحِيْمًا o (النساء: اس سے صر فرق و امتیاز نہیں ک لاتے ہیں اور انہیں لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ مُسْلِمُوْنَ o (البقر ان آیات م ہے اور ان ضروریا ارتداد ہے۔

صفحہ ۵۱

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت ۵۱ اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم

ایمان کے درمیان کوئی (تیسری) راہ یہی لوگ

(النساء ۱۵۰-۱۵۱)

کافر ہیں حقیقت میں اور ہم نے تیار کر رکھا ہے کافروں کے لئے عذاب رسوا کرنے والا۔

اس صراحت سے واضح ہو گیا کہ اہل ایمان کا یہ عقیدہ قطعی ہے کہ تمام ضروریات دین کی تصدیق و تسلیم سے انسان مومن و مسلمان بن سکتا ہے جو اس نص قرآن کی صراحت سے ثابت ہے اور کسی ایک ضروری عقیدہ کے انکار و تفریق سے کفر واضح ہو جاتا ہے۔

نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ و رسول کو ملانا ایمان بلکہ ایمان کی جان ہے اور اللہ و رسول کو الگ کرنا کفر کی بات ہے یعنی سب پر ایمان لانا ضروری ہے۔ ایک پیغمبر کا انکار یا اہانت کرنا ویسے ہی کفر ہے جیسے سارے پیغمبروں کا انکار و اہانت کفر ہے ایسے ہی تمام پیغمبروں اور آسمانی کتابوں اور فرشتوں اور آخرت کا انکار و اہانت کفر ہے اور ان ضروریات دینیہ کو بلا استثناء دل سے ماننے کا نام ایمان و ایقان ہے۔

وَالَّذِيْنَ آمَنُوْا بِاللَّهِ وَ رُسُلِهِ وَلَمْ اور جو لوگ ایمان لائے اللہ تعالیٰ اور يُفَرِّقُوْا بَيْنَ اَحَدٍ مِّنْهُمْ اُولٰئِكَ سَوْفَ اس کے (تمام) رسولوں کے ساتھ اور نہیں يُؤْتِيْهِمْ اُجُوْرَهُمْ وَ كَانَ اللَّهُ غَفُوْرًا فرق کیا انہوں نے کسی میں ان سے یہی رَّحِيْمًا O (النساء: ۱۵۲) لوگ ہیں کہ دے گا انہیں اللہ تعالیٰ ان کے اجر اور اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے۔

اس سے صریحاً ثابت ہوا کہ ایمان والے اللہ اور تمام رسولوں پر ایمان لانے میں فرق و امتیاز نہیں کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی تمام صفات کاملہ پر اور تمام رسولوں پر ایمان لاتے ہیں اور انہیں اس کا اجر عظیم ملے گا۔

لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ اَحَدٍ مِّنْهُمْ وَ نَحْنُ لَهُ نہیں فرق کرتے ہم کسی کے درمیان مُسْلِمُوْنَ O (البقره: ۱۳۶) ان (نبیوں) میں سے اور ہم اللہ کے فرمانبردار ہیں۔

ان آیات محکمہ مبارکہ سے واضح ہو گیا کہ ایمان تمام ضروریات دین کے ماننے کا نام ہے اور ان ضروریات دینیہ میں سے کسی ایک کا انکار سب کا انکار ہے اور یہ انکار کفر و ارتداد ہے۔

صفحہ ۵۲

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت ۵۲ اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم

آیة لا نفرق بین احد من رسلہ کے تحت مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ یہ عدم تفریق نبوت و رسالت کی حیثیت سے ہے، دوسری حیثیات مراتب و خصوصیات کے لحاظ سے نہیں ہے۔ اس آیت کے تحت روح المعانی پارہ ۳ میں ہے: لان المعتبرة عدم تفریق الرسالة دون الحیثیات بل معنی الآیة لا نفرق بین احد من رسله و بین احد من غیرہ فی النبوة. تفسیر کبیر ج ۲ صفحہ ۵۶۹ میں ہے: لان المعتبرة عدم التفریق من حیث الرسالة دون سائر الحیثیات الخاصة.

(تفسیر ابوالسعود)

لہٰذا نہ تو انبیاء کرام، رُسل عظام علیہم السلام کی نفس نبوت و رسالت میں کوئی فرق ہے اور نہ ہی کسی ایک نبی کو ذاتی نبی اور دوسرے نبی کو عرضی نبی کا فرق کرنا جائز ہے بلکہ سب نبیوں رسولوں پر بغیر کسی تفریق کے ایمان لانا ضروریات دین سے ہے، ذاتی و عرضی کا فرق باطل ہے، مراتب و خصوصیات کی زیادتی کا امتیاز باعث فضیلت وافضلیت جائز ہے۔

الخامس انه نهی عن التفضیل فی نفس النبوة لا فی ذوات الانبیاء علیہم السلام و عموم رسالتہم و زیادة خصالہم و قد قال تعالی تلک الرسل فضلنا بعضهم علی بعض

(عینی ج ۶ تحت باب الخصومات، فتح الباری ج ۶ ص ۳۴۶)

نبی کریم ﷺ نے نفس نبوت میں فضیلت دینے سے منع فرمایا، ذوات انبیاء علیہم السلام اور ان کے درمیان بلحاظ ان کی خصوصیات کی زیادتی کے ایک دوسرے سے افضلیت منع نہیں ہے کیونکہ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”یہ رسول ہیں کہ ہم نے ان میں ایک دوسرے پر افضل کیا“۔

حقیقت ایمان

هو التصدیق بما جاء به الرسول ایمان ان امور کی تصدیق کا نام ہے جو من عند الله تعالی ای تصدیق النبی اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئے یعنی اجمالی طور بالقلب فی جمیع ما علم بالضرورة پر حضور اکرم ﷺ کی دل سے تصدیق کرنا مجیئه به من عند الله اجمالا ہر اس چیز میں جو آپ اللہ کی طرف سے (شرح عقائد) لائے جس کا ثبوت آپ سے قطعی طور پر ہو۔

شریعت اسلامیہ کے عرف میں ایمان وہ سب کچھ تسلیم کر لینے اور اس پر اعتقاد و

صفحہ ۵۳

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم

یقین کر لینے سے عبارت ہے جسے حضور نبی اکرم ﷺ خدا تعالیٰ سے لائے اور اس کے بندوں کو پہنچایا اور جس کا خدا تعالیٰ کی طرف سے لانا یقین کے ساتھ معلوم ہو چکا ہو، یہ تسلیم واعتقاد اجمالی طور پر ہو یا یہ اعتقاد تسلیم تفصیلی طور پر ہو۔

یاد رہے کہ صرف اتنا جاننا یا یقین کرنا اور حق کو پہچان لینا مومن ہونے کے لئے کافی نہیں ہے جب تک کہ مرتبہ تصدیق تک (جس سے مراد یہاں یقین و تسلیم ہے) نہ مانا جائے ورنہ یہود وغیرہ آپ ﷺ کی صداقت و نبوت کو اور آپ کے نبی و رسول ہونے کو اچھی طرح جانتے تھے اس کے باوجود وہ ایمان کی تعریف سے خارج تھے، قرآن حکیم میں فرمایا:

جَحَدُوْا بِهَا وَ اسْتَيْقَنَتْهَا اور ان کے منکر ہوئے اور ان کے اَنْفُسُهُمْ. (النمل: ۱۴) دلوں میں ان کا یقین تھا۔

معلوم ہوا کہ نبی کی صداقت پر یقین کر لینا کافی نہیں بلکہ تصدیق قلبی کے ساتھ ساتھ تسلیم بھی کریں اور زبان سے جحود و انکار بھی نہ کریں بلکہ بوقت ضرورت ایمان کا زبان سے اقرار بھی کریں تاکہ اسلام و ایمان کے احکام جاری ہو سکیں۔

قرآن پاک میں دوسری جگہ فرمایا:

الَّذِيْنَ آتَيْنٰهُمُ الْكِتٰبَ يَعْرِفُوْنَهُ جنہیں ہم نے کتاب عطا فرمائی وہ اس كَمَا يَعْرِفُوْنَ اَبْنَاءَهُمْ. (البقرہ: ۱۴۶) نبی کو پہچانتے ہیں جیسے آدمی اپنے بیٹوں کو پہچانتا ہے۔

لہٰذا نبی کی پہچان ایمان نہیں بلکہ حضور کو ماننا ایمان ہے، جاننے اور ماننے میں فرق ہے جیسے باپ اپنے بیٹے کو دلائل سے جانتا ہے کہ یہ میرا بیٹا ہے، ایسے ہی کفار حضور ﷺ کو بے مثل کمالات و معجزات کے ذریعے جانتے ہیں کہ یہ سچے رسول ہیں لیکن حسد کی وجہ سے مانتے نہیں ہیں۔

معلوم ہوا کہ نبی ﷺ کو قلبی تصدیق و تسلیم اور زبانی اقرار کے ساتھ ماننے کا نام ایمان ہے بشرطیکہ اس کے باوجود شریعت میں جو چیزیں علامات کفر ہیں ان کا ارتکاب بھی نہ کیا جائے جیسے بتوں کو سجدہ کرنا اور گلے میں زنار باندھنا، ورنہ ایمان کے خلاف ارتکاب ہو گا۔ (ملاحظہ کریں اشعۃ اللمعات، کتاب الایمان)

صفحہ ۵۴

اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم گستاخ رسول کی شرعی حیثیت

نبی کریم ﷺ کی بتائی ہوئی تمام چیزوں پر یقین محکم رکھنے کا نام ایمان ہے۔ امام علامہ ابو جعفر بن محمد بن سلامۃ الازدی الطحاوی المصری الحنفی (المتوفی ۳۲۱ھ) اپنی کتاب عقیدۃ اہل السنۃ والجماعۃ میں ایمان کو بیان فرماتے ہیں: والايمان هو الاقرار باللسان ایمان بے شک زبان سے اقرار کرنا اور والتصديق بالجنان وان جميع ما دل سے تصدیق کرنا کہ تمام وہ کچھ جو اللہ انزل الله تعالى فى القرآن و جميع تعالیٰ نے قرآن میں نازل فرمایا اور تمام وہ ما صح عن رسوله من الشرع امور جو اس کے رسول سے شرع اور بیان صحیح والبيان كله حق طور پر ثابت ہیں، یہ سارا حق و سچ ہے۔

لہٰذا عقائدِ اسلام اور فرائض وغیرہ سب کو دل سے محکم یقین کے ساتھ ماننا ایمان ہے۔ ایمان اور کفر و ارتداد آپس میں ضدیں ہیں اور ایک دوسرے کے مقابل حقیقتیں ہیں، ایمان اگر اسلام کی ضروریاتِ دین کو ماننے (تصدیق وتسلیم) کا نام ہے تو اس کے مقابل انہیں عقائد قطعیہ و احکام قطعیہ (ضروریاتِ دینیہ) کے انکار کا نام کفر و ارتداد ہے اسی لئے قرآن پاک میں کفر و ارتداد کو ایمان کے منافی بیان کیا گیا ہے جس کا ذکر ہو چکا ہے۔

وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِايٰتِ اللّٰهِ وَلِقَائِهِ اور جن لوگوں نے انکار کیا اللہ تعالیٰ کی أُولٰئِكَ يَئِسُوْا مِنْ رَّحْمَتِي آیات کا اور اس کی ملاقات کا وہ لوگ مایوس وَأُولٰئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيْمٌ o ہو گئے ہیں میری رحمت سے اور وہی لوگ (العنکبوت: ۲۳) ہیں جن کے لئے دردناک عذاب ہے۔

اب یہی ملاقات جو آخرت میں ہوگی اور جس کا انکار کفر ہے، انہی آیاتِ الٰہیہ اور ملاقات خداوندی پر یقین رکھنے والوں کی تعریف اس آیت میں مذکور ہے:

مَنْ كَانَ يَرْجُوْا لِقَاءَ اللّٰهِ فَإِنَّ جو شخص امید رکھتا ہے اللہ تعالیٰ سے ملنے أَجَلَ اللّٰهِ لَآتٍ وَ هُوَ السَّمِيْعُ کی تو (وہ سن لے) کہ اللہ تعالیٰ کی ملاقات الْعَلِيْمُ o (العنکبوت: ۵) کا وقت ضرور آنے والا ہے اور وہی ہر بات کو سننے والا، ہر چیز کو جاننے والا ہے۔

آیات الٰہیہ (قرآن مجید) پر ایمان نہ لانے والے کافر ہی ہوتے ہیں۔ وَمَا يَجْحَدُ بِاٰیٰتِنَا إِلَّا الْكٰفِرُوْنَ o اور نہیں انکار کرتے ہیں ہماری آیتوں کا

صفحہ ۵۵

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت ۵۵ اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم

(العنکبوت: ۴۷) مگر کفار۔

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِنَا سَوْفَ نُصْلِيْهِمْ نَارًاط (النساء: ۵۶) بے شک جنہوں نے انکار کیا ہماری آیتوں کا ہم ڈال دیں گے انہیں آگ میں۔

اِنَّ الَّذِیْنَ يَكْفُرُوْنَ بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ وَ يُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّفَرِّقُوْا بَیْنَ اللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ وَ يَقُوْلُوْنَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَّ نَكْفُرُ بِبَعْضٍ وَّ یُرِیْدُوْنَ اَنْ يَّتَّخِذُوْا بَیْنَ ذٰلِكَ سَبِیْلًا لا اُولٰۤىِٕكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ حَقًّاۚ وَ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابًا مُّهِیْنًاط (النساء: ۱۵۰، ۱۵۱) وہ جو اللہ اور رسولوں کو نہیں مانتے اور چاہتے ہیں کہ اللہ سے اس کے رسولوں کو جدا کر دیں اور کہتے ہیں کہ ہم کسی پر ایمان لائے اور کسی کے منکر ہوئے اور چاہتے ہیں کہ ایمان و کفر کے درمیان کوئی (تیسری) راہ نکال لیں۔ یہی ہیں ٹھیک ٹھیک کافر اور ہم نے کافروں کے لیے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے۔

معلوم ہوا کہ اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لانا ضروری ہے اور ان میں کسی ایک کا انکار کرنا کفر ہے، اسلام اور کفر کے درمیان تیسرا راستہ اختیار کرنا یا اسلام و کفر کو اکٹھا کرنا، قرآن مجید اس کو کفر قرار دیتا ہے۔

نیز کسی ایک نبی کا انکار ایسا ہے جیسے سارے نبیوں کا انکار ہے اور اسی طرح کسی آیت کا انکار ایسا ہی ہوتا ہے جیسے قرآن کی سب آیتوں کا انکار ہے اور یہ بھی اچھی طرح واضح ہو گیا کہ ایمان اور کفر دو ایسی حقیقتیں ہیں جو ایک دوسرے کی ضد ہیں اور ایمان و کفر کے درمیان نہ کوئی تیسرا راستہ ہے نہ کوئی واسطہ ہے یعنی آدمی یا مسلمان ہو گا یا کافر ہو گا تیسری صورت کوئی نہیں کہ نہ مسلمان ہو نہ کافر۔

نفاق کفر ہے

زبان سے دعویٰ ایمان کرنا اور دل میں اسلام کا انکار کرنا نفاق کہلاتا ہے اور یہ خالص کفر ہے بلکہ ایسے لوگوں کے لئے جہنم کا سب سے نیچے کا طبقہ ہے:

اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ فِی الدَّرْكِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِ (النساء: ۱۴۵) تحقیق منافق جہنم کے بدترین گوشہ میں ڈالے جائیں گے۔

نبی کریم ﷺ کے زمانہ اقدس میں کچھ لوگ اس صفت کے اس نام کے ساتھ مشہور

صفحہ ۵۶

اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم گستاخ رسول کی شرعی حیثیت

ہوئے لیکن قرآن نے ان کے کفر باطنی کو ظاہر کر دیا تھا۔ نبی کریم ﷺ نے ایک ایک کو پہچانا اور فرما دیا کہ یہ منافق ہے۔ اب اس زمانہ میں کوئی منافق اعتقادی نہیں ہے‘ ہمارے سامنے جو اسلام کا اقرار کرے گا ہم اس کو مسلمان ہی سمجھیں گے جب تک اس کا کوئی فعل یا قول ایسا ظاہر نہ ہو جائے جو ایمان کے منافی ہو۔

شرک

شرک کا معنی غیر خدا کو واجب الوجود یا مستحق عبادت جاننا یعنی الوہیت میں دوسروں کو شریک کرنا (شرح عقائد) مسلمان کو مسلمان اور کافر کو کافر جاننا ضروریات دین سے ہے۔

اسلام میں کفر و ارتداد کا معیار کیا ہے؟

واضح ہو کہ کفر و ارتداد شریعت میں ایمان کی ضد ہیں اور یہ کفر و ارتداد اسی صورت میں عائد یا واقع ہوتے ہیں جبکہ اسلام کے کسی حکم قطعی سے کوئی شخص انکار کر دے اور حکم قطعی وہ ہے جس کا ثبوت قرآن کی نص قطعی سے ہو یا حدیث متواتر سے ہو اور ان احکام قطعیہ کو باشعور عوام اور خواص جانتے ہوں۔ ایسے احکام قطعیہ کو فقہاء کرام اور علماء عقائد (متکلمین) کے عرف میں ضروریات دین کہتے ہیں۔

(ضروریات دین وہ امور ہیں) جن کو هو مايعرف الخواص والعوام انه ان کی شہرت کی وجہ سے خواص و عوام سب من الدين كوجوب اعتقاد التوحيد ہی دین کی ضروری باتیں سمجھتے ہیں جیسے والرسالة والصلوات الخمس و توحید‘ رسالت‘ پانچ نمازیں اور اس کے مثل اخواتها يكفر منکره. (ردالمحتار ج ۱ ص ۲۶۴-۲۶۶) اور باتیں جن کا منکر کافر ہوتا ہے۔

ضروریات دین کا انکار باجماع امت مطلقاً کفر ہے‘ ناواقفیت و جہالت کو اس میں عذر قرار نہ دیا جائے گا اور نہ ہی کسی قسم کی تاویل سنی جائے گی۔ (فتاویٰ شامی ج ۳ ص ۳۰۹)

اصلی کافر اور مرتد و شاتم رسول کا فرق

اصلی کافر وہ لوگ ہوتے ہیں جو پیدائشی کافر خاندانوں میں پیدا ہوئے ہوں اور اسی

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت

کفری عقیدے پر عاقل بالغ داخل نہ ہوئے ہوں۔ اصل کفر

ہو۔

آخری قسم کے کفار کا کفار ہیں۔

مرتد

وہ کافر ہوتا ہے جو شر ایمان پر قائم ہو اور بعد میں ضروریات دین کے تمام ام اسلام میں اسے مرتد کہتے ہی

المرتد عرفا هو الر الاسلام. (النہر الفائق)

یعنی دین اسلام سے مرتد ہے۔

و ركن الردة اجراء على اللسان بعد و وشرائط صحتها العقل (فتاوی عالمگیری ج

یعنی مرتد اس شخص ک کفر بکے اور کلمہ کفر کو زبان

صفحہ ۵۷

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت ۵۷ اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم

کفری عقیدے پر عاقل بالغ ہونے کے بعد بھی قائم ہوں اور اسلام کے اندر شروع سے داخل نہ ہوئے ہوں۔ اصل کفار چند قسم کے ہیں۔

ہو۔

آخری قسم کے کفار کا قتل جائز اور پہلے قسموں کے کفار کا قتل حرام ہے‘ یہ سب اصل کفار ہیں۔

مرتد

وہ کافر ہوتا ہے جو شروع زندگی سے مسلمان خاندان میں پیدا ہوا ہو‘ عاقل بالغ ہو کر ایمان پر قائم ہو اور بعد میں عقل رکھتے ہوئے سارے اسلام و ایمان کا انکار کر دے یا ضروریات دین کے تمام امور میں سے بعض سے رجوع و انکار کر دے تو شریعت و قانونِ اسلام میں اسے مرتد کہتے ہیں:

المرتد عرفا هو الراجع عن دين مرتد (شرعی) عرف میں وہ شخص ہے جو الاسلام. (النہر الفائق) دین اسلام سے پھرنے والا ہو۔

یعنی دین اسلام سے رجوع کرنے والا‘ دین اسلام کو چھوڑنے والا‘ انکار کرنے والا مرتد ہے۔

و ركن الردة اجراء كلمة الكفر ردّۃ کا رکن ہے کفر کا کلمہ زبان پر جاری على اللسان بعد وجود الايمان کرنا ایمان موجود ہونے کے بعد اور ردّۃ وشرائط صحتها العقل کے صحیح ہونے کی شرط عقل کا ہونا ہے۔

(فتاویٰ عالمگیری‘ باب احکام المرتدین)

یعنی مرتد اس شخص کو کہا جائے گا جو عقلمند اہل ایمان ہوتے ہوئے اپنی زبان سے کلمۂ کفر بکے‘ اور کلمۂ کفر کو زبان پر جاری کر دے۔

صفحہ ۵۸

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت ۵۸ اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم

شاتم رسول ﷺ

شاتم اور ساب وہ شخص ہوتا ہے جو نبی کریم ﷺ کی تحقیر و تنقیص کرے اور آپ ﷺ کو شتم و سب کرے یعنی گالیاں دے اور حضور نبی کریم ﷺ کو اذیت پہنچائے اور ہتک عزت کرے (نعوذ بالله من ذلک)

نوٹ: سب کفروں سے بڑھ کر کفر شتم و سب رسول ﷺ ہی ہے اور یہ شتم و سب رسول تمام فتنوں سے بڑھ کر فتنہ ہو جاتا ہے لہٰذا اس کی سزا وعقوبت بھی بطورِ حد ہو گی بطورِ تعزیر نہ ہو گی اور سب جرموں سے اہانت و سبّ رسول اللہ ﷺ بدترین جرم ہے اور شتمِ رسول عام کفر سے زائد جنایت و جرم ہے بلکہ یہ جرموں کا جرم ہے اس کی سزا وعقوبت بھی بطورِ حد سب عقوبتوں سے بڑھ کر ہے لہٰذا اہانت رسول ﷺ کا مرتکب مباح الدم ہوتا ہے اور ایسے بدترین مجرم کے خون کو بہانے والا سب سے بڑا مجاہد ہوتا ہے اور گستاخِ رسول کو قتل کرنے کی نیکی سب نیکیوں سے بڑھ کر نیکی ہے اور افضل الاعمال وافضل الجہاد گستاخِ رسول کو قتل کرنا ہے۔

(الصارم المسلول‘ از ابن تیمیہؒ ص ۲۹۱)

شاتم رسول ﷺ کی سزا صرف اور صرف قتل ہی ہے، نبی اکرم ﷺ کی توہین و تحقیر کرنے والے کی توبہ امتِ مسلمہ کے نزدیک قبول نہیں ہو گی تنقیص و تحقیر کرنے والا شاتم رسول اللہ ﷺ اگر توبہ کرے تو اس کا معاملہ اللہ تعالیٰ اور اس کے درمیان ہو گا‘ خداوند کریم اس کی توبہ رد کرے یا قبول فرمائے لیکن سزا اسے ضرور دی جائے گی یعنی اسے قتل کرنا واجب اور ضروری ہو گا اور یہ اسلامی حکومت کی ذمہ داری ہو گی کہ رسول اللہ ﷺ کی عزت و ناموس کا تحفظ کرے اور اگر اسلامی حکومت کسی وجہ سے یہ فرض ادا نہ کر سکے تو امتِ مسلمہ کو یہ حق حاصل رہے گا کہ وہ شاتم رسول کو قتل کر دیں تا کہ اس عظیم فتنہ کو پھیلانے والوں سے اللہ کی زمین پاک ہو جائے اور اس فتنہ و فساد سے اہل دنیا کو محفوظ کرایا جا سکے (اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کو اس فتنہ سے محفوظ رکھے)۔

مرتد کی سزا قرآن مجید میں واضح طور پر موجود ہے

فَاِنْ تَابُوْا وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا پھر اگر وہ لوگ (کفر سے) توبہ کر لیں الزَّكٰوةَ فَاِخْوَانُكُمْ فِی الدِّيْنِ وَ نُفَصِّلُ اور نماز قائم کریں اور زکوۃ دیں تو تمہارے

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت

الْآيٰتِ لِقَوْمٍ يَّعْلَمُوْنَ O اَيْمَانَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ عَهْدِهِمْ وَ دِيْنِكُمْ فَقَاتِلُوْا اَئِمَّةَ الْكُـ اَيْمَانَ لَهُمْ لَعَلَّهُمْ يَنْتَهُوْنَ O

تشریح

ان آیات مبارکہ سے اسلام پر (جو سچا دین ہے اور ضابطۂ حیات اور ذریعۂ نجات عہد اور ذمہ ٹوٹ جائے گا اور مراد اقرارِ اسلام سے پھر جانا سے پھر جانا ارتداد ہوتا ہے اور فَقَاتِلُوْا اَئِمَّةَ الْكُفْرِ (ال

اور اسلام میں جہاد کا جائے بلکہ اسلامی جہاد سے دفاع کیا جائے اور اسلام و واضح ہو گیا کہ قرآن حقیقی جہاد ہے اور اس جہاد کو خرچ کرنے کے مکلف و جاری رکھی جائے جب تک لیڈرانِ کفر باز نہ آئیں تو مسل

صفحہ ۵۹

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت ۵۹ اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم

الْاٰيٰتِ لِقَوْمٍ يَّعْلَمُوْنَ O وَاِنْ نَّكَثُوْا اَيْمَانَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ عَهْدِهِمْ وَ طَعَنُوْا فِيْ دِيْنِكُمْ فَقَاتِلُوْا اَئِمَّةَ الْكُفْرِ اِنَّهُمْ لَا اَيْمَانَ لَهُمْ لَعَلَّهُمْ يَنْتَهُوْنَ O

(التوبہ: ۱۱-۱۲)

دینی بھائی ہیں، ہم اپنے احکام ان لوگوں کے لئے واضح طور پر بیان کر رہے ہیں جو جاننے والے ہیں لیکن اگر وہ عہد (قبول اسلام کا) کرنے کے بعد اپنی قسموں کو توڑ دیں اور تمہارے دین پر زبان طعن دراز کریں تو پھر کفر کے لیڈروں سے جنگ کرو کیونکہ ان کی قسموں کا کوئی اعتبار نہیں شاید کہ وہ اس طرح باز آ جائیں۔

تشریح

ان آیات مبارکہ سے ثابت ہے کہ جو لوگ نبی کریم ﷺ کی گستاخی کرتے ہیں یا اسلام پر (جو سچا دین ہے اور ہر خوبی و ہدایات کا جامع ہے اور ہر دور کے انسانوں کے لئے ضابطۂ حیات اور ذریعۂ نجات ہے) بے بنیاد‘ بیہودہ اعتراضات کا منہ کھولے تو ایسے لوگوں کا عہد اور ذمہ ٹوٹ جائے گا اور قرآن کی سیاق عبارت سے صراحت کے طور پر عہد شکنی سے مراد اقرار اسلام سے پھر جانا متعین ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اقرار اسلام کے بعد اسلام سے پھر جانا ارتداد ہوتا ہے اور ارتداد کے لیڈروں کے لئے صحیح طور پر ارشاد ربانی متصلا ہے:

فَقَاتِلُوْا اَئِمَّةَ الْكُفْرِ

(التوبہ: ۱۲)

تحریک ارتداد کے لیڈروں کو سب مل کر قتل کریں۔

اور اسلام میں جہاد کا مقصد یہ نہیں ہے کہ کفار کو فنا کیا جائے یا انہیں جبراً مسلمان بنایا جائے بلکہ اسلامی جہاد سے مقصود یہ ہے کہ اسلام کے خلاف جو سازشیں سر اٹھائیں ان کا دفاع کیا جائے اور اسلام دشمنی کے زور کو توڑا جائے۔

واضح ہو گیا کہ قرآن پاک میں ارتداد کے لیڈروں سے جنگ کرنا اور انہیں قتل کرنا حقیقی جہاد ہے اور اس جہاد یا اس جدوجہد کے لئے اہل ایمان تحریری‘ مادی‘ جسمانی قوتوں کو خرچ کرنے کے مکلف و پابند ہیں نیز کفر کے لیڈروں کے خلاف اس وقت تک جنگ جاری رکھی جائے جب تک وہ اسلام کے خلاف سازشوں سے باز نہ آئیں اور اگر مرتدین و لیڈران کفر باز نہ آئیں تو مسلمان مل کر انہیں قتل کریں‘ قرآن اعلان فرماتا ہے:

صفحہ ۶۰

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم

فَإِنْ تَوَلَّوْا فَخُذُوهُمْ وَاقْتُلُوهُمْ پھر اگر وہ (اسلام سے) منہ پھیریں تو حَيْثُ وَجَدْتُمُوهُمْ وَلَا تَتَّخِذُوا مِنْهُمْ انہیں پکڑو اور جہاں پاؤ قتل کرو ان میں کسی وَلِيًّا وَلَا نَصِيرًا (النساء: ۸۹) کو نہ دوست ٹھہراؤ نہ مددگار۔

اس سے معلوم ہوا کہ اسلام میں کافر مرتد اور بد مذہب کو دلی دوست بنانا حرام ہے اگرچہ وہ کلمہ پڑھتا ہو اور اپنے کو مسلمان کہتا ہو کیونکہ ضروریات دین میں سے کسی ایک امر کا انکار کفر و ارتداد ہوتا ہے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ اسلام میں مرتد کی سزا قتل ہے۔ اصل کافر کے لئے اسلام یا جزیہ یا قید یا قتل ہے مگر مرتد کے لئے اسلام یا قتل ہے:

قُلْ لِلْمُخَلَّفِينَ مِنَ الْأَعْرَابِ ان پیچھے رہ گئے ہوئے بدوی عربوں کو سَتُدْعَوْنَ إِلَى قَوْمٍ أُولِي بَأْسٍ شَدِيدٍ فرماؤ کہ عنقریب تم ایک سخت لڑائی والی قوم تُقَاتِلُونَهُمْ أَوْ يُسْلِمُونَ فَإِنْ تُطِيعُوا کی طرف بلائے جاؤ گے کہ ان سے لڑو یا وہ يُؤْتِكُمُ اللَّهُ أَجْرًا حَسَنًا وَإِنْ تَتَوَلَّوْا مسلمان ہو جائیں پھر اگر تم فرمان مانو گے كَمَا تَوَلَّيْتُمْ مِنْ قَبْلُ يُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا اللہ تمہیں اچھا ثواب دے گا اور اگر تم پھر أَلِيمًا (الفتح: ۱۶) جاؤ گے جیسے پہلے پھر گئے تو تمہیں درد ناک عذاب دے گا۔

یہ یمامہ والے قبیلہ بنی حنیفہ کے لوگ تھے جو مسیلمہ کذاب پر ایمان لا کر مرتد ہوئے تھے۔ خلافت صدیقی میں ان سے صحابہ کرام نے بالاتفاق جنگ کی جس میں بہت سے صحابہ کرام شہید ہوئے جن کی شہادت سے یہ خطرہ پیدا ہو گیا تھا کہ شاید کہیں قرآن مجید کی حفاظت قائم نہ رہ سکے اس خطرہ کے پیش نظر قرآن کریم جمع کیا گیا تاکہ کتابی شکل میں لاکر محفوظ رہے ان مرتدین کے ساتھ جنگ کر کے انہیں قتل کرنے کا حکم اس لئے دیا گیا کہ وہ لوگ مرتد ہو چکے تھے ایسے مرتدوں کے لئے سزا بطور حد قتل کرنا ہے یا وہ اسلام میں داخل ہو جائیں یا انہیں قتل کر دیا جائے۔ ان مرتدوں سے جزیہ قبول نہیں کیا جائے گا۔

معلوم ہوا کہ نبی کریم ﷺ کے زمانہ میں یا آپ کے بعد کسی نئے مدعی نبوت کو نبی ماننا کفر و ارتداد ہے جیسے کسی سابقہ انبیاء کرام علیہم السلام کا انکار یا ان کی اہانت و گستاخی کفر ارتداد ہوتا ہے اور مرتد کی سزا قتل ہے جس پر باجماع صحابہ کرام عملی صورت میں جنگ واقع ہوئی جس کے نتیجہ میں انہیں قتل کیا گیا۔

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت

خاص نکتہ

لفظ تولیتم سے معلوم ہوا کہ مر کا ساتھ چھوڑنے والے سخت عذاب والے مجاہدین حق بجانب اور اجر حسن کرنے والے افراد ہوں یا جماعتیں ہوں گے۔

اس آیت کریمہ کے حکم سے ض حق میں شریعت اسلامیہ کے تقاض گستاخوں کے بارے میں غلط فتو مداہنت کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔

قرآن کریم میں یہ بھی ہے ایمان لوگوں کو مرتد بنا لیا تھا کہ اس عبادت کرا لی تھی اور انہوں نے بچھڑ اور ان مرتدین کی سزا حضرت موسیٰ سزائے موت کو قرآن کریم میں بھی فَاقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ ذَلِكُمْ خَيْرٌ عِنْدَ بَارِئِكُمْ (البقره: ۵۴)

معلوم ہوا کہ مرتد کی سزا قتل اس کا یہ معنی ہے کہ ارتداد کی سزا سزائے موت کا انکار نہ کرو یہ تمہا

دوسرے مقام پر اہل ارتداد وَمَنْ يَرْتَدِدْ مِنْكُمْ عَن فَيَمُتْ وَهُوَ كَافِرٌ فَأُولَئِكَ حَبِ أَعْمَالُهُمْ فِي الدُّنْيَا وَال

صفحہ ٦١

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم

خاص نکتہ

لفظ تولیتم سے معلوم ہوا کہ مرتدین کے ساتھ جنگ و جہاد نہ کرنے والے، مجاہدین کا ساتھ چھوڑنے والے سخت عذاب کے مستحق ہیں یعنی مرتدین کے خلاف جنگ کرنے والے مجاہدین حق بجانب اور اجر حسن کے حقدار ہوتے ہیں، ان مجاہدین کے خلاف اتحاد کرنے والے افراد ہوں یا جماعتیں ہوں یا حکومتیں ہوں وہ سب سخت عذاب کے مستحق ہوں گے۔

اس آیت کریمہ کے حکم سے ضعیف الایمان لوگ عبرت حاصل کریں جو مرتدین کے حق میں شریعت اسلامیہ کے تقاضوں کو پورا کرنے سے گھبراتے ہیں یا مرتدین اور گستاخوں کے بارے میں غلط فتوے دیتے ہیں یا ضرورت اسلامی سے بڑھ کر نرمی و مداہنت کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔

قرآن کریم میں یہ بھی ہے کہ: سامری نامی شخص نے بنی اسرائیل کے بعض اہل ایمان لوگوں کو مرتد بنا لیا تھا کہ اس نے خود بھی اور دوسرے لوگوں سے بھی اس بچھڑے کی عبادت کرالی تھی اور انہوں نے بچھڑے کو معبود بنا لیا تھا جس کی وجہ سے وہ مرتد ہو چکے اور ان مرتدین کی سزا حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شریعت میں قتل ہی قرار پائی تھی۔ اس سزائے موت کو قرآن کریم میں بھی باقی رکھا گیا ہے، ارشاد ہے:

فَاقْتُلُوْا اَنْفُسَكُمْ ذٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ تو آپس میں ایک دوسرے کو قتل کرو یہ عِنْدَ بَارِئِكُمْ. (البقرہ:۵۴) تمہارے پیدا کرنے والے کے نزدیک تمہارے لئے بہتر ہے۔

معلوم ہوا کہ مرتد کی سزا قتل ہی ہے اور اس آیہ کریمہ میں خود کشی مراد نہیں ہے بلکہ اس کا یہ معنی ہے کہ ارتداد کی سزا یہ ہے کہ قتل کے لئے اپنے آپ کو پیش کرو اور ارتداد کی سزائے موت کا انکار نہ کرو، یہ تمہارے لئے بہتر ہے۔

دوسرے مقام پر اہل ارتداد کے بارے میں واضح ارشاد ہے:

وَمَنْ يَّرْتَدِدْ مِنْكُمْ عَنْ دِيْنِهٖ اور تم میں جو کوئی اپنے دین سے پھرے فَيَمُتْ وَ هُوَ كَافِرٌ فَاُولٰٓئِكَ حَبِطَتْ پھر کافر ہو کر مرے تو یہی وہ (بدنصیب) اَعْمَالُهُمْ فِى الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ ہیں کہ ضائع ہو گئے ان کے عمل دنیا و

صفحہ ۶۲

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت ۶۲ اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم

وَاُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ هُمْ فِيْهَا آخرت میں اور یہی دوزخی ہیں وہ اس میں خٰلِدُوْنَ (البقرہ:۲۱۷) ہمیشہ رہیں گے۔

احکام مرتدین

معلوم ہوا کہ ارتداد اتنا بڑا جرم ہے کہ اس سے تمام نیکیاں برباد ہو جاتی ہیں کافر اصلی کی نیکیاں اسلام قبول کرنے کے بعد قابل ثواب ہیں لیکن مرتد کی ساری نیکیاں دنیا میں اس طرح برباد ہو جاتی ہیں کہ اس کی عورت اس کے نکاح سے نکل جاتی ہے، رشتہ داروں کی وراثت سے محروم ہو جاتا ہے اور اس کا مال، غنیمت کا مال بن جاتا ہے خاص کر اس کے قتل کا حکم یقینی ہو جاتا ہے اور اس کے ساتھ محبت و دوستی کے سارے رشتے اور تعلقات حرام ہو جاتے ہیں اور اس کی کسی طرح کی مدد کرنا جائز نہیں رہتا اور آخرت میں اس کی ساری نیکیاں اس قابل نہیں رہ جاتی ہیں کہ ان پر کوئی جزاء دی جاسکے کیونکہ جب ایمان ہی باقی نہ رہا تو اعمال اور ان کی جزاء کب باقی رہ سکتی ہے۔

یہ بھی یاد رہے کہ عام مرتد جو کسی دینی ضروری امر کا انکار کر دے تو اس کی توبہ دنیا میں قبول اس طرح ہو سکتی ہے کہ وہ کلمہ پڑھ کر دوبارہ مخلصانہ طور پر اسلام لے آئے اور آئندہ کے لئے ارتداد سے بچا رہے اور جو کچھ اس نے اسلام کے خلاف کیا ہو اسے مٹائے لیکن جو مرتد نبی اکرم ﷺ کو اذیت پہنچائے یا آپ کی تنقیص شان کرے یا آپ پر طعن کرے یا آپ کی عیب جوئی کرے تو ایسے مرتد کا خاص حکم یہ ہے کہ اس کو قتل ہی کیا جائے گا، اس کی توبہ دنیا میں قبول نہیں ہے اور نہ ہی ایسے گستاخ و مرتد سے کوئی رعایت روا رکھی جائے گی۔

اللہ تعالیٰ کا یہ قانون ہے کہ وہ نبی اکرم ﷺ کی توہین و تحقیر اور آپ کی شان اقدس میں طعن و اذیت کو اپنی ہی شان میں توہین و تحقیر اور طعن و اذیت قرار دیتا ہے:

وَمِنْهُمُ الَّذِيْنَ يُؤْذُوْنَ النَّبِيَّ وَ اور ان میں کوئی وہ ہیں کہ نبی کو ستاتے يَقُوْلُوْنَ هُوَ اُذُنٌ ۙ قُلْ اُذُنُ خَيْرٍ لَّكُمْ ہیں اور کہتے ہیں وہ تو کان ہیں، تم فرماؤ! يُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَيُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِيْنَ وَ تمہارے بھلے کے لئے کان ہیں، اللہ پر رَحْمَةٌ لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ ایمان لاتے ہیں اور مسلمانوں کی بات پر (التوبہ:۶۱) یقین کرتے ہیں اور جو تم میں مسلمان ہیں ان کے واسطے رحمت ہیں۔

صفحہ ۶۳

اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم گستاخ رسول کی شرعی حیثیت

منافقین اپنی جداگانہ محافل میں نبی اکرم ﷺ کی شانِ اقدس میں جداگانہ باتیں کرتے رہتے تو بعض کہتے کہ ہوشیار رہنا ان تک تمہاری بات نہ پہنچے تو اس پر جلاس بن سوید بولا کوئی نہیں اگر ان تک بات پہنچی تو ہم اپنی گستاخی سے انکار کر دیں گے اور قسم کھا جائیں گے وہ تو نرے کان ہیں یعنی ہر ایک کی بات مان لیتے ہیں تو اس گستاخی پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت مبارکہ نازل فرمائی کہ یہ نبی رحمت ہیں کریم ہیں پردہ پوش ہیں یہ ہر بات مانتے نہیں ہیں بلکہ وہ باتوں پر پردہ ڈالتے ہیں اور اس میں تمہارا بھلا ہے ورنہ اگر عیبوں کو ظاہر کرنا شروع کر دیں تو تم میں سے کوئی بھی نہیں بچے گا، وہ اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور اہل ایمان کی باتوں پر یقین کرتے ہیں، ان کی خاموشی بھی رحمت ہے، ان کا بولنا بھی رحمت و ہدایت ہے۔ اب اس گستاخی پر نبی کریم ﷺ کو اذیت پہنچی جس کو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا مزید ارشاد فرمایا:

وَالَّذِيْنَ يُؤْذُوْنَ رَسُوْلَ اللّٰهِ لَهُمْ اور جو لوگ رسول اللہ کو ایذاء دیتے ہیں عَذَابٌ اَلِیْمٌ ۝ (التوبہ: ۶۱) ان کے لئے درد ناک عذاب ہے۔

یہ آیت صراحۃً بیان کر رہی ہے کہ رسول اللہ کو جو اذیت دیتے ہیں ان کے لئے درد ناک عذاب ہے۔ اللہ نے آپ کی اذیت کو بیان کرتے وقت آپ کی صفتِ رسالت کو لا کر یہ واضح کر دیا کہ تم اذیت دینے والے محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب کو اذیت نہیں دے رہے ہو جو عربی قریشی ہاشمی مکی و مدنی کی نسبتوں کے حامل ہیں۔ اگر آپ کی شان یہاں تک محدود ہوتی تو پھر آپ پر وحی نہ اترتی نہ آپ رسالت و نبوت بلکہ ختم نبوت سے سرفراز ہوتے لیکن آپ تو رسول اللہ ہیں لہٰذا میرے رسول کو جو اذیت دے گا وہ براہِ راست مجھے اذیت دے گا اور رسول اللہ کو اذیت دینا کفر ہے اور کفر پر عذاب الیم کی سزا مقرر ہے۔ رسول اللہ کو اذیت دینا کفر ہے اور اگر امت مسلمہ کے اعمال بد سے اذیت آپ کو پہنچے تو یہ کفر نہیں ہے کہ اس میں اذیت دینا نہیں پایا جاتا ہے اور اس آیت میں ایذاء کا ذکر ہے یعنی آپ کو اذیت پہنچانا کفر و ارتداد ہے۔

اب آگے متصل آیا کہ یہ لوگ اللہ کی قسم کھا کر ثابت کرتے ہیں کہ تمہیں راضی کر دیں مگر ان کو معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ اور رسول کی اذیت و محاذات و عداوت ایک ہی نوعیت اور ایک ہی مرتبہ و جہت کی ہے، ان میں سزا بھی ایک ہی طرح کی ہوگی اور اسی طرح رضا

صفحہ ٦٤

اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم گستاخ رسول کی شرعی حیثیت

خوشنودی بھی ایک ہی مرتبہ اور ایک ہی جہت کی ہوتی ہے۔

يَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ لَكُمْ لِيُرْضُوْكُمْ تمہارے سامنے اللہ کی قسم کھاتے ہیں وَاللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗ اَحَقُّ اَنْ يُّرْضُوْهُ اِنْ کہ تمہیں راضی کر لیں اور اللہ اور رسول کا كَانُوْا مُؤْمِنِيْنَo (التوبہ: ٦٢) حق زائد تھا کہ اسے راضی کرتے اگر ایمان رکھتے تھے۔

اس آیت میں یرضوہ کی ”ہ“ ضمیر واحد ہے حالانکہ پہلے اللہ اور رسول دونوں کا ذکر آیا ہے‘ اس سے اشارہ کر دیا کہ رسول کی رضا ہی اللہ کی رضا ہے جیسے اس رسول کی اطاعت ہی اللہ کی اطاعت ہے ”ومن یطع الرسول فقد اطاع اللہ اور جس نے اس خاص رسول کی اطاعت کی تو اس نے اللہ کی اطاعت کر لی“ کیونکہ اللہ اور اس کے رسول دونوں کی اطاعت الگ الگ نہیں بلکہ دونوں کی اطاعت و رضا ایک ہی ہے اور ایک ہی نوعیت کی ہے اور اسی طرح ان دونوں کی اذیت و عداوت بھی ایک ہی مرتبہ و جہت کی ہے‘ ارشاد ہے:

اَلَمْ يَعْلَمُوْا اَنَّهٗ مَنْ يُّحَادِدِ اللّٰهَ کیا انہیں خبر نہیں کہ جو خلاف کرے اللہ وَرَسُوْلَهٗ فَاَنَّ لَهٗ نَارَ جَهَنَّمَ خَالِدًا فِيْهَا اور رسول کے تو اس کے لئے جہنم کی آگ ذٰلِكَ الْخِزْىُ الْعَظِيْمُo (التوبہ: ٦٣) ہے ہمیشہ اس میں رہے گا یہی بڑی رسوائی ہے۔

رسول کی مخالفت و عداوت اور ان کے خلاف کرنا حقیقت میں اللہ کی مخالفت و خلاف کرنا ہے کیونکہ رسول‘ اللہ کی نسبت سے ہوتے ہیں اور رسالت‘ خاص انعام الٰہی کا مرتبہ ہوتا ہے لہٰذا رسول کی مخالفت اللہ کی مخالفت ہے‘ ورنہ حقیقت میں اللہ کو کوئی نہ تو اذیت دے سکتا ہے اور نہ ہی اس کی مخالفت کی مجال ہے۔ لیکن رسول چونکہ اللہ تعالیٰ کے خلیفہ ہیں اور رسول قدرت الٰہی کے شاہکار اور مظہر اتم ہیں تو رسول کی مخالفت اصل میں اللہ کی مخالفت قرار پاتی ہے اور اللہ و رسول کی مخالفت کی سزا یہ ہے کہ قیامت میں ہمیشہ کے لئے جہنم میں رہیں گے اور ان کی بڑی رسوائی ہوگی کہ رسول کی اذیت و عداوت سب سے بڑا کفر و ارتداد ہوتا ہے اور رسول کی اذیت کی سزا دنیا میں لعنت ہے اور آخرت میں بھی لعنت ہے اور لعنت خداوند کریم کی رحمت سے دور کر دینے کا نام ہے اور رحمت سے

صفحہ ۶۵

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم

دور وہی لوگ ہوتے ہیں جو کافر و مرتد ہو جاتے ہیں اور یہ بھی معلوم ہوا کہ رسول کی ادنیٰ مخالفت واذیت بھی کفر و ارتداد ہے اور رسول کی مخالفت کا وہی درجہ ہے جو اللہ کی مخالفت کا درجہ ہے۔

حضور ﷺ کا مذاق اڑانا توہین کرنا حقیقت میں اللہ تعالیٰ ہی کا مذاق اڑانا اور توہین کرنا ہے اور رسول کریم ﷺ کی گستاخی کفر و ارتداد ہے۔

قُلْ اَبِا للّٰهِ وَ اٰیٰتِهٖ وَ رَسُوْلِهٖ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِءُوْنَ o لَا تَعْتَذِرُوْا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ اِیْمَانِكُمْ.

(التوبۃ: ۶۶،۶۵)

تم فرماؤ کیا اللہ اور اس کی آیتوں اور اس کے رسول سے ہنستے ہو بہانے نہ بناؤ تم کافر ہو چکے مسلمان ہو کر۔

معلوم ہوا کہ حضور ﷺ کی توہین اللہ کی توہین ہے۔ اصل میں منافقوں نے رسول اکرم ﷺ کی توہین کی تھی مگر اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

اَبِا للّٰهِ وَ اٰیٰتِهٖ وَ رَسُوْلِهٖ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِءُوْنَ.

(التوبۃ: ۶۵)

تم اللہ اور اُس کی آیتوں اور اس کے رسول سے ہنستے ہو۔

حضور علیہ السلام کی توہین اللہ اور اس کی آیتوں کی توہین ہوتی ہے۔ حضور کی گستاخی کفر و ارتداد ہے اگرچہ گستاخی کی نیت نہ بھی ہو صرف استہزاء ہی کفر ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کریم علیہ السلام پر زبان طعن کو بھی اپنی ذات واجب الوجود پر طعن قرار دیا ہے اور حضور علیہ السلام کی تقسیم کو اپنی تقسیم فرمایا اور آپ کی تقسیم پر اعتراض کو اپنی ذات پر اعتراض ٹھہرایا ہے۔

وَ مِنْهُمْ مَّنْ يَّلْمِزُكَ فِى الصَّدَقٰتِ فَاِنْ اُعْطُوْا مِنْهَا رَضُوْا وَ اِنْ لَّمْ يُعْطَوْا مِنْهَا اِذَا هُمْ يَسْخَطُوْنَ o وَلَوْ اَنَّهُمْ رَضُوْا مَا اٰتٰهُمُ اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗ وَقَالُوْا حَسْبُنَا اللّٰهُ سَيُؤْتِيْنَا اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ وَ رَسُوْلُهٗ اِنَّا اِلَى اللّٰهِ رَاغِبُوْنَ o

(التوبۃ: ۵۸، ۵۹)

اور ان میں کوئی وہ ہے کہ صدقے بانٹنے میں تم پر طعن کرتا ہے تو اگر ان میں سے کچھ ملے تو راضی ہو جائیں اور نہ ملے تو جبھی وہ ناراض ہیں اور کیا اچھا ہوتا اگر وہ اس پر راضی ہوتے جو اللہ و رسول نے ان کو دیا اور کہتے ہمیں اللہ کافی ہے اب دیتا ہے اللہ اپنے فضل سے اور اللہ کا رسول، ہمیں اللہ ہی کی رغبت ہے۔

صفحہ ٦٦

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم

شان نزول

ایک دفعہ نبی کریم ﷺ غنیمت کا مال تقسیم فرما رہے تھے کہ ذوالخویصرہ نامی ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ آپ انصاف کریں، اس شخص کی اس گستاخی کو دیکھ کر عمر فاروق نے اسے قتل کرنے کی اجازت چاہی، کیونکہ دربار رسالت سے اجازت ضروری تھی، اگرچہ حضرت عمر فاروق نے دوسرے موقع پر جبکہ ایک برائے نام مسلمان نے آپ ﷺ کے فیصلہ کو رد کیا تو آپ نے اسے اس گستاخی پر جہنم رسید کر دیا تھا اور قرآن نے آپ کے اس فیصلہ کو برقرار رکھا تھا لیکن یہاں نبی کریم ﷺ نے آپ کو منع فرما دیا چنانچہ فرمایا کہ اس شخص کی پشت سے ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو تم سے بڑھ کر نمازی اور قرآن خواں ہوں گے مگر وہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر کمان سے تو اس گستاخ رسول کے متعلق یہ آیہ مبارکہ اتری۔

اس آیت سے معلوم ہوا کہ نبی کریم ﷺ اگر اپنے ذاتی مجرم کو چھوڑ دیں تو آپ کو یہ اختیار حاصل ہے کیونکہ آپ اخلاق عالیہ پر فائز تھے ۔ آپ نے اس کے عیب بیان فرما کر اسے چھوڑ دیا لیکن امت کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ مرتد کو سزائے موت نہ دے، اسی لئے نبی کریم ﷺ نے حضرت عمر فاروق کے ارادہ قتل کو برا نہیں فرمایا تھا۔

اس آیہ مبارکہ سے یہ بھی واضح ہوا کہ نبی کریم ﷺ کے فعل شریف پر اعتراض و طعن کرنا کفر و ارتداد ہے نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ حقیقت میں تو اللہ ہی کی عطا و انعام اور فضل - ہے لیکن رسول اکرم ﷺ چونکہ خلیفہ اعظم ہیں اور مظہر اتم تو حضور کی عطاء و انعام و فضل اللہ ہی کے ہیں اور یہاں فضل و عطاء ایک ہی قرار دیئے گئے ہیں۔

یاد رہے رسول اکرم ﷺ کی اہانت کرنا اور آپ کو اذیت دینا بلاواسطہ ہو یا بالواسطہ یہ کفر و ارتداد ہے اور حضور ﷺ کی اہانت و اذیت اللہ تعالیٰ ہی کی اہانت و اذیت ہے، ارشاد ہے:

وَمَا كَانَ لَكُمْ اَنْ تُؤْذُوْا رَسُوْلَ اللّٰهِ وَلَا اَنْ تَنْكِحُوْا اَزْوَاجَهُ مِنْۢ بَعْدِهٖ اَبَدًا ؕ اِنَّ ذٰلِكُمْ كَانَ عِنْدَ اللّٰهِ عَظِیْمًا O (الاحزاب: ۵۳)

اور تمہیں نہیں (حق) پہنچتا کہ رسول اللہ کو ایذاء دو اور نہ یہ کہ ان کے بعد کبھی ان کی بیبیوں سے نکاح کرو، بے شک یہ اللہ کے نزدیک بڑی سخت بات ہے۔

صفحہ ۶۷

اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم ۶۷ گستاخ رسول کی شرعی حیثیت

معلوم ہوا کہ ازواج مطہرات سے ہمیشہ کے لئے نکاح کرنا حرام قطعی ہے بلکہ نکاح کا ارادہ کرنا بھی حرام قطعی ہے اس لئے کہ اس سے رسول اکرم ﷺ کو اذیت ہوگی اور آپ کو اذیت پہنچانا کفر ہے ارتداد ہے اور اس کا سخت عذاب ہو گا کیونکہ ایسا جرم کرنا اللہ تعالیٰ کے نزدیک بڑی سخت بات و جرم ہے اور رسول اللہ ﷺ کو اذیت دینا اللہ ہی کو اذیت پہنچانا ہے:

اِنَّ الَّذِيْنَ يُؤْذُوْنَ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهُ بے شک جو ایذاء دیتے ہیں اللہ اور اس لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ وَاَعَدَّ کے رسول کو ان پر اللہ کی لعنت ہے دنیا اور لَهُمْ عَذَابًا مُّهِيْنًا o (الاحزاب: ۵۷) آخرت میں اور اللہ نے ان کے لئے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے۔

پھر ارشاد ہوتا ہے:

وَالَّذِيْنَ يُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِيْنَ اور جو ایمان والے مردوں اور عورتوں کو وَالْمُؤْمِنٰتِ بِغَيْرِ مَا اكْتَسَبُوْا فَقَدِ بے کئے ستاتے ہیں انہوں نے بہتان اور احْتَمَلُوْا بُهْتَانًا وَاِثْمًا مُّبِيْنًا o کھلا گناہ اپنے سر لیا۔

(الاحزاب: ۵۸)

ان آیات میں رسول کی اذیت کو اللہ نے اپنی اذیت بیان فرمایا کیونکہ رسول اللہ ﷺ کی رسالت اللہ کی عطاء و انعام ہوتی ہے تو رسالت کی جہت سے اذیت دینا یہ اللہ ہی کی اذیت ہے اس کی سزا دنیا و آخرت میں لعنت ہے اور دنیا کی لعنت ایسے مرتد کو قتل کرنا ہے اور عذاب مہین سے مراد ذلت کا عذاب ہے اور یہ دنیا میں مرتد کو قتل کرنا ہے آگے اس کی تفسیر دوسری آیت میں خود آئی ہے اور قرآن پاک کی آیات کی سب سے معتبر تفسیر یہ ہے کہ ایک آیت کی تفسیر دوسری آیت خود کر دے اس اعتبار سے دنیا میں لعنت اور عذاب مہین سے مراد مرتد و گستاخ کو قتل کر دینا ہے ملاحظہ ہو:

لَئِنْ لَّمْ يَنْتَهِ الْمُنٰفِقُوْنَ وَالَّذِيْنَ فِيْ اگر باز نہ آئے منافق اور جن کے دلوں قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ وَ الْمُرْجِفُوْنَ فِي میں روگ (حسد کی بیماری ہے) اور مدینہ الْمَدِيْنَةِ لَنُغْرِيَنَّكَ بِهِمْ ثُمَّ لَا میں جھوٹ اڑانے والے تو ضرور ہم تمہیں يُجَاوِرُوْنَكَ فِيْهَا اِلَّا قَلِيْلًا o ان پر قوت دیں گے پھر وہ مدینہ میں

صفحہ ۶۸

اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم گستاخ رسول کی شرعی حیثیت

تمہارے پاس نہ رہیں گے مگر تھوڑے دن مَلْعُونِيْنَ أَيْنَمَا ثُقِفُوْا أُخِذُوْا وَقُتِلُوْا پھٹکارے ہوئے جہاں کہیں ملیں پکڑے تَقْتِيْلًا o سُنَّةَ اللّٰهِ فِي الَّذِيْنَ خَلَوْا مِنْ جائیں اور گن گن کر قتل کئے جائیں‘ اللہ کا قَبْلُ وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللّٰهِ تَبْدِيْلًا o دستور چلا آتا ہے‘ ان لوگوں میں جو پہلے گزر

(الاحزاب: ۶۰‘۶۱‘۶۲)

گئے اور تم اللہ کا دستور ہرگز بدلتا نہ پاؤ گے۔

ان آیات سے واضح ہو گیا کہ اللہ کے رسول کی اہانت واذیت اللہ ہی کی اہانت و اذیت ہے اور مرتدوں پر اہل ایمان کو اللہ تعالیٰ ضروری غلبہ اور قوت عطا فرماتا ہے چاہے برطانیہ ہو یا یورپ و امریکہ ہو یا مشرق وسطیٰ‘ ایشیا ہو یا رشیا ہو‘ گستاخی فتنہ ہوتی ہے اور فتنہ قتل سے بڑا جرم ہوتا ہے اور گستاخی کے فتنہ کو ہر حکومت پر‘ اہل ایمان اور اہل انصاف کے لئے دبانا‘ ختم کرنا ضروری ہے تاکہ عالمی امن و سلامتی پائی جائے اور مدینہ منورہ کو منافقوں سے خالی کر دینے سے واضح ہو جاتا ہے کہ عدل و انصاف کا تقاضا ہے کہ کوئی حکومت اور کوئی شخص گستاخانِ انبیاء کرام علیہم السلام کی کچھ بھی حمایت نہ کرے بلکہ ان کی حمایت سے دور رہیں اور گستاخوں کو اپنی زمین سے نکال دیں‘ کسی حکومت یا کسی شخص کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ گستاخوں کی حمایت کر کے عالمی امن کو خطرے میں ڈال دیں بلکہ مرتد گستاخوں کو گرفتار کر لیا جائے چاہے اسلامی ملک میں ہوں‘ یا کسی غیر اسلامی ملک میں ان کو لازماً گرفتار کر لیا جائے‘ اللہ تعالیٰ نے اَیْنَمَا ثُقِفُوْا فرمایا کہ روئے زمین پر جہاں کہیں بھی ہوں پکڑ لئے جائیں اور گن گن کر خوب قتل کئے جائیں۔

ان جملوں میں صرف اسلامی حکومت کو خطاب نہیں ہے بلکہ ہر اہل انصاف ایسا کر سکتا ہے اور ہر اہل ایمان گستاخوں کو سزائے موت دے سکتا ہے تاکہ ان کے فتنے سے انسانیت کو امان ملے اور یہ کہ اللہ تعالیٰ اور رسولوں پر لوگوں کا ایمان و اعتماد کمزور نہ پڑ جائے۔

مرتد و گستاخ کو قتل کرنے کا حکم صرف اسلام میں ہی نہیں آیا ہے بلکہ پہلے دینوں میں بھی یہی دستور و قانون جاری رہا ہے۔ اگر اسلام سے قبل یہ قانون جاری رہا تو اسلام میں اس قانون پر عمل کرنے کو کیونکر معیوب سمجھا جا سکتا ہے۔

حضور نبی اکرم ﷺ کو بالواسطہ یا بلاواسطہ گالیاں دینا یا اذیت پہنچانا‘ طعن و تشنیع

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت کرنا یا آپ کے محبوب بندوں ا دینا یا کوئی آپ کے کسی فعل شری پر عیب لگائے‘ اس قسم کے لوگ دنیا و آخرت میں لعنت کے حقدا کی حد سزائے موت ہے اور اگر راست گستاخی کرے تو ایسے رسول کریم علیہ السلام کی نبت آپ کو صرف اللہ تعالیٰ ہی کی و اطاعت و بیعت یا اذیت کو ا کریم علیہ السلام کی اذیت و اہا حضور اکرم ﷺ کو گالی والا مرتد واجب القتل ہوتا آپ کی شان میں طعن کرنا او بڑھ کر معادات اور مشاقّت زیادہ سخت کفر ہے تو ایسا شخص کے رسول کے ساتھ محارب ہے اور اسے شاتم رسول کہا ج اور اس کے رسول کو گالیاں سزا بطور حد صرف قتل ہی ہے اِنَّ الَّذِيْنَ يُحَادُّوْنَ اُولٰۤئِكَ فِى الْاَذَلِّيْنَ o (ا

معلوم ہوا کہ رسول ہو گا لیکن رسول کی مخالفت کی مخالفت ہے کیونکہ رسو

صفحہ ۶۹

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت ۶۹ اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم

کرنا یا آپ کے محبوب بندوں اہلبیت، ازواج مطہرات و صحابہ کرام علیہم الرضوان کو گالیاں دینا یا کوئی آپ کے کسی فعل شریف کو ہلکی نگاہ سے دیکھے یا آپ کے ذکر خیر کو روکے یا آپ پر عیب لگائے، اس قسم کے لوگ دنیا و آخرت میں ذلت کے عذاب کے مستحق ہوں گے اور دنیا و آخرت میں لعنت کے حقدار ہوں گے تو نبی کریم ﷺ کو اذیت دینا یا اہانت کرنا، اس کی حد سزائے موت ہے اور اگر ازواج مطہرات اہلبیت عظام صحابہ کرام کی شان میں براہ راست گستاخی کرے تو ایسے شخص کو تعزیری سزا دی جائے گی کیونکہ ان محبوبوں کی عزت رسول کریم علیہ السلام کی نسبت اور واسطہ سے ہے اور رسول کریم کی عزت بلاواسطہ ہے، آپ کو صرف اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے عزت ملی ہے اسی لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کی رضاء و اطاعت و بیعت یا اذیت کو اپنی ہی رضا و اطاعت و بیعت اور اذیت قرار دیا ہے اور نبی کریم علیہ السلام کی اذیت و اہانت کی حد سزائے موت ہی ہے۔

حضور اکرم ﷺ کو گالیاں دینے والا اور آپ کی شان اقدس میں سب وشتم کرنے والا مرتد واجب القتل ہوتا ہے اگر چہ وہ کلمہ اسلام کا پڑھتا ہو کیونکہ آپ کو ایذاء دینا اور آپ کی شان میں طعن کرنا اور آپ سے عداوت کرنا کفر ہے، ارتداد ہے بلکہ عام کفر سے بڑھ کر معادات اور مشاقہ ہے اور یہ کفر ہے اور محاربت ہے اور یہ اہانت کفر محض سے زیادہ سخت کفر ہے تو ایسا شخص کافر ہے، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا دشمن ہے، اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ محارب ہے، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا محارب سخت قسم کا مرتد ہوتا ہے اور اسے شاتم رسول کہا جاتا ہے کیونکہ اس نے ضرورت دین کا انکار ہی نہیں کیا بلکہ اللہ اور اس کے رسول کو گالیاں دیں اور طعن کیا اور محاربانہ اذیت پہنچائی ہے، ایسے گستاخ کی سزا بطور حد صرف قتل ہی ہے، قرآن کا ارشاد ہے:

اِنَّ الَّذِيْنَ يُحَآدُّوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ بے شک وہ جو مخالفت کرتے ہیں اللہ اُولٰٓئِكَ فِي الْاَذَلِّيْنَ O (المجادلہ: ۲۰) اور اس کے رسول کی وہ سب سے زیادہ ذلیلوں میں ہیں۔

معلوم ہوا کہ رسول کی مخالفت اللہ ہی کی مخالفت ہے، اللہ کی مخالفت تو کوئی کم ہی کرتا ہوگا لیکن رسول کی مخالفت ہوتی رہی، رب نے فرمایا بس رسول کی مخالفت اصل میں اللہ ہی کی مخالفت ہے کیونکہ رسول، اللہ تعالیٰ ہی کا نائب ہوتا ہے اور رسول کی مخالفت بھی صرف

صفحہ ۷۰

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم

اس لیے کی جاتی ہے کہ رسول‘ اللہ کی توحید کی دعوت دیتے ہیں تو اس لحاظ سے رسول کی مخالفت اللہ ہی کی مخالفت ٹھہری۔

نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ رسول کا مخالف بڑا ذلیل انسان ہوتا ہے‘ دنیا میں بھی ذلیل ہو گا اور آخرت میں بھی ذلیل ہی ہوگا۔

سلمان رشدی کی ذلت عالمی سطح پر واضح ترین مثال ہے کہ حکومت برطانیہ اور کل یورپ و امریکہ نے اس کی حمایت بھی کی اور ساتھ ہی اس کی مذمت بھی کی کہ واقعی اس نے سٹینک ورسز میں توہین آمیز باتیں لکھی ہیں وغیرہ یہی اس آیت کریمہ کا زندہ معجزہ ہے کہ واقعی رسول کا گستاخ ذلیل انسان ہوتا ہے اور دنیا و آخرت میں ذلیل ہو جاتا ہے اللہ اور قیامت پر یقین رکھنے والے کبھی بھی رسول کے گستاخ کے ساتھ دوستی اور محبت نہیں کر سکتے ہیں کیونکہ اللہ پر ایمان بھی ہو اور ساتھ اللہ کے رسول کی تحقیر و توہین بھی کرے اور رسول کی توہین اصل میں اللہ ہی کی توہین ہوتی ہے تو گویا اللہ پر ایمان بھی رکھے اور ساتھ ہی اللہ کی توہین بھی کرے‘ توہین انکار کو چاہتا ہے اور ایمان اقرار کا نام ہے تو انکار اور اقرار آپس میں جمع نہیں ہو سکتے۔

لَا تَجِدُ قَوْمًا يُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ يُوَادُّوْنَ مَنْ حَادَّ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَوْ كَانُوْا اٰبَاءَهُمْ اَوْ اَبْنَاءَهُمْ اَوْ اِخْوَانَهُمْ اَوْ عَشِيْرَتَهُمْ اُولٰئِكَ كَتَبَ فِیْ قُلُوْبِهِمُ الْاِيْمَانَ وَ اَيَّدَهُمْ بِرُوْحٍ مِّنْهُ (المجادلہ : ۲۲)

تم نہ پاؤ گے ان لوگوں کو جو یقین رکھتے ہیں اللہ اور پچھلے دن پر‘ کہ دوستی کریں ان سے جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول سے مخالفت کی اگرچہ وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا کنبے والے ہوں‘ یہ ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان نقش فرما دیا اور ان کو تائید دی اپنی طرف سے روح کے ساتھ۔

معلوم ہوا کہ اللہ اور اس کے رسول سے ایمان کا عقیدہ وابستہ کرنے کے بعد وہ اللہ اور اس کے رسول کے دشمنوں سے دوستی یا محبت کا رشتہ استوار نہیں کر سکتے ہیں۔

یہ عظمت والا ایمان صحابہ کرام کا تھا کہ حضرت ابوعبیدہ بن جراح نے غزوۂ احد میں اپنے باپ جراح کو قتل کیا اور حضرت علی مرتضیٰ نے بدر میں عتبہ بن ربیعہ کو قتل کیا‘ حضرت

صفحہ 71

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت ۷۱ اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم

عمر نے اپنے ماموں عاص بن ہشام کو‘ مصعب بن عمیر نے اپنے بھائی عبداللہ ابن عمیر کو بدر میں قتل کیا‘ ابوبکر صدیق نے اپنے بیٹے عبدالرحمن کو پکارا کہ آ باپ بیٹے کے دو دو ہاتھ ہو جائیں مگر حضور ﷺ نے منع فرما دیا اور بعد میں عبدالرحمن ایمان لے آئے۔ معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ کو گالیاں دینے والا صحابہ کرام نے کبھی بھی برداشت نہیں کیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی اطاعت اور فیصلہ اللہ ہی کی اطاعت اور فیصلہ ہوتا ہے‘ رسول کے فیصلے کا انکار کرنا کفر و ارتداد ہوتا ہے اور ایسا مرتد واجب القتل ہوتا ہے کیونکہ رسول کے فیصلے کو ٹھکرانے والا گویا کہ رسول کے فیصلے کی توہین کر جاتا ہے اور توہین رسول کی سزا سزائے موت ہوتی ہے۔

قرآن نے واضح کر دیا کہ رسول اللہ ﷺ کے فیصلہ کو دل و جان سے ماننا اہل ایمان کے لئے فرض ہے بلکہ شرط ایمان ہے جو شخص رسولوں کے فیصلے کو نہ مانے وہ بے ایمان ہے‘ حضور کی حاکمیت کو تسلیم کرنا عین ایمان ہے:

فَلَا وَ رَبِّکَ لَا یُؤْمِنُوْنَ حَتّٰی اے رسول! تیرے رب کی قسم یہ مومن یُحَکِّمُوْکَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَهُمْ. نہیں ہو سکتے جب تک اپنے تمام معاملات (النساء:۶۵) میں تمہارا حکم نہ مان لیں۔

یہ آیت اس موقع پر نازل ہوئی تھی جب دو شخصوں کا جھگڑا ہوا اور وہ اپنا جھگڑا نبی کریم ﷺ کے پاس لے گئے‘ نبی اکرم نے ایک شخص کے حق میں فیصلہ فرما دیا‘ آپ کا یہ فیصلہ دوسرے شخص نے نہ مانا اور کہا کہ میں یہ فیصلہ حضرت عمر فاروق کے پاس لے جانا چاہتا ہوں تو اس کے دوسرے ساتھی نے کہا کہ مجھے منظور ہے‘ چلئے۔

چنانچہ دونوں حضرت عمر کے پاس آگئے۔ اس دوران جس شخص کے حق میں فیصلہ ہو چکا تھا‘ اس نے سب سے پہلے عرض کر دیا کہ رسول اکرم نے فیصلہ میرے حق میں دے دیا ہے اور اب میرا ساتھی یہ مقدمہ آپ کے پاس لے آیا ہے‘ اب آپ کی مرضی آپ جو چاہیں فیصلہ کریں۔ بس اتنی بات حضرت عمر نے سنی اور رسول کے فیصلے کا انکار کرنے والے سے پوچھا کہ کیا واقعی یہ حقیقت ہے تو اس نے اقرار کیا۔ اس پر حضرت عمر نے فرمایا میں ابھی آتا ہوں چنانچہ حضرت عمر تلوار لے کر باہر آئے اور اپنی تلوار سے رسول اللہ کے فیصلے کے منکر کی گردن اُڑا دی۔

صفحہ ۷۲

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت ۷۲ اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم

یہ سارا واقعہ قتل حضرت رسول اکرم ﷺ کے پاس گیا۔ آپ نے فرمایا عمر کسی مومن کو قتل نہیں کر سکتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری کہ: محبوبا! تیرے رب کی قسم! یہ لوگ ایمان والے نہیں ہو سکتے جب تک اپنے جھگڑوں میں آپ کو حاکم نہ مان لیں۔

رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: ماكنت اظن ان عمر يجترئ میں یہ گمان ہی نہیں کر سکتا کہ عمر کسی على قتل مؤمن . مومن کے قتل پر جرات کریں۔

یعنی جس کو عمر قتل کرے گا وہ حقیقت میں مومن نہ ہوگا بلکہ وہ مرتد ہی ہوگا اور پھر اس کی تصدیق اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی کہ واقعی رسول کے گستاخ مرتد ہیں مومن نہیں ہیں اور مرتد واجب القتل ہوتا ہے جس پر حضرت عمر فاروق نے عمل کر کے بتا دیا کہ مرتد کے قتل کرنے کے لئے کسی حکومت کا انتظار نہ کریں۔ جس اہل ایمان سے ہو سکے گستاخ مرتد کو فوراً قتل کر دے ورنہ حضرت عمر اس گستاخ کا فیصلہ دربار رسالت میں لے جاتے اور رسول کریم ﷺ سے فیصلہ کرا کر پھر قتل کرتے لیکن ایسا نہ کرنا اور اللہ تعالیٰ کا عمر فاروق کے عمل کی تائید و تصدیق نازل فرمانا یہ دلیل ہے کہ جہاں کہیں ہو مرتد گستاخ کو قتل کرنا خداوندی فیصلہ ہے جہاں بھی ہو اسلامی حکومت ہو یا غیر اسلامی‘ گستاخی کے فتنہ کو مٹانا ضروری ہے۔

تعظیم رسول ﷺ

یاد رہے کہ جن جن ضروریات دین پر ایمان لانا ضروری اور فرض ہے ان کی تعظیم و توقیر بھی فرض ہے اور ایمان کی علامت ہے قرآن مجید کا ارشاد ملاحظہ ہو: إِنَّا أَرْسَلْنَكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا بے شک ہم نے تمہیں بھیجا مشاہدہ والا اور وَّنَذِيرًا O لِتُؤْمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ خوشی اور ڈر سنانے والا تا کہ اے لوگو! تم وَتُعَزِّرُوهُ وَتُوَقِّرُوهُ وَ تُسَبِّحُوهُ بُكْرَةً اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور وَّ اَصِيلًا O (الفتح:۸‘۹) رسول کی تعظیم و توقیر کرو اور صبح و شام اس کی پاکی بولو۔

صفحہ ۷۳

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت ۷۳ اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم

معلوم ہوا کہ ہر وہ تعظیم جو خلاف شرع نہ ہو حضور کی کی جائے یعنی انہیں اللہ یا اللہ کی مثل نہ کہو باقی احترام کے جو الفاظ ملیں وہ عرض کر دیا کرو اور ہر قسم کی تعظیم و توقیر کرو اس میں کوئی قید نہیں ہے لہٰذا آپ کی تعظیم فرض ہے۔ ارشاد ربانی ہے:

يَأَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَنْ يَّرْتَدَّ مِنْكُمْ اے ایمان والو! تم میں سے جو کوئی عَنْ دِيْنِهِ فَسَوْفَ يَأْتِي اللّٰهُ بِقَوْمٍ اپنے دین سے پھرے گا تو عنقریب اللہ يُّحِبُّهُمْ وَ يُحِبُّوْنَهُ اَذِلَّةٍ عَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ ایسے لوگ لائے گا کہ وہ اللہ کے پیارے اَعِزَّةٍ عَلَى الْكٰفِرِيْنَ يُجَاهِدُوْنَ فِيْ اور اللہ ان کا پیارا مسلمانوں پر نرم اور سَبِيْلِ اللّٰهِ وَلَا يَخَافُوْنَ لَوْمَةَ لَائِمٍ کافروں پر سخت اللہ کی راہ میں لڑیں گے اور ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ يُؤْتِيْهِ مَنْ يَّشَآءُ کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کا وَاللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيْمٌ O (المائده: ۵۴) اندیشہ نہ کریں گے یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے دے اور اللہ وسعت والا علم والا ہے۔

معلوم ہوا کہ بعض مسلمان ہو کر مرتد ہو گئے تھے بعض نے زکوۃ دینے سے انکار کیا بعض نے مسیلمہ کذاب کو نبی مان لیا۔ تو یہ لوگ مرتد ہو گئے تھے ان کے خلاف زمانہ خلافت صدیقی میں باتفاق صحابہ کرام جہاد ہوا اور انہیں جہنم رسید کیا گیا لہٰذا مرتد کی سزا قتل ہے جو اس آیت کریمہ سے ثابت ہے۔

قرآن مجید کی اس آیت میں گستاخ مرتدوں کی ذلت کا بیان ہے:

اِنَّ الَّذِيْنَ يُحَآدُّوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهُ بے شک وہ جو مخالفت کرتے ہیں اللہ اور اس كُبِتُوْا كَمَا كُبِتَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ کے رسول کی ذلیل کئے گئے جیسے ان سے وَقَدْ اَنْزَلْنَآ اٰيٰتٍ بَيِّنٰتٍ وَلِلْكٰفِرِيْنَ اگلوں کو ذلت دی گئی اور بے شک ہم نے عَذَابٌ مُّهِيْنٌ O (المجادلہ: ۵) روشن آیتیں اتاریں اور کافروں کے لئے خواری کا عذاب ہے۔

صاف واضح ہے کہ اللہ اور رسول ﷺ کی عداوت ایک ہی ہے اور ایسے گستاخ مرتدوں کے لئے ذلت والا عذاب ہو گا اور گستاخ ہمیشہ دنیا و آخرت میں ذلیل ہی ہوں گے اگرچہ دنیا بھر کی سپر پاور حکومتیں ان کی پشت پناہی کریں، گستاخ اور گستاخوں کی حمایت کرنے والے سب ہی ذلیل اور عذاب دنیا و آخرت میں مبتلا ہوں گے۔

صفحہ ۷۴

◀ 1 گستاخ رسول کی شرعی حیثیت ۷۴ اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم

ارشاد ربانی ہے: فَالَّذِينَ آمَنُوا بِهِ وَعَزَّرُوهُ تو وہ لوگ جو ایمان لائیں اور اس کی وَنَصَرُوهُ وَاتَّبَعُوا النُّورَ الَّذِي أُنْزِلَ تعظیم کریں اور اسے مدد دیں اور اس نور کی مَعَهُ أُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَO پیروی کریں جو اس کے ساتھ اترا وہی بامراد

(الاعراف: ۱۵۷)

ہوئے ۔

اس سے واضح ہوا کہ حضور کی تعظیم قولاً وعملاً ہر طرح سے لازمی اور فرض ہے بلکہ ایمان کامل کا رکن ہے۔

مرتد گستاخ کا حکم احادیث سے

احادیث مبارکہ میں مرتد کے قتل کرنے کا حکم کئی طرح موجود ہے، رسول اکرم ﷺ کے گستاخ مرتد کے واجب القتل ہونے کا ذکر رسول اکرم کی ہی زبان اقدس سے ملاحظہ کریں، آپ کا ارشاد مبارک ہے:

من بدل دینہ فاقتلوہ جو شخص (مسلمان) اپنا دین بدل دے تو

(بخاری)

اسے قتل کر دو۔

اس حدیث سے صریحاً ثابت ہوا کہ مرتد کی سزا قتل ہی ہے۔ اس حدیث کی روایت کرنے والے جلیل القدر صحابہ کرام ہیں جن میں حضرت ابوبکرؓ حضرت عثمانؓ حضرت علیؓ حضرت معاذ بن جبلؓ حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ حضرت عبد اللہ بن عباس اور حضرت خالد بن ولید (رضی اللہ تعالٰی عنہم) وغیرہم شامل ہیں۔

کچھ لوگوں نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو خدا مان لیا اور صحابہ کرام پر تبرا کرنے لگے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے پاس گئے، آپ نے انہیں پہلے توبہ کرنے کا حکم دیا مگر انہوں نے انکار کر دیا، آپ نے خندق کھدوا کر اس میں آگ جلوائی، پھر جلتی آگ میں ان مرتدوں کو ڈال دیا جس کے ذریعہ وہ جل کر راکھ ہو گئے۔

(مرقاۃ واشعۃ اللمعات)

معلوم ہوا کہ مرتد توبہ کرے یعنی دوبارہ مسلمان ہو کر آئندہ کے لئے توبہ کرے صرف توبہ نہیں بلکہ پہلے کلمہ اسلام بھی پڑھے کیونکہ ارتداد سے ایمان ختم ہو جاتا ہے۔

حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے روایت ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا کہ: آخر زمانہ میں ایک قوم نکلے گی، نو عمر عقل کے ہلکے کلام کریں گے، مخلوق کے

صفحہ ۷۵

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت ۷۵ اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم

قول کے بہترین سے‘ ان کا ایمان ان کے گلے سے نہ اترے گا‘ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر کمان سے:

فاينما لقيتموهم فاقتلوهم فان فى قتلهم اجرا لمن قتلهم يوم القيامة. (متفق علیہ‘ مشکوۃ شریف)

تم جہاں انہیں پاؤ قتل کر دو کہ ان کے قتل میں قیامت کے دن ثواب ہے اسے جو انہیں قتل کرے۔

اس حدیث سے ثابت ہوا کہ مرتد کی سزا قتل ہے۔

قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يحل دم امرء مسلم تشهد ان لا اله الا الله و انى رسول الله الا باحدى ثلث النفس بالنفس والثيب الزانى والمفارق لدينه التارك للجماعة. (بخاری: کتاب الدیۃ‘ مسلم: کتاب القسامۃ‘ ابوداؤد: کتاب الحدود)

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص مسلمان ہو اور شہادت دیتا ہو اس بات کی کہ اللہ کے سوا کوئی الہ نہیں اور اس بات کی کہ میں اللہ کا رسول ہوں اس کا خون تین جرائم کے سوا کسی صورت میں حلال نہیں‘ ایک یہ کہ اس نے کسی کی جان لی ہو اور قصاص کا مستحق ہو گیا ہو‘ دوسرا یہ کہ وہ شادی شدہ ہو اور زنا کر لے‘ تیسرا یہ کہ اپنے دین کو چھوڑ دے اور جماعت سے الگ ہو جائے۔

ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لا يحل دم امرء مسلم الا رجل زنى بور احصانه او كفر بعد اسلامه او النفس بالنفس. (نسائی باب ذکر ما یحل بہ دم المسلم)

رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ کسی مسلمان کا خون حلال نہیں مگر یہ کہ اس نے شادی شدہ ہونے کے باوجود زنا کیا ہو یا مسلمان ہونے کے بعد کفر کو اختیار کیا ہو یا کسی کی جان لی ہو۔

حضرت عثمان سے روایت ہے: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول لا يحل دم امرء مسلم الا باحدى ثلث رجل كفر بعد اسلامه او زنى بعد احصانه او

میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا کہ کسی مسلمان کا خون حلال نہیں بجز تین صورتوں کے‘ ایک یہ کہ کوئی شخص اسلام لانے کے بعد کافر ہو گیا ہو دوسرا یہ کہ اس

صفحہ 76

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت ٧٦ اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم

قتل نفسا بغير نفس.

(نسائی)

نے شادی شدہ ہونے کے باوجود زنا کیا ہو اور تیسرا یہ کہ وہ قتل کا مرتکب ہو بغیر اس کے کہ اسے جان کے بدلے جان لینے کا حق حاصل ہوا ہو۔

حضرت عثمان ہی سے دوسری روایت یہ ہے :

سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول لا يحل دم امرء مسلم الا باحدى ثلث رجل زنى بعد احصانه فعليه الرجم او قتل عمدا فعليه القود او ارتد بعد اسلامه فعليه القتل.

(نسائی باب الحکم فی المرتد)

میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے فرماتے تھے کہ : کسی مسلمان کا خون حلال نہیں مگر تین جرائم کے بدلہ میں ایک یہ کہ کسی نے شادی شدہ ہونے کے بعد زنا کیا ہو اس کی سزا سنگساری ہے‘ دوسرا یہ کہ عمداً کسی نے قتل کا ارتکاب کیا ہو اس پر قصاص ہے‘ تیسرا یہ کہ کوئی ایمان لانے کے بعد مرتد ہو گیا ہو اس کی سزا قتل ہے۔

نتیجہ

ان احادیث سے واضح طور پر ثابت ہوا کہ جو مسلمان دین اسلام کو چھوڑ جاتا ہے وہ مرتد ہو جاتا ہے اور مرتد کی سزا قتل ہے۔

حضرت ابو موسیٰ اشعری سے روایت ہے:

ان النبی صلی الله عليه وسلم بعثه الى اليمن ثم ارسل معاذ بن جبل بعد ذلك فلما قدم قال ايها الناس انى رسول الله اليكم فالقى له ابو موسى وسادة ليجلس عليها فاتى رجل كان يهوديا فاسلم ثم كفر فقال معاذ لا اجلس حتى يقتل قضاء الله و رسوله ثلث مرات فلما

نبی اکرم ﷺ نے ان کو (حضرت ابو موسیٰ اشعری کو ) یمن کا حاکم مقرر کر کے بھیجا‘ پھر اس کے بعد معاذ بن جبل کو ان کے معاون کی حیثیت سے روانہ کیا‘ جب معاذ وہاں پہنچے تو انہوں نے اعلان کیا لوگو! میں تمہاری طرف اللہ کے رسول کا فرستادہ ہوں۔ ابو موسیٰ اشعری نے ان کے لئے تکیہ رکھا تاکہ اس سے ٹیک لگا کر بیٹھیں‘ اتنے

صفحہ 77

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت ۷۷ اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم

قتل قعد.

(نسائی: باب حکم المرتد، بخاری: باب حکم المرتد، ابوداؤد: باب الحکم فیمن ارتد)

میں ایک شخص پیش ہوا جو پہلے یہودی تھا پھر مسلمان ہوا پھر یہودی ہو گیا، معاذ نے کہا ہرگز نہیں بیٹھوں گا جب تک کہ یہ شخص قتل نہ کر دیا جائے اللہ اور اس کے رسول کا یہی فیصلہ ہے۔ معاذ نے یہ بات تین دفعہ کہی، آخر کار جب وہ قتل کر دیا گیا تو معاذ بیٹھ گئے۔

یاد رہے کہ حضرت معاذ نے فرمایا:

انی رسول رسول الله.

بے شک میں اللہ کے رسول کا قاصد اور بھیجا ہوا ہوں۔

تو اس سے ظاہر ہے کہ یہ واقعہ حضور ﷺ کے ظاہری زمانہ کا ہے اور اگر یہ قتل مرتد جائز نہ ہوتا تو نبی اکرم ﷺ ضرور اس واقعہ پر تشویش فرماتے لیکن ایسا نہ کرنا دلیل ہے کہ قتل مرتد ضروری تھا حالانکہ حضرت ابو موسیٰ اشعری گورنر تھے اور حضرت معاذ بن جبل وائس گورنر کی حیثیت سے تھے اور گورنر کی خطا پر تفتیش ضروری تھی۔

حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے:

كان عبد الله بن ابى سرح يكتب لرسول الله صلى الله عليه وسلم فازله الشيطن فالحق بالكفار فامر به رسول الله صلى الله عليه وسلم ان يقتل يوم الفتح فاستجار له عثمان بن عفان فاجاره رسول الله صلى الله عليه وسلم

عبداللہ بن ابی سرح کسی زمانے میں رسول اللہ ﷺ کا کاتب (سیکرٹری) تھا پھر شیطان نے اس کو پھسلایا اور وہ کفار سے جا ملا، جب مکہ فتح ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ اسے قتل کر دیا جائے مگر بعد میں حضرت عثمان نے اس کے لئے پناہ مانگی تو رسول اللہ ﷺ نے اسے پناہ دے دی۔

(ابوداؤد: کتاب الحدود باب الحکم فیمن ارتد)

حضرت عائشہ صدیقہ سے روایت ہے:

ان امراة ارتدت يوم احد فامر النبى صلى الله عليه وسلم ان

جنگ احد کے موقع پر (جبکہ مسلمانوں کو عارضی شکست ہوئی) تو ایک عورت مرتد ہو

صفحہ ۷۸

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم

تستاب فان تابت والا قتلت (بیہقی)

گئی۔ اس پر نبی ﷺ نے فرمایا کہ اس سے توبہ کرائی جائے اور اگر توبہ نہ کرے تو اسے قتل کر دیا جائے۔

حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت ہے:

ان امرأة ام رومان ارتدت فامر النبی صلی الله عليه وسلم بان يعرض عليها الاسلام فان تابت والا قتلت. (دار قطنی، بیہقی)

ایک عورت ام رومان نامی مرتد ہوگئی تو نبی ﷺ نے حکم دیا کہ اس کے سامنے پھر اسلام پیش کیا جائے پھر وہ توبہ کرلے تو بہتر ورنہ قتل کر دی جائے۔

بیہقی کی دوسری روایت میں اس طرح ہے ”فابت ان تسلم فقتلت اس نے اسلام سے انکار کیا اس بنا پر قتل کر دی گئی“۔

اس روایت سے بھی واضح ہو گیا کہ مرتد اگر اسلام قبول نہ کرے تو ضرور ہی اسے قتل کیا جائے، مرتد کی سزا بطور حد کے سزائے موت ہے، یہ اسلامی قانون ہے۔

دور خلافت راشدہ پر چند نظریں

دور خلافت راشدہ میں بھی مرتدین کے لئے دو راستے ہی متعین تھے کہ یا تو وہ دوبارہ اسلام کو قبول کر لیں یا پھر قتل کئے جائیں، تیسرا راستہ کوئی نہ تھا۔

اسلام لانے کے بعد کافر ہوگئی، حضرت ابو بکر نے اس سے توبہ کا مطالبہ کیا مگر اس نے توبہ نہ کی تو حضرت ابو بکر نے اسے قتل کرا دیا۔ (دارقطنی و بیہقی)

پھر اسلام لایا پھر کافر ہو گیا، یہ فعل کئی بار کر چکا ہے، اب اس کا اسلام قبول کیا جائے یا نہیں؟ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا کہ جب تک اللہ اس کا اسلام قبول کرتا ہے تم بھی کئے جاؤ۔ اس کے سامنے اسلام پیش کرو، مان لے تو چھوڑ دو ورنہ گردن مار دو۔

صفحہ ۷۹

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت ۷۹ اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم

ایک قاصد بھیجا‘ قاصد نے حضرت عمر کے سامنے سارے حالات کی رپورٹ پیش کر دی آخر میں حضرت عمر نے پوچھا کوئی اور غیر معمولی بات؟ اس نے عرض کیا ہاں! اے امیر المومنین! ہم نے ایک عرب کو پکڑا جو اسلام لانے کے بعد کافر ہو گیا تھا۔ حضرت عمر نے پوچھا پھر تم نے اس کے ساتھ کیا کیا؟ اس نے کہا ہم نے اسے قتل کر دیا۔ اس پر حضرت عمر نے کہا تم نے ایسا کیوں نہ کیا کہ اسے ایک کمرے میں بند کر کے دروازہ کا تیغہ لگا دیتے پھر تین دن تک روزانہ ایک روٹی اس کے پاس پھینکتے رہتے‘ شاید کہ اس کے دوران وہ توبہ کر لیتا پھر بارگاہ ایزدی میں عرض کی کہ خدایا یہ کام میرے حکم سے نہیں ہوا‘ نہ میرے سامنے ہوا‘ نہ میں اسے سن کر راضی ہوا‘ لیکن حضرت عمر نے اس پر حضرت سعد اور حضرت ابو موسیٰ اشعری سے کوئی سختی نہ فرمائی اور نہ کوئی سزا تجویز کی۔

(طحاوی‘ کتاب السیر‘ موطا و بیہقی‘ کتاب الام للشافعی)

اس واقعہ سے ثابت ہوا کہ مرتد کے لئے مستحب یہ ہے کہ پہلے اس کے سامنے تین روز تک اسلام پیش کیا جائے‘ اگر مان گیا تو چھوڑ دیا جائے ورنہ اسے قتل کر دیا جائے‘ نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ حضرت سعد اور ابو موسیٰ اشعری کا عمل بھی قانون کی حدود میں تھا گو حضرت عمر کی رائے میں توبہ کا موقع دینا زیادہ بہتر تھا۔

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اطلاع ملی کہ بنی حنیفہ کی ایک مسجد میں کچھ لوگ شہادت دے رہے ہیں کہ مسیلمہ اللہ کا رسول ہے ۔ یہ سن کر حضرت عبداللہ نے پولیس بھیجی اور انہیں گرفتار کر لیا ۔ جب وہ لوگ ان کے سامنے پیش ہوئے تو سب نے توبہ کر لی اور اقرار کیا کہ ہم آئندہ ایسا نہ کریں گے ۔

حضرت عبداللہ نے اوروں کو چھوڑ دیا مگر ان میں سے ایک شخص عبداللہ ابن النواحہ کو موت کی سزا دی ۔ لوگوں نے کہا یہ کیا معاملہ ہے کہ آپ نے ایک مقدمہ میں دو مختلف فیصلے کئے؟ حضرت عبداللہ نے جواب دیا کہ یہ ابن النواحہ وہ شخص ہے جو مسیلمہ کی طرف سے نبی ﷺ کے پاس سفیر بن کر آیا تھا‘ میں اس وقت حاضر تھا‘ ایک دوسرا شخص حجر بن اثال بھی اس کے ساتھ سفارت میں شریک تھا‘ آنحضرت نے ان دونوں سے پوچھا کیا تم شہادت دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ ان دونوں نے جواب دیا کیا آپ گواہی دیتے ہیں کہ مسیلمہ اللہ کا رسول ہے؟ اس پر حضور ﷺ نے فرمایا اگر سفارتی وفد کو قتل کرنا جائز

صفحہ 80

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم

ہوتا تو میں تم دونوں کو قتل کر دیتا۔ یہ واقعہ بیان کر کے حضرت عبداللہ نے کہا میں نے اسی وجہ سے ابن النواحہ کو سزائے موت دی ہے۔ (طحاوی حوالہ مذکورہ) معلوم ہوا کہ یہ دونوں شخص پہلے مسلمان تھے بعد میں مرتد ہو کر مسیلمہ کو نبی ماننے لگے۔ نبی ﷺ نے سفارت کے پیش نظر ان کو چھوڑ دیا تھا ورنہ آپ انہیں قتل کرا دیتے۔ اس سے معلوم ہوا کہ مرتد کی سزا سزائے موت ہے۔ یہ واقعہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ خلافت کا ہے، اس وقت حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہما ان کے ماتحت کوفہ کے چیف جج تھے۔

مرتد کے قتل پر ائمہ مجتہدین کا اتفاق

حضرت امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کا مذہب ہے کہ ان کی کتاب مؤطا میں یوں لکھا ہے کہ زید بن اسلم سے مالک نے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو اپنا دین بدلے اس کی گردن مار دو۔ اس حدیث کے متعلق مالک نے فرمایا جہاں تک ہم سمجھ سکتے ہیں، نبی ﷺ کے ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص اسلام سے نکل کر کسی دوسرے طریقے کا پیرو ہو جاتا ہے مگر اپنے کفر کو چھپا کر اسلام کا اظہار کرتا ہے جیسا کہ زندیقوں اور اس طرح کے دوسرے لوگوں کا ڈھنگ ہے تو اس کا جرم ثابت ہو جانے کے بعد اسے قتل کر دیا جائے اور توبہ کا مطالبہ نہ کیا جائے کیونکہ ایسے لوگوں کی توبہ کا بھروسہ نہیں کیا جا سکتا اور جو شخص اسلام سے نکل کر علانیہ دوسرے طریقے کی پیروی اختیار کرے۔ اس سے توبہ کا مطالبہ کیا جائے، توبہ کر لے تو خیر ورنہ قتل کیا جائے۔ (باب القضا فیمن ارتد عن الاسلام)

حنابلہ کا مذہب ہے ان کی مستند کتاب المغنی میں ہے۔ امام احمد بن حنبل علیہ الرحمہ کی رائے یہ ہے کہ جو عاقل و بالغ مرد یا عورت اسلام کے بعد کفر اختیار کرے اس کو تین دن تک توبہ کی مہلت دی جائے، اگر توبہ نہ کرے تو اسے قتل کر دیا جائے اور یہی رائے حسن بصری، زہری، ابراہیم نخعی، مکحول، حماد، مالک، لیث، اوزاعی، شافعی اور اسحٰق بن راہویہ کی ہے۔ (المغنی، جلد ۱۰ ص ۷۴) مذہب حنفی کی تصریح امام طحاوی نے اپنی کتاب شرح معانی الآثار میں اس طرح سے

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت

کی ہے:

قد تکلم الناس فی الـ الاسلام یستتاب ام لا فقال استتاب الامام المرتد فہو فان تاب والا قتل

(کتاب السیر، طحاوی بحث استتابہ

وممن قال ذلک ابو حـ ابو یوسف و محمد رحمـ علیہم.

وقال الاخرون لا یستـ جعلوا حکمہ کحکم الحربـ ما ذکرنا من بلوغ الدعوۃ من تقصیر عنہم.

یعنی جن حربی کافروں تک اسلام کی دعوت دینا غیر ضروری ہـ پیشتر حجت تمام کرنی ضروری ہے اس کو پہلے تو سمجھا کر اسلام کی طـ سمجھ کر اسلام سے نکلا ہوا ہے تو یـ

امام ابو یوسف کا ایک قول فرماتے ہیں:

اقتلہ ولا استتیبہ الا بدرنی بالتوبۃ خلیت سبیلہ و امرہ الی اللہ (کتاب السیر طحاوی

صفحہ ۸۱

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم

کی ہے:

قد تکلم الناس فی المرتد عن الاسلام ایستتاب ام لا فقال قوم ان استتاب الامام المرتد فهو احسن فان تاب والا قتل

(کتاب السیر‘ طحاوی بحث استتابۃ المرتد)

اسلام سے مرتد ہونے والے شخص کے بارے فقہاء کے درمیان اختلاف اس امر میں آیا ہے کہ آیا اس سے توبہ کا مطالبہ کیا جائے یا نہیں؟ ایک گروہ کہتا ہے کہ اگر امام اس سے توبہ کا مطالبہ کرے تو زیادہ بہتر ہے پھر اگر وہ شخص توبہ کر لے تو چھوڑ دیا جائے ورنہ قتل کر دیا جائے۔

وممن قال ذلک ابو حنیفہ و ابو یوسف و محمد رحمۃ اللہ علیہم.

امام ابو حنیفہ‘ ابو یوسف اور محمد رحمتہ اللہ علیہم ان لوگوں سے ہیں جنہوں نے یہ رائے اختیار کی ہے۔

وقال الاخرون لا یستتاب و جعلوا حکمہ کحکم الحربیین علی ما ذکرنا من بلوغ الدعوۃ ایاہم و من تقصیر عنہم.

اور دوسرے اہل علم کہتے ہیں کہ اس سے توبہ نہ کرائی جائے‘ اس کا حال حربیوں کا سا ہے جیسا کہ ہم نے ان کے دعوت اسلام اور ان کے قصور کی نسبت بیان کی ہے۔

یعنی جن حربی کافروں تک ہماری دعوت پہنچ چکی ہے‘ جنگ شروع کرنے سے پیشتر اسلام کی دعوت دینا غیر ضروری ہے البتہ جن کو دعوت نہ پہنچی ہو ان پر حملہ آور ہونے سے پیشتر حجت تمام کرنی ضروری ہے۔ اسی طرح جو شخص اسلام سے نا واقفیت کی بناء پر مرتد ہوا اس کو پہلے تو سمجھا کر اسلام کی طرف واپس بلانے کی کوشش کرنی چاہئے مگر جو شخص سوچ سمجھ کر اسلام سے نکلا ہو اسے توبہ کی دعوت دیئے بغیر قتل کر دیا جائے۔

امام ابو یوسف کا ایک قول اسی رائے کی تائید میں ہے چنانچہ کتاب الاملاء میں فرماتے ہیں:

اقتلہ ولا استتیبہ الا انہ ان بدرنی بالتوبۃ خلیت سبیلہ ووکلت امرہ الی اللہ

(کتاب السیر طحاوی)

کہ میں مرتد کو قتل کروں گا اور توبہ کا مطالبہ نہ کروں گا‘ ہاں اگر وہ خود ہی جلدی کر کے توبہ کر لے تو میں اسے چھوڑ دوں گا

صفحہ ۸۲

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم

اور اس کا معاملہ اللہ کے حوالے کروں گا۔

ہدایہ مذہب حنفی کی معتبر درسی کتاب ہے اس کے باب احکام المرتدین میں ہے:

اذا ارتد المسلم عن الاسلام والعیاذ بالله عرض علیہ الاسلام فان كانت له شبھۃ كشفت عنہ.

جب کوئی شخص اسلام سے پھر جائے (العیاذ باللہ) تو اس کے سامنے اسلام پیش کیا جائے، اگر اسے کوئی شبہہ ہو تو اسے صاف کیا جائے (دُور کیا جائے)۔

لانہ عساہ اعترتہ شبھۃ فتزاح و فیہ دفع شرہ باحسن الامرین الا ان العرض على ما قالوا غير واجب لان الدعوۃ بلغتہ

(ہدایہ:باب احکام المرتدین)

کیونکہ بہت ممکن ہے کہ وہ کسی شبہہ میں مبتلا ہو اور ہم اس کا شبہہ دور کریں تو اس کا شر ایک بدتر صورت (یعنی قتل) کی بجائے ایک بہتر صورت (یعنی دوبارہ قبول اسلام) سے دفع ہو جائے مگر مشائخ فقہاء کے قول کے مطابق اس کے سامنے اسلام پیش کرنا واجب نہیں ہے کیونکہ اسلام کی دعوت تو اسے پہنچ چکی ہے۔

قال ويحبس ثلثۃ ايام فان اسلم والا قتل و فى الجامع الصغير المرتد يعرض عليہ الاسلام حرا كان او عبدا فان ابى قتل

اور مرتد کو تین دن تک بند کیا جائے، اگر اسلام لائے (تو بہتر ہے) اگر اسلام نہ لائے تو قتل کر دیا جائے اور جامع صغیر میں ہے کہ مرتد پر اسلام پیش کیا جائے آزاد ہو یا غلام ہو، پس اگر وہ انکار کر دے تو اسے قتل کر دیا جائے۔

فقہ مالکی میں ہے کہ جو شخص نبی کریم ﷺ کو گالیاں دے تو اس کی توبہ ہرگز قبول نہیں ہے۔

ومن الامور المكفرۃ التى لا تقبل التوبۃ عند المالكية سب النبى صلى اللہ عليہ وسلم او التعريض

بعض ایسے امور کفر ہیں کہ جن سے توبہ قبول نہیں کی جاتی ہے فقہ مالکیہ میں، وہ نبی ﷺ کو گالیاں دینا ہے یا آپ کے مقام

صفحہ ۸۳

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم

بمقامه الكريم ولا ينفع فيه ان يقول انه لم يتعمد او كان غضبانا فلا يدرى او كان متهورا فى كلامه فسبق لسانه فمن وقع منه شيء من ذلك قتل حدا لا كفرا فلا يسقط عنه القتل بالتوبة والرجوع الى الاسلام لان سب النبى صلى الله عليه وسلم جزائه الاعدام حدا والحدود لا تسقط بالتوبة.

(کتاب الفقه علی المذاهب الاربعۃ: کتاب النکاح)

کریم پر تعریض کرنا ہے‘ اس مسئلہ میں یہ کہنا کہ اس کے مرتکب نے قصداً نہیں کہا یا وہ غضب و غصہ کی حالت میں نہ سمجھ سکا یا وہ گفتگو میں تیز و جلد باز تھا‘ اس کی زبان سبقت کر گئی اور کسی طرح کے عذر ہوں تو جس کسی سے گستاخی واقع ہوگئی اسے قتل کر دیا جائے گا بطور حد محض کے‘ توبہ کرنے سے اس کا قتل ساقط نہ ہوگا اور رجوع الی الاسلام سے بھی قتل معاف نہ ہوگا کیونکہ نبی کریم ﷺ کو گالیاں دینا اس کی سزا بطور حد کے اس کو ختم کرنا ہے اور حدود توبہ کرنے سے ساقط و معاف نہیں ہو سکتیں۔

احدهما ان يقتل حدا ولا تقبل توبته كما يقول المالكية

(الفقه علی المذاهب الاربعۃ: کتاب النکاح)

فقہ مالکی میں ہے کہ گستاخی و توہین کرنے والے کو بطور حد کے قتل کیا جائے اور اس کی توبہ قبول نہ کی جائے۔

وَ اِنْ نَّكَثُوْا اَيْمَانَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ عَهْدِهِمْ وَ طَعَنُوْا فِىْ دِيْنِكُمْ فَقَاتِلُوْا اَئِمَّةَ الْكُفْرِ. (التوبہ: ۱۲)

اور اگر وہ عہد (قبول اسلام کا) کرنے کے بعد اپنی قسموں کو توڑ دیں اور تمہارے دین پر زبان طعن دراز کریں تو پھر کفر کے لیڈروں سے جنگ کرو۔

یہ آیت کئی وجوہ سے بتا رہی ہے کہ دین اسلام میں طعن کرنا‘ اسلام میں گستاخی کرنا کفر ہے‘ ارتداد ہے‘ ایسے مرتدوں کے لئے سوائے قتل کے اور کچھ سزا نہیں ہے‘ ان کے لئے صرف سزائے موت ہے۔

اسلام) کو توڑ دیں“ اور دین اسلام میں طعنے دینا شروع کر دیں اور دین اسلام کی اہانت و گستاخی کریں‘ ایسے ہی وہ ذمی کافر جو اسلامی اسٹیٹ میں رہتے ہیں اور

صفحہ ۸۴

اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم ۸۴ گستاخ رسول کی شرعی حیثیت

اسلامی حکومت کے امن و حفاظت میں ان کی جان و مال محفوظ ہے یا ان کو اپنے مذہبی معاملات کی پوری آزادی بھی حاصل ہے ایسے ذمی کافر اگر اسلام کی گستاخی و اہانت کریں تو ان کا عہد اور ذمہ داری ختم ہو جاتی ہے لہٰذا ایسے گستاخ مرتد، کفر و گستاخی کے پیشوا ہیں، ان کو قرآن نے ائمہ کفر کہا ہے اور ایسے کفر کے لیڈروں کو قتل کرو تاکہ گستاخی اور اہانت دین کا فتنہ ختم ہو جائے اور عالمی امن کو خطرہ بھی پیش نہ آئے، اللہ تعالیٰ کے لائے ہوئے دین حق کی عزت محفوظ رہے، اللہ تعالیٰ اور اس کے نائب رسول اللہ ﷺ اور دوسرے سچے انبیاء کرام علیہم السلام پر ایمان، اعتقاد اور احترام ومحبت میں کمزوری بھی پیدا نہ ہو، بندہ بالکل آزاد ہو کر اپنے مالک حقیقی اللہ تعالیٰ سے باغی ہو کر اپنے آپ کو ہمیشہ کے لئے دوزخی بھی نہ بنائے۔ اس فلسفہ سے معلوم ہو جاتا ہے کہ مرتد گستاخ دوسروں کے ایمان و نجات اور سلامتی کیلئے بھی بڑا فتنہ ہوتا ہے اور اپنے لئے بھی ہمیشہ کے لئے جہنمی ہونے کا باعث و سامان ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ ایسے کفر کے لیڈروں کو ختم کرنے سے اللہ تعالیٰ کے ساتھ بغاوت بھی نہ ہو گی اور نہ ہی کوئی مرتد دوسروں کے ایمان کو کمزور کر سکے گا۔ اصل میں مرتد کا قتل ایمان والوں کو بھی جہنم کی ہمیشہ کی زندگی سے بچا کر جنت کی ہمیشہ کی زندگی دے گا اور دنیا میں گستاخانہ ارتداد کا خاتمہ اس لئے ضروری ہے تاکہ عالمی امن محفوظ رہے۔

احترام کریں، یہ عہد و معاہدہ سب کے لئے ضروری ہے، مسلمان کے لئے احترام دین کو اختیار کرنا فرض ہے اور دین کی ضروریات سے ہے اور ذمی کافر کو بھی امن اس لئے دیا گیا کہ وہ اسلامی ملک کے خلاف بغاوت نہ کرے۔

جب یہ عہد اتنا ضروری ہے تو اسلامی ملک کے اندر دین اسلام کے خلاف بغاوت نہ کرنا اور زیادہ ضروری ہو جاتا ہے، دونوں صورتوں میں مسلمان اور ذمی کافر دونوں پابند ہیں کہ ملک اور دین کے احترام کو قائم رکھیں۔ جب یہ معاہدہ لوگ توڑ دیں تو حکم ہوتا ہے کہ ایسے لوگ ملک اور دین اسلام کے لیڈر نہیں بن سکتے بلکہ اسلامی ملک اور دین اسلام کے خلاف حربی کافر کے حکم میں آگئے، اب ان کفر کے لیڈروں کو ختم کریں تاکہ ارتداد کا فتنہ

صفحہ ۸۵

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم

ہمیشہ کے لئے ختم ہو جائے اس لئے عہد توڑنے کے بعد دین میں طعن کرنے کا ذکر الگ آگیا کہ قتل کرنے کا سب سے بڑا سبب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص دین اسلام کو طعنے دینا شروع کر دے‘ دین کی اہانت و گستاخی کرے تو یہ سب سے بڑا جرم ہے اور یہ جرم بڑا سبب ہے کہ ایسے مرتدوں کو قتل کیا جائے تاکہ دین اسلام طعن و اہانت کی زد سے نکل کر بلند تر ہو کر رہے۔

گستاخ مرتد کے قتل کرنے پر اجماع امت ہے

گستاخ مرتد وہ شخص ہے کہ اسلام لانے کے بعد کسی ضروری دینی امر کا انکار بھی کرے اور انکار کے ساتھ ساتھ اس کی اہانت و گستاخی بھی کرے یعنی زبان سے کلمہ کفر بکے اور ایسا گستاخانہ انداز اختیار کرے جس میں تاویل صحیح کی گنجائش نہ ہو‘ جو شخص بطور تمسخر اور ٹھٹھے کے کفر کرے گا وہ بھی مرتد ہے اگرچہ یہ کہے کہ اس کا اعتقاد کفر نہ تھا۔

ومن هزل بلفظ كفر ارتد وان جس نے مذاق سے لفظ کفر کہا‘ مرتد ہو لم يعتقده للاستخفاف فهو ككفر گیا اگرچہ کفر کا اعتقاد بطور استخفاف نہ رکھتا العناد (درمختار باب المرتد) ہو پھر بھی وہ کفر عناد کی طرح ہے۔

اور مرتد لغت میں مطلقاً رجوع کرنے والے کو کہتے ہیں اور شریعت میں:

الراجع عن دين الاسلام وركنها جو شخص دین اسلام سے رجوع کرنے اجراء كلمة الكفر على اللسان بعد والا ہو یعنی دین اسلام سے پھرنے والا وہ الايمان مرتد ہوتا ہے اور ارتداد کا رکن (بنیادی رکن) ایمان کے ہوتے ہوئے کفر کا کلمہ زبان پر جاری کرنا ہے۔

اور ایمان کی تعریف یہ ہے:

هو تصديق محمد صلى الله اور ایمان حضرت سیدنا محمد ﷺ کی عليه وسلم في جميع ما جاء به عن تصدیق کرنا ہے تمام ان امور میں جو وہ اللہ الله تعالى مما علم مجيئه ضرورة تعالیٰ کی طرف سے لائے اور ان کا ثبوت (درمختار) قطعی یقینی ہو۔

اور تصدیق کہتے ہیں:

صفحہ ۸۶

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم

معنی التصديق قبول القلب. واذعانه لما علم بالضرورة انه من دين محمد صلى الله عليه وسلم بحيث تعلمه العامة من غير افتقار الى نظر و استدلال كالوحدانية والنبوة والبعث والجزاء و وجوب الصلوة والزكوة و حرمة الخمر و نحوها

(رد المحتار باب المرتد)

تصدیق کا معنی دل سے قبول کرنا ہے۔ یعنی تصدیق کا معنی دل سے قبول کرنا اور اس کا اذعان و یقین یہ ہے کہ آدمی واضح طور پر جانے کہ یہ دین محمد ﷺ سے ہے اور ہر عام باشعور آدمی اسے جانتا ہو کہ یہ دین اسلام سے ہے اور اس جاننے میں کسی غور و خوض اور دلیل کا محتاج نہ ہو جیسے توحید، نبوت، قیامت میں اٹھنا اور جزاء، نماز کا اور زکوٰۃ کا واجب ہونا اور شراب کا حرام ہونا وغیرہ امور ضروریاتِ دین سے ہیں، ان کو دل سے قبول کرنا اور زبان سے اقرار کرنا ایمان ہے اور ان ضروریاتِ دین کا انکار کرنا ارتداد ہے۔

یاد رہے کہ اگر اصلی کافر بھی نبی اکرم ﷺ کو گالیاں دے، اہانت کرے گوکہ وہ عورت ہو تو اسے بھی قتل کرنے کا حکم ہے کہ یہ اہانت ہے جو ارتداد کا اعلیٰ فرد ہے۔

نعم قد يقتل الكافر ولو امراة اذا اعلن بشتمه صلى الله عليه وسلم

(رد المحتار باب المرتد)

کافر کو بھی قتل کیا جائے گا اگرچہ عورت ہو جب وہ نبی ﷺ کو کھلے عام گالیاں دیں۔

والمرتد يقتل لان كفره اغلظ.

(رد المحتار)

اور مرتد کو قتل کیا جائے گا اس لئے کہ اس کا کفر زیادہ سخت ہے۔

اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ اصل کافر سے اتنا زیادہ اسلام کو نقصان نہیں پہنچ سکتا جتنا زیادہ نقصان مرتد سے پہنچ سکتا ہے کیونکہ اسلام میں آکر پھر اسلام سے نکل کر زیادہ سخت ہو جاتا ہے اور اہل ایمان کے ایمان کو کمزور بنانے کا باعث بنتا ہے اور اسلام دشمنی میں زیادہ دلیر ہوجاتا ہے لہٰذا ایسے مرتد کا قتل ضروری ہوجاتا ہے۔

فظاهره انه يقتل مطلقاً و هو موافق لما افتى به الخير الرملى

پس ظاہر کلام یہ ہے کہ شاتم رسول کو مطلقاً قتل کر دیا جائے اور یہ خیر الرملى کے فتوے

صفحہ ۸۷

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم

والحق انه يقتل عندنا اذا اعلن بشتمه عليه الصلوة والسلام.

کے موافق ہے اور حق یہ ہے کہ شاتم رسول کو ہمارے نزدیک قتل کیا جائے جب وہ نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام کو کھلے عام گالیاں دے۔

اور اگر عورت ایسا کرے تو اسے بھی قتل کیا جائے گا، اس پر امام محمد نے سیر کبیر میں دلیل بیان کی ہے:

جاء رجل الی رسول الله صلی الله عليه وسلم و قال سمعت امراة من يهود و هى تشتمک والله يا رسول الله انها لمحسنة الى فقتلتها فاهدر النبى صلى الله عليه وسلم دمها

(رد المحتار)

ایک مرد رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ میں نے ایک یہودی عورت کو سنا کہ وہ آپ کو گالیاں دے رہی تھی، اللہ کی قسم یا رسول اللہ ! میرے ہاں وہ اسی قابل تھی کہ میں نے اسے قتل کر دیا تو نبی نے اس عورت کے خون کو رائیگاں فرما دیا۔

حالانکہ حربی کافروں کی عورتوں کو لونڈیاں بنانے کا حکم ہے لیکن اس حکم کے عموم سے وہ حربی عورتیں الگ سمجھی جائیں گی جو اعلانیہ رسول اکرم ﷺ کو گالیاں دیں، ان کا حکم قتل ہے اور یہ بھی ظاہر ہو گیا کہ اہل ایمان جب یہ یقین کر جائیں کہ فلاں شخص گستاخ رسول ہے تو اسے ایمانی غیرت کی بناء پر قتل کرنے کی اجازت ہوتی ہے وہاں فتوؤں اور مظاہروں یا اسلامی حکومت کے اعلان کا انتظار نہ کرے، یہی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا عمل تھا۔

کفریہ کلمات کو زبان سے کہنے کا معیار فقہی

ثم قال فى البحر والحاصل ان من تكلم بكلمة الكفر هازلا ولاعبا كفر عندالكل و من تكلم بها مخطئا او مكرها لا يكفر عندالكل ومن تكلم بها عامدا عالما كفر عندالكل و من تكلم بها اختيارا جاهلا بانها کفر ففیه اختلاف.

(رد المحتار)

بحر الرائق میں فرمایا: خلاصہ یہ ہے کہ جس نے کفریہ کلمہ مذاق اور کھیل کے طور پر کہا تو کافر ہو جائے گا، یہ سب فقہاء کے نزدیک ہے اور جس نے غلطی و خطاء یا مجبوری کی حالت میں کفریہ کلمہ زبان سے بولا تو وہ سب کے نزدیک کافر نہ ہو گا اور جس نے قصداً جانتے ہوئے کہ یہ کلمہ کفریہ ہے پھر بھی زبان سے بولا تو سب کے

صفحہ ۸۸

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت ۸۸ اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم

نزدیک کافر ٹھہرے گا اور جس نے کلمہ کفر اختیار سے بولا اور نہ جانتے ہوئے کہ یہ کفر کا کلمہ ہے تو اس میں اختلاف ہے۔

یعنی بعض کے ہاں کافر ہوگا اور اس کا جاہل ہونا معتبر نہ ہوگا اور بعض کے نزدیک اسے بتایا جائے گا کہ یہ کلمہ کفریہ ہے بتانے کے باوجود توبہ نہ کی تو کافر ہو جائے گا اور اگر توبہ کر گیا تو: لا تقبل توبتهم اصلاً (ردالمختار) ملحد و زندیق کی توبہ بالکل قبول نہیں کی جائے گی۔

من تكررت ردته و ساب النبى اور توبہ قبول نہ کی جائے گی جس کی ردّ صلى الله عليه وسلم وساب بار بار ہو چکی ہو اور نبی ﷺ اور شیخین رضی الشيخين (ردالمختار) اللہ عنہما کو گالیاں دینے والے کی توبہ بھی قبول نہ ہو گی بلکہ قتل کئے جائیں گے۔

و كل مسلم ارتد فتوبته مقبولة ہر وہ مسلمان جس نے ارتداد کو اختیار کیا الا جماعة من تكررت ردته على تو اس کی توبہ قبول مگر وہ جماعت (چند مامر و الكافر بسب نبى من الانبياء لوگ) جن کا ارتداد مکرر ہو چکا ہو جیسا کہ فانه يقتل حداً ولا تقبل توبتهم گزرا اور کافر کسی نبی کو گالی دینے سے تو مطلقاً (درمختار) بلاشک اسے بطور حد کے قتل کیا جائے گا اور اس کی توبہ ہرگز قبول نہ ہوگی۔

يعنى ان جزاء القتل على وجه شاتم رسول کی سزا قتل بطور حد ہے اسی كونه حداً ولذا عطف عليه قوله ولا لئے ساتھ لائے کہ اس کی توبہ قبول نہیں کی تقبل توبته لان الحد لا يسقط جائے گی کیونکہ حد توبہ کرنے سے ساقط نہیں بالتوبة فهو عطف تفسير و افاد انه ہوتی تو قتل کرنے کی تفسیر یہ ہے کہ اس کی حكم الدنيا اما عند الله تعالى فهى توبہ قبول نہ ہو گی اور توبہ کا قبول نہ ہونا اس مقبولة كما فى البحر. (ردالمختار) لیے یہ دنیاوی حکم بتا دیا مگر اللہ تعالیٰ کے نزدیک توبہ قبول ہوگی۔ جیسا کہ بحر میں ہے۔

یاد رہے اس پر سب کا اتفاق ہے کہ شاتم رسول توبہ کرنے سے قبل واجب القتل

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت

ہے اور اس کا حکم مرتد کی طرح ہے ا پر اصرار کرے تو بالاتفاق واجب القت بعض ائمہ حنیفہ کا کہنا ہے کہ واجب القتل اور توبہ کرنے پر ان کی حنیفہ فرماتے ہیں کہ شاتم رسول کو قتل كل من ابغض رسول الله م الله عليه وسلم بقلبه كان م فالساب بطريق اولى ثم يقتل عندنا فلا تعمل توبته فى اس القتل (فتح القدیر امام ابن همام حنفی ج ۴ ص ۶ وقد مرّ انه لا تقبل توبة الس والزنديق في ظاهر المذهب. (فتح الـ معلوم ہوا کہ شاتم الرسول کو ق جائے گی اگر زندیق ہے دین اور جا کیونکر قبول ہو؟ تعجب ہے کیا جادوگر کفر ارتداد سے؟ حالانکہ ایسا نہیں ہے کے فسادات کا باعث ہوتا ہے قرآن فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِينَ وَالْمُ وَاغْلُظْ عَلَيْهِمْ. ایسے ہی حدیث بخاری میں من بدل دينه فاقتلوه. عقائد ہمیشہ قرآن پاک س

عالمی سیرت کانفرنس مکہ

صفحہ ۸۹

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت ۸۹ اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم

ہے اور اس کا حکم مرتد کی طرح ہے اگر مرتد توبہ نہ کرے تو واجب القتل ہے اور اگر ارتداد پر اصرار کرے تو بالاتفاق واجب القتل ہے۔ بعض ائمہ حنیفہ کا کہنا ہے کہ شاتم رسول کا حکم مرتد کے حکم کی طرح ہے قبل از توبہ واجب القتل اور توبہ کرنے پر ان کی توبہ قبول ہوگی لیکن بزازیہ اور فتح القدیر وغیرہما فقہاء حنیفہ فرماتے ہیں کہ شاتم رسول کو قتل کیا جائے، اس کی توبہ قبول نہ کی جائے۔

كل من ابغض رسول الله صلى ہر وہ شخص جس نے رسول اللہ ﷺ کے الله عليه وسلم بقلبه كان مرتدا ساتھ اپنے دل میں بغض رکھا وہ مرتد ہو جاتا فالساب بطريق اولى ثم يقتل حدا ہے تو جو گالیاں دینے والا ہو وہ تو بطریق عندنا فلا تعمل توبته في اسقاط اولی (مرتد) ہے پھر اسے بطور حد قتل کیا القتل جائے گا پس اس کی توبہ کوئی کام نہیں کرے (فتح القدیر امام ابن همام حنفی ج ۴ ص ۴۰۷) گی قتل ختم کرنے میں۔

وقد مرنا انه لا تقبل توبة الساحر اور ہم پہلے بیان کر آئے ہیں کہ ساحر والزنديق فى ظاهر المذهب. (جادو گر) اور بے دین کی توبہ قبول نہیں کی (فتح القدیر) جائے گی ظاہر مذہب میں۔

معلوم ہوا کہ شاتم الرسول کو قتل کرنا ہی سزا بطور حد متعین ہے اس کی توبہ قبول نہ کی جائے گی اگر زندیق بے دین اور جادو گر کی توبہ قبول نہیں کی جاتی ہے تو شاتم رسول کی توبہ کیونکر قبول ہو؟ تعجب ہے کیا جادو گر اور بے دین زیادہ بدتر کافر ہوتے ہیں، شاتم رسول کے کفر ارتداد سے؟ حالانکہ ایسا نہیں ہے بلکہ شاتم رسول ہر لحاظ سے بدتر مرتد ہے جو کئی طرح کے فسادات کا باعث ہوتا ہے، قرآن پاک میں ہے:

فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِينَ وَالْمُنَافِقِينَ مشرک اور منافقوں کو قتل کرو اور ان پر وَاغْلُظْ عَلَيْهِمْ. سختی کرو۔

ایسے ہی حدیث بخاری میں ہے: من بدل دينه فاقتلوه. جو دین اسلام چھوڑے اسے قتل کرو۔

عقائد ہمیشہ قرآن پاک کے نصوص سے لئے جاتے ہیں اور ارتداد و اہانت رسول کا

صفحہ ۹۰

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم

حکم قرآن پاک میں واضح طور پر موجود ہے اور صحیح احادیث میں ان کی تائید و توضیح عملاً وارد ہے لہٰذا شاتم رسول کے حق میں سزائے موت کا تعین صراحت سے ثابت ہے۔ سیٹینک ورسز کا مصنف سلیمان رشدی بلا شک و شبہہ اپنے ارتداد پر بار بار اصرار کر چکا ہے اور ایک سال سے اپنے موقف پر قائم ہے اور اس کے بیان کے مطابق وہ اس سے بھی زیادہ سخت تر لکھنے والا تھا تاکہ مسلمان لیڈروں کو دکھائے کہ وہ کتنا سخت لکھ سکتا ہے۔ تعجب ہے کہ بعض فقہاء عام مرتد کو زیادہ سے زیادہ تین دن کی مہلت دینے کو مستحب سمجھتے ہیں اور اگر توبہ نہ کرے اور جس وجہ سے وہ مرتد ہو چکا ہے اس ضروری دینی امر کو تسلیم نہ کرے تو اسے قتل کرنا ہی ضروری ہو جاتا ہے اور سلیمان رشدی اپنے ارتداد پر ابھی تک اصرار کے ساتھ قائم ہے پھر بھی کمزور علم و ایمان والے اسے مہلت دینے کی بات کرتے ہیں جبکہ شاتم رسول کے لئے تو مہلت یا قبول توبہ کی بھی ایسی اجازت نہیں ہے کہ جس سے قتل معاف ہو جائے۔ اسلام میں کم درجے کے جرائم اور بغاوت و الحاد و زندقہ و سحر وغیر ہا پر تو قتل ضروری ہے اور بدتر اور غلیظ ترین ارتداد شتم رسول پر قبول توبہ کو اختیار کرنا کسی طرح مناسبت نہیں رکھتا ہے نہ عقل سلیم اس فیصلہ کو قبول کرتی ہے۔ مقام نبوت کی عظمت اگر محفوظ نہ رہے تو پھر اللہ تعالیٰ کی عظمت کیونکر باقی رہ سکے گی کیونکہ رسالت و نبوت اللہ تعالیٰ کی طرف سے خصوصی مرتبہ ہوتا ہے جو وہ اپنے انتخاب خاص کے ذریعے عطا فرماتا ہے جس میں انسان کے کسب وسعی کو دخل واثر بالکل نہیں ہوتا صرف اور صرف عطاء الٰہی کا نتیجہ و فیضان ہوتا ہے۔ نبوت ورسالت کوئی اکتسابی شے نہیں کہ جو مجاہدوں اور ریاضتوں وغیرہ سے حاصل ہو سکے محض حق تعالیٰ شانہ کا عطیہ ہے:

اللّٰهُ اَعْلَمُ حَیْثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَهٗ اللہ خوب جانتا ہے کہ کہاں رکھے اپنی (الانعام: ۱۲۴) پیغمبری کو۔

رَفِیْعُ الدَّرَجَاتِ ذُوالْعَرْشِ یُلْقِی وہ بلند مرتبوں والا اور عرش کا مالک ہے‘ الرُّوْحَ مِنْ اَمْرِہٖ عَلٰی مَنْ یَّشَآءُ مِنْ ڈالتا ہے روح اپنے حکم سے جس پر چاہتا عِبَادِہٖ لِیُنْذِرَ یَوْمَ التَّلَاقِ ہ یَوْمَ هُمْ ہے اپنے بندوں میں سے تاکہ وہ ڈرائے بٰرِزُوْنَ (المومن: ۱۵، ۱۶) ملاقات کے دن (قیامت) سے جس دن وہ

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت

یَخْتَصُّ بِرَحْمَتِہٖ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ ہ ( معلوم ہوا کہ رسالـ کو اللہ نے چاہا تھا اسے انبیاء کرام علیہم السلام کے کرم ہے۔ اَللّٰهُ یَصْطَفِیْ مِنَ وَمِنَ النَّاسِ. (الحج: ۷۵) عادت قدیمہ کے انہیں ارشاد فرما کر نئی نـ لئے رسول مقرر ہیں او رہے اور دین کی مد د فرما امام غزالی رحمتہ انسان کی انسانیت اور نو علیہم السلام کی نبوت ور معلوم ہوا کہ رسـ ہے۔ هُوَ الَّذِیْٓ اَرْسَـ وَ دِیْنِ الْحَقِّ (البراء معلوم ہوا کہ و پر ایمان لاکر ان کی ا نہیں ملتا ہے کیونکہ ر سے دین حاصل کیا بـ

صفحہ ۹۱

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم

ظاہر ہوں گے۔

يَخْتَصُّ بِرَحْمَتِهٖ مَنْ يَّشَاءُ وَاللّٰهُ (اور اللہ) خاص کر لیتا ہے اپنی رحمت ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيْمِ O (آل عمران: ۷۴) کے لئے جس کو چاہتا ہے اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔

معلوم ہوا کہ رسالت خصوصی طور پر اللہ تعالیٰ کی عطاءِ محض سے نصیب ہوئی ہے جس کو اللہ نے چاہا تھا اسے نبوت عطا فرما دی اور رسالت کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے پیارے انبیاء کرام علیہم السلام کے درجوں کو بلند فرما دیا ہے اور یہ رسالت اللہ تعالیٰ کا خصوصی فضل و کرم ہے۔

اَللّٰهُ يَصْطَفِيْ مِنَ الْمَلٰٓئِكَةِ رُسُلًا اللہ چن لیتا ہے فرشتوں میں سے رسول وَّ مِنَ النَّاسِ ط (الحج: ۷۵) اور آدمیوں میں سے۔

عادت قدیمہ کے تحت اللہ تعالیٰ نے جس جس کو چن لیا ہے، آئندہ کے لئے خاتم النبیین ارشاد فرما کر نئی نبوت و رسالت کا خاتمہ فرما دیا۔ انبیاء کرام پر فرشتے وحی لانے کے لئے رسول مقرر ہیں اور انبیاء کرام علیہم السلام وحی لیتے رہے اور انسانوں کو ہدایات دیتے رہے اور دین کی مدد فرماتے رہے۔

امام غزالی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے معارج القدس میں لکھا ہے کہ جس طرح نوع انسان کی انسانیت اور نوع ملائکہ کی ملکیت کسبی نہیں ہے ایسے ہی نوع انبیاء کرام رسل عظام علیہم السلام کی نبوت و رسالت بھی کسبی نہیں ہے۔

معلوم ہوا کہ رسالت و نبوت محض فضل الٰہی ہے اور رسول کی بعثت سے پورا دین ملتا ہے۔

هُوَ الَّذِيْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى اللہ وہ ہے جس نے رسول کو ہدایت اور وَ دِيْنِ الْحَقِّ (الفتح: ۲۸) دین حق کے ساتھ بھیجا ہے۔

معلوم ہوا کہ دین حق رسول سے ملتا ہے اور رسول سے دین تب ملے گا جب رسول پر ایمان لا کر ان کی اطاعت کو اختیار کیا جائے اس لیے کہ بغیر رسول کی اطاعت کے دین نہیں ملتا ہے کیونکہ رسول کے بھیجنے کا مقصد یہ ہے کہ ان کی اطاعت اختیار کر کے رسول سے دین حاصل کیا جائے، ارشاد ہوتا ہے:

صفحہ 92

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت ۹۲ اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم

وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُولٍ إِلَّا لِيُطَاعَ اور ہم نے رسول کو اس لئے بھیجا ہے (النساء: ٦٤) تاکہ اس کی پیروی کی جائے۔

اور رسول کی پیروی کو اللہ تعالیٰ نے اپنی پیروی قرار دیا ہے۔ مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ اور جس نے رسول کی پیروی کی تو اس (النساء: ٨٠) نے اللہ کی اطاعت کی۔

اس سے معلوم ہوا کہ رسول کی اطاعت سے دین بھی ملتا ہے اور اللہ کی اطاعت بھی نصیب ہو جاتی ہے۔

صاف ظاہر ہے کہ ملحد و زندیق، ساحر، باغی اور قاتل ناحق وغیرہم جب قتل کے مستحق ہوتے ہیں تو یہ صرف اس لئے کہ انہوں نے دینداری کی بجائے بے دینی اور گناہ کبائر کو اختیار کیا اور یہ سارے جرائم رسول کی نافرمانی میں ہو جاتے ہیں تو اصل میں رسول کی ذات قرار پائی اور دینداری رسول کی اطاعت کا نام ہے تو جب ان جرائم میں قتل کرنا جائز بلکہ ضروری ہو جاتا ہے تو رسول کی گستاخی کرنے والا اور اذیت دینے والا کیونکر واجب القتل نہ ہوگا بلکہ شاتم رسول اس ارتدادِ خاص کی بناء پر سزائے موت کا مستحق ہو جاتا ہے۔

شَانِ مصطفیٰ اور آپ کی تعظیم وتوقیر

حضور نبی اکرم ﷺ ساری کائنات کے لئے رحمت عامہ ہیں اور یہ مقامِ اعلیٰ کریم رب نے آپ کو عطا فرمایا ہے:

وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً اور ہم نے آپ کو نہیں بھیجا مگر رحمت لِّلْعٰلَمِينَ O (انبیاء: ۱۰۷) بنا کر سارے جہانوں کیلئے۔

اس رحمت کی وجہ سے مشرکین اور کفار عرب جیسے دشمنوں نے باوجود اس کے کہ عذاب کا مطالبہ کرتے رہے لیکن اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرما لیا تھا۔ مَا كَانَ اللَّهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنْتَ اور اللہ کا کام نہیں کہ انہیں عذاب فِيهِمْ (انفال: ۳۳) کرے جب تک اے محبوب! تم ان میں تشریف فرما ہو۔

معلوم ہوا کہ آپ کی رحمتِ عامہ سے دشمنوں نے بھی فائدے اٹھائے۔ آپ کی رسالت بھی عام تھی، ہر دور اور ہر زمانہ میں ہر ملک کے انسانوں وغیرہ کو

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت

شامل ہے ارشاد ہوتا ہے: وَمَا أَرْسَلْنٰكَ إِلَّا كَآفَّةً بَشِيرًا وَّنَذِيرًا O (سبا:٢٨)

اپنے محبوب ﷺ کے منصب قُلْ يٰأَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُو إِلَيْكُمْ جَمِيعًا O (الاعراف: ۱۵۸)

معلوم ہوا کہ آپ کی رسال ایمان لانا ضروری ہے اور آپ پر گویا آپ سے ایمان اور رحمت دو إِنَّا أَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ وَنَذِيرًا لِّتُؤْمِنُوا بِاللَّهِ وَرَ وَتُعَزِّرُوهُ وَتُوَقِّرُوهُ O (الفتح :۸ تا ۹)

يٰأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُقَدِّمُ يَدَيِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَاتَّقُوا اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ O يٰأَيُّهَا الَّذِينَ تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ النَّبِيِّ (الحجرات : ۱-۲)

لَا تَجْعَلُوا دُعَاءَ الرَّسُولِ كَدُعَاءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًا (النور : ٦٣)

مذکورہ بالا آیات کریمہ اس کی عزت وتوقیر کو لازم فرمایا ہے

صفحہ ۹۳

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت ۹۳ اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم

شامل ہے، ارشاد ہوتا ہے:

وَمَا اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا كَافَّةً لِّلنَّاسِ اور اے محبوب! ہم نے تم کو نہ بھیجا مگر بَشِيْرًا وَّ نَذِيْرًا (سبا:۲۸) ایسی رسالت سے جو تمام لوگوں کو گھیرنے والی ہے خوشخبری دیتا اور ڈر سناتا۔

اپنے محبوب ﷺ کے منصب کی تشہیر میں منعم حقیقی کا فرمان ہے:

قُلْ يٰاَیُّهَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ تم فرماؤ اے لوگو! میں تم سب کے لئے اِلَيْكُمْ جَمِيْعًا (الاعراف:۱۵۸) اللہ کا رسول ہوں۔

معلوم ہوا کہ آپ کی رحمت عامہ اور رسالت عامہ محض اللہ کی عطا ہے اور آپ پر ایمان لانا ضروری ہے اور آپ پر ایمان لانے سے ہی رحمت کے حصول کا استحقاق ملے گا، گویا آپ سے ایمان اور رحمت دونوں نعمتیں ملتی ہیں:

اِنَّا اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا بے شک ہم نے آپ کو شاہد، مبشر اور وَّ نَذِيْرًا لِّتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ نذیر بنا کر مبعوث فرمایا (تاکہ آپ انہیں اللہ وَتُعَزِّرُوْهُ وَتُوَقِّرُوْهُط (الفتح:۹،۸) سے ڈرائیں) تاکہ لوگ اللہ اور حضور علیہ السلام پر ایمان لائیں اور رسول علیہ السلام کی تعظیم وتوقیر کریں۔

يٰاَیُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تُقَدِّمُوْا بَيْنَ اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول يَدَيِ اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ وَاتَّقُوا اللّٰهَ اِنَّ اللّٰهَ پر سبقت نہ کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو، بے سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ o يٰاَیُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا شک اللہ تعالیٰ سننے والا، جاننے والا ہے۔ تَرْفَعُوْا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ اے ایمان والو! اپنی آواز رسول علیہ السلام النَّبِیِّ (الحجرات:۲،۱) کی آواز پر بلند نہ کرو۔

لَا تَجْعَلُوْا دُعَاءَ الرَّسُوْلِ بَيْنَكُمْ رسول علیہ السلام کے پکارنے کو آپس كَدُعَاءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًا (النور:۶۳) میں ایسا نہ کہو جیسا کہ تم آپس میں ایک دوسرے کو پکارتے ہو۔

مذکورہ بالا آیات کریمہ اس بات کو واضح کر رہی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضور علیہ السلام کی عزت وتوقیر کو لازم فرمایا ہے اور آپ کے اعزاز واکرام کو ضروری قرار دیا ہے۔

صفحہ 94

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم

حضور ﷺ کی بارگاہ میں ذو معنیین کلمہ کہنے کی ممانعت

حضور ﷺ کے لئے ایسے کلمہ کے استعمال سے منع کیا گیا ہے جس کے معنی میں ذم کا پہلو نکلتا ہو اور اسی احتیاط کے مدنظر یہ آیت نازل ہوئی:۔ يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقُوْلُوْا رَاعِنَا اے ایمان والو! (حضور علیہ السلام) کو (البقرة: ۱۰۴) راعنا (ہماری رعایت کرنے والے) کہہ کر مخاطب نہ کرو۔

راعنا کا معنی انصار مدینہ کے محاورہ میں رعایت مانگنے کے لئے استعمال ہوتا تھا جو عین ادب ہے لیکن باوجود یکہ اس کا دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ اگر آپ ہماری رعایت نہ کریں گے تو اس کے بدلہ میں ہم بھی آپ کی رعایت نہ کریں گے اور یہ پہلو شان رسالت کے لائق نہیں تھا۔ دوسرا معنی یہود مدینہ اس کلمہ سے رعونت و حماقت مراد لیتے ہیں جس میں تنقیص شان رسالت بنتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو منع فرما دیا کہ کسی ایسے کلمے سے حضور کو مخاطب نہ کرو جس میں ذم کا شائبہ بھی ہوتا ہو اور مشارکت لفظی کی وجہ سے دشمنان اسلام و رسالت اپنے مطلب کے معنی نکال سکیں۔

یہود مدینہ کی طرح پندرھویں صدی ہجری ۱۹۸۸ء کا برطانوی گستاخ رسول دجال سلمان رشدی بھی یہودی کردار کو یہود کے تعاون سے ادا کر کے ہمیشہ کے لئے جہنمی بن گیا، اس کے دنیا و آخرت دونوں لعنت و عذاب ثابت ہوں گے اگرچہ عارضی طور پر برطانیہ اور تمام یورپ اور ساتھ ہی امریکہ نے رشدی کی حفاظت اور حمایت کا اعلان کیا ہے اور اسے تحریری آزادی کا قانونی سرٹیفکیٹ دیا ہے لیکن رشدی کی حمایت عدل و انصاف اور آسمانی دینوں بلکہ اخلاق انسانی اور شرافت کے سراسر خلاف اور بدترین مذمت کے لائق ہے۔

علماء اسلام کی طرف سے شاتم رسول کو قتل کرنے کا فیصلہ بطور حد دیا گیا

قاضی عیاض رحمۃ اللہ علیہ شفاء شریف میں فرماتے ہیں: اجمعت الامة على قتل متقصه اُمت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ من المسلمين وسابه. حضور ﷺ میں نقص نکالنے والے اور گالیاں (شفاء شریف ج ۲ ص ۲۱۱) دینے والے مسلمان کو قتل کر دیا جائے۔

صفحہ ۹۵

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت ۹۵ اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم

واما الكافر اذا تنقصه او سبه قال بعضهم يقتل.

(شرح شفاء شریف لملا علی قاری)

(وما كان لكم ان تؤذوا رسول الله) بنوع من الاذى لا في حيوته ولا بعد مماته (ولا ان تنكحوا ازواجه من بعده ابدا) اى لا بعد وفاته ولا بعد فراقه لها دخل بها ام لا تعظيما لقدره و تفخيما لامره (ان ذلكم) اى الاذى من قبلكم (كان عند الله عظيما) اى ذنبا جسيما.

اور بہر حال کافر شخص آپ میں نقص نکالے یا آپ کو گالیاں دے تو بعض فقہاء فرماتے ہیں کہ اسے قتل کیا جائے۔

(اور تمہیں لائق نہیں کہ تم رسول اللہ کو اذیت دو) کسی قسم کی اذیت نہ آپ کی حیات میں اور نہ آپ کے وصال کے بعد اور نہ تمہیں یہ حق ہے کہ تم آپ کی ازواج کے ساتھ نکاح کرو آپ (کے وصال) کے بعد ہمیشہ کے لئے یعنی آپ کے وصال کے بعد اور آپ کے فراق کے بعد چاہے آپ نے مباشرت فرمائی ہو یا نہ‘ یہ (حکم) آپ کی قدر کی تعظیم کے لئے اور آپ کے امر و شان کی عزت کی خاطر ہے‘ بے شک یہ اذیت تمہاری طرف سے اللہ تعالیٰ کے نزدیک بڑا گناہ ہے۔

معلوم ہوا کہ نبی اکرم ﷺ کو اذیت دینا کفر و ارتداد ہے اور آپ کو گالیاں دینا بھی ارتداد ہے‘ اس کی حد سزائے موت ہے۔

حضور ﷺ کو اذیت دینا جیسے آپ کی ظاہری حیات میں کفر ہے ایسے ہی بعد وصال بھی ارتداد ہے‘ حضور ﷺ کی ازواج مطہرات کے ساتھ نکاح کرنا حرام ہے‘ امت کے لئے آپ کی حیات اور بعد الوصال دونوں حالتوں میں کیونکہ اس سے بھی نبی اکرم ﷺ کو اذیت پہنچتی ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کے ہاں بڑا گناہ ہے۔

معلوم ہوا کہ آپ ﷺ کو اذیت دینا بلا واسطہ اور بالواسطہ‘ ہر حال میں حرام ہے اور آپ کو تکلیف کا پہنچنا اس لئے حرام ہے کہ آپ عالم برزخ کے اندر بھی اعلیٰ حیات حقیقی کے ساتھ موصوف ہیں۔

صفحہ ۹۶

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم

(اعلم وفقنا الله و ایاک ان جميع من سب النبی صلی الله عليه وسلم) ای شتمه او عابه او الحق به نقصا فی نفسه او نسبه او دينه او خصلة من خصلة من خصاله او عرض به او شبهه بشیئ علی طریق السب له او لازراء عليه او التصغير لشانه او الغض منه او العیب له فهو ساب له والحکم فيه حكم الساب يقتل . (شفاء ج ۲ ص ۲۱۴‘ الصارم المسلول ص ۵۲۵ طبع بیروت)

جن کلمات سے حضور ﷺ میں نقص کا پہلو نکلتا ہو مثلاً جس شخص نے حضور ﷺ کو برملا گالی دی یا ایسے کلمات کہے جو عیب جوئی کے لئے استعمال ہوتے ہوں یا ان الفاظ سے آپ کی ذات اقدس‘ آپ کے مبارک دین‘ اُسوہ یا خصائل میں سے کسی خصلت کو زَک پہنچتی ہو یا ذات نبوی پر کسی قسم کی تعریض کرے یا اسی قسم کے اور دوسرے الفاظ استعمال کرے تو ایسے تمام الفاظ سب وشتم میں شمار ہوں گے اور ایسے الفاظ کہنے والے کے لئے وہی حکم ہے جو اہانت نبی کریم کرنے والے کے لئے ہے یعنی واجب القتل ہے اور ہم اس حکم میں قطعاً کوئی استثناء نہیں کرتے اور نہ ہم اس میں کوئی شک کرتے ہیں خواہ صراحتاً توہین ہو یا اشارۃً یا کنایۃً توہین ہو۔

چند کلماتِ توہین ذکر کرنے کے بعد قاضی عیاض دوبارہ مرتد گستاخ کے حکمِ قتل پر علماء کرام کا اجماع صحابہ کرام کے دور سے لے کر اپنے دور تک بلا تفریق بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں:

(وهذا كله اجماع من العلماء) من المفسرين و المحدثين (وائمة الفتوى من المجتهدين) من لدن الصحابة رضی الله تعالى عنهم اجمعين الى هلم جرا اى الى يوم قال القاضی (ابوبكر بن المنذر)

ایسا ہی طرزِ عمل اس شخص کے ساتھ روا رکھا جائے گا جو حضور علیہ السلام کی ذات اقدس پر لعنت کے الفاظ استعمال کرے یا حضور کے حق میں بددعاء کرے یا ایسے کلمات آپ سے منسوب کرے جو آپ کے شایان شان نہیں یا آپ کے نقصان کا

گستاخ رسول کی شرعی حیثی

محمد بن ابراه (اجمع عوام اهـ (على ان من سـ عليه وسلم يقتل) (الـ

ابوبکر بن منذر اور امام شافعی وغیرہم واجب القتل ہے۔ او وهو مقتضى الصديق رضی ا توبته عند هؤلاء ا

قال محمد العلماء على أن عليه وسلم ا والوعيد جار علی له و حكمه حـ شك في كفره و (الشفاء ج ۲ ص ۲۱۵ و

امام مالک ذریعہ سے نقل کیا توبہ قبول نہ کی جـ ہے کہ جو شخص حضـ

صفحہ ۹۷

اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم

جن کلمات سے حضور ﷺ میں نقص کا پہلو نکلتا ہو مثلاً جس شخص نے حضور ﷺ کو برملا گالی دی یا ایسے کلمات کہے جو عیب جوئی کے لئے استعمال ہوتے ہوں یا ان الفاظ سے آپ کی ذات اقدس آپ کے مبارک دین، اسوہ یا خصائل میں سے کسی خصلت کو زک پہنچتی ہو یا ذات نبوی پر کسی قسم کی تعریض کرے یا اسی قسم کے اور دوسرے الفاظ استعمال کرے تو ایسے تمام الفاظ سب و شتم میں شمار ہوں گے اور ایسے الفاظ کہنے والے کے لئے وہی حکم ہے جو اہانت نبی کریم کرنے والے کے لئے ہے یعنی واجب القتل ہے اور ہم اس حکم میں قطعاً کوئی استثناء نہیں کرتے اور نہ ہم اس میں کوئی شک کرتے ہیں خواہ صراحۃً توہین ہو یا اشارۃً یا کنایۃً توہین ہو۔

قاضی عیاض دوبارہ مرتد گستاخ کے حکم قتل پر بحث کرتے ہوئے ایک اور جگہ بلا تفریق بیان کرتے ہیں کہ:

ایسا ہی طرز عمل اس شخص کے ساتھ روا رکھا جائے گا جو حضور علیہ السلام کی ذات اقدس پر لعنت کے الفاظ استعمال کرے یا حضور کے حق میں بددعا کرے یا ایسے کلمات آپ سے منسوب کرے جو آپ کے شایان شان نہیں یا آپ کے نقصان کا

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت ۹۷ اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم

محمد بن ابراهيم النيسابوري (اجمع عوام اهل العلم) اى كلهم (على ان من سب النبی صلى الله عليه وسلم يقتل) (شرح الشفاء لملا علی قاری)

خواہاں ہو، وغیرہا کلمات کفر پر اجماع نقل کر کے فرماتے ہیں) اور ان مذکورہ الفاظ پر علماء کا اجماع ہے، مفسرین، محدثین اور ائمہ فتویٰ مجتہدین صحابہ کرام کے دور سے لے کر اس دور تک کہ گستاخ مرتد واجب القتل ہے۔

وهو مقتضى قول ابى بكر الصديق رضى الله عنه ولا تقبل توبته عند هؤلاء المذكورين.

حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے قول کا مقتضی بھی یہی ہے، ان علماء کے نزدیک ایسے گستاخ کی توبہ بھی قبول نہ کی جائے گی۔

قال محمد بن سحنون اجمع العلماء على شاتم النبى صلى الله عليه وسلم المتنقص له كافر والوعيد جار عليه بعذاب الله تعالى له و حكمه عند الامة القتل و من شك فى كفره و عذابه كفر. (الشفاء ج ۲ ص ۲۱۵۔۲۱۶، رد المحتار ج ۳ ص ۳۱۷)

حضرت محمد بن سحنون فرماتے ہیں کہ علماء امت کا اس بات پر اجماع ہے کہ شاتم رسول علیہ الصلوۃ والسلام یا ان کی ذات میں نقص تلاش کرنے والا کافر ہے اور اس پر عذاب الٰہی کی وعید وارد ہے اور امت مسلمہ کے نزدیک یہ حکم ہے کہ یہ شخص واجب القتل بھی ہے اور اسی پر اکتفاء نہیں بلکہ ایسے دریدہ دہن اور گستاخ کے کفر میں شک کرنے والا بھی کافر ہے۔

امام مالک کے حوالہ سے کتاب ابن حبیب میں مبسوط عتبیہ اور کتاب ابن سحنون کے ذریعہ سے نقل کیا ہے کہ جو (نام نہاد) مسلمان نبی علیہ السلام پر سب وشتم کرے اس کی توبہ قبول نہ کی جائے بلکہ اس کو قتل کر دیا جائے۔ اس کے علاوہ عتبیہ میں ابن قاسم نے لکھا ہے کہ جو شخص حضور علیہ السلام کی بارگاہ میں گستاخی کا مرتکب ہو یا آپ کی ذات اقدس کی

صفحہ ۹۸

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم

برائی کرے‘ گالی دے یا کسی اور قسم کا کوئی عیب لگائے یا حضور علیہ السلام کی شان گھٹانے کی کوشش کرے‘ علماء امت کا اس پر اجماع ہے کہ اس کو قتل کر دیا جائے۔

وحكمه عند الامة القتل شاتم رسول کا حکم ائمہ مالکیہ کے نزدیک كالزنديق قتل ہے جیسے زندیق کا حکم ہے۔

والحاصل انه لا شك ولا شبهة خلاصہ یہ ہے کہ نبی ﷺ کو گالیاں فى كفر شاتم النبى صلى الله عليه دینے والے کے کفر اور اس کے مستحق قتل وسلم وفى استباحة قتله وهو ہونے میں کوئی شک و شبہہ نہیں‘ چاروں المنقول عن الائمة الاربعة ائمہ کرام سے یہی منقول ہے۔

(فتاویٰ شامی ج ۳ ص ۲۶۱ الصارم المسلول ص ۴)

كل من ابغض رسول الله صلى جو شخص رسول اللہ ﷺ سے اپنے دل الله عليه وسلم بقلبه كان مرتدا میں بغض رکھے وہ مرتد ہے۔ آپ کو گالی فالساب بطريق اولى ثم يقتل حدا دینے والا بطریق اولیٰ مستحق قتل ہے۔ عندنا.

(فتح القدیر (ابن ھمام) ج ۴ ص ۴۰۷)

ايما رجل مسلم سب رسول الله صلى الله عليه وسلم او كذبه او عابه او تنقصه فقد كفر بالله و بانت منه زوجته.

(کتاب الخراج امام ابو یوسفؒ ص ۱۸۴، فتاویٰ شامی ج ۴ ص ۲۳۸، بحث سب الشیخین مطبوعہ بیروت)

وقال ابو سليمان الخطابى لا امام ابو سلیمان خطابی نے فرمایا جب اعلم احدا من المسلمين اختلف فى مسلمان کہلانے والا نبی ﷺ کے سب کا وجوب قتله اذا كان مسلما. مرتکب ہو تو میرے علم میں کوئی ایسا مسلمان (الشفاء ج ۲ ص ۲۱۶ فتح القدیر شرح ہدایہ نہیں جس نے اس کے قتل میں اختلاف کیا ج ۴ ص ۴۰۷، الصارم المسلول ص ۱۰۴) ہو۔

امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ جو کہ مذہب حنفی کے امام ہیں وہ اپنی کتاب الخراج میں تحریر فرماتے ہیں:

ايما رجل مسلم سب رسول جو شخص مسلمان ہو کر رسول اللہ ﷺ کو الله صلى الله عليه وسلم او كذبه گالیاں دے یا حضور کی طرف جھوٹ کی

صفحہ ٩٩

اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم

عیب لگائے یا حضور علیہ السلام کی شان گھٹائے ہے کہ اس کو قتل کر دیا جائے۔ شاتم رسول کا حکم ائمہ مالکیہ کے نزدیک قتل ہے جیسے زندیق کا حکم ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ نبی ﷺ کو گالیاں دینے والے کے کفر اور اس کے مستحق قتل ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں، چاروں ائمہ کرام سے یہی منقول ہے۔

جو شخص رسول اللہ ﷺ سے اپنے دل میں بغض رکھے وہ مرتد ہے۔ آپ کو گالی دینے والا بطریق اولیٰ مستحق قتل ہے۔

ان الله صلى الله عليه وسلم او كذبه بانت منه زوجته.

(شامی ج ۳ ص ۲۳۸، بحث سب الشیخین مطبوعہ بیروت)

امام ابو سلیمان خطابی نے فرمایا جب مسلمان کہلانے والا نبی ﷺ کے سب کا مرتکب ہو تو میرے علم میں کوئی ایسا مسلمان نہیں جس نے اس کے قتل میں اختلاف کیا ہو۔ سب حنفی کے امام ہیں وہ اپنی کتاب الخراج میں

جو شخص مسلمان ہو کر رسول اللہ ﷺ کو گالیاں دے یا حضور کی طرف جھوٹ کی

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم

اوعابه او تنقصه فقد کفر بالله تعالى و بانت منه امراته

نسبت کرے یا حضور کو کسی طرح کا عیب لگائے یا کسی وجہ سے حضور کی شان گھٹائے وہ یقیناً کافر اور خدا کا منکر ہو گیا اور اس کی بیوی (منکوحہ) اس کے نکاح سے نکل گئی۔

اس تصریح سے معلوم ہو گیا کہ حضور ﷺ کی تنقیص و توہین کرنے والا مسلمان کافر و مرتد ہو جاتا ہے اور اس کی بیوی اس کے نکاح سے نکل جاتی ہے اس طرح جو مسلمان مرد یا عورت، عاقل، بالغ ضروریات دین میں سے کسی ایک کا انکار کر دے تو وہ قطعاً یقیناً اجماعاً کافر و مرتد ہے جو اسے کافر و مرتد نہ سمجھے وہ خود کافر ہے۔

اجمع المسلمون على ان شاتمه صلى الله عليه وسلم و من شک فی عذابه و کفره کفر

تمام مسلمانوں کا اجماع ہے کہ جو حضور ﷺ کی شان پاک میں گستاخی کرے وہ کافر ہے اور جو اس کے معذب یا کافر ہونے میں شک کرے وہ بھی کافر ہے۔

(شفاء، بزازیہ، درمختار، فتاویٰ خیریہ وغیرہ)

مجمع الانہر اور درمختار میں ہے:

واللفظ له الكافر بسب نبی من الانبياء لا تقبل توبته مطلقاً و من شک فی عذابه و کفره کفر

جو کسی نبی کی شان میں گستاخی کے سبب سے کافر ہوا اس کی توبہ کسی طرح قبول نہیں اور جو اس کے عذاب یا کفر میں شک کرے وہ خود کافر ہو جاتا ہے۔

صاحب شفاء مزید نقل فرماتے ہیں:

قال ابوبکر بن المنذر اجمع عوام اهل العلم على ان من سب النبى صلى الله عليه وسلم يقتل قال ذلک مالک بن انس واللیث واحمد و اسحق و هو مذهب الشافعى قال القاضى ابو الفضل وهو مقتضى قول ابى بكر الصديق

امام ابو بکر بن منذر نے فرمایا عامہ علماء اسلام کا اجماع ہے کہ جو شخص نبی کریم ﷺ کو سب کرے (یعنی گالیاں دے) قتل کیا جائے گا۔ انہی میں سے مالک بن انس، لیث، احمد، اسحق (رحمہم اللہ) ہیں اور یہی شافعی کا مذہب ہے۔ قاضی عیاض نے فرمایا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے قول کا

صفحہ ۱۰۰

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم

رضی الله عنه ولا تقبل توبته عند هؤلاء و بمثله قال ابو حنيفة واصحابه والثورى واهل الكوفة والاوزاعى فى المسلمين لكنهم قالوا هي ردة (شفاء ج ۲ ص ۲۱۵)

یہی مقتضی ہے (پھر فرماتے ہیں) اور ان ائمہ کے نزدیک اس کی توبہ بھی قبول نہ کی جائے گی۔ امام ابو حنیفہ ان کے شاگردوں‘ امام ثوری‘ کوفہ کے دوسرے علماء اور امام اوزاعی کا قول بھی اسی طرح ہے‘ ان کے نزدیک یہ ردت ہے۔

و قال من كذب النبى صلى الله عليه وسلم كان حكمه عند الامة القتل.

محمد بن سحنون نے فرمایا جس نے نبی کریم ﷺ کو جھٹلایا یعنی آپ کی طرف جھوٹ کی نسبت کی اس کا حکم سب امت کے نزدیک قتل ہے۔

شفاء شریف شرح فقہ اکبر میں ہے:

فى المواقف لا يكفر اهل القبلة الا فيما فيه انكار ما علم مجيئه بالضرورة او المجمع عليه كاستحلال المحرمات.

مواقف میں ہے کہ اہل قبلہ کو کافر نہ کہا جائے گا مگر جب ضرورت دین یا اجماعی باتوں سے کسی بات کا انکار کریں۔ جیسے حرام کو حلال سمجھنا۔

یعنی ضروریات دین پر ایمان رکھتا ہو اور کوئی بات منافی ایمان نہ کرے۔

وان المراد بعدم تكفير احد من اهل القبلة عند اهل السنة انه لا يكفر مالم يوجد شيء من امارات الكفر و علاماته و لم يصدرعنه شيء من موجباته. (شرح فقہ اکبر)

اور اہل سنت کے نزدیک اہل قبلہ میں کسی کو کافر نہ کہنے سے یہ مراد ہے کہ اسے کافر نہ کہیں گے جب تک اس میں کفر کی کوئی علامت و نشانی نہ پائی جائے اور کوئی بات موجب کفر اس سے صادر نہ ہو۔

ردالمختار میں ہے:

لا خلاف فى كفر المخالف فى ضروريات الاسلام و ان كان من اهل القبلة المواظب طول عمره

ضروریات اسلام سے کسی چیز میں خلاف کرنے والا بالاجماع کافر ہے اگرچہ اہل قبلہ سے ہو اور عمر بھر طاعات میں بسر

صفحہ ۱۰۱

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم

على الطاعات كما فى شرح کرے جیسا شرح تحریر امام ابن الہمام میں التحریر فرمایا۔ واذا عاب الرجل النبی صلی جب کوئی شخص نبی ﷺ کی کسی چیز میں الله عليه وسلم فى شيئ كان كافرا عیب لگائے تو وہ کافر ہو جاتا ہے اور ایسے وكذا قال بعض العلماء لو قال ہی بعض علماء نے فرمایا اگر کوئی حضور ﷺ لشعر النبى صلى الله عليه وسلم کے بال مبارک کو شعر کی بجائے (بصیغہ شعير فقد كفر و عن ابى حفص تصغیر) شعیر کہہ دے تو وہ کافر ہو جائے گا الكبير من عاب النبى صلى الله اور امام ابو حفص کبیر (حنفی) سے منقول ہے عليه وسلم بشعرة من شعراته کہ حضور کو گالی دینا کفر ہے۔ الكريمة فقد كفر و ذكر فى الاصل ان شتم النبى كفر.

(فتاویٰ قاضی خان ج ۳ ص ۸۸۲ طبع نولکشور)

ولا خلاف بين المسلمين ان کسی مسلمان کو اس میں اختلاف نہیں من قصد النبی صلى الله عليه وسلم کہ جس شخص نے نبی کریم ﷺ کی اہانت بذلك فهو ممن ينتحل الاسلام انه کی اور آپ کو ایذاء رسانی کا قصد کیا اور وہ مرتد يستحق القتل. مسلمان کہلاتا ہے وہ مرتد مستحق قتل ہے۔

(احکام القرآن للجصاص ج ۳ ص ۱۰۶)

معلوم ہوا کہ رسول اللہ علیہ السلام کی توہین کرنے والا اور آپ کو ایذاء دینے والا واجب القتل ہے اور گستاخ رسول کی سزا بطور حد قتل ہی ہے۔

ضروری تنبیہ

ہر کافر کی توبہ قبول ہے لیکن سید عالم ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والے کی توبہ ہزار ہا ائمہ دین کے نزدیک اصلاً قبول نہیں اور ہمارے علماء حنفیہ میں سے امام بزازی‘ امام محقق ابن ہمام‘ علامہ مولیٰ خسرو صاحب درر وغرر‘ علامہ زین ابن نجیم صاحب بحر الرائق و الاشباہ والنظائر‘ علامہ عمر بن نجیم صاحب نہر الفائق‘ علامہ ابو عبد اللہ محمد بن عبد اللہ غزی صاحب تنویر الابصار‘ علامہ خیر الدین رملی صاحب فتاویٰ خیریہ‘ علامہ شیخ زادہ صاحب

صفحہ ۱۰۲

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم

مجمع الانہر‘ علامہ محمد بن علی حصکفی صاحب در المختار وغیرہم نے اسے بڑی وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے۔

اگر مرتد گستاخ رسول صدق دل سے توبہ کر لے تو عند اللہ مقبول ہو سکتی ہے‘ اللہ چاہے تو معاف کر دے چاہے تو معاف نہ کرے‘ اس کا معاملہ اللہ اور اس کے بندے کے درمیان ہو گا لیکن غالب گمان یہی ہے کہ ابدی عذاب جہنم سے نجات پا سکتا ہے اور توبہ عند اللہ مقبول ہونے میں شرعاً کوئی شے مانع نہیں ہے لیکن قبول توبہ حد کے نفاذ کے لئے مانع نہیں ہے‘ توبہ کرنے کے باوجود حدود تو جاری ہوں گی ورنہ توبہ کرنے سے سلسلہ عقوبات سزاؤں اور حدود کا جاری نہ ہو سکے گا اور پھر انسداد جرائم اور کفر و ارتداد بھی قائم نہ ہو سکے گا نیز یاد رہے کہ گناہوں پر توبہ کا طریقہ یہ ہے کہ جرائم خفیہ پر خفیہ اور اعلانیہ پر اعلانیہ ہو۔

رسول اکرم ﷺ فرماتے ہیں:

اذا عملت سيئة فاحدث عندها جب تو بدی کرے تو فوراً توبہ کر خفیہ کی توبة السر بالسر والعلانية خفیہ اور اعلانیہ کی اعلانیہ۔ بالعلانية. (رواہ الامام احمد فی الزھد و الطبرانی فی الکبیر والبیہقی فی الشعب)

الهازل والمستهزئ اذا تكلم تمسخر کرنے والے اور ٹھٹھا کرنے بکفر استخفافا واستهزاء ومزاحا والے نے جب کلمہ کفر کہا درانحالیکہ اس نے يكون كفرا عند الكل وان كان اسے ہلکا جانتے‘ ٹھٹھا کرنے اور مزاح اعتقاده خلاف ذلک (عالمگیری) اڑانے کے طور پر کہا تو یہ سب کے ہاں کفر ہے اگرچہ اس کا اعتقاد اس کے خلاف ہو۔

اذا ارتد المسلم عن الاسلام جب کوئی مسلمان معاذ اللہ اسلام سے والعياذ بالله تعالى عرض عليه مرتد ہو جائے تو اس پر اسلام پیش کیا الاسلام جائے۔

امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کتاب الام باب المرتد الکبیر میں فرماتے ہیں:

صفحہ ۱۰۳

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم

فلم يختلف المسلمون انه لا يحل ان يفادى بمرتد بعد ايمانه ولا يمن عليه ولا توخذ منه فدية ولا يترك بحال حتى يسلم او يقتل والله اعلم

مسلمانوں کا اس بارے میں اختلاف نہیں رہا کہ مرتد سے فدیہ لینا حلال نہیں ہے اور نہ ہی اس پر احسان کیا جائے اور نہ اس سے فدیہ لیا جائے اور نہ اسے کسی حال میں چھوڑا جائے یہاں تک کہ وہ اسلام لے آئے یا پھر اسے قتل کر دیا جائے اور اللہ زیادہ بہتر جانتا ہے۔

اس عبارت سے واضح ہو گیا کہ عام مرتد کی سزا یہی ہے کہ وہ اسلام کو قبول کرے ورنہ اسے سزائے موت دی جائے۔

والقتل على الردة حد ليس للامام ان يعطله

(كتاب الام)

ردّت کی سزائے موت بطور حد ہے وقت کے حاکم کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ سزا کو معطل کر دے۔

یاد رہے کہ شرعی حجتوں میں قرآن وسنت کے بعد تیسرا درجہ اجماع کا ہے اور یہ فضیلت اس امتِ مسلمہ کو حاصل ہے جیسا کہ حدیث پاک سے ثابت ہے۔

اصول فقہ کی معتبر کتاب توضیح میں ہے:

وما اتفق عليه المجتهدون من امة محمد صلى الله عليه وسلم في عصر على امر فهذا من خواص امة محمد صلى الله عليه وسلم فانه خاتم النبيين لا وحي بعده و قد قال الله تعالى اليوم اكملت لكم دينكم ولا شك ان الاحكام التي تثبت بصريح الوحي بالنسبة الى الحوادث الواقعة قليلة غاية القلة فلولم يعلم احكام الحوادث من

اور وہ حکم جس پر محمد ﷺ کی امت کے مجتہدین کا کسی زمانہ میں اتفاق ہو جائے اس کا واجب التعمیل ہونا اس امت کی خصوصیات سے ہے کیونکہ آپ خاتم النبیین ہیں اور آپ کے بعد کسی پر وحی نہیں آئے گی اور ادھر یہ اشارۂ خداوندی ہے کہ ہم نے تمہارا دین کامل کر دیا ہے اور اس میں بھی شک نہیں کہ جو احکام صریح وحی سے ثابت ہوئے ہیں وہ بہ نسبت روزمرہ کے پیش آنے والے واقعات کے نہایت قلیل ہیں پس جب ان

صفحہ ۱۰۴

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم

الوحی الصریح و بقیت احکامہا مہملة لا یکون الدین کاملا فلا بد ان یکون للمجتہدین ولایة استنباط احکامہا من الوحی.

(توضیح مصری ص۲۹ ج۱)

واقعات کے احکام وحی صریح سے معلوم نہ ہوئے (اب اگر اجماع و قیاس کو حجت نہ بنایا جائے) اور شریعت میں ان واقعات کے متعلق احکام نہ ہوں تو دین کامل نہیں رہتا اس لئے ضروری ہے کہ اس امت کے مجتہدین کو وحی سے ان احکام کے استنباط کرنے کا حق حاصل ہو۔

علامہ ابن تیمیہ لکھتے ہیں:

و اجماعہم حجة قاطعة یجب اتباعہا بل ہی اوکد الحجج و ہی مقدمة علی غیرہا و لیس ہذا موضع تقریر ذلک فان ہذا الاصل مقرر فی موضعہ و لیس فیہ بین الفقہاء و لا بین سائر المومنین الذین ہم المومنون خلاف. الخ

(اقامۃ الدلیل، ج ۳، ص ۳۰)

اور اجماع صحابہ حجت قطعیہ ہے، اس کی اتباع فرض ہے بلکہ وہ تمام شرعی حجتوں سے زیادہ مؤکد ہے اور سب سے مقدم ہے۔ یہ موقع اس بحث کے چھیڑنے کا نہیں کیونکہ یہ اپنے موقع پر (یعنی کتب اصول میں) یہ بات باتفاق اہل علم ثابت ہوچکی ہے اور اس میں تمام فقہاء اور تمام مسلمانوں میں جو واقعی مسلمان ہیں، کسی کا بھی خلاف نہیں۔

معلوم ہوا کہ اجماع صحابہ کرام یا اجماع مجتہدین شرعی حجت و دلیل ہے۔

مسیلمہ کذاب کا دعویٰ نبوت

اب ملاحظہ کریں کہ مسیلمہ کذاب نے جب ظلی نبوت کا دعویٰ کیا تھا تو یہ وہ دور تھا، جب نبی کریم ﷺ بقید حیات ظاہری موجود تھے اور اس جھوٹے دعویٰ نبوت کے باوجود کافی لوگ اس کے پیروکار بن گئے تھے۔ نبی کریم ﷺ کے وصال کے بعد امیر المومنین ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سب سے پہلے جو کارنامہ سرانجام دیا تھا وہ وہی جہاد تھا جو مسیلمہ کذاب سے کیا گیا جس میں جمہور مہاجرین و انصار نے اتفاق و اجماع کرلیا تھا حالانکہ مسیلمہ کذاب نماز، زکوٰۃ و روزہ کے علاوہ نبوت و قرآن پر بھی ایمان رکھتا تھا۔

(تاریخ طبری، ج ۳، ص ۲۴۴)

صفحہ ۱۰۵

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت ۱۰۵ اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم

حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے خالد بن ولید کی امارت میں ایک لشکر مسیلمہ کذاب کے ساتھ جہاد کرنے کے لئے یمامہ کی طرف روانہ کیا۔ جمہور صحابہ کرام میں سے کسی نے انکار نہ کیا اور نہ ہی کسی نے اس کے اہل قبلہ ہونے کا عذر پیش کیا اور نہ ہی اس کے کلمہ گو ہونے کو مانع سمجھا تو معلوم ہوا کہ مرتدوں کے ساتھ جہاد کرنا عمل صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ثابت ہے نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ اگر مسلمان ضروریات دین میں سے کسی ایک ضروری امر دینی کا انکار کر جائے تو اس کے خلاف جہاد کرنا ضروری ہو جاتا ہے تو جو شخص مثلاً سلیمان رشدی مسلمان ہو کر سارے دین اسلام اور پیغمبر اسلام اور جد الانبیاء حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام اور ازواج مطہرات وغیرہم کی گستاخی و اہانت کرے تو اس کے خلاف جہاد کیونکر ضروری نہ ہو گا اور پھر ایسا مرتد گستاخ کہ جس کی حمایت میں تمام عیسائی دنیا سپر پاورز یک جان ہو کر اعلان عام کر دیں اور سارے یہودی جس کی حمایت و تعاون پر جان قربان کرنے کے لئے تیار ہو جائیں اور کمیونسٹ نظریات رکھنے والے عوام کی اکثریت بھی اس کی حمایت و تعاون کو ضروری قرار دیں تو گویا اسلام کے خلاف سوچی سمجھی سکیم اور پلان کے تحت ساری کاروائی معرض وجود میں لائی گئی ہے اور پھر تعجب یہ کہ اسلامی کانفرنس کی تنظیم میں شریک ۴۵ ممالک بھی سلیمان رشدی کی مذمت اور اس کی کتاب سٹینک ورسز پر پابندی عائد کر چکے ہیں اس کے باوجود عیسائی یورپ و امریکہ اور جاپان وغیرہ ممالک نے مرتد مذکور کی حمایت جاری رکھی جس سے اہل اسلام اور اسلام دشمنوں کے دو بلاک ۸۹-۱۹۸۸ میں عالمی سطح پر سامنے آگئے چنانچہ ایسے مرتد کی مذمت کرنا اور اس کی کتاب مذکور پر پابندی لگانا اور اس کے ناشرین کے خلاف اقدام کرنا اور سلیمان رشدی مرتد گستاخ جو کہ شرعاً واجب القتل ہے اور فتنہ عالم اسلام کا باعث ہے اس کے خلاف ہر قسم کی کاروائی کرنا شرعی طور پر عین جہاد اکبر ہے اسی طرح اسود عنسی نے بھی نبی اکرم ﷺ کے عہد مبارک میں مصنوعی نبوت کا اعلان کرنے کی وجہ سے نبی کریم ﷺ کے حکم پر صحابہ کے ہاتھوں قتل ہو گیا تھا۔

اسی قسم کے اور بھی ایسے واقعات ہوئے کہ جس جس نے ارتداد اختیار کیا، پھر یا تو وہ اسلام لایا یا قتل کر دیا گیا تھا۔ (فتح الباری، ج ۱۰، ص ۲۵۵)

علامہ سید محمد آلوسی مفتی اعظم بغداد رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اپنی تفسیر روح المعانی میں

صفحہ ١٠٦

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت ١٠٦ اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم

اسی اجماع کو ان الفاظ میں نقل فرمایا ہے:

وكونه صلى الله عليه وسلم اور نبی کریم ﷺ کا آخری نبی ہونا ان خاتم النبيين مما نطقت به الكتب مسائل میں سے ہے جس پر تمام آسمانی وصدعت به السنة واجمعت عليه کتابیں ناطق ہیں اور احادیث نبویہ اس کو الامة فيكفر مدعى خلافه و يقتل ان وضاحت کے ساتھ بیان کرتی ہیں اور تمام اصر (روح المعانی‘ ج ۷‘ ص ۶۵) امت کا اس پر اجماع ہے پس اس کے خلاف کا مدعی کافر ہے اگر توبہ نہ کرے تو قتل کر دیا جائے۔

اور ابن حبان فرماتے ہیں:

من ذهب الى ان النبوة مكتسبة اور جو شخص یہ اعتقاد رکھے کہ نبوت کسب لا تنقطع او الى ان الولى افضل من کر کے حاصل کی جاسکتی ہے اور وہ منقطع النبی صلى الله عليه وسلم فهو نہیں ہوئی یا یہ عقیدہ رکھے کہ ولی نبی سے زنديق يجب قتله (زرقانی‘ ج۶‘ ص۱۸۸) افضل ہے تو یہ شخص زندیق ہے اس کا قتل کرنا واجب ہے۔

معلوم ہوا کہ ضروریاتِ دین کا منکر مرتد ہو جاتا ہے اور مرتد کے لئے دوبارہ اسلام کو قبول کرنا ہے یا اسے قتل کرنا ہے اور یہ عام مرتد کی سزا ہے ورنہ جو مرتد گستاخ بھی ہو تو اس کی سزا صرف سزائے موت ہی ہے اور یہ سزا بطور حد جاری ہوگی۔

شفاء قاضی عیاض میں ہے:

وقد قتل عبد الملك بن مروان اور خلیفہ عبدالملک بن مروان نے حارث الحارث المتنبى و صلبه و فعل مدعی نبوت کو قتل کیا اور سولی چڑھایا‘ اور ایسا ذلک غیـر واحـد مـن الـخـلـفـاء ہی معاملہ بہت سے خلفاء اور بادشاہوں نے والملوک باشباههم و اجمع علماء اس جیسے مدعیان نبوت (مرتدوں) کے وقتهم على صواب فعلهم ساتھ کیا ہے اور اس زمانہ کے علماء نے اس والمخالف فى ذلک من کفرهم پر اتفاق کیا ہے کہ ان کا یہ فعل صحیح و درست کافر۔ (انکار الملحدین‘ ص۴۳) تھا اور جو ان کے کافر کہنے کا مخالف ہے وہ

صفحہ 107

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت ۱۰۷ اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم

خود کافر ہے۔

معلوم ہوا کہ مرتد کی سزا قتل ہے اور اس پر خلفاء اور ملوک نے عمل کیا ہے اور اس پر اس وقت کے علماء کرام نے اجماع کیا ہے کہ خلفاء وغیرہ کا مرتدوں کو قتل کرنے کا فعل درست ہے اور غلط نہیں ہے۔

حضرت یوسف بن جنید التوقادی (۹۰۲ھ) صاحب ہدیۃ المھتدین فرماتے ہیں:

قد اجتمعت الامة علی ان الاستخفاف بنبینا و بای نبی کان من الانبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کفر۔

بیشک امت مسلمہ کا اس بات پر اجماع ہے کہ ہمارے نبی ﷺ کی تخفیف و تحقیر کرنا اور انبیاء میں سے کسی نبی کی تحقیر کرنا کفر ہے۔

قال الخطابی لا اعلم احدا من المسلمین اختلف فی وجوب قتلہ اذا کان مسلما (ہدیۃ المھتدین)

خطابی نے کہا کہ میں ایسے کسی آدمی کو نہیں جانتا مسلمانوں میں سے کہ جس نے مرتد کی سزائے موت میں اختلاف کیا ہو بشرطیکہ وہ مرتد پہلے ہی سے مسلمان ہو۔

وفی المبسوط عن عثمان بن کنانۃ من شتم النبی صلی اللہ علیہ وسلم قتل و لم یستتب والامام مخیر فی صلبہ حیا او قتلہ

اور مبسوط میں ہے عثمان بن کنانہ سے کہ جس نے نبی علیہ السلام کو گالیاں دیں اسے قتل کیا جائے گا اور اس سے توبہ نہیں کرائی جائے گی اور حاکم کو اختیار ہے چاہے اسے زندہ سولی پر چڑھا دے یا اسے قتل کرا دے۔

وافتی فقہاء الاندلس بقتل الحاتم وصلبہ بما شہد علیہ من استخفافہ بحق النبی علیہ السلام

اندلس کے فقہاء نے حاتم کے قتل اور پھانسی دینے کا فتویٰ وحکم دیا تھا اور اس کے خلاف شہادت گزر چکی تھی کہ اس نے نبی علیہ السلام کی تخفیف کی تھی

وقال ابن عتاب الکتاب والسنۃ موجبان ان من قصد النبی صلی اللہ

ابن عتاب نے کہا کتاب وسنت ایسے شخص کے بارے واجب کرتی ہیں کہ جس

صفحہ ١٠٨

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم

عليه وسلم باذى او نقص معرضا او کسی نے نبی علیہ السلام کو اذیت دی یا نقص مصرحا و ان قل فقتله واجب الخ نکالا، اشارۃ ہو یا صراحتاً ہو، گو بہت کم ہو تو

(کتاب مذکور) اس کو قتل کرنا واجب ہے۔

اس سے متعلق ہے کہ وقت کے حاکم کے لئے ضروری ہے کہ وہ شاتم رسول کو سزائے موت دے جیسا کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ سے کوفہ کے عامل نے مشورہ مانگا ایسے شخص کے قتل کے بارے میں کہ جس نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو گالیاں دی تھیں۔

فكتب اليه عمر انه لا يحل قتل : تو عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالیٰ عنہ امرى مسلم بسب احد من الناس : نے یہ لکھا کہ مسلم آدمی کا قتل جائز نہیں کہ الا رجل سب رسول الله صلى الله : کسی آدمی کو گالیاں دے مگر ایسا آدمی جو عليه وسلم و من سبه فقد حل دمه : رسول اللہ ﷺ کو گالیاں دے اور جو شخص

(کتاب مذکور) : آپ کو گالیاں دے تو وہ مباح الدم ہے۔

علامہ ابوالعباس احمد بن محمد بن علی حجر المکی ہیتمی ۹۰۹ھ-۹۷۴ھ اپنی کتاب ”الاعلام بقواطع الاسلام“ میں فرماتے ہیں کہ حدیث میں آیا ہے:

اذا قال الرجل لاخيه يا كافر : جب کوئی شخص اپنے بھائی (مسلمان) فقد باء بها احدهما : کو کہہ دے ”اے کافر!“ تو بیشک دونوں : میں سے ایک پر کفر لوٹے گا۔

یعنی کافر کہنے والے نے اگر بغیر کسی وجہ کفر کے پائے جانے کے کہا ہے تو کہنے والا کافر ہوا اور اگر کہنے والے نے وجوہ کفر کے متحقق ہونے کی حالت میں کہا ہے تو جس کو کافر کہا ہے وہ کافر ہوا اور کہنے والا مسلمان رہا۔ اس حدیث کے بارے میں اہل تحقیق نے کئی مطالب بیان کئے جو ظاہر کے خلاف تھے تو صاحب اعلام نے فرمایا:

انما نحكم بالكفر باعتبار : بیشک ہم کفر کا حکم ظاہر کے اعتبار سے الظاهر وقصدك و عدمه انما : لگائیں گے اور تیرے ارادہ اور عدم ارادہ تربط به الاحكام باعتبار الباطن : کے ساتھ احکام باعتبار باطن کے وابستہ

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت لا الظاهر قدرے آگے فرماتے بان حكمنا باعتبار يبحث عن المراد و حكما ظاهرا مزید فرمایا: لان العبادة لا تنا مكان اجتماعهما ف من ارتكب كبيرة فا اعبد الناس بخلاف الك فانه لا يمكن اجتماعهم واحد فى حالة من الا

عابد ہو کر فاسق ہو ایک شخص مسلمان اور کافر گزاروں کے فسق و فجور کے اعمال میں کبیرہ گناہ عبادت پر ہوتی ہے اور ب کی حد تک ارتکاب کر خالص مسلمان سمجھتے ہیں ہو سکتے ہیں: وقال ابن دقيق عليه الصلوة وا رجلا بالكفر و لم

صفحہ ١٠٩

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم

لا الظاهر ہوں گے نہ کہ ظاہر کے اعتبار سے۔

قدرے آگے فرماتے ہیں:

بان حكمنا باعتبار الظاهر فلا بے شک ہمارا حکم ظاہری اعتبار سے ہے يبحث عن المراد ولا ندير عليه تو مراد سے بحث نہیں کی جائے گی اور نہ ہی حكما ظاهرا مراد پر ظاہری حکم چسپاں کریں گے۔

مزید فرمایا:

لان العبادة لا تنافى الفسق لا کیونکہ عبادت فسق کے خلاف نہیں ہے مكان اجتماعهما في ان واحد اذ اس لیے کہ دونوں کا ایک وقت میں ایک من ارتكب كبيرة فاسق و ان كان شخص میں جمع ہونا ممکن ہے جیسے کوئی آدمی اعبد الناس بخلاف الكفر و الاسلام گناہ کا ارتکاب کرے تو وہ فاسق ہو جاتا فانه لا يمكن اجتماعهما في شخص ہے گو کہ وہ شخص لوگوں میں زیادہ عابد ہو واحد في حالة من الاحوال بخلاف کفر و اسلام کے تو بے شک ان دونوں کا اجتماع ایک شخص میں ایک حالت میں کسی طرح ممکن نہیں ہے۔

عابد ہو کر فاسق ہو سکتا ہے یعنی اسے عابد فاسق کہہ سکتے ہیں لیکن ایک وقت میں ایک شخص مسلمان اور کافر نہیں ہو سکتا ہے۔ اس سے وہ لوگ عبرت حاصل کریں جو عبادت گزاروں کے فسق و فجور کے باوجود انہیں فاسق و فاجر کہنے کے لئے تیار نہیں ہوتے اور ان کے اعمال میں کبیرہ گناہ اخلاقی یا اعتقادی شامل ہوں پھر بھی جاہلوں کی نظر صرف ظاہری عبادت پر ہوتی ہے اور برائے نام مسلمان گو کئی طرح کے الحاد و بد اعتقادی کا حامل ہو اور کفر کی حد تک ارتکاب کر چکا ہو اسے بعض کم علم یا ضعیف ایمان رکھنے والے لوگ پھر بھی خالص مسلمان سمجھتے ہیں حالانکہ اسلام و کفر ایک شخص میں ایک وقت کے اندر جمع نہیں ہو سکتے ہیں:

وقال ابن دقيق العيد في قوله اور ابن دقیق العید نے نبی کریم ﷺ عليه الصلوة والسلام و من دعا کے اس ارشاد کے بارے میں کہا اور جس رجلا بالكفر و ليس كذلك الا نے کسی آدمی کو کفر کے ساتھ پکارا حالانکہ وہ

صفحہ ۱۱۰

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت ۱۱۰ اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم

حار عليه ای رجع و هذا وعيد عظيم لمن كفر احدا من المسلمين وليس هو كذلك و هو ورطة عظيمة وقع فيها خلق من العلماء اختلفوا فى العقائد و حكموا بكفر بعضهم بعضا (الأعلام)

شخص اس طرح کا نہ تھا تو کفر اس پر لوٹ آئے گا اور یہ عظیم درجہ کی وعید ہے ایسے لوگوں کے لئے جنہوں نے مسلمانوں کو کافر کہا حالانکہ وہ مسلمان کافر نہ تھا اور یہ ورطۂ عظیمہ ہے جس میں علماء کا ایک طبقہ مبتلاء ہے جنہوں نے عقائد میں اختلاف کیا ہے اور بعض نے بعض پر کفر کا حکم لگایا ہے۔

معلوم ہوا کہ بلاوجہ کسی کو کافر کہنا خود کو کافر ہو جانے کی دعوت دینا ہوتا ہے اور یہ بھی واضح ہے کہ کفر کے وجوہات کے تحقق سے کفر خود بخود وارد ہو جاتا ہے چاہے اسے کوئی کافر کہے یا نہ کہے۔ کفر ایمان کی ضد ہے ایک کے تحقق سے دوسرے کا انتفاء ہونا یقینی امر ہے اس وقت کفر کسی کا انتظار نہیں کرتا ہے دن کے غائب ہوتے ہی رات کا آ جانا قطعی امر ہے روشنی کا نہ ہونا اندھیرا ہوتا ہے اور اندھیرے کا نہ ہونا ہی روشنی ہے۔

صاحب الاعلام نے مواقف اور شرح مواقف کی عبارت کو نقل کیا ہے:

وفى المواقف و شرحها: ومن صدق بما جاء به النبى صلى الله عليه وسلم و مع ذلك سجد للشمس كان غير مؤمن بالاجماع لان سجوده لها يدل لظاهره على انه ليس بمصدق و نحن نحكم بالظاهر فلذلك حكمنا بعدم ايمانه لان عدم السجود لغير الله داخل فى حقيقة الايمان حتى لو علم انه لم يسجد لها على سبيل التعظيم و اعتقاد الالهية بل سجد لها و قلبه مطمئن بالتصديق لم

مواقف اور شرح مواقف میں ہے: جس شخص نے نبی کریم ﷺ کی تصدیق تمام ان چیزوں میں کی جو آپ اللہ کی طرف سے لائے اور اس کے باوجود وہ شخص سورج کو سجدہ کر چکا تو ایسا شخص بالاجماع مومن و مسلمان نہیں ہے اس لئے کہ اس کا سورج کو سجدہ کرنا بظاہر دلالت کرتا ہے کہ وہ شخص دل سے تصدیق کرنے والا نہیں ہے اور ہم ظاہر پر ہی حکم لگائیں گے (کہ وہ مسلمان نہیں ہے) اس وجہ سے ہم نے اس کے غیر مومن ہونے کا حکم دیا، دلیل یہ ہے کہ غیر اللہ کو سجدہ نہ کرنا ہی ایمان کی حقیقت

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت

يحكم بكفره فيما بينه و بين ان اجرى عليه حكم الكـ الظاهر. انتهى

اس عبارت سے ظاہر ہو گیا ہو یا کہ جاہل، پیر ہو یا کہ مرید صحافت سے بے خبر، حکومت اسلا اسلام یا کفر میں سے کسی ایک کے

ونحن نحكم بالظاهر فلـ حكمنا بعدم ايمانه اللفظ ظا الكفر و عند ظهور اللفظ يحتاج الى نية كما علم من كثيرة

المدار في الحكم بالكفـ الظواهر ولا نظر للمقصود و ولا نظر لقرائن حاله

شرح فقہ اکبر میں جواہر کے من قال لو كان كذا غـ اكفر كفر من ساعته

صفحہ 111

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت ۱۱۱ اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم

يحكم بكفره فيما بينه و بين الله و ان اجرى عليه حكم الكافر فى الظاهر. انتهى

میں داخل ہے اگر وہ شخص یقین رکھتا ہے کہ اس نے سورج کو سجدہ نہیں کیا تعظیم کے طور پر اور نہ اعتقاد الوہیت کے طور پر بلکہ سورج کو سجدہ جب کیا تھا تو اس کا دل اس وقت تصدیق مذکور کے ساتھ مطمئن تھا تو اس وقت اس پر کفر کا حکم نہیں لگایا جائے گا اس حالت پر جو اس بندے اور اللہ کے درمیان ہے لیکن اس پر کافر ہونے کا حکم ظاہر میں جاری کیا جائے گا۔

اس عبارت سے ظاہر ہو گیا کہ کفر کا حکم ظاہری حالت پر لگایا جاتا ہے کوئی بھی عالم ہو یا کہ جاہل، پیر ہو یا کہ مرید، حاکم ہو یا کہ محکوم، امیر ہو یا غریب، صحافی نامور ہو یا کہ صحافت سے بے خبر حکومت اسلامیہ کا باشندہ ہو یا کہ غیر اسلامیہ حکومت کا رہنے والا ہو اسلام یا کفر میں سے کسی ایک کے ساتھ موصوف ہونا ضروری ہے۔

ونحن نحكم بالظاهر فلذلك حكمنا بعدم ايمانه اللفظ ظاهر فى الكفر و عند ظهور اللفظ فيه لا يحتاج الى نية كما علم من فروع كثيرة

ہم ظاہر پر حکم کرتے ہیں اس لئے ہم نے اس کے عدم ایمان پر حکم لگایا۔ لفظ ظاہر ہے کفر میں لفظ صریح نیت کا محتاج نہیں ہوتا جیسا کہ کئی فروعات سے معلوم ہے۔

المدار فى الحكم بالكفر على الظواهر ولا نظر للمقصود والنيات ولا نظر لقرائن حاله

کفر کے حکم کا معیار و مدار ظاہر پر ہوتا ہے، مقصود و نیت کا لحاظ نہیں ہوتا اور نہ ہی اس کے حال کے قرائن و اشارات کا لحاظ ہے۔

شرح فقہ اکبر میں جواہر کے حوالہ سے یہ عبارت درج ہے:

من قال لو كان كذا غدا والا اكفر كفر من ساعته

جس نے کہا اگر ایسا ہوا کل تو ورنہ کافر ہو جاؤں گا تو وہ اسی وقت کافر ہو گیا۔

صفحہ 112

اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم ۱۱۲ گستاخ رسول کی شرعی حیثیت

اور اسی شرح فقہ اکبر میں محیط کے حوالہ سے ہے:

من قال فانا کافر او فاکفر (الی) جس نے کہا میں کافر ہوں یا کفر کرلوں هو کافر من ساعته. گا تو ایسا شخص اسی وقت کافر ہو جاتا ہے۔

ایک اور عبارت اس طرح ہے:

وهذا ظاهر لان ارادة الكفر اور یہ ظاہر ہے کیونکہ کفر کا ارادہ کرنا کفر کفر. ہوتا ہے۔

پھر صاحب شرح فقہ اکبر محیط اور مجمع الفتاوے سے نقل فرماتے ہیں:

من عزم علی ان یامر احدا جس نے یہ ارادہ کیا کہ کسی کو کفر کا حکم بالکفر کان بعزمه کافرا. کرے تو اس پختہ ارادہ ہی سے کافر ہو جائے گا۔

اسی میں مزید عبارت قونوی سے ہے:

لو تلفظ بکلمة الکفر طائعا غیر اگر کسی نے خوشی سے کلمہ کفر بولا حالانکہ معتقد له یکفر لانه راض بمباشرته کفر کا عقیدہ نہیں تھا (پھر بھی) کافر ہو گیا و ان لم یرض بحکمه کالهزل به اس لئے کہ وہ شخص کفر کے ساتھ ملنے جلنے پر فانه یکفر و ان لم یرض بحکمه ولا راضی ہے گو کہ وہ کفر کے حکم پر راضی ہے یعذر بالجهل و هذا عند عامة جیسے کفر کے ذریعے تمسخر و ٹھٹھا کرنے والا العلماء. کافر ہو جاتا ہے اگرچہ حکم کفر کے ساتھ راضی نہ ہو اور جہالت کی وجہ سے معذور نہیں سمجھا جائے گا اور یہ حکم عام علماء کے نزدیک ہے۔

الاشباہ والنظائر میں شیخ زین العابدین بن ابراہیم بن نجیم مرتد کے احکام کے بارے میں فرماتے ہیں:

لا یقر المرتد ولو بجزیة ولا مرتد کو قرار وسکون نہ دیا جائے گو جزیہ یصح نکاحه ولا تحل ذبیحته کے ذریعہ ہو اور نہ اس کا نکاح ہی صحیح ہے ویهدر دمه و یوقف ملکه و تصرفاته اور نہ اس کا ذبیحہ حلال ہے اور اس کا خون

صفحہ ۱۱۳

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم

ولا يسبى ولا يفادى ولا يمن عليه بہایا جائے اور اس کی ملکیت و تصرفات کو ولا يرث ولا يورث ولا يدفن فى وقف بنایا جائے اور نہ اسے قید کیا جائے اور مقابر اهل ملة ولا يتبعه ولده فيها نہ ہی فدیہ لے کر چھوڑا جائے اور نہ اس پر کوئی احسان کیا جائے اور نہ وہ کسی کا وارث ہو گا اور نہ ہی اس کا کوئی وارث ٹھہرایا جائے گا اور اسے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہ کیا جائے اور اس کا بیٹا، مرتد باپ کی ملت کے تابع نہ ہو گا۔

معلوم ہوا کہ مرتد کے احکام اصلی کافر کے احکام سے علیحدہ ہیں اور مرتد اگرچہ کافر ہوتا ہے مگر اصلی کافر سے زیادہ سخت ہوتا ہے اس لیے عام مرتد کے لئے توبہ یا قتل کی سزا ہے اور یہ اصلی کافر کی سزا نہیں ہے۔

یاد رہے کہ کسی کافر شخص نے اگر اہل علم مسلمان سے سوال کیا کہ میں اسلام میں داخل ہونا چاہتا ہوں، مجھے اسلام کا کلمہ تلقین کرو، پڑھاؤ، دوسرے مسلمان باشعور نے کہا صبر کرو تاکہ میں فارغ ہو جاؤں یا ٹھہرو غسل کرو وغیرہ وغیرہ تو اس طرح کہنے کا یہ مطلب ہو گا کہ یہ مسلمان کافر کے کچھ وقت کیلئے کفر پر رہنے میں راضی ہے تو یہ کفر ہو گا کیونکہ رضاء بالکفر کفر ہی ہوتا ہے۔ ایسے حالات میں ہر مسلمان پر فرض ہو جاتا ہے کہ وہ کافر کو کلمہ پڑھا کر مسلمان بنائے اور بعد میں دوسرے احکام کی تلقین کرے۔ کلمہ سے مراد ہے توحید و رسالت کی گواہی کا زبان سے اقرار کرائے، اور جس کفری مذہب پر وہ تھا اس سے چاہے کسی زبان سے ہو اس کو انکار کرا دے، عربی زبان میں کہلانا ضروری نہیں ہے بلکہ کلمہ اسلام کا مطلب زبان سے اقرار کرا دے۔

انه متضمن للرضاء ببقائه على بے شک ایسا کرنا کفری حالت پر باقی الكفر ولو لحظ والرضاء بالكفر رکھنے پر راضی ہونے کو شامل ہے گو ایک کفر (اعلام) ساعت کے لئے ہو اور کفر پر رضاء کفر ہوتا ہے۔

والشك فى رسالة المرسلين اور رسولوں (مرسلوں) صلوات اللہ و صلوات الله و سلامه على نبينا سلامہ علی نبینا وعلیہم اجمعین کی رسالت میں

صفحہ ۱۱۴

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت ۱۱۴ اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم

وعلیہم اجمعین بل او رسالة من علمت رسالته منهم ضرورة کفر بلا نزاع والشک فی الفرائض کفر به واضح لانه یستلزم الشک فی الضروریات المعلومة من الدین وهو کفر کانکارها

(الاعلام بقواطع الاسلام)

شک کرنا بلکہ ہر رسول کی رسالت میں شک کرنا جن کی رسالت بدیہۃ ثابت ہو کفر ہے بغیر نزاع کے۔ اور (اسلام کے) فرضوں میں شک واضح کفر ہے اس لئے کہ یہ شک دین کی ضروریات میں شک کو لازم ہے اور ضروریات دین میں شک ان کے انکار کی طرح ہے یعنی ضروریات دین میں شک کرنا ہی کفر و انکار ہوتا ہے۔

اجماع علماء

صاحب اعلام شفاء سے نقل فرماتے ہیں:

اجمع العلماء علی ان من دعا علی نبی من الانبیاء بالویل او بشیء من المکروه انه یقتل بلا استتابة

علماء کا اجماع ہے کہ بے شک جس نے کسی نبی پر بددعا کی ویل (سخت مصیبت و ہلاکت کی) یا کسی برائی کی بددعا مانگی، بے شک وہ شخص قتل کیا جائے اور اس سے توبہ نہ کرائی جائے۔

یعنی علماء کا اجماع ہے کہ اگر کوئی کسی نبی کی بدخواہی چاہے تو وہ واجب القتل ہے اس کی توبہ قبول نہیں ہے اور اگر سب وشتم یعنی گالیاں یا تنقیص کے بغیر نبی کریم ﷺ کا انکار کر دیا تو اس کی توبہ قبول ہوگی۔ اگر صدق دل سے توبہ کرے اور اس سے توبہ کرنے کا مطالبہ بھی ضروری ہوگا۔ اس حد تک یہ مسئلہ اتفاقی ہے۔

ان من کفر بغیر سبه صلی الله علیه وسلم او تنقیصه تقبل توبته اتفاقا و تجب استتابته علی الاصح

بے شک جس نے کفر کیا بغیر گالیاں دیے نبی ﷺ کو یا آپ کی تنقیص کئے بغیر تو اس کی توبہ قبول کی جائے گی اتفاقی طور پر اور توبہ کرانا بھی واجب ہے مذہب اصح پر۔

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت

واما من کفر علیه وسلم او تنقـ ضمنا و مثله الملة تحتم قتله فقال الا الله عنه و اصحابه ولا تقبل توبته ولا سهوا او نحوه

صاحب مختـ ہو یا لعن طعن کرے ، بدل دے یا ان کے نقص نکالے یا ان کـ کرے جو آپ کے لا قتل ولم یستـ

اس شرعی حکم پـ

لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فِي وَأَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا

تو گویا اس کو سزا کافر ہی کو ہو سکتـ قریب من المعجـ کے رسول کی اذیـ

صفحہ ۱۱۵

اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم

شک کرنا بلکہ ہر رسول کی رسالت میں شک کرنا جن کی رسالت بدایۃ ثابت ہو کفر ہے بغیر نزاع کے۔

واضح کفر ہے اس لئے کہ یہ شک دین کی ضروریات میں شک کو لازم ہے اور ضروریاتِ دین میں شک ان کے انکار کی طرح ہے یعنی ضروریاتِ دین میں شک کرنا ہی کفر و انکار ہوتا ہے۔

تے ہیں: علماء کا اجماع ہے کہ بے شک جس نے کسی نبی پر بدعا کی ویل (سخت مصیبت و ہلاکت کی) یا کسی برائی کی بددعاء مانگی‘ بے شک وہ شخص قتل کیا جائے اور اس سے توبہ نہ کرائی جائے۔

ی نبی کی بدخواہی چاہے تو وہ واجب القتل ہے شتم یعنی گالیاں یا تنقیص کے بغیر نبی کریم ﷺ کا صدق دل سے توبہ کرے اور اس سے توبہ کرنے کا مسئلہ اتفاقی ہے۔

بے شک جس نے کفر کیا بغیر گالیاں دیئے نبی ﷺ کو یا آپ کی تنقیص کئے بغیر تو اس کی توبہ قبول کی جائے گی اتفاقی طور پر اور توبہ کرانا بھی واجب ہے مذہب اصح پر۔

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم

واما من كفر بسبه صلى الله عليه وسلم او تنقيصه صريحا او ضمنا و مثله الملك فاختلفوا في تحتم قتله فقال الامام مالك رضى الله عنه و اصحابه يقتل حدا لا ردة ولا تقبل توبته ولا عذره و ان ادعى سهوا او نحوه

اور مگر جس شخص نے نبی کو گالیاں دیں یا تنقیص صراحۃً یا ضمناً کی اور اسی طرح فرشتہ (کا بھی حکم) ہے تو اس شخص کے قتل ضروری میں علماء مختلف ہیں۔ امام مالک رضی اللہ عنہ اور آپ کے ساتھیوں نے کہا اسے قتل کیا جائے بطور حد کے نہ ردّت کے اور اس کی توبہ اور اس کا عذر قبول نہ کیا جائے گو وہ شخص بھول وغیرہ کا دعویٰ کرے۔

صاحب مختصر سے بھی نقل فرمایا کہ جس شخص نے نبی یا فرشتہ کو گالیاں دیں گو کہ اشارۃً ہو یا لعن طعن کرے یا عیب نکالے یا تہمت لگائے یا استخفاف کرے یا ان کی کسی صفت کو بدل دے یا ان کے ساتھ ان کے دین میں نقص کا الحاق کرے یا ان کی کسی خصلت میں نقص نکالے یا ان کے مرتبہ اور وافر علم و زہد کو گھٹائے یا آپ کی طرف ایسی چیز کی نسبت کرے جو آپ کے لائق نہیں ہے وغیرہا عیوب نکالے تو اس کا حکم یہ ہے:

قتل ولم يستتب حدا.

اسے قتل کیا جائے بطور حد کے اور اس سے توبہ نہ کرائی جائے۔

اس شرعی حکم پر چند دلائل ملاحظہ ہوں:

لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ وَاَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِيْنًا o

(الاحزاب : ۵۷)

بے شک جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کو اذیت پہنچائی ان پر اللہ کی لعنت دنیا و آخرت میں ہے اور ان کے لئے اللہ نے اذیت والا عذاب تیار کیا ہے۔

تو گویا اس کو اللہ نے اپنی رحمت سے دور فرما دیا اور اسے عذاب میں ڈال دیا اور یہ سزا کافر ہی کو ہو سکتی ہے ورنہ رحمت الٰہی مسلمان کے لئے قریب ہوتی ہے ”ان رحمۃ اللہ قریب من المحسنین“ تو گستاخ کا حکم قتل ہے کیونکہ آیت کا تقاضا یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی اذیت کفر ہے‘ فرق صرف یہ ہے کہ اللہ کو اذیت پہنچانا تو مجازی طور پر ہے

صفحہ ۱۱۶

اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم گستاخ رسول کی شرعی حیثیت

کیونکہ حقیقت میں کوئی مخلوق اللہ کو اذیت نہیں پہنچا سکتی ہے، اللہ تعالیٰ مخلوق پر قادر و غالب ہے اور وہ خفیف شر جو دکھ و درد والا ہے اس کا پہنچانا اذیت ہے، اگر اس درجہ سے شر بڑھ جائے تو اسے اضرار کہا جاتا ہے۔ دنیا میں لعنت سے قتل ہی مراد ہے، سزا اس جرم کے مطابق یہی ہو سکتی ہے۔

اصل میں اذیت رسول اکرم ﷺ کو دی جاتی تھی، اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب کی اذیت کو اپنی اذیت قرار دیا تا کہ اس کی سزا بھی سخت ہو اور اس طرح رسول سے محبت اور ان کی عظمت بھی دوبالا ہو جائے گی نیز یہ بھی واضح ہو جائے کہ رسول کی اذیت اصل میں اللہ کی اذیت ہے۔

كُنْتُمْ تَسْتَهْزِءُوْنَ لَا تَعْتَذِرُوْا قَدْ اس کے رسول کے ساتھ تم ہنسی کرتے ہو، تم كَفَرْتُمْ بَعْدَ إِيْمَانِكُمْ (التوبہ: ۶۵،۶۶) عذر و معذرت نہ کرو بے شک تم نے ایمان کے بعد کفر کر لیا۔

اور اس کفر کا سبب وہ قول تھا جس کو منافق طبقہ نے رسول کی شان میں کہا تھا کہ آپ کو ہمارے حالات کا علم نہیں تو آپ غیب کی خبریں کیا دیں گے۔

اس آیت میں واضح ہو چکا کہ رسول اکرم ﷺ کی شان میں ادنیٰ گستاخی بھی انسان کو مرتد بنا دیتی ہے۔

ابو داؤد اور ترمذی کی حدیث میں ہے:

لكعب بن الاشرف فقد استعلن بعد اشرف کو مارے۔ بے شک اس نے ہماری اوتنا وهجانا دشمنی اور برائی کا کھلم کھلا اعلان کر دیا ہے۔

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں:

فانہ یوذی اللہ و رسولہ کیونکہ اس نے اللہ اور اس کے رسول کو اذیت پہنچائی ہے۔

تو اس کے بعد ایک شخص کو بھیجا گیا جس نے اس کو قتل کر دیا۔ اس حدیث میں اس کے قتل کرنے کی اصل وجہ ایذاء قرار دیا گیا ہے۔ صاحب اعلام فرماتے ہیں:

صفحہ ۱۱۷

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم

لو اسلم کافر فاعطاه الناس اگر کافر اسلام لائے پھر اسے لوگ بہت اموالا فقال مسلم ليتنى كنت كافرا سا مال عطیہ کے طور پر دیں (اس دوران) فاسلم فاعطی قال بعض الناس يكفر کوئی مسلمان کہے کاش میں کافر ہوتا پھر میں اسلام قبول کرتا تو مجھے بہت سا مال دیا جاتا۔ بعض مشائخ نے فرمایا کہ وہ شخص کافر ہو گیا (کیونکہ اس نے کفر کی آرزو کی ہے)۔

ولذا يقطع بتكفير كل قائل قولا اور ایسے ہی قطعی طور پر ہر ایسی بات يتوصل به الى تضليل الامة او کرنے والے کو کافر ٹھہرایا جائے گا جس کی تكفير الصحابة بات سے امت مسلمہ کی تضلیل ہوتی ہو یا صحابہ کرام کی تکفیر ہوتی ہو۔

جب عام امت مسلمہ کا یہ حال ہے تو علماء حق اور اولیاء کاملین عارفین کی ناحق مطلقاً تضلیل و تذلیل کرنے سے کفر کیونکر واقع نہ ہوگا اور صحابہ کرام واہل بیت عظام کے ذریعے اسلام پھیلا اور بے مثال جانی و مالی قربانیاں دے کر اللہ و رسول کی رضا کے حقدار ہو گئے ہیں ان کی تکفیر کرنے والا خود ہی کافر ہو جاتا ہے۔ پھر سلیمان رشدی جیسے بے باک شیطان گستاخ کے مرتد ہونے اور اس کے واجب القتل ہونے میں کیسے توقف کیا جا سکتا ہے جس نے پورے اسلام اور انبیاء کرام سابقین کا مذاق اڑایا ہے۔

لندن کے سلیمان رشدی مرتد کی طرح ایک وہ بھی مرتد تھا جس نے تیونس میں ۷۸۴ھ میں گستاخی کی تھی:

ان رجلا قال لاخر انا عدوك و ایک آدمی نے دوسرے سے کہا میں تیرا عدو نبيك فعقد له مجلس فافتی دشمن ہوں اور تیرے نبی کا دشمن ہوں تو اس بعض المالكية بانه مرتد واخذ شخص کے لئے ایک مجلس (فقہاء کی) منعقد كفره من قوله تعالى من كان ہوئی بعض مالکی علماء نے فتوی دیا کہ وہ مرتد عدو لله (الاية) وافتى بعضهم بان ہے۔ اس شخص کا کفر اس آیت سے اخذ کیا كفره كفر تنقيص فلا يستتاب واخذ گیا ہے (جو شخص اللہ کا دشمن ہے آخر تک) ذلك مما فى الشفاء من ان امراة اور ان کے بعض علماء نے یہ فتوی دیا کہ ان کا

صفحہ ۱۱۸

اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم گستاخ رسول کی شرعی حیثیت

سبت النبی صلی الله عليه وسلم فقال من يكفيني عدوتی؟ فقتلت و من كون خالد رضی الله تعالى عنه قتل من قال له عن النبی صلی الله عليه وسلم صاحبكم و من افتاء ابن عتاب بقتل من قال ان سالت او جهلت فقد سال وجهل نبیک

(الاعلام بقواطع الاسلام ص ۳۸۰)

کفر تنقیص کا کفر ہے اس میں توبہ نہیں کرائی جائے گی اور یہ حکم فتوے شفاء سے لیا گیا ہے بیشک ایک عورت نے نبی اکرم ﷺ کو گالیاں دیں، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کون میرے لئے میرے دشمن کو کافی ہوگا تو وہ (عورت) قتل کی گئی اور یہ حکم لیا گیا ہے (اس واقعہ سے بھی) جب حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے قتل کیا اس شخص کو جس نے آپ سے نبی کریم ﷺ کے بارے (تمہارے صاحب نے کہا تھا اور یہ حکم لیا گیا ابن عتاب کے فتوے سے کہ آپ نے قتل کا حکم دیا جس نے کہا (میں اگر پوچھوں یا نہ جانوں) تو تمہارے نبی نے بھی پوچھا اور نہ جانا۔

فمن ذلک ان من سب نبيا عليه افضل الصلوة والسلام (الى) او عابه او الحق به نقصا فی نفسه او نسبه او دينه او خصلة من خصائله او عرض او شبهه بشيی على طريق السب والازراء او التصغير بشانه او العرض او العيب له او لعنه او دعا عليه او تمنى له مضرة او نسب اليه مالا يليق بمنصبه على طريق الذم (الى) كان كافرا بالاجماع كم حكاه جماعة (الى) سواء اصدر منه جميع ذلک او بعضه فيقتل ولا

اس وجہ سے بے شک جس کسی نے نبی علیہ السلام کو گالیاں دیں (یہاں تک) یا عیب نکالا یا نقص کا الحاق کیا ان کی ذات میں یا ان کے نسب میں یا ان کے دین میں یا ان کی خصلت میں یا گالی یا عیب جوئی کے طور پر کسی شے کے ساتھ ایسی تشبیہ دی یا ان کی شان کی یا عزت کی چھوٹائی کا الحاق کیا یا عیب لگایا (لعن طعن یا بددعاء کی) یا آپ کی مضرت کی تمنا کی یا آپ کی طرف ایسی چیز کی نسبت کی جو آپ کی شان کے لائق نہیں بطور مذمت کے وغیرہ برے امور تو ایسا شخص بالاجماع کافر ہو گیا جس کو ایک جماعت نے نقل کیا ہے (یہاں تک) برابر ہے کہ اس سے یہ تمام باتیں صادر ہوں یا بعض تو وہ قتل کیا جائے گا اور اس (کے کفر) میں

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت

تقبل توبته عند اكثـ جماعة من اصحـ الشيخ ابوبكر ن الفـ

ومنہا ما نقـ تاديب من عير بالنـ النبي صلى الله عـ وسلم في غير مـ لانه عرض بذكـ ولا ينبغي لاهل الـ ان يقولوا قد اخطا

معلوم ہوا کہ قابل سزا جرم ہے او گنہگار قابل سزا ہے ہے عام امتی کو نبی کے

ومنها: قال يعـ ان من تلفظ بلفـ لم يعتقد انه لـ بالجهل وكذا مـ

صفحہ ۱۱۹

اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم

کفر تنقیص کا کفر ہے اس میں توبہ نہیں کرائی جائے گی اور یہ حکم فتوے شفاء سے لیا گیا ہے بیشک ایک عورت نے نبی اکرم ﷺ کو گالیاں دیں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کون میرے لئے میرے دشمن کو کافی ہو گا تو وہ (عورت) قتل کی گئی اور یہ حکم لیا گیا ہے (اس واقعہ سے بھی) جب حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے قتل کیا اس شخص کو جس نے آپ سے نبی کریم ﷺ کے بارے (تمہارے صاحب نے کہا تھا اور یہ حکم لیا گیا ابن عتاب کے فتوے سے کہ آپ نے قتل کا حکم دیا جس نے کہا (میں اگر پوچھوں یا نہ جانوں) تو تمہارے نبی نے بھی پوچھا اور نہ جانا۔ اس وجہ سے بے شک جس کسی نے نبی علیہ السلام کو گالیاں دیں (یہاں تک) یا عیب نکالا نقص کا الحاق کیا ان کی ذات میں یا ان کے نسب میں یا ان کے دین میں یا ان کی خصلت میں یا گالی یا عیب جوئی کے طور پر کسی شے کے ساتھ اشارۃ تشبیہ دی یا ان کی شان کی یا عزت کی چھوٹائی کا الحاق کیا یا عیب (لعن طعن یا بددعاء کی) یا آپ کی مضرت کی تمنا کی یا آپ کی طرف ایسی چیز کی نسبت کی جو آپ کی شان کے لائق نہیں بطور مذمت کے وغیرہ برے امور تو ایسا شخص بالاجماع کافر ہو گیا جس کو ایک

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت

اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم

تقبل توبته عند اكثر العلماء وعليه جماعة من اصحابنا بل ادعى فيه الشيخ ابوبكر ن الفارسي الاجماع

(الأعلام)

جماعت فقہاء نے بیان کیا۔ عام ہے کہ یہ سب مذکور چیزیں اس گستاخ سے صادر ہوں یا ان میں سے بعض امور اہانت کا صدور ہو ایسا گستاخ قتل کیا جائے گا اور اس کی توبہ اکثر علماء کے نزدیک قبول نہیں کی جائے گی اور اسی پر ہمارے اصحاب کی جماعت قائم ہے بلکہ اس میں شیخ ابوبکر فارسی نے اجماع کا دعویٰ کیا ہے۔

ومنها ما نقله عن مالك من تاديب من عير بالفقر فقال قد رعى النبی صلی الله عليه وسلم الغنم لانه عرض بذکره صلی الله عليه وسلم فی غیر موضعه قال مالک ولا ينبغى لاهل الذنوب اذا عوقبوا ان يقولوا قد اخطات الانبياء قبلنا.

اور ان امور میں سے وہ ہے جس کو نقل کیا امام مالک سے ایسے شخص کو سزا دی جس کو فقر کا عار دلایا گیا تو اس نے کہا نبی ﷺ نے بکریاں چرائیں کیونکہ اس شخص نے حضور ﷺ کے ذکر کو نا مناسب مقام پر ذکر کیا۔ امام مالک نے فرمایا کسی گناہ والے کے لئے مناسب نہیں کہ اسے جب سزا دی جائے تو وہ یہ کہے کہ ہم سے پہلے انبیاء نے بھی خطائیں کیں۔

معلوم ہوا کہ بے محل غیر مناسب مقام پر نبی علیہ السلام کا ذکر کرنا بے ادبی ہے یہ قابل سزا جرم ہے اور انبیاء کرام علیہم السلام کی طرف خطاؤں کی نسبت اس لئے کرنا کہ گنہگار قابل سزا اپنے آپ کو قابل ملامت ہونے سے بچائے تو یہ بھی قابل تادیب جرم ہے عام امتی کو نبی کے ہم پلہ ہونا کسی بھی طرح جائز نہیں ہے۔

ومنها : قال بعض الحنفية : اعلم ان من تلفظ بلفظ الكفر يكفر و ان لم يعتقد انه لفظ الكفر ولا يعذر بالجهل و كذا من ضحك عليه او

بعض حنفیوں نے کہا جان لو بے شک جس نے لفظ کفر بولا وہ کفر کر گیا گو کہ اس نے کفر کا عقیدہ نہ رکھا اور اس کا عذر جہالت قبول نہ ہو گا اور ایسے ہی جس نے کفر کے

صفحہ ۱۲۰

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم

استحسنه او رضى به يكفر و من اتی بلفظ الكفر حبط عمله و تقع الفرقة بين الزوجين و يجدد النكاح برضاء الزوجة ان كان الكفر من الزوج و ان كان من الزوجة يجبر على النكاح و هذا بعد تجديد الايمان والتبرى من لفظ الكفر حتى ان من اتى بالشهادة عادة و لم يرجع عما قاله لا يرتفع الكفر عنه يكون وطؤه وطأ زنا و ولده ولد الزنا و عند الشافعي رضى الله عنه لومات على الكفر حبط عمله ولو ندم و جدد الايمان لم يحبط عمله ولا يلزمه تجديد النكاح ولو صلی صلوة الوقت ثم اسلم لم يقضها و عندنا يقضيها و كذا الحج فلو اتى بكلمة فجرى على لسانه كلمة الكفر بلا قصد لا يكفر. (انتهى كلام هذا الحنفى) (اعلام)

لفظ کے ساتھ ہنسی کی یا کفر کو بہتر سمجھا یا کفر کے ساتھ راضی ہوا تو کافر ہو گیا اور جس نے لفظ کفر بولا اس کا عمل ضائع ہو گیا اور خاوند و بیوی کے درمیان فرقت و جدائی واقع ہو گئی‘ نکاح دوبارہ کرنا ہو گا بیوی کی رضا کے ساتھ‘ اگر کفر خاوند کی طرف سے ہوا ہو اور اگر کفر بیوی کی طرف سے ہوا ہو تو اس کو نکاح پر مجبور کیا جائے اور یہ تجدید ایمان کے بعد اور لفظ کفر سے بیزاری کے بعد‘ اس حد تک کہ بے شک جس نے کلمہ شہادت عادت کے طور پر پڑھا اور جو کفر بولا گیا اس سے رجوع نہ کیا تو اس سے کفر نہیں اٹھے گا اور اس کی وطی زنا ہو گی اور اس کی اولاد ولد زنا ہو گی اور امام شافعی کے نزدیک ایسا شخص اگر مر گیا تو اس کے اعمال ضائع ہوں گے اور اگر نادم ہوا اور ایمان تازہ کیا‘ اس کے اعمال ضائع نہ ہوں گے اور نہ اسے تجدید نکاح لازم ہو گا اور اگر نماز وقت پڑھ گیا پھر اسلام لایا‘ اس کو قضاء نہ کرے اور ہمارے نزدیک اس کو بھی قضاء کرے اور ایسے ہی حج قضاء کرے گا اور اگر کوئی ایک کلمہ زبان پر لایا تو اس کی زبان پر کلمہ کفر جاری ہو گیا کسی ارادے کے بغیر تو وہ شخص کافر نہ ہوا۔

صاحب اعلام کی ان عبارات حنفیہ سے معلوم ہوا کہ بعض حنفیوں کے نزدیک عقیدہ کفر نہ رکھتے ہوئے بھی لفظ کفر بولنے سے مسلمان کافر ہو جاتا ہے چاہے جہالت سے ہو یا

صفحہ ۱۲۱

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت ۱۲۱ اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم

ہنسی مذاق سے ہو یا اس کلمہ کفر سے راضی ہو اور ایمان کفر سے ختم ہو جاتا ہے۔ جب ایمان ہی نہ رہا تو اسلامی نکاح بھی ختم ہو جاتا ہے‘ ایمان لانے کے بعد تجدید نکاح بھی ضروری ہو گا اگر بیوی راضی ہو کہ اس خاوند سے تجدید نکاح کرے اور اگر ارتداد بیوی کی طرف سے وارد ہوا ہو تو پھر بطور زجر اسی سابق خاوند سے دوبارہ نکاح کرنے پر مجبور کی جائے گی‘ اگر کوئی غیر کفری کلمہ زبان پر لانا چاہتا تھا مگر اس کی زبان پر کلمہ کفر جاری ہو جاتا تھا اور اس میں کسی قسم کے قصد کا تعلق بھی نہیں تھا تو ایسے حال میں کفر واقع نہ ہو گا کہ اس سے بندہ عاجز ہے۔

یاد رہے اس عبارت کو نقل کرنے کے ساتھ ساتھ میرے علم میں ایک جانے پہچانے پاکستانی نوجوان کی ایسی ہی حالت پیدا ہو گئی ہے کہ وہ دماغ میں یہی سوچتا ہے کہ غیر کفری لفظ بولنا چاہتا ہے مگر جب بھی لفظ آدمی کا تصور کرتا ہے اور کوشش کرتا ہے کہ آدمی خدا کی مخلوق ہے اور جب بولنے لگتا ہے تو زبان سے خود بخود جاری ہو جاتا ہے کہ ”آدمی خدا ہے“ نعوذ باللہ من ذالک۔

مجھ سے پوچھا گیا کہ اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ تو چونکہ میں اس نوجوان کو جانتا ہوں کہ وہ بدعقیدگی کا شکار نہیں ہے بلکہ یہ اس کا غیر ارادی اور اضطراری فعل ہے لہٰذا اس پر کفر وارد نہ ہو گا اور میری یہ کوشش بھی ہوئی کہ یہ شخص میرے قریب لایا جائے تاکہ کلام الٰہی کے ذریعے اس کا علاج کیا جائے اور اس کفری بات سے بچایا جائے‘ میں نے اس نوجوان کے لئے پیغام بھیجا کہ تم محمد رسول اللہ (ﷺ) بار بار پڑھو تو اس سے وہ نوجوان کلمہ کفر کہنے سے رک گیا (الحمد للہ علیٰ ذلک) گویا عبارت مذکورہ کی تائید و تصدیق بالمشاہدہ ہوئی۔

ہے: انه صلی اللہ علیہ وسلم یوم بیشک نبی اکرم ﷺ نے فتح مکہ کے دن الفتح آمن الناس الا جماعة كانوا میں لوگوں کو امن دیا مگر ایک جماعت کو جو یوذونه منهم ابن ابی سرح اختبا آپ کو اذیت پہنچاتی تھی (جن میں ابن ابی عند سیدنا عثمان رضی اللہ تعالیٰ سرح بھی ہے) امن نہ دیا۔ ابن ابی سرح

صفحہ ۱۴۲

اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم ۱۴۲ گستاخ رسول کی شرعی حیثیت

حضرت سیدنا عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس چھپ گیا تھا حضرت عثمان نے اسے حاضر کر دیا۔ جس وقت نبی اکرم ﷺ نے لوگوں کو بیعت کی دعوت دی اور حضرت عثمان نے آپ سے بیعت مانگی کہ ابن ابی سرح کو بھی بیعت فرما دیں۔ آپ نے تین بار اس کی طرف دیکھا ہر بار انکار فرما دیا‘ پھر آپ نے ابن ابی سرح کو بیعت فرمایا۔ اس کے بعد آپ ﷺ اپنے صحابہ کرام کی طرف متوجہ ہوئے تو فرمایا تم میں کوئی نیک بخت آدمی نہیں تھا کہ کھڑا ہوتا۔ اس شخص کی طرف میں نے اپنا ہاتھ اس کی بیعت سے روکا کہ اس کو قتل کر دیتا صحابہ بولے کیوں آپ نے ہماری طرف اشارہ نہ فرمایا۔ ہم تو آپ کے باطنی ارادے کو نہیں سمجھ پائے‘ اس پر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کسی نبی کے لئے مناسب نہیں کہ وہ آنکھ کی خیانت کرے۔

عنه فجاء به لما دعى النبى صلى الله عليه وسلم الناس الى البيعة و طلب من النبى صلى الله عليه وسلم ان يبايعه فنظر اليه ثلاثا كل ذلك يابى ثم بايعه ثم اقبل على اصحابه فقال : ما كان فيكم رجل رشيد يقوم الى هذا حين كففت يدى عن بيعته فيقتله قالوا : هلا اومأت الينا فانا لا ندری ما فی نفسك ؟ فقال : انه لا ينبغى لنبى ان يكون له خائنة الاعين

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اذیت رسول کی سزا موت ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ آپ اپنے مجرم کو معاف فرما دیں‘ آپ کی یہ شان کے لائق ہے آپ اخلاق کریمانہ کے مالک ہیں۔

عبد اللہ بن یوسف‘ مالک‘ ابن شہاب‘ انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ فتح مکہ کے سال اس حال میں داخل ہوئے کہ آپ خود

حدثنا عبد الله بن يوسف اخبرنا مالك عن ابن شهاب عن انس بن مالك رضى الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم دخل عام

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت الفتح و علی راسه المغف جاء رجل فقال ان ابن باستار الكعبة فقال اقتلو

(بخاری ج ۱ ص

یہی عبد اللہ بن خطل تھے رسول اللہ ﷺ کی شا لئے رکھی ہوئی تھیں کہ وہ کریم ﷺ نے اس کے قت حرام میں مقام ابراہیم اور قال رأيت رسول عـلـيـه وسـلـم استـج استار الكعبة عبد فضربت عنقه ص مقام ابراهیم

(فتح

یعنی دوسرا آدمی اس اکرم ﷺ نے حکم دیا ان امر النبی صلی ا بقتلهم لانه كان ويامرهما ان يغنيابه اس گستاخی پر انہیں سزائے موت ہی ہے ور نہ تھا۔ بزاز کی روایت

صفحہ ۱۲۳

۱۲۲ اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم

حضرت سیدنا عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس چھپ گیا تھا حضرت عثمان نے اسے حاضر کر دیا۔ جس وقت نبی اکرم ﷺ نے لوگوں کو بیعت کی دعوت دی اور حضرت عثمان نے آپ سے بیعت مانگی کہ ابن ابی سرح کو بھی بیعت فرما دیں۔ آپ نے تین بار اس کی طرف دیکھا ہر بار انکار فرما دیا‘ تب آپ نے ابن ابی سرح کو بیعت فرمایا۔ اس کے بعد آپ ﷺ اپنے صحابہ کرام کی طرف متوجہ ہوئے تو فرمایا تم میں کوئی نیک آدمی نہیں تھا کہ کھڑا ہوتا۔ اس شخص کی طرف میں نے اپنا ہاتھ اس کی بیعت سے روکا کہ اس کو قتل کر دیتا صحابہ بولے کیوں آپ نے ہماری طرف اشارہ نہ فرمایا۔ ہم تو آپ کے باطنی ارادے کو نہیں جان پائے‘ اس پر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ نبی کے لئے مناسب نہیں کہ وہ آنکھ کی خیانت کرے۔ یہ سزا موت ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ نبی کے لائق ہے‘ آپ اخلاق کریمانہ کے

عبد اللہ بن یوسف‘ مالک‘ ابن شہاب‘ انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ فتح مکہ کے دن اس حال میں داخل ہوئے کہ آپ خود

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت ۱۲۳ اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم

الفتح و على راسه المغفر فلما نزعه پہنے ہوئے تھے۔ جب آپ نے اس کو اتارا جاء رجل فقال ان ابن خطل متعلق تو ایک شخص آیا اور اس نے عرض کی کہ ابن باستار الكعبة فقال اقتلوہ. خطل کعبہ کے پردہ سے لٹکا ہوا ہے۔ آپ

(بخاری ج ۱ ص ۲۴۹‘ ج ۲ ص ۶۱۳) نے فرمایا اس کو قتل کر دو۔

یہی عبد اللہ بن خطل مرتد ہو گیا تھا‘ ارتداد کے بعد اس نے کچھ ناحق قتل کر دیئے تھے رسول اللہ ﷺ کی شان میں ہجو و برائی میں شعر کہتا تھا اور اس نے دو لونڈیاں بھی اسی لئے رکھی ہوئی تھیں کہ وہ نبی کریم ﷺ کی شان کے خلاف گایا کرتی تھیں۔ جب نبی کریم ﷺ نے اس کے قتل کا حکم دیا تو اسے غلاف کعبہ سے باہر نکال کر باندھا گیا اور مسجد حرام میں مقام ابراہیم اور زمزم کے درمیان اس کی گردن ماری گئی۔

قال رایت رسول الله صلی الله راوی کہتا ہے کہ میں نے رسول اللہ عليه وسلم استخرج من تحت ﷺ کو دیکھا کہ عبد اللہ بن خطل کو کعبہ کے استار الكعبة عبد الله بن خطل غلاف سے باہر نکال کر مقام ابراہیم اور چاہ فضربت عنقه صبرا بين زمزم و زم زم کے درمیان قتل کر دیا گیا۔ مقام ابراهيم

(فتح الباری‘ ج ۸‘ ص ۱۳‘ عمدة القاری ج ۸‘ ص ۲۴۷‘ ارشاد الساری‘ ج ۶‘ ص ۳۹۲)

یعنی دوسرا آدمی اس جماعت سے عبد اللہ بن خطل ہے اور اس کی دو لونڈیاں تھیں نبی اکرم ﷺ نے حکم دیا ان کے قتل کا:

امر النبی صلی الله عليه وسلم نبی ﷺ نے ان کے قتل کا حکم دیا اس بقتلهم لانه كان يقول الشعر لئے کہ وہ ان کے ذریعے آپ کی برائی بیان ويامرهما ان يغنيابه کرتا تھا اور اپنی دونوں لونڈیوں کو آپ کی ہجو میں شعر گانے کا حکم کرتا۔

اس گستاخی پر انہیں قتل کرنے کا حکم دے کر ظاہر فرما دیا کہ اہانت رسول کی سزا‘ سزائے موت ہی ہے ورنہ امن عام کے اعلان عام کے باوجود قتل کرنے کا دوسرا سبب کوئی نہ تھا۔

بزاز کی روایت ہے:

صفحہ ۱۴۴

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت ۱۴۴ اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم

ان عقبة بن ابى معيط نادى يا معشر قريش مالى اقتل من بينكم صبرا؟ فقال له النبى صلى الله عليه وسلم بكفرك وافترائک علی رسول الله

عقبہ بن ابی معیط نے قریشیوں کو پکارا کہ میرا کیا گناہ ہے کہ میں تمہارے درمیان خاموشی سے قتل کیا جاؤں؟ اسے نبی کریم ﷺ نے جواباً فرمایا کہ تیرے کفر اور تیری بہتان تراشی کے سبب جو تو اللہ کے رسول پر کرتا تھا (یہ سبب ہے کہ تجھے امن و آزادی کی بجائے قتل کیا جا رہا ہے۔

اسی بزاز کی روایت میں ہے:

كذب عليه صلى الله عليه وسلم رجل فبعث عليا والزبير رضى الله عنهما ليقتلاه o

ایک شخص نے نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام پر جھوٹ باندھا تو آپ نے حضرت علی اور زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو بھیجا کہ اسے قتل کر دیں۔

وهجته صلى الله عليه وسلم امراة فقال من لى لها ؟ فقال رجل من قومها انا يا رسول الله فقتلها.

اور ایک عورت نے نبی کریم ﷺ کی برائی بیان کی (اذیت پہنچائی) تو آپ نے فرمایا کہ میرے لئے اس عورت سے (بدلہ لینے والا) کون ہے؟ تو اس عورت کی قوم سے ایک آدمی نے کہا میں حاضر ہوں اے اللہ کے رسول! تو پھر اس نے اس عورت کو قتل کر دیا۔

الاعلام کی نقل کی ہوئی عبارت ملاحظہ ہو:

قالوا فقد ثبت انه صلى الله عليه وسلم امر بقتل من اذاه او تنقصه او الحق به و هو مخير فيه فاختار قتل بعضهم والعفو عن بعضهم و بعد وفاته تعذر تميز المعفو عنه من غيره فبقى الحكم على عمومه فى

ان علماء نے کہا کہ بیشک یہ بات ثابت ہو چکی کہ نبی ﷺ نے اس شخص کے قتل کا حکم دیا جس نے آپ کو اذیت پہنچائی یا آپ کی شان گھٹائی یا آپ سے الحاق کیا اور آپ کو اختیار حاصل تھا اس معاملہ میں تو آپ نے بعض کے لئے قتل اور بعض کے

صفحہ ۱۲۴-۱۲۵

۱۲۴ اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم

عقبہ بن ابی معیط نے قریشیوں کو پکارا کہ میرا کیا گناہ ہے کہ میں تمہارے درمیان خاموشی سے قتل کیا جاؤں؟ اسے نبی کریم ﷺ نے جواباً فرمایا کہ تیرے کفر اور تیری بہتان تراشی کے سبب جو تو اللہ کے رسول پر کرتا تھا (یہ سبب ہے کہ تجھے امن و آزادی کی بجائے قتل کیا جا رہا ہے۔

ایک شخص نے نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام پر جھوٹ باندھا تو آپ نے حضرت علی اور زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو بھیجا کہ اسے قتل کر دیں۔ اور ایک عورت نے نبی کریم ﷺ کی برائی بیان کی (اذیت پہنچائی) تو آپ نے فرمایا کہ میرے لئے اس عورت سے (بدلہ لینے والا) کون ہے؟ تو اس عورت کی قوم سے ایک آدمی نے کہا میں حاضر ہوں اے اللہ کے رسول! تو پھر اس نے اس عورت کو قتل کر دیا۔

ان علماء نے کہا کہ بیشک یہ بات ثابت ہو چکی کہ نبی ﷺ نے اس شخص کے قتل کا حکم دیا جس نے آپ کو اذیت پہنچائی یا آپ کی شان گھٹائی یا آپ سے الحاق کیا اور آپ کو اختیار حاصل تھا اس معاملہ میں تو آپ نے بعض کے لئے قتل اور بعض کے

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت ۱۲۵ اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم

القتل لعدم الاطلاع علی العفو و لیس لامته بعدہ ان یسقطوا حقه لانه لم یرد عنه الاذن الا فی ذلک

لئے معافی پسند فرمادی اور آپ کے وصال کے بعد یہ امتیاز مشکل ہو گیا کہ کس کے لئے عفو ہو کس کے لئے نہ ہو تو حکم اپنے عموم پر باقی رہ گیا، قتل کے معاملہ میں اس لئے کہ معافی پر اطلاع نہیں ہے اور امت کے لئے آپ کے بعد یہ حق حاصل نہیں کہ وہ آپ کے حق کو ساقط کر دیں اس لئے کہ آپ سے اس معاملہ میں اجازت نہیں آئی مگر اس (قتل) میں۔

سابقہ احادیث میں سے علماء کرام نے یہ فیصلہ ثابت کر دیا کہ جس کسی نے نبی اکرم ﷺ کی اہانت کی اور تنقیص شان کی تو اس کی سزا سزائے موت ہے اور یہ حکم قتل امت کے لئے ثابت و قابل عمل رہے گا۔

رہا یہ کہ نبی اکرم ﷺ نے بعض کو معاف فرمایا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے اختیار دیا ہے اور صاحب حق کو یہ حق حاصل ہوتا ہے کہ وہ اپنا حق معاف کر دے اب کون قابل معافی ہے؟ اور کون نہیں ہے تو یہ امتیاز آپ کو حاصل تھا آپ کے بعد امت کے پاس اس امتیاز پر کوئی دلیل موجود نہیں ہے لہٰذا گستاخ مرتد کی سزا سزائے موت ہے۔

باجماع الامة علی قتل منتقصه من المسلمین و سابه و ممن حکی الاجماع علی ذلک ابن المنذر والخطابی و غیرہما کمحمد بن سحنون وعبارته: اجمع العلماء علی شاتم المتنقص له و جریان الوعید علیه و حکمه عند الائمة القتل فمن شک فی کفره و عذابه کفر۔ انتہی.

(پانچویں دلیل) اجماع امت ہے آپ کی تنقیص شان کرنے والے اور آپ کو گالیاں دینے والے مسلمان کے قتل پر اور جس نے اس پر اجماع کو بیان کیا ہے ابن منذر خطابی اور ان کے علاوہ بھی ہیں جیسے محمد بن سحنون ہیں، اس کی عبارت یہ ہے: علماء نے اجماع کیا ہے آپ کی تنقیص کرنے والے شاتم کے کفر پر اس پر وعید کے جاری ہونے پر اور اس کا حکم ائمہ کے نزدیک قتل

صفحہ ۱۲۶

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم

ہے پس جس نے اس کے کفر اور عذاب میں شک کیا، کافر ہو گیا۔

اور یہ اجماع قتل شاتم پر اس حدیث سے بھی ثابت ہے: من بدل دینہ فاقتلوہ۔ جس نے اپنا دین بدل لیا اسے قتل کر دو۔

اور جو توہین و تنقیص کر کے دین سے نکل گیا تو وہ صرف مرتد عام کی طرح نہیں ہے بلکہ اس سے زیادہ سخت مرتد ہوتا ہے۔ عام مرتد کے لئے تو توبہ کرانے کا حکم ہے اگر مہلت مانگے تو تین دن کا وقفہ دیا جائے گا، اگر اسلام لے آیا تو اسے چھوڑ دیا جائے گا اور اگر ارتداد پر اصرار کرتا رہا تو اس کو قتل کیا جائے گا، اس پر سب ائمہ کا اتفاق ہے لیکن قتل مرتد و گستاخ پر فقہاء کرام کا اجماع ہے، فرماتے ہیں کہ شاتم رسول کے لئے توبہ کرانے کی گنجائش نہیں ہے جیسے فقہاء حنفیہ کی عبارات نقل ہو چکی ہیں اور اس کی توبہ اس کی سزائے قتل کو معاف نہیں کرا سکتی ہے صرف اتنا ہے کہ قیامت میں اس کی توبہ اسے ہمیشہ کے عذاب جہنم سے بچالے گی اگر اللہ اس کی توبہ قبول کر لے۔ حدود جاری ہوتی ہیں اور جاری رہیں گی، معافی دینا امت کا حق نہیں ہے، امت تو من بدل دینہ فاقتلوہ کے ظاہر پر عمل کرے گی۔

مجھے بہت بڑا تعجب ہے کہ ایک عام انسان کے عمداً قتل ناحق پر تو قصاص واجب ہو اور ایسے ہی باغی وغیرہ قسم کے لوگوں کی ایسی توبہ قبول نہیں ہوتی ہے جو ان کے قتل کو معاف کرا دے اور ایسے ہی محصن و محصنہ کا زنا سے توبہ کرنا رجم کو معاف نہیں کر سکتا ہے اور سارق و سارقہ چور مرد یا عورت کی توبہ قطع ید کی سزا معاف نہیں کرا سکتی ہے، ایسے ہی شراب نوشی کی سزا کو توبہ معاف نہیں کرا سکتی ہے اور نبی کی توہین و گستاخی کو کتنا آسان جرم سمجھ لیا گیا ہے کہ جس نبی کے ذریعے سارا دین ملا اور جن کی وجہ سے بے شمار نعمتیں ہر مسلمان اور کافر کو بالواسطہ یا بلاواسطہ مل چکی ہیں، ان کی اہانت و تنقیص اور سبّ و شتم جیسے بدترین جرم جو عالمی امن کو خطرے میں ڈال دینے والا ہے اس کی سزائے موت کو معاف کرنے کے لئے صرف اتنا کہہ دینا کافی ہو جاتا ہے کہ زبان سے ایک بار توبہ کر لے، بس اس کی گستاخیاں، ساری خرابیاں، بداخلاقیاں یکسر ختم ہو جاتی ہیں اور عالم اسلام کے خالص

صفحہ ۱۲۷

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت ۱۲۷ اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم

مذہبی و ایمانی جذبات کو شدید مجروح کر کے بیک کلمہ توبہ پاک وصاف ہو کر جان و مال بچا لیتا ہے، یہ کتنا عظیم ظلم ہے، اس طرح کرنے سے بے ادب گستاخوں کو راہ مل جاتی ہے کہ گستاخیاں بولے، لکھے، پھیلائے گرفت و تنقید کے وقت بس اتنا کہہ دے کہ (میری توبہ ہے) بس بچ گیا۔

اہانت و تنقیص رسول کے اس جرم پر عالمی امن کے برباد ہو جانے کا خطرہ ہوتا ہے اور ایسے گستاخ و مرتد سلیمان رشدی کہ جو اپنی گستاخی پر اصرار کر رہا ہے اُسے توبہ کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ اس کی حفاظت پوری عیسائیت و یہودیت کر رہی ہے تو اسے توبہ سے کیا غرض ہے اور اس کی کتاب سٹینک ورسز پر پابندی کون لگوائے جبکہ آزادی رائے کا برطانوی قانون اس کی حمایت کر رہا ہے (نعوذ باللہ من ذلک) اگر مرتد کی سزا، سزائے موت کو توبہ کے بعد کالعدم قرار دیا جائے تو پھر اس جرم ارتداد کے راستے بند نہ ہوسکیں گے۔

ہماری نقل کردہ پہلی دلیل جس سے ثابت ہو رہا ہے کہ عذاب مہین، اہانت و ذلت والا عذاب جرم عظیم کے ارتکاب پر قتل کے معنی میں ہوتا ہے، جرم بڑا ہو اور اس کی سزا صرف کلمہ پڑھنے سے سزا حد سے جان بچالینا قرین قیاس و انصاف نہیں ہے۔

اِنَّ الَّذِيْنَ يُؤْذُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ بے شک جنہوں نے اللہ اور اس کے لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فِى الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ رسول کو اذیت دی ان پر اللہ نے دنیا و وَاَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِيْنًا o آخرت میں لعنت کر دی ہے اور ان کے (الاحزاب: ۵۷) لئے ذلت والا عذاب تیار ہے۔

عذاب مہین اور دنیا میں لعنت سے مراد قتل ہے کیونکہ اذیت رسول اور شتم رسول جرم عظیم ہے اور بڑے جرم کی سزا بھی بڑی ہونی چاہیے جو کہ قتل ہے۔

اور دوسری دلیل میں ہے:

قُلْ اَبِاللّٰهِ وَ اٰيٰتِهٖ وَ رَسُوْلِهٖ كُنْتُمْ فرما دیجئے! کیا تم اللہ کے ساتھ اور اس تَسْتَهْزِءُوْنَ o لَا تَعْتَذِرُوْا قَدْ كَفَرْتُمْ کی آیتوں کے ساتھ اور اس کے رسول کے بَعْدَ اِيْمَانِكُمْ (التوبہ: ۶۵، ۶۶) ساتھ مذاق کر رہے تھے، تم نے کفر کر لیا ایمان کے بعد۔

صفحہ ۱۲۸

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم

اس سے ظاہر ہے کہ اللہ اور نبی کے ساتھ مذاق کرنا کفر و ارتداد اور اہانت ہے اس کی سزا، سزائے موت ہے اور اس کی تفسیر اس آیت میں ہے:

اُخِذُوا وَ قُتِّلُوا تَقتِیلاً۔ انہیں پکڑا جائے اور خوب قتل کئے (الاحزاب: ۶۱) جائیں۔

یہ شتم و مذاق و اہانت و تنقیص کی صورت میں سزائے قتل ہے اور ”من بدل دینہ فاقتلوہ“ سے بھی اہانت کی صورت میں ارتداد مراد ہے۔

قرآن وحدیث سے اذیت کی تفسیر ہوتی ہے کہ اذیت و اہانت کی صورت میں شاتم رسول کی توبہ کو آخرت پر چھوڑا جائے اور دنیا میں لعنت اور عذاب مبین سے مراد قتل کی سزا دی جائے۔

علامہ ابن حجر ان دونوں آیتوں سے ایسا کفر مراد لیتے ہیں جو آپ ﷺ کو اذیت دینے والا ہو اس میں ہمارا بھی اختلاف نہیں کیونکہ ان آیتوں میں ایذاء دینے والا کفر بیان کیا گیا ہے لیکن ایذاء کی سزا دنیا و آخرت کی لعنت اور ذلت والا عذاب ہے اور یہ لفظی سزا نہیں ہے بلکہ معنوی سزا مراد ہے جو کہ قتل سے پوری ہو سکتی ہے۔

نیز ان کا یہ کہنا کہ توبہ اور اسلام لانے کے بعد قتل کرنا ان آیتوں سے ثابت نہیں، اس لیے درست نہیں کہ لعنت اور عذاب مبین سے قتل مراد ہے اور دوسری آیتوں اور احادیث سے اس کی تفسیر مراد ہے۔

تیسری اور چوتھی دلیل کے بارے میں یہ کہہ دینا کہ ان میں ان لوگوں کے کفر کے علاوہ عناد کا بھی ذکر ہے اور بس، اور اس کی تائید حدیث سے لاتے ہیں کہ:

قد اخبر صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے فرمایا کہ کسی کیلئے عصمت کا انہ لا عصمۃ لاحد بعد دعوۃ الی حق حاصل نہیں دعوی اسلام کے بعد مگر الاسلام الا بالاسلام صرف اسلام کے ذریعے۔ فکل من المذکورین مہدر الدم یہ مذکور گستاخ مباح الدم ہیں اس لئے لانہ دعی الی الاسلام ولم یسلم کہ انہیں اسلام کی طرف دعوت دی گئی ہے فقتلہ لذلک لا لمجرد سبہ للنبی اور وہ اسلام نہ لائے تو ان کا قتل اسلام نہ صلی اللہ علیہ وسلم لانے کی وجہ سے تھا نہ صرف نبی کریم ﷺ

صفحہ ۱۲۹

۱۲۸ اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم

کے ساتھ مذاق کرنا کفر و ارتداد اور اہانت ہے اس اس آیت میں ہے: انہیں پکڑا جائے اور خوب قتل کئے جائیں۔ سزائے قتل ہے اور 'من بدل دینہ مرتد مراد ہے۔ ہوتی ہے کہ اذیت و اہانت کی صورت میں شاتم دنیا میں لعنت اور عذاب مہین سے مراد قتل کی سزا

ایسا کفر مراد لیتے ہیں جو آپ ﷺ کو اذیت کیونکہ ان آیتوں میں ایذاء دینے والا کفر بیان لعنت اور ذلت والا عذاب ہے اور یہ لفظی سزا سے پوری ہو سکتی ہے۔ کے بعد قتل کرنا ان آیتوں سے ثابت نہیں، اس سے قتل مراد ہے اور دوسری آیتوں اور احادیث

کہہ دینا کہ ان میں ان لوگوں کے کفر کے تائید حدیث سے لاتے ہیں کہ: آپ نے فرمایا کہ کسی کیلئے عصمت کا حق حاصل نہیں دعوی اسلام کے بعد مگر صرف اسلام کے ذریعے۔ یہ مذکور گستاخ مباح الدم ہیں اس لئے انہیں اسلام کی طرف دعوت دی گئی ہے وہ اسلام نہ لائے تو ان کا قتل اسلام نہ کی وجہ سے تھا نہ صرف نبی کریم ﷺ

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت ۱۲۹ اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم

کو گالی دینے کے سبب۔

یہ عجیب منطق ہے کہ صرف اسلام نہ ماننے سے ایک شخص مباح الدم تو ہو جاتا ہے اور اگر بانی اسلام کو گالیاں دے تو وہ مباح الدم نہ ہو حالانکہ نبی اکرم ﷺ کا انکار سارے اسلام کا انکار ہو جاتا ہے اس لیے کہ اسلام نبی علیہ السلام نے امت کو عطا کیا ہے گالیاں اور اہانت و تنقیص تو انکار سے بھی بدتر ارتداد ہے نیز قرآن نے تعظیم و توقیر کا حکم بیان کیا اور بے ادبی پر اعمال کا ضائع ہو جانا بتایا اور ایذاء پر قتل کا حکم دیا اور صحابہ کرام نے نبی علیہ السلام کی اہانت پر قتل کرنے کا عملی مظاہرہ کیا ہے۔

اسی طرح ان کا یہ کہنا کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جس شخص کے قتل کرنے کے لئے بھیجا گیا تھا وہ صرف تکذیب نبی کے جرم کی سزا دینا مقصود تھا یعنی تکذیب و کذب کی وجہ سے تھا جو کذب فتنہ و فساد پھیلانے کا باعث بنتا تھا اہل ایمان کے درمیان تو اس کا حکم محاربت کا تھا:

فیکون بہ قد حارب اللہ و تو تکذیب کرنے والے کا کذب اللہ اور رسولہ و سعی فی الارض بالفساد اس کے رسول کے ساتھ محاربت اور زمین فیتحتم قتلہ لا لمطلق الکذب میں فساد پھیلانے کی سعی و کوشش کے حکم میں ہو گیا تو اس کا قتل کرنا ضروری ہو گیا تھا نہ کہ مطلق کذب کی وجہ سے قتل کیا گیا تھا۔

ہم عرض کریں گے کہ جس تکذیب نبی کے باعث محاربت اور فساد کا اندیشہ قتل کو واجب کرتا ہے تو جب نبی علیہ السلام کو سب و شتم، اہانت و تنقیص سے تکذیب اور تکذیب کے نتیجہ میں محاربت و فساد فی الارض پیدا ہو جاتا ہے اور اس کے بدلہ میں قتل کرنا تو زیادہ تر ضروری ہو جاتا ہے کیونکہ مطلق کذب و فتنہ سے وہ کذب و فتنہ زیادہ بدتر ہو جاتا ہے جب اس کے ساتھ اہانت و تنقیص نبوی شامل ہو جاتی ہے جیسے سلمان رشدی کی شیطانی آیات نے عالم اسلام کو الگ اور عالم کفر اور عیسائیت کو بالمقابل کر دیا ہے اور تیسری عالمی جنگ کا برطانیہ کے باشعور عوام میں غالب امکان محسوس کیا جا رہا ہے۔

یہ اپریل ۱۹۸۹ء تک کا احساس و انتباہ ہے اور جس عورت نے نبی اکرم ﷺ کی ہجو و عیب و نقص بیان کیا تھا اسے قتل کرنا کفر اور ہجو کے ذریعے ایذاء کے باعث تھا۔ تو ظاہر

مقالات عالمی سیرت کانفرنس مکہ ۳

صفحہ ۱۳۰

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم

ہے کہ نفس کفر اگر اصلی ہو تو محاربت کی شکل میں قتل کرنا ضروری ہو جاتا ہے اور محاربت اس کے ساتھ نہ ہو تو پھر قتل ضروری نہیں ہوتا ہے اور اگر کوئی شخص اسلام کے بعد دین کی کسی ضروری بات کا صرف انکار کر دے تو وہ مرتد ہو جاتا ہے‘ اس کے لئے توبہ ضروری ہے ورنہ پھر قتل کرنا واجب ہو جاتا ہے اور جس شخص نے دین کی ضروری بات کا انکار بطور اہانت و تنقیص کیا اور ساتھ ہی نبی اکرم ﷺ کی گستاخی و توہین کر دی یا صرف نبی اکرم ﷺ کی اہانت و تنقیص شان کر دی تو ایسا شخص کافر بھی بن گیا‘ مرتد بھی ہو گیا اور شاتم رسول بھی ہو گیا اور شاتم رسول بدترین مرتد ہوتا ہے اسے بطور حد قتل کرنا ضروری ہوتا ہے‘ شاتم و متنقص و ساب ہوتا ہی کفر و ارتداد اور فتنہ و فساد کا باعث ہوتا ہے۔

اب دوسرے فقہاء کرام حنفیہ وغیرہم رحمہم اللہ تعالیٰ کے اقوال ملاحظہ فرمائیں: امام فقیہ النفس فتاویٰ قاضیخاں میں فرماتے ہیں:

من قال دعنی اصر کافرا کفر جس نے کہا مجھے چھوڑ دے کہ کافر ہو جاؤں تو کافر ہو جائے گا۔

شرح فقہ اکبر میں ہے: من عزم علی الکفر ولو بعد مائة جس نے پختہ ارادہ کیا کفر پر گو سو سال سنة یکفر فی الحال کے بعد کرے ابھی سے کافر ہو جائے گا۔

فتاویٰ خانیہ میں ہے: من قال كدت ان اکفر کفر او جس نے کہا قریب ہے کہ میں کفر قال دعنى فقد کفرت کفر ای کروں تو کافر ہو گیا یا کہا مجھے چھوڑ دے میں بظاهر كلامه و ان احتمل انه نے کفر کیا‘ کافر ہو گیا یعنی اپنے ظاہر کلام اراد قاربت الکفر کے ساتھ کہ اس کا یہ کلام احتمال رکھتا ہے کہ اس کا ارادہ یہ ہو کہ میں کفر کے قریب ہوا۔

مجمع الانہر کی یہ عبارت بھی ملاحظہ ہو: من اضمر الکفر او هم به فهو جس نے کفر دل میں چھپایا یا اس کا کافر ومن کفر بلسانه طائعا و قلبه ارادہ کیا تو وہ کافر ہے اور جو اپنی زبان کے مطمئن بالایمان فهو کافر ولا ینفعه ساتھ کفر خوشی کی حالت میں کہہ گیا اور اس کا

صفحہ ۱۴۱

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم

ما فی قلبه لان الکافر یعرف بما ینطق به بالكفر فاذا نطق بالكفر کان کافرا عندنا و عند الله

دل ایمان کے ساتھ مطمئن ہے پھر بھی کافر ہے اور جو اس کے دل میں ہے وہ اسے نفع نہیں دے گا اس لئے کہ کافر جانتا ہے کہ وہ جو بولتا ہے کفر ہے جب اس نے کفر بول دیا تو کافر ہو گیا۔

اسی طرح کی ایک عبارت ہے:

ان الايمان التصديق و هو منتف مع العزم

بیشک ایمان ایک تصدیق ہے اور وہ کفر پر عزم کرنے کے منافی ہے۔

یہ بات ظاہر ہے کہ فیصلہ ظاہر کلام پر ہوتا ہے اور جس کے ظاہر کلام سے کفر واضح ہوتا ہو اس پر کفر کا حکم لگ جائے گا۔

شیخ زین العابدین بن ابراہیم بن نجیم حنفی (اپنی کتاب الاشباہ والنظائر کتاب السیر باب الردۃ ص ۱۸۹ میں ) فرماتے ہیں:۔

لا تصح ردة السکران الا الردة بسب النبى صلى الله عليه وسلم فانه يقتل ولا يعفى عنه كذا فی البزازية

نشے والے کی ردّت صحیح نہیں مگر جو ردّت نبی کریم ﷺ کو گالیاں دینے کے سبب سے واقع ہو تو اسے قتل کیا جائے گا اور اس سے درگزر نہیں کی جائے گی۔

معلوم ہوا کہ ساب و شاتم رسول کسی وجہ سے نہیں چھوڑا جائے گا۔ عام مرتد اور شاتم رسول کے بارے میں لکھتے ہیں:

کل کافر تاب فتوبته مقبولة فی الدنيا والاخرة الا جماعة الكافر بسب نبی و بسب الشيخين او احدهما و بالسحر ولو امراة وبالزندقة اذا اخذ قبل توبته

ہر کافر جس نے توبہ کر لی تو اس کی توبہ قبول ہے دنیا اور آخرت میں مگر ایک جماعت جو نبی (علیہ السلام) اور شیخین (ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما) یا دونوں میں ایک کو گالیاں دینے کے سبب کافر ہو گیا ہو یا جادوگر گو عورت ہو اور زندقہ کی وجہ سے کافر ہو گیا ہو توبہ کرنے سے پہلے پکڑے جائیں

صفحہ ۱۳۲

اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم ۱۳۲ گستاخ رسول کی شرعی حیثیت

تو قتل کئے جائیں گے۔

وكل مسلم ن ارتد فانه يقتل ان ہر وہ مسلمان جو مرتد ہوا تو بے شک وہ لم يتب قتل کیا جائے گا اگر توبہ نہ کی۔

یہ عام مرتد کی سزا اور شرط توبہ کا بیان ہے اور پہلے بیان کر دیا کہ جو ارتداد نبی اکرم ﷺ کو گالیاں دینے سے واقع ہو گا اس کی سزا سزائے موت ہے۔

مزید فرمایا:

والمرتد اقبح كفرا من الكافر اور مرتد اصلی کافر سے بدتر کافر ہے۔ الاصلى

اسی میں یہ عبارت ملاحظہ ہو:

الایمان تصديق محمد صلى ایمان حضرت محمد ﷺ کی تصدیق کرنا الله عليه وسلم في جميع ما جاء به ہے دین کی تمام ان چیزوں میں جو ضروری من الدين ضرورة والكفر تكذيب ہوں اور کفر آپ ﷺ کی تکذیب کرنا ہے محمد صلى الله عليه وسلم في دین کے کسی ضروری امر میں۔ شيء مما جاء به من الدين ضرورة

ولو تاب من حبط الاعمال توبہ کے بعد مرتد کا بچایا جانا اس وبطلان الوقف و بينونة الزوجة مرتد کے بارے میں ہے جس کی توبہ دنیا وقوله لا يتعرض له انما هو في مرتد میں قبول ہوتی ہے رہا وہ مرتد جس کی توبہ تقبل في الدنيا و اما من لا تقبل قبول نہ کی جائے تو بے شک وہ قتل کیا جائے توبته فانه يقتل كالردة بسب النبي گا جیسے وہ ردّت جو نبی اکرم ﷺ اور شیخین صلى الله عليه وسلم والشيخين کو گالیاں دینے سے واقع ہوا۔ كما قدمناه

(الاشباہ والنظائر ص ۱۹۰)

معلوم ہوا کہ شاتم رسول کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی۔ عند اللہ اس کی توبہ قبول ہوگی اور اسے قیامت میں کام آسکتی ہے لیکن دنیا میں وہ قابل معافی نہیں۔

بحر الرائق شرح کنز الدقائق باب احکام المرتدین میں علامہ زین الدین ابن نجیم حنفی فرماتے ہیں:

صفحہ ۱۴۳

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت ۱۴۳ اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم

واجمعوا على ان من شك فی ایمانہ فھو کافر.

اور فقہاء نے اجماع کیا اس بات پر کہ جس کسی نے اپنے ایمان میں شک کیا تو وہ کفر کرنے والا ہے۔

وفى الجامع الصغير اذا اطلق الرجل كلمة الكفر عمدا لكنه لم يعتقد الكفر قال بعض اصحابنا لا يكفر لان الكفر يتعلق بالضمير و لم يعقد الضمير على الكفر و قال بعضهم يكفر و هو الصحيح عندی لانه استخف بدینہ. والحاصل ان من تكلم بكلمة الكفر هازلا او لاعبا عند الکل ولا اعتبار باعتقادہ كما صرح قاضيخان فى فتاوہ و من تكلم بها مخطئا او مكرها لا يكفر عند الکل ومن تكلم بها عالما عامدا كفر عند الکل ومن تكلم بها اختيارا جاهلا بانها كفر ففیہ اختلاف (بحر الرائق)

جامع صغیر میں ہے جب آدمی نے کلمہ کفر بولا قصداً لیکن اس نے کفر کا اعتقاد نہیں کیا تو ہمارے بعض احناف نے کہا ہے کہ وہ شخص کافر نہیں ہوا اس لیے کہ کفر کا تعلق دل سے ہوتا ہے اور دل نے کفر پر عقد ہی نہیں کیا اور بعض فقہاء نے فرمایا کافر ہو جاتا ہے اور وہی صحیح ہے میرے نزدیک کیونکہ اس نے اپنے دین کو ہلکا کر دیا (یعنی بے ادبی کی) اور خلاصہ کلام یہ ہے کہ جس نے کلمہ کفر ہنسی کرتے ہوئے یا کھیل کے طور پر بولا تو وہ کافر ہو گیا سب کے نزدیک اور اس کے اعتقاد کا کوئی اعتبار نہیں جس طرح اس کی صراحت قاضیخان نے اپنے فتاویٰ میں کی ہے اور جس نے کلمہ کفر غلطی یا مجبوری سے بولا سب کے نزدیک کافر نہ ہو گا اور جس نے کلمہ کفر جانتے ہوئے قصداً بولا تو سب کے نزدیک کافر ہے اور جس نے کلمہ کفر اپنی مرضی سے بولا یہ نہ جانتے ہوئے کہ وہ کفر ہے تو اس (صورت) میں اختلاف ہے۔

صاحب بحر الرائق ردّت کے بارے میں فرماتے ہیں ردّت کا حکم یہ ہے کہ مرتد یا تو توبہ کر لے یا پھر قتل کر دیا جائے اور کچھ مسائل ارتداد کے اس حکم ارتداد سے خارج ہیں۔

صفحہ ۱۳۴

اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم گستاخ رسول کی شرعی حیثیت

اور اس حکم سے کچھ مسائل خارج ہیں:

و یستثنی منه مسائل :

پہلا مسئلہ: وہ رِدّت جو نبی ﷺ کو گالیاں دینے کے ذریعے ہو فتح القدیر میں فرمایا: جس نے رسول اللہ ﷺ پر دل سے غضب و غصہ کیا وہ مرتد ہو جاتا ہے۔ تو گالیاں دینے والا زیادہ طور پر مرتد ہے پھر ہمارے نزدیک بطور حد قتل کیا جائے گا اس کی توبہ اس کے قتل کو ساقط کرنے میں قبول نہیں کی جائے گی۔ یہی اہل کوفہ کا مذہب ہے اور امام مالک کا اور حضرت ابوبکر صدیق سے یہی مذہب منقول ہے۔

عليه وسلم قال فى فتح القدير كل من ابغض رسول الله صلى الله عليه وسلم بقلبه كان مرتدا فالساب بطريق اولى ثم يقتل حدا عندنا فلا تقبل توبته فى اسقاطه القتل قال هذا مذهب اهل الكوفة و مالك و نقل عن ابى بكر رضى الله عنه

معلوم ہوا کہ شاتم رسول کی ایسی توبہ ہرگز قبول نہیں کی جائے گی جس سے اس کی سزائے موت بطور حد کے ساقط ہو جائے۔

صاحب بحر الرائق فرماتے ہیں:

اور حق یہ ہے کہ جس کو قتل کیا جائے اور اس کی توبہ قبول نہ کی جائے وہ منافق ہے۔

والحق ان الذی یقتل ولا تقبل توبته هو المنافق

دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ شیخین ابوبکر و عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو گالیاں دینا بھی قتل کو واجب کرتا ہے۔

و عمر رضی الله عنهما

تیسرا مسئلہ یہ ہے کہ زندیق کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی ظاہر مذہب میں اور زندیق وہ ہے جو کوئی دین نہ رکھتا ہو۔

المذهب و هو من لا یتدین بدین

حضرت عبد اللہ بن محمود بن مودود الموصلی الحنفی نے اپنی مشہور کتاب الاختيار لتعلیل المختار جو کلیہ اصول الدین جامعہ ازہر میں داخل نصاب ہے میں ج ۴، ص ۱۳۵ پر فرمایا ہے:

صفحہ ۱۳۵

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت ۱۳۵ اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم

واذا ارتد المسلم والعياذ بالله يحبس ويعرض عليه الاسلام و تكشف شبهته فان اسلم والا قتل.

اور مسلمان جب مرتد ہو جائے اور اللہ کی پناہ (ارتداد سے) اسے قید کیا جائے اور اس پر اسلام پیش کیا جائے اور اس کا شبہہ دور کیا جائے اگر اسلام لایا (تو بہتر) ورنہ قتل کیا جائے گا۔

اس کی شرح میں خود ہی فرماتے ہیں:

اما حبسه و عرض الاسلام عليه ليس بواجب لانه بلغته الدعوة والكافر اذا بلغته الدعوة لا تجب ان تعاد عليه فهذا اولى لكن يستحب ذلك لان الظاهر انما ارتد لشبهة دخلت عليه او ضيم اصابه فيكشف ذلك عنه ليعود الى الاسلام و هو اهون من القتل و روى مثل ذلك عن عمر رضى الله عنه.

مگر مرتد کا بند کر دینا اور اس پر اسلام کو پیش کرنا واجب و ضروری نہیں ہے اس لئے کہ دعوت اسلام پہنچ چکی ہے اور کافر کو جب دعوت اسلام پہنچ چکی ہو پھر واجب و ضروری نہیں کہ اس کے سامنے اسلام پیش کیا جائے یہ مسلم مرتد تو زیادہ بہتر حال ہے ( کیونکہ مسلمانوں کو اسلام پہنچنے سے مسلمان کہا جاتا ہے ) لیکن اس پر پیش کرنا مستحب ہے کیونکہ ظاہر حال بتا رہا ہے کہ وہ کسی شبہہ کی وجہ سے مرتد ہو گیا ہو گا یا گناہ و ظلم اس کو پہنچ گیا ہو گا تو اس سے شبہہ (شیطانی) کو دُور کیا جائے گا تاکہ وہ اسلام کی طرف لوٹے اور یہ قتل سے آسان ہے اور اس کی مثل حضرت عمر سے مروی ہے۔

اس پر قرآن پاک سے دلیل بیان کرتے ہیں:

واما وجوب قتله فلقوله تعالى تقاتلونهم او يسلمون والمراد اهل الردة نقلا عن ابن عباس وجماعة من المفسرين و قال عليه الصلوة

اور مرتد کو قتل کرنے کا ضروری ہونا اللہ تعالیٰ کے فرمان کی وجہ سے ہے قتل کرو ان کو (مرتدوں کو) یہاں تک کہ وہ اسلام لے آئیں اور مراد ان سے اہل ردّت ہیں، یہی

صفحہ ۱۳۶

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت ۱۳۶ اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم

والسلام من بدل دينه فاقتلوه ابن عباس اور مفسرین کی جماعت سے نقل ہے اور حضور ﷺ نے فرمایا ”جس نے اپنا دین بدلا (چھوڑ دیا) تو اس کو قتل کرو۔

صاف معلوم ہوا کہ عام مرتد کی سزا، سزائے موت ہے اور اس سے توبہ کا مطالبہ واجب نہیں کیونکہ اسے اسلام پہلے سے پہنچ چکا ہے ہاں اگر وہ از خود توبہ کر لیتا ہے تو قبول کیا جائے گا۔ جس کافر کو اسلام کی دعوت پہنچ چکی ہے اس کے سامنے اسلام پیش کرنا صرف مستحب ہے، ضروری و واجب نہیں ہے تو مسلمان جب مرتد ہو جائے تو اس کے سامنے اسلام پیش کرنا کسی طرح بھی ضروری نہیں ہے، اس کی کوئی رعایت نہ کی جائے بلکہ اس کو قتل کیا جائے۔

مزید فرماتے ہیں: (فان قتله قاتل قبل العرض لا پس اگر مرتد کو کسی قاتل نے قتل کر دیا شيء عليه) لانه مستحق للقتل اسلام پیش کرنے سے پہلے تو قاتل پر کچھ بالكفر فلاضمان عليه (سزا) نہیں۔

اس طرح کا باحوالہ بیان پہلے بھی گزرا ہے۔ کسی مرتد کو قتل کرانے کے لئے وقت کے قاضی و جج کے پاس پیش کرنا اور باقاعدہ مقدمہ چلانا بہتر ہے تاکہ پر امن قانونی کارروائی کے راستہ کو عمل میں لایا جائے لیکن اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے اس پر کوئی پابندی لازمی نہیں ٹھہرائی ہے اسی لئے صحابہ کرام نے مقدمہ چلانے کی زحمت نہیں اٹھائی تھی، فرمان الہی اور فرمان رسول پر عمل کرنا ہی بس کافی ہے۔ لہٰذا مسلم حکومت میں حکومت اسلامی اسٹیٹ کی ذمہ داری بھی ہے کہ وہ مرتد کو سزائے موت دے اور اگر اسلامی اسٹیٹ اپنی ذمہ داری نہیں نبھا رہی ہے تو پھر مسلمان پبلک علمائے کرام کے فتوے کو شرعی حکم سمجھ کر عملی اقدام کریں اور اگر غیر مسلم ملک ہو تو حالات کا جائزہ لے کر مقدمہ بھی کرا سکتے ہیں اور اگر مرتد ہاتھ لگے تو اسے قتل بھی کر سکتے ہیں اور اس صورت میں قاتل پر کوئی شرعی جرم عائد نہیں ہوگا کیونکہ قاتل نے اس شخص کو قتل کیا ہے جس کو شریعت نے واجب القتل قرار دیا ہے تو گویا اس حال میں قاتل شرعی حکم کے نفاذ میں معاون ثابت ہوا اور شرعی حکم میں قتل مرتد مقصود تھا۔

صفحہ ۱۳۷

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم

حکم مرتد

مرتد کے حکم کے بارے میں ابن رشد قرطبی متوفی ۵۹۵ھ فرماتے ہیں:

والمرتد اذا ظفر به قبل ان يحارب فاتفقوا على انه يقتل الرجل لقوله عليه الصلوة والسلام من بدل دينه فاقتلوه واختلفوا فى قتل المرأة هل تستتاب قبل ان تقتل؟ فقال الجمهور تقتل المرأة و قال ابو حنيفة لا تقتل شبها بالكافرة الاصلية و الجمهور اعتمدوا العموم الوارد في ذلك۔

(ہدایۃ المجتہد‘ ج۲‘ ص۴۵۹)

اور مرتد پر جب اس کی محاربت سے پہلے ہی غلبہ پالیا گیا تو فقہاء نے اتفاق اس بات پر کیا کہ مرد (مرتد) کو قتل کیا جائے بوجہ نبی کریم ﷺ کے اس فرمان کے کہ: جس کسی نے اپنے دین اسلام کو بدل دیا (چھوڑ دیا) تو اسے قتل کر دو۔ (مرتدہ) عورت کے قتل کرنے میں علماء نے اختلاف کیا ہے اور کہا مرتدہ عورت سے توبہ طلب کی جائے گی اس کے قتل کئے جانے سے قبل؟ تو جمہور نے کہا عورت مرتدہ قتل کی جائے گی اور ابوحنیفہ نے فرمایا کہ مرتدہ عورت قتل نہ کی جائے گی‘ انہوں نے اس کو اصلی کافرہ عورت کے ساتھ تشبیہ دی ہے اور جمہور نے اس عموم پر اعتماد کیا ہے جو اس حدیث میں ہے۔

معلوم ہوا کہ مرتد کے قتل پر فقہاء کا اتفاق ہے کیونکہ حدیث میں قتل مرتد کا عمومی حکم ہے اور مرتد کے قتل میں قتل سے پہلے اس سے توبہ کا مطالبہ کیا جائے یا کہ نہیں‘ اس میں جمہور کے ہاں توبہ کا مطالبہ کرنے کے بغیر ہی اس کو قتل کیا جائے اور اس کی دلیل حدیث مذکور ہے جس میں بلاشبہ قتل کرنے کا عام حکم موجود ہے۔

شمس الدین السرخسی اپنی کتاب مبسوط میں فرماتے ہیں:

اذا ارتد المسلم عرض عليه الاسلام فان اسلم والا قتل مكانه الا ان يطلب ان يوجل فاذا طلب

جب مسلمان مرتد ہو جائے تو اس کے سامنے اسلام پیش کیا جائے اگر اسلام لائے (تو بہتر) ورنہ اسی جگہ پر قتل کیا جائے۔ ہاں

صفحہ ۱۳۸

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم

ذلک اجل ثلثة ایام والاصل فی وجوب قتل المرتدین قوله تعالی او یسلمون قیل الایة فی المرتدین وقال صلی الله علیه وسلم من بدل دینه فاقتلوه و قتل المرتد علی ردته مروی عن علی وابن مسعود و معاذ وغیرهم من الصحابة رضی الله عنهم و هذا لان المرتد بمنزلة مشرکی العرب او اغلظ منهم جنایة فانهم قرابة رسول الله صلی الله علیه وسلم والقران نزل بلغتهم ولم یراعوا حق ذلک حین ارتد فکما لا یقبل من مشرکی العرب الا سیف او الاسلام فلذلک من المرتدین الا انه اذا طلب التاجیل اجل ثلثة ایام (الی) و ان لم یطلب التاجیل یقتل من ساعته فی ظاهر الروایة. الخ

اگر مرتد مہلت مانگے تو اسے تین دن کی مہلت دی جائے اور دلیل اصلی مرتدوں کے قتل کرنے میں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے۔ او یسلمون (یعنی مرتد اسلام لائیں ورنہ قتل کئے جائیں) کہا گیا کہ یہ آیت مرتدین کے بارے میں ہے اور حضور ﷺ نے فرمایا: جس نے اپنا دین بدل دیا تو اس کو قتل کرو اور مرتد کا قتل اس کی ردت کی وجہ سے ہے‘ یہ حضرت علیؓ، ابن مسعود اور معاذ وغیرہم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے روایت ہے اور یہ اس لیے کہ مرتد عرب کے مشرکوں کی طرح ہے یا ان سے بھی زیادہ سخت ہے جنایت کے اعتبار سے کیونکہ مشرکین عرب‘ رسول اللہ ﷺ کی قرابت تھے اور قرآن ان کی زبان میں اترا حالانکہ انہوں نے اس کی حق رعایت ادا نہ کی جب وہ مرتد ہوئے تو جیسے مشرکین عرب سے کوئی سوائے قتل اور اسلام کے کوئی چیز قبول نہیں کی جائے گی‘ ایسے ہی مرتدوں سے بھی سوائے اسلام یا قتل کے کوئی دوسری چیز قبول نہیں کی جائے گی۔ اگر مرتد مہلت مانگے تو تین دن کی مہلت دی جائے گی (یہاں تک کہ) اگر مہلت نہ مانگے تو اس کو اسی وقت قتل کیا جائے‘ ظاہر روایت یہی ہے۔

معلوم ہوا کہ مرتد کو اسلام کی طرف لوٹنا پڑے گا ورنہ اسے قتل کرنا پڑے گا اور مرتد

صفحہ ۱۳۹

اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم ۱۳۹ گستاخ رسول کی شرعی حیثیت

مشرکین عرب کے حکم میں برابر ہیں اور یہ عام مرتدوں کا حکم ہے اور شاتم رسول کا حکم اس سے مستثنیٰ ہے اسے صرف قتل کرنا ہے جیسے مرتد مشرکین عرب سے زیادہ سخت ہوتا ہے ایسے یہ شاتم رسول عام مرتد سے زیادہ اغلظ واشد ہوتا ہے۔

تین دن کی مہلت دینا صرف مستحب ہے اور یہ بھی اس مرتد کے لئے جو نیا نیا اسلام لایا ہو ہو سکتا ہے کہ اسے کوئی شبہہ واقع ہو گیا ہو چنانچہ اس کے شبہہ کو دُور کرنے کی کوشش کرنی ہوگی تا کہ وہ اسلام لے آئے۔

اب ہمارے زمانے میں دین کا حکم پختہ ہو چکا ہے اور حق ظاہر ہو چکا ہے اس کے بعد بھی اگر کوئی شرک کرتا ہے تو یہ حسد و سرکشی کی وجہ سے کرتا ہے ایسے مرتد کو بلا توبہ قتل کرنا ہی ہوگا۔

واما فی زماننا فقد استقر حكم الدین و تبین الحق فالاشراک بعد ذلك قد يكون تعنتا و قد يكون لشبهة دخلت عليه و علامة ذلك طلب التاجیل و اذا لم یطلب ذلك فالظاهر انه متعنت فی ذلك فلا باس بقتله

بہر حال ہمارے اس زمانہ میں بیشک احکام دین اسلام مضبوط و ظاہر ہو چکے ہیں اور حق واضح ہو گیا ہے، اس کے بعد شرک کرنا تکلیف دینے کی وجہ سے ہو گا اس پر کسی شبہہ کے پیش آنے کی وجہ سے ہو گا اور اس کی علامت یہ ہے کہ (مرتد) مشرک مہلت مانگتا ہے اور اگر مہلت نہیں مانگتا تو ظاہر یہی ہے کہ وہ تکلیف و اذیت پہنچاتا ہے اس معاملہ میں لہٰذا اس کے قتل کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

مزید ارشاد ہے:

و كان علی و عمر رضی الله عنهما یقولان اذا ارتد رابعا لم تقبل توبته بعد ذلك و لکن یقتل علی کل حال لانه ظهر انه مستخف مستهزی و لیس بتائب

اور حضرت علی اور عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں جب کوئی چوتھی بار مرتد ہو جائے تو اس کی توبہ اس کے بعد قبول نہیں کی جائے گی اور ہر حال میں قتل کیا جائے گا کیونکہ یہ بات ظاہر ہو گئی کہ وہ دین کی خفت

صفحہ ۱۴۰

اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم گستاخ رسول کی شرعی حیثیت

اور استہزاء کرنے والا ہے اور توبہ کرنے والا نہیں ہے۔

اس عبارت سے واضح ہو جاتا ہے کہ اگر عام مرتد چوتھی بار توبہ کرتا ہے تو وہ قابلِ قبول اس لئے نہیں کہ ایسا مرتد شبہہ کی وجہ سے ارتداد نہیں کر رہا ہے بلکہ دین کا استہزاء کر رہا ہے اور ایسے استہزاء کی سزا قتل ہے۔

معلوم ہوا کہ حضرت علی اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے نزدیک بھی عام مرتد کے حکم سے دین کا استہزاء کرنے والا الگ اور مستثنیٰ ہے اور اس کی سزا صرف قتل ہی ہے۔

حضرت امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک بار بار مرتد ہونے والے کے بارے میں کوشش کی جائے اور پھر بھی اس کی ردت ظاہر ہو جائے گی تو اسے توبہ کرنے سے پہلے ہی جلدی سے قتل کیا جائے کیونکہ ایسا کرنے والا دین سے استہزاء اور اس کا استخفاف کرنے والا ہے۔ دین اسلام سے استہزاء کرنے والے کی توبہ معتبر نہیں ہے بلکہ اسے قتل کرنا ہی اس کی سزا ہے۔

قتل قبل ان يستتاب لانه قد ظهر اور ایسے مرتد کو توبہ سے پہلے قتل کیا منه الاستخفاف و قتل الكافر الذى جائے اس لئے کہ اس سے استخفاف ظاہر بلغته الدعوة قبل الاستتابة جائز ہو چکا ہے اور اس کا قتل کر دینا جس کو دعوت پہنچ چکی ہو طلبِ توبہ سے پہلے جائز ہے۔

معلوم ہوا کہ عام مرتد جو بار بار ارتکابِ ارتداد کرتا ہے اس کا حکم شاتم رسول کے حکم میں ہے:

ان قتل المرتد على ردته حد: اور مرتد کو قتل کر دینا اس کی ردت کی (مبسوط ص ۱۱۸ احکام المرتدین) وجہ سے بطور حد ہے۔

فقہ حنفی کے معتبر فتاوے بزازیہ مؤلفہ امام حافظ الدین محمد بن محمد شہاب المعروف بابن البزاز الکردری المتوفی ۸۲۷ھ میں ہے:

الا اذا سب الرسول عليه الصلوة مگر جب مرتد نے رسول اللہ ﷺ کو والسلام او واحدا من الانبياء عليهم گالیاں دیں یا کسی ایک نبی کو انبیاء کرام علیہم الصلوة والسلام فانه يقتل حدا ولا السلام میں سے گالیاں دیں تو بے شک اس

صفحہ 141

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت ۱۴۱ اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم

توبة له اصلا سواء بعد القدرة عليه والشهادة او جاء تائبا من قبل نفسه كالزندیق لانه حد وجب فلا یسقط بالتوبة كسائر حقوق الآدميين وكحد القذف لا يسقط بالتوبة بخلاف ما اذا سب الله تعالى ثم تاب لانه حق الله تعالى

کو قتل کیا جائے گا بطور حد کے اس کی کوئی توبہ اصلاً نہیں ہے چاہے اس پر قدرت و شہادت موجود ہوتے ہوئے یا وہ اپنے آپ توبہ کر لے جیسے زندیق ہے اس لئے کہ یہ قتل کی سزا حد ہے جو واجب ہو چکی ہے تو یہ حد توبہ سے ساقط نہ ہوگی جیسے باقی تمام انسانی حقوق ہیں اور جیسے حد قذف توبہ کے ساتھ ساقط نہیں ہوتی ہے بخلاف اس کے کہ جب اللہ تعالیٰ کو گالیاں دے اور بعد میں توبہ کرلے اس لئے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا حق ہے۔

مزید فرماتے ہیں:

قلنا اذا شتمه عليه الصلوة والسلام سكران لا يعفى ويقتل ايضا حدا و هذا مذهب ابی بکر الصديق رضی الله تعالى عنه والامام الاعظم والثورى و اهل الكوفة والمشهور من مالک و اصحابه قال الخطابي لا اعلم احدا من المسلمين اختلف في وجوب قتله اذا كان مسلما و قال ابن سحنون المالكي اجمع العلماء على ان شاتمه كافر و حكمه القتل و من شک في عذابه و كفره كفر وقال الله تعالى فيه ملعونين اينما ثقفوا اخذوا وقتلوا تقتيلا.

ہم کہتے ہیں کہ جب کسی نے نبی اکرم ﷺ کو نشہ میں گالیاں دیں تو اسے معاف نہ کیا جائے اور یہی مذہب ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ہے اور امام اعظم اور امام ثوری اور اہل کوفہ کا ہے (رحمہم اللہ تعالیٰ) اور یہی امام مالک اور آپ کے ساتھیوں کے مذہب سے مشہور ہے اور خطابی نے کہا ہے کہ: میں نہیں جانتا کسی ایک مسلمان کو کہ جس نے اس کے وجوب قتل میں اختلاف کیا ہو جبکہ گالیاں دینے والا مسلمان ہو اور ابن سحنون مالکی نے فرمایا علماء نے اجماع کیا ہے کہ بے شک نبی اکرم ﷺ کو گالیاں دینے والا کافر ہے اور اس کا حکم قتل ہے اور جو اس کے عذاب و کفر

صفحہ ۱۴۴

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت ۱۴۴ اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم

الایة

(ارتداد) میں شک کرے وہ (بھی) کافر ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے (مرتد) کافر کے بارے میں فرمایا ملعون ہیں، جہاں کہیں ملیں پکڑے جائیں اور چن چن کر قتل کئے جائیں۔

گستاخ مرتد کے حکم قتل کے بارے میں بطور تائید ایک حدیث نقل کی ہے:

وروی عن عبد اللہ بن موسیٰ (الی) انہ صلی اللہ علیہ وسلم قال من سب نبیا فاقتلوہ و من سب اصحابی فاضربوہ وامر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بقتل کعب بن الاشرف غیلۃ و کان یؤذی رسول اللہ و کذا امر بقتل رافع الیھودی و کذا امر بقتل ابن خطل لھذا و ان کان متعلقاً باستار الکعبۃ و دلائل المسئلۃ تعرف فی کتاب الصارم المسلول علی شاتم الرسول.

اور روایت کی گئی ہے عبد اللہ بن موسیٰ سے (یہاں تک) کہ بیشک نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جس نے کسی نبی کو گالیاں دیں تو اس کو قتل کر دو اور جس نے میرے اصحاب کو گالیاں دیں تو اسے مارو اور رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کعب بن اشرف کے قتل کرنے کا بغیر پناہ دینے کے اور وہ رسول اللہ ﷺ کو اذیت دیتا رہا اور ایسے ہی حکم دیا رافع یہودی کو قتل کرنے کا اور ابن خطل کو قتل کر دینے کا بھی حکم دیا اسی اذیت دینے کی وجہ سے گو کہ وہ کعبہ کے (غلاف کے) پردوں کے ساتھ لٹکا تھا اور اس مسئلہ (شتم رسول) کے دلائل الصارم المسلول میں معروف ہیں۔

اس عبارت سے معلوم ہوا کہ آیہ کریمہ اور احادیث مبارکہ سے واضح ثبوت مل گیا کہ شاتم رسول اور موذی رسول اللہ ﷺ کی سزا صرف قتل ہی ہے جس پر فقہ حنفی کی شہادت موجود ہے۔

مکالمہ میں کفریہ کلمات بولنے کا حکم

سوال جلسوں میں مکالمے کئے جاتے ہیں، دو بچوں میں سے ایک بچہ خود کو کافر ظاہر

صفحہ ۱۴۳

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت ۱۴۳ اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم

کرتا ہے لباس بھی ایسا ہی پہنتا ہے (پینٹ شرٹ وغیرہ) البتہ عقیدہ ایسا نہیں ہوتا اجلاس میں دلچسپی پیدا کرنے کے لئے یا تعلیم کی غرض سے ایسا کیا جاتا ہے۔ کافر بننے والا لڑکا کہتا ہے کہ میں خدا کا منکر ہوں، خدا کا اقرار حماقت ہے وغیرہ وغیرہ کفریہ کلمات کہتا ہے۔ جواب دینے والا بچہ اس کو ”اے کافر بچے“ اور ”مردود“ وغیرہ کہتا ہے تو ایسے مکالمہ میں کوئی قباحت ہے یا نہیں؟

جواب ضرورۃً کسی منکر خدا اور مخالف اسلام کا کفریہ کلمہ اور عقیدہ نقل کیا جا سکتا ہے کہ فلاں یوں کہتا ہے اور فلاں کا عقیدہ یہ ہے اور حکم بیان کرنے کی غرض سے کہا جا سکتا ہے کہ یوں کہنا کفر ہے اور یوں کہنا کفر نہیں ہے۔ اسی طرح حالت اکراہ اور سخت ترین حالت خوف میں، دل میں ایمان پر قائم رہتے ہوئے صرف زبان سے کلمات کفر بولنے کی اجازت ہے۔

حق تعالیٰ فرماتا ہے:

مَنْ كَفَرَ بِاللّٰهِ مِنْ بَعْدِ اِيْمَانِهٖ اِلَّا جس نے اللہ کا انکار کیا ایمان لانے مَنْ اُكْرِهَ وَ قَلْبُهٗ مُطْمَئِنٌّۢ بِالْاِيْمَانِ کے بعد مگر وہ جو مجبور کیا گیا حالانکہ اس کا (النحل : ۱۰۶) دل ایمان کے ساتھ اطمینان والا ہے۔

اس کے علاوہ علی سبیل الاختیار ہنسی مذاق میں یا تعلیمی مقصد سے بے تحاشا زبان سے کلمات کفریہ بولنا اور محض ڈھونگ کے لئے کافرانہ اور فاسقانہ لباس پہننا خود کو غیر مسلم بتلانا جیسا کہ سوال میں مذکور اگر چہ عقیدہ ایسا نہ ہو‘ ناجائز اور حرام ہے۔ بعض صورتوں میں اندیشہ کفر بھی ہے۔

مالا بدمنہ میں ہے:

اگر کسے کلمہ کفر عمداً گفت لیکن اعتقاد بکفر نہ کرد بعضے علماء گفتہ اند کہ کافر نشود کہ کفر از اعتقاد تعلق دارد و بعضے گفت لیکن اعتقاد بکفر نہ کرد بعضے علماء گفتہ اند کہ کافر شود کہ رضا است بکفر۔ (ص ۴۵)

اور مجموعہ فتاویٰ میں ہے:

کلمۂ کفر بولنا عمداً اگر چہ اعتقاد اس پر نہ ہو کفر ہے۔ (ج ۶ ص ۳۶۰)

مولانا رشید احمد گنگوہی سے پوچھا گیا کہ:

دو بچوں میں سے ایک بچہ خود کو کافر ظاہر

صفحہ ۱۴۴

عالی سیرت کانفرنس کی

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت ۱۴۴ اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم

حضرت ہمارا عقیدہ فلسفی مسائل پر نہیں ہے صرف زبان ہی سے ان کو پڑھتے پڑھاتے ہیں اس میں کیا حرج ہے؟ انہوں نے کہا: اول تو زبان سے کفر و شرک کا نکالنا اور ان کو دلائل سے ثابت کرنا‘ اس کے اعتراضات کو دفع کرنا خود دلیل عقیدہ کی ہے اور اگر بالفرض عقیدہ نہ ہو تب بھی حرام اور موجب غضب خداوندی ہے‘ مثلاً کوئی شخص تم کو گدھا سور کہے یا کوئی مغلظ گالی دے تو ظاہر ہے کہ وہ شخص عقیدہ نہیں رکھتا کہ تم گدھے سور یا ایسے ہو جیسا وہ گالی میں تمہیں بتلا رہا ہے‘ صرف زبان ہی سے کہہ رہا ہے مگر بتلاؤ تو سہی تمہیں اس پر غصہ آئے گا یا نہیں؟ ضرور آئے گا۔ پس ایسے ہی سمجھو کہ کلمات کفر و شرک ضرور موجب غضب خداوندی ہوں گے کیونکہ حق تعالیٰ کی ذات حیادار سے حیادار مسلمان سے بھی زیادہ غیور ہے۔

(تذکرۃ الرشید ج ۱ ص ۹۴)

الاحکام السلطانیہ والولایات الدینیہ میں ابو الحسن علی بن محمد بن حبیب البصری البغدادی الماوردی متوفی ۴۲۶ھ فرماتے ہیں:

ومن اقام على ردته و لم يتب و اور جو شخص ردّت پر قائم رہا اور توبہ نہ کی جب قتله رجلا كان او امراة و قال اس کا قتل واجب ہے چاہے مرد ہو یا عورت ابو حنيفة لا اقتل المراة بالردة وقد اور امام ابو حنیفہ نے فرمایا کہ میں عورت کو قتل رسول الله صلى الله عليه ردت کی وجہ سے قتل نہیں کرتا حالانکہ رسول وسلم بالردة امراة كانت تکنی ام اللہ ﷺ نے قتل کا حکم دیا ردت ہی کی وجہ رومان ولا يجوز اقرار المرتد على سے اس عورت کو جس کی کنیت ام رومان تھی ردته بجزية ولا عهد ولا توكل اور یہ جائز نہیں کہ مرتد کو جزیہ یا معاہدہ کی ذبيحته ولا تنكح منه امراة. بناء پر رہنے دیا جائے اور مرتد کا ذبیحہ نہ کھایا جائے اور نہ کوئی عورت اس کے ساتھ نکاح کرے۔

معلوم ہوا کہ مرتد مرد ہو یا عورت‘ اگر وہ ارتداد پر قائم رہتے ہیں تو ان کو قتل کرنا واجب ہو جاتا ہے اور مرتد کو ردت پر جزیہ یا عہد وغیرہ کی سہولتوں پر نہ ٹھہرایا جائے‘ اس کو امن نہ دیا جائے نہ کسی سفارش یا کسی بڑی شخصیت کی مداخلت کی وجہ سے اسے معاف کیا

گستاخ رسول کی شرعی حیثی

جائے اور نہ ہی اسلا سے مرتد کی سزا میں پر ہر طرح کے مجاہدہ مطالبات کے ذری یا سفارتی و تجارتی ذری گستاخوں کا مقابلہ ک مجاہدۂ اسلامی کا عملی

حضرت علی کا فر

بخاری شریف حدثنا ابو الفضل حدثن ايوب عن عك رضى الله عنه بز ذلك ابن عباس احرقهم لنهى رس و لقتلتهم لقو الله عليه وس فاقتلوه. (حدیث

مسئلہ کرتے ہیں کہ می اس عورت کے دو آ آنحضرت ﷺ مقرر کر دیں) تو

صفحہ ۱۴۵

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم

جائے اور نہ ہی اسلامی ریاست کی (اپنے فرائض و ذمہ داریوں میں) کوتاہیوں کی وجہ سے مرتد کی سزا میں کمی کی جائے غیر مسلم حکومتوں سے بغیر کسی خطرہ وخوف کے مرتد کی سزا پر ہر طرح کے مجاہدہ سے کام لیا جائے‘ مفید تحریری بیانات کے ذریعہ ہو یا تقریری دلائل و مطالبات کے ذریعے ہو‘ جلوس و مظاہرے ہوں یا سیاسی و مذہبی دباؤ کے ذریعے سے ہوں یا سفارتی و تجارتی ذرائع سے ہوں غرض ہر ممکن قوت کو استعمال کر کے اسلام کے دشمنوں اور گستاخوں کا مقابلہ کرنا عین جہاد ہے۔ اسلامی حکومتوں کو مداہنت کی بجائے جرأت ایمانی‘ مجاہدۂ اسلامی کا عملی مظاہرہ کرنا ان کے فرائض اسلامی میں داخل ہے۔

حضرت علی کا زندیق کے بارے میں فیصلہ قتل

بخاری شریف کی روایت میں ہے:

حدثنا ابو النعمان محمد بن الفضل حدثنا حماد ابن زيد عن ايوب عن عكرمة قال اتى على رضى الله عنه بزنادقة فاحرقهم فبلغ ذلك ابن عباس فقال لو كنت انا لم احرقهم لنهى رسول الله عليه وسلم و لقتلتهم لقول رسول الله صلى الله عليه وسلم من بدل دينه فاقتلوہ۔ (حدیث نمبر ۱۸۱۴)

ابو النعمان‘ محمد بن فضل‘ حماد بن زید‘ ایوب‘ عکرمہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس زنادقہ لائے گئے۔ حضرت علی نے انہیں جلا دینے کا حکم دیا۔ جب حضرت ابن عباس کو یہ خبر پہنچی تو انہوں نے کہا اگر میں ہوتا تو ان کو جلانے کا حکم نہ دیتا اس لئے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے بلکہ ان کو قتل کرتا اس لئے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ جس نے اپنا دین بدل ڈالا اسے قتل کر دو۔

مسدّد‘ یحییٰ‘ قرہ بن خالد‘ حمید بن ہلال‘ ابو بردہ‘ حضرت ابو موسیٰ اشعری سے روایت کرتے ہیں کہ میں حضرت نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور میرے ساتھ اشعریوں کے دو آدمی تھے‘ ایک میرے دائیں ہاتھ کی طرف اور دوسرا بائیں طرف تھا اور آنحضرت ﷺ مسواک فرما رہے تھے ۔ ان دونوں نے درخواست کی (کہ کہیں کا عامل مقرر کر دیں) تو آپ نے ارشاد فرمایا اے ابو موسیٰ! یا یہ فرمایا اے عبداللہ بن قیس! ابو موسیٰ

صفحہ ۱۴۶

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم

کہتے ہیں کہ میں نے کہا قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے انہوں نے مجھے اپنے دل کی بات نہیں بتائی اور نہ میں جانتا تھا کہ یہ دونوں کسی عہدہ کے لئے درخواست کریں گے اور میں گویا آپ کی مسواک کو دیکھ رہا تھا جو آپ اپنے ہونٹوں میں دبائے ہوئے تھے۔

آپ نے فرمایا کہ ہم درخواست کرنے والے کو کبھی عامل نہیں بناتے لیکن اے ابو موسیٰ! یا فرمایا اے عبداللہ بن قیس! تم یمن کو جاؤ، پھر ان کے پیچھے معاذ بن جبل کو روانہ کیا۔

جب معاذ یمن پہنچے تو ابو موسیٰ نے ان کے لئے بچھونا بچھایا اور کہا کہ اترو! تو اس وقت ایک آدمی کو ان کے پاس دیکھا جو بندھا ہوا تھا، پوچھا کیا ہے؟ کہا یہ یہودی ہے، پھر اسلام لایا پھر یہودی ہو گیا۔ ابو موسیٰ نے کہا بیٹھ جاؤ، انہوں نے کہا:

لا اجلس حتى يقتل قضاء الله و میں اس وقت تک نہیں بیٹھوں گا جب رسوله ثلاث مرات فامر به فقتل. تک یہ قتل نہ کیا جائے اللہ اور اس کے رسول کا یہی حکم ہے، تین بار یہ کہا چنانچہ حکم قتل پر قتل کر دیا گیا۔

بخاری شریف باب قتل من ابی قبول الفرائض وما نسبوا الی الردة (اس شخص کا قتل جو فرائض کے قبول کرنے سے انکار کرے اور جس کی طرف ارتداد کی نسبت کی جائے) میں ہے:

حدثنا يحيى بن بكير حدثنا یحییٰ بن بکیر، لیث، عقیل، ابن شہاب، عبید الليث عن عقيل عن ابن شهاب اللہ بن عبداللہ بن عتبہ، حضرت ابو ہریرہ سے اخبرنى عبيد الله بن عبد الله بن روایت کرتے ہیں، انہوں نے بیان کیا کہ عتبة ان اباهريرة قال لما توفى النبى جب نبی کریم ﷺ وصال فرما گئے اور صلى الله عليه وسلم واستخلف حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ خلیفہ ابوبکر و کفر من كفر من العرب ہوئے تو عرب کے بعض لوگ کافر ہو گئے قال عمر : يا ابابكر كيف تقاتل تو حضرت عمر نے کہا کہ اے ابو بکر! آپ کس الناس و قد قال رسول الله صلى طرح لوگوں سے جہاد کریں گے جب کہ

صفحہ ۱۴۷

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم

الله عليه وسلم امرت ان اقاتل رسول اللہ ﷺ فرما چکے ہیں کہ مجھے حکم دیا الناس حتى يقولوا لا اله الا الله گیا ہے کہ میں لوگوں سے جہاد کروں یہاں عصم منى ماله و نفسه الا بحقه و تک کہ لا الہ الا اللہ کہیں۔ جس نے لا الہ الا حسابه على الله اللہ کہا اس نے مجھ سے اپنی جان و مال بچا لیا مگر اس کے حق کے ساتھ اور اس کا حساب اللہ پر ہے۔

قال ابو بكر والله لا قاتلن من حضرت ابوبکر نے کہا بخدا میں اس سے فرق بين الصلوة والزكوة فان ضرور بالضرور جہاد کروں گا جس نے نماز الزكوة حق المال والله لو منعونى اور زکوٰۃ میں فرق کیا کہ زکوٰۃ مال کا حق عناقا كانوا يؤدونها الى رسول الله ہے۔ بخدا اگر یہ لوگ ایک بکری کا بچہ بھی جو صلى الله عليه وسلم لقاتلهم على حضور ﷺ کو دیتے تھے، مجھے نہ دیں گے تو منعها میں ان سے اس زکوٰۃ کے نہ دینے پر جہاد کروں گا۔

قال عمر فوالله ما هو الا ان حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رايت ان قد شرح الله صدر ابى بكر خدا کی قسم اللہ نے ابوبکر کا سینہ جہاد کے لئے للقتال فعرفت انه الحق. کھول دیا ہے چنانچہ میں نے جان لیا کہ وہ حق پر ہیں۔

یہ تین احادیث مبارکہ بخاری شریف کی ہیں اور ان سے بہت سے مسائل ثابت ہوتے ہیں جن میں سے چند یہ ہیں:

کہ اسے موت کی سزا دی جائے۔

وجہ سے صحابہ کرام نے عملی مظاہرہ کیا نیز امیر المؤمنین خلیفہ اول نے منکرین زکوٰۃ سے جہاد فرمایا جس پر صحابہ کرام کا عملی اجماع منعقد ہو چکا۔

صفحہ ۱۴۸

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت ۱۴۸ اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم

ایک فرض اسلامی کا انکار بھی کفر ہے‘ ارتداد ہے۔

ریاست کا فرض ہے۔

جس طرح خلیفہ اول نے مرتدین کے خلاف کاروائی کرنے کے لئے بعض صحابہ کرام کی عارضی مصلحت کو نظر انداز فرمایا ایسے ہی حکمران اور عوام بھی مصلحتوں پر دینی غیرت و تحفظ کو اولیت دیں جیسے حضرت معاذ بن جبل نے بحیثیت نائب ہونے کے اپنے اعلیٰ امیر ابو موسیٰ اشعری سے مرتد کے خلاف سزائے موت دینے کا مطالبہ کیا ایسے ہی عوام و خواص یا ادنیٰ طبقہ کو حکمران اعلیٰ اور گورنمنٹ سے مرتد کے قتل کے لئے مطالبہ کا حق حاصل ہے۔

اسحاق بن ابراہیم حنظلی اور عبداللہ بن محمد بن عبدالرحمن بن مسور الزہری‘ سفیان بن عیینہ‘ عمرو‘ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: کعب بن اشرف کو کون قتل کرتا ہے؟ کیونکہ اس نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو ستا رکھا ہے۔ محمد بن مسلمہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! کیا آپ یہ چاہتے ہیں کہ میں اسے قتل کر ڈالوں؟ آپ نے فرمایا ہاں‘ محمد بن مسلمہ نے کہا مجھے کچھ کہنے کی اجازت دیجئے۔ آپ نے فرمایا کہہ لے چنانچہ محمد بن مسلمہ اس کے پاس آئے اور کعب سے باتیں کیں اور اپنا اور حضور کا معاملہ بیان کیا اور کہا اس شخص (حضور) نے صدقہ لینے کا ارادہ کیا اور ہمیں تکلیف دے رکھی ہے (یہ تعریض ہے)۔ جب کعب نے یہ سنا تو بولا خدا کی قسم ابھی تمہیں اور تکلیف ہوگی۔ محمد بن مسلمہ نے کہا اب ہم اس کے شریک ہو چکے ہیں اور اس کا چھوڑ دینا بھی برا معلوم ہوتا ہے تاوقتیکہ ہم اس کا انجام نہ دیکھ لیں کہ کیا ہوتا ہے؟ محمد بن مسلمہ نے کہا میں چاہتا ہوں کہ تم مجھے قرض دو‘ کعب نے کہا کہ تم میرے پاس کیا چیز رکھو گے؟ ابن مسلمہ بولے جو تم چاہو‘ کعب نے کہا اپنی عورتیں رہن رکھ دو۔ ابن مسلمہ بولے تم عرب کے حسین ترین آدمی ہو ہم یہ کیسے کر سکتے ہیں؟ کعب بولا اچھا اپنے بچے رہن رکھ دو‘ ابن مسلمہ بولے کہ بعد میں ہمارے بچوں کو عار دلائی جائے گی اور کہا جائے گا کہ دو وسق کھجور کے عوض تمہیں رہن رکھا گیا البتہ ہم اپنے ہتھیار تیرے پاس رہن رکھ دیں گے۔ کعب نے کہا اچھا‘ ابن مسلمہ نے کعب سے وعدہ کیا تھا کہ حارث اور ابوعبس بن جبر اور

صفحہ 149

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت ۱۴۹ اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم

عباد بن بشر کو تمہارے پاس لے کر آؤں گا چنانچہ یہ حضرات اس کے پاس آئے اور رات ہی کو اسے بلایا، کعب نیچے اترنے لگا تو اس کی بیوی بولی ایسی آواز آرہی ہے جیسا کہ خون کی ہو۔ کعب بولا محمد بن مسلمہ اور اس کا بھائی اور ابو نائلہ ہی ہیں اور شریف آدمی کو تو اگر رات کے وقت بھی نیزہ بازی کے لئے بلایا جاتا ہے تو وہ قبول کرتا ہے۔

ابن مسلمہ نے اپنے ساتھیوں سے کہہ دیا کہ جب کعب آئے گا تو میں اس کے سر کی طرف ہاتھ بڑھاؤں گا، جب میں اس پر قابو پالوں تو تم اس پر حملہ کر دینا چنانچہ جب کعب اترا تو سر کو چادر سے چھپائے ہوئے تھا۔ انہوں نے کہا کہ آپ سے خوشبو کی مہک آرہی ہے، وہ بولا میرے ہاں فلاں عورت ہے جو عرب میں سب سے معطر ہے، ابن مسلمہ نے کہا کیا آپ مجھے سونگھنے کی اجازت دیں گے؟ کعب نے کہا ہاں سونگھ لو ابن مسلمہ نے اس کا سر سونگھا، پھر پکڑا پھر سونگھا، پھر سونگھنے کے لئے آمادہ ہوئے تو مضبوطی سے اس کا سر پکڑ لیا، پھر اپنے ساتھیوں سے کہا لو چنانچہ اس کا کام تمام کر دیا گیا۔

مسلم شریف میں ہے:

فاستمكن من راسه ثم قال تو مضبوطی سے اس کا سر پکڑا اور اپنے دونكم قال فقتلوه ساتھیوں سے کہا لو ! تو کعب بن اشرف (کتاب الجہاد والسیر) (گستاخ) کو انہوں نے قتل کر دیا۔

اس طویل واقعہ کو نقل کرنے سے تاریخی حیثیت واضح ہو جاتی ہے اور نبی کریم ﷺ کی مرضی اور فرمان یہی تھا کہ گستاخ رسول کعب بن اشرف کو سزائے موت دی جائے چنانچہ ایسا ہی ہوا۔

بخاری شریف کتاب المحاربین من اہل الکفر والردۃ باب ۹۶۳ میں ہے:

انما جزاء الذين يحاربون الله ان لوگوں کی سزا جو اللہ اور اس کے ورسوله و يسعون فی الارض فسادا رسول سے جنگ کرتے ہیں اور زمین میں ان يقتلوا او يصلبوا او تقطع ايديهم فساد کرتے ہیں صرف یہ ہے کہ وہ قتل کر و ارجلهم من خلاف او ینفوا من دیئے جائیں یا سولی پر چڑھا دیئے جائیں یا الارض (المائدہ:۳۳) ان کے ہاتھ پاؤں خلاف سے کاٹ دیئے جائیں یا جلاوطن کر دیئے جائیں۔

صفحہ ۱۵۰

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت ۱۵۰ اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم

حدیث ۱۷۰۷ میں ہے:

حدثنا علی بن عبد اللہ حدثنا الولید بن مسلم حدثنا الاوزاعی حدثنی یحیی بن ابی کثیر قال حدثنی ابو قلابۃ الجرمی عن انس رضی اللہ عنہ قال قدم علی النبی صلی اللہ علیہ وسلم نفر من عکل فاسلموا فاجتووا المدینۃ فامرھم ان یاتوا ابل الصدقۃ فیشربوا من ابوالھا والبانھا ففعلوا فصحوا فارتدوا وقتلوا رعاتھا واستاقوا فبعث فی اثارھم فاتی بھم فقطع ایدیھم وارجلھم و سمل اعینھم ثم لم یحسمھم حتی ماتوا

علی بن عبد اللہ‘ ولید بن مسلم‘ اوزاعی‘ یحییٰ بن ابی کثیر‘ ابو قلابہ جرمی حضرت انس سے روایت کرتے ہیں‘ انہوں نے بیان کیا کہ حضور نبی کریم ﷺ کی خدمت میں عکل کے کچھ لوگ حاضر ہوئے اور اسلام قبول کر لیا‘ مدینہ کی آب و ہوا ان کے موافق نہ ہوئی تو آپ نے ان لوگوں کو حکم دیا کہ صدقہ کے اونٹوں کے پاس جائیں اور ان کا پیشاب اور دودھ پیئیں۔ انہوں نے اسی طرح کیا تندرست ہوگئے‘ پھر وہ لوگ مرتد ہوگئے اور آپ کے چرواہوں کو قتل کر کے (مویشی لے بھاگے) آپ نے ان کے ہاتھ پاؤں کٹوا دیئے اور ان کی آنکھیں پھڑوا دیں اور ان کو کاٹنے کی جگہ پر داغ نہیں لگوایا یہاں تک کہ وہ مرگئے۔

اس حدیث کے واقعہ سے واضح ہوجاتا ہے کہ اسلام لانے کے بعد ارتداد کے اس قسم کے جرائم میں سزائے موت دی جائے گی اور متعدد جرائم پر متعدد سزائیں بھی دی جا سکتی ہیں گو کہ صرف قتل کرنا بھی اس قسم کے جرائم میں کافی ہوجاتا ہے اور اس سے قتل مرتد کا اثبات بھی ہوجاتا ہے۔

حیرت ہے ان ماڈرن مسلمانوں پر جو دین اسلام کی قطعیات کو اپنے چھوٹے سے دماغ و عقل کے پیمانے میں موازنہ کرتے ہیں۔ قرآن وحدیث اور اجماع امت سے تو یہ بات ثابت ہے کہ مرتد کا قتل واجب ہے اور بخاری شریف کی حدیث میں عام حکم ہے:

من بدل دینہ فاقتلوہ.

اور یہ ماڈرن مسلمان مرتد کے قتل کے منکر ہیں حالانکہ قتل مرتد قرآن حکیم سے بھی

صفحہ ۱۵۱

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت ۱۵۱ اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم

ثابت ہے جیسا کہ تفصیل گذر چکی ہے نیز عارضی حکومت کا باغی لائق قتل ہے تو حکومت الٰہیہ کا باغی بھی قابل قتل ہونا چاہیے کیونکہ مرتد ربانی حکومت کا باغی ہوتا ہے۔

حدیث مذکور میں مثلہ کا ذکر آیا ہے‘ یہ سزا یا تو ابتدائی مرحلہ میں مدینہ منورہ میں دی گئی تھی‘ بعد میں مثلہ کرنے کی یہ سزا ممنوع قرار دے دی گئی یا یہ سزا اس لئے دی گئی تھی کہ ان لوگوں نے بھی حضور ﷺ کے چرواہوں کے ساتھ یہی سلوک کیا تھا تو قصاصاً ایسا کرنا مناسب حال تھا‘ ایک مجرم کے متعدد جرائم کو اکٹھا کیا جاسکتا ہے۔ (از مرقات)

اب بھی قصاصاً مثلہ کرنا جائز ہے سزا کے طور پر منع ہے۔ (اشعۃ اللمعات)

مثلہ کے لغوی معنی سخت سزا کے ہیں اور اصطلاح شرع میں میت یا مقتول کے ہاتھ‘ پاؤں‘ ناک‘ آنکھ وغیرہ کاٹنے کو کہتے ہیں۔

وعن علی رضی اللہ عنہ قال روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا کہ: وسلم یقول سیخرج قوم فی اخر آخر زمانے میں ایک قوم نکلے گی‘ نو عمر‘ عقل الزمان حداث الاسنان سفھاء کے ہلکے‘ کلام کریں گے مخلوق کے بہترین الاحلام یقولون من خیر قول البریۃ قول (قرآن کریم) سے‘ ان کا ایمان ان لا یجاوز ایمانہم حناجر ہم کے گلے سے نہ اترے گا‘ دین سے ایسے یمرقون من الدین کما یمرق السھم نکل جائیں گے جیسے تیر کمان سے‘ تو تم من الرمیۃ فاینما لقیتموہم فاقتلوہم جہاں کہیں انہیں پاؤ قتل کر دو کہ قیامت کے فان فی قتلہم اجرا لمن قتلہم یوم دن ان کے قتل میں ثواب ہے ان کے لئے القیمۃ۔ (متفق علیہ) جو انہیں قتل کرے گا۔ (بخاری و مسلم شریف)

یعنی دعوائے اسلام کے باوجود وہ دین سے نکل گئے ہوں گے اور انہیں اس لیے قتل کر دو کہ وہ مرتد ہو چکے ہوں گے یا سلطانِ اسلام کے باغی ہونگے۔

یہ بھی معلوم ہوا کہ خوارج‘ باغی اور مرتد کا قتل صرف جائز ہی نہیں بلکہ کارِ ثواب ہے اس حدیث کے الفاظ ہیں:

فَاَیْنَمَا لَقِیتُمُوْ ہُمْ فَاقْتُلُوْہُمْ.

یعنی جہاں کہیں پاؤ‘ زمین کے کسی خطہ میں خشکی میں‘ تری میں‘ اپنے مسلم ملک میں یا

صفحہ ۱۵۲

اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم گستاخ رسول کی شرعی حیثیت

غیر مسلم ملک میں یہ فسادی مرتد ہیں انہیں قتل کر دو تمہیں ثواب ملے گا۔ سلطنت الہیہ کا دشمن و باغی سلطنت الہیہ کے کسی حصہ میں پایا جائے وہ واجب القتل ہے اور اس کی سزا سزائے موت متعین ہے۔

صاحب فتح القدیر نے معراج الدرایہ سے نقل کیا ہے:

درایہ میں ہے فرمایا: زندیق کے بارے وفی الدراية قال في الزنديق لنا میں ہماری دو روایتیں ہیں، ایک روایت روايتان في رواية لا تقبل توبته میں ہے کہ زندیق کی توبہ قبول نہیں کی جائے كقول مالك و احمد و في رواية گی جیسے امام مالک اور احمد کا قول ہے اور تقبل كقول الشافعی و هذا في حق دوسری روایت میں ہے کہ توبہ قبول کی احكام الدنيا اما في ما بينه و بين جائے گی جیسا کہ امام شافعی کا قول ہے اور الله جل ذكره اذا صدق قبله سبحنه یہ قبول توبہ احکام دنیا کے حق میں ہے باقی وتعالى بلاخلاف۔ توبہ کرنے والے اور اللہ جل ذکرہ کے (فتح القدیر ج ۶ ص ۷۰) درمیان (جو معاملہ ہے) جب توبہ کرنے والا سچائی کر گیا تو اللہ سبحانہ و تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرمائے گا بغیر کسی خلاف کے۔

اور جو امام ابو یوسف کی طرف سے ہے وما عن ابى يوسف : لو فعل کہ اگر کسی نے ارتداد و زندقہ بار بار کیا ذلك مرارا القتل غيلة تو حیلہ سے اسے قتل کر دیا جائے گا۔

معلوم ہوا کہ حنفیہ کے نزدیک بھی زندیق و مرتد کی توبہ قبول نہ کرنے کو ترجیح حاصل ہے۔

امام مالک حضرت زید بن اسلم سے مالك عن زيد بن اسلم ان بیان کرتے ہیں کہ: بے شک رسول اللہ نے رسول الله صلى الله عليه وسلم فرمایا جس نے اپنا دین (اسلام) بدلا تو اس قال من غير دينه فاضربوا عنقه قال کی گردن مارو۔ امام مالک نے فرمایا نبی مالك و معنى قول النبى صلى الله کریم ﷺ کے اس قول کا معنی ”جس نے عليه وسلم فيما نرى والله اعلم من

صفحہ ۱۵۳

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم

غير دينه فاضربوا عنقه انه من خرج من الاسلام الى غيره مثل الزنادقة واشباههم فان اولئك اذا ظهر عليهم قتلوا و لم يستتابوا لانه لا يعرف توبتهم و انهم كانوا يسرون الكفر و يعلنون الاسلام فلا ارى ان يستتاب هؤلاء ولا يقبل منهم قولهم و اما من خرج من الاسلام الى غيره و اظهر ذلك فانه يستتاب فان تاب والا قتل ذلك۔

(باب القضاء فيمن ارتد عن الاسلام)

اپنا دین بدلا تو اس کی گردن مار دو“ یہ ہے کہ جو اسلام سے کسی دوسرے دین کی طرف نکلے جیسے زندیق لوگ ہیں اور جو ان کی مثل ہیں۔ بے شک ان (مرتدوں) پر جب غلبہ پا لیا جائے انہیں قتل کیا جائے اس لیے کہ ان کی توبہ کی معرفت و پہچان نہیں ہو سکتی ہے کیونکہ یہ لوگ کفر کو چھپاتے ہیں اور اسلام کو ظاہر کرتے ہیں۔ میری رائے یہ نہیں کہ ان سے توبہ کا مطالبہ کیا جائے اور نہ ان کی بات (توبہ) قبول کی جائے اور جو اسلام سے غیر دین کی طرف نکلا اور اس بات کو ظاہر کرے تو اس سے توبہ کا مطالبہ کیا جائے گا، اگر توبہ کر جائے تو بہتر ورنہ اسے قتل کیا جائے۔

معلوم ہوا کہ جو مرتد توبہ نہ کرے اسے قتل کر دیا جائے گا اور ان سے توبہ کا مطالبہ بھی نہ کیا جائے گا کہ ان کا کوئی اعتبار نہیں۔

امام حجۃ الاسلام ابوبکر احمد بن علی الرازی الجصاص الحنفی متوفی ۳۷۰ھ اپنی کتاب احکام القرآن میں فرماتے ہیں:

قوله تعالى (وَإِنْ نَّكَثُوْا أَيْمَانَهُمْ مِنْ بَعْدِ عَهْدِهِمْ وَ طَعَنُوْا فِي دِيْنِكُمْ فَقَاتِلُوْا أَئِمَّةَ الْكُفْرِ

(التوبہ: ۱۲)

اور اگر وہ لوگ اپنی قسموں کو توڑ دیں عہد کرنے کے بعد اور تمہارے دین میں طعنے دیں تو کفر کے پیشواؤں (لیڈروں) سے جنگ و قتال کرو۔

فيه دلالة على ان اهل العهد متى خالفوا شيئا مما عوهدوا عليه و طعنوا فى ديننا فقد نقضوا العهد .

اس آیت میں اس بات پر رہنمائی ہے کہ ذمی لوگ یا جن سے معاہدہ ہو جب یہ لوگ جن جن چیزوں پر عہد کر چکے ہیں ان

صفحہ ۱۵۴

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم

میں کسی شے کی مخالفت کر لیں اور ہمارے دین (اسلام) میں طعنے کریں تو بے شک انہوں نے عہد کو توڑ ڈالا۔

آگے مزید فرماتے ہیں:

ثم لما ضم الى ذلك الطعن في الدين ممنوعون من اظهار الطعن في دين المسلمين و هو يشهد لقول من يقول من الفقهاء ان من اظهر شتم النبى صلى الله عليه وسلم من اهل الذمة فقد وجب قتله

جب عہد کے ساتھ دین میں طعن کو ختم کیا گیا ہے تو اہل عہد مسلمانوں کے دین میں طعن کو ظاہر کرنے سے روکے رہیں گے اور اس کی شہادت فقہاء کا یہ قول دے رہا ہے‘ بے شک ذمی جس نے نبی کریم ﷺ کو گالیاں دیں تو اس کا قتل واجب ہوگا۔

مزید فرماتے ہیں:

و قال الليث فى المسلم يسب النبى صلى الله عليه وسلم انه لا يناظر ولا يستتاب و يقتل مكانه و كذلك اليهودى والنصارى

اور لیث نے فرمایا ایسے مسلمان کے بارے میں، جو نبی ﷺ کو گالیاں دیتا ہو کہ بے شک اس سے نہ مناظرہ کریں، نہ مہلت دیں اور نہ اس سے توبہ کا مطالبہ کیا جائے اور اسے اسی جگہ پر قتل کیا جائے اور ایسے ہی یہودی اور نصاریٰ (شاتم) کا بھی حکم ہے۔

مزید فرماتے ہیں:

فاذا ثبت ذلك كان من اظهر سب النبى صلى الله عليه وسلم من اهل العهد ناقضا للعهد اذ سب رسول الله صلى الله عليه وسلم من اكثر الطعن فى الدين

پس جب یہ ثابت ہو گیا کہ ذمی شخص نبی ﷺ کو گالیاں دے تو وہ عہد کو توڑنے والا ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ کو گالیاں دینا دین میں طعن کرنے سے زیادہ (برا) ہے۔

(احکام القرآن للجصاص ج ۳ ص ۸۵)

اسی سے متعلق آیہ کریمہ کا حکم ملاحظہ فرمائیں:

صفحہ 155

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت ۱۵۵ اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم

قَاتِلُوْهُمْ يُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ بِاَيْدِيْكُمْ انہیں قتل کرو اللہ انہیں تمہارے ہاتھوں (التوبۃ: ۱۴) کے ذریعہ قتل کا عذاب دے رہا ہے۔

معلوم ہوا کہ سب سے بڑا بدترین ارتداد یہ ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام میں سے کسی نبی کو گالیاں اور اذیتیں دی جائیں جس کی سزا بطور حد صرف قتل ہے اور اس کی توبہ قابل قبول نہیں ہے اور یہ قتل کرنا دنیا میں عذاب الٰہی ہے جو مسلمانوں کے ہاتھوں کے ذریعے اللہ تعالیٰ یہ عذاب گستاخوں کو دیتا رہا ہے۔

احکام القرآن للجصاص ج ۳ ص ۱۰۶ پر منقول ہے:

ولا خلاف بین المسلمین ان مسلمانوں کا آپس میں اس بات میں من قصد النبی صلی اللہ علیہ وسلم اختلاف نہیں کہ جس شخص نے نبی کریم ﷺ بذلک فھو ممن ینتحل الاسلام انہ کی اہانت و ایذاء رسانی کا قصد کیا اور وہ مرتد یستحق القتل مسلمان کہلاتا ہے، وہ مرتد مستحق قتل ہے۔

یعنی گستاخ رسول ﷺ اگر اسلام کا دعویٰ کرتا ہے تو اس گستاخی سے مرتد ہو جاتا ہے اور مرتد کی سزا، سزائے موت ہے، اس کی سزائے موت میں اختلاف نہیں ہے کیونکہ شاتم رسول کی توبہ قابل قبول نہیں ہوتی ہے اور اگر عام مرتد بھی توبہ نہ کرے تو اس کی سزا بھی قتل ہے عام مرتد ہو یا شاتم رسول خاص درجہ کا مرتد ہو، ان کے مستحق قتل ہونے میں کسی کا اختلاف نہیں ہے البتہ بعض کے ہاں اتنی بات ہے کہ جو مرتد شاتم رسول بھی ہو تو کیا اس کی توبہ قابل قبول ہے یا کہ نہیں؟ اس میں جمہور کی اکثریت اسی پر قائم ہے کہ ایسے شاتم رسول کے لئے عنداللہ توبہ قابل قبول ہو سکتی ہے لیکن ایسی توبہ کہ جس سے حد قتل معاف اور ساقط ہو جائے ۔ ایسا نہیں ہو سکتا بلکہ توبہ کرنے کے باوجود سزائے موت دی جائے گی جیسے قتل، زنا، چوری ڈکیتی وغیرہا جرائم سے توبہ تو کی جا سکتی ہے لیکن حد معاف نہیں ہوگی۔

علامہ جصاص حنفی احکام القرآن ج ۲ ص ۲۸۶ میں فرماتے ہیں:

ومن قتل مرتداً قبل ان یستتاب اور جس کسی نے مرتد کو توبہ کے مطالبہ فلا ضمان علیہ. سے پہلے قتل کیا تو اس پر کوئی ضمان اور تاوان نہیں ۔

صفحہ ۱۵۶

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم

وقال ابو يوسف كذلك زمانا فلما راى ما يصنع الزنادقة و يعودون قال ارى اذا اتيت بزندیق امر بضرب عنقه ولا استتیبه. الخ

اور امام ابو یوسف نے فرمایا: معاملہ قبول توبہ کا کچھ عرصہ رہا پس جب انہوں نے دیکھا کہ قبول توبہ کا فریب زندیق لوگ دیتے رہتے ہیں اور اس سے پھر جایا کرتے ہیں تو انہوں نے کہا اب میں یہ رائے رکھتا ہوں کہ جب زندیق میرے ہاں لائے جائیں تو میں حکم کروں گا، ان کی گردن مارنے کا (حالت ارتداد میں) اور میں توبہ کا مطالبہ نہیں کروں گا۔

مزید فرماتے ہیں:

وقال الليث الناس لا يستتيبون من ولد فى الاسلام اذا شهد عليه بالردة ولكنه يقتل تاب من ذلك او لم يتب اذا قامت البينة العادلة.

(احکام القرآن)

اور لیث نے فرمایا لوگ ایسے آدمی سے توبہ کا مطالبہ نہیں کرتے ہیں جو اسلام میں جنا گیا ہو (کیونکہ) جب اس پر ردت کی شہادت ہو چکی ہو تو اسے قتل کیا جائے گا ردت سے توبہ کرے یا نہ کرے جبکہ عادلانہ گواہی قائم ہو گئی ہو۔

یہی وجہ ہے کہ ابن نواحہ باوجود اس کے کہ اس نے اسلام کے ذریعہ اپنے آپ کو بچانا چاہا تھا لیکن یہ صرف ان کا تقیہ تھا کہ اسلام کا نام لیا، اس گستاخ و مرتد کو قتل ہی کیا گیا۔ (حوالہ مذکورہ)

ہمارے ذکر کردہ دلائل سے یہ بات واضح طور پر ثابت ہو چکی ہے کہ ارتداد کا جرم قرآن وسنت کا منصوص جرم ہے نیز اس کے جرم ہونے پر اجماع منعقد ہے اور اس جرم ارتداد اور جرم سب وشتم رسول کی سزا بھی بطور حد قتل کرنا قرآن وسنت اور اجماع امت سے ثابت ہے اور اقوال علماء دین سے ثابت ہے۔

عام مرتد چاہے مرد ہو یا عورت ہو اس سے توبہ کا مطالبہ کیا جائے گا، زیادہ سے زیادہ تین دن کی مہلت دی جائے اور یہ مہلت دینا بھی مستحب ہے واجب نہیں اور مہلت ملنے

صفحہ ۱۵۷

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت ۱۵۷ اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم

کے بعد جب مہلت ختم ہو گی تو اس صورت میں اگر مرتد نے توبہ نہ کی تو اس مرتد مرد یا عورت کو قتل کیا جائے گا، یہی جمہور کا مذہب ہے۔

نفس ارتداد اور اس کے جرم میں سب برابر ہیں اور اگر کوئی شاتم رسول ہو تو اسے ہر حال میں قتل کیا جائے گا، چاہے مسلمان مرد ہو یا عورت، ذمی کافر ہو یا حربی کافر ہو، استحقاق قتل میں کوئی بھی مستثنیٰ نہیں ہو گا۔

سوال رسول اکرم ﷺ کی توہین و تنقیص کرنا بطور حد سزائے موت کو تب واجب کرتا ہے جب یہ سزا صرف اور صرف رسول کی ذات کو ایذاء دینا مقصود ہو اور اگر ایسا نہ ہو بلکہ رسول کی اہانت و گستاخی صرف اس غرض سے ہو کہ مسلمانوں کے مذہبی جذبات اور مذہبی عقیدتوں میں اشتعال پیدا کرنا مراد ہو تو پھر یہ بالواسطہ ایذاء ہو گی جس کی سزا قتل نہیں۔

جواب ہماری تفصیلی تحریر کو بنظر غائر پڑھنے کے بعد مسائل کا شبہہ خود بخود زائل ہو جاتا ہے یاد رہے کہ رسول اکرم ﷺ کے حقوق الگ ہیں اور اللہ تعالیٰ کے حقوق جداگانہ ہیں اور مسلمانوں کے حقوق الگ ہیں، اس پر قرآن و سنت و فقہ شاہد ہیں۔ رسول نبی کریم ﷺ اس حیثیت سے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آخری نبی و رسول بن کر اللہ تعالیٰ کے دین اسلام کی تشریح و توضیح و بیان اور تبلیغ فرماتے رہے۔ اس لحاظ سے رسول کی تعظیم اللہ تعالیٰ ہی کی تعظیم ہو گی اور رسول کی توہین و تنقیص اس اعتبار سے اللہ تعالیٰ ہی کی توہین و تنقیص تصور ہو گی کیونکہ رسالت کا مرتبہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے فضل خصوصی کا نام اور رسول اکرم ﷺ کی تعظیم کرنا بجائے خود فرض قطعی ہے اور اہل ایمان کی علامت ہے اور رسول کی توہین کفر و ارتداد ہے بلکہ بدتر ارتداد ہے جیسا کہ قرآن مجید میں آیا ہے:

يٰاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقُوْلُوْا رَاعِنَا اے ایمان والو ! رسول کی خدمت میں وَقُوْلُوا انْظُرْنَا وَاسْمَعُوْا وَلِلْكٰفِرِيْنَ راعنا نہ کہو بلکہ انظرنا کہو اور سنو اور کافروں عَذَابٌ اَلِيْمٌ O (البقرہ :۱۰۴) کے لئے درد ناک عذاب ہے۔

لہٰذا توہین رسول کفر و ارتداد ہے اور اس کی سزا عذاب ہے اور ساتھ ہی رسول کی ذات کو اذیت پہنچانا بھی، جس کی سزا لعنت اور قتل ہے۔

جب رسول کو گالیاں دی جائیں گی تو اس سے براہ راست رسول کی توہین ہو جائے

صفحہ ۱۵۸

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت ۱۵۸ اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم

گی اور ساتھ ہی اللہ کی بھی توہین ہو جائے گی کیونکہ دونوں کی ایذاء کی جہت ومرتبہ ایک ہے اور ایسا کرنے سے مسلمانوں کو اذیت دینے کا قصد ہو یا نہ ہو جب بھی رسول کی تنقیص و توہین کی جائے گی تو بغیر کسی مانع کے اس سے اللہ تعالیٰ اور مسلمانوں کو اذیت پہنچ جائے گی، اب ایسا کرنے سے تینوں اذیتوں کا اجتماع ہو جاتا ہے تو ایسے گستاخ و ظالم کسی طرح سزائے موت سے نہیں بچ سکتے۔

کتنی کمزور بات ہے کہ مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو برانگیختہ کرنے کے لئے رسول اکرم ﷺ کی ذات والا صفات کی گستاخی کو ذریعہ بنایا جا رہا ہے اور پھر اس جرم عظیم کو قابل سزا نہیں سمجھا جا رہا۔ اس سے بڑی حماقت ناسمجھی اور کیا ہو سکتی ہے۔ نیت اور ارادہ پر پابندی نہیں ہے، کوئی بھی ہو لیکن رسول کی بلاواسطہ گستاخی کرنے پر رسول کی نسبت سے قرآن وسنت اور اجماع امت کا حکم جاری ہو گا، قطعی حدود اور عقائد میں ظاہر عبارات و بیانات کا اعتبار ہو گا، صریح عبارت و بیان پر صریح حکم ہی جاری ہو گا لہٰذا اہانت رسول کے باب میں صراحت پر فتوے دیا جائے گا، تاویلات کا سہارا لینا کام نہیں دے سکتا ورنہ دین سے امان اُٹھ جائے گا، ہر کوئی اللہ تعالیٰ کی گستاخی کر کے اور رسول اللہ ﷺ اور دوسرے انبیاء کرام علیہم السلام کا انکار یا توہین و تنقیص کر کے یہ حیلہ وفریب دے سکتا ہے کہ اس کی نیت بے ادبی کی نہ تھی جیسا کہ کئی اہل علم و دانش اور کئی اہل فکر وصحافت وغیرہ غافلوں نے یہی طریقہ اختیار کر لیا تھا جس کو امت مسلمہ کے علماء بار بار رد کر چکے ہیں۔

قرآن پاک میں ہے: قُلْ اَبِاللّٰهِ وَاٰيٰتِهٖ وَرَسُوْلِهٖ کُنْتُمْ (اور اے محبوب!) تم فرماؤ کیا اللہ اور تَسْتَهْزِءُوْنَ o لَا تَعْتَذِرُوْا قَدْ کَفَرْتُمْ اس کی آیتوں اور اس کے رسول پر ہنستے ہو؟ بَعْدَ اِيْمَانِکُمْ. (التوبۃ : ۶۵، ۶۶) بہانے نہ بناؤ تم کافر ہو چکے مسلمان ہونے کے بعد۔

اس میں شک نہیں کہ صحابہ کرام سے بڑھ کر کس کی نیت زیادہ ستھری اور با ادب تھی اس کے باوجود انہیں راعنا کہنے سے روکا گیا تاکہ کسی قسم کی توہین وتنقیص کا راستہ پیدا نہ ہوسکے حالانکہ راعنا کہنے میں صحابہ کرام کی نیت تو احترام وتعظیم کی تھی مگر پھر بھی راعنا کو بطور احترام کے بھی بولنا اس لئے حرام قرار دیا گیا کہ اس کے تلفظ سے گستاخ رسول کو

صفحہ ۱۵۹

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت ۱۵۹ اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم

بولنے کا موقع مل جائے گا۔ لہٰذا شریعت نے جس امر کو توہین قرار دیا ہو یا عرف میں کسی کلمہ کو یا محاورہ کو بطورِ بے ادبی کے استعمال ہوتا ہو اس کا بارگاہ نبوت میں بولنا بھی حرام ہوگا، گو کہ توہین کی نیت نہ ہو، عرف کا اعتبار ہوگا، نیت کا اور تاویل کا اعتبار نہ ہوگا، کلام اگر عرف اور محاورے میں صریح توہین پر مبنی ہو تو اس میں تاویل اور نیت کا اعتبار کرنا شرعاً ممنوع ہوگا۔

ایک مثال عرف میں یہ ہے کہ کسی کو ولد الحرام کہا جائے، عرف میں گالی ہے جس سے زنا کے ذریعہ جو پیدا ہو، مراد ہے۔ اب بولنے والا یہ تاویل کرنے لگے کہ میں نے المسجد الحرام اور بیت اللہ الحرام کے معنی میں یہ کلمہ بولا ہے جس کے معنی ہیں مسجد اور بیت اللہ جو کہ معظم و محترم ہیں یعنی عزت و احترام والی جگہیں، اب تاویل تو بڑی خوبصورت کی گئی مگر عرف و محاورے میں اس کی تاویل اس لئے قبول نہیں کی جائے گی کہ عرف میں اس لفظ سے عزت و احترام والا لڑکا مراد نہیں لیا جاتا بلکہ اس سے گالی دینا مراد ہوتا ہے لہٰذا عرف اور محاورے کے خلاف ہزار تاویلیں بھی کی جائیں قبول نہیں کی جائیں گی نہ ہی ایسی تاویلیں معتبر ہوں گی ورنہ پھر دین سے امان اُٹھ جائے گا اور ایسے ہی عدالتوں اور شخصیات کا احترام بھی تاویلات فاسدہ کی زَد میں آکر قانونی تحفظِ احترام اور ہتکِ عزت کا قانون بے مقصد ہو کر رہ جائے گا۔

علامہ شہاب الدین خفاجی حنفی اپنی کتاب نسیم الریاض شرح الشفاء للقاضی عیاض کی ج ۴ ص ۶۶ میں فرماتے ہیں:

المدار فى الحكم بالكفر على توہین رسالت و نبوت پر کفر کا حکم الظواهر ولا نظر للمقصود والنيات ظاہری الفاظ پر ہے اور توہین کرنے والے ولا نظر لقرائن حاله. کے قصد و نیت اور اس کے قرائنِ حال کو نہیں دیکھا جائے گا۔

اسی طرح شفاء شریف ج ۲ ص ۲۱۷ پر قاضی عیاض فرماتے ہیں:

قال حبيب بن الربيع لان ادعاء حبیب بن ربیع نے فرمایا کہ لفظ صریح التاويل في لفظ صراح لا يقبل. میں تاویل کا دعوے قبول نہیں کیا جائے گا۔

ان عبارات سے واضح ہے کہ یہ ضروری ہے کہ توہین صریح میں کسی گستاخ نبوت کی

صفحہ ۱۶۰

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم

نیت اور قصد کا اعتبار نہ کیا جائے اور نہ ہی کسی کلام کے توہین صریح ہونے میں عرف و محاورے پر مبنی ہونے کو نظر انداز کیا جائے۔

سوال بعض فقہاء کے ہاں یہ ہے کہ اگر کسی مسلمان کے کلام میں ننانوے وجوہ کفر کی ہوں اور اسلام کی صرف ایک وجہ کا احتمال ہو تو ایسے مسلمان پر کفر کا فتویٰ نہیں لگایا جائے گا۔

جواب اس پر پہلے کلام گزر چکا ہے اور مندرجہ بالا عبارتوں سے بھی اس شبہ کا ازالہ ہو گیا ہے۔

مزید عرض ہے کہ کلام میں دو اعتبار ہیں ایک یہ ہے کہ کسی مسلمان کے کلام میں ننانوے وجوہ کفر کا صرف احتمال ہو اور کوئی وجہ کفر صریح نہ ہو تو ایسے کلام میں اسلام کی صرف ایک وجہ کا جو احتمال ہے تو اس وجہ اسلام کا اعتبار کرتے ہوئے مسلمان پر کفر کا فتویٰ نہیں لگایا جائے گا اور اس وجہ اسلام کو معتبر مان کر ننانوے وجوہ کفر کو کالعدم قرار دیا جائے گا۔

الاسلام یعلو ولا یعلی

اور اگر کلام میں صرف ایک وجہ ایسی ہو جو صریح کفر بتا رہی ہو تو اب صریح کفر کی وجہ کا اعتبار ہو گا اور اس وجہ صریح توہین کے اعتبار سے کفر کا فتویٰ جاری ہو گا، اب صریح وجہ کفر کے ہوتے ہوئے نیت و قصد کا سہارا لے کر کسی قسم کی تاویل قبول نہ کی جائے اس پر کلام ہو چکا۔

سوال اگر رسول اکرم ﷺ کی توہین و تنقیص کرنے کی سزا بطور حد قتل کرنا ہے تو حضور ﷺ کے حق میں کئی منافقین نے صریح توہین و گستاخیاں کیں، بعض اوقات منافقوں کی صریح توہین کو دیکھ کر اور سن کر صحابہ کرام نے عرض کی یا رسول اللہ! اجازت ہو تو ہم اس گستاخ منافق کو قتل کر دیں، اس کے باوجود حضور ﷺ نے اجازت نہیں دی جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ توہین کی سزا قتل کرنا نہیں ہونا چاہیے۔

مثال کے طور پر دیکھیں حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ : ایک یہودی رسول اللہ ﷺ کے قریب سے گزرا اور السام علیک کہا (تجھ پر موت نازل ہو) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا وعلیک (یہ تجھ پر ) اس پر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

صفحہ ١٦١

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم

اتدرون ما يقول؟ قالوا لا. کیا سمجھے آپ کہ اس یہودی نے کیا کہا تھا؟ اس پر صحابہ کرام نے عرض کی نہیں (یا رسول اللہ)۔

آپ نے فرمایا کہ اس نے السام علیک کہا تھا۔ اس پر صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ (ﷺ) الا نقتله ”حضور ہم اسے قتل نہ کردیں؟“ آپ نے فرمایا ”نہیں“ پھر ارشاد فرمایا کہ جب کبھی غیر مسلم اہل کتاب تم کو سلام کہیں تو تم صرف وعلیکم کہہ دیا کرو۔ یعنی سلام کا جواب پورا دینے کی بجائے فقط یہ کہا کرو کہ ”تم پر“۔

ایسے ہی ایک یہودی وفد آپ کے پاس آیا اور انہوں نے السام علیک کہا اس پر حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے جواباً فرمایا:

وعليكم السام واللعنة. اور تم پر موت اور لعنت نازل ہو۔

اس پر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

ان الله يحب الرفق فى بے شک اللہ تعالیٰ ہر معاملہ میں نرمی کو الامر كله. پسند فرماتا ہے۔

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا آپ نے نہیں سنا کہ انہوں نے کیا کہا؟ آپ نے فرمایا اسی لیے میں نے ان کا کلام انہی پر واپس لوٹا دیا۔

(رواہ البخاری)

ایسے ہی ذوالخویصرہ کا واقعہ پیش آیا تھا جس نے اعدل کہا تھا (انصاف سے مال غنیمت تقسیم کریں) اس پر آپ نے فرمایا تھا کہ ”اگر میں عدل نہیں کرتا تو میرے بعد کون ہے جو عدل کرے گا؟“ اس پر بھی صحابہ کرام نے اس کو قتل کرنے کی اجازت چاہی مگر آپ نے فرمایا اسے چھوڑ دو کہ اس کی نسل میں سے ایسے ایسے لوگ پیدا ہوں گے۔

(الحدیث)

واقعات شاہد ہیں کہ کئی منافقین اور یہود کی گستاخیاں نظر انداز کی گئی تھیں تو اس کا کیا جواب ہے؟

جواب اس سوال کے کئی جواب ہیں:

پہلا جواب: یہ کہ منافقین یا یہود کو نرمی سے جواب دے دینا یا درگزر کر جانا وقت کی مصلحت کی خاطر ہوتا تھا مثلاً منافقین کی گستاخی پر قتل کر دینے کی اجازت دینے میں بہت

صفحہ ۱۶۲

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت ۱۶۲ اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم

بڑے فتنے میں مبتلا ہو جانے کا غالب ظن ہوتا تو اس کے مقابلے میں درگزر اور عفو کو اختیار کرنا زیادہ مصلحت و حکمت پر مبنی ہوتا تو آپ قتل کرنے کی اجازت نہ فرماتے اس لیے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے فرمایا نرمی اختیار کریں اور السام کا جواب وعلیکم سے لوٹانا ہی کافی ہے۔

ایسے ہی آپ شروع اسلام میں کفار اور منافقین کی بہت سی اذیتوں کو سنتے اور اس پر صبر فرماتے ایک تو اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کے حکمتوں والے حکم پر عمل ہو اور وہ آیت یہ ہے:

وَلَا تُطِعِ الْكَافِرِينَ وَ الْمُنَافِقِينَ آپ کافروں اور منافقوں کا پیچھا نہ وَ دَعْ اَذٰهُمْ. (الاحزاب:۴۸) کریں اور ان کی اذیتوں کو نظر انداز فرمائیں۔

ظاہر آیت پر عمل ضروری تھا جس کی وجہ سے آپ درگزر فرماتے تھے اور یہ حالت اسلام کے ابتدائی حالات سے تھی اور ایسے وقتوں میں اذیت کی باتوں پر صبر کرنا زیادہ آسان اور بہتر تھا بہ نسبت حدود کے نفاذ کے کہ ایسے حالات میں نفاذ حدود مشکل بھی تھا اور کئی فتنوں اور آزمائشوں میں پڑنے کا خطرہ بھی تھا جس سے اسلام کو نشر کرنے میں زیادہ رکاوٹوں کا پیش آنا بھی ممکن تھا لیکن جب مکہ فتح کیا گیا اور لوگ جماعتوں اور فوجوں کے طور سے دین اسلام میں داخل ہونے لگے تو پھر اللہ تعالیٰ نے سورۂ برأت نازل فرما کر ارشاد فرمایا:

جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَ الْمُنَافِقِينَ وَ اغْلُظْ آپ کفار اور منافقوں کے خلاف جہاد عَلَيْهِمْ. (التحریم:۹) کریں اور ان پر سختی فرمائیں۔

ساتھ ہی یہ حکم فرمایا: اَیْنَمَا ثُقِفُوا اُخِذُوا وَ قُتِلُوا جہاں کہیں پائے جائیں پکڑے تَقْتِیلًا. (الاحزاب:۶۱) جائیں اور خوب چن چن کر قتل کئے جائیں۔

یہ حکم اسلام کے غلبہ کے بعد دیا گیا جو قیامت تک ناسخ ہو کر قائم رہے گا، یہی وجہ ہے کہ فتح مکہ کے بعد کسی چھپے منافق کو یہ ہمت نہ ہوسکی کہ وہ کسی طرح کی اذیت کا اظہار کرتا۔

صفحہ ۱۶۳

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت ۱۶۳ اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم

دوسرا جواب: یہ ہے کہ منافقین غلبہ اسلام کے بعد اشارہ و کنایہ سے توہین کی باتیں کرتے تھے مگر ظاہر توہین و تنقیص کی ہمت ان کو نہیں ہوتی تھی اس لیے ان کو نظر انداز کیا جاتا تھا ورنہ انہیں ضرور سزا دی جاتی۔

تیسرا جواب: یہ ہے کہ صحابہ کرام کا یہی عقیدہ تھا کہ گستاخ رسول کو قتل کیا جائے اس لیے قتل کرنے کے لئے اجازت چاہتے تھے جیسے انہوں نے عرض کی الا نقتلہ کیا ہم اس کو قتل نہ کریں جیسے اجازت لے کر صحابہ کرام نے گستاخان رسالت کعب بن اشرف‘ ابو رافع یہودی اور ایک گستاخ عورت وغیرہ کو قتل کیا تھا۔ اگر ان گستاخوں کو قتل کرنا منع ہوتا تو آپ صحابہ کرام کو قتل کی اجازت مانگنے سے منع فرماتے اور اس قتل کو ناجائز قرار دیتے‘ آپ کا منع نہ کرنا استحقاق قتل کی دلیل ثابت ہوئی۔

چوتھا جواب: یہ ہے کہ منافقین یہودی وغیرہ جن جن لوگوں نے آپ کو گالیاں دیں یا کسی قسم کی اذیت پہنچائی تھی ان میں جن گستاخوں کو آپ نے معاف فرمایا یا ان سے درگزر فرما کر صبر فرمایا۔ ایسا اس لیے کیا تھا کہ معاف فرمانا اور صبر کرنا آپ کا اپنا حق تھا جس کو چاہیں معاف فرمائیں اور جسے چاہیں سزا دیں‘ آپ کا حیات طیبہ میں معاف کرنا‘ اس میں آپ کو اختیار حاصل تھا لیکن آپ کے وصال مبارک کے بعد امت کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ گستاخ رسول کو معاف کریں اور اس کو سزائے موت دینے سے انفرادی‘ اجتماعی‘ عدالتی اور پنچایتی طور پر گریز کریں‘ اسی لیے فقہائے کرام نے مرتد کی سزائے قتل کو برقرار رکھا ہے اور اس پر سب کا اتفاق ہے۔

غلبہ اسلام کے بعد منافقین چھپے چھپے توہین و تنقیص کرتے تھے اور اذیت میں خاص کر حضور ﷺ کو نشانہ بنایا کرتے تھے اور اگر کسی طرح بات اہانت کی رسول اکرم ﷺ تک پہنچ جاتی تو اس وقت کئی قسم کے لوگ بہانے بنا کر جھوٹی قسمیں کھا کر معافی دربار رسالت سے حاصل کر جاتے اور آپ کو معاف کرنے کا حق بھی حاصل تھا تو آپ معافی دے دیتے۔

آپ کا معاف فرمانا اس غرض کے لئے بھی ہوتا تھا تا کہ مخالفوں کے قلوب کی تالیف کی حکمت حاصل ہو‘ یہی وجہ ہے کہ کئی گستاخ اس لئے اسلام قبول کر لیتے تھے کہ انہوں نے آپ کی بے مثال شفقت و کرم نوازی کو دیکھ لیا تھا اور وہ آپ کی رسالت کو تسلیم کر لیتے

صفحہ ۱۶۴

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت ۱۶۴ اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم

تھے اور چونکہ منافقین اسلام کو ظاہر کرتے تھے اور دل میں نفاق رکھتے تھے یہی وجہ ہے کہ جب نبی اکرم ﷺ مال تقسیم فرما رہے تھے تو اس وقت ایک منافق نے اعتراض کیا کہ آپ انصاف سے تقسیم کریں۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا:

فقال عمر بن الخطاب دعنی مجھے اجازت دیجئے تاکہ میں اس منافق يارسول الله فاقتل هذا المنافق. کو قتل کر دوں۔

آپ نے ان کے جواب میں فرمایا:

معاذ الله ان يتحدث الناس انی اللہ کی پناہ! اس بات سے کہ لوگ یہ اقتل اصحابی. باتیں کریں کہ میں اپنے ساتھیوں کو قتل کرتا ہوں۔

اس سے واضح ہو گیا کہ نبی کریم ﷺ کو یہ حق حاصل تھا کہ وہ اپنے گستاخ کو معاف فرمائیں نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ وہ منافق مستحق قتل تھا اسی لیے صحابہ کرام اس کے قتل کرنے کے لئے اجازت مانگتے رہے، نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ آپ کا معاف کرنا مصلحت پر مبنی تھا تاکہ پروپیگنڈہ سے بھی بچ جائیں اور دوسری مصلحتیں بھی حاصل ہوں۔

نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ نبی اکرم ﷺ کی گستاخی کرنے والے ہمیشہ بد باطن اور فتنہ پھیلانے والے ہوتے ہیں۔

مزید یہ بھی واضح ہوا کہ گستاخ لوگ تنقیص شان رسالت کریں گے لیکن اہل ایمان، محبان رسول ہر قسم کی جوابی کارروائی ہمیشہ کے لئے کرتے رہیں گے خواہ یورپ و امریکہ ہو یا کوئی دوسری دنیا ہو، اہل ایمان رفعت شان مصطفیٰ کے چرچے اور تعظیم رسالت کا فریضہ ادا کرتے رہیں گے اور دشمنان رسول کو قرار واقعی سزا دیتے رہیں گے، یہی مدار نجات اور قرب الٰہی حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔

سوال بعض اسلامی حکومتوں میں ہمارے رسول اکرم ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی و اہانت کرنے والے کی سزا دو قسم کی رکھی گئی ہے۔ بعض صورتوں میں گستاخی کی سزا قتل مقرر کی گئی ہے اور بعض صورتوں میں گستاخی کی سزا عمر قید تجویز کی گئی ہے، کیا اس گستاخی کی سزا دو طرح کی ہو سکتی ہے؟

جواب اس سوال کا جواب تفصیلاً تب دیا جا سکتا ہے جب اسلامی حکومتوں کے

صفحہ ۱۶۵

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم

قانون اہانت کے تحت جاری کردہ سزا کی تفصیل وار شقیں اور صورتیں ہمارے سامنے ہوتیں لیکن اس قسم کی تفصیل میسر نہیں ہوئی تاہم ہماری اس سلسلہ میں تحقیق آپ کے سامنے حاضر ہے جو گذشتہ صفحات میں مذکور ہے۔

اجمالاً جواب یہ ہے کہ:

قرآن وسنت کی نصوص میں گستاخی کی سزا بطور حد قتل ہی وارد ہے۔ امت مسلمہ کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ رسول کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی شانِ پاک میں گستاخی کرنے والے کی کوئی اور سزا تجویز کریں کیونکہ قتل کرنا بطور حد وارد ہے اور احادیث مبارکہ میں اس کی کئی مثالیں بیان ہو چکی ہیں جو سزائے قتل واقع ہوئی ہیں۔

پچھلے سال حکومت نے وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ وزیر اعظم نے قانون وانصاف کی وزارت کو اپنی ایک ہدایت میں کہا تھا کہ جہاں تک میرا اور میری حکومت کا تعلق ہے حضور اکرم ﷺ کی ذات اقدس کی توہین کے مرتکب بدبخت شخص کے لئے دنیا کی کوئی بھی سزا کافی نہیں ہو سکتی اور بڑی سے بڑی سزا بھی اس سلسلے میں کم ہے ان کی ہدایت پر وفاقی حکومت نے اپیل واپس لینے کی اجازت کے لئے ایک پٹیشن دائر کی۔ جناب جسٹس شفیع الرحمن نے اس پٹیشن کی منظوری دیدی۔

یاد رہے کہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ ۲۹۵ (ج) کے تحت اس جرم کے مرتکب بدبخت کے لئے سزائے موت یا عمر قید کے الفاظ لکھے گئے تھے۔ ایک درخواست پر وفاقی شرعی عدالت نے اس پر فیصلہ دیا تھا کہ اس میں سے متبادل سزا عمر قید حذف کر دی جائے کیونکہ اس کی سزا موت سے کم نہیں ہو سکتی۔ بعد ازاں وفاقی حکومت نے اس فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا فیصلہ کیا اور اپیل دائر کر دی جو اب وزیر اعظم نواز شریف کی ہدایت پر واپس لے لی گئی۔

ناظرین! ہم نے جنگ اخبار کی اس تفصیل کو نقل کر دیا ہے تاکہ مزید وضاحت بھی قارئین حضرات کو معلوم ہو جائے۔

اسلامی جمہوریہ پاکستان کی وفاقی شرعی عدالت کے مندرجہ بالا فیصلے اور حکومت کی طرف سے عمر قید کی سزا کو بحال رکھنے، عرضداشت واپس لینے پر ہم سب سے بڑے اجتماعی فیصلے کی سب سے بڑی مبارکباد پیش کرتے ہیں اور ساتھ ہی یہ تجویز بھی پیش کرتے

صفحہ 166

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت ۱۶۶ اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم

ہیں کہ آخری رسول اللہ ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کرنے والوں کے خلاف جب کوئی مقدمہ اسی جمہوریہ پاکستان کی شرعی عدالت میں دائر ہو جائے اور اس کے تمام شرعی تقاضوں کو بروئے کار لائے جانے کے بعد جب جج (قاضی) صاحبان گستاخانہ کلمات یا اہانت پر مبنی اگر کوئی مسلم حکومت یا عدالت سزائے قتل میں تخفیف کر کے عمر قید وغیرہ کا حکم جاری کریں تو شریعت اسلامیہ میں اس کی کوئی نظیر موجود نہیں ہے، یہ صرف غیر مسلم حکومتوں کا قانون ہی ہو سکتا ہے........ کسی اسلامی ملک کو یہ اختیار حاصل نہیں ہے کہ وہ حدود شرعیہ میں ترمیم و اضافہ اور کمی و بیشی اپنی طرف سے جاری کریں۔ اسلام کی حدود شرعیہ قطعی و یقینی، غیر متبدل، نا قابل تغیر ہیں لہٰذا اہانت رسول کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی سزا صرف اور صرف قتل ہی ہے، اس سے کم سزا اسلام میں موجود نہیں ہے اور اسی پر اجماع امت بھی منعقد ہے جس کا ذکر پہلے ہو چکا ہے۔

اس کی تائید اسلامی جمہوریہ پاکستان کی سپریم کورٹ، وفاقی شرعی عدالت کے قانون اہانت سے متعلق تعزیرات کی دفعہ ۲۹۵ (ج) سے بھی ہوتی ہے جس میں (گستاخ رسول کی سزا موت سے کم نہیں ہے) مذکور ہے جس کی تصدیق روزنامہ جنگ لندن ۲۱ مئی ۱۹۹۱ء ۶ ذیقعدہ ۱۴۱۱ھ صفحہ اول پر ملاحظہ کریں جو حسب ذیل عبارت میں موجود ہے۔

حضور ﷺ کی شان میں گستاخی کی سزا موت سے کم نہیں ہو سکتی۔ سپریم کورٹ نے وفاق پاکستان کو اپنی عرضداشت واپس لینے کی اجازت دیدی۔

کراچی (جنگ رپورٹر) سپریم کورٹ نے اتوار کو وفاق پاکستان کو اجازت دے دی کہ وہ وفاقی شرعی عدالت کے اس فیصلے کے خلاف اپنی عرضداشت واپس لے لے جس میں کہا گیا تھا کہ حضور ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کرنے کی سزا صرف موت ہے، حکومت نے عرضداشت واپس لینے کا فیصلہ وزیر اعظم نواز شریف کی طرف سے ناگواری کے اظہار کے بعد کیا، جب انہیں اخباری اطلاعات کے ذریعے معلوم ہوا کہ کام کا تعین کریں تو وہاں اپنے فہم و ادراک کو آخری معیار حق نہ سمجھیں بلکہ اس نازک ترین سزائے قتل کے نفاذ کے لئے گستاخانہ کلمات کو عرف عام میں گستاخی کے قبیل سے تعین کرنے میں بڑی احتیاط کی ضرورت ہو گی۔ اس مرحلہ پر علماء اہل تحقیق و فقہاء کرام سے ضرور مشورہ کیا جائے تاکہ حد کے نفاذ میں اور سبب حد کے تعین میں غلط فہمی واقع نہ ہو جس کے نتیجہ

صفحہ ۱۶۷

گستاخ رسول کی شرعی حیثیت ۱۶۷ اسلام میں ضروری عقائد کی اہمیت اور حکم

میں سبب حد کو سبب نہ سمجھنا اور حد کو جاری کرنے کی بجائے عدم اجراء حد کا فیصلہ کرنا واقع نہ ہو جائے۔

سزائے موت کی حد اگر بھاری ہے ایسے ہی اس کے اسباب گستاخانہ کلمات کفریہ کی معرفت بھی سنگین مرحلہ ہوتا ہے، حق و باطل کی آمیزش سے اللہ تعالیٰ جج صاحبان کو بچائے، اللہ تعالیٰ حق و باطل کے درمیان امتیاز تام اور حق کی حمایت سب لوگوں کو نصیب کرے۔ آمین۔

الاختتام بتوفیق اللہ العلام

مفتی محمد گل رحمٰن (برمنگھم) ۲۵-۵-۹۱

PDF 168

گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم

کی شرعی حیثیت

تَصْنِيف مولانا علامہ مفتی محمد گل رحمٰن قادری مدظلہ العالی

فرید بک سٹال (رجسٹرڈ) ۳۸۔ اردو بازار لاہور