مرزا طاہر کو تجدید دعوت مباہلہ اور دعوت ایمان · مولانا منظور احمد چنیوٹی
Mirza Tahir ko Dawate Ieman · Maulana Manzoor Ahmad Chinioti
PDF 1

بسم اللہ الرحمن الرحیم

قادیانی سربراہ مرزا طاہر کو تجدید دعوت مباہلہ اور دعوت ایمان

جناب مرزا طاہر احمد سربراہ قادیانی جماعت! وفقكم الله للهداية!

آپ کو یاد ہوگا کہ راقم کے ساتھ (جو کہ ملک کی چار مشہور دینی جماعتوں جمعیت علماء اسلام، تنظیم اہل سنت، جمعیت اشاعت التوحید والسنہ اور مجلس تحفظ ختم نبوت کے سینکڑوں علماء اور لاکھوں مسلمانوں کا متفقہ مستند با ضابطہ نمائندہ ہے) آج سے پورے 40 سال قبل 26 فروری 1963 کا دن آپ کے والد مرزا بشیر الدین محمود کے ساتھ انکی جملہ شرائط اور مطالبات پورے کرنے کے بعد حق و باطل کے فیصلہ کے آخری طریقہ (مباہلہ) کیلئے مقرر ہوا تھا اور مقام مباہلہ دریائے چناب کے دو پلوں کے درمیان (وادی عزیز) طے ہوا تھا راقم حسب اعلان مقررہ جگہ پر مع اپنے رفقاء پہنچ گیا، ظہر تک آپ کے والد کا انتظار کرتا رہا، وقت مقررہ تک نہ تو آپ کے والد پہنچے، نہ انکا کوئی نمائندہ پہنچا اور نہ ہی کوئی پیغام آیا۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے حق و باطل کے فرق کو اظہر من الشمس کر کے اسلام کو عظیم الشان فتح نصیب فرمائی، ہزاروں لوگ اس فتح عظیم کے چشم دید گواہ بنے۔ جب تک آپکے والد زندہ رہے انہیں ہر سال 26 فروری بطور تجدید دعوت مباہلہ دی گئی لیکن وہ تا دم آخر حق و باطل کے فیصلہ کیلئے میدان مباہلہ میں آنے کی جرأت نہ کر سکے اور گوناں گوں موذی امراض کا شکار ہوئے اور عبرت کا نمونہ بن کر دنیا سے رخصت ہو گئے۔

اس کے بعد آپ کے بڑے بھائی مرزا ناصر احمد مرزا غلام احمد قادیانی کے تیسرے جانشین مقرر ہوئے تو انہیں بھی دعوت مباہلہ دی گئی اور ہر سال 26 فروری کو اس کی تجدید کیجاتی رہی لیکن وہ

PDF 2

بھی تادم مرگ میدان مباہلہ میں آنے کی ہمت نہ کرسکے اور آخر کار ہارٹ اٹیک کا شکار ہو کر آنجہانی ہوئے۔ اس کے بعد جب آپ قادیانی جماعت کے چوتھے جانشین مقرر ہوئے تو آپ کو بھی اتمام حجت کیلئے دعوت مباہلہ دی گئی لیکن آپ بھاگ کر لندن چلے گئے۔ جہاں آپ نے بغیر اطلاع ” اعلان یک طرفہ دعا‘‘ کو مباہلہ کا نام دیکر جون 1988 میں مباہلہ کے عنوان سے ایک مضمون شائع کر کے پوری دنیا میں اس کی تشہیر کی اور مقتدر علماء و شخصیات کو وہ مضمون بھیجا۔ مجھے بھی وہی مضمون بطور دعوت مباہلہ بھیجا گیا اگر چہ وہ شرعاً مباہلہ نہ تھا کیونکہ مباہلہ میں فریقین کا ایک جگہ اکٹھے ہو کر دعا کرنا ضروری ہوتا ہے لیکن میں نے آپ کی اس یک طرفہ نام نہاد دعائے مباہلہ کو بھی قبول کرنے کا اعلان کر دیا۔ آپ کو جوابی خط لکھا کہ میں مرزا قادیانی کو اسکے تمام دعاوی میں جھوٹا ، کذاب اور دجال یقین کرتا ہوں۔ میں اسے دائرہ اسلام سے خارج یقین کرتا ہوں اور جو اس پر ایمان لاتے ہیں ان کو بھی کافر یقین کرتا ہوں۔ میرا یہ جواب 15 ستمبر 1988 کے روزنامہ جنگ لندن میں شائع ہوا۔ جس پر آپ نے اپنے 25 نومبر کے خطبہ جمعہ میں چیلنج کیا کہ اب منظور چنیوٹی نہیں بچ سکے گا اور ایک سال کے اندر یعنی 15 ستمبر 1989 تک منظور چنیوٹی ہلاک ہو جائے گا دنیا کی کوئی طاقت اسے نہیں بچا سکے گی اور مباہلہ کا اثر جو جھوٹوں پر پڑتا ہے وہ اس سے نہیں بچ سکے گا۔ لیکن الحمد للہ ! آپکے باپ دادا کی طرح آپکی پیش گوئی بھی جھوٹی ثابت ہوئی ، 15 ستمبر 1989 خیر و عافیت سے گذر گیا۔ بندہ اللہ کے فضل وکرم سے اس جھوٹ اور باطل کو مزید طشت از بام کرنے کیلئے ابھی تک زندہ وسلامت ہے ۔ للہ الحمد ۔ 1989 بندہ کی عزت افزائی اور آپ کی ذلت ورسوائی کا سال ثابت ہوا۔ مجھے اللہ تعالیٰ نے بھاری اکثریت

PDF 3

سے دوسری مرتبہ پنجاب اسمبلی کا ممبر منتخب کرا دیا، رابطہ عالم اسلامی مکہ مکرمہ کی ضیافت پر حج کی سعادت نصیب ہوئی ۔ پہلے پوتے کی نعمت سے نوازا گیا جبکہ رنگون میں آپ کے سینکڑوں مرید قادیانیت چھوڑ کر بہائی مذہب اختیار کر گئے۔ آپ کا دست راست عربی اکیڈمی کا ڈائریکٹر، عربی رسالہ ”التقویٰ“ کا چیف ایڈیٹر فلسطینی نوجوان حسن محمود عودہ قادیانیت پر چار حرف بھیج کر دائرہ اسلام میں داخل ہوا اور یکم اکتوبر 1989 کو ویمبلے ہال لندن میں مسلمانوں کے عظیم اجتماع میں ، میری موجودگی میں، آپ سے براءت کا اعلان کر دیا اور الحمد للہ آج تک اپنے عہد پر قائم ہے - 1995 میں اپنے جلسہ سالانہ کے موقع پر اپنی ذلت و پسپائی پر پردہ ڈالنے کیلئے آپ نے میرے متعلق جھوٹا بیان دیا کہ یہ مباہلہ سے بھاگتا ہے اور فتح مباہلہ کے تماشے کرتا پھرتا ہے میں نے آپ کے جھوٹے اعلان اور خلاف واقعہ چیلنج کو قبول کرتے ہوئے یہ اعلان کیا کہ آپ تو پاکستان آنے سے رہے بندہ ہائیڈ پارک لندن میں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ مورخہ 5 اگست 95ء 12 بجے دوپہر تک آپکا انتظار کرے گا آپ خود یا آپ کا کوئی نمائندہ آ کر مباہلہ کر لیں۔ یہ اعلان روزنامہ جنگ لندن میں شائع ہوا جبکہ بی بی سی نے بھی یہ خبر پوری دنیا میں نشر کر دی۔ چنانچہ حسب اعلان، بندہ علماء کی ایک کثیر جماعت کے ہمراہ ہائیڈ پارک لندن میں پہنچ گیا، نماز ظہر تک انتظار کرتا رہا لیکن آپ یا آپکا کوئی نمائندہ وہاں حاضر نہ ہوا۔ اخباری رپورٹرز اور بی بی سی کے نمائندہ نے ہماری تصاویر کے ساتھ پوری دنیا میں یہ خبر نشر کی کہ منظور چنیوٹی حسب اعلان اپنے ساتھیوں کے ہمراہ پہنچ کر انتظار کرتا رہا لیکن مرزا طاہر یا اسکا کوئی نمائندہ مقررہ مقام اور وقت پر نہ پہنچا۔

PDF 4

عالم اسلام کے تمام نمائندوں اور امام حرم مکی فضیلۃ الشیخ محمد بن عبداللہ السبیل حفظہ اللہ جو ختم نبوت کانفرنس لندن میں بطور مہمان خصوصی شریک تھے، بھر پور مبارک دی کہ آپ کے ذریعہ سے پوری دنیا میں اسلام کی عزت اور قادیانیت کی ذلت و رسوائی ہوئی (جو کہ بندہ کیلئے ایک اعزاز ہے) اسطرح آپ پر اتمام حُجت ہو گئی۔ بعد ازاں آئندہ سال 9 اگست 1996 بروز جمعہ بندہ نے دوبارہ روزنامہ جنگ لندن میں آپ کے نام ایک کھلے اشتہار کے ذریعہ چیلنج دیا کہ اگر آپ ہائیڈ پارک مباہلہ کیلئے نہیں آ سکتے تو میں آپ کے مرکز ٹیلفورڈ (لندن) میں آکر آپ سے مباہلہ کرنے کو تیار ہوں آپ تاریخ کا تعین کر لیں ۔ آٹھ سال کا طویل عرصہ گزر گیا مگر آپ کی طرف سے تاحال مکمل خاموشی ہے۔

آج 26 فروری 2003 کو پھر آپ کو اتماماً للحجّۃ دعوت مباہلہ دیتا ہوں ۔ جگہ اور تاریخ کا آپ تعین کریں لیکن جگہ ایسی ہو جہاں میرے آنے میں کوئی رکاوٹ نہ ہو، تو بندہ آپ سے مباہلہ کیلئے حاضر ہے پھر آپ قدرت خدا کا مشاہدہ کریں ۔ لیکن مجھے یقین ہے کہ آپ ہرگز میرے مقابلہ میں آنے کی جرأت نہیں کریں گے کیونکہ آپکو اپنے دادا کے جھوٹے ہونے کا سو فیصد یقین ہے۔

" فان لم تفعلوا ولن تفعلوا فاتقوا النار التی وقودها الناس و الحجارة"

ترجمہ : پس اگر تم نہ کرسکو اور ہرگز نہ کرسکو گے تو اس آگ سے بچو جس کا ایندھن لوگ اور پتھر ہیں ۔

آخر میں بطور خیر خواہی اور نصیحت کے گزارش ہے کہ آپ پر عقلی ونقلی دلائل کے ذریعہ ہر طرح سے حق واضح ہو چکا ہے پوری امت کے علماء آپ کے کفر اور خارج از اسلام ہونے کے

PDF 5

فتاویٰ صادر کر چکے ہیں ۔ 1974 کے دوران مکہ مکرمہ میں رابطہ عالم اسلامی کے زیر اہتمام 104 ممالک کی اسلامی تنظیموں کے 300 سے زائد علماء وسکالرز اور مفتیان کرام نے متفقہ طور پر آپ کی جماعت کے خارج از اسلام ہونے کا اعلان کر دیا تھا حتی کہ سعودی عرب کی اسلامی حکومت نے پوری مملکت میں آپکی جماعت کا داخلہ بند کر دیا ۔ پھر 1974 ہی میں پاکستان کی قومی اسمبلی نے کئی روز کی بحث وتمحیص کے بعد ایک متفقہ قرار داد کے ذریعے آپ لوگوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیکر ملت اسلامیہ سے خارج کر دیا اور ملک کی اقلیتوں میں ایک اقلیت کا اضافہ کر دیا ۔ پھر پاکستان کی سول عدالتوں سے سپریم کورٹ تک آپ کیس لڑتے پھرے لیکن ذلت ورسوائی کا سامنا کرنا پڑا اور تمام عدالتوں نے قادیانیوں کے کفر پر مہر تصدیق ثبت کردی۔ انہیں اسلامی شعائر کے استعمال سے قانوناً روک دیا گیا ، ان کیلئے اسلامی اصطلاحات کا استعمال ممنوع قرار دے دیا گیا اور کسی بھی طرح اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرنے پر پابندی لگا دی گئی ،نیز اپنے مذہب کی تبلیغ سے روک دیا گیا۔ کسی قسم کے جلسے اور کانفرنسیں آپ لوگ نہیں کر سکتے ۔ان حالات میں آپ خود ساختہ جلا وطن ہو کر لندن میں پناہ گزین ہوئے ۔ تمام اسلامی ممالک کے علاوہ جنوبی افریقہ جیسے غیر مسلم ملک کی اعلیٰ عدالت نے بھی آپ لوگوں کے کفر کی تصدیق کر دی۔

﴿ دعوت ایمان ﴾

میں آپ کو نصیحت کرتا ہوں خصوصاً اس وقت جب آپ بستر مرگ پر ہیں اس باطل مذہب سے توبہ کر لیجئے اور اپنی عاقبت سنواریے ۔ اپنی پوری جماعت کو گمراہی کی گھاٹی سے نکال لیجیے۔ حضور خاتم الانبیاء ﷺ کی ختم نبوت کا صحیح معنوں میں اقرار کیجئے اور ملت اسلامیہ کے

PDF 6

متفقہ عقیدہ کے مطابق سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے رفع جسمانی اور نزول ثانی پر ایمان لائیے جس طرح خود آپ کے دادا مرزا غلام احمد قادیانی 52 سال کی عمر تک اس عقیدہ پر قائم رہے اور قرآن کریم کے مطابق عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ دنیا میں آنے کے قائل رہے، اسی طرح اس کا اقرار کر لیجئے کہ امام مہدی اس امت میں حضور اکرم ﷺ کی اولاد سے پیدا ہوں گے اور قرب قیامت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے ملکر یہود سے جنگ کریں گے۔ مرزا غلام احمد قادیانی کے تمام دعاویٰ میں جھوٹا ہونے کا برملا اعلان کر کے اس سے برأت کرتے ہوئے اپنی عاقبت سنوار لیجئے۔ مجھے امید ہے کہ آپ اپنی اور اپنے متعلقین کی ہدایت اور نجات کیلئے میری اس مخلصانہ دعوت پر سنجیدگی سے غور کریں گے اور اسے قبول کرتے ہوئے امت اسلامیہ اجتماعی دھارے میں شامل ہو کر اپنی عاقبت سنوارنے کی کوشش کریں گے۔ ﴿ان اريد الا الاصلاح ما استطعت وما توفیقی الا بالله﴾

آپ کا سچا ہمدرد و خیر خواہ احقر منظور احمد چنیوٹی جنرل سیکرٹری انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ