فَمِنْهُم مَّن قَضٰى نَحْبَهٗ وَمِنْهُم مَّن يَّنتَظِرُ (القرآن) ان میں سے کوئی اپنی نذر پوری کر چکا اور کوئی وقت آنے کا منتظر ہے (الاحزاب)
فراق یاراں
تالیف مُناظِرِ خَتْمِ نُبُوَّت حَضْرَت مَوْلَانَا اللّٰہ وَسَایَا صَاحِب مَدَّظِلَّہُ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
نام کتاب ـــــــــــــــ فراق یاراں مصنف ـــــــــــــــ مناظر ختم نبوت حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب مدظلہ صفحات ـــــــــــــــ 304 قیمت ـــــــــــــــ 100/- روپے طبع اول ـــــــــــــــ فروری 2006ء سرورق ـــــــــــــــ محمد طاہر حجازی 042-7574180 مطبع ـــــــــــــــ اصغر پریس، لاہور ناشر ـــــــــــــــ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
حضوری باغ روڈ ملتان۔ فون: 4514122
بسم الله الرحمن الرحيم!
انتساب !
اس کتاب کو خلیفہ راشد سیدنا حضرت علی المرتضیٰ حیدر کرار کرّمہ اللہ وجہہ کے ان آنسوؤں کے نام منسوب کرتا ہوں جو انہوں نے رحمت دوعالم ﷺ اور خلفائے ثلاثہ کی جدائی پر ❁....... اور وہ آنسو جو ان کی اہلیہ حضرت سیدہ فاطمۃ الزہرا نے اپنے والد گرامی علیہ الصلوٰۃ والسلام کی جدائی پر ❁....... اور وہ آنسو جو امت نے آپ کے صاحبزادہ گرامی شہزادۂ جنت حضرت سیدنا حسین کی مظلومیت پر بہائے یا قیامت تک بہائے جائیں گے۔
اللہ کرے کہ حضرت سیدنا علی المرتضیٰ خلیفہ رابع سے انتساب کی یہ نسبت دنیا و آخرت میں میری سرخروئی کا باعث بن جائے۔ آمین!
فقیر: اللہ وسایا! یکم محرم الحرام ١٤٢٧ھ ٣١ جنوری ٢٠٠٦ء
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم!
فہرست
عرض مؤلف ٩
- ١....... حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ ٢١؍ اپریل ١٩٧١ء ١٣
- ٢....... حضرت مولانا لال حسین اخترؒ ١٠؍ جون ١٩٧٣ء ١٥
- ٣....... حضرت مولانا پیر جی عبداللطیفؒ ٣؍ جولائی ١٩٧٧ء ٢٠
- ٤....... محترم جناب بلال زبیری جھنگ ٢٨؍ ستمبر ١٩٧٧ء ٢٣
- ٥....... حضرت مولانا محمد یوسف بنوریؒ ١٧؍ اکتوبر ١٩٧٧ء ٢٥
- ٦....... حضرت مولانا مفتی محمد شفیعؒ ملتانی ٢٠؍ مئی ١٩٧٨ء ٢٩
- ٧....... فاتح قادیان حضرت مولانا محمد حیاتؒ ١١؍ اگست ١٩٨٠ء ٣٠
- ٨....... محترم جناب محمد بخش چشتی جھنگ ٢٧؍ دسمبر ١٩٨٠ء ٣٧
- ٩....... حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ ٤؍ فروری ١٩٨١ء ٤٠
- ١٠....... حضرت مولانا سید نور الحسن بخاریؒ ٤؍ جنوری ١٩٨٢ء ٤٥
- ١١....... حضرت مولانا تاج محمودؒ فیصل آباد ٢٠؍ جنوری ١٩٨٢ء ٤٨
- ١٢....... حضرت مولانا عبدالعزیز رائے پوریؒ ٣٠؍ اکتوبر ١٩٨٢ء ٥٠
- ١٣....... حضرت حافظ حسام الدینؒ ماموں کانجن فروری ١٩٨٥ء ٥٢
- ١٤....... حضرت مولانا محمد شریف جالندھریؒ ١٤؍ فروری ١٩٨٥ء ٥٥
- ١٥....... حضرت مولانا محمد عبداللہ رائے پوریؒ ١٥؍ جون ١٩٨٥ء ٦٠
- ١٦....... حضرت مولانا ابوعبیدہ نظام الدینؒ ٥؍ جولائی ١٩٨٥ء ٦٥
بسم الله الرحمن الرحيم!
فہرست
٩ ٢١؍ اپریل ١٩٧١ء ١٣ ١٠؍ جون ١٩٧٣ء ١٥ ٣؍ جولائی ١٩٧٧ء ٢٠ ٢٨؍ ستمبر ١٩٧٧ء ٢٣ ١٧؍ اکتوبر ١٩٧٧ء ٢٥ نی ٢٠؍ مئی ١٩٧٨ء ٢٩ حیات ١١؍ اگست ١٩٨٠ء ٣٠ ل ٢٧؍ دسمبر ١٩٨٠ء ٣٧ ئی ٤؍ فروری ١٩٨١ء ٤٠ ئی ٤؍ جنوری ١٩٨٤ء ٤٥ آباد ٢٠؍ جنوری ١٩٨٤ء ٤٨ پوریؒ ٣٠؍ اکتوبر ١٩٨٤ء ٥٠ کا انجن فروری ١٩٨٥ء ٥٤ ریؒ ١٤؍ فروری ١٩٨٥ء ٥٥ پوریؒ ١٥؍ جون ١٩٨٥ء ٦٠ نؒ ٥؍ جولائی ١٩٨٥ء ٦٥
١٧ ...... حضرت مولانا محمد رمضان علویؒ ١٨؍ جنوری ١٩٩٠ء ٦٨ ١٨ ...... حضرت مولانا زرین احمد خانؒ ٧؍ مئی ١٩٩٣ء ٧١ ١٩ ...... حضرت مولانا محمد عبداللہ درخواستیؒ ٢٨؍ اگست ١٩٩٤ء ٧٥ ٢٠ ...... حضرت مولانا حکیم عبدالرحیم اشرفؒ ٢٨؍ جولائی ١٩٩٥ء ٨٣ ٢١ ...... محترم جناب صوفی احمد بخش چشتیؒ ٢؍ اپریل ١٩٩٧ء ٨٧ ٢٢ ...... حضرت مولانا عبدالوحید ڈھڈیاں مئی ١٩٩٧ء ٨٨ ٢٣ ...... حضرت مولانا قاضی زاہد الحسینیؒ ١٣؍ مئی ١٩٩٧ء ٨٩ ٢٤ ...... حضرت مولانا محمد عمر پالن پوریؒ مئی ١٩٩٧ء ٩٠ ٢٥ ...... حضرت مولانا مفتی غلام مرتضیٰؒ ٢٣؍ مئی ١٩٩٧ء ٩٠ ٢٦ ...... حضرت مولانا عبد الہادیؒ مئی ١٩٩٧ء ٩١ ٢٧ ...... حضرت مولانا محمد منظور نعمانیؒ لکھنؤ ٤؍ مئی ١٩٩٧ء ٩١ ٢٨ ...... حضرت مولانا قاری شہاب الدینؒ ٣٠؍ جولائی ١٩٩٧ء ٩٢ ٢٩ ...... حضرت مولانا ڈاکٹر حبیب اللہ مختارؒ ٢؍ نومبر ١٩٩٧ء ٩٤ ٣٠ ...... حضرت مولانا عبدالکریم قریشیؒ ٤؍ جنوری ١٩٩٩ء ٩٨ ٣١ ...... جناب صاحبزادہ حافظ محمد عابدؒ ٢؍ فروری ١٩٩٩ء ١٠٥ ٣٢ ...... محترم جناب حکیم حنیف اللہ ملتانیؒ ٦؍ فروری ١٩٩٩ء ١٢٧ ٣٣ ...... حضرت مولانا سید ممتاز الحسن گیلانیؒ اکتوبر ١٩٩٩ء ١٢٨ ٣٤ ...... جناب چوہدری غلام نبی امرتسریؒ ١٥؍ دسمبر ١٩٩٩ء ١٣١ ٣٥ ...... حضرت مولانا ابوالحسن علی ندویؒ ٣١؍ دسمبر ١٩٩٩ء ١٣٣ ٣٦ ...... حضرت مولانا جمال اللہ حسینیؒ ٢١؍ جنوری ٢٠٠٠ء ١٣٨ ٣٧ ...... حضرت مولانا عبدالحق بہلویؒ ٢٨؍ جنوری ٢٠٠٠ء ١٣٩
- ٣٨...... حضرت مولانا عبدالرحیم نعمانیؒ ١٢؍ مارچ ٢٠٠٠ء ١٤٠
- ٣٩...... حضرت مولانا سید حامد علی شاہؒ ١٥؍ مارچ ٢٠٠٠ء ١٤١
- ٤٠...... جناب صوفی نور محمد مجاہدؒ لودھراں ٧؍ جولائی ٢٠٠٠ء ١٤٣
- ٤١...... حضرت مولانا محمد امین اوکاڑویؒ ٢١؍ اکتوبر ٢٠٠٠ء ١٤٤
- ٤٢...... حضرت مولانا محمد لقمان علی پوریؒ ١٦؍ نومبر ٢٠٠٠ء ١٤٧
- ٤٣...... جناب صوفی عنایت علی دنیا پوریؒ دسمبر ٢٠٠٠ء ١٥٠
- ٤٤...... حضرت مفتی سید عبدالشکور ترمذیؒ ٤؍ جنوری ٢٠٠١ء ١٥١
- ٤٥...... حضرت مولانا منیر الدینؒ کوئٹہ ١٨؍ اپریل ٢٠٠١ء ١٥٣
- ٤٦...... مکرم جناب ڈاکٹر محمد خالد خاکوانیؒ ١٥؍ مئی ٢٠٠١ء ١٥٤
- ٤٧...... حضرت سید منظور احمد شاہ حجازیؒ ١٠؍ جون ٢٠٠١ء ١٥٥
- ٤٨...... جناب حضرت مولانا غلام قادرؒ ١٣؍ جولائی ٢٠٠١ء ١٥٦
- ٤٩...... حضرت مولانا سید منظور احمد آسیؒ یکم نومبر ٢٠٠١ء ١٥٧
- ٥٠...... حضرت مولانا قاضی اللہ یار خانؒ ١٠؍ جنوری ٢٠٠٢ء ١٥٨
- ٥١...... حضرت مولانا قاری عبدالحفیظؒ ٧؍ جنوری ٢٠٠٢ء ١٦٠
- ٥٢...... حضرت مولانا نذیر احمدؒ بہاولپور ٢٤؍ جنوری ٢٠٠٢ء ١٦١
- ٥٣...... حضرت مفتی رشید احمد لدھیانویؒ ١٩؍ فروری ٢٠٠٢ء ١٦٢
- ٥٤...... حضرت مولانا نور احمد مظاہریؒ ١٩؍ اپریل ٢٠٠٢ء ١٦٣
- ٥٥...... حضرت قاری محمد اسحق فیصل آبادیؒ ٣١؍ دسمبر ٢٠٠٢ء ١٦٤
- ٥٦...... حضرت مولانا مفتی عبدالقادرؒ دسمبر ٢٠٠٢ء ١٦٥
- ٥٧...... حضرت مولانا کرم الٰہی فاروقیؒ ١٠؍ جنوری ٢٠٠٣ء ١٦٦
- ٥٨...... محترم جناب چوہدری محمد یوسفؒ ١٢؍ جنوری ٢٠٠٣ء ١٦٦
٥٩ ...... حضرت مولانا عبدالقادر آزادؒ ١٥؍ جنوری ٢٠٠٣ء ١٦٧ ٦٠ ...... حضرت مولانا قاری عبد السمیعؒ ١٢؍ فروری ٢٠٠٣ء ١٦٨ ٦١ ...... حضرت مولانا رشید احمد پسروریؒ ١٨؍ مارچ ٢٠٠٣ء ١٦٩ ٦٢ ...... جناب صاحبزادہ فیض القادریؒ ٢٠٠٣ء ١٧١ ٦٣ ...... حضرت مولانا اللہ وسایا قاسمؒ یکم مئی ٢٠٠٣ء ١٧١ ٦٤ ...... حضرت مولانا عبداللطیف مسعودؒ ١١؍ مئی ٢٠٠٣ء ١٧٢ ٦٥ ...... جناب حضرت مولانا فیض اللہؒ ٢٠؍ مئی ٢٠٠٣ء ١٧٣ ٦٦ ...... حضرت مولانا عبدالرحیم اشعرؒ ٢٢؍ مئی ٢٠٠٣ء ١٧٥ ٦٧ ...... الحاج جناب غوث بخش ڈینہؒ ٢٧؍ مئی ٢٠٠٣ء ١٩١ ٦٨ ...... حضرت مولانا قاری دین محمدؒ نومبر ٢٠٠٣ء ١٩٢ ٦٩ ...... حضرت مولانا امام الدین قریشیؒ نومبر ٢٠٠٣ء ١٩٣ ٧٠ ...... حضرت مولانا شاہ احمد نورانیؒ ١١؍ دسمبر ٢٠٠٣ء ١٩٦ ٧١ ...... حضرت قاضی عبداللطیف اخترؒ ٢٥؍ جنوری ٢٠٠٤ء ٢٠٢ ٧٢ ...... حضرت مولانا قاضی مظہر حسینؒ ٢٦؍ جنوری ٢٠٠٤ء ٢٠٥ ٧٣ ...... حضرت مولانا حامد علی رحمانیؒ مارچ ٢٠٠٤ء ٢٠٩ ٧٤ ...... حضرت مولانا حکیم عبدالرحمن آزادؒ ١٨؍ مارچ ٢٠٠٤ء ٢٠٩ ٧٥ ...... جناب پروفیسر مظفر اقبال قریشیؒ ١٤؍ اپریل ٢٠٠٤ء ٢١٢ ٧٦ ...... حضرت مولانا مفتی زین العابدینؒ ١٥؍ مئی ٢٠٠٤ء ٢١٣ ٧٧ ...... حضرت مفتی نظام الدین شامزئیؒ ٣٠؍ مئی ٢٠٠٤ء ٢١٦ ٧٨ ...... حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹیؒ ٢٧؍ جون ٢٠٠٤ء ٢٢١ ٧٩ ...... شیخ الحدیث حضرت مولانا نذیر احمدؒ ٣؍ جولائی ٢٠٠٤ء ٢٣٠
٨٠ ...... حضرت مولانا عبدالعزیز جتوئی ١٧؍ ستمبر ٢٠٠٤ء ٢٣٢
٨١ ...... حضرت مولانا مختار احمد مظاہری ١٩؍ ستمبر ٢٠٠٤ء ٢٣٤
٨٢ ...... حضرت مولانا مفتی محمد جمیل خان ٩؍ اکتوبر ٢٠٠٤ء ٢٣٥
٨٣ ...... حضرت مولانا نذیر احمد تونسوی ٩؍ اکتوبر ٢٠٠٤ء ٢٤١
٨٤ ...... حضرت مولانا محمد انور کبیر والا ٣؍ نومبر ٢٠٠٤ء ٢٤٦
٨٥ ...... حضرت مولانا بشیر احمد خاکی ١٦؍ دسمبر ٢٠٠٤ء ٢٤٩
٨٦ ...... حضرت مولانا عبدالمجید سکھر ٢٨؍ دسمبر ٢٠٠٤ء ٢٥٢
٨٧ ...... حضرت مولانا منظور احمد الحسینی ١٣؍ جنوری ٢٠٠٥ء ٢٥٦
٨٨ ...... حضرت مولانا دوست محمد مدنی ١٤؍ جنوری ٢٠٠٥ء ٢٥٨
٨٩ ...... جناب قاری صفات محمد عثمانی ١٦؍ جنوری ٢٠٠٥ء ٢٦١
٩٠ ...... حضرت مولانا صوفی اللہ وسایا ٢١؍ فروری ٢٠٠٥ء ٢٦٣
٩١ ...... حضرت مولانا غلام محمد علی پوری ٢٢؍ فروری ٢٠٠٥ء ٢٦٨
٩٢ ...... حضرت مولانا قاری محمد امین ١٧؍ جولائی ٢٠٠٥ء ٢٧٢
٩٣ ...... حضرت مولانا سید محمد امین گیلانی ٣؍ اگست ٢٠٠٥ء ٢٧٣
٩٤ ...... جناب حافظ احمد بخش شجاع آبادی ٢٢؍ اگست ٢٠٠٥ء ٢٨١
٩٥ ...... حضرت مولانا خدا بخش شجاع آبادی ٢٩؍ ستمبر ٢٠٠٥ء ٢٨٤
٩٦ ...... حضرت مولانا قاری محمد صدیق ٧؍ دسمبر ٢٠٠٥ء ٢٩١
٩٧ ...... حضرت مولانا قاری نور الحق قریشی ١١؍ دسمبر ٢٠٠٥ء ٢٩٤
٩٨ ...... حضرت مولانا عبدالرؤف ١٦؍ مارچ ١٩٩٤ء ٢٩٦
٩٩ ...... جناب حافظ محمد حنیف ندیم ٢٠؍ اکتوبر ١٩٩٤ء ٢٩٨
١٠٠ ...... حضرت مولانا سید محمد علی شاہ ١٨؍ جنوری ١٩٩٠ء ٣٠١
عرض مؤلف
بسم الله الرحمن الرحیم!
الحمدلله وكفى وسلام على عباده الذین اصطفی ٠ اما بعد!
ام المومنین حضرت ماریہ قبطیہؓ کے بطن مبارک سے آنحضرتﷺ کے صاحبزادہ حضرت ابراہیمؓ پیدا ہوئے۔ بچپن میں ان کا وصال اس حالت میں ہوا کہ آپﷺ نے انہیں اپنی گود نبوت میں اٹھایا ہوا تھا۔ حضرت ابراہیمؓ کی روح نے قفس عنصری سے پرواز کی تو آپﷺ کے آنسو مبارک رواں ہوگئے۔ آپﷺ نے فرمایا انا بفراقک یا ابراہیم لمحزونون ! ابراہیمؓ آپ کی جدائی نے ہمیں غم زدہ کر دیا۔
کسی عزیز کی جدائی پر دل صدمہ کرے اور آنکھ آنسو بہائے۔ جہاں یہ فطری تقاضہ ہے وہاں ترجمان فطرت حضور نبی کریمﷺ کی سنت مبارکہ بھی ہے۔ اس دنیا سے جانے والے اکابر‘ معاصر‘ اساتذہ‘ مشائخ اور جماعتی دوستوں کے جدائی کے لمحوں پر اپنے دل کی تسلی کے لئے فقیر کچھ نہ کچھ لکھتا رہا۔ تقریباً ٣٥ سال کے داستان غم کی یہ دستاویز ہے جو آپ کے سامنے پیش کرنے کی جرأت ہورہی ہے۔ آپ انہیں تعزیتی مضامین‘ سوانحی خاکے‘ یا نثری مرثیے قرار دیں آپ کو اس کا حق حاصل ہے۔ لیکن مجھ سے پوچھیں تو یہ مضامین میرے دل کے ٹکڑے ہیں جو ان جانے والے حضرات کی جدائی پر قلم سے کاغذ پر منتقل ہوتے رہے ہیں۔ یہ ایام رفتہ کے آنسو ہیں جو گرتے رہے اور میں انہیں کاغذ پر جمع کرتا رہا۔
١٩٧١ء سے یہ سلسلہ شروع ہوا اور ابھی تک جاری ہے نہ معلوم کہ کب خود کی باری آجائے کہ غم فراق سہنے کی بجائے دل ہار جائے اور بجائے رونے کے روٹھ جائے۔ نوحہ‘ مرثیہ‘ رونا‘ غم‘ سوگ‘ سب کچھ کا آپ اس میں پرتو دیکھیں گے۔ لیکن مجھ مسکین سے پوچھیں کہ جس پر ان حضرات کے غم جدائی کے پہاڑ ٹوٹے۔ ان صدمات سے دل ٹوٹا‘ کمر جھکی‘ آنکھیں بھیگیں‘ جگر پارہ پارہ ہوا۔ لیکن کتنا ڈھیٹ ہوں کہ ابھی تک زندہ ہوں۔ بعض حضرات کی جدائی نے دل و جان پر
گہرے نقوش چھوڑے۔ لیکن سوائے صبر کے انسان بے چارہ اور کر ہی کیا سکتا ہے۔ ہر وہ شخص جس کی جدائی پر قلم اٹھایا یا کوشش کی کہ جو قلب کی واردات ہے اسے من وعن کاغذ پر منتقل کر دوں اور ایسے ہی کیا۔ اس پر میرا ضمیر مطمئن ہے۔ اس پر رب کریم کو گواہ بناتا ہوں جو دل کے راز جاننے والی ذات ہے۔
برادران طریقت و یاران مجلس! کیسا قحط ہے کہ جو بزم سے اٹھا اس کی جگہ لینے والا کوئی نہ آیا۔ اس قحط وکساد بازاری میں جانے والوں کی جگہ پر نہ ہوسکی۔ چلو! ان کا تذکرہ ہی سہی۔ شاید کہ درد کا کچھ درماں ہو جائے۔ اس توقع پر دوستوں کا خیال ہوا کہ تعزیتی مضامین جمع ہو جائیں۔ لیکن جمع کرنے سے پہلے ہی جی میں فیصلہ کر لیا تھا کہ مختصر تعزیتی نوٹ یا شذرے شامل نہیں ہونے چاہئیں صرف منتخب مضامین ہوں۔ اس خیال سے ہفت روزہ لولاک اور ماہنامہ لولاک سے مضامین کی تلاش شروع ہوئی تو ان کی تعداد ستانوے تک جا پہنچی۔ لولاک میں ہی شائع شدہ شذرے یا بعض مختصر مضامین جان کر نظر انداز کر دیئے۔ دیگر رسائل کے نمبروں میں اکابر پر جو مضامین شائع ہوتے رہے ان کو شامل کیا جاتا تو کئی اور جلدیں تیار ہو جاتیں۔
خطیب پاکستان حضرت مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمودؒ شہید اسلام حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ اور دیگر اکابر پر مضامین یا مشاہدات و تاثرات دیگر رسائل کے نمبروں یا ’’تذکرہ مجاہدین ختم نبوت‘‘ میں آپ ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔ وہاں سے کوئی مواد لے کر اس میں شامل کرنے سے اجتناب برتا ہے۔ تکرار لاحاصل کے علاوہ ضخامت کا خوف مانع رہا۔ مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ مناظر اسلام حضرت مولانا لال حسین اخترؒ مجاہد ختم نبوت حضرت مولانا تاج محمودؒ پر فقیر کے کئی مضامین ملے۔ ایک ایک لے لیا اور باقی ترک دیئے۔ اس کے بغیر چارہ نہ تھا۔ تمام مضامین کا مجموعہ مرتب کرنا پیش نظر نہیں ہے۔ صرف مضامین کا انتخاب مقصود تھا جو اس سے حاصل ہو رہا ہے۔
نمبر ایک سے نمبر ٩٧ تک سن وفات کو سامنے رکھ کر ترتیب قائم کی ہے۔ اس کے بعد
تین مضامین (حضرت مولانا عبدالرؤفؒ حضرت مولانا حافظ محمد حنیف سہارنپوریؒ حضرت مولانا سید محمد علی شاہؒ) ہفت روزہ ختم نبوت کراچی سے لے کر بغیر سن وفات کا خیال کئے آخر میں لگا کر سو کی تعداد پوری کر دی ہے۔
حضرت مولانا صاحبزادہ عزیز احمدؒ حضرت مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادیؒ حضرت مولانا فقیر اللہ اخترؒ حضرت مولانا عزیز الرحمٰن ثانیؒ حضرت مولانا سید محمد اکبر شاہ بخاری جام پوریؒ حضرت مولانا عبدالستار حیدری اور جناب قاری عمر حیات ایسے بزرگوں و دوستوں نے اس کی اشاعت جمع و ترتیب کے لئے مہمیز لگائی۔ اللہ تعالیٰ بہت ہی جزائے خیر دیں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم اعلیٰ حضرت مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری مدظلہ کو کہ آپ نے اس کی اشاعت کی منظوری مرحمت فرمائی۔
٨ ذی الحجہ ١٤٢٦ھ کو خانقاہ سید احمد شہیدؒ نزد پل سگیاں لاہور اپنے مرشد گرامی حضرت اقدس مولانا سید نفیس الحسینی شاہ صاحب دامت برکاتہم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ سے تفصیل عرض کر کے کتاب کا نام تجویز کرنے کی درخواست کی۔ آپ نے ”فراق یاراں“ اس کا نام تجویز فرمایا اور حضرت مولانا عراقی ملتانیؒ کا شعر اس کے ٹائٹل کے لئے عنایت فرمایا (مولانا عراقی ملتانیؒ حضرت خواجہ شاہ رکن عالم ملتانیؒ یا خواجہ بہاء الدین نقشبندیؒ ملتانی کے متوسلین اور ہمعصر تھے) کتاب کے لئے موضوع کے اعتبار سے کتنا مناسب ہے۔ سبحان اللہ!
آں جگر خستگان تیر فراق
یار! فارسی کا لفظ ہے۔ لغت میں اس کا معنی مددگار‘ دوست‘ محبت کرنے والا اور پیارا آیا ہے۔ ہمارے مشن کے مددگار‘ ہمارے دوستوں‘ ہماری محبتوں کے مرکز‘ ہمارے پیاروں کے برجستہ تذکروں سے قارئین کے لئے تسکین قلب اور مشن تحفظ ختم نبوت سے دلی لگاؤ کا خدا تعالیٰ کرے یہ کتاب باعث بن جائے۔ آمین!
فقیر راقم نے ہر دردمند بچے کی طرح اپنے والد مرحوم اور والدہ مرحومہ کی جدائی پر آنسو بہائے۔ لیکن ان آنسوؤں کو کبھی کاغذ پر جمع کرنے کی جرات نہیں کر پایا۔ حالانکہ سب سے زیادہ مجھ پر والدین کا حق تھا۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے۔ لیکن لولاک اور ہفت روزہ ختم نبوت یا اس کتاب کے قارئین سے میرا جماعتی تعلق ہے۔ والدین پر مضامین اپنی ذات کی اس میں ملاوٹ کا واہمہ مجھ پر سوار رہا۔ نہ لکھ پایا۔ حق تعالیٰ ان کی قبروں پر موسلا دھار بارش نازل فرمائیں اور مجھے معاف فرما دیں کہ میں احساس کمتری کا شکار رہا اور ان کے ذکر خیر پر کچھ نہ لکھا۔ حالانکہ اب بھی دل پسیج رہا ہے۔ چلو کچھ درد اگلے جہاں ساتھ لے جانے کے لئے سہی۔ بس اتنی بات بیان کرنے کی اجازت چاہتا ہوں کہ میرے والد مرحوم اور والدہ مرحومہ کا بہت ہی مبارک اور حسن خاتمہ ہوا۔ والد مرحوم نے باوضو اور درود شریف پڑھتے اور والدہ مرحومہ نے آب زمزم نوش کر کے کلمہ کا ورد کرتے ہوئے انتقال فرمایا۔ فالحمدلله!
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی حسن خاتمہ کی سعادت نصیب فرمائیں۔ آمین!
فقیر اللہ وسایا!
یکم محرم الحرام ١٤٢٧ھ
٣١ جنوری ٢٠٠٦ء
١....... مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ
وفات......٢١ اپریل ١٩٧١ء
مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ ٢١ اپریل ١٩٧١ء کو دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت تغلق روڈ ملتان میں انتقال فرما گئے ۔ اناللہ واناالیہ راجعون!
حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ ضلع جالندھر تحصیل نکودر کے گاؤں رائے پور ارائیاں میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم حضرت شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کے تلمیذ ارشد حضرت مولانا مفتی فقیر اللہ صاحبؒ سے حاصل کی۔ جالندھر میں حضرت مولانا خیر محمد جالندھریؒ کے ہاں آپ نے مزید تعلیم حاصل کی۔ دارالعلوم دیوبند میں دورہ حدیث شریف حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ سے آپ نے پڑھا۔ تکمیل کے بعد اپنے استاذ گرامی قدر حضرت مولانا خیر محمد جالندھریؒ کے ساتھ مدرسہ فیض محمدی جالندھر میں استاذ مقرر ہوئے۔ کئی سال تک تدریس کی۔ اس دوران میں آپ کی تقریروں کے چرچے ہونے لگے۔ مدرسہ فیض محمدی کے سالانہ جلسہ پر حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ حضرت مولانا حبیب الرحمان لدھیانویؒ اور دوسرے احرار رہنما تشریف لائے تو حضرت جالندھریؒ کو مجلس احرار اسلام میں کھینچ کر لے گئے۔
آپ نے محنت اور جذبہ دینی کے تحت مجلس احرار اسلام کے پلیٹ فارم سے انگریز کو دیس نکالا دینے کے لئے گرانقدر خدمات سرانجام دیں۔ قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ حضرت امیر شریعتؒ مولانا حبیب الرحمان لدھیانویؒ ماسٹر تاج الدینؒ شیخ حسام الدینؒ اور دیگر احرار رہنماؤں کی رفاقت نے آپ کی صلاحیتوں کو جلا بخشی۔ آپ آل انڈیا مجلس احرار اسلام کی مرکزی ورکنگ کمیٹی کے رکن منتخب ہوئے اور یوں مجلس احرار کے صف اول کے رہنماؤں میں آپ کا شمار ہونے لگا۔ مجلس احرار اسلام پنجاب کے آپ صدر منتخب ہوئے۔ قیام پاکستان سے قبل آپ نے ملتان کی مسجد سراجاں حسین آگاہی کی خطابت سنبھالی۔ یہاں مدرسہ محمدیہ قائم کیا۔ پاکستان بننے کے بعد مفتی فقیر اللہؒ اور حضرت مولانا خیر محمد جالندھریؒ کے خاندان کے پاکستان میں آپ میزبان قرار پائے۔ جامعہ خیر المدارس ملتان کا قیام آپ کی مخلصانہ محنت کا شاہد عدل ہے۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے سب سے پہلے جنرل سیکرٹری آپ منتخب ہوئے۔ جبکہ
صدر مرکز یہ حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ تھے۔ حضرت امیر شریعتؒ کی قیادت با سعادت میں حضرت جالندھریؒ اور حضرت ہزارویؒ نے تحریک ختم نبوت ١٩٥٣ء کی نیو اٹھائی۔ پوری دینی قیادت اور تمام مکاتب فکر کے زعماء کو گویا آگ پانی کو قادیانیت کے خلاف ایک سٹیج پر جمع کر دیا۔ تحریک ختم نبوت ١٩٥٣ء میں حکومتی ظلم کی بھٹی میں پسی ہوئی قوم کو قادیانیت کے مقابلہ میں دوبارہ سہارا دیکر کھڑا کرنا حضرت مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ اور حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ کا وہ کارنامہ ہے جس پر وہ امت کی طرف سے شکریہ کے مستحق ہیں۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کے تمام تر کام کو ایک منظم شکل میں پرونا حضرت جالندھریؒ کا سنہری کارنامہ ہے۔ حضرت تھانویؒ حضرت مولانا خیر محمد جالندھریؒ حضرت امیر شریعتؒ حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ حضرت مفتی فقیر اللہؒ کی صحبتوں نے آپ کی شخصیت کو تابدار موتی کی طرح نکھار دیا تھا۔ آپ کی بیعت قطب الارشاد شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ سے تھی۔ آپ نے حضرت ہالیجیؒ اور حضرت مولانا محمد عبداللہ بہلویؒ اور خانقاہ دین پور سے بھی اصلاحی تعلق رکھا۔ جمعیت علمائے اسلام کے قیام میں آپ کی مخلصانہ کوششوں کا بہت بڑا دخل ہے۔ جمعیت علمائے اسلام کا پہلا اجلاس جو مدرسہ قاسم العلوم ملتان میں ہوا۔ اس میں حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ نے اپنے صدارتی خطبہ میں حضرت جالندھریؒ کا نام لے کر فرمایا کہ میرے خیال میں صدر اجلاس حضرت جالندھریؒ کو ہونا چاہئے تھا۔ یہ مطبوعہ خطبہ آج بھی اکابر کا حضرت جالندھریؒ پر بھر پور اعتماد کا مظہر اتم ہے۔ حضرت جالندھریؒ حضرت مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ کے بعد مجلس تحفظ ختم نبوت کے سربراہ مقرر ہوئے۔ تب آپ کے عہد امارت میں مولانا لال حسین اخترؒ نے یورپ اور فجی آئی لینڈ میں جا کر ختم نبوت کی اذانیں دیں۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کو ملک گیر بلکہ عالمگیر بنانے میں حضرت جالندھریؒ کی قیادت با سعادت کا ہی نتیجہ ہے۔ کراچی سے کلکتہ اور ڈھاکہ سے فجی ولندن تک آپ کی مخلصانہ جدوجہد نے قادیانیت کے ارتدادی سیلاب کے سامنے ناقابل تسخیر بند باندھ دیا۔ آپ کی ذات گرامی میں قدرت نے وہ صلاحیتیں ودیعت فرمائی تھیں جن کے نکھرنے سے قادیانیت دم بخود ہو گئی۔ آپ کو دل کے عارضہ کی پہلی تکلیف سلانوالی کے جلسہ میں ہوئی۔ ملتان تشریف لائے۔ زیر علاج رہے اور ٢١ اپریل ١٩٧١ء کو خالق حقیقی سے جاملے۔ جامعہ خیر المدارس میں اپنے مربی حضرت مولانا خیر محمد جالندھریؒ کے پہلو میں استراحت فرما ہیں۔
(لولاک.........)
٢...... مناظر اسلام حضرت مولانا لال حسین اخترؒ
وفات....... ١٠ جون ١٩٧٤ء
مناظر اسلام حضرت مولانا لال حسین اخترؒ کا وطن مالوف دھرم کوٹ رندھاوا ضلع گوردا سپور تھا۔ کاکے زئی خاندان کے چشم و چراغ تھے۔ ابتدائی تعلیم ہری پور ہزارہ میں حاصل کی بعد میں اورینٹل کالج لاہور میں داخل ہو گئے۔ ان دنوں علماء کرام نے فتویٰ دیا کہ انگریز کی تعلیم گاہوں کا بائیکاٹ کیا جائے۔ چنانچہ آپ نے اورینٹل کالج کو خیر باد کہہ کر خلافت کمیٹی میں شمولیت اختیار کر لی۔ بٹالہ خلافت کمیٹی کے زیر اہتمام نو ماہ آپ نے گورداسپور کے ضلع میں تبلیغی دورے کئے۔ خلافت کمیٹی کے اغراض و مقاصد کی وضاحت کے لئے مولانا مظہر علی اظہرؒ کے ہمراہ دھواں دھار خطاب کئے۔ عوام جاگ اٹھے۔ انتظامیہ نے انتقام لینے کا پروگرام بنا کر تین تقریروں کو قابلِ اعتراض قرار دیا عدالت میں کیس چلا۔ سرسری طور پر سماعت ہوئی۔ ایک سال قید با مشقت کی سزا کا آرڈر ملا۔ گورداسپور جیل چلے گئے۔
حضرت مولانا جیل میں تھے کہ سوامی شردھانند اور آریہ سماج نے فتنہ و فساد کو ہوا دی ہندوستان کے مسلمانوں کو چیلنج دیتے اور مناظروں کے لئے للکارتے۔ حضرت مولانا نے فیصلہ کیا کہ رہائی کے بعد آریہ سماج اور دیگر دشمنانِ اسلام کے تعاقب کے لئے اپنے آپ کو وقف کر کے خدمتِ دین مبین کروں گا۔ آپ رہا ہوتے ہی ان کے خلاف صف آرا ہو گئے۔ ان دنوں مرزائی بھی اسلام کی نام نہاد نمائندگی کا علم بلند کئے ہوئے تھے۔
مرزائیوں نے حضرت مولانا کو جھانسہ دیا کہ اگر آپ آریہ سماج کی تردید کرنا چاہتے ہیں تو ہماری جماعت کا پلیٹ فارم حاضر ہے۔ آپ کو تربیت دیں گے۔ کتابیں مہیا کریں گے۔ مسلمان علماء نے خواہ مخواہ مرزا قادیانی کو بدنام کر رکھا ہے۔ وہ صرف خادمِ اسلام تھے۔ ان کی طرف دعویٰ نبوت منسوب کرنا بد دیانتی ہے۔ حضرت مولانا مرزائیت سے نابلد تھے۔ ان کے جھانسہ میں آ گئے لاہوری گروپ میں شمولیت کا اعلان کر دیا۔ شمولیت کے فوراً بعد آپ کو احمدیہ انجمن کے تبلیغی کالج لاہور میں داخل کرا دیا گیا۔ جہاں آپ نے سنسکرت سیکھی اور ویدوں کا مطالعہ
کیا۔ ایک کامیاب مبلغ کی حیثیت سے آپ نے آریہ سماج کا تعاقب کیا۔ مناظرے ہوئے۔ تقریریں ہوئیں۔ نتیجتاً آپ کو بہت جلد مرزائیوں میں بلند مقام حاصل ہوگیا۔ چنانچہ شعبہ تبلیغ ومناظرہ کے علاوہ اخبار پیغام صلح کا آپ کو ایڈیٹر مقرر کیا گیا۔ اسی طرح احمدیہ ایسوسی ایشن کے سیکرٹری بھی منتخب ہوئے۔ مسلسل آپ نے آٹھ سال مرزائیت میں گزارے۔ قدرت کے کچھ اور پروگرام ہوا کرتے ہیں۔ فرعون کے گھر موسیٰ کی پرورش جس کی واضح دلیل ہے۔ چنانچہ حضرت مولانا کو چند خواب آئے۔ جن میں مرزا غلام احمد قادیانی کو گھناؤنی شکل میں ظاہر کر کے جہنم میں دھکیلا جانا آپ کو دکھایا گیا۔ آپ نے ان خوابوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت کا نشان قرار دیا اور مسلسل چھ ماہ تک ایک دیانتدار محقق کی حیثیت سے مرزائیت کا لٹریچر پڑھا۔ دن رات ایک کر کے مطالعہ کرنے سے مرزائیت میں خوب درک حاصل ہو گیا۔
آپ جوں جوں مرزائیت کا مطالعہ کرتے گئے۔ توں توں مرزائیت کی حقیقت آپ پر واضح ہوتی چلی گئی۔ چنانچہ آپ نے یکم جنوری ١٩٣١ء کو انجمن احمدیہ کی ملازمت سے استعفیٰ دیدیا۔ جسے لاہوری جماعت نے ٣٠ جنوری ١٩٣١ء کو بادل نخواستہ قبول کر لیا۔ آپ نے جماعت سے ایک تحریر لی جس میں واضح طور پر اقرار تھا کہ حضرت مولانا لال حسین اختر کے ذمہ جماعت کا کوئی فنڈ نہیں ۔ اس تحریر کا فائدہ یہ ہوا کہ مرزائیت سے توبہ کے بعد آپ پر کوئی الزام نہ عائد کر سکے۔ حضرت مولانا نے ایک جلسہ عام میں اپنی توبہ کا اعلان کر کے دھجیاں بکھیر دیں۔ مسلمانوں میں خوشی کی ایک لہر دوڑ گئی۔ جبکہ مرزائیوں میں صف ماتم بچھ گئی۔ مسلمانوں نے آپ کو آنکھوں پر بٹھایا۔ ملک بھر میں آپ کی توبہ کو سراہا گیا۔ آپ نے مرزائیت کی تردید کے لئے ملک کے تبلیغی سفر کئے۔ ان دنوں مجلس احرار اسلام کا شعبہ تبلیغ مرزائیت کے خلاف صف آراء تھا۔ حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ نے حضرت مولانا لال حسین اختر کو اپنی جماعت میں شامل ہونے کی باضابطہ دعوت دی۔ جسے آپ نے قبول کر لیا اور اس وعدہ کو زندگی کی آخری ساعت تک نبھایا۔ مجلس احرار اسلام کا پلیٹ فارم اور حضرت مولانا لال حسین اختر کی مجاہدانہ تقاریر نے ملک بھر میں مرزائیت کے لئے مشکل پیدا کر دی۔
مرزائیوں نے مناظرے کا چیلنج دیا۔ آپ نے قبول کیا۔ مناظرے ہوئے۔ ہر جگہ مرزائی مناظرین کو جان چھڑانی مشکل ہو گئی۔ حضرت مولانا لال حسین اخترؒ کا تاریخی جملہ کہ مرزائی مناظرین کے لئے زہر کا پیالہ پی لینا آسان ہے مگر لال حسین اخترؒ کے سامنے مرزا غلام احمد قادیانی کو شریف انسان ثابت کرنا مشکل ہے چار دانگ عالم میں مشہور ہو گیا تھا۔ مرزائی مناظر مولانا لال حسین اخترؒ کا نام سنتے ہی مناظرے سے بھاگ جاتے۔ بالآخر تنگ آ کر مرتا کیا نہ کرتا پر عمل کر کے اخبار الفضل میں اعلان کر دیا گیا کہ: ”مولانا لال حسین اختر جہاں کہیں مناظر ہوں گے۔ ہم ان سے مناظرہ نہیں کریں گے۔“ مرزائیوں کی اس واضح شکست کے اعلان پر اخبار الفضل کا فائل گواہ ہے۔ والفضل ما شہدت بہ الاعداء!
تقسیم کے بعد: ملک تقسیم ہوا تو حضرت مولانا لال حسین اخترؒ ضلع سرگودھا کے قصبہ مڈھ رانجھا میں منتقل ہو گئے۔ آٹا پیسنے کی چکی لگالی۔ تبلیغی کام سرد پڑ گیا۔ حضرت امیر شریعتؒ نے حالات سازگار ہوتے ہی حضرت مولانا کو بلایا۔ حضرت شاہ جیؒ کے حکم پر حضرت مولانا نے سب کچھ فروخت کر دیا اور پھر نئے ولولے سے کام شروع کر دیا۔ ١٩٥٣ء کی تحریک چلی۔ حضرت مولانا لال حسین اخترؒ نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ہراول دستہ کے طور پر کام کیا۔
حضرت امیر شریعتؒ نے مجلس تحفظ ختم نبوت کی بنیاد رکھی۔ حضرت شاہ جیؒ امیر مرکزیہ منتخب ہوئے۔ حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ ناظم اعلیٰ اور حضرت مولانا لال حسین اخترؒ صدر المبلغین مقرر کئے گئے۔
حضرت مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ کی وفات کے بعد حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ صدر اور حضرت مولانا لال حسین اخترؒ مجلس کے جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے۔ اس دوران انگلستان کا کامیاب دورہ کیا۔ بیرونی دنیا میں کام ہوا۔ اللہ رب العزت نے بڑی کامیابی عنایت فرمائی۔ مرزائیت کی قلعی کھل گئی۔ ان دنوں قادیانی گرو مرزا ناصر احمد انگلستان کے دورے پر گئے۔ حضرت مولانا لال حسین اخترؒ نے موقعہ سے فائدہ اٹھایا۔ مناظرہ کا چیلنج دیا۔ مرزا ناصر احمد دورہ نا
مکمل چھوڑ کر واپس آگئے۔ حضرت مولانا کا چیلنج قبول کرنے کی ہمت نہ ہوئی۔ حضرت مولانا نے فجی آئی لینڈ، سعودی عرب، ایران اور عراق کا بھی تبلیغی دورہ کیا۔ انگلستان میں مجلس تحفظ نبوت کا دفتر خریدا۔ اسی طرح فجی آئی لینڈ میں جماعت کا قائم کردہ مدرسہ تعلیم القرآن کام کر رہا ہے۔ حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ کی وفات کے بعد حضرت مولانا لال حسین اخترؒ جماعت کے امیر منتخب ہوئے۔ چنیوٹ میں مجلس تحفظ ختم نبوت کی آل پاکستان ختم نبوت کانفرنس تھی۔ شیخ الاسلام حضرت مولانا محمد یوسف بنوریؒ مہمان خصوصی کے استقبال کے لئے سٹیج سے اترے۔ سڑک پر اندھیرا تھا۔ گرے سخت چوٹ لگی۔
یہ ٢٧ دسمبر ١٩٧٢ء کا واقعہ ہے چنیوٹ سول ہسپتال میں داخل کرایا گیا۔ پھر میو ہسپتال جنرل ہسپتال لاہور رہے۔ ایک دن بیماری کی حالت میں حضرت مولانا محمد شریف جالندھریؒ نے حوالہ پوچھا۔ فی الفور آپ نے کتاب صفحہ، سطر، عبارت تک سنا دی۔ حضرت مولانا محمد شریفؒ نے کہا کہ حضرت مولانا! اگر مرزائیوں سے مناظرہ کرنا پڑے تو آپ اسی حالت میں کر سکیں گے؟۔ آپ نے فرمایا کہ میری چارپائی لے جا کر مناظرہ گاہ میں رکھ دی جائے۔ پہلے تو میرا نام سن کر مرزائی مقابلہ میں نہیں آئیں گے۔ اگر جرأت کی تو منہ کی کھائیں گے۔
ایک دن حضرت مولانا محمد شریف جالندھریؒ پشاور کے دورہ سے واپس آئے۔ ہائی کورٹ پشاور کے کیس کی تفصیلات بتائیں کہ عنقریب اس کی تاریخ نکلنے والی ہے۔ حضرت مولانا پر یہ سنتے ہی گریہ طاری ہو گیا۔ انہیں صدمہ تھا کہ میں نے بہاولپور، راولپنڈی اور کیمل پور کی عدالتوں میں مرزائیوں کا کفر ثابت کیا۔ مگر آج بیماری کے ہاتھوں مجبور ہوں۔ پشاور نہیں جا سکتا۔ ورنہ وہاں بھی جا کر ہائی کورٹ میں حضور سرور کائنات ﷺ کی ختم نبوت کی نمائندگی کرتا اور مرزائیوں کے کفر کو ہائی کورٹ میں ثابت کر کے ہائی کورٹ سے ان کے کفر کا فیصلہ صادر کراتا۔
انہی دنوں کشمیر اسمبلی میں مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا۔ حضرت مولانا لال حسین اخترؒ کو خبر ہوئی تو اتنے خوش ہوئے جس کا بیان کرنا زبان قلم کے لئے ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔ بار بار فرماتے فزت و رب الکعبة! رب کعبہ کی قسم! میں کامیاب ہوں۔ اپنی
زندگی مرزائیوں کی اقلیت کا فیصلہ سن کر جا رہا ہوں۔ جس کے لئے میرے اکابر نے اپنی زندگیاں خرچ کر دی تھیں۔ مگر وہ حضرات یہ حسرت اپنے سینوں میں لے کر اس دنیا سے روانہ ہو گئے۔ حضرت مولانا لال حسین اختر ٦ ماہ تک زیر علاج رہے۔ چنانچہ ١٠ جون ١٩٧٤ء کو لاہور مجلس تحفظ ختم نبوت کے دفتر میں انتقال فرما گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون!
حضرت مولانا لال حسین اخترؒ کی یہ آخری خواہش بھی پوری ہوگئی کہ اللہ تعالیٰ میرا انتقال مجلس کے دفتر میں کریں۔ لاہور میں آپ کے دو جنازے ہوئے جو حضرت مولانا مفتی زین العابدینؒ اور حضرت مولانا عبیداللہ انورؒ نے پڑھائے۔ خیبر میل کے ذریعے آپ کے جنازہ کو دین پور شریف لایا گیا۔ لاہور سے مجلس کے علماء اور حضرت مولانا کے عقیدت مند ہزاروں ساتھیوں نے اشکبار آنکھوں سے آپ کو الوداع کیا۔ خانپور میں حضرت مولانا محمد عبداللہ درخواستیؒ نے استقبال کیا۔ دین پور شریف میں حضرت درخواستیؒ نے نماز جنازہ پڑھائی۔ حضرت قطب العالم مولانا عبدالہادی دین پوریؒ کے علاوہ سینکڑوں علماء اور ہزاروں عقیدت مند شریک ہوئے۔ حضرت درخواستیؒ حضرت مولانا محمد شریف جالندھریؒ حضرت مولانا غلام محمدؒ حاجی منظور الحق لائل پوری نے ہزاروں پرنم آنکھوں کی موجودگی میں آپ کو لحد میں اتارا۔ حضرت مولانا غلام محمد دین پوریؒ کے قدموں اور حضرت مولانا عبیداللہ سندھیؒ کے پہلو میں دفن ہوئے۔
حضرت مولانا مرحوم کو اللہ تعالیٰ نے بلا کا حافظہ دیا تھا۔ مرزائیت کا لٹریچر ازبر تھا۔ سنسکرت، اردو، ہندی، پنجابی، عربی، انگلش اور فارسی کئی زبانوں پر عبور حاصل تھا۔ اللہ رب العزت نے بے پناہ خوبیوں اور صلاحیتوں سے نوازا تھا۔ طبیعت ملنسار تھی۔ بہترین مبلغ، کامیاب مناظر اور نامور عالم دین کی حیثیت سے دین کی خدمت کرتے رہے۔ کئی کتابیں لکھیں۔ مسیح علیہ السلام مرزا قادیانی کی نظر میں، حضرت خواجہ غلام فریدؒ ختم نبوت اور بزرگان امت، ترک مرزائیت۔ ان کے علاوہ کئی مضامین، مقالے لکھے۔ ترک مرزائیت کے کئی ایڈیشن چھپ چکے ہیں۔ یہ کتاب خوب مقبول ہوئی۔ حضرت شیخ الاسلام مولانا سید انور شاہ کشمیریؒ نے اپنی کتاب ختم نبوت میں اس کے حوالہ جات نقل کئے ہیں۔ حضرت مولانا مرحوم کی تمام کتب ورسائل مجموعہ احتساب قادیانیت جلد اول میں آگئے ہیں۔
(لولاک ١٨ جون ١٩٧٥ء)
٣....... پیر جی عبداللطیف صاحبؒ
وفات.......٣ جولائی ١٩٧٧ء
شیخ الطریقت پیر جی عبداللطیف صاحبؒ ١٣٢٨ھ رائے پور گجراں بھارت میں حضرت مولانا حافظ صالح محمد صاحبؒ کے گھر پیدا ہوئے۔ حافظ مولانا صالح محمد صاحبؒ گجر برادری سے تعلق رکھتے تھے اور اپنے علاقے میں دینی و دنیاوی ہر قسم کی شہرت کے حامل تھے۔ موصوف امام الفقہ حضرت اقدس مولانا رشید احمد گنگوہیؒ کے خلیفہ مجاز تھے۔ قسام ازلی نے حضرت پیر جیؒ کے لئے عظیم دینی ماحول کا ابتداء ہی سے انتظام فرمادیا تھا۔ والد گرامی حضرت حافظ صالح محمدؒ نے آپ کی تربیت کی۔ بچپن میں آپ کو جامعہ رشیدیہ رائے پور گجراں میں داخل کرادیا گیا۔ جامعہ رشیدیہ کے بانی حضرت مفتی فقیر اللہؒ اور مولانا فضل محمد صاحبؒ سے آپ نے قرآن مجید فارسی عربی صرف ونحو فقہ کی تعلیم حاصل کی۔
باطنی تربیت کے لئے آپ کو قطب الارشاد حضرت شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ سے بیعت کرادیا گیا۔ حضرت رائے پوریؒ مولانا حافظ صالح محمدؒ کا بے پناہ دلی احترام کرتے تھے۔ اس تعلق خاص کی وجہ سے حضرت اقدسؒ نے پیر جی عبداللطیفؒ کی تربیت پر خصوصی توجہ دی اور آپ کو پیر جی کا خطاب دیا۔ حضرت شیخ صاحبؒ کا دیا ہوا یہ خطاب بعد میں آپ کا جزو نام بن گیا۔ پورے ملک میں آپ کو پیر جی کے نام سے موسوم کیا جاتا تھا۔ بیعت کے کچھ عرصہ بعد حضرت رائے پوریؒ نے پیر جی کو خرقہ خلافت سے سرفراز فرمایا۔
تقسیم کے وقت آپ چیچہ وطنی ضلع ساہیوال میں تشریف لائے۔ ایک جوہڑ نما کھڈہ کے کنارہ پر مدرسہ تجوید القرآن کی بنیاد رکھی۔ پہلے یہاں ایک برگد کا درخت تھا۔ جس کے نیچے بھنگی چرسی اور ملنگوں کا ڈیرہ تھا۔ ان لوگوں نے پیر جیؒ کی مخالفت میں طومار باندھے۔ مگر آپ یمین و یسار کی پرواہ کئے بغیر اپنی منزل کی طرف رواں دواں رہے۔ بالآخر ایک ایک کرکے وہ لوگ چلے گئے اور آپ کو دین کی خدمت کرنے کے لئے اچھا خاصا صالح ماحول میسر آ گیا۔ آپ نے ایک مسجد کی بنیاد رکھی۔ آپ کی درویشی امانت و دیانت پر لوگوں کو بھر پور اعتماد تھا۔ بغیر اپیل چندہ کے وہ مسجد مکمل ہوگئی مدرسہ کی طرف توجہ دی تو دیکھتے ہی دیکھتے یکے بعد دیگرے کمرے تعمیر ہوتے
چلے گئے۔ آپ کے صاحبزادہ مولانا عبد العلیمؒ کی روایت کے مطابق ایک ایسا وقت آیا کہ آپ کے پاس مدرسہ کے اخراجات کے لئے ایک پائی تک نہ تھی۔ شدید ضرورت اور رقم کے فقدان کے باوجود آپ پریشان ہونے کی بجائے۔ برگد کے درخت کے نیچے مصلے ڈال کر دو رکعت نماز نفل پڑھی۔ دعا سے فارغ ہوئے ہی تھے کہ خدا تعالیٰ نے غیب سے ایسا انتظام کر دیا کہ آپ کے پاس اتنے پیسے جمع ہونے شروع ہو گئے کہ تمام اخراجات پورے کرنے کے بعد بھی بچ گئے۔
اس واقعہ کے بعد آخری دم تک آپ کو خداوند کریم نے مدرسہ کے مالی سلسلہ میں پریشان نہیں ہونے دیا۔ مدرسہ کے یوم تاسیس سے لے کر آج تک کوئی اپیل نہیں کی گئی۔ کوئی سفیر نہیں رکھا گیا۔ توکل علی اللہ سارے اخراجات پورے ہورہے ہیں۔ یہی مدرسہ تجوید القرآن جو ایک جوہڑ نما کھڈہ کے کنارے قائم کیا گیا تھا۔ آج عظیم جامع مسجد مدرسہ کی عظیم عمارت اصلها ثابت و فرعها فى السما ! کی عملی تفسیر پیش کر رہی ہے۔ اس وقت مدرسہ میں سینکڑوں مسافر و مقامی طالب علم ہیں جو کتب حفظ و ناظرہ اور تجوید پڑھ رہے ہیں۔ ان کی تعلیم و تربیت کے لئے سات قابل اساتذہ مقرر ہیں۔ جو پیر جی مرحوم کی وفات کے بعد آپ کے لئے صدقہ جاریہ ہیں۔
اسی طرح جامع مسجد میں آپ کے صاحبزادے عبد الحفیظ خطبہ اور درس قرآن دیتے ہیں جس سے اہل علاقہ کے ہزاروں مسلمان فیض یاب ہوتے ہیں۔ جب پیر جیؒ یہاں تشریف لائے تھے تو ماحول اچھا نہیں تھا۔ آپ کے خلوص، محبت اور دلجوئی کی وجہ سے لوگ پروانہ وار جمع ہونا شروع ہو گئے۔ اس وقت آپ کے مرید عقیدت اور ارادت مندوں کی تعداد ہزاروں سے متجاوز ہے۔ جن کو آپ نے قرآن و سنت کی تعلیم دی۔ تعلق کے اسرار سے واقف کیا۔ مگر آپ کے کمال احتیاط اور کمال کسر نفسی کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ آپ نے کسی کو خلافت نہیں دی تھی۔
تحریک ختم نبوت ١٩٥٣ء ١٩٧٤ء میں آپ نے بھر پور حصہ لیا۔ اکابرین علماء سے آپ کا خصوصی لگاؤ تھا۔ حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ خطیب پاکستان حضرت مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ مناظر اسلام حضرت مولانا لال حسین اخترؒ اور دیگر حضرات آپ کے مدرسہ کے سالانہ جلسہ پر تشریف لایا کرتے تھے۔ طبعاً ملک کی مروجہ جھوٹ و نفاق کی سیاست سے آپ کو نفرت تھی۔ تاہم ملک میں اسلامی نظام کے لئے مخلصانہ مساعی میں آپ پیش پیش تھے۔ جمعیت علمائے اسلام سے آپ کا گہرا ربط تھا۔ حضرت
مولانا محمد عبداللہ درخواستیؒ حضرت مولانا مفتی محمودؒ کا آپ دل سے احترام کرتے تھے۔ موجودہ تحریک ختم نبوت میں آپ نے دیوانہ وار محنت کی ہر جلسے جلوس میں بڑھاپے اور کمزوری کے باوجود شرکت فرماتے رہے۔ وفات سے کچھ قبل راولپنڈی میں حضرت مفتی صاحبؒ سے دو دفعہ ملاقات کے لئے تشریف لے گئے۔ آپ کی مخلصانہ کوشش اور دلی خواہش تھی کہ اللہ تعالیٰ ان حضرات کو سرخرو فرمائے جو اسلامی نظام کے لئے کوشاں ہیں۔ جمعیت علمائے اسلام سے تعلق کے باوجود ملک کی تمام دینی جماعتوں کے سربراہ آپ کا بے پناہ احترام کیا کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کے زمانہ میں آپ کے مدرسہ کے سالانہ اجلاس میں تمام حضرات شریک ہوتے تھے۔ ١٣٢٨ھ سے لے کر ١٣٩٧ھ تک ٦٩ سال کی عظیم جدوجہد کے بعد یہ عظیم درویش منش، فرشتہ سیرت انسان حضرت پیر جی عبداللطیفؒ ٤ جولائی ١٩٧٧ء کی رات ساڑھے بارہ بجے اللہ کو پیارے ہو گئے۔ انا لله وانا اليه راجعون!
وفات کا واقعہ بھی ایمان پرور ہے۔ ساڑھے دس بجے رات دل کی تکلیف ہوئی۔ فوراً وضو کیا گھر تشریف لے گئے سب سے چھوٹی بچی کے سر پر شفقت بھرا ہاتھ پھیرا۔ گھر والوں کو نصیحت و وصیت فرمائی۔ مگر کسی کو محسوس نہ ہونے دیا کہ آپ کا آخری وقت ہے اور جدائی کی گھڑی سر پر کھڑی ہے۔ اس کے بعد اپنے صاحبزادے مولانا عبدالحفیظ اور مدرسہ کے مدرس مولانا حافظ غلام یاسین کو بلا کر سورۃ یٰسین پڑھنی شروع کی۔ جب انہوں نے باری باری تلاوت مکمل کی تو آپ نے ذکر شروع کر دیا ساڑھے بارہ بجے رات جس ذات گرامی کا ذکر کر رہے تھے۔ ان کی طرف سے بلاوا آ گیا۔ آپ کے جنازہ کی خصوصیت یہ تھی کہ اس میں اکثریت علماء و مشائخ کی تھی۔ جنازہ میں شریک لوگوں کا کہنا ہے کہ چیچہ وطنی کی تاریخ میں اتنا عظیم جنازہ کبھی نہیں ہوا۔ کلمہ شہادت، ذکر، سسکیوں اور آہوں کی فضاء میں آپ کو رحمت خداوندی کے سپرد کیا گیا۔ تدفین کے بعد حضرت پیر جی مولانا عبدالعزیز صاحب رائے پوریؒ نے دعا کرائی۔ رات کو تعزیتی جلسہ ہوا۔ بارہ مقررین نے تقریریں کیں۔ مگر جلسہ کی کارروائی دو گھنٹہ میں ختم ہو گئی۔ اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ جو شخص تقریر کے لئے اٹھتا چند منٹ کے بعد اس پر رقت طاری ہو جاتی۔ اور وہ معذرت کر کے بیٹھ جاتا۔ آپ کے صاحبزادہ پر تو کھڑے ہوتے ہی رقت طاری ہو گئی اور کچھ کہے بغیر معذرت کر کے بیٹھ گئے۔
(لولاک ٢١ جولائی ١٩٧٧ء)
٤....... جناب بلال زبیریؒ
وفات....... ٢٨ ستمبر ١٩٧٧ء
٢٨ ستمبر ١٩٧٧ء کو رات کے گیارہ بجے تحریک آزادی کے سرگرم اور مجاہد کارکن حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے جانثار ساتھی جناب بلال زبیریؒ آف جھنگ کچھ عرصہ بیمار رہنے کے بعد انتقال کر گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون!
مرحوم نے نوعمری سے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز مجلس احرار اسلام ہند کے پلیٹ فارم سے کیا۔ درمیانہ قد گٹھا ہوا جسم سرخ کشمیری چہرہ لال احراری وردی میں ملبوس یہ نوعمر مجاہد جب سٹیج پر انقلابی نظمیں پڑھتے تو اجتماع پر جادو کر دیتے۔ حضرت امیر شریعتؒ، مفتی کفایت اللہؒ، مولانا ابو الکلام آزادؒ، حضرت مدنیؒ، حضرت لاہوریؒ، حضرت جالندھریؒ، حضرت قاضی صاحبؒ، مولانا مظہر علی اظہرؒ، ماسٹر تاج الدینؒ، چوہدری افضل حقؒ، سر فضل حسینؒ اور دوسرے رہنماؤں کو دیکھنے اور ان سے تربیت حاصل کرنے کا خوب موقعہ ملا۔ ان حضرات کی ایمان پرور مجاہدانہ زندگی سے جناب بلال زبیریؒ کے ذہن کو جلا ملی۔ تقسیم کے بعد کی تمام دینی تحریکوں میں ضلع جھنگ کی نمائندگی کرتے۔ مجلس احرار کے حلقوں میں جھنگ کا دوسرا نام بلال زبیریؒ تھا۔
تحریک ختم نبوت ١٩٥٣ء میں پیش پیش رہے۔ جب حضرت امیر شریعت نے سیاست سے الگ تھلگ ہو کر مذہبی تنظیم مجلس تحفظ ختم نبوت کی بنیاد رکھی تو بلال زبیریؒ اس میں شامل ہو گئے۔ آخری وقت میں مجلس تحفظ ختم نبوت جھنگ کے سیکرٹری تھے۔ جھنگ کے ضلع میں چناب نگر (ربوہ) واقع ہے۔ اسی زمانہ میں مرزا ناصر اور بلال زبیریؒ اکٹھے رہے تھے۔ مرزا ناصر کی عادات و روایات سے زبیری صاحبؒ بخوبی آگاہ تھے۔ ویسے بھی زبیری صاحبؒ ربوہ میں ہونے والی ہر قسم کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھتے تھے۔ جب کبھی ربوہ میں کوئی غیر معمولی واقعہ رونما ہوتا۔ سب سے پہلے زبیری صاحبؒ کو اس کا علم ہوتا اور وہ آغا شورش کاشمیریؒ اور مولانا تاج محمودؒ کو فون پر باخبر کر دیتے اور پھر یہ حضرات ملک بھر کے مسلمانوں کو باخبر کر کے مرزائیوں کے اس واقعہ کا نوٹس لیتے۔
جھنگ میں شیعہ سنی فضا ابتداء سے قائم ہے۔ مرحوم نے شیعہ سنی اتحاد کے لئے جو کارہائے نمایاں انجام دیئے وہ آپ ہی کا حصہ ہیں۔ افسوس کہ آپ کی وفات کے بعد اس عنوان
سے ضلع جھنگ میں ملک وملت کی خدمت کرنے والا کوئی نظر نہیں آتا۔ مرحوم ربوہ کے مقابلہ میں منعقد ہونے والی سالانہ آل پاکستان چنیوٹ ختم نبوت کانفرنس میں شریک ہوتے۔ نہایت ہی خاموشی سے بغیر کسی نمائش کے کانفرنس کی کارروائی قلم بند کرکے اخبارات کو بھیج دیتے۔ لکھنے کا اللہ رب العزت نے آپ کو شروع سے ذوق دیا تھا۔ کم وبیش درجن بھر ضخیم کتابیں تصنیف کی ہیں۔ مذہب، سیاست، تاریخ اور علاقائی طرز تمدن پر آپ کی گراں قدر خدمات ہیں۔ ان کی تصانیف سے انشاء اللہ رہتی دنیا تک ان کا نام زندہ و تابندہ رہے گا۔ عرصہ سے آپ روزنامہ غریب لائل پور (فیصل آباد) کے نمائندہ تھے۔ مولانا محمد علی جالندھریؒ مولانا لال حسین اخترؒ مولانا قاضی احسان احمدؒ پر جان دیتے تھے۔ مولانا محمد شریف جالندھریؒ اور مولانا تاج محمودؒ کا دل کی گہرائیوں سے احترام کرتے تھے۔ جبکہ یہ حضرات بھی زبیریؒ کی عظیم مخلصانہ خدمات کے معترف تھے۔ ربوہ کی زیرتعمیر نو آباد مسلم کالونی میں مجلس تحفظ ختم نبوت کو ٩ کنال اراضی برائے جامع مسجد و مدرسہ کی الاٹمنٹ کے سلسلہ میں آپ نے بڑی کوشش کی۔ پچھلے سال دسمبر کی سالانہ ختم نبوت کانفرنس چنیوٹ کے موقعہ پر تقریر کرنے کے سلسلہ میں مولانا محمد شریف جالندھریؒ گرفتار ہوگئے۔ ان کی ضمانت کے لئے مولانا تاج محمودؒ اور راقم جھنگ گئے۔ جھنگ سے چنیوٹ جانا پڑا۔ جناب بلال زبیریؒ یہاں سے ہمارے ساتھ ہوگئے۔ مولانا تاج محمودؒ اور زبیری صاحبؒ نے اپنے اکابر کے حالات و واقعات سنانا شروع کئے۔ زبیری صاحبؒ نے اپنی زندگی کے اہم واقعات، مختلف تحریکوں کے پس منظر، اکابر کی زندگی کے انمول مجاہدانہ کارناموں روشنی ڈالی تو اس طرح معلوم ہوتا تھا کہ وہ تاریخ ہند کے صفحات پلٹتے جارہے ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بلا کا ذہن دیا تھا۔ معاملہ فہمی میں اپنی مثال آپ تھے۔ بذلہ سنج، خوش خلقی، باغ و بہار، پر رونق، شادمان طبیعت کے مالک تھے۔ ان کی وفات حسرت آیات سے جو خلاء پیدا ہوا ہے اس کا پُر ہونا مشکل ہے۔
اپنی زندگی میں مرحوم جلسے جلوسوں کے روح رواں ہوتے تھے۔ جھنگ کے اجتماعات کا مرکزی نقطہ ہوتے تھے۔ جھنگ کی تاریخ میں آپ کا جنازہ عظیم جنازہ تھا۔ ہزاروں مذہبی سیاسی کارکن علماء وکلاء سرکاری حکام اور صحافی شریک تھے۔ نماز جنازہ کاروان بخاری کے جرنیل مولانا تاج محمودؒ نے پڑھائی۔ قبرستان میں ہزاروں افراد نے آپ کو رحمت خداوندی کے سپرد کیا۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کریں۔
(لولاک ١٦ اکتوبر ١٩٧٧ء)
٥......حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ
وفات......١٧ اکتوبر ١٩٧٧ء
عالم اسلام کے نامور عالم دین‘ دنیائے زہد وتقویٰ کے شہنشاہ‘ فقر و استغناء کے تاجدار‘ عصر حاضر کے عظیم رہنما‘ ہفت اقلیم علم وعمل کے نامور سپوت‘ آقائے نامدار ﷺ کی عزت و ناموس کے پاسبان‘ محدث عصر‘ محافظ ختم نبوت‘ مجاہد اسلام‘ غزالیِ زماں‘ رازیِ دوراں‘ یادگارِ انور شاہ کشمیریؒ‘ دنیائے اسلام کے ممتاز عالم دین‘ سربراہ مدرسہ عربیہ اسلامیہ نیو ٹاؤن کراچی‘ امیر مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان‘ صدر مجلس عمل اور اسلامی مشاورتی کونسل کے رکن رکین‘ شیخ الاسلام والمسلمین حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ ١٧ اکتوبر ١٩٧٧ء بروز پیر صبح نو بجے دل کا دورہ پڑنے سے ملٹری کمبائنڈ ہسپتال راولپنڈی میں انتقال فرما گئے ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون !
سیدنا فاروق اعظمؓ کی وفات پر کہا گیا تھا کہ مرنے والے پر اس کے بچے یتیم ہوتے ہیں ۔ مگر حضرت عمرؓ کی وفات سے محمد عربی ﷺ کا دین یتیم ہو گیا ہے ۔ بجا طور پر آج حضرت بنوریؒ کی وفات پر کہا جا سکتا ہے کہ آپ کی وفات سے دنیائے علم وعمل یتیم ہو گئی ہے ۔
حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ ٦ ربیع الثانی ١٣٢٦ھ مطابق ١٩٠٦ء پشاور میں پیدا ہوئے ۔ آپ سید آدم بنوریؒ کے خاندان سے تعلق رکھتے تھے ۔ والد گرامی مولانا محمد زکریا بنوریؒ اپنے وقت کے جید عالم تھے ۔ ابتدائی تعلیم اپنے والد سے حاصل کی ۔ تکمیل علوم کے لئے برصغیر کی عظیم دینی درس گاہ دارالعلوم دیوبند میں چلے گئے ۔ جہاں آپ نے برصغیر کے نامور عالم دین محدث عصر مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ سے اکتساب فیض کیا ۔ بعدہ جامعہ اسلامیہ ڈابھیل ضلع سورت میں استاذ الحدیث مقرر ہوئے ۔ ١٩٣٠ء میں پنجاب یونیورسٹی سے مولوی فاضل کا امتحان اعزاز سے پاس کیا ۔ پھر پشاور آ گئے ۔ ١٩٣٥ء میں ڈابھیل کے علماء کی طرف سے علمی ودینی خدمات کے لئے ڈھاکہ گئے ۔ ١٩٣٧ء میں مصر تشریف لے گئے ۔
حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ وہ مرد مجاہد تھے جنہوں نے سب سے پہلے دارالعلوم دیوبند کے علماء کا مصر میں تعارف کرایا ۔ مصر میں آپ کے علم کا سکہ مانا جاتا تھا ۔ مصر کے
مشہور عالم دین علامہ طنطاویؒ نے تفسیر طنطاوی لکھی۔ آپ نے اس کی بعض جزئیات پر تعمیری علمی تنقید کی۔ علامہ طنطاویؒ نے ان تنقیدیات و تنقیحات کا جائزہ لیا۔ اس کے بعد حضرت بنوریؒ کو ہمیشہ استاذی المکرم فضیلۃ الشیخ بحر العلوم والفیوض سے یاد کیا کرتا تھا۔ آپ نے قیام مصر کے دوران حنفیت کی عظیم خدمت کی۔ مصر کے علماء آپ کو وکیل حنفیت کے نام سے یاد کیا کرتے تھے۔ آپ کے علم و فضل کا مصر میں ایسا چرچا ہوا کہ بعد میں شاید ہی مصر کے علماء کی سرکاری‘ غیر سرکاری کانفرنس ہو جس میں آپ کو دعوت نہ دی گئی ہو۔ آپ جامعہ ازہر مصر کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لئے ہر سال تشریف لے جاتے۔ اجلاس میں پرمغز ایمان پرور جہاد آفرین حقائق افروز مقالہ پڑھتے۔ جسے وہاں کی حکومت بڑے اعزاز واکرام کے ساتھ شائع کرتی۔ آپ نے ترمذی شریف کی عربی مبسوط شرح معارف السنن چھ جلدوں میں کتاب الحج تک لکھی۔ جسے مصر میں خوبصورت گلیز پیپر پر شائع کیا گیا۔ قیام مصر کے دوران ہی آپ نے فیض الباری نصب الرایہ سمت قبلہ اور دوسری عربی گراں قدر تصانیف اپنی نگرانی میں شائع کرائیں۔ ١٩٥١ء میں ٹنڈو الہ یار خاں کے مدرسہ میں آپ تشریف لائے۔ کچھ عرصہ بعد کراچی نیوٹاؤن میں مدرسہ اسلامیہ کی بنیاد رکھی۔ جب آپ نے بنیاد رکھی تو یہ جگہ جوہڑ نما کھڈہ تھا۔ لیکن آج اصلہا ثابت وفرعہا فی السماء! کا مصداق ہے۔ برصغیر کے عظیم دینی اداروں میں یہ مدرسہ شمار ہوتا ہے۔ اس وقت تک ہزاروں علماء اس مدرسہ سے فارغ ہو چکے ہیں۔ جس میں سینکڑوں حضرات ہوں گے۔ جن کا تعلق برما‘ انڈیا‘ انڈونیشیا‘ افریقہ‘ نائیجیریا‘ ایران‘ کینیا‘ سینی گال‘ افغانستان‘ مصر‘ تھائی لینڈ‘ سنگاپور‘ ملائشیاء اور دوسرے ممالک سے ہے۔
اس وقت آپ کے مدرسہ میں ٢٥ ممالک کے طلباء تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ پچھلے ہفتہ فجی آئی لینڈ کے دس طلباء کرام فجی سے آئے ہیں۔ مارچ ١٩٧٤ء میں مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے امیر منتخب ہوئے۔ مجلس کی جنرل کونسل کا ملتان میں اجلاس تھا۔ حضرت مولانا نے امیر بننے سے معذوری ظاہر کی کہ اپنی مصروفیت اور کمزوری کا عذر کیا۔ حضرت مولانا محمد شریف بہاول پوریؒ دست بستہ کھڑے ہو گئے۔ آبدیدہ اور گلو گیر لہجے میں عرض کی۔ حضرت! یہ ختم نبوت کا مقدس مشن اور فریضہ حضرت مولانا سید انور شاہ کشمیریؒ نے حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے سپرد کیا تھا۔ حضرت شاہ جیؒ نے حضرت مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ حضرت
مولانا محمد علی جالندھریؒ حضرت مولانا لال حسین اخترؒ کو سونپا تھا۔ وہ ایک ایک کر کے ہم سے جدا ہو گئے ہیں۔ ان کا سایہ ہمارے سروں پر نہیں رہا۔ ہم یتیم ہو گئے۔ آپ ہماری سر پرستی فرمائیں۔ آپ حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ کے علوم کے وارث ہیں تو ان کی یہ امانت بھی آپ قبول فرمائیں۔ اگر آپ مجلس کی امارت قبول نہیں فرماتے تو یہ دفتر کی چابیاں ہیں۔ دفتر کو اپنے ہاتھ سے بند کر دیں۔ ہم تمام مبلغین گھروں کو واپس جاتے ہیں۔ کام کے بند ہو جانے کے بعد کل قیامت کے دن آپ ذمہ دار ہوں گے۔
حضرت مولانا بہاول پوریؒ نے جب حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ کا نام لیا تو حضرت بنوریؒ پر گریہ طاری ہو گیا۔ زارو قطار رونے لگے۔ آپ نے کمزوری بڑھاپے اور مصروفیات کے باوجود مجلس کی امارت قبول فرمائی۔ حسن اتفاق کہیے یا خدا کی دین کہ آپ کے امیر منتخب ہونے کے دو ماہ بعد ٢٩مئی ١٩٧٤ء کو سانحہ ربوہ پیش آیا۔ پورے ملک میں تحریک چلی۔ آپ نے امیر کی حیثیت سے دیوبندی بریلوی شیعہ اور اہل حدیث تمام مکاتب فکر کے جید علماء کرام اور تمام سیاسی پارٹیوں کے رہنماؤں کا مشترکہ اجلاس ٦ جون ١٩٧٤ء کو لاہور خدام الدین شیرانوالہ میں طلب کیا۔ نوابزادہ نصراللہ خانؒ کی تجویز پر آپ مجلس عمل کے کنویز مقرر ہوئے۔ مجلس عمل کے با ضابطہ انتخاب کے لئے فیصل آباد میں ١٤ جون ١٩٧٤ء کو اجلاس طلب کیا گیا۔ اجلاس میں تمام رہنمایان ملک وملت جمع تھے۔ اجلاس کے شروع ہونے سے قبل آپ کمرہ میں تشریف لے گئے۔ تھوڑی دیر بعد واپس تشریف لائے۔ کسی ساتھی کو کمرہ میں جانے کی وجہ کا علم نہ ہوا۔ آپ کی صدارت میں اجلاس شروع ہوا۔ جناب آغا شورش کاشمیریؒ کی تجویز پر آپ مجلس عمل کے سربراہ منتخب ہوئے۔ تحریک کا میاب ہونے کے بعد ملتان کی ایک مجلس میں آپ نے ارشاد فرمایا کہ فیصل آباد میں اجلاس شروع ہونے سے قبل میں نے کمرے میں علیحدہ جا کر دو رکعت نماز نفل پڑھی اور اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی کہ مولائے کریم! میں مجلس عمل کی صدارت کے لائق نہیں۔ کسی اہل کو یہ امامت سونپ دے۔ لیکن خدا کی شان کہ میری دعا قبول نہ ہوئی۔ بلکہ میں منتخب ہو گیا تو اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ مولائے کریم! اس بارِعظیم کو اٹھانے کی ہمت وقوت عنایت فرما۔
اللہ! اللہ! یہ آپ کی شان انکساری تھی کہ لوگ صدارتوں ووزارتوں کے لئے دن رات ایک کئے ہوئے ہیں۔ مگر حضرت مولانا مرحوم کو اس سے دور کا واسطہ بھی نہیں تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ
حضرت مولانا جیسا جلیل القدر دینی و مذہبی رہنما اور مفکر اسلام صدیوں تک پیدا نہیں ہوگا۔ آپ کی سربراہی میں ١٩٧٤ء میں تحریک مقدس ختم نبوت کامیاب و کامران ہوئی۔ آپ نے ١٩٧٤ء کی تحریک کے بعد افریقی ممالک کا دورہ کیا۔ رابطہ عالم اسلامی مکہ مکرمہ کے سرکاری آرگن العالم الاسلامی کی رپورٹ کے مطابق تقریباً ایک لاکھ مرزائیوں نے اسلام قبول کیا۔ گویا یہ مقدس تحریک جس کی برصغیر میں باضابطہ طور پر بنیاد حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ نے رکھی تھی۔ اس کی تکمیل آپ کے شاگرد حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ کے ہاتھوں ہوئی۔ واقعہ یہ ہے کہ حضرت مولانا بنوریؒ حضرت مولانا انور شاہ کشمیریؒ کے علوم کے امین اور وارث تھے۔ وہ خلوص، تقویٰ میں حضرت مولانا انور شاہ کشمیریؒ کی چلتی پھرتی تصویر تھے۔
آپ بیک وقت دارالعلوم دیوبند اور تھانہ بھون کے امین تھے۔ روحانی تعلق جہاں حضرت مدنیؒ سے تھا۔ آپ سے بیعت کی تھی۔ سند حدیث کی اجازت ملی تھی۔ وہاں خرقہ خلافت حضرت تھانویؒ نے آپ کو عنایت کیا تھا۔ آپ پچھلے دنوں اسلامی مشاورتی کونسل کے رکن منتخب ہوئے۔ اس کے اجلاس کی وجہ سے قاہرہ میں ہونے والی کانفرنس میں شرکت سے معذوری کا اظہار کیا۔ صرف اکیلے حضرت مولانا مفتی محمودؒ روانہ ہوئے۔ قاہرہ روانگی سے قبل مفتی صاحبؒ حضرت بنوریؒ سے ہدایات لینے کے لئے حاضر ہوئے۔ آپ اسلامی مشاورتی کونسل کے اجلاس میں شرکت کے لئے اسلام آباد آئے۔
١٥ اکتوبر ہفتہ کے روز صبح ساڑھے آٹھ بجے آپ کو دل کا دورہ پڑا۔ ڈاکٹروں نے آپ کا معائنہ کیا۔ پانچ گھنٹے بعد دوسرا دورہ پڑا۔ جو کافی شدید اور تکلیف دہ تھا۔ آپ نڈھال ہوگئے۔ مگر قرآن مجید کی تلاوت کرتے رہے۔ اس کے بعد آپ کو ملٹری کمبائنڈ ہسپتال میں داخل کرا دیا گیا۔ ١٧ اکتوبر بروز پیر تیسرا دل کا دورہ پڑا جو جان لیوا ثابت ہوا۔ راولپنڈی میں نماز جنازہ اکوڑہ خٹک کے شیخ الحدیث، مولانا عبدالحقؒ نے پڑھائی اور اسی رات دس بجے مدرسہ اسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی میں آپ کا دوسرا جنازہ مولانا ڈاکٹر عبدالحئیؒ خلیفہ مجاز حضرت تھانویؒ نے پڑھایا۔ ہزاروں علماء، مشائخ، عوام اور عقیدت مند حضرات نے آپ کو آہوں، سسکیوں اور کلمہ طیبہ کی گونجتی ہوئی فضا میں رحمت خداوندی کے سپرد کیا۔
(لولاک ٢١ اکتوبر ١٩٧٧ء)
٦...... حضرت مولانا مفتی محمد شفیع ملتانیؒ
وفات ......٢٠مئی ١٩٧٨ء
مدرسہ عربیہ قاسم العلوم ملتان کے مہتمم و شیخ التفسیر حضرت مولانا محمد شفیع مرحوم کافی عرصہ سے بیمار رہنے کے بعد ٢٠ مئی ١٩٧٨ء کو ملتان میں انتقال کرگئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون!
موصوف جامع امینیہ دہلی کے فارغ التحصیل تھے۔ حضرت علامہ مفتی کفایت اللہ کے مایہ ناز شاگرد تھے۔ تقسیم سے قبل حسین آگاہی کی سراجاں مسجد میں مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ نے مدرسہ کی بنیاد رکھی تو مفتی صاحب مرحوم اس مدرسہ کے مدرس مقرر ہوئے۔ کافی عرصہ تک بڑے اخلاص سے کام کرتے رہے۔ بعد میں شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ نے مدرسہ قاسم العلوم ملتان کی سنگ بنیاد رکھی تو حضرت مفتی محمد شفیع صاحبؒ اس کے مہتمم مقرر ہوئے۔ مولانا مفتی محمودؒ قائد جمعیت کو ملتان لانے کا فریضہ بھی محمد شفیع مرحوم نے سرانجام دیا۔ پچھلے چند سالوں سے اپنی علالت و بڑھاپے کی بنیاد پر حضرت مولانا مفتی محمودؒ کو مدرسہ کا مہتمم مقرر کر دیا۔ مدرسہ قاسم العلوم میں ساری زندگی تفسیر قرآن پڑھاتے رہے۔ طالب علموں میں ان کا جلالین شریف کا درس انتہائی مقبول تھا۔ دور دور سے طالب علم جلالین پڑھنے کے لئے مفتی صاحبؒ کے پاس حاضر ہوتے۔ املی والی مسجد میں سالہا سال تک آپ نے خطابت کے فرائض سرانجام دیئے۔ انتہائی درویش منش انسان تھے۔
مجلس تحفظ ختم نبوت اور جمعیت علماء اسلام سے آپ کی محبت عشق کے درجہ تک پہنچی ہوئی تھی۔ ہمیشہ اپنے مدرسہ قاسم العلوم کا جلسہ حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ سے تاریخ طے کرنے کے بعد مقرر کرتے۔ حضرت مولانا مرحوم کی وفات پر مفتی محمد شفیع مرحوم کی حالت دیکھی نہیں جاتی تھی۔ ایوب خان مرحوم کے زمانہ میں خاندانی منصوبہ بندی کا چکر چلا۔ مفتی محمد شفیع مرحوم کے درس قرآن اور خطبہ جمعہ میں جب اس کا ذکر آتا جذباتی حد تک چلے جاتے۔ یہ ان کی ایمانی غیرت وحمیت تھی جو اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے اکابر کی جوتیاں سیدھی کرنے کے باعث عنایت فرمائی تھی۔ آپ کے باقیات الصالحات میں سے مدرسہ قاسم العلوم، جامع مسجد املی والی، ہزاروں شاگرد ملک کے کونہ کونہ میں پھیلے ہوئے ہیں۔
(لولاک ٢٩ مئی ١٩٧٨ء)
٧.......فاتح قادیان حضرت مولانا محمد حیاتؒ
وفات.......١١ اگست ١٩٨٠ء
حضرت مولانا محمد حیاتؒ کوٹلہ مغلاں شکر گڑھ ضلع سیالکوٹ سے تعلق رکھتے تھے۔ ابتدائی تعلیم سکول میں حاصل کی پھر کالج میں داخلہ لیا اور ایف اے تک تعلیم حاصل کی۔ قدرت نے غضب کا حافظہ دیا تھا۔ بلاء کے حاضر جواب تھے۔ علاقہ کے اہل نظر نے آپ کو مشورہ دیا اور آپ نے شیخ الاسلام حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ کے شاگرد رشید حضرت مولانا محمد چراغؒ کے پاس گوجرانوالہ میں دینی تعلیم شروع کر دی۔ سکول و کالج کی تعلیم کے باعث عمر کافی ہو گئی تھی۔ حضرت مولانا محمد چراغؒ نے مختصر نصاب تجویز کر کے چند سالوں میں تمام دینی تعلیم مکمل کرا دی اور ساتھ ہی رد قادیانیت پر بھر پور تیاری کرا دی۔ حضرت مولانا نے تعلیم سے فراغت پاتے ہی رد قادیانیت کا کام شروع کر دیا تھا جو زندگی کے آخری لمحہ تک جاری رہا۔ قادیان میں محاذ ختم نبوت کے انچارج رہے۔ تا آنکہ ملک تقسیم ہوا۔ مرزا محمود کے قادیان سے فرار کے بعد قادیان کو چھوڑ کر پاکستان تشریف لائے۔ پاکستان میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے بانی رکن اور سب سے پہلے مبلغ تھے۔ قادیان میں قیام کے دوران مرزائیوں کو ناکوں چنے چبوائے۔ اس طرح اکابرین امت کی طرف سے ”فاتح قادیان“ کا لقب حاصل کیا۔
(ربوہ) چناب نگر میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے لئے مسلم کالونی میں پلاٹ حاصل ہوا تو آپ خبر سنتے ہی ملتان سے ربوہ منتقل ہونے کے لئے آمادہ ہو گئے۔ کھانا چھوڑ دیا۔ چنے چبانے شروع کر دیئے۔ حضرت مولانا محمد شریف جالندھریؒ کے پوچھنے پر جواب دیا کہ میں ریہرسل کر رہا تھا کہ اگر ربوہ میں روٹی نہ ملے تو آیا چنے چبانے کے لائق دانت ہیں یا نہیں؟۔ اس جذبہ و ایثار سے آپ مسلم کالونی ربوہ تشریف لائے۔ گرم سرد دکھ سکھ، عسر و یسر میں ربوہ کے اس محاذ کو آخری وقت تک سنبھالے رکھا۔ امت محمدیہ کی طرف سے واحد شخص ہیں جنہوں نے قادیان سے لے کر ربوہ تک مرزائیت کا تعاقب ان کے گھر تک پہنچ کر کیا۔
آپ انتہائی سادہ اور منکسر المزاج تھے۔ قادیان اور ربوہ میں قیام کے دوران آپ سے گفتگو کے لئے جو بھی قادیانی آتا منہ کی کھاتا۔ کچھ عرصہ بعد خلافت ربوہ کو اعلان کرنا پڑا کہ اس ”بابا“ کے پاس نہ جایا کرو۔ گفتگو میں دشمن کو گھیرے میں لے کر بند کرنا آپ کا وہ امتیاز تھا جس کی اس زمانہ میں مثال ملنا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔ ایک دفعہ ایک مرزائی مناظر نے کہا کہ مولانا آپ نے قادیان چھوڑ دیا۔ آپ نے فرمایا کہ مرزا بشیر الدین کے فرار کے بعد۔ مرزائی نے کہا کہ نہیں اس وقت بھی قادیان میں ہمارے ٣١٣ افراد موجود ہیں۔ مولانا نے فرمایا میں نے تو سنا ہے کہ ان کی تعداد ٢٢٠ ہے۔ یہ سنتے ہی مرزائی نے غصہ سے لال پیلا ہو کر کہا۔ ہم آپ کے دیوبند پر پیشاب بھی نہیں کرتے۔ مولانا نے بڑے دھیمے انداز میں جواب دیا کہ میں تو جتنا عرصہ قادیان میں رہا کبھی بھی پیشاب کو نہیں روکا۔ اس پر مرزائی اول فول بکتا ہوا یہ جا وہ جا۔ ایک دفعہ مرزائیوں نے مناظرہ میں شرط رکھ دی کہ مناظر مولوی فاضل ہو گا۔ مولانا مناظرہ کے لئے تشریف لے گئے تو مرزائی مناظر نے مولوی فاضل کی سند مانگی۔ مولانا نے فرمایا۔ افسوس کہ آج ہم سے وہ لوگ سند مانگتے ہیں جن کا نبی مختاری کے امتحان میں فیل ہو گیا تھا۔ مولانا نے کچھ اس انداز سے اسے بیان کیا کہ مرزائی مناظر مناظرہ کئے بغیر بھاگ گیا۔
١٩٥٣ء کی تحریک ختم نبوت میں آپ نے جو کارہائے نمایاں و گرانقدر خدمات سرانجام دیں۔ اس کا اندازہ منیر انکوائری رپورٹ سے ملتا ہے۔ کہ جہاں کہیں مسٹر جسٹس منیر آپ کی کسی تقریر کا حوالہ دیتا ہے جل بھن کر رہ جاتا ہے۔ گویا مولانا کے طرز عمل نے مرزائیت و مرزائی نواز طبقہ کے خواب و خور حرام کر دیئے تھے۔ ١٩٥٣ء کی تحریک ختم نبوت میں ملتان دفتر سے حضرت مولانا محمد شریف جالندھریؒ حضرت مولانا عبدالرحیم اشعرؒ اور جناب سائیں محمد حیاتؒ کے ساتھ گرفتار ہو کر سینٹرل جیل گئے۔ وہاں پر اکابر و اصاغر کے ساتھ بڑی بہادری سے جیل کاٹی۔ جیل میں بی کلاس کی سہولت حاصل ہو گئی تو مزاحاً حضرت مولانا محمد علی جالندھری سے فرماتے تھے کہ حضرت دیکھ لیں جو یہاں مل رہا ہے۔ دفتر جا کر وہی دینا ہوگا۔ حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ فرماتے کہ مولانا محمد
حیاتؒ جو کھانا ہے یہیں کھالو۔ دفتر میں تو وہی دال روٹی ملے گی۔ جیل کی سزا کاٹنے کے اتنے بہادر تھے کہ وہاں جاکر گھر کو یا باہر کی دنیا کو بالکل بھول جایا کرتے تھے۔ اتنا بہادر انسان کہ اس پر جتنا فخر کیا جائے کم ہے۔
ملتان جیل میں ایک دفعہ درویش منش ایک قیدی نے چنے منگوائے اور عصر کے بعد نمازیوں کے سامنے چادر پر بچھا کر پڑھوانے شروع کر دیئے۔ مولانا محمد حیاتؒ نے پوچھا تو جواب ملا اس لئے تاکہ مصیبت کم ہو۔ آپ نے فرمایا۔ آپ پڑھیں میں تو نہیں پڑھتا۔ جو لکھا ہے وہی ہوگا۔ جتنے دن جیل میں رہنا ہے بہر حال رہیں گے۔ رہے اور بڑے بہادری سے رہے۔ ملتان سے لاہور بورسٹل وسنٹرل جیل میں منتقل ہوئے۔ دس ماہ بعد رہا ہوئے۔ رہا ہوتے ہی پھر مرزائیت کی تردید میں جٹ گئے۔ غرضیکہ دھن کے پکے تھے۔
مطالعہ کتب کا اتنا شوق تھا کہ فرائض وسنن کے علاوہ باقی تمام تر وقت مطالعہ میں گزرتا۔ وظائف ونوافل کے زیادہ خوگر نہ تھے۔ وہ تسبیح و دانہ کے آدمی نہ تھے۔ کتابوں کے رسیا تھے۔ آخری عمر میں کمزوری و ناتوانی وضعف بصر کے باوصف بھی یومیہ کئی سو صفحات تک مطالعہ کر جاتے تھے۔ ان کے سرہانے کتاب ضرور ہوتی تھی۔ خواب سے بیدار ہوئے مطالعہ میں لگ گئے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کو حوالہ جات از بر تھے۔ آپ کو قدرت نے بلا کا حافظہ دیا تھا۔ حافظہ و مطالعہ تقویٰ واخلاص جذبہ ایثار جادو بیانی جیسی صفات وخوبیاں حضرت مولانا میں ایسی تھیں جن کا دشمن بھی اعتراف کرتے تھے۔
حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ دیگر اکابر کی طرح آپ کے بڑے قدر دان تھے۔ حضرت مولانا محمد حیاتؒ کی طبیعت میں سخت گیری تھی۔ اپنے مزاج و دھن اور رائے کے پکے تھے۔ بنیادی طور پر مناظر تھے اور مناظر اپنی رائے جلدی سے تبدیل نہیں کرتا۔ اس لئے حضرت مولانا محمد حیاتؒ کبھی کبھار گفتگو و اختلاف رائے میں حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ سے شدت اختلاف بھی اختیار کر جاتے تھے۔ ١٩٧٠ء کے الیکشن میں ”مجلس کو کیا کرنا چاہئے“ حضرت مولانا
محمد علی جالندھریؒ کی رائے تھی کہ ہم لوگ غیر سیاسی ہیں۔ اپنی پالیسی پر کار بند رہیں جس جماعت کو اسلام کا زیادہ خادم سمجھیں ان کو ووٹ دیں جبکہ حضرت مولانا محمد حیاتؒ کی رائے تھی کہ اگر ہماری معاونت سے کچھ علماء اسمبلی میں چلے گئے تو ہمارے مسئلہ کو حل کرانے میں معاون ثابت ہوں گے۔ پالیسی کے لحاظ سے حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ کی رائے وزنی تھی۔ جبکہ مسئلہ کو حل کرانے کے نقطہ نظر سے حضرت مولانا محمد حیاتؒ کو اپنی رائے پر اصرار تھا۔ دونوں حضرات نے ایک میٹنگ میں اس پر گھنٹوں دلائل دیئے۔ ظہر کے وقت اجلاس کا وقفہ ہوا تو وہی محبت واخلاص ۔ حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ نے چائے پیالی میں ڈال کر پیش کی ۔ حضرت مولانا محمد حیاتؒ مسکرا اٹھے ۔ اللہ رب العزت ان تمام حضرات پر اپنا کرم فرمائیں کہ اخلاص کے پیکر تھے۔
حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ نے اسی میٹنگ میں فرمایا کہ مارشل لاء حکومت نے ایک دفعہ کے تحت الیکشن میں مذہبی بنیادوں پر کسی کی مخالفت کو جرم قرار دیا ہے ۔اگر مرزائی کھڑے ہوئے ہم تو ان کا نام لے کر ان کے مرزائی ہونے کے باعث ان کی مخالفت کریں گے تو اس دفعہ کی خلاف ورزی لازم آئے گی۔ گرفتاریاں ہوں گی تو جو حضرات گرفتاریوں کے لئے اپنے آپ کو پیش کرنا چاہیں اپنے نام لکھوا دیں۔ اب تمام مبلغین احترام میں خاموش کہ پہلے بزرگ نام لکھوائیں تو پھر ہم سب حاضر ہیں۔ چھوٹے پہلے بولیں تو کہیں سوئے ادبی نہ ہو۔ ورنہ ظاہر ہے کہ مشن کے لئے سب ہی گرفتار ہونے کو تیار تھے۔ اتنے میں مولانا محمد حیاتؒ بولے کہ مولانا محمد علی صاحبؒ بھائی جان! دیکھیں جب شاہ جیؒ ہمیں گرفتاری کے لئے فرماتے تھے تو پہلے اپنا نام لکھواتے تھے۔ آپ پہلے اپنا نام لکھوائیں ۔ پھر ہم سب کا لکھ لیں۔ ہم سب تیار ہیں ۔ مولانا محمد علی جالندھریؒ بہت اچھا فرما کر مسکرائے اور مولانا محمد شریف جالندھریؒ کو حکم دیا کہ میرے نام سمیت سب حاضرین کے درجہ بدرجہ نام لکھ لو۔ چنانچہ ایسے ہی ہوا۔
حضرت مولانا عبدالرحیم اشعرؒ راوی ہیں کہ تقسیم کے وقت مرزا محمود نے ایک دن قادیان میں اعلان کرایا کہ آج میں بلدیو سنگھ وزیر دفاع انڈیا سے مل آیا ہوں۔ وہ ہیلی کاپٹر پر
قادیان کا معائنہ کریں گے۔ قادیان کے لوگ دروازے بند کر کے گھروں میں بیٹھے رہیں۔ تاکہ وہ اوپر سے دیکھ سکیں کہ واقعی لوگ تنگ ہیں۔ دشمن کے حملوں کا سخت خطرہ ہے۔ اس لئے گھروں میں نظر بند ہیں۔ تمام قادیانی گھروں میں نظر بند ہو گئے۔ مرزا محمود برقع پہن کر خفیہ طور پر قادیان سے لاہور آ گیا جب مرزائیوں کو پتہ چلا تو سخت سٹپٹائے اپنی قیادت پر کہ وہ بڑی بزدل و کمینی نکلی۔ مگر کیا کرتے مجبور تھے۔ دوسرے قادیانی افسروں نے کچھ دنوں بعد قادیان میں فوجی ٹرک بھجوائے کہ لوگوں کو وہاں سے نکالا جائے۔ ٹرک لوڈ ہو رہے تھے۔ مولانا محمد حیاتؒ وہاں قادیان میں موجود تھے۔ مرزائیوں نے کہا کہ ٹرک میں جگہ ہے آپ آ جائیں۔ آپ نے فرمایا آپ چلیں میرا انتظام ہے۔ جب تمام قادیان کے مرزائی قادیان چھوڑ کر لاہور آ گئے تو تب کہیں جا کر قریب کے کسی گاؤں کے کارکن غلام فرید کو آپ نے پیغام بھجوایا۔ وہ ایک بیل گاڑی لایا۔ اس پر کتابیں لادیں اور سفر کر کے کئی دنوں بعد لاہور دفتر میں آگئے۔ آپ کے عزیز و اقارب خیر پور میرس سندھ میں مقیم ہو گئے تھے۔ ان کی اطلاع پا کر آپ وہاں چلے گئے اور وہاں جا کر زراعت کا کام شروع کر دیا۔
ایک دن حضرت امیر شریعتؒ کو کسی کا خط ملا کہ آپ لوگ تقسیم سے قبل رد قادیانیت کا کام کرتے تھے۔ قادیانیت آپ کے احتساب سے سہمی ہوئی تھی۔ آپ لوگوں نے توجہ کم کر دی۔ مرزائی دن رات اپنی تبلیغ میں لگے ہوئے ہیں۔ سرکاری عہدوں سے ناجائز فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ یہی حال رہا تو پاکستان پر یہ لوگ چھا جائیں گے۔ حضرت شاہ جیؒ نے یہ خط پڑھا تو تڑپ گئے۔ مولانا محمد علی جالندھریؒ کو بلا کر فرمایا کہ سندھ سے مولانا محمد حیاتؒ کو ملتان بلوائیں۔ مولانا محمد حیاتؒ کے بھائی آمادہ نہ ہوتے تھے۔ مولانا محمد علی جالندھریؒ نے ان کو ایک ملازم رکھ دیا جو ان کے ساتھ کھیتی باڑی کے کام میں مولانا محمد حیاتؒ کی نیابت کرتا تھا اور یوں مولانا محمد حیاتؒ ملتان آ گئے۔ حضرت امیر شریعتؒ سے ملے دوسرے دن ہی کچہری روڈ ملتان ایک دکان کا چوبارہ کرایہ پر لیا اور کام شروع کر دیا۔ پہلی کلاس میں یہ علماء شامل تھے۔
مولانا عبدالرحیم اشعرؒ ، مولانا قائم الدین علی پوریؒ، مولانا محمد لقمان علی پوریؒ ، مولانا غلام محمد علی پوریؒ، قاضی عبداللطیف اختر شجاع آبادیؒ، مولانا محمد عبداللہ سندھیؒ، مولانا محمد یار چیچہ وطنیؒ ان حضرات نے رد مرزائیت کا کورس مکمل کیا۔ کورس کے مکمل کرتے ہی ان حضرات کو اس ترتیب سے جماعت کا مبلغ مقرر کیا گیا۔
مولانا عبدالرحیم اشعرؒ فیصل آباد، مولانا محمد لقمان علی پوریؒ ننکانہ صاحب، مولانا یار محمدؒ چنیوٹ، قاضی عبداللطیفؒ چیچہ وطنی، مولانا غلام محمدؒ ملتان، مولانا محمد عبداللہؒ سندھ۔ ان حضرات نے کام شروع کیا اور تقسیم کے بعد جماعت کے یہ حضرات پہلے مبلغین قرار پائے۔ یوں عشق رسالت مآب ﷺ سے سرشار یہ کارواں ختم نبوت اپنی منزل کی طرف پھر رواں دواں ہو گیا۔
حضرت مولانا کے شاگردوں کی اندرون و بیرون ملک تعداد ہزاروں سے متجاوز ہے۔ متذکرہ بالا حضرات کے علاوہ چند معروف مبلغین کے نام یہ ہیں۔ حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ، حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹیؒ، حضرت مولانا منظور احمد الحسینیؒ لندن، حضرت مولانا عبدالمجید فیجیؒ آئی لینڈ، حضرت مولانا غلام محمد علی پوریؒ، حضرت مولانا غلام مصطفیٰ بہاولپوریؒ مولانا ڈاکٹر عبدالرحیمؒ شکر گڑھ، حضرت مولانا مفتی رشید احمدؒ پسرور، حضرت مولانا محمد حنیف گوجرانوالہ، حضرت مولانا عبدالوہابؒ، حضرت مولانا مفتی عطاء الرحمن بہاولپوری، حضرت مولانا عبداللہ لدھیانویؒ ٹوبہ ٹیک سنگھ، حضرت مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادیؒ، حضرت مولانا عبدالرؤف جتوئیؒ، حضرت مولانا خدا بخش شجاع آبادیؒ، حضرت مولانا نذیر احمد بلوچ، حضرت مولانا بشیر احمد خاکیؒ شورکوٹ۔ علاوہ ازیں عالم اسلام کے ممتاز سکالر حضرت مولانا ابوالحسن علی ندویؒ نے قطب الارشاد حضرت شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ کے حکم سے قادیانیت نامی شہرہ آفاق کتاب ترتیب دی تو تمام حوالہ جات مولانا محمد حیاتؒ نے مہیا کئے۔ انہوں نے کتاب کے عربی ایڈیشن میں آپ کو چلتا پھرتا کتب خانہ قرار دیا۔
حضرت مولانا محمد حیاتؒ ارادے کے پکے اور اعصاب کے مضبوط انسان تھے۔ بڑے سے بڑے سانحہ کو وہ بڑی بہادری و جرات سے برداشت کر جاتے تھے۔ لیکن جب مولانا محمد علی
جالندھریؒ کا انتقال ہوا تو اس وقت ملتان میں نہ تھے۔ تبلیغ کے لئے سرگودھا کے سفر پر تھے۔ فون پر اطلاع دی گئی۔ پوری رات سفر کر کے علی الصبح دفتر پہنچے۔ دفتر کے صحن میں مولانا محمد علی جالندھریؒ کا جنازہ رکھا تھا۔ دیکھتے ہی دھاڑیں مار مار کر رونے لگے۔ اتنے روئے کہ کہ انتہا کر دی۔ صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔ اپنے دل کے ہاتھوں مجبور تھے۔ ایسے محسوس ہوتا تھا کہ وہ مولانا محمد علی جالندھریؒ کی وفات پر اپنی جان گنوا بیٹھیں گے۔ زاروقطار رو رہے تھے اور بار بار کہتے کہ میں بہت نکما ہوں (یہ ان کی کسر نفسی تھی ۔ ورنہ وہ تو بہت ہی کام کے آدمی تھے ) ہم لوگ دفتر میں بیٹھے رہتے۔ یہ شخص (مولانا جالندھریؒ) جفاکش و بہادر انسان تھا۔ دن رات ایک کر کے جان جوکھوں میں ڈال کر دفتر بنایا۔ فنڈ قائم کیا۔ اپنے کلیجہ کو دھیمی آگ پر اپنے ہاتھوں بھون بھون کر ہمیں کھلایا۔ اب ان جیسا بہادر و محنتی دوست و رہنما ہمیں کہاں سے میسر آئے گا۔ ہماری تیز و ترش باتیں سن کر خوش دلی سے نہ صرف ہماری بلکہ پوری جماعت کی خدمت کی۔ ہائے اب مجھے محمد علی جالندھریؒ کہاں سے ملے گا جو میری سن کر برداشت کرے گا۔ زاروزار رو رو کر دکھے دل سے ایسا خراج تحسین پیش کیا کہ اس وقت دفتر میں موجود تمام ساتھیوں کے دل ہاتھ سے چھوٹ گئے۔ دفتر میں کہرام مچ گیا۔ اس وقت دونوں بزرگ دنیا میں موجود نہیں۔ مگر ان کی باہمی وفاؤں کی یادوں سے ہمارے دل معمور ہیں۔ اللہ رب العزت ان سب کی قبروں پر اپنی رحمت فرمائے۔
حضرت مولانا شعبان کے آخری دنوں میں معمولی بیمار ہوئے۔ ربوہ چنیوٹ سے لاہور گئے۔ وہاں سے اپنے گاؤں کوٹلہ مغلاں تحصیل شکر گڑھ تشریف لے گئے۔ کچھ عرصہ معمولی بیمار رہ کر ٢٨ رمضان شریف ١٤٠٠ھ مطابق ١١ اگست ١٩٨٠ء میں اللہ رب العزت کو پیارے ہو گئے۔ عاش غریبا ومات غریباً ! کا صحیح مصداق تھے۔ اس دنیا میں فقر ابوذر غفاریؓ کے وارث وعلمبردار تھے۔ ان کی وفات کے بعد ان کے گاؤں تعزیت کے لئے جانا ہوا۔ قبرستان میں گئے۔ ان کی قبر کو خودرو بوٹیوں و جھاڑیوں نے ڈھانپ رکھا تھا۔ ایسے محسوس ہوا جیسے منوں مٹی کے نیچے ان کی میت کو رحمت پروردگار نے ڈھانپ رکھا ہو۔ اللہ رب العزت ان کی قبر پر اپنی رحمتوں کی بارش نازل فرمائے۔ آمین !
(لولاک ربیع الاول ١٤١٨ھ)
٨...... جناب محمد بخش چشتیؒ
وفات......٢٧ دسمبر ١٩٨٠ء
ملک عزیز کے نامور نعت خواں، مداح رسول ﷺ جناب الحاج محمد بخش چشتیؒ نے ٢٧ دسمبر ١٩٨٠ء کو انتقال فرمایا۔ ان کی وفات سے پورا ملک بالعموم اور مسلک دیوبند کے احباب بالخصوص ایک اچھے قابل قدر مداح صحابہؓ و نعت خواں رسول ﷺ سے محروم ہو گئے۔
جھنگ سے ٢٥ میل دور خوشاب روڈ پر ماچھیوال اور کوٹ شاکر کے درمیان اڈہ حلیانہ میں جناب چشتی صاحبؒ کی پیدائش ہوئی اور تدفین بھی اسی جگہ عمل میں آئی۔ مڈل تک تعلیم کوٹ شاکر ہائی سکول میں حاصل کی۔ ان دنوں جھنگ کے معروف مذہبی رہنما حضرت مولانا پیر مبارک شاہ بغدادیؒ کا طوطی بولتا تھا اور وہ خالصتاً مجلس احرار اسلام کے بزرگ رہنما جناب مولانا گل شیر مرحوم کی طرز پر دیہات میں زیادہ وعظ و نصیحت کرتے تھے۔ ان کا حلقہ اثر بھی دیہاتوں میں تھا۔ پیر مبارک شاہ بغدادیؒ کوٹ شاکر تشریف لائے۔ جناب محمد بخشؒ ان دنوں ایک نو عمر طالب علم تھے۔ ابھی تک چہرہ پر سبزہ بھی نہیں آیا تھا۔ انہوں نے مدح مصطفیٰ ﷺ پر مشتمل ایک نظم پڑھی۔ آپ کی سریلی مست آواز نے سامعین پر جادو کر دیا۔ پیر مبارک شاہ بغدادیؒ پر وجد کی کیفیت طاری ہو گئی۔ یہی واقعہ جناب محمد بخش چشتیؒ کو سکول سے پبلک جلسوں میں لایا۔ حضرت پیر بغدادیؒ کے فرمان پر ان کے ہمراہ آپ نے ملک کے طول و عرض کے دیہات میں جلسوں میں نظمیں پڑھنی شروع کر دیں۔ ان دنوں ملک کے جلسوں پر مجلس احرار کا بلا شرکت غیرے راج تھا۔ مدارس و مساجد و منابر احرار رہنماؤں کے خطابات سے گونج رہے تھے۔ پیر مبارک شاہ بغدادیؒ کی معرفت کبھی کبھار شہروں کے جلسوں میں بھی آپ کو نعتیں کہنے کا موقع مل جاتا تھا۔ کسی جلسہ میں خطیب پاکستان حضرت مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ نے جناب چشتی صاحبؒ کی نظم سن لی اور چشتی صاحبؒ کو اپنا ہم سفر بنا لیا۔ اب چشتی صاحبؒ دیہاتوں سے نکل کر پورے ملک کے نعت خواں بن گئے۔ قدرت نے آپ کو بلا کا گلہ دیا تھا۔ عشق رسالت مآب ﷺ میں ڈوب کر جب نظم پڑھتے تو پورے اجتماع کو دم بخود کر دیتے۔
چشتی صاحبؒ کی آواز قدرت کا عطیہ تھی۔ وہ جب کبھی کسی مصرعہ پر زور لگاتے تو چلتے مسافروں کو نہیں فضا کو بھی ساکت و صامت کر دیا کرتے تھے۔ سپیکر پر ان کی آواز حاوی ہو جاتی۔ شجاع آباد بستی درکھانہ میں دس محرم کو ہر سال حضرت قاضی صاحبؒ کے ساتھ تشریف لے جاتے۔ شیعہ حضرات کا جلسہ ہوتا۔ جلوس نکلتا۔ ادھر چشتی صاحبؒ کی نعت خوانی ہوتی۔ شیعہ جاگیر دار حضرت قاضی صاحبؒ کا نیاز مند تھا۔ قاضی صاحبؒ کی خدمت میں ایک دن حاضر ہو کر اس نے درخواست کی کہ آپ اپنا دس محرم کو جلسہ ضرور کر لیا کریں۔ مگر چشتی صاحبؒ کو نہ بلایا کریں۔ کیونکہ یہ جب نظم پڑھتا ہے تو ہمارے ذاکرین حضرات اپنی تقریریں چھوڑ کر اس کی نعت خوانی سننے لگ جاتے ہیں۔ اور ہمارا پروگرام ناکام ہو جاتا ہے۔ ساری زندگی حضرت قاضی صاحبؒ کے ساتھ بھائیوں کی طرح نبھائی اور حضرت قاضی صاحبؒ نے بھی بڑی شفقت و محبت سے چشتی صاحبؒ کے ساتھ وقت گزارا۔ حضرت قاضی صاحبؒ کی وفات کے بعد چشتی صاحبؒ ماہی بے آب کی طرح تڑپتے رہے۔
جس جلسہ میں جاتے احباب کو حضرت قاضی صاحبؒ کے واقعات سنا سنا کر تڑپا دیا کرتے تھے۔ چشتی صاحبؒ حضرت قاضی صاحبؒ کی روایات کے امین تھے۔ جلسہ کے احباب کو ہمیشہ نیک نصیحتوں سے نوازا کرتے تھے۔ نوجوان خطیب حضرات کو اکابر کے واقعات سنا کر خلوص وللہیت کا درس دیا کرتے تھے۔ ان کی ہر بات الدین النصیحۃ کا مرقع ہوا کرتی تھی۔ آخری چند سال حضرت مولانا غلام اللہ خانؒ کے ہمراہ جلسوں میں شرکت فرمایا کرتے تھے۔ مولانا غلام اللہ خانؒ نے بڑی قدردانی فرمائی۔ چشتی صاحبؒ کو کراچی سے خیبر تک اپنے ساتھ جلسوں میں رکھا اور نعت خوانوں کی طرح نہیں۔ بلکہ اپنے قابل احترام بھائیوں کی طرح نبھاہ کیا۔ چشتی صاحبؒ نے ساری زندگی کچھ نہیں بنایا۔ مل گیا تو کھا لیا۔ نہ ملا تو صبر کر لیا۔ جب کبھی اللہ رب العزت وسعت فرماتے چشتی صاحبؒ اپنے عزیز واقارب اور ضرورت مند گان کی خبر گیری کیا کرتے تھے۔ ملک بھر کی تمام دینی جماعتوں سے عشق کی حد تک پیار تھا اور تمام دینی جماعتوں کے سربراہ ان کو اپنے سر اور آنکھوں پر بٹھایا کرتے تھے۔
ایک دفعہ حضرت مولانا مفتی محمودؒ نے مدرسہ شیرانوالہ میں ملک بھر کی اپنے مسلک کی جماعتوں کا نمائندہ اجلاس طلب کیا۔ حضرت مولانا محمد شریف جالندھریؒ کے ہمراہ راقم بھی مجلس تحفظ ختم نبوت کے نمائندہ کی حیثیت سے اجلاس میں شریک تھا۔ ہال کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ اتنے میں مولانا غلام اللہ خاںؒ تشریف لائے۔ مصافحہ و معانقہ کے بعد بیٹھ گئے تو مولانا غلام اللہ خاںؒ نے کہا کہ قبلہ مفتی صاحبؒ میرے ساتھ چشتی صاحبؒ بھی ہیں۔ اگر حکم ہو تو ان کو بلا لیں۔ مفتی صاحبؒ نے فرمایا کہ اگر وہ دیوبندی ہیں تو ضرور آجائیں۔ اس پر اجلاس میں قہقہہ پڑا اور چشتی صاحبؒ کو بلا لیا گیا۔ ان کی آمد پر میں نے اپنی گناہگار آنکھوں سے دیکھا کہ مفتی صاحبؒ سمیت تمام علماء کرام کھڑے ہو گئے۔ باری باری سب نے مصافحہ و معانقہ کیا۔ اس دن مجھے معلوم ہوا کہ جناب چشتی صاحبؒ کا ہمارے علماء کرام کتنا احترام کرتے ہیں۔ یہ سب احترام ان کے خلوص کی بناء پر تھا۔
جناب چشتی صاحبؒ نے تنظیم اہل سنت کے ساتھ بھی خوب دوستی نبھائی۔ اشاعت التوحید کے پلیٹ فارم پر ملک عزیز کے کونہ کونہ میں توحید و سنت کے ترانے گائے۔ مجلس تحفظ ختم نبوت سے آپ کو والہانہ عشق تھا۔ وفات سے چند روز قبل مجھے خط لکھا کہ اب میں تندرست ہو گیا ہوں۔ بس کچھ کمزوری ہے جب دور ہو گی آپ کو ختم نبوت کی نظم جلسہ میں سناؤں گا۔ مجھے ان کی صحت کا پڑھ کر انتہائی خوشی ہوئی۔ موت کے کوئی آثار نہ تھے۔ وفات سے چند دن قبل خیرات کی۔ رکشا میں چاول رکھ کر ایک ایک مدرسہ و مسجد میں خود جا کر تقسیم کئے۔
مولانا قاضی اللہ یارؒ اور مولانا خدا بخش صاحبؒ ان سے ملنے کے لئے تشریف لے گئے تو چشتی صاحبؒ نے ان حضرات سے فرمایا کہ ٢٧،٢٨ دسمبر کو چنیوٹ میں سالانہ آل پاکستان ختم نبوت کانفرنس ہو رہی ہے۔ اس میں میری صحت کی دعا فرمائیں۔ اللہ رب العزت کی شان بے نیازی دیکھئے کہ جس اجلاس میں ان کی دعائے صحت ہونی طے پائی تھی۔ اس اجلاس میں ان کی دعائے مغفرت کی گئی۔ جمعرات رات کے چار بجے تکلیف ہوئی۔ ڈاکٹر کو بلایا۔ ہنستے کھیلتے کلمہ کا ورد کرتے ہوئے آخرت کو سدھار گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون!
(لولاک ٢١ فروری ١٩٨١ء)
٩...... حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ
وفات.......٤ فروری ١٩٨١ء
- ١...... حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ نے مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام
چنیوٹ کانفرنس رکھی۔ حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ سمیت اپنے تمام ہم عصر احباب کو بلا تکلف کہہ دیا کہ کانفرنس میں بسترہ ہمراہ لائیں۔ کانفرنس پنجاب میں تھی اور مولانا غلام غوثؒ نے سندھ سے تشریف لانا تھا۔ ان کا سندھ میں دس پندرہ روزہ تبلیغی دورہ تھا۔ پورے دورہ میں ایک کانفرنس کے لئے بستر ہمراہ رکھنا مشکل تھا۔ مولانا غلام غوث ہزارویؒ بغیر بستر کے تشریف لائے۔ مولانا محمد علی جالندھریؒ کے ہمراہ کھانا کھایا۔ رات کو تقریر کی۔ صبح کی ٹرین سے واپس جانا تھا۔ مولانا محمد علی جالندھریؒ مطمئن کہ میرے کہنے کے مطابق مولانا ہزارویؒ بستر ضرور ہمراہ لائے ہوں گے۔ اس لئے پوچھنے کی ضرورت محسوس نہ کی۔ حضرت ہزارویؒ نے دل میں خیال کیا کہ مولانا جالندھریؒ کا حکم تھا کہ بستر ساتھ لائیں۔ اب اگر بسترہ ہمراہ نہیں لایا تو قصور میرا ہے۔ اس لئے مولانا جالندھریؒ کو تکلیف کیوں دوں؟۔ کانفرنس سے فارغ ہوئے۔ پنڈال کے قریب کسی مسجد میں جا کر ایک لوئی میں سردی کی رات گزار دی۔ صبح راز منکشف ہوا تو مولانا جالندھریؒ نے افسوس کا اظہار کیا اور کہا آپ نے مجھے بتایا کیوں نہیں کہ بسترہ ہمراہ نہیں لاسکا۔ حضرت ہزارویؒ نے کہا کہ حضرت آپ میرے بھائی بھی ہیں اور مخدوم بھی۔ اگر میں اس کام میں آپ کا ہاتھ نہیں بٹا سکتا تو تکلیف کا سبب بھی نہیں بننا چاہتا۔ رات گزارنی تھی سوگزر گئی۔ (ہائے ایسی اعلیٰ سیرت کے انسان کہاں سے لائیں؟۔)
- ٢...... مجلس تحفظ ختم نبوت گوجرانوالہ کے جناب غلام نبی یا مجلس چنیوٹ کے
چوہدری ظہور احمد میں سے کسی ایک نے بتایا کہ ہم لاہور دفتر گئے۔ مولانا ہزارویؒ دفتر میں اکیلے تھے۔ سردی کی رات تھی۔ ہم نے آرام کرنا تھا۔ حضرت نے ہمیں بسترہ عنایت کیا۔ ہم سو گئے۔ صبح اٹھے تو معلوم ہوا کہ ایک بسترہ تھا۔ جو حضرت نے ہمیں دے دیا۔ آپ نے
ساری رات دسمبر کی سردی ایک لوئی میں گزارا کیا۔ واقعہ سناتے وقت ان کے آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے کہ اگر اکابر اپنے رضا کاروں پر اس طرح شفقت و محبت فرماتے تھے۔ تو رضا کار بھی ان کے چشم وابرو کے اشارے پر جان دینے کو فخر محسوس کرتے تھے۔
- ٣....... ٥٣ء کی تحریک مقدس ختم نبوت میں تمام رضا کار راہنما گرفتار کر لئے
گئے۔ حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ نے جماعت کے رہنماؤں ورضا کاروں کو جن کے گھر کے حالات معاشی طور پر نا درست تھے اور گھر کے افراد کی کفالت ان پر تھی ان کے نام وظیفہ قوت لا یموت جاری کر دیا ۔ حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ کے گھر کا پتہ دفتری احباب کو معلوم نہ تھا۔ اس لئے حضرت مولانا ہزارویؒ کے گھر ایک پیسہ نہ جا سکا ۔ تحریک کے ختم ہو جانے پر حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ نے مولانا ہزارویؒ کو کچھ وظیفہ دینا چاہا۔ مولانا ہزارویؒ نے مسکرا کر اپنے روایتی انداز میں کہا کہ حضرت اگر ہر ماہ بماہ رقم پہنچتی رہتی تو بھی گزارہ ہوتا رہتا ۔ اگر نہیں پہنچتی تو بھی گزر ہو گیا ہو گا ۔ یہ رقم میری طرف سے جماعت کے خزانہ میں جمع کرادی جائے ۔ حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ زندگی بھر اس واقعہ کا ذکر کر کے حضرت مولانا ہزارویؒ کی بہت تعریف کیا کرتے تھے کہ ان جیسے درویش منش انسان اس قحط الرجال کے دور میں خال خال نظر آتے ہیں ۔ جبکہ واقعہ یہ ہے کہ حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ نے بھی ساری زندگی جماعت سے تنخواہ نہیں لی ۔
- ٤....... حضرت مولانا محمد ضیاء القاسمیؒ خطیب پاکستان‘ حضرت مولانا غلام
غوث ہزارویؒ کی تعزیت کے لئے تشریف لے گئے تو واپسی پر حالات سناتے ہوئے آبدیدہ ہو کر بتایا کہ حضرت مولانا مرحوم کو بدھ کے روز تہجد کے وقت دل کا دورہ پڑا۔ ذکر الٰہی کرتے رہے ۔ جب تکلیف بڑھنے لگی تو گھر والی کو بلا کر فرمایا کہ آپ نے میرے ساتھ زندگی بسر کی ۔ میری عسر و یسر کی آپ ساتھی ہیں ۔ میری زندگی فقر و فاقہ اور جیل میں گزری ۔ میں آپ کے حقوق کما حقہ ادا نہ کر سکا ۔ میرا آخری وقت ہے ۔ زندگی کا کہنا سنا معاف کر دیں ۔ اپنی بچیوں
کو بلا کر فرمایا کہ میری وصیت یاد رکھیں۔ دین کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنائیں۔ وصیت و نصیحت کی۔ بچیوں نے کہا کہ اگر آپ اجازت دیں تو ہم ڈاکٹروں کو بلالیں۔ فرمایا اللہ تعالیٰ سب سے بڑے حکیم ہیں۔ میں اپنے آپ کو اس ذات باری کے سپرد کرتا ہوں۔ آپ بھی مجھے اس کے سپرد کر دیں۔ چھوٹے بھائی کو بلا کر فرمایا کہ میں فلاں آدمی کا چالیس روپے کا مقروض ہوں۔ میری طرف سے ادا کر دیں۔ یہ کہہ کر پہلو بدلا۔ ذکر الٰہی اور کلمہ کا ورد شروع کیا اور جان جان آفرین کے سپرد کر دی۔ انا للہ وانا الیہ راجعون!
- ٥....... حضرت مولانا سیف اللہ خالد خطیب اسلام آباد بڑی کوشش کے
باوجود جنازہ میں شریک نہ ہو سکے۔ جب پہنچے تو اندھیرا ہو چکا تھا۔ بتی و روشنی کا انتظام نہ تھا۔ ایک ”ڈھارے“ کے نیچے مولانا کا جنازہ رکھا تھا۔ حضرت مولانا سیف اللہ خالد نے منت سماجت کی مجھے چہرہ ضرور دکھایا جائے۔ احباب نے کہا کہ سارا دن لوگ زیارت کرتے رہے ہیں۔ اب جنازہ ہو گیا ہے۔ اندھیرا ہے۔ معاف کریں۔ مگر مولانا خالد کے مسلسل اصرار و محبت پر وہ مان گئے۔ حضرت مولانا مرحوم کے چہرہ مبارک سے کپڑا ہٹایا گیا۔ مولانا خالد کہتے ہیں کہ واللہ العظیم! اندھیرے میں حضرت مولانا مرحوم کا چہرہ روشن ستارے کی مانند چمک رہا تھا۔ مجھے روشنی کرانے کی ضرورت نہ رہی۔ میرے دل میں آیا کہ اللہ رب العزت قبر میں جانے سے پہلے حضرت مولانا مرحوم کی ولایت کو ہم پر ظاہر فرما رہے ہیں۔ جسے حضرت مولانا مرحوم زندگی بھر چھپائے رکھے تھے۔
- ٦....... حضرت مولانا سید غلام مصطفیٰ شاہ خطیب جھنگ حضرت مولانا مرحوم
کی تعزیت کے لئے گئے۔ قبر پر دیر تک زار و قطار روتے رہے۔ احباب جمع ہوئے اور اپنے اپنے انداز میں حضرت مرحوم کو خراج تحسین پیش کیا۔ شاہ صاحب نے کہا کہ میرے نزدیک حضرت مرحوم گویا ابو ذرؓ کے اس دور میں صحیح وارث تھے۔ رحمت عالم ﷺ نے بھی حضرت ابو ذرؓ کو فرمایا کہ آپ اس دنیا سے اکیلے جائیں گے۔ حضرت مرحوم کے جنازہ پر بھی بارش نے
برس برس کر لوگوں کو بہت روکا کہ حضرت ابوذرؓ کا غلام جنازہ میں بھی اپنے آقا کی سنت کو پورا کر کے صحیح وارث کا حق ادا کر جائے۔ اس کے باوجود بھی ہزاروں افراد شریک ہوئے۔
- ٧...... حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ اس دور میں اکابر کی چلتی پھرتی
تصویر تھے۔ ان کے صحیح نمائندہ اور جانشین تھے۔ ٢٦ دسمبر ١٩٨٠ء کو ربوہ میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے جلسہ پر تشریف لائے مجلس کے کام پر پسندیدگی کا اظہار فرمایا۔ دوران تقریر تحسین فرمائی۔ حضرت مولانا تاج محمودؒ اور راقم کا نام لے کر مسند افتخار سے سرفراز فرمایا۔ شیخ المشائخ خواجہ خواجگان حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کے وجود مسعود کو مجلس کے لئے نعمت خداوندی قرار دیا۔ بھر پور مسرت خوشی و انبساط کا مظاہرہ کیا۔ حضرت مولانا محمد شریف جالندھریؒ ناظم تبلیغ مجلس تحفظ ختم نبوت نے فرمایا کہ حضرت آپ نے بڑی تکلیف فرمائی۔ بیماری کے باوجود ہماری سرپرستی فرمائی۔ پوری جماعت آپ کی شکر گزار ہے۔ جواباً حضرت مرحوم نے فرمایا نہیں مولانا! میرا فرض تھا۔ میرے دل میں خیال آیا کہ زندگی کا اعتبار نہیں۔ ربوہ جاؤں گا اس شہر میں بیان ہو جائے گا۔ احباب سے علماء سے ملاقات ہو جائے گی۔ کہا سنا معاف کرالوں گا۔ اب اگلا سفر (سفر آخرت) ہونے والا ہے تو حضرات مرحومین اکابر کو جا کر آپ کے کام کی رپورٹ بھی پیش کروں گا کہ آپ نے اپنے جانشین مجلس تحفظ ختم نبوت کے خدام کو جہاں چھوڑ آئے تھے۔ ان کا ہر قدم اپنی منزل کی طرف بڑھ رہا ہے اور وہ اپنے مقاصد میں کامیاب ہو رہے ہیں اور قابل فخر کارنامے سرانجام دے رہے ہیں جو انشاء اللہ قیامت کے دن رحمتﷺ کی خوشنودی کا سبب بنیں گے۔ ان تحسین کے کلمات کو سن کر حضرت مولانا محمد شریف جالندھریؒ آبدیدہ ہو گئے۔ حضرت مرحوم نے فرمایا مولانا آپ مبارکباد کے مستحق ہیں۔ ختم نبوت کا کام بہت اونچا کام ہے۔ اتنا اونچا کام ہے جس کا اس دنیا والے نہ اندازہ لگا سکتے ہیں اور نہ تصور کر سکتے ہیں۔
- ٨...... ربوہ ختم نبوت کانفرنس مسجد محمدیہ سے فارغ ہو کر آپ مجلس تحفظ ختم
نبوت پاکستان کے دوسرے بڑے مرکز مسلم کالونی تشریف لائے۔ زیر تعمیر مسجد و مدرسہ کو دیکھا۔ مسرت کا اظہار فرما کر مولانا حافظ محمد حنیف ندیم پوری سے پوچھا کہ حضرت مولانا محمد حیات مرحوم کہاں بیٹھتے تھے۔ وہ جگہ دکھائی گئی۔ دیر تک دیکھتے رہے۔ پھر ٹھنڈا سانس لے کر فرمایا کہ اچھا اب ان سے بھی عنقریب ملاقات ہونے والی ہے۔ (اشارہ تھا کہ اب میری بھی دارفانی کو تیاری ہے۔)
- ٩....... وفات سے قبل کا جمعہ راولپنڈی میں پڑھایا۔ فرمایا کہ خیال تھا کہ مولانا
ریاض احمد اشرفی میری تعزیت کو تشریف لائیں گے۔ مگر اللہ تعالیٰ کی شان بے نیازی کہ میں ان کی تعزیت کے لئے حاضر ہوا ہوں (ان کا بھی حال ہی میں انتقال ہوا وہ بھی بھوسہ منڈی راول پنڈی میں مولانا ہزارویؒ کی مسجد کے خطیب تھے) یہ میری زندگی کا آخری جمعہ ہے۔ کہا سنا معاف کر دینا۔ اللہ تعالیٰ کی شان کہ اس جمعہ کے بعد پھر دوسرا جمعہ نہ آیا اور مولانا ہزارویؒ ہم سب کو یتیم چھوڑ کر چل دیئے۔ رہے نام اللہ کا!
- ١٠....... جناب حافظ محمد حنیفؒ ہی کی روایت کے مطابق گزشتہ سال جب مولانا
ہزارویؒ مولانا سید صادق حسین شاہؒ صاحب جھنگ کے مدرسے کے سالانہ جلسہ میں تشریف لائے تو انہوں نے حافظ صاحب سے مولانا تاج محمودؒ کی خیریت دریافت کی اور کہا کہ جب فیصل آباد جاؤ تو مولانا کو میرا سلام کہنا اور عرض کرنا کہ ہم نے ایک نیک مقصد کے لئے اکٹھا سفر کیا ہے۔ مجھے یاد تو نہیں کہ میں نے کچھ زیادتی کی ہو۔ تاہم مولانا کو کہنا کہ میرے ساتھ جس نے بھی کسی قسم کی زیادتی کی میں نے اسے معاف کر دیا۔ مولانا سے کہیں وہ بھی کہا سنا معاف کر دیں۔ یہی نہیں مولانا آخری دنوں میں عام جلسوں میں بھی یہی فرمایا کرتے تھے کہ میری کسی سے دوستی یا دشمنی اللہ کے لئے تھی۔
(لولاک ١٣ فروری ١٩٨١ء)
١٠...... حضرت مولانا سید نور الحسن بخاریؒ
وفات......٤ جنوری ١٩٨٤ء
تنظیم اہل سنت پاکستان کے بانی، امام اہل سنت حضرت مولانا سید نور الحسن شاہ بخاریؒ ٤ جنوری ١٩٨٤ء کی رات گیارہ بجے ملتان میں انتقال کر گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون!
حضرت مولانا مرحوم کی عمر ٧٤ برس تھی۔ ملک عزیز کے ہر دلعزیز مذہبی خطیب، بلند پایہ مصنف و ادیب اور قومی راہنما تھے۔ حضرت مرحوم کو اللہ رب العزت نے بے پناہ خوبیوں اور بے شمار صلاحیتوں سے نوازا تھا۔ ڈیرہ غازی خان کے علاقہ راجن پور کے باشندہ تھے۔ سکول کی تعلیم کے بعد اپنے علاقہ میں سکول ٹیچر ہو گئے۔ حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ اس علاقہ میں تبلیغ اسلام کے لئے تشریف لے گئے۔ مولانا سید نور الحسن شاہ بخاریؒ سے ملاقات ہوئی۔ اپنے ہمراہ لائے اور دیوبند میں داخل کرا دیا۔ ڈابھیل میں حضرت سید بنوریؒ، مولانا شبیر احمد عثمانیؒ ایسے دیگر مشاہیر اسلام سے مختلف فنون کی دینی کتابیں پڑھیں اور پھر برصغیر کی معروف بلند پایہ یونیورسٹی دارالعلوم دیوبند میں دورہ حدیث شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ کے پاس پڑھا اور یوں تین سال میں ماسٹر سے مولانا ہو گئے۔
تکمیل علوم کے بعد تنظیم اہل سنت پاکستان کی بنیاد رکھی۔ تنظیم کے ترجمان تنظیم اہل سنت اور ہفتہ وار دعوت لاہور کے ایڈیٹر بنے۔ جو آپ کی ادارت میں مثالی دینی پرچے ثابت ہوئے۔ ان رسائل سے وابستگی کے باعث صحافتی زندگی کا آغاز کیا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے آپ برصغیر کے معروف و بلند پایہ مصنف بن گئے۔ آپ کے قلم کی روانی و پختگی پر اسلامیان برصغیر داد دیئے بغیر نہ رہ سکے۔ آپ نے ایسی گراں قدر تصنیفات کا اپنے بعد ذخیرہ چھوڑا ہے۔ جو ان کے لئے ذخیرہ آخرت اور صدقہ جاریہ ہے۔ بلاشبہ برصغیر پاک و ہند میں آپ مدح صحابہ و تحفظ ناموس یاران مصطفیٰﷺ کے علمبردار تھے۔ آپ اس محاذ پر حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ، حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ اور امام اہل سنت حضرت مولانا عبدالشکور لکھنویؒ کے جانشین اور ان کی روایات و مشن کے امین تھے۔ آپ کی گراں قدر تصنیفات میں حضرت امام ابن تیمیہؒ حضرت امام
ابن قیمؒ کی روح وجد کرتی نظر آتی ہے۔ ٢٥ سے زائد تصنیفات ہوں گی۔ جو اپنے اپنے موضوع پر حرف آخر کا درجہ رکھتی ہیں۔ تحفظ ناموس صحابہؓ کے مشن پر کام کرنے والے حضرات علماء و خطیب ان کے خوشہ چین تھے۔
آپ نے تقسیم ملک کے بعد ہر دینی تحریک میں قائدانہ کردار ادا کیا۔ ٣١ علماء کے بائیس نکات پر مشتمل اسلامی دستور کا خاکہ مرتب کرنے والوں میں شریک تھے۔ ٥٣ء کی تحریک مقدس ختم نبوت کی کراچی کی میٹنگ میں تنظیم کے مندوب کی حیثیت سے شریک ہوئے۔ میٹنگ کے بعد ملتان روانہ ہوئے۔ باقی حضرات علماء کرام امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ، مولانا ابوالحسناتؒ مولانا فیض الحسنؒ، سید مظفر علی شمسیؒ، مولانا لال حسین اخترؒ کو دفتر مجلس تحفظ ختم نبوت بندر روڈ کراچی سے گرفتار کر لیا گیا۔ آپ نے ملتان پہنچ کر چوک بازار میں تاریخی جلسہ میں تاریخی خطاب کیا۔ ملتان کے در و دیوار کو ہلا دیا۔ اسی شام گرفتار کر کے حوالہ زندان کر دیئے گئے۔ ١٩٦٨ء میں جمعیت علمائے اسلام کے سٹیج سے مجاہد ختم نبوت آغا شورش کاشمیریؒ ایک تقریر کے سلسلہ میں گرفتار کر کے کراچی پہنچا دیئے گئے۔ جہاں انہوں نے بھوک ہڑتال شروع کر دی۔ تقریر مسئلہ ختم نبوت پر تھی اس لئے مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے سربراہ مجاہد ملت مولانا محمد علی جالندھریؒ، مفکر اسلام مولانا مفتی محمودؒ اور امام اہل سنت مولانا سید نور الحسن شاہ بخاریؒ کے دستخطوں سے آغا مرحوم کی رہائی کے لئے مشترکہ جدوجہد کے آغاز کی اپیل پر مشتمل پوسٹر چھاپ کر ملک میں تقسیم کیا گیا۔ ملتان میں ایک احتجاجی جلوس نکالا گیا۔ حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ کے دائیں حضرت مولانا مفتی محمودؒ اور بائیں مولانا سید نور الحسن شاہ بخاریؒ تھے۔ تینوں علم و عمل، صورت وسیرت کے کوہ ہمالیہ۔ جب جلوس کی قیادت کر رہے تھے تو اس پروقار احتجاجی جلوس کے قائدین کی جھلک دیکھنے کے لئے فرشتے بھی آسمان سے جھانکتے ہوں گے۔
آہ! موت کے ہاتھوں آغا شورش کاشمیریؒ، مولانا مفتی محمودؒ اور مولانا محمد علی جالندھریؒ ہم سے جدا ہو گئے۔ اب ان کی نشانی اور ان کی روایات کے امین مولانا سید نور الحسن شاہ بخاریؒ بھی داغ مفارقت دے گئے۔ حضرت مرحوم کو اللہ رب العزت نے جن بے شمار
خوبیوں سے نوازا تھا ان میں سے ایک ان کی خودداری تھی۔ بلا مبالغہ بڑے ہی خود دار واقع ہوئے۔ بڑی سے بڑی شخصیت سے اختلاف ہوا کوہ ہمالیہ کی طرح ڈٹ گئے اور پھر کمال یہ کہ کسی کی نہ غیبت کرتے تھے اور نہ ان کی مجلس میں کسی کو کسی کی غیبت کرنے کی جرأت ہوتی تھی۔ ان کے بعض عزیز شاگردوں نے آخری دور میں ان سے فرضی روایات کی بنیاد پر اختلاف کیا اور احترام کی حدوں کو پھلانگ گئے۔ مگر کیا مجال ہے کہ کسی کے متعلق آپ نے کوئی جملہ کہا ہو یا سنا ہو۔ انہوں نے غیروں کی سی روش اختیار کی ۔ مگر آپ صبر ورضا کا پتلا بن گئے۔ تنظیمی احباب کی خواہش واصرار پر حقیقت حال کو واضح کرنے کے لئے چند ورقی پمفلٹ لکھ کر اس معاملہ کو اپنی طرف سے اس طرح ختم کر کے بیٹھ گئے ۔ جیسے کچھ ہوا ہی نہیں ۔ ان کی خودداری اور غیبت سے اجتناب ہم سب کے لئے درس اور نمونہ ہے۔
٣٠ دسمبر ١٩٨٣ء اپنی زندگی کا آخری جمعہ تنظیم اہل سنت نواں شہر ملتان کی مسجد میں پڑھایا اور کہا کہ زندگی کی آخری دو خواہشیں تھیں ۔ حرمین شریف کی حاضری سو وہ اس سال پوری ہوگئی ۔ دوسری خواہش تھی سیرت اصحاب مصطفیٰ ﷺ نامی کتاب کی تکمیل ۔ وہ بھی اس ہفتہ مکمل کرلی ہے۔ اب فارغ ہوں اور سفر آخرت کے لئے تیار ہوں۔ کتنے عظیم انسان تھے کس طرح موت کا استقبال کرنے کو تیار بیٹھے تھے ۔ بدھ کو عشاء کی نماز کی خود امامت کرائی ۔ وظیفہ پڑھا پھر اس مسودہ کو لے کر نظر ثانی کے لئے بیٹھ گئے۔ اسی حالت میں دل کا دورہ پڑا جو جان لیوا ثابت ہوا۔ اپنی زندگی کی آخری خواہش و آخری تصنیف کو جھولی میں لئے جان جان آفریں کے سپرد کر دی۔ اناللہ وانا الیہ راجعون!
دوسرے دن پانچ جنوری ١٩٨٤ء جمعرات کو باغ لانگے خان ملتان میں جنازہ ہوا۔ ان کی قائم کردہ جماعت کے سربراہ مولانا علامہ عبدالستار تونسوی نے نماز جنازہ پڑھائی ۔ اس جنازہ کی خصوصیت یہ تھی کہ حاضرین کی اکثر و بیشتر تعداد علماء مشائخ پر مشتمل تھی۔ سچ ہے کہ:
(لولاک ١١ جنوری ١٩٨٤ء)
١١......حضرت مولانا تاج محمودؒ
وفات......٢٠ جنوری ١٩٨٣ء
٢٠ جنوری ١٩٨٣ء کو مجاہد ختم نبوت حضرت مولانا تاج محمودؒ عارضہ قلب سے سول ہسپتال فیصل آباد میں انتقال فرما گئے۔ انالله وانا الیہ راجعون!
حضرت مولانا تاج محمودؒ کے والد گرامی ہری پور ہزارہ کے گاؤں نیلم کے رہائشی تھے۔ چنیوٹ کے قریب چک نولاں میں آ کر رہائش اختیار کی۔ یہ پاکستان بننے سے بہت پہلے کی بات ہے۔ اس زمانہ میں چنیوٹ شاہی مسجد کے خطیب کے نام پر اپنے صاحبزادہ مولانا تاج محمودؒ کا نام تجویز کیا۔ آپ نے سکول اور ابتدائی تعلیم اس علاقہ میں حاصل کی۔ اس دوران ہری پور والد گرامی کے ہمراہ جانا ہوتا تو والد گرامی ہزارہ کے اکابر علماء کے پاس تعلیم کے لئے آپ کو متوجہ کرتے۔ لیکن آپ اس پر آمادہ نہ ہوئے۔ اس دوران میں ایک بار آپ کو پٹواری کا کورس کرنے کا بھی شوق اٹھا۔ لیکن اسے ادھورا چھوڑ دیا۔ اس زمانہ میں جامع مسجد کچہری بازار فیصل آباد کے خطیب اور مدرسہ دارالعلوم فتحیہ عبداللہ پور میں حضرت مولانا مفتی محمد یونسؒ کا چرچا تھا۔ مولانا مفتی محمد یونسؒ حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ کے ممتاز تلامذہ میں سے تھے۔ ان کے ہاں آپ نے دینی تعلیم حاصل کی۔ تعلیم کے دوران میں ریلوے کالونی فیصل آباد کے غریب ملازمین آپ کو ریلوے کالونی کی مسجد میں امامت کے لئے لائے۔ مسجد ایک تھڑا نما جگہ تھی۔ آپ نے چالیس سال جوانی میں اس مسجد کی امامت و خطابت، موذن و خادم کے فرائض انجام دیئے۔ جمعہ کے روز آپ خود صفائی کرتے اور نہا دھو کر خود جمعہ پڑھاتے۔ آپ کی اس ریاضت نے آپ کو رنگ لگا دیئے۔
اس زمانہ میں آزادی وطن کے لئے مجلس احرار الاسلام کا طوطی بولتا تھا۔ حضرت امیر شریعتؒ کی ایک تقریر سنی اور مجلس احرار الاسلام میں شامل ہو گئے۔ ایک وقت آیا کہ حضرت امیر شریعتؒ کے گنے چنے رفقاء اور قابل اعتماد ساتھیوں میں آپ کا شمار ہونے لگا۔ ریلوے کی اس مسجد کے عقب میں دو کمروں اور ایک بیٹھک پر مشتمل آپ کا مکان تھا۔ حضرت امیر شریعتؒ جب فیصل آباد تشریف لاتے تو یہاں قیام فرماتے۔ پاکستان بننے کے بعد جب شہری جائیداد لوگوں میں تقسیم ہوئی۔ تو آپ ایسے خدا مست متوکل علی اللہ تھے کہ اس میں ذرہ برابر توجہ نہ فرمائی۔ پاکستان بننے
کے بعد مجلس تحفظ ختم نبوت کی حضرت امیر شریعت اور آپ کے گرامی قدر رفقاء نے بنیاد رکھی۔ اس قافلہ کے بھی آپ رکن رکین تھے۔ تحریک ختم نبوت ١٩٥٣ء میں آپ نے فیصل آباد میں قائدانہ کردار ادا کیا۔ لاہور شاہی قلعہ اور اٹک میں آپ نے کئی ماہ تک قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ فیصل آباد میں آپ نے نصرت الاسلام سکول قائم کیا۔ جو آج بھی قائم ہے۔
٢٠ مارچ ١٩٦٤ء کو آپ نے فیصل آباد سے ہفت روزہ لولاک جاری کیا۔ جس نے عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کیلئے گراں قدر سنہری خدمات انجام دیں۔ تحریک ختم نبوت ١٩٧٤ء آپ کی بیدار مغزی اور قائدانہ شان سے چلی۔ تحریک ختم نبوت ١٩٧٤ء میں آپ صف اول کے رہنما تھے۔ اس کے نتیجہ میں ربوہ کو کھلا شہر قرار دیا گیا اور مسلم کالونی قائم ہوئی۔ تب حضرت مولانا محمد شریف جالندھریؒ اور آپ نے جامع مسجد و مدرسہ کے لئے نو کنال پر مشتمل پلاٹ مجلس کے لئے حاصل کیا۔ ١٩٧٥ء کے اوائل میں پہلے ربوہ کمیٹی کے تھڑا پر نمازوں کا آپ نے اہتمام کیا اور پھر ریلوے اسٹیشن چناب نگر پر جامع مسجد محمدیہ تعمیر کرائی۔ پہلی اینٹ سے افتتاح کی تختی تک برابر آپ کی کوششوں کا اس میں قائدانہ حصہ ہے۔ حضرت مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ اور جناب آغا شورش کاشمیریؒ آپ کے جگری دوست تھے۔ ان حضرات کے بعد قادیانیت کا سیاسی احتساب آپ کے حصہ میں آیا۔ پورے ملک میں احتساب قادیانیت اور عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے آپ کی ذات گرامی بطور نشان منزل کے سمجھی جاتی تھی۔ آپ نے سرکاری افسران میں قادیانیت کے مکروہ عزائم اور کفریہ عقائد کو طشت از بام کرنے میں مثالی کردار ادا کیا۔ عمر بھر آپ اتحاد بین المسلمین کے داعی اور علمبردار رہے۔ حق تعالیٰ نے آپ کو خوبیوں کا مجموعہ بنایا تھا۔
قیام پاکستان کے بعد سالانہ آل پاکستان ختم نبوت کانفرنس چنیوٹ میں آپ کا وجود بنیادی کردار کا حامل رہا۔ تحریک ختم نبوت ١٩٨٤ء کی داغ بیل آپ نے ڈالی۔ وفات سے ایک روز قبل آخری میٹنگ آل پارٹیز مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت میں آپ شریک تھے۔ میٹنگ کے اگلے روز ٢٠ جنوری جمعہ کو آپ کو دل کی تکلیف ہوئی۔ سول ہسپتال لے گئے۔ لیکن وقت موعود آن پہنچا۔ دوسرے دن دھوبی گھاٹ کے گراؤنڈ میں آپ کی نماز جنازہ پڑھی گئی۔ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب مدظلہ کی قیادت میں لاکھوں افراد نے نماز جنازہ ادا کرنے کی سعادت حاصل کی۔ اپنی قائم کردہ جامع مسجد ریلوے کالونی کے کونہ میں محو استراحت ہیں۔
١٢...... حضرت مولانا عبدالعزیز رائے پوریؒ
وفات......٣٠ اکتوبر ١٩٨٤ء
مخدوم المشائخ حضرت مولانا عبدالعزیز رائے پوریؒ ٣٠ اکتوبر ١٩٨٤ء مطابق ٥ صفر الخیر ١٤٠٥ھ بروز منگل فیصل آباد میں رحلت فرما گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون!
آپ کی عمر شریف اسی نوے کے درمیان تھی۔ آپ کے والد گرامی حضرت مولانا حافظ صالح محمد صاحب مرحوم قطب الارشاد حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ کے خلیفہ مجاز تھے۔ آپ حضرت علامہ محمد انور شاہ کشمیریؒ کے شاگرد تھے۔ بیعت کا تعلق حضرت شیخ الہند مولانا محمود الحسن مرحوم اسیر مالٹا سے تھا۔ خلافت قطب الارشاد حضرت شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ سے ملی تھی۔ حضرت گنگوہیؒ حضرت شیخ الہندؒ حضرت کشمیریؒ حضرت رائے پوریؒ کی نسبتوں کے آپ علمبردار تھے۔ آپ کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ سنت نبویہ علیہ السلام پر پوری طرح کار بند تھے یہ مبالغہ نہ ہوگا اگر یہ کہا جائے کہ برسوں آپ کی خدمت میں رہنے والے واقف راز احباب عینی گواہ ہیں کہ اتباع شریعت پر اس سختی سے کار بند تھے کہ وہ سنت نبویہ علیہ السلام کی چلتی پھرتی تصویر تھے۔ طبیعت میں سادگی و انکساری عاجزی اور درویشی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ بڑے بڑے عالم دین اور مشائخ وقت آپ کے شاگرد اور حلقہ ارادت میں شامل تھے۔ درس و تدریس کے علاوہ خانقاہی نظام جو اب پاکستان میں عنقا نظر آتا ہے آپ کے دم قدم سے قائم تھا۔ مدتوں کی اتباع شریعت و ریاضت نے آپ کو کندن بنا دیا تھا۔ بڑے صاحب الرائے ”قلندر ہر چہ گوید دیدہ گوید“ کے مصداق تھے۔ اللہ رب العزت نے آپ کو اپنی بے شمار دنیاوی نعمتوں سے سرفراز فرمایا تھا۔
آپ کا پیشہ زمیندارہ تھا۔ مگر اس کے باوصف زندگی بھر پکا مکان نہیں بنوایا۔ گیارہ چک چیچہ وطنی میں رہائشی مکان کے ساتھ ملحق قرآنی مدرسہ آپ کی یادگار ہے۔ مکان کی طرح مدرسہ بھی کچا ہے۔ رحمت عالمﷺ کے فرمان کی روشنی میں کہ سب سے برا مال وہ ہے جو تعمیر بے جا پر خرچ ہو۔ اس پر پوری طرح سختی سے کار بند رہے کہ اب تک اپنا مکان کچا ہے۔ مدرسہ کے ساتھ چند ستون مٹی
کے کھڑے کر کے ان پر سرکنڈوں کا چھپر ڈال دیا۔ گرمی وسردی میں یہی آپ کا گیسٹ ہاؤس اور خانقاہ تھی۔ اسے ایک مرید کی خوش فہمی پر مبنی نہ سمجھا جائے کہ اس دور میں اس درویش منش فرشتہ سیرت انسان کے اجلے کردار اور سنت نبوی ﷺ پر عمل کو دیکھ کر مولائے کریم کے فرشتے بھی رشک کرتے ہوں گے۔ کون نہیں جانتا کہ حضرت علامہ انور شاہ کشمیریؒ اور پھر ان کی وفات کے بعد حضرت شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ ختم نبوت کے محاذ کے تکوینی طور پر انچارج تھے۔ آپ کو ہر دو حضرات سے نسبت شاگردی و بیعت حاصل تھی۔ آپ نے بھی ختم نبوت کے محاذ پر کام کرنے والے لوگوں کی جس طرح سرپرستی فرمائی وہ آپ ہی کا حصہ ہے۔ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان آپ کی وفات سے اپنے ایک مربی و محسن اور سر پرست سے محروم ہوگئی۔
حضرت مجاہد ملت مولانا محمد علی جالندھریؒ کی وفات کے بعد ملتان شہر مجلس کی مرکزی مجلس شوریٰ کا پہلا اجلاس تھا۔ اس میں مولانا حبیب الرحمان لدھیانویؒ کے فرزند ارجمند حضرت مولانا انیس الرحمان لدھیانویؒ کی تحریک پر مجلس شوریٰ نے پاس کیا کہ مبلغین حضرات اپنی اصلاح کے لئے حضرت رائے پوریؒ کی خدمت میں چک گیارہ چیچہ وطنی سے رابطہ رکھیں۔ اس فیصلہ نے فقیر کو آپ کا غلام بے دام بنا دیا۔ پہلی بار حضرت مولانا محمد شریف جالندھریؒ کا رقعہ لے کر حضرت اقدس کی خدمت میں حاضر ہوا۔ مولانا محمد شریف جالندھریؒ کے عظیم احسانات میں سے سب سے بڑا احسان یہ ہے کہ انہوں نے ایک ولی اللہ سے ملاقات کے لئے رہنمائی فرمائی۔ فقیر پہلی بار حاضر ہوا۔ واپسی پر مولانا محمد شریفؒ نے پوچھا کہ بیعت! میں نے عرض کی ہوگئی۔ فرمایا کوئی قلبی کیفیت! میں نے عرض کیا کہ جب تک حضرت شیخ کی مجلس میں رہا۔ دل میں اللہ رب العزت کی یاد کے علاوہ اور کچھ نہ رہا۔ انہوں نے فرمایا کہ یہی ایک کامل کی نشانی ہے کہ اس کی مجلس دل کی دنیا کو خداوند کریم کی یاد کا گہوارہ بنا دے۔ فقیر اس لحاظ سے بڑا ہی خوش نصیب ہے کہ حضرت اقدس کی بے پناہ محبتوں کی نعمت اسے حاصل رہی اور اس لحاظ سے بڑا ہی بد نصیب ہے کہ ان کی محبتوں اور شفقت سے فائدہ حاصل نہ کر سکا۔ ”ہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیں‘‘ اپنی بد نصیبی کا جتنا
ماتم کروں کم ہے۔ کہ ان کے کرم سے کما حقہ فائدہ حاصل نہ کرسکا۔
آپ متواتر تین سال تک عیدالفطر (چناب نگر ربوہ) کی مسجد محمدیہ میں ادا فرمایا کرتے تھے۔ عید سے فراغت کے بعد مسلم کالونی کے مدرسہ ومسجد میں تشریف لاتے۔ ان کی عید کے روز تشریف آوری سے ہماری دو عیدیں جمع ہو جاتیں۔ جب کبھی حاضری کا اتفاق ہوتا تفصیل سے محاذ ختم نبوت کے حالات و واقعات سنتے ۔ دعائیں دیتے۔ اللہ رب العزت آپ کی قبر پر اپنی رحمتوں کی بارش نازل فرمائے۔ آمین!
آپ کی وفات سے ختم نبوت کے محاذ پر کام کرنے والے لوگ آپ کی مخلصانہ دعاؤں سے محروم ہوگئے ۔ مجھے یاد ہے کہ حضرت مولانا محمد انوریؒ کی وفات پر حضرت مولانا تاج محمودؒ بہت ہی زیادہ غمگین ہوئے۔ حضرت مولانا محمد شریف جالندھریؒ کے سوال کے جواب پر حضرت مولانا تاج محمودؒ نے فرمایا کہ مولانا! آپ کو معلوم نہیں کہ جب ہم لوگ سو جاتے ہیں تو کتنے نیک دل لوگوں کی دعائیں ہمارا پہرہ دیتی ہیں۔ بلاشبہ حضرت اقدس کا وجود ان قدسی صفت لوگوں میں سے تھا جن کی دعاؤں اور وجود مسعود سے امت مسلمہ کی بے شمار نفع وسود مندی کی باتیں وابستہ تھیں۔
اس سال عید الفطر کی عید آپ نے حضرت مولانا تاج محمودؒ کی مسجد میں ادا فرمائی ۔ مولانا مرحوم کی وفات کے بعد یہ پہلی عید تھی۔ اس لئے آپ نے اپنے مخلص ورکروں اور حضرت مولانا مرحوم کی اولاد اور ارادت مندوں سے شفقت فرمائی کہ آپ کے تشریف لانے سے بہت ہی زیادہ حوصلہ افزائی ہوئی۔ مولانا مرحوم کے صاحبزادہ طارق محمود نے حضرت سے درخواست کی کہ آپ مولانا تاج محمودؒ کی بیٹھک میں تشریف لے چلیں۔ فرمایا نہیں۔ میں مولانا کے پاس ہی بیٹھوں گا۔ یہ فرما کر حضرت مولانا تاج محمودؒ کی قبر مبارک پر تشریف لائے۔ دیر تک کچھ پڑھتے رہے۔ مراقبہ کی حالت آپ پر طاری تھی مگر کیا مجال ہے کہ کسی کو کچھ محسوس ہو کہ آپ پر کیا کیفیت طاری ہے۔ کسی نے کیا اچھا کہا ہے کہ خانوادہ رائے پور دریا ہی نہیں سمندر پی جاتے ہیں مگر ڈکار تک نہیں لیتے۔ یعنی صاحب کرامت وکشف ہونے کے باوجود اخفاء اتنا ہوتا ہے کہ کیا مجال ہے
کہ کسی کو کچھ علم ہو کہ یہ بھی کچھ ہیں۔ دعا فرمائی اور چل دیئے۔ بعد میں فقیر اپنے گرامی قدر مخدوم چوہدری محمد اقبال کے ہمراہ حضرت کی رہائش گاہ پر حاضر ہوا۔ دست بوسی کے بعد بیٹھتے ہی میرے دل میں خیال آیا کہ حضرت سے پوچھوں کہ میرے محسن مولانا تاج محمود کا کیا حال ہے۔ حضرت کا احترام اور مزاج مانع رہا۔ مگر دل میں یہ خیال بار آئے کہ پوچھ لینے میں کیا حرج ہے۔ میری اس قلبی کیفیت کو اللہ رب العزت نے آپ پر منکشف فرما دیا۔ فوراً میری طرف نظر شفقت فرمائی اور فرمایا کہ : ”گھر بنا بلبل کا باغ میں‘‘ مجھے بہت زیادہ خوشی ہوئی۔ ایک حضرت مولانا تاج محمود کی بابت یہ خوشخبری اور دوسری یہ کہ مجھے میرے سوال کا بن پوچھے جواب مل گیا۔
اس قسم کی بیسوں باتیں لکھی جاسکتی ہیں۔ مگر حضرت کا اتباع سنت نبوی پر کار بند رہنا اتنی بڑی ولایت ہے کہ اس کی اب نظیر ملنا مشکل ہے۔ آپ جناب رانا نصر اللہ خاں کے ہاں فیصل آباد میں آپ ہر سال رمضان شریف گزارتے تھے۔ رانا صاحب نے پچاس سالہ خدمت سے حضرت اقدس کو اتنا خوش کیا کہ اس پر جتنا بھی رانا صاحب کو خراج تحسین پیش کیا جائے کم ہے۔ ان کی خوش بختی کی انتہا ہے کہ آپ کا وصال بھی ان کے گھر ہوا۔ رمضان المبارک کے تذکرہ سے بات یاد آئی کہ ایک دفعہ حضرت اقدس مولانا محمد زکریا کاندھلویؒ نے فیصل آباد میں رمضان شریف گزارا۔ حضرت مولانا عبد العزیزؒ ان سے ملنے کے لئے دو چار بار تشریف لے گئے۔ حضرت شیخ الحدیث نے فرمایا مولانا آپ کے احترام و مقام کا تقاضا یہ ہے کہ میں آپ سے ملنے کے لئے حاضر ہوا کروں۔ مگر میری بیماری کا آپ کو علم ہے کہ چل نہیں سکتا۔ اس لئے آپ بار بار تشریف لا کر مجھے زیر بار نہ کیا کریں۔
آپ کی ایک نماز جنازہ فیصل آباد میں حضرت مفتی زین العابدینؒ نے پڑھائی اور چیچہ وطنی میں حضرت مولانا عبد العلیمؒ نے پڑھائی۔ آپ کی حسب خواہش عام مقابر مسلمین میں دفن کیا گیا۔ اللہ رب العزت آپ کی قبر مبارک بقعہ نور بنائے ۔ آمین !
(لولاک ٣٠ نومبر ١٩٨٤ء)
١٣...... جناب حافظ حسام الدینؒ
وفات ...... فروری ١٩٨٥ء
لیجئے حضرت حافظ حسام الدینؒ عالم فانی کو سدھار گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون! حافظ صاحب مرحوم حضرت مولانا خیر محمد جالندھریؒ کے مرید تھے۔ زندگی بھر تواضع وانکساری کی مثال بنے رہے۔ کبھی عجب وتکبر نام کی کوئی چیز ان کے قریب نہیں پھٹکنے پائی۔ قرآن مجید کے مثالی حافظ تھے۔ جوانی میں جب اپنے ذوق میں قرآن مجید کی تلاوت کرتے تو گرد و پیش کے ماحول کو ساکت و جامد کر دیتے تھے۔ تمام اکابرین امت سے ان کے مثالی تعلقات تھے۔ مدرسہ احیاء العلوم ماموں کانجن کے بانی و مہتمم تھے۔ خوش حالی وتنگی میں مدرسہ کے نظام کو بڑے احسن طریق پر چلاتے رہے۔ مدرسہ کے کئی کمرے کتب خانہ مہمان خانہ درس گاہیں دارالقرآن اور دارالاہتمام بڑی جانفشانی سے تعمیر کیں۔ عمر بھر مدرسہ کی مسجد میں خطبہ جمعہ دیتے رہے۔ عمر کے آخری حصہ میں شہر سے باہر مدرسہ کی ایک دوسری شاخ قائم کی جس میں حفظ قرآن کا اہتمام کیا۔ بے شمار حفاظ ان کے مدرسہ سے فارغ ہوئے۔ موقوف علیہ تک کتب ان کے مدرسہ میں پڑھائی جاتی ہیں۔ مدرسہ کا سالانہ جلسہ منعقد کرتے وقت بڑے بڑے بزرگ رہنما اپنے وقت کے جید علماء کرام کو مدعو کرتے۔ اس طرح علاقہ میں وعظ وتبلیغ وکلمہ حق کی بہترین خدمت سرانجام دیتے۔ سیاسی مسلک اعتدال پر ہمیشہ گامزن رہے۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کا ہمیشہ ساتھ دیا۔ دینی جماعتوں کے ساتھ محبت ومشفقانہ برتاؤ کرتے۔ ایسی اجلی سیرت کے لوگ اس مادی دور میں عنقاء ہیں۔ ان کا وجود غنیمت تھا۔ شکل و شباہت، وضع قطع اور عجز وانکساری کو دیکھ کر ایمان تازہ ہو جاتا تھا۔ ان کا ہر اٹھنے والا قدم شریعت محمدی کی تابعداری میں ہوتا تھا۔ ان کی وفات سے ایک بڑے فقیر بزرگ اللہ والے کے سایہ سے ہم محروم ہو گئے۔
سب سے زیادہ باعث خوشی یہ امر ہے کہ حافظ صاحبؒ کی وفات کے بعد آپ کے شاگردوں و خدام نے ان کو مدرسہ میں دفن کرنا چاہا۔ مگر آپ کے صاحبزادہ مولانا ضیاء الدین نے ان کو عامۃ المسلمین کے قبرستان میں دفن کر کے مرحوم کی ایک خواہش کو پورا کیا۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ حضرت مرحوم کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے۔ آمین!
(لولاک ١٥ فروری ١٩٨٥ء)
١٤...... حضرت مولانا محمد شریف جالندھریؒ
وفات......١٤ فروری ١٩٨٥ء
حضرت مولانا محمد شریف جالندھریؒ آرائیں برادری سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ تحصیل نکودر ضلع جالندھر میں حافظ نور محمد صاحبؒ کے گھر پیدا ہوئے۔ تعلیم کی تکمیل برصغیر کی معروف اسلامی یونیورسٹی قاہرہ الہند دیوبند میں کی۔ آپ شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی صاحبؒ کے شاگرد تھے۔ ادب حضرت مولانا اعزاز علی مرحوم سے پڑھا۔ تفسیر میں ان کے استاد حضرت مولانا شمس الحق افغانیؒ تھے۔
تعلیم سے فراغت کے بعد آپ نے مقامی سیاسی و معاشرتی زندگی میں قدم رکھا۔ مجلس احرار الاسلام کے امیدوار اسمبلی حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ کی الیکشن مہم میں حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے ساتھ کام کیا یہیں سے آپ کا تعلق مجلس احرار سے قائم ہوا۔
تقسیم کے بعد کبیر والا ضلع ملتان کے قریب آٹھ کسی گاؤں میں آباد ہوئے۔ ١٩٥٣ء کی تحریک ختم نبوت میں گرفتار ہوئے۔ قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ جب حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ خطیب پاکستان حضرت مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ مناظر اسلام حضرت مولانا لال حسین اخترؒ فاتح قادیان حضرت مولانا محمد حیاتؒ خطیب اسلام حضرت مولانا عبدالرحمان میانویؒ خطیب اہل سنت حضرت مولانا محمد شریف بہاولپوریؒ مجاہد ختم نبوت حضرت مولانا تاج محمودؒ ایسے قدوسی صفت مجاہدین نے مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کی بنیاد رکھی تو آپ ان میں نہ صرف شریک تھے۔ بلکہ مجلس کی سب سے پہلی بنیادی و اساسی کارروائی آپ نے لکھی۔ ان کی خوش بختی کا اندازہ فرمائیے کہ سب سے پہلی تحریر مجلس کے قیام کے وقت آپ نے لکھی۔ ١٩٧٤ء کی تحریک ختم نبوت کامیاب ہوئی تو خیر مقدمی قرارداد کے مرتب و محرر بھی آپ تھے۔
آپ نے مجلس کے قیام کے وقت جو اپنے بزرگوں سے عہد وفا قائم کیا تھا عمر بھر اسے نبھاتے رہے۔ حضرت امیر شریعتؒ مولانا قاضی احسان احمدؒ مولانا محمد علی جالندھریؒ مولانا لال
حسین اخترؒ کے عہد امارت میں آپ مجلس کے آفس سیکرٹری تھے۔ دفتر کی تمام تر ذمہ داری، امور عامہ، نگرانی، مقدمات، رابطہ، سب کچھ کے آپ ہی انچارج تھے۔ حضرت مولانا محمد یوسف بنوریؒ کے عہد امارت میں آپ مجلس کے سیکرٹری جنرل بنے۔ ٧٤ء کی تحریک ختم نبوت کے روح رواں تھے۔
اس تحریک میں آل پارٹیز مجلس عمل کے صدر مولانا محمد یوسف بنوریؒ، جنرل سیکرٹری مولانا محمود رضویؒ بنے تو آغا شورش کاشمیریؒ کی تحریک پر آپ جوائنٹ سیکرٹری منتخب ہوئے۔ آپ نے جس بیدار مغزی اور بے جگری سے تحریک کو اعتدال کی راہ پر قائم رکھا وہ آپ ہی کا حصہ ہے۔ تحریک ختم نبوت ٧٤ء میں مرکزی مجلس عمل کے تمام تر اخراجات مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے محفوظ بیت المال سے ادا کئے گئے۔ آپ نے جس طرح امانت و کمال کفایت شعاری کا ثبوت دیا اس کی ادنیٰ سی مثال یہ ہے کہ تحریک کے سلسلہ میں مجلس عمل کے صدر حضرت شیخ بنوریؒ نے اسلام آباد میں حضرت مفتی محمود مرحوم کے مشورے سے فوری ہنگامی میٹنگ طلب کی۔ مولانا محمد شریف جالندھریؒ کو لاہور دفتر میں فون پر میٹنگ میں شرکاء کے پہنچنے کا اہتمام کرنے کو کہا گیا۔ آپ نے تمام حضرات کے لئے عصر کے وقت ہوائی جہاز کی ٹکٹیں لیں۔ ان کو گھروں میں جا کر ٹکٹیں دیں۔ بقول سید مظفر علی شمسی مرحوم جب ہم دوسرے دن علی الصبح اسلام آباد ائیر پورٹ پر اترے تو مولانا محمد شریف جالندھریؒ سواری لئے ہمارے استقبال کے لئے موجود تھے۔ ہم حیران ہوئے کہ رات کو تو کوئی پرواز نہ تھی۔ شام کو مولانا لاہور میں ہم سے ملے۔ ہم سے پہلے کس طرح اسلام آباد پہنچ گئے؟۔ معلوم ہوا کہ حضرت مولانا مرحوم تمام حضرات کو ٹکٹیں دے کر خود ان سے پہلے رات ہی رات بس کے ذریعے سفر کر کے اسلام آباد پہنچ گئے۔
ان کی کفایت شعاری کا ایک اور واقعہ ملاحظہ ہو کہ ٢٨ دسمبر ٧٤ء کو بیمار ہو کر فیصل آباد کے ہسپتال میں داخل ہوئے۔ ٥ جنوری ٧٥ء کو ڈاکٹر صاحبان نے صحت یاب ہونے پر ہسپتال سے اجازت دے دی۔ آپ نے ملتان کے لئے سفر کرنا تھا۔ صاحبزادہ طارق محمود کے حکم پر فقیر نے چناب ایکسپریس سے ان کی اے سی میں سیٹیں بک کرا دیں۔ حضرت مولانا مرحوم کو جب ٹکٹ
پیش کیا سخت آزردہ خاطر ہوئے۔ فرمایا کہ آج میری زندگی کا پہلا سفر ہے جو اے سی میں آپ لوگ کرا رہے ہیں۔ ورنہ عمر بھر اے سی میں سفر نہیں کیا۔
اب آپ ان دو واقعات سے اندازہ لگالیں کہ کتنی اجلی سیرت کے یہ لوگ تھے۔ آپ کو اللہ رب العزت نے بے شمار خوبیوں سے نوازا تھا۔ ملنسار ہنس مکھ ہر ایک کے دکھ سکھ میں شریک ورکروں پر جان فدا کر دینے والے محسن، کسی ساتھی کارکن پر مشکل پڑے اس کے خانگی امور کیوں نہ ہوں اس کے کام کو اپنا کام سمجھ کر اخلاص کے ساتھ سرانجام دیتے تھے۔ عمر بھر غریبوں کا خیال رکھنے والے عجیب و غریب سماجی رہنما تھے۔
حلم بردباری تحمل مزاجی میں اپنی مثال آپ تھے۔ ہمیشہ دوسروں کی تیز و تند باتیں سنتے۔ مگر کیا مجال کہ کبھی پیشانی پر بل آئے۔ جماعتی رہنما کارکن اور مبلغین اپنے اپنے مزاج کے مطابق اختلاف رائے کرتے تھے۔ کیا مجال کہ کبھی غصے ہوئے ہوں۔ ہمیشہ خندہ پیشانی سے اختلاف رائے کو برداشت کرتے۔ فقیر نے بعض اوقات بدتمیزی کی حد تک ان سے اختلاف رائے کیا۔ مگر کروڑوں رحمتیں ہوں اس مرد قلندر پر ہمیشہ بچوں بیٹوں کی طرح شفقت و محبت و تربیت فرمائی۔
لکھنے کے دھنی تھے۔ پختہ تحریر پختہ فکر میں بے نظیر تھے۔ دریا کو کوزے میں بند کرنا آپ ہی کے قلم کے لئے شاید محاورہ واضع نے وضع کیا تھا۔ ہمیشہ مجلس کی سالانہ روئیداد کا مقدمہ لکھا کرتے تھے۔ سال بھر کے واقعات و حالات، آئندہ کے لئے لائحہ عمل، مسئلہ کی عظمت۔ غرضیکہ کوثر تسنیم سے دھلے ہوئے چند صفحات پر ایسا جامع مقدمہ لکھ دیتے کہ شاید دوسرا آدمی سینکڑوں صفحات لکھے تو بھی مولانا مرحوم کا مضمون اس پر بھاری ہو۔
حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ کا وجود مرزائیت کے لئے درہ عمرؓ تھا اور مجلس کے لئے ریڑھ کی ہڈی۔ آپ کی وفات حسرت آیات کے بعد مجلس کے نظم و نسق کو سنبھالنا تحریک کے درجہ حرارت میں کمی نہ آنے دینا یہ بنیادی تقاضا تھا جسے مولانا محمد شریف جالندھریؒ نے پورا کیا۔ ان کے اکابر نے جو چراغ جلایا مدھم نہ ہونے دیا۔ فوراً اشتہارات کا سلسلہ شروع کر دیا جامع مانع مختصر
فقرے جاندار مضمون پر مشتمل ان کے مرتب کردہ اشتہارات جونہی ملک کے کونہ کونہ میں در و دیوار پر لگتے دشمنوں کے حوصلے پست ہوتے۔ تحریک کے کارکنوں کی حوصلہ افزائی ہوتی۔ ان کی گرمجوشی کو قائم رکھنے میں مولانا مرحوم نے جتنا کام کیا اس پر جتنا بھی ان کو خراج تحسین پیش کیا جائے کم ہے۔
تحریر کی طرح تقریر کے بھی بادشاہ تھے نام و نمود کو زندگی بھر قریب نہیں پھٹکنے دیا۔ کبھی سٹیج پر تقریر کے لئے آگے نہیں بڑھے۔ ہمیشہ دوسروں کو آگے کرتے خود پیچھے رہتے۔ بنیاد کی اینٹ کی طرح خود چھپ کر ساری عمارت کا بوجھ سر پر اٹھائے رکھا۔ مگر جب کبھی کسی نے مجبور کر دیا تقریر کے لئے کھڑے ہو گئے تو ایسی تقریر کرتے کہ مولانا محمد علی جالندھری کی یاد تازہ کر دیتے۔ اسی طرح محسوس ہوتا جس طرح مولانا محمد علی جالندھری کی روح بول رہی ہے۔
محنت و کمال محنت میں ان کا ثانی کوئی نہیں تھا۔ مولانا محمد علی جالندھری کے بعد اگر کسی نے سب سے زیادہ مجلس کے مشن اور نظم و نسق کے لئے محنت کی ہے اور بھاگ دوڑ کر صبح و شام کا دور دراز سفر کیا ہے تو وہ آپ ہی کی ذات تھی۔
اخلاص وللہیت کا پیکر تھے۔ حضرت قطب الارشاد شاہ عبدالقادر رائے پوری کے خلیفہ مجاز حضرت مولانا عبدالعزیز صاحب المعروف حضرت جی گیارہ والے سے بیعت تھے۔ خود فرماتے تھے کہ جس دن بیعت کی اور شیخ نے جو وظیفہ بتایا زندگی بھر ناغہ نہیں ہوا۔ ذکر و فکر تہجد نیم شبانہ بارگاہ ایزدی میں عجز و نیاز کی دعائیں عابد و زاہد شب بیدار تھے۔ مجلس کو ہر محاذ پر اللہ رب العزت نے جن بے شمار کامیابیوں سے نوازا اور دشمن پسپا ہوا۔ یہ جہاں آپ کی محنت تھی وہاں آپ کے اخلاص وللہیت کو بھی دخل تھا۔
آپ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے آفس سیکرٹری سے جنرل سیکرٹری رہے ہیں۔ تحریک ختم نبوت ١٩٧٤ء کے جوائنٹ سیکرٹری رہے۔ ١٩٨٣ء میں آل پارٹیز مجلس عمل کا آپ کو کنوینئر بنایا گیا۔ ١٩٨٤ء کی آل پارٹیز مجلس عمل کے رابطہ سیکرٹری مقرر ہوئے۔ اندرون و بیرون ملک کے اکابر بزرگوں نے آپ کے اخلاص پر اعتماد کیا۔ آپ نے بھی خداداد صلاحیتوں سے ان
کے اعتماد کو ٹھیس نہیں پہنچنے دی۔
تحریک ختم نبوت ١٩٨٤ء میں ایک ایسا موقعہ آیا کہ اسلام آباد میں صدر مملکت جنرل محمد ضیاء الحقؒ سے آپ کی ملاقات ترمیمی آرڈیننس کے سلسلہ میں ضروری ہو گئی۔ کمال دیانت ملاحظہ ہو کہ فون کر کے ملاقات کے لئے حضرت الامیر مولانا خواجہ خان محمد صاحب مدظلہ سے اجازت طلب کی اور ملاقات کے بعد راتوں رات خانقاہ سراجیہ جا کر اس کی رپورٹ پیش کی۔ کبھی بھی اپنے اکابر کو اعتماد میں لئے بغیر کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ دوسرے میرے ایسے چھوٹے کارکن نے سینہ زوری کر کے کوئی کام کر دیا تو نہ صرف اس کی ذمہ داری قبول کرتے بلکہ چھوٹے کارکنوں کی طرف سے وکیل صفائی بن جاتے۔
چنیوٹ کانفرنس میں ایک دفعہ ایک صاحب کے باعث ہنگامہ آرائی میں فقیر نے عجلت میں چند فقرے کہہ دیئے جس سے فریق ثانی خاصا برہم ہوا۔ ان کا وفد حضرت الامیر سے ملنے کے لئے تشریف لایا۔ مولانا محمد شریف جالندھریؒ کوہ ہمالیہ کی طرح میری صفائی میں ڈٹ گئے۔ مجھے علم ہی نہیں ہوا اور انہوں نے میری صفائی میں تمام تر توانائیاں صرف کر دیں۔
حضرت مولانا تاج محمودؒ حضرت مولانا محمد شریف جالندھریؒ اکابر کی میراث کے وارث تھے۔ ان ہی کے وجود سے آبروئے اکابر کا بھرم قائم تھا۔ ان کی وفات نے دو عظیم محسنوں کو ہم سے چھین لیا جن کا بدل اب پوری کائنات میں باوجود تلاش و بسیار کے ملنا محال و مشکل ہے۔ مولانا محمد شریف جالندھریؒ کی وفات نے کمر توڑ دی۔ حضرت مولانا مرحوم کی اولاد ہی نہیں بلکہ پوری مجلس تعزیت کی مستحق ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی لغزشوں سے درگزر فرمائیں۔ ان کی قبر کو بقعہ نور بنا دیں اور ان کا صدقہ جاریہ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان ہمیشہ تا ابدالآباد قائم و دائم رہے۔ اللہ رب العزت اسے دشمنوں کے شر حاسدین کے حسد اور ہر بری نگاہ سے محفوظ و مامون رکھے۔ جملہ احباب کارکنوں مبلغین اور ان کی اولاد کو ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!
(لولاک ٢١ مارچ ١٩٨٥ء)
١٥....... حضرت مولانا محمد عبد اللہ رائے پوریؒ
وفات....... ١٥ جون ١٩٨٥ء
٢٦ رمضان ١٤٠٥ھ غروب سورج کے ساتھ علم و عمل دیانت و تقویٰ اخلاص و للہیت کا آفتاب بھی غروب ہو گیا۔ شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد عبداللہ رائے پوریؒ جامعہ رشیدیہ ساہیوال کا سانحہ ارتحال بھلانے سے بھی نہ بھلایا جاسکے گا۔ ان کی ذات گرامی اللہ رب العزت کی نشانیوں کا مجموعہ تھی۔ وہ آیۃ من آیات اللہ تھے۔ ان سے خانقاہی آبرو قائم تھی۔ ان کو دیکھ کر عظمت اسلاف سمجھ میں آجاتی تھی۔ ان کی وفات علم و عمل کی وفات ہے۔ زہد و تقویٰ کی وفات ہے۔ ان کے وجود سے جو خیر و برکت وابستہ تھی۔ اس سے پورا ملک محروم ہوگیا۔ وہ ایک جہان کو سونا کر گئے۔
وہ ٨ رمضان المبارک ١٣٣٤ھ کو پیدا ہوئے اور ٢٧ رمضان المبارک ١٤٠٥ھ کی شب کا آغاز ہوتے ہی انتقال کر گئے۔ عجیب اتفاق ہے کہ آپ کے والد گرامی حضرت مولانا مفتی فقیر اللہؒ جو حضرت شیخ الہند کے تلمیذ اور مجاز تھے۔ ان کا بھی رمضان شریف کے آخری عشرہ ٢١ رمضان المبارک جو یوم شہادت حضرت علیؓ ہے کو انتقال ہوا تھا۔ آپ نے حفظ قرآن و ابتدائی کتب اپنے والد گرامی حضرت مولانا مفتی فقیر اللہؒ سے پڑھیں تھیں۔ تکمیل حدیث شریف میں آپ کے استاد حضرت مولانا خیر محمد جالندھریؒ تھے۔ بعد میں حضرت مولانا خیر محمد جالندھریؒ آپ کو شیخ العرب والعجم حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ اور شیخ الاسلام حضرت مولانا شبیر احمد عثمانیؒ کی خدمت میں لے گئے۔ انہوں نے بھی آپ کو حدیث کی اجازت سے سرفراز فرمایا۔ اسی طرح شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریاؒ نے بھی آپ کو حدیث کی اجازت مرحمت فرمائی تھی۔
فراغت کے بعد آپ نے اپنے استاد محترم حضرت مولانا خیر محمد جالندھریؒ کے حکم پر مدرسہ فیض محمدی جالندھر میں متواتر بیس سال کتب پڑھائیں۔ ایک سال رائے پور اور تقسیم کے وقت دو سال مدرسہ قاسم العلوم فقیر والی میں بھی آپ نے پڑھایا۔ ١٩٤٩ء میں جب جامعہ رشیدیہ ساہیوال میں تعلیم شروع ہوئی تو آپ بطور شیخ الجامعہ کے یہاں تشریف لائے اور پھر تادم زیست
اس مسند کو عزت بخشی۔ اس دوران میں ایک سال کے لئے اپنے استاذ محترم حضرت مولانا خیر محمد جالندھریؒ کے حکم پر آپ خیر المدارس ملتان تشریف لے گئے۔ مولانا خیر محمدؒ کی خواہش یہ تھی کہ آپ مشکوٰۃ شریف پڑھادیں۔
- ١...... ایک تو آپ کی مشکوٰۃ شریف کی تعلیم ضرب المثل تھی۔
- ٢...... آپ کا حدیث پڑھانے میں ہمیشہ مزاج یہ رہا کہ اپنی تحقیق کی بجائے
سلف صالحین کی تحقیق پر انحصار فرمائے۔
- ٣...... طبیعت میں سادگی عاجزی انکساری تواضع نیکی اخلاص کوٹ کوٹ کر بھرا
ہوا تھا۔
غرضیکہ ایک حدیث کے استاد میں جو صفات محمودہ ہونی چاہئیں۔ وہ آپ میں بدرجہ اتم موجود تھیں۔ اس لئے آپ کے حدیث پڑھانے کے اثرات طلباء کے قلب و جگر پر بھی وارد ہوتے۔ یہی وہ خصوصیات تھیں جن کے باعث آپ کے استاد محترم مولانا خیر محمد مرحوم آپ پر بہت زیادہ اعتماد کیا کرتے تھے۔ کیونکہ حضرت مولانا خیر محمد جالندھریؒ کا استاد حدیث کے متعلق یہی ذوق تھا اور یہ سب کچھ عطیہ خداوندی اور شیخ وقت حضرت تھانویؒ کی توجہات و تربیت کا نتیجہ تھا۔ حضرت مولانا خیر محمد جالندھریؒ شیخ وقت حضرت تھانویؒ کے اجل خلفاء میں سے تھے۔
مولانا خیر محمد جالندھریؒ کے ذوق حدیث کے متعلق ایک واقعہ مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری سیکرٹری جنرل مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان نے سنایا کہ استاد الحدیث حضرت مولانا محمد شریف کشمیریؒ اسباق میں ہمیشہ طلباء کو خوش رکھا کرتے تھے۔ آپ علمی لطائف و حکایات سے دوران اسباق طلباء کو چاق و چوبند رکھتے۔ کیا مجال ہے کہ آپ کے اسباق کے دوران کسی طالب علم کو کوئی نیند یا اونگھ آئے۔ ایک دفعہ حضرت مولانا کشمیریؒ نے درس بخاری کے دوران کوئی علمی لطیفہ سنایا جس سے طالب علموں کی ہنسی نکل گئی۔ مولانا خیر محمد جالندھریؒ دارالحدیث کے قریب سے گزرے۔ طلبہ کو ہنستا دیکھ کر ان کو ایک چوٹ سی لگی۔ حضرت مولانا کشمیریؒ کو بعد میں بلا کر فرمایا کہ مولانا حدیث شریف کے سبق کے دوران ایک لطیفہ چاہے وہ علمی کیوں نہ ہو جس سے طلبہ سبق
حدیث کے دوران قہقہے مارنے لگ جائیں یہ نہ مجھے پسند اور نہ برداشت۔ چنانچہ پھر کبھی ایسا نہ ہوا تو مولانا خیر محمد صاحب کا یہ ذوق مولانا محمد عبداللہ صاحب کو جامعہ رشیدیہ سے خیرالمدارس لایا۔ آپ نے مشکوٰۃ شریف پڑھائی۔
اسی طرح ایک دفعہ حج پر جاتے ہوئے مولانا خیر محمد صاحبؒ نے مولانا عبداللہ صاحبؒ کو جامعہ رشیدیہ سے خیر المدارس بلوا کر اپنی تمام تر تدریسی و انتظامی ذمہ داریاں ان کے سپرد کر دیں۔ یوں شیخ و استاد نے اپنی حیات میں اپنی مسند کا ان کو وارث قرار دے کر اس پر براجمان کر دیا اور سب کچھ ان کے سپرد کر کے اعتماد کا لازوال سرٹیفکیٹ دے دیا۔ تمام مدرسہ کے مدرسین وعملہ کو بلا کر فرمایا کہ میری عدم موجودگی میں مولانا محمد عبداللہ صاحب کو خیر محمد ہی سمجھا جائے۔
مولانا محمد عبداللہ صاحبؒ کو ویسے بھی قدرت نے حدیث وفقہ میں خصوصی مہارت نصیب فرمائی تھی۔ اس اعتبار سے بھی وہ بڑے بخت ور تھے کہ بہت سے حدیث وفقہ پڑھانے والے آپ کے شاگرد ہیں۔ خیر المدارس ملتان کے استاد حدیث مولانا محمد صدیق اور جامعہ امدادیہ فیصل آباد کے شیخ الحدیث مولانا نذیر احمد حدیث شریف کی کئی کتابوں کے مترجم مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ، مولانا عبدالکریم کلاچیؒ، مولانا قاضی عبداللطیف کلاچیؒ، خیر المدارس کے مفتی مولانا عبدالستارؒ علوم شرعیہ کے استاد حدیث مولانا عبدالمجید، تبلیغ و رشد میں مولانا سید عطاء المنعمؒ، مولانا مفتی زین العابدینؒ، مولانا محمد ضیاء القاسمیؒ، مولانا محمد سلیمان طارقؒ، مولانا عبداللطیف انور، مولانا حبیب اللہؒ، قاری لطف اللہؒ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے سیکرٹری جنرل مولانا عزیز الرحمن جالندھری، مولانا علامہ غلام رسولؒ، مولانا میر زاہد جڑانوالہ۔ یہ تمام حضرات اور ان جیسے ہزاروں شاگرد رشید آپ کا صدقہ جاریہ ہیں۔ آپ نے پچپن سال درس وتدریس، قرآن وحدیث وفقہ کی تعلیم میں صرف فرمائے۔ گویا نصف صدی سے بھی زیادہ عرصہ آپ تشنگان علم کو حدیث نبوی ﷺ کے چشمہ صافی سے سیراب فرماتے رہے
تحریک ختم نبوت ١٩٥٣ء میں نو ماہ کے لئے جیل چلے گئے۔ منیر انکوائری رپورٹ گواہ ہے کہ تحریک ختم نبوت کے سلسلہ میں آپ کی کیا گراں قدر خدمات ہیں؟۔ واپسی پر مدرسہ نے ٩ ماہ کی تنخواہ آپ کو دی۔ آپ نے استاد محترم مولانا خیر محمد صاحبؒ کو خط لکھا کہ میں نے گرفتاری کے
دوران نیت کر لی تھی کہ اب میں مدرسہ کا مدرس نہیں رہا۔ نہ معلوم کب رہائی ہوگی۔ کیا حالات ہوں گے۔ مدرسہ کی کیا پوزیشن ہوگی۔ رہائی کے بعد آئندہ کے لئے نیا فیصلہ کیا جائے گا۔ اب ٩ ماہ کے بعد رہا ہو کر آیا تو مدرسہ والے سابقہ تدریس کی جگہ پر مجھے انہوں نے نہ صرف بحال کر دیا ہے۔ بلکہ ٩ مہینے کی سابقہ تنخواہ بھی دے دی۔ اب مجھے کیا کرنا چاہئے۔ مولانا خیر محمد صاحبؒ نے لکھا کہ آپ نے جو نیت کی تھی اس پر عمل کریں۔ چنانچہ تمام کی تمام تنخواہ واپس مدرسہ کے بیت المال میں جمع کرادی۔
آپ کے تقویٰ کا یہ عالم تھا کہ زندگی بھر مدرسہ کے قلم کی سیاہی سے ذاتی خط نہیں لکھا۔ جب کوئی تعلق والا مدرسہ کے اوقاتِ تعلیم کے دوران آجاتا اور اس سے ملاقات ناگزیر ہوتی تو ملاقات کے ابتداء واختتام کو نوٹ کر کے مہینہ کے آخر پر منٹوں سیکنڈوں اور گھنٹوں تک کو شمار کر کے تنخواہ کٹوا دیتے۔ مدرسہ کا اگر کوئی معزز مہمان آجاتا جس کے ساتھ مدرسہ میں کھانا اکٹھا کھانا ضروری ہوجاتا تو اس کھانے کے آپ پیسے جمع کرا دیتے۔ کسی تبلیغ کے لئے تشریف لے جاتے تو مدرسہ سے ان ایام کی تنخواہ نہیں لیتے تھے۔ تبلیغی اسفار میں بھی صرف کرایہ پر اکتفا کرتے۔
مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ، مناظر اسلام حضرت مولانا لال حسین اخترؒ ، حضرت مولانا محمد حیاتؒ فاتح قادیان، حضرت مولانا خان محمد صاحب مدظلہ کے (ابتدائی تین سال میں) آپ متواتر بیس سال مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے نائب امیر رہے ہیں۔ اس اخلاص و دیانت کے پہاڑ کی وفات پر آج جتنا غم کیا جائے کم ہے۔ تحریک ختم نبوت کے لئے نیم شبانہ دعائیں کرنے والا ایک درویش منش فرشتہ سیرت انسان جو آیت من آیات اللہ تھا کے انتقال سے ہم لوگ محروم ہو گئے۔ آپ تحریک کے محاذ پر اس طرح توجہ فرمایا کرتے تھے کہ ربوہ میں بارہا عید وکانفرنس، جمعہ کے موقع پر مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کی جامع مسجد محمدیہ ریلوے اسٹیشن و جامع مسجد و مدرسہ ختم نبوت مسلم کالونی میں تشریف لاتے۔ جب کبھی ملنے کے لئے حاضری ہوئی مجلس کے کام کی جزیات تک تفصیل سے پوچھتے۔ اپنی بزرگانہ محبتوں و شفقتوں سے سرفراز فرماتے تھے۔ ایک تنظیمی سفر کے دوران پچھلے دنوں مکرم و محترم مولانا عزیز الرحمن جالندھری کے ہمراہ ان کے مدرسہ میں ملنا ہوا۔ صاحب فراش تھے مگر زبان پر ذکر خداوندی جاری تھا۔
اخبار کے مطالعہ سے بوجہ فوٹو کے کنی کتراتے تھے۔ بقول مولانا حبیب اللہ صاحب
ساہیوال کے ہفت روزہ ”لولاک“ کے لئے پورا ہفتہ سراپا انتظار رہتے کہ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کی کارگزاری سن کر آپ کو بہت ہی اطمینان قلب حاصل ہوتا تھا۔ مولانا کے صاحبزادے مولانا مطیع اللہ صاحب نے فرمایا کہ آپ پر آخری تین دن استغراق کی کیفیت طاری رہی۔ آخری وقت میں آنکھ کھولی۔ آسمان کی طرف دیکھا زور زور سے زبان پر جاری تھا اللہ ! اللہ ! اللہ ! یہ کہتے ہوئے گردن کو جھکا دیا۔ بیت اللہ کی طرف رخ کیا اور ہمیشہ کے لئے آنکھیں بند کرلیں۔ ایسی ایمان و سلامتی کی موت جسے حدیث شریف میں خاتمہ بالخیر سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ پر کیوں نہ فخر کیا جائے۔ ٢٧ رمضان المبارک کی رات بوقت مغرب انتقال ٢٧ رمضان المبارک کی صبح ٨ بجے جنازہ جو مولانا ولی محمدؒ ہڑپہ والوں نے پڑھایا۔ علماء ومشائخ نے کثرت سے شرکت کی اور پھر اپنے والدین و بھائی قاری لطیف اللہ شہید کے سرہانے قبرستان میں ہمیشہ کے لئے رحمت خداوندی کے سپرد کر دیئے گئے۔
پچھلے دنوں حضرت اقدس مولانا عبدالعزیز صاحب چک نمبر ١١ والوں کا انتقال ہوا۔ (اللہ تعالیٰ ان کی قبر کو بقعہء نور بنائیں) ان کے جنازے سے فراغت کے بعد مجلس کی ایک میٹنگ کے سلسلہ میں ساہیوال جانا ہوا۔ آپ سے ملاقات کی۔ آپ بلک بلک کر رورہے تھے۔ فرماتے تھے کہ حضرت جی گیارہ والے میرے آخری استاد تھے جن کے سایہ عاطفت سے بھی محروم ہوگیا۔ ان کو بچوں کی طرح آہ و زاری سے روتا دیکھ کر حیرت کی انتہا نہ رہی کہ ان کو اپنے اساتذہ سے کتنی محبت تھی۔ فقیر مجلس کے پروگراموں میں شرکت کے لئے بلوچستان کے سفر پر تھا۔ واپسی پر حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری نے یہ جانکاہ خبر سنائی۔ زمین پاؤں سے نکل گئی۔ دوسرے روز مولانا کے ہمراہ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کی طرف سے تعزیت کے لئے ساہیوال حاضری ہوئی۔ جامعہ رشیدیہ کے درودیوار غم میں مرجھائے ہوئے۔ آپ کے صاحبزادے مولانا مطیع اللہ غم سے خمیدہ کمر، آپ کے بھائی مولانا حبیب اللہ جو صدمات سہہ سہہ کر صدمات و غموں کا مجموعہ بن گئے ان سے ملاقات و تعزیت کی۔ دعا ہے کہ اللہ رب العزت ان کے جملہ صدقات جاریہ، اولاد صالحہ، شاگردان رشید جامعہ رشیدیہ، خیر المدارس مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کو ان کے نقش قدم پر چل کر دنیا وعقبی کی نعمتوں کا مستحق بنائے پسماندگان کو صبر جمیل نصیب ہو اور پروردگار عالم ان کی تربت پر رحمتوں کی موسلا دھار بارش فرمائے۔
(لولاک ٢٨ جون ١٩٨٥ء)
١٦......حضرت مولانا ابو عبیدہ نظام الدینؒ
وفات......٥ جولائی ١٩٨٥ء
ہمارے ممدوح جناب ابو عبیدہ نظام الدین مرحوم ١٨٩٦ء میں بہور چو ضلع گجرات پنجاب پاکستان میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد گرامی کا نام بھاگ دین تھا۔ آپ کا تعلق بٹ کشمیری قوم سے تھا۔ ابتدائی تعلیم سے لے کر ایف اے تک اپنے آبائی گاؤں اور آبائی ضلع گجرات میں حاصل کی۔ آپ نے پرائیویٹ طور پر بی اے کیا اور پھر ایم اے بھی کیا ۔ آپ کے بڑے بھائی فوج میں ملازم تھے اور کوہاٹ چھاؤنی میں تعینات تھے ۔ انہوں نے اپنے چھوٹے بھائی نظام الدین کو کوہاٹ بلا بھیجا ۔ تعلیم کی تکمیل کے بعد ١٩٢٣ء میں حضرت مولانا نظام الدین مرحوم کوہاٹ اسلامیہ ہائی اسکول میں سائنس ٹیچر مقرر ہوگئے ۔ آپ نے اپنی بقیہ زندگی کا اکثر حصہ کوہاٹ میں گزارا ۔ رہائش گاہ اور زمین کی دیکھ بھال کے علاوہ عزیز واقارب کی خوشی وغمی میں شرکت کے لئے سال میں ایک دو بار آپ بہور چو تشریف لاتے تھے ۔ قدرت نے آپ کو سات بیٹے اور ایک بیٹی اولاد صالح نصیب فرمائی ۔ تمام اولاد کو آپ نے اعلیٰ تعلیم دلائی۔ تمام اولاد اعلیٰ عہدوں پر فائز رہی ۔ اکثر بیٹے فوج میں ملازم ہوئے اور اعلیٰ عہدوں پر ترقی پائی ۔ اس وقت مرحوم کی تمام اولاد بحمد اللہ حیات ہے اور پاکستان ، کینیڈا اور برطانیہ میں مقیم ہے ۔ اولاد کے نام درج ذیل ہیں:
- ١...... میجر قاسم عبید اللہ ۔ یہ کینیڈا میں مقیم ہیں ۔
- ٢...... عنایت اللہ برق ۔ آپ علیگڑھ کالج کے سند یافتہ ہیں ۔ واپڈا کے جنرل
منیجر کے عہدے سے ریٹائر ہوئے ۔ آج کل لاہور میں مقیم ہیں ۔
- ٣...... ڈاکٹر مفتی کفایت اللہ ۔ آپ راولپنڈی میں مقیم ہیں ۔ اپنا کلینک ہے ۔
میڈیکل کے کئی شعبوں میں اسپیشلسٹ ہیں ۔ یہ ١٥ جولائی ١٩٢٩ء میں پیدا ہوئے ۔ ان دنوں جناب ابو عبیدہ مولانا نظام الدین مرحوم فقیہ ہند حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ دہلویؒ سے ملاقات کے لئے دہلی گئے ہوئے تھے ۔ اس دوران بیٹے کی ولادت ہوئی تو اسی نسبت سے آپ نے بیٹے کا نام مفتی کفایت اللہ رکھا ۔
- ٤...... بریگیڈئیر خالد سیف اللہ۔ یہ ریٹائرڈ بریگیڈئیر ہیں۔ آج کل اسلام آباد
میں مقیم ہیں۔
- ٥...... انور صبغۃ اللہ۔ یہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔
- ٦...... عثمان حفیظ اللہ۔ یہ برطانیہ میں مقیم ہیں۔
- ٧...... میجر شبیر احمد ثانی۔ یہ ریٹائرڈ میجر ہیں۔ اسلام آباد میں مقیم ہیں۔
- ٨...... بیٹی کا نام فوزیہ خانم ایم اے ہے۔
مولانا مرحوم نے اپنے بڑے صاحبزادے عبید اللہ کے نام پر اپنی کنیت ابو عبیدہ اختیار کی اور یوں ابو عبیدہ نظام الدین بی اے کوہاٹی کے نام سے متعارف ہوئے۔
حکیم الامت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانویؒ، جناب علامہ سید سلیمان ندویؒ اور حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ دہلویؒ سے تعلق ارادت تھا۔ ان اکابر کی صحبتوں نے آپ میں دینی کتب کے مطالعہ کا ذوق پیدا کیا۔ ہر وقت دینی کتب کا مطالعہ آپ کی زندگی کا مشغلہ تھا۔ ہندوستان بھر میں آپ نے اہل باطل سے مناظرے کئے۔ دلائل و براہین سے گفتگو آپ کی پہچان تھی۔
مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی خانہ ساز نبوت، مہدویت، مجددیت اور مسیحیت کا تانا بانا تیار کیا تو دیگر مناظرین اسلام کی طرح آپ بھی قادیانیت شکن بن کر میدان میں اترے۔ تردید قادیانیت کے موضوع پر آپ کے تمام رشحات قلم کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے ”احتساب قادیانیت چودھویں جلد“ میں یکجا شائع کیا ہے۔
آپ کے صاحبزادے ڈاکٹر مفتی کفایت اللہ کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ دو آدمی آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ ہمارا چچا مرنے والا ہے۔ وہ قادیانی ہے۔ آپ ہمارے گاؤں چلیں اور اسے سمجھائیں کہ وہ قادیانیت سے توبہ کر لے۔ آپ فوری طور پر ان افراد کے ہمراہ تشریف لے گئے۔ ان کے چچا کو تبلیغ کی۔ اس پر قادیانیت کے دجل و فریب کو واضح کیا اور اسے اسلام قبول کرنے کی دعوت دی۔ اللہ کے فضل اور آپ کی تبلیغ کی برکت سے وہ شخص اسی وقت مسلمان ہو گیا۔ ابھی آپ اسے مسلمان کرنے کے بعد اس گھر سے نکلنے بھی نہ پائے تھے کہ اس نو مسلم کا انتقال ہو گیا۔ اسی طرح نہ معلوم کتنی مخلوق خدا کو آپ نے ارتداد و زندقہ سے توبہ کرا کر حلقہ بگوش اسلام کیا۔
بہور چھ میں موجود مولانا مرحوم کے ایک نواسہ کے مطابق مولانا مرحوم ہلکے پھلکے جسم کے انسان تھے۔ چہرے پر رب کریم کے کرم سے نورانیت موسلادھار بارش کی طرح برستی نظر آتی تھی۔ بے پناہ جاذبیت سے ان کی مخلصانہ تبلیغ اسلام اور تحفظ ختم نبوت کے مقدس مشن سے لگاؤ کی برکات جھلکتی نمایاں نظر آتی تھیں۔ آخر دم تک چلتے پھرتے رہے۔ کبھی معذور نہیں ہوئے۔ ٨٩ سال عمر پائی۔ زندگی کے آخری ایام میں اپنے آبائی گاؤں بہور چھ آگئے۔ رات کو ہارٹ اٹیک ہوا۔ چند دن کمبائنڈ ملٹری ہسپتال میں زیر علاج رہے۔ ٥ جولائی ١٩٨٥ء یوم الجمعہ کو انتقال فرمایا۔ گاؤں کے خطیب حضرت مولانا محمد طارق صاحب نے نماز جنازہ پڑھائی اور بہور چھ کے قبرستان میں آسودہ خاک ہوئے۔ علاقہ میں ”کو ہاٹی بابا“ کے نام سے مشہور تھے۔
رب کریم کے کرم کو دیکھیں کہ مولانا نظام الدینؒ نے جس فتنہ خبیثہ قادیانیت کا تعاقب ہندوستان میں شروع کیا۔ پاکستان میں ١٩٥٣ء اور ١٩٧٤ء اور ١٩٨٤ء کی تحریکات ختم نبوت کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ مرزا غلام احمد قادیانی، حکیم نور الدین، مرزا محمود اور مرزا ناصر کو اپنے سامنے ایڑیاں رگڑتے دیکھا۔ قادیانیت کی ذلت، رسوائی اور پسپائی اور مجاہدین ختم نبوت کی کامیابیوں وکامرانیوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھ کر کامیاب زندگی گزار کر رب کریم کے حضور تشریف لے گئے۔
اخفا و اخلاص اور ریا کاری سے دور بھاگنے والے ان بزرگ کے ان مقدس اعمال کو دیکھیں۔ ١٩٧٤ء اور ١٩٨٤ء کی مقدس تحریکات ختم نبوت ہم مسکین لوگوں نے اپنی جوانی میں لڑیں۔ چراغ تلے اندھیرے والی بات ہے کہ ہمیں معلوم نہ ہو سکا کہ ہمارے مجاہد، جرنیل، کامیاب وفاتح قائد جناب ابو عبیدہ مولانا نظام الدین صاحب قریب ہی رہتے ہیں۔ ان کی اس مخلصانہ ریاضت پر اس سے بہتر کیا خراج تحسین پیش کیا جا سکتا ہے کہ: عاش غریبا ومات غریبا
شان بوذریؓ کا ایک عظیم نشان آں مرحوم کی ذات گرامی تھی۔ حضرت مولانا لال حسین اخترؒ، حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ، حضرت مولانا محمد حیاتؒ اور ابو عبیدہ حضرت مولانا نظام الدینؒ کا خمیر ایسا لگتا ہے کہ ایک مٹی سے گوندھا گیا تھا۔ ان چار مناظرین میں سے دو، حضرت مولانا لال حسین اخترؒ اور حضرت مولانا محمد حیاتؒ راقم الحروف کے استاذ اور دو، حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ اور ابو عبیدہ حضرت مولانا نظام الدینؒ غائبانہ محبتوں کا محور و مرکز ہیں۔ وماذالك على الله بعزیز!
(لولاک ذی الحجہ ١٤٢٦ھ)
١٧......حضرت مولانا محمد رمضان علویؒ
وفات......١٨ جنوری ١٩٩٠ء
موت ایک اٹل حقیقت ہے۔ اس کا ایک وقت مقرر ہے جس سے کسی کو مفر نہیں۔ ١٨ جنوری ١٩٩٠ء کو صبح دو بجے حضرت مولانا محمد رمضان علویؒ راولپنڈی کے ایک ہسپتال میں انتقال کر گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون! ایک روز قبل سڑک عبور کرتے ہوئے حادثہ کے باعث سر پر چوٹیں آئیں جو ان کی موت کا باعث بن گئیں
مولانا محمد رمضان علویؒ ایک زیرک معاملہ فہم سیاسی بصیرت رکھنے والے مذہبی رہنما تھے۔ نام و نمود سے کوسوں دور تھے۔ عاجزی و انکساری ان کی طبیعت ثانیہ بن گئی تھی۔ اللہ رب العزت نے انہیں بڑی خوبیوں سے نوازا تھا۔ پہلو میں درد رکھنے والا دل رکھتے تھے۔ خدمت خلق ان کا شیوہ تھا۔ تقسیم سے قبل مجلس احرار سے وابستہ تھے۔ سرگودھا کا قدیمی قصبہ بھیرہ ان کا وطن تھا۔ احرار رہنماؤں سے برادرانہ تعلقات تھے۔ ان سے گہری دوستی تھی۔ ایک خاموش مگر پرجوش مستعد رہنما تھے۔ چھوٹوں کو بڑا بنانے کے لئے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ۔ ان کی اصلاح حکیمانہ انداز سے کرتے۔ مگر کیا مجال ہے کہ کبھی آگے بڑھنے یا نام و نمود کا ان کے دل میں خیال آیا ہو۔ گفتگو کے دھنی تھے۔ دس منٹ کا وقت لے کر ملنے کے لئے جائیں تو رس بھری مربوط گفتگو گھنٹوں جاری رہتی۔ انہیں وقت گزرنے کا پتہ نہ چلتا۔ بزرگوں کی روایات کے امین تھے۔ تاریخی اور جماعتی معاملات کا خزانہ تھے۔ راولپنڈی کے قدیم محلہ اکال گڑھ (گلشن آباد) کی جامع مسجد میں خطیب کے فرائض آخری عمر تک سرانجام دیتے رہے۔ خود متبحر عالم دین اور حافظ قرآن تھے۔ اولاد کو حافظ قرآن بنایا۔ بھیرہ کے محلہ گلاب شاہ میں آبائی گھر تھا۔ اس کی مسجد کے خاندانی طور پر متولی چلے آ رہے تھے۔ والد گرامی ، بھائی جان، اور خود جب تک ممکن تھا اس مسجد کو اپنی نیم شبانہ و دعاؤں، سجدوں اور قرآن مجید کی تلاوت سے آباد رکھا۔ سینکڑوں بچے خود اور ان کے خاندان کے دوسرے بزرگوں سے فیض یافتہ ہیں۔ اولاد میں مولانا حافظ عزیز الرحمٰن خورشید ، مولانا حافظ سعید الرحمٰن علویؒ قرآن مجید کے حافظ اور عالم ہیں۔ مجلس احرار اسلام کے بزرگ رہنما مولانا
سید عطا اللہ شاہ بخاریؒ نے اپنے گرامی قدر رفقاء کے ساتھ مجلس تحفظ ختم نبوت کی بنیاد رکھی تو مولانا محمد رمضان علویؒ بھی اپنے بزرگوں کے ساتھ اس کی آبیاری میں جت گئے۔ دن رات ایک کر کے اسے مثالی عالمی جماعت بنا دیا۔ مولانا سید عطا اللہ بخاریؒ مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ مولانا محمد علی جالندھریؒ مولانا لال حسین اخترؒ مولانا محمد حیاتؒ مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ یکے بعد دیگرے مجلس کے امیر رہے۔ مولانا محمد رمضان علویؒ نے یہ تمام دور اپنے بزرگوں کے ساتھ گزارا
خانقاہ سراجیہ کندیاں کے اکابر حضرت مولانا احمد خانؒ حضرت مولانا محمد عبداللہ صاحبؒ سے بیعت کا شرف حاصل تھا۔ خانقاہ سراجیہ کے سجادہ نشین حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب مدظلہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر منتخب ہوئے تو ہمیشہ کی طرح مولانا محمد رمضان علویؒ بھی عالمی مجلس کی ورکنگ کمیٹی کے رکن بنے۔ جماعت سے عشق کی حد تک ان کو لگاؤ تھا۔ بہت کم دوستوں کو علم ہوگا کہ وہ راولپنڈی میں بیٹھ کر مجلس کے مرکزی دفتر ملتان کے معاملات کو کنٹرول کرتے تھے۔ کوئی معاملہ ہوتا فوراً پند و نصائح پر مشتمل گرامی نامہ ارسال کر کے عالمی مجلس کے رہنماؤں کی رہنمائی کرتے تھے۔ شیخ الاسلام مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ کی قیادت میں ١٩٧٤ء کی تحریک ختم نبوت چلی تو ١٩٥٣ء کی تحریک ختم نبوت کی طرح اس کے ہراول دستے میں شامل تھے۔ ١٩٧٤ء میں مرزائیت کا مسئلہ قومی اسمبلی میں پیش ہوا تو راولپنڈی تحریک ختم نبوت کے رہنماؤں کا مرکز بن گیا۔ مولانا محمد رمضان علویؒ ہر مشاورت میں شریک رہتے۔ جو کام مشکل ہوتا اپنے ذمہ لیتے اور اسے پھر اس طرح پورا کرتے کہ عقل دنگ رہ جاتی۔
طبیعت میں سادگی تھی۔ ہر کام وقت پر کرنے کے عادی تھے۔ پان اور چائے کے رسیا تھے۔ ان کا دستر خوان عام و خاص کے لئے ہر وقت لگا رہتا۔ مہمانوں کی خدمت اس طرح کرتے جس طرح وہ رحمت خداوندی کو اپنی جھولی میں اکٹھا کر رہے ہوں۔ مولانا موصوف چونکہ سیاسی بصیرت رکھنے والے انسان تھے۔ اس لئے جمعیت علماء اسلام کی آبیاری میں بھی کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کیا۔ جمعیت کی شیرازہ بندی میں آپ کی خاموش محنتوں کا بڑا دخل تھا۔ جمعیت میں گروپ بندی سے سخت ملول تھے۔ مگر اس کے باوجود تمام کارکنوں اور رہنماؤں سے ان کے مثالی
تعلقات تھے۔ ایک دفعہ سیشن جج محمد اکبر راولپنڈی کی عدالت میں تنسیخ نکاح کا مرزائی مسلم کیس تھا۔ عالمی مجلس کی طرف سے مولانا لال حسین اختر نے اس کی پیروی کی تو مولانا محمد رمضان صاحب آپ کے معاون تھے۔ اسی طرح یحییٰ خان کے دور میں اسلم قریشی نے ایم ایم احمد قادیانی پر قاتلانہ حملہ کیا۔ مولانا لال حسین اختر اور مولانا محمد شریف جالندھریؒ کیس کی پیروی کے لئے ہمہ تن مصروف ہوگئے۔ راجہ ظفر الحق نے وکالت کے فرائض سرانجام دیئے۔ مارشل لاء کی عدالت میں کیس چلا۔ پورے کیس کے دوران تمام معاملات کے مولانا محمد رمضان صاحب جماعت کی طرف سے انچارج تھے۔ قادیانی سابق جرنیل ملک عبدالعلی کے خلاف ایک عبادت گاہ کے سلسلہ میں عالمی مجلس نے کیس دائر کیا تو بھی مولانا محمد رمضان صاحب علویؒ اس کے انچارج رہے۔
وفاقی شرعی عدالت کی سپریم کورٹ اپیل بنچ میں قادیانیوں نے ایک کیس کیا۔ عالمی مجلس اس میں فریق بنی۔ اس کے بھی تمام معاملات کے انچارج مولانا محمد رمضان علویؒ تھے۔ مقدمات کی پیروی کے لئے بڑی صبر آزما محنت و کاوش درکار ہوتی تھی۔ مولانا محمد رمضان محنت کے خوگر تھے۔ اس لئے تمام مقدمات میں وہ جماعت کی طرف سے انچارج ہوتے تھے۔ ان کی زندگی محنت سے عبارت تھی۔ زندگی بھر عمدگی کے ساتھ جفاکشی سے محنت کے عمل کو جاری رکھا۔ کیا مجال ہے کہ وہ کسی وقت بھی فارغ بیٹھتے ہوں۔ کتابوں کے شوقین تھے۔ مذہبی و سیاسی اور تاریخی کتابوں کا قابل قدر ذخیرہ ان کے پاس جمع تھا۔ طبیعت کے سخی تھے۔ مگر کتابوں کے مسئلہ میں بڑے ہی محتاط واقع ہوئے تھے۔ کتابوں کو وہ اپنی جان سے زیادہ عزیز سمجھتے تھے۔ زندگی قال اللہ قال الرسول! میں گزار دی۔
صبح دو بجے انتقال ہوا۔ پانچ بجے صبح راولپنڈی میں نماز جنازہ پڑھے بغیر جنازہ کو بھیرہ لایا گیا۔ عصر کی نماز کے بعد جنازہ اٹھایا گیا تو بھیرہ کے عوام کا سمندر امڈ آیا۔ تمام مکاتب و مسالک کے لوگوں نے جنازہ میں شرکت کی سعادت حاصل کی۔ آپ کے جنازہ میں عوام کا اژدھام دیکھ کر آپ کی عنداللہ مقبولیت کا اندازہ کرنا مشکل نہ رہا۔ ہر آدمی اشک بار تھا۔ ان کے سانحہ ارتحال کے غم کو اپنا غم سمجھ رہا تھا۔ بھیرہ کی تاریخ میں آپ کے جنازہ کا اجتماع عظیم ترین اور مثالی اجتماع تھا۔ بھیرہ کے تاریخی اور خاندانی عام قبرستان میں ہمیشہ کے لئے سوگئے۔ (لولاک ٩ فروری ١٩٩٠ء)
١٨......حضرت مولانا زرین احمد خانؒ
وفات.......٧مئی ١٩٩٣ء
حضرت مولانا زرین احمد خانؒ نے گاؤں چک نمبر ١٠/٢٦ آر کچا کھوہ ضلع خانیوال میں انتقال فرما گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون!
حضرت مولانا زرین احمد خانؒ چھمب ضلع اٹک کے رہنے والے تھے آپ نے ابتدائی تعلیم حضرت مولانا حسین علیؒ واں بھچراں سے حاصل کی۔ شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ سے بیعت کا تعلق تھا۔ تعلیم سے فراغت کے بعد اپنی عملی زندگی کا آغاز کیا تو حضرت چوہدری افضل حقؒ مولانا حبیب الرحمٰن لدھیانویؒ شیخ حسام الدینؒ ماسٹر تاج الدینؒ مولانا عبدالقیوم سرحدیؒ مولانا غلام غوث ہزارویؒ مولانا محمد علی جالندھریؒ مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ نوابزادہ نصر اللہ خانؒ سے آپ کے نیاز مندانہ مثالی تعلقات تھے۔ حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے آپ خادم خاص تھے۔ میاں غلام محمد کپتان چکڑالوی اور مولانا زرین احمد خان کو یہ شرف حاصل تھا کہ انہوں نے بیماری کے دوران میں حضرت امیر شریعتؒ کی خدمت کی سعادت حاصل کی۔ حضرت امیر شریعتؒ سے آپ نے ایک عصا تبرک کے طور پر حاصل کیا۔ جسے وہ خاص مہمات میں اپنے ساتھ بطور تبرک رکھا کرتے تھے۔ قادیانیوں سے مناظرہ ہوتا تو وہ آپ کے ساتھ ہوتا تھا۔ ایک موقع پر ایک قادیانی سے گفتگو کے دوران میں قادیانی شاطر کی عیاریاں دیکھ کر جلال میں آگئے۔ عصا کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ آپ اس عصا کو معمولی نہ سمجھیں۔ یہ امیر شریعتؒ کا عصا ہے اور پٹھان کے ہاتھ میں ہے۔ حضرت سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی سنت پر عمل ہوا تو یہ سانپ بن کر تمہاری سپنیوں کو کھا جائے گا۔ آپ کی اس پٹھانی للکار کا قادیانی پر ایسا رعب طاری ہوا کہ وہ دم دبا کر بھاگ گیا۔
حضرت امیر شریعتؒ نے مجلس تحفظ ختم نبوت کی بنیاد رکھی۔ ان دنوں پرانے بزرگوں کی طرز پر مولانا زرین احمد خانؒ مفت تبلیغ اسلام کا فریضہ سرانجام دے رہے تھے۔ گزر بسر کے لئے سائیکل پر منہاری کا سامان رکھتے اور دیہاتوں میں تبلیغ کے لئے نکل جاتے۔ ظہر وعصر کے بعد
جہاں نماز پڑھی وہاں بیان کر دیا اور پھر پھیری لگائی۔ سامان بیچا۔ رزق حلال کمایا۔ گھر تشریف لائے۔ عرصے سے آپ کا یہ معمول جاری تھا اور سامان خریدنے کے لئے ملتان تشریف لاتے تو حضرت امیر شریعتؒ سے ملنے کے لئے ان کے در دولت پر ضرور حاضری دیتے۔ ایک دفعہ حضرت امیر شریعتؒ نے فرمایا خان! سامان یہاں رکھ دو۔ جو گھر ہے لے آؤ۔ فروخت کا انتظام کرتے ہیں تمہاری تبلیغی میدان میں ضرورت ہے۔ آپ کے کہنے پر مولانا زرین احمد خانؒ نے منہاری کا بکس رکھا اور قادیانیت رد قادیانیت کی کتب کا بکس اٹھایا اور تبلیغ و تحفظ ختم نبوت کے لئے وقف ہو گئے اور مجلس کے پلیٹ فارم سے خدمات سرانجام دینا شروع کیں۔
مناظر اسلام مولانا لال حسین اخترؒ، مولانا محمد شریف بہاولپوریؒ، مولانا محمد شریف جالندھریؒ، مولانا عبدالرحمن میانویؒ کی طرح آپ جماعت کے مبلغین حضرات کی پہلی صف میں شریک تھے۔ مولانا ابوالکلام آزادؒ، مولانا احمد سعید دہلویؒ، مفتی کفایت اللہؒ اور دیگر اکابرین آزادی کے دل و جان سے فدا تھے۔ ان کی زیارت و مجالس میں حاضری اور بیانات کو سننے کے لئے میلوں پیدل یا سائیکل پر دشوار گزار سفر کر کے جانا اپنے لئے قابل فخر گردانتے تھے۔ ذکر و فکر کی مجلسوں کی آبرو تھے۔ عابد زاہد متقی بزرگ تھے۔ مطالعہ کا از حد شوق تھا۔ قیمتی کتب جمع کرنے کا محبوب مشغلہ آخری وقت تک جاری رہا۔
مجلس تحفظ ختم نبوت کے اوائل سے لے کر اپنے دم واپسیں تک ٤٥ سال وابستہ رہے۔ گرمی سردی، دکھ سکھ کی پروا کئے بغیر جماعت کے تبلیغی نظام کو مخلصانہ مساعی سے جاری و ساری رکھا۔ امانت و دیانت کا پیکر تھے۔ خلوص و ایثار سے قدرت نے آپ کو قابل رشک حصہ عطا فرمایا تھا۔ چک ٢٦/١٠ آر کچا کھوہ میں منتقل ہوئے تو صبح بچوں کو پڑھاتے اور دن چڑھے تبلیغ کے لئے نکل جاتے۔ یوں تعلیم و تبلیغ کا ساری زندگی سلسلہ جاری رکھا۔ علاقہ میں آپ کے شاگردوں کی خاصی تعداد آباد ہے۔ پٹھان برادری سے تعلق رکھتے تھے۔ جوانی کے زمانہ سے آپ کی صحت و جوانی رنگ و وجود کو دیکھ کر ہیبت طاری ہو جاتی تھی۔ عالم دین، ذاکر، عابد، پٹھان، گورا چٹا، محنتی جسم، سبحان اللہ! قدرت نے کیا کیا خوبیاں ان میں جمع کر دی تھیں اور مولانا مرحوم کا کمال دیکھو کہ ان
تمام خوبیوں کو دین اسلام کی ترویج اور عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے لٹا دیا۔
١٩٥٣ء کی تحریک ختم نبوت میں خانیوال‘ وہاڑی‘ میاں چنوں اور چیچہ وطنی کے دیہاتوں وشہروں میں کام کیا۔ گرفتار ہوئے۔ جیل کی تنگ وتاریک کوٹھڑیوں کو آباد کیا۔ ٩ ماہ تک جیل میں رہے۔ آپ پر جو مقدمہ دائر کیا گیا اس کی ایف آئی آر میں درج تھا کہ آپ نے ایک تقریر کی۔ اس میں ایک خواب سنا کر مرزا غلام قادیانی کی اہانت کی۔ تحریک ختم ہوگئی۔ رفقاء رہا ہوگئے۔ آپ پر مقدمہ باقی تھا۔ ضمانت پر رہائی آپ کی عظمت کے خلاف تھا۔ مقدمہ کی سماعت شروع ہوئی۔ جج نے خواب پوچھا۔ آپ نے فرمایا کہ حضرت مولانا پیر خورشید احمد گیلانی خلیفہ مجاز شیخ الاسلام حضرت مدنیؒ کی مجلس میں خواب سنایا تھا اور اس کی تعبیر پوچھی تھی۔ جج نے خواب پوچھا۔ آپ نے کہا کہ میں نے ایک رات خواب میں دیکھا کہ مرزا قادیانی کے حصہ اسفل پیٹھ کی جانب جائے مخرج سے گندگی جاری ہے۔ اونٹ جس طرح اپنے پیشاب اور مینگنیوں پر دم مار کر اس کو اردگرد بدتمیزی سے بکھیرتا ہے اسی طرح مرزا قادیانی جائے مخرج پر پیٹھ کی جانب الٹا اپنا ہاتھ مار کر چاروں طرف لوگوں پر اپنا تعفن وغلاظت بکھیر رہا ہے۔ حضرت پیر خورشید احمد مرحوم نے اس کی تعبیر یہ بتائی کہ مرزا قادیانی سراپا غلاظت تھا۔ وہ اپنی زبان وبیان‘ قلم وہاتھ سے بے دینی کی غلاظت زندگی بھر پھیلاتا رہا۔ خواب اور تعبیر سن کر جج کھلکھلا اٹھا اور کہا کہ خواب اپنی طاقت سے نہیں آتا اور اس کی تعبیر پوچھنا کوئی جرم نہیں۔ لہذا آپ بری۔ چنانچہ آپ رہا ہوگئے اور پھر تبلیغی میدان کا سفر شروع کر دیا۔
١٩٧٤ء کی تحریک ختم نبوت میں مثالی خدمات سرانجام دیں۔ مولانا زرین احمد خانؒ اس لحاظ سے بڑے نصیب والے تھے کہ آپ نے عالمی مجلس کے پلیٹ فارم سے کام شروع کیا اور قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دلوا کر دم لیا۔ جو پودا لگایا تھا اسے اپنے خون جگر سے سینچا اور اس کے ثمرات سے امت کو بہرہ ور ہوتے دیکھا۔ جوانی میں آپ کے خطاب میں زیادہ تر فرق باطلہ کی تردید ہوتی تھی۔ آخری عمر میں وعظ کہتے تھے۔ وعظ کے دوران میں آپ پر رقت طاری ہوجاتی خود روتے اور سامعین کو رلاتے تھے۔ یہی انداز حضرت مولانا گل شیر مرحوم کا تھا۔ آخر کیوں نہ ہوتا کہ
مولانا زرین احمد خان بھی مولانا گل شیر مرحوم پر دل و جان سے فدا تھے ۔ عالمی مجلس کے سالانہ اجتماع ربوہ میں تشریف لے جاتے تو نام و نمود سے کوسوں دور ایک کونے میں پڑے کاروائی دیکھتے رہتے ۔ جب ساری دنیا سو جاتی یہ اٹھ کر اللہ رب العزت کے حضور جھولی پھیلا دیتے۔ سال میں ایک بار اپنے علاقہ چھچھ تشریف لے جاتے تو اٹک، بھکر، میانوالی وغیرہ کے علاقوں کا بھی دورہ فرماتے۔ بالکل پرانی طرز کے بزرگ تھے۔ ایک دفعہ جو اپنے لئے کام کی لائن متعین کر لی پھر ساری زندگی اس پر گامزن رہے۔ اس دور میں تمام مبلغین ختم نبوت کے مربی و محسن اور مشفق کا ان کو درجہ حاصل تھا۔ ملکی حالات کی شکست و ریخت کا منظر دیکھتے تو دل پسیج کر رہ جاتے۔ عراق نے امریکہ کو للکارا تو پھولے نہ سماتے تھے فرماتے تھے کم از کم کوئی مسلم ملک تو ہے جو امریکہ کو چبھتا ہے۔ امریکہ کے ازلی ابدی دشمن تھے۔ کیوں نا ہوتے کہ اپنے بزرگوں سے یہی سبق پڑھا تھا۔
تقریباً ہر ماہ دفتر مرکزیہ ملتان تشریف لاتے۔ ان کے آنے سے دفتر میں بہار آجاتی۔ رفقاء کو ملتے۔ کام کی رپورٹ سنتے اور باغ باغ ہو جاتے۔ وفات سے ایک یوم پہلے دفتر میں رہ کر گئے تھے۔ معمولی درجہ کی تھکاوٹ و درجہ حرارت محسوس کرتے تھے۔ مگر وہ عمر کا تقاضا تھا۔ گھر گئے۔ دن گزارا۔ عشاء کی نماز با جماعت مسجد میں ادا کی۔ نماز پڑھ کر واپس تشریف لائے۔ ہاتھ میں تسبیح، زبان پر ذکر اور دل میں یاد الٰہی۔ اس حالت میں معمولی درد ہوا اور دل ہار گئے۔ اللہ تعالیٰ مغفرت فرمائیں۔ حافظ عبدالرشید کچاکھوہ کا کہنا تھا کہ زندگی بھر پچاس سالہ دور خطابت میں مولانا کے چہرہ پر جتنی رونق علم و عمل کی بہار اور پٹھانی جلال دیکھا تھا اس سے کہیں زیادہ وفات کے بعد چہرہ پر رونق تھی۔ رخسار اور پیشانی پر خوبصورتی اور سرخی جھلک رہی تھی۔ لبوں پر مسکراہٹ و تبسم تھی۔ ایسے محسوس ہوتا تھا کہ راہی ملک عدم بڑے سکون و وقار آرام و اطمینان و یکسوئی کے ساتھ اپنی آخری منزل کی جانب بڑھنے کے لئے تیار ہے۔ جنازہ میں علاقہ کے ہزار ہا لوگوں نے شرکت کی۔ ٧ مئی ١٩٩٣ء جمعہ کے روز قبل از جمعہ رحمت حق کے سپرد کر دیئے گئے۔ حق تعالیٰ شانہ ان کے نقش قدم پر چلنے کی اور ان جیسی محنت و ایثار کی ہمیں بھی توفیق بخشیں ۔ آمین !
(لولاک ٢٨ مئی ١٩٩٣ء)
١٩.......حضرت مولانا محمد عبداللہ درخواستیؒ
وفات.......٢٨ اگست ١٩٩٤ء
پاکستان کے مقتدر عالم دین‘ بزرگ رہنما‘ شیخ وقت‘ جمعیت علماء اسلام پاکستان کے امیر مرکزیہ‘ حافظ القرآن و الحدیث‘ شیخ الاسلام حضرت مولانا محمد عبداللہ درخواستی وفات پا گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون!
حضرت مرحوم خان پور ضلع رحیم یار خان کے ایک قریبی دیہات ”درخواست“ میں پیدا ہوئے۔ اس علاقہ میں ”دین پور شریف“ پاک و ہند کی معروف خانقاہ ہے‘ شیخ وقت حضرت میاں غلام محمد دین پوریؒ اس خانقاہ کے بانی تھے۔ دین پور شریف کو تحریک آزادی میں دیوبند کے بعد دوسرا مقام حاصل تھا۔ حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کی تحریک ریشمی رومال میں دین پور کو مرکزیت حاصل تھی۔ حضرت مولانا عبیداللہ سندھیؒ اسی خانقاہ شریف کے چشم و چراغ تھے۔ شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علیؒ نے اسی خانقاہ سے کسب فیض حاصل کیا۔ قطب وقت حضرت میاں عبدالہادی دین پوریؒ حضرت میاں غلام محمدؒ کے جانشین اور اس خانقاہ شریف کے سجادہ نشین تھے۔ حضرت درخواستیؒ کو سن شعور میں قدم رکھتے ہی قدرت حق کے کرم و فضل سے اس خانقاہ کا ماحول میسر آ گیا۔ حضرت میاں غلام محمد دین پوریؒ کے زیر سایہ آپ نے تمام تر دینی تعلیم یہاں سے حاصل فرمائی۔ حضرت میاں صاحبؒ کی صحبت نے آپ کو کندن بنا دیا۔
آپ نے تعلیم سے فراغت حاصل کرتے ہی سندھ و ریاست بہاولپور میں تبلیغی و تعلیمی خدمات انجام دینا شروع کیں۔ دین پور شریف کے قریب بڑا شہر خان پور ہے جو ضلع رحیم یار خان کی تحصیل ہے۔ یہاں پر آپ نے مخزن العلوم والفیوض کے نام سے مدرسہ کا آغاز کیا۔ جوانی کا عالم تھا۔ قدرت حق نے آپ کو دردمند دل سے نوازا تھا۔ آپ کی شبانہ روز محنت و جگر سوزی سے مدرسہ نے دنوں میں مثالی ترقی کی۔ پوری ریاست بہاولپور میں اس مدرسہ کو مرکزیت حاصل ہوگئی۔ حضرت درخواستیؒ کی تبلیغی سرگرمیاں تعلیم سے فراغت حاصل کرتے ہی شروع ہوگئیں۔ جو دیکھتے ہی دیکھتے عروج حاصل کر گئیں۔ آپ مخصوص حجازی لہجہ میں قرآن و حدیث کی تلاوت
کرتے‘ لوگوں پر وجد کی کیفیت طاری ہو جاتی۔ بلا مبالغہ گھنٹوں کھڑے ہو کر ایسی پر تاثیر تقریر فرماتے کہ لوگوں کی آہ و بکا فضا میں ارتعاش پیدا کر دیتی۔ آپ اسباق کے بعد باقی وقت علاقہ میں دور دراز کا پیدل یا سائیکل پر سفر کر کے تقریروں کے لئے تشریف لے جاتے۔ آپ کی مقبولیت عنداللہ کا جوانی میں یہ عالم تھا کہ آپ برصغیر کے تمام اکابر علماء و مشائخ کی آنکھوں کا تارا بن گئے۔ شیخ الاسلام حضرت مدنیؒ ‘ حضرت امیر شریعتؒ مولانا حبیب الرحمٰن لدھیانویؒ ایسے نابغہ روزگار شخصیات کے معتمد خصوصی سمجھے جاتے تھے۔ حضرت امیر شریعتؒ تو آپ کے اتنے قدردان تھے کہ اسٹیج اور نجی محفلوں میں حضرت درخواستیؒ کی بہت تعریف فرماتے۔ ان کے علمی مقام سے لوگوں کو باخبر کرتے اور حضرت مرحوم کی طرف لوگوں کو کسب فیض کے لئے متوجہ فرماتے تھے۔ جوانی ہی میں قدرت نے آپ کو یہ مقام نصیب فرمایا تھا کہ حضرت لاہوریؒ کی وفات کے بعد آپ متفقہ طور پر جمعیت علماء اسلام کے مرکزی امیر منتخب ہوئے اور وفات حسرت آیات تک (نصف صدی سے بھی اوپر کے زمانہ میں) آپ جمعیت علماء اسلام پاکستان ایسی دینی و سیاسی جماعت کے امیر رہے۔
حضرت مولانا پیر خورشید احمد خلیفہ مجاز حضرت مدنیؒ ‘ حضرت مولانا قاضی مظہر حسینؒ خلیفہ مجاز حضرت مدنیؒ ‘ حضرت مولانا حبیب اللہ گمانویؒ ‘ حضرت مولانا محمد عبداللہ بہلویؒ ‘ حضرت مولانا عبدالعزیز سرگودھویؒ ‘ حضرت مولانا محمد ابراہیمؒ میاں چنوں والے ایسے اکابر و بزرگان دین کا آپ کو اعتماد حاصل تھا۔ مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمودؒ ‘ حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ ایسے ہزاروں علماء کرام نے آپ کی قیادت باسعادت میں جمعیت علماء اسلام کے اسٹیج پر وہ کارہائے نمایاں سرانجام دیئے جو تاریخ کا ایک سنہری اور انمٹ حصہ ہیں۔ خواجہ ناظم الدین کے زمانہ میں قادیانیت کے فتنہ کے خلاف‘ ایوب خان کے زمانے میں ڈاکٹر فضل الرحمٰن اور منکرین حدیث کے فتنہ کے خلاف‘ اسلام کی سربلندی کی تمام تر جنگ علمائے حق نے آپ کی قیادت میں لڑی۔ اسلامی نظام کے لئے جمعیت علماء اسلام کی تمام تر مساعی آپ کی توجہات عالیہ کی مرہون منت تھیں۔ مشرقی و مغربی پاکستان کا شاید و باید کوئی قصبہ ہو جہاں آپ نے تبلیغی سفر نہ فرمایا ہو۔
جگہ جگہ مدارس و مساجد کا قیام آپ کا محبوب مشغلہ تھا۔ جہاں آپ تشریف لے جاتے وہاں پر مدرسہ بن جاتا۔ پاکستان کی کوئی دینی جماعت‘ کوئی دینی ادارہ ایسا نہیں جس کے لئے حضرت درخواستیؒ نے اپنا خون جگر پیش نہ کیا ہو۔ پاکستان میں دینی مدرسوں کا جال پھیلانے کے لئے قدرت نے آپ سے تجدیدی کام لیا۔
تحریک ختم نبوت ١٩٥٣ء میں آپ نے پورے ملک میں کام کیا‘ قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ حضرت امیر شریعتؒ‘ مولانا ابوالحسناتؒ‘ مولانا محمد علی جالندھریؒ‘ مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ اور دیگر اکابر کی گرفتاری کے بعد آپ نے تحریک کے الاؤ کو جلا بخشی۔
آپ نے ہمیشہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے کام کی سرپرستی فرمائی‘ تغلق روڈ ملتان پر واقع دفتر ختم نبوت کا آپ نے سنگ بنیاد رکھا۔ پورے ملک میں ختم نبوت کی کوئی ایسی کانفرنس نہ ہوتی تھی جس میں آپ شریک نہ ہوتے ہوں۔ ایک دفعہ بہاولپور کی عید گاہ میں ختم نبوت کانفرنس تھی۔ سردی کا موسم تھا۔ مگر اس کے باوجود ہزاروں کی حاضری تھی۔ مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ کی دعوت پر آپ آخری اجلاس میں تشریف لائے۔ مولانا محمد علی جالندھریؒ نے کانفرنس کے کارکنوں کو سمجھا دیا کہ عشاء کے بعد میری پہلی تقریر ہوگی۔ حضرت درخواستیؒ کو آپ گیارہ بجے اسٹیج پر لے آئیں تاکہ ان کا آخری بیان ہوسکے۔ کارکنوں نے حضرت درخواستیؒ کو وقت نہ بتایا۔ آپ نے سمجھا ہوگا کہ آج صرف میری تقریر ہے۔ کانفرنس میں مولانا محمد علی جالندھریؒ کی تقریر کی ابتدا میں آپ اسٹیج پر تشریف لائے۔ آپ کے آنے پر ہمیشہ ہر جلسہ کی طرح اجتماع زیارت کے لئے امڈ پڑا۔ مولانا محمد علی جالندھریؒ کو تقریر روکنا پڑی۔ آپ اسٹیج پر تشریف لائے۔ مولانا محمد علی جالندھریؒ نے فرمایا کہ حضرت آپ کی تقریر گیارہ بجے ہوگی۔ ابھی ڈیڑھ گھنٹہ باقی ہے۔ مجھے بہت ضروری باتیں رد قادیانیت پر کہنی ہیں۔ آپ چاہیں تو تشریف رکھیں۔ چاہیں تو گیارہ بجے تک آرام فرمائیں۔ حضرت درخواستیؒ اتنے بڑے آدمی تھے۔ لیکن مجال ہے کہ طبیعت میں ذرہ برابر تکدر آیا ہو۔ فرمایا! ہاں! آپ تقریر کریں۔ میں آپ کی تقریر سنوں گا۔ مولانا محمد علی جالندھریؒ کی تقریر لمبی ہوگئی۔ آپ گھنٹوں اسٹیج پر بیٹھے رہے اور پھر آخری
خطاب فرمایا۔ اس قسم کے ہزاروں واقعات ہوں گے کہ آپ نے جاں گسل محنت فرما کر ختم نبوت کے تحفظ کے لئے خدمات سرانجام دیں۔
١٩٧٤ء کی تحریک ختم نبوت میں حضرت مولانا محمد شریف جالندھریؒ نے مولانا عبدالرؤف جتوئیؒ کو حضرت شیخ الاسلام مولانا محمد یوسف بنوریؒ کا پیغام دے کر خان پور بھیجا۔ پیغام سنتے ہی آپ بیماری کے باوجود لاہور کے لئے عازم سفر ہو گئے اور پھر حضرت بنوریؒ کے دست و بازو بن کر تحریک کے لئے پورے ملک میں سرگرم عمل ہو گئے۔ ١٩٧٧ء کی تحریک نظام مصطفیٰؐ میں آپ کو بھٹو حکومت نے گرفتار کیا۔ غرضیکہ دینی مدارس سے لے کر دینی تحریکات تک قدرت باری تعالیٰ نے ہمیشہ آپ کی ذات گرامی کو قائدانہ شان کے ساتھ کام کرنے کی توفیق سے نوازا۔
آپ کے ہزار ہا شاگرد علماء کرام ہیں جو اس وقت بھی پاکستان‘ بنگلہ دیش‘ حجاز مقدس وغیرہ میں خدمت دین کا مقدس فریضہ سرانجام دے رہے ہیں۔ آپ اپنے مدرسہ میں رمضان المبارک میں دورۂ تفسیر کا اہتمام فرماتے تھے۔ ایک زمانہ تھا آپ کا دورۂ تفسیر قرآن پورے ملک میں اپنی مثال آپ تھا۔ یہ کہنا مبالغہ نہ ہوگا کہ پون صدی تک حضرت درخواستیؒ بلاشراکت غیرے علماء حق کے قافلہ کے سرخیل رہے۔ جہاں آپ کے قدم پڑے وہاں پر اللہ رب العزت کی رحمت سے دین کے کام کو وہ ترقی ہوئی کہ !سبحان اللہ!
حضرت درخواستیؒ کو قدرت نے بلا کا حافظہ دیا تھا۔ آپ حدیث شریف کے حافظ کے طور پر پورے ملک میں جانے پہچانے جاتے تھے۔ محبت و ایثار کا مجسمہ تھے۔ جب بھی ملک میں تبلیغی سفر پر نکلتے تو ایک ایک دن میں کئی کئی جلسوں سے خطاب فرماتے تھے۔ اس میں دن ورات‘ گرمی وسردی‘ صبح وشام‘ سفر وحضر‘ شہر و دیہات کی پابندی نہ ہوتی تھی۔ بڑے بڑے جفاکش‘ ایثار پیشہ علماء کرام تھک جاتے تھے۔ مگر آپ کو قدرت نے ایسی مٹی سے بنایا تھا جس میں تھکاوٹ و آرام کا نام تک نہ تھا۔ ایک وقت تھا کہ ہر جلسہ میں آپ بنیادی خطیب ہوتے تھے۔ قدرت نے آپ کو یہ مقام محبوبیت بخشا تھا کہ آپ کے سامنے کسی بھی خطیب کا چراغ نہ جلتا تھا۔ سادہ عام فہم تقریر فرماتے۔ مگر اس میں اتنا اثر ہوتا تھا کہ گھنٹوں خود بھی روتے تھے اور لوگوں کو بھی رلاتے تھے۔
آپ جہاں جاتے بغیر اشتہار و اعلان کے ہزاروں کا اجتماع ایک عام سی بات سمجھی جاتی تھی۔ خیرالقرون کے زمانہ کی روایات کے امین و حافظ تھے۔ قدرت نے آپ کو خوبیوں کا مجموعہ بنا دیا تھا اور آپ کی تمام تر خوبیاں حفاظت و اشاعت اسلام کے لئے وقف تھیں۔
حضرت مفتی محمودؒ کے بعد جمعیت علماء اسلام پاکستان انحطاط کا شکار ہو گئی۔ مفکر اسلام مفتی محمودؒ آپ کے دست و بازو تھے۔ ان کی وفات کا صدمہ اور بڑھاپا۔ جمعیت علماء اسلام جس کے لئے آپ نے اپنی جوانی لٹا دی تھی۔ اس میں بعض ناگفتہ بہ حالات پیدا ہو گئے۔ جنرل ضیاء الحق کے زمانہ میں بعض مدارس نے زکوٰۃ کے نام پر سرکاری گرانٹ لینا شروع کر دی۔ اس کے بداثرات نے جمعیت علماء اسلام پاکستان کی پرشکوہ عمارت کی بنیادوں کو ہلا دیا۔ یہ صدمات حضرت درخواستیؒ کے لئے سوہان روح بن گئے‘ بڑھاپا‘ قابل اعتماد رفقاء کی رحلت‘ جمعیت کا اختلاف‘ یہ صدمات حضرت درخواستیؒ کے لئے مستقل روگ بن گئے۔ جن حضرات کے ساتھ آپ نے کام کیا تھا اور اب جن سے پالا پڑا۔ ان میں زمین و آسمان کا فرق تھا۔ مشرق و مغرب کا فرق تھا۔ اجالے اور اندھیرے کا فرق تھا۔ دن رات کا فرق تھا۔ محتاط اور غیر محتاط کا فرق تھا۔ آپ کی حساس طبیعت نے ان حالات کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے۔ آپ کنارہ کش ہو گئے۔ بیماریوں نے آپ کو گھیر لیا۔ سرگرمیاں محدود ہو گئیں۔ مگر بعض ”شخصے غلط کار“ لوگوں نے اس اختلاف میں بھی آپ کے نام کو غلط طور پر اپنے اغراض کے لئے استعمال کیا۔ اس سے آپ کی ذات کو متنازعہ بنا دیا گیا۔ نادان لوگوں کی نادانی نے حضرت درخواستیؒ کی زندگی کے ان برسوں کو کربناک بنا دیا۔ آپ کی طبیعت ایسی بگڑی کہ سنبھالے نہ سنبھل سکی۔ ورثاء و شاگرد ڈاکٹروں سے جسمانی بیماریوں کا علاج کراتے رہے۔ مگر آپ کے دل کا کانٹا کوئی نہ نکال سکا۔ یا حسرتا!
اتنا عظیم شخص‘ ماحول‘ رفقاء اور شاگردوں سے ایسا روٹھا کہ آپ کو منانے کی کوئی تدبیر کارگر نہ ہو سکی۔ آپ کس قافلہ کے شخص تھے؟۔ اور اب کن لوگوں سے واسطہ پڑ گیا تھا؟۔ آپ کی زندگی میں جمعیت کو متحد کرنے کی ایک کوشش بھی ہوئی۔ بظاہر اتحاد ہو بھی گیا۔ مگر بعض ایسے لوگوں کو یہ گھڑی قیامت معلوم ہوئی۔ وہ اپنی قیادت کے حصار سے باہر نکلنے کا تصور بھی نہ کر سکتے تھے۔ اس
کوشش پر انہوں نے اپنا ہاتھ دکھایا۔ پھر وہی تھوکا فضیحتی۔ اس سے آپ کی طبیعت مزید نڈھال ہوگئی۔ اس انتشار کے بعد آپ نے عام اجتماعات میں جانا چھوڑ دیا۔ بلکہ یوں کہئے کہ آپ کا دل بھر گیا۔ نہیں بلکہ یوں تعبیر زیادہ مناسب ہوگی کہ آپ کا دل بجھ گیا۔ بعض مخلص نیاز مند کبھی کبھار اصرار کر کے بخاری شریف کے ختم کے موقع پر آپ کو لے جاتے۔ آپ بیان بھی فرماتے مگر آپ کا دل ماحول سے اتنا زیادہ دکھی تھا کہ طبیعت میں انشراح نہ ہوتا۔ آنسو بہاتے ۔ صبر ایوب علیہ السلام کے وارث! تیری عظمت کو سلام۔ مجال ہے کہ کبھی اپنے دل کے زخم کا کسی کے سامنے اظہار کیا ہو۔ مگر بایں ہمہ آپ کے بے اختیار آنسو آپ کے درد دل کی چغلی ضرور کھاتے تھے۔
مدرسہ قاسم العلوم ملتان کے جلسہ ختم بخاری میں آپ تشریف لائے۔ دوسرے دن صبح مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری اور مولانا عبدالرحیم اشعر کی دعوت پر ملتان میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے نئے مرکزی دفتر حضوری باغ روڈ میں تشریف لائے۔ بیماری و کمزوری کے باوجود حضرت امیر شریعتؒ حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ حضرت مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ حضرت مولانا محمد حیاتؒ حضرت مولانا لال حسین اخترؒ حضرت مولانا تاج محمودؒ حضرت مولانا محمد شریف بہاولپوریؒ حضرت مولانا عبدالرحمٰن میانویؒ حضرت مولانا محمد شریف جالندھریؒ کا کچھ ایسے انداز سے تذکرہ کیا کہ شبہ ہوتا تھا کہ کہیں آپ کو دل کی تکلیف نہ ہو جائے۔ ان کا تذکرہ کرتے کرتے ہچکی بندھ جاتی۔ حضرت شیخ الاسلام مولانا محمد یوسف بنوریؒ کے تذکرہ پر تو بہت ہی زیادہ طبیعت بے قابو ہوگئی۔ حضرت مولانا خواجہ خان محمد مدظلہ کی بہت زیادہ تعریف فرمائی۔ دعائیں دیں۔ گھنٹہ بھر یہ روحانی و وجدانی کیفیت کی حامل مجلس جاری رہی۔ آپ نے ایک موقع پر اپنے صاحبزادہ مولانا فضل الرحمٰن درخواستی کے ذریعہ اپنے درد دل کے علاج (علماء کے) اتحاد کے لئے حضرت اقدس مولانا خواجہ خان محمد صاحب مدظلہ کو خان پور بھی بلوایا۔ دونوں بزرگ گھنٹوں سوچ و بچار کرتے رہے۔ مگر مشکلات پر قابو پانے کی کوئی راہ نہ نکل سکی۔
اس کے بعد ایک دفعہ آپ انتہائی علالت کے باوجود رحیم یار خان کی ختم نبوت کانفرنس میں تشریف لائے۔ اپنے شاگرد مبلغین کی سرپرستی فرمائی۔ مجلس کے کام کی تعریف کی۔ حضرت
اقدس خواجہ خان محمد صاحب مدظلہ کو ڈھیروں دعائیں دیں۔ رمضان المبارک میں علاج کی غرض سے آپ کو بہاولپور لایا گیا۔ فقیر راقم عیادت کے لئے بہاولپور جماعت کے مبلغ مولانا محمد اسحاق ساقی کی معیت میں حاضر ہوا۔ آپ کو دیکھا تو دل دھک دھک کرنے لگا۔ عظمت رفتہ کی نشانی، یاد گار اسلاف، حافظ القرآن والحدیث کی نقاہت و کمزوری پر دل سے ہوک سی اٹھی کہ اے کاش! رفقاء اکٹھے ہو جائیں تو حضرت کے درد دل کا علاج ہو جائے۔ ان کی وفات کے بعد بھی اگر یہ حضرات متحد ہو جائیں تو قبر مبارک میں ان کے لئے تسکین روح کا مزید سامان ہو جائے۔ آپ کو ملتان لایا گیا۔ چند دن ملتان میں زیر علاج رہے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمن جالندھری پابندی سے روزانہ آپ کی خدمت میں حاضری دیتے رہے۔ وہاں سے آپ کو کراچی لایا گیا۔ آپریشن بھی ہوا۔ غالباً یہ آپ کا آخری سفر تھا۔ واپس گھر خان پور تشریف لائے تو طبیعت گرتی ہی چلی گئی۔
قارئین کرام! خدا گواہ ہے کہ فقیر راقم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ خدمت حدیث کے باعث آخر وقت تک قدرت نے آپ کو حافظہ کی نعمت کا پورا پورا حصہ دیا تھا۔ بولنے میں گو تکلیف ہوتی تھی۔ مگر طبیعت پر جبر کر کے جب بولتے تو علم و فضل، حکمت و دانش کے موتی ایسے لٹاتے کہ مجال ہے کہ حافظہ پر بیماری کا ذرہ برابر اثر معلوم ہوتا ہو۔ خدمت حدیث کی زندہ کرامت کا یہ نظارہ میں نے اپنی گناہگار آنکھوں سے دیکھا ہے۔
نویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس میں شرکت کے لئے فقیر راقم کا انگلینڈ جانا ہوا۔ وہاں سے واپسی پر مکہ مکرمہ میں عمرہ کے بعد امیر مرکزیہ حضرت اقدس مولانا خواجہ خان محمد صاحب مدظلہ، حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری، حضرت صاحبزادہ طارق محمود، حضرت مولانا محمد اکرم طوفانی اور صاحبزادہ حافظ محمد عابد کے ہمراہ قیام تھا۔ حافظ صاحبؒ نے دفتر ختم نبوت ملتان فون کیا۔ جواں سال صاحبزادہ حضرت حافظ قاری محمد عثمان شاہد ایڈووکیٹ جالندھری نے فون پر یہ افسوسناک اطلاع دی کہ حضرت درخواستی کا وصال ہو گیا ہے اور کل آٹھ بجے ان کا جنازہ ہوگا۔ ظہر کی نماز کے بعد حرم مکہ مکرمہ میں حضرت اقدس مولانا خواجہ خان محمد صاحب مدظلہ نے حاضرین سمیت چشم پر نم سے دعا کرائی۔
٢٨ اگست ١٩٩٢ء کو صبح چھ بجے حضرت درخواستیؒ کا وصال ہوا۔ ٢٩ اگست کو آٹھ بجے جنازہ ہوا۔ دین پور شریف میں مدفون ہوئے۔ جمعیت علماء اسلام پاکستان، دینی جماعتیں، مدارس و ادارے اور علماء دیوبند کا ہر شخص اپنے محسن و مربی سے محروم ہو گیا۔
حضرت درخواستی نور اللہ مرقدہ نے ایک اخباری اطلاع کے مطابق ایک سو پانچ سال کی عمر پائی۔ آپ کی وفات علم و فضل کی وفات ہے۔ آپ کے ورثاء، شاگرد، جمعیت علماء اسلام پاکستان کی قیادت سمیت ہر شخص تعزیت کا مستحق ہے۔
حضرت اقدس میاں سراج احمد دین پوری مدظلہ مسلم لیگ سے اتنے دل برداشتہ ہیں کہ وہ اس کے مقابلہ میں نسبتاً بے نظیر بھٹو کو بہتر گردانتے ہیں۔ اور حضرت درخواستیؒ لیگ اور پی پی دونوں کو ایک سکہ کے دو رخ قرار دیتے تھے۔ اتنی سی بات کو میرے ایسے کوتاہ قامت لوگوں نے اتنے پر لگائے کہ دونوں بزرگوں میں بظاہر بعد پیدا ہو گیا۔ مگر حضرت درخواستیؒ کی عظمت کو سلام! کہ آپ اپنی بیماری کے آخری دنوں میں اپنی بیمار و کمزور جان کو خان پور سے دین پور شریف لے گئے۔ دین پور کے سجادہ نشین حضرت میاں سراج احمد دین پوری نے اپنا سر آپ کے قدموں میں رکھ دیا۔ دونوں بزرگوں کی رنجش دور ہوئی۔ دونوں بزرگوں پر گریہ کی ایسی کیفیت طاری ہوئی کہ ہر شخص آبدیدہ ہو گیا۔ حضرت درخواستیؒ دین پور شریف کے ایک ایک دروازہ پر گئے اور کہا سنا معاف کرایا۔ قبرستان میں حضرت میاں غلام محمد دین پوریؒ حضرت میاں عبد الہادی پوریؒ مناظر اسلام حضرت مولانا لال حسین اخترؒ اور امام انقلاب حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ کے مزارات پر حاضری دی۔
حضرت درخواستیؒ کے اس اقدام اور حضرت میاں سراج احمد دین پوری صاحب کی اکابر شناسی کے باعث خان پور اور دین پور کا بعد دور ہوا اور ایسا دور ہوا کہ آج حضرت درخواستیؒ وفات کے بعد اپنے جنازہ کو رفقاء کے کندھوں پر لے جا کر دین پور شریف گئے اور ایسے گئے کہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے دین پور شریف کے تاریخی قبرستان میں اپنے اکابر کے قدموں پر اپنے دل کا علاج تلاش کر لیا۔ اب وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے میٹھی اور سکھ کی نیند سو رہے ہیں۔
(ہفت روزہ ختم نبوت ١٩ ستمبر ١٩٩٢ء)
٢٠...... حضرت مولانا حکیم عبدالرحیم اشرف صاحبؒ
وفات......٢٨ جولائی ١٩٩٥ء
حضرت مولانا حکیم عبدالرحیم اشرفؒ ایڈیٹر ہفت روزہ المنبر فیصل آباد ایک عبقری انسان تھے۔ قدرت نے ان کے پہلو میں حساس دل رکھا تھا۔ امت مسلمہ کی پریشانی پر وہ پریشان ہو جایا کرتے تھے۔ اس کے حل کے لئے وہ اس وقت تک بے چین رہتے جب تک وہ اسے حل نہ کرا لیتے۔ یا یہ کہ جو کچھ وہ کر سکتے تھے۔ نہ کر گزرتے۔ فقیر راقم الحروف کا ١٩٦٧ء میں لائل پور مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے طور پر تقرر ہوا۔ اس زمانہ میں حضرت مولانا تاج محمودؒ حضرت مولانا مفتی زین العابدینؒ حضرت مولانا حکیم عبدالرحیم اشرفؒ حضرت مولانا محمد صدیقؒ حضرت مولانا صاحبزادہ افتخار الحسنؒ حضرت مولانا محمد ضیاء القاسمیؒ کا طوطی بولتا تھا۔ حضرت مولانا تاج محمودؒ تحریکی اور حضرت مولانا حکیم عبدالرحیم اشرفؒ علمی میدان میں فتنہ قادیانیت کے خلاف سرگرم تھے۔ حضرت مولانا مفتی زین العابدینؒ نے تبلیغ کا محاذ سنبھال رکھا تھا۔ حضرت مولانا محمد صدیقؒ تدریس، مناظرہ اور انتخابی سیاست کے شناور تھے۔ حضرت مولانا صاحبزادہ افتخار الحسنؒ اور حضرت مولانا محمد ضیاء القاسمیؒ دونوں آسمان خطابت کے درخشندہ ستارے تھے۔
ان حضرات کا باہمی ربط، میل وجول قابل رشک تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب دیوبندی بریلوی جنگ کا سیز فائر ہو چکا تھا۔ لیکن ابھی تک تلخی کی گرد نہ بیٹھی تھی۔ اس زمانہ میں حضرت مولانا تاج محمودؒ اور حضرت مولانا حکیم عبدالرحیم اشرفؒ اتحاد بین المسلمین کے لئے مقامی اور قومی سطح پر کوشاں تھے۔ حضرت مولانا حکیم عبدالرحیم اشرفؒ اہل حدیث مکتب فکر سے تعلق رکھتے تھے۔ لیکن دل و دماغ کے اعتبار سے بہت ہی وسیع المشرب تھے۔ زندگی بھر وہ جامع مسجد جناح کالونی میں دیوبندی امام کے پیچھے نماز پڑھتے رہے۔ حضرت مولانا کی یہ خوبی تھی کہ وہ وقت کے بہت پابند تھے۔ صبح سے شام تک ان کا تمام وقت کمپیوٹرائز ہوتا تھا۔ نماز میں تکبیر تحریمہ اور صف اول کی پابندی کے خوگر تھے۔ گرمی، سردی، معمولی بیماری، بارش اور آندھی ان کے نزدیک کوئی عذرات نہ تھے۔ وہ مسجد میں قدم رکھتے۔ جماعت کھڑی ہو جاتی۔ گویا ان کا ایک ایک قدم بھی ضابطہ کا پابند تھا۔
حضرت مولانا نے اپنی زیر ادارت ہفت روزہ المنبر کا اجراء کیا۔ تمام تر اشاعتی مشکلات
کے باوجود اس کی اشاعت میں تسلسل کو قائم رکھا۔ ان کے رسالہ کے زیادہ تر موضوعات حالات حاضرہ پر قوم کی رہنمائی۔ ان پر بے لاگ تبصرہ و تجزیہ۔ تعلیمی میدان میں امت کی رہنمائی۔ اتحاد بین المسلمین، مسئلہ ختم نبوت اور منکرین ختم نبوت کا علمی و واقعاتی تعاقب و احتساب تھے۔ یہ اس رسالہ کا طرہ امتیاز تھا۔ حضرت مولانا موصوف دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث، حنفی نزاعات پر بالکل نہ لکھتے تھے۔ ہاں کبھی ماحول کی تلخی دیکھ کر فریقین سے اصلاح احوال کے لئے ضرور خامہ فرسائی کرتے تھے۔
اسلامیان فیصل آباد پر مولانا کا یہ عظیم احسان ہے کہ حضرت مولانا ابوالحسن علی ندویؒ حضرت مولانا محمد منظور نعمانیؒ اور حضرت مولانا مفتی محمد شفیعؒ کو آپ نے فیصل آباد میں بلایا۔ ان کے علاوہ دیگر ملکی وغیر ملکی تعلیمی مذہبی شخصیات کو انہوں نے اپنے قائم کردہ ادارہ جامعہ تعلیمات اسلامیہ سرگودھا روڈ فیصل آباد میں بلا کر ان کے خیالات سے اسلامیان فیصل آباد کو بہرہ ور کیا۔ آپ ایک سچے دردمند عالم دین تھے۔ آپ نے قادیانیوں کے خلاف صدائے حق بلند کی۔ لیکن اس میں بھی شائستگی اور دعوت وانذار کے پہلو کو نمایاں رکھا۔ آپ نے ”قادیانیوں سے پہلا خطاب“ کے نام پر ایک پمفلٹ بھی شائع کیا۔ جو ان کی تقاریر کے نکات پر مشتمل تھا۔
حضرت مولانا حکیم عبدالرحیم اشرفؒ نے ١٩٧٤ء کی تحریک ختم نبوت میں نمایاں خدمات سرانجام دیں۔ تحریک کے یوم اول سے یوم فتح تک مسلسل تین ماہ انہوں نے اپنے اوپر خواب و خور حرام کر کے اس کے لئے کام کیا۔ آپ کی خدمات و شخصیت کے پیش نظر آپ کو آل پارٹیز مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کا رکن رکین بنایا گیا۔ آل پارٹیز مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ آپ کی رائے کو بڑے احترام سے سنتے اور اسے دل میں جگہ دیتے تھے۔ مولانا بہت زرخیز دماغ کے آدمی تھے۔ مشکل اور آڑے وقت میں حالات کا تجزیہ کر کے ایسی تجاویز لاتے جو حاصل مجلس ہوا کرتی تھیں۔ آپ تجاویز کے بادشاہ تھے۔ جس موضوع پر گفتگو کرتے اس کی ایک ایک جزئی تک کی تفصیل سے پردہ اٹھاتے ۔ مثلاً اس بات کی تین قسمیں ہیں۔ تیسری قسم چار صورتوں سے خالی نہیں۔ چوتھی صورت کی پانچ وجہیں ہو سکتی ہیں۔ پانچویں وجہ کو آپ گیارہ حصوں پر تقسیم کر سکتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ کسی بھی مسئلہ کی تقسیم در تقسیم سے جو آپ نتیجہ نکالتے گویا صورت حال کا عرق کشید دیتے تھے۔ بایں ہمہ گفتگو اتنی مربوط ہوتی تھی
کہ اس سے کوئی اکتاہٹ نہ ہوتی تھی۔ ہر بات کو وہ اس طرح چھلنی میں چھان دیتے تھے یا اس کا ایسا الٹرا ساونڈ کر دیتے تھے کہ اس سے بہتر تشخیص تجویز نہ ہو سکتی تھی۔
حضرت مولانا حکیم عبدالرحیم اشرفؒ صحیح معنی میں مزاج شناس اور حکیم تھے۔ ان کی باتیں حکمتوں کے موتی اور ان کے مشورے جواہر پارے ہوتے تھے۔ حضرت مولانا نے ١٩٧٤ء کی تحریک ختم نبوت میں جس قائدانہ شان سے ملک وقوم، عوام وحکمرانوں کی رہنمائی کی وہ آپ کی بالغ نظری کی دلیل ہے۔ آپ نے ملک کے طول وعرض کے دورے کئے۔ عوام میں تحریک کی روح کو پھونکا۔ مرکزی ومقامی ختم نبوت کانفرنسوں میں شرکت کی۔ ان تمام تر کوششوں کے ساتھ ساتھ ایک ایسی خدمت کی اللہ رب العزت نے آپ کو توفیق بخشی جو آپ ہی کا حصہ ہے۔ حضرت مولانا حکیم عبدالرحیم اشرفؒ نے قادیانی عقائد ونظریات کے اصل کتابوں سے حوالجات کی فائل (محضر نامہ) تیار کیا۔ قادیانی کتب کے فوٹو لے کر قومی اسمبلی کے تمام اراکین تک پہنچائے۔ گویا پوری امت کی طرف سے اس نوعیت کا فریضہ سرانجام دیا کہ تمام ممبران قومی اسمبلی تک قادیانی کتب کے مندرجات کو دیکھنے کی رسائی ہوگئی۔ یہ کام آپ کا بڑا وقیع بھی تھا اور منفرد بھی۔
جناب ذوالفقار علی بھٹو صاحبؒ کے بعد جناب جنرل ضیاء الحق صاحبؒ تشریف لائے۔ آپ نے موقعہ کو غنیمت سمجھا۔ ان تک رسائی حاصل کی اور اپنی اجلی سیرت وبلندی کردار کے باعث جنرل صاحب کے دل میں اتر گئے اور پھر قومی مسائل میں ان کی جس طرح آپ نے دینی رہنمائی کی وہ آپ کا ہی حصہ ہے۔ ١٩٨٤ء میں امتناع قادیانیت آرڈیننس کے نفاذ کے لئے جنرل محمد ضیاء الحق صاحبؒ کو قائل کرنے میں آپ نے بڑا موثر کردار ادا کیا۔ اس پر ان کو جتنا خراج تحسین پیش کیا جائے کم ہے۔ حضرت مولانا حکیم عبدالرحیم اشرفؒ کا قلب آئینہ کی طرح شفاف تھا۔ جس صاف گوئی سے وہ کام لیتے وہ آپ کا ہی حصہ تھا۔ جس سے ناراض ہوں فوراً چہرہ بتا دیتا تھا کہ اس سے قلب میں مکدر ہے۔ جس پر راضی ہوں اس پر مہربانی کی برسات برسا دیتے تھے۔
حضرت مولانا حکیم عبدالرحیم اشرفؒ بڑے مردم شناس تھے۔ ان میں تکبر نام کی کوئی چیز نہ تھی۔ البتہ وضع دار ضرور تھے۔ پوری زندگی وضع داری میں گزار دی۔ مرحوم بہت ہی خوبیوں کے مالک تھے۔ سالانہ ختم نبوت کانفرنس چنیوٹ میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی دعوت پر آپ ضرور تشریف لاتے۔ ان کے خطاب کو بڑے احترام سے سنا جاتا۔ گھن گرج، جوش وخروش، ترنم وشاعری
سے ان کا خطاب خالی ہوتا تھا۔ سادہ بے تکلف گفتگو کرتے تھے اور دل موہ لیتے تھے۔
حضرت مولانا حکیم عبدالرحیم اشرفؒ کے رسالہ المنبر کے احتساب نے چناب نگر کے قادیانیوں کو ناکوں چنے چبوائے۔ المنبر کا ہر شمارہ قادیانیوں کے پاؤں کے نیچے زمین کو لوہے کے توے سے زیادہ گرم کر دیتا تھا۔ قادیانی ننگی کا ناچ ناچنے لگ جاتے اور اول فول پر اتر آتے تھے۔ لیکن حکیم صاحبؒ نے کبھی ان کے اول فول کی پرواہ نہ کی۔ اپنا فرض ادا کئے گئے۔ دیانتداری کی بات ہے کہ حضرت مولانا محمد حسین بٹالویؒ اور حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ کے بعد قلمی طور پر اہل حدیث مکتب فکر سے حضرت مولانا حکیم عبدالرحیم اشرفؒ کی خدمات تاریخ کا ایک سنہری باب ہیں۔ حکیم صاحبؒ تمام مکاتب فکر کے رہنماؤں کے قدردان تھے۔ خود فقیر راقم الحروف چشم دید گواہ ہے کہ حضرت حکیم صاحبؒ نے جس طرح حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ حضرت مولانا لال حسین اخترؒ حضرت مولانا مفتی محمد شفیعؒ حضرت مولانا محمد منظور نعمانیؒ حضرت مولانا ابوالحسن علی ندویؒ کا دل و جان سے احترام کیا اس کی نظیر پیش نہیں کی جاسکتی ہے۔
حضرت مولانا حکیم عبدالرحیم اشرفؒ ایک صاف دل و دماغ اجلی سیرت اور بلند کردار انسان تھے۔ دھان پان جسم تھا۔ لکھنوی مزاج تھا۔ گفتگو میں احتیاط۔ ہر بول تول کر بولتے اور ہر قدم پھونک کر رکھتے اور سوچ کر اٹھاتے تھے۔ ان کی مربوط گفتگو دل لبھانے والی ہوتی تھی۔ شہد سے میٹھی رسیلی گفتگو کرتے تھے۔ تکلف سے کوسوں دور ہونے کے باوجود اجلا لباس آپ کی وضع داری کی علامت یا شخصیت کی پہچان تھا۔ قراقلی ٹوپی سفید لمبی داڑھی نورانی چہرہ سفید لباس چلتے تھے تو علم کا وقار قائم ہو جاتا تھا۔ حق تعالیٰ مغفرت فرمائیں۔ کیا خوبیوں کے مالک تھے۔
مجالس میں اختلاف رائے کے جلال کو بھی فقیر نے دیکھا۔ لیکن اس میں اپنے موقف کی حقانیت ضرور ہوتی تھی۔ کس مسلمان کی دل آزاری نہ ہوتی تھی۔ آج مخاصمت و مجادلہ کے دور میں ان لوگوں کو تلاش کرنا مشکل اور بہت مشکل ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی آخرت کی مشکلات آسان فرمائے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو دنیا میں آسانیاں اور راحتیں دی تھیں۔ انہوں نے محنت کر کے رزق حلال کمایا اور مخلوق خدا اور امت مصطفیٰ کی خدمت کی۔ وہ دین کے سپاہی اور ملک کے پہرہ دار تھے۔ ہم گواہی دیتے ہیں کہ انہوں نے اپنے فرائض سے کبھی کوتاہی نہیں کی۔ اللہ تعالیٰ آپ کی مساعی کو شرف قبولیت سے سرفراز فرمائیں۔ آمین!
(لولاک شوال المکرم ١٤٢٥ھ)
٢١...... جناب صوفی احمد بخش چشتیؒ
وفات...... ١٢؍ اپریل ١٩٩٧ء
پاکستان کے نامور نعت خواں جناب صوفی احمد بخش چشتیؒ ١٢؍ اپریل کو دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون !
محترم جناب صوفی احمد بخش چشتیؒ ملک عزیز کے نامور نعت خواں تھے۔ قدرت نے ان کو بلا کا گلا دیا تھا۔ وہ لحن داؤدی سے مجمع پر سحر طاری کر دیتے تھے۔ وضع دار و خود دار طبیعت کے مالک تھے۔ دوستی نبھانا ان کا محبوب مشغلہ تھا۔ ہر دل عزیز شخصیت تھے۔ قدرت نے ان کو خوبیوں کا مرقع بنایا تھا۔ زندگی بھر آنحضرت ﷺ اور آپ کے صحابہ کرامؓ کی مدح سرائی کرتے رہے۔ کراچی سے خیبر تک ان کی آواز کے جادو نے عوام اہل سنت کو عشق رسالت مآب ﷺ کے جذبہ سے سرشار کیا۔
چند سال ہوئے حج و عمرہ کی سعادت حاصل کی ۔ گزشتہ دس سالوں سے ملہوآنہ موڑ ضلع جھنگ کے قریب رہائش اختیار کی ۔ یہیں مسجد و مدرسہ قائم کیا۔ ملک بھر میں آپ کا ایک حلقہ احباب تھا۔ اپنے بیٹوں میں سے دو کو قرآن مجید کا حافظ و قاری بنایا ۔ ایک کو نعت گوئی کے فریضہ سے آشنا کیا ۔
غرض مختلف جہتوں سے دین کی خدمت پر زندگی بھر قائم رہے ۔ پہلے دو بار معمولی سا دل کا دورہ ہوا۔ مگر اس آخری دورہ نے جند و جان کا رشتہ منقطع کر دیا ۔ ہزاروں رفقاء کو سوگوار چھوڑ کر آخرت کو سدھار گئے ۔
حق تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائیں ۔ ان کے درجات کو بلند فرمائیں اور کروٹ کروٹ جنت کے مستحق ہوں ۔
(لولاک صفر ١٤٢١ھ)
٢٢...... حضرت مولانا عبدالوحیدؒ
وفات.......مئی ١٩٩٧ء
قطب الارشاد حضرت شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ کے خلیفہ مجاز اور خانقاہ عالیہ ڈھڈیاں شریف ضلع سرگودھا کے سجادہ نشین حضرت مولانا عبدالوحید صاحبؒ کا گزشتہ دنوں وصال ہوا۔
مرحوم خانقاہ رائے پور کی باقیات صالحات میں سے تھے۔ انتہائی منکسر المزاج بزرگ عالم دین تھے۔ دنیا کی قیل وقال سے کوسوں دور تھے۔ ہر وقت یاد الٰہی سے دل کی دنیا کو آباد رکھنے والے تھے۔ حضرت شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ کے رشتہ میں بھانجے اور تعلق میں خلیفہ مجاز تھے۔ حضرت رائے پوریؒ کی صحبت ونظر شفقت نے آپ کو کندن بنادیا تھا۔
مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ اور مناظر اسلام حضرت مولانا لال حسین اخترؒ کے دور امارت میں مجلس تحفظ ختم نبوت کی مرکزی شوریٰ کے ممبر رہے۔ سرگودھا سے فیصل آباد آتے جاتے جامع مسجد و مدرسہ ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر میں ضرور قدم رنجہ فرماتے۔ ڈھیروں دعاؤں سے خدام کو نوازتے۔ بڑی مسکین طبیعت اور غنی دل کے مالک تھے۔ اکابر سے محبت۔ چھوٹوں سے شفقت کا معاملہ کرتے۔ ان کا وجود قدرت حق کا عطیہ تھا۔ ان کا وصال امت مسلمہ اور اسلامیان پاکستان بالعموم اور خانقاہ رائے پور کے متعلقین و متوسلین کے لئے بالخصوص بہت بڑا سانحہ ہے۔
موت برحق ہے۔ اس سے کون انکار کر سکتا ہے؟۔ مگر بعض حضرات کی وفات سے خیر و برکت کا جو ایک باب بند ہو جاتا ہے۔ وہ بہت بڑا قومی نقصان ہے۔ ان کے جنازہ میں علاقہ کے عوام اور پنجاب بھر کے علماء و مشائخ نے شرکت کی۔ حضرت رائے پوریؒ کے خلیفہ مجاز حضرت مولانا سید نصیر الحسینی شاہ صاحب مدظلہ، تبلیغی جماعت کے بزرگ بھائی عبدالوہاب اور کئی دیگر حضرات نے شرکت کی۔ جنازہ جامعہ امدادیہ فیصل آباد کے شیخ الحدیث مولانا نذیر احمدؒ نے پڑھایا اور حضرت مرحوم کو خانقاہ ڈھڈیاں میں رحمت حق کے سپرد کر دیا گیا۔ اللہ رب العزت حضرت مرحوم کی مغفرت اور پسماندگان کے صبر و شکر کی فراوانی کا سامان فرمائیں۔ آمین! (لولاک، صفر الخیر ١٤١٨ھ)
٢٣...... حضرت مولانا قاضی زاہد الحسینیؒ
وفات..... ١٣ مئی ١٩٩٧ء
بقیۃ السلف حضرت مولانا قاضی زاہد الحسینیؒ ١٣ مئی ١٩٩٧ء بمطابق ٥ محرم ١٤١٨ھ کو واصل بحق ہوئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون!
موصوف حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ کے شاگرد رشید اور حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ سے مجاز تھے۔ زندگی بھر تبلیغ و ترویج اسلام اور تردید فرق باطلہ میں مصروف عمل رہے۔ قرآن مجید کی تفسیر لکھی۔ تصوف پر کئی مفید کتابچے تحریر فرمائے۔ رحمت کائنات ﷺ نامی کتاب سیرت النبی ﷺ پر تحریر فرمائی۔ حضرت مدنیؒ کے سوانح پر کتاب لکھی۔ قرآن مجید کے ماہنامہ اور ہفتہ واری درس کے کئی حلقے قائم کئے۔ عرصہ تک الارشاد ماہنامہ اٹک سے شائع کرتے رہے۔ رد قادیانیت پر کئی مفید کتابچے آپ کے قلم حقیقت رقم سے منصہ شہود پر آئے۔
محافل ذکر و فکر کی رونقوں کو دوبالا کیا۔ بلاشبہ ہزاروں خلق خدا نے آپ سے فیض حاصل کیا۔ اس وقت کرہ ارض پر اللہ رب العزت کے مقبول بندوں میں سے ایک تھے۔ عمر بھر مسلک حق مسلک اعتدال پر قائم رہے۔ افراط و تفریط سے مبرا تھے۔ ان کو دیکھ کر دل یاد الٰہی سے معمور ہو جاتا تھا۔ عمر بھر جمعیت علمائے اسلام سے وابستہ رہے۔
مجلس تحفظ ختم نبوت کے کام کی نہ صرف تحسین فرماتے تھے۔ بلکہ دعاؤں اور سرپرستی سے نوازتے تھے۔ کئی بار چنیوٹ و چناب نگر ختم نبوت کانفرنسوں میں شرکت فرمائی۔ ان کا وجود اس دھرتی پر رحمت حق کو متوجہ کرنے کا ذریعہ تھا۔ عاش سعیداً و مات سعیداً! کے مصداق تھے۔
جامع مدنیہ اٹک اور نیک اولاد، ہزاروں مرید، بیسیوں تصانیف ان کا صدقہ جاریہ ہیں۔ اللہ رب العزت حضرت مرحوم کی مغفرت فرمائیں اور پسماندگان کو صبر جمیل سے نوازیں۔ آمین!
(لولاک صفر الخیر ١٤١٨ھ)
٢٤...... حضرت مولانا محمد عمر پالن پوریؒ
وفات...... مئی ١٩٩٧ء
نظام الدین دہلی کی آبرو، تبلیغی جماعت کے بزرگ، رہنما، عالمی مبلغ و داعی، حضرت مولانا محمد عمر پالن پوری گزشتہ دنوں وصال فرما گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون! حضرت موصوف لاکھوں بندگان خدا کی ہدایت کا باعث بنے۔ عمر بھر تبلیغ اسلام کے لئے اپنے آپ کو وقف رکھا۔ حضرت مولانا محمد یوسف دہلویؒ، حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلویؒ، حضرت مولانا انعام الحسن کاندھلویؒ کے بعد تبلیغی جماعت کے عالمی تبلیغی نظام کو جس خوبصورتی کے ساتھ آگے بڑھایا یہ ان کا حصہ تھا۔ بڑے ہی کامیاب مبلغ و داعی تھے۔ ان کی خطابت کے چرچے عرصہ تک رہیں گے۔ وہ کیا گئے ایک دنیا سونی ہو گئی۔ اللہ رب العزت آپ کی مغفرت فرمائیں اور آپ کے صدقہ جاریہ تبلیغی جماعت کو تاقیام قیامت قائم و دائم رکھیں۔ آمین!
(لولاک صفر الخیر ١٤١٨ھ)
٢٥...... حضرت مولانا مفتی غلام مرتضیٰ شہیدؒ
شہادت...... ٢٣ مئی ١٩٩٧ء
شاہ کوٹ ضلع شیخ پورہ کے معروف عالم دین، متبع سنت، عالم باعمل حضرت مولانا مفتی غلام مرتضیٰ جمعہ ٢٣ مئی ١٩٩٧ء فیصل آباد میں دہشت گردوں کے ہاتھوں مظلومانہ شہادت سے دو چار ہوئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون! بلاشبہ ان کی شہادت ایک صالح نوجوان عالم دین کی شہادت ہے۔ جامعہ رشیدیہ کے فاضل حضرت مولانا محمد عبداللہ رائے پوریؒ کے شاگرد اور جامعہ اشرفیہ شاہ کوٹ کے صدر مدرس تھے۔ بہت ہی مرنجاں مرنج شخصیت تھے۔ ان کی مظلومانہ شہادت، ظالم دہشت گردوں کو چین سے نہ بیٹھنے دے گی۔ ان کا گزشتہ ماہ ماہنامہ صیانۃ المسلمین لاہور میں ایک مضمون شائع ہوا۔ شیعہ، سنی رہنماؤں سے اکرام مسلم کے نام پر امن کی اپیل کی۔ امن کے خواہاں کو تڑپا کر دہشت گردوں نے اپنا ارماں تو ضرور پورا کر لیا ہو گا۔ لیکن ان کا لہو رائیگاں نہیں جائے گا۔ ان کی شہادت نے کئی دکھ تازہ کر دیئے۔ اللہ رب العزت مرحوم کو کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے۔ آمین!
(لولاک صفر الخیر ١٤١٨ھ)
٢٦......حضرت مولانا عبد الہادی شیخوپوریؒ
وفات......مئی ١٩٩٧ء
حضرت امیر شریعتؒ کے فدائی اور مجلس تحفظ ختم نبوت کے سابق مبلغ حضرت مولانا محمد احمد ساکن میاں علی کے جواں سال صاحبزادے حضرت مولانا عبد الہادی کا گزشتہ دنوں انتقال ہوگیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون!
حضرت مولانا عبد الہادیؒ ایک حق گو نڈر و بے باک عالم دین تھے۔ عمر بھر اسلامی نظام کے نفاذ اور کفر کی تردید میں کوشاں رہے۔ جامعہ محمودیہ و جامعہ توحیدیہ شیخوپورہ کے پلیٹ فارموں سے تبلیغ اسلام کا فریضہ انجام دیا۔ حضرت مولانا عبید اللہ انورؒ سے بیعت تھے۔ جمعیت علمائے اسلام اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مقاصد کے لئے عمر بھر بھر پور محنت کی۔
آپ گزشتہ کچھ عرصہ سے شوگر کے مرض میں مبتلا ہوئے ۔ مگر بایں ہمہ اپنے معمولات کو جاری رکھا۔ وفات کے دن بھی شیخوپورہ میں خطبہ جمعہ ارشاد فرما کر اپنے گاؤں میاں علی آئے۔ طبیعت ناساز ہوئی۔ بلاوا آیا اور یہ کوچۂ جاناں کو چل دیئے۔
(لولاک صفر الخیر ١٤١٨ھ)
٢٧......حضرت مولانا محمد منظور نعمانیؒ
وفات......٤ مئی ١٩٩٧ء
لکھنؤ سے آمدہ اخباری اطلاعات کے مطابق عالم اسلام کے عظیم سکالر و راہنما حضرت مولانا محمد منظور نعمانیؒ کا گزشتہ دنوں انتقال ہوگیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون!
حضرت مرحوم حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ کے شاگرد اور شاہ عبد القادر رائے پوریؒ کے مجاز صحبت تھے۔ پون صدی سے زائد کے طویل عرصہ پر آپ کی گراں قدر خدمات دینیہ کی عظیم الشان و قابل فخر روشن و درخشندہ تاریخ پھیلی ہوئی ہے۔ آپ ایک اعلیٰ پایہ کے عالم دین، مناظر و محدث اور صاحب قلم تھے۔ مختلف موضوعات پر آپ کی بیسیوں عظیم الشان تصانیف ہیں۔
رد قادیانیت پر آپ کے تین مختصر مگر جامع رسائل ہیں۔ قادیانی غیر مسلم کیوں؟ قادیانیت پر غور کرنے کا سیدھا راستہ اور حیات و نزول حضرت عیسیٰ علیہ السلام ۔ ان کے علاوہ فن حدیث پر آپ کی جامع منتخب احادیث کا مجموعہ ہے جس کا نام ”معارف الحدیث“ ہے جو کئی جلدوں پر مشتمل ہے۔
حضرت مولانا مرحوم دارالعلوم دیوبند کی شوریٰ کے رکن اور ماہنامہ الفرقان لکھنؤ کے ایڈیٹر تھے۔ آپ کا وجود قدرت کا عطیہ تھا۔ آپ کی ذات سے قدرت نے بڑی خیر و برکت وابستہ فرمائی تھی۔ ان کا وصال موت العالم موت العالم ! کا صحیح مصداق ہے۔ حق تعالیٰ شانہ اپنی شایان شان ان کے ساتھ معاملہ فرمائیں۔
حضرت مولانا مرحوم کے تمام عزیز، شاگرد، دارالعلوم دیوبند کے وابستگان، بلکہ پورا عالم اسلام بجا طور پر تعزیت کا مستحق ہے۔
(لولاک محرم الحرام ١٤١٨ھ )
٢٨....... حضرت مولانا قاری شہاب الدینؒ
وفات.......٣٠ جولائی ١٩٩٧ء
سلسلہ نقشبندیہ کے روحانی بزرگ، عالم دین، حضرت مولانا محمد عبداللہ بہلوی قدس سرہ کے خلیفہ مجاز، مدرسہ امینیہ سرگودھا کے بانی و مدیر اور ہزاروں دلوں کی دھڑکن حضرت مولانا قاری شہاب الدینؒ ٢٩ اور ٣٠ جولائی کی درمیانی شب رحلت فرمائے عالم آخرت ہوئے۔ اناللہ وانا الیہ راجعون!
حضرت قاری صاحبؒ ایک عرصہ سے وجع قلب کے مریض چلے آ رہے تھے اور اس سے پیشتر کئی بار ان پر اس مرض کا حملہ ہو چکا تھا۔ مگر اس بار کا حملہ جان لیوا ثابت ہوا۔ حضرت قاری صاحبؒ نہایت کم آمیز و کم گو اور خاموش طبع تھے۔ شہرت و ناموری سے کوسوں دور تقویٰ و طہارت میں اپنے اسلاف و اکابر کی روایات کے امین تھے۔
حضرت قاری صاحبؒ کا زمانہ طالب علمی سے سرگودھا سے تعلق شروع ہوا اور تادم واپسی قائم رہا۔ حضرت قاری صاحبؒ قریب قریب ١٩٦٢ء میں جامع مسجد بلاک نمبر ١ سرگودھا میں واقع جامعہ سراج العلوم میں درجہ سابعہ یعنی مشکوٰۃ شریف کی تعلیم کے لئے داخل ہوئے تو
اسی اثناء میں سرگودھا کے بلاک ١٦ کی جامع مسجد سے حضرت مولانا وفاء اللہ صاحب فاضل دیوبند نے امامت و خطابت سے معذرت کر لی۔ ان کی جگہ حضرت مولانا قاری شہاب الدین صاحبؒ کو جو ابھی مشکوۃ کے طالب علم تھے بحیثیت امام و خطیب مقرر کیا گیا۔ حضرت قاری صاحبؒ نے نہ صرف اپنے اساتذہ کے اعتماد کو بحال رکھا۔ بلکہ علاقہ کی فضاء بدل دی اور رفتہ رفتہ قاری صاحبؒ کی طرف لوگوں کا رجوع بڑھنا شروع ہوا۔
اسی اثناء میں جامعہ سراج العلوم کے شیخ الحدیث اور جامعہ امینیہ دہلی کے سابق شیخ الحدیث حضرت مولانا خدا بخش بھیرویؒ نے جامعہ سراج العلوم سے استعفیٰ دے کر از راہ شفقت اپنے لائق و فائق شاگرد کے ہاں تشریف لے گئے۔ حضرت قاری صاحبؒ نے ان کی تشریف آوری کو غنیمت سمجھا اور مدرسہ امینیہ دہلی کے نام پر مدرسہ امینیہ سرگودھا کے نام سے ایک دینی درس گاہ قائم فرمائی۔ جس کے وہ خود مہتمم اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی راہنما حضرت مولانا حافظ محمد اکرم طوفانی صاحب ناظم اعلیٰ مقرر ہوئے۔ ان دو اکابر نے ١٩٦٢ء سے ١٩٧٤ء تک مل کر گلشن نبوی کی خوب خوب آبیاری کی اور تعلیم و تدریس کے میدان میں مدرسہ کو اپنے علاقہ کے معیاری مدارس کی صف میں لا کھڑا کیا۔
تا آنکہ ٢٩ مئی ١٩٧٤ء کو چناب نگر اسٹیشن پر قادیانی غنڈوں نے ملتان نشتر میڈیکل کالج کے نہتے مسلمان طلباء پر حملہ کیا۔ ملکی حالات کا دھارا یکسر بدل گیا اور حضرت مولانا محمد اکرم طوفانی صاحب نے مدرسہ کی تدریس و نظامت پر ناموس رسالت کے تحفظ کی خدمت کو ترجیح دی اور اپنی خدمات مکمل طور پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے سپرد کر دیں۔ مدرسہ کے ساتھ باقاعدہ تدریس و نظامت کے تعلق کے بجائے تاحیات سرپرستی اور مشاورت کا تعلق برقرار رکھنے کے وعدہ پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے شعبہ تبلیغ کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لے لی اور سرگودھا کے قادیانی چمگادڑوں کو ناکوں چنے چبوا دیئے۔ اب سرگودھا میں مدرسہ امینیہ کے ساتھ ساتھ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بھی تبلیغ اسلام و اشاعت دین میں ایک مضبوط قوت بن کر سامنے آ گئی۔
(لولاک جمادی الاولیٰ ١٤١٨ھ)
٢٩....... حضرت مولانا ڈاکٹر حبیب اللہ شہیدؒ
شہادت.......٢ نومبر ١٩٩٧ء
جامعۃ العلوم الاسلامیہ کراچی کے مہتمم شیخ الاسلام مولانا محمد یوسف بنوریؒ کے جانشین، وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے ناظم اعلیٰ، عالم اسلام کے عظیم مفکر و محدث حضرۃ العلام مولانا ڈاکٹر حبیب اللہ مختار ٢ نومبر ١٩٩٧ء بمطابق یکم رجب المرجب ١٤١٨ھ بروز اتوار دن کے ١٢ بج کر پچاس منٹ پر جامعۃ العلوم الاسلامیہ سے تقریباً نصف فرلانگ کے فاصلہ پر دہشت گردی کی واردات میں شہید ہوگئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون!
ان کے ساتھ شہید ہونے والوں میں جامعہ کے ناظم مفتی عبدالسمیع اور محمد طاہر ڈرائیور بھی شامل ہیں۔ جبکہ ان کے ایک اور ساتھی قاری بشیر احمد نقشبندی شدید زخمی ہوئے۔ یہ واقعہ اچانک رونما ہوا۔ جس شخص نے خبر سنی سکتہ میں آگیا۔ ملک بھر میں صف ماتم بچھ گئی۔ ان کی شہادت ان کے لئے بلاشبہ نجات اخروی ہے۔ وہ سرخرو ہو گئے۔ وہ مبارکباد کے مستحق ہیں۔ لیکن ان کے جانے کے بعد جو خلاء پیدا ہوا ہے وہ مدتوں پر نہ ہو سکے گا۔
وفاق المدارس اور دیگر اسلامی تنظیموں نے اس افسوسناک بربریت پر شدید احتجاج کیا۔ ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ جگہ جگہ ملک بھر میں قرآن خوانی کر کے ان کے لئے ایصال ثواب کیا گیا۔ حضرت مولانا حبیب اللہ مختارؒ دہلوی خاندان کے چشم و چراغ تھے۔ خدا داد صلاحیتوں اور بے پناہ حافظہ ۔ متانت و سنجیدگی اور دینی علوم میں گہری نظر کی خوبیوں کو دیکھ کر حضرت بنوریؒ ایسے محدث نے آپ کو اپنا داماد بنالیا۔ حضرت بنوریؒ کے زمانہ میں جامعہ کے شعبہ تحقیق و تصنیف کے انچارج تھے۔ ان کی وفات کے بعد جامعہ کے نائب مہتمم بنائے گئے اور حضرت مولانا مفتی احمد الرحمٰنؒ کے بعد جامعہ کے مہتمم مقرر ہوئے۔ اہتمام سنبھالتے ہی جامعہ کو وہ عروج بخشا کہ اکابر کی ارواح خوش ہوگئیں۔ جس طرح بلا کے ذہین تھے اسی طرح اعلیٰ درجہ کے منتظم ثابت ہوئے۔ انہوں نے اپنے وجود سے اکابر کے خلاء کو محسوس نہ ہونے
دیا۔ انہوں نے اکابر کے خلاء کو پر کیا۔ لیکن ان کا خلا شاید مدتوں پر نہ ہو سکے گا۔
دیگر خوبیوں کے علاوہ عربی زبان کے ماہر اور عربی سے اردو ترجمہ کرنے میں اپنا ثانی نہ رکھتے تھے۔ متعدد کتابوں اور کتابچوں کے ترجمے کئے۔ اتنا سلیس با محاورہ ترجمہ جس سے اصل کتاب کے اردو زبان میں ہونے کا احساس ہوتا تھا۔ ان کے دن رات، صبح و شام، سفر و حضر ان کے عربی سے اردو میں علوم کو منتقل کرنے میں گزرے۔ بلاشبہ پچاسوں عربی کتابوں کو اردو کے قالب میں ڈھالا۔ جس پر محدثین و مفسرین سے لے کر عوام تک سبھی نے خراج تحسین پیش کیا اور عقیدت کے پھول برسائے۔ آپ کی ان خداداد صلاحیتوں اور معاملہ فہمی کو دیکھ کر وفاق المدارس العربیہ پاکستان کا آپ کو ناظم اعلیٰ مقرر کیا گیا اور آپ نے جامعۃ العلوم الاسلامیہ کی طرح وفاق المدارس کی بھی خون جگر سے آبیاری کی اور اس کا حق نظامت ادا کیا۔
آپ کی ان تمام تر گرانقدر خدمات کے علاوہ آپ کی منفرد خدمت حدیث شریف کی معروف کتاب ”ترمذی“ شریف کی تخریج احادیث ہے۔ حضرت امام ترمذیؒ کی کتاب پڑھنے پڑھانے والے جانتے ہیں کہ حضرت امام ترمذیؒ ایک باب کے تحت چند احادیث درج فرماتے ہیں اور باقی جتنی احادیث اس باب کے متعلق ان کے حافظہ میں محفوظ ہوتی ہیں۔ ان کے متعلق وفی الباب عن فلاں عن فلاں فلاں کے تحت باقی احادیث مبارکہ کے راوی صحابہ کرامؓ کے اسماء گرامی ذکر کر دیتے ہیں۔ جس سے یہ فائدہ ہوتا ہے کہ ہر محدث کو معلوم ہو جاتا ہے کہ اسی مسئلہ سے متعلق اور بھی روایات فلاں فلاں صحابہ کرامؓ سے منقول ہیں۔
اللہ رب العزت حضرت مولانا حبیب اللہ مختارؒ کی قبر کو اپنے نور رحمت سے بھر دیں۔ آپ نے ترمذی شریف کی وفی الباب کی ذکر کردہ احادیث مبارک کو جمع کرنا شروع کیا۔ سب سے پہلے انہوں نے کتاب الطہارت کی تخریج کی۔ لب اللباب فیما یقولہ الترمذی وفی الباب ! اس کا نام تجویز کیا۔ جیسا کہ اس کے مقدمہ میں مذکور ہے یہ ١٤٠٦ ھ میں شائع ہوئی۔ اس کے مقدمہ میں تحریر فرماتے ہیں کہ اس پر میں نے ١٦ سال صرف کئے۔
١٦ سال کی محنت شاقہ سے یہ کتاب جب منصہ شہود پر آئی تو اس کا نام ٹائٹل پر تحریر تھا ”الامام الترمذی و تخریج کتاب الطہارت من جامعہ“ صرف کتاب الطہارت کی تخریج کے لئے ١٨٦ کتب احادیث کی طرف مراجعت کرنی پڑی۔ اللہ رب العزت حضرت مولانا مرحوم کو جزائے خیر دیں کہ وفی الباب کے تحت جتنی احادیث حضرت امام ترمذیؒ نے ذکر فرمائیں نہ صرف ان کی تخریج فرمائی۔ بلکہ اگر اسی باب میں مزید احادیث بھی تھیں جو حضرت امام ترمذیؒ کی نظر مبارک سے نہیں گزریں تھیں یا ان کا انہوں نے تذکرہ نہیں فرمایا تھا ان کو بھی باحوالہ نقل کر دیا۔ آپ نے وفی الباب کے تحت ترمذی شریف کی تخریج کیا فرمائی ایک ایسے احادیث کے انسائیکلو پیڈیا کی بنیاد فراہم کی کہ کتاب کے منصہ شہود پر آتے ہی دنیا بھر کے علم حدیث سے شغف رکھنے والے حضرات عش عش کر اٹھے۔ انہوں نے اس کی تکمیل کی طرف آپ کی توجہ مبذول کرائی اور حدیث شریف کی اس عظیم علمی خدمت پر بھر پور خراج تحسین پیش کیا۔
آپ نے اب کشف النقاب عما یقول الترمذی وفی الباب ! جلد اول تحریر فرمائی ۔ ١٤٠٧ھ میں چھپی ۔ اس کے چھ سو صفحات ہیں ۔ جلد ثانی بھی ١٤٠٧ھ میں شائع ہوئی ۔ اس کے پانچ سو پچانوے صفحات ہیں ۔ چوتھی جلد میں کتاب الصلوٰۃ تک پہنچے تھے۔ اس کے بعد اس کی اشاعت موقوف ہو گئی۔
عرصہ سے فقیر راقم کو جامعۃ العلوم الاسلامیہ کراچی کے فارغ التحصیل علمائے کرام کی رد قادیانیت پر خدمت کا موقع ملتا ہے ۔ ہر سال اپنی شائع شدہ کتابوں کے تین سیٹ عنایت فرماتے تھے ۔ نمبر ١....... دفتر مرکزیہ ملتان کی لائبریری کے لئے ۔ نمبر ٢....... چناب نگر مسلم کالونی کی لائبریری کے لئے ۔ نمبر ٣...... فقیر کے لئے ۔
گزشتہ سال فقیر راقم نے کشف النقاب کے بارہ میں معلوم کیا تو آپ نے فرمایا کہ اس پر خاصہ کام ہو گیا ہے۔ اب عربی کمپیوٹر اپنا لے کر اس کی کمپوزنگ کرانی ہے ۔ باہر سے
کمپوز کرانے پر زیادہ خرچہ آتا ہے۔ اس کے بعد کیا ہوا معلوم نہیں۔ حضرت شیخ الہندؒ نے تفسیر لکھنی شروع کی۔ اس دوران آپ کی عالم آخرت کو روانگی ہوئی تو تکمیل حضرت شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانیؒ نے کر دی۔ علامہ عثمانیؒ نے فتح الملہم شرح مسلم لکھنی شروع کی۔ مکمل نہ ہو پائی کہ وہ اللہ کو پیارے ہو گئے تو حضرت مولانا محمد تقی عثمانی دامت برکاتہم نے اس کی تکمیل کا بیڑا اٹھایا۔ حضرت مولانا علامہ محمد یوسف بنوریؒ نے معارف السنن لکھنی شروع فرمائی۔ ٦ جلدیں تحریر فرمائیں اور اللہ کو پیارے ہو گئے۔ آج تک کوئی معارف السنن کی تکمیل نہ کر سکا اور میرے خیال میں شائد کشف النقاب کی بھی کوئی تکمیل نہ کر سکے۔
حضرت مولانا حبیب اللہ مختارؒ درس و تدریس کے آدمی تھے۔ میٹنگوں اور جلسوں میں شریک ہونے کا مزاج نہیں رکھتے تھے۔ حضرت اقدس مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم نے مجلس کی طرف سے اسلام آباد میں اکابر علماء کی میٹنگ بلائی تو اس کے لئے تیار ہو گئے۔ اور فرمایا کہ میٹنگوں میں جانے کی عادت نہیں۔ لیکن حضرت مدظلہ کے حکم کو مانے بغیر بھی چارہ کار نہیں۔ اس ایک واقعہ سے آپ اندازہ کریں کہ حضرات اکابر کا کتنا احترام ان کے دل میں تھا۔
حضرت مولانا حبیب اللہ مختارؒ بہت ہی محنتی اور گہری نظر والے محدث تھے۔ ان کی محنت کو دیکھ کر اکابر کی محنت کا رنگ آنکھوں کے سامنے پھر جاتا تھا۔ ہر آنے والے نے جانا ہے۔ لیکن بعض حضرات کی وفات علم کی وفات ہوتی ہے۔ ان کے فوت ہونے سے جو علمی خلاء واقع ہوتا ہے اس کا پر ہونا ممکن نہ دیکھ کر قلب و جگر مزید زخمی ہوتے ہیں۔ مولانا حبیب اللہ مختارؒ کیا گئے علم کی محفل سونی ہو گئی۔ ان کی قبر پر اللہ رب العزت کی کروڑوں رحمتیں ہوں۔ اللہ رب العزت ان کے پسماندگان کو صبر جمیل کی توفیق نصیب فرمائے۔ آمین !
(لولاک شعبان ١٤١٨ھ )
٣٠....... حضرت مولانا عبدالکریم قریشیؒ
وفات...... ٤ جنوری ١٩٩٩
پیر طریقت، مخدوم العلماء، سرپرست جمعیت علمائے اسلام پاکستان، مدرسہ عربی سراج العلوم بیر شریف کے بانی ومہتمم، صوبہ سندھ کی ممتاز مذہبی شخصیت واداروں کے مربی ومحسن حضرت مولانا عبدالکریم قریشیؒ ١٦ رمضان المبارک ١٤١٩ھ بمطابق ٤ جنوری ١٩٩٩ء پونے سات بجے شام کراچی میں دل کا دورہ پڑنے سے انتقال فرما گئے۔ اناللہ وانا الیہ راجعون!
حضرت مولانا عبدالکریم قریشیؒ صدیقی النسل تھے۔ چالیسویں پشت میں جاکر آپ کا سلسلہ نسب خلیفہ اول حضرت سیدنا ابو بکر صدیقؓ سے مل جاتا ہے۔ آپ کے آباؤ واجداد فاتح سندھ حضرت محمد بن قاسمؒ کے ہمراہ حجاز مقدس سے سندھ میں تشریف لائے تھے۔ گزشتہ دوسو سال سے آپ کے خاندان کے بزرگوں نے بیر شریف میں رہائش اختیار کی تھی۔ ستمبر ١٩٢٣ء میں حضرت مولانا عبدالکریم قریشیؒ بیر شریف تحصیل قنبر ضلع لاڑکانہ میں پیدا ہوئے۔ والد کا اسم گرامی حضرت مولانا محمد عالم قریشیؒ اور دادا کا اسم گرامی حضرت مولانا محمد عبداللہ قریشیؒ تھا۔ بیر شریف میں یہ خاندان کئی پشتوں سے علم وفضل کا نشان تھا۔
سندھ میں جب کبھی صدیوں قبل اسلامی احکام کے مطابق فیصلے ہوتے تھے۔ ان دنوں سندھ کے قاضی القضاۃ مخدوم محمد عاقلؒ تھے۔ مولانا عبدالکریم قریشیؒ کے دادا مولانا محمد عبداللہ کے دادا مولانا مفتی محمد قریشیؒ ان دنوں بیر شریف کی مسند علم وفضل کے وارث تھے۔ مخدوم محمد عاقلؒ سالانہ تبلیغی وعدالتی دورہ پر تشریف آوری کے دوران میں بیر شریف بھی تشریف لائے۔ مولانا مفتی محمد قریشیؒ کے متعلق بیر شریف کی رعایا نے بتایا کہ ہم نے مسجد کے لئے ایک مولانا صاحب کی خدمات حاصل کی ہیں۔ مخدوم محمد عاقل صاحبؒ نے ان سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی۔ مفتی مولانا محمد قریشیؒ تشریف لائے۔ رسمی تعارف کے بعد مخدوم محمد عاقلؒ نے ان سے یکے بعد دیگرے تین مسئلے دریافت فرمائے جس کے آپ نے صحیح جوابات ارشاد فرمائے۔ وہ بہت خوش ہوئے۔ اس پر مفتی محمد قریشی صاحبؒ نے اجازت طلب کر کے مخدوم محمد عاقل صاحبؒ سے تین
مسئلے دریافت کئے ہر مسئلہ پر مخدوم محمد عاقل صاحبؒ کتاب طلب فرماتے اور مسئلہ نکال کر جواب ارشاد فرماتے ۔ مفتی محمد قریشیؒ نے فرمایا کہ:
مخدوم محمد عاقل صاحبؒ محمد قریشی صاحبؒ کے علم وفضل سے نہ صرف متاثر ہوئے ۔ بلکہ اس علاقہ میں ان کو قاضی مقرر کردیا ۔ اور آپ جامع مسجد (موجودہ) پیر شریف کے متصل ایک بیری کے درخت کے نیچے بیٹھ کر لوگوں کے شرع محمدی کے مطابق فیصلے کرتے ۔ دوسرے سال جب مخدوم محمد عاقل صاحبؒ تشریف لائے تو استقبال کے لئے مفتی محمد قریشی صاحبؒ بھی لوگوں کے ہمراہ بستی سے باہر تشریف لائے ۔ مخدوم محمد عاقل صاحبؒ نے مفتی صاحب کو دیکھتے ہی اونٹ سے نیچے چھلانگ لگادی اور مفتی صاحبؒ سے عرض کیا کہ حضرت اگر میری گردن تڑوانی ہو تو استقبال کے لئے تشریف لایا کریں اور اگر مجھے صحیح سلامت رکھنا پسند کرتے ہوں تو میرے استقبال کے لئے تشریف نہ لایا کریں ۔
حضرت مولانا عبدالکریم قریشیؒ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد گرامی حضرت مولانا محمد عالمؒ ہٹی گاؤں کے مولانا محمد ایوبؒ ، گوٹھ لاکھا کے مولانا تاج محمود گمیؒ ، گھورو پہوڑ کے میر بخش بھٹوؒ ، سے حاصل کی ۔ پھر حضرت مولانا عبیداللہ سندھیؒ کے علوم کے وارث حضرت مولانا غلام مصطفیٰ قاسمی صاحبؒ سے پانچ سال میں تکمیل کی ۔ گھوٹکی اور دیگر مقامات پر جہاں جہاں مولانا غلام مصطفیٰ قاسمیؒ تعلیم دیتے رہے آپ ان کے ہمراہ رہے ۔
علوم اسلامیہ اور حدیث کی تعلیم سے فراغت کے بعد کراچی مدرسہ مظہر العلوم کھڈہ میں مولانا محمد صادق صاحبؒ کے ہاں دو سال آپ نے پڑھایا ۔ اسی دوران میں آپ نے حج کی سعادت حاصل کی ان دنوں درخواستیں اور ویزا وغیرہ کی موجودہ مشکلات نہ تھیں ۔ نہ ہی تصویر کی پابندی تھی ۔ بحری جہاز کی ٹکٹ لیتے اور حج پر روانہ ہو جاتے ۔ چنانچہ آپ نے بھی ایسے ہی حج کیا ۔ سات سال مدرسہ انوارالعلوم کنڈیارو میں رہ کر آپ نے علوم اسلامیہ کی تدریس کے فرائض سرانجام دیئے ۔ بعد میں اپنے شیخ حضرت قبلہ مولانا حماد اللہ ہالیجویؒ کے حکم پر ١٩٥٨ میں اپنے
گاؤں پیر شریف میں مدرسہ سراج العلوم کی بنیاد رکھی اور زندگی کے آخری لمحے تک اس گلشن نبوی کی آبیاری کرتے اور خونِ جگر سے اسے نہال کرتے رہے۔ آپ کے ہزاروں شاگرد ہوں گے۔ اس وقت بھی ایک سو سے زائد آپ کے شاگرد اور فیض یافتہ تدریس کی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ مولانا عطاء اللہ ، مولانا عبدالقادر خضدار، مولانا نور محمد ، مولانا میر محمد ، مولانا میر حسن ، مولانا منظور، مولانا صلاح الدین اور کئی دیگر حضرات اس وقت اپنے اپنے علاقہ و حلقہ میں علم و آگہی کے دیپ جلائے ہوئے ہیں۔
آپ کا معمول تھا کہ صبح درس قرآن ارشاد فرماتے۔ ابتدائی فارسی وصرف کے درجہ کے طلباء سے لے کر منتہی طلباء تک سب اس میں شریک ہوتے۔ ٦ سال سے ٨ سال تک آپ تکمیل کرا دیتے تھے۔ دس کتابیں احادیث شریف کی آخری تین سال کے طلباء کو پڑھاتے تھے۔ آپ کی تعلیم اتنی سادہ مگر دل کش و دلنشیں ہوتی تھی کہ اس عرصہ میں پڑھنے والے آگے چل کر بہترین مدرس بن جاتے تھے۔ افہام وتفہیم کا قدرت نے آپ کو ایسا ملکہ نصیب فرمایا تھا کہ مشکل سے مشکل مسئلہ آپ چٹکیوں میں حل کر دیتے تھے۔ آپ کے اخلاص وتقویٰ کی برکت اور اساتذہ و مشائخ کی نظر کرم سے حق تعالیٰ نے آپ کو ایسی شان محبوبیت نصیب فرمائی تھی کہ شاگرد آپ پر جان چھڑکتے تھے اور دل و جان سے آپ پر فدائی ہوتے تھے۔ یہ سب اخلاص و ذکر الٰہی کا صدقہ تھا کہ آپ نے بہت جلد پورے صوبہ سندھ میں ایسا علمی مقام حاصل کر لیا کہ تمام ہمعصر پیچھے رہ گئے۔
پیر طریقت حضرت مولانا حماد اللہ ہالیجویؒ کے ہاتھ پر آپ نے ١٩٤٨ء میں بیعت کی۔ حضرت ہالیجویؒ کی بیعت کا تعلق حضرت مولانا تاج محمود امروٹیؒ اور ان کا حضرت حافظ محمد صدیق صاحبؒ بھر چونڈی شریف والوں سے اور ان کا سوئی شریف کی خانقاہ سے تھا۔ حضرت مولانا حماد اللہ ہالیجویؒ سے آپ کو اجازت وخرقہ خلافت حاصل ہوا اور ان کے وصال کے بعد ایسی نسبت شیخ منتقل ہوئی کہ آپ دیکھتے ہی علاقہ بھر میں محبوب المشائخ بلکہ شیخ المشائخ ہو گئے۔ بلاشبہ لاکھوں فرزندان اسلام نے آپ سے بیعت کا تعلق قائم کیا ہو گا اور ذکر الٰہی کی نعمت سے اپنے قلوب و جگر کی دنیا کو آباد کرنے والے بن گئے ہوں گے۔
١٩٥٦ء میں آپ نے جمعیت علماء اسلام کے پلیٹ فارم سے اپنے تحریکی دور کا آغاز کیا۔ ایوب خان کے عائلی قوانین، ڈاکٹر فضل الرحمن کا فتنہ، تحریک نظام مصطفیٰ اور ایم آر، ڈی۔ غرضیکہ تمام ملکی وقومی تحریکوں میں آپ نے قائدانہ کردار ادا کیا۔ جمعیت علماء اسلام کے صوبائی اور مرکزی عہدوں پر آپ فائز رہے۔ جمعیت علماء اسلام کل پاکستان کی امارت بھی آپ کے حصہ میں آئی۔ آج کل اہل حق کے قافلہ جمعیت علماء اسلام پاکستان کے آپ سرپرست اعلیٰ تھے۔ شیخ الاسلام مولانا محمد عبداللہ درخواستیؒ قائد جمعیت مفکر اسلام مولانا مفتی محمودؒ روح رواں جمعیت حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ حضرت مولانا عبیداللہ انورؒ، حضرت شیخ الحدیث مولانا عبدالحقؒ، حضرت مولانا گل بادشاہؒ اور دیگر جمعیت علماء اسلام کے راہنماؤں سے آپ کے نہ صرف مثالی تعلقات تھے۔ بلکہ وہ تمام حضرات آپ کی قدردانی کرتے تھے اور آپ کے علم وفضل کے نہ صرف معترف بلکہ مداح تھے۔ عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ اور فتنہ قادیانیت کی تردید کے لئے اس وقت اپنے اکابر کے جانشین تھے۔
تحریک ختم نبوت ١٩٥٣ء میں اپنے شیخ حضرت ہالیجویؒ کے ہمراہ سکھر کی عظیم الشان کانفرنس میں شرکت کی۔ ہزاروں بندگان خدا کو دن رات ایک کر کے تحریک سے وابستہ کر دیا۔ تحریک ختم نبوت ١٩٧٤ء میں لاہور انجمن خدام الدین شیرانوالہ کے مدرسہ میں آل پارٹیز مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت پاکستان میں آپ نے مندوب کے طور پر شرکت فرمائی اور قادیانیوں کے ارتداد و زندقہ پر ایسی جامع و مانع علمی گفتگو فرمائی۔ جس پر تحریک ختم نبوت کے قائد شیخ الاسلام حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمودؒ نے آپ کی گفتگو کو بہت سراہا۔ شیعہ مکتب فکر کے رہنما اور مجلس عمل کے ممبر سید مظفر علی شمسی نے اٹھ کر آپ کی پیشانی کا بوسہ لیا اور مجاہد ختم نبوت آغا شورش کاشمیریؒ نے آپ کو گلے لگا لیا اور بیساختہ کہا کہ حضرت آپ نے فتنہ قادیانیت کے ارتداد و زندقہ پر ایسی علمی گفتگو فرمائی ہے جس سے نہ صرف اس فتنہ کی سنگینی ہم پر واضح ہو گئی بلکہ اس کی شرعی سزا (سزائے ارتداد) پر بھی ہمیں انشراح ہو گیا۔ اس وقت تحریک ایسے مرحلہ میں داخل ہو گئی ہے کہ جو مطالبہ ان کے غیر مسلم اقلیت کا ہم نے رکھا ہے اس کو لے کر
آگے چلنا ہو گا۔ ورنہ شرعاً قادیانی فتنہ کا علاج وہی ہے جو آپ نے واضح فرمایا جو قرن اول میں صدیق اکبر نے اس پر عمل درآمد کیا۔ فتنہ قادیانیت کے خلاف قدرت نے آپ کے دل میں ایسی تڑپ پیدا فرمادی تھی کہ آپ کی مساعی جمیلہ سے سندھ کی دھرتی کا ہر عالم دین قادیانیت کے خلاف ”سنت صدیقی“ کا علمبردار بن گیا۔
آپ نے بارہا چنیوٹ کی ختم نبوت کانفرنس میں خطاب فرمایا۔ آپ کا خطاب اتنا دلنشیں ہوتا تھا کہ سامعین عش عش کر اٹھتے تھے۔ حق تعالیٰ شانہ نے ہمارے اس دور میں متکلم اسلام حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ اور مجاہد اسلام حضرت مولانا عبدالکریم پیر شریفؒ کو سمجھانے کا خوب ملکہ نصیب فرمایا۔ اس دور میں حضرت مولانا عبدالکریم قریشیؒ کو تصویر سے جتنی نفرت تھی۔ اس پر ان کو جتنا خراج تحسین پیش کیا جائے کم ہے۔ آپ ایک دفعہ چنیوٹ تشریف لائے۔ کسی اخباری نمائندہ نے آپ کا فوٹو لے لیا۔ آپ سٹیج سے اتر کر قیام گاہ پر آگئے۔ جب تک کیمرہ مین سے کیمرہ کی فلم منگوا کر آپ کو نہیں دی گئی آپ سٹیج پر نہیں گئے۔ فلم لے کر پہلے ضائع کی پھر سٹیج پر تشریف لے گئے۔ ساری زندگی شناختی کارڈ نہیں بنوایا۔ حج کے لئے درخواست نہیں دی۔ پہلی بار بغیر تصویر کے حج پر گئے دوبارہ تصویر بنوانے کے خطرہ سے حج وعمرہ کو چھوڑ دیا۔ یہ آپ کا تقویٰ تھا۔ قدرت نے آپ میں ایسی خوبیاں ودیعت فرمائی تھیں۔ ان پر جتنا ان کو خراج تحسین پیش کیا جائے کم ہے۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے تمام اکابر سے آپ کے مثالی تعلقات تھے۔ موجودہ امیر مرکزیہ حضرت اقدس قبلہ خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم سے ملنے کے لئے میر صبح صادق کھوسہ کے ہمراہ لاڑکانہ سے خانقاہ سراجیہ کا طویل سفر کیا۔ خانقاہ شریف تشریف لائے تو پتہ چلا کہ حضرت خواجہ صاحب مدظلہ چناب نگر تشریف لے گئے ہیں۔ آپ نے خانقاہ شریف سے چناب نگر کا سفر کیا۔ مدرسہ ختم نبوت مسلم کالونی تشریف لائے ملاقات وزیارت کی۔ کچھ وقت ساتھ گذارا اور پھر واپس پیر شریف کے لئے سفر فرمایا۔
حضرت خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم بھی جب اندرون سندھ کا سفر فرماتے تو پیر شریف ضرور تشریف لے جاتے۔ ایک دفعہ پیر شریف تشریف لے گئے تو حضرت مولانا
عبدالکریم صاحب قریشیؒ نے تمام خدام کو کمرہ سے رخصت کر دیا۔ خود حضرت خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم کے سامنے لیٹ گئے اور درخواست کی کہ میرے جسم پر دم فرما دیں۔ حضرت خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم دیر تک دم کرتے رہے۔ جب فارغ ہوئے تو حضرت پیر شریف والوں نے آپ کا ہاتھ پکڑ کر اپنے قلب پر رکھ دیا اور کہا کہ حضرت اس پر بھی دم کر دیں اور توجہ دے دیں جو سلسلہ نقشبندیہ مجددیہ کا معروف طریقہ سلوک ہے۔ اس پر حضرت نے عمل کیا۔ ایک بار کراچی علاج کے لئے تشریف لائے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ناظم اعلیٰ حضرت مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری بھی کراچی آئے ہوئے تھے۔ پتہ چلا تو ہسپتال عیادت کے لئے تشریف لے گئے۔ حضرت کو فالج کی تکلیف تھی۔ مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری سے مصافحہ کیا تو اپنے ہاتھ سے مولانا کے ہاتھ کو دبا دیا اور مسکرا کر فرمایا کہ میں نے آپ کا ہاتھ اس لئے دبایا تا کہ آپ کو تسلی ہو کہ میرے ہاتھ پر اب فالج کا اثر نہیں رہا۔ بلکہ اس نے کام کرنا شروع کر دیا ہے۔ یہ آپ کی ختم نبوت کے عنوان پر کام کرنے والوں سے دلی تعلق اور شفقت کا بے نظیر نمونہ تھا۔
گذشتہ سے پیوستہ سال سندھ میں جگہ جگہ سے قادیانی شرارتوں کی رپورٹ آنے لگی۔ حضرت اقدس خواجہ خان محمد صاحب مدظلہ نے حضرت پیر شریف والوں کو والا نامہ تحریر فرمایا۔ آپ نے سندھ کے علماء کرام کے نام ایک خط تحریر فرمایا۔ جمعیت علماء اسلام اور مجلس تحفظ ختم نبوت کی ڈیوٹی لگ گئی۔ پنجاب و سندھ کے خطیب ایک ساتھ چلے ٹھٹھہ سے لے کر سکھر تک پورے سندھ کے ہر ضلعی صدر مقام پر کانفرنسوں و کنونشنوں کا ایسا مربوط سلسلہ قائم ہوا کہ پورا سندھ ایک ہی دورہ سے فتنہ قادیانیت کے خلاف جاگ اٹھا۔ حق یہ ہے کہ قدرت نے بہت ساری خیر و برکت آپ کی ذات میں جمع کر دی تھی اور وہ تمام کی تمام دین اسلام کی ترویج و اشاعت اور فتن باطلہ کی بیخ کنی کے لئے آپ نے وقف کر دی تھی۔
طالبان کی جہادی تحریک کے آپ دل سے قدر دان تھے۔ بیماری کے باوجود تھوڑا سا افاقہ ہوتے ہی افغانستان تشریف لے گئے۔ امیر المومنین ملا عمر سے ملاقات کی اور ہمیشہ ان کی مالی اعانت فرماتے رہے۔ آپ نے اپنے متعلقین کو جہاد کی اس وقت ترغیب دی جب جہاد کا مسئلہ نسیا منسیا! ہو چکا تھا۔
ایک دفعہ حضرت قبلہ مولانا خواجہ خان محمد صاحب بیر شریف تشریف لے گئے تو آپ حضرت بیر شریف والوں نے اپنا خواب سنایا۔ خواب میں دیکھا کہ میں مدینہ طیبہ میں ہوں آپ ﷺ کمبل مبارک لے کر استراحت فرما رہے ہیں۔ میں نے آپ ﷺ کے قدمین شریفین دبانے کی سعادت حاصل کی۔ میری اہلیہ پردہ میں میرے ساتھ تھیں۔ انہوں نے بھی پاؤں مبارک دبانے کی اجازت کے لئے مجھے اشارہ کیا۔ میں نے آپ ﷺ سے استدعا کی کہ آپ ﷺ کی خادمہ بھی پاؤں مبارک کو دبانے کی سعادت حاصل کرنا چاہتی ہیں۔ آپ ﷺ اس پر خاموش رہے آپ ﷺ کی خاموشی سے میں عدم اجازت سمجھا۔ چنانچہ وہ با پردہ علیحدہ بیٹھی رہیں۔ حضرت بیر شریف والے فرماتے ہیں کہ میں نے آپ ﷺ سے عرض کیا کہ قادیانی شرارتوں، قادیانی ارتداد زندقہ سے آپ ﷺ کی امت بہت پریشان ہے۔ اس پر آپ ﷺ نے امت کی تسلی کے لئے چند خیر برکت کے کلمات ارشاد فرمائے۔ جنہیں سنتے ہی خواب میں میں (حضرت بیر شریفؒ) بہت خوش ہوا اور سمجھا کہ قادیانی فتنہ آخر ختم ہونے والا ہے۔ فلحمد لله!
عمر بھر سفر و حضر میں نماز ہمیشہ باجماعت ادا فرمائی۔ زندگی بھر کی ایک نماز بھی وفات کے وقت آپ کے ذمہ نہیں تھی۔ فرماتے تھے کہ مجھے اسم ذات کا علم ہے۔ اس اسم ذات کو میں نے فرائض کی پابندی و رضائے الہی کے حصول کے لئے ہمیشہ کا معمول بنایا ہوا ہے۔ اسمائے حسنیٰ، سورہ یسین، درود وظائف اور ذکر الہی آپ کا ہمیشہ کا معمول تھا۔ دین کی تعلیم و ترویج آپ کی زندگی کا نصب العین تھا۔ ١٦ رمضان المبارک کو شام پونے سات بجے ڈاکٹر عبد الصمد صاحب اپنے مکان کے ہاں کراچی میں انتقال فرمایا۔ وفات سے چند ساعت پہلے فرمایا تکلیف ہے یہ بھی قدرت کا عطیہ و نعمت ہے۔ اس پر بھی خوش ہوں۔ کلمہ شریف پڑھا۔ تین بار اللہ ! اللہ ! اللہ ! کہا اور یہ کہتے اللہ تعالیٰ کے ہاں حاضر ہو گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون!
کراچی سے آپ کی میت مبارک کو بیر شریف لایا گیا۔ دوسرے دن ١٧ رمضان المبارک کو جنازہ ہوا۔ پورے سندھ و بلوچستان سے انسانوں کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر جمع ہو گیا بلا مبالغہ ایک لاکھ سے کم نہیں ہوگا۔ آپ کی مسجد شریف سے متصل پہلے موجودہ قبرستان میں آپ سپرد رحمت باری کر دیا گیا۔
(لولاک شوال المکرم ١٤١٩ھ)
٣١...... جناب صاحبزادہ حافظ محمد عابدؒ
وفات ......٢ فروری ١٩٩٩ء
حضرت صاحبزادہ حافظ محمد عابدؒ ١٥ شوال ١٤١٩ھ بمطابق ٢ فروری ١٩٩٩ء بروز منگل صبح دس بج کر چالیس منٹ پر ملتان میں انتقال فرما گئے ۔ اناللہ وانا الیہ راجعون !
حضرت صاحبزادہ حافظ محمد عابدؒ قطب دوران حضرت مولانا محمد عبداللہؒ (المعروف حضرت ثانی ؒ) سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کے لخت جگر اور نور نظر تھے ۔ ١٩٢٥ء میں سلیم پور ضلع لدھیانہ میں پیدا ہوئے ۔ تقسیم سے کچھ عرصہ پہلے قبلہ والدہ مرحومہ کے ساتھ حضرت والد صاحبؒ کی خدمت میں خانقاہ سراجیہ آگئے ۔ یہاں کے نورانی ماحول میں آپ نے بچپن کا معصوم دور گزارا۔ سمجھ بوجھ پیدا ہوئی تو آپ کو حضرت ثانیؒ نے خانقاہ سراجیہ کے مدرس حافظ عبدالرشید کے ہاں تعلیم کے لئے بٹھا دیا۔ یوں ان سے آپ کے قاعدہ کی بسم اللہ ہوئی ۔ مخدوم پور پہوڑاں کے مولانا عبدالغفور اور باگڑ سرگانہ کے مولانا امان اللہ صاحب بھی خانقاہ سراجیہ میں قرآن مجید کے مدرس تھے ۔ ان اساتذہ سے آپ نے قرآن مجید حفظ کیا۔ (بھوئی گاڑڈ میں کچھ عرصہ کے لئے پڑھتے رہے ) قرآن مجید حفظ کر رہے تھے کہ حضرت ثانیؒ کا ١٩٥٦ء میں وصال ہو گیا ۔ تو خانقاہ سراجیہ کے موجودہ سجادہ نشین، شیخ المشائخ حضرت قبلہ مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم کے زیر سایہ قرآن مجید حفظ کی تکمیل کی ۔
اس زمانہ کا ایک واقعہ حضرت حاجی محمد شریف صاحب کوٹلہ مغلاں حال برمنگھم نے سنایا کہ حضرت حافظ محمد عابد صاحبؒ قرآن مجید حفظ کر رہے تھے تو ایک دن والد صاحبؒ نے بلا کر بھری مجلس میں کہا کہ عابد بیٹا رکوع سناؤ۔ تو صاحبزادہ صاحبؒ نے اتفاق سے رکوع وہ تلاوت کر دیا جس میں سجدہ تلاوت تھا۔ تلاوت کے بعد حضرت ثانیؒ نے فرمایا کہ عابد بیٹا نے رکوع تو سنایا مگر سب کو سجدہ میں ڈال گیا۔ اسی زمانہ کا ایک واقعہ حضرت صاحبزادہ کے فرزند نسبتی اور بھانجے محمد آصف نے بتایا کہ ایک دن میں نے پوچھا ماموں آپ نے حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کی بھی زیارت کی ۔ تو فرمایا کہ ہاں! ایک دفعہ حضرت شاہ صاحبؒ قبلہ والد صاحبؒ
سے ملنے کے لئے خانقاہ سراجیہ تشریف لائے تھے۔ میں بالکل چھوٹا تھا۔ حضرت شاہ صاحبؒ نے مجھے بلا کر گود میں لیا اور تھپکی دے کر فرمایا کہ صاحبزادہ صاحب میں نے سنا ہے کہ آپ بہت اچھی تلاوت کرتے ہیں۔ تلاوت تو سناؤ۔ تو میں (صاحبزادہ محمد عابد) نے بچپن میں سادگی سے کہا کہ حضرت میں نے سنا ہے کہ آپ بہت اچھی تقریر کرتے ہیں۔ آپ تقریر سنائیں۔ میں تلاوت سنا دیتا ہوں۔ اس پر حضرت شاہ صاحبؒ بہت ہنسے۔ بس حضرت امیر شریعتؒ سے اتنی ملاقات یاد ہے۔
حضرت ثانیؒ کی بستی و برادری کے حضرات تقسیم کے بعد خانیوال کے قریب آ کر آباد ہو گئے۔ زمینیں الاٹ ہوئیں۔ مکانات بن گئے۔ بستی آباد ہو گئی تو حضرت ثانیؒ کے وصال کے بعد موجودہ حضرت قبلہ خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم نے بستی سراجیہ خانیوال میں حضرت صاحبزادہ محمد عابد صاحبؒ کے لئے مکان بنوا دیا۔ اپنی ہمشیرہ اور والدہ کے ہمراہ مکان مکمل ہونے کے بعد یہاں منتقل ہو گئے۔ ایک دوست نے بتایا کہ حضرت ثانیؒ نے فرمایا کہ میں نے سیم وزر محمد عابدؒ کے لئے کوئی نہیں چھوڑا۔ اس میں اگر صلاحیت ہوئی تو دین ودنیا، دولت وعزت کی اسے کمی نہیں ہوگی۔ سلم پور لدھیانہ کی زمین کے بدلے بستی سراجیہ میں جو چند ایکڑ الاٹ ہوئے انہی پر گزر بسر تھا۔
دارالعلوم کبیر والا کے بانی ومہتمم حضرت مولانا عبد الخالق صاحبؒ خانقاہ سراجیہ کے بانی، اعلیٰ حضرت ابو السعد احمد خانؒ سے بیعت اور حضرت مولانا عبداللہ صاحبؒ کے خلیفہ مجاز تھے۔ اسی تعلق کی بنیاد پر حضرت قبلہ خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم نے اپنے مرشد زادہ صاحبزادہ محمد عابد صاحبؒ کو دارالعلوم کبیر والا میں داخل کرا دیا۔ آپ نے اکابر اساتذہ کی زیر نگرانی وسرپرستی میں ابتدائی چند سال کی تعلیم مکمل فرمائی۔ اس کے بعد صحت وحالات نے بقیہ تعلیم کا موقعہ نہ دیا۔
حضرت صاحبزادہ محمد عابد صاحب نے اپنے والد مرحوم کے نقش قدم پر چلتے ہوئے خانقاہ سراجیہ سے اپنا دیرینہ تعلق نہ صرف بحال رکھا بلکہ اسے مزید مستحکم کیا۔ حضرت قبلہ خواجہ خان
محمد صاحب دامت برکاتہم نے شفقتوں اور محبتوں سے نوازا اور اپنے شیخ حضرت ثانیؒ کے صاحبزادہ ہونے کے ناتے مکمل تربیت سے ان میں نکھار پیدا کیا۔ اپنے حقیقی بیٹوں کی طرح مقام بخشا۔ یہی وجہ ہے کہ صاحبزادہ محمد عابد صاحبؒ کے صاحبزادہ مولانا عزیز احمد ، صاحبزادہ مولانا خلیل احمدؒ جناب صاحبزادہ رشید احمدؒ جناب صاحبزادہ سعید احمد اور جناب صاحبزادہ نجیب احمد صاحب سے نہ صرف مثالی بھائیوں جیسے تعلقات تھے۔ بلکہ جماعتی ، ذاتی ، گھریلو ، برادری وخاندانی تمام معاملات میں سب صاحبزادگان جناب صاحبزادہ محمد عابد صاحبؒ کی رائے کو ترجیح دیتے تھے۔ ان کے مشورہ کے بغیر قدم نہ اٹھاتے تھے۔ بلکہ اپنے والد گرامی قبلہ حضرت خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم سے بھی بعض ہدایات و رہنمائی و اجازت کے لئے صاحبزادہ محمد عابد صاحبؒ کو وسیلہ بناتے تھے اور صاحبزادہ محمد عابد صاحبؒ کا بھی یہ کمال تھا کہ وہ حضرت دامت برکاتہم کے چشم و ابرو کے اشارہ پر جان چھڑکتے تھے۔ عشق کی حد تک اپنے شیخ سے تعلق تھا۔ دنیا و آخرت کی فلاح وہ اپنے شیخ کی خدمت و اطاعت میں سمجھتے تھے۔ حضرت دامت برکاتہم کی نگاہ کرم اور صاحبزادہ محمد عابد صاحبؒ کی نیاز مندی و فرمانبرداری نے آپ کو کندن بنادیا تھا۔
حضرت مولانا عبدالخالق صاحبؒ کے وصال کے بعد آگے چل کر شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالمجید لدھیانوی مدظلہ اور حضرت مولانا منظور الحقؒ میں دارالعلوم کبیروالا کے بعض انتظامی مسائل پر اختلاف رائے ہو گیا۔ حضرت مولانا عبدالمجید مدظلہ اور حضرت ثانیؒ کا ہندوستان میں سلیم پور لدھیانہ گاؤں ایک تھا۔ برادری ایک تھی۔ حضرت مولانا عبدالمجید مدظلہ حضرت صاحبزادہ محمد عابدؒ کے استاد تھے۔ لیکن صاحبزادہ صاحبؒ کا جھکاؤ حضرت مولانا منظور الحقؒ کی رائے مبارک کی طرف تھا۔ ایک دن حضرت قبلہ خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم کے ہمراہ صاحبزادہ محمد عابدؒ دارالعلوم آئے۔ حضرت مولانا عبدالمجید مدظلہ سے ملے تو حضرت مولانا نے خوش طبعی میں صاحبزادہ صاحبؒ کو فرمایا کہ آیئے میرے بیت المقدس ۔ حضرت حافظ عبدالرشید صاحب چیچہ وطنی والوں نے کہا کہ نہیں حضرت بیت المقدس نہیں بلکہ قبلہ و کعبہ ۔ تو حضرت مولانا عبدالمجید صاحب نے مسکرا کر فرمایا کہ ۔ بیت المقدس اس لئے کہا کہ کبھی کبھی اس پر دوسروں کا قبضہ
ہو جاتا ہے۔ یہ تو جملہ معترضہ ہوا۔ مجھے عرض یہ کرنا ہے کہ حضرت قبلہ خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم نے اس اختلاف کے زمانہ میں فرمایا کہ مجھے حضرت مولانا عبدالمجید مدظلہ سے اس لئے محبت ہے کہ یہ میرے شیخ کے گاؤں اور برادری کے ہیں۔
اگر حضرت قبلہ اپنے شیخ سے نسبت والوں کا اتنا لحاظ فرماتے ہیں تو اپنے شیخ کے صاحبزادہ کا کتنا خیال فرماتے ہوں گے ۔ راقم عرض گزار ہے کہ ١٩٧٣ء سے میرا قبلہ حضرت اقدس دامت برکاتہم سے جماعتی طور پر غلامی و نیاز مندی کا تعلق ہے۔ اس طویل عرصہ میں کبھی ایسے نہیں ہوا کہ حضرت قبلہ نے صاحبزادہ محمد عابد صاحبؒ کو عابد صاحبؒ یا حافظ صاحبؒ کہہ کر مخاطب فرمایا ہو۔ بلکہ جب مخاطب کرنے کی ضرورت پڑتی صاحبزادہ محمد عابد صاحبؒ کہہ کر مخاطب فرماتے اور جناب صاحبزادہ صاحبؒ نے بھی خدمت واحترام کی ایک مثال قائم کر دی تھی ۔ جنون کی حد تک اپنے شیخ سے عشق تھا اور حضرت دامت برکاتہم بھی اس طرح اعتماد فرماتے تھے کہ جب کہیں اندرون و بیرون ملک کے سفر پر جانا ہوتا۔ کوئی ساتھی وقت طلب کرتا یا پروگرام پوچھتا تو بار ہا حضرت اقدس سے سنا۔ فرماتے کہ میرے امیر صاحبزادہ حافظ محمد عابد صاحب ہیں۔ ان کو پتہ ہوگا جو وہ کہیں گے اسی پر عمل ہوگا۔
حضرت مولانا گل حبیب لورالائی نے بتایا کہ حضرت صاحبزادہ صاحبؒ نے فرمایا کہ مجھے حرمین شریفین جانے کا بے حد شوق تھا۔ مگر سبیل نہ بنتی تھی۔ اس پریشانی کے عالم میں شیخ الاسلام حضرت مولانا محمد یوسف بنوریؒ سے اپنی مشکل عرض کی۔ حضرت بنوریؒ نے فرمایا کہ سورۃ حج کی روزانہ تلاوت کیا کریں۔ ولیطوفوا بالبیت ! پر وقفہ کر کے دعا کیا کریں اور پھر سورۃ کو مکمل کیا کریں۔ ایک خوبصورت لفافہ دم کر کے دیا کہ اس میں حج کے لئے جو رقم میسر آئے ڈالتے جائیں۔ جب موسم حج قریب آیا تو دعا کی کہ یا اللہ جو میں کر سکتا تھا کر دیا۔ آگے کا کام میرے بس میں نہیں۔ صاحبزادہ فرماتے تھے کہ ایسا راستہ کھلا کہ ١٩٧٤ء سے ١٩٩٨ء تک ناغہ نہیں ہوا۔ بلکہ ١٩٨٥ء سے تو یہ کیفیت ہو گئی کہ سال میں حج کے علاوہ دو بار مزید عمرہ کے لئے حاضری کی سعادت نصیب ہو جاتی۔
محترم صاحبزادہ صاحبؒ نے خانقاہ سراجیہ کے متعلقین کے نوجوانوں میں حرمین شریفین کی حاضری کا جذبہ ایک تحریکی انداز میں بھر دیا تھا۔ بلاشبہ سینکڑوں نوجوانوں کو حج وعمرہ کے لئے بھجوایا۔ کئی نوجوانوں کو اپنے قافلہ میں ساتھ لے کر گئے۔ حضرت اقدس خواجہ خان محمد صاحب کی سرپرستی اور صاحبزادہؒ کی رفاقت نے ان نوجوانوں کو کندن بنا دیا۔ چیچہ وطنی کے جناب حاجی محمد ایوب نے بتایا کہ ایک بار قبلہ حضرت صاحب کے ساتھ حج پر گیا۔ اگلے سال صاحبزادہ صاحبؒ تشریف لائے اور فرمایا کہ اس سال بھی تیاری کرو۔ میں نے عرض کیا کہ رقم نہیں۔ فرمایا شناختی کارڈ تو ہے۔ میں نے عرض کی ہاں! وہ تو ہے۔ فرمایا لاؤ۔ میرے فوٹو اور شناختی کارڈ کی نقل لی اور میری رقم کا خود ہی اہتمام کر کے داخلہ بھجوا دیا۔ جس دن میرے پاس رقم ہو گئی۔ میرے کہنے پر بتا دیا کہ جا کر فلاں دوست کے پاس جمع کرا دو۔ یوں قدرت نے صاحبزادہ صاحبؒ کو سبب بنا کر دوبارہ حج پر جانے کی سبیل پیدا فرما دی۔
مولانا گل حبیب نے بتایا کہ پچھلے سال ١٩٩٨ء میں مجھے فرمایا کہ حج کی تیاری کرو۔ میں نے عرض کیا کہ میرے جو وسائل ہیں ان کو سامنے رکھ کر تو میں حج کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ اللہ تعالیٰ پردہ غیب سے اہتمام فرما دیں تو ان کے سامنے بعید نہیں۔ مولانا گل حبیب کہتے ہیں کہ حج کی درخواستوں کی تاریخ گزر جانے کے بعد ٢٤ شعبان کو صاحبزادہ صاحبؒ نے جناب احمد خان بزدار کو فون کیا کہ گل حبیب کو کہیں کہ اسلام آباد جا کر فلاں آدمی کو وزارت حج میں ملیں۔ سپیشل کوٹہ سے درخواست فارم لے کر جمع کرائیں۔ بزدار صاحب نے کہا کہ مولانا کے پاس تو رقم نہیں۔ تو فوراً فرمایا کہ پچاس ہزار تو اپنی طرف سے مولانا کی مدد کرو۔ مزید پچیس ہزار مولانا قرض لے کر جائیں اور درخواست جمع کرائیں۔ یوں مولانا کا حج کروایا۔ بعد میں قرض بھی آہستہ آہستہ کر کے اتر گیا۔
صاحبزادہ صاحبؒ کی عادت تھی کہ سفر حج وغیرہ کے لئے کسی کو خازن مقرر کر دیتے تھے۔ حاجی ایوب فرماتے ہیں کہ مجھے سفر حج میں خازن مقرر کیا۔ فرمایا کہ جب رقم کی ضرورت ہو مجھ سے لے لیا کریں۔ جیب کی رقم گننا نہیں۔ ضرورت کے تحت نکالتے جائیں اور خرچ کرتے
جائیں۔ حساب رکھنے کی بھی ضرورت نہیں۔ جتنے حج کے ساتھی ہیں سب کی پسند کی تمام اشیاء فریج میں سٹاک ہوں۔ جس کو جب جو چاہئے بغیر اجازت کے فریج کھول کر استعمال کر سکتا ہے۔ کسی کی پسند کی چیز فریج میں کسی وقت نہ ہوئی تو تمہاری جواب طلبی ہو جائے گی۔ حاجی صاحب فرماتے ہیں کہ اتنا فیاض و دریا دل آدمی میں نے نہیں دیکھا۔
چیچہ وطنی کے جناب عبداللطیف خالد چیمہ فرماتے ہیں کہ انڈیا کے سفر میں مجھے خازن بنایا۔ چیمہ صاحب کہتے ہیں کہ ایک دفعہ میں حج پر گیا۔ میری جیب کٹ گئی۔ پاسپورٹ کے علاوہ سب کاغذات و نقدی غائب ہو گئی۔ بہت پریشان تھا۔ اتنے میں صاحبزادہ صاحب مل گئے۔ علیک سلیک کے بعد پریشانی کی وجہ پوچھی۔ میرے بتانے پر فرمایا۔ طواف سے فارغ ہو کر سامنے فلاں جگہ پر آجائیں۔ میں گیا تو اتنی رقم میری جیب میں ڈال دی کہ میری تمام پریشانی کا فور ہو گئی۔
محترم صاحبزادہ صاحب کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مرکزی شوریٰ کا رکن نامزد کیا گیا۔ نہ معلوم کیا خیال آیا کہ ایک دن فرمایا کہ ہمہ وقتی کام کرنے والے علماء کرام مبلغین حضرات میں سے کچھ حضرات ایسے ہیں جو حج کی استطاعت نہیں رکھتے۔ یہ حضرات عمر بھر ختم نبوت کے مقدس مشن کے لئے کام بھی کریں اور صاحب ختم نبوت کی خدمت میں حاضری نہ ہو۔ سمجھ نہیں آتا۔ فکر مند ہوں کچھ کرنا چاہیے۔ کچھ عرصہ کے بعد فرمایا کہ حضرت قبلہ مولانا محمد یوسف لدھیانوی سے منوا لیا ہے کہ ہر سال دو ساتھیوں کے حج پر جانے کا وہ اہتمام فرمائیں گے۔ شرط یہ ہے کہ تمام ساتھی باری باری قرعہ اندازی سے جائیں گے۔ جس نے پہلے حج کیا ہوا ہے اور جس کی مدت ملازمت پانچ سال سے کم ہے وہ قرعہ اندازی میں شامل نہیں ہوں گے۔ پہلے سال حضرت مولانا غلام مصطفیٰ صاحب اور مرکزی دفتر سے جناب رانا محمد طفیل جاوید کو ساتھ لے کر گئے۔ دوسرے سال بجائے دو کے تین حضرات کی منظوری کرائی۔ حضرت مولانا نذیر احمد تونسوی، حضرت مولانا جمال اللہ ، حضرت مولانا فقیر اللہ اختر ، گذشتہ حج پر گئے۔ اس سال حضرت حافظ محمد ثاقب ، حضرت مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی ، اور مولانا راشد مدنی کا قرعہ فال نکلا ہے۔
حضرت حافظ صاحبؒ نے قبلہ حضرت اقدس کے ساتھ اپنی درخواست جمع کرائی تھی جو منظور ہو گئی تھی۔ رمضان شریف کے عمرہ کے لئے ویزا بھی لگ گیا تھا۔ عمرہ بیماری کے باعث اور حج سفر آخرت کے باعث اس سال کا نہ ہوسکا۔ ارادہ و تیاری تھی۔ جب تک حج ہوتا رہے گا ان کو ثواب ملتا رہے گا۔ جو ساتھی آپ کی مساعی سے گئے یا جائیں گے ثواب میں قبلہ حضرت صاحبزادہ بھی برابر کے شریک رہیں گے۔ وفات سے ایک دو رات قبل ڈاکٹر عنایت اللہ کو فرمایا کہ ڈاکٹر صاحب علاج اس قدر کر دو کہ میں حج پر جاسکوں۔ حج پر ضرور جانا ہے۔
راقم صاحبزادہ سے مذاقاً عرض کرتا تھا کہ جب عالم ارواح میں سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے لوگوں کو حج کے لئے پکارا تو آپ کی روح نے وقفہ وسکتہ کے بغیر لبیک لبیک کہنا شروع کر دیا ہوگا۔ تبھی تو آپ اتنی بار حج وعمرہ کی سعادت سے بہرہ ور ہوئے۔ آبدیدہ ہوجاتے اور فرماتے اس ذات باری تعالیٰ کریم و رحیم کا فضل ہے ”ورنہ میں تو اس قابل نہ تھا“ یہ حضرت قبلہ سید نفیس الحسینی دامت برکاتہم کی ایک نظم کا مصرعہ ہے۔ پھر وہ اس کے کئی اشعار سنا دیتے۔
محترم صاحبزادہ صاحبؒ کو رحمت دو عالم ﷺ کی ذات اقدس سے اتنا عشق تھا کہ آپ ﷺ کا ذکر مبارک آتے ہی فریفتہ ہوجاتے۔ ذکر مبارک آتے ہی وہ اس میں محو ہوجاتے۔ گم ہوجاتے۔ پھر وہی مبارک تذکرہ ہی موضوع سخن بن جاتا۔ اچھے شعراء کی نعتوں کو سننا ان کا معمول تھا۔ کسی اچھی آواز والے ساتھی کا پتہ چلتا تو اس سے فرمائش کرکے نعتیں سنتے اور سر دھنتے۔ مولانا فقیر اللہ اختر، حافظ محمد شریف کی آواز پر وجد کی کیفیت طاری ہو جاتی۔ نعتوں کی کیسٹ بھی ساتھ رکھتے تھے۔
ختم نبوت کے کاز سے محبت بھی عشق نبوی ﷺ کی دلیل ہے۔ مجلس تحفظ نبوت کے لئے دل و جان سے فدا تھے۔ مجلس کے کاموں کے لئے فکر مند رہتے تھے۔ قدرت نے ان کو فکر رسا ذہن نصیب فرمایا تھا۔ سکیمیں تیار کرتے رہتے تھے۔ ایک دفعہ مرکزی دفتر میں عصر کی نماز مسجد کے برآمدہ میں پڑھی۔ گرمی کا موسم تھا۔ فراغت کے بعد کمرہ میں آئے تو فرمایا کہ مسجد کے صحن میں نماز کا اہتمام کریں۔ گرمی میں عصر، مغرب، عشاء، فجر چار نمازیں صحن میں پڑھی جاسکتی ہیں۔ صحن میں
پنکھوں کا اہتمام میں کرتا ہوں ۔ دو چار دوستوں کو متوجہ کر دیا۔ حاجی معراج دین صاحب کو حکم فرمایا۔ الیکٹریشن بلوایا ۔ پائپ لگوائے فٹنگ کرائی اور نمازیں صحن میں شروع کروائیں ۔ اس طرح جامع مسجد ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر کے صحن میں پنکھوں کا اہتمام کرنے کا فکر ہوا۔ میاں بابر عنایت فیصل آباد والوں کو پنکھوں کا حکم فرمایا۔ لاہور سے پائپ منگوائے مستری اور الیکٹریشن کا کام فقیر کے ذمہ لگایا۔ ہفتہ عشرہ میں پنکھے چالو ہو گئے۔ نماز کے علاوہ گرمی میں حفظ قرآن کلاسیں بھی وہاں لگتی ہیں اور رات کو مدرسہ کے بچوں کے آرام کا بھی سامان ہو گیا۔
ایک دفعہ سردی میں عشا کی نماز پڑھی تو خیال ہوا کہ مسجد میں صفوں پر دریوں کا اہتمام ہونا چاہیے ۔ دفتر مرکزیہ چناب نگر مسلم کالونی اور مسجد محمدیہ کے لئے عام نمازوں میں جتنی صفیں ہوتی ہیں اتنی صفوں کے لئے دریوں کا ملتان کے خاکوانی اور دیگر دوستوں کو متوجہ کر کے اہتمام کر دیا۔
اس دفعہ چناب نگر میں کورس ہو رہا تھا۔ شرکاء کورس کے لئے دعوت کا اہتمام کیا ۔ بیماری کے باعث ویگن میں لیٹ کر تشریف لائے ۔ شرکاء کورس کو کھانا کھلایا ۔ بہت خوش ہوئے ۔ واپس لاہور گئے تو دوستوں کو بار بار کہتے کہ مہمانان رسول مقبول کی زیارت و خدمت کر کے بہت سکون پایا ہے۔ رحمت دو عالم ﷺ کے دشمنوں کے شہر میں مہمانان رسول اور وہ بھی آپ ﷺ کی عزت وناموس کے تحفظ کی تیاری و فکر کے لیے جمع ہیں ۔ ان کی خدمت و زیارت تو ایمان کا حصہ ہے۔ ایسی سحر انگیز گفتگو فرمائی کہ سننے والے آبدیدہ ہو گئے۔ کچھ دنوں بعد پھر دعوت کا اہتمام کیا ۔ راقم ان دنوں وہاں تھا۔ فرمایا کہ مرغ پلاؤ اور زردہ سے شرکاء کی دعوت کریں۔ تم (مجھے فرمایا) بخیل ہو۔ اس رقم کو دو دن کے کھانے کے لئے بچت کرو گے ۔ ایسے نہیں ہوگا۔ آپ زردہ پلاؤ تیار کر کے نمونہ ٹفن میں ڈال کر بھائی محمد طفیل کو بھیجیں ۔ مجھے لاہور میں آکر چیک کروا جائے ۔ اور رقم بھی لے جائے ۔ فقیر نے ایسے کیا جب زردہ دیکھا کہ سادہ پکایا ہے بادام ، کشمش، گری نہیں ڈالی تو بہت ہنسے اور فرمایا کہ مولوی صاحب نے پھر ہاتھ دکھا دیا ہے ۔ رقم بچالی ہے یہ کل کے کھانے پر خرچ کریں گے۔
جب چناب نگر تشریف لائے تو فیصل آباد کے ایک دوست کو حکم فرمایا کہ زنانہ کپڑا لاکر
مدرسہ میں پڑھنے والی بچیوں میں تقسیم کر دو۔ راقم نے عرض کیا کہ مسافر بچیاں تو ہمارے ہاں نہیں ہیں۔ مقامی بچیاں پڑھتی ہیں اور وہ سب متمول ہیں۔ ہاں! البتہ ہمارے ہاں مسافر طلباء پڑھتے ہیں۔ چھ صد میٹر ان کے لئے کپڑا چاہیے۔ مولانا غلام مصطفیٰ خطیب جامع مسجد و انچارج مدرسہ کو بلا کر فرمایا کہ یہ چند زنانہ سوٹ رکھ لو۔ غریبوں میں تقسیم کر دینا۔ مجھے فرمایا کہ طلباء کے لئے کپڑا خریدنا نہیں۔ اس کا اہتمام بھی میں کروں گا۔ ایک دن لاہور سے فون آیا کہ اہتمام ہو گیا ہے۔ کپڑا بھجوا رہا ہوں۔ خود پہنچوایا اور تقسیم کی تفصیل سن کر بہت خوش ہوئے۔ جیسے کوئی اپنی اولاد کو عید کے کپڑے دے کر خوش ہوتا ہے۔ بلکہ اس سے بھی کہیں زیادہ۔
اس سال طبیعت ٹھیک نہ تھی۔ سالانہ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر کی تاریخ آگئی۔ آپ کے فرزند نسبتی آصف کا بیان ہے کہ ہم نے عرض کیا کہ آپ سفر کی پوزیشن میں نہیں۔ فرمایا کہ ہمارے بزرگ مولانا غلام غوث ہزارویؒ نے اپنے جواں سال اکلوتے صاحبزادے زین العابدین کا جنازہ چھوڑ دیا تھا۔ مگر ختم نبوت کے پروگرام کو نہیں چھوڑا تھا۔ میں ہر حال میں جاؤں گا۔ چاہے صحت کا کچھ بھی ہو جائے۔ یہ آپ کا عزم جواں مرداں تھا۔ نہ صرف تشریف لائے بلکہ اپنی صاحبزادی کے نکاح کی تقریب بھی کانفرنس کے موقعہ پر ادا کر ڈالی کہ اس مبارک اجتماع کے صدقے اللہ میاں اس کام میں بھی برکت ڈالیں گے۔ اس کانفرنس کے لئے باگڑ سرگانہ اور خانیوال بستی سراجیہ کے دوستوں کو کہہ کر ان کی بسیں تیار کرواتے۔ نوجوانوں کی میٹنگ کر کے ان کی ڈیوٹی لگاتے کہ آپ نام لکھیں کرایہ جمع کریں۔ آپ بس کی بکنگ کرائیں۔ آپ راشن خریدیں۔ آپ پہلے جا کر ٹینٹ مخصوص کرائیں۔ غرضیکہ سب کی علیحدہ علیحدہ ڈیوٹی لگاتے۔ پھر جو ساتھی حاضر نہ ہو سکتا اس پر غصہ ہوتے اور فرماتے کہ میاں ہماری دوستی تو ختم نبوت کی وجہ سے ہے۔ اگر اس میں کوتاہی کریں گے تو ہمارا آپ سے کوئی تعلق نہیں۔ جب تک وہ آئندہ کے لئے وعدہ نہ کر لیتا اسے معافی نہ ملتی۔
لاہور کے محترم ملک فیاض صاحب کو آمادہ کیا کہ وہ ختم نبوت کے کیلنڈر شائع کیا کریں۔ خود بھی دوستوں کو متوجہ کرتے اور ملک صاحب کی پشتیبانی بھی کرتے۔ خود ہر سال
خوبصورت عمدہ دیدہ زیب کیلنڈر شائع کر کے ملک بھر کے جماعتی حلقہ کو بھجواتے۔ مجلس کا نام ہوتا اور ایک پیسہ بھی مجلس کے فنڈ سے اس پر خرچ نہ ہونے دیتے۔ اس سال جیبی سائز کے خوبصورت کیلنڈر شائع کرائے۔ دعاؤں کے خوبصورت چارٹ پر سال کا کیلنڈر لگوا کر تقسیم کرانے کا اہتمام فرمایا۔
غرض ہمہ وقت وہ مجلس کے کام و کاز کو وسعت دینے کے لئے فکر مند رہتے۔ مجلس کے ایک ایک کام کی نگرانی و خدمت سر انجام دیتے۔ مگر کیا مجال ہے کہ کبھی چودھراہٹ کا یا کریڈٹ کا خیال آیا ہو۔ مخدوم ہو کر خدمت کرنا ان پر بس تھا۔ اللہ تعالیٰ ان کی قبر کو بقعہ نور بنائے ۔ اتنے واقعات ذہن کی سکرین پر جمع ہو رہے ہیں کہ اگر ان کو لکھنا شروع کیا تو مضمون زیادہ طویل ہو جائے گا۔
آپ کے بہنوئی چوہدری محمد یوسف صاحب اور چچازاد بھائی جناب چوہدری محمد امین نے بتایا کہ لاہور میں جب آپ زیر علاج تھے تو ایک دفعہ بیماری کے حملہ سے آپ پر غشی طاری ہوگئی۔ کافی دیر بعد جب ہوش آیا تو سب سے پہلے فرمایا کہ میرے سرہانے ختم نبوت کا کیلنڈر رکھ دو تاکہ دوست آئیں تو تقسیم کرسکوں ۔ ہفتہ وار ختم نبوت کراچی کے لئے دوستوں کو ترغیب دینا، ماہنامہ لولاک کے خریدار بنانا۔ باگڑ میں مجلس کا ہر ماہ جمعہ مقرر کرنا۔ غرض کون کون سی کس کس بات کو لکھا جائے۔
اب گرد کارواں بھی نہیں کارواں کہاں
گراں گزرتا تھا جن سے جدا ہونا دو چار لمحے
ہائے افسوس کہ بغیر ان کے اب عمریں بسر ہوں گی
جناب محمد اسحاق خان خاگوانی کے حوالے سے ایک دوست نے بتایا کہ ایک دفعہ حضرت قبلہ خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم نے ٹرین کے ذریعہ ملتان تشریف لانا تھا۔ پیشوائی کے لئے صاحبزادہ محمد عابد صاحب رات کو ملتان آگئے ۔ رات کو میرے ہاں قیام فرمایا۔ صبح فرمایا کہ
ٹرین کا وقت ہو گیا ہے گاڑی نکالو۔ میں نے عرض کیا کہ عمرہ سے مہمان آرہے ہیں۔ قبلہ حضرت اقدس کو لینے والے بیسوں اسٹیشن پر ہوں گے۔ مگر ان مہمانوں کا نظم صرف مجھے کرنا ہے۔ مجھے اجازت ہو تو میں گاڑی لے کر ائیر پورٹ چلا جاؤں۔ آپ حضرت قبلہ کو لے آئیں۔ پھر مکان پر جمع ہو جائیں گے۔ فرمایا بہت اچھا میرے ساتھ بیٹھ گئے۔ عزیز ہوٹل کے قریب فرمایا کہ مجھے رکشہ پر بٹھا دو۔ میں نے گاڑی روکی۔ رکشہ میں سوار ہوتے ہوئے فرمانے لگے کہ ائیر پورٹ ضرور جاؤ مگر تمہارے مہمان اتریں گے نہیں۔ میں اسے مذاق سمجھا۔ ائیر پورٹ پر چلا گیا۔ اعلان ہو گیا۔ سواریاں جانے والی اندر چلی گئیں ان کو بورڈنگ کارڈ مل گئے۔ جہاز آ گیا رن وے پر گاڑیاں دوڑنے لگیں جہاز فضا میں چکر کاٹتا نظر آنے لگا۔ اترنے کے لئے اس کی سطح کم ہوتی گئی مگر یکدم اس نے اوپر کی طرف پرواز کی اور کراچی کے لئے واپس ہو گیا۔ ادھر اعلان ہو گیا کہ فنی خرابی سے جہاز واپس جا رہا ہے۔ میں نے گاڑی دوڑائی اسٹیشن پر گیا۔ ریل گاڑی آنے میں دیر تھی۔ صاحبزادہ نے مجھے دیکھتے ہی مسکرا کر فرمایا کہ مہمان لے آئے؟۔ میرے جواب سے پہلے موضوع تبدیل کر دیا۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم اعلیٰ حضرت مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری فرماتے ہیں کہ ایک بار حضرت امیر مرکزیہ دامت برکاتہم، محترم صاحبزادہ کے پاسپورٹوں کی ضرورت پڑی۔ صاحبزادہ نے کہا کہ دفتر میں ہیں۔ دفتر کا کونہ کونہ چھان مارا مگر نہ ملے۔ صاحبزادہ کا اصرار تھا کہ ریکارڈ روم، سیف، فائلیں تلاش کریں۔ دفتر میں میں نے رکھوائے تھے۔ تلاش بسیار کے بعد مایوسی ہو گئی۔ تو صاحبزادہ نے شام کو فون کر کے مجھے فرمایا کہ حضرت آپ خود تلاش کریں۔ رفقاء جلد بازی میں مکمل تفتیش نہیں کرتے۔ آپ خود چیک کریں۔ مولانا فرماتے ہیں کہ میں نے حامی بھر لی۔ دوسرے روز نماز کے بعد خلاف معمول جلدی دفتر آ گیا۔ چابیاں منگوائیں۔ اتنے میں صاحبزادہ صاحب کا فون آ گیا کہ آپ نے پاسپورٹ تلاش کئے۔ میں نے کہا کہ چابیاں میرے ہاتھ میں ہیں ابھی بسم اللہ کرتا ہوں۔ صاحبزادہ صاحب نے فرمایا کہ سیف کھولیں اس کے رجسٹروں میں پاسپورٹ پڑے ہیں۔ سیف کھولا رجسٹر اٹھائے تو نیچے کے رجسٹر کے اندر
گتہ کے درمیان پڑے ہوئے پاسپورٹ مل گئے۔ پانچ منٹ بعد صاحبزادہ صاحبؒ کا فون آیا کہ مل گئے ہیں۔ میں نے کہا مل گئے ہیں۔ لیکن آپ بتائیں کہ آپ کو خانیوال بیٹھے بیٹھے کیسے پتہ چل گیا کہ سیف کے رجسٹروں کے درمیان میں پڑے ہیں۔ تو فرمایا کہ ایک آدمی ہمارے ہاں استخارہ کرتا ہے اور اس کا کامیاب استخارہ ہوتا ہے۔ اس سے استخارہ کرایا تھا۔ مولانا فرماتے ہیں کہ میر ا خیال ہے کہ یہ استخارہ خود حضرت صاحبزادہ صاحبؒ کا اپنا تھا۔
مولانا گل حبیب فرماتے ہیں کہ میں ١٩٩٨ء میں صاحبزادہ صاحبؒ کے ساتھ سفر حج میں شریک تھا۔ گھر پر ہمارے عزیزوں میں چپقلش تھی۔ جس سے میں پریشان تھا۔ حج کے بعد ائیر پورٹ پر جب پھر گھر کا ماحول یاد آیا تو پھر پریشانی ہوئی۔ صاحبزادہ صاحبؒ اٹھے میرے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر فرمایا مولانا! پریشان کیوں ہوتے ہیں۔ آپ کے ان عزیزوں کی صلح ہوگئی ہے۔ واپس گھر آکر معلوم ہوا کہ واقعی صلح ہوگئی تھی۔
چوہدری محمد امین نے بتایا کہ سفر عمرہ پر پیٹی خالی کر کے مجھے دی۔ میں نے بیگ میں رکھ لی۔ مدینہ طیبہ سے احرام کے لئے جب پیٹی کو کھولا تو پندرہ صد ریال نکلے۔ امین صاحب کہتے ہیں میں نے کہا کہ پیٹی تو خالی تھی۔ یہ رقم کہاں سے آگئی؟۔ مسکرا کر فرمایا کہ ہمارے تھوڑے ہیں؟۔ غریبوں کے ہیں۔ مکان سے باہر آتے ہی آٹھ صد ایک آدمی کو سات صد دوسرے کو دے کر فارغ ہو گئے۔ صاحبزادہ صاحبؒ میں دیگر خوبیوں کے علاوہ ان پر رب کریم کا ایک یہ خاص کرم تھا کہ وہ مستجاب الدعوات تھے۔ موج میں آکر جو کہہ دیتے تھے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و احسان سے ویسے ہی ہوجاتا تھا۔ اس پر سینکڑوں واقعات ہوں گے۔
صاحبزادہ صاحبؒ بار بار فرمایا کرتے تھے کہ عبادت سے جنت ملتی ہے۔ خدمت سے خدا تعالیٰ ملتے ہیں۔ اپنے شیخ کی تو وہ مثالی خدمت کرتے تھے۔ حضرت اقدس دامت برکاتہم کے جوتوں کو سینے سے لگایا ہوا راقم نے بارہا دیکھا۔ حرمین شریفین میں حاضری کے لئے حضرت کی معیت کو ترجیح دیتے تھے۔ بلکہ حضرت کے بغیر ان کے ہاں حاضری کا تصور نہیں تھا۔
ایک بار برطانیہ سے واپسی پر صبح کی نماز سے کچھ قبل مدینہ طیبہ حاضری ہوئی۔ رہائش گاہ
پر پہنچ کر حضرت قبلہ کی طبیعت سفر کے باعث نڈھال تھی۔ آپ نے فرمایا کہ میں رہائش گاہ پر نماز پڑھوں گا۔ پھر آرام کر کے اشراق و ناشتہ کے بعد مواجہہ شریف پر حاضری ہوگی۔ محترم صاحبزادہ صاحب نے سنتے ہی فوراً فرمایا مولانا (راقم ) آپ حرم نبوی ﷺ چلیں۔ میں حضرت کے ساتھ یہاں نماز پڑھوں گا۔ چنانچہ ایسے ہوا۔ پھر حضرت کے ساتھ مواجہہ شریف پر تشریف لے گئے۔
غریب، مسکین، بیوہ، یتیم ولاوارث لوگوں کی برابر خفیہ مدد کرتے رہتے تھے۔ گاؤں کے لوگوں کا بیان ہے کہ اس طرح غریبوں کی خفیہ امداد سے وہ کئی گھرانوں کی کفالت کرتے تھے۔ محترم مولانا مفتی ظفر اقبال صاحب نے بتایا کہ ہمارے مدرس قاری صاحب کو عمرہ کا شوق تھا۔ تنگدستی تھی تو چھ ماہ کی مدرسہ سے پیشگی تنخواہ لی۔ قرضہ وغیرہ لیا عمرہ کے لئے روانہ ہوئے۔ پہلا سفر اور بالکل سیدھے سادھے درویش منش۔ خیال تھا کہ کیسے ان کا سفر ہوگا۔ ان کو رخصت کرنے کے لئے ائیر پورٹ گئے تو اتفاق سے اسی فلائٹ سے صاحبزادہ صاحبؒ عمرہ کے لئے جا رہے تھے۔ قاری صاحب کو ان کے ساتھ کر دیا۔ ہر طرح کا خیال رکھا۔ عمرہ کرایا۔ قاری صاحب کے جاننے والے جب مل گئے ان کے سپرد کر کے مطمئن ہوئے۔ اس طرح ان کی خدمت خلق کی بے شمار مثالیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات کو بلند فرمائیں۔
محترم صاحبزادہ صاحب کو تبرکات جمع کرنے کا بہت شوق تھا۔ غلاف کعبہ کا ٹکڑا ملا تو اس کے متعلق وصیت کی کہ میرے کفن کے ساتھ دل کے حصہ پر رکھ دیا جائے۔ چنانچہ ایسے ہوا۔ مختلف قطعات خوبصورت فریم کروا کر دفتر اور گھر میں لگوائے ہوئے تھے۔ رحمت دو عالم ﷺ کی طرف منسوب موئے مبارک ان کے پاس تھا۔ جسے بہت ہی احترام دیا کرتے تھے۔ آخری دنوں میں مجھے فرمایا کہ مولانا مبارک ہو۔ مجھے ایک اور جگہ سے اس دفعہ پچیس تیس سال کی محنت سے ایک اور موئے مبارک مل گیا ہے۔ فقیر کو پہلے موئے مبارک کا بھی علم تھا۔ اب دو ہو گئے تو فقیر نے عرض کیا کہ اب تو آپ صاحب نصاب ہو گئے۔ میرے دل میں خیال تھا کہ ایک دفتر کی لائبریری میں تبرک کے طور پر مانگ لوں۔ مگر آپ نے فوراً کہا کہ کیا مطلب صاحب نصاب
کا؟۔ ان کی بیماری اور طبیعت کا اضمحلال اور موئے مبارک سے ان کی محبت کے باعث فقیر کا حوصلہ نہ پڑا۔ فوراً عرض کیا صاحب نصاب کا معنی آپ کی بہت خوش نصیبی ہے۔ پہلے ایک موئے مبارک تھا۔ اب دو ہو گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ مبارک فرمائیں۔ میری نیت تو سمجھ گئے تھے مسکرا کر ٹال دیا۔ ایک بار قبلہ حضرت اقدس نے اپنا اوورکوٹ مجھے عنایت فرمایا۔ صاحبزادہ صاحب نے عرصہ کے بعد فرمایا کہ اس اوورکوٹ کا کیا بنا؟۔ میں نے کہا کہ تبرک کے طور پر محفوظ ہے۔ وفات پر اس کے حصے کفن کے ساتھ شامل کرنے کی وصیت کروں گا۔ فرمایا کہ حضرت اقدس کے احرام کی دو چادریں کفن کے لئے، مجھ سے لے لو اور وہ مجھے دے دو۔ تو ایسے ہی ہوا۔
ایک دفعہ فقیر نے عرض کیا کہ گنبد خضریٰ کے اندرونی حصہ پر جدید پلستر کیا گیا ہے۔ صدیوں مزار شریف پر موجود قدیم پلستر کو اکھیڑا گیا تو اس کا تولہ نصف تولہ، مولانا خدا بخشؒ اور مجھے ١٤٠١ھ کے پہلے سفر حجاز میں ایک کرم فرمانے عنایت فرمایا تھا۔ وہ مولانا خدا بخش کے پاس ہے۔ ابھی میں نے بھی ان سے اپنا حصہ نہیں لیا۔ یہ غالباً سفر برطانیہ میں برسبیل تذکرہ ذکر ہوا۔ واپس آکر ایک دن دفتر تشریف لائے گاڑی منگوائی مجھے ساتھ لیا اور شجاع آباد روانہ ہو گئے۔ بارش کا موسم تھا۔ راستہ خراب۔ گاڑی کو گارے سے ایک جگہ نکالنے کے لئے زحمت بھی اٹھائی۔ آگے مولانا کے گھر تک راستہ خراب تھا۔ گاڑی نہ جا سکتی تھی۔ پیدل گئے۔ مولانا سے وہ شیشی لی۔ ملتان تشریف لا کر تین شیشیوں میں اسے برابر اپنے ہاتھ سے تقسیم کیا۔ ایک مجھے عنایت فرمائی ایک مولانا خدا بخش کو دی اور ایک خود رکھ لی۔ ہاتھ سے تقسیم کرتے ہوئے جو گرد ہاتھ کو لگی اسے چہرے پر مل لیا۔
غالباً ١٩٩٧ء میں برطانیہ سے واپسی پر بیت اللہ شریف کی تعمیر ہو رہی تھی۔ ایک دوست مل گئے۔ انہوں نے کہا کہ بیت اللہ کے اندر آپ کو نفل پڑھوا دیتا ہوں۔ فوراً دوڑے حرم شریف میں حضرت اقدس کو تلاش کیا۔ حضرت اقدس رہائش گاہ پر تشریف لا چکے تھے۔ فقیر حضرت کے ہمراہ تھا۔ اب رہائش گاہ پر جا کر حضرت اقدس کو لانے کے لئے وقت نہیں تھا۔ اتفاق سے حضرت حافظ محمد شریف برمنگھم والے مل گئے۔ ان کو ساتھ لیا۔ اس ساتھی کے ساتھ بیت اللہ شریف کے
اندر جا کر نوافل ادا کئے۔ اندر سے بیت اللہ شریف کی دیواروں کو ہاتھوں سے مسل کر باہر تشریف لائے دونوں ہاتھوں کی مٹھیوں کو بند کئے ہوئے رہائش گاہ پر تشریف لائے اور بڑے بھر پور جذبات سے خوشی خوشی دونوں ہاتھ فقیر کے منہ پر پھیرنے شروع کر دیئے۔ بہت حیرت ہوئی کہ کیا کر رہے ہیں۔ پوچھا تو چشم پرنم سے واقعہ بتایا۔ اب راقم نے منہ بنالیا کہ ہمیں اس سعادت سے کیوں محروم رکھا۔ بلایا کیوں نہیں؟۔ اتنا بخل تو جائز نہیں۔ فرمایا کہ بھائی وقت نہ تھا۔ اگر میں رہائش گاہ پر آتا تو بیت اللہ شریف کے معمار مستری اندر چلے جاتے کام شروع ہو جاتا پھر تو کسی چڑیا کو بھی پر مارنے کی جرات نہ ہوتی۔ کل دوبارہ کوشش کریں گے۔ حضرت اقدس کو بتایا تو آپ مسکرا دیئے۔ دوسرے دن بہت کوشش کی مگر راقم کا مقدر قبلہ صاحبزادہ صاحبؒ کے مقدر کا کہاں مقابلہ کر سکتا ہے۔ اہتمام نہ ہو سکا۔ بادشاہوں کو بیت اللہ شریف کے اندر سرکاری سطح پر اجازت ملتی ہے۔ ایک درویش کو قدرت نے کس طرح اس سعادت سے نواز دیا۔ محترم جناب محمد اسحق خاکوانی نے اپنی گفتگو میں قبلہ صاحبزادہ کے متعلق یہ خوبصورت جملہ کتنا سچا فرمایا کہ:
محترم صاحبزادہ صاحبؒ کو رب کریم نے محض اپنے کرم سے جن خوبیوں سے نواز تھا۔ ان میں معاملہ فہمی، قوت فیصلہ اور انتظامی امور کو احسن طریقہ پر چلانے کی خوبیاں مثالی اور قابل رشک تھیں۔ آپ اندازہ لگائیں کہ خانقاہ شریف کے تمام متعلقین، عالمی مجلس کا تمام حلقہ، دوست احباب ۔ غرض تمام جاننے والے اپنے دل کے دکھڑے عرض کر کے مشورہ، دعائیں اور ہدایات کے لئے محترم صاحبزادہ صاحبؒ سے رجوع کرتے تھے۔ خانقاہ شریف کے حلقہ میں تو مشہور تھا کہ پہلے چھوٹے پیر صاحب کو آمادہ کر لیں۔ چنانچہ اسی فیصد امور وہ نمٹا دیتے تھے۔ محترم محمد اسحق خان خاکوانی کے بقول گھر کے دس افراد ہیں۔ بچے، بچیاں، میاں، بیوی سب اپنے جھگڑے و مشکلات صاحبزادہ صاحبؒ سے عرض کیا کرتے تھے۔ باپ بیٹے کے متعلق، میاں اپنی اہلیہ کے متعلق اور اہلیہ اپنے میاں کے متعلق۔ قابل تصفیہ امور کے لئے صاحبزادہ صاحبؒ سے رجوع کرتے تھے اور صاحبزادہ کا کمال یہ تھا ایسے مزاج شناس تھے کہ فیصلہ کرتے وقت سب کے مزاجوں کا خیال کر کے آپ فیصلہ فرماتے جس سے سب خوش ہو جاتے۔ جس کی غلطی ہوتی حکمت عملی، نرمی، گرمی سے اس کی اصلاح فرما دیتے تھے۔ شادی، غمی سبھی امور کے لئے رفقاء ان سے
رجوع کرتے تھے۔ بروقت صحیح فیصلہ کرنے میں آپ دیر نہیں لگاتے تھے۔
ایک بار جدہ سے مدینہ طیبہ جانے کے لئے لوکل فلائیٹ کے بورڈنگ کارڈ لے کر لاونج میں چلے گئے۔ معلوم ہوا کہ حضرت قبلہ کے سامان کا دستی بیگ جدہ ایک دوست کے گھر رہ گیا۔ محترم صاحبزادہ سعید احمد صاحب سے فرمایا کہ آپ حضرت کے ساتھ چلیں میں بیگ لے کر دوسری فلائیٹ سے آجاؤں گا۔ سعودیہ مقامی فلائیٹ کے لئے بورڈنگ کارڈ لے کر بھی آدمی رہ جائے تو وہ انتظار نہیں کرتے۔ ائیر پورٹ سے نکلے۔ ٹیکسی لی سامان جا کر وصول کیا۔ اسی ٹیکسی سے واپس آئے تو جہاز جا چکا تھا۔ دوسری فلائیٹ جو چار پانچ گھنٹہ کے بعد جا رہی تھی اس کے لئے ٹکٹ مانگا تو اس میں سیٹ نہ تھی۔ بہت کوشش کی مگر کوئی صورت نظر نہ آئی۔ بہت پریشان ہوئے۔ خیال یہ کہ حضرت قبلہ کو مدینہ طیبہ میں پریشانی نہ ہو۔ دوسرا یہ کہ مواجہہ شریف پر میری حاضری حضرت قبلہ کے ہمراہ نہ ہوسکی۔ اس پریشانی میں دعا کی۔ اتنے میں سامنے کے کونٹر پر ایک عرب افسر نے بلا کر پوچھا۔ صاحبزادہ صاحب نے پریشانی بتائی۔ اس نے فوراً اسی پہلے ٹکٹ پر اوور چارجنگ لے کر فرسٹ کلاس کی سیٹ دے دی۔ مدینہ طیبہ پہنچے مسجد نبوی گئے تو قبلہ حضرت باہر نکل رہے تھے۔ تو بے ساختہ گلے ملتے ہی عرض کیا کہ حضرت آج معلوم ہوا کہ:
اس پر حضرت قبلہ نے سینہ سے لگایا۔ فرماتے تھے کہ میری ساری تھکاوٹ دور ہوگئی۔ دیکھئے کتنا بروقت صحیح فیصلہ تھا کہ جہاز چھوڑ دیا۔ مگر حضرت کی راحت کی خاطر سفری سامان لئے بغیر سفر نہیں کیا۔ اسی طرح ایک دفعہ بورڈنگ کارڈ لے کر لاونج میں جا کر بیٹھ گئے۔ محترم صاحبزادہ مولانا خلیل احمد صاحب کے پاس دستی بیگ تھا۔ جس میں تمام پاسپورٹ ٹکٹیں اور نقدی تھی۔ جب جہاز کے اندر جانے کا اعلان ہوا تو لائن میں لگ گئے۔ جہاز کے اندر سیٹوں پر جا کر معلوم ہوا کہ دستی بیگ تو لاؤنج میں رہ گیا ہے۔ فوراً سیٹ سے اٹھے۔ لوگ آ رہے ہیں۔ ان کو ادھر ادھر کرتے اس تیزی سے نکلے کہ جہاز کا عملہ پریشان ہوگیا وہ پکارتے رہے مگر آپ نے ایک نہ سنی۔ ان کا ایک آدمی پیچھے دوڑا۔ اتنے میں آپ سیڑھیوں سے اتر کر لاونج میں اپنی کرسی سے بیگ اٹھا چکے تھے۔ تب وہ سمجھے کہ کیا پرابلم تھا۔ عملہ نے واپس احترام سے لا کر آپ کو جہاز میں بٹھا دیا۔ اب اگر سوچتے رہ جاتے تو کتنا نقصان ہوتا۔ اس طرح بروقت صحیح فیصلہ کرنے میں اپنی مثال
آپ تھے۔
فرماتے تھے کہ ایک بار حضرت قبلہ مسجد نبویؐ سے پیدل رہائش گاہ کی طرف ڈاکٹر حمید اللہ خاکوانی بہاولپوری کے ساتھ تھے۔ راستہ میں گاڑی نے سائیڈ ماری۔ حضرت سڑک پر گر گئے۔ سر پر چوٹ آئی۔ اور خون بہہ نکلا۔ ڈاکٹر صاحب پریشان اتنے میں صاحبزادہ صاحب آگئے۔ گاڑی کی۔ ہسپتال گئے۔ معائنہ ہوا۔ ایکسرے لیا۔ پٹی کرائی۔ کیس سیریس تھا۔ فوراً ہسپتال میں داخل کروایا۔ اب ڈرائیور جس نے سائیڈ ماری اسے پولیس نے پکڑ لیا۔ پولیس آفیسر نے کہا کہ آپ حضرت کو لے آئیں۔ حضرت قبلہ کو لے جانے لگے تو پھر خون جاری ہوگیا۔ چنانچہ صاحبزادہ صاحب اور ڈاکٹر صاحب تھانہ آئے۔ پولیس آفیسر بدمزاج تھا۔ اس نے کہا ان دو میں سے ایک کو بٹھا لو۔ جب تک مضروب نہ آکر بیان دے یہ تھانہ میں رہیں۔ فوراً صاحبزادہ صاحب نے فیصلہ کیا۔ ڈاکٹر صاحب کو کہا کہ آپ حضرت قبلہ کی خدمت کے لئے چلیں۔ میں یہاں رہتا ہوں۔ پولیس لاک اپ میں بند ہوگئے۔ اب صبح سے یہ معاملہ چل رہا تھا۔ ظہر کی اذان کا وقت ہو رہا تھا۔ بھوک نے بہت ستایا۔ فرماتے ہیں کہ میں نے دعا کی کہ یا اللہ ہم تو یہاں مشکلات حل کرانے کے لئے آتے ہیں۔ یہ تو نئی مصیبت گلے پڑگئی۔ بھوک، گرفتاری، شیخ سے جدائی، مسجد شریف کی نماز سے محرومی، پتا نہیں کیا کیا۔ ایک ساتھ مشکلات عرض کر کے دعا کی۔ ابھی دعا ختم کی ہوگی کہ ایک صاحب دوسرے لاک اپ میں بند شخص کے لئے گرم گرم مرغ پلاؤ کا بھرا ہوا تھال لائے اور دوسرے شخص کو کہا کہ ان مولانا صاحب کو بھی ساتھ شریک کریں۔ وہ باہر کھڑا۔ یہ اندر والا مجھے بلائے۔ میں ذرا تکلف کروں تو اس نے زور سے میرا ہاتھ پکڑ کر شریک کرلیا۔ میں نے اس یقین کے ساتھ کھانا کھایا کہ اب دعا کی منظوری نقد ظاہر ہورہی ہے۔ اللہ میاں کی شان کے خلاف ہے کہ دعا آدھی منظور ہو اور آدھی منظور نہ ہو۔ پوری منظور ہوگئی ہے۔ کھانا کھا کر فارغ ہوئے تو نہ معلوم پولیس آفیسر کے دل میں کیا آیا۔ تمام لاک اپ کے قیدیوں کو بلا کر جیل بھجوانے کی فہرست بنوانے لگا۔ میرا نام آیا تو کہا کہ مضروب بھی ان کا آدمی ہو۔ یہ معاف کرکے احسان بھی کریں اور ہم آدمی بھی ان کا اندر کردیں۔ یہ تو زیادتی ہے۔ ان کو لے جاؤ ہسپتال میں ہی مضروب کا بیان لے کر ان کو فارغ کردیں۔ ہسپتال گئے تو آگے حضرت قبلہ تھانہ جاکر بیان دینے کے لئے تیار بیٹھے تھے۔ صاحبزادہ صاحب کو دیکھا تو فرمایا اچھا ہوا آپ آگئے۔ میں تو آپ کے لئے پریشان
تھا۔ صاحبزادہ صاحبؒ نے عرض کیا حضرت میں آپ کے لئے پریشان تھا۔ باہر آکر پولیس کو فارغ کیا اور پھر حرم شریف میں ایک ساتھ جاکر نماز ادا کی۔ اللہ تعالیٰ نے چند دنوں بعد حضرت کو صحت سے سرفراز فرمادیا۔
حضرت قبلہ دامت برکاتہم جہاں تشریف لے جاتے تمام تر انتظامات اور مصروفیات کی ترتیب صاحبزادہ صاحبؒ کے سپرد ہوتی۔ آپ اس خوش اسلوبی سے اس کو مرتب کرتے کہ حضرت قبلہ کو بھی آرام رہتا۔ رفقاء اور متعلقین کو بھی بھر پور استفادہ کا موقعہ مل جاتا۔
جنرل ضیاء الحق کے زمانہ میں دوسری بار حج کرنے والے کے لئے مشکلات تھیں۔ جبکہ قبلہ حضرت صاحب اور صاحبزادہ صاحبؒ حج پر جانے کا معمول ترک نہیں کرنا چاہتے تھے۔ تو اس کی سبیل یہ نکالی کہ پاکستان سے وزٹ ویزا پر کویت تشریف لے جاتے۔ وہاں سے حج کا ویزا لگوا لیا جاتا۔ ایک بار ویزا سیکشن آفیسر نے صاحبزادہ صاحبؒ کے ویزا کے لئے پس و پیش کیا تو حضرت قبلہ نے فرمایا کہ ان کے بغیر تو میں بھی نہیں جاسکتا۔ ویزا آفیسر نے کہا کہ کیا جنت میں ان کو ساتھ لے کر جاؤ گے؟۔ حضرت قبلہ نے صاحبزادہ صاحب کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا ہاں! یہ جنت میں بھی میرے ساتھ ہوں گے۔ اس پر اعتماد گفتگو کا ویزا آفیسر پر اثر ہوا اور ماشاء اللہ! ماشاء اللہ! کہہ کر فوراً صاحبزادہ صاحب کا ویزا لگا دیا۔
ایک دفعہ برطانیہ جانے کے لئے اسلام آباد ویزا لگوانے گئے تو آفیسر نے حضرت قبلہ سے پوچھا کہ اگر ہم ان (صاحبزادہ صاحبؒ) کو ویزا نہ دیں تو پھر؟۔ حضرت قبلہ نے فرمایا پھر مجھے بھی نہیں چاہیے۔ مسکرا کر اس نے دونوں ویزے لگا دیئے۔
جناب قاضی فیض احمد ٹوبہ ٹیک سنگھ والوں کے حوالہ سے مولانا محمد علی صدیقی نے بتایا کہ ایک بار سرہند شریف کے سفر میں میں بھی صاحبزادہ صاحبؒ کے ساتھ تھا۔ خانقاہ مجددیہ کے متعلقین سے ایک بزرگ جو مالیر کوٹلہ کے تھے۔ قبلہ حضرت اقدس خواجہ خان محمد صاحب سے ملنے کے لئے سرہند شریف تشریف لائے۔ جاتے وقت سب سے مصافحہ کر چکے تو صاحبزادہ صاحبؒ سے ہاتھ تھوڑا ملاتے ہی واپس کھینچ لیا اور حضرت قبلہ سے عرض کی کہ یہ حضرت خلیفہ صاحبؒ (حضرت ثانی) کے صاحبزادے ہیں۔ حضرت نے فرمایا ہاں! تو انہوں نے کہا کہ حضرت خلیفہ صاحبؒ (ہندوستان کے ساتھی حضرت ثانی کو خلیفہ صاحب ہی کہتے تھے) والی کشش ان کے ہاتھوں میں
ہے ۔ اس سے سمجھا کہ یہ ان کے صاحبزادے ہیں ۔ پھر مصافحہ کیا دعائیں دیں اور چل دیئے ۔
یہاں پر ایک اور بات یاد آئی کہ ایک دن راقم نے صاحبزادہ کی بیماری کا حال دیکھ کر عرض کیا کہ ایک دفعہ جامعہ رشیدیہ ساہیوال کے شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد عبداللہؒ کی بیمار پرسی کے لئے مولانا محمد ادریس انصاریؒ صادق آباد والے تشریف لائے تو انہوں نے حضرت شیخ الحدیثؒ سے عرض کیا کہ اللہ رب العزت اپنے کسی محبوب بندہ کو اعلیٰ مراتب پر پہنچانا چاہتے ہیں ۔ وہ ذکر و اعمال سے اگر نہیں پہنچ پاتا تو اللہ میاں بیماری سے اس کے رفع درجات فرمادیتے ہیں ۔ فوراً صاحبزادہ صاحبؒ نے فرمایا مولوی صاحب ! اللہ تعالیٰ بغیر تکلیف کے بھی وہ درجہ دے سکتے ہیں ۔ اس کے بغیر ہی دے دیں ۔ یہ تو جملہ معترضہ ہوا ۔ مجھے عرض یہ کرنا ہے کہ آخری دنوں میں صاحبزادہ صاحب درجات کی بلندی کے لئے ہوا سے زیادہ تیزی سے سفر کرتے نظر آتے ہیں ۔
جناب ملک فیاض صاحب کی یہ روایت ہے کہ میں نے ایک دن عرض کیا کہ مکان بدلنا ہے کرایہ پر دوسرا مکان مل نہیں رہا ۔ فرمایا مل جائے گا ۔ اسی شام مجھے مکان مل گیا ۔ دو دن بعد تشریف لائے تو فرمایا سناؤ بھائی کیسے رہا ۔ میں نے عرض کی کہ آپ کی دعا سے اللہ تعالیٰ نے مسئلہ حل کر دیا ۔ فرمایا نہیں ملک صاحب میں نے حضرت قبلہ سے آپ کے لئے دعا کی درخواست کی تھی ۔ میں کیا ہوں ۔ یہ سب شیخ کی جوتیوں کا صدقہ ہے ۔
کچھ عرصہ سے آپ کو شوگر کی شکایت تھی ۔ آپ نے خوراک کم کر دی ۔ پہلے بھی خوراک بہت کم تھی ۔ اب مزید کم کی تو کمزوری نے آ گھیرا ۔ میٹھے سے پرہیز کیا ۔ جگر کو میٹھا چاہیے ۔ اب جگر سکڑنا شروع ہو گیا ۔ اس میں سفر نہیں کرنا چاہیے ۔ آپ کو قدرت نے پیدا ہی سفر کے لئے کیا تھا ۔ بس طبیعت نڈھال ہو گئی ۔ ڈاکٹروں نے بہت جتن کئے ۔ مگر ستمبر ١٩٩٨ء سے صحت اس قدر بگڑنا شروع ہو گئی کہ آپ صاحب فراش ہو گئے ۔ کچھ عرصہ گھر پر زیر علاج رہے ۔ شعبان میں ملتان تشریف لائے ۔ حضرت حکیم حنیف اللہ مرحوم نے آپ کو دیکھا ۔ جناب ڈاکٹر پروفیسر عنایت اللہ کا علاج شروع ہوا ۔ وہ صبح شام اپنی خوش بختی سمجھ کر فکرمند ہو گئے ۔ ڈاکٹر خالد خاکوانی مرحوم اور ان کے صاحبزادہ ڈاکٹر محمد عابد خان نے خدمت کے لئے دن رات ایک کر دیا ۔ خواہش تھی کہ قیام دفتر میں ہو ۔ ایک کمرہ کے ساتھ اٹیچ باتھ بنوانا شروع کیا ۔ مگر مکمل ہونے سے پہلے آپ اپنے خالق حقیقی سے جا ملے ۔ جناب میاں خان محمد صاحب سرگانہ اور آپ کے پورے خاندان نے مکان آپ کے
لئے وقف کر دیا ۔
دفتر مرکزیہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ، خاکوانی حضرات ، سرگانہ حضرات اور دیگر متعلقین نے دیدہ دل فرش راہ کر دیئے ۔ حضرت قبلہ خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم عشرہ بھر آکر صاحبزادہ کی عیادت کے لئے ملتان قیام پذیر رہے ۔ صاحبزادہ مولانا عزیز احمد ، صاحبزادہ مولانا خلیل احمد ، صاحبزادہ نجیب احمد بمعہ اپنے اہل وعیال کے تشریف لاتے رہے ۔ صبح و شام ملک بھر سے ٹیلی فون کے ذریعہ رابطہ کر کے رفقاء دعاؤں سے نوازتے رہے ۔ طبیعت بگڑتی اور سنبھلتی رہی ۔ لاہور جانے کا پروگرام بن گیا ۔ صاحبزادہ نجیب احمد کے ہمراہ تشریف لے گئے ۔ الحاج حافظ قاسم حسن کے ہاں رہائش اختیار کی ۔ زید ہسپتال میں بھی زیر علاج رہے ۔ ڈاکٹر صاحبان نے بہت کوشش کی ۔ اس دوران چناب نگر کورس کے شرکاء سے ملنے کے لئے تشریف لے گئے ۔ رمضان شریف کے اوائل میں پھر ملتان آگئے ۔ حسب سابق سرگانہ ہاؤس میں قیام رہا ۔ ڈاکٹر صاحبان اور حکماء نے سعادت سمجھ کر خدمت کی ۔ مگر طبیعت سنبھل نہ سکی ۔
١٥ شوال ١٤١٩ھ بمطابق ٢ فروری ١٩٩٩ء بروز منگل صبح دس بج کر چالیس منٹ پر سرگانہ ہاؤس کچہری روڈ ملتان میں آپ نے جان! جان آفریں کے سپرد کی ۔ اللہ تعالی ان کی مغفرت فرمائیں ۔ انتقال کے وقت حافظ محمد رفیق ، ڈاکٹر عابد خان خاکوانی ، طاہر صاحب موجود تھے ۔ رات سے طبیعت خراب تھی ۔ صبح کو کچھ ٹھیک ہوئی ۔ تاریخ پوچھی ، ڈائری منگوائی نمبر تلاش کر کے فون کیا ۔ اس کے بعد لیٹ گئے ۔ ساتھی آپ کو دباتے رہے اور آپ زیر لب پڑھتے رہے ۔ ہاتھ سینہ اور دل پر پھیرتے رہے ۔ اس حالت میں آپ کا وصال ہوا ۔ آپ کے وصال کی خبر ملک بھر میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی ۔ ملتان کے رفقاء فوراً سرگانہ ہاؤس جمع ہو گئے ۔ خانیوال سے آپ کی خبر سنتے ہی آپ کے چچا زاد بھائی محمد امین صاحب اور محمد انور ملتان روانہ ہو گئے ۔ ادھر ملتان میں غسل اور کفن کی تیاری شروع ہو گئی ۔ فقیر راقم نے آپ کو غسل دینے کی سعادت حاصل کی ۔ مولانا محمد اسماعیل صاحب ، مولانا عبدالعزیز صاحب ، اعزاز سرگانہ اور انور صاحب نے معاونت فرمائی ۔ راقم عرض گزار ہے کہ آپ کا جسم اتنا تر و تازہ تھا کہ موت کا گمان بھی نہ ہوتا ۔ سر مبارک کو پکڑ کر سیدھا کر کے صابن لگاتے جب چھوڑتے رخ از خود بیت اللہ شریف کی طرف ہو جاتا ۔ ایک بار بازو کو صابن لگا رہے تھے تو پورا بازو گلے میں حمائل ہو گیا ۔ اس حالت کو دیکھ کر راقم
خود گھبرا گیا کہ کہیں سکتہ کی کیفیت تو نہیں جسے ہم موت سمجھ رہے ہوں۔ کفن کا اکمل سرگانہ، حکیم خلیل احمد، الحاج محمد طفیل جاوید نے اہتمام کیا۔ ایمبولینس کے لئے ڈاکٹر محمد عابد خان اور ڈاکٹر خالد خاکوانی نے اہتمام کیا۔ یوں حضرت حافظ مرحوم کی ڈیڑھ بجے تیاری مکمل ہوگئی اور قافلہ خانیوال کے لئے روانہ ہوا۔ خانیوال گرد و نواح، لاہور، فیصل آباد، ساہیوال، چیچہ وطنی، بہاولپور، ملتان تک کے ساتھی بستی سراجیہ خانیوال پہنچ گئے۔
مغرب کے بعد نماز جنازہ ہوا۔ علماء صلحاء نے ہزاروں کی تعداد میں شرکت کی۔ جامعہ باب العلوم کہروڑ پکا کے شیخ الحدیث مولانا عبدالمجید صاحب نے امامت کرائی۔ صاحبزادہ محمد عابد صاحبؒ کے اکلوتے صاحبزادہ محمد رضوان عابد، اکلوتی ہمشیرہ اور بہنوئی جناب محمد یوسف صاحب نے لاہور سے تشریف لانا تھا۔ ان کی آمد پر رات ٩ بجے کاروں ویگنوں کے جلوس میں ایمبولینس کے ذریعہ محترم جناب صاحبزادہ صاحبؒ کے آخری سفر کا دوسرا مرحلہ شروع ہوا۔ خانیوال، کبیر والا، جھنگ، ساہیوال، شاہ پور، خوشاب، کندیاں کے راستہ صبح چار بجے خانقاہ سراجیہ پہنچے۔ خانقاہ شریف میں بھی پشاور، پنڈی، لاہور، ملتان، بہاولپور، صادق آباد، رحیم یار خان، سرگودھا، گوجرہ، ٹوبہ، بھکر، دریا خان، گوجرانوالہ، اسلام آباد غرضیکہ ملک کے کونہ کونہ سے علماء صلحاء کے قافلے پہنچے ہوئے تھے۔ صاحبزادہ مولانا عزیز احمد، صاحبزادہ مولانا خلیل احمد، نے خانقاہ سراجیہ کے دفتر میں آپ کے جنازہ کو رکھوایا۔ سفید چادر میں ملبوس سفید داڑھی والا نورانی چہرہ محو خواب نظر آتا تھا۔ آخری دیدار کا مرحلہ شروع ہو گیا۔ صبر کے بندھن ٹوٹے۔ آنسوؤں کی برسات میں لوگوں نے جوق در جوق قافلہ در قافلہ کی زیارت کی۔ صبح کی نماز شیخ المشائخ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب مدظلہ کی امامت میں رفقاء و حاضرین نے پڑھی۔ حضرت قبلہ چشم پرنم سے سراپا صبر واستقامت بنے ہوئے تھے۔ ٨ بجے جنازہ کا اعلان ہوا تھا۔ لوگوں کے مزید قافلے آنے شروع ہوگئے۔ پونے آٹھ بجے گھر کی مستورات کو زیارت کرانے کے لئے جنازہ کو اندرون خانہ لے جایا گیا۔ ٨ بجے حضرت دامت برکاتہم نے جنازہ پڑھایا۔ ساتھیوں نے کندھوں پر اٹھایا، خانقاہ سراجیہ کے قبرستان میں تیار شدہ قبر کے پاس لے گئے۔ رش اتنا تھا کہ معلوم نہ ہوسکا کہ کس نے قبر میں اتارا۔ تاہم حضرت قبلہ خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم تدفین کے پورے عمل کے دوران میں موجود
آخری دعا آپ نے کرائی۔ یوں قبلہ محمد عابد صاحبؒ اپنے والد گرامی حضرت ثانی مولانا محمد صاحبؒ کے قدموں میں رحمت حق کے حصار میں چلے گئے تھے اور ساتھی واپس اپنے اپنے گھر روانہ ہو گئے۔
ساتھی حضرت حافظ مرحوم سے کتنا پیار کرتے تھے نوجوانوں کو دھاڑیں مار مار کر ایک دوسرے کے گلے لگ لگ کر روتے دیکھا۔ اس کی نقشہ کشی الفاظ میں ممکن نہیں۔ خاکوانی حضرات جو نوجوان عثمان خان، عدنان خان جیسے جگر گردہ کے لوگوں کا پتہ پانی دیکھا۔ مولانا عزیز الرحمن بھری ،مولانا محمد عبداللہ بھکر ،مولانا نور الحق نور، مولا قاری فیاض احمد، حاجی مقبول و حاجی محب ،عزیز الرحمٰن ، یوسف و امین ، رضوان و آصف ، غرض جسے دیکھا دگرگوں حالت میں دیکھا۔ کہ کس حالت میں دیکھا اس کی تعبیر ممکن نہیں۔ اس لئے اپنی تو اس وقت بھی ان الفاظ پر پہنچ کر حالت دگرگوں ہورہی ہے۔ اس پر بس کرتا ہوں۔ صاحبزادہ صاحبؒ کے بھانجے نے یہ شعر لکھ کر دیئے ۔ آپ بھی پڑھ لیں۔
ہمارا خون ستاروں میں جگمگائے گا
ہمارے بعد کہاں یہ وفا کے ہنگامے
کوئی کہاں سے ہمارا جواب لائے گا
پھر بھی کھلا پڑتا ہے کیا خوش مزاج ہے
تونے وہ گنج ہائے گراں مایہ کیا کئے
ڈھونڈا تھا آسمان نے جنہیں خاک چھان کر
(لولاک ذیقعدہ ١٤١٩ھ)
٣٢...... جناب حکیم حنیف اللہؒ
وفات...... ٦ فروری ١٩٩٩ء
ملک عزیز کے نامور حکیم حاذق‘ معروف نباض و معالج‘ عارف باللہ جناب حکیم حنیف اللہ صاحبؒ ٦ فروری ١٩٩٩ء بروز ہفتہ صبح سحری کے وقت نشتر ہسپتال ملتان میں انتقال فرما گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون حکیم صاحب خاندانی طور پر حکیم تھے۔ آپ کے والد گرامی حکیم عطاء اللہؒ بڑے نامور حکیم تھے۔ قدرت نے ان کو ظاہری و باطنی طور پر حکمتوں سے نوازا تھا۔ حکیم حنیف اللہؒ صحیح معنوں میں اپنے والد کے جانشین تھے۔ حکمت میں نام پیدا کیا۔ حضرت مولانا محمد عبداللہ درخواستیؒ‘ حضرت مولانا مفتی محمودؒ‘ حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ‘ حضرت مولانا قاضی احسان احمد شجاعبادیؒ‘ مولانا حافظ سید عطاء المنعم بخاریؒ ایسے نابغہ روزگار حضرات سے آپ کے مثالی تعلقات تھے۔ حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے خاندان سے تو آپ کے خاندانی روابط تھے۔ حکیم صاحبؒ نے حضرت امیر شریعتؒ کے حکم پر شادی کے بعد قرآن مجید حفظ کیا۔ حفظ کے بعد مغرب سے عشاء تک کم و بیش چالیس سال تک متواتر قرآن مجید نفلوں میں پڑھنے کا معمول تھا۔ سفر ہو یا حضر آپ کی تلاوت کا ناغہ ناممکنات سے تھا۔ طب ان کا فن تھا۔ نبض دیکھتے ہی مرض کی تفصیلات کمپیوٹر کی سکرین کی طرح ان کے سامنے آ جاتی تھیں۔ موجودہ اکابر میں حضرت خواجہ خان محمد صاحب مدظلہ سے آپ کی نیاز مندی قابل رشک ہے۔ صاحبزادہ محمد عابدؒ کے وصال پر بہت دل گرفتہ تھے۔ خان پور گئے۔ دل کی تکلیف ہوئی‘ گھر لایا گیا۔ آتے ہی اہلیہ سے فرمایا کہ میرا وقت آ گیا ہے۔ اب صبر کرنا۔ اپنے جانشین بیٹے حکیم خلیل احمد کو کہا کہ والدہ اور بہنوں کا خیال رکھنا۔ ہسپتال گئے علاج بھی ہوا اور پھر آخری وقت آ گیا۔ بس دیکھتے ہی دیکھتے طب اسلامی کی دہلی سے ملتان تک یادوں کے امین‘ روایتوں کے محافظ‘ اللہ رب العزت کے حضور چلے گئے۔ اسی روز عصر کے بعد ساڑھے پانچ بجے حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب مدظلہ نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی۔ ملتان کی دینی و سماجی قیادت تمام مکاتب فکر جنازہ میں جمع تھے۔ سید جلال باقری قبرستان کا وہ احاطہ جو حضرت شاہ جیؒ اور حکیم عطاء اللہؒ کے خاندان کے لئے مخصوص ہے۔ اس میں مدفون ہوئے۔
(لولاک ذیقعدہ ١٤١٩ھ)
٣٣...... جناب سید ممتاز الحسن شاہ گیلانیؒ
وفات......٢١ اکتوبر ١٩٩١ء
حضرت سید ممتاز الحسن شاہ گیلانیؒ انتقال فرما گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون! جناب سید ممتاز الحسن شاہ گیلانیؒ حفظ و ناظرہ اور سکول کی معمولی تعلیم مکمل کرنے کے بعد فیصل آباد آنا جانا ہوا تو مجاہد ملت حضرت مولانا تاج محمودؒ سے نیاز مندی کا شرف حاصل ہوا۔ یہاں سے حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ اور ان کے گرامی قدر رفقاء سے عقیدت و محبت کا رشتہ قائم ہوا۔ پہلے احرار اسلام پھر مجلس تحفظ ختم نبوت سے وابستگی ہوئی۔
حضرت شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ سے بیعت کا تعلق تھا۔ حضرت رائے پوریؒ کے خلیفہ مجاز حضرت مولانا انیس الرحمن لدھیانویؒ سے مثالی تعلقات تھے۔ اشرف المدارس فیصل آباد کے صدر مدرس حضرت مولانا غلام محمد صاحبؒ سے کچھ عرصہ ابتدائی صرف و نحو کی تعلیم حاصل کی۔ عجیب طبیعت پائی تھی۔ اکابر سے عشق کی حد تک لگاؤ تھا۔ حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ کے فدائی تھے۔ حضرت مولانا کی مجلس میں جب حاضر ہوتے۔ تقریر سنتے اور قلم بند کرتے جاتے۔ تقاریر و ملفوظات پر مشتمل نوٹ بک بنائی ہوئی تھی۔ جسے سفر و حضر میں عزیز از جان سمجھ کر ساتھ رکھتے تھے۔ ایک دفعہ سندھ کے سفر میں وہ گم ہو گئی تو مدت العمر اس گراں مایہ ذخیرہ پر تاسف کا اظہار کرتے تھے۔
حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ کا زندگی بھر کا معمول تھا کہ آپ کسی سید کو خدمت کا موقع نہیں دیتے تھے۔ لیکن سید ممتاز الحسن شاہ گیلانیؒ کو یہ اعزاز حاصل تھا کہ سید ہونے کے باوجود ان سے خدمت لے لیتے تھے اور فرماتے تھے کہ آپ سے تو باپ بیٹے جیسا تعلق ہے۔ آپ کو حضرت جالندھریؒ نے فیصل آباد کے قادیانیت زدہ دیہات کے لئے مبلغ مقرر کر دیا تھا۔ حضرت شاہ صاحبؒ نے جان جوکھوں میں ڈال کر آخری عمر تک اس فریضہ کو نبھایا اور خوب نبھایا۔
فقیر راقم الحروف کا بطور مبلغ سب سے پہلا تقرر فیصل آباد میں ہوا تو جڑانوالہ کھرڑیانوالہ کے دیہات میں تعارف کرایا اور عمر بھر اپنی شفقتوں سے نوازا۔ اس عرصہ میں ہمارا
جند جان کا رشتہ قائم ہوا۔ بہت ہی شریف النفس درویش صفت اور فرشتہ سیرت انسان تھے۔
١٩٧٤ء کی تحریک ختم نبوت میں دن رات ایک کر دیا۔ چناب نگر کو کھلا شہر قرار دیا گیا تو سردار منیر احمد خان لغاری پہلے آر ایم مقرر ہوئے۔ ان کی عدالت بلدیہ کی عمارت ٹھہری۔ وہاں آپ کو ابتدائی نمازیں پڑھانے کی سعادت حاصل ہوئی۔ ہر دل عزیز شخصیت تھے۔ جن سے ایک بار تعارف ہوا۔ آخر عمر تک باوفا ساتھیوں کی طرح اسے نبھایا۔ جامع مسجد و مدرسہ تعلیم القرآن ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر، جامع مسجد محمدیہ ریلوے اسٹیشن چناب نگر پر ساتھیوں کی رخصتوں کے موقع پر ہفتہ ہفتہ بار ہا ڈیوٹی دی۔
چنیوٹ و چناب نگر آل پاکستان ختم نبوت کانفرنسوں میں حاضری ان کی زندگی بھر کا معمول رہا۔ مجلس کے مبلغین کی میٹنگوں میں جماعتی پالیسی و معاملات پر رواداری کے قائل نہ تھے۔ ہمیشہ مجلس کے ضوابط پر کار بند رہتے اور رفقاء کو اس پر کار بند رہنے کا سبق دیتے تھے۔ جماعتی مسئلہ میں ساتھیوں کے مختلف مشوروں کو اکابرین کا کوئی ملفوظ سنا کر مسئلہ کا حل نکال لینے میں ید طولیٰ حاصل تھا۔ شیعہ سنی کشیدگی پر بہت افسردہ رہتے اور اس کو قادیانیوں کی سازش قرار دیتے۔ مزاج پیروں والا تھا۔ بود و باش فقیروں والی تھی۔
اس دفعہ اٹھارویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر کے موقع پر چار روز ان سے مجلس رہی۔ مبلغین حضرات کی تعلیم و تربیت اور مزید تیاری کے لئے ١٩ اکتوبر کی عشاء کے بعد تحریری امتحان قرار پایا۔ سب سے سینئر ہونے کے باوجود محض نئے دوستوں کی دلجوئی کے لئے امتحان میں شریک ہوئے۔ پرچہ دیا۔ آنکھوں کا عارضہ تھا۔ مگر اسے جماعتی امر کی تعمیل میں رکاوٹ نہ بننے دیا۔ دوسرے دن دوپہر تک کے اجلاس میں شریک رہے۔ ہم لوگوں کو ملتان کا ایک بجے دن سفر کرنا تھا۔ آپ مدرسہ میں ہی قیام پذیر تھے۔ ان سے رخصت لے کر روانہ ہوئے اور یہ زندگی کی آخری ملاقات ٹھہری۔
قبلہ سید ممتاز الحسن شاہ گیلانیؒ سے فقیر کی تیس بتیس سالہ جماعتی رفاقت رہی۔ اس طویل عرصہ میں آپ کی اعلیٰ سیرت کی گواہی دینا فقیر اپنا فرض سمجھتا ہے۔ فقیر پچھلے ہفتہ پشاور کے
سفر پر تھا۔ واپسی پر راولپنڈی دفتر میں آپ کی وفات حسرت آیات کی خبر سنی۔ دل بجھ گیا۔ دفتر مرکزیہ آ کر معلوم ہوا کہ ٢١ اکتوبر بروز جمعرات کو ایک بارات کے ساتھ پیپلز کالونی تشریف لے گئے۔ شادی کے پنڈال میں تقریب نکاح کی تاخیر سے فائدہ اٹھا کر بیان شروع کر دیا۔ پہلے معراج کا واقعہ بیان کیا پھر آنحضرت ﷺ کی صاحبزادیوں کا تذکرہ شروع کیا۔ حضرت سیدہ فاطمۃ الزہراؓ کا نام زبان پر آیا اور کرسی پر بیٹھے ہی گردن لڑھک گئی۔ ساتھیوں نے سنبھالا تو وہ دوسرے جہاں تشریف لے جا چکے تھے۔ اتنی اجلی سیرت کا سید سادات کا تذکرہ کرتے ہی اللہ تعالیٰ کے حضور چل دیا۔
ایک بجے دن کا وقت تھا۔ آخری سٹاپ ڈھڈی والا فیصل آباد میں ذاتی رہائشی مکان اور اپنے ہاتھوں قائم کردہ مدرسہ ومسجد میں لائے گئے۔ دوسرے دن دس بجے چک نمبر ٢٠٥ وزیر والا میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم اعلیٰ جانشین مجاہد ملتؒ حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری نے جنازہ کی امامت فرمائی۔ صاحبزادہ طارق محمود نے جنازہ پر آپ کو خراج تحسین پیش کیا۔ مولانا خدا بخش شجاع آبادیؒ نے اپنے مبلغین ورفقاء کی نمائندگی کی۔
یوں مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ مجاہد اسلام حضرت مولانا تاج محمودؒ کے جانشینوں نے ان کے ایک دیرینہ مجاہد ساتھی کو ہزاروں سوگواروں اور خاندان کے ورثاء اور جماعتی ساتھیوں کے ہمراہ آخری آرام گاہ میں رحمت حق کے سپرد کیا۔ عاش سعیداً ومات سعیداً ! کا مصداق یہ مرد قلندر دنیا میں نہ صرف خوب وقت گزار کر گیا بلکہ ہزاروں متعلقین کو سلیقہ کی زندگی گزارنے کا درس دے گیا۔ شوگر وغیرہ ایسی بیماریوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ حرمین کی زیارت کا بھی شرف حاصل تھا۔ ہزاروں سعادتوں کا مجموعہ اب رب کریم کے حضور حاضر ہوا۔ اللہ رب العزت اپنے عفو و کرم کا ان سے معاملہ فرمائیں۔ پسماندگان کو صبر جمیل اور مرحوم کو کروٹ کروٹ جنت نصیب ہو۔ آمین!
(لولاک شعبان المعظم ١٤٢٠ھ )
٤٤...... جناب چوہدری غلام نبی امرتسریؒ
وفات......١٥دسمبر ١٩٩٩ء
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت گوجرانوالہ کے بزرگ رہنما، روحِ رواں جناب چوہدری غلام نبی امرتسریؒ گوجرانوالہ میں کچھ عرصہ بیمار رہ کر انتقال کر گئے۔ اناللہ وانا الیہ راجعون!
چوہدری غلام نبیؒ امرتسر کے رہنے والے تھے۔ تقسیم سے قبل امرتسر ”احرار“ کی سرگرمیوں کا مرکز تھا۔ آپ نے امرتسر کے ماحول میں آنکھ کھولی۔ اکابر کی نظر کرم نے ان کو دین اسلام کی خدمت اور آزادیِ وطن کا مجاہد سپاہی بنا دیا۔ مجلس احرار اسلام کے مجاہد، بہادر، مخلص کارکنوں میں آپ کا شمار ہوتا تھا۔ کڑیل جوان تھے۔ قدرت نے حسن وصحت کی تمام خوبیوں سے نوازا تھا۔ جب احرار رضا کاروں کی وردی میں ملبوس جیوش احرار کے ساتھ چلتے تھے تو کشمیر کے شہزادے معلوم ہوتے تھے۔
پاکستان بننے کے بعد گوجرانوالہ آ کر آباد ہوئے تو مجلس احرار کے پلیٹ فارم سے گرانقدر خدمات سرانجام دیں۔ حضرت امیر شریعتؒ پر دل و جان سے فدا تھے۔ مولانا قاضی احسان احمد شجاعبادیؒ، ماسٹر تاج الدین انصاریؒ، مولانا محمد علی جالندھریؒ، شیخ حسام الدینؒ، مولانا غلام غوث ہزارویؒ، مولانا عبدالقیوم ہزاروی مدظلہ، مولانا صوفی عبدالحمید سواتی مدظلہ، شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر مدظلہ، مناظرِ اسلام مولانا لال حسین اخترؒ، مولانا محمد شریف جالندھریؒ، مولانا تاج محمودؒ، آغا شورش کاشمیریؒ، مولانا مظہر علی اظہرؒ، سید مظفر علی شمسیؒ اور دیگر مذہبی و سیاسی رہنماؤں سے محبت و اخلاص کے مثالی تعلقات تھے۔ حضرت امیر شریعتؒ اور آپ کے گرامی قدر رفقاء نے جب مجلس تحفظ ختم نبوت کی بنیاد رکھی تو چوہدری صاحبؒ نے بھی اپنے آپ کو اس پلیٹ فارم کے لئے وقف کر دیا۔ تحریک ختم نبوت ١٩٥٣ء میں آپ کے مجاہدانہ کارناموں کی لائل پور، جھنگ، خان پور، سکھر، کراچی تک داستانیں بکھری پڑی ہیں۔ آپ نے اس تحریک میں سنہرے و قابل فخر کارنامے سرانجام دیئے۔ کراچی میں گرفتار ہوئے۔ حیدر آباد جیل میں اکابرین تحریک کے ساتھ بہادرانہ طور پر جیل کاٹی۔ آپ پر بے پناہ تشدد بھی ہوا۔ مگر یہ وہ نشہ نہیں جسے ترشی اتار دے۔ ١٩٧٤ء اور ١٩٨٤ء کی تحریک ختم نبوت میں آپ نے بڑی بے جگری سے حصہ۔ بڑی بے جگری سے حصہ لیا حصہ۔گری سے حصہ۔ لیا۔ اتار دے۔ ١٩٧٤ء اور ١٩٨٤ء کی تحریک ختم نبوت میں آپ نے بڑی بے جگری سے حصہ لیا۔
گوجرانوالہ میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے ملکیتی دفتر کے حصول سے لے کر اس کی تعمیر و مرمت تک کے تمام مراحل میں آپ کا مجاہدانہ ایثار شامل رہا۔ چوہدری غلام نبی مرحوم کی گہری نظر اور معاملات کی باریک بینی اور اصابت رائے کو دیکھ کر اندازہ ہوتا تھا کہ جس قیادت کے یہ کارکن ہیں اس قیادت کی بالغ نظری کا کیا عالم ہو گا؟ ۔ آپ نے کسی سکول و دینی مدرسہ میں زانوے تلمذ تہہ نہیں کیا۔ مگر ذہانت اور روشن دماغی کا یہ عالم تھا کہ آپ نے اپنی یادداشتوں پر مشتمل چار سو صفحات کی کتاب مرتب کرا دی۔ جس کا نام ”تحریک کشمیر سے تحریک ختم نبوت تک“ تھا۔ اس کی مقبولیت کا اندازہ لگائیں کہ تین سال میں اس کے چار ایڈیشن شائع ہوئے اور ہاتھوں ہاتھ نکل گئے۔ چوہدری غلام نبی امرتسری بلاشبہ ایک انجمن تھے۔ چلتی پھرتی تاریخ تھے۔ ایک وفا شعار مجاہد فی سبیل اللہ تھے۔ عقیدہ ختم نبوت کے پاسبان تھے۔ اکابرین امت کی روایات کے امین تھے۔ ان کی وفات سے ایسا خلا پیدا ہوا ہے جو مدتوں پر نہ ہو گا۔ ان کی حسین یادوں کی کسک عرصہ تک دل دنیا کو مضطرب کئے رکھے گی۔
بحمدہ تعالیٰ آخر تک صحت ٹھیک رہی۔ گزشتہ چند سالوں سے گھٹنوں کے درد اور جگر کی خرابی کی شکایت ہوئی۔ مگر زندگی کی گاڑی چلتی رہی اور خوب چلتی رہی۔ چند ماہ قبل زیادہ پرابلم پیدا ہوا۔ لاہور لے جایا گیا مگر پھر بھی بہادروں کی طرح انہوں نے بیماری کو جھیلا۔ کبھی زبان پر کوئی حرف شکایت نہ آیا۔ چلنا پھرنا آخر تک جاری رہا۔ صرف آخری چند دنوں میں صاحب فراش ہوئے۔ مگر پھر بھی قدرت نے ان کو کسی کا محتاج نہ کیا۔
١٥ دسمبر ١٩٩٩ء بمطابق ٦ رمضان المبارک ١٤٢٠ھ کو صبح دس بجے انتقال ہوا۔ اسی دن رات گیارہ بجے آپ کو بڑے قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔ آپ کے دیرینہ ساتھی اور جگری دوست حضرت مولانا حکیم عبدالرحمن آزادؒ نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی۔ گوجرانوالہ کی پوری دینی و سیاسی قیادت اور عوام نے جنازہ میں شرکت کی۔ جناب حافظ محمد یوسف عثمانی‘ مولانا ضیاء الدین آزاد‘ مولانا فقیر اللہ اختر اور چوہدری صاحبؒ کے صاحبزادوں نے آپ کی تکفین کے مراحل طے کئے۔ قدم قدم پر رحمت حق کے سہارے چلے اور ڈھیروں من مٹی کے نیچے رحمت حق کے سپرد کر دیئے گئے۔ حق تعالیٰ ان کے ساتھ اپنی شایان شان مغفرت کا معاملہ فرمائیں۔
(لولاک شوال المکرم ١٤٢٠ھ)
٣٥...... مولانا ابوالحسن علی ندویؒ
وفات.......٣١ دسمبر ١٩٩٩ء
ندوۃ العلماء لکھنؤ کے مہتمم، رابطہ عالم اسلامی مکہ مکرمہ کے رکن، دمشق یونیورسٹی کے مشیر، دارالعلوم دیوبند کی مجلس شوریٰ کے رکن، عرب وعجم کے رئیس العلماء، قافلہ حریت کے سرخیل، برصغیر پاک وہند کی موجودہ دور میں سب سے بڑی علمی اور روحانی شخصیت حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ جمعہ ٣١ دسمبر ١٩٩٩ء کو لکھنؤ میں انتقال فرما گئے ۔ اناللہ وانا الیہ راجعون! ان کے انتقال نے اکابر علماء کی وفات کے غم تازہ کر دیئے ۔ مولانا کی وفات علم وفضل کی وفات ہے۔ رحمت عالم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ : ”عالم کی وفات ایک جہاں کی وفات ہے ۔“
بلاشبہ مولانا مرحوم اس حدیث کا مصداق تھے۔ تین صد کتابوں کے آپ مصنف تھے۔ تاریخ، سیرت و سوانح آپ کے پسندیدہ مضامین تھے اور انہیں عنوانات پر آپ کی زیادہ تر تصانیف ہیں۔ قدرت نے اتنی جامعیت بخشی تھی کہ اردو کی طرح عربی زبان پر آپ کو نہ صرف عبور تھا بلکہ اکثر کتابیں آپ نے اصلاً عربی میں تصنیف فرمائیں ۔ بعد میں اردو زبان کا ان کو جامہ پہنایا گیا۔ عربی ادب کے بھی آپ امام مانے جاتے تھے۔ ان کے علم وفضل کے سامنے عرب وعجم کے علماء کی گردنیں جھکتی نظر آتی تھیں ۔ قدیم وجدید علم پر آپ کو دسترس تھی۔ شرق وغرب نے آپ کے علم کی گہرائی کا سکہ مانا۔ ہزاروں شاگرد، لاکھوں عقیدت مند، بیسیوں مساجد و مدارس آپ کی یاد گار ہیں۔ اے جانے والے آپ کو مدتوں یاد رکھا جائے گا۔ رفتید ولے نہ از دل ما!
آپ کی بیعت کا تعلق قطب الارشاد حضرت عبدالقادر رائے پوریؒ سے تھا۔ آپ مجاز بھی تھے اور غالباً ہندوستان میں آپ حضرت رائے پوریؒ کے آخری خلیفہ تھے۔ آپ کے وصال سے مساجد ومدارس کی طرح خانقاہوں کی علمی وعملی رونق بھی متاثر ہوئی۔
حضرت شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ کے حکم پر آپ نے لاہور میں بیٹھ کر عرب دنیا کو فتنہ قادیانیت سے آگاہ کرنے کے لئے ”القادیانیہ“ عربی زبان میں تحریر فرمائی۔ اس کے مقدمہ میں آپ نے فرمایا کہ میرے پاس دو کتب خانے جمع ہیں۔ ایک خاموش یعنی کتابیں ہیں ۔ دوسرا بولنے والا کتب خانہ یعنی حضرت مولانا محمد حیاتؒ ہیں ۔ شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ کے حکم پر تمام
تر حوالہ جات فاتح قادیان مولانا محمد حیاتؒ اور مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ نے ان کو مہیا فرمائے۔ یہاں سے مسودہ تیار کر کے لکھنو تشریف لے گئے اور پھر سب سے پہلے عربی ایڈیشن کی اشاعت کا دمشق سے اہتمام کیا گیا اور یہ مجلس تحفظ ختم نبوت نے شائع کی اور پھر مصنف کے توسط سے دنیا بھر کے علماء و مشائخ بالخصوص عرب دنیا میں تقسیم ہوئی۔ اس کے بعد خیال ہوا کہ اس کتاب کو اردو میں منتقل کیا جائے۔ چنانچہ اردو ایڈیشن میں عربی سے اردو میں حوالہ جات کو منتقل کرنے کی بجائے مرزائیوں کی اصل اردو کتابوں سے ہی حوالہ جات کو نقل کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی۔ چنانچہ مولانا ابوالحسن علی ندویؒ نے مولانا محمد علی جالندھریؒ کو ذیل کا خط تحریر فرمایا۔ یہ ٦ مئی ١٩٥٨ء کا خط ہے۔ اس میں آپ نے تحریر فرمایا۔
باسمہ!
محبّی ومخدومی زید لطفہ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ امید کہ مزاج بخیر ہوگا
میں اپنی طبیعت کی ناسازی کی وجہ سے رائے بریلی میں تاخیر سے آیا۔ فہرست مآخذ (یعنی قادیانی کتب) کے متعلق دیکھنا تھا کچھ کتابیں ندوۃ العلماء میں ہیں یا نہیں؟۔ چنانچہ مقابلہ کر کے ان کتابوں کو حذف کر دیا جو یہاں موجود ہیں تا کہ پاکستان سے انہیں لانے کی زحمت سے بچیں۔ اب وہی کتابیں لکھ رہا ہوں جو یہاں نہیں ہیں اور ان کو وہیں (پاکستان) سے لانا پڑے گا۔ آپ کو یہ معلوم کر کے خوشی ہوگی کہ ’’فیصلہ آسمانی‘‘ حضرت مولانا محمد علی مونگیریؒ اور مولانا مونگیریؒ کی تقریباً ١٣‘ ١٢ کتابیں اور رسالے رد قادیانیت میں کتب خانہ ندوۃ العلماء میں موجود ہیں۔ کئی روز سے لاہور کا کوئی خط نہیں آیا جس سے کچھ نظامِ سفر کا حال معلوم ہوتا۔ اللہ تعالیٰ کی ذات سے امید ہے کہ حضرت والا دامت برکاتہم (حضرت رائے پوریؒ) کے مزاج مبارک بالکل بعافیت ہوں گے۔ مخدومی مولانا عبدالجلیل صاحب کی خدمت میں دو ہی روز ہوئے ہوں گے ایک خط ارسال خدمت کیا ہے۔ مولانا محمد حیاتؒ کی خدمت میں میری طرف سے بہت سلام۔ قلم زد کتابیں یہاں کتب خانہ میں موجود ہیں۔
والسلام!....... آپ کا علی....... ١٦ شوال المکرم ١٣٧٧ھ
چنانچہ آپ کا خط ملتے ہی حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ نے جواب اور پھر کتابیں
ڈاک سے بھجوا دیں اور ساتھ ہی تحریر کیا کہ اردو ایڈیشن ( قادیانیت ) لکھنو سے شائع کرالیں رقم مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے بیت المال سے بھجوادی جائے گی ۔ چنانچہ اس کے جواب میں مولانا ابوالحسن علی ندویؒ نے تحریر فرمایا:
حضرت مولانا محترم زیدہ مجدہ والطافہ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ امید کہ مزاج بخیر ہوگا
گرامی نامہ اور اس کے بعد رجسٹرڈ پیکٹ ملا۔ اس توجہ کے لئے شکر گزار ہوں۔ اللہ تعالیٰ آپ کی مساعی میں برکت عطا فرمائے۔ جناب نے بھی لکھنؤ میں طباعت کی تاکید فرمائی ہے اور یہی مناسب معلوم ہوتا ہے۔ ابھی مصارف کا کوئی اندازہ نہیں۔ رقم کا پہنچنا بہت مشکل ہے۔ البتہ یہ صورت ممکن ہے کہ حضرت والا (حضرت رائے پوریؒ) کے ساتھ جو رفقاء خدام رائے پور تشریف لائیں وہ قانونی رقوم اپنے ساتھ لے آئیں۔ یعنی جتنی رقم لانے کی (قانوناً) اجازت ہے۔ ہر ایک رفیق اتنی ہی رقم لے آئے علی الحساب اور وہ رائے پور میں محفوظ رہے۔ جب ضرورت ہو وہاں سے حاصل کر لی جائے۔ ابھی مجھے خود مصارف کا اندازہ نہیں۔ کتابوں کی فہرست یہ معلوم کرنے کے بعد کہ کتب خانہ ندوۃ العلماء میں کونسی کتابیں ہیں بعد میں بھجواؤں گا۔ بڑی عنایت ہوگی ۔ اگر حضرت شاہ (سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ) صاحب مدظلہ کی خدمت میں میرا سلام نیاز پہنچا دیا۔
والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ .......... طالب دعا ابوالحسن علی جواب کا پتہ: مرکز دعوت اصلاح و تبلیغ کچہری روڈ لکھنؤ
غرض آپ کو رد قادیانیت کے عنوان پر حضرت مولانا شاہ عبد القادر رائے پوریؒ نے لگایا تھا۔ آپ کی اس متذکرہ کتاب کے عربی اردو انگریزی کے کئی ایڈیشن شائع ہوئے۔ البتہ سب سے پہلے اس کتاب کو شائع کرنے کی سعادت مجلس تحفظ ختم نبوت کے حصہ میں آئی۔ اس کے علاوہ رد قادیانیت پر آپ کے مندرجہ ذیل مقالہ جات بھی ہیں ۔
- ١...... القادیانیہ ثورۃ علی نبوۃ محمدیہ۔
- ٢...... قادیانیت اسلام اور نبوت محمدیہ کے خلاف ایک بغاوت۔
- ٣...... القادیانیہ والقادیانیہ دراستہ و تحلیل۔
پاکستان میں جب قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا تو آپ نے حضرت شیخ بنوریؒ کو جو والا نامہ تحریر فرمایا وہ یہ ہے:
”سب سے پہلے تو آپ کو اس عظیم کامیابی پر آپ کے اسلاف کے ایک ادنیٰ نیاز مند کی حیثیت سے مخلصانہ مبارک باد پیش کرتا ہوں جس کے متعلق بدیع الزمان الھمدانی! کے یہ الفاظ بالکل صادق ہیں۔ فتح فاق الفتوح و امنت علیه الملائکه والروح! اس میں کوئی شبہ نہیں کہ آپ کے اس کارنامہ سے آپ کے جد امجد حضرت سید آدم بنوریؒ اور ان کے شیخ حضرت امام ربانیؒ اور آپ کے استاذ ومربی حضرت علامہ سید محمد انور شاہ کشمیریؒ کی روح ضرور مسرور ہوئی اور اس کی بھی امید ہے کہ روح مبارک نبوی علیها الف الف سلام ! کو بھی مسرت حاصل ہوئی ہوگی۔ فهنیا لکم وطوبٰی ! اگر میری ملاقات ہوئی تو میں آپ کے دست مبارک کو بوسہ دے کر اپنے جذبات کا اظہار ضرور کروں گا۔“ (ماہنامہ بینات حضرت بنوریؒ نمبر ص٣٦٢ محرم الحرام ١٣٩٨ھ)
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے چناب نگر میں اپنا مرکز قائم کیا۔ حضرت مولانا علی میاںؒ ڈھڈیاں سے واپسی پر حضرت مولانا محمد حیاتؒ کو ملنے کے لئے تشریف لائے۔ گزشتہ چند سالوں میں فتنہ قادیانیت نے دوبارہ انڈیا میں پر پرزے نکالنے شروع کئے تو دارالعلوم دیوبند کے ذمہ دار حضرات نے مجلس تحفظ ختم نبوت کل ہند کی بنیاد رکھی اور ایک عظیم الشان سیمینار کا اہتمام کیا۔ اس میں آپ برابر کے شریک سفر رہے۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کل ہند کے زیر اہتمام ١٤ جون ١٩٩٧ء کو عظیم الشان کل ہند سطح پر کانفرنس کا اہتمام کیا گیا۔ اس کے متعلق آپ نے حضرت مولانا مرغوب الرحمٰن صاحب دامت برکاتہم مہتمم دارالعلوم دیوبند کو ذیل کا والا نامہ تحریر فرمایا:
بسم الله الرحمن الرحیم!
گرامی منزلت جناب مولانا مرغوب الرحمٰن صاحب مہتمم دارالعلوم دیوبند!
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ زیدت مکارمہ!
امید ہے مزاج گرامی بعافیت ہوگا۔ دارالعلوم کے جلسہ انتظامی (مجلس شوریٰ) میں شرکت کا دعوت نامہ اور رد قادیانیت کے جلسہ کی اطلاع لکھنؤ میں ملی تھی۔ راقم نے اپنی صحت کی کمزوری، سن رسیدگی اور کچھ دن آرام کے لئے بمبئی کے سفر اور قیام کا ذکر کر کے حاضری سے
معذرت کا خط لکھا تھا۔ جو پہنچا ہوگا۔ لیکن بمبئی میں ٤ جون کا روز نامہ ”انقلاب“ دیکھا تو اس میں ١٤ جون کو دہلی میں رد قادیانیت کے جلسہ کی جو دارالعلوم دیوبند کی طرف سے اور آپ کے زیر اہتمام منعقد ہورہا ہے اطلاع پڑھی۔ اس سے بہت خوشی ہوئی اور یہ ارادہ کر لیا کہ میں قیام کو مختصر کر کے ١٣ جون کو دہلی میں پہنچ جاؤں اور جلسہ میں شرکت کی سعادت جو دینی غیرت کا تقاضا ہے حاصل کروں۔ چنانچہ یہ پروگرام بنالیا کہ ١٣ جون تک دہلی پہنچ جاؤں اور ١٤ جون کو جلسہ میں شریک ہوں۔ میں صدق دل سے آپ کو دارالعلوم کو اور اس جلسہ کے تمام محرکین کو مبارک باد دیتا ہوں کہ انہوں نے بروقت قدم اٹھایا اور دارالعلوم کی روایات دفاع عن الدين او دفاع عن العقيدة الاسلامیہ ! کا ثبوت دیا۔ راقم بمبئی کے قیام میں قادیانیت ہی پر تبصرہ اور اس کے سلسلہ میں کچھ لکھ رہا تھا۔ اس سے پہلے قادیانیت پر عربی میں مستقل کتاب لاہور میں لکھ چکا تھا۔ جو بلاد عربیہ میں بہت مقبول ہوئی اور جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ نے اس وقت تک اس کے پانچ ایڈیشن نکالے ہیں اور انگریزی ترجمہ کے بھی دو ایڈیشن شائع کئے۔ مجلس تحقیقات و نشریات اسلام ندوۃ العلماء کی طرف سے آپ کی خدمت میں عربی اور اردو ایڈیشن کے بعض رسائل پہنچے ہوں گے۔
اطلاعاً آپ کی خدمت میں یہ عریضہ لکھا جا رہا ہے۔ راقم کا قیام اوکھلا جامعہ نگر میں مولوی عباس صاحب ندوی کے مکان پر رہے گا۔ جلسہ میں انشاء اللہ ! شرکت کی سعادت حاصل کروں گا۔ اللہ تعالیٰ اس جلسہ کو ہر طرح سے مفید اور کامیاب کرے۔ برائے کرم ہمارا سلام اور مبارکباد صاحبزادہ گرامی قدر مولانا اسعد میاں کی خدمت میں بھی پہنچا دیجئے ۔ اطال اللہ بقاہ! راقم ..... ابوالحسن علی ندوی، بقلم عبدالرزاق ندوی، بمبئی، سہاگ پیلس مدن پورہ ٥ جون ١٩٩٧ء
(منقول از ماہنامہ آئینہ دارالعلوم دیوبند مورخہ ١٥ جون تا ١٥ جولائی)
چنانچہ دہلی تشریف لائے اور قادیانیوں کے خلاف معرکہ کی تقریر فرمائی۔ اسی طرح لکھنؤ میں دنیا بھر کے سکالروں کا سیمینار منعقد کیا گیا۔ اس میں بھی قادیانیوں کے متعلق علمی مقالہ جات پیش ہوئے۔ غرض فتنہ عموماً قادیانیت کے خلاف آپ کا وجود انعام الہی تھا۔ اللہ تعالیٰ آپ کی مغفرت فرمائیں اور پسماندگان کو صبر جمیل کی توفیق نصیب ہو۔
(لولاک ذی الحجہ ١٤٢٠ھ )
٣٦...... حضرت مولانا جمال اللہ الحسینیؒ
وفات...... ٢١ جنوری ٢٠٠٠ء
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے بزرگ مبلغ‘ دیرینہ رفیق‘ سندھ کی ہر دلعزیز دینی شخصیت‘ مدبر‘ معاملہ فہم‘ زیرک‘ بزرگوں کی روایات کے امین‘ شعلہ نواء خطیب‘ مجاہد فی سبیل اللہ‘ حضرت مولانا جمال اللہ الحسینیؒ ٢١ جنوری ٢٠٠٠ء بروز جمعۃ المبارک بعد از نماز مغرب تقریباً ٧ بجے شام پنوں عاقل ضلع سکھر میں انتقال فرما گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون!
مولانا مرحوم سندھ کی معروف خانقاہ عالیہ درگاہ ہالجی شریف کے خانوادہ کے چشم و چراغ تھے۔ مولانا جمال اللہ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد گرامی حضرت مولانا نذیر حسین مرحوم سے حاصل کی۔ حضرت مولانا نذیر حسینؒ کا برصغیر کی تقسیم سے قبل مجلس احرار اسلام کے رہنماؤں سے جماعتی تعلق تھا۔ احرار رہنما مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ کے حکم پر مولانا نذیر حسینؒ نے اپنے بیٹے مولانا جمال اللہ صاحبؒ کو جامعہ خیر المدارس ملتان میں داخل کرایا۔ آپ نے حضرت مولانا خیر محمد جالندھریؒ و حضرت مولانا محمد شریف کشمیریؒ سے حدیث شریف پڑھی۔ جامعہ خیر المدارس سے فارغ ہوتے ہی آپ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے نظام تبلیغ سے وابستہ ہو گئے۔ شکار پور‘ جیکب آباد آپ کا حلقہ تبلیغ مقرر ہوا۔ آپ پندرہ دن اپنے حلقہ میں اور پندرہ دن مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ کے ساتھ تبلیغی پروگراموں میں شریک ہوتے۔ حضرت جالندھریؒ کی صحبت نے آپ کو ہیرا بنا دیا۔ خالص جماعتی ذہن تھا۔ ملک بھر کی تمام دینی جماعتوں‘ اداروں کے کام کو اپنا کام سمجھتے تھے۔ سندھ میں کہیں پر کوئی بھی بے دین سر اٹھاتا اس کے تعاقب کے لئے کمر بستہ ہو جاتے۔ قدرت نے آپ کے پہلو میں حساس دل رکھا تھا۔ وہ دین کے کسی بھی مسئلہ میں رواداری کی بجائے دینی غیرت پر عمل پیرا ہوتے۔ بڑے بڑے معرکے سر کئے مگر خود کبھی کسی طاغوتی طاقت کے سامنے سرنگوں نہ ہوئے۔ غرض ایک مجاہد داعی میں دینی حمیت کی جو خوبیاں ہونی چاہئیں تھیں وہ آپ میں بدرجہ اتم موجود تھیں۔ آپ نے نصف صدی میں بڑے بڑے اکابر کی نہ صرف زیارت کی بلکہ ان سے کسب فیض بھی کیا اور پھر ان کے فیض کو عام کرنے میں در بدر‘ قریہ قریہ‘ شہر شہر‘ گلی گلی‘ دیوانہ وار پھرے۔ کراچی سے اسلام آباد تک اور پشاور سے بہاولپور تک
کے درودیوار گواہ ہیں کہ آپ نے انتہائی سادہ مگر دلوں میں اترنے والی آواز حق سے لوگوں کے دلوں کو منور کیا۔ مسلمانوں کے لئے ابریشم سے بھی زیادہ نرم تھے۔ مگر دین کے دشمنوں کے لئے ننگی تلوار تھے۔ جہاں آپ اڑ گئے بڑے بڑے جغادریوں کے پتے پانی ہوجاتے تھے۔ کفر آپ کے نام سے کانپتا تھا۔ قادیانیت کو سندھ میں آپ نے گالی بنا دیا تھا۔ اوباڑو سے کنری تک کہیں قادیانیوں کو آپ نے چین نہ لینے دیا۔ آخر کیوں نہ ہوتا خاندانی تعلق ماتلی سے تھا۔ استاذ مولانا خیر محمد جالندھریؒ تھے۔ مربی حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ تھے۔ دستِ شفقت حضرت مفکر اسلام مولانا مفتی محمودؒ کا تھا اور دعائیں حضرت مولانا عبدالکریمؒ پیر شریف والوں کی تھیں۔ اعتماد آپ پر حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب مدظلہ فرماتے تھے۔ ان نسبتوں نے آپ کو جلاء بخشی اور قدرت حق کے کرم و احسان سے ہر میدان آپ کے ہاتھ رہا۔
پچپن سال عمر پائی ہو گی۔ گزشتہ سے پیوستہ سال قدرت نے آپ کو مکہ مکرمہ و مدینہ طیبہ کی حاضری کا موقع فراہم کر دیا۔ کچھ عرصہ سے شوگر کا حملہ ہوا۔ جگر گردہ کے نظام میں خلل پڑا۔ لیکن آخر وقت تک قدرت نے کسی کا محتاج نہ کیا۔ بیماری و علاج ساتھ ساتھ چلتے رہے۔ آخر مسافر منزل کو پا گیا۔ پنوں عاقل کے قریب گاؤں میں آپ کا جنازہ ہوا۔
(لولاک ذیقعدہ ١٤٢٠ھ)
٣٨...... حضرت مولانا عبدالحئی بہلویؒ
وفات...... ٢٨ جنوری ٢٠٠٠ء
قطب وقت حضرت مولانا محمد عبداللہ بہلویؒ کے جانشین، مفسر قرآن، مہتمم جامعہ بہلویہ شجاع آباد، حضرت مولانا عبدالحئی بہلویؒ ٢٨ جنوری ٢٠٠٠ء بروز جمعہ گیارہ بجے دن ستر سال کی عمر میں انتقال فرما گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون! آپ کے مریدوں و شاگردوں کی تعداد ہزاروں سے متجاوز تھی۔ آپ بہت ہی خدا رسیدہ بزرگ عالم دین اور فرشتہ سیرت ولی کامل تھے۔ انتہائی بے نفسی کے ساتھ آپ نے مخلوق خدا کو نفع پہنچایا۔ آپ کی عنداللہ مقبولیت کا بڑا ثبوت آپ کے جنازہ کا اجتماع تھا کہ دور افتادہ دیہاتی شہر شجاع آباد کے مضافات میں ہزاروں افراد جمع ہو گئے۔ جن میں اکثریت اہل علم اور صلحاء کی تھی۔ آپ کو آپ کے قائم کردہ ادارہ جامعہ بہلویہ کے پہلو میں دفن کیا گیا۔
(لولاک ذیقعدہ ١٤٢٠ھ)
٣٨...... حضرت مولانا عبدالرحیم نعمانیؒ
وفات......١٢ مارچ ٢٠٠٠ء
مدرسہ عربیہ اسلامیہ بوریوالہ کے مہتمم جمعیت علماء اسلام کے ممتاز رہنما زکوٰۃ عشر کمیٹی ضلع وہاڑی کے چیئر مین اور علاقہ کی ہر دلعزیز دینی و مذہبی شخصیت حضرت مولانا عبدالرحیم نعمانیؒ ١٢ مارچ ٢٠٠٠ء مطابق ٥ ذی الحجہ ١٤٢٠ھ کی صبح کو ملتان کے ایک پرائیویٹ ہسپتال میں انتقال فرما گئے۔ اناللہ وانا الیہ راجعون ! آپ کے جسد خاکی کو بورے والا لایا گیا۔ جہاں آپ کے قائم کردہ دینی مدرسہ خدیجۃ الکبریٰ یعقوب آباد کے احاطہ میں رحمت خداوندی کے سپرد کردیا گیا۔ آپ کے جنازہ میں ضلع بھر کی ممتاز مذہبی و سیاسی شخصیات نے شرکت کی۔ عوام کے جم غفیر کی شرکت سے ہر شخص کی رائے میں آپ کا جنازہ بورے والا کی تاریخ کا ایک بہت بڑا جنازہ تھا جو آپ کی عنداللہ مقبولیت کا زندہ جاوید ثبوت تھا۔ آپ نے ٨٥ سال کی عمر پائی۔ آپ جامعہ امینیہ دہلی کے ممتاز فضلاء میں سے تھے اور جمعیت العلماء ہند کے امیر مفتی ہند حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ دہلویؒ کے مایہ ناز شاگرد تھے۔ حضرت شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ سے نہ صرف بیعت تھے بلکہ ان کی خصوصی نسبتوں کے وارث و امین تھے۔ آپ نے پاکستان بننے کے بعد جامعہ اسلامیہ بورے والا کے اہتمام کو سنبھالا تو اسے ایک منفرد ادارہ بنادیا۔ تعلیم و تربیت اور نظم و نسق کے لحاظ سے جامعہ اسلامیہ ایک مثالی ادارہ ہے جو آپ کی محنت اور دینی خدمات کی زندہ مثال ہے۔ ہزارہا قرآن مجید کے حفاظ اور علماء نے اس ادارہ سے فیض حاصل کیا۔ آپ پیر طریقت حضرت مولانا عبدالعزیز رائے پوریؒ سرگودھا والوں کے معتمد خصوصی تھے۔ مولانا غلام غوث ہزارویؒ، مولانا مفتی محمودؒ، حضرت امیر شریعتؒ حضرت جالندھریؒ اور دیگر برصغیر کے مذہبی رہنماؤں سے آپ کے مثالی تعلقات تھے۔ معروف مسلم لیگی رہنما میاں ممتاز دولتانہ کے مقابلہ پر کئی بار الیکشن لڑے اور مقابلہ دل ناتواں نے خوب کیا کا حق ادا کر گئے۔ غرض آپ کی دینی و سیاسی خدمات جلیلہ کا ایک زمانہ معترف ہے۔ آپ کی شخصیت و وجاہت کو دیکھ کر قرون اولیٰ کے مسلمانوں کی یاد تازہ ہوجاتی تھی۔ قدرت حق کی شان بے نیازی پر قربان جائیں آپ کی اولاد نہ تھی۔ تاہم علاقہ میں آپ کے ہزاروں شاگرد آپ کی روحانی اولاد ہیں۔ جب تک آپ کے قائم کردہ دینی ادارے موجود ہیں آپ کا فیض جاری ہے۔ ان کا اوڑھنا بچھونا صرف اور صرف اقدار اسلامی کا احیاء تھا۔ اس پر انہوں نے مقدور بھر جان جوکھوں میں ڈال کر محنت کی اور آنے والے دینی رہنماؤں کے لئے اخلاص بھری محنت کی ایک مثال قائم کر گئے۔ گردوں کے عارضہ میں مبتلا تھے وقت موعود و ساعت مقررہ آن پہنچی اور آپ وہاں چلے گئے جہاں ہر انسان کو جانا ہے۔ اللہ رب العزت آپ کی مغفرت فرمائیں اور آپ کو کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائیں اور آپ کے قائم کردہ دینی اداروں کی بہاروں کو تاقیامت سلامت باکرامت رکھیں۔ آمین!
(لولاک محرم ١٤٢١ھ)
٣٩...... حضرت مولانا سید حامد علی شاہؒ
وفات...... ١٥؍ مارچ ٢٠٠٠ء
یادگار اسلاف‘ مجاہد اسلام‘ صوفی منش بزرگ.... ’رہنما‘ حضرت مولانا سید حامد علی شاہؒ ١٥؍مارچ ٢٠٠٠ء دل کا دورہ پڑنے سے انتقال فرما گئے۔ اناللہ وانا الیہ راجعون!
حضرت مولانا حامد علی شاہ صاحبؒ کے والد گرامی متحدہ ہندوستان میں ریلوے کے ملازم تھے۔ پاکستان بننے کے وقت آپ دہلی کے اسٹیشن ماسٹر تھے۔ وہاں سے آپ کے خاندان نے پاکستان کا سفر کیا۔ مولانا حامد علی شاہؒ تقسیم سے قبل موقوف علیہ تک کی پوری تعلیم مظاہر العلوم سہارن پور میں مکمل کر چکے تھے۔ پاکستان آکر ایک سال بعد گویا ٣٩؍٣٨ میں جامعہ خیر المدارس میں دورہ حدیث شریف پڑھا۔ حضرت مولانا خیر محمد جالندھریؒ اور شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالرحمن کاملپوریؒ سے آپ نے حدیث کی تعلیم حاصل کی۔ فیروزہ (ضلع رحیم یار خان) کے ملحقہ ایک چک میں اراضی الاٹ ہوئی تو یہاں فیروزہ میں حضرت مولانا حامد علی شاہؒ نے کپڑے کی دکان کر لی اور جامع مسجد میں اعزازی طور پر نمازیں پڑھانا شروع کر دیں۔ بعد میں مدرسہ قائم کر دیا۔ مسجد کی توسیع کرائی۔ مدرسہ کی تعمیر کی‘ اور پھر اللہ رب العزت نے مسجد و مدرسہ کے کام کو اتنی وسعت دی کہ آپ کو دکان چھوڑ کر تمام وقت مدرسہ کے لئے وقف کرنا پڑا۔
تبلیغی جماعت‘ جمعیت علماء اسلام اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سے آپ کو والہانہ عشق تھا۔ ہمیشہ ان جماعتوں کے کاموں کو دین کا کام سمجھ کر سرانجام دیتے رہے۔ تمام بے دین و بددین لوگوں کے خلاف آپ نے بہت ہی گرانقدر خدمات سرانجام دیں۔ مختلف اوقات میں حسب ضرورت علاقہ بھر میں آپ دینی اجتماعات منعقد کراتے رہتے تھے۔ یوں کفر کو نکیل ڈالی ہوئی تھی۔ آپ کے دینی مدرسہ مدینۃ العلوم سے بلاشبہ ہزارہا بندگان خدا نے فیض حاصل کیا۔ آپ کی جامع مسجد تبلیغی جماعت کا مرکز ہے۔ آپ کا وجود بھی تبلیغ اسلام کے لئے وقف تھا۔
آپ کی گرانقدر دینی بے لوث خدمات کے باعث علاقہ کے لوگوں کے دلوں میں آپ کا بہت ہی احترام تھا اور یہ مقبولیت آپ کی نیکی و شرافت کا اعتراف اور آپ کی خدمات عنداللہ مقبولیت کی دلیل بین ہے۔ بلاشبہ آپ چلتے پھرتے مقبولان بارگاہ اشخاص میں سے تھے
اور یہ نیکی و تقویٰ آپ کو وراثت میں ملا۔ آپ کی مولانا سید مرتضیٰ حسن چاند پوریؒ سے عزیز داری تھی۔ آپ کے والد گرامی کی نیکی کا یہ عالم تھا کہ ریلوے کی پوری ملازمت کے زمانہ میں کسی ملازم سے ایک گلاس پانی پلانے کی فرمائش نہیں کی۔ اس سے ان کی نیکی کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔
آپ کے والد غالباً اپنی ہمشیرگان سے ملنے کراچی گئے تو سید حامد علی شاہؒ بھی ہمراہ تھے۔ کراچی میں وصال و تدفین ہوئی۔ اگلے سال سید حامد علی شاہؒ کراچی گئے تو والد صاحب مرحوم کی قبر پر بھی فاتحہ کے لئے تشریف لے گئے۔ ایک بوڑھا گورکن دوڑا ہوا آیا۔ سلام کیا اور کہا کہ اس صاحب قبر سے آپ کی کیا رشتہ داری ہے۔ شاہ صاحبؒ نے فرمایا کہ یہ میرے والد صاحب تھے تو وہ بہت خوش ہوا دعائیں اور مبارکبادیں دیں کہ آپ خوش نصیب ہیں۔ آپ کے والد بہت نیک تھے۔ شاہ صاحبؒ کے پوچھنے پر اس نے بتایا کہ بارش کے باعث قبرستان میں بعض تازہ قبریں بیٹھ گئیں۔ اس سے پورے قبرستان میں ایسی نفیس خوشبو پھیلی کہ میں حیران ہو گیا۔ قبریں تیار کرنا اور میتوں کو دفن کرنا میرا پیشہ ہے۔ لیکن زندگی میں میں نے یہ خوشبو آپ کے والد کی قبر سے محسوس کی۔ اس کی نرالی و عجیب کیفیت تھی۔
ان بزرگ صفت والد کے مولانا سید حامد علی شاہ صاحبؒ لخت جگر تھے اور خود مولانا حامد علی شاہ صاحبؒ کا یہ عالم تھا کہ خیر المدارس ملتان میں ہندوؤں کا مندر تھا۔ اس سے ملحقہ متروکہ عمارت میں مدرسہ جاری ہو گیا۔ طلباء زیادہ تھے۔ جگہ کی کمی تھی تو بعض طالب علموں نے خود مندر ہی میں رہائش رکھ لی۔ وہاں جنات رہتے تھے۔ انہوں نے طلباء کو رات بھر اس طرح تگنی کا ناچ نچایا کہ وہ صبح ہوتے ہی جگہ خالی کرنے پر مجبور ہو گئے۔ طلباء میں جنات کے مندر میں رہنے کا تذکرہ ہوا۔ بات سید حامد علی شاہ صاحبؒ تک پہنچی۔ آپ نے بستر اٹھایا وہاں ڈیرہ لگا دیا۔ سال ڈیڑھ سال جتنا عرصہ رہے جنات نے آپ کو کبھی تکلیف نہیں دی۔ البتہ خدمت تو کر دی ہوگی مگر پریشانی کا باعث نہیں بنے۔
آپ حضرت میاں عبدالہادی دین پوریؒ قطب عالم سے بیعت تھے۔ آخری عمر میں اب حضرت اقدس خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم سے بیعت کر لی تھی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے خورد و کلاں سے آپ کا بہت ہی مخلصانہ تعلق تھا۔ چناب نگر کانفرنس پر تشریف لاتے اور بہت ہی دعاؤں سے نوازتے۔ وہ اس دھرتی پر چلتے پھرتے ولی اللہ تھے۔ ان کے وصال سے ایسا
خلا پیدا ہوا ہے جو عرصہ تک شاید پر نہ ہو سکے۔ وفات سے ایک روز قبل وصیت نامہ لکھا۔ مسجد و مدرسہ سے لے کر گھر تک کے معاملات کی تفصیلات درج کر کے اپنے صاحبزادہ سید ناصر حسین شاہ کو سنادی۔ دوسرے روز صبح کو دل کی تکلیف ہوئی۔ رحیم یارخان لے کر گئے۔ وہاں جان مالک کے سپرد کر دی۔ دوسرے دن ٩ ذی الحجہ کو سکول کے گراؤنڈ میں علاقہ کا بہت بڑا اجتماع جنازہ پر موجود تھا۔ دین پور شریف کے بزرگ میاں مسعود احمد صاحب دین پوری نے امامت کی اور قبلہ شاہ صاحب کو رحمت حق کے سپرد کر دیا گیا۔
(لولاک محرم الحرام ١٤٢١ھ)
٤٠....... جناب صوفی نور محمد مجاہدؒ
وفات...... ٧ جولائی ٢٠٠٠ء
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع لودھراں کے پرجوش ورکر‘ فعال اور مخلص کارکن‘ جناب صوفی نور محمد مجاہدؒ دل کا دورہ پڑنے سے انتقال فرما گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون! جناب صوفی نور محمد مجاہدؒ تحریک ختم نبوت کے پرجوش اور فعال کارکن تھے۔ ساری زندگی عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے وقف کی ہوئی تھی۔ عالم دین نہ ہونے کے باوجود علماء کرام جتنی خدمات سرانجام دیں۔ فتنہ قادیانیت کے لئے ننگی تلوار تھے۔ مرحوم ١٤ ربیع الثانی ١٤٢١ھ مطابق ٧ جولائی صبح تہجد کی نماز پڑھنے کے لئے مسجد میں جارہے تھے کہ راستے میں دل کا دورہ پڑا جو جان لیوا ثابت ہوا۔ مرحوم نہایت نیک متقی پرہیزگار انسان تھے۔ مرحوم جماعتی کارکنوں کو اپنی اولاد اور بھائی سمجھتے تھے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے بانی راہنماؤں سے والہانہ عشق تھا۔ ضلع لودھراں میں حاجی عبدالحمید بٹ مرحوم اور صوفی محمد علی کی وفات کے بعد ختم نبوت کے علم کو بلند کئے رکھا۔ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر ہو یا ختم نبوت کانفرنس ملتان صوفی صاحبؒ بمعہ ساتھیوں کے ہر حال میں شرکت کو سعادت سمجھتے تھے۔ نہایت ہی سادہ اور درویش منش انسان تھے۔ ان کی وفات نہ صرف خاندان والوں کے لئے صدمہ کا باعث ہے۔ بلکہ جماعت ختم نبوت کے لئے بھی صدمہ عظیم ہے۔
(لولاک جمادی الاول ١٤٢١ھ)
٤١......حضرت مولانا محمد امین اوکاڑویؒ
وفات ...... ٣١ اکتوبر ٢٠٠٠ء
٢ شعبان ١٤٢١ھ بمطابق ٣١ اکتوبر ٢٠٠٠ء حضرت مولانا محمد امین اوکاڑوی صاحب دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون!
حضرت مولانا محمد امین اوکاڑویؒ آرائیں برادری سے تعلق رکھتے تھے۔ پاکستان بننے کے بعد اوکاڑہ کے قریب چک میں رہائش اختیار کی۔ حدیث کی تعلیم علاقہ چھچھ کے معروف شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالقدیر صاحب سے حاصل کی۔ اوکاڑہ کے سکول میں ملازمت اختیار کی۔ باقی وقت علاقہ میں باطل کی تردید میں فی سبیل اللہ تبلیغ اسلام کا فریضہ سرانجام دیتے رہے۔ قدرت حق نے آپ کو قوت بیان کی نعمت سے وافر حصہ دیا تھا۔ انتہائی سادہ طبیعت کے مالک تھے۔ مزاج میں انکساری تھی۔ طبیعت میں اعتدال تھا۔ غصہ نام کی کوئی چیز قریب تک سے نہ گزری تھی۔ محبت واخلاص کا پیکر تھے۔ آپ کی ہر دلعزیز شخصیت کے باعث جو آپ سے ملتا پہلی ہی ملاقات میں آپ کا گرویدہ ہو جاتا۔ عرصہ تک سکول میں اور گردونواح کے چکوک و دیہات میں جمعہ اور دیگر مواقع پر بیانات کا سلسلہ جاری رکھا۔ قادیانیوں سے معرکے ہوئے۔ معاملہ پنچائت سے تھانہ اور تھانہ سے عدالت تک پہنچا۔ مگر اس بندۂ خدا نے کسی جگہ قادیانیوں کو ٹکنے نہیں دیا۔ سکول کی ملازمت کے دوران میں آپ نے عیسائیت قادیانیت رفض و بدعت کے خلاف بھر پور تیاری کی۔ ان کی تمام کتب مہیا کی اور یوں علاقہ بھر میں آپ نے مبلغ اور مناظر اسلام کے حوالہ سے شہرت پائی۔ طبیعت میں اخلاص تھا۔ ہر وقت اس خیال سے متفکر رہنے لگے کہ کہیں ملازمت سے جان چھوٹ جائے۔ تو کسی دینی ادارہ میں بیٹھ کر دعوت واصلاح تعلیم وتعلم کا کام کرنا ہے۔
ہمارے ملک کے اہل حدیث حضرات شب و روز سب سے بڑا کام حنفیت کی تردید سمجھ کر منظم انداز میں لگے ہوئے ہیں۔ یہ صورت حال مولانا مرحوم کے لئے ناقابل برداشت تھی۔ آپ نے احادیث نبویہ کے حوالہ سے شب و روز ایک کر کے فقہ حنفی کے تمام مسائل کا ماخذ جمع کیا۔ پھر غیر مقلدین حضرات کے تمام وہ مسائل جو حدیث کے خلاف ہیں۔ جمع کر کے ملک بھر میں غیر
مقلدین حضرات کے سر ہو گئے۔ جہاں تشریف لے گئے ایک فضا قائم کر دی۔ غیر مقلدین حضرات کو اپنے مسائل احادیث سے ثابت کرنے دشوار ہو گئے۔ تو وہ چکرا گئے۔
کراچی سے خیبر تک آپ نے مدارس کا دورہ کیا۔ اہل علم نے آپ کے علم کی بہاروں سے رونق حاصل کی۔ سب سے پہلے حضرت مولانا مفتی احمد الرحمنؒ نے جامعۃ العلوم الاسلامیہ کراچی میں آپ کو تخصص کرانے کے لئے پیش کش کی۔ کراچی کی گہما گہمی، مدارس کی معتد بہ تعداد نے آپ کے کراچی قیام سے فائدہ اٹھایا۔ آپ نے بیسیوں علماء کی جماعت تیار کی جو فرق باطلہ کے خلاف حق کی تلوار ثابت ہوئے۔
کراچی کا موسم آپ کی طبیعت کے موافق نہ آیا۔ آپ ملتان تشریف لائے۔ خیر المدارس نے آپ کے لئے دیدہ دل فرش راہ کیا۔ یہاں آپ نے متواتر کئی سال دعوت و ارشاد کی مسند کو رونق بخشی اور بلاشبہ بہت بڑی تعداد میں علماء کرام کی جماعت تیار کر دی۔ جو مناظرہ کے فن میں اپنی مثال آپ ہیں۔ اس دوران میں ملک بھر کے تمام مدارس کے دینی اجتماعات اور دیگر جلسوں میں آپ کے وعظ و تبلیغ کا سلسلہ جاری رہا۔ یہ قدرت کے کرم کے فیصلے ہیں کہ ایک مختصر مدت میں کراچی سے خیبر، منوڑہ سے اکوڑہ اور قلات سے سوات تک آپ کا نام گونجنے لگا۔ کسی بھی موضوع پر آپ مسلسل گھنٹوں گفتگو کرتے اور بے تکلف کرتے۔ اس دور میں آپ نے مناظرہ کی دنیا میں وہ کامیابیاں حاصل کیں۔ جو تاریخ کا حصہ ہیں۔ لیکن ان کی خوبی تھی کہ طبیعت میں اعتدال تھا۔ کہیں کسی بھی مسئلہ میں افراط و تفریط کا شکار نہیں ہوئے۔ خودرائی سے مجتنب رہے۔ ہمیشہ اسلاف کے نظریات کی ترویج و اشاعت میں مصروف رہے۔ اکابر کے دامن کو نہیں چھوڑا۔ مناظرہ میں کبھی کسی بھی فریق کی زیادتی و تلخ نوائی سے غصہ نہیں ہوئے۔ بلکہ خندہ پیشانی سے اپنے موقف کو فریق مخالف سے منوایا۔ یا اسے راہ فرار اور پسپائی پر مجبور کر دیا۔
غرض آپ کے وجود سے اللہ رب العزت نے وہ کام لیا۔ جو ایک مستقل ادارہ کے کرنے کا تھا اور پھر قدرت کی کرم فرمائی دیکھئے کہ بیک وقت تمام بے دین و بددین فتنوں کے خلاف آپ کی تیاری تھی۔ عثمانی، جماعت المسلمین، چتروڑی، اسدی، پتہ نہیں کون کون سے فتنہ کو
آپ نے کہاں نکیل ڈالی۔ آپ کا وجود پاکستان میں دفاع اسلام کی علامت بن گیا تھا۔ کفر و بدعت آپ کے نام کی ہیبت سے لرزہ براندام تھے۔ آپ نے افریقہ وعرب تک کلمہ حق بلند کیا۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سے آپ کو پیار تھا۔ دل کی گہرائیوں سے اکابرین مجلس کا احترام کرتے تھے۔ مجلس کے ہم عصر ساتھیوں کے لئے دیدہ و دل بچھاتے تھے۔ محبتوں سے نوازتے تھے کام کی تحسین کرتے تھے۔ مشوروں سے نوازتے تھے مجلس کی تمام مطبوعات پر نظر رکھتے تھے۔ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر میں پابندی سے شرکت فرماتے تھے۔ ملک بھر سے آئے ہوئے۔ مندوبین آپ کے بیان کو دل کی گہرائیوں سے سنتے تھے۔ آپ کے علمی جواہر پاروں سے اپنی جھولیاں بھر کر لے جاتے تھے۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام چناب نگر سالانہ رد قادیانیت کورس میں شرکت فرماتے تھے۔ شرکاء کو اپنے علمی بیانات سے بہرہ ور کرتے۔ اس سال بھی شرکت کا وعدہ تھا۔ لیکن قدرت کی شان بے نیازی جامعہ خیر المدارس میں چھٹیاں ہوئیں۔ سرگودھا تشریف لائے۔ طبیعت ناساز ہوئی۔ گھر تشریف لے گئے۔ وقت اجل آن پہنچا اور دیکھتے ہی دیکھتے مسکراتے چہرہ سے کامیابی وکامرانی کی ڈھیروں دولت ساتھ لئے رحمت حق کے جوار جا بسے۔ جانے والے آپ کو مدتوں یاد رکھا جائے گا۔
آپ کے جانے سے علم وفضل کی مسندیں بے رونق ہوگئیں۔ آپ تو رب کے حضور کامیاب وسرخرو ہو کر گئے۔ لیکن آپ کے جانے سے جو ہمیں محرومی ہوئی اس پر جتنا افسوس کیا جائے کم ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کی قبر پر اپنی رحمتوں کی بارش نازل فرمائیں اور پسماندگان کو صبر جمیل سے سرفراز فرمائیں۔ رحمت حق آپ پر سایہ فگن ہو۔ حضرت محمد عربی ﷺ کی شفاعت آپ کو نصیب ہو۔ ہم سب گواہی دیتے ہیں کہ آپ مخلص عالم دین تھے۔ حق وصداقت کی علامت ونشانی تھے۔ علم وفضل کے پہاڑ تھے۔ مناظرہ میں احقاق حق وابطال باطل کے علمبردار تھے۔ کفر آپ سے لرزاں وترساں تھا۔ آپ نے تبلیغ اسلام کے لئے جو گراں قدر خدمات سرانجام دیں وہ آپ کے لئے ذخیرہ آخرت ہیں۔ آپ گئے ہم آ رہے ہیں۔
(لولاک رمضان المبارک ١٤٢١ھ)
٤٢...... حضرت مولانا محمد لقمان علی پوریؒ
وفات ...... ١٦ نومبر ٢٠٠٠ء
١٥،١٦ نومبر ٢٠٠٠ء کی درمیانی شب، رفیق امیر شریعت، مجاہد اسلام، خطیب شعلہ نوا، مقرر خوش بیان، یادگار اسلاف، حضرت مولانا محمد لقمان علی پوریؒ نشتر ہسپتال ملتان میں دل کے دورہ کے ہاتھوں آخرت سدھار گئے۔ اناللہ وانا الیہ راجعون!
حضرت مولانا محمد لقمان علی پوریؒ ضلع مظفر گڑھ کی بستی روجہ کے رہائشی تھے۔ ابتدائی تعلیم حضرت مولانا نظام الدینؒ فاضل دیوبند سے بستی تتیم والا میں حاصل کی دورہ حدیث شریف شیخ الاسلام مولانا محمد عبداللہ درخواستیؒ کے ہاں کیا۔
پاکستان کے بعد عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے دارالمبلغین میں سب سے پہلی جماعت جس نے رد قادیانیت پر فاتح قادیان مولانا محمد حیاتؒ سے تربیت حاصل کی۔ اس میں مولانا محمد لقمان علی پوریؒ بھی شامل تھے۔ مناظرہ کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد حضرت امیر شریعتؒ کی ہدایت پر آپ کو ننکانہ صاحب ضلع شیخوپورہ میں مبلغ لگا دیا گیا۔ آپ نے دن رات ایک کر کے پورے علاقہ میں قادیانیت کے خلاف کلمہ حق بلند کیا۔ آپ کی شعلہ نوائی سے قادیانیت بوکھلا گئی۔ اور زخمی سانپ کی طرح بل کھانے لگی۔ آپ پر مقدمات قائم ہوئے۔ جیلوں میں گئے۔ لیکن ہر میدان کے فاتح رہے۔ آپ کی للکار سے کفر کے ایوانوں پر زلزلہ برپا ہو جاتا تھا۔
گوجرانوالہ میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ رہے۔ ١٩٥٣ء کی تحریک ختم نبوت میں آپ نے اپنے ضلع مظفر گڑھ سے گرفتاری دی۔ آپ کی آواز میں قدرت نے ترنم کا رس گھول دیا تھا۔ قرآن مجید کی تلاوت کرتے تو فضاؤں میں سکوت طاری ہو جاتا۔ آپ حق کی آواز تھے۔ مجلس احرار اسلام اور مجلس تحفظ ختم نبوت کے پلیٹ فارم سے آپ نے وہ گراں قدر خدمات سرانجام دیں جو تاریخ کا حصہ ہیں۔ حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ کے آپ شاگرد تھے۔ ان پر دل و جان سے فدا تھے۔ حضرت جالندھریؒ بھی بیٹوں کی طرح آپ سے محبت
فرماتے تھے۔
حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ خطیب پاکستان مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ کی رفاقت نے قومی دینی راہنما کی صلاحیتوں کا آپ کو امین بنا دیا تھا۔ مولانا محمد شریف بہاولپوریؒ مولانا تاج محمودؒ مولانا محمد شریف جالندھریؒ مولانا عبدالرحمان میانویؒ مولانا عبدالرحیم اشعرؒ سے آپ کے دوستانہ مراسم تھے۔ آپ پر اللہ تعالیٰ کا دنیوی طور پر بھی فضل تھا۔ آپ کا شمار علاقہ کے متوسط زمینداروں میں ہوتا تھا۔ سیاست میں دلچسپی کے باعث مجلس تحفظ ختم نبوت کے راہنماؤں سے اجازت لے کر آپ نے جمعیت علماء اسلام میں شمولیت اختیار کی۔ شیخ الاسلام مولانا محمد عبداللہ درخواستیؒ مجاہد ملت مولانا غلام غوث ہزارویؒ مفکر اسلام مولانا مفتی محمودؒ مولانا عبیداللہ انورؒ مولانا عبدالحکیمؒ مولانا گل بادشاہؒ مولانا عبدالکریم بیر شریف والوں کی آنکھوں کا تارا ہو گئے۔
کئی دفعہ قومی اسمبلی کا الیکشن لڑا۔ اس سے ضلع و تحصیل میں آپ کی شخصیت نے جادو کے اثر کی مثال قائم کی۔ حکمران و سیاست دان آپ کے نام سے خم کھانے لگے۔ سرائیکی اور اردو کے آپ صاحب طرز خطیب تھے۔ سندھ اور پنجاب میں مدتوں آپ کی خطابت کی گرج دار گونج کی داستانیں دہرائی جائیں گی۔ آپ نے جمعیت علماء اسلام اور ختم نبوت کے پلیٹ فارم سے وہ کارہائے نمایاں سرانجام دیئے جس سے اکابر کی یاد تازہ ہو گئی۔ مولانا مرحوم کے دل میں سوائے اللہ رب العزت کے اور کسی کا خوف نہ تھا۔ بڑے بہادر اور جی دار مجاہد عالم تھے۔ آپ اپنے علاقہ کے غریبوں کے لئے رحمت پروردگار کا پرتو تھے۔ ہر غریب کی مشکل میں اس کا سہارا بننا آپ کا معمول تھا۔ غریبوں کا کام کر کے خوش ہوتے تھے۔ خانقاہ دین پور شریف سے آپ کا جند جان کا رشتہ تھا۔ حضرت مولانا میاں عبد الہادیؒ اور مولانا میاں سراج احمد صاحب مدظلہ سے آپ کو عشق سا لگاؤ تھا۔ ان کے اشاروں پر فدا تھے۔ یہ حضرات بھی اپنی بھرپور شفقتوں سے ان کو نوازتے۔
مولانا مرحوم دوست پرور عالم دین تھے۔ آپ کے دوستوں کا کراچی سے خیبر تک حلقہ پھیلا ہوا ہے۔ جمعیت علماء اسلام اور مجلس تحفظ ختم نبوت کے خلاف ایک لفظ سننا گوارہ نہ تھا۔ قائد جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب کے دست راست شمار ہوتے تھے۔ مولانا بھی مرحوم کی خدمات کے معترف تھے۔ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن صاحب کو مولانا مرحوم اکابر کی روایات کا امین سمجھتے تھے اور وہ ان کے موقف کے ملک میں بہترین مناد تھے۔
مولانا محمد لقمان علی پوریؒ کی وفات نے بزرگوں کی وفات کے صدموں کو تازہ کر دیا ہے۔ کراچی سے خیبر تک جس کی للکار تھی۔ جس نے قریہ قریہ، گلی گلی تبلیغ اسلام کا فریضہ سرانجام دیا۔ وہ جلالپور کے ایک دینی جلسہ میں شرکت کے لئے تشریف لے گئے۔ دل کا دورہ پڑا۔ ملتان لایا گیا۔ رات گئے دوبارہ تکلیف ہوئی اور اللہ رب العزت کے حضور حاضر ہو گئے۔
بستی رنوجہ، علی پور شہر میں آپ کے جنازہ نے اہل حق کے جنازوں کا منظر پیش کیا۔ آپ کی وصیت کے مطابق دین پور شریف میں آپ کو دفن کیا گیا۔ رحمت پروردگار کی ان پر موسلا دھار بارش ہوئی۔ ان کی وفات، خطابت کے شہسوار، غریبوں کے غمگسار، مجاہد فی سبیل اللہ، داعی الی اللہ، عالم ربانی، مجاہد حقانی کی وفات ہے۔
سچ ہے کہ ان کی وفات نے کمروں کو جھکا دیا۔ دلوں کی دنیا کو ویران اور آنکھوں کو نمناک کر دیا۔ اللہ تعالیٰ ان کے اس نئے سفر کو بابرکت فرمائے۔ پسماندگان کو صبر جمیل نصیب ہو۔ ان کی طرح ہم سب تعزیت کے مستحق ہیں۔ وہ قومی راہنما تھے اور قومی راہنما پوری قوم کی میراث ہوتے ہیں۔ ان کی وفات سے قومیں متاثر ہوتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ اپنے رحم و کرم کا معاملہ فرمائیں۔
(لولاک رمضان المبارک ١٤٢١ھ)
٤٣....... صوفی عنایت علی دنیا پوریؒ
وفات...... دسمبر ٢٠٠٠ء
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت دنیا پور ضلع لودھراں کے امیر اور معروف سماجی شخصیت محترم صوفی عنایت علی صاحب دسمبر ٢٠٠٠ء مطابق رمضان المبارک ١٤٢١ھ اللہ تعالیٰ کو پیارے ہو گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون! محترم صوفی عنایت علی صاحب ہوشیار پور کی راجپوت برادری سے تعلق رکھتے تھے۔ پاکستان بننے کے بعد دنیا پور چک نمبر ٦ میں آ کر آباد ہو گئے تھے۔ موصوف نے ایف اے تک تعلیم حاصل کی۔ پھر فیصل آباد چلے گئے۔ وہاں ہی رشتہ ازدواج میں منسلک ہو گئے۔ کچھ عرصہ بعد پھر دنیا پور شہر آ کر کاروبار شروع کیا۔ بہت ہی مجاہد‘ انتھک‘ محنتی اور مخلص رہنما تھے۔ مقامی طور پر مساجد و مدارس کا انتظام و انصرام خدمت گزاری‘ سماجی طور پر غریب عوام کی فلاح و بہبود کے لئے کوشش ان کی گھٹی میں پڑے ہوئے تھے۔ اس معاشرہ میں مظلوم کی زندگی اجیرن بنادی گئی ہے۔ محترم صوفی صاحب نے ہر مظلوم کی اعانت کو اپنا فرض سمجھ کر اپنے ذمہ لے لیا تھا۔ اس سے آپ کو حق تعالیٰ نے ہر دلعزیز شخصیت بنا دیا تھا۔
عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے آپ کی مساعی آب زر سے لکھنے کے قابل ہیں۔ آپ کے وجود سے قادیانیت تھر تھراتی تھی۔ آپ کا نام سن کر قادیانیوں کو سانپ سونگھ جایا کرتا تھا۔ ١٩٧٤ء کی تحریک ختم نبوت میں قادیانیوں کے خلاف مثالی خدمات انجام دیں۔ دن رات ایک کر کے عوام کی ذہن سازی کی۔ قادیانیوں کے خلاف جلوس نکالے۔ قادیانی ان دنوں شوخ و گستاخ گھوڑے کی طرح پروں پر پانی نہیں پڑنے دیتے تھے۔ دنیا پور تھانہ میں تھانیدار تلنگا مزاج تھا۔ جس پر کریلا اور نیم چڑھا کی مثال صادق آتی تھی۔ قادیانی جماعت اور تھانیدار نے مل کر سازش تیار کی کہ پرامن جلوس پر تشدد کیا جائے۔ یا ان کو اتنا ہراساں کیا جائے کہ قادیانیوں کے خلاف جلوس نکلنے بند ہو جائیں۔ دیہاتی ماحول‘ جلوس کے شرکاء کی گرفتاری عمل میں آئی ساٹھ کے قریب شرکاء گرفتار ہوئے تھانہ کی حوالات کا کمرہ اتنا تنگ تھا کہ 60 آدمی کھڑے بھی نہ ہو سکتے تھے۔ ان سب کو کمرہ میں پریس کر کے کھڑا کر دیا گیا۔ بڑی مشکل سے دروازہ بند ہوا۔ اتنے
چھوٹے کمرہ میں اتنے زیادہ آدمیوں کے باعث تمام شرکاء کو رات کھڑے ہو کر گزارنی پڑی۔ صبح قادیانی زمیندار کرسی پر آ کر بیٹھ گیا۔ تھانیدار بھی ان کے ساتھ اکڑوں کرتا آ بیٹھا۔ ایک ایک آدمی کو نکالتے تھانیدار ”پولیسیا زبان“ اور ڈرا دھمکا کر تھانہ سے بھگا دیتا۔ صوفی صاحب کی باری آئی تو باہر نکلتے ہی تھانیدار کے سر ہو گئے۔ ہم عاشق رسول ہیں، تم قادیانیوں کے ایجنٹ ہو، شرم نہیں آتی، قادیانیوں کو تم نے کرسی پر بٹھا رکھا ہے۔ بغیر ایف آئی آر کے ساری رات غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا۔ ہمارا جلوس قانون کے دائرہ میں تھا۔ تم نے غیر قانونی حرکت کی۔ آپ کی للکار پر قادیانی تو نو دو گیارہ ہو گئے۔ تھانیدار کی ہوائیاں اڑنے لگیں۔
غرض قانونی طور پر قادیانیوں کا تعاقب، مقدمات کی پیروی آپ نے جاری رکھی۔ قادیانی مریل گھوڑے کی طرح دم خم سے عاری ہو گئے۔ صوفی صاحب مرحوم بہت ہی خوبیوں کے انسان تھے۔ انسان دوست تھے۔ شرافت و سادگی کا پیکر تھے۔ حق تعالیٰ مغفرت کرے۔ بہت بڑا جنازہ ہوا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم اعلیٰ حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری جنازہ و تدفین میں شریک ہوئے۔
(لولاک ذیقعدہ ١٤٢١ھ)
٤٤...... مولانا مفتی سید عبدالشکور ترمذیؒ
وفات...... یکم جنوری ٢٠٠١ء
یادگار اسلاف متبحر عالم دین، مفتی، فقیہ، بزرگ رہنما، حضرت مولانا قاری سید عبدالشکور ترمذیؒ یکم جنوری ٢٠٠١ء کی شام اچانک دل کی تکلیف سے انتقال فرما گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ اگلے روز حضرت مولانا مشرف علی تھانوی کی اقتدا میں ہزاروں بندگان خدا نے آپ کی نماز جنازہ پڑھی اور آپ کو اپنے قائم کردہ جدید ادارہ میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ رحمت حق آپ کی لحد پر شبنم فشانی کرے۔
حضرت مولانا سید عبدالشکور ترمذیؒ کے والد گرامی حضرت مولانا مفتی عبدالکریم گمتھلویؒ خانقاہ تھانہ بھون کے مفتی تھے۔ حضرت مولانا عبدالشکور ترمذیؒ نے اس ماحول میں پرورش پائی۔ ابتدائی تعلیم بھی وہاں حاصل کی۔ تکمیل علوم اسلامی کے بعد برصغیر کی معروف دینی درسگاہ دارالعلوم دیوبند تشریف لے گئے اور شیخ العرب والعجم حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ
سے حدیث شریف کی تعلیم حاصل کی۔ فراغت کے بعد تھانہ بھون میں کچھ عرصہ پڑھاتے رہے۔ پاکستان بننے کے بعد اپنے والد گرامی کے ساتھ ساہیوال سرگودھا میں تشریف لائے۔ ١٩٥٥ء میں جامعہ حقانیہ کے نام سے قصبہ ساہیوال میں ادارہ کی بنیاد رکھی۔ جو اس وقت: ’’اصلھا ثابت وفرعھا فی السماء‘‘ کا مصداق ہے۔ آپ کے چاروں صاحبزادے حافظ و قاری و عالم ہیں۔ ساہیوال قصبہ کی سب سے بڑی جامع مسجد حقانیہ ہے۔ حضرت مولانا عبدالشکور ترمذیؒ اپنی تعمیر کردہ اسی مسجد میں نصف صدی تک تبلیغ اسلام کا فریضہ سرانجام دیتے رہے۔ آپ کا ملک بھر کے علماء و مشائخ میں ایک خاص مقام تھا۔ پانچ ہزار فتویٰ جات آپ کے ہاتھ سے جاری ہوئے۔ الحمد للہ! جن کی نقول محفوظ ہیں۔ جو آنے والی نسلوں کے لئے مشعل راہ کا سامان ہوں گے۔ حضرت مولانا عبدالشکور ترمذیؒ شیخ الاسلام حضرت مدنیؒ کے شاگرد اور حکیم الامت حضرت تھانویؒ کے مرید تھے۔ ان کی ذات گرامی مدنی‘ تھانوی علم و فضل کے دو سمندروں میں سنگم کی حیثیت رکھتی تھی۔ مولانا مرحوم کی یہ خوبی رہی کہ انہوں نے ان دونوں ’’اعزازات‘‘ کو نبھایا اور خوب نبھایا۔ اپنے دونوں اکابر کے صحیح مقام و منصب کو سمجھ کر ہر دو حضرات کے مشن میں ساعی رہے۔ اس وقت حضرت مولانا عبدالشکور ترمذیؒ کا شمار اکابر علماء میں ہوتا تھا۔ تمام دینی حلقوں میں ان کا بے پناہ احترام پایا جاتا تھا۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے دعا گو تھے۔ ہر چھوٹے بڑے مجلس کے متعلقین سے محبت و اخلاص کا تعلق تھا۔ امیر مرکزیہ حضرت اقدس مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم کا دل کی اتھاہ گہرائیوں سے احترام کرتے تھے۔ خانقاہ سراجیہ زیارت و حصول دعا کے لئے تشریف لے جاتے تھے۔ مجلس کے مبلغین سے آپ کا پیار دیکھ کر حوصلہ پیدا ہوتا تھا۔ مجلس کے قائم کردہ ادارہ مدرسہ ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر کئی بار تشریف لائے۔ تحریک ختم نبوت ١٩٥٣ء میں کئی ماہ جیل کی ’’سنت یوسفی‘‘ پر عمل پیرا ہوئے۔ ہر فتنہ کے خلاف تحریری و تقریری جہاد کرتے تھے۔ آپ کی چھوٹی بڑی کتب و مقالہ جات ڈیڑھ صد کے قریب ہوں گے۔ رد قادیانیت پر آپ کے دو چار مقالہ جات ہیں۔
(لولاک ذیقعدہ ١٤٢١ھ)
٤٥...... حضرت مولانا منیر الدینؒ
وفات......١٨ اپریل ٢٠٠١ء
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بلوچستان کے امیر جامع مسجد سنہری کوئٹہ کے خطیب بزرگ عالم دین حضرت مولانا منیر الدین ١٨ اپریل ٢٠٠١ء بروز بدھ کو انتقال فرما گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون! حضرت مولانا مرحوم بہت ہی زیرک‘ معاملہ فہم‘ نیک عالم دین تھے۔ مظاہر العلوم سہارنپور سے آپ نے دورہ حدیث شریف کیا۔ پچاس سال سے زائد عرصہ تک جامع مسجد سنہری کوئٹہ کے خطیب رہے۔ جمعیت علماء اسلام اور دیگر دینی جماعتوں کی ہمیشہ سرپرستی فرمائی۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بلوچستان کے امیر اور مرکزی مجلس شوریٰ کے ممبر تھے۔ اللہ رب العزت نے آپ کی ذات سے دین کی مثالی خدمات لیں۔ اکابر علماء کرام کی صحبت نے آپ کو نکھار دیا۔ اکابر کی روایات کے امین تھے۔ علماء حق کی نشانی تھے۔ ہمیشہ کلمہ حق کہا۔ اس کے لئے بڑے بڑے فرعونوں کو خاطر میں نہ لاتے۔ یہ بہادری و جرات آپ نے اپنے اکابر سے ورثہ میں پائی تھی۔ آپ کی وفات کا سانحہ مجلس تحفظ ختم نبوت کے لئے ناقابل تلافی نقصان ہے۔ مرکزی مجلس شوریٰ میں چشم پرنم سے قرارداد تعزیت منظور ہوئی۔ حضرت امیر مرکزیہ دامت برکاتہم نے دعائے مغفرت کرائی۔
اگلے روز مرکزی ناظم اعلیٰ پوری مجلس کی طرف سے تعزیت کے لئے کوئٹہ تشریف لے گئے۔ حضرت مولانا مرحوم کے صاحبزادے قاری محمد عبداللہ صاحب ہم سب کی طرف سے تعزیت کے مستحق ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ رب العزت حضرت مولانا منیر الدینؒ کو کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائیں۔ آمین ٭ بحرمۃ النبی الکریم!
حضرت مولانا مرحوم کے صاحبزادہ حضرت مولانا قاری محمد عبداللہ صاحب ایک تبحر عالم دین‘ صوفی منش بزرگ رہنما ہیں۔ آپ کو اللہ تعالیٰ نے محبوبیت کا مقام نصیب فرمایا ہے۔ بلوچستان کے دینی حلقہ میں آپ کی رائے کو بڑے احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ اللہ رب العزت مزید برکتوں سے سرفراز فرمائیں۔ آمین!
(لولاک ربیع الاول ١٤٢٢ھ)
٤٦....... جناب ڈاکٹر محمد خالد خان خاکوانیؒ
وفات....... ١٥ مئی ٢٠٠١ء
خاکوانی خاندان کے چشم و چراغ، نشتر میڈیکل کالج ملتان کے ایسوسی ایٹ پروفیسر جناب ڈاکٹر محمد خالد خان خاکوانی ١٥ مئی ٢٠٠١ء بروز منگل دوپہر ایک بجے نشتر ہسپتال ملتان میں انتقال فرما گئے۔ انا لله وانا اليه راجعون ! اسی دن رات نو بجے حسن پروانہ جنازہ گاہ میں آپ کا جنازہ ہوا۔
آپ جناب سردار فضل محمود خان خاکوانیؒ کے بڑے صاحبزادے تھے۔ آپ تعلیم مکمل کرتے ہی ملتان نشتر ہسپتال میں رجسٹرار تعینات ہوئے اور پانچ چھ سال کا عرصہ پروفیسر ڈاکٹر عبدالرؤفؒ کے تحت رجسٹرار رہے۔ پھر تدریس کے شعبہ فارماکالوجی سے وابستہ ہوگئے۔ زندگی بھر پڑھنے پڑھانے سے اپنا تعلق قائم رکھا۔ یہاں تک کہ اسی شعبہ فارماکالوجی سے بطور ایسوسی ایٹ پروفیسر اکتوبر ١٩٩٩ء میں ریٹائر ہوئے۔
ہزاروں نامور ڈاکٹر آپ کے شاگرد ہیں۔ بار ہا سنیارٹی کے اعتبار سے آپ کو عہدوں کی پیش کش ہوئی۔ مگر آپ نے اسی عہدہ کو ترجیح دی۔ سفارش رشوت عہدہ کی طلب سے ہمیشہ کوسوں دور رہے۔ زندگی بھر پرائیویٹ پریکٹس بھی نہ کی۔ صرف اور صرف ملازمت کی حد تک نشتر کالج سے اپنا تعلق قائم رکھا۔ خاندانی طور پر خانقاہ سراجیہ سے وابستہ تھے۔ خواجہ خواجگان حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم سے بیعت کا تعلق تھا جو عشق و جنون کی حد تک تھا۔ احترام و محبت کا جذبہ قابل قدر تھا۔ صاحبزادہ حافظ محمد عابدؒ سے بے حد پیار تھا۔ جب بھی کوئی آپ کے سامنے حافظ صاحب کا نام لیتا آپ کے آنسو نکل آتے۔ علماء اور دینی طبقہ کے بہت قدر دان تھے۔ ختم نبوت سے بہت ہی پیار تھا۔ ارکان اسلام پر سختی سے کار بند تھے۔ بقیہ زندگی قرآن مجید حفظ کرنے اور ختم نبوت کے دفتر میں مفت کام کرنے کا ارادہ تھا۔ مگر بیماری نے آن گھیرا۔ شاید خدا وند قدوس کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ دن بدن صحت بگڑتی گئی۔ شوگر کی وجہ سے گردے اپریشن کے باوجود کام کرنا چھوڑ گئے۔ بڑے صبر آزما مراحل سے گزرے۔ مگر اپنے معمولات کو کبھی ترک نہ کیا۔ ان کی زندگی عبادت و ریاضت کا مجموعہ تھی۔
(لولاک ربیع الثانی ١٤٢٢ھ)
٤٧...... حضرت مولانا سید منظور احمد شاہ حجازیؒ
وفات....... ١٠ جون ٢٠٠١ء
پاکستان کے معروف مقرر اور مجلس علماء اہل سنت کے رہنما حضرت مولانا سید منظور احمد شاہ حجازی ١٠ جون بروز اتوار اپنے گاؤں جند پیر علاقہ کہروڑ پکا میں انتقال فرما گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ! آپ نے جامعہ قاسم العلوم ملتان سے دورہ حدیث شریف مکمل کیا۔ مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمودؒ کے آپ مایہ ناز شاگرد تھے۔ فرق باطلہ کے خلاف تربیت حضرت مولانا علامہ دوست محمد قریشیؒ اور حضرت مولانا عبدالستار تونسوی مدظلہ سے حاصل کی اور اپنی علمی زندگی کا آغاز تنظیم اہل سنت پاکستان سے کیا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے سٹیج سے سنہری خدمات سرانجام دیں۔ آج کل مجلس علماء اہل سنت پاکستان سے وابستہ تھے۔ حضرت مولانا معروف خطیب، دلسوز مقرر تھے۔ جہاں رہے اپنے تمام ساتھیوں سے ممتاز رہے۔ معاملہ فہم اور زیرک عالم دین تھے۔ مشکل سے مشکل مسئلہ کی گتھی سلجھانا آپ پر ختم تھا۔ تجاویز کے بادشاہ تھے۔ صلح کل پالیسی پر گامزن رہتے تھے۔ جن سے اختلاف ہوا اعتدال کو پھر بھی ہاتھ سے نہ جانے دیا۔ دوست پرور تھے۔ ساتھیوں کے دکھ سکھ میں شریک ہوتے تھے۔ ١٩٧٤ء کی تحریک ختم نبوت میں آپ نے بھر پور خدمات سرانجام دیں۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے عرب امارات کے دورہ پر گئے اور عرب امارات کی سپریم کورٹ سے قادیانی کفر پر فیصلہ لے کر لوٹے۔ حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ اور حضرت مجاہد ملت مولانا محمد علی جالندھریؒ کی تقاریر کو شائع کیا۔
دینی مدارس کے لئے فنڈ جمع کرنے کے ماہر مانے جاتے تھے۔ آخری عمر میں کہروڑ پکا میں جامعہ حجازیہ کے نام سے دینی مدرسہ قائم کیا۔ آپ نے بھر پور زندگی گزاری۔ آخر عمر میں آپ کو عوارضات نے آن گھیرا۔ پھر بھی خدمت خلق سے پہلو تہی نہ کی۔ اپنی خاندانی خانقاہ جند پیر میں مدرسہ قائم کیا۔ متوسلین و متعلقین کو راہ حق دکھلاتے رہے۔ تعویذات و دم کرانے کے لئے ہزاروں بندگان خدا نے آپ سے فیض حاصل کیا۔ مولانا کا وجود بسا غنیمت تھا۔ بڑے حضرات سے وابستہ رہے اور ان کی خوبیوں کے خوگر رہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کی قبر پر اپنی رحمتوں کی موسلا دھار بارش نازل فرمائیں اور پسماندگان کو صبر جمیل نصیب ہو۔ آمین !
(لولاک ربیع الثانی ١٤٢٢ھ)
٤٨...... حضرت مولانا غلام قادر شکار پور سندھیؒ
وفات.......١٣ جولائی ٢٠٠١ء
جمعیت علماء اسلام پاکستان کے نائب امیر‘ احیاء العلوم قادریہ شکار پور کے بانی‘ صوبہ سندھ میں اہل حق کے جرنیل حضرت مولانا غلام قادر شکار پوری ١٣ جولائی ٢٠٠١ء کو انتقال فرماگئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون! قائد جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمٰن نے نماز جنازہ پڑھائی اور انہیں ہزاروں عقیدت مندوں کی سسکیوں اور آہوں میں رحمت حق کے سپرد کر دیا گیا۔
حضرت مولانا غلام قادر سندھیؒ ایک معاملہ فہم‘ مدبر‘ زیرک‘ مجاہد اسلام اور بزرگ عالم دین تھے۔ اسلامی نظام کے لئے زندگی بھر کوشاں رہے۔ تحریک ختم نبوت میں ان کی خدمات سنہری حروف سے لکھنے کے قابل ہیں۔ دارالہدیٰ ٹھیڑی سے آپ نے تعلیم حاصل کی۔ شکار پور میں دینی تعلیم کے لئے مثالی ادارہ قائم کیا۔ حق گو‘ نڈر اور بہادر عالم دین تھے۔ زندگی بھر اعلاء کلمہ حق کے لئے آپ کی خدمات وقف رہیں۔ بڑی آب و تاب سے شاندار زندگی گزاری۔ ان کے مجاہدانہ کارناموں کو دیکھ کر اسلاف کی یاد تازہ ہو جاتی تھی۔
حضرت مولانا کی وفات کے صدمہ نے مفکر اسلام مولانا مفتی محمودؒ ‘ مجاہد اسلام مولانا غلام غوث ہزارویؒ ‘ پیر طریقت مولانا عبدالکریم بیر شریفؒ ‘ مولانا شاہ محمد امروٹیؒ ‘ حضرت ہالیجویؒ کی وفیات کے صدمہ کو تازہ کر دیا۔ مرحوم ان تمام اکابر کی روایات کے امین اور ان کے مشن کے حدی خواں تھے۔ اکابرین اہل حق کی چلتی پھرتی تصویر تھے۔ ان کی للکار حق سے باطل کے ایوانوں میں زلزلہ پیدا ہو جاتا تھا۔ شان سے جیئے۔ بڑی کامیاب زندگی گزاری۔ عمر بھر غریب پروری میں مصروف کار رہے۔ ان کے وجود سے اہل حق کی آب و تاب وابستہ تھی۔ ان کا خلاء صدیوں پر نہ ہوگا۔ جمعیت علماء اسلام کی کامیابی کے لئے جان جوکھوں میں ڈال کر محنت کی۔ ان کے صاحبزادگان مولانا عبدالقادر اور حافظ عبیداللہ تمام دیوبندی برادری کی طرف سے تعزیت کے مستحق ہیں۔ ان کی خوبیوں کے مدتوں تذکرے رہیں گے۔ آخر کیوں نہیں کہ وہ خود بھی تو خوبیوں کا حسین گلدستہ تھے۔ اللہ تعالیٰ ان کے مرقد کو اپنی رحمتوں سے منور فرمائیں۔ آمین!
(لولاک جمادی الثانی ١٤٢٢ھ)
٤٩...... حضرت مولانا سید منظور احمد آسیؒ
وفات...... یکم نومبر ٢٠٠١ء
مانسہرہ کے ممتاز عالم دین حضرت مولانا سید منظور احمد شاہ آسی یکم نومبر ٢٠٠١ء بروز جمعرات کو انتقال فرما گئے۔ اناللہ وانا الیہ راجعون! اسی روز شام چار بجے مانسہرہ جامع مسجد مرکزی کے خطیب مولانا مفتی وقار الحق صاحب کی امامت میں نماز جنازہ ادا کی گئی۔ جس میں علاقہ کے علماء کرام کی بہت بڑی تعداد نے شرکت کی اور آپ کو رحمت حق کے سپرد کر دیا گیا۔
حضرت مولانا سید منظور احمد آسیؒ نے جامعہ نصرت العلوم گوجرانوالہ سے دورہ حدیث شریف کی تعلیم حاصل کی۔ کچھ عرصہ مجلس تحفظ ختم نبوت اسلام آباد کے مبلغ بھی رہے۔ بعد میں آپ نے سرکاری ملازمت کے تحت گورنمنٹ سکول مانسہرہ میں پڑھانا شروع کیا اور اپنے گاؤں کی مسجد میں امامت و خطابت کے فرائض بھی انجام دیتے رہے۔ آخر وقت تک مجلس تحفظ ختم نبوت و جمعیت علماء اسلام سے اپنا تعلق برقرار رکھا۔
اسلام آباد و مانسہرہ کے علاوہ آزاد کشمیر تک بھی آپ نے قادیانیوں کو نکیل ڈالنے میں گرانقدر خدمات سرانجام دیں۔ آپ نے مجاہد اسلام حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ کی سوانح بھی تحریر کی۔ مختلف اخبارات و رسائل کے لئے مضامین بھی لکھتے رہے۔ علم و قلم سے رشتہ آخری وقت تک آپ نے برقرار رکھا۔
گزشتہ کچھ عرصہ سے آپ کو سانس کی تکلیف ہو گئی تھی لیکن بایں ہمہ آپ نے اپنے معمولات کو جاری رکھا۔ آپ کے ایک بیٹے ماشاء اللہ عالم دین ہیں۔ توقع ہے کہ وہ اپنے عظیم باپ کے جانشین ثابت ہوں گے۔ اللہ رب العزت مرحوم کی قبر مبارک پر اپنے انوارات کی بارش نازل فرمائیں۔
حضرت مولانا مرحوم کی وفات سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ایک اچھے عالم دین سے محروم ہو گئی۔ اللہ تعالیٰ پردہ غیب سے تمام دینی اداروں کی حفاظت فرمائیں۔ آمین . بحرمۃ النبی الکریم!
(لولاک رمضان المبارک ١٤٢٢ھ)
٥٠...... حضرت مولانا قاضی محمد اللہ یار خانؒ
وفات ...... ١٠ جنوری ٢٠٠٢ء
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے دیرینہ بزرگ رہنما، مبلغ اسلام حضرت مولانا قاضی محمد اللہ یار خانؒ ١٠ جنوری ٢٠٠٢ء کو واصل بحق ہو گئے۔ اناللہ وانا الیہ راجعون!
حضرت مولانا قاضی اللہ یار خان مرحوم عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے قدیم مبلغین میں سے تھے۔ زندگی بھر اشاعت اسلام و ترویج عقیدہ ختم نبوت کے لئے آپ نے گرانقدر خدمات سرانجام دیں۔ بہت ہی مرنجاں مرنج اور باغ و بہار شخصیت تھے۔ آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے علاقہ میں حاصل کی۔ پاکستان بننے سے قبل دورہ حدیث شریف کے لئے ہندوستان کی معروف دینی درسگاہ جامعہ اسلامیہ ڈابھیل تشریف لے گئے۔ شیخ الاسلام پاکستان حضرت علامہ شبیر احمد عثمانیؒ، شیخ الحدیث حضرت مولانا ظفر احمد عثمانیؒ، محدث کبیر حضرت مولانا بدر عالم میرٹھیؒ جیسے اکابر علماء ومحدثین سے دورہ شریف کی تعلیم حاصل کی۔ پاکستان بننے کے بعد آپ نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت میں شمولیت اختیار کی۔
فاتح قادیان حضرت مولانا محمد حیاتؒ اور مناظر اسلام حضرت مولانا لال حسین اخترؒ سے آپ نے قادیانی فتنہ کے خلاف مناظرہ کی تربیت لی اور پاکستان بھر میں قادیانی فتنہ کی علمی خیانتوں اور بدعقیدگی سے امت مسلمہ کو باخبر کرنے کے لئے آپ نے لازوال خدمات سرانجام دیں۔ گوجرانوالہ اور کئی مقامات پر آپ نے ضلعی دفاتر میں بھی خدمات انجام دیں لیکن آپ کا زیادہ تر وقت مرکزی دفتر میں گزرا اور آپ نے مرکزی مبلغ کے طور پر پورے ملک میں قریہ قریہ، گلی گلی، ختم نبوت کی پاسبانی کا اعزاز حاصل کیا۔
آپ ذی استعداد عالم دین اور حاضر جواب مناظر تھے۔ چھوٹے قادیانی مناظرین سے لے کر قادیانی جماعت کے چوتھے چیف گرو مرزا طاہر تک سے آپ کی گفتگوئیں اور باضابطہ مناظرے ہوئے اور ہر جگہ آپ نے کفر کو شکست دے کر عظمت اسلام کے علم کو بلند کیا۔ آپ
انتہائی ذہین اور حاضر جواب تھے۔ قادر الکلام شیریں بیاں مقرر تھے۔ شہروں و دیہاتوں میں برابر مقبول تھے۔ قرآن مجید کی تلاوت بلا ناغہ ان کی زندگی کا معمول تھا۔
انتہائی صاف ستھرا سادہ مگر اجلا لباس پہنتے تھے۔ حضرت مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ مناظر اسلام حضرت مولانا لال حسین اخترؒ ،شیخ الاسلام حضرت مولانا محمد یوسف بنوریؒ اور موجودہ امیر مرکزیہ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم کے زمانہ امارت میں بکمال اطاعت اور کمال ذمہ داری کے ساتھ خدمات سرانجام دیں۔ نہیں یاد کہ کسی مشکل سے مشکل تبلیغی سفر سے انہوں نے کبھی عذر کیا ہو۔ دفتر مرکزیہ جو پروگرام ترتیب دے دیتا تھا اسے نبھانا وہ اپنے اوپر فرض قرار دے لیتے تھے۔ انتہائی اچھے دوست تھے۔ بڑے حضرات کے ساتھ وقت گزارا تھا اور انہیں حضرات کی روایات کے امین تھے۔ نہ صرف رد قادیانیت بلکہ رفض و بدعت اور دوسرے کئی موضوعات پر آپ کی تیاری تھی۔ آپ کی تقریر بھی متنوّع ہوتی تھی۔ اپنے بیان کو دلآویز بنانے کے لئے اپنے حافظہ کے ساتھ گلے سے بھی کام لیا کرتے تھے۔ قرآن وسنت کے ضروری حوالہ جات انہیں مستحضر تھے۔ کئی اشعار ان کی نوکِ زبان پر ہوتے تھے اور موقعہ ومحل کی نسبت سے ان سے کام لینے کا فن بھی جانتے تھے۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کے شعبہ تبلیغ سے ان کی نصف صدی کی حسین یادیں وابستہ ہیں۔ ان کی سنہری خدمات اور مخلصانہ مساعی ان کے لئے ذخیرہ آخرت ہیں۔
گزشتہ چند سالوں سے اپنی پیرانہ سالی کے باعث گھر پر تھے۔ آنکھوں میں موتیا اتر آیا تھا۔ آپریشن کرایا جو کامیاب رہا۔ تمام بچوں بچیوں کی شادیاں کر کے بکلی فراغت حاصل کر لی تھی۔ تمام اولاد برسر روزگار ہے۔ آخر وقت تک مرحوم کے معمولات جاری رہے۔ حق تعالیٰ ان کی قبر کو بقعہ نور بنائیں۔
محترم قاضی صاحب آپ چلے…… ہم آئے۔ اس لئے کہ اس دنیا میں سبھی جانے کو آتے ہیں۔ كل من عليها فان . ويبقى وجه ربك ذو الجلال والاكرام!
(لولاک ذی الحجہ ١٤٢٢ھ)
٥١...... حضرت مولانا قاری عبدالحفیظ سکھرویؒ
وفات ...... ١٧ جنوری ٢٠٠٢ء
حضرت مولانا قاری عبدالحفیظ سکھرویؒ ناظم مجلس تحفظ ختم نبوت سکھر ٣ ذیقعدہ بروز ہفتہ بمطابق ١٧ جنوری ٢٠٠٢ء کو کراچی میں وفات پا گئے ۔ اناللہ وانا الیہ راجعون!
قاری صاحبؒ معدہ کے کینسر کے مرض کا شکار ہوئے جو جان لیوا ثابت ہوا۔ مرحوم بندھانی خاندان کے مشہور قاری رحیم بخش کے نور نظر تھے۔ تلاوت قرآن کریم کا ذوق انہیں اپنے والد بزرگوار سے وراثت میں ملا تھا۔ آپ کی زبان ہر وقت قرآن کریم کی تلاوت سے تر رہتی تھی۔ نواں گوٹھ سکھر کے مشہور مدرسہ تعلیم القرآن کے شعبہ حفظ وقرات سے ایسے وابستہ ہوئے کہ اپنی زندگی کے تمام لمحات تعلیم قرآن کے لئے وقف کر دیئے ۔ مایہ ناز مدرس اور قاری قرآن تھے۔ احادیث میں آتا ہے کہ قراء حضرات برزخ ، محشر اور جنت میں بڑے سوز و گداز اور وجد آفریں انداز سے قرآن کریم کی تلاوت کریں گے۔ قاری عبدالحفیظ صاحبؒ کو اللہ تعالیٰ نے یہ شیریں ذوق اس دنیا میں عطا کر دیا تھا۔ قرآن کریم کی کثرت تلاوت کی مٹھاس ان کے ہونٹوں کو ہمہ وقت متبسم رکھتی تھی۔ آپ اپنی گفتگو میں اپنے مخاطب کو سب سے پہلے مسکراہٹ کا تحفہ اور ہدیہ پیش کرتے اور پھر بات کرتے۔
مجلس تحفظ ختم نبوت سے انہیں قلبی اور جگری تعلق تھا۔ ختم نبوت کے عنوان پر جلسے ، کانفرنس ، درس کے ہر پروگرام میں پیش پیش رہتے تھے۔ موصوف جید عالم دین بھی تھے۔ تدریسی خدمات کے ساتھ آپ اصلاحی اور تبلیغی خطبات سے سکھر کے مسلمانوں کی جانی پہچانی شخصیت تھے۔ آپ مدینہ مسجد کپڑا مارکیٹ سکھر کے تادم واپسی خطیب رہے۔ مرحوم کو اللہ تعالیٰ نے دو بیٹے عطا کئے جو حسن صورت اور حسن سیرت ، علم وفضل کے لحاظ سے اپنے والد کے قابل فخر جانشین ہیں۔ ایک بیٹا دبئی میں دینی خدمات سرانجام دے رہا ہے اور دوسرا سکھر میں تدریس اور خطابت کی خدمات اپنے مرحوم والد کی نیابت میں سرانجام دے رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کے حسنات کو قبول فرمائیں۔
(لولاک محرم الحرام ١٤٢٣ھ)
٥٢..... حضرت مولانا زبیر احمد بہاول پوریؒ
وفات...... ٢٤ جنوری ٢٠٠٢ء
جامعہ مدینہ بہاول پور کے مہتمم حضرت مولانا زبیر احمد صاحب ٩ ذیقعدہ ١٤٢٢ھ بروز جمعرات بمطابق ٢٤ جنوری ٢٠٠٢ء کو انتقال فرما گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون! موصوف مجاہد ختم نبوت، رفیق امیر شریعت، حضرت مولانا محمد شریف بہاول پوریؒ کے نواسے اور مجلس کے قدیم مبلغ مولانا غلام مصطفیٰؒ کے صاحبزادے تھے۔ عالم دین ہونے کے ساتھ ساتھ ان کے جسم کے رگ و ریشہ میں عظمت اسلام اور فرق ہائے باطلہ کی سرکوبی کا جذبہ موجزن تھا۔
موصوف اپنی نوعمری میں ہی بے بہا خوبیوں کے مالک تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں تعلیمی اور انتظامی خوبیوں سے نوازا تھا۔ ماہ رمضان المبارک میں عمرہ کے لئے تشریف لے گئے۔ اچانک طبیعت مضمحل اور نڈھال ہونا شروع ہوئی۔ آناً فاناً جسم کی توانائی نے ساتھ چھوڑ دیا۔ واپس اپنے گھر تشریف لائے۔ ڈاکٹر اور طلباء حضرات نے جگر کا کینسر تشخیص کیا۔ پانچ سات روز زیر علاج رہے اور اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔
جامعہ باب العلوم کہروڑ پکا کے شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالمجید لدھیانوی دامت برکاتہم کی اقتداء میں اسلامیان بہاول پور کے عظیم اجتماع نے آپ کی نماز جنازہ پڑھی۔ جامعہ مدنیہ بہاول پور کے مہتمم اور شیخ الحدیث حضرت مولانا عطاء الرحمن بہاول پوری عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے تمام رہنماؤں کی طرف سے تعزیت کے مستحق ہیں۔ اللہ رب العزت ہمارے مخدوم حضرت مولانا محمد شریف بہاول پوریؒ کے خاندان کو دنیا و آخرت میں عزتوں و رفعتوں سے سرفراز فرمائیں۔ حضرت مولانا محمد شریف بہاولپوریؒ، حضرت مولانا غلام مصطفیٰ بہاولپوریؒ اور حضرت مولانا محمد زبیر بہاولپوریؒ کی عالم آخرت میں تین رکنی جماعت قائم ہوگئی۔ حق تعالیٰ ان تمام مرحومین کو کروٹ کروٹ جنت الفردوس نصیب فرمائیں۔ آمین!
(لولاک محرم الحرام ١٤٢٣ھ)
٥٣....... حضرت مولانا مفتی رشید احمد لدھیانویؒ
وفات....... ١٩ فروری ٢٠٠٢ء
عالم اسلام کی ممتاز علمی و روحانی شخصیت حضرت مولانا مفتی رشید احمد لدھیانویؒ ١٩ فروری ٢٠٠٢ء بروز منگل کراچی میں انتقال فرما گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون!
حضرت مفتی صاحبؒ اپنی عمر کے ٨٤ کے پیٹے سے گزر رہے تھے۔ پیرانہ سالی کے باعث کئی سال سے یکسوئی کے ساتھ گوشہ نشین تھے۔ موصوف ہندوستان کے قصبہ سلیم پور کے معروف علمی گھرانہ کے چشم و چراغ تھے۔ ان کا خاندان خانقاہ امدادیہ تھانہ بھون کا عقیدت مند تھا۔
حضرت مفتی صاحبؒ نے اسلامی علوم کی تعلیم سے فراغت دارالعلوم دیوبند سے حاصل کی۔ علم حدیث کی تکمیل شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ سے کی۔ آپ ان کے فاضل ترین شاگردوں میں سے تھے۔ قیام پاکستان کے بعد اولاً خیر پور میرس سندھ میں سکونت اختیار کی اور پھر دارالعلوم کراچی میں تعلیمی وتدریسی خدمات سے اپنی عملی زندگی کا آغاز کیا۔ دارالعلوم میں صدر المدرسین، صدر شعبہ دارالافتاء اور شیخ الحدیث کے منصب پر فائز رہ کر آپ نے گراں قدر دینی خدمات سرانجام دیں۔
١٩٦٥ء میں آپ نے کراچی میں ادارہ دارالافتاء والارشاد قائم کیا۔ جس میں آپ فضلاء کی روحانی تربیت کے ساتھ ساتھ انہیں فقہی مسائل میں خصوصی تربیت دیا کرتے تھے۔ آپ کی زیر نگرانی الرشید ٹرسٹ قائم ہوا۔ جس نے تعلیمی اور فلاحی میدان میں نمایاں خدمات سرانجام دیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے ذریعہ سے عالمی سطح پر مسلمانوں کی معاشرتی اصلاحی اور فلاحی ضروریات کو پورا فرمایا۔ اللہ تعالیٰ ان کے فیض کو اور ان کے زیر سرپرستی قائم اداروں کو قائم ودائم رکھیں اور ان کے رفقاء کو ان جیسی خوبیوں سے نوازیں۔
اللہ تعالیٰ مفتی صاحبؒ کے درجات کو بلند فرمائیں اور ان کے حسنات کو قبول فرمائیں۔
(لولاک محرم الحرام ١٤٢٣ھ)
٥٤...... حضرت مولانا نور احمد مظاہریؒ
وفات......١٩ اپریل ٢٠٠٢ء
جمعیت علماء اسلام فیصل آباد کے سابق امیر حضرت مولانا نور احمد مظاہریؒ ١٩ اپریل ٢٠٠٢ء بروز جمعۃ المبارک قضائے الٰہی سے وفات پاگئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون!
حضرت مولانا نور احمد مظاہریؒ ہندوستان کے مشہور خلائق جامعہ مظاہر العلوم سہارنپور کے فارغ التحصیل عالم دین تھے۔ پاکستان بننے کے بعد چک نمبر ٢٥٦ گ ب پھلور ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ میں آباد ہوئے۔ حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ سے مخلصانہ اور دوستانہ تعلق تھا اور ان پر دل و جان سے عاشق تھے۔ حضرت جالندھریؒ بھی مولانا نور احمد مظاہریؒ کے علم و فضل و اخلاص کے معترف تھے۔ مولانا عمر بھر مجلس کی امداد و اعانت، جماعتی رفقاء کی سرپرستی فرماتے اور بزرگانہ شفقتوں سے نوازتے رہے۔ جمعیت علماء اسلام فیصل آباد کے امیر رہے۔
حضرت مولانا مظاہریؒ اکابر علماء کے تربیت یافتہ تھے اور انہیں اکابر کی روایات اور معمولات پر کاربند تھے۔ آپ ایک کامیاب خطیب بھی تھے۔ خطابت کے ذریعہ مخلوق خدا کی روحانی اور طبابت کے ذریعہ جسمانی بیماریوں کے معالج تھے۔ خاصی عمر پائی۔ آخری دنوں میں بیمار ہوگئے۔ عید الاضحیٰ سے قبل حضرت مولانا محمد صدیق شیخ الحدیث جامعہ خیر المدارس ملتان کے پوتے کی شادی کے سلسلہ میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم اعلیٰ کو اس طرف جانا ہوا تو مولانا نور احمد مظاہریؒ کی مزاج پرسی کے لئے تشریف لے گئے۔ واپسی پر فرمایا کہ اس وقت مولانا مظاہریؒ کا جسم و جان و چہرہ انوارات الٰہیہ سے بقعہ نور بنا ہوا ہے۔ راقم جب لائل پور میں مجلس کا مبلغ تھا تو حضرت مظاہریؒ سے ابتدائی تعارف حضرت جالندھریؒ نے کرایا۔ پھر یہ تعلق آخر تک گہرا ہوتا چلا گیا۔ حضرت مرحوم کی شفقتوں اور محبتوں نے ایسا اسیر کیا کہ آج بھی ان کے لئے چشم پرنم سے یہ سطور لکھی جارہی ہیں۔ حضرت مرحوم خوبیوں کا مجموعہ تھے۔ بڑوں سے محبت اور چھوٹوں پر شفقت کے بمقتضائے حدیث شریف ایسے کاربند تھے کہ اس کا عملی نمونہ ہوگئے تھے۔ سنت رسول ﷺ پر عمل ان کی طبیعت ثانیہ بن گئی تھی اور عشق رسالت مآب ﷺ ان کی روح کی غذا تھی۔
(لولاک ربیع الثانی ١٤٢٣ھ)
٥٥...... حضرت مولانا قاری محمد اسحق فیصل آبادیؒ
وفات.......٣١ دسمبر ٢٠٠٢ء
جامع مسجد قاسمیہ کے خطیب مدرسہ تعلیم القرآن گلبرگ کے بانی ومہتمم حضرت مولانا قاری محمد اسحق صاحب فیصل آبادیؒ کا ٣١ دسمبر ٢٠٠٢ء کو شام چار بجے فیصل آباد میں انتقال ہو گیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون!
حضرت مولانا قاری محمد اسحق فیصل آبادیؒ دارالعلوم کراچی کے فارغ التحصیل تھے۔ محقق عالم دین حضرت مولانا محمد تقی عثمانی دامت برکاتہم کے ممتاز تلامذہ میں سے تھے۔ فراغت کے بعد کئی دینی اداروں میں تدریسی خدمات سرانجام دیں۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مدرسہ ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر میں بھی مدرس رہے۔ بیماری کے باعث فیصل آباد منتقل ہو گئے۔ یہاں پر اپنا ادارہ قائم کیا اور اس میں حفظ وقرأت کی درسگاہ آباد کی۔ ہنس مکھ طبیعت کے مالک تھے۔ صابر وشاکر انسان نے فقر وفاقہ و درویشی اور گوشہ نشینی میں زندگی گزار دی۔ دوستوں کے دوست تھے۔ دوستی کرنا ان کو آتی تھی۔ جس سے جتنا تعلق قائم ہوا عمر بھر اسے نبھاتے رہنے کے خوگر تھے۔ حج کے لئے امسال اپنی اہلیہ سمیت جانے کے لئے پا برکاب تھے کہ آخرت کا بلاوا آ گیا۔ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر دنیا سے دامن جھاڑ کر آخرت کو سدھار گئے۔
زندگی بھر کتاب سے رشتہ قائم رکھا۔ قرات میں پانی پت کے اکابر قراء حضرات کی روایات کے امین تھے۔ جامعہ طیبہ فیصل آباد کے مدیر حضرت مولانا قاری ابراہیم صاحب دامت برکاتہم کے برادر اصغر تھے۔ بیماری بہانہ بنی۔ وقت آ گیا۔ علم وعمل کی دنیا کو دھچکا لگا۔ حق تعالیٰ ان کی بال بال مغفرت فرمائیں۔ حضرت قاری محمد اسحقؒ کے صاحبزادگان کو اللہ تعالیٰ صبر جمیل نصیب فرمائیں اور حضرت قاری محمد ابراہیم مدظلہ اور ان کا پورا خاندان عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنماؤں کی تعزیت کا مستحق ہے۔
(لولاک ذی الحجہ ١٤٢٣ھ)
٥٦......حضرت مولانا مفتی عبدالقادر صاحبؒ
وفات......دسمبر ٢٠٠٢ء
دارالعلوم کبیر والا کے مفتی اعظم' پیر طریقت' حضرت مولانا مفتی عبدالقادر صاحب ١٢ رمضان المبارک ١٤٢٣ھ بروز پیر غروب آفتاب کے قریب عالم فانی سے عالم بقاء کو سدھار گئے۔ اناللہ وانا الیہ راجعون!
حضرت مولانا مفتی عبدالقادرؒ دارالعلوم کبیر والا کے شیخ الحدیث مفتی اعظم اور ہر دلعزیز استاد تھے۔ حق تعالیٰ نے علماء اور طلباء میں آپ کو محبوب بنا دیا تھا۔ آپ کی شفقتوں محبتوں اور علمی تحقیق عمل صالح اور اصلاح خلق کے مدتوں تذکرے رہیں گے۔
آپ نے تمام تعلیم دارالعلوم کبیر والا میں حاصل کی۔ تکمیل کے لئے دارالعلوم کراچی تشریف لے گئے۔ حضرت مولانا مفتی محمد شفیعؒ مفتی اعظم پاکستان کی صحبت و تربیت نے آپ کی صلاحیتوں کو نکھار دیا۔ پانچ سال دارالعلوم کراچی میں پڑھاتے رہے۔۔ پھر دارالعلوم کبیر والا میں اپنے اساتذہ کے حکم پر واپس آگئے ۔ اور دارالعلوم کبیر والا میں کم و بیش تیس سال مسند تدریس کو رونق بخشی ۔ ہزاروں آپ کے شاگرد ہوں گے ۔ اس وقت افتاء میں آپ کا ایک خاص مقام تھا۔ اسی طرح تصوف میں بھی آپ درجہ کمال پر فائز تھے۔ ہزاروں بندگان خدا کی آپ نے روحانی اصلاح فرمائی۔
پنجاب وسندھ میں آپ کے متعلقین ومتوسلین کا بہت بڑا حلقہ تھا۔ علمائے کرام میں آپ خصوصیت قدرومنزلت کی نظر سے دیکھے جاتے تھے۔ آپ کی زندگی ایک مثالی زندگی تھی۔ آپ مثالی استاد تھے۔
گزشتہ دنوں بیمار ہوئے۔ لاہور لے گئے ۔ ڈاکٹروں نے بہت سرتوڑ کوشش کی۔ لیکن آپ کا وقت موعود آن پہنچا۔ لاہور سے کبیر والا آگئے اور یہاں اپنی جان جان آفرین کے سپرد کردی۔ دوسرے دن جنازہ ہوا۔
(لولاک شوال المکرم ١٤٢٣ھ)
٥٧...... حضرت مولانا کرم الہی فاروقیؒ
وفات....... ١٠ جنوری ٢٠٠٣ء
جامع مسجد باغ والی وہاڑی کے خطیب حضرت مولانا کرم الہی فاروقیؒ ١٠ جنوری ٢٠٠٣ء کو وہاڑی میں انتقال کر گئے۔ جامعہ خیر المدارس کے مفتی اعظم حضرت مولانا مفتی عبد الستار صاحب دامت برکاتہم کی اقتداء میں پورے شہر نے نماز جنازہ کی سعادت حاصل کی اور ہزاروں سوگواروں نے ان کو رحمت حق کے سپرد کر دیا۔ اناللہ وانا الیہ راجعون! حضرت مولانا کرم الہی فاروقیؒ خوش الحان مقرر اور واعظ تھے۔ ان کا گلہ جوانی میں مستقل لاؤڈ سپیکر کا کام دیتا تھا۔ اونچی آواز میں ترنم سے قرآن مجید پڑھتے تو مجمع پر جادو کر دیتے تھے۔ وہ خطابت میں حضرت مولانا دوست محمد قریشیؒ کی اداؤں کے امین تھے۔ ملنسار، خوش خلق، خوش رو و خوش لباس تھے۔ جمعیت علماء اسلام کے ضلعی امیر تھے۔ حق تعالیٰ نے ان کو خوبیوں کا مرقع بنایا تھا۔ گزشتہ کئی سالوں سے ان کی جوانی کی رعنائیوں کو نظر لگ گئی۔ شوگر اپنے لوازمات سمیت ان کے ہاں ایسی مہمان ہوئی کہ جان لے کر چھوڑی۔ حق تعالیٰ ان کو جنت نصیب فرمائیں۔
(لولاک ٢٢ ذی الحجہ ١٤٢٤ھ)
٥٨...... جناب چوہدری محمد یوسفؒ
وفات....... ١٢ جنوری ٢٠٠٣ء
لاہور کے جناب چوہدری محمد یوسف صاحب ١٢ جنوری ٢٠٠٣ء کی شب کو دل کا دورہ سے انتقال فرما گئے۔ اناللہ وانا الیہ راجعون! اگلے دن خانقاہ سراجیہ کندیاں کے صاحبزادہ خلیل احمد نے نماز جنازہ پڑھائی اور لاہور میں سپرد خاک ہوئے۔ چوہدری محمد یوسفؒ آرائیں برادری سے تعلق رکھتے تھے۔ حضرت مولانا محمد عبد اللہ صاحبؒ (المعروف حضرت ثانیؒ) کے داماد تھے۔ حضرت حافظ محمد عابد صاحبؒ کے بہنوئی تھے۔ عمر بھر لاہور میں سرکاری ملازمت کے سلسلہ میں قیام رہا۔ خوب وضع دار انسان تھے۔ بہت نفیس اور صالح طبیعت پائی تھی۔ ستراسی کے پیٹے میں تھے۔ آخرت کا بلاوا آ گیا۔ دل کا دورہ بہانہ بنا۔ دل ہار گئے اور آخرت کو سدھار گئے۔ اللہ رب العزت ان کے آخرت کے سفر کو بابرکت فرمائیں۔ آمین!
(لولاک ذی الحجہ ١٤٢٤ھ)
٥٩...... حضرت مولانا عبدالقادر آزادؒ
وفات....... ١٥ جنوری ٢٠٠٣ء
پاکستان کے نامور خطیب‘ حضرت مولانا عبدالقادر آزادؒ ١٥ جنوری ٢٠٠٣ء کی شب لاہور میں انتقال کر گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون! عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے نائب امیر اور خانقاہ عالیہ رائے پور کے سرخیل‘ پیر طریقت قطب الاقطاب حضرت سید نفیس الحسینی دامت برکاتہم کی اقتداء میں اگلے دن نماز جنازہ ہوئی۔
حضرت مولانا عبدالقادر آزادؒ نے جامعہ قاسم العلوم ملتان میں مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمودؒ سے حدیث کی تکمیل کی۔ بہاول پور اسلامی مشن کے مہتمم رہے۔ تبلیغی زندگی کا آغاز تنظیم اہل سنت کے سٹیج سے کیا اور بادشاہی مسجد لاہور کے خطیب مقرر ہوگئے۔ نصف سے زیادہ دنیا میں تبلیغ اسلام کی سعادت حاصل کی۔ کئی بار حج وعمرہ کی سعادت سے بہرہ ور ہوئے۔ نامور خطیب تھے۔ عمر بھر تبلیغ اسلام کو حرز جان بنائے رکھا۔ بھر پور محنتی انسان تھے۔ اپنی محنت سے پنجاب یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی سند حاصل کی۔ عربی‘ اردو‘ فارسی پر بھر پور عبور حاصل تھا۔ انگریزی سے شناسائی تھی۔ دوستوں کے دوست تھے۔ ملنسار تھے۔ جسے ایک بار ملتے اس پر ایسا سحر کر دیتے کہ وہ زندگی بھر آپ کی یادوں کو لئے پھرتا۔ مہمان نواز تھے۔ خوب وضع دار انسان تھے۔ جو شخص کسی کام کے لئے ان کے دروازہ پر گیا بھر پور کوشش کرکے اس کے کام کو کسی ٹھکانے پر لگا دیتے۔ سرکاری ملازمت کے باعث افسران سے میل ملاقات‘ رکھ رکھاؤ کا ڈھنگ آ گیا تھا۔ بڑے سلیقہ سے غریب دوستوں کے کام نکلوانے کی کامیاب کوشش کو وہ عبادت سمجھتے تھے۔ تمام دینی جماعتوں‘ اداروں‘ مدارس و شخصیات سے آپ کے مراسم تھے۔ تمام پاکستانی حکومتوں کے سربراہان سے راہ ورسم رکھا۔ مگر اس کے باوجود اپنے مسلکی تشخص پر آنچ نہیں آنے دی۔ عرب وعجم‘ افریقہ‘ امریکہ تک کے انہوں نے تبلیغی سفر کئے۔ جہاں تشریف لے گئے خوشگوار یادیں چھوڑ کر آئے۔ انہوں نے محنت کر کے خوب شہرت حاصل کی۔ ان کی وفات سے بہت بڑا خلاء پیدا ہو گیا ہے۔ شوگر کے مرض نے آن گھیرا اور پھر اپنے لوازمات سمیت شوگر نے ان کے ہاں ڈیرے لگا دیئے۔ آخر وقت موعود آن پہنچا۔ حق تعالیٰ مغفرت فرمائیں۔
(لولاک ذی الحجہ ١٤٢٣ھ)
٦٠...... حضرت مولانا قاری عبدالسمیعؒ
وفات.....١٢ فروری ٢٠٠٣ء
سرگودھا کے معروف متبحر عالم دین محدث وفقیہ حضرت مولانا قاری عبدالسمیع ١٠ ذی الحجہ ١٤٢٣ھ مطابق ١٢ فروری ٢٠٠٣ء عید کے روز انتقال فرما گئے ۔ اناللہ وانا الیہ راجعون! حضرت مولانا قاری عبدالسمیع صاحب فقیہ وقت حضرت مولانا مفتی محمد شفیع سرگودھویؒ کے صاحبزادے تھے ۔ دارالعلوم دیوبند سے سند حدیث حاصل کی ۔ شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ کے ممتاز تلامذہ میں آپ کا شمار ہوتا تھا ۔
دارالعلوم دیوبند سے فراغت کے بعد اپنے والد صاحب کے زیر سایہ جامعہ سراج العلوم سرگودھا میں پڑھانا شروع کیا ۔ آخری وقت تک مسند تدریس سے وابستہ رہے ۔ والد مرحوم کی زندگی میں موطا امام محمدؒ ابوداؤدؒ ودیگر حدیث اور فنون کتب کئی سالہا سال تک پڑھائیں ۔ اپنے برادر اکبر حضرت مولانا مفتی احمد سعیدؒ کے بعد برسوں بخاری شریف اور مسلم شریف پڑھانے کا آپ کو اعزاز حاصل تھا ۔ ملک میں ہزاروں آپ کے شاگرد ہوں گے ۔
سرگودھا شہر وضلع کے حضرت مولانا مفتی محمد رمضانؒ حضرت مولانا محمد اکرم طوفانی جیسے ہزاروں علماء خطباء آپ کے شاگرد ہیں ۔ زندگی بھر جمعیت علمائے اسلام کے سٹیج سے اسلام کی ترویج واشاعت کے لئے کوشاں رہے ۔ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم سے بیعت کا تعلق تھا اور اپنے وقت کے شیخ طریقت تھے ۔ اپنے علم وفضل کے اعتبار سے ہزاروں میں سے ایک تھے ۔ سادہ طبیعت پائی تھی ۔ ملنسار مزاج تھے ۔ تمام دینی تحریکوں میں گرانقدر خدمات سرانجام دیں ۔ اسی سال سے زیادہ عمر پائی ۔
آپ کے بھائی مولانا احمد رفیع نے جنازہ پڑھایا ۔ آپ کا جنازہ سرگودھا کی تاریخ کا ایک مثالی جنازہ تھا ۔ سرگودھا کے قبرستان میں محو استراحت ہوئے ۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت مرحوم کے خاندان کے غم میں برابر کی شریک ہے ۔
(لولاک محرم الحرام ١٤٢٤ھ )
٦١ ...... حضرت مولانا رشید احمد پسروریؒ
وفات ...... ١٨ مارچ ٢٠٠٣ء
- شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ کے خلیفہ مجاز حضرت مولانا بشیر احمد پسروریؒ کے جانشین، درویش منش عالم دین، شاہی مسجد پسرور کے خطیب، بزرگ رہنما، علم وفضل کا سمندر بیکراں، اکابر کی روایات کے امین، مخلص داعی الی اللہ حضرت مولانا رشید احمد پسروریؒ ١٤ محرم الحرام ١٤٢٤ھ مطابق ١٨ مارچ ٢٠٠٣ء بروز منگل پسرور میں انتقال فرما گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون!
حضرت مولانا رشید احمد پسروریؒ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد گرامی مولانا بشیر احمد پسروریؒ سے شاہی مسجد پسرور میں حاصل کی۔ اس کے بعد جامعہ رشیدیہ ساہیوال میں قطب الارشاد حضرت شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ کے خلیفہ مجاز حضرت مولانا محمد عبداللہ صاحبؒ سے منتہی کتب کی تعلیم حاصل کی۔ جامعہ خیر المدارس میں حکیم الامت حضرت مولانا شاہ اشرف علی تھانویؒ کے خلیفہ مجاز حضرت مولانا خیر محمد جالندھریؒ اور شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد شریف کشمیریؒ سے دورہ حدیث کیا۔
تعلیم سے فراغت کے بعد پسرور کے ایک سکول میں کچھ عرصہ سرکاری ملازمت کی۔ والد مرحوم کے انتقال کے بعد شاہی مسجد پسرور کی خطابت اور مدرسہ کے اہتمام کو سنبھالا اور پھر خداداد صلاحیتوں کے باعث مرجع عام وخواص ہو گئے۔ پورے علاقہ میں تبلیغ اسلام کا فریضہ سرانجام دیا۔ عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ اور عظمت صحابہ کرام کا تحفظ انہیں ورثہ میں ملا تھا۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی دفتر میں فاتح قادیان استاذ الکل حضرت مولانا محمد حیاتؒ سے رد قادیانیت پر باقاعدہ تیاری کی اور عمر بھر حقانیت اسلام کے لئے سرگرم عمل رہے۔ فرق باطلہ کے رد میں وہ آیت من آیات اللہ تھے۔ کفر کے مقابلہ میں ان کی للکار حق، درّہ عمرؓ کی حیثیت رکھتی تھی۔ تمام دینی جماعتوں اداروں سے والہانہ تعلق تھا۔ جمعیت علمائے اسلام اور انجمن خدام الدین پر دل وجان سے فدا تھے۔ حق تعالیٰ نے انہیں خوبیوں کا مرقع بنا دیا تھا۔
پرویز کی حکومت میں جب علماء کی گرفتاریاں ہوئیں تو مولانا رشید احمد نے تین ماہ تک سنت یوسفی ادا کی۔ حکومت نے معافی نامہ لکھوانا چاہا۔ اس زمانہ میں جبکہ اکثر و بیشتر کارکن اسے غنیمت سمجھ کر خلاصی حاصل کرنے میں پیش پیش تھے مولانا موصوف کوہ استقامت بن گئے۔ حکومتی نمائندہ کو ٹکا سا جواب دے کر اکابر دیوبند کی یاد تازہ کردی۔ انہوں نے یہ کہہ کر حکومتی نمائندہ کو لاجواب کر دیا کہ: ”معافی کا لفظ ہماری لغت میں نہیں ہے ۔“ قدرت نے کرم کیا۔ تین ماہ کے بعد حکومت جھک گئی اور موصوف آبرومندانہ طور پر رہا ہو گئے ۔
حضرت مولانا بشیر احمد پسروری اصلاً ”وہوا“ ڈیرہ غازی خان کے باسی تھے۔ تمام عزیز اور برادری کے لوگ وہاں آباد ہیں۔ سال میں جب کبھی مولانا رشید احمد پسروری کا ڈیرہ غازی خان جانا ہوتا۔ آتے جاتے ملتان دفتر ختم نبوت کو میزبانی کا اعزاز بخشتے ۔ وفات سے چند ہفتے قبل دفتر تشریف لائے ۔ ایک رات قیام کیا۔ مغرب وصبح کی نماز کی امامت کرائی اور اگلے روز بہت خوش خوش دفتر سے الوداع ہوئے ۔ یہ ملاقات آخری ملاقات ثابت ہوئی ۔ معلوم نہ تھا کہ اب ان سے پھر اس جہان میں ملنا ممکن نہ ہوگا۔ دن بھر اپنے معمولات میں مشغول رہے ۔ مغرب کا وضو کر رہے تھے کہ دل کا دورہ پڑا۔ دو بار بلند آواز سے اللہ اکبر! اللہ اکبر! کہا اور جان جان آفرین کے سپرد کر دی۔ ان کی وفات کی اطلاع جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ اگلے دن لاہور و گوجرانوالہ ڈویژن کے علماء کی بڑی تعداد جمع ہوگئی ۔
حضرت مولانا کی نماز جنازہ دیوبند کے فاضل، بزرگ عالم دین حضرت مولانا عبدالحق ظفروال نے پڑھائی ۔ پسرور کی تاریخ کا مثالی جنازہ تھا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی نمائندگی حضرت حافظ محمد ثاقب، مولانا فقیر اللہ اختر، محترم پیر شبیر احمد گیلانی نے کی۔ ہزاروں سوگواروں نے انہیں بوجھل دل سے رحمت حق کے سپرد کیا۔ ”عاش سعیداً ومات سعیداً “ کا مصداق ہوئے۔ حق تعالیٰ ان کی بال بال مغفرت فرمائیں۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت مرحوم کے خاندان سے اظہار تعزیت کرتی ہے۔ اللہ رب العزت ان کے حامی و ناصر ہوں۔
(لولاک ربیع الاول ١٤٢٤ھ)
٦٢....... جناب صاحبزادہ فیض القادریؒ
وفات.......فروری ٢٠٠٣ء
بریلوی مکتب فکر کے معروف عالم دین‘ جمعیت علمائے پاکستان (نفاذ شریعت) کے جنرل سیکرٹری صاحبزادہ فیض القادریؒ انتقال کر گئے۔ اناللہ وانا الیہ راجعون ! صاحبزادہ فیض القادریؒ نے تحریک ختم نبوت ١٩٧٤ء میں لاہور میں قائدانہ کردار ادا کیا اور آل پاکستان مجلس عمل تحفظ ختم نبوت لاہور کے جنرل سیکرٹری رہے۔ مجلس کے ساتھ محبت سے پیش آتے۔ معتدل مزاج خطیب تھے۔ اندرون یکی گیٹ جامع مسجد کے خطیب تھے۔ اللہ پاک ان کی خوبیوں کو قبول فرمائیں اور خطاؤں سے درگزر فرمائیں۔ ان کی رحلت سے لاہور ایک بہادر خطیب سے محروم ہو گیا۔
(لولاک ذی الحجہ ١٤٢٤ھ)
٦٣....... حضرت مولانا اللہ وسایا قاسمؒ
وفات.......٩ مئی ٢٠٠٣ء
٩ مئی جمعہ علی الصبح پانچ بجے شورکوٹ کے قریب بس کے حادثہ میں مجاہد عالم دین حضرت مولانا اللہ وسایا قاسم جاں بحق ہو گئے۔ اناللہ وانا الیہ راجعون ! حضرت مولانا اللہ وسایا قاسمؒ جہانیاں ضلع خانیوال کے ایک دینی خاندان کے چشم و چراغ تھے۔ جامعہ رحمانیہ جہانیاں‘ جامعہ قاسم العلوم ملتان سے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ جامعہ مخزن العلوم خانپور سے دورہ حدیث شریف کیا۔ حضرت درخواستیؒ کے خاص شاگرد تھے۔ جمعیت اور جہادی اداروں میں کام کیا۔ مختصر وقت میں خاصا نام کیا اور خوب تعارف حاصل کیا۔ ملنسار طبیعت کے مالک تھے۔ ہنس مکھ باغ و بہار نوجوان عالم تھے۔ وفات سے قبل دفتر مرکزیہ ملتان کی لائبریری سے خدام الدین و ترجمان اسلام کی قدیم فائلوں سے حضرت درخواستیؒ کے متعلق ریکارڈ کے حصول کے لئے دن بھر مصروف رہے۔ شام کو اسلام آباد چلے گئے اور اسلام آباد ختم نبوت کانفرنس میں شامل ہوئے۔ جمعہ بہاول پور میں پڑھانا تھا۔ اسلام آباد سے سفر کیا۔ شورکوٹ پہنچ کر دنیا سے رخ موڑ کر عالم بقاء کو سدھار گئے۔ حق تعالیٰ مغفرت کریں۔
(لولاک ربیع الثانی ١٤٢٤ھ)
٦٤...... حضرت مولانا عبداللطیف مسعودؒ
وفات......١١ مئی ٢٠٠٣ء
ڈسکہ سیالکوٹ کے ممتاز عالم دین حضرت مولانا عبداللطیف مسعودؒ ١١ مئی بروز اتوار انتقال فرما گئے۔ اناللہ وانا الیہ راجعون!
حضرت مولانا عبداللطیف مسعودؒ ڈسکہ کے رہائشی تھے۔ جامعہ مدنیہ ڈسکہ کے مہتمم حضرت مولانا محمد فیروز خان فاضل دیوبند کے ابتدائی شاگردوں میں سے تھے۔ دورہ حدیث آپ نے جامعہ اشرفیہ لاہور سے کیا۔ شیخ التفسیر حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ اور جامع المعقول والمنقول حضرت مولانا رسول خانؒ کے شاگرد رشید تھے۔ بیعت کا تعلق حضرت مولانا مفتی محمد حسن صاحبؒ سے تھا۔ ایسے نابغہ روزگار شخصیات کی صحبتوں نے آپ کو چمکتا دمکتا ستارہ بنادیا تھا۔ صرف و نحو پر مکمل دسترس تھی۔ ذی استعداد عالم دین تھے۔ قدرت نے آپ کو خوبیوں کا مرقعہ بنادیا تھا۔ عمر بھر بڑی مستعدی سے عسر و یسر میں تبلیغ دین کا فریضہ سرانجام دیتے رہے۔ تمام بے دین فتنوں کے خلاف آپ کے پاس معلومات کا قابل قدر و قابل فخر ذخیرہ تھا۔ اخلاص وللہیت فقر واستغناء کا پیکر تھے۔ ان کو دیکھ کر اکابر علمائے اسلاف کی یاد تازہ ہو جاتی تھی۔ طبیعت میں وقار تھا۔ مزاج میں مسکنت تھی۔ سراپا اخلاص تھے۔ نام و نمود دکھلاوہ اور ریا سے کوسوں دور تھے۔ عمر بھر رزق حلال کما کر دین کی فی سبیل اللہ تبلیغ کرتے رہے۔ شان ابو ذریؒ کا پرتو تھے۔ قادیانیت و عیسائیت پر بھر پور گرفت رکھتے تھے۔ ان کا لٹریچر آپ کو از بر تھا۔ برصغیر میں اس وقت عیسائیت کے لٹریچر پر گہری نظر رکھنے میں آپ کا کوئی ثانی نہیں تھا۔ قادیانیت و عیسائیت کے خلاف متعدد وقیع کتب اور عام رسائل تالیف کئے۔ آپ کا عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سے والہانہ تعلق تھا۔ چناب نگر کے سالانہ رد قادیانیت کورس کے افتتاح پر تشریف لاتے اور اختتامی دعا کے بعد رخصت ہوتے۔ ان گنت خوبیوں کے مالک تھے۔ کئی بار مختلف بیماریوں کا شکار ہوئے۔ لیکن اتنے مضبوط اعصاب کے انسان تھے کہ ہر دفعہ بیماریوں کو شکست دے کر شیر ہو جاتے تھے۔ یہ ان پر رب کریم کا کرم تھا۔ احکام شرع پر مداومت ان کی طبیعت ثانیہ بن گئی تھی۔ وفات کے روز شام تین بجے جنازہ ہوا۔ حضرت مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری نے نماز جنازہ پڑھایا۔
(لولاک ربیع الثانی ١٤٢٤ھ)
٦٥...... حضرت مولانا فیض اللہ صاحبؒ
وفات...... ٢٠ مئی ٢٠٠٣ء
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مرکزی مجلس شوریٰ کے رکن اور میر پور خاص کے امیر، مدینہ مسجد کے خطیب، مدینۃ العلوم کے مہتمم حضرت مولانا فیض اللہ صاحب ٢٠ مئی ٢٠٠٣ء منگل و بدھ کی درمیانی شب اپنے گھر میر پور خاص میں انتقال فرما گئے۔ اناللہ وانا الیہ راجعون!
حضرت مولانا فیض اللہ نے حضرت شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین مدنیؒ کے شاگرد حضرت مولانا عبدالحق ربانیؒ اور حضرت مولانا عزیز الرحمن قریشی باندوئی سے تعلیم حاصل کی۔ کچھ عرصہ آپ مادر علمی دارالقاسمیہ میر پور میں پڑھاتے رہے۔ ٢٠ سال شاہ ولی اللہ سکول میں ٹیچر رہے۔ ٤٥ سال جامع مسجد مدینہ شاہی بازار میر پور میں خطابت کی۔ ٢٥ سال مدرسہ مدینۃ العلوم میں اہتمام وتدریس کے فرائض سرانجام دیئے۔ اس وقت بھی مدینۃ العلوم میں مقامی و مسافر ٣ سو طلباء زیر تعلیم ہیں۔ موقوف علیہ تک کتب کی تعلیم اور حفظ و ناظرہ کا عمدہ اہتمام ہے۔
زندگی بھر جمعیت علماء اسلام اور مجلس تحفظ ختم نبوت کے پلیٹ فارم سے سیاسی ودینی خدمات سرانجام دیں۔ حضرت مولانا محمد عبداللہ درخواستیؒ، حضرت مولانا مفتی محمودؒ، حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ، حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ، حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب مدظلہ، حضرت مولانا فضل الرحمن مدظلہ سے خصوصی تعلق تھا۔ بار ہا میر پور خاص ان اکابر کی میزبانی کا آپ نے شرف حاصل کیا۔
حضرت مولانا فیض اللہؒ نے دو شادیاں کیں۔ ٨ بیٹے اور ٨ بیٹیاں قدرت کا عطیہ ہیں۔ تمام اولاد اور دونوں اہلیہ محترمہ زندہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو سلامت باکرامت رکھیں۔ دو بیٹے قاری حمید اللہ اور قاری نجیب اللہ اس وقت شعبہ حفظ میں مدینۃ العلوم کے مدرس ہیں۔ ایک بیٹا جناب سعید اللہ کالج میں پڑھاتے ہیں۔ ایک بیٹا مولانا حفیظ الرحمن اس وقت دورہ حدیث کے طالب علم ہیں۔
آپ نے ان کو جانشین بنادیا تھا جو جامع مسجد مدینہ میں خطابت اور مدرسہ مدینۃ العلوم میں اہتمام کے فرائض کے ساتھ ساتھ تکمیل تعلیم کے لئے کوشاں ہیں۔ ایک بیٹی بھی حافظہ ہے۔ مولانا مرحوم کی پیدائش سے قبل والد مرحوم کا انتقال ہو گیا۔ چچا حضرت مولانا قاری اسد اللہ صاحب نے آپ کی پرورش، تربیت اور تعلیم کا اہتمام کیا اور باپ جیسی محبت نچھاور کی۔ خدمت خلق، دینی اقدار کے احیاء، عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ، قادیانیت کے استیصال اور اسلامی نظام کے نفاذ کے لئے آپ کی گرانقدر خدمات تاریخ کا سنہری باب ہیں۔
آپ کی بیماری میں آپ کے بھانجے حبیب نے آپ کی خدمت کا حق ادا کیا۔ وہ آپ کے سفر وحضر کا رفیق تھا۔ آخری دنوں میں وہ بھی بیمار ہو گیا۔ حضرت مرحوم کی بیماری کے باعث کھانا چھوٹ گیا تو حبیب نے بھی کھانا چھوڑ دیا۔ جس دن مولانا کا وصال ہوا اس دن اس عزیز حبیب کا انتقال ہوا۔ دونوں کی ایک ساتھ قبریں بنیں۔ خدمت، تعلق، یکجہتی کی عجیب مثال قائم ہوئی۔ اگلے دن جمعرات کو بعد از ظہر پولیس گراؤنڈ میں جنازہ ہوا۔ آپ کے جانشین عزیز از جان صاحبزادہ مولانا حفیظ الرحمٰن نے جنازہ پڑھایا۔ علماء، انتظامیہ، معززین شہر، عوام کی بھاری تعداد نے جنازہ میں شرکت کی۔ میر پور کی ہر آنکھ اشکبار تھی۔ مثالی و تاریخی جنازہ ہوا۔ عامۃ المسلمین کے ساتھ عام قبرستان میں تدفین ہوئی۔
جنازہ و تدفین میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی نمائندگی حضرت مولانا احمد میاں حمادی اور حضرت مولانا محمد نذر عثمانی نے کی۔ حق تعالیٰ مغفرت فرمائیں۔ ان کا انتقال پر ملال موت العالم موت العالم! کا مصداق ہے۔
اللہ رب العزت حضرت مولانا فیض اللہ کے پسماندگان کو صبر جمیل نصیب فرمائیں۔ مسجد و مدرسہ اور نیک اولاد ان کا صدقہ جاریہ ہیں۔ دینی حلقہ، جمعیت علماء اسلام اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے لئے حضرت مرحوم کی وفات بہت بڑا سانحہ ہے۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کو کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائیں۔
(لولاک جمادی الاول ١٤٢٤ھ)
٦٦......حضرت مولانا عبدالرحیم اشعرؔ
وفات......٢٢ مئی ٢٠٠٣ء
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے بزرگ رہنما، مناظر اسلام حضرت مولانا عبدالرحیم اشعرؔ ٢٢ مئی ٢٠٠٣ء بروز جمعرات صبح نو بجے انتقال فرما گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون!
حضرت مولانا عبدالرحیم اشعرؔ ٢٥ مئی ١٩٢٤ء بستی عنایت پور نزد جلال پور پیروالا تحصیل شجاعباد ضلع ملتان میں پیدا ہوئے۔ راجپوت بھٹی خاندان کے چشم و چراغ تھے۔ مولانا مرحوم کے والد کاشتکاری کیا کرتے تھے۔ مولانا عبدالرحیم اشعرؔ کے ماموں زاد بھائی منشی عبداللطیف صاحب راوی ہیں کہ حضرت مولانا کے والد نے ان کی پیدائش کے کچھ عرصہ بعد خواب دیکھا کہ میرے گھر کے صحن میں جہاز اترا۔ اس سے ایک وجیہہ بزرگ اترے اور انہوں نے فرمایا کہ یہ بچہ ہمیں دے دیا جائے۔ بعد میں ملتان احرار کانفرنس کے موقعہ پر حضرت مولانا کے والد نے حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کو دیکھا تو خواب یاد آ گیا اور ارادہ کر لیا کہ بیٹے کو ان کے سپرد کردوں گا۔ مولانا عبدالرحیم اشعرؔ کے ماموں حاجی رحیم بخشؒ کنڈا رحیم بخش سے جمعہ پڑھنے کے لئے شجاع آباد کی شاہی جامع مسجد میں خطیب پاکستان حضرت مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ کے ہاں حاضر ہوتے تھے۔ ایک دفعہ نوجوان (مولانا) عبدالرحیم اشعرؔ بھی ساتھ تھے۔ حضرت قاضی صاحبؒ نے حاجی رحیم بخش سے فرمایا کہ یہ نوجوان پڑھانے کے لئے ہمیں دے دیا جائے۔ اس وقت تک مولانا عبدالرحیم اشعرؔ اپنے گھر پر ابتدائی تعلیم حاصل کر رہے تھے۔
چنانچہ ١٩٤٣ء میں جامع مسجد حسین آگاہی ملتان میں مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ کے قائم کردہ مدرسہ محمدیہ حنفیہ میں حضرت قاضی صاحبؒ نے مولانا عبدالرحیم اشعرؔ کو داخل کرا دیا۔ آپ نے ١٩٤٧ء کے وسط تک جامعہ محمدیہ حنفیہ میں موقوف علیہ تک کتابیں مکمل کر لیں۔ پاکستان بننے کے بعد حکیم الامت حضرت مولانا شاہ اشرف علی تھانویؒ کے خلیفہ اجل حضرت مولانا خیر محمد جالندھریؒ نے ملتان میں خیر المدارس کا آغاز کیا تو حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ نے جامعہ محمدیہ کے اساتذہ بالخصوص امام القراء حضرت مولانا قاری رحیم بخش پانی پتیؒ جامعہ کے طلباء جن میں مولانا عبدالرحیم اشعرؔ بھی شامل تھے۔ جامعہ محمدیہ کا کتب خانہ، تپائیاں و
دیگر سامان سمیت سب کچھ خیرالمدارس کے سپرد کردیا۔ یوں مولانا عبدالرحیم اشعرؒ کو جامعہ خیرالمدارس کے اولین طلباء میں شامل ہونے کا اعزاز حاصل ہوا۔
مولانا عبدالرحیم اشعرؒ نے زمانہ طالب علمی میں خداداد صلاحیتوں و ذاتی شرافت و دیانت سے مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ کا قرب حاصل کیا۔ مدرسہ کی ضروریات و دیگر امور کے لئے حضرت جالندھریؒ مولانا عبدالرحیم اشعر پر اعتماد کرتے تھے۔ جامعہ خیرالمدارس کے موجودہ صدر المدرسین اور شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد صدیق صاحب دامت برکاتہم نے فرمایا کہ مولانا عبدالرحیم اشعرؒ میں (مولانا محمد صدیق صاحب) حضرت مولانا سید عطاء المنعم بخاریؒ ابن امیر شریعت، سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ خیرالمدارس ملتان میں ہم درس تھے۔ خیرالمدارس جالندھر سے منتقل ہوکر ملتان قائم ہوا۔ تو ہم لوگ ملتان کے کوچہ و بازار سے ناواقف تھے۔ مولانا عبدالرحیم جامعہ محمدیہ میں کئی سال زیر تعلیم رہنے کے باعث ملتان کے گلی و بازار سے واقف تھے۔ جامعہ محمدیہ سے جب وہ خیرالمدارس ملتان میں داخل ہوئے تو مدرسہ کے سامان بالخصوص کتب وغیرہ کے حصول کے لئے حضرت مولانا خیر محمد جالندھریؒ اپنے شاگرد مولانا عبدالرحیم سے زیادہ خدمت لیتے تھے اور ان پر بے پناہ اعتماد کرتے تھے۔ طالب علمی کے زمانہ میں مولانا عبدالرحیم کو جامعہ خیرالمدارس کے ابتدائی دور میں اس کی بے مثال خدمات انجام دینے کی سعادت نصیب ہوئی۔ جامعہ خیرالمدارس سے مولانا عبدالرحیم نے ١٩٤٩ء میں دورہ حدیث شریف مکمل کرنے کی سعادت حاصل کی۔
فراغت کے بعد: مولانا عبدالرحیم اشعرؒ صاحب نے عنایت پور اپنے گھر پر مدرسہ کی بنیاد رکھی۔ چند ماہ بعد حضرت مولانا خیر محمد صاحب جالندھریؒ نے آپ کو ملتان کے ایک مدرسہ میں ابتدائی مدرس مقرر کیا۔ لیکن مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ آپ کو تدریس سے تبلیغ کے لئے کھینچ لائے۔ جانشین حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ حضرت مولانا سید عطاء المنعم شاہ بخاریؒ کی زیر ادارت لاہور سے شائع ہونے والے پندرہ روزہ الاحرار لاہور جلد ١ شمارہ ٨٧ مورخہ ٢٣ صفر تا ٨ ربیع الاول ١٣٩٠ھ مطابق ٣٠ اپریل تا ١٥ مئی ١٩٧٠ء کے صفحہ ١٢ پر تحریر ہے:
”قیام پاکستان کے بعد حکومت وقت کی بعض ناجائز پابندیوں کے باعث احرار کئی دفعہ خلاف قانون قرار دی گئی۔ جنوری ١٩٤٩ء میں رد مرزائیت کے کام کو سیاسی دست و برد سے
محفوظ رکھنے کے لئے شعبہ تبلیغ کو الگ جماعت کی صورت دے دی گئی۔“ مجلس احرار اسلام کل ہند کو یہ اعزاز حاصل تھا کہ جماعتی سطح پر سب سے پہلے قادیانیت کے خلاف محاذ قائم کیا۔ ١٩٣٤ء میں احرار کانفرنس قادیان میں منعقد کی۔ مجلس احرار اسلام کے زیر اہتمام شعبہ تبلیغ قائم کیا۔ (یاد رہے کہ اس شعبہ کا نام شعبہ تبلیغ مجلس احرار اسلام تھا) شعبہ تبلیغ مجلس احرار اسلام کل ہند کا دفتر قادیان میں قائم کیا۔ فاتح قادیان مولانا محمد حیاتؒ مولانا عنایت اللہ چشتیؒ حضرت ماسٹر تاج الدین انصاریؒ مولانا رحمت اللہ مہاجرؒ اور دیگر زعماء احرار نے گرانقدر خدمات سرانجام دیں۔ مذکورہ بالا حوالہ کے مطابق جنوری ١٩٤٩ء میں شعبہ تبلیغ کو الگ جماعت کی صورت دے دی گئی۔ اس سے مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کا باضابطہ قیام ہے۔ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کا مستقل پہلا انتخاب ١٣ دسمبر ١٩٥٤ء کو ہوا۔ یہاں ہر چند ضروری گزارشات عرض کرنا ضروری خیال کرتا ہوں۔
- ١....... مجلس احرار اسلام کا قادیان میں جو دفتر قائم ہوا اس کا نام شعبہ تبلیغ مجلس
احرار اسلام ہند تھا۔
- ٢....... شعبہ تبلیغ کو جنوری ١٩٤٩ء میں ایک جماعت کی صورت قرار دے دی گئی۔
جس کا نام مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان تجویز ہوا۔
- ٣....... جنوری ١٩٤٩ء سے ہی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان نے کام شروع کر دیا
جیسا کہ ایک مطبوعہ خط جو حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری صدر مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کی جانب سے ”احباب اور اصحاب خیر کی خدمت میں ضروری اپیل“ کے عنوان پر شائع ہوا۔ اس کے صفحہ ٣ پر ہے: ”بنابریں مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان نے ١٩٤٩ء سے اس طرف توجہ دی اور پوری تنظیم سے ملک بھر میں تبلیغ کا کام شروع کیا۔“
حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کا یہ مطبوعہ خط چار صفحات پر مشتمل ہے۔ اس کا مکمل عکس تحریک ختم نبوت ١٩٥٣ء کے صفحہ ٨٩٩ سے صفحہ ٩٠٢ پر شائع کر دیا گیا ہے۔
- ٤....... تحریک ختم نبوت ١٩٥٣ء سے قبل مجلس تحفظ ختم نبوت کا دفتر بندر روڈ کراچی
پر قائم ہو چکا تھا جیسا کہ حضرت امیر شریعتؒ کے خط ١٥ اپریل ١٩٥٢ء سے ظاہر ہے۔ یہ خط بھی چار صفحات پر مشتمل ہے۔
- ٥...... چنانچہ ١٩٥٣ء کی تحریک ختم نبوت میں مجلس تحفظ ختم نبوت بھی مجلس عمل میں
دیگر جماعتوں کی طرح شامل تھی۔ مجلس عمل میں شریک جماعتوں کے اسماء جسٹس منیر نے اپنی عدالتی رپورٹ میں دیئے ہیں۔ اس میں نمبر ١١ پر مجلس تحفظ ختم نبوت کا نام دیا ہے۔
(رپورٹ تحقیقاتی عدالت ص ٨٠)
- ٦...... تحریک ختم نبوت ١٩٥٣ء میں تحریک کے رہنما ٢٦ فروری ١٩٥٣ء کو کراچی
دفتر مجلس تحفظ ختم نبوت سے گرفتار ہوئے۔ چنانچہ زعیم احرار حضرت ماسٹر تاج الدین انصاریؒ رقم طراز ہیں: ”ہم سب دفتر مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی میں آ کر وارد ہو گئے۔ دفتر سے گرفتار ہونے وا لے ہم آٹھ ارکان تھے۔ حضرت مولانا ابوالحسناتؒ، حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ، حضرت صاحبزادہ سید فیض الحسنؒ، جناب عبدالرحیم جوہرؒ، جناب نیاز لدھیانویؒ، مولانا لال حسین اخترؒ، اسد نواز ایڈیٹر حکومت اور ماسٹر تاج الدین انصاریؒ۔ (تحریک ختم نبوت ١٩٥٣ء ص ٢٨٨، ٢٨٩)
- ٧...... مجلس تحفظ ختم نبوت جنوری ١٩٣٩ء میں قائم ہوئی۔ اس نام سے تبلیغی کام
شروع ہوا۔ دفاتر قائم ہونے لگے۔ البتہ انتخاب تحریک ختم نبوت ١٩٥٣ء کے بعد ١٦ ربیع الثانی ١٣٧٤ھ مطابق ١٣ دسمبر ١٩٥٤ء کو ہوا۔
- ٨...... اس روز ہی ”مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان“ کا میثاق رکنیت تیار ہوا۔ جس
میں ابتدائی تاسیسی ارکان مجلس تحفظ ختم نبوت کے ٧١ حضرات کے دستخط ہوئے۔ جس کی ترتیب یہ تھی: ”مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ، مولانا محمد علی جالندھریؒ، مولانا لال حسین اخترؒ، مولانا عبدالرحمن میانوالیؒ، مولانا شیخ احمدؒ بورے والا، مولانا سعید احمدؒ بھکی والا جتوئی، مولانا محمد شریفؒ بہاول پوری، مولانا تاج محمودؒ، مولانا محمد رمضانؒ بٹالوی، مولانا مجاہد الحسینی، مولانا نذیر حسینؒ پنو عاقل، مولانا علاؤالدین مدظلہ ڈیرہ اسماعیل خان، مولانا محمد شریف جالندھریؒ، ملک عبدالغفور انوریؒ ملتان، مولانا غلام قادرؒ جھنگ، حافظ محمد شریفؒ ملتان، ماسٹر اختر حسینؒ ملتان۔“
معافی چاہتا ہوں حکایت لذیذ دراز ہو گئی۔ غرض ١٩٣٩ء میں فراغت کے بعد مختلف محاذوں سے چکر کاٹ کر حضرت مولانا عبدالرحیم اشعرؒ نے حضرت امیر شریعت کے حکم پر ختم نبوت کی پہلی تربیتی کلاس میں باضابطہ داخلہ لے کر تعلیم شروع کر دی۔
حضرت مولانا عبدالرحیم اشعرؒ کا خدام الدین لاہور ٣٠ جولائی ١٩٨٢ء میں ایک انٹرویو
شائع ہوا۔ اس کے ص ١٦ پر مولانا فرماتے ہیں: ”چونکہ حضرت امیر شریعتؒ سے تعلق تھا ان کے کہنے پر ١٩٤٩ء میں ہم پانچ آدمیوں مولانا محمد لقمانؒ علی پوری، مولانا غلام محمد ، مولانا قاضی عبداللطیفؒ مولانا قائم الدینؒ اور مجھ (عبدالرحیم اشعرؒ) کو (فاتح قادیان) مولانا محمد حیاتؒ کے سپرد کیا گیا ۔“
حضرت مولانا عبدالرحیم اشعرؒ فرماتے تھے کہ اس کورس میں باقی ساتھی تو پڑھائی کے لئے مکمل وقت دیتے تھے مجھے تعلیم کے علاوہ تیاری کھانا وغیرہ کے امور کے لئے بھی وقت دینا پڑتا تھا۔ ساتھیوں کو باقاعدہ سبق لکھوایا جاتا تھا۔ جب وہ ہنٹس تیار کرتے تھے تو میں ان کو نقل کر لیا کرتا تھا۔ اللہ تعالیٰ کی شان بے نیازی کہ ان پانچوں حضرات سے کم وقت تعلیم کے لئے مولانا اشعرؒ کو ملتا تھا لیکن اکابر اساتذہ و رفقاء کی خدمت کے صدقے میں اللہ تعالیٰ نے سب سے زیادہ رد قادیانیت کا کام مولانا اشعرؒ سے لیا۔ مولانا کو یہ اعزاز بھی حاصل تھا کہ بیک وقت وہ فاتح قادیان مولانا محمد حیاتؒ اور مناظر اسلام مولانا لال حسین اخترؒ کے شاگرد تھے۔ پھر وہ وقت بھی آیا کہ ان کی روایات کے امین و وارث قرار پائے۔ چنانچہ دفتر مرکزیہ ملتان، ڈھاکہ، علامہ بنوری ٹاؤن کراچی، خدام الدین لاہور اور ملک بھر میں مجلس کے زیر اہتمام تحفظ ختم نبوت رد قادیانیت کورس مدارس میں مولانا عبدالرحیم اشعرؒ پڑھاتے تھے۔ اس وقت مجلس میں کام کرنیوالے اکثر حضرات مبلغین کرام مولانا مرحوم کے شاگرد ہیں۔ ایک وقت تھا کہ مولانا کا طوطی بولتا تھا۔ کراچی سے خیبر تک مولانا کے قادیانیت کے خلاف دورے ہوتے تھے۔ ذالك فضل الله يوتيه من يشاء!
حضرت مولانا عبدالرحیم اشعرؒ ۔ ١٩٤٩ء کے اواخر یا ١٩٥٠ء کے اوائل میں فیصل آباد کے مبلغ بنے۔ تحریک ختم نبوت ١٩٥٣ء کے زمانہ میں آپ فیصل آباد تھے۔ تحریک ختم نبوت ١٩٥٣ء کی داعی جماعت مجلس احرار اسلام پاکستان تھی۔ قدرت نے مجلس احرار کے اکابر مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ ماسٹر تاج الدین انصاریؒ مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ شیخ حسام الدینؒ مولانا محمد علی جالندھریؒ صاحبزادہ فیض الحسنؒ اور مولانا غلام غوث ہزارویؒ سے اس تحریک میں جو کام لیا وہ تاریخ احرار کا درخشندہ باب ہے۔ تحریک ختم نبوت ١٩٥٣ء پر کتاب لکھتے وقت مولانا عبدالرحیم اشعرؒ سے ایک انٹرویو لیا تھا۔
حضرت مولانا نے اپنے کردار سے متعلق تفصیلات بیان فرمائی تھیں۔ جو اسی کتاب
سے پیش خدمت ہیں وہ یہ ہیں:
”مولانا عبدالرحیم اشعر فرماتے ہیں کہ تحریک ختم نبوت کے زمانہ میں میں جماعت کی طرف سے فیصل آباد کا مبلغ تھا۔ تحریک ختم نبوت چلی تو مولانا تاج محمود صاحب فیصل آباد کے امیر تھے۔ آپ نے ایک کار اور لاؤڈ سپیکر کا انتظام کر کے دیا۔ مولانا قاری عبدالحی عابد ان دنوں مدرسہ اشاعت العلوم فیصل آباد میں زیر تعلیم تھے۔ ان کو قدرت نے بلا کا گلہ دیا تھا۔ یہ میرے ساتھ ہوتے۔ ہم علی الصبح کار پر نکل جاتے سپیکر لگا کر گاؤں گاؤں پھرتے۔ یہ نظمیں پڑھتے، میں تقریریں کرتا۔ اٹھارہ بیس دن تک ہم نے ضلع فیصل آباد کا کونہ کونہ چھان مارا۔ پورا ضلع تحریک میں ہراول دستے کا کردار ادا کرنے کے لئے سراپا تحریک بن گیا۔ اٹھارہ بیس دن بعد ہمیں معلوم ہوا کہ تحریک کے تمام راہنما مولانا تاج محمود، مولانا عبدالمجید نابینا تمام حضرات گرفتار ہو گئے ہیں۔ پولیس ہمارے تعاقب میں ہے۔ کسی بھی وقت گاڑی اور سپیکر ضبط کر کے ہمیں گرفتار کر لیا جائے گا تو ہم نے گاڑی چھوڑ دی۔ فیصل آباد جامع مسجد کی بجلی اور پانی کے کنکشن منقطع کر دیئے گئے تھے۔
حضرت مولانا عبدالرحیم اشعر فرماتے ہیں کہ میں رات کو جامع مسجد کچہری بازار سے ملحقہ ایک مکان میں ایک تبلیغی جماعت کے ساتھی کے گھر جا کر رہا۔ صبح جمعہ تھا۔ معلوم ہوا کہ مولانا مفتی سیاح الدین کاکا خیل سے تشریف لا چکے ہیں۔ جمعہ پڑھائیں گے۔ وہ وقت پر پولیس و ملٹری کی ناکہ بندی کے باعث جامع مسجد میں نہ آسکے۔ میں نے تقریر کی۔ قدرت کا کرم ایسے ہوا کہ تقریر نے شہر میں آگ لگادی۔ پولیس و ملٹری حرکت میں آگئی۔ میں جمعہ سے فارغ ہو کر مسجد کے شمالی دروازہ کے قریب جنازہ گاہ میں بیٹھا تھا کہ ایک احراری دوست نے مجھے وہاں سے نکال لیا۔ میں آخری آدمی تھا جو مسجد سے نکلا۔ اس کے بعد مسجد کے دروازے بند کر کے ایک ایک آدمی کی پہچان کی گئی کہ تقریر کرنے والے مولوی صاحب کہاں ہیں۔ میں نے ایک میلی کچیلی کمبل اوڑھ رکھی تھی۔ لباس بھی بوسیدہ و میلا تھا۔ مجھے انہوں نے درخور اعتنا نہ سمجھا اور یوں نکل کر مسجد اہل حدیث امین بازار پہنچا۔ شیخ خیر محمد چمڑہ منڈی والے تحریک کے خزانچی تھے۔ مجھے کرایہ دیا اور شہر چھوڑ دینے کا مشورہ دیا۔ مسجد کے عقبی دروازہ سے کوتوالی تھانہ کے سامنے سے امین پور بازار کو کراس کر کے منشی محلہ سے ہوتے ہوئے جھنگ بازار تانگہ لیا اور جوالانگر پل کی طرف نکل گیا۔ میرے ساتھ رحمت اللہ شاہ تھے جو سندیلیانوالہ کے تھے۔ اشاعت العلوم میں طالب علم تھے۔ ہم
ریلوے لائن کے ساتھ ساتھ ملتان کی طرف چل پڑے۔ دو نوجوان ملے پوچھا کہ نواب پور جار ہے ہو۔ ہم نے اثبات میں جواب دیا۔ اتنے میں ملٹری کا ٹرک آ گیا۔ پوچھا کون ہو۔ ہم نے کہا مزدور ہیں۔ کہاں جا رہے ہو ۔ ہم نے کہا مزدوری کر کے اپنے گاؤں نواب پور جا رہے ہیں۔ وہ مطمئن ہو کر چلے گئے ۔ ہم چلتے رہے۔ رسالوالہ اسٹیشن پر ٹرین کا ٹائم تھا۔ شہر اور اسٹیشن پر پولیس وملٹری میری گرفتاری کے لئے بل کھا رہی تھی۔ فیصل آباد کے لئے ٹرین آئی تو رحمت اللہ شاہ واپس ہو گئے۔ ملتان کی ٹرین آئی۔ میں سوار ہو گیا۔ خانیوال آیا اسٹیشن پر دو چار لقمے زہر مار کرنے کے لئے کینٹین پر گیا تو دیکھا کہ عبداللہ ہوٹل چنیوٹ بازار فیصل آباد کا منیجر پھر رہا ہے۔ یہ پولیس کا مخبر تھا۔ میں نے اسے دیکھتے ہی اسٹیشن پر لیٹنے میں عافیت سمجھی۔ ٹرین چلی تو لپک کر گارڈ کے ڈبہ میں سوار ہو گیا۔ ملتان سٹی اتر کر ریلوے لائن میں ٹرین کے پیچھے کھڑا ہو گیا۔ عبداللہ ادھر ادھر دیکھتا رہا۔ ٹرین چھاؤنی کے لئے چلی تو میں بستر اٹھا کر پیدل سفر کر کے خیرالمدارس پہنچ گیا۔ ان دنوں جماعت (ختم نبوت) کا دفتر قدیر آباد ہوتا تھا۔ پیغام بھجوایا۔ تیسرے روز بلاوا آ گیا۔ دفتر پہنچا تو مولانا محمد شریف جالندھریؒ نے بورے والا، وہاڑی، عارف والا وغیرہ کے پروگرام بنا کر رقعہ پکڑا دیا کہ شاہ جیؒ کے حوالے سے لوگوں کو تحریک کے جاری رکھنے پر تیار کرو۔ اتنے میں پولیس نے دفتر کا محاصرہ کر لیا۔
مولانا محمد شریف جالندھریؒ، مولانا محمد حیاتؒ فاتح قادیان، مولانا غلام محمد، سائیں محمد حیاتؒ دفتر میں موجود تھے۔ مولانا غلام محمد تو جل دے کر نکلنے میں کامیاب ہو گئے اور پروگرام پر روانہ ہو گئے۔ وہاں سے گرفتار ہو کر پھر جیل میں آملے۔ ہم چاروں گرفتار کر لئے گئے۔ پولیس نے مجلس کا سیف توڑا۔ واہی تباہی بکتے پولیس ہمیں تھانہ صدر لے گئی۔ مولانا محمد حیات صاحبؒ فاتح قادیان جیل کاٹنے میں بڑے بہادر اور جری تھے۔ پولیس کو کہا کہ بازار سے اپنے خرچہ سے کھانا لاؤ یا جیل پہنچاؤ۔ ہم اپنا کھانا نہ کھائیں گے۔ پولیس نے کھانا کھلایا اور عصر کے قریب سنٹرل جیل ملتان پہنچا دیئے گئے۔ جیل میں گئے تو مولانا محمد علی جالندھریؒ مولانا احمد علی لاہوریؒ، مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ، سید نور الحسن شاہ بخاریؒ، مولانا سعید احمد جٹلی والاؒ، مولانا سلطان محمودؒ، مولانا قائم الدین علی پوریؒ اور دوسرے حضرات موجود تھے۔ ہمارے جاتے ہی جیل کے تمام بزرگوں نے شفقتوں سے نوازا۔ مولانا نذیر احمد، باقر علی اور دوسرے جماعت اسلامی کے رفقاء بھی
آگئے تو مولانا احمد علی لاہوریؒ نے حضرت قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ کو کہہ کر پچیس عدد معرا قرآن مجید کے نسخے منگوائے اور درس قرآن جاری کر دیا۔ پچیس دن بعد قاضی احسان احمدؒ، مولانا محمد علی جالندھریؒ، حضرت لاہوریؒ، مولانا سید نورالحسن شاہ بخاریؒ کو ڈسٹرکٹ جیل منتقل کر دیا گیا۔ وہاں پر مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ اور حضرت لاہوریؒ کو کھانے کی اشیاء میں زہر دیا گیا۔ دو چار لقمے کھاتے ہی قاضی صاحبؒ کی طبیعت غیر ہو گئی۔ سخت قے آئی۔ حضرت لاہوریؒ کا بھی یہی حال تھا۔ جیل کا ڈاکٹر آیا تو آتے ہی قے پر پانی ڈال کر اسے بہا دیا تا کہ زہر کا ثبوت باقی نہ رہے۔ جیل میں اس سانحہ کی خبر نے آگ لگا دی۔ جیل کے تمام قیدی دیواروں اور درختوں پر چڑھ کر سراپا احتجاج بن گئے۔ عملہ تشدد کرتا۔ درمیان میں مولانا محمد علی جالندھریؒ کا تجربہ کام آیا اور ان کے کہنے پر احتجاج ختم ہوا اور سانحہ ہوتے ہوتے رہ گیا۔ کچھ عرصہ بعد مولانا محمد شریف جالندھریؒ، مولانا محمد حیاتؒ، ملک عبد الغفور انوریؒ، سائیں محمد حیاتؒ اور میں (عبدالرحیم اشعرؔ) لاہور بوسٹل جیل منتقل کر دیئے گئے۔ وہاں پر مولانا خدا بخش ملتانی، سید امین شاہ مخدوم پوری، مولانا زرین احمد خاںؒ موجود تھے۔ میانوالی سے حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب مدظلہ (امیر مرکزیہ) صوفی ایاز خاںؒ آئے ہوئے تھے۔ قاری رحیم بخشؒ پانی پتی نے تراویح جیل میں پڑھانی شروع کی تو ہر روز اڑھائی صد تحریک کے رہنما مقتدی ہوتے۔ میرے متعلق پولیس نے متعلقہ آبائی تھانہ جلال پور پیروالا سے رپورٹ مانگی تو انہوں نے غیر اہم لکھ دیا یوں تین ماہ بعد ٢٧ رمضان شریف کو میری رہائی ہو گئی۔
(تحریک ختم نبوت ١٩٥٣ء ص ٣٩٠ تا ٣٩٢)
انکوائری کمیشن: تحریک ختم نبوت ١٩٥٣ء کی انکوائری کے لئے حکومت نے عدالتی کمیشن قائم کیا جو مسٹر جسٹس منیر، مسٹر جسٹس ایم آر کیانی پر مشتمل تھا۔ انکوائری کمیشن میں جن لوگوں نے شب و روز امت محمدیہ کی طرف سے وکالت کی ان میں مولانا عبدالرحیم اشعرؔ بھی ہیں۔ آپ نے انکوائری کے چشم دید آٹھ واقعات سنائے۔ فقیر نے وہ واقعات مذکورہ کتاب میں شامل کر دیئے تھے جو پیش خدمت ہیں۔ مولانا فرماتے ہیں:
- ١...... ٨ جولائی کو مجھے میرے گھر واقع عنایت پور نزد جلال پور پیروالا میں خط ملا
جو مولانا محمد علی جالندھریؒ نے لاہور جیل سے تحریر کیا تھا کہ تم ملتان سے دفتر کی کتابیں اور اگر وہ نہ ملیں تو فیصل آباد سے اپنی مرزائیت کی کتابوں کا سیٹ لیکر لاہور پہنچو۔ ملتان آیا تو کتابیں نہ مل
ہمکیں۔ فیصل آباد گیا ھو کا عالم تھا۔ تمام رفقاء پس دیوار زنداں تھے ۔ حافظ عبدالرحمن کیمبل پور والے ملے مجھے دیکھتے ہی کہا کہ تمہارے وارنٹ ہیں ۔ مخبری ہو گئی تو دھر لئے جاؤ گے میں تمہاری کتابیں لیکر لاہور آ جاؤں گا۔ آپ فوراً یہاں سے روانہ ہو جائیں میں لاہور چلا گیا۔ سید رحمت اللہ شاہ اپنے گھر سندیلیانوالہ سے کتابیں لائے ۔ حافظ عبدالرحمن صاحب وہ کتابیں لے کر لاہور پہنچ گئے ۔ اب کتابیں ہمارے پاس، ہمیں کوئی ٹھہرانے کے لئے تیار نہ تھا۔ لاہور میں دولتانہ حکومت اور بعد میں فوج کے قیامت خیز مظالم کے سامنے کسی کی نہ جاتی تھی ۔ ہم لوگ حیران و پریشان کہ مسافر غریب الدیار لوگوں کو سہارا دینے والا کوئی نہ تھا ۔ تحریک کے صف اول کے تمام راہنما لاہور جیل میں تھے۔ دو دن مولانا مظہر علی کے گھر قیام کیا۔ ایک دن حکیم عبدالمجید سیفی مرحوم تشریف لائے ۔ فرمایا میں تمہیں تلاش کرتے کرتے ہار گیا۔ تم میرے مہمان ہو چلو کتابیں اٹھاؤ گاڑی میں رکھو اور میرے ساتھ چلو۔ ہوا یہ کہ حضرت مولانا محمد عبداللہ سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ نے اپنے مرید حکیم عبدالمجید صاحب سیفی کو حکم فرمایا کہ ختم نبوت کی طرف سے انکوائری میں کام کرنے والے آنحضرت ﷺ کے مہمان ہیں ۔ یہ لوگ در بدر پھر رہے ہیں ان کو تلاش کرو اور اپنے گھر میں معزز مہمانوں کی طرح رکھو۔ کچھ عرصہ بعد خود حضرت قبلہ مولانا محمد عبداللہ صاحبؒ لاہور تشریف لائے۔ حکیم صاحب کے مکان پر قیام فرمایا۔ آپ کے ایک اور مرید مولانا حافظ کریم بخش صاحب پروفیسر تھے۔ ان کا کتب خانہ ہمیں حوالہ جات کے لئے مل گیا۔
حضرت مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ بھی تشریف لائے ۔ اس طرح ایک ٹیم بن گئی جو انکوائری میں حصہ لینے لگی ۔ مولانا مظہر علی اظہر اور مولانا مرتضیٰ احمد خاں میکشؒ یہ دونوں مجلس عمل کے وکیل تھے۔
- ٢...... ایک دفعہ مولانا مرتضیٰ احمد خاں میکشؒ سے عدالت نے سوال کیا کہ آپ
ان کی کیوں وکالت کر رہے ہیں؟۔ انہوں نے فرمایا کہ میں تو مجلس عمل کا وکیل ہوں۔ جس میں نو دینی جماعتیں شامل ہیں ۔ نیز یہ کہ مجھے حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ سے سیاسی اختلاف ہے ۔ مگر مرزائیت کے احتساب کے لئے میں ان کا پوری قوم پر احسان سمجھتا ہوں اگر شاہ صاحبؒ مرزائیت کا احتساب نہ کرتے تو آج پورا ملک مرزائیت کے دام تزویر میں ہوتا ۔ یہ سن کر منیر کا منہ لٹک گیا۔
- ٣...... ایک دفعہ مجھے (مولانا اشعر) مولانا مظہر علی اظہر نے کاغذ لینے کے لئے
بھیجا میں باہر نکلا تو عدالت کے عقبی دروازہ پر کھڑی عمدہ شیورلائٹ کار میں ایک خوبرو نوجوان فیشن ایبل لڑکی آکر بیٹھ گئی۔ اتنے میں ہٹو بچو کا غوغا ہوا اور جسٹس منیر صاحب آئے۔ وہ بھی اس کار میں بیٹھ کر ہوا ہو گئے۔ مولانا عبدالرحیم صاحب کہتے ہیں کہ میں نے عدالت کے اردلی سے کہا کہ یہ لڑکی منیر صاحب کی بیٹی ہیں۔ وہ ہماری سادگی پر سر پیٹ کر رہ گیا۔ اس نے کہا کہ مولوی صاحب تمہارا فریق مخالف ہر روز نئی نویلی خوبصورت لڑکی کا انتظام کر کے منیر صاحب کے سینہ کی حرارت اور نفس کی شرارت کو برقرار رکھنے کا انتظام کرتا ہے۔ مولانا عبدالرحیم اشعر فرماتے ہیں کہ میرے پاؤں کے نیچے سے زمین نکل گئی اور سر چکرانے لگا کہ الامان الحفیظ!
- ٤...... حضرت مولانا اشعر فرماتے ہیں کہ انکوائری کے دوران صف اول کے
راہنما جیل میں تھے۔ ہم لوگ باہر وکیلوں کی تیاری پر مامور تھے۔ کتابوں کا ایک سیٹ تھا جیل بھجواتے تو ہم خالی ہاتھ اور اگر ہمارے پاس ہوں تو وہ خالی ہاتھ ۔ اس لئے یہ انتظام کیا کہ مولانا لال حسین اختر کی زوجہ محترمہ نے کراچی کا سفر کیا۔ کراچی دفتر کے ہمسائے سید ادریس شاہ صاحب کے گھر میں وہ کتابیں تھیں وہ لیکر لاہور تشریف لائیں۔ اب کتابوں کو جیل بھجوانے کا مرحلہ تھا وہ یوں حل ہوا کہ شیخ حسام الدین کی ٹانگ میں درد ہوا وہ کار میں بیٹھ کر ہسپتال معائنہ کے لئے تشریف لائے۔ ڈگی میں کتابیں رکھیں اور جیل تشریف لے گئے۔
- ٥...... خواجہ ناظم الدین ، حمید نظامی اور ظفر اللہ قادیانی کا بیان بند کمرہ عدالت
میں لیا گیا۔ نظامی صاحب نے عدالت میں کہا کہ پنجاب حکومت نے اخبارات کو اشتہارات کی مد میں لاکھوں کی رقم دی اور انہوں نے مرزائیوں کے خلاف تحریک کو پروان چڑھایا۔ حالانکہ مجلس عمل کی ترجمانی روزنامہ آزاد کر رہا تھا اور اسے اشتہارات کی مد میں حکومت نے کوئی رقم نہ دی تھی۔ یہ ان کا محض عذر لنگ تھا۔ مجلس عمل کے وکیل مولانا مرتضیٰ احمد خان میکشؒ نے روزنامہ نوائے وقت کا ایک اداریہ پیش کر دیا جس میں درج تھا کہ گاہے بگاہے مرزائیت کے خلاف تحریک اس لئے اٹھتی ہے کہ مرزائیوں کے عقائد گمراہ کن اور اشتعال انگیز ہیں۔ انہیں کے باعث تحریک اٹھتی ہے۔ آپ کا عدالت کا بیان اور اداریہ کا بیان دونوں میں فرق ہے۔ کونسا صحیح ہے تو اس پر وہ ......!
- ٦...... مولانا مظہر علی اظہر سے عدالت نے پوچھا کہ آپ نے قائد اعظم کو کافر کہا
تھا ۔ انہوں نے اپنی تقریر شیخوپورہ کی پیش کی کہ میں نے لیگیوں سے کہا تھا کہ آپ ہمارے رہنماؤں پر الزام تراشی بند کریں ۔ ورنہ میں مسٹر جناح کے سول میرج کی کہانی ساتھ لاؤں گا ۔ وہ لیگ کے لیڈر تھے اور میں احرار کا ۔ تو یہ الیکشنی بیانات ہیں ۔ قائد اعظمؒ نے کہا کہ میرے مطالبات میں خامی نکالیں ۔ آپ میرے ذاتی معاملات میں نقص نہ نکالیں تو بات ختم ہو گئی ۔ اس پر منیر نے کہا کہ اب ان کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میری معلومات کے مطابق انہوں نے سول میرج کے وقت جو بیان دیا تھا وہ واپس نہیں لیا ۔ اس لئے میرا موقف ابھی بھی وہی ہے ۔ اس پر عدالت نے کہا کہ ایسے بیانات پر لوگ قتل ہو جاتے ہیں ۔ مولانا مظہر علی اظہر نے کہا کہ ایسے ہوا تو میں سمجھوں گا کہ مسٹر منیر میرے قتل پر لوگوں کو اکسا رہے ہیں ۔ اس پر عدالت میں سناٹا چھا گیا اور منیر کا منہ لٹک گیا ۔ دوسرے دن فاطمہ جناح کا عدالت کے نام تار آیا کہ آپ اس قسم کے مباحث اٹھا کر میرے بھائی بانی پاکستان کو رسوا کر رہے ہیں ۔ یہ قدرت کی طرف سے منیر کے منہ پر زناٹے دار تھپڑ تھا ۔
- ٧...... اب مرزائی لابی نے مولانا مظہر علی اظہر کا تعاقب کرنا شروع کر دیا ۔ فیصل
آباد سے میاں محمد عالم بٹالوی احراریؒ مولانا مظہر علی کے باڈی گارڈ بنا دیئے گئے ۔ وہ بلا کے ذہین اور بہادر انسان تھے ۔ انہوں نے افواہ پھیلا دی کہ اگر مولانا مظہر علی کو کچھ ہوا تو منیر، بشیر الدین اور ظفر اللہ کی خیر نہیں ۔ اس کی خبر منیر کو پہنچی دوسرے دن عدالت میں منیر نے کہا مسٹر مظہر علی میں کیا سن رہا ہوں ۔ انہوں نے لاعلمی ظاہر کر دی ۔ اب مولانا صاحب کے تعاقب سے مرزائی تھرا اٹھے اور معاملہ ختم ہو گیا ۔
- ٨...... ١٩٥٣ء لاہور کے ضمنی مارشل لاء کے زمانہ میں عیسائی مکین بلدیہ لاہور کا
انچارج تھا ۔ منیر نے اپنی رپورٹ کے ص ١٥٩ پر تسلیم کیا ہے کہ ”ایک پر اسرار جیپ پر فوجی وردی میں ملبوس لوگوں نے اندھا دھند گولیوں کی بوچھاڑ کر دی تھی“ اس پر مرزائی سوار تھے مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا ۔ اخبار جے ہاک سہارن پور کی رپورٹ کے مطابق شہداء کو بلدیہ کے ٹرکوں پر لاد کر کچھ کو راوی کے کنارے پٹرول ڈال کر نذر آتش کیا گیا اور کچھ کو پتوکی کی اونچی کناروں والی نہر کے اونچے کناروں میں دفن کر دیا گیا ۔ فیا حسرتا ۔
(تحریک ختم نبوت ١٩٥٣ء ص ٥٥٣ تا ٥٥٦)
کراچی میں تقرری: تحریک ختم نبوت ١٩٥٣ء کی انکوائری ختم ہوئی تو تحریک کے رہنما
رہا ہوگئے۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کا باضابطہ انتخاب ہوا تو دفتر مجلس تحفظ ختم نبوت بندر روڈ کراچی میں مولانا عبدالرحیم اشعر کو مجلس تحفظ ختم نبوت کا مبلغ بنا کر بھیج دیا گیا۔ مولانا نے جا کر دفتر کھولا۔ رفقاء کو منظم کیا۔ ابتدا میں کام میں دشواری ہوئی تو مولانا عبدالرحیم اشعر نے حضرت جالندھریؒ کو خط لکھا کہ حسب منشاء کام نہیں ہو رہا میں تقریباً فارغ رہتا ہوں تو حضرت جالندھریؒ نے جواب تحریر کیا کہ: ”آپ کا دفتر کھول کر رکھنا بھی کام ہے۔ تحریک ختم نبوت کے حالات کے بعد ختم نبوت کا دفتر کھولنا دشمن کے سینے پر مونگ دلنے کے مترادف ہے۔ اپنے آپ کو بے کار نہ سمجھیں۔ دفتر کھلا رہے۔ کام جاری رکھیں۔ اللہ تعالیٰ مدد کریں گے۔“ اس خط سے آپ کو حوصلہ ملا۔ اس زمانہ میں حضرت جالندھریؒ کے حکم پر آپ کبھی کبھار کراچی حضرت شیخ الاسلام مولانا محمد یوسف بنوریؒ کے درس حدیث میں شریک ہوتے۔ کام شروع ہوا رفقاء مل گئے اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے مولانا اشعر کی مخلصانہ محنت کو قبول فرمایا۔ حضرت حاجی لال حسین صاحبؒ چکوال کے باشندہ تھے۔ حکومت کے اہم سرکاری ملازم تھے۔ ملازمت کراچی میں کرتے تھے۔ ان سے ملاقات ہوئی۔
حضرت مولانا اشعرؒ فرماتے تھے کہ حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ کراچی تشریف لائے۔ حاجی لال حسین صاحب کے ہاں ناشتہ تھا۔ حضرت مولانا ہزارویؒ نے حاجی صاحب کی اعلیٰ ملازمت کی ٹھاٹھ باٹھ، شاہانہ کوٹھی۔ حاجی صاحب کی دین سے وابستگی دیکھی تو مولانا عبدالرحیم اشعرؒ سے فرمایا کہ جب ایسے کسی شخص سے آپ کا تعارف ہو تو فوراً بڑے حضرات، حضرت امیر شریعتؒ، حضرت بنوریؒ، حضرت قاضی صاحبؒ، حضرت جالندھریؒ سے ان کا تعارف کرا دیں اور بزرگوں سے تعلق جوڑوا دیں۔ اس لئے کہ اگر آپ ان کے آئیڈیل ہو گئے تو آپ سے کوئی معمولی لغزش ہوئی تو یہ دین سے دور ہو جائیں گے۔ بڑے حضرات سے ان کا تعلق ہوگا تو آپ کی معمولی لغزش بھی دب جائیگی اور دین سے ان کا تعلق بھی باقی رہے گا۔ چنانچہ مولانا اشعرؒ نے ان اکابر سے حاجی لال حسین صاحب کا آنا جانا شروع کرایا۔ حاجی صاحب مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے امیر مقرر ہوئے۔ عمر بھر امیر رہے۔ مرکزی شوریٰ کے رکن رہے۔ حضرت قاضی صاحبؒ سے تو ان کا دوستانہ ہو گیا۔ گزشتہ چند سالوں میں ان کا انتقال ہوا۔
حضرت مولانا عبدالرحیم اشعرؒ تقریباً ١٩٦٦ء تک کراچی میں بحیثیت مبلغ کے کام کرتے رہے۔ ملتان کینٹ روڈ پر مجلس کا دفتر مرکزی ملکیتی مکمل ہوا۔ کچھ عرصہ بعد حضرت قاضی
صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا انتقال ہوا۔ تو مولانا عبدالرحیم مرکزی مبلغ کے طور پر ملتان تشریف لائے۔ مرکزی مبلغ اور ناظم کتب خانہ کے طور پر کام کرتے رہے۔ آپ کا حلقہ تبلیغ اب پورا ملک ہو گیا۔ کئی جگہ قادیانیوں سے کامیاب مناظرے ہوئے۔ میانوالی میں مناظر اسلام مولانا لال حسین اختر کے معین مناظر تھے۔ اس دوران میں آپ جامعہ فاروقیہ عارف والا میں مجلس کی طرف سے خطبہ جمعہ دیا کرتے تھے جو ان کی صحت کے آخری سالوں تک جاری رہا۔ کم و بیش تیس سال آپ نے جامعہ فاروقیہ عارف والا میں بطور خطیب کے مجلس کی طرف سے ذمہ داری سنبھالی۔
حضرت مولانا لال حسین اختر کے بیرونی سفر کے موقعہ پر مجلس کے قائمقام ناظم اعلیٰ بنے۔ مولانا لال حسین اختر کے زمانہ امارت میں مجلس کے ناظم اعلیٰ رہے۔ حضرت شیخ بنوریؒ کے زمانہ میں مجلس کے ناظم تبلیغ رہے۔ غالباً حضرت مفتی احمد الرحمٰن صاحبؒ کے وصال کے بعد عارضی طور پر کچھ وقت کے لئے نائب امیر رہے۔ غرض قدرت نے آپ کو بہت ہی قبولیت سے نوازا۔ اپنی صحت کے زمانہ میں مجلس کی مرکزی لائبریری کے امین تھے۔ دیانتداری کی بات ہے کہ مجلس کی لائبریری۔ ریکارڈ کے حصول، کتب کی جمع و ترتیب آپ کا وہ سنہری کارنامہ ہے جو آپ کا صدقہ جاریہ ہے۔ وفات سے کچھ عرصہ قبل اپنی تمام ذاتی کتب مجلس کی لائبریری کیلئے وقف کر دیں۔ کتابوں کو نہ صرف جمع کرنے کا شوق تھا بلکہ کتابوں کے مطالعہ کے بھی دھنی تھے۔ کتاب پڑھتے پڑھتے سو جاتے اور جاگتے ہی کتاب کا مطالعہ شروع کر دیتے۔ صحت کے زمانہ میں بلاشبہ سینکڑوں صفحات مطالعہ کا معمول تھا۔ قدرت نے بلا کا حافظہ دیا تھا۔ حوالہ تلاش کرنے میں دیر نہ لگاتے تھے۔ چنانچہ مناظروں، عدالتوں میں آپ کے یہ جوہر خوب دیکھنے میں آئے۔ استاذنا لمناظرین حضرت مولانا لال حسین اختر کا حافظہ بھی بلا کا تھا۔ منہ سے حوالہ مانگتے دیر لگتی تھی۔ فوراً مولانا لال حسین اختر حوالہ بتا دیتے تھے۔ مولانا عبدالرحیم اشعر کا مزاج جدا گانہ تھا۔ جب کوئی حوالہ طلب کرتا۔ آپ کے دماغ کا کمپیوٹر کام شروع کر دیتا۔ ایک کتاب کو ہاتھ لگاتے چھوڑ دیتے۔ دوسری کی طرف دیکھتے تیسری پر نظر ڈالتے۔ چوتھی کو اٹھاتے ورق الٹتے اور حوالہ نکال کر دے دیتے اور یہ کام ایسے منٹوں میں پھرتی سے ہوتا گویا جیسے کمپیوٹر فائلیں بدل رہا ہو۔ مولانا کتب شناسی میں بھی ماہر تھے۔ جلد اور کتاب کا حلیہ دیکھ کر بتا دیتے کہ یہ فلاں کتاب ہے۔ حافظہ کا یہ عالم تھا کہ لائبریری کی ہر کتاب کے متعلق معلوم ہوتا کہ فلاں فن، فلاں الماری کے فلاں تختہ پر موجود ہے۔ وہاں سے
نکال لیں۔ چنانچہ ننانوے فیصد یہ صحیح ہوتا۔ کتاب سے آپ کو عشق تھا۔ عمدہ مضبوط جلد بنوانے کا ذوق تھا۔ ایک ورقہ اشتہار‘ چند صفحاتی پمفلٹ مل جاتا اسے بھی کور کرالیتے تھے۔ مولانا اشعر کے اس ذوق نے مجلس کی کئی مواقع پر کئی مشکلات کو حل کیا۔
آپ نے اپنے گاؤں عنایت پور میں مدرسہ طالب العلوم قائم کیا۔ جامع مسجد بنوائی جو ان کے لئے صدقہ جاریہ ہے۔ مدرسہ میں اس وقت بھی مقیم ومسافر طلبہ قرآن مجید کے حفظ وناظرہ کی تعلیم حاصل کررہے ہیں۔
تحریک ختم نبوت ١٩٧٤ء: میں آپ نے ملک کے طول وعرض کے سفر کئے۔ کانفرنسوں سے خطاب کیا۔ لیکن زیادہ تر اسلام آباد میں شیخ الاسلام حضرت بنوریؒ اور مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمودؒ کی زیر سرپرستی۔ اپنے استاذ فاتح قادیان مولانا محمد حیاتؒ کی معیت میں قادیانیوں پر جرح کے لئے حوالہ جات مہیا کرنا ”موقف ملت اسلامیہ“ کے لئے مواد مہیا کرنے میں مولانا اشعرؒ کا کردار مثالی رہا۔
قادیانیوں کے خلاف جتنے مقدمات عدالتوں میں چلے۔ لوئر کورٹ سے ہائیکورٹ تک وفاقی شرعی عدالت۔ جنوبی افریقہ ان تمام میں مولانا نے مجلس کی طرف سے پوری امت کا فرض کفایہ ادا کیا۔ جنوبی افریقہ کے کیس سے واپسی پر آپ کا ایک انٹرویو اخبار جہاں کراچی میں شائع ہوا۔ اس سے آپ کو حضرت مولانا عبدالرحیم اشعرؒ کی خدمات کا صحیح اندازہ ہوتا ہے۔
بیرونی ممالک کے سفر: ١٣٨٨ھ میں مولانا عبدالرحیم اشعرؒ نے ڈھاکہ کا ایک ماہ کا سفر کیا۔ ١٩٧٥ء میں ڈیڑھ دو ماہ کا سفر انڈونیشیا کا ہوا۔ جنوبی افریقہ دو بار تشریف لے گئے۔ حج کے بھی دوسفر ہوئے۔ یوں برصغیر اور افریقی براعظموں تک مولانا کی آواز حق سے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندگان کو فائدہ کا سامان کردیا۔ مولانا کی خوش بختی پر نظر کریں کہ پنجاب کے ایک غریب پسماندہ علاقہ کے متوسط غریب گھرانہ سے تعلق رکھنے والے شخص کو عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے قدرت نے کہاں کہاں تک پہنچایا۔ ذالک فضل اللہ یوتیہ من یشاء!
حضرت مولانا مرحوم جس طرح پڑھنے کے دھنی تھے لکھنے کے لئے اتنا وقت نہ مل سکا۔ دراصل وہ ایک تحریکی دور تھا۔ اس وقت تصنیف وتالیف کی ان کو کہاں فرصت تھی۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کے شعبہ نشر واشاعت میں جان تو پڑی حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ کی تشریف آوری
پر۔ حضرت لدھیانویؒ اتنے بڑے مؤلف و مصنف تھے کہ ان کے سامنے کسی دوسرے کا چراغ نہ جلتا تھا۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ حوالہ جات میں مدد اور مختلف موضوعات پر لکھنے کے لئے مولانا عبدالرحیم اشعرؔ آپ کو توجہ دلاتے رہتے تھے۔ اس کے باوجود ”مرزا غلام احمد قادیانی کی آسان پہچان“ اور ”بیرونی ممالک میں قادیانی تبلیغ کی حقیقت“ اور ”قادیانیت علامہ اقبال کی نظر میں“ وغیرہ دو تین رسائل مولانا عبدالرحیم اشعرؒ نے بھی تصنیف کئے۔
حضرت مولانا مرحوم ہنس مکھ، دلنواز دوست اور ایک اچھے انسان تھے۔ تکبر نام کی کوئی چیز نہ تھی۔ طبیعت سادہ اور بہت ہی سادہ تھی۔ کھانے پینے، لباس و وضع قطع میں کوئی تکلف نہ برتتے تھے۔ آپ کو قدرت نے ایک وجیہہ چہرہ دیا۔ بسطۃ فی العلم والجسم! کا مصداق تھے۔ بڑے حضرات کے ساتھ کام کرنے کے قدرت نے مواقع دیئے تھے۔ چنانچہ ان اکابر کی روایات کے امین ہو گئے تھے۔ مجلس تحفظ ختم نبوت ان کا اوڑھنا بچھونا تھا۔ وہ مجلس پر دل و جان سے فدا تھے۔ جماعتی حلقہ احباب میں مولانا کا بے حد احترام تھا۔ شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ سے بیعت کا تعلق تھا۔ ان کی وفات کے بعد حضرت مولانا قاضی زاہد الحسینیؒ سے تعلق قائم کیا تھا۔ مولانا اشعرؒ کی خوبی تھی کہ پوری صحت کی زندگی میں یومیہ بلا ناغہ قرآن مجید کی تلاوت کیا کرتے تھے۔ حزب الاعظم کی منزل بھی یومیہ پڑھنے کا معمول تھا۔ ایک اچھے انسان کی تمام خوبیاں ان میں موجود تھیں۔ اکابرین سے محبت عشق کی حد تک کرتے تھے۔ حق تعالیٰ نے آپ کو خوبیوں و محاسن سے ڈھیروں حصہ نصیب کیا تھا۔ مقدر والے انسان تھے۔
١٩٥٤ء کراچی جب تشریف لے گئے چھریرے بدن اور گٹھے ہوئے جسم کے جوان تھے۔ کراچی کی مرطوب ہوا نے ان کو موٹاپے کا روگ دیا۔ پنجاب آئے تو ملک بھر کے دوروں پر شب و روز رہے۔ اس سے موٹاپا رک تو گیا۔ لیکن کم نہ ہوا۔ آخری دس سالوں سے شوگر نے اپنے لوازمات سمیت آن گھیرا۔ سوائے آخری چند دنوں کے وہ کسی کے محتاج نہ ہوئے۔
٢٢ مئی ٢٠٠٣ء جمعرات واصل بحق ہوئے۔ شام ساڑھے چھ بجے جامعہ خیر المدارس کے شیخ الحدیث اور مولانا عبدالرحیم کے ابتدائی دورہ حدیث کے ساتھی حضرت مولانا محمد صدیق صاحب کی اقتداء میں ہزاروں علماء اور عوام کی کثیر تعداد نے جنازہ میں شرکت کی سعادت حاصل کی۔ مغرب کے بعد گویا شب جمعہ کے آغاز میں ان کو رحمت حق کے سپرد کر دیا گیا۔ منوں مٹی کے
نیچے پون صدی دین کی خدمت کرنے والے مجاہد‘ مناظر‘ عالم دین‘ حق گو‘ محبتیں تقسیم کرنے والی عظیم شخصیت کی سنہری تاریخ کا ایک باب ختم ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ نے کرم کیا۔ فقیر‘ مولانا عبدالرحیم اشعرؒ کی وفات والے دن سندھ سے واپس بہاول پور آیا تھا۔ بہاول نگر جانا تھا کہ اطلاع ہو گئی۔ جنازہ اور دیدار اور آخری الوداعی ملاقات نصیب ہو گئی۔ یہ حضرت مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری مدظلہ، مولانا عبدالرحیم اشعرؒ کے کراچی قیام کے دوران جامعہ بنوری ٹاؤن میں دورہ حدیث کر رہے تھے۔ مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری مدظلہ کے مولانا مرحوم سے اس زمانہ کے دوستانہ تعلقات تھے۔ بعد میں جماعتی تعلقات بھی ہو گئے۔ آخری عمر تک ایک دوسرے کو جگری بھائیوں کی طرح چاہا۔ حضرت مولانا بھی محترم عزیز الرحمٰن رحمانی کے ساتھ ملتان سے تشریف لائے۔
حضرت مولانا محمد شریف بہاولپوریؒ کے جانشین حضرت مولانا عطاء الرحمٰن شیخ الحدیث و رئیس الجامعہ المدنیہ بہاول پور‘ مولانا محمد الحق ساقی‘ مولانا عبدالرحیم مرحوم کے جگری دیرینہ دوست پروفیسر عطاء اللہ اعوان بہاول پور سے‘ شجاع آباد سے مولانا زبیر احمد رئیس جامعہ فاروقیہ کی سربراہی میں علماء کی جماعت جامعہ خیرالمدارس کے اساتذہ کرام پر مشتمل وفد ایک بڑی وین کے ذریعہ ۔ جلالپور پیروالا کے گردونواح کی دینی قیادت اور علماء کرام کی بہت بڑی جماعت جنازہ میں موجود تھی۔ حضرت مولانا عبدالرحیمؒ کے نام کے ساتھ اشعر کا لاحقہ آپ کے جگری دوست ابن امیر شریعت حضرت مولانا سید عطاء المنعم بخاریؒ نے جوڑا تھا۔ حضرت مولانا اشعرؒ اپنے اکابر کے پاس چلے گئے اور ہم تعزیتی نوٹ لکھنے اور محرومیوں کے آنسو بہانے کے لئے رہ گئے۔ وہ چلے گئے۔ ہم تیار بیٹھے ہیں۔ ان جانے والوں کے ذریعہ مرحوم اکابر کے پاس ہمارے کام کی رپورٹ پہنچ رہی ہے۔ حضرت مولانا اشعرؒ تو اپنے سنہری کارناموں کے باعث اکابر کی ارواح کے اجتماع میں یقیناً سرخرو ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی عالم ارواح میں اپنے اکابر کے پاس رسوا نہ فرمائیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو دنیا و آخرت کی رسوائیوں سے بچا کر دارین کی سعادتوں سے نوازیں۔ قیامت کے دن آنحضرت ﷺ کی شفاعت عظمیٰ نصیب ہو جائے۔ آخری وقت تک اللہ تعالیٰ خدمت ختم نبوت سے محروم نہ فرمائیں۔ سوائے اپنے دروازہ کے کسی کا محتاج نہ بنائیں۔ آمین!
(لولاک جمادی الاول ١٤٢٤ھ)
٦٧...... جناب حاجی غوث بخش ڈینہؒ
وفات.......٢٧ مئی ٢٠٠٣ء
تحصیل علی پور کے دیرینہ جماعتی رہنما ڈینہ برادری کے بزرگ محترم حاجی غوث بخش ٢٧ مئی منگل دوپہر کو انتقال فرما گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون!
محترم حاجی صاحبؒ نے ناظرہ قرآن مجید اور ابتدائی چند عربی کتب ماکیوالی کے عالم دین حضرت مولانا حبیب اللہ مرحوم سے پڑھیں۔ آگے تعلیم جاری نہ رکھ سکے۔ اس زمانہ میں مجلس احرار اسلام کا طوطی بولتا تھا۔ چنانچہ یہ احرار میں نہ صرف شامل ہوئے بلکہ حضرت امیر شریعتؒ سے شرف بیعت بھی حاصل کیا۔ زندگی بھر حق کی سربلندی کے لئے کوشاں رہے۔ بدعات ورسوم کے خلاف برہنہ شمشیر تھے۔ اکابر علماء حق سے اخلاص کا رشتہ رکھتے تھے۔ جب مجلس تحفظ ختم نبوت کا قیام عمل میں لایا گیا تو اس میں نہ صرف شامل ہوئے بلکہ حضرت مولانا محمد شریف بہاولپوریؒ کی تحریک پر خود اور برادری کے دوسرے سرکردہ حضرات کے ساتھ مل کر قطعہ اراضی چوک پرمٹ پر مجلس تحفظ ختم نبوت کے لئے وقف کیا۔ عمر بھر اس مدرسہ کی ترقی کے لئے کوشاں رہے۔ حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری سے اکابرانہ احترام کا تعلق رکھتے تھے۔ حضرت مولانا جب سالانہ جلسہ پر تشریف لے جاتے جلد واپسی کا اصرار کرتے تو محبت کے ہاتھوں مجبور ہو کر سیخ پا ہو جاتے کہ آپ ہمارے ہاں رات قیام کیوں نہیں کرتے۔ حضرت امیر شریعتؒ کی اولاد سے آخر وقت تک احترام ومحبت کا رشتہ قائم رکھا۔ ٩٠ سال کی عمر پائی۔ آخری وقت تک چاک وچوبند رہے۔ وفات سے چند گھنٹے قبل عالم بالا سے تعلق قائم ہوا۔ اپنے بزرگوں کو اس حالت میں دیکھا تو فرمایا کہ لو وہ مجھے لینے کے لئے آ گئے۔ اس کے بعد ٹھیک ہو گئے۔ مولانا عبدالکریم سے باتیں کیں۔ ان بزرگوں کے آنے کا تذکرہ کیا اور یقین ہو گیا کہ اب یہ مہمان ہیں۔ چنانچہ ایسے ہوا۔ اس شان میں دنیا سے رخصت ہوئے اور وفات کے بعد قابل رشک چہرہ ان کے جنتی ہونے کی گواہی پیش کر رہا تھا۔ دوسرے روز بدھ کو حضرت مولانا عبدالکریم کی امامت میں جنازہ ہوا۔ اور مرحوم کو آبائی قبرستان میں رحمت حق کے سپرد کر دیا گیا۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کو کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائیں۔ آمین!
(لولاک جمادی الاول ١٤٢٤ھ)
”٦٨......حضرت مولانا قاری دین محمد پانی پتیؒ“
وفات......نومبر ٢٠٠٣ء
جامعہ فتح العلوم چنیوٹ کے بانی و ناظم حضرت مولانا قاری دین محمد صاحبؒ ١٠ رمضان المبارک ١٤٢٤ھ کو رات دس بجے انتقال فرما گئے۔ اناللہ وانا الیہ راجعون!
حضرت قاری صاحبؒ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد گرامی قاری عبدالرحیم پانی پتیؒ سے حاصل کی۔ دورہ حدیث شریف جامعہ خیر المدارس ملتان میں کیا۔ حضرت مولانا خیر محمد جالندھریؒ حضرت مولانا محمد شریف کشمیریؒ آپ کے حدیث کے استاذ تھے۔ حضرت قاری رحیم بخش پانی پتی ؒ سے قرأت کی تعلیم حاصل کی۔
حضرت مولانا قاری فتح محمد صاحبؒ پانی پتی سے آپ کے نیاز مندانہ تعلقات تھے۔ حضرت مولانا خیر محمد جالندھریؒ حضرت مولانا قاری فتح محمدؒ پانی پتی، حضرت ڈاکٹر عبدالحیّ عارفی صاحبؒ اور ڈاکٹر حفیظ اللہ صاحبؒ سے آپ کا بیعت کا تعلق رہا۔ آخر الذکر شیخ سے آپ کو خرقہ خلافت بھی عطا ہوا۔
حضرت قاری دین محمد صاحبؒ کا وجود بسا غنیمت تھا۔ ان کے پہلو میں دل دردمند تھا۔ عمر بھر تعلیم و تبلیغ سے آپ کا رشتہ رہا۔ انکساری و عاجزی، صبر و رضا کی مجسم تصویر تھے۔ آپ کا مدرسہ فتح العلوم چنیوٹ کا معروف مستند تعلیمی ادارہ ہے۔ اس کی ترقی و تعمیر میں آپ کی عمر بھر کی محنت کو دخل ہے۔ ارائیں پانی پتی برادری کے وہ چشم چراغ تھے۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے دل و جان سے خیر خواہ تھے۔ ختم نبوت کانفرنس چنیوٹ اور پھر چناب نگر کے موقعہ پر مدرسہ میں چھٹیاں کرکے تمام اساتذہ اور طلباء کو اس میں شرکت کا پابند کرتے۔ مجلس کے قائم کردہ مدرسہ تعلیم القرآن ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر کے امتحانات کے موقعہ پر تشریف لاتے۔ امتحان کے علاوہ مفید مشوروں سے نوازتے۔ حق تعالیٰ ان کی قبر کو بقعہ نور بنائیں۔
(لولاک ذیقعدہ ١٤٢٤ھ)
٦٩...... حضرت مولانا امام الدین قریشیؒ
وفات..... نومبر ٢٠٠٣ء
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ڈیرہ غازی خان ڈویژن کے مبلغ حضرت مولانا امام الدین قریشیؒ ٢ رمضان المبارک ١٤٢٤ھ کو بہاول پور کے وکٹوریہ ہسپتال میں عارضہ قلب کے باعث وصال فرما گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون! حضرت مولانا امام الدین قریشی مرحوم لودھراں کے نواحی علاقہ شاہنال کے رہائشی تھے۔ ابتدائی تعلیم قصبہ مڑل‘ گوگڑاں‘ ضلع لودھراں اور شجاع آباد میں حاصل کی۔ آپ کے اساتذہ میں حضرت مولانا محمد عبداللہ بہلویؒ حضرت مولانا عبد الہادی عباسیؒ حضرت مولانا غلام محمد جہانیاںؒ حضرت مولانا سید بشیر احمد شاہ بخاریؒ خصوصیت سے قابل ذکر ہیں۔ ملتان کے قدیم مدرسہ جامعہ عبیدیہ قدیر آباد میں بھی تعلیم حاصل کی۔ دنیا پور کے قریب ایک گاؤں میں امامت و خطابت کے فرائض ایک عرصہ تک سرانجام دیئے۔ بعد ازاں اسلامی مشن بہاول پور میں بھی خدمات سرانجام دیں۔
اسی زمانہ میں خطیب اسلام حضرت مولانا عبدالشکور دین پوری مرحوم سے مراسم قائم ہوئے تو کچھ عرصہ مجلس حقوق اہل سنت سے وابستہ رہے۔ تقریباً گزشتہ بیس سال سے مجلس تحفظ ختم نبوت کے شعبہ تبلیغ سے وابستہ تھے۔ ڈیرہ غازی خان‘ مظفر گڑھ اور لیہ میں مجلس کے مبلغ رہے۔ اس پورے دور میں آپ کا ہیڈ کوارٹر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا مدرسہ دار الہدیٰ چوک پرمٹ ضلع مظفر گڑھ رہا۔ آپ انتھک‘ محنتی‘ جفاکش اور باہمت عالم دین تھے۔ دور دراز دیہاتوں میں سائیکل پر سفر کر کے تبلیغ اسلام کا فریضہ انجام دینا آپ کا معمول تھا۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے جو کام آپ کے ذمہ لگتا اسے آپ بخیر و خوبی انجام دینے کے لئے جان جوکھوں میں ڈال کر قابل رشک مثال قائم کرتے۔
قدرت نے آپ کو بہت سادہ طبیعت عطا فرمائی تھی۔ وہ دوستوں کے دوست تھے۔ ہنس مکھ اور خوش مزاج تھے۔ جس مجلس میں آپ ہوتے اس میں دوستوں کی دل لگی کا باعث ہوتے۔ خود بھی باغ و بہار طبیعت کے مالک تھے اور حاضرین کو بھی سدا بہار بنا دیتے تھے۔
قدرت نے آپ کو بلا کا گلا عطا فرمایا تھا۔ جہیر الصوت واحسن الصوت تھے۔ قرآن مجید کی تلاوت اور تقریر ترنم سے کرتے تو دیہاتی عوام کے دل موہ لیتے۔ اردو اور سرائیکی کے اچھے واعظ تھے۔ جہاں جلسہ یا کانفرنس ہوتی وہاں تلاوت، نظم ونعت اور تقریر سے تھوڑی دیر میں جم غفیر جمع کر لیتے تھے۔ دور دراز کے علاقوں میں جہاں دشوار گزار سفر ہوتا وہاں آپ کے نام کا قرعہ پڑتا تو دل و جان سے تیار ہو جاتے۔ سندھ اور سرگودھا کے علاقوں میں آپ کی بار ہا تشکیل ہوئی۔ جہاں گئے کامیاب لوٹے۔ چناب نگر ختم نبوت کانفرنس کے دعوتی پروگراموں پر نکلتے تو گردونواح کے دیہاتوں میں دھوم مچا دیتے۔ ہمیشہ چناب نگر ختم نبوت کانفرنس میں آپ کا ابتدائی بیان ہوتا تھا۔ بہت ہی خوش الحان مقرر تھے۔ عام فہم اور سادہ گفتگو کرتے۔ اشعار سے تقریروں میں ایک سماں باندھ دیتے تھے۔ دو دن لگا تار جلسہ جاری رہتا تب بھی رات گئے تک اسٹیج پر براجمان رہتے۔ مقرر کو داد دینے اور جہیر الصوت ہونے کے باعث نعرے لگوانے میں بہت سخی طبیعت واقع ہوئے تھے۔ قرآن مجید کی روزانہ تلاوت آپ کا معمول تھا۔ اپنی تمام اولاد کو دینی تعلیم دلانے کے حریص تھے۔ اپنی دو صاحبزادیوں کو حافظہ وعالمہ کا کورس کرایا۔ حضرت مولانا امام الدین قریشی مرحوم بہت ہی خوبیوں کے مالک تھے۔ عرصہ سے حج کی خواہش تھی۔ اس سال حج کے لئے درخواست جمع کرائی۔ قرعہ اندازی میں آپ کا نام نکل آیا جس پر بہت خوش تھے۔ گویا برسوں کی خواہش پوری ہوتی دیکھ کر سراپا تیاری بن گئے تھے۔ لیکن قدرت الہی کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ بجائے بیت اللہ شریف حاضر ہونے کے رب البیت کے حضور حاضر ہو گئے اور ”دل کی بے قراری کو قرار آ گیا“ کے مصداق ہو گئے۔
حضرت مولانا امام الدین قریشی مرحوم شوگر کے عارضہ میں مبتلا تھے۔ لیکن انہوں نے بیماری کو اپنے اوپر مسلط نہیں کیا تھا۔ معمولی ادویات کے استعمال پر اکتفا کرتے۔ زیادہ پرہیز کے بھی خوگر نہ تھے۔ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر سے واپسی پر ملتان دفتر تشریف لائے۔ ایک دو روز قیام کیا۔ پھر گھر اور وہاں سے مدرسہ دارالہدیٰ چوک پرمٹ چلے گئے۔ طبیعت ناساز ہوئی تو ملتان دفتر آ گئے۔ علاج ہوتا رہا۔ مجلس لگتی رہی۔ صبح و شام کے معمولات جاری رہے۔ ایک آدھ دن کے
لئے ملتان میں ہی اپنے صاحبزادے کے ہاں چلے گئے۔ گھر سے اہلیہ کو بلا لیا۔ پھر واپس دفتر آگئے۔ علاج جاری رہا۔ رمضان المبارک میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام گزشتہ پچاس سالوں سے جامع مسجد الصادق بہاول پور میں پہلے پندرہ دن مختلف مجلس کے اکابر و مبلغین حضرات کے فجر کی نماز کے بعد درس ہوتے ہیں۔ امسال ابتدائی درس آپ کے تھے۔ وہاں جانے کے لئے تیار ہو گئے۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت جماعت کے مرکزی ناظم اعلیٰ حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری مدظلہ نے انہیں روکا کہ آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔ آپ نہ جائیں۔ ہم متبادل انتظام کرتے ہیں۔ لیکن بڑے اصرار سے یہ کہہ کر ان سے اجازت حاصل کی کہ میری طبیعت ٹھیک ہے۔ بہاول پور میں تعارف ہے۔ حضرت مولانا محمد اسحق ساقی سے دوستانہ اور گھریلو مراسم ہیں۔ ان سے طبیعت بہت مانوس ہے۔ وہاں بھی دفتر مرکزیہ جیسی سہولت ملے گی۔ گھر بھی قریب ہے۔ صبح کا ایک گھنٹہ بیان ہوتا ہے وہ کوئی مسئلہ نہیں۔ مجھے جانے کی اجازت مرحمت فرمائیں۔ حضرت ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمن جالندھری مدظلہ نے ان کے پیہم اصرار کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے۔ حضرت مولانا امام الدین قریشی مرحوم و مغفور روانہ ہو گئے۔ یہ سفر سفر آخرت ثابت ہوا۔ گھر کے کیا قریب ہوئے کہ آپ ابدی گھر آخرت ہی کو سدھار گئے۔
انتقال کا واقعہ یوں ہوا کہ حضرت مولانا امام الدین قریشی مرحوم جب بہاول پور دفتر پہنچے تو طبیعت سفر کے باعث مضمحل تھی۔ حضرت مولانا محمد اسحق ساقی نے ماہر ڈاکٹروں کو دکھایا۔ انہوں نے ہسپتال میں داخل کر لیا۔ لیکن معمولی صاحب فراش رہ کر آپ نے علاج معالجہ کی سہولتوں سے منہ موڑ کر اپنا رخ بیت اللہ کی طرف کر لیا اور کلمہ شہادت کا ورد کرتے ہوئے سفر آخرت پر روانہ ہو گئے۔
حضرت مولانا محمد اسحق ساقی نے آپ کی تجہیز و تکفین کا اہتمام کیا۔ ان کی میت کو ایمبولینس کے ذریعہ ان کے آبائی گاؤں لے جایا گیا۔ اگلے دن ٣ رمضان المبارک کو حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری مدظلہ نے آپ کا جنازہ پڑھایا۔
(لولاک شوال المکرم ١٤٢٤ھ)
٧٠......حضرت مولانا شاہ احمد نورانیؒ
وفات......١١؍دسمبر ٢٠٠٣ء
مجاہد ختم نبوت حضرت مولانا شاہ احمد نورانیؒ ١١؍دسمبر ٢٠٠٣ء بروز جمعرات دل کے عارضہ سے چل بسے۔ انالله وانا اليه راجعون! اس افتراق وتشتت کی مسموم فضا میں حضرت مولانا شاہ احمد نورانیؒ کا وجود قدرت کا عطیہ تھا۔ وہ اس دھرتی پر اتحاد بین المسلمین کا نشان تھے۔ ان کی ذات گرامی خوبیوں کا مجموعہ تھی۔ تمام مکاتب فکر کے لئے ان کی ذات گرامی قابل احترام تھی۔ انہوں نے اس مشکل وقت میں تمام مسالک و مکاتب فکر کو ایک سٹیج پر جمع کر کے قابل رشک کارنامہ سرانجام دیا۔ ان کی گوناگوں شخصیت کا ہر پہلو آبدار موتی کی طرح تابندہ و درخشندہ ہے۔ ان کی شخصیت عشق رسالتؐ کی چلتی پھرتی تصویر تھی۔ انہوں نے آنحضرت ﷺ کے وصف خاص اور امتیازی نشان عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے وہ گرانقدر خدمات سرانجام دیں جس پر وہ پوری امت کی طرف سے مبارک باد کے مستحق تھے۔
حضرت مولانا شاہ احمد نورانیؒ کا ظاہر و باطن ایک تھا۔ وہ جس کام کو کرتے دل و جان سے اسے دین سمجھ کر کرتے تھے۔ عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کو وہ اپنا مقدس مشن سمجھتے تھے۔ ان کو یہ مشن اپنے والد گرامی حضرت مولانا شاہ عبدالعلیم صدیقیؒ سے ورثے میں ملا تھا۔ حضرت مولانا شاہ عبدالعلیم صدیقیؒ نے رد قادیانیت پر دو گرانقدر رسالے تحریر کئے۔ ضلع گورداسپور مرزا غلام احمد قادیانی کی جنم بھومی میں ان کے کئی تبلیغی دورے ہوئے۔ ان اسفار میں مناظر اسلام حضرت مولانا لال حسین اخترؒ ساتھ تھے۔
مناظر اسلام حضرت مولانا لال حسین اخترؒ ١٩٥٣ء کی تحریک ختم نبوت میں کراچی میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ تھے۔ ١٩٥٣ء کی تحریک کی نیو اٹھانے والوں میں صف اول میں نہ صرف شریک تھے بلکہ اس کے بنیادی رکن رکین تھے۔ اس زمانہ کے حالات سناتے ہوئے حضرت مولانا لال حسین اخترؒ فرمایا کرتے تھے کہ حضرت مولانا شاہ احمد نورانیؒ بڑے قدرشناس اور اپنے بزرگوں کے رفقاء کے بہترین قدردان ہیں۔ حضرت مولانا لال حسین اخترؒ نے جب ان
سے ذکر کیا کہ آپ کے والد گرامی حضرت مولانا شاہ عبدالعلیم صدیقیؒ کے ساتھ میرے فلاں فلاں سفر ہوئے تو حضرت مولانا شاہ احمد نورانیؒ ہمیشہ حضرت مولانا لال حسین اخترؒ کو چچا جان یا چچا حضور کہہ کر مخاطب کرتے تھے۔ ١٩٥٣ء کی تحریک ختم نبوت میں حضرت مولانا عبدالحامد بدایونیؒ حضرت مولانا سید ابوالحسنات قادریؒ نے ملک بھر میں ختم نبوت کے جھنڈا کو حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ اور دیگر اکابر کے ساتھ بلند کیا۔ اور آخری سانس تک ختم نبوت کے پرچم کو لہراتے رہے۔ لیکن اس تحریک میں کراچی کی سطح تک حضرت مولانا شاہ احمد نورانیؒ کی خدمات بھی سنہری حروف سے لکھنے کے قابل ہیں۔
تحریک ختم نبوت ١٩٧٤ء میں مجاہد اسلام حضرت مولانا شاہ احمد نورانیؒ ، مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمودؒ اور شیخ الاسلام حضرت مولانا محمد یوسف بنوریؒ اور ان کے گرامی قدر تمام مکاتب فکر کے رہنماؤں کی دینی مثبت سوچ اور بلند کرداری نے پوری تحریک کو ملک بھر میں فتنہ قادیانیت کے استیصال کے لئے شعلہ جوالا بنادیا۔ اس تحریک میں جب قادیانی مسئلہ قومی اسمبلی میں زیر بحث آیا اس وقت قائد حزب اختلاف حضرت مولانا مفتی محمودؒ تھے۔ حزب اختلاف کی طرف سے قرار داد پیش کرنے کی سعادت اللہ تعالیٰ نے حضرت مولانا شاہ احمد نورانیؒ کو بخشی۔ قومی اسمبلی میں قادیانی گروہ کے سربراہ مرزا ناصر کے محضر نامہ کے جواب میں ”ملت اسلامیہ کا موقف“ پڑھنے کی سعادت اللہ تعالیٰ نے مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمودؒ کو عنایت فرمائی۔ جناب پروفیسر غفور احمدؒ جناب چوہدری ظہور الٰہی یہ پوری ٹیم یک جان و یک زبان تھی۔ باہمی تقسیم کار کے تحت ایک دوسرے کے لئے دل و جان ایک کر دیئے گئے۔
حضرت مولانا شاہ احمد نورانیؒ نے اس تحریک کے بعد اندرون و بیرون ملک جو دورے کئے ان کا نکتہ آغاز و نکتہ اختتام فتنہ قادیانیت کا محاسبہ ہوتا تھا۔ ان گنت قادیانیوں نے ان کے ہاتھ پر قبول اسلام کی سعادت حاصل کی۔ شیخ الاسلام حضرت مولانا محمد یوسف بنوریؒ مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمودؒ کے بعد حضرت مولانا شاہ احمد نورانیؒ نے ختم نبوت کے پرچم کو سرنگوں نہیں ہونے دیا۔
جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم کے دور اقتدار میں قادیانیوں نے پر پرزے نکالنے شروع کئے تو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ اور آل پارٹیز مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے صدر
حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ناظم اعلیٰ حضرت مولانا محمد شریف جالندھریؒ کے ہمراہ کراچی میں حضرت مولانا شاہ احمد نورانیؒ سے ملاقات کی۔ حضرت مولانا شاہ احمد نورانیؒ نے اپنی نیابت کے لئے حضرت مولانا عبدالستار خان نیازیؒ اور حضرت مولانا مفتی مختار احمد نعیمیؒ کو اس کام کے لئے وقف کر دیا۔ چنانچہ تحریک ختم نبوت ١٩٨٤ء کی کامیابی میں تمام مکاتب فکر کے اکابر کی طرح ان حضرات کی سنہری خدمات سے کون انکار کر سکتا ہے۔
امتناع قادیانیت آرڈیننس کے اجراء کے بعد حضرت نورانی میاںؒ قادیانی فتنہ کے احتساب کے لئے پہلے سے زیادہ چوکنے ہو گئے۔ حضرت مولانا مفتی مختار احمد نعیمیؒ کی وفات کے بعد اپنی جماعت جمعیت علمائے پاکستان پنجاب کے رہنما سردار محمد خان لغاری کو مجلس عمل تحفظ ختم نبوت میں اپنی جماعت کی طرف سے نمائندگی کے لئے متعین فرمایا۔
اپریل ٢٠٠٠ء میں سردار محمد خان لغاری کراچی سے ملتان تشریف لائے اور حضرت مولانا شاہ احمد نورانیؒ کا پیغام دیا کہ قادیانی فتنہ کی ارتدادی سرگرمیوں پر غور و فکر کے لئے تمام دینی و سیاسی جماعتوں کے سربراہوں کی مشاورت ضروری ہے۔ آل پارٹیز قومی ختم نبوت کنونشن لاہور میں منعقد کرنے کی اہمیت پر مولانا نورانی میاںؒ نے نہ صرف زور دیا بلکہ تاریخ بھی مقرر کر دی۔ اور قائد جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمن سے ملاقات اور ان سے وعدہ کے لئے راقم الحروف کی ڈیوٹی لگی۔ راقم نے خانقاہ سراجیہ حاضر ہو کر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم سے صورت حال عرض کی۔ آپ نے اس تجویز کو سراہا اور اپنے صاحبزادگان کے ہمراہ مجھے ڈیرہ اسماعیل خان قائد اسلامی انقلاب حضرت مولانا فضل الرحمن سے ملاقات کے لئے روانہ فرمایا۔ حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب سے جا کر رپورٹ عرض کی۔ حضرت مولانا نے نہ صرف اتفاق فرمایا بلکہ شرکت کا وعدہ کیا۔ اب مشکل یہ تھی کہ جو تاریخ حضرت نورانی میاںؒ نے بتائی تھی اس تاریخ کو حضرت مولانا فضل الرحمن فارغ نہ تھے۔
چنانچہ حضرت مولانا فضل الرحمن نے اپنے ذمہ لیا کہ حضرت نورانی میاںؒ سے فون پر بات کر کے تاریخ کا تعین کریں گے۔ ہم لوگ خانقاہ سراجیہ حاضر ہوئے۔ ہماری حاضری سے پہلے حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب کا فون آ چکا تھا کہ ٨ مئی ٢٠٠٠ء کو لاہور میں آل پارٹیز قومی
کنونشن ہوگا اور حضرت نورانی میاںؒ اس کے میزبان ہوں گے۔ حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب ٦ مئی کو ملتان ختم نبوت کانفرنس پر تشریف لائے۔ اگلے دن حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم کے ہمراہ لاہور کا سفر کیا۔ لاہور میں ٨ مئی کو حضرت مولانا شاہ احمد نورانیؒ کی زیر صدارت قومی ختم نبوت کانفرنس ایمبیسیڈر ہوٹل میں ہوئی جس سے پورے ملک میں ختم نبوت کے کاز کو اجاگر کرنے کا لائحہ عمل طے ہوا۔
چنانچہ اس کے بعد حضرت نورانی میاںؒ حضرت مولانا فضل الرحمن، حضرت مولانا معین الدین لکھویؒ جناب علی غضنفر کراروی نے دیگر رہنماؤں کے ساتھ ختم نبوت کانفرنس سکھر میں شرکت کی۔ اس کی میزبانی کا اعزاز عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کو بخشا گیا۔ کراچی میں ختم نبوت کانفرنس میں بیرون ملک سفر پر ہونے کے باعث تشریف نہ لاسکے۔ لیکن اپنی نمائندگی کے لئے جناب پروفیسر شاہ فرید الحق کو بھیجا۔ چنانچہ جناب شاہ فرید الحق، جناب پروفیسر غفور احمد، حضرت مولانا فضل الرحمن اور دیگر رہنماؤں کی شرکت نے کانفرنس کو مثالی طور پر کامیاب کیا۔ حضرت مولانا شاہ احمد نورانیؒ نے علی پور کی ختم نبوت کانفرنس میں شرکت کر کے جنوبی پنجاب کے مسلمانوں کی پیاس کو بجھایا۔
اکتوبر ٢٠٠٢ء کی سالانہ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر میں آپ نے شرکت فرمائی۔ محترم جناب قاضی حسین احمد، حضرت مولانا محمد لقمان علی پوریؒ حضرت مولانا سید ضیاء اللہ شاہ بخاری کے ایک اجلاس میں بیان ہوئے۔ اگلے دن اختتامی بیان حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب کا ہوا۔
جنرل پرویز مشرف کے دورِ اقتدار میں ووٹر فارم کی فہرستوں میں مسلم و غیر مسلم کی علیحدہ علیحدہ فہرستوں کی بجائے ایک کر دیا گیا۔ اور ووٹر فارموں سے ختم نبوت کا حلف نامہ حذف کر دیا گیا۔ اس کے لئے حضرت مولانا صاحبزادہ خلیل احمد صاحب کے ہمراہ یکم مئی ٢٠٠٢ء کو راقم الحروف نے ڈیرہ اسماعیل خان جا کر حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب سے صورت حال عرض کی۔ اگلے دن ٢ مئی کو ملتان مدرسہ ہدایت القرآن میں حضرت مولانا شاہ احمد نورانیؒ سے صورت حال بیان کی تو مولانا نورانی میاںؒ یہ سن کر تڑپ گئے۔ فرمایا کہ آپ لوگ ہمت کریں میں آپ کے ساتھ ہوں۔ ہمارے ہوتے ہوئے ختم نبوت پر آنچ آئے۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ ایسی ایمان پرور گفتگو سے ڈھارس بندھائی اور کامیابی نچھاور ہوتی نظر آئی۔ ہم نے رخصت چاہی تو سرو قد کھڑے ہوگئے۔ گلے لگایا۔ ان کی دل آویز مسکراہٹوں سے ان کے دل کی وسعتوں کا دریا رواں ہوتا نظر آیا۔
پورے ملک میں اس پر محنت ہوئی ۔ ٢٨ مئی کو قومی ختم نبوت کانفرنس لاہور میں منعقد ہوئی ۔ اس کنونشن کی میز بانی حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب اور جمعیت علمائے اسلام نے کی ۔
چنانچہ اگلے روز ٢٩ مئی ٢٠٠٢ء کو حکومت نے اپنے اقدام کو واپس لے لیا ۔ ووٹر فارموں کی علیحدہ علیحدہ تیاری اور ختم نبوت کے حلف نامہ کی بحالی کا اعلان ہو گیا ۔ اس پوری جدو جہد میں حضرت مولانا شاہ احمد نورانیؒ قدم بقدم نہ صرف باخبر رہے بلکہ آپ نے اپنی خداداد قائدانہ صلاحیتوں سے ختم نبوت کے پرچم کو بلند سے بلند تر رکھا ۔
١٤ اپریل ٢٠٠٣ء کو بعد از عشاء ختم نبوت کانفرنس قلعہ کہنہ قاسم باغ ملتان میں دیگر رہنماؤں کے ساتھ آپ نے بھی خطاب فرمایا ۔ ١٥ اپریل کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب نے آپ کے اور دیگر رہنماؤں کے اعزاز میں دفتر مرکزیہ میں صبحانہ کا اہتمام کیا ۔ صبحانہ کی تقریب سے فارغ ہو کر حضرت مولانا شاہ احمد نورانیؒ نے اپنے ساتھی جناب قاری زوار بہادر کو قصیدہ بردہ پڑھنے کا حکم فرمایا۔ انہوں نے خوش الحانی سے اسے پڑھا تو روحانی مجلس نے عشق رسالت مآب ﷺ کا جو رنگ اختیار کر لیا ۔ وہ منظر کبھی نہیں بھولے گا کہ حضرت خواجہ خان محمد صاحب نے دعا کے لئے حضرت نورانی میاں کو فرمایا لیکن انہوں نے کمال محبت سے حضرت خواجہ صاحب کے ہاتھ پکڑ کر دعا کرانے کے لئے بلند کر دئیے ۔ اس سے باہمی احترام کا جو تاثر قائم ہوا وہ حاصل مجلس قرار دیا جا سکتا ہے ۔
اس موقع پر حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب نے ذکر فرمایا کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی یادگار لائبریری ہے ۔ اسی لائبریری سے قومی اسمبلی میں آپ نے اور میرے والد گرامی مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمودؒ نے کیس لڑا تھا ۔ یہ سنتے ہی لائبریری کے معائنہ کے لئے دیوانہ وار کھڑے ہو گئے ۔ حضرت مولانا فضل الرحمن، حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری نے لائبریری کا معائنہ کرایا ۔ پون گھنٹہ تک لائبریری کے مختلف شعبہ جات کو گہری نظر سے دیکھتے رہے ۔ اس دن انکشاف ہوا کہ ایک عالم دین اور قومی رہنما ہونے کے ناطے ہزاروں مصروفیات کے باوجود آپ کو کتابوں سے کتنا عشق ہے ۔ حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب نے باتوں باتوں میں حضرت مولانا شاہ احمد نورانیؒ کی ذاتی لائبریری کی وسعتوں کا ذکر کیا تو حضرت مولانا شاہ احمد نورانیؒ کا کتب سے عشق واشگاف ہو گیا ۔ آبدیدہ ہو گئے اور فرمایا کہ مولانا کتابیں ہی تو اصل میرا سرمایہ
ہیں ۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مطبوعات کا سیٹ حضرت مولانا فضل الرحمن نے پیش کیا تو کتابوں کے بھاری بھرکم بنڈلوں کو ہاتھوں سے حضرت مولانا شاہ احمد نورانی مرحوم نے اٹھایا۔ سینہ سے لگایا۔ چوما۔ سر آنکھوں پر ان اداؤں سے رکھا کہ تمام حاضرین دل گرفتہ و آبدیدہ ہو گئے کہ ایک عالم دین کو یوں کتابوں سے محبت ہونی چاہئے ۔
حضرت مولانا شاہ احمد نورانیؒ نے حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری کا کاندھا شفقتوں و محبتوں سے تھپکا کر فرمایا کہ مولانا اتحاد امت سے ہی ختم نبوت کے محاذ کو مضبوط کرنا اصل دین کی اور امت محمدیہ کی خدمت ہے۔ گزشتہ الیکشن مہم میں خانقاہ سراجیہ کندیاں تشریف لے گئے۔ حضرت امیر مرکزیہ نے آپ کے اعزاز میں استقبالیہ دیا۔ لائبریری دیکھی۔ ذخیرہ کتب کو دیکھ کر آپ پر وجد کی کیفیت طاری ہوگئی۔
زندگی بھر حضرت مولانا شاہ احمد نورانیؒ جس کام کی سر پرستی کرتے رہے آج ان کی وفات نے وہ سہارا امت سے چھین لیا۔ حق تعالیٰ ان کی تربت کو بقعہ نور بنائے کہ وہ ختم نبوت کے مجاہد اور قائد تھے۔ عاش سعیداً و مات سعیداً کے وہ مصداق تھے۔ ان کے جنازہ پر امت کے تمام طبقات نے شریک ہو کر ان کو جو خراج تحسین پیش کیا اس سے کہیں زیادہ وہ اس کے مستحق تھے۔ آخرت کے راہی نے رحمت اللعالمین خاتم النبیین ﷺ کے حضور پہنچ کر سکون پا لیا۔ ہم مرثیہ خوانی کے لئے رہ گئے ۔
اے حضرت نورانیؒ کی روح پر فتوح ہم آپ سے وعدہ کرتے ہیں کہ حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ حضرت مولانا سید انور شاہ کشمیریؒ حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑویؒ حضرت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ حضرت مولانا مظہر علی اظہرؒ حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ حضرت مولانا ابوالحسناتؒ حضرت مولانا قاضی احسان احمدؒ حضرت مولانا مفتی محمودؒ حضرت مولانا شاہ احمد نورانیؒ کے مشن مقدس تحریک ختم نبوت کے علم کو زندگی کے آخری سانس تک بلکہ دنیا کے آخری سانس تک نہ صرف ہم بلکہ پوری امت بلند ۔ بلکہ بلند سے بلند تر رکھے گی ۔ اپنی جانوں کو کھپا دے گی اور حضرت خاتم النبیین ﷺ کے رب تعالیٰ کے حضور سرخرو ہوگی ۔
اے پروردگار تو امت مسلمہ کو ایسا کرنے کی سعادت سے بہرہ ور فرما ۔ آمین بحرمۃ النبی الکریم !
( لولاک ذیقعدہ ١٤٢٤ھ )
٧١..... حضرت مولانا قاضی عبداللطیف اختر صاحبؒ
وفات...... ٢٥ جنوری ٢٠٠٤ء
مدرسہ حدیقۃ الاحسان کے مہتمم شاہی مسجد شجاع آباد کے خطیب حضرت مولانا قاضی عبداللطیف اختر صاحب شجاع آبادی ٢٥ جنوری ٢٠٠٤ء کو شجاع آباد میں انتقال کر گئے۔ اناللہ نا الیہ راجعون! حضرت مولانا قاضی عبداللطیف صاحبؒ شاہی مسجد شجاع آباد کے خطیب حضرت مولانا قاضی غلام یاسین صاحب کے صاحبزادے تھے۔ آپ نے دینی تعلیم حضرت مولانا احمد بخش کوٹ مٹھن سے حاصل کی۔ جبکہ دورہ حدیث شریف مخزن العلوم عید گاہ خانپور سے کیا۔ وہ شیخ الاسلام حضرت مولانا محمد عبداللہ درخواستیؒ کے ممتاز تلامذہ میں سے تھے۔
قاضی عبداللطیف صاحبؒ نے عملی زندگی کا آغاز عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے پلیٹ فارم سے کیا۔ آپ نے رد قادیانیت پر مناظرانہ تربیت استاذ المناظرین فاتح قادیان حضرت مولانا محمد حیاتؒ سے حاصل کی۔ اس دور میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ حضرت امیر شریعت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ اور مرکزی ناظم اعلیٰ مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ اور مجلس کے روح رواں اور دل و جان، خطیب پاکستان حضرت مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ تھے۔ قاضی اختر صاحبؒ کو یہ شرف حاصل ہے کہ انہوں نے مجلس تحفظ ختم نبوت کے تین امراء کے دور امارت میں کام کیا۔ امیر شریعت حضرت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ حضرت مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ حضرت مولانا محمد حیاتؒ حضرت مولانا لال حسین اخترؒ حضرت مولانا عبدالرحمن میانویؒ حضرت مولانا تاج محمودؒ حضرت مولانا محمد شریف بہاول پوریؒ حضرت مولانا محمد شریف جالندھریؒ کی تربیت اور حضرت مولانا محمد لقمان علی پوریؒ حضرت مولانا غلام مصطفیٰ بہاول پوریؒ حضرت مولانا عبدالرحیم اشعرؒ کی رفاقت نے قاضی عبداللطیف صاحبؒ کو سلجھا ہوا اچھا خطیب اور ہر دلعزیز مقرر بنا دیا تھا۔
قاضی عبداللطیف صاحبؒ کے مجلس احرار اسلام کے رہنما حضرت مولانا سید عطاء المہیمن شاہ بخاریؒ سے نیاز مندانہ اور برادرانہ تعلقات تھے۔ حضرت مولانا قاضی عبداللطیف صاحبؒ نے دفتر ختم نبوت ملتان میں تربیت حاصل کرنے کے بعد گوجرانوالہ اور چیچہ وطنی میں بطور مبلغ خدمات
یہاں تک کہ جو شخص یہ کہے کہ اگر آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی پیدا ہوتا تو میں اس پر ایمان لاتا تو وہ بھی کافر ہوجاتا ہے۔ کیونکہ اس نے ایک محال شرعی کو فرض کر کے اس کے ساتھ اپنے ایمان کو معلق کیا ہے۔
(اکفار الملحدین ص ٥٨)
علامہ ابن نجیم مصریؒ لکھتے ہیں : اِذَا لَمْ يَعْرِفِ الرَّجُلُ اَنَّ مُحَمَّدًا صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اٰخِرُ الْاَنْبِيَاءِ فَلَيْسَ بِمُسْلِمٍ لِاَنَّهٗ مِنَ الضَّرُوْرِيَّاتِ۔
(الاشباہ والنظائر ص ١٥٦)
ترجمہ : جو شخص یہ نہ جانے کہ محمد ﷺ آخری نبی ہیں تو وہ مسلمان نہیں کیونکہ یہ (عقیدہ ختم نبوت) ضروریات دین میں سے ہے۔
ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : دَعْوَي النُّبُوَّةِ بَعْدَ نَبِيِّنَا صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُفْرٌ بِالْاِجْمَاعِ۔
(شرح فقہ اکبر ص ٢٠٢)
ترجمہ : ہمارے نبی ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنا بالاجماع کفر ہے۔
حضرت علامہ انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : وَتَوَاتَرَ اَيْضًا اَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيَّنَ اَنَّ لَا نَبِيَّ بَعْدَهٗ، وَتَوَاتَرَ اَيْضًا اِجْمَاعُ الصَّحَابَةِ عَلٰی ذٰلِكَ، وَكُفْرُ مَنِ ادَّعٰی ذٰلِكَ..... فَيَكْفُرُ مُدَّعِيْهِ وَيَكْفُرُ الْمُصَدِّقُ بِهٖ۔
(اکفار الملحدین ص ٦٤، ٦٥)
ترجمہ : اور یہ بات بھی متواتر ہے کہ نبی کریم ﷺ نے بیان فرما دیا کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں، اور اس پر بھی صحابہ کرامؓ کا تواتر کے ساتھ اجماع ہے، اور دعویٰ نبوت کرنے والے کا کافر ہونا بھی متواتر ہے۔ پس نبوت کا دعویٰ کرنے والا بھی کافر اور اس کی تصدیق کرنے والا بھی کافر۔
عبداللطیف صاحبؒ نے نبھایا اور عمر بھر خوب نبھایا۔
حضرت مولانا قاضی عبداللطیف اخترؒ خوش خوراک اور خوش لباس انسان تھے۔ خوش گفتاری بھی ان کا حصہ تھی۔ ناقدانہ طبیعت تھی۔ کسی پر چوٹ کرتے تو اسے آدھ موا کر دیتے تھے۔ حق تعالیٰ نے ان کو خوبیوں سے نوازا تھا۔ ملنسار اچھے کردار کے دوست تھے۔ مسجد و مدرسہ کی خطابت واہتمام کے باعث مجلس تحفظ ختم نبوت سے ملازمت کو ترک کرنا پڑا۔ لیکن تعلق کو کبھی ترک نہ کیا۔ مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ اور حضرت مولانا لال حسین اخترؒ کے زمانہ امارت میں مجلس کی مرکزی مجلس شوریٰ کے رکن رہے۔ چناب نگر کی سالانہ ختم نبوت کانفرنس میں شمولیت کرتے۔ ملک بھر کے رفقاء سے مل کر شگفتہ طبیعت ہو جاتے۔ ان کا کم و بیش چار دن چناب نگر میں قیام رہتا۔ خوب ہنس مکھ انسان تھے۔ خاص انداز سے سر پر سفید رومال اوڑھنے میں وہ بڑے حضرت قاضی صاحبؒ کی طرز ادا کو نبھاتے اور خوب بھلے لگتے تھے۔ چند سال قبل ان کی جامع مسجد شجاع آباد میں ختم نبوت کی کانفرنس تھی۔ اگلے دن فقیر راقم کا بودلہ کالونی میں درس تھا۔ علالت کے باوجود قاضی صاحبؒ درس میں تشریف لائے۔ شریک محفل ہوئے۔ دعاؤں سے نوازا۔ گفتگو پر خوشی کا اظہار کیا۔ حضرت مولانا عبدالغفور حقانی کے ہاں ناشتہ تھا۔ اس میں شریک ہوئے۔
حضرت مولانا قاضی عبداللطیف صاحبؒ کچھ عرصہ سے چوٹ لگنے کے باعث صاحب فراش تھے۔ ایک بار ملنے کے لئے حاضری ہوئی۔ باہر ڈیرہ پر چارپائی لگائے۔ میز کرسی سجائے‘ عصا سرہانے رکھا ہوا۔ اجلا خوبصورت لباس زیب تن کئے ہوئے براجمان تھے۔ دیر تک ملاقات جاری رہی۔ ادھر ادھر کی باتیں شروع ہوئیں تو یادوں کے گلستان میں بہار آ گئی کا مصداق ہو گئے۔ جب کبھی ملتان آنا ہوتا تو دفتر ضرور تشریف لاتے۔ وہ ہمارے مخدوم اور قابل احترام رہنما تھے۔ اللہ تعالیٰ ان کی قبر کو بقعہ نور بنائے۔ ہمارے حضرت قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ کے گلشن کی مرحوم نے عمر بھر آبیاری کی۔ اس اعتبار سے وہ ہمارے محسن تھے۔
وفات کے روز صبح بیدار ہوئے۔ وضو کیا۔ گھر والوں کو چائے بنانے کا فرمایا۔ خود نماز پڑھنے میں مصروف ہو گئے۔ کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھ رہے تھے۔ سجدہ کرنے کے لئے جھکے تو عالم آخرت کو سدھار گئے۔ باوضو نماز کی حالت سجدہ میں وصال۔ اللہ اکبر ! اللہ تعالیٰ جسے نصیب فرمائیں۔
(لولاک محرم الحرام ١٤٢٥ھ)
٧٢......حضرت مولانا قاضی مظہر حسینؒ
وفات.......٢٦ جنوری ٢٠٠٤ء
٢٦ جنوری ٢٠٠٤ء پیر صبح سحری کے وقت تحریک خدام اہل سنت کے بانی، شیخ طریقت، یادگار اسلاف حضرت مولانا قاضی مظہر حسین انتقال فرما گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون!
حضرت مولانا قاضی مظہر حسین صاحبؒ یکم اکتوبر ١٩١٤ء کو چکوال کے معروف قدیمی قصبہ بھیں میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد گرامی مناظر اسلام حضرت مولانا قاضی کرم الدین دبیر معروف عالم تھے۔ رد قادیانیت پر آپ کو مہارت حاصل تھی۔ مرزا غلام قادیانی کے ساتھ مناظروں اور مقدموں میں عمر بھر پیش پیش رہے۔ ان مقدمات کی تفصیلات پر مشتمل کتاب ’’تازیانہ عبرت‘‘ ایک تاریخی دستاویز ہے۔ حضرت قاضی مظہر حسینؒ نے اس دینی ماحول میں آنکھ کھولی۔ ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی۔ گورنمنٹ ہائی سکول چکوال سے میٹرک پاس کیا۔ دارالعلوم عزیزیہ بھیرہ میں دینی تعلیم حاصل کی۔ ١٣٤٦ / ١٣٤٧ھ میں دورہ حدیث اور تکمیل کے لئے دارالعلوم دیوبند میں رہے۔ شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ کے ممتاز تلامذہ میں سے تھے۔ دارالعلوم دیوبند میں قیام کے دوران حضرت مولانا شمس الحق افغانیؒ، مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد شفیع دیوبندیؒ، شیخ الاسلام حضرت مولانا شبیر احمد عثمانیؒ ،حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیبؒ، شیخ الادب حضرت مولانا اعزاز علیؒ ایسے اکابر سے آپ نے کسب فیض کیا۔
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ سے ملاقات اور ان کی خدمت میں حاضری اور کسب فیض کا شرف حاصل کیا۔ شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ سے بیعت ہوئے اور خرقہ خلافت حاصل کیا۔ واپس آکر دینی خدمات، مقدمات، گرفتاری کے مراحل سے انگریز دور حکومت میں گزرتے رہے اور بڑی استقامت وعزیمت اور بڑی بہادری سے وقت گزارا۔ مدنی مسجد چکوال اور اس کے ساتھ مدرسہ کی بنیاد رکھی اور مستقل بنیادوں پر یہاں کام شروع کیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے پورے علاقہ میں مسجد و مدرسہ نے ایک مثالی ادارہ کی حیثیت اختیار کر لی۔ ١٩٥٣ء کی تحریک ختم نبوت میں ضلع جہلم میں (تب چکوال ضلع جہلم کی تحصیل تھی) تحریک
کے لئے شب و روز ایک کر دیئے۔ گرفتار ہوئے۔ اس کی تفصیل مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی دفتر ملتان کی طرف سے شائع کردہ کتاب ’’تحریک ختم نبوت ١٩٥٣ء ص ٤٨٢، ٤٨٣‘‘ میں آپ کی اپنی تحریر کردہ ملاحظہ کی جاسکتی ہے۔ حضرت مولانا قاضی مظہر حسین صاحبؒ فرماتے ہیں کہ:
’’١٩٥٣ء کی تحریک ختم نبوت میں ہمارا مرکز جہلم تھا۔ ان دنوں میں اپنے گاؤں بھیں میں رہتا تھا۔ ٦ مارچ ١٩٥٣ء بروز جمعہ جامع مسجد گنبد والی جہلم میں حضرت مولانا عبداللطیف صاحبؒ نے ختم نبوت کے موضوع پر ولولہ انگیز تقریر کی اور احتجاجی جلوس کی صورت میں گرفتاری پیش کی۔
اس کے بعد میرا (قاضی صاحبؒ) پروگرام تھا۔ میں نے بھی ١٣ مارچ کے جمعہ پر جامع مسجد مذکورہ میں تقریر کی اور جلوس نکالا اور گرفتاری پیش کی۔ اس کے بعد حضرت مولانا حکیم سید علی شاہ مرحوم ساکن ڈومیلی نے گرفتاری دینی تھی۔ لیکن ان کو جمعہ سے قبل ہی گرفتار کر کے ڈسٹرکٹ جیل جہلم بھیج دیا گیا۔ ١١ مارچ کو چکوال سے حافظ حضرت مولانا غلام حبیبؒ کو گرفتار کر کے ڈسٹرکٹ جیل جہلم بھیج دیا گیا تھا۔ جہلم میں دو دن رکھنے کے بعد حضرت مولانا عبداللطیفؒ، حضرت مولانا سید علی شاہؒ، حضرت مولانا صادق حسین مرحوم اور راقم الحروف (قاضی صاحبؒ) کو لاہور سنٹرل جیل لایا گیا۔ ہمارے ساتھ اپنے جماعتی رفقاء چکوال کے کارکن بھی تھے۔ جن میں میاں کرم الہی مجاہد خصوصیت سے قابل ذکر ہیں۔ لاہور سے پھر ہمیں سنٹرل جیل ساہیوال (منٹگمری) منتقل کر دیا گیا۔ منٹگمری میں جہلم، کیمل پور، سرگودھا اور منٹگمری کے نظر بند رکھے گئے تھے۔ ہمارے کمرے کے ساتھ علیحدہ کوٹھڑی میں حضرت مولانا نصیر الدین صاحب شیخ الحدیث غورغشتی بھی تھے جو بہت بڑے مفتی اور بزرگ راہنما تھے۔ انہوں نے بڑی جرات و بہادری کے ساتھ تحریک کی قیادت کی تھی اور گرفتار ہوئے تھے۔ سرگودھا کے نظر بندوں میں حضرت مولانا مفتی محمد شفیع سرگودھوی بھی تھے۔
حضرت مولانا غلام حبیب صاحبؒ کو ڈسٹرکٹ جیل جہلم میں رکھا گیا اور وہ ٩ جون ١٩٥٣ء کو رہا کر دیئے گئے۔ منٹگمری جیل سے حضرت مولانا عبداللطیف جہلمی کے ساتھ اور بھی چند رضا کار نظر بند تھے۔ جب رہائیاں شروع ہوئیں تو حضرات رہا ہوتے رہے۔ راقم الحروف
(حضرت قاضی صاحب) کی رہائی بتاریخ ١٤ جنوری ١٩٥٤ء کو عمل میں آئی ۔ رہائی کے بعد بندہ (قاضی صاحب) نے شیخ العرب والعجم حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی صاحبؒ کی خدمت میں عریضہ لکھا تو حضرت مدنیؒ نے اپنے کرامت نامے میں یہ تحریر فرمایا کہ: ’’نظر بندی کا علم فقط اس خط سے ہوا۔ اگر چہ عرصہ دراز سے کوئی والا نامہ نہیں آیا تھا۔ مگر یہ خیال نہ تھا۔ حق تعالیٰ شانہ اس دینی جہاد کو قبول فرمائے اور باعث کفارہ سیات اور ترقی درجات کرے۔ آمین! (٢٣؍ شوال ١٣٧٣ھ منقول از مکتوبات شیخ الاسلام ج ٤ مکتوب نمبر ٣٥) حالات عرض کر دیے ہیں جو مناسب سمجھیں شائع کر سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اور ہم تمام اہل سنت والجماعت کو عقیدہ ختم نبوت اور خلافت راشدہ کی تبلیغ و تحفظ کی توفیق دیں۔ اپنی مرضیات کی اتباع نصیب کریں اور اہل سنت والجماعت کو ہر محاذ پر کامیابی نصیب ہو۔ آمین! بجاہ النبی الکریمﷺ!‘‘ والسلام! خادم اہل سنت مظہر حسین مدنی جامع مسجد چکوال ١٣ محرم الحرام ١٤١٢ھ ٢٦ جولائی ١٩٩١ء
١٩٥٢ء سے ١٩٥٦ء تک کا زمانہ آپ کا رد قادیانیت اور عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے گزرا۔ اس عنوان پر کام کرنا آپ کو والد مرحوم سے ورثہ میں ملا تھا۔ حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ، حضرت خطیب پاکستان مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ، مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ، مناظر اسلام حضرت مولانا لال حسین اخترؒ فاتح قادیان حضرت مولانا محمد حیاتؒ سے آپ کے مثالی تعلقات تھے۔ ہمیشہ ان حضرات کو بلوا کر ضلع بھر میں ختم نبوت — موضوع پر کام کو مہمیز لگاتے۔ ختم نبوت کانفرنس چنیوٹ میں تشریف لاتے، ہفت روزہ ختم نبوت کراچی کا ٢٩ مئی ١٩٨٢ء کو آپ نے چناب نگر جامع مسجد محمدیہ میں جمعہ کے موقع پر افتتاح کیا۔ جابجا ختم نبوت کانفرنسز کے آپ صدر نشین ہوتے۔ جمعیت علمائے اسلام کے پلیٹ فارم سے مثالی کردار ادا کیا۔ ضلعی، ڈویژنل، صوبائی اور مرکزی سطح تک حضرت قاضی صاحب مختلف عہدوں پر فائز رہے۔ حضرت شیخ التفسیر مولانا احمد علی لاہوریؒ، حافظ الحدیث حضرت مولانا محمد عبداللہ درخواستیؒ، ضیغم اسلام حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ، مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمودؒ کے معتمد ساتھیوں
میں آپ کا شمار ہوتا تھا۔ اپنی جوانی کا بہترین حصہ جمعیت علمائے اسلام کے لئے مدتوں وقف کئے رکھا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے قائدین سے آخر تک آپ کا محبتوں کا رشتہ قائم رہا۔
حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم کے احترام وتوقیر میں کسی سے کم نہ تھے۔ عرصہ ہوا حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری ملاقات وعیادت کے لئے چکوال تشریف لے گئے۔ دیر تک محبتوں وشفقتوں سے سرفراز فرمایا۔ گزشتہ واقعات واکابر سے تعلقات پر مربوط گفتگو فرمائی۔ ١٩٢٩ء میں تحریک خدام اہل سنت کی بنیاد رکھی اور آخری سانس تک اس کی آبیاری کرتے رہے۔ مدرسہ اظہار الاسلام، مدنی مسجد، مدرسہ امدادیہ آپ کا صدقہ جاریہ ہیں۔ قاضی صاحبؒ اسلاف کی یادگار تھے۔ مجاہد فی سبیل اللہ تھے۔ بہادری، جرات، حق گوئی میں اپنی مثال آپ تھے۔ اکابر کے مسلک کو ہمیشہ سینہ سے لگائے رکھا۔ جس بات کو حق سمجھتے تھے۔ اس کے اظہار میں کوئی دقیقہ نہ چھوڑتے تھے۔ ان کی زندگی جہد مسلسل کی تاریخ تھی۔ متعدد عنوانات پر متعدد کتابیں لکھیں۔ تحریر وتقریر، درس وبیان، قلم وقرطاس سے رشتہ آخر تک آپ نے قائم رکھا۔
٩٠ سال کی عمر پائی۔ گزشتہ کچھ عرصہ سے کمزور ہو گئے تھے۔ لیکن معمولات میں کوئی فرق نہ آنے دیا۔ گزشتہ سے پیوستہ سال عیدالفطر کے اگلے روز برطانیہ سے آئے ہوئے مہمان حضرت مولانا محمد ایوب سورتی صاحب کی مساعدت کے لئے راقم الحروف کو چکوال آپ کی خدمت میں حاضری کا موقع ملا۔ شفقت ومحبت سے اپنی چارپائی پر بٹھایا۔ دیر تک عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے کام کی تفصیلات پوچھتے رہے۔ تحریری وتقریری کام کی رپورٹ پر شگفتہ مزاج ہو گئے۔ ڈھیروں دعاؤں سے نوازا اور حقیقت یہ کہ محبتوں کی بارش کردی۔ افسوس کہ ان کی موت نے ہم سے دعاؤں کا سہارا چھین لیا۔ آخری دنوں میں اطلاع ملی کہ صاحب فراش ہیں۔ آج افسوس ناک خبر سنی کہ کل انتقال ہو گیا اور شام تک تدفین کا عمل بھی مکمل ہو گیا۔ ان کی تقریباً پون صدی کی خدمات قابل قدر وقابل رشک ہیں۔ مدتوں ان کا خلا پر نہ ہو سکے گا۔ آپ کے جانشین اور اکلوتے صاحبزادے حضرت مولانا قاضی ظہور حسین صاحب مدظلہ ہم سب کی طرف سے تعزیت کے مستحق ہیں۔ اللہ تعالیٰ حضرت مولانا قاضی مظہر حسین صاحبؒ کو کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائیں۔ آمین...... ثم آمین!
(لولاک محرم الحرام ١٤٢٥ھ)
٧٣...... حضرت مولانا حامد علی رحمانیؒ حسن ابدال
وفات....... مارچ ٢٠٠٤ء
حضرت مولانا حامد علی رحمانیؒ ولد میر علیؒ حسن ابدال ساری زندگی فتنہ قادیانیت کی سرکوبی میں مصروف رہے۔ ١٩٥٣ء میں امیر شریعت حضرت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے ساتھ قید وبند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ اس کے علاوہ بھی کئی بار گرفتار ہوئے۔ حسن ابدال کی مرکزی جامع مسجد کی خطابت کے فرائض سرانجام دیتے رہے۔ مبلغین ختم نبوت کے ساتھ بڑی محبت وشفقت سے پیش آتے تھے۔ جوانی میں حضرت امیر شریعتؒ کے ہمراہ بیانات فرمایا کرتے تھے۔ علالت کے باعث انتقال فرما گئے۔ نماز جنازہ میں ایک لاکھ سے زائد افراد شریک ہوئے۔ سوگ میں حسن ابدال کا سارا بازار بند رہا۔ حضرت مولانا ڈاکٹر شیر علی شاہ صاحب شیخ الحدیث حقانیہ نے آپ کا جنازہ پڑھایا۔ اپنے والد گرامی کے پہلو میں دفن ہوئے۔ مرحوم لاولد تھے۔ اللہ رب العزت مغفرت فرمائیں۔ آمین!
(لولاک صفر الخیر ١٤٢٥ھ)
٧٤....... حضرت مولانا حکیم عبدالرحمن آزادؒ
وفات....... ١٨ مارچ ٢٠٠٤ء
٢٦ محرم الحرام ١٤٢٥ھ بمطابق ١٨ مارچ ٢٠٠٤ء بروز جمعرات دن گیارہ بجے حضرت مولانا حکیم عبدالرحمن آزادؒ امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت گوجرانوالہ انتقال فرما گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون! اسی روز ٩ بجے شب جنازہ ہوا اور سپرد خاک کر دیئے گئے۔
حضرت مولانا حکیم عبدالرحمن آزادؒ کا راجپوت گھرانہ سے تعلق تھا۔ میاں عبدالعزیزؒ آپ کے والد تھے۔ ١٩١٢ء میں پٹی ضلع لاہور میں پیدا ہوئے۔ (آج کل یہ موضع پٹی امرتسر مشرقی پنجاب بھارت میں شامل ہے۔ پٹی وہی گاؤں ہے جس کا باسی مرزا سلطان بیگ مرزا غلام احمد قادیانی کی آسمانی منکوحہ محمدی بیگم کو بیاہ کر اس گاؤں میں لایا تھا) حضرت مولانا حکیم عبدالرحمن آزادؒ نے اسی گاؤں میں مڈل تک تعلیم حاصل کی۔ درس نظامی کے ساتھ ساتھ طبیہ کالج دہلی سے ١٩٣٨ء میں حکمت کی سند حاصل کی۔ حضرت مولانا کے حدیث کے اساتذہ میں حضرت مولانا
عبدالرحمن صاحبؒ حضرت مولانا نیک محمد صاحبؒ خصوصیت سے قابل ذکر ہیں۔ حضرت مولانا حکیم عبدالرحمن آزاد دو سال تک کانگریس کے اپنے علاقہ میں سیکرٹری جنرل رہے۔ اس کے بعد مجلس احرار میں شمولیت اختیار کی۔ ١٩٤٦ء میں مجلس احرار کے ٹکٹ پر الیکشن میں حصہ لیا۔ تقسیم کے وقت امن کمیٹی کے سیکرٹری جنرل رہے۔ تقسیم کے بعد گوجرانوالہ میں قیام کیا اور مجلس احرار کے پلیٹ فارم سے خدمات سرانجام دیں۔
١٩٥٣ء کی تحریک ختم نبوت میں آپ نے مثالی خدمات سرانجام دیں۔ ٢٧ فروری سے ١٢ مارچ ١٩٥٣ء تک گوجرانوالہ میں تحریک کی قیادت کی۔ ١٢ مارچ ١٩٥٣ء کو رات آٹھ بجے گرفتار کر لئے گئے۔ دو ماہ تک شاہی قلعہ لاہور میں نظر بند اور زیر تفتیش رہے۔ اس کے بعد سنٹرل جیل لاہور میں امیر شریعت حضرت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ جناب ماسٹر تاج الدین انصاریؒ حضرت مولانا لال حسین اخترؒ حضرت مولانا عبدالستار خان نیازیؒ حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ حضرت مولانا ابوالاعلیٰ مودودیؒ کے ساتھ جیل کاٹی۔
حضرت مولانا حکیم عبدالرحمن آزادؒ اہل حدیث مکتب فکر سے تعلق رکھتے تھے۔ لیکن اتحاد بین المسلمین کے لئے عمر بھر کوشاں رہے۔ ١٩٧٤ء سے امن کمیٹی گوجرانوالہ کے صدر تھے۔ ١٩٧٤ء کی تحریک ختم نبوت اور ١٩٧٧ء کی تحریک نظام مصطفیٰ میں گوجرانوالہ میں آپ نے مثالی خدمات سرانجام دیں۔ مجلس تحفظ ختم نبوت گوجرانوالہ کے تازیست امیر رہے۔ تیس سال تک عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مرکزی مجلس شوریٰ کے ممبر رہے۔ مرکزی جمعیت اہل حدیث کے ناظم سیاسیات بھی رہے۔ ہفت روزہ اہل حدیث اور ہفت روزہ الاسلام لاہور کے اعزازی ایڈیٹر بھی رہے۔ علمی حلقوں میں آپ کی خدمات بہت اہم تھیں۔ جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم، جناب رفیق تارڑ سے ان کے مراسم تھے۔ حکماء کمیٹی ضلع گوجرانوالہ کے صدر بھی رہے۔ خوب مرنجان مرنج انسان تھے۔ ان کی زندگی جہد مسلسل سے عبارت تھی۔ عمر بھر اسلام کی سربلندی، استحکام پاکستان، عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے کوشاں رہے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے بانی رہنماؤں سے آپ کے گہرے برادرانہ تعلقات تھے۔ پون صدی پر مشتمل آپ کی شاندار ملی خدمات تاریخ کا درخشندہ باب ہیں۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مساعی کو کامیابی سے ہمکنار کرانے میں آپ کا بہت بڑا حصہ ہے۔
حضرت مولانا حکیم عبدالرحمن آزادؒ ہردل عزیز رہنما تھے۔ تمام مکاتب فکر میں آپ کا
دل و جان سے احترام کیا جاتا تھا۔ مجلس احرار اسلام کی ایک تحریک میں آپ کو ڈکٹیٹر مقرر کیا گیا۔ آپ نے اس اعزاز کو اپنے نام کا جزو بنالیا اور وہ دینی حلقوں میں ”مولانا حکیم عبدالرحمن آزاد ڈکٹیٹر“ کے نام سے جانے پہچانے جاتے تھے۔ حق تعالیٰ نے انہیں خوبیوں کا مرقع بنایا تھا۔ جس بات کو حق سمجھا پوری عمر اس کی تبلیغ میں گزار دی۔ ردقادیانیت پر آپ کو عبور حاصل تھا۔ اچھے سلجھے اور منجھے ہوئے مقرر تھے۔ آپ کے خطاب کو دینی حلقوں میں بڑی توجہ اور وقعت سے سنا جاتا تھا۔ گوجرانوالہ کی سطح پر تمام مکاتب فکر کے رہنماؤں سے ان کے محبت بھرے تعلقات تھے۔ شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ سے آپ کا بیعت وارادت کا تعلق رہا۔
مسلکی اختلاف کو وہ اعتدال کے ترازو سے ادھر ادھر نہ ہونے دیتے تھے۔ ان کا مشہور زمانہ ایک دلچسپ واقعہ ہے کہ ایک حنفی نے اپنی اہلیہ کو تین طلاقیں دے دیں۔ یار لوگوں نے راستہ دکھایا کہ اہل حدیث ہو جاؤ تو ایک طلاق شمار ہوگی۔ وہ حضرت مولانا حکیم عبدالرحمن آزادؒ کے پاس گئے اور اپنے اہل حدیث ہونے کا مژدہ سنایا اور کہا کہ میں نے بیوی کو تین طلاقیں دی ہیں۔ اس کے ایک ہونے کا فتویٰ دے دیجئے۔ آپ نے فرمایا کہ تم نے حنفی ہونے کے زمانہ میں تین طلاقیں دی ہیں۔ وہ تو تین ہی شمار ہوں گی اور بیوی تم پر حرام ہے۔ اب اہل حدیث بننے کے بعد جو اہل حدیث بیوی کرو گے خدا نہ کرے اگر اسے بھی تین طلاقیں دے دو تو پھر میرے پاس آنا اسے ایک شمار کرلیں گے۔ یوں اس کے حنفی سے اہل حدیث ہونے کے خیالات کا گھروندہ سیکنڈوں میں آپ نے مسمار کردیا۔
شیعہ سنی معاملات کو مقامی سطح پر حد اعتدال پر رکھنے میں زندگی بھر ساعی رہے۔ انہیں انگریز اور انگریز کے خود کاشتہ پودا قادیانیت سے شدید نفرت تھی۔ ہر دو سے انہوں نے کبھی مفاہمت نہیں کی۔ ان کی یادوں کو مدتوں یاد رکھا جائے گا۔ اس افتراق و تشتت کے زمانہ میں ان کا وجود انعام الٰہی تھا۔ آپ کا جنازہ مثالی جنازہ تھا۔ تمام مکاتب فکر کی بھرپور نمائندگی تھی۔ ان کے انتقال سے تاریخ کا سنہری باب ہمیشہ کے لئے بند ہوگیا۔ مرحوم کے دو صاحبزادے ہیں۔ جناب ثاقب محمود اور طارق محمود اللہ تعالیٰ ان کو صحیح معنوں میں اپنے والد کا جانشین بنائے۔ آمین!
(لولاک ربیع الاول ١٤٢٥ھ)
٧٥...... پروفیسر حضرت مولانا محمد مظفر اقبال قریشیؒ
وفات...... ١٤ اپریل ٢٠٠٤ء
١٤ اپریل ٢٠٠٤ء بروز بدھ دن بارہ بجے علم وعمل کا ایک اور چراغ بجھ گیا۔ حضرت مولانا محمد مظفر اقبال قریشی صاحبؒ امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت علاقہ لوئر پکھل بھی داعی اجل کو لبیک کہہ گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون!
حضرت مولانا محمد مظفر اقبال قریشی صاحبؒ جامعہ اشرفیہ کے قدیم فضلاء میں سے تھے۔ تحصیل علم کے بعد مختلف دینی مدارس میں تدریس کی خدمات سرانجام دیتے رہے۔ ١٩٨٤ء میں قادیانیوں نے شعائر اسلام کی توہین کھلے عام شروع کردی اور کلمہ اسلام کا بیج اپنے ناپاک جسموں پر سجانے لگے تو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے اس کا سخت نوٹس لیا۔ ملک میں احتجاج شروع ہوا۔ مجلس کی شاخیں بننا شروع ہوگئیں۔ مانسہرہ میں مجلس کی تشکیل ہوئی تو علاقائی مجالس کے لئے بھی تحریک ہوئی۔
چنانچہ ١٩٨٤ء میں لوئر پکھل کے لئے جماعت کی تشکیل ہوئی۔ حضرت مولانا محمد مظفر اقبالؒ حلقہ پکھل کے امیر منتخب ہوگئے۔ اس وقت سے لے کر تادم مرگ جماعت سے وابستہ رہے۔ حضرت مولانا بڑی خوبیوں کے مالک تھے۔ علم وعمل، اخلاق وتقویٰ اور خلوص میں منفرد مقام کے حامل تھے۔ انہوں نے اپنے گاؤں میں جامع مسجد صدیق اکبر اور دارالعلوم صدیقہ کے نام سے دو ادارے تعمیر کرائے۔ ان کی ترقی کے لئے مصروف عمل تھے۔ ضلع بھر کی دینی سرگرمیوں میں پرجوش حاضری دیتے۔ موقع بموقع خطاب فرماتے۔
ان کی نماز جنازہ میں ضلع بھر کے علماء، صلحاء، مشائخ، سیاستدان، پروفیسرز، دانشور غرضیکہ ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ پروفیسر صاحبؒ کے صاحبزادہ حضرت مولانا پروفیسر محمد ادریس صاحب اور ان کے خاندان کو اللہ رب العزت صبر جمیل نصیب فرمائیں۔ آمین!
(لولاک ربیع الاول ١٤٢٥ھ )
٧٦....... حضرت مولانا مفتی زین العابدینؒ
وفات ...... ١٥ مئی ٢٠٠٤ء
١٥ مئی ٢٠٠٤ء شام چار بجے حضرت مولانا مفتی زین العابدینؒ انتقال فرما گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون! حضرت مولانا مفتی زین العابدینؒ میانوالی کے ایک غریب گھرانہ کے چشم و چراغ تھے۔ قدرت حق نے کرم کیا۔ آپ نے دینی تعلیم حاصل کی۔ دورہ حدیث جامعہ اسلامیہ ڈابھیل سے کیا۔ جہاں حضرت مولانا علامہ شبیر احمد عثمانیؒ، شیخ الاسلام حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ، محدث کبیر حضرت مولانا محمد بدر عالم میرٹھیؒ ایسے اکابر اساتذہ کی صحبتوں نے آپ کو موتی بنا دیا۔ میانوالی ضلع میں خانقاہ سراجیہ کو جو مرکزیت حاصل ہے وہ کسی اہل نظر سے پوشیدہ نہیں۔ تب آپ نے وہاں ڈیرے لگائے۔ ان دنوں خانقاہ سراجیہ کے شیخ ثانی حضرت مولانا محمد عبداللہ لدھیانویؒ نے خانقاہ کے در و دیوار کو معرفت الہی کے خزانوں کا دفینہ بنایا ہوا تھا۔ حضرت ثانیؒ کے ایک مخلص مرید صوفی مستری محمد عبداللہ صاحب کی صاحبزادی سے حضرت مولانا مفتی زین العابدینؒ کا عقد ہوا۔
١٩٥١ء میں حضرت مولانا مفتی زین العابدینؒ فیصل آباد تشریف لائے۔ ان دنوں فیصل آباد کے دینی ماحول کے درخشندہ ستارہ حضرت مولانا مفتی محمد یونسؒ تھے۔ جو حضرت علامہ سید محمد انور شاہ کشمیریؒ کے شاگرد تھے۔ حضرت مولانا مفتی محمد یونسؒ جامع مسجد کچہری بازار کے خطیب اور عبداللہ پور میں میاں فیملی کے قائم کردہ مدرسہ کے مہتمم اور صدر مدرس تھے۔ حضرت مولانا مفتی زین العابدینؒ نے وہاں پڑھانا شروع کیا۔ ڈابھیل کا جامعہ بھی حضرت مولانا سید انور شاہ کشمیریؒ کا فیض تھا اور عبداللہ پور فیصل آباد کا مدرسہ بھی حضرت مولانا مفتی محمد یونسؒ کی وجہ سے ان کا علمی چشمہ فیض تھا۔ حضرت مولانا مفتی زین العابدینؒ کی شخصیت نے ان دونوں چشموں سے کسب فیض کیا۔ ان کی شخصیت ایسی نکھری کہ حضرت مولانا مفتی محمد یونسؒ کے وصال کے بعد جامع مسجد کچہری بازار کے آپ خطیب مقرر ہو گئے۔ اپنی خداداد صلاحیتوں دلاویز شخصیت اور ذاتی کردار کے باعث فیصل آباد کے دینی حلقہ کے آپ میر کارواں ہو گئے۔
فیصل آباد میں دیوبندی مکتب فکر کے رہنما اس زمانہ میں حضرت مولانا تاج محمودؒ
حضرت مولانا مفتی زین العابدینؒ، حضرت مولانا حکیم عبدالمجید نابینا بی اے۔ اہل حدیث مکتب فکر کے حضرت مولانا محمد صدیقؒ، حضرت مولانا حکیم عبدالرحیم اشرفؒ، حضرت مولانا محمد اسحٰق چیمہؒ، بریلوی مکتب فکر کے حضرت مولانا صاحبزادہ افتخار الحسنؒ، حضرت مولانا صاحبزادہ فضل رسولؒ، حضرت مولانا مفتی محمد امینؒ، شیعہ حضرات کے رہنما مولانا محمد اسماعیل تھے۔ اس زمانہ میں ان حضرات کا طوطی بولتا تھا۔ حضرت مولانا مفتی سیاح الدینؒ کاکا خیل جامعہ اشاعت العلوم کے صدر مدرس تھے۔ (ان دنوں حضرت مولانا محمد ضیاء القاسمیؒ کا زمانہ طالب علمی تھا) تمام متذکرہ شخصیات اپنے اپنے مکاتب فکر کی نمائندہ تھیں۔ تب مجلس احرار اسلام کے روح رواں فیصل آباد میں حضرت مولانا عبیداللہ احرارؒ تھے۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کے بانی رہنما حضرت مولانا تاج محمودؒ حضرت مولانا حکیم عبدالمجید نابینا ختم نبوت کے محاذ پر نیر تاباں تھے۔ کیا وہ سنہری دور تھا کہ ہر طرف ہر مکتبہ فکر کی علمی شخصیات کا باہمی ارتباط قابل رشک تھا۔ تمام دینی وقومی تحریکوں میں ان حضرات کا وجود مینارہ نور کی حیثیت رکھتا تھا۔
فیصل آباد قیام کے زمانہ میں تدریس کے علاوہ حضرت مولانا مفتی زین العابدینؒ کی تحریکی زندگی کا آغاز مجلس احرار کے پلیٹ فارم سے ہوا۔ حضرت مولانا عبیداللہ احرارؒ، حضرت مولانا تاج محمودؒ، حضرت مولانا عبدالمجید نابیناؒ، شیخ خیر محمدؒ میاں محمد عالم بٹالویؒ اور دیگر بہت سارے حضرات سب ایک ہی سٹیج اور پلیٹ فارم سے حفاظت دین وصیانت اسلام کے لئے کوشاں تھے۔ اس دور اور ١٩٥٣ء کی تحریک ختم نبوت کے زمانہ کے لائل پور کو تو راقم نے نہیں دیکھا۔ البتہ تحریک ختم نبوت ١٩٧٤ء کے زمانہ میں راقم عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لائل پور (فیصل آباد) کا مبلغ تھا۔ اس تحریک کا آغاز فیصل آباد سے ہوا اور مجلس تحفظ ختم نبوت ہی اس تحریک میں داعی اور میزبان تھی۔ اس نسبت سے اس دور میں حضرت مولانا مفتی زین العابدینؒ سے قربت کی سعادتیں نصیب ہوئیں۔ اس زمانہ میں تبلیغی جماعت کے مرکزی قائدین میں آپ کا شمار ہوتا تھا۔ رائے ونڈ سے ڈھاکہ پاکستان سے افریقہ تک حضرت مولانا مفتی زین العابدینؒ کے تبلیغی بیانات کا جادو بول رہا تھا۔ آپ ایسے قادر الکلام تبلیغی رہنما تھے کہ ایک سادہ گفتگو سے اپنی بات کا آغاز کرتے اور دیکھتے ہی دیکھتے پورا اجتماع ان کی مٹھی میں ہوتا تھا۔ مفتی صاحب کو سیاست سے دلچسپی نہ تھی۔ ان کی گفتگو بھی تبلیغ اسلام کی گفتگو ہوتی تھی۔ البتہ حالات و واقعات کے تحت گفتگو میں جب کسی واقعہ پر سیاسی
تجزیہ کرتے تو گویا انگوٹھی میں تابدار نگینہ جڑ دیتے تھے۔ ان کے خطاب کی اٹھان اور اختتام میں زمین و آسمان کا فرق تھا۔ ہلکے معمولی بادل کی طرح خطاب کو اٹھاتے‘ گھنے بادل کی طرح چھاتے‘ چھاجوں مینہ برساتے اور سمندر کی مدوجزر میں سامعین کو خطابت کی موجوں میں بہالیجاتے۔ میں پچیس سال راقم کو حضرت مولانا مفتی زین العابدینؒ کے بیسوں بیانات سننے کا موقع ملا۔ آپ کا کوئی بیان ناکام نہیں کہا جاسکتا۔ تبلیغی جماعت میں آپ کا مقام قابل رشک تھا۔ ١٩٦٢ء میں دارالعلوم پیپلز کالونی فیصل آباد میں قائم کیا تو تعمیر و تعلیم تدریس و طلباء کے اعتبار سے اسے علاقہ بھر کا مثالی ادارہ بنادیا۔
تحریک ختم نبوت ١٩٧٤ء میں آپ مرکزی مجلس عمل کے رکن رکین تھے۔ ٢ جون ١٩٧٤ء کو فیصل آباد سے مجلس عمل کے اجلاس راولپنڈی میں جاتے ہوئے ڈنگہ اسٹیشن سے حضرت مولانا تاج محمودؒ، حضرت مولانا عبدالرحیم اشرفؒ، حضرت مولانا محمد اسحق چیمہؒ کے ساتھ آپ گرفتار ہوئے۔ ١٩٨٤ء کی تحریک ختم نبوت میں آپ نے بھرپور حصہ ڈالا۔ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب مدظلہ سے آپ کا برابر رابطہ رہا۔ ان دنوں جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم سے حضرت مولانا مفتی زین العابدینؒ اور حضرت مولانا حکیم عبدالرحیم اشرفؒ بہت قریب تھے۔ انہوں نے جنرل محمد ضیاء الحقؒ کو تحریک کے مطالبہ کو ماننے کے لئے آمادہ کرنے میں خدمات سرانجام دیں۔
حضرت مولانا مفتی زین العابدینؒ کے دم قدم سے فیصل آباد کو یہ شرف نصیب ہوا کہ شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریاؒ نے ایک رمضان المبارک کا اعتکاف آپ کے دارالعلوم میں گزارا۔ شیخ الاسلام حضرت مولانا محمد یوسف بنوریؒ پر آپ دل و جان سے فدا تھے۔ اپنے مدرسہ کے ختم بخاری پر ان کو دعوت دیتے۔ اسٹیشن سے خود لینے جاتے۔ فیصل آباد میں حضرت بنوریؒ کی میزبانی کا ہمیشہ حضرت مولانا مفتی زین العابدینؒ کو شرف نصیب ہوتا۔
ختم نبوت کانفرنس چنیوٹ میں ہمیشہ شرکت فرماتے۔ ایک موقع پر سالانہ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر تشریف لائے۔ سامعین میں بیٹھ گئے۔ حضرت مولانا تاج محمودؒ کی آپ پر نظر پڑی۔ سٹیج پر لائے تو رات کے اجلاس کا آخری بیان و دعا کرائی۔ آپ کا وجود اس دور میں بہت غنیمت تھا۔ عرصہ سے صاحب فراش تھے۔ وقت موعود آن پہنچا۔ اللہ تعالیٰ ان کی بال بال مغفرت فرمائیں اور پسماندگان کو صبر جمیل کی توفیق نصیب فرمائیں۔
(لولاک جمادی الاول ١٤٢٥ھ)
٧٧....... حضرت مفتی نظام الدین شامزئی شہیدؒ
شہادت.......٣٠ مئی ٢٠٠٤ء
مخدوم العلماء والصلحاء بزرگ عالم دین، فاضل اجل، مجاہد فی سبیل اللہ جامعہ العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی کے شیخ الحدیث حضرت مولانا مفتی نظام الدین شامزئی ٣٠ مئی ٢٠٠٤ء بروز اتوار صبح پونے آٹھ بجے شہید کر دیئے گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون!
حضرت مولانا مفتی نظام الدین شامزئی ١٢ جولائی ١٩٥٢ء کو گاؤں فاصل بیگ کھڑی سحرہ تحصیل مٹہ علاقہ شامزئی سوات میں جناب حبیب الرحمٰن شامزئی کے گھر پیدا ہوئے۔ مینگورہ سوات کے مدرسہ مظہر العلوم میں ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ دورہ حدیث کی تکمیل جامعہ فاروقیہ کراچی میں شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان کے پاس کی۔ اپنی مادر علمی جامعہ فاروقیہ میں بیس سال تک تدریسی خدمات سرانجام دیں۔ جامعہ فاروقیہ میں ہی دارالافتاء کی مسند کے صدر نشین رہے۔ شیخ الاسلام حضرت مولانا محمد یوسف بنوری کے جامعۃ العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کے معمار ثانی، یادگار اسلاف حضرت مولانا مفتی احمد الرحمٰن مرحوم کی مردم شناسی نے کام کیا۔ مفتی نظام الدین شامزئی جامعہ فاروقیہ کراچی سے ١٩٨٨ء کو جامعۃ العلوم الاسلامیہ میں استاذ حدیث کے طور پر تشریف لائے۔ قدرت حق نے کرم کیا۔ آپ کی علمی مخلصانہ خدمات کو شرف قبولیت سے نوازا۔ آپ کے تبحر علمی کے جوہر کھلے۔ ١٩٩٨ء میں انور شاہ زمانہ شیخ الاسلام مولانا محمد یوسف بنوریؒ کی مسند حدیث کے وارث قرار پائے۔ اس وقت سے شہادت تک آپ جامعۃ العلوم الاسلامیہ کے شیخ الحدیث رہے۔ جبکہ شعبہ تخصص فی الفقہ کے بھی آپ سربراہ تھے۔
قدرت حق نے آپ کو خوبیوں کا مرقع بنایا تھا۔ بے حد محنتی عالم دین تھے۔ جذبہ صادق کے ساتھ دین کی خدمت و صیانت کے لئے آپ زندگی بھر کوشاں رہے۔ برطانیہ، جرمنی، جنوبی افریقہ، زامبیا، زمبابوے میں تبلیغ اسلام کے لئے آپ کے متعدد اسفار ہوئے۔ اندرون ملک کی اکثر جامعات میں ختم بخاری کے اجتماعات میں آپ شرکت کرتے۔ وطن عزیز کے علمائے کرام کی نامور نمائندہ جماعت جمعیت علمائے اسلام کی شوریٰ کے آپ رکن رہے۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے پلیٹ فارم سے آپ نے عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے گرانقدر اور مثالی خدمات سرانجام دیں۔ اس جماعت کی مرکزی مجلس شوریٰ کے آپ رکن رکین تھے۔ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم کی آنکھوں کے آپ تارا تھے۔ پیر طریقت حضرت مولانا سید نفیس الحسینی دامت برکاتہم کا آپ کو اعتماد حاصل تھا۔ جب سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی شوریٰ کے رکن مقرر ہوئے۔ کسی ایک اجلاس میں شرکت سے ناغہ نہیں ہوا۔ اسلام آباد چناب نگر ایبٹ آباد ملتان ٹنڈو آدم میر پور خاص کی ختم نبوت کانفرنسوں میں آپ کا بڑے اہتمام کے ساتھ بیان ہوتا تھا۔ یکم صفر ١٤٢٥ھ کو ملتان میں مرکزی مجلس شوریٰ کے اجلاس میں شرکت فرمائی۔ اس روز بعد نماز عشاء ملتان کی ختم نبوت کانفرنس میں رات کے اجلاس میں حضرت امیر مرکزیہ کی آمد تک آپ نے حضرت دامت برکاتہم کی نیابت میں کانفرنس کی صدارت فرمائی۔ اگلے روز جمعہ سے قبل آپ کا ایمان افروز معلومات سے بھرپور مجاہدانہ علمی بیان ہوا۔ مسجد کے محراب سے لے کر دفتر کے صحن کے آخری کونہ تک ہزاروں بندگان خدا کے اجتماع عظیم میں آپ کا بیان سن کر ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے علم وفضل کا سمندر موجزن ہو۔
اسی اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ حضرت امیر مرکزیہ اور حضرت نائب امیر دامت برکاتہم اپنے بڑھاپے کے باعث ملک کے طول وعرض میں ہونے والی ختم نبوت کانفرنسوں میں شریک نہیں ہو سکتے۔ ان اکابر کی نمائندگی اور جانشینی کے لئے پورے اجلاس کی نظر آپ کی ذات گرامی پر پڑی اور آپ نے بڑی خندہ پیشانی سے ختم نبوت کانفرنسوں میں اپنے اکابر کی نمائندگی کا وعدہ کیا۔ بلامبالغہ حضرت مولانا مفتی نظام الدین شامزئیؒ اس وقت قافلہ حق کے سالار کارواں تھے۔ قدرت نے آپ کو ہر دلعزیزی کی نعمت سے وافر حصہ دیا تھا۔ آپ نے سندھ یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کیا۔ دینی ودنیوی علوم کے آپ شناور تھے۔ عالمی حالات پر آپ کی نظر تھی۔ بہت صائب الرائے تھے۔ امت مسلمہ کو درپیش چیلنجوں اور نت نئے مسائل کا آپ گہرائی سے مطالعہ کرتے اور پھر پریس کے ذریعہ پورے عالم کے مسلمانوں کی آپ رہنمائی کا فریضہ سرانجام دیتے۔ آپ کی رائے اور رہنمائی کو حرف آخر کا درجہ حاصل ہوتا تھا۔
افغانستان‘ وانا‘ عراق اور دیگر قومی‘ ملکی اور انٹرنیشنل مسائل پر دینی رہنمائی کے لئے عالم اسلام کے مسلمانوں کی نظریں آپ پر ہوتی تھیں۔ اندرون و بیرون ملک قومی کانفرنسوں‘ میڈیا کی ورکشاپوں میں آپ کی شرکت سے مسلمانوں کو ایک حوصلہ ملتا تھا۔ آپ کی نپی تلی نرم الفاظ اور دلائل سے بھرپور رائے کو بڑی وقعت کی نظر سے دیکھا جاتا تھا۔ جدید میڈیا کی جس نشست میں آپ تشریف لے گئے وہاں دوست و دشمن نے آپ کی صلاحیتوں کا اعتراف کیا۔ آپ بہت معتدل مزاج عالم دین تھے۔ طبعاً شریف آدمی تھے۔ دوست پرور تھے۔ ہنس مکھ تھے۔ یبوست و تصنع سے کوسوں دور تھے۔ آپ کا ظاہر و باطن ایک تھا۔ علم و عمل‘ اخلاق و مروت کی چلتی پھرتی تصویر تھے۔ آپ کے دم قدم سے علم کی آن بان قائم تھی۔ آپ نے ہمیشہ اعلائے کلمۃ حق کے لئے پہل کی۔ استقامت کی بلندیوں پر آپ فائز تھے۔ علم کے میدان میں پیچ و تاب رازیؒ اور سوز و ساز رومیؒ کے علمبردار تھے۔ گفتگو مربوط ہوتی تھی۔ بولتے کیا تھے گویا موتی رولتے تھے۔ کسی حدیث کی تشریح‘ یا فقہی مسئلہ کی گتھی سلجھاتے تو محدثین زمانہ اور فقہائے وقت کو محو حیرت کر دیتے تھے۔ ان کا ایک ایک لفظ احتیاط کے ترازو میں تولا ہوا ہوتا تھا۔ زبان و بیان میں کوثر و تسنیم کی آمیزش کا سماں معلوم ہوتا تھا۔ ان کی زبان حق ترجمان سے جو لفظ نکلتا تھا دل و دماغ میں پیوست ہو جاتا تھا۔ علمی گرفت ایسی آہنی ہوتی تھی کہ فریق مخالف تڑپ اٹھتا تھا۔ آپ کا وجود آبروئے علماء تھا۔ ان کے دم قدم سے فضلائے قدیم کی یادیں تازہ ہو جایا کرتی تھیں۔ جس مجلس میں آپ تشریف لے گئے۔ وہاں اپنا لوہا منوایا۔ اس دھرتی پر آپ کا وجود آیت من آیات اللہ تھا۔ صحیح بخاری وسنن ترمذی پر آپ کے درسی افادات پر ابن حجرؒ کی روح کا پرتو نظر آتا ہے۔
آپ نے ظہور مہدی کے نام سے ایک کتاب لکھی تو رافضیت و خارجیت کو چت لٹا دیا۔ اس عنوان پر یہ کتاب حرف آخر کا درجہ رکھتی ہے۔ حکیم العصر حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ کی شہادت کے بعد روزنامہ جنگ کراچی کے کالم ”آپ کے مسائل اور ان کا حل“ کے آپ نگراں مقرر ہوئے تو پوری دنیا میں حضرت لدھیانویؒ کے چشمۂ فیض کو جاری و ساری رکھا۔ کروڑوں بندگان خدا کی دینی رہنمائی آپ نے کی۔ آپ کے شاگردوں کی عرب و عجم‘ افریقہ و
امریکا میں ایک کھیپ موجود ہے جو آپ کے لئے صدقہ جاریہ ہے۔ فرقہ پرست افراد اور اداروں کو راہ اعتدال پر لانے کے لئے آپ نے مقدور بھر کوشش کی۔
جہادی گروپس کی باہمی رنجش اور جنگ ہوس زرگری میں اصلاح احوال کے لئے مخلصانہ سعی کی۔ مگر بے مہار لوگوں کی روش میں فرق نہ آیا تو پتھر بھاری سمجھ کر چوم کر رکھ دیا۔ اتحاد بین المسلمین کے آپ داعی تھے۔ جمعیت علمائے اسلام اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی اعتدال کی پالیسی پر نہ صرف کار بند بلکہ اس کے مبلغ ومناد تھے۔
حضرت مولانا مفتی نظام الدین شامزئی شہیدؒ جہاں علم کے پہاڑ تھے۔ وہاں آپ روحانیت کی بھی بلندیوں پر فائز تھے۔ شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریاؒ خانوادہ تھانہ بھون کے چشم و چراغ حضرت مولانا فقیر محمد پشاوریؒ شہید اسلام حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ اور خانوادہ رائے پور کے حدی خواں حضرت مولانا سید نفیس شاہ الحسینی دامت برکاتہم سے بالترتیب بیعت کا آپ کو شرف حاصل تھا۔ آخرالذکر دونوں حضرات کے آپ خلیفہ مجاز تھے۔ غرض ظاہری و باطنی علوم کے آپ وارث و امین تھے۔ آپ کے ارادت مندوں کی اندرون و بیرون ملک کثیر تعداد پائی جاتی ہے۔ آپ کی ذات ستودہ صفات تھی۔ اللہ تعالیٰ نے بہت کم وقت میں آپ سے بہت زیادہ خیر و برکت کا کام لیا۔ ”دیر سے آئے دور تک گئے“ کا مصداق تھے۔ آپ کے معاصر آپ کی راہوں کو دیکھتے رہ گئے۔ آپ کے دوستوں کا بہت بڑا حلقہ تھا۔ جس میں دینی و دنیاوی وجاہت والوں کی بڑی تعداد شامل ہے۔ آپ کو اللہ تعالیٰ نے سخاوت کی نعمت سے نوازا تھا۔ دینی مدارس اور بالخصوص دور دراز کے پسماندہ علاقوں کے کئی مدارس کی خاموشی سے آپ امداد کرتے تھے۔ آپ کے دروازہ پر جو آیا آپ نے اسے خالی ہاتھ نہیں لوٹایا۔
چلنے میں علم کا وقار، چہرہ پر صلحاء کا نور تھا۔ بہت وجیہ انسان تھے۔ انتہائی سادہ طبیعت تھے۔ ہمیشہ اجلی سیرت کے ساتھ اجلا لباس زیب تن کیا۔ آپ کی ذات گرامی سے ہزاروں یادیں وابستہ تھیں۔ آپ کا خلاء مدتوں پُر نہ ہوگا۔ ایسے وقت میں ہم سے جدا ہوئے کہ دور دور تک ان کی ٹکر کا کوئی آدمی نظر نہیں آتا۔ دشمن نے امت کے سینہ پر وہ تیر مارا جس سے پوری امت کا جگر
پاش پاش ہو گیا۔
٣٠ مئی ٢٠٠٤ء بروز اتوار صبح پونے آٹھ بجے نہا دھو کر باوضو نیا لباس پہن کر قال الله وقال رسول اللہ ! کا درس دینے کے لئے اپنے مکان سے اترے۔ گاڑی میں بیٹھے۔ چند قدم کے فاصلہ پر ابلیسی دشمن گھات لگائے بیٹھا تھا۔ وار ایسا کیا کہ اس سے جانبر نہ ہو سکے۔
حضرت شامزئی شہیدؒ کے واقعہ شہادت کی خبر پورے پاکستان میں بجلی کی کوند کی طرح پھیل گئی۔ ہسپتال سے ضروری قانونی کارروائی کے بعد آپ کی نعش کو جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن لایا گیا۔ جامعہ کے در و دیوار سوگوار تھے۔ آپ کے وصال کے سانحہ نے حضرت شیخ الاسلام مولانا محمد یوسف بنوریؒ حضرت مولانا مفتی احمد الرحمٰنؒ حضرت مولانا محمد ادریس میرٹھیؒ حضرت مولانا مفتی ولی حسنؒ حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ حضرت مولانا حبیب اللہ مختار شہیدؒ کے وصال کے صدمات کو تازہ کر دیا۔ جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن اجڑ گیا۔ ملک بھر میں آپ کے رفقاء آپ کے سایۂ محبت سے محروم ہو گئے۔ آپ کے شاگردان آپ کے سایۂ عاطفت سے محروم ہو گئے۔ آپ کی اولاد یتیم ہو گئی۔ جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن کی مسند حدیث خالی ہو گئی۔ آپ کیا گئے ایک عالم سونا ہو گیا۔ سچ کہا کہنے والے نے کہ:
اپنے شیخ اور ہمارے مخدوم شہید اسلام حضرت لدھیانویؒ کے مشن کی زندگی بھر آبیاری کے بعد ان کے قائم کردہ گلشن ”جامع مسجد خاتم النبیین“ میں اپنے شیخ کے پہلو میں محو استراحت ہو گئے۔ عاش سعیدا و مات سعیدا!
خوب گزرے گی جو ایک ساتھ رہیں گے شہیدان تین۔ اللہ تعالیٰ ان کی قبر مبارک کو بقعۂ نور بنائے۔ پسماندگان کو صبر جمیل نصیب ہو۔ جامعہ علوم اسلامیہ کی اللہ رب العزت حفاظت فرمائے اور مفتی صاحب کا نعم البدل نصیب فرمائے۔ آمین . بحرمة النبی الکریم!
(لولاک جمادی الاول ١٤٢٥ھ)
٧٨......حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹیؒ
وفات.......٢٧ جون ٢٠٠٢ء
حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹیؒ چنیوٹ کی راجپوت برادری سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ کا خاندان چنیوٹ کی مشہور زمانہ صنعت ”چوب سازی“ سے وابستہ تھا۔ آپ ٣١ دسمبر ١٩٣١ء کو پیدا ہوئے۔ اسلامیہ ہائی سکول چنیوٹ سے چھٹی جماعت تک تعلیم حاصل کی۔ قاری گلزار احمدؒ اور حضرت مولانا دوست محمد ساقیؒ سے دینی تعلیم حاصل کی۔ اس زمانہ میں دن کو لکڑ سازی کے کام میں مشغول رہتے۔ شام کو دینی کتب کی تعلیم حاصل کرتے۔ قیام پاکستان کے کچھ سال بعد حالات سازگار ہونے پر جامعہ خیرالمدارس ملتان میں داخلہ لیا۔ جامع المعقول والمنقول حضرت مولانا عبدالرحمن کامل پوریؒ کے دارالعلوم ٹنڈوالہ یار چلے جانے کے باعث پوری جماعت کے ساتھیوں سمیت ٹنڈوالہ یار چلے گئے۔ قیام پاکستان کے بعد ٹنڈوالہ یار کو دارالعلوم دیوبند ثانی کہا جاتا تھا۔ وہاں حضرت مولانا بدر عالم میرٹھیؒ حضرت مولانا محمد یوسف بنوریؒ ایسے نابغہ روزگار حضرات سے آپ نے دورہ حدیث شریف کی تعلیم حاصل کی۔ جامعہ خیرالمدارس کے موجودہ صدر و مفتی پیر طریقت حضرت مولانا مفتی عبدالستار صاحب آپ کے ساتھیوں میں تھے۔ یہ ١٩٥١ء کی بات ہے۔ اسی سال دورہ حدیث شریف سے فارغ ہوتے ہی ملتان میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے دارالمبلغین میں استاذ محترم فاتح قادیان حضرت مولانا محمد حیاتؒ سے آپ نے رد قادیانیت کا کورس کیا۔ قیام ملتان کے دوران آپ حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ حضرت مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ کی صحبتوں سے فیض یاب ہوتے رہے۔ چنانچہ حضرت مولانا سید بدر عالم میرٹھیؒ حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ اور فاتح قادیان حضرت مولانا محمد حیاتؒ ان تینوں اساتذہ پر آپ کی زندگی بھر دل و جان سے فدا رہے۔ ویسے تو تمام اساتذہ سے آپ کا ادب و احترام کا رشتہ تھا۔ لیکن ان تین متذکرہ حضرات کے آپ شیدائی تھے۔ چنانچہ حضرت مولانا محمد حیاتؒ فاتح قادیان بھی اپنے دیگر نامور شاگرد حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ حضرت مولانا محمد لقمان علی
پوریؒ حضرت مولانا عبدالرحیم اشعرؒ کی طرح حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹیؒ کے بہت قدردان تھے۔ ١٩٥٢ء میں آپ نے مدرسہ دارالہدٰی چوکیرہ میں تدریس شروع کی۔ فراغت کو دو سال اور تدریس کو ایک سال بھی مکمل نہ گزرا تھا کہ مشہور زمانہ تحریک ختم نبوت ١٩٥٣ء چلی۔ اکتوبر ١٩٩١ء میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے شعبہ نشر و اشاعت نے ”تحریک ختم نبوت ١٩٥٣ء“ کے نام سے سوا نو سو صفحے کی کتاب شائع کی۔ اس کتاب کی ترتیب کے وقت حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹیؒ سے ایک انٹرویو لیا تھا جو پیش خدمت ہے:
حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹیؒ فرماتے ہیں کہ: ”میں تازہ دورہ حدیث سے فارغ ہوا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے دارالمبلغین میں فاتح قادیان حضرت مولانا محمد حیاتؒ سے رد قادیانیت کا کورس کیا اور سرگودھا کے علاقہ چوکیرہ کے مدرسہ میں ابتدائی مدرس لگ گیا۔ تحریک چل نکلی تو رفقاء کو لے کر سرگودھا آیا۔ حضرت مولانا مفتی محمد شفیعؒ سرگودھوی اور دوسرے حضرات گرفتار ہو چکے تھے۔ سرگودھا کے دیہات میں لوگوں کو تیار کرنے کا پروگرام میرے ذمہ لگا۔ دورہ کر کے واپس چنیوٹ آیا۔ جامعہ محمدی سے مولانا محمد ذاکرؒ کے شاگردوں کی جماعت کے ساتھ چنیوٹ ریلوے اسٹیشن سے جلوس کے ہمراہ گرفتار ہوا۔ ان دنوں چنیوٹ میں سوائے معدودے چند کے مجھے کوئی نہ جانتا تھا۔ مجھے بھی جامعہ محمدی کا ایک مولوی سمجھا گیا۔ جیل میں چند ماہ گرفتار رہ کر رفقاء سمیت رہائی ہوئی۔“
(تحریک ختم نبوت ١٩٥٣ء ص ٨٧٥)
تحریک ختم نبوت ١٩٥٣ء سے رہائی کے بعد چوکیرہ میں حسب سابق کچھ عرصہ پڑھایا۔ ١٩٥٤ء میں چنیوٹ جامعہ عربیہ میں تشریف لائے۔ رد قادیانیت کے خلاف کام کرنے کی فاتح قادیان حضرت مولانا محمد حیاتؒ نے جو جوت جگائی تھی اس نے کام دکھایا۔ اس زمانہ میں چنیوٹ دریائے چناب کے اس پار چناب نگر (سابقہ ربوہ) میں مرزا محمود کا کفر عروج پر تھا۔ جامعہ عربیہ چنیوٹ کے طلباء چناب نگر جامعہ احمدیہ کے طلباء سے گفتگو کے لئے جاتے۔ واپسی پر مولانا چنیوٹیؒ کو رپورٹ سناتے۔ آپ انہیں قادیانیوں کو چاروں شانے چت کرنے کے مزید گر سکھلا کر اگلے دن بھیج دیتے۔ اس زمانہ میں اس چھیڑ خانی سے رد قادیانیت میں آپ کو مناظرانہ
رسوخ حاصل ہوا۔ اس دور میں قرب وجوار کے علاقہ میں جمعرات و جمعہ کو آپ کے بیانات کا سلسلہ چل نکلا۔ ابتداء میں قادیانیوں کے خلاف آپ نے رسائل لکھے۔ جو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت چنیوٹ نے شائع کئے۔ جن میں ”انگریزی نبی“ نامی پمفلٹ خصوصیت سے قابل ذکر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کرم کا معاملہ فرمایا۔ حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹیؒ کا اخلاص و محنت رنگ لائے۔ آپ کے ملک بھر میں تبلیغی دورے ہونے لگے۔ جوش جوانی میں آپ بے تکاں گھنٹوں قادیانیت کے لتے لیتے۔
اس زمانہ میں قادیانی خلیفہ مرزا محمود کو مباہلہ کا چیلنج دیا۔ مرزا محمود کے حواریوں نے مناظرانہ نکتہ پیدا کیا کہ خلیفہ قادیان کے مقابلہ میں آپ کی کوئی حیثیت نہیں۔ آپ نے مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے ناظم اعلیٰ حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ تنظیم اہل سنت پاکستان کے سربراہ حضرت مولانا دوست محمد قریشیؒ اشاعت التوحید کے سربراہ شیخ القرآن حضرت مولانا غلام اللہ خانؒ چار جماعتوں سے اسناد نمائندگی لے کر مرزا محمود کے حواریوں کے اس نکتہ کو ھبا منثورا کردیا۔ مرزا محمود کو اس کے ابا کے فرشتہ ٹیچی ٹیچی نے چپ کا روزہ رکھنے کا پابند کردیا۔ مولانا چنیوٹیؒ نے اشتہار شائع کر کے تاریخ مقرر کردی۔ مرزا محمود نے پولیس کے دروازہ پر ناک رکھ دی۔ پولیس کی طرف سے اشارہ پاکر کہ: ”مولانا کو میدان میں نہیں آنے دیں گے ۔“ مرزا محمود مطمئن ہوگیا۔ پنجاب پولیس (جو پاؤں کی مٹی کی بو سونگ کر مراد کو پالیتی ہے) کو مولانا چنیوٹیؒ جل دینے میں کامیاب ہوگئے اور مقررہ تاریخ کو میدان مباہلہ میں جا دھمکے۔ مرزائیت کے اوسان خطا ہوگئے۔ مولانا چنیوٹیؒ فاتح ربوہ ہوگئے۔ مرزا ناصر، مرزا طاہر اور مرزا مسرور کو ہمیشہ باری باری قادیانی خلیفہ بننے پر مولانا چنیوٹیؒ مباہلہ کے لئے چیلنج دیتے رہے۔ لیکن کسی قادیانی کو مرد میدان بننے کی جرات نہ ہوئی۔ تاہم اتنا ہوا کہ قادیانی جماعت کے دل و دماغ پر مولانا چنیوٹیؒ کی عبقری شخصیت کا بھوت سوار ہوگیا۔ ہر قادیانی باون گزا ہوتا ہے۔ لیکن مولانا کے سامنے وہ بونے نظر آنے لگے۔
حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹیؒ کو میدان سیاست میں اترنے کا شوق چرایا۔ مجلس
تحفظ ختم نبوت کے کارکنوں و عہدیداران کے لئے سیاسی سرگرمیوں کی دستوری پابندی ہے۔ اس لئے مجلس تحفظ ختم نبوت میں نہ کھپ سکے۔ جمعیت علمائے اسلام میں چلے گئے۔ اس کے پلیٹ فارم سے دن رات ایک کر کے قادیانیت کو چرکے لگائے۔ تنظیم اہل سنت، مجاہدین احرار، جمعیت علمائے اسلام کے س گروپ پھر متحدہ مجلس عمل میں جادہ پیمائی کی۔ اشاعت التوحید کے سٹیج سے صدائے حق بلند کی۔ مقدر کے دھنی تھے۔ جہاں گئے کامیاب رہے۔ چنیوٹ سے الیکشن میں حصہ لیا۔ تین بار صوبائی اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے۔ چنیوٹ کی چیئرمینی پر براجمان ہوئے۔ اس میدان کو کامیاب سیاست دان کی طرح فتح کیا۔
حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹیؒ نے کئی مختلف کتب ورسائل قادیانیت کے خلاف لکھے۔ فقیر راقم الحروف نے ایک ملاقات میں مولانا لال حسین اخترؒ کے رسائل ”احتساب قادیانیت“ کے نام سے اور حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید اسلام کے رد قادیانیت پر رسائل ”تحفہ قادیانیت“ کے نام سے جمع کرنے کے کام کا تذکرہ کر کے درخواست کی کہ آپ اپنے رسائل کو بھی یکجا کر دیں۔ کرم کیا۔ فقیر کی تجویز سے نہ صرف اتفاق کیا بلکہ عمل کیا کہ ”چودہ میزائل“ کے نام سے چودہ رسائل کتابی شکل میں جمع ہو گئے۔
حضرت چنیوٹیؒ نے ابتداء میں معین مناظر کے طور پر مناظر اسلام حضرت مولانا لال حسین اخترؒ کے ساتھ قادیانیوں کے خلاف مناظرہ ڈاور اور علامہ خالد محمود دامت برکاتہم کے ساتھ معین مناظر کے طور پر افریقہ میں خدمات سر انجام دیں۔ خود بھی کامیاب مناظر تھے۔ اندرون وبیرون ملک کئی مناظروں میں قادیانیوں کو ناکوں چنے چبوائے۔ اس طرح اندرون و بیرون ملک ہزاروں علماء کو رد قادیانیت کے موضوع پر تیاری کرائی۔ پوری دنیا میں رد قادیانیت پر آپ کی خدمات کا ایک زمانہ معترف ہے۔ ان کی للکار حق سے قادیانیت کے بت پر لرزہ طاری ہو جاتا تھا۔
فقیر راقم الحروف سے ان کا محبت و شفقت کا معاملہ تھا۔ بارہا جماعتی امور پر چشمک ہوئی، سٹیجوں پر ہوئی اور خوب ہوئی۔ لیکن اس کے بعد پہلی ملاقات میں دونوں طرف سے صورت حال کی وضاحت کے بعد دل صاف ہو جاتے۔ الحمد للہ! کبھی تنفر و معاندانہ معاملہ نہیں ہوا۔ مجھے
خوب یاد ہے کہ آج سے لگ بھگ پندرہ سال قبل مرید کے کے قریب ایک ایکسیڈنٹ میں آپ زخمی ہو گئے ۔ اس دن عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے حضرت امیر مرکزیہ مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم کی زیر صدارت ختم نبوت کانفرنس روڈہ ضلع خوشاب میں جمعہ کے بعد فقیر کا عصر تک بیان ہوا ۔ دعا کے بعد کی نماز عصر کا نیا وضو بنانے کے لئے فقیر کھڑا تھا۔ ایک دوست نے آ کر بتایا کہ مولانا چنیوٹیؒ حادثہ کا شکار ہو گئے ۔ یہ سنتے ہی فقیر زمین پر بیٹھ گیا ۔ حالت دگرگوں ہوگئی۔ اس نے تسلی دی کہ جان بچ گئی ۔ وہ لاہور کے ہسپتال میں داخل ہیں ۔ اس دن احساس ہوا کہ میرے دل میں حضرت مولانا مرحوم کی کتنی محبت ڈیرہ ڈالے ہوئے ہے۔ چند دن بعد ملاقات کے لئے لاہور ہسپتال گیا ۔ میو ہسپتال کے جس کمرہ میں مولانا چنیوٹی علاج کے لئے داخل تھے باہر ’’پیر طریقت مولانا چنیوٹی‘‘ کا بورڈ لگا ہوا دیکھا ۔ معلوم ہوا کہ ابھی شیخ الاسلام حضرت مولانا محمد عبداللہ درخواستیؒ ملاقات کے لئے تشریف لائے تھے اور خلافت سے سرفراز فرما گئے ۔ مریدوں نے آناً فاناً باہر دروازہ پر خوشخط پیر طریقت لکھوا دیا۔ حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹی سے ملاقات ہوئی ۔ بستر پر دراز تھے۔ دونوں باہوں سے گرفت میں لے کر سینہ سے لگایا اور بے ساختہ فرمایا کہ اتنے دنوں سے ملک بھر کے دوست آئے۔ میں آپ کی راہیں دیکھ رہا تھا۔ آپ میرے مشن کے ساتھی ہیں اور پھر بہت دیر تک سینے سے لگائے محبت و شفقت‘ تعریف و توصیف سے حوصلہ افزائی فرماتے رہے ۔ جسے نقل کرنے سے بھی مجھے شرم آتی ہے۔ ان کی یہ محبت دیکھ کر فقیر نے بتایا کہ آپ کے حادثہ کی خبر سن کر میں بھی دل گرفتہ ہو کر زمین سے لگ گیا تھا۔ اس پر مسکرائے اور فرمایا کہ:
حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹیؒ خوبیوں کا مجموعہ تھے۔ لیکن ذاتی طور پر میرے ساتھ جو بیتی ہے وہ یہ کہ:
- الف....... مولانا صاف دل آدمی تھے۔ کینہ پرور نہ تھے۔
- ب....... مسئلہ ختم نبوت کی خدمت پر دل و جان سے شیدائی تھے۔ قادیانیت کے
استیصال کے کام کو عبادت سمجھتے تھے۔ ١٩٧٤ء کی تحریک ختم نبوت کے پورے دور میں آپ بیرون
بلکہ عرب ممالک میں کام کرتے رہے۔ تحریک چلی۔ کامیاب ہوئی۔ اس کے بعد لوٹے اور اپنے مشن میں کامیاب لوٹے۔ ١٩٨٤ء کی تحریک ختم نبوت میں آپ مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے رکن رکین تھے۔ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم کے احترام میں کسی سے کم نہ تھے۔ ابھی ”رد قادیانیت کے زریں اصول“ نامی ضخیم کتاب شائع کی تو اس کی دیگر اکابر کے علاوہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب مدظلہ، حضرت شہید اسلام مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ سے تقریظ لکھوائی۔ مناظر اسلام حضرت مولانا علامہ خالد محمود اور حضرت مولانا زاہد الراشدی سے آپ کی محبت یارانہ سے بڑھ کر برادرانہ ہوگئی تھی۔ حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹیؒ کا وجود اس دور میں غنیمت تھا۔ فقیر نے ”آئینہ قادیانیت“ نامی کتاب پر تقریظ کے لئے عرض کیا۔ دو صفحات کی شاندار تقریظ لکھی۔ اپنی تعریف دیکھ کر مارے شرم کے فقیر شائع کرنے کی جرات نہ کر پایا۔ وہ محفوظ ہے۔ تاریخ کا حصہ ہے۔ فقیر نے احتساب قادیانیت کی چوتھی جلد میں حضرت مولانا بدر عالم میرٹھیؒ کے رسائل کو جمع کیا۔ حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹی چونکہ حضرت مولانا بدر عالم میرٹھیؒ کے شاگرد رشید تھے۔ ان رسائل کو دیکھا تو باغ باغ ہوگئے۔ ملاقات پر فرمایا کہ مکہ مکرمہ مدینہ طیبہ حجاز مقدس میں علماء کے سامنے آپ کی اس خدمت کے میں نے قصیدے پڑھے ہیں۔ بہت ہی قدر و منزلت سے اس کام کو دیکھا۔ پھر ”شان ختم نبوت“ کے نام سے حضرت مولانا بدر عالم میرٹھیؒ کی اس کتاب سے ایک رسالہ کو خود شائع کرایا تو اس کے مقدمہ میں فقیر کے لئے اتنے خیر کے کلمات کہے۔ پڑھنے سے میرا سر جھک گیا۔ یہاں نقل کرنے کی جسارت نہیں کرسکتا۔
ج...... حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹیؒ کے ساتھ ایک بار ایک جہاز میں لندن کے سفر کرنے کا اتفاق ہوا۔ فقیر کراچی سے اور مولانا چنیوٹی اسلام آباد سے آئے۔ جدہ ائیر پورٹ پر اکٹھے ہوگئے۔ فقیر کی حیرت کی انتہا نہ رہی کہ آپ اس وقت بھی کتاب ہاتھ میں لئے مطالعہ میں مصروف رہے۔ ضروری گفتگو کے بعد مصروف مطالعہ ہوجاتے۔ کوئی جدید نکتہ آجاتا تو پھڑک اٹھتے۔ اس دن ان کے کتاب سے رشتہ کے اہتمام کا اندازہ کر کے خوشی ہوئی کہ ابھی ایسے لوگ
موجود ہیں جو اس عمر میں بھی مطالعہ کے خوگر ہیں۔ حضرت چنیوٹیؒ اس سفر میں قادیانی گروہ کے بعض اعتراضات کے جواب پوچھتے رہے۔ ان کا مقصود میرا امتحان نہ تھا۔ بلکہ کوئی جدید بات سنتے تو سر دھنتے اور اگر جواب میں کوئی جھول دیکھتے تو تصحیح فرما کر مجھے حوصلہ دیتے۔
- د....... عمر بھر کام، کام اور صرف کام کرتے رہے۔ محنت و کوشش یعنی جہد مسلسل
سے ان کی زندگی عبارت تھی۔ جس کام کو شروع کرتے اسے نتیجہ پر پہنچا کر دم لیتے تھے۔
- ھ....... گفتگو بڑی مربوط کرتے تھے۔ کوئی چیز بیان کرتے۔ اس کی تمام
تر جزئیات گفتگو میں سمیٹ دیتے تھے۔
آج سے کچھ عرصہ پہلے اخبار میں پڑھا کہ بیمار ہیں۔ ملاقات کے لئے پر تولے۔ اتنے میں ان کے ادارہ کے استاذ مولانا مشتاق احمد چنیوٹی ملتان آئے۔ تفصیلات معلوم ہوئیں تو تسلی ہوئی۔ لاہور جانا ہوا۔ حضرت مولانا محب النبی صاحب کے جامعہ میں ختم نبوت کانفرنس میں بیان ختم کر کے دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے۔ کسی دوست نے رقعہ تھما دیا کہ حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹیؒ شریف کمپلیکس رائے ونڈ میں زیر علاج ہیں۔ دعا کر دیں۔ دعا ہوئی۔ اگلے دن صبح کی نماز کے بعد اپنے شیخ و مرشد حضرت اقدس مولانا سید نفیس الحسینی دامت برکاتہم کی زیارت و شرف حصول دعا کے بعد عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لاہور کے جواں سال فاضل مبلغ و عالم دین مولانا عزیز الرحمٰن ثانی کے ہمراہ رائے ونڈ مولانا چنیوٹی کی ملاقات کے لئے حاضر ہوا۔ ہمیشہ کی طرح آپ کے چھوٹے صاحبزادہ مولانا بدر عالم چنیوٹی خدمت پر مامور تھے۔ کمرہ میں حاضری ہوئی۔ مولانا چنیوٹی نیم خوابیدہ تھے۔ بدر عالم نے میرے روکنے کے باوجود نہ آؤ دیکھا نہ تاؤ مولانا چنیوٹی کو جگا دیا۔ نام سن کر مولانا اٹھ بیٹھے۔ گلے سے لگایا۔ بیماری کی تفصیلات بلکہ جزئیات تک کو ترتیب سے سنایا۔ فرمایا کہ مولانا محمد الیاس چنیوٹی (مولانا چنیوٹی کے بڑے صاحبزادے) حجاز مقدس گئے۔ رابطہ کے حضرات سے ملے۔ ان کی بیماری کی تفصیلات بتائیں۔ انہوں نے کاغذات تیار کر کے سعودیہ کے وزیر صحت کو بھجوائیں۔ لیکن مولانا محمد الیاس چنیوٹی ان تک پہنچ نہ پائے۔ وہ میاں محمد شریف ومیاں محمد نواز شریف صاحب سے جدہ میں
ملے۔ حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹیؒ کی بیماری کی بابت بتایا۔ انہوں نے رائے ونڈ اپنے ہسپتال میں علاج کے لئے ہدایات جاری کیں۔ حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹیؒ یہاں علاج کے لئے تشریف لائے۔ پھر علاج کی تفصیلات بیان کیں۔ حسب عادت فقیر ان سے دلگی کی باتیں کرتا رہا۔ مسکراتے رہے۔ مولانا بدر عالم نے بتایا کہ اتنے دنوں کے بعد مولانا آج صرف آپ کی باتیں سن کر مسکرائے ہیں۔ پھر قادیانی اوقاف، شناختی کارڈ پر مشاورت جاری رہی۔ اس دوران احتساب قادیانیت کی تیرہویں جلد کے شائع ہونے کی خوشخبری فقیر نے سنائی۔ سنتے ہی آناً فاناً دونوں ہاتھوں سے میرے چہرے کو گرفت میں لیا اور پیشانی پر زناٹے دار بوسہ دیا۔ آنسو بھر لائے اور فرمایا کہ آپ نے اکابر امت کے کام کو زندہ جاوید کر دیا ہے۔ ان کی شفقتوں سے مالا مال ہوا۔ اجازت مانگی۔ اسی دن اسلام آباد کانفرنس میں شریک ہونا تھا۔ دوسری ملاقات کا طے ہوا کہ واپسی پر رپورٹ پیش کروں گا۔ اجازت ملی۔ طبیعت مطمئن تھی کہ الحمد للہ! علاج سے افاقہ ہے۔ وزن بڑھ رہا ہے۔ بھوک لگ رہی ہے۔ شوگر کنٹرول میں ہے۔ اللہ کا شکر کر کے باہر آئے۔ چند دن بعد چناب نگر مدرسہ ختم نبوت کی تعمیر کے لئے حاضر ہوا۔
٢٧ جون ٢٠٠٤ء مطابق ٨ جمادی الاول ١٤٢٥ھ پونے بارہ بجے کے قریب فون کی گھنٹی بجی۔ رسیور اٹھایا۔ اطلاع ملی کہ حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹیؒ اللہ کو پیارے ہو گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون! دل کو یقین نہ آیا۔ خبر صحیح ماننے کے لئے طبیعت آمادہ نہ تھی۔ ادھر ادھر فون کئے۔ بالاخر مولانا عبد الوارث چنیوٹی مدظلہ اور مولانا مرحوم کے گھر سے تصدیق ہو گئی۔ سوائے صبر کے اب چارہ نہ تھا۔ معلوم ہوا کہ گیارہ بج کر دس منٹ پر ان کا وصال ہوا۔ پہلا جنازہ لاہور اور دوسرا چنیوٹ ہوگا۔ اور یہ کہ مولانا نے وصیت کی تھی کہ لاہور کا جنازہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے نائب امیر مرکزیہ حضرت سید نفیس الحسینی شاہ صاحب پڑھائیں اور چنیوٹ کا جنازہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر شیخ المشائخ خواجہ خواجگان حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب مدظلہ پڑھائیں۔ دفتر مرکزیہ فون کر کے حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری مدظلہ کو خبر دی۔ آپ نے
لاہور، سرگودھا، اسلام آباد میں فون کرنے کی ڈیوٹی لگائی۔ لاہور میں حضرت مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، حضرت مولانا عزیز الرحمن ثانی اور قاری حفیظ اللہ اور دوسرے دوست بھاگم بھاگ جامعہ اشرفیہ پہنچے۔ تجہیز و تکفین میں شرکت کی سعادت حاصل کی۔ خانقاہ سراجیہ میں حضرت کی تکلیف کے باعث ڈاکٹروں نے سفر کی اجازت نہ دی۔ البتہ حضرت نے اپنے صاحبزادگان اور خانقاہ کے دوسرے احباب کا بھر پور وفد جنازہ میں شرکت کے لئے روانہ فرمایا۔ ٢٧ جون کو ہی شام پانچ بجے جامعہ اشرفیہ کے جم غفیر نے حضرت سید نفیس الحسینی مدظلہ کی امامت میں نماز جنازہ پڑھنے کی سعادت حاصل کی۔ ٢٨ جون کو تقریباً نو بجے صبح اسلامیہ کالج کے پارک میں چنیوٹ کی تاریخ کا مثالی جنازہ ہوا۔ ملک کے طول و عرض سے اسلامیان پاکستان سے جن میں اکثریت علماء اور طلباء کی تھی جنازہ میں شرکت کی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم اعلیٰ حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری مدظلہ کی قیادت میں حضرت صاحبزادہ طارق محمود، مولانا غلام مصطفیٰ اور مدرسہ ختم نبوت چناب نگر کے اساتذہ اور طالبعلموں اور نمازیوں نے مجلس کی نمائندگی کی۔ ملک بھر کے علماء سے مل کر آنسو بہاتے اور تعزیتیں وصول کرتے رہے۔ رہے نام اللہ کا۔ عاش سعیداً ومات سعیداً!
حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹیؒ ’’سے یادوں کی مختصر رام کہانی برجستہ لکھ دی ہے۔
حضرت چنیوٹیؒ ’’آپ چلے گئے۔ ہم آج نہیں تو کل آ رہے ہیں۔ آپ کے ساتھ جو وقت بیتا۔ وہ لوگوں کو سنا دیا۔ آپ کے بعد جو بیتے گی وہ آ کر عالم ارواح میں آپ کو سنائیں گے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو ابدی راحتیں نصیب کرے۔ آپ کی محنتوں کو اپنی رحمتوں کے صدقہ میں قبول فرمائے۔ آپ کے درجات بلند فرمائے۔ اللہ تعالیٰ بقیہ زندگی میں ہمیں بھی اپنی مرضیات پر عمل کی توفیق عطا فرمائیں۔ ٹوٹی پھوٹی جو بھی بس میں ہے ختم نبوت کی خدمت اس سے محروم نہ فرمائے اور خاتمہ ایمان پر فرمائے۔
آمین! بحرمتہ النبی الکریم خاتم النبیین صلی الله تعالیٰ علیہ وعلیٰ الہ واصحابہ واتباعہ اجمعین برحمتک یاارحم الراحمین!
(لولاک جمادی الثانی ١٤٢٥ھ )
٧٩....... شیخ الحدیث حضرت مولانا نذیر احمدؒ
وفات ....... ٣ جولائی ٢٠٠٤ء
پاکستان کے ممتاز عالم دین، شیخ الحدیث، بانی جامعہ اسلامیہ امدادیہ فیصل آباد کے حضرت مولانا نذیر احمدؒ ١٤ جمادی الاول ١٤٢٥ھ مطابق ٣ جولائی ٢٠٠٤ء بروز ہفتہ انتقال فرما گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ! آپ ١٩٣١ء روشن والا ضلع فیصل آباد میں پیدا ہوئے۔ آپ ارائیں فیملی کے چشم و چراغ تھے۔ ذہین و روشن دماغ تھے۔ آپ نے جامعہ خیر المدارس ملتان میں تعلیم حاصل کی۔ مولانا عبدالمجید انورؒ، مولانا نذیر احمد اور ان جیسے دیگر طلباء ایک ساتھ پڑھتے تھے۔ خیر المدارس کی تاریخ میں اس جماعت کو ذہین اور ہوشیار شمار کیا گیا۔ چنانچہ جامعہ خیر المدارس کے بانی حضرت مولانا خیر محمد جالندھریؒ نے اس کلاس کو مشکوٰۃ شریف پڑھانے کے لئے فقط ایک سال کے لئے حضرت مولانا محمد عبداللہ رائے پوریؒ کو ساہیوال سے ملتان بلوایا۔ دورہ حدیث میں آپ کے اساتذہ میں حضرت مولانا خیر محمدؒ حضرت محمد شریف کشمیریؒ ایسے شیوخ حدیث شامل تھے۔
فراغت کے بعد آپ کو آپ کے استاذ مولانا خیر محمد جالندھریؒ نے قاری لطف اللہ شہیدؒ کے قائم کردہ مدرسہ نعمانیہ کمالیہ میں تدریس کے لئے بھیج دیا۔ آپ کی تدریس کا وہاں سے آغاز ہوا۔ جامعہ خیر المدارس کے مہتمم ثانی حضرت مولانا محمد شریف جالندھریؒ آپ کو جامعہ خیر المدارس میں تدریس کے لئے بلا لائے۔ بڑے کامیاب محنتی، نامور اساتذہ میں آپ کا شمار ہونے لگا۔ طلباء آپ پر جان چھڑکتے تھے اور تعلیم کے لئے کشاں کشاں آپ کے ہاں آنے لگے۔ کچھ عرصہ بعد حضرت مولانا مفتی زین العابدینؒ اپنے قائم کردہ دارالعلوم پیپلز کالونی فیصل آباد میں استاذ حدیث کے طور پر مولانا نذیر احمدؒ کو لے گئے۔ اس زمانہ میں آپ کی تعلیم کا شہرہ پورے پاکستان کے مدارس تک پھیل گیا تھا۔ ١٩٨٣ء میں مولانا نذیر احمد صاحبؒ نے جامعہ اسلامیہ امدادیہ کی فیصل آباد میں بنیاد رکھی۔ رکھ رکھاؤ، گفتگو، میل ملاقات، دل موہ لینے والے تعلقات رکھنے میں آپ کو ید طولیٰ حاصل تھا۔ جامعہ امدادیہ کرایہ کی بلڈنگ سے اپنے خرید کردہ پلاٹ میں منتقل ہوا۔ پورے شہر فیصل آباد میں امدادیہ کی دھاک بیٹھ گئی۔ کچی عمارت سے پکی عمارتوں، متصل کے پلاٹوں کی خریداری و تعمیرات کا لامتناہی سلسلہ شروع ہوا۔ تھوڑے ہی عرصہ
میں کوہ قامت بلڈنگوں نے دوست دشمن سب کو حیرت میں ڈال دیا۔ ہزار ہا طلباء تعلیم حاصل کرنے لگے۔ پورے پنجاب کے معیاری مدارس میں جامعہ امدادیہ نے ظاہری و باطنی تعلیمی و تنظیمی ترقی کا اعلیٰ نمونہ و مثال قائم کر دی۔ ہزاروں طلباء نے آپ سے حدیث شریف کی تعلیم حاصل کی۔ آپ دیوبند کے تھانوی حلقہ سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ کے شاگردوں کی کھیپ نے ملک کے طول و عرض میں مدارس کا جال بچھا دیا۔ تعلیمی و تربیتی اہتمام کے باعث ملک بھر کے علماء، مشائخ، خطباء واساتذہ کے صاحبزادگان کے لئے امدادیہ کا انتخاب سنہری انتخاب شمار ہونے لگا۔ مولانا نذیر احمد صاحبؒ نے ہمارے تھانوی خانوادہ کی قائم کردہ روحانی اصلاحی انجمن صیانۃ المسلمین میں خاص مقام حاصل کیا۔ اس کے نائب صدر منتخب ہو گئے۔ وفاق المدارس کی عاملہ کے رکن تھے۔ قدرت کے کرم سے آپ کی خوبیوں کو وہ رنگ لگا کہ ان کی عزت و شہرت آسمان سے باتیں کرنے لگی۔
مدرسہ ختم نبوت چناب نگر مسلم کالونی سالانہ رد قادیانیت کورس کی اختتامی تقریب کا بیان طے شدہ امر تھا۔ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر میں ضرور شریک ہوتے۔ جامعہ امدادیہ کے دروازے مجلس تحفظ ختم نبوت کے لئے انہوں نے وا کر دیئے تھے۔ ان کے بزرگانہ محبت بھرے خطوط جو مشوروں اور ناصحانہ امور پر مشتمل ہیں مجلس کے لئے سرمایۂ افتخار ہیں۔ قدرت نے آپ کو خوبیوں کا مرقع بنایا تھا۔ آپ کی ذہانت، معاملہ فہمی، مزاج شناسی، ہر دلعزیزی کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔ جس سے ایک بار ملاقات ہو گئی وہ زندگی بھر آپ کے گن گانے لگ جاتا تھا۔ لوگوں کی شادی، غمی، تیمارداری میں برابر شریک رہتے۔ گویا ایک کامیاب زندگی گزارنے کا حق تعالیٰ نے آپ کو سلیقہ نصیب کیا تھا۔ آپ جتنی ترقی کرتے گئے حاسدین معاندین کی تعداد میں بھی اضافہ ہوتا گیا۔ ہر جگہ لگائی بجھائی، اکھاڑ پچھاڑ سے عمر بھر واسطہ رہا۔ لیکن وہ سانحات سے نبرد آزما ہو کر کامیاب جرنیل کی طرح فاتح ہو کر نکھر آتے تھے۔ دیکھتی آنکھوں کے سامنے آپ نے ترقی کی وہ منازل طے کیں جنہیں صرف فضل ربی ہی کہا جاسکتا ہے۔ پہلے جواں سال صاحبزادہ کی شہادت نے ان کی صحت پر کاری ضرب لگائی۔ پھر جامعہ امدادیہ کے حالات کے بوجھ نے ان کی کمر خمیدہ کی۔
دل کی بیماری اور بوڑھاپے نے اتحاد کر لیا تو آپ کی صحت نے شکست مان لی۔ بستر پر محو آرام ہو گئے۔ علاج معالجہ جاری رہا۔ وقت گزرتا رہا۔ تا آنکہ وقت موعود آ گیا۔ اللہ تعالیٰ آپ کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائیں۔ آمین !
(لولاک جمادی الثانی ١٤٢٥ھ)
٨٠...... حضرت مولانا عبدالعزیز ساکن جتوئی
وفات......٧ ستمبر ٢٠٠٤ء
٧ ستمبر ٢٠٠٤ء بروز جمعہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کوئٹہ کے مبلغ حضرت مولانا عبدالعزیز انتقال فرما گئے۔ اناللہ وانا الیہ راجعون! حضرت مولانا عبدالعزیز صاحبؒ جام برادری سے تعلق رکھتے تھے۔ یہ خاندان عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے بانی و امیر اول امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ سے شرف بیعت رکھتا ہے۔ پاکستان بننے سے قبل یہ تمام حضرات مجلس احرار اسلام سے وابستہ تھے۔ جتوئی میں جھگی والا روڈ پر بستی ٹھار خان کے رہائشی تھے۔
حضرت مولانا عبدالعزیز صاحبؒ نے جامعہ قاسم العلوم ملتان سے دورہ حدیث شریف کیا۔ مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمودؒ کے شاگرد رشید تھے۔ فراغت کے بعد ملتان کے گجر کھڈہ کی مسجد تقویٰ میں امامت و خطابت اور ایک پرائیویٹ سکول میں عربی کے معلم رہے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اسلام آباد کے مبلغ حضرت مولانا عبدالرؤف صاحبؒ کے چچازاد بھائی تھے۔ حضرت مولانا عبدالرؤف صاحبؒ کی وفات کے بعد خاندان کے بزرگوں کی خواہش پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے شعبہ تبلیغ سے وابستہ ہو گئے۔ ملتان دفتر مرکزیہ میں سہ ماہی تربیتی کورس میں شرکت کی۔ اس زمانہ میں حضرت مولانا زرین احمد خان مرحوم کے وصال کے باعث خانیوال، کچا کھوہ، وہاڑی میں مبلغ کی سیٹ خالی تھی۔ عرصہ تک وہاں خدمات سرانجام دیں۔ بعد میں کئی سال بہاول نگر میں مجلس کے مبلغ رہے۔ حضرت مولانا نذیر احمد تونسوی شہیدؒ کے کوئٹہ سے کراچی تبادلہ کے باعث آپ کو بلوچستان کا مبلغ بنایا گیا۔ تادم آخریں آپ نے وہاں خدمات سرانجام دیں۔ حضرت مولانا عبدالعزیزؒ معاملہ فہم، زیرک اور ذکی انسان تھے۔ ہر دلعزیز تھے۔ مشکل سے مشکل مرحلہ پر بڑی خوش اسلوبی سے معاملات کو سلجھا دیا کرتے تھے۔ خوش لباس، خوش خوراک اور خوش مزاج انسان تھے۔ بڑے ہی دوست پرور تھے۔ آپ نے پورے بلوچستان میں تبلیغ اسلام کے لئے بڑی جانفشانی سے خدمات تحفظ ختم نبوت انجام دیں۔
چناب نگر، ملتان، کوئٹہ، ختم نبوت کانفرنسوں، میٹنگوں میں شعبہ مہمانداری کے انچارج ہوتے تھے۔ ہزارہا مہمان کیوں نہ ہوں آپ بڑی تندہی سے ہر ایک مہمان کی مہمانداری کو احسن
انداز میں انجام دیتے تھے۔ کیا مجال ہے کہ کسی مہمان کی مہمان داری میں ذرہ فرق ہونے دیں۔ ٩‘ ستمبر ٢٠٠٤ء کو چناب نگر میں سالانہ ختم نبوت کانفرنس کی دعوت وتیاری کے لئے ہفتہ بھر پہلے تشریف لائے۔ کانفرنس پر خصوصی مہمانوں کی ہمیشہ کی طرح مثالی خدمات میں مصروف رہے۔ کانفرنس کے اگلے دو روز میٹنگ میں شریک رہے۔ ملتان تشریف لائے۔ ١٣‘١٤ ستمبر دفتر مرکزیہ میں آپ کا قیام رہا۔ ١٥ ستمبر کو کوئٹہ تشریف لے گئے۔ تمام جماعتی رفقاء سے ملاقاتیں کیں۔ ان کو ختم نبوت کانفرنس چناب نگر کی مثالی کامیابی کی تفصیلی رپورٹ بتائی۔ ١٧ ستمبر جمعہ کو حضرت مولانا قاری انوار الحق حقانی خطیب مرکزی جامع مسجد کے حکم پر ان کی عدم موجودگی میں جامع مسجد میں خطاب کیا۔ خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا۔ نماز جمعہ پڑھائی۔ جمعہ کے بعد دو عیسائیوں کو قبول اسلام کرایا۔ کلمہ شریف پڑھتے پڑھاتے‘ محراب میں بیٹھے ہوئے دل کا اٹیک ہوا۔ دوستوں نے سنبھالا۔ ان کے ہاتھوں میں ہی وصال فرما گئے۔ دوستوں نے بھاگم بھاگ گاڑی میں ڈالا۔ ہسپتال لے گئے۔ جہاں ڈاکٹروں نے ان کے وصال کی تصدیق کردی۔ آپ کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کوئٹہ کے دفتر لے گئے۔ آپ کے وصال کی خبر آناً فاناً پورے شہر میں پھیل گئی۔ آپ کی تجہیز و تکفین کا رفقاء نے دفتر میں اہتمام کیا۔ جامع مسجد سنہری کوئٹہ میں بعد نماز عصر عالمی مجلس تحفظ بلوچستان کے امیر حضرت مولانا عبدالواحد کی امامت میں پورے شہر نے آپ کا جنازہ پڑھا۔ مغرب کے بعد ان کے جنازہ کو لے کر حضرت مولانا عبدالواحد‘ جناب حاجی خلیل‘ جناب حاجی کالے خان‘ جناب فیروز احمد تاج نے سفر کا آغاز کیا۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم اعلیٰ حضرت مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری کی سربراہی میں جماعتی رفقاء نے علی پور سے اس تعزیتی جلوس میں معیت حاصل کی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے قائم کردہ مدرسہ دارالہدیٰ چوک پرمٹ میں تھوڑی دیر رکنے کے بعد آپ کو آبائی گاؤں لایا گیا۔ علاقہ بھر کی دینی قیادت پہلے سے موجود تھی۔ حضرت مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری کی امامت میں جنازہ ہوا اور ہزاروں بندگان خدا کی موجودگی میں آپ کو رحمت حق کے سپرد کردیا گیا۔ آپ نے تقریباً ساٹھ سال عمر پائی۔ حق تعالیٰ حضرت مولانا عبدالعزیز صاحب کی بال بال مغفرت فرمائیں۔ کروٹ کروٹ ان کو جنت نصیب ہو اور پسماندگان کو صبر جمیل کی نعمت سے اللہ تعالیٰ سرفراز فرمائیں۔ آمین!
(لولاک شعبان المعظم ١٤٢٥ھ)
٨١...... حضرت مولانا مختار احمد مظاہریؒ
وفات...... ١٩ ستمبر ٢٠٠٤ء
پاکستان کے جید عالم دین بزرگ رہنما حضرت مولانا مختار احمد مظاہریؒ ١٩ ستمبر ٢٠٠٤ء کو وفات پاگئے۔ انالله وانا اليه راجعون!
حضرت مولانا مختار احمد مظاہریؒ جامعہ مظاہر العلوم سہارنپور کے فاضل تھے۔ برکتہ العصر حضرت مولانا محمد زکریا کاندھلویؒ کے ممتاز تلامذہ میں سے تھے۔ جامعہ رشیدیہ ساہی وال و جامعہ حنفیہ بورے والا میں آپ نے نصف صدی تک تدریسی خدمات سرانجام دیں۔ دینی علوم پر آپ کو بھر پور دسترس حاصل تھی۔ ماہر علوم عقلیہ ونقلیہ تھے۔ اس وقت پاکستان کے جید شیوخ حدیث میں آپ کا شمار ہوتا تھا۔ وضع قطع، رہن سہن، میل وملاقات میں سادگی کا مرقع تھے۔ آپ یادگار اسلاف تھے۔ ہزاروں نامور علماء کے استاد تھے۔ جو ان کے لئے صدقہ جاریہ ہیں۔ اسی سال سے زائد عمر پائی۔ آپ کی وفات علم وعمل کی وفات ہے۔ آپ سے ہزاروں یادیں وابستہ تھیں۔ ان کی وفات نے تاریخ کا ایک سنہری باب بند کر دیا۔ آپ اس دھرتی پر انعام الٰہی تھے۔ ان کی وفات نے پاکستان کے علماء کے لئے ایسا خلا پیدا کر دیا ہے جس کا پرنا مشکل نظر آتا ہے۔ ان کے تذکرے مدتوں رہیں گے۔ ایسے بے نفس و بے ریا عالم دین کی وفات اسلامیان پاکستان کے لئے مقام تعزیت ہے۔ حق تعالیٰ کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائیں۔ آمین!
جامعہ رشیدیہ ساہیوال کے اکابر حضرت مولانا محمد عبداللہ رائے پوریؒ حضرت مولانا فاضل حبیب اللہ رشیدی جالندھریؒ کے وصال کے بعد حضرت مولانا مختار احمد مظاہریؒ کو حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب جالندھری اپنے ادارہ جامعہ حنفیہ بورے والا میں لائے تھے۔ جہاں آپ نے جامعہ حنفیہ کی سرپرستی فرمائی اور اس کی ترقی کے لئے اپنی بوڑھی جان کو کھپا دیا تھا۔ حضرت مولانا مرحوم کی جناب قاری محمد طیب صاحب نے بھی خوب قدر شناسی کی اور ہر قسم کی راحت پہنچائی۔ دعا ہے کہ اللہ رب العزت حضرت مرحوم کو آخرت ابدی نعمتوں اور راحتوں سے مالا مال فرمائیں۔ آمین!
(لولاک شعبان المعظم ١٤٢٥ھ)
٨٢...... حضرت مولانا مفتی محمد جمیل خان شہیدؒ
شہادت ......١٩ اکتوبر ٢٠٠٤ء
ہمارے مرشد و مخدوم حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ نے کسی ولی اللہ کا قول نقل فرمایا ہے کہ : ”کسی سالک نے اللہ والے سے درخواست کی کہ کوئی ایسا عمل بتا دیں جس سے اللہ تعالیٰ کا وصال نصیب ہو جائے ۔ “ تو انہوں نے سالک سے فرمایا کہ : ”کسی اللہ والے کے دل میں بیٹھ جاؤ ۔ اللہ تعالیٰ سے وصال نصیب ہو جائے گا ۔ “ اسی طرح سنا ہے کہ ایک چیونٹی بیت اللہ جانا چاہتی تھی ۔ کبوتر کے پروں میں چھپ گئی ۔ کبوتر نے حرم شریف کے لئے اڑان بھری تو یہ بھی بیت اللہ شریف میں پہنچ گئی ۔
ہمارے حضرت مولانا مفتی محمد جمیل خانؒ ایسے ہی خوش نصیب تھے کہ انہوں نے پیدائش سے شہادت تک ہمیشہ اہل اللہ کے قلوب کو اپنا گھر بنائے رکھا ۔ آپ کی پیدائش کراچی میں ہوئی ۔ والد محترم الحاج حضرت حاجی عبدالسمیعؒ حضرت مولانا مفتی محمد حسن امرتسریؒ خلیفہ مجاز حضرت حکیم الامت مولانا محمد اشرف علی تھانویؒ سے بیعت تھے ۔ کراچی میں قیام پذیر ہونے کے باعث شیخ الاسلام مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ مفتی اعظم پاکستان مولانا مفتی محمد شفیع دیوبندیؒ حضرت ڈاکٹر عبدالحئی عارفیؒ سے ان کے دینی تعلقات تھے ۔ ان کی عادت تھی کہ وہ اپنے ہونہار بیٹے محمد جمیل خان کو ہمیشہ ان اکابر کی مجلسوں میں لے جاتے ۔ اپنے آبائی علاقہ پشاور جانا ہوتا تو بیٹا جمیل خان ان کے ساتھ ہوتا ۔ سخاکوٹ پشاور حضرت مولانا عزیر گلؒ پشاور میں مولانا فقیر محمد پشاوریؒ کے ہاں ان کا جانا ہوتا تو بیٹا جمیل خان اپنے والد کی انگلی تھامے ساتھ ہوتا تھا ۔ ذرا غور فرمائیے کہ مولانا مفتی محمد جمیل خان صاحبؒ کو بچپن سے کیسا نورانی ماحول پاکیزہ مجلسیں اور کیسے کبار مشائخ عظام علمائے کرام اور اولیائے حقؒ کی صحبتیں نصیب ہوئیں؟ کسی دوست نے ایک مرتبہ مولانا جمیل خانؒ سے پوچھا کہ آپ کی اس عزت و مقام شہرت و رفعت اس کا باعث کیا ہے؟ ۔ حضرت مفتی صاحبؒ نے فی البدیہہ فرمایا کہ میں کیا اور میرا مقام کیا؟ ۔ اگر کچھ ہے تو کسی اللہ والے کی دعاؤں کا صدقہ ہے ۔ میرے والد صاحبؒ بچپن میں مجھے بزرگوں کے پاس لے جاتے تھے اور میرے لئے دعاؤں کی ان سے بھیک مانگتے تھے ۔ تھوڑا بڑا ہوا تو ساتھ لے جاتے ۔
تو ان اکابر کی جوتیاں سیدھی کرنے اور ان کے پاؤں دبانے کی خدمت پر لگا دیتے تھے۔ کسی بزرگ کی دعا کام کر گئی۔ جس کے باعث اللہ نے محمد جمیل کو مولانا مفتی محمد جمیل خان بنا دیا اور دین کی خدمت پر ایسے لگے کہ شہادت نے آکر ان سے یہ عمل چھڑا دیا۔
حضرت مولانا مفتی محمد جمیل خانؒ نے تین بار رمضان المبارک کی تراویح میں حضرت مولانا عزیز گل کو قرآن مجید سنایا۔ ذرا مفتی صاحب کی محبوبیت اور عنداللہ مقبولیت کو ملاحظہ کریں کہ ایک بار حرم کعبہ میں شہید اسلام حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ نے ستر ہزار بار کلمہ طیبہ کا نصاب کسی بات پر خوش ہو کر مفتی محمد جمیل خان کو ہدیہ کیا۔ محدث کبیر حضرت مولانا سرفراز خان صفدر دامت برکاتہم کا حضرت مفتی محمد جمیل خانؒ کے نام ایک مکتوب فقیر راقم کے پاس ہے جس میں حضرت شیخ الحدیث مدظلہ نے آپ کو لکھا کہ: ”آپ مجھے اپنی حقیقی اولاد سے زیادہ عزیز ہیں ۔“ ظاہر ہے کہ یہ مبالغہ پر محمول نہیں۔ بلکہ حضرت شیخ الحدیث کے دل کی آواز تھی ۔ جس کا آپ نے اپنے گرامی نامہ میں اظہار فرمایا۔
شیخ الاسلام حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ، مفتی وقت حضرت مولانا مفتی ولی حسن ٹونکیؒ، ولی کامل حضرت مولانا مفتی احمد الرحمنؒ، شہید اسلام مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ، شیخ الحدیث مولانا سرفراز خان صفدرؒ، یادگار اسلاف حضرت مولانا محمد نافعؒ، حضرت مولانا مفتی نظام الدین شامزئی شہیدؒ، رحمہم اللہ تعالیٰ شیخ المشائخ حضرت خواجہ خان محمد مدظلہٗ، مخدوم الصلحاء حضرت سید نفیس شاہ الحسینی مدظلہٗ، مخدوم العلماء حضرت مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر جیسے اکابر کی خدمات کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیا۔ حقیقی اولاد سے بڑھ کر حضرت مولانا مفتی محمد جمیل خانؒ نے ان کی خدمت کی ۔ حضرت مولانا مفتی ولی حسن ٹونکیؒ کو آپ نے کندھوں پر اٹھا کر بیت اللہ کے طواف کرائے ۔ حضرت شیخ الحدیث مولانا سرفراز خان صفدر کو آپ نے وہیل چیئر پر طواف وسعی کرائی ۔ حضرت مفتی محمد جمیل خانؒ کی زندگی کا خدمت اکابر کا یہ وہ پہلو ہے کہ جس نے آپ کو ”محبوب المشائخ“ بنادیا تھا۔ مولانا مفتی محمد جمیل خانؒ کی مصروفیات دینی کاموں میں مشغولیت ترویج و اشاعت قرآن خدمت نفاذ اسلام عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے آپ کی مساعی جمیلہ کا یہ عالم تھا کہ دن رات انہوں نے ان کاموں کے لئے ایک کئے ہوئے تھے۔ صبح سفر شام سفر کا وہ مظہر تھے۔ شاید بڑے سے بڑے واعظ و خطیب اور بڑے سے بڑے وزیر و امیر نے اتنے سفر نہ کئے
ہوں جتنے آپ کے اسفار ہوتے تھے۔ اتنا انتھک انسان کم از کم اپنی ساٹھ سالہ زندگی میں بندہ نے نہیں دیکھا۔ ان مصروفیات کا سن کر دماغ کھول اٹھتا ہے۔ یا اللہ ! یہ کسی انسان کا کام نہ تھا۔ محض توفیق ایزدی سے انہوں نے دن رات صبح و شام دن کے چوبیس گھنٹے۔ ہفتہ کے سات دن۔ مہینہ کے تیس دن اور سال کے تین سو ساٹھ دن مصروفیات میں گزارے۔
حضرت مفتی صاحبؒ کی زندگی جہد مسلسل سے عبارت تھی۔ وہ ایک ناقابل تسخیر انسان تھے۔ صحیح معنوں میں وہ مرد آہن تھے۔ قدرت نے تھوڑے وقت میں ان سے بہت زیادہ کام لینا تھا۔ اس لئے ان کی زندگی میں آرام نام کی کوئی چیز نہ تھی۔ لیکن ان تمام مصروفیات کے باوجود حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ بیمار ہوئے تو یکسر دنیا و مافیہا سے بے خبر ہو کر تمام مصروفیات کو معطل کر کے مفتی محمد جمیل خانؒ نے حضرت لدھیانویؒ کے قدموں میں بستر لگا دیا۔ گھر‘ ہسپتال‘ مسجد میں وہ سایہ کی طرح ان کے ساتھ ہو گئے۔ تا آنکہ حضرت لدھیانویؒ صحت یاب نہیں ہوئے۔ انہوں نے کسی دوسرے کام کی طرف نظر نہیں کی۔ کل کی بات ہے کہ حضرت مولانا مفتی نظام الدین شامزئی شہیدؒ کی شہادت کے بعد حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر علیل ہو گئے تو مفتی محمد جمیل خانؒ نے ان کے ہمراہ ہسپتال میں بستر لگا لیا۔ حضرت مفتی نظام الدین شامزئی شہیدؒ کے زخمی صاحبزادہ اور ان کے زخمی ڈرائیور کی عیادت حضرت ڈاکٹر صاحب کی خدمت میں دن رات ان کے ساتھ رہے۔ تا آنکہ یہ تینوں حضرات صحت یاب ہو کر گھر نہیں آگئے اور اپنے معمول کے کام شروع نہیں کئے۔ حضرت مفتی محمد جمیل خانؒ نے اپنے دیگر کاموں کی طرف نظر اٹھا کر نہیں دیکھا۔ ان کی ان عظیم خدمات اور موقر مساعی ومحمود اوصاف کے باعث اللہ تعالیٰ نے آپ کو دنیا میں محبوب المشائخ بنا دیا تھا۔
افغانستان کی اسلامی حکومت‘ خدمت خلق‘ ترویج و اشاعت اسلام‘ قرآنی تعلیم کی ملک گیر تحریک اقراء روضۃ الاطفال۔ عقیدۂ ختم نبوت کے لئے خدمات۔ صحافتی میدانِ عمل۔ علمائے کرام کے باہمی ربط۔ مساجد و مدارس کی خدمت۔ غریبوں کی خدمت۔ مریضوں کی دیکھ بھال اور دیگر بے شمار ان کی زندگی کے شعبہ ہائے عمل ان میں سے ہر ایک مستقل مقالہ کا متقاضی ہے۔
خدمات ختم نبوت : سردست میں صرف عقیدۂ ختم نبوت کے لئے ان کی خدمات کا سرسری لیتا ہوں۔ آپ نے زمانہ طالب علمی میں ١٩٧٤ء کی تحریک ختم نبوت میں جمعیت طلبائے
اسلام کے پلیٹ فارم سے گرانقدر خدمات سرانجام دیں۔ حضرت شیخ الاسلام مولانا محمد یوسف بنوریؒ کے وصال کے بعد مجلس تحفظ ختم نبوت کے لئے حضرت مولانا مفتی احمد الرحمٰنؒ حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ کی خدمات مجلس کی تاریخ کا وہ سنہری باب ہے جس کا ہر لفظ آب زر سے لکھنے کے قابل ہے۔ لیکن ان تمام خدمات میں برابر حضرت مولانا مفتی محمد جمیل خانؒ نظر آتے ہیں۔ مجلس تحفظ ختم نبوت سے ان کی لازوال محبت و وابستگی کا یہ عالم تھا کہ جمعیت علمائے اسلام کل پاکستان کے آپ ناظم اطلاعات کے عہدہ پر فائز تھے۔ پوری جمعیت کی قیادت کا آپ کو اعتماد حاصل تھا۔ ان کی آرزوؤں کا آپ مرکز تھے۔ جمعیت علمائے اسلام کی تنظیم میں آپ کو ماتھے کے جھومر کی حیثیت حاصل تھی۔ ایک بار آپ کو جماعتی دستور کی رو سے کہا گیا کہ جمعیت کے دستور کی رو سے جمعیت کا عہدیدار کسی دوسری تنظیم کا عہدیدار نہیں ہو سکتا۔ آپ مجلس تحفظ ختم نبوت کی شوریٰ کے رکن ہیں۔ جمعیت علمائے اسلام کی نظامت اطلاعات یا عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی شوریٰ کی رکنیت کسی ایک کا انتخاب کریں؟۔ ایک لمحہ سوچے بغیر انہوں نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی شوریٰ کی رکنیت کا انتخاب کیا۔ چنانچہ جمعیت علمائے اسلام نے مولانا حافظ ریاض احمد خان درانی کو ناظم اطلاعات بنادیا۔ یہ ایک اور بات ہے کہ یہ صرف جماعتی دستور کا تقاضا آپ نے پورا کیا۔ اس کے باوجود صبح و شام خون جگر سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ساتھ ہی ساتھ جمعیت علمائے اسلام کے لئے جو کام کیا اسے کوئی دیانتدار قلم نظر انداز نہیں کر سکتا۔
اقراء روضۃ الاطفال کے نائب مدیر مولانا مفتی محمد خالد محمود صاحب فرماتے ہیں کہ ایک بار ہم نے مفتی محمد جمیل خانؒ سے عرض کیا کہ آپ کے دن رات کے اسفار اور دیگر مصروفیات کے باعث اقراء کا کام متاثر ہو رہا ہے؟۔ تو مفتی محمد جمیل خانؒ نے فرمایا کہ سفر حج اور رمضان المبارک میں حرمین شریفین کے سفر تو میں ترک نہیں کر سکتا۔ باقی جس طرح آپ فرمائیں گے میں حاضر ہوں۔ لیکن ایک بار انگلینڈ میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی فوری ضرورت کے باعث آپ نے رمضان المبارک کا سفر حرمین مختصر کر دیا۔
حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ کو سفر انگلینڈ کے لئے آمادہ کرنے والے آپ تھے۔ مفتی محمد جمیل خانؒ کی مساعی جمیلہ سے حضرت اقدس سید نفیس شاہ الحسینی دامت برکاتہم نے اپنی علالت و بڑھاپے کے باوجود برطانیہ کے سفر کئے۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کے لئے آپ کی مساعی
کی روشن تاریخ کسی داستان آرائی کی محتاج نہیں۔ برمنگھم و چناب نگر کی سالانہ ختم نبوت کانفرنسوں کی کامیابیوں میں آپ کا معتدبہ حصہ تھا۔ کوئی شوریٰ کا اجلاس ایسا نہیں جس میں آپ نے شرکت نہ کی ہو۔ جب عاملہ یا دیگر اجلاس کے لئے کوئی تاریخ مقرر کرتے تو حضرت مفتی محمد جمیل خانؒ ملک کے جس کونہ میں ہوتے اجلاس کے لئے پہنچ جاتے۔ کل کی بات ہے چناب نگر میں ختم نبوت کانفرنس کے ایک ہفتہ بعد سالانہ رد قادیانیت وعیسائیت کورس کا آغاز ہونا تھا۔ پشاور‘ ڈیرہ اسماعیل خان سے خانقاہ سراجیہ پہنچے۔ فون پر استدعا کی کہ کل صبح کورس کا آغاز ہے۔ آپ بسم اللہ کرادیں۔ انہوں نے اسی وقت سفر کیا۔ رات سرگودھا حضرت مولانا محمد اکرم طوفانی کے ہاں قیام کیا۔ صبح آٹھ بجے سے قبل چناب نگر مدرسہ ختم نبوت میں آدھمکے۔ حضرت مولانا سعید احمد جلالپوریؒ حضرت مولانا شبیر احمدؒ حضرت مولانا مفتی خالد محمودؒ حضرت طوفانی صاحب بھی ہمراہ تھے۔ سب سے پہلا بیان کیا۔ پھر دعا کرائی۔ حضرت مولانا سعید احمد جلالپوری کا بھی بیان ہوا۔
شہادت سے تین دن قبل منگل کو فون کیا کہ حضرت ! کہاں ہیں؟ ۔ فرمایا کہ گلگت‘ مانسہرہ‘ پنڈی‘ پشاور کے سفر مکمل کر کے ڈیرہ اسماعیل خان جارہا ہوں۔ شام خانقاہ سراجیہ حاضر ہونا ہے۔ عرض کیا کہ حضرت! کورس کے شرکاء کو شہید اسلام حضرت لدھیانویؒ کی نیابت میں ایک پیریڈ پڑھا دیں۔ فرمایا کہ کل صبح حاضر ہوں گا۔ رات دس بجے فون کیا تو معلوم ہوا کہ ہنگامی ضرورت سے پنڈی چلے گئے ہیں۔ مایوسی ہوگئی کہ اب صبح شاید نہ آسکیں۔ ڈرتے ڈرتے فون کیا کہ حضرت! آپ پنڈی جارہے ہیں۔ صبح چناب نگر کورس کے شرکاء میں آپ کے لیکچر کا اعلان کر دیا ہے۔ کیا ہوگا؟۔ فرمایا کہ حاضر ہوں گا۔ عرض کیا کہ حضرت! آپ تو پنڈی میں ہیں۔ فرمایا کہ آپ کو اس سے کیا غرض؟۔ کہیں بھی ہوں۔ کل آپ سے وعدہ کے مطابق حاضری ہوگی۔ چنانچہ دس بجے تشریف لائے۔ ناشتہ کیا۔ پڑھانے بیٹھ گئے۔ ڈیڑھ گھنٹہ لیکچر دیا۔
اللہ تعالیٰ کی شان اور بے پایاں احسان کا کرنا ایسا ہوا کہ بدھ کے روز شہادت سے دو دن قبل آپ کی زندگی کا آخری خطاب چناب نگر میں ختم نبوت کے عنوان پر ہوا۔ بارہ بجے فارغ ہوئے تو گاڑی پر بیٹھے اور جامعہ محمدی حضرت مولانا محمد نافع صاحب کی خدمت میں جا دھمکے۔ حضرت مولانا سید حماد اللہ شاہ‘ جناب رانا محمد طفیل جاوید اور فقیر ہمراہ تھے۔ ان سے دعائیں لیں‘
ہمیں چنیوٹ اتارا خود شاہ صاحب کے ہمراہ گلگھو کے لئے عازم سفر ہو گئے۔ اسی سفر میں فرمایا کہ ایجنسیوں نے مجھے شہید ثالث کا خطاب دیا ہے۔ کسی وقت کچھ ہو سکتا ہے۔ مگر مجال ہے کہ حالات کی تمام تر نزاکتوں کے جاننے کے باوجود آپ کی طبیعت پر کوئی ملال یا بوجھ ہو۔ ایک بہادر جرنیل کی طرح جو کچھ ہونا ہے اس کا سامنا کرنے کے لئے سینہ سپر تھے۔
اگلے دن جمعرات شام کو ائیر پورٹ لاہور پر حضرت مولانا سید ارشد مدنی دہلی سے اور حضرت مولانا فضل الرحمٰن اسلام آباد سے تشریف لانے والے تھے۔ ان کے استقبال کے لئے اکٹھے ہو گئے۔ یہ آپ سے زندگی کی آخری ملاقات تھی۔ جمعہ کو آپ نے فون پر پوچھا کہاں ہو؟۔ میں نے عرض کیا قصور ختم نبوت کانفرنس ہے۔ فرمایا کہ اوچی کھرولیاں کے نام کی بحالی کے لئے درخواست مولانا عزیز الرحمٰن ثانی کو فرمائیں کہ تیار کر کے فلاں صاحب کو دے دیں میں نے بات کر لی ہے۔ یہ آخری فون تھا۔ ہفتہ شام کو عشاء سے قبل اطلاع ملی کہ ہمارے محبوب قائدین حضرت مفتی محمد جمیل خان اور حضرت مولانا نذیر احمد تونسوی صاحب شہید کر دیئے گئے۔ انا للہ وانا اليه راجعون !الله اكبر كبيرا. عاشوا سعيداً و ماتوا سعيداً ! اللہ تعالیٰ دونوں کی قبروں پر اپنی بے پایاں رحمتیں نازل فرمائے۔
وہ کیا گئے ہم مسکینوں کی دنیا سونی کر گئے زندگی بے مزہ ہوگئی: ”فعل الحکیم لايخلوا عن الحكمة “ کے تحت سوائے صبر کے چارہ نہیں۔ بے رونق و ڈھیٹ بن کر بقیہ زندگی ان کے بغیر بسر ہوگی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو شہادت کے منصب سے سرفراز کیا۔ ہماری بقیہ زندگی کو بھی اللہ تعالیٰ با رونق فرمادیں تو اس کی شان سے کیا بعید ہے۔ اللہ تعالیٰ بقیہ زندگی عقیدۂ ختم نبوت کی خدمت کے لئے گزارنے کی توفیق دیں۔ خاتمہ بالایمان ہو جائے۔ کل قبر و قیامت میں اپنے اکابر و مجاہدین ختم نبوت کا ساتھ نصیب ہو جائے۔
اے قادر کریم! تو ایسے ہی فرما۔ مجھے بھی اسی طرح سرخرو فرمانا جس طرح ان کو سرخرو فرمایا ہے۔ تیرے خزانہ میں کیا کمی ہے؟ ۔ اے پروردگار! تیری تقدیر پر راضی ہیں جو ہوا تیری مرضی سے ہوا اور جو ہوگا تیری مرضی سے ہوگا۔ ہم سب کو اپنی رضا نصیب فرما۔ آمین! ثم آمین!
(لولاک شوال المکرم ١٤٢٥ھ)
٨٣...... حضرت مولانا نذیر احمد تونسوی شہیدؒ
شہادت ...... ١٩ اکتوبر ٢٠٠٤ء
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے فاضل اجل، مبلغ حضرت مولانا نذیر احمد تونسوی شہیدؒ ١٩ اکتوبر ٢٠٠٤ء کو شہید کر دیئے گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون!
حضرت مولانا نذیر احمد تونسوی شہیدؒ بلوچوں کے قیصرانی قبیلہ کے چشم و چراغ تھے۔ تونسہ شریف معروف جہاں شہر ہے۔ اس کے مضافات میں ڈیرہ اسماعیل روڈ پر معروف قدیمی قصبہ ٹبی قیصرانی ہے۔ ٹبی سے مغربی جانب پہاڑوں کے دامن اور ریت کے ٹیلوں کے وسط میں بستی ملھہ ہے۔ مولانا تونسویؒ اس بستی کے رہائشی تھے۔ ١٩٥٧ء میں آپ نے اس بستی کے ایک بزرگ جناب اللہ بخش تونسویؒ کے گھر آنکھیں کھولیں۔ ذرا سیانے ہوئے تو ٹبی کے مدرسہ معراج العلوم اور ریتڑہ کی جامع مسجد اور پھر مدال تحصیل کبیر والا میں قرآن مجید حفظ کیا۔ ان دنوں آپ کے بڑے بھائی قاری منظور احمد صاحب دارالعلوم پیپلز کالونی فیصل آباد میں مدرس تھے۔ ان کے ساتھ فیصل آباد آئے۔ دینی کتب کی تعلیم ابتداء سے دورہ حدیث شریف تک یہاں حاصل کی۔
١٩٧٤ء سے ١٩٧٦ء تک کا ہنگامہ خیز وقت آپ کا فیصل آباد میں گزرا۔ آپ ان دنوں کتب کے آخری درجہ میں پڑھ رہے تھے۔ تحریک ختم نبوت ١٩٧٤ء یا اس کے بعد جمعہ پڑھنے کے لئے ریلوے کالونی جامع مسجد میں حضرت مولانا تاج محمودؒ کے ہاں تشریف لاتے۔ آہستہ آہستہ معمول بن گیا۔ ان دنوں مولانا تونسویؒ سبزہ آغاز تھے۔ معصوم چہرہ۔ سر پر رومال۔ اداؤں میں خطیب اہل سنت حضرت مولانا عبدالشکور دین پوریؒ کی جھلک۔ بول چال میں مترادف الفاظ کا بے دریغ استعمال۔ ہم وزن جملوں سے گفتگو کو مرقع حسن بنانا۔ یہ مولانا تونسویؒ کی طلب علمی کی زندگی کی نشانیاں قرار دی جا سکتی ہیں۔ حضرت مولانا عبدالشکور دین پوری صاحب طرز خطیب تھے جو حضرت مولانا نذیر احمد تونسویؒ کا آئیڈیل تھے۔ خدا کی قدرت کہ کسی حد تک مولانا تونسویؒ کا چہرہ مہرہ بھی حضرت مولانا دین پوریؒ سے میل کھاتا تھا۔ مولانا تونسویؒ کا حضرت مولانا تاج محمودؒ کے ہاں جمعہ کے لئے آنا۔ جمعہ کے بعد حضرت مرحوم کے ہاں چائے کی مجلس میں شرکت۔ اس عمل نے مولانا نذیر احمد تونسویؒ کو مجلس تحفظ ختم نبوت کے قریب کر دیا۔ مولانا نذیر احمد تونسویؒ کی
پڑھائی کے آخری سالوں میں مولانا تاج محمود مرحوم نے آپ کی ذہن سازی کی کہ آپ مجلس تحفظ ختم نبوت میں شامل ہو جائیں۔ ادھر آپ نے حضرت مولانا محمد شریف جالندھریؒ سے فرمایا کہ نذیر تونسویؒ کام کا نوجوان ثابت ہوگا۔ اسے مجلس کے شعبہ تبلیغ میں جذب کر لو۔
فراغت کے بعد مولانا نذیر احمد تونسویؒ نے دفتر مرکزیہ ملتان میں فاتح قادیان، مولانا محمد حیات صاحبؒ کے پاس ترد قادیانیت پر سہ ماہی کورس کیا۔ اس کلاس میں مولانا عبدالعزیز لاشاری اور حافظ احمد بخش صاحب بھی آپ کے ہم درس تھے۔ حافظ صاحبؒ رحیم یار خان، لاشاری صاحب کراچی اور مولانا نذیر احمد کی کوئٹہ تقرری ہو گئی۔ آپ نے چھ ماہ کوئٹہ گزارے۔ یہ ١٩٧٧ء کی بات ہے۔ چھ ماہ کوئٹہ میں گزار کر سردیوں میں کراچی آگئے تو کراچی سے مولانا عبداللطیف آرائیں علی پوری کو کوئٹہ بھیج دیا گیا اور آپ کراچی میں مجلس کے دفتر واقع بندر روڈ پر تبلیغی خدمات انجام دینے لگے۔ مولانا لاشاری دفتری امور کے انچارج اور مولانا تونسویؒ تبلیغی خدمات کے مسئول تھے۔ سائرہ مینشن میں دفتر ہوتا تھا۔ حافظ محمد حنیف ندیم سہارنپوری ان دنوں صداقت اخبار میں ہوتے تھے۔ ان تینوں حضرات نے مل کر قادیانیت کے خلاف تبلیغی معرکہ گرم کیا۔
حضرت مولانا نذیر احمد تونسویؒ نے تقریباً تین سال کراچی میں کام کیا۔ ادھر کوئٹہ میں ان دنوں لیاقت بازار میں کرایہ کی بلڈنگ میں مجلس کا دفتر قائم تھا۔ مجلس کے مبلغ مولانا عبداللطیف تھے۔ مجلس کے کام کے مسئول منظور احمد مغلؒ اور پرانے حضرات میں مولانا محمد انور صاحب نمایاں تھے۔ مولانا انور اور جناب منظور احمد مغل برسوں سے مجلس کے ساتھ وابستہ تھے۔ مجلس کے کام پر ان کی چھاپ تھی۔ مولانا عبداللطیف صاحب نے خوب کام کیا۔ پورے صوبہ میں دن رات ایک کر دیا۔ مجلس کے کام کو مہمیز لگی۔ لیکن کوئٹہ شہر کے جماعتی نظم کی شکل ان دو حضرات کی شناخت بن کر رہ گئی تھی۔ چنانچہ مولانا عبداللطیف کو بہاولپور اور مولانا نذیر احمد کا کراچی سے کوئٹہ تبادلہ کر دیا گیا۔ یہ ١٩٨٠ء کے لگ بھگ کا دور ہے۔
حضرت مولانا نذیر احمد تونسویؒ نے ١٩٨٠ء سے ١٩٩٥ء تک کا دور کوئٹہ میں گزارا۔ آپ نے تحریکی کام کو آگے بڑھایا۔ آپ کی جماعتی تبلیغی سرگرمیاں بلوچستان کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک پھیل گئیں۔ اسی اثناء میں آپ نے ١٩٨٤ء کی تحریک ختم نبوت کو بلوچستان میں پروان چڑھایا۔ عوام و خواص میں آپ نے کام کیا۔ آپ کی مخلصانہ تبلیغی مساعی کو اللہ رب العزت
نے شرف قبولیت سے نوازا۔ کوئٹہ شہر میں اکابر علماء تجار اور دیندار مخلص رفقاء کی بھر پور ٹیم مل گئی۔ مولانا کے سرپرست و امیر حضرت مولانا منیر الدینؒ خطیب جامع مسجد سنہری قرار پائے۔ آپ یادگار اسلاف تھے۔ مخلص‘ صاحب علم‘ ولی‘ عالم دین تھے۔ آپ کا شہر کے دین دار حلقہ میں نمایاں اور امتیازی مقام تھا۔ آپ کی شخصیت کی سحر آفرینی نے حضرت مولانا تونسویؒ پر کام کرنے کے لئے راستے کھول دیئے۔ آپ نے ان راستوں کو شاہراہوں میں بدل دیا۔ مکران میں ذکری طبقہ کی خلاف اسلام سرگرمیوں پر آپ نے شب خون مارا تو ان کے خواب و خور حرام کر دیئے۔
حضرت مولانا نذیر احمد تونسوی شہیدؒ بلوچ تھے۔ بلوچی آپ کی مادری زبان تھی۔ پشتو پوری سمجھ لیتے تھے۔ بلکہ بولنے میں بھی طبع آزمائی کر لیتے تھے۔ سرائیکی اور اردو پر تو مکمل دسترس حاصل تھی۔ ان خوبیوں نے آپ کو ہر دلعزیز بنا دیا۔ ملنسار طبیعت تھی۔ سادہ مزاج تھے۔ لیکن اپنے موقف کے پکے تھے۔ فرماتے تھے کہ پٹھان یا بلوچ علماء میں کام کرنے میں مجھے دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ ان کے مزاج و طبیعت سے واقف ہو گئے۔ خوب گھل مل گئے۔ تبلیغی کام نے وسعت اختیار کی۔
اسی دوران وفاقی حکومت نے اسلم قریشی کو کوئٹہ لا کر لیاقت بازار کے دفتر مجلس تحفظ ختم نبوت سے برآمد کرنے کا ڈرامہ کرنا چاہا تو کوئٹہ کے آئی جی نے صاف کہہ دیا کہ ہمارا صوبہ حساس صوبہ ہے۔ مذہبی صوبہ ہے۔ ایسی حرکت کرنی ہے تو (ایک صوبے کا نام لے کر کہا) لے جاؤ۔ حضرت مولانا نذیر احمد تونسویؒ ان دنوں کوئٹہ دفتر میں ہوتے تھے۔ اخبار میں خبر چھپی کہ ایران کے بارڈر سے اسلم قریشی برآمد ہوئے۔ حضرت مولانا نذیر احمد تونسویؒ نے علماء کا وفد بنایا۔ آئی جی کے پاس جا دھمکے۔ انہوں نے تردید کر دی کہ یہاں سے برآمد نہیں ہوئے۔ اگلے دن ان کے حوالہ سے خبر شائع ہوئی تو ایجنسیوں کے کارندوں کا منہ کالا ہوا۔ ان کی سازش پر اوس پڑ گئی۔
غرض حضرت مولانا تونسویؒ خوب زرخیز دماغ انسان تھے۔ حضرت مولانا منیر الدینؒ کی سرپرستی اور رفقاء کی محنت سے مجلس کا کوئٹہ میں اپنا ذاتی دفتر قائم ہو گیا۔ زیرک و معاملہ فہم تھے۔ مولانا تونسویؒ کے کوئٹہ قیام کے دوران میں کراچی دفتر سائرہ مینشن سے پرانی نمائش باب الرحمت کے عقب میں منتقل ہو گیا۔
مرزا طاہر کے فرار کے بعد انگلستان میں کام کی راہیں کھل گئیں۔ کراچی سے ہفت روزہ ختم نبوت کا اجراء ہو گیا۔ حضرت مولانا مفتی احمد الرحمٰنؒ حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ کی سرپرستی و شفقتوں نے حضرت مولانا منظور احمد الحسینیؒ کی چلتی پھرتی جوانی کو سراپا تحریک بنا دیا۔ دن رات کا فرق رکھے بغیر ان اکابر کی سرپرستی اور رفقاء کی رفاقت میں کام کو اتنی وسعت دی کہ اس پر اللہ تعالیٰ کا جتنا شکر ادا کیا جائے کم ہے۔ ان دنوں حضرت حاجی لال حسینؒ حضرت مولانا مفتی احمد الرحمٰنؒ ایسے اکابر کراچی مجلس کے کام کی سرپرستی کرتے تھے۔ اب حضرت مولانا منظور احمد الحسینیؒ اور دیگر رفقاء بیرون ملک زیادہ وقت دینے لگے۔ اسی دوران میں کراچی مسجد و دفتر کی تعمیر جدید کا مرحلہ بھی اللہ تعالیٰ نے حضرت لدھیانویؒ کی نظر شفقت اور ان حضرات کی مخلصانہ محنت سے سر کرا دیا۔ حافظ محمد حنیف ندیم سہارنپوریؒ روزنامہ صداقت کراچی سے ہفتہ وار لولاک فیصل آباد سے ہو کر ہفت روزہ ختم نبوت کراچی میں آگئے تھے۔
حضرت مولانا مفتی احمد الرحمٰنؒ کے وصال کے بعد جامعۃ العلوم الاسلامیہ کراچی کے مہتمم حضرت مولانا حبیب اللہ مختار شہیدؒ مقرر ہوئے۔ آپ کے زمانہ میں جامعہ میں کام کی وسعت کے پیش نظر حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ نے اپنا دفتر بنوری ٹاؤن سے جامع مسجد باب الرحمٰت میں منتقل کر لیا۔ آپ کے تشریف لانے سے دفتر مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے درودیوار کے مقدر جاگ گئے۔ دارالافتاء قائم ہو گیا۔ خانقاہی نظام چل نکلا۔ دن بھر عوام کا رش رہنے لگا۔ کتب چھپ رہی ہیں۔ رسائل کی کمپوزنگ ہو رہی ہے۔ ڈاک کی ترسیل و وصولی کا عمل ہو رہا ہے۔ شہر کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک تبلیغی پروگراموں کی ترتیب بن رہی ہیں۔ اس ہنگامہ خیز کام کو سنبھالنے کے لئے ١٩٩٦ء میں حضرت مولانا نذیر احمد تونسویؒ کوئٹہ سے کراچی تشریف لائے۔ آپ پہلے تین سال یہاں کام کر چکے تھے۔ شہر کے کوچہ و بازار سے واقف تھے۔ آپ نئے جذبہ سے آئے۔ نئی حکمت عملی اپنائی۔ نئے رفقاء کی ٹیم ملی۔ اکابر کی شفقتوں و محبتوں کے زیر سایہ کام کی نیو اٹھائی۔ اب تو وہ کراچی کے محبوب خطیب اور رہنما بن گئے تھے۔ دن میں کئی کئی پروگرام عام معمول بن گئے تھے۔ معاملہ فہم تھے۔ دفتر میں ہر آنے جانے والے سے ڈیل کرنا آپ کا خاص فن تھا۔ ہر دلعزیزی کے مقام پر قدرت نے آپ کو فائز کیا تھا۔ حضرت لدھیانویؒ کی شہادت کے
سانحہ کے بعد حضرت مولانا مفتی محمد جمیل خان شہیدؒ حضرت مولانا مفتی سعید احمد جلال پوری کی رفاقت اور حضرت مولانا مفتی نظام الدین شامزئی شہیدؒ کی راہ نمائی سے مولانا تونسویؒ نے مجلس کے کام کو ایسے طور پر سنبھالا دیا کہ اس پر انہیں جتنا خراج تحسین پیش کیا جائے کم ہے۔
کراچی کے ماحول نے آپ کو ایک سلجھا ہوا سفارت کار بنا دیا۔ آپ مجلس تحفظ ختم نبوت کے کیس کو جہاں لے کر گئے ۔ کامیاب رہے ۔ حکومت سے ملاقات ۔ سرکاری حلقہ سے گفتگو ۔ پولیس کے معاملہ میں ۔ سرکاری دفاتر میں ۔ رفاہ کے کام ۔ تبلیغی خدمات ۔ بیان عام و خاص، ملاقات و گفتگو پر آپ کو ایسی دسترس حاصل ہوگئی تھی جو آپ کا خاصہ تھی۔ بولتے نہ تھے۔ بلکہ موتی رولتے تھے۔ عام فہم سادہ مگر دل نشین گفتگو کے بادشاہ تھے۔ کوئی بھی قادیانی آتا تو آپ کی محبانہ و مخلصانہ تبلیغ سے مسلمان ہو جاتا۔ قادیانیوں کی کثیر تعداد کو آپ نے قبول اسلام کی نعمت سے سرفراز کیا۔ یہ آپ کی نجات کے لئے کافی ہے۔ من موہ لینے والی آپ کی شیریں گفتاری کے تذکرے مدتوں رہیں گے۔
آپ کراچی تشریف لائے تو حضرت مولانا مفتی محمد جمیل خانؒ پٹھان، مولانا نذیر احمد تونسویؒ بلوچ ۔ دونوں بہادر، دونوں عالمِ دین، دونوں حق گو، دونوں خاندانی مجاہد، دونوں دل کے بادشاہ اور آنکھ کے غنی اور دونوں اسلام کی سربلندی کے لئے سر بکف ۔ البتہ حضرت تونسوی صاحبؒ بہت دھیمے مزاج اور پختگی سے کام کو آگے بڑھانے کے خواہش مند و کار بند تھے ۔ وہ تمام جھمیلوں سے بچ کر صرف اور صرف عقیدۂ ختمِ نبوت کی خدمت کو اپنی سعادت سمجھتے تھے ۔ جبکہ حضرت مولانا مفتی محمد جمیل خانؒ نے تو دینِ اسلام کی خدمت کا کوئی ایسا شعبہ نہیں چھوڑا جس میں آپ نے اپنا مخلصانہ حصہ نہ ڈالا ہو۔ اب حضرت مولانا مفتی محمد جمیل خانؒ برطانیہ گئے تو تونسوی صاحبؒ بھی جارہے ہیں۔ حج پر دونوں اکٹھے ۔ خوب جوڑی بنی ۔ خوب انہوں نے ایک دوسرے کا ساتھ دیا۔ چناب نگر کانفرنس یا اندرونِ سندھ کے پروگرام ۔ غرض شرق و غرب، عرب و عجم، کراچی و قلات ۔ ہر جگہ دونوں حضرات کی محبتوں اور دینی رشتہ نے ایک دوسرے کا ساتھ نبھایا ۔ دنیا سے منہ موڑا اور ہم جیسے پسماندگان سے جدائی اختیار کی تو بھی ایک ساتھ ۔ رہے نام اللہ کا ۔
(لولاک شوال المکرم ١٤٢٥ھ)
٨٤....... حضرت مولانا محمد انور صاحبؒ
وفات.......٣ نومبر ٢٠٠٤ء
سنا ہے یا کہیں پڑھا ہے کہ نئی صدی کے ابتدائی پچیس سالوں میں جانے والی صدی کا خلاصہ وزبدہ اور ماحصل اٹھا لیا جاتا ہے۔ یہ صحیح یا غلط۔ لیکن تجربہ سے ایسے ہی لگتا ہے۔ کل کی بات ہے۔ حضرت مولانا عبدالشکور ترمذیؒ حضرت مولانا ضیاء القاسمیؒ حضرت مولانا محمد امین صفدر اوکاڑویؒ اور حضرت مولانا محمد لقمان علی پوریؒ معمولی وقفہ سے تقریباً دو تین ماہ میں یہ چار حضرات ایک ساتھ چل بسے۔ حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹیؒ، حضرت مولانا مفتی زین العابدینؒ شیخ الحدیث حضرت مولانا نذیر احمد صاحبؒ شیخ الحدیث حضرت مولانا مفتی نظام الدین شامزئی شہیدؒ یہ چاروں حضرات بھی یکے بعد دیگرے چند ہفتوں کے وقفہ سے چل بسے۔ ابھی حضرت مولانا مفتی محمد جمیل خان شہیدؒ اور حضرت مولانا نذیر احمد تونسوی شہیدؒ کی جدائی کو بھلا نہ پائے تھے کہ حضرت مولانا مفتی محمد انور شیخ الحدیث ومہتمم دارالعلوم کبیروالا ٣ نومبر ٢٠٠٤ء مطابق ١٩ رمضان المبارک ١٤٢٥ھ بروز بدھ صبح تین بجے میو ہسپتال لاہور میں بعارضہ جگر اللہ رب العزت کو پیارے ہو گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون!
حضرت محمد انور صاحبؒ حضرت مولانا علی محمد صاحبؒ کے صاحبزادہ تھے۔ حضرت مولانا علی محمد علاقہ جتوئی مظفر گڑھ کے رہائشی تھے۔ دارالعلوم دیوبند سے دورہ حدیث شریف کیا۔ جامعہ قاسم العلوم ملتان میں تدریس کرنے لگے۔ اس زمانہ میں حضرت مولانا محمد انور صاحبؒ جامعہ قاسم العلوم میں حضرت مولانا علی محمد صاحبؒ کے گھر پیدا ہوئے۔ یہ آج سے ٥٤ سال قبل کی بات ہے۔ اس زمانہ میں حضرت مولانا عبدالخالق المعروف صدر صاحبؒ جو حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ کے شاگرد رشید تھے۔ جامعہ قاسم العلوم ملتان کی مسند حدیث کے صدر نشین تھے۔ بعد میں آپ نے کبیر والا میں دارالعلوم کی بنیاد رکھی تو حضرت مولانا علی محمد صاحبؒ بھی آپ سے نیاز مندانہ تعلقات کے باعث ساتھ ہی کبیر والا آگئے۔ حضرت مولانا عبدالخالق صاحبؒ ایک فاضل اجل یگانہ روزگار دینی وعلمی شخصیت تھے۔ آپ کی تدریس کا سکہ پورے علاقہ پر حاوی تھا۔ معقول ومنقول کے آپ جامع تھے۔ بولتے کیا تھے موتی رولتے تھے۔ افہام تفہیم کا
حسن آپ کو قدرت نے دیا تھا۔ خود بھی انتہائی وجیہہ انسان تھے۔ آپ کے علم وفضل کے چرچوں سے علاقہ مسحور تھا۔ دارالعلوم آپ کے اہتمام میں رفعتوں کی منزلیں طے کرنے لگا۔
یوں حضرت مولانا محمد انور صاحبؒ کو قاسم العلوم اور دارالعلوم دونوں شہرہ آفاق درس گاہوں سے کسب فیض کا موقعہ ملا۔ دارالعلوم کبیروالا سے فراغت کے بعد جامعۃ العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی سے آپ نے افتاء کا کورس کیا۔ پھر دارالعلوم میں تدریس پر لگ گئے۔ حضرت مولانا عبدالخالق صاحبؒ کے بعد حضرت مولانا منظور الحق صاحب اور حضرت مولانا علی محمد صاحبؒ دارالعلوم کے یکے بعد دیگرے مہتمم مقرر ہوئے۔ حضرت مولانا علی محمد صاحبؒ کی وفات کے بعد حضرت مولانا محمد انور صاحبؒ نے اہتمام کی ذمہ داریوں کو سنبھالا۔
حضرت مولانا عبدالخالق صاحبؒ کا خانقاہی تعلق خانقاہ سراجیہ کے بانی حضرت مولانا ابوالسعد احمد خان صاحبؒ سے تھا۔ ان سے آپ بیعت تھے۔ خانقاہ سراجیہ کے دوسرے شیخ حضرت مولانا محمد عبداللہ المعروف حضرت ثانیؒ نے آپ کو خلافت سے نوازا تھا۔ حضرت مولانا عبدالخالق صاحبؒ علوم ظاہری و باطنی کے شناور تھے۔ شریعت وطریقت دونوں پٹڑیوں پر حضرت مولانا عبدالخالق صاحبؒ کے علم وفضل کی گاڑی دوڑتی تھی۔ حضرت مولانا علی محمد صاحبؒ ہوں یا حضرت مولانا منظور الحق صاحبؒ یا حضرت مولانا محمد انور صاحبؒ ان سب حضرات کا بھی بانی جامعہ کی طرح یہی مزاج تھا۔ دارالعلوم کبیروالا کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس کے فضلاء کی اکثریت تدریس کے کام کو سنبھالتی ہے۔ حضرت مولانا محمد انور صاحبؒ ایک متقی' پرہیزگار' درویش صفت عالم دین ومہتمم تھے۔ نام ونمود سے کوسوں دور تھے۔ عاجزی وانکساری کا مجموعہ تھے۔ عجز میں جتنا یہ جھکتے گئے قدرت ان کو اتنا بلند کرتی گئی۔ من تواضع للہ رفعہ اللہ حتی الی السماء السابعہ کا مصداق تھے۔
ایک حدیث کا مفہوم یوں ہے کہ بعض پراگندہ حال' بکھرے ہوئے بال' مٹی سے چہرہ اٹا' کپڑے گرد آلود' آدمی ایسے ہوتے ہیں کہ اگر قسم اٹھائیں تو اللہ تعالیٰ ان کی قسم کو پورا فرما دیتے ہیں۔ حضرت مولانا محمد انور صاحبؒ یقیناً گودڑی کے ان چھپے ہوئے لعلوں میں سے ایک لعل تھے۔
دارالعلوم کبیروالا میں شعبہ بنات کا اضافہ آپ کے دور اہتمام میں ہوا۔ دارالعلوم کی کوہ قامت جامع مسجد کی تعمیر ثانی آپ کے دور اہتمام میں ہوئی۔ دارالحدیث کی سہ منزلہ اور دیگر دو منزلہ تعمیرات کا سیلاب آپ کے زمانہ اہتمام میں آیا۔ دارالعلوم کے طلباء کی تعداد چار پانچ صد
سے متجاوز ہو کر پندرہ صد تک پہنچ گئی۔ بنین و بنات کے فضلاء و فاضلات کی سالانہ تعداد نے سینکڑوں کی حدود کو چھونا شروع کر دیا۔ غرض حضرت مولانا محمد انور صاحبؒ نے اپنے اکابر کی محنتوں کے ثمرات کو ایسا سلیقہ سے سنبھالا کہ دارالعلوم کبیر والا کے در و دیوار آپ کے اہتمام کے زمانہ میں تعلیمی و تعمیراتی دونوں طرح سے جگمگا اٹھے۔ حضرت مولانا مفتی عبدالقادر صاحبؒ جامعہ کے شیخ الحدیث تھے۔ ان کے وصال کے بعد آپ جامعہ کے شیخ الحدیث قرار پائے۔ یوں اہتمام التدریس شیخ الحدیث کے تمام مناصب عالیہ کے آپ جامع ہو گئے تھے۔
دیگر دینی اداروں سے آپ کا تعلق خاطر قابلِ رشک تھا۔ لیکن عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پر آپ دل و جان سے فدا تھے۔ مجلس کے وفود اشتہار لگوانے کے لئے جاتے۔ آپ سے ملتے تو آپ اشتہار لے کر سریش اپنی جیب سے خرید کر پورے علاقہ میں اشتہار لگوا دیتے اور دوستوں کو شرف میزبانی سے نواز کر واپس کر دیتے۔ فرماتے تھے کہ یہی تو ایک دینی جماعت ہے جس کی خدمت پر طبیعت کو انشراح کلی ہے۔ ملتان آتے جاتے دفتر مرکزیہ تشریف لاتے۔ سالانہ ختم نبوت کانفرنس ملتان پر تشریف لا کر سٹیج کو رونق بخشتے۔ مجلس کے علماء و مناظرین کو بلا کر طلباء و طالبات میں ختم نبوت کی اہمیت اور رد قادیانیت پر ریفریشر کورس کراتے۔
غرض حضرت مولانا محمد انور صاحبؒ اپنی ذات میں ایک انجمن تھے۔ قدرت نے انہیں درد مند دل سے نوازا تھا۔ وہ محنت و مشقت برداشت کر کے ترویج و اشاعت علوم دینیہ کے لئے کوشاں رہے۔ وفاق المدارس کی عاملہ کے رکن رکین تھے۔ کئی جامعات کی مجلس شوریٰ کے رکن ہوں گے۔ تعلیم کے بعد پچیس تیس سال آپ کے خوب محنت اور بھر پور محنت میں گزرے۔ اس کے صدقہ میں قدرت نے آپ کو محبوبیت کے مقام پر سرفراز کر دیا تھا۔ جس کا مظاہرہ جنازہ کے موقع پر دیکھا گیا۔ چہار سو پنجاب سے ہزاروں کی تعداد میں علماء و مشائخ کی تشریف آوری اور جنازہ پر ہر آنکھ کا اشکبار اور ہر دل کا مغموم ہونا آپ کے مقامِ محبوبیت کی غمازی کر رہا تھا۔
اپنے والد حضرت مولانا علی محمد صاحبؒ کے پہلو میں آسودہ خاک ہوئے۔ حق تعالیٰ ان کی سیئات سے درگزر فرمائیں۔ ان کے حسنات کو شرف قبولیت سے سرفراز فرمائیں۔ ۔ وہ کیا گئے رونق چمن کو ساتھ لے گئے۔ دارالعلوم کبیر والا کی اللہ رب العزت جل شانہ حفاظت و صیانت فرمائیں اور اس کی بہاروں کو صدابہار بنائیں۔ آمین!
(لولاک شوال المکرم ١٤٢٥ھ)
٨٥ ...... حضرت مولانا بشیر احمد خاکیؒ
وفات ...... ١٦ دسمبر ٢٠٠٤ء
١٨ دسمبر کو قائد جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمن کی دعوت پر آل پارٹیز ختم نبوت کانفرنس اسلام آباد میں تھی جس میں ملک بھر کی دینی شخصیات علماء ومشائخ، سیاسی ومذہبی جماعتوں کے سربراہوں نے شرکت کی۔ ایسا شاندار اجتماع ہوا کہ ١٩٥٣ء اور ١٩٧٤ء کی تحریک ہائے ختم نبوت کی یاد تازہ ہو گئی۔ اس اجتماع کو دیکھ کر حوصلہ ہوا کہ:
١٩ دسمبر کی شام حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب دامت برکاتہم سے اجازت لے کر مدرسہ ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر حاضر ہوا۔ اگلے روز جامعہ عثمانیہ شورکوٹ سے حضرت مولانا بشیر احمد صاحب کے صاحبزادہ نے فون کیا۔ خیر خیریت معلوم کی تو انہوں نے افسوسناک اطلاع دی کہ حضرت مولانا بشیر احمد صاحبؒ کا انتقال ہو گیا ہے۔ اس خبر نے دل وجان کو ہلا کر رکھ دیا۔ بار بار پوچھنے پر یقین کرنا مشکل ہو رہا تھا۔ متذکرہ ختم نبوت کانفرنس اسلام آباد کی خدمت کے حوالے سے فقیر دفتر مرکزیہ سے غیر حاضر رہا۔ اس دوران میں حضرت مولانا مرحوم کے انتقال کا حادثہ رونما ہو گیا۔ جس کی اطلاع نہ ہو سکی۔ اچانک خبر سے دل ودماغ پر جو کیفیت طاری ہوئی بس کچھ نہ پوچھئے۔ معلوم ہوا کہ حضرت مولانا بشیر احمدؒ ١٥ دسمبر کو شورکوٹ سے گڑھ مہاراجہ کے تبلیغی سفر پر گئے۔ اچھی بھلی طبیعت تھی۔ اچانک بلڈ پریشر کے باعث ابتداء میں فالج کا ابتدائی حملہ ہوا۔ شریان متاثر ہوئی۔ نیم بیہوشی میں گڑھ مہاراجہ سے نشتر ہسپتال ملتان علاج کے لئے منتقل کیا گیا۔ ١٦ دسمبر ٢٠٠٤ء بروز جمعرات بعد از دوپہر سوا دو بجے واصل بحق ہو گئے۔ آپ کا جسد خاکی جامعہ عثمانیہ شورکوٹ لایا گیا۔ جنازہ کا شاہانہ استقبال ہوا۔ اگلے روز ١٧ دسمبر ٢٠٠٤ء بروز جمعہ کو دن گیارہ بجے جنازہ ہوا۔ مخدوم العلماء شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالمجید لدھیانوی نے جنازہ پڑھایا۔ شورکوٹ کی تاریخ کا تاریخ ساز جنازہ تھا۔ جامعہ کے متصل عام قبرستان میں آسودہ خاک ہو گئے۔ اناللہ وانا الیہ راجعون
حضرت مولانا بشیر احمد صاحبؒ کی عمر ساٹھ سال کے لگ بھگ تھی۔ ٦٦/١٩٦٥ء میں دارالعلوم کبیروالا سے دورہ حدیث شریف کیا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے دارالمبلغین میں ١٩٦٦ء میں رد قادیانیت پر فاتح قادیان حضرت مولانا محمد حیات صاحبؒ سے کورس پڑھا۔ اس کلاس میں فقیر کو بھی حضرت مولانا بشیر احمد صاحبؒ کے ہم درس ہونے کا شرف حاصل ہوا:
حضرت مولانا بشیر احمد صاحبؒ ١٩٦٧ء کے اواخر میں دارالعلوم کبیروالا میں تدریس سے وابستہ ہوگئے۔ دارالعلوم کبیروالا کی طرف سے مسجد اوکانوالی شورکوٹ سٹی جمعہ پڑھانے کے لئے گئے تو یہیں کے ہو کر رہ گئے۔ ١٩٦٩ء میں لاری اڈہ شورکوٹ سٹی میں جامعہ عثمانیہ کی بنیاد رکھی۔ وسیع وعریض قطعہ اراضی پر دیکھتے دیکھتے عمارتوں کا خوبصورت قلعہ کھڑا دیا۔ جو حضرت مولانا مرحوم کے اخلاص اور محنت کا زندہ جاوید ثبوت ہے۔ جامعہ عثمانیہ کی جامع مسجد وسیع وعریض اب تکمیل کے مراحل میں ہے۔ مدرسہ کی غربت کے باعث اینٹ گارا سے ابتدائی عمارت کی۔ سیم زدہ علاقہ ہے۔ پچیس سال کے عرصہ میں وہ سیم زدہ ہوگئی تو ان کو گرا کر مرحلہ وار کنکریٹ کی عمارتوں کا دومنزلہ منصوبہ بنایا۔ خوبصورت درس گاہیں، شاندار رہائشی کمرے۔ اساتذہ کی رہائش گاہیں، جامعہ ام کلثومؓ للبنات کی شاندار دیدہ زیب تعمیر سے فارغ ہوئے۔ دارالحدیث تعمیر کیا۔ مسجد کے سامنے دوطرفہ قابل رشک عمارتوں کا کام مکمل ہو گیا۔ ایک طرف کی پرانی عمارت گرا کر نئی عمارت کے منصوبہ پر کام ہورہا ہے۔ نورانی قاعدہ سے دورہ حدیث شریف تک بنین وبنات کی دونوں جامعات میں تعلیم اور بہت بہتر تعلیم کا سلسلہ شروع ہے۔ ان اداروں کی تعمیر وترقی کے لئے انہوں نے دن رات کا اپنا آرام تج کیا۔ خوب محنتی انسان تھے۔ سعودی عرب وبرطانیہ تک کے اسفار کئے۔ دھن کے پکے تھے۔ حق تعالیٰ نے فتوحات کے ان کے لئے دروازے کھول رکھے تھے اور ہر اعتبار سے اپنے دونوں اداروں کو بام عروج تک پہنچا دیا۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے تربیت یافتہ تھے۔ اس کے لئے دل وجان سے قدردان تھے۔ ہمیشہ اس تعلق کو قائم رکھا۔ ملتان، چناب نگر اور برمنگھم کی ختم نبوت کانفرنسوں میں شرکت ان کے معمولات کا حصہ تھی۔ فقیر راقم پر بہت مہربان تھے۔ جب جانا ہوتا ذاتی مہمان بناتے۔ گھر لے
جا کر عزت افزائی فرماتے ۔ گردونواح کے حلقہ میں قادیانیت کے احتساب کے لئے کمر بستہ رہتے ۔ الیکشن میں متعدد بار حصہ لیا اور اپنی سیاسی حیثیت منوائی ۔ عظمت صحابہ کرام کے حوالے سے ان کی خدمات تاریخ کا سنہری حصہ ہیں ۔ اس کے لئے متعدد بار انہوں نے قید و بند کی صعوبتوں کو برداشت کیا ۔ ایک بار کسی جلوس میں شرکاء نے اے سی کے خلاف نعرہ بازی کی ۔ وہ جامعہ عثمانیہ میں تلاش پناہ کے لئے آیا۔ حضرت مولانا مرحوم نے ایک کمرہ میں اسے پناہ دی۔ حکومت کی فورس آئی اور انہیں باعزت لے گئی ۔ لیکن برا ہو بیوروکریسی کا۔ اس نے اس نیکی کو بدی میں بدل دیا اور حضرت مولانا مرحوم پر اے سی کے اغوا کا پرچہ درج کر دیا ۔ گرفتار ہوئے ۔ تب عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم اعلیٰ حضرت مولانا محمد شریف جالندھریؒ تھے۔ حضرت مولانا ظفر احمد قاسم جامعہ خالد بن ولید وہاڑی کے بانی جو حضرت مولانا بشیر احمدؒ کے قریبی رشتہ دار ہیں ۔ ان دونوں حضرات نے رات دن ایک کر کے حکومت کو مطمئن کیا۔ تب جا کر رہائی عمل میں آئی۔
حضرت مولانا بشیر احمد صاحبؒ جمعیت علمائے اسلام کے سرکردہ رہنما تھے۔ وہ ایک مخلص بزرگ، دینی رہنما اور درویش صفت انسان تھے۔ فقیر کو برطانیہ اور سعودی عرب میں کئی بار کئی دن کی رفاقت رہی۔ انہیں قریب سے دیکھا۔ وہ ایک مثالی انسان تھے۔ عمرہ سے واپسی پر ٹوپیوں کے بنڈل خرید کر لاتے۔ پوچھنے پر فرمایا کہ سینکڑوں طلباء ہیں ۔ ایک ایک ٹوپی ان کو پیش کرنا میرا معمول ہے۔ اس سے ان کی طلباء سے محبت بلکہ طلباء سے بچوں جیسی مروت کا راز منکشف ہوا۔ اچھے منتظم تھے۔ ریاء نام کی کوئی چیز ان کے قریب نہ پھٹکتی تھی۔ خوب وقت گزارا۔ دن رات قال اللہ! وقال رسول اللہ! کی فضاؤں سے علاقہ بھر کو منور کر دیا۔ ان کے شاگردوں کا بہت بڑا حلقہ ہے۔ تمام اولاد کو دین کی تعلیم سے بہرہ ور کیا۔ جو ان کے لئے صدقہ جاریہ ہے۔ ان کے دونوں جامعات، مسجد، شاگرد اور اولاد تمام گلستان آباد و شاد ہے۔ خود آخرت کو سدھار گئے۔ وہ چلتے پھرتے جنتی انسان تھے۔ خلد نشین ہو گئے ۔ اللہ تعالیٰ ان کی حسنات کو قبول فرمائے اور اپنی شایان شان ان سے اپنی رحمت کا معاملہ فرمائے ۔ انہیں مدتوں زمانہ یاد رکھے گا۔ بڑے انسان تھے ۔ اس دور میں ان کا وجود بہت غنیمت تھا۔ كل من عليها فان ويبقى وجه ربك ذوالجلال والاكرام!
(لولاک ذی الحجہ ١٤٢٥ھ)
٨٦...... فاضل دیوبند حضرت مولانا عبدالمجید سکھرویؒ
وفات....... ٢٨ دسمبر ٢٠٠٤ء
پاکستان میں حفظ قرآن کی سب سے بڑی تحریک اقراء روضۃ الاطفال کے مدیر جناب حضرت مولانا مفتی خالد محمود صاحب کے والد گرامی دارالعلوم دیوبند کے فاضل حضرت مولانا عبدالمجید سکھرویؒ انتقال فرما گئے۔ اناللہ وانا الیہ راجعون!
حضرت مولانا عبدالمجید صاحبؒ وفات کے روز اچھے بھلے تھے۔ دن بھر تعلیمی وتبلیغی کاموں میں حصہ لیتے رہے۔ مغرب وعشاء کی نمازیں باجماعت مسجد میں ادا کیں۔ معمول کے مطابق گھر تشریف لائے۔ بچوں کو ملے۔ آرام کے لئے کمرہ میں گئے۔ دس بجے شب نیند کے لئے لیٹے تو آنکھ لگ گئی۔ پونے گیارہ بجے سینے میں درد کی تکلیف شروع ہوئی۔ حسب معمول خون پتلا کرنے والی گولیاں زبان کے نیچے رکھیں۔ اس دوران دو بار قضائے حوائج کے لئے خود بخود بغیر سہارا کے اٹھے۔ فارغ ہوئے۔ درد بڑھتا گیا۔ صاحبزادوں نے دوائی دی۔ جو حلق کے اندر نہ جاسکی۔ دو تین بار زور سے کلمہ طیبہ پڑھا اور اپنے آپ کو رب کے سپرد کیا۔ صاحبزادوں نے ڈاکٹر بلانے کا کہا تو ”ضرورت نہیں“ کہہ کر اس سے انکار کر دیا۔ مگر وہ بھاگم بھاگ ڈاکٹر کے پاس گئے۔ مولانا مرحوم نے ادھر گھر والوں کو کہا کہ بھئی ہمارا وقت آگیا۔ ذکر اللہ کرتے اور کلمہ پڑھتے چارپائی پر دراز ہوگئے اور یوں آدھ گھنٹہ عارضہ دل میں مبتلا رہ کر آخرت کو سدھار گئے۔
حضرت مولانا عبدالمجید صاحبؒ روہتک کے باسی تھے۔ حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ کے شاگرد رشید حضرت مولانا مفتی محمد یونس صاحب تقسیم سے قبل فیصل آباد آگئے تھے۔ حضرت مولانا عبدالمجید صاحبؒ ان کے ہاں خود پڑھتے اور چھوٹے درجہ کے طلباء کو پڑھاتے تھے۔ مظاہرالعلوم سہارن پور میں جلالین شریف کے سال پڑھتے رہے۔ مشکوٰۃ اور دورہ حدیث کے دو سال انہوں نے دارالعلوم دیوبند میں تعلیم حاصل کی۔ آپ نے دورہ حدیث شریف حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ، حضرت مولانا اعزاز علیؒ حضرت مولانا سید اصغر حسینؒ حضرت مولانا قاری محمد طیبؒ حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ حضرت مولانا عبدالخالق صاحب سے کیا۔ جیسا کہ ان کی حدیث کی سند پر دستخطوں سے معلوم ہوتا ہے۔ حضرت مولانا عبدالمجید صاحبؒ کے والد
گرامی بسلسلہ ملازمت روہتک سے حصار کے قصبہ نوشاد میں آگئے تھے۔ چنانچہ آپ کی سند پر پتہ نوشاد من مضافات حصار! لکھا ہوا ہے۔
آپ کے دورہ حدیث کے معروف ساتھی وہم درس حضرت مولانا مفتی محمد ولی حسن ٹونکیؒ حضرت مولانا عبدالستار تونسویؒ حضرت مولانا سلیم اللہ خان اور حضرت مولانا منظور الحق کبیر والا تھے۔ یہ ١٩٤٦ء کا آخر بنتا ہے۔ آپ فراغت کے بعد حصار کے معروف شیخ اور بزرگ کے ہاں کچھ عرصہ تصوف کی تربیت لیتے رہے۔ اس دوران میں بٹوارہ کے باعث فسادات شروع ہوگئے۔ چنانچہ آپ کے خاندان نے ابتداء میں خیر پور ٹامیوالی ضلع بہاول پور میں آکر رہائش اختیار کی۔ خیر پور ٹامیوالی میں حضرت مولانا سید غلام محی الدین صاحبؒ حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کے خلیفہ مجاز کے ہاں سلوک کی تربیت حاصل کی۔ تقریباً دو سال بعد سکھر منتقل ہوگئے۔
سکھر میں آکر ذریعہ معاش کے لئے تجارت کو پیشہ بنایا۔ امامت و خطابت، درس وتدریس، تعلیم وتبلیغ کا فریضہ فی سبیل اللہ انجام دیتے رہے۔ تمام اولاد کو دین کی تعلیم سے جتنا مقدر تھا بہرہ ور کیا۔ پورا خاندان صالح، شریف اور تبلیغی خاندان شمار ہوتا ہے۔ آپ نے متعدد بار حج وعمرہ کے سفر کئے۔ بارہا ختم نبوت کانفرنس برطانیہ میں بھی شمولیت کی۔ عابد وزاہد انسان تھے۔ شیخ الاسلام حضرت مولانا محمد عبداللہ درخواستیؒ حضرت مولانا ہالیجویؒ حضرت مولانا امروٹیؒ حضرت مولانا پیر شریفؒ حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمودؒ شیر اسلام حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ سے محبت بھرا تعلق تھا۔ جامعہ قاسم العلوم ملتان کی شوریٰ کے رکن تھے۔ ہر دینی تحریک میں پیش پیش رہے۔ خوب مجلسی انسان تھے۔ گھنٹوں بے تکان مربوط گفتگو آپ کی نمایاں شان تھی۔ دوستوں کے دوست تھے۔ ہر بزرگ وخورد کو احترام دیتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر صاحب علم بھی ان کا قدردان تھا۔ عمر بھر چین سے نہیں بیٹھے۔ دن رات اشاعت اسلام کے لئے ساعی رہے۔ دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت معصوم شاہ مینارہ روڈ سکھر اور جامع مسجد بندر روڈ میں حاضری یومیہ کا معمول تھا۔ آخری دن بھی دونوں مقامات پر تشریف لے گئے۔ حضرت مولانا قاری خلیل احمد بندھانی، جناب آغا شاہ محمد، حضرت مولانا بشیر احمد جیسے بیسیوں اہل حق کے قدردان و دوست تھے۔ تھک ہار کر دنیا فانی سے منہ موڑ گئے اور دنیا کو سونا کر گئے۔ حق تعالیٰ ان کی قبر کو بقعہ نور بنائیں۔
(لولاک ذی الحجہ ١٤٢٥ھ)
٨٧...... حضرت مولانا منظور احمد الحسینیؒ !
وفات ...... ١٣ جنوری ٢٠٠٥ء
١٣ جنوری ٢٠٠٥ء بروز جمعرات عصر کے قریب مدینہ منورہ میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت یورپ کے امیر مناظر ختم نبوت حضرت مولانا منظور احمد الحسینیؒ وصال فرما گئے۔ اناللہ وانا الیہ راجعون ! حضرت مولانا منظور احمد الحسینیؒ فتح پور کمال ظاہر پیر ضلع رحیم یار خان کے رہائشی تھے۔ بلوچ برادری سے تعلق رکھتے تھے۔ کم عمری میں والدین کا سایہ سر سے اٹھ گیا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ حضرت مولانا غلام محمد صاحب آپ کے بہنوئی نے آپ کی پرورش کی۔ جامع المعقول والمنقول حضرت مولانا منظور احمد نعمانیؒ سے ابتدائی کتب مدرسہ احیاء العلوم ظاہر پیر میں پڑھیں۔ انتہائی کتب اور دورہ حدیث شریف جامعہ خیر المدارس ملتان سے کیا۔ شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد شریف کشمیریؒ اور حضرت مولانا مفتی عبدالستارؒ حضرت مولانا محمد صدیق جالندھریؒ آپ کے اساتذہ میں شامل ہیں۔ دورہ حدیث کے بعد فاتح قادیان حضرت مولانا محمد حیات صاحبؒ سے رد قادیانیت پر کورس کیا۔ مدرسہ احیاء العلوم چنیوٹ میں تدریس کی۔
١٩٧٤ء کی تحریک ختم نبوت کے لئے چنیوٹ اور گردو نواح میں شب و روز ایک کر دیا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغین کی ایک جماعت حضرت مولانا عبدالرحیم اشعرؒ اور حضرت مولانا عبدالرحمن صاحب میانویؒ کی سرپرستی میں چالیس روزہ تربیتی کلاس میں شرکت کے لئے جامعۃ العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن گئی۔ اس میں حضرت مولانا منظور احمد الحسینیؒ بھی شریک تھے۔ تب عائشہ باوانی کالج کراچی کی جامع مسجد میں خطیب مقرر ہو گئے۔ امامت، خطبہ جمعہ اور درس کے علاوہ باقی وقت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے شعبہ تبلیغ کو دینے لگے۔ حضرت مولانا مفتی احمد الرحمنؒ اور حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ کی سرپرستی نے آپ کو ہیرو بنا دیا۔ کراچی دفتر ہفت روزہ ختم نبوت اور مسجد باب الرحمت کی تعمیر و توسیع کے لئے آپ نے جان جوکھوں میں ڈال کر شب و روز کام کیا۔ بیرون ممالک میں تبلیغ اسلام، تحفظ ختم نبوت کی ترویج واشاعت اور فتنہ قادیانیت کے استیصال کے لئے حضرت مولانا منظور احمد الحسینیؒ کے متعدد اسفار ہوئے۔ افریقہ، امریکہ، عرب امارات اور یورپ میں حضرت مولانا منظور احمد الحسینیؒ نے جس جانفشانی سے کام کیا
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی تاریخ کا وہ سنہری باب ہے۔
١٩٨٤ء میں قادیانی جماعت کے چیف گرو مرزا طاہر نے لندن کو اپنا مستقر بنایا تو آپ نے بھی گویا وہاں ڈیرے ڈال دیئے۔ سٹاک ویل گرین لندن میں دفتر کی خریداری کے لئے ان کی گرانقدر محنت و کاوش آب زر سے لکھنے کے لائق ہے۔ حضرت مولانا منظور احمد الحسینی ؒ کو عربی اردو فارسی سرائیکی اور پنجابی پر بھرپور عبور حاصل تھا۔ بے تکلف ان زبانوں میں تقریر کے آپ ماہر تھے۔ قادیانیت کی جملہ کتب پر آپ کو مکمل دسترس تھی۔ انگریزی میں بھی گزارہ کر لیتے تھے۔ عرصہ تک یورپ کے کلیساؤں میں ختم نبوت کے ترانے بلند کئے۔ قادیانیوں سے مناظرہ کرنا اور قادیانی مسلمات سے ان کو چاروں شانے چت کرنا حضرت مولانا منظور احمد الحسینی ؒ کے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا۔ بیسیوں قادیانیوں سے مناظرے کئے۔ جہاں گئے فتح نے آپ کے قدم چومے۔ سینکڑوں قادیانیوں نے حضرت مولانا منظور احمد الحسینی ؒ کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا۔ بڑے منکسر المزاج عالم دین تھے۔ اکابر واصاغر کی خدمت، مہمان نوازی اور ان کی آسائش کا خیال رکھنا حضرت مولانا منظور احمد الحسینی ؒ کے معمولات زندگی قرار دیئے جاسکتے ہیں۔
سالانہ ختم نبوت کانفرنس برمنگھم کے ہمیشہ منتظم رہے۔ اس کے لئے ہمیشہ انہوں نے مثالی خدمات سرانجام دیں۔ سٹیج کو سنبھالنا، مہمانوں کا استقبال، پارکنگ، قراردادوں کی ترتیب، بیان، سوال و جواب کی محفل، امامت، لٹریچر کی تقسیم غرض جس کام میں ضرورت دیکھتے یا ڈیوٹی لگ جاتی اس کو خوب نبھاتے۔ انکساری و تواضع حضرت مولانا میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ بڑے ہی محنتی عالم دین تھے۔ آپ کی زندگی میں آرام نام کی کوئی چیز نہ تھی۔ چلتے چلتے جو آرام ہو گیا سو ہو گیا۔ کام کرتے کرتے سوتے تھے اور اٹھتے ہی کام پر لگ جاتے تھے۔ حضرت مولانا منظور احمد الحسینی ؒ کی زندگی کمپیوٹرائز زندگی تھی۔ چوبیس گھنٹوں میں وہ اپنے آپ کو مصروف رکھتے تھے۔ مسجد کی خدمت سے خطابت تک، بچوں کو پڑھانے سے بیعت کرنے تک تمام کاموں میں فٹ تھے۔
حضرت مولانا منظور احمد الحسینی ؒ لندن میں قیام کے دوران پہلے مجلس کے دفتر کے انچارج رہے۔ پھر مسجد میں گئے تو ہر روز دفتر آنا معمول رہا۔ اب بھی مجلس لندن کے تمام کاموں میں برابر شامل تھے۔ وہ اپنی مثال آپ تھے۔ آپ جیسے محنتی، مخلص اور بے نفس عالم دین کم ہی دیکھنے میں ملیں گے۔ ختم نبوت کے کاز کے لئے پورے یورپ میں کوئی شخص حضرت مولانا منظور
احمد الحسینیؒ” کو بلاتا تو آپ کو حاضر پاتا۔ آپ کے وجود سے قادیانیت کانپتی تھی۔ حضرت مولانا منظور احمد الحسینیؒ کی مخلصانہ مساعی نے آپ کو ہر دلعزیز عالم دین بنا دیا تھا۔ لڑائی نام کی کوئی چیز آپ کے ہاں نہ تھی۔ سب حلقوں میں آپ کو احترام و توقیر کا مقام حاصل تھا۔ بڑے فیاض طبع تھے۔ جو کمایا وہ رفاہ عامہ یا دین کی ترویج واشاعت میں لگا دیا۔
اللہ تعالیٰ کی شان بے نیازی کہ حضرت مولانا منظور احمد الحسینیؒ نے یکے بعد دیگرے دو شادیاں کیں۔ لیکن اولاد نہ ہوئی۔ تاہم آپ کی طبیعت پر اس کا کوئی اثر نہ تھا۔ آپ اپنی سرگرمیوں میں مگن اور راضی بہ تقدیر تھے۔ کئی مضامین آپ کے قلم سے نکلے۔ ان کے خطبات پر مشتمل کئی پمفلٹ شائع ہوئے۔ تصنیفی خدمات علاوہ ازیں ہیں۔ ان کی بے نفسی کا یہ عالم تھا کہ کسی بھی مقرر کی تقریر ہوتی شاگرد کی طرح ان کے پہلو میں بیٹھ کر اس کے نکات قلمبند کرتے۔ مستقل نوٹ بک جیب میں رکھتے۔ جہاں سے کوئی کام کی بات ملتی نوٹ کر لیتے۔
بڑی صالح طبیعت پائی تھی۔ انکساری میں اپنی مثال آپ تھے۔ جس سے ایک بار ملنا ہوتا وہ زندگی بھر آپ کی تعریف میں رطب اللسان رہتا۔ عابد وزاہد انسان تھے۔ سنن ونوافل، تلاوت و عبادت، ذکر وفکر ان کی طبیعت ثانیہ بن گئی تھی۔ حضرت مولانا منظور احمد الحسینیؒ جس مسجد میں امام تھے وہاں عربوں کی اکثریت ہے۔ چنانچہ آپ خطبہ جمعہ عربی، انگلش اور اردو تینوں زبانوں میں دیتے تھے۔ یوں عربوں وعجمیوں کے لئے آپ پل بن گئے تھے۔ تصوف میں قدم رکھا تو حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ اور حضرت مولانا محمد فاروق سکھرویؒ سے خلافت کے مستحق پائے۔ ہزاروں آپ کے مرید ہوں گے۔ لیکن ان تمام مریدوں کے حلقہ کو حضرت مولانا منظور احمد الحسینیؒ نے دین اور عقیدہ ختم نبوت کی ترویج کے لئے جوڑا۔ محنت اور کام کرنے کے شوق کا یہ عالم تھا کہ ڈرائیوری سیکھی۔ گاڑی خود ڈرائیو کرتے اور یوں ہفتہ کے آخری دنوں میں تبلیغ کے لئے برطانیہ کے مختلف شہروں میں نکل جاتے۔ پانچوں نمازوں میں پانچ شہروں میں بیانات کر لیتے تھے۔ دو دنوں میں دس شہروں سے رابطہ ہو جاتا۔ کیا بتائیں کہ زندگی بھر انہوں نے کس طرح اپنے آپ کو خدمت دین کے لئے وقف کئے رکھا۔ سال میں دو بار عمرہ اور ہر سال حج کرنا آپ کے معمولات بن گئے تھے۔ بسا اوقات آپ اپنے نمازیوں میں سے پانچ دس ساتھیوں کو ساتھ لیجاتے۔ وہ آپ کی رفاقت سے حج وعمرہ کے صحیح معمولات سے نفع حاصل کرتے۔ غرض
یورپ وعرب جہاں گئے خدمت خلق وترویج اسلام کو انہوں نے معمول بنائے رکھا۔ گزشتہ سال سالانہ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر میں تشریف لائے۔ جمعہ کے بعد بڑی اہمیت سے آپ کا بیان ہوا۔ آپ کے علم وفضل کے چرچوں اور آپ کی مناظرانہ سج دھج سے یورپ گونجتا رہا۔ ان کی للکار حق نے قادیانیت کو ناکوں چنے چبوائے۔ حضرت مولانا مفتی نظام الدین شامزئیؒ حضرت مولانا مفتی محمد جمیل خانؒ اور حضرت مولانا نذیر احمد تونسویؒ کی شہادت کے بعد اب حضرت مولانا منظور احمد الحسینیؒ کا سانحہ وصال عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے لئے ایک بڑا خلاء ہے۔ اللہ تعالیٰ قادرِ کریم ان حضرات کے خلاء کو پر کرنے کا غیب سے بندوبست فرمائیں۔ وما ذالك على الله بعزيز!
اس سال حضرت مولانا منظور احمد الحسینیؒ اپنی اہلیہ کے ساتھ حسب معمول حج کے لئے گئے۔ مدینہ طیبہ میں اچانک وصال فرمایا۔ جمعرات شام وصال ہوا۔ اگلے روز بعد از جمعہ مسجد نبوی میں لاکھوں انسانوں نے حضرت مولانا منظور احمد الحسینیؒ کے جنازہ میں شرکت کی۔ جنت البقیع میں آسودہ خاک ہوئے۔ یہ مصرعہ بار ہا سنا: ”تعریض وتوصیف“ دونوں مقامات پر اس کے استعمال کو بھی دنیا جانتی ہے۔ لیکن ذرا توجہ فرمائیے کہ حضرت مولانا منظور احمد الحسینیؒ زندگی بھر جو عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے سرگرم عمل رہے صاحب ختم نبوتﷺ کے شہر مدینہ منورہ کی فضاؤں میں اعمال حج کی بجا آوری کے لئے پہنچے۔ تقدیر کے فرشتہ نے سلام کیا۔ اس پاک ماحول میں آپ نے جان مالک حق کو لوٹا دی۔ زہے نصیب جنت البقیع میں تدفین۔ کیا حضرت مولانا منظور احمد الحسینیؒ سے بڑھ کر اس شعر کا اور صحیح مصداق ہو سکتا ہے؟۔
حضرت مولانا منظور احمد الحسینیؒ دنیا میں چلتے پھرتے جنتی انسان تھے۔ مقدر کے دھنی تھے۔ عجم سے اٹھے یورپ پر چھائے اور عرب میں آسودہ خاک ہو گئے۔ مدتوں حضرت مولانا منظور احمد الحسینیؒ کا تذکرہ رہے گا۔ زندگی ہو تو آپ جیسی اور موت ہو تو آپ کی موت جیسی۔ عمر بصد مشکل پینتالیس پچاس سال ہوگی۔ لیکن کام صدیوں کا کر گئے اور صدیوں ہی آپ آنے والی نسل کے یاد کرنے کے قابل انسان تھے۔ حق تعالیٰ حضرت مولانا منظور احمد الحسینیؒ کے حامی و ناصر ہوں۔ مقدر دیکھو کل قیامت کے دن وہ صاحب ختم نبوتﷺ کے ساتھ مدینہ طیبہ سے اٹھنے والے گروہ سعید میں شامل ہوں گے۔ زندہ باد حضرت الحسینیؒ !
(لولاک محرم الحرام ١٤٢٦ھ)
٨٨...... حضرت مولانا دوست محمد مدنی
وفات......١٤ جنوری ٢٠٠٥ء
بزرگ عالم دین حضرت مولانا دوست محمد مدنی ١٤ جنوری ٢٠٠٥ء کو نواب شاہ میں انتقال کر گئے ۔ اناللہ وانا الیہ راجعون!
حضرت مولانا دوست محمد مدنی ملکانی بلوچ برادری سے تعلق رکھتے تھے۔ ١٩١٧ء میں آپ کی پیدائش ہوئی۔ آپ کے والد جناب گل محمد خان متوسط درجہ کے زمیندار تھے۔ حضرت مولانا دوست محمد مدنی نے ابتدائی تعلیم حضرت خواجہ سلیمان تونسویؒ کے قائم کردہ مدرسہ سلیمانیہ تونسہ شریف میں حاصل کی۔ مدرسہ نعمانیہ ملتان میں حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحبؒ کے ہاں بھی عرصہ تک پڑھتے رہے۔ حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحبؒ بانی جامعہ قاسم العلوم مفتی ہند حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ دہلویؒ کے شاگرد رشید تھے۔ غالباً اپنے استاذ کی ترغیب سے حضرت مولانا دوست محمد مدنی اعلیٰ تعلیم کے لئے دہلی چلے گئے۔ یہ ١٩٤٠ء کی بات ہے۔ حضرت مفتی کفایت اللہ دہلویؒ سے شرف تلمذ حاصل کیا۔ دورہ حدیث شریف کے لئے دیوبند حاضری دی۔ شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ سے شاگردی و بیعت کا شرف حاصل کیا۔ تب سے مولانا دوست محمدؒ نے اپنے نام کے ساتھ مدنی کا لاحقہ لگانا شروع کر دیا۔
١٩٤٤ء کے اواخر میں دارالعلوم دیوبند سے فراغت کے بعد ملتان وخانیوال کے درمیان شام کوٹ کی بستی سیداں میں امامت و تدریس کے لئے خدمات سرانجام دیں۔ کچھ عرصہ بعد خانیوال کی مسجد لوکوشیڈ میں خطیب مقرر ہو گئے۔ یہ زمانہ آپ کی بھر پور جوانی کا زمانہ تھا۔ درمیانہ قد‘ گندھا ہوا جسم‘ سفید کالی داڑھی‘ تقریر کے لئے جاتے تو ہاتھ میں عصاء اور اوپر کالے رنگ کا عربی چغہ استعمال کرتے۔ رسیلی آواز‘ دلائل گرم اور الفاظ نرم آپ کی خطابت کی پہچان تھی۔ گھنٹوں کھڑے ہو کر بلا تکان بولنا اور سامعین کو دم بخود کرنا یہ آپ کی شان تھی۔
راقم ابھی مڈل کلاس میں پڑھتا تھا۔ تب نور پور نورنگہ کے قریب ایک بستی میں آپ
کے بیان کا اعلان ہوا۔ آپ کے داعی و میزبان کے رشتہ دار مولانا حضور احمد بریلوی مکتب فکر کے عالم دین ہمارے گاؤں میں خطیب تھے۔ انہوں نے سنا کہ ہمارے رشتہ دار نے ایک دیوبندی عالم بلایا ہے تو بل کھا کر رہ گئے۔ اس زمانہ میں دیوبندی اور بریلوی مسئلہ عروج پر تھا۔ مولانا حضور احمد نے ٹھان لی کہ اس گاؤں میں جا کر حضرت مولانا دوست محمد مدنی کی تقریر میں اعتراض کر کے ان کو زچ کرنا ہے۔ مولانا حضور احمد دو چار خدام کے ساتھ چل پڑے۔ فقیر بھی تماش بین کے طور پر اس گروہ میں شامل تھا۔ چھ سات میل پیدل سفر کر کے وہاں پہنچے۔ درختوں کے جھنڈ کے گھنے سایہ میں جلسہ عروج پر تھا۔ ایک چار پائی بچھی ہوئی تھی۔ یہ سٹیج تھی۔ اس دور میں سپیکر خال خال جلسوں میں استعمال ہوتا تھا۔ نظم ہورہی تھی۔ حضرت مولانا دوست محمد مدنی چار پائی پر تشریف فرما تھے۔ مولانا حضور احمد رفقاء سمیت سامعین میں بیٹھ گئے۔ جلسہ کے داعی مولانا حضور احمد کے رشتہ دار دوڑے ہوئے آئے اور مولانا حضور احمد کو سٹیج یعنی چار پائی پر بیٹھنے کے لئے اصرار کیا۔ لیکن مولانا حضور احمد غصہ میں تھے کہ ہمارے رشتہ دار ہو کر دیوبندی کو کیوں بلایا۔ اس لئے سامعین میں بیٹھے رہے۔ حضرت مولانا دوست محمد مدنی کی مولانا حضور احمد سے واقفیت نہ تھی اور نہ ہی صورت حال سے باخبر تھے۔ نظم ختم ہوئی۔ عربی میں خطبہ پڑھا۔ جھوم اٹھے۔ رسیلی تلاوت کی تو سامعین سراپا گوش بر آواز ہو گئے۔ اب تقریر شروع کی تو چند منٹوں میں پورا اجتماع ان کی مٹھی میں تھا۔ گرمی کے زمانہ میں ظہر سے عصر تک اڑھائی گھنٹے بیان ہوا۔ تمام تقریر دیوبندی بریلوی نزاع کے تناظر میں تھی۔ مگر کیا مجال ہے کہ پوری گفتگو میں کوئی کمزور بات، تیز یا ترش لہجہ اختیار کیا ہو۔ دعا ہوئی۔ مولانا حضور احمد صاحب رفقاء سمیت اٹھے۔ چادر کی گرد جھاڑی اور واپس چل پڑے۔ راستہ میں فرمایا کہ یہ مولوی صاحب تو خوب آدمی ہیں۔ اپنا عقیدہ بھی بیان کیا لیکن کہیں اعتراض کے لئے جھول نہیں آنے دیا۔
موصوف کی رائے مولانا دوست محمد مدنی کے متعلق سن کر: ”والفضل ماشھدت بہ الاعـداء .“ کا نقشہ آنکھوں میں گھومنے لگا۔ اس زمانہ میں خانیوال ملتان کی تحصیل تھی۔ تب
پورے ضلع میں کوئی قابل ذکر جلسہ آپ کی تقریر کے بغیر نہ ہوتا۔
خانیوال سے ١٩٦٢ء میں نواب شاہ سندھ منتقل ہو گئے۔ ریلوے اسٹیشن نواب شاہ کے قریب مسجد کبیر کی بنیاد رکھی۔ فلک بوس خوبصورت اور دیدہ زیب مسجد بنائی۔ اس کے عقب میں ملحقہ رہائش کے لئے مکان بنایا اور اسی سے آپ کا جنازہ اٹھا۔ وفات کے وقت آپ کی عمر تقریباً ٨٧ سال تھی۔ شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ سے آپ کو عشق تھا۔ قاسم العلوم ملتان کے سنگ بنیاد کے لئے جب حضرت مدنیؒ تشریف لائے تو حضرت مولانا دوست محمد مدنیؒ ہمراہ تھے۔ مولانا دوست محمدؒ نے جمعیت علمائے ہند، مجلس احرار اسلام اور جمعیت علمائے اسلام میں سرفروشانہ کام کیا۔ حضرت مولانا مفتی محمودؒ، حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ، حضرت مولانا محمد عبداللہ درخواستیؒ اور حضرت مولانا عبدالحق صاحب پر جان چھڑکتے تھے۔
سندھ میں قیام کے دوران قادیانی فتنہ کے اثرات دیکھے تو ان کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بن گئے۔ ہر سال اپنی مسجد میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ختم نبوت کانفرنس بڑے اہتمام سے منعقد کراتے۔ ایک کانفرنس پر حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم تشریف لائے تو حضرت مولانا دوست محمد مدنیؒ نے بڑے اہتمام کے ساتھ گھر سے ایک بکس منگوایا۔ اس میں حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ کی ٹوپی و دیگر تبرکات تھے۔ ان کی زیارت کرائی۔ چناب نگر و ملتان کی ختم نبوت کانفرنسوں میں متعدد بار شرکت فرمائی۔ غرض حضرت مولانا دوست محمد مدنیؒ نے بھر پور زندگی گزاری۔
تین صاحبزادے اور دو بیٹیاں آپ کے پسماندگان میں شامل ہیں۔ تینوں بیٹے حافظ و قاری و عالم ہیں۔ مولانا محمد ارشد مدنی، مولانا اسجد مدنی اور محمد امجد مدنی۔ تینوں دین کی خدمت تعلیم و تعلم، درس و تدریس، امامت و خطابت سے ترویج اسلام کے لئے ساعی ہیں جو یقیناً حضرت مولانا مرحوم کے لئے صدقہ جاریہ ہیں۔ حق تعالیٰ حضرت مولانا دوست محمد مدنیؒ کے حامی و ناصر ہوں۔ آمین!
(لولاک محرم الحرام ١٤٢٦ھ)
٨٩...... حضرت قاری صفات محمد عثمانیؒ
وفات....... ١٦ جنوری ٢٠٠٥ء
مرکزی جامع مسجد سیٹلائٹ ٹاؤن بہاول پور کے خطیب و امام حضرت مولانا قاری صفات محمد عثمانی صاحبؒ ١٦ جنوری ٢٠٠٥ء کو انتقال فرما گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون! جناب حافظ مشتاق محمد عثمانی صاحبؒ پانی پت کرنال کے نمبردار تھے۔ ان کے ہاں ١٩١٩ء میں قاری صفات محمدؒ کی پیدائش ہوئی۔ پاکستان کے وزیر اعظم لیاقت علی خانؒ اور قاری صفات محمدؒ کا آبائی گاؤں ایک تھا۔ قاری صفات محمدؒ کے جدِ اعلیٰ برصغیر کے معروف بزرگ شیخ جلال الدینؒ کبیر الاولیاء تھے۔ جو حضرت شکر گنج بابا فرید الدینؒ کے خلیفہ مجاز اور بو علی قلندرؒ کے فیض یافتہ تھے۔ آپ نے حضرت قاری فتح محمدؒ پانی پتی کے ہاں پانی پت میں قرآن مجید حفظ کیا۔ قاری صفات محمدؒ ان کے لاڈلے شاگرد تھے۔ قاری صفاتؒ حضرت قاری رحیم بخشؒ پانی پتی کے تقریباً ہمدرس ساتھی تھے۔
اس زمانہ میں لکھنؤ میں مدرسہ فرقانیہ کے مہتمم حضرت حافظ احمدؒ تھے۔ مدرسہ فرقانیہ لکھنؤ میں قاری عبدالمالک علیگڑھیؒ کے ہاں آپ نے قرأت عشرہ کی تعلیم مکمل کی۔ مولانا عبدالباریؒ فرنگی محلی نے مدرسہ عالیہ نظامیہ فرنگی محل میں قائم کیا تھا۔ جسے مجلس مؤید العلم چلاتی تھی۔ اس مدرسہ میں قاری صفات محمدؒ نے ١٩٤٢ء میں دورہ حدیث شریف کیا۔ آپ نے فاضل عربی فاضل فارسی لکھنؤ یونیورسٹی سے کیا۔ فرنگی محل میں تعلیم کے دوران آپ ایک مسجد میں مفت امامت کراتے تھے۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد آنولا میں حفظ کے مدرسہ کے تقریباً سات سال تک مہتمم و مدرس رہے۔ تدریس کے زمانہ میں الہٰ آباد یونیورسٹی سے ١٩٤٤ء میں فاضل فارسی کا امتحان پاس کیا۔
پاکستان سے قبل آپ کے بھائی بہاولپور میں انہار کے محکمہ میں ملازم تھے۔ ١٩٤٧ء میں پاکستان بننے پر آپ کا خاندان بہاول پور میں منتقل ہوگیا۔ لیکن قاری صفات محمدؒ آنولا میں تدریس کرتے اور مدرسہ کا اہتمام چلاتے رہے۔ پانی پت میں حضرت مولانا لقاء اللہؒ پانی پتی تھے۔ ان کے بیٹے مولانا الیف اللہ پانی پتی پاکستان بننے کے بعد سرگودھا آگئے۔ لیکن پانی پت کے باقیماندہ مسلمانوں مساجد و مدارس کی نگرانی کے لئے مولانا لقاء اللہؒ پانی پتی نے پانی پت میں قیام کو ترجیح دی۔ ہزاروں کمزور مسلمانوں کو واپس دائرہ اسلام میں لائے اور ہزاروں کو سہارا دیا۔
١٩٤٧ء کے رمضان شریف میں آپ نے آنولا مدرسہ سے قاری صفات محمد کو پانی پت بلا بھیجا کہ آپ آ کر اپنے والد کی مسجد میں نماز تراویح پڑھائیں۔ قاری صفات محمد نے لیت و لعل کیا تو مولانا لقاء اللہ نے پیغام بھیجا کہ مجھے معلوم ہے کہ آپ تقسیم کے باعث فسادات کے ڈر سے پانی پت نہیں آ رہے۔ آپ آجائیں۔ اسٹیشن سے آپ کے والد کے سکھ ملازم آپ کو وصول کر کے عافیت سے میرے ہاں لے آئیں گے۔ چنانچہ ایسے ہوا۔ آپ نے اس سال تراویح میں قرآن مجید سنایا۔ مولانا لقاء اللہ اور ان کے ملازم دو شخص مقتدی تھے۔ لیکن ١٩٤٨ء کی تراویح میں پوری مسجد نمازیوں سے بھر گئی۔ آپ کا قرآن مجید پختہ تھا۔ ایک رکعت میں پارہ پارہ تلاوت کر لیتے تھے۔ ١٩٤٩ء میں خاندان کے اصرار پر آنولا (کرنال) سے ہجرت کر کے بہاول پور آ گئے۔
١٩٥٠ء میں پنجاب یونیورسٹی سے منشی فاضل اور ١٩٥٥ء میں بہاول پور سے او ٹی کیا۔ گورنمنٹ ہائی سکول یزمان میں ٣٦ سال مسلسل پڑھاتے رہے۔ ١٩٨٢ء میں وہاں سے ریٹائرڈ ہوئے۔ فرید گیٹ اور پھر چاہ فتح خان میں رہائش رہی۔ سٹلائٹ ٹاؤن مسجد الخلیل میں امامت و خطابت کی۔ پھر سٹلائٹ ٹاؤن مرکزی جامع مسجد میں عرصہ اٹھارہ سال سے امامت و خطابت کے فرائض انجام دیتے رہے اور وصال تک یہ سلسلہ جاری رہا۔
قاری صفات محمد گھر پر بغیر بورڈ لگائے اور بغیر نام رکھے فی سبیل اللہ بچوں کو حفظ کراتے اور سند دیتے رہے۔ کئی نوجوانوں نے آپ سے حفظ و قرأت کی تعلیم حاصل کی۔ بہت مخلص اور صالح بزرگ تھے۔ تلاوت میں حد درجہ جاذبیت ہوتی تھی۔ چمکتے دمکتے موتیوں کی طرح ادائیگی حروف سے تلاوت آپ کا معمول تھا۔ دعا کرتے تو معلوم ہوتا کہ آپ کا کلیجہ پگھل پگھل کر رب کریم کے حضور سراپا عجز و نیاز بن رہا ہے۔ آپ نے تقریباً پچاسی سال عمر پائی۔ آخری عمر میں تلاوت اور عبادت آپ کی طبیعت ثانیہ بن گئی تھی۔ معمولی بیمار رہے۔ لیکن معمولات ترک نہیں ہوئے۔ وفات سے کچھ دیر قبل جس کمرہ میں استراحت فرما تھے اس کا دروازہ کھلوا دیا۔ بچیوں اور مستورات کو کمرہ خالی کرنے کا فرمایا کہ دیکھو وہ مجھے لینے کے لئے آ گئے ہیں۔ دروازہ کھول دو۔ کمرہ خالی کر دو۔ گھر والوں نے اس پر عمل کیا۔ بظاہر کوئی شخص نہ آیا۔ لیکن تھوڑی دیر بعد گھر والوں نے آ کر دیکھا تو روح قفس عنصری سے پرواز کر چکی تھی۔ پیر ١٧ جنوری کو جنازہ ہوا۔ قابل رشک اجتماع تھا۔ اسی روز آسودہ خاک ہوئے۔
(لولاک محرم الحرام ١٤٢٦ھ)
٩٠...... حضرت مولانا صوفی اللہ وسایا
وفات......٢١ فروری ٢٠٠٥ء
سرائیکی علاقہ میں اللہ وسایا نام رکھنے کا عام رواج ہے۔ ڈیرہ غازی خان میں حافظ اللہ وسایا صاحبؒ معروف خطیب گزرے ہیں۔ موصوف شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی صاحبؒ کے شاگرد اور دارالعلوم دیوبند کے فاضل تھے۔ نامور خطیب تھے۔ قدرت نے آپ کو بلا کا گلہ دیا تھا۔ جہیر الصوت تھے۔ معروف نعت خواں جناب صوفی محمد بخش مرحوم اور حافظ اللہ وسایا صاحبؒ ان دو حضرات کے متعلق عام مشاہدہ ہے کہ جب یہ حضرات زور سے آواز بلند کرتے تو ان کی آواز سپیکر پر غالب آ جاتی تھی اور سپیکر پر بالکل چھا جاتے تھے۔ حافظ اللہ وسایا صاحبؒ بلند پایہ خطیب تھے۔ خوبصورت آواز اللہ تعالیٰ نے آپ کو ودیعت کی تھی۔ حافظہ اتنا اچھا تھا کہ جو سنتے تھے یاد ہو جاتا تھا۔ ان کے مترنم بیان کو سن کر چلتی دنیا رک جاتی تھی۔ میٹھے رسیلے خطیب تھے۔ حافظ اللہ وسایا صاحبؒ نابینا تھے۔ ظریف الطبع تھے۔ ان کے بعد ان کے ایک اور ہم نام نے ڈیرہ غازی خان میں بہت نام پایا اور وہ ہمارے بزرگ بھائی حضرت مولانا صوفی اللہ وسایا صاحبؒ تھے۔
مولانا صوفی اللہ وسایا صاحبؒ ڈیرہ غازی خان کے معروف قصبہ ثمینہ کے رہائشی تھے۔ گھلو برادری سے تعلق تھا۔ ان کے والد متوسط طبقہ کے زمیندار تھے۔ آپ نے جامعہ خیرالمدارس ملتان سے دورہ حدیث شریف کیا۔ سرائیکی کے ایک اور نامور خطیب حضرت مولانا محمد شریف بہاولپوریؒ جو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے بانی ارکان میں سے تھے۔ ڈیرہ غازی خان میں تقریر کے لئے گئے تو نوجوان عالم دین مولانا صوفی اللہ وسایا صاحبؒ کو مجلس تحفظ ختم نبوت میں گھیر لائے۔ مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ کی سرپرستی اور مناظر اسلام حضرت مولانا لال حسین اخترؒ ”فاتح قادیان حضرت مولانا محمد حیاتؒ کی شاگردی نے مولانا صوفی اللہ وسایا صاحبؒ کو خالص سونا بنا دیا۔
ڈیرہ غازی خان مولانا صوفی اللہ وسایا صاحبؒ کا حلقہ تبلیغ مقرر ہوا۔ آپ نے اس زمانہ میں ڈیرہ غازی خان اور راجن پور کا چپہ چپہ چھان مارا۔ کوئی علاقہ اور بستی ایسی نہ تھی جہاں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی شاخ قائم نہ کی ہو۔ کام کی وسعت کے پیش نظر ایک زمانہ میں ڈیرہ
غازی خان اور کوئٹہ کی مجلس کی علیحدہ رپورٹ شائع ہوتی تھی۔ جو مرکزی روئیداد کے علاوہ ہوتی تھی۔ داجل اور پہاڑی علاقوں میں اونٹوں پر سفر کرنا اور پیدل چلنا ان سب متذکرہ حضرات کے ساتھ سال بھر میں ایک دو پورے ضلع کے تبلیغی اسفار کا ہونا ایک معمول تھا۔ مولانا صوفی اللہ وسایا صاحبؒ کی شبانہ روز محنت کو اللہ تعالیٰ نے شرف قبولیت سے نوازا۔ ایک وقت میں وہ ڈیرہ غازی خان کی دینی پہچان بن گئے۔ کوئی دینی ادارہ یا جماعت ان کے مشورہ کے بغیر نہ چلتی تھی۔ علماء میں ان کی مثال ستاروں میں چاند کی سی تھی۔ رنگ سانولا، قد متوسط، جسم بھاری۔ گفتگو میں ربط کے قائل نہ تھے۔ ہمیشہ عشق و مستی کی زبان بولتے۔ جو بات کرتے جذبہ سے کرتے۔ دل سے نکلتی تھی اور دلوں پر پڑتی تھی۔ خدمت خلق کا جذبہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو دیا۔ غریب، مسکین، پسے ہوئے پسماندہ لوگ آتے اور آپ ان کے تھانوں اور کچہریوں کے کام کرواتے تھے۔ مقدر کے دھنی تھے۔ جہاں جاتے کام کرا کر واپس لوٹتے تھے۔ سیدھی لٹھ چلانے کے عادی تھے۔ بل فریب اور لگی لپٹی کے قائل نہ تھے۔ ان کے جذبہ عشق و مستی نے ان پر فتوحات کے دروازے کھول دیئے۔ ضلعی و ڈویژنل انتظامیہ کا ان کے موقف کو مانے بغیر چارہ نہ ہوتا تھا۔ دوست پرور تھے۔ جس سے دوستی ہوگئی اسے عمر بھر نبھاتے تھے۔ جس افسر سے ایک بار ملنا ہوجاتا وہ زندگی بھر آپ کا گرویدہ ہوجاتا۔ آپ ان تعلقات سے غریب لوگوں کے کام نکلواتے۔ خدمت خلق اور جذبہ صادق نے آپ کو علاقہ کا ہر دل عزیز بلکہ بے تاج بادشاہ بنادیا تھا۔ متوکل علی اللہ تھے اور یہی ان کا سرمایہ تھا۔ دوست ان پر جان چھڑکتے تھے۔ گھر سے پیدل نکلے۔ سواری کرائی۔ راستہ میں دوست مل گیا۔ تیل ڈلوایا، چل پڑے۔ ہفتہ بھر میں ضلع بھر کا دورہ مکمل کر کے آگئے۔ جو ملا کرایہ ادا کردیا۔ خالی جیب گھر سے جاتے اور اسی طرح واپس آجاتے تھے۔ جس پولیس افسر سے دوستی ہوئی تو پولیس کی گاڑی، پولیس کی نگرانی، پولیس ڈرائیور۔ یوں علاقہ میں تبلیغی دورے کرتے تھے۔ آپ کی ایسی دھاک بیٹھ گئی تھی کہ بڑے سے بڑے سردار آپ کے نام سے خم کھاتے تھے۔ ڈیرہ غازی خان کے در و دیوار پر آپ کی جراتوں و بہادری کے نشان ثبت ہیں۔
ایک بار کمپنی باغ کے جلسہ عام میں ایک وزیر سرمایہ دار تقریر میں دین دار طبقہ کو رگید رہے تھے۔ مولانا صوفی اللہ وسایا صاحبؒ کو اطلاع ہوئی۔ اکیلے جا دھمکے۔ اتفاق سے نماز کا وقت تھا۔ قریبی مسجد پیارے والی میں آذان دی۔ لوگ آپ کی آواز سے مانوس تھے۔ ان کے کان
کھڑے ہوئے۔ اذان کے اختتام پر اعلان کیا کہ آؤ لوگو! نماز کی طرف۔ حاضرین یکدم اٹھے۔ مسجد بھر گئی۔ جلسہ اجڑ گیا۔ وزیر صاحب کی تقریر ختم ہو گئی۔ رعونت اقتدار رخصت ہوئی۔ صوفی صاحبؒ نے سپیکر پر نماز پڑھائی۔ دعا میں پوری تقریر کا جواب ہو گیا۔ یوں اکیلے آپ کی جرات نے اقتدار کو چاروں شانے چت کر دیا۔ اس طرح کے واقعات شب و روز ان کی زندگی کا عام معمول تھا۔ آپ کی ندائے فقیر صدائے بے نواء پر لوگ شہد کی مکھیوں کی طرح جمع ہو جاتے تھے۔ علاقہ بھر میں آپ کے نام کی گونج تھی۔ آپ کی دھاک بیٹھ گئی تھی۔ بڑے بڑے سورماؤں کے آپ کے نام سے پتے پانی ہو جاتے تھے۔
ایک بار ٹبی قیصرانی کے قریب بستی شیر خان میں میر مند قادیانی زمیندار کو مسجد کے کونہ میں دفن کر دیا گیا۔ آپ کو پتہ چلا تو سینہ سپر ہو گئے۔ علاقہ کے تمام مکاتب فکر کو جمع کیا۔ آگ پانی کو جمع کر کے قادیانیوں کے مقابل لا کھڑا کیا۔ خانقاہ عالیہ تونسہ شریف کے خاندان کے چشم و چراغ خواجہ عبد مناف کو ساتھ ملایا۔ مذہب و سیاست کے سر برآوردہ حضرات کو یکجا کر کے تحریک کی نیو اٹھائی۔ جلسے ہوئے۔ ٹبی قیصرانی کے جلسہ میں قادیانیوں نے آدمی بھیج کر پتھراؤ کیا۔ آپ شیر غراں کی طرح ڈٹ گئے۔ جلسہ کامیاب ہوا۔ ٹبی سے تحریک تونسہ شریف تک پھیل گئی۔ دن رات کے جلسوں نے تحریک کو پروان چڑھایا۔ تب ربوہ کے قادیانی علی الاعلان دعوے کرتے نہ تھکتے تھے کہ اب مولویوں کا مقابلہ سرمایہ دار زمیندار وڈیرے جاگیردار تمن دار سے ہے۔ قادیانیوں کے لمبے ہاتھ۔ خود بھی مرنے والا علاقے کے رواج کے مطابق اپنے قبیلہ کا سردار تھا۔ ضلعی انتظامیہ ان کے زیر اثر تھی۔ تب ١٩٨٤ء کی تحریک ختم نبوت کے ایک مرحلہ پر مذہبی امور کے زیر اہتمام قادیانی مسئلہ پر ایک کمیٹی قائم ہوئی۔ مذہبی امور کے وزیر ملک خدا بخش ٹوانہ تھے۔ جونیجو صاحب نے ان کی ڈیوٹی لگائی کہ وہ ڈیرہ غازی خان جا کر مسئلہ کو حل کریں۔ یہ دفع الوقتی تھی۔ یا بعد میں قادیانی دباؤ کہ انہوں نے تاریخ مقرر کر کے ملتوی کر دی۔ مولانا صوفی اللہ وسایا صاحبؒ نے ڈیرہ غازی خان میں جلسہ عام کا اعلان کر دیا۔
اجتماعی جمعہ ایک گراؤنڈ میں ہوا۔ جمعہ کے بعد جلوس نے ایس پی و ڈی سی آفس جانا تھا۔ ہزاروں خلق خدا کے جلو میں تمام دینی جماعتوں کے ضلعی سربراہوں کے ہمراہ آپ روانہ ہوئے۔ شہر کے درو دیوار جھوم اٹھے۔ آگے مناظر اسلام حضرت مولانا عبد الستار تونسوی بھی جلوس
میں آ شامل ہوئے۔ فقیر راقم ابتدائی جلسوں سے آج کے جلوس تک صوفی اللہ وسایا صاحبؒ کے زیر قیادت شریک رہا تھا۔ اس جلسہ میں لاہور سے شیعہ مکتب فکر کے رہنما جناب علی غضنفر کراروی بھی شریک ہوئے۔ جلوس کے شروع ہوتے ہی ممکنہ حالات کو سامنے رکھ کر فقیر نے ان کو دفتر بھجوادیا کہ آپ آرام کریں۔ جلوس کے بعد اکٹھے ملتان چلیں گے۔ پورے ضلع سے کارکنوں کی نمائندگی موجود تھی۔ بلاشبہ ہزاروں کا جلوس تھا۔ ڈی سی‘ ایس پی نے باہر نکل کر بات چیت کرنا چاہی۔ فقیر نے جاکر صوفی اللہ وسایا صاحبؒ کے کندھے پر ہاتھ رکھا کہ مولانا! اب وقت ہے جلوس کی طاقت آپ کی پشت پر ہے۔ انتظامیہ سے قادیانی مردہ کے اخراج کے لئے کل کی تاریخ طے کرالو۔ جلوس پر امن منتشر کردو۔ کل پولیس افسران کے ہمراہ آپ جائیں اور قادیانی مردہ نکلوا کر آئیں۔ صوفی صاحبؒ مصر تھے کہ یہ ابھی چلیں۔ جلوس کے ہمراہ جائیں گے۔ لیکن یہ کسی طرح ممکن نہ تھا۔ میری بات سن کر صوفی اللہ وسایا صاحبؒ رو پڑے کہ حکومت جھوٹے وعدے کرتی ہے۔ مہینہ ہو گیا ہے۔ مجھے سمجھیں کہ میں کربلا میں اکیلا کھڑا ہوں۔ میرے لئے صوفی صاحبؒ کو اس ماحول میں قائل کرنا مشکل ہوگیا۔ میں پیچھے ہٹ آیا۔ پولیس نے لاٹھی چارج شروع کردیا۔ صوفی صاحبؒ بھاری جسم کے تھے۔ حضرت تونسوی صاحبؒ بوڑھے تھے۔ پولیس کی زد میں آگئے۔ خوب لاٹھی چارج ہوا۔ کئی رہنما زخمی ہوگئے۔ ان دنوں فقیر ہلکے جسم کا تھا۔ جان بچی لاکھوں پائے۔ تب بریلوی مکتب فکر کے رہنما جناب محمد خان لغاری بھی زخمی ہوئے۔ سب حضرات کو بیسیوں رفقاء سمیت زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا۔ فقیر افراتفری میں دفتر آیا۔ مولانا کراروی کو ساتھ لیا اور ملتان کے لئے عازم سفر ہوا۔ تھوڑی دیر بعد دفتر پر چھاپہ پڑا اور موجود سب حضرات بھی حوالہ زندان ہوگئے۔
پولیس افسران کے وحشیانہ آپریشن سے ایک بار سراسیمگی پھیل گئی۔ ریڈیو اور اخبارات میں خبر آئی۔ قومی اسمبلی میں تحریک التواء پیش ہوئی۔ ہم نے جلسوں اور مظاہروں کا اعلان کردیا۔ حکومت کی وعدہ خلافی کو کوسا گیا۔ اس دور کے حکمرانوں میں کچھ احساس تھا۔ ٹی وی پر پوری قوم کے سامنے وعدہ خلافی کے الزام کے سامنے ٹھہر نہ سکے۔ پولیس گئی۔ قادیانی تمن دار کی لاش مسجد سے نکال کر ان کی اپنی حویلی میں دبادی گئی۔
صوفی اللہ وسایا صاحبؒ فاتح شیر گڑھ بن گئے۔ قادیانیوں پر اوس پڑ گئی۔ قادیانی غیر
مسلم ہیں۔ مسلمانوں کے قبرستان علیحدہ۔ غیر مسلموں کے مرگھٹ علیحدہ۔ یہ مال کے کاغذات میں تقسیم و فرق موجود ہے۔ پوری مغربی دنیا میں مسلم‘ غیر مسلم قبرستانوں میں یہ تمیز موجود ہے۔ لیکن جان کر قادیانی خود کو مسلمان ثابت کرنے کے لئے اپنے مردے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کر کے آئین سے انحراف کے مرتکب ہوتے ہیں۔ قادیانی قیادت جان کر قادیانیوں کے مردے خراب کرا کر قوم کو الو بناتی ہے اور خود کو مظلوم ثابت کرتی ہے۔ اس تحریک کا فائدہ یہ ہوا کہ شادن لنڈ میں چالیس قادیانی مسلمان ہو گئے کہ جناب! دنیا میں مسلمانوں سے ہم علیحدہ۔ مرنے کے بعد بھی مسلمانوں میں دفن نہ ہوسکیں تو لعنت ہے اس قادیانیت پر۔ خود اس قادیانی تمن دار کا ایک قریبی عزیز بیٹا یا پوتا ایک مرحلہ پر صوفی اللہ وسایا صاحبؒ کے پاس آیا۔ قادیانیت ترک کرنے کا ارادہ کیا۔ صوفی اللہ وسایا صاحبؒ نے فقیر کو فون کیا کہ کیا کرنا ہے؟۔ میں نے عرض کیا کہ کوئی سیاسی چال نہ ہو۔ فون بند کیا۔ اس سے اسٹام لکھوایا۔ مرزا قادیانی کے کفر پر دستخط لے کر فارغ کردیا۔ مجھے فون کیا کہ توبہ کرادی۔ میں نے کہا آپ نے جلدی کی۔ معاملہ کو تھوڑا سوچ لیا ہوتا۔ کہنے لگے کہ مرزا قادیانی کو اس نے کافر کہا۔ قادیانیوں کی ذلت ہوئی۔ ان سے اس کی لڑائی ہوئی۔ دشمن کمزور ہوا۔ یہ نہ سہی اس کی اگلی نسل سے قادیانیت کے جراثیم بھی ختم ہوجائیں گے۔ اگر پھر مرتد ہوا۔ ہم زندہ تو پھر دمادم مست قلندر کرنے میں کیا دیر لگتی ہے۔ میدان بھی ہے۔ سواری بھی ہے۔ شاہسوار بھی ہے۔
غرض خوب آدمی تھے۔ پھر قادیانی مردوں کے اخراج از قبرستان ہائے مسلم کی تحریک کو پروان چڑھایا۔ پورے ضلع کو صاف کردیا۔ رہے نام اللہ کا۔ اس قسم کے ان کے مجاہدانہ کارناموں سے تاریخ بھری ہے۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کے ممتاز رہنماؤں میں سے تھے۔ جرات مند‘ باہمت‘ بہادر انسان تھے۔ ان کا دل آئینہ کی طرح صاف تھا اور زبان نفاق سے پاک تھی۔ جو کہتے تھے کر کے دکھاتے تھے۔ آخر وقت تک مرد غازی اور مجاہد کی طرح ستیزہ کار رہے۔ آخری عمر میں شوگر نے کمزور کردیا۔ دل و دماغ آخر تک متحرک رہے۔ یہی مومن کی شان ہے۔
٢١ فروری ٢٠٠٥ء کو انتقال ہوا۔ ٢٢ فروری کو مثالی جنازہ ہوا۔ ضلع بھر کے لوگ قافلہ در قافلہ آئے۔ عدیم النظیر حاضری تھی۔ آپ کے استاذ حضرت مولانا محمد قاسم نے جنازہ پڑھایا۔ آبائی قبرستان میں خلد نشین ہوئے۔
(لولاک صفر الخیر ١٤٢٦ھ)
٩١......حضرت مولانا غلام محمد علی پوری
وفات......٢٢ فروری ٢٠٠٥ء
کسی بزرگ و دوست کی وفات کی خبر سننے کے بعد ابتدائی دو تین دنوں میں تعزیتی مضمون یا خاکہ لکھنے کے لئے وقت مل جائے تو بہت موزوں لکھا جاتا ہے۔ لیکن اگر کسی مصروفیت کی وجہ سے وقت نہ مل سکے تو تجربہ یہ ہے کہ مضمون میں نہ صرف تاخیر ہو جاتی ہے بلکہ بعد میں لکھے جانے والے مضمون میں ”درد“ کی کیفیت قطعاً پیدا نہیں ہو سکتی ۔ الا ما رحم ربی ! آج اسی ذہنی کیفیت سے دوچار ہوں ۔ محترم حضرت مولانا صوفی اللہ وسایا صاحب مرحوم کے جنازے کے لئے پاء بکف تھے کہ علی پور سے مولانا محمد امجد حقانی نے اطلاع دی کہ حضرت مولانا غلام محمد صاحب انتقال فرما گئے ہیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ! پڑھا اور ڈیرہ غازی خان حضرت صوفی صاحبؒ کے جنازے کے لئے روانہ ہو گئے ۔ اسی شام کو واپس آکر علی پور فون کیا تو معلوم ہوا کہ حضرت مولانا غلام محمد صاحب کا جنازہ بھی ہو گیا ہے ۔ اسی روز بہاول پور میں ختم نبوت کانفرنس تھی ۔ اس کے لئے عازم ہوئے ۔ اگلے روز ختم نبوت رابطہ کمیٹی کا اسلام آباد میں اجلاس بھی تھا اور اس میں شرکت بھی از بس ضروری تھی ۔ حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری دامت برکاتہم، حضرت مولانا محمد اکرم طوفانی مدظلہ اور حضرت مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی تو بہاول پور سے علی پور تعزیت کر کے رحیم یار خان ختم نبوت کانفرنس میں جا شریک ہوئے ۔ جبکہ فقیر اسلام آباد سفر کے باعث تعزیت کے لئے علی پور نہ جاسکا اور نہ ہی تعزیتی مضمون لکھنے کا وقت ملا ۔
پاسپورٹ میں خانہ مذہب کی بحالی کی مہم نے دن رات ایسا سرگرداں رکھا کہ مہلت نہ مل سکی ۔ ٣؍اپریل کو تعزیتی کانفرنس علی پور جامعہ حسینیہ میں رکھی گئی ۔ اس کے لئے بھی وقت نہ نکال سکا۔ سو آج ادائے فرض و ادائیگی قرض کے لئے بسم اللہ کرتا ہوں ۔
حضرت مولانا غلام محمد صاحبؒ بلوچ برادری سے تعلق رکھتے تھے ۔ ان کے آباؤ اجداد ڈیرہ غازی خان سے سکونت ترک کر کے فتح پور کمال نزد ظاہر پیر ضلع رحیم یار خان میں آ کر آباد
ہوئے۔ حضرت مولانا غلام محمد صاحبؒ ١٩٣٤ء میں پیدا ہوئے۔ ذرا ہوش سنبھالا تو کچھ سکول کی تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد خانپور میں حافظ الحدیث حضرت مولانا محمد عبداللہ درخواستی صاحبؒ کے مدرسہ مخزن العلوم میں داخلہ لیا۔ جہاں حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ کے شاگرد حضرت مولانا واحد بخش صاحبؒ (کوٹ مٹھن والے) اور شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی کے شاگرد حضرت مولانا محمد ابراہیم تونسویؒ اور حضرت درخواستی صاحبؒ سے آپ نے دورہ حدیث کیا۔ آپ کے ساتھ فارغ ہونے والوں میں حضرت مولانا محمد لقمان علی پوریؒ بھی تھے۔
فراغت کے بعد عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے صدرالمبلغین حضرت مولانا محمد حیاتؒ فاتح قادیان سے ردقادیانیت پر تیاری کی۔ ١٩٥٣ء کی تحریک ختم نبوت میں بھی کام کی توفیق نصیب ہوئی۔ ستمبر ١٩٥٤ء میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنماؤں اور مبلغین کا ٹوبہ ٹیک سنگھ میں اجلاس ہوا۔ اس میں بھی آپ شریک تھے۔ ملتان خانیوال اور پھر بہاول پور میں آپ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ رہے۔ حضرت مولانا غلام محمد صاحبؒ گورے چٹے، کھلے چہرہ، دراز قد، متوسط جسم کے حامل تھے۔ مزاج میں پھرتیلا پن، طبیعت میں مشن سے والہانہ لگاؤ اور محنت کا بھرپور جذبہ تھا۔ جوانی میں کسی رو رعایت کے روادار نہ تھے۔ جس بات کو حق جانا اس پر ڈٹ گئے۔ جس بدی کو دیکھا اسے چاروں شانوں چت کرنے کے لئے جٹ گئے۔ جب تک آپ بہاول پور میں مجلس کے مبلغ رہے قادیانیوں کے پوری ریاست بہاول پور میں قدم نہ ٹکنے دیئے۔ ان کے قیام بہاول پور کے دوران میں عظیم الشان اور مثالی تین روزہ سالانہ ختم نبوت کانفرنسیں ہوتی رہیں۔ اس زمانہ میں ایک روزہ کانفرنسوں کا رواج نہ تھا۔ ملک بھر کی دینی قیادت ان میں شریک ہوتی تھی۔ آج کل لوگ میلوں ٹھیلوں میں جس ذوق سے جاتے ہیں اس سے کہیں زیادہ شوق سے لوگ ان کانفرنسوں میں شرکت کی سعادت حاصل کرتے تھے۔ ہر خطیب کا اپنا انداز ہوتا تھا۔ آج کل کی طرح نقالی و تصنع کا تصور تک نہ تھا۔ ہر خطیب اپنے انداز میں آتا اور اپنے مخصوص لہجہ میں خطاب کرتا۔ بات دل سے نکلتی اور دلوں پر اترتی، دماغوں پر اثر کرتی۔ چہار سو دینی ماحول اور ترویج دین
واشاعت اسلام کا سماں ہوتا تھا۔ ہر خطیب تبلیغ اسلام کے نقطہ نظر سے اپنا فرض ادا کرتا۔ لوگوں کی ذہن سازی ہوتی تھی۔ دینی فضا بنتی تھی۔ سامعین جھولیاں بھر کر دل روشن و دماغ معطر کر کے جاتے تھے۔ ترنم و خوش الحانی بعض جلیل القدر خطباء کی خطابت کا طرہ امتیاز ہوتا تھا۔ اکثر و بیشتر خطباء کھڑے ہو کر گفتگو کرتے تھے۔ سادہ مگر صاف لباس ہوتا تھا۔ ان کے قدم قدم پر علم و فضل کے وقار کی چھاپ ہوتی تھی۔ آج کل کی طرح تصنع‘ نقالی‘ قصہ خوانی‘ مک مکاؤ‘ گویا پن‘ میک اپ کا تصور نہ ہوتا تھا۔ جہاں ایک جلسہ ہو جاتا تھا وہاں سنت رسول ﷺ اور احیائے دین کی فضا قائم ہو جاتی تھی۔ بہاول پور کی دینی فضا والیان ریاست کی دین داری‘ حضرت مولانا غلام محمد گھوٹویؒ‘ حضرت مولانا خلیل احمد سہارنپوریؒ‘ حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ‘ حضرت علامہ شمس الحق افغانیؒ‘ حضرت علامہ احمد سعید کاظمیؒ‘ حضرت مولانا محمد صادق بہاول پوریؒ‘ حضرت علامہ محمد ناظم ندویؒ کے قیام بہاول پور کی برکات اور جامعہ عباسیہ میں ان حضرات کی تدریس کا نتیجہ تھیں۔ اس فضاء کو بہاول پور میں برقرار رکھنے میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے پلیٹ فارم سے حضرت مولانا غلام محمد مرحوم کا بھی بہت بڑا حصہ ہے۔
حضرت مولانا غلام محمد صاحبؒ نے ١٩٧٤ء کی تحریک ختم نبوت میں بھر پور حصہ لیا۔ مولانا مرحوم کی بہت بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ اپنے اکابر کا دل سے احترام کرتے تھے۔ چھوٹوں کو آگے بڑھانے اور تعارف کرانے میں فیاض طبیعت تھے۔ نامعلوم ان کی حوصلہ افزائی سے کتنے رفقاء آگے بڑھے اور مقام حاصل کیا۔ خود اچھے مقرر تھے۔ نپی تلی جاندار گفتگو کرتے تھے۔ نام و نمود سے کوسوں دور بھاگتے تھے۔ اچھے منتظم تھے۔ خطابت‘ منتظم ہونے پر اخلاص کی گہری چھاپ نے انہیں نکھرا ہوا موتی بنا دیا تھا۔
١٩٨٤ء کی تحریک اور اس کے بعد حضوری باغ روڈ ملتان پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی دفتر کی تعمیر میں آپ کی ڈیوٹی مرکزی دفتر میں تھی۔ ان کاموں میں مرحوم کا نہ صرف حصہ بلکہ بہت بڑا حصہ ہے۔ ہمارے مخدوم گرامی مخدوم العلماء مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی
جالندھریؒ کے بہت ہی معتمد تھے۔ حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ اور حضرت مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ کی رفاقت وطبیعت کا واضح پرتو ان میں نظر آتا تھا۔ حضرت مولانا محمد شریف بہاول پوریؒ حضرت مولانا لال حسین اخترؒ، حضرت مولانا محمد حیاتؒ اور حضرت مولانا عبدالرحمٰن میانویؒ پر دل و جان سے عاشق تھے۔ بہاول پور میں قیام کے دوران علی پور میں اخبارات کی ایجنسی حاصل کی۔ اپنے چھوٹے بھائی کو اس کا نگران بنایا۔ جس زمانہ میں بہاول پور ہوتے تھے جماعتی حلقہ میں حضرت مولانا غلام محمد بہاول پوری کے نام سے تعارف تھا۔ ملتان مرکزی دفتر کے بعد بہاول پور میں کچھ عرصہ مجلس کا کام کیا۔ علی پور میں اپنے ذاتی کام کی وسعت اور بڑھاپا کے باعث حالات کچھ ایسے بنے کہ مستقل علی پور منتقل ہو گئے۔ ان کے جانے سے اخبارات کے کام میں ترقی ہوئی۔ انہوں نے اڈہ کے قریب مسجد و مدرسہ کی نیو اٹھائی۔ مولانا مرحوم مدرسہ میں منتقل ہو گئے۔ بڑھاپا مستقل سیاپا نے ان کو گھیرا۔ لیکن شیر دل تھے۔ آخر وقت تک معمولات کو ترک نہیں کیا۔ ہر دینی کام میں برابر شریک رہے۔ حضرت مولانا منظور الحسینیؒ نے بھانجوں کے سر پر دست شفقت رکھا۔ اب مین روڈ پر جامعہ حسینیہ کی کوہ قامت عمارت اور شاندار تعلیمی ماحول کا گلشن سدا بہار ہوا، تو دونوں حضرات حضرت مولانا غلام محمد جو اب علی پوری کے نام سے جانے پہچانے جاتے تھے۔ اور حضرت مولانا منظور احمد الحسینیؒ یکے بعد دیگرے چند دنوں کے فاصلہ سے راہی آخرت ہو گئے۔
حضرت مولانا غلام محمد صاحبؒ کی آخری دنوں بخار ونزلہ سے طبیعت بگڑی۔ ضیق النفس کو بھی گزشتہ چند سالوں سے ساتھ لئے پھرتے تھے۔ لیکن ہمت نہ ہاری۔ البتہ کمزور ہو گئے تھے۔ آخری شب سوتے جاگتے رہے۔ ذکر وفکر جاری رہا۔ رات ساڑھے تین بجے سو گئے۔ صبح نماز کے وقت جگایا گیا تو معلوم ہوا کہ وہ آخرت کو سدھار چکے ہیں۔ اللہ! اللہ! سکون واطمینان کی یہ گھڑی دنیا میں سوئے اور عالم برزخ میں آنکھ کھولی۔ یا یوں تعبیر کریں کہ سوتے سوتے جنت چلے گئے۔ ١٢ محرم الحرام ١٤٢٦ھ مطابق ٢٢ فروری ٢٠٠٥ء بروز منگل انتقال ہوا۔ اسی روز ہی شام کو جامعہ حسینیہ میں سپرد خاک ہوئے۔
(لولاک ربیع الثانی ١٤٢٦ھ)
٩٢...... حضرت مولانا قاری محمد امینؒ
وفات....... ١٧ جولائی ٢٠٠٥ء
حضرت مولانا قاری محمد امین صاحبؒ ١٠ جمادی الثانی بروز اتوار مطابق ١٧ جولائی ٢٠٠٥ء عالم دنیا سے عالم جاودانی کی طرف رحلت فرما گئے ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ! آپ چھچھ ضلع اٹک کے مردم خیز علاقہ میں پیدا ہوئے ۔ ابتدائی اپنے علاقہ کے جید علماء کرام سے حاصل کی ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بے پناہ خوبیوں سے نوازا تھا ۔ ذہانت و فطانت فہم و فراست ذوق سلیم کے ساتھ بہت جری اور حق گو تھے ۔ جب موقوف علیہ تک عربی تعلیم مکمل کر لی تو علم حدیث کی اعلیٰ تعلیم کے لئے دارالعلوم دیوبند تشریف لے گئے ۔ یہ ١٩٤٠ء کا زمانہ تھا ۔ قیام دارالعلوم دیوبند میں آپ نے حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ ، حضرت مولانا اعزاز علیؒ اور پھر جامعہ امینیہ دہلی میں حضرت مولانا مفتی کفایت اللہؒ ایسے نابغہ روزگار اور اتقیائے زمانہ سے کسب فیض کرتے ہوئے علم حدیث کی سند فراغت حاصل کی ۔ آپ کو اللہ تعالیٰ نے لحن داؤدی عطا کیا تھا ۔ حجازی سوز و وجد میں قرآن کریم کی تلاوت کیا کرتے تھے ۔ زہے نصیب اور کمال سعادت مندی کہ اساتذہ کرام نے جامع مسجد دارالعلوم دیوبند میں جہری نمازوں کا امام مقرر فرمایا ۔
١٩٤٨ء میں آپ نے راولپنڈی میں جامعہ عثمانیہ کی بنیاد رکھی ۔ پاکستان میں سب سے بڑا فتنہ قادیانیت کا تھا ۔ جس کے خلاف جدوجہد میں ١٩٥٣ء، ١٩٧٤ء، ١٩٨٤ء تین تحریکات میں مسلمانان پاکستان کے خاص و عام نے نہایت جانفشانی کا مظاہرہ کیا ۔ قید و بند کی سخت تکلیفات برداشت کیں ۔ قاری صاحبؒ پہلی تحریک ١٩٥٣ء میں نو ماہ قید میں رہے ۔ بعد والی دونوں تحریکوں میں بھی بڑی جواں مردی سے حصہ لیا ۔ تحریک نظام مصطفیٰ ﷺ جیسی تحریکوں میں حصہ لیتے رہے ۔
قاری صاحبؒ کا بیعت کا تعلق تازیست خانقاہ سراجیہ سے رہا ۔ پہلے حضرت مولانا محمد عبداللہ لدھیانویؒ سے بیعت ہوئے ۔ پھر حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب مدظلہ سے تجدید بیعت کی ۔ خانقاہ سراجیہ کے اس روحانی تعلق پر بدل و جان فریفتہ رہے ۔ سیاسی تعلق جمعیت علماء اسلام سے تھا ۔ اللہ تعالیٰ قاری صاحبؒ کو اپنی عنایات کریمانہ سے نوازیں، لغزشوں کو معاف فرمائیں اور اپنے محبوب بندوں میں شامل فرمائیں ۔
(لولاک رجب المرجب ١٤٢٦ھ)
٩٣...... شاعر اسلام جناب سید امین گیلانی”
وفات......١٤ اگست ٢٠٠٥ء
١٤ اگست ٢٠٠٥ء بروز بدھ کو شاعر حریت ترجمان ختم نبوت یادگار اسلاف مخدوم محترم حضرت سید امین گیلانی صاحبؒ انتقال فرما گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون!
٢٦ جولائی ٢٠٠٥ء کو بیسویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس برمنگھم کے سلسلہ میں دو ماہ کے لئے برطانیہ آنا ہوا۔ کانفرنس کے بعد سکاٹ لینڈ میں سہ روزہ رد قادیانیت کورس رکھا تھا۔ اس کے اختتام پر چھٹی سالانہ ختم نبوت کانفرنس برمنگھم اور گلاسگو میں ٣٠ جولائی کو منعقد ہوئی۔ ٣١ جولائی کو ١٩ویں سالانہ توحید وسنت کانفرنس ویکفیلڈ سے فراغت کے بعد برنلے میں مولانا عزیز الحق صاحب نے حال میں مسجد و مدرسہ کے لئے وسیع چرچ خرید کیا ہے۔ اس کی افتتاحی تقریب تھی۔ اس سے فراغت کے بعد لندن حاضری ہوئی۔ سعودی عرب میں ادائیگی عمرہ کے بعد پاکستان واپسی کے لئے سیٹ کنفرم کرانا تھی۔ پانچ روز لندن کے لئے رکھے تو احباب نے یہاں پروگرام رکھ لئے۔
٤ اگست کو برطانیہ ٹائم کے مطابق چار بجے شام ہڈزفیلڈ سے محترم حافظ منصور العزیز صاحب نے مکہ مکرمہ مدینہ طیبہ ١٢ روزہ قیام کے لئے ہوٹل بک ہو جانے کی خوشخبری سنائی اور ساتھ ہی فرمایا کہ افسوس ناک اطلاع یہ ہے کہ پاکستان میں حضرت سید امین گیلانی انتقال فرما گئے ہیں۔ خبر سنتے ہی آنکھوں کے سامنے سچ مچ اندھیرا چھا گیا۔ دل پر ایسی چوٹ لگی کہ بے ساختہ آنسو ابل پڑے۔ آج اندازہ ہوا کہ آدمی دیار غیر میں اپنے کسی عزیز یا بزرگ کے وصال کی خبر سنے تو اس پر کیا کیفیت طاری ہوتی ہے۔ مخدوم زادہ سید سلمان گیلانی عرصہ ڈھائی ماہ سے برطانیہ آئے ہوئے ہیں۔ ان متذکرہ کانفرنسوں میں ان کا ساتھ رہا۔ معلوم کیا کہ وہ گلاسگو سے متصل مدرول قاری عبدالماجد صاحب کے ہاں ہیں۔ دھڑکتے دل سے فون کیا۔ دونوں طرف سے سسکیوں کے ماحول میں پتہ چلا کہ حضرت سید امین گیلانی صاحبؒ لاہور گھر پر تھے۔ فیصل آباد کے علماء گئے اور حضرت گیلانی صاحبؒ کو امادہ کر کے فیصل آباد لے آئے۔ ظہر کے بعد کھانا کھا کر کلمہ پڑھا۔ لیٹے داعی اجل کو لبیک کہا اور مالک الملک کو اپنی جان کی امانت لوٹا دی۔
حضرت سید امین گیلانی صاحبؒ نجیب الطرفین سید تھے۔ عادات واطوار میں خانوادہ رسول ﷺ کے خون کا مکمل پرتو‘ جلوہ گر تھا۔ گورا رنگ‘ کھلا چہرہ‘ عقابی آنکھیں‘ لبوں پر مسکراہٹ‘ سمارٹ جسم‘ داڑھی کے بال خوبصورت چمکیلے‘ قد متوسط‘ بلند خیال‘ مترنم لحن داؤدی‘ خاص ادا سے حمدونعت کے لئے طرح اٹھاتے تو ہزاروں کا اجتماع سر دھننے لگ جاتا۔ نامور خطیب کی خطابت سے کہیں زیادہ ان کو ہر جگہ پذیرائی ملتی۔ کراچی سے خیبر تک ان کے نام کی دھاک تھی۔ عام وخاص میں یکساں محبوب ومقبول تھے۔ اٹھتی جوانی میں حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کی صحبتوں کے اسیر ہوگئے۔
حضرت سید امین گیلانی صاحبؒ نے مجلس احرار اسلام کے پلیٹ فارم سے اپنی عملی زندگی کا آغاز کیا۔ تقسیم سے قبل متحدہ ہندوستان کے ہر سٹیج پر ان کی موجودگی لازم قرار پائی۔ پاکستان بننے کے بعد حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ‘ خطیب پاکستان حضرت مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ‘ مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ‘ مجاہد اسلام حضرت مولانا تاج محمودؒ‘ مناظر اسلام حضرت مولانا لال حسین اخترؒ‘ فاتح قادیان حضرت مولانا محمد حیاتؒ‘ بلبل احرار حضرت مولانا عبدالرحمن میانویؒ‘ مجاہد ختم نبوت حضرت مولانا محمد شریف جالندھریؒ‘ حضرت مولانا محمد شریف بہاول پوریؒ اور دیگر اکابر نے مجلس تحفظ ختم نبوت کی بنیاد رکھی تو حضرت گیلانی صاحبؒ بھی اس کاروان ختم نبوت میں برابر کے شریک تھے۔ آپ کے ایمان افروز کلام کی مقبولیت نے یہ مقام حاصل کیا کہ دنیا زندگی بھر انہیں ”شاعر ختم نبوت“ کے نام سے جانتی پہچانتی تھی۔
مجلس تحفظ ختم نبوت اور جمعیت علمائے اسلام کے اکابر کی آنکھوں کا تارا تھے۔ حافظ الحدیث حضرت درخواستیؒ‘ حضرت مولانا مفتی محمودؒ‘ حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ‘ حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ اور ان کے جانشین حضرت مولانا عبیداللہ انورؒ کی طرح پورے ملک کے شیوخ حدیث‘ علمائے کرام‘ مشائخ عظام کے ہاں ان کو خاص محبوبیت کا مقام حاصل تھا۔ یہ سب کچھ ان کے اخلاص بھرے عشق رسالت مآب ﷺ کا صدقہ تھا۔ بلاشبہ وہ ایک بلند خیال شاعر اسلام تھے۔ اکابر کی صحبتوں نے انہیں دینی وسیاسی بصیرت کا اعلیٰ مرتبہ نصیب کیا تھا۔ ان کے خیالات کی
بلند پروازی میں ان کے اعلیٰ کردار کا بھی بڑا حصہ تھا۔ وہ بہت بڑے عوامی‘ انقلابی اور اعلیٰ درجہ کے رہنما اور بلند کردار انسان تھے۔ دل کے غنی تھے۔ عسرت و سیرت میں مثالی اور نمونہ کی زندگی گزاری۔ قناعت پسند طبیعت تھی۔ کروفر سے کوسوں دور تھے۔ ان کی نظم کا ہر شعر پہلے سے زیادہ وقیع ہوتا تھا۔ ان کے کلام کی وسعتوں کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ ہر شعر پر ان کو داد ملتی تھی۔ اپنے سامعین کو ایسا مدہوش کرتے تھے کہ لوگ فرش سے عرش تک پہنچ جاتے تھے۔ نعروں کی گونج میں سٹیج پر آتے اور نعروں کے سمندر میں تیرتے ہوئے کلام پڑھتے۔ ان کی ہر ادا دلربا ہوتی تھی۔ مدوجزر قابل دید ہوتا تھا۔ دین کے ہر شعبہ اور سیاست کی ہر جزئی پر ان کا کلام موجود ہے۔
حضرت سید امین گیلانی صاحبؒ نے قطب الارشاد حضرت شاہ عبد القادر رائے پوریؒ سے لے کر مخدوم المشائخ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب مدظلہ تک بیعت کے سلسلہ سے نے اپنے آپ کو جوڑے رکھا۔ مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمودؒ سے لے کر قائد جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمن تک تمام سیاسی و مذہبی رہنماؤں کے ہاں حضرت گیلانی صاحبؒ کی رائے کو مقام حاصل تھا اور یہ ان کے مشیر تھے۔
فقیر راقم نے اپنی زندگی میں جن شعرائے اسلام کو دیکھا یا سنا ہے بلاشبہ ہمارے حلقہ میں وہ اپنے زمانہ میں سب پر فائق تھے۔ راقم زمانہ طالب علمی میں ملک بھر کے دینی حلقہ کی طرح ان کے نام و مقام سے آشنا تھا۔ البتہ پہلی بار زیارت ١٩٦٦ء کے آخر یا ١٩٦٧ء کے اوائل میں جامعہ مخزن العلوم خانپور کے سالانہ جلسہ تقسیم اسناد کے موقعہ پر ہوئی۔ اس وقت آپ کا طوطی بولتا تھا۔ کسی جماعت‘ ادارہ‘ انجمن‘ مدرسہ و جامعہ کا جلسہ ان کے بغیر نامکمل شمار ہوتا۔ فراغت کے بعد فقیر راقم لائل پور (فیصل آباد) میں مجلس تحفظ ختم نبوت کا مبلغ مقرر ہوا۔ غالباً ١٩٦٨ء میں دو روزہ ختم نبوت کانفرنس دھوبی گھاٹ میں کرانے کی سعادت نصیب ہوئی۔ مجاہد ختم نبوت حضرت مولانا تاج محمودؒ کی دعوت پر حضرت درخواستیؒ ‘ حضرت جالندھریؒ جناب آغا شورش کاشمیریؒ سید مظفر علی شمسیؒ مولانا صاحبزادہ افتخار الحسنؒ عبدالقادر روپڑیؒ مولانا محمد شریف جالندھریؒ مولانا عبدالرحیم اشعرؒ تشریف لائے۔ دونوں راتیں حضرت گیلانیؒ کی نظموں سے سٹیج گونجتا رہا۔ یہاں سے تعارف
و نیازمندی کا سلسلہ شروع ہوا۔ بعد میں کئی بار جلسوں میں آپ کی موجودگی میں تقریر کی سعادت حاصل ہوئی۔ سٹیج پر داد دیتے۔ چھوٹوں کو بڑا بناتے اور پھر علیحدگی میں بہت ہی حکمت عملی کے ساتھ تصحیح فرماتے۔ بہت بڑے شاعر اور خطیب گر تھے۔
فقیر راقم کو خوب یاد ہے کہ سکھر کی ختم نبوت کانفرنس کے موقعہ پر مہمان مقررین کی رہائش گاہ جامعہ اشرفیہ تھی۔ دن کو لیٹے ہوئے تھے۔ حضرت گیلانی صاحبؒ ٹہلتے ٹہلتے کمرہ میں آن دھمکے۔ بہت سارے مہمان لیٹے تھے۔ فقیر نے انہیں دیکھ کر اٹھنا چاہا۔ فوراً حکماً اشارہ سے روک دیا اور پھر میرے پاؤں کے تلووں کو سہلانے لگے۔ جسم میں سنسراہٹ پیدا ہوئی تو فرمایا کہ خبردار حرکت نہ ہونے پائے۔ دو تین بار پاؤں کے تلووں پر اپنی مبارک انگلیوں کے پورے ہلکے خاص انداز سے چلائے۔ میں آنکھیں کھولے دم بخود بے حس وحرکت پڑا رہا۔ تو آپ نے شاباش دی اور فرمایا کہ انسان کی کمزوری ہے کہ تلووں پر سہلایا جائے تو حرکت کرتا ہے۔ جو حرکت پر قابو پالے اس کی قوت ارادی بڑی مضبوط ہوتی ہے۔ میں نے سر آپ کے قدموں میں رکھ دیا اور عرض کی کہ حضرت! میری قوت ارادی ہے یا آپ کا احترام کہ میں تعمیل ارشاد میں دم بخود ہو گیا۔ میرے سر کو اپنے قدموں سے اٹھایا اور فرمایا کہ رات کے جلسہ میں کیا کہا تھا۔ یوں نہیں یوں کہنا چاہئے تھا۔ تب راز کھلا کہ وہ اس ادا سے میری اصلاح کے لئے کوشاں تھے۔
حضرت سید امین گیلانی صاحبؒ آزادی وطن اور نفاذ شریعت کے لئے متعدد بار قید و بند کی صعوبتوں سے گزرے۔ ١٩٥٣ء کی تحریک ختم نبوت میں کئی ماہ جیل میں گزارے۔ وہ بہت ہی شیر دل رہنما تھے۔ ١٩٧٤ء کی تحریک ختم نبوت کو پروان چڑھانے اور کامیابی سے ہمکنار کرنے میں حضرت گیلانی صاحبؒ کا بہت بڑا حصہ ہے۔ بلکہ وہ اپنے شعبہ کے بلاشراکت غیر سر براہ تھے۔ ١٩٨٣ء میں مرزا ناصر قادیانی نے دوسری اکھ مٹکے کی شادی کی تو ہنی مون منانے کے لئے قادیانی گیسٹ ہاؤس اسلام آباد میں رہائش پذیر تھا۔ اس موقعہ پر جامع مسجد دارالسلام اسلام آباد میں ختم نبوت کانفرنس تھی۔ کانفرنس کے اختتام پر حضرت مولانا قاری احسان اللہ صاحب نے فرمایا کہ مرزا ناصر قادیانی میری مسجد کے ساتھ سڑک کے دوسرے کنارے رہائش پذیر ہے۔ وہاں
جلسہ ہو جائے۔ اگلی رات کا وہاں پروگرام طے ہو گیا۔ شیخ المشائخ خواجہ خواجگان حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب مدظلہ کی صدارت‘ حضرت مولانا محمد لقمان علی پوریؒ‘ حضرت مولانا عبدالشکور دین پوریؒ کی تقریر اور حضرت سید امین گیلانی صاحبؒ کی نعت ہوئی۔ ابتداء میں فقیر کا بیان ہوا۔ اپنی تقریر سے فارغ ہوتے ہی حضرت سید امین گیلانی صاحبؒ کے ہمراہ ختم نبوت دفتر اسلام آباد آگیا۔ حضرت گیلانی صاحبؒ شیخوپورہ جانا چاہتے تھے۔ رات گئے حضرت مولانا عبدالرؤفؒ جتوئی تشریف لائے۔ زور سے دروازہ پیٹا‘ دروازہ کھلا تو فرمایا تم یہاں سوئے ہو۔ تمہارے بیان کے بعد مرزا ناصر کو دل کا دورہ پڑا۔ پولیس نے حضرت خواجہ خان محمد صاحبؒ جناب قاری محمد امینؒ حضرت مولانا عبدالشکور دین پوریؒ کو گرفتار کرلیا ہے۔ حضرت مولانا محمد لقمان علی پوریؒ اور میں (مولانا جتوئی) آنکھ بچا کر آگئے۔ وہ باہر گاڑی میں بیٹھے ہیں۔ حضرت گیلانی صاحبؒ نے بھی جانا ہے۔ آپ بھی چلیں۔
حضرت گیلانی صاحبؒ نے سفر کرنا تھا چل پڑے۔ مجھ پر نیند سوار تھی۔ عذر کردیا۔ اگلے دن صبح راجہ ظفر الحق صاحب کو حضرت دامت برکاتہم کی گرفتاری کا پتہ چلا۔ انہوں نے پولیس افسران کو کہا تمہیں معلوم ہے کہ کن کو گرفتار کیا ہے؟۔ یہ وہ شخصیت ہیں جنہیں جنرل محمد ضیاء الحق نے تین بار ملاقات کے لئے بلایا ہے۔ لیکن انہوں نے ملاقات نہیں کی۔ افسران کو جان کے لالے پڑگئے۔ حضرت دامت برکاتہم کو اس وقت معذرت کر کے افسران نے رہا کردیا۔ جناب قاری محمد امینؒ اور حضرت مولانا عبدالشکور دین پوریؒ ضمانت پر رہا ہوئے۔ ہم نے قبل از گرفتاری ضمانت کرا لی تھی۔ ان دنوں حضرت گیلانی صاحبؒ سے پیشیوں کے موقعہ پر ملاقاتیں رہیں۔ اس دل کے دورہ سے مرزا ناصر آنجہانی ہوگیا تو اس کی جگہ قادیانی چیف گرو مرزا طاہر بنا۔
١٩٨٤ء کا امتناع قادیانیت آرڈیننس جاری ہوا تو مرزا طاہر نے ملک سے مجرمانہ فرار اختیار کیا۔ اس پر حضرت گیلانی صاحبؒ نے نظم کہی کہ:
مرزا طاہر سامنے آ بات تو کر تیرے لئے تو کافی اللہ وسایا ہے
حضرت گیلانی صاحبؒ نے سالانہ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر میں یہ نظم بھی پڑھی تو اجلاس کے بعد ایک نامی گرامی خطیب نے کہا کہ حضرت گیلانی صاحبؒ آپ نے اللہ وسایا کا نام لیا۔ میرے نام کی شمولیت سے بھی کوئی نظم بنادیں تو آپ نے انہیں فرمایا کہ میاں غلط سمجھے ہو۔ میں کوئی پروفیشنل شاعر نہیں ہوں۔ ماحول بنتا ہے۔ دل پر چوٹ پڑتی ہے تو اللہ میاں کچھ نہ کچھ کہلا دیتے ہیں اور بس۔ واقعہ بھی یہی ہے کہ ان کا پورا کلام اس اصول کے گرد گھومتا ہے۔ ان کی پوری شاعری میں کیفیت ”ورود“ ہے ”آورد“ نہیں۔
ایک دفعہ راقم نے عرض کیا کہ حضرت! مسئلہ ختم نبوت اور رد قادیانیت کے پورے کلام کو علیحدہ چھاپ دیں۔ تو ”ہر چہ گویم حق گویم“ مجموعہ مرتب کر دیا۔ جسے مجلس تحفظ ختم نبوت نے بڑے اہتمام سے شائع کیا۔ بہت کم لوگوں کو معلوم ہوگا کہ نظم کی طرح آپ کی نثر میں بھی نرالی شان ہے۔ جو ان کی تصنیفات سے ظاہر ہے۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے ١٩٨٢ء میں پہلی بار چنیوٹ سے سالانہ ختم نبوت کانفرنس کو منتقل کر کے چناب نگر میں منعقد کیا تو آپ شیخوپورہ سے قافلہ لے کر مسلم کالونی چناب نگر کانفرنس میں تشریف لائے۔ اجلاس شروع تھا۔ ہزاروں کا اجتماع اور دھواں دھار تقریریں ہو رہی تھیں۔ اجلاس اپنے عروج پر تھا کہ فقیر نے دیکھا کہ حضرت گیلانی صاحبؒ ایک ”مست الست“ کی طرح کبھی اجتماع کو کبھی سٹیج کو کبھی مسجد کو کبھی چار دیواری کو کبھی صحن کو کبھی آسمان کو کبھی شامیانوں کو اور کبھی درختوں کو دیکھ رہے ہیں۔ ادھر ادھر نظر اٹھا کر متفکرانہ انداز کو میں نے دیکھا تو عرض کیا کہ مرشد! خیر ہے۔ کیا ہو رہا ہے۔ میری طرف متوجہ ہوئے اور اپنے دونوں ہاتھ اور سر میرے کندھے پر رکھ کر والہانہ انداز میں رو پڑے۔ فرمایا کہ میاں! میں ربوہ میں قافلہ امیر شریعت حضرت عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے اس شان میں فاتحانہ داخلہ کو دیکھ کر روح بخاریؒ کو تلاش کر رہا ہوں۔ وہ نہیں تو کم از کم حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ حضرت مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ حضرت مولانا لال حسینؒ اختر، کوئی تو نظر آجائیں؟ جنہیں بغلگیر ہو کر مبارک باد دے سکوں اور پھر زار و قطار خوشی میں رو پڑے۔ اس وقت حضرت مولانا محمد شریف جالندھریؒ اور حضرت مولانا تاج محمودؒ برآمدہ میں آگئے۔ تینوں حضرات مل گئے۔ حضرت گیلانی صاحبؒ کو اس حالت میں دیکھا تو تینوں حضرات محو گفتگو ہو گئے۔ کسی کام سے کسی ساتھی نے مجھے بلا لیا اور میں ان تینوں کو چھوڑ کر چل دیا۔
حضرت گیلانی صاحب صحت کے آخری دور تک ہر سال شیخوپورہ سے قافلہ لے کر ختم نبوت کانفرنس چناب نگر میں شریک ہوتے۔ جب لاہور منتقل ہو گئے تو لاہور سے قافلہ کے ہمراہ تشریف لاتے۔ گزشتہ سے پیوستہ سال بڑھاپے کے باوجود آخری اجلاس میں تشریف لائے۔ کرسی پر بیٹھ کر نظم پڑھی تو اجتماع تڑپ اٹھا۔
حضرت سید امین گیلانی صاحبؒ لاہور کی ختم نبوت کانفرنس میں ہر سال تشریف لاتے۔ چند سالوں سے فقیر راقم اپنے شیخ حضرت اقدس سید نفیس الحسینی دامت برکاتہم کے ہاں رمضان کے آخری دنوں میں حاضری دینے کی سعادت حاصل کر رہا ہے۔ گزشتہ سال ٢٦ رمضان المبارک کو حضرت گیلانی صاحبؒ ایک دوست کے ساتھ گاڑی پر خانقاہ سید احمد شہیدؒ پر تشریف لائے۔ فقیر کو بلوایا اور فرمایا کہ تمہیں ملنے کے لئے آیا ہوں۔ فقیر پانی پانی ہو گیا۔ حضرت کیا فرماتے ہیں؟۔ مجھے حکم کیا ہوتا، میں سر کے بل آپ کے قدموں میں حاضر ہو جاتا۔ فرمایا کہ نہیں۔ سنو! تو سہی کہ کیوں آیا ہوں۔ عرض کیا فرمائیں۔ گویا ہوئے کہ آج ستائیس رمضان المبارک ہے۔ ہمارے محلہ کی مسجد میں ختم قرآن ہے۔ تقریر کے لئے انہوں نے میرے ذمہ ڈیوٹی لگا دی۔ حضرت مولانا قاری نذیر احمد سے آپ کا پتہ چلا تو حاضر ہو گیا ہوں۔ میں نے سوچے سمجھے بغیر عرض کر دیا کہ حضرت میں حاضر ہو جاؤں گا۔ آپ اطمینان رکھیں۔ انہوں نے دعا دی اور چل دیئے۔
حضرت گیلانی صاحبؒ کے جانے کے بعد یاد آیا کہ آج رات مجلس لاہور کے فاضل مبلغ حضرت مولانا عزیز الرحمن ثانی نے شہر کے دوسرے کنارے پر پروگرام طے کر رکھا ہے۔ بھاگم بھاگ مولانا ثانی صاحب سے جا کر عرض کیا کہ دو پروگرام ہیں اور دونوں متضاد سمتوں میں ہیں۔ جبکہ وقت ایک ہی ہے۔ سفر بھی خاصا ہے۔ کیا کریں؟۔ حضرت گیلانی صاحبؒ کے پروگرام پر نہیں جاتا تو ان کی پوزیشن خراب ہوگی۔ آپ کے پروگرام پر نہیں جاتا تو بھی مجرم بنتا ہوں۔ حضرت مولانا عزیز الرحمن ثانی نے فرمایا کہ حل نکالتے ہیں۔ مولانا ثانی پہلے اپنے پروگرام پر کینٹ میں لے گئے۔ وتروں کے فوراً بعد بغیر تلاوت ونعت کے تقریر پر بٹھا دیا۔ پندرہ بیس منٹ بیان کے بعد دوسرے ساتھی کا اعلان کیا۔ باہر نکلا تو مولانا ثانی موٹر سائیکل لئے تیار کھڑے تھے۔ فقیر کے بیٹھتے ہی موٹر سائیکل ہوا میں اڑا دیا۔ بیس کلومیٹر سفر کر کے حضرت گیلانی صاحبؒ کے ہاں حاضر ہوئے تو وہ نعت پڑھ رہے تھے۔ دیکھتے ہی فرمایا کہ لو مولوی صاحب آ گئے۔ میں
سرخرو ہو گیا۔ نعت مکمل فرمائی۔ فقیر کا بیان ہوا۔ آپ نے دعا کرائی۔ پروگرام مکمل ہونے کے بعد مجھے فرمایا کہ دیر کیوں ہو گئی؟۔ میں نے صورت حال عرض کی کہ پہلے سے شہر کے دوسرے کنارے، وقت دے رکھا تھا۔ وہاں سے دوڑ کر آیا ہوں۔ آپ مسکرائے اور فرمایا کہ جب میں نے سلام پھیرا تو آپ نہ تھے۔ فوراً ماتھا ٹھنکا کہ میرے سے وعدہ خلافی تو نہ کریں گے۔ البتہ دیر ہو سکتی ہے۔ حکمت عملی سے تلاوت کرائی۔ پھر نعت پڑھی اور پھر ایک مقرر کو لگا دیا۔ جب وہ ڈھیر ہوا تو پھر خود نعت شروع کر دی۔ آخری شعر پر خیال آیا کہ مولوی صاحب اب بھی نہ آئے تو لوگ کیا کہیں گے کہ گیلانی صاحب کی بھی مقرر نہیں مانتے۔ بس خیال گزرا تو دیکھا کہ آپ مسجد میں داخل ہورہے ہیں۔ شکر کیا کہ سرخرو ہو گیا۔ میں نے حضرت گیلانی صاحبؒ کے قدموں کو ہاتھ لگایا کہ حضرت آپ کے حکم سے سرتابی تو ممکن نہ تھی۔ لیکن آپ کی کرامت کہ تعمیل ارشاد ہو گئی۔ آپ نے بہت دعا دی۔ بس یہ آخری ملاقات تھی حضرت گیلانی صاحبؒ سے۔
اب اس وقت حضرت سید امین گیلانی صاحبؒ کا جنازہ ہورہا ہوگا۔ ہزاروں میل دور لندن میں بیٹھا ان کی یادوں سے دل کو تسلی دے رہا ہوں۔ اللہ تعالیٰ معاف فرمائیں کہ ان کی یادوں کی آڑ میں اپنے آپ کو اجاگر کر رہا ہوں۔ کیوں نہ ہو۔ وہ اتنے بڑے انسان تھے کہ ان کی وابستگی سے کئی اجاگر ہوئے۔ اللہ تعالیٰ ان کی قبر مبارک کو بقعہ نور بنائیں۔
جناب سید سلیمان گیلانی اب آپ ہمارے بڑے ہیں۔ انشاء اللہ! آپ سے وعدہ رہا کہ فقیر راقم زندگی بھر حضرت گیلانی صاحبؒ کا نوکر رہا۔ اب آپ کی نوکری کریں گے۔ آپ بڑے باپ کے بڑے بیٹے ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو ضائع نہیں فرمائیں گے۔ اچھا میاں سلیمان آپ کو آج سیٹ نہیں ملی۔ آپ کل پاکستان جائیں گے۔ جنازہ سے تو ہم دونوں محروم رہے۔ آپ کو دوھرا صدمہ ہے۔ لیکن جب سے دنیا بنی ہے ایسے ہورہا ہے۔ جو آیا ہے اس نے جانا ہے۔ آپ پاکستان جائیں، میں سعودی عرب جاتا ہوں۔ اپنے غم میں آپ میرے غم کو یاد رکھیں گے۔ اس لئے کہ وہ صرف آپ کے نہیں ہم سب کے بڑے تھے۔ ہمارے بڑوں کے ساتھی تھے۔ فقیر انشاء اللہ ! ان کے لئے طواف کر کے ایصال ثواب کرے گا۔ انشاء اللہ !
(لولاک شعبان المعظم ١٤٢٠ھ)
٩٤.......مبلغ ختم نبوت جناب حافظ احمد بخشؒ!
وفات......٢٢ اگست ٢٠٠٥ء
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت رحیم یار خان کے مبلغ حضرت مولانا حافظ احمد بخش صاحب ٢٢ اگست ٢٠٠٥ء مطابق ١٦ رجب المرجب ١٤٢٦ھ بروز پیر قبل از عصر لاہور کارڈیالوجی سنٹر میں انتقال فرما گئے۔ اناللہ وانا الیہ راجعون! حضرت مولانا حافظ احمد بخش صاحب بکوڈھ قوم کے چشم و چراغ تھے۔ والد صاحب کا نام ملک اللہ بخش تھا۔ بستی داد والا موضع سومن تحصیل شجاع آباد ضلع ملتان کے رہائشی تھے۔ حضرت مولانا احمد بخشؒ قد متوسط مائل بہ دراز، رنگ گندمی، جسم ہلکا، چہرہ پر چیچک کے ہلکے ہلکے داغ تھے جو بجائے خود خوبصورت لگتے تھے۔ داڑھی ورلی اور مشت بھر سے کبھی زائد نہ ہوئی۔ داڑھی کے بال ملائم اور سفید تھے۔ نیک طبیعت تھے۔ گفتگو میں کبھی فحش گوئی کو داخل نہ ہونے دیتے تھے۔ لیکن مناسب حد تک خوش مزاج تھے۔ ترش رو بالکل نہ تھے۔ دوستوں کے دوست تھے۔ خاندانی انسان تھے۔ جس سے دشمنی ہوگئی اسے بھی نہ بھلا پاتے تھے۔ قناعت پیشہ تھے۔ البتہ مہمانوں کے لئے دیدہ دل و فرش راہ تھے۔
حضرت مولانا حافظ احمد بخش صاحبؒ نے عید گاہ شجاع آباد میں جناب قاری غلام حسینؒ سے قرآن مجید حفظ کیا۔ ابتدائی تعلیم شجاع آباد سے متصل گاؤں میں حضرت مولانا محمد واصل مرحوم سے حاصل کی جو بہت بڑے تبحر عالم دین تھے۔ اسی طرح بستی ملوک کے حضرت مولانا سید در محمد شاہ فاضل دیو بند سے کسب فیض کیا۔ آپ کے والد ملک اللہ بخش صاحبؒ خطیب پاکستان حضرت مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ کے متوسلین اور جمعہ کے مستقل نمازی تھے۔ اس تعلق خاطر بنیاد پر اعلیٰ تعلیم کے لئے آپ کو دارالعلوم عید گاہ کبیر والا میں داخل کرا دیا گیا۔ آپ کے اس زمانہ کے ساتھیوں میں حضرت مولانا خدا بخش شجاع آبادی بھی ہیں۔ اس وقت آپ کے اساتذہ میں سے محدث العصر حضرت مولانا عبدالمجید لدھیانوی شیخ الحدیث باب العلوم کہروڑ پکا زندہ باسلامت ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو لمبی صحت والی زندگی نصیب فرمائیں۔ دورہ حدیث شریف آپ نے جامعہ خیر المدارس ملتان سے کیا۔ فراغت کے بعد اپنے گاؤں میں عرصہ تک فی سبیل اللہ حفظ قرآن کی تعلیم دیتے رہے۔ بیسیوں حضرات نے آپ سے قرآن مجید مکمل حفظ کیا۔
حضرت حافظ صاحبؒ شریف الطبع نیک سیرت انسان تھے۔ آپ کی محنتوں نے علاقہ بھر میں صورت حال کو یکسر بدل دیا۔ علاقہ کے بہت سارے حضرات نے آپ سے حفظ مکمل کیا۔ دینی تعلیم حاصل کی۔ اس وقت وہ ملک کے طول و عرض میں خدمت اسلام کا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔ جو آپ کے لئے ذخیرہ آخرت ہے۔ موصوف سرائیکی کے رسیلے اچھے مقرر تھے۔ ان کی اردو بھی سرائیکی نما ہوتی تھی۔ آج سے تیس پینتیس سال قبل مولانا صوفی اللہ وسایا صاحبؒ ڈیرہ غازیخان میں عاشورہ محرم پر دسیوں بستیوں میں جلسوں کا اہتمام کرتے تھے۔ مولانا حافظ احمد بخشؒ کو بھی وہاں بھیجا جاتا۔ یوں مجلس سے ان کا تعلق قائم تھا۔ حضرت قاضیؒ سے آپ کا تعلق اور حضرت جالندھریؒ سے آپ کی عقیدت بھی قابل قدر و قابل رشک تھی۔ خود بڑے مزے لے لے کر سناتے تھے کہ ٹبی درکھاناں نزد شجاع آباد کا چالیس پینتالیس سال سے جاری سالانہ جلسہ میں حضرت جالندھریؒ تشریف لے جاتے تو حافظ صاحبؒ آپ کو شجاع آباد سے لاتے۔
ایک دفعہ حضرت جالندھریؒ کی مسئلہ خلافت پر یادگار تقریر ہوئی۔ آپ نے حضرات خلفائے ثلاثہؓ اور سیدنا علی المرتضیٰؓ خلیفہ چہارم کے باہمی تعلق کو بیان کیا تو پورا مجمع پر گریہ کی کیفیت طاری تھی۔ آپ کی تقریر کے بعد سیانی عمر کے لوگوں کا کہنا تھا کہ آج حضرت جالندھریؒ کی تقریر نے رفض کے اثرات کو کان سے پکڑ علاقہ سے نکال دیا ہے۔ تب شیعہ سنی ایک دوسرے کے جلسہ میں بڑے اہتمام سے شرکت کرتے تھے۔ شیعہ حضرات بھی حضرت جالندھریؒ کی مدلل و معتدل گفتگو پر داد تحسین دیئے بغیر نہ رہ سکے۔ اس قسم کے بیسیوں واقعات کے حافظ صاحب مرحوم چشم دید گواہ اور راوی یا صاحب واقعہ تھے۔ حضرت مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ سے آپ کی عقیدت عشق کی شکل اختیار کئے ہوئے تھی۔
انہیں جماعتی تعلقات کی بنیاد پر حضرت مولانا حافظ احمد بخش صاحبؒ ١٩٧٩ء کے اواخر اور ١٩٨٠ء کے اوائل میں باضابطہ طور پر مجلس کے شعبہ تبلیغ سے وابستہ ہو گئے۔ رحیم یار خان میں آپ کا تقرر ہوا اور دم آخرین تک آپ وہاں تبلیغی خدمات انجام دیتے رہے۔ میٹھی طبیعت کے انسان تھے۔ ہر خورد و کلاں کے دل میں گھر کر گئے۔ حضرت مولانا قاری حماد اللہ شفیق مرحوم کی صحبت، حضرت مولانا غلام ربانی مرحوم کی تربیت نے آپ کو نکھار دیا۔ ضلع رحیم یار خان میں آپ نے تبلیغی کام کی دھاک بٹھادی۔ سرکلر روڈ پر آپ نے مجلس کا ملکیتی ضلعی دفتر تعمیر کرایا۔ ہر سال
ضلعی ختم نبوت کانفرنس کراتے جس میں شیخ الاسلام حضرت مولانا محمد عبداللہ درخواستیؒ بڑے اہتمام سے شرکت فرماتے۔ اکثر و بیشتر صدارت خانقاہ دین پور کے سجادہ نشین حضرت مولانا میاں سراج احمد دین پوری مدظلہ فرماتے۔ سال بھر میں کم از کم ایک بار ضلع بھر کا تبلیغی دورہ رکھا جاتا۔ علماء ومبلغین کی مستقل جماعت گاڑیوں پر کاروان کی شکل میں چلتی اور ضلع کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک کانفرنسوں اور جلسوں کا جال بچھا دیا جاتا۔ آپ جہاں کہیں اپنے ضلع میں قادیانی فتنہ کی شرانگیزی کی خبر سنتے‘ جا دھمکتے اور قادیانیت کو لگام ڈال دیتے۔ ضلع کے علمائے کرام سے آپ کام لینے کا گر جانتے تھے۔ جہاں جاتے کامیاب واپس لوٹتے۔ بہت ہی دیانت دار اور اجلی سیرت کے انسان تھے۔ معاملات میں ایک پائی کے ادھر ادھر ہو جانے کے روادار نہ تھے۔ خالص جماعتی ذہن تھا۔ مجلس کا کہیں شکوہ سنتے تو شیر غراں بن جاتے تھے۔ بہت اچھا وقت گزارا۔ اللہ تعالیٰ ان کی حسنات کو قبول فرمائے اور ان کی سیئات سے درگزر فرمائے۔
حضرت حافظ صاحبؒ کے تین بیٹے ہیں۔ آپ نے تینوں بیٹوں کو خود حفظ کرایا۔ البتہ گردان ان کی قاری عبدالکریم کلاچوی سے کرائی جو شاہی مسجد میں مدرس تھے۔ آپ کی تین بیٹیاں ہیں۔ آپ کے پوتے نواسے بھی دینی و دنیوی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ بہت ہی خوش نصیب انسان تھے۔ خود اہلیہ اور بڑے بیٹے نے حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کی ہے۔ طبیعت ٹھیک تھی۔ ایک آدھ بار سینے میں معمولی درد ہوا۔ علاج کیا تو ٹھیک ہو گئے اور زندگی کی گاڑی چلتی رہی۔
وفات سے دس بارہ روز قبل گھر پر رات کو تکلیف ہوئی۔ شجاع آباد‘ پھر ملتان نشتر ہسپتال دس روز تک زیر علاج رہے۔ ڈاکٹروں نے انجوگرافی تجویز کی۔ لاہور کارڈیالوجی سنٹر داخل ہو گئے۔ ایک دن زیر علاج رہے۔ ابھی انجوگرافی کے لئے ڈاکٹر صاحبان رپورٹوں کی تیاری کے مراحل طے کر رہے تھے کہ ٢٢ اگست بروز پیر چار بجے سہ پہر آپ کو دوبارہ تکلیف ہوئی۔ کلمہ طیبہ خود پڑھا۔ سب حاضرین کو سنایا پھر باری باری سب سے کلمہ طیبہ سنا اور پھر ان کو سنایا۔ گویا کلمہ طیبہ کا صحیح معنوں میں ورد کرتے ہوئے دیکھتے دیکھتے جان مالک حقیقی کو لوٹادی۔ ایمبولینس کے ذریعہ آپ کی میت کو آبائی گاؤں لایا گیا۔ اگلے روز حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری مدظلہ نے جنازہ کی امامت فرمائی۔ آبائی قبرستان حاجی شہید میں سپرد خاک ہوئے۔ حق تعالیٰ ان کی قبر پر اپنی رحمتوں کی بارش نازل فرمائیں۔ آمین! ثم آمین!
(لولاک شعبان المعظم ١٤٢٦ھ)
٩٥...... حضرت مولانا خدا بخش شجاع آبادیؒ
وفات....... ٢٩ ستمبر ٢٠٠٥ء
آج سے تقریباً ایک صدی قبل حضرت امیر شریعتؒ اور ان کے گرامی قدر رفقاء نے قادیان میں ختم نبوت کے کام کی بنیاد رکھی تھی۔ قادیان سے ملتان، چنیوٹ سے چناب نگر تک وہ سلسلہ بحمدہ تعالیٰ جاری و ساری ہے۔ ١٩٧٤ء کے اواخر میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے چناب نگر میں اپنے کام کا آغاز کیا۔ اب تو الحمدللہ مساجد و مدارس کی بہار کی فضا قائم ہوگئی ہے۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ہر سال ماہ شعبان کی تعطیلات میں پورے ملک کی دینی جامعات کے علماء و طلباء کی بہت بڑی تعداد سالانہ ردّ قادیانیت کورس میں تربیت حاصل کرتی ہے۔ امسال کورس کے اختتام پر ہی چوبیسویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر میں منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے موقع پر ہمیشہ رفقاء کی مختلف ڈیوٹیاں لگتی ہیں۔ فقیر کے ذمہ ملک بھر سے تشریف لانے والے مہمانان کے عمومی کھانے کے کام کی نگرانی کرنا ہوتی ہے۔ گزشتہ چوبیس سال سے مہمانوں کو کھانا کھلانے کا نظم حضرت قاری محمد ابراہیم صاحب مہتمم جامعہ طیبہ گرین ٹاؤن فیصل آباد کے ذمہ ہوتا ہے۔ قاری محمد اشفاق صاحب بخاری مسجد جناح کالونی، قاری محمد ابوبکر دونوں حضرات کی سرپرستی میں سینکڑوں طلباء کھانے کے پنڈال میں ڈیوٹی دیتے ہیں۔ ٢٩ ستمبر ٢٠٠٥ء بروز جمعرات مغرب کے بعد فقیر راقم کھانے کے پنڈال میں مہمانوں کی خدمت میں مصروف تھا۔ اسی اثناء میں موبائل پر کال آئی۔ فون کرنے والے نے جب کہا کہ: ”ارشد شجاع آباد سے بول رہا ہوں“ تو میرا ماتھا ٹھنکا۔ وہی ہوا جس کا خدشہ تھا۔ ارشد صاحب مولانا خدا بخش صاحب کے خواہرزادہ ہیں۔ جنہیں مولانا کے کہنے پر مولانا عبدالرؤف جتوئی مرحوم نے ٹیلی فون کے محکمہ میں بھرتی کرایا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ حضرت مولانا خدا بخش صاحب انتقال فرما گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون! کل ٣٠ ستمبر جمعہ کو جنازہ ہوگا۔ حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری دامت برکاتہم یا آپ، کوئی ایک ضرور شرکت کرے۔ ہزاروں مہمان ملک بھر سے آئے ہوئے تھے۔ کانفرنس جاری تھی۔ درمیان سے وقت نکالنا ناممکن تھا۔ ان سے
عرض کیا کہ ہم مشورہ کرتے ہیں۔ ضرور سبیل نکالنے کی کوشش کریں گے۔ لیکن آپ ہمارا انتظار نہ کریں۔ اپنی سہولت کے مطابق جنازہ کا نظم بنائیں۔ ہمارا مقدر ہوا تو شریک ہو جائیں گے۔ لیکن ہمارے انتظار کی وجہ سے جنازہ میں تاخیر بالکل نہ ہونے پائے۔
جامعہ باب العلوم کہروڑ پکا کے شیخ الحدیث عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی پالیسی ساز شخصیت حضرت مولانا عبدالمجید صاحب لدھیانوی دامت برکاتہم کانفرنس کے پہلے دن ظہر کے قریب کانفرنس میں شرکت کے لئے تشریف لائے۔ اگلے روز جمعہ سے قبل آپ کے بیان کا نظم طے تھا۔ پہلی رات کی نشست کی صدارت بھی آپ نے کرنا تھی۔ جمعہ سے قبل کورس کے تین سو فضلاء اور حفظ کے پندرہ طالب علموں کو اسناد و انعامی کتب بھی آپ کے ہاتھوں دینے کا نظم طے تھا۔ آپ نے ان امور میں بیک وقت اپنی طرف سے اصالتاً اور حضرت امیر مرکزیہ دامت برکاتہم اور حضرت اقدس سید نفیس الحسینی دامت برکاتہم نائب امیر کی طرف سے نیابتاً نمائندگی فرمانا تھی۔ وہ ظہر سے قبل تشریف لائے تھے۔ اطلاع کے باوجود فقیر ان کی زیارت کے لئے وقت نہ نکال پایا تھا۔ اب آپ کی طرف سے یکے بعد دیگرے دو تین آدمی آئے کہ: ”حضرت شیخ“ یاد فرما رہے ہیں۔ اس وقت شام کا کھانا کھلانے کا کام عروج پر تھا۔ ہزاروں ساتھی کھانے کے پنڈال میں کھانا کھا رہے تھے۔ اس سے کہیں زیادہ انتظار میں تھے۔ لیکن آنکھیں بند کر کے ”حضرت شیخ“ سے ملاقات کے لئے چل پڑا۔ ابھی تک کسی کو حضرت مولانا خدا بخش مرحوم کے انتقال کی خبر فقیر نے نہیں سنائی تھی۔ ”حضرت شیخ“ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے شفقت سے گلے لگایا۔ تھپکی دی۔ تمام تھکاوٹیں دور ہو گئیں۔ فرمایا کہ تین کاموں کے لئے آپ کو بلایا ہے۔ ایک تو مولانا خدا بخش کی تعزیت کرنی ہے۔ دوسرا جنازہ میں شرکت کے لئے مشورہ کرنا ہے۔ تیسرا آپ کو کھانا کھلانا ہے۔ اس لئے کہ میری اطلاع کے مطابق کام کی زیادتی کے باعث آپ ان دنوں کھانا نہیں کھا پاتے۔ اس سے معلوم ہوا کہ حضرت مولانا خدا بخش کے عزیزوں کا آپ کو فون آچکا تھا۔ وہ آپ سے جنازہ پڑھانے کے لئے اصرار کر رہے تھے۔ فقیر نے عرض کیا کہ حضرت! مولانا خدا بخش صاحب تو ہمارا رأس المال تھے۔ پوری رات آپ کے لئے سفر
کرنا۔ پھر یہاں کانفرنس میں تقسیم اسناد' صدارت' بیان' ان کا کوئی متبادل حل سامنے نظر نہیں آتا۔ دستر خوان پر دیر تک حضرت مولانا خدا بخش صاحبؒ کا ذکر خیر جاری رہا۔ رات کے اجلاس میں کانفرنس کے منتظم اعلیٰ حضرت مولانا صاحبزادہ عزیز احمد نے مولانا مرحوم کے لئے قرارداد تعزیت پیش کی۔
حضرت مولانا خدا بخش صاحبؒ کے والد گرامی کا نام حاجی سلطان محمودؒ تھا۔ سیہڑ قوم سے تعلق رکھتے تھے۔ خاندانی طور پر زمیندارہ پیشہ تھا۔ چاہ سدو والا موضع رکن ہٹی تحصیل شجاع آباد کے رہائشی تھے۔ حاجی سلطان محمود صاحب عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر ثانی' خطیب پاکستان حضرت مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ کے جمعہ کے نمازی تھے۔ قاضی صاحبؒ انہیں شفقت سے اپنا بھائی کہتے تھے۔ حاجی سلطان محمودؒ نے اپنے گھر سے قریبی بستی میں حضرت مولانا محمد واصلؒ کے ہاں اپنے فرزند خدا بخش کو ناظرہ قرآن مجید کے لئے بٹھایا۔ جب اس سے فراغت ہوئی تو ان کو دینی تعلیم کے لئے دارالعلوم کبیر والا میں داخل کرا دیا۔ مولانا خدا بخشؒ اس لحاظ سے خوش نصیب تھے کہ بیک وقت حضرت مولانا عبدالخالقؒ' حضرت مولانا عبدالمجید صاحب دامت برکاتہم' حضرت مولانا علی محمد صاحبؒ' حضرت مولانا علامہ منظور الحقؒ' حضرت علامہ ظہور الحقؒ ایسے شہرہ آفاق ”اکابر خمسہ“ سے آپ نے کسب فیض کیا۔ کریما سے بخاری شریف تک کی تعلیم ”یک در گیر ومحکم گیر“ کے مصداق دارالعلوم کبیر والا میں حاصل کی۔
١٩٦٦/٦٥ء میں آپ نے دورۂ حدیث شریف کیا' فراغت کے بعد سال چھ ماہ مدرسہ تعلیم الابرار ملتان میں تدریس کی۔ اس کے بعد عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے شعبہ تبلیغ سے وابستہ ہو گئے۔ مولانا خدا بخش صاحبؒ نے اپنی بھر پور جوانی سے بڑھاپے تک تقریباً ٤٨ سال عقیدۂ ختم نبوت کی پاسبانی کا فریضہ انجام دیا۔ حضرت مولانا جوانی میں میانہ قد' گندم گوں سرخی مائل رنگ' کتابی چہرہ' بھرواں جسم' اجلے لباس میں ہر جگہ نمایاں نظر آتے تھے۔ چوکھی لڑائی میں قادیانیت کے خلاف شب و روز منہمک رہے۔ دوستوں کے دوست تھے۔ ہر وقت رفقاء کے جھرمٹ میں گھرے رہتے تھے۔ ان کے ہاں کوئی راز نہ تھا۔ کوئی ان سے راز کی بات کہتا اس کے
اٹھنے سے پہلے اسے وہ گویا انٹرنیٹ پر فیڈ کر کے نشر کر دیتے۔ اس حکمت عملی کا فائدہ یہ ہوا کہ کوئی کسی کی غیبت کرنے سے قبل ہزار بار سوچتا کہ یہ بات ظاہر ہو جائے گی۔ ویسے وہ بات اگلوا کر معاملہ کی تہہ تک پہنچنے کے ماہر تھے۔ مولانا خدا بخشؒ نے تدریس نہ کی۔ ورنہ وہ ذی استعداد بہت اچھے مدرس بن سکتے تھے۔ افہام وتفہیم پر ان کو مکمل دسترس تھی۔ مشکل سے مشکل بات آسان پیرایہ میں اور سخت سے سخت مطالبہ خوبصورت نرم الفاظ میں بیان کرنے کے خوگر تھے۔ یہی وجہ ہے کہ زندگی بھر کبھی جیل، مقدمہ، گرفتاری کی آزمائش میں مبتلا نہیں ہوئے۔
ڈیرہ غازی خان، بہاولپور، بہاولنگر میں مجلس کے مبلغ رہے۔ ١٩٧٤ء کی تحریک ختم نبوت کے دوران میں آپ بہاول نگر کے مبلغ تھے۔ تحریک کو اپنے حلقہ میں پروان چڑھانے کے لئے ہمہ تن مصروفِ عمل رہے۔ تحریک کے نتیجہ میں چناب نگر کو کھلا شہر قرار دیا گیا تو ١٩٧٤ء کے اواخر میں جن حضرات نے سب سے اول اہل اسلام کی طرف سے فرض کفایہ ادا کیا ان میں حضرت مولانا مرحوم بھی شامل تھے۔ پہلے بلدیہ کے تھڑا پر نمازوں کا اہتمام، پھر مسجد محمدیہ ریلوے اسٹیشن کی تعمیر، بعدہ مسلم کالونی میں مسجد و مدرسہ کا قیام۔ ان تمام کاموں میں وہ برابر کے حصہ دار تھے۔ حق تعالیٰ نے آپ کو رد قادیانیت پر کامل دسترس بخشی تھی۔ اس وقت نئی ٹیم کے اکثر و بیشتر مبلغین حضرات کے آپ استاذ تھے۔ آپ نے مناظر اسلام فاتح قادیان مولانا محمد حیاتؒ سے رد قادیانیت کی تربیت حاصل کی تھی اور مولانا محمد حیاتؒ کے منظور نظر شاگردوں میں آپ کا شمار ہوتا تھا۔ یہی حال باقی اساتذہ کا تھا۔ حضرت مولانا مرحوم مردم شناس تھے۔ اساتذہ کے مزاج کو سمجھتے اور پھر اس کے مطابق طرز عمل اختیار کر کے ان کے دلوں میں گھر کر جاتے اور دعائیں لیتے۔
حضرت مولانا دھڑے کے پکے کی بجائے ”رانجھا سب دا سانجھا“ پر عمل پیرا ہوتے۔ البتہ جن سے دلی تعلق ہوتا ان کے متعلق کبھی کوئی پہلودار گفتگو نہ سن سکتے تھے۔ عزت دار شخص تھے۔ اپنے مفاد یا ذات کے متعلق کوئی خفت کا پہلو آتا تو ان کی طبیعت کڑھائی میں چنے کی طرح رقص کناں ہو جاتی تھی۔ حضرت مولانا نے بیک وقت مختلف الخیال حضرات سے دوستی کی اور اس کو خوب نبھایا۔ مثلاً مناظر اسلام امام اہلسنت مولانا عبدالستار تونسوی اور حضرت مولانا محمد ضیاء
القاسمیؒ خطیب اسلام کے مزاج میں آخری دور میں جماعتی ہم آہنگی نہ رہی۔ لیکن مولانا خدا بخشؒ نے دونوں حضرات سے تعلق نبھایا اور خوب نبھایا۔ حضرت مولانا اپنے کام سے کام رکھتے۔ جس مجلس یا ماحول میں جاتے ان کی ہاں میں ہاں ملا کر گوشہ عافیت تلاش کرتے ان پر اپنی رائے مسلط کرنا یا ان سے اختلاف کرنا ان کے مزاج کے خلاف تھا۔
پنجابی کا محاورہ ہے ’’جتنا ٹرساں ستھرا ٹرساں‘‘ جو کام کیا صاف کیا۔ سارے جہاں کا کام اپنے ذمہ بالکل نہ لیتے تھے۔ عزیمت کی بجائے رخصت پر زندگی بھر عمل کیا۔ ’’خلق الانسان ضعیفا‘‘ کی عملی تفسیر تھے۔ زندگی خوب مزے سے گزاری۔ نہانا‘ کپڑے بدلنا‘ حجامت بنانا‘ وقت پر کھانا‘ وقت پر نیند۔ غرض عبادت و ریاضت‘ تلاوت و ذکر جو معمولات تھے۔ وقت پر کرنے کے قائل تھے۔ زندگی بھر کبھی جھمیلوں میں نہیں پڑے۔ ان کی مجلس میں دو مختلف المزاج یا مختلف النظریہ دوست جمع ہو جاتے۔ ان کے درمیان خود متنازعہ موضوع کو چھیڑ دیتے۔ اب ان دونوں کی طرف سے گرم وسرد دلائل شروع ہو جاتے۔ آپ ابتدا میں ایک کی‘ پھر دوسرے کی حمایت کرتے۔ جب مجلس خوب جم جاتی بات تکرار تک پہنچ جاتی تو صلح کرا دیتے اور وعظ و نصیحت سے کام لیتے کہ میاں اپنے اپنے موقف پر خوب دلائل دو۔ تلخی ٹھیک نہیں۔ دوستوں کی گرم مزاجی ناقابل اصلاح ہو جاتی تو دامن جھاڑا۔ چادر کندھے پر رکھی اور اس پورے قضیہ سے لاتعلق ہوکر بیٹھ گئے۔ دوستوں کو ایسی پٹخنی دیتے کہ ان کا دھڑن تختہ ہو جاتا۔ کوئی شکوہ کرتا تو فرما دیتے کہ تمہیں کس بے وقوف نے کہا تھا کہ معاملہ کو یہاں تک لے جاؤ۔ فقیر کو دو بار حضرت مولانا کے ساتھ حج کی سعادت نصیب ہوئی۔ ان کی پوری تبلیغی زندگی میں اکثر و بیشتر ساتھ رہا۔ ابتدا میں حضرت مولانا سید منظور احمد شاہ حجازیؒ‘ مولانا خدا بخشؒ اور فقیر ہم تینوں کی مجلس میں تکون قابل رشک ہوتی۔ جس مجلس میں اکٹھے ہوتے منہ کان‘ کندھا ملا کر اکٹھے مصرعہ اٹھاتے اور سماں باندھ دیتے۔ اچھے دوست تھے اور بہت اچھے دوست تھے۔ فقیر سے چند ماہ مجلس میں پہلے آئے تھے۔ لیکن علم و فضل‘ قابلیت و صلاحیت معاملہ فہمی ہر اعتبار سے فقیر سے کروڑ گنا سینئر تھے۔ بایں ہمہ اتنا عرصہ اتنے قرب کے باوجود ان کی زندگی کے بعض پہلو ایسے تھے جس میں اپنی مثال آپ تھے۔ آج سے دس گیارہ سال قبل کی بات
ہوگی کہ ”قادیانیت کے خلاف قلمی جہاد کی سرگزشت“ کتاب مرتب ہورہی تھی۔ پروفیسر یوسف سلیم چشتی مرحوم کا مضمون ماہنامہ ”حقیقت اسلام“ لاہور میں قسط وار شائع ہوا تھا۔ جسے نصف صدی بیت چکی تھی۔ عنوان تھا ”شناخت مجدد“ پروفیسر صاحب مرحوم نے مجدد کے دس معیار قائم کر کے اس پر مرزا قادیانی کو ناپایا تو قادیانی کذاب کوتاہ قامت اور کند ذہن ثابت کیا۔ لاہوری مرزائیوں کے رد میں بہت عمدہ مقالہ تھا، لیکن اس کی کچھ اقساط مرکزی دفتر کی لائبریری سے شارٹ تھیں۔ مولانا خدا بخش سے تذکرہ ہوا۔ مضمون کی خوب تعریف فرمائی۔ اس کی اشاعت پر بھر پور لیکچر دیا اور فرمایا کہ میں نے اسے مکمل کتابی شکل میں پڑھا ہے۔ بہت عمدہ دستاویز ہے۔ اسے ضرور شائع ہونا چاہئے۔ مولانا کی مہمیز لگانے سے میری تلاش کی رفتار تیز ہو گئی۔ بہاولپور، ملتان، لاہور، اسلام آباد، کراچی کی سرکاری و غیر سرکاری لائبریریوں کو چھان مارا اقساط مکمل نہ ہوسکیں۔ اس کی تلاش کا جنون سوار تھا (بعد میں مولانا محمد اقبال نعمانی خطیب علی پور چٹھہ کی زبانی معلوم ہوا کہ پروفیسر یوسف سلیم چشتی ہمارے استاذ مناظر اسلام حضرت مولانا لال حسین اخترؒ کے کالج کے زمانہ کے استاذ تھے یہ نسبت نہ بیٹھنے دیتی تھی) دس گیارہ سال تلاش کی دھن سوار رہی اور اس صورت حال کے لمحہ لمحہ کی مولانا خدا بخش صاحب کو اطلاع تھی۔ بلکہ ان کے سامنے سب کچھ ہو رہا تھا۔ دس گیارہ سال بعد وہ مقالہ کتابی شکل میں جھنڈیر لائبریری میلسی سے مل گیا۔ فوٹو لیا۔ ماہنامہ ”لولاک“ میں قسط وار شائع کیا۔ ماہنامہ ”لولاک“ میں اس مقالہ کے ”انٹرو“ میں مولانا خدا بخش صاحب کے حکم پر شائع کرنے کا اعتراف کیا۔ بعدہ اسے احتساب قادیانیت کی کسی جلد میں شائع کر کے سکون پایا تو ایک دوست کو مولانا خدا بخش صاحب نے فرمایا کہ یہ مقالہ کتابی شکل میں میرے پاس بیس سال سے موجود ہے۔ مولانا اور فقیر کے رہائشی کمرے شمالاً جنوباً ہیں۔ پانچ فٹ پر کتاب مولانا کے پاس پڑی ہے اور میں تلاش میں دیوانہ ہورہا ہوں۔ لیکن مولانا نے کتاب کی ہوا تک نہ لگنے دی۔ یہ سنا تو آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا۔ عرض کیا کہ حضرت! واقعی کتاب آپ کے پاس تھی؟۔ بلا تکلف فرمایا! ہاں تھی اور اب بھی ہے۔ حضرت! آپ نے ذکر تک نہیں کیا؟۔ فرمایا کہ میری کتاب تھی۔ مجھے حق حاصل تھا کہ میں آپ کو دوں یا نہ دوں۔ واقعی دلیل وزنی
تھی۔ میں لاجواب ہوگیا۔ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ مولانا کی قوت ارادی کتنی مضبوط تھی۔ لیکن مولانا مرحوم کے اس طرز عمل سے نہ صرف مجھے بلکہ مجلس کو یہ فائدہ ہوا کہ اس مقالہ کے تلاش کرتے کرتے پانچ صد سے زائد نایاب کتب رد قادیانیت کا مجلس کے کتب خانہ میں (اصل یا فوٹو) اضافہ ہو گیا۔
حضرت مولانا عبدالرحیم اشعرؒ جب مجلس کی لائبریری کے انچارج تھے تو رد قادیانیت پر کتب کی تعداد آٹھ صد کے قریب ہوگی۔ اب یہ تعداد اٹھارہ صد کے قریب ہے۔ اس زمانہ میں یقیناً نئی کتب شامل ہوئیں۔ لیکن پانچ صد یا اس سے بھی زائد وہ ہیں جو اس مقالہ کی تلاش میں حاصل ہوئیں اور مجلس کے کتب خانہ میں اضافہ ہوا۔ جس کا باعث مولانا خدا بخش بنے اور یقیناً اس کا ثواب بھی ان کو ہوگا۔
مولانا مرحوم نے قلم و قرطاس سے کبھی تعلقات استوار نہیں کئے چار سطری خط بھی لکھنا ان پر کوہ ہمالیہ کی چوٹی سر کرنے کے برابر تھا۔ کبھی ترنگ میں آکر کچھ لکھا تو خوب تر لکھا۔ البتہ کتب بینی و مطالعہ کے رسیا تھے۔ آخری عمر تک کوئی کتب پڑھے بغیر نہ چھوڑتے تھے۔ اکثر مجالس ان کی علمی ہوا کرتی تھیں۔ طالب علمی اور عملی زندگی میں مولانا کی طبیعت ہمیشہ سہل پسند واقع ہوئی تھی۔ اللہ تعالیٰ ان کی آخرت کو بھی سہل فرمائیں۔ وما ذالك على الله بعزيز!
ہزاروں ان کے شاگرد پورے ملک کی سرزمین کے چپہ چپہ پر ان کی تبلیغ کے اثرات۔ چناب نگر کے مساجد و مدارس ان کے لئے ذخیرۂ آخرت ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائیں۔ گزشتہ سال چناب نگر میں کورس کے دوران شوگر کی بیماری کے باعث طبیعت مضمحل ہوئی۔ سال بھر علاج جاری رہا۔ مولانا نے ہمت نہ ہاری۔ کسی کے محتاج نہ ہوئے۔ لیکن مکمل روبصحت بھی نہ ہو سکے۔ جان پہچان، حافظہ، مکمل آخیر تک کام کرتا رہا۔ وقت موعود آن پہنچا تریسٹھ سال کی عمر میں سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر رب کے حضور حاضر ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ اپنے رحم و کرم کا اپنی شایان شان معاملہ فرمائیں۔ آمین! بحرمة النبى الامى الكريم خاتم النبيين صلى الله تعالى عليه وعلى آله واصحابه واتباعه اجمعين ٠ برحمتك يا ارحم الرحمين!
(لولاک شوال المکرم ١٤٢٦ھ)
٩٦...... جناب قاری محمد صدیق صاحب فیصل آبادی!
وفات...... ٧ دسمبر ٢٠٠٥ء
دارالعلوم فیصل آباد کے شعبہ قرأت کے سربراہ حضرت قاری محمد صدیق صاحبؒ ٧ دسمبر ٢٠٠٥ء بروز بدھ رات گیارہ بجے الائیڈ ہسپتال فیصل آباد میں انتقال فرما گئے ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون! حضرت قاری محمد صدیق صاحبؒ نے مدرسہ دارالہدیٰ چوکیرا ضلع سرگودھا میں حضرت قاری عبدالحمید صاحبؒ کے پاس حفظ قرآن مجید مکمل کیا۔ تجوید حضرت قاری محمد شریف صاحبؒ کے ہاں لاہور میں مکمل کی۔ اس کے بعد جامعہ مدنیہ کریم پارک لاہور میں تجوید کے استاذ مقرر ہو گئے۔ چند سال وہاں پر تدریس کی۔ تبلیغی جماعت کے ممتاز رہنما خطیب ملت حضرت مولانا مفتی محمد زین العابدینؒ انہیں لاہور سے اپنے قائم کردہ جامعہ دارالعلوم پیپلز کالونی فیصل آباد میں تدریس کے لئے کھینچ لائے ۔ جہاں آپ کو شعبہ تجوید وقرأت کا مسئول مقرر کیا گیا۔ آپ نے تین دھائی سے بھی زائد عرصہ تک بلا مبالغہ ہزاروں حفاظ کو اعلیٰ درجہ کا قاری و مقری بنا دیا۔ پاکستان کے چپہ چپہ میں آپ کے شاگردوں کی جماعت خدمت قرآن کا فریضہ سرانجام دینے کے لئے مسند تدریس پر فائز ہے۔
قاری محمد صدیق صاحبؒ ایک خاموش طبع انسان تھے۔ فحش گوئی، مذاق، مبالغہ تو درکنار کبھی آپ کی زبان سے ہلکا جملہ بھی صادر نہیں ہوا۔ عابد، زاہد، متقی، متورع، مخلص، کم گو انسان تھے۔ اخلاق حمیدہ میں آپ کسی اچھے انسان سے کم نہ تھے۔ ہر ایک کو خندہ پیشانی سے ملنا آپ کا طرہ امتیاز تھا۔ انکسار طبیعت انہیں ودیعت ہوئی تھی۔ جو شخص ان سے ایک بار مل لیتا زندگی بھر کے لئے آپ کا مداح بن جاتا ۔ دینی اجتماعات میں دعوت ملنے پر کبھی انکار نہ کرتے تھے۔ دور دراز کا سفر کر کے خلق خدا کو کلام خدا سنا کر محظوظ کرتے۔ قاری صاحبؒ کو اللہ رب العزت نے لحن داؤدی کی نعمت سے نوازا تھا۔ مصری و حجازی لہجہ میں تلاوت کرتے تو اجتماع پر سکوت کا سماں بندھ جاتا۔ قاری صاحبؒ جس مجلس میں جاتے لوگ انہیں آنکھوں پر بٹھاتے اور وہ دلوں پر حکمرانی کرتے۔ ہر مجلس میں میر مجلس ہوتے تھے۔ حضرت اقدس مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم سے بیعت تھے۔ آپ کے محبوب مریدوں میں قاری صاحبؒ کا شمار ہوتا تھا۔
قاری محمد صدیق صاحبؒ سے ہمارے مخدوم حضرت قاری ڈاکٹر محمد صولت نواز صاحب نے قرات کا رنگ پکڑا۔ مصر میں حضرت قاری عبدالباسط صاحبؒ کے ہاں جا کر شاگردی اختیار کی اور قاری عبدالباسط صاحبؒ کو فیصل آباد لانے میں کردار ادا کیا۔ قاری عبدالباسط صاحبؒ کا قیام ڈاکٹر صاحب کے ہاں تھا۔ قاری محمد صدیق صاحبؒ کی قاری عبدالباسط صاحبؒ ایسے شہرہ آفاق عالمی قاری سے ملاقات ہوئی جو یادگار تھی۔ دونوں حضرات اپنے فن کے ماہر تھے۔ تب قاری عبدالباسط صاحبؒ بھی قاری محمد صدیق صاحبؒ کی خداداد صلاحیتوں کے معترف ہوئے۔
(آج کل ہمارے مخدوم ڈاکٹر محمد صولت نواز صاحب عارضہ کمر کے باعث صاحب فراش ہیں۔ قارئین سے دعا کی اپیل ہے کہ حق تعالیٰ انہیں ختم نبوت کے تحفظ کی خدمات کے صلہ میں صحت کاملہ عاجلہ مستمرہ سے سرفراز فرمائیں۔ آمین)
قاری محمد صدیق صاحبؒ اور آپ کے رفقاء اور شاگردوں کی کوشش سے سماعت قرآن کا ذوق حجرہ مدرسین سے جلسہ عام کے سٹیج پر منتقل ہوا۔ قاری محمد صدیق صاحبؒ کو عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے حق تعالیٰ نے بہت اچھا ذوق دیا تھا۔ ختم نبوت کی تمام کانفرنسوں کو اپنی کانفرنس سمجھ کر دعوت کے تکلف کے بغیر تشریف لاتے۔ چناب نگر کی سالانہ ختم نبوت کانفرنس پر تشریف لانا آپ کے معمولات کا حصہ تھا۔ جہاں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہؒ اپنے شیخؒ کی زیارت سے سرفراز ہوتے وہاں آخری اجلاس میں تلاوت سے سامعین وحاضرین کو مستفیض کرتے۔ فقیر راقم نے عرصہ دو سال سے آپ سے تقاضہ پر تقاضا کیا کہ اپنے قابل اعتماد شاگرد کو تدریس کے لئے چناب نگر مدرسہ ختم نبوت میں متعین فرمائیں۔ ”قابل اعتماد“ کی شرط ان کے لئے وجہ تلاش بن گئی۔ اس لئے کہ وہ اتنے بڑے آدمی تھے کہ ان کے اعتماد پر اترنا ہر کسی شاگرد کے بس میں نہ تھا۔ اس سال مدرسہ ختم نبوت چناب نگر سے تین طالب علم ان کی خدمت میں تجوید کے لئے بھجوائے۔ لیکن قدرت کو یہی منظور تھا کہ اب وہ آپ کے بڑے صاحبزادہ حضرت مولانا قاری محمد صاحب سے پڑھیں گے۔ عَرَفْت رَبِّی بِفَسْخِ العَزَائِمِ!
عرصہ پانچ سال سے دل کی تکلیف نے انہیں گھیرے میں لے لیا۔ پرہیز اور ادویات کے استعمال سے انہوں نے معمولات جاری رکھے۔ کبھی درس وتدریس میں بیماری کو حائل نہ ہونے دیا۔ وفات سے دو دن قبل تک بھی تعلیم جاری رکھی۔ پانچ چھ دن سے بوجھ محسوس کر رہے
تھے۔ ڈاکٹر معالج کو چیک اپ کرایا۔ انہوں نے سابقہ نسخہ کو جاری رکھنے کا مشورہ دیا۔ آخری روز شام کو الائیڈ ہسپتال داخل کرایا گیا۔ ڈرپ لگی۔ ہنستے مسکراتے چند گھنٹوں میں قاری کلام اللہ اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہو گیا۔ رات گیارہ بجے کے قریب وصال ہوا۔ اگلے دن جمعرات کو گیارہ بجے دارالعلوم میں جنازہ ہوا۔ جامعہ دارالعلوم ربانیہ پھلور کے شیخ الحدیث اور شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی صاحبؒ کے شاگرد رشید حضرت مولانا حافظ نذیر احمد صاحب نے نماز جنازہ پڑھائی۔ دارالعلوم کے قریبی بڑے قبرستان میاں کالونی میں سپرد خاک ہوئے۔
تدفین کا واقعہ بھی بجائے خود وجہ استعجاب ہے۔ حضرت مفتی زین العابدینؒ نے ایک دن رفقاء سے میاں کالونی کے قبرستان کے ایک کونہ کے متعلق فرمایا کہ میرا دل چاہتا ہے کہ دارالعلوم کے اساتذہ ہم سب یہاں جمع ہوں۔ تا کہ ایک ساتھ اٹھیں۔ قاری نذیر احمدؒ جو دارالعلوم کے استاذ تھے وہ فوت ہوئے تو اس کونہ میں مدفون ہوئے۔ حضرت مفتی صاحبؒ کے انتقال پر مذکورہ خواہش کے پیش نظر قبر تیار کر لی گئی۔ لیکن پے در پے اور متواتر شہادتوں کے باعث کہ حضرت مفتی صاحبؒ نے غلام محمد آباد کالونی کے قبرستان میں شہداء کی قبروں کے ساتھ تدفین کی خواہش کی تھی۔ اس میاں کالونی قبرستان میں تیار شدہ قبر پر مٹی ڈال کر خالی قبر پر قبر کا نشان دیا گیا تھا۔ تا کہ کسی اور استاذ کے لئے جگہ محفوظ رہے۔ اس سے پہلے دارالعلوم کے ایک استاذ کے نو عمر بیٹے غالباً سعید صاحب جو قاری محمد صدیق صاحب سے پڑھنے کے متمنی تھے۔ وہ بیمار ہوئے تو عالم نزع میں کہا کہ میری قبر قاری محمد صدیق صاحبؒ کے ساتھ بنانا۔ حالانکہ قاری محمد صدیقؒ زندہ سلامت تھے۔ باپ نے بیٹے سے کہا کہ آپ کی مراد قاری نذیر احمدؒ ہیں جو پہلے فوت ہو گئے ہیں۔ ان کی قبر کے ساتھ آپ کی قبر بنے؟۔ لیکن اس نے کہا کہ نہیں قاری محمد صدیقؒ کی قبر کے ساتھ۔ اس وقت اسے عالم نزع کی سختی سے ”بھول گئے“ پر محمول کیا گیا۔ اس بچے کی قبر ایک قبر چھوڑ کر قاری نذیر احمدؒ کے ساتھ بن گئی۔ جو قبر کی جگہ چھوٹی اسے مفتی صاحبؒ کے لئے تیار کیا گیا۔ لیکن خالی رہ گئی۔ اب قاری محمد صدیق صاحبؒ کے لئے تیار شدہ خالی قبر کو کھولکر آپ کو دفن کیا گیا۔ یوں اس لڑکے کی قبر قاری محمد صدیق صاحبؒ کے متصل قرار پائی۔ اس کی بے قراری کو قرار آ گیا۔
عالم آخرت میں پہلے متمنی شاگرد پہنچا پھر استاذ۔ کیا عجب ہے کہ اب وہاں بھی قرآن مجید کی تدریس کا عمل شروع ہو گیا ہو۔
(لولاک ذی الحجہ ١٤٢٦ھ)
٩٧....... جناب قاری نور الحق قریشیؒ ایڈووکیٹ
وفات...... ١١ دسمبر ٢٠٠٥ء
١١ دسمبر ٢٠٠٥ء بروز اتوار صبح کی نماز کے بعد جناب قاری نورالحق صاحب ایڈووکیٹ ملتان میں وصال فرما گئے۔ اناللہ وانا الیہ راجعون! قاری صاحبؒ قریشی کا خاندان کہروڑ پکا کا رہائشی ہے۔ کہروڑ پکا کی معروف دینی و سماجی شخصیت حضرت مولانا سعید احمدؒ کے ہاں ٢٢ دسمبر ١٩٣٧ء کو قاری صاحبؒ پیدا ہوئے۔ حفظ و قرات اور سکول کی ابتدائی تعلیم کہروڑ پکا میں حاصل کی۔ کالج و وکالت کی تعلیم ملتان میں مکمل کرنے کے بعد ملتان میں پریکٹس شروع کی۔
حضرت مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ سے نسبتی فرزند کا شرف حاصل ہوا۔ ملتان میں اچھے ماہر قانون دان و دانشور تھے۔ مختلف قومی اخبارات میں آپ مضامین لکھتے رہتے تھے۔ حضرت قاضی صاحبؒ کی سوانح حیات آپ کی یادگار تصنیف ہے۔ قاری صاحبؒ اچھے سلجھے اور منجھے ہوئے سیاستدان تھے۔ آپ نے مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمود صاحبؒ سے سیاسی تربیت حاصل کی تھی۔ آپ نے حضرت مفتی صاحبؒ کی سیاسی بصیرت کے حوالہ سے مفتی صاحبؒ کے زمانہ حیات میں کتاب تحریر کی۔ جسے بہت مقبولیت حاصل ہوئی۔ حضرت مفتی صاحبؒ سے قربتیں آپ کو جمعیت علماء اسلام میں لے گئیں۔ مولانا سید نیاز احمد گیلانیؒ، مولانا ضیاء القاسمیؒ کی شخصیات نے پنجاب جمعیت علماء اسلام کے نظامت علیاء کے عہدہ کو خاصہ مقبول عہدہ بنا دیا تھا۔ لیکن قاری صاحبؒ جمعیت پنجاب کے عہدہ پر شاندار مقابلہ کے بعد فائز ہو گئے۔ اس زمانہ میں ملک کے کونہ کونہ میں آپ نے جمعیت کے پیغام کو پہنچایا۔ تحریک نظام مصطفیٰؐ میں آپ کی تقریریں شعلہ بار ہوتی تھیں۔ جنرل محمد ضیاء الحق کے زمانہ میں قومی اتحاد فوجی حکومت میں شامل ہوا۔ جمعیت کے حصہ میں بھی چند وفاقی وزارتیں آئیں۔ تب پنجاب جمعیت نے وزارت میں اپنا حصہ مانگا تو قاری صاحبؒ وزارت کے امیدوار قرار پائے۔ لیکن مرکزی جمعیت کے لئے مشکل یہ تھی کہ سرحد، بلوچستان جو جمعیت کے ووٹوں کے اعتبار سے گڑھ ہیں ان کو نظر انداز کرنا ممکن نہ تھا۔ دو تین وزارتیں حصہ کی تھیں۔ اس سے تمام صوبوں کو راضی کرنا مشکل تھا۔ یہ معاملہ یہیں رہ گیا۔ قاری صاحبؒ ہمیشہ نہ صرف جمعیت بلکہ تمام دینی جماعتوں، مدارس عربیہ کی ترقی کے لئے کوشاں رہے۔
اتحاد بین المسلمین کے داعی اور علمبردار رہے۔ بہت اچھے دوست پرور انسان تھے۔ غریب رفقاء کے کام آنے والے تھے۔ ملنسار نفیس طبیعت تھی۔ جب محترمہ بے نظیر بھٹو صاحبہ وزیر اعظم بنیں تب قاری صاحبؒ نے پاکستان پیپلز پارٹی کو اپنی شمولیت کے شرف سے نوازا۔ خانقاہ عالیہ دین پور کے مسند نشین ہمارے مخدوم حضرت مولانا میاں سراج احمد دین پوری دامت برکاتہم وزیر اعظم کے ایڈوائزر بنے تو اس زمانہ میں قاری نور الحق صاحبؒ کے اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن بننے کی خبریں گشت کرتی تھیں۔ قاری صاحبؒ سرائیکی پارٹی کے بانی ارکان میں سے تھے۔ انتظامی لحاظ سے سرائیکی صوبہ بن جانے کے حق میں تھے۔ لیکن جب اس پارٹی میں سرائیکی لسانی عصبیت کا رنگ دیکھا تو دامن جھاڑ کر علیحدہ ہو گئے۔ آپ کا ڈسٹرکٹ بار کونسل میں بہت احترام تھا۔ ڈسٹرکٹ بار کے صدر بنے۔ عاملہ کے رکن بھی رہے۔
غرض دینی‘ سیاسی‘ سماجی تمام تحریکوں میں متحرک رہے۔ آپ نفیس طبیعت اور کھلے دل کی شخصیت تھے۔ سیاست کے اتار چڑھاؤ میں رواداری اور وضع داری کو ہمیشہ قائم رکھا۔ تمام تحریکوں میں ملک وقوم کی خدمت کے لئے پیش پیش رہے۔ یہی وجہ ہے کہ تمام حلقوں میں برابر احترام کی نظر سے دیکھے جاتے تھے۔ قاری صاحبؒ اس دور میں بہت غنیمت شخصیت تھے۔ آپ نے بڑی بھرپور زندگی گزاری اور بڑا نام ومقام پایا۔
چند سالوں سے صرف اور صرف اپنے پیشہ سے تعلق تھا۔ بلکہ اس کی بھی بڑی حد تک ذمہ داری اپنے صاحبزادہ اکرام الحق قریشی ایڈووکیٹ کو سونپ دی تھی۔ عمر بھر دنیا داری میں ملوث رہنے کے باوجود عبادت وریاضت بالخصوص خطابت وتلاوت کو معمول بنائے رکھا۔ کبر و سن تک اپنی خاندانی مسجد کی خطابت کے فرائض سرانجام دیتے رہے۔ زندگی بھر تراویح میں قرآن مجید سناتے رہے۔ آخری چند سالوں سے اپنے پوتے کا قرآن تراویح میں خود سنتے تھے۔
صحت بہت اچھی تھی۔ آخری عمر تک کبھی کسی بڑے عارضہ سے دوچار نہیں ہوئے۔
آخری روز صبح معمول کے مطابق مسجد گئے۔ صبح کی نماز باجماعت ادا کی۔ اجتماعی دعا کے بعد انفرادی دعا میں مشغول ہو گئے۔ خوب الحاح وزاری سے اونچی آواز میں دعائیں پڑھتے رہے۔ جونہی دعا ختم کی مصلیٰ پر ہی دراز ہو گئے اور اپنی جان مالک جہاں کو لوٹا دی۔ اتنی خوبصورت وحسین موت آئی جو قابل رشک ہے۔
(لولاک ذی الحجہ ١٤٢٦ھ)
٩٨....... مولانا عبدالرؤف الازہریؒ
وفات ....... ١٦ مارچ ١٩٩٤ء
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے فاضل نوجوان مبلغ‘ حضرت مولانا عبدالرؤف الازہریؒ ٢ شوال ١٤١٤ھ بروز بدھ انتقال فرما گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون!
مولانا عبدالرؤفؒ ضلع مظفر گڑھ‘ تحصیل علی پور‘ قصبہ جتوئی کی ملحقہ بستی بھار خان میں پیدا ہوئے۔ مڈل تک تعلیم جتوئی میں حاصل کی پھر دینی تعلیم کی طرف قدرت نے رخ موڑ دیا۔ دارالعلوم کبیر والا اور مخزن العلوم خان پور میں دینی تعلیم حاصل کی۔ دورہ حدیث شریف حضرت مولانا مفتی محمودؒ سے مدرسہ قاسم العلوم ملتان میں پڑھا۔ آپ کا پورا خاندان حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ سے بیعت تھا۔ آپ خاندانی طور پر احراری تھے۔ اس لئے تعلیم سے فراغت حاصل کرتے ہی حضرت امیر شریعت کی جماعت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سے وابستہ ہوگئے۔ ملتان‘ کراچی لاہور فیصل آباد گوجرانوالہ میں جماعت کی طرف سے تبلیغی خدمات سرانجام دیتے رہے۔ ١٩٧٤ء کی تحریک ختم نبوت میں آپ لاہور میں مبلغ تھے۔ آپ نے تحریک میں والہانہ ومجاہدانہ خدمات انجام دیں۔ حضرت مولانا محمد شریف جالندھریؒ کی زیر ہدایت آپ نے تحریک کے لئے شب و روز ایک کر دیئے۔ بعد میں آپ نے اسلام آباد اور سرحد میں مثالی خدمات سرانجام دیں۔ قدرت نے آپ کو بڑی خوبیوں سے نوازا تھا۔ عالمی مجلس کے تبلیغی اسفار میں انتھک محنت کرتے تھے۔ ١٩٧٧ء کی تحریک نظام مصطفیٰ میں آپ سندھ کے سفر سے واپسی پر ایک حادثہ کا شکار ہوئے۔ چند ماہ صاحب فراش رہے۔ قدرت نے صحت سے سرفراز فرمایا تو پھر اپنے کام پر جٹ گئے۔
فیصل آباد میں قیام کے دوران آپ نے حضرت مولانا تاج محمودؒ کی صحبت سے بھر پور فائدہ حاصل کیا۔ لولاک کی مجلس ادارت کے رکن رہے۔ قادیانی جماعت کا چوتھا گرو مرزا طاہر ملک میں محفل سوال و جواب منعقد کیا کرتا تھا۔ فیصل آباد اور گوجرانوالہ میں آپ نے مرزا طاہر کو دو بدو زچ کیا مدلل اور ٹھوس سوالات سے مرزا طاہر کی بولتی بند کر دی۔ اسلام آباد میں قیام کے دوران میں آپ نے ایک سفر مصر کا کیا۔ وہاں ایک تربیتی کورس میں شرکت کی۔ جو جامعہ الازہر کی
طرف سے منعقد کیا گیا تھا۔ مصر سے حجاز مقدس بغرض حج تشریف لے گئے۔ بعد میں ایک بار پھر رمضان المبارک میں عمرہ کی سعادت سے بہرہ ور ہوئے۔ حضرت مولانا عبدالرؤف مرحوم نے حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ حضرت مولانا عبداللہ درخواستیؒ حضرت مولانا مفتی محمودؒ حضرت مولانا تاج محمودؒ حضرت مولانا محمد شریف جالندھریؒ حضرت مولانا لال حسین اخترؒ حضرت مولانا محمد حیاتؒ ایسے نابغہ روزگار حضرات سے کسب فیض کیا۔ بیعت و ارادت کا تعلق حضرت اقدس مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم سے تھا۔ موصوف بڑے حاضر جواب اور غضب کا حافظہ رکھنے والے تھے۔ ایک بات پڑھ لی یا سن لی تو ہمیشہ کے لئے ڈاٹا دماغ کے کمپیوٹر میں محفوظ ہو گئی۔ بڑے مرنجاں مرنج دوست نواز تھے۔ لطائف سے مجلس کشت زعفران بنانا آپ پر بس تھا۔ حضرت امیر شریعتؒ اور دیگر اکابر کے دل و جان سے شیدائی تھے۔ موصوف ایک نظریاتی رہنما تھے۔ عالمی مجلس کے کاز کے لئے آپ کی خدمات مثالی اور قابل ستائش تھیں۔ کئی بار جیل بھی جانا پڑا۔ مقدمات و زبان بندیاں تو اس زمانہ میں معمول کی بات تھیں۔
گزشتہ چند سالوں سے آپ کو شوگر کی تکلیف ہو گئی تھی۔ علاج و معالجہ جاری رکھا۔ پرہیز کے قریب تک نہ پھٹکتے تھے۔ مولانا مرحوم جیسا میٹھا آدمی میٹھا ترک کر دے یہ کیسے ہوسکتا تھا؟۔ اس سال رمضان المبارک میں اسلام آباد قیام کے دوران آپ پر شوگر کا شدید اٹیک ہوا۔ طبیعت بگڑتی سنبھلتی رہی۔ مگر آپ کے جماعتی معاملات میں فرق نہیں آیا۔ آخری عشرہ میں زیادہ کمزور ہو گئے تو ملتان تشریف لائے۔ حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری نے ملتان میں رہ کر علاج کرنے کا فرمایا۔ مگر وہ گھر جانے پر مصر تھے۔ گھر تشریف لے گئے ایک دو روز بعد طبیعت سنبھل گئی۔ علاج بھی جاری رہا۔ بدھ کے روز نماز عشاء پڑھی اور حسب معمول لیٹ گئے۔ ساڑھے نو بجے شب کے قریب دل کی تکلیف ہوئی اور چل بسے۔ دوسرے دن جمعرات کو گیارہ بجے جنازہ ہوا۔ مولانا موصوف کے عند اللہ مقبولیت کا اندازہ ان کے جنازہ کے اجتماع سے لگایا جاسکتا ہے۔ اتنا بڑا اجتماع اس علاقہ میں اپنی مثال آپ تھا۔ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم تعزیت کے لئے تشریف لے گئے۔ تمام جماعتی ساتھی دوست عزیز و اقارب سب افسردہ ہیں۔ مگر وہ بڑے سکون و اطمینان سے دنیا و مافیہا سے بے خبر آرام فرما رہے ہیں۔ قدرت ان کی قبر کو بقعۂ نور بنائے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت یکم جولائی ١٩٩٤ء)
٩٩...... حضرت حافظ محمد حنیف ندیم سہارنپوریؒ
وفات......٢٠ اکتوبر ١٩٩٤ء
٢٠ اکتوبر ١٩٩٤ء بوقت ساڑھے تین بجے شام حرکت قلب بند ہونے سے کراچی میں حضرت حافظ محمد حنیف ندیم سہارنپوری انتقال فرما گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون!
حضرت حافظ صاحب مرحوم راجپوت برادری سے تعلق رکھتے تھے۔ رنگ پور علاقہ تھل ضلع میانوالی کے علاقہ میں آپ کا خاندان تقسیم کے بعد آباد ہوا۔ آپ نے تعلیم سرگودھا میں حاصل کی۔ قرآن مجید کے حافظ و قاری اور عالم دین تھے۔ تعلیم سے فراغت کے بعد روڈہ ضلع سرگودھا میں تدریس کی خدمات سرانجام دیتے رہے۔ تدریس کے زمانہ میں اپنے علاقہ میں مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ حضرت مولانا لال حسین اخترؒ حضرت مولانا محمد حیاتؒ حضرت مولانا محمد شریف بہاولپوریؒ حضرت مولانا عبدالرحمن میانویؒ مولانا قاضی عبداللطیف شجاع آبادیؒ کے جلسے رکھتے رہے۔
آپ نے وعظ و تبلیغ و مناظرہ سے قادیانیت کو زچ کیا۔ مجاہد ملت حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ نے جمعیت علماء اسلام کے ترجمان ”ترجمان اسلام“ کو لاہور سے جاری کیا تو اس میں بطور مدیر معاون کے کام کرنا شروع کیا۔ جناب ڈاکٹر احمد حسین کمالؒ کے ساتھ عرصہ تک اس پرچہ میں کام کرتے رہے۔ جمعیت علماء اسلام کا علیحدہ گروپ بنا تو آپ حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ کے پرچہ ہفت روزہ ”الجمعیۃ“ راولپنڈی سے منسلک ہو گئے۔ سالہا سال اس میں خدمات انجام دیں۔ بعد میں کراچی سے رانا بشیر صاحب نے روزنامہ صداقت جاری کیا تو اپنی خدمات اس کے لئے وقف کر دیں۔
وہاں سے حضرت اقدس مولانا تاج محمود صاحبؒ کی خواہش پر ہفت روزہ لولاک فیصل آباد سے منسلک ہو گئے۔ حضرت مرحوم کی وفات کے بعد لولاک کو مکمل طور پر آپ نے سنبھالا۔ کراچی سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا دوسرا ترجمان ہفتہ وار ختم نبوت جاری ہوا تو
آپ کا حضرت مولانا محمد شریف جالندھری نے اس میں تقرر کر دیا ( تھوڑے بہت معمولی وقفہ کے علاوہ ) تادم زیست اس پرچہ سے وابستہ رہے۔ مولانا مرحوم بہت ملنسار اور خوش اخلاق تھے۔ رد قادیانیت پر اچھی خاصی دسترس رکھتے تھے۔ جو قادیانی گفتگو کرتا اسے لا جواب کر دیتے۔ ٹھنڈی طبیعت کے مالک تھے۔ فریق مخالف کو دلائل و براہین سے بند کرنے کا قدرت نے آپ کو کامل سلیقہ بخشا تھا۔ زندگی میں کئی کامیاب مناظرے کئے۔ قلم کے دھنی تھے۔ صاف ستھری تحریر ہوتی تھی۔ سادہ عام فہم گفتگو کرتے تھے۔ شاعری کا بھی ذوق تھا۔ مگر اسے اہمیت نہ دیتے تھے۔ انتہائی منکسر المزاج تھے۔ ساتھیوں کو آگے بڑھانے اور اہمیت دینے میں خوشی محسوس کرتے تھے۔ ان کی خواہش ہوتی تھی کہ متبادل رفقاء تیار ہوں۔ فقیر راقم الحروف کے ساتھ ان کا ہمیشہ مخلصانہ و مربیانہ برتاؤ رہا۔ ہمیشہ فقیر کی تحریر و بیان کی اصلاح فرماتے تھے۔ ”شاہین ختم نبوت“ کا فقیر راقم کے لئے جوڑ سب سے پہلے انہوں نے جوڑا۔
سات سال کی عمر کے تھے کہ والد صاحب کا انتقال ہوا۔ پچھلے سال والدہ صاحبہ فوت ہو گئیں۔ کوئی حقیقی بہن بھائی نہ تھا اور خود بھی زندگی بھر مجرد رہے۔ ان کی کل کائنات ایک بیگ تھا جس میں چند جوڑے کپڑے اور چند کتابیں ہوتی تھیں۔ اچھے خاصے کاتب تھے۔ پینٹری کا کام بھی جانتے تھے۔ صدیق آباد کانفرنس کے اور ختم نبوت کانفرنس لندن کے بینر وہ خود لکھتے تھے۔ جامع مسجد باب الرحمت پرانی نمائش کراچی و دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کی نئی عمارت پر تمام تر لکھائی انہوں نے خود فرمائی تھی۔ اچھے خاصے ڈیزائنر تھے۔ ہفتہ وار ختم نبوت کی اکثر و بیشتر ڈیزائننگ میں خود رہنمائی فرماتے تھے۔
عمر پچاس سال سے متجاوز ہوگی۔ صدیق آباد کانفرنس پر تشریف لائے۔ واپسی پر اپنے پھوپھی زاد بھائی حافظ خلیل احمد قیصر اور دیگر اعزاء سے ملنے کے لئے کروڑ لعل عیسن گئے۔ حافظ خلیل صاحب کے ہاں ان کا رہنا سہنا تھا۔ چھٹی گزارنے کے لئے بھی ان کے ہاں تشریف لے جاتے تھے۔ واپسی پر پیر کو ملتان تشریف لائے۔ حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری نے
ایک دن کے لئے روک لیا۔ منگل دفتر مرکزیہ رہے۔ بدھ کو فقیر گھر سے واپس آیا تو دفتر میں ملاقات ہوئی۔ دن بھر ساتھ رہے۔ شام کو انہوں نے زکریا ایکسپریس سے کراچی کے لئے سفر کیا۔ جمعرات کو وہاں پہنچے۔ آرام کیا۔ ظہر کے بعد معمول کے مطابق کام کیا۔ سوا تین بجے ایک بچے کو بوتل لانے کے لئے حکم کیا۔ بچہ واپس آیا تو آپ کی طبیعت دگرگوں تھی۔ رفقاء کے آنے سے پہلے آپ اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔
کراچی میں آپ کو غسل دیا گیا۔ جنازہ پڑھا گیا۔ جمعہ ٢١ اکتوبر کو ہوائی جہاز سے ان کا تابوت ملتان لایا گیا۔ کراچی سے مولانا محمد علی صدیقی ہمراہ آئے۔ ملتان ایئر پورٹ پر عالمی مجلس کے مرکزی ناظم اعلیٰ حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری دامت برکاتہم کی قیادت میں ملتان دفتر کا عملہ اور دیگر رفقاء نے آپ کے تابوت کو وصول کیا۔ ایمبولینس کے ذریعے مولانا عزیز الرحمن جالندھری، جناب جمعہ خان اور مولانا محمد علی صدیقی ان کے تابوت کو لے کر کروڑ لعل عیسن تشریف لے گئے۔ وہاں پہنچ کر آپ کے جسد خاکی کو تابوت سے نکالا گیا۔ چوبیس گھنٹے سے زیادہ وقت گزرنے کے باوجود نعش صحیح سلامت اور چہرہ تروتازہ تھا۔ چہرہ کی رونق مزید نکھر گئی تھی۔ موت کے آثار تک نہ تھے۔ ایسے محسوس ہوتا تھا کہ میٹھی گہری نیند سو رہے ہیں۔ حاضرین نے چہرے کا دیدار کیا۔ حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری کی اقتداء میں پانچ بجے شام نماز جنازہ پڑھی گئی اور کروڑ لعل عیسن کے قبرستان میں انہیں رحمت حق کے سپرد کر دیا گیا۔ زندگی بھر رحمت عالم ﷺ کی عزت و ناموس کے پاسبان رہے۔ قیامت میں بھی آپ ﷺ کا مرحوم کو سایہ شفاعت نصیب ہو۔ آمین!
(ہفت روزہ ختم نبوت ١٢ نومبر ١٩٩٤)
١٠٠...... حضرت مولانا سید محمد علی شاہؒ
وفات.......١٨ جنوری ١٩٩٠ء
علاقہ بہاول پور کے معروف عالم دین مناظر اسلام خطیب اہل سنت حضرت مولانا سید محمد علی شاہ صاحبؒ ١٨ جنوری ١٩٩٠ء بروز جمعرات صبح پانچ بجے اپنے آبائی گاؤں پیلی راجن میں انتقال کر گئے۔ اناللہ وانا الیہ راجعون!
حضرت مولانا سید محمد علی شاہ حسنی حسینی سید تھے۔ آپ کا پورا خاندان رافضی تھا۔ رحمت حق نے دستگیری فرمائی۔ آپ نے حضرت مولانا مفتی واحد بخش صاحبؒ سے احمد پور شرقیہ میں دینی تعلیم حاصل کرنی شروع کی۔ بلا کے ذہین تھے۔ اعلیٰ تعلیم کے لئے بہاول پور کی یونیورسٹی جامعہ عباسیہ میں داخلہ لیا۔ اس وقت جامعہ میں نابغہ روزگار حضرات متعین تھے۔ پنجاب کے معروف گدی نشین حضرت مولانا پیر مہر علی شاہ گولڑویؒ کے خلیفہ مجاز حضرت مولانا غلام محمد صاحبؒ شیخ الجامعہ تھے۔ حضرت امام العصر مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ کے شاگرد رشید حضرت مولانا محمد صادق صاحبؒ بہاول پور میں ناظم امور مذہبیہ تھے۔ ان حضرات سے حضرت مولانا سید محمد علی شاہؒ نے اکتساب علم کیا۔ اس زمانے میں جامعہ عباسیہ کی ایم اے کی ڈگری کو علامہ کہا جاتا تھا۔ شاہ صاحبؒ نے جامعہ کی انتہائی ڈگری ”علامہ“ اعلیٰ نمبروں میں حاصل کر کے جامعہ میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ شیخ الجامعہ حضرت مولانا غلام محمد صاحبؒ نے بخاری شریف کے پرچہ پر سو فیصد نمبر دے کر اس پر نوٹ دیا کہ میں اصول کی رو سے سو سے زائد نمبر نہیں دے سکتا۔ ورنہ مولانا سید محمد علی شاہؒ اس سے زیادہ بھی زیادہ نمبروں کے مستحق تھے۔ اپنے وقت کے شیخ کی شاہ صاحبؒ کے متعلق یہ رائے آپ کے لئے بہت بڑا اعزاز تھی۔
نوعمری میں شاہ صاحبؒ فارغ التحصیل ہوئے۔ آپ نے آبائی علاقہ پیلی راجن میں جامعہ عباسیہ بہاول پور کے زیر اہتمام رفیق العلماء اسکول منظور کرایا۔ جس کا ریاست میں مڈل کے برابر درجہ تھا۔ آپ اس کے صدر مدرس مقرر ہوئے۔ سکول کی ڈیوٹی کے علاوہ طلباء کو دوسرے اوقات میں دینی کتب ”درس نظامی“ پڑھاتے تھے۔ آپ کے سینکڑوں شاگرد اس وقت دین متین کی خدمت کا مقدس فریضہ سرانجام دے رہے ہیں۔
دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ تبلیغ اسلام کا فریضہ سرانجام دیتے تھے۔ ایسے مخلص بے لوث انسان تھے کہ شب و روز میلوں کا پیدل و سائیکل پر سفر کر کے دور دراز تک تبلیغ اسلام کے لئے تشریف لے جاتے۔ حق گو مجاہد نڈر اور بے باک خطابت سے علاقہ میں آپ نے دھاک بٹھا رکھی تھی۔ بدی کو روکنے میں آپ کا وجود درہ عمرؓ کی حیثیت رکھتا تھا۔ رفض و بدعت کے مقابلہ میں اللہ کی تلوار تھے۔ شجاع آباد کے مولانا قاضی محمد یاسینؒ مولانا محمد واصلؒ اور مولانا محمد علی شاہؒ تینوں حضرات کی ایک جماعت تھی جو مجاہدین فی سبیل اللہ تھے۔ ان کے نام سے کفر اس طرح بھاگتا تھا جس طرح حضرت عمرؓ کے سایہ سے شیطان۔
آپ کی زندگی حق گوئی و بے باکی کی علامت تھی۔ ایک دفعہ علاقہ کے تمام زمینداروں نے مشترکہ میٹنگ میں فیصلہ کیا کہ اپنے علاقہ میں کسی عالم دین کی تقریر نہ ہونے دیں گے۔ ان دنوں بستی فقیراں میں ایک تبلیغی جلسہ تھا۔ زمینداروں نے پولیس سے مل کر سپیکر پر پابندی اور باہر کے علماء کا داخلہ بند کرادیا جو حضرات آگئے ان کی زبان بندی کرادی۔ مولانا دوست محمد قریشیؒ اور دوسرے حضرات پہنچ گئے۔ ان سے زبان بندی کے احکامات کی تعمیل کرائی گئی۔ ظہر تک جلسہ نہ ہوسکا۔ تمام انتظامات مکمل ہیں۔ سپیکر لگا ہوا ہے۔ علماء موجود ہیں۔ مگر جلسہ شروع نہ ہوسکا۔ ظہر کے قریب مولانا سید محمد علی شاہؒ تشریف لائے۔ نماز پڑھائی۔ سپیکر لگوایا اور خطاب شروع کردیا۔ علاقہ کی پولیس اور زمیندار موقع پر موجود ہیں مگر شاہ صاحبؒ کی حق گوئی اور بہادری کے سامنے کسی کی نہ چلی۔ آپ نے زمینداروں و جاگیرداروں کو للکارا۔ شرم کے مارے ان کے منہ لٹک گئے۔ ندامت کے مارے سر جھک گئے۔ اس طرح کی سینکڑوں مثالیں دی جاسکتی ہیں۔
ایک دفعہ کسی نے کبڈی کا دنگل رکھ دیا۔ ہزاروں کا اجتماع ہوگیا۔ پروگرام شروع ہوگیا۔ شاہ صاحبؒ ساتھی کے ہمراہ سائیکل پر کسی تبلیغی سفر سے واپس آرہے تھے۔ سائیکل موڑا۔ دنگل میں جادھمکے۔ ان کو دیکھتے ہی لوگ پریشان ہوگئے۔ پہنچتے ہی آپ نے اذان کہی۔ لوگوں میں بھگڈر مچ گئی۔ نماز باجماعت ادا کی اور وعظ شروع کردیا۔ جو لوگ بچ گئے وعظ کی مجلس میں شامل ہوگئے۔ ایک دفعہ دنگل ہورہا تھا۔ آپ کو اطلاع ہوئی۔ پہنچتے ہی لاٹھی چلانی شروع کردی۔ ایک آدمی بھی سامنے نہ ٹھہر سکا۔ سب بھاگ گئے۔ بڑا ہی خیر و برکت کا دور تھا۔ لوگ احترام کرتے تھے۔ علماء میں بہادری کا خمیر تھا۔ اب یہ سب باتیں زمانہ رفتہ کی باتیں ہوتی جارہی ہیں۔ ایک
دفعہ رافضی حضرات سے مباہلہ ہوا۔ آپ اپنے اہل وعیال و رفقاء کو لے کر مقام مباہلہ پر پہنچ گئے۔ مگر دوسرے فریق نے بھاگ جانے میں عافیت سمجھی۔
مناظر، خطیب، علم وفضل، دلائل کی پختگی، غضب کا حافظہ، فقہ کی جزئیات پر عمیق نظر اور آپ کے مجاہدانہ کردار نے آپ کو مقبول عام بنا دیا تھا۔ علاقہ کے عوام آپ سے دلی محبت کرتے تھے۔ ان کے چشم ابرو کے اشارے پر جان کی بازی لگانے پر تیار ہو جاتے تھے۔ آپ کے فتویٰ کو حرف آخر سمجھا جاتا تھا۔ راقم کے استاذ محترم حضرت مولانا حافظ اللہ بخش صاحب آپ کے شاگرد رشید ہیں۔ فقیر راقم خان پور سے دورہ حدیث شریف کر کے گھر آیا تو میرے والد صاحب مرحوم نے استاذ محترم حضرت مولانا حافظ اللہ بخش صاحب سے فرمایا کہ اسے دین کے کام پر لگانا ہے تو ٹھیک ہے۔ ورنہ میں تو زمیندار ہوں۔ میرا کام حاضر ہے۔ آج سے شروع کردے۔ حضرت مولانا حافظ اللہ بخش صاحب اپنے استاذ حضرت مولانا سید محمد علی شاہ صاحبؒ کے پاس تشریف لے گئے۔ حضرت شاہ صاحبؒ نے حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ کو خط لکھا کہ ہمارے علاقہ سے ایک نوجوان اس سال فارغ التحصیل ہوئے ہیں۔ آپ ان کو جماعت میں شامل کر لیں۔ حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ نے حضرت شاہ صاحبؒ کو خط لکھا کہ حضرت مولانا لال حسین اخترؒ نے فجی آئی لینڈ سے ایک عالم دین کو بھیجا ہے۔ ان کے لئے سپیشل (شوال المکرم میں) تربیتی کلاس کھولنی ہے۔ آپ ان کو بھی بھیج دیں۔ چنانچہ مولانا عبدالمجید فجی آئی لینڈ، مولانا بشیر احمد مہتمم جامعہ عثمانیہ شور کوٹ اور فقیر راقم پر مشتمل سہ رکنی جماعت نے فاتح قادیان حضرت مولانا محمد حیاتؒ سے رد قادیانیت کا دو ماہی کورس مکمل کیا۔ امتحان ہوا۔ اللہ رب العزت نے فضل فرمایا۔ امتحان سے فراغت کے بعد حضرت اقدس مولانا محمد علی جالندھریؒ نے فرمایا کہ:
- ١...... آپ امتحان میں اچھے نمبروں پر کامیاب ہوئے۔
- ٢...... آپ کے استاذ حضرت مولانا محمد حیاتؒ نے آپ کو جماعت میں شامل
کرنے کی سفارش کی ہے۔
- ٣...... آپ کے متعلق مولانا سید محمد علی شاہ صاحبؒ نے خط لکھا ہے۔ مولانا محمد علی
شاہؒ میرے (حضرت جالندھریؒ) نزدیک اس لئے قابل احترام ہیں کہ حضرت امیر شریعت سید
عطاء اللہ شاہ بخاریؒ ان کا احترام اور ان کی رعایت کرتے تھے۔ آل انڈیا مجلس احرار کی ورکنگ کمیٹی کا اجلاس چھوڑ کر پیلی راجن کے جلسہ میں حضرت امیر شریعتؒ شریک ہوتے تھے۔ چوہدری افضل حقؒ، مولانا حبیب الرحمنؒ لدھیانویؒ حضرت امیر شریعتؒ سے اصرار کرتے کہ آپ اجلاس کو بھگتا کر آ جائیں تو حضرت شاہ جیؒ فرماتے تھے کہ پورا خاندان اور علاقہ رافضی ہے۔ وہاں ایک سید ہے (سید محمد علی شاہؒ) اس کے جلسہ پر میں جانا فرض سمجھتا ہوں۔
حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ نے یہ تین باتیں ارشاد فرما کر مجھے حکم فرمایا کہ آپ تیاری کریں۔ آج سے ہی میرے ساتھ جماعت کے پروگرام پر چلنا ہے۔ اس لحاظ سے مجلس میں فقیر کی شمولیت کا باعث بھی حضرت مولانا سید محمد علی شاہؒ تھے۔
٩٣ سال کی عمر پائی۔ داڑھی کے بال دوبارہ سیاہ ہونا شروع ہو گئے تھے۔ آخری وقت تک تبلیغ کا فریضہ انجام دیتے رہے۔ اتنی بڑی عمر کے باوجود بڑے مضبوط قویٰ کے انسان تھے۔ قدرت نے علم و عمل کی طرح صحت کی دولت سے بھی نوازا تھا۔ ١٧ جنوری کو مبارک پور کے قریب کسی گاؤں میں خطاب کیا۔ مغرب کی نماز کی امامت شروع کی۔ پہلی رکعت میں جب انعمت علیہم! پر پہنچے تو خاموش ہو گئے۔ کچھ دیر خاموش کھڑے رہے۔ مقتدی پریشان ہو گئے۔ آپ نے زور سے اللہ! اللہ! اللہ! کہا اور لوگوں کے دل ہلا دیئے۔ نماز توڑ کر ساتھی آگے بڑھے اور آپ کو پکڑ کر بٹھا دیا۔ فرمایا تم اپنی نماز پوری کرو۔ ساتھی نماز سے فارغ ہوئے۔ فرمایا مجھ پر فالج کا حملہ ہوا ہے۔ آپ لوگ گواہ بن جائیں کہ میں تمام گناہوں سے توبہ کرتا ہوں اور پھر کلمہ شریف کا بار بار ورد کرتے رہے۔ لوگوں کو کہا کہ تم بھی کلمہ پڑھو۔ کلمہ پڑھتے پڑھتے فالج کا اثر زبان پر پہنچا۔ سواری کرا کے گھر لایا گیا۔ صبح پانچ بجے راہی ملک بقا ہوئے۔ آپ کی وصیت کے مطابق اسلامیہ مشن بہاول پور کے شیخ الحدیث مولانا محمد حنیف نے نماز جنازہ پڑھائی۔ بلا مبالغہ ہزاروں کا اجتماع تھا۔ مرد، عورتیں، چھوٹے بڑے، شیعہ، سنی، سب ان کے انتقال پر رو رہے تھے۔ یہ ان کی قبولیت عامہ اور مقبولیت عنداللہ کی دلیل ہے۔ وصیت کے مطابق عام قبرستان میں ہمیشہ کے لئے محو خواب ہو گئے۔ اللہ رب العزت ان پر کروڑوں رحمتیں نازل فرمائیں۔ سچ تو یہ ہے کہ ان کی وفات ایک جہان کی وفات ہے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت ١١ مئی ١٩٩٠ء)
فراق یاراں
ام المومنین حضرت ماریہ قبطیہ کے بطن مبارک سے آنحضرت ﷺ کے صاحبزادہ حضرت ابراہیم پیدا ہوئے، بچپن میں ان کا وصال اس حالت میں ہوا کہ آپ ﷺ نے انہیں اپنی گود نبوت میں اٹھایا ہوا تھا حضرت ابراہیم کی روح نے قفس عنصری سے پرواز کی تو آپ ﷺ کے آنسو مبارک رواں ہو گئے آپ ﷺ نے فرمایا ابراہیم آپ کی جدائی نے ہمیں غم زدہ کر دیا۔
کسی عزیز کی جدائی پر دل صدمہ کرے اور آنکھ آنسو بہائے جہاں یہ فطری تقاضا ہے وہاں ترجمان فطرت حضور ﷺ کی سنت مبارکہ بھی ہے اس دنیا سے جانے والے اکابر، معاصر، اساتذہ، مشائخ اور جماعتی دوستوں کی جدائی کے لمحوں پر اپنے دل کی تسلی کے لیے فقیر کچھ نہ کچھ لکھتا رہا تقریباً ٣٥ سال کے داستان غم کی یہ دستاویز ہے جو آپ کے سامنے پیش کرنے کی جرات ہو رہی ہے۔ آپ انہیں تعزیتی مضامین، سوانحی خاکے یا نثری مرثیہ قرار دیں تو آپ کو اس کا حق حاصل ہے لیکن مجھ سے پوچھیں تو یہ مضامین میرے دل کے ٹکڑے ہیں جو ان جانے والے حضرات کی جدائی پر قلم سے کاغذ پر منتقل ہوتے رہے ہیں یہ ایام رفتہ کے آنسو ہیں جو گرتے رہے اور میں انہیں کاغذ پر جمع کرتا رہا۔
١٩٧١ء سے یہ سلسلہ شروع ہوا اور ابھی تک جاری ہے نہ معلوم کہ کب خود کی باری آ جائے کہ غم فراق سہنے کی بجائے دل ہار جائے اور بجائے رونے کے روٹھ جائے۔ نوحہ، مرثیہ، رونا، غم، سوگ سب کچھ کا آپ اس میں پرتو دیکھیں گے لیکن مجھ مسکین سے پوچھیں کہ جس پر ان حضرات کے غم جدائی کے پہاڑ ٹوٹے ان صدمات سے دل ٹوٹا کمر جھکی آنکھیں بھیگیں جگر پارہ پارہ ہوا لیکن میں ابھی تک زندہ ہوں۔
فقیر ...... اللہ وسایا
عَالَمِی مَجْلِسِ تَحَفُّظِ خَتْمِ نُبُوَّت
حضوری باغ روڈ • ملتان • فون: 4514122