احتساب قادیانیت جلد 40 · مولانا محمد عبدالسلام ہزاروی
Ahtasab-e-Qadyaniat · Vol. 40 · Maulana Muhammad Abdul Salam Hazarawi
PDF 1

رَدِّ قادیانیت

رسائل

اِحْتِسَابِ قَادِیَانِیَّت

جلد ٤٠

عَالَمِی مَجْلِس تَحَفُّظِ خَتْمِ نُبُوَّۃ

حضوری باغ روڈ ، ملتان - فون : 061-4783486

PDF 2

رد قادیانیت

رسائل

احتساب قادیانیت

٤٠

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

صفحہ ٣

بسم الله الرحمن الرحيم!

نام کتاب : احتساب قادیانیت جلد چالیس (٤٠) مصنفین : مولانا محمد عبدالسلام سلیم ہزارویؒ حضرت مولانا سید محمد اسماعیل سلفیؒ حضرت مولانا غلام سبحانی مانسہرویؒ مکرم جناب حکیم محمد اسحٰق صاحب حضرت مولانا ہلال احمد دہلویؒ مکرم جناب محمد نواز ، ایم ۔ اے حضرت مولانا حبیب اللہ فاضل رشیدیؒ مولانا ولی الدین فاضلؒ (سابق قادیانی) حضرت مولانا غلام رسول قصوریؒ حضرت مولانا مفتی عزیز احمد لاہوریؒ مکرم جناب مشرف بریلویؒ مولانا خلیل الرحمن پانی پتیؒ (فاضل دیوبند)

صفحات : ٥٧٦ قیمت : ٣٠٠ روپے مطبع : ناصر سنز پریس لاہور طبع اول : جنوری ٢٠١٢ء ناشر : عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان Ph: 061-4783486

بسم الله الرحم

فہرست رسائل مشمولہ ...... ا

عرض مرتب

کو فرقہ ضالہ ومضلہ قادیانیہ کا مباہلہ

صفحہ ٣

بسم الله الرحمن الرحيم!

فہرست رسائل مشمولہ ...... احتساب قادیانیت جلد ٤٠

عرض مرتب ٤ ١...... اہل اسلام میسور کے ساتھ ٣ / جون ١٩٣٥ء کو فرقہ ضالہ ومضلہ قادیانیہ کا مباہلہ مولانا محمد عبدالسلام سلیم ہزاروی ١١ ٢...... قادیانی اسلام حضرت مولانا سید محمد اسماعیل کٹکی ٢٣ ٣...... یادگار یاد گیر // // // ٤٣ ٤...... ذرا غور کریں // // // ١٩٥ ٥...... حجۃ قطعیہ علی روحہ مرزائیہ (مرزا کی کہانی ، مرزا کی زبانی) حضرت مولانا غلام سبحانی مانسہروی ٢٠١ ٦...... نئی نبوت اپنے لٹریچر کے آئینہ میں مکرم جناب حکیم محمد اسحق ٢٩٧ ٧...... تحریف مرزائیت ، ربوہ سے ایک تحریری علمی مناظرہ حضرت مولانا جلال احمد دہلوی ٣٧١ ٨...... قادیانی عزائم اور پاکستانی مسلمان مکرم جناب محمد نواز ، ایم۔اے ٤٠٩ ٩...... مرزائیت کی حقیقت مولانا حبیب اللہ فاضل رشیدی ٤٣٣ ١٠...... ختم نبوت اور قادیانی وسوسے مولانا محمد ولی الدین فاضل ٤٥١ ١١...... قادیانیوں کا کلمہ اور حکومت پاکستان کا آرڈیننس // // // ٥٠٥ ١٢...... الجواب الصحيح فى حيات المسيح عليه السلام حضرت مولانا غلام رسول فیروزی ٥١١ ١٣...... اکرام الہی بجواب انعام الہی حضرت مولانا مفتی عزیز احمد لاہوری ٥٢٧ ١٤...... خاتم مکرم جناب مشرف بریلوی ٥٣٩ ١٥...... مرزا غلام احمد قادیانی اور مسئلہ جہاد حضرت مولانا خلیل الرحمن پانی پتی ٥٥٩ ١٦...... اسلامی تعلیمات اور مرزا قادیانی // // // ٥٦٩

صفحہ ٤

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

عرض مرتب

الحمد لله وكفى وسلام على سيد الرسل وخاتم الانبياء، اما بعد!

قارئین کرام! لیجئے احتساب قادیانیت کی چالیسویں جلد پیش خدمت ہے۔

میسور کے نمائندہ مولانا محمد عبدالسلام سلیم ہزاروی مدرس ٹریننگ کالج میسور اور قادیانی جماعت کے نمائندہ حبیب اللہ خان کے درمیان ٢٧؍ اپریل ١٩٣٥ء کو تحریری معاہدہ ہوا کہ قادیانیوں اور مسلمانوں کے درمیان ٣؍ جون کو مباہلہ ہوگا۔ وہ معاہدہ کی تحریرات اور قادیانی عقائد پر مشتمل ایک تحریر اس پمفلٹ کے ذریعہ چھپوا کر تقسیم کی گئی۔ (یاد رہے کہ اس پمفلٹ میں قادیانی کتب کے حوالہ جات میں مفہوم کو سامنے رکھا گیا ہے۔ عبارات کے نقل کی پابندی نہیں کی گئی) یہ مباہلہ ہوا یا نہیں؟ فقیر نے کہیں نہیں پڑھا۔ فقیر نے اس مباہلہ کی تفصیلات کے لئے قادیانیوں کی تاریخ احمدیت کو بھی دیکھا تو اس مباہلہ کے متعلق کوئی چیز نہ ملی۔ بظاہر یہی لگتا ہے کہ مباہلہ سے پہلے مرزا محمود کے پاس قادیان میں چٹھی پہنچ چکی تھی۔ صبح مرزا محمود نے قادیانی جماعت کو مباہلہ سے روک دیا ہوگا۔ بہرحال یہ غالب گمان ہے۔ ورنہ قادیانی مؤرخ دوست محمد اسے ضرور مبالغہ وکذب آفرینی سے مرچ مصالحہ لگا کر پیش کرتا۔ اس کا خاموش رہنا قادیانی فرار کی غمازی کرتا ہے۔ والعلم عند اللہ ! اس زمانہ کی کہیں کسی کے پاس معلومات ہوں تو بھجوانے پر صحیح رائے قائم کرنی ممکن ہوگی۔

رہنے والے تھے۔ پھرتیلا جسم، قد مائل بہ درازی، رنگ پکا، غضب کا حافظہ، صاحب علم وفضل، زیرک ومعاملہ کی گہرائیوں میں اترنے والا دماغ رکھتے تھے۔ آپ کو اڑیسہ کا ’’امیر شریعت‘‘ مقرر کیا گیا۔ جمعیت علماء ہند اڑیسہ، کٹک کے آپ امیر تھے اور اس کی مرکزی مجلس شوریٰ کے رکن

صفحہ ٥

رکن بھی۔ شیخ العرب والعجم حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی کے شاگرد تھے اور قافلہ اہل حق کے نیّر تاباں ہونے کا آپ کو اعزاز حاصل تھا۔ ١٩٨٤ء میں پاکستان میں قادیانیت کے خلاف امتناع قادیانیت آرڈینینس جاری ہوا۔ تب قادیانی لاٹ پادری ملعون مرزا طاہر، پاکستان سے مجرمانہ فرار اختیار کر کے برطانیہ کو سدھارا۔ اس کے مقابلہ میں برطانیہ میں ١٩٨٥ء میں پہلی سالانہ ختم نبوت کانفرنس ویمبلے ہال لندن میں منعقد کی گئی۔ تب سے اب تک عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ہر سال برطانیہ میں ختم نبوت کانفرنس کا انعقاد کرتی ہے۔

١٩٨٦ء یا ١٩٨٧ء میں ویمبلے ہال لندن میں ختم نبوت کانفرنس تھی۔ حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ، مولانا علامہ خالد محمود، مولانا منظور احمد چنیوٹی، مولانا منظور احمد الحسینی ایسے مناظرین ختم نبوت سٹیج پر براجمان تھے۔ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب کا سایہ شفقت سب کے سروں پر سحاب رحمت تھا۔ فقیر راقم کا بیان ہوا۔ بیان کے بعد سٹیج سے واپس مڑا تو ایک بزرگ نے آ کر فقیر کی پیشانی کو شفقت سے چوما۔ سینہ سے لگایا اور گلو گیر لہجہ میں فرمایا کہ آپ کے بیان سننے سے خوشی ہوئی کہ ہم دنیا سے لاوارث نہیں جا رہے۔ ان کی اس بزرگانہ و مشفقانہ گفتگو سے فقیر تو دیدہ و دل فدا ہوا۔ وہ اپنی نشست پر تشریف لے گئے۔ فقیر نے اپنی نشست سنبھال لی۔ دن بھر کانفرنس کامیاب طریقہ پر جاری رہ کر شام کو بخیر و خوبی اختتام پذیر ہوئی۔ اس دوران ان بزرگوں کا بھی اعلان و بیان ہوا۔ تب معلوم ہوا کہ یہ حضرت مولانا محمد اسماعیل کٹکی ہیں۔ انڈیا سے تشریف لائے ہیں۔ بیان سے یقین حاصل ہوا کہ ان کی قادیانی کتب پر بڑی مضبوط گرفت ہے اور رد قادیانیت کے فن کے شناور اور عقیدہ ختم نبوت کے علمبردار لگتے ہیں۔ کانفرنس سے اگلے روز سٹاک ویل گرین لندن میں حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ (یاد نہیں کہ کون کون سے حضرات کے ساتھ) تشریف فرما تھے کہ مولانا محمد اسماعیل صاحب کٹکی تشریف لائے۔ سب نے اٹھ کر بڑھ کے دل سے استقبال کیا۔ انہوں نے وارد ہوتے ہی حضرت لدھیانویؒ سے فرمایا کہ حضرت مولانا سید اسعد مدنی نے میری تشکیل چار پانچ روز کے لئے آپ کے ساتھ کی ہے۔ دفتر میں قیام ہوگا۔ آپ میرے فن کے ساتھی ہیں۔ آپ سے مشاورت ہوگی۔

فقیر راقم چائے لانے کے لئے اٹھا تو فرمایا اجی مولانا! کہاں جا رہے ہیں۔ ہم نے

صفحہ ٦

اپنی گفتگو اور شناسائی کا آغاز تو آپ سے کرتا ہے۔ فقیر دوزانو ہو کر سامنے بیٹھ گیا تو پہلا سوال کیا کہ آپ کا نام؟ فقیر نے عرض کیا: اللہ وسایا۔ تو فرمایا، اچھا اچھا خوب رہا۔ اچھا تو، آپ نے رد قادیانیت کن سے پڑھی؟ فقیر نے عرض کیا کہ مولانا لال حسین اختر اور ....... فقیر کے ”اور“ کہنے سے قبل ہی فرمایا:

”اوہو! میں بھی کہوں کہ کیوں دل آپ کی طرف کھنچا جارہا ہے۔ اب معلوم ہوا کہ آپ تو میرے شاگرد ہیں۔“ فقیر نے تعجب سے سر اٹھایا تو حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ سمیت سبھی حضرات کو متعجب پایا۔ لیکن قبل اس کے کہ ہم میں سے کوئی کچھ کہے مولانا سید محمد اسماعیل کٹکیؒ نے فرمایا کہ حضرت مولانا لال حسین اخترؒ کا میں ساتھی۔ مولانا کے ساتھ مل کر کئی بار قادیانیوں سے ہاتھ دو چار کئے۔ کانفرنسوں اور تبلیغی پروگراموں میں تو بارہا ہفتوں ہفتوں ساتھ رہا۔ وہ بہت بڑے مناظر تھے۔ ان کے نام سے ہی قادیانیوں کی متی مرجاتی تھی۔ وہ میرے ساتھی، نہ بلکہ میں ان کا ساتھی۔ آپ (فقیر) ان کے شاگرد ہوئے تو میرے بھی شاگرد ہوئے۔ لائیے ہاتھ کیسے کہی؟ اس پر تمام مجلس کشت زعفران بن گئی۔ حضرت مولانا سید محمد اسماعیل کٹکیؒ، شیر اڈیسہ، امیر شریعت اڈیسہ، مناظر اسلام ہم میں رہے اور خوب سے خوب تر فقیر نے آپ کی صحبتوں سے فائدہ اٹھایا۔ وہ ایک نامور مناظر تھے۔ تب آپ نے:

”یادگارِ یادگیر“ یہ وہ تاریخی مناظرہ کی رپورٹ ہے جو نومبر ١٩٦٣ء میں بمقام ”یادگیر“ صوبہ میسور میں آپ کا قادیانیوں سے ہوا۔ آپ اس کی رپورٹ پڑھیں۔ قادیانی مناظر صفحات پے صفحات مرزا قادیانی کی کتب کے اقتباسات سے بھر کر وقت گزارتا ہے۔ جب کہ مولانا سید محمد اسماعیلؒ مناظر اسلام، ٹو دی پوائنٹ گفتگو کرتے اور چٹکیوں میں قادیانی استدلال کو ھباء منثورا کرتے ہیں۔ آپ کی مناظرانہ گھن گرج سے آج بھی مناظرہ کی رپورٹ پڑھتے جسم میں جھر جھری کی کیفیت برپا ہو جاتی ہے۔

کی سعادت حاصل کر رہے ہیں۔ آپ کے ب افسوس کہ ان تک رسائی نہ ہو پائی۔ وہ اب ڈ البتہ ان کی حسین شخصیت کی دل افروز یادوں تعالیٰ ان کی بال بال مغفرت فرمائیں۔

کتاب لکھی۔ جس کا نام:

کی اس جلد میں شائع کر رہے ہیں۔ یہ کتاب حضرت مولانا لال حسین اخترؒ کی کتاب ”ترک استفادہ کیا گیا ہے۔ آخر میں تو بہت سارا حص گیا ہے۔ لیکن اس کے باوجود مصنف کے ذوق بتانے کا فیصلہ کیا۔ اسی میں خیر ہوگی۔

مودودی صاحب کی تفہیم القرآن اور قادیا تحریک ختم نبوت ١٩٧٤ء کا ماحول بن رہا تھا

میں منصوبہ کے تحت ایک قادیانی بھی آنے ا ان کو قادیانیت کے دام تزویر میں پھانسنے کا ش اہم مسئلہ ہے جو دیگر قادیانی متنازعہ مسائل کی مسئلہ پر مولانا بلال احمد دہلوی نے دلائل قادیانی معلم الملکوت نے ان کو توڑنے کے بھجوایا۔ مولانا بلال احمد دہلوی نے اس کا جوا

صفحہ ٧

کرتا ہے۔ فقیر دوزانو ہو کر سامنے بیٹھ گیا تو پہلا سوال کیا سنایا۔ تو فرمایا، اچھا اچھا خوب رہا۔ اچھا تو ، آپ نے کیا کہ مولانا لال حسین اختر اور ...... فقیر کے ”اور“

دل آپ کی طرف کھنچے جا رہا ہے۔ اب معلوم ہوا کہ ب سے سر اٹھایا تو حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ یں گے کہ ہم میں سے کوئی کچھ کہے مولانا سید محمد اسماعیل کرگا میں ساتھی۔ مولانا کے ساتھ مل کر کئی بار قادیانیوں رگڑاموں میں تو بارہا ہفتوں ہفتوں ساتھ رہا۔ وہ بہت ھوں کی میتا مرجاتی تھی۔ وہ میرے ساتھی، نہ بلکہ میں تو میرے بھی شاگرد ہوئے۔ لائیے ہاتھ کیسے کہی؟ اور مولانا سید محمد اسماعیل کٹکی، شیر اڑیسہ، امیر شریعت نے خوب تر فقیر نے آپ کی صحبتوں سے فائدہ اٹھایا۔

فرماتے تھے۔ کی رپورٹ ہے جو نومبر ١٩٦٣ء میں بمقام ”یاد گیر“ اس کی رپورٹ پڑھیں۔ قادیانی مناظر صفحات نے بھر کر وقت گزارتا ہے۔ جب کہ مولانا سید محمد اور چٹکیوں میں قادیانی استدلال کو ھباء منثوراً بھی مناظرہ کی رپورٹ پڑھتے۔ جسم میں جھر

ہے۔ یہ تین رسائل اس جلد میں شائع کرنے

کی سعادت حاصل کر رہے ہیں۔ آپ کے رد قادیانیت پر اور بھی کتب و رسائل ہوں گے۔ مگر افسوس کہ ان تک رسائی نہ ہو پائی۔ وہ اب فوت ہو گئے ہیں۔ ان کی تاریخ وفات تو معلوم نہیں۔ البتہ ان کی حسین شخصیت کی دل افروز یادوں کا خزانہ اب بھی دماغ میں تعطر کا باعث ہے۔ حق تعالیٰ ان کی بال بال مغفرت فرمائیں۔

کتاب لکھی۔ جس کا نام:

کی اس جلد میں شائع کر رہے ہیں۔ یہ کتاب ١٩٨٢ء کے لگ بھگ کی تحریر کردہ ہے۔ مناظر اسلام حضرت مولانا لال حسین اختر کی کتاب ”ترک مرزائیت“ سے زیادہ تر اس کتاب کی تیاری میں استفادہ کیا گیا ہے۔ آخر میں تو بہت سارا حصہ مکمل مذکورہ کتاب سے لے کر اس کتاب کا جزو بنا دیا گیا ہے۔ لیکن اس کے باوجود مصنف کے ذوق کے احترام میں فقیر نے مکمل اس کو احتساب کا حصہ بنانے کا فیصلہ کیا۔ اسی میں خیر ہوگی۔

مودودی صاحب کی تفہیم القرآن اور قادیانی مسئلہ سے استفادہ کر کے ٢٠ جنوری ١٩٧٤ء کو جب تحریک ختم نبوت ١٩٧٤ء کا ماحول بن رہا تھا۔ ایک کتابچہ مرتب کیا۔ جس کا نام ہے:

میں منصوبہ کے تحت ایک قادیانی بھی آنے لگا۔ وہ درس میں شریک مسلمانوں سے تعلقات بنا کر ان کو قادیانیت کے دام تزویر میں پھانسنے لگا۔ جہنم اور عذاب جہنم ابدی نہیں۔ یہ قادیانی علم کلام کا وہ اہم مسئلہ ہے جو دیگر قادیانی متنازعہ مسائل کی طرح اجماع کی راہ سے ہٹا ہوا ہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اس مسئلہ پر مولانا ہلال احمد دہلوی نے دلائل دیئے۔ وہ اس قادیانی نے چناب نگر (ربوہ) بھیجے۔ قادیانی معلم الملکوت نے ان کو توڑنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا۔ ہانپتے کانپتے جواب بھجوایا۔ مولانا ہلال احمد دہلوی نے اس کا جواب الجواب تحریر کیا، اس کے جواب کی قادیانیوں کو

صفحہ ٨

جرأت نہ ہوئی۔ ان کا بولتہ رام ہو گیا۔ مولانا دہلوی نے یہ تمام خط و کتابت شائع کر دی۔

مجموعہ کا نام ہے۔ دیانتداری کی بات ہے کہ آج کل حیات مسیح، ختم نبوت، کذب مرزا پر تو قادیانیوں سے بحث ہوتی ہے۔ یہ مسئلہ کہ عذاب جہنم ابدی نہیں۔ اس پر عموماً قادیانیوں سے بحث نہیں ہوتی۔ اس عنوان پر مولانا ہلال احمد دہلوی کا رسالہ بہت ہی وقیع وقابل قدر معلومات کا خزانہ ہے۔ اس جلد میں اسے بھی شائع کرنے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں۔ اسے انشاء اللہ العزیز ماہنامہ لولاک میں قسط وار شائع کریں گے۔

کردہ ہے۔ ١٩٧٤ء میں چٹان پریس سے شائع ہوئی۔ شائع کنندہ اتحاد العلماء کا مرکزی دفتر لاہور تھا۔ بہت ہی اہم معلومات پر مشتمل ہے۔ اس جلد میں اسے بھی شائع کرنے کی سعادت حاصل ہو رہی ہے۔

فاضل رشیدی کی یادگار ہے۔ مولانا حبیب اللہ صاحب، فاضل رشیدی، دارالعلوم دیوبند کے فاضل اور حضرت مدنی کے شاگرد تھے۔ حضرت مولانا مفتی فقیر اللہ صاحب کے صاحبزادے تھے۔ حضرت مولانا مفتی فقیر اللہ حضرت شیخ الہند کے شاگرد اور جامعہ رشیدیہ ساہیوال کے بانی تھے۔ مولانا حبیب اللہ صاحب فاضل رشیدی، جامعہ رشیدیہ کے ناظم تھے۔ اس لئے آپ کو ”ناظم صاحب“ بھی کہا جاتا تھا۔ آپ نے عقیدہ ختم نبوت کے محاذ پر وہ گرانقدر خدمات سرانجام دیں، جن پر آنے والی نسلیں فخر کریں گی۔ آپ کا یہ رسالہ اس جلد میں شائع کرنے پر بہت ہی خوشی ہوئی۔ یہ رسالہ مجلس تحفظ ختم نبوت ساہیوال کے پرنٹ لائن سے آپ نے شائع کیا۔ اس پر سلسلہ اشاعت نمبر ٢ درج ہے۔ اس کا معنی ہے کہ اس سے پہلے بھی ایک رسالہ شائع ہوا۔ اس کا کیا نام تھا۔ افسوس کہ اس رسالہ کے نہ ملنے کے باعث اس وقت محرومی کے احساس کے نیچے ٹھنڈے سانس لے رہا ہوں۔ مولانا حبیب اللہ فاضل رشیدی کا وصال ٧ دسمبر ١٩٨٥ء کو ہوا۔

مبلغ رہے۔ پھر اللہ رب العزت کی رحمت کو ان مسلمان ہو گئے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو توفیق کے لئے میدان میں اترے اور پھر جہاں بھی یونیورسٹی سے انہوں نے مولوی فاضل کا امتحان ایک کتاب لکھی جس کا نام تھا۔

تحفظ ختم نبوت نے شائع کی۔ اس جلد میں اس کـ

ہے۔ اس جلد میں شامل ہے۔

لکھ کر دیئے کہ علماء اسلام سے ان کا جواب لا صاحب فیروزی کے پاس لائے گئے۔ آپ نے اس جلد میں اس رسالہ کو بھی شائع کرنے کی سعاد

قادیانی کمپنی لمیٹڈ نے ”انعام الہی“ کے نام پر کـ کی جامع مسجد عید گاہ میں حضرت مولانا مفتی مـ مرزا محمود ملعون قادیان کے پمفلٹ کے جواب مـ

١٩٥٢ء کو آپ نے ایک رسالہ ترتیب دیا۔ جس کا

سمجھایا ہے۔ اس جلد میں یہ بھی شامل اشاعت ہـ

صفحہ ٩

مبلغ رہے۔ پھر اللہ رب العزت کی رحمت کو ان پر ترس آ گیا۔ وہ قادیانیت پر چار حرف بھیج کر مسلمان ہو گئے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو توفیق بخشی کہ وہ قادیانیوں کے عقائد کو طشت از بام کرنے کے لئے میدان میں اترے اور پھر جہاں بھی گئے مسلمانوں نے ان کو آنکھوں پر بٹھایا۔ پنجاب یونیورسٹی سے انہوں نے مولوی فاضل کا امتحان پاس کیا ہوا تھا۔ آپ نے قادیانیوں کے خلاف ایک کتاب لکھی جس کا نام تھا۔

تحفظ ختم نبوت نے شائع کی۔ اس جلد میں اس کتاب کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

ہے۔ اس جلد میں شامل ہے۔

لکھ کر دیئے کہ علماء اسلام سے ان کا جواب لے کر دو۔ وہ سات سوال حضرت مولانا غلام رسول صاحب فیروزوی کے پاس لائے گئے۔ آپ نے ان کا جامع اور مختصر جواب تحریر فرمایا۔ احتساب کی اس جلد میں اس رسالہ کو بھی شائع کرنے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں۔

قادیانی کمپنی لمیٹڈ نے ’انعام الٰہی‘ کے نام پر پمفلٹ کی شکل میں شائع کیا۔ تب گڑھی شاہو لاہور کی جامع مسجد عیدگاہ میں حضرت مولانا مفتی عزیز احمد صاحب خطیب ہوتے تھے۔ آپ نے مرزا محمود ملعون قادیان کے پمفلٹ کے جواب میں یہ رسالہ تحریر کیا:

١٩٥٢ء کو آپ نے ایک رسالہ ترتیب دیا۔ جس کا نام:

سمجھایا ہے۔ اس جلد میں یہ بھی شامل اشاعت ہے۔

صفحہ ١٠

میں آکر آباد ہوئے۔ آپ حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے عہد امارت میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ بھی رہے ہیں۔ آپ کے دو رسالے رد قادیانیت پر ہمیں میسر آئے۔

غرض کہ احتساب قادیانیت کی جلد چالیس (٤٠) میں:

بارہ مصنفین کے ٹوٹل ١٦ رسائل

اس جلد میں پیش خدمت ہیں۔

اللّٰہ رب العزت اس محنت کو منظور و مقبول فرمائیں۔ امین بحرمۃ النبی الکریم!

محتاج دعاء: فقیر اللّٰہ وسایا!

١٨ محرم الحرام ١٤٣٣ھ، بمطابق ١٤ دسمبر ٢٠١١ء

صفحہ ١٠

بعد سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے عہد امارت میں عالمی کہ آپ کے دو رسالے رد قادیانیت پر ہمیں میسر آئے۔

اولاً:

ثانیاً: یہ دونوں رسائل بھی اس جلد میں شامل ہیں۔

اس جلد چالیس (٤٠) میں:

سلیم ہزاروی کا ١ رسالہ مولانا اسماعیل سلفیؒ کے ٣ رسائل فاروقی کا ١ رسالہ کا ١ رسالہ کا ١ رسالہ کا ١ رسالہ رسول رشیدی کا ١ رسالہ کے ٢ رسائل فاروقی کا ١ رسالہ غوری کا ١ رسالہ کا ١ رسالہ قاضی کے ٢ رسائل ٹوٹل ١٦ رسائل

منظور و مقبول فرمائیں۔ امین بحرمۃ النبی الکریم! محتاج دعاء: فقیر اللہ وسایا! ١٨ محرم الحرام ١٤٣٣ھ، بمطابق ١٤ دسمبر ٢٠١١ء

خاتم النبیین لا نبی بعدی

میں سب سے آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں

اہل اسلام میسور

کے ساتھ

٣ / جون ١٩٣٥ء

کو فرقہ ضالہ

ومضلہ قادیانیہ کا مباہلہ

اور ان کے مختصر عقائد باطلہ

مولانا محمد عبدالسلام سلیم ہزاروی

صفحہ ١٣

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

جملہ مسلمانان ملک میسور کے نام ....... اعلان عام

برادران اسلام! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!

یہ بات غالباً تمام میسور کے مسلمانوں کو معلوم ہوئی ہوگی کہ یہاں بیس پچیس روز سے حبیب اللہ خان نامی ایک قادیانی آیا ہوا ہے اور مسلمان نوجوانوں کو دائرہ اسلام سے خارج کرنے کی بے جا کوشش کر رہا ہے۔ چنانچہ اس کے متعلق مسجد اعظم میسور میں تیرہ مئی ١٩٣٥ء کی شب کو ایک عام جلسہ ہوا۔ جس میں قادیانیوں کے عقائد باطلہ پر مدلل تقریریں ہوئیں۔ اسی جلسہ میں بالاتفاق ایک مجلس ”محافظ اسلام“ کے نام سے قائم ہوئی۔ یہ قادیانی دو بار جناب الحاج ابوالمکارم مولانا مولوی محمد عبدالسلام سلیم ہزاروی سابق مدرس مدرسہ صولتیہ مکیہ و مدرسہ نظامیہ مدینہ و حال مدرس ٹریننگ کالج میسور کے مکان پر گیا۔ بجائے اس کے کہ کوئی باقاعدہ علمی بحث کرتا اور مولانائے محترم کے سوالات کا جواب دیتا۔ اضطراب کی حالت میں آپ کو مباہلہ کا چیلنج دے بیٹھا۔ جس کو مولانا نے نہایت خوشی کے ساتھ قبول کر لیا۔ چنانچہ پہلی ملاقات میں دونوں نے ایک دوسرے سے یہ تحریر لکھا کر اپنے اپنے پاس رکھ لیں۔

منظور دعوت مباہلہ بذریعہ مبلغ قادیانی حبیب اللہ خان مدرس نظام کالج حیدرآباد۔

”میں قادیانی فرقے کے کسی عالم یا ان کے خلیفہ قادیان میاں بشیر محمود کے ساتھ ہر وقت اپنے اہل وعیال اور جماعت کے یعنی تعداد میں جماعت مخالف کے برابر مباہلہ کرنے کے لئے حاضر ہوں کہ غلام احمد قادیانی دشمن خدا اور رسول اور جھوٹا نبی ہے۔“ فقط:

احقر محمد عبدالسلام سلیم ہزاروی مدرس ٹریننگ کالج میسور مورخہ ٢٧؍ اپریل ١٩٣٥ء

”شرائط مباہلہ

ان شرائط کا مجھے علم ہے اور جو شرائط مسنون ہیں۔ ان کے معلومات بہم پہنچانے کا وعدہ

کرتا ہوں۔“

پہلی ملاقات کے وقت جناب محمد حیدر صا شرف الدین خان صاحب موجود تھے۔ مذکورہ بالا کاررو دوسری بار بتاریخ ١٠؍ مئی ١٩٣٥ء قادیانی عبدالسلام سلیم ہزاروی کے گھر پر گیا اور قادیان سے م کی نقل بعینہ ذیل میں درج ہے۔

٢٨؍ محرم ١٣٥٤ھ مطابق ٣؍ مئی ١٩٣٥ء

بخدمت مکرم جناب حبیب

”السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

آپ کا خط مجھے ٢٧؍ اپریل ١٩٣٥ء کو موص اچھی بات ہے۔ مباہلہ کا چیلنج قبول کرلیں۔ شرائط یہ اپنے عقائد کو پیش کریں گے تاکہ دونوں پر حجت قائم ہ بغیر تحقیق کے مباہلہ کیا گیا ہے۔ ہر دو جانب سے م کریں اس سے پہلے ایک مبینہ اطلاع دیں تاکہ ہمارے

مندرجہ خط کے بعد مولانا اور حبیب اللہ خان درج کئے جاتے ہیں۔

”فریقین کے ہاں بچے اور ٣٠ ، ٣٠ آدمی خداوند کریم سے دعا کریں گے کہ جو جھوٹا ہو اس پر خد ٣؍ جون ١٩٣٥ء مقرر ہے۔ اس مقررہ تاریخ سے ١٥ د ہونا ضروری ہے۔ جو جماعت مباہلہ سے منہ پھیرے عذاب شدید نازل ہو۔ کسی جماعت کے عقائد پیش ک دوسرے کے عقائد کا علم رکھتے ہیں اور مباہلہ سے اس با

٣

صفحہ ١٣

مسلمانوں کے نام ...... اعلان عام

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! صاحبان کو معلوم ہوگا کہ یہاں بیس پچیس روز سے مسلمان نوجوانوں کو دائرہ اسلام سے خارج کرنے کے متعلق مسجد اعظم میسور میں تیرہ مئی ١٩٣٥ء کی شب کو قادیانی عقائد باطلہ پر مدلل تقریریں ہوئیں۔ اس جلسہ میں گفتگو ہم سے قائم ہوئی۔ یہ قادیانی دو بار جناب الحاج ابوالکارم سابق مدرس مدرسہ صولتیہ مکیہ ومدرسہ نظامیہ مدینہ وحال آیا۔ بجائے اس کے کہ کوئی باقاعدہ علمی بحث کرتا اور میں۔ اضطراب کی حالت میں آپ کو مباہلہ کا چیلنج دے ہم نے قبول کرلیا۔ چنانچہ پہلی ملاقات میں دونوں نے ایک شرائط رکھ لیں۔ جناب قادیانی حبیب اللہ خان مدرس نظام کالج حیدرآباد۔ اس عالم یا ان کے خلیفہ مسیح علیہ ما یستحقہ بشیر محمود کے ساتھ ہر مطلق تعداد میں جماعت مخالف کے برابر مباہلہ کرنے کے اللہ اور رسول اور جھوٹا نبی ہے۔‘‘ فقط: احقر محمد عبدالسلام سلیم ہزاروی مدرس ٹریننگ کالج میسور مورخہ ٢٧؍ اپریل ١٩٣٥ء

ہاں اس مباہلہ کی ضرورت ہے۔ ہاں بالکل اشد ضرورت ہے۔ میں جو شرائط مسنون ہیں۔ ان کے معلومات بہم پہنچانے کا وعدہ

٢

کرتا ہوں۔‘‘ دستخط: حبیب اللہ خان، ٢٧ اپریل ١٩٣٥ء

پہلی ملاقات کے وقت جناب محمد حیدر صاحب سیکرٹری مدرسہ عربیہ اور جناب مولوی شرف الدین خان صاحب موجود تھے۔ مذکورہ بالا کارروائی ان کے روبرو ہوئی۔

دوسری بار بتاریخ ١٠؍ مئی ١٩٣٥ء قادیانی پھر بروز جمعہ آٹھ بجے مولانا مولوی محمد عبدالسلام سلیم ہزاروی کے گھر پر گیا اور قادیان سے مباہلہ کے متعلق آیا ہوا خط مولانا کو بتایا۔ جس کی نقل بعینہ ذیل میں درج ہے۔

٢٨ محرم ١٣٥٤ھ مطابق ٣ مئی ١٩٣٥ء

بخدمت مکرم جناب حبیب اللہ خان صاحب

’’السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آپ کا خط مجھے ٢٧؍ اپریل ١٩٣٥ء کو موصول ہوا۔ حضور نے بعد ملاحظہ ارشاد فرمایا۔ اچھی بات ہے۔ مباہلہ کا چیلنج قبول کر لیں۔ شرائط یہ ہوں گی۔ دونوں فریق دعا سے پہلے دو دو گھنٹہ اپنے عقائد کو پیش کریں گے تا کہ دونوں پر حجت قائم ہو جائے تاکہ بعد میں یہ سوال نہ کیا جائے کہ بغیر تحقیق کے مباہلہ کیا گیا ہے۔ ہر دو جانب سے ٣٠، ٣٠ آدمی ہوں گے۔ آپ جو تاریخ مقرر کریں اس سے پہلے ایک مہینہ اطلاع دیں تا کہ ہمارے آدمی بھی اس جگہ پہنچ جائیں۔‘‘ دستخط: عبدالرحمن انچارج تحریک جدید قادیان

مندرجہ خط کے بعد مولانا اور حبیب اللہ خان کے درمیان جو تحریریں ہوئیں وہ ذیل میں درج کئے جاتے ہیں:۔

’’فریقین کے ہاں بچے اور ٣٠، ٣٠ آدمی میدان میں مباہلہ کے لئے جائیں گے اور خداوند کریم سے دعا کریں گے کہ جو جھوٹا ہو اس پر خدا کی لعنت نازل ہو۔ مباہلہ کے لئے مورخہ ١٣؍ جون ١٩٣٥ء مقرر ہے۔ اس مقررہ تاریخ سے ٥ دن کی کمی بیشی بھی ہو تو مضائقہ نہیں۔ مباہلہ کا ہونا ضروری ہے۔ جو جماعت مباہلہ سے منہ پھیرے گی اس پر دنیا و آخرت میں خدا کی لعنت اور عذاب شدید نازل ہو۔ کسی جماعت کے عقائد پیش کرنے کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ طرفین ایک دوسرے کے عقائد کا علم رکھتے ہیں اور مباہلہ سے اس بات کا تعلق بھی نہیں ہے۔‘‘ فقط:

٣

صفحہ ١٥

دستخط احقر محمد عبدالسلام سلیم ہزاروی مدرس ٹریننگ کالج میسور دستخط حبیب اللہ خاں مورخہ ١٠ مئی ١٩٣٥ء

یہ تحریر جناب محمد اکبر ومحمد شاہ علی شاہ وسید دستگیر شاہ حسنی بادشاہ قادری کی موجودگی میں ہوئی۔ ہم اس بات کو عام مسلمانوں کی آگاہی کے لئے ضروری سمجھتے ہیں کہ مشتے نمونہ از خروارے عقائد اس فرقہ باطلہ قادیانیہ کے لکھ دیں۔ الحاج مولانا مولوی محمد عبدالسلام سلیم ہزاروی نے اس قسم کے عقائد لکھ کر اخبار ”مصر الفتح‘‘ کو بھیجے تھے اور استفتاء کے طور پر تمام دنیا کے علماء کو مخاطب کیا تھا کہ ایسے عقائد رکھنے والا فرقہ مسلمان ہے یا کافر اور ایسے لوگوں کے ساتھ معاملہ اور علیک سلیک اور مناکحہ وغیرہ جائز ہے یا نہیں؟ چنانچہ مولانا کا یہ عربی استفتاء عربستان کے تریسٹھ (٦٣) اخباروں میں شائع ہوا۔ علاوہ ازیں بہت سے انگریزی اخبارات میں بھی اس کا ترجمہ شائع ہوا۔ مزید برآں جاوا اور ہندوستان کے اکثر اخباروں میں بھی۔ مثلاً زمیندار اور خلافت اور الجمعیۃ وغیرہ وغیرہ میں اس کا ترجمہ ١٩٣٢۔١٩٣٣ء میں شائع ہوا۔ محمدی بیگم کے آسمانی نکاح کی کیفیت اور دیگر مضامین بھی مولانا کے عربی اخبار میں شائع ہوئے۔ چنانچہ ان مضامین نے مصر اور عراق اور عرب اور حجاز اور جاوا وغیرہ میں بہت ہل چل ڈال دی۔ چنانچہ جاوا کے مسلمانوں نے اس استفتاء کو مستقل طور پر کتابی صورت میں معہ ترجمہ شائع کیا اور مصر میں احمدی جماعت کے رئیس سید استاد احمد افندی احمدی اسماعیل اور سیکرٹری شیخ عبدالحمید افندی اور دیگر بہت لوگ مسلمان ہوگئے اور کیفیت کے متعلق تمام عربی اخبار ہمارے پاس موجود ہیں۔

مذاہب اربعہ وغیرہ کے جملہ علماء نے متفقہ طور پر قادیانیوں اور احمدی پارٹی لاہوری کے متعلق کفر کا فتویٰ دیا ہے۔ کیونکہ ایسے اقوال والا شخص جیسے نبی نہیں ہوسکتا ویسے ہی مجدد اور مصلح بھی نہیں ہوسکتا۔ پھر لاہوری پارٹی کا غلام احمد کو مجدد ماننا چہ معنی دارد۔

علمائے مذہب نے صاف صاف لکھ دیا ہے کہ غلام احمد قادیانی کو اچھا آدمی کہنا بھی مسلمان کی شان سے بہت دور ہے اور اس کے کفر میں تردد اور شک کرنے والا بھی مسلمان نہیں رہ سکتا۔ آئندہ ہم ان علماؤں کے فتوؤں کو شائع کریں گے اب ہم قادیانیوں کے عقائد لکھتے ہیں۔ تاکہ مسلمانوں پر ان کی حقیقت پوری واضح ہوجائے۔

٤

قادیانیوں کے زہریلے عقائد

کیا حسب ذیل عقائد کا معتقد اسلام کا مسلم غلام احمد قادیانی کا عقیدہ :

طرف پھیلے ہوئے ہیں۔“

انبیاء کے متعلق قادیانی عقائد

نبی کریم ﷺ کے متعلق قادیانی کے عقائد

تھی۔“ بلکہ آپ کو ان چیزوں کا علم ناقص دیا گیا تھا۔

میں تمدنی ترقی زیادہ ہوئی ہے اور یہ جزوی فضیلت حاصل ہے۔ نبی کریم ﷺ کی ذہنی استعدادوں کا پورا ظہور نہیں۔“

میں زکوٰۃ تھی۔ مگر زکوٰۃ کی روح نہ تھی۔ دنیا میں حج تھا م اسلام کی روح نہ تھی۔ دنیا میں قرآن تھا مگر قرآن کی رو بھی موجود تھے۔ مگر محمد ﷺ کی روح موجود نہ تھی۔“

٥

صفحہ ١٥

قادیانیوں کے زہریلے عقائد

کیا حسب ذیل عقائد کا معتقد اسلام کا کھلم کھلا دشمن نہیں ہے؟ خداوند کریم کے متعلق غلام احمد قادیانی کا عقیدہ:

(توضیح المرام ص ٧٥، خزائن ج ٣ ص ٩٠)

طرف پھیلے ہوئے ہیں۔“

(توضیح المرام ص ٧٥، خزائن ج ٣ ص ٩٠)

انبیاء کے متعلق قادیانی عقائد

(نزول المسیح ص ١٠٠، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٨)

(حقیقت الوحی ص ٨٩، خزائن ج ٢٢ ص ٩٢)

نبی کریم ﷺ کے متعلق قادیانی کے عقائد

تھی“۔ بلکہ آپ کو ان چیزوں کا علم ناقص دیا گیا تھا۔

(ازالہ اوہام ص ٧٩١، خزائن ج ٣ ص ٤٧٣ ملخص)

میں تمدنی ترقی زیادہ ہوئی ہے اور یہ جزوی فضیلت ہے جو حضرت مسیح موعود کو آنحضرت ﷺ پر حاصل ہے۔ نبی کریم ﷺ کی ذہنی استعدادوں کا پورا ظہور بوجہ تمدن کے نقص کے نہ ہوا ورنہ قابلیت تھی۔“

(ریویو بابت ماہ جون ١٩٢٩ء)

میں زکوٰۃ تھی۔ مگر زکوٰۃ کی روح نہ تھی۔ دنیا میں حج تھا مگر حج کی روح نہ تھی۔ دنیا میں اسلام تھا مگر اسلام کی روح نہ تھی۔ دنیا میں قرآن تھا مگر قرآن کی روح نہ تھی اور اگر حقیقت پر غور کرو تو محمد ﷺ بھی موجود تھے۔ مگر محمد ﷺ کی روح موجود نہ تھی۔“

(مندرجہ الفضل قادیان ج ١٧ نمبر ٧٠ ص ٩)

٥

صفحہ ١٦

ختم نبوت سے صریح انکار

کہ آنحضرتﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ تو میں اسے کہوں گا کہ تو جھوٹا ہے، کذاب ہے۔‘‘

(مرزا محمود، انوار خلافت ص٦٥)

ہزاروں نبی آسکتے ہیں

(مرزا محمود، انوار خلافت ص٦٢)

مرزا قادیانی حقیقی نبی تھے

ہوتا۔ بلکہ حقیقتاً ہوتا ہے۔‘‘

(مرزا محمود، حقیقت النبوۃ ص ١٨١)

’’قرآن کریم اور شریعت اسلام کے رو سے آپ حقیقی نبی تھے۔‘‘

(حقیقت النبوۃ ص١٧٤)

’’خدائے تعالیٰ نے صاف لفظوں میں آپ (مرزا قادیانی) کا نام نبی اور رسول رکھا اور کہیں بروزی اور ظلی نہ کہا۔ پس ہم خدا کے حکم کو مقدم کریں گے۔‘‘

(الحکم مورخہ ٢١ اپریل ١٩١٤ء)

سرور کائنات اور خلیفہ قادیان

ہیں۔ پس اس آیت میں جس رسول احمد نام والے کی خبر دی گئی ہے۔ وہ آنحضرتﷺ نہیں ہو سکتے۔‘‘

(انوار خلافت ص٣٧)

’’اس پیشین گوئی کے مصداق حضرت مسیح موعود ہی ہو سکتے ہیں نہ کوئی اور۔‘‘

(انوار خلافت ص٣٣٠)

احادیث نبوی کے متعلق قادیانی کا عقیدہ

ٹوکرے میں پھینک دیں۔‘‘

(اعجاز احمدی ص٣٠، خزائن ج١٩ ص١٤٠)

لے لوں اور مخالف ہوں ان کو رد کر دوں۔‘‘

(تحفہ گولڑویہ ص١٠، خزائن ج١٧ ص٥١ حاشیہ)

٦

صفحہ ١٧

ف تلوار بھی رکھ دی جائے اور مجھے یہ کہا جائے کہ تم کہو ں گا، تو میں اسے کہوں گا کہ تو جھوٹا ہے، کذاب ہے۔“

(مرزا محمود، انوار خلافت ص ٦٥)

اداروں نبی ہوں گے۔“ (مرزا محمود، انوار خلافت ص ٦٢)

کے رو سے تو نبی کا لفظ آپ پر مجازاً نہیں استعمال

(مرزا محمود، حقیقت النبوۃ ص ١٨١)

کے رو سے آپ حقیقی نبی تھے۔“

(حقیقت النبوۃ ص ١٧٧)

یں میں آپ (مرزا قادیانی) کا نام نبی اور رسول رکھا م کو مقدم کریں گے۔“ (الحکم مورخہ ٢١ اپریل ١٩١٤ء)

م من بعدي اسمه احمد کے مصداق مرزا قادیانی ام والے کی خبر دی گئی ہے۔ وہ آنحضرت ﷺ نہیں

(انوار خلافت ص ٣٧)

رف مسیح موعود ہی ہو سکتے ہیں نہ کوئی اور۔“

(انوار خلافت ص ٣٣٠)

ف ہوں وہ اس لائق ہیں کہ ہم ان کو ردی کے

(اعجاز احمدی ص ٣٠ ، خزائن ج ١٩ ص ١٤٠)

جو احادیث میرے الہام کے موافق ہوں ان کو

(تحفہ گولڑویہ ص ١٠، خزائن ج ١٧ ص ٥١ حاشیہ)

قرآن کریم کے متعلق قادیانی کے عقائد

(ازالہ اوہام ص ١٣٧، خزائن ج ٣ ص ٣٩٣)

(ازالہ اوہام ص ١٤، خزائن ج ٣ ص ١٠٩)

”قرآن خدا کا کلام اور میرے منہ کی باتیں ہیں۔“

(حقیقت الوحی ص ٨٤، خزائن ج ٢٢ ص ٨٧، سراج منیر ص ٣٢، خزائن ج ١٢ ص ٣٤)

فرشتوں کے متعلق قادیانی عقائد

(توضیح المرام ص ٢٩ تا ٣٢، خزائن ج ٣ ص ٦٦ تا ٦٧)

(توضیح المرام ص ٢٩ تا ٣٢، خزائن ج ٣ ص ٦٦ تا ٦٧)

قیامت کے متعلق قادیانی کا عقیدہ

(ازالہ اوہام فہرست کمپیوٹر ایڈیشن ص ٢٦، مرتبہ عبدالحق قادیانی)

حج کے متعلق قادیانی عقیدہ

قادیان کو آیا کریں۔“

(برکات الخلافت ص ٥)

فاطمۃ الزہرہؓ کے متعلق قادیانی کا عقیدہ

ہیں ۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٩، خزائن ج ١٨ ص ٢١٣ حاشیہ)

ابوہریرہؓ کے متعلق قادیانی کا عقیدہ

(اعجاز احمدی ص ٢٣، خزائن ج ١٩ ص ١٢٧)

عبداللہ بن مسعودؓ کے متعلق قادیانی کا عقیدہ

(ازالہ اوہام ص ٥٩٤، خزائن ج ٣ ص ٤٢٢)

٧

صفحہ ١٩

توہین اہل بیت

کربلائے است سیر ہر آنم
صد حسین است در گریبانم

(نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ص ٤٧٧)

اور مدد مل رہی ہے۔ مگر حسین پس تم دشت کربلا کو یاد کرلو۔ اب تک روتے ہو۔ پس سوچ لو۔"

(اعجاز احمدی ص ٨١، خزائن ج ١٩ص ١٨١)

حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور مریم علیہا السلام کے متعلق

خودبین، خدائی کا دعویٰ کرنے والا۔"

(مکتوبات احمدیہ ج ٣ ص ٢٢،٢٣)

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٧، خزائن ج ١١ص ٢٩١ حاشیہ)

باطل ہے بلکہ یہ مشرکین کا عقیدہ ہے۔ کیونکہ عیسیٰ کے پاس عمل تراب تھا۔ جس کے ذریعہ سے وہ لوگوں کو دھوکہ میں ڈالا کرتا تھا اور وہ ایک حوض کی مٹی تھی جس میں روح القدس کا اثر تھا۔ اسی کے سبب وہ مداریوں کی طرح فریب دیتا تھا اور یہ مٹی سامری کی مٹی کی طرح تھی۔"

(ازالہ اوہام ص ٣٢٢، خزائن ج ٣ص ٢٦٣ بلفظہ)

رہا۔"

(ازالہ اوہام ص ٣٠٣، خزائن ج ٣ص ٢٥٤ بلفظہ)

کرنے کے قریب ہوگئے تھے۔"

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٦، خزائن ج ١١ص ٢٩٠ بلفظہ)

یہ ظاہر کیا کہ یہ کتاب مجھ پر آسمان سے نازل ہوئی ہے۔"

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٦، خزائن ج ١١ص ٢٩٠ بلفظہ)

٨

کی کمائی کا عطر اس کے سر پر نہیں ملی تھی۔ ایک کسبی عو نے یحییٰ کو حصور (یعنی عورتوں سے بچنے والا) کہا ہے

بازاری عورت آ کر ان کے سر پر عطر لگاتی تھی۔ ایک جب کہ اپنے استاد کے پاس اس کے حسن و جمال کا د نکال دیا۔"

اور دونوں سیر کے لئے صحرا کو چلے جاتے تھے اور یہ کل ہم افغانی پہاڑی عورتوں کو دیکھتے ہیں کہ وہ ا کے لئے جاتی ہیں اور ان سے حاملہ بھی ہو جاتے حاملہ ہوگئی تھی۔ جب قوم کے بزرگوں کو اس کے حمل یوسف نجار کے ساتھ نکاح پڑھوا لیا اور ان کا یہ حمل یوس

دشمن تھے وہ اس لائق بھی نہیں ہیں کہ ہم ان کو شریف )

یہودی استاد سے توریت کی تعلیم حاصل کی اور بہت دلیل ہے کہ ان کو استاد نے عمدہ تعلیم نہیں دی تھی۔ الدماغ تھے۔ اسی واسطے ان کے بھائی ان پر ہمیشہ غص

ایک منم کہ حس
عیسیٰ کجا است

٩

صفحہ ١٩
میر ہر آنم
است در گریبانم

(نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)

کا فرق ہے۔ کیونکہ مجھے تو ہر ایک وقت خدا کی تائید یاد کر لو۔ اب تک روتے ہو۔ پس سوچ لو۔“

(اعجاز احمدی ص ٦٩، خزائن ج ١٩ ص ١٨١)

سلام کے متعلق

، پیٹو، شرابی، نہ زاہد نہ عابد، نہ حق کا پرستار، متکبر،

(مکتوبات احمدیہ ج ٣ ص ٢٣، ٢٤)

ن نانیاں کسبی اور زنا کار عورتیں تھیں۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٧، خزائن ج ١١ ص ٢٩١ حاشیہ)

پرندہ بنا کر اس میں روح پھونک کر اڑاتا تھا۔ کے پاس عمل تراب تھا۔ جس کے ذریعہ سے وہ بنی تھی جس میں روح القدس کا اثر تھا۔ اسی کے سامری کی مٹی کی طرح تھی۔“

(ازالۃ الاوہام ص ٣٢٢، خزائن ج ٣ ص ٢٦٣ ملخص)

کے ساتھ بائیس سال تک اسی پیشہ میں مشغول

(ازالۃ الاوہام ص ٣٠٣، خزائن ج ٣ ص ٢٥٤ ملخص)

ی کے وجہ سے وہ خدا کے وجود سے بھی انکار

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٦، خزائن ج ١١ ص ٢٩٠ ملخص)

کی کتاب طالمود سے چرایا اور پھر لوگوں پر

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٦، خزائن ج ١١ ص ٢٩٠ ملخص)

کی کمائی کا عطر اس کے سر پر نہیں ملتی تھی۔ ایک کسبی عورت عیسیٰ کی خدمت کرتی تھی۔ اس لئے خدا نے یحییٰ کو حصور (یعنی عورتوں سے بچنے والا) کہا ہے اور عیسیٰ کو نہیں کہا۔“

(دافع البلا ص ٤، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٠ حاشیہ)

بازاری عورت آ کر ان کے سر پر عطر لگاتی تھی۔ ایک بار عیسیٰ ایک نوجوان لڑکی پر عاشق ہو گیا تھا۔ جب کہ اپنے استاد کے پاس اس کے حسن و جمال کا ذکر کیا تو استاد نے اسے اپنی مجلس سے دھکیل کر نکال دیا۔“

(الحکم مورخہ ٢١ /فروری ١٩٠٢ء)

اور دونوں سیر کے لئے صحرا کو چلے جاتے تھے اور یہ بات اس زمانے میں معیوب نہ تھی۔ جیسے کہ آج کل ہم افغانی پہاڑی عورتوں کو دیکھتے ہیں کہ وہ اپنے منسوب شدہ خاوندوں کے ساتھ سیر و تفریح کے لئے جاتی ہیں اور ان سے حاملہ بھی ہو جاتے ہیں۔ علیٰ ہذا القیاس مریم بھی یوسف نجار سے حاملہ ہو گئی تھی۔ جب قوم کے بزرگوں کو اس کے حمل کا حال معلوم ہوا تو ان کے اصرار سے مریم نے یوسف نجار کے ساتھ نکاح پڑھوا لیا اور ان کا یہ حمل یوسف نجار ہی سے تھا۔“

(ایام الصلح ص ٧٢، خزائن ج ١٤ ص ٣٠٠ حاشیہ ملخص)

دشمن تھے وہ اس لائق بھی نہیں ہیں کہ ہم ان کو شریف کہیں۔ چہ جائیکہ ہم ان کو نبی مانیں۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٩، خزائن ج ١١ ص ٢٩٣ حاشیہ ملخص)

یہودی استاد سے توریت کی تعلیم حاصل کی اور بہت بے عقل اور بے سمجھ تھے۔ ان کی بے عقلی کی یہ دلیل ہے کہ ان کو استاد نے عمدہ تعلیم نہیں دی تھی۔ اس واسطے وہ علم و عمل میں بہت ضعیف اور مختل الدماغ تھے۔ اسی واسطے ان کے بھائی ان پر ہمیشہ غضبناک رہتے تھے۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٦، خزائن ج ١١ ص ٢٩٠ حاشیہ)

ایک منم کہ حسب بشارات آمدم
عیسیٰ کجا است تا بنہد پا بمنبرم

٩

صفحہ ٢٠

ترجمہ : یہ میں ہوں کہ بشارتوں کے موافق آیا ہوں ۔ عیسیٰ کی کیا مجال ہے جو میرے مسند پر آ کر پاؤں رکھ سکے۔

(ازالہ اوہام حصہ اوّل ص ١٥٨، خزائن ج ٣ ص ١٨٠)

جملہ مسلمانوں کے متعلق قادیانی کے عقائد

(انجام آتھم ص ٦٢ ، خزائن ج ١١ ص ٦٢)

حرام زادے ہیں

”جو شخص ہماری فتح کا قائل نہ ہوگا تو صاف سمجھا جائے گا کہ اس کو ولد الحرام بننے کا شوق ہے اور حلال زادہ نہیں ۔“

(انوار الاسلام ص ٣١ ، خزائن ج ٩ ص ٣١)

مسلمانوں کی عورتیں کتیوں سے بدتر ہیں

”ہمارے دشمن جنگلوں کے سور ہو گئے ہیں اور ان کی عورتیں کتیوں سے بدتر ہیں ۔“

(نجم الہدیٰ ص ١٠، خزائن ج ١٤ ص ٥٣)

تمام اہل اسلام کافر خارج از دائرہ اسلام ہیں

”سوم یہ کہ کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے۔ خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں اور میں تسلیم کرتا ہوں کہ یہ میرے عقائد ہیں ۔“

(آئینہ صداقت ص ٣٥ ، از مرزا محمود)

کسی مسلمان کے پیچھے نماز جائز نہیں

”ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم غیر احمدیوں کو مسلمان نہ سمجھیں اور ان کے پیچھے نماز نہ پڑھیں ۔ کیونکہ ہمارے نزدیک وہ خدائے تعالیٰ کے ایک نبی (مرزا غلام احمد قادیانی) کے منکر ہیں۔ یہ دین کا معاملہ ہے۔ اس میں کسی کا اپنا اختیار نہیں کہ کچھ کر سکے ۔“

(انوار خلافت ص ٩٠ ، از مرزا محمود)

جائز نہیں جائز نہیں جائز نہیں

”باہر سے لوگ بار بار پوچھتے ہیں ۔ میں کہتا ہوں کہ تم جتنی دفعہ بھی پوچھو گے اتنی دفعہ میں یہی جواب دوں گا کہ غیر احمدی کے پیچھے نماز پڑھنی جائز نہیں، جائز نہیں ، جائز نہیں۔“

(انوار خلافت ص ٨٩)

مسلمانوں سے رشتہ وناتہ جائز نہیں

”غیر احمدیوں کو لڑکی دینے سے بڑا نقصان پہنچتا ہے اور علاوہ اس کے وہ نکاح جائز ہی

١٠

صفحہ ٢١

نہیں ۔ لڑکیاں چونکہ طبعاً کمزور ہوتی ہیں اور ان کی تربیت اعلیٰ پیمانہ پر نہیں ہوئی ہوتی۔ اس لئے وہ جس گھر میں بیاہی جاتی ہیں اس کے خیالات واعتقادات کو اختیار کر لیتی ہیں اور اس طرح اپنے دین کو برباد کر لیتی ہیں۔“

(برکات الخلافت ص ٧٣)

”حضرت مسیح موعود کا حکم اور زبردست حکم ہے کہ کوئی احمدی غیر احمدی کو لڑکی نہ دے۔“

(برکات الخلافت ص ٧٥)

غیر احمدی ہندو اور عیسائیوں کے طرح کافر ہیں

”جو شخص غیر احمدی کو رشتہ دیتا ہے وہ یقیناً حضرت مسیح موعود کو نہیں سمجھتا اور نہ یہ جانتا ہے کہ احمدیت کیا چیز ہے۔ کیا کوئی غیر احمدیوں میں ایسا بے دین ہے جو کسی ہندو یا کسی عیسائی کو اپنی لڑکی دے۔ ان لوگوں کو تم کافر کہتے ہو۔ مگر وہ تم سے اچھے رہے کہ کافر ہو کر بھی کسی کافر کو لڑکی نہیں دیتے۔ مگر تم احمدی کہلا کر کافر کو دیتے ہو۔“

(ملائکۃ اللہ ص ٤٦)

کسی مسلمان کا جنازہ مت پڑھو

”قرآن شریف سے تو معلوم ہوتا ہے کہ ایسا شخص جو بظاہر اسلام لے آیا ہے۔ لیکن یقینی طور پر اس کے دل کا کفر معلوم ہو گیا ہے تو اس کا جنازہ بھی جائز نہیں۔ (نہ معلوم یہ حکم کہاں ہے) پھر غیر احمدی کا جنازہ پڑھنا کس طرح جائز ہو سکتا ہے۔“

(انوار خلافت ص ٩٢)

غیر احمدی کے بچہ کا بھی جنازہ مت پڑھو

”پس غیر احمدی کا بچہ بھی غیر احمدی ہی ہوا۔ اس لئے اس کا جنازہ بھی نہیں پڑھنا چاہئے۔“

(انوار خلافت ص ٩٣)

محترم ناظرین! یہ عقائد ہم نے بہت ہی کم لکھے ہیں۔ انشاء اللہ آئندہ اور بھی وقتاً فوقتاً آپ حضرات کے سامنے ان کے گندہ عقائد پیش کرتے رہیں گے۔ علمائے عرب نے فتویٰ دیا ہے کہ ان عقائد میں سے کسی ایک عقیدہ کا قائل بھی کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔ چہ جائیکہ ان جملہ عقائد کا کوئی قائل ہو تو کفار سے بھی بدتر ہے۔ رسول اللہ ﷺ کو خاتم النبیین ماننا ہر مسلمان کے اسلام پر قائم رہنے کے لئے ضروری ہے۔ خدا کا رسول اللہ کے متعلق یہ فرمانا کہ ”وما ارسلناک الا كافّة للنّاس بشيراً ونذيرا“ اے رسول ہم نے آپ ﷺ کو تمام دنیا کے لوگوں کے لئے قیامت تک بشیر و نذیر بنا کر بھیجا ہے اور پھر قرآن کریم میں خاتم النبیین کا جملہ صاف بتاتا ہے کہ رسول کریم کی ذات پاک پر نبوت کا خاتمہ ہو گیا اور پھر رسول اللہ ﷺ کا صاف

١١

صفحہ ٢٢

اور روشن یہ اعلان کہ لا نبی بعدی یعنی میرے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں ہے۔ جو نبوت کا دعویٰ کرے وہ جھوٹا ہے۔ دجال ہے، مکار اور فریبی ہے۔

افسوس صد افسوس ان تمام دلائل بینہ کے ہوتے ہوئے قادیانیوں اور لاہوریوں کی چشم بصیرت پر گمراہی کے پردے پڑے ہوئے ہیں کہ خدا اور رسول کریم کے مقابلہ میں ایسے شخص کے ساتھ تعاون روا رکھتے ہوئے ہمیشہ کے لئے اپنا ٹھکانہ جہنم بنا رہے ہیں۔

معزز ناظرین! انسان کے کرڑوں گناہ خدا بخشتا ہے اور اگر کوئی بہت بڑا گنہگار صحیح الاعتقاد بغیر توبہ کے بھی مرجائے۔ اگر خدا چاہے تو بغیر عذاب کے بھی داخل جنت کر سکتا ہے یا اس کے گناہوں کے موافق عذاب دینے کے بعد اس کو جنت میں داخل کرتا ہے۔ بہر حال صحیح الاعتقاد بڑے سے بڑے گنہگار بھی جنت میں داخل ہوں گے۔ مگر جب کسی کا اعتقاد خراب ہو جائے تو وہ بحکم قرآن مجید و حدیث رسول ﷺ ہمیشہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا اور بمقتضائے ”رُبَمَا یَوَدُّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَوْ کَانُوْا مُسْلِمِیْنَ“ رسول ﷺ کی گنہگار امت سزا کے بعد جہنم سے نکالتے وقت کافر لوگ آرزو کریں گے کہ کاش ہم بھی مسلمان ہوتے تو اس وقت جہنم سے نکالے جاتے۔

قادیانیوں کے عقائد باطلہ آپ کے سامنے پیش کرنے کے بعد ہم جملہ اراکین مجلس محافظ الاسلام میسور تمام مسلمانان ملک میسور سے عموماً اور مسلمانان بنگلور سے خصوصاً پرزور اپیل کرتے ہیں کہ خدارا وہ اب ہوشیار ہو جائیں اور خدا اور رسول کے دین پاک کی مدد کے لئے اٹھ کھڑے ہوں اور دشمنان اسلام کے حملوں کو روکتے ہوئے اور نہایت جرات کے ساتھ ان کا مقابلہ کرتے ہوئے قیامت کے دن رسول اللہ ﷺ کے سامنے سرخرو ہونے کی سرٹیفکیٹ حاصل کریں۔

٣؍ جون ١٩٣٥ء کو دشمنان شریعت مصطفےٰ کے ساتھ ہمارا مباہلہ ہے

ہوشیار ہوشیار ہوشیار

جملہ ذی حیثیت مسلمانوں سے عموماً اور بنگلور و میسور کے غیور مسلمانوں سے خصوصاً ہم اراکین مجلس محافظ الاسلام میسور کی قوی امید ہے کہ وہ اس پورے مضمون کو ہزاروں کی تعداد میں شائع کر کے مسلمانوں میں تقسیم کرتے ہوئے ثواب عظیم اور اجر جزیل کے مستحق بنیں گے۔

وَمَا عَلَیْنَا اِلَّا الْبَلَاغ !

١٢

خاتم النبیین

قادیانی

حضرت مولانا سی

PDF 24

خاتم النبیین لا نبی بعدی

میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں

قادیانی اسلام

حضرت مولانا سید محمد اسماعیل کٹکیؒ

صفحہ ٢٤

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

تمہید

اس کتاب سے پہلے ”قادیانی قرآن“ شائع کی گئی تھی۔ جس میں مرزا قادیانی کے وحی والہام سے صرف چند نمونے پیش کئے گئے تھے۔ جسے مسلمانوں نے غور سے پڑھا اور شوق سے قبول کیا اور اس سے بھولے بھالے مسلمانوں کو بہت فائدہ پہنچا۔ اس کتاب کا مطالعہ کیا ہوا کوئی مسلمان انشاء اللہ قادیانی جال میں نہیں پھنس سکتا۔ جس سے قادیانی امت سخت بوکھلاہٹ میں پڑ گئی ہے۔ کوئی کہہ رہا ہے کہ اس کے حوالے غلط ہیں۔ کبھی کہا جاتا ہے کہ اس کے شروع و آخر کی عبارت چھوڑ کر صرف درمیان کی عبارت لکھ دی گئی ہے اور بعض یہ اڑا رہے ہیں کہ ”قادیانی قرآن“ کا جواب قادیان سے بہت جلد شائع ہو رہا ہے۔ غرض یہ کہ قادیانی امت کا ہر فرد جس نے بھی اس کتاب کا ایک مرتبہ مطالعہ کیا ہے۔ پریشان و سرگرداں ہے اور کسی نہ کسی طرح اپنے گم شدہ حواس کو ٹھکانے لگانے کی فکر میں مبتلا ہے۔ تعجب نہیں کہ شاید کوئی قادیانی اس کے جواب کے لئے بھی ناکام کوشش میں لگا ہو۔ مگر یاد رہے کہ اس کا جواب بھی اس کے جھوٹے نبی مرزا قادیانی کے جواب سے زیادہ حقیقت نہیں رکھ سکتا۔ جیسا کہ مرزا قادیانی نے قرآنی اعجاز کے باطل کرنے کے خیال سے ”اعجاز المسیح“ اور ”اعجاز احمدی“ شائع کیا تھا۔

قادیانی امت اسلامی لباس اور اسلامی نام وغیرہ سے مسلمانوں کو ہمیشہ یہ دھوکہ دینا چاہتی ہے کہ وہ بھی اسلام میں داخل ہے اور جس طرح حنفی و شافعی وغیرہ کا آپس میں اختلاف ہے اور وہ سب مسلمان ہیں۔ اسی طرح قادیانی بھی ختم نبوت اور حیات عیسیٰ علیہ السلام وغیرہ میں اختلاف رکھتے ہوئے اسلام میں داخل ہیں۔ حالانکہ یہ ان کا سراسر دجل ہے۔ اس لئے کہ مسلمانوں کے جتنے فرقے ہیں وہ سب اس بات پر متفق ہیں کہ آنحضرت ﷺ آخری نبی ہیں اور آپ ﷺ کے بعد قیامت تک پھر کوئی دوسرا نبی نہیں آسکتا اور یہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ موجود ہیں۔ نیز یہ کہ جو بھی سرکار دو عالم ﷺ کی توہین کرتا ہے وہ کافر ہے۔ بلکہ جو شخص اس کے کفر میں شک کرے وہ بھی کافر ہے۔ ان عقائد میں کسی ایک مسلمان کا بھی اختلاف نہیں۔ مگر قادیانی ان تینوں عقیدوں کے خلاف اپنا عقیدہ رکھتے ہیں۔ وہ مرزا غلام احمد قادیانی کو ایک نیا نبی مانتے ہیں۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ

٢

صفحہ ٢٥

بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم

تمہید

”قادیانی قرآن“ شائع کی گئی تھی۔ جس میں مرزا قادیانی کے وحی جمع کئے گئے تھے۔ جسے مسلمانوں نے غور سے پڑھا اور شوق سے پڑھا اور مسلمانوں کو بہت فائدہ پہنچا۔ اس کتاب کا مطالعہ کیا ہوا کوئی شخص گمراہ نہیں ہو سکتا۔ جس سے قادیانی امت سخت بوکھلاہٹ میں پڑ گئی ہے۔ اور تلملا اٹھی ہے۔ کبھی کہا جاتا ہے کہ اس کے شروع و آخر کی عبارتیں الگ دی گئی ہے اور بعض یہ اڑا رہے ہیں کہ ”قادیانی قرآن“ غلط چھاپا گیا ہے۔ غرض یہ کہ قادیانی امت کا ہر فرد جس نے اسے پڑھا ہے پریشان و سرگرداں ہے اور کسی نہ کسی طرح اپنے گم شدہ وقار کو بچانا چاہتی ہے کہ شاید کوئی قادیانی اس کے جواب کے لئے تیار نہیں ہے۔ اس کا جواب بھی اس کے جھوٹے نبی مرزا قادیانی کے ذمہ ہے کہ مرزا قادیانی نئے قرآنی اعجاز کے باطل کرنے کے لئے شائع کیا تھا۔

مرزائی امت وغیرہ مسلمانوں کو ہمیشہ یہ دھوکہ دینا چاہتی ہے کہ ان کی طرح حنفی و شافعی وغیرہ کا آپس میں اختلاف ہے اور وہ ختم نبوت اور حیات عیسیٰ علیہ السلام وغیرہ میں اختلاف رکھتے ہیں ان کا سراسر دجل ہے۔ اس لئے کہ مسلمانوں کے جتنے فرقے ہیں سب آنحضرت ﷺ کو آخری نبی مانتے ہیں اور آپ ﷺ کے بعد کسی کو نبی نہیں مانتے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ موجود ہیں۔ نیز ان کی دوبارہ آمد کے قائل ہیں۔ جو شخص اس کے کفر میں شک کرے وہ بھی کافر ہے۔ مگر قادیانی ان تینوں عقیدوں کے سراسر خلاف ہیں۔ وہ مرزا قادیانی کو ایک نبی مانتے ہیں۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ

علیہ السلام کو مردہ خیال کرتے ہیں اور ان کی قبر کبھی ملک شام گلیل میں اور کبھی کشمیر سری نگر میں بتاتے ہیں اور نعوذ باللہ ثم نعوذ باللہ مرزا غلام احمد علیہ ما علیہ کو سرکار دو عالم ﷺ (فداہ ابی وامی) سے بڑھ چڑھ کر یقین کرتے ہیں۔ جیسا کہ اس کتاب کے مطالعہ سے ہر شخص معلوم کر سکتا ہے۔ ہمارا اور قادیانیوں کا کوئی جزوی یا معمولی اختلاف نہیں ہے۔ بلکہ یہ ایک اصولی بنیادی اختلاف ہے۔ جنت اور دوزخ کا اختلاف ہے۔ ایمان و کفر کا اختلاف ہے۔ قادیانی دنیا کے نوے کروڑ مسلمانوں کو دوزخی اور کافر سمجھتے ہیں اور مسلمان بھی اس مٹھی بھر قادیانی امت کو دوزخی اور کافر سمجھتے ہیں۔

علاوہ ان اصولی اختلاف کے اور بھی سینکڑوں اختلاف اہل اسلام اور قادیانیوں میں ہیں۔ ان میں کچھ مشتے نمونہ از خروارے کے طور پر ہم اس کتاب میں پیش کرتے ہیں۔ تا کہ بھولے بھالے اور اسلام سے بے خبر مسلمانوں پر دن کی روشنی کی طرح ظاہر ہو جائے کہ قادیانیوں کے ظاہری اسلامی غلاف کا اصل دین اسلام سے کوئی دور کا بھی واسطہ نہیں۔

چراغ مردہ کجا شمع آفتاب کجا
ببیں تفاوت راہ از کجاست تا بکجا

”قادیانی قرآن“ کے حوالوں کی طرح اس کتاب کے ہر حوالے کے لئے بھی ہم اعلان کرتے ہیں کہ اگر کوئی قادیانی یا ان کا کوئی پنڈت یہ ثابت کر دے کہ اس کتاب کا فلاں حوالہ غلط ہے یا اس کا ترجمہ غلط کیا گیا ہے یا اصل عبارت میں ایسی کتر بیونت کی گئی ہے۔ جس سے اصل معنی بدل گئے ہیں تو ہم اس کے فی حوالہ دس روپے دینے کو تیار ہیں۔ مگر یہ بھی یاد رہے کہ کوئی قادیانی اس کی جرأت نہیں کر سکتا اور نہ کرے گا۔ یوں گھر بیٹھ کر اپنی جماعت میں شیخی بگھارنی اور بات ہے۔

نما بصاحب نظرے گوہر خود را
عیسیٰ نتواں گشت بتصدیق خر چند

احقر : سید محمد اسماعیل عفی عنہ

(نوٹ) یہ کتاب آج سے تقریباً چالیس سال قبل شائع ہوئی تھی۔ مگر نایاب ہو گئی تھی۔ چونکہ اس وقت قادیانی فتنہ پھر سے سانس لینے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس لئے اس کو دوبارہ مجلس علمیہ آندھرا پردیش نے شائع کیا ہے۔ مجلس علمیہ آندھرا پردیش علماء کرام کی موقر جماعت ہے۔ یہ جماعت اور اس کے ارکان علماء رد قادیانیت اور تحفظ ختم نبوت کے عظیم اور مبارک کام میں مصروف ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس کی مساعی کو قبول فرمائے۔ آمین!

صفحہ ٢٦

قادیانی اسلام

اصل اسلام سے تو تھوڑی بہت ہر مسلمان کو واقفیت ہے کہ اسلام ایمان، نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃ کے مجموعہ کو کہا جاتا ہے۔ مگر ذرا مرزا قادیانی کی بھی سن لیجئے کہ ان کے نزدیک اسلام کے ارکان کیا ہیں:

کام ہے۔ سو میرا مذہب جس کو میں بار بار اظہار کرتا ہوں یہی ہے کہ اسلام کے دو حصے ہیں۔ ایک یہ کہ خدا تعالیٰ کی اطاعت کرے۔ دوسرے اس سلطنت کی...... اگر ہم گورنمنٹ برطانیہ سے سرکشی کریں تو گویا اسلام اور خدا اور رسول سے سرکشی کرتے ہیں۔“

(شہادت القرآن ص ٨١، خزائن ج ٦ ص ٣٨٠، ٣٨١)

گونج رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا یہ غلط ہے کہ دوسرے لوگوں سے ہمارا اختلاف صرف وفات مسیح یا چند مسائل میں ہے۔ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی ذات، رسول کریم ﷺ، قرآن، نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ غرض یہ کہ آپ نے (مرزا قادیانی نے) تفصیل سے بتایا کہ ایک ایک چیز میں ہمیں ان (مسلمانوں) سے اختلاف ہے۔“

(الفضل قادیان مورخہ ٣٠ جولائی ١٩٣١ء، خطبہ مرزا محمود)

(قادیانیت) کا ذکر نہیں۔ اسے آپ اسلام ہی نہیں سمجھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت خلیفہ اوّل (حکیم نور الدین) نے اعلان کیا تھا کہ ان کا (مسلمانوں کا) اسلام اور ہے اور ہمارا (قادیانیوں کا) اسلام اور ہے۔“

(روزنامہ الفضل قادیان مورخہ ٣١ دسمبر ١٩١٤ء)

خواہ مخواہ غیر احمدیوں (مسلمانوں) کو مسلمان ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔“

(کلمۃ الفصل ص ١٢٩)

چوں دور خسروی آغاز کردند
مسلماں را مسلماں باز کردند

اس الہامی شعر میں اللہ تعالیٰ نے مسئلہ کفر و ایمان کو بڑی وضاحت سے بیان کیا ہے۔ اس میں خدا نے غیر احمدیوں کو مسلمان بھی کہا ہے اور پھر ان کے اسلام کا انکار بھی کیا ہے۔ مسلمان تو اس لئے کہا کہ وہ مسلمان کے نام سے پکارے جاتے ہیں اور جب تک یہ لفظ استعمال نہ کیا

٤

جائے لوگوں کو پتہ نہیں چلتا کہ کون مراد ہے۔ مگر ا خدا کے نزدیک مسلمان نہیں ہیں۔“

دیکھا آپ نے، مرزا قادیانی اور ان کے کو یہ کہہ کہہ کر فریب دیا جاتا ہے کہ یہ مولوی بڑے ہی اور دوسری طرف اپنی امت کو یہ تعلیم دی جاتی ہے کہ مسل

”میں (مرزا قادیانی) افسوس سے لکہ نتیجہ احد الفریقین کا کافر ہونا ہے۔ اس خط میں سکا۔“

ہندوستان کے مسلمانوں کی طرف نہیں لکھا گیا۔ مصر و شام وغیرہ اسلامی ممالک بھی ہیں۔ مگر جب بعد یوں شروع ہوتا ہے اور دیکھئے ١٩٠٢ء میں جب حضرت مسیح موعود کے متعلق ایک اشتہار شائع ہوا دعوۃ الندوہ کے نام سے ایک رسالہ لکھا جس میں علمائے ندوہ کو مخاطب کیا۔ اس سے بدرجہ اولیٰ ثاب نہیں سمجھتے تھے۔ بلکہ کافر قرار دیتے تھے اور جس کی شخص کا فرض ہے۔“

والا مسلمان نہیں۔

کے برابر وقعت نہیں دیتے جو احمدی کہلا کر غیر احمدی کو م کے منکروں کو خدا مسلمان نہیں جانتا تو ہم کون ہیں کہ اس

باعتبار مذہبی اصول کے مسلمانوں کے تمام فرقوں

صفحہ ٢٧

جائے لوگوں کو پتہ نہیں چلتا کہ کون مراد ہے۔ مگر ان کے اسلام کا اس لئے انکار کیا گیا ہے کہ وہ اب خدا کے نزدیک مسلمان نہیں ہیں۔“

(کلمۃ الفصل ص ١٤٣)

دیکھا آپ نے، مرزا قادیانی اور ان کے صاحبزادہ کی اصل تعلیم یہ ہے کہ ایک طرف تو لوگوں کو یہ کہہ کہہ کر فریب دیا جاتا ہے کہ یہ مولوی بڑے ہی تنگ نظر ہیں۔ بات بات پر کفر کا فتویٰ لگا دیتے ہیں اور دوسری طرف اپنی امت کو یہ تعلیم دی جاتی ہے کہ سوائے اپنے دنیا بھر کے مسلمانوں کو کافر سمجھو۔

”میں (مرزا قادیانی) افسوس سے لکھتا ہوں کہ آپ کے فتویٰ تکفیر کی وجہ سے جس یقینی نتیجہ احد الفریقین کا کافر ہونا ہے۔ اس خط میں سلام مسنون یعنی السلام علیکم سے ابتداء نہیں کر سکا۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٢٨٩، خزائن ج ٥ ص ٢٨٩)

ہندوستان کے مسلمانوں کی طرف نہیں لکھا گیا۔ بلکہ اس کے مخاطب مشائخ ہند اور زہاد و صوفیائے مصر و شام وغیرہ اسلامی ممالک بھی ہیں۔ مگر جب ہم دیکھتے ہیں تو وہ بغیر سلام مسنون بسم اللہ کے بعد یوں شروع ہوتا ہے اور دیکھئے ١٩٠٢ء میں جب علمائے ندوہ کا جلسہ امرتسر میں ہوا تو اس وقت حضرت مسیح موعود کے متعلق ایک اشتہار شائع ہوا۔ جس کے جواب میں آپ نے ایک ہی دن میں دعوۃ الندوہ کے نام سے ایک رسالہ لکھا جس میں بغیر سلام مسنون کے ”التبلیغ“ کے عنوان سے علمائے ندوہ کو مخاطب کیا۔ جس سے بدرجہ اولیٰ ثابت ہوا کہ آپ (مرزا قادیانی) بھی ان کو مسلمان نہیں سمجھتے تھے۔ بلکہ کافر قرار دیتے تھے اور جس کو حضرت مسیح موعود کافر قرار دیں اس کو کافر سمجھنا ہر شخص کا فرض ہے۔“

(الفضل قادیان مورخہ ٢٢؍جولائی ١٩٢٠ء)

والا مسلمان نہیں۔

کے برابر وقعت نہیں دیتے جو احمدی کہلا کر غیر احمدی کو مسلمان جانتا ہے۔ پس جب مسیح موعود کہتا ہے کہ اس کے منکروں کو خدا مسلمان نہیں جانتا تو ہم کون ہیں کہ اس بات کا انکار کریں۔“

(کلمۃ الفصل ص ١٤٣)

بااعتبار مذہبی اصول کے مسلمانوں کے تمام فرقوں میں سے گورنمنٹ کا وفادار اور جانثار یہی ایک نیا

٥

صفحہ ٢٩

فرقہ ہے۔“

(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ١٥)

دیکھ لیجئے! مذکورہ بالا حوالوں میں مرزا قادیانی اور ان کے صاحبزادے نے کس صفائی سے دنیا بھر کے علماء و مشائخ و صوفیاء اور عام مسلمانوں کو ایک قلم کافر بنا دیا۔ اس سے صاف طور پر معلوم ہو گیا کہ اصل اسلام اور ہے اور قادیانی اسلام اور ہے۔

کلمہ شریف

اسلام کا بنیادی پتھر ہی کلمہ ”لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ“ ہے۔ جسے دل سے سچا سمجھ کر زبان سے ادا کئے بغیر کوئی مؤمن نہیں ہو سکتا۔ اس کا نام ایمان ہے اور تمام عبادات اسی پر موقوف ہیں۔ اس کے بغیر تمام عبادت بیکار ہے اور سب نیکی اکارت۔ اس کے یہ معنی ہیں کہ اللہ تعالیٰ ایک اکیلا ہے۔ اس کی ذات وصفات میں کوئی اس کا شریک نہیں۔ اس لئے کہ کوئی اس جیسا نہیں۔ وہ بے عیب ہے اور جسم و جسمانیت سے پاک ہے اور حضرت احمد مجتبیٰ محمد مصطفیٰ ﷺ اس کے سچے اور آخری رسول ہیں۔ قیامت تک یہی دین اور یہی کلمہ باقی رہے گا۔ اگر (نعوذ باللہ ) آنحضرت ﷺ آخری رسول نہ ہوں تو پھر اسلام بھی سچا مذہب نہیں رہ سکتا۔ مگر مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کی امت کا ایمان اس کلمہ شریف پر نہیں ہے۔ اس لئے کہ مرزا قادیانی کے الہام اور وحی کو اگر (نعوذ باللہ ) سچا مان لیا جائے تو اس کے اعتبار سے خدا کبھی ٹھیک بھی کرتا ہے اور کبھی بھول بھی جاتا ہے۔ مرزا قادیانی کی وحی ہے:

(تذکرہ ص ٤٦١)

( میں افطار بھی کروں گا اور روزہ بھی رکھ لوں گا )

(تذکرہ ص ٤٢٨)

(تذکرہ ص ٤٢٩)

بھی ہے اور مرزا قادیانی اس کے پاس مسل لے کر دستخط بھی کرالاتے ہیں اور دستخط سے پہلے خدا تعالیٰ لال سیاہی سے مرزا قادیانی اور ان کے مرید عبداللہ سنوری کے کرتے ٹوپی کو بھی رنگ دیتا ہے۔“

(سرمہ چشم آریہ ص ١٤١، ١٤٢، خزائن ج ٢ ص ١٧٩، ١٨٠)

مرزا قادیانی ہیں اور خدا کا بیٹا بھی ہو سکتا ہے۔ جو مرزا قادیانی ہے اور اس کا باپ بھی ہو سکتا ہے جو مرزا ہے۔

٦

غرض یہ کہ خدا تعالیٰ کے متعلق اس قدر پلید کے نہ ہوں گے۔ جیسا کہ مرزا قادیانی اور قادیانی ام

خود اپنے آپ کو محمد واحمد کہتا ہے۔ چنانچہ اس کا مشہور شعر

منم مسیح زمان و
منم محمد واحمد کہ

میں ہی محمد مصطفیٰ اور احمد مجتبیٰ ہوں۔ پھر مرزا قادیانی کا ایک الہام ہے۔ ”من عرفني وما رأى “ یعنی جس نے مجھ (مرزا قادیان نے نہ مجھ کو جانا اور نہ پہچانا۔

آنحضرت ﷺ کا ہی وجود قرار دیا ہے۔“

رسول اللہ فرمایا ہے۔“

(تقری

صدی چودھویں کا
کہ جس پہ وہ بدر الدج
حقیقت کھلی بعثت ثانی
کہ جب مصطفےٰ میرزا
محمد پھر اتر آئے
آگے سے بڑھ کر ہیں
محمد دیکھنے ہوں جس
غلام احمد کو دیکھے

(البدر قادیا

٧

صفحہ ٢٩

(مجموعہ اشتہارات ج٣ ص١٥)

میں مرزا قادیانی اور ان کے صاحبزادے نے کس صفائی تمام مسلمانوں کو ایک قلم کافر بنا دیا۔ اس سے صاف طور پر قادیانی اسلام اور ہے۔

کلمہ ”لا اله الا الله محمد رسول الله“ ہے۔ جسے دل سے مانے بغیر کوئی مومن نہیں ہو سکتا۔ اس کا نام ایمان ہے اور تمام عبادات اس کے بغیر بیکار ہے اور سب نیکی اکارت۔ اس کے یہ معنی ہیں کہ اس کی اطاعت میں کوئی اس کا شریک نہیں۔ اس لئے کہ کوئی اس کے سوا معبود نہیں ہے بے عیب ہے اور حضرت احمد مجتبیٰ محمد مصطفیٰ ﷺ قیامت تک یہی دین اور یہی کلمہ باقی رہے گا۔ اگر (نعوذ باللہ) یہ کلمہ منسوخ ہو تو پھر اسلام بھی سچا مذہب نہیں رہ سکتا۔ مگر مرزا غلام احمد قادیانی کا یہ عقیدہ نہیں ہے۔ اس لئے کہ مرزا قادیانی کے الہام اور اس کے اعتبار سے خدا کبھی ٹھیک بھی کہتا ہے اور کبھی بھول

غلطیاں بھی کروں گا اور صواب بھی۔

(تذکرہ ص ٤٦٢)

اور میرا رب بھی روزہ بھی رکھ لیتا ہے۔ ”افطر واصوم“ (کرتا ہے)

(تذکرہ ص ٤٢٨)

(تذکرہ ص ٤٢٩)

اسی طرح عدالت کی کرسی پر بیٹھ جاتا ہے۔ اس کا ایک کلرک پیشی کی مثل لے کر دستخط بھی کراتا ہے اور دستخط سے پہلے سرخ روشنائی کے چھینٹے مرزا عبداللہ سنوری کے کرتے اور ٹوپی کو بھی رنگ دیتا ہے۔

(سرمہ چشم آریہ ص ١٣١، ١٣٢، خزائن ج٢ ص ١٧٩، ١٨٠)

وہ خدا (عورت) بنتا ہے اور اس کے (یعنی خدا کے) پانی سے پیدا بھی ہوتا ہے اور اس کا باپ بھی ہو سکتا ہے جو مرزا ہے۔

غرض یہ کہ خدا تعالیٰ کے متعلق اس قدر لچر اور الحاد سے پر عقائد شاید دنیا کے کسی مذہب کے نہ ہوں گے۔ جیسا کہ مرزا قادیانی اور قادیانی امت کے ہیں۔

خود اپنے آپ کو محمد واحمد کہتا ہے۔ چنانچہ اس کا مشہور شعر ہے۔

منم مسیح زماں منم کلیم خدا
منم محمد واحمد کہ مجتبیٰ باشد

میں ہی محمد مصطفیٰ اور احمد مجتبیٰ ہوں۔

(درثمین فارسی ص ١٣٨)

پھر مرزا قادیانی کا ایک الہام ہے۔ ”من فرق بيني وبين المصطفى فما عرفني وما رأی“ یعنی جس نے مجھ (مرزا قادیانی) میں اور محمد مصطفیٰ ﷺ میں فرق کیا اس نے نہ مجھ کو جانا اور نہ پہچانا۔

(خطبہ الہامیہ ص ١٧١، خزائن ج١٦ ص ٢٥٩)

آنحضرت ﷺ کا ہی وجود قرار دیا ہے۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٨، خزائن ج١٨ ص ٢١٢)

رسول اللہ فرمایا ہے۔“

(تقریر سرور شاہ قادیانی، الفضل قادیانی ١٧؍ دسمبر ١٩١٤ء)

صدی چودھویں کا ہوا سر مبارک
کہ جس پہ وہ بدرالدجیٰ بن کے آیا
حقیقت کھلی بعثت ثانی کی ہم پر
کہ جب مصطفیٰ مرزا بن کے آیا

(الفضل قادیان مورخہ ٢٨؍ مئی ١٩٢٨ء)

محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں
آگے سے بڑھ کر ہیں اپنی شاں میں
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل
غلام احمد کو دیکھے قادیاں میں

(البدر قادیان ج٢ نمبر ٤٣ ص ١٤، دیوان قاضی اکمل قادیانی)

٧

صفحہ ٣٠

نعوذ باللہ ثم نعوذ باللہ! مذکورہ بالا چند حوالوں سے آپ نے اچھی طرح سمجھ لیا ہوگا کہ محمد رسول اللہ ﷺ کے متعلق قادیانیوں کا کیا عقیدہ ہے۔ لہٰذا کلمہ شریف پر کسی طرح بھی قادیانیوں کا یقین نہیں۔ اس لئے کہ مذکورہ بالا حوالوں سے معلوم ہوتا ہے کہ خود مرزا غلام احمد قادیانی، محمد واحمد ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔ نعوذ باللہ! گویا محمد تو ایک وہ ہوئے جن کا کلمہ دنیا کا ہر مسلمان پڑھتا ہے اور دوسرا نعوذ باللہ وہ محمد جو مرزا غلام احمد بنا ہے۔ اگر اصلی محمد ﷺ ہیں تو مرزا غلام احمد جھوٹا اور اگر مرزا غلام احمد قادیانی محمد ہے تو کلمہ غلط۔ لہٰذا ہر صورت سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ قادیانی امت صرف لوگوں کو پھانسنے کے لئے زبانی کلمہ پڑھ کر دھوکہ دیتی ہے۔ ”و ما یخدعون الا انفسهم“ کے مصداق بنتی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ قادیانی اسلام کی طرح قادیانی کلمہ بھی الگ ہے۔

قرآن شریف

قرآن شریف کے بارے میں ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ یہ خدا کا آخری کلام ہے جو حضرت محمد ﷺ پر نازل ہوا۔ لیکن تمام مرزائی، مرزا قادیانی کی وحی کو بھی قرآن کے برابر مانتے ہیں۔ بہر حال ہم یہاں چند حوالے درج کرتے ہیں تاکہ مقصود اچھی طرح واضح ہو جائے۔

اختلاف ہو ہی نہیں سکتا۔“

(الفضل قادیان مورخہ ٣٠؍اپریل ١٩١٥ء)

رسول اللہ ﷺ کو بھی قرآن میں یہی حکم ملا اور بعدہ حضرت احمد (مرزا غلام احمد قادیانی) علیہ الصلوٰۃ والسلام کو ملا۔“

(رسالہ احمدی ص ٥)

پہلی بعثت میں محمد ہے تو اب احمد ہے
مجھ پہ پھر اترا ہے قرآن رسولِ مدنی

(الفضل قادیان مورخہ ١٦؍اکتوبر ١٩٢٢ء)

اپنی طرف سے نہیں بولتا۔ بلکہ جو کچھ کہ تم سنتے ہو یہ خدا کی وحی ہے۔“

(تذکرہ ص ٣٧٨)

(تذکرہ ص ٥٤١)

(تذکرہ ص ٦٧٤)

٨

اور علی وجہ البصیرت یقین ہے کہ بیت اللہ میں

ہوگا۔“

اس کھلی وحی پر ایمان لاتا ہوں جو مجھ پر ہوئی ہ

کہ قرآن شریف پر۔“

ان دس حوالوں سے آپ اچھی ط خدا کی آخری کتاب مانتے ہیں۔ ٹھیک اسی الہام کو قرآن سمجھتی ہے۔ اس لئے اسلام و کفر

حدیث شریف

حدیث شریف کے بارے میں اللہ کے رسول محمد مصطفے ﷺ نے اپنے ارشاد تفصیل بیان فرمائی۔ لیکن قادیانی کیا سمجھتے ہیں

قرآن اور وہ وحی ہے جو مجھ پر نازل ہوئی۔ قرآن کے مطابق ہیں اور میری وحی کے م پھینک دیتے ہیں۔“

کو چاہے خدا سے حکم پا کر قبول کرے اور جس ہ

معتبر ہیں۔ کیونکہ حدیث ہم نے آنحضرت ﷺ

صفحہ ٣١

ان حوالوں سے آپ نے اچھی طرح سمجھ لیا ہوگا کہ محمد ہے، لہٰذا کلمہ شریف پر کسی طرح بھی قادیانیوں کا معلوم ہوتا ہے کہ خود مرزا غلام احمد قادیانی، محمد واحمد ہوئے جن کا کلمہ دنیا کا ہر مسلمان پڑھتا ہے اور اگر اصلی محمد ﷺ ہیں تو مرزا غلام احمد جھوٹا اور اگر صورت سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ قادیانی امت کو دیتی ہے۔ ”وما یخدعون الا انفسہم“ اسلام کی طرح قادیانی کلمہ بھی الگ ہے۔

ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ یہ خدا کا آخری کلام ہے جو حضرت قادیانی کی وحی کو بھی قرآن کے برابر مانتے ہیں۔ تاکہ مقصود اچھی طرح واضح ہو جائے۔ کے الہامات دونوں خدا کے کلام ہیں۔ دونوں میں

(الفضل قادیان مورخہ ٣٠ اپریل ١٩١٥ء)

باطل ہے کہ ان کی وحی پر ایمان لایا جائے۔ حضرت محمد بوجہ حضرت احمد (مرزا غلام احمد قادیانی) علیہ الصلوٰۃ

(رسالہ احمدی ص ٥)

ہے تو اب احمد ہے
ہے قرآن رسول مدنی

والا وحی یوحی“ یہ (مرزا غلام احمد قادیانی) یہ خدا کی وحی ہے۔“

(تذکرہ ص ٣٧٨)

مرے (مرزا قادیانی کے) منہ کی باتیں ہیں۔“

(تذکرہ ص ٦٤١)

کی طرح ہوں۔

(تذکرہ ص ٦٧٤)

٨

اور علیٰ وجہ البصیرت یقین ہے کہ بیت اللہ میں کھڑا کر کے جس قسم کی چاہو قسم دے دو۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٣، خزائن ج ١٨ ص ٢١٠)

ہوگا۔“

(حقیقت الوحی ص ٣٩١، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٧)

اس کھلی وحی پر ایمان لاتا ہوں جو مجھ پر ہوئی۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٦، خزائن ج ١٨ ص ٢١٠)

کہ قرآن شریف پر۔“

(حقیقت الوحی ص ٢١١، خزائن ج ٢٢ ص ٢٢٠)

ان دس حوالوں سے آپ اچھی طرح جان سکتے ہیں کہ ہم جس طرح قرآن شریف کو خدا کی آخری کتاب مانتے ہیں۔ ٹھیک اسی طرح قادیانی نبی اور اس کی امت مرزا قادیانی کے الہام کو قرآن سمجھتی ہے۔ اس لئے اسلام وکلمہ شریف کے مانند قادیانیوں کا قرآن بھی الگ ہے۔

حدیث شریف

حدیث شریف کے بارے میں ہمارا یہ یقین ہے کہ وہ اسلام میں حجت ودلیل ہے۔ اللہ کے رسول محمد مصطفےٰ ﷺ نے اپنے ارشادات واعمال کے ذریعہ قرآن کریم کے احکام کی تشریح وتفصیل بیان فرمائی۔ لیکن قادیانی کیا سمجھتے ہیں ملاحظہ فرمائیے:

قرآن اور وہ وحی ہے جو مجھ پر نازل ہوئی۔ ہاں تائیدی طور پر ہم وہ حدیثیں بھی پیش کرتے ہیں جو قرآن کے مطابق ہیں اور میری وحی کے معارض نہیں اور دوسری حدیثوں کو ہم ردی کی طرح پھینک دیتے ہیں۔“

(اعجاز احمدی ص ٣١، خزائن ج ١٩ ص ١٤٠)

کو چاہے خدا سے حکم پا کر قبول کرے اور جس ڈھیر کو چاہے خدا سے علم پا کر رد کر دے۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ١٠، خزائن ج ١٧ ص ٥١ حاشیہ)

معتبر ہیں۔ کیونکہ حدیث ہم نے آنحضرت ﷺ کے منہ سے نہیں سنی۔“

(الفضل قادیان مورخہ ٢٩ اپریل ١٩١٥ء، بیان مرزا محمود)

٩

صفحہ ٣٣

قرآن شریف کو مرزا قادیانی نے اپنے منہ کی باتیں کہا اور اپنی وحی کو قرآن قرار دیا اور حدیث شریف سے یہ کہہ کر پیچھا چھڑایا کہ میں حکم ہوں۔ مجھے اختیار ہے کہ جس حدیث کو چاہوں قبول کروں اور جسے چاہوں ردی کی ٹوکری میں پھینک دوں۔ کوئی ان عقل کے اندھوں سے پوچھے کہ مرزا قادیانی کو یہ ڈکٹیٹر شپ کس طرح مل گئی۔ اصل جھگڑا تو ان کی ڈکٹیٹری کا ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی جھوٹا ہے وہ حکم نہیں بن سکتا فلاں حدیث کی رو سے، اور مرزا قادیانی کہتا ہے کہ میں حکم ہوں۔ میں تمہاری حدیث ہی کو نہیں مانتا۔ آپ ہی غور کریں کہ یہ سوال دیگر و جواب دیگر ہے کہ نہیں۔ اگر ہم مرزا قادیانی کو حکم مان لیتے تو پھر اسے حدیث کی رو سے جھوٹا کیوں کہتے۔

من چہ می سرایم و طنبورہ من چہ می سراید

اس کو کہا جاتا ہے۔

جب قرآن شریف اور حدیث شریف کے متعلق مرزا قادیانی اور مرزائی امت کا یہ عقیدہ ہے تو پھر ان سے بحث و مناظرہ کس دلیل سے اور کس طرح کیا جاسکتا ہے؟ مولانا روم فرماتے ہیں

حملہ برخود میکنی اے سادہ مرد
مثل آں شیرے کہ برخود حملہ کرد

اسی طرح یہ قادیانی بھی قرآن وحدیث پر حملہ نہیں کرتے۔ بلکہ خود اپنی سمجھ اور علم وعقل پر اپنے ہاتھ سے تیز کلہاڑا چلا رہے ہیں۔

حرمین شریفین

بیٹھ کر قرآن شریف کی تلاوت کر رہے ہیں اور پڑھتے پڑھتے انہوں نے ان فقرات کو پڑھا۔ ”انا انزلناہ قریباً من القادیان“ تو میں نے سن کر بہت تعجب کیا کہ کیا قادیان کا نام بھی قرآن شریف میں لکھا ہوا ہے۔ تب انہوں نے کہا یہ دیکھو کیا لکھا ہوا ہے۔ تب میں نے نظر ڈال کر جو دیکھا تو معلوم ہوا کہ فی الحقیقت قرآن شریف کے داہنے صفحے میں قریب نصف کے موقعہ پر یہی الہامی عبارت لکھی ہوئی موجود ہے۔ تب میں نے اپنے دل میں کہا کہ ہاں واقعی طور پر قادیان کا نام قرآن شریف میں درج ہے اور میں نے کہا کہ تین شہروں کا نام اعزاز کے ساتھ قرآن شریف میں درج کیا گیا ہے۔ مکہ اور مدینہ اور قادیان۔“

(ازالہ اوہام ص ٧٧، خزائن ج ٣ ص ١٤٠)

قادیانی امت غور کرے کہ مرزا قادیانی کا یہ کشف شیطانی تھا یا رحمانی۔ اگر شیطانی ہے تو دل ناشاد اور اگر رحمانی تو سچا یا جھوٹا۔ اگر جھوٹا تو پھر کہنا درست اور اگر سچا تو پھر تمام قادیانی امت

١٠

ایک جگہ سر جوڑ کر بیٹھ جائیں اور قرآن شریف کا لفظ قرآن شریف میں کس جگہ ذکر ہے۔

بڑی مشکل میں پڑا ہے سہیلی

طرح ہم قادیان کی عزت کر کے مکہ معظمہ یا مدینہ خدا تعالیٰ نے ان تینوں مقامات کو مقدس کیا اور ان تینوں

پدر تمام نہ کرد

اسی کو کہتے ہیں۔ مؤلف

زمین قادیان اب
ہجوم خلق سے

معلوم نہیں اب لندن کے متعلق انگریزی

فقرہ مذکورہ بالا ’من دخلہ کان آمناً‘ اسی مسجد

(براہین

حج سے بھی ثواب زیادہ ہے۔“

معذور ہیں۔ لیکن جنہوں نے دین کو دنیا پر مقدم رکھ کے انوار و برکات سے بہرہ اندوز ہوئے۔ امام محترم میں دارالامان مہدی (قادیان) ٹھیک وقت پر آن ہے۔ اقامت نماز کے وقت جب ہجوم خلائق مسجد م دکانوں تک میں نمازی ہی نمازی نظر آتے ہیں اور ان یہ نظارہ بھی ہر سال دیکھنے میں آتا ہے۔“

قادیانی شاید مرزا کی مسجد کو قبلہ بنا کر

١١

صفحہ ٣٣

نے اپنے منہ کی باتیں کہا اور اپنی وحی کو قرآن قرار دیا اور ں میں حکم ہوں۔ مجھے اختیار ہے کہ جس حدیث کو چاہوں ی میں پھینک دوں۔ کوئی ان عقل کے اندھوں سے پوچھے کیا مل گئی۔ اصل جھگڑا تو ان کی ڈکٹیٹری کا ہے۔ ہم کہتے ہیں کر سکتا فلاں حدیث کی رو سے، اور مرزا قادیانی کہتا ہے کہ ں مانتا۔ آپ ہی غور کریں کہ یہ سوال دیگر و جواب دیگر چاہیے تو پھر اسے حدیث کی رو سے جھوٹا کیوں کہئے۔

کہ تم طنبورہ من چہ می سراید

شریف کے متعلق مرزا قادیانی اور مرزائی امت کا یہ عقیدہ ہے اور کس طرح کیا جاسکتا ہے؟ مولانا روم فرماتے ہیں۔

حملہ مکنی اے سادہ مرد
ہر کسے کہ بر خود حملہ کرد

اور حدیث پر حملہ نہیں کرتے۔ بلکہ خود اپنی سمجھ اور علم و عقل

ہو کر پڑھتے پڑھتے انہوں نے ان فقرات کو پڑھا۔’انا میں نے سن کر بہت تعجب کیا کہ کیا قادیان کا نام بھی قرآن مجید میں لکھا ہوا ہے۔ تب میں نے نظر ڈال کر جو دیکھا تو داہنے صفحے میں قریب نصف کے موقعہ پر یہی الہامی اپنے دل میں کہا کہ ہاں واقعی طور پر قادیان کا نام قرآن جن شہروں کا نام اعزاز کے ساتھ قرآن شریف میں درج

(ازالۃ الاوہام ص٧٧،خزائن ج٣ص١٤٠)

مرزا قادیانی کا یہ کشف شیطانی تھا یا رحمانی ۔ اگر شیطانی ہے تو پھر کہنا درست اور اگر سچا تو پھر تمام قادیانی امت

١٠

ایک جگہ سر جوڑ کر بیٹھ جائیں اور قرآن شریف کا لفظ لفظ پڑھ لیں اور ہمیں دکھلا دیں کہ قادیان کا قرآن شریف میں کس جگہ ذکر ہے۔

بڑی مشکل میں پڑا ہے سینے والا جیب و گریباں کا

طرح ہم قادیان کی عزت کر کے مکہ معظمہ یا مدینہ منورہ کی توہین کرنے والے نہیں ہو سکتے۔ خدا تعالیٰ نے ان تینوں مقامات کو مقدس کیا اور ان تینوں مقامات کو اپنی تجلیات کے لئے چنا۔“

پدر تمام نہ کرد و پسر تمام کند

اسی کو کہتے ہیں۔ مؤلف

زمین قادیان اب محترم ہے
ہجوم خلق سے ارض حرم ہے

(درثمین ص ٥٢)

معلوم نہیں اب لندن کے متعلق انگریزی نبی حضور گورنر جنرل کا کیا خیال ہے؟

فقرہ مذکورہ بالا ’من دخلہ کان آمناً‘ اسی مسجد (قادیان) کی صفت میں بیان فرمایا ہے۔“

(براہین احمدیہ ص ٥٥٨ حاشیہ در حاشیہ، خزائن ج١ ص ٦٦٧)

حج سے بھی ثواب زیادہ ہے۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص٣٥٢، خزائن ج ٥ ص ٣٥٢)

معذور ہیں۔ لیکن جنہوں نے دین کو دنیا پر مقدم رکھنے کا عہد واثق کا پاس کیا اور ارض حرم (قادیان) کے انوار و برکات سے بہرہ اندوز ہوئے۔ امام محترم (مرزا محمود قادیانی) کی زیارت کرنے کے شوق میں دارالامان مہدی (قادیان) ٹھیک وقت پر آن پہنچے۔ ان کی للہیت ان کا خلوص قابل تحسین ہے۔ اقامت نماز کے وقت جب ہجوم خلائق مسجد مبارک میں نہیں سما سکتا تو گلیوں اور راستوں اور دکانوں تک میں نمازی ہی نمازی نظر آتے ہیں اور ارض حرم کی چار مصلوں کی حقیقت ظاہر کرنے والا یہ نظارہ بھی ہر سال دیکھنے میں آتا ہے۔“

(الفضل قادیان مورخہ ٢٦؍دسمبر ١٩١٥ء)

قادیانی شاید مرزا کی مسجد کو قبلہ بنا کر چاروں طرف سے سجدہ کرتے ہوں گے۔ ورنہ

١١

صفحہ ٣٤

چار مصلوں کا نظارہ نہیں ہو سکتا۔

پہلے غرباء میں پھیلتی اور پنپتی ہیں اور غرباء کو حج سے شریعت نے معذور رکھا ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے ایک اور ظلی حج مقرر کیا تا کہ وہ قوم جس سے وہ اسلام کی ترقی کا کام لینا چاہتا ہے اور تا کہ وہ غریب یعنی ہندوستان کے مسلمان اس میں شامل ہو سکیں۔"

(الفضل قادیان مورخہ یکم دسمبر ١٩٣٢ء)

خدا تعالیٰ نے غریبوں پر حج فرض نہ کر کے بقول مرزا محمود پہلے ایک قسم کی نا انصافی کی تھی۔ اس لئے اب قادیان میں حج جاری کرا دیا نعوذ باللہ منہا، خدا اس مذہب سے ہر مسلمان کو بچائے۔ آمین یا رب العالمین!

قادیانی نبی کا ایک رخ

ہے اور ہر ایک مجدد کا بلحاظ حالت موجودہ زمانہ کے ایک خاص کام ہوتا ہے۔ جس کے لئے وہ مامور کیا جاتا ہے۔ سو اس سنت اللہ کے موافق یہ عاجز صلیبی شوکت (عیسائیوں کی شوکت ) کو توڑنے کے لئے مامور ہے۔ یعنی خدا تعالیٰ کی طرف سے اس خدمت پر مقرر کیا گیا ہے۔"

(انجام آتھم ص ٤٦، خزائن ج ١١ ص ٤٦)

کا عظیم الشان کام عیسائیت کا غلبہ توڑنا اور ان کے حملوں کو دفع کرنا ہے اور ان کے فلسفہ کو جو مخالف ہے ۔ دلائل قویہ کے ساتھ توڑنا اور ان پر اسلام کی حجت پوری کرنا ہے۔"

(آئینہ کمالات اسلام ص ٣٤١ ، خزائن ج ٥ ص ٣٤١)

میں مر بھی جاؤ تب بھی قرآن کریم اور احادیث نبویہ سے ہرگز ثابت نہیں ہوگا کہ کبھی کسی زمانہ میں ان موجودہ (عیسائی) فتنوں سے بڑھ کر اور کوئی فتنے بھی آنے والے ہیں۔"

(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٢ ، خزائن ج ٥ ص ٥٢)

(آئینہ کمالات اسلام ص ٢٦٩ ، خزائن ج ٥ ص ٢٦٩ ملخص )

(آئینہ کمالات اسلام ص ٤٤٧، خزائن ج ٥ ص ٤٤٧)

١٢

صفحہ ٣٥

ہیں جو مقدرت رکھتے اور امیر ہوں۔ حالانکہ الٰہی تحریکات سے شریعت نے معذور رکھا ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے وہ اسلام کی ترقی کا کام لینا چاہتا ہے اور تاکہ وہ شامل ہو سکیں۔“

(الفضل قادیان مورخہ یکم نومبر ١٩٣٢ء)

فائدہ کر کے بقول مرزا محمود پہلے ایک قسم کی نا انصافی کی مراد یا نعوذ باللہ منہا، خدا اس مذہب سے ہر مسلمان کو

سے مشرف فرما کر اس صدی چہار دہم کا مجدد قرار دیا کے ایک خاص کام ہوتا ہے۔ جس کے لئے وہ مامور عاجز صلیبی شوکت (عیسائیوں کی شوکت) کو توڑنے لئے اس خدمت پر مقرر کیا گیا ہے۔“

(انجام آتھم ص٤٩، خزائن ج١١ ص٤٩)

وم درکنار اس مصلحت پر مبنی معلوم ہوتا ہے کہ اس مجدد کے حملوں کو دفع کرنا ہے اور ان کے فلسفہ کو جو مخالف کی حجت پوری کرنا ہے۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص٣٤١، خزائن ج٥ ص٣٤١)

پیش کرنے کی کوشش کروں یہاں تک کہ اس کوشش وجہ سے ہرگز ثابت نہیں ہوگا کہ کبھی کسی زمانہ میں بھی آنے والے ہیں۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص٥٢، خزائن ج٥ ص٥٢)

اور عیسائی سلطنت کے کیونکر ممکن ہے۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص٢٦٩، خزائن ج٥ ص٢٦٩ ملخص)

چالیس کروڑ سے کچھ زائد ہے۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص٢٤٧، خزائن ج٥ ص٢٤٧)

لوگوں کی نوبت پہنچ گئی ہے اور اندازہ کیا گیا ہے کہ تقریبا بارہ سال میں ایک لاکھ آدمی عیسائی مذہب میں داخل ہو جاتا ہے۔“

(ازالہ اوہام ص٤٦٤، خزائن ج٣ ص٣٦٤)

نے عیسائی مذہب اختیار کر لیا۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص٥١، خزائن ج٥ ص ایضا)

معتبر خبروں کے ثابت ہوا ہے کہ صرف یہی ہزار دکان نہیں بلکہ پچیس ہزار خنزیر ہر روز لندن سے مفصلات کے لوگوں کے لئے باہر بھیجا جاتا ہے۔“

(ازالہ اوہام ص٢٢، خزائن ج٣ ص١٢٣)

بہت دور پڑی ہوئی ہے۔ ہمارے علماء کے دلوں کو کسی قدر دبا لیا ہے۔“

(ازالہ اوہام ص٢٦، خزائن ج٣ ص١١٥، ١١٦)

کاروائیاں ہیں اور سحر کے اس کامل درجہ کا نمونہ ہے جو بجز اوّل درجہ کے دجال جو دجال معہود ہے اور کسی سے ظہور پذیر نہیں ہو سکتیں۔“

(ازالہ اوہام ص٤٧٩، خزائن ج٣ ص٣٦٥)

مرزا قادیانی کے مذکورہ بالا دس حوالوں سے بات صاف طور سے ثابت ہو گئی کہ:

کام دنیا میں لے کر آئے۔

برس میں ایک لاکھ بڑھ جاتے ہیں۔

آیئے! ذرا دیکھیں تو سہی کہ مرزا قادیانی اپنے دعویٰ صلیب شکنی و سور کشی میں کہاں تک

١٣

صفحہ ٣٦

کامیاب ہوسکے ہیں اور ان کے آنے سے کرسچن کم ہوئے یا زیادہ؟ مرزا قادیانی نے تو ایک لاکھ کرسچن ١٨٩٣ء میں اور پانچ لاکھ ١٨٩٤ء میں دکھلا کر لوگوں کو یہ دھوکہ دینا چاہا تھا کہ ایک ہی برس میں چار لاکھ کرسچن مرزا قادیانی کے آنے کے سبب سے کم ہو گئے۔ مگر اصل حال تو مردم شماری سے معلوم ہوسکتا ہے کہ اس وقت ہندوستان میں چھ کروڑ کرسچن اور دنیا میں ایک سو اسی کروڑ کرسچن ہیں۔ مسیح موعود کے فیض کا یہ اثر ہوا۔ ہائے افسوس!

کوئی بھی کام مسیحا ترا پورا نہ ہوا
نامرادی میں ہوا ہے ترا آنا جانا

اور مسیحا نفسی کا یہ اثر کیوں نہ ہوتا۔ جب کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو سولی پر مردہ بنانے میں مرزا قادیانی نے ایڑی چوٹی کا زور لگا کر یہ ثابت کر دیا کہ عیسائیوں کے کفارہ کی تھوڑی سی اصلیت ہے۔ کرسچنوں کی دن دوگنی رات چوگنی ترقی کا ایک راز یہ بھی ہے کہ مرزا قادیانی کا اہم کام عیسائی شوکت کو توڑنا نہیں تھا۔ بلکہ صرف عیسائی سلطنت کی حمایت تھی۔ مرزا قادیانی اسی اہم کام میں اپنی زندگی کا بیشتر حصہ لگا گئے۔ چنانچہ مندرجہ ذیل رخ ملاحظہ فرمائیے۔

قادیانی نبی کا دوسرا رخ

شکر گزار رہیں۔“

(ازالہ اوہام ص ١٣٢، خزائن ج ٣ ص ١٦٦ حاشیہ)

(شہادۃ القرآن ص ٨٢، خزائن ج ٦ ص ٣٧٨)

کا) شکر کرنا۔“

(شہادۃ القرآن ص ٨٤، خزائن ج ٦ ص ٣٨٠)

ہے۔“

(شہادۃ القرآن ص ٩٢، خزائن ج ٦ ص ٣٨٨)

خدمت ہم مکہ معظمہ یا مدینہ منورہ میں بیٹھ کر بھی ہرگز بجا نہیں لا سکتے۔“

(ازالہ اوہام ص ٣٠، خزائن ج ٣ ص ١٣٠ حاشیہ)

لیکن وہاں آپ کو بیٹھنے کون دے گا۔

(مؤلف)

١٤

صفحہ ٣٧

کم ہوئے یا زیادہ؟ مرزا قادیانی نے تو ایک لاکھ بنا کر لوگوں کو یہ دھوکہ دینا چاہا تھا کہ ایک ہی برس سب سے کم ہو گئے۔ مگر اصل حال تو مردم شماری سے کہ کروڑ کرسچن اور دنیا میں ایک سو اسی کروڑ کرسچن

ترا پورا نہ ہوا
ہے ترا آنا جانا

سبب کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو سولی پر مردہ بتانے ثابت کر دیا کہ عیسائیوں کے کفارہ کی تھوڑی سی اس کا ایک راز یہ بھی ہے کہ مرزا قادیانی کا اہم کام سلطنت کی حمایت تھی۔ مرزا قادیانی اسی اہم کام ذیل رخ ملاحظہ فرمائیے۔

ہو گیا کہ اس مبارک گورنمنٹ برطانیہ کے ہمیشہ

(ازالۃ اوہام ص ١٣٢، خزائن ج ٣ ص ١٦٦ حاشیہ)

اس معزز گورنمنٹ کی سائی ہوئی ہے۔‘‘

(شہادت القرآن ص ٨٢، خزائن ج ٦ ص ٣٧٨)

ادا کرنا ایسا ہی فرض کیا ہے۔ جیسا کہ اس کا (خدا

(شہادت القرآن ص ٨٤، خزائن ج ٦ ص ٣٨٠)

وجہ سے ایک نعمت ہے۔ یہ ایک عظیم الشان رحمت

(شہادت القرآن ص ٩٢، خزائن ج ٦ ص ٣٨٨)

لطف کے ماتحت میں اشاعت حق کر سکتے ہیں۔ یہ نہیں لا سکتے۔‘‘

(ازالۃ اوہام ص ٣٠، خزائن ج ٣ ص ١٤٠ حاشیہ)

(مؤلف)

اسی وقت تک جو تقریباً ساٹھ سال کی عمر تک پہنچا

ہوں اپنی زبان اور قلم سے اس اہم کام میں مشغول ہوں تا مسلمانوں کے دلوں کو گورنمنٹ انگلشیہ کی سچی محبت اور خیر خواہی اور ہمدردی کی طرف پھیروں۔‘‘

(تبلیغ رسالت ج ٧ ص ١٠، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ١١)

...... بے شک خاتم النبیین ﷺ کے بعد اور کون سا اہم کام تھا۔ جسے مرزا قادیانی لے کر آئے۔ سوائے گورنمنٹ انگلشیہ کی خیر خواہی کے۔

(مؤلف)

انگلشیہ کی سچی اطاعت کی طرف جھکایا بلکہ بہت سی کتابیں عربی، فارسی اور اردو میں تالیف کر کے ممالک اسلامیہ کے لوگوں کو بھی مطلع کیا کہ ہم کیونکر امن و امان اور آرام اور آزادی سے گورنمنٹ انگلشیہ کے سایہ عاطفت میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ (یعنی تم بھی اس سایہ عاطفت میں آ جاؤ۔ مؤلف) اور ایسی کتابوں کو چھاپنے اور شائع کرنے میں ہزار ہا روپیہ خرچ کیا گیا۔‘‘

(تبلیغ رسالت ج ٧ ص ١٠، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ١١)

(مرزا قادیانی آپ کی امت ہم کو خواہ مخواہ دھوکہ دیتی ہے کہ ہم دور دراز کے ملکوں میں اسلام کی تبلیغ کو جاتے ہیں۔ مؤلف)

میں نے ممانعت جہاد اور انگریز کی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں کہ اگر وہ کتابیں اور رسائل اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں۔‘‘

(تریاق القلوب ص ١٥، خزائن ج ١٥ ص ١٥٥)

آپ نے عیسائی حکومت اور بقول آپ کے دجال معہود کی حمایت میں پچاس الماریاں بھر دیں تو پھر اسلام کی حمایت آپ سے کیا خاک ہو سکتی ہے۔ غالباً یہ عیسائی شوکت کے مٹانے کے لئے۔ مؤلف

امن اور جہادی خیالات کو روکنے کے لئے برابر سترہ سال تک پورے جوش سے پوری استقامت سے کام لیا۔ کیا اس کام کی اور اس خدمت نمایاں کی اور اس مدت دراز کی دوسرے مسلمانوں میں جو میرے مخالف ہیں کوئی نظیر ہے؟‘‘

(کتاب البریہ ص ٨، خزائن ج ١٣ ص ٨)

کر رہے ہیں۔‘‘

(شہادت القرآن ص ٨٥، خزائن ج ٦ ص ٣٨١)

١٥

صفحہ ٣٩

شکر ہے کہ گویا کا فرق رہ گیا۔

(مؤلف)

ہیں اور ہمہ تن اس کی خیر خواہی میں مصروف۔“

(شہادت القرآن ص ٨٦، خزائن ج ٦ ص ٣٨٢)

بچائے۔“

(نور الحق ص ٣٤، خزائن ج ٨ ص ٤٥)

(تذکرہ)

(بھلا خود کاشتہ پودے پر کوئی سختی کا ہاتھ رکھ سکتا ہے۔ مؤلف)

گورنمنٹ میں بھی نہیں پا سکتے۔“

(ازالہ اوہام ص ٥٠٩، خزائن ج ٣ ص ٣٧٣)

ہر گز نہیں پا سکتے۔ اسلامی حکومت کا مزہ تو کابل میں چکھ چکے ہیں۔ مؤلف

(الفضل قادیان مورخہ یکم نومبر ١٩٣٣ء)

(اور درست سمجھتی ہے)

میں میں نے گورنمنٹ کی تائید نہ کی ہو۔ مگر مجھے افسوس ہے کہ میں نے غیروں سے نہیں بلکہ احمدیوں (قادیانیوں) کو یہ کہتا سنا ہے کہ ہمیں مسیح موعود کی ایسی تحریر پڑھ کر شرم آتی ہے۔ انہیں شرم کیوں آتی ہے۔ اس لئے کہ ان کی اندر کی آنکھ نہیں کھلی۔“

(الفضل قادیان مورخہ ٧ جولائی ١٩٣٢ء)

فرزند سعادت مند اسے کہتے ہیں۔ اگر بیٹا باپ کا رمز شناس نہ ہو تو وہ بیٹا ہی کیا۔ بھلا دوسرے قادیانی کو اس رمز سے آگاہی کیسے ہو۔ اسی لئے وہ بیچارے نابینا ہیں۔ اس باب میں زیادہ وضاحت قرین مصلحت نہیں۔ ناظرین خود ہی مرزا قادیانی کے کارناموں کی تصویر کے دونوں رخ دیکھ لیں۔ ہائے افسوس؎

کس لئے آئے تھے اور کیا کر چلے
تہمتیں چند اپنے ذمہ دھر چلے

عیش و عشرت

مرزا قادیانی (آئینہ کمالات اسلام ص ٥٥، خزائن ج ٥ ص ایضاً) پر فرماتے ہیں۔

منہ دل در طمعہائے دنیا گر خدا خواہی
کہ می خواہد نگار من تہی دستان عشرت را

١٦

یعنی اگر خدا کو چاہتے ہو تو دنیوی عیش و عشر دوسری جگہ ارشاد ہوتا ہے کہ

ما ازیں دنیا جز دو نان خشکے

کہ میں عیش و عشرت کا خواہاں نہیں۔ صر روٹی اور ایک گلاس پانی چاہتا ہوں۔ (آئینہ کمالات اس مگر اس کے برعکس ہم قادیانی حدیث ح فرزند میاں بشیر احمد ایم۔ اے نے لکھا ہے۔ اس سے نقل کر کے فیصلہ ناظرین کے ذمہ چھوڑتے ہیں :

ہوئے کرارے پکوڑے پسند فرماتے تھے۔ کبھی کبھی اور سالم مرغ کا گوشت بھی (مسلم) پسند تھا..... تھیں۔“

(شاید ذیابیطس شکری کو مفید ہوں گے)

تب ہی آپ کہہ کر پکوایا کرتے تھے۔ جب ضعف مع (مگر مرزا قادیانی تو دائم المریض تھے)

١٧

صفحہ ٣٩

یعنی اگر خدا کو چاہتے ہو تو دنیوی عیش و عشرت کو دل سے نکال دو۔ دوسری جگہ ارشاد ہوتا ہے کہ ؎

ما ازیں دنیا جز دو نان خشکے و کوزہ آبے نمی خواہم

کہ میں عیش و عشرت کا خواہاں نہیں۔ صرف زندگی گزارنے کے لئے صرف دو سوکھی روٹی اور ایک گلاس پانی چاہتا ہوں۔ (آئینہ کمالات اسلام)

مگر اس کے برعکس ہم قادیانی حدیث سیرۃ المہدی سے جسے مرزا قادیانی کے ہونہار فرزند میاں بشیر احمد ایم۔اے نے لکھا ہے۔ اس سے چند نمونے مرزا قادیانی کی عیش وعشرت کے نقل کر کے فیصلہ ناظرین کے ذمہ چھوڑتے ہیں:

ہوئے کرارے پکوڑے پسند فرماتے تھے۔ کبھی کبھی مجھ سے منگوا کر مسجد میں ٹہلتے ٹہلتے کھاتے تھے اور سالم مرغ کا گوشت بھی (مسلم) پسند تھا۔ ...... گوشت کی خوب بھنی ہوئی بوٹیاں بھی مرغوب تھیں۔“

(سیرت المہدی حصہ اوّل ص١٨١، روایت نمبر ١٦٧)

(سیرت المہدی حصہ دوم ص ١٣٢، روایت نمبر ٤٤٤)

(سیرت المہدی حصہ دوم ص ١٣٢، روایت نمبر ٤٤٤)

(سیرت المہدی حصہ دوم ص ١٣٢، روایت نمبر ٤٤٤)

(سیرت المہدی حصہ دوم ص ١٣٢، روایت نمبر ٤٤٤)

(شاید ذیابیطس شکری کو مفید ہوں گے)

تب ہی آپ کہہ کر پکوایا کرتے تھے۔ جب ضعف معلوم ہوتا تھا۔“

(سیرت المہدی حصہ دوم ص ١٣٢، روایت نمبر ٤٤٤)

(مگر مرزا قادیانی تو دائم المریض تھے)

١٧

صفحہ ٤١

کرنے کو استعمال کرتے تھے۔“

(سیرت المہدی حصہ دوم ص ١٣٢، روایت نمبر ٤٤٤)

بگاہے خود بھی منگواتے تھے۔ پسندیدہ میوؤں میں سے آپ کو انگور، بمبئی کا کیلا، ناگپور کا سنگترہ، سیب، سردے اور سرولی آم زیادہ پسند تھے۔ باقی میوے بھی گاہے ماہے جو آتے تھے کھا لیا کرتے تھے۔“

(سیرت المہدی حصہ دوم ص ١٤٢، روایت نمبر ٤٤٤)

میں پی لیا کرتے تھے۔ بلکہ شدت گرمی میں برف بھی امرتسر اور لاہور سے منگوا لیا کرتے تھے۔“

(سیرت المہدی حصہ دوم ص ١٤٢، روایت نمبر ٤٤٤)

کی ساختہ ہے یا مسلمان کی۔“

(سیرت المہدی حصہ دوم ص ١٣٥، روایت نمبر ٤٤٤)

ہے۔ اس لئے کہ بنانے والے تو مکھن ہی کا دعویٰ کرتے ہیں۔ پھر ہم ناحق بدگمانی اور شکوک میں کیوں پڑیں۔“

(سیرت المہدی حصہ دوم ص ١٤٢، روایت نمبر ٤٤٤)

منی آرڈر آپ کی خدمت میں ارسال ہیں۔ آپ دو تولے مشک خالص دو شیشیوں میں ارسال فرمادیں۔“

(خطوط امام بنام غلام ص ٤٠٢)

عنبر استعمال فرمایا کرتے تھے اور ہمیشہ نہایت اعلیٰ منگوایا کرتے تھے۔ یہ مشک خریدنے کی ڈیوٹی آخری ایام میں حکیم محمد حسین لاہوری کے سپرد تھی۔ عنبر اور مشک دونوں مدت تک سیٹھ عبدالرحمن صاحب مدراسی کی معرفت بھی آتے رہے۔“

(سیرت المہدی حصہ دوم ص ١٤٧، روایت نمبر ٤٤٤)

(آفریں بریں ماتحتی) بنائی اور اس کا ایک بڑا جزو افیون تھا اور یہ دوا کسی قدر اور افیون کی زیادتی کے بعد حضرت خلیفۂ اوّل (حکیم نورالدین قادیانی) کو حضور (مرزا قادیانی) چھ ماہ سے زائد دیتے رہے اور خود (مرزا قادیانی) بھی وقتاً فوقتاً مختلف امراض کے دوروں کے وقت استعمال کرتے رہے۔“ (جیسے نبی ویسے خلیفہ)

(الفضل قادیان مورخہ ١٩؍جولائی ١٩٢٩ء)

١٨

ہیں: ”اس وقت میاں یار محمد بھیجا جاتا ہے۔ آپ (انگریزی شراب) کی پلومر کی دوکان (شراب خانہ لحاظ رہے۔“ (نہیں تو بے کار ہے)

قادیانی نبی کا انجام

مکن تکیہ
مباش ایمن

....... (مرزا قادیانی ”خاکسار مختصراً عرض کرتا ہے کہ حضر تھے۔ رات کو عشاء کی نماز کے بعد خاکسار والدہ صاحبہ کے ساتھ پلنگ پر بیٹھے کھانا کھا رہے نیند آ گئی۔ رات کے پچھلے پہر صبح کے قریب مجھے کی آواز سے میں خود بیدار ہوا تو کیا دیکھتا ہوں کہ سخت بیمار ہیں اور حالت نازک ہے اور جب میں نے ایسی حالت آپ کی اس سے پہلے کبھی نہیں د ہے۔“

ملک الموت نہیں بلکہ سخت قسم کا ہیضہ

نے فرمایا کہ حضرت مسیح موعود کو پہلا دست کھان مؤلف) مگر اس کے بعد تھوڑی دیر تک ہم ان کے اور میں بھی سو گئی۔ لیکن کچھ دیر بعد آپ کو پھر حاجت آپ پاخانہ تشریف لے گئے۔ اس کے بعد آپ مجھے جگایا۔ میں اٹھی تو آپ کو اتنا ضعف تھا کہ آپ پاؤں دبانے بیٹھ گئی۔ تھوڑی دیر کے بعد حضرت

صفحہ ٤١

ہیں: ”اس وقت میاں یار محمد بھیجا جاتا ہے۔ آپ اشیاء خوردنی خریدیں اور ایک ٹانک وائن (انگریزی شراب) کی پلومر کی دوکان (شراب خانہ سے) خریدیں۔ مگر ٹانک وائن چاہئے اس کا لحاظ رہے۔“ (نہیں تو بے کار ہے)

(خطوط امام بنام غلام ص ٥)

قادیانی نبی کا انجام

مکن تکیہ بر عمر ناپائیدار

(تذکرہ ص ٧٥٦)

مباش ایمن از بازی روزگار

(تذکرہ ص ٧٥٤)

(مرزا قادیانی کی آخری وحی)

اچھے تھے۔ رات کو عشاء کی نماز کے بعد خاکسار باہر سے مکان میں آیا تو میں نے دیکھا کہ آپ والدہ صاحبہ کے ساتھ پلنگ پر بیٹھے کھانا کھا رہے تھے۔ میں اپنے بستر پر جا کر لیٹ گیا اور پھر مجھے نیند آ گئی۔ رات کے پچھلے پہر صبح کے قریب مجھے جگایا گیا یا شاید لوگوں کے چلنے پھرنے اور بولنے کی آواز سے میں خود بیدار ہوا تو کیا دیکھتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود اسہال (پاخانہ) کی بیماری سے سخت بیمار ہیں اور حالت نازک ہے اور جب میں نے پہلی نظر ڈالی تو میرا دل بیٹھ گیا۔ کیونکہ میں نے ایسی حالت آپ کی اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ میرے دل پر یہ اثر پڑا کہ یہ ملک الموت ہے۔“

(سیرت المہدی حصہ اول ص ٩، روایت نمبر ١٢)

ملک الموت نہیں بلکہ سخت قسم کا ہیضہ جسے ایشیاٹک کالرا کہا جاتا ہے۔

نے فرمایا کہ حضرت مسیح موعود کو پہلا دست کھانا کھانے کے وقت آیا تھا۔ (موقعہ پر آیا ہے۔ مؤلف) مگر اس کے بعد تھوڑی دیر تک ہم ان کے پیر دباتے رہے اور آپ آرام سے لیٹ کر سو گئے اور میں بھی سو گئی۔ لیکن کچھ دیر بعد آپ کو پھر حاجت محسوس ہوئی اور غالباً ایک دو دفعہ حاجت کے لئے آپ پاخانہ تشریف لے گئے۔ اس کے بعد آپ نے زیادہ ضعف محسوس کیا تو آپ نے ہاتھ سے مجھے جگایا۔ میں اٹھی تو آپ کو اتنا ضعف تھا کہ آپ میری چارپائی پر ہی لیٹ گئے اور میں آپ کے پاؤں دبانے بیٹھ گئی۔ تھوڑی دیر کے بعد حضرت نے فرمایا تم اب جاؤ۔ میں نے کہا نہیں میں اب

١٩

صفحہ ٤٢

دباتی ہوں۔ اتنے میں آپ کو ایک اور دست آیا۔ مگر اب اس قدر ضعف تھا کہ آپ پاخانہ نہ جاسکتے تھے۔ اِس لئے چار پائی کے پاس بیٹھ کر آپ فارغ ہوئے۔ (سچا نبی جہاں مرتا ہے وہیں دفن ہوتا ہے، مقولہ مرزا قادیانی) اور پھر اٹھ کر لیٹ گئے اور میں پاؤں دباتی رہی۔ مگر ضعف بہت ہو گیا تھا۔ اس کے بعد ایک اور دست آیا اور پھر آپ کو ایک قے آئی۔ جب آپ قے سے فارغ ہو کر لیٹنے لگے تو اتنا ضعف تھا کہ آپ پشت کے بل چار پائی پر گر گئے اور آپ کا سر چار پائی کی لکڑی سے ٹکرایا اور حالت دگرگوں ہوگئی۔ اس پر میں نے گھبرا کر کہا۔ اللہ یہ کیا ہونے لگا ہے۔ تو اس پر آپ نے کہا وہی جو میں (مولوی ثناء اللہ کے لئے) کہا کرتا تھا۔“ (سیرۃ المہدی حصہ اوّل ص ١١، روایت نمبر ١٢)

پانچ پاخانے ایک قے۔ قصہ ختم ”فاعتبروا یا اولی الابصار“ یہ حال انہی مرزا قادیانی کا ہے جو اپنی چند روزہ زندگی میں زمین آسمان کے قلابے ملایا کرتے تھے۔ کبھی خدا بنتے تھے اور کبھی خدا کے باپ۔ کبھی زمین و آسمان بناتے تھے تو کبھی مسل لے کر دنیا بھر کی تقدیر پر دستخط کرالاتے تھے۔ مگر اپنی تقدیر سے بے خبر تھے۔ جس کا فیصلہ ان کی آخری وحی نے کر دیا۔ مکن تکیہ بر عمر ناپائیدار!

چند روزہ عیش وعشرت کے لئے آخرت کو چھوڑنا، رسالت ونبوت کا دعویٰ کرنا، عیسائیوں کی خوشامد میں پچاس الماریاں کتابیں لکھنی اور اس اہم کام میں عمر کا اکثر حصہ خرچ کرنا اور اپنی دجالی تصانیف اور مکاری اور رنگین بیانی سے بھولے بھالے مسلمانوں کو مرتد بنانا، علماء کرام اور صوفیائے عظام کے سب وشتم سے اپنی کتابوں کو سیاہ کرنا اور دنیا بھر کے لوگوں کو موت اور ہیضہ اور طاعون کی دھمکی دے کر خود بجائے مکہ یا مدینہ میں مرنے کے مولانا ثناء اللہ صاحب امرتسری سے ہیضہ کا مباہلہ کر کے خود ہی دست وقے یعنی ہیضہ کی بیماری سے ڈاکٹر عبدالحکیم کی پیش گوئی کے مطابق لاہور میں ٢٦ مئی ١٩٠٨ء کو یہ کہتا ہوا رخصت ہوا کہ؎

مباش ایمن از بازی روزگار
مکن تکیہ بر عمر ناپائیدار

(تذکرہ ص ٧٥٤ تا ٧٥٦)

کیا اب بھی کوئی حق کا تلاش کرنے والا قادیانی باقی نہیں ہے۔ جو مرزا قادیانی کے دعوے کو اوّل سے آخر تک پڑھے اور ان کے کارناموں پر اور ان کے حسرت ناک انجام پر ٹھنڈے دل سے غور کرے اور یہ نہ کہے کہ؎

تھی قادیانی کی رسالت
جہالت ہے بطالت ہے حماقت

٢٠

PDF 44

مگر اب اس قدر ضعف تھا کہ آپ پاخانہ نہ جا سکتے ضائع ہوئے۔ (سچا نبی جہاں مرتا ہے وہیں دفن ہوتا اور میں پاؤں دباتی رہی۔ مگر ضعف بہت ہو گیا تھا۔ قے آئی۔ جب آپ قے سے فارغ ہو کر لیٹنے کی پر گر گئے اور آپ کا سر چار پائی کی لکڑی سے ٹکرایا کہا۔ اللہ یہ کیا ہونے لگا ہے۔ تو اس پر آپ نے کہا

(سیرۃ المہدی حصہ اوّل ص ١١، روایت نمبر ١٢)

فاعتبروا یا اولی الابصار ”یہ حال انہی مرزا قادیانی لانے ملایا کرتے تھے۔ کبھی خدا بنتے تھے اور کبھی خدا لے کر دنیا بھر کی تقدیر پر دستخط کرالاتے تھے۔ مگر اپنی نے کر دیا۔ مکن تکیہ برعمر نا پائیدار!

عزت کو چھوڑنا، رسالت ونبوت کا دعویٰ کرنا، منفی اور اس اہم کام میں عمر کا اکثر حصہ خرچ کرنا ے بھولے بھالے مسلمانوں کو مرتد بنانا، علماء کرام مباہلہ کرنا اور دنیا بھر کے لوگوں کو موت اور ہیضہ میں مرنے کے مولانا ثناء اللہ صاحب امرتسری ہیضہ کی بیماری سے ڈاکٹر عبدالحکیم کی پیش گوئی کے ثابت ہوا کہ؎

دغابازی روزگار
عمر ناپائیدار

(تذکرہ ص ٥٤ تا ٥٦٧)

کا قادیانی باقی نہیں ہے۔ جو مرزا قادیانی کے انجاموں پر اور ان کے حسرت ناک انجام پر

کی رسالت
ہے حماقت

اَنَا خَاتَمُ النَّبِيّٖنَ لَا نَبِيَّ بَعْدِيْ

میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں

یادگار یادگیر

حضرت مولانا سید محمد اسماعیل کٹکیؒ

صفحہ ٤٥

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

انتساب !

اس فتح مبین کا داعی خداوند کریم نے اس ذات گرامی کو بنایا۔ جسے دنیا آج جمعیت علماء ہند کے ناظم عمومی کی حیثیت سے جانتی ہے۔ جو حضرت شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنی نور اللہ مرقدہ کا صحیح جانشین اور سچا نمونہ ہے۔ جس پر نظر پڑتے ہی دل حزیں کو سکون ملتا ہے۔ جس کا ملک وملت میں آج ایک خاص مقام ہے۔ جو آج مسلمانان ہند کی کشتی کا ناخدا ہے۔ اسے دنیا فدائے ملت حضرت مولانا اسعد مدنی مدظلہ العالی کے نام سے موسوم کرتی ہے۔ اسی ذات گرامی کے نام نامی پر اس کو منتسب کرتا ہوں۔

من ز دریا سوئے بحر آوردم صدف
گر قبول افتد زہے عزّو شرف

احقر: محمد اسماعیل عفی عنہ

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

صدر صاحب مناظرہ کمیٹی یادگیر کا تاثر

برادران اسلام! تعلقہ یادگیر ضلع گلبرگہ صوبہ میسور کا ایک تعلقہ ہے۔ یہاں مسلمانوں کی آبادی تقریباً دس ہزار ہے۔ تین چار سو کے لگ بھگ مرزائی بھی یہاں رہتے ہیں جو تقریباً بیس سال سے اپنے عقائد باطلہ کی تبلیغ میں لگے ہوئے ہیں۔ مرزائی جماعت کے لوگ عموماً بیڑی کے کارخانہ دار ہیں۔ آج کل بیڑی کا کاروبار جس قدر ترقی پر ہے وہ ظاہر ہے۔ دیگر مسلمان زیادہ تر بیڑی بنانے والے مزدور ہیں۔ اس قدر تعارف کے بعد اصل موضوع کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں۔ مرزائی جماعت کی ہمیشہ یہ کوشش رہی کہ کسی طرح یادگیر کے مسلمانوں کو اپنے مذہب میں شامل کر لیں۔ چنانچہ اسی پیش رفت میں ہر سال وہ لوگ اپنا جلسہ بڑی ہی تیاری کے ساتھ کرتے ہیں۔ مختلف مقامات سے مرزائی پرچارکوں کو بلایا جاتا ہے اور نہایت دیدہ دلیری سے تقاریر کی جاتی

٢

ہیں اور برابر ہمیں چیلنج کیا جاتا رہا ہے۔ باوجود اس کے ہم طرح ایک عرصہ گزر گیا۔ اس لئے مرزائیوں کو اطمینان ہو نہ ہی مسلم عوام میں سے کوئی ہمارے سوال کا جواب دے انہوں نے ہر ہفتہ پرچار کا پروگرام بنایا۔ زنانہ پرچارک بھ بیان کرتیں۔ سال گذشتہ عید میلاد کے موقعہ پر ہمارے صاحب رحمانی کا وعظ ہوا انہوں نے دوران میں مرزائی مسائل پر بھی روشنی ڈالی جو ہمارے اور مرزائیوں کے ما مرزائی جماعت کے لوگ ضرور شریک ہوتے اور ان مسا ڈالتے تو فوری غضبناک ہوتے۔ لیکن جب مولوی عبد ا نے دیکھا کہ ان مسائل پر کافی روشنی ڈال چکے ہیں۔ چاہئے۔ چنانچہ دوسرے ہی دن انہوں نے بازار میں ا سنت والجماعت نے ہمیں مناظرہ کا چیلنج دیا ہے۔ لہٰذا دن مسجد کے متولی کے نام ایک مراسلہ بھی روانہ کیا۔ م لئے بستی کے چند سمجھدار معززین کو بلایا۔ ہم لوگوں نے عقائد کے لحاظ سے وعظ کرتے ہیں۔ اس میں اعتراض پاس ہیں اور ہمارے عقائد ہمارے پاس۔ ہم آپ سے آپ کے اور ہماری جماعت کے درمیان اس سے قبل بھ تسلیم کرنے کو آپ لوگ تیار نہیں ہوئے۔ یہی حال یہا چاہتے۔ براہ کرم اس سلسلہ میں مراسلت کو ختم فرما دیں ہمارے اس جواب کو کمزوری پر محمول کرتے ہوئے کہ اور نہ کوئی مالی طاقت ہے۔ اپنی سستی شہرت حاصل کر جواب دیا کہ اگر آپ مناظرہ کے لئے آمادہ نہیں ہیں گے۔ اس پر مسلمانان یادگیر میں ایک ہیجان برپا ہوا ا چاہے کچھ ہی مشکلات ہوں مناظرہ کے لئے تیار ہو جا ہوگی۔ اللہ اور اللہ کے رسول پر بھروسہ کرتے ہوئے ہ

٣

صفحہ ٤٥

ف الحفوظ اب! اوند کریم نے اس ذات گرامی کو ہور کے ناظم عمومی کی حیثیت سے مولانا سید حسین احمد مدنی نور اللہ ر جس پر نظر پڑتے ہی دل حزیں میں آج ایک خاص مقام ہے۔ فدا ہے۔ اسے دنیا فدائے ملت لی کے نام سے موسوم کرتی ہے۔ منتسب کرتا ہوں۔

بحر آوردم صدف
ول ہے جزو شرف

احقر: محمد اسماعیل عفی عنہ

کمیٹی یادگیر کا تاثر

صوبہ میسور کا ایک تعلقہ ہے۔ یہاں مسلمانوں تک مرزائی بھی یہاں رہتے ہیں جو تقریباً بیس ہے۔ مرزائی جماعت کے لوگ عموماً بیڑی کے ترقی پر ہے وہ ظاہر ہے۔ دیگر مسلمان زیادہ تر اور اصل موضوع کی طرف توجہ دلانا چاہتا کر یادگیر کے مسلمانوں کو اپنے مذہب میں اپنا جلسہ بڑی ہی تیاری کے ساتھ کرتے اور نہایت دیدہ دلیری سے تقاریر کی جاتی

ہیں اور برابر ہمیں چیلنج کیا جاتا رہا ہے۔ باوجود اس کے ہمیشہ مسلمان خاموش ہی رہتے ۔ چونکہ اس طرح ایک عرصہ گزر گیا۔ اس لئے مرزائیوں کو اطمینان ہو گیا کہ اس مقام پر نہ تو کوئی مسلم عالم اور نہ ہی مسلم عوام میں سے کوئی ہمارے سوال کا جواب دے سکتا ہے۔ اس طرح میدان کو ہموار پا کر انہوں نے ہر ہفتہ پرچار کا پروگرام بنایا۔ زنانہ پرچارک بھی تیار کئے ، جو گھر گھر جا کر بھی غلط عقائد بیان کرتیں۔ سال گذشتہ عید میلاد کے موقعہ پر ہمارے یہاں مسجد چوک میں مولوی عبدالواحد صاحب رحمانی کا وعظ ہوا انہوں نے دوران میں مرزائیوں کے بارے میں کچھ جملے کہے اور ان مسائل پر بھی روشنی ڈالی جو ہمارے اور مرزائیوں کے بیچ اختلافی ہیں۔ جب کبھی ہمارا وعظ ہوتا۔ مرزائی جماعت کے لوگ ضرور شریک ہوتے اور ان مسائل پر آکر ہمارے مولوی صاحبان روشنی ڈالتے تو فوری غضبناک ہوتے۔ لیکن جب مولوی عبدالواحد صاحب رحمانی کا وعظ ختم ہوا تو انہوں نے دیکھا کہ ان مسائل پر کافی روشنی ڈال چکے ہیں۔ اب اس کا ازالہ صرف مناظرہ سے کرنا چاہئے ۔ چنانچہ دوسرے ہی دن انہوں نے بازار میں اپنی دوکان پر ایک بورڈ آویزاں کیا کہ اہل سنت والجماعت نے ہمیں مناظرہ کا چیلنج دیا ہے۔ لہذا ہم ان سے مناظرہ کریں گے۔ چنانچہ اسی دن مسجد کے متولی کے نام ایک مراسلہ بھی روانہ کیا۔ متولی صاحب نے اس کا جواب دینے کے لئے بستی کے چند سمجھدار معززین کو بلایا۔ ہم لوگوں نے انہیں جواب دیا کہ مولوی صاحبان اپنے عقائد کے لحاظ سے وعظ کرتے ہیں۔ اس میں اعتراض کی کیا بات ہے۔ آپ کے عقائد آپ کے پاس ہیں اور ہمارے عقائد ہمارے پاس۔ ہم آپ سے کوئی مناظرہ کرنا نہیں چاہتے ۔ اس لئے کہ آپ کے اور ہماری جماعت کے درمیان اس سے قبل کئی مناظرے ہو چکے ہیں۔ مگر پھر بھی اسے تسلیم کرنے کو آپ لوگ تیار نہیں ہوئے۔ یہی حال یہاں بھی ہوگا۔ اس لئے ہم مناظرہ کرنا نہیں چاہتے ۔ براہ کرم اس سلسلہ میں مراسلت کو ختم فرمادیں تو مناسب ہے۔ مگر مرزائی جماعت نے ہمارے اس جواب کو کمزوری پر محمول کرتے ہوئے کہ اہل سنت والجماعت میں نہ اتحاد ہو سکتا ہے اور نہ کوئی مالی طاقت ہے۔ اپنی سستی شہرت حاصل کرنے کے لئے یہی موقعہ ٹھیک سمجھ کر ہمیں جواب دیا کہ اگر آپ مناظرہ کے لئے آمادہ نہیں ہیں تو ہم آپ کی کھلی شکست کا اعلان کر دیں گے۔ اس پر مسلمانان یادگیر میں ایک ہیجان برپا ہوا، اور چند سنجیدہ احباب نے یہ طے کر لیا کہ چاہے کچھ ہی مشکلات ہوں مناظرہ کے لئے تیار ہو جانا چاہئے ۔ ورنہ ہمارے لئے یہ رسوا کن بات ہوگی۔ اللہ اور اللہ کے رسول پر بھروسہ کرتے ہوئے ہم نے مناظرہ کے لئے آمادہ ہو کر اس کی

٣

صفحہ ٤٦

اطلاع دے دی۔ پھر ہم احباب کے ساتھ مصروف کار ہوئے۔ ٢٣؍ اگست ١٩٦٣ء کو شرائط مناظرہ طے کئے گئے۔ سب سے پہلے ہم کو امید تھی کہ حیدر آباد دکن میں اس کام کے لئے ہم کو کافی علماء مل جائیں گے اور بخوبی یہ کام انجام دیں گے۔ لیکن حیدر آباد جانے اور متعدد علماء و مشائخین سے ملاقات کے بعد ہمارا یہ خیال غلط نکلا۔ اس مناظرہ میں کوئی بھی بحیثیت مناظر کام کرنے کے لئے آمادہ نہ ہوا۔ اس طرف سے مایوس ہو کر ہم نے جمعیت علماء اور دیگر اسلامی ادارہ جات سے خط و کتابت کی۔ اس سلسلہ میں ہم مولانا سید اسعد مدنی صاحب ناظم اعلیٰ جمعیت علماء ہند کے مشکور ہیں کہ انہوں نے ہماری کافی رہبری فرمائی اور ہمیں شیرازۂ حضرت مولانا سید محمد اسماعیل صاحب کا پتہ دیا۔ جن سے خط و کتابت کے بعد مناظرہ ہوا۔ جو آپ کے سامنے ہے۔ اس کو ملاحظہ فرمانے کے بعد ناظرین خود ہی فیصلہ فرمالیں گے کہ مرزائی جماعت کا شمار کس صف میں ہوگا۔ اخیر میں میں اپنے مرزائی بھائیوں سے جو ہم سے بچھڑ گئے ہیں۔ غور و فکر کی دعوت دیتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ خدائے تعالیٰ انہیں ہدایت کی توفیق بخشے۔ آمین!

عبدالرحیم ایڈووکیٹ صدر مناظرہ کمیٹی اہل سنت والجماعت یادگیر

اسمائے گرامی ارکان مناظرہ کمیٹی

صدر: جناب مولوی عبدالرحیم صاحب ایڈووکیٹ، نائب صدر: جناب سید محمد عبدالرحمٰن صاحب، مدرس وظیفہ یاب، معتمد: جناب مولوی نجم الہدیٰ صاحب میونسپل کمشنر، نائب معتمد: جناب عبدالصمد صاحب افغانی، خازن: جناب شیخ داؤد صاحب، ارکان: جناب عبدالواحد صاحب، جناب علی ابن احمد صاحب، جناب سعید ابن عمر صاحب، جناب سید عبدالقادر صاحب میر، جناب عبدالرشید صاحب میونسپل کمشنر، جناب حاجی راج محمد صاحب، جناب حاجی احمد حسین صاحب، جناب شیخ عبدالرحمٰن صاحب، جناب حسین ابن علی صاحب، جناب فقیر احمد صاحب۔

رپورٹ و شکریہ

از طرف مولوی نجم الہدیٰ صاحب معتمد مناظرہ کمیٹی یادگیر

خدائے بزرگ و برتر کی حمد و ثناء سے بہتر کوئی آغاز نہیں۔ ساری تعریف اسی خداوند قدوس کو سزاوار ہے۔ جس کا کوئی شریک نہیں۔ ہزار ہا درود و سلام اس نبی محترم ﷺ پر جو خاتم النبیین اور جو رحمۃ العالمین بن کر آیا اور سراج منیر بن کر طلوع ہوا۔ جس نے دنیا کے سامنے وہ

٤

صفحہ ٤٧

نظام پیش کیا جس کے بعد نہ کسی نئے نبی کی چاہے وہ تشریعی ہو یا غیر تشریعی ظلی ہو کہ بروزی ضرورت نہیں۔

یادگیر میں مرزائی جماعت کے چیلنج مناظرہ کو ہم چار و ناچار قبول کرنے پر مجبور ہوئے۔ اس راہ میں جو مشکلات تھیں۔ ان میں مسلمانوں کا منتشر حالت میں رہنا اور فراہمی مالیت کا سوال اہمیت رکھتا تھا۔ مگر خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس مسئلہ پر مسلمانان یادگیر نے اپنے اتحاد کا ایک بے نظیر نمونہ پیش کیا اور اپنی حیثیت سے کہیں زیادہ مالی امداد فرما کر اس کام کو بحسن و خوبی تکمیل کو پہنچایا۔ جس کے لئے وہ قابل مبارک باد بھی ہیں اور مستحق شکریہ بھی۔

یہ بھی ایک عجیب بات ہے کہ مرزائی جماعت نے جب ہمیں چیلنج مناظرہ دیا تھا اور اس وقت تک جب کہ ہم نے اسے قبول نہیں کیا تھا۔ یہ تقاضا تھا کہ ہم اسے قبول کریں۔ ورنہ کھلی شکست کا اعلان کر دیا جائے گا۔ مگر بعد میں ایک مرحلہ ایسا بھی آیا جب کہ ہم نے مناظرہ کے تمام انتظامات مکمل کر لئے تھے اور ہماری طرف سے مناظرہ میں شریک ہونے والے علمائے کرام کے ناموں کا اعلان بھی کر دیا گیا تھا۔ تب چوہدری مبارک علی نے جو مرزائی جماعت کی طرف سے صدر مناظرہ تھے۔ مناظرہ سے گریز کی راہ ڈھونڈنی شروع کیں۔ مگر خدا کا فضل ہوا کہ وہ اس میں کامیاب نہ ہو سکے۔

شرائط مناظرہ طے ہو جانے کے بعد ہم نے ہندوستان کے اسلامی ادارہ جات سے خط و کتابت شروع کی۔ مولانا سید اسعد مدنی صاحب مدظلہ ناظم اعلیٰ جمعیت علماء ہند، مولانا محمد سلیم صاحب سیکرٹری نشر و اشاعت جمعیت اہل حدیث کے جوابات نہایت ہی امید افزا تھے۔ مولانا سید اسعد مدنی مدظلہ نے ہمیں مطلع کیا کہ الحاج مولانا محمد اسماعیل صاحب کو اس فن میں خاص مہارت ہے اور ساتھ ہی آپ نے مولانا کو لکھ دیا کہ وہ مناظرہ یادگیر میں شرکت فرمائیں۔ اسی طرح مولانا محمد سلیم صاحب نے مولانا ابو مسعود قمر بنارسی صاحب، مولانا محمد داؤد صاحب راز ناظم اعلیٰ آل انڈیا اہل حدیث کانفرنس دہلی کو مناظرہ میں شرکت کے لئے رضا مند فرمایا۔ جس کے لئے ہم حضرت مولانا اسعد مدنی صاحب مدظلہ اور مولانا محمد سلیم صاحب کے خاص طور پر مشکور ہیں اور حقیقتاً ان دونوں بزرگوں کی صحیح رہنمائی کے باعث ہمیں اس مناظرہ میں عظیم الشان فتح نصیب ہوئی۔

الحاج مولانا سید محمد اسماعیل صاحب صدر جمعیت علماء اڑیسہ تینوں عنوانات پر اہل سنت

٥

صفحہ ٤٩

والجماعت کی طرف سے بحیثیت مناظر پیش ہوئے۔ مولانا قمر صاحب بنارسی اور مولانا محمد داؤد صاحب راز نے اسی طرح مولانا سید احمد النبی صاحب اور مولانا سید سراج الساجدین صاحب قاسمی نے نہایت ہی بہتر طریقے پر معاونت فرمائی۔

یہ تمام حضرات مناظرہ سے دو دن قبل یادگیر تشریف لائے اور دس دن تک یادگیر میں قیام فرمایا۔ نہ صرف امور مناظرہ کو بحسن و خوبی انجام دیا بلکہ تاقیام ہر رات مسجد چوک میں جلسے کو خطاب فرمایا اور مرزائیوں کے تار و پود بکھیر کر رکھ دیئے۔ ان تمام حضرات نے مناظرہ کو خوش اسلوبی سے انجام تک پہنچانے میں جو حصہ لیا دن رات محنت فرمائی۔ ہزار ہا میل کی مسافت طے کی۔ سفر کی تکالیف کو برداشت فرمایا۔ حضور ﷺ کے ناموس کی حفاظت کے لئے ایک ٹیم بن گئے۔ یہ تمام علمائے کرام کے لئے ایک مشعل راہ کا کام دے گا۔ میں سچے دل سے ان تمام حضرات کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

مولانا محمد اسماعیل صاحب ناظم جامعہ عربیہ رائے درگ بھی ہمارے شکریہ کے مستحق ہیں کہ آپ نے ہماری خواہش پر جامعہ عربیہ کی لائبریری سے نایاب کتب مولانا عبدالغنی صاحب سیفی مدرس مدرسہ جامعہ عربیہ کے ذریعہ روانہ فرمائیں۔ جس سے مناظرہ میں کافی مدد ملی۔ مولانا سیفی نے اپنے مفوضہ فرض کو بحسن و خوبی انجام دیا۔ ہم ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔

مناظرہ کی تشہیر کے سلسلہ میں نہ صرف ہندوستان کے اخبار و رسائل نے حصہ لیا۔ بلکہ بیرون ہند کے رسائل و اخبارات نے بھی اس مناظرہ کی صحیح روئیداد اور عظیم الشان نتائج کو دنیا کے سامنے پیش کر کے اسے ایک یادگار اور تاریخی مناظرہ بنا دیا۔ جس کا ہم دلی شکریہ ادا کرتے ہیں۔ اس مناظرہ کی کامیابی پر ہمیں بے شمار خطوط و تار ہند و بیرون ہند سے مبارک بادی کے موصول ہوئے۔ جن کا فرداً فرداً شکریہ ادا کرنا ممکن نہیں ہے۔ لہٰذا ہم مجملاً تمام احباب کا دلی شکریہ ادا کرتے ہیں۔

محترم جناب بشونا تھ صاحب ریڈی جو مناظرہ کے صدر تھے۔ انہوں نے کمال دیانتداری وغیر جانبداری سے اس فرض کو انجام دیا۔ تحریری مناظرہ کے لئے اپنا گودام خالی کرا دیا۔ مناظرہ سناتے وقت قادیانی مولوی کی گستاخی سے ایک خطرناک ہنگامہ ہو جا رہا تھا۔ جسے ان کے تدبیر نے روک دیا۔ ان کا ہم اور تمام یاد گیر والے دلی شکریہ ادا کرتے ہیں۔

اس مناظرہ میں جن حضرات نے چندہ دیا۔ میں ان سب کا مشکور ہوں۔ خصوصاً بیرون

٦

یاد گیر والے حضرات جیسے گلبرگہ رائچور وحیدر آباد وغیر چاہیں وہ بڑی خوشی سے ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔ اراکین جنہوں نے اپنی انتھک کوششوں سے اس کو بخیر و خوبی ان

نتائج مناظرہ

اخیر میں یہ بتا دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ عیاں ہو گئی کہ مرزائی جماعت کا اسلام سے کوئی دور کا چنانچہ اس مناظرہ کے فوراً بعد ہی پانچ افرا اور اس کے بعد چھ اشخاص یکے بعد دیگرے مرزائیت مولوی عبدالقادر صاحب جو عرصہ سے مرزائی مبلغ تھے پالیا اور مرزائیت کی دنیا کو لات مار دی۔ یہ تمام حضر آسانی کے لئے مرزائیت سے تائب ہونے والے ح

٧

صفحہ ٤٩

ہوئے۔ مولانا قمر صاحب بنارسی اور مولانا محمد داؤد جی صاحب اور مولانا سید سراج الساجدین صاحب فرمائی۔ اہل یادگیر تشریف لائے اور دس دن تک یادگیر میں خوبی انجام دیا بلکہ تاقیام ہر رات مسجد چوک میں جلسے کو گرم کر دیئے۔ ان تمام حضرات نے مناظرہ کو خوش دن رات محنت فرمائی۔ ہزار ہا میل کی مسافت طے کر کے ناموس کی حفاظت کے لئے ایک ٹیم بن گئے۔ کا کام دے گا۔ میں سچے دل سے ان تمام حضرات کا

جامعہ عربیہ رائے درگ بھی ہمارے شکریہ کے مستحق جن کی لائبریری سے نایاب کتب مولانا عبدالغنی صاحب کو فراہم کیں۔ جس سے مناظرہ میں کافی مدد ملی۔ مولانا موقع دیا۔ ہم ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ صرف ہندوستان کے اخبار و رسائل نے حصہ لیا۔ بلکہ اس مناظرہ کی صحیح روئیداد اور عظیم الشان نتائج کو دنیا کے ن مناظرہ بنا دیا۔ جس کا ہم دلی شکریہ ادا کرتے ہیں۔ تار ہند و بیرون ہند سے مبارک بادی کے موصول ہوئے ہیں۔ لہذا ہم مجملاً تمام احباب کا دلی شکریہ ادا

آفندی جو مناظرہ کے صدر تھے۔ انہوں نے کمال انجام دیا۔ تحریری مناظرہ کے لئے اپنا گودام خالی کی گستاخی سے ایک خطرناک ہنگامہ ہو جا رہا تھا۔ جسے یادگیر والے دلی شکریہ ادا کرتے ہیں۔ ساتھ دیا۔ میں ان سب کا مشکور ہوں۔ خصوصاً بیرون

یادگیر والے حضرات جیسے گلبرگہ، رائچور وحیدر آباد وغیرہ جو صاحبان اس مناظرہ کے آمد و خرچ دیکھنا چاہیں وہ بڑی خوشی سے ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔ اراکین مناظرہ کمیٹی بھی دلی شکریہ کے مستحق ہیں۔ جنہوں نے اپنی انتھک کوششوں سے اس کو بخیر و خوبی انجام دیا۔

نتائج مناظرہ

اخیر میں یہ بتا دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ اس مناظرہ سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو گئی کہ مرزائی جماعت کا اسلام سے کوئی دور کا بھی تعلق نہیں۔

چنانچہ اس مناظرہ کے فوراً بعد ہی پانچ افراد نے مع خاندان والوں کے اسلام قبول کر لیا اور اس کے بعد چھ اشخاص یکے بعد دیگرے مرزائیت سے تائب ہوئے۔ ان میں خصوصیت سے مولوی عبد القادر صاحب جو عرصہ سے مرزائی مبلغ تھے اور باقاعدہ تنخواہ پاتے تھے۔ انہوں نے حق کو پالیا اور مرزائیت کی دنیا کو لات مار دی۔ یہ تمام حضرات مستحق صد مبارک باد ہیں۔ تحقیق حال کی آسانی کے لئے مرزائیت سے تائب ہونے والے حضرات کے نام و پتے مندرجہ ذیل ہیں۔

عاجز : نجم الہدیٰ، معتمد مناظرہ کمیٹی یادگیر

٧

صفحہ ٥٠

مقدمہ

الحمد لله رب العلمین والصلوة والسلام علی رحمة اللعالمین وعلی الہ واصحابہ واہل بیتہ واتباعہ اجمعین الی یوم الدین . اما بعد!

میرے بزرگو اور دوستو! یہ چند سطور بطور مقدمہ ”یادگار یادگیر“ کے لئے لکھنے کی جرأت اس لئے کی کہ حضرت استاذ شیرازیہ (مولانا سید محمد اسماعیل) مدظلہ العالی کی ہمرکابی میں یادگیر حاضر ہوا تھا۔ میرا ارادہ تھا کہ اس تاریخی مناظرے کی ایک مستقل تفصیل لکھ دوں۔ مگر اس لئے ہمت نہ کی کہ حضرت مدظلہ کا اجمالی جواب بھی بحمد اللہ نہایت کافی وشافی ہے۔ مگر جب کہ قادیانیوں نے ”مناظرہ یادگیر“ نامی کتاب شائع کر دی اور اس میں خود قادیانی مناظر نے بطور تتمہ مناظرہ اپنے قلم سے ایک مقدمہ لکھ کر الحاق فرمادیا تو اب میرے لئے ضروری ہوگیا کہ اس ”مشتے کہ بعد از جنگ یاد آید“ والی مثل کو واقعہ بنا کر آپ کی خدمت میں پیش کردوں۔ ان کے مقدمہ کا جواب دینے سے پہلے میں یہ ضروری سمجھتا ہوں کہ قادیانی جماعت جو اپنے آپ کو انتہائی مہذب اور اصول کی پابند جماعت کہلاتی ہے اس نے اس مناظرہ میں کس طرح خود اپنی طے کردہ تینوں شرائط ناموں کی خلاف ورزی کی۔ شرائط نامہ نمبر اول کی دفعہ ”ب“ میں یہ موجود ہے کہ : ”عنوان ثانی کی صورت میں اہل سنت والجماعت مدعی ہوگی۔“ پھر اسی کی آدھی سطر بعد نمبر : ٢ ڈال کر یہ تحریر ہے کہ: ”تینوں مضامین میں جماعت احمدیہ مدعی ہوگی۔“ پہلی اور آخری تقریر مدعی کی ہوتی۔ یہ تو وہ تضاد ہے جسے خود شرائط کے اندر ہی پیدا کیا گیا ہے۔ اب اس تضاد کو بھی سن لیں۔ جو ان کے مناظر نے کیا ہے۔ اسی شرائط نامہ کے نمبر : ٧ پر یہ درج ہے کہ : ”نیز مناظرین کے لئے لازمی ہوگا کہ مناظر مضمون زیر بحث کے علاوہ کسی اور مضمون پر بحث شروع نہ کرے۔“ مگر وائے تعجب کہ قادیانی مناظر نے اپنے تینوں موضوع میں اس کی خلاف ورزی کی۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات وممات کی بحث میں معراج شریف کا ذکر۔ اجرائے نبوت و ختم نبوت کی بحث کے اندر حیات عیسیٰ علیہ السلام کا عنوان اور صدق وکذب مرزا میں مجدد کی بحث چھیڑ دی۔ اسی طرح اسی دفعہ نمبر : ٧ کے اوپر کی سطروں سے مناظر صاحبان کے لئے لازمی ہوگا کہ وہ دائرہ اخلاق وشرافت میں تقریر کریں۔ اس شرط کا پرخچہ بھی قادیانی مناظر نے جابجا اڑایا۔ جس سے بطور نمونہ ہم چند حوالوں کو نقل کرتے ہیں۔ تاکہ ان کا ایفائے عہد اور شرافت نفسی کا

٨

صفحہ ٥١

مقدمہ

المین والصلوٰۃ والسلام علی رحمۃ اللعالمین وآتباعہ اجمعین الی یوم الدین ، اما بعد! سطور بطور مقدمہ ”یادگار یاد گیر“ کے لئے لکھنے کی جرأت مولانا سید محمد اسماعیل) مدظلہ العالی کی ہمرکابی میں یاد گیر مناظرے کی ایک مستقل تفصیل لکھ دوں۔ مگر اس لئے بھی بحمداللہ نہایت کافی وشافی ہے۔ مگر جب کہ قادیانیوں چھپی اور اس میں خود قادیانی مناظرے نے بطور تتمہ مناظرہ تو اب میرے لئے ضروری ہو گیا کہ اس ”تتمے“ کے بعد از کی خدمت میں پیش کردوں۔ ان کے مقدمہ کا جواب کہ قادیانی جماعت جو اپنے آپ کو انتہائی مہذب اور اس مناظرہ میں کس طرح خود اپنی طے کردہ تینوں شرائط اول کی دفعہ ”ب“ میں یہ موجود ہے کہ: ”عنوان ثانی کی “ پھر اسی کی آدھی سطر بعد نمبر :٢ ڈال کر یہ تحریر ہے کہ : ہوگی“۔ پہلی اور آخری تقریر مدعی کی ہوگی۔ یہ تو وہ تضاد ہے اب اس تضاد کو بھی سن لیں۔ جو ان کے مناظر نے ہے کہ: ”نیز مناظرین کے لئے لازمی ہوگا کہ مناظر بحث شروع نہ کرے“۔ مگر وائے تعجب کہ قادیانی خلاف ورزی کی۔

مہمات کی بحث میں معراج شریف کا ذکر۔ اجزائے السلام کا عنوان اور صدق وکذب مرزا میں مجدد کی پر کی سطروں سے مناظر صاحبان کے لئے لازمی گی۔ اس شرط کا پرچہ بھی قادیانی مناظر نے جابجا تے ہیں۔ تا کہ ان کا ایفائے عہد اور شرافت نفسی کا

نمونہ ناظرین کرام کے سامنے آ جائے۔ اپنے مدمقابل کو کہیں ”میاں مٹھو“ تو کہیں درشنی پہلوان کہیں ”لومڑی“ بتایا تو کہیں سوال گندم و جواب چنا۔ واقعی بات ہے برتن میں جو ہوتا ہے وہی ٹپکتا ہے۔ علاوہ ازیں تقریری اسٹیج پر اپنے ہاتھوں سے اشارہ کر کے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ کی جو توہین کی اور جو ایکٹنگ دکھایا وہ غیر مسلم شرفاء کے لئے بھی ناقابل برداشت ہو گیا۔ ایکٹنگ کرنے کے بعد ایسے حواس باختہ ہوئے کہ باقی پرچہ پڑھنا چھوڑ کر اسٹیج سے بھاگ کھڑے ہوئے۔ جناب ریڈی صاحب صدر جلسہ کے اصرار پر دوبارہ اسٹیج پر آ کر باقی مضمون کو پورا کیا۔ اسی وقت ہزاروں انسانوں کو ان کی شرافت وتہذیب کا حال معلوم ہو گیا اور صرف اسی وجہ سے کئی ایک حضرات نے اس مذہب سے تائب ہونے کا اعلان اسی دن شام سے پہلے پہلے کر دیا۔ اس سلسلہ میں نمبر :١١ کی شرط کو دیکھ لیا جائے۔ شرط نمبر :٨ پر تحریر ہے کہ مناظرہ میں قرآن مجید، احادیث صحاح ستہ اور اجماع صحابہؓ بطور دلیل پیش ہوں گے۔ مگر قادیانی مناظر نے کن دلائل کو پیش کیا اسے آپ خود ہی ملاحظہ فرمالیں اور تو اور موضوعات کبیر جو نقلی حدیثوں کا مجموعہ ہے جو اس کے نام ہی سے ظاہر ہے اس کو بھی پیش کر دیا۔

اسی شرائط نامہ کے نمبر :١٤ پر ہے: ”عربی زبان کی قدیم لغات جیسے صراح یا المنجد یا عربی سے اردو بیان اللسان لغات تشریح کے لئے رکھیں گے ...... ائمہ تفسیر کا ترجمہ مثلاً شاہ عبدالقادر صاحب دہلویؒ یا شاہ عبدالعزیز صاحب محدث دہلویؒ کے متراجم قرآن ساتھ رہیں گے یا ان سے قدیم تر مترجم القرآن پیش کئے جاسکتے ہیں۔ الی آنکہ اسی طرح اہل سنت والجماعت، مرزا قادیانی کی تحریریں دعوے کے بعد کی پیش کر سکتے ہیں۔ کوئی فریق اقوال الرجال کو دلیل میں پیش نہیں کرے گا۔“

آیئے! ذرا اس شرط کا حال بھی دیکھ لیں۔ حضرت مولانا (سید محمد اسماعیل) مدظلہ نے حضرت شاہ ولی اللہ صاحب رحمہ اللہ علیہ کا ترجمہ پیش کیا۔ جو شاہ عبدالعزیزؒ اور شاہ عبدالقادر صاحبؒ کے والد محترم ہیں۔ جن کا پایہ دونوں فریق کو مسلم ہے۔ اس میں تین جگہ حضرت شاہ ولی اللہ صاحبؒ نے یہی ترجمہ کیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں۔ مگر اس کے جواب میں قادیانی مولوی نے خود اپنے ہی مرزا کا قول پیش کر دیا۔ جو خلاف شرائط مناظرہ ہونے کے علاوہ ایک مستقل خلاف ورزی ہے۔ کیونکہ مرزا قادیانی کی عبارت کو بطور دلیل پیش کرنے کا حق اہل سنت کو نمبر :١٤ کے مطابق تھا نہ کہ مرزائیوں کو۔ مگر قادیانی مناظر مجبور تھا اس لئے تقریباً ہر پرچہ پر ٩

صفحہ ٥٢

ہماری طرف سے یہی مطالبہ رہا کہ فلاں فلاں کتابوں کو پیش کرنا خلاف شرائط ہے۔ نیز مرزا قادیانی کی تصدیق میں خود مرزا قادیانی ہی کے قول کو پیش کرنا خلاف شرائط ہے۔ نیز مرزا قادیانی کے قول کو پیش کرنا خلاف شرائط ہونے کے علاوہ عقل کے بھی خلاف ہے۔ مگر وہاں وہی مرغ کی ایک ٹانگ ۔ یہ چند سطور اس لئے پیش کیں کہ پورا مناظرہ شرائط کے تابع ہوتا ہے۔ جس نے شرائط کے خلاف ورزی کی، وہ ہار گیا۔ خواہ وہ اس کا اقرار کرے یا نہ کرے۔ مگر اصول یہی ہے۔ اسی لئے حضرت استاذ نے ہر بار ان کو ٹوکا۔ مگر کسی ایک پرچہ پر بھی قادیانی مولوی یہ نہ لکھ سکا کہ تمہارا فلاں حوالہ یا فلاں دلیل خلاف شرائط ہے۔ الفضل بما شهدت به الاعداء!

شرط نمبر: ١١...... دوران مناظرہ تالی بجانا، آوازیں کسنا، شور و غل مچانا ،نعرہ لگانا اور کوئی خلاف تہذیب حرکات منع ہوں گی۔ پھر شرط نامہ نمبر: ٢ کے دفعہ نمبر : ٤ پر ہے۔ شرط نمبر: ١١ کی پابندی کرانے کا ہر فریق کا صدر ذمہ دار ہوگا۔ اس کے متعلق کچھ تو اجمالاً میں نے پہلے تحریر کر دیا ہے اور اصل جواب اس کا یادگیر والے یا شرکائے مناظرہ ہی دے سکتے ہیں کہ قادیانی حضرات اور ان کے مبلغ نے اس کی کس طرح دھجیاں اڑائیں۔ اگر آپ شرائط ناموں ہی کی کسوٹی پر کس لیں تو یہ مناظرہ قادیانیوں کے لئے شکست پر شکست کا کھلا ثبوت ہے۔

اب ہم آپ کی خدمت میں ”مناظرہ یادگیر“ کے مقدمہ کا مختصر جواب پیش کرتے ہیں۔ مولوی سلیم نے (اربعین نمبر ٢ ص ٦) کے حوالہ سے یہ دلیل پیش کی ۔ اگر مرزا قادیانی کی صداقت ثابت نہیں ہو سکتی تو پھر دنیا کے کسی نبی کی صداقت بھی ثابت نہیں ہو سکتی۔ یہ عجیب دلیل ہے۔ اگر کسی دلیل کو نور احمد کابلی یا خواجہ اسماعیل لندنی یا دیگر جھوٹے نبی پیش کر دیں تو اس کا کیا جواب قادیانیوں کے پاس ہوگا؟ دلائل کی رو میں بہتے ہوئے انہوں نے اور بھی کچھ ادھر ادھر سے لکھ دیا ہے۔ جس کا اصل مناظرہ سے کوئی تعلق نہیں۔ مثلاً ”قولا لينا“ والی آیت سے حکومت کی خوشامد کو درست قرار دینا یہ مرزائیوں ہی کا کام ہے۔ خیر اس سے اتنا تو ثابت ہو گیا کہ مرزا قادیانی ملکہ وکٹوریہ کی خوشامد میں لگے رہتے تھے۔ اسی طرح ص ٤ تک چونکہ انہوں نے ایسی باتیں لکھی ہیں جس کا مناظرہ یادگیر سے کوئی تعلق نہیں۔ اس لئے اس سے قطع نظر کرتے ہوئے حضرت فاطمہؓ کی توہین کو مٹانے کے لئے چھ سات صفحے ادھر ادھر کی باتوں سے پر کیے ہیں۔ شاید یہ سب دلائل ان کو مجلس مناظرہ میں معلوم نہ تھے۔ ورنہ وہ ان دلائل کو اسی وقت دے دیتے۔ افسوس کہ اتنی طول طویل تحریر کے باوجود اصل سوال جہاں تھا وہیں رہا۔ اس کا

١٠

صفحہ ٥٣

میں فلاں کتابوں کو پیش کرنا خلاف شرائط ہے۔ نیز قادیانی ہی کے قول کو پیش کرنا خلاف شرائط ہے۔ نیز شرائط ہونے کے علاوہ عقل کے بھی خلاف ہے۔ مگر وہاں دلائل پیش کیں کہ پورا مناظرہ شرائط کے تابع ہوتا ہے۔ کیا گیا۔ خواہ وہ اس کا اقرار کرے یا نہ کرے۔ مگر اصول ہم نے ان کو ٹوکا۔ مگر کسی ایک پرچہ پر بھی قادیانی مولوی یہ نہ لکھ سکے کہ شرائط ہے۔ الفضل بما شهدت به الاعداء! سے تالی بجانا، آوازیں کسنا، شور و غل مچانا ، نعرہ لگانا اور کوئی نامہ نمبر: ٢ کے دفعہ نمبر: ٤ پر ہے۔ شرط نمبر: ١١ کی پابندی کے متعلق کچھ تو اجمالاً میں نے پہلے تحریر کر دیا ہے اور طرح دے سکتے ہیں کہ قادیانی حضرات اور ان کے ہے۔ اگر آپ شرائط ناموں ہی کی کسوٹی پر کس لیں تو یہ کا کھلا ثبوت ہے۔

”مناظرہ یادگیر“ کے مقدمہ کا مختصر جواب پیش کرتے کے حوالہ سے یہ دلیل پیش کی۔ اگر مرزا قادیانی کی ان کی صداقت بھی ثابت نہیں ہو سکتی۔ یہ عجیب دلیل مسیلمہ کذاب یا دیگر جھوٹے نبی پیش کر دیں تو اس کا کیا بحث میں پھنستے ہوئے انہوں نے اور بھی کچھ ادھر ادھر دلیل میں نہیں۔ مثلاً ”قولاً لینا“ والی آیت سے یہ جاہلوں ہی کا کام ہے۔ خیر اس سے اتنا تو ثابت ہو گیا کہتے تھے۔ اسی طرح ص ٤ تک چونکہ انہوں نے ان کا کوئی تعلق نہیں۔ اس لئے اس سے قطع نظر کرتے ہوئے چھ سات صفحے ادھر ادھر کی باتوں سے پر کر دیئے۔ یہ بھی معلوم نہ تھے۔ ورنہ وہ ان دلائل کو اسی وقت باوجود اصل سوال جہاں تھا وہیں رہا۔ اس کا

جواب نہیں دے سکے۔ سوال یہ کہ براہین احمدیہ والی تحریر میں مرزا قادیانی نے حضرت فاطمہؓ کی توہین کی یا نہیں؟ وہاں مرزا نے لفظ ”ران“ استعمال کیا ہے۔ ”گود“ نہیں اس فرق کو ہر اردو داں جانتا ہے۔ مزید وضاحت کی ضرورت نہیں، صفت یہ ہے کہ قادیانی مولوی نے مرزا قادیانی کی توہین کو دفع کرنے کے لئے ان کی مختلف کتابوں سے مختلف حوالہ دینے کے بعد بھی کمی محسوس کی تو حضرت بڑے پیر صاحبؒ اور حضرت مولانا فضل الرحمن صاحبؒ گنج مراد آبادی کے ملفوظات کو بھی اپنی دلیل کی مضبوطی کے لئے پیش کیا وہ شاید چوک گئے۔ ان کو اچھی طرح معلوم ہے کہ کسی نبی کے قول کی درستگی کا ثبوت خدا کے کلام سے یا کم از کم کسی نبی کے کلام سے مل سکتا ہے۔ نہ کہ کسی عالم یا ولی یا بزرگ یا شاعر وغیرہ کے کلام سے، مرزا قادیانی کا قول یا فعل اگر درست تھا۔ اس کے لئے قرآن مجید یا احادیث سے نظیر دینی چاہئے تھی۔ مگر یہ بھی ہمارے ہندوستانی نبی کا عجوبہ ہے کہ اس کی صداقت کو غیر نبی کے کلاموں سے مثال دے کر ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ خود اس بات کی دلیل ہے کہ کسی سچے نبی نے کسی دوسرے نبی کی یا ان کے اہل بیت واصحاب کی توہین نہیں ورنہ قادیانی اس کو نظیر بنا کر دلیل میں پیش کرتے۔ یہ خود کھلا ثبوت ہے کہ مرزا قادیانی کی توہین وتذلیل سے نہ کوئی نبی بچا نہ خود سرکار دو عالم ﷺ، نہ ان کے اہل بیت، نہ صحابہ کرامؓ، بزرگان دین یا ائمہ اسلام وہاں کس شمار و قطار میں ہیں! اور یہی وجہ ہے کہ ہماری طرف سے حیات عیسیٰ علیہ السلام کے ثبوت میں جب حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلویؒ کا ترجمہ پیش کیا گیا تو شرائط مناظرہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے قادیانی مولوی نے اس کے مقابل میں خود مرزا قادیانی ہی کا کلام پیش کر دیا۔ حاصل کلام یہ ہے کہ فاطمہ بتولؓ کی حضرت حسینؓ و دیگر اہل بیت بلکہ خود سرکار دو عالم فدا ابی وامی ﷺ کی جو توہین مرزا قادیانی نے کی جس کا حوالہ حضرت استاذ نے مناظرہ میں پیش کیا وہ اپنی جگہ پر اتنا صاف اور اہم ہے کہ اس کو ہلکا کرنے کی جتنی بھی کوشش جماعت مرزائیہ کرے ناکام ہی رہے گی۔ صفت یہ ہے کہ قادیانی مولوی نے مرزا قادیانی کی دوسری کتابوں سے دوسرے دوسرے حوالوں کو بھی نقل کیا ہے۔ یہی چال وہ میدان مناظرہ میں بھی چلے تھے۔ جس کا نہایت مسکت جواب حضرت استاذ نے یہ دے دیا ہے کہ میں تسلیم کرتا ہوں کہ مرزا قادیانی نے دوسری جگہوں پر دوسرا مضمون لکھا ہے۔ کیونکہ یہ مرزا قادیانی کی عادت قدیمہ ہے کہ یہاں کچھ اور وہاں کچھ ...... مگر سوال یہ ہے کہ مرزا قادیانی کا جو حوالہ جس جگہ سے ہم نے دیا ہے وہ صحیح ہے یا غلط۔ اگر صحیح ہے تو اعتراض اپنی جگہ اٹل ہے۔ 11

صفحہ ٥٤

ڈاکٹر عبدالحکیم

مناظرہ میں زائچہ کھینچ کر دکھایا گیا ہے کہ ڈاکٹر اپنی پیش گوئی میں مرزا قادیانی کی عمر کو برابر گھٹاتا ہی جا رہا ہے اور مرزا قادیانی کے مقابل میں اپنی عمر کو بڑھاتا ہی جاتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ مرزا قادیانی ڈاکٹر عبدالحکیم کی پیش گوئی کی میعاد کے اندر بلکہ اس سے ایک ماہ قبل ہی دنیا سے تشریف لے جاتے ہیں۔ اب اس میں خواہ مخواہ یہ تاویل کرنا کہ ڈاکٹر عبدالحکیم نے اپنی پیش گوئی کو اپنے قلم سے منسوخ کر دیا ”تک“ و ”کو“ تاویل میں پیش کیا ہے۔ یا کسی اخبار کا حوالہ میں پیش کرنا یا ڈاکٹر عبدالحکیم کے مخالف حضرات کا قول نقل کرنا سراسر خلاف اصول ہے۔ خصوصاً جب کہ مرزا قادیانی نے اپنے مرنے سے چند گھنٹے پہلے ”چشمہ معرفت“ نامی کتاب میں ڈاکٹر عبدالحکیم کی پیش گوئی میں ”تک“ کا لفظ لکھا ہے۔ ”کو“ کا نہیں۔ لہٰذا یہ سراسر دھوکہ ہے۔ علاوہ ازیں ہماری طرف سے یہ دلیل دی گئی ہے کہ اگر ”تک“ و ”کو“ سے الگ ہو کر دیکھا جائے تو یہ بات صاف ہو جاتی ہے کہ آخر خدا نے جو بار بار مرزا قادیانی کو تسلی دی کہ میں تیری عمر کو بڑھا دوں گا۔ وغیرہ وغیرہ! اس کا کیا ہوا۔ مگر قادیانی مناظر اپنے مناظرہ کے پرچہ میں جواب دینے سے عاجز ہو کر اس کمی کو مقدمہ نویسی سے پورا کرنا چاہا۔ مگر آپ دیکھ لیں کہ اصل سوال جہاں تھا وہیں رہا۔

مولوی محمد حسین بٹالویؒ

مولانا محمد حسین بٹالویؒ ان مجاہدین میں سے ہیں جنہوں نے پہلے ہی سے مرزا قادیانی کو پہچان لیا۔ تا زندگی ان کی مخالفت میں ایک مستقل پرچہ اشاعت السنہ کے نام سے جاری کیا جو برابر ترقی کرتا رہا۔ مرزا قادیانی سے بچپن کی دوستی تھی جو مرزا قادیانی کے دعوے کے بعد دشمنی میں بدل گئی۔ مرزا قادیانی نے ان کے ایمان لانے کی پیش گوئی اعجاز احمدی میں کی۔ جس کا حوالہ مناظرہ میں دیا گیا ہے۔ مگر قادیانی مولوی اپنی عادت سے مجبور ہو کر ادھر ادھر کی باتیں جوڑ رہے ہیں۔ اصل اعتراض اعجاز احمدی کی عبارت پر ہے۔ اس کا جواب نہیں۔ رہا ان کا یہ کہنا کہ مولانا محمد حسین بٹالوی کو اپنے اہل وعیال سے بہت تکلیف پہنچی۔ کاش کہ وہ اگر اس بحث کو نہ چھیڑتے تو بہتر تھا۔ اب ہم دریافت کرتے ہیں کہ خود مرزا قادیانی کی اس بیوی کا کیا حال ہوا جن کو وہ حوا بنا کر خود کو آدم بنا کر جنت میں جانا چاہتے تھے اور اپنی اولادوں کو مرزا قادیانی نے عاق نامہ تک لکھ دیا۔ افسوس صد افسوس سرکار دوعالم ﷺ پر ایمان لانے والوں میں سب سے پہلے آپ کی زوجہ محترمہ ام المؤمنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ اور آپ کے بچپن کے دوست حضرت ابوبکر صدیقؓ ہیں اور یہاں معاملہ بالکل برعکس ہے۔ یہ پہچان ہی مرزا قادیانی کے جھوٹے ہونے کے لئے کافی ہے۔ اگر کوئی دیدہ بینا رکھتا ہو۔

١٢

صفحہ ٥٥

قادیان میں طاعون

دافع البلاء نامی کتاب میں مرزا قادیانی نے بڑے زور وشور سے یہ اعلان کیا کہ ”اگر ستر برس تک بھی ملک میں طاعون رہے۔ پھر بھی قادیان اس سے محفوظ رہے گا۔ کیونکہ یہ اس کے نبی کی تخت گاہ ہے۔“

(دافع البلا ص ١٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٠)

اس کھلی پیش گوئی کو مرزا قادیانی کے جھوٹے ہونے کے لئے پیش کیا گیا اور پہلے ہی سے کہہ دیا گیا کہ آپ کی جارف والی تاویل نہیں چل سکتی۔ مگر وہی تاویل بے جا بھلا ”جارف“ کے معنی ہی کسی لغت سے بتلا دیا ہوتا کہ کیا ہے۔ اگر جھاڑو دینا ہے تو اس کے یہ معنی ہوئے کہ قادیان میں ایسا طاعون نہیں ہے۔ جو ان کا صفایا کردے تو پھر دیکھنا یہ ہے کہ اس قسم کا طاعون دوسرے کس جگہ آیا۔ ہر جگہ یہی ہوتا ہے کہ کچھ مرتے ہیں اور کچھ بچتے ہیں۔ پھر اس میں قادیان کیسے دارالامن رہ سکتا ہے اور نبی کی تخت گاہی سے اسے کیا فائدہ پہنچا؟ علاوہ ازیں حضرت استاذ نے گرفت یہ کی تھی کہ خود مرزا قادیانی کا اقرار موجود ہے کہ قادیان میں طاعون زوروں پر آیا۔ اس کا جواب نہیں پھر دوسری گرفت یہ کہ خود مرزا قادیانی جس چار پائی پر کشتی نوح کے اندر سوار تھے۔ طاعون وہاں بھی پہنچ گیا۔ مگر اس کا جواب ندارد۔ غرضیکہ ادھر ادھر کی باتوں سے اس مقدمہ کو پر کر دیا۔ جسے ناظرین خود ہی ملاحظہ فرمالیں۔

قادیانی حقیقت

قادیانی اپنے مذہب کی حقیقت کو چھپانے کے لئے سب سے پہلے یہی گفتگو کرتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو گئے ۔ حالانکہ اس مسئلہ سے ان کے مذہب کو کوئی دور کا واسطہ بھی نہیں ۔ کیونکہ نبوت کوئی وراثت میں بٹنے والی چیز تو نہیں ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے مرجانے سے مرزا قادیانی کو مل جاتی۔ اس کے علاوہ قادیانیوں کی ایک بہت بڑی جماعت جسے لاہوری کہا جاتا ہے۔ جو آج بھی موجود ہے۔ وہ عیسیٰ علیہ السلام کو مردہ تسلیم کرتی ہے۔ یہاں تک کہ خود مرزا قادیانی کو بھی مسیح مانتی ہے۔ مگر اسے یہ جماعت محض اس لئے کافی کہتی ہے کہ وہ مرزا قادیانی کو نبی نہیں مانتی ۔ اسی ایک دلیل سے یہ بات صاف ہو جاتی ہے کہ قادیانیوں سے مسلمانوں کا جھگڑا ختم نبوت پر ہے۔ مگر قادیانی مولویوں کی یہ دیدہ دلیری ہے کہ وہ ہر جگہ عیسیٰ علیہ السلام کی حیات وممات کا مسئلہ چھیڑ کر مرزا قادیانی کی نبوت بلکہ ختم نبوت پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس لئے اس کے متعلق انتہائی اختصار سے ہم کچھ عرض کرتے ہیں۔ تمام مسلمانوں کا یہ متفقہ عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ سے آسمان پر اٹھا لیا۔ و اِن

١٣

صفحہ ٥٦

وقت آسمان پر ہیں، زندہ ہیں۔ قرب قیامت میں آسمان سے اتریں گے۔ دجال کو قتل کریں گے۔ اس وقت ایک ہی مذہب اسلام ہوگا۔ ظلم وجور دنیا میں باقی نہ رہے گا۔ خیر وبرکت کا زمانہ ہوگا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام شادی کریں گے۔ ان کے بچے ہوں گے۔ مدینہ شریف میں ان کا انتقال ہوگا اور روضہ شریف میں جو خالی جگہ ہے۔ وہاں دفن ہوں گے۔ اس پر اجماع ہے۔ احادیث متواترہ سے یہ ثابت ہے۔ چنانچہ حدیث کی کوئی ایسی کتاب نہیں جو ان احادیث سے خالی ہو۔ کمال یہ ہے کہ خود مرزا قادیانی نے باون سال تک اس عقیدہ کا پرچار کیا۔ اس کے نہ ماننے والوں کو خارج از اسلام قرار دیا۔ مگر آخر عمر میں خود عیسیٰ بننے کے شوق میں یہ سب دلائل کو غلط قرار دیا اور یہ عقیدہ گھڑا کہ وہ آسمان پر نہیں گئے بلکہ شام سے سفر کرتے ہوئے کشمیر آئے اور یہیں ان کا انتقال ہوا اور ان کی قبر سری نگر میں موجود ہے۔ اس سے پہلے مرزا قادیانی نے نہایت وثوق سے ان کی قبر کو گلیل میں بتلایا تھا۔ خیر جانے دیجئے اس بحث کو، اب جب کہ مرزا قادیانی نے اپنا عقیدہ بدلا تو قرآن واحادیث سے کچھ تاویلات نکال کر دھوکہ دینا شروع کیا۔ چنانچہ ناظرین اس کتاب میں ان کے دلائل کو خود ملاحظہ فرمالیں۔

سوال صرف یہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کو کس نے مارا؟ قرآن نے یا حدیث نے یا مرزا قادیانی کے الہام نے تو قادیانی مولوی مجبور ہو کر تحویل قبلہ کی مثال دے کر تسلیم کر لیتا ہے کہ مرزا قادیانی کے الہام نے مارا۔ اب تو مسئلہ خود بخود حل ہو گیا کہ جس طرح بیت المقدس والے قبلے کو آنحضرت ﷺ کی وحی نے بدل دیا۔ ٹھیک اسی طرح عقیدہ حیات عیسیٰ علیہ السلام کو مرزا قادیانی کے الہام نے بدل دیا۔ اب قرآن کی آیات کو کتر بیونت کرنا یا احادیث کو غلط کہنے کی ضرورت کیا رہی۔ کیونکہ باون سال تک تو تم اسی قرآن اور انہیں احادیث اور انہیں تفاسیر کو صحیح مانتے تھے۔ بلکہ احادیث نزول عیسیٰ علیہ السلام کو متواتر کہتے تھے۔ اب یہی دلائل غلط ہوگئے۔ افسوس صد افسوس اس ضلالت پر۔

یہی حال ختم نبوت کا ہے۔ ختم نبوت اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے۔ سرکار دو عالم ﷺ کو ہی اللہ تعالیٰ نے خاتم النبیین کے خطاب سے نوازا، قرآن مجید آخری کتاب ”لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ“ آخری کلمہ، اور دین اسلام آخری دین ہے۔ مگر قادیانیوں کا یہ عقیدہ ہے کہ نبوت ختم نہیں ہوئی۔ بلکہ اسلام میں اجزائے نبوت ہے۔ حالانکہ اجزاء نبوت کا عقیدہ عقل اور نقل کے خلاف ہے۔ نقل کے خلاف تو ظاہر ہی ہے۔ اب خلاف عقل ہونے کی سنئے۔ آخر قیامت آئے گی یا نہیں۔ جب قیامت آئے گی تو اس سے پہلے ہی کوئی نہ کوئی آخری نبی ضرور آئے گا۔ یہ تو ہو نہیں سکتا کہ یہ

١٤

سلسلہ ختم نہ ہو تو جب آخری نبی آئے گا تو اس وقت ظاہر بات ہے کہ اس وقت موضوع لئے ایسے کو اپنا موضوع یا عقیدہ بنایا جو کسی نہ کسی لئے یہ بات خود بخود لازم آجاتی ہے کہ سرے اجزائے نبوت اور یوم قیامت میں تضاد کی نسبت نہیں ہو سکتے۔ علاوہ ازیں تبلیغ کا حق صرف اسی کا یہ ڈھونگ کہ ہماری جماعت دنیا کے گوشے گو ہے۔ آج خدا کے فضل وکرم سے تبلیغی جماعت ایک پائی بھی چندہ نہیں کرتی۔ بلکہ اس کے مبلغ وغیرہ میں خدمت اسلام نہایت خاموشی سے انج کرتے کراتے تو کچھ نہیں۔ البتہ اخباری پرو ہے۔ وہ یہ کہ ان کی پیغمبری صرف پیسہ، پریس دھوکہ ہی دھوکہ ہے۔ وہ کس مذہب کی تبلیغ کر پھر دنیا کے نوے کروڑ مسلمانوں کو کافر کیوں فائدہ؟ ان سے کہیں زیادہ کامیابی آج کرسچن نبوت پر یقین نہ ہو اس وقت تک اسلام ہی با بہت گھبراتے ہیں۔ اس میں وہ مرزا قادیانی ہے کہ وہ خود بھی ختم نبوت کے قائل ہیں اور مسلمانوں کا قادیانیوں سے اصل اختلاف ا جالے کی طرح اپنے شکار کو پھانسنے کے لئے مناظرہ میں کھل چکا ہے۔ اس لئے اس پر چند جب کہ خود ان کا لقب مسیح موعود ہی جھوٹ ثا کے کام کے جھوٹے ہونے کی چھان بین بیکار

صفحہ ٥٧

قیامت میں آسمان سے اتریں گے۔ دجال کو قتل کریں گے۔ ظلم و جور دنیا میں باقی نہ رہے گا۔ خیر و برکت کا زمانہ ہوگا۔ گے۔ ان کے بچے ہوں گے۔ مدینہ شریف میں ان کا انتقال ہے۔ وہاں دفن ہوں گے۔ اس پر اجماع ہے۔ احادیث حدیث کی کوئی ایسی کتاب نہیں جو ان احادیث سے خالی ہو۔ تیرہ سو سال تک اس عقیدہ کا پرچار کیا۔ اس کے نہ ماننے والوں کو خود عیسیٰ بننے کے شوق میں یہ سب دلائل کو غلط قرار دیا اور قادیان سے سفر کرتے ہوئے کشمیر آئے اور یہیں ان کا انتقال ہونے سے پہلے مرزا قادیانی نے نہایت وثوق سے ان کی قبر کو مگر بحث کو، اب جب کہ مرزا قادیانی نے اپنا عقیدہ بدلا تو کر دھوکہ دینا شروع کیا۔ چنانچہ ناظرین اس کتاب میں

علیہ السلام کو کس نے مارا؟ قرآن نے یا حدیث نے یا پھر مجبور ہو کر تحویل قبلہ کی مثال دے کر تسلیم کر لیتا ہے کہ کا خود بخود حل ہو گیا کہ جس طرح بیت المقدس والے دیئے۔ ٹھیک اسی طرح عقیدہ حیات عیسیٰ علیہ السلام کو قرآن کی آیات کو کتر بیونت کرنا یا احادیث کو غلط کہنے کی ہم اسی قرآن اور انہیں احادیث اور انہیں تفاسیر کو صحیح تمام کو متواتر کہتے تھے۔ اب یہی دلائل غلط ہوگئے۔

اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے۔ سرکار دو عالم ﷺ کو ہی قرآن مجید آخری کتاب ”لا اله الا الله محمد رسول اللہ ہے۔ مگر قادیانیوں کا یہ عقیدہ ہے کہ نبوت ختم حالانکہ اجرائے نبوت کا عقیدہ عقل اور نقل کے خلاف ختم ہونے کی سنئے۔ آخر قیامت آئے گی یا نہیں۔ کوئی آخری نبی ضرور آئے گا۔ یہ تو ہو نہیں سکتا کہ یہ ١٤

سلسلہ ختم نہ ہو تو جب آخری نبی آئے گا تو اس وقت ان کا موضوع ختم نبوت ہو گا یا اجرائے نبوت؟ ظاہر بات ہے کہ اس وقت موضوع ختم نبوت ہو گا تو قادیانیوں نے اپنے مذہب کے لئے ایسے کو اپنا موضوع یا عقیدہ بنایا جو کسی نہ کسی وقت خود بخود ٹوٹ جاتا ہے۔ ہاں اس موضوع کے لئے یہ بات خود بخود لازم آجاتی ہے کہ سرے سے قیامت ہی کا انکار کر دیا جائے۔ اس لئے کہ اجرائے نبوت اور یوم قیامت میں تضاد کی نسبت ہے۔ یہ دونوں عقیدے ایک ساتھ کبھی بھی جمع نہیں ہو سکتے۔ علاوہ ازیں تبلیغ کا حق صرف اسی مذہب کو ہوتا ہے جو آخری ہو۔ اس لئے قادیانیوں کا یہ ڈھونگ کہ ہماری جماعت دنیا کے گوشے گوشے میں تبلیغ کرتی ہے۔ یہ بھی نرا دھوکہ ہی دھوکہ ہے۔ آج خدا کے فضل و کرم سے تبلیغی جماعت ان سے زیادہ کام کر رہی ہے۔ حالانکہ وہ کسی سے ایک پائی بھی چندہ نہیں کرتی۔ بلکہ اس کے مبلغ خود اپنی کمائی سے عرب، شام، مصر، افریقہ و امریکہ وغیرہ میں خدمت اسلام نہایت خاموشی سے انجام دے رہے ہیں۔ ”اللھم زد فزد“ قادیانی کرتے کراتے تو کچھ نہیں۔ البتہ اخباری پروپیگنڈہ کافی سے زیادہ کرتے ہیں۔ اس کی وجہ بھی ہے۔ وہ یہ کہ ان کی پیغمبری صرف پیسہ، پریس، پیپر، پروپیگنڈہ، پبلسٹی پر قائم ہے۔ ان کی تبلیغ نرا دھوکہ ہی دھوکہ ہے۔ وہ کس مذہب کی تبلیغ کرتے ہیں؟ اسلام کی یا قادیانیت کی۔ اگر اسلام کی تو پھر دنیا کے نوے کروڑ مسلمانوں کو کافر کیوں سمجھتے ہیں؟ اگر قادیانیت کی تو اس سے اسلام کو کیا فائدہ؟ ان سے کہیں زیادہ کامیابی آج کرسچن مشنریوں کو حاصل ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ جب تک ختم نبوت پر یقین نہ ہو اس وقت تک اسلام ہی باقی نہیں رہتا۔ یہی وجہ ہے کہ قادیانی اس موضوع سے بہت گھبراتے ہیں۔ اس میں وہ مرزا قادیانی کے حلف اور فتوے کا بھی اعتبار نہیں کرتے۔ تعجب تو یہ ہے کہ وہ خود بھی ختم نبوت کے قائل ہیں اور وہ مرزا قادیانی کو آخری نور، آخری نبی مانتے ہیں۔ مسلمانوں کا قادیانیوں سے اصل اختلاف اسی پر ہے۔ باقی باتیں قادیانیوں نے خود بطور مکڑی کے جالے کی طرح اپنے شکار کو پھانسنے کے لئے پھیلا رکھا ہے۔ مرزا قادیانی کی صداقت کا حال تو خود مناظرہ میں کھل چکا ہے۔ اس لئے اس پر چنداں مزید وضاحت کی روشنی ڈالنے کی ضرورت نہیں۔ جب کہ خود ان کا لقب مسیح موعود ہی جھوٹ ثابت ہو چکا ہے۔ جس کا لقب اور نام ہی جھوٹ ہو اس کے کام کے جھوٹے ہونے کی چھان بین بیکار ہے۔ فقط : والسلام! (مولانا) سید سراج الساجدین قاسمی نائب مہتمم مدرسہ عربیہ اسلامیہ سنگوہ ڈاکخانہ خاص کوٹ ضلع کٹک ١٥

صفحہ ٥٨

عرض حال

اواخر ماہ نومبر ١٩٦٣ء میں ایک تاریخی مناظرہ قادیانیوں سے یادگیر میں ہوا۔ جسے مناظرہ یادگیر کے نام سے قادیانیوں نے شائع کیا ہے۔ مجھے تقریباً ایک ماہ قبل یہ خبر دوستوں سے مل چکی تھی۔ اسی وقت مجھے یہ خیال آیا ضرور اس میں قادیانیوں نے کچھ کتر بیونت اور کمی بیشی کی ہوگی۔ ورنہ ایسا عظیم الشان اور فیصلہ کن مناظرہ جس میں ہر قدم پر قادیانیوں کو لاجواب ہونا پڑا۔ اسے وہ اپنا پیسہ خرچ کر کے کیوں چھاپنے لگے۔ بہرحال کتاب کی تلاش شروع کی اور یہ کتاب مجھے سفر حیدر آباد کے موقع پر ملی۔ اس کے دیکھنے سے پتہ چلا کہ میرا خیال بالکل درست تھا۔ اس میں قادیانی مناظر سلیم صاحب نے ایک مقدمہ لکھ کر مزید جوابات دینے کی کوشش کی ہے۔ جسے وہ وقت پر شاید بھول گئے تھے۔ اسی طرح مناظرہ کے آخری دن کے آخری پرچہ میں جہاں انہوں نے مرزا قادیانی کے چینی ہونے سے صاف انکار کر دیا تھا۔ جسے میری گرفت سے مجبور ہو کر ان کے صدر کو اقرار کرنا پڑا تھا کہ واقعی مرزا قادیانی (تحفہ گولڑویہ ص ٢٥، خزائن ج ١٧ ص ١١٧) پر اپنے چینی ہونے کا اقرار کیا ہے۔ چونکہ یہ آخری تحریر ان کے لئے کھلی شکست تھی اور یہی مناظرہ کا خلاصہ تھا کہ پہلے مرزا قادیانی کا خاندان بتلاؤ اس کے بعد تمہاری دوسری دلیل سنی جائے گی۔ چونکہ یہ آخری تحریر ہماری فتح مبین کی کھلی دلیل تھی۔ اس لئے اس کو صاف حذف کر دیا۔

علاوہ ازیں اس پر چند صفحے کا ایک پیش لفظ لگایا گیا۔ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ قادیانی جماعت مناظرہ پسند نہیں ہے اور ان کو مجبوراً یادگیر میں مناظرہ کرنا پڑا ہے۔ حالانکہ یہ بھی سراسر خلاف واقعہ ہے۔ یادگیر میں چیلنج پر چیلنج دے کر مسلمانوں کو ہر طرح مجبور کیا گیا۔ پھر اپنے تجربہ کار علماء کو بلا کر ان سے ایک طرفہ اور من مانا شرائط نامہ لکھوا کر ہمارے ذمہ دار حضرات کے دستخط کرائے گئے۔ وہ تینوں شرائط نامے اسی کتاب میں آپ حضرات ملاحظہ فرمائیں کہ اس پر کسی طرح ”تنہا پیش قاضی روی و راضی آئی“ کی مثل صادق آتی ہے۔ تینوں موضوع میں قادیانی مدعی بنے۔ یہ ان کے مناظرہ پسند نہ کرنے کی کھلی دلیل ہے اور لطف یہ ہے کہ ہر موضوع میں اوّل بھی ان کا اور آخر بھی ان کا درمیان میں ہم کو کچھ کہنے سننے کا موقعہ دیا گیا۔ اسی طرح ان شرائط ناموں میں اور بھی بہت سی دھاندلیاں موجود ہیں۔ جسے ناظرین خود ہی ملاحظہ فرمالیں۔

قادیانیوں کو یقین تھا کہ ان شرائط پر مسلمانوں کا کوئی مناظر تیار نہ ہوگا اور ہم کو پانچ سو

١٦

صفحہ ٥٩

عرض حال

ف تاریخی مناظرہ قادیانیوں سے یادگیر میں ہوا۔ جسے شائع کیا ہے۔ مجھے تقریباً ایک ماہ قبل یہ خبر دوستوں سے اور اس میں قادیانیوں نے کچھ کتر بیونت اور کمی بیشی کی مناظرہ جس میں ہر قدم پر قادیانیوں کو لاجواب ہونا پڑا۔ لگے۔ بہرحال کتاب کی تلاش شروع کی اور یہ کتاب کے دیکھنے سے پتہ چلا کہ میرا خیال بالکل درست تھا۔ ف مقدمہ لکھ کر مزید جوابات دینے کی کوشش کی ہے۔ ج مناظرہ کے آخری دن کے آخری پرچہ میں جہاں صاف انکار کر دیا تھا۔ جسے میری گرفت سے مجبور ہو کر قادیانی (تحفہ گولڑویہ ص ٢٥، خزائن ج ١٧ ص ١٢٧) پر اپنے عزیزان کے لئے کھلی شکست تھی اور یہی مناظرہ کا آؤ اس کے بعد تمہاری دوسری دلیل سنی جائے گی۔ کی۔ اس لئے اس کو صاف حذف کر دیا۔ فحش لفظ لگایا گیا۔ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ قادیانی گیر میں مناظرہ کرنا پڑا ہے۔ حالانکہ یہ بھی سراسر مسلمانوں کو ہر طرح مجبور کیا گیا۔ پھر اپنے تجربہ کار ط نامہ لکھوا کر ہمارے ذمہ دار حضرات کے دستخط میں آپ حضرات ملاحظہ فرمائیں کہ اس پر کسی طرح آتی ہے۔ تینوں موضوع میں قادیانی مدعی بنے۔ اور صفت یہ ہے کہ ہر موضوع میں اوّل بھی ان کا موقعہ دیا گیا۔ اسی طرح ان شرائط ناموں میں اور خود ہی ملاحظہ فرمالیں۔

مسلمانوں کا کوئی مناظر تیار نہ ہوگا اور ہم کو پانچ سو

کی رقم مسلمانوں سے بڑی آسانی سے بطور ہرجانہ مل جائے گی۔ پھر تو کئی سال تک ہم کو زندہ رہنے کے لئے ایک نیا نسخہ ہاتھ آجائے گا۔ کیونکہ یہ جھوٹا مذہب صرف پروپیگنڈہ کے بھروسہ پر آج تک زندہ ہے جس کا تازہ نمونہ یادگیر کا مناظرہ ہے۔ یادگیر میں قادیانی حضرات کو جو فتح نصیب ہوئی۔ اس کے گواہ یادگیر کے ہزارہا ہندو و مسلمان ہیں یا پھر یہ کتاب ہے جو آپ کے سامنے ہے۔ اس مناظرہ کا نتیجہ یہ ہوا کہ قادیانیوں کے کئی خاندانوں نے میدان مناظرہ سے لوٹتے ہی اپنے مسلمان ہونے کا اعلان کر دیا اور ہر جگہ کرتے جاتے ہیں اور جب یہ کتاب شائع ہوگی اور اسے غور سے مطالعہ کیا جائے گا تو اس کا انشاء اللہ یہ اثر ضرور ہوگا کہ بہت سے حق کے متلاشی حضرات کو حق مل جائے گا۔ مگر قادیانی پروپیگنڈہ اب بھی یہی ہے کہ یادگیر میں جیت ہماری ہوئی۔ اسی پروپیگنڈے کی بنیاد پر اپنی کتاب کو نظر فریب بنانے کے لئے اس میں تصاویر بھی شائع کی گئیں۔ اس میں میری تصویر بھی ہے۔ جسے میرے سختی سے منع کرنے کے باوجود کسی موقع پر لے لی تھی۔ یہ بددیانتی کی انتہاء ہے۔

خداوند کریم کا بڑا احسان ہوا کہ قادیانی اپنی تمام سروسامانی کے باوجود ناکام ہوئے۔ شرائط طے کرنے کے بعد مسلمانان یادگیر نے حضرت ناظم عمومی جمعیت علماء ہند حضرت مولانا سید اسعد مدنی مدظلہ العالی سے خط و کتابت کی تو حضرت موصوف نے ان کو میرا پتہ لکھ دیا۔ ادھر مجھے بھی ایک والا نامہ تحریر فرما دیا کہ میں یادگیر پہنچوں۔ چنانچہ یہ حضرت موصوف کا بہت بڑا احسان ہے کہ انہوں نے صحیح نشاندہی فرما کر ہزاروں مسلمانوں کو قادیانی دھوکے سے اور ارتداد سے بچالیا۔ جس کا بہت بڑا اثر مسلمانان یادگیر پر ہے اور جسے انہوں نے بار بار اپنے جلسوں میں اعلان بھی کیا۔

بہرحال یہ ایک تاریخی مناظرہ ہے۔ جسے قادیانیوں نے بھی تاریخی مناظرہ تسلیم کر لیا ہے۔ مناظرہ میں چونکہ وقت محدود ہوتا ہے۔ اس لئے بہت سے دلائل کو میں نے انتہائی اختصار سے دیا ہے۔ کاش کوئی اہل قلم اس کو تفصیل سے پیش کر دے تو یہ رہتی دنیا تک ایک مکمل اور مسکت کتاب بن جائے اور ہمیشہ ہمیشہ کے لئے قادیانی دھوکے ختم ہو جائیں۔ دعا ہے کہ خداوند کریم اسے قبول فرمائے اور اس سے عوام و خواص سب کو نفع پہنچے۔ آخیر میں میں ہمارے علمائے کرام جنہوں نے اس میں شرکت ومعاونت فرمائی ان کا اور کارکنان مناظرہ کا اور جناب بشونا تھ صاحب ریڈی صدر جلسہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے آپ سے رخصت ہوتا ہوں۔ فقط : والسلام !

احقر : محمد اسماعیل عفی عنہ

١٧

صفحہ ٦٠

فہرست ...... حیات عیسیٰ علیہ السلام پر ہمارے وہ دلائل

جن کے جواب سے قادیانی مولوی خاموش رہا

ہو؟ خاموشی!

زندہ لکھ کر اور جھگڑا بڑھا دیا۔ اس کا جواب دو؟ خاموشی!

چیلنج دیا گیا۔ مگر خاموشی ہی خاموشی۔

پیش کیا۔ مگر صدائے برنخاست۔

آخری تین وعدوں کو تو قرآن نے ماضی کے صیغے کے ساتھ پورا کر دیا۔ پہلا وعدہ کہاں پورا ہوا بتلاؤ۔ مگر جواب نہیں۔

صاف طور سے تسلیم کر لیا۔

کھانے کا دعویٰ کیا ہے۔ اس میں کشتی کا لفظ دکھلا دو تو منہ مانگا انعام دیا جائے گا۔ مگر خاموشی رہی۔

منہ مانگا انعام کا وعدہ پر وعدہ ہوتا رہا مگر قادیانی مولوی نے صاف خاموشی اختیار کر لی۔

١٨

کی سخت توہین ہوتی ہے؟ اس کا بھی

خاموشی رہی۔

کا اقرار مرزا قادیانی نے کیا ہے معتزلہ بنتے ہو۔ اس کا بھی جواب

ہے۔ لہٰذا تمہارا اجماع کہاں گیا؟

خاموشی رہی۔

کافر رہا وہی شخص تریپن سال ب ہضم۔

طرح خطاب کیا؟ جواب ندارد۔

جواب ندارد۔

ختم نبوت والے دلائل جس کے جوا

کی کتابوں سے گیارہ حوالے پی

تم اس کا انکار کیوں کرتے ہو؟

صفحہ ٦١

کی سخت توہین ہوتی ہے؟ اس کا بھی جواب نہیں دے سکے۔

خاموشی رہی۔

کا اقرار مرزا قادیانی نے کیا ہے۔ تم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ممات کے قائل ہو کر معتزلہ بنتے ہو۔ اس کا بھی جواب ندارد۔

ہے۔ لہٰذا تمہارا اجماع کہاں گیا؟ اس کا بھی جواب نہیں ملا۔

خاموشی رہی۔

کافر رہا وہی شخص ترپن سال میں نبی کیسے بن گیا؟ مگر واہ رے قادیانی کے، سب ہضم۔

طرح خطاب کیا؟ جواب ندارد۔

جواب ندارد۔

ختم نبوت والے دلائل جس کے جواب سے قادیانی مولوی ساکت وصامت رہا

کی کتابوں سے گیارہ حوالے پیش کئے۔ مگر جواب ندارد۔

تم اس کا انکار کیوں کرتے ہو؟ جواب ندارد۔

١٩

صفحہ ٦٢

پر صادق نہیں آتی۔ مگر جواب نہیں۔

لیا۔ اس لئے چپ ہو گئے۔

ختم نبوت ہوگا۔ یا اجرائے نبوت۔ مگر خاموشی۔

اس لئے خاموش ہو گئے۔

تسلیم کر لیا۔ اس لئے خاموش ہو گئے۔

کو خاتم النبیین کا خطاب نہیں ملا تھا۔ اسے بھی قادیانی مولوی نے تسلیم کر لیا۔ اس لئے خاموشی اختیار کی۔

مگر مرزا قادیانی ذریت جین ہے۔ اس پر بھی خاموشی رہی۔

خاموش رہے۔

صحیح تسلیم کر لیا۔

کے بعد کوئی نبی نہیں۔ اس کا بھی جواب ندارد۔

دلیل نہیں بن سکتا۔ جواب ندارد۔

٢٠

صفحہ ٦٣

قادیانی نے رسول کی جو تعریف کی ہے وہ مرزا قادیانی خاتم النبیین“ کا جو فرق ہم نے بتلایا اسے تسلیم کر ے یا کھولنا؟ جواب ندارد۔ ے جب آخری نبی آئے گا اس وقت تمہارا موضوع مگر خاموشی۔ نے (ابن کثیر ص٥٠٦) سے پیش کیا۔ اسے قبول کر لیا الی آیت کا جو جواب ضمیمہ انجام آتھم سے دیا۔ اسے دجال سے بھی صحیح تسلیم کر لیا۔ اس لئے چپ ہو گئے۔ غلام کے بعد نبی ضرور آئیں گے۔ اس لئے کہ ان حوالے سے بھی قادیانی مولوی نے تسلیم کر لیا۔ اس لئے علیہ السلام نے دعا اپنی ذریت کے لئے کی تھی۔ اس پر بھی خاموشی رہی۔ ہے وہ خبر نہیں بن سکتا۔ اس کا بھی جواب ندارد۔ کا جو جواب دیا۔ اسے بھی تسلیم کر لیا۔ اس لئے امت سے کافر ہونے کا جو حوالہ دیا تھا۔ اسے بھی عذاب نہیں تو ٹھیک اسی طرح رحمۃ اللعالمین صادق نہیں ہیں۔ لہٰذا ان کا قول ان کے لئے

صرف آخری جماعت کو ہوتا ہے۔ جواب ندارد۔

خاموشی ہی خاموشی رہی۔

نبوت ثابت کرنے؟ جواب ندارد۔

یا محدث تسلیم کر لو۔ مگر اجرائے نبوت جو تمہارا موضوع ہے۔ اس کا ثبوت کہیں بھی نہیں ملتا۔ مگر جواب نہیں دیا۔

کذب مرزا پر ہمارے وہ دلائل جسے قادیانی مولوی نے ہضم کر لیا

کیا ثابت کر سکتے ہو؟ جواب ندارد۔

دیکھنی نصیب نہیں ہوگی۔ جواب ندارد۔

ساتواں جھوٹ ہوا۔ جواب ندارد۔

٢١

صفحہ ٦٥

جواب ندارد۔

خاموش۔

جواب نہیں دے سکے۔

امید تھی۔ اس کا جواب نہیں۔

صرف مقبرے والے حوالے پر بحث کی جس کا مطلب یہ ہوا کہ قادیانی مولوی کو بھی اقرار ہے کہ باقی نشانیاں مرزا قادیانی پر صادق نہیں آتی ہیں۔

مرزا قادیانی کی کتاب ازالۃ اوہام سے ہم نے ہندوؤں کی گالیاں پیش کیں۔ مگر ادھر خاموشی رہی۔

مبارک ہو۔ جواب ندارد۔

تو کیا نبی فتنہ ہوتا ہے؟ جواب ندارد۔

بھی جواب ندارد۔

ندارد۔

٢٢

مرزا قادیانی نے آنحضرت ﷺ کے ندارد۔

بن جاتا ہے؟ جواب ندارد۔

بن جاتا ہے؟ خاموشی رہی۔

بعد کتاب اللہ کہا ہے۔ جواب ندارد۔

ہے؟ مگر جواب ندارد۔

رہے۔ ناظرین کرام! اس فہرست کو ملاحظہ قادیانی مولوی نے کس طرح خاموشی اختیار کی ہے

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نحمدہ ونصلی علیٰ

شرائط مناظرہ

٢٣؍ اگست ١٩٦٣ء بروز جمعہ شرائط مناظرہ مجوزہ مابین اہل سنت والجماعت مضامین مناظرہ حسب ذیل ہوں گے

صفحہ ٦٥

نے اڑھائی ہزار روپے کی جو دوا تیار کی اسے کون کھایا۔

کی عمر بڑھی یا مرزا قادیانی کی؟ جواب ندارد۔

سے وعدہ کیا تھا کہ میں تیری عمر بڑھا دوں گا۔ اس کا کیا ہوا؟

اور چلی بھی گئی۔ مگر سگنل آج تک ڈاؤن ہے۔ اس کا بھی

مرنے کے بعد بھی مرزا قادیانی کو محمدی بیگم سے شادی کی

؟ خاموشی۔

اکاذب کا جو نقشہ ہم نے بنایا تھا۔ اسے صحیح تسلیم کر لیا۔

پر بحث کی جس کا مطلب یہ ہوا کہ قادیانی مولوی کو بھی

قادیانی پر صادق نہیں آتی ہیں۔

نام سے ہم نے ہندوؤں کی گالیاں پیش کیں۔ مگر ادھر

تھا کہ خدا دوبارہ عیسیٰ کو لا نہیں سکتا۔ ایسا مجبور خدا تم کو

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پہلی زندگی کو فتنہ کہا۔ نعوذ باللہ

مرزا قادیانی نے ایک برابر قرار دیا۔ نعوذ باللہ اس کا

محمد ﷺ کی توہین کیوں کی؟ جواب ندارد۔

کے ساتھ اپنا مقابلہ کیا، کیا یہ توہین نہیں؟ جواب

مرزا قادیانی نے آنحضرت ﷺ کے ساتھ اپنا مقابلہ کیا، کیا یہ توہین نہیں؟ جواب ندارد۔

بن جاتا ہے؟ جواب ندارد۔

بن جاتا ہے؟ خاموشی رہی۔

بعد کتاب اللہ کہا ہے۔ جواب ندارد۔

ہے؟ مگر جواب ندارد۔

رہے۔

ناظرین کرام! اس فہرست کو ملاحظہ فرما کر خود ہی فیصلہ فرمائیں کہ مناظرہ یاد گیر میں قادیانی مولوی نے کس طرح خاموشی اختیار کی ہے۔

احقر : محمد اسماعیل عفی عنہ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نحمده ونصلى على رسوله الكريم

شرائط مناظرہ

٢٣ اگست ١٩٦٣ء بروز جمعہ شرائط مناظرہ مجوزہ مابین اہل سنت والجماعت و جماعت احمدیہ یاد گیر۔ مضامین مناظرہ حسب ذیل ہوں گے۔

٢٣

صفحہ ٦٦

جس سے چاہے امداد لے۔

فریق (ثانی) کے بزرگوں کا نام ادب اور احترام سے لیں۔ نیز مناظرین کے لئے لازمی ہوگا کہ مناظر مضمون زیر بحث کے علاوہ کسی اور مضمون پر بحث شروع نہ کرے۔

وقت اسی دن ایک ہی جلسہ میں باری باری پڑھ کر سنائیں گے۔ سناتے وقت کسی مناظر کو کمی بیشی کی اجازت نہ ہوگی۔

کرے گا تو مبلغ پانچ صد روپیہ بطور ہرجانہ ادا کرنا ہوگا۔ جماعت احمدیہ کی طرف سے ہرجانہ ادا کرنے کی شخصی ذمہ داری مکرم سیٹھ محمد عبدالحئی صاحب احمدی پر ہوگی اور اسی طرح اہل سنت والجماعت کی طرف سے ہرجانہ کے ادا کرنے کی شخصی ذمہ داری مکرم نجم الہدیٰ صاحب پر ہوگی۔ جس کی ادائیگی مناظرہ کے دن ہوگی۔

حرکات منع ہوں گی۔

سے مشترکہ دینی ہوگی۔

رہے گا اور اسے فریقین اپنے اپنے خرچ پر چھاپیں تو شائع کر سکتے ہیں۔ کسی پر بھی کسی قسم کی روک اور پابندی نہیں ہوگی اور فریقین کے ہر تحریری پرچہ پر دونوں مناظرین اور دونوں صدر صاحبان کے دستخط

٢٤

٦٧ ہوں گے۔ مناظرہ کی اطلاع عام کا پوسٹر فریقین کی

کے لئے فریقین اپنے اپنے ساتھ رکھیں گے۔ اس میں آئمہ تفسیر کا ترجمہ مثلاً شاہ عبدالقادر صاحب مترجم قرآن ساتھ رہیں گے یا ان سے قدیم ترجم وتفاسیر و اقوال بزرگان اور آئمہ کرام جو حضرت م پیش کر سکتے ہیں۔ اسی طرح اہل سنت والجماعت پیش کر سکتے ہیں۔ کوئی فریق اقوال الرجال کو دلیل

نمائندہ ارکان مناظرہ کمیٹی اہل سنت والجماعت یادگیر دستخط: صدر مناظرہ کمیٹی، مولوی عبدالرحیم وکیل دستخط: معتمد مناظرہ کمیٹی، مکرم نجم الہدیٰ دستخط: نائب معتمد مناظرہ کمیٹی، مکرم عبدالصمد افغان دستخط: عبدالصمد افغان، دستخط: نجم الہدیٰ

بسم اللہ نحمدہ ونص تاریخ مورخہ ٢٨ ستمبر ١٩٦٣ء کو اہل سنت مناظرہ کے بعض عدم تکمیل امور الحمدللہ ٢٤ اگست ١٩٦٣ء کو جو شرائط طے ہوئے شائع کئے جاتے ہیں۔

صفحہ ٦٧

ہوں گے۔ مناظرہ کی اطلاع عام کا پوسٹر فریقین کی طرف سے ان کے مشترکہ خرچ سے شائع ہوگا۔

فقط: دستخط کاتب: بشیر الدین احمد نمائندہ ارکان مناظرہ کمیٹی نمائندہ جماعت احمدیہ یادگیر اہل سنت والجماعت یادگیر دستخط: سیٹھ محمد الیاس احمدی دستخط: صدر مناظرہ کمیٹی، مولوی عبدالرحیم وکیل ترمیم مکرم سیٹھ محمد عبدالحئی احمدی کی جگہ دستخط: معتمد مناظرہ کمیٹی، مکرم نجم الہدیٰ مکرم سیٹھ محمد الیاس احمدی دستخط: نائب معتمد مناظرہ کمیٹی، مکرم عبدالصمد افغان ہرجانہ مطابق شق نمبر ١٠ کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں دستخط: عبدالصمد افغان، دستخط: نجم الہدیٰ دستخط: مولوی عبدالرحیم وکیل، دستخط: محمد الیاس المشتہر: سیکرٹری دعوۃ وتبلیغ جماعت احمدیہ یادگیر

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم

تاریخ مناظرہ یادگیر

مورخہ ٢٨؍ستمبر ١٩٦٣ء کو اہل سنت والجماعت یادگیر و جماعت احمدیہ یادگیر کے درمیان مناظرہ کے بعض عدم تکمیل امور الحمدللہ طے پائے جو درج ذیل ہیں۔ علاوہ ازیں مورخہ ٢٢؍اگست ١٩٦٣ء کو جو شرائط طے ہوئے تھے۔ وہ بھی ناظرین کی سہولت کے لئے مکرر ساتھ ہی شائع کئے جاتے ہیں۔

٢٥

صفحہ ٦٨

بائیں جانب کی دونوں جگہوں میں سے اگر کسی جگہ انتظام نہ ہو سکے تو حسن منزل یاد گیر میں پرچے سنانے کا انتظام کیا جائے گا۔ اس کے لئے دو ہفتہ پہلے مکرم نجم الہدیٰ اور مکرم عبداللطیف شخصی طور پر انتظامات کرنے کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔

ہوں گے۔ ہر پرچہ تحریر کرنے کا وقت ایک گھنٹہ ہوگا۔ آخری پرچہ میں مدعی کی طرف سے کوئی نئی دلیل پیش نہ ہوگی اور تینوں دن کے تحریری مناظرہ کے لئے یہی اصول مدنظر رکھا جائے گا۔

مضامین: (١) وفات مسیح۔ (٢) اجرائے نبوت۔ (٣) صداقت حضرت مرزا صاحب بالترتیب رہیں گے۔

اپنے اپنے لوگوں کو اس شرط کی پابندی کرانے کے ذمہ دار ہوں گے۔

مناظرے سے پندرہ روز قبل ڈاکٹر آر۔ایس گپتا صاحب کے پاس ہر فریق اپنے اپنے پنج صد روپیہ مورخہ ٥؍ نومبر ١٩٦٣ء کو جمع کراوے گا اور ڈاکٹر صاحب موصوف کو شرط مناظرہ طے کردہ مورخہ ٢٣؍ اگست ١٩٦٢ء کی شرط نمبر : ١٠ پر عمل کرنے کا فریقین کی طرف سے اختیار ہوگا۔

تحریری مناظرہ بمقام گودام وشواناتھ ریڈی صاحب مدناڑ ہوگا اور ہر قسم کے انتظامات کی کلیتہ ذمہ داری جماعت احمدیہ پر ہوگی۔ فریقین کے صرف سو سو آدمی شامل ہو سکیں گے۔ جن میں مناظر اور معاونین شامل ہوں گے۔ شمولیت کے لئے ایک مشترکہ ٹکٹ جاری کیا جائے گا جس پر فریقین کے معتمدین کے دستخط ہوں گے۔

دستخط کاتب: بشیر الدین احمد احمدی نمائندہ مناظرہ کمیٹی اہل سنت والجماعت یادگیر نمائندہ جماعت احمدیہ یادگیر دستخط : مکرم نجم الہدیٰ صاحب معتمد مناظرہ کمیٹی دستخط : مکرم سید محمد الیاس صاحب احمدی دستخط : مکرم مولوی عبدالرحیم صاحب ایڈووکیٹ صدر مناظرہ کمیٹی دستخط : مکرم سیٹھ عبداللطیف صاحب احمدی

٢٦

صفحہ ٦٩

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

نحمده ونصلى على رسوله الكريم

مزید شرائط

مورخہ ٧ نومبر ١٩٦٣ء

وشواناتھ ریڈی صاحب بی۔ اے، ایل ۔ ایل ۔ بی ایڈووکیٹ منتظمہ کمیٹی کے صدر ہوں گے اور ان کے ساتھ مکرم عبدالرحیم صاحب وکیل اور مکرم چوہدری مبارک علی صاحب ممبران انتظامی کمیٹی ہوں گے۔ ریڈی صاحب موصوف کو فریقین نے متفقہ طور پر منتخب کیا ہے۔

قسم کے کنٹرول کی ذمہ دار رہے گی۔ فریقین میں کسی مسئلہ پر یا معاملہ پر اختلاف کی صورت میں کمیٹی کی اکثریت جو فیصلہ کرے گی وہ فریقین کے لئے بہر صورت قابل قبول ہوگا۔

نے متفقہ طور پر طے کیا ہے۔ بمطابق شرائط مناظرہ اس میں انتظامات کی ذمہ داری فریقین کے نمائندگان جناب نجم الہدیٰ صاحب و مکرم سیٹھ عبداللطیف صاحب پر ہوگی۔ فرش، سائبان، لاؤڈاسپیکر کے اخراجات اور انتظامات کی ذمہ داری فریقین پر مساویانہ ہوگی۔

٢ بجے دوپہر تا ٥ بجے شام تحریر کرنے کا وقت ہوگا۔

٢٦ نومبر ١٩٦٣ء بروز سہ شنبہ پرچے سنانے کے لئے ٩ بجے صبح تا ١ بجے دن اور ٢ بجے دوپہر تا ٥ بجے شام وقت مقرر ہوگا۔ مورخہ ٢٧ نومبر بروز چہار شنبہ کو بھی یہی اوقات مقرر رہیں گے۔

جن پر ممبران انتظامی کمیٹی کے دستخط ہوں گے۔ تین ہزار ٹکٹ چھاپے جائیں گے۔ دو ہزار ٹکٹ میں سے چودہ سو (١٤٠٠) اہل سنت والجماعت کو اور چھ سو (٦٠٠) ٹکٹ جماعت احمدیہ کو مناظرہ سے تین دن پہلے مورخہ ٢٠ نومبر ١٩٦٣ء کو دے دیئے جائیں گے۔ جسے وہ اپنے اپنے افراد میں تقسیم کرنے کے مجاز ہوں گے۔ ایک ہزار ٹکٹ منتظمہ کمیٹی کے پاس محفوظ رہیں گے ۔ اگر جگہ باقی

٢٧

صفحہ ٧٠

رہی تو جلسہ شروع ہونے کے بعد متذکرہ بالا تناسب سے جگہ کی گنجائش کے پیش نظر ٹکٹ تقسیم کر دیئے جائیں گے۔ یہی صورت دوسرے دن کے لئے ہوگی۔ دونوں دنوں کے ٹکٹ کے رنگ الگ الگ ہوں گے اور فریقین کے مشترکہ خرچ سے چھاپے جائیں گے۔

فریقین میں سے کوئی فریق اگر کسی ایک شرط کی تکمیل میں ارادہً یا سہواً کوتاہی کرے یا گریز کرنے کی کوشش کرے گا تو یہ اس فریق کی مناظرہ سے فراری متصور ہوگی اور دوسرے فریق کے عوام کو مطلع کرنے کے لئے ہر قسم کا اختیار ہوگا۔ اگر کوئی شرط دوسری شرط کے خلاف ہو تو آخری طے شدہ شرط قابل عمل ہوگی۔ فقط:

نمائندہ جماعت احمدیہ یادگیر نمائندہ مناظرہ کمیٹی اہل سنت والجماعت یادگیر دستخط: سیٹھ محمد الیاس صاحب احمدی دستخط: مولوی عبدالرحیم صاحب وکیل دستخط مکرم نجم الہدیٰ، دستخط: مکرم عبدالصمد افغانی

اشہد ان لا اله الا الله واشهد ان محمداً عبده ورسوله . اما بعد! فاعوذ بالله من الشیطن الرجيم . بسم الله الرحمن الرحيم نحمده ونصلى على رسوله الكريم! خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ ...... هو الناصر

وفات مسیح ناصری علیہ السلام پر جماعت احمدیہ کا پہلا پرچہ

یہ ایک مسلمہ مسئلہ ہے۔ جس پر ہم اور ہمارے مسلمان بھائی اور ساری دنیا متفق ہے کہ جو انسان اس دنیا میں پیدا ہوتا ہے۔ وہ ایک طبعی عمر پاتا اور بچپن جوانی اور بڑھاپے کی منزلوں میں سے گزر کر آخر فوت ہو جاتا ہے۔ پھر یہ بھی ایک متفقہ طور پر تسلیم شدہ بات ہے کہ دنیا میں قریباً ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر مبعوث ہوئے۔ جو اپنا اپنا فرض ادا کر کے وفات پا گئے اور ہمارے سید و مولانا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ بھی اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا کر اور ایک طبعی عمر پا کر فوت ہو گئے۔

لیکن یہ عجیب اور حیرت انگیز بات ہے کہ آج ہمارے کچھ مسلمان بھائی اس قانون قدرت کو ماننے اور حضرت محمد عربی ﷺ کو فوت شدہ تسلیم کرنے کے باوجود یہ عقیدہ رکھتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام قریباً دو ہزار سال گزرنے پر بھی آج تک بجسدہ العنصری زندہ آسمان پر بیٹھے ہیں۔ حالانکہ قرآن کریم، حدیث شریف اور بزرگان سلف اور عقل سلیم کا فیصلہ یہ

٢٨

صفحہ ٧١

ہے کہ: ”کل نفس ذائقۃ الموت (آل عمران ١٨٥)“ اور یہ بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہوچکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایک انسان جو آج سے قریباً دو ہزار سال قبل پیدا ہوا تھا۔ اس کی وفات ثابت کرنے کے لئے ہمیں آج بحث کی ضرورت پیش آئی ہے۔ چنانچہ آج اسی مسئلے پر گفتگو ہوگی۔ ہم دعا کرتے ہیں کہ اے خدا ہمارے مسلمان بھائیوں کو سمجھ عطا فرما کہ وہ افضل الانبیاء حضرت محمد رسول اللہ ﷺ پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو فضیلت دینا چھوڑ دیں۔ کیونکہ

غیرت کی جا ہے عیسیٰ زندہ ہو آسماں پر
مدفون ہو زمیں میں شاہ جہاں ہمارا

حضرت بانی جماعت احمدیہ فرماتے ہیں: ”ہمارے دعوے کی بنیاد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات ہے۔ اب دیکھو یہ بنیاد کس قدر مضبوط اور محکم ہے۔ جس کی صحت پر قرآن شریف گواہی دے رہا ہے۔ حدیث رسول اللہ ﷺ گواہی دے رہی ہے اور آئمہ اسلام گواہی دے رہے ہیں اور ان سب کے بعد عقل بھی گواہی دیتی ہے۔“

(ایام الصلح ص ٣٩، خزائن ج ١٤ ص ٢٦٩)

ان چند الفاظ کے بعد اب ہم وفات مسیح ناصری علیہ السلام کے دلائل درج ذیل کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی چار مختلف حیثیتیں قابل غور ہیں۔ (١) ذات خاص۔ (٢) عام انسان۔ (٣) نبی اللہ ۔ (٤) معبود باطل۔

١...... ذات خاص

اول: ذات خاص کے اعتبار سے سورۂ مائدہ کے آخری رکوع کی آیت ”فلما توفیتنی“ پیش کی جاتی ہے۔ اس کا ماحصل یہ ہے کہ قیامت کے دن تثلیث پرستوں پر حجت ملزم قائم کرنے کے لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ پوچھے گا کہ آیا تو نے ان کو کہا تھا کہ مجھ کو اور میری ماں کو خدا مانو۔ اس کے جواب میں حضرت مسیح علیہ السلام کہیں گے سبحانک، یعنی میں تو تیرا رسول تھا۔ جس کا کام صرف یہ تھا کہ بھیجنے والے کا پیغام پہنچا دوں اور ظاہر ہے کہ تو نے مجھے یہ پیغام دے کر نہیں بھیجا تھا۔ البتہ اگر یہ سوال ہو کہ میں نے از خود انہیں یہ تعلیم دی ہوگی تو :”ما یکون لی ان اقول ما لیس لی بحق (مائدہ:١١٦)“ یعنی مجھے از خود ایسا کہنے کا کوئی حق نہیں تھا۔ اس لئے میں نے از خود ان کو یہ پیغام نہیں دیا اور اگر یہ سوال ہو کہ ہو سکتا ہے کہ انہوں نے میرے کلام سے کسی غلط فہمی کی بناء پر یہ سمجھا ہو کہ گویا میں اپنی اور اپنی ماں کی خدائی کا پرچار کر رہا ہوں تو اس کا جواب یہ ہے کہ: ”ما قلت لہم الا ما امرتنی بہ ان اعبدوا اللہ ربی وربکم (مائدہ:١١٧)“ کہ میں نے اپنے پاس سے ان کو کوئی پیغام دیا ہی نہیں۔

٢٩

صفحہ ٧١

بالا تناسب سے جگہ کی گنجائش کے پیش نظر ٹکٹ تقسیم کر ں کے لئے ہوگی۔ دونوں دنوں کے ٹکٹ کے رنگ الگ سے چھاپے جائیں گے۔ ت ١٩٦٣ء، ٢٨ / ستمبر ١٩٦٣ء اور ٧ / نومبر ١٩٦٣ء میں کی تعمیل میں ارادتاً یا سہواً کوتاہی کرے یا گریز کرنے سے فراری متصور ہوگی اور دوسرے فریق کے عوام کو مطلع شرط دوسری شرط کے خلاف ہو تو آخری طے شدہ شرط

نمائندہ مناظرہ کمیٹی اہل سنت والجماعت یاد گیر دستخط: مولوی عبدالرحیم صاحب وکیل دستخط مکرم نجم الہدیٰ، دستخط : مکرم عبدالصمد افغانی

ہد ان محمداً عبدہ ورسولہ . الرجيم ، بسم الله الرحمن الرحيم ہ رسولہ الکریم ! ...... هو الناصر

جماعت احمدیہ کا پہلا پرچہ

مارے مسلمان بھائی اور ساری دنیا متفق ہے کہ بنا تا اور بچپن جوانی اور بڑھاپے کی منزلوں میں طور پر تسلیم شدہ بات ہے کہ دنیا میں قریباً ایک دا کر کے وفات پاگئے اور ہمارے سید ومولانا ایک طبعی عمر پا کر فوت ہوگئے ۔ آج ہمارے کچھ مسلمان بھائی اس قانون ن کرنے کے باوجود یہ عقیدہ رکھتے ہیں۔ ہونے پر بھی آج تک بجسدہ العنصری زندہ اور بزرگان سلف اور عقل سلیم کا فیصلہ یہ

ہے کہ: ”کل نفس ذائقة الموت (آل عمران ١٨٥)“ اور یہ بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہوچکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایک انسان جو آج سے قریباً دو ہزار سال قبل پیدا ہوا تھا۔ اس کی وفات ثابت کرنے کے لئے ہمیں آج بحث کی ضرورت پیش آئی ہے۔ چنانچہ آج اسی مسئلے پر گفتگو ہوگی۔ ہم دعا کرتے ہیں کہ اے خدا ہمارے مسلمان بھائیوں کو سمجھ عطا فرما کہ وہ افضل الانبیاء حضرت محمد رسول اللہ ﷺ پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو فضیلت دینا چھوڑ دیں۔ کیونکہ

غیرت کی جا ہے عیسیٰ زندہ ہو آسماں پر
مدفون ہو زمیں میں شاہِ جہاں ہمارا

حضرت بانی جماعت احمدیہ فرماتے ہیں: ”ہمارے دعوے کی بنیاد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات ہے۔ اب دیکھو یہ بنیاد کس قدر مضبوط اور محکم ہے۔ جس کی صحت پر قرآن شریف گواہی دے رہا ہے۔ حدیث رسول اللہ ﷺ گواہی دے رہی ہے اور آئمہ اسلام گواہی دے رہے ہیں اور ان سب کے بعد عقل بھی گواہی دیتی ہے۔“

(ایام الصلح ص ٣٩، خزائن ج ١٤ص ٢٦٩)

ان چند الفاظ کے بعد اب ہم وفات مسیح ناصری علیہ السلام کے دلائل درج ذیل کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی چار مختلف حیثیتیں قابلِ غور ہیں۔ (١) ذاتِ خاص۔ (٢) عام انسان۔ (٣) نبی اللہ ۔ (٤) معبودِ باطل۔

١...... ذاتِ خاص

اوّل: ذاتِ خاص کے اعتبار سے سورۂ مائدہ کے آخری رکوع کی آیت ”فلما توفیتنی“ پیش کی جاتی ہے۔ اس کا ماحصل یہ ہے کہ قیامت کے دن تثلیث پرستوں پر حجت ملزم قائم کرنے کے لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ پوچھے گا کہ آیا تو نے ان کو کہا تھا کہ مجھ کو اور میری ماں کو خدا مانو۔ اس کے جواب میں حضرت مسیح علیہ السلام کہیں گے سبحانک، یعنی میں تو تیرا رسول تھا۔ جس کا کام صرف یہ تھا کہ بھیجنے والے کا پیغام پہنچا دوں اور ظاہر ہے کہ تو نے مجھے یہ پیغام دے کر نہیں بھیجا تھا۔ البتہ اگر یہ سوال ہو کہ میں نے ازخود انہیں یہ تعلیم دی ہوگی تو : ”ما يكون لي ان اقول ماليس لى بحق (مائده : ١١٦)“ یعنی مجھے ازخود ایسا کہنے کا کوئی حق نہیں تھا۔ اس لئے میں نے ازخود ان کو یہ پیغام نہیں دیا اور اگر یہ سوال ہو کہ ہو سکتا ہے کہ انہوں نے میرے کلام سے کسی غلط فہمی کی بناء پر یہ سمجھا ہو کہ گویا میں اپنی اور اپنی ماں کی خدائی کا پرچار کر رہا ہوں تو اس کا جواب یہ ہے کہ: ”ما قلت لهم الا ما امرتني به ان اعبدوا الله ربى وربكم (مائده : ١١٧)“ کہ میں نے اپنے پاس سے ان کو کوئی پیغام دیا ہی نہیں۔

٢٩

صفحہ ٧٢

بلکہ صرف وہی پیغام دیا ہے جس کے لئے تو نے مجھے مامور فرمایا تھا اور وہ یہ تھا کہ صرف اللہ کی عبادت کرو۔ جو میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے اور اگر یہ سوال ہو کہ ان لوگوں نے غلو کر کے از خود مجھ کو اور میری ماں کو خدا بنا لیا ہوگا۔ مجھے روکنا چاہئے تھا تو اس کا جواب یہ ہے کہ: "وكنت عليهم شهيداً مادمت فيهم فلما توفيتنى كنت انت الرقيب عليهم (مائدہ: ١١٧)" کہ میں جب تک ان کے اندر موجود رہا میں ان کا نگراں تھا۔ لیکن جب تو نے مجھے وفات دے دی تو پھر تو ہی ان کا نگران تھا۔ میری نگرانی کا کوئی موقع نہ تھا۔ گویا قیامت کے دن حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس بات کا اقرار کریں گے کہ ان کو اپنی قوم کی تثلیث پرستی کا کوئی علم نہیں ہے اور یہ عقیدہ ان کی موت کے بعد عیسائیوں میں مروج و مقبول ہوا۔ اس سے ثابت ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہوچکے ہیں۔ کیونکہ اگر ان کو زندہ مانا جائے اور پھر یہ تسلیم کیا جائے کہ وہ واپس آئیں گے تو پھر تو وہ اچھی طرح دیکھ لیں گے کہ ان کی قوم توحید کی بجائے تثلیث کی قائل ہے اور ابن مریم کو خدا مانتی ہے تو پھر وہ قیامت کے دن یہ کس طرح کہہ سکتے ہیں کہ انہیں اپنی قوم کی تثلیث پرستی کا علم نہیں؟

خلاصہ کلام یہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس آیت میں دو زمانوں کا ذکر فرماتے ہیں:

آپ کی توفی جس کے معنی از روئے قرآن مجید، احادیث نبویہ اور لغت عربی وفات کے ہیں۔ پس ثابت ہوا کہ آپ وفات پا کر اپنی قوم سے جدا ہوئے۔

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ چار وعدے کئے ہیں۔

ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے علی الترتیب اپنے چاروں وعدے پورے کر دئیے ہیں۔ پہلے وفات دی۔ پھر رفع کیا۔ پھر آپ کی تطہیر فرمائی اور پھر آپ کے ماننے والوں کو آپ کے منکروں پر دائمی غلبہ بخشا۔

٣٠

٧٣

حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس بات کا اقرار کرتے ہیں پڑھنے اور زکوٰۃ دینے کا تاکیدی حکم دیا ہے۔ اس کاموں کو چھوڑ نہیں سکتے۔ اب سوال یہ ہے کہ وہ آس کون سی؟ اسرائیلی یا محمدی؟ اگر کہا جائے اسرائیلی کے آنے کے بعد بھی اسرائیلی شریعت منسوخ نہیں یہ نماز آپ کو سکھائی کس نے؟ اگر یہ جواب دیا جائے یہ نماز خود ان کی اپنی نماز ہوئی۔ حضرت محمد رسول یہاں ایک سوال یہ بھی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کیونکہ آسمان پر زکوٰۃ لینے والا کوئی نہیں۔ خلاصہ کلا دے سکتے ہیں۔ اس کی ایک ہی وجہ ہو سکتی ہے کہ وزکوٰۃ کو چھوڑ نہیں سکتے۔

اس آیت میں حضرت مسیح علیہ السلام فرماتے ہیں کہ وفات بھی سلامتی کا دن ہوگا اور میرا مرنے کے بع ہوگا۔ حالانکہ بقول قائلین حیات مسیح ان پر سب سے یہود نامسعود کو خائب وخاسر چھوڑ کر آسمان پر چڑھ ذکر نہیں۔ اس سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ آپ ذکر کیا جاتا۔

صرف بنی اسرائیل کے رسول تھے۔ اگر ان کو زندہ جائے تو وہ بنی اسرائیل کے علاوہ مسلمانوں وغیرہ قرآن مجید کے صریح خلاف ہے۔ کیا وہ آیت :"و عمران:٤٩)" کو منسوخ کر دیں گے اور اپ صورت میں تو حضرت رسول کریم ﷺ کی یہ خصو

٣١

صفحہ ٧٤

آپ ہی کو مبعوث کیا گیا اور باقی سب انبیاء صرف خاص خاص قوموں کی طرف بھیجے گئے ہیں۔

ششم ...... ”ما المسيح ابن مريم الا رسول قد خلت من قبله الرسل وامه صديقة كانا يا كلان الطعام (المائدة:٧٥)“ اس آیت میں چار باتیں بیان کی گئی ہیں:

ہے کہ وہ فوت ہو چکے ہیں۔

٢....... عام انسان کی حیثیت

ہفتم ...... اگر مسیح علیہ السلام پر عام انسان ہونے کے لحاظ سے نظر ڈالی جائے تو مندرجہ ذیل آیات قرآنیہ قابل غور ہیں۔ ”فيها تحيون وفيها تموتون ومنها تخرجون (اعراف:٢٥)“ ﴿یعنی اے انسانو تم سب اسی زمین میں زندہ ہوگے اور اسی میں مروگے اور اسی میں سے نکالے جاؤ گے۔﴾

ہشتم ...... ”ولكم في الارض مستقر ومتاع الى حين (اعراف:٢٤)“ ﴿یعنی تم سب کے لئے زمین ہی وقت مقررہ تک کے لئے قرار گاہ ہے۔﴾

نہم ...... ”وما جعلنا لبشر من قبلك الخلد افائن مت فهم الخلدون (انبياء:٣٤)“ ﴿یعنی اے ہمارے حبیب ﷺ آپ سے پہلے ہم نے کسی بشر اور انسان کو ایسا نہیں بنایا کہ وہ مدت دراز تک حوادث زمانہ اور تغیر وتبدل سے محفوظ رہ کر جوں کا توں زندہ رہے۔ پس یہ ہو نہیں سکتا کہ تجھ پر تو موت آجائے اور وہ لوگ جوں کے توں زمانہ ہائے دراز تک زندہ رہیں۔﴾

دہم ...... ”ومن نعمره ننكسه في الخلق افلا يعقلون (يسين:٦٨)“ ﴿اور جس کو ہم عمر (دراز) بخشتے ہیں اس کی خلقت میں ضعف اور کمزوری پیدا کر دیتے ہیں۔﴾

یازدہم...... ”الم نجعل الارض كفاتا احياء وامواتا (المرسلات: ٢٥،٢٦)“ ﴿یعنی اے لوگو! کیا ہم نے زمین کو زندوں اور مردوں کے لئے سمیٹنے والی نہیں بنایا؟﴾

متذکرہ بالا آیات میں اللہ تعالیٰ نے ایک عام قانون کا ذکر فرمایا ہے۔ جو سب بنی نوع انسان پر حاوی ہے اور کہیں بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا استثنیٰ نہیں فرمایا۔ لہٰذا وہ نہ تو کرہ ارض سے

٣٢

صفحہ ٧٥

باہر جا کر زندہ رہ سکتے ہیں اور نہ ہی روئے زمین پر کہیں بقید حیات موجود ہیں۔ تسلیم کرنا پڑا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی اس عام قانون کی زد میں آ کر وفات پا چکے ہیں۔

٣...... نبی کی حیثیت

اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نبی ہونے کی حیثیت سے جانچا جائے تو قرآن مجید کی حسب ذیل آیات قابل غور ہیں۔

دوازدہم...... فرمایا: ”وما محمد الا رسول قد خلت من قبله الرسل افائن مات او قتل انقلبتم على اعقابكم (آل عمران:١٤٤) “﴿حضرت محمد رسول اللہ ﷺ صرف ایک رسول ہیں۔ ان سے پہلے سب رسول گزر گئے۔ سو اگر یہ بھی گزر جائیں یعنی فوت ہو جائیں یا قتل ہو جائیں تو اے مسلمانو! کیا تم ایڑیوں کے بل پھر جاؤ گے؟﴾

مفاد اس آیت کا یہ ہے کہ حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ کی وفات اہل اسلام کے ایمان میں تزلزل کا موجب نہیں ہونی چاہئے۔ کیونکہ آپ ایک رسول ہیں۔ اس لئے آپ پر وہ حالات ضرور وارد ہوں گے جو پہلے رسولوں پر وارد ہوئے۔ یعنی بذریعہ موت یا قتل۔ آپ بھی اس دنیا سے اسی طرح گزر جائیں گے۔ جس طرح پہلے رسول گزر چکے ہیں۔ معلوم ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی انہی دو راستوں میں سے کسی ایک سے گزر کر اس دنیا کو چھوڑ چکے ہیں اور چونکہ قرآن مجید نے صراحت کے ساتھ فرمایا ہے کہ آپ قتل نہیں ہوئے۔ اس لئے ماننا پڑا کہ آپ وفات پا چکے ہیں۔

سیزدہم...... ”ما المسيح ابن مريم الا رسول قد خلت من قبله الرسل (مائده:٧٥)“ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو صرف ایک رسول سمجھو اور ان کو ان رسولوں پر قیاس کرو۔ جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں۔ چونکہ سب نبی فوت ہو چکے ہیں۔ اس لئے ثابت ہوا کہ نزول قرآن کے وقت سے بہت پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی وفات پا چکے تھے۔

چہاردہم...... ”وما جعلناهم جسداً لا ياكلون الطعام وما كانوا خلدين (انبیاء:٨)“ یعنی ہم نے نبیوں کا جسم ایسا نہیں بنایا کہ وہ کھانا کھائے بغیر زندہ رہ سکیں اور نہ وہ ایسے تھے کہ مرور ایام اور حوادثات زمانہ کے انقلابات سے محفوظ رہ سکیں۔ اس آیت سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کھانے پینے کے محتاج تھے اور درازی عمر کے تمام تقاضوں کا شکار تھے۔ خواہ کتنا عرصہ بھی وہ زندہ رہے ہوں۔ وہ ضعف و ناطاقتی اور بڑھاپے اور موت سے بچ نہیں سکے۔

٣٣

صفحہ ٧٧

٤...... معبود باطل کی حیثیت

پانزدہم...... ”والذین یدعون من دون الله لا يخلقون شيئاً وهم يخلقون اموات غير احياء وما يشعرون ايان يبعثون (نحل: ٢٠، ٢١)“ یعنی جو لوگ من دون اللہ کو پکارتے ہیں اور ان کی عبادت کرتے ہیں۔ انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ ان کے معبودان باطلہ خالق نہیں ہیں۔ ہاں مخلوق ضرور ہیں اور مردے ہیں زندہ نہیں ہیں اور وہ یہ بھی نہیں جانتے کہ کب اٹھائے جائیں گے۔

چونکہ حضرت مسیح علیہ السلام عیسائیوں کے معبود ہیں۔ اس لئے ماننا پڑا کہ وہ فوت ہوچکے ہیں۔ الغرض حضرت مسیح علیہ السلام کی کوئی حیثیت لے لی جائے۔ ہر حیثیت سے ان کی وفات از روئے قرآن مجید ثابت ہے۔

شانزدہم...... ” واذ اخذ الله میثاق النبیین (آل عمران: ٨١)“ اس آیت کے نیچے عام طور پر یہ تسلیم کیا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام نبیوں سے یہ وعدہ لیا تھا کہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر ایمان لانا اور آپ ﷺ کی مدد کرنا ان کا فرض ہے اور سب نبیوں نے یہ پختہ وعدہ کیا تھا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ اگر کوئی اپنے اس وعدے سے پھر جائے گا تو وہ فاسق ہوگا۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا حضرت رسول مقبول ﷺ کی بعثت کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام آپ ﷺ پر ایمان لائے اور آپ ﷺ کی مدد کی؟ ظاہر ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے اس وعدے کو پورا نہیں کیا۔ جس سے ثابت ہوا کہ آپ ﷺ فوت ہوچکے ہیں۔ ورنہ ماننا پڑے گا کہ آپ ﷺ نے جیتے جی وعدہ خلافی کی۔

حضرت شاہ عبدالقادر دہلویؒ نے اپنی تفسیر ”موضح القرآن“ میں تفصیل سے لکھا ہے کہ اس آیت کی رو سے تمام نبیوں کے لئے ضروری تھا کہ اگر ان کی زندگی میں آنحضرت ﷺ مبعوث ہوں تو وہ خود ان پر ایمان لائیں اور ان کی مدد کریں۔ ورنہ اپنی امت کو تاکید کردیں کہ وہ ایمان لائیں اور مدد کریں۔ لیکن چونکہ حضور انور ﷺ کی بعثت تک کوئی نبی بھی زندہ نہ رہا۔ اس لئے آپ ﷺ پر ایمان لانا اور آپ ﷺ کی مدد کرنا ان کے لئے ممکن نہ ہوا۔

اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی آنحضرت ﷺ پر ایمان نہ لاسکے اور نہ آپ ﷺ کی مدد کرسکے۔ البتہ دوسرے حصہ پر انہوں نے ضرور عمل کیا۔ جو ان کے لئے ممکن تھا۔ یعنی بعثت نبوی کی بشارت دی اور اپنی امت کو آپ ﷺ پر ایمان لانے اور آپ ﷺ کی مدد کرنے کی تاکید کی۔

٣٤

ہم....... بخاری شریف میں آتا ہے کہ کر ان کے بعض صحابہ کو جہنم کی طرف لے جایا جا گے۔ جواب ملے گا آپ کو کیا معلوم کہ آپ کے بعد ہوں گا جو اللہ کے نیک بندے حضرت عیسیٰ علیہ السلام مت فيهم فلما توفيتنى (مائده: ١١٧)“ ک میں ان کے اندر موجود تھا میں ان کا نگراں تھا ج ب تو نے مجھے وفات دے دی اور میں ان سے جدا معلوم نہیں کہ یہ کیا کرتے رہے۔ ان سترہ قرآن وحدیث کے دلائل سے ثا چکے ہیں اور ان کے زندہ آسمان پر جانے اور وا وی ﷺ کے خلاف ہے۔ نوٹ: جتنے حوالہ جات پیش کئے گئے ہیں میں ہیں۔

پہلا پرچہ ...... حیات

بسم الله الرحمن الرحيم ، نحمده ونص برادران اسلام! مرزا قادیانی کے وکیل مولوی سلیم صاح ے کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ نعوذ باللہ جواب دینے سے پہلے چند باتیں میں ان سے پو اب دیا جائے۔

....... کیا حیات عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ کفر ہے

٣٥

صفحہ ٧٧

ہفدہم..... بخاری شریف میں آتا ہے کہ قیامت کے روز آنحضرت ﷺ دیکھیں گے کہ ان کے بعض صحابہ کو جہنم کی طرف لے جایا جارہا ہے۔ آپ فرمائیں گے یہ تو میرے صحابہ ہیں۔ جواب ملے گا آپ کو کیا معلوم کہ آپ کے بعد انہوں نے کیا کیا۔ اس پر فرمایا میں وہی کہوں گا جو اللہ کے نیک بندے حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے کہا: ”وكنت عليهم شهيداً ما دمت فيهم فلما توفيتني (مائده: ١١٧) “ (بخاری ج ٢ ص ٥٩ مصری) کہ اے اللہ جب تک میں ان کے اندر موجود تھا میں ان کا نگراں تھا۔ (اسی لئے تو میں نے صحابی کہا ہے ) البتہ جب تو نے مجھے وفات دے دی اور میں ان سے جدا ہو گیا تو پھر تو ہی ان کا نگراں تھا۔ مجھے کچھ معلوم نہیں کہ یہ کیا کرتے رہے۔

ان سترہ قرآن وحدیث کے دلائل سے ثابت ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہوچکے ہیں اور ان کے زندہ آسمان پر جانے اور واپس آنے کا خیال قرآن کریم اور حدیث نبوی ﷺ کے خلاف ہے۔

نوٹ: جتنے حوالہ جات پیش کئے گئے ہیں۔ ان کی کتب بھی ساتھ ہی ملاحظہ کے لئے پیش ہیں۔

مناظر جماعت احمدیہ (شرح دستخط) محمد سلیم عفی عنہ مولانا محمد سلیم صاحب فاضل (دستخط صدر مناظرہ)

پہلا پرچہ ...... حیات عیسیٰ علیہ السلام

بسم الله الرحمن الرحیم، نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم، اما بعد!

برادران اسلام!

السلام علیکم!

مرزا قادیانی کے وکیل مولوی سلیم صاحب نے بہت سے دلائل اپنے خیال میں دے کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ نعوذ باللہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہوگئے۔ اس کا جواب دینے سے پہلے چند باتیں میں ان سے پہلے دریافت کر لیتا ہوں تاکہ اسی کی بنیاد پر جواب دیا جائے۔

٣٥

صفحہ ٧٨

عرض ہے کہ جب عیسیٰ علیہ السلام قرآن کی رو سے مر گئے تھے تو حضور ﷺ نے فرما دیا ہوتا کہ عیسیٰ علیہ السلام مر گئے۔ کوئی صحابی کہہ دیتا، کوئی امام کہہ دیتا، کوئی مفسر کہہ دیتا، کوئی محدث کہہ دیتا۔ مگر میرا دعویٰ ہے کہ سبھوں نے عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر زندہ مانا ہے۔ اس کو مرزا قادیانی نے بھی اقرار کیا اور کہا کہ یہ متواتر ہے۔ اگر تواتر کو تسلیم نہ کیا جائے تو ایمان اٹھ جائے گا۔

(انجام آتھم، شہادت القرآن، ازالۃ الاوہام ص ٥٥٧، خزائن ج ٣ ص٤٠٠)

یہ سب مرزا قادیانی کی کتابیں ہیں۔ اس میں حدیث نزول عیسیٰ علیہ السلام کو متواتر کہا ہے۔ اگر آپ چاہیں تو صفحے بھی بتا دوں گا۔ مگر چونکہ آپ جانتے ہیں اس لئے صفحات نہیں لکھے۔ میرے محترم دوست! حد یہ ہے کہ خود مرزا قادیانی بھی باون (٥٢) سال تک اسی عقیدہ پر قائم رہے کہ عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ ہیں۔

سوال یہ ہے کہ یہ عقیدہ مرزا قادیانی کا اسلامی تھا یا کفری؟ اچھی بات ہے۔ ہم آپ کی بات کو پہلے ہی سے تسلیم کر لیتے ہیں کہ مرزا قادیانی پر جب الہام موت عیسیٰ علیہ السلام ہوا اس وقت مرزا قادیانی نے مذہب بدلا تو اب بات صاف ہو گئی کہ عیسیٰ علیہ السلام کی موت مرزا قادیانی کے الہام سے ہوئی۔ لہٰذا آپ کو قرآن کو دلیل میں پیش کرنا زیب نہیں دیتا۔ اگر قرآن سے عیسیٰ مرتے تو مرزا قادیانی نبی بن جانے کے بعد ”براہین“ میں کیوں ان کی زندگی کا اقرار کرتے ہیں؟ حالانکہ (براہین احمدیہ ص ٤٩٩، خزائن ج ١ ص ٥٩٣) جھگڑا ختم کرنے کے لئے لکھی گئی تھی۔

اب ہم مختصراً آپ کے دلائل کا جواب دیتے ہیں۔ اس کے بعد عیسیٰ علیہ السلام کی حیات کو قرآن سے، حدیث سے، اجماع سے، مرزا قادیانی کے اقرار سے ثابت کریں گے۔

آپ نے کہا کہ غیرت کی جا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہو اور حضور ﷺ مر جائیں۔ مولوی سلیم! غیرت کی جا ہے کہ خضر زندہ ہوں اور حضور ﷺ مر جائیں۔ مرزا قادیانی نے حضرت خضر کو زندہ مانا ہے۔

”فلما توفیتنی“ سے آپ نے دلیل قائم کی ہے۔ حالانکہ آپ کو اور مرزا قادیانی اور ہم کو، سب کو اس کا اقرار ہے کہ یہ بات عیسیٰ علیہ السلام قیامت کے دن کہیں گے تو اس میں آپ

٣٦

صفحہ ٣٧

٧٨ آسمان پر زندہ مانتا ہے؟ نہیں عیسیٰ علیہ السلام کی موت کا اعلان کیا؟ قرآن کی رو سے مر گئے تھے تو حضورﷺ نے فرمایا تھا، کوئی امام کہہ دیتا، کوئی مفسر کہہ دیتا، کوئی محدث کہہ والسلام کو آسمان پر زندہ مانا ہے۔ اس کو مرزا قادیانی کو تسلیم نہ کیا جائے تو امان اٹھ جائے گا۔ تلاوت القرآن، ازالہ اوہام ص ٥٥٧، خزائن ج ٣ ص ٤٠٠) اس میں حدیث نزول عیسیٰ علیہ السلام کو متواتر کہا کیونکہ آپ جانتے ہیں اس لئے صفحات نہیں لکھے۔ قادیانی بھی باون (٥٢) سال تک اسی عقیدہ پر قائم

ان کا اسلامی تھا یا کفری؟ اچھی بات ہے۔ ہم آپ زا قادیانی پر جب الہام موت عیسیٰ علیہ السلام ہوا یہ بات صاف ہو گئی کہ عیسیٰ علیہ السلام کی موت قرآن کا دلیل میں پیش کرنا زیب نہیں دیتا۔ اگر کے بعد مسیح بن جانے کے بعد ”براہین“ میں کیوں احمدیہ ص ٢٩٩، خزائن ج ١ ص ٥٩٣) جھگڑا ختم کرنے

ف دیتے ہیں۔ اس کے بعد عیسیٰ علیہ السلام کی زا قادیانی کے اقرار سے ثابت کریں گے۔ علیہ السلام زندہ ہو اور حضورﷺ مر جائیں۔ ﷺ مر جائیں۔ مرزا قادیانی نے حضرت

قائم کی ہے۔ حالانکہ آپ کو اور مرزا قادیانی دن ہم قیامت کے دن کہیں گے تو اس میں آپ

٧٩ کی دلیل کیا ہوئی؟ ہمارا تو یہ عقیدہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام قیامت سے پہلے آسمان سے اتریں گے۔ زمین پر مریں گے۔ حضورﷺ کے روضہ شریف میں دفن ہوں گے۔ لہٰذا ایسی دلیل دو جس میں یہ آیا ہو کہ ابھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام مردہ ہیں۔ دعویٰ تو یہ کہ ابھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام مردہ ہیں اور دلیل دیتے ہو قیامت کے دن کا، لہٰذا یہ دھوکہ ہے۔ ”ما یکون لی “ سے آپ نے ایک دلیل دی ہے۔ آیت کا ترجمہ آپ نے غلط کیا ہے۔ (میری نگرانی کا کوئی موقعہ نہ تھا) یہ قرآن کے کس لفظ کا ترجمہ ہے؟ (تثلیث پرستی کا کوئی علم نہیں) یہ قرآن کی کس آیت کا ترجمہ ہے؟ افسوس ہے کہ آپ قرآن مجید کا ترجمہ اپنی طرف سے کرتے ہیں۔ حالانکہ یہ وہ کتاب ہے کہ اس میں کوئی شخص بھی اپنی طرف سے ترجمہ نہیں کر سکتا۔ میرا چیلنج ہے کہ قوسین پر دیئے گئے آپ کے ترجمہ کو آپ قرآن سے دکھلا دیں۔ اصل جواب یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ قیامت میں کہے گا۔ ”کیا تو نے تثلیث پرستی کی تعلیم دی تھی؟“ وہ کہیں گے نہیں میں نے نہیں دی۔ میری قوم تثلیث پرست تھی یا نہیں۔ اس سے یہاں بحث نہیں۔ اس آیت سے پہلے ہے ”ماذا اجبتم قالوا لا علم لنا الا ما علمتنا (مائدہ:١٠٩) “ تو کیا نبیوں کو معلوم نہ تھا کہ ان کی قوم نے ان کے ساتھ کیا معاملہ کیا۔ ابراہیم علیہ السلام کو معلوم نہ تھا کہ میری قوم نے آگ میں ڈالا۔ یحییٰ علیہ السلام کو معلوم نہ تھا کہ میری قوم نے مجھے آرے سے چیر کر دو ٹکڑے کر دیا۔ سب کو معلوم تھا۔ مگر ادب کا مقام یہ ہے کہ انہوں نے کہا کہ ”لا علم لنا“

علاوہ ازیں مرزا قادیانی نے (کشتی نوح ص ١٦، خزائن ج ١٩ ص ٦٥ حاشیہ) پر لکھ دیا ہے کہ: ”عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی میں پولوس نے تثلیث پرستی شروع کر دی۔“ لہٰذا آپ کی یہ دلیل بالکل باطل ہے دھوکہ ہے۔

آپ نے کہا ہے: ”میں تیرے ماننے والوں کو غلبہ دوں گا۔“ اس سے عیسیٰ علیہ السلام کی حیات ممات کو کیا تعلق ہے؟ کیا عیسیٰ مریں گے تب غلبہ ہوگا؟

آپ نے ”یوم اموت“ سے عیسیٰ علیہ السلام کی موت ثابت کی ہے۔ افسوس کہ اب تک آپ نے ماضی اور مضارع کو نہیں سمجھا۔ وہ کہتے ہیں۔ جس دن میں مروں گا تو یہ خود اس بات کی دلیل ہے کہ وہ مرے نہیں ہیں زندہ آدمی ”مروں گا“ کہے گا مردہ ”مر گیا“ کہے گا۔ دیکھا آپ نے آپ کی دلیل کتنی طاقتور تھی۔

”رسولاً الیٰ بنی اسرائیل“ بے شک وہ بنی اسرائیل کے لئے سراج منیر طلوع

٣٧

صفحہ ٨٠

ہونے سے پہلے نبی تھے۔ اب چونکہ حضورﷺ تمام عالم کے نبی، قیامت تک کے نبی آ چکے۔ دن ہو گیا رات باقی نہیں رہی۔ لہٰذا ان کی نبوت کی روشنی محمد رسول اللہ کی روشنی کے سبب اب نہیں آئے گی۔ اب وہ بنی اسرائیل کے لئے روشنی نہیں پھیلائیں گے۔

آپ نے ”قد خلت من قبله الرسل“ سے عیسیٰ علیہ السلام کی موت ثابت کی ہے۔ میرے قدیم دوست! اس خلائی دور میں خلائی مسافروں کو دیکھ کر بھی خلائی جہازوں کی موجودگی آپ کا خلت کو نہ سمجھنا یہ بڑی حیرت کی بات ہے۔ ”خلت خلو خلا“ خلائی جہاز سب کو سمجھ کر جواب دیجئے۔ کیا جو خلائی مسافر خلاء پر چلے جاتے ہیں۔ جب دوبارہ زمین پر آتے ہیں تو بقول آپ کے ان کی خلت یعنی موت ہو جاتی ہے۔ اگر سب خلائی مسافر کو سائنس زندہ رکھتی ہے تو اس پر آپ کو اعتراض نہیں اور عیسیٰ علیہ السلام کو اگر خدا خلا میں لے جاتا ہے تو اس پر آپ کو اعتراض ہے۔ افسوس ہے آپ کی دلیل پر مزید کیا لکھوں۔

یہی جواب آپ کی ”فیها تحیون وفیها تموتون“ کا بھی ہے۔ غور کریں اور یہی جواب ”ولكم فی الارض مستقر ومتاع الی حین“ کا بھی ہے۔ آپ نے ”وما جعلنا من قبلك الخلد“ کی آیت سے عیسیٰ علیہ السلام کو مارا ہے۔ پہلے آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ ہم بھی عیسیٰ علیہ السلام کے خلود کے قائل نہیں ہیں۔ ہمارا عقیدہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام ضرور مریں گے۔ مگر ابھی نہیں مرے ہیں۔ ”ومن نعمره ننکسه فی الخلق“ سے شاید آپ نے عیسیٰ علیہ السلام کی آسمانی زندگی کے سبب ان کو بوڑھا بنا دیا ہے۔ حالانکہ قرآن نے ان کو ”من المقربین“ کہا ہے اور قرآن نے فرشتوں کو بھی مقرب کہا تو کیا جبرائیل علیہ السلام بوڑھے ہو چکے؟ کیونکہ وہ تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے بھی بے شمار سال پرانے ہیں۔ خلائی دور میں نوری سال کا حساب ہوتا ہے۔ دنیاوی سال کا نہیں۔

”الم یجعل الارض كفاتاً“ اس کا جواب بھی خلت کے ضمن میں آ گیا ہے۔

”وما جعلنا هم جسداً“ سے آپ نے خوراک کی ضرورت سمجھا ہے۔

آپ وکیل ہیں اور خود مرزا قادیانی موکل اور مدعی۔ وہ کہتے ہیں کہ: ”میں بھی عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ روٹی اور گائے کا گوشت کھا چکا ہوں۔“

(تذکرہ ص ٢٧٢)

قرآن کہتا ہے کہ شہداء کو اللہ رزق دیتا ہے۔ نبی کا درجہ کم از کم شہداء سے دو ڈگری زیادہ ہے۔ لہٰذا جب شہید روزی کھاتا ہے تو نبی بھی روزی کھاتا ہے۔

٣٨

صفحہ ٨١

ے تمام عالم کے نبی، قیامت تک کے نبی آچکے۔ دن کی روشنی محمد رسول اللہ کی روشنی کے سبب اب نہیں آگے پھیلا سکیں گے۔ "قبلہ الرسل" سے عیسیٰ علیہ السلام کی موت ثابت کی میں خلائی مسافروں کو دیکھ کر بھی خلائی جہازوں کی کی بات ہے۔ "خلت خلو خلا" خلائی جہاز سب پر چلے جاتے ہیں۔ جب دوبارہ زمین پر آتے ہیں تو ہے۔ اگر سب خلائی مسافر کو سائنس زندہ رکھتی ہے تو لام کو اگر خدا خلا میں لے جاتا ہے تو اس پر آپ کو کیا لکھوں۔

دن وفيها تموتون " کا بھی ہے۔ غور کریں اور ومتاع الی حین " کا بھی ہے۔ آپ نے "وما ے عیسیٰ علیہ السلام کو مارا ہے۔ پہلے آپ کو معلوم ہونا اہل نہیں ہیں۔ ہمارا عقیدہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام من نعمره ننكسه فی الخلق " سے شاید آپ کو بوڑھا بنا دیا ہے۔ حالانکہ قرآن نے ان کو جن ں کو بھی مقرب کہا تو کیا جبرائیل علیہ السلام بوڑھے ی بے شمار سال پرانے ہیں۔ خلائی دور میں نوری

کا جواب بھی خلت کے ضمن میں آ گیا ہے۔ ے نے خوراک کی ضرورت سمجھا ہے۔ ں اور مدعی ۔ وہ کہتے ہیں کہ: "میں بھی عیسیٰ علیہ ۔"

(تذکرہ ص ٣٢٧)

ہے۔ نبی کا درجہ کم از کم شہداء سے دو ڈگری زیادہ جاتا ہے۔

"اموات غير احیاء" کی آیت سے عیسیٰ علیہ السلام کی موت ثابت کرنا یہ آپ کی ایمانی جسارت ہے۔ اس لئے کہ اس میں "لا يخلقون شيئا" نے بتلادیا کہ اس سے مراد پتھر کے بت ہیں اور عیسیٰ علیہ السلام کو قرآن نے اس سے الگ کر دیا۔ کیونکہ قرآن یہ کہتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام نے کہا "اني اخلق لكم من الطين كهيئة طيرا" تو عیسیٰ علیہ السلام تو تخلیق کرتے تھے۔ خدا کے حکم سے، پھر وہ اس آیت میں کیسے شامل ہو گئے۔ دلیل دیتے وقت پوری آیت کو دیکھ لیا کیجئے۔ قرآن میں اٹل بدل ہو ہی نہیں سکتا۔

"اذ اخذ الله میثاق النبیین" سے حضورﷺ کی ختم نبوت ثابت ہوتی ہے۔ اس کا عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے کیا تعلق۔ کیا جن سے میثاق لیا تھا۔ سب مر گئے تو مرزا قادیانی نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو کیوں زندہ آسمان پر بٹھا دیا ہے؟

(نور الحق ص ٥٠، خزائن ج ٨ ص ٦٩)

جب آیت میثاق کے بعد موسیٰ علیہ السلام زندہ رہ سکتے ہیں تو عیسیٰ علیہ السلام بھی زندہ رہے۔ اس میں کیا اعتراض ہے۔ اب میں قرآن سے کچھ دلیل عیسیٰ کی حیات پر نقل کرتا ہوں۔

دلائل

دلالت کرتی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ زمین پر آئیں گے۔ ہمت ہے تو اس آیت کا جواب دیجئے اور خدا کی قدرت کا تماشا دیکھئے۔

کو اللہ تعالیٰ قرآن کی تعلیم دے گا۔ "الکتاب والحکمة" یکجائی طور سے قرآن میں جہاں جہاں آیا ہے۔ اس سے قرآن ہی مراد ہے۔"و آتینا آل ابراهيم الکتاب والحكمة (قرآن) انزلنا عليك الكتاب والحكمة " مرزا قادیانی نے بھی (شہادۃ القرآن ص ٢٢، خزائن ج ٦ ص ٣٣٨) میں یہی ترجمہ کیا۔

ترجمہ شاہ ولی اللہ ۔

کتاب مگر یہ کہ ایمان لائے گا عیسیٰ علیہ السلام پر عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے۔ (ترجمہ شاہ ولی اللہ ۔ فارسی)

٣٩

صفحہ ٨٢

مولوی سلیم، صلب کے معنی کیا ہیں۔ فوراً کہو۔ سولی دینا یا سولی پر مارنا۔ تم مدعی ہو۔ پہلے معنی مقرر کرو۔ اس کے بعد جواب سنو۔ میں نے حضرت شاہ ولی اللہ صاحبؒ کا اس لئے ترجمہ دیا کہ مرزا قادیانی ان کو تمام محدثین کا سردار اور آسمانی نشان قرار دیتے ہیں۔

(کتاب البریہ ص٢٧٣، خزائن ج١٣ ص٢٩١، ازالۃ اوہام ص١٥٥، خزائن ج٣ ص١٧٩)

”انی متوفیک ورافعك (آل عمران:٥٥)“ میں اللہ نے چار وعدے عیسیٰ علیہ السلام سے کئے۔ اس میں تین کو ماضی سے پورا کر دیا۔ پہلا وعدہ کہاں پورا ہوا؟ لہٰذا قرآن سے، حدیث سے، تفسیر سے، ترجمہ سے، مرزا قادیانی کے حوالوں سے ثابت ہو گیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ ہیں اور قیامت سے پہلے آئیں گے۔ اسی پر اجماع امت ہے اور مرزا قادیانی نے اجماع اور تواتر کے منکر کو اسلام سے خارج قرار دیا ہے۔

میں نے بار بار مرزا قادیانی کا حوالہ اس لئے دیا کہ وہ مدعی ہیں۔ مولانا سلیم! آپ تو ان کے وکیل ہیں۔ اگر عدالت میں موکل کچھ کہے اور وکیل اس کے خلاف کہے تو جج فیصلہ مدعی یعنی خود موکل کے قول پر کرتا ہے۔ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت محمد ﷺ کا وکیل ہوں۔ آپ مرزا قادیانی کے وکیل ہیں۔ یہ مجمع جج ہے۔ لہٰذا یہ جلسہ یعنی جج یہی فیصلہ کرتا ہے کہ چونکہ مدعی یعنی مرزا قادیانی نے عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ کہا ہے۔ لہٰذا آپ ان کو مارنے کی لاکھ دلیل دیں وہ قابل قبول نہیں۔

(شرح دستخط ) احقر محمد اسماعیل عفی عنہ ٢٣ نومبر ١٩٦٣ء (دستخط صدر مناظرہ ) احقر محمد اسماعیل عفی عنہ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وفات مسیح علیہ السلام پر جماعت احمدیہ کا دوسرا پرچہ

ہمارے مد مقابل نے اپنے جوابی پرچہ میں ہماری پیش کردہ قرآنی آیات اور حدیث نبوی کی تردید میں یہ ثابت کرنے کی کوشش فرمائی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس وقت بھی دو ہزار سال کی عمر میں آسمان پر خاکی جسم کے ساتھ زندہ موجود ہیں۔ حالانکہ ہم نے عرض کیا تھا کہ

٤٠

صفحہ ٨٣

صلبوہ (نساء:١٥٧) ”نہیں قتل کیا عیسیٰ کو اور نہ سولی دیا۔ ہمارا کہو۔ سولی دینا یا سولی پر مارنا۔ تم مدعی ہو۔ پہلے معنی مقرر ہم نے حضرت شاہ ولی اللہ صاحبؒ کا اس لئے ترجمہ دیا کہ معجزہ اور آسمانی نشان قرار دیتے ہیں۔

(دیکھئے خزائن ج ٣ ص ٩١، ٩٢ ازالہ اوہام ص ١٥٥، خزائن ج ٣ ص ١٧٩)

متوفیک (آل عمران:٥٥) میں اللہ نے چار وعدے عیسیٰ علیہ السلام سے کئے ہیں۔ پہلا وعدہ کہاں پورا ہوا؟ لغت سے، تفسیر سے، ترجمہ سے، مرزا قادیانی کے حوالوں سے

وہ آسمان پر زندہ ہیں اور قیامت سے پہلے آئیں گے۔ اسی پر اجماع اور تواتر کے منکر کو اسلام سے خارج قرار دیا ہے۔

ان کا حوالہ اس لئے دیا کہ وہ مدعی ہیں۔ مولانا سلیم! آپ تو موکل کچھ کہے اور وکیل اس کے خلاف کہے تو جج فیصلہ مدعی میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت محمد ﷺ کا وکیل ہوں۔ کے خلاف دیتا ہے۔ لہٰذا یہ جلسہ یعنی جج یہی فیصلہ کرتا ہے کہ چونکہ مدعی کو زندہ کہتا ہے۔ لہٰذا آپ ان کو مارنے کی لاکھ دلیل دیں وہ

(نقل دستخط) احقر محمد اسماعیل عفی عنہ ٢٣؍نومبر ١٩٧٣ء (دستخط صدر مناظرہ) احقر محمد اسماعیل عفی عنہ

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

اسٹیج پر جماعت احمدیہ کا دوسرا پرچہ

کے جوابی پرچہ میں ہماری پیش کردہ قرآنی آیات اور حدیث پر خاموشی فرمائی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس وقت بھی اسی جسم کے ساتھ زندہ موجود ہیں۔ حالانکہ ہم نے عرض کیا تھا کہ

٤٠

قرآن کریم انہیں وفات یافتہ قرار دیتا ہے اور قانون قدرت سے بھی ایسا ہی ثابت ہوتا ہے۔ حضرات! کیا آپ میں سے کوئی شخص یہ کہہ سکتا ہے یا دنیا کا کوئی عالم یا سائنسدان اور فلاسفر یہ تسلیم کرنے کے لئے تیار ہے کہ خدا کا یہ قانون کبھی کسی زمانے میں تبدیل ہوا یا ہو سکتا ہے کہ ایک شخص جو مثلاً ٧٠٠ء میں پیدا ہوا وہ آج بھی تختۂ زمین پر یا آسمان پر جوں کا توں زندہ موجود ہے۔ کیا تاریخ عالم میں سے کوئی مثال ایسی پیش کی جاسکتی ہے کہ کسی شخص نے طبعی عمر سے سینکڑوں سال زیادہ عمر پائی ہو۔

ہمارے مد مقابل حضرات ہی یہ کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام گو ایک عام انسان تھے۔ ایک نبی تھے مگر یہ صرف انہی کی خصوصیت ہے کہ دو دو ہزار سال سے جسم خاکی کے ساتھ آسمان پر زندہ موجود ہیں اور مزہ یہ کہ بے کھائے پیئے اور حوادث زمانہ سے متاثر ہوئے بغیر ”الی الآن کما کان“ جوں کے توں ٣٣ سال کے نوجوان ہیں۔ گویا وہ انسان ہی نہیں بلکہ خدا ہیں۔ سچ ہے۔

ہمہ عیسائیاں را از مقال خود مدد دادند
دلیری ہا پدید آید پرستاران ملت را

آج یادگیر کی معزز پبلک گواہ رہے کہ ہم یہ اعلان کرتے ہیں کہ قریباً ایک لاکھ چوبیس ہزار نبیوں میں سے سب سے افضل نبی حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ ہیں۔ جنہوں نے دنیا کو قیامت تک کے لئے ایک بے بدل نظام دیا اور ایسی اعلیٰ درجہ کی تعلیم دی کہ گزشتہ زمانوں کی تمام تعلیمات اس کے سامنے ماند پڑ گئیں۔ اگر کوئی نبی دنیا میں زندہ رہنے کا حق پاسکتا تھا۔ اگر کسی نبی کو دنیا میں دوامی زندگی مل سکتی تھی۔ اگر کوئی عظیم الشان انسان قیامت تک کے لئے زندہ رہ کر دنیا کا محبوب بننے کے قابل تھا تو وہ صرف اور صرف حضرت محمد رسول اللہ ﷺ تھے۔

اے یادگیر کی سرزمین! گواہ رہ کہ ہمارا یہ اعلان عام ہے کہ زندہ نبی صرف وہی ہے جس کی شان میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ”لولاك لما خلقت الافلاك“ یعنی محمد عربی ﷺ اور یہ اس لئے کہ آپ کا فیضان قیامت تک جاری رہے گا۔ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ فرماتے ہیں: ”خدا نے مجھے بھیجا ہے تاکہ میں اس بات کا ثبوت دوں کہ زندہ کتاب قرآن ہے اور زندہ دین اسلام ہے اور زندہ رسول محمد مصطفےٰ ﷺ ہے۔ دیکھو! میں زمین اور آسمان کو گواہ کر کے کہتا ہوں کہ یہ باتیں سچ ہیں۔“

(الحکم مورخہ ٣١؍مئی ١٩٠٠ء ص٦)

٤١

صفحہ ٨٤

اور اسی پر جماعت احمدیہ خدا کے فضل سے قائم ہے۔ ظالم ہے وہ شخص جو اس کے برعکس کوئی عقیدہ ہماری طرف منسوب کرتا ہے۔ پس اپنے فیضان اور برکات کے لحاظ سے اگر دنیا میں کوئی آدمی ظاہری طور پر قیامت تک زندہ رکھے جانے کے قابل تھا تو وہ خود حضرت رسول اللہ ﷺ تھے۔ مگر ہمارے سادہ مزاج بھائی محض غلط فہمی کی بناء پر اس عظیم الشان نبی کو تو زمین کے نیچے مدینہ شریف میں مدفون سمجھتے ہیں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو چوتھے آسمان پر بٹھا رکھا ہے۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے۔

بدنیا گر کسے پائند بودے
ابو القاسم محمدؐ زندہ بودے

پیارے بھائیو! ہم اپنے پہلے پرچے میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات ثابت کرنے کے لئے قرآن کریم اور حدیث شریف سے سترہ دلائل پیش کر چکے ہیں۔ ان میں سے آخری دلیل کا خلاصہ یہ ہے کہ مذکورہ حدیث نبوی کا مفاد یہ ہے کہ جس طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام توفی کے نتیجے میں اپنی قوم سے جدا ہوئے۔ ٹھیک اسی طرح حضرت رسول کریم ﷺ بھی توفی ہی کے ذریعہ اپنے صحابہؓ سے جدا ہوئے اور یہ تو سب مانتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کی توفی بذریعہ وفات ہوئی۔ لہٰذا ماننا پڑا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توفی بھی وفات ہی کے ذریعے عمل میں آئی اور وہ فوت ہو کر اپنی قوم کو ہمیشہ کے لئے داغ جدائی دے گئے۔ اسی سلسلے میں اب ہمارے مزید دلائل سنئے۔

ہشتم..... بخاری میں لکھا ہے کہ جب رسول کریم ﷺ فوت ہو گئے تو اس حادثے نے صحابہ کرامؓ کو مارے غم کے دیوانہ کر دیا۔ حتیٰ کہ حضرت عمرؓ نے فرمایا جو شخص یہ کہے گا کہ رسول اللہ ﷺ فوت ہو گئے ہیں۔ میں اسے قتل کر دوں گا۔ آخر حضرت ابو بکر صدیقؓ نے ایک تاریخی خطبہ دیا جس میں فرمایا: ”من کان منکم یعبد محمداً ﷺ فان محمداً قد مات (بخاری ج٢ ص٦٤٠) یعنی اے مسلمانو! تم حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ کی وفات سے پریشان کیوں ہو۔ آپؐ خدا تو نہیں تھے کہ آپؐ وفات نہ پاتے۔ ”حی و قیوم“ تو صرف اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے۔ اس کے بعد آپ نے یہ آیت پڑھی۔ ”وما محمد الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل (آل عمران:١٤٤) “ یعنی حضرت محمد رسول اللہ ﷺ صرف ایک رسول تھے۔ اس لئے آپ کی زندگی کا وہی انجام ناگزیر تھا۔ جو آپ سے پہلے تمام نبیوں کو پیش آیا۔ اس آیت کو سن کر حضرت عمرؓ کو

٤٢

صفحہ ٨٥

یوں معلوم ہوا کہ گویا یہ آیت آج ہی اتری ہے اور آپ لڑکھڑا کر زمین پر گر پڑے اور تمام صحابہ کرامؓ دن بھر یہ آیت پڑھ کر اپنے تئیں تسلی دیتے رہے کہ آنحضرت ﷺ بھی اسی طرح فوت ہو گئے ہیں۔ جس طرح آپ سے پہلے تمام نبی وفات پاچکے ہیں۔ غرض یہ ایک تاریخی دن تھا۔ جب حضرت ابوبکر صدیقؓ نے ایک تاریخی خطبہ دیا اور تمام نبیوں بشمول حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات پر صحابہ کرامؓ کا تاریخی اجماع ہوا۔ ورنہ اگر صحابہؓ میں سے کسی کو ذرا بھی شک ہوتا تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں تو وہ صدیق اکبرؓ کے خطبے پر کبھی مطمئن نہ ہوتے۔ بلکہ ضرور یہ کہتے کہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں تو پھر ہمارے نبی ﷺ کیوں زندہ نہیں رہ سکتے اور صدیق اکبرؓ کا استدلال بھی باطل ہو جاتا۔

مکہ نے آنحضرت ﷺ سے جو معجزات طلب کئے تھے۔ ان میں سے ایک مطالبہ یہ بھی تھا کہ اگر آپ سچے ہیں تو آسمان پر چڑھ جائیں۔ مگر اس کے جواب میں قرآن مجید نے یہی کہا ہے کہ اے نبی! تو کہہ دے: "هَلْ كُنْتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوْلًا (بنی اسرائیل: ٩٣)" میں تو ایک بشر رسول ہوں۔ میں کیونکر آسمان پر جاسکتا ہوں۔ معلوم ہوتا ہے کہ جو لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بجسدہ العنصری آسمان پر زندہ مانتے ہیں وہ در پردہ عیسائیت کے مبلغ ہیں۔ کیونکہ وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مافوق البشر یعنی خدا کا درجہ دیتے ہیں۔

مسیح ناصری را تا قیامت زندہ می نامند
مگر مدفون یثرب را ندانند ایں فضیلت را

مقام غور ہے کہ قرآن مجید تو یہ کہے کہ بشر آسمان پر نہیں جاسکتا اور مسلمان مولوی رات دن یہ پروپیگنڈہ کریں کہ وہ آسمان پر بیٹھے ہیں۔ عیسائی بھی تو یہی کہتے ہیں کہ: "خداوند یسوع ..... آسمان پر اٹھایا گیا اور خدا کی دہنی طرف بیٹھ گیا"

(مرقس: باب ١٦)

اِیَّانَا تَعْبُدُوْنَ (یونس: ٢٨)" اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ مشرکوں کو اور ان کے معبودوں کو اکٹھا کرے گا تو وہ معبود مشرکوں کو صاف صاف یہ کہیں گے کہ وہ کبھی بھی ان کے عبادت گزار نہ تھے۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ ہیں اور وہ دوبارہ دنیا میں آئیں گے تو وہ خود دیکھ لیں گے کہ عیسائی ان کی عبادت کر رہے ہیں۔ پھر وہ قیامت کو یہ کس طرح کہہ سکیں گے کہ عیسائیوں نے انہیں کبھی نہیں پوجا۔

٤٣

صفحہ ٨٦

بست و یکم....... آنحضرت ﷺ نے اپنے روحانی معراج میں جس طرح اور نبیوں کو آسمان پر موجود پایا۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے بھی ملاقات فرمائی۔ اب یا تو تمام نبیوں کو آسمان پر زندہ مانا جائے اور یا ان کی طرح وفات یافتہ تسلیم کیا جائے۔ اس کے سوا چارہ نہیں۔

(بخاری ج ١ ص ٤٧١)

بست و دوم....... بخاری شریف میں مسیح ناصری علیہ السلام اور آنے والے مسیح کے دو الگ الگ حلیئے بیان کئے گئے ہیں۔ چنانچہ فرمایا: ”واما عیسی فاحمر جعد“ یعنی عیسیٰ کا رنگ سرخ اور بال گھنگھریالے تھے اور آنے والے مسیح کے متعلق فرمایا: ”فاذا رجل آدم....... تضرب لمته بین منکبیہ رجل الشعر“ یعنی اس کا رنگ گندمی ہوگا اور بال سیدھے جو کندھوں پر پڑیں گے۔ دنیا میں دو شخصوں کا نام تو ایک ہو سکتا ہے۔ مگر ایک آدمی کے دو حلیے نہیں ہو سکتے۔ پس یہ اختلاف حلیتین دلیل ہے۔ اس بات کی کہ جانے والا مسیح اور تھا جو وفات پا گیا اور آنے والا مسیح اور ہے جو عین وقت پر ظاہر ہو گیا۔

(بخاری ج ٢ ص ١٥٨ مصری)

اب ہم مد مقابل کے پرچے کا جواب لکھتے ہیں۔ آپ نے پوچھا ہے کہ یہ حیات عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ کفر ہے؟ تعجب ہے کہ آپ بحث کرنے آئے ہیں۔ حیات وممات مسیح ناصری علیہ السلام کی اور پوچھ رہے ہیں فتویٰ۔

جب تک کسی کو وفات مسیح علیہ السلام کا علم نہ ہو وہ معذور ہے۔ لیکن مسئلہ واضح ہو جانے کے بعد اپنی رائے پر اصرار کرنا قرآن وحدیث کے خلاف ہے۔ اس کی مثال بالکل ایسی ہے جس طرح آنحضرت ﷺ ایک عرصہ دراز تک بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نمازیں پڑھتے رہے۔ یعنی قریباً ساڑھے پندرہ ماہ تک لیکن مسئلہ واضح ہو جانے کے بعد اپنی رائے پر اصرار کرنا قرآن وحدیث کے خلاف ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے روک دیا آپ نے بیت اللہ شریف کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنا ضروری قرار دیا۔ (بخاری ج ١) اسی میں اس اعتراض کا جواب بھی آگیا کہ مرزا قادیانی پہلے حیات مسیح کے قائل تھے۔

آپ نے دعویٰ کیا ہے کہ حیات مسیح پر اجماع ہوا ہے۔ حالانکہ آپ نے اس کا کوئی حوالہ نہیں دیا۔ آپ نے لکھا ہے کہ مرزا قادیانی نے خضر کو زندہ مانا ہے۔ اب اگر آپ میں جرأت ہے تو جس رنگ میں حضرت مرزا قادیانی نے خضر کو زندہ مانا ہے۔ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے فرمایا ہے: ”وما من رسول الا توفی وقد خلت من قبل عیسی الرسل“

(نور الحق ص ٥١)

٤٤

صفحہ ٨٧

ساتھ ہی آپ نے ترجمہ بھی دیا ہے۔ ”اور کوئی نبی ایسا نہیں جو فوت نہ ہوا ہو۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے پہلے جو نبی آئے وہ فوت ہو چکے ہیں۔“

آپ نے تحریر کیا ہے کہ مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ میں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ کئی دفعہ گائے کا گوشت کھایا تھا۔ گویا آپ کے نزدیک اس حوالہ سے ثابت ہے۔ مرزا قادیانی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ مانتے ہیں۔ حالانکہ آپ نے فرمایا: ” قدمات عیسی مطرقا ونبينا حي وربى انه وافانی“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٩٣، خزائن ج ٥ ص ایضاً)

یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو گئے۔ مگر ہمارے نبی ﷺ زندہ ہیں اور میں نے کئی دفعہ حضور ﷺ سے ملاقات کی ہے تو کیا اس کے معنی یہ ہیں کہ حضرت مرزا صاحب نے حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو بھی بجسدہ العنصری زندہ سمجھا ہے؟

آپ نے حضرت بانی سلسلہ احمدیہ حضرت مرزا صاحب کے متعلق یہ دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے عقیدہ وفات مسیح کی بنیاد اپنے الہام پر رکھی ہے۔ حالانکہ یہ بات بالکل غلط ہے۔ آپ فرماتے ہیں: ”یاد رہے کہ ہمارے اور ہمارے مخالفوں کے صدق و کذب آزمانے کے لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات وحیات ہے۔ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام درحقیقت زندہ ہیں تو ہمارے سب دعوے جھوٹے اور سب دلائل ہیچ ہیں اور اگر وہ درحقیقت قرآن کی رو سے فوت شدہ ہیں تو ہمارے مخالف باطل پر ہیں۔ اب قرآن درمیان میں ہے اس کو سوچو۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ١٠٢ حاشیہ)

اسی طرح آپ فرماتے ہیں کہ: ”انی قلت واقول ان عیسی ابن مريم عليه السلام قد توفى كما اخبرنا القرآن العظيم والرسول الكريم فكيف نرتاب في قول الله ورسوله وكيف نؤثر عليه اقوالا الاخرى...... والقرآن حكم وعدل بيني وبين المخالفين“

(حمامة البشریٰ ص ١٠)

مولوی صاحب! آپ نے بالکل غلط کہا ہے کہ حضرت مرزا صاحب کے نزدیک حضرت مسیح علیہ السلام کی زندگی ہی میں تثلیث کا عقیدہ عیسائیوں میں رائج ہو گیا تھا۔ (کشتی نوح ص ١٧) اس میں تو صرف اتنا مذکور ہے کہ پولوس جو دراصل حضرت مسیح علیہ السلام کا دشمن تھا۔ اس نے تثلیث کا عقیدہ گھڑا تھا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ عقیدہ قوم کو بگاڑ نہ سکا۔ البتہ عیسائیوں میں تثلیث کا مسئلہ تیسری صدی کے بعد پیدا ہوا جس پر موحد عیسائیوں اور تثلیث پرست عیسائیوں میں بڑی بڑی بحثیں ہوئیں۔ حوالہ کے لئے دیکھئے

(انجام آتھم ص ٣٩ حاشیہ)

٤٥

صفحہ ٨٨

ایک اور حوالہ حضرت مسیح موعود کا آپ کی اطلاع کے لئے درج ذیل ہے۔ فرماتے ہیں: ”خدا کی عجیب باتوں میں سے جو مجھے ملی ہیں ایک یہ بھی ہے جو میں نے عین بیداری میں جو کشفی بیداری کہلاتی ہے۔ یسوع مسیح سے کئی دفعہ ملاقات کی ہے۔“

(تحفہ قیصریہ ص ٢١)

اس حوالہ سے بھی ظاہر ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کے ساتھ حضرت مرزا صاحب کی ملاقات کشفی ملاقات تھی۔ آپ نے لکھا ہے کہ خلائی جہازوں میں جانے والے کیونکر زندہ رہتے ہیں۔ آپ کا یہ اعتراض دراصل مجھ پر نہیں ہے بلکہ قرآن مجید پر ہے۔ ”فما هو جوابكم فهو جوابنا“ کیا آپ کو خلاء اور سماء کا فرق بھی معلوم نہیں۔ بحث تو یہ ہے کہ مسیح علیہ السلام آسمان پر زندہ ہے یا نہیں۔

آپ کا یہ دعویٰ کہ ”الکتاب“ اور ”الحکمه“ سے مراد قرآن ہوتا ہے۔ بالکل غلط ہے۔ آپ نے خود ہی ”آتینا آل ابراهیم الکتاب والحکمة“ لکھا ہے تو کیا اس میں ”الکتب“ سے مراد قرآن مجید ہے؟ ہرگز نہیں اور کیا حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد کو آنحضرت ﷺ سے پہلے ہی قرآن مل گیا تھا۔

”انه لعلم للساعة“ میں یہ نہیں لکھا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ موجود ہیں۔ اسی طرح ”وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به“ میں یہ نہیں لکھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر چلے گئے۔

”وما قتلوه وما صلبوه“ میں تو صرف اتنا ذکر ہے کہ یہودی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قتل نہیں کر سکے یا مصلوب نہیں بنا سکے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو لازوال عزت بخشی۔ اس آیت میں کہاں لکھا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام خاکی جسم کے ساتھ آسمان پر چلے گئے۔ مہربانی کر کے ہمارے دلائل کو توڑنے کی کوشش کریں۔ حوالہ جات کی کتب ساتھ ہیں: (شرح دستخط) محمد سلیم عفی عنہ (دستخط صدر مناظرہ) (مناظر جماعت احمدیہ مولانا محمد سلیم)

بسم الله الرحمن الرحیم

حیاۃ عیسیٰ علیہ السلام کا دوسرا پرچہ

نحمده ونصلی علی رسوله الکریم! برادران اسلام! مولوی سلیم صاحب نے تسلیم کر لیا کہ عیسیٰ علیہ السلام کی موت

٤٦

صفحہ ٨٩

کی اطلاع کے لئے درج ذیل ہے۔ فرماتے یہ بھی ہے جو میں نے عین بیداری میں جو دی گئی ہے۔“ (تحفہ قیصریہ ص ٢١) علیہ السلام کے ساتھ حضرت مرزا صاحب کی غاروں میں جانے والے کیونکر زندہ رہتے کلام مجید پر ہے۔ ”فما هو جوابكم فهو ہے۔ بحث تو یہ ہے کہ مسیح علیہ السلام آسمان پر

سے مراد قرآن ہوتا ہے۔ بالکل غلط الکتاب والحکمۃ“ لکھا ہے تو کیا اس میں ہیں اور کیا حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد کو

ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ قول مذکورہ“ میں یہ نہیں لکھا کہ حضرت

یہاں تک ذکر ہے کہ یہودی حضرت عیسیٰ علیہ اللہ تعالیٰ نے ان کو لازوال عزت بخشی۔ اس اسلام کے ساتھ آسمان پر چلے گئے۔ مہربانی

(شرعاً و عقلاً) محمد سلیم عفی عنہ (مناظر جماعت احمدیہ مولانا محمد سلیم)

اور مرزا پر جرح حیاتہ القیوم ! تسلیم کر لیا کہ عیسیٰ علیہ السلام کی موت

مرزا قادیانی کے الہام سے ہوئی اور مثال میں بیت المقدس کے قبلہ کو چھوڑ کر خانہ کعبہ کے قبلہ کو پیش کیا۔ الحمد للہ! بس ثابت ہو گیا کہ جس طرح بیت المقدس کا قبلہ جو پہلے نبیوں کا تھا۔ اس کو آنحضرت ﷺ کی وحی نے بدل دیا۔ ٹھیک اسی طرح حیات عیسیٰ علیہ السلام کے عقیدے کو جو آنحضرت ﷺ کا تھا۔ مرزا قادیانی کی وحی نے بدل دیا۔ لہذا اس ایک ہی مثال سے ثابت ہو گیا کہ قرآن اور حدیث اور آنحضرت ﷺ کا یہی عقیدہ تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں۔ لہذا ہم کو حضور ﷺ ہی کے عقیدے پر مرنا ہے اور اسی پر زندہ رہنا ہے۔ آپ کو آپ کے نبی مرزا صاحب کا عقیدہ مبارک۔ اب تک خواہ مخواہ آپ نے قرآنی آیات نقل کر کے دھوکہ دیا تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام مر چکے ہیں۔ جادو وہ ہے جو سر چڑھ کر بولے۔

(نور الحق ص ٥٠ ، خزائن ج ٨ ص ٦٩) پر مرزا قادیانی نے موسیٰ کو زندہ مانا اور اس عقیدہ پر قائم رہنے کا آپ کو حکم دیا ہے۔ مرزا قادیانی کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی یہ زندگی کیسے تسلیم ہے۔ مرزا قادیانی کو تو حضرت عیسیٰ سے دشمنی ہے۔ وہ مر جائیں تا کہ عیسائیوں کے کفارہ کا عقیدہ ثابت ہو جائے۔ موسیٰ علیہ السلام کی زندگی آسمان پر ان کے کھانے پر کوئی اعتراض نہیں کیا؟ اسی کا نام دیانت ہے؟ مولوی سلیم آپ نے تذکرہ دیکھا؟ جہاں مرزا قادیانی عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ گائے کا گوشت کھا رہے ہیں۔ آخر اور کسی نبی کے ساتھ خود حضور ﷺ کے ساتھ کیوں نہیں کھایا۔ یہ ہمالیہ پہاڑ سے زیادہ وزنی دلیل ہے کہ سب نبی وصال پاچکے ہیں اور عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں۔ کھانا زندہ کے ساتھ کھایا جاتا ہے یا مردے کے ساتھ؟

آپ نے اجماع پوچھا ہے: دیکھ لیجئے میرا پہلا حوالہ (شہادت القرآن ص ٢، خزائن ج ٦ ص ٢٩٨) جہاں مرزا قادیانی نے تواتر ثابت کیا ہے۔ تواتر معنوی کا ہی نام اجماع ہے۔ اب آپ مرزا قادیانی کی تردید فرمائیے۔ آپ نے قانون خدا کا نام لیا۔ افسوس کہ آپ کی تعریف کی رو سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام سر سے لے کر پیر تک، زمین سے لے کر آسمان تک، پیدائش سے لے کر موت تک بقول آپ کے قانون قدرت کے خلاف ہی خلاف ہیں۔

پیدا ہوتے ہیں، قانون قدرت کے خلاف بات کرتے ہیں۔ قانون قدرت کے خلاف، معجزہ دکھلاتے ہیں۔ قانون قدرت کے خلاف آسمان پر جاتے ہیں۔ قانون قدرت کے خلاف تو آسمان سے آئیں گے بھی۔ بقول آپ کے قانون قدرت کے خلاف اس پر کیا اعتراض ہے؟ یا پھر ان سب کا انکار کر دیجئے۔

لو آپ اپنے دام میں صیاد آگیا

٤٧

صفحہ ٩٠

جی ہاں تاریخ عالم پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زندگی موجود ہے۔ جس کو آپ کے نبی آپ کو ماننے پر مجبور کرتے ہیں۔ حضور ﷺ کی توفی سے اگر عیسیٰ کی توفی لازم آجاتی ہے تو موسیٰ علیہ السلام کی توفی کیوں نہیں لازم آتی؟ افسوس کہ آپ نے سوچ کر جواب نہیں دیا۔ ”تَرْقَی السَّمَاءِ“ سے آپ نے آسمان پر جانا محال ثابت کیا ہے۔ جو دھوکہ ہے۔ پوری بات اسی جگہ موجود ہے۔ مگر آپ اس کو نقل نہیں کر سکتے۔ وہاں تو کفار یہ کہتے ہیں کہ: ”لَنْ نُؤْمِنَ لِرُقِیِّکَ (اسراء:٩٣)“ ”اے محمد اگر تو آسمان پر چلا بھی جائے تب بھی ہم تجھ پر ایمان نہیں لائیں گے۔“ آپ نے ”لا تقربوا الصلوٰۃ“ کی طرح دلیل دی تھی۔ اگر ہمت ہے تو پوری آیت پڑھو اور ترجمہ کرو اس پر آپ کو منہ مانگا انعام دوں گا۔ اگر اس آیت سے آسمان پر نہ جانا ثابت کریں۔ ہمت کرو، ہمت کرو۔ جب حوالہ دے چکے ہو تو بس اسی پر قائم رہو۔ مگر میرا دعویٰ ہے کہ تم پوری آیات کو نقل کر کے ترجمہ نہیں کرو گے۔ اگر تم نے ایسا کر دیا تو شاید یاوگیر میں کوئی بھی وفات مسیح کا قائل نہیں رہے گا۔ ہمت کرو، ہمت کرو۔ ہاں ہاں پوری آیت ذرا پوری آیت پڑھو اور قدرت خداوندی اور قرآنی صداقت اور حیات عیسیٰ علیہ السلام کا کھلا کھلا ثبوت اسی آیت سے دیکھو کہ جس کو تم نے خود پیش کیا ہے۔

پوری آیت پڑھنے سے پتہ چل جائے گا کہ بشر آسمان پر جاتا ہے یا نہیں۔ دوست! خلائی دور ہے۔ پرانے دلائل اب کام نہیں آئیں گے۔ آپ نے نوٹ بک سے نقل کر دیا۔ مگر قرآن کھول کر دیکھ نہیں لیا کہ قرآن میں کیا ہے۔ آپ نے یہاں خلاف شرائط مناظرہ معراج کا ذکر چھیڑ دیا۔ یہ حیات عیسیٰ علیہ السلام کا موضوع ہے۔ معراج کا نہیں ہے۔ اگر ہمت ہے تو معراج کے لئے بھی ایک دن مقرر کر لو۔ اس وقت معلوم ہوگا کہ حضور ﷺ کی معراج جسمانی تھی یا روحانی۔ مسلم شریف میں ہے۔ حضور ﷺ نے معراج کی رات عیسیٰ علیہ السلام کو حضرت عروہ ابن مسعودؓ کی شکل میں دیکھا۔ پھر اسی مسلم میں جہاں دجال کو قتل کرنے کا ذکر فرماتے ہیں جو عیسیٰ علیہ السلام آئیں گے دجال کو قتل کریں گے۔ ان کی شکل عروہ ابن مسعودؓ کی ہوگی۔ مسلم شریف وہ کتاب ہے جس کو مرزا قادیانی بھی تسلیم کرتے ہیں۔ لہٰذا اسی سے معلوم ہوگیا جو مسیح آسمان پر گیا جس کو حضور ﷺ نے آسمان پر دیکھا جو دجال کو قتل کرے گا وہ ایک ہی ہے اور اس کی شکل حضرت عروہ ابن مسعودؓ کی شکل ہے۔ کیا ہے کوئی حق کا تلاش کرنے والا، کہ اس کھلی دلیل کے بعد عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ آنے پر شک کرے۔ میں نے اپنے پہلے پرچے میں وقت کی کمی کے سبب سے کچھ جواب ٤٨

صفحہ ٩١

موسیٰ علیہ السلام کی زندگی موجود ہے۔ جس کو آپ کے نبی کی توفی سے اگر عیسیٰ کی توفی لازم آجاتی ہے تو موسیٰ افسوس کہ آپ نے سوچ کر جواب نہیں دیا۔ ”ترقی جانا محال ثابت کیا ہے۔ جو دھوکہ ہے۔ پوری بات اسی جگہ ہے۔ وہاں تو کفار یہ کہتے ہیں کہ : ”لَنْ نُؤْمِنَ لِرُقِيِّكَ پر چلا بھی جائے تب بھی ہم تجھ پر ایمان نہیں لائیں گے۔ طرح دلیل دی تھی۔ اگر ہمت ہے تو پوری آیت پڑھو اور دوں گا۔ اگر اس آیت سے آسمان پر نہ جانا ثابت کریں۔ جمے ہو تو بس اسی پر قائم رہو۔ مگر میرا دعویٰ ہے کہ تم پوری ہم نے ایسا کر دیا تو شاید یاد گیر میں کوئی بھی وفات مسیح کا جی ہاں پوری آیت ذرا پوری آیت پڑھو اور قدرت علیہ السلام کا کھلا کھلا ثبوت اسی آیت سے دیکھو کہ جس

جائے گا کہ بشر آسمان پر جاتا ہے یا نہیں۔ دوست! نہیں گے۔ آپ نے نوٹ بک سے نقل کر دیا۔ مگر ہے۔ آپ نے یہاں خلاف شرائط مناظرہ معراج کا کیا ہے۔ معراج کا نہیں ہے۔ اگر ہمت ہے تو معراج معلوم ہوگا کہ حضورﷺ کی معراج جسمانی تھی یا معراج کی رات عیسیٰ علیہ السلام کو حضرت عروہ ابن کا دجال کو قتل کرنے کا ذکر فرماتے ہیں جو عیسیٰ علیہ شکل عروہ ابن مسعودؓ کی ہوگی۔ مسلم شریف وہ کتاب لہٰذا اس سے معلوم ہو گیا جو مسیح آسمان پر گیا جس کو آئے گا وہ ایک ہی ہے اور اس کی شکل حضرت عروہ ماننے والا، کہ اس کھلی دلیل کے بعد عیسیٰ علیہ السلام پرچے میں وقت کی کمی کے سبب سے کچھ جواب

نہیں دیا تھا۔ اس کو اب سن لیجئے۔ ورنہ مجھے ڈر ہے کہ آپ فوراً کہہ دیں گے کہ افسوس کہ مولوی اسماعیل نے ہمارے دلائل کا جواب نہیں دیا۔

آپ نے اپنے پہلے پرچے میں ایک دلیل ”كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ (آل عمران:١٨٥)“ بھی دی تھی۔ اس سے کیا فائدہ۔ عیسیٰ علیہ السلام ہمیشہ زندہ نہیں رہیں گے۔ ضرور مریں گے۔ آپ نے ”مَا دُمْتُ حَيّاً“ سے بھی دلیل دی تھی کہ وہ آسمان پر کہاں نماز پڑھتے ہیں۔ دوست جہاں موسیٰ علیہ السلام پڑھتے ہیں وہیں عیسیٰ علیہ السلام بھی پڑھتے ہیں۔ ”مَا هُوَ جَوَابُكُمْ فَهُوَ جَوَابُنَا“ خضر علیہ السلام کی زندگی کے حوالے سے آپ بہت گھبرا گئے تھے۔ کہیں آپ یہ نہ کہیں کہ وہ حضرت بڑے پیر صاحب کا قول ہے۔ مرزا قادیانی کا نہیں اس کا جواب یہ ہے کہ بڑے پیر صاحب کی بات کیا مرزا قادیانی نہیں مانتے؟ اگر نہیں مانتے تو آپ لکھ دیں ہم دوسرا حوالہ حضرت خضر کے بجائے صاحب خضر حضرت موسیٰ علیہ السلام کا دے دیں گے۔ اگر کسی کے زندہ رہنے سے نعوذ باللہ حضورﷺ کی توہین ہوتی ہے تو پھر جبرائیل، میکائیل وغیرہ ملائکہ کو بھی مرجانا چاہئے۔ کیونکہ یہ بہت افسوس کی بات ہے کہ دونوں جہاں کے سردار کا تو وصال ہو جائے اور فرشتے زندہ رہیں اور موسیٰ زندہ رہیں اور وہ بھی آسمان پر زندہ رہیں اور تو اور کم بخت شیطان لعین زندہ رہے اور دونوں جہان کے سردار چل بسیں۔

جو بات کی خدا کی قسم لاجواب کی

اور تو اور خود میں زندہ رہوں اور آپ زندہ رہیں اور حضورﷺ کا وصال کے ساتھ ہی ساتھ سب کا وصال ہو جائے۔ مولوی سلیم صاحب! آپ کا پرچہ آخری ہوگا۔ لہٰذا آپ کو چاہئے کہ میرے جن دلائل کو توڑیں یا آپ نئے دلائل دیں اس کو تیسرے پرچہ پر دے دیں۔ تاکہ میں اپنے تیسرے پرچے میں جواب الجواب دے کر ہمیشہ کے لئے لاجواب کردوں۔ شرائط مناظرہ میں یہ چیز موجود ہے۔

اگر آپ نے ایسا نہیں کیا۔ اپنے آخری پرچے میں میرا جواب دیا تو شرائط مناظرہ کی رو سے آپ کی ہار ہوگی۔ بہادر آدمی وہ ہے جو سوال کر کے جواب بھی سن لے۔

آپ نے اب تک صلب کے معنی نہیں لکھے۔ آپ نے میرے قرآنی دلائل کا جواب نہیں دیا ہے۔ آپ کو چاہئے کہ پہلے ہی سے دے دیں۔ آپ نے تسلیم کر لیا کہ مرزا قادیانی کا پہلا عقیدہ اسلامی نہیں تھا۔ کفری تھا تو اب جواب دو کہ جس کا عقیدہ باون (٥٢) سال تک کفری رہا

٤٩

صفحہ ٩٢

وہی شخص ترپن سال میں نبی بن گیا۔ یا للعجب! کوئی ہے جو یہ عقدہ حل کرے۔ اے اللہ تو ان بھائیوں کو عقل سلیم دے۔ ہدایت تیرے قبضے میں ہے۔ میرے قبضے میں نہیں، میرا کام ہے قرآن سے، حدیث سے، مرزا قادیانی کے قول سے، عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ ثابت کر دینا۔ سو اسے میں کر چکا۔ اب سمجھنا نہ سمجھنا مولوی سلیم اور ان کی جماعت کا کام ہے۔

”من يهده الله فلا مضل له ومن يضلله فلا هادي له“ ہاں آپ ”هو الذي ارسل رسوله“ والی آیت کا ہی کم از کم جواب دے دیں۔ شاہ ولی اللہ کے ترجمہ کے بعد اور کسی ترجمہ کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ وہ تمہارے اور ہمارے دونوں کے مسلم الثبوت بزرگ ہیں۔ مرزا قادیانی نے ان کو تمام محدثین کا سردار مانا ہے۔ (ازالہ اوہام ص ١٥٥، خزائن ج ٣ ص ١٧٩، کتاب البریہ ص ٧٣، ٧٤، خزائن ج ١٣ ص ٩٠ تا ٩٢) میں ان کو آسمانی نشان مانا ہے۔ آج میں نے آپ کے سامنے قرآن رکھ دیا جو شاہ صاحب ہی کا ترجمہ ہے۔ پس اسی کو پڑھ کر فیصلہ کر لو۔ ان عربی کی عبارتوں کو چھوڑ دو ۔ اس لئے کہ اس کو یاد گیر والے نہیں سمجھ سکیں گے۔ دوسری بات یہ ہے کہ حضرت شاہ ولی اللہ اور مرزا قادیانی دونوں ہی ہندوستان کے ہیں۔ قاعدہ ہے کہ جب کسی بات پر دو فریق میں جھگڑا ہوتا ہے تو حکم وہ شخص بنتا ہے جو دونوں کا مسلم ہو۔ لہٰذا شاہ ولی اللہ صاحب دونوں کے مسلم الثبوت بزرگ ہیں۔ سب بات کو چھوڑ کر اگر آپ میرے صرف اسی چیلنج کو بھی قبول کر لیں گے تو معاملہ کا فیصلہ ہو جائے گا۔ یہ بے چارے بھولے بھالے بھائی جو قرآن نہیں جانتے۔ حدیث نہیں جانتے۔ لیکن اردو فارسی ضرور جانتے ہیں۔ وہ لوگ شاہ صاحب کے ترجمہ سے بہت آسانی سے سمجھ لیں گے کہ عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں یا مردہ۔! اگر شاہ ولی اللہ صاحب نے غلط ترجمہ کیا تو جو شخص قرآن کا ترجمہ بھی نہیں جانتا بخیال تمہارے، پھر اس کو مرزا قادیانی نے رئیس المحدثین کا عظیم الشان خطاب اور آسمانی نشان کا زبردست سرٹیفکیٹ کس طرح دے دیا۔

اے اللہ تو میرے بھائی مولانا سلیم کو عقل سلیم دے۔ آمین اور اسی کے ساتھ ساتھ تمام حضرات کو صراط مستقیم پر قائم رکھ جو بھائی عیسیٰ کی موت کی غلط فہمی میں مبتلا ہو گئے ہیں۔ ان کو صحیح راستہ ، حق راستہ آنحضرت ﷺ کا راستہ چودہ سو سال کا متفقہ راستہ، مرزا قادیانی کا باون سال تک کا اختیار کردہ راستہ دکھلا دے۔ ” ربنا تقبل منا انك انت السميع العليم“

(شرح دستخط) احقر محمد اسماعیل عفی عنہ مناظر اہل سنت والجماعت یاد گیر مورخہ ٢٣، نومبر ١٩٦٣ء ٥٠

صفحہ ٩٣

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

نحمده ونصلى على رسوله الكريم !

وفات مسیح ناصری علیہ السلام کے متعلق جماعت احمدیہ کا تیسرا پرچہ

ہمارے دو سابقہ پرچوں کے جواب میں فریق مخالف نے صریح کوشش کی ہے کہ قرآن شریف ، حدیث شریف اور قانون قدرت کو غلط ثابت کرے اور ایک لاکھ چوبیس ہزار سچے نبیوں پر اور پھر سیدنا ومولانا حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ پر عیسیٰ علیہ السلام کی فضیلت ظاہر کرے۔ کاش ! اتنا تو سوچا ہوتا کہ ایک وہ زمانہ تھا جب کہ سرور انبیاء حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوئی۔ آپ کی نعش مبارک ابھی دفن نہیں کی گئی تھی۔ شمع رسالت کے پروانے صحابہ کرام دیوانہ وار ادھر ادھر دوڑتے پھر رہے تھے۔ آنحضرت ﷺ کی محبت اور عقیدت کے تقاضہ سے وہ حضور ﷺ کی موت کا تصور بھی نہ کر سکتے تھے اور وہ چاہتے تھے کہ اگر موت کوئی جسمانی چیز ہو اور ان کے ہاتھ آ جائے تو وہ اسے ہی جان سے مار ڈالیں۔ آنحضرت ﷺ کی موت ان کے لئے ایک ناقابل یقین شے تھی کہ اسی حالت میں حضرت ابو بکر صدیق نے خطبہ ارشاد فرمایا کہ اے فدایان اسلام (محمد ﷺ) تم تو سچے خدا کے پرستار ہو اور خدا ہمیشہ کے لئے زندہ ہے۔ آنحضرت ﷺ تو ایک رسول تھے۔ جن کا وقت پورا ہو گیا اور وہ وفات پا گئے۔ کیا اب تم اس حادثہ کے باعث حی و قیوم خدا سے منہ پھیر لو گے؟ یہ سننا تھا کہ صحابہ کرام نے صبر کا دامن تھام لیا اور دربار نبوی ﷺ کے شاعر حضرت حسان بن ثابت نے کہا ؎

کنت السواد لناظری فعمی عليك الناظر
من شاء بعدك فليمت فعليك کنت احاذر

یعنی اے رسول عربی ﷺ تو میری آنکھ کی پتلی تھا۔ میں تیری وفات سے اندھا ہو گیا ہوں۔ اب جو چاہے مرا کرے میری بلا سے مجھے تو یہی دھڑکا تھا کہ مبادا آپ فوت ہو جائیں۔

لیکن آج یہ عالم ہے کہ ہمارے کچھ بھائی حضرت خاتم النبیین ﷺ کو نہ صرف فوت شدہ سمجھے ہیں۔ بلکہ آپ ﷺ کے فیضان نبوت کو اس حد تک بند مانتے ہیں کہ اس خیر امت میں اب کوئی ایسا انسان پیدا نہیں ہو سکتا جو اصلاح امت کی خدمت بجا لائے اور وہ منتظر ہیں کہ بنی اسرائیل کا ایک پرانا نبی آسمان سے اترے اور ان کا امام ہو۔ مگر جب آسمان پر کوئی گیا ہی نہیں اور خدا شاہد ہے کہ آج تک کوئی آسمان پر نہیں گیا تو کوئی آسمان سے اترے گا کیسے؟ حضرت بانیٔ

٥١

صفحہ ٩٤

سلسلہ احمدیہ فرماتے ہیں: ”مسیح موعود کا آسمان سے اترنا، نہایت جھوٹا خیال ہے۔ یادرکھو کہ کوئی آسمان سے نہیں اترے گا۔ ہمارے سب مخالف جو اب زندہ ہیں وہ تمام مریں گے اور کوئی ان میں سے عیسیٰ بن مریم کو آسمان سے اترتے نہیں دیکھے گا اور پھر ان کی اولاد جو باقی رہے گی۔ مرے گی اور ان میں سے بھی کوئی آدمی عیسیٰ بن مریم کو آسمان سے اترتے نہیں دیکھے گا اور پھر اولاد کی اولاد مرے گی اور وہ بھی مریم کے بیٹے کو آسمان سے اترتے نہیں دیکھے گی۔ تب خدا ان کے دلوں میں گھبراہٹ ڈالے گا کہ زمانہ صلیب کے غلبہ کا بھی گزر چکا اور دنیا دوسرے رنگ میں آگئی۔ مگر مریم کا بیٹا عیسیٰ اب تک آسمان سے نہیں اترا۔ تب دانشمند ایک دفعہ اس عقیدے سے بیزار ہو جائیں گے اور ابھی تیسری صدی آج کے دن سے پوری نہیں ہوگی کہ عیسیٰ علیہ السلام کے انتظار کرنے والے کیا مسلمان اور کیا عیسائی سخت ناامید اور بدظن ہوکر اس جھوٹے عقیدے کو چھوڑ دیں گے اور دنیا میں ایک ہی مذہب ہوگا اور ایک ہی پیشوا۔ میں تو ایک تخم ریزی کرنے آیا ہوں۔ سو میرے ہاتھ سے وہ تخم بویا گیا۔ اب وہ بڑھے گا اور پھولے گا اور کوئی نہیں جو اس کو روک سکے۔“

(تذکرۃ الشہادتین ص ٦٥ ، خزائن ج ٢٠ ص ٦٧)

حضرات! ہم اپنے گزشتہ پرچوں میں قرآن مجید اور احادیث سے وفات مسیح علیہ السلام کے بائیس دلائل پیش کر چکے ہیں۔ ہمارے مد مقابل نے ہماری کسی ایک دلیل کو توڑ کر نہیں دکھایا۔ اب آپ اسی سلسلے میں کچھ مزید دلائل سنئے۔

بست وسوم ..... حضرت امام عبدالوہاب شعرانیؒ فرماتے ہیں: ”لوکان موسیٰ وعیسیٰ حیین ما وسعہما الا اتباعی“ یہ رسول کریم ﷺ کی حدیث ہے کہ اگر موسیٰ اور عیسیٰ علیہم السلام زندہ ہوتے تو ان کو میری پیروی کے سوا چارہ نہ ہوتا۔ اس سے ثابت ہوا کہ امام عبدالوہاب شعرانیؒ کے نزدیک حضرت رسول کریم ﷺ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو فوت شدہ سمجھتے تھے۔

بست وچہارم ..... حضرت فاطمۃ الزہراؓ روایت فرماتی ہیں: ”ان عیسیٰ عاش عشرین ومائۃ (کنز العمال ج ١ ص ١٢٠)“ کہ حضرت رسول کریم ﷺ نے فرمایا حضرت عیسیٰ علیہ السلام ایک سو بیس سال زندہ رہے۔

بست و پنجم ..... حضرت جابرؓ سے روایت ہے: ”ما من نفس منفوسۃ الیوم یأتی علیہا مائۃ سنۃ وھی یومئذ حیۃ (کنز العمال ج ٧ ص ١٧٠)“ کہ ایک روز رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ ایک سو سال کے اندر اندر وہ تمام لوگ جو آج زندہ ہیں فوت ہو جائیں گے۔

بست و ششم ..... حضرت امام مالکؒ جو دنیا کے چار بڑے مشہور اماموں میں سے بڑے پایہ کے امام

٥٢

لدئے ہیں۔ فرماتے ہیں کہ: ”وقال میا ہم نے اپنے پہلے پرچہ میں حضر دونوں اعتبار سے ان کی وفات ثابت کرچکے تے ہیں۔ اس پرچہ میں کئی ممتاز اور واجب الا فریق مخالف نے ہم سے دریافت ہے؟ ہم نے جواب دیا تھا کہ ہرگز نہیں۔ مرزا قادیانی) کے نزدیک سب نبی فوت زا صاحب نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے کے بزعم خود یہ نتیجہ نکالا گیا تھا کہ گویا حضرت م ہیں۔ حالانکہ یہ ایک کشفی واقعہ تھا۔ جس کے ثب س برس کا عرصہ ہوا ہے جو میں نے خواب می کہ میں نے ایک ہی برتن میں کھانا کھایا۔“ آپ نے بڑا زور اسی پر دیا ہے علیہ السلام کی خبر کو متواتر قرار دیا ہے۔ مگر ہمیں حقیقت کو چھپانے کی افسوسناک کوشش کی ب چھا جائے کہ اس بات کا ثبوت کیا ہے کہ حض چڑھ گئے تھے تو نہ کوئی آیت پیش کر سکتے ہی اء کے ساتھ اپنی طرف سے آسمان کا لفظ مل مرفوع متصل میں آسمان کا لفظ پایا نہیں جاتا۔ اور وہ تو صحیح حدیث تو کیا کوئی وضعی حدیث بھی سلام جسم عنصری کے ساتھ آسمان پر چلے گے کوئی ایسی حدیث پیش کرے تو ہم ایسے شخص تمام اپنی کتابوں کا جلا دینا اس کے علاوہ ہو

صفحہ ٩٥

گزرے ہیں۔ فرماتے ہیں کہ : ”وقال مالک مات“ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو گئے ہیں۔

(مجمع البحار ج ١ ص ٢٨٦)

ہم نے اپنے پہلے پرچہ میں حضرت مسیح علیہ السلام کی چار مختلف حیثیتیں بیان کر کے چاروں اعتبار سے ان کی وفات ثابت کر چکے ہیں اور اپنی تائید میں قرآن مجید اور احادیث پیش کر چکے ہیں۔ اس پرچہ میں کئی ممتاز اور واجب الاحترام بزرگوں کے حوالے بھی درج کر دیئے ہیں۔

فریق مخالف نے ہم سے دریافت کیا تھا کہ آیا مرزا قادیانی نے کسی نبی کو آسمان پر زندہ مانا ہے؟ ہم نے جواب دیا تھا کہ ہرگز نہیں۔ بلکہ (نور الحق ص ٥١) کا حوالہ بھی درج کیا تھا کہ آپ (مرزا قادیانی) کے نزدیک سب نبی فوت ہو چکے ہیں۔ ہم سے پوچھا گیا تھا کہ کیا حضرت مرزا صاحب نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ایک پیالہ میں گوشت نہیں کھایا؟ یہ حوالہ پیش کر کے بزعم خود یہ نتیجہ نکالا گیا تھا کہ گویا حضرت مرزا صاحب کے نزدیک حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں۔ حالانکہ یہ ایک کشفی واقعہ تھا۔ جس کے ثبوت کے لئے مزید ایک حوالہ درج ذیل ہے۔ ”تخمیناً دس برس کا عرصہ ہوا ہے جو میں نے خواب میں حضرت مسیح علیہ السلام کو دیکھا اور مسیح علیہ السلام نے اور میں نے ایک ہی برتن میں کھانا کھایا۔“

(براہین احمدیہ حصہ سوم ص ٢٥٣، بحوالہ تذکرہ ص ١٥)

آپ نے بڑا زور اسی پر دیا ہے کہ مرزا قادیانی نے اپنی مختلف کتابوں میں نزول مسیح علیہ السلام کی خبر کو متواتر قرار دیا ہے۔ مگر ہمیں افسوس ہے کہ نادانستہ یا دانستہ ہمارے مد مقابل نے حقیقت کو چھپانے کی افسوسناک کوشش کی ہے۔ چنانچہ حضرت مرزا صاحب فرماتے ہیں: ”اگر پوچھا جائے کہ اس بات کا ثبوت کیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے جسم عنصری کے ساتھ آسمان پر چڑھ گئے تھے تو نہ کوئی آیت پیش کر سکتے ہیں اور نہ کوئی حدیث دکھلا سکتے ہیں۔ صرف نزول کے لفظ کے ساتھ اپنی طرف سے آسمان کا لفظ ملا کر عوام کو دھوکا دیتے ہیں۔ مگر یاد رہے کہ کسی حدیث مرفوع متصل میں آسمان کا لفظ پایا نہیں جاتا۔ اگر اسلام کے تمام فرقوں کی حدیث کی کتابیں تلاش کرو تو صحیح حدیث تو کیا کوئی وضعی حدیث بھی ایسی نہیں پاؤ گے جس میں یہ لکھا ہو کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جسم عنصری کے ساتھ آسمان پر چلے گئے تھے اور پھر کسی زمانے میں زمین کی طرف واپس آکر کوئی ایسی حدیث پیش کرے تو ہم ایسے شخص کو بیس ہزار روپیہ تک تاوان دے سکتے ہیں اور توبہ کرنا اور تمام اپنی کتابوں کا جلا دینا اس کے علاوہ ہوگا۔ جس طرح چاہیں تسلی کرلیں۔“

(کتاب البریہ ص ١٩٢)

٥٣

صفحہ ٩٦

ہم اپنے گزشتہ پرچے میں بوضاحت بیان کر چکے ہیں کہ وفات مسیح کے عقیدہ کی بنیاد حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کا الہام نہیں بلکہ اس کی بنیاد قرآن مجید اور حدیث رسول کریم ﷺ پر رکھی گئی ہے۔ چنانچہ ہم اپنے گزشتہ پرچے میں آپ کی کتاب (حمامۃ البشریٰ ص ٤٨) کا ایک عربی حوالہ پیش کر چکے ہیں۔ یہاں حضرت مرزا صاحب کا اپنا کیا ہوا اردو ترجمہ پیش کیا جاتا ہے۔ ”میں نے یہ کہا ہے اور اب بھی کہتا ہوں کہ عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام یقیناً فوت ہو گیا ہے۔ جیسا کہ قرآن عظیم اور رسول کریم ﷺ نے خبر دی ہے۔ پس ہم خدا اور رسول کی بات میں کس طرح شک کریں اور ان کی باتوں پر اور باتوں کو ترجیح دیں اور میرے اور مخالفوں کے درمیان قرآن ہی فیصلہ کن ہے۔“

فریق مخالف نے تعریض کی تھی کہ مرزا قادیانی باون سال تک حیات مسیح کے قائل رہے۔ اس کے جواب میں ہم نے کہا تھا اور اب پھر دہراتے ہیں کہ ایسی بے محل باتیں مفید نہیں ہوا کرتیں۔ اللہ تعالیٰ کے مامور خدائی اشاروں کے تابع ہوتے ہیں۔ جب تک اللہ تعالیٰ نے مرزا قادیانی پر قرآن مجید اور حدیث نبویؐ کے اسرار نہ کھولے۔ آپ نے عام مسلمانوں کی مخالفت کو پسند نہیں کیا۔ جیسا کہ حضرت رسول کریم ﷺ بھی ابتدائی ساڑھے پندرہ سال تک بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے رہے۔ کیونکہ: 'كان يحب موافقة اهل الكتاب فيما لم يؤمر به'

(مسلم ج ٢ ص ٢٩٦)

یعنی جس بارے میں آنحضرت ﷺ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی حکم نہیں دیا جاتا تھا۔ اس میں اہل کتاب کی موافقت کو پسند فرماتے تھے۔ اسی طرح حضرت مرزا صاحب نے بھی تفہیم الہی سے پہلے پہلے عام مسلمانوں کے عقیدے کی مخالفت نہیں فرمائی۔ یہ درست ہے کہ ”فلما توفيتنى“ والا واقعہ قیامت کو پیش آئے گا۔ مگر یہ بھی تو سوچئے کہ واقعہ کیا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کہتے ہیں کہ میری قوم میری وفات کے بعد بگڑی ہے۔ بعینہ یہی واقعہ بخاری شریف میں خود رسول مقبول ﷺ نے اپنے متعلق بھی بیان فرمایا ہے جو ہم پہلے لکھ چکے ہیں۔

اس کا یہ جواب دینا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے یہ نہیں کہا کہ مجھے اپنی قوم کے بگڑنے کا پتہ نہیں بلکہ پاس ادب کے خیال سے خاموشی اختیار کی ہے۔ بالکل غلط ہے۔ کیونکہ سورۃ مائدہ کے آخری رکوع میں جہاں یہ تذکرہ ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے صرف اتنی بات پوچھی تھی کہ کیا تم نے ان لوگوں سے کہا تھا کہ مجھ کو اور میری ماں کو خدا بنا لو؟ اس کے جواب میں پاس ادب کا تقاضا تو یہ تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام خاموش رہتے اور دوسرے رسولوں کی طرح ”لا علم لنا“ کہہ دیتے۔ مگر ان کا جواب تو اتنا لمبا ہے کہ سارا رکوع بھرا ہوا ہے۔

٥٤

صفحہ ٩٧

آپ نے لکھا ہے کہ جس طرح خلائی مسافر خلا میں سفر کرتے ہیں۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی خلا میں چلے گئے ہیں۔ آپ کو یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں حضرت محمد رسول اللہ ﷺ سے پہلے تمام نبیوں کے لئے ”قد خلت“ کے الفاظ استعمال فرمائے ہیں۔ اب بقول آپ کے اس کے معنی یہ ہوئے کہ ایک لاکھ چوبیس ہزار نبی مسلسل خلا میں گھوم رہے ہیں۔ اگر آپ اسی پر خوش ہیں تو ہمیں آپ سے کوئی شکایت نہیں ہے۔ مگر تسلیم کر لیجئے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی ان خلائی نبیوں کے ہمرکاب ہیں۔

خدا جانے ہمارے مد مقابل کی عقل اور سمجھ کو کیا ہو گیا ہے۔ جو خلائی مسافروں کا حوالہ دے رہے ہیں۔ حالانکہ وہ زمین پر سے تمام لوازم زندگی لے کر خلا میں جاتے ہیں۔ یعنی کھانا، پینا اور آکسیجن اور ضروری گیس وغیرہ۔ نیز وہ خلائی جہاز بذات خود زمینی اشیاء سے بنا ہوتا ہے۔

بہر حال ہمیں خوشی ہے کہ آپ حضرت مسیح علیہ السلام کو سماء سے اتار کر خلاء میں لے آئے ہیں۔ اگلے مناظرہ میں خدا کرے کہ انہیں فضا میں اور پھر زمین میں مدفون مان لیں۔

آپ نے تحریر کیا ہے کہ مسیح علیہ السلام کی ساری زندگی از ابتدا تا انتہاء قانون قدرت کے خلاف ہے۔ حالانکہ قرآن مجید نے تو ”ان مثل عیسیٰ عند اللہ کمثل آدم“ فرمایا ہے کہ وہ بھی دوسرے رسولوں ہی کی طرح ایک رسول تھے۔ البتہ انسان کے آسمان پر جانے کو بشریت کے منافی اور خدا کی خدائی کے خلاف ضرور کہا گیا ہے۔ اسی لئے ہم بھی حضرت مسیح علیہ السلام کو آسمان پر زندہ نہیں مان سکتے۔ معراج نبوی کا ذکر تو صرف اس لئے کیا گیا تھا۔ آنحضرت ﷺ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو فوت شدہ نبیوں میں دیکھا تھا۔ سو اگر زندہ ہیں تو سب زندہ ہیں اور اگر وفات پا گئے ہیں تو سب وفات پا گئے ہیں۔

آپ بار بار سید ولی اللہ شاہ صاحب دہلوی کا ترجمہ القرآن پیش کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں حضرت مرزا قادیانی کا یہ فرمان پیش نظر رہنا چاہئے کہ آپ فرماتے ہیں: ”ہماری جماعت کا یہ فرض ہونا چاہئے کہ اگر کوئی حدیث معارض اور مخالف قرآن وسنت نہ ہو تو خواہ وہ کیسی ہی ادنیٰ درجہ کی حدیث ہو اس پر وہ عمل کریں اور انسان کی بنائی ہوئی فقہ پر اس کو ترجیح دیں۔“

(ریویو بر مباحثہ محمد حسین بٹالوی، عبداللہ چکرالوی)

ہم سے پوچھا گیا ہے کہ حضرت مرزا صاحب نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے علاوہ اور کسی نبی سے کشفی ملاقات کیوں نہیں کی؟ سو یاد رہے کہ حضور فرماتے ہیں: ”روزہ کے عجائبات میں

٥٥

صفحہ ٩٨

سے جو میرے تجربہ میں آئے وہ لطیف مکاشفات ہیں جو اس زمانے میں میرے پر کھلے۔ چنانچہ بعض گذشتہ نبیوں سے ملاقاتیں ہوئیں اور جو اعلیٰ طبقہ کے اولیاء اس امت میں گزر چکے ہیں۔ ان سے ملاقات ہوئی۔ ایک دفعہ عین بیداری کی حالت میں جناب رسول اللہ ﷺ مع حسنین و علیؓ و فاطمہؓ کو دیکھا۔ غرض اسی طرح کئی مقدس لوگوں کی ملاقاتیں ہوئیں۔‘‘

(کتاب البریہ ص١٦٥، ١٦٦)

حضرت مرزا صاحب نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بجسدہ العنصری زندہ نہیں مانا بلکہ یہ فرمایا ہے کہ: ”اگر تنکوں کے سہاروں سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی کا عقیدہ اپنایا جاسکتا ہے تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زندگی بدرجہ اولیٰ ثابت کی جاسکتی ہے۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ١٥)

قرآن شریف میں لکھا ہے کہ: ”ولن نؤمن لرقیک“

ہم تیرا آسمان پر چڑھ جانا نہیں مانیں گے۔ جب تک تو وہاں سے ہم پر کوئی کتاب نہ نازل کرے۔ انہوں نے یہ ہرگز نہیں کہا کہ تو آسمان پر چلا بھی جائے تو بھی ہم نہیں مانیں گے۔ کیونکہ ان کا تو مطالبہ ہی یہی تھا کہ اگر آپ سچے ہیں تو آسمان پر چڑھ جائیں۔ مگر اس خیال سے کہ ان کو آپ کے آسمان پر چڑھنے کا یقین آ جائے۔ وہ اس بات پر اصرار کرتے ہیں کہ آپ اپنے آسمان پر چڑھ جانے کا ثبوت بھی بہم پہنچائیں۔ اگر آپ میں دم خم ہے تو اپنے اس ادّعا پر قائم رہئے اور ثابت کیجئے کہ وہ رسول اللہ کا آسمان پر جانا ممکن سمجھتے تھے۔

ہم توقع رکھتے ہیں کہ ہمارے پیش کردہ تمام دلائل کو نمبر وار توڑنے کی کوشش کی جائے گی۔ باقی رہا یہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آئیں گے اور دجال کو قتل کریں گے تو یہ تو بالکل قبل از مرگ واویلا والی بات ہے۔ آپ ان کا آسمان پر جانا اور خاکی جسم سمیت زندہ ہونا تو ثابت کر لیں۔ تاہم بڑی صفائی کے ساتھ ہم بیان کر چکے ہیں کہ کسی نبی کے دوبارہ آنے سے کیا مراد ہوتی ہے۔ آپ نے ہماری کسی دلیل کا جواب نہیں دیا۔ آپ نے کہا ہے کہ جو نماز حضرت موسیٰ علیہ السلام پڑھتے ہوں گے وہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام پڑھتے ہوں گے۔ ہم لکھ چکے ہیں کہ تمام نبی فوت ہو چکے ہیں اور فوت ہونے کے بعد احکام شریعت کی ادائی فرض نہیں ہوتی۔

آپ نے کوئی ایک آیت یا حدیث بھی ایسی نہیں پیش کی جس سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی خاکی جسم سمیت زندگی ثابت ہوسکے۔ ہم ایک دفعہ پھر آپ کی غیرت سے اپیل کرتے ہیں کہ خدا کے لئے یا تو ہمارے دلائل کو توڑیئے یا اپنے مدعا کو ثابت کیجئے۔

(شرح دستخط) محمد سلیم عفی عنہ، مناظر جماعت احمدیہ

٥٦

پیشوا

اہل السنت والجماعت کی طرف سے

میرے پیارے بھائیو! آپ نے تو علیہ السلام کی موت مرزا قادیانی کے الہام سے حوالہ دیا۔ جواب سن کر ساکت ہو گئے۔ میں نے حضور نے دونوں جگہ عروہ ابن مسعودؓ کی شکل میں نہیں دیا۔ انہوں نے ”کشتی نوح“ کے حوالے ہوگا تو جو انعام مانگو گے دوں گا۔ لیکن اگر وہ نوح کی زندگی کو چھپاتے ہیں تو یادگیر والے ہے۔ ہمت کر کے حوالہ مانگو، خدا کی قدرت کا صاف آیت جو عیسیٰ علیہ السلام کو دنیا میں دوبار پیش کیا ہے۔ مگر مولوی صاحب خاموش رہے

ناؤ کاغذ کی

اب آئندہ نیا جواب نہیں دے مناظرہ میں یہی ہے۔ میں نے (تذکرہ ص ٦٤ لفظ دکھا دیتے۔ منہ مانگا انعام دیتا۔ مگر قیام ص ١٣٧، خزائن ج ١٤ ص ٣٨١) میں وفات مسیح کہ اہل سنت والجماعت کا یہ عقیدہ نہیں۔ تم بنا گئے۔ جناب نے صدیق اکبرؓ کے خطبے سے موسیٰ علیہ السلام بھی مر جائیں گے۔ حالانکہ زوروں سے تسلیم کیا ہے۔ اس کے علاوہ اگر م پھر حضرت ابو ہریرہؓ یہ کیوں کہتے ہیں۔ ”فَاقْرَ

حضرت ابو ہریرہؓ اجماع کے اندر کم از کم دو درجن صحابہ کرامؓ کے نام مل جاتے

صفحہ ٩٩

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اہل السنت والجماعت کی طرف سے حیات عیسیٰ علیہ السلام کا آخری پرچہ

میرے پیارے بھائیو! آپ نے دیکھ لیا کہ مولوی سلیم صاحب نے تسلیم کر لیا کہ عیسیٰ علیہ السلام کی موت مرزا قادیانی کے الہام سے ہوئی۔ بڑے زور سے بیت المقدس اور تحویل قبلہ کا حوالہ دیا۔ جواب سن کر ساکت ہو گئے۔ میں نے کہا کہ دو حلیہ ایک شخص کا نہیں ہو سکتا۔ اسی لئے حضور نے دونوں جگہ عروہ ابن مسعود کی شکل میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھا۔ اس کا بھی جواب نہیں دیا۔ انہوں نے ”کشتی نوح“ کے حوالے کو ادھورا دیا ہے۔ اگر کشتی نوح میں زندگی کا لفظ نہ ہوگا تو جو انعام مانگو گے دوں گا۔ لیکن اگر وہاں زندگی کا لفظ ہے۔ آپ اپنی زندگی کے لئے کشتی نوح کی زندگی کو چھپاتے ہیں تو پارٹی والے خود فیصلہ کر دیں گے۔ کشتی نوح میرے پاس موجود ہے۔ ہمت کر کے حوالہ مانگو، خدا کی قدرت کا تماشا دیکھو۔ ”ھو الذی ارسل رسولہ“ کی صاف آیت جو عیسیٰ علیہ السلام کو دنیا میں دوبارہ لاتی ہے۔ اس کو میں نے ہر پرچے میں بطور چیلنج پیش کیا ہے۔ مگر مولوی صاحب خاموش رہے۔

ناؤ کاغذ کی کبھی چلتی نہیں

اب آئندہ نیا جواب نہیں دے سکتے۔ اس لئے کہ یہ میرا آخری پرچہ ہے۔ شرائط مناظرہ میں یہی ہے۔ میں نے (تذکرہ ص ٤٠٣) سے گائے کا گوشت کھانا دکھا دیا۔ اگر وہاں کشتی کا لفظ دکھا دیتے۔ منہ مانگا انعام دیتا۔ مگر قیامت تک تم دکھا نہیں سکتے۔ مرزا قادیانی (ایام الصلح ص ١٤٧، خزائن ج ١٤ ص ٣٨١) میں وفات مسیح کے عقیدے کو معتزلہ کا عقیدہ کہا ہے۔ یہ خود دلیل ہے کہ اہل سنت والجماعت کا یہ عقیدہ نہیں۔ تم کو عیسیٰ علیہ السلام کی وفات سے مرزا قادیانی معتزلہ بنا گئے۔ جناب نے صدیق اکبرؓ کے خطبے سے وفات مسیح ثابت کیا۔ لیکن تم کو معلوم نہیں کہ اس سے موسیٰ علیہ السلام بھی مر جائیں گے۔ حالانکہ مرزا قادیانی نے موسیٰ علیہ السلام کی زندگی کو بڑے زوروں سے تسلیم کیا ہے۔ اس کے علاوہ اگر سب صحابہ یہی سمجھے کہ جتنے (نبی) تھے۔ سب مر گئے تو پھر حضرت ابو ہریرہؓ یہ کیوں کہتے ہیں۔ ”فاقرؤا ان شئتم وان من اھل الکتاب“

(بخاری شریف ج ١ ص ٤٩٠)

حضرت ابو ہریرہؓ اجماع کے اندر (ہیں) یا باہر اگر صحاح ستہ کی حدیث کو دیکھ لیا ہوتا تو کم از کم دو درجن صحابہ کرامؓ کے نام مل جاتے جو عیسیٰ علیہ السلام کی دوبارہ نازل ہونے کی روایت

٥٧

PDF 101

نقل کرتے ہیں تو پھر اجماع کہاں رہا؟ علاوہ ازیں ”قد خلت“ کا کیا ترجمہ مرزا قادیانی نے جنگ مقدس میں کیا۔ کیا بھدرک کے مناظرہ سے لے کر آج تک بھی آپ کو تاویل نہیں مل سکی۔

آپ نے تذکرۃ الشہادتین، کتاب البریہ کا حوالہ دیا ہے۔ یہ دونوں مدعی کی یعنی مرزا قادیانی کی کتابیں ہیں۔ گواہی کہیں مدعی کی ہوتی ہے؟ اجی مرزا قادیانی مدعی ہیں۔ آپ کو گواہی باہر سے دینی چاہئے تھی۔ لیکن جب آپ نے دیکھ لیا کہ تمام دلائل آپ کے جس کو آپ نے پہلے پرچے میں بڑے زور سے پیش کیا تھا۔ کنواری لڑکی کی سوت کی طرح ٹوٹ گئے تو اب مرزا قادیانی کی کتاب کا حوالہ دیا۔ مرزا قادیانی کے اشعار پیش کئے۔ وہ قرآن میں آیات کہاں چلی گئیں کہ مرزا قادیانی کی کتاب اور مرزا قادیانی کے اشعار پیش ہوئے۔ مرزا قادیانی کی پیش کرنے کا مجیب کو حق ہے مدعی کو نہیں۔ آپ کو شاید معلوم نہیں کہ آپ مدعی ہیں۔ کنز العمال کے دو حوالے پیش کئے جو شرائط مناظرہ کے خلاف ہیں۔ شرائط میں صحاح ستہ کا لفظ ہے۔ کیا کنز العمال بھی صحاح ستہ میں داخل ہوگئی ہے؟ اس لئے ہم اس کا جواب نہیں دیں گے۔ یہی حال آپ کے مجمع البحار کے حوالے کا ہے۔ آپ نے امام مالکؒ کا قول نقل کیا ہے کہ وہ عیسیٰ علیہ السلام کو مردہ مانتے ہیں۔ اگر واقعی یہ بات آپ نے دل سے کہی ہے تو آپ نے مرزا قادیانی کو اپنی زبان سے کم از کم ستائیس دفعہ جھوٹا قرار دے دیا۔ کیونکہ مرزا قادیانی نے براہین پنجم وغیرہ کتب میں ستائیس دفعہ کہا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کی موت ایک راز تھا، بھید تھا۔ سوائے میرے اللہ نے آج تک کسی پر نہیں ظاہر کیا۔ جب سوائے مرزا قادیانی کے کسی پر ظاہر ہی نہیں ہوا تو پھر امام مالک نے کہاں سے کہا۔ دیکھا آپ نے اس کو جواب کہا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ مرزا قادیانی نے ازالہ میں کہہ دیا کہ عیسیٰ علیہ السلام کی پوری حقیقت رسول اللہ ﷺ پر بھی ظاہر نہیں ہوئی۔ جب ہمارے سرکار جن پر قرآن اترا۔ جن کو ملائکہ حاملین عرش سے زیادہ غیب کی خبر اللہ نے دی تھی۔ وہ نہیں جان سکے کہ عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں یا مردہ۔ تو امام مالک نے کہاں سے جان لیا۔ گائے کا گوشت کھانا کشتی تھا؟ چلو یہی دکھا دو۔ مگر قیامت تک نہیں دکھا سکتے۔ اس لئے میں نے جو کہا تھا وہ ٹھیک کہ چونکہ تمام انبیاء کا وصال ہو گیا۔ اس لئے سب کا دروازہ بند۔ عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں۔ اس لئے گوشت، روٹی مرزا قادیانی کو وہیں ملی، کشتی کا لفظ تذکرہ سے دکھا دو۔ جتنا انعام مانگو گے دوں گا۔ یہ میرا کھلا چیلنج ہے۔ اگر آپ کو جواب نہیں مل سکا تو اتنے علماء آپ کے ارد گرد تشریف فرما ہیں، کسی سے دریافت کر لیا ہوتا۔

٥٨

مرزا قادیانی نے حدیث نزول عیسیٰ پاس نہیں ہے۔ اگر نہیں تو مجھ ہی سے مانگ لیں کھیت۔ حدیث مرفوع متصل میں آسمان متواتر قرار دے دیا؟ مولوی سلیم صاحب ہم اس وقت معلوم ہو گا کہ مولوی اسماعیل نے جو چاہے لکھ دیں۔

آپ نے الیواقیت الجواہر کا حوالہ یوں ہی۔ الیواقیت کس فن کی کتاب ہے۔ جو مضامین کی کتاب سے حوالہ دینا آیا ہے۔

گاؤ را کردند
نوح را باور نہ

افسوس! قرآن کو چھوڑ کر بخاری چھوڑ کر الیواقیت کا حوالہ دیا۔ یہ خود اس بات ہیں۔ آپ نے کتنا بڑا دھوکا دیا ہے کہ حضور کہ: ”قیامت کے دن میں بھی یہی کہوں گا ماضی، مستقبل کو آپ بھول گئے کیا یحییٰ علیہ السلام کو اپنا بھائی، ابراہیم کو باپ ”لا علم لنا“ پھر آپ نے خلت کو دہرایا۔ ج نے پہلے ہی دے دیا ہے۔ ابن ماجہ شریف آنحضرت ﷺ سے کہا کہ میں خود جا کر دی معراج کی رات حضور کو ملے ہیں۔ کیا مر آپ نے ابن ماجہ شریف نہیں دیکھا۔ لڑکی میں منہ ڈال کر دیکھ لیں۔

صفحہ ١٠١

الآیۃ میں ”قد خلت“ کا کیا ترجمہ مرزا قادیانی نے روے سے کر آج تک بھی آپ کو تاویل نہیں مل سکی۔ کتاب البریہ کا حوالہ دیا ہے۔ یہ دونوں مدعی کی یعنی مدعی کی ہوتی ہے؟ اجی مرزا قادیانی مدعی ہیں۔ آپ کو جب آپ نے دیکھ لیا کہ تمام دلائل آپ کے جس کو آپ مانا تھا۔ کنواری لڑکی کی سوت کی طرح ٹوٹ گئے تو اب قادیانی کے اشعار پیش کئے۔ وہ قرآنی تیس آیات کہاں قادیانی کے اشعار پیش ہوئے۔ مرزا قادیانی کی پیش گوئی آپ کو شاید معلوم نہیں کہ آپ مدعی ہیں۔ کنزالعمال کے دو ہیں۔ شرائط میں صحاح ستہ کا لفظ ہے۔ کیا کنزالعمال سے ہم اس کا جواب نہیں دیں گے۔ یہی حال آپ کے مالک کا قول نقل کیا ہے کہ وہ عیسیٰ علیہ السلام کو مردہ اس سے کہی ہے تو آپ نے مرزا قادیانی کو اپنی زبان کیونکہ مرزا قادیانی نے براہین پنجم وغیرہ کتب میں یہ ایک راز تھا، بھید تھا۔ سوائے میرے اللہ نے آج قادیانی کے کسی پر ظاہر ہی نہیں ہوا تو پھر امام مالک نے لکھا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ مرزا قادیانی نے ازالہ رسول اللہ ﷺ پر بھی ظاہر نہیں ہوئی۔ جب ہمارے نبی سے زیادہ غیب کی خبر اللہ نے دی تھی۔ وہ نہیں تو امام مالک نے کہاں سے جان لیا۔ گائے کا حد تک نہیں دکھا سکتے۔ اس لئے میں نے جو کہا تھا ہوئے سب کا دروازہ بند۔ عیسیٰ علیہ السلام زندہ نہیں ملی، کشفی کا لفظ تذکرہ سے دکھا دو۔ جتنا انعام جواب نہیں مل سکا تو اتنے علماء آپ کے اردگرد

مرزا قادیانی نے حدیث نزول مسیح کو متواتر کہا ہے۔ کیا شہادت القرآن، آپ کے پاس نہیں ہے۔ اگر نہیں تو مجھ ہی سے مانگ لیا ہوتا۔ مگر اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیا چگ گئی کھیت۔

حدیث مرفوع متصل میں آسمان کا لفظ نہیں پایا جاتا تو پھر مرزا قادیانی نے خبر واحد کو متواتر قرار دے دیا؟ مولوی سلیم صاحب جس وقت یہ مناظرہ طبع ہوگا۔ دنیا والے پڑھیں گے۔ اس وقت معلوم ہوگا کہ مولوی اسماعیل نے جواب دیا یا نہیں۔ ابھی آپ کے ہاتھ میں قلم ہے جو چاہے لکھ دیں۔

آپ نے الیواقیت الجواہر کا حوالہ دیا ہے۔ کیا شرائط مناظرہ پڑھ کر مناظرہ کرتے ہو یا یوں ہی۔ الیواقیت کس فن کی کتاب ہے۔ حدیث کی یا تفسیر کی یا لغت کی۔ کیونکہ شرائط میں انہیں مضامین کی کتاب سے حوالہ دینا آیا ہے۔

گاؤ را کردند باور در خدائی عامیاں
نوح را باور نہ کردند از پئے پیغمبری

افسوس! قرآن کو چھوڑ کر بخاری ومسلم کو چھوڑ کر، براہین احمدیہ وآئینہ کمالات اسلام کو چھوڑ کر الیواقیت کا حوالہ دیا۔ یہ خود اس بات کی دلیل ہے۔ قرآن وحدیث تمہارا ساتھ چھوڑ چکے ہیں۔ آپ نے کتنا بڑا دھوکا دیا ہے کہ حضور ﷺ نے بھی یہی کہا۔ حالانکہ بخاری شریف میں ہے کہ : ”قیامت کے دن میں بھی یہی کہوں گا ۔“

ماضی، مستقبل کو آپ بھول گئے۔ ”لا علم لنا “ میں یہ کہاں ہے کہ میں جانتا نہیں۔ کیا یحییٰ علیہ السلام کو اپنا قتل، ابراہیم کو آگ میں ڈالنا معلوم نہیں تھا۔ پھر وہ یہ کیوں کہیں گے کہ: ”لا علم لنا“

پھر آپ نے خلت کو دہرایا۔ حالانکہ اس کا ترجمہ ”جنگ مقدس“ کے حوالے سے میں نے پہلے ہی دے دیا ہے۔ ابن ماجہ شریف میں آیا ہے کہ معراج کی رات خود عیسیٰ علیہ السلام نے آنحضرت ﷺ سے کہا کہ میں خود جا کر دجال کو قتل کروں گا اور آپ کہتے ہیں عیسیٰ بھی مردہ بن کر معراج کی رات حضور کو ملے ہیں۔ کیا مردے بھی زمین پر آ کر دجال کو قتل کرتے ہیں۔ افسوس! آپ نے ابن ماجہ شریف نہیں دیکھا۔ ابھی دیکھ لیں اور اپنی صداقت کا حال خود اپنے ہی گریبان میں منہ ڈال کر دیکھ لیں۔

٥٩

صفحہ ١٠٢

آپ نے ”لوکان موسٰی وعیسیٰ حیین“ والی کمزور دلیل دی ہے۔ اگر ہمت ہے تو صرف اس حدیث کی سند بیان کر دو۔ مگر قیامت تک اس کی سند تم نہیں دے سکتے۔ اس لئے کہ دنیا میں کوئی حدیث ایسی ہے ہی نہیں۔ حدیث نہیں اور سند نہیں۔ مرزا قادیانی کی حدیث کے راوی کریم بخش کی روایت کے لئے تو سند کی ضرورت ہے۔ مگر رسول اللہ ﷺ کی حدیث کے لئے کسی سند کی ضرورت ہی نہیں۔

خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ آپ نے اپنے پرچہ کے ص ٦ پر تسلیم کر لیا کہ مرزا قادیانی کے الہام نے اسی طرح حضور ﷺ کے حکم کو بدل دیا۔ جس طرح حضور ﷺ کی وحی نے بیت المقدس کے قبلہ کو بدل دیا۔ میرے بھائی یہی بات میں پہلے سے کہہ رہا ہوں۔ مرزا قادیانی کے الہام نے عیسیٰ علیہ السلام کو مارا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے نہیں مارا۔ قرآن نے نہیں مارا۔ خدا کا شکر ہے کہ مولوی سلیم نے اس کو تسلیم کر لیا۔

اسی لئے آپ نے اپنے پہلے پرچہ کی پہلی سطر میں ہم کو مسلمان بھائی کا خطاب دیا۔ اے اللہ تیرا شکر ہے کہ ہمارے حیات عیسیٰ علیہ السلام کے عقیدے کے باوجود مولوی سلیم نے ہم کو مسلمان کہا۔ اس کی وجہ صرف یہی ہے کہ شاید ان کا بھی یہی عقیدہ ہے۔ ورنہ زندہ کہنے والا بھی مسلمان اور مردہ کہنے والا بھی مسلمان تو پھر آپ مناظرہ میں آئے کیوں اور فیصلہ کیا ہوا؟

آپ نے کہا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کو مارنے سے عیسائیت ختم ہو گئی۔ (اخبار المائدہ بابت ماہ مارچ ١٩٣٨ء ص ٤) میں کرسچن یہ کہتے ہیں۔ مرزائی حضرات کے سبب ہماری ترقی ہوئی ہے۔ کیونکہ اب تک تو مسلمان عیسیٰ علیہ السلام کو سولی پر چڑھاتے ہی نہ تھے۔ مگر مرزا قادیانی نے ان کو سولی پر بھی چڑھا دیا۔ مردہ سا بھی بنا دیا اور یہی وجہ ہے کہ جب سے قادیانی مذہب آیا تب ہی سے عیسائیوں کی کثرت ہوئی۔ ١٨٨٠ء کی مردم شماری میں صرف ہندوستان میں ایک کروڑ عیسائی ہیں۔ پاکستان اس سے الگ ہے۔ یہ ہے مرزا قادیانی کا فیض، حالانکہ مرزا قادیانی نے فرمایا تھا کہ اب کوئی انسان عیسائی نہ ہوگا۔ صرف جن عیسائی ہوں گے؟ دیکھا آپ نے مرزا قادیانی کا کرشمہ اور صلب کے معنی آپ نے بتائے ہی نہیں۔ لہٰذا قرآن وحدیث واجماع سے مسلمانوں کا عقیدہ صحیح ثابت ہوا کہ عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ ہیں اور آپ کا عقیدہ معتزلہ کا عقیدہ ثابت ہوا۔ اہل سنت والجماعت کا نہیں۔ لہٰذا میں نہایت درد دل سے درخواست کروں

٦٠

صفحہ ١٠٣

گا کہ آپ نے خواہ مخواہ عیسیٰ علیہ السلام کو مار کر موسیٰ کو زندہ کر کے کچھ پھل نہیں پایا۔ لہٰذا اس عقیدے سے جلد توبہ کریں۔

(شرح دستخط) احقر: محمد اسماعیل عفی عنہ مورخہ ٢٣؍نومبر ١٩٦٣ء

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

وفات مسیح ناصری علیہ السلام کے متعلق جماعت احمدیہ کا چوتھا پرچہ

حضرات! وفات مسیح علیہ السلام کے مسئلے پر ہمارا یہ آخری پرچہ ہے۔ آپ نے اس پر فریقین کے دلائل سن لئے ہیں اور یہ جان لیا ہے کہ کس طرح ہمارے مد مقابل قرآن کریم، احادیث اور اقوال بزرگان سلف اور قانون قدرت کو پس پشت ڈال کر ایک انسان کو خدا کا درجہ دے رہے ہیں اور بالواسطہ طور پر عیسائیت کی تائید کر رہے ہیں۔ لیکن اے معزز سامعین! وقت آ چکا ہے کہ اب مسیح علیہ السلام کی خدائی کا طلسم پاش پاش ہوگا۔ عیسائیت کی صلیب ٹوٹے گی۔ کاسر صلیب مرزا غلام احمد قادیانی کے خدام محمدی پرچم ہاتھوں میں لے کر اور خالص قرآنی ہتھیاروں سے لیس ہو کر اسلام کو سر بلند کرنے کے لئے دیوانہ وار کام کر رہے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو فضیلت دے کر حضور ﷺ کی جو توہین کی گئی ہے۔ کسر صلیب کے ذریعے اس کا بدلہ لیا جائے گا اور دنیا پر یہ ثابت کر دیا جائے گا کہ ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں میں سے افضل ترین اور اکمل ترین نبی حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ تھے نہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضور ﷺ کی امت کی اصلاح کے لئے حضور ﷺ ہی کا ایک غلام اللہ تعالیٰ سے تائید پا کر کھڑا ہونے والا تھا نہ کہ بنی اسرائیل کا ایک فوت شدہ نبی۔

میرے معزز سامعین! اپنے خدا کے لئے عقل سلیم سے کام لیجئے۔ خدا کے لئے حضرت محمد عربی ﷺ پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نادانستہ فضیلت دینا چھوڑ دیجئے۔ یاد رکھئے اسرائیلی نبوت کے سوتے مدت ہوئی خشک ہو چکے۔ اب صرف محمدی نبوت کا فیضان جاری ہے اور قیامت تک جاری رہے گا۔ خدا کے لئے دل کی آنکھیں کھولئے اور ہوش کے کانوں سے سنئے کہ بانیٔ سلسلۂ احمدیہ کیا فرماتے ہیں: ”اے تمام وہ لوگو جو زمین پر رہتے ہو اور اے تمام وہ روحو جو مشرق اور مغرب میں آباد ہو میں پورے زور کے ساتھ آپ کو اس کی طرف دعوت دیتا ہوں کہ اب زمین پر

٦١

صفحہ ١٠٤

سچا مذہب صرف اسلام ہے اور سچا خدا صرف وہی خدا ہے۔ جو قرآن نے بیان کیا ہے اور ہمیشہ کی روحانی زندگی والا نبی اور جلال اور تقدس کے تخت بیٹھنے والا حضرت محمد ﷺ ہے۔ جس کی روحانی زندگی اور پاک جلال کا ہمیں یہ ثبوت ملا ہے کہ اس کی پیروی اور محبت سے ہم روح القدس اور خدا کے مکالمہ اور آسمانی نشانوں کے انعام پاتے ہیں۔"

(تریاق القلوب ص١٢، ١٣)

ہم نے اپنے سابقہ پرچوں میں حضرت مسیح علیہ السلام کی وفات کے ثبوت میں چھبیس دلائل پیش کئے ہیں۔ جن میں قرآن مجید، احادیث نبویہ اور بزرگان سلف کے حوالے پیش کئے جا چکے ہیں۔ مگر ہمارے مد مقابل ہیں کہ ان کو کوئی حوالہ نظر ہی نہیں آتا۔ جیسا کہ آنحضرت ﷺ کے زمانے میں باوجودیکہ حضور اکرم ﷺ کی سچائی کو ظاہر کرنے کے لئے بارش کی طرح نشانات ظاہر ہو رہے تھے۔ مگر جو آپ کے مخالف تھے وہ ہمیشہ یہی کہتے رہے کہ اس پر تو کوئی ایک نشان بھی نازل نہیں ہوا۔ آپ کو شکوہ ہے کہ ہم نے خلاف شرائط (کنز العمال) کے حوالے دیئے ہیں اور (الیواقیت والجواہر) کو پیش کیا ہے۔ حالانکہ ہم نے حضرت امام عبدالوہاب شعرانی حضرت فاطمۃ الزہراؓ اور حضرت جابرؓ اور حضرت امام مالکؒ جیسے ممتاز بزرگوں کے حوالے پیش کرنے کے لئے ان کتابوں کا نام لیا ہے۔ اگر دل صاف ہوتا تو ان بزرگوں کے نام سن کر ہی احترام کے ساتھ آپ گردن جھکا لیتے۔ آپ نے بار بار حضرت مرزا صاحب پر الزام لگایا ہے کہ آپ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو زندہ قرار دیا ہے۔ حالانکہ بار بار آپ کو بتایا جا چکا ہے کہ حضرت مرزا صاحب نے تمام نبیوں کی وفات کا اعلان کیا ہے اور الزاماً فرمایا ہے کہ اگر اٹکلوں کے سہاروں سے کام لے کر حیات مسیح علیہ السلام ثابت ہو سکتی تو موسیٰ علیہ السلام کی زندگی ثابت کرنے کے لئے ان سے بڑے دلائل موجود ہیں۔ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت مرزا صاحب حضرت موسیٰ علیہ السلام کو زندہ سمجھتے ہیں؟ نہیں ہرگز نہیں۔

آپ نے بار بار اس بات پر زور دیا ہے کہ حضرت مرزا صاحب، حضرت خضر کو زندہ مانتے ہیں۔ اگرچہ ہم پہلے اس کا جواب دے چکے ہیں۔ لیکن ایک اور مزید حوالہ حضرت مرزا صاحب کی کتاب کا پیش کرتے ہیں۔ آپ فرماتے ہیں: ’’بعض نادان کہتے ہیں کہ یہ بھی تو عقیدہ اہل اسلام کا ہے کہ الیاس اور خضر زمین پر زندہ موجود ہیں اور ادریس آسمان پر، مگر ان کو معلوم نہیں کہ علمائے محققین ان کو زندہ نہیں سمجھتے۔ کیونکہ بخاری اور مسلم کی ایک حدیث میں آنحضرت ﷺ قسم کھا کر کہتے ہیں کہ مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ

٦٢

صفحہ ١٠٥

آج سے ایک سو برس کے گزرنے پر زمین پر کوئی زندہ نہیں رہے گا۔ پس جو شخص خضر اور الیاس کو زندہ جانتا ہے وہ آنحضرت ﷺ کی قسم کا مکذب ہے اور ادریس کو اگر آسمان پر زندہ مانیں تو پھر ماننا پڑے گا کہ وہ آسمان پر ہی مریں گے۔ کیونکہ ان کا دوبارہ زمین پر آنا نصوص سے ثابت نہیں اور

آسمان پر مرنا آیت ”فیھا تموتون“ کے منافی ہے۔“ (تحفہ گولڑویہ ص ١٢ حاشیہ)

آپ بار بار ذکر کرتے ہیں کہ فرشتے زندہ ہیں، شیطان زندہ ہے، اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی زندہ ہوں تو کیا حرج ہے۔ سیدھی طرح یہی کیوں نہیں کہہ دیتے کہ خدا جو زندہ ہے تو پھر مسیح علیہ السلام کے زندہ ہونے میں کیوں شک کیا جائے۔ جب کہ وہ خدا ہی کی طرح خالق بھی تھے۔ مردے بھی زندہ کرتے تھے۔ بیماروں کو بھی اچھا کرتے تھے۔ عالم الغیب بھی تھے اور اس طرح تمام خدائی صفات سے متصف تھے۔ جب اسلام کے نام لیوا مولویوں کی یہ حالت ہو تو اسلام کے مخالف عیسائیوں سے کیا گلہ ہو سکتا ہے۔ سچ ہے۔

من از بیگانگاں ہر گز نہ نالم
کہ با من ہر چہ کرد آں آشنا کرد

ہمارے مد مقابل نے ہماری اس دلیل کا تو جواب نہیں دیا کہ رسول کریم ﷺ نے جانے والے مسیح اور آنے والے مسیح کا الگ الگ حلیہ بیان کیا ہے اور اپنی طرف سے ایک روایت بیان کر دی ہے۔ جس میں عروہ بن مسعود کا ذکر ہے۔ حالانکہ وہ خوب جانتے ہیں کہ ان کی پیش کردہ روایات پایہ اعتبار سے ساقط اور ضعیف ہیں۔

ہمارے مد مقابل نے اپنی اس بات کو پھر دہرایا ہے کہ حضرت مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ آپ نے ایک بار مسیح ناصری کے ساتھ ایک ہی پیالے میں گوشت کھایا تھا۔ یہ حوالہ (تذکرہ ص ٤٤١) پر درج ہے۔ (نیا ایڈیشن) مگر اسی (تذکرہ ص ١٥) میں جو حوالہ درج ہے اور ہم اسے پیش کر چکے ہیں۔ اس کو آپ بالکل ہضم کر گئے ہیں۔ اس میں صاف لکھا ہے کہ: ”میں نے خواب میں دیکھا کہ میں نے اور مسیح علیہ السلام نے ایک ہی برتن میں کھانا کھایا۔“

اور (تذکرہ ص ٤٤١) کے حوالہ میں ہے کہ یہ گوشت میں نے صرف ایک بار کھایا ہے۔

آپ کہتے ہیں کہ قرآن میں ادل بدل نہیں ہو سکتا۔ حالانکہ آپ نے اپنے سابقہ پرچوں میں ”انی اخلق لکم من الطین طیراً“ اور ”ما نعمرہ ننکسہ فی الخلق“ دو آیتیں غلط طور پر درج کی ہیں۔ حالانکہ اگر ہمارے ہی پرچہ کو غور سے پڑھا ہوتا تو ”ما نعمرہ“

٦٣

صفحہ ١٠٦

کی جگہ ”من نعمرہ“ لکھ سکتے تھے۔ آپ نے اپنے پرچے میں لکھا ہے کہ: ”لا یخلقون شیئا وہم یخلقون“ میں پتھر کے بتوں کا تذکرہ ہے۔ حالانکہ ادنیٰ عربی جاننے والا بھی ”لا یخلقون“ اور ”ہم“ اور ”اموات“ کو پڑھنے کے بعد یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ پتھروں کے بتوں کے متعلق ہے۔ نیز ”وما یشعرون ایان یبعثون“ جو اس آیت کا آخری حصہ ہے اور جس کو ہم پہلے درج کر چکے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان معبودان باطلہ کو تو یہ بھی علم نہیں کہ قیامت کا دن کب آئے گا اور وہ کب اٹھائے جائیں گے۔

سامعین! خدا لگتی کہیں کہ کیا یہ بات پتھروں کے لئے کہی جاسکتی ہے؟ نہیں! ہرگز نہیں!!

آپ نے ”وان من اہل الکتاب“ سے خواہ مخواہ یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں۔ حالانکہ اس میں نہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر ہے نہ ان کی زندگی کا ذکر ہے۔ نہ جسد خاکی کا ذکر ہے نہ آسمان کا ذکر ہے۔ دعویٰ اتنا بڑا کہ مسیح بجسدہ العنصری آسمان پر زندہ موجود ہیں اور دلیل ایسی بودی اور کمزور کہ دعوے کی کوئی ایک شق بھی اس میں مذکور نہیں۔

آپ نے ہماری پیش کردہ آیت قرآنی ”میثاق النبیین“ کے بارے میں کہا ہے کہ اس سے تو ختم نبوت ثابت ہوتی ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کہاں سے نکلتی ہے۔ سو یاد رکھنا چاہئے کہ جب ختم نبوت کی بحث ہوگی تو انشاء اللہ اس وقت قدر عافیت معلوم ہو جائے گی۔ فی الحال ہمارے اس استدلال پر غور فرمائیے کہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس آیت کی رو سے اللہ تعالیٰ کے ساتھ یہ پختہ وعدہ کر چکے ہیں کہ وہ محمد رسول اللہ ﷺ کے آنے پر ان پر ایمان بھی لائیں گے اور ان کی مدد بھی کریں گے۔ ورنہ بقول قرآن مجید عہد شکنی کے مرتکب اور فاسق ٹھہریں گے۔ تو اب سوال یہ ہے کہ حضرت رسول کریم ﷺ تشریف لائے۔ جنگیں ہوئیں۔ آپ کو ہجرت کرنا پڑی۔ مگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام نہ آپ ﷺ پر ایمان لائے اور نہ آپ ﷺ کی مدد کی۔ کیا اس لئے کہ وہ مر چکے ہیں یا اس لئے کہ انہوں نے اپنا عہد توڑ دیا۔ جماعت احمدیہ کا دعویٰ یہ ہے کہ بوجوہ وفات پا جانے کے وہ اپنے اس عہد کو اصالۃً پورا نہیں کر سکے۔ لیکن ہمارے مد مقابل کہتے ہیں کہ ہیں تو وہ زندہ مگر عہد شکنی کا ارتکاب کر کے (نعوذ باللہ! نعوذ باللہ!!) فاسق قرار پاتے ہیں۔

ہمارے مد مقابل نے اپنے پرچے میں ایک یہ بات پیش کی ہے کہ حضرت مرزا قادیانی کی آمد کے بعد عیسائیوں کی تعداد بڑھ گئی ہے تو پھر مرزا قادیانی کا فیض کیا ہوا؟ ہمیں افسوس ہے

٦٣

صفحہ ١٠٧

کہ ہمارے مد مقابل نے اب تک یہ بھی نہیں سمجھا کہ مرزا قادیانی بحیثیت مسیح موعود حفاظت اسلام کے لئے آئے تھے۔ نہ کہ پست اقوام کی حفاظت کے لئے حضرت مرزا قادیانی کے آنے سے پہلے مسلمان عیسائی ہوا کرتے تھے۔ لیکن آپ کی آمد کے بعد اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو بالکل محفوظ کر دیا اور عیسائیت کے حملوں کا رخ اسلام سے پھیر کر غیر مسلم اقوام کی طرف ہو گیا۔ پس عیسائیت کی تعداد میں جو اضافہ نظر آتا ہے تو یہ ان منتشر اقوام کے حلقہ بگوش عیسائیت ہونے کی وجہ سے ہے۔ جن کا کوئی گڈریا اور نگہبان نہیں۔ حضرت مرزا قادیانی فرماتے ہیں: ”وہ (علماء) مجھ سے اور میری جماعت سے سات سال تک اس طور سے صلح کر لیں کہ تکفیر اور تکذیب اور بدزبانی سے منہ بند رکھیں اور ہر ایک کو محبت و اخلاق سے ملیں اور قہر الہی سے ڈر کر ملاقاتوں میں مسلمانوں کی عادت کے طور پر پیش آئیں۔ ہر ایک قسم کی شرارت اور خباثت کو چھوڑ دیں۔ پس اگر ان سات سال میں میری طرف سے خدا تعالیٰ کی تائید سے اسلام کی خدمت میں نمایاں اثر ظاہر نہ ہو اور جیسا کہ مسیح علیہ السلام کے ہاتھ سے ادیان باطلہ کا مرجانا ضروری ہے۔ یہ موت جھوٹے دینوں پر میرے ذریعے سے ظہور میں نہ آئے۔ یعنی خدا تعالیٰ میرے ہاتھ سے وہ نشان ظاہر نہ کرے جن سے اسلام کا بول بالا ہو اور جس سے ہر ایک طرف سے لوگ اسلام میں داخل ہونا شروع ہو جائیں اور عیسائیت کا باطل معبود فنا ہو جائے اور دنیا اور رنگ نہ پکڑ جائے تو میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں اپنے تئیں کاذب خیال کرلوں گا اور خدا جانتا ہے کہ میں کاذب نہیں ہوں۔ یہ سات برس کچھ زیادہ سال نہیں ہیں اور اس قدر انقلاب اس تھوڑی مدت میں ہو جانا انسان کے اختیار میں ہرگز نہیں۔“

(انجام آتھم)

یاد رہے کہ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے یہ اعلان ١٨٩٧ء میں کیا تھا۔ لیکن چونکہ مولوی اپنی روش سے باز نہ آئے۔ اس لئے جماعت احمدیہ کی طاقت بٹ گئی۔

آپ نے لکھا ہے کہ مرزا قادیانی نے ازالہ اوہام میں تحریر کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ پر ابن مریم کی وفات کی حقیقت ظاہر نہیں ہوئی۔ حالانکہ یہ بالکل غلط ہے۔ آپ (مرزا قادیانی) نے تو صرف یہ لکھا ہے کہ: ”اگر آنحضرت ﷺ پر ابن مریم اور دجال کی حقیقت کاملہ بوجہ نہ موجود ہونے کسی نمونے کے مو بہ مو منکشف نہ ہوئی ہو اور نہ دجال کے ستر باع کے گدھے کی اصل کیفیت کھلی ہو اور نہ یاجوج ، ماجوج کی عمیق تہ تک وحی الہی نے اطلاع دی ہو اور نہ دابۃ الارض کی ماہیت بھی ظاہر فرمائی گئی ہو تو کچھ تعجب کی بات نہیں۔“

(ازالہ اوہام حصہ دوم)

٦٥

صفحہ ١٠٨

کیونکہ یہ پیش گوئیاں تھیں اور پیش گوئیوں کی اصل حقیقت اسی وقت کھلا کرتی ہے۔ جب کہ وہ پوری ہوں۔ حضرات! ہم اپنے اس آخری پرچے کے آخر پر ایک دفعہ پھر اس امر کی طرف توجہ دلانا ضروری سمجھتے ہیں کہ ہمارے پیش کردہ دلائل قرآنیہ اور حدیثیہ اور اقوال بزرگان سلف پر ضرور غور فرمایا جائے۔ نیز یہ بھی کہ ہمارا مؤقف خدمت اسلام کا مؤقف ہے۔ جو وفات مسیح علیہ السلام کے قائل ہیں یا ہمارے مخالفین کا جو حیات مسیح کا ڈھنڈورہ پیٹتے نہیں تھکتے۔

بانیٔ سلسلہ احمدیہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی نے کیا خوب فرمایا ہے کہ: ”اے میرے دوستو! اب میری ایک آخری وصیت کو سنو اور ایک راز کی بات کہتا ہوں۔ اس کو خوب یاد رکھو کہ تم اپنے ان تمام مناظرات کا جو عیسائیوں سے پیش آتے ہیں۔ پہلو بدل لو اور عیسائیوں پر یہ ثابت کر دو کہ درحقیقت مسیح ابن مریم ہمیشہ کے لئے فوت ہو چکا ہے۔ یہی ایک بحث ہے جس میں فتح یاب ہونے سے تم عیسائی مذہب کی روئے زمین سے صف لپیٹ دوگے۔ تمہیں کچھ بھی ضرورت نہیں کہ دوسرے لمبے لمبے جھگڑوں میں اپنے اوقات عزیز کو ضائع کرو۔ صرف مسیح علیہ السلام ابن مریم کی وفات پر زور دو اور پرزور دلائل سے عیسائیوں کو لاجواب اور ساکت کر دو۔ جب تم مسیح علیہ السلام کا مردوں میں داخل ہونا ثابت کر دو گے اور عیسائیوں کے دلوں میں نقش کر دو گے تو اس دن تم سمجھ لو کہ آج عیسائی مذہب دنیا سے رخصت ہوا۔ یقیناً کہ جب تک ان کا خدا فوت نہ ہو۔ ان کا مذہب بھی فوت نہیں ہو سکتا اور دوسری تمام بحثیں ان کے ساتھ عبث ہیں۔ ان کے مذہب کا ایک ہی ستون ہے اور وہ یہ ہے کہ اب تک مسیح ابن مریم علیہ السلام آسمان پر زندہ بیٹھا ہے۔ اس ستون کو پاش پاش کرو۔ پھر نظر اٹھا کر دیکھو کہ عیسائی مذہب دنیا میں کہاں ہے۔ چونکہ خدائے تعالیٰ بھی چاہتا ہے کہ اس ستون کو ریزہ ریزہ کرے اور یورپ اور ایشیاء میں توحید کی ہوا چلائے۔ اس لئے اس نے مجھے بھیجا۔“

(ازالہ اوہام ص ٢٣٢)

آخر میں ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ احقاق حق فرمائے اور سچائی کو قبول کر کے اسلام کی سربلندی اور عیسائیت کے خاتمے کا باعث ہوں۔ آمین!

(شرح دستخط) محمد سلیم عفی عنہ (مولانا محمد سلیم، مناظر جماعت احمدیہ) مورخہ ٢٣ نومبر ١٩٦٣ء ٦٦

١٠٩ اجرائے نبوت کے متعلق جو سامعین کرام! آج اجرائے نبوت کے جماعت احمدیہ یہ عقیدہ رکھتی ہے کہ حضرت محمد عربی ﷺ بگاڑ پیدا ہو جائے گا اور عام کمزوریاں اور خرابیاں زمانے میں آنحضرت ﷺ کا ہی ایک غلام مبعوث امت کا بیڑہ اٹھائے اور اسلام کو تمام دنیا کے مذا چنانچہ ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ حضرت محمد عربی ﷺ کا نے اپنا فرض بطور احسن ادا کیا۔

اس کے مقابل پر ہمارے دوسرے رکھتے ہیں کہ امت تو حضرت محمد رسول اللہ ﷺ مسلمان چونکہ ایسے نا اہل ہوں گے کہ ان میں لئے ایک سابقہ اسرائیلی نبی حضرت عیسیٰ علیہ ا اصلاح کریں گے۔

مقام غیرت ہے کہ امت تو بگڑے لئے آئیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام۔ غور کا مقام عقیدے اپنا لئے ہیں۔ ان کے دلوں اور دماغوں کبھی انہیں چوتھے آسمان پر بٹھایا جاتا ہے۔ کبھی یہ کہا جاتا ہے کہ وہ دوبارہ دنیا میں نازل ہوں گے لیکن حقیقت کیا ہے؟ حقیقت یہ ہے سے ہی آپؐ کے ایک غلام کا اصلاح امت کے غیر احمدی بھائی اگر مطلق موت کے انکاری ہوتے کے نزدیک آنحضرت ﷺ کے بعد اسرائیلی نبی خوب کہا ہے ؎

مریم کے جگر گوشہ
ہم آپ کی مانیں گے
صفحہ ١٠٩

ں کی اصل حقیقت اسی وقت کھلا کرتی ہے۔ گا پرچے کے آخر پر ایک دفعہ پھر اس امر کی وہ دلائل قرآنیہ اور حدیثیہ اور اقوال بزرگان ی خدمت اسلام کا موقف ہے۔ جو وفات مسیح سیح کا ڈھنڈورہ پیٹتے نہیں تھکتے۔

بانی نے کیا خوب فرمایا ہے کہ: ”اے میرے لڑکی بات کہتا ہوں۔ اس کو خوب یاد رکھو کہ تم ہیں۔ پہلو بدل لو اور عیسائیوں پر یہ ثابت کر ہے۔ یہی ایک بحث ہے جس میں فتح یاب حیثیت دو گے۔ تمہیں کچھ بھی ضرورت نہیں کہ ائع کرو۔ صرف مسیح علیہ السلام ابن مریم کی ر اور ساکت کر دو۔ جب تم مسیح علیہ السلام کے دلوں میں نقش کر دو گے تو اس دن تم سمجھ ب تک ان کا خدا فوت نہ ہو۔ ان کا مذہب کم عبث ہیں۔ ان کے مذہب کا ایک ہی لام آسمان پر زندہ بیٹھا ہے۔ اس ستون کو نہیں کہاں ہے۔ چونکہ خدائے تعالیٰ بھی اشیاء میں توحید کی ہوا چلائے۔ اس لئے

(ازالہ اوہام ص ٢٣٢)

یق فرمائے اور سچائی کو قبول کر کے اسلام

(نقل دستخط) محمد سلیم عفی عنہ ولانا محمد سلیم، مناظر جماعت احمدیہ) مورخہ ٢٣؍ نومبر ١٩٦٣ء

اجراءِ نبوت کے متعلق جماعت احمدیہ کا پہلا پرچہ

سامعین کرام! آج اجراءِ نبوت کے مسئلے پر فریقین میں بحث شروع ہو رہی ہے۔

جماعت احمدیہ یہ عقیدہ رکھتی ہے کہ حضرت محمد عربی ﷺ کی امت میں جہاں یہ مقدر تھا کہ اس میں بگاڑ پیدا ہو جائے گا اور عام کمزوریاں اور خرابیاں راہ پا جائیں گی۔ وہاں یہ بھی مقدر تھا کہ اس زمانے میں آنحضرت ﷺ کا ہی ایک غلام حضور ﷺ کے انوار اور فیضان سے مشرف ہو کر اصلاح امت کا بیڑہ اٹھائے اور اسلام کو تمام دنیا کے مذاہب پر علمی اور روحانی اعتبار سے فوقیت بخشے۔ چنانچہ ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ حضرت محمد عربی ﷺ کا وہ موعود غلام قادیان کی بستی میں پیدا ہوا اور اس نے اپنا فرض بطور احسن ادا کیا۔

اس کے مقابل پر ہمارے دوسرے مسلمان بھائی اپنی کم فہمی کی وجہ سے یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ امت تو حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی ضرور بگڑے گی۔ لیکن امت محمدیہ کے تمام مسلمان چونکہ ایسے نا اہل ہوں گے کہ ان میں سے کوئی بھی اصلاح کا کام نہیں کر سکے گا۔ اس لئے ایک سابقہ اسرائیلی نبی حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ نازل ہوں گے اور مسلمانوں کی اصلاح کریں گے۔

مقام غیرت ہے کہ امت تو بگڑے حضرت محمد عربی ﷺ کی اور اصلاح کرنے کے لئے آئیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام۔ غور کا مقام ہے کہ ہمارے مسلمان بھائیوں نے کس قدر غلط عقیدے اپنا لئے ہیں۔ ان کے دلوں اور دماغوں میں صرف عیسیٰ ہی عیسیٰ بسے رچے ہوئے ہیں۔ کبھی انہیں چوتھے آسمان پر بٹھایا جاتا ہے۔ کبھی خدائی صفات سے متصف قرار دیا جاتا ہے۔ کبھی یہ کہا جاتا ہے کہ وہ دوبارہ دنیا میں نازل ہوں گے۔

لیکن حقیقت کیا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ اس زمانے میں آنحضرت ﷺ کی امت میں سے ہی آپؐ کے ایک غلام کا اصلاح امت کے لئے مبعوث ہونا مقدر تھا۔ جو ظاہر ہو چکا۔ ہمارے غیر احمدی بھائی اگر مطلق موت کے انکاری ہوتے تو ایک بات بھی تھی۔ لیکن غضب تو یہ ہے کہ ان کے نزدیک آنحضرت ﷺ کے بعد اسرائیلی نبی تو آ سکتا ہے مگر محمدیؐ نبی نہیں آ سکتا۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے ؎

مریم کے جگر گوشہ کے آنے پہ نبوت
ہم آپ کی مانیں گے گر اس وقت رہی بند

٧٧

صفحہ ١١٠

سیدنا حضرت بانی سلسلہ احمدیہ فرماتے ہیں: ”لوگوں کی غلطی ثابت ہوتی ہے جو خواہ مخواہ حضرت عیسیٰ کو دوبارہ دنیا میں لاتے ہیں۔۔۔۔۔ جس حالت میں حدیثوں سے ثابت ہے کہ اسی امت میں سے یہود پیدا ہوں گے تو افسوس کی بات ہے کہ یہود تو پیدا ہوں اس امت میں سے اور مسیح علیہ السلام باہر سے آئے۔ کیا ایک خدا ترس کے لئے یہ مشکل بات ہے کہ جیسا کہ اس کی عقل اس بات پر تسلی پکڑتی ہے کہ اس امت میں بعض لوگ ایسے پیدا ہوں گے جن کا نام یہود رکھا جائے گا۔ ایسا ہی اسی امت میں سے ایک شخص پیدا ہو گا جس کا نام عیسیٰ علیہ السلام اور مسیح موعود رکھا جائے گا۔ کیا ضرورت ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان سے اتارا جائے۔“

(حقیقۃ الوحی ص ٣٠، خزائن ج ٢٢ ص ٣٢)

اب ہم ذیل میں قرآن مجید اور احادیث کے وہ دلائل بیان کرتے ہیں۔ جن سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ رسول کریم ﷺ کے بعد آپ کی پیروی اور غلامی میں نبوت کا دروازہ کھلا ہے۔

(الحج: ٧٥)“

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یصطفیٰ ایک ایسا لفظ استعمال فرمایا ہے جو حال اور مستقبل دونوں زمانوں پر حاوی ہے اور مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرشتوں میں سے بھی اور انسانوں میں سے بھی رسول چنتا ہے اور چنتا رہے گا۔ اس میں ایسا کوئی اشارہ نہیں پایا جاتا کہ آئندہ کسی زمانے میں یہ سلسلہ ختم ہو جائے گا۔ چنانچہ فرشتوں کا آنا تو سب کو مسلم ہے۔ کم از کم عزرائیل علیہ السلام کا آنا تو ماننا ہی پڑتا ہے۔ لہٰذا ثابت ہوا کہ فرشتوں اور انسانوں میں ارسال رسل کا سلسلہ ہمیشہ جاری رہے گا۔

الطيب (آل عمران: ١٧٩)“

اس آیت کا سادہ ترجمہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤمنوں کو فرماتا ہے کہ حضرت رسول اکرم ﷺ پر ایمان لانے کے بعد بھی خبیث اور طیب آپس میں مل جل جائیں گے۔ مگر اللہ تعالیٰ انہیں ہمیشہ الگ الگ کرتا رہے گا۔ مگر یہ نہ ہوگا کہ اس غرض کے لئے اللہ تعالیٰ تم کو غیب کی خبریں دیا کرے۔ ہاں ایسا ہوگا کہ اپنے رسول بھیجے گا۔ اس لئے ”فامنوا بالله ورسوله“ ایمان

٦٨

لے آؤ اللہ پر اور اس کے رسولوں پر۔ گویا یہ طیب کے الگ الگ ہونے کا دستور ایک قا دروازہ بند ہو چکا تھا تو بعثت نبوی ﷺ کے با آئندہ بھی جب جب اچھے برے آپس میں مل اپنے رسول بھیجے گا۔

اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اپنے بعد آنے والے نبی پر ایمان لائیں اور اس کا پتہ دیا گیا ہے۔

ایک دوسری جگہ قرآن مجید کی ( فرمایا کہ جو عہد ہم نے تمام نبیوں سے لیا تھا ا سے لیا تھا وہی عہد اے محمد ﷺ تجھ سے بھی کریم ﷺ کے بعد نبوت کا دروازہ بالکل بن نبیوں سے لیا گیا تھا۔

النبيين والصديقين والشهداء والص

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے رس آپ ﷺ کے فرمانبردار انعام یافتہ گروہ میں میں، شہیدوں میں اور صالحین میں۔ یہ حقیق کی اس آیت کو مد نظر رکھا جائے۔ جس میں فر الصديقون والشهداء (الحديد: ١٩ والے صالح، شہید اور صدیق بنتے تھے۔ مگر آ درجوں کے علاوہ مقام نبوت کو بھی حاصل کر نبیوں پر فضیلت ملنے کی ایک واضح دلیل ہے ج البتہ یہ مدنظر رہے کہ آئندہ نبوت

صفحہ ١١١

لے آئیو اللہ پر اور اس کے رسولوں پر۔ گویا رسولوں پر ایمان لانے اور انکار کرنے سے خبیث اور طیب کے الگ الگ ہونے کا دستور ایک دائمی دستور ہے۔ اگر آنحضرتﷺ کے بعد نبوت کا دروازہ بند ہو چکا تھا تو بعثت نبویﷺ کے بعد آپ پر ایمان لانے والوں کو یہ کیوں کہا گیا کہ آئندہ بھی جب جب اچھے برے آپس میں مل جائیں گے تو ان میں تمیز کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ اپنے رسول بھیجے گا۔

اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام نبیوں سے یہ پختہ وعدہ لیا تھا کہ وہ اپنے بعد آنے والے نبی پر ایمان لائیں اور اس کی مدد کریں۔ گویا نبوت کا سلسلہ ہمیشہ جاری رہنے کا پتہ دیا گیا ہے۔

ایک دوسری جگہ قرآن مجید کی (سورۃ احزاب:٧) میں پھر میثاق النبیین کا ذکر ہے اور فرمایا کہ جو عہد ہم نے تمام نبیوں سے لیا تھا اور نوح سے اور ابراہیم سے اور موسیٰ وعیسیٰ علیہم السلام سے لیا تھا وہی عہد اے محمدﷺ تجھ سے بھی لیا گیا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر حضرت رسول کریمﷺ کے بعد نبوت کا دروازہ بالکل بند تھا تو آپ سے وہی وعدہ کیوں لیا گیا جو دوسرے نبیوں سے لیا گیا تھا۔

النبیین والصدیقین والشهداء والصالحین وحسن اولئك رفیقا (نساء:٦٩)‘‘ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے رسول پاکﷺ کی اطاعت کو ایسی اکسیر بتایا ہے کہ آپﷺ کے فرمانبردار انعام یافتہ گروہ میں شامل ہو جایا کریں گے۔ یعنی نبیوں میں، صدیقوں میں، شہیدوں میں اور صالحین میں۔ یہ حقیقت اور بھی شاندار ہو جاتی ہے جب کہ (سورۃ حدید:٢) کی اس آیت کو مدنظر رکھا جائے۔ جس میں فرمایا: ’’والذین امنوا بالله ورسله اولئك هم الصدیقون والشهداء (الحدید:١٩)‘‘ کہ گزشتہ زمانوں میں گزشتہ نبیوں پر ایمان لانے والے صالح، شہید اور صدیق بنتے تھے۔ مگر آئندہ حضرت محمد رسول اللہﷺ کے فرمانبردار ان تین درجوں کے علاوہ مقام نبوت کو بھی حاصل کر سکیں گے اور حضورﷺ کی یہ فیض رسانی آپ کو تمام نبیوں پر فضیلت ملنے کی ایک واضح دلیل ہے۔

البتہ یہ مدنظر رہے کہ آئندہ نبوت تو درکنار صدیق، شہید اور صالح بننے کے لئے بھی

٦٩

صفحہ ١١٢

آپ کی غلامی ضروری ہے۔ لہٰذا یہ چاروں درجے آج بھی مل سکتے ہیں۔ بشرطیکہ کوئی شخص آنحضرت ﷺ کا ایسا غلام ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ انتخاب اس کو کسی درجے کے لئے چن لے۔

واصلح فلا خوف علیہم ولاہم یحزنون (اعراف:٣٥)“ یعنی اے آدم کی اولاد البتہ ضرور آئیں گے تمہارے پاس رسول تم میں سے جو بیان کریں گے تمہارے سامنے میری آیتیں۔ پس جنہوں نے تقویٰ اختیار کیا اور اپنی اصلاح کر لی تو ان لوگوں پر کوئی ڈر اور غم نہیں ہوگا۔ اس آیت سے صاف ثابت ہے کہ جب تک اولاد آدم دنیا میں موجود رہے گی۔ ان کی بہتری کے لئے اللہ تعالیٰ کے رسول آتے رہیں گے۔

(فاتحہ:٧،٨)“

یہ آیت سورہ فاتحہ میں وارد ہوئی ہے اور یہ دعا اللہ تعالیٰ نے خود ہمیں سکھائی ہے کہ ہمیشہ انعام یافتہ لوگوں کی راہ پانے اس پر چلنے اور منزل مقصود تک پہنچنے کے لئے دعا کرتے رہو تا کہ تم بھی ان تمام انعاموں کے وارث ٹھہرو۔ ظاہر ہے کہ دنیوی اعتبار سے سب سے بڑا انعام بادشاہت اور دینی اعتبار سے سب سے بڑا انعام نبوت ہے۔ لہٰذا ثابت ہوا کہ آنحضرت ﷺ کی غلامی میں آپ ﷺ کی امت کے لئے بادشاہت اور نبوت کے دروازے کھلے ہیں۔

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ایک تاریخی واقعہ بیان فرمایا ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کی وفات پر لوگوں نے یہی کہا تھا کہ اب کوئی نبی نہ ہوگا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کو گمراہ، مسرف اور مرتاب کہا ہے۔ مزید برآں مسلم الثبوت جو مسلمانوں کے عقائد کی کتاب ہے۔ اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ: ”اجماع الیہود علی ان لا نبی بعد موسیٰ“

(شرح مسلم الثبوت ص٤٩٥)

یعنی یہودی اس بات پر متفق تھے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا اور عیسائیوں کا حال تو ہم جانتے ہیں۔ وہ بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعد کسی نبی کی آمد کے قائل نہیں اور اب نوبت باینجا رسید کہ بدقسمتی سے بعض مسلمان بھی اس غلطی کا شکار ہو گئے ہیں اور کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں۔ حالانکہ جو مقدمہ پہلے تین مرتبہ اللہ تعالیٰ کی عدالت

٧٠

صفحہ ١١٣

سے خارج ہو چکا ہے۔ اب چوتھی مرتبہ اس کی کامیابی کی کیا امید ہو سکتی ہے؟ یہی وجہ ہے کہ ہم ڈنکے کی چوٹ یہ اعلان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی یہ رحمت اور برکت جس کا نام نبوت ہے بند نہیں ہوگی۔ بلکہ رسول کریم ﷺ کی غلامی میں ہمیشہ جاری رہے گی۔

اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام ہر آزمائش میں پورے اترے تو اللہ تعالیٰ نے خوش ہو کر فرمایا: ’’انی جاعلك للناس اماما‘‘ کہ میں آپ کو دنیا کا پیشوا بناؤں گا۔ آپ نے فوراً پوچھا: ’’ومن ذريتی‘‘ کیا یہ انعام میری اولاد کو بھی ملے گا؟ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میرا یہ عہد ظالموں کو حاصل نہ ہوگا۔ گویا اب اس نعمت کا انقطاع اسی صورت میں ممکن ہوگا جب کہ تیری اولاد نالائق اور نااہل ہو جائے اور یہ بات ہے بھی درست۔ کیونکہ قرآن مجید میں لکھا ہے: ’’ان الله لا يغير ما بقوم حتى يغيروا ما بانفسهم (الرعد: ١١)‘‘ کہ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی قوم پر کوئی حالت وارد ہوتی ہے تو پھر وہ اس وقت تک قائم رہتی ہے جب تک کہ قوم خود اپنی حالت کو نہ بدل ڈالے۔ پس اگر یہ تسلیم کیا جائے کہ اب امت محمدیہ میں کوئی نبی نہیں ہو سکتا تو یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ یہ امت خیر کی بجائے اب شر امت ہو چکی ہے اور ایسی نالائق اور نااہل ہو گئی ہے کہ اب اللہ تعالیٰ نے بھی نعمت نبوت اور رسالت کے دروازے اس پر بند کر دیئے ہیں۔

یعنی اے رسولو! پاک کھانے کھاؤ اور نیک کام کرو۔ ظاہر ہے کہ اس آیت کے نزول کے وقت صرف رسول کریم ﷺ ایک رسول تھے۔ لہٰذا آپ کو ’’يأيها الرسول‘‘ تو کہا جا سکتا تھا۔ ’’يأيها الرسل‘‘ نہیں کہا جاسکتا تھا۔ کے لفظ سے معلوم ہوتا ہے کہ قیامت تک آنے والے تمام رسول اس خطاب کے مخاطب ہیں۔

باذنه وسراجاً منيرا (احزاب: ٤٥، ٤٦)‘‘ یعنی اے نبی ہم نے تجھے شاہد اور مبشر اور نذیر اور داعی الی اللہ اور سراج منیر بنا کر بھیجا ہے۔ سراج منیر کے معنی یہ ہیں کہ دوسروں کو روشنی بخشنے والا چراغ۔ چنانچہ (زرقانی ج٣ ص ١٧١) پر لکھا ہے: ’’قال القاضی ابوبکر بن العربی قال علماءنا سمی سراجاً لان السراج الواحد يؤخذمنه السرج الكثيرة ولا

١٧

صفحہ ١١٤

ينقص من ضؤه شئ “ کہ آنحضرت ﷺ کا نام اس لئے سراج رکھا گیا کہ اس سے بہت سے چراغ روشن کئے جاسکتے ہیں۔ بایں ہمہ اس کی روشنی میں کوئی کمی نہیں آتی۔ اس آیت سے بھی معلوم ہوا کہ آنحضرت ﷺ ایسے روشنی بخش چراغ ہیں کہ آپ کے نور سے منور ہوکر آپ کی غلامی میں نبی اور رسول ہو سکتے ہیں۔

نیز فرمایا: ”وان من قرية الا نحن مهلكوها قبل يوم القيمة او معذبوها عذاباً شديد (بنی اسرائیل:٨٠)“

اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم قیامت سے پہلے پہلے ہر بستی کو عذاب شدید میں مبتلا کریں گے۔ مگر ایسا عذاب بھیجنے سے پہلے لوگوں پر اتمام حجت کرنے کے لئے ہم کوئی نہ کوئی رسول ضرور بھیجیں گے۔ پس آج جو عالمگیر عذاب آ رہے ہیں۔ قرآن مجید کی رو سے اس زمانے میں کسی نہ کسی نبی کا ظہور لا بدی ہے۔

یعنی اگر میرا بیٹا ابراہیم زندہ رہتا تو ضرور سچا نبی ہوتا۔ حالانکہ اس بچے کی وفات سے چار سال پہلے آیت نازل ہو چکی تھی۔ پس اگر آنحضرت ﷺ کے نزدیک خاتم النبیین کے معنی آخری نبی ہوتے تو آپ اپنے صاحبزادے کی وفات پر ایسا ہرگز نہ فرماتے۔

سب برکتیں مانگنے کی تلقین کی گئی ہیں۔ جو آل ابراہیم کو ملی تھیں۔ ظاہر ہے کہ آل ابراہیم کو بادشاہت کے علاوہ نبوت بھی ملی تھی۔ لہذا ماننا پڑے گا کہ آنحضرت ﷺ کے بعد آپ کی غلامی میں آپ کی امت کے لئے نبوت کا دروازہ کھلا ہے۔ ورنہ ہمیں یہ درود نہ سکھایا جاتا۔

على منهاج النبوة ماشاء الله ثم تكون ملكا عاضا فتكون ماشاء الله ثم تكون خلافة على منهاج النبوة“

(مشکوۃ، کتاب الفتن ص ٤٦١)

یعنی امت محمدیہ میں پہلے نبوت ہوگی۔ پھر نبوت کے طریق پر خلافت ہوگی۔ پھر ملوکیت اور بادشاہی ہوگی۔ اس کے بعد پھر نبوت کے طریق پر خلافت قائم ہوگی۔ لہذا ثابت ہوا کہ اس آخری خلافت کے قیام سے پہلے کوئی نبی ضرور آئے گا۔ تا کہ اس کے بعد قائم ہونے والی

٧٢

خلافت منہاج نبوت والی خلافت کہلا سکے۔

کہہ کر: ”وآخرين منهم لما يلحقوا بـ اس زمانے میں موجود نہیں ہیں۔ صحابہ کرام سلمان فارسی کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کـ او رجال من هؤلا“ کہ آخری زمانے میں جب ایمـ اسے پھر دنیا میں قائم کرے گا۔ ظاہر ہے کـ ہیں۔ جب کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی غلامی میـ

یعنی آنے والا مسیح نبی ہوگا۔ بمـ دروازہ کھلا ہے۔

كسرى فلا كسرى بعده“ یعنی جب روم کا بادشاہ قیصر مر بادشاہ کسریٰ مرجائے گا تو اس کے بعد کو قیصر کے بعد کئی قیصر اور اسی کسریٰ کے بعـ کے بعد اس شان کا کوئی قیصر نہ ہوگا اور نـ ہوگا۔

وبينه نبي“ اس حدیث سے بھی معلوم ہوتـ ورنہ رسول اللہ ﷺ یہ نہ فرماتے کہ میرے کہا جاسکتا ہے۔ جب کہ نبوت کا دروازہ

صفحہ ١١٥

خلافت منہاج نبوت والی خلافت کہلا سکے۔

کر کہ: ”وآخرين منهم لما يلحقوا بهم“ کہ کچھ اور لوگ بھی صحابہ ہی میں داخل ہیں۔ مگر وہ اس زمانے میں موجود نہیں ہیں۔ صحابہ کرامؓ نے پوچھا یا رسول اللہ وہ کون لوگ ہیں تو آپ نے سلمان فارسی کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ: ”لوکان الايمان معلقاً بالثريا لناله رجل اورجال من هؤلآء“

(بخاری ص ٨٥٤)

کہ آخری زمانے میں جب ایمان آسمان پر اٹھ جائے گا تو کوئی فارسی الاصل مرد مجاہد اسے پھر دنیا میں قائم کرے گا۔ ظاہر ہے کہ اس کے ماننے والے اسی وقت صحابہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ جب کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی غلامی میں نبوت کا دعویٰ کریں۔

(مسلم ج ٢ ص ٤٠٢)

یعنی آنے والا مسیح نبی ہوگا۔ بہرحال اس سے پتہ چلا کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد نبوت کا دروازہ کھلا ہے۔

كسرى فلا كسرى بعده“

یعنی جب روم کا بادشاہ قیصر مر جائے گا تو اس کے بعد کوئی قیصر نہ ہوگا اور جب ایران کا بادشاہ کسریٰ مرجائے گا تو اس کے بعد کوئی کسریٰ نہیں ہوگا۔ حالانکہ تاریخ سے ثابت ہے کہ اس قیصر کے بعد کئی قیصر اور اسی کسریٰ کے بعد کئی کسریٰ ہوئے۔ مطلب یہ ہوا کہ اس قیصر کے مرنے کے بعد اس شان کا کوئی قیصر نہ ہوگا اور اس کسریٰ کے مرنے کے بعد اس شان کا کوئی کسریٰ نہ ہوگا۔

(بخاری ج ٤ ص ٩١ بمصری)

وبينه نبي“

(ابوداؤد کتاب الملاحم ج ٢ ص ١٣٥)

اس حدیث سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ آنے والے مسیح کے بعد اور نبی ہو سکتے ہیں۔ ورنہ رسول اللہ ﷺ یہ نہ فرماتے کہ میرے اور اس کے درمیان کوئی نبی نہیں۔ یہ تو اسی صورت میں کہا جاسکتا ہے۔ جب کہ نبوت کا دروازہ کھلا ہو اور صرف یہ بتانا مقصود ہو کہ میرے اور مسیح کے

٧٣

صفحہ ١١٦

درمیان کوئی نبی نہیں ہوگا۔

١٩...... حضرت عرباض بن ساریہؓ فرماتے ہیں کہ یہ رسول کریمﷺ کی حدیث ہے: ”انی عند الله في ام الكتب خاتم النبيين وان آدم لمنجدل في طينة“

(کنز العمال ج ٦ ص ١١٣)

یعنی رسول کریمﷺ نے فرمایا کہ ابھی آدم پیدا بھی نہیں ہوا تھا کہ میں خاتم النبیین بن چکا تھا۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر خاتم النبیین کے معنی یہ ہیں کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا تو آپ کے خاتم النبیین بننے کے بعد ایک لاکھ چوبیس ہزار نبی کیسے آگئے۔ حضرات! خدارا ہماری ان پیش کردہ دلائل پر غور فرمائیے اور بتائیے کہ کیا قرآن مجید اور احادیث اس پر شاہد ناطق نہیں ہیں کہ رسول کریمﷺ کے بعد آپﷺ کی غلامی میں نبی آسکتے ہیں۔ یقیناً یہی سچ ہے کہ امت محمدیہ خیر امت ہے اور نعمت نبوت ورسالت کا دروازہ آنحضرتﷺ کی غلامی میں اس امت کے لئے ہمیشہ کھلا ہے۔

مناظر جماعت احمدیہ (شرح دستخط) محمد سلیم عفی عنہ (شرح دستخط صدر مناظرہ)

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

ختم نبوت پرچہ نمبر : ١ منجانب اہل سنت والجماعت

نحمده ونصلي على رسوله الكريم!

اما بعد ! مولوی سلیم صاحب چونکہ ایک کتاب گھر سے لکھ لائے تھے۔ اس کو یہاں صفحہ ١٢ تک نقل کرا دیا ہے۔ اس لئے جواب سب کے ایک ساتھ نہیں دیئے جائیں گے۔ ان کا علم سفینہ معلوم ہوتا ہے۔ اگر علم سینہ ہوتا تو ہمارے سامنے کاغذ لے کر بیٹھ کر لکھ دیتے۔ خیر اب جواب سنئے۔

اصل جھگڑا ہمارا اور مرزائیوں کا ختم نبوت کا نہیں ہے۔ نہ اجرائے نبوت کا ہے۔ ہم آنحضرتﷺ کو آخری نبی خاتم النبیین مانتے ہیں اور قادیانی مرزا قادیانی کو آخری نبی مانتے ہیں۔ حالانکہ تمہارے موضوع کے مطابق اگر نبوت جاری ہوتی تو مرزا قادیانی کے بعد بھی کوئی نبی

٧٤

آئے۔ مگر نہیں آسکتے۔ اس لئے کہ مرزا قاد مرزا قادیانی کو نبی بنانا تھا تو آپ سیدھے کہہ فیصلہ کر لیتے کہ حضورﷺ آخری نبی ہیں کہ مر حوالہ دینے کی کیا ضرورت تھی۔

”میں آخری خلیفہ ہوں ۔“ ”میں آخری مجدد ہوں ۔“ ”میں خاتم الاولاد ہوں ۔“ ”میں خاتم الولد ہوں ۔“ ”میرے پر کاملیت انسانیت کا ”میں خاتم الخلفاء ہوں ۔“ ”جیسے حضور خاتم الانبیاء تھے میں ”مجھ پر کل بلندیاں ختم ہو گئیں ”میرے بعد اور کسی کے آنے ک ”میرے آنے سے اسلام ہلال ”حضورﷺ کا زمانہ فتح مبین ک

مولوی سلیم ! ابھی اسی پر قناعت آپ لوگ مرزا قادیانی کو آخری نبی مانتے فیصلہ مرزا قادیانی کی کتابوں پر ہوگا۔ چنا کم از کم اگر آپ صرف حوالہ کے لئے ایک کیا کروں آپ تو گھر سے لکھ لائے اور مجھے

صفحہ ١١٧

آئے۔ مگر نہیں آسکتے۔ اس لئے کہ مرزا قادیانی نے اپنے بعد نبوت کا ڈور کلوز کر دیا ہے۔ صرف مرزا قادیانی کو نبی بنانا تھا تو آپ سیدھے کہہ دیتے کہ مرزا قادیانی آخری نبی ہیں تا کہ مسلمان خود فیصلہ کر لیتے کہ حضور ﷺ آخری نبی ہیں کہ مرزا قادیانی۔ اتنا ایچ پیچ قرآن وحدیث کا توڑ مروڑ کر حوالہ دینے کی کیا ضرورت تھی۔

"میں آخری خلیفہ ہوں۔"

(خطبہ الہامیہ ص ٣١، خزائن ج ٢١ ص ٧٧)

"میں آخری مجدد ہوں۔"

(خطبہ الہامیہ ص ١٨، خزائن ج ٢١ ص ٥١)

"میں خاتم الاولاد ہوں۔"

(تریاق القلوب ص ١٥٧، خزائن ج ١٥ ص ٤٧٩)

"میں خاتم الولد ہوں۔"

(تریاق القلوب ص ١٦٠، خزائن ج ١٥ ص ٤٨٥)

"میرے پر کاملیت انسانیت کا خاتمہ ہوا ہے۔"

(تریاق القلوب ص ١٥٩، خزائن ج ١٥ ص ٤٨٣)

"میں خاتم الخلفاء ہوں۔"

(تریاق القلوب ص ١٥٩، خزائن ج ١٥ ص ٤٨٣)

"جیسے حضور خاتم الانبیاء تھے میں خاتم الاولیاء ہوں۔"

(خطبہ الہامیہ ص ٣٥، خزائن ج ٢١ ص ٧٠)

"مجھ پر کل بلندیاں ختم ہوگئیں۔"

(خطبہ الہامیہ ص ٣٦، خزائن ج ٢١ ص ٧٠)

"میرے بعد اور کسی کے آنے کا امکان نہیں۔"

(تریاق القلوب ص ١٥٨، خزائن ج ١٥ ص ٤٨٢)

"میرے آنے سے اسلام ہلال سے بدر ہوگیا۔"

(خطبہ الہامیہ ص ١٨٤، خزائن ج ٢١ ص ٢٧٥)

"حضور ﷺ کا زمانہ فتح مبین کا تھا۔ میرا زمانہ فتح اکبر کا زمانہ ہے۔"

(خطبہ الہامیہ ص ١٩٣، خزائن ج ٢١ ص ٢٨٨)

مولوی سلیم ! ابھی اسی پر قناعت کرتا ہوں۔ اوپر کے تمام حوالوں نے ثابت کر دیا کہ آپ لوگ مرزا قادیانی کو آخری نبی مانتے ہیں اور قرآن کریم حضور ﷺ کو خاتم النبیین مانتا ہے تو فیصلہ مرزا قادیانی کی کتابوں پر ہوگا۔ چنانچہ مرزا قادیانی بھی حضور ﷺ کو خاتم النبیین مانتے ہیں۔ کم از کم اگر آپ صرف حوالہ کے لئے الگ سے وقت دے دیں تو پچاس حوالے دے دوں گا۔ مگر کیا کروں آپ تو گھر سے لکھ لائے اور مجھے یہاں ہی لکھنا ہے۔

٧٥

صفحہ ١١٨

مرزا قادیانی نے دہلی کی مسجد جامع میں کیا حلف لاکھوں مسلمانوں کے سامنے اٹھایا تھا۔ کیا آپ کو مرزا قادیانی کے حلف پر بھروسہ نہیں۔ (تبلیغ رسالت ج ٢ ص ٤٤، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٥٥) ”میں مسلمانوں کے سامنے صاف صاف اقرار اس خانہ خدا مسجد میں کرتا ہوں کہ میں جناب خاتم الانبیاءﷺ کی ختم نبوت کا قائل ہوں اور جو شخص ختم نبوت کا منکر ہو اس کو میں بے دین اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں۔ ایسا ہی میں ملائکہ اور معجزات کو مانتا ہوں ...... جو کچھ بد فہمی سے بعض کوتاہ فہم لوگوں نے سمجھ لیا ہے ان اوہام کے ازالہ کے عنقریب ایک مستقل رسالہ تالیف کر کے شائع کروں گا ۔“ یہ ہے مرزا قادیانی کا حلف۔ اس کو سوچ کر آگے چلئے۔ اب آپ کا جواب سنتے جائیے۔

”من یطع الرسول“ سے جب سب نبی بن جائیں گے تو امتی کون ہوگا ؟ اور صدیق کون اور شہید کون اور صالح کون۔ جب کہ سب ایک کورس، عمل صالح کو پاس کرلیں گے تو سب کو ایک ہی ڈگری ملے گی یا الگ الگ۔ یہ عجیب یونیورسٹی ہے سب پڑھیں گے ایک کورس پاس کریں گے ایک ہی کورس اور ڈگری پائیں گے الگ الگ۔ افسوس تمہاری دلیل پر اور اس لکھنے پر اجی جناب ذرا یہ تو کہو کہ ”مع النبیین“ کہاں رہیں گے۔ دنیا میں یا جنت میں ۔ اگر دنیا میں نبی رہیں گے تو اس آیت سے وہی دیکھا دو فیصلہ ہو جائے گا ۔ مگر آپ ہرگز نہیں دکھا سکتے ۔ یہ میرا دعویٰ ہے۔ یہ تو بعد قیامت جنت میں رہنے کا ذکر ہے اور تم اسی دنیا میں مرزا قادیانی کو نبی مانتے ہو۔ مولوی سلیم صاحب! دیکھا آپ نے جو دھوکا دیا تھا اس کی حقیقت کیا تھی ؟ ”اما یاتینکم“ سے اگر نبوت جاری ہو رہی ہے تو ”لیؤمنن بہ“ سے کیوں عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی ثابت نہ ہوگی ۔ کل آپ نے جس مضارع کو زمانہ مستقبل کے لئے نہیں لیا یا مان کر خاموش ہو گئے۔ پھر آج اسی کو ہمارے لئے پیش کرتے ہیں ۔ افسوس صد افسوس ۔

”سراجاً منیراً“ سے اجرائے نبوت کیا دن کے بارہ بجے یاد گیر کے چوراہے پر آپ ٹارچ لے کر چلتے ہیں۔ یہ تو کھلی دلیل ہے کہ حضور سراج منیر بن کر آگئے ۔ دن ہو گیا ۔ جس طرح دن کو تمام روشنیاں بے کار ہو جاتی ہیں ۔ اسی طرح آخری نبی سراج منیر بن کر آ کر پہلے تمام نبیوں کی روشنی کو بے کار کر دیئے۔ اب نور محمدی کے اتباع ہی سے نجات ہے۔ یہ تو اس بات کی دلیل ہے کہ اب کسی پرانے نبی کی نبوت نہیں چلے گی ۔ نہ یہ کہ ایک نیا نبی بھی خاتم النبیین بن جائے

٧٦

صفحہ ١١٩

مسجد جامع میں کیا حلف لاکھوں مسلمانوں کے سامنے اٹھایا پر مجبور نہیں۔ (تبلیغ رسالت ج ٢ ص ٤٤، مجموعہ اشتہارات ج ١ صاف صاف اقرار اس خانہ خدا مسجد میں کرتا ہوں کہ میں قائل ہوں اور جو شخص ختم نبوت کا منکر ہو اس کو میں بے ہوں۔ ایسا ہی میں ملائکہ اور معجزات کو مانتا ہوں ..... جو کچھ ہے ان اوہام کے ازالہ کے عنقریب ایک مستقل رسالہ مرزا قادیانی کا حلف۔ اس کو سوچ کر آگے چلئے۔ اب آپ

”سے جب سب نبی بن جائیں گے تو امتی کون ہوگا؟ اور جب کہ سب ایک کورس، عمل صالح کو پاس کر لیں گے تو یہ عجیب یونیورسٹی ہے سب پڑھیں گے ایک کورس پاس گے الگ الگ۔ افسوس تمہاری دلیل پر اور اس لکھنے پر کہاں رہیں گے۔ دنیا میں یا جنت میں۔ اگر دنیا میں نبی ہو جائے گا۔ مگر آپ ہرگز نہیں دکھا سکتے۔ یہ میرا دعویٰ ہے اور تم اسی دنیا میں مرزا قادیانی کو نبی مانتے ہو۔ کیا تھا اس کی حقیقت کیا تھی؟ ”امایاتینکم“ سے “ سے کیوں عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی ثابت نہ ہوگی۔ لئے نہیں لیا یا مان کر خاموش ہوگئے۔ پھر آج اسی کو ۔

نے نبوت کیا دن کے بارہ بجے بھرے بازار کے چوراہے پر کہ حضور سراج منیر بن کر آگئے۔ دن ہو گیا۔ جس طرح آخری نبی سراج منیر بن کر آ کر پہلے تمام کے اتباع ہی سے نجات ہے۔ یہ تو اس بات کی نہ یہ کہ ایک نیا نبی بھی خاتم النبیین بن جائے

گا۔ ابھی اتنی آیات کے جواب پر غور کریں اس کا جواب دیں۔ اس کے بعد میں آپ کے دوسرے دلائل کو دیکھوں گا۔

قرآن مجید میں ایک سو آیات حضورﷺ کے آخری نبی ہونے کی موجود ہیں۔ مناظرہ کے علاوہ اگر واقعی آپ کو سمجھنا ہے تو قیام گاہ پر تشریف لائیں۔ یہاں فرصت کم ہے۔

قرآن نے آپ کو ”كافة للناس بشيراً ونذيرا (سبا:٢٨)“ کہا۔ اس سے معلوم ہوا ہے جو انسان ہونے کا دعویٰ کرتا ہے وہ حضور اکرمﷺ کو آخری نبی مانے گا۔ ہاں اگر کوئی انسانیت کے ”كافة“ کے علاوہ ہے تو وہ حضورﷺ کے بعد کسی دوسرے کو آخری نبی مان سکتا ہے۔

قرآن نے آپ کو ”رحمة للعالمين (انبیاء:١٠٨)“ کہا۔ خدا رب العالمین اس کے بعد کوئی خدا کی تابعداری سے خدا نہیں بن سکتا۔ ٹھیک اسی طرح حضور رحمۃ العالمین ہیں تو حضورﷺ کی تابعداری سے بھی کوئی نبی نہیں بن سکتا۔ قرآن نے حضورﷺ کو للعالمین نذیراً کہا۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو عالمین سے الگ ہوگا۔ وہی حضورﷺ کے بعد کسی دوسرے کو آخری نبی مانے گا۔

حضورﷺ نے حضرت علیؓ کو فرمایا کہ تو میرے لئے مثل ہارون کے ہے۔ جو موسیٰ علیہ السلام کے بھائی بھی تھے اور نبی بھی۔ مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔

(مسلم ج ٢ ص ٢٧٨)

(ترمذی شریف ج ٢ ص ٤٥) میں ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا میں آخری نبی، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ مگر کذاب ۔ احادیث بے شمار ہیں۔ مرزا قادیانی نے بھی حضورﷺ ہی کو آخری نبی مانا۔ آپ زبردستی ”لو عاش ابراهيم (ابن ماجه ص ١٠٨)“ پیش کرتے ہیں۔

اچھا سنو! ”لو عاش ابراهيم“ کے کیا معنی یہی نہ کہ اگر وہ زندہ رہتے تو نبی ہوتے۔ اس سے اجرائے نبوت ثابت ہوا تو ”لوكان فيهما آلهة “ دو خدائی کا ثبوت اور امکان نکل آیا۔ مولوی صاحب آپ کو کیا واقعی یہ معمولی بات بھی معلوم نہیں کہ جس پر ”اگر“ لگ جاتا ہے وہ خبر نہیں بن سکتی۔ مرزا قادیانی نے ”لا نبی بعدی“ نفی عام کے لئے لکھا ہے۔

(ایام الصلح ص ١٤٦، خزائن ج ١٤ ص ٣٩٣)

مرزا قادیانی نے خدا کو جس طرح ”لا شريك له “ مانا ہے۔ ٹھیک اسی طرح حضورﷺ کو بھی ”لا نبی بعدی“

(کتاب البریہ ص ١٩٩، خزائن ج ١٣ ص ٢١٧، ٢١٨)

٧٧

صفحہ ١٢٠

”لاشریک لہ“ کے بعد اگر تابعداری خدا سے کوئی خدا بن سکتا۔ تب تابعداری حضور سے ”لا نبی بعدہ“ کے بعد مرزا قادیانی نبی بنتے۔ بڑا مشکل سوال ہے۔ ذرا سوچ کر جواب دینا۔

مشکل بہت پڑے گی برابر کی چوٹ ہے

آپ نے ”یصطفی“ سے اجرائے نبوت ثابت کیا ہے۔ اصل یہ ہے کہ آپ کا پرچہ میں پڑھ نہیں سکتا۔ اس لئے جواب دینے میں دقت ہوتی ہے۔ مگر آپ نے غور نہیں کیا کہ اس میں ”رسلاً“ آیا ہے۔ رسول نہیں۔ جمع ہے واحد نہیں اور آپ تو صرف ایک مرزا قادیانی کو آخری نور، آخری اینٹ، آخری بیٹا، آخری اولاد، آخری اولیاء تسلیم کرتے ہیں۔ اب سنئے رسول کسے کہا جاتا ہے۔ مرزا قادیانی (ازالہ اوہام ص ٥٧٨، خزائن ج ٣ ص ٤١٢) میں فرماتے ہیں۔ ”قرآن کی رو سے رسول اسے کہا جاتا ہے جس نے احکام وعقائد دین جبرائیل علیہ السلام سے حاصل کیا ہو۔“ حالانکہ تم بھی مانتے ہو۔ مرزا قادیانی پر جبرائیل نہیں آتے تھے۔ معلوم نہیں آپ نے خاتم المحدثین، خاتم الشعراء وغیرہ کو لکھ دیا ہے یا لکھنا باقی ہے۔ افسوس کہ میں آپ کا لکھا پورا پورا پڑھ نہیں سکا۔ اس کا جواب سنو۔ خاتم المحدثین کے بعد محدث آسکتے ہیں۔ خاتم الفقہاء کے بعد فقیہہ پیدا ہو سکتے ہیں۔ خاتم الشعراء کے بعد شاعر بن سکتے ہیں۔ اس لئے کہ ان میں سے کسی کے دروازے کو قرآن نے بند نہیں کیا ہے۔ مگر خاتم النبیین کے بعد کوئی نبی نہیں ہو سکتا۔ اس لئے کہ اس دروازے کو اللہ نے بند کر دیا ہے۔

پہلے آپ ”مُہر“ کا ترجمہ کرتے تھے۔ اس مرتبہ کیوں نہیں کئے۔ کیا مہر کا کام جاری کرنا ہے یا بند کرنا؟ مرزا قادیانی نے بند کرنا لکھا ہے۔

(چشمہ معرفت ص ٣٢٢، خزائن ج ٢٣ ص ٣٤٠)

اچھا مولوی سلیم صاحب! آپ مہربانی کر کے ایک بات بتا دیں کہ دنیا میں نبوت کبھی ختم بھی ہو گی کہ نہیں۔ دنیا کا جو آخری نبی آئے گا۔ اس کا نام خاتم النبیین ہو گا یا نہیں تو جب آخری نبی کوئی نہ کوئی آپ کے عقیدے کے مطابق آئے گا۔ یہ عقل کا مسئلہ ہے کہ جس کا اوّل ہے۔ اس کا آخر ہے۔ تو اس وقت آپ کا موضوع ختم نبوت ہو گا یا اجرائے نبوت؟ تو خواہ مخواہ آپ نے ایسے کو اپنا موضوع بنایا جو ایک دن آپ کی دلیل کے مطابق آٹومیٹک طور سے بدل جائے گا۔ مگر ہمارا موضوع ختم نبوت قیامت تک کے لئے ہے۔ کیونکہ حضور قیامت تک کے لئے خاتم النبیین ہیں اور ایک لطیفہ سنو۔ میں آپ سے پوچھتا ہوں۔

٧٨

صفحہ ١٢١

کلمہ ختم ہوا یا نہیں؟ دین ختم ہوا یا نہیں؟ قرآن ختم ہوا یا نہیں؟

آپ یہ سب کا جواب مجبوراً ہاں ہی پر دیں گے۔ نہیں کہہ ہی نہیں سکتے۔ ورنہ آپ کی جماعت ہی خود آپ سے بگڑ جائے گی۔ تو میرے پیارے دوست اللہ کے لئے غور کرو۔ جب کلمہ ختم تو کلمہ لانے والا بھی ختم۔ جب دین ختم تو دین لانے والا بھی ختم۔ جب قرآن ختم تو قرآن لانے والا بھی ختم۔ اب صرف یہی درخواست ہے کہ ذرا غور سے سب کو پڑھ کر جواب دیں۔ پہلے لکھ کر لے آنا آسان تھا۔ اب مشکل معاملہ ہے۔ بہت کتابیں باقی ہیں۔ کسی سے بھی اجرائے نبوت ثابت کرو۔

(ثبت دستخط) احقر محمد اسماعیل عفی عنہ

مورخہ ٢٤؍نومبر ١٩٦٣ء

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اجرائے نبوت کے مسئلہ پر جماعت احمدیہ کا دوسرا پرچہ

معزز سامعین ! آپ نے ہمارے مد مقابل کے دلائل سن لئے ہیں۔ ان کے نزدیک آنحضرت ﷺ کے بعد ہر قسم کی نبوت بند ہے۔ لیکن اے بھائیو! خدا اور رسول کے لئے ان سے ذرا پوچھئے تو سہی کہ آخری زمانے میں جب امت محمدیہ میں بگاڑ پیدا ہوگا تو اس کی اصلاح کے لئے کوئی آئے گا یا نہیں اور اگر آئے گا تو کون آئے گا اور اس کا مقام و مرتبہ کیا ہوگا۔ اس کا جواب ان کے پاس بجز اس کے کچھ نہیں کہ نبی اللہ مسیح اسرائیل آئیں گے اور امت محمدیہ کی بگڑی کو بنائیں گے۔

گویا آنحضرت ﷺ کے بعد عیسیٰ علیہ السلام نبی آجائیں تو ختم نبوت میں کوئی فرق نہیں آتا۔ لیکن اگر حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کا ایک ادنیٰ غلام آپ کے عشق میں فنا ہو کر اور آپ کی امت کا ایک فرد ہو کر امتی نبی کہلائے تو واویلا مچا دیا جاتا ہے۔

سچ یہی ہے کہ آنے والا موعود آنحضرت ﷺ ہی کا ایک غلام اور آپ ہی کا ایک امتی ہونا مقدر تھا۔ جو برپا ہو چکا۔ آئیے محمدی پرچم ہاتھوں میں لے کر انگلینڈ، امریکہ، جرمنی، ہالینڈ،

٧٩

صفحہ ١٢٢

افریقہ، انڈونیشیا اور دوسرے ممالک میں چلئے۔ جہاں آج احمدی جانباز جگہ جگہ حضرت محمد عربیﷺ کا جھنڈا گاڑ رہے ہیں۔ قرآن کریم کے تراجم شائع کر رہے ہیں اور اپنی مسلسل جدوجہد سے اسلام کو عیسائیت کے سینے پر بٹھا رہے ہیں۔

بھائیو! خدا کے لئے عیسائیوں کے خدا کو مرنے دو کہ اسی میں اسلام کی زندگی ہے اور زندہ نبی وہ نبی ہے جس نے دنیا کو زندگی بخش پیغام دیا اور آج مدینہ شریف کے گنبد خضراء میں محو خواب ہے۔ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ فرماتے ہیں: ”میں ہمیشہ تعجب کی نگاہ سے دیکھتا ہوں کہ یہ عربی نبیؐ جس کا نام محمد ہے (ہزاروں ہزار درود و سلام اس پر) یہ کس عالی مرتبے کا نبی ہے۔ اس کے عالی مقام کا انتہاء معلوم نہیں ہو سکتا اور اس کی تاثیر قدسی کا اندازہ کرنا انسان کا کام نہیں۔ (یہ عجیب بات ہے کہ دنیا ختم ہونے کو ہے۔ مگر اس کامل نبیؐ کے فیضان کی شعاعیں اب تک ختم نہیں ہوئیں۔ اگر خدا کا کلام قرآن شریف مانع نہ ہوتا تو فقط یہی نبی تھا۔ جس کی نسبت ہم کہہ سکتے تھے کہ وہ اب تک مع جسم عنصری زندہ آسمان پر موجود ہے۔ کیونکہ ہم اس کی زندگی کے صریح آثار پاتے ہیں۔ اس کا دین زندہ ہے۔ اس کی پیروی کرنے والا زندہ ہو جاتا ہے اور اس ذریعے سے زندہ خدا مل جاتا ہے۔ ہم نے دیکھ لیا ہے کہ خدا اس سے اور اس کے دین سے اور اس کے محبّ سے محبت کرتا ہے اور یادرہے کہ درحقیقت وہ زندہ ہے اور آسمان پر سب سے اسی کا مقام برتر ہے۔ لیکن یہ جسم عنصری جو فانی ہے۔ یہ نہیں ہے بلکہ ایک اور نورانی جسم کے ساتھ جو لازوال ہے۔ اپنے خدائے مقتدر کے پاس آسمان پر ہے) افسوس کہ جیسا حق شناخت کا ہے۔ اس کے مرتبے کو شناخت نہیں کیا گیا۔ خدا نے جو اس کے دل کے راز کا واقف تھا۔ اس کو تمام انبیاء اور تمام اوّلین و آخرین پر فضیلت بخشی۔ وہی ہے جو سرچشمہ ہر ایک فیض کا ہے اور وہ شخص جو بغیر اثر اور افاضہ اس کے کسی فضیلت کا دعویٰ کرتا ہے۔ وہ انسان نہیں بلکہ ذریت شیطان ہے۔ ہم کیا چیز ہیں اور ہماری حقیقت کیا ہے۔ اس آفتاب ہدایت کی شعاع دھوپ کی طرح ہم پر پڑتی ہے اور اسی وقت تک ہم منور رہ سکتے ہیں۔ جب تک کہ ہم اس کے مقابل پر کھڑے ہیں۔“

(حقیقت الوحی ص ١١٩)

حضرات! ہم نے اپنے سابقہ پرچے میں قرآن مجید اور حضرت رسول کریمﷺ کی احادیث سے انیس دلائل پیش کئے ہیں۔ جن سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ حضرت رسول پاکﷺ کے بعد آپ کی غلامی میں غیر تشریعی نبوت کی نعمتیں جاری ہیں۔ اس کے بعد اب ہم

٨٠

امت محمدیہ کے ممتاز بزرگوں اور واجب الاحترام ہمارے دعوے کی پوری پوری تائید ہوتی ہے۔

قولوا لا نبی بعدہ“ یعنی اے مسلمانو! تم یہ تو کہو کہ حض آپ کے بعد کوئی نبی نہیں۔

والنبوة التشریع قد انقطعت فلا رس

یعنی صرف تشریعی رسالت اور نبو نئی شریعت نہیں آئے گی۔

خاتم النبیین اذ لا معنی انه لایاتی ن

یعنی آنحضرتﷺ کے بعد کسی کے معنی یہ ہیں کہ کوئی ایسا نبی نہیں آئے گا ج امت میں سے نہ ہو۔

نبویﷺ بھی کوئی نبی پیدا ہو تو پھر بھی خاتمیت گویا خاتم النبیین کے معنی یہ نہیں نیز آپ فرماتے ہیں کہ: ”عوام اہل فہم پر روشن ہے کہ یہ معنی غلط ہیں۔“ اس کے علاوہ آپ نے یہ بھی ف اور خاتم النبیین ہیں۔ جس طرح کہ بادشاہ سے بڑا حاکم۔“

صفحہ ١٢٣

امت محمدیہ کے ممتاز بزرگوں اور واجب الاحترام ہستیوں کے اقوال پیش کرتے ہیں۔ جن سے ہمارے دعوے کی پوری پوری تائید ہوتی ہے۔

تقولوا لا نبی بعدہ“

(تکملہ مجمع البحار ص٨٥)

یعنی اے مسلمانو! تم یہ تو کہو کہ حضرت رسول کریمﷺ خاتم الانبیاء ہیں۔ مگر یہ نہ کہو کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں۔

والنبوۃ الشریع قد انقطعت فلا رسول بعدہ ولا نبی ای مشرع ولا شریعۃ“

(فتوحات مکیہ جلد ٢ ص ٣٧٦)

یعنی صرف تشریعی رسالت اور نبوت منقطع ہوئی ہے۔ پس آپ کے بعد کوئی شرعی نبی یا نئی شریعت نہیں آئے گی۔

خاتم النبیین اذ المعنی انہ لایاتی نبی بعدہ ینسخ ملتہ ولم یکن من امتہ“

(موضوعات کبیر ص٥٩)

یعنی آنحضرتﷺ کے بعد کسی نبی کا آجانا خاتم النبیین کے خلاف نہیں۔ کیونکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ کوئی ایسا نبی نہیں آئے گا جو رسول کریمﷺ کی ملت کو منسوخ کرے اور آپ کی امت میں سے نہ ہو۔

نبویﷺ بھی کوئی نبی پیدا ہو تو پھر بھی خاتمیت محمدی میں کچھ فرق نہ آئے گا۔“

(تحذیر الناس ص٢٨)

گویا خاتم النبیین کے معنی یہ نہیں ہیں کہ حضورﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔

نیز آپ فرماتے ہیں کہ: ”عوام کے نزدیک خاتم النبیین کے معنی ہیں۔ آخری نبی لیکن اہل فہم پر روشن ہے کہ یہ معنی غلط ہیں۔“

(تحذیر الناس ص٣)

اس کے علاوہ آپ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ: ”رسول اکرمﷺ اسی طرح خاتم الکاملین اور خاتم النبیین ہیں۔ جس طرح کہ بادشاہ خاتم الحکام ہوتا ہے۔ یعنی سب سے بڑا نبی اور سب سے بڑا حاکم۔“

(حجۃ الاسلام ص ٣٤، ٣٥)

٨١

صفحہ ١٢٥

لانه اراد لا نبي ينسخ شرعه“

(تکملہ مجمع البحار ص ٨٥)

یعنی آنحضرت ﷺ کی حدیث ”لا نبی بعدی“ کے معنی یہ ہیں کہ کوئی ایسا نبی نہیں ہوگا جو آپ کی شریعت کو منسوخ کرے۔

بہر ایں خاتم شد است او کہ بجود
مثل او نے بود نے خواہند بود

پھر فرمایا۔

چونکہ در صنعت بر استاد دست
تو نہ گوئی ختم صنعت بر تو است

(مثنوی مولانا روم دفتر ششم)

یعنی آنحضرت ﷺ بایں معنی خاتم ہیں کہ گویا۔

محمدؐ کے ثانی دو جگ میں نہیں
نہ پیچھے ہوا ہے نہ آگے کہیں

یعنی آپ بے مثال ہیں۔ کوئی آپ کا ہمسر نہیں۔ اس کی مثال بالکل ایسی ہی ہے جیسے کوئی فنکار جب اپنے فن میں سب سے بڑھ جاتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ اس پر وہ فن ختم ہو گیا۔

ارتفع نبوة التشريع فقط وقوله ﷺ فلا نبى بعدى ولا رسول المراد به لا مشرع بعدی“

(الیواقیت والجواہر ج ٢ ص ٢٢)

یعنی صرف تشریعی نبوت منقطع ہوئی ہے اور حضور ﷺ کا یہ فرمان کہ میرے بعد کوئی نبی اور رسول نہیں۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ میرے بعد کوئی شریعت لانے والا نبی نہیں۔

بعده“

(الانسان الکامل ج ١ ص ٧٦)

یعنی حضرت رسول کریم ﷺ کے بعد تشریعی نبوت ختم ہو گئی۔

٨٢

اس کے معنی نزدیک اہل علم کے یہ ہیں کہ میرے بعد ک

یا زمانے میں آنحضرت ﷺ کے، مجرد کسی نبی کا ہو ہے۔“

یہ دلائل پیش کرنے کے بعد اب ہم اپنے نے لکھا ہے کہ حضرت مرزا صاحب نے دعویٰ نبوت حضرت مرزا صاحب کا ایک فیصلہ کن حوالہ پیش کرتے آپ لکھتے ہیں: ”جس جس جگہ میں نے معنوں سے کیا ہے کہ میں مستقل طور پر کسی شریعت لا ہوں۔ مگر ان معنوں سے کہ میں نے اپنے رسول متبوع ملے اس کا نام پا کر اس کے واسطے سے خدا کی طرف بغیر کسی جدید شریعت کے اس طور کا نبی کہلانے سے مجھ

اس حوالے سے ظاہر ہے کہ آپ نے صر کا دعویٰ ہے کہ آپ آنحضرت ﷺ کی غلامی کے ب

آپ نے خطبہ الہامیہ کا حوالہ دیا ہے کہ ہے۔ حالانکہ وہاں آپ نے لکھا ہے: ”انا خاتم عنى وعلى عهدي“

یعنی میں خاتم الاولیاء تو ضرور ہوں۔ مگر نہ ہوگا۔ بلکہ مجھ پر ایمان لائے گا اور میر عہد میں شامل

آپ نے ”من يطع الله والرسول جائیں گے تو امتی کون ہوگا؟ حالانکہ قرآن مجید

٨٣

صفحہ ١٢٥

اس کے معنی نزدیک اہل علم کے یہ ہیں کہ میرے بعد کوئی نبی شرع ناسخ نہ لاوے گا۔

(اقتراب الساعۃ ص ١٦٢)

یا زمانے میں آنحضرتﷺ کے، مجرد کسی نبی کا ہونا محال نہیں بلکہ صاحب شرع جدید ہونا البتہ ممتنع ہے۔“

(دافع الوسواس فی اثر ابن عباس ص ١٦)

یہ دلائل پیش کرنے کے بعد اب ہم اپنے مد مقابل کی باتوں کا جواب دیتے ہیں۔ آپ نے لکھا ہے کہ حضرت مرزا صاحب نے دعویٰ نبوت سے انکار کیا ہے۔ اس کے جواب میں خود حضرت مرزا صاحب کا ایک فیصلہ کن حوالہ پیش کرتے ہیں۔

آپ لکھتے ہیں: ”جس جس جگہ میں نے نبوت یا رسالت کا انکار کیا ہے۔ صرف ان معنوں سے کیا ہے کہ میں مستقل طور پر کسی شریعت لانے والا نہیں ہوں اور نہ میں مستقل طور پر نبی ہوں۔ مگر ان معنوں سے کہ میں نے اپنے رسول مقتداء سے باطنی فیوض حاصل کر کے اور اپنے لئے اس کا نام پا کر اس کے واسطے سے خدا کی طرف سے علم غیب پایا ہے۔ رسول اور نبی ہوں۔ مگر بغیر کسی جدید شریعت کے اس طور کا نبی کہلانے سے میں نے کبھی انکار نہیں کیا۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٧)

اس حوالے سے ظاہر ہے کہ آپ نے صرف تشریعی نبوت سے انکار کیا ہے۔ ورنہ آپ کا دعویٰ ہے کہ آپ آنحضرتﷺ کی غلامی کے نتیجے میں خدا کے نبی اور رسول ہیں۔

آپ نے خطبۃ الہامیہ کا حوالہ دیا ہے کہ مرزا قادیانی نے اپنے آپ کو خاتم الاولیاء کہا ہے۔ حالانکہ وہاں آپ نے لکھا ہے: ”انا خاتم الاولیاء لا ولی بعدی الا الذی ھو منی وعلی عہدی “

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٣٥)

یعنی میں خاتم الاولیاء تو ضرور ہوں۔ مگر اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ میرے بعد کوئی ولی نہ ہوگا۔ بلکہ مجھ پر ایمان لائے گا اور میرے عہد میں شامل ہوگا۔ میرے بعد ولی ہو سکتا ہے۔

آپ نے ”من یطع الله والرسول“ پر اعتراض کیا ہے کہ کیا سارے رسول بن جائیں گے تو امتی کون ہوگا؟ حالانکہ قرآن مجید میں دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:

٨٣

صفحہ ١٢٧

”لیستخلفنهم“ یعنی میں مسلمانوں کو خلیفہ بناؤں گا۔ تو کیا سب مسلمان خلیفہ بن جائیں گے تو ان کے تابع کون ہوگا؟ ”فما هو جوابكم فهو جوابنا“

آپ نے اعتراض کیا ہے کہ جب رسول کریم ﷺ سراج منیر ہیں تو ان کے بعد کسی نبی کی کیا ضرورت ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ مسیح اور مہدی کی بھی کیا ضرورت ہے؟ آپ کیوں نزول مسیح ناصری کے منتظر ہیں؟ اور پھر آپ جیسے علماء کی کیا ضرورت تھی جو موم بتی کی بھی حیثیت نہیں رکھتے۔

آپ نے ”لا نبی بعدی“ پیش کیا ہے۔ اس کے متعلق ہم اپنے سابقہ پرچوں اور اس پرچے میں کافی اور شافی بحث کر چکے ہیں۔ اقوال بزرگان پر غور کریں اور بخاری شریف کی حدیث ”فلا قیصر ولا کسریٰ“ سے ہدایت حاصل کریں۔

الحمدللہ! کہ آپ نے ”لو عاش“ والی حدیث کو تسلیم کرلیا ہے۔ البتہ یہ اعتراض کیا ہے کہ وہ ایک مفروضہ ہے۔ مگر واضح رہے کہ اس سے ہمیں کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔ سوال تو یہ ہے کہ اگر ”خاتم النبیین“ اور ”لا نبی بعدی“ کے معنی یہ تھے کہ رسول کریم ﷺ آخری نبی ہیں تو آپ نے اپنے صاحبزادے کی وفات پر یہ کیوں فرمایا کہ اگر یہ زندہ رہتا تو نبی ہوجاتا۔ نیز بزرگان سلف کیوں ہمارے ہمنواء ہیں۔ اسی طرح ہمارے پیش کردہ آیت ”یصطفیٰ“ پر آپ نے اعتراض کیا ہے کہ اس طرح تو رسول آتے ہی رہیں گے۔ بند کب ہوں گے۔ گویا نبوت کا آنا آپ کے لئے سوہان روح بن رہا ہے اور آپ بار بار پوچھتے ہیں کہ یہ کب بند ہوگی۔ ہم اپنے پہلے پرچے میں بتا چکے ہیں کہ جب ساری امت محمدیہ نالائق اور نااہل ہوجائے گی (خدا نہ کرے) تو یہ نعمت بند ہوجائے گی۔ آپ سیدھی طرح سے امت محمدیہ کو نااہل کہہ دیں ہم تسلیم کرلیں گے کہ واقعی ایسے لوگوں کو نبوت نہیں مل سکتی۔

آپ کو خوب معلوم ہے کہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ آنحضرت ﷺ کو آخری نبی سمجھتے ہیں۔ یعنی دین، کلمہ، شریعت، کتاب اور امت کے لحاظ سے آپ آخری نبی ہیں اور وہی شخص نبی ہو سکتا ہے جو حضرت محمد رسول اللہ کا غلام ہو۔

آپ نے حضرت مرزا صاحب کو آخری نور کہہ کر یہ نتیجہ نکالا ہے کہ گویا مرزا قادیانی کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔ اس سے صرف چار سطریں اوپر پڑھئے تو آپ وہاں لکھا ہوا پائیں گے کہ

٨٤

حضرت مرزا صاحب نے اپنی بلند شان کا ذکر کر کے مرتبہ ہے اس پاک رسول کا جس کی غلامی کی طرف من یشاء“

اس حوالے سے صاف پتہ چلتا ہے کریم ﷺ کی عظمت اور بڑائی کا تذکرہ فرمایا ہے علیہ السلام کی اصل پوزیشن کو واضح کیا ہے۔

آپ نے ”کافۃ للناس“ اور ”رحمۃ استدلال کیا ہے کہ اب رسول کریم ﷺ کے بعد ک ابن مریم کی کیا ضرورت ہے۔ اگر کسی نبی کی ضرو دیجئے۔ ورنہ جب تک آپ اس عقیدے پر قائم ہ ہونے کا دعویٰ کرنا زیبا نہیں۔

آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے کہ ہم کھرے کہ اس صورت میں ہم نے اپنے پرچے میں آپ صورت میں تو آپ کو ہماری کرامت کا بھی قائل ہ کے دل میں کیا ہے۔

یقیناً یاد رکھئے! ہم کوئی ایسا انداز اختیا ہو۔ آپ بزعم خود ختم نبوت کے لئے ایک سو آیا کس قدر مضحکہ خیز بات ہے۔ آئے ہیں مناظرہ آیتوں میں سے آٹھ دس تو یہاں پیش کریں۔ ہم پڑھ سکتے اور نہ ہی آپ کے دائیں بائیں بیٹھنے وال اللہ تعالیٰ آپ کی حالت پر رحم کرے۔

٨٥

صفحہ ١٢٧

حضرت مرزا صاحب نے اپنی بلند شان کا ذکر کر کے فرمایا ہے: ”جب کہ میں ایسا ہوں تو سوچو کہ کیا مرتبہ ہے اس پاک رسول کا جس کی غلامی کی طرف میں منسوب کیا گیا۔ ذالك فضل الله يؤتيه من يشاء“

(کشتی نوح ص ٥٦)

اس حوالے سے صاف پتہ چلتا ہے کہ حضرت مرزا صاحب نے حضرت رسول کریم ﷺ کی عظمت اور بڑائی کا تذکرہ فرمایا ہے اور آپ کے مقابلے میں حضرت مسیح ابن مریم علیہ السلام کی اصل پوزیشن کو واضح کیا ہے۔

آپ نے ”كافة للناس“ اور ”رحمة للعالمین“ وغیرہ آیات کو پیش کر کے یہ استدلال کیا ہے کہ اب رسول کریم ﷺ کے بعد کسی نبی کی ضرورت نہیں۔ سوال یہ ہے کہ پھر مسیح ابن مریم کی کیا ضرورت ہے۔ اگر کسی نبی کی ضرورت نہیں تو نزول مسیح علیہ السلام کا عقیدہ بھی چھوڑ دیجئے۔ ورنہ جب تک آپ اس عقیدے پر قائم ہیں آپ کو رسول کریم ﷺ کے بعد نبوت کے بند ہونے کا دعویٰ کرنا زیبا نہیں۔

آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے کہ ہم گھر سے پرچہ لکھ کر لے آئے ہیں۔ بھلا آپ ہی بتائیے کہ اس صورت میں ہم نے اپنے پرچے میں آپ کی تمام باتوں کا جواب کس طرح دے دیا۔ اس صورت میں تو آپ کو ہماری کرامت کا بھی قائل ہونا پڑے گا کہ ہم قبل از وقت جانتے ہیں کہ آپ کے دل میں کیا ہے۔

یقیناً یاد رکھئے! ہم کوئی ایسا انداز اختیار نہیں کر رہے جو شرائط مقبولہ فریقین کے خلاف ہو۔ آپ بزعم خود ختم نبوت کے لئے ایک سو آیات پیش کرنے کے لئے مجھے گھر پر بلا رہے ہیں۔ کس قدر مضحکہ خیز بات ہے۔ آئے ہیں مناظرہ کرنے کے لئے اور بلا رہے ہیں گھر پر۔ ان سو آیتوں میں سے آٹھ دس تو یہاں پیش کریں۔ ہمیں آپ سے ہمدردی ہے کہ آپ ہمارا پرچہ نہیں پڑھ سکتے اور نہ ہی آپ کے دائیں بائیں بیٹھنے والے متعدد علماء و معاونین آپ کو مدد دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کی حالت پر رحم کرے۔

مناظر جماعت احمدیہ (شرح دستخط) محمد سلیم عفی عنہ (دستخط صدر مناظرہ)

٨٥

صفحہ ١٢٨

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

ختم نبوت ...... دوسرا پرچہ منجانب اہل سنت والجماعت یاد گیر

برادرانِ اسلام! آپ نے دیکھ لیا۔ جو شخص بڑی طاقت سے قرآنی آیات اپنے پہلے پرچہ پر لکھ کر پیش کر دیا تھا۔ ہمارے جواب سے عاجز ہو کر خلاف شرائط مناظرہ کنز العمال، مشکوٰۃ، تجرید، مجمع البحار وغیرہ کا حوالہ فرضی دے کر جان چھڑانے کی فکر میں لگ گئے۔ مگر دوست آنحضرت ﷺ کی ناموس نے آپ کو سخت شکنجہ میں دبوچ لیا ہے۔ اگر ہمت ہوتی میرے دلائل کو توڑا ہوتا۔ مگر آپ خاموش رہے۔ مرزا قادیانی کے بے شمار حوالہ سے میں نے ثابت کر دیا کہ قادیانی مرزا قادیانی کو آخری نبی مانتے ہیں۔ مگر لوگوں کو دھوکا دینے کے لئے اجزائے نبوت کا ڈھونگ رچا لیا ہے۔ مرزا قادیانی کی کتابیں آپ کے دعویٰ کے رد کو کافی ہیں۔ آپ کے پہلے پرچہ کا کچھ قرضہ باقی رہ گیا ہے۔ پہلے اس کو چکا لوں اس کے بعد دوسرے پرچے کی پوری قلعی کھولوں گا۔ جاؤ گے کہاں، مرزا قادیانی کی کتابیں تم کو مجبور کر رہی ہیں کہ تم مرزا قادیانی کو خاتم النبیین آخری نبی مانو۔ خیر اب سنو!

آپ نے ”منک“ کی آیت میثاق کو پیش کیا تھا۔ (ابن کثیر ج ٣ ص ١٧٦) میں امام ابن کثیر فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ سے اور انبیاء اولوالعزم سے یہ عہد اللہ کے دین پر قائم رہنے اور تبلیغ کرنے کے لئے لیا گیا ہے۔ بولو اس کا کیا جواب ہے؟

آپ نے ”نبعث رسولا“ سے بھی دلیل دی ہے۔ حالانکہ آپ کو معلوم نہیں مرزا قادیانی نے یہاں رسول کا ترجمہ محدث کیا ہے۔

(ضمیمہ انجام آتھم)

آپ نے ”اهدنا الصراط المستقيم“ سے اجزائے نبوت ثابت کی۔ خدا کا شکر ہے کہ ”قل ھو اللہ“ سے ثابت نہ کرسکے۔ اجی جناب اس آیت کے اگر یہی معنی ہیں کہ اے اللہ ہم کو نبی بنادے تو پھر خود حضور ﷺ نبی بن کر یہ دعا کیوں مانگتے تھے؟ کیا ان کو اور نبی بننا تھا۔ عورت، خنثیٰ مشکل، مجنون، پاگل، مراقی، سلسل بول والا، بچہ بھی اس آیت کو پڑھتے ہیں۔ کیا ان کو نبی بننا ہے؟ سوچ کر جواب دینا۔ مگر یہ تو لاجواب ہے۔ قرآن پاک کی اس تحریف پر شرم آنی چاہئے۔

٨٦

”لقد جاء کم“ سے اسی طر اے دوست

خرد کا نام جنون
جو چاہے تیرا

کیا یوسف علیہ السلام کو خاتم النبیین تھا؟ ہرگز نہیں۔ لہذا موسیٰ علیہ السلام کے ب وقت ختم نبوت کا خیال خام تھا۔ مگر ہمارے ب اللہ، دوسرا خاتم النبیین ۔ اس لئے ان کے بعد آپ نے بار بار عیسیٰ علیہ السلام چلی گئی۔ اگر سوال کرتے تو اس کا بہت معقول کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام حکم ، عدل بن کر کیسے زندہ رہے تو بتلا دے کہ پھر خاتم الولد جناب آخر کا ذکر ہے۔ اوّل کا نہیں۔ ہم غ ایک کافی دلیل، دوست آج مہر اور خاتم النبیین ابراہیم علیہ السلام کی دعا اپنی مرزا قادیانی تو ذریت چین ہیں۔ ”صلوا ذکر ہے نہ کہ نبی بننے کا، درود آل ابراہیم السلام سے نہیں ہیں۔ وہ یا تو چینی ہیں یا مغل مرزا قادیانی کس کے آل سے ہیں۔ اس کے کی حدیث سے یہ ثابت ہوا کہ قیصر کا خاتمہ ہ کرامؓ نے فتح کرلیا۔ حضور کی پیش گوئی پو وقت ہم آپ کو جواب دیں گے۔ آپ نے الکامل کا نام لیا۔ مجمع البحار کے تکملہ کا نام لیا ہے۔ ہم ہرگز اس کا جواب نہیں دیں گے۔ ہیں کہ قرآن آپ کے ساتھ نہیں۔ احادیث

صفحہ ١٢٩

”لقد جاء کم“ سے اسی طرح جن والی آیت سے اجرائے نبوت کا ثبوت میرے پیارے دوست۔

خرد کا نام جنوں رکھ دیا جنوں کا خرد
جو چاہے تیرا قلم کرشمہ ساز کرے

کیا یوسف علیہ السلام کو خاتم النبیین کا خطاب ملا تھا؟ کیا موسیٰ علیہ السلام کو یہ خطاب ملا تھا؟ ہرگز نہیں۔ لہٰذا موسیٰ علیہ السلام کے بعد یا یوسف علیہ السلام کے بعد نبوت جاری تھی۔ اس وقت ختم نبوت کا خیال خام تھا۔ مگر ہمارے سرکار کے سر پر اللہ تعالیٰ نے دو تاج رکھے۔ ایک رسول اللہ، دوسرا خاتم النبیین۔ اس لئے ان کے بعد نبوت جاری کرنا حماقت ہے۔ سراسر حماقت!

آپ نے بار بار عیسیٰ علیہ السلام کا نام لیا ہے۔ بہتر تو یہ تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام کی بحث کل چلی گئی۔ اگر سوال کرتے تو اس کا بہت معقول جواب دیتا۔ آج اس کا موقع نہیں پھر بھی اتنا سن لو کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام حکم، عدل بن کر آئیں گے۔ اگر آپ کہیں کہ خاتم النبیین کے بعد عیسیٰ کیسے زندہ رہے تو بتلادے کہ پھر خاتم الولد کے بعد مرزا قادیانی کے بھائی کیسے زندہ رہے۔ اجی جناب آخر کا ذکر ہے۔ اوّل کا نہیں۔ ہم ختم نبوت کے قائل ہیں۔ اس کے لئے خاتم النبیین ہی ایک کافی دلیل، دوست آج مہر اور خاتم الشعراء وغیرہ کا کیا بھول گئے ہو ذرا لکھ دینا۔

ابراہیم علیہ السلام کی دعا اپنی ذریت کے لئے تھی جو حضور پر ختم ہوگئی۔ مگر دوست مرزا قادیانی تو ذریت چین ہیں۔ ”کلوا من الطیبت“ سے اجرائے نبوت۔ یہاں کھانے کا ذکر ہے نہ کہ نبی بننے کا، درود آل ابراہیم علیہ السلام کے لئے اور مرزا قادیانی آل ابراہیم علیہ السلام سے نہیں ہیں۔ وہ یا تو چینی ہیں یا مغل یا فارسی الاصل یا اور کوئی خاندان سے۔ پہلے یہ کہو کہ مرزا قادیانی کس کے آل سے ہیں۔ اس کے بعد درود ابراہیمی کا جواب سنو۔ ”هلك قيصر“ کی حدیث سے یہ ثابت ہوا کہ قیصر کا خاندان ختم ہوا۔ کسریٰ کا خاندان ختم ہوا۔ روم و ایران کو صحابہ کرامؓ نے فتح کرلیا۔ حضور کی پیش گوئی پوری ہوگئی۔ کل انشاء اللہ مرزا قادیانی کی پیش گوئی کے وقت ہم آپ کو جواب دیں گے۔ آپ نے خلاف شرائط مناظرہ پھر ابن عربی کا نام لیا۔ الانسان الکامل کا نام لیا۔ مجمع البحار کے تکملہ کا نام لیا۔ الیواقیت کا نام لیا اور نہ معلوم کن کن کتابوں کا نام لیا ہے۔ ہم ہرگز اس کا جواب نہیں دیں گے۔ میرے دوست ان کتابوں کا حوالہ اس لئے دے رہے ہیں کہ قرآن آپ کے ساتھ نہیں۔ احادیث آپ کے ساتھ نہیں۔ اس لئے آنحضرت ﷺ متفق

٨٧

صفحہ ١٣٠

طور سے خاتم النبیین ہیں اور تو اور آپ نے مولانا روم کی مثنوی شروع کر دی۔ دوست یہ وعظ کی مجلس نہیں۔ یہ مناظرہ ہے مناظرہ۔

یہاں پگڑی اچھلتی ہے اسے میخانہ کہتے ہیں

آپ نے فتوحات کا بھی نام لیا۔ یہ کس فن کی کتاب ہے۔ موضوعات کبیر بھی کیا صحاح ستہ ہے۔ افسوس دنیا والے آپ کے اس موضوعات کبیر کے حوالے کو دیکھ کر کیا کہیں گے؟

تحذیر الناس (دافع الوسواس ص ١٠، ١٢، ٢٠، ٢١) کو پہلے دیکھ لو وہاں حضرت مولانا قاسمؒ نبوت کو ختم کرتے ہیں یا جاری؟ ہاں ”لو عاش ابراہیم“ کے اگر کی طرح تحذیرالناس میں بھی اگر ہے۔ اگر سے خبر نہیں ہوتی۔ کسی نے کیا خوب کہا۔

اگر را با مگر تزویج کردند
زو فرزند شد پیدا کاش کہ نام

اگر سے اگر خبر یا حکم نکلتا تو پھر دو خدا بھی قرآن سے ثابت ہو جائیں گے اور ہندوؤں کو کیا دلیل دو گے بلکہ خدا کا بیٹا بھی ثابت ہو جائے گا۔ قرآن کہتا ہے: ”ان کان للرحمن ولد فانا اوّل العبدین (زخرف: ٨١)“

اگر ہوتا خدا کا کوئی بیٹا تو سب سے پہلے میں اس کی عبادت کرتا تو جس طرح اگر دو نے خدا کا دروازہ بند، خدا کے بیٹے کا دروازہ بند کیا۔ اسی طرح ”لو عاش ابراہیم“ سے نبوت کا دروازہ بند۔ اسی طرح تحذیرالناس سے نبوت کا دروازہ بند۔ اگر اتنی کھلی دلیل کو بھی تم نہ تسلیم کرو تو تم کو اللہ کے سپرد کرتا ہوں۔ ہدایت وضلالت اس کے قبضے میں ہے۔ ”لو کان الایمان معلقاً“ سے کیا آپ کو یہ ثابت کرنا ہے کہ چونکہ مرزا قادیانی فارسی الاصل ہیں۔ اس لئے ”نبی“ ہمت کر کے ہاں کرو۔ آئندہ پرچے میں اس کا دندان شکن جواب سنو۔

”لیس بینی وبینہ نبی (مسند احمد ج ٢ ص ٤٣٧)“ سے یہ ثابت ہوا کہ حضورﷺ کے بعد صرف عیسیٰ علیہ السلام ہی ہیں۔ دھوکہ بازی کی حد ہو گئی۔ ہمت کر کے پوری حدیث اور اس کا باب پڑھو یا لکھو اور قدرت خدا کا تماشا دیکھو۔ تم نے مرزا قادیانی کی تبلیغ رسالت والے دہلی کی جامع مسجد کے حلف کو پس پشت ڈال دیا۔ کیا مرزا قادیانی نے جھوٹا حلف اٹھالیا۔ جواب دو، ورنہ مرزا قادیانی کے جھوٹے ہونے کا اقرار کرو۔ اچھا اسی تبلیغ رسالت سے ایک دوسرا

٨٨

صفحہ ١٣١

حوالہ سن لو۔ (مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٣٠) ”سیدنا و مولانا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ خاتم المرسلین کے بعد کسی دوسرے مدعی نبوت و رسالت کو کاذب و کافر جانتا ہوں ...... اور میرا یقین ہے۔ وحی رسالت حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہوئی اور جناب رسول اللہ ﷺ پر ختم ہوگئی۔ جس میں شک و شبہ کی مطلق گنجائش نہیں ۔“ آپ مرزا قادیانی کے اس عظیم الشان اعلان اور فتوے کے رو سے کاذب اور کافر ہو جائیں گے۔ اجی کم از کم مرزا قادیانی کو مفتی مان لو۔ جب آپ ان کو مفتی بھی نہیں مانتے تو پھر خواہ مخواہ ان کی نبوت کے ثبوت کے لئے یہاں کیوں تشریف لائے ہو۔

دوسرا حوالہ: ”جیسے حضور خاتم الانبیاء تھے میں خاتم الاولیاء ہوں۔“

(خطبہ الہامیہ ص ٣٥، خزائن ج ١٦ ص ٧٠)

اور سنو! ”لا نبی بعدی“ وہی صفحہ۔ جب مرزا قادیانی آخری نور تو اس کے بعد نبوت کا دروازہ بند۔ اس لئے کہ انبیاء نور لاتے ہیں۔ جب نور ختم تو اب جو آئیں گے ۔ وہ ظلمت لائیں گے۔ جب مرزا قادیانی نے اسلام کو بدر بنا دیا۔ تو مرزا قادیانی کے بعد اگر کوئی نبی ہوگا تو پھر اسلام کے چاند کو گھٹائے گا یا بڑھائے گا۔ چودھویں کے بعد چاند گھٹتا ہے یا بڑھتا ہے۔

(خطبہ الہامیہ ص ١٩٢، خزائن ج ١٦ ص ٢٨٨) میں مرزا قادیانی نے خود کو ”فتح اکبر“ کہا۔ جب اللہ اکبر کے بعد کوئی اللہ نہیں تو فتح اکبر کے بعد اب نبوت نہیں۔ دیکھا آپ نے اس کو کہا جاتا ہے جواب۔ لہٰذا ثابت ہوا کہ آپ لوگ مرزا قادیانی کو خاتم النبیین مانتے ہیں۔ مگر دھوکہ دینے کے لئے اجزائے نبوت کہتے ہیں۔ حضور ﷺ کے بعد کسی کو نبوت نہیں ملی۔ ملی تو ایک مغل خاندان کو ملی۔ پھر اس کے بعد ”ڈراپ سین“ ڈور کلوز، اے اللہ کے بندو! اللہ کے لئے آنکھیں کھولو۔ سراج منیر کے بعد عیسیٰ کیوں آئیں گے۔ آپ کو معلوم نہیں۔ وہ تو ان سے پہلے کے نبی ہیں۔ اب سمجھئے اس حکمت کو۔

پھر مطالبہ دہراتا ہوں کہ رب العالمین کے بعد رب نہیں۔ رحمۃ اللعالمین کے بعد نبی نہیں ۔ میرے سوال کو پڑھ کر جواب دو۔ کل بھی آپ نے آخری پرچے کو وعظ سے بھر دیا۔ خلاف شرائط مناظرہ نئے حوالے پیش کئے اور کمال یہ ہے کہ خود مرزا قادیانی کے حوالے بھی آپ غلطی سے دے گئے۔ آپ کو کیا معلوم نہ تھا کہ وہ تو خود مدعی ہیں۔ مدعی کا بیان مدعی اپنی گواہی میں نہیں لا سکتا۔ ہاں مجیب کو یہ حق ہے کہ مدعی کی تلوار سے مدعی کا گلا کاٹ دے، مدعی کے بیان سے مدعی

٨٩

صفحہ ١٣٢

کے دعوے کو رد کردے۔

علاوہ ازیں آپ نے اس میں یہ بھی لکھ دیا کہ آپ نے قرآن شریف کی آیت کو غلط لکھ دیا۔ میرے دوست تم خود دیکھ رہے ہو کہ میں خود سب کام کرتا ہوں۔ اگر کہیں قلم سے لغزش ہوگئی ہو گی تو اس میں حرج کیا ہے۔ کیا میں نے معصوم ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ کیا میں نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ جب میں نبوت کا دعویٰ نعوذ باللہ کروں تو اس وقت تم میری تحریر کو لوگوں کو دکھا دینا کہ اس کو تو قرآن بھی معلوم نہیں تھا۔ یہ کیسے نبی ہو گیا۔ مگر تم کو معلوم نہیں کہ مرزا قادیانی نے نبی بن کر معصوم ہو کر، سلطان القلم ہو کر، قلم کی غلطی سے پاک ہو کر بے شمار قرآن کی آیتوں کو غلط لکھا ہے۔

”ماهو جوابكم فهو جوابنا“

میرے دلائل جو میں نے دونوں پرچوں میں دے دیئے ہیں۔ وہ اس سامنے نظر آنے والے یادگیر کے پہاڑ سے بھی زیادہ مضبوط اور وزنی ہیں۔ اس سے بچنے کے لئے مولانا روم، اور کنز العمال اور تکملہ مجمع البحار وغیرہ کا حوالہ خلاف شرائط مناظرہ دیتے چلے جاتے ہو۔ حالانکہ کل ہی میں نے ٹوک دیا تھا۔ مگر آپ مجبور ہیں۔ کاغذ کسی نہ کسی طرح بھرنا ہے۔ ورنہ دنیا کیا کہے گی۔ اس پرچے میں بھی آپ نے مرزا قادیانی کے حوالے دیئے ہیں۔ دوست! مرزا قادیانی مدعی نبوت ہیں، گواہ نہیں۔ لہٰذا میرے بھائیو! روز روشن کی طرح ثابت ہوگیا کہ خاتم النبیین کے بعد نبوت کا دروازہ بند ہوچکا ہے۔ ”الحمد لله على احسانه“ لہٰذا میری خود میرے دوست سے درخواست ہے۔

باز آ باز آ ہر آنچه ہستی باز آ

اگر مرزا قادیانی کے بعد بھی نبوت کا دروازہ کھلا ہے تو آپ کی تبلیغ بیکار ہے۔ کیونکہ لوگ آپ سے پوچھیں گے کہ کیا مرزا قادیانی کے بعد بھی نبی آئیں گے؟ آپ کہیں گے ہاں تو وہ جواب دے گا کہ خیر آپ تشریف لے جائیے۔ نبوت کا دروازہ تو بند نہیں۔ میں مرزا قادیانی کا کلمہ نہیں پڑھوں گا۔ کیونکہ ان کی لائف پر مجھے شک ہے۔ کسی دوسرے نبی کا کلمہ پڑھ لوں گا۔ اس وقت سوائے خاموشی کے آپ کو چارہ نہ ہوگا۔ تبلیغ کا حق اسی کو ہے جو آخری ہے۔

(شرح دستخط) احقر محمد اسماعیل عفی عنہ

مورخہ ٢٤؍نومبر ١٩٣٢ء

٩٠

صفحہ ١٣٣

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اجرائے نبوت کے مسئلے پر جماعت احمدیہ کا تیسرا پرچہ

سامعین کرام! اجرائے نبوت کے مسئلے پر ہمارے مد مقابل نے نبوت کی نعمت کے ختم ہو جانے کے متعلق جو دلائل دیئے ہیں وہ آپ نے سماعت فرمالئے ہیں۔ ایک موٹی سی بات ہے کہ نیک اور مخیر لوگ اپنی زندگی میں بعض ایسے کام کر جاتے ہیں جو مفید عام ہوتے ہیں۔ کوئی مسجد بنواتا ہے۔ کوئی سرائے بنواتا ہے، کوئی تالاب بنواتا ہے اور کوئی سڑک بنواتا ہے۔ دنیا ایک لمبے عرصے تک ان چیزوں سے فائدہ اٹھاتی ہے۔ ان کے بانیوں کو دعائے خیر سے یاد کرتی ہے۔

حضرت رسول کریم ﷺ کے زمانے میں مخالفین آپ کو نعوذ باللہ ابتر کہتے تھے۔ اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے یہ دیا کہ اے ہمارے رسول ﷺ کے مخالفو! تم جو بات آپ کی طرف منسوب کر رہے ہو۔ وہ غلط ہے۔ بلکہ ایسا کہنے والے خود ابتر ہیں۔ کیونکہ آئندہ زمانے میں ان کا نام ونشان مٹا دیا جائے گا اور رسول کریم ﷺ کو اللہ تعالیٰ وہ عظمت دے گا کہ آپ پر درود بھیجنے والے خدام دنیا کے کونے کونے میں پھیل جائیں گے اور آپ کی امت میں لاتعداد فقہاء، صلحاء، اولیاء، اقطاب اور علماء پیدا ہوں گے۔ تا آنکہ چودھویں صدی میں چودھویں کا چاند ظاہر ہوگا جو آپ کا عاشق صادق اور بروز کامل بن کر مقام نبوت پر فائز ہوگا۔

چنانچہ اس کے مطابق حضور ﷺ کا ایک خادم اور آپ کا ایک غلام اصلاح امت کے لئے مامور ہوا اور اس نے اعلان کیا کہ میں آنحضرت ﷺ کی غلامی میں اور حضور کے انوار و فیضان سے حصہ پا کر اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس زمانے میں ظلی نبوت کے مقام پر فائز کیا گیا ہوں۔

ایک طرف تو ہمارے مد مقابل یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کو جو بلند روحانی مقام دیا گیا وہ کسی اور نبی کو آج تک نہیں مل سکا۔ دوسری طرف یہ کہتے ہیں کہ آپ کے بعد نبوت کا دروازہ ہمیشہ کے لئے بند ہو گیا اور یہ نعمت امت محمدیہ سے چھین لی گئی۔

اب ایک طرف قرآن کریم اور احادیث اور اقوال بزرگان سلف ہیں اور دوسری طرف ہمارے مد مقابل ہیں۔ لیکن ان کے کہنے سے کیا ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارادہ پورا ہو چکا اور وہ نعمت جسے ملنی تھی مل چکی۔ آج روئے زمین پر اسلام کی تبلیغ کرنے والی ایک منظم جماعت جو منہاج نبوت پر قائم ہے صرف ”احمدیہ جماعت“ ہے۔ جو آنحضرت ﷺ کی غلام اور اسلام کی خادم ہے۔

٩١

صفحہ ١٣٤

حضرت بانی سلسلہ احمدیہ فرماتے ہیں: ”مسلمانوں میں سخت نادان اور بدقسمت وہ لوگ ہیں جو...... آنحضرت ﷺ کے ابدی فیض سے ایسا اپنے تئیں محروم جانتے ہیں کہ گویا آنحضرت ﷺ نعوذ باللہ زندہ چراغ نہیں ہیں۔ بلکہ مردہ چراغ ہیں۔ جن کے ذریعے سے دوسرا چراغ روشن نہیں ہوسکتا۔ وہ اقرار رکھتے ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام نبی زندہ چراغ تھا۔ جس کی پیروی سے صدہا نبی چراغ ہوگئے۔...... مگر ہمارے سید ومولا حضرت محمد ﷺ کی پیروی کسی کو کوئی روحانی انعام عطا نہ کر سکی...... آیت خاتم النبیین کے یہ معنی ہیں کہ آپ نبیوں کے لئے مہر ٹھہرائے گئے ہیں۔ یعنی آئندہ کوئی نبوت کا کمال بجز آپ کی پیروی کی مہر کے کسی کو حاصل نہیں ہوگا۔ یہ معنی تھے جن کو الٹا کر نبوت کے آئندہ فیض سے انکار کر دیا گیا...... نبی کا کمال یہ ہے کہ وہ دوسرے شخص کو ظلی طور پر نبوت کے کمالات سے متمتع کردے اور روحانی امور میں اس کی پوری پرورش کر کے دکھلا دے...... اور ماں کی طرح حق کے طالبوں کو گود میں لے کر خداشناسی کا دودھ پلائے۔ پس اگر آنحضرت ﷺ کے پاس یہ دودھ نہیں تھا تو نعوذ باللہ آپ کی نبوت ثابت نہیں ہوسکتی۔ مگر خدا تعالیٰ نے تو قرآن شریف میں آپ کا نام سراج منیر رکھا ہے جو دوسروں کو روشن کرتا ہے اور اپنی روشنی کا اثر ڈال کر دوسروں کو اپنی مانند بنا دیتا ہے۔“

(چشمہ مسیحی ص٧١، ٧٢)

حضرات! ہم اپنے سابقہ پرچوں میں ٤٩ دلائل دے چکے ہیں۔ جو قرآن مجید، احادیث اور اقوال بزرگانِ سلف پر مشتمل ہیں۔ ہمیں افسوس ہے کہ ہمارے مد مقابل نے ہمارے ان دلائل کو توڑنے کی ذرہ بھر جرأت نہیں کی۔ نہ صرف یہی بلکہ وہ سو آیتیں بھی پیش نہیں کیں۔ بلکہ ان کا عشر عشیر بھی پیش نہیں کیا۔ جن سے بزعم خود باب نبوت کو وہ بند سمجھتے ہیں۔ وہ حوالوں کے لئے اور ان آیتوں کو پیش کرنے کے لئے ہم سے علیحدہ وقت مانگتے اور ہمیں اپنے گھر پر بلاتے ہیں۔ جیسا کہ وہ اپنے سابقہ پرچے میں بڑی بیچارگی سے کہہ چکے ہیں۔ ہم ان سے پوچھتے ہیں کہ اگر مناظرہ سے علیحدہ وقت کی ضرورت تھی اور گھر پر بلا کر ہی بات چیت کرنا مقصود تھا تو میدانِ مناظرہ میں اترنے کی جرأت کیوں کی تھی۔ مبارزت میں آنے کے بعد حریف سے یہ التجائیں کرنا کہ علیحدگی میں میری بات سنو۔ میرے گھر پر آؤ میں تمہیں نئے سے نیا داؤ بتلاؤں گا۔ اس سے خوب کھل جاتا ہے کہ میدان میں اترنے والا صرف درشنی پہلوان ہے۔ ورنہ مقابلے سے تو اس کی روح فنا ہوتی ہے۔

ہم ایک دفعہ پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ ہمارے پیش کردہ دلائل کا رد کیا جائے اور اگر

٩٢

ہمت ہے تو وہ آیتیں بھی پیش کی جائیں؟ دروازہ بند کرتی ہیں۔ ہمارے مد مقابل نے اپنے سا اپنی کتاب چشمہ معرفت میں مہر کو بند کر دیتے ہیں۔ تاکہ سامعین ہمارے مد مقا حضرت مرزا صاحب فرماتے ہیں: ”وہ لو ہے۔ وہ سخت غلطی پر ہیں۔...... مکالمات الہ قرآن شریف اور اتباع آنحضرت ﷺ ہمارے مقابل نے اپنے گز مرزا صاحب نے اپنے تئیں آخری نور آ بارے میں ہم ایک حوالہ کشتی نوح سے مرزا صاحب فرماتے ہیں: ”ہم جب انصا اعلیٰ درجہ کا جوانمرد نبی اور زندہ نبی اور خدا یعنی وہی نبیوں کا سردار، رسولوں کا فخر، تا ہے۔ جس کے زیر سایہ دس دن چلنے سے و سکتی تھی۔“ پھر فرمایا: ”ہمارا ایمان ہے کہ آنحضرت ﷺ وحی پا سکتا ہو۔ بلکہ قیام حاصل کرنے کے لئے قیامت تک درواز ہوگی۔ مگر نبوت شریعت والی یا نبوت مستقلہ القیمۃ“ اسی طرح آپ فرماتے ہیں: پیروی نہ کرتا تو اگر دنیا کے تمام پہاڑوں کے مکالمہ مخاطبہ ہرگز نہ پاتا۔ کیونکہ اب بجز محمد ﷺ نہیں آ سکتا اور بغیر شریعت کے نبی ہو سکتا ہے

صفحہ ١٣٥

ہمت ہے تو وہ آیتیں بھی پیش کی جائیں جو آپ کے خیال میں آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت کا دروازہ بند کرتی ہیں۔

ہمارے مد مقابل نے اپنے سابقہ پرچے میں تحریر کیا ہے کہ حضرت مرزا صاحب نے اپنی کتاب چشمہ معرفت میں مہر کو بند کرنے کے معنوں میں استعمال کیا ہے۔ ہم وہ حوالہ درج کر دیتے ہیں۔ تاکہ سامعین ہمارے مد مقابل کی امانت و دیانت اور خوش فہمی کی داد دے سکیں۔ حضرت مرزا صاحب فرماتے ہیں: ”وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ وحی الہی پر آئندہ کے لئے مہر لگ گئی ہے۔ وہ سخت غلطی پر ہیں...... مکالمات الہیہ کا دروازہ کھلا ہے اور وہ بھی خود بخود نہیں بلکہ محض پیروی قرآن شریف اور اتباع آنحضرت ﷺ سے حاصل ہوتے ہیں۔“

(چشمہ معرفت ص٧٢)

ہمارے مقابل نے اپنے گزشتہ پرچے میں اس بات پر بار بار زور دیا ہے کہ حضرت مرزا صاحب نے اپنے تئیں آخری نور آخری مجدد اور آخری خلیفہ وغیرہ تحریر فرمایا ہے۔ اس کے بارے میں ہم ایک حوالہ کشتی نوح سے پیش کر چکے ہیں۔ ایک اور حوالہ ملاحظہ ہو۔ حضرت مرزا صاحب فرماتے ہیں: ”ہم جب انصاف کی نظر سے دیکھتے ہیں تو تمام سلسلہ نبوت میں سے اعلیٰ درجہ کا جوانمرد نبی اور زندہ نبی اور خدا کا اعلیٰ درجے کا پیارا نبی صرف ایک مرد کو جانتے ہیں۔ یعنی وہی نبیوں کا سردار، رسولوں کا فخر، تمام مرسلوں کا سرتاج، جس کا نام محمد مصطفےٰ احمد مجتبےٰ ﷺ ہے۔ جس کے زیر سایہ دس دن چلنے سے وہ روشنی ملتی ہے جو پہلے اس سے ہزاروں برس تک نہیں مل سکتی تھی۔“

(سراج منیر ص٨٠)

پھر فرمایا: ”ہمارا ایمان ہے کہ آخری کتاب اور آخری شریعت قرآن مجید ہے اور بجز واسطہ متابعت آنحضرت ﷺ کے کوئی وحی نہیں پا سکتا۔ بلکہ قیامت تک یہ دروازہ بند ہے اور متابعت نبوی سے نعمت وحی حاصل کرنے کے لئے قیامت تک دروازے کھلے ہیں۔ وہ وحی جو اتباع کا نتیجہ ہے کبھی منقطع نہ ہوگی۔ مگر نبوت شریعت والی یا نبوت مستقلہ منقطع ہو چکی ہے۔ ولا سبیل الیھا الی یوم القیمۃ“

(ریویو بر مباحثہ بٹالوی و چکڑالوی ص٦)

اسی طرح آپ فرماتے ہیں: ”اگر میں آنحضرت ﷺ کی امت نہ ہوتا اور آپ کی پیروی نہ کرتا تو اگر دنیا کے تمام پہاڑوں کے برابر میرے اعمال ہوتے تو پھر بھی میں کبھی یہ شرف مکالمہ مخاطبہ ہرگز نہ پاتا۔ کیونکہ اب بجز محمدی نبوت کے سب نبوتیں بند ہیں۔ شریعت والا نبی کوئی نہیں آسکتا اور بغیر شریعت کے نبی ہو سکتا ہے مگر وہی جو پہلے امتی ہو۔“

(تجلیات الہیہ ص٢٥)

٩٣

صفحہ ١٣٦

اسی طرح حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کا ایک الہام ہے: ”كل بركة من محمد ﷺ فتبارك من علم وتعلم“ اس کے معنی آپ نے یہ لکھے ہیں کہ: ”تمام برکت محمدﷺ سے ہے۔ پس بہت برکتوں والا ہے جس نے اس بندے کو تعلیم دی اور بہت برکتوں والا ہے جس نے تعلیم پائی۔“

(تذکرہ ص ٦٤٧)

اس کے نیچے حاشیہ میں یہ الفاظ تشریحاً درج ہیں کہ: ”آپ کی پیروی کمالات نبوت بخشتی ہے اور آپ کی توجہ روحانی نبی تراش ہے اور یہ قوت قدسیہ کسی اور نبی کو نہیں ملی۔“

(حقیقت الوحی ص ٩٧، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٠)

ان تمام عبارتوں سے ظاہر ہے کہ حضرت مرزا صاحب اپنی تمام خوبیاں اور اپنے تمام کمالات حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ سے تحصیل کردہ قرار دیتے ہیں۔ چنانچہ حضور فرماتے ہیں۔

اس نور پر فدا ہوں اس کا ہی میں ہوا ہوں
وہ ہے میں چیز کیا ہوں بس فیصلہ یہی ہے

(درثمین ص ١٠)

ہمارے مد مقابل نے ہماری پیش کردہ آیت ”ومن يطع الله والرسول“ پر کوئی جرح نہیں کی۔ البتہ ہم سے دریافت کیا ہے کہ حضرت رسول کریم ﷺ کی اطاعت گزار اس دنیا میں نبیوں، صدیقوں، شہیدوں اور صالحین کے ساتھ ہوں گے یا قیامت کو؟ سو واضح رہے کہ ہم اسی آیت سے یہ استدلال کر رہے ہیں کہ ایسے لوگ علیٰ قدر مراتب نبی، صدیق، شہید اور صالح بن کر ان چاروں گروہوں میں شامل ہوں گے۔ اس دنیا میں بھی اور اگلے جہان میں بھی۔ جیسا کہ قرآن مجید کی ایک اور آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”الا الذين تابوا واصلحوا واعتصموا بالله واخلصوا دينهم لله فاولئك مع المؤمنين (نساء: ١٤٦)“

کہ جو لوگ توبہ کر لیں اپنی اصلاح کر لیں اور اللہ تعالیٰ کے دامن کو مضبوطی سے تھام لیں اور اپنا دین اس کے لئے خالص کر لیں۔ ”فاولئك مع المؤمنين“ سو ایسے لوگ مومنوں میں شامل ہوں گے۔ پس یہ لوگ اس دنیا میں بھی مومنوں میں شامل ہوں گے اور اگلے جہان میں بھی۔ پس اسی طرح آنحضرت ﷺ کی اتباع سے روحانی مراتب پانے والے ان مراتب سے اس دنیا میں بھی متمتع ہوں گے اور اگلے جہان میں بھی۔

آپ ہمارا پرچہ تو پڑھتے نہیں۔ چنانچہ یہ بات آپ نے خود ہی لکھی ہے اور جواب دینا

٩٤

صفحہ ١٣٧

شروع کر دیتے ہیں۔ چنانچہ آپ لکھتے ہیں کہ خاتم المحدثین، خاتم الشعراء اور خاتم الفقہاء وغیرہ کے بعد محدث، شاعر اور فقیہ اس لئے ہو سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان چیزوں کو بند نہیں کیا۔ مگر نبوت کو بند کر دیا ہے۔

یہی تو سوال ہے کہ ہر جگہ آپ خاتم کے معنی سب سے اعلیٰ کرتے ہیں۔ لیکن جب خاتم النبیین کے معنوں کا وقت آتا ہے تو آپ پٹڑی سے اکھڑ جاتے ہیں۔ آپ نے یہ بھی لکھا ہے کہ جب کلمہ ختم ، دین ختم اور قرآن ختم ، تو نبی کیسا؟ ہم آپ کو یقین دلاتے ہیں کہ کلمہ لانے والا، دین لانے والا اور کتاب لانے والا نبی اب کوئی نہیں آئے گا۔ اس قسم کی نبوت کا سلسلہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ نے ہمیشہ کے لئے بند کر دیا۔ اب نہ کوئی نیا کلمہ ہوگا نہ نیا دین اور نہ نئی کتاب۔ البتہ آپ کی غلامی میں نبوت کا دروازہ کھلا ہے اور یہی چیز ہمارے مد مقابل کو ناگوار گزرتی ہے۔ ورنہ وہ محمد رسول اللہ ﷺ کے سر سے تاج رسالت اتار کر ابن مریم کے سر پر رکھنے کو تو ہمہ تن تیار ہیں۔ آپ نے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ سراج منیر ہیں۔ گویا سورج ہیں تو اس سورج کے باوجود کوئی پہلا نبی کیسے آسکتا ہے؟ جو جواب آپ کا ہوگا وہی ہمارا ہوگا۔

آپ نے مشکوٰۃ کو خلاف شرائط قرار دیا ہے۔ کاش! آپ نے شرائط کا مطالعہ کیا ہوتا۔ وہاں تو خاص طور پر مشکوٰۃ کو پیش کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ آپ نے تجرید بخاری کو بھی خلاف شرائط کہا ہے۔ حالانکہ یہ تو بخاری کا حوالہ ہے۔ ضرورت ہو تو (بخاری ج ٣ ص ١٢٥) پڑھ لیجئے۔ تجرید بخاری کا حوالہ تو آپ کی سہولت کے لئے دیا گیا تھا۔ مجمع البحار، فتوحات مکیہ اور موضوعات کبیر کا پیش کرنا عین شرائط کے مطابق ہے۔ کیونکہ شرائط میں لکھا ہے کہ اقوال بزرگان پیش کر سکتے ہیں تو اب اگر ان بزرگوں کے اقوال پیش کر سکتے ہیں تو اب اگر ان بزرگوں کے اقوال پیش کرنے کے لئے ان کی کتابیں پیش نہیں کی جائیں گی تو کیا ہوائی حوالے آپ کو مطلوب ہیں۔

آپ نے لکھا ہے کہ: ”اھدنا الصراط المستقیم“ کی دعا تو عورتیں وغیرہ بھی پڑھتی ہیں تو اگر یہ دعا قبول ہوگی تو کیا عورتیں بھی نبی بن جائیں گی؟ ہمیں اس عقل و دانش پر حیرت آتی ہے۔ کیا آپ اتنا بھی نہیں جانتے کہ شادی شدہ جوڑا اولاد کے لئے دعا کرتا ہے اور آپ نے بھی بارہا اللہ تعالیٰ سے اپنے لئے دعا مانگی ہوگی کہ اے خدا مجھے بچہ دے تو کیا آپ کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ آپ کی بیوی کے بجائے خود آپ کے پیٹ سے بچہ پیدا ہو جائے؟

بات یہ ہے کہ دعا کی قبولیت وہیں ظاہر ہوتی ہے جو اس کا مورد اور محل ہو۔ آپ نے

٩٥

PDF 139

ہماری پیش کردہ آیت ”میثاق النبیین“ کا کوئی جواب نہیں دیا۔ صرف یہ کہہ دیا کہ یہ رسول کریم ﷺ کے لئے ہے۔ اس کے ساتھ ہم نے جو سورہ احزاب رکوع اوّل کی آیت پیش کی تھی کہ یہی نبیوں والا وعدہ اللہ تعالیٰ نے رسول کریم ﷺ سے بھی لیا تھا۔ اگر آپ کے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں تھا تو آپ سے یہ وعدہ کیوں لیا گیا تھا؟ آپ نے اس کا بھی کوئی جواب نہیں دیا۔

اسی طرح ہمارے پیش کردہ دوسرے (٢٩) دلائل کا قرضہ آپ کے ذمہ جوں کا توں باقی ہے۔ ہماری پیش کردہ آیت ”یا ایھا الرسل کلوا من الطیبات (مؤمنون)“ میں آپ کو کھانا تو نظر آ گیا۔ مگر ”رسل“ کا لفظ نظر نہیں آیا جو جمع کا صیغہ ہے۔ قرآن کریم محمد رسول اللہ ﷺ کے مبعوث ہونے کے بعد فرماتا ہے۔ اے رسولو! پاک چیزیں کھاؤ۔ یہ کن رسولوں سے کہا گیا ہے؟ ظاہر ہے کہ قیامت تک آنے والے تمام رسولوں کو یہ حکم دیا گیا ہے۔ ورنہ یہ حکم بے محل ٹھہرتا ہے۔

قیصر اور کسریٰ کا خاندان ختم ہو جانے کے بعد نہ کوئی قیصر ہوا نہ کسریٰ۔ یہ آپ نے دافع الوقتی سے کام لیا ہے۔ حضرت رسول اللہ ﷺ نے جس قیصر اور کسریٰ کے بارے میں کہا تھا کہ ان کے مرنے کے بعد کوئی قیصر اور کسریٰ نہیں ہوگا۔ ان کے بعد کئی قیصر اور کسریٰ ہوئے۔ لہٰذا حدیث کے معنی یہ ہوئے کہ ان کی شان کے قیصر اور کسریٰ نہیں ہوں گے۔ ”لا نبی بعدی“ کے معنی بھی یہ ہوں گے کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد آپ کی شان کا کوئی نبی نہ ہوگا۔

ہم نے پیش کیا تھا کہ حضرت یوسف علیہ السلام، حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعد بھی ان کے ماننے والوں نے یہ غلط عقیدہ گھڑ لیا تھا کہ ان رسولوں کے بعد اور کوئی نبی نہ ہوگا۔ یہی بات آپ کہہ رہے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد نبی نہیں ہوگا۔ آپ میں اور ان لوگوں میں کیا فرق ہے۔

آپ نے حضرت مرزا صاحب کی ایک اردو کتاب سے خاتم الولد کا جملہ پیش کیا ہے۔ جو آپ کو مفید نہیں ہو سکا۔ کیونکہ ایک ہی لفظ جب دو مختلف زبانوں میں استعمال ہو تو اس کے معنی بدل جاتے ہیں۔ جیسا کہ ”مکر“ کا لفظ ہے۔ قرآن مجید میں یہ حسن تدبیر کے معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ لیکن اردو میں دھوکہ اور فریب کے معنی دیتا ہے۔

آپ بار بار حدیث نبوی ”لو عاش“ کے مفروضہ کا ذکر کرتے ہیں۔ حالانکہ ”لو“ کی شرط محال مگر اس کی جزا ممکن ہوتی ہے۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ہے۔ اگر زمین و آسمان میں

٩٦

زیادہ خدا نہیں ہو سکتے ورنہ زمین و آسمان کی ہے۔ مگر اس کی عبادت ناممکن نہیں۔ ٹھیک اسی ابراہیم کا زندہ رہنا ناممکن ہو گیا۔ ورنہ ان کا نبی ”لیس بینی وبینہ نبی“ اگر آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی ہونے والا آنے والے مسیح کے درمیان کوئی نبی نہیں۔

حضرات! ہم نے اپنے مد مقابل ہمیں شکایت ہے کہ وہ ہمارے پیش کردہ انتیس ان میں ہمت ہے تو ہمارے دلائل کو توڑیں اور تھیلے میں چھپا کر رکھی ہوئی ہیں۔ جن سے ان اپنے ساتھ ہی گھر نہ لے جائیں۔ آج کل یہ نہیں بتاتے۔ لہٰذا ان کا فرض ہے کہ وہ ان دلا

ختم نبوت پر آخری پرچہ

والصلوٰۃ والسلام علیٰ خاتم الا اے اللہ! تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ نہیں دیا۔ چونکہ یہ ہمارا آخری پرچہ ہے۔ اس شرائط مناظرہ کے مطابق کسی عقلمند کے نزدیک ایسا کریں گے۔ کیونکہ ان کو تو کاغذ بھرنا ہے سے شروع کر دیا کہ مرزا قادیانی نے کہا ہے سے ملا ہے۔ جی ہاں! میں تسلیم کرتا ہوں کہ مر

صفحہ ١٣٩

زیادہ خدا نہیں ہو سکتے ورنہ زمین و آسمان کی تباہی ناممکن نہیں۔ اسی طرح خدا کا بیٹا ہونا ناممکن ہے۔ مگر اس کی عبادت ناممکن نہیں۔ ٹھیک اسی طرح حضرت رسول کریم ﷺ کے صاحبزادے ابراہیم کا زندہ رہنا ناممکن ہو گیا۔ ورنہ ان کا نبی بن جانا عین ممکن تھا۔

"لیس بینی و بینه نبی" یہ حدیث ہماری مؤید ہے۔ ہمارا استدلال یہ ہے کہ اگر آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی ہونے والا نہیں تھا تو یہ کہنے کی ضرورت کیا تھی کہ میرے اور آنے والے مسیح کے درمیان کوئی نبی نہیں۔

حضرات! ہم نے اپنے مد مقابل کی پیش کردہ تمام باتوں کا جواب دے دیا ہے۔ لیکن ہمیں شکایت ہے کہ وہ ہمارے پیش کردہ انتیس دلائل کے جواب سے بالکل لاجواب ہیں۔ اگر ان میں ہمت ہے تو ہمارے دلائل کو توڑیں اور ہم انہیں چیلنج کرتے ہیں کہ جو سو آیتیں انہوں نے تھیلے میں چھپا کر رکھی ہوئی ہیں۔ جن سے ان کے خیال میں نبوت کا دروازہ بند ثابت ہوتا ہے وہ اپنے ساتھ ہی گھر نہ لے جائیں۔ آج کل کے حکیموں اور ویدوں کی طرح جو صدری نسخے کسی کو نہیں بتاتے۔ لہٰذا ان کا فرض ہے کہ وہ ان دلائل کو میدان میں پیش کریں۔

(شرح دستخط) محمد سلیم عفی عنہ

٢٤؍ نومبر ١٩٦٣ء

(مولانا محمد سلیم مناظر جماعت احمدیہ)

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

ختم نبوت پر آخری پرچہ از اہل سنت والجماعت یادگیر

والصلوۃ والسلام علیٰ خاتم النبیین وعلیٰ آلہ واصحابہ اجمعین!

اے اللہ! تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ مولوی سلیم صاحب نے ہمارے اکثر دلائل کا جواب نہیں دیا۔ چونکہ یہ ہمارا آخری پرچہ ہے۔ اس کے بعد اگر وہ ہمارے پہلے پرچہ کا جواب دیں گے تو شرائط مناظرہ کے مطابق کسی عقلمند کے نزدیک قابل قبول نہ ہوگا۔ مگر میری پیش گوئی ہے کہ وہ ضرور ایسا کریں گے۔ کیونکہ ان کو تو کاغذ بھرنا ہے۔ خواہ مرزا قادیانی کے کلام سے ہی ہو۔ چنانچہ ابھی سے شروع کر دیا کہ مرزا قادیانی نے کہا ہے کہ جو کچھ مجھے فیض ملا ہے وہ حضور ﷺ ہی کے دربار سے ملا ہے۔ جی ہاں! میں تسلیم کرتا ہوں کہ مرزا قادیانی نے بیشمار جگہ اس قسم کی باتیں کی ہیں۔ جن

٩٧

صفحہ ١٤٠

کا آپ نے حوالہ دیا ہے۔ مگر مرزا قادیانی کی یہ عادت قدیمہ ہے کہ ابھی تعریف، ابھی توہین، کبھی کچھ اور ابھی کچھ جو کچھ حوالے مرزا قادیانی کے آخری نبی ہونے کے میں نے مرزا قادیانی کی کتابوں سے دیا اس پر آپ خاموش ہو گئے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ واقعی مرزا قادیانی نے ”خاتم النبیین “ ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ یہ تو ان کی عادت ہے کہ ہر جگہ اختلاف اور تضاد سے کام لیتے ہیں۔ اسی لئے آپ بار بار ہم سے حوالہ لیتے ہیں۔ مگر خاموش۔ آپ نے اپنے دوسرے پرچے میں یہ لکھا ہے کہ حضور ﷺ کی غلامی سے غیر تشریعی نبوت مل سکتی ہے۔ مگر مرزا قادیانی نے (اربعین نمبر ٤ ص ٦، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥) پر اپنی نبوت کو تشریعی قرار دیا ہے۔ بطور اتمام حجت کے میں صرف اسی ایک حوالہ پر آپ کو ”اسکرو“ کرتا ہوں۔ ہمت ہے تو اس اربعین کے تضاد کو ہٹاؤ۔ مرزا قادیانی نے یہاں سے شروع کیا کہ: ”ماسوا اس کے“ یہیں سے صرف دس سطر اربعین کا آپ اپنے قلم سے لکھ دیں۔ اردو عبارت ہے۔ یاد گیر کے بھولے بھالے بھائی اور طباعت کے بعد دنیا کے مسلمان خود سمجھ جائیں گے۔ آپ نے دوسرے پرچے میں مسلم کی ایک حدیث کا حوالہ دیا ہے۔ مگر (توضیح المرام ص ١٩، خزائن ج ٣ ص ٦٠) میں مرزا قادیانی اس کو محدث تک پہنچاتے ہیں۔ آگے نہیں اور ایک حوالہ سنئے۔ ”قرآن کو ماننے والا خاتم النبیین کے بعد نبوت کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔“ (انجام آتھم ص ٢٧، خزائن ج ١١ ص ٢٧) آپ نے چشمہ معرفت کے ”مہر لگ گئی“ پر اعتراض کیا ہے۔ خدا کا شکر ہے کہ ہمارے صدر محترم ریڈی صاحب اردو داں ہیں۔ چشمہ معرفت کی ”مہر لگ گئی“ کو خوب سمجھ سکتے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ یہاں مرزا قادیانی نے ”مہر لگ گئی“ کس معنی میں بولا ہے۔ بند ہو گئی یا کھل گئی؟ خاتم کے معنی مہر بالکل ٹھیک قرآن نے مہر کو بند کرنے کے معنی میں لیا ہے۔ ”نختم على أفواههم (یسین:٦٥)“ منہ پر ہم نے مہر لگا دی۔ یعنی اندر کی بات باہر نہیں آسکتی۔ ”ختم الله على قلوبهم (بقره:٦)“ اللہ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی۔ یعنی باہر کی ہدایت اندر نہیں جاسکتی۔ یہ تو ایک معمولی آدمی بھی سمجھتا ہے کہ ڈاک کا تھیلا بند کر کے جب مہر لگا دی جاتی ہے تو جس طرح اس کو توڑ کر کوئی چیز نکالے تو مجرم۔ اسی طرح اس کو توڑ کر اپنی طرف سے اس تھیلے میں ہزار روپیہ ڈال دو تب بھی مجرم۔ نہ نکالو نہ ڈالو۔ صرف توڑ دو تب بھی مجرم۔ اب معلوم ہوا آپ کو، جو مہر ہر جگہ کام کرتی ہے۔ اسی مہر نے نبوت کو سرکار دو عالم ﷺ پر ختم کر دیا۔ آپ نے پھر تذکرہ کا حوالہ دے دیا۔ حالانکہ وہ خود مرزا قادیانی کی کتاب ہے۔ بار بار کہنے کے باوجود کہ مدعی کی کتاب مدعی کے لئے دلیل نہیں بن سکتی۔ مگر آپ ہیں کہ ڈٹے ہوئے ہیں۔ آپ ٩٨

صفحہ ١٤١

نے "الا الذین تابوا (آل عمران:٨٩)" والی آیت ایک نئی دلیل دی ہے۔ مگر آپ خود دیکھ رہے ہیں کہ اس میں "مع المؤمنین" ہے۔ دعویٰ یہ کہ نیک عمل سے نبوت ملتی ہے۔ دلیل یہ دیتے ہیں کہ وہ قیامت کے دن مؤمنوں کے ساتھ ہوں گے۔ میں قربان جاؤں میرے سرکارﷺ کے، کہ مولوی سلیم نے "مع النبیین" کی دلیل سے عاجز آکر "مع المؤمنین" کا حوالہ دیا۔ گویا اقرار کر لیا کہ توبہ کرنے والے اور نیک لوگ مخلص لوگ مؤمن ہوں گے۔ مؤمنین کے ساتھ ہوں گے۔ جو معنی بھی آپ کر لیں ہمارا مطلب حاصل، کہ یہ لوگ جنگ میں مؤمن کے ساتھ رہیں گے۔ یہ سب ذکر قیامت کے بعد کا ہے۔ جنت کا ہے۔ دنیا کا نہیں۔ میں نے اس سے قبل بڑی وضاحت سے لکھ دیا تھا کہ تمہارا دعویٰ تو یہ ہے کہ دنیا میں نبوت جاری اور دلیل یہ دیتے ہو کہ قیامت میں وہ نبیوں کے ساتھ ہوں گے۔ دنیا کا کوئی عقلمند اس دعویٰ کو اس دلیل سے تسلیم کر لے گا؟ شکر ہے کہ آپ نے اقرار کر لیا کہ قرآن اور کلمہ اور دین لانے والا اور کوئی نہ ہوگا۔ لہٰذا آپ نے اپنے پہلے پرچہ میں جتنی آیات قرآنی اور احادیث کو اپنے مطلب کے مطابق سمجھ کر لکھ ڈالا تھا۔ اس پرچہ میں خود ہی اس پر قلم تنسیخ پھیر دیا۔ مگر ذرا سنو تو سہی کہ خود مرزا قادیانی اربعین میں تو شریعت والا نبی اپنے آپ کو کہتے ہیں۔ بڑی مشکل ہے آپ کے لئے کہ ادھر نکلے تو ادھر پھنسے۔ آپ نے اسلامی تاریخ کا شاید مطالعہ کم کیا ہے۔ ورنہ قیصر و کسریٰ کی سلطنت کی تباہی و بربادی کب ہوئی۔ وہ قیصر کب ہلاک ہوا اس کی حکومت کب گئی معلوم ہو جاتا۔ سنو ایک فارسی کا شعر؎

پردہ داری می کند بر قصر قیصر عنکبوت
بوم نوبت می زند بر گنبد افراسیاب

مرزا قادیانی کی اردو کتاب میں "خاتم الولد" کا میں نے حوالہ اس لئے دیا تھا کہ دنیا کے اردو داں سمجھ جائیں کہ جب "خاتم الولد" کے بعد "ولد" نہیں تو "خاتم النبیین" کے بعد نبی کیسا؟ دوسرا حوالہ "خاتم الاولاد" کا بھی تو دیا اس کو تو آپ نے منگا کر دیکھ بھی لیا ہے۔ وہ اردو ہے کہ عربی "الولد" اردو لفظ ہے۔ یہ آج ہی معلوم ہوا اور اولاد بھی اردو ہی ہے؟ افسوس میرے پیارے دوست آج تم کو کیا ہو گیا ہے؟ اس قسم کی باتیں کیوں کہتے ہو؟ کتاب طبع ہونے کے بعد دنیا والے کیا کہیں گے؟

٩٩

صفحہ ١٤٢

ایک مقولہ ہے۔ قرآن کی آیت کا ترجمہ ہے۔ اگر ”اگر“ ابراہیم سے امکان نبوت نکلتا ہے۔ اگر خدا کے بیٹے سے تثلیث واقعیت نکلتا ہے تو کیا آپ یہاں عیسائیوں کی تائید میں دلیل دینے آئے ہیں یا مرزا قادیانی کو نبی بنانے؟ دوست ذرا سوچ سمجھ کر لکھایا کرو۔ یہ ہمیشہ ہمیشہ باقی رہنے والی تحریر ہے۔ یہ تقریر نہیں کہ جو منہ میں آیا کہہ دیا۔ بھدرک کلکتہ میں پانچ گھنٹے ختم نبوت کا مناظرہ ہوا۔ مولانا سلیم نے جو دلائل دیئے۔ اس کا جواب مولوی اسماعیل نہیں دے سکے۔ مگر یہ تحریر خود بتا دے گی کہ مولانا سلیم نے کیا لکھایا اور مولانا اسماعیل نے کیا لکھا؟ مشکوٰۃ شریف کا حوالہ قبول ہے۔ اس میں آتا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ میرے بعد کذاب آئیں گے۔ دجال آئیں گے۔ اس لئے کہ میں آخری نبی ہوں۔ ”لا نبی بعدی“ آپ نے رب العالمین اور رحمۃ اللعالمین اور ”لا شريك له“ اور ”لا نبی بعدی“ وغیرہ جو میں نے بے شمار دلائل قرآنی دیئے تھے۔ اس کا کوئی معقول جواب تو اب تک دیا نہیں اور آئندہ دیں تو اس کا جواب میرے ذمہ نہیں۔ کیونکہ یہ میرا آخری پرچہ ہے۔

سراج منیر جب نکلتا ہے تو دن ہوتا ہے یا رات؟ چراغ کی ضرورت رات کو ہوتی ہے یا دن کو؟ خدا نے ہمارے حضور ﷺ کو سورج کہا۔ سراج، سورج، س۔ر۔ج دونوں کا مادہ ہے۔ ج۔ر۔غ نہیں ہے۔ ذرا سوچ کر جواب دیا ہوتا۔ سراج کا لفظ قرآن میں جہاں جہاں سراج آیا۔ وہاں سورج ہی کے معنی ہے۔ چراغ کا نہیں۔ ”جعل الشمس سراجا (نوح:١٦)“ ”وجعلنا سراجاً وهاجا (عم:١٣)“ دیکھا آپ نے سراج سورج کو کہتے ہیں۔ چراغ کو نہیں۔ چراغ رات کو جلتا ہے اور دن کو تمام روشنیاں بے کار ہیں۔ کیوں لوگوں کو ادھر ادھر کی اردو فارسی لغت دکھا کر دھوکہ دیتے ہو۔ ابن کثیر اور شہادت القرآن کے دو حوالے پر آپ کی جماعت نے اعتراض کیا ہے۔ اے اللہ تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ میرے فریق مخالف نے میرے ان گنت حوالوں کو صحیح تسلیم کر لیا۔ صرف دو پر اعتراض کیا۔ ایک میں صفحہ غلط لکھ گیا تھا اور ایک پر مرزا قادیانی کی کتاب سے دوسری کتاب کا نام لکھ دیا تھا۔ مگر انہوں نے یہ نہ سوچا کہ یہ دونوں ہی کتابیں مرزا قادیانی کی ہیں۔ کیا اپنے نبی کی کتابوں میں سے شہادت القرآن کو شمار نہیں کیا۔ ابن کثیر مستند تفسیر ہے۔ مگر جن حوالوں کو آپ نے خود دیکھا حوالہ منگا کر ہم سے دیکھا تو کیا یہ حوالے پہلے آپ کی نظر میں نہیں آئے تھے۔ آپ نے مرزا قادیانی کی کتابوں کو دیکھ کر ١٠٠

صفحہ ١٤٢

آیت کا ترجمہ ہے۔ اگر ”ذکر“ ابراہیم سے امکان نبوت نکلتا نکلتا ہے تو کیا آپ یہاں عیسائیوں کی تائید میں دلیل لاؤ دوست ذرا سوچ سمجھ کر لکھا یا کرو۔ یہ ہمیشہ ہمیشہ باقی نہیں آیا کہہ دیا۔ بھدرک کلکتہ میں پانچ گھنٹے ختم نبوت کا تھا۔ اس کا جواب مولوی اسماعیل نہیں دے سکے۔ مگر یہ کیا اور مولانا اسماعیل نے کیا لکھا؟ مشکوۃ شریف کا حوالہ نے فرمایا کہ میرے بعد کذاب آئیں گے۔ دجال اور ”لا نبی بعدی“ آپ نے رب العالمین اور نبی بعدی“ وغیرہ جو میں نے بے شمار دلائل قرآنی جواب دیا نہیں اور آئندہ دیں تو اس کا جواب میرے ذمہ

ہے یا رات؟ چراغ کی ضرورت رات کو ہوتی ہے یا ہوتا۔ سراج ، سورج ، س ۔ ر ۔ ج دونوں کا مادہ ہے۔ ہوتا۔ سراج کا لفظ قرآن میں جہاں جہاں سراج ہے۔ ١٦)“ ١٤)“ دیکھا آپ نے سراج سورج کو کہتے دن کو تمام روشنیاں بے کار ہیں۔ کیوں لوگوں کو تھے۔ ابن کثیر اور شہادت القرآن کے دوحوالے للہ تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ میرے فریق مخالف نے دو پر اعتراض کیا۔ ایک میں صفحہ غلط لکھ گیا تھا ان کا نام لکھ دیا تھا۔ مگر انہوں نے یہ تو سوچ کر نبی کی کتاب میں سے شہادت القرآن کو شمار آپ نے خود دیکھا حوالہ منگا کر ہم سے دیکھا کہ آپ نے مرزا قادیانی کی کتابوں کو دیکھ کر

١٤٣

ان کا مذہب قبول کیا تھا یا نہ دیکھ کر۔ خیر اگر نہیں دیکھ کر کیا تھا تو ان دو تین حوالوں کو سر دست ملتوی رکھ کر باقی جو حوالے مرزا قادیانی کے میں نے دیئے ہیں۔ ان تمام کو تو آپ نے آٹو میٹک ہی صحیح تسلیم کر لیا۔ اب آپ ہی کہیں کہ مرزا قادیانی اپنی کتابوں کے حوالے سے آخری نبی آپ کے لئے ہوئے یا نہیں۔

مرزا قادیانی کی ایک آخری تحریر پیش کرتا ہوں۔ ”تمام مسلمانوں کی خدمت میں گزارش ہے کہ اس عاجز کے رسالے فتح اسلام، توضیح المرام، ازالہ اوہام میں جس قدر ایسے الفاظ موجود ہیں کہ محدث ایک معنی میں نبی ہوتا ہے یا یہ کہ محدثیت جزوی نبوت ہے یا یہ کہ محدثیت نبوت ناقصہ ہے۔ یہ تمام الفاظ حقیقی معنوں میں محمول نہیں ہیں۔ بلکہ صرف سادگی سے ان کے لغوی معنوں کی رو سے بیان کئے گئے ہیں۔ ورنہ حاشا وکلا (قسم سخت۔ اسماعیل) مجھے نبوت حقیقی کا دعویٰ نہیں ہے۔ بلکہ جیسا کہ میں کتاب (ازالہ اوہام ص ٤٢١، خزائن ج ٣ ص ٥١١) میں لکھ چکا ہوں۔ میرا اس بات پر ایمان ہے کہ ہمارے سید ومولا محمد مصطفےٰ ﷺ خاتم الانبیاء ہیں۔ سو میں تمام مسلمان بھائیوں کی خدمت میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ اگر وہ ان لفظوں سے ناراض ہیں اور ان کے دلوں پر یہ الفاظ شاق ہیں تو وہ ان الفاظ کو ترمیم شدہ تصور فرما کر بجائے اس کے محدث کا لفظ میری طرف سے سمجھ لیں۔“

(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٣١٣)

اے اللہ کے بندو! اللہ کے لئے سوچو کہ مرزا قادیانی نے کتنا کھلا فیصلہ فرما دیا کہ میں جہاں بھی نبی کہا ہوں وہاں محدث سمجھو۔ پھر تضاد بیانی بھی ملاحظہ ہو۔ یعنی میں نے آخری نور خاتم الولد وغیرہ سے ثابت کر دیا ہے کہ مرزا ادھر محدث بنتے ہیں۔ ادھر آخری نبی، ان دونوں میں سے کسی ایک کو مانو۔ اجرائے نبوت کو نہیں۔

(شرح دستخط) احقر محمد اسماعیل عفی عنہ ٢٤ نومبر ١٩٦٣ء

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مسئلہ اجرائے نبوت پر جماعت احمدیہ کا چوتھا پرچہ

یہ ایک سنت الٰہی اور قانون قدرت ہے کہ جب زمین کے سوتے خشک ہونے لگتے ہیں تو دنیا ایک بے چینی اور اضطراب کے ساتھ آسمان کی طرف نگاہ اٹھاتی ہے۔ آخر جب باران

١٠١

صفحہ ١٤٤

رحمت نازل ہوتی ہے تو زمین میں روئیدگی کی بے پناہ قوت پیدا ہو جاتی ہے۔ اسی کے مطابق نظام روحانی بھی اپنے دائرے کے اندر کام کر رہا ہے۔ چنانچہ جب زمینی لوگوں کے اندر ہر قسم کے بگاڑ پیدا ہو جاتے ہیں اور وہ آسمانی تعلیمات سے سخت منحرف ہونے لگتے ہیں تو خدا تعالیٰ کمال رحمت سے اپنے کسی فرستادہ کو بھیجتا ہے جو گم گشتوں کے لئے شمع ہدایت کا کام دیتا ہے۔

یہ دونوں قسم کی سنت الٰہی ازل سے جاری ہے اور ابد تک جاری رہے گی۔ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہمیشہ روحانی اور جسمانی خشک سالی کے ازالہ کا انتظام کیا گیا ہے اور یہ انتظام ہر قوم میں ہوتا رہا ہے اور دنیا کی ہر قوم میں نبی برپا ہوئے ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’وان من امۃ الا خلا فیہا نذیر

(فاطر)‘‘

اس طرح قریباً ایک لاکھ چوبیس ہزار نبیوں کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے اپنی روحانی رحمت کی بارشیں جن سے ہر وقت تشنہ لب دنیا سیراب ہوتی رہی۔ پس نبوت خدا تعالیٰ کی ایک بڑی رحمت ہے۔ بدقسمت ہے وہ انسان جو اس نعمت عظمیٰ سے منہ پھیرتا اور اپنے گھر کے دروازے بند کر کے اپنے لئے تاریکی پیدا کر لیتا ہے۔

انہی روحانی بارشوں میں سے آخری بارش حضرت محمد عربی ﷺ کا سلسلہ ہے اور ہمارا عقیدہ ہے کہ جب کبھی دنیا میں بگاڑ حد سے بڑھ جائے گا اسی محمدی بارش کے پانی سے سیراب کرنے والے برپا ہوتے رہیں گے۔ آج کل مسلمانوں کی کیا حالت ہے؟ اس کے لئے مولانا حالی کا مرثیہ اور ڈاکٹر اقبال کا شکوہ اور جواب شکوہ دیکھ لینا کافی ہے کہ وہ ان کی حالت زار کا آئینہ دار ہے۔

اے زمین اور اے آسمان! گواہ رہنا کہ جماعت احمدیہ یہ ثابت کرنا چاہتی ہے کہ سیدنا حضرت محمد رسول اللہ ﷺ ہی سب سے افضل نبی ہیں اور حضور ﷺ کی امت میں سے ہی اس آخری زمانے میں ایک شخص امتی نبی بن کر ظاہر ہونے والا تھا۔ اس کے برعکس ہمارے مد مقابل یہ تو تسلیم کرتے ہیں کہ حضرت رسول کریم ﷺ کے بعد بھی نبی کی ضرورت ہے۔ جو امت محمدیہ کی اصلاح کر سکے۔ مگر وہ محمدی نبی نہیں ہوگا۔ بلکہ ایک گزشتہ پرانا اسرائیلی نبی آسمان سے نازل ہوگا۔

بسوخت عقل ز حیرت ایں چہ بوالعجبی است

ہمارے مد مقابل نے بار بار حضرت مرزا صاحب کو آخری نبی قرار دے کر ہمارا دل

١٠٢

صفحہ ١٤٥

دکھایا ہے۔ حالانکہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ تمام احمدیوں کو یوں خطاب فرماتے ہیں: ’’تمہارے لئے ایک ضروری تعلیم یہ ہے کہ قرآن شریف کو مہجور کی طرح نہ چھوڑو کہ تمہاری اسی میں زندگی ہے۔ جو لوگ قرآن کو عزت دیں گے وہ آسمان پر عزت پائیں گے۔ جو لوگ ایک حدیث اور ہر ایک قول پر قرآن کو مقدم رکھیں گے ان کو آسمان پر مقدم رکھا جائے گا۔ نوع انسان کے لئے روئے زمین پر اب کوئی کتاب نہیں۔ مگر قرآن اور تمام آدم زادوں کے لئے اب کوئی رسول اور شفیع نہیں۔ مگر محمد مصطفےٰ ﷺ ، سو تم کوشش کرو کہ سچی محبت اس جاہ و جلال کے نبی کے ساتھ رکھو اور اس کے غیر کو اس پر کسی نوع کی بڑائی مت دو۔ تا آسمان پر تم نجات یافتہ لکھے جاؤ۔‘‘

(کشتی نوح ص ١٣)

حضرات! ہم ایک بار پھر توجہ دلاتے ہیں کہ خدارا غور فرمائیے کہ ہمارے مد مقابل نے ہمارے پیش کردہ (٢٩) دلائل کا کیا جواب دیا۔ جو قرآن مجید، احادیث اور اقوال بزرگانِ سلف پر مشتمل ہیں۔ ہمارے مد مقابل نے مولانا محمد قاسم صاحب نانوتوی بانی مدرسہ دیوبند کے حوالے پر بڑے طمطراق سے فرمایا تھا کہ ان کی کتاب ’’تحذیر الناس‘‘ کا ص ١٠ اور ١٤ پڑھ لیجئے۔ ان کا فرض تھا کہ یہ دونوں حوالے درج کرتے۔ مگر وہ اس کی جرأت نہیں کر سکے۔ کیونکہ وہ دونوں حوالے ہماری تائید اور ان کی تردید کر رہے ہیں۔ چنانچہ مولانا محمد قاسم صاحب نانوتوی فرماتے ہیں: ’’ابوت معروفہ تو رسول اللہ ﷺ کو کسی مرد کی نسبت حاصل نہیں۔ پر ابوت معنوی آپ کی نسبت بھی حاصل ہے اور انبیاء کی نسبت بھی حاصل ہے۔ انبیاء کی نسبت تو فقط خاتم النبیین شاہد ہے۔‘‘

(تحذیر الناس ص ١٠)

یعنی حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ جو خاتم النبیین ہیں۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ آپ نبیوں کے باپ ہیں۔ پھر فرمایا: ’’اگر فرض کیجئے کہ آپ کے زمانے میں بھی اس زمین میں یا کسی اور زمین یا آسمان میں کوئی نبی ہو تو وہ بھی اسی وصف نبوت میں آپ کا محتاج ہوگا۔‘‘

(تحذیر الناس ص ١٤)

اس حوالہ میں بھی صاف مذکور ہے کہ آنحضرت ﷺ کے زمانے میں اسی زمین یا کسی اور زمین یا آسمان پر نبی کا پایا جانا ممکن ہے۔ البتہ یہ ماننا پڑے گا کہ اس کی نبوت حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے فیض کا محتاج ہے اور یہی وہ حقیقت ہے جس پر ہم اس سارے مناظرے میں زور دیتے چلے آئے ہیں۔

ہم تہہ دل سے حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی بانی مدرسہ دیوبند کی اس خدا لگتی گواہی پر ان کے شکر گزار ہیں اور اپنے مد مقابل سے بھی امید رکھتے ہیں کہ وہ اپنے اس روحانی جد امجد کی گواہی کے بعد یہ کہنا چھوڑ دیں کہ رسول کریم ﷺ کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔

١٠٣

صفحہ ١٤٦

ہمارے مد مقابل نے سراسر بے محل اور بے موقعہ یہ راگ الاپا ہے کہ آل ابراہیم سے مراد اولاد ابراہیم ہے۔ حالانکہ مفردات راغب جو قرآن مجید کی بہترین لغت ہے۔ اس میں لفظ آل کے معانی بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ: ”اذا قاموا بشرائط شريعته آله“ کہ جو لوگ کسی نبی پر ایمان لائے ہیں وہ اس کی آل کہلاتے ہیں۔ اس کے علاوہ خود قرآن مجید میں آیا ہے کہ: ”واغرقنا آل فرعون“ جس کے صاف یہ معنی ہیں کہ فرعون کے پیروؤں کو غرق کیا گیا تھا۔ گویا آل کے لفظ کے معنی متبع اور فرمانبردار کے بھی ہیں۔ لہٰذا حضرت مرزا صاحب ان معنوں کی رو سے آل ابراہیم اور آل محمد میں شامل ہیں۔

ہمارے مد مقابل نے یہ کہہ کر ہمارے درود شریف والے استدلال کو رد کرنے کی کوشش کی ہے کہ حضرت مرزا صاحب اولاد ابراہیم میں شامل نہیں۔ اس کو کہتے ہیں: ”سوال گندم جواب چنا“

ہمارا استدلال تو یہ ہے کہ درود شریف میں آل محمد یعنی امت محمدیہ کے لئے وہ برکتیں مانگی جاتی ہیں۔ جو آل ابراہیم کو ملی تھیں اور ان میں دنیوی لحاظ سے سب سے بڑی برکت بادشاہت اور دینی لحاظ سے سب سے بڑی برکت نبوت تھی۔ سو اگر نعمت نبوت کا دروازہ بند ہو گیا ہے تو درود شریف میں اس نعمت کا استثناء ہونا چاہئے تھا کہ اے خدا امت محمدیہ کو آل ابراہیم والی برکات عطاء کر۔ مگر اتنا خیال رہے کہ کہیں نبوت نہ دے دینا۔ ”لا حول ولا قوۃ“

ہم نے میثاق النبیین والی آیت پیش کر کے پوچھا تھا کہ اگر حضرت رسول کریم ﷺ کے بعد نبوت کا دروازہ بند تھا تو نبی پر ایمان لانا اس میثاق سے ظاہر ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد نبی آنے کا امکان ہے۔

ہمارے مد مقابل نے بڑی مشکل سے ابن کثیر کے حوالے سے یہ بات کہی ہے کہ وعدہ یہ تھا کہ دین کو قائم کیا جائے اور خدا کا پیغام پہنچایا جائے۔ کوئی ان حضرت مناظر سے اتنا تو پوچھے کہ جب وعدہ کی تفصیل خود قرآن مجید میں موجود ہے تو ابن کثیر کے دامن میں پناہ لینے کی کیا ضرورت ہے؟ قرآن کریم میں اس وعدہ کی تفصیل موجود ہے جو چاہے ملاحظہ فرما سکتا ہے اور ہم بھی اپنے پرچوں میں اور اس پرچے میں بھی اس کا ذکر کر چکے ہیں۔

ہمارے مد مقابل نے ہم پر یہ الزام لگایا ہے کہ ہم نے بعض کتابیں خلاف شرائط پیش کر دی ہیں۔ اس کا جواب ہم پہلے دے چکے ہیں۔ مکرر عرض ہے کہ مولانا عبد الکریم جیلی، حضرت ابن عربی، امام ملا علی قاری، امام شعرانی اور حضرت مولانا روم اور حضرت عرباض بن ساریہ کے

١٠٤

صفحہ ١٤٧

اقوال پیش کرنے کے لئے الانسان الکامل، فتوحات مکیہ، موضوعات کبیر، مجمع البحار، الیواقیت والجواہر، کنز العمال اور مثنوی مولانا روم پیش نہ کرتے تو کیا بقول آپ کے صرف خیالی حوالوں پر اکتفا کرتے؟

حضرت مرزا صاحب نے خاتم النبیین ہونے کا کبھی دعویٰ نہیں کیا اور ہم تفصیل سے پہلے بیان کر چکے ہیں۔ حضرت مرزا صاحب نے اپنے تئیں کبھی شرعی نبی نہیں کہا۔ چنانچہ آپ واضح طور پر فرماتے ہیں: ”خدا نے میرا نام نبی رکھا۔ مگر بغیر شریعت کے، شریعت کا حامل قیامت تک قرآن ہے۔“

(تجلیات الٰہیہ ص٢٦)

اور اربعین میں حضرت مرزا صاحب نے الزامی طور پر جواب دیا ہے۔ جیسا کہ حضرت مولانا محمد قاسم صاحب نانوتوی نے اپنی کتاب (حجۃ الاسلام ص ١٧) پر تحریر فرمایا ہے کہ: ”اے حضرات مسیحی ! ہمارا کام فقط عرض معروض ہے۔ سمجھانے کی بات سمجھ لینا تمہارا کام ہے۔ خدا سے التجا کرو کہ حق کو حق کر دکھلائے اور باطل کو باطل کر دکھلائے۔ برا نہ مانو تو سچ ہے کہ سچے عیسائی ہم ہیں۔“

تو کیا اس حوالے کی رو سے آپ حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی بانی مدرسہ دیوبند کو جو آپ کے روحانی جد امجد ہیں آئندہ عیسائی کہا کریں گے؟

آپ نے ”نختم علی افواههم“ اور ”ختم الله علی قلوبهم“ وغیرہ آیات پیش کی ہیں اور بزعم خود سمجھا یہ ہے کہ اس مہر کے بعد نہ کوئی چیز ان کے دلوں کے اندر داخل ہوگی نہ اندر سے باہر نکلے گی۔ اسی لئے آپ نے اس مہر کی مثال ڈاک کے تھیلے سے دی ہے کہ جب تھیلا بند کر دیا جاتا ہے تو نہ کچھ باہر آسکتا ہے نہ کچھ اندر جا سکتا ہے۔ مگر جس مہر کا مندرجہ بالا آیات میں ذکر ہے ان کے بارے میں تو قرآن شریف میں لکھا ہے: ”يوم تشهد عليهم السنتهم (نور)“ نیز وہ کافر کہیں گے: ”وقالوا لجلودهم لم شهدتم علينا“

یعنی وہ اپنے چمڑوں سے کہیں گے کہ تم نے ہمارے خلاف کیوں گواہی دی۔ علاوہ ازیں جن لوگوں کے دلوں پر اللہ تعالیٰ نے مہر کر دی تھی۔ کیا ان کے دلوں کی گندگی اور ناپاکی ہر وقت باہر نہیں آتی رہتی تھی؟ آپ شکایت کرتے ہیں کہ مرزا صاحب کی کتابوں کے حوالے کیوں دیئے جاتے ہیں؟ بڑے افسوس کی بات ہے کہ آپ خود تراش تراش کر حضرت مرزا صاحب پر الزام لگاتے ہیں اور جب آپ کی اس سازش کا بھانڈا چوراہے میں پھوڑنے کے

١٠٥

صفحہ ١٤٨

لئے خود مرزا صاحب کے اقوال ہم پیش کرتے ہیں تو آپ کو تکلیف ہو جاتی ہے۔ گویا۔

نہ تڑپنے کی اجازت ہے نہ فریاد کی ہے
گھٹ کے مرجاؤں یہ مرضی مرے صیاد کی ہے

آپ نے حضرت مرزا صاحب کی ایک لمبی تحریر پیش کی ہے کہ آپ نے فرمایا تھا کہ ”میری کتابوں میں نبی اور رسول کے الفاظ کو ترمیم شدہ سمجھو۔“ یاد رہے کہ حضرت مرزا صاحب نے آپ حضرات کی تکلیف کا خیال کر کے ایسا فرمایا تھا ورنہ آپ اپنے دعوے پر از ابتدا تا انتہاء بدستور قائم رہے۔ اس کی مثال تو بالکل ایسی ہی ہے کہ جب صلح حدیبیہ کے موقعہ پر انہوں نے کہا کہ ہم حضرت محمدﷺ کو رسول نہیں مانتے۔ اس لئے محمد بن عبداللہ لکھا جائے۔ چنانچہ آنحضرتﷺ نے کفار مکہ کی ضد، ہٹ دھرمی اور ان کی تکلیف کے خیال سے حضرت علیؓ کو حکم دیا کہ یہ الفاظ مٹا دو۔ مگر حضرت علیؓ اس کے لئے تیار نہ ہوئے۔ تب: ”محاہ رسول اللہﷺ بیدہ“

(بخاری ج ٢ ص ٥٧٠ مصری)

یعنی آنحضرتﷺ نے اپنے ہاتھ سے اپنے نام سے رسول اللہ کے الفاظ مٹا دیئے۔ اب اگر کوئی کج فہم اس سے یہ نتیجہ نکالے کہ حضرت رسول کریمﷺ نے اپنے دعوے رسالت سے رجوع کر لیا تو اس کے سوا اور کیا کہا جاسکتا ہے کہ؎

الٰہی سمجھ کسی کو بھی ایسی خدا نہ دے
دے آدمی کو موت پہ یہ بد ادا نہ دے

آپ نے لکھا ہے سراج کے معنی سورج ہیں چراغ نہیں۔ حالانکہ ہم نے اپنے گزشتہ پرچے میں ”زرقانی“ کا حوالہ دیا ہے کہ سراج سے مراد چراغ بھی ہے۔ مگر آپ نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا۔ اس کے علاوہ مفردات راغب جو قرآن کریم کی بہترین لغت ہے۔ اس میں بھی سراج کے معنی چراغ لکھے ہیں۔

ہم نے ”مع المؤمنین“ والی آیت تو اس لئے پیش کی تھی کہ ایمان کے تقاضوں کو پورا کرنے والے اس دنیا میں بھی مؤمن ہوتے ہیں۔ قیامت کو بھی مؤمن ہوں گے۔ اسی طرح حضرت رسول کریمﷺ کے فرمانبردار علیٰ قدر مراتب اس دنیا میں بھی نبی، صدیق، شہید اور صالح ہوں گے اور قیامت کو بھی نبیوں، صدیقوں، شہیدوں اور صالحین کے زمرے میں اٹھائے جائیں گے۔

١٠٦

صفحہ ١٤٩

اب آپ نے حدیث مشکوٰۃ کا حوالہ قبول کر لیا ہے۔ شکریہ! مگر پچھلے پرچے میں تو بڑے جزبز ہوئے تھے کہ اس کتاب کا نام کیوں لے دیا ہے۔ اسی طرح اگر سمجھ سوچ کر پرچہ لکھا کریں تو سبکی کا بہت کم موقع آئے گا۔ آپ کہتے ہیں کہ مشکوٰۃ میں لکھا ہے کہ امت محمد میں دجال آئیں گے۔ بجا ارشاد ہوا۔ مگر اس میں یہ بھی تو لکھا ہوا ہے کہ مسیح اور مہدی علیہ الصلوٰۃ والسلام بھی آئیں گے۔ اب یہ اپنی اپنی قسمت ہے کہ کسی کے حصے میں مسیح ومہدی آجائیں اور کسی کے حصے میں دجال آجائیں۔

آپ نے لکھا ہے کہ یہ تحریر باقی رہنے والی ہے۔ پرچے چھپ جائیں گے۔ یہ بڑی خوشی کی بات ہے اور ہم بھی ایسا ہی سمجھتے ہیں۔ کلکتہ میں آپ کے ساتھ تقریباً پانچ گھنٹے میرا مناظرہ ہوا تھا۔ جس کا ذکر آپ نے خود ہی کیا ہے اور جسے آپ کے آدمیوں نے ٹیپ ریکارڈ کیا تھا اور ہم سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اس ٹیپ ریکارڈ کی نقل ہمیں دے دیں گے۔ لیکن ہمارے اصرار کے باوجود انہوں نے اپنا وعدہ پورا نہ کیا اور کہہ دیا کہ ان کے اجلاس خاص میں یہ طے پا گیا ہے کہ اس ریکارڈ کو تلف کر دیا جائے۔

حضرات! سوچئے۔ پانچ گھنٹے مناظرہ ہو۔ اسے ٹیپ ریکارڈ کیا جائے۔ ٹیپ ریکارڈ کرنے والے ہمارے مد مقابل کے ہم پیالہ وہم نوالہ ہوں۔ اس کی نقل دینے کا ہم سے وعدہ کیا جائے۔ مگر مناظرہ ہارنے کے باوجود ہمارے مد مقابل کیسی دیدہ دلیری سے آئے دن اس مناظرہ کا ذکر کرتے رہتے ہیں۔ اگر ان میں دیانت اور امانت ہے اور یہ سمجھتے ہیں کہ اس مناظرہ میں انہیں کامیابی نصیب ہوئی تھی تو ذرا اپنے حواریوں سے اس ٹیپ ریکارڈ کی نقل تو دلوا دیں۔

حضرات! آپ نے دیکھا کہ ہمارے مد مقابل نے کوئی ایک آیت قرآن سے یا کوئی ایک حدیث یا کوئی ایک قول کسی بزرگ کا بھی ایسا پیش نہیں کیا جس سے یہ ثابت ہو سکتا کہ حضرت رسول مقبول ﷺ کے بعد ہر قسم کا دروازہ نبوت کے لئے بند ہے۔ مزید برآں وہ ہمارے دلائل کو توڑنے اور ان کا رد لکھنے پر بھی قادر نہیں ہو سکے اور یہ ان کی بے بضاعتی اور علمی کم مائیگی کا روشن ثبوت ہے۔

انہوں نے بار بار الزام لگایا ہے کہ حضرت مرزا صاحب نے نعوذ باللہ آخری نبی ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ صاحب شریعت ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ حالانکہ یہ افتراء اور بہتان ہے۔ ان الزامات کی تردید میں ہم حضرت مرزا صاحب کی ہی تحریر پیش کرتے ہیں۔ چنانچہ حضرت

١٠٧

صفحہ ١٥٠

مرزا صاحب فرماتے ہیں: ”ہم اس بات پر ایمان لاتے ہیں کہ خدا کے سوا کوئی معبود نہیں اور سیدنا حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ اس کے رسول اور خاتم الانبیاء ہیں اور ہم ایمان لاتے ہیں کہ ملائک حق اور حشر اجساد حق اور روز حساب حق اور جنت حق اور جہنم حق ہیں اور ہم ایمان لاتے ہیں کہ جو کچھ اللہ جل شانہ نے قرآن شریف میں فرمایا ہے اور جو کچھ ہمارے نبی ﷺ نے فرمایا ہے وہ سب بلحاظ بیان مذکورہ بالا حق ہے اور ہم ایمان لاتے ہیں کہ جو شخص اس شریعت اسلام میں سے ایک ذرہ کم کرے یا ایک ذرہ زیادہ کرے یا ترک فرائض یا اباحت کی بنیاد ڈالے وہ بے ایمان اور اسلام سے برگشتہ ہے اور ہم اپنی جماعت کو نصیحت کرتے ہیں کہ وہ سچے دل سے اس کلمہ طیبہ پر ایمان رکھیں کہ: ”لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ“ اور اسی پر مریں اور تمام انبیاء اور تمام کتابیں جن کی سچائی قرآن شریف سے ثابت ہے۔ ان سب پر ایمان لاویں اور صوم اور صلوٰۃ اور زکوٰۃ اور حج اور خدا تعالیٰ اور اس کے رسول کے مقرر کردہ تمام فرائض کو فرائض سمجھ کر اور تمام منہیات کو منہیات سمجھ کر ٹھیک ٹھیک اسلام پر کار بند ہوں۔ غرض وہ تمام امور جن پر سلف صالح کو اعتقادی اور عملی طور پر اجماع تھا اور وہ امور جو اہل سنت کی اجماعی رائے سے اسلام کہتے ہیں۔ ان سب کا ماننا فرض ہے اور ہم آسمان اور زمین کو اس بات پر گواہ کرتے ہیں کہ یہی ہمارا مذہب ہے اور جو شخص مخالف اس مذہب کے کوئی اور الزام ہم پر لگاتا ہے وہ جھوٹا ہے۔“

(ایام الصلح ص ٩٥، ٩٦)

(نقل دستخط) محمد سلیم عفی عنہ مورخہ ٢٤؍ نومبر ١٩٦٣ء

خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ ہو الناصر !

صداقت حضرت مسیح موعود (مرزا) کے مسئلہ پر جماعت احمدیہ کا پہلا پرچہ

سامعین کرام! حضرت بانیٔ جماعت احمدیہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی کی صداقت کے متعلق جماعت احمدیہ کا پہلا پرچہ ہے۔ آج سے تقریباً اسی سال قبل مسلمانان عالم پر ایک جمود طاری تھا۔ ان کے عقائد میں ایک فتور برپا تھا۔ بے عملی اور بے حسی نے ان کے اعضاء و قویٰ کو مضمحل اور یکسر مفلوج کر دیا تھا۔ ان کے دل خلوص سے خالی تھے اور ان میں تعلیم کا وجود برائے نام رہ گیا تھا۔ اسلام کا صرف نام اور قرآن کی صرف رسم رہ گئی تھی۔ مسجدیں ویران اور مرثیہ خواں تھیں۔

مسلمانوں کی اس بے عملی اور جمود کو دیکھ کر اغیار کے حوصلے بڑھ گئے اور یہ سمجھ کر کہ

١٠٨

صفحہ ١٥١

اسلام ان کا صید زبوں ہے۔ اس پر حملہ آور ہو گئے۔ یوں تو سارے مذاہب نے اس پر یکبارگی حملہ کیا۔ مگر سب سے زیادہ منظم اور بڑا حملہ عیسائیت کا تھا۔ عیسائی مصنفین اور مستشرقین نے اسلام کے خلاف وہ گند اچھالا کہ الامان والحفیظ ! وہ دین جو بڑی شان وشوکت کے ساتھ جزیرہ عرب سے نکل کر کرہ ارض کی ایک چوتھائی آبادی کا مذہب بن چکا تھا۔ بے یارومددگار ہو کر رہ گیا۔ اسلام کی اس کسمپرسی اور مظلومیت کو دیکھ کر ایک دل تڑپا اور بے چین ہوا۔ اس نے صرف ایک شعر میں اس میدان جہاد کا یوں نقشہ کھینچا ۔

ہر طرف کفر است جوشاں ہمچو افواج یزید
دین حق بیمار و بے کس ہمچو زین العابدین

(درثمین فارسی)

بایں ہمہ آپ نے ببانگ بلند اعلان فرمایا:

ہر طرف فکر کو دوڑا کے تھکایا ہم نے
کوئی دین دین محمدؐ سا نہ پایا ہم نے
کوئی مذہب نہیں ایسا کہ نشاں دکھلاوے
یہ ثمر باغ محمدؐ سے ہی کھایا ہم نے
ہم نے اسلام کو خود تجربہ کر کے دیکھا
نور ہے نور اٹھو دیکھو سنایا ہم نے
اور دینوں کو جو دیکھا تو کہیں نور نہ تھا
کوئی دکھلائے اگر حق کو چھپایا ہم نے

(درثمین اردو)

اور فرمایا: ”مجھے خدا تعالیٰ کی پاک اور مطہر وحی سے اطلاع دی گئی ہے کہ میں اس کی طرف سے مسیح موعود اور مہدی معہود اور اندرونی و بیرونی اختلافات کا حکم ہوں۔“ (اربعین نمبر ١ ص ٤)

نیز فرمایا: ”میں اسی خدائے تعالیٰ کی قسم کھا کر لکھتا ہوں۔ جس کے قبضے میں میری جان ہے کہ میں وہی مسیح موعود ہوں جس کی رسول اللہ ﷺ نے احادیث صحیحہ میں خبر دی ہے۔ جو بخاری اور مسلم اور دوسری صحاح میں درج ہیں۔ وکفیٰ باللہ شہیداً“ (ملفوظات ج ١ ص ٣٢٧)

پھر فرمایا: ”جب تیرہویں صدی کا آخیر ہوا اور چودھویں صدی کا ظہور ہونے لگا تو

١٠٩

صفحہ ١٥٢

خدا تعالیٰ نے الہام کے ذریعے مجھے خبر دی کہ تو اس صدی کا مجدد ہے۔“

(کتاب البریہ ص ١٦٨، خزائن ج ١٣ ص ٢٠١)

نیز فرمایا: ”میں مسیح موعود ہوں اور وہی ہوں جس کا نام سرورِ انبیاء ﷺ نے نبی اللہ رکھا ہے۔“

(نزول مسیح ص ٤٨، خزائن ج ١٨ ص ٤٢٧)

اور پھر آپ نے اپنی تمام تر توجہ مدافعت اسلام کی طرف پھیر دی اور مخالفین اسلام کا ایسا تعاقب کیا کہ ان کو چھوڑتے ہی بنی، آپ ﷺ کو خدمت اسلام کا کتنا درد تھا اور آئے دن اسلام اور حضرت بانی اسلام ﷺ پر ہونے والے حملوں سے آپ کس قدر دکھی تھے۔ اس کے لئے آپ کی مندرجہ ذیل تحریر قابلِ غور ہے۔ آپ نے عیسائی پادریوں کی دل آزار کاروائیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا: ”ان لوگوں نے ہمارے رسول اللہ ﷺ کے خلاف بے شمار بہتان کھڑے ہیں اور اپنے اس دجل کے ذریعے ایک خلقِ کثیر کو گمراہ کر کے رکھ دیا ہے۔ میرے دل کو کسی چیز نے کبھی اتنا دکھ نہیں پہنچایا جتنا کہ ان لوگوں کے اس ہنسی ٹھٹھا نے پہنچایا۔ جو وہ ہمارے رسول پاک ﷺ کی شان میں کرتے رہتے ہیں۔ ان کے دل آزار طعن و تشنیع نے جو وہ حضرت خیر البشر ﷺ کی ذات والا صفات کے خلاف کرتے ہیں: میرے دل کو سخت زخمی کر رکھا ہے۔ خدا کی قسم اگر میری ساری اولاد اور اولاد کی اولاد اور میرے سارے دوست اور میرے سارے معاون و مددگار میری آنکھوں کے سامنے قتل کر دیئے جائیں اور خود میرے اپنے ہاتھ اور پاؤں کاٹ دیئے جائیں اور میری آنکھ کی پتلی نکال پھینکی جائے اور میں اپنی تمام مرادوں سے محروم کر دیا جاؤں اور اپنی تمام خوشیوں اور آسائشوں کو کھو بیٹھوں تو ان ساری باتوں کے مقابل پر بھی میرے لئے یہ صدمہ بھاری ہے کہ رسولِ اکرم ﷺ پر ایسے ناپاک حملے کئے جائیں۔ پس اے میرے آسمانی آقا! تو ہم پر اپنی رحمت اور نصرت کی نظر فرما اور ہمیں اس ابتلائے عظیم سے نجات بخش۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ١٥)

حضرات! آپ نے سن لیا ہے کہ حضرت بانیٔ سلسلہ احمدیہ مسیح موعود کا دعویٰ کیا تھا اور یہ بھی کہ آپ کون سا مقدس مشن لے کر کھڑے ہوئے تھے۔ اب یہ آپ کا کام ہے کہ احمدیت کی تقریباً اسی سالہ تاریخ پر نظر ڈال کر عدل و انصاف سے کام لیں اور اندازہ لگائیں کہ اللہ تعالیٰ نے جماعت احمدیہ اور اس کے بانی کو کتنی شاندار کامیابی عطا فرمائی ہے۔

اب ہم ذیل میں قرآن مجید اور احادیث نبویہ کی روشنی میں مرزا قادیانی کی صداقت کے دلائل پیش کرتے ہیں:

١١٠

......١ ”فقد لبثت فيكم عمراً من ”اب دیکھو خدا تعالیٰ نے اپنی ہزار ہا دلائل قائم کر کے تمہیں یہ موقع دیا ہے بلاتا ہے وہ کس درجہ کی معرفت کا آدمی ہے جھوٹ یا دغا کا میری پہلی زندگی پر نہیں لگا کا عادی ہے یہ بھی اس نے جھوٹ بولا ہو گا کر سکتا۔ پس یہ خدا کا فضل ہے جو اس نے لئے یہ ایک دلیل ہے۔“

آپ کی اس تحدی کے مقابلے صاحب بٹالوی کی حسب ذیل تحریرات پیش کے حالات و خیالات سے جس قدر ہم واقف گے۔ مؤلف صاحب ہمارے ہم وطن ہیں

پھر لکھا ہے: ”مؤلف براہین ا اور اللہ حسیبہ، شریعت محمدیہ پر قائم و پرہیز گا

اسی طرح مولوی محمد حسین بٹالو الشان تصنیف براہین احمدیہ پر نہایت ہی حضرت مرزا صاحب کی قبل از دعوے زند افتراء سے پاک تھی۔

حضرت رسول کریم ﷺ نے سے پوچھا ”أكنتم مصدقي“ کہ کیا ت عليك الا صدقا“ یعنی ہم نے تجھے ہ لیکن جب حضور نے اس اقرار کے بعد ا کذاب کہا۔

اسی طرح حضرت نوح ، حضر

صفحہ ١٥٣

کہ تو اس صدی کا مجدد ہے۔“

(کتاب البریہ ص ١٦٨، خزائن ج ١٣ ص ٢٠١)

مدعی ہوں جس کا نام سرور انبیاء ﷺ نے نبی اللہ رکھا

(نزول المسیح ص ٤٨، خزائن ج ١٨ ص ٤٢٧)

مدافعت اسلام کی طرف پھیر دی اور مخالفین اسلام کا ﷺ کو خدمت اسلام کا کتنا درد تھا اور آئے دن نئے حملوں سے آپ کس قدر دکھی تھے۔ اس کے لئے نے عیسائی پادریوں کی دل آزار کارروائیوں کا تذکرہ رسول اللہ ﷺ کے خلاف بے شمار بہتان گھڑے کو گمراہ کر کے رکھ دیا ہے۔ میرے دل کو کسی چیز نے اس ہنسی ٹھٹھا نے پہنچایا۔ جو وہ ہمارے رسول کے دل آزار طعن و تشنیع نے جو وہ حضرت خیر ہیں پر میرے دل کو سخت زخمی کر رکھا ہے۔ خدا کی ے سارے دوست اور میرے سارے معاون ں اور خود میرے اپنے ہاتھ اور پاؤں کاٹ دیئے میں اپنی تمام مرادوں سے محروم کر دیا جاؤں اور ساری باتوں کے مقابل پر بھی میرے لئے یہ ف حملے کئے جائیں۔ پس اے میرے آسمانی اس ابتلائے عظیم سے نجات بخش۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ١٥)

بانی سلسلہ احمدیہ مسیح موعود کا دعویٰ کیا تھا اور یہ تھے۔ اب یہ آپ کا کام ہے کہ احمدیت کی کام لیں اور اندازہ لگائیں کہ اللہ تعالیٰ نے عنائی ہے۔ کی روشنی میں مرزا قادیانی کی صداقت

”اب دیکھو خدا تعالیٰ نے اپنی حجت کو تم پر اس طرح پر پورا کر دیا کہ میرے دعوے پر ہزارہا دلائل قائم کر کے تمہیں یہ موقع دیا ہے کہ تا تم غور کرو کہ وہ شخص جو تمہیں اس سلسلے کی طرف بلاتا ہے وہ کس درجہ کی معرفت کا آدمی ہے اور کس قدر دلائل پیش کرتا ہے اور تم کوئی عیب افتراء یا جھوٹ یا دغا کا میری پہلی زندگی پر نہیں لگا سکتے۔ تم یہ خیال کرو کہ جو شخص پہلے سے جھوٹ اور افتراء کا عادی ہے، یہ بھی اس نے جھوٹ بولا ہوگا۔ کون تم میں ہے جو میری سوانح زندگی میں کوئی نکتہ چینی کر سکتا۔ پس یہ خدا کا فضل ہے جو اس نے ابتداء سے مجھے تقویٰ پر قائم رکھا اور سوچنے والوں کے لئے یہ ایک دلیل ہے۔“

(تذکرۃ الشہادتین ص ٦٢، خزائن ج ٢٠ ص ٦٤)

آپ کی اس تحدی کے مقابلے میں ہم احمدیت کے ایک شدید مخالف مولوی محمد حسین صاحب بٹالویؒ کی حسب ذیل تحریرات پیش کرتے ہیں۔ آپ لکھتے ہیں: ”مؤلف براہین احمدیہ کے حالات و خیالات سے جس قدر ہم واقف ہیں۔ ہمارے معاصرین سے ایسے واقف کم نکلیں گے۔ مؤلف صاحب ہمارے ہم وطن ہیں۔ بلکہ اوائل عمر کے ہمارے ہم مکتب۔“

(اشاعۃ السنہ ج ٧ نمبر ٦ ص ١٧٦)

پھر لکھا ہے: ”مؤلف براہین احمدیہ مخالف و موافق کے تجربے اور مشاہدے کی رو سے اور اللہ حسیبہ، شریعت محمدیہ پر قائم و پرہیز گار اور صداقت شعار ہیں۔“

(اشاعۃ السنہ ج ٧ نمبر ٦ ص ٣٨٤)

اسی طرح مولوی محمد حسین بٹالویؒ نے حضرت بانیؒ سلسلہ احمدیہ کی سب سے پہلی اور عظیم الشان تصنیف براہین احمدیہ پر نہایت ہی شاندار ریویو لکھا تھا۔ یہ تحریریں اس بات کا ثبوت ہیں کہ حضرت مرزا صاحب کی قبل از دعوے زندگی اپنوں اور بیگانوں کی نظر میں ہر قسم کے جھوٹ اور افتراء سے پاک تھی۔

حضرت رسول کریم ﷺ نے جس وقت کفار مکہ کے سامنے یہ دلیل پیش کی تھی اور ان سے پوچھا ”اکنتم مصدقی“ کہ کیا تم مجھے سچا سمجھتے ہو؟ تو لوگوں نے جواب دیا۔ ”ما جربنا عليك الا صدقا“ یعنی ہم نے تجھے ہمیشہ صادق پایا ہے۔ (بخاری ج ٣ ص ١٠٦ تفسیر سورۃ الشعراء) لیکن جب حضور نے اس اقرار کے بعد اپنا دعوٰی نبوت پیش کیا تو ان لوگوں نے آپ کو ساحر اور کذاب کہا۔

(سورۃ ص)

اسی طرح حضرت نوح، حضرت ہود، حضرت صالح، حضرت لوط، حضرت شعیب علیہم

١١١

صفحہ ١٥٢

السلام جیسے عظیم الشان نبیوں نے بھی قوم کے سامنے اپنے تئیں رسول امین کہہ کر پیش کیا۔ جیسا کہ قرآن مجید میں صاف لکھا ہوا موجود ہے۔

(ملاحظہ ہو سورۃ الشعراء)

پس یہ نہایت ہی شاندار کسوٹی ہے کسی مدعی کی سچائی کو پرکھنے کی۔ ہمارا یہ مطلب نہیں ہے کہ بعد دعویٰ مدعی میں کوئی عیب پیدا ہو جاتا ہے۔ بلکہ یہ بتانا مقصود ہے کہ بعد دعوے کچھ دوست ہو جاتے ہیں اور کچھ دشمن ۔ اس لئے دونوں کی گواہی اپنا اثر کھو دیتی ہے۔ اس لئے قرآن مجید نے صرف قبل از دعویٰ زندگی کو ہی معیار صداقت کے طور پر پیش کیا ہے۔ ورنہ ہمارا تو ایمان ہے کہ اگر پہلی زندگی نور ہوتی ہے تو دوسری نور علیٰ نور ہوتی ہے۔ مشہور مقولہ ہے

در جوانی توبہ کردن شیوۂ پیغمبری است

قرآن مجید نے اسی دلیل کو ایک اور رنگ میں بھی پیش کیا ہے۔ فرمایا: ”يعرفونه كما يعرفون ابناء هم (البقره) “ یعنی اگر لوگ چاہیں تو ہمارے رسول اللہ ﷺ کی سچائی کو اسی طرح پہچان سکتے ہیں۔ جس طرح اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ اولاد کی جائز ولادت پر بجز اس کے کوئی گواہی نہیں ہوتی کہ اس کی ماں کی پہلی زندگی کو باعصمت زندگی سمجھا جائے۔ تو اگر ایک عورت بچہ جننے سے قبل اپنی پاک زندگی کی وجہ سے عصمت مآب اور عفیفہ مانی جاسکتی ہے تو کیا وجہ ہے کہ ایک مدعی نبوت کی قبل از دعویٰ چالیس سالہ پاک زندگی اس کے دعوے کی صداقت پر دلیل نہ مانی جائے۔

باليمين ثم لقطعنا منه الوتين (الحاقة) “

کہ اگر آنحضرت ﷺ جھوٹا الہام بنا لیتے تو اللہ تعالیٰ آپ کو پکڑ لیتا اور آپ کی رگ جان کاٹ دیتا۔ علمائے اسلام ہمیشہ اس آیت سے یہ استدلال کرتے چلے آئے ہیں کہ جھوٹا الہام بنانا ایسی جعلسازی ہے۔ جسے اللہ تعالیٰ معاف نہیں کرتا اور اگر کوئی ایسا شخص دنیا میں پایا جائے جو الہام کا دعویٰ کرتا ہو اور وہ اپنے اس دعویٰ میں جھوٹا ہو تو دعویٰ الہام کے بعد آنحضرت ﷺ کی طرح تئیس سال کی مہلت نہیں پاسکتا۔ چنانچہ حضرت مرزا صاحب نے فرمایا ہے: ”اگر یہ بات صحیح ہے کہ کوئی شخص نبی یا رسول اور مامور من اللہ ہونے کا دعویٰ کر کے اور کھلے کھلے طور پر خدا کے نام پر کلمات لوگوں کو سنا کر پھر باوجود مفتری ہونے کے برابر تئیس برس تک جو زمانہ وحی آنحضرت ﷺ ہے۔ زندہ رہا ہے تو میں ایسی نظیر پیش کرنے والے کو بعد اس کے جو مجھے میرے ثبوت کے موافق یا قرآن کے ثبوت کے موافق ثبوت دے دے پانچ سو روپیہ نقد دوں گا۔ پندرہ روز تک ان کو مہلت

١١٢

ہے کہ دنیا میں تلاش کر کے ایسی نظیر پیش کریں شرح عقائد نسفی میں جو اہل سنت العقل يجزم بامتناع اجماع هذه الـ يفتري عليه ثم يمهله ثلاثا وعشريـ کہ عقل اس بات کو ناممکن قرار وہ خدا تعالیٰ پر افتراء کرتا ہو۔ پھر اس کو تئیس اسی طرح مولوی ثناء اللہ صاحب خداوندی ہیں۔ یہ بھی ہے کہ کاذب مدعی ہے۔“

نیز لکھا ہے : ” واقعات گزشتہ نبی کو سرسبزی نہیں دکھائی۔ یہی وجہ ہے کہ و امت کا ثبوت مخالف بھی نہیں بتلا سکتے۔ مـ کیسے کیسے خدا پر جھوٹ باندھے۔ لیکن آخر تھوڑے دنوں میں بہت کچھ ترقی کر چکے ۔

یعنی سچا مدعی اگر معجزانہ کلام پیـ ان کا یہ عجز مدعی کی سچائی کی دلیل ہوگا۔ ساتھ اس دلیل کو پیش کیا ہے۔ حضرت بانـ مقابلہ کا چیلنج دیا۔ مگر کوئی مقابلہ نہ کر سکا قلموں کو توڑ دے گا اور ان کے دلوں کو غبی کـ آپ نے اعجاز احمدی کا مقالـ مقابلہ کرنے والوں کے لئے پانچ سو روپیہ

اس آیت کا مفاد یہ ہے کہ جھـ

موعود نے فرمایا ہے:

اے قدیر و خالق ارض و
صفحہ ١٥٥

ہے کہ دنیا میں تلاش کر کے ایسی نظیر پیش کریں۔"

(اربعین نمبر ٣ ص ١٨)

شرح عقائد نسفی میں جو اہل سنت والجماعت کے عقائد کی کتاب ہے لکھا ہے: "فان العقل يجزم بامتناع اجماع هذه الامور في غير الانبياء في حق من يعلم انه يفتري عليه ثم يمهله ثلاثا وعشرين سنة "

(شرح عقائد نسفی ص ١٠٠)

کہ عقل اس بات کو ناممکن قرار دیتی ہے کہ یہ باتیں ایک غیر نبی میں جمع ہو جائیں اور وہ خدا تعالیٰ پر افتراء کرتا ہو۔ پھر اس کو تئیس سال کی مہلت مل جائے۔

اسی طرح مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری لکھتے ہیں: ”نظام عالم میں جہاں اور قوانین خداوندی ہیں۔ یہ بھی ہے کہ کاذب مدعی نبوت کی ترقی نہیں ہوا کرتی بلکہ وہ جان سے مارا جاتا ہے۔“

(مقدمہ تفسیر ثنائی ص ١٧)

نیز لکھا ہے: ”واقعات گزشتہ سے بھی اس امر کا ثبوت پہنچتا ہے کہ خدا نے کبھی جھوٹے نبی کو سرسبزی نہیں دکھائی۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا میں باوجود غیر متناہی مذاہب ہونے کے جھوٹے نبی کی امت کا ثبوت مخالف بھی نہیں بتلا سکتے۔ مسیلمہ کذاب اور عبید اللہ عنسی نے دعویٰ نبوت کے کئے اور کیسے کیسے خدا پر جھوٹ باندھے۔ لیکن آخر کار خدا کے زبردست قانون کے نیچے آکر کچلے گئے...... تھوڑے دنوں میں بہت کچھ ترقی کر چکے تھے مگر تا بکئے ۔“

(مقدمہ تفسیر ثنائی ص ١٧)

یعنی سچا مدعی اگر معجزانہ کلام پیش کرے اور لوگ اس کی مثل بنانے سے عاجز رہ جائیں تو ان کا یہ عجز مدعی کی سچائی کی دلیل ہوگا۔ چنانچہ قرآن مجید نے اپنی سچائی کے لئے بڑے زور کے ساتھ اس دلیل کو پیش کیا ہے۔ حضرت بانیٔ سلسلہ احمدیہ نے بھی اپنی مختلف کتابوں میں تمام علماء کو مقابلہ کا چیلنج دیا۔ مگر کوئی مقابلہ نہ کر سکا۔ حضرت مرزا صاحب نے فرمایا تھا: ”خدا تعالیٰ ان کے قلموں کو توڑ دے گا اور ان کے دلوں کو غبی کر دے گا۔“

(اعجاز احمدی ص ٣٧)

آپ نے اعجاز احمدی کا مقابلہ کرنے والوں کے لئے دس ہزار روپیہ اور اعجاز المسیح کا مقابلہ کرنے والوں کے لئے پانچ سو روپیہ انعام بھی قرار دیا تھا۔

اس آیت کا مفاد یہ ہے کہ جھوٹا آدمی اپنے لئے کبھی بددعا نہیں کر سکتا۔ حضرت مسیح موعود نے فرمایا ہے:

اے قدیر وخالق ارض وسما اے رحیم ومہربان ورہنما

١١٣

صفحہ ١٥٦
اے کہ می داری تو بر دلہا نظر اے کہ از تو نیست چیزے مستتر
گر تو می بینی مرا پر فسق و شر گر تو دیداستی کہ ہستم بدگہر
پارہ پارہ کن من بد کار را شاد کن ایں زمرہ اغیار را
آتش افشاں بر در و دیوار من دشمنم باش و تبہ کن کار من
ور مرا از بند گانت یافتی قبلۂ من آستانت یافتی
در دل من آں محبت دیدۂ کز جہاں آں راز را پوشیدۂ
با من از روئے محبت کار کن اند کے افشائے آں اسرار کن

(حقیقۃ المہدی و درثمین فارسی)

للعلمین (عنکبوت)“

یعنی حضرت نوح علیہ السلام کا کشتی میں بیٹھ کر طوفان نوح سے نجات پا جانا اور باقی لوگوں کا غرق ہو جانا، حضرت نوح علیہ السلام کی سچائی کی دلیل ہے۔ اسی طرح حضرت مرزا صاحب کا الہام ہے: ”انی احافظ کل من فی الدار واحافظك خاصة“

(تذکرہ ص ٥١٨)

جس کا مطلب یہ ہے کہ تیرے گھر کی چار دیواری کے اندر رہنے والے طاعون سے بچائے جائیں گے اور تو بھی طاعون سے محفوظ رہے گا۔ گویا اللہ تعالیٰ نے آپ کے گھر کو نوح علیہ السلام کی کشتی بنا دیا۔ نوح علیہ السلام کشتی میں بیٹھ کر طوفان نوح سے بچ گئے تھے اور حضرت مرزا صاحب پر ایمان لانے والے آپ کے مکان میں رہ کر طاعون سے محفوظ ہو گئے۔ حضرت مسیح موعود نے اپنی کتاب (دافع البلاء ص ١٨، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٨ ملخص) پر لکھا ہے۔ جس کا مفاد یہ ہے کہ اگر کوئی مرد میدان ہے۔ تو میری طرح قبل از وقت اپنے مقام کے طاعون سے محفوظ رہنے کی پیشین گوئی کرے۔ پھر اگر وہ مقام سب سے پہلے طاعون میں مبتلا نہ ہو تو میں جھوٹا ہوں۔

نہیں ہوتے۔ بلکہ مفتری تباہ و برباد کر دیئے جاتے ہیں۔ اس معیار کے رو سے بھی حضرت مسیح موعود صادق ٹھہرتے ہیں۔ آپ کا مقصد یہ تھا کہ اسلام کا بول بالا ہو اور غیروں کی طرف سے جو حملے اسلام پر کئے جاتے ہیں ان کو دفع کیا جاسکے اور آپ ایک ایسی جماعت قائم کرنے میں کامیاب ہو جائیں جو آپ کے اس مشن کو ہمیشہ جاری رکھ سکے۔ سو دوست اور دشمن گواہ ہیں کہ

١١٤

حضرت مرزا صاحب اپنے اس مقصد میں سچائی کی علامت ہے۔

پھر فرمایا: ”وان کانوا من قب ان آیات سے معلوم ہوا ہے کہ ص ١٣) پر لکھتا ہے: ”اب اسلام کا صرف نام آباد ہیں۔ لیکن بالکل ویران ، علماء اس امر غرض یہ زمانہ پکار پکار کر کہہ رہ حضرت مرزا صاحب نے فرمایا ہے۔

وقت تھا وقت
میں نہ آتا تو

اوکذب بآیته انه لا يفلح المجرمون اس آیت سے معلوم ہوتا ہے غالب آئیں گے۔ اب ظاہر ہے کہ موجودہ زما اٹکاتے رہے اور انہوں نے کوشش کی کہ کوئی

اے بسا آ

ان کی کچھ پیش نہ گئی اور احمدی ممالک میں اسلام کا پرچم لہرانے لگا ہے۔

(هود)“ یعنی صالح علیہ السلام کی قوم ا جب صالح علیہ السلام نے نبی ہونے کا دعویٰ پہلے تو صالح علیہ السلام سے ان کو بڑی بڑی

صفحہ ١٥٧

حضرت مرزا صاحب اپنے اس مقصد میں ہر طرح کامیاب اور کامران ہوئے ہیں اور یہ آپ کی سچائی کی علامت ہے۔

پھر فرمایا: ”وان کانوا من قبل لفی ضلل مبین (جمعہ)“ ان آیات سے معلوم ہوا ہے کہ یہی زمانہ مامور الٰہی کے ظہور کا ہوتا ہے۔ (اقتراب الساعۃ ص ١٣) پر لکھا ہے: ”اب اسلام کا صرف نام، قرآن کا فقط نقش باقی رہ گیا ہے۔ مسجدیں ظاہر میں تو آباد ہیں۔ لیکن بالکل ویران، علماء اس امت کے بدترین خلائق ہیں۔“ غرض یہ زمانہ پکار پکار کر کہہ رہا تھا کہ اس وقت کسی کو ظاہر ہونا چاہئے تھا۔ اس لئے حضرت مرزا صاحب نے فرمایا ہے:۔

وقت تھا وقت مسیحا نہ کسی اور کا وقت
میں نہ آتا تو کوئی اور ہی آیا ہوتا

(درثمین اردو)

او کذب بایتہ انہ لا یفلح المجرمون (یونس)“ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ جب سچے اور جھوٹے کا مقابلہ ہوگا تو ہمیشہ سچے ہی غالب آئیں گے۔

اب ظاہر ہے کہ موجودہ زمانے کے مولوی اور دوسرے مخالفین قدم قدم پر روڑے اٹکاتے رہے اور انہوں نے کوشش کی کہ کوئی مرزا قادیانی کو مان نہ سکے۔ مگر

اے بسا آرزو کہ خاک شدہ

ان کی کچھ پیش نہ گئی اور احمدیت چار دانگ عالم میں پھیل گئی اور دنیا کے بہت سے ممالک میں اسلام کا پرچم لہرانے لگا ہے۔

(ھود)“

یعنی صالح علیہ السلام کی قوم ان سے بڑی بڑی امیدیں وابستہ کئے ہوئے تھی۔ مگر جب صالح علیہ السلام نے نبی ہونے کا دعویٰ کیا تو ان کی تمام آرزوؤں پر پانی پڑ گیا۔ گویا دعویٰ سے پہلے تو صالح علیہ السلام سے ان کو بڑی بڑی امیدیں تھیں۔ دعویٰ سننے کے بعد ان کو نکما اور حقیر

١١٥

صفحہ ١٥٨

کاذب قرار دیا۔ اسی طرح حضرت مرزا غلام احمد قادیانی کے ساتھ واقعہ پیش آیا جو اپنی سچائی کی دلیل ہے۔

(نقل دستخط) محمد سلیم عفی عنہ مورخہ ٢٥؍ نومبر ١٩٦٣ء

کذب مرزا پر پہلا پرچہ

منجانب اہل سنت والجماعت یادگیر مورخہ ٢٥ نومبر ١٩٦٣ء

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ نحمده ونصلى على رسوله الكريم!

برادران اسلام! السلام علیکم! آج آخری موضوع شروع ہوا۔ حالانکہ یہ پہلے دن شروع ہونے کا تھا۔ کیونکہ اگر ایک شخص کی صداقت ثابت ہو جاتی ہے تو وہ جو بھی کہے سچ ہی ہوگا۔ مگر یہاں الٹی منطق ہے۔ خیر مولوی سلیم صاحب نے جو دلائل مرزا قادیانی کی صداقت پر دیا ہے وہ دلائل معیار نبوت کے ہیں۔ حالانکہ مرزا قادیانی نے (آئینہ کمالات اسلام ص ٣٣٩، خزائن ج ٥ ص ایضاً) پر خود ہی فیصلہ فرما دیا ہے کہ انبیاء کی طرح (میری) آزمائش کرنا ایک قسم کی ناسمجھی ہے تو مولانا سلیم آپ نے خواہ مخواہ ناسمجھی مول لی۔ مدعی کہتا ہے مجھے اس طرح آزمائش نہ کرو اور آپ زبردستی آیات قرآنی اور احادیث کو توڑ مروڑ کر اپنے حسب منشاء مرزا قادیانی پر چسپاں کرتے چلے جاتے ہیں۔ حالانکہ کل میں نے تبلیغ رسالت کے تین حوالے تین پرچے پر دیا تھا کہ آپ یقین کریں کہ مرزا قادیانی خود اپنے بارے میں کیا کہتے ہیں۔ ان کا فرمان ہے کہ نبی کو مانو، محدث مانو، آپ کو دہلی کی جامع مسجد کے حلف پر بھی یقین نہیں آیا یا ان کا اعلان ”کاذب وکافر“ پر بھی یقین نہیں آیا۔ جب آپ کو ہی خود مرزا قادیانی کی صداقت پر یقین نہیں تو پھر خواہ مخواہ دوسروں کو ان کے مذہب پر چلنے کی کیوں تبلیغ کرتے ہو؟ لہٰذا پہلے ہم آپ کی چند دلیل کی خبر لیتے ہیں۔ آپ نے تو لو تقول والی آیت کو پیش کر کے تئیس سال کی مدت کو معیار قرار دیا ہے۔ حالانکہ آپ کو معلوم نہیں یہ خوش قسمتی سے یہ علاقہ (یادگیر) بھی پنجاب سے نبی سازی میں کم نہیں۔ یہاں بھی ایک نبی عبداللہ جیا پوری پیدا ہوئے۔ آج اسی مجلس میں ان کے دیکھنے والے بے شمار موجود ہیں۔ وہ کم از کم نوے سال جئے اور

١١٦

صفحہ ١٥٩

نبوت کو وراثت پر چھوڑ گئے۔ اگر تیس سالہ میعاد نبوت ہو تو دنیا میں کسی نبی کو اپنی امت دیکھنی نصیب نہ ہو۔ کیونکہ سب انتظار کریں گے۔ دیکھو مدت گزرتی ہے یا نہیں۔ قتل ہوتا ہے یا مرتا ہے۔ جب نبی مدت گزار کر اپنی موت مرے گا اس وقت امت کہے گی افسوس افسوس وہ تو نبی تھا۔ بھلا قرآن ایسا معیار مقرر کر سکتا ہے؟ اسی لئے عبداللہ تماپوری کافی دن زندہ رہے اور مرزا قادیانی دعویٰ نبوت کے بعد کل زیادہ سے زیادہ چھ سال۔ مولوی سلیم ناراض نہ ہونا۔ ایک بڑے پتے کی بات کہتا ہوں۔ کیونکہ یہ جنت دوزخ کا معاملہ ہے۔ آج تک دنیا میں ہم نے کہیں نہیں دیکھا کہ مال لانے والا اپنے مال کی پہچان کا طریقہ مقرر کرے بلکہ گاہک کو یہ حق ہر جگہ حاصل ہے۔ ہم کو حضور کی نبوت چھوڑ کر مرزا قادیانی کا کلمہ ، دین ، قرآن ، نماز ، حج ، وغیرہ اختیار کرنے کی آپ دعوت دیتے ہیں۔ آپ یا تو بیوپاری ہیں یا میزبان اور ہم یا تو گاہک ہیں یا مہمان۔ لہٰذا ہم کو حق ہے کہ آپ جس چیز کو ہم کو دیتے ہیں اس کو پرکھیں کہ سونا ہے یا پیتل۔ اپنا اطمینان اپنے قاعدے سے ہر گاہک کرتا ہے۔ مگر آپ کہتے ہیں کہ اس سونے کو کسوٹی پر مت کسو۔ ایسڈ ٹسٹ مت کرو۔ آگ پر مت تپاؤ۔ مت کوٹو۔ تو اگر دنیا کا کوئی گاہک بیوپاری کے شرائط صداقت پر مال خریدتا ہوتا تو ہم بھی خریدتے۔ مگر دنیا میں ہر چیز نقلی بھی ہے اور اصلی بھی۔ اسی طرح اصلی ونقلی کی پہچان بھی ہے۔ یہاں تک کہ جب دنیا میں نقلی خدا ہوئے ہیں تو کیا تو نقلی نبی نہیں ہو سکتے۔ تو کیا آپ عبد اللہ تماپوری کو یا قادیان کے نور احمد کابلی کو اصلی نبی مانتے ہیں؟ لہٰذا شرافت اور پیش گوئی اسی دو کو معیار قرار دو۔ خود مرزا قادیانی (استفتاء ص ٣، خزائن ج ١٢ص ١١١) پر فرماتے ہیں کہ: ”توریت اور قرآن نے نبوت کا بڑا ثبوت پیش گوئی کو قرار دیا ۔“ لہٰذا پہلے مرزا قادیانی کو پیش گوئی کے معیار پر ان کے کہنے کے مطابق جانچتے ہیں۔ مرزا قادیانی نے محمدی بیگم کی شادی کی پیش گوئی کو اپنی صداقت کا معیار قرار دیا ہے۔ بہت ہی عظیم الشان نشان مانا ہے۔ (شہادت القرآن ص ٧٩ ، خزائن ج ٦ ص ٣٧٥) اس پر مرزا قادیانی نے محمدی بیگم کی دوسری جگہ شادی ہو جانے کے باوجود بھی اپنے نکاح میں دوبارہ آنے کی پیش گوئی کی ہے۔ بلکہ (انجام آتھم ص ٣١، خزائن ج ١١ ص ٣١) وغیرہ میں تو عربی وحی کی بھی مار کر دی ہے۔ الحق من ربك فلا تكونن من الممترين سیردھا اليك“

اُس کو چھ جزو قرار دیا ہے۔ (تذکرہ ص ٨٢) پر جزو نمبر (١) میرا زندہ رہنا۔ جزو نمبر (٢) نکاح کے وقت تک اس کے باپ کا زندہ رہنا کہا ہے۔ (شہادت القرآن ص ٨٠، خزائن ج ٦ ص ٣٧٦)

١١٧

صفحہ ١٦٠

پرنمبر (٣) جزویہ ہے احمد بیگ تا روز شادی دختر کلاں فوت نہ ہو۔ غرضیکہ بے شمار جگہ بڑی طاقت سے صرف اسی ایک پیش گوئی کو مسلمانوں کے لئے بہت ہی عظیم الشان نشان اور معیار صدق وکذب قرار دیا ہے۔ مگر آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ پیش گوئی برائے نام بھی پوری نہ ہوئی۔ بلکہ چھ کے چھ جزو میں سے ایک بھی پورا نہ ہوا۔ آپ شاید نوٹ بک دیکھ کر فوراً یہ جواب دے دیں کہ احمد بیگ معیاد کے اندر مرگیا۔ گھر والے ڈر گئے توبہ توبہ شرط تھی۔ اس لئے یونس علیہ السلام کی پیش گوئی کی طرح یہ معاملہ ٹل گیا۔ مگر دوست آپ کے احمدیہ ٹرث بک نے یہاں صریح دھوکا دیا ہے۔ احمد بیگ کی موت کو مرزا قادیانی اس وقت تک موقوف کرتے ہیں جب تک کہ وہ اپنی لڑکی کی شادی مرزا قادیانی سے نہیں کر دیتا۔ غور سے (شہادت القرآن ص ٨٠، خزائن ج ٦ ص ٣٧٦) کو دیکھو۔ لہٰذا اگر احمد بیگ میعاد کے اندر مرگیا تو یہ تو مرزا قادیانی کا ایک ساتواں کمال ہوا۔ یعنی پہلے کی چھ جزو ابھی پورے تو کیا ہوتے کہ ایک ساتواں جھوٹ ثابت ہوگیا۔ مرزا قادیانی جس کو اپنی شادی تک بچانا چاہتے تھے وہ چل بسا۔

تم بتاؤ مرزا قادیانی کہاں مرے؟ لہٰذا یہ پیش گوئی بھی غلط۔

افسوس کہ مرزا قادیانی کی یہ آرزو بھی پوری نہ ہوسکی۔ وہ اللہ کے شیر اسلام پر قائم رہتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے ہاں چل دیئے۔

”الہام الہی سے معلوم ہوا کہ میاں منظور محمد کے یہاں محمدی بیگم کا ایک لڑکا پیدا ہوگا۔“

(تذکرہ ص ٦٢٢ ، طبع سوم)

”لڑکا ضرور ہوگا۔ بعد میں ہوگا مگر ضرور ہوگا۔ کیونکہ وہ خدا کا نشان ہے۔ دی ورڈ اینڈ ٹو گرلز۔ دولڑکیاں پہلے سے موجود ہیں اب ورڈ آئے گا۔“ (تذکرہ ص ٦٢٢ ، طبع سوم)

لڑکے کے نام سن لیجئے۔ شاید آپ کو کچھ جواب سمجھ میں آجائے۔ کہہ دیجئے کہ اس لڑکے سے مراد خلیفہ محمود صاحب اور اس کی ماں سے مراد خلیفہ صاحب کی والدہ۔ دوست اگر اس قسم کی تاویل سے مرزا قادیانی کی پیش گوئی اور نبوت ثابت ہوتی تو پھر ہمارے تمار پوری تو علاقائی نبی تھے۔ ان کو چھوڑ کر یاد گیر والوں کو پنجاب تک جانے کی ضرورت نہیں۔ وطن پرستی ایمان کی نشانی ہے۔ ہاں تو لڑکے کا نام سن لو کلمتہ العزیز، کلمتہ اللہ خان، ورڈ، بشیر الدولہ، شادی خاں، عالم کباب،

١١٨

ناصرالدین، فاتح الدین، ہٰذا یوم مبارک مگر اتنے زور شور کے دعوے کی ماں کا کیا ہوا؟ زندہ رہی یا مردہ؟ پیش گوئی اس طرح ختم ہو گئی اور ایک

البلاغ ص ٦، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٦) ”متر بر ص ١٤، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٠) کیا ہوا کہ مرزا قادیانی نے اپنے گھر کو کشتی نوح طاعون آیا حتیٰ کہ مرزا قادیانی جس کو مانگو۔ قدرت خدا کا تماشا دیکھو۔

طاعون سے عام لوگ مر طاعون آیا تھا یا نہ مانے سے۔ جب خرچ کر کے دوا تریاق الٰہی کیوں بنائی گے ماننے والے یا نہ ماننے والے۔ سچ

مرزا قادیانی کے ایک مرید انجام آتھم ص ٤١، خزائن ج ١١ ص ٣٢٥) مر ص ٢٣٠، خزائن ج ٣ ص ٥٣٧) یہ مرزا مرزا قادیانی کے خلاف ایک کتاب لکھ کرتا ہے۔ آسانی کے لئے نقشہ دیتا ہو

عبدالحکیم کے جواب میں مرزا قادیانی رب فرق بین صادق وکاذب۔

اس کے جواب میں مرزا قادیانی ٥ نومبر ١٩٠٧ء میں تیری عمر کو بھی بڑھ گا۔ (تذکرہ ص

مرزا قادیانی نے جواب دیا۔ خدا نے مجھ ہے کہ خدا اس کو (عبدالحکیم) کو ہلاک کر

صفحہ ١٦١

ناصر الدین، فاتح الدین، ہذا یوم مبارک۔ (تذکرہ ص ٦٢٣ تا ٦٢٧ طبع سوم)

مگر اتنے زور شور کے دعوے کے بعد منظور محمد کا لڑکا ہوا؟ یا لڑکی ہوئی ۔ محمدی بیگم لڑکے کی ماں کا کیا ہوا؟ زندہ رہی یا مردہ؟ پھر اس لڑکی کا کیا ہوا۔ افسوس کہ مرزا قادیانی کی اتنی زور دار پیش گوئی اس طرح ختم ہو گئی اور ایک پیش گوئی سن لو۔

البلاء ص ٦، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٦) ”ستر برس بھی طاعون رہے۔ قادیان محفوظ رہے گا۔“ (دافع البلاء ص ١٤، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٠) کیا ہوا کیا قادیان میں طاعون نہیں آیا اور زوروں سے آیا۔ خود مرزا قادیانی نے اپنے گھر کو کشتی نوح بتایا تھا۔ چندہ کی اپیل کی تھی۔ اس کشتی نوح کے اندر بھی طاعون آیا۔ حتیٰ کہ مرزا قادیانی جس کھاٹ پر تشریف فرما ہیں اس پر بھی طاعون، ہمت ہے تو حوالہ مانگو۔ قدرت خدا کا تماشا دیکھو۔

طاعون سے عام لوگ مرے یا کچھ خاص بھی مرے؟ مرزا قادیانی کے ماننے سے طاعون آیا تھا یا نہ ماننے سے۔ جب نہ ماننے سے آیا تھا تو پھر مرزا قادیانی نے ڈھائی ہزار روپے خرچ کر کے دوا تریاق الہی کیوں بنائی۔ (ایام الصلح ص ٦، خزائن ج ١٤ ص ٢٣٣) اس دوا کو کون کھائیں گے ماننے والے یا نہ ماننے والے۔ سوچ کر جواب دو بڑا کٹھن مرحلہ ہے۔

مرزا قادیانی کے ایک مرید ڈاکٹر عبدالحکیم تھے۔ یہ اصحاب بدر میں سے ہیں۔ (ضمیمہ انجام آتھم ص ٤١، خزائن ج ١١ ص ٣٢٥) مرزا قادیانی نے ان کی بہت تعریف کی ہے۔ (ازالہ اوہام ص ٤٣٠، خزائن ج ٣ ص ٥٣٧) یہ مرزا قادیانی کے آئے دن کے نئے نئے دعووں سے تنگ آ کر مرزا قادیانی کے خلاف ایک کتاب لکھی۔ ”کانا دجال“ اس میں مرزا قادیانی کی موت کی پیش گوئی کرتا ہے۔ آسانی کے لئے نقشہ دیتا ہوں۔ تاکہ آسانی سے سمجھ لو۔

عبدالحکیم کے جواب میں مرزا قادیانی کی وحی عبدالحکیم کا الہام ١٢ جولائی ١٩٠٦ء مرزا مسرف رب فرق بین صادق و کاذب۔ کذاب ہے تین سال زندہ رہے گا۔ اس کے جواب میں مرزا قادیانی مورخہ یکم جولائی ١٩٠٧ء مرزا کی میعاد موت سے ٥ نومبر ١٩٠٧ء میں تیری عمر کو بھی بڑھا دوں دس ماہ گیارہ دن اور کم کیا۔ گا۔ (تذکرہ ص ٧٣٨) مرزا قادیانی نے جواب دیا۔ خدا نے مجھے خبر دی ١٦؍ فروری ١٩٠٨ء مرزا ٤؍ اگست ١٩٠٨ء ہے کہ خدا اس کو (عبدالحکیم) کو ہلاک کرے گا۔ تک ہلاک ہو جائے گا۔

١١٩

صفحہ ١٦٢

نتیجہ

مرزا قادیانی ٢٦ مئی ١٩٠٨ء کو رخصت۔ عبدالحکیم زندہ۔ تو مرزا قادیانی کو جو خدا نے وعدہ کیا تھا اس کو دائیں طرف دیکھ لیں۔ وہ سب کہاں گیا۔ ”تک“ اور ”کو“ کا جواب نہ دیا۔ خود مرزا قادیانی نے چشمہ معرفت میں تک لکھا ہے۔ خیر اب اسی پر اکتفاء ہے۔ آپ نے کچھ آیات نقل کئے جواب آہستہ آہستہ دوں گا۔ ”لقد لبثت فیکم (یونس: ١٦)“ کا جواب کا عدالت کی کارروائی یا مختاری کا امتحان کا فیل ہونا یا محمدی بیگم کی پیش گوئی یا عبدالحکیم کی پیش گوئی کسی ایک کو مقرر کرو اور قدرت خدا کا تماشا دیکھو۔

”ظهر الفساد فی البر (الروم: ٤١)“ کا جواب یہ کہ بہت جگہ آگیا۔ مرزا قادیانی رودر گوپال۔ اور جے سنگھ اور آریوں کے بادشاہ وغیرہ بن کر چلے گئے۔ مگر فساد بڑھتا ہی گیا۔ گرانی بڑھتی گئی۔ طاعون آئی بھی اور چلی بھی گئی۔ مگر سنٹل ابھی تک ڈاؤن ہے۔ اب اس کے بعد مرزا قادیانی کو ہم دوسرے معیار سے جانچیں گے۔ مولوی سلیم ہم گاہک ہیں معیار اصلی و نقلی مقرر کرنا ہمارا کام ہے، تمہارا نہیں۔ تم پنجاب سے ایک مذہب لائے ہو۔ ہمارے پاس مکہ اور مدینہ منورہ کا چودہ سو سال کا مذہب موجود ہے۔ ہم دونوں مذہب کا ، دونوں نبی کا، مقابلہ اپنے عقل سے اور نقل سے کر کے اطمینان کریں گے۔ مگر یار تم عجب بیوپاری ہو کہ مال بھی تم ہی لائے اور معیار اصلی و نقلی بھی تم مقرر کرو گے۔ یہ ہرگز نہیں ہو سکتا۔

(شرح دستخط ) احقر محمد اسماعیل عفی عنہ مورخہ ٢٥ نومبر ١٩٦٣ء مناظر اہل سنت والجماعت۔ فاضل دیوبند۔ صدر جمعیت العلماء اڑیسہ، رکن مرکزی عاملہ جمعیت علماء ہند دہلی، رکن اڑیسہ مسلم وقف بورڈ ۔ مہتمم مدرسہ عربیہ اسلامیہ سونگھڑہ۔ ڈاکخانہ کوڑ ضلع کٹک اڑیسہ۔

نوشتہ بماند سیہ بر سپید
نویسندہ را نیست فردا امید

سوچ کر جواب دو۔

١٢٠

صفحہ ١٦٣

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

صداقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر جماعت احمدیہ کا دوسرا پرچہ

معزز سامعین! آپ حضرات نے ہمارے مدمقابل کا جواب سن لیا ہے۔ ہم کو اس جواب پر کوئی تعجب نہیں۔ کیونکہ وہ ہمارے لئے نیا نہیں ہے۔ بھلا دنیا میں وہ کون سا نبی ہوا ہے جس کی مخالفت نہیں کی گئی اور اس کا مذاق نہیں اڑایا گیا اور اس پر بہتان نہیں باندھے گئے۔ پس ہمیں اس جواب پر ذرہ بھی حیرت نہیں ہوئی۔ ”الاناء یترشح بما فیہ“ برتن میں سے وہی ٹپکتا ہے۔ جو اس کے اندر ہوتا ہے۔ تقریباً اسی سال سے احمدیت کے مخالفین ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں تاکہ کسی طرح اس کی ترقی کو روک سکیں۔ مگر وہ بری طرح ناکام و نامراد اور خائب و خاسر رہے ہیں۔

حضرت بانی سلسلہ احمدیہ فرماتے ہیں: ”اے نادانو اور اندھو! مجھ سے پہلے کون صادق ضائع ہوا جو میں ضائع ہو جاؤں گا۔ کس سچے وفادار کو خدا نے ذلت کے ساتھ ہلاک کر دیا۔ جو مجھے ہلاک کرے گا۔ یقیناً یاد رکھو اور کان کھول کر سنو کہ میری روح ہلاک ہونے والی روح نہیں اور میری سرشت میں ناکامی کا خمیر نہیں۔ مجھے وہ ہمت اور صدق بخشا گیا ہے۔ جس کے آگے پہاڑ ہیچ ہیں۔ میں کسی کی پروا نہیں کرتا۔ میں اکیلا تھا اور اکیلا رہنے پر ناراض نہیں۔ کیا خدا مجھے چھوڑ دے گا۔ کبھی نہیں چھوڑے گا۔ کیا وہ مجھے ضائع کر دے گا۔ کبھی نہیں ضائع کرے گا۔ دشمن ذلیل ہوں گے اور حاسد شرمندہ اور خدا اپنے بندے کو ہر میدان میں فتح دے گا۔ میں اس کے ساتھ وہ میرے ساتھ ہے۔ کوئی چیز ہمارا پیوند نہیں توڑ سکتی اور مجھے اس کی عزت اور جلال کی قسم ہے کہ مجھے دنیا اور آخرت میں اس سے زیادہ کوئی چیز بھی پیاری نہیں کہ اس کے دین کی عظمت ظاہر ہو۔ اس کا جلال چمکے اور اس کا بول بالا ہو۔ کسی ابتلاء سے اس کے فضل کے ساتھ مجھے خوف نہیں۔ اگرچہ ایک ابتلاء نہیں کروڑ ابتلا ہوں۔ ابتلاؤں کے میدان میں اور دکھوں کے جنگل میں مجھے طاقت دی گئی ہے۔

من نہ آنستم کہ روز جنگ بینی پشت من
آں منم کان درمیان خاک وخوں بینی سرے

(انوار الاسلام ص ٢١، ٢٢)

حضرات! ہم اپنے گزشتہ پرچے میں قرآن مجید میں سے نو دلائل پیش کر چکے ہیں۔ جن سے حضرت بانی سلسلہ احمدیہ حضرت مسیح موعود کی سچائی روز روشن کی طرح ثابت ہے۔

١٢١

صفحہ ١٦٤

ہمارے مد مقابل نے ان کو چھونا تک گوارا نہیں کیا اور عذر یہ کیا ہے کہ صاحب! مال بھی آپ کا اور پرکھنے کا طریقہ بھی آپ مقرر کریں؟ ہمیں ان کی عقل پر تعجب آتا ہے۔ اگر کفار مکہ یہی بات حضرت رسول پاک ﷺ سے کہتے تو آپ کیا جواب دیتے۔ بلکہ حد تو یہ ہے کہ انہوں نے یہی بات کہی تھی۔ مگر اللہ تعالیٰ نے اور اس کے رسول نے کوئی پروا نہ کی۔ کیا آپ نے سورہ بنی اسرائیل میں یہ نہیں پڑھا کہ مکہ کے کافر آنحضرت ﷺ کے پیش کردہ دلائل پر توجہ کرنے کی بجائے اپنی طرف سے من گھڑت طریقے پیش کیا کرتے تھے۔ چنانچہ انہوں نے کہا تھا: ”او ترقى فى السماء ولن نؤمن لرقيك حتى تنزل علينا كتبا نقرؤه“

یعنی اگر آپ سچے ہیں تو آسمان پر چڑھ کر دکھائیے۔ مگر ہم کو آپ کے آسمان پر چڑھنے کا یقین اس وقت آئے گا جب کہ آپ وہاں سے کوئی تحریر بھیجیں گے جو آپ کے وہاں پہنچنے کی رسید ہوگی۔

ہم اپنے گزشتہ پرچوں میں مندرجہ بالا حقیقت پر کافی سے زیادہ روشنی ڈال چکے ہیں اور آج پھر اپنے مد مقابل کے ذکر چھیڑنے پر ہم ان سے پوچھتے ہیں کہ اگر ان میں ہمت ہے۔ کوئی دم خم ہے تو اس کا جواب دیں اور لگے ہاتھوں یہ بھی بتادیں کہ قرآن مجید میں آنحضرت ﷺ کی سچائی کے جو دلائل پیش کئے گئے ہیں وہ کافروں کے تجویز کردہ ہیں یا اللہ تعالیٰ کے۔ جن کو اللہ کے رسول نے مخالفین کے سامنے اپنی صداقت پرکھنے کے لئے پیش فرمایا تھا؟ اسی طرح ہم نے کئی سابقہ نبیوں کے نام لے لے کر آپ کو توجہ دلائی تھی۔ مگر آپ نے اس کو بھی نظر انداز کر دیا ہے۔ وہ تمام نبی جو اپنے تئیں رسول امین کہہ کر اپنی سچائی کا ثبوت دے رہے ہیں۔ یہ کسوٹی ان کی طرف سے پیش کی گئی ہے یا ان کے گاہکوں کی طرف سے؟

سامعین کرام ! صداقت حضرت مرزا صاحب کے سلسلے میں ہماری طرف سے پیش کردہ نو دلائل کے علاوہ اب آپ مزید چند دلائل سماعت فرمائیں۔

کی پاک دامنی پر یقین کر کے ان سے پیدا ہونے والے بچوں کو اپنی اولاد یقین کر لیتے ہو تو ہمارے نبی کی قبل از دعویٰ چالیس سالہ لمبی مگر پاک اور مطہر زندگی کو دیکھو کہ اس کی سچائی پر کیوں یقین نہیں لاتے؟

یہ مضمون: ”يعرفونه كما يعرفون ابناءهم (آل عمران)“ کی آیت قرآنیہ میں مذکور ہے۔

١٢٢

صفحہ ١٦٥

قرآن مجید کے حقائق ومعارف پاک لوگوں کے سوا دوسروں پر نہیں کھولے جاتے۔ سو اگر اس باب میں حضرت مرزا صاحب تمام مولویوں پر غالب آگئے ہوں تو یہ آپ کی سچائی کی بہت بڑی دلیل ہے۔ آپ فرماتے ہیں: ”خدا تعالیٰ کے تائیدی نشانوں میں سے ایک یہ نشان بھی مجھے دیا گیا ہے کہ میں فصیح بلیغ عربی میں قرآن شریف کی کسی سورۃ کی تفسیر لکھ سکتا ہوں اور مجھے خدا تعالیٰ کی طرف سے علم دیا گیا ہے کہ میرے مقابل اور بالمواجہ بیٹھ کر کوئی دوسرا شخص خواہ وہ مولوی ہو یا کوئی فقیر گدی نشین ایسی تفسیر ہرگز نہیں لکھ سکے گا۔“

(نزول المسیح ص ٥٣ حاشیہ، خزائن ج ١٨ ص ٤٣١ حاشیہ)

پھر فرمایا: ”میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اگر کوئی مولوی اس ملک کے تمام مولویوں میں سے معارف قرآنی میں مجھ سے مقابلہ کرنا چاہے اور کسی سورۃ کی ایک تفسیر میں لکھوں اور ایک کوئی اور مخالف لکھے تو وہ نہایت ذلیل ہوگا اور مقابلہ نہیں کر سکے گا اور یہی وجہ ہے کہ باوجود اصرار کے مولویوں نے اس طرف رخ نہیں کیا۔ پس یہ ایک عظیم الشان نشان ہے۔ مگر ان کے لئے جو انصاف اور ایمان رکھتے ہیں۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٠ خزائن ج ١١ ص ٣٠٤ ملخص)

بخاری کتاب التفسیر ج ٣ میں اس آیت قرآنی کی تشریح میں یہ بیان ہوا ہے کہ حضرت رسول کریم ﷺ نے صحابہ سے فرمایا کہ آخری زمانے میں جب کہ ایمان دنیا سے اٹھ جائے گا اور آسمان پر چلا جائے گا تو ایک فارسی الاصل اس ایمان کو پھر دنیا میں قائم کرے گا۔

اس کے مطابق ہمارا دعویٰ ہے کہ بانی سلسلہ احمدیہ حضرت مسیح موعود اس زمانے میں آسمان پر گئے ہوئے ایمان کو پھر دنیا میں قائم کرنے کے لئے آئے ہیں اور یہ خدا کا فضل ہے کہ آپ نے حصار اسلام کی ایسی حفاظت کا سامان کر دیا ہے کہ اب دنیا کا کوئی حملہ آور اسے نقصان نہیں پہنچا سکتا۔

کے گزرنے پر ظاہر ہوں گی۔ جیسا کہ حدیث میں آیا ہے: ”الآيات بعد المأتين“

(مشکوٰۃ مجتبائی ص ٤٧١)

حضرت امام ملا علی قاری فرماتے ہیں: ”ويحتمل ان يكون الامام في المأتين بعد الالف وهو وقت ظهور المهدی“ کہ بارہ سو سال کے بعد مہدی کا ظہور ہوگا۔

(مشکوٰۃ ص ٤٧١ حاشیہ)

١٢٣

صفحہ ١٦٦

اسی طرح نواب صدیق حسن خاں صاحب نے اپنی کتاب (حجج الکرامہ ص ٤١، ٤٢، ٣٩٤، ٣٩٥) پر یہی لکھا ہے کہ مہدی کو تیرھویں صدی میں ظاہر ہو جانا چاہئے۔ پھر لکھتے ہیں: ”اس حساب سے ظہور مہدی علیہ السلام کا تیرھویں صدی پر ہونا چاہئے تھا۔ مگر یہ صدی پوری گزر گئی تو مہدی نہ آئے۔ اب چودھویں صدی ہمارے سر پر آتی ہے۔ اس صدی سے اس کتاب کے لکھنے تک چھ ماہ گزر چکے ہیں۔ شاید اللہ تعالیٰ اپنا فضل و عدل و رحم و کرم فرمائے۔ چار چھ سال کے اندر مہدی ظاہر ہو جاویں۔“

(اقتراب الساعۃ ص ٢٢١)

حضرات! یہ حوالہ قابل غور ہے۔ گویا آج سے ٧٧ برس پہلے مہدی کو ظاہر ہو جانا چاہئے تھا۔ مگر ہمارے مد مقابل اب تک بھی ظہور مہدی کو تسلیم کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔

میں چاند گہن کی راتوں میں سے پہلی رات کو چاند گہن اور سورج گہن کے دنوں میں سے درمیانی دن کو سورج گہن ہوگا اور یہ مہدی کا نشان ہوگا۔ یعنی اس وقت مہدی موجود ہوگا۔ یہ گہن ١٨٩٤ء میں وقوع میں آ چکا ہے۔ اس وقت سوائے بانی سلسلہ احمدیہ کے کوئی دوسرا مدعی میدان میں موجود نہ تھا۔

(حجج الکرامہ ص ٣٤٤)

قرآن کا صرف رسم رہ جائے گا اور علمائے زمانہ بدترین خلائق ہو جائیں گے۔ مسجدیں ہدایت سے خالی ہو جائیں گی۔ اس وقت دین اسلام کو تازہ کرنے کے لئے ایک مجدد برپا ہوگا۔ الفاظ یہ ہیں: ”ان الله يبعث لهذه الامة على رأس كل مائة سنة من يجدد لها دينها“

(مشکوٰۃ ص ١٣٩، کتاب العلم، مشکوٰۃ ص ١٣٨، کتاب العلم)

کہ اللہ تعالیٰ امت محمدی کی بھلائی کے لئے ہر سو سال کے شروع میں مجدد بھیجا کرے گا تاکہ وہ دین کو تازہ کر دیا کریں۔ ہمارا دعویٰ ہے کہ ہر صدی کے سر پر ایسے لوگ پیدا ہوتے رہے ہیں اور چودھویں صدی کے سر پر سوائے بانی سلسلہ احمدیہ کے اور کوئی میدان میں نہیں آیا۔

گزشتہ رسولوں کی تصدیق کیا کرتا ہے۔ چنانچہ یہ کام بھی حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے باحسن وجوہ سرانجام دیا ہے۔ قرآن مجید میں لکھا ہے کہ ہر قوم میں نبی آئے ہیں: ”وان من امة الا خلا فيها نذير (فاطر)“

حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے اسی آیت کی روشنی میں حضرت کرشن اور حضرت رامچندر

١٤٤

صفحہ ١٦٧

جی کو اللہ تعالیٰ کے نبی اور رسول قرار دیا ہے۔

درجہ حاصل ہوتا ہے۔ اس سلسلہ میں بھی بانی سلسلہ احمدیہ کا شاندار نمونہ ہمارے سامنے ہے۔ لیکن ہم مثال کے طور پر صرف ایک حوالہ پیش کرتے ہیں۔ جو خاص یاد گیر سے تعلق رکھتا ہے۔ یعنی مرحوم عبدالکریم سکنہ یادگیری اپنے بچپن میں بسلسلہ تعلیم قادیان میں مقیم تھے کہ ان کو سگ دیوانہ نے کاٹ لیا۔ ان کے کتبے کے لئے جو عبارت ہمارے مرکز نے تجویز کی ہے وہ حسب ذیل ہے۔

”حضرت مولوی عبدالکریم شحنہ صاحب ولد عبدالرحمن صاحب سکنہ یاد گیر محلہ آثار شریف حیدرآباد۔ بزمانہ طالب علمی بمقام قادیان آپ کو باؤلے کتے نے کاٹ لیا۔ علاج سے بظاہر اچھے ہوگئے۔ مگر دوبارہ سگ دیوانگی کے آثار بعودت ظاہر ہوگئے۔ ڈاکٹروں نے لاعلاج قرار دیا۔ حضرت مسیح الزمان نے ان کی غربت اور بے وطنی پر رحم کھا کر دعا فرمائی۔ جس کے نتیجے میں ان کو اللہ تعالیٰ نے شفائے کامل بخشی اور اس کے بعد ٢٨ سال تک زندہ رہے۔ بہت نیک سیرت، منکسر المزاج ، سادہ طبع اور تنہائی پسند تھے۔ کثیر اولاد یادگار چھوڑی۔“

حضرات! اب ہم اپنے مد مقابل کے پیش کردہ سوالات کا جواب دیتے ہیں۔ آپ نے پھر اسے دہرایا ہے کہ مرزا صاحب نے لکھا ہے کہ میری تحریرات میں لفظ نبی کو کاٹا ہوا سمجھو۔ ہم کل اس کا جواب دے چکے ہیں کہ اس طرح تو صلح حدیبیہ کے موقع پر آنحضرت ﷺ نے بھی کافروں کے اصرار پر اپنے نام سے رسول اللہ کے الفاظ کاٹ دیئے تھے تو کیا آپ کا خیال یہ ہے کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر حضور ﷺ نے اپنے دعویٰ نبوت سے توبہ کر لی تھی؟ نعوذ باللہ من ذالك!

(بخاری ج ٢ ص ٥٧٠ مصری)

ہمارے مد مقابل نے عبداللہ تیماپوری وغیرہ کو مدعی نبوت کے خطاب سے یاد کیا ہے۔ بہت اچھا کیا۔ اسی سے حق پسند لوگ خود ہی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ سچے اور جھوٹے میں کیا فرق ہوتا ہے۔ جماعت احمدیہ کے قیام پر تقریباً اسی سال گزر رہے ہیں اور آپ حضرات ابتدا ہی سے پنجے جھاڑ کر ہمارے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔ آپ عبداللہ تیماپوری کی مخالفت کیوں نہیں کرتے؟ اصل بات یہ ہے کہ جہاں گل و گلزار پیدا ہوتے ہیں وہاں کئی قسم کی مکروہ جڑی بوٹیاں بھی پیدا ہو جاتی ہیں۔

آپ نے کہا ہے کہ مرزا صاحب دعویٰ نبوت کے بعد صرف چھ سال زندہ رہے۔ حالانکہ ہم نے جو آیت پیش کی ہے۔ اس میں دعویٰ نبوت نہیں بلکہ دعویٰ الہام کا ذکر ہے۔ جس کی ١٢٥

صفحہ ١٦٨

طرف لفظ تقول اشارہ کر رہا ہے۔ دعویٰ الہام کے بعد تو حضرت مرزا صاحب قریباً چالیس برس تک زندہ رہے۔

آپ نے لکھا ہے کہ مرزا صاحب نے پیش گوئی کی تھی کہ محمد حسین بٹالوی ان پر ایمان لے آئے گا۔ حالانکہ یہ بالکل غلط ہے۔ پیش گوئی یہ تھی کہ ”یؤمن بایمانی“ یعنی وہ میرے مؤمن ہونے کو تسلیم کرلے گا۔ یاد رہے کہ مولوی محمد حسین نے سارے ہندوستان میں پھر کر حضرت مرزا صاحب کے خلاف کفر کا فتویٰ تیار کروایا تھا۔ لیکن آخر ١٩١٢ء میں لالہ دیوکی نندن مجسٹریٹ درجہ اوّل وزیر آباد کی عدالت میں مقدمہ نمبر ١٣٠٠ میں بٹالوی نے حلفاً بیان کیا کہ میں احمدی جماعت کو مسلمان سمجھتا ہوں۔ سو پیش گوئی پوری ہوگئی۔

ہم مکہ میں مریں گے یا مدینہ میں۔ حضرت مرزا صاحب نے خود اس کی تشریح بیان فرمائی ہے کہ یہ کلمہ کہ ہم مکہ میں مریں گے یا مدینے میں۔ اس کے یہ معنی ہیں کہ قبل از موت مکی فتح نصیب ہوگی۔ جیسا کہ وہاں دشمنوں کو قہر کے ساتھ مغلوب کیا گیا تھا۔ اسی طرح یہاں بھی دشمن قہری نشانوں سے مغلوب کئے جائیں گے۔ دوسرے معنی یہ ہیں کہ قبل از موت مدنی فتح نصیب ہوگی۔ خود بخود لوگوں کے دل ہماری طرف مائل ہو جائیں گے۔

(تذکرہ ص ٥٢٦)

محمدی بیگم کی پیش گوئی کے بارے میں ہمارا جواب یہ ہے کہ یہ پیش گوئی لفظ بہ لفظ پوری ہوئی ہے۔ تفصیل یہ ہے کہ اگر یہ رشتہ کسی دوسری جگہ کیا جائے گا تو:

جانتی ہے کہ وہ چھ ماہ کے اندر مرگیا۔

ہے کہ اس نے توبہ کی۔ چنانچہ اس کے خط کا چربہ ہمارے پاس موجود، جو چاہے دیکھ سکتا ہے۔ ان دونوں موتوں کے بعد محمدی بیگم کا نکاح ہونا مقدر تھا ورنہ یہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

منظور محمد کے ہاں لڑکا پیدا ہونے کے متعلق جو پیش گوئی تھی اس کے متعلق حضرت مرزا صاحب نے فرمایا ہے۔ ”معلوم نہیں کہ منظور محمد کے لفظ سے کس کی طرف اشارہ ہے۔“ لہٰذا کسی کو کوئی حق نہیں کہ اپنے نام بردہ منظور محمد کے ہاں بیٹا پیدا ہونے پر اصرار کرے۔

آپ نے لکھا ہے کہ حضرت مرزا صاحب نے لکھا ہے کہ قادیان میں طاعون نہیں آئے گی۔ یہ بالکل جھوٹ ہے۔ اصل پیش گوئی یہ تھی کہ قادیان میں ”طاعون جارف“ نہیں آئے گی۔ یعنی جھاڑو دینے والی۔ جس سے لوگ جابجا بھاگتے ہیں۔ لکھا ہے کچھ حرج نہیں کہ انسانی

١٢٦

برداشت کی حد تک کبھی قادیان میں بھی کوئی نہ ہو۔

آپ کو اعتراض ہے کہ طاعون گئی۔ اگر کوئی آپ سے پوچھے کہ جب دشمنوں پر غالب آئیں گے تو اس غلبہ کو چ کیں؟

حضرت مرزا صاحب چونکہ سنگھ بہادر اور آریوں کا بادشاہ کہلانے کے اعتراض ہے اور کیا حضرت رسول کریم غیر مسلم سب شامل ہیں۔

آپ نے لکھا ہے کہ ڈاکٹر بہت تعریف کی تھی۔ وہ مرتد کیوں ہو گیا

تہی دستان

آپ خوب جانتے ہیں کہ ا کاتب وحی سے بھی زیادہ مقرب تھا؟ ہم نے اپنے مد مقابل کے آئندہ ذکر کر دیں۔

کذب مرزا پر دوسرا پرو

برادران اسلام! آپ نے کے پہلے پرچے میں نبی کی رٹ تھی مگر چنانچہ مشکوٰۃ کی ”علی رأس کل ہونے کے باعث تم نے گھبرا کر مرزا قد

صفحہ ١٦٩

برداشت کی حد تک کبھی قادیان میں بھی کوئی واردات شاذ و نادر کے طور پر ہو جائے جو بربادی بخش نہ ہو۔

(دافع البلاء ص ٥ حاشیہ، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٥ حاشیہ)

آپ کو اعتراض ہے کہ طاعون سے بچنے کے لئے ”تریاق الٰہی“ دوائی کیوں تیار کی گئی۔ اگر کوئی آپ سے پوچھے کہ جب رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ آپ دشمنوں پر غالب آئیں گے تو اس غلبہ کو حاصل کرنے کے لئے آپ نے دن رات کوششیں کیوں کیں؟

حضرت مرزا صاحب چونکہ تمام قوموں کے موعود ہیں۔ اس لئے وہ رودر گوپال، جے سنگھ بہادر اور آریوں کا بادشاہ کہلانے کے حقدار ہیں۔ آپ کو رودر گوپال اور جے سنگھ بہادر پر کیا اعتراض ہے اور کیا حضرت رسول کریم ﷺ تمام دنیا کے بادشاہ نہیں ہیں۔ جس میں مسلم اور غیر مسلم سب شامل ہیں۔

آپ نے لکھا ہے کہ ڈاکٹر عبدالحکیم جو بعد میں مرتد ہو گیا۔ مرزا قادیانی نے اس کی بہت تعریف کی تھی۔ وہ مرتد کیوں ہو گیا۔ شاید آپ کو یاد نہیں رہا کہ

تہی دستان قسمت راچہ سود از رہبر کامل

آپ خوب جانتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کا کاتب وحی مرتد ہو گیا تھا تو کیا عبدالحکیم کاتب وحی سے بھی زیادہ مقرب تھا؟

ہم نے اپنے مد مقابل کے تمام سوالات کا جواب دے دیا ہے۔ اگر کوئی بات رہ گئی تو آئندہ ذکر کر دیں۔

(نقل دستخط) محمد سلیم عفی عنہ مورخہ ٢٥ نومبر ١٩٦٣ء

کذب مرزا پر دوسرا پرچہ ....... از اہل سنت والجماعت یادگیر

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

برادرانِ اسلام! آپ نے دیکھا کہ کل تک قادیانی مرزا قادیانی کو نبی مانتے تھے۔ آج کے پہلے پرچے میں نبی کی رٹ تھی مگر میری گرفت سے مجبور ہو کر مجدد بنانے پر راضی ہو گئے۔ چنانچہ مشکوٰۃ کی ”علی رأس کل مائة سنة“ حدیث کو نقل کیا۔ مولوی سلیم جب جھوٹے ہونے کے باعث تم نے گھبرا کر مرزا قادیانی کو مجدد پر اتار دیا تو کیا اس سے تمہاری جان بچ جائے

١٢٧

صفحہ ١٧٠

گی۔ بھلا جھوٹے کو مجدد بھی کون مانے گا؟ جو جھوٹا ثابت ہو گیا تو وہ صرف جھوٹا ہی ہوگا۔ نہ مجدد، نہ محدث، نہ نبی، نہ ولی۔ دوست ابھی ابھی ایک نئے نبی خواجہ اسماعیل کے ٤١ رسائل بذریعہ رجسٹری موصول ہوئے ہیں۔ یہ آپ کی خوش قسمتی ہے کہ ہماری میں کہہ نہیں سکتا۔ مگر مناظرہ کی خوش قسمتی ضرورت ہے۔ خواجہ صاحب آپ بھی جانتے ہیں۔ یہ لندن میں رہتے ہیں۔ اصل میں رہنے والے اسی پنجاب کے ہیں۔ رسالوں کو ضرور ایک نظر دیکھ لو کس شان کا دعویٰ ہے۔ یہ یورپین نبی ہے۔ کہو ہم کس کس نبی کو مانیں اور صفت یہ ہے کہ تم نے مرزا قادیانی کی صداقت کے جس قسم کے دلائل دیئے ہیں۔ یہ بھی اسی قسم کے دلائل ہیں۔ اب مشکل تم کو ہوگی۔ کیونکہ مہر نبوت کو توڑ کر یہ وبال تم لائے ہو۔ ہم کو کیا ہمارا تو وہی کہنا ہے جو ہمارے نبی ﷺ نے کہہ دیا کہ یہ سب کذاب ہیں۔ دجال ہیں۔ ہرگز ان کے جال میں نہ آنا۔ تم نے لکھ دیا کہ محمدی بیگم کی پیش گوئی پوری ہو گئی تو بتاؤ احمد بیگ مرزا قادیانی کو شادی نہ کرا کے مر گیا تو مرزا قادیانی سچے ہوئے یا جھوٹے۔ کیوں تم نے وہ اپنا پرانا جواب نہیں دیا کہ جس طرح مریم سے اور امرأۃ فرعون سے حضور کا نکاح ہوا۔ اسی طرح محمدی بیگم سے مرزا قادیانی کا ہو گیا۔ مگر چونکہ مد مقابل اڑیسہ کا شیر بیٹھا ہے۔ اس لئے جواب بھول جاتے ہو۔ مگر یہ جواب تم دے نہیں سکو گے۔ کیونکہ حضور نے اس کو معیار صدق اور کذب نہیں کہا تھا اور انجام کار آخر کار سب روک دور ہو جانے کے بعد اس عاجز کے نکاح میں آنے کو نہیں کہا تھا۔ ہاں ہاں ایک نیا حوالہ سنو۔ مرزا قادیانی کو اپنے انتہائی نازک وقت میں بھی محمدی بیگم کی شادی کا یقین تھا۔ اس وقت احمد بیگ مر چکا۔ مگر داماد اس کا زندہ ہے۔ حوالہ دکھا دوں۔ ہاں ہمت کر کے دیکھ لو۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ مرزا قادیانی کے مذہب سے بھی تائب ہو جاؤ۔ جب مرزا قادیانی جھوٹے ثابت ہو گئے۔ محمدی بیگم کا شوہر کب مرا؟ محمدی بیگم کب مری؟ اور مرزا قادیانی کب مرے؟ اور ہاں ڈاکٹر عبدالحکیم کی پیش گوئی کا زائچہ بنا کر میں نے دے دیا تھا۔ تاکہ جواب دینے میں آسانی ہو۔ اللہ نے کس کی زندگی کو بڑھایا۔ مرزا قادیانی کب مرے اور ڈاکٹر عبدالحکیم کب۔

منظور محمد کے بیٹے پیر منظور محمد کون۔ معلوم نہیں مرزا قادیانی نے اس کو دوسری محمدی بیگم کا شوہر کہا ہے۔ اسی سابق حوالے کو غور سے دیکھو۔ طاعون جارف، سنو حقیقت الوحی۔ جب کہ قادیان میں طاعون زوروں پر تھا۔ جارف کے کیا معنی۔ کشتی نوح والے بچ گئے؟ مرزا قادیانی کے سب ماننے والے بچ گئے۔ اجی میں بھول گیا۔ ہاں وہ جو مرزا قادیانی نے قادیان کو دارالامن اور رسول کی تخت گاہ کہہ کر ستر سال تک طاعون کو روکا تھا وہ کیا ہوا؟ دوست یہ کتاب چھپے گی۔ جارف ١٢٨

صفحہ ١٧١

کہہ کر دھوکہ مت دو۔ آپ نے اپنے دونوں پرچوں میں مرزا قادیانی کے کم از کم دس کتابوں سے حوالہ نقل کر دیا ہے۔ اس کا ہم جواب ہی نہیں دیں گے۔ کیونکہ مرزا قادیانی مدعی ہیں۔

تمہیں قاتل ، تمہیں شاہد تمہیں منصف ٹھہرے
اقربا لائیں گے مرے قتل کا دعویٰ کس پر

آخر تم کو یہ فاش غلطی کرتے میں نے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ یادگیر میں تم کو کیا ہو گیا ہے۔

”یعرفون“ کا جواب بہت آسان ہے۔ مرزا قادیانی کی بڑی بیوی جن کو اٹھا کر جنت ساتھ لے جانے والے تھے اور ان کا لڑکا، ڈاکٹر عبدالحکیم، میر عباس علی، بابو الہی بخش، خواجہ کمال الدین ایم۔ اے، فخر الدین ملتانی۔ جس بے چارے نے نوٹ بک لکھ کر دی۔ جس کو دیکھ کر آج تمہارے مبلغ لوگوں کو دھوکا دے کر مذہب بدلاتے ہیں۔ اس کے علاوہ کم از کم ایک درجن نام ”یعرفون“ کے جواب میں پیش کر سکتا ہوں۔ حجج الکرامہ، اقتراب الساعۃ وغیرہ کا حوالہ خلاف شرائط مناظرہ ہے۔ اسی طرح مرزا قادیانی کی کتابوں کا حوالہ خلاف شرائط مناظرہ ہے۔ مرزا قادیانی نے مسلمانوں کو کیا ترقی دی۔ انڈین کرسچین پرچہ نے پرسوں کیا کہا۔ مرزا قادیانی کے بعد عیسیٰ پرستی بڑھی یا گھٹی۔ کم از کم مردم شماری کی رپورٹ ہی دیکھ لیتے۔ میں نے پرسوں بتا دیا تھا۔

”لا يفلح الظالمون“ کا جواب محمدی بیگم کا نکاح فلاح نہیں پایا۔ نکاح نہیں ہوا۔ اس لئے کہ ظالم فلاح نہیں پاتا۔

”يا ايها الذين ھادوا“ کا جواب ڈاکٹر عبدالحکیم کی موت کی پیش گوئی اور اسی پیش گوئی کے اندر مرزا قادیانی کا مر جانا، عبدالحکیم نے کہا۔ مرزا قادیانی اگست تک مر جائے گا۔ مرزا قادیانی مئی میں مر گئے۔ اب اگست پہلے آتا ہے کہ مئی اس کو کسی لغت سے دیکھو؟ کیونکہ ”متوفيك“ اور ”خاتم“ کی طرح بڑا مشکل لفظ آ گیا ہے۔ جھوٹ کہہ دو گے عبدالحکیم نے غلط لکھا تھا کہ اگست کو میں نے تمہاری وحی مقدس سے ”تک“ دکھایا اب اگر کسی اخبار میں چھپ گیا تو پیش گوئی غلط ہو گی۔ مگر اللہ نے جو مرزا قادیانی کو تسلی دی کہ: ”تیری عمر کو بھی بڑھا دوں گا۔“ وہ کہاں گیا۔

شرح عقائد وغیرہ کا حوالہ خلاف شرائط مناظرہ ہے۔

بخاری شریف سے ”ما جربنا الا صدقاً“ لکھ دیا اور ہم نے مرزا قادیانی کو ”ما جربنا الا کذبا“ ثابت کر دیا۔ اسی لئے تم گھبرا کر نیگوسیشن کے لئے تیار ہو گئے کہ نبی نہیں

١٢٩

صفحہ ١٧٢

تو نہیں مجدد ہی بن کر یہ مذہب زندہ رہ جائے۔

بنی اسرائیل

آسمان سے اتریں گے

مرزا قادیانی کی ذات گرامی جھوٹ کی پوت ہے۔ ان کو تم نے مسیح موعود لقب دیا۔ موعود مفعول کا صیغہ ہے۔ دنیا میں کوئی ایسی گرائمر نہیں کہ فعل نہیں، فاعل نہیں، مفعول موجود۔ ہم پوچھتے ہیں۔ کس نے وعدہ کیا تھا۔ کہاں وعدہ کیا تھا۔ کہاں وعدہ کیا تھا کہ مسیح آئے گا۔ اسی پرچہ

دمشق کی مسجد میں اتریں گے

منارۂ شرقی پر اتریں گے

میں وعدہ اور وعدہ کرنے والا دکھا دو گے تا کہ ہم آئندہ پرچے میں پوری قصر مسیحیت کو ڈائنا مٹ کر دیں گے۔ آپ نے صرف سورۃ الشعریٰ کا نام لکھ دیا ہے۔ آیت نقل کرو تا کہ ہم تمہارا دھوکہ ثابت کر دیں۔

اور ایک نیا حوالہ سن لو کہ ”لو تقول“ کی تاویل میں تمہاری مدد شاید کر دے۔

زرد رنگ کا حلہ لباس ہوگا

دجال کو قتل کریں گے

مفتری سے مراد دعویٰ نبوت ہے۔ کہیں دعویٰ الہام سمجھ کر جواب لکھنا شروع کرو۔ مرزا قادیانی نے کب دعویٰ کیا تھا۔ ١٩٠٢ء میں۔ کب مرے ١٩٠٨ء میں کتنے دن ہوئے۔ تئیس سالہ مدت کہاں؟ پتا پوری کا جواب کہاں۔ اجی وہ تو خود نبی رہے ان کے بعد ان کے صاحبزادے بھی نبی رہے۔ تمہارے مرزا قادیانی تو اپنے صاحبزادے کو نبی نہیں بنا سکے۔ ہاں میں مانتا ہوں

دنیا میں ایک ہی مذہب اسلام ہوگا

کہ وہ اپنے لڑکے کو ”کأنّ اللّٰہ نزل من السماء“ کہہ کر خدا بنا گئے۔ یادگیر والو مرزا قادیانی کو تو ان مولویوں نے نبی تک پہنچانے کی بڑی کوشش کی۔ مگر میرے سرکاری مہر خاتمیت نے ”لا نبی

امام مہدی ان کے وزیر ہوں گے

بعـــدی“ کی سد سکندری نے کذاب و دجال بنا دیا۔ مگر اتنا ضرور ہوا کہ مرزا قادیانی اپنے صاحبزادے کو اللہ بنا گئے۔ گویا خود خدا آسمان سے اتر آیا۔ دیکھا آپ نے۔

اے یادگیر کے بھولے بھالے بھائیو! خدا کے لئے آنکھیں کھولو۔ اس مذہب کی

مدینہ شریف میں وصال ہوگا

حقیقت کو سمجھو۔ رات کو رورو کر دعائیں مانگو کہ اے اللہ تیرا نام حق ہے تو حق کو ہم پر ظاہر کر دے۔ انشاء اللہ تم کو ہدایت مل جائے گی۔

میں تو ہمارے صدر محترم جناب بشو ناتھ ریڈی صاحب کا دلی شکریہ ادا کرتا ہوں کہ

آنحضرت ﷺ کے مقبرے میں

انہوں نے بہت بڑا کام کیا کہ آج دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی الگ ہو گیا۔ اب ایک نیا زائچہ ملاحظہ کریں۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نشانی قرآن مرزا قادیانی آنجہانی کی نشانی ان کی کتابوں و حدیث سے سے بے باپ باپ کا نام غلام مرتضیٰ ان کی والدہ مریم صدیقہ چراغ بی بی

بھائیو! میں نے تمہا

حلیہ نقل کر دیا۔ اب خدا کے لئے

موعود بن سکتے ہیں۔ نہیں نہیں ہ

١٣٠

صفحہ ١٧٢

وت کی پوٹ ہے۔ ان کو تم نے مسیح موعود لقب دیا۔ گر امر نہیں کہ فعل نہیں، فاعل نہیں، مفعول موجود۔ ہم دہ کیا تھا۔ کہاں وعدہ کیا تھا کہ مسیح آئے گا۔ اسی پرچہ ہم آئندہ پرچے میں پوری قصر مسیحیت کو ڈائنامائٹ کر لکھ دیا ہے۔ آیت نقل کرو تا کہ ہم تمہارا دھوکہ ثابت

لی“ کی تاویل میں تمہاری مدد شاید کر دے۔ کہیں دعویٰ الہام سمجھ کر جواب لکھنا شروع کرو۔ ۔ کب مرے ١٩٠٨ء میں کتنے دن ہوئے۔ تیس وہ تو خود نبی رہے ان کے بعد ان کے صاحبزادے صاحبزادے کو نبی نہیں بنا سکے۔ ہاں میں مانتا ہوں یلہ“ کہہ کر خدا بنا گئے۔ یاد گیر والو مرزا قادیانی کو تو گی۔ مگر میرے سرکار کی مہر خاتمیت نے ”لا نبی دجال بنا دیا۔ مگر اتنا ضرور ہوا کہ مرزا قادیانی اپنے اتر آیا۔ دیکھا آپ نے۔ خدا کے لئے آنکھیں کھولو۔ اس مذہب کی اللہ تیرا نام حق ہے تو حق کو ہم پر ظاہر کر دے۔

یڈیٹر صاحب کا دلی شکریہ ادا کرتا ہوں کہ اور پانی کا پانی الگ ہو گیا۔ اب ایک نیا طمانچہ

مرزا قادیانی آنجہانی کی نشانی ان کی کتابوں سے نام غلام مرتضیٰ بی بی

١٧٣ بنی اسرائیل چینی

آسمان سے اتریں گے ماں کے پیٹ سے بی بی جنت بہن کے بعد خاتم الولد بن کر پیدا ہوئے

دمشق کی مسجد میں اتریں گے کبھی دمشق دیکھا بھی نہیں

منارۂ شرقی پر اتریں گے منارۃ المسیح مرزا قادیانی کی موت کے بہت دن بعد تیار ہوا

زرد رنگ کا حلہ لباس ہوگا دو بیماری دوران سر اور کثرت پیشاب

دجال قتل کریں گے دجال قوم کی حمایت میں مکہ مدینہ اور تمام دوسری حکومتوں میں اپنا مبلغ بھیجا اور پچاس الماری کتاب لکھی اور ملکہ وکٹوریہ کے لئے سجدہ کیا اور انگریز کو اپنا سر پرست بنائے رکھا

دنیا میں ایک ہی مذہب اسلام ہوگا اسلام کے علاوہ قادیانی اور ایک مذہب زیادہ کیا۔ دوسرے مذاہب تو موجود ہی ہیں

امام مہدی ان کے وزیر ہوں گے یہ خود عیسیٰ، خود مہدی، خود رودر گوپال، خود کرشن، خود جے سنگھ، خود آریوں کے بادشاہ اور نہ معلوم کیا کیا بنے

مدینہ شریف میں وصال ہوگا لاہور میں مرے قادیان کو لاش دجال کے گدھے پر واپس لائی گئی۔ کیونکہ لاہور پھر بھی مدینہ کے طرف تھا

آنحضرت ﷺ کے مقبرے میں دفن ہوں گے قادیان میں بہشتی مقبرہ خود ہی بنالیا جو دس حصے کا ایک حصہ دے، جہاں مرے اس کی تختی لگا دی جائے گی۔ وہ قطعی جنتی بن جائے گا

بھائیو! میں نے تمہاری سمجھ کی آسانی کے لئے مسیح موعود علیہ السلام اور مرزا قادیانی کا حلیہ نقل کر دیا۔ اب خدا کے لئے تمہیں بتاؤ کہ کیا واقعی حدیث شریف کی نشانی کی رو سے وہ مسیح موعود بن سکتے ہیں۔ نہیں نہیں ہر گز نہیں۔ اے پروردگار جو اصل اسلام سے بھٹک گئے ہیں۔ اس

١٣١

صفحہ ١٧٤

مناظرے کے بعد ان کو اسلام پر واپس لاوے۔ آمین ! ”بجاہ سید المرسلین ﷺ والہ واصحابہ واھل بیتہ اجمعین برحمتک یا ارحم الراحمین“ احقر: (شرح دستخط) محمد اسماعیل عفی عنہ مورخہ ٢٥ نومبر ١٩٦٣ء

مولوی سلیم اب جواب دینا مشکل ہو گیا۔ آئے تھے مرزا قادیانی کو سچا ثابت کرنے مگر یہ الٹا معاملہ ہو گیا۔ یہ حضور ﷺ کی ختم نبوت اور ناموس کا صدقہ ہے نا۔ (شرح دستخط) محمد اسماعیل عفی عنہ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

صداقت حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) پر جماعت احمدیہ کا تیسرا پرچہ

معزز حضرات ! آپ نے ہمارے مدمقابل کے دونوں پرچے سن لئے ہیں اور آپ نے یہ بھی محسوس کر لیا ہے کہ اس جواب میں کون سی زبان استعمال کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ مقامی پبلک یہ بھی جانتی ہے کہ روزانہ رات کو تقریروں میں کیا گوہر افشانی کی جاتی ہے۔ تاہم چونکہ ہم بفضلہ تعالیٰ تہذیب و اخلاق کی تمام قدروں کو جانتے ہیں اور ہمیں تعلیم بھی یہ ملی ہے۔

گالیاں سن کر دعا دو پاکے دکھ آرام دو
کبر کی عادت جو دیکھو تو دکھاؤ انکسار

(درثمین)

اس لئے فریقین کی تہذیب و شائستگی کا جائزہ لینا ہم اپنے معزز حاضرین کے سپرد کرتے ہیں۔

ہم اپنے پہلے پرچے میں لکھ چکے ہیں کہ آج تک دنیا میں کوئی مامور ایسا نہیں آیا جسے لوگوں نے خوش آمدید کہا ہو۔ بلکہ ہمیشہ ہی ہر میدان میں مظفر و منصور اور کامیاب و کامگار ہوئے اور ان کے دشمن عمر بھر چاند پر تھوکنے کی کوشش کرتے رہے۔ مگر اس سے چاند کا کیا بگڑ سکتا تھا۔

ہم اپنے گزشتہ پرچے میں حضرت مسیح موعود کی صداقت پر قرآن کریم اور حدیث سے سترہ دلائل پیش کر چکے ہیں۔ مگر آپ حضرات شاہد ہیں کہ ہمارے مدمقابل نے ہماری کسی دلیل کا جواب دینے کی کوشش تک نہیں کی۔ تاہم ہم ذیل میں کچھ مزید دلائل پیش کرتے ہیں۔

١٣٢

صفحہ ١٧٥

اور بدروش ہے تو وہ پھر بھی یہی تمنا رکھتا ہے کہ اس کی اولاد نیک چلن ہو اور بزبان حال و قال پکار پکار کر کہتا ہے کہ

من نہ کردم شما حذر بکنید

اب آئیے اس نفسیاتی نگاہ سے حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کی سچائی کو پرکھئے۔ آپ فرماتے ہیں؎

مرے مولا مری اک دعا ہے تیری درگاہ میں عجز و بکا ہے
وہ دے مجھ کو جو اس دل میں بھرا ہے زباں چلتی نہیں شرم و حیا ہے
مری اولاد جو تیری عطا ہے ہر اک کو دیکھ لوں وہ پارسا ہے
تری قدرت کے آگے روک کیا ہے وہ سب دے ان کو جو مجھ کو دیا ہے

(درثمین اردو)

مقام غور ہے کہ اگر حضرت بانی سلسلہ احمدیہ واقعی ایسے ہی تھے جیسے کہ ہمارے مدمقابل ظاہر کرتے ہیں تو علم النفس کی روشنی میں سوچئے وہ اپنی اولاد کے لئے یہ دعا کیونکر کر سکتے۔

وہ سب دے ان کو جو مجھ کو دیا ہے

بازوں کی تصدیق فرمائی اور دشمنوں کے الزامات اور اتہامات کا تار و پود بکھیرا۔ ان کا یہ کارنامہ بذات خود ان کی سچائی کی بہت بڑی دلیل ہے۔ اس نقطۂ نگاہ سے اگر حضرت مرزا صاحب کی سچائی کو پرکھا جائے تو بھی آپ راست باز ٹھہرتے ہیں۔

آپ کے آنے سے پہلے علمائے زمانہ نے خدا، اس کے فرشتوں اور نبیوں پر ایسے ایسے گندے الزامات لگا رکھے تھے کہ جنہیں سننا بھی گوارا نہیں کیا جاسکتا۔ مثلاً خدا تعالیٰ نے حضرت ایوب علیہ السلام کو اپنی قسم پورا کرنے کے لئے ایک چال سکھائی۔ خدا کے فرشتے ایک فاحشہ پر عاشق ہو گئے اور سزا کے طور پر چاہ بابل میں الٹے لٹکائے گئے۔ حضرت آدم علیہ السلام شیطان کے جھانسے میں آگئے۔ (معالم التنزیل ص ٢٢) حضرت ابراہیم علیہ السلام جھوٹ بولے۔ (بخاری نمبر ٢ ص ١٤٦) حضرت یوسف علیہ السلام نے زنا کا ارادہ کیا۔ (معالم التنزیل ص ٤٦١) حتیٰ کہ حضرت رسول کریم ﷺ پر الزام لگایا کہ وہ اپنے ایک جان نثار خادم زید کی منکوحہ پر عاشق ہو گئے۔ (معالم التنزیل ص ٧١٧) اور حضرت رامچندر کو تو یہ ملاں اتنا برا جانتے تھے کہ ان کا نام تک لینے کے لئے تیار نہ تھے۔ حضرت مسیح موعود نے دنیا میں آتے ہی فرمایا:

١٣٣

صفحہ ١٧٦
زنده شد ہر نبی بآمدنم
ہر رسولے نہاں بہ پیرامنم

(درثمین فارسی ص ١٦٠)

نیز فرمایا۔

گر بدنیا نامدے ایں خیل پاک
کاردیں ماندے سراسر ابترے

(درثمین فارسی)

پھر فرمایا۔

سب پاک ہیں پیمبر، اک دوسرے سے بہتر
لیک از خدائے برتر خیر الوریٰ یہی ہے

(درثمین اردو)

آپ لکھتے ہیں: ”اس اندھی دنیا میں جس قدر خدا کے ماموروں اور نبیوں اور رسولوں کی نسبت نکتہ چینیاں ہوتی ہیں اور جس قدر ان کی شان اور اعمال کی نسبت اعتراض اور بدگمانیاں ہوتی ہیں..... وہ دنیا میں کسی کی نسبت نہیں ہوتیں اور خدا نے ایسا ہی ارادہ کیا ہے تا کہ ان کو بد بخت لوگوں کی نظر سے مخفی رکھے اور ان کی نظر میں جائے اعتراض ٹھہر جائیں۔ کیونکہ وہ ایک دولت عظمیٰ ہے اور دولت عظمیٰ کو نااہلوں سے پوشیدہ رکھنا بہتر ہے۔ اسی وجہ سے خدا تعالیٰ ان کو جو شقی ازلی ہیں۔ اس برگزیدہ گروہ کی نسبت طرح طرح کے شبہات میں ڈال دیتا ہے۔ تا وہ دولت قبول سے محروم رہ جائیں۔ یہ سنت اللہ ان لوگوں کی نسبت ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے امام اور رسول اور نبی ہو کر آتے ہیں۔“

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٧٠، خزائن ج ٢١ ص ٨٩)

ارْتَضٰی مِنْ رَّسُوْلٍ (الجن)“ یعنی جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو شاندار پیش گوئیاں عطا کرتا ہے۔ اس لحاظ سے بھی حضرت مسیح موعود کی سچائی واضح ہے۔ چنانچہ جو پیش گوئیاں پوری ہو چکی ہیں اور دشمن کو بھی مجال دم زدن نہیں بطور نمونہ درج ذیل ہیں۔

١٤٤

بھی ناواقف تھے۔

شہرت پائے گا۔

خدائی وحی سے پیش گوئی کی کہ

اس کی ہلاکت کی پیش گوئی۔

ملاں جتنا چاہیں زور لگالیں بھیجیں گے اور تجھ پر ایمان لا

عدن تک آ پہنچا تھا۔ مگر پھر ا دم تک ہندوستان نہ آسکا۔

با حال زار۔

آبدوزوں کا وہم و گمان بھی نہ

کیا دوست اور کیا دشمن ہر شخص اس بات ک کے ماننے والے ایک فعال جماعت کی ح الہامات و پیش گوئیاں حضرت مرزا صاحب ملاحظہ فرمالیں۔

صفحہ ١٧٧

بھی ناواقف تھے۔

شہرت پائے گا۔

خدائی وحی سے پیش گوئی کی کہ مضمون بالا رہا۔

اس کی ہلاکت کی پیش گوئی۔

ملاں جتنا چاہیں زور لگا لیں دور دور سے لوگ تیرے پاس آئیں گے۔ تحفے تحائف بھیجیں گے اور تجھ پر ایمان لا کر تیری صداقت کا باعث بنیں گے۔

عدن تک آ پہنچا تھا۔ مگر پھر ایسے حالات پیدا ہوگئے کہ اسے واپس جانا پڑا اور مرتے دم تک ہندوستان نہ آسکا۔

با حال زار۔

آبدوزوں کا وہم و گمان بھی نہ تھا۔

کیا دوست اور کیا دشمن ہر شخص اس بات کا معترف ہے کہ دنیا کے کونے میں حضرت مرزا صاحب کے ماننے والے ایک فعال جماعت کی حیثیت سے خدمت اسلام کر رہے ہیں۔ متذکرہ بالا جملہ الہامات و پیش گوئیاں حضرت مرزا صاحب کی کتب اور مجموعہ الہامات تذکرہ میں درج ہیں۔

ملاحظہ فرمالیں۔

١٣٥

صفحہ ١٧٨

ان دلائل کو پیش کرنے کے بعد ہم اپنے مد مقابل کے اعتراضات کا جواب دیتے ہیں

آپ نے اپنے پہلے پرچے میں ڈاکٹر عبدالحکیم کا ایک زائچہ بنا کر بھیجا تھا۔ جس میں اس کی آخری پیش گوئی ١٦؍ فروری ١٩٠٨ء کی بایں الفاظ درج کی ہے۔

"مرزا قادیانی ٤؍ اگست ١٩٠٨ء تک ہلاک ہو جائے گا۔"

ہمیں افسوس ہے کہ ہمارے مد مقابل نے امانت اور دیانت کا بری طرح خون کیا ہے۔ کیونکہ اس نے ٨؍ مئی ١٩٠٨ء کو لکھا تھا: "مرزا قادیانی کے متعلق میرے جدید الہامات شائع کر کے ممنون فرماویں اور وہ جدید الہام یہ ہے کہ مرزا قادیانی ٢١؍ ساون یعنی ٤؍ اگست ١٩٠٨ء کو مرض مہلک میں مبتلا ہو کر ہلاک ہو جائے گا۔"

ناظرین کو یاد رہے کہ ڈاکٹر عبدالحکیم نے حضرت مرزا صاحب کے بارے میں کئی پیش گوئیاں کی تھیں اور تھوڑے تھوڑے عرصے کے بعد اپنی ہر پیش گوئی کو منسوخ کر دیا کرتا تھا۔ چنانچہ اس نے اپنی پیش گوئی ٤؍ اگست ١٩٠٨ء تک کو منسوخ کر دیا اور جیسا کہ اوپر ذکر ہوا لکھا کہ: "مرزا قادیانی ٤؍ اگست ١٩٠٨ء تک نہیں بلکہ ٤؍ اگست ١٩٠٨ء کو مرض مہلک میں مبتلا ہو جائے گا۔"

دنیا جانتی ہے کہ عبدالحکیم کی یہ پیش گوئی بالکل جھوٹی نکلی اور اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود کو اس کی شرارت سے محفوظ رکھا۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود نے (چشمہ معرفت ص ٣٢٢، خزائن ج٢٣ ص ٣٣٧) پر اس کی تک والی پیش گوئی کے مقابلے میں لکھا تھا کہ میں اس کے شر سے محفوظ رہوں گا۔

حضرات! مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری نے بھی عبدالحکیم کی اس پیش گوئی کے جھوٹا ہونے کی تصدیق کی ہے۔ حالانکہ وہ جماعت احمدیہ کے شدید دشمن تھے۔ وہ لکھتے ہیں: "ہم خدا لگتی کہنے سے رک نہیں سکتے کہ ڈاکٹر صاحب اگر اسی پر بس کرتے یعنی ١٤؍ یا بایں ہمہ پیش گوئی کر کے مرزا قادیانی کی موت کی تاریخ مقرر نہ کر دیتے جیسا کہ انہوں نے کیا۔ چنانچہ ١٥؍ مئی ١٩٠٨ء کے اہل حدیث میں ان کے الہامات درج ہیں کہ ٢١ ساون یعنی ٤؍ اگست کو مرزا مرے گا تو آج وہ اعتراض نہ ہوتا جو معزز ایڈیٹر پیسہ اخبار نے ڈاکٹر صاحب کے اس الہام پر چبھتا ہوا کیا ہے کہ ٢١؍ ساون تک ہوتا تو خوب ہوتا۔"

آپ بار بار کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی کے آنے سے عیسائیت کی اشاعت بڑھ گئی ہے۔

آپ نے پہلے بھی یہ اعتراض کیا تھا اور ہم اسی وقت مفصل جواب دے چکے ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ

١٣٦

صفحہ ١٧٩

پہلے مسلمان عیسائی ہوا کرتے تھے اور مرزا قادیانی کے آنے کے بعد پسماندہ قومیں عیسائی ہونے لگی ہیں۔ اس سے ہمارا کیا نقصان ہے۔ ہمیں عیسائیت کی یہ یلغار رک جائے اور یہ مقصد حضرت مرزا صاحب کی بعثت سے پورا ہو گیا ہے۔ الحمد للہ!

آپ نے ایک نیا زائچہ بنا کر بھیجا ہے کہ آنے والے مسیح کے متعلق حدیثوں میں یہ یہ نشانیاں بیان کی گئی ہیں۔ مگر یہ نشانیاں مرزا قادیانی میں پائی نہیں جاتیں۔ ان میں سے ایک نشانی آپ نے یہ بھی تحریر کی ہے کہ آنے والا مسیح رسول کریم ﷺ کے مقبرہ میں دفن ہوگا۔

ہمارا چیلنج ہے کہ آپ حدیث میں مقبرہ کا لفظ دکھائیں۔ ہم سامعین کو یقین دلاتے ہیں کہ یہ بڑا دھوکہ اور فریب ہے۔ حدیث میں مقبرہ کا لفظ ہرگز نہیں ہے۔ مزید برآں جہاں آنحضرت ﷺ دفن ہوئے ہیں۔ وہ آپ کی زوجہ محترمہ ام المؤمنین حضرت عائشہؓ کا حجرہ ہے اور حضرت عائشہؓ نے رسول اللہ ﷺ کی وفات سے پہلے ایک خواب دیکھا تھا۔ جو ”ثلاثة اقمار“ کے نام سے مشہور ہے کہ میرے حجرہ میں تین چاند گرے ہیں۔ جب حضرت رسول کریم ﷺ کی وفات ہوئی اور آپ اسی حجرے میں دفن کئے گئے تو رسول کریم ﷺ کے پہلے خلیفہ حضرت صدیق اکبرؓ نے اپنی بیٹی حضرت عائشہؓ سے فرمایا: ”هٰذا احد اقمارك وهو خيرها“ (مؤطا امام مالک) یہ تیرے تین چاندوں میں سے پہلا چاند ہے اور یہ بہترین ہے۔

آپ نے حضرت مرزا صاحب کا الہام ”کان اللہ نزل من السماء“ پیش کر کے کہا ہے کہ مرزا قادیانی نے اپنے بیٹے کو خدا بنا دیا۔ حالانکہ حضور نے جہاں یہ الہام درج کیا ہے وہاں یہ بھی لکھا ہے: ”یظہر بظہورہ جلال رب العالمین“ (آئینہ کمالات اسلام ص ٥٧٨)

یعنی اس کے آنے سے خدا کا جلال ظاہر ہوگا۔

آپ نے ”رسول امین“ کے سورۃ الشعراء کے حوالے پوچھے ہیں کہ قرآن کے حوالے دیجئے۔ حضرت نوح علیہ السلام کے لئے سورۃ شعراء رکوع ٦ حضرت ہود علیہ السلام کے رکوع ٧، صالح علیہ السلام کے لئے رکوع ٨، لوط علیہ السلام کے لئے رکوع ٩، اور شعیب علیہ السلام کے رکوع ١٠ دیکھئے۔

ہم نے جس قدر کتابیں پیش کی ہیں۔ وہ سب شرائط کے مطابق ہیں اور بزرگان سلف کی کتابیں ہیں اور از روئے شرائط ہمیں اقوال بزرگان پیش کرنے کا حق ہے۔

کیا آپ نواب صدیق حسن خاں صاحب کو یا شرح عقائد نسفی کے مصنف کو بزرگ نہیں مانتے؟ آپ نے اپنے تئیں شیر بیشہ کہا تھا۔ اپنے منہ میاں مٹھو کا محاورہ سنا تو تھا۔ مگر تجربہ

١٣٧

صفحہ ١٨٠

نہیں ہوا تھا۔ سو آج یہ بھی معلوم ہو گیا کہ ایسے لوگ واقعی دنیا میں ہوتے ہیں۔ جن کو میاں مٹھو کہا جاسکتا ہے۔

آپ لکھتے ہیں ہم کس کس نبی کو مانیں، کیا خوب! ایک لاکھ چوبیس ہزار نبی کو مانتے ہیں۔ مگر اب جو اللہ تعالیٰ کا نبی ظاہر ہوا اور وہ بھی رسول اللہﷺ کی غلامی میں انکار کرنے کے لئے آپ بہانے بنارہے ہیں۔

آپ نے پہلے پرچے میں عبداللہ تیما پوری اور اس پرچے میں اسماعیل لنڈنی کے نام سے پیش کئے ہیں۔ ہم پہلے بھی کہہ چکے ہیں۔ یہ تو اپنا اپنا نصیب ہے۔ جو صادق تھا اس کو ہم نے مان لیا ہے۔ آپ چونکہ ان کے دامن سے وابستہ نہیں ہوئے۔ اس لئے آپ کو آئے دن ایسے ہی نبیوں سے سابقہ پڑتا رہے گا۔

آپ نے اس پرچے میں پھر محمدی بیگم کے نکاح کی پیش گوئی پر اعتراض کیا ہے۔ حالانکہ ہم اپنے پہلے پرچہ میں بہ وضاحت اس کا جواب دے چکے ہیں۔

چونکہ آپ نے اشارہ کیا ہے۔ اس لئے آپ کی تسکین کے لئے ہم یہ حوالہ بھی پیش کر دیتے ہیں کہ آنحضرتﷺ نے فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے فرعون کی بیوی آسیہ، موسیٰ علیہ السلام کی بہن کلثوم اور عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ مریم سے میرا نکاح کر دیا ہے۔ سو اگر شرائط ضروریہ کا لحاظ کئے بغیر ایک ہی بات کی رٹ لگائے جانا کوئی کمال ہے تو آپ کو اس کا جواب دینا ہوگا کہ آیا یہ نکاح ہو گئے تھے۔

آپ نے یہ کیا کچا جواب دیا ہے کہ رسول خداﷺ نے ان نکاحوں کو اپنے صدق اور کذب کا معیار تو نہیں بنایا تھا۔ تو کیا آپ کا مطلب یہ ہے کہ اگر حضورﷺ کی یہ بات غلط بھی ہو جائے تو کوئی حرج نہیں۔ ”لا حول ولا قوة الا بالله“

آپ نے اس پرچے میں پھر کئی ایسے لوگوں کے نام لئے ہیں۔ جو احمدیت سے مرتد ہو چکے ہیں۔ آپ اس سے کیا فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ دنیا میں وہ کون سا نبی آیا ہے۔ جس کے ماننے والوں میں سے کچھ نہ کچھ لوگ مرتد نہ ہوئے ہوں۔ ہم اپنے سابقہ پرچے میں رسول کریمﷺ کے کاتب وحی کے ارتداد کا ذکر کر چکے ہیں اور اس حقیقت پر تو قرآن مجید، احادیث اور تاریخ عالم گواہ ہے۔ ان کے ارتداد سے یہ کیونکر لازم آگیا کہ احمدیت برحق نہیں۔

ہم اپنے سابقہ پرچے میں بھی دریافت کر چکے ہیں کہ اگر آپ کی کوئی بات جواب کے بغیر رہ گئی ہو تو اس کی نشان دہی کیجئے۔ ورنہ حاضرین گواہ رہیں کہ ہم نے اپنے مد مقابل کی ہر بات

١٣٨

صفحہ ١٨١

کا پورا پورا جواب دے دیا ہے۔ مگر وہ ہمارے دلائل کے پاس تک نہیں پھٹکے اور نہ پھٹک سکتے ہیں۔ کیونکہ قرآن، حدیث، بزرگان وغیرہ سب ہمارے ساتھ ہیں۔ خدارا ان سب باتوں کو سوچئے۔ محمد سلیم عفی عنہ مورخہ ٢٥ نومبر ١٩٦٣ء

آخری پرچہ برکذابیت مرزا صاحب ...... از اہل سنت والجماعت یادگیر

مسلمان بھائیو! یہ میرا آخری پرچہ ہے۔ اس تین دن کے مناظرے نے ثابت کردیا کہ مرزا قادیانی نبی تو کیا ہوتے سچے بھی ثابت نہیں ہوسکے۔ اس پرچے میں آپ نے درشین سے مرزا قادیانی کے اشعار شروع کر دیئے۔ مرزا قادیانی کی صداقت مرزا ہی کی کتاب سے اور ان کے اشعار انہیں کی کتابوں سے اگر ثابت ہو جاتی ہے تو ان یادگیر کے بھائیوں کے پاس یہاں مرزا قادیانی کی بہت سی کتابیں تھیں۔ پھر آپ کو کلکتہ سے، مدراس سے، دہلی سے، ملابار سے اور نہ معلوم کہاں کہاں سے کیوں بلایا تھا۔ آپ اپنے دوسرے پرچے کے دعووں کو سن لیجئے۔ ”لن نؤمن لرقيك (الاسراء:٩٣)“ پرسوں تو آپ نے اسی آیت کو پڑھ کر لکھا تھا کہ کوئی انسان آسمان پر نہیں جاسکتا۔ آج آسمان پر جانا تسلیم کرلیا۔ شکر ہے آپ کی تسلیم پر بے شک قرآن میں آنحضرت ﷺ کی صداقت کی دلیلیں ہیں۔ مرزا قادیانی کی نہیں کیونکہ قرآن حضور ﷺ پر اترا ہے۔ ہاں تمہارا یہ عقیدہ ہے کہ بقول مرزا قادیانی، قرآن شریف خدا کی کتاب اور میرے منہ کی باتیں ہیں۔“

(تذکرہ ص٥٨٤)

آپ کی اور مرزا قادیانی کی دونوں کی قرآن دانی معلوم ہوچکی ہے۔ سورۂ جمعہ میں ”آخرین“ کا لفظ آیا ہے۔ آخری کا نہیں کل تو آپ مرزا قادیانی کو آخری نبی ماننے کو تیار نہ تھے۔ آج فوراً مان لیا۔ شکر ہے پروردگار، جادو وہ جو سر پر چڑھ کر بولے۔

آپ نے فارسی الاصل بھی مرزا قادیانی کو کہا ہے۔ حالانکہ میں کل سے کہہ رہا ہوں کہ مرزا قادیانی چینی ہیں۔ چینی جو آج ہمارے ہندوستان کے لئے عظیم الشان خطرہ ہیں۔ جس طرح چینی ہندوستان کے لئے خطرہ ہیں مرزا قادیانی اسلام کے لئے ٹھیک اسی طرح خطرہ ہیں کہ اسلام کو جڑ سے اکھیڑ کر ایک نقلی عمارت کا نام اسلام دے کر دنیا کو دھوکا دینا چاہتے ہیں۔ بہشتی مقبرہ، منارۃ المسیح، مسجد اقصیٰ وغیرہ بہت سی باتیں ہیں۔ (تحفہ گولڑویہ ص٤١، خزائن ج١٧ ص١٦٧) چینی ہونے کا اقرار۔

١٣٩

صفحہ ١٨٢

آپ نے مشکوۃ کے حاشیہ سے مہدی کا ثبوت دیا ہے کیا حاشیہ بھی آنحضرت ﷺ کی حدیث ہے؟ ابھی آپ آخری نبی کہہ رہے تھے۔ ابھی مہدی ابھی مجدد، آخر کیا بات ہے؟

معلوم ہوتا ہے کہ یادگیر کے مناظرہ نے آپ کو سخت گڑبڑی میں ڈال دیا ہے۔ مرزا قادیانی کو کسی ایک گدی پر بٹھانا نہیں چاہتے۔ آکاش بیل کی طرح الجھ رہے ہو۔ مگر مجھ کو الجھا نہیں سکو گے۔ آنحضرت ﷺ نے کفار قریش کے عہد نامے سے لفظ رسول کاٹا تھا۔ صرف اس لئے کہ وہ کافر تھے۔ وہ حضور کو رسول نہیں مانتے تھے۔ مگر مرزا قادیانی کا حکم ہے کہ جہاں لفظ نبی ہے۔ ہر جگہ سے نبی کا لفظ کاٹ کر محدث بنایا جائے۔ کتنا کھلا دھوکا دے کر بھاگنا چاہتے ہو مگر نکل نہیں سکتے۔

آپ نے یادگیر کے کسی بزرگ کا واقعہ بتا کر مرزا قادیانی کی صداقت ثابت کی ہے۔ حالانکہ مرزا قادیانی کہتے ہیں۔ میری صداقت کی بہت ہی عظیم الشان نشانی محمدی بیگم سے میری شادی ہے۔ دوسری کوئی نشانی کو مرزا قادیانی نے اتنے طاقت سے نہیں کہا ہے۔

(حجۃ الاسلام ص ١٩، خزائن ج ٦ ص ٥٩) پر مولوی محمد حسین بٹالوی کے ایمان لانے کی پیش گوئی موجود ہے۔ تیسرے پرچے کو آپ نے مرزا قادیانی کے اشعار سے پر کیا ہے یا وعظ سے۔ اس میں آپ معالم التنزیل اور بخاری شریف کی توہین کر رہے ہو۔ حالانکہ (شہادۃ القرآن ص ٤١، خزائن ج ٦ ص ٣٣٧) میں مرزا قادیانی نے اصح الکتب بعد کتاب اللہ کہا ہے۔ افسوس تم پر اگر تم مرزا قادیانی کو آج سچا نہیں ثابت کر سکے تو تمام تفاسیر اور بخاری کو جھوٹا بنا رہے ہو۔ یہ کتابیں تو مرزا قادیانی کی پیدائش سے کئی سو سال پہلے کی ہیں۔ یہ تو کیا غلط ہوئیں۔ مرزا قادیانی کی صداقت ہی غلط ہو جاتی ہے۔ اس کو دنیا طبع ہونے کے بعد جان لے گی کہ کس نے کیا دلیل دی؟ تم نے نفسیات کا عجیب اصول نکالا کہ رسولوں کی نکتہ چینی کی جاتی ہے۔ یہ تو ٹھیک ہے۔ مگر یہ تمہاری نرالی منطق ہے کہ جس کی نکتہ چینی عیب جوئی کی جائے وہی رسول ہو جائے گا۔ خواجہ اسماعیل لندن کے نبی نے جو کتابیں آج روانہ کی ہیں۔ میں نے آپ کے مطالعہ کے لئے روانہ کیا تھا۔ اگر یہی اصول مان لیا جائے جس کی نکتہ چینی کی جائے وہ نبی اور سچا اور رسول بن جاتا ہے تو پھر مرزا قادیانی ہی نہیں بلکہ کناچوری، چماپوری، نندنی اور چن بسویشوری یہ اور مرزا قادیانی سب ہی ایک ہی ساتھ نبی اور سچے بن جاتے ہیں۔ اسی طرح سمجھ لو کہ نبی کی مخالفت تو ہوئی ہے۔ مگر جس کی مخالفت ہو گی وہ نبی ہے تو آج میں تمہاری مخالفت کرتا ہوں۔ لہذا تم نبی؟ اور تم میری مخالفت کرتے ہو لہذا میں نبی؟ نعوذ باللہ! آپ نے بہت ساری پیش گوئیاں نقل کر دیں۔ آپ سمجھے کہ

١٤٠

صفحہ ١٨٣

میں اس کے جواب میں لگ جاؤں گا اور آپ کے آخری پرچے میں آپ مرزا قادیانی کی صداقت ثابت کریں گے۔ میں نے کچی گولی نہیں کھیلی ہے۔ پہلے محمدی بیگم کی شادی، ڈاکٹر عبدالحکیم کی موت، منظور محمد کے بیٹا وغیرہ کو ثابت کیا ہوتا تو ہم ضرور اس جھوٹی پیش گوئیوں کی بھی قلعی کھول دیتے۔ پہلے میرا قرض ادا کرو اس کے بعد تمہارا مطالبہ سنوں گا۔ یہ کھیل نہیں، مناظرہ ہے۔ لائے نہ عبدالحکیم کے ”تک“ اور ”کو“ کو۔ مگر مرزا قادیانی نے جو کہا تھا کہ اللہ نے مجھے کہا کہ عبدالحکیم ہلاک ہوگا۔ تو بچ جائے گا۔ وہ پیش گوئی کہاں غائب ہوگئی؟ قسم کھا کر کہتا ہوں۔ آپ لوگ اچھی طرح جانتے ہیں کہ مرزا قادیانی کی پیش گوئیاں پوری نہیں ہوئیں۔ مگر ہٹ دھرمی پر قائم ہیں۔

آپ نے حدیث میں مقبرہ کا لفظ مانگا ہے۔ حدیث سے تکلف کرنے کی ضرورت نہیں۔ مرزا قادیانی نے خود (ازالہ اوہام ص٤٧٠، خزائن ج٣ ص٣٥٢) میں اس حدیث کو تسلیم کر لیا ہے۔ ”الّا خلافيها نذیر “ سے مرزا قادیانی کی صداقت ثابت نہیں ہوتی۔ اس سے بقول آپ کے کل کے ترجمہ کے خلاء بمعنی موت مرزا قادیانی کی موت ثابت ہوتی ہے۔ چونکہ میرا یہ آخری پرچہ ہے۔ لہٰذا میں نے پیش گوئی کے ذریعہ پرکھ لیا کہ مرزا قادیانی کاذب ہیں۔ اب عالم اخلاق ان کے کیا تھے۔ کیونکہ قرآن میں آتا ہے کہ انبیاء کے اخلاق بہت بلند ہوتے ہیں۔ مگر مرزا قادیانی نے اپنی گالی سے نہ ہندو کو چھوڑا، نہ مسلمان کو۔ ہندو کی گالی کے لئے (ازالہ اوہام) دیکھ لو۔ ”عیسیٰ علیہ السلام کو تو یہاں تک کہ کہہ دیا کہ: ”خدا عیسیٰ کو دوبارہ لا نہیں سکتا۔ جس کا پہلا فتنہ ہی نے دنیا کو تباہ کر دیا ہے۔“

(دافع البلاء ص١٥، خزائن ج١٨ ص٢٣٥)

نعوذ باللہ! مسلمانو مولوی سلیم تو کیا سوچیں گے تم ہی سوچو۔ خدا کو بھی اختیار نہیں کہ دوبارہ عیسیٰ علیہ السلام کو لا سکے؟ ایسا خدا مرزا صاحب کو اور ان کے کلمہ گو کو مبارک۔ کیا کوئی مسلمان خدا کو مجبور مان کر مسلمان رہ سکتا ہے۔ پھر یہ بھی کہ عیسیٰ علیہ السلام کا پہلا آنا فتنہ تھا۔ تو بہ تو بہ استغفر اللہ! نبی تو رحمت بن کر آتے ہیں۔ اب معلوم ہوا کہ نبی کا آنا بھی فتنہ ہوتا ہے۔ افسوس یادگیر کے مرزائی دوستو، صرف اسی حوالے پر تم لوگ مرزائی مذہب سے توبہ کرلو۔ ہاں مرزا قادیانی کا آنا تو واقعی فتنہ ہی فتنہ ہے۔ کیونکہ یہ خدا کی طرف سے نہیں آئے ہیں۔ مگر عیسیٰ کو تو قرآن کہتا ہے کہ خدا نے بھیجا تھا۔ افسوس خدا نے ایک ایسے شخص کو نعوذ باللہ نبی بنا دیا اور جان نہیں سکا کہ یہ نبی زمین پر صلح کرے گا یا فتنہ۔ رحمت بنے گا یا فتنہ۔ دوسرا حوالہ سنو۔ (انجام آتھم ص٤١، خزائن ج١١ ص٤١) ”مریم کے بیٹے کو کھلیا کے بیٹے پر کوئی زیادت نہیں۔“ توبہ توبہ، استغفر اللہ! اے خدا تو اس گندے عقیدے سے ہر مسلمان کو پناہ دے۔ حضرت ابو ہریرہؓ کو جو صحابی

١٤١

صفحہ ١٨٤

ہیں جن کے مرتبہ کو دنیا کا کوئی ولی اور قطب، غوث نہیں پا سکتے۔ مرزا قادیانی نے نبی کہا ہے۔ (اعجاز احمدی ص ١٨، خزائن ج ١٩ ص ١٢٧) اسی طرح دوسرے جلیل القدر صحابی حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کو معمولی انسان کہا۔ (اعجاز احمدی ص ٨١، خزائن ج ١٩ ص ١٩٣) حضور ﷺ کے جگر گوشہ شہید کربلا کو کیا کہا ہے۔ وہ بھی کلیجہ پر پتھر لاد کر سن لو۔ تم نے اس کشتہ سے نجات چاہی کہ جو نا امیدی سے مر گیا۔ پس تم کو خدا نے جو غیور ہے ہر اک مراد سے نوامید کیا وہ خدا جو ہلاک کرنے والا ہے اور بخدا اسے مجھ سے کچھ زیادت نہیں اور میرے پاس خدا کی گواہیاں ہیں۔ پس تم دیکھ لو اور میں خدا کا کشتہ ہوں۔ لیکن تمہارا حسین دشمنوں کا کشتہ ہے۔ پس فرق کھلا کھلا اور ظاہر ہے۔ (اعجاز احمدی ص ٨٢، خزائن ج ١٩ ص ١٩٤) دوسری جگہ کہتا ہے اور ”مجھ میں تمہارے حسین میں بہت بڑا فرق ہے۔ کیونکہ مجھ کو تو ہر ایک وقت خدا کی تائید اور مدد مل رہی ہے۔ مگر حسین پس تم دشت کربلا کو یاد کرلو۔ اب تک تم روتے ہو۔ پس سوچ لو۔“

(اعجاز احمدی ص ٦٩، خزائن ج ١٩ ص ١٨١)

مسلمانو ! مرزا قادیانی یہ گالیاں کس کو دیتے ہیں۔ تم کو معلوم ہے حضرت حسین علیہ السلام کو، تمہارا حسین کہتے ہیں۔ اگر ان کے نانا جان کی تابعداری سے مرزا قادیانی کو نبوت ملتی تو حضرت حسینؓ کو وہ اپنا حسین کہتا۔ تمہارا حسین ہرگز ہرگز نہیں کہتا۔ مجنون کو تو لیلیٰ کی گلی کا کتا بھی پسند تھا اور مرزا قادیانی حضرت حسینؓ سے نفرت اور آنحضرت ﷺ کی تابعداری، یہ ہاتھی کے دانت تھے جو یہ مولوی دھوکہ دینے کے لئے اکاش بیل کی طرح چلا رہے تھے۔ جس کی خود جڑ نہیں ہوتی۔ مگر دیکھنے کو عجیب وغریب طاقتور معلوم ہوتی ہے۔ اب حضرت فاطمہؓ کی توہین اور بے عزتی کو برداشت کرلو۔ (ایک غلطی کا ازالہ ص ٩، خزائن ج ١٨ ص ٢١٣) پر مرزا قادیانی لکھتا ہے کہ: ”میں عین بیداری میں حضرت فاطمہ کی ران پر سر رکھ کر سو رہا۔“ اے اللہ ! تو اس فتنہ عظمیٰ سے نجات دے اس کو سننا بہت مشکل ہے۔ اچھا اور آگے چلو اب سرکار دو عالم ﷺ کی توہین سن لو۔ ”اس کے لئے چاند کے خسوف کا نشان ظاہر ہوا اور میرے لئے چاند اور سورج دونوں کا اب کیا تو انکار کرے گا اور ان کے معجزات میں سے معجزانہ کلام بھی تھا اور اسی طرح مجھے وہ کلام دیا گیا جو سب پر غالب ہے۔“

(اعجاز احمدی ص ٧١، خزائن ج ١٩ ص ١٨٣)

مسلمانو ! خدا کے لئے غور کرو کہ جب حضور ﷺ کے لئے ایک چاند گہن تو تابعدار نبی کے لئے چاند اور سورج دونوں کا کیسے ہوگا۔ یہ تو کل کہتے تھے کہ مرزا قادیانی کو جو کچھ ملا حضور کی تابعداری سے ملا ہے۔ اس مقابلے پر غور کرو۔ اس کے لئے میرے لئے ابھی تم سن لو گے کہ مولوی سلیم بہت جگہ سے نظم ونثر نقل کر کے یہ ثابت کریں گے کہ مرزا قادیانی نے حضور ﷺ کی بہت ١٤٢

صفحہ ١٨٥

تعریف کی ہے۔ ہاں دوسری جگہوں پر تحریف بھی کی ہے۔ اسے میں تسلیم کرتا ہوں۔ تو چونکہ مرزا قادیانی نے بہت سی جگہوں میں آنحضرت ﷺ کی تعریف بھی کی ہے۔ اس لئے اس کا بطور کاپی رائٹ یہ حق بھی پہنچ گیا کہ بہت جگہ گالی بھی دے دے۔ دوستو! بس اسی پر اکتفاء کرتا ہوں۔ یہ مرزا قادیانی کی تابوت پر یاد گیر کے لئے یادگیری کیل سمجھو۔ ابھی فدایان خاتم النبیین اور کل ہندو مسلمان قادیانی بھائیوں کا شکریہ اب تمہارا کام غور کرنا ہے کہ کون دین حق ہے۔ مرزا قادیانی کا یا آنحضرت ﷺ کا۔ فقط والسلام!

(دستخط شرح) محمد اسماعیل عفی عنہ مورخہ ٢٥؍نومبر ١٩٢٣ء

اے اللہ ! تو ان بھائیوں کے دل کو مولوی لوگوں کے دل کو کھول دے تا کہ وہ نور محمدی سے فیض حاصل کریں۔ پنجابی نور سے نہیں۔ (اعجاز احمدی ص ٥٢، خزائن ج ١٩ ص ١٢٤) میں انہوں نے خود گوہ بکا ہے تو کیا سرگیں کی یعنی گوبری کی تابعداری کرو گے۔ گوبر کو چھوڑو۔ رحمت اللعالمین کا دروازہ ابھی کھلا ہے۔ لوٹ آؤ، لوٹ آؤ۔

(شرح دستخط) احقر محمد اسماعیل عفی عنہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم

صداقت حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) پر جماعت احمدیہ کا آخری پرچہ

سامعین کرام ! صداقت حضرت مسیح موعود کے موضوع پر ہمارا یہ آخری پرچہ ہے۔ آپ نے ہمارے مد مقابل کا تیسرا پرچہ سن لیا اور ان کا انداز تحریر دیکھ لیا ہے اور ان کی زبان کی تہذیب و شائستگی کا بھی خوب اندازہ کر لیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بالکل سچ فرمایا ہے: ”یٰحسرۃ علی العباد ما یاتیہم من رسول الا کانوا بہ یستہزؤن (یسین)“

یعنی دنیا میں کوئی ایک نبی بھی ایسا نہیں آیا۔ جس کا مذاق نہ اڑایا گیا ہو اور تمسخر اور استہزاء سے کام نہ لیا گیا ہو۔ ہم اپنے گزشتہ پرچے میں کئی نبیوں کے نام لے کر بتا چکے ہیں کہ ان مولویوں نے ان پر ایمان لانے کے باوجود ان پر نہایت ہی گندے الزامات لگائے ہیں۔ چنانچہ ہمارے مد مقابل نے ان تمام حوالوں کو دیکھا اور پڑھ کر ایسی چپ سادھی ہے کہ گویا ہوش و حواس گم ہوگئے ہیں۔ تو جب ان عظیم الشان نبیوں کے ساتھ ان کا یہ ظالمانہ سلوک ہے۔ جن پر ایمان لانے کا انہیں دعویٰ ہے تو حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے تو یہ دشمن ہیں۔ ان کے متعلق یہ جو بھی کہہ اور کر

١٤٣

صفحہ ١٨٦

گزریں ان کے لئے ممکن ہے۔

مجھ کو کیا تم سے گلہ ہو کہ مرے دشمن ہو
جب یونہی کرتے چلے آئے ہو تم پہلوں سے

ہم قبل ازیں معیار صداقت کی دلیل کے طور پر یہ امر پیش کر چکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کبھی بھی جھوٹوں کو ترقیاں نہیں دیا کرتا اور نہ ہی انہیں لاکھوں کی جانثار جماعت عطا کیا کرتا ہے۔ نہ ان کی جماعتیں لمبے عرصے تک قائم رہا کرتی ہیں۔ حضرت مسیح موعود نے اسی قرآنی معیار پر دوسرے مذاہب کے انبیاء کو پرکھا ہے۔ چنانچہ آپ فرماتے ہیں: ”پس یہ اصول نہایت پیارا اور امن بخش اور صلح کاری کی بنیاد ڈالنے والا اور اخلاقی حالتوں کی مدد دینے والا ہے کہ ہم ان تمام نبیوں کو سچا سمجھ لیں جو دنیا میں آئے۔ خواہ ہند میں ظاہر ہوئے یا فارس میں یا چین میں یا کسی اور ملک میں اور خدا نے کروڑ ہا دلوں میں ان کی عزت اور عظمت بٹھا دی اور ان کے مذہب کی جڑ قائم کر دی اور کئی صدیوں تک وہ مذہب چلا آیا۔ یہی اصول ہے جو قرآن نے ہمیں سکھایا۔ اسی اصول کے لحاظ سے ہم ہر ایک مذہب کے پیشوا کو جن کی سوانح اس تعریف کے نیچے آ گئی ہیں۔ عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ گو وہ ہندوؤں کے مذہب کے پیشوا ہوں یا عیسائیوں کے مذہب کے۔ مگر افسوس کہ ہمارے مخالف ہم سے یہ برتاؤ نہیں کرتے اور خدا کا یہ پاک اور غیر متبدل قانون ان کو یاد نہیں کہ وہ جھوٹے نبی کو وہ برکت اور عزت نہیں دیتا جو سچے کو دیتا ہے اور جھوٹے نبی کا مذہب جڑ نہیں پکڑتا اور نہ عمر پاتا ہے۔“

(تحفہ قیصریہ ص ٦)

حضرات! ہمارے مد مقابل نے ہمارے پیش کردہ دلائل جو قرآن مجید اور احادیث سے پیش کئے گئے ہیں کو توڑنے کی کوشش نہیں کی۔ صرف ادھر ادھر کی باتوں میں کاغذ سیاہ کئے ہیں۔

آپ نے کہا ہے کہ تم نے مرزا قادیانی کو اصل مقام سے نیچے اتار کر مجدد بنا دیا۔ حالانکہ ہم نے آج اپنے سب سے پہلے پرچے میں حضرت مرزا صاحب کا یہ دعویٰ پیش کیا تھا کہ آپ اس زمانے کے مجدد ہیں۔ نیز پہلے بزرگوں نے بھی آنے والے مہدی اور مسیح کو مجدد اور مجتہد کہا ہے۔ جیسا کہ لکھا ہے: ”اگر ظہور مہدی علیہ السلام و نزول عیسیٰ صورت گیرد پس ایشاں مجدد و مجتہد باشند۔“

(حجج الکرامہ ص ١٣٩)

اب کیا اس حوالے کا یہ مطلب ہے کہ اس کتاب کے بزرگ مصنف نے حضرت امام مہدی اور مسیح علیہ السلام کو مہدویت اور عیسویت سے نیچے اتار کر مجدد بنا دیا ہے۔ مجدد کے معنی تو

١٤٤

صفحہ ١٨٧

ے دشمن ہو واروں سے ہم پیش کر چکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کبھی شاندار جماعت عطا کیا کرتا ہے۔ نہ ان موعود نے اسی قرآنی معیار پر دوسرے یہ اصول نہایت پیارا اور امن بخش اور نکالا ہے کہ ہم ان تمام نبیوں کو سچا سمجھ چین میں یا کسی اور ملک میں اور خدا کے مذہب کی جڑ قائم کر دی اور کئی میں سکھایا۔ اس اصول کے لحاظ سے آگئی ہیں۔ عزت کی نگاہ سے دیکھتے مذہب کے۔ مگر افسوس کہ ہمارے مقبول قانون ان کو یاد نہیں کہ وہ جھوٹے نبی کا مذہب جڑ نہیں پکڑتا

(تحفہ قیصریہ ص ٦)

کردہ دلائل جو قرآن مجید اور صرف ادھر ادھر کی باتوں میں

ام سے نیچے اتار کر مجدد بنا دیا۔ صاحب کا یہ دعویٰ پیش کیا تھا کہ اُسے مہدی اور مسیح کو مجدد اور مجتہد احادیث گرفت پس ایشاں مجدد

(حجج الکرامہ ص ١٣٩)

لوگ مصنف نے حضرت امام بنا دیا ہے۔ مجدد کے معنی تو دین کو تازہ کرنے والے کے ہیں۔ اسی لئے خدا کا ہر نبی اور رسول بدرجہ اولیٰ مجدد ہوتا ہے اور حضرت رسول مقبول ﷺ مجدد اعظم ہیں۔

ہمارے مد مقابل نے ہم سے پوچھا ہے کہ نوح علیہ السلام کی کشتی میں سوار ہونے والے تو سب بچ گئے تھے۔ کیا قادیان میں رہنے والے بھی سب کے سب طاعون سے بچ گئے؟ معلوم ہوا ہے کہ ہمارے مقابلے میں آنے والے صاحب ادھار کھائے بیٹھے تھے کہ آج کوئی بات بھی وہ حق پرستی کی نہیں کریں گے۔ حضرت مرزا صاحب نے اپنے مکان کو، نہ کہ سارے قادیان کو کشتی نوح بتایا تھا اور ہمارا دعویٰ ہے اور دنیا جانتی ہے کہ اللہ کے فضل سے آپ کے مکان میں آپ کی چاردیواری کے اندر کبھی کسی کو طاعون نہیں ہوئی۔

ہمارے مد مقابل نے حضرت مرزا صاحب کی کتاب (اربعین نمبر ٣ ص ٥) کے حوالے کی بنیاد پر مرزا صاحب کی طرف یہ بات منسوب کی ہے کہ آپ کے نزدیک تئیس سالہ میعاد مدعی نبوت کے لئے مقرر کی گئی ہے۔ یہ اتنی بڑی غلط بیانی ہے کہ ہم کو بے اختیار یہ ضرب المثل یاد آ گئی کہ :۔

چہ دلاور است دزدی کہ بکف چراغ دارد

حضرت مرزا صاحب کی یہ کتاب شائع شدہ ہے اور ہر شخص اس کا مطالعہ کر سکتا ہے۔ مگر ہمارے مد مقابل کے پیش کردہ حوالے میں حضرت مرزا صاحب کا خیال نہیں بلکہ کسی حافظ محمد یوسف صاحب کا خیال بیان کیا گیا ہے۔ جو اس قرآنی معیار کی رو سے محمد رسول اللہ ﷺ کو بھی سچا ماننے کے لئے تیار نہیں تھا۔

ہمیں تعجب ہے کہ ہمارے مد مقابل کس دیدہ دلیری اور جرأت کے ساتھ غلط باتیں ہماری طرف منسوب کر دیتے ہیں۔ ہم نے ہرگز نہیں لکھا کہ کفار مکہ آنحضرت ﷺ کا آسمان پر جانا ممکن تسلیم کرتے تھے۔ بلکہ ہم نے تو یہ لکھا ہے کہ انہیں آپ کا آسمان پر جانا مسلم نہ تھا۔ اسی لئے وہ بے دلیل آپ کے اس دعوے کو ماننے کے لئے تیار نہ تھے کہ آپ کہہ دیں کہ میں آسمان پر گیا تھا اور ان کے اس مطالبے کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے بھی یہی جواب دیا ہے کہ بشر اور رسول آسمان پر نہیں جا سکتا۔ جس سے ہم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کا استدلال کیا تھا اور ہمارے مدمقابل اس کا کوئی جواب نہ دے سکے۔

آپ نے لکھا ہے کہ مرزا قادیانی کا الہام ہے: ”قرآن شریف خدا کی کتاب اور میرے منہ کی باتیں ہیں۔“

١٤٥

صفحہ ١٨٨

گویا آپ کے خیال میں حضرت مرزا صاحب نے قرآن کریم کو اپنے منہ کی باتیں کہا ہے۔ یہ بھی سراسر ناجائز اتہام ہے۔ کیونکہ خود حضرت مرزا صاحب نے فرمایا ہے۔ یہ میرا الہام ہے۔ گو یہاں اختلاف ضمائر ہے۔ جس کی مثالیں قرآن مجید میں موجود ہیں اور میرے منہ کی باتیں دراصل اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور اس میں کیا شبہ ہے کہ قرآن مجید واقعی خدا کے منہ کی باتیں ہیں۔

کیا ہمارے مدمقابل کو یاد نہیں کہ سورۃ فاتحہ میں ”ایاک نعبد“ آیا ہے تو اب اگر کوئی دشمن اسلام یہ اعتراض کرے کہ دیکھو جی یہ خدا کا کلام ہے اور خدا گویا محمد رسول اللہ کو یہ کہتا ہے کہ ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں تو جس طرح اس دشمن کا یہ اعتراض بیہودہ ہے۔ اسی طرح پہلا اعتراض بھی بالکل غلط ہے۔

آپ نے بڑی خوشی منائی ہے کہ سورۂ جمعہ کے لفظ آخرین سے ہم نے حضرت مرزا صاحب کو آخری نبی مان لیا ہے۔ ہمارے مد مقابل کو آخرین بفتح الخاء اور آخرین بکسر الخاء کا فرق بھی معلوم نہیں اور آگئے ہیں کھرے مناظرہ کرنے۔

ہمارے مد مقابل نے تعریض کی ہے کہ مشکوٰۃ شریف کا حاشیہ کیوں پیش کیا گیا ہے۔ حالانکہ حاشیہ پر مشکوٰۃ کی شرح مرقاۃ کی عبارت ہے۔ جو حضرت امام ملا علی قاری کی تحریر ہے جو اہل سنت والجماعت کے بہت بڑے امام ہیں۔ فارسی الاصل ہونے کے متعلق حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ کا یہ حوالہ قابل غور ہے۔ آپ فرماتے ہیں: ”اس عاجز کا خاندان دراصل فارسی ہے نہ مغلیہ۔ نہ معلوم کس غلطی سے مغلیہ خاندان کے ساتھ مشہور ہوگیا۔“

(حقیقت الوحی ص ٧٨، خزائن ج ١٨ ص ٨١ حاشیہ)

آپ لکھتے ہیں صلح حدیبیہ کے موقع پر رسول کریم ﷺ نے اپنے نام سے رسول اللہ کا لفظ اس لئے کاٹ دیا تھا کہ مکہ والے آپ کو مانتے نہیں تھے۔ ہمارا سوال تو یہ ہے کہ حضرت مرزا صاحب نے بھی تو اپنی تحریرات میں لفظ نبی کو کاٹنے کی اجازت اسی لئے دی ہے تاکہ یہ لوگوں کو ناگوار گزرتا تھا۔ ان لوگوں کو جو آپ کو نہیں مانتے تھے۔ تو اگر اتنی سی بات سے حضرت مرزا صاحب کا دعویٰ نبوت سے رجوع ثابت ہو جاتا ہے۔ جیسا کہ آپ کا اصرار ہے جو مرزا قادیانی کو نہیں مانتے تو کفار مکہ کو بھی یہ حق پہنچتا تھا کہ وہ سمجھیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بھی رسالت سے رجوع کر لیا ہے۔ مگر معلوم ہوتا ہے کہ وہ آپ لوگوں سے بہت زیادہ انصاف پسند اور منصف مزاج تھے۔...... کیونکہ انہوں نے ایسا خیال نہیں کیا بحالیکہ آپ اپنے اصرار سے باز نہیں آرہے۔

١٤٦

آپ نے پھر لکھا ہے کہ مرزا بھی نبوت کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ کیا آپ اور اسوۂ عیسیٰ بھی نبوت کے مدعی تھے۔ محسوس نہیں کرتے۔

آپ نے حضرت مسیح موعود مرزا قادیانی نے اپنے آپ کو عیسیٰ الا مرزا قادیانی کی ہے اور نہ اس میں آپ

ہم پہلے جواب دے چکے گوئی حرف بحرف پوری ہوگئی۔ آپ

آپ نے اپنے پرچے میں ہوگا۔ ہم نے آپ کو چیلنج دیا تھا کہ آپ تک نہیں لیا اور حضرت مرزا قادیانی ک مطلب نہیں ہے۔ مرزا قادیانی نے ک رسول کریم ﷺ کے مقبرہ میں دفن ہوگا

آپ کو بڑا دکھ ہے کہ حضر بیٹے پر کوئی زیادت حاصل نہیں۔ حالانک اعتبار نہ ہو تو اپنے روحانی جد امجد مولان نے تو عیسائیوں کو ملزم کیا ہے کہ اگر مری واقعہ یہ ہے کہ نہ یہ خدا ہے نہ وہ خدا ہے

آپ نے پھر ڈاکٹر عبدا ہیں۔ حضرت ابو ہریرہؓ کو حضرت مرزا لحاظ سے کمزور کہا ہے اور اس میں ک باوجود درایت میں رجل صحابہؓ کا مقابل بازو کندھوں تک اور پاؤں پنڈلیوں ت

آپ نے آنے والے م نے اس پر غور نہیں فرمایا کہ آنحضرت

صفحہ ١٨٩

آپ نے پھر لکھا ہے کہ مرزا قادیانی کے ساتھ ہی عبداللہ بتاپوری اور اسماعیل لندنی بھی نبوت کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ کیا آپ کو معلوم نہیں کہ آنحضرتﷺ کے ساتھ ہی مسیلمہ کذاب اور اسود عنسی بھی نبوت کے مدعی تھے۔ لیکن اہل نظر سچے کو جھوٹے سے الگ کرنے میں کوئی مشکل محسوس نہیں کرتے۔

آپ نے حضرت مسیح موعود کی کتاب (تحفہ گولڑویہ ص ٢٥ حاشیہ) سے یہ تحریر کیا ہے کہ مرزا قادیانی نے اپنے آپ کو چینی الاصل کہا ہے۔ حالانکہ یہ بالکل غلط ہے۔ وہ عبارت نہ مرزا قادیانی کی ہے اور نہ اس میں آپ کو چینی الاصل کہا گیا ہے۔

ہم پہلے جواب دے چکے ہیں کہ محمد حسین بٹالوی کے متعلق حضرت مسیح موعود کی پیش گوئی حرف بحرف پوری ہوئی۔ آپ نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا۔

آپ نے اپنے پرچے میں لکھا تھا کہ آنے والا مسیح رسول کریمﷺ کے مقبرہ میں دفن ہوگا۔ ہم نے آپ کو چیلنج دیا تھا کہ آپ حدیث میں مقبرہ کا لفظ دکھایئے۔ مگر آپ نے اس کا نام تک نہیں لیا اور حضرت مرزا قادیانی کا ایک حوالہ پیش کر دیا ہے۔ حالانکہ وہ بھی آپ کے مفید مطلب نہیں ہے۔ مرزا قادیانی نے کہاں لکھا ہے کہ کسی حدیث میں ایسا آیا ہے کہ آنے والا مسیح رسول کریمﷺ کے مقبرہ میں دفن ہوگا۔

آپ کو بڑا دکھ ہے کہ حضرت مرزا صاحب نے یہ لکھ دیا ہے کہ مریم کے بیٹے کو کوشلیا کے بیٹے پر کوئی زیادت حاصل نہیں۔ حالانکہ مریم کا بیٹا بھی خدا کا نبی تھا اور کوشلیا کا بیٹا بھی خدا کا نبی تھا۔ اعتبار نہ ہو تو اپنے روحانی جد امجد مولانا محمد قاسم نانوتوی کی تحریریں پڑھ لیجئے۔ حضرت مرزا صاحب نے تو عیسائیوں کو ملزم کیا ہے کہ اگر مریم کا بیٹا خدا ہو سکتا ہے تو کوشلیا کا بیٹا کیوں خدا نہیں ہو سکتا۔ امر واقعہ یہ ہے کہ نہ یہ خدا ہے نہ وہ خدا ہے۔ البتہ دونوں بشر تھے اللہ تعالیٰ کے نبی اور رسول تھے۔

آپ نے پھر ڈاکٹر عبدالحکیم کا نام لیا ہے۔ حالانکہ ہم اس کا مفصل جواب دے چکے ہیں۔ حضرت ابوہریرہؓ کو حضرت مرزا صاحب نے نہیں بلکہ مولانا ثناء اللہ پانی پتی نے درایت کے لحاظ سے کمزور کہا ہے اور اس میں کیا شک ہے کہ حضرت ابوہریرہؓ جلیل القدر صحابی ہونے کے باوجود درایت میں کبار صحابہؓ کا مقابلہ نہیں کر سکتے تھے۔ کیا آپ کو معلوم نہیں کہ وہ وضو کرتے وقت بازو کندھوں تک اور پاؤں نصف ران تک دھویا کرتے تھے۔

آپ نے آنے والے مسیح کے متعلق جس قدر روایات بیان کی ہیں ان کے ساتھ آپ نے اس پر غور نہیں فرمایا کہ آنحضرتﷺ نے جن لوگوں کو نزول مسیح کی خبر دی تھی۔ یعنی اپنے صحابہ

١٤٧

صفحہ ١٩٠

کرام تو ان میں مسیح نازل نہیں ہوئے۔ لہٰذا ماننا پڑا کہ جن میں مسیح کا آنا مقدر تھا۔ وہ بھی صحابہؓ نہیں بلکہ صحابہ کے مثیل ہوں گے اور آنے والا مسیح بھی مسیح ابن مریم نہیں مسیح ابن مریم کا کوئی مثیل ہوگا۔

آپ نے الزام لگایا ہے کہ حضرت مرزا صاحب نے حضرت حسینؓ کی ہتک کی ہے۔ حالانکہ آپ فرماتے ہیں: ”حسینؓ طاہر و مطہر تھا اور بلاشبہ وہ ان برگزیدوں میں سے ہے جن کو خدا تعالیٰ اپنے ہاتھ سے صاف کرتا اور اپنی محبت سے معمور کر دیتا ہے اور بلاشبہ وہ سرداران بہشت میں سے ہے اور ایک ذرہ کینہ رکھنا اس سے موجب سلب ایمان ہے۔“

(ملاحظہ ہو اشتہار تبلیغ الحق)

ہمارے مقابل نے یہ کہہ کر ظلم کیا ہے کہ حضرت مرزا صاحب اسلام کو تباہ کرنے کے لئے آئے ہیں۔ یہ ہمارے سارے پرچے شاہد ہیں کہ حضرت مسیح موعود کا صرف اتنا ہی مشن تھا کہ؎

جان و دلم فدائے دین مصطفےٰ
ایں است کام دل اگر آید میسرم

(درثمین فارسی)

ہمارے مخالفین کی ساری کوششیں اس غرض کے لئے وقف ہیں کہ کسی طرح احمدیہ جماعت کی ترقی کو روک دیں اور بانی سلسلہ احمدیہ پر گند اچھالیں۔ مگر وہ یاد رکھیں کہ ان کی کوئی تمنا اور کوئی آرزو بر نہیں آئے گی۔ حضرت مرزا صاحب فرماتے ہیں سامعین ذرا غور سے سنیں: ”مخالف لوگ عبث اپنے تئیں تباہ کر رہے ہیں۔ میں وہ پودا نہیں ہوں کہ ان کے ہاتھ سے اکھڑ سکوں۔ اگر ان کے پہلے اور ان کے پچھلے اور ان کے زندے اور ان کے مردے تمام جمع ہو جائیں اور میرے مارنے کے لئے دعائیں کریں تو میرا خدا ان تمام دعاؤں کو لعنت کی شکل میں بنا کر ان کے منہ پر مار دے گا۔ دیکھو صدہا دانشمند آدمی آپ لوگوں کی جماعت میں سے نکل کر ہماری جماعت میں ملتے جاتے ہیں۔ آسمان پر ایک شور برپا ہے اور فرشتے پاک دلوں کو کھینچ کر اس طرف لا رہے ہیں۔ اب اس آسمانی کارروائی کو کیا انسان روک سکتا ہے۔ بھلا اگر کچھ طاقت ہے تو روکو اور وہ تمام مکر و فریب جو نبیوں کے مخالف کرتے رہے ہیں۔ سب کرو اور کوئی تدبیر اٹھا نہ رکھو ناخنوں تک زور لاؤ اتنی بددعائیں کرو کہ موت تک پہنچ جاؤ۔ پھر دیکھو کہ کیا بگاڑ سکتے ہو۔“

(ضمیمہ اربعین نمبر٤)

آپ نے حضرت مرزا صاحب پر حضرت فاطمہؓ کی توہین کا ناپاک الزام لگایا ہے۔ یہ تو حضرت مرزا صاحب کا کشف ہے اور اس میں بھی حضور نے حضرت فاطمہؓ کو مادر مہربان تحریر کیا ہے (براہین احمدیہ ص ٥٠٣) کیا آپ کو معلوم نہیں کہ حضرت سید عبدالقادر جیلانیؒ نے کشف میں لکھا ہے

١٤٨

صفحہ ١٩١

کہ حضرت عائشہؓ کا دودھ پیا، پہلے ایک پستان سے پھر دوسرے پستان سے۔ کیا ماں کی گود میں سر رکھنا یا ماں کا دودھ پینا ماں کی توہین ہے؟

حضرت مرزا صاحب نے اپنے معجزانہ کلام کے بارے میں تحریر کیا ہے کہ ”کلما قلت من کمال بلاغتی فی البیان فھو بعد کتاب اللہ القرآن“

(لجۃ النور)

کہ میرا معجزانہ کلام قرآن مجید کی غلامی میں معجزہ ہے اور اسی مضمون کو اپنی کتاب (ضرورت الامام ص ٢٣) میں بیان فرمایا ہے۔

مرزا صاحب کا یہ لکھنا کہ میرے لئے سورج اور چاند کے دو گہن ہوئے ہیں یہ تو رسول کریم ﷺ کی پیش گوئی ہے سوا اس کے اظہار سے اور پورا ہونے سے حضرت رسول کریم ﷺ کی توہین کیسے ہوئی؟

حضرت مرزا صاحب نے فرمایا ہے: ”خدا تعالیٰ مجھے بہت عظمت دے گا اور میرے سلسلے کو تمام زمین میں پھیلائے گا..... ہر ایک قوم اس چشمہ سے پانی پیئے گی اور یہ سلسلہ زور سے بڑھے گا اور پھولے گا۔ خدا نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ میں تجھے برکت پر برکت دوں گا۔ سو اے سننے والو ان باتوں کو یاد رکھو اور ان پیش خبریوں کو اپنے صندوقوں میں محفوظ رکھ لو کہ یہ خدا کا کلام ہے جو ایک دن پورا ہوگا۔“

(تجلیات الٰہیہ ص ٢١)

پھر فرمایا: ”اے تمام لوگو سن رکھو۔ وہ اپنی اس جماعت کو تمام ملکوں میں پھیلا دے گا..... سب پر ان کو غلبہ بخشے گا۔ وہ دن آتے ہیں بلکہ قریب ہیں کہ دنیا میں صرف یہی ایک مذہب ہوگا جو عزت کے ساتھ یاد کیا جائے گا۔ (کہ جگہ جگہ غیر مسلم قرار دیا جاچکا۔ فقیر مرتب کتاب) خدا اس مذہب اور اس سلسلے میں نہایت درجہ اور فوق العادت برکت ڈالے گا اور ہر ایک کو جو اس کو معدوم کرنے کا فکر رکھتا ہے نامراد رکھے گا اور یہ غلبہ ہمیشہ رہے گا۔ یہاں تک کہ قیامت آ جائے گی۔“

(تذکرۃ الشہادتین ص ٦٤، ٦٥)

نیز آپ نے فرمایا۔

جو خدا کا ہے اسے للکارنا اچھا نہیں
ہاتھ شیروں پر نہ ڈال اے روبہِ زار و نزار

(درثمین اردو)

(شبیہ دستخط) محمد سلیم عفی عنہ مورخہ ٢٥ / نومبر ١٩٦٣ء

١٤٩

صفحہ ١٩٢

مناظرہ کے اخیر دن کے اخیر پرچے میں قادیانی مولوی نے بڑی شدومد سے یہ جھوٹ کہا کہ مرزا قادیانی چینی نہیں ہیں۔ چونکہ ہمارا پرچہ ختم ہوچکا تھا۔ اس لئے احقر نے اسی مجلس میں صدر جلسہ جناب ریڈی صاحب کو یہ خط لکھا جسے بلاک کے نمبر ١ پر ملاحظہ فرمائیں جو یہ ہے۔

”صدر محترم! میں نے مرزا صاحب کی کتاب (تحفہ گولڑویہ ص ٢٥) سے ان کے چینی ہونے کا حوالہ دیا ہے جسے آپ نے بھی ملاحظہ فرمایا ہے۔ مولانا سلیم کہتے ہیں کہ وہ حاشیہ ہے اور وہ عبارت مرزا قادیانی کی نہیں ہے تو براہ مہربانی ان سے تحریر کرادیں کہ پھر یہ عبارت کس کی ہے؟ کیونکہ اس سے ایک بہت بڑا مسئلہ حل ہوجائے گا۔“ احقر: محمد اسماعیل مورخہ ٢٥ نومبر ١٩٦٣ء

اس پر صدر مناظرہ جناب ریڈی صاحب نے قادیانی مولوی سے جواب دینے کا مطالبہ کیا تو ان کی جانب سے ان کے صدر صاحب نے یہ جواب دیا جسے بلاک کے نمبر ٢ پر ملاحظہ فرمائیں۔ جو مندرجہ ذیل ہے۔ تحفہ گولڑویہ پر جو حوالہ درج ہے اس پر حضرت مرزا صاحب نے حضرت ابن عربی کا کشف درج کیا ہے۔

اس پر ہمارا مطالبہ ہوا کہ یہ سراسر جھوٹ کہہ رہے ہیں۔ اصل کتاب میں اس کا کہیں نام ونشان بھی نہیں ہے۔ اس پر جناب ریڈی صاحب نے ان سے بڑی مشکل سے یہ تحریر لکھوائی جو بلاک نمبر ٣ پر درج ہے وہ یہ ہے: ”اس کشف کا مصداق حضرت مرزا صاحب نے اپنے آپ کو قرار دیا ہے۔ مبارک علی“ نمائندہ جماعت احمدیہ

چونکہ یہ آخری تحریر تھی۔ اس لئے اس کو اجلاس عام میں خود جناب ریڈی صاحب نے پڑھ کر سنائی۔ جب یہ تحریر پڑھی گئی تو قادیانیوں کا عجب حال ہوا جو دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا۔ ہر شخص نے اس تحریر کو خلاصہ مناظرہ سمجھا اور یہ بھی سمجھ لیا کہ مولوی سلیم نے اپنے آخری پرچے میں جھوٹ کہا تھا جو پکڑا گیا۔ اس کے بعد یکے بعد دیگرے کئی خاندانوں نے اسی دن جلسہ گاہ سے لوٹتے لوٹتے اپنے مسلمان ہونے کا اور قادیانیت سے توبہ کرنے کا اعلان کر دیا۔

چونکہ یہ آخری تحریر قادیانیوں کے لئے اپنی موت پر دستخط تھا۔ اس لئے اسے انہوں نے شائع نہیں کیا اور ہم نے اس کا فوٹو بلاک اس لئے بنوالیا کہ آئندہ کسی قادیانی کو کسی قسم کے حیلے بہانے کا موقع نہ ملے۔ احقر: محمد اسماعیل عفی عنہ

معذرت

اس کتاب کی طباعت میں غیر معمولی تاخیر ہوئی۔ بہت سے احباب نے خطوط لکھے اور

١٥٠

صفحہ ١٩٣

زبانی توجہ بھی دلائی۔ ہر کام کا ایک وقت ہوتا ہے۔ اس سے پہلے آپ لاکھ کوشش کریں نہیں ہوسکتا۔ چنانچہ اس کتاب کی کتابت وطباعت کے لئے میں نے بہت ہی عجلت اور سعی امکانی سے کام لیا۔ مگر تاخیر پر تاخیر ہوتی رہی۔ کلکتہ، راوڑکیلا، جمشید پور، رانچی۔ رائے گڑھ وغیرہ میں فسادات کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ جس میں احقر راوڑکیلا اور اس کے اطراف میں ریلیف کے کاموں کی دیکھ بھال میں لگ گیا۔ اس کے بعد میری علالت کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ اسی زمانہ میں میں نے یہ چاہا کہ یہ کتاب کلکتہ میں طبع ہو جائے تاکہ اس کی تصحیح کا کام میں خود کروں۔ مگر وہاں یہ کام نہ ہوسکا۔ خداوند کریم نے اس کی سعادت جناب عبدالمجید خاں صاحب عشقی منیجر الجمعیۃ پریس کو بخشی۔ انہوں نے پوری تندہی سے اس خدمت کو انجام دیا۔ میں ان کا شکر ادا کرتے ہوئے ان تمام حضرات سے معذرت خواہ ہوں جنہوں نے اس کے لئے انتظار کی گھڑیاں کاٹیں۔

والعذر عند کرام الناس مقبول فقط والسلام! احقر: محمد اسماعیل عفی عنہ

نئی کرامت

"مناظرہ یادگار" نامی کتاب جسے با تصویر قادیانیوں نے شائع کیا تھا۔ اس سے ایک عظیم فائدہ یہ پہنچا کہ امسال قادیانی مناظر مولوی سلیم مع دیگر رفقاء کے حج کے بہانے پاسپورٹ لے کر حجاز جانا چاہتے تھے۔ جس کے سلسلے میں علماء کرام کلکتہ نے ایک یادداشت عربی میں شاہ فیصل کو روانہ فرمائی تھی اور قادیانی عقائد کے مطابق بطور گواہی کے اسی کتاب کو بمبئی اور دہلی کے سعودی سفارت خانہ میں پیش کیا تھا۔ چونکہ اس میں خود سلیم صاحب قادیانی کی تصویریں تھیں۔ اس لئے سفارت خانے کو قادیانی عقائد کے سمجھنے میں کوئی دقت پیش نہیں آئی اور اس نے قادیانیوں کو حج کے لئے جانے نہیں دیا۔ اس سلسلہ میں الفرقان لکھنؤ کا مندرجہ ذیل بیان پیش خدمت ہے۔

(ماہنامہ الفرقان لکھنؤ ج ٣٣ بابت ماہ صفر ١٣٨٥ھ، مطابق جون ١٩٦٥ء ص ١١، ١٢)

حرمین پاک کی حاضری ...... از محمد منظور نعمانی

قادیانی، سعودی حکومت کی نظر میں

اب کے ایک قابل ذکر واقعہ یہ پیش آیا کہ کلکتہ کے قادیانیوں کی ایک جماعت نے حج کو جانے کا پروگرام بنایا۔ ان کا منصوبہ یہ تھا کہ وہ اس حج کے ذریعہ کلکتہ اور اس کے نواح میں قادیانیت کی تبلیغ کے لئے زمین ہموار کر سکیں گے۔ وہاں سے واپس آکر وہ مسلمان عوام کو بتائیں

١٥١

صفحہ ١٩٤

گے کہ عقائد کی بنیاد پر ہماری مخالفت بس یہ ہندوستان ہی کے مولوی کرتے ہیں۔ مکہ مدینہ میں کسی نے ہماری کوئی مخالفت نہیں کی اور ہمارے ساتھ وہی سلوک کیا گیا جو ایمان والوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ الغرض وہ اس حج کو اپنے لئے ایک سند اور سرٹیفکیٹ بنانا چاہتے تھے۔ اسی لئے انہوں نے اس کا اچھا خاصا پروپیگنڈا بھی کیا تھا۔ کلکتہ کے چند حساس اور بیدار مسلمانوں نے اس خطرہ کو محسوس کیا اور ایک خط ملک حجاز شاہ فیصل کو لکھا کہ قادیانیوں کی ایک جماعت اس طرح حج کے موقع پر حجاز مقدس پہنچنے کی کوشش کر رہی ہے۔ یہ اپنے کو مسلمان بتا کر سفر کریں گے۔ حالانکہ یہ قادیانی ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کے بعد مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی اور رسول مانتے ہیں۔ ان کے یہ یہ نام ہیں۔ اس خط کی ایک کاپی مملکت سعودیہ کے مفتی اکبر کو، ایک رابطہ عالم اسلامی کے جنرل سیکرٹری کو اور ایک ہندوستان کے سعودی سفارت خانہ کو بھیجی گئی۔ اس کوشش کے نتیجہ میں ان لوگوں کو ویزا نہ دیئے جانے کا حکم آگیا۔ چنانچہ بمبئی کے ویزا آفس نے سولہ آدمیوں کی اس پوری جماعت کو ویزا دینے سے انکار کر دیا۔ اگرچہ ان کی سیٹیں ہوائی جہازوں میں ریزرو تھیں۔ لیکن ہبلی (جنوبی ہند) کے بعد قادیانی خفیہ طور پر حجاز مقدس پہنچ گئے۔ دارالعلوم دیوبند کے ایک نوجوان فاضل مولانا ریاض احمد صاحب فیض آبادی (جو جنوبی ہند میں قادیانی فتنہ کا مقابلہ کر رہے ہیں) وہ بھی اس سال حج میں تھے۔ انہوں نے حجاز مقدس میں ہبلی کے ان قادیانیوں کا تعاقب کیا اور حکومت حجاز کو اطلاع دی کہ اس طرح چند قادیانی خفیہ طور پر آگئے ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی تلاش ہوئی۔ ان میں سے صرف دو کا پتہ چلا اور وہ گرفتار کر لئے گئے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ انہوں نے اپنے ابتدائی بیان میں قادیانی ہونے سے قطعی انکار کیا۔ لیکن جب ان کی ڈائری وغیرہ سے یہ ثابت ہو گیا کہ واقعی یہ قادیانی ہیں تو بعد میں انہوں نے اقرار کر لیا۔ اس کے بعد اتمام حجت کے لئے ان کو تبلیغ کی گئی اور توبہ کے لئے کہا گیا۔ انہوں نے توبہ کی اور تحریری توبہ نامہ داخل کیا۔ اس سال کے ان واقعات کے بعد یہ بات بالکل صاف ہوگئی کہ حکومت حجاز قادیانیوں کو مسلمان نہیں مانتی اور اس بناء پر ان کو حج کے لئے حجاز مقدس پہنچنے کی اجازت نہیں دیتی۔ ان میں سے جو لوگ جاتے ہیں وہ چوری چھپے جاتے ہیں۔ لہٰذا آئندہ جہاں سے بھی قادیانی حضرات حج کے موقع پر جانا چاہیں وہاں کے ذمہ دار فوراً اس کی صحیح اطلاع سعودی سفارت خانہ دہلی اور سعودی ویزا آفس بمبئی کو دے دی جائے۔

١٥٦

PDF 196

خاتم النبیین لا نبی بعدی

سیرت اکیڈمی کٹکی - سمیہ منزل، ٹیپو چوک

ذرا غور کریں

حضرت مولانا سید محمد اسماعیل کٹکی رح

صفحہ ١٩٦

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مرزا غلام احمد قادیانی پنر جنم کا ”ہندوانہ“ عقیدہ رکھتا ہے

مرزا قادیانی ہندو مذہب کے عقیدہ تناسخ یعنی پنر جنم کا قائل ہے اور اس کا اصل دعویٰ جسے وہ اشارۃً، کہیں صراحتاً ذکر کرتا ہے۔ نعوذ باللہ! یہ ہے کہ محمدﷺ دوبارہ مرزا غلام احمد قادیانی کے روپ میں پیدا ہوئے ہیں۔ چنانچہ ان کا درباری شاعر قاضی اکمل مندرجہ ذیل اشعار پڑھ کر ان کو سناتا ہے بلکہ لکھ کر پیش کرتا ہے تو اسے سن کر مرزا قادیانی بہت خوش ہوتے ہیں اور آج بھی ہر قادیانی اپنی مخصوص مجلس میں اس کی تلاوت کرتا ہے۔ ملاحظہ سے قبل آپ ضرور نعوذ باللہ! پڑھ لیں۔ وہ اشعار یہ ہیں:

صدی چودھویں کا ہوا سر مبارک
کہ جس میں وہ بدر الدجیٰ بن کے آیا
محمد پئے چارہ سازی امت
ہے اب احمد مجتبیٰ بن کے آیا
حقیقت کھلی بعثت ثانی کی ہم پر
کہ جب مصطفیٰ میرزا بن کے آیا

(الفضل مورخہ ٢٨؍ مئی ١٩٢٨ء)

اسی طرح رباعی کے چند اشعار بھی ملاحظہ فرمائیں۔

پہلی بعثت میں محمد ہے تو اب احمد ہے
تجھ پہ پھر اترا ہے قرآن رسول مدنی
سرمۂ چشم تیری خاک قدم بنواتے
غوث اعظم شہ جیلانی رسول مدنی

(الفضل قادیان مورخہ ١٦؍ اکتوبر ١٩٢٢ء)

آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ اشعار خود مرزا قادیانی نے نہیں لکھے بلکہ ان کے عقیدت

٢

صفحہ ١٩٧

م کا ”ہندوانہ“ عقیدہ رکھتا ہے

تناسخ یعنی پنر جنم کا قائل ہے اور اس کا اصل دعویٰ باللہ! یہ ہے کہ محمد ﷺ دوبارہ مرزا غلام احمد قادیانی درباری شاعر قاضی اکمل مندرجہ ذیل اشعار پڑھ کر ان مرزا قادیانی بہت خوش ہوتے ہیں اور آج بھی ہر کرتا ہے۔ ملاحظہ سے قبل آپ ضرور نعوذ باللہ! پڑھ

ہوا سر مبارک
نور الہدیٰ بن کے آیا
سازی امت
ک بن کے آیا
ثانی کی ہم پر
میرزا بن کے آیا

(الفضل مورخہ ٢٨ مئی ١٩٢٨ء)

ملاحظہ فرمائیں۔

ہے تو اب احمد ہے
قرآن رسول مدنی
ک قدم بنواتے
ثانی رسول مدنی

(الفضل قادیان مورخہ ١٦ اکتوبر ١٩٢٢ء)

قادیانی نے نہیں لکھے بلکہ ان کے عقیدت

مندوں نے کہے ہیں تو سن لیجئے کہ پنر جنم کی تھیوری خود مرزا قادیانی نے بتائی ہے اور یہ شعراء بیچارے تو مرزا قادیانی کی باتوں کو اشعار میں پیش کرتے ہیں۔ چنانچہ مرزا قادیانی اپنے متعلق خود لکھتا ہے: ”من فرّق بینی وبین المصطفی فما عرفنی ومارأی“

(خطبہ الہامیہ ص ١٧١، خزائن ج١٦ ص٢٥٩)

یعنی جو شخص مجھ میں اور محمد مصطفےٰ میں برائے نام بھی کچھ فرق کرے گا یعنی مجھے عین محمد نہیں مانے گا تو اس شخص نے مجھے جانا اور نہ پہچانا۔ یہاں تک کہ آگے لکھتا ہے: ”صار وجودی وجودہ“ (خطبہ الہامیہ ص ١٧١، خزائن ج١٦ ص٢٥٨) میرا وجود مصطفیٰ کا وجود ہے۔

مرزا بشیر احمد قادیانی سے سوال کیا گیا کہ جس طرح مسلمانوں کا کلمہ ”لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ“ ہے اسی طرح ہمارا بھی الگ کلمہ ہونا چاہئے۔ اس کا جواب دیا کہ ہمیں کلمہ بدلنے کی ضرورت نہیں۔ اس لئے کہ محمد رسول اللہ ﷺ سے کلمہ میں ہم مرزا غلام احمد قادیانی کو بھی مراد لیتے ہیں۔ چنانچہ اس نے مرزا قادیانی کی (صار وجودی وجودہ اور من فرّق بینی وبین المصطفیٰ) کی عبارتیں مرزا قادیانی کی کتاب خطبہ الہامیہ سے پیش کی۔

(کلمۃ الفصل ص ١٥٨)

اس کے علاوہ اور بھی حوالے ہیں جس میں مرزا قادیانی نے خود عین محمد ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔

ہمارا قادیانی صاحبان سے یہ سوال ہے کہ وہ مرزا غلام احمد قادیانی میں اور محمد مصطفیٰ ﷺ میں کوئی اونچ نیچ یا فرق مانتے ہیں کہ نہیں؟ اگر نہیں تو پھر ہمارا دعویٰ صحیح ہے کہ قادیانی لوگ مرزا قادیانی کو محمد ﷺ کا پنر جنم مانتے ہیں۔ اگر کوئی قادیانی اس کا یہ جواب دے کہ مرزا قادیانی کو ہم عین محمد نہیں مانتے ہیں بلکہ دونوں میں فرق کرتے ہیں تو پھر مرزا قادیانی کے (خطبہ الہامیہ ص ١٧٠، خزائن ج١٦ ص٢٥٨) والے فتوے کے مطابق وہ قادیانی نہیں رہا۔ اس لئے اس کو جلد از جلد اس دجالی مذہب سے توبہ کر کے مسلمان ہو جانا چاہئے۔ تاکہ دھوبی کا گدھا نہ بنے جو گھر کا ہے نہ گھاٹ کا۔

مرزا غلام احمد قادیانی اپنے کو آخری نبی کہتا ہے

تمام مسلمانوں کا یہ اجتماعی اور متفق علیہ فیصلہ ہے کہ حضور ﷺ آخری نبی ہیں۔ جس

٣

صفحہ ١٩٨

طرح خدا کے بعد کوئی خدا نہیں، ٹھیک اسی طرح حضور ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں۔ یہاں تک کہ خود مرزا غلام احمد قادیانی نے کھلے لفظوں میں اس کا بار بار اقرار کیا ہے۔ اس نے ”لا الہ“ کی ”لا“ اور ”لا نبی بعدی“ کی ”لا“ کو ایک برابر کہا ہے۔

(تذکرہ ص ٢٦٩، ایام صلح ص ١٤٦، خزائن ج ١٤ ص ٣٩٣)

فارسی میں کہتا ہے: ”ہر نبوت را بروشد اختتام“ ہر قسم کی نبوت حضور ﷺ پر ختم ہوگئی۔

(سراج منیر ص ٩٣، خزائن ج ١٢ ص ٩٥)

مرنے سے تقریباً ساڑھے پانچ سال قبل مرزا قادیانی نے ایک چھوٹا رسالہ لکھا تھا۔ جس کا نام ہے ”ایک غلطی کا ازالہ“ یعنی تمام مسلمان جو اب تک حضور ﷺ کو آخری نبی مانتے ہیں۔ وہ غلطی پر ہیں۔ حضور ﷺ آخری نبی نہیں ہیں۔ (نعوذ باللہ من الشیطان الرجیم)

قادیانی امت حضور علیہ الصلوۃ والسلام کو آخری نبی نہیں مانتی ہے۔ بلکہ نبی بنانے والی مہر مانتی ہے۔ یعنی حضور ﷺ جس پر مہر لگا دیں گے وہ نبی بن جائے گا۔ (حقیقت الوحی ص ٩٧، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٠) یہاں تک کہ مرزا قادیانی نے یہ دعویٰ کیا کہ: ”جس دین میں نبوت جاری نہیں رہی (اور ختم ہو جاتی ہے) وہ شیطانی دین ہے۔“

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٣٩، خزائن ج ٢١ ص ٣٠٦)

قادیانی عام طور پر یہ بھی دعویٰ کرتا ہے کہ قرآن مجید میں جو ”اسمہ احمد“ آیا ہے اس سے مراد مرزا غلام احمد قادیانی ہے۔ (نعوذ باللہ من ہذہ الخرافات)

مرزا غلام احمد قادیانی نے ختم نبوت جیسے اہم عقیدے کے خلاف اتنی تاویلات اور تحریفات کا جال کیوں پھیلایا ہے؟ اس کی اصل وجہ یہی ہے کہ مرزا بذات خود محمد ﷺ کی بعثت ثانیہ کا دعویدار ہے۔ جس کا خلاصہ گذشتہ مضمون میں ذکر کیا گیا ہے۔

قادیانیوں کا ہم سے اختلاف ختم نبوت یا اجرائے نبوت کا نہیں ہے۔ یہ تو صرف قادیانیوں کی دھوکہ بازی ہے۔ ہمارا ان سے اختلاف اس مسئلہ میں ہے کہ خاتم النبیین یعنی آخری نبی کون ہے؟ دونوں جہاں کے سردار محمد ﷺ یا مردود مرزا غلام احمد قادیانی ہے؟ اور یہ حقیقت ہے کہ ہر قادیانی مرزا کو خاتم النبیین یعنی آخری نبی مانتا ہے نہ اس لئے کہ خود مرزا قادیانی نے اپنے آخری نبی ہونے کا دعویٰ مختلف کتابوں میں مختلف عنوان سے کیا ہے۔ جس کے کچھ نمونے بھی ملاحظہ فرمائیں۔

٤

بروزی طور پر وہی نبی خاتم الانبیاء ہوں...

گیا۔“

آخری نور ہوں۔ بدقسمت ہے وہ جو ...

سردست ان ہی چھ حوالوں... کرنے کے لئے کافی ہیں۔ اس لئے... بعد بھی کوئی نبی آئے گا تو فوراً کہے گا... نبوت کا نہیں ہے۔ بلکہ آخری نبی ک... اجرائے نبوت کا پردہ ڈال رکھا ہے تا ک... محمد ہونے کا دعویٰ اور اس کے آخری... عقیدہ ہے جسے جاہل سے جاہل مسلما... اس مضمون کے مطالعہ کے فوراً بعد قاد...

مرزا قادیانی کا کلام قرآن کی ...

مرزا قادیانی نے اپنی تمام... کہا ہے (تذکرہ ص ٣٧٨) اور اپنی کتا... چیلنج دیا ہے۔ ”ان کنتم فی ریب... یہی دعویٰ کیا ہے کہ میری وحی قرآن ہے ... ج ٢٢ ص ١٤٦) اور یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ...

صفحہ ١٩٩

بروزی طور پر وہی نبی خاتم الانبیاء ہوں ۔"

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٨، خزائن ج ١٨ ص ٢١٢)

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١١٣، خزائن ج ٢١ ص ١٤٢)

(تذکرہ ص ٥٣٩، طبع ٣)

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٦٢، خزائن ج ٢١ ص ٨٠)

گیا۔"

(تذکرہ ص ٣٣٩)

آخری نور ہوں ۔ بدقسمت ہے وہ جو مجھے چھوڑتا ہے ۔ کیونکہ میرے بغیر سب تاریکی ہے ۔"

(کشتی نوح ص ٥٦، خزائن ج ١٩ ص ٦١)

سردست ان ہی چھ حوالوں پر قناعت کریں ۔ یہ حوالے مرزا قادیانی کا اصل روپ ظاہر کرنے کے لئے کافی ہیں ۔ اس لئے اگر آپ کسی قادیانی سے سوال کریں کہ کیا مرزا قادیانی کے بعد بھی کوئی نبی آئے گا تو فوراً نہیں کا جواب دے گا ۔ تب پتہ چلے گا کہ یہ مسئلہ ختم نبوت یا اجرائے نبوت کا نہیں ہے ۔ بلکہ آخری نبی کون ہے؟ اس کا جھگڑا ہے ۔ جس پر قادیانیوں نے خوامخواہ اجرائے نبوت کا پردہ ڈال رکھا ہے تا کہ جب تک کوئی پکا قادیانی نہ ہو جائے ۔ مرزا قادیانی کے عین محمد ہونے کا دعویٰ اور اس کے آخری نبی ہونے کا دعویٰ اس سے پوشیدہ رکھا جائے ۔ کیونکہ یہ ایسا عقیدہ ہے جسے جاہل سے جاہل مسلمان بھی برداشت نہیں کر سکتا ہے ، ۔ لہٰذا قادیانیوں کو چاہئے کہ اس مضمون کے مطالعہ کے فوراً بعد قادیانیت سے توبہ کریں اور اسلام میں داخل ہو جائیں ۔

مرزا قادیانی کا کلام قرآن کی طرح قطعی ہے

مرزا قادیانی نے اپنی تمام باتوں کو قرآن قرار دیا ہے اور "وما ینطق عن الھوی" کہا ہے (تذکرہ ص ٣٧٨) اور اپنی کتاب خطبہ الہامیہ کے متعلق تمام دنیا کے انسانوں کو قرآن جیسا چیلنج دیا ہے ۔ "ان کنتم فی ریب مما نزلنا" (تذکرہ ص ٨٠٢) اور مندرجہ ذیل حوالہ میں بھی یہی دعویٰ کیا ہے کہ میری وحی قرآن کے برابر ہے ، ".... ریب فیہ" (حقیقت الوحی ص ١٣٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٣٩) اور یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ میرے قلم سے بفضلِ خدا کوئی غلط بات نہیں لکھی ۔

٥

صفحہ ٢٠٠

اس قسم کے دعوے مرزا قادیانی نے اردو، فارسی اور عربی میں جابجا کئے ہیں۔ اس لئے قادیانی امت مرزا قادیانی کی کتابوں کو قرآن کا درجہ دینے پر مجبور ہے۔ اگر وہ ایسا نہیں کریں گے تو مرزا قادیانی کی امت سے خارج ہو جائیں گے۔ کیونکہ ایسا نہ کرنا خود بخود مرزا قادیانی کو جھوٹا ثابت کرنا ہے اور اسی سبب سے قادیانی مرزا قادیانی کی کتابوں سے بھاگتے ہیں اور قرآن مجید کی الٹی سیدھی تاویلات کر کے اس کی خانہ پری کرتے ہیں۔

ہم یہاں مرزا قادیانی کی کتابوں سے مرزائی قرآن کے چند نمونے پیش کر رہے ہیں۔ تاکہ آنکھ والوں کے لئے ہدایت ثابت ہو۔ ”چراغ مردہ کجا شمع آفتاب کجا۔“ مرزا غلام کجا اور قرآن کجا، کہاں قرآن پاک اور کہاں مرزا قادیانی کی الٹی سیدھی بکواس۔ کہاں عرق گلاب کہاں ناپاک پیشاب۔ لہذا آپ غور سے قادیانی قرآن کے چند نمونے ملاحظہ فرمائیں۔

اطمینان نہیں ہوا۔

(تذکرہ ص ١١٥)

ناظرین گرامی! وحی مقدس کے تیسرے ایڈیشن میں ہنڈو لڑکے سے معنی دریافت کرنے کے ذکر کو بالکل ہی غائب کر دیا ہے۔

(تذکرہ یعنی وحی مقدس ص ٥٢٧)

علاوہ ازیں مرزا قادیانی کے جتنے عربی الفاظ بقول مرزا قرآن ہیں۔ اگر آپ غور فرمائیں گے تو پتہ چل جائے گا کہ قرآن مجید کی آیات کریمہ میں سے ایک آدھ لفظ بڑھایا گھٹا کر مرزا قادیانی نے اس کو اپنا قرآن قرار دیا ہے۔ نیز اس میں جابجا عربی کی غلطی بھی پائیں گے۔ مثلاً مرزا قادیانی کی یہ وحی ”رب زدنی فی عمری“ وغیرہ اس پنجابی دھوکے باز کے قرآن کے نمونوں سے ہر صاحب فہم انسان سمجھ سکتا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی ایک کذاب اور دجال تھا۔ اس کو مان کر جسے ابدالآباد کے لئے جہنم میں جانا ہے چلا جائے۔

میرے عزیزو! قادیان سے جاری کردہ رقم جس پر تم ایمان بیچ رہے ہو یہ کب تک تمہارے کام آئے گی۔ مرتے ہی تمہیں جہنم کے گڑھے میں گرا دے گی۔ لہذا وقت ہے کہ اب بھی توبہ کرو اور مسلمان بن جاؤ۔

وما علينا الا البلاغ!

٦

PDF 202

خاتم النبیین لا نبی بعدی

سیدنا حضرت محمد ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں

حجۃ قطعیہ

علیٰ رد مرزائیہ

(مرزا کی کہانی ، مرزا کی زبانی)

مولانا غلام سبحانی مانسہروی

صفحہ ٢٠٢

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

پیش لفظ

عقیدہ ختم نبوت کا تعلق اسلام کے بنیادی عقائد سے ہے۔ کوئی بھی شخص اس وقت تک نہ تو مسلمان ہو سکتا ہے اور نہ ہی دعویٰ اسلام کر سکتا ہے۔ جب تک کہ قرآن مجید اور احادیث نبویہ کے مطابق نبی ﷺ کو خاتم النبیین نہ مانتا ہو اور آپ ﷺ کے بعد ہر طرح کے (ظلی و بروزی) مدعی نبوت کو کافر، کاذب، دجال اور مفتری نہ سمجھتا ہو۔

انگریز نے اپنی مسلمان دشمنی کا ثبوت دیتے ہوئے مسلمانوں میں تفریق پیدا کرنے کے لئے ایک ایسے شخص کا انتخاب کر کے اس سے دعویٰ نبوت کرایا۔ جو ان کی ان توقعات پر پورا اترنے والا تھا۔ جو انہوں نے اس سے وابستہ کر رکھی تھیں۔ اسی انگریزی نبوت کے بناسپتی نبی (مرزا غلام احمد قادیانی) کی ناجائز اولاد اب بھی اپنے مردود (گرو) کی تعلیمات باطلہ کا علیٰ الاعلان پرچار کر رہی ہے۔ جس کی سرپرستی اس وقت لندن میں اپنے آقاؤں کے پاس بیٹھا مرزا ناصر کر رہا ہے۔

اس وقت اسلامی جمہوریہ پاکستان میں مرزا قادیانی کی ناجائز اولاد (مرزائی) منظم طور پر مرزا دجال کی جھوٹی نبوت کا ڈھول پیٹ رہے ہیں۔ سادہ لوح اور کم علم لوگوں کو عقیدہ ختم نبوت سے ہٹانے کی بھر پور کوشش کر رہے ہیں۔ ان حالات میں ہر مسلمان کے لئے یہ لازم ہے کہ وہ قرآن پاک اور احادیث نبویٰ کی اصل تعلیمات کی روشنی میں مسئلہ ختم نبوت کو سمجھ لے۔ تا کہ مرزا ملعون کی جھوٹی نبوت کا پول کھل کر اس کے سامنے آ جائے۔ اسی بات کے پیش نظر میں نے رسالہ ہذا کی تالیف بارگاہ ایزدی میں سر بسجود اور دست بدعا ہو کر رب کریم کی تائید و استعانت سے شروع کی۔ میں اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرتا ہوں کہ وہ میری اس سعی کو قبول فرمائے اور جملہ مسلمانان عالم کو عقیدہ ختم نبوت پر استقامت نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین یارب العالمین!

قارئین کرام! کی آسانی اور اختتام رسالہ تک دلچسپی برقرار رکھنے کے لئے میں نے اسے دو حصوں (بابوں) میں تقسیم کر دیا ہے۔ پہلا حصہ قرآن مجید اور صحیح احادیث نبویہ کے دلائل، اجماع صحابہ، اجماع علمائے امت اور ”مسیح موعود کی حقیقت“ کے علاوہ دیگر مضامین پر مشتمل ہے۔ جب کہ حصہ دوم میں مرزا قادیانی کے عقائد باطلہ، مرزا قادیانی کا دعویٰ نبوت، مرزا قادیانی کے فتوے، مرزا قادیانی کی پیش گوئیاں اور مرزا قادیانی کے جھوٹ، مرزا قادیانی ہی کی زبانی پیش کئے

٢

صفحہ ٢٠٣

گئے ہیں۔ رسالہ ہذا کے لئے تفسیر حقانی، تفسیر خازن، تفہیم القرآن، رسالہ ترک مرزائیت اور دیگر کتب و تفاسیر سے استفادہ کیا گیا ہے۔

العاصی الراجی الی رحمت رب المتعال ! مولوی غلام سبحانی خطیب جامع مسجد موڑھے کلاں ضلع وتحصیل مانسہرہ

اعوذ بالله من الشیطن الرجيم . بسم الله الرحمن الرحيم

”الم . ذالك الكتب لا ريب فيه هدى للمتقين . للذين يؤمنون بالغيب ويقيمون الصلوة ومما رزقنهم ينفقون . والذين يؤمنون بما انزل اليك وما انزل من قبلك وبالآخرة هم يوقنون . اولئك على هدى من ربهم واولئك هم المفلحون (بقرہ: ١ تا ٥) “ یہ کتاب نہیں شک بیچ اس کے ، راہ دکھاتی ہے۔ واسطے پرہیز گاروں کے وہ جو ایمان لاتے ہیں ساتھ غیب کے، اور قائم رکھتے ہیں نماز کو اور اس چیز سے کہ دی ہے ہم نے انکو خرچ کرتے ہیں اور جو لوگ کہ ایمان لاتے ہیں ساتھ اس چیز کے جو اتاری گئی ہے طرف تیری اور جو کچھ اتاری گئی ہے پہلے تجھ سے اور ساتھ آخرت کے وہ یقین رکھتے ہیں۔ یہ لوگ اوپر ہدایت کے ہیں پروردگار اپنے سے اور یہ لوگ وہی ہیں چھٹکارا پانے والے۔

تشریح: مفسرین حضرات نے حروف مقطعات کے معنی ”دلالة واشارة “ بیان کرنے کے بعد پھر ان کا علم اللہ کے سپرد کیا ہے۔ فرمایا ہے: ” الله أعـلـم بـمـراده “ اللہ ان کی مراد بہتر جانتا ہے۔ اب اس پر ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ جن حروف کا مفہوم ، مقصود یا علم ہم نہیں سمجھتے۔ ان حرفوں کے خطاب سے مخاطب کرنا ”تکلیف مالا يطاق“ ہے جو جائز نہیں۔

اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سورتوں کے ابتداء میں حروف تہجی اس لئے لائے ہیں۔ کیونکہ لغت عرب دو قسم کی تھی۔ مختصر اور دوسری مفصل۔ اگر قرآن پاک صرف ایک ہی لغت میں اتر تا مثلاً ایجازی تو دوسرے تفصیلی ،لغت والے اعتراض کرتے کہ یہ ہماری لغت نہیں ہے۔ اس لئے ہم اس پر ایمان نہیں لاتے اور اسی طرح اگر تفصیلی لغت میں اترتا ، تو ایجازی والے اعتراض کرتے کہ یہ ہمارے لغت نہیں ہے۔ اس لئے ہم ایمان نہیں لاتے۔

قرآن مجید نے ان دونوں کے ساتھ مقابلہ کر کے انہیں مغلوب کر کے اپنا تابع بنانا تھا۔ اس لئے اوائل سورۃ میں حروف تہجی لاکر ایجازی لغت والوں کو مغلوب کیا اور باقی احکام اور قصص انبیاء وغیرہ، تفصیلی ..... لغت میں لاکر تفصیلی ..... لغت والوں کو مغلوب کر کے اپنا مقصد پورا

٣

صفحہ ٢٠٤

کیا اور پھر اعلان کر کے فرمایا: ”فاتوا بسورة من مثله وادعوا شهداءكم من دون الله ان كنتم صدقين (البقرة:٢٣)“ ﴿پس لے آؤ ایک سورۃ مانند اس کی اور پکارو شاہدوں اپنوں کو سوائے اللہ کے اگر ہو تم سچے۔﴾

عرب میں اس زمانے میں قرآن پاک نازل ہو رہا تھا۔ جب ہر طرف فصاحت و بلاغت کا بڑا چرچا تھا۔ ہر شخص اپنے عمدہ عمدہ اشعار پر ادھار کھائے پھرتا تھا اور معجزہ کی خوبی یہ ہے کہ جس امر میں لوگوں کو ملکہ ہو اور جس کے اسرار کما ینبغی وہ جانتے ہوں۔ اسی میں ان کو ایسی بات دکھائی جائے جو ان سب کی قوت سے باہر ہو اور وہ عاجز ہو کر یہ جان لیں کہ یہ شخص کا کام ہے جو ہماری جنس اور نوع سے الگ ہے اور اسی لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بیماروں کا تندرست کرنا، مردہ کو زندہ کرنا وغیرہ معجزات دکھائے کہ جنہوں نے طب جالینوس کو پست کر دیا اور اسی لئے فرعون کے جادوگر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے عصا کو اژدھا دیکھ کر فوراً ایمان لے آئے۔ کیونکہ وہ اس فن کے واقف تھے۔ فوراً سمجھ گئے کہ یہ جادوگر کا کام نہیں۔ اس کے برعکس فرعون اس فن سے قطعی ناواقف تھا۔ وہ نہ سمجھا اس لئے عرب کے سامنے فصاحت و بلاغت میں معجزہ ظاہر ہونا پر ضرور تھا۔ تو خداوند تعالیٰ نے اس جملہ ”الم“ میں اعجاز کی طرف اشارہ فرمایا کہ ہمارا کلام بھی انہی حروف سے مرکب ہے۔ جن حروف سے تمہارا کلام مرکب ہوتا ہے اور جس طرح تمہاری کتابوں پر اطلاق کتاب ہوتا ہے۔ اسی طرح ہماری کتاب پر بھی۔ پھر جب تم اسباب فصاحت و بلاغت میں کم نہیں بلکہ مشاق ہو اور ایک کیا سب سے مل کر بھی ایسی کتاب نہیں بن سکتی تو جان لو کہ یہ تمہارے ہم جنس کا کلام نہیں۔

”قل لئن اجتمعت الانس والجن على ان ياتوا بمثل هذا القرآن لا ياتون بمثله ولو كان بعضهم لبعض ظهيرا (بنی اسرائیل:٨٨)“ ﴿کہہ دیجئے البتہ اگر اکٹھے ہو جائیں جن اور انسان اوپر اس بات کے کہ لائیں مثل اس قرآن کے نہیں لاسکیں گے۔ مثل اس کی اگر چہ وہ ایک دوسرے کے مددگار ہو جائیں۔﴾

”ذالك الكتاب“ یہ کتاب ہے۔ یہ دوسرا جملہ ہے جو اعجاز کو خوب ثابت کرتا ہے۔ یعنی کامل کتاب یہی ہے۔ ”ذالك“ اسم اشارہ ہے جو بعید یعنی دور کے لئے استعمال ہوتا ہے اور کتاب ہمارے نزدیک ہے۔ لہٰذا ”هذا الكتاب“ مناسب ہوتا۔ لیکن اس کے علو مراتب اور پہلی کتابوں میں مذکورہ ہونے کی وجہ سے اس کا اشارہ دور کی طرف ہے کہ یہ اتنی بڑی شان والی کتاب ہے۔

٤

”لاريب فيه“ ” ہے۔ یعنی جس کو ذرا بھی فہم سلیم اور اور اسے بالکل شبہ پیش نہیں آئے دانشمند اور صاحب فطرت سلیمہ کو با عناصر پرستی یا غلط نسب نامہ اور غل کرتی ہو۔ وہ کامل نہیں ہیں اور نہ ہ اس جملہ ”لا ريب مطابق لام نفی جنس کا جب نکرہ پر د میں کوئی شک نہیں۔ یعنی یہ کتاب کہ یہ ”هدى للمتقين“ راہ د کتابوں سے لوگوں کو ہدایت ہو کتاب ہدایت کیونکر بخشتی؟ بلک جائیکہ وہ مشکوک کتاب ان کا دستو لئے ہدایت ہے۔ مگر چونکہ اس متقین کے ساتھ خاص ہے۔ کیا پائی جاتی ہوں۔ ان میں اولین مع برائی سے بچنا چاہتا ہو اور بھلائی کا جنہیں یہ فکر لاحق نہ ہوتی کہ وہ جو جدھر خواہش نفس دھکیل دے یا کے لئے قرآن پاک میں کوئی ر ذریعہ سے اسے تمام مذاہب پر ش خیالات فاسدہ کی پیروی کو تقویٰ بات کو کھول دیا اور متقین کے اصلی ”الذين يؤمنون سے فائدہ اٹھانے کی دوسری شرط ”يؤمنون

صفحہ ٢٠٥

ورة من مثله وادعوا شهداء كم من دون الله تو پس لے آؤ ایک سورۃ مانند اس کی اور پکارو شاہدوں

آن پاک نازل ہو رہا تھا۔ جب ہر طرف فصاحت ہ اشعار پر ادھار کھائے پھرتا تھا اور معجزہ کی خوبی یہ ہے اسرار کما ینبغی وہ جانتے ہوں۔ اسی میں زن کو ایسی بات ہو اور وہ عاجز ہو کر یہ جان لیں کہ یہ شخص کا کام ہے جو نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بیماروں کا تندرست کرنا، وں نے طب جالینوس کو پست کر دیا اور اسی لئے فرعون کا اژدھا دیکھ کر فوراً ایمان لے آئے۔ کیونکہ وہ اس فن کا کام نہیں۔ اس کے برعکس فرعون اس فن سے قطعی لئے فصاحت و بلاغت میں معجزہ ظاہر ہونا پر ضرور تھا۔ تو کی طرف اشارہ فرمایا کہ ہمارا کلام بھی انہی حروف سے کب ہوتا ہے اور جس طرح تمہاری کتابوں پر اطلاق ہے۔ پھر جب تم اسباب فصاحت و بلاغت میں کم نہیں کی کتاب نہیں بن سکتی تو جان لو کہ یہ تمہارے ہم جنس کا

س والجن على ان ياتوا بمثل هذا القرآن لا عض ظهيرا (بنی اسرائیل:٨٨) ”کہہ دیجئے اس بات کے کہ لائیں مثل اس قرآن کے نہیں لاسکیں مددگار ہو جائیں۔“ ہے۔ یہ دوسرا جملہ ہے جو اعجاز کو خوب ثابت کرتا ہے۔ وہ ہے جو بعید یعنی دور کے لئے استعمال ہوتا ہے اور کتاب“ مناسب ہوتا۔ لیکن اس کے علو مراتب اور اشارہ دور کی طرف ہے کہ یہ اتنی بڑی شان والی

٤

”لا ريب فيه“ نہیں شک بیچ اس کے، یہ تیسرا جملہ ہے۔ جو اس کے کمال کی دلیل ہے۔ یعنی جس کو ذرا بھی فہم سلیم اور سلیقہ زبان عرب ہے وہ اس کی خوبیوں کو دیکھ کر یقین کرے گا اور اسے بالکل شبہ پیش نہیں آئے گا اور درحقیقت جو کتاب ایسے مضامین کو متضمن ہو کہ اس میں دانشمند اور صاحب فطرت سلیمہ کو کچھ شک و شبہ نہ ہو وہ کامل ہے۔ اس کے برعکس جن کتابوں میں عناصر پرستی یا غلط نسب نامہ اور خلاف عقل مضامین ہوں۔ یعنی جنہیں قبول کرنے سے عقل انکار کرتی ہو۔ وہ کامل نہیں ہیں اور نہ ہی الہامی ہیں۔

اس جملہ ”لا ریب“ میں لاء نفی جنس کا ہے اور ”ریب“ نکرہ ہے اور قاعدے کے مطابق لام نفی جنس کا جب نکرہ پر داخل ہوتا ہے۔ تو اس کا معنی اطلاق والا ہوتا ہے۔ یعنی مطلقاً اس میں کوئی شک نہیں۔ یعنی یہ کتاب شک و شبہ سے بالاتر ہے اور اس میں شک کیوں نہیں۔ اس لئے کہ یہ ”هدی للمتقین “ راہ دکھاتی ہے۔ واسطے پرہیز گاروں کے۔ یہ چوتھا جملہ ہے۔ یعنی جن کتابوں سے لوگوں کو ہدایت ہوتی ہے۔ ان میں شک نہیں ہوتا۔ کس لئے اگر شک ہو تو پھر وہ کتاب ہدایت کیونکر بخشتی؟ بلکہ مشکوک کتابوں کو تو متقی اور پرہیز گار لوگ چھوتے بھی نہیں۔ چہ جائیکہ وہ مشکوک کتاب ان کا دستور العمل اور ہدایت نامہ ہو۔ اگرچہ یہ کتاب قرآن مجید سب کے لئے ہدایت ہے۔ مگر چونکہ اس سے فائدہ صرف متقی اور پرہیز گار لوگ ہی اٹھاتے ہیں۔ اس لئے یہ متقین کے ساتھ خاص ہے۔ کیونکہ فائدہ اٹھانے کے لئے ضروری ہے کہ آدمی میں چند صفات پائی جاتی ہوں۔ ان میں اولین صفت یہ ہے کہ آدمی پرہیز گار ہو۔ بھلائی اور برائی میں تمیز کرتا ہو۔ برائی سے بچنا چاہتا ہو اور بھلائی کا طالب ہو اور وہ لوگ جو دنیا میں جانوروں کی طرح جیتے ہوں اور جنہیں یہ فکر لاحق نہ ہوتی کہ وہ جو کچھ کر رہے ہیں، صحیح بھی ہے یا نہیں؟ بس جدھر دنیا چل رہی ہو یا جدھر خواہش نفس دھکیل دے یا جدھر قدم اٹھ جائیں۔ اسی طرف چل پڑتے ہوں تو ایسے لوگوں کے لئے قرآن پاک میں کوئی رہنمائی نہیں ہے۔ تقویٰ اسلام کا ایک روشن اصول ہے۔ جس کے ذریعہ سے اسے تمام مذاہب پر شرف ہے۔ چونکہ ہر مذہب میں تقویٰ کا دعویٰ ہے اور ہر شخص اپنے خیالات فاسدہ کی پیروی کو تقویٰ سمجھتا ہے اور باعث نجات سمجھتا ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس بات کو کھول دیا اور متقین کے اصلی اوصاف بتا دیئے۔

”الذين يؤمنون بالغیب“ وہ جو ایمان لاتے ہیں ساتھ غیب کے، یہ قرآن مجید سے فائدہ اٹھانے کی دوسری شرط ہے اور ایمان بالغیب متقین کی صفت ہے۔

”یؤمنون“ مضارع کا صیغہ ہے۔ جس میں دو زمانے حال اور استقبال پائے

٥

صفحہ ٢٠٦

جاتے ہیں۔ یعنی کہ یقین رکھتے ہیں اور پھر بھی رکھیں گے اور غیب سے مراد وہ حقیقتیں ہیں جو انسان کے حواس سے پوشیدہ ہیں اور براہ راست کبھی بھی عام انسانوں کے تجربہ و مشاہدہ میں نہیں آتیں۔ مثلاً خدا کی ذات وصفات، ملائکہ، وحی، جنت، دوزخ، عرش و کرسی وغیرہ۔ ان حقیقتوں کو بغیر دیکھے ماننا کہ نبی ان کی خبر دے رہا ہے، ایمان بالغیب ہے۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص ان غیر محسوس حقیقتوں کو ماننے کے لئے تیار ہو۔ صرف وہی قرآن مجید کی رہنمائی سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ رہا وہ شخص جو ماننے کے لئے دیکھنے، چکھنے اور سونگھنے کی شرط لگائے اور کہے کہ میں کسی ایسی چیز کو نہیں مان سکتا۔ جو ناپی اور تولی نہ جاسکتی ہو۔ وہ اس کتاب سے ہدایت نہیں پاسکتا۔

”ویقیمون الصلوٰۃ“ اور قائم رکھتے ہیں نماز کو، ”یقیمون“ مضارع کا صیغہ ہے۔ اس میں دو زمانے حال اور مستقبل پائے جاتے ہیں۔ یعنی قائم کرتے ہیں اور پھر بھی کریں گے۔ یہ تیسری شرط ہے۔ قرآن پاک سے فائدہ اٹھانے کی جو لوگ صرف مان کر بیٹھ جانے والے ہوں۔ وہ قرآن مجید سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔ قرآن مجید سے فائدہ اٹھانے کے لئے ضروری ہے کہ آدمی ایمان لانے کے بعد فوراً ہی عملی اطاعت کے لئے آمادہ ہو جائے اور عملی اطاعت کی اولین اور دائمی علامت نماز ہے۔ ایمان لانے پر چند گھنٹے بھی نہیں گزرتے کہ مؤذن نماز کے لئے پکارتا ہے اور اسی وقت فیصلہ ہو جاتا ہے کہ ایمان کا دعویٰ کرنے والا اطاعت کے لئے تیار بھی ہے یا نہیں؟ پھر مؤذن روز پانچ وقت پکارتا ہے اور جب بھی انسان اس کی پکار پر لبیک نہ کہے اسی وقت ظاہر ہو جاتا ہے کہ مدعی ایمان اطاعت سے خارج ہو گیا ہے۔ پس ترک نماز دراصل ترک اطاعت ہے اور ظاہر بات ہے کہ جو شخص کسی کی ہدایت پر کاربند ہونے کے لئے تیار ہی نہ ہو اس کے لئے ہدایت دینا نہ دینا یکساں ہے۔

”ومما رزقنہم ینفقون“ اور اس چیز سے کہ دی ہے ہم نے ان کو خرچ کرتے ہیں۔ یہ قرآن مجید کی رہنمائی سے فائدہ اٹھانے کی چوتھی شرط ہے کہ آدمی تنگ دل نہ ہو۔ زر پرست نہ ہو۔ اس کے مال میں خدا اور بندوں کے جو حقوق مقرر کئے جائیں۔ انہیں ادا کرنے کے لئے تیار ہو۔ جس چیز پر ایمان لایا ہے۔ اس کی خاطر مالی قربانی کرنے میں بھی دریغ نہ کرے۔

مما میں من تبعیضیہ ہے۔ جسے ذکر کر کے یہ جتلا دیا کہ کل یا اکثر نہیں بلکہ تھوڑا سا صرف کر دو۔ یعنی بعض اس چیز سے اور اس بعض سے مراد زکوٰۃ ہے۔ یعنی مفروضہ حصہ خرچ کرتے ہیں اور من تبعیضیہ کو پہلے لا کر ہمیں یہ بتا دیا کہ ہم یہ نہیں چاہتے کہ تم اپنے مال کو

٦

دے کر خود فقیر ہو جاؤ اور دوسر اور نہ ہی عام طبائع اس کو قبول کر سکی اہل وعیال کے لئے رکھو۔ گویا کہ نامداری کے کاموں میں اندھا بن کر ہوئے اتراتے تھے۔ آج انہی کے ”ینفقون“ بھی مضارع کا صیغ خرچ کرتے ہیں اور آئندہ بھی کریں

”والذین یؤمنون کہ ایمان لائے ہیں ساتھ اس چی پہلے تجھ سے۔

قرآن مجید کی رہنمائی کتابوں کو برحق تسلیم کرے جو وحی مختلف زمانوں اور مختلف ملکوں میں ان سب لوگوں پر بند ہے۔ جو صر طرف سے ہدایت ملنی چاہئے۔ یا طرف رجوع کرنا غیر ضروری سمجھ دے بیٹھیں یا آسمانی کتابوں کے لائیں۔ جنہیں ان کے باپ دادا ہدایات تو وہ ان کو قبول کرنے سے چشمہ فیض صرف ان لوگوں کے ی ہوں اور یہ بھی تسلیم کرتے ہوں کہ انبیاء اور کتب آسمانی کے ذریعے جتلا نہ ہوں۔ بلکہ خالص حق کے تیری طرف اتارا گیا ہے۔ اس پر بھی ایمان رکھتے ہیں۔

”ما انزل الیک“

صفحہ ٢٠٧

دے کر خود فقیر ہو جاؤ اور دوسروں سے مانگتے پھرو۔ کیونکہ یہ بات قانون شریعت کے خلاف ہے اور نہ ہی عام طبائع اس کو قبول کر سکتی ہیں۔ بلکہ یہ کہ کسی قدر خدا کی راہ میں دو اور باقی اپنے نفس اور اہل وعیال کے لئے رکھو۔ گویا کنایۃً اسراف اور فضول خرچی سے بھی منع فرما دیا کہ تفاخر اور ناموری کے کاموں میں اندھا بن کر صرف کیا جائے اور کل جن لوگوں کے سامنے مال خرچ کرتے ہوئے اتراتے تھے۔ آج انہی کے آگے ہاتھ پھیلاتے پھرتے ہیں اور رسوائی حاصل کرتے ہیں۔ ”ینفقون“ بھی مضارع کا صیغہ ہے اور اس میں بھی دو زمانے ہیں۔ حال اور استقبال۔ یعنی خرچ کرتے ہیں اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔

”والذین یؤمنون بما انزل الیک وما انزل من قبلک “ اور جو لوگ کہ ایمان لائے ہیں ساتھ اس چیز کے جو اتاری گئی ہے طرف تیری اور جو کچھ اتاری گئی ہے پہلے تجھ سے۔

قرآن مجید کی رہنمائی سے فائدہ اٹھانے کے لئے یہ پانچویں شرط ہے کہ آدمی ان تمام کتابوں کو برحق تسلیم کرے جو وحی کے ذریعہ سے خدا تعالیٰ نے محمد ﷺ اور ان سے پہلے انبیاء پر مختلف زمانوں اور مختلف ملکوں میں نازل کیں۔ اس شرط کی بناء پر قرآن پاک کی ہدایت کا دروازہ ان سب لوگوں پر بند ہے۔ جو سرے سے اس ضرورت ہی کے قائل نہ ہوں کہ انسان کو خدا کی طرف سے ہدایت ملنی چاہئے۔ یا اس ضرورت کے تو قائل ہوں مگر اس کے لئے وحی ورسالت کی طرف رجوع کرنا غیر ضروری سمجھتے ہوں اور خود کچھ نظریات قائم کر کے انہی کو خدائی ہدایت قرار دے بیٹھیں یا آسمانی کتابوں کے بھی قائل ہوں۔ مگر صرف اس کتاب یا ان کتابوں پر ایمان لائیں۔ جنہیں ان کے باپ دادا مانتے چلے آئے ہیں۔ رہیں اسی سرچشمے سے نکلی ہوئی دوسری ہدایات تو وہ ان کو قبول کرنے سے انکار کردیں۔ ایسے سب لوگوں کو الگ کر کے قرآن پاک اپنا چشمہ فیض صرف ان لوگوں کے لئے کھولتا ہے۔ جو اپنے آپ کو خدائی ہدایت کا محتاج بھی مانتے ہوں اور یہ بھی تسلیم کرتے ہوں کہ خدا کی یہ ہدایت ہر انسان کے پاس الگ الگ نہیں آتی۔ بلکہ انبیاء اور کتب آسمانی کے ذریعے سے ہی خلق تک پہنچتی ہے اور پھر وہ کسی نسلی وقومی تعصب میں بھی مبتلا نہ ہوں۔ بلکہ خالص حق کے پرستار ہوں۔ اس لئے حق پرستی یہ متقین کی صفت ہے کہ جو کچھ تیری طرف اتارا گیا ہے ۔ اس پر بھی ایمان لاتے ہیں اور تجھ سے پہلے جو کچھ اتارا گیا ہے۔ اس پر بھی ایمان رکھتے ہیں۔

”ما انزل الیک “ سے مراد عام ہے۔ خواہ وحی متلو ہو کہ جس کو جبرائیل علیہ السلام خدا

٧

صفحہ ٢٠٨

کی طرف سے الفاظ مقررہ میں ادا کرتے تھے۔ جس کو قرآن کہتے ہیں اور خواہ وحی غیر متلو ہو جو کہ آنحضرت ﷺ پر بلا توسط جبرائیل یا بغیر الفاظ مقررہ نازل ہوئی یا جو کچھ انکشاف روحانی کے طور پر آنحضرت ﷺ کو معلوم کرایا گیا اور پھر آپ ﷺ نے اس کو ارشاد فرمایا سب پر ایمان لانا ضروری ہے جو ایک بات پر بھی ایمان نہ لائے گا تو کافر ہوگا۔

"وما انزل من قبلك" سے مراد پہلے انبیاء علیہم السلام کے صحیفے ہیں۔ یعنی حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ، حضرت داؤد اور حضرت عیسیٰ علیہم السلام وغیرہم انبیاء کی کتابیں جو کہ ان کو خدا کی طرف سے ملی تھیں۔ خواہ وہ مضامین الہام ہوئے تھے اپنی عبارتوں میں اور انہوں نے جمع کر کے لکھ دیا تھا یا عبارتیں بھی ویسی ہی عطاء ہوئی تھیں۔ "والعلم عند الله تعالیٰ" مگر سب کو برحق ماننا لازم ہے۔

اب اس آیت "وما انزل من قبلك" میں مکمل اکمل اور جامع ختم نبوت ہے اور رسالہ ہذا میں میرا مقصود بھی یہی آیت تھی۔

اس آیت کریمہ میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے "وما انزل من قبلك" ساتھ ایمان لاتے ہیں اور تجھ سے پہلی کتابوں کے ساتھ "من قبلك" اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ اگر خدا کو کوئی دوسرا نبی بھیجنا یا سلسلہ نبوت چلا کر کسی کو منصب نبوت ورسالت پر سرفراز کرنا ہوتا تو اسی آیت میں "وما انزل من قبلك" کے بجائے "من بعدك" فرما دیتا۔ یعنی جو تیرے بعد اتریں گی ان پر بھی ایمان لائیں گے۔ کیونکہ بلحاظ تعداد دونوں جملوں کے حروف برابر ہیں۔ جس سے نہ تو قرآن مجید میں کچھ کمی واقع ہوتی اور نہ ہی زیادتی۔ اس طرح جھگڑا بھی ختم ہو جاتا اور ہر طرح کے ہزاروں ظلی اور بروزی بھی اس میں سماسکتے تھے اور تاقیامت در نبوت بھی کشادہ رہتا۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے "من قبلك" کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ نہ کہ "من بعدك" کی طرف کہ اے نبی تو بھی برحق اور تجھ سے پہلے انبیاء بھی برحق۔ اب تمہارے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ اب یہ "من قبلك" کا جملہ نبوت کے جھوٹے دعویداروں کے لئے ایک تازیانہ ہے۔ جو قیامت تک ان کی پشت پر برستا رہے گا۔ اس آیت کریمہ کی تائید قرآن مجید کی یہ آیت کرتی ہے۔ "ماكان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين وكان الله بكل شئ عليما (الاحزاب: ٤٠)"

﴿محمد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں۔ مگر وہ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں اور اللہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔ ﴾

٨

صفحہ ٢٠٩

اس آیت کریمہ میں ”ابا احد من رجالکم “اور ”خاتم النبیین “دونوں میں ختم نبوت ہے۔ لفظ ”ابا احد من رجالکم“یہ چاہتا ہے کہ محمدﷺ بالغ مرد کے باپ نہیں۔ رجال ”رجل“ کی جمع ہے اور رجل کا اطلاق صرف بالغ مرد پر ہوتا ہے۔

اس آیت کریمہ میں اللہ کریم لوگوں کے اعتراض اور طعن کا جواب دیتا ہے کہ محمدﷺ نے اپنے بیٹے کی بیوی یعنی (بہو) سے نکاح کر لیا ہے کہ محمدﷺ تم میں سے کسی مرد کے باپ ہی نہیں۔ یعنی جس کی مطلقہ سے نکاح کیا تھا وہ بیٹا تھا ہی کب؟ کہ اس کی مطلقہ سے نکاح حرام ہوتا۔ کیونکہ آپﷺ کی صلب سے کوئی جوان بیٹا تھا ہی نہیں کہ اس کی زوجہ آپﷺ پر حرام ہوتی۔ اس وقت آپﷺ کی حقیقی اولاد میں حضرت فاطمۃ الزہرا اور دیگر صاحبزادیاں تھیں جو مرد نہیں تھیں اور صاحبزادے قاسم، طیب، طاہر، ابراہیم تھے۔ مگر یہ چاروں پیغمبرزادے جوانی کی حدود تک نہیں پہنچے اور لڑکپن میں ہی انتقال کر چکے تھے اور باقی رہے حسنین تو وہ صلبی اولاد نہ تھے۔ آپﷺ کی اولاد کا زندہ نہ رہنا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ آپﷺ خاتم النبیین ہیں۔ اگر آپﷺ کے بعد بھی نبی ہوتے تو پھر نبوت وراثت کے طور پر آپﷺ ہی کی نسل میں چلتی۔ آپﷺ کی اولاد کے بچپن میں اٹھائے جانے میں بھی یہی حکمت تھی کہ میرے حبیبﷺ کی شان میں فرق نہ پڑے۔ کیونکہ لوگ اولاد رسولﷺ کی تابعداری، عزت و تکریم ان کے اعلیٰ وارفع مقام کے شایان شان نہ کر سکتے۔

”ولکن رسول الله وخاتم النبيين . وكان الله بكل شئ عليما“ لیکن اللہ تعالیٰ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں اور اللہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔ یعنی انبیاء کی نبوت کا سلسلہ ختم کرنے والے ہیں۔ ابن عامر وعاصم نے خاتم کو بفتح تا پڑھا ہے۔ جس کے معنی ہی مہر۔ کہ آپﷺ سب نبیوں کی مہر ہیں۔ جب کسی چیز پر بند کر کے مہر لگا دیتے ہیں تو اس میں اور نہیں داخل ہوتی۔ اسی طرح آپﷺ سے سلسلہ نبوت تمام کر کے اس پر مہر لگا دی گئی ہے کہ آپﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور بعض نے اسے بکسرہ تا اسم فاعل کا صیغہ قرار دیا ہے۔ یعنی کہ نبیوں کا ختم کرنے والا ، مطلب دونوں کا ایک ہی ہے۔

”وكان الله بكل شئ عليما“ میں اشارہ ہے کہ عواقب امور اللہ کی نظر میں ہیں۔ اس کی مصلحت وہ خوب جانتا ہے اور اس کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے کہ اگر کوئی کہے کہ حضرتﷺ کے بعد قرب قیامت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام نبی آئیں گے۔ جیسا کہ اہل اسلام بلکہ عیسائیوں کا بھی عقیدہ ہے۔ پھر آپﷺ خاتم النبیین کیونکر ہو گئے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ وہ

٩

صفحہ ٢١٠

نئے نبی نہیں ہیں بلکہ آپ سے پہلے ہو چکے ہیں اور زمین پر حضرت ﷺ کے دین کی اشاعت آپ ﷺ کا نائب ہو کر کریں گے۔

(حقانی جلد ششم)

لغت بھی اسی معنی کی مقتضی ہے۔ عربی لغت اور محاورے کی رو سے ”ختم“ کے معنی مہر لگانے ، ”بند کرنے ، آخر تک پہنچ جانے“ اور کسی کام کو پورا کر کے فارغ ہو جانے کے ہیں۔ مثال کے طور پر ”ختم العمل “ کے معنی ہیں: ”کام سے فارغ ہو گیا ۔“ ”ختم الاناء“ کے معنی ہیں: ”برتن کا منہ بند کر دیا اور اس پر مہر لگا دی۔ تاکہ نہ کوئی چیز اس میں سے نکلے اور نہ کچھ اس کے اندر داخل ہو۔“ ”ختم الکتاب“ کے معنی ہیں: ”خط بند کر کے اس پر مہر لگادی تاکہ خط محفوظ ہو جائے۔“

”ختم علی القلب“ دل پر مہر لگا دی کہ نہ کوئی بات اس کی سمجھ میں آئے اور نہ پہلے سے جمی ہوئی کوئی بات اس میں سے نکل سکے۔

”ختام كل مشروب“ وہ مزا جو کسی چیز کو پینے کے بعد آخر میں محسوس ہوتا ہے۔

”خاتمة كل شئ عاقبة وآخرته“ ہر چیز کے خاتمہ سے مراد ہے اس کی عاقبت اور آخرت۔

”ختم الشئ بلغ آخره“ کسی چیز کو ختم کرنے کا مطلب ہے اس کے آخر تک پہنچ جانا۔ اسی معنی میں ختم قرآن بولتے ہیں اور اسی معنی میں سورتوں کی آخری آیات کو خواتیم کہا جاتا ہے۔

”خاتم القوم اخرهم“ خاتم القوم سے مراد قبیلے کا آخری آدمی ہے۔

اسی بناء پر تمام اہل لغت اور اہل تفسیر نے بالاتفاق خاتم النبیین کے معنی آخر النبیین کے لئے ہیں۔ عربی لغت و محاورے کی رو سے خاتم کے معنی ڈاکخانے کی مہر کے نہیں ہیں کہ جسے لگا لگا کر خطوط جاری کئے جاتے ہیں۔ بلکہ اس سے مراد وہ مہر ہے جو لفافے پر اس لئے لگائی جاتی ہے کہ نہ اس کے اندر سے کوئی چیز باہر نکلے اور نہ باہر کی کوئی چیز اندر جائے۔

اسی آیت کے تحت علامہ خازن (تفسیر خازن ج ٥ ص ٢١٨) میں لکھتے ہیں: ”ما كان محمد ابا احد من رجالكم وذالك ان رسول الله ﷺ لما تزوج زينب قال الناس ان محمداً تزوج امرأة ابنه فانزل الله ماكان محمد ابا احد من رجالكم يعنى زيد ابن حارثه والمعنى انه لم يكن ابا رجل منكم على الحقيقة حتى يثبت بينه، وبينه ما يثبت بين الاب وولده من حرمة الصهر والنكاح فان قلت قد كان له ابناء القاسم والطيب والطاهر وابراهيم وقال للحسن ان ابني

١٠

هذا سيد قلت قد أخرجه مبلغ الرجال وقيل أراد به ”ولكن رسول وجوب التوقير والتعظيم ”وخاتم النبيين قال ابن عباس يريد لو وعنه قال ان الله لما حكم ا ”وكان الله بكل قلت قد صح ان عيسى علي ان عيسى عليه السلام عاملا بشريعته محمد ﷺ احد من رجالكم“ ترجمہ: (و ذالك ان نے زینب سے نکاح کیا۔ ”قال الناس ان نے نکاح کیا ہے اپنے بیٹے کی بیو رجالكم “ پس اتاری ہے اللّہ باپ (یعنی زید ابن حارثہ ) یعنی الحقيقة “ اور معنی یہ ہے کہ تحق يثبت بينه وبينه ما يثب تک ثابت ہو جائے درمیان زیـ سسرال اور نکاح کی حرمت ہے فـ سوال ...... ”فان قلت قد كا للحسن ان ابنى هذا سيـ ابراہیم اور کہا ہے حسن کے لئے کـ النفى بقوله من رجالكم“

صفحہ ٢١١

هذا سيد قلت قد أخرجوا من حكم النفى بقوله من رجالكم وهؤلا لم يبلغوا مبلغ الرجال وقيل أراد بالرجال الذين لم يلدهم“ ”ولكن رسول الله ، اى ان كل رسول هو ابو امته فيما يرجع الى وجوب التوقير والتعظيم له ووجوب الشفقة والنصيحة لهم عليه“ ”وخاتم النبيين ، ختم الله به النبوة فلا نبوة بعده اى ولا معه قال ابن عباس يريد لو لم أختم به النبيين لجعلت له ابنا يكون بعده نبيا وعنه قال ان الله لما حكم ان لا نبي بعده لم يعطه ولدا ذكرا يصير رجلا“ ”وكان الله بكل شئ عليما اى دخل فى علمه انه لا نبي بعده فان قلت قد صح ان عيسى عليه السلام ينزل في آخر الزمان بعده وهو نبي قلت ان عيسى عليه السلام ممن نبى قبله وحين ينزل في آخر الزمان ينزل عاملا بشريعة محمد ﷺ ومصليا الى قبلته كانه بعض امته ما كان محمد ابا احد من رجالكم“

ترجمہ: (وذالك ان رسول الله ﷺ لما تزوج زينب ) تحقیق جب نبی ﷺ نے زینب سے نکاح کیا۔

”قال الناس ان محمدا تزوج امراة ابنه“ تو کہا لوگوں نے کہ بیشک محمد ﷺ نے نکاح کیا ہے اپنے بیٹے کی بیوی یعنی (بہو) سے ”فانزل الله ما كان محمد ابا احد من رجالكم “ پس اتاری ہے اللہ تعالیٰ نے، کہ نہیں ہیں محمد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ (یعنی زید ابن حارثہ ) یعنی زید ابن حارثہ ”والمعنى انه لم يكن أبا رجل منكم على الحقيقة “ اور معنی یہ ہے کہ تحقیق حضور ﷺ نہ تھے۔ باپ ایک آدمی کے تم میں سے حقیقتاً ”حتی يثبت بينه وبينه ما يثبت بين الاب وولده من حرمة الصهر والنكاح “ یہاں تک ثابت ہو جائے درمیان زید اور حضور ﷺ کے جو کچھ ثابت ہوتا ہے درمیان باپ اور بیٹے کے سسرال اور نکاح کی حرمت سے۔

سوال ...... ”فان قلت قد كان له ابنا القاسم والطيب والطاهر وابراهيم وقال للحسن ان ابنى هذا سيد “ اگر کہے تو تحقیق تھے حضور ﷺ کے لڑکے قاسم، طیب، طاہر اور ابراہیم اور کہا ہے حسن کے لئے کہ یہ میرا بیٹا بھی سردار ہے۔ ”قلت قد اخرجوا من حكم النفى بقوله من رجالكم“

١١

صفحہ ٢١٢

جواب ...... تحقیق نکل گئے ہیں نفی کے حکم سے ساتھ قول اللہ تعالیٰ کے ”من رجالکم“ یعنی اس لفظ ”من رجالكم“ کی وجہ سے نکل گئے ہیں۔ ”وهؤ لاء لم يبلغوا مبلغ الرجال“ یہ لوگ نہیں پہنچے مردوں کی حد تک یعنی نابالغ تھے ”وقيل اراد بالرجال الذين لم يلدهم“ اور بعض نے کہا ہے ”برجال“ سے مراد وہ لوگ ہیں جو حضور ﷺ سے پیدا ہی نہیں ہوئے۔ ”ولکن رسول الله (اى ان كل رسول هو ابوامته فيما يرجع الى وجوب التوقير والتعظيم له)“

ہر رسول باپ ہوتا ہے امت کا ان باتوں میں جو لوٹتی ہیں طرف واجب ہونے عزت اور تعظیم نبی کے لئے ”ووجوب الشفقته والنصيحته لهم عليه “ واجب ہے شفقت اور نصیحت ان کے لئے اس پر یعنی (نبی پر) ”وخاتم النبيين (ختم الله به النبوة فلا نبوة بعده اى ولا معه) “ ختم کی ہے اللہ نے ساتھ ان کے نبوت پس نہیں ہے۔ نبوت بعد ان کے اور نہیں ہے نبوت ساتھ ان کے۔ یعنی نہ اس وقت میں اور نہ بعد میں۔

”قال ابن عباس يريد لولم اختم به النبيين لجعلت له ابنا يكون بعده نبياً “ فرمایا ابن عباسؓ نے چاہتا ہے اللہ اگر نہ ختم کروں میں بسبب اس کے نبیوں کو البتہ ضرور کرتا میں اس کے لئے لڑکا ہو جاتا۔ بعد اس کے نبی ”وعنه قال ان الله لما حكم ان لا نبى بعده لم يعطه ولدا ذكرا يصير رجلا “ ابن عباس سے ہی روایت ہے کہ اللہ نے جس وقت حکم کیا ہے۔ تحقیق نہیں ہے نبی بعد اس کے نہیں دی ان کو اولاد نرینہ جو مرد بن کر بعد میں ہوتا۔

”وكان الله بكل شئ عليما (اى دخل فى علمه انه لا نبى بعده) “ یعنی اللہ کے علم میں تھا کہ اس کے بعد نبی نہیں یا داخل ہوا ہے۔ اس کے علم میں کہ تحقیق شان یہ ہے کہ اس کے بعد نبی نہیں۔

سوال ...... ”فان قلت قد صح ان عيسىٰ عليه السلام ينزل فى أخر الزمان بعده وهو نبى “ صحیح ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام اتریں گے آخر زمانہ میں اور ہیں وہ نبی۔

جواب ...... ”قلت ان عيسىٰ عليه السلام ممن نبى قبله وحين ينزل فى أخر الزمان ينزل عاملاً بشريعة محمدﷺ ومصليا الى قبلته كانه بعض امته “ عیسیٰ علیہ السلام ان نبیوں سے ہیں جو حضور ﷺ سے پہلے نبی ہیں اور جس وقت اتریں گے آخر زمانہ میں تو اس وقت وہ شریعت محمدیہﷺ کے مطابق کام کریں گے۔ یعنی اسی شریعت کے تابعدار ہوں گے اور اسی کعبہ کی طرف نماز بھی پڑھیں گے۔ گویا انہیں امت کا ایک آدمی ہی سمجھیں

١٤

صفحہ ٢١٣

گے۔ اسی امت کی طرح زندگی گزاریں گے۔ جیسا کہ وہ بھی اسی امت کے ایک فرد ہیں۔ اس کی ایک مثال اس طرح لے لیں۔ جس طرح کسی ملک کا صدر جب اپنا عرصہ صدارت پورا کر لیتا ہے تو اس کی جگہ دوسرا آدمی صدر بن جاتا ہے۔ اب سابقہ صدر کو قانون اور ضابطے کے مطابق اسی صدر کی اطاعت کرنا ہوگی اور اسی صدر کے نافذ کردہ قانون کے مطابق زندگی گزارنی ہوگی۔ جو کرسی صدارت پر متمکن ہوگا اور وہ بھی عام لوگوں کی طرح رعایا میں شمار کیا جائے گا۔ اسی طرح عیسیٰ علیہ السلام اپنا عرصہ نبوت گزار چکے ہیں۔ اب جب دوبارہ تشریف لائیں گے تو وہ بھی شریعت محمدیہ ﷺ کے مطابق ایک امتی کی حیثیت سے زندگی گزاریں گے۔ قرآن مجید کے سیاق وسباق اور لغت کے لحاظ سے لفظ ”خاتم النبیین“ کا جو مفہوم پیچھے بیان ہوا ہے اب اسی کی تائید میں نبی ﷺ کی چند صحیح ترین احادیث یہاں نقل کی جاتی ہیں۔

من قبلى كمثل رجل بنى بنيانا فاحسنه واجمله الا موضع لبنة من زاوية من زاوياه فجعل الناس يطوفون ويتعجبون له ويقولون هَلَّا وضعت هذه اللبنة فانا اللبنة وانا خاتم النبيين وعن جابر نحوه وفيه جئت فختمت الانبياء ولا نبى بعدى“ حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے۔ فرمایا نبی ﷺ نے میری اور مجھ سے پہلے گزرے ہوئے انبیاء کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص نے ایک عمارت بنائی اور خوب حسین وجمیل بنائی۔ مگر ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوٹی ہوئی تھی۔ لوگ اس عمارت کے گرد پھرتے اور اس کی خوبی وخوبصورتی پر اظہار حیرت کرتے تھے۔ مگر کہتے تھے کہ اس جگہ اینٹ کیوں نہ رکھی گئی؟ تو وہ اینٹ میں ہوں اور میں خاتم النبیین ہوں اور حضرت جابرؓ سے بھی اسی طرح روایت ہے۔ جس میں یہ الفاظ زائد ہیں۔ پس میں آیا اور میں نے انبیاء کا سلسلہ ختم کر دیا اور میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔

(بخاری ج ١ ص ٥٠١، کتاب المناقب باب خاتم النبیین)

(یعنی میرے آنے پر نبوت کی عمارت مکمل ہو چکی ہے۔ اب کوئی جگہ باقی نہیں ہے۔ جسے پر کرنے کے لئے کوئی آئے)

کسی بھی کلام کو سمجھنے کے لئے گرائمر کی ضرورت ہوتی ہے اور خصوصاً عربی زبان کو سمجھنے کے لئے یہ ضرورت اور بھی ناگزیر ہو جاتی ہے۔ کیونکہ یہ دائمی کلام ہے۔ حضرت آدم علیہ السلام کا پہلا لفظ ”الحمد للہ“ تھا۔ نبی ﷺ فخر سے فرمایا کرتے تھے کہ میں عربی ہوں، میری زبان عربی ہے۔ اللہ کی کتاب قرآن مجید عربی ہے اور جنت کی زبان عربی ہے۔

١٣

صفحہ ٢١٤

مرزائی لوگ جو ختم نبوت کے منکر ہیں اور "مرزا لعنت اللہ علیہ" کو اپنا نبی مانتے ہیں۔ وہ ذرا عربی گرامر کی طرف نظر کریں۔

"لا نبی بعدی" میں لام نفی جنس کا ہے اور قاعدے کے مطابق نفی جنس کا لام جب نکرہ پر داخل ہوتا ہے تو اس کا معنی اطلاق والا ہوتا ہے۔ جیسا کہ "لا ریب" میں جو کتاب ہذا کے ابتداء میں لکھا جا چکا ہے۔ یعنی مطلقا کوئی نبی نہیں آپ کے بعد۔ "نہ حقیقی نہ مجازی، نہ سیاہ نہ سفید، نہ ظلی نہ بروزی" اور یہی لام نفی جنس کا "لا الہ الا اللہ، لاریب اور لا حول ولا قوۃ" میں ہے۔ جس کی بہت سی مثالیں اور بھی ہیں۔ یعنی مطلقا کوئی خدا نہیں سوائے اللہ کے۔ مطلقا کوئی شک نہیں اور مطلقا کوئی طاقت نہیں گناہوں سے بچنے کی۔ اب "لا نبی" پر نفی جنس کا لام آنے کے بعد اگر کسی اور نبی کے آنے کی یا کسی کے دعوائے نبوت کرنے کی گنجائش باقی رہتی ہے تو پھر "لا الہ" میں بھی کسی دوسرے خدا کی گنجائش ہو سکتی ہے اور اگر "لا الہ" میں کوئی دوسرا خدا نہیں آ سکتا تو پھر "لا نبی بعدی" میں نبی ﷺ کے بعد کوئی ظلی اور بروزی نبی نہیں آ سکتا۔

نبى خلفه نبى وانه لا نبى بعدى وسيكون خلفاء" ﴿نبی ﷺ نے فرمایا بنی اسرائیل کی قیادت انبیاء کیا کرتے تھے۔ جب کوئی نبی مر جاتا تو دوسرا نبی اس کا جانشین ہوتا۔ مگر میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔ بلکہ خلفاء ہوں گے۔﴾

(بخاری ج ١ ص ٤٩١، کتاب المناقب باب ماذکر عن بنی اسرائیل)

الكلم ونصرت بالرعب واحلت لى الغنائم وجعلت لى الارض مسجداً وطهوراً وارسلت الى الخلق كافة وختم بى النبيون" ﴿رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھے چھ باتوں میں انبیاء پر فضیلت دی گئی ہے۔ (١) مجھے جامع اور مختصر بات کہنے کی صلاحیت دی گئی۔ (٢) مجھے رعب کے ذریعہ سے نصرت بخشی گئی۔ (٣) میرے لئے اموال غنیمت حلال کئے گئے۔ (٤) میرے لئے زمین کو مسجد بھی بنا دیا گیا اور پاکیزگی حاصل کرنے کا ذریعہ بھی (یعنی میری شریعت میں نماز صرف مخصوص عبادت گاہوں میں ہی نہیں بلکہ روئے زمین پر ہر جگہ پڑھی جا سکتی ہے اور پانی نہ ملے تو میری شریعت میں تیمم کر کے وضو کی حاجت بھی پوری کی جا سکتی ہے اور غسل کی حاجت بھی) (٥) مجھے تمام دنیا کے لئے رسول بنایا گیا۔ (٦) اور میرے اوپر انبیاء کا سلسلہ ختم کر دیا گیا۔﴾

(مسلم ج ١ ص ١٩٩، ترمذی، ابن ماجہ)

١٤

صفحہ ٢١٥

بعدی ولا نبی" ﴿رسول اللہ ﷺ نے فرمایا رسالت اور نبوت کا سلسلہ ختم ہو گیا۔ میرے بعد اب نہ کوئی رسول ہے اور نہ کوئی نبی۔﴾

(ترمذی ج ٢ ص ٥٣، کتاب الرؤیا، باب ذہاب النبوة، مسند احمد مرویات انس بن مالک)

الکفر، وانا الحاشر الذی یحشر الناس علی عقبی وانا العاقب الذی لیس بعدہ نبی" ﴿نبی ﷺ نے فرمایا میں محمد ہوں۔ میں احمد ہوں۔ میں ماحی ہوں کہ میرے ذریعہ سے کفر محو کیا جائے گا۔ میں حاشر ہوں کہ میرے بعد لوگ حشر میں جمع کئے جائیں گے۔ (یعنی میرے بعد، اب بس قیامت ہی آنی ہے) اور میں عاقب ہوں اور عاقب وہ ہے جس کے بعد کوئی نبی نہ ہو۔﴾ (بخاری، مسلم، کتاب الفضائل، باب اسماء النبی، ترمذی ج ٢ ص ١١١، کتاب الآداب، باب اسماء النبی

مؤطا، کتاب اسماء النبی، احمد، مستدرک للحاکم، کتاب التاریخ، باب اسماء النبی)

آخر الانبیاء وانتم آخر الامم وھو خارج فیکم لا محالة" ﴿رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے کوئی نبی نہیں بھیجا۔ جس نے اپنی امت کو دجال کے خروج سے نہ ڈرایا ہو۔ (مگر اُن کے زمانے میں وہ نہ آیا) اب میں آخری نبی ہوں اور تم آخری امت ہو۔ لامحالہ اب اس کو تمہارے اندر ہی نکلنا ہے۔﴾

(ابن ماجہ ج ٢ ص ٢٩٧، کتاب الفتن، باب الدجال)

العاص یقول خرج علینا رسول الله ﷺ یوماً کالمودع فقال انا محمد النبی الامی ثلاثاً ولا نبی بعدی" ﴿عبدالرحمن بن جبیر کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمرو بن عاص کو یہ کہتے سنا کہ ایک روز رسول اللہ ﷺ اپنے مکان سے نکل کر ہمارے درمیان تشریف لائے۔ اس انداز سے کہ گویا آپ ﷺ ہم سے رخصت ہو رہے ہیں۔ آپ ﷺ نے تین مرتبہ فرمایا میں محمد نبی امی ہوں۔ پھر فرمایا اور میرے بعد کوئی نبی نہیں۔﴾

(مسند احمد، مرویات عبداللہ بن عمرو بن العاص)

یا رسول الله؟ قال الرؤیا الحسنة او قال الرؤیا الصالحة " ﴿رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ میرے بعد کوئی نبوۃ نہیں ہے۔ صرف بشارت دینے والی باتیں ہیں۔ عرض کیا گیا وہ

(مسلم ج ١ ص ١٩٩، ترمذی، ابن ماجہ)

١٥

صفحہ ٢١٦

بشارت دینے والی باتیں کیا ہیں یا رسول اللہ؟ فرمایا اچھا خواب یا فرمایا صالح خواب (یعنی وحی کا اب کوئی امکان نہیں ہے زیادہ سے زیادہ اگر کسی کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی اشارہ ملے گا بھی تو بس اچھے خواب کے ذریعہ سے مل جائے گا )

(مسند احمد مرویات ابوالطفیل نسائی، ابوداؤد ج ١ ص ٨٩)

﴿ نبی ﷺ نے فرمایا میرے بعد اگر کوئی نبی ہوتا تو عمر بن الخطاب ہوتے۔ ﴾

(ترمذی ج ٢ ص ٢٥٩، کتاب المناقب)

انه لا نبى بعدى" ﴿ رسول اللہ ﷺ نے حضرت علیؓ سے فرمایا۔ میرے ساتھ تمہاری نسبت وہی ہے جو موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ہارون کی تھی۔ مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ ﴾

(بخاری ج ٢ ص ٦٣٣، مسلم، کتاب فضائل الصحابہ)

بخاری ومسلم نے یہ حدیث غزوۂ تبوک کے ذکر میں بھی نقل کی ہے۔ مسند احمد میں اس مضمون کی دو حدیثیں حضرت سعد ابن ابی وقاص سے روایت کی گئی ہیں۔ جن میں سے ایک کا آخری فقرہ یوں ہے۔ ”الا انہ لا نبوۃ بعدی“ مگر میرے بعد کوئی نبوت نہیں ہے۔

غزوۂ تبوک کے لئے تشریف لے جاتے وقت نبی ﷺ نے حضرت علیؓ کو مدینہ طیبہ کی حفاظت و نگرانی کے لئے اپنے پیچھے چھوڑنے کا فیصلہ فرمایا تھا۔ منافقین نے اس پر طرح طرح کی باتیں ان کے بارے میں کہنا شروع کردیں۔ انہوں نے جاکر حضور ﷺ سے عرض کیا۔ یا رسول اللہ کیا آپ مجھے عورتوں اور بچوں میں چھوڑے جارہے ہیں؟ اس موقع پر حضور ﷺ نے ان کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ تم میرے ساتھ وہی نسبت رکھتے ہو جو موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ہارون علیہ السلام رکھتے تھے۔ یعنی جس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کوہ طور پر جاتے ہوئے حضرت ہارون علیہ السلام کو بنی اسرائیل کی نگرانی کے لئے پیچھے چھوڑا تھا۔ اسی طرح میں تم کو مدینے کی حفاظت کے لئے چھوڑے جارہا ہوں۔ لیکن اس کے ساتھ ہی حضور ﷺ کو اندیشہ ہوا کہ حضرت ہارون علیہ السلام کے ساتھ یہ تشبیہ کہیں بعد میں کسی فتنے کی موجب نہ بن جائے۔ اس لئے فوراً آپ نے یہ تصریح فرمادی کہ میرے بعد کوئی شخص نبی ہونے والا نہیں ہے۔

ثلاثون كلهم يزعم انه نبى وانا خاتم النبيين لا نبى بعدى" ﴿ ثوبانؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اور یہ کہ میری امت میں تیس کذاب ہوں گے۔ جن میں

١٦

صفحہ ٢١٧

سے ہر ایک نبی ہونے کا دعویٰ کرے گا۔ حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔﴾

(ابوداؤد ج ٢ ص ١٢٧، کتاب الفتن)

اسی مضمون کی ایک اور حدیث ابوداؤد نے کتاب الملاحم میں حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی ہے۔ ترمذی نے بھی حضرت ثوبانؓ اور حضرت ابوہریرہؓ سے یہ دونوں روایتیں نقل کی ہیں اور دوسری روایت کے الفاظ یہ ہیں ”حتى يبعث دجالون كذابون قريب من ثلاثين كلهم يزعم انه رسول الله“ ﴿یہاں تک کہ اٹھیں گے تیس کے قریب جھوٹے فریبی۔ جن میں سے ہر ایک دعویٰ کرے گا کہ وہ اللہ کا رسول ہے۔﴾ اور انہی تیس کذابوں اور فریبیوں میں سے ایک مرزا قادیانی بھی ہے۔

١٢...... ”قال النبى ﷺ لقد كان فيمن كان قبلكم من بنى اسرائيل رجال يكلمون من غير ان يكونوا انبياء فان يكن من امتى احد فعمر“ ﴿نبی ﷺ نے فرمایا تم سے پہلے جو بنی اسرائیل گزرے ہیں۔ ان میں ایسے لوگ ہوئے ہیں جن سے کلام کیا جاتا تھا بغیر اس کے کہ وہ نبی ہوں۔ میری امت میں اگر کوئی ہوا تو وہ عمرؓ ہوگا۔﴾

(بخاری ج ١ ص ٥٢١، کتاب المناقب)

مسلم میں اس مضمون کی جو حدیث ہے۔ اس میں ”يكلمون“ کے بجائے ”محدثون“ کا لفظ ہے۔ لیکن مکلَّم اور محدث دونوں کے معنی ایک ہی ہیں۔ یعنی ایسا شخص جو مکالمہ الہٰی سے سرفراز ہو یا جس کے ساتھ پردۂ غیب سے بات کی جائے۔ اس سے معلوم ہوا کہ نبوت کے بغیر مخاطبہ الہٰی سے سرفراز ہونے والے بھی اس امت میں اگر ہوتے تو وہ حضرت عمرؓ ہوتے۔

١٣...... ”قال رسول الله ﷺ لا نبى بعدى ولا امة بعد امتى“ ﴿رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میرے بعد کوئی نبی نہیں اور میری امت کے بعد کوئی امت (یعنی کسی نئے آنے والے نبی کی امت) نہیں۔﴾

(کنز العمال ج ١١ ص ٢٢٩، حدیث نمبر ٣٢٩٣٢)

١٤...... ”قال رسول الله ﷺ فانى آخر الانبياء وان مسجدى آخر المساجد“ ﴿رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں آخری نبی ہوں اور میری مسجد آخری مسجد (یعنی مسجد نبوی) ہے۔﴾

(مسلم کتاب الحج باب فضل الصلوٰۃ بمسجدی مکۃ والمدینہ)

منکرینِ ختمِ نبوت اس حدیث سے یہ استدلال کرتے ہیں کہ جس طرح حضور ﷺ نے اپنی مسجد کو آخر المساجد فرمایا۔ حالانکہ وہ آخری مسجد نہیں ہے۔ بلکہ اس کے بعد بھی بے شمار مسجدیں دنیا میں بنی ہیں۔ اسی طرح جب آپؐ نے فرمایا کہ میں آخر الانبیاء ہوں تو اس کے معنی بھی یہی

١٧

صفحہ ٢١٨

ہیں کہ آپ ﷺ کے بعد نبی آتے رہیں گے۔ البتہ فضیلت کے اعتبار سے آپ ﷺ آخری نبی ہیں اور آپ ﷺ کی مسجد آخری مسجد ہے۔ لیکن درحقیقت اس طرح کی تاویلیں یہ ثابت کرتی ہیں کہ یہ لوگ خدا اور رسول کے کلام کو سمجھنے کی اہلیت سے محروم ہو چکے ہیں۔ صحیح مسلم کے جس مقام پر یہ حدیث وارد ہوئی ہے۔ اس سلسلے کی تمام احادیث کو ایک نظر ہی آدمی دیکھ لے تو اسے معلوم ہو جائے گا کہ حضور ﷺ نے اپنی مسجد کو آخری مسجد کس معنی میں فرمایا ہے؟ اس مقام پر حضرت ابو ہریرہؓ، حضرت عبداللہ بن عمرؓ اور ام المومنین حضرت میمونہؓ کے حوالہ سے جو روایات امام مسلم نے نقل کی ہیں۔ ان میں بتایا گیا ہے کہ دنیا میں صرف تین مساجد ایسی ہیں جن کو عام مساجد پر فضیلت حاصل ہے۔ جن میں نماز پڑھنا دوسری مساجد میں نماز پڑھنے سے ہزار گنا زیادہ ثواب رکھتا ہے اور اسی بناء پر صرف انہی تین مسجدوں میں نماز پڑھنے کے لئے سفر کر کے جانا جائز ہے۔ باقی کسی مسجد کا یہ حق نہیں ہے کہ آدمی دوسری مسجدوں کو چھوڑ کر خاص طور پر اس میں نماز پڑھنے کے لئے سفر کرے۔ ان میں سب سے پہلی مسجد الحرام ہے۔ جسے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بنایا تھا۔ دوسری مسجد، مسجد اقصیٰ ہے جسے حضرت سلیمان علیہ السلام نے تعمیر کیا اور تیسری مسجد، مدینہ طیبہ کی مسجد نبوی ہے جس کی بناء حضور نبی کریم ﷺ نے رکھی۔ حضور ﷺ کے ارشاد کا منشاء یہ ہے کہ اب چونکہ میرے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں ہے۔ اس لئے میری اس مسجد کے بعد دنیا میں کوئی چوتھی مسجد ایسی بننے والی نہیں ہے۔ جس میں نماز پڑھنے کا ثواب دوسری مسجدوں سے زیادہ ہو اور جس کی طرف نماز کی غرض سے سفر کر کے جانا درست ہو۔

یہ احادیث بکثرت صحابہؓ نے نبی ﷺ سے روایت کی ہیں اور بکثرت محدثین نے ان کو بہت سی قوی سندوں سے نقل کیا ہے۔ ان کے مطالعہ سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ حضور ﷺ نے مختلف مواقع پر مختلف طریقوں سے مختلف الفاظ میں اس امر کی تصریح فرمائی ہے کہ آپ آخری نبی ہیں۔ آپ کے بعد نبی آنے والا نہیں ہے۔ نبوت کا سلسلہ آپ پر ختم ہو چکا ہے اور آپ کے بعد جو لوگ بھی رسول یا نبی ہونے کا دعویٰ کریں۔ وہ دجال و کذاب ہیں۔ قرآن کے الفاظ 'خاتم النبين' کی اس سے زیادہ مستند و معتبر اور قطعی الثبوت تشریح اور کیا ہو سکتی ہے۔ رسول پاک ﷺ کا ارشاد تو بجائے خود سند و حجت ہے۔ مگر جب وہ قرآن کی ایک نص کی شرح کر رہا ہو۔ تب تو وہ اور بھی زیادہ قوی حجت بن جاتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ سے بڑھ کر قرآن کو سمجھنے والا اور اُس کی تفسیر کا حقدار کون ہو سکتا ہے کہ وہ ختم نبوت کا کوئی دوسرا مفہوم بیان کرے اور ہم اسے قبول کرنا تو کیا معنی، قابل التفات بھی سمجھیں؟ ١٨

صفحہ ٢١٩

صحابہ کرام کا اجماع

قرآن وسنت کے بعد تیسرے درجے میں اہم ترین حیثیت صحابہ کرام کے اجماع کی ہے۔ یہ بات تمام معتبر تاریخی روایات سے ثابت ہے کہ نبی ﷺ کی وفات کے فوراً بعد جن لوگوں نے نبوت کا دعویٰ کیا اور جن لوگوں نے ان کی نبوت تسلیم کی۔ ان سب کے خلاف صحابہ کرام نے بالاتفاق جنگ کی تھی۔

اس سلسلے میں خصوصیت کے ساتھ مسیلمہ کذاب کا معاملہ قابل ذکر ہے۔ یہ شخص نبی ﷺ کی نبوت کا منکر نہ تھا۔ بلکہ اس کا دعویٰ یہ تھا کہ اسے حضور ﷺ کے ساتھ شریک نبوت بنایا گیا ہے۔ اس نے حضور ﷺ کی وفات سے پہلے جو عریضہ آپ ﷺ کو لکھا تھا۔ اس کے الفاظ یہ ہیں: ”من مسيلمة رسول الله الى محمد رسول الله سلام عليك فانی اشركت في الامر معك“ (مسیلمہ رسول اللہ کی طرف سے محمد رسول اللہ کی طرف۔ آپ پر سلام ہو۔ آپ کو معلوم ہو کہ میں آپ کے ساتھ نبوت کے کام میں شریک کیا گیا ہوں۔)

(طبری، ج ٢ ص ٢٧٠ طبع بیروت)

علامہ ابن جریر طبری نے یہ روایت بھی بیان کی ہے کہ مسیلمہ کے ہاں جو اذان دی جاتی تھی۔ اس میں ”اشهد ان محمدا رسول الله“ کے الفاظ بھی کہے جاتے تھے۔ اس صریح اقرار رسالت محمدی کے باوجود اسے کافر اور خارج از ملت قرار دیا گیا اور اس سے جنگ کی گئی۔

تاریخ سے یہ بھی ثابت ہے کہ بنوحنیفہ نیک نیتی کے ساتھ (In Good Faith) اس پر ایمان لائے تھے اور انہیں واقعی اس غلط فہمی میں ڈالا گیا تھا کہ خود رسول اللہ ﷺ نے اس کو خود شریک رسالت کیا ہے۔ نیز قرآن پاک کی آیات کو ان کے سامنے مسیلمہ پر نازل شدہ آیات کی حیثیت سے ایک ایسے شخص نے پیش کیا تھا جو مدینہ طیبہ سے قرآن پاک کی تعلیم حاصل کرکے گیا تھا۔

(البدایہ والنہایہ لابن کثیر، ج ٥ ص ٥١)

مگر اس کے باوجود صحابہ کرام نے ان کو مسلمان تسلیم نہیں کیا اور ان پر فوج کشی کی۔ پھر یہ کہنے کی بھی گنجائش نہیں کہ صحابہ نے ان کے خلاف ارتداد کی بناء پر نہیں بلکہ بغاوت کے جرم میں جنگ کی تھی۔ اسلامی قانون کی رو سے باغی مسلمانوں کے خلاف اگر جنگ کی نوبت آئے تو ان کے اسیرانِ جنگ غلام نہیں بنائے جاسکتے۔ بلکہ مسلمان تو درکنار، ذمی بھی اگر باغی ہوں تو گرفتار ہونے کے بعد ان کو غلام بنانا جائز نہیں ہے۔ لیکن مسیلمہ اور اس کے پیروؤں پر جب چڑھائی کی گئی تو حضرت ابوبکر نے اعلان فرمایا کہ ان کی عورتوں اور بچوں کو غلام بنایا جائے گا اور جب وہ لوگ

١٩

صفحہ ٢٢٠

اسیر ہوئے تو فی الواقع ان کو غلام بنایا گیا۔ چنانچہ انہی میں سے ایک لونڈی حضرت علیؓ کے حصے میں آئی۔ جس کے بطن سے تاریخ اسلام کی مشہور شخصیت محمد بن حنفیہ نے جنم لیا۔

(البدایہ والنہایہ ج ٦ ص ٣١٦، ٣٢٥)

اس سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ صحابہؓ نے جس جرم کی بناء پر ان سے جنگ کی تھی۔ وہ بغاوت کا جرم نہ تھا۔ بلکہ یہ جرم تھا کہ ایک شخص نے محمد ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کیا اور دوسرے لوگ اس کی نبوت پر ایمان لائے۔ یہ کاروائی حضور ﷺ کی وفات کے فوراً بعد ہوئی ہے۔ ابوبکرؓ کی قیادت میں ہوئی ہے اور صحابہؓ کی پوری جماعت کے اتفاق سے ہوئی ہے۔ اجماع صحابہؓ کی اس سے زیادہ صریح مثال شاید ہی کوئی اور ہو۔

اجماع علمائے امت

اجماع صحابہؓ کے بعد چوتھے نمبر پر مسائل دین میں جس چیز کو حجت کی حیثیت حاصل ہے وہ دور صحابہؓ کے بعد علمائے امت کا اجماع ہے۔ اس لحاظ سے جب ہم دیکھتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ پہلی صدی سے لے کر آج تک ہر زمانے کے، اور پوری دنیائے اسلام میں ہر ملک کے علماء اس عقیدے پر متفق ہیں کہ محمد ﷺ کے بعد کوئی شخص نبی نہیں ہو سکتا اور یہ کہ جو بھی آپؐ کے بعد اس منصب کا دعویٰ کرے یا اس کو مانے۔ وہ کافر خارج از ملت اسلام ہے۔ اس سلسلہ کے چند شواہد ملاحظہ ہوں۔

موقع دو کہ میں اپنی نبوت کی علامات پیش کروں۔“ اس پر امام اعظمؒ نے فرمایا کہ: ”جو شخص اس سے نبوت کی کوئی علامت طلب کرے گا وہ بھی کافر ہو جائے گا۔ کیونکہ رسول اللہ ﷺ فرما چکے ہیں کہ لا نبی بعدی“

(مناقب الامام الاعظم ابی حنیفہ لابن احمد المکی ج ١ ص ١٦١، مطبوعہ حیدرآباد ١٣٢١ھ)

رسول اللہ و خاتم النبیین“ کا مطلب بیان کرتے ہیں۔ ”الذی ختم النبوۃ فطبع علیھا فلا تفتح لاحد بعدہ الی قیام الساعۃ“ ”جس نے نبوت کو ختم کر دیا اور اس پر مہر لگا دی۔ اب قیامت تک یہ دروازہ کسی کے لئے نہیں کھلے گا۔

(تفسیر ابن جریر ج ٢٢ ص ١٦)

امام ابو حنیفہ، امام ابو یوسف اور امام محمد رحمہم اللہ کے عقائد بیان کرتے ہوئے نبوت کے بارے میں ٢٠

یہ عقیدہ تحریر فرماتے ہیں: ”اور یہ کہ محمد ﷺ اور وہ خاتم الانبیاء امام الاتقیاء سید المرسلین دعویٰ گمراہی اور خواہش نفس کی بندگی ہے

(شرح الطحاویہ

وفات کے بعد منقطع ہو چکا ہے۔ دلیل عزوجل فرما چکا ہے کہ محمد ﷺ نہیں ہیں تم اور نبیوں کے خاتم ہیں۔“

آپ ﷺ کے ذریعہ سے نبوت کو ختم کیا اللہ تعالیٰ نے (اس آیت میں) یہ فیصلہ

آخری نبی کیسے ہوئے۔ جب کہ حضرت کہوں گا کہ آپ ﷺ کا آخری نبی ہو جائے گا اور عیسیٰ علیہ السلام ان لوگوں م جب وہ نازل ہوں گے تو شریعت محمدیہ حیثیت سے نازل ہوں گے۔ گویا کہ وہ

آپ ﷺ انبیاء میں سب سے آخری کے سلسلے پر مہر لگا دی گئی ہے اور عیسیٰ علیہ قادر نہیں ہے۔ کیونکہ جب وہ نازل ہو

طرح جو کہے کہ محمد ﷺ کے بعد کوئی نبی

صفحہ ٢٢١

یہ عقیدہ تحریر فرماتے ہیں: ”اور یہ کہ محمد ﷺ کے برگزیدہ بندے، چیدہ نبی اور پسندیدہ رسول ہیں اور وہ خاتم الانبیاء امام الاتقیاء سید المرسلین اور حبیب رب العالمین ہیں اور ان کے بعد نبوت کا ہر دعویٰ گمراہی اور خواہشِ نفس کی بندگی ہے۔“

(شرح الطحاویۃ فی العقیدۃ السلفیہ، دار المعارف مصر، ص ١٥، ٨٧، ٩٨، ٩٩، ١٠٠، ١٠٢)

وفات کے بعد منقطع ہو چکا ہے۔ دلیل اس کی یہ ہے کہ وحی نہیں ہوتی۔ مگر ایک نبی کی طرف اور اللہ عز وجل فرما چکا ہے کہ محمد ﷺ نہیں ہیں تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ مگر وہ اللہ کے رسول اور نبیوں کے خاتم ہیں۔“

(المحلی ج ١ ص ٢٦)

آپ ﷺ کے ذریعہ سے نبوت کو ختم کیا۔ پس آپ انبیاء کے خاتم ہیں اور ابن عباسؓ کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے (اس آیت میں) یہ فیصلہ فرما دیا ہے کہ نبی ﷺ کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔“

(معالم التنزیل ج ٣ ص ١٧٨)

آخری نبی کیسے ہوئے۔ جب کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آخری زمانے میں نازل ہوں گے؟ تو میں کہوں گا کہ آپ ﷺ کا آخری نبی ہونا اس معنی میں ہے کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی شخص نبی نہ بنایا جائے گا اور عیسیٰ علیہ السلام ان لوگوں میں سے ہیں جو آپ ﷺ سے پہلے نبی بنائے جاچکے تھے اور جب وہ نازل ہوں گے تو شریعت محمدیہ کے پیرو اور آپ کے قبلے کی طرف نماز پڑھنے والے کی حیثیت سے نازل ہوں گے۔ گویا کہ وہ آپ ہی کی امت کے ایک فرد ہیں۔“

(تفسیر کشاف ج ٣ ص ٣٤٤، ٣٤٥)

آپ ﷺ انبیاء میں سب سے آخری نبی ہیں۔ جس نے ان کا سلسلہ ختم کر دیا۔ یا جس سے انبیاء کے سلسلے پر مہر لگادی گئی ہے اور عیسیٰ علیہ السلام کا آپ ﷺ کے بعد نازل ہونا اس ختم نبوت میں قادح نہیں ہے۔ کیونکہ جب وہ نازل ہوں گے تو آپ ﷺ ہی کے دین پر ہوں گے۔“

(تفسیر انوار التنزیل ج ٢ ص ١٩٦)

طرح جو کہے کہ محمد ﷺ کے بعد کوئی نبی آنے والا ہے (بجز عیسیٰ علیہ السلام کے) تو اس کے کافر

٢١

صفحہ ٢٢٢

ہونے میں دو آدمیوں کے درمیان بھی اختلاف نہیں ہے۔“

(الملل والنحل ج ٢ ص ٢٦٩)

ہوئے فرماتے ہیں: ”اس سلسلہ بیان میں خاتم النبیین اس لئے فرمایا کہ جس نبی کے بعد دوسرا نبی ہو۔ وہ اگر نصیحت اور توضیح احکام میں کوئی کسر چھوڑ جائے تو اس کے بعد آنے والا نبی اسے پورا کر سکتا ہے۔ مگر جس کے بعد کوئی نبی آنے والا نہ ہو۔ وہ اپنی امت پر زیادہ شفیق ہوتا ہے اور اس کو زیادہ واضح رہنمائی دیتا ہے۔ کیونکہ اس کی مثال اس باپ کی ہوتی ہے۔ جو جانتا ہے کہ اس کے بیٹے کا کوئی ولی و سرپرست اس کے بعد نہیں ہے۔“

(تفسیر کبیر ج ١٣ ص ٢١٤)

”اور آپ ﷺ خاتم النبیین ہیں۔ یعنی نبیوں میں سب سے آخری۔ آپ ﷺ کے بعد کوئی شخص نبی نہیں بنایا جائے گا۔ رہے عیسیٰ علیہ السلام تو وہ ان انبیاء میں سے ہیں جو آپ ﷺ سے پہلے نبی بنائے جاچکے تھے اور جب وہ نازل ہوں گے تو شریعت محمد ﷺ پر عمل کرنے والے کی حیثیت سے نازل ہوں گے۔ گویا کہ وہ آپ ﷺ کی امت کے افراد میں سے ہیں۔“

(مدارک التنزیل ج ٣ ص ٣٨٩)

آیت اس باب میں نص صریح ہے کہ نبی ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں ہے اور جب آپ ﷺ کے بعد نبی کوئی نہیں تو رسول بدرجہ اولیٰ نہیں۔ کیونکہ رسالت کا منصب خاص ہے اور نبوت کا منصب عام ہر رسول نبی ہوتا ہے۔ مگر ہر نبی رسول نہیں ہوتا۔ حضور ﷺ کے بعد جو شخص بھی اس مقام کا دعویٰ کرے وہ جھوٹا، مفتری، دجال، گمراہ اور گمراہ کرنے والا ہے۔ خواہ وہ کیسے ہی خرق عادت اور شعبدے اور جادو اور طلسم اور کرشمے بنا کر لے آئے۔ یہی حیثیت ہر اس شخص کی ہے جو قیامت تک اس منصب کا مدعی ہو۔“

(تفسیر ابن کثیر ج ٦ ص ٣٨١)

بکل شئ علیما یعنی اللہ اس بات کو جانتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں اور عیسیٰ علیہ السلام جب نازل ہوں گے تو آپ ﷺ کی شریعت ہی کے مطابق عمل کریں گے۔“

(تفسیر جلالین ص ٣٥٥)

باب الردہ میں لکھتے ہیں: ”اگر آدمی یہ نہ سمجھے کہ محمد ﷺ آخری نبی ہیں تو وہ مسلمان نہیں ہے۔

٢٢

کیونکہ یہ ان باتوں میں سے ہے جن کا

نبوت کا دعویٰ کرنا بالاجماع کفر ہے۔“

کے بہت سے اکابر علماء نے مرتب کیا نبی ہیں تو وہ مسلم نہیں ہے اور اگر وہ ی جائے گی۔“

کو ت کی زیر کے ساتھ پڑھا ہے او آپ ﷺ نے انبیاء کو ختم کیا۔ یعنی سب آپ ﷺ ان کے لئے مہر کی طرح ہو شمول سے ان کا گروہ مزین ہوا۔“

نسبت عام ہے۔ لہٰذا رسول اللہ ﷺ المرسلین بھی ہوں اور آپ ﷺ کے خا نبوت سے آپ ﷺ کے متصف ہو وصف منقطع ہوگیا۔“

”رسول اللہ ﷺ کے بعد امر میں مسلمانوں کے درمیان کوئی اختا

”رسول اللہ ﷺ کا خاتم ا صاف بیان کیا ہے۔ سنت نے واضح ط جو اس کے خلاف کوئی دعویٰ کرے اسے

پہلی صدی سے لے کر آج ”آخری نبی“ ہی سمجھتی رہی ہے، حضور تسلیم کرنا ہر زمانے میں تمام مسلمانوں

صفحہ ٢٢٣

کیونکہ یہ ان باتوں میں سے ہے جن کا جاننا اور ماننا ضروریات دین سے ہے۔“

(الاشباہ والنظائر ص ١٠٢)

نبوت کا دعویٰ کرنا بالاجماع کفر ہے۔“

(شرح فقہ اکبر ص ٢٠٢)

کے بہت سے اکابر علماء نے مرتب کیا تھا۔ اس میں لکھا ہے: ”اگر آدمی یہ نہ سمجھے کہ محمد ﷺ آخری نبی ہیں تو وہ مسلم نہیں ہے اور اگر وہ کہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں یا میں پیغمبر ہوں تو اس کی تکفیر کی جائے گی۔“

(فتاویٰ عالمگیری ج ٢ ص ٢٦٣)

کو ت کی زبر کے ساتھ پڑھا ہے اور عاصم نے زیر کے ساتھ پہلی قرأت کے معنی یہ ہیں کہ آپ ﷺ نے انبیاء کو ختم کیا۔ یعنی سب کے آخری میں آئے اور دوسری قرأت کے معنی یہ ہیں کہ آپ ﷺ ان کے لئے مہر کی طرح ہوگئے۔ جس کے ذریعہ ان کا سلسلہ سر بمہر ہو گیا اور جس کے شمول سے ان کا گروہ مزین ہوا۔“

(تفسیر فتح القدیر ج ٥ ص ٢٧٥)

نسبت عام ہے۔ لہذا رسول اللہ ﷺ کے خاتم النبیین ہونے سے خود بخود لازم آتا ہے کہ آپ خاتم المرسلین بھی ہوں اور آپ ﷺ کے خاتم انبیاء ورسل ہونے سے مراد یہ ہے کہ اس دنیا میں وصف نبوت سے آپ ﷺ کے متصف ہونے کے بعد جن وانس میں سے ہر ایک کے لئے نبوت کا وصف منقطع ہو گیا۔“

(روح المعانی ج ٢٢ ص ٣٢)

”رسول اللہ ﷺ کے بعد جو شخص وحی نبوت کا مدعی ہو۔ اسے کافر قرار دیا جائے گا۔ اس امر میں مسلمانوں کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے۔“

(روح المعانی ج ٢٢ ص ٣٨)

”رسول اللہ ﷺ کا خاتم النبیین ہونا ایک ایسی بات ہے جسے کتاب اللہ نے صاف صاف بیان کیا ہے۔ سنت نے واضح طور پر اس کی تصریح کی اور امت نے اس پر اجماع کیا۔ لہذا جو اس کے خلاف کوئی دعویٰ کرے اسے کافر قرار دیا جائے گا۔“

(روح المعانی ج ٢٢ ص ٣٩)

پہلی صدی سے لے کر آج تک دنیائے اسلام متفقہ طور پر ”خاتم النبیین“ کے معنی ”آخری نبی“ ہی سمجھتی رہی ہے۔ حضور ﷺ کے بعد نبوت کے دروازے کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بند تسلیم کرنا ہر زمانے میں تمام مسلمانوں کا متفق علیہ عقیدہ رہا ہے اور اس امر میں مسلمانوں کے

٢٤

صفحہ ٢٢٤

درمیان کبھی کوئی اختلاف نہیں رہا کہ جو شخص محمد ﷺ کے بعد رسول یا نبی ہونے کا دعویٰ کرے اور جو اس کے دعویٰ کو مانے وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔

اب یہ دیکھنا ہر صاحب عقل آدمی کا اپنا کام ہے کہ لفظ خاتم النبیین کا جو مفہوم لغت سے ثابت ہوتا ہے۔ جو قرآن مجید کی عبارت کے سیاق و سباق سے ظاہر ہے۔ جس کی تصریح نبی ﷺ نے خود فرمادی ہے۔ جس پر صحابہ کرام کا اجماع ہے اور جسے صحابہ کرام کے زمانے سے لے کر آج تک تمام دنیا کے مسلمان بلا اختلاف مانتے رہے ہیں۔ اس کے خلاف کوئی دوسرا مفہوم لینے اور کسی نئے مدعی کے لئے نبوت کا دروازہ کھولنے کی کیا گنجائش باقی رہ جاتی ہے اور ایسے لوگوں کو کیسے مسلمان تسلیم کیا جا سکتا ہے۔ جنہوں نے باب نبوت کے مفتوح ہونے کا محض خیال ہی ظاہر نہیں کیا ہے۔ بلکہ اس دروازے سے ایک ملعون آدمی (مرزا قادیانی) حریم نبوت میں داخل بھی ہو گیا ہے اور یہ لوگ اس کی نبوت پر ایمان بھی لے آئے ہیں۔ اب اس سلسلے میں تین باتیں قابل غور ہیں:

پہلی بات یہ ہے کہ نبوت کا معاملہ ایک بڑا ہی نازک معاملہ ہے۔ قرآن مجید کی رو سے یہ اسلام کے ان بنیادی عقائد میں سے ہے۔ جن کے ماننے یا نہ ماننے پر آدمی کے کفر و ایمان کا انحصار ہے۔ ایک شخص نبی ہو اور آدمی اس کو نہ مانے تو کافر، اور وہ نبی نہ ہو اور آدمی اس کو مان لے تو کافر، ایسے نازک معاملے میں تو اللہ تعالیٰ سے کسی بے احتیاطی کی بدرجہ اولیٰ توقع نہیں کی جاسکتی۔ اگر محمد ﷺ کے بعد کوئی نبی آنے والا ہوتا تو اللہ تعالیٰ خود قرآن میں صاف صاف اس کی تصریح فرماتا، رسول اللہ ﷺ کے ذریعہ سے اس کا کھلم کھلا اعلان کراتا اور حضور ﷺ دنیا سے کبھی تشریف نہ لے جاتے۔ جب تک امت کو اچھی طرح خبردار نہ کر دیتے کہ میرے بعد بھی انبیاء آئیں گے اور تمہیں ان کو ماننا ہوگا۔ آخر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کو ہمارے دین و ایمان سے کیا دشمنی تھی؟ کہ حضور ﷺ کے بعد نبوت کا دروازہ تو کھلا ہوتا اور کوئی نبی آنے والا بھی ہوتا۔ جس پر ایمان لائے بغیر ہم مسلمان نہ ہو سکتے۔ مگر ہم کو نہ صرف یہ کہ اس سے بے خبر رکھا جاتا۔ بلکہ اس کے برعکس اللہ اور اس کا رسول، دونوں ایسی باتیں فرما دیتے ہیں۔ جن سے چودہ سو برس تک ساری امت یہی سمجھتی رہی اور آج بھی سمجھ رہی ہے کہ حضور ﷺ کے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں ہے۔ اب اگر بفرض محال نبوت کا دروازہ واقعی کھلا بھی ہو اور کوئی نبی آ بھی جائے تو ہم بے خوف و خطر اس کا انکار کر دیں گے۔ خطرہ ہو سکتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی باز پرس ہی کا تو ہو سکتا ہے۔ وہ قیامت کے روز ہم سے پوچھے گا تو ہم یہ سارا ریکارڈ برسر عدالت لا کر رکھ

٢٤

صفحہ ٢٢٥

دیں گے۔ جس سے ثابت ہو جائے گا کہ معاذ اللہ اس کفر کے خطرے میں تو اللہ تعالیٰ کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت ہی نے ہمیں ڈالا تھا۔ ہمیں قطعاً کوئی اندیشہ نہیں ہے کہ اس ریکارڈ کو دیکھ کر کبھی اللہ تعالیٰ ہمیں کسی نئے نبی پر ایمان نہ لانے کی سزا دے ڈالے گا۔ لیکن اگر نبوت کا دروازہ فی الواقع بند ہے اور کوئی نبی آنے والا نہیں ہے اور اس کے باوجود کوئی شخص کسی مدعی کی نبوت پر ایمان لاتا ہے تو اسے سوچ لینا چاہئے کہ اس کفر کی پاداش سے بچنے کے لئے وہ کون سا ریکارڈ خدا کی عدالت میں پیش کر سکتا ہے۔ جس سے وہ رہائی کی توقع رکھتا ہو۔ عدالت میں پیشی ہونے سے پہلے اسے اپنی صفائی کے مواد کا یہیں جائزہ لے لینا چاہئے اور ہمارے پیش کردہ مواد سے مقابلہ کر کے خود ہی دیکھ لینا چاہئے کہ جس صفائی کے بھروسے پر وہ یہ کام کر رہا ہے۔ کیا ایک عقلمند آدمی اس پر اعتماد کر کے کفر کی سزا کا خطرہ مول لے سکتا ہے؟

٢...... اب نبی کی آخر ضرورت کیا ہے؟

دوسری قابل غور بات یہ ہے کہ نبوت کوئی ایسی صفت نہیں ہے جو ہر اس شخص میں پیدا ہو جایا کرے جس نے عبادت اور عمل صالح میں ترقی کر کے اپنے آپ کو اس کا اہل بنا لیا ہو۔ نہ یہ کوئی ایسا انعام ہے جو کچھ خدمات کے صلے میں عطاء کیا جاتا ہو۔ بلکہ یہ ایک منصب ہے۔ جس پر ایک خاص ضرورت کی خاطر اللہ تعالیٰ کسی شخص کو مقرر کرتا ہے۔ وہ ضرورت جب داعی ہوتی ہے تو ایک نبی اس کے لئے مامور کیا جاتا ہے اور جب ضرورت نہیں ہوتی یا باقی نہیں رہتی تو خواہ مخواہ انبیاء پر انبیاء نہیں بھیجے جاتے۔

قرآن مجید سے جب ہم یہ معلوم کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ نبی کے تقرر کی یہ ضرورت کن کن حالات میں پیش آئی ہے تو پتہ چلتا ہے کہ صرف چار حالتیں ایسی ہیں جن میں انبیاء مبعوث ہوئے ہیں۔

نہ آیا تھا اور کسی دوسری قوم میں آئے ہوئے نبی کا پیغام بھی اس تک نہ پہنچ سکتا تھا۔

گئی ہو۔ یا اس میں تحریف ہو گئی ہو اور اس کے نقش قدم کی پیروی کرنا ممکن نہ رہا ہو۔

دین کے لئے مزید انبیاء کی ضرورت ہو۔

٢٥

صفحہ ٢٢٦

٤...... چہارم یہ کہ ایک نبی کے ساتھ اس کی مدد کے لئے ایک اور نبی کی حاجت ہو۔ اب یہ ظاہر ہے کہ ان میں سے کوئی ضرورت بھی نبی ﷺ کے بعد باقی نہیں رہی ہے۔ قرآن خود کہہ رہا ہے کہ حضور ﷺ کو تمام دنیا کی ہدایت کے لئے مبعوث فرمایا گیا ہے اور دنیا کی تمدنی تاریخ بتا رہی ہے کہ آپ ﷺ کی بعثت کے وقت سے مسلسل ایسے حالات موجود رہے ہیں کہ آپ ﷺ کی دعوت سب قوموں کو پہنچ سکتی تھی اور ہر وقت پہنچ سکتی ہے۔ اس کے بعد الگ الگ قوموں میں انبیاء آنے کی کوئی حاجت باقی نہیں رہتی۔ قرآن مجید اس بات پر بھی گواہ ہے اور اس کے ساتھ حدیث وسیرت کا پورا ذخیرہ اس امر کی شہادت دے رہا ہے کہ حضور ﷺ کی لائی ہوئی تعلیم بالکل اپنی صحیح صورت میں محفوظ ہے۔ اس میں مسخ وتحریف کا کوئی عمل نہیں ہوا ہے۔ جو کتاب آپ ﷺ لائے تھے اس میں ایک لفظ کی کمی وبیشی آج تک نہیں ہوئی۔ نہ قیامت تک ہوسکتی ہے۔ جو ہدایت آپ ﷺ نے اپنے قول وعمل سے دی اس کے تمام آثار آج بھی اس طرح ہمیں مل جاتے ہیں کہ گویا ہم آپ ﷺ کے زمانے میں موجود ہیں۔ اس لئے دوسری ضرورت بھی ختم ہوگئی۔ پھر قرآن مجید یہ بات بھی صاف صاف کہتا ہے کہ حضور ﷺ کے ذریعہ سے دین کی تکمیل کر دی گئی ہے۔ لہٰذا تکمیل دین کے لئے بھی اب کوئی نبی درکار نہیں۔

اب رہ جاتی ہے چوتھی ضرورت، تو اگر اس کے لئے نبی درکار ہوتا تو وہ حضور ﷺ کے زمانے میں آپ ﷺ کے ساتھ مقرر کیا جاتا۔ ظاہر ہے کہ جب وہ مقرر نہیں کیا گیا تو یہ وجہ بھی ساقط ہوگئی۔ اب ہمیں معلوم ہونا چاہئے کہ وہ پانچویں وجہ کون سی ہے؟ جس کے لئے آپ ﷺ کے بعد ایک ہی نبی کی ضرورت ہو؟ اگر کوئی کہے کہ قوم بگڑ گئی ہے اس لئے اصلاح کی خاطر ایک نبی کی ضرورت ہے تو ہم اس سے پوچھیں گے کہ محض اصلاح کے لئے نبی دنیا میں کب آیا ہے کہ آج صرف اس کام کے لئے وہ آئے؟ نبی تو اس لئے مقرر ہوتا ہے کہ اس پر وحی کی جائے اور وحی کی ضرورت یا تو کوئی نیا پیغام دینے کے لئے ہوتی ہے۔ یا پچھلے پیغام کی تکمیل کرنے کے لئے یا اس کو تحریفات سے پاک کرنے کے لئے قرآن اور سنت محمد ﷺ کے محفوظ ہو جانے اور دین کے مکمل ہو جانے کے بعد جب وحی کی سب ممکن ضرورتیں ختم ہو چکی ہیں تو اب اصلاح کے لئے صرف مصلحین کی حاجت باقی ہے نہ کہ انبیاء کی۔

٣...... نئی نبوت اب امت کے لئے رحمت نہیں بلکہ لعنت ہے

تیسری قابل توجہ بات یہ ہے کہ نبی جب بھی کسی قوم میں آئے گا۔ فوراً اس میں کفر وایمان کا سوال اٹھ کھڑا ہوگا۔ جو اس کو مانیں گے وہ ایک امت قرار پائیں گے اور جو اس کو نہ

٢٦

مانیں گے وہ لامحالہ دوسری امت ہوگا۔ بلکہ ایک نبی پر ایمان لانے اور نہ ہونے دے گا۔ جب تک ان ہدایت اور قانون کے ماخذ الگ الگ ہوئی وحی اور سنت سے قانون لے گا اور ہوگا۔ اس بناء پر ان کا ایک مشترک

ان حقائق کو اگر کوئی شخص نبوت امت مسلمہ کے لئے اللہ کی ایک دائمی اور عالمگیر برادری بنا سے محفوظ کر دیا ہے جو ان کے اندر ہادی و رہبر مانے اور ان کی دی ہوئی قائل نہ ہو۔ وہ اس برادری کا فرد ہو سکتی تھی۔ اگر نبوت کا دروازہ بند نہ

آدمی سوچے تو اس کی عقل جائے اور جب اس نبی کے ذریعہ کو پوری طرح محفوظ بھی کر دیا جائے پیروی پر جمع ہو کر تمام دنیا میں ہمیشہ نئے نئے نبیوں کی آمد سے اس امت امتی ہو یا صاحب شریعت اور صاحب ہوا ہوگا۔ اس کے آنے کا لازمی نتیجہ والے کافر قرار پائیں۔ یہ تفریق اس الواقع ضرورت ہو۔ مگر جب اس رحمت سے یہ بات قطعی بعید ہے کہ وہ انہیں کبھی ایک امت نہ بننے دے۔ اجماع سے ثابت ہے۔ عقل بھی اسی دروازہ بند ہی رہنا چاہئے۔

صفحہ ٢٢٧

مانیں گے وہ لامحالہ دوسری امت ہوں گے۔ ان دونوں امتوں کا اختلاف محض فروعی اختلاف نہ ہو گا۔ بلکہ ایک نبی پر ایمان لانے اور نہ لانے کا ایسا بنیادی اختلاف ہوگا جو انہیں اس وقت تک جمع نہ ہونے دے گا۔ جب تک ان میں سے کوئی اپنا عقیدہ نہ چھوڑ دے۔ پھر ان کے لئے عملاً بھی ہدایت اور قانون کے ماخذ الگ الگ ہوں گے۔ کیونکہ ایک گروہ اپنے تسلیم کردہ نبی کی پیش کی ہوئی وحی اور سنت سے قانون لے گا اور دوسرا گروہ اس کے ماخذ قانون ہونے کا سرے سے منکر ہوگا۔ اس بناء پر ان کا ایک مشترک معاشرہ بن جانا کسی طرح بھی ممکن نہ ہوگا۔

ان حقائق کو اگر کوئی شخص نگاہ میں رکھے تو اس پر یہ بات بالکل واضح ہو جائے گی کہ ختم نبوت امت مسلمہ کے لئے اللہ کی ایک بہت بڑی رحمت ہے۔ جس کی بدولت ہی اس امت کا ایک دائمی اور عالمگیر برادری بننا ممکن ہوا ہے۔ اس چیز نے مسلمانوں کو ایسے ہر بنیادی اختلاف سے محفوظ کر دیا ہے جو ان کے اندر مستقل تفریق کا موجب ہو سکتا ہو۔ اب جو شخص بھی محمدﷺ کو اپنا ہادی اور رہبر مانے اور ان کی دی ہوئی تعلیم کے سوا کسی اور ماخذ ہدایت کی طرف رجوع کرنے کا قائل نہ ہو۔ وہ اس برادری کا فرد ہے اور ہرگز یہ وحدت اس امت کو کبھی نصیب نہ ہو سکتی تھی۔ اگر نبوت کا دروازہ بند نہ ہو جاتا۔ کیونکہ ہر نبی کے آنے پر یہ پارہ پارہ ہوتی رہتی۔

آدمی سوچے تو اس کی عقل خود یہ کہہ دے گی کہ جب تمام دنیا کے لئے ایک نبی بھیج دیا جائے اور جب اس نبی کے ذریعہ سے دین کی تکمیل بھی کر دی جائے اور جب اس نبی کی تعلیم کو پوری طرح محفوظ بھی کر دیا جائے تو نبوت کا دروازہ بند ہو جانا چاہئے۔ تاکہ اس آخری نبی کی پیروی پر جمع ہو کر تمام دنیا میں ہمیشہ کے لئے اہل ایمان کی ایک ہی امت بن سکے اور بلا ضرورت نئے نئے نبیوں کی آمد سے اس امت میں بار بار تفرقہ نہ برپا ہوتا رہے۔ نبی خواہ ظلی ہو یا بروزی امتی ہو یا صاحب شریعت اور صاحب کتاب۔ بہرحال جو شخص نبی ہوگا اور خدا کی طرف سے بھیجا ہوا ہوگا۔ اس کے آنے کا لازمی نتیجہ یہی ہوگا کہ اس کے ماننے والے ایک امت بنیں اور نہ ماننے والے کافر قرار پائیں۔ یہ تفریق اس حالت میں تو ناگزیر ہے۔ جب کہ نبی کے بھیجے جانے کی فی الواقع ضرورت ہو۔ مگر جب اس کے آنے کی ضرورت باقی نہ رہے تو خدا کی حکمت اور اس کی رحمت سے یہ بات قطعی بعید ہے کہ وہ خواہ مخواہ اپنے بندوں کو کفر و ایمان کی کشمکش میں مبتلا کرے اور انہیں کبھی ایک امت نہ بننے دے۔ لہٰذا جو کچھ قرآن پاک سے ثابت ہے اور جو کچھ سنت اور اجماع سے ثابت ہے۔ عقل بھی اسی کو صحیح تسلیم کرتی ہے اور اس کا تقاضا بھی یہی ہے کہ اب نبوت کا دروازہ بند ہی رہنا چاہئے۔

٢٧

صفحہ ٢٢٨

مرزا غلام احمد قادیانی کاذب ، مفتری اور دجال نے اپنے آپ کو مسیح موعود ثابت کرنے کے لئے ہزاروں رنگ بدلے اور مداریوں کی طرح پینترے بدلتا رہا اور مختلف تاویلات کے ذریعہ سے اپنا ناپاک مقصد حل کرنے کی کوشش کی۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ احادیث کی روشنی میں اصل مسیح موعود کی حقیقت کیا ہے۔

مسیح موعود کی حقیقت

نئی نبوت کی طرف کھنچنے والے حضرات عام طور پر ناواقف مسلمانوں سے کہتے ہیں کہ احادیث میں ”مسیح موعود“ کے آنے کی خبر دی گئی ہے اور مسیح نبی تھے۔ اس لئے ان کے آنے سے ختم نبوت میں کوئی خرابی واقع نہیں ہوتی۔ بلکہ ختم نبوت بھی برحق اور اس کے باوجود مسیح موعود کا آنا بھی برحق۔

اس سلسلے میں وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ مسیح موعود سے مراد عیسیٰ ابن مریم نہیں ہیں۔ ان کا تو انتقال ہو چکا۔ اب جس کے آنے کی خبر احادیث میں دی گئی ہے۔ وہ مثیل مسیح ، یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی مانند ایک مسیح ہے اور وہ فلاں شخص ہے۔ (غلام احمد قادیانی) جو آچکا ہے۔ اس کا ماننا عقیدہ ختم نبوت کے خلاف نہیں ہے۔ اس فریب کا پردہ چاک کرنے کے لئے پورے حوالوں کے ساتھ وہ مستند روایات نقل کی جاتی ہیں۔ جو اس مسئلے کے متعلق حدیث کی معتبر ترین کتابوں میں پائی جاتی ہیں۔ احادیث کو دیکھ کر ہر شخص خود معلوم کر سکتا ہے کہ حضور ﷺ نے کیا فرمایا تھا اور آج اس کو کیا بنایا جارہا ہے؟

احادیث در باب نزول عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام

ليوشكن ان ينزل فيكم ابن مريم حكماً عَدلاً فيكسر الصليب ويقتل الخنزير ويضع الحرب ويفيض المال حتى لا يقبله احد حتى تكون السجدة الواحدة خيراً من الدنيا وما فيها “ ٭ حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ ضرور اتریں گے۔ تمہارے درمیان ابن مریم حاکم عادل بن کر۔ پھر وہ صلیب کو توڑ ڈالیں گے اور خنزیر کو ہلاک کر دیں گے اور جنگ کا خاتمہ کر دیں گے (دوسری روایت میں حرب کے بجائے جزیہ کا لفظ ہے۔ یعنی جزیہ ختم کر دیں گے ) اور مال کی وہ کثرت ہوگی کہ اس کا قبول کرنے والا کوئی نہ رہے گا اور (حالت یہ ہو جائے گی کہ لوگوں کے نزدیک خدا کے حضور ) ایک سجدہ کر لینا دنیا وما فیہا سے

٢٨

صفحہ ٢٢٩

بہتر ہو گا۔ ﴾ (بخاری ج ١ ص ٤٩٠، مسلم باب بیان نزول عیسیٰ علیہ السلام، ترمذی، ابواب الفتن باب فی نزول عیسیٰ، مسند احمد مرویات ابو ہریرہؓ)

صلیب کو توڑ ڈالنے اور خنزیر کو ہلاک کر دینے کا مطلب یہ ہے کہ عیسائیت ایک الگ دین کی حیثیت سے ختم ہو جائے گی۔ دین عیسوی کی پوری عمارت اس عقیدے پر قائم ہے کہ خدا نے اپنے اکلوتے بیٹے (یعنی حضرت عیسیٰ) کو صلیب پر ”لعنت“ کی موت دی۔ جس سے وہ انسان کے گناہ کا کفارہ بن گیا اور انبیاء کی امتوں کے درمیان عیسائیوں کی امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ انہوں نے صرف عقیدے کو لے کر خدا کی پوری شریعت رد کر دی۔ حتیٰ کہ خنزیر تک کو حلال کر لیا۔ جو تمام انبیاء کی شریعتوں میں حرام رہا ہے۔ پس جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام آ کر خود اعلان کر دیں گے کہ نہ میں خدا کا بیٹا ہوں۔ نہ میں نے صلیب پر جان دی نہ میں کسی کے گناہ کا کفارہ بنا تو عیسائی عقیدے کے لئے سرے سے کوئی بنیاد ہی باقی نہ رہے گی۔ اسی طرح جب وہ بتائیں گے کہ میں نے نہ تو اپنے پیروؤں کے لئے سؤر حلال کیا تھا اور نہ ان کو شریعت کی پابندی سے آزاد ٹھہرایا تھا تو عیسائیت کی دوسری امتیازی خصوصیت کا بھی خاتمہ ہو جائے گا اور اس وقت ملتوں کے اختلافات ختم ہو کر سب لوگ ایک ملت اسلام میں شامل ہو جائیں گے اور اس طرح نہ جنگ ہو گی اور نہ کسی پر جزیہ عائد کیا جائے گا۔

حتى ينزل عيسى ابن مريم“ ﴿ قیامت قائم نہ ہو گی۔ جب تک نازل نہ ہولیں عیسیٰ ابن مریم...... اور اس کے بعد وہی مضمون ہے۔ جو اوپر کی حدیث نمبر ١ میں بیان ہوا ہے۔ ﴾

(بخاری کتاب المظالم، باب کسر الصلیب، ابن ماجہ کتاب الفتن، باب فتنۃ الدجال)

مریم فیکم وامامکم منکم“ ﴿ حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ کیسے ہو گے تم جب کہ تمہارے درمیان ابن مریم اتریں گے اور تمہارا امام اس وقت خود تم میں سے ہوگا۔ یعنی نماز میں حضرت عیسیٰ امامت نہیں کرائیں گے۔ بلکہ مسلمانوں کا جو امام پہلے سے ہوگا۔ اسی کے پیچھے وہ نماز پڑھیں گے۔ ﴾

(بخاری ج ١ ص ٤٩٠، مسلم، بیان نزول عیسیٰ، مسند احمد مرویات ابی ہریرہؓ)

فيقتل الخنزير ويمحوا الصليب وتجمع له الصلوٰۃ ويعطى المال حتى لا

٢٩

صفحہ ٢٣٠

يقبل ويضع الخراج وينزل الروحاء فيحج منها او يعتمر او يجمعهما “ ﴿ حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا عیسیٰ ابن مریم نازل ہوں گے۔ پھر وہ خنزیر کو قتل کر دیں گے اور صلیب کو مٹا دیں گے اور ان کے لئے نماز جمع کی جائے گی اور وہ اتنا مال تقسیم کریں گے کہ اسے قبول کرنے والا کوئی نہ ہوگا اور وہ خراج ساقط کر دیں گے اور روحاء کے مقام پر منزل کر کے وہاں سے حج یا عمرہ کریں گے یا دونوں کو جمع کریں گے۔ (راوی کو اس میں شک ہے کہ حضور ﷺ نے ان میں سے کون سی بات فرمائی تھی) ﴾

(مسند احمد ج ٢ ص ٢٩٠)

(اس زمانے میں جس صاحب ”غلام احمد قادیانی“ کو مثیل مسیح قرار دیا گیا ہے۔ اس نے اپنی زندگی میں نہ حج کیا اور نہ عمرہ)

٥....... ”عن ابي هريرة (بعد ذكر خروج الدجال) فبينماهم يعدون للقتال يسوّون الصفوف اذا اقيمت الصلوة فينزل عيسى ابن مريم فامهم فاذا رآه عدو الله يذوب كما يذوب الملح في الماء فلوتركه لا نذاب حتى يهلك ولكن يقتله الله بيده فيريهم دمه في حربته“ ﴿حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے (دجال کے خروج کا ذکر کرنے کے بعد حضور ﷺ نے فرمایا) اس اثناء میں کہ مسلمان اس سے لڑنے کی تیاری کر رہے ہوں گے۔ صفیں باندھ رہے ہوں گے اور نماز کے لئے تکبیر اقامت کہی جا چکی ہوگی کہ عیسیٰ ابن مریم نازل ہو جائیں گے۔ اور نماز میں مسلمانوں کی امامت کریں گے اور اللہ کا دشمن (یعنی دجال) ان کو دیکھتے ہی اس طرح گھلنے لگے گا جیسے نمک پانی میں گھلتا ہے۔ اگر عیسیٰ علیہ السلام اس کو اس کے حال ہی پر چھوڑ دیں۔ تو وہ آپ ہی گھل کر مر جائے۔ مگر اللہ اس کو ان کے ہاتھ سے قتل کرائے گا اور وہ اپنے نیزے میں اس کا خون مسلمانوں کو دکھائیں گے۔ ﴾

(مشکوٰة کتاب الفتن باب الملاحم ، مسلم ج ٢ ص ٣٩٢)

٦....... ”عن ابي هريرة أن النبی ﷺ قال ليس بينى وبينه نبى (يعنى عيسى) وأنه نازل فاذا رأيتموه فاعرفوه رجل مربوع الى الحمرة والبياض، بين ممصرتين كأن رأسه يقطروان لم يصبه بلل فيقاتل الناس على الاسلام فيدق الصليب ويقتل الخنزير ويضع الجزية ويهلك الله في زمانه الملل كلها الا الاسلام ويهلك المسيح الدجال فيمكث في الارض اربعين سنة ثم يتوفى فيصلى عليه المسلمون“ ﴿ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا۔ میرے اور ان (یعنی عیسیٰ علیہ السلام) کے درمیان کوئی نبی نہیں ہے اور یہ کہ وہ

٣٠

صفحہ ٢٣١

اترنے والے ہیں۔ پس جب تم ان کو دیکھو تو پہچان لینا اور ایک میانہ قد آدمی ہیں۔ رنگ مائل بہ سرخی و سپیدی ہے۔ دو زرد رنگ کے کپڑے پہنے ہوئے ہوں گے۔ ان کے سر کے بال ایسے ہوں گے، گویا اب ان سے پانی ٹپکنے والا ہے۔ حالانکہ وہ بھیگے ہوئے نہ ہوں گے۔ وہ اسلام پر لوگوں سے جنگ کریں گے۔ صلیب کو پاش پاش کر دیں گے۔ خنزیر کو قتل کر دیں گے۔ جزیہ ختم کر دیں گے اور اللہ تعالیٰ ان کے زمانے میں اسلام کے سوا تمام ملتوں کو مٹا دے گا اور وہ مسیح دجال کو ہلاک کر دیں گے اور زمین میں وہ چالیس سال ٹھہریں گے۔ پھر ان کا انتقال ہو جائے گا اور مسلمان ان کی نماز جنازہ پڑھیں گے۔ ﴾

(مسند احمد ج ٢ ص ٤٣٧)

بن مريم عليه السلام فيقول اميرهم تعال فصل فيقول لا ان بعضكم على بعض امراء تكرمة الله هذه الامة “ ﴿حضرت جابر بن عبداللہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ پھر عیسیٰ ابن مریم نازل ہوں گے۔ مسلمانوں کا امیر ان سے کہے گا کہ آیئے۔ آپ نماز پڑھایئے۔ مگر وہ کہیں گے کہ نہیں تم لوگ خود ہی ایک دوسرے کے امیر ہو۔ (یعنی تمہارا امیر خود تم ہی میں سے ہونا چاہئے) یہ وہ اس عزت کا لحاظ کرتے ہوئے کہیں گے۔ جو اللہ نے اس امت کو دی ہے۔﴾

(مسلم، بیان نزول عیسیٰ ابن مریم، مسند احمد ج ٣ ص ٣٤٥)

الخطاب اذن لى فاقتله يا رسول الله فقال رسول الله ﷺ ان يكن هو فلست صاحبه انما صاحبه عيسى ابن مريم عليه الصلوة والسلام وان لا يكن فليس لك ان تقتل رجلا من اهل العهد “ ﴿جابر بن عبداللہ (قصہ ابن صیاد کے سلسلہ میں) روایت کرتے ہیں کہ پھر عمر بن خطاب نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ مجھے اجازت دیجئے کہ میں اسے قتل کر دوں۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اگر یہ وہی شخص (یعنی دجال) ہے تو اس کے قتل کرنے والے تم نہیں ہو۔ بلکہ اسے تو عیسیٰ ابن مریم ہی قتل کریں گے اور اگر یہ وہ شخص نہیں ہے تو تمہیں اہل عہد (یعنی ذمیوں) میں سے ایک آدمی کو قتل کر دینے کا کوئی حق نہیں ہے۔﴾

(مسند احمد ج ٣ ص ٢٦٨)

مريم عليه السلام فتقام الصلوة فيقال له تقدم يا روح الله فيقول ليتقدم امامكم فليصل بكم فاذا صلى صلوة الصبح خرجوا اليه قال فحين يرى

٣١

صفحہ ٢٣٢

الكذاب ينماث كما ينماث الملح في الماء فيمشى اليه فيقتله حتى ان الشجر والحجر ينادى يا روح الله هذا اليهودى فلا يترك ممن كان يتبعه احدا الا قتله “ جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ ( دجال کا قصہ بیان کرتے ہوئے نبی ﷺ نے فرمایا) اس وقت یکا یک عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام مسلمانوں کے درمیان آجائیں گے۔ پھر نماز کھڑی ہوگی اور ان سے کہا جائے گا۔ اے روح اللہ آگے بڑھیے۔ مگر وہ کہیں گے کہ نہیں تمہارے امام ہی کو آگے بڑھنا چاہئے۔ وہی نماز پڑھائے۔ پھر صبح کی نماز سے فارغ ہو کر مسلمان دجال کے مقابلے پر نکلیں گے۔ فرمایا جب وہ کذاب، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھے گا تو گھلنے لگے گا۔ جیسے نمک پانی میں گھلتا ہے۔ پھر وہ اس کی طرف بڑھیں گے اور اسے قتل کر دیں گے اور حالت یہ ہوگی کہ درخت اور پتھر پکار اٹھیں گے کہ اے روح اللہ یہ یہودی میرے پیچھے چھپا ہوا ہے۔ دجال کے پیروؤں میں سے کوئی نہ بچے گا۔ جسے وہ (یعنی عیسیٰ علیہ السلام) قتل نہ کر دیں۔ ﴾

(مسند احمد ج ٣ ص ٣٦٨)

١٠....... ”عن النواس بن سمعان (في قصة الدجال) فبينما هو كذالك اذا بعث الله المسيح بن مريم فينزل عند المنارة البيضاء شرقى دمشق بين مهروذتين واضعاً كفيه على اجنحة ملكين اذا طأ طأ راسه قطر واذا رفعه تحدر منه جمان كاللؤلؤ فلا يحل لكافر يجد ريح نفسه الا مات ونفسه ينتهى الى حيث ينتهى طرفه فيطلبه حتى يدركه بباب لد فيقتله “ حضرت نواس بن سمعان کلابی (قصہ دجال بیان کرتے ہوئے) روایت کرتے ہیں۔ اس اثناء میں کہ دجال یہ کچھ کر رہا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ مسیح ابن مریم علیہ السلام کو بھیج دے گا اور وہ دمشق کے مشرقی حصے میں سفید مینار کے پاس زرد رنگ کے دو کپڑے پہنے ہوئے دو فرشتوں کے بازوؤں پر اپنے ہاتھ رکھے ہوئے اتریں گے۔ جب وہ سر جھکائیں گے تو ایسا محسوس ہوگا کہ قطرے ٹپک رہے ہیں اور جب سر اٹھائیں گے تو موتی کی طرح قطرے ڈھلکتے نظر آئیں گے۔ ان کے سانس کی ہوا جس کافر تک پہنچے گی اور وہ ان کی حد نظر تک جائے گا وہ زندہ نہ بچے گا۔ پھر ابن مریم دجال کا پیچھا کریں گے اور لد کے دروازے پر اسے جا پکڑیں گے اور قتل کر دیں گے۔ ﴾ (مسلم ج ٢ ص ٤٠١، ابوداؤد، کتاب الملاحم، باب خروج الدجال، ترمذی، ابواب الفتن، باب فی فتنة الدجال ابن ماجہ، کتاب الفتن باب فتنة الدجال)

(لد فلسطین میں ریاست اسرائیل کے دارالسلطنت تل ابیب سے چند میل کے فاصلے پر واقع ہے اور یہودیوں نے وہاں بہت بڑا ہوائی اڈہ بنا رکھا ہے )

٣٢

١١...... ”عن عبدالله بن امتى فيمكث اربعين (لادری فيبعث الله عيسى بن مري الناس سبع سنين ليس بي رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ دجال می چالیس سال رہے گا۔ یہ حضرت عبد بھیجے گا۔ ان کا حلیہ عروہ بن مسعود ( ہلاک کر دیں گے۔ پھر سات سال ن عداوت نہ ہوگی۔ ﴾

١٢...... ”عن حذيفة بن نتذاكر فقال ما تذكرو قبلها عشر أيات فذكر الد ونزول عيسى ابن مريم و وخسف بالمغرب، وخس تطرد الناس الى محشر ہماری مجلس میں تشریف لائے اور ہورہی ہے؟ لوگوں نے عرض کیا ہم اس سے پہلے دس نشانیاں ظاہر (١) دھواں۔ (٢) دجال۔ (٣) د ابن مریم کا نزول۔ (٦) یاجوج و مغرب میں۔ (٩) تیسرا جزیرة ال یمن سے اٹھے گی اور لوگوں کو ہانکتی

١٣...... ”عن ثوبان من امتی احرزهما الله تعال عيسى ابن مريم عليه السلا

صفحہ ٢٣٣

١١....... ”عن عبدالله بن عمرو قال قال رسول الله ﷺ يخرج الدجال فى امتى فيمكث اربعين (لا ادرى اربعين يوماً او اربعين شهراً او اربعين عاماً) فيبعث الله عيسى بن مريم كانه عروة بن مسعود فيطلبه فيهلكه ثم يمكث الناس سبع سنين ليس بين اثنين عداوة“ ﴿عبداللہ بن عمرو بن عاص کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ دجال میری امت میں نکلے گا اور چالیس (میں نہیں جانتا چالیس دن یا چالیس سال رہے گا۔ یہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص کا اپنا قول ہے) پھر اللہ عیسیٰ ابن مریم کو بھیجے گا۔ ان کا حلیہ عروہ بن مسعود (ایک صحابی) سے مشابہ ہوگا۔ وہ اس کا پیچھا کریں گے اور اسے ہلاک کردیں گے۔ پھر سات سال تک لوگ اس حال میں رہیں گے کہ دو آدمیوں کے درمیان بھی عداوت نہ ہوگی۔﴾

(مسلم ج ٢ ص ٤٠٢)

١٢....... ”عن حذيفة بن اسيد الغفارى قال اطلع النبى ﷺ علينا ونحن نتذاكر فقال ما تذكرون قالوا نذكر الساعة قال انها لن تقوم حتى ترون قبلها عشر أيات فذكر الدخان والدجال والدابة وطلوع الشمس من مغربها ونزول عيسىٰ ابن مريم وياجوج وماجوج وثلثة خسوف، خسف بالمشرق وخسف بالمغرب، وخسف بجزيرة العرب وآخر ذالك نار تخرج من اليمن تطرد الناس الى محشرهم “ ﴿حذیفہ بن اسید الغفاری کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ ہماری مجلس میں تشریف لائے اور ہم آپس میں بات چیت کر رہے تھے۔ آپؐ نے پوچھا کیا بات ہو رہی ہے؟ لوگوں نے عرض کیا ہم قیامت کا ذکر کر رہے تھے۔ فرمایا وہ ہرگز قائم نہ ہوگی جب تک اس سے پہلے دس نشانیاں ظاہر نہ ہو جائیں۔ پھر آپ ﷺ نے وہ دس نشانیاں یہ بتائیں: (١) دھواں۔ (٢) دجال۔ (٣) دابۃ الارض۔ (٤) سورج کا مغرب سے طلوع ہونا۔ (٥) عیسیٰ ابن مریم کا نزول۔ (٦) یاجوج و ماجوج۔ (٧) تین بڑے خسف، ایک مشرق میں۔ (٨) دوسرا مغرب میں۔ (٩) تیسرا جزیرۃ العرب میں۔ (١٠) سب سے آخر میں ایک زبردست آگ جو یمن سے اٹھے گی اور لوگوں کو ہانکتی ہوئی محشر کی طرف لے جائے گی۔﴾

(مسلم ج ٢ ص ٣٩٤، ابوداؤد، کتاب الملاحم، باب امارات الساعۃ)

١٣....... ”عن ثوبان مولى رسول الله ﷺ عن النبى ﷺ عصابتان من امتى احرزهما الله تعالى من النار عصابة تغزو الهند وعصابة تكون مع عيسىٰ ابن مريم عليه السلام“ ﴿نبی ﷺ کے آزاد کردہ غلام ثوبان روایت کرتے ہیں کہ

٣٣

صفحہ ٢٣٤

حضور ﷺ نے فرمایا۔ میری امت کے دو لشکر ایسے ہیں جن کو اللہ نے دوزخ کی آگ سے بچا لیا۔ ایک وہ لشکر جو ہندوستان پر حملہ کرے گا۔ دوسرا وہ جو عیسیٰ ابن مریم کے ساتھ ہوگا۔ ﴾

(مسند احمد ج ٥ ص ٢٧٨)

مريم الدجال بباب لد“ ﴿مجمع بن جاریہ انصاری کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ ابن مریم دجال کو لد کے دروازے پر قتل کریں گے۔ ﴾

(مسند احمد ترمذی ج ٢ ص ٤٨)

امامهم قد تقدم یصلی بھم الصبح اذ نزل عليهم عیسیٰ بن مریم فرجع ذالك الامام ینکص یمشی قہقری لیتقدم عیسیٰ فیضع عیسیٰ یدہ بین کتفیہ ثم یقول له تقدم فصل فانها لك اقیمت فیصلی بھم امامهم فاذا انصرف قال عیسیٰ علیہ السلام افتحو الباب فیفتح ووراءہ الدجال ومعہ سبعون الف یهودی كلهم ذو سیف محلی و ساج فاذا نظر اليه الدجال ذاب كما یذوب الملح فی الماء وینطلق ھارباً ویقول عیسیٰ ان لی فیك ضربة لن تسبقنی بھا فیدرکہ عند باب اللد الشرقی فیہزم اللہ الیهود وتملأ الارض من الاسلام کما یملأ الاناء من الماء وتكون الكلمة واحدة فلا یعبد الا اللہ تعالیٰ“ ﴿ابوامامہ باہلی (ایک طویل حدیث میں دجال کا ذکر کرتے ہوئے) روایت کرتے ہیں کہ عین اس وقت جب مسلمانوں کا امام صبح کی نماز پڑھانے کے لئے آگے بڑھ چکا ہوگا۔ عیسیٰ ابن مریم ان پر اتر آئیں گے۔ امام پیچھے ہٹے گا۔ تاکہ عیسیٰ علیہ السلام آگے بڑھیں۔ مگر عیسیٰ اس کے شانوں کے درمیان ہاتھ رکھ کر کہیں گے کہ نہیں تم ہی نماز پڑھاؤ۔ کیونکہ یہ تمہارے لئے ہی کھڑی ہوئی ہے۔ چنانچہ وہی نماز پڑھائے گا۔ سلام پھیرنے کے بعد عیسیٰ علیہ السلام کہیں گے دروازہ کھولو۔ چنانچہ وہ کھولا جائے گا۔ باہر دجال ستر ہزار مسلح یہودیوں کے ساتھ موجود ہوگا۔ جونہی کہ عیسیٰ علیہ السلام پر اس کی نظر پڑے گی وہ اس طرح گھلنے لگے گا جیسے نمک پانی میں گھلتا ہے اور وہ بھاگ نکلے گا۔ عیسیٰ علیہ السلام کہیں گے میرے پاس تیرے لئے ایک ایسی ضرب ہے جس سے تو بچ کر نہ جاسکے گا۔ پھر وہ اسے لد کے مشرقی دروازے پر جالیں گے اور اللہ یہودیوں کو ہرادے گا اور زمین مسلمانوں سے اس طرح بھر جائے گی۔ جیسے برتن پانی سے بھر جائے۔ سب دنیا کا کلمہ ایک ہو جائے گا اور اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت نہ ہوگی۔ ﴾

(ابن ماجہ ص ٢٩٨)

٣٤

صفحہ ٢٣٥

١٦...... ”عن عثمان بن ابی العاص قال سمعت رسول الله ﷺ یقول....... وینزل عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام عند صلوٰۃ الفجر فیقول لہ امیرهم یاروح الله تقدم صل فیقول هذه الامة بعضهم امراء علی بعض فیتقدم امیرهم فیصلّی فاذا قضیٰ صلوٰتہ اخذ عیسٰی حربتہ فیذهب نحو الدجال فاذا یراه الدجال ذاب کما یذوب الرصاص فیضع حربتہ بین ثندوتہ فیقتلہ وینهزم اصحابہ لیس یومئذ شئ یواری منهم احداً حتی ان الشجر لیقول یامؤمن هذا کافر ویقول الحجر یا مؤمن هذا کافر“ عثمان بن ابی العاصؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے اور عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام فجر کی نماز کے وقت اتر آئیں گے۔ مسلمانوں کا امیر ان سے کہے گا کہ اے روح اللہ! آپ نماز پڑھائیے۔ وہ جواب دیں گے کہ اس امت کے لوگ خود ہی ایک دوسرے پر امیر ہیں۔ تب مسلمانوں کا امیر آگے بڑھ کر نماز پڑھائے گا۔ پھر نماز سے فارغ ہو کر عیسیٰ علیہ السلام اپنا حربہ لے کر دجال کی طرف چلیں گے۔ وہ جب ان کو دیکھے گا تو اس طرح پگھلے گا۔ جیسے سیسہ پگھلتا ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام اپنے حربے سے اس کو ہلاک کر دیں گے اور اس کے ساتھی شکست کھا کر بھاگیں گے۔ مگر کہیں انہیں چھپنے کو جگہ نہ ملے گی۔ حتیٰ کہ درخت پکاریں گے۔ اے مؤمن یہ کافر یہاں موجود ہے اور پتھر پکاریں گے کہ اے مؤمن، یہ کافر یہاں موجود ہے۔ ﴾

(مسند احمد ج٤ ص٢١٦)

١٧...... ”عن سمرة بن جندب عن النبی ﷺ (فی حدیث طویل) فیصبح فیهم عیسیٰ ابن مریم فیهزمہ الله وجنوده حتی ان جذم الحائط واصل الشجر لینادی یا مؤمن هذا کافر یستتر بی فتعال اقتلہ“ سمرہ بن جندبؓ (ایک طویل حدیث میں) نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں۔ پھر صبح کے وقت مسلمانوں کے درمیان عیسیٰ ابن مریم آ جائیں گے اور اللہ دجال اور اس کے لشکروں کو شکست دے گا۔ یہاں تک کہ دیواریں اور درختوں کی جڑیں پکار اٹھیں گی کہ اے مؤمن یہ کافر میرے پیچھے چھپا ہوا ہے۔ آ اور اسے قتل کر۔ ﴾

(مسند احمد، حاکم ج٤ ص٤٣٦، باب صلوٰۃ الکسوف)

١٨...... ”عن عمران بن حصین ان رسول الله ﷺ قال لاتزال طائفة من امتی علی الحق ظاهرین علی من ناوأهم حتی یاتی امرالله تبارک وتعالیٰ وینزل عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام“ عمران بن حصینؓ سے روایت ہے کہ رسول الله ﷺ نے فرمایا۔ میری امت میں ہمیشہ ایک گروہ ایسا موجود رہے گا۔ جو حق پر قائم اور مخالفین پر

٣٥

صفحہ ٢٣٦

بھاری ہوگا۔ یہاں تک کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا فیصلہ آجائے گا اور عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام نازل ہو جائیں گے۔

(مسند احمد ج ٣ ص ٢٢٩)

ثم يمكث عيسى عليه السلام في الارض اربعين سنة اماماً عادلاً وحكماً مقسطاً “ حضرت عائشہؓ (دجال کے قصے میں) روایت کرتی ہیں۔ پھر عیسیٰ علیہ السلام اتریں گے اور دجال کو قتل کریں گے۔ اس کے بعد عیسیٰ علیہ السلام چالیس سال تک زمین میں ایک امام عادل اور حاکم منصف کی حیثیت سے رہیں گے۔

(مسند احمد ج ٦ ص ٧٥)

عيسى عليه السلام فيقتله الله تعالى عند عقبة افيق“ رسول اللہ ﷺ کے آزاد کردہ غلام سفینہ (دجال کے قصے میں) روایت کرتے ہیں۔ پھر عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے اور اللہ تعالیٰ دجال کو افیق کی گھاٹی کے قریب ہلاک کردے گا۔ (افیق جو آج کل فیق کہلاتا ہے۔ شام اور اسرائیل کی سرحد پر موجود ریاست شام کا آخری شہر ہے۔ اس کے آگے مغرب کی جانب چند میل کے فاصلہ پر طبریہ نامی جھیل ہے۔ جس میں سے دریائے اردن نکلتا ہے اور اس کے جنوب مغرب کی طرف پہاڑوں کے درمیان ایک نشیبی راستہ ہے جو تقریباً ڈیڑھ دو ہزار تک گہرائی میں اتر کر اس مقام پر پہنچتا ہے۔ جہاں سے دریائے اردن طبریہ میں سے نکلتا ہے۔ اسی پہاڑی راستے کو عقبہ افیق یعنی افیق کی گھاٹی کہتے ہیں)

(مسند احمد ج ٥ ص ٢٢٢)

مريم امامهم فصلى بهم فلما انصرف قال هكذا فرجوا بينى وبين عدو الله...... ويسلط الله عليهم المسلمين فيقتلونهم حتى ان الشجر والحجر لينادى يا عبدالله يا عبدالرحمن يا مسلم هذا اليهودى فاقتلهم فيفنيهم الله تعالى ويظهر المسلمون فيكسرون الصليب ويقتلون الخنزير ويضعون الجزية “ حضرت حذیفہ بن یمان (دجال کا ذکر کرتے ہوئے) بیان کرتے ہیں کہ: ”پھر جب مسلمان نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوں گے تو ان کی آنکھوں کے سامنے عیسیٰ ابن مریم اتر آئیں گے اور وہ مسلمانوں کو نماز پڑھائیں گے۔ پھر سلام پھیرنے کے بعد لوگوں سے کہیں گے کہ میرے اور اس دشمنِ خدا کے درمیان سے ہٹ جاؤ اور اللہ دجال کے ساتھیوں پر مسلمان کو مسلط کر دے گا اور مسلمان انہیں خوب ماریں گے۔ یہاں تک کہ درخت اور پتھر پکار اٹھیں گے۔ اے

٣٦

صفحہ ٢٣٧

طہ؟ جائے گا اور عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام نازل ہو

(مسند احمد ج ٤ ص ٢٢٩)

جال ) فينزل عيسى عليه السلام فيقتله الارض اربعين سنة اماماً عادلاً وحكماً ہیں) روایت کرتی ہیں۔ پھر عیسیٰ علیہ السلام اتریں ی علیہ السلام چالیس سال تک زمین میں ایک امام

(مسند احمد ج ٦ ص ٧٥)

ول الله ﷺ ( في قصة الدجال ) فينزل عند عقبة افيق “ رسول اللہ ﷺ کے آزاد کرتے ہیں۔ پھر عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے اور مارے گا۔ (افیق جو آج کل فیق کہلاتا ہے۔ شام ایک شہر ہے۔ اس کے آگے مغرب کی جانب چند اسے دریائے اردن نکلتا ہے اور اس کے جنوب تحت ہے جو تقریباً ڈیڑھ دو ہزار تک گہرائی میں اتر ان طبر یہ میں سے نکلتا ہے۔ اسی پہاڑ کی راستے کو

(مسند احمد ج ٥ ص ٢٢٢)

ل ) فلما قاموا يصلون نزل عيسى بن انصرف قال هكذا فرجوا بينى وبين ن فيقتلونهم حتى ان الشجر والحجر مسلم هذا اليهودى فاقتلهم فيفنيهم الله الصليب ويقتلون الخنزير ويضعون کا ذکر کرتے ہوئے ) بیان کرتے ہیں کہ : ”پھر تو ان کی آنکھوں کے سامنے عیسیٰ ابن مریم اتر سلام پھیرنے کے بعد لوگوں سے کہیں گے کہ اللہ دجال کے ساتھیوں پر مسلمان کو مسلط کر تک کہ درخت اور پتھر پکار اٹھیں گے۔ اے

عبداللہ ، اے عبدالرحمن ، اے مسلمان ۔ یہ رہا ایک یہودی ، مار اسے، اس طرح اللہ ان کو فنا کر دے گا اور مسلمان غالب ہوں گے اور صلیب توڑ دیں گے۔ خنزیر کو قتل کر دیں گے اور جزیہ ساقط کر دیں گے۔“

(مستدرک حاکم ج ٥ ص ٦٩٠ ، حدیث نمبر ٨٥٥٤، مسلم ، فتح الباری ج ٦ ص ٤٥٠)

یہ اکیس روایات ہیں جو چودہ صحابیوں سے صحیح سندوں کے ساتھ حدیث کی معتبر ترین کتابوں میں وارد ہوئی ہیں اور سند کے لحاظ سے قوی تر ہیں۔ اس کے علاوہ دوسری بہت سی احادیث میں بھی یہ ذکر آیا ہے۔

ان احادیث سے کیا ثابت ہوتا ہے؟

ان احادیث کا قاری خود دیکھ لے گا کہ ان میں کسی ”مسیح موعود“ یا مثیل مسیح یا ”بروزی مسیح“ کا سرے سے کوئی ذکر ہی نہیں ہے۔ نہ ان میں اس امر کی گنجائش ہے کہ کوئی شخص اس زمانے میں کسی ماں کے پیٹ اور کسی باپ کے نطفے سے پیدا ہو کر یہ دعویٰ کر دے کہ میں ہی وہ مسیح ہوں۔ جس کے آنے کی سیدنا محمد ﷺ نے پیشین گوئی فرمائی تھی۔ یہ تمام حدیثیں صاف اور صریح الفاظ میں ان عیسیٰ علیہ السلام کے نازل ہونے کی خبر دے رہی ہیں۔ جو اب سے دو ہزار سال پہلے باپ کے بغیر حضرت مریم علیہا السلام کے بطن سے پیدا ہوئے تھے۔ اس مقام پر یہ بحث چھیڑنا بالکل لا حاصل ہے کہ وہ وفات پاچکے ہیں یا زندہ کہیں موجود ہیں۔ بالفرض وہ وفات ہی پاچکے ہوں تو اللہ انہیں زندہ کر کے اٹھا لانے پر قادر ہے۔ وگرنہ یہ بات بھی اللہ کی قدرت سے ہرگز بعید نہیں ہے کہ وہ اپنے کسی بندے کو اپنی کائنات میں کہیں ہزار ہا سال تک زندہ رکھے اور جب چاہے دنیا میں واپس لے آئے (انکار کرنے والے حضرات سورۃ بقرہ کی آیت نمبر ٢٥٩ ملاحظہ فرمالیں ) جس میں اللہ تعالیٰ صاف الفاظ میں فرماتا ہے کہ اس نے اپنے ایک بندے کو سو برس تک مردہ رکھا پھر زندہ کر دیا۔ فاماته الله مائة عام ثم بعثه (بقرہ: ٢٥٩) “

بہر حال اگر کوئی شخص حدیث کو مانتا ہو تو اسے یہ ماننا پڑے گا کہ آنے والے وہی عیسیٰ ابن مریم ہوں گے اور اگر کوئی شخص حدیث کو نہ مانتا ہو تو وہ سرے سے کسی آنے والے کی آمد کا قائل ہی نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ آنے والے کی آمد کا عقیدہ احادیث کے سوا کسی اور چیز پر مبنی نہیں ہے۔ لیکن یہ ایک عجیب مذاق ہے کہ آنے والے کی آمد کا عقیدہ تو لے لیا جائے احادیث سے، اور پھر انہی احادیث کی اس تصریح کو نظر انداز کر دیا جائے کہ وہ آنے والے عیسیٰ ابن مریم ہوں گے نہ کہ کوئی مثیل مسیح۔

دوسری بات جو اتنی ہی وضاحت کے ساتھ ان احادیث سے ظاہر ہوتی ہے۔ وہ یہ

صفحہ ٢٣٨

ہے کہ حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کا یہ دوبارہ نزول نبی مقرر ہو کر آنے والے شخص کی حیثیت سے نہیں ہوگا۔ نہ ان پر وحی نازل ہوگی۔ نہ وہ خدا کی طرف سے کوئی نیا پیغام یا نئے احکام لائیں گے۔ نہ وہ شریعت محمدی میں کوئی اضافہ یا کوئی کمی کریں گے۔ نہ ان کو تجدید دین کے لئے دنیا میں لایا جائے گا۔ نہ وہ آکر لوگوں کو اپنے اوپر ایمان لانے کی دعوت دیں گے اور نہ وہ اپنے ماننے والوں کی ایک الگ امت بنائیں گے۔ وہ صرف ایک کار خاص کے لئے بھیجے جائیں گے اور وہ یہ ہوگا کہ دجال کے فتنے کا استیصال کردیں۔ اس غرض کے لئے وہ ایسے طریقے سے نازل ہوں گے کہ جن مسلمانوں کے درمیان ان کا نزول ہوگا۔ انہیں اس امر میں کوئی شک نہ رہے گا کہ یہ عیسیٰ ابن مریم ہی ہیں جو رسول اللہ ﷺ کی پیشین گوئیوں کے مطابق ٹھیک وقت پر تشریف لائے ہیں۔ وہ آکر مسلمانوں کی جماعت میں شامل ہو جائیں گے۔ جو بھی مسلمانوں کا امام اس وقت ہوگا۔ اسی کے پیچھے نماز پڑھیں گے (اگر چہ دو روایتوں (نمبر ٥ ، ٢١) میں بیان کیا گیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہونے کے بعد پہلی نماز خود پڑھائیں گے۔ لیکن بیشتر اور قوی تر روایات (نمبر ٣، ٧، ٩، ١٥، ١٦) یہی کہتی ہیں کہ وہ نماز میں امامت کرانے سے انکار کریں گے اور جو اس وقت مسلمانوں کا امام ہوگا۔ اسی کو آگے بڑھائیں گے اور اسی بات کو محدثین اور مفسرین نے بالاتفاق تسلیم کیا ہے)

اور جو بھی اس وقت مسلمانوں کا امیر ہوگا۔ اسی کو آگے رکھیں گے تاکہ اس شبہ کی کوئی ادنیٰ سی گنجائش بھی نہ رہے کہ وہ اپنی سابق پیغمبرانہ حیثیت کی طرح اب پھر پیغمبری کے فرائض انجام دینے کے لئے واپس آئے ہیں۔ ظاہر ہے کہ کسی جماعت میں اگر خدا کا پیغمبر موجود ہو تو نہ اس کا کوئی امام دوسرا شخص ہوسکتا ہے اور نہ امیر۔ پس جب وہ مسلمانوں کی جماعت میں آکر محض ایک فرد کی حیثیت سے شامل ہوں گے تو یہ گویا خود بخود اس امر کا اعلان ہوگا کہ وہ پیغمبر کی حیثیت سے تشریف نہیں لائے ہیں اور اسی بناء پر ان کی آمد سے مہر نبوت کے ٹوٹنے کا قطعاً کوئی سوال پیدا نہ ہوگا۔

علمائے اسلام نے اس مسئلے کو پوری وضاحت کے ساتھ بیان کر دیا ہے۔ علامہ تفتازانی (٧٢٢ھ، ٧٩٢ھ) شرح عقائد نسفی میں لکھتے ہیں: ”ثبت انه آخر الانبياء.... فان قيل قد روى في الحديث نزول عيسى عليه السلام بعده قلنا نعم لكنه يتابع محمداً عليه السلام لأن شريعته قد نسخت فلا يكون اليه وحى ولا نصب احكام بل يكون خليفة رسول الله عليه السلام“ (یہ ثابت ہے کہ محمد ﷺ آخری

٣٨

صفحہ ٢٣٩

ہی ہیں۔ ...... اگر کہا جائے کہ آپ کے بعد عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کا ذکر احادیث میں آیا ہے تو ہم کہیں گے کہ ہاں آیا ہے۔ مگر وہ محمد ﷺ کے تابع ہوں گے۔ کیونکہ ان کی شریعت تو منسوخ ہو چکی ہے۔ اس لئے نہ ان کی طرف وحی ہوگی اور نہ وہ احکام مقرر کریں گے۔ بلکہ وہ رسول اللہ ﷺ کے نائب کی حیثیت سے کام کریں گے۔﴾

(طبع مصر ص ١٣٥)

اور یہی بات علامہ آلوسی تفسیر روح المعانی میں کہتے ہیں: ”ثم انہ علیہ السلام حین ینزل باق علی نبوتہ السابقة لم یعزل عنھا بحال لکنہ لا یتعبد بھا لنسخھا فی حقہ وحق غیرہ وتکلیفہ باحکام ھذا الشریعة اصلاً وفرعاً فلا یکون الیہ علیہ السلام وحی ولا نصب احکام بل یکون خلیفة الرسول اللہ ﷺ وحاکماً من حکام ملتہ بین امة “ ﴿پھر عیسیٰ علیہ السلام جب نازل ہوں گے تو وہ اپنی سابق نبوت پر باقی ہوں گے۔ بہر حال اس سے معزول تو نہ ہو جائیں گے ۔ مگر وہ اپنی پچھلی شریعت کے پیرو نہ ہوں گے۔ کیونکہ وہ ان کے اور دوسرے سب لوگوں کے حق میں منسوخ ہو چکی ہے اور اب وہ اصول اور فروع میں اس شریعت کی پیروی پر مکلف ہوں گے۔ لہٰذا ان پر نہ اب وحی آئے گی اور نہ انہیں احکام مقرر کرنے کا اختیار ہوگا۔ بلکہ وہ رسول اللہ ﷺ کے نائب اور آپ کی امت میں ملت محمدیہ ﷺ کے حاکموں میں سے ایک حاکم کی حیثیت سے کام کریں گے۔﴾

(تفسیر روح المعانی ج ٢٢ ص ٣٢)

امام رازیؒ اس بات کو اور زیادہ وضاحت کے ساتھ اس طرح بیان کرتے ہیں: ”انتہا الانبیاء الی مبعث محمد ﷺ فعند مبعثہ انتہت تلک المدة فلا یبعد ان یصیر (ای عیسیٰ ابن مریم) بعد نزولہ تبعاً لمحمد ﷺ“ ﴿انبیاء کا دور محمد ﷺ کی بعثت تک تھا۔ جب آپ ﷺ مبعوث ہو گئے تو انبیاء کی آمد کا زمانہ ختم ہو گیا۔ اب یہ بات بعید از قیاس نہیں ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہونے کے بعد محمد ﷺ کے تابع ہوں گے۔﴾

(تفسیر کبیر ج ٣ ص ٣٢٣)

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آنا بلاشبہہ اسی نوعیت کا ہوگا۔ جیسے ایک صدر ریاست کے دور میں کوئی سابق صدر آئے اور وقت کے صدر کی ماتحتی میں مملکت کی کوئی خدمت انجام دے۔ ایک معمولی سمجھ بوجھ کا آدمی بھی یہ بات بخوبی سمجھ سکتا ہے کہ ایک صدر کے دور میں کسی سابق صدر کے محض آ جانے سے آئین نہیں ٹوٹتا۔ البتہ دو صورتوں میں آئین کی خلاف ورزی لازم آتی ہے۔ ایک یہ کہ سابق صدر آ کر پھر سے فرائض صدارت سنبھالنے کی کوشش کرے۔ دوسرے یہ کہ کوئی

٣٩

صفحہ ٢٤٠

شخص اس کی سابق صدارت کا بھی انکار کر دے۔ کیونکہ یہ ان تمام کاموں کے جواز کو چیلنج کرنے کا ہم معنی ہوگا۔ جو اس کے دور صدارت میں انجام پائے تھے۔ ان دونوں صورتوں میں سے کوئی صورت بھی نہ ہو تو بجائے خود سابق صدر کی آمد آئینی پوزیشن میں کوئی تبدیلی نہیں کرسکتی۔ یہی معاملہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد ثانی کا بھی ہے کہ ان کے محض آجانے سے ختم نبوت نہیں ٹوٹتی۔ البتہ اگر وہ آکر پھر نبوت کا منصب سنبھال لیں اور فرائض نبوت انجام دینے شروع کر دیں یا کوئی شخص ان کی سابق نبوت کا بھی انکار کر دے تو اس سے اللہ تعالیٰ کے آئین نبوت کی خلاف ورزی لازم آئے گی۔ احادیث نے پوری وضاحت کے ساتھ دونوں صورتوں کا سد باب کر دیا ہے۔ ایک طرف وہ تصریح کرتی ہیں کہ محمد ﷺ کے بعد کوئی نبوت نہیں ہے اور دوسری طرف وہ خبر دیتی ہیں کہ عیسیٰ ابن مریم دوبارہ نازل ہوں گے۔ اس سے صاف ظاہر ہو جاتا ہے کہ ان کی یہ آمد ثانی منصب نبوت کے فرائض انجام دینے کے لئے نہ ہوگی۔

اسی طرح ان کی آمد سے مسلمانوں کے اندر کفر و ایمان کا بھی کوئی نیا سوال پیدا نہ ہوگا۔ ان کی سابقہ نبوت پر تو آج بھی اگر کوئی ایمان نہ لائے تو کافر ہو جائے۔ محمد ﷺ خود ان کی اس نبوت پر ایمان رکھتے تھے اور آپ ﷺ کی ساری امت ابتداء سے ان کی مومن ہے۔ یہی حیثیت اس وقت بھی ہوگی۔ مسلمان کسی تازہ نبوت پر ایمان نہ لائیں گے۔ بلکہ عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کی سابقہ نبوت ہی پر ایمان رکھیں گے۔ جس طرح آج رکھتے ہیں۔ یہ چیز نہ آج ختم نبوت کے خلاف ہے نہ اس وقت ہوگی۔

آخری بات جو ان احادیث سے اور بکثرت دوسری احادیث سے بھی معلوم ہوتی ہے۔ وہ یہ ہے کہ دجال، جس کے فتنہ عظیم کا استیصال کرنے کے لئے حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کو بھیجا جائے گا۔ یہودیوں میں سے ہوگا اور اپنے آپ کو مسیح کی حیثیت سے پیش کرے گا۔ اس معاملے کی حقیقت کوئی شخص نہیں سمجھ سکتا۔ جب تک وہ یہودیوں کی تاریخ سے اور ان کے مذہبی تصورات سے واقف نہ ہو۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کی وفات کے بعد جب بنی اسرائیل پے در پے تنزل کی حالت میں مبتلا ہوتے چلے گئے۔ یہاں تک کہ آخر کار بابل اور اسیریا کی سلطنتوں نے ان کو غلام بنا کر زمین میں تتر بتر کر دیا تو انبیائے بنی اسرائیل نے ان کو خوشخبری دینی شروع کی کہ خدا کی طرف سے ایک ”مسیح“ آنے والا ہے۔ جو ان کو اس ذلت سے نجات دلائے گا۔ ان پیشین گوئیوں کی بناء پر یہودی ایک مسیح کی آمد کے متوقع تھے۔ جو بادشاہ ہو کر، لڑ کر ملک فتح کرے۔ بنی اسرائیل کو ملک ملک سے لا کر فلسطین میں جمع کر دے اور ان کی ایک زبردست

٤٠

صفحہ ٢٤١

سلطنت قائم کر دے۔ لیکن ان کی ان توقعات کے خلاف جب حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام خدا کی طرف سے مسیح ہو کر آئے اور کوئی لشکر ساتھ نہ لائے تو یہودیوں نے ان کی مسیحیت تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور انہیں ہلاک کرنے کے درپے ہوگئے۔ اس وقت سے آج تک دنیا بھر کے یہودی اس مسیح موعود کے منتظر ہیں۔ جس کے آنے کی خوشخبریاں ان کو دی گئی تھیں۔ ان کا لٹریچر اس آنے والے دور کے سہانے خوابوں سے بھرا پڑا ہے۔ طلمود اور ربیوں کے ادبیات میں اس کا جو نقشہ کھینچا گیا ہے۔ اس کی خیالی لذت کے سہارے صدیوں سے یہودی جی رہے ہیں اور یہ امید لئے بیٹھے ہیں کہ یہ مسیح موعود ایک زبردست جنگی و سیاسی لیڈر ہوگا۔ جو دریائے نیل سے دریائے فرات تک کا علاقہ (جسے یہودی اپنی میراث کا ملک سمجھتے ہیں) انہیں واپس دلائے گا اور دنیا کے گوشے گوشے سے یہودیوں کو لا کر اس ملک میں پھر سے جمع کر دے گا۔

اب اگر کوئی شخص مشرق وسطیٰ کے حالات پر ایک نگاہ ڈالے اور نبی ﷺ کی پیشین گوئیوں کے پس منظر میں ان کو دیکھے تو وہ فوراً یہ محسوس کرے گا کہ اس دجال اکبر کے ظہور کے لئے اسٹیج بالکل تیار ہو چکا ہے۔ جو حضور ﷺ کی دی ہوئی خبروں کے مطابق یہودیوں کا "مسیح موعود" بن کر اٹھے گا۔ فلسطین کے بڑے حصے سے مسلمان بے دخل کئے جاچکے ہیں اور وہاں اسرائیل کے نام سے ایک یہودی ریاست قائم کر دی گئی ہے۔ اس ریاست میں دنیا بھر کے یہودی کھنچ کھنچ کر چلے آ رہے ہیں۔ امریکہ، برطانیہ اور فرانس نے اس کو ایک زبردست جنگی طاقت بنا دیا ہے۔ یہودی سرمائے کی بے پایاں امداد سے یہودی سائنسدان اور ماہرین فنون اس کو روز افزوں ترقی دیتے چلے جارہے ہیں اور اس کی یہ طاقت گردو پیش کی مسلمان قوموں کے لئے ایک خطرہ عظیم بن گئی ہے۔ اس ریاست کے لیڈروں نے اپنی اس تمنا کو کچھ چھپا کر نہیں رکھا ہے کہ وہ اپنی میراث کا ملک حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ مستقبل کی یہودی سلطنت کا جو نقشہ وہ ایک مدت سے کھلم کھلا شائع کر رہے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ پورا شام، پورا لبنان، پورا اردن اور تقریباً سارا عراق لینے کے علاوہ ترکی سے اسکندرون، مصر سے سینا اور ڈیلٹا کا علاقہ اور سعودی عرب سے بالائی حجاز و نجد کا علاقہ لینا چاہتے ہیں۔ جس میں مدینہ منورہ بھی شامل ہے۔ ان حالات کو دیکھتے ہوئے صاف محسوس ہوتا ہے کہ آئندہ کسی عالمگیر جنگ کی ہڑبونگ سے فائدہ اٹھا کر وہ ان علاقوں پر قبضہ کرنے کی کوشش کریں گے اور ٹھیک اس موقع پر دجال اکبر ان کا مسیح موعود بن کر اٹھے گا۔ جس کے ظہور کی خبر دینے ہی پر نبی ﷺ نے اکتفا نہیں فرمایا ہے۔ بلکہ یہ بھی بتا دیا ہے کہ اس زمانے میں مسلمانوں پر مصائب کے ایسے پہاڑ ٹوٹیں گے کہ ایک دن ایک سال کے برابر محسوس ہوگا۔ اسی بناء پر آپ

٤١

صفحہ ٢٤٢

فتنہ دجال سے خود بھی خدا کی پناہ مانگتے تھے اور اپنی امت کو بھی پناہ مانگنے کی تلقین فرماتے تھے۔ اس مسیح دجال کا مقابلہ کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کسی مثیل مسیح کو نہیں بلکہ اس اصلی مسیح کو نازل فرمائے گا۔ جسے دو ہزار برس پہلے یہودیوں نے ماننے سے انکار کر دیا تھا اور جسے وہ اپنی دانست میں صلیب پر چڑھا کر ٹھکانے لگا چکے تھے۔ اس حقیقی مسیح کے نزول کی جگہ ہندوستان یا افریقہ یا امریکہ میں نہیں بلکہ دمشق میں ہوگی۔ کیونکہ یہی مقام اس وقت عین محاذ جنگ پر ہوگا۔ دمشق اسرائیل کی سرحد سے بمشکل ٥٠، ٦٠ میل کے فاصلے پر ہے۔ پہلے جو احادیث نقل ہوئی ہیں۔ ان کے مضمون کے مطابق مسیح دجال ٧٠ ہزار یہودیوں کا لشکر لے کر شام میں گھسے گا اور دمشق کے سامنے جا پہنچے گا۔ ٹھیک اس نازک موقع پر دمشق کے مشرقی حصے میں ایک سفید مینار کے قریب حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام مجسم نازل ہوں گے اور نماز فجر کے بعد مسلمانوں کو اس کے مقابلے پر لے کر نکلیں گے۔ ان کے حملے سے دجال پسپا ہو کر افیق کی گھاٹی سے (حدیث نمبر ٢١ میں جس کا ذکر ہے) اسرائیل کی طرف پلٹے گا اور وہ اس کا تعاقب کریں گے۔ آخر کار لد کے ہوائی اڈے پر پہنچ کر وہ ان کے ہاتھ سے مارا جائے گا۔

اس کے بعد یہودی چن چن کر قتل کئے جائیں گے اور ملت یہود کا خاتمہ ہو جائے گا۔ عیسائیت بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف سے اظہار حقیقت ہو جانے کے بعد ختم ہو جائے گی اور تمام ملتیں ایک ہی ملت مسلمہ میں ضم ہو جائیں گی۔ یہ ہے وہ حقیقت جو کسی اشتباہ کے بغیر احادیث میں صاف نظر آتی ہے۔ اس کے بعد اس امر میں کیا شک باقی رہ جاتا ہے کہ مسیح موعود کے نام سے جو کاروبار ہمارے ملک میں پھیلایا گیا ہے وہ ایک جعل سازی سے بڑھ کر کچھ نہیں ہے۔

اس جعل سازی کا سب سے مضحکہ خیز پہلو یہ ہے کہ جو صاحب اپنے آپ کو ان پیشین گوئیوں کا مصداق قرار دیتے ہیں۔ انہوں نے خود عیسیٰ ابن مریم بننے کے لئے یہ دلچسپ تاویل فرمائی ہے۔ ”اس نے (یعنی اللہ تعالیٰ نے) براہین احمدیہ کے تیسرے حصے میں میرا نام مریم رکھا۔ پھر جیسا کہ براہین احمدیہ سے ظاہر ہے دو برس تک صفت مریمیت میں میں نے پرورش پائی۔ پھر مریم کی طرح عیسیٰ کی روح مجھ میں نفخ کی گئی اور استعارے کے رنگ میں مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا اور آخر کئی مہینے کے بعد جو دس مہینے سے زیادہ نہیں بذریعہ اس الہام کے جو سب سے آخر براہین احمدیہ کے حصہ چہارم میں درج ہے۔ مجھے مریم سے عیسیٰ بنایا گیا۔ پس اس طور سے میں ابن مریم ٹھہرا۔“

(کشتی نوح ص ٤٧، خزائن ج ١٩ ص ٥٠ ملخص)

٤٢

یعنی پہلے مریم بنے، پھر عیسیٰ کر تولد ہوگئے۔ اس کے بعد یہ مشکل میں ہونا تھا۔ جو کئی ہزار برس سے دمشق اسی نام سے موجود ہے۔ یہ مشکل ایک ”واضح ہو کہ دمشق کے ل جگہ ایسے قصبے کا نام دمشق رکھا گیا کی عادات اور خیالات کے پیرو ہیں میں سکونت رکھتے ہیں۔ دمشق سے ا

پھر ایک اور الجھن باقی پاس اترنا تھا۔ چنانچہ اس کا حل یہ نکا کون دیکھتا ہے کہ احادیث کی رو سے اور یہاں وہ مسیح موعود صاحب کی حق آخری اور زبردست م دروازے پر دجال کو قتل کرنا تھا۔ اس گئیں۔ کبھی تسلیم کیا گیا کہ ”لد سے

پھر کہا گیا کہ: ”لد ان دجال کے بیجا جھگڑے کمال تک پہ جھگڑوں کا خاتمہ کر دے گا۔“ لیکن جب اس سے بھی ہے۔ ”اور اس کے دروازے پر دجال سب سے پہلے مرزا قادیانی کے ہاتھ ان تاویلات کو جو محض جھوٹے بہروپ کا صریح ارتکاب ہے

صفحہ ٢٤٣

یعنی پہلے مریم بنے، پھر خود ہی حاملہ ہوئے، پھر اپنے پیٹ سے آپ عیسیٰ ابن مریم بن کر تولد ہو گئے۔ اس کے بعد یہ مشکل پیش آئی کہ عیسیٰ ابن مریم کا نزول تو احادیث کی رو سے دمشق میں ہونا تھا۔ جو کئی ہزار برس سے شام کا ایک مشہور و معروف مقام ہے اور آج بھی دنیا کے نقشے پر اسی نام سے موجود ہے۔ یہ مشکل ایک دوسری پر لطف تاویل سے یوں رفع کی گئی۔ ”واضح ہو کہ دمشق کے لفظ کی تعبیر میں میرے پر من جانب اللہ یہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اس جگہ ایسے قصبے کا نام دمشق رکھا گیا ہے۔ جس میں ایسے لوگ رہتے ہیں جو یزیدی الطبع اور یزید پلید کی عادات اور خیالات کے پیرو ہیں۔ یہ قصبہ قادیان بوجہ اس کے کہ اکثر یزیدی الطبع لوگ اس میں سکونت رکھتے ہیں۔ دمشق سے ایک مشابہت اور مناسبت رکھتا ہے۔“

(ازالہ اوہام ص ٧٢ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ١٣٨)

پھر ایک اور الجھن باقی رہ گئی کہ احادیث کی رو سے ابن مریم کو ایک سفید منارہ کے پاس اترنا تھا۔ چنانچہ اس کا حل یہ نکالا گیا کہ مسیح صاحب نے آ کر اپنا منارہ خود بنوالیا۔ اب اسے کون دیکھتا ہے کہ احادیث کی رو سے منارہ وہاں ابن مریم کے نزول سے پہلے موجود ہونا چاہئے تھا اور یہاں وہ مسیح موعود صاحب کی تشریف آوری کے بعد تعمیر کیا گیا۔ آخری اور زبردست الجھن یہ تھی کہ احادیث کی رو سے تو عیسیٰ ابن مریم کو لد کے دروازے پر دجال کو قتل کرنا تھا۔ اس مشکل کو رفع کرنے کی فکر میں پہلے طرح طرح کی تاویلیں کی گئیں۔ کبھی تسلیم کیا گیا کہ: ”لد بیت المقدس کے دیہات میں سے ایک گاؤں کا نام ہے۔“

(ازالہ اوہام ص ٢٢٠، خزائن ج ٣ ص ٢٠٩)

پھر کہا گیا کہ: ”لد ان لوگوں کو کہتے ہیں جو بے جا جھگڑا کرنے والے ہوں۔ جب دجال کے بیجا جھگڑے کمال تک پہنچ جائیں گے۔ تب مسیح موعود ظہور کرے گا اور اس کے تمام جھگڑوں کا خاتمہ کر دے گا۔“

(ازالہ اوہام ص ٧٣٠، خزائن ج ٣ ص ٤٩٣)

لیکن جب اس سے بھی بات نہ بنی تو صاف کہہ دیا گیا کہ: ”لد سے مراد لدھیانہ ہے۔“ اور اس کے دروازے پر دجال کے قتل سے مراد یہ ہے کہ اشرار کی مخالفت کے باوجود وہیں سب سے پہلے مرزا قادیانی کے ہاتھ پر بیعت ہوئی۔

(الہدیٰ ص ٩١ حاشیہ، خزائن ج ١٨ ص ٣٤١)

ان تاویلات کو جو شخص بھی کھلی آنکھوں سے دیکھے گا۔ اسے معلوم ہو جائے گا کہ یہ جھوٹے بہروپ کا صریح ارتکاب ہے جو علی الاعلان کیا گیا ہے۔

٤٣

صفحہ ٢٤٣

(حصہ دوم)

مرزا قادیانی کے عقائد باطلہ ...... مرزا قادیانی کے الفاظ میں

اس جعلساز اور بہروپیئے (مرزا غلام احمد قادیانی لعنۃ اللہ علیہ) نے مسیح موعود ہونے کے علاوہ اور بھی بہت سے دعوے کئے اور کئی روپ دھارے۔ مجددیت کا دعویٰ کرتے ہوئے لکھتا ہے: ”میں محدث ہوں۔“

(حمامۃ البشریٰ ص ٧٩، خزائن ج ٧ ص ٢٩٧)

مجددیت کا دعویٰ ان الفاظ میں کیا۔

رسید مژدہ زغیبم کہ من ہماں مردم
کہ او مجدد ایں دین وراہنما باشد

مجھے غیب سے خوشخبری ملی ہے کہ میں وہ مرد ہوں کہ دین کا مجدد اور راہنما ہوں۔

(تریاق القلوب ص ١٣٠، خزائن ج ١٥ ص ١٣٢)

غلام احمد قادیانی ملعون مہدویت کا اعلان کرتے ہوئے: ”میں مہدی ہوں۔“

(معیار الاخیار ص ١١، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٢٣٦)

آیت ”مبشراً برسول یأتی من بعدی اسمہ احمد“ کا مصداق اپنے آپ کو قرار دیتے ہوئے لکھتا ہے اور ”اس آنے والے کا نام جو احمد رکھا گیا ہے۔ وہ بھی اس کے مثیل ہونے کی طرف اشارہ ہے۔ کیونکہ محمد جلالی نام ہے اور احمد جمالی اور احمد اور عیسیٰ اپنے جمالی معنوں کی رو سے ایک ہی ہیں۔ اسی کی طرف اشارہ ہے۔ ”ومبشراً برسول یأتی من بعدی اسمہ احمد “مگر ہمارے نبی ﷺ فقط احمد ہی نہیں بلکہ محمد بھی ہیں۔ یعنی جامع جلال و جمال ہیں۔ لیکن آخری زمانہ میں برطبق پیش گوئی مجرد احمد جو اپنے اندر حقیقت عیسویت رکھتا ہے بھیجا گیا۔“

(ازالہ اوہام ص ٦٧٣، خزائن ج ٣ ص ٤٦٣)

اگرچہ اس عبارت میں مرزا قادیانی نے لکھ دیا ہے کہ نبی کریم ﷺ فقط احمد ہی نہیں۔ بلکہ محمد بھی ہیں۔ یعنی جامع جلال و جمال ہیں۔ ان الفاظ کے لکھنے سے یہ مقصد نظر آتا ہے کہ اگر ابتداء میں ہی صاف طور پر لکھ دیا کہ آنحضرت ﷺ احمد نہیں تھے تو عامۃ المسلمین متنفر ہو جائیں گے۔ لیکن آیت کا مصداق اپنے آپ کو قرار دیا ہے۔ جس کے صاف معنی یہ ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیش گوئی حضرت سیدنا و مولانا محمد مصطفےٰ ﷺ کے لئے نہ تھی۔ بلکہ مرزا غلام احمد قادیانی کے لئے تھی۔

٤٤

تریاق القلوب ص ٧٠ خزا

میں مسیح زمان ہوں اور دوسری جگہ اس کی مزید مظہر ٹھہرایا ہے اور تمام نبیوں کے ہوں، میں نوح ہوں، میں ابراہیم میں یوسف ہوں، میں موسیٰ ہوں مظہر اتم ہوں۔ یعنی ظلی طور پر محمد اپنی اسی کتاب میں سو جیسا کہ براہین احمدیہ میں خدا میں اسحاق ہوں، میں یعقوب ہوں ابن مریم ہوں، میں شیث ہوں مجھے دیئے اور میری نسبت بیان پیرایوں میں سو ضر ور ہے کہ ہر ایک میرے ذریعہ ظہور ہو۔“

میں خدا

ان عقائد باطلہ سے دلیری سے تمام انبیاء علیہم السلام شان مجھ میں پائی جاتی ہے۔ مگر کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو کمالات مجھ مرزا کو دیئے گئے ہیں

صفحہ ٢٣٤

(حصہ دوم)

... مرزا قادیانی کے الفاظ میں

مرزا غلام احمد قادیانی (لعنۃ اللہ علیہ) نے مسیح موعود ہونے کا اور مجدد ہونے اور مہدویت کا دعویٰ کرتے ہوئے لکھتا

(حمامتہ البشریٰ ص ٧٩، خزائن ج ٧ ص ٢٩٧)

بگویم کہ من ہماں مردم
ایں دیں و راہنما باشد

میں وہ مرد ہوں کہ دین کا مجدد اور راہنما ہوں۔

(تریاق القلوب ص ٢، خزائن ج ١٥ ص ١٣٢)

مہدویت کا اعلان کرتے ہوئے: ”میں مہدی ہوں۔“

(معیار الاخیار ص ١١، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٤٦)

”يأتي من بعدي اسمه أحمد“ کا مصداق اپنے آپ کو ٹھہرانے والے کا نام جو احمد رکھا گیا ہے۔ وہ بھی اس کے مثیل ہونے کا نام ہے اور احمد جمالی اور احمد اور عیسیٰ اپنے جمالی معنوں کے لحاظ سے ایک ہے۔ ”ومبشراً برسول يأتي من بعدي اسمه احمد“ کا مصداق احمد ہی نہیں بلکہ محمد بھی ہیں۔ یعنی جامع جلال و جمال ہیں اور اسی لئے محمد واحمد جو اپنے اندر حقیقت عیسویت رکھتا ہے بھیجا گیا ہے۔

(ازالہ اوہام ص ٦٧٣، خزائن ج ٣ ص ٤٦٣)

قادیانی نے لکھ دیا ہے کہ نبی کریم ﷺ فقط احمد ہی نہیں۔ بلکہ محمد بھی ہیں۔ ان الفاظ کے لکھنے سے یہ مقصد نظر آتا ہے کہ اگر آنحضرت ﷺ احمد نہیں تھے تو عامتہ المسلمین متنفر ہو جائیں گے کہ قادیانی نے کفر بک دیا ہے۔ جس کے صاف معنی یہ ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت صرف احمد مصطفیٰ ﷺ کے لئے نہ تھی۔ بلکہ مرزا غلام احمد کے لئے تھی۔

٣٤

٢٣٥

تریاق القلوب میں مرزا قادیانی لکھتا ہے :-

منم مسیح زماں و کلیم خدا
منم محمد و احمد کہ مجتبیٰ باشد

میں مسیح زمان ہوں، میں کلیم خدا یعنی موسیٰ ہوں۔ میں محمد ہوں۔ میں احمد مجتبیٰ ہوں۔

(تریاق القلوب ص ٣، خزائن ج ١٥ ص ١٣٣)

دوسری جگہ اس کی مزید تشریح کرتے ہوئے لکھتا ہے: ”خدا تعالیٰ نے مجھے تمام انبیاء کا مظہر ٹھہرایا ہے اور تمام نبیوں کے نام میری طرف منسوب کئے ہیں۔ میں آدم ہوں، میں شیث ہوں، میں نوح ہوں، میں ابراہیم ہوں، میں اسحاق ہوں، میں اسماعیل ہوں، میں یعقوب ہوں، میں یوسف ہوں، میں موسیٰ ہوں، میں داؤد ہوں، میں عیسیٰ ہوں اور آنحضرت ﷺ کے نام کا میں مظہر اتم ہوں۔ یعنی ظلی طور پر محمد اور احمد ہوں۔“

(حقیقت الوحی ص ٧٢، حاشیہ، خزائن ج ٢٢ ص ٧٦)

اپنی اسی کتاب میں پھر لکھا ہے: ”دنیا میں کوئی نبی نہیں گزرا۔ جس کا نام مجھے نہیں دیا گیا سو جیسا کہ براہین احمدیہ میں خدا نے فرمایا ہے۔ میں آدم ہوں، میں نوح ہوں، میں ابراہیم ہوں، میں اسحاق ہوں، میں اسماعیل ہوں، میں یعقوب ہوں، میں موسیٰ ہوں، میں داؤد ہوں، میں عیسیٰ ابن مریم ہوں، میں محمد ﷺ ہوں، یعنی بروزی طور پر جیسا کہ خدا نے اسی کتاب میں یہ سب نام مجھے دیئے اور میری نسبت جری اللہ فی حلل الانبیاء فرمایا۔ یعنی خدا کا رسول نبیوں کے پیرایوں میں سو ضرور ہے کہ ہر ایک نبی کی شان مجھ میں پائی جائے اور ہر ایک نبی کی ایک صفت کا میرے ذریعہ ظہور ہو۔“

(تتمہ حقیقت الوحی ص ٨٤، ٨٥، خزائن ج ٢٢ ص ٥٢١)

اپنی مجددیت اور مہدویت کی شان اجاگر کرنے کے لئے یوں گویا ہوا:-

میں کبھی آدم کبھی موسیٰ کبھی یعقوب ہوں
نیز ابراہیم ہوں نسلیں ہیں میری بے شمار

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٠٣، خزائن ج ٢١ ص ١٣٣)

ان حوالہ جات سے روز روشن کی طرح یہ بات ظاہر ہو گئی ہے کہ غلام احمد نے کس دیدہ دلیری سے تمام انبیاء علیہم السلام کے نام اپنی طرف منسوب کئے ہیں اور دعویٰ کیا ہے کہ ہر نبی کی شان مجھ میں پائی جاتی ہے۔ گویا تمام انبیاء کے مقابل پر اپنے آپ کو پیش کیا ہے کہ فرداً فرداً ہر نبی کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو کمال عطاء کئے گئے تھے وہ مجموعی طور پر وہ سارے کے سارے کمالات مجھ مرزا کو دیئے گئے ہیں۔

٣٥

صفحہ ٢٤٦

مرزا قادیانی کھلے الفاظ میں اعلان کرتے ہیں:

آدم نیز احمد مختار
در برم جامۂ ہمہ ابرار
آنچه دادست ہر نبی را جام
داد آں جام را مرا بتمام

(نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)

میں آدم ہوں، نیز احمد مختار ہوں۔ میں تمام نیکوں کے لباس میں ہوں۔ خدا نے جو پیالے ہر نبی کو دیئے ہیں۔ ان تمام پیالوں کا مجموعہ مجھے دے دیا ہے۔ مرزا اپنے آپ کو کسی نبی سے درجہ میں کم نہیں سمجھتا۔ اسی ادعاء ناروا کو اس شعر میں دہرایا ہے:

انبیاء گرچہ بودہ اند بسے
من بعرفان نہ کمترم زکسے

(نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)

اگرچہ دنیا میں بہت سے نبی ہوئے ہیں۔ میں عرفان میں ان نبیوں میں سے کسی سے کم نہیں ہوں۔ مرزا لعین نے صرف اتنا ہی نہیں کہا کہ میں نبوت کی ایسی معجون ہوں جو تمام نبیوں کے کمالات سے مرکب ہوں۔ بلکہ اس سے اوپر بھی ایک اور چھلانگ لگا کر دنیا کو اطلاع دی ہے کہ میں وہ تھیلا ہوں کہ جس میں تمام نبی بھرے ہیں۔ چنانچہ مرزا ملعون لکھتا ہے:

زندہ شد ہر نبی بآمدم
ہر رسولے نہاں بہ پیراہنم

(نزول المسیح ص ١٠٠، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٨)

میری آمد کی وجہ سے ہر نبی زندہ ہو گیا۔ ہر رسول میرے پیراہن میں چھپا ہوا ہے۔

(معاذ اللہ من ھذہ الھفوات) ایک جگہ اپنی بڑائی کا اظہار ان الفاظ میں کیا:

”اس زمانہ میں خدا نے چاہا کہ جس قدر راست باز اور مقدس نبی گذر چکے ہیں۔ ایک ہی شخص کے وجود میں ان کے نمونے ظاہر کئے جائیں۔ سو وہ میں ہوں“

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٩٠، خزائن ج ٢١ ص ١١٧، ١١٨)

مرزا قادیانی اپنا الہام بیان کرتے ہوئے: ”لولاك لما خلقت الافلاك“ اے مرزا! اگر تو نہ ہوتا تو میں آسمانوں کو پیدا نہ کرتا۔

(تذکرہ ص ٦١٢)

٤٦

صفحہ ٢٤٨

دوسرا الہام ان الفاظ میں ہوتا ہے۔ ”کـل لك ولا مـرك“ سب تیرے لئے اور تیرے حکم کے لئے ہے۔

(تذکرہ ص٧٠٦)

مرزا قادیانی لکھتا ہے: ”فجعلنی الله آدم اعطانی کلما اعطا لابی البشر وجعلنی بروز الخاتم النبیین وسید المرسلین“ خدا نے مجھے آدم بنایا اور مجھ کو وہ سب چیزیں بخشیں جو ابوالبشر آدم کو دی تھیں اور مجھ کو خاتم النبیین اور سید المرسلین کا بروز بنایا۔

(خطبہ الہامیہ ص١٦٧، خزائن ج١٦ ص٢٥٤)

اسی کی مزید تشریح کرتے ہوئے لکھتا ہے: ”اور چونکہ آنحضرتﷺ کا حسب آیت ”وآخرین منہم“ دوبارہ تشریف لانا بجز صورت بروز غیر ممکن تھا۔ اس لئے آنحضرتﷺ کی روحانیت نے ایک ایسے شخص کو اپنے لئے منتخب کیا۔ جو خلق اور خوارق ہمت اور ہمدردی خلائق میں اس کے مشابہ تھا اور مجازی طور پر اپنا نام احمد اور محمد اس کو عطاء کیا۔ تاکہ یہ سمجھا جائے کہ گویا اس کا (یعنی مرزا کا) ظہور بعینہ آنحضرتﷺ کا ظہور تھا۔“

(تحفہ گولڑویہ ص١٠١، خزائن ج١٧ ص٢٦٣)

اسی مفہوم کو دوسری جگہ دہرایا ہے: ”وأنزل الله على فیض ہذا الرسول (محمد) فاتمہ واکملہ وجذب الی لطفہ وجودہ حتی صار وجودی وجودہ فمن دخل فی جماعتی دخل فی صحابۃ سیدی خیر المرسلین وہذا معنی وآخرین منہم“

خدا نے مجھ مرزا پر اس رسول کا فیض اتارا اور اس کو پورا کیا اور مکمل کیا اور میری طرف اس رسول کا لطف اور جود پھیرا۔ یہاں تک کہ میرا وجود اس کا وجود ہو گیا۔ پس اب جو کوئی میری جماعت (یعنی جماعت احمدیہ) میں داخل ہوگا۔ وہ میرے سردار خیرالمرسلین کے اصحاب میں داخل ہو جائے گا۔ یہی معنی ہیں ”وآخرین منہم“ کے۔“

(خطبہ الہامیہ ص١٧١، خزائن ج١٦ ص٢٥٨،٢٥٩)

مرزا قادیانی کو ”الہام“ ہوتا ہے۔ ”محمد مفلح“ اس کی تشریح ان الفاظ میں کی گئی۔ ”حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے فرمایا کہ آج اللہ تعالیٰ نے میرا ایک اور نام رکھا ہے۔ جو پہلے کبھی سنا بھی نہیں۔ تھوڑی سی غنودگی ہوئی اور یہ الہام ہوا۔“

(تذکرہ ص٥٥٧)

مرزا قادیانی کہتا ہے: ”میں وہی مہدی ہوں، جس کی نسبت ابن سیرین سے سوال کیا گیا کہ کیا وہ حضرت ابوبکرؓ کے درجہ پر ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ ابوبکرؓ تو کیا وہ تو بعض انبیاء سے بہتر ہے۔“

(مجموعہ اشتہارات ج٣ ص٢٧٨)

٤٧

صفحہ ٢٤٩

مرزا قادیانی کو ایک شعر الہام ہوتا ہے۔

مقام اولین از راہ تحقیر
بدورِ اَش رسولاں ناز کردند

(تذکرہ ج٢ ص٦٠٣)

اس کے یعنی مرزا قادیانی کے مقام کو حقارت کو نظر سے مت دیکھو۔ مرزا قادیانی کے زمانے کے لئے رسول بھی فخر اور ناز کرتے تھے۔ مرزا قادیانی کے بیٹے محمود احمد کی پیدائش کے بعد اسی نوزائیدہ بچے کے متعلق مرزا قادیانی پر ایک الہام ان الفاظ میں برستا ہے ۔

اے فخرِ رسل قرب تو معلوم شد
دیر آمدہ زراہ دور آمدہ

(تریاق القلوب ص٤٢، خزائن ج١٥ ص٢١٩)

اے فخر رسل تیرا قرب ہمیں معلوم ہو گیا ہے۔ تو دیر سے آیا ہے اور دور کے راستہ سے آیا ہے۔ ”دافع البلاء“ میں مرزا رقم طراز ہے۔

ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو
اس سے بہتر غلام احمد ہے

(دافع البلاء ص٢٠، خزائن ج١٨ ص٢٤٠)

اسی کتاب میں لکھا ہے۔ اے عیسائی مشنریو ”یا ربنا المسیح “ مت کہو۔ دیکھو آج تم میں ایک ہے۔ جو اس مسیح سے بڑھ کر ہے۔“

(دافع البلاء ص١٣، خزائن ج١٨ ص٢٣٣)

ازالہ اوہام میں اپنے عقیدے کا اظہار اس شعر میں کرتا ہے۔

اینک منم کہ حسب بشارات آمدم
عیسیٰ کجاست تا بنہد پا بعرشم

میں وہ ہوں کہ جو حسب بشارات آیا ہوں۔ عیسیٰ کہاں ہے کہ میرے منبر پر پاؤں رکھے۔

(ازالہ اوہام ص١٥٨، خزائن ج٣ ص١٨٠)

اپنے اسی اعتقاد کی وضاحت یوں کرتا ہے۔ ”خدا نے اس اُمت میں سے مسیح موعود بھیجا ہے۔ جو پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے۔“

(حقیقت الوحی ص١٤٨، خزائن ج٢٢، خزائن ج١٥٢)

٤٨

اسی کتاب میں کہتا ہے: ”مجھے قسم ہے اس ذا کہ اگر مسیح ابن مریم میرے زمانے میں ہوتا تو وہ کام جو می جو مجھ سے ظاہر ہو رہے ہیں وہ ہرگز نہ دکھا سکتا۔“ ایک جگہ یوں لکھا ہے: ”مسیح محمدی مسیح موسو اسی کتاب میں دوبارہ کہتا ہے: ”مثیل موسیٰ مریم سے بڑھ کر۔“ مرزا غیظ وغضب کی حالت میں لکھتا ہے: ” اور تمام نبیوں نے آخری زمانہ کے مسیح کو اس کے کارنامو شیطانی وسوسہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ کیوں تم مسیح ابن مریم

مرزا قادیانی کے ان حوالہ جات سے صاف حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے افضل واعلیٰ قرار دے رہا ہ اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہوں اور یہ فضیلت جزوی کلی ہو نہیں سکتی۔

مرزا قادیانی فخریہ لکھتا ہے: ”اے قوم شیع ہے۔ کیونکہ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ آج تم میں ایک ہے ک

اپنی جھوٹی شان کا اظہار کرتے ہوئے کہتا ہ

کربلا ئیست سیر
صد حسین است

میری سیر ہر وقت کربلا میں ہے۔ سو حسین ہ اعجاز احمدی میں مرزا رقم طراز ہے: ”شتّا اوید کل آن وانصر واما حسین فاذکروا ف فانظروا“

٤٩

صفحہ ٢٤٩

اسی کتاب میں کہتا ہے: ”مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر مسیح ابن مریم میرے زمانے میں ہوتا تو وہ کام جو میں کر سکتا ہوں وہ ہرگز نہ کر سکتا اور وہ نشان جو مجھ سے ظاہر ہو رہے ہیں وہ ہرگز نہ دکھا سکتا۔“

(حقیقت الوحی ص ١٥٥، خزائن ج ٢٢ ص ١٦٢)

ایک جگہ یوں لکھا ہے: ”مسیح محمدی مسیح موسوی سے افضل ہے۔“

(کشتی نوح ص ١٦، خزائن ج ١٩ ص ١٧)

اسی کتاب میں دوبارہ کہتا ہے: ”مثیل موسیٰ، موسیٰ سے بڑھ کر اور مثیل ابن مریم، ابن مریم سے بڑھ کر۔“

(کشتی نوح ص ١٣، خزائن ج ١٩ ص ١٤)

مرزا غیظ و غضب کی حالت میں لکھتا ہے: ”پھر جب کہ خدا نے اور اس کے رسول نے اور تمام نبیوں نے آخری زمانہ کے مسیح کو اس کے کارناموں کی وجہ سے افضل قرار دیا ہے۔ تو پھر یہ شیطانی وسوسہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ کیوں تم مسیح ابن مریم سے اپنے تئیں افضل قرار دیتے ہو۔“

(حقیقت الوحی ص ١٥٥، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٩)

مرزا قادیانی کے ان حوالہ جات سے صاف ثابت ہو رہا ہے کہ مرزا ملعون اپنے آپ کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے افضل و اعلیٰ قرار دے رہا ہے اور اعلان کر رہا ہے کہ میں پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہوں اور یہ فضیلت جزوی نہیں بلکہ کلی ہے اور غیر نبی کو نبی پر فضیلت کلی ہو نہیں سکتی۔

مرزا قادیانی فخریہ لکھتا ہے: ”اے قوم شیعہ اس پر اصرار مت کرو کہ حسین تمہارا منجی ہے۔ کیونکہ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ آج تم میں ایک ہے کہ حسین سے بڑھ کر ہے۔“

(دافع البلاء ص ١٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣)

اپنی جھوٹی شان کا اظہار کرتے ہوئے کہتا ہے:۔

کربلائیست سیر ہر آنم
صد حسین است در گریبانم

(نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)

میری سیر ہر وقت کربلا میں ہے۔ سو حسین ہر وقت میری جیب میں ہیں۔

اعجاز احمدی میں مرزا رقم طراز ہے: ”شتان ما بینی وبین حسینکم فانی اوید کل آن وانصر واما حسین فاذکروا دشت کربلا الی هذا الایام تبکون فانظروا“

(اعجاز احمدی ص ٧١، خزائن ج ١٩ ص ١٨١)

٤٩

صفحہ ٢٥٠

مجھ میں اور تمہارے حسین میں بہت فرق ہے۔ کیونکہ مجھے تو ہر ایک وقت خدا کی تائید اور مدد مل رہی ہے۔ مگر حسین پس تم دشت کربلا کو یاد کرلو۔ اب تک روتے ہو پس سوچ لو۔ ”انی قتیل الحب لکن حسینکم قتیل العدیٰ فالفرق اجلیٰ واظھر“ میں محبت کا کشتہ ہوں۔ مگر تمہارا حسین دشمنوں کا کشتہ ہے۔ پس فرق بیّن وظاہر ہے۔

(اعجاز احمدی ص ٨١، خزائن ج ١٩ ص ١٩٣)

قارئین کرام! مرزا ملعون کن مکروہ الفاظ اور متکبرانہ انداز میں امام حسینؓ سے افضلیت کا دعویٰ کررہا ہے۔ حضرت امام حسینؓ کے ایثار عظیم الشان قربانی اور شہادت عظمیٰ کی تعریف میں دنیا کی تمام غیرمسلم اقوام تک رطب اللسان ہیں۔ کربلا کے معرکہ حق وباطل میں حضرت امام حسینؓ نے جس عزم، جرات، صبر واستقلال اور بہادری کا اعلیٰ ترین نمونہ دنیا کے سامنے پیش کیا۔ وہ آپ ہی اپنی نظیر ہے۔ اس عظیم الشان شہادت کے سامنے مرزائے قادیانی ملعون کو پیش کرنا آفتاب کے سامنے چراغ دکھلانا ہے۔

چہ نسبت خاک را با عالم پاک

کہاں حضرت امام حسینؓ کا ایثار، صبر واستقامت حق اور کہاں مرزا کی بزدلی کہ ایک معمولی مجسٹریٹ کی چشم نمائی پر فوراً لکھ دیا کہ میں کسی مخالف کے متعلق موت وعذاب وغیرہ کی اندازی پیش گوئی اس کی اجازت کے بغیر شائع نہ کروں گا۔ اتنا ڈرپوک اور بزدل ہونے کے باوجود یہ دعویٰ کرنا کہ سو حسینؓ میری جیب میں ہیں۔ انتہائی کذب آفرینی نہیں تو اور کیا ہے؟

یہاں پر مرزا قادیانی کے چیلوں (مرزائیوں سے) ایک سوال ہے کہ تمہارے مرزا قادیانی نے جو کہا ہے کہ ”انی قتیل الحب“ تو مرزا قادیانی کس کی محبت کا کشتہ تھا؟ جواب دیتے ہوئے اس بات کو ذہن میں رکھیں کہ کہیں محمدی بیگم کا نام نہ لے لینا۔ کیونکہ مرزا قادیانی تو اسی کی محبت کا کشتہ تھا اور مرتے ہوئے بھی حسرت نکاح دل میں ہی گئی۔

مرزا قادیانی کہتا ہے: ”مَا اِنَا اِلَّا کَالقرآن وسیظھر علی یدی ما ظھر من الفرقان“ ”میں تو بس قرآن ہی کی طرح ہوں اور قریب ہے کہ میرے ہاتھ پر ظاہر ہوگا۔ جو کچھ کہ قرآن سے ظاہر ہوا۔“

(تذکرہ ص ٦٧٤)

دوسری جگہ لکھتا ہے۔

آنچہ من بشنوم زوحی خدا بخدا پاک دانمش زخطا
ہمچو قرآن منزہ اش دانم از خطاہا ہمین است ایمانم

٥٠

آن یعنے کہ ہو
واں یقین و تسلیم پر
کم نیم زاں ہمہ برو

جو کچھ میں وحی خدائے ایمان ہے کہ میری وحی قرآن کی السلام کو اس کلام پر تھا جو ان پر نازل المرسلین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو تم کسی نبی سے کم نہیں ہوں۔ جو مجھ مظاہرہ کیا۔

”یہ مکالمہ الٰہیہ جو مجھ شک کروں تو کافر ہو جاؤں اور میر اور قطعی ہے اور جیسا کہ آفتاب اور کی روشنی ہے۔ ایسا ہی میں اس کلام نازل ہوتا ہے اور میں اس پر ایسا ہی

قرآن مجید ایسی کتاب ہی فخر و ناز تھا۔ باوجود اہل زبان ہو یہ تھا کہ جب کوئی شاعر کوئی قصیدہ قصیدہ اس وقت تک وہاں لٹکتا رہت اور مفہومی لحاظ سے موازنہ کیا جات جاتا۔ جب قرآن پاک کی سورۃ کو کے مطابق حضرت عثمانؓ نے اسے مقصد، مدعا اور مفہوم سمجھنے کی کوش سے ایک پادری کو جب کتب سماو اس نے اسے دیکھنے اور موازنہ کر

صفحہ ٢٥١
آن یقینے کہ بود عیسیٰ را بر کلامے کہ شد بر او القا
وآں یقیں کلیم بر تورات وآں یقیں ہائے سید السادات
کم نیم زاں ہمہ بروئے یقین ہر کہ گوید دروغ ہست لعین

(نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)

جو کچھ میں وحی خدا سے سنتا ہوں ۔ خدا کی قسم اسے خطاء سے پاک سمجھتا ہوں۔ میرا ایمان ہے کہ میری وحی قرآن کی طرح تمام غلطیوں سے مبرا ہے۔ وہ یقین جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اس کلام پر تھا جو ان پر نازل ہوا۔ وہ یقین جو حضرت موسیٰ کو تورات پر تھا۔ وہ یقین جو سید المرسلین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو قرآن پر تھا۔ وہی یقین مجھے اپنی وحی پر ہے۔ اس یقین میں میں کسی نبی سے کم نہیں ہوں۔ جو جھوٹ کہتا ہے وہ لعین ہے۔ اسی باطل عقیدے کا دوسری جگہ یوں مظاہرہ کیا۔

”یہ مکالمہ الٰہیہ جو مجھ سے ہوتا ہے یقینی ہے۔ اگر میں ایک دم کے لئے بھی اس میں شک کروں تو کافر ہو جاؤں اور میری آخرت تباہ ہو جائے۔ وہ کلام جو میرے پر نازل ہوا۔ یقینی اور قطعی ہے اور جیسا کہ آفتاب اور اس کی روشنی کو دیکھ کر کوئی شک نہیں کر سکتا کہ یہ آفتاب اور یہ اس کی روشنی ہے۔ ایسا ہی میں اس کلام میں بھی شک نہیں کر سکتا کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے میرے پر نازل ہوتا ہے اور میں اس پر ایسا ہی ایمان لاتا ہوں۔ جیسا کہ خدا کی کتاب پر۔“

(تجلیات الٰہیہ ص ٢٠، خزائن ج ٢٠ ص ٤١٢)

قرآن مجید ایسی کتاب ہے کہ عرب جنہیں اپنی زبان دانی اور فصاحت و بلاغت پر بڑا ہی فخر و ناز تھا۔ باوجود اہل زبان ہونے کے وہ بھی اس پاک کتاب کا مقابلہ نہ کر سکے۔ ان کا قاعدہ یہ تھا کہ جب کوئی شاعر کوئی قصیدہ یا اشعار لکھتا تو اسے خانہ کعبہ کی دیوار کے ساتھ لٹکا دیا جاتا۔ وہ قصیدہ اس وقت تک وہاں لٹکتا رہتا جب تک کہ کوئی دوسرا نیا لکھ کر نہ لاتا۔ پھر ان دونوں کا الفاظی اور معنوی لحاظ سے موازنہ کیا جاتا۔ جس کے الفاظ اور جس کا مفہوم بہتر ہوتا۔ اسے وہاں پر لٹکا دیا جاتا۔ جب قرآن پاک کی سورۃ کوثر ”انا اعطینك الکوثر“ نازل ہوئی تو نبی ﷺ کے فرمان کے مطابق حضرت عثمانؓ نے اسے خانہ کعبہ کی دیوار کے ساتھ لٹکایا۔ تمام اہل عرب اس کا مطلب، مقصد، مدعا اور مفہوم سمجھنے کی کوشش کرتے رہے۔ مگر کوئی بھی اس کا عقدہ حل نہ کر سکا۔ بالآخر شام سے ایک پادری کو جب کتب سماویہ کا عالم ہونے کے علاوہ عربی لغت کا بھی واقف تھا، بلایا گیا۔ اس نے اسے دیکھنے اور موازنہ کرنے کے بعد اس کے نیچے لکھ دیا۔ ”واللہ ما ہذا کلام

٥١

صفحہ ٢٥٢

البشر “ اللہ کی قسم یہ کسی انسان کا کلام نہیں۔ اسی لئے تو اس واضح چیلنج ”فأتوا بسورة من مثلہ“ کے باوجود کوئی ایک آیت بھی اس کے مقابلے میں نہ لا سکا۔ عرب جس پاک کتاب کا مقابلہ کرنے سے قاصر رہے۔ (باوجود اہل زبان ہونے کے) مرزا قادیانی اپنے آپ کو اور اپنی وحی کو اس کے ساتھ مناسبت دیتا ہے کہ میں قرآن ہی کی طرح ہوں۔

مرزا قادیانی کے مخلص چیلے

جب غلام احمد قرآن ہی کی طرح ہے تو پھر تمہیں قرآن مجید کے درس اور قرآن کے اردو، انگریزی اور دیگر زبانوں کے ترجموں کی کیا ضرورت ہے۔ جب مرزا ملعون کا دعویٰ ہے کہ میں قرآن ہی کی طرح ہوں اور وہ اپنا فوٹو (تصویر) بھی کھنچوا کر تمہیں دے گیا ہے۔ پس تمہیں جہاں کہیں بھی قرآن فہم یا کسی زبان میں اس کی تفسیر کی ضرورت محسوس ہو۔ غلام احمد کی تصویر (فوٹو) وہاں بھیج دیا کرو۔ بڑا ہی آسان نسخہ ہے۔ ہینگ لگے نہ پھٹکڑی رنگ بھی چوکھا آئے۔

مرزا غلام احمد قادیانی لکھتا ہے: ”شخصے پائے من بوسید من گفتم کہ حجر اسود منم“

(تذکرہ ص ٣٦)

ایک صاحب نے میرے پاؤں کو بوسہ دیا تو میں نے کہا کہ حجر اسود میں ہوں۔ مرزا قادیانی کہتا ہے۔

زمین قادیان اب محترم ہے
ہجوم خلق سے ارض حرم ہے

(درِثمین اردو ص ٥٢)

قادیانیو!

یہاں اس شعر میں تو آپ کے حضرت نے کمال ہی کر دیا۔ کیا یہی وہ مرزا کا ایجاد کردہ علم کلام ہے، جس پر تمہیں ناز ہے؟ ذرا کان کھول کر سنو۔ مرزا کہتا ہے کہ قادیان کی زمین قابل عزت ہے اور لوگوں کا ہجوم زیادہ ہونے کی وجہ سے ”ارض حرم“ بن گئی ہے۔ اب تو تمہیں حج کرنے کے لئے کعبۃ اللہ جانے کی ضرورت نہیں رہی۔ قادیان کی زمین ”ارض حرم“ بن گئی ہے۔ مرزا حجر اسود ہے۔ (اب مرزا قادیانی کے مزار کے بوسے لئے جاتے ہیں) ”انا اعطينك الكوثر “ مرزا قادیانی کا الہام پہلے سے موجود ہے۔

(البشریٰ ج ٢ ص ١٠٩)

قادیان کی کسی گندی ڈھاب کو آب زمزم سمجھ لو۔ سب کچھ پورا ہو گیا۔ مگر ایک بات یاد رکھنا کہ ”قادیان“ وہی جگہ ہے جس کے متعلق تمہارے مجدد، ظلی اور بروزی نبی کا الہام ہے۔

٥٢

٥٣

”اخرج منه اليزيديون“ قادیان میں یزیدیو

(ازالہ اوہام ص

قادیان ارض حرم ہو یا یزیدیوں کے ر اور تمہارا کام۔ اگر تمہیں جرات اور حوصلہ ہو تو ایک کہہ گیا ہے کہ لوگوں کا ہجوم زیادہ ہونے کی وجہ سے ہجوم اور جمگھٹے سے کوئی جگہ ”ارض حرم“ بن جاتی ہے مرزا قادیانی پر چند الہام ان الفاظ میں للعالمین“ اے مرزا ہم نے تجھے اس لئے بھیجا ہے

” داعی الی اللہ “ اور سراج منی قرآن شریف میں دیئے گئے ہیں۔ پھر وہی دونوں خ

” اس جگہ صور کے لفظ سے مراد مسیح موعود

” میں ہندوؤں کے لئے کرشن ہوں۔“

” جے کرشن جی رودر گوپال ۔“

” برہمن اوتار (یعنی مرزا قادیانی) سے

” آریوں کا بادشاہ۔“

” امین الملک جے سنگھ بہادر۔“

”ان قدمي على منارۃ ختم جہاں کل بلندیاں ختم ہو چکی ہیں۔

” آسمان سے کئی تخت اترے۔ مگر میرا تخ

”اتاني مالم يؤت احداً من العالم لوگوں میں سے کسی کو نہ دی۔

٥٣

صفحہ ٢٥٣

”اخرج منه اليزيديون“ قادیان میں یزیدی لوگ پیدا کئے گئے ہیں۔

(ازالہ اوہام ص ٧٢ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ١٤٨، البشریٰ ج ٢ ص ١٩)

قادیان ارض حرم ہو یا یزیدیوں کے رہنے کی جگہ۔ ہمیں اس سے کیا مطلب۔ تم جانو اور تمہارا کام۔ اگر تمہیں جرأت اور حوصلہ ہو تو ایک سوال کا جواب ضرور دینا۔ وہ یہ کہ مرزا قادیانی کہہ گیا ہے کہ لوگوں کا ہجوم زیادہ ہونے کی وجہ سے قادیان ارض حرم بن گیا ہے۔ اگر انسانوں کے ہجوم اور جمگھٹے سے کوئی جگہ ”ارض حرم“ بن جاتی ہے تو تم نیویارک اور لندن کو کعبہ کب بناؤ گے؟

مرزا قادیانی پر چند الہام ان الفاظ میں برستے ہیں: ”وما ارسلنک الا رحمة للعالمین“ اے مرزا ہم نے تجھے اس لئے بھیجا ہے کہ تمام جہانوں کے لئے تجھے رحمت بنائیں۔

(انجام آتھم ص ٧٨، خزائن ج ١١ ص ٧٨)

”داعی الی الله“ اور سراج منیر یہ دو نام اور دو خطاب خاص آنحضرت ﷺ کو قرآن شریف میں دیئے گئے ہیں۔ پھر وہی دونوں خطاب الہام میں مجھے دیئے گئے ہیں۔

(اربعین نمبر ٢ ص ٥، خزائن ج ١٧ ص ٣٥٠، ٣٥١)

”اس جگہ صور کے لفظ سے مراد مسیح موعود (مرزا قادیانی) ہے۔“

(چشمہ معرفت ص ٧٧، خزائن ج ٢٣ ص ٨٥)

”میں ہندوؤں کے لئے کرشن ہوں۔“

(لیکچر سیالکوٹ ص ٣٣، خزائن ج ٢٠ ص ٢٢٨)

”ہے کرشن جی رودر گوپال۔“

(البشریٰ ج ١ ص ٥٦، تذکرہ ص ٦٢٠)

”برہمن اوتار (یعنی مرزا قادیانی) سے مقابلہ اچھا نہیں۔“

(تذکرہ ص ٦٢٠)

”آریوں کا بادشاہ۔“

(تذکرہ ص ٦٧٢)

”امین الملک جے سنگھ بہادر۔“

(البشریٰ ج ٢ ص ١١٨)

”ان قدمی علی منارة ختم علیہ کل رفعة“ میرا قدم اس منارہ پر ہے جہاں کل بلندیاں ختم ہو چکی ہیں۔

(خطبہ الہامیہ ص ٣٥، خزائن ج ١٦ ص ٧٠)

”آسمان سے کئی تخت اترے۔ مگر میرا تخت سب سے اونچا بچھایا گیا۔“

(البشریٰ ج ٢ ص ٥٦)

”اتانی مالم یؤت احداً من العلمین“ خدا نے مجھے وہ چیز دی۔ جو جہاں کے لوگوں میں سے کسی کو نہ دی۔

(حقیقت الوحی ص ١٠٧، خزائن ج ٢٢ ص ١١٠)

٥٣

صفحہ ٢٥٤

قارئین کرام

ان الہامات میں عجیب و غریب دعاوی اور نام مرزا کی طرف منسوب کئے گئے ہیں۔ حیرانی کی بات تو یہ ہے کہ فرد واحد اتنے ناموں اور عہدوں کا مصداق کس کس طرح ہوسکتا ہے۔ کیا کوئی مرزائی ایسا بھی ہے جو اپنے گورو کی ان بھول بھلیوں کو حل کرے؟ مرزا قادیانی نے خود بھی کئی جگہ لکھا ہے اور مرزائی بھی اسی لکیر کے فقیر ہیں کہ حدیث میں مسیح ناصری اور مسیح موعود کے دو علیحدہ علیحدہ حلیے موجود ہیں۔ اس لئے مسیح ناصری ان دو حلیوں کا مصداق نہیں ہو سکتا۔ لیکن یہ نہیں سوچتے کہ خود مرزا قادیانی کے ڈھانچے میں محمد، احمد، عیسیٰ، موسیٰ، ابراہیم، کرشن، برہمن، اوتار، جے سنگھ بہادر وغیرہ وغیرہ مختلف ہستیاں کس طرح جمع ہو سکتی ہیں؟

مرزا اپنا الہام بیان کرتے ہوئے: ”یحمدک اللہ من عرشہ یحمدک اللہ ویمشی الیک“ خدا عرش پر سے تیری حمد کرتا ہے اور تیری طرف چلا آتا ہے۔

(انجام آتھم ص ٥٥، خزائن ج ١١ ص ٥٥)

مرزا قادیانی نے یہ نہیں بتایا کہ خدا تعالیٰ مرزا قادیانی کے پاس پہنچا بھی تھا یا نہیں؟ مرزا قادیانی کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے ان الفاظ سے مخاطب کیا ہے۔ ”انت اسمی الاعلیٰ“ اے مرزا تو میرا سب سے بڑا نام ہے۔

(البشریٰ ج ٢ ص ٦١)

واہ کرشن قادیانی یہاں تو تو نے غضب ہی کر دیا۔ یہ الہام شائع کرتے وقت اتنا نہ سوچا کہ عیسائی اور آریہ سماجی کیا کہیں گے کہ مرزا قادیانی کی پیدائش سے پہلے مسلمانوں کو خدا کا اعلیٰ نام تک معلوم نہ تھا اور قرآن وحدیث خداوند کریم کے اعلیٰ اور ذاتی نام سے بالکل خالی تھے۔ مرزا قادیانی کے اس نئے اور اچھوتے انکشاف سے پتہ چلا کہ خدا تعالیٰ کا سب سے بڑا نام غلام احمد ہے۔

مرزا قادیانی کا ایک الہام ”انت مدینۃ العلم“ اے مرزا تو علم کا شہر ہے۔

(البشریٰ ج ٢ ص ٦١)

ہمارے آقائے نامدار حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ نے فرمایا: ”انا مدینۃ العلم وعلی بابھا“ میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے۔ مگر قادیانی کرشن کہتا ہے کہ میں علم کا شہر ہوں۔ مرزائیو! سچ سچ کہنا کہ تم حدیث شریف کو سچا جانتے ہو یا اپنے کرشن قادیانی کے الہام کو؟ مرزا قادیانی کہتا ہے: ”انی همی الرحمٰن“ میں خدا کی باڑھ ہوں۔

(البشریٰ ج ٢ ص ٨٩)

مرزا غلام احمد قادیانی کہتا ہے کہ میں خدا کی باڑھ ہوں۔ زمیندار کھیت کے گرد جو باڑھ ٥٤

صفحہ ٢٥٥

لگاتے ہیں۔ اس سے مقصد یہ ہوتا ہے کہ کھیت کی حفاظت کی جائے۔ اس سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی کا الہام کنندہ اتنا کمزور ہے کہ اسے اپنی حفاظت کے لئے مرزا قادیانی سے حفاظت کرانے کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے اور یہ الہام کنندہ مرزا قادیانی کی طرح ڈرپوک اور کمزور دل ہوگا۔ ”ہمارا رحمٰن و رحیم خدا تو قادر مطلق ہے۔“

مرزا قادیانی کا الہام

”انی مع الاسباب اتيك بغتة انى مع الرسول اجيب اخطى واصیب“ میں اسباب کے ساتھ اچانک تیرے پاس آؤں گا۔ خطا کروں گا اور بھلائی کروں گا۔

(البشریٰ ج ٢ ص ٧٩)

مرزائیو! تمہارے گورو کا الہام کنندہ کہہ رہا ہے کہ میں خطا کروں گا۔ کیا خدائے واحد وقدوس بھی خطا کیا کرتا ہے؟ اس الہام سے معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی جو خطاؤں اور اجتہادی غلطیوں کے جال میں ۔ ساری عمر پھنسا رہا۔ یہ دراصل اس کا اپنا قصور نہیں۔ بلکہ اس کے الہام کنندہ کا چلن ہی ایسا تھا کہ وہ خود بھی خطا و نسیان کے چکر سے باہر نہ تھا۔ اسی لئے تو مرزا قادیانی کو تمام عمر اس گورکھ دھندے میں پھنسے رکھا۔ سچ ہے۔

ما مریدان رو بسوئے کعبہ چوں آریم چوں
رخ بسوئے خانہ خمار دارد پیر ما

مرزا قادیانی کو الہام ہوا ہے: ”اصلی واصوم اسہر و انام“ میں نماز پڑھوں گا اور روزہ رکھوں گا، جاگتا ہوں اور سوتا ہوں۔

(البشریٰ ج ٢ ص ٧٩)

قرآن مجید میں اللہ تبارک و تعالیٰ کے متعلق ارشاد ہے: ”لا تاخذہ سنة ولا نوم“ نہ اللہ تعالیٰ پر اونگھ غالب آتی ہے نہ نیند۔ لیکن مرزا قادیانی کو الہام ہو رہا ہے کہ میں جاگتا ہوں اور سوتا ہوں۔ اب یہ مرزائیوں کا فرض ہے کہ وہ دنیا کے سامنے اعلان کر دیں کہ ان دونوں میں سے کس نظریے کو صحیح سمجھتے ہیں؟

مرزا قادیانی لکھتا ہے: ”ایک دفعہ تمثیلی طور پر مجھے خدا تعالیٰ کی زیارت ہوئی اور میں نے اپنے ہاتھ سے کئی پیش گوئیاں لکھیں۔ جن کا مطلب یہ تھا کہ ایسے واقعات ہونے چاہئیں۔ تب میں نے وہ کاغذ دستخط کرانے کے لئے خدا تعالیٰ کے سامنے پیش کیا اور اللہ تعالیٰ نے بغیر کسی تامل کے سرخی کی قلم سے اس پر دستخط کئے اور دستخط کرنے کے وقت قلم کو جھٹکا۔ جیسا کہ جب قلم پر زیادہ سیاہی آ جاتی ہے تو اسی طرح پر جھاڑ دیتے ہیں اور پھر دستخط کر دیئے اور میرے پر اس وقت

صفحہ ٢٥٧

نہایت رقت کا عالم تھا۔ اس خیال سے کہ کس قدر خدا تعالیٰ کا میرے پر فضل اور کرم ہے کہ جو کچھ میں نے چاہا بلا توقف اللہ تعالیٰ نے اس پر دستخط کر دیئے اور اسی وقت میری آنکھ کھل گئی اور اس وقت میاں عبداللہ سنوری مسجد کے حجرے میں میرے پیر دبا رہا تھا کہ اس کے روبرو غیب سے سرخی کے قطرے میرے کرتے اور اس کی ٹوپی پر بھی گرے اور عجیب بات یہ ہے کہ اس سرخی کے قطرے گرنے اور قلم جھاڑنے کا ایک ہی وقت تھا۔ ایک سیکنڈ کا بھی فرق نہ تھا۔ ایک غیر آدمی اس راز کو نہیں سمجھے گا اور شک کرے گا۔ کیونکہ اس کو صرف ایک خواب کا معاملہ محسوس ہوگا۔ مگر جس کو روحانی امور کا علم ہو۔ وہ اس میں شک نہیں کر سکتا۔ اسی طرح خدا نیست سے ہست کر سکتا ہے۔ غرض میں نے یہ سارا قصہ میاں عبداللہ کو سنایا اور اس وقت میری آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ عبداللہ جو ایک روایت کا گواہ ہے۔ اس پر بہت اثر ہوا اور اس نے میرا کرتہ بطور تبرک اپنے پاس رکھ لیا۔ جو اب تک اس کے پاس موجود ہے۔“

(حقیقت الوحی ص ٢٥٥، خزائن ج ٢٢ ص ٢٦٧)

مرزائیو! قرآن مجید میں ارشاد ہے ”لیس کمثلہ شئ“ کہ اللہ تعالیٰ کی مثل کوئی چیز نہیں۔ خدائے واحد کی ذات عالی تشبیہات سے منزہ ہے۔ لیکن تمہارا مرزا قادیانی قرآن حکیم کے اس محکم اصول کے خلاف لکھ گیا ہے کہ ایک دفعہ تمثیلی طور پر مجھے خداوند تعالیٰ کی زیارت ہوئی۔ خوف خدا کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے تم ہی بتا دو کہ بے مثل کا ممثل کس طرح ہو سکتا ہے؟ اور غیر محدود کا ممثل محدود ہو سکتا ہے یا نہیں؟ جواب دیتے وقت بے پر کی مت اڑانا اور اگر ہمت ہے تو قرآن کریم کی کوئی آیت نقل کرنا جس سے تمثیلی طور پر خدا کی زیارت کا ثبوت مل سکے۔ مرزا قادیانی کے اسی کشف کے متعلق دوسرا سوال یہ ہے کہ اپنی پیش گوئیوں کی تصدیق کے لئے جو کاغذات مرزا قادیانی نے خدا تعالیٰ کے سامنے پیش کئے اور اللہ تعالیٰ نے سرخی کے قلم سے ان پر دستخط کر دیئے۔ جب سرخ رنگ مادی اور حقیقی تھا۔ تو اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ وہ کاغذات بھی مادی ہی ہوں گے۔ تب مرزائی بتائیں کہ وہ کاغذ کہاں ہیں اور اللہ تعالیٰ نے کس زبان کے حروف میں دستخط کئے تھے؟ ساتھ ہی یہ بھی بتایا جائے کہ پیش گوئیاں کس کس کے متعلق تھیں؟ اور باوجود اللہ تعالیٰ کی بارگاہ سے تصدیق ہو جانے کے وہ پوری ہوئیں یا نہیں؟ نیز یہ بھی بتایا جائے کہ ارادہ الٰہی سے قلم پر زیادہ رنگ آگیا تھا یا خدا کے ارادے کے بغیر ہی قلم نے زیادہ رنگ اٹھا لیا؟

مرزا قادیانی دجال کہتا ہے: ”میں خواب میں کیا دیکھتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کی عدالت میں ہوں۔ میں منتظر ہوں کہ میرا مقدمہ بھی ہے۔ اتنے میں جواب ملا ”اصبر سنفرغ یا مرزا “ کہ اے مرزا صبر کر ہم عنقریب فارغ ہوتے ہیں۔ پھر میں ایک دفعہ کیا دیکھتا ہوں کہ میں

٥٦

کچہری میں گیا ہوں تو اللہ تعالیٰ ایک حاکم کی صورت میں بیٹھا ہے اور ہاتھ میں ایک مسل لئے ہوئے میرا مقدمہ سامنے ہے تو میں نے ایک باریک نظر سے دیکھا تو وہ مسل میری ہی معلوم ہوئی اس نے مجھے کہا کہ اس پر دستخط کر دوں اتنے میں بیدار ہو گیا۔“

معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کوئی کلرک یا جج ہے جو میز کرسی لگائے کچہری کا کام کر رہا ہے

تشبیہ دینا اس کی شان کے صریح خلاف ہے۔

اتنا مصروف ہے کہ اسے اپنے نبیوں اور رسولوں سے بات کرنے کی فرصت نہیں ملتی۔

”وما خلقت الجن والانس الا ليعبدون“ کہ میں نے جنوں اور انسانوں کے دونوں گروہوں کو اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے۔

اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے مولا نا اشرف علی تھانوی بیان القرآن میں لکھتے ہیں: ”اور یہاں متوجہ ہونے سے معنی لے کر بھی مراد وہی ہوگی۔ یعنی سخت سزا دینا کے موقع پر بولا جاتا ہے۔ پس سنفرغ یا مرزا قادیانی کو سخت ڈانٹ دی ہے کہ اے مرزا ہم عنقریب تجھ کو سزا دیں گے۔ اور اس میں یہ بھی اشارہ ہے کہ تمہارے کرشن جی مہاراج کو اسی دنیا میں س زا ملے گی اور پھر قیامت کے دن بھی ملے گی۔“

مرزا قادیانی کو الہام ہوا: ”انت من ی بمنزلۃ توحیدی وتفریدی“ یعنی تو میرے نزدیک بمنزلہ میری توحید وتفرید کے ہے

قادیانیو! جب خدائے واحد وقدوس کی توحید وتفرید میں شریک کرنے والو! کیا تمہیں شرم نہیں آتی کہ خدا کی ذات اور صفات میں کوئی شریک نہیں جب مرزا قادیانی خدا کی توحید وتفرید کی مانند ہو گیا تو پھر توحید کہاں رہی؟ اور تفرید کا کیا بنا؟

مرزا قادیانی اپنے الہامات بیان کرتا ہے

٧

صفحہ ٢٥٧

کچہری میں گیا ہوں تو اللہ تعالیٰ ایک حاکم کی صورت میں کرسی پر بیٹھا ہوا ہے اور ایک طرف ایک رشتہ دار ہے کہ ہاتھ میں ایک مسل لئے ہوئے پیش کر رہا ہے۔ حاکم نے مسل اٹھا کر کہا کہ مرزا قادیانی حاضر ہے تو میں نے ایک باریک نظر سے دیکھا کہ ایک کرسی اس کے ایک طرف خالی پڑی ہوئی معلوم ہوئی اس نے مجھے کہا کہ اس پر بیٹھو اور اس نے مسل ہاتھ میں لی ہوئی ہے۔ اتنے میں میں بیدار ہوگیا۔‘‘

(ملفوظات ج ٥ ص ٥٢)

جو میز کرسی لگائے کچہری کا کام کر رہا ہے۔

سے بات کرنے کی فرصت ملتی ہے۔

جنوں اور انسانوں کے دونوں گروہو۔ ہم تمہاری طرف جلد متوجہ ہوں گے۔

اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے مولوی محمد علی امیر جماعت مرزائیہ لاہور نے بیان القرآن میں لکھا ہے: ”اور یہاں متوجہ ہونے سے مراد سزا دینے کے لئے متوجہ ہونا ہے اور معمولی معنی لے کر بھی مراد وہی ہوگی۔ یعنی سخت سزا دینا کیونکہ کسی چیز کے لئے فارغ ہونا اکثر تہدید کے موقع پر بولا جاتا ہے۔ پس سنفرغ یا مرزا قادیانی سے ثابت ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے مرزا قادیانی کو سخت ڈانٹ دی ہے کہ اے مرزا ہم عنقریب تجھ کو سخت اور درد ناک سزادیں گے۔ مرزائیو! ذرا یہ تو بتانا کہ تمہارے کرشن جی مہاراج کو اسی دنیا میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے سخت سزا مل چکی ہے یا قیامت کے دن ملے گی۔‘‘

مرزا قادیانی کو الہام ہوا: ”انت منی بمنزلة توحیدی وتفریدی “ اے مرزا تو میرے نزدیک بمنزلہ میری توحید وتفرید کے ہے۔

(حقیقۃ الوحی ص ٨٦، خزائن ج ٢٢ ص ٨٩)

قادیانیو! جب خدائے واحد و قدوس بے مثل ہے تو اس کی توحید و تفرید بھی بے مثل ہوگی یا نہیں؟ اپنے گورو کو خداوند عالم کی توحید وتفرید کی مانند تسلیم کر لینے کے بعد بھی تم کہہ سکتے ہو کہ خدا کی ذات اور صفات میں کوئی شریک نہیں؟ تم غور نہیں کرتے کہ جب مرزا قادیانی خدا کی توحید و تفرید کی مانند ہو گیا تو پھر توحید کہاں رہی۔

مرزا قادیانی اپنے الہامات بیان کرتا ہے۔ ”انت منی بمنزلة ولدی “ اے مرزا

٥٧

صفحہ ٢٥٨

تو میرے نزدیک بمنزلہ میرے بیٹے کے ہے۔

(حقیقۃ الوحی ص ٨٦، خزائن ج ٢٢ ص ٨٩)

”انت منی بمنزلۃ اولادی“ تو مجھ سے بمنزلہ میری اولاد کے ہے۔

(البشریٰ ج ٢ ص ٦٥)

”مسیح اور اس عاجز کا مقام ایسا ہے کہ اس کو استعارہ کے طور پر ابنیت کے لفظ سے تعبیر کر سکتے ہیں۔“

(توضیح مرام ص ٢٧، خزائن ج ٣ ص ٦٤)

مرزائیو! تمہارے حضرت نے تو کہا تھا کہ میں بالکل قرآن ہی کی طرح ہوں اور مجھ سے وہی ظاہر ہوگا جو قرآن سے ظاہر ہوا۔ لیکن یہاں تو اصول قرآنی کے صریحاً خلاف الہامات کے چھینٹے برس رہے ہیں۔ قرآن کریم نے نہایت ہی زبردست الفاظ میں تردید کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کسی کو اپنا بیٹا نہیں بنایا۔ جیسا کہ فرمایا ہے: ”وقالوا اتخذ الرحمٰن ولداً لقد جئتم شیئاً اداً تکاد السمٰوت یتفطرن منہ وتنشق الارض وتخر الجبال هداً ان دعوا للرحمٰن ولداً وما ینبغی للرحمٰن ان یتخذوا ولداً (مریم: ٨٨، ٩٠)“ ﴿ (مرزا قادیانی اور اس کے چیلے) کہتے ہیں کہ رحمٰن نے (مرزا قادیانی کو) بیٹا بنایا۔ (مرزائیو) یقیناً تم ایک خطرناک بات کر گزرے۔ قریب ہے کہ آسمان اس سے پھٹ پڑیں اور زمین شق ہو جائے اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر گر جائیں کہ وہ (مرزائی) رحمٰن کے لئے بیٹے کا دعویٰ کرتے ہیں اور رحمٰن کو شایان نہیں کہ وہ بیٹا بنائے۔﴾

ان آیات میں کن زور دار اور ہیبت ناک الفاظ میں تردید کی گئی ہے کہ خدائے رحمٰن نے کسی کو اپنا بیٹا نہیں بنایا اور نہ ہی اللہ تعالیٰ کے شایان شان ہے کہ وہ بیٹا بنائے۔

مرزا قادیانی کے مریدو

جواب دو کہ اپنے گرو کے دونوں الہاموں میں سے کس کو سچا سمجھتے ہو اور کس کو غلط؟ اگر اس الہام کو صحیح مانتے ہو کہ میں بالکل قرآن ہی کی طرح ہوں اور مجھ سے وہی ظاہر ہوگا جو قرآن سے ظاہر ہوا تو دوسرے الہام کہ اے مرزا تو میرے نزدیک بمنزلہ میرے بیٹے کے ہے کے متعلق کیا کہو گے؟ قرآن پاک عقیدہ ابنیت کی بیخ کنی کر رہا ہے اور مرزا قادیانی کا الہام اسے خدا کا بیٹا بنا رہا ہے۔ مرزا قادیانی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”سرك سرى“ اے مرزا تیرا بھید میرا بھید ہے۔

(البشریٰ ج ٢ ص ١٢٩)

”ظهورك ظهوری“ اے مرزا تیرا ظہور میرا ظہور ہے۔

(البشریٰ ج ٢ ص ١٤٦)

ان دونوں حوالہ جات سے صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ خدا نے مرزا قادیانی کو فرمایا کہ اے

٥٨

صفحہ ٢٥٩

مرزا میں اور تو دونوں ایک ہی ہیں۔ ہم میں کوئی فرق نہیں۔ عیسائیوں کے ہاں باپ بیٹا اور روح القدس تینوں مل کر ایک خدا بنتا ہے۔ لیکن مرزا قادیانی نے تیسرے کی گنجائش نہیں چھوڑی۔ ایک خدا تو عالم بالا میں ہے۔ دوسرا مرزا قادیانی کی شکل میں زمین پر نازل ہوا۔ جیسا کہ مرزا قادیانی کا الہام ہے۔ ”خدا قادیان میں نازل ہوگا۔“

(البشریٰ ج ١ ص ٥٦)

لیکن پھر بھی وہ خدا نہیں۔ بلکہ ایک ہی خدا ہے۔ کیونکہ مرزا قادیانی کا ظہور خدا کا ظہور ہے۔ مرزا قادیانی کے اسی عقیدے کی وضاحت اس عبارت سے ہو رہی ہے۔ مرزا قادیانی لکھتا ہے کہ: ”رأيتنى فى المنام عين الله وتيقنت اننى هو ولم يبق لى ارادة ولا خطرة وبين ما انا فى هذه الحالة كنت اقول انا نريد نظاماً جديداً سماء جديدة وارضاً جديدة فخلقت السموت والارض اوّلاً بصورة اجمالية لا تفريق فيها ولا ترتيب ثم فرقتها ورتبتها وكنت اجد نفسى على خلقها كالقادرين ثم خلقت السماء الدنيا وقلت انا زينا السماء الدنيا بمصابيح ثم قلت الان نخلق الانسان من سلالة من طين فخلقت آدم انا خلقنا الانسان فى احسن تقويم وكنا كذالك الخالقین“ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں بعینہ اللہ ہوں۔ میں نے یقین کر لیا کہ میں وہی ہوں اور نہ میرا ارادہ باقی رہا اور نہ خطرہ۔ اسی حال میں (جب کہ میں بعینہ خدا تھا) میں نے کہا کہ ہم ایک نیا نظام نیا آسمان اور نئی زمین چاہتے ہیں۔ پس میں نے پہلے آسمان اور زمین اجمالی شکل میں بنائے۔ جن میں کوئی تفریق اور ترتیب نہ تھی۔ پھر میں نے ان میں جدائی کر دی اور ترتیب دی اور میں اپنے آپ کو اس وقت ایسا پاتا تھا کہ میں ایسا کرنے پر قادر ہوں۔ پھر میں نے آسمان دنیا کو پیدا کیا اور کہا ”انا زينا السماء الدنيا بمصابیح“ پھر میں نے کہا ہم انسان کو مٹی کے خلاصہ سے پیدا کریں گے۔ پس میں نے آدم کو بنایا اور ہم نے انسان کو بہترین صورت پر پیدا کیا اور اس طرح سے میں خالق ہو گیا۔

(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٦٤، ٥٦٥، خزائن ج ٥ ص ٥٦٤، ٥٦٥)

قادیانیو! بتاؤ اور سچ بتاؤ کہ تمہارے مرزا ملعون نے خدا ہونے میں کون سی کسر باقی چھوڑی ہے؟ مرزا قادیانی کہتا ہے کہ میں نے یقین کر لیا کہ میں بعینہ اللہ ہوں۔ فرعون نے بھی تو یہی کہا تھا۔ ”انا ربكم الاعلٰی “ بتاؤ کہ مرزا قادیانی اور فرعون کے الفاظ میں کیا فرق ہے؟ مرزا قادیانی دجال نے صرف یہی نہیں کہا کہ میں خدا ہوں اور میں نے زمین اور آسمان پیدا کئے ہیں۔ بلکہ اس سے بھی بڑھ کر کہتا ہے: ”اعطيت صفة الافناء والاحياء“

٥٩

صفحہ ٢٦٠

مجھ کو فانی کرنے اور زندہ کرنے کی صفت دی گئی ہے۔

(خطبہ الہامیہ ص ٢٣، خزائن ج ١٦ ص ٥٥، ٥٦)

مرزا مفتری اپنا الہام بیان کرتا ہے: ”انما امرك اذا اردت شيئاً ان تقول له كن فيكون “ اے مرزا تحقیق تیرا ہی حکم ہے۔ جب تو کسی شے کا ارادہ کرے تو اس سے کہہ دیتا ہے۔ پس وہ ہو جاتی ہے۔

(البشریٰ ج ٢ ص ٩٤)

اس سے ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی کو کن فیکون کے اختیارات حاصل ہیں۔ زندہ کرنے اور فنا کرنے کی صفت بھی مرزا قادیانی میں موجود ہے۔ مرزا قادیانی نے نئے آسمان اور زمین بھی بنائے۔ آدم علیہ السلام کو بھی پیدا کیا۔ اب یہ بتانا قادیانیوں کا کام ہے کہ خدائی کا دعویٰ کرنے میں کون سی کسر باقی رہ گئی ہے؟

قارئین کرام ! نہایت ہی اختصار کے ساتھ مرزا ملعون کے خلاف اسلام عقائد اور دعاوی اسی کے الفاظ میں آپ کے سامنے پیش کر دیئے ہیں۔ مرزا قادیانی کے ان مجنونانہ اقوال والہامات کو دیکھ کر آپ متعجب نہ ہوں۔ حقیقت حال یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے مرزا قادیانی کو کھلی چھٹی دے دی تھی کہ اے مرزا ناجائز اور ممنوع افعال بھی تمہارے لئے حلال کر دیئے گئے ہیں۔ جو تمہارا جی چاہتا ہے کر لو۔ جیسا کہ مرزا قادیانی خود اپنا الہام بیان کرتا ہے ۔ ”اعملوا ما شئتم انی غفرت لکم “ اے مرزا جو تو چاہے کر ہم نے تجھے بخش دیا۔

(البدر ج ٣ ص ٨ نمبر ١٦، ١٧)

پس جب خدا نے ہی مرزا قادیانی سے پابندی شریعت کی تمام قیود اٹھا لیں تو ایسی حالت میں مرزا قادیانی جو کچھ بھی کر لیتا اس کے لئے جائز تھا اور اسے اس بات کی ضرورت ہی نہ تھی کہ وہ اپنے عقائد اور اقوال کو قرآن کریم اور حدیث شریف کی کسوٹی پر پرکھنے کی تکلیف گوارہ کرتا۔

مرزا قادیانی کا دعویٰ نبوت

”ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم نبی اور رسول ہیں ۔“

(بدر مورخہ ٥/مارچ ١٩٠٨ء)

”میری دعوت کی مشکلات میں سے ایک رسالت، ایک وحی الہی اور مسیح موعود کا دعویٰ تھا۔“

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٥٥ حاشیہ، خزائن ج ٢١ ص ٦٨)

مرزا قادیانی کہتا ہے: ”غرض اس حصہ کثیر وحی الہی اور امور غیبیہ میں اس امت میں سے میں ہی ایک فرد مخصوص ہوں اور جس قدر مجھ سے پہلے اولیاء، ابدال اور اقطاب اس امت میں سے گزر چکے ہیں۔ ان کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیا گیا۔ پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیا گیا اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں۔ کیونکہ کثرت وحی اور

٦٠

کثرت امور غیبیہ اس میں شرط

مرزا قادیانی محدث مانتی ہے۔ وہ یہ بتائیں اس حوالہ میں بیان ہورہا ہے کو ملنے کے کیا معنی؟ اور اس عرصہ میں سینکڑوں گزرے کثرت امور غیبیہ کو نبوت قر بکثرت مکالمہ ومخاطبہ سے مش کہلاتا ہے۔“ ”خدا کی یہ اصط ہے ۔“ ”جب کہ وہ مکا اور اس میں کوئی کثافت اور کا میں نبوت کے نام سے موسوم

”میرے نزدیک غیب پر مشتمل ہو۔ اس لئے

”ہم خدا کے ال موسوم کرتے ہیں اور ایسا ش نبی رکھتے ہیں ۔“ ”خدا تعالیٰ کی مخلوق کو پہنچانے والا اسلام ”اگر خدا تعالیٰ اس کو پکارا جائے ۔ اگر کہو

صفحہ ٢٦٠

دے دی گئی ہے۔

(خطبہ الہامیہ ص ٢٣، خزائن ج ١٦ ص ٥٦،٥٥)

کرتا ہے: ”انما امرك اذا اردت شيئاً ان تقول له ہی حکم ہے۔ جب تو کسی شے کا ارادہ کرے تو اس سے کہہ دیتا

(البشریٰ ج ٢ ص ٩٤)

قادیانی کو کن فیکون کے اختیارات حاصل ہیں۔ زندہ کرنے دنیا میں موجود ہے۔ مرزا قادیانی نے نئے آسمان اور زمین بھی یہ بتانا قادیانیوں کا کام ہے کہ خدائی کا دعویٰ کرنے میں

اختصار کے ساتھ مرزا ملعون کے خلاف اسلام عقائد اور سامنے پیش کر دیئے ہیں۔ مرزا قادیانی کے ان معجون مرکب ہوں۔ حقیقت حال یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے مرزا قادیانی کو جائز اور ممنوع افعال بھی تمہارے لئے حلال کر دیئے گئے کہ مرزا قادیانی خود اپنا الہام بیان کرتا ہے۔ ”اعملوا چاہو تو کرو کہ ہم نے تجھے بخش دیا۔

(البدر ج ٣ ص ٨ نمبر ١٦، ١٧)

قادیانی سے پابندی شریعت کی تمام قیود اٹھا لیں تو ایسی حالت کے لئے جائز تھا اور اسے اس بات کی ضرورت ہی نہ تھی کہ وہ شریعت شریف کی کسوٹی پر پرکھنے کی تکلیف گوارہ کرتا۔

رسول ہیں۔“

(بدر مورخہ ٥/ مارچ ١٩٠٨ء)

میں سے ایک رسالت، ایک وحی الٰہی اور مسیح موعود کا دعویٰ

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٥٥ حاشیہ، خزائن ج ٢١ ص ٦٨)

ہاں اس حصہ کثیر وحی الٰہی اور امور غیبیہ میں اس امت میں قدر مجھ سے پہلے اولیاء، ابدال اور اقطاب اس امت میں مرتبہ نہیں دیا گیا۔ پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں۔ کیونکہ کثرت وحی اور

٦٠

٢٦١ کثرت امور غیبیہ اس میں شرط ہے اور وہ شرط ان میں پائی نہیں جاتی۔“

(حقیقۃ الوحی ص ٣٩١، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٦، ٤٠٧)

مرزا قادیانی لعنۃ اللہ علیہ کی ”لاہوری“ جماعت جو مرزا قادیانی کو مجدد اور محدث مانتی ہے۔ وہ یہ بتائیں کہ کیا یہ نبوت اور دعویٰ نبوت محض محدثیت اور مجددیت ہے؟ جس کا اس حوالہ میں بیان ہو رہا ہے۔ اگر یہ محدثیت اور مجددیت ہی ہے تو پھر چودہ سو سال میں ایک شخص کو ملنے کے کیا معنی؟ اور اس سے ایک شخص کے مخصوص ہونے کا کیا مطلب؟ کیونکہ محدث تو اس عرصہ میں سینکڑوں گزرے ہیں اور یہ بھی یاد رکھنا کہ مرزا قادیانی نے کثرت مکالمہ ومخاطبہ اور کثرت امور غیبیہ کو نبوت قرار دیا تھا۔ جیسا کہ ان حوالہ جات سے ظاہر ہوتا ہے۔ ”جس شخص کو بکثرت مکالمہ ومخاطبہ سے مشرف کیا جائے اور بکثرت امور غیبیہ اس پر ظاہر کئے جائیں۔ وہ نبی کہلاتا ہے۔“

(حقیقۃ الوحی ص ٣٩٠، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٦)

”خدا کی یہ اصطلاح ہے۔ جو کثرت مکالمات ومخاطبات کا نام اس نے نبوت رکھا ہے۔“

(چشمہ معرفت ص ٣٢٥، خزائن ج ٢٣ ص ٣٤١)

”جب کہ وہ مکالمہ ومخاطبہ اپنی کیفیت اور کمیت کی روح سے کمال درجہ تک پہنچ جائے اور اس میں کوئی کثافت اور کمی باقی نہ ہو اور کھلے طور پر امور غیبیہ پر مشتمل ہو تو وہی دوسرے لفظوں میں نبوت کے نام سے موسوم ہوتا ہے۔ جس پر تمام نبیوں کا اتفاق ہے۔“

(الوصیت ص ١١، خزائن ج ٢٠ ص ٣١١)

”میرے نزدیک نبی اسی کو کہتے ہیں۔ جس پر خدا کا کلام یقینی قطعی بکثرت نازل ہو۔ جو غیب پر مشتمل ہو۔ اس لئے خدا نے میرا نام نبی رکھا۔ مگر بغیر شریعت کے۔“

(تجلیات الٰہیہ ص ٢٠، خزائن ج ٢٠ ص ٤١٢)

”ہم خدا کے ان کلمات کو جو نبوت یعنی پیش گوئیوں پر مشتمل ہوں۔ نبوت کے اسم سے موسوم کرتے ہیں اور ایسا شخص جس کو بکثرت ایسی پیش گوئیاں بذریعہ وحی دی جائیں۔ اس کا نام نبی رکھتے ہیں۔“

(چشمہ معرفت ص ١٨٠، خزائن ج ٢٣ ص ١٨٩)

”خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک کلام پا کر جو غیب پر مشتمل زبردست پیش گوئیاں ہوں۔ مخلوق کو پہنچانے والا اسلامی اصطلاح میں نبی کہلاتا ہے۔“

(حجۃ اللہ ص ٢)

”اگر خدا تعالیٰ سے غیب کی خبریں پانے والا نبی کا نام نہیں رکھتا تو پھر بتلاؤ کس نام سے اس کو پکارا جائے۔ اگر کہو کہ اس کا نام محدث رکھنا چاہئے تو میں کہتا ہوں کہ تحدیث کے معنی کسی

٦١

صفحہ ٢٦٢

لعنت کی کتاب میں اظہار غیب نہیں ہے۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٥، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٩)

ان حوالہ جات سے ثابت ہو رہا ہے کہ مرزا قادیانی کثرت مکالمہ و مخاطبہ اور کثرت اطلاع امور غیبیہ کو نبوت سمجھتا تھا اور ساتھ ہی یہ اعلان بھی کر دیا تھا۔ ”یہ بات ایک ثابت شدہ امر ہے کہ جس قدر خدا تعالیٰ نے مجھ سے مکالمہ و مخاطبہ کیا ہے اور جس قدر امور غیبیہ مجھ پر ظاہر فرمائے ہیں۔ تیرہ سو برس ہجری میں کسی شخص کو آج تک بجز میرے یہ نعمت عطا نہیں کی گئی۔ اگر کوئی منکر ہو تو بار ثبوت اس کی گردن پر ہے۔“

(حقیقت الوحی ص ٣٩١، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٦)

اس عبارت سے ثابت ہوا کہ تیرہ سو سال میں جتنا مکالمہ مخاطبہ مرزا قادیانی سے ہوا ہے۔ کسی اور سے نہیں ہوا اور کثرت مکالمہ و مخاطبہ نبوت ہوتی ہے۔ اس لئے مرزا قادیانی نبی ہے۔ لاہوری مرزائی کہہ دیا کرتے ہیں کہ ہر نبی کے لئے ضروری ہے کہ وہ شریعت اور کتاب لائے۔ نیز دوسرے نبی کا متبع نہ ہو۔ لیکن ان کا یہ کہہ دینا اپنے گرو کی تصریحات کے صریحاً خلاف ہے۔ جیسا کہ مرزا قادیانی نے لکھا ہے: ”یہ تمام بدقسمتی دھوکہ سے پیدا ہوئی ہے کہ نبی کے حقیقی معنوں پر غور نہیں کیا گیا۔ نبی کے معنی صرف یہ ہیں کہ خدا سے بذریعہ وحی خبر پانے والا ہو اور شرف مکالمہ و مخاطبہ الہیہ سے مشرف ہو۔ شریعت کا لانا اس کے لئے ضروری نہیں اور نہ یہ ضروری ہے کہ صاحب شریعت رسول کا متبع نہ ہو۔“

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٣٨، خزائن ج ٢١ ص ٣٠٦)

”بعد توریت کے صدہا ایسے نبی بنی اسرائیل میں سے آئے کہ کوئی نئی کتاب ان کے ساتھ نہیں تھی۔ بلکہ ان انبیاء کے ظہور کے مطالب یہ ہوتے تھے۔ تاکہ ان کے موجودہ زمانے میں جو لوگ تعلیم توریت سے دور پڑ گئے ہوں۔ پھر ان کو توریت کے اصلی منشاء کی طرف کھینچیں۔“

(شہادت القرآن ص ٢٤، خزائن ج ٦ ص ٣٢٠)

”نبی کا شارع ہونا شرط نہیں۔ یہ صرف موہبت ہے۔ جس سے امور غیبیہ کھلتے ہیں۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٦، خزائن ج ١٨ ص ٢١٠)

یہ تینوں حوالہ جات پکار پکار کر اعلان کر رہے ہیں کہ مرزا قادیانی کا عقیدہ یہ تھا کہ بغیر نئی کتاب و شریعت کے بھی نبی ہو سکتا ہے اور نبی ہونے کے لئے یہ بھی ضروری نہیں کہ وہ کسی دوسرے نبی کا متبع نہ ہو۔

مرزا قادیانی لکھتا ہے: ”اس امت میں آنحضرت ﷺ کی پیروی کی برکت سے ہزارہا اولیاء ہوئے ہیں اور ایک وہ بھی ہوا جو امتی بھی ہے اور نبی بھی۔“

(حقیقت الوحی ص ٢٨ حاشیہ، خزائن ج ٢٢ ص ٣٠)

٦٢

مرزا قادیانی کہتا ہے ہیں۔ میں کوئی نیا نبی نہیں ہوں ”ایسا رسول ہونے ہوتے ہیں ان کے بیان کرنے صحابہ کرام کے طرز عمل پر نظر کر صاف صاف کہہ دیا اور حق کے مصداق ہوئے۔ ہمارا دعویٰ ہے جس کے ساتھ ایسا مکالمہ مخاطب بیش گوئیاں بھی کثرت سے ہو نبی ہیں۔ ہاں یہ نبوت تشریعی نھ ہم کفر سمجھتے ہیں۔ بنی اسرائیل صرف خدا کی طرف سے پیش اظہار ہو۔ پس وہ نبی کہلائے۔ لئے اور کون سا امتیازی لفظ ہ دین میں نبوت کا سلسلہ نہ ہو کہتے ہیں تو اسی لئے کہ ان میں ٹھہرے۔ کس لئے اس کو دو ہو رہی ہے اور اللہ تعالیٰ کے کما امر حق کے پہنچانے میں کسی قسم

(ڈائری مرزا قادیانی

”میں خدا کے حکم اور جس حالت میں خدا میرا نام اس وقت تک کہ اس دنیا سے گز

صفحہ ٢٦٣

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٥، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٩)

ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی کثرت مکالمہ ومخاطبہ اور کثرت میں یہ اعلان بھی کر دیا تھا۔ ”یہ بات ایک ثابت شدہ امر ومخاطبہ کیا ہے اور جس قدر امور غیبیہ مجھ پر ظاہر فرمائے آج تک بجز میرے یہ نعمت عطاء نہیں کی گئی۔ اگر کوئی منکر

(حقیقۃ الوحی ص ٣٩١، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٦)

تیرہ سو سال میں جتنا مکالمہ مخاطبہ مرزا قادیانی سے ہوا مخاطبہ نبوت ہوتی ہے۔ اس لئے مرزا قادیانی نبی ہے۔ ہیں کہ ہر نبی کے لئے ضروری ہے کہ وہ شریعت اور لیکن ان کا یہ کہہ دینا اپنے گروہ کی تصریحات کے صریحاً ہے۔ ”یہ تمام بدقسمتی دھوکہ سے پیدا ہوئی ہے کہ نبی کے صرف یہ ہیں کہ خدا سے بذریعہ وحی خبر پانے والا ہو اور نبوت کا لانا اس کے لئے ضروری نہیں اور نہ یہ ضروری

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٣٨، خزائن ج ٢١ ص ٣٠٦)

بنی اسرائیل میں سے آئے کہ کوئی نئی کتاب ان کے طالب یہ ہوتے تھے۔ تاکہ ان کے موجودہ زمانے میں قرآن کو توریت کے اصلی منشاء کی طرف کھینچیں۔“

(شہادۃ القرآن ص ٢٤، خزائن ج ٦ ص ٣٤٠)

صرف موہبت ہے۔ جس سے امور غیبیہ کھلتے ہیں۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٦، خزائن ج ١٨ ص ٢١٠)

بیان کر رہے ہیں کہ مرزا قادیانی کا عقیدہ یہ تھا کہ بغیر نبی ہونے کے لئے یہ بھی ضروری نہیں کہ وہ کسی

شریعت میں آنحضرت ﷺ کی پیروی کی برکت سے نبی بھی ہے اور امتی بھی۔“

(حقیقۃ الوحی ص ٢٨ حاشیہ، خزائن ج ٢٢ ص ٣٠)

٦٢

مرزا قادیانی کہتا ہے: ”ہمارے نبی ہونے کے وہی نشانات ہیں جو تورات میں مذکور ہیں۔ میں کوئی نیا نبی نہیں ہوں۔ پہلے بھی کئی نبی گزرے ہیں جنہیں تم لوگ سچے مانتے ہو۔“

(ملفوظات احمدیہ ج ١٠ ص ٢١٧)

”ایسا رسول ہونے سے انکار کیا گیا ہے جو صاحب کتاب ہو۔ دیکھو جو امور سماوی ہوتے ہیں ان کے بیان کرنے میں ڈرنا نہیں چاہئے اور کسی قسم کا خوف کرنا اہل حق کا قاعدہ نہیں۔ صحابہ کرامؓ کے طرز عمل پر نظر کرو۔ وہ بادشاہوں کے درباروں میں گئے اور جو کچھ ان کا عقیدہ تھا وہ صاف صاف کہہ دیا اور حق کہنے سے ذرا نہیں جھجکے۔ جبھی ’ولا يخافون لومة لائم‘ کے مصداق ہوئے۔ ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم رسول اور نبی ہیں۔ دراصل یہ نزاع لفظی ہے۔ خدا تعالیٰ جس کے ساتھ ایسا مکالمہ مخاطبہ کرے جو بلحاظ کمیت وکیفیت دوسروں سے بڑھ کر ہو اور اس میں پیش گوئیاں بھی کثرت سے ہوں۔ اسے نبی کہتے ہیں اور یہ تعریف ہم پر صادق آتی ہے۔ پس ہم نبی ہیں۔ ہاں یہ نبوت تشریعی نہیں جو کتاب اللہ کو منسوخ کرے اور نئی کتاب لائے۔ ایسے دعویٰ کو تو ہم کفر سمجھتے ہیں۔ بنی اسرائیل میں کئی ایسے نبی ہوئے ہیں جن پر کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی۔ صرف خدا کی طرف سے پیش گوئیاں کرتے تھے۔ جن سے موسوی دین کی شوکت وصداقت کا اظہار ہو۔ پس وہ نبی کہلائے۔ یہی حال اس سلسلہ میں ہے۔ بھلا اگر ہم نبی نہ کہلائیں تو اس کے لئے اور کون سا امتیازی لفظ ہے جو دوسرے ملہموں سے ممتاز کرے۔ ہمارا مذہب تو یہ ہے کہ جس دین میں نبوت کا سلسلہ نہ ہو وہ مردہ ہے۔ یہودیوں، عیسائیوں، ہندوؤں کے دین کو جو ہم مردہ کہتے ہیں تو اسی لئے کہ ان میں کوئی نبی نہیں ہوتا۔ اگر اسلام کا بھی یہی حال ہوتا تو پھر ہم بھی قصہ گو ٹھہرے۔ کس لئے اس کو دوسرے دینوں سے بڑھ کر کہتے ہیں ...... ہم پر کئی سالوں سے وحی نازل ہورہی ہے اور اللہ تعالیٰ کے کئی نشان اس کے صدق کی گواہی دے چکے ہیں۔ اسی لئے ہم نبی ہیں۔ امر حق کے پہنچانے میں کسی قسم کا اخفاء نہ رکھنا چاہئے۔“

(ڈائری مرزا قادیانی مندرجہ اخبار بدر قادیان مورخہ ٥/ مارچ ١٩٠٨ء، ملفوظات ج ١٠ ص ١٢٧، ١٢٨)

”میں خدا کے حکم کے موافق نبی ہوں اور اگر میں اس سے انکار کروں تو میرا گناہ ہوگا اور جس حالت میں خدا میرا نام نبی رکھتا ہے تو میں کیونکر انکار کرسکتا ہوں۔ میں اس پر قائم ہوں۔ اس وقت تک کہ اس دنیا سے گزر جاؤں۔“

(مرزا قادیانی کا آخری مکتوب مندرجہ اخبار عام مورخہ ٢٣/ مئی ١٩٠٨ء)

٦٣

صفحہ ٢٦٤

”جب خدا آسمان سے اپنی قرنا میں آواز پھونک دے گا۔ یعنی مسیح موعود کے ذریعے سے جو اس کی قرنا ہے۔ اس جگہ صور کے لفظ سے مراد مسیح موعود ہے۔ کیونکہ خدا کے نبی اس کی صور ہوتے ہیں۔“

(چشمہ معرفت ص ٧٦، خزائن ج ٢٣ ص ٨٤)

”میں مسیح موعود ہوں اور وہی ہوں۔ جس کا نام سرور انبیاء نے نبی اللہ رکھا ہے۔“

(نزول المسیح ص ٤٨، خزائن ج ١٨ ص ٤٢٧)

”خدا کی مصلحت اور حکمت نے آنحضرت ﷺ کے افاضۂ روحانیہ کا کمال ثابت کرنے کے لئے یہ مرتبہ بخشا ہے کہ آپ کے فیض کی برکت سے مجھے نبوت کے مقام تک پہنچایا۔“

(حقیقت الوحی ص ١٥٠ حاشیہ، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٤)

”پس خدا نے اپنی سنت کے موافق ایک نبی کے مبعوث ہونے تک وہ عذاب ملتوی رکھا اور جب وہ نبی مبعوث ہو گیا اور اس قوم کو ہزار ہا اشتہاروں اور رسالوں سے دعوت کی گئی۔ تب وہ وقت آ گیا کہ ان کو اپنے جرائم کی سزا دی جاوے۔“

(حقیقت الوحی ص ٥٢، خزائن ج ٢٢ ص ٤٨٤)

”تیسری بات جو اس وحی سے ثابت ہوئی ہے۔ وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ بہر حال جب تک طاعون دنیا میں رہے۔ گو ستر برس تک رہے۔ قادیان کو اس کی خوفناک تباہی سے محفوظ رکھے گا۔ کیونکہ یہ اس کے رسول کا تخت گاہ ہے۔“

(دافع البلاء ص ١٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٠)

”سچا خدا وہی خدا ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔“

(دافع البلاء ص ١١، خزائن ج ١٨ ص ٢٣١)

”سخت عذاب بغیر نبی قائم ہونے کے آتا ہی نہیں۔ جیسا کہ قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ”وما کنا معذبین حتی نبعث رسولاً“ پھر یہ کیا بات ہے کہ ایک طرف تو طاعون ملک کو کھا رہی ہے اور دوسری طرف ہیبت ناک زلزلے پیچھا نہیں چھوڑتے۔ اے غافلو! تلاش تو کرو شاید تم میں خدا کی طرف سے کوئی نبی قائم ہو گیا ہے۔ جس کی تم تکذیب کر رہے ہو۔“

(تجلیات الٰہیہ ص ٩، خزائن ج ٢٠ ص ٤٠١)

”ایک صاحب پر ایک مخالف کی طرف سے یہ اعتراض پیش ہوا کہ جس سے تم نے بیعت کی ہے۔ وہ نبی اور رسول ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور اس کا جواب محض انکار کے الفاظ میں دیا گیا۔ حالانکہ ایسا جواب صحیح نہیں ہے۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٢، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٦)

”قل یا ایھا الناس انی رسول اللہ الیکم جمیعاً“ کہ اے تمام لوگو میں تم سب کی طرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول ہو کر آیا ہوں۔

(البشریٰ ج ٢ ص ٥٦)

٦٤

”انك لمن المرسلين ”ہمارا نبی اس درجہ کا نبی ہ ہے۔ حالانکہ وہ امتی ہے۔“ ”اسی طرح اوائل میں م نبی ہے اور خدا کے بزرگ مقربین می میں اس کو جزئی فضیلت قرار دیتا تھا ہوئی۔ اس نے مجھے اس عقیدہ پر قائم طرح سے کہ ایک پہلو سے نبی اور ایک

”وآخرین منہم ل ہونے کی نسبت ایک پیش گوئی ہے ”جس آنے والے م نشان دیا گیا ہے کہ وہ نبی بھی ہوگا اور

لاہوری مرزائیو!

مرزا قادیانی کی کتابوں ثابت ہوتا ہے کہ مرزا ملعون نے ک کب تک مرزا قادیانی کے دعوٰی نبو تک کہہ دیا ہے: ”خدا تعالیٰ نے اس اس قدر نشان دکھلائے ہیں کہ اگر ثابت ہو سکتی ہے۔“ یہاں تو مرزا قادیانی ب بلکہ اس قدر زیادہ ہیں کہ اگر وہ نشان ہو سکتی ہے۔ اب لاہوری مرزائی ب نبوت ثابت ہو سکتی ہے تو مرزا قادیا

صفحہ ٢٦٥

میں آواز پھونک دے گا۔ یعنی مسیح موعود کے ذریعے سے مراد مسیح موعود ہے۔ کیونکہ خدا کے نبی اس کی صور

(چشمہ معرفت ص ٧٦، خزائن ج ٢٣ ص ٨٢)

تھا۔ جس کا نام سرور انبیاء نے نبی اللہ رکھا ہے۔“

(نزول المسیح ص ٤٨، خزائن ج ١٨ ص ٤٢٧)

نے آنحضرت ﷺ کے افاضہ روحانیہ کا کمال ثابت فیض کی برکت سے مجھے نبوت کے مقام تک پہنچایا۔“

(حقیقت الوحی ص ١٥٠ حاشیہ، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٤)

موافق ایک نبی کے مبعوث ہونے تک وہ عذاب ملتوی ہزار ہا اشتہاروں اور رسالوں سے دعوت کی گئی۔ تب جاوے۔“ (حقیقت الوحی ص ٥٢، خزائن ج ٢٢ ص ٤٨٤)

ثابت ہوئی ہے۔ وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ بہر حال جب ہے۔ قادیان کو اس کی خوفناک تباہی سے محفوظ رکھے

(دافع البلاء ص ١٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٠)

زبان میں اپنا رسول بھیجا۔“

(دافع البلاء ص ١١، خزائن ج ١٨ ص ٢٣١)

زلزلے کے آتا ہی نہیں۔ جیسا کہ قرآن شریف میں حَتّٰى نَبْعَثَ رَسُولاً “ پھر یہ کیا بات ہے کہ ایک طرف ہیبت ناک زلزلے پیچھا نہیں چھوڑتے۔ اے کوئی نبی قائم ہو گیا ہے۔ جس کی تم تکذیب کر رہے

(تجلیات الٰہیہ ص ٩، خزائن ج ٢٠ ص ٤٠١)

طرف سے یہ اعتراض پیش ہوا کہ جس سے تم نے کرتا ہے اور اس کا جواب محض انکار کے الفاظ میں

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٢، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٦)

رَسُولَ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعاً “ کہ اے تمام لوگو میں تم آیا ہوں۔ (البشریٰ ج ٢ ص ٥٦)

٦٤

”انك لَمِنَ المرسلين“ اے مرزا تو بیشک رسولوں میں سے ہے۔

(حقیقت الوحی ص ١٠٧، خزائن ج ٢٢ ص ١١٠)

”ہمارا نبی اس درجہ کا نبی ہے کہ اس کی امت کا ایک فرد نبی ہوسکتا ہے اور عیسیٰ کہلا سکتا ہے۔ حالانکہ وہ امتی ہے۔“ (براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٨٤، خزائن ج ٢١ ص ٣٥٥)

”اسی طرح اوائل میں میرا عقیدہ یہی تھا کہ مجھ کو مسیح ابن مریم سے کیا نسبت ہے۔ وہ نبی ہے اور خدا کے بزرگ مقربین میں سے ہے۔ اگر کوئی امر میری فضیلت کی نسبت ظاہر ہوتا تو میں اس کو جزئی فضیلت قرار دیتا تھا۔ مگر بعد میں جو خدا تعالیٰ کی وحی بارش کی طرح میرے پر نازل ہوئی۔ اس نے مجھے اس عقیدہ پر قائم نہ رہنے دیا اور صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا۔ مگر اس طرح سے کہ ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے امتی۔“

(حقیقت الوحی ص ١٤٩، ١٥٠، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٣، ١٥٤)

”وآخرين منهم لما يلحقوا بهم یہ آیت آخری زمانہ میں ایک نبی کے ظاہر ہونے کی نسبت ایک پیش گوئی ہے۔“ (تتمہ حقیقت الوحی ص ٦٧، خزائن ج ٢٢ ص ٥٠٢)

”جس آنے والے مسیح موعود کا حدیثوں سے پتہ لگتا ہے۔ اس کا انہی حدیثوں میں یہ نشان دیا گیا ہے کہ وہ نبی بھی ہوگا اور امتی بھی۔“ (حقیقت الوحی ص ٢٩، خزائن ج ٢٢ ص ٣١)

لاہوری مرزائیو!

مرزا قادیانی کی کتابوں، اشتہاروں اور ڈائریوں سے نقل کردہ ان حوالہ جات سے ثابت ہوتا ہے کہ مرزا ملعون نے کس دھڑلے سے نبوت کا دعویٰ کیا اور اپنے آپ کو نبی لکھا۔ تم کب تک مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرو گے؟ مرزا قادیانی نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے: ”خدا تعالیٰ نے اس بات کو ثابت کرنے کے لئے کہ میں اس کی طرف سے ہوں۔ اس قدر نشان دکھلائے ہیں کہ اگر وہ ہزار نبی پر بھی تقسیم کئے جائیں تو ان کی نبوت بھی ان سے ثابت ہو سکتی ہے۔“ (چشمہ معرفت ص ٣١٧، خزائن ج ٢٣ ص ٣٣٢)

یہاں تو مرزا قادیانی نے فیصلہ کن بات لکھ دی کہ میرے نشانات معمولی نہیں ہیں۔ بلکہ اس قدر زیادہ ہیں کہ اگر وہ نشان ہزار ہا نبی پر بھی تقسیم کر دیئے جائیں تو ان کی نبوت بھی ثابت ہو سکتی ہے۔ اب لاہوری مرزائی جواب دیں کہ جب مرزا قادیانی کے نشانوں سے ہزار نبی کی نبوت ثابت ہو سکتی ہے تو مرزا قادیانی نبی کیوں نہ ہوا۔

٦٨

صفحہ ٢٦٦

مرزا قادیانی کا اپنے مخالفین پر جہنمی ہونے کا فتویٰ

”مجھے خدا کا الہام ہے جو شخص تیری پیروی نہ کرے گا اور تیری بیعت میں داخل نہ ہوگا اور تیرا مخالف رہے گا۔ وہ خدا اور رسول کی نافرمانی کرنے والا جہنمی ہے۔“

(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٧٥، معیار الاخیار ص ٨)

دوسری جگہ لکھا ہے: ”اب ظاہر ہے کہ ان الہامات میں میری نسبت بار بار بیان کیا گیا ہے کہ یہ خدا کا فرستادہ، خدا کا مامور، خدا کا امین اور خدا کی طرف سے آیا ہے۔ جو کچھ کہتا ہے اس پر ایمان لاؤ اور اس کا دشمن جہنمی ہے۔“

(انجام آتھم ص ٦٢، خزائن ج ١١ ص ٦٢)

ان حوالہ جات میں مرزا ملعون نے کس ڈھٹائی اور غیظ وغضب سے بھرے ہوئے الفاظ میں تمام مسلمانانِ عالم کو جو اس کے جھوٹے اور انٹ شنٹ الہامات کو نہیں مانتے اور اس کی جھوٹی نبوت پر ایمان نہیں لاتے، جہنمی قرار دیا ہے۔ (جب کہ قرآن وحدیث کی رو سے سب سے بڑا جہنمی تو مرزا غلام احمد قادیانی خود ہے)

مرزا قادیانی کی بیعت ہی باعث نجات ہے

حضرت نبی کریم ﷺ سے لے کر آج تک تمام مسلمانوں کا متفقہ عقیدہ یہی ہے کہ قرآن مجید، سنت نبوی اور حدیث شریف پر ایمان لانا اور ان پر عمل کرنا ہی نجات کے لئے ضروری ہے۔ جیسا کہ ارشاد خداوندی ہے: ”اطیعوا اللّٰہ والرسول لعلکم ترحمون“ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول برحق محمد مصطفیٰ ﷺ کی تابعداری کرو۔ تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ مگر مرزا قادیانی قرآن وحدیث کے خلاف یوں لکھتا ہے: ”اب دیکھو کہ خدا نے میری وحی اور میری تعلیم اور میری بیعت کو نوح کی کشتی قرار دیا اور تمام انسانوں کے لئے اس کو مدار نجات ٹھہرایا۔ جس کی آنکھیں ہوں وہ دیکھے اور جس کے کان ہوں سنے۔“

(اربعین نمبر ٤ ص ٦ حاشیہ، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥)

لاہوری مرزائی اپنے مجدد کی اس عبارت کو ذرا غور سے دیکھیں کہ کیا کرشن قادیانی نے اسلامی مسائل کی تجدید کی ہے یا سرے سے ہی اسلامی اصولوں کو بدل ڈالا ہے۔ مرزا قادیانی سے پہلے ایک پکا کافر اور مشرک کلمہ ”لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ“ پڑھ کر قرآن اور سنت نبوی پر عمل کر کے نجات کا مستحق ہو جاتا تھا۔ مگر اب کوئی لاکھ مرتبہ بھی کلمہ پڑھے اور ساری زندگی قرآن وسنت پر بھی عمل کرتا رہے تو اس کی نجات نہیں ہو سکتی۔ جب تک کہ مرزا ملعون کی بیعت نہ کرے اور اس کی تعلیم پر عمل نہ کرے۔ مرزا قادیانی نے اسلامی اصولوں کو منسوخ کرنے میں کون سی کسر باقی چھوڑی ہے؟ مرزا قادیانی نے دوسری جگہ لکھا ہے: ”خدا کی قسم میں غالب ہوں اور

٦٦

صفحہ ٢٦٧

عنقریب میری شوکت ظاہر ہو جائے گی اور ہر ایک ہلاک ہوگا۔ مگر وہی بچے گا۔ جو میری کشتی میں بیٹھ گیا۔“

(البشریٰ ج ٢ ص ١٢٩)

اس جگہ بھی مرزادجال نے صاف الفاظ میں پیش گوئی کی ہے کہ جو شخص میری کشتی میں نہیں بیٹھا وہ ہلاک ہو جائے گا۔ مرزائی حضرات مرزا قادیانی کی بنائی ہوئی کاغذ کی کشتی (کشتی نوح) کو دریا میں ڈال کر اس پر بیٹھ جائیں اور دیکھیں کہ ان کے مجدد، مسیح موعود، ظلی ، بروزی نبی کی پیش گوئی کس طرح پوری ہوتی ہے؟ کبھی آزما کر دیکھ لینا۔

مرزا قادیانی کا اپنے منکرین پر فتویٰ کفر

مرزا قادیانی لعنۃ اللہ علیہ نے ماسوائے اپنی ناجائز اولاد (مرزائیوں) کے باقی تمام اہلِ قبلہ کو کافر اور دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا ہے۔

یہ سنگھ بہادر قادیانی لکھتا ہے: ”خدا تعالیٰ نے میرے پر ظاہر کیا ہے کہ ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا۔ وہ مسلمان نہیں ہے اور خدا کے نزدیک قابل مواخذہ ہے تو یہ کیونکہ ہوسکتا ہے کہ اب میں اس شخص کے کہنے سے جس کا دل ہزاروں تاریکیوں میں مبتلا ہے۔ خدا کے حکم کو چھوڑ دوں۔ اس سے سہل تر بات یہ ہے کہ ایسے شخص کو اپنی جماعت سے خارج کرتا ہوں۔ ہاں اگر کسی وقت صریح الفاظ سے آپ اپنی توبہ شائع کریں اور اس خبیث عقیدہ سے باز آجائیں۔ تو رحمت الٰہی کا دروازہ کھلا ہے۔ وہ لوگ جو میری دعوت کے رد کرنے کے وقت قرآن شریف کی نصوص صریح کو چھوڑتے ہیں اور خدا تعالیٰ کے کھلے کھلے نشانوں سے منہ پھیرتے ہیں۔ ان کو راست باز قرار دینا صرف اس شخص کا کام ہے۔ جس کا دل شیطان کے پنجہ میں گرفتار ہے۔“

(مرزا قادیانی کا خط ڈاکٹر عبدالحکیم خان کے نام)

مرزا قادیانی نے صاف اور غیر مبہم الفاظ میں اعلان کردیا ہے کہ دنیا کے وہ تمام مسلمان جن کو میری دعوت پہنچ گئی ہے اور انہوں نے میری بیعت نہیں کی۔ وہ مسلمان نہیں ہیں اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان سے مواخذہ کرے گا کہ تم نے مرزا قادیانی کی مسیحیت اور نبوت کے سامنے اپنا سر کیوں نہیں جھکایا تھا؟ اور اپنے مریدوں کو عامۃ المسلمین سے متنفر کرنے کے لئے یہ بھی کہہ دیا کہ جو مسلمان خدا کے کھلے کھلے نشانوں (یعنی میرے معجزات) کا انکار کرتے ہیں۔ ان کو راست باز قرار دینا صرف اس شخص کا کام ہے جس کا دل شیطان کے پنجہ میں گرفتار ہے۔

مرزا قادیانی کہتا ہے کہ : ”جو مجھے نہیں مانتا وہ خدا اور رسول کو بھی نہیں مانتا۔ کیونکہ میری نسبت خدا اور رسول کی پیش گوئی موجود ہے۔“

(حقیقۃ الوحی ص ١٦٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٦٨)

صفحہ ٢٦٨

حاشیہ پر لکھا ہے: ”جو شخص مجھے نہیں مانتا وہ مجھے مفتری قرار دے کر مجھے کافر ٹھہراتا ہے۔ اس لئے میری تکفیر کی وجہ سے آپ کافر بنتا ہے۔“

مرزا قادیانی مفتری لکھتا ہے: ”کفر دو قسم پر ہے۔ ایک یہ کفر کہ ایک شخص اسلام سے ہی انکار کرتا ہے اور آنحضرت ﷺ کو خدا کا رسول نہیں مانتا۔ دوسرے یہ کفر کہ مثلاً وہ مسیح موعود کو نہیں مانتا اور اس کو باوجود اتمام حجت کے جھوٹا مانتا ہے۔ جس کے ماننے اور سچا جاننے کے بارے میں خدا اور رسول نے تاکید کی ہے اور پہلے نبیوں کی کتابوں میں بھی تاکید پائی جاتی ہے۔ پس اس لئے کہ وہ خدا اور رسول کے فرمان کا منکر ہے۔ کافر ہے اور اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ دونوں قسم کے کفر ایک ہی قسم میں داخل ہیں۔“

(حقیقت الوحی ص ١٧٩، خزائن ج ٢٢ ص ١٨٥)

اس عبارت کا مفہوم واضح اور صاف ہے کہ مرزا قادیانی کے منکر اسی قسم کے کافر ہیں۔ جس قسم کے کافر حضرت نبی کریم ﷺ کے منکر ہیں۔ کیونکہ یہ دونوں قسم کے کفر ایک ہی قسم میں داخل ہیں۔

مرزا قادیانی پر الہام ہوتا ہے: ”قالوا ان التفسیر لیس بشیئ“

(البشریٰ ج ٢ ص ٦٧)

”انہوں نے کہا کہ تفسیر (مراد تفسیر سورۃ فاتحہ مندرجہ اعجاز المسیح) کچھ چیز نہیں۔“ (تشریح)

اس الہام میں خدا تعالیٰ نے کفار مولویوں کا مقولہ بیان فرمایا ہے۔ مرزا قادیانی کے اس الہام سے معلوم ہوا کہ جن علماء نے کہہ دیا کہ مرزا قادیانی کی سورۃ فاتحہ کی تفسیر کچھ چیز نہیں۔ وہ کفار مولوی ہیں۔

مرزا قادیانی لکھتا ہے: ”اور خدا تعالیٰ نے اس بات کو ثابت کرنے کے لئے کہ میں اس کی طرف سے ہوں۔ اس قدر نشان دکھلائے ہیں کہ اگر وہ ہزار نبی پر بھی تقسیم کئے جائیں تو ان کی بھی ان سے نبوت ثابت ہو سکتی ہے۔ لیکن چونکہ یہ آخری زمانہ تھا اور شیطان کا مع اپنی تمام ذریت کے آخری حملہ تھا۔ اس لئے خدا نے شیطان کو شکست دینے کے لئے ہزار ہا نشان ایک جگہ جمع کر دیئے۔ لیکن پھر بھی جو لوگ انسانوں میں سے شیطان ہیں۔ وہ نہیں مانتے اور محض افتراء کے طور پر ناحق کے اعتراض کر دیتے ہیں۔“

(چشمہ معرفت ص ٣١٧، خزائن ج ٢٣ ص ٣٣٢)

کرشن قادیانی کے نامراد چیلے

دیکھ لیا تمہارا ”جے سنگھ بہادر“ کیا کہتا ہے پہلے تو اپنے منکر مسلمانوں کو کافر کہنے پر ہی اکتفاء کیا تھا۔ مگر اس عبارت میں تو یہ بھی کہہ دیا کہ خدا نے مجھے ہزار ہا نشان یا معجزات عطاء کئے ہیں اور جو لوگ ان معجزات کو نہیں مانتے۔ وہ شیطان ہیں۔

٦٨

صفحہ ٢٦٩

جو شخص مجھے نہیں مانتا وہ مجھے مفتری قرار دے کر مجھے کافر ٹھہراتا ہے، کیونکہ کافر بناتا ہے۔“

کہتا ہے: ”کفر دو قسم پر ہے۔ ایک یہ کفر کہ ایک شخص اسلام سے انکار کرے اور خدا کا رسول نہیں مانتا۔ دوسرے یہ کفر کہ مثلاً وہ مسیح موعود کو نہیں مانتا اور اس کو جھوٹا جانتا ہے۔ جس کے ماننے اور سچا جاننے کے بارے میں خدا اور رسول نے پہلے نبیوں کی کتابوں میں بھی تاکید فرمائی ہے۔ پس اس لئے وہ بھی منکر ہے۔ کافر ہے اور اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ دونوں قسم

(حقیقت الوحی ص ١٧٩، خزائن ج ٢٢ ص ١٨٥)

کے کفر ایک ہی ہیں اور صاف ہے کہ مرزا قادیانی کے منکر اسی قسم کے کافر ہیں۔ مرزا قادیانی کے منکر ہیں۔ کیونکہ یہ دونوں قسم کے کفر ایک ہی قسم میں داخل ہیں۔“

پھر لکھتا ہے: ”قالوا ان التفسير ليس بشيئ“

(البشریٰ ج ٢ ص ٢٧)

ترجمہ: ”(جو تفسیر سورۃ فاتحہ مندرجہ اعجاز المسیح) کچھ چیز نہیں۔“ (تشریح) یہ کہ اس میں جس کا مقولہ بیان فرمایا ہے۔ مرزا قادیانی کے اس الہام سے صاف ظاہر ہے کہ قادیانی کی سورۃ فاتحہ کی تفسیر کچھ چیز نہیں۔ وہ کفار مولوی ہیں۔

انصاف شرط ہے کہ خدا تعالیٰ نے اس بات کو ثابت کرنے کے لئے کہ میں اس کی طرف سے بھیجا گیا ہوں کہ اگر وہ ہزار نبی پر بھی تقسیم کئے جائیں تو ان کی نبوت ثابت ہو سکتی ہے۔ چونکہ یہ آخری زمانہ تھا اور شیطان کا مع اپنی تمام ذریت کے حملہ تھا۔ اس لئے خدا تعالیٰ نے اس کو شکست دینے کے لئے ہزار ہا نشان ایک جگہ جمع کر دیئے۔ تا کہ کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ یہ تو شیطان ہیں۔ وہ نہیں مانتے اور محض افتراء کے طور پر

(چشمہ معرفت ص ٣١٧، خزائن ج ٢٣ ص ٣٣٢)

ایک اور جگہ مرزا قادیانی کیا کہتا ہے پہلے تو اپنے منکر مسلمانوں کو کافر کہنے پر ہی اکتفا کرتا تھا اب تو یہاں تک کہہ دیا کہ خدا نے مجھے ہزار ہا نشان یا معجزات عطاء کئے ہیں لیکن جو مجھے نہیں مانتا وہ شیطان ہیں۔

٦٨

مرزا قادیانی کا مسلمانوں کے پیچھے نماز نہ پڑھنے کا فتویٰ

مرزا قادیانی اپنے مخالف اور نہ ماننے والے مسلمانوں کو کافر سمجھتا تھا۔ نتیجہ کے طور پر مسلمانوں کے پیچھے نماز نہ پڑھنے کا فتویٰ دے دیا۔

مرزا قادیانی لکھتا ہے: ”اس کلام الٰہی سے ظاہر ہے کہ تکفیر کرنے والے اور تکذیب کی راہ اختیار کرنے والے ہلاک شدہ قوم ہے۔ اس لئے وہ اس لائق نہیں ہیں کہ میری جماعت میں سے کوئی شخص ان کے پیچھے نماز پڑھے۔ کیا زندہ مردہ کے پیچھے نماز پڑھ سکتا ہے۔ پس یاد رکھو جیسا کہ خدا نے مجھے اطلاع دی ہے۔ تمہارے پر حرام اور قطعی حرام ہے کہ کسی منکر اور مکذب یا متردد کے پیچھے نماز پڑھو۔ بلکہ چاہئے کہ تمہارا وہی امام ہو جو تم میں سے ہو۔ اسی کی طرف حدیث بخاری کے ایک پہلو میں اشارہ ہے کہ ”امامکم منکم“ یعنی جب مسیح نازل ہوگا تو تمہیں دوسرے فرقوں کو جو دعویٰ اسلام کرتے ہیں۔ بکلی ترک کرنا پڑے گا اور تمہارا امام تم میں سے ہوگا۔ پس تم ایسا ہی کرو کیا تم چاہتے ہو کہ خدا کا الزام تمہارے سر پر ہو اور تمہارے عمل حبط ہو جائیں اور تمہیں کچھ خبر نہ ہو۔ جو شخص مجھے دل سے قبول کرتا ہے۔ وہ دل سے اطاعت بھی کرتا ہے اور ہر حال میں مجھے ”حکم“ ٹھہراتا ہے اور ہر ایک تنازعہ کا فیصلہ مجھ سے چاہتا ہے۔ مگر جو شخص مجھے دل سے قبول نہیں کرتا اس میں تم نخوت اور خود پسندی اور خود اختیاری پاؤ گے۔ پس جانو کہ وہ مجھ سے نہیں۔ کیونکہ وہ میری باتوں کو جو مجھے خدا سے ملی ہیں۔ عزت سے نہیں دیکھتا۔ اس لئے آسمان پر اس کی عزت نہیں۔“

(اربعین نمبر ٣ ص ٢٨ حاشیہ، خزائن ج ١٧ ص ٤١٧)

کرشن قادیانی غلام احمد اپنی مقتدیانہ شان کا اظہار کرتے ہوئے کہتا ہے: ”حج میں بھی آدمی یہ التزام کر سکتا ہے کہ اپنے جائے قیام پر نماز پڑھ لیوے اور کسی کے پیچھے نماز نہ پڑھے۔ بعض ائمہ دین سالہا سال مکہ میں رہے۔ لیکن چونکہ وہاں کے لوگوں کی حالت تقویٰ سے گری ہوئی تھی۔ اس لئے کسی کے پیچھے نماز پڑھنا گوارا نہ کیا اور گھر میں پڑھتے رہے۔“ (فتاویٰ احمدیہ ص ٢١)

مرزا قادیانی نے صرف اتنا ہی نہیں لکھا کہ میرے مریدوں پر حرام اور قطعی حرام ہے کہ وہ کسی مسلمان کے پیچھے نماز پڑھیں۔ بلکہ یہاں تک کہہ دیا کہ میرا جو مرید کسی مسلمان کے پیچھے نماز پڑھتا ہے کوئی مرزائی اس کے پیچھے نماز نہ پڑھے۔ جیسا کہ ایک شخص کے سوال پر مرزا قادیانی نے جواب دیا۔

”جو احمدی ان کے پیچھے نماز پڑھتا ہے۔ جب تک توبہ نہ کرلے ان کے پیچھے نماز نہ پڑھو۔“ (فتاویٰ احمدیہ ص ٢٦)

٦٩

صفحہ ٢٧٠

مرزا قادیانی کی پیش گوئیاں

مرزا قادیانی نے اپنے دعویٰ کے صدق یا کذب کے لئے اپنی پیش گوئیوں کو معیار مقرر کیا ہے۔

الف...... جیسا کہ مرزا قادیانی لکھتا ہے: ”ہمارا صدق یا کذب جانچنے کے لئے ہماری پیش گوئی سے بڑھ کر اور کوئی محک امتحان نہیں ہوسکتا۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص٢٨٨، خزائن ج٥ ص٢٨٨)

ب...... ”سو پیش گوئیاں کوئی معمولی بات نہیں۔ کوئی ایسی بات نہیں جو انسان کے اختیار میں ہو۔ بلکہ محض اللہ جل شانہ کے اختیار میں ہیں۔ سو اگر کوئی طالب حق ہے تو ان پیش گوئیوں کے وقتوں کا انتظار کرے۔“

(شہادۃ القرآن ص٦٥، خزائن ج٦ ص٣٧٦،٣٧٥)

ج...... ”و من ایں (پیش گوئی) را برائے صدق خود یا کذب خود معیاری گردانم۔“

(انجام آتھم ص٢٢٣، خزائن ج١١ ص٢٢٣)

مرزا قادیانی کی مندرجہ بالا تحریرات نے فیصلہ کر دیا کہ اس کی صداقت وبطالت کی شناخت کا سب سے بڑا معیار اس کی پیش گوئیاں ہیں۔ مرزا قادیانی کی تمام تصانیف فٹ بال کی طرح گول مول اور انٹ سنٹ پیش گوئیوں سے بھری پڑی ہیں۔ جن میں کوئی نشان کرامت یا معجزہ نظر نہیں آتا اور ان پیش گوئیوں کے الفاظ بھی موم کے ناک کی طرح ہیں۔ جدھر چاہو الٹ پھیر کر دو۔ مرزا قادیانی کی کوئی بھی متحدیانہ پیش گوئی پوری نہیں ہوئی۔ بلکہ جتنی تحدی سے کوئی پیش گوئی کی گئی وہ اتنی ہی صراحت سے غلط نکلی اور اگر مرزا قادیانی نے تاویلات باطلہ کی رو سے ہزاروں الہامات میں سے چند پیش گوئیاں لوگوں کی نظروں میں صحیح کر دکھائیں تو بھی وہ مرزا قادیانی کی صداقت کی دلیل نہیں بن سکتیں۔

کیونکہ مرزا قادیانی نے خود لکھا ہے: ”بعض فاسقوں اور غایت درجہ کے بدکاروں کو بھی سچی خوابیں آ جاتی ہیں۔ بلکہ بعض پرلے درجہ کے بدمعاش اور شریر آدمی اپنے ایسے مکاشفات بیان کیا کرتے ہیں کہ آخر وہ سچے نکلتے ہیں۔ بلکہ میں تو یہاں تک مانتا ہوں کہ تجربہ میں آ چکا ہے کہ بعض اوقات ایک نہایت درجہ کی فاحشہ عورت جو کنجریوں کے گروہ میں سے ہے۔ جس کی تمام جوانی بدکاری میں ہی گزری ہے۔ کبھی سچی خواب دیکھ لیتی ہے اور زیادہ تر تعجب یہ ہے کہ ایسی عورت کبھی ایسی رات میں بھی کہ جب وہ بادہ بہ سر و آشنا بہ بر کا مصداق ہوتی ہے۔ کوئی خواب دیکھ لیتی ہے اور وہ سچی نکلتی ہے۔“

(توضیح مرام ص٨٤،٨٣، خزائن ج٣ ص٩٥،٩٤)

جب پرلے درجے کے بدمعاش، بدکاروں اور رنڈیوں تک کی چند پیش گوئیاں اور

٧٠

صفحہ ٢٧١

خواب سچے نکل آتے ہیں تو بالفرض اگر مرزا قادیانی کی ایک آدھ گول مول پیش گوئی سچی ثابت ہو جائے تو اس کے لئے باعث فخر نہیں۔ لیکن مرزا قادیانی کو اپنی پیش گوئیوں کے سچا ہونے پر بڑا ناز ہے۔ ذیل میں چند پیش گوئیاں پیش کی جاتی ہیں۔ جنہیں مرزا قادیانی نے خاص طور سے اپنے صدق و کذب کا معیار قرار دیا۔ ورنہ مرزا قادیانی نے تو اپنی پیش گوئیوں کی تعداد ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں تک لکھی ہے۔ ”میرے نشان تین لاکھ تک پہنچتے ہیں۔“

(تتمہ حقیقت الوحی ص ٦٨، خزائن ج ٢٢ ص ٥٠٣)

”اب تک دس لاکھ سے زیادہ نشان ظاہر ہو چکے ہیں۔“

(تذکرۃ الشہادتین ص ٤١، خزائن ج ٢٠ ص ٤٣)

پہلی پیش گوئی متعلقہ منکوحہ آسمانی

ان نسبی تعلقات سے پتہ چلتا ہے کہ محمدی بیگم مرزا قادیانی کے قریبی رشتہ میں سے تھی اور پیغام نکاح کے وقت ان کی عمریں حسب ذیل تھیں۔ مرزا قادیانی خود لکھتا ہے: ”هـــــــــذه المخطوبة جارية حديثة السن عذراء وكنت حينئذ جاوزت الخمسين.“ یہ لڑکی ابھی چھوکری ہے اور میری عمر اس وقت پچاس سال سے زیادہ ہے۔

(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٧٤، خزائن ج ٥ ص ٥٧٤)

آئینہ کمالات اسلام میں مرزا قادیانی کے دل میں تحریک نکاح پیدا ہونے کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ احمد بیگ والد محمدی بیگم نے چاہا کہ اپنی ہمشیرہ کی زمین کا بذریعہ ہبہ مالک بن جائے۔ جس کا خاوند کئی سال سے مفقود الخبر تھا۔ چونکہ اس اراضی کے ہبہ کرانے میں مرزا قادیانی کی رضامندی کی بھی ضرورت تھی۔ اس لئے احمد بیگ کی بیوی نے مرزا قادیانی کے پاس جا کر کہا کہ آپ اس ہبہ پر رضامند ہو جائیں۔ مرزا قادیانی نے بات کو استخارہ کے بہانے سے ٹال دیا۔ پھر خود احمد بیگ مرزا قادیانی کے پاس آیا اور اس نے نہایت عاجزی سے التجاء کی۔ بقول مرزا قادیانی وہ زار زار روتا تھا، کانپتا تھا اور معلوم ہوتا تھا کہ اس کا یہ غم اسے ہلاک کر دے گا۔ مرزا قادیانی نے اسے کہا کہ میں استخارہ کرنے کے بعد تمہاری مدد کروں گا۔ چنانچہ مرزا قادیانی

اے

صفحہ ٢٧٢

استخارہ کرنے کے لئے اپنے حجرہ میں گیا تو یہ الہام ہوا:

هرك اولاً ثم ليقتبس من قبسك وقل انى امرت لاهبك ماطلبت من الارض وارضاً اخرى معها واحسن اليك باحسانات اخرى على ان تنكحنى احدى بناتك التى هى كبيرتها وذالك بينى وبينك فان قبلت فتجدنى من المتقبلين وان لم تقبل فاعلم ان الله قد اخبرنى ان انكاحها رجلا اخرا يبارك لها ولا لك فان لم تزوجو فيصب عليك مصائب واخرالمصائب موتك فتموت بعد النكاح الى ثلث سنين بل موتك قريب ويرد عليك وانت من الغافلين وكذلك يموت بعلها الذى يصير زوجها الى حولين وستة اشهر قضاء من الله ماضٍ ماانت صانعه وانى لك لمن الناصحين فعبس وتولى وكان من المعرضين“

یعنی اللہ تعالیٰ نے مجھ پر وحی نازل کی کہ اس شخص (احمد بیگ) کی بڑی لڑکی کے نکاح کے لئے درخواست کر اور اس سے کہہ دے کہ پہلے وہ تمہیں دامادی میں قبول کرے اور پھر تمہارے نور سے روشنی حاصل کرے اور کہہ دے کہ مجھے اس زمین کے ہبہ کرنے کا حکم مل گیا ہے۔

جس کے تم خواہش مند ہو۔ بلکہ اس کے علاوہ اور زمین بھی دی جائے گی اور دیگر مزید احسانات تم پر کئے جائیں گے۔ بشرطیکہ اپنی بڑی لڑکی کا مجھ سے نکاح کر دو۔ میرے اور تمہارے درمیان یہی عہد ہے۔ تم مان لو گے تو میں بھی تسلیم کرلوں گا۔ اگر تم قبول نہ کرو گے تو خبردار رہو۔ مجھے خدا نے یہ بتلا دیا ہے کہ اگر کسی اور شخص سے اس لڑکی کا نکاح ہوگا تو نہ اس لڑکی کے لئے یہ نکاح مبارک ہوگا اور نہ تمہارے لئے اس صورت میں تم پر مصائب نازل ہوں گے۔ جن کا نتیجہ تمہاری موت ہوگا۔ پس تم نکاح کے بعد تین سال کے اندر مر جاؤ گے۔ بلکہ تمہاری موت قریب ہے اور ایسا ہی اس لڑکی کا شوہر بھی اڑھائی سال کے اندر مر جائے گا۔ یہ اللہ کا حکم ہے۔ پس جو کرنا ہے کر لو میں نے تم کو نصیحت کر دی ہے۔ پس وہ تیوری چڑھا کر چلا گیا۔

(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٧٢ ، ٥٧٣ ، خزائن ج ٥ ص ٥٧٢ ، ٥٧٣)

اس کے چلے جانے کے بعد مرزا قادیانی نے بقول اس کے اسے ایک خط خدا کے حکم سے لکھا۔ جس میں منت سماجت بھی کی گئی اور انواع و اقسام کے لالچ بھی دیئے گئے۔ مگر مرزا احمد بیگ پر اس خط کا بھی کوئی اثر نہ ہوا۔ بلکہ اس نے اس خط کو عیسائی اخبار نور افشاں میں شائع کرا دیا۔ اس پر کرشن قادیانی نے ایک اشتہار شائع کیا۔ جس کے خاص خاص فقرات درج ذیل ہیں۔

٧٢

صفحہ ٢٧٣

الہام ہوا:

خطب صبية الكبيرة لنفسك وقل له ليصا قل انى امرت لاهبك ماطلبت من الارض بإحسانات اخرى على ان تنكحنى احدى وبينك فان قبلت فتجدنى من المتقبلين ني ان انكحها رجلا اخرلا يبارك لها ولا مصائب واخرالمصائب موتك فتموت بعد ذيب ويرد عليك وانت من الغافلين وكذلك ى حولين وسنة اشهر قضاة من الله ماضع مين فعبس وتولى وكان من المعرضين“

شخص (احمد بیگ) کی بڑی لڑکی کے نکاح کے لئے میں دامادی میں قبول کرے اور پھر تمہارے نور سے ان کے ہبہ کرنے کا حکم مل گیا ہے۔ اس کے علاوہ اور زمین بھی دی جائے گی اور دیگر مزید بڑی لڑکی کا مجھ سے نکاح کر دو۔ میرے اور تمہارے تسلیم کرلوں گا۔ اگر تم قبول نہ کرو گے تو خبردار رہو۔ سے اس لڑکی کا نکاح ہوگا تو نہ اس لڑکی کے لئے یہ نکاح میں تم پر مصائب نازل ہوں گے۔ جن کا نتیجہ تمہاری کے اندر مرجاؤ گے۔ بلکہ تمہاری موت قریب ہے اور ضرور مرجائے گا۔ یہ اللہ کا حکم ہے۔ پس جو کرنا ہے کرلو پڑھا کر چلا گیا۔

(حملات اسلام ص ٥٧٢،٥٧٤ خزائن ج ٥ ص ٥٧٤، ٥٧٣)

قادیانی نے بقول اس کے اسے ایک خط خدا کے حکم طرح واقسام کے لالچ بھی دیئے گئے۔ مگر مرزا احمد اس خط کو عیسائی اخبار نورافشاں میں شائع کرادیا۔ س کے خاص خاص فقرات درج ذیل ہیں۔

نکاح کے لئے سلسلہ جنبانی کر اور ان کو کہہ دے کہ تمام سلوک ومروت تم سے اسی شرط پر کیا جائے گا اور یہ نکاح تمہارے لئے موجب برکت اور ایک رحمت کا نشان ہوگا اور ان تمام برکتوں اور رحمتوں سے حصہ پاؤ گے۔ جو اشتہار ٢٠؍فروری ١٨٨٨ء میں درج ہیں۔ لیکن اگر نکاح سے انحراف کیا تو اس لڑکی کا انجام نہایت ہی برا ہوگا اور جس کسی دوسرے شخص سے بیاہی جائے گی۔ وہ روز نکاح سے اڑھائی سال تک اور ایسا ہی والد اس دختر کا تین سال تک فوت ہو جائے گا اور ان کے گھر پر تفرقہ اور تنگی اور مصیبت پڑے گی اور درمیانی زمانہ میں بھی اس دختر کے لئے کئی کراہت اور غم کے امر پیش آئیں گے۔“

پھر ان دنوں میں جو زیادہ تصریح اور تفصیل کے لئے بار بار توجہ کی گئی تو معلوم ہوا کہ خدا تعالیٰ نے مقرر کر رکھا ہے کہ وہ مکتوب الیہ کی دختر کلاں کو جس کی نسبت درخواست کی گئی تھی۔ ہر ایک مانع دور کرنے کے بعد انجام کار اس عاجز کے نکاح میں لائے گا اور بے دینوں کو مسلمان بنائے گا اور گمراہوں میں ہدایت پھیلائے گا۔ چنانچہ اس بارے میں عربی الہام ہے: ”کذبوا بايتنا وكانوا بها يستهزؤن فسيكفيكهم الله ويردها اليك لا تبديل لكلمات الله ان ربك فعال لما يريد انت معى وانا معك عسى ان يبعثك ربك مقاماً محمودا...... انہوں نے ہمارے نشانوں کو جھٹلایا اور وہ پہلے سے ہنسی کر رہے تھے۔ سو خدا تعالیٰ ان سب کے تدارک کے لئے جو اس کام کو روک رہے ہیں۔ تمہارا مددگار ہوگا اور انجام کار اس لڑکی کو تمہاری طرف واپس لائے گا۔ کوئی نہیں جو خدا کی باتوں کو ٹال سکے۔ تیرا رب وہ قادر ہے کہ جو کچھ چاہے وہ ہو جاتا ہے تو میرے ساتھ اور میں تیرے ساتھ ہوں اور عنقریب وہ مقام تجھے ملے گا۔ جس میں تیری تعریف کی جائے گی۔ یعنی گو اوّل میں احمق اور نادان لوگ بد باطنی اور بدظنی کی راہ سے بدگوئی کرتے ہیں اور نالائق باتیں منہ پر لاتے ہیں۔ لیکن آخر کار اللہ تعالیٰ کی مدد دیکھ کر شرمندہ ہوں گے اور سچائی کھلنے سے چاروں طرف تعریف ہوگی۔“

(اشتہار مورخہ ١٠؍ جولائی ١٨٨٨ء، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٥٨)

اس اشتہار کا مضمون بالکل واضح اور صاف ہے کہ مرزا قادیانی نے بغیر کسی شرط کے کھلے اور غیر مبہم الفاظ میں اعلان کر دیا ہے کہ محمدی بیگم کا نکاح میرے سوا اور کسی سے کر دیا گیا تو احمد بیگ والد محمدی بیگم اور اس کا داماد دونوں تاریخ نکاح سے تین اور اڑھائی سال تک فوت ہو جائیں گے اور خدا تعالیٰ ہر ایک مانع دور کرنے کے بعد محمدی بیگم کو میرے نکاح میں لائے گا۔ اس کے بعد

صفحہ ٢٧٤

مرزا قادیانی نے اپنے اس آسمانی نکاح کے متعلق جو الہامات اور تحریریں شائع کیں۔ ان کے ضروری اقتباسات درج ہیں۔

١٠؍ جولائی ١٨٨٨ء میں درج ہے۔ خدا تعالیٰ نے پیش گوئی کے طور پر اس عاجز پر ظاہر فرمایا کہ مرزا احمد بیگ ولد مرزا گاماں بیگ ہوشیار پوری کی دختر کلاں انجام کار تمہارے نکاح میں آئے گی اور وہ لوگ بہت عداوت کریں گے اور بہت مانع آئیں گے اور کوشش کریں گے کہ ایسا نہ ہو۔ لیکن آخرکار ایسا ہی ہوگا اور فرمایا کہ خدا تعالیٰ ہر طرح سے اس کو تمہاری طرف لائے گا۔ باکرہ ہونے کی حالت میں یا بیوہ کر کے اور ہر ایک روک کو درمیان سے اٹھادے گا اور اس کام کو ضرور پورا کرے گا۔ کوئی نہیں جو اس کو روک سکے۔ چنانچہ اس پیش گوئی کا مفصل بیان مع اس کی میعاد خاص اور اس کے اوقات مقرر شدہ کے اور مع اس کے ان تمام لوازم کے جنہوں نے انسان کی طاقت سے اس کو باہر کر دیا۔ اشتہار ١٠؍جولائی ١٨٨٨ء میں مندرج ہے اور وہ اشتہار عام طبع ہو کر شائع ہو چکا ہے۔ جس کی نسبت آریوں کے بعض منصف مزاج لوگوں نے بھی شہادت دی۔ اگر یہ پیش گوئی پوری ہو جائے تو بلاشبہ یہ خدا تعالیٰ کا فضل ہے اور یہ پیش گوئی ایک سخت مخالف قوم کے مقابل پر ہے۔ جنہوں نے گویا دشمنی اور عناد کی تلواریں کھینچی ہوئی ہیں اور ہر ایک جو ان کے حال سے خبیر ہوگا۔ وہ اس پیش گوئی کی عظمت خوب سمجھتا ہوگا۔ ہم نے اس پیش گوئی کو اس جگہ مفصل نہیں لکھا تا کہ بار بار کسی کے متعلق پیش گوئی کی دل شکنی نہ ہو۔ لیکن جو شخص اشتہار پڑھے گا وہ گو کیسا ہی متعصب ہوگا اس کو اقرار کرنا پڑے گا کہ مضمون اس پیش گوئی کا انسان کی قدرت سے بالا تر ہے اور اس بات کا جواب بھی کامل اور مسکت طور پر اسی اشتہار پر سے ملے گا کہ خداوند تعالیٰ نے کیوں یہ پیش گوئی بیان فرمائی اور اس میں کیا مصالح ہیں اور کیوں اور کس دلیل سے یہ انسان طاقتوں سے بلند تر ہے۔

اب اس جگہ مطلب یہ ہے کہ جب یہ پیش گوئی معلوم ہوئی اور ابھی پوری نہیں ہوئی تھی۔ (جیسا کہ اب تک بھی جو ١٦؍ اپریل ١٨٩١ء ہے۔ پوری نہیں ہوئی) تو اس کے بعد اس عاجز کو ایک سخت بیماری آئی۔ یہاں تک کہ قریب موت کے نوبت پہنچ گئی۔ بلکہ موت کو سامنے دیکھ کر وصیت بھی کر دی گئی۔ اس وقت گویا پیش گوئی آنکھوں کے سامنے آگئی اور یہ معلوم ہو رہا تھا کہ اب آخری دم ہے اور کل جنازہ نکلنے والا ہے۔ تب میں نے اس پیش گوئی کی نسبت خیال کیا کہ شاید اس کے اور معنی ہوں گے جو میں سمجھ نہیں سکا۔ تب اسی حالت قریب الموت میں مجھے الہام ہوا۔ ”الحق من ربك فلا تكونن من الممترين“ یعنی بات تیرے رب کی طرف سے سچ

٧٢

صفحہ ٢٧٤

ے کے متعلق جو الہامات اور تحریریں شائع کیں۔ ان کے ا ہے کہ بعض تحریکات کی وجہ سے جن کا مفصل ذکر اشتہار تعالیٰ نے پیش گوئی کے طور پر اس عاجز پر ظاہر فرمایا کہ د پوری کی دختر کلاں انجام کار تمہارے نکاح میں آئے گی کچھ مانع آئیں گے اور کوشش کریں گے کہ ایسا نہ ہو۔ لیکن ہر طرح سے اس کو تمہاری طرف لائے گا۔ باکرہ ہونے کی اور جہان سے اٹھا دے گا اور اس کام کو ضرور پورا کرے گا۔ س پیش گوئی کا مفصل بیان مع اس کی میعاد خاص اور اس کے تمام لوازم کے جنہوں نے انسان کی طاقت سے اس کو باہر کر رج ہے اور وہ اشتہار عام طبع ہو کر شائع ہو چکا ہے۔ جس کی لوگوں نے بھی شہادت دی۔ اگر یہ پیش گوئی پوری ہو جائے تو ائی ایک سخت مخالف قوم کے مقابل پر ہے۔ جنہوں نے گویا ہر ایک نوجوان کے حال سے خبر ہو گی۔ وہ اس پیش گوئی کی گوئی کو اس قدر مفصل نہیں لکھا تا کہ بار بار کسی کے متعلق پیش اثر پڑے گا وہ گو کیسا ہی متعصب ہو گا اس کو اقرار کرنا پڑے گا ت سے بالا تر ہے اور اس بات کا جواب بھی کامل اور مسکت د تعالیٰ نے کیوں یہ پیش گوئی بیان فرمائی اور اس میں کیا انسان طاقتوں سے بلند تر ہے۔

کہ جب یہ پیش گوئی معلوم ہوئی اور ابھی پوری نہیں ہوئی ن ١٨٩١ء ہے۔ پوری نہیں ہوئی) تو اس کے بعد اس عاجز یب موت کے نوبت پہنچ گئی۔ بلکہ موت کو سامنے دیکھ کر کوئی آنکھوں کے سامنے آ گئی اور یہ معلوم ہو رہا تھا کہ ہے۔ تب میں نے اس پیش گوئی کی نسبت خیال کیا کہ ہی سکا۔ تب اسی حالت قریب الموت میں مجھے الہام الممترين ”یعنی بات تیرے رب کی طرف سے سچ

٧٤

٢٧٥

ہے تو کیوں شک کرتا ہے۔.........................

ولد گاماں بیگ ہوشیار پوری دختر کی نسبت بحکم والہام الہی یہ اشتہار دیا تھا کہ خدا کی طرف سے یہی مقدر اور قرار یافتہ ہے کہ وہ لڑکی اس عاجز کے نکاح میں آئے گی۔ خواہ پہلے ہی باکرہ ہونے کی حالت میں آجائے یا خدا تعالیٰ بیوہ کر کے اس کو میری طرف لے آوے۔“

(اشتہار مورخہ ٢؍مئی ١٨٩١ء، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢١٩)

میرے نکاح میں آجانا۔ اب آپ ایماناً کہیں کہ یہ باتیں انسان کے اختیار میں ہیں اور ذرا اپنے دل کو تھام کر سوچ لیں کہ کیا ایسی پیش گوئی سچے ہو جانے کی حالت میں انسان کا فعل ہو سکتی ہے۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٣٢٥، خزائن ج ٥ ص ایضاً)

کے اجزاء یہ ہیں:

اور ظاہر ہے کہ یہ تمام واقعات انسان کے اختیار میں نہیں۔“

(شہادت القرآن ص ٦٥، خزائن ج ٦ ص ٣٧٦)

٧٥

صفحہ ٢٧٦

ہونا اور احمد بیگ کی دختر کلاں کا آخر اس عاجز کے نکاح میں آنا یہ پیش گوئیاں تیری طرف سے نہیں تو مجھے نامرادی اور ذلت کے ساتھ ہلاک کر۔"

(مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ١١٥، ١١٦)

ہے۔ جو کسی طرح ٹل نہیں سکتی۔ کیونکہ اس کے متعلق الہام الٰہی میں یہ فقرہ موجود ہے۔ "لا تبدیل بکلمات اللہ" یعنی میری یہ بات نہیں ٹلے گی۔ پس اگر ٹل جائے تو خدا کا کلام باطل ہوتا ہے۔"

(مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٣٣)

فالهمنى ربى وقال ساريهم آية من انفسهم واخبرنى وقال انني ساجعل بنتاً من بناتهم آية لهم فسماها وقال انها ستجعل ثيبة ويموت بعلها وابوها الى ثلث سنة من يوم النكاح ثم نردها اليك بعد موتهما ولا يكون احدهما من العاصمين وقال ان ارادوها اليك لا تبديل لكلمات الله ان ربك فعال لما يريد" میں (مرزا قادیانی) نے بڑی عاجزی سے خدا سے دعا کی تو اس نے مجھے الہام کیا کہ میں ان (تیرے خاندان کے) لوگوں کو ان میں سے ایک نشانی دکھاؤں گا۔ خدا تعالیٰ نے ایک لڑکی (محمدی بیگم) کا نام لے کر فرمایا کہ وہ بیوہ کی جائے گی اور اس کا خاوند اور باپ یوم نکاح سے تین سال تک فوت ہو جائیں گے۔ پھر ہم اس لڑکی کو تیری طرف لائیں گے اور کوئی اس کو روک نہ سکے گا اور فرمایا میں اسے تیری طرف واپس لاؤں گا۔ خدا کے کلام میں تبدیلی نہیں ہو سکتی اور تیرا خدا جو چاہتا ہے کر دیتا ہے۔

(کرامات الصادقین سرورق ص اخیر، خزائن ج ٧ ص ١٦٢)

امر من لدنا انا كنا فاعلين زوجناكها الحق من ربك فلا تكونن من الممترين لا تبديل لكلمات الله ان ربك فعال لما يريد ان ارادوها اليك" انہوں نے میرے نشانوں کی تکذیب کی اور ٹھٹھا کیا۔ سو خدا ان کے لئے تجھے کفایت کرے گا اور عورت کو تیری طرف واپس لائے گا۔ یہ ہماری طرف سے ہے اور ہم ہی کرنے والے ہیں۔ بعد واپسی کے ہم نے نکاح کر دیا۔ تیرے رب کی طرف سے سچ ہے۔ پس تو شک کرنے والوں سے مت ہو۔ خدا کے کلمے بدلا نہیں کرتے۔ تیرا رب جس بات کو چاہتا ہے وہ بالضرور اس کو کر دیتا ہے۔ کوئی نہیں جو اس کو روک سکے۔ ہم اس کو واپس لانے والے ہیں۔

(انجام آتھم ص ٦٠، ٦١، خزائن ج ١١ ص ٦٠، ٦١)

٧٦

صفحہ ٢٧٧

ے خدائے قادر و علیم اگر آتھم کا عذاب مہلک میں گرفتار ہو کے نکاح میں آنا یہ پیش گوئیاں تیری طرف سے نہیں

(مجموعہ اشتہارات ج٢ ص ١١٥، ١١٦)

“....... (محمدی بیگم) کا اس عاجز کے نکاح میں آنا تقدیر مبرم ہے متعلق الہام الہی میں یہ فقرہ موجود ہے۔ ’لا تبدیل گی۔ پس اگر ٹل جائے تو خدا کا کلام باطل ہوتا ہے۔“

(مجموعہ اشتہارات ج٢ ص ٣٣)

تضرع والابتهال ومددت اليه ايدى السوال، بانفسهم واخبرني وقال انني ساجعل بنتاً انها ستجعل ثيبة، ويموت بعلها وابوها الى ردها اليك بعد موتهما ولا يكون احدهما من تبديل لكلمات الله ان ربك فعال لما يريد“ قضا سے دعا کی تو اس نے مجھے الہام کیا کہ میں ان یہ ایک نشانی دکھاؤں گا۔ خدا تعالیٰ نے ایک لڑکی (محمدی بی اور اس کا خاوند اور باپ یوم نکاح سے تین سال تک طرف لائیں گے اور کوئی اس کو روک نہ سکے گا اور فرمایا کلام میں تبدیلی نہیں ہو سکتی اور تیرا خدا جو چاہتا ہے کر

(کرامات الصادقین سرورق ص اخیر، خزائن ج ٧ ص ١٦٢)

انا يستهزؤن فسيكفيكهم الله ويردهم اليك قها الحق من ربك فلا تكونن من الممترين ه لما يريد انارادوها اليك “ انہوں نے میرے کے لئے مجھے کفایت کرے گا اور عورت کو تیری طرف م حق کرنے والے ہیں۔ بعد واپسی کے ہم نے نکاح پس تو شک کرنے والوں سے مت ہو۔ خدا کے کلمے ہے وہ بالضرور اس کو کر دیتا ہے۔ کوئی نہیں جو اس کو

(انجام آتھم ص ٦٠، ٦١، خزائن ج ١١ ص ٦٠، ٦١ )

٧٦

خواہم نمود و برائے تو ایں ہمہ را کفایت خواہم شد و آں زن را کہ زن احمد بیگ رادختر است باز بسوئے تو واپس خواہم آورد یعنی چونکہ او از قبیلہ بباعث نکاح اجنبی بیروں شدہ باز بتقریب نکاح تو بسوئے قبیلہ رد کردہ خواہد شد در کلمات خدا و وعدہ ہائے او ہیچ کس تبدیل نتواند کرد و خدائے تو ہر چہ خواہد آں امر بہر حالت شدنی است ممکن نیست کہ در معرض التواء بماند پس خدا تعالیٰ بلفظ فسيكفيكهم الله سوئے ایں امر اشارہ کرد کہ او دختر احمد بیگ را بعد میرانیدن مانعاں بسوئے من واپس خواہد کرد و اصل مقصود میرانیدن بود و تو میدانی کہ ہلاک ایں امر میرانیدن است و بس۔“

خدا نے فرمایا کہ یہ لوگ میری نشانیوں کو جھٹلاتے ہیں اور ان سے ٹھٹھا کرتے ہیں۔ پس میں ان کو ایک نشان دوں گا اور تیرے لئے ان سب کو کافی ہوں گا اور اس عورت کو جو احمد بیگ کی عورت کی بیٹی ہے۔ پھر تیری طرف واپس لاؤں گا۔ یعنی چونکہ وہ ایک اجنبی کے ساتھ نکاح ہو جانے کے سبب قبیلہ سے باہر نکل گئی ہے۔ پھر تیرے نکاح کے ذریعہ سے قبیلہ میں داخل کی جائے گی۔ خدا کی باتوں اور اس کے وعدوں کو کوئی بدل نہیں سکتا اور تیرا خدا جو کچھ چاہتا ہے وہ کام ہر حالت میں ہو جاتا ہے۔ ممکن نہیں کہ معرض التواء میں رہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے لفظ فسيكفيكهم الله کے ساتھ اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ وہ احمد بیگ کی لڑکی کو روکنے والوں کو جان سے مار ڈالنے کے بعد میری طرف واپس لائے گا اور اصل مقصود جان سے مار ڈالنا تھا اور تو جانتا ہے کہ ہلاک اس امر کا جان سے مار ڈالنا ہے اور بس۔“

(انجام آتھم ص ٢١٦، خزائن ج ١١ ص ٢١٦)

فرمایا گیا ہے۔ جو اس وقت میرے پر کھولا گیا ہے اور وہ یہ الہام ہے جو براہین احمدیہ کے ص ٤٩٦ میں مذکور ہے۔”يا ادم اسكن انت وزوجك الجنة يا مريم اسكن انت وزوجك الجنة يا احمد اسكن انت وزوجك الجنة“ اس جگہ تین جگہ زوج کا لفظ آیا اور تین نام اس عاجز کے رکھے گئے۔ پہلا نام آدم یہ وہ ابتدائی نام ہے جب کہ خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے اس عاجز کو وجود بخشا۔ اس وقت پہلی زوجہ کا ذکر فرمایا۔ پھر دوسری زوجہ کے وقت میں مریم نام رکھا۔ کیونکہ اس وقت مبارک اولاد دی گئی۔ جس کو مسیح سے مشابہت ملی اور نیز اس وقت مریم کی طرح کئی ابتلاء پیش آئے۔ جیسا کہ مریم کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کے وقت یہودیوں کی بدباطنیوں کا ابتلاء پیش آیا اور تیسری زوجہ جس کی انتظار ہے۔ اس کے ساتھ احمد کا لفظ شامل کیا گیا اور یہ لفظ احمد اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس وقت حمد اور تعریف ہوگی۔ یہ ایک چھپی ہوئی پیش

٧٧

صفحہ ٢٧٨

گئی ہے۔ جس کا سر اس وقت خدا تعالیٰ نے مجھ پر کھول دیا۔ غرض یہ تین مرتبہ زوج کا لفظ تین مختلف نام کے ساتھ جو بیان کیا گیا ہے وہ اس پیش گوئی کی طرف اشارہ تھا۔‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٤، خزائن ج ١١ ص ٣٣٨)

گوئی فرمائی ہوئی ہے کہ ”یتزوج ویولد“ یعنی وہ مسیح موعود بیوی کرے گا اور نیز وہ صاحب اولاد ہوگا۔ اب ظاہر ہے کہ تزوج اور اولاد کا ذکر کرنا عام طور پر مقصود نہیں۔ کیونکہ عام طور پر ہر ایک شادی کرتا ہے اور اولاد بھی ہوتی ہے۔ اس میں کچھ خوبی نہیں بلکہ تزوج سے مراد وہ خاص تزوج ہے جو بطور نشان ہوگا اور اولاد سے مراد خاص اولاد ہے۔ جس کی نسبت اس عاجز کی پیش گوئی موجود ہے۔ گویا اس جگہ رسول اللہ ﷺ ان سیہ دل منکروں کو ان کے شبہات کا جواب دے رہے ہیں اور فرما رہے ہیں کہ یہ باتیں ضرور پوری ہوں گی۔‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٣، خزائن ج ١١ ص ٣٣٧)

ہے کہ وہ امام الدین کی ہمشیرہ زادی ہے جو خط بنام مرزا احمد بیگ کلمہ الفضل رحمانی میں درج ہے۔ وہ میرا ہے اور سچ ہے وہ عورت میرے ساتھ بیاہی نہیں گئی۔ مگر میرے ساتھ اس کا بیاہ ضرور ہوگا۔ جیسا کہ پیش گوئی میں درج ہے وہ سلطان محمد سے بیاہی گئی۔ میں سچ کہتا ہوں کہ اس عدالت میں جہاں ان باتوں پر جو میری طرف سے نہیں ہیں۔ بلکہ خدا کی طرف سے ہیں ہنسی کی گئی ہے۔ ایک وقت آتا ہے کہ عجیب اثر پڑے گا اور سب کے ندامت سے سر نیچے ہوں گے۔ پیش گوئی کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہی پیش گوئی تھی کہ وہ اس کے ساتھ بیاہی جائے گی۔ اس لڑکی کے باپ کے مرنے اور خاوند کے مرنے کی پیش گوئی شرطی تھی اور شرط توبہ اور رجوع الی اللہ کی تھی۔ لڑکی کے باپ نے توبہ نہ کی۔ اس لئے وہ بیاہ کے بعد چھ مہینوں کے اندر مر گیا اور پیش گوئی کی دوسری جز پوری ہو گئی۔ اس کا خوف اس کے خاندان پر پڑا اور خصوصاً شوہر پر پڑا۔ جو پیش گوئی کا ایک جز تھا۔ انہوں نے توبہ کی۔ چنانچہ اس کے رشتہ داروں اور عزیزوں کے خط بھی آئے۔ اس لئے خدا نے اس کو مہلت دی۔ عورت اب تک زندہ ہے۔ میرے نکاح میں وہ عورت ضرور آئے گی۔ امید کیسی یقین کامل ہے۔ یہ خدا کی باتیں ہیں جو ٹلتی نہیں ہو کر رہیں گی۔‘‘

(اخبار الحکم مورخہ ١٠ اگست ١٩٠١ء مرزا قادیانی کا حلفیہ بیان عدالت ضلع گورداسپور میں)

قارئین کرام! مندرجہ بالا حوالہ جات خود ہی اپنی تشریح کر رہے ہیں۔ مزید کسی

٧٨

صفحہ ٢٧٩

وضاحت کی ضرورت نہیں۔ مورخہ ١٠؍ جولائی ١٨٨٨ء کے اشتہار میں مرزا قادیانی نے الہامی اعلان کر دیا تھا کہ محمدی بیگم کا باکرہ ہونے کی حالت میں میرے ساتھ نکاح ہوگا اور اگر اس کا نکاح کسی دوسرے شخص سے کر دیا گیا تو اس کا خاوند روز نکاح سے اڑھائی سال تک فوت ہو جائے گا اور خدا تعالیٰ ہر ایک مانع کو دور کرنے کے بعد اسے میرے نکاح میں لائے گا۔ (ازالہ اوہام، اشتہار مئی ١٨٩١ء، شہادت القرآن، آئینہ کمالات اسلام اور کرامات الصادقین) کے جو حوالہ جات نقل کئے گئے ہیں۔ ان میں بھی یہی ڈھنڈورہ پیٹا گیا ہے کہ محمدی بیگم کا خاوند اڑھائی سال کے اندر فوت ہو جائے گا اور محمدی بیگم مرزا قادیانی کے نکاح میں آ جائے گی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ مرزا سلطان محمد صاحب ساکن پٹی سے محمدی بیگم کا نکاح کب ہوا اور مرزا قادیانی کے قول کے مطابق اس کی زندگی کی آخری تاریخ کون سی تھی۔ اس کے لئے بھی بیرونی شہادت کی ضرورت نہیں۔

مرزا قادیانی خود لکھتا ہے: ’’٧؍ اپریل ١٨٩٢ء کو اس لڑکی (محمدی بیگم) کا دوسری جگہ نکاح ہو گیا۔‘‘

(آئینہ کمالات اسلام ص ٢٨٠، خزائن ج ٥ ص ٢٨٠)

نکاح کی تاریخ کے بعد مرزا قادیانی نے وفات کے متعلق لکھا ہے: ’’پھر مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری کے داماد کی موت کی نسبت پیش گوئی جو پٹی ضلع لاہور کا باشندہ ہے۔ جس کی میعاد آج کی تاریخ سے جو ٢١؍ ستمبر ١٨٩٣ء ہے۔ قریباً گیارہ مہینے باقی رہ گئی ہے۔‘‘

(شہادت القرآن ص ٨٠، خزائن ج ٦ ص ٣٧٥)

مرزا قادیانی کے ان دونوں بیانات سے صاف پتہ چلتا ہے کہ ٢١؍ اگست ١٨٩٣ء مرزا سلطان محمد صاحب کی زندگی کا آخری دن تھا۔ جب کہ مرزا سلطان محمد صاحب اپریل ١٩٤٦ء تک زندہ رہے۔ جب مرزا قادیانی کی بیان کردہ اڑھائی سالہ میعاد گزر جانے کے بعد بھی مرزا سلطان محمد زندہ رہے تو ہر طرف سے کرشن قادیانی مرزا غلام احمد قادیانی پر اعتراضات کی بوچھاڑ ہوئی تو مرزا قادیانی نے اپنی ذلت و رسوائی پر پردہ ڈالنے کے لئے نئی بات گھڑی۔

جیسا کہ لکھتا ہے: ’’غرض احمد بیگ میعاد کے اندر فوت ہو گیا اور اس کا فوت ہونا اس کے داماد اور تمام عزیزوں کے لئے سخت غم و ہم کا موجب ہوا۔ چنانچہ ان لوگوں کی طرف سے توبہ اور رجوع کے خط اور پیغام بھی آئے۔ جیسا کہ ہم نے اشتہار مورخہ ٦؍ اکتوبر ١٨٩٤ء میں جو غلطی سے ٦؍ ستمبر ١٨٩٤ء لکھا گیا ہے۔ مفصل ذکر کر دیا۔ پس اس دوسرے حصے یعنی احمد بیگ کے داماد کی وفات کے بارے میں سنت اللہ کے موافق تاخیر ڈال دی گئی۔‘‘

(مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٩٥)

اس عبارت اور اسی طرح کی دوسری عبارتوں اور حوالہ جات میں مرزا قادیانی نے حق کو

٧٩

صفحہ ٢٨٠

چھپانے اور اپنی رسوائی پر پردہ ڈالنے کی ناکام کوشش کی اور انتہائی کذب بیانی سے کام لیا۔ جیسا کہ لکھتا ہے: ”یہ ہا داماد اس کا (احمد بیگ کا) سو وہ اپنے رفیق اور خسر کی موت کے حادثہ سے اس قدر خوف سے بھر گیا تھا کہ قبل از موت مر گیا۔“

(انجام آتھم ص ٢٩ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٩)

اس حوالہ میں بھی مرزا قادیانی نے سیاہ جھوٹ لکھا ہے کہ مرزا سلطان محمد ڈر گیا تھا۔ اگر مرزا قادیانی اور اس کی ناجائز اولاد (مرزائیوں) میں ہمت ہوتی تو مرزا قادیانی سلطان محمد کی کوئی تحریر پیش کرتے۔ جب کہ وہ آج تک ایسی کوئی تحریر پیش کرنے سے قاصر ہی ہیں۔ مرزا سلطان محمد صاحب مرزا قادیانی کی پیش گوئی سے بالکل خوفزدہ نہیں ہوئے۔ بلکہ اتنی بہادری اور اولوالعزمی دکھائی کہ مجبوراً مرزا قادیانی کو بھی لکھنا پڑا۔

”احمد بیگ کے داماد کا یہ قصور تھا کہ اس نے تخویف کا اشتہار دیکھ کر اس کی پرواہ نہ کی۔ خط پر خط بھیجے گئے۔ ان سے کچھ نہ ڈرا پیغام بھیج کر سمجھایا گیا۔ کسی نے اس طرف ذرا التفات نہ کی اور احمد بیگ سے ترک تعلق نہ چاہا۔ بلکہ وہ سب گستاخی اور استہزاء میں شریک ہوئے۔ سو یہی قصور تھا کہ پیش گوئی کو سُن کر پھر ناطہ کرنے پر راضی ہوئے۔“

(اشتہار انعامی چار ہزار روپیہ، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٩٥)

مرزا قادیانی کی تحریر کردہ اس عبارت نے دو باتوں کا قطعی فیصلہ کر دیا۔ ایک یہ کہ مرزا سلطان محمد ہرگز خوفزدہ نہیں ہوا اور دوسرا یہ کہ مرزا سلطان محمد کا اصل قصور یہ تھا کہ وہ مرزا قادیانی کی پیش گوئی کو سن کر بھی محمدی بیگم کے ساتھ رشتہ ناطہ کرنے پر راضی ہو گیا۔ پس مرزا سلطان محمد کی توبہ اور رجوع اسی صورت میں ہو سکتے تھے کہ وہ مرزا قادیانی کی پیش گوئی کو پورا کرنے میں اس کا ممد ومعاون ہو جاتا۔ لیکن بقول مولانا ثناء اللہ صاحب امرتسری وہ مرزا قادیانی کے سینہ پر مونگ دلتا رہا اور مرزا قادیانی کی پیش گوئی کی وجہ سے نہ ڈرا نہ توبہ کی جیسا کہ اس نے خود لکھا ہے: ”جناب مرزا غلام احمد قادیانی نے جو میری موت کی پیش گوئی فرمائی تھی۔ میں نے اس میں ان کی تصدیق کبھی نہیں کی۔ نہ میں اس پیش گوئی سے کبھی ڈرا۔ میں ہمیشہ سے اور اب بھی اپنے بزرگان اسلام کا پیرو رہا ہوں۔“

(مورخہ ٣؍ مارچ ١٩٣٣ء، دستخط مرزا سلطان محمد پٹی، اخبار اہل حدیث مورخہ ١٤؍ مارچ ١٩٣٣ء)

مرزا قادیانی کے بیان اور مرزا سلطان محمد کی اپنی تحریر سے ثابت ہو گیا کہ سلطان محمد ہرگز نہیں ڈرا اور نہ اس نے مرزا قادیانی کی تصدیق کی۔ ان تمام حقائق کی موجودگی میں مرزا قادیانی کا یہ لکھنا کہ سلطان محمد ڈر گیا۔ جھوٹ نہیں تو اور کیا ہے۔ اب مرزا قادیانی کی وہ تحریرات پیش کی

٨٠

صفحہ ٢٨١

کی ناکام کوشش کی اور انتہائی کذب بیانی سے کام لیا۔ جیسا کہ اس کو اپنے رفیق اور خسر کی موت کے حادثہ نے اس قدر گھبرا دیا۔"

(انجام آتھم ص ٢٩ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٩)

قادیانی نے سیاہ جھوٹ لکھا ہے کہ مرزا سلطان محمد ڈر گیا تھا۔ اگر ان (مرزائیوں) میں ہمت ہوتی تو مرزا قادیانی سلطان محمد کی کوئی ایسی تحریر پیش کرنے سے قاصر ہی ہیں۔ مرزا سلطان محمد سے بالکل خوفزدہ نہیں ہوئے۔ بلکہ اتنی بہادری اور اولوالعزمی دکھلائی۔" یہ مشہور تھا کہ اس نے تخویف کا اشتہار دیکھ کر اس کی پرواہ نہ کی۔ اور پیغام بھیج کر سمجھایا گیا۔ کسی نے اس طرف ذرا التفات نہ کی اور وہ سب گستاخی اور استہزاء میں شریک ہوئے۔ سو یہی قصور موجب ناراضی ہوئے۔"

(اشتہار انعامی چار ہزار روپیہ، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٩٥)

اس عبارت نے دو باتوں کا قطعی فیصلہ کر دیا۔ ایک یہ کہ اور دوسرا یہ کہ مرزا سلطان محمد کا اصل قصور یہ تھا کہ وہ اس لڑکی کے ساتھ رشتہ ناطہ کرنے پر راضی ہو گیا۔ پس مرزا قادیانی اس فریب میں ہو سکتے تھے کہ وہ مرزا قادیانی کی پیش گوئی کو پورا کرے لیکن بقول مولانا ثناء اللہ صاحب امرتسری وہ مرزا قادیانی کی پیش گوئی کی وجہ سے نہ ڈرا نہ توبہ کی جیسا کہ اس نے خود لکھا ہے کہ مرزا صاحب نے جو میری موت کی پیش گوئی فرمائی تھی۔ میں نہ اس پیش گوئی سے کبھی ڈرا۔ میں ہمیشہ سے اور اب بھی اپنے

(خط مرزا سلطان محمد بنام ایڈیٹر اخبار اہل حدیث مورخہ ١٤؍ مارچ ١٩٢٤ء)

مرزا سلطان محمد کی اپنی تحریر سے ثابت ہو گیا کہ سلطان محمد نے اس پیش گوئی کی تصدیق نہیں کی۔ ان تمام حقائق کی موجودگی میں مرزا قادیانی جھوٹا ہی قرار پاتا ہے۔ اب مرزا قادیانی کی وہ تحریرات پیش کی

٨٠

جاتی ہیں۔ جن میں لکھا گیا ہے کہ اگر سلطان محمد ڈرتا بھی تو اسے کوئی فائدہ نہ ہوتا۔ کیونکہ اس کی موت تقدیر مبرم تھی۔ مرزا قادیانی لکھتا ہے:

الف..... "میں بار بار کہتا ہوں کہ نفس پیش گوئی داماد احمد بیگ کی تقدیر مبرم ہے۔ اس کی انتظار کرو اور اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ پیش گوئی پوری نہیں ہوگی اور میری موت آجائے گی اور اگر میں سچا ہوں تو خدا تعالیٰ اسے ضرور پورا کرے گا۔"

(انجام آتھم ص ٣١ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٣١)

ب...... "شاتان تذبحان وكل من عليها فان ولا تهنوا ولا تحزنوا الم تعلم ان الله على كل شئ قدير..... براہین احمدیہ میں آج سے سترہ برس پہلے یہ پیش گوئی شائع ہو چکی ہے۔ یعنی دو بکریاں ذبح کی جائیں گی۔ پہلی بکری سے مراد مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری ہے اور پھر فرمایا کہ تم سست مت ہو اور غم مت کرو۔ کیونکہ ایسا ہی ظہور میں آئے گا۔ کیا تو نہیں جانتا کہ خدا ہر ایک چیز پر قادر ہے۔"

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٥ تا ٥٧، خزائن ج ١١ ص ٣٤١)

ج....... "یاد رکھو کہ اس پیش گوئی کی دوسری جز پوری نہ ہوئی تو میں ہر ایک بد سے بدتر ٹھہروں گا۔ اے احمقو! یہ انسان کا افتراء نہیں۔ یہ کسی خبیث مفتری کا کاروبار نہیں۔ یقیناً سمجھو کہ یہ خدا کا سچا وعدہ ہے۔ وہی خدا جس کی باتیں نہیں ٹلتیں۔ وہی رب ذوالجلال جس کے ارادوں کو کوئی روک نہیں سکتا۔ اس کی سنتوں اور طریقوں کا تم میں علم نہیں رہا۔ اس لئے تمہیں یہ ابتلاء پیش آیا۔"

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٤، خزائن ج ١١ ص ٣٣٨)

د....... "اس پیش گوئی کا دوسرا حصہ جو اس کے داماد کی موت ہے۔ وہ الہامی شرط کی وجہ سے دوسرے وقت پر جا پڑا اور داماد اس کا الہامی شرط سے اسی طرح متمتع ہوا۔ جیسا کہ آتھم ہوا کیوں کہ احمد بیگ کی موت کے بعد اس کے وارثوں میں سخت مصیبت برپا ہوئی۔ سو ضرور تھا کہ وہ الہامی شرط سے فائدہ اٹھاتے اور اگر کوئی بھی شرط نہ ہوتی۔ تاہم وعید میں سنت اللہ یہی تھی۔ جیسا کہ یونس کے دنوں میں ہوا۔ پس اس کا داماد تمام کنبہ کے خوف کی وجہ سے اور ان کے توبہ اور رجوع کے باعث سے اس وقت فوت نہ ہوا۔ مگر یاد رکھو کہ خدا کے فرمودہ میں تخلف نہیں اور انجام وہی ہے۔ جو ہم کئی مرتبہ لکھ چکے ہیں۔ خدا کا وعدہ ہرگز ٹل نہیں سکتا۔"

(ضمیمہ انجام آتھم ص ١٤، خزائن ج ١١ ص ٢٩٨)

قارئین کرام! عبارت مندرجہ بالا میں مرزا قادیانی نے کس بلند آہنگی اور شدومد سے مرزا سلطان محمد کی موت کا اعلان کیا۔ اس کی موت کو تقدیر مبرم اور اٹل قرار دیا اور کہا کہ اگر یہ پیش گوئی پوری نہ ہوئی تو میں جھوٹا اور ہر ایک بد سے بدتر ٹھہروں گا۔ نتیجہ صاف اور سامنے ہے کہ

٨١

صفحہ ٢٨٢

مرزا قادیانی مورخہ ٢٦؍ مئی ١٩٠٨ء کو اگلے جہاں کی طرف لڑھک گیا اور مرزا سلطان محمد اپریل ١٩٣٢ء تک زندہ رہے۔

مرزا قادیانی نے ١٨٨٨ء میں بقول خود اللہ تعالیٰ سے خبر پا کر اور اس کی اجازت سے محمدی بیگم کے نکاح کا اشتہار دیا۔ اس کے بعد اس آسمانی نکاح کے متعلق مرزا قادیانی پر بارش کی طرح تابڑ توڑ الہامات برستے رہے۔ جن کا تھوڑا سا نمونہ گزشتہ صفحات میں پیش کیا گیا ہے۔ ان حوالہ جات سے صاف ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی کے دل میں یہ کامل یقین تھا کہ محمدی بیگم اس کے نکاح میں ضرور آئے گی۔ یہاں تک کہ جون ١٩٠٥ء تک بھی مرزا قادیانی اس نکاح سے مایوس نہیں ہوا تھا۔ اسی امید نے مرزا قادیانی کو یہ کہنے پر مجبور کیا۔

’’اور وعدہ یہ ہے کہ پھر وہ نکاح کے تعلق سے واپس آئے گی۔ سو ایسا ہی ہوگا۔‘‘

(اخبار الحکم مورخہ ٣٠؍ جون ١٩٠٥ء ص ٢ کالم ٢)

حوالہ جات سابقہ کے علاوہ مرزا قادیانی کا ایک فیصلہ کن حوالہ نقل کیا جاتا ہے۔ جس میں مرزا قادیانی اس پیش گوئی کو تقدیر مبرم قرار دیتے ہوئے لکھتا ہے: ’’باز شما را ایں نگفتہ ام کہ ایں مقدمہ برہمیں قدر باتمام رسید و نتیجہ آخری ہماں است کہ بظہور آمد حقیقت پیش گوئی برہماں ختم شد۔ بلکہ اصل امر بر حال خود قائم است و ہیچکس باحیلہ خود اورا ردّ نتواں کرد وایں تقدیر از خدائے بزرگ تقدیر مبرم است و عنقریب وقت آں خواہد آمد پس قسم آں خدائے کہ حضرت محمد ﷺ را برائے ما مبعوث فرمود و اورا بہترین مخلوقات گردانید کہ ایں حق است و عنقریب خواہی دید و من ایں را برائے صدق خود یا کذب خود معیار می گردانم و من نگفتم الا بعد زانکہ از رب خود خبر دادہ شدم۔‘‘ پھر میں نے تم سے یہ نہیں کہا کہ یہ جھگڑا یہیں ختم ہو گیا اور نتیجہ یہی تھا جو ظاہر ہو گیا اور پیش گوئی کی حقیقت اس پر ختم ہو گئی۔ بلکہ یہ امر اپنے حال پر قائم ہے اور کوئی شخص حیلہ کے ساتھ خود اس کو رد نہیں کر سکتا اور یہ تقدیر خدائے بزرگ کی جانب سے تقدیر مبرم ہے۔ عنقریب اس کا وقت آئے گا۔ پس اس خدا کی قسم جس نے حضرت محمد ﷺ کو ہمارے لئے مبعوث فرمایا اور آپ کو تمام مخلوقات سے بہتر بنایا کہ یہ سچ ہے کہ عنقریب دیکھے گا اور میں اس کو اپنے صدق و کذب کے لئے معیار قرار دیتا ہوں اور میں نے یہ اپنے رب سے خبر پا کر کہا ہے۔‘‘

(انجام آتھم ص ٢٢٣، خزائن ج ١١ ص ٢٢٣)

مندرجہ بالا عبارت میں مرزا قادیانی نے کس صراحت سے محمدی بیگم کے خاوند کے مرنے اور اس کے ساتھ اپنا نکاح ہونے کو تقدیر مبرم قرار دیا ہے اور اس کی صداقت پر خدائے واحد

٨٢

صفحہ ٢٨٣

وقدوس کی قسم اور حضرت نبی کریم ﷺ کا واسطہ دے کر یقین دلانے کی کوشش کی ہے اور اس کو اپنے صدق و کذب کا معیار بھی قرار دیا ہے اور ساتھ ہی یہ بھی اعلان کر دیا ہے کہ یہ جو کچھ میں نے کہا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کے الہام اور وحی سے کہا ہے۔ مرزا قادیانی کا یہ بیان اتنا واضح اور مشرح ہے کہ اس سے بڑھ کر ممکن نہیں۔

مرزائیو! بتاؤ کہ مرزا قادیانی کی بیان کردہ تقدیر مبرم کہاں گئی اور اس کے بخئے کیوں ادھڑ گئے؟ اور جو صدق و کذب کا معیار بحوالہ وحی الہی قرار دیا گیا تھا۔ اس کی رو سے مرزا قادیانی کاذب ثابت ہوا یا نہیں؟ نکاح آسمانی کے متعلق مرزا قادیانی کی مستقل مزاجی اور امید بھی قابل تعریف ہے۔ مرزا قادیانی نے ١٨٨٨ء سے لے کر ١٩٠٥ء تک کا طویل عرصہ بڑے ہی صبر و امید اور یقین کامل کے ساتھ گزارا ہے۔ خدا تواتر سے الہامات نازل کر رہا تھا کہ نکاح ہوگا اور ضرور ہوگا۔ خدا کا وعدہ سچا ہے۔ خدا کی باتیں ٹل نہیں سکتیں۔ تیرا خدا تمام موانعات دور کرے گا۔ یعنی مرزا سلطان محمد ضرور مر جائے گا ! اور محمدی بیوہ ہو کر تیرے نکاح میں آئے گی۔ لیکن صبر کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔ بالآخر ١٩٠٧ء میں مرزا قادیانی اس نکاح سے کچھ مایوس سا ہو گیا۔ کیونکہ دن بدن اس کی جسمانی حالت انحطاط کی طرف جارہی تھی اور قوت باہ کا وہ نسخہ جو فرشتے نے اسے بتایا تھا اور جس کے کھانے سے پچاس مردوں کی قوت اس میں پیدا ہو گئی تھی۔ غالباً اس کا اثر بھی زائل ہو چکا تھا۔ ادھر رقیب خوش نصیب کی زندگی تھی کہ ختم ہی نہیں ہو رہی تھی۔ ان سب قرائن سے اندازہ کر کے یہ اعلان کر دیا۔

”یہ امر کہ الہام میں یہ بھی تھا کہ اس عورت کا نکاح آسمان پر میرے ساتھ پڑھا گیا ہے۔ یہ درست ہے۔ مگر جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں اس نکاح کے ظہور کے لئے جو آسمان پر پڑھا گیا ۔ خدا کی طرف سے ایک شرط بھی تھی۔ جو اسی وقت شائع کی گئی تھی اور وہ یہ کہ ”ايتها المراة توبي توبي فان البلاء على عقبك “ ان لوگوں نے اس شرط کو پورا کر دیا تو نکاح فسخ ہو گیا یا تاخیر میں پڑ گیا۔“

(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٣٢، ١٣٣، خزائن ج ٢٢ ص ٥٧٠)

مرزا قادیانی نے اس دورنگی چال کے اختیار کرنے میں اس دل جلے عاشق کی اتباع کی ہے۔ جس نے اپنے معشوق سے التجاء کی تھی کہ ؎

مجھ کو محروم نہ کر وصل سے او شوخ مزاج
بات وہ کہہ کہ نکلتے رہیں پہلو دونوں

حقیقت الوحی کی یہ عبارت بھی اس بات کا اعلان کر رہی ہے کہ مرزا محمدی بیگم کے نکاح

٨٣

صفحہ ٢٨٤

سے کلیتہً مایوس نہیں ہوا تھا۔ ایک طرف تو ظاہری قرائن کو دیکھتے ہوئے تمام امیدیں حسرت و یاس میں بدل چکی تھیں اور دوسری طرف دل کی تڑپ ڈھارس بندھائے جاتی تھی کہ شاید اگر عمر نے وفا کی تو گوہر مقصود (محمدی بیگم) ہاتھ لگ ہی جائے۔ اس لئے دو دلی میں یہ الفاظ لکھ دیئے کہ نکاح فسخ ہو گیا یا تاخیر میں پڑ گیا۔ غرضیکہ مرزا قادیانی کو اپنی زندگی کے آخری لمحات تک محمدی بیگم کے نکاح کی جھلک نظر آتی رہی۔

کیا مرزا قادیانی کی یہ دیرینہ اور الہامی تمنا پوری ہو گئی؟ اس کا جواب بڑی حسرت اور افسوس سے نفی میں دیا جاتا ہے کہ تاحیات مرزا قادیانی کا نکاح محمدی بیگم سے نہ ہوسکا۔ یہاں تک کہ ٢٦ مئی ١٩٠٨ء کو حسرت نکاح اور بستر عیش اپنے ساتھ قبر میں لے گیا۔ اب مرزا قادیانی کی قبر سے گویا آواز آرہی ہے۔

دل کی دل میں ہی رہی بات نہ ہونے پائی
حیف ہے ان سے ملاقات نہ ہونے پائی

کرشن قادیانی مرزا غلام احمد قادیانی کے چیلے اپنے گورو کا آخری فتویٰ بھی ملاحظہ کر لیں۔

مرزا قادیانی لکھتا ہے: ”سو چاہئے تھا کہ ہمارے نادان مخالف انجام کے منتظر رہتے اور پہلے ہی سے اپنی بدگوئی ظاہر نہ کرتے۔ بھلا جس وقت یہ ساری باتیں پوری ہو جائیں گی تو اس دن یہ احمق مخالف جیتے ہی رہیں گے اور کیا اس دن یہ تمام لڑنے والے سچائی کی تلوار سے ٹکڑے ٹکڑے نہیں ہو جائیں گے۔ ان بیوقوفوں کو کوئی بھاگنے کی جگہ نہ رہے گی اور نہایت صفائی سے ناک کٹ جائے گی اور ذلت کے سیاہ داغ ان کے چہروں کو بندروں اور سوروں کی طرح کر دیں گے۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٢، خزائن ج ١١ ص ٣٣٧)

مرزائیو! سن لیا تمہارا جے سنگھ بہادر کیا کہہ گیا کہ اس پیش گوئی کے خاتمہ پر ان بیوقوفوں کو کوئی بھاگنے کی جگہ نہ رہے گی اور نہایت صفائی سے ناک کٹ جائے گی اور ذلت کے داغ ان کے منحوس چہروں کو بندروں اور سوروں کی طرح کر دیں گے۔ لیکن ایسا کن کے حق میں ہوگا۔ فیصلہ جن کے خلاف ہوگا۔ پھر ہوا کیا۔ یہ مولوی محمد علی امیر جماعت مرزائیہ لاہور سے سن لو۔ تا کہ تمہیں شبہ نہ رہے۔ وہ لکھتے ہیں: ”یہ سچ ہے کہ مرزا قادیانی نے کہا تھا کہ نکاح ہوگا اور یہ بھی سچ ہے کہ نہیں ہوا۔“

(اخبار پیغام صلح مورخہ ١٦؍ جنوری ١٩٤١ء)

٨٤

صفحہ ٢٨٥

نتیجہ ظاہری قرائن کو دیکھتے ہوئے تمام امیدیں حسرت و یاس یں کی تڑپ ڈھارس بندھائے جاتی تھی کہ شاید اگر عمر نے وفا کی جائے ۔ اس لئے ددلی میں یہ الفاظ لکھ دیئے کہ نکاح فسخ قادیانی کو اپنی زندگی کے آخری لمحات تک محمدی بیگم کے نکاح

ہو نہ اور الہامی تمنا پوری ہوگئی؟ اس کا جواب بڑی حسرت اور کہ مرزا قادیانی کا نکاح محمدی بیگم سے نہ ہو سکا۔ یہاں تک حسرتیں اپنے ساتھ قبر میں لے گیا۔ اب مرزا قادیانی کی قبر

میں ہی رہی بات نہ ہونے پائی
سے ملاقات نہ ہونے پائی

زا قادیانی کے چیلے اپنے گورو کا آخری فتویٰ بھی ملاحظہ

چاہئے تھا کہ ہمارے نادان مخالف انجام کے منتظر رہتے بھلا جس وقت یہ ساری باتیں پوری ہو جائیں گی تو اس کہ اس دن یہ تمام لڑنے والے سچائی کی تلوار سے ٹکڑے ن کو کوئی بھاگنے کی جگہ نہ رہے گی اور نہایت صفائی سے ان کے چہروں کو بندروں اور سوروں کی طرح کر دیں

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٤، خزائن ج ١١ ص ٣٣٧)

بہادر کیا کہہ گیا کہ اس پیش گوئی کے خاتمہ پر ان اور نہایت صفائی سے ناک کٹ جائے گی اور ذلت کے بندروں کی طرح کر دیں گے۔ لیکن ایسا کن کے حق میں کہ مولوی محمد علی امیر جماعت مرزائیہ لاہور سے سن لو۔ یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے کہا تھا کہ نکاح ہوگا اور یہ بھی سچ

(اخبار پیغام صلح مورخہ ١٦ جنوری ١٩٢١ء)

٨٤

سچ ہے۔

ہوا ہے مدعی کا فیصلہ اچھا میرے حق میں
زلیخا نے کیا خود پاک دامن ماہ کنعاں کا

اب یہ حقیقت بتانا مرزائیوں کا کام ہے کہ مرزا قادیانی کا بیان کردہ فتویٰ خود مرزا قادیانی پر اور ساتھ ہی تمام مرزائیوں پر الٹ کر پڑا یا نہیں۔ کسی نے کیا ہی خوب کہا ہے۔

دیدی کہ خون ناحق پروانہ شمع را
چنداں اماں نداد کہ شب راسحر کند

دوسری پیش گوئی ڈاکٹر عبدالحکیم خان صاحب کے متعلق

ڈاکٹر عبدالحکیم خانصاحب اسسٹنٹ سرجن پٹیالہ بیس سال تک مرزا قادیانی کے ارادتمند مرید رہے۔ بعدہ مرزا قادیانی کی بطالت ان پر واضح ہو گئی تو انہوں نے مرزائیت سے توبہ کر کے مرزا قادیانی کی تردید میں چند رسالے لکھے۔ مرزا قادیانی بھی ان کے سخت خلاف ہو گیا۔ بالآخر دونوں نے ایک دوسرے کے خلاف موت کی الہامی پیش گوئیاں شائع کیں۔ اس کے متعلق مرزا قادیانی کے اشتہار کا اقتباس نقل کیا جاتا ہے۔ مرزا قادیانی لکھتا ہے:

خدا سچے کا حامی ہو

”میں عبدالحکیم خان صاحب اسسٹنٹ سرجن پٹیالہ نے میری نسبت یہ پیش گوئی کی ہے۔“

”مرزا قادیانی کے خلاف مورخہ ١٢ جولائی ١٩٠٦ء کو یہ الہامات ہوئے ہیں۔“

”مرزا قادیانی مسرف ہے کذاب اور عیار ہے۔ صادق کے سامنے شریر فنا ہو جائے گا اور اس کی میعاد تین سال بتلائی گئی ہے۔“

اس کے مقابل پر وہ پیش گوئی ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے میاں عبدالحکیم خان صاحب اسسٹنٹ سرجن پٹیالہ کی نسبت مجھے معلوم ہوئی۔ جس کے الفاظ یہ ہیں: ”خدا کے مقبولوں میں قبولیت کے نمونے اور علامتیں ہوتی ہیں اور وہ سلامتی کے شہزادے کہلاتے ہیں۔ ان پر کوئی غالب نہیں آ سکتا۔ فرشتوں کی کھینچی ہوئی تلوار تیرے آگے ہے پر تو نے وقت کو نہ پہچانا نہ دیکھا نہ جانا۔“

(حقیقت الوحی ص ٢، خزائن ج ٢٢ ص ٤١١، ٤١٢)

”رب فرق بین صادق وکاذب انت تری کل مصلح وصادق“ اس کے بعد ڈاکٹر عبدالحکیم خان صاحب نے ایک اور الہام شائع کیا کہ جولائی ١٩٠٧ء سے ١٤ ماہ تک مرزا قادیانی مر جائے گا۔ اس کے جواب میں مرزا قادیانی نے ایک اشتہار بعنوان تبصرہ مورخہ

٨٥

صفحہ ٢٨٦

٥؍نومبر ١٩٠٧ء کو شائع کیا اور اس کی پیشانی پر یہ عبارت درج کی۔

”ہماری جماعت کو لازم ہے کہ اس پیش گوئی کو خوب شائع کریں اور اپنی طرف سے چھاپ کر مشتہر کریں اور یاداشت کے لئے اشتہار کے طور پر اپنے گھر کی نظر گاہوں میں چسپاں کریں۔“ یہ اشتہار جو سراسر لاف و گزاف سے پر تھا۔ اس کو اپنے تمام اخبارات میں شائع کرایا۔ مختلف شہروں میں مرزائیوں نے علیحدہ چھپوا کر بکثرت شائع کیا۔ اس کے چند فقرات درج ذیل ہیں۔

”اپنے دشمن کو کہہ دے کہ خدا تجھ سے مؤاخذہ لے گا۔ میں تیری عمر کو بڑھا دوں گا۔ یعنی دشمن جو کہتا ہے کہ جولائی ١٩٠٧ء سے چودہ مہینے تک تیری عمر کے دن رہ گئے ہیں یا ایسا ہی جو دوسرے دشمن پیشین گوئی کرتے ہیں۔ ان سب کو میں جھوٹا کروں گا اور تیری عمر کو بڑھا دوں گا۔ تاکہ معلوم ہو کہ میں خدا ہوں اور ہر ایک امر میرے اختیار میں ہے۔“

یہ عظیم الشان پیش گوئی ہے۔ جس میں میری فتح اور دشمن کی شکست اور میری عزت اور دشمن کی ذلت اور میرا اقبال اور دشمن کا ادبار بیان فرمایا ہے اور دشمن پر غضب اور عقوبت کا وعدہ کیا ہے۔ مگر میری نسبت لکھا ہے کہ دنیا میں تیرا نام بلند کیا جائے گا اور نصرت اور فتح تیرے شامل حال ہوگی اور دشمن جو میری موت چاہتا ہے۔ وہ خود میری آنکھوں کے روبرو اصحاب الفیل کی طرح نابود اور تباہ ہوگا۔

(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٩١)

اس کے بعد ڈاکٹر عبدالحکیم خان صاحب نے اپنا اور الہام شائع کیا کہ مرزا قادیانی مورخہ ٤؍اگست ١٩٠٨ء تک مرجائے گا۔

(چشمہ معرفت ص ٣٢٢،٣٢١ خزائن ج ٢٣ ص ٣٣٦)

نتیجہ یہ ہوا کہ ڈاکٹر صاحب کی پیش گوئیوں کے مطابق مرزا قادیانی نے ٢٦؍مئی ١٩٠٨ء کو اگلے جہاں کی طرف کوچ کر دیا اور اس کے الہام کنندہ کے سب وعدے فتح و نصرت کے غلط نکلے۔

تیسری پیش گوئی مولانا ثناء اللہ صاحب کے متعلق

مرزا قادیانی نے مولانا ثناء اللہ صاحب امرتسری کے متعلق مورخہ ١٥؍اپریل ١٩٠٧ء کو ایک اشتہار ان الفاظ میں شائع کیا۔

مولوی ثناء اللہ صاحب کے ساتھ آخری فیصلہ

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم!

نحمدہ ونصلی علٰی رسولہ الکریم ٠ یستنبؤنك احق ھو قل ای وربی انہ الحق!

٨٦

صفحہ ٢٨٧

بخدمت مولوی ثناء اللہ صاحب السلام علے من اتبع الھدیٰ ! مدت سے آپ کے پرچہ اہل حدیث میں میری تکذیب وتفسیق کا سلسلہ جاری ہے۔ ہمیشہ مجھے آپ اپنے اس پرچہ میں مردود وکذاب، دجال، مفسد کے نام سے منسوب کرتے ہیں اور دنیا میں میری نسبت شہرت دیتے ہیں کہ یہ شخص مفتری و کذاب اور دجال ہے اور اس شخص کا دعویٰ مسیح موعود ہونے کا سراسر افتراء ہے۔ میں نے آپ سے بہت دکھ اٹھایا اور صبر کرتا رہا۔ مگر چونکہ میں دیکھتا ہوں کہ میں حق کے پھیلانے کے لئے مامور ہوں اور آپ بہت سے افتراء میرے پر کر کے دنیا کو میری طرف آنے سے روکتے ہیں اور مجھے ان گالیوں اور تہمتوں اور ان الفاظ سے یاد کرتے ہیں کہ جن سے بڑھ کر کوئی لفظ سخت نہیں ہوسکتا۔ اگر میں ایسا ہی کذاب اور مفتری ہوں۔ جیسا کہ اکثر اوقات آپ اپنے ہر ایک پرچہ میں مجھے یاد کرتے ہیں تو میں آپ کی زندگی میں ہی ہلاک ہو جاؤں گا۔

کیونکہ میں جانتا ہوں کہ مفسد اور کذاب کی بہت عمر نہیں ہوتی اور آخر وہ ذلت اور حسرت کے ساتھ اپنے دشمنوں کی زندگی میں ہی ناکام ہلاک ہو جاتا ہے اور اس کا ہلاک ہونا ہی بہتر ہے۔ تا کہ خدا کے بندوں کو تباہ نہ کرے اور اگر میں کذاب اور مفتری نہیں ہوں اور خدا کے مکالمہ اور مخاطبہ سے مشرف ہوں اور مسیح موعود ہوں تو میں خدا کے فضل سے امید کرتا ہوں کہ آپ سنت اللہ کے موافق مکذبین کی سزا سے نہیں بچیں گے۔ پس اگر وہ سزا جو انسان کے ہاتھوں سے نہیں بلکہ محض خدا کے ہاتھوں سے ہے۔ جیسے طاعون، ہیضہ وغیرہ مہلک بیماریاں آپ پر میری زندگی میں ہی نہ وارد ہوئیں۔ تو میں خدا کی طرف سے نہیں۔ یہ کسی الہام یا وحی کی بناء پر پیشین گوئی نہیں۔ بلکہ محض دعا کے طور پر میں نے خدا سے فیصلہ چاہا ہے اور میں خدا سے دعا کرتا ہوں کہ اے میرے مالک بصیر وقدیر جو علیم و خبیر ہے جو میرے دل کے حالات سے واقف ہے۔ اگر یہ دعویٰ مسیح موعود ہونے کا محض میرے نفس کا افتراء ہے اور میں تیری نظر میں مفسد اور کذاب ہوں اور دن رات افتراء کرنا میرا کام ہے۔ تو اے میرے پیارے مالک میں عاجزی سے تیری جناب میں دعا کرتا ہوں کہ مولوی ثناء اللہ صاحب کی زندگی میں مجھے ہلاک کر اور میری موت سے ان کو اور ان کی جماعت کو خوش کر دے۔ آمین !

مگر اے میرے کامل اور صادق خدا اگر مولوی ثناء اللہ ان تہمتوں میں جو مجھ پر لگاتا ہے۔ حق پر نہیں تو میں عاجزی سے تیری جناب میں دعا کرتا ہوں کہ میری زندگی میں ہی ان کو نابود کر۔ مگر نہ انسانی ہاتھوں سے بلکہ طاعون و ہیضہ وغیرہ۔ امراض مہلکہ سے بجز اس صورت کے کہ وہ کھلے طور پر میرے روبرو اور میری جماعت کے سامنے ان تمام گالیوں اور بدزبانیوں سے توبہ ٨٧

صفحہ ٢٨٨

کرے۔ جن کو وہ فرض منصبی سمجھ کر ہمیشہ مجھے دکھ دیتا ہے۔ آمین یارب العالمین! میں ان کے ہاتھ سے بہت ستایا گیا اور صبر کرتا رہا۔ مگر اب میں دیکھتا ہوں کہ ان کی بدزبانی حد سے گزر گئی۔ مجھے ان چوروں اور ڈاکوؤں سے بھی بدتر جانتے ہیں۔ جن کا وجود دنیا کے لئے سخت نقصان رساں ہوتا ہے اور انہوں نے ان تہمتوں اور بدزبانیوں میں آیت "لا تقف ما ليس لك به علم" پر بھی عمل نہیں کیا اور تمام دنیا سے مجھے بدتر سمجھ لیا اور دور دور ملکوں تک میری نسبت یہ پھیلا دیا کہ یہ شخص در حقیقت مفسد اور ٹھگ اور دکاندار اور کذاب اور مفتری نہایت درجہ کا بدآدمی ہے۔ سو ایسے کلمات حق کے طالبوں پر بداثر نہ ڈالتے تو میں ان تہمتوں پر صبر کرتا۔ مگر میں دیکھتا ہوں کہ مولوی ثناء اللہ انہی تہمتوں کے ذریعہ سے میرے سلسلہ کو نابود کرنا چاہتا ہے اور اس عمارت کو منہدم کرنا چاہتا ہے۔ جو تو نے میرے آقا اور میرے بھیجنے والے اپنے ہاتھ سے بنائی ہے۔ اس لئے میں اب تیرے ہی تقدس اور رحمت کا دامن پکڑ کر تیری جناب میں ملتجی ہوں کہ مجھ میں اور ثناء اللہ میں سچا فیصلہ فرما اور وہ جو تیری نگاہ میں حقیقت میں مفسد اور کذاب ہے۔ اس کو صادق کی زندگی میں ہی دنیا سے اٹھالے یا کسی اور نہایت سخت آفت میں جو موت کے برابر ہو مبتلا کرے۔ اے میرے پیارے مالک! تو ایسا ہی کر آمین ثم آمین! "ربنا افتح بيننا وبين قومنا بالحق وانت خير الفاتحين ." آمین" بالآخر مولوی صاحب سے التماس ہے کہ میرے اس مضمون کو اپنے پرچہ میں چھاپ دیں اور جو چاہیں اس کے نیچے لکھ دیں۔ اب فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔

الراقم عبداللہ الصمد مرزا غلام احمد مسیح موعود عافا اللہ واید! مرقوم یکم ربیع الاول ١٣٢٥ھ، مطابق ١٥؍ اپریل ١٩٠٧ء (مجموعہ اشتہارات ج٣ ص٥٧٨، ٥٧٩) اس اشتہار میں مرزا قادیانی نے یہ پیش گوئی بطریق دعا شائع کی۔ بلکہ اس کے ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا کہ اس دعا کو اللہ تعالیٰ نے قبول فرمالیا ہے۔ مرزا قادیانی کے الفاظ یہ ہیں۔

”دنیا کے عجائبات ہیں۔ رات کو ہم سوتے ہیں تو کوئی خیال نہیں ہوتا کہ اچانک ایک الہام ہوتا ہے اور پھر وہ اپنے وقت پر پورا ہوتا ہے۔ کوئی ہفتہ عشرہ نشان سے خالی نہیں جاتا۔ ثناء اللہ کے متعلق جو کچھ لکھا گیا ہے۔ یہ دراصل ہماری طرف سے نہیں بلکہ خدا ہی کی طرف سے اس کی بنیاد رکھی گئی ہے۔ ایک دفعہ ہماری توجہ اس کی طرف ہوئی اور رات کو توجہ اس کی طرف تھی اور رات کو الہام ہوا۔’اجیب دعوة الداع‘ صوفیا کے نزدیک بڑی کرامت استجابت دعا ہے۔ باقی سب اس کی شاخیں ہیں۔"

(اخبار بدر قادیان مورخہ ٢٥؍اپریل ١٩٠٧ء)

مرزا قادیانی نے اس اشتہار میں محض دعا کے ذریعہ سے ان الفاظ میں فیصلہ چاہا۔

٨٨

صفحہ ٢٨٩

”محض دعا کے طور پر خدا سے فیصلہ چاہا ہے۔“ اخیر اشتہار میں لکھتا ہے: ”اب فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔“

مرزا قادیانی نے اپنی اس دعا اور پیش گوئی کے مطابق مورخہ ٢٦؍مئی ١٩٠٨ء کو ہیضہ کی مرض سے ہلاک ہو کر حسب اقرار خود اپنا مفسد، کذاب اور مفتری ہونا دنیا پر ثابت کر دیا۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے ۔

لکھا تھا کاذب مرے گا پیشتر
کذب میں پکا تھا پہلے مر گیا

چوتھی پیش گوئی عالم کباب کے متعلق

مرزا قادیانی نے اپنا الہام بیان کیا: (١) بشیر الدولہ۔ (٢) عالم کباب۔ (٣) شادی خان۔ (٤) کلمۃ اللہ خان۔

بذریعہ الہام الٰہی معلوم ہوا ہے کہ میاں منظور محمد کے گھر میں یعنی محمدی بیگم کا ایک لڑکا پیدا ہوگا۔ جس کے یہ نام ہوں گے۔ یہ نام بذریعہ الہام الٰہی معلوم ہوئے۔

(البشریٰ ج٢ ص١١٦)

مرزا قادیانی کی اس پیش گوئی کے شائع ہو جانے کے بعد میاں منظور کی بیوی محمدی بیگم فوت ہو گئی اور ’عالم کباب‘ صاحب دنیا میں تشریف فرما نہ ہوئے۔ لہٰذا مرزا قادیانی کی یہ الہامی پیش گوئی سرے سے غلط اور جھوٹ ثابت ہوئی۔

کیا مرزائی حضرات یہ کہہ سکتے ہیں کہ محمدی بیگم کے ظلی اور بروزی بیٹا پیدا ہو گیا تھا۔ کیونکہ تمہارا کرشن قادیانی بھی تو ظلی اور بروزی نبوت کا مدعی تھا اور آخر تم نے اس کی پیش گوئی کو بھی تو سچا ثابت کرنا ہے۔

پانچویں پیش گوئی اپنے مقام موت کے متعلق

مرزا قادیانی نے اپنا الہام شائع کیا تھا۔

”ہم مکہ میں مریں گے یا مدینہ میں۔“

(البشریٰ ج٢ ص١٠٥)

تمام دنیا نے دیکھ لیا کہ مرزا ملعون کا یہ الہام بھی سراسر غلط ثابت ہوا۔ مرزا لاہور میں مرا اور اس کے مریدوں نے اس کی لاش دجال کے گدھے پر لاد کر قادیان پہنچائی۔

قارئین کرام! مرزا قادیانی کی چند پیش گوئیاں نمونہ کے طور پر آپ کے سامنے رکھی گئی ہیں اور ان پیش گوئیوں کے نتائج بھی آپ نے ملاحظہ فرمالئے۔ باقی پیش گوئیوں کے جھوٹا ہونے کا اندازہ بھی آپ اسی نمونہ سے لگا سکتے ہیں۔ مرزا قادیانی کی پیش گوئیوں کی متحدیانہ عبارات

٨٩

صفحہ ٢٩٠

جب مرزائیوں کے سامنے پیش کی جاتی ہیں تو مرزائی ان کے جوابات سے تنگ آکر کہہ دیا کرتے ہیں کہ پیش گوئیوں کی تفہیم میں مرزا قادیانی سے غلطی ہوسکتی ہے۔ لیکن مرزا قادیانی کی ناجائز ذریت کا یہ کہنا محض دفع الوقتی اور مرزا قادیانی کی تصریحات کے خلاف ہے۔ کیونکہ مرزا قادیانی نے اپنا الہام بیان کیا ہے۔

”وما ينطق عن الهویٰ ان هوالا وحی یوحیٰ“ اور یہ اپنی طرف سے نہیں بولتا بلکہ جو کچھ تم سنتے ہو یہ خدا کی وحی ہے۔

(اربعین نمبر ٣ ص ٣٩، خزائن ج ١٧ ص ٤٢٦)

مرزا قادیانی لکھتا ہے: ”یہ بات بھی اس جگہ بیان کر دینے کے لائق ہے کہ میں خاص طور پر خدا تعالیٰ کی اعجاز نمائی کو انشاء پردازی کے وقت بھی اپنی نسبت دیکھتا ہوں۔ کیونکہ جب میں عربی میں یا اردو میں کوئی عبارت لکھتا ہوں تو میں محسوس کرتا ہوں کہ کوئی اندر سے مجھے تعلیم دے رہا ہے۔“

(نزول المسیح ص ٥٦، خزائن ج ١٨ ص ٤٣٤)

”ایسا ہی عربی فقرات کا حال ہے۔ عربی تحریروں کے وقت میں صد ہا فقرات وحی متلو کی طرح دل پر وارد ہوتی ہے اور یا یہ کہ کوئی فرشتہ ایک کاغذ پر لکھے ہوئے وہ فقرات دکھا دیتا ہے۔“

(نزول المسیح ص ٥٧، خزائن ج ١٨ ص ٤٣٥)

مندرجہ بالا حوالہ جات سے ثابت ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی اپنی طرف سے کچھ نہیں بولتا تھا۔ بلکہ وحی الہٰی سے بولتا تھا اور اپنی طرف سے کچھ نہیں لکھتا تھا۔ بلکہ اندرونی تعلیم سے لکھتا تھا یا فرشتے کی لکھی ہوئی عبارات کو اپنی کتابوں میں نقل کر لیتا تھا۔ اسی کی مزید تائید اس واقعہ سے ہوتی ہے۔ مرزا قادیانی کو الہام ہوا۔

”استقامت میں فرق آ گیا۔ ایک صاحب نے کہا کہ وہ کون شخص ہے۔ حضرت نے فرمایا معلوم تو ہے۔ مگر جب تک خدا کا اذن نہ ہو میں بتلایا نہیں کرتا۔ میرا کام دعا کرنا ہے۔

(البدر ج ٢ نمبر ١٠، ١٩٠٣ء، از مکاشفات ص ٣٠)

اس واقعہ نے تصدیق کر دی کہ مرزا قادیانی بغیر اللہ کے اذن کے کچھ نہیں کہا کرتا تھا۔ ان حالات میں تو مرزا قادیانی کے کلام یا تحریر میں غلطی کا احتمال ہی نہ رہا۔ مرزا قادیانی کے اس الہام اور اس کی تحریرات کو غور سے پڑھنے کے بعد اب یہ بتانا مرزائیوں کا کام ہے کہ مرزا قادیانی اپنی تحریر یا تقریر میں ”اجتہادی غلطیوں“ کا قائل تھا یا نہیں؟

مرزا قادیانی کے انٹ سنٹ الہامات

مرزا قادیانی کا دعویٰ تھا کہ میری وحی والہامات یقینی اور قرآن پاک کی طرح ہیں۔

٩٠

صفحہ ٢٩١

لیکن اگر مرزا قادیانی کے الہامات کو سرسری نظر سے دیکھا جائے تو ایسے الہامات بکثرت نظر آتے ہیں۔ جنہیں خود مرزا قادیانی بھی نہ سمجھ سکتا تھا۔

چنانچہ مرزا قادیانی لکھتا ہے: ” زیادہ تر تعجب کی بات یہ ہے کہ بعض الہامات مجھے ان زبانوں میں بھی ہوتے ہیں۔ جن سے مجھے کچھ بھی واقفیت نہیں ۔ جیسے انگریزی یا سنسکرت یا عبرانی وغیرہ ۔“

(نزول المسیح ص ٥٧، خزائن ج ١٨ ص ٤٣٥)

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: ”وما ارسلنا من رسول الا بلسان قومه ليبين لهم “ اور ہم نے کوئی رسول نہیں بھیجا۔ مگر اپنی قوم کی زبان میں ہی تا کہ انہیں کھول کھول کر بتا دے۔ لیکن قرآن پاک کے اس صریح اصول کے خلاف مرزا قادیانی کو ان زبانوں میں بھی الہامات ہوئے ہیں۔ جنہیں وہ خود نہیں سمجھ سکا۔ دوسروں کو کیا خاک سمجھاتا۔ نمونہ کے طور پر مرزا قادیانی کے چند ایسے ہی الہامات درج کئے جاتے ہیں۔ جنہیں وہ خود بھی نہ سمجھ سکا۔

کیوں چھوڑ دیا۔ آخری فقرہ اس الہام کا یعنی ایلی اوس بباعث دردو مشتبہ رہا اور نہ اس کے کچھ کچھ معنی کھلے ۔ ”والله اعلم بالصواب“

(البشریٰ ج ١ ص ٣٦)

اور ان کے معنی ابھی تک اس عاجز پر نہیں کھلے ۔“

(براہین احمدیہ ص ٥٥٦، خزائن ج ١ ص ٦٦٢)

سرعت الہام دریافت نہیں ہوا اور نمبر ٢ میں عمر عربی لفظ ہے۔ اس جگہ پراطوس اور پریشن کے معنی دریافت کرنے ہیں کہ کیا ہیں اور کس زبان کے یہ لفظ ہیں۔“

(مکتوبات احمدیہ ج ١ ص ٦٨، البشریٰ ج ١ ص ٥١)

مرزائیو! تمہارے رودر گوپال، جے سنگھ بہادر کو جس زبان میں الہام ہوتا ہے۔ وہ خود اس زبان کو نہیں جانتا اور اسے یہ معلوم ہی نہیں کہ یہ کس زبان کا لفظ ہے۔ ایسے میں مرزا قادیانی پر یہ مثال صادق آتی ہے۔ ”زبان یار من ترکی و من ترکی نمیدانم“

معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی کے مندرجہ بالا اور اسی طرح کے دیگر الہامات اس خدا کی طرف سے نہیں تھے۔ جس نے حضرت محمد مصطفے ﷺ پر قرآن مجید نازل فرمایا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے۔ ”وما ارسلنا من رسول الا بلسان قومه“ کہ ہم نے کوئی رسول

٩١

صفحہ ٢٩٢

نہیں بھیجا۔ مگر اپنی قوم کی زبان میں ہی، لیکن مرزا قادیانی کو ان زبانوں میں ”الہامات“ ہوئے جو مرزا قادیانی کی قومی زبان نہ تھی۔

مرزا قادیانی خود لکھتا ہے: ”یہ بالکل غیر معقول اور بیہودہ امر ہے کہ انسان کی اصل زبان تو کوئی ہو اور الہام اس کو کسی اور زبان میں ہو۔ جس کو وہ سمجھ نہیں سکتا۔ کیونکہ اس میں تکلیف مالا یطاق ہے۔ ایسے الہام سے فائدہ کیا ہوا۔ جو انسانی سمجھ سے بالاتر ہے۔“

(چشمہ معرفت ص ٢٠٩، خزائن ج ٢٣ ص ٢١٨)

یہاں تک ہی نہیں کہ مرزا غیر زبانوں کے الہامات نہ سمجھ سکا ہو۔ بلکہ بہت سے اردو اور عربی الہامات بھی مرزا قادیانی کی سمجھ سے بالاتر رہے اور اسے یہ تک معلوم نہ ہوسکا کہ یہ الہامات کس کے متعلق ہیں۔ نمونہ ملاحظہ ہو:

(البشریٰ ج ٢ ص ١١٩)

(البشریٰ ج ٢ ص ١١٩)

(نوٹ) قطعی طور پر معلوم نہیں کہ کس کے متعلق ہے۔“

(البشریٰ ج ٢ ص ١١٩، ١٤٠)

(البشریٰ ج ٢ ص ١٤٤)

گیارہ ہفتے یا کیا یہی ہندسہ ١١ کا دکھایا گیا۔

(البشریٰ ج ٢ ص ٦٥، ٦٦)

(البشریٰ ج ٢ ص ٥٠)

ایک (مندرجہ بالا) الہام ہوا۔ اس کے پورے الفاظ یاد نہیں رہے اور جس قدر یاد رہا وہ یقینی ہے۔ مگر معلوم نہیں کہ کس کے حق میں ہے۔ لیکن خطرناک ہے۔ یہ الہام ایک موزوں عبارت میں ہے۔ مگر ایک لفظ درمیان میں سے بھول گیا۔

(البشریٰ ج ٢ ص ١١٧)

نشان دکھایا جائے گا۔“

(البشریٰ ج ٢ ص ٩٤)

٩٢

صفحہ ٢٩٣

(البشریٰ ج ٢ ص ١٠٧)

(البشریٰ ج ٢ ص ١١٦)

(اب یہ مرزائی ہی بتا سکتے ہیں کہ وہ بے شرم کون ہے؟)

(البشریٰ ج ١ ص ٤٣)

(مرزائیو! تمہارے مجدد، محدث اور ظلی بروزی نبی کو باوجود دعوائے الہام اور دعوائے مسیحیت ’عاج‘ کے معنی معلوم نہ ہوئے۔ مرزائی حضرات دلوں کو تھام کے مرزا قادیانی کے الہامی لفظ ’عاج‘ کے معنی سن لیں۔ عاج کے معنی ہیں۔ استخوانِ فیل۔ یعنی (ہاتھی دانت) اور سرگین یعنی (گوبر) پس ربنا عاج کے معنی ہوئے ہمارا رب ہاتھی دانت یا گوبر ہے۔ اب یہ بتانا مرزائیوں کا کام ہے کہ کیا تمہارا اور تمہارے ظلی بروزی نبی کا رب اور ملہم ہاتھی دانت یا گوبر کا بنا ہوا ہے؟ جواب دینے سے پہلے اور کچھ بتانے سے پہلے ذرا ’عاج‘ کے معنی پر غور کرنا۔)

(البشریٰ ج ٢ ص ١٣٩)

مرزا قادیانی کے ان جھوٹے اور بے تکے قسم کے الہامات کو دیکھنے کے بعد یہ اندازہ لگانا کچھ مشکل نہیں رہتا کہ مرزا قادیانی کس درجہ کا کاذب اور مفتری تھا اور کاذبین کے متعلق تو قرآن پاک میں اللہ کریم نے فرمایا ہے۔ ”لعنة الله علی الکاذبین“ تو گویا کاذب ہونے کی وجہ سے مرزا قادیانی بھی اس لعنت کا طوق اپنے گلے میں ڈال کر شیطان کی طرح ملعون ہو گیا۔ نمونہ کے طور پر مرزا قادیانی کے چند جھوٹ ملاحظہ کے لئے نقل کئے جاتے ہیں۔

مرزا قادیانی کے جھوٹ

مرزا قادیانی بھی جھوٹ کی مذمت کرتے ہوئے لکھتا ہے:

(اربعین نمبر ٣ ص ٢٥، خزائن ج ١٧ ص ٤١٠ حاشیہ)

(تتمہ حقیقت الوحی ص ٢٦، خزائن ج ٢٢ ص ٤٥٩)

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٩، خزائن ج ١١ ص ٣٤٣)

(آریہ دھرم ص ١٣، خزائن ج ١٠ ص ١٣)

٩٣

صفحہ ٢٩٤

مندرجہ بالا اقوال میں مرزا قادیانی نے جھوٹ کی بہت مذمت کی ہے۔ لیکن اپنی تصنیفات میں مرزا قادیانی نے جس بے تکلفی سے جھوٹوں کے انبار لگا دیئے ہیں۔ اس کا یہ عمل حیرانی کا باعث ہے۔

پہلا جھوٹ

مرزا قادیانی لکھتا ہے: ”بات یہ ہے کہ جیسا کہ مجدد صاحب سرہندی نے اپنے مکتوبات میں لکھا ہے کہ اگرچہ اس امت کے بعض افراد مکالمہ ومخاطبہ الہیہ سے مخصوص ہیں اور قیامت تک مخصوص رہیں گے۔ لیکن جس شخص کو بکثرت اس مکالمہ ومخاطبہ سے مشرف کیا جائے اور بکثرت امور غیبیہ اس پر ظاہر کئے جائیں۔ وہ نبی کہلاتا ہے۔“

(حقیقۃ الوحی ص٣٩٠، خزائن ج٢٢ ص٤٠٦)

مرزا قادیانی نے حضرت مجدد صاحب سرہندیؒ کی کتاب سے حوالہ نقل کرتے ہوئے عمداً لوگوں کو دھوکہ دینے اور اپنی نبوت باطلہ کو ثابت کرنے کے لئے صریح تحریف کی ہے۔ عبارت بالا میں مرزا قادیانی نے جس مکتوب کا حوالہ دیا ہے۔ اس کے اصل الفاظ یہ ہیں: ”و اذ اکثر ھذا القسم من الکلام مع واحد منھم سمی محدثاً“ (مکتوبات مجدد الف ثانیؒ ج٢ حصہ ٧ ص١٤٢)

”یعنی جب اس قسم کا کلام ان میں سے ایک کے ساتھ کثرت سے ہو تو اس کا نام محدث رکھا جاتا ہے۔“ اس مکتوب کو مرزا قادیانی نے اپنی کتاب (ازالہ اوہام ص٥١٩، خزائن ج٣ ص٤٠١، تحفہ بغداد ص٢١، خزائن ج٧ ص٢٨ حاشیہ) پر بھی نقل کیا ہے اور ان دونوں میں لفظ محدث لکھا ہے۔ لیکن حقیقۃ الوحی کی عبارت میں مرزا قادیانی نے اپنا مطلب نکالنے کے لئے محدث کی جگہ نبی لکھ کر صریح خیانت کی اور جھوٹ بولا۔ اس جھوٹ اور خیانت کا مرتکب ہوتے ہوئے مرزا قادیانی کو اپنا الہام شاید یاد نہ رہا ہوگا۔ جس کے الفاظ ہیں: ”مت ایھا الخوان“ مرے بڑے خیانت کرنے والے۔

دوسرا جھوٹ

مرزا قادیانی لکھتا ہے: ”اے عزیزو! تم نے وہ وقت پایا ہے جس کی بشارت تمام نبیوں نے دی ہے اور اس شخص کو یعنی مسیح موعود کو تم نے دیکھ لیا ہے۔ جس کے دیکھنے کے لئے بہت سے پیغمبروں نے بھی خواہش کی تھی۔“

(اربعین نمبر٣ ص١٤، خزائن ج١٧ ص٤٠٢)

مرزائی بتائیں کہ جن پیغمبروں نے مرزا قادیانی کو دیکھنے کی خواہش ظاہر کی تھی۔ وہ کون کون سے نبی تھے؟ اور انہوں نے مرزا قادیانی کے درشن کرنے کا اظہار کس کے سامنے کیا تھا؟ اور

٩٤

صفحہ ٢٩٥

ان نبیوں کے اشتیاق کا ذکر کس کتاب میں ہے؟ اگر نہیں بتا سکتے تو سمجھ لیں کہ یہ مرزا قادیانی کی ”الہامی گپ“ اور صریح جھوٹ ہے۔

تیسرا جھوٹ

مرزا قادیانی لکھتا ہے: ”اور یہ بھی یاد رہے کہ قرآن شریف میں بلکہ توریت کے بعض صحیفوں میں بھی یہ خبر موجود ہے کہ مسیح موعود کے وقت طاعون پڑے گی۔“

(کشتی نوح ص ٥، خزائن ج ١٩ ص ٥)

قرآن شریف میں الحمد کے الف سے لے کر والناس کے س تک کوئی ایسی آیت موجود نہیں۔ جس کا ترجمہ یہ ہو کہ مسیح موعود کے وقت طاعون پڑے گی۔ مرزا قادیانی کی یہ کذب بیانی قرآن مجید کے متعلق انتہائی واشگاف الفاظ میں بہتان طرازی ہے۔

مرزائیو! اگر ہمت ہے تو اپنے جے سنگھ بہادر (مرزا قادیانی) کو سچا ثابت کرنے کے لئے قرآن مجید کی کوئی ایسی آیت بتاؤ۔ جس کا ترجمہ یہ ہو کہ مسیح موعود کے وقت طاعون پڑے گی اور اگر تم نہ بتا سکو (اور نہ ہی بتا سکتے ہو) تو زبان سے اتنا ہی کہہ دینا کہ لَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَی الْكَاذِبِیْنَ “

چوتھا جھوٹ

مرزا قادیانی لکھتا ہے: ”اگر قرآن نے میرا نام ابن مریم نہیں رکھا تو میں جھوٹا ہوں۔“

(تحفۃ الندوہ ص ٥، خزائن ج ١٩ ص ٩٨)

مرزائیو! کیا اب بھی مرزا قادیانی کے کاذب ہونے میں کوئی شک ہے۔ اتنا بڑا جھوٹ اور اتنی مکروہ قسم کی کذب بیانی مرزا قادیانی جیسا پنجابی اور قادیانی مدعی نبوت ہی کر سکتا ہے۔ کیا کوئی مرزائی قرآن مجید کی کوئی ایسی آیت بتا سکتا ہے۔ جس میں کرشن ، رودر گوپال ، جے سنگھ بہادر (مرزا غلام احمد قادیانی) کا نام ابن مریم رکھا گیا ہو ۔ ” وَلَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِيْراً “

مرزائیو! مرزا قادیانی کو جھوٹا سمجھنے میں ہمارے ہمنوا بن جاؤ۔ کیونکہ مرزا قادیانی خود لکھتا ہے کہ : ”اگر قرآن نے میرا نام ابن مریم نہیں رکھا تو میں جھوٹا ہوں۔“ اور یاد رکھو قرآن مجید میں ایسی کوئی آیت نہیں۔ جس کا ترجمہ یہ ہو کہ مرزا غلام احمد ابن مریم ہے۔

پانچواں جھوٹ

مرزا قادیانی لکھتا ہے: ”اور میں نے کہا کہ تین شہروں کا نام اعزاز کے ساتھ قرآن شریف میں درج ہے۔ مکہ اور مدینہ اور قادیان۔“

(ازالہ اوہام ص ٧٧، خزائن ج ٣ ص ١٤٠)

٩٥

صفحہ ٢٩٦

مرزائیو! اگر کرشن قادیانی کا یہ حوالہ تم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا یا کسی اور سے سنا ہے تو بتاؤ کہ تم نے قرآن مجید میں قادیان کا نام تلاش کیا؟ اگر تمہیں باوجود تلاش بسیار کے قرآن مجید میں قادیان کا نام نہیں ملا اور یقیناً کبھی مل سکتا بھی نہیں۔ تو کیا تم اب بھی مرزا قادیانی کو راست گو ہی سمجھتے ہو؟

اگر اتنی بڑی کذب پروری کرنے کے بعد کوئی شخص محدث، مجدد، مسیح موعود اور ظلی وبروزی نبی ہو سکتا ہے تو کیا کذابوں کے سر پر سینگ ہوا کرتے ہیں؟

آخری گذارش

مرزا قادیانی کی خلاف اسلام تعلیمات باطلہ اور اس کے چیلوں (مرزائیوں) کی اسلام اور مسلمان دشمنی کسی طرح بھی ڈھکی چھپی بات نہیں رہی۔ آج مرزائی علی الاعلان مرزا قادیانی کی تعلیمات باطلہ کا پرچار اور تبلیغ کر کے سادہ لوح مسلمانوں کو عقیدہ ختم نبوت سے ہٹانے کی ناپاک کوشش کر رہے ہیں۔ مجاہدین ختم نبوت کو دھمکیاں ان کی دیدہ دلیری کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ارباب اقتدار کو چاہئے کہ اس فتنہ کے سدباب اور قلع قمع کے لئے مناسب اقدام کریں۔ بصورت دیگر یہی مرزائی جو اپنے پیشوا کی طرح انگریزوں کے وفادار اور پرانے نمک خوار ہیں۔ پاکستان کی یک جہتی اور سالمیت کے لئے ایک مستقل خطرہ ثابت ہوں گے۔

مرزائی چونکہ قرآن وحدیث اجماع صحابہ اور اجماع علمائے امت کی رو سے قطعی کافر ہیں اور مسلمانوں کے صف اوّل کے دشمن ہیں۔ ایسے میں مسلمانوں کے لئے یہ لازم ہے کہ ان سے سیاسی، معاشی، معاشرتی غرضیکہ ہر میدان اور ہر شعبہ میں تعلقات منقطع کر لیں اور مرزائیت کے فتنہ کو مٹانے کے لئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنے سے بھی گریز نہ کریں۔ بلکہ اسے اپنی سعادت اور خوش بختی سمجھتے ہوئے عقیدۂ ختم نبوت پر قربان ہو جائیں۔ میری دعاء ہے کہ اللہ کریم جملہ مسلمانان عالم کو عقیدۂ ختم نبوت پر استقامت نصیب فرمائے۔ آمین، ثم آمین یا رب العالمین!

احقر العباد: مولوی غلام سبحانی خطیب جامع مسجد مانسہرہ

٩٦

PDF 298

ے دکھایا کسی اور نے سنا ہے تو جود تلاش بسیار کے قرآن مجید ب بھی مرزا قادیانی کو راست

دث، مجدد، مسیح موعود اور ظلی

کے چیلوں (مرزائیوں) کی ۔ آج مرزائی علی الاعلان مانوں کو عقیدہ ختم نبوت سے ن کی دیدہ دلیری کا منہ بولتا

س فتنہ کے سدباب اور قلع قمع یشوا کی طرح انگریزوں کے کے لئے ایک مستقل خطرہ

ئے امت کی رو سے قطعی کافر کے لئے یہ لازم ہے کہ ان منقطع کر لیں اور مرزائیت ہیز نہ کریں۔ بلکہ اسے اپنی

۔ میری دعاء ہے کہ اللہ کریم ین . ثم آمین یا رب ز: مولوی غلام سبحانی امع مسجد مانسہرہ

خاتم النبیین لا نبی بعدی

میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں

نئی نبوت

اپنے لٹریچر کے آئینہ میں

جناب حکیم محمد اسحاق صاحب

صفحہ ٢٩٨

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

برصغیر ہند و پاک میں قادیانی فرقہ ایک عرصہ سے عالم اسلام کے لئے ایک ایسا خطرناک سرطان بن کر نمودار ہوا ہے۔ جس کی جڑیں ہمیشہ غیر ملکی اقتدار اور لادینی نظام سے وابستہ رہی ہیں۔ لیکن وہ اندر ہی اندر ملت اسلامیہ کا خون چوس کر بڑھتا پھولتا رہا ہے۔ خصوصاً پاکستان آج کل اس کی زد میں ہے۔ پاکستان قائم ہونے سے پہلے ایک لادینی نظام میں جس آزادی کے ساتھ قادیانی نبوت کے ذریعہ مرتد سازی کا کام جاری تھا۔ اسلامی جمہوریہ میں وہ سلسلہ اسی آزادی سے جاری ہے۔ امت مسلمہ کے سینے میں اس ناسور نے سر اٹھایا تھا۔ آج اس کے زہریلے اثرات حکومت کے اعضائے رئیسہ تک پھیل چکے ہیں اور جس کی مملکت کے اعضائے رئیسہ ہی کسی مہلک بیماری کا شکار ہو جائیں تو پھر اس کا استحکام اور سلامتی خطرے سے دوچار ہو کے رہتی ہے۔

اور یہ فرقہ اس وقت اسرائیل کی حیثیت اختیار کر لیتا ہے۔ جب کہ اس کی وفاداریاں اور ہمدردیاں غیر ملکی اقتدار سے وابستہ ہوں اور اس کا ماضی بھی انگریز پرستی کا منہ بولتا ثبوت ہو۔ یہ ایشیائی اسرائیل قائم یہاں ہوا۔ لیکن مقصد غیر ملکیوں کا پورا کرتا ہے۔ اس خطرے کے پیش نظر ١٩٥٣ء میں پاکستان کے عوام اور ہر مکتب فکر کے سرکردہ علماء نے حکومت وقت سے متفقہ مطالبہ کیا تھا کہ نئی نبوت کا تصور چونکہ اسلام کے بنیادی عقائد کے خلاف ایک صریح ارتداد اور عقیدہ ختم نبوت کے منافی ہے۔ لہٰذا اسے غیر مسلم اقلیت قرار دے کر حکومت کے کلیدی اور اہم مناصب سے الگ کر دیا جائے۔ جب کہ وہ ایک الگ امت بن کر امت مسلمہ سے خود بخود کٹ بھی چکے ہیں۔

لیکن افسوس کہ مسلمانوں کے اس اہم متفقہ مطالبہ پر کوئی توجہ نہ دی گئی۔ حتیٰ کہ اس ناسور کے زہریلے اثرات نے ملک کے ایک بہت بڑے حصہ کو کاٹ کر الگ کر دیا اور نہ معلوم بقیہ ملک کے کس کس گوشہ میں اس کی خطرناکیاں سرایت کر رہی ہیں۔ مرزائیوں کے بنیادی اور مجموعی عقیدہ و عمل کو دیکھ کر کہا جاسکتا ہے کہ ان کے اندر مسیلمہ کذاب کی روح اور ان کی رگ و پے میں کلائیو اور وفولی کا لہو جاری ہے۔ ان کی بھیگی ہوئی آستینیں احتساب کے شکنجہ میں نچوڑی جائیں تو تحریک آزادی ہند سے لے کر شہداء تحریک اسلامی پاکستان تک کا خون ٹپک سکتا ہے۔ بلکہ اندرون ملک سازشوں سے لے کر سقوط مشرقی پاکستان تک کے المیہ کا بھی سراغ مل سکتا ہے۔ آج پھر عوام

٢

صفحہ ٢٩٩

اور ان کے مقتدر لیڈر علماء امت کے تعاون سے اپنا مطالبہ دہرا رہے ہیں کہ اگر اس فرقہ کی اسلام دشمن حرکات اور ان کی خفیہ سازشوں کا فوری نوٹس نہ لیا گیا۔ تو پھر نہ معلوم اس فتنہ پر قابو پانا کس قدر مشکل ہو جائے گا۔ قوم کے پیٹ میں اس گھسی ہوئی مکھی کو نکالے بغیر ملی صحت کا معیار برقرار رکھا نہیں جاسکتا اور نہ الگ الگ نبیوں کی امت میں باہم کوئی قدر مشترک باقی رہ جاتی ہے۔

خدا کرے کہ اس بار حکومت دانشمندی کا ثبوت دیتے ہوئے مسلمان قوم کے متفقہ اور دیرینہ مطالبہ کو منظور کرلے اور اس طرح وہ عوام اور خدا دونوں کے ہاں سرخروئی حاصل کرسکے اور اسی بات میں دونوں کی بھلائی بھی ہے۔ ضرورت ہے کہ اس انتہائی اہم مسئلہ پر نہایت سنجیدگی کے ساتھ کوئی ایسا فیصلہ کیا جائے جو عتاب الہی سے ہمیں بچا سکے۔ ورنہ جھوٹی نبوت جس کشتی میں سوار ہوگی وہ کشتی برائی و فساد کے بھنور سے کبھی نکل نہیں سکتی اور نہ ایشیائی اسرائیل کی ریشہ دوانیوں سے یہاں مسلمانوں کو امن چین مل سکتا ہے۔

نئی نبوت تنازعہ فیہ مسئلہ نہیں ہے

کہ مسلمانوں کے دو گروہوں میں کوئی اختلاف ہے۔ بلکہ یہ معاملہ کفر اور اسلام کا ہے۔ یا دو نبیوں کی دو امتوں کا ہے۔ امت محمدیہ کا عقیدہ ہے کہ آنحضور ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور مرزائی امت نے اس کے خلاف ایک جھوٹا نبی کھڑا بھی کر دیا۔ اس کے بعد دونوں کے بنیادی عقیدہ کے اختلاف کی بناء پر کفر اور اسلام کی کشمکش شروع ہوگئی۔

حضور ﷺ کے زمانے میں مسیلمہ کذاب نے نبوت کا دعویٰ کیا تو اسے مرتد ہو جانے کی بناء پر قتل کر دیا گیا۔ یہی حشر عنسی کذاب کا بھی ہوا۔ اس کے خلاف کوئی آواز نہ اٹھنے کا مطلب یہ ہے کہ جھوٹی نبوت کا دعویٰ کرنے والا اسلامی ریاست میں ناقابل برداشت اور مباح الدم ہے اور یہ کہ کفر و ارتداد کی تبلیغ و اشاعت کی آزادی ایک اسلامی معاشرے میں نہیں دی جاسکتی۔ انگریزی دور میں علماء کرام نے اس جھوٹی نبوت کا بہترین پوسٹ مارٹم کیا تھا اور مرزا قادیانی کے جسمانی، دماغی ، علمی اور اخلاقی پہلوؤں پر واضح دلائل کے ساتھ روشنی ڈالی تھی۔ لیکن لادینی نظام کی آبیاری سے یہ اکاس بیل برابر پھیلتی رہی اور مسلمان قوم کی رگ و جان سے برابر خون چوستی رہی اور آج اس آفت جان سے چھٹکارا پانا ایک مستقل خطرہ بن گیا ہے۔

قرآن و حدیث میں ختم نبوت کا مسئلہ اس وضاحت سے بیان کیا گیا ہے کہ اس میں کبھی دو رائیں نہیں ہوئیں اور نہ اس میں کسی اجتہاد و استنباط کی گنجائش نکل سکتی ہے۔ نزول قرآن سے لے کر آج تک یہ مسئلہ متفق علیہ ہی رہا ہے۔

٣

صفحہ ٣٠٠

پروردگار عالم نے تو نبوت کا دروازہ بند کر کے آنحضور ﷺ کے ذریعہ اس کا اعلان بھی کرا دیا۔ لیکن شیطان نے جھوٹے نبیوں اور گندی روحوں پر وحی کا سلسلہ بند نہیں کیا۔

(الشعراء)"

﴿اچھا میں تمہیں بتاؤں کہ شیطان کس پر اترتے ہیں۔ وہ ہر جھوٹے گنہگار پر اترتے ہیں۔﴾

﴿اور شیطان اپنے رفیقوں کے دلوں میں یہ بات ڈالتے ہیں کہ تم سے (ناحق) جھگڑا کریں۔﴾

اس لئے تمام جھوٹے مدعی نبوت اپنے کام کا آغاز خوابوں سے کرتے ہیں اور شیطان کے تصرف سے جو خواب آتے ہیں۔ انہیں حلم کہا جاتا ہے۔ اس کی جمع احلام ہے۔ انہیں اضغاث احلام کہا جاتا ہے اور یہی ان کا مبدأ وحی ہوتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ مفتری اور کذاب لوگوں پر شیطان کی وحی کا سلسلہ جاری ہے۔ تاکہ دنیا میں وہ خیر کے مقابلہ میں فتنہ وشر کا وجود قائم رکھیں۔

جھوٹی نبوت جاری ہے

حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: ”انه سيكون فى امتى كذابون ثلاثون كلهم يزعم انه نبى وانا خاتم النبيين لا نبى بعدى (ترمذى ج٢ ص ٤٥)“ ﴿میرے بعد عنقریب میری امت میں سے ایسے تیس سخت جھوٹے پیدا ہوں گے جن میں ہر ایک اپنے متعلق یہی گمان کرے گا کہ وہ نبی ہے۔ حالانکہ میں سب نبیوں کے آخر میں آیا ہوں اور مجھ پر سلسلہ نبوت ختم ہو گیا۔﴾ حضور ﷺ کی اس پیش گوئی کے مطابق آپ ﷺ کے بعد ہر مدعی نبوت کاذب اور فریب کار ہے اور پھر ایسے لوگ مسلمان قوم ہی سے اٹھیں گے۔ کسی غیر مسلم طبقہ سے نبوت کا دعویٰ کرنے والے کے دھوکہ میں کون آسکتا ہے۔ یہ کام تو مسلمانوں کا نقاب اوڑھ کر ہی کیا جاسکتا ہے۔

نئی نبوت کی ضرورت کب پیش آتی ہے

اب علمی اور عقلی دلائل کی روشنی میں اس مسئلہ پر غور ضروری ہے کہ دنیا میں وہ کیا حالات واسباب ہیں۔ جن کی بناء پر کسی نبی کی بعثت ضروری ہو جاتی ہے۔ مولانا مودودی نے تفہیم القرآن میں مفصل بحث کی ہے۔ چنانچہ وہ فرماتے ہیں۔

”قرآن مجید سے جب ہم یہ معلوم کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ نبی کے جدید تقرر کی ضرورت کن کن حالات میں پیش آتی ہے تو پتہ چلتا ہے کہ صرف چار حالتیں ایسی ہیں جن میں انبیاء مبعوث ہوتے ہیں۔

٤

تھا اور کسی دوسری قوم

ہو یا اس میں تحریف

دین کے لئے مزید

قرآن خود کہہ رہا ہے اور دنیا کی تمدنی تاریخ بتا رہی ہے رہے ہیں کہ آپ کی دعوت سب الگ قوموں میں انبیاء کے آنے کے ساتھ حدیث وسیرت کا پورا تعلیم بالکل اپنی صحیح صورت میں لائے تھے۔ اس میں ایک لفظ ہدایت آپ نے قول وعمل سے ہم آپ کے زمانہ میں موجود ہیں تحریف ہوگئی ہو) بھی ختم ہوگئی

پھر قرآن مجید یہ بار کر دی گئی ہے۔ لہذا تکمیل دین ضرورت تو اس کے لئے نبی درکا ظاہر ہے کہ جب وہ مقرر نہیں کیا نئی نبوت کی شدرگ کٹ

قرآن کی روشنی میں واستدلال کی اس بحث کے بعد آئے گا۔

صفحہ ٣٠١

روازہ بند کر کے آنحضورﷺ کے ذریعہ اس کا اعلان بھی ہوگئی روحوں پر وحی کا سلسلہ بند نہیں کیا۔ ﴿ تنزل الشياطين تنزل على كل افاك اثيم ہیں کہ شیطان کس پر اترتے ہیں۔ وہ ہر جھوٹے گنہگار پر

وحون الى اولياء هم ليجادلوكم (انعام:١٤) “ یہ بات ڈالتے ہیں کہ تم سے (ناحق) جھگڑا کریں۔ ﴾ نبوت اپنے کام کا آغاز خوابوں سے کرتے ہیں اور شیطان الہام کہا جاتا ہے۔ اس کی جمع احلام ہے۔ انہیں اضغاث تے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ مفتری اور کذاب لوگوں دنیا میں وہ خیر کے مقابلہ میں فتنہ و شر کا وجود قائم رکھیں۔

سيكون في امتى كذابون ثلاثون كلهم نبى بعدى (ترمذی ج ٢ ص٤٥) ” ﴿ میرے بعد ے جھوٹے پیدا ہوں گے جن میں ہر ایک اپنے متعلق یہی سب نبیوں کے آخر میں آیا ہوں اور مجھ پر سلسلہ نبوت ختم طابق آپﷺ کے بعد ہر مدعی نبوت کاذب اور فریب سے اٹھیں گے۔ کسی غیر مسلم طبقہ سے نبوت کا دعویٰ کرنے کر مسلمانوں کا نقاب اوڑھ کر ہی کیا جاسکتا ہے۔

تا ہے

محض اس مسئلہ پر غور ضروری ہے کہ دنیا میں وہ کیا حالات بعثت ضروری ہو جاتی ہے۔ مولانا مودودی نے تفہیم فرماتے ہیں۔

معلوم کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ نبی کے بعد تقرر کی تو پتہ چلتا ہے کہ صرف چار حالتیں ایسی ہیں جن میں ٤

تھا اور کسی دوسری قوم میں آئے ہوئے نبی کا پیغام بھی اس تک نہیں پہنچ سکتا تھا۔

ہو یا اس میں تحریف ہو گئی ہو اور اس کے نقش قدم کی پیروی کرنا ممکن نہ رہا ہو۔

دین کے لئے مزید انبیاء کی ضرورت ہو۔

قرآن خود کہہ رہا ہے کہ حضورﷺ کو تمام دنیا کی ہدایت کے لئے مبعوث فرمایا گیا ہے اور دنیا کی تمدنی تاریخ بتا رہی ہے کہ آپﷺ کی بعثت کے وقت سے مسلسل ایسے حالات موجود رہے ہیں کہ آپ کی دعوت سب قوموں کو پہنچ سکتی تھی اور ہر وقت پہنچ سکتی ہے۔ اس کے بعد الگ الگ قوموں میں انبیاء کے آنے کی کوئی حاجت باقی نہیں رہتی۔ قرآن اس پر بھی گواہ ہے اور اس کے ساتھ حدیث وسیرت کا پورا ذخیرہ اس امر کی شہادت دے رہا ہے کہ حضورﷺ کی لائی ہوئی تعلیم بالکل اپنی صحیح صورت میں محفوظ ہے۔ اس میں مسخ وتحریف کا کوئی عمل نہیں ہوا۔ جو کتاب آپ لائے تھے۔ اس میں ایک لفظ کی کمی بیشی آج تک نہیں ہوئی۔ نہ قیامت تک ہو سکتی ہے۔ جو ہدایت آپ نے قول وعمل سے دی اس کے تمام آثار آج بھی ہمیں اس طرح مل جاتے ہیں کہ گویا ہم آپ کے زمانہ میں موجود ہیں۔ اس لئے دوسری ضرورت (پہلے نبی کی تعلیم بھلا دی گئی ہو یا تحریف ہو گئی ہو ) بھی ختم ہو گئی۔

پھر قرآن مجید یہ بات صاف صاف کہتا ہے کہ حضورﷺ کے ذریعہ سے دین کی تکمیل کر دی گئی ہے۔ لہٰذا تکمیل دین کے لئے بھی اب کوئی نبی درکار نہیں رہا۔ اب رہ جاتی ہے چوتھی ضرورت تو اس کے لئے نبی درکار ہوتا تو وہ حضورﷺ کے زمانے میں آپ کے ساتھ مقرر کیا جاتا۔ ظاہر ہے کہ جب وہ مقرر نہیں کیا گیا تو یہ وجہ بھی ساقط ہو گئی۔“

(تفہیم القرآن ج ٣ ص ١٥١)

نئی نبوت کی شہ رگ کٹ گئی

قرآن کی روشنی میں نئی نبوت کے داعیات ہی جب پائے نہیں جاتے تو پھر علم واستدلال کی اس بحث کے بعد نتیجہ واضح ہے کہ آئندہ نیا نبی کون سی ضرورت پوری کرنے آئے گا۔

٥

PDF 303

نئی نبوت کس لئے

اس کے بعد مولانا مودودی تحریر فرماتے ہیں۔ ”اب ہمیں معلوم ہونا چاہئے کہ وہ پانچویں وجہ کون سی ہے۔ جس کے لئے آپ ﷺ کے بعد ایک نبی کی ضرورت ہو۔ اگر کوئی کہے کہ قوم بگڑ گئی ہے۔ اس کی اصلاح کے لئے ایک نبی کی ضرورت ہے تو ہم اس سے پوچھیں گے کہ محض اصلاح کے لئے دنیا میں نبی کب آیا ہے؟ کہ آج صرف اس کام کے لئے وہ آئے۔ نبی تو اس لئے مقرر ہوتا ہے کہ اس پر وحی کی جائے اور وحی کی ضرورت یا تو کوئی نیا پیغام دینے کے لئے ہوتی ہے یا پچھلے پیغام کی تکمیل کے لئے، یا اس کو تحریفات سے پاک کرنے کے لئے۔ قرآن اور سنت محمد مصطفیٰ ﷺ کے محفوظ ہو جانے اور دین کے مکمل ہو جانے کے بعد وحی کی سب ضرورتیں ختم ہو چکی ہیں تو اب اصلاح کے لئے صرف مصلحین کی حاجت باقی ہے نہ کہ انبیاء کی“ (تفہیم القرآن ج ٣ ص ١٥٢) چنانچہ اس امر کی تائید مندرجہ ذیل حدیث سے بھی ہوتی ہے۔ ”عن النبی ﷺ قال كانت بنو اسرائيل تسوسهم الانبياء كلما هلك نبى خلفه نبى وانه لا نبى بعدى وسيكون خلفاء (بخاری ج ١ ص ٤٩١، احمد ابن ماجہ، ابن جریر) “ آنحضرت ﷺ نے فرمایا بنی اسرائیل کی قیادت خود ان کے انبیاء فرمایا کرتے تھے۔ جب ایک نبی کی وفات ہو جاتی تو دوسرا اس کا جانشین آ جاتا۔ لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ ہاں خلفاء ہوں گے۔ جن خدمات کے لئے پہلے انبیاء کرام بھیجے جاتے تھے۔ سلسلۂ نبوت ختم ہونے کے بعد آئندہ یہی خدمات امت کے علماء، خلفاء اور اولوالامر سرانجام دیں گے اور اگر آئندہ یہ سلسلہ ختم نہ ہوتا تو بدستور انبیاء کی بعثت ہوتی رہتی۔ لیکن امت کی اصلاح و تجدید کا کام علماء اور خلفاء کے حوالے کرنے کا مقصد ہی ختم نبوت کا اعلان ہے۔ ایک نیک نیت اور سلیم الفطرت انسان کے سمجھنے کے لئے یہ حقیقت کتنی شفاف اور واضح ہے۔ لیکن نبی بننے کا جنون دماغ پر سوار ہو تو پھر تحریف تدلیس کے رندے سے جھوٹی نبوت کا بت تراشنا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ مزید تفصیل آگے آ رہی ہے۔

قصر نبوت کی تعمیر اور اس کی خشت اول

خالق کائنات نے جب ایک طرف اس جہان کی بنیاد رکھی تو اس کے ساتھ ساتھ قصر نبوت کی پہلی اینٹ بھی رکھ دی۔ یعنی اس عالم کون و مکان میں جس کو اپنا خلیفہ بنایا تھا۔ اس کو قصر نبوت کی خشتِ اول بھی قرار دیا گیا۔ نوع آدم کا ابتدائی پیکر اور پہلے نبی یعنی حضرت آدم علیہ السلام دونوں حیثیتوں کے مالک ہیں۔ ٦

کرنے والا ہوں ۔﴾

(آل عمران : ٤) ”اللہ نے آد دے کر اپنی رسالت کے لئے منتخب مشکوٰۃ میں آیا ہے کہ نبی تھے تو آپ نے فرمایا ”نعم نب ایک اور حدیث میں فر ابن حبان) ”سلسلۂ ان محمد ﷺ ۔“

ادھر عالم انسانیت بتد میں انبیاء کرام مبعوث ہوتے ر کے لئے جس عروج و کمال تک پہ کمالات کے ساتھ مکمل ہو گیا۔

اجرائے رسالت کا پہلا اعلا

”یا بنی آدم ام اتقٰی واصلح فلاخوف عل بھی ہمارے پیغمبر تمہارے پاس آئ شخص ان پر ایمان لاکر خدا سے ڈر خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں تھی۔ ضروری تھا کہ اس کی انتہاء پر

ختم نبوت کا اعلان

اور اس آخری آسمانی ک ابا احد من رجالكم ولكن ر تمہارے مردوں میں سے کسی کے

صفحہ ٣٠٣

کرنے والا ہوں۔﴾

(اٰلِ عمران:٣٣) “ ﴿اللہ نے آدم اور نوح اور آل ابراہیم اور آل عمران کو تمام دنیا والوں پر ترجیح دے کر اپنی رسالت کے لئے منتخب کیا تھا۔﴾

مشکوٰۃ میں آیا ہے کہ جب آپﷺ سے دریافت کیا گیا کہ حضرت آدم علیہ السلام نبی تھے تو آپ نے فرمایا ”نعم نبی مكلم“ ﴿خدا کے نبی تھے۔ خدا ان سے باتیں کرتا تھا۔﴾

ایک اور حدیث میں فرمایا: ”اول الانبیاء آدم و آخرھم محمد (ابن عساکر، ابن حبان)“ ﴿سلسلۂ انبیاء کی ابتداء حضرت آدم علیہ السلام ہیں اور اس کی انتہاء حضرت محمدﷺ۔﴾

ادھر عالم انسانیت بتدریج پھیلتا رہا۔ ادھر قصر نبوت کی تعمیر ہوتی رہی۔ اس دوران دنیا میں انبیاء کرام مبعوث ہوتے رہے۔ قصر نبوت تکمیل کے مراحل طے کرتا رہا۔ آخر کار اس جہاں کے لئے جس عروج و کمال تک پہنچنا مقدر تھا پہنچ گیا۔ ادھر قصر نبوت بھی اپنے جملہ محاسن اور کمالات کے ساتھ مکمل ہو گیا۔

اجرائے رسالت کا پہلا اعلان

”یا بنی اٰدم اما یاتینکم رسل منکم یقصون علیکم اٰیاتی فمن اتقی واصلح فلا خوف علیھم ولاھم یحزنون (اعراف:٣٥) “ ﴿اے بنی آدم جب بھی ہمارے پیغمبر تمہارے پاس آیا کریں اور ہماری آیتیں سنایا کریں تو ان پر ایمان لایا کرو۔ جو شخص ان پر ایمان لا کر خدا سے ڈرتا رہے گا اور اپنی حالت درست رکھے گا۔ تو ایسے لوگوں کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے۔﴾ ابتدائے عالم میں رسولوں کی بعثت کی بشارت دی گئی تھی۔ ضروری تھا کہ اس کی انتہاء پر بھی سلسلۂ رسالت کے خاتمہ کا اعلان کر دیا جائے۔

ختمِ نبوت کا اعلان

اور اس آخری آسمانی کتاب میں یہ نہایت واضح اعلان بھی کر دیا گیا۔ ”ماکان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین (احزاب:٤٠) “ ﴿محمدﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں۔ مگر وہ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں۔﴾

٧

صفحہ ٣٠٤

یہ اعلان اس لئے کیا گیا کہ سابق معمول کے مطابق آئندہ کسی شخص کو کسی رسول کا انتظار نہ کرنا پڑے۔ اس اعلان کے مطابق دنیا میں جتنے رسول آئے۔ کسی نے خاتم النبیین کا دعویٰ نہیں کیا۔ بلکہ اپنے بعد آنے والے رسول کی بشارت سنائی۔ آنحضور ﷺ نے دنیا میں تشریف لا کر نبوت کے ساتھ ایک نیا اعلان (ختم نبوت) بھی فرمایا اور اس امر کا انکشاف کیا کہ اس دنیا کا بھی یہ آخری دور ہے اور میں بھی اس زمین پر آخری رسول ہوں اور اپنے ہاتھ کی دو انگلیوں کے ساتھ اشارہ کر کے فرمایا: ”بعثت انا والساعة کہاتین (بخاری ج ٢ ص ٩٦٣)“ میرے زمانہ نبوت اور قیامت کے درمیان اور کوئی نبوت حائل نہیں ہے۔ جس طرح کہ ہاتھ کی ان دو انگلیوں کے درمیان کوئی چیز حائل نہیں ہے۔

آنحضور ﷺ کی زبانی ختم نبوت کی تمثیلات

ایک مسلمان کے لئے تو خدا اور رسول کا کسی معاملے میں صاف صاف اعلان مطمئن کرنے کے لئے کافی ہے۔ لیکن رحمتہ اللعالمین نے انسانی ذہن کی سادگی اور کمزوری کو مدنظر رکھتے ہوئے ختم نبوت کے مسئلہ کو انتہائی سہل اور مؤثر پیرائے میں اس طرح بیان فرمایا تا کہ آئندہ کسی سوراخ سے کوئی کذاب داخل نہ ہو سکے۔

”قال النبی ﷺ ان مثلی ومثل الانبیاء من قبلی کمثل رجل بنی بیتاً فاحسنہ واجملہ الا موضع لبنة من زاویة فجعل الناس یطوفون بہ ویعجبون لہ ویقولون ہلا وضعت ہذہ اللبنة فانا اللبنة وانا خاتم النبیین (بخاری ج ١ ص ٥٠١، باب خاتم النبیین)“ نبی ﷺ نے فرمایا۔ میری اور مجھ سے پہلے گزرے ہوئے انبیاء کی مثال ایسی ہے جیسے کہ ایک شخص نے ایک عمارت بنائی اور نہایت ہی خوبصورت بنائی۔ مگر ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ خالی چھوڑی ہوئی تھی۔ لوگ اس عمارت کے گرد پھرتے اور اس کی خوبی پر اظہار حیرت کرتے تھے۔ مگر کہتے تھے کہ اس جگہ اینٹ کیوں نہ رکھی گئی اور وہ اینٹ میں ہوں اور میں خاتم النبیین ہوں۔ (یعنی میرے آنے پر نبوت کی عمارت مکمل ہوچکی ہے۔ اب کوئی جگہ نہیں رہی جسے پر کرنے کے لئے کوئی نیا نبی آئے) نبوت کا محل مکمل ہو جانے کے بعد آخر اس کی دیوار کے ساتھ کسی نئے نبی کے لٹکے رہنے کا کوئی فائدہ؟ غور طلب بات ہے۔

اس مضمون کی حدیثیں صحیح مسلم، ترمذی اور مسند احمد میں بھی آئی ہیں۔ اختصار کے خیال

٨

صفحہ ٣٠٥

سے وہ تمام احادیث نقل نہیں کی گئیں۔ ان میں بھی تصریح کے ساتھ ”فختمت الانبياء يا ختم بى الانبياء“ کے الفاظ آئے ہیں۔ سب میں ایک ہی حقیقت کا اعلان ہے۔ میرے ذریعہ سے انبیاء کا سلسلہ ختم کر دیا گیا۔

قصر نبوت مکمل ہو گیا

اور جب آنحضورﷺ کی بعثت کے ذریعے نبوت کا مقدس محل اپنے محاسن وکمالات کے ساتھ بالکل مکمل ہو گیا تو دنیا والوں کو مطلع کر دیا گیا۔ اے اہل زمین ! ذہن نشین کر لو کہ اب دنیا کی پشت پر بسنے والی نوع انسانی اجڑنے والی ہے۔ اس شورش کدۂ عالم کی ویرانی کا دور بہت جلد آرہا ہے۔ نوع آدم کی جوانی میں بڑھاپا قدم رکھ رہا ہے۔ اس آخری رسول کے ذریعے خدا تعالیٰ نے جو نظام زندگی عطاء کیا جو عقائد ونظریات دیئے جو قوانین سیاست بنائے جو ضابطہ اخلاق دیا اور جو اصول عبادت اور جس طرز بندگی کی تعلیم دی یہ سب کچھ مکمل ہو چکا۔ آپ کی حیات گیر اور عالمگیر دعوت توحید سے دنیا روشناس ہو گئی۔ آپ کی معرفت لایا ہوا یہ آخری اور مکمل دین ہے۔ عمل کرنے کی مہلت بہت کم رہ گئی ہے۔ جسے اپنے عقائد وعمل کی اصلاح کرنا ہے کر لے۔ حجت بازی اور تھوڑی سی مہلت کو ضائع کرنے کا وقت نہیں رہا۔ دنیا کی عمر کے ساتھ ساتھ قصر نبوت کی بھی تکمیل ہوگئی ہے۔ نبوت اپنے ارتقائی کمال کو پہنچ چکی ہے۔ کمالات انسانیت کا بھی اب کوئی درجہ باقی نہیں رہا۔ ورنہ نبوت کا کمال ابھی ختم نہ ہوتا۔

اب دنیا والوں کو زندگی کے کسی بھی شعبہ میں کسی دوسرے نظام سے رہنمائی کی بھیک مانگنی نہیں پڑے گی۔ زمین پر بسنے والوں کے لئے زندگی کا کوئی گوشہ ایسا نہیں رہا جو خدا تعالیٰ کی ہدایت اور اس کے آخری رسول کے اسوۂ حسنہ کے نور سے جگمگا نہ اٹھا ہو۔ اللہ تعالیٰ کی منشاء و پسند اس کی ایک ایک ادا میں ڈھل کر رہنمائی و ہدایت کا آفتاب بن کر پوری انسانی زندگی پر روشنی پھیلا چکی ہے۔ اس آفتاب نبوت کے طلوع ہونے کے بعد زندگی کا کون سا گوشہ تاریکی میں رہ گیا ہے۔ جسے روشن کرنے کے لئے آئندہ کسی نئے نبی کی ضرورت محسوس ہو۔ کون سا مسئلہ لا یحل رہ گیا ہے۔ جسے حل کرنے کے لئے افضل الانبیاء کے بعد کسی ماتحت نبی کی ضرورت ہو۔ انسانی زندگی کے کسی شعبہ میں رہنمائی کے لئے نہ دین میں کوئی کمی رہنے دی گئی نہ سیرت نبوی کی کسی فیض بخشیوں نے کوئی گوشہ چھوڑا۔ ٩

صفحہ ٣٠٦

تکمیل نبوت کے ساتھ تکمیل دین

نوع انسانی کو اب آخری اور مکمل ہدایت نامہ دے دینے کے بعد اللہ تعالیٰ اس تکمیل نعمت کی بشارت دیتا ہے۔ جو ختم نبوت کے ساتھ حاصل ہوئی۔ "الیوم اکملت لکم دینکم وأتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دینا (مائدہ) “ ”آج ہم نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کر دیا اور اپنی نعمت تم پر پوری کر دی ہے اور تمہارے لئے اسلام کو تمہارے دین کی حیثیت سے قبول کر لیا ہے۔“

تکمیل دین اللہ تعالیٰ کی وہ عظیم نعمت ہے جو قیامت تک آنے والے لوگوں کی دنیا و آخرت سنوارنے کے لئے کافی ہے اور اس نظام حیات کی عالمگیر اور ہمہ گیر صفت نے قیامت تک کے مسائل کو سمیٹ لیا ہے۔

(ابن کثیر)

اس نعمت کی شان میں فرماتے ہیں: ”هذه اكبر نعم الله على هذه الامة حيث اكمل تعالى لهم دينهم فلا يحتجون الى دين غيره ولا الى نبى غير نبيهم صلوات الله عليه وسلامه عليه ولذا جعله خاتم الانبياء وبعثه الى الجن والانس (ابن کثیر ج ٣ ص ٢٢) “ ”اللہ تعالیٰ کا اس امت پر یہ بہت بڑا انعام ہے کہ اس نے اس امت کا دین (آئین حیات) کامل کر دیا ہے کہ اب اسے نہ کسی اور دین کی ضرورت رہی اور نہ کسی دوسرے نبی کی۔ اس لئے آپ کو خاتم الانبیاء بنایا ہے اور جن وانس کے لئے رسول بنا کر بھیجا ہے۔“

دین کے ارتقاء اور انسان کو معراج کمال تک پہنچانے کے لئے عالمگیر شمع ہدایت پہنچا دینے کے بعد آئندہ کے لئے سلسلۂ نبوت کی بساط لپیٹ دی گئی۔

ختم نبوت پر ایمان لانا بنیادی عقائد میں داخل ہے

اس کی تائید مندرجہ ذیل واقعہ سے ہوتی ہے۔ زید بن حارثہ کے قبیلہ کے لوگ انہیں تلاش کرتے ہوئے آنحضورﷺ کے پاس پہنچے۔ کہنے لگے اس کے عوض بہت سا مال لے لیجئے اور اسے ہمارے ساتھ روانہ کر دیجئے۔ آپ نے جواب میں فرمایا: ”فقال اسئلكم ان تشهدوا ان لا اله الا الله وانى خاتم انبيائه ورسله وارسله معكم (مستدرك حاكم ج ٤ ص ٢٢٥) “ ”تم اس بات کی گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ میں اس کے نبیوں اور رسولوں میں آخری نبی اور رسول ہوں۔ اس اقرار کے بعد میں اسے ابھی تمہارے ساتھ بھجواتا

١٠

صفحہ ٣٠٧

ہوں۔ خدا پر ایمان لانے کے ساتھ ساتھ ختم نبوت پر ایمان لانے کا مطالبہ اسی لئے کیا جا رہا ہے کہ ختم نبوت پر ایمان لائے بغیر آپ ﷺ کی رسالت پر ایمان لانا کافی نہیں ہے اور نہ آئندہ کے لئے ایمان محفوظ رہ سکتا ہے۔

ختم نبوت کا علم ہر مسلمان کے لئے ضروری ہے

اگر کسی شخص کو اپنے ایمان اور اسلام کی پوری حدود کا علم نہیں ہے اور ان حدود پر حملہ کرنے والوں سے بھی باخبر نہیں ہے تو اسے نہ اپنے اسلام کی حدود کے تحفظ کا احساس ہو سکتا ہے نہ ان حدود پر شبخون مارنے والے بد نیت ڈاکوؤں کا سراغ مل سکتا ہے۔ برائیوں اور گناہوں سے نفرت و کراہت اور ان سے بچنے کا احساس اسی وقت پیدا ہوتا ہے جب کہ ان کا پہلے سے علم حاصل ہو۔

حضور ﷺ کی صفت رسالت اور شان ختم نبوت کے بارے میں اگر مکمل معلومات حاصل نہ ہوں تو پھر جھوٹے نبیوں کے جال سے بچ نکلنا مشکل ہو جاتا ہے۔ حضرت عمرؓ کا مشہور حکیمانہ مقولہ ہے: ”من لم يعرف الشر يقع فيه (الفاروق)“ جو شخص برائی سے بالکل واقف نہیں ہے۔ وہ برائی میں مبتلا ہوگا۔

علمائے دین نے اسی خطرے کے پیش نظر لکھا ہے کہ اگر آدمی یہ نہ سمجھے کہ محمد ﷺ آخری نبی ہیں تو وہ مسلمان نہیں ہے۔ کیونکہ یہ ان باتوں میں سے ہے۔ جن کا جاننا اور ماننا ضروریات دین میں سے ہے۔

(الاشباہ والنظائر کتاب السیر ص١٥٦)

اس لئے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرنے والے قیامت سے پہلے کئی لوگ اٹھیں گے۔

علامہ ابن کثیر فرماتے ہیں: ”وقد اخبر الله تعالى فى كتابه ورسوله فى السنة المتواترة عنه انه لا نبى بعدى ليعلموا ان كل من ادعى هذا المقام بعده فهو كذاب افاك دجال ضال مضل (ابن کثیر ج٦ ص٣٨٤)“ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اور اس کے رسول نے احادیث متواترہ میں ختم نبوت کا اعلان اس لئے فرمایا ہے تاکہ معلوم ہو جائے کہ جو شخص اب اس منصب (نبوت) کا دعویٰ کرے گا وہ سخت جھوٹا، افتراء پرداز، دجال اور پرلے درجے کا گمراہ اور دوسروں کو گمراہ کرنے والا ہے۔

اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ ہر مسلمان کے لئے شعوری طور پر ختم نبوت پر ایمان لانا، اسے عقیدہ بنانا پھر پوری زندگی میں اس پر قائم رہنا تحفظ ایمان اور تکمیل دین کے لئے نہایت

١١

صفحہ ٣٠٨

ضروری ہے۔ ورنہ سطحی ایمان کے ساتھ عقیدہ وایمان کے ڈاکوؤں کا مقابلہ نہیں کیا جاسکتا۔ جب کہ اس راہ میں شانِ نبوت کے رہزن بھی بکثرت پائے جاتے ہیں۔

چونکہ ختم نبوت کا مسئلہ ہمیشہ سے متفق علیہ رہا ہے اور جب کبھی کسی نے اس میں شگاف ڈالنے کی ناپاک کوشش کی تو وہ بالاتفاق ملتِ اسلامیہ کے غیظ و غضب کا نشانہ بنا اور پورے عالم کی لعنت و پھٹکار کا مستحق ہوا اور مسلمان عوام کو آنحضورﷺ کے بارے میں جو عقیدت ومحبت سے لبریز جذباتی تعلق ہے اور آپﷺ کے بارے میں جو لطیف احساسات رکھتے ہیں۔ اس کے پیش نظر کھلم کھلا کسی بھی بدباطن کو اس بارود سے چھیڑنے کی جرأت نہیں ہوتی۔ اس لئے انگریز کے دور میں بھی نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرنے والوں کو ابتداء میں تحریف اور مغالطہ سے کام لینا پڑا اور آج بھی یہ لوگ اسی سنت پر عمل پیرا ہیں۔ مذہب کے چیتھڑوں میں لپٹی ہوئی یہودی سیاست کی یہ گندی پوٹلی اسلامیہ جمہوریہ کے کنوئیں میں ابھی تک تعفن پھیلا رہی ہے۔ جسے نکالے بغیر قومی صحت اور ملکی توانائی واستحکام بحال نہیں ہوسکتا۔ ختم نبوت کے عقیدہ میں ایمان کش جراثیم داخل ہوتے رہیں گے اور مسلمانوں کی مرکزی قوت میں ضعف وانتشار پیدا ہوتا رہے گا۔

مرزائیوں کا ختم نبوت کا اقرار، فریب اور دھوکہ ہے

چنانچہ مرزا غلام احمد قادیانی کا مندرجہ ذیل اعلان ملاحظہ ہو۔ اقرار...... ”اور اس بات پر محکم ایمان رکھتا ہوں کہ ہمارے نبی خاتم الانبیاء ہیں اور آنجناب کے بعد اس امت کے لئے کوئی نبی نہیں آئے گا۔ نیا ہو یا پرانا۔“

(نشان آسمانی ص ٢٨، خزائن ج ٤ ص ٣٩٠)

لیکن اس اعلان کے بعد پھر حریمِ نبوت میں داخل ہو کر اپنے لئے نبوت کشید کرتے ہیں اور خاتم النبیین کے معنی میں تحریف کر کے عوام کو دھوکہ دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس کے بعد دوسرا اعلان ملاحظہ ہو۔

خاتم النبیین کی غلط تاویل

ہے اور آپ کی توجہ روحانی نبی تراش ہے۔“

(حقیقت الوحی ص ٩٧ حاشیہ، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٠)

ہے۔ نبی کے نام کا اعزاز دیا جائے تو اس سے مہر نبوت نہیں ٹوٹتی۔ کیونکہ وہ امتی ہے...... مگر کسی

١٢

صفحہ ٣٠٩

ایسے نبی کا دوبارہ آنا جو امتی نہیں ہے ختم نبوت کے منافی ہے۔“

(چشمہ مسیحی ص ٦٨ ، ٦٩ ، خزائن ج ٢٠ ص ٣٨٣ حاشیہ)

یہ دونوں دعوے جو اپنے اندر صریح تضاد اور جھوٹ کو سمیٹے ہوئے ہیں۔ قادیانی نبوت کے تحریف و دجل اور اس کے کذب وفریب کی بدترین مثالیں ہیں۔ اس سے قیاس کر لیجئے کہ آج قادیانی امت بھی بظاہر خاتم النبیین اور ختم نبوت پر یقین رکھنے کا اعلان واقرار کرتی ہے۔ لیکن یہ محض عوام کو دھوکہ دینے کے لئے ہے۔ اصل میں ان کے ہاں ختم نبوت کا وہی مفہوم ہے جو مرزا قادیانی نے بیان کیا ہے۔ مغالطہ آمیز اقرار سے عوام کے غیظ وغضب سے بھی بچنا چاہتے ہیں اور اپنے عقیدہ پر بھی قائم رہتے ہیں۔

دعویٰ نمبر ١، سے ثابت ہوا کہ حضور کی پیروی سے خود بخود کمالات نبوت پیدا ہوتے ہیں اور آپ کی روحانی توجہ نئے نئے نبی تراشتی ہے۔

دعویٰ نمبر ٢، آنحضرت کی پیروی سے وحی والہام اور نبوت کا حصول ہوتا ہے؟

مرزا قادیانی کے دعوے کے مطابق اگر ہر ایک پیروکار کمالات نبوت سے مستفید ہو کر نبی بن سکتا ہے تو پھر مرزا قادیانی کے لئے کوئی تخصیص نہیں رہتی۔ جس کے جی میں آئے اور جب چاہے جھوٹی نبوت کا دعویٰ کر کے کاروبار چلا سکتا ہے اور دنیا میں تو خدائی کا دعویٰ کرنے والوں کو بھی کچھ نہ کچھ ماننے والے مل ہی جاتے ہیں۔ جب کہ آج کل نبوت کے لئے کسی سیرت کی شہادت، وحی اور معجزات کا ثبوت مہیا کرنے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ لہٰذا نئے نبی کا مسئلہ منوانے کے لئے جھوٹ بولنے اور عوام کو لفظی اور معنوی فریب دینے کی اچھی خاصی مہارت مطلوب ہے اور وہ مرزا قادیانی کو بخوبی میسر ہے۔ اگر آنحضور ﷺ کی مہر نبوت لگنے سے انبیاء کی فوج آئندہ آتی رہے گی تو پھر اللہ تعالیٰ کے اعلان کا جو مفہوم آنحضور ﷺ نے سمجھا، صحابہ کرامؓ نے اس پر جو عقیدہ جمایا۔ ملت اسلامیہ کا اس پر اجماع ہوا اور آج تک اس میں کوئی گنجائش نہ نکل سکی تو پھر ان صداقتوں کی روشنی میں مرزا قادیانی کذب و ارتداد کی رسوائی سے کس طرح بچ سکتے ہیں؟ نیز مرزا قادیانی نے اپنے دور کے دوسرے مدعیان نبوت کو سور، بدطینت اور جھوٹا کیوں قرار دیا اور ان کے لئے قلمی غلاظت فضا میں کیوں بکھیری؟

نبی بننا نہیں بلکہ اسے اللہ تعالیٰ منتخب کرتا ہے

نبی کا کام لوگوں کو خدائی پیغام پہنچانا ہوتا ہے اور اس کام کے لئے موزوں افراد کا ١٣

صفحہ ٣١٠

انتخاب مخصوص صلاحیتیں دے کر خود اللہ تعالیٰ کا اپنا ذمہ ہے۔ جیسا کہ آیت: ”ان الله اصطفى آدم و نـــوحـــــاً “ سے ثابت ہوتا ہے۔ انبیاء کرام کے اوصاف و خصائص اور ان کی بے داغ و شفاف سیرت بعثت سے پہلے ہی اپنے معاشرے میں شہرت و مقبولیت کا سکہ جما چکی ہوتی ہے اور ان کی خوبیوں کی چھپی ہوئی کلی رفتہ رفتہ خلق عظیم کا پھول بن کر نکھرتی ہے۔ پاک اور شفاف دعوت کی تبلیغ و تعلیم کے لئے مثالی نمونہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ اپنی بات منوانے کے لئے انبیاء کرام کی پہلی زندگی کو دلیل کے طور پر پیش کرتا ہے۔ جس کے جوہر امانت و صداقت کی مخالفین بھی شہادت دیتے ہیں۔

”فقد لبثت فيكم عمراً من قبله افلا تعقلون (يونس:١٦)“ ”میں اس سے پہلے تم میں ایک عمر گزار چکا ہوں۔ بھلا تم سمجھتے نہیں ہو۔ ایسا تو نہیں ہوا کہ وہ نبی بننے کی تیاری کرتے رہے ہوں یا کبھی جھوٹ، فریب، مکاری، عیاری اور خیانت کا کوئی چھینٹا ان کی سیرت پر پڑا ہو۔

نبی نہ تو کسی انسان کا شاگرد ہوتا ہے نہ شاعر، نہ مصنف، وہ براہ راست رحمن کا شاگرد ہوتا ہے۔ اپنی سوسائٹی میں وہ بالاتفاق صادق و امین مشہور ہوتا ہے۔ لیکن مرزا قادیانی نے پرائیویٹ طور پر ملازم اساتذہ سے تھوڑی بہت تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد آپ کی تصنیفات اور شاعری بھی زبان زدِ عوام ہے۔ اس کے بعد نبی انسانوں کو انسانوں کی غلامی سے نجات دلا کر آزادی کی نعمت سے مالا مال کرتا ہے۔ لیکن مرزا قادیانی نے اپنا تمام کمالِ نبوت کا ٹھاٹھ انگریز کی غلامی کے لئے نچوڑ دیا ہے۔ تفصیل اگلے صفحات میں آئے گی۔

اور مرزا قادیانی کی دماغی، فکری، جسمانی، اخلاقی، سیاسی اور اجتماعی زندگی جس ماحول اور جس رنگ میں گزری ہے۔ وہ انہیں ایک صحت مند صحیح الدماغ اور انسانی اخلاق کی سطح سے بھی نیچے گرا دیتی ہے اور یہ بھی واضح ہے کہ انہوں نے زندگی کا کتنا حصہ نبی بننے کی تیاری میں گزارا۔

ادھر پروردگار عالم نے اعلان کر دیا کہ حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ کے بعد اب کوئی نبی نہیں بنایا جائے گا۔ قصرِ نبوت پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ آخری اینٹ لگ چکی۔ اب اس کے بعد کسی زائد اینٹ کے لگنے کے لئے کوئی جگہ خالی نہیں رہی ہے۔ لیکن مرزا قادیانی سینہ زوری کر کے قصرِ نبوت میں گھس آنا چاہتے ہیں۔

١٤

صفحہ ٣١١

سب سے بڑا ظالم؟

خدا اور رسول کے واضح اعلان کے بعد تحریف و تاویل کے دریچوں سے گھس کر وحی اور نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرنے والوں کو خدا نے سب سے بڑا ظالم قرار دیا ہے۔ ”و من اظلم ممن افترى على الله كذبا او قال اوحى الى ولم يوح اليه شئ (الانعام:١١)“ لیکن اس شخص سے بڑا ظالم اور کون ہو گا جو اللہ پر افتراء باندھے (کہے) کہ میں خدا کا نبی ہوں اور مجھ پر الہام اور وحی کا نزول ہوتا ہے۔ حالانکہ اس پر کوئی وحی نازل نہ کی گئی ہو۔

جھوٹی نبوت کا اعلان کرنے والوں کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی وہ مقدس دعوت متاثر ہوتی ہے جو انسانی زندگی کی غایت ہے؟ اللہ کی مرضی کے خلاف اس کی طرف جھوٹی نسبت کے ذریعہ دجل و فریب کا کاروبار چلانے والے اپنے اوپر بھی ظلم کرتے ہیں اور خلق خدا پر بھی کہ انہیں راہ ہدایت سے بھٹکا کر جہنم کا ایندھن بناتے ہیں۔ بارگاہ الٰہی سے جن پر ظالم اور مفتری کا فتویٰ لگ چکا ہو۔ ایسے لوگوں کے دلائلِ نبوت پر توجہ کرنا عقیدہ ختم نبوت کو مجروح کرتا ہے۔

نئی نبوت سے دلائل طلب کرنا کفر ہے

"تنباء رجل فى زمن أبى حنيفة وقال امهلونى حتى أجى بالعلامات فقال ابو حنيفة: من طلب منه علامة فقد كفر لقوله عليه السلام لا نبى بعدى (روح البيان ج ٢ ص ١٨٨)“

امام ابو حنیفہؒ کے زمانے میں ایک شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا اور کہا مجھے موقع دو کہ میں اپنی نبوت کی علامات پیش کروں۔ اس پر امام صاحب نے فرمایا کہ جو شخص اس سے نبوت کی کوئی علامت طلب کرے گا وہ بھی کافر ہو جائے گا۔ کیونکہ رسول اللہ ﷺ فرما چکے ہیں۔ لا نبی بعدی!

اس کے بعد نہ کوئی کتاب آئے گی نہ کوئی رسول

خدا تعالیٰ کی اس آخری کتاب کے بعد آئندہ وحی کا سلسلہ جاری ہوتا تو اس پر بھی ایمان لانے کا حکم ضرور دیا جاتا۔ لیکن قرآن میں آئندہ کسی نبوت اور کسی کتاب پر ایمان لانے کا کوئی حکم نہیں ملتا۔

قرآن ہدی للناس ہے۔ جس میں نزول کے وقت سے لے کر قیامت تک کے لوگ مراد ہیں اور سب کا مرکز ہدایت یہی کتاب ہوگی۔

١٥

صفحہ ٣١٢

رسول كافة للناس ہے جو قیامت تک کے لوگوں کے لئے ہدایت ورہنمائی کا کامل نمونہ بنا کر بھیجا گیا ہے۔ اگر ہدایت کے آفتاب و مہتاب تکمیل انسانیت اور فلاح آدم کے لئے ناکافی ہوتے تو دنیا میں کسی نئی کتاب، نئی شریعت اور نئے رسول کا ظہور بھی ضرور ہوتا اور ان پر ایمان لانے کا حکم بھی واضح طور پر دیا جاتا۔ بصورت دوم، اللہ تعالیٰ پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ نئے آنے والے نبیوں کی اطلاع تو انسانوں کو نہ پہنچائے۔ لیکن ان پر ایمان نہ لانے والوں کو سزا کا مستحق قرار دے دے۔ یہ بات اس کے آئین عدل و رحمت کے خلاف ہے۔ ذیل میں صرف چند ایک آیات درج کی جاتی ہیں۔ جن میں آئندہ کسی آنے والے نبی کی کوئی بشارت نہیں اور نہ ہی ان پر ایمان لانے کا کوئی حکم ملتا ہے۔ تا کہ اس کے بعد تمام انسان اسی کتاب اور اسی رسول کو مرکز ہدایت کی حیثیت سے اپنی پوری زندگی میں یکسوئی کے ساتھ تسلیم کر لیں اور آئندہ کسی نئے نبی اور نئی شریعت کے مطابق زندگی کے رنگ بدلنے کا کھٹکا باقی نہ رہے۔

کتنا بڑا انعام اور احسان ہے اس رحمة للعالمین کا جس نے نسل انسانیت کو ہر روز ایمان بدلنے کے تکلف سے ہمیشہ کے لئے نجات دلا دی۔

يوقنون (بقرہ: ٤) " ﴿اور جو کتاب تم پر نازل ہوئی اور جو کتابیں تم سے پہلے پیغمبروں پر نازل ہوئیں۔ سب پر ایمان لاتے ہیں اور آخرت پر بھی یقین رکھتے ہیں۔ ﴾

اس آیت میں قرآن پر اور اس سے پہلی آسمانی کتابوں پر ایمان لانے والوں کو مؤمن کہا گیا ہے۔ اگر اس کتاب کے بعد کسی کتاب کا نزول یقینی ہوتا تو پھر مؤمن کامل کی تعریف یوں ہوتی۔ "والذين يؤمنون بما انزل اليك وما انزل من قبلك وما ينزل من بعدك" جو کتاب تم پر نازل ہوئی اور تم سے پہلے جو کتابیں نازل ہوئیں اور جو کتاب تمہارے بعد نازل ہوگی۔ سب پر ایمان لاتے ہیں۔ آئندہ وحی کا سلسلہ بند ہورہا تھا۔ اس لئے ایمان لانے کے مطالبہ میں اس کتاب کے بعد مزید کسی کتاب پر ایمان لانا شامل نہیں کیا گیا۔

لیکن جس نبوت کی بنیاد جھوٹ، فریب، دھوکہ اور مغالطہ پر رکھی گئی ہو وہ ہر ممکن طریق سے اپنے فن کی مہارت ضرور دکھاتی ہے۔ چنانچہ اس آیت سے بھی جھوٹی نبوت کشید کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ : "ما انزل اليك " سے قرآن کی وحی "ما انزل من قبلك " سے انبیاء سابقین کی وحی اور آخرت سے مراد مسیح موعود کی وحی ہے۔ آخرت کے معنی

١٦

پیچھے آنے والی ، وہ پیچھے آ چیز سے مراد وہ وحی ہے جو

اس طرح قرآ آیات کے منہ میں ڈال ک مشکل ہے۔ موزوں وقت " وبالآخرة هم يوق اپنی جھوٹی نبوت کو کھینچ مرزا قادیانی کو اس آیت اور آخرت مؤنث اور اس نبوت برآمد کرے گا تو اسی

" فالذين ا اولئك هم المفلحون اور انہیں مدد دی اور جو نو ہیں۔ اس آیت میں بھی ا میں فلاح و نجات کی بشار لانے اور اس کی شریعت باقی نہیں رہی۔ اس لئے جس پر ایمان لا کر زندگی کامل اور مکمل شرط قرار دی

" فآمنوا واتبعوه لعلكم تهتد ایمان رکھتے ہیں، ایمان لا اس آیت میں ہدایت یابی کے لئے صرف

صفحہ ٣١٣

پیچھے آنے والی، وہ پیچھے آنے والی چیز کیا ہے۔ سیاق کلام سے ظاہر ہے کہ یہاں پیچھے آنے والی چیز سے مراد وہ وحی ہے جو قرآن کے بعد نازل ہوگی۔

(تفسیر سورہ بقرہ ریویو آف ریلیجنز ج ١٤ بابت ماہ مارچ، اپریل ١٩١٥ء)

اس طرح قرآن میں جگہ جگہ کہیں الفاظ بدل کر، کہیں اپنی مرضی کے معانی قرآنی آیات کے منہ میں ڈال کر جھوٹی نبوت کا بت کھڑا کیا گیا ہے۔ ان کی بر ملا تحریفات کو سمیٹنا یہاں مشکل ہے۔ موزوں وقت پر حسب ضرورت حوالے دیئے جائیں گے۔ یہاں اتنا سمجھ لیجئے کہ ”وبالآخرۃ ہم یوقنون“ (میں آخرت پر بھی یقین رکھتے ہیں) آخرت کے مفہوم میں وہ اپنی جھوٹی نبوت کو گھسیٹ لائے ہیں۔ اس لئے کہ یہ بھی آخرت کی نشانیوں میں سے ہیں اور مرزا قادیانی کو اس آیت میں اپنی غیر حقیقی نبوت کو پیوند لگاتے وقت یہ خیال نہ رہا کہ وحی مذکر ہے اور آخرت مؤنث اور اس کا موصوف بھی مؤنث ہونا چاہئے۔ ایک پنجابی شخص عربی وحی سے اپنی نبوت برآمد کرے گا تو اسی طرح قدم قدم پر جہالت کے ہاتھوں پٹتا رہے گا۔

”فالذین آمنوا بہ وعزروہ ونصروہ واتبعوا النور الذی انزل معہ اولئک ہم المفلحون (اعراف: ١٥٧)“ جو لوگ اس رسول پر ایمان لائے اور ان کی رفاقت کی اور انہیں مدد دی اور جو نور ان کے ساتھ نازل ہوا اس کی پیروی کی۔ وہی لوگ مراد پانے والے ہیں۔ اس آیت میں بھی اس آخری رسول پر ایمان اور اس کی لائی ہوئی شریعت کی پیروی کے نتیجہ میں فلاح و نجات کی بشارت دی گئی ہے۔ اگر کسی نبی کی آمد یقینی ہوتی تو اس کے بعد اس پر ایمان لانے اور اس کی شریعت کی پیروی کا حکم بھی ضرور دیا جاتا۔ مزید کسی نبوت اور شریعت کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ اس لئے آپ کے بعد کا دور بھی اسی آخری کتاب اور آخری رسول کا دور ہے۔ جس پر ایمان لا کر زندگی بھر قائم رہنے کی تاکید کی جا رہی ہے اور مسلمانوں کی نجات کے لئے یہ کامل اور مکمل شرط قرار دی گئی ہے۔

”فآمنوا باللہ ورسولہ النبی الامی الذی یؤمن باللہ وکلماتہ واتبعوہ لعلکم تہتدون (اعراف: ١٥٨)“ پس خدا پر اور اس کے امی رسول نبی پر جو اللہ پر ایمان رکھتے ہیں، ایمان لاؤ اور پیروی کرو تاکہ تم ہدایت پاؤ۔﴿

اس آیت میں بھی صرف آخری نبی پر ایمان لا کر اس کی کامل اتباع کا حکم دیا گیا ہے۔ ہدایت یابی کے لئے صرف یہی ایک سیدھا سادہ مطالبہ ہے۔ سلسلہ انبیاء اگر جاری ہوتا تو آپ

١٧

صفحہ ٣١٤

کے بعد آنے والی نبوت پر ایمان لانے اور اس کی اتباع کا بھی حکم اس کے ساتھ ضرور دے دیا جاتا۔ لیکن آیت واضح کرتی ہے کہ اس نبی کی اتباع کے بعد کسی اور نبی کی اتباع کرنا اور اس کے بعد کسی کتاب اور کسی شریعت کا انتظار کرنا یا اس کی طرف توجہ کرنا۔ ہدایت کا نہیں بلکہ صریح گمراہی کا سبب ہے۔ ہدایت دائر ہے صرف اس آخری کتاب اور آخری رسول کی اتباع میں ”فماذا بعد الحق الا ضلال “ اور اس حق کے بعد گمراہی ہی ہے۔

شئ فردوه الى الله والرسول (نساء:٥٩) ” اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور اپنے صاحب امر کی بھی۔ کسی اختلاف ونزاع کی صورت میں بھی کتاب اللہ اور آخری رسول کی طرف رجوع کرو۔ ﴾

اس آیت میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کا حکم دیا گیا ہے۔ اس کے بعد مسلمانوں میں سے جو صاحب امر واقتدار ہوں۔ ان کی اطاعت کا حکم دیا گیا ہے۔ اگر اسلام کی بعثت کا سلسلہ جاری ہوتا تو پھر الرسول کے بعد اولالامر (اسلام کے نظام خلافت) کی اطاعت کا حکم نہ دیا جاتا۔ بلکہ یوں مذکور ہوتا کہ اس رسول کے بعد آئندہ جو نبی آئیں ان کی اطاعت بھی کرنا۔

اس آیت میں آپ ﷺ کی رسالت کے بعد خلافت اسلامیہ کا پتہ چلتا ہے۔ لیکن کسی نئی نبوت کا کوئی شائبہ تک معلوم نہیں ہوتا۔ اس آیت کی تفسیر آنحضور ﷺ کی ان احادیث میں بھی ملتی ہے جن میں آپ ﷺ نے فرمایا کہ میرے بعد خلافت جاری رہے گی۔ نبوت کا سلسلہ مجھ پر ختم ہو گیا۔ اس کے ساتھ قیامت تک کے لوگوں کو اپنے تمام نزاعات واختلافات کے بارے میں خدا اور رسول ہی کی طرف رجوع کا حکم دیا گیا ہے اور ظاہر ہے کہ الرسول سے مراد یہی خاتم النبیین ہیں۔ اگر مزید انبیاء کی بعثت ہوتی تو ان کی نشان دہی ضرور کی جاتی۔ لیکن الرسول کی رسالت اس قدر ہمہ گیر اور کامل ہے کہ آپ ﷺ کے بعد قیامت کے زمانہ تک حاوی ہے اور ہمیشہ زندہ و تابندہ رہے گی۔ لہٰذا کسی نئی رسالت کے پھوٹ نکلنے کی کوئی امید نہیں ہے۔

لئے اللہ کے رسول کی طرز زندگی میں بہترین نمونہ ہے۔ ﴾

اس آیت میں لکم سے مراد قیامت تک کی تمام نوع انسانی ہے۔ جس رسول کی

١٨

صفحہ ٣١٥

پیروی کو حسنہ کی سند بخشی گئی ہے۔ صرف اسی کی اتباع مستند و مقبول ہے۔ اس کے علاوہ سب گمراہی ہے۔ اسوۂ حسنہ کا مطالبہ، نہ عرب سے ہے اور نہ عجم سے۔ نہ اپنے دور کے لئے بلکہ کون ومکان سے آزاد تمام ادوار کے لئے مزدوروں، تاجروں، حکمرانوں، اور ہر طبقہ، ہر پیشہ سے متعلق عوام کے ہر ایک فرد کے لئے عہد کامل کی پیروی کا مطالبہ کیا جارہا ہے اور آپ ﷺ کی طرز زندگی کو بطور نمونہ پیش کیا جارہا ہے۔ آپ ﷺ کی دعوت، قول وعمل ایک دوسرے سے جدا نہیں۔ کیونکہ کتاب، علم ہے اور رسول سراپا عمل۔ "كان خلقه القرآن" ام المؤمنین حضرت عائشہؓ کے قول کے مطابق آنحضور ﷺ کی عملی زندگی قرآن عظیم کی ایک فعال متحرک اور چلتی پھرتی ہوئی تفسیر تھی۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ کی جو تعلیم ملتی ہے رسول کی زندگی اللہ تعالیٰ کے پسندیدہ عمل کی بہترین تصویر ہے۔ اس سے بڑھ کر پاکیزہ اور بلند کوئی انسانی عمل نہیں ہو سکتا۔ آپ ﷺ کو زندگی کی ہر کیفیت سے واسطہ پڑا۔ مشکلات کی ہر گھاٹی سے ان کا کاروان حیات گزرا۔ لیکن ہر مرحلہ پر آپ ﷺ کے ناخن تدبیر اور آپ ﷺ کے حسن کردار نے معاملہ حل کرنے کا ایک بہترین نمونہ پیش کیا اور تحریک کی راہ میں مشکلات سے نپٹنے کا ایک بہترین اسوۂ یادگار چھوڑا۔ حقوق اللہ وحقوق العباد کے ضابطوں کی تدوین وتکمیل کے لئے شاہراہیں ہموار کیں اور ان شاہراہوں پر اپنے کردار وعمل سے ایسے روشن مینار قائم کئے جو ہمیشہ روشن رہیں گے۔ زندگی کے ہر موڑ پر روشنی کی مثال قندیلیں چھوڑیں جو قیامت تک بجھنے والی نہیں۔ آپ ﷺ کے تمام کمالات کا احاطہ ناممکن ہے۔ اس جگہ صرف آپ ﷺ کی ابدی تعلیم اور ہمہ رس رسالت کی ضیاء بخشی کا تذکرہ مطلوب ہے۔ جس کی موجودگی میں کسی دوسری نبوت کا تصور ضلالت و گمراہی اور کفر و ارتداد ہے اور راہِ ہدایت سے بھٹکنا ہے اور آپ ﷺ کی دائمی اور سدابہار خوبیوں کا انکار و ناشکری ہے۔ آپ ﷺ کی موجودگی میں کسی نئے نبی کو کھڑا کرنا قرآنی تعلیمات اور آپ ﷺ کے اسوۂ حسنہ کی پائیداری اور دوامی خاصیت کا انکار کرنا ہے۔ اس سے نہ تو اسلام کے کامل نظام حیات کا عقیدہ محفوظ رہتا ہے نہ آپ ﷺ کی رسالت کی یکتائی و ہمہ گیری قائم رہتی ہے اور نہ آپ ﷺ کا اسوۂ حسنہ ( ہدایت کا کامل نمونہ ) بعد کے لوگوں کے لئے کسی مصرف کا رہ جاتا ہے۔ بشری ضروریات اور انفرادی واجتماعی مسائل سے لے کر روحانی ارتقاء کے تمام مراحل آپ ﷺ کے علم وعمل نے حل کر دیئے ہیں۔ عبادات کے ساتھ ساتھ تہذیب وتمدن اخلاق و معاملات اور سیاست و فرمانروائی کے جملہ مسائل منشائے الٰہی کے ١٩

صفحہ ٣١٦

مطابق انسانی زندگی میں آپ ﷺ نے حل کر کے دکھا دیئے ۔ آج جہاں کہیں اور جس قدر بھی اخلاق وعمل میں کوئی حسن نظر آتا ہے۔ نیکی اور بھلائی کی جس قدر روشنی ہے وہ اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے اسی سراج منیر کی نورانی شعاعوں کے طفیل ہے۔ رضائے الٰہی کی چلتی پھرتی مقدس اور نورانی سیرت نے انسانی زندگی کا کوئی گوشہ تاریکی میں نہیں چھوڑا۔ اگر آپ ﷺ کے بعد کسی نبی کی آمد ہوتی تو پھر تمام نوع انسانی کو اور قیامت تک کے لوگوں کے لئے آپ ﷺ کے اسوۂ حسنہ کو بطور نمونہ پیش نہ کیا جاتا اور نہ آپ ﷺ کی حیثیت سراج منیر کی رہتی۔ اس طرح آپ ﷺ کا فیضِ نبوت صرف اپنے دور کے لئے ہی محدود ہو کر رہ جاتا۔ آخر اس اسوۂ حسنہ کے بعد مزید کسی اسوہ کی کیا ضرورت باقی رہ جاتی ہے؟ جس کے لئے کسی نبی کی ضرورت ہو۔ بصورتِ دوم تسلیم کرنا پڑے گا کہ آپ ﷺ کا اسوۂ وعمل نامکمل رہ گیا ہے اور اب یہ رہنمائی و ہدایت کے لئے ناکافی ہے۔ آخر مرزا غلام احمد قادیانی نے سیرت واخلاق کا کون سا بہتر نمونہ پیش کیا ہے؟ انسانوں کو انسانوں کی غلامی سے نجات دلانے کے لئے اس کی کیا خدمات ہیں۔ اجتماعی وسیاسی زندگی میں اس نے کون سا اسلامی انقلاب برپا کیا؟ اگر ایسا کوئی ریکارڈ پیش بھی کیا جاتا جب بھی کسی شخص کے نبی بننے کی دلیل نہ بن سکتا۔ کیونکہ نبیوں کا انتخاب کرنے اور اس کی ضرورت محسوس کرنے والے نے آئندہ ہمیشہ کے لئے یہ سلسلہ لپیٹ دیا ہے۔ اب اگر غیر سرکاری اور جعلی نبی لوگوں کو دھوکہ وفریب کا شکار بنانا چاہتے ہیں تو کبھی دیدۂ بینا رکھنے والوں سے یہ لوگ چھپ نہیں سکتے۔ اسلامی شعور اور ملی غیرت کی موجودگی میں ناموس رسالت پر ہاتھ ڈالنے والے اپنے ناپاک منصوبوں میں کامیاب نہیں ہو سکتے اور اسوۂ حسنہ کی موجودگی میں انسان رہنمائی وہدایت کے لئے ہر طرف سے بے نیاز ہو جاتا ہے۔

آپ ﷺ کی رسالت قیامت تک کے لوگوں کے لئے کافی ہے

لوگو! میں تم سب کے لئے اللہ کی طرف سے رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ اس آیت میں اعلان کیا جا رہا ہے کہ اس وقت کے لوگوں کے لئے ہی نہیں بلکہ قیامت تک آنے والے لوگوں کے لئے اور تمام اہل زمین کے لئے آپ کی نبوت کا آفتاب ہمیشہ روشن رہے گا اور زمانہ کی گردش سے اس آفتابِ ہدایت کی روشنی میں قطعاً کوئی کمی نہیں آئے گی۔ آفتاب کے بعد اگر ستارے بھی ہوں تو بے نور ہو کر غائب ہو جاتے ہیں۔ پھر شراروں کی کیا اہمیت رہ جاتی ہے۔ ٢٠

کے انسانوں کے لئے آپ ﷺ اور جامع الصفات پیغمبر پر منصب

یہ قرآن میری طرف اسے خبردار کردوں ۔ آپ ﷺ حاوی، مکمل اور واجب الاتباع لوگوں کے لئے آپ ﷺ کی ر ختم اور نظام خلافت جاری رہے مختلف احادیث میں بیان فرمائی

نبى خلفه نبى وانه لا نب

ابن ماجه، ابن جریر) "

فرمایا کرتے تھے۔ جب ایک ن کوئی نبی نہیں آئے گا۔ ہاں خلفا

آئندہ یہی خدمات امت کے ع نہ ہوتا تو بدستور انبیاء کرام کی بع حوالے کرنے کا مقصد ہی ختم نبو

فرمایا: "لى النبوة ولكم الـ یعنی آئندہ کسی امتی اور ماتحت ن

كنز العمال ج ٦ ص ١٤٦)"

صفحہ ٣١٧

کے انسانوں کے لئے آپ ﷺ کو مکمل رسالت اور کامل شریعت دے کر بھیجا گیا ہے۔ ایسے کامل اور جامع الصفات پیغمبر پر منصب رسالت ختم کر دیا گیا۔﴾

یہ قرآن میری طرف اس لئے بذریعہ وحی بھیجا گیا ہے کہ تمہیں اور جس جس کو یہ پہنچے اسے خبردار کردوں۔ آپ ﷺ کے بعد قیامت تک ان سب لوگوں کے لئے آپ ﷺ کا یہ پیغام حاوی، مکمل اور واجب الاتباع ہے۔ جن تک یہ پہنچے گا کسی ایک قوم اور صرف اپنے زمانے کے لوگوں کے لئے آپ ﷺ کی دعوت و رسالت محدود نہیں ہے۔ آنحضور ﷺ کے بعد سلسلہ نبوت ختم اور نظام خلافت جاری رہے گا۔ ختم نبوت کا مسئلہ سمجھانے کے لئے آنحضور ﷺ نے جو تشریح مختلف احادیث میں بیان فرمائی ہے ان میں سے چند ایک درج ذیل ہیں۔

نبى خلفه نبى وانه لا نبى بعدى وسيكون خلفاء (بخاری ج ١ ص ٤٩١، احمد، ابن ماجہ، ابن جریر) “ ﴿آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔ بنی اسرائیل کی قیادت خود اس کے انبیاء فرمایا کرتے تھے۔ جب ایک نبی کی وفات ہو جاتی۔ دوسرا اس کا جانشین آ جاتا۔ لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ ہاں خلفاء ہوں گے۔﴾

آئندہ یہی خدمات امت کے علماء اور خلفاء (اولوالامر) سرانجام دیں گے اور اگر آئندہ یہ سلسلہ ختم نہ ہوتا تو بدستور انبیاء کرام کی بعثت ہوتی رہتی۔ لیکن امت کی اصلاح و تجدید کا کام علماء و خلفاء کے حوالے کرنے کا مقصد ہی ختم نبوت کا اعلان ہے۔

فرمایا: ”لى النبوة ولكم الخلافة“ نبوت صرف میرے لئے ہے اور تمہارے لئے خلافت۔ یعنی آئندہ کسی امتی اور ماتحت نبی کے آنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔

(کنزالعمال ج ١١ ص ٧٠٦، حدیث نمبر ٣٣٣٣٨)

کنز العمال ج ٦ ص ١٤٦) “ ﴿سلسلہ نبوت جاری ہوتا تو حضرت عمرؓ ضرور نبی مقرر کئے جاتے۔﴾

٢١

صفحہ ٣١٨

ص ٩٤٧، حدیث نمبر ٤٣٦٣٨) “ ﴿آپ ﷺ نے فرمایا۔ میرے بعد اب کوئی نبی نہیں آئے گا اور تمہارے بعد اب کوئی امت نہیں آئے گی۔﴾ کیونکہ نئی نبوت کے ساتھ ہی نئی امت بھی آسکتی ہے۔ جب کوئی نبی نہیں تو پھر کوئی امت بھی نہیں ہوگی۔

النبیون (مسلم ج ١ ص ١٩٩، ترمذی، ابن ماجہ) “ ﴿آپ نے فرمایا۔ مجھے تمام دنیا کے لئے رسول بنا کر بھیجا گیا ہے اور مجھ پر انبیاء کا سلسلہ آمد ختم کر دیا گیا ہے۔﴾

”وما ارسلنک الا کافۃ للناس (سبا:٢٨)“ کی کتنی واضح تفسیر ہے۔

(الکنز ج ١١ ص ٤٨٠) “ ﴿ابو ذرؓ سے آنحضور ﷺ نے فرمایا۔ سب سے پہلے نبی حضرت آدم علیہ السلام ہیں اور آخری نبی محمد ﷺ۔﴾

بعدی ولا نبی (ترمذی ج ٢ ص ٥٢) “ ﴿رسالت اور نبوت کا سلسلہ ختم ہو گیا۔ میرے بعد اب نہ کوئی رسول آئے گا اور نہ کوئی نبی۔﴾

(ابن سعد ج ١ ص ١٥٠، الکنز ج ١١ ص ٤٠٤) “ ﴿آپ ﷺ نے فرمایا۔ میں ان کا بھی رسول ہوں۔ جو اب زندہ ہیں اور ان کا بھی جو میرے بعد پیدا ہوں گے۔﴾

ص ١١١) “ ﴿میں عاقب ہوں اور عاقب وہ ہے جس کے بعد کوئی نبی نہ ہو۔﴾

عورتوں اور بچوں کی حفاظت کے لئے انہیں مقرر کر دیا۔ حضرت علیؓ نے حسرت کے ساتھ عرض کیا یا رسول اللہ آپ مجھے عورتوں اور بچوں میں چھوڑ کر جارہے ہیں۔ (میدان جہاد میں کفار کے مقابلہ میں جوہر دکھانے کا موقع نہ ملا)

آپ ﷺ نے فرمایا: ”اما ترضی ان تکون بمنزلۃ ھارون من موسی الا انہ لا نبی بعدی (بخاری ج ٢ ص ٦٣٣) “ ﴿تم اس پر خوش نہیں ہو کہ تمہیں مجھ سے وہ

٢٢

صفحہ ٣١٩

نسبت حاصل ہو۔ جو حضرت موسیٰ سے ہارون علیہ السلام کو تھی۔ مگر فرق یہ ہے کہ میرے بعد نبوت باقی نہیں ہے۔ ﴿جہاں کہیں ذرہ بھر بھی نبوت کے دروازے کھلنے کا احتمال ہوسکتا تھا۔ تشریعی ہو یا غیر تشریعی، رضائے الٰہی کا نمائندہ گمراہ کرنے والوں کے لئے آخری حد تک کوئی گنجائش نہیں چھوڑتا۔ قرابت اور برادری کے تقاضے کچھ اور ہیں۔ لیکن نبوت، انتخاب مالک اور عطائے رحمٰن ہے۔ اس میں کسی انسان کا کوئی دخل نہیں ہے۔

خاتم الامم کے بعد کوئی نئی امت نہیں آئے گی

اللہ تعالیٰ نے اس امت کی تعریف اور اس کے فرض منصبی کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا۔

المنکر (آل عمران: ١١٠)“ ﴿تم ایک بہترین امت ہو جو تمام لوگوں کو دعوت حق پہنچانے اور ان کی اصلاح کے لئے مقرر کی گئی ہو۔ معروف کا حکم دو گے اور منکرات سے روکو گے۔﴾

عن المنکر واولئک ہم المفلحون (آل عمران: ١٠٤)“ ﴿اور تم میں ایک جماعت ایسی ہونی چاہئے جو لوگوں کو نیکی کی طرف بلائے اور اچھے کام کرنے کا حکم دے اور برے کاموں سے منع کرے اور یہی لوگ ہیں جو نجات پانے والے ہیں۔﴾ یہی وہ مقصد عظیم ہے جس کے لئے انسانی کتابوں کا نزول ہوا۔ انبیاء مبعوث ہوئے۔

چنانچہ علامہ ابن تیمیہ فرماتے ہیں: ”الامر بالمعروف والنہی عن المنکر الذی انزل اللہ بہ کتبہ وارسل بہ رسلہ من الدین (الحسبۃ فی الاسلام ص٦٣)“ اللہ تعالیٰ نے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے حکم کے ساتھ اپنی کتابیں نازل کیں۔ اپنے رسول بھیجے یہ دین ہی کا ایک جزو ہے۔

علامہ رشید رضا مصری لکھتے ہیں: ”قد جرت سنۃ الانبیاء والمرسلین والسلف الصالحین علی الدعوۃ الی الخیر والامر بالمعروف والنہی عن المنکر وان کان محفوفاً بالمکارہ والمخاوف (تفسیر المنار ج٤ ص٣٢)“ انبیاء و مرسلین اور سلف صالحین کی یہ سنت رہی ہے کہ انہوں نے خیر کی دعوت دی۔ معروف کا حکم دیا اور منکر سے منع کیا۔ اگرچہ یہ کام مشقتوں اور تکالیف میں گھرا ہوا ہے۔

٢٣

صفحہ ٣٢٠

انبیاء علیہم السلام کی دعوت بھی خیر ہی کی طرف تھی

الصلوٰۃ وایتاء الزکوٰۃ وکانوا لنا عابدین (الانبیاء:٧٣)“﴿اور ان انبیاء کو پیشوا بنایا کہ ہمارے حکم سے ہدایت کرتے تھے اور ان کو نیک کام کرنے اور نماز پڑھنے اور زکوٰۃ دینے کا حکم بھیجا اور وہ ہماری ہی عبادت کیا کرتے تھے۔﴾

ان کو معروف کا حکم دیتے ہیں اور منکر سے روکتے ہیں۔﴾

اس امت کو بھی خیر امت کا خطاب ملا۔ اس کی دعوت بھی خیر ہی کی طرف ہوگی۔ پھر کسی خاص دور کے لئے نہیں بلکہ اخرجت للناس قیامت تک کے لوگوں کے لئے اصلاح ورہنمائی کا منصب اس امت کو سونپا گیا ہے۔ جس طرح آنحضورﷺ کافۃ للناس، قیامت تک کے لوگوں کے لئے رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں۔ اس طرح یہ امت بھی تمام لوگوں کے لئے داعی الی الخیر بنا کر کھڑی کی گئی ہے۔ پچھلے دور میں جو کام انبیاء کرام سرانجام دیا کرتے تھے۔ اب وہی کام امت مسلمہ سرانجام دے گی۔ دعوت الیٰ الخیر اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر انبیاء کرام کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے جو نظام زندگی اور جو عقائد ونظریات اور جو قوانین سیاست عطاء فرمائے۔ جو ضابطہ اخلاق اور جو اصول تہذیب ومعاشرت سکھائے۔ وہی خیر ہے۔ اللہ کا دین خیر کل ہے اور اس کے علاوہ جو نظام زندگی اور جو قوانین معاشرت وسیاست رائج ہیں۔ وہ سب شر ہے۔ خیر میں نوع انسانی کی زندگی اس کا امن اور اس کے دونوں جہان کی بھلائی پوشیدہ ہے۔ شر میں اس کی تباہی اور دائمی رسوائی ہے۔ خدا اور رسول کے بتائے ہوئے اصول عبادت کے خلاف زندگی کے تمام طور طریقے منکر اور شر ہیں۔ جنہیں مٹا کر خیر کل اور دین حق کو قائم کرنا امت مسلمہ کا فریضہ ہے۔ اس کی کوششیں چند مذہبی رسوم وعبادات، محض اصلاح واخلاق کی تبلیغ یا صرف سیاسی انقلاب تک محدود نہیں ہوں گی۔ بلکہ وہ عالم اسلام کو دنیا کی ایسی عالمگیر طاقتور تحریک بنانے کی جدوجہد کرے گی۔ جس کے ذریعے سیاست واقتدار کی کنجیاں جاہلیت کے ہاتھ سے چھین کر نظام حق کے قبضہ میں آ جائیں۔ خیر کے لفظ میں پورا نظام عقائد واعمال سمٹا ہوا ہے۔

الخیر اسلام کا دوسرا نام ہے۔ جو تمام معاملات کو خدا کی مرضی کے مطابق چلانے کی بنیاد ہے۔ حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ساری کائنات اس میں داخل ہے۔ ان میں محض کسی ایک حصہ کا

٢٤

صفحہ ٣٢١

نام اسلام نہیں ہے۔ ایک متوازن نظام دونوں کی یکساں رعایت سے قائم ہوتا ہے۔ دنیا میں جس قدر بھی اضطراب ہے۔ بے اطمینانی اور بدامنی یا فساد ہے۔ وہ انہیں دوشعبوں میں افراط و تفریط کا نتیجہ ہے اور اسلامی نظام جب اپنی مکمل صورت میں جس دور اور جس خطہ میں بھی قائم ہوگا۔ تو وہاں کوئی جعل ساز، جھوٹی نبوت کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔ دین و ایمان اور توحید و رسالت کے رہزن تو جھاڑ جھنکار کی طرح وہاں پیدا ہوتے ہیں۔ جہاں امت مسلمہ اپنے فرائض منصبی سرانجام دینے میں سست پڑ جائے اور اس کی مرکزی قوت میں اضمحلال پیدا ہو جائے۔ قدیم ترین مفسر ابن جریر طبری نے مذکورہ آیت کی تفسیر اس طرح فرمائی۔ ” ولتكن منكم ايها المؤمنون امة يقول جماعة يدعون الناس الى الخير يعنى الى الاسلام وشرائعه التي شرعها الله لعباده (جامع البيان في تفسير القرآن ج٤ ص٣٨) ” ﴿اے اہلِ ایمان تم میں ایک ایسی امت، جماعت ضرور ہونی چاہئے جو لوگوں کو خیر کی طرف بلائے۔﴾ خیر کا مطلب ہے اسلام اور اس کی شریعت جسے اللہ نے اپنے بندوں کے لئے جاری کیا۔

اسے خیر امت کا خطاب اسی لئے ملا ہے کہ وہ شر سے بھری ہوئی دنیا کے لئے اپنے اخلاق، اعمال اور اپنی اصلاح و تبلیغ کے ذریعہ خیر ثابت ہوگی۔ خود بھی خدا کی کامل فرمانبردار ہوگی اور دوسروں کو بھی دعوت وتبلیغ کے ذریعہ مکمل اسلام کی فرمانروائی کے لئے تیار کرے گی۔ خدا کے دین کو پوری زندگی (انفرادی، سیاسی اور اجتماعی زندگی) میں نافذ کرنے کی جدوجہد کرے گی۔ اسی کام کی وجہ سے اس میں پیغمبرانہ شان پیدا ہوتی ہے اور جس میں یہ شان پیدا ہو جائے خدا کی اس زمین پر اس سے بہتر کوئی امت نہیں۔

علامہ صاویؒ اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”هذه الامة لها شبه باالانبياء من حيث انها مهتدية فى نفسها هادية لغيرها

(جلالين ج١ *

ص١٥٦) “ اس امت کو انبیاء سے گونہ مشابہت ہے۔ اس طرح کہ وہ خود بھی ہدایت یافتہ ہے اور دوسروں کو بھی ہدایت و رہنمائی دیتی ہے۔ یعنی عابد وزاہد بھی ہے ور ہادی و رہنما بھی، اپنی اصلاح کے بعد دوسروں کی تکمیل نفس میں مصروف رہتی ہے۔ اس کے بعد امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو بھی امت کے فرائض میں رکھا گیا ہے۔ دین کو اپنی صحیح حالت پر رکھنا اور اسے دنیا میں تمام نظاموں پر غالب کرنے کی تمام کوششیں صرف کر ڈالنا اس کی ڈیوٹی میں شامل ہے۔

”قال النبى من امر بالمعروف ونهى عن المنكر فهو خليفة الله فى

٢٥

صفحہ ٣٢٢

ارضه وخليفة رسوله وخليفة كتابه"

(الجامع لاحكام القرآن ج ٣ ص ٤٧)

حضور ﷺ نے فرمایا۔ جو شخص معروف کا حکم دے اور منکر سے روکے وہ خدا کی زمین میں خدا کا نائب ہے۔ اس کے رسول کا نائب ہے۔ اس کی کتاب کا نائب ہے۔

علامہ قرطبیؒ فرماتے ہیں: ”تأمرون بالمعروف وتنهون عن المنكر مدح لهذه الامة ما اقاموا ذالك واتصفوا به“

(الجامع لاحكام القرآن ج ٣ ص ١٤٣)

خدا تعالیٰ کا یہ فرمانا کہ تم معروف کا حکم دیتے ہو اور منکر سے روکتے ہو۔ اس امت کی تعریف ہے۔ جب تک کہ وہ اس عملی صفت پر قائم ہے اور یہ صفت اس کے اندر پائی جاتی ہے۔ یہ شرف و فضیلت محض اس کے اس عمل سے ہے جو انبیاء کرام کے عمل سے مشابہ ہے۔ قرآن وحدیث کی مذکورہ تصریح سے ثابت ہوا کہ امت محمدی آخری امت ہے۔ اس کے بعد کوئی امت نہیں ہوگی۔

اس کی ڈیوٹی وہی مقرر کی گئی ہے جو سابقہ انبیاء کرام کی تھی۔ بذاتہ خیر اور دوسروں کے لئے داعی الی الخیر، امر بالمعروف ونہی عن المنکر امتِ خیر کا تاج۔ خود اللہ تعالیٰ نے اس کے سر پر رکھا اور یہ اس امت کے لئے مخصوص ہے۔ شر کی پوری کائنات کے لئے یہ امت قیامت تک چیلنج بن کر رہے گی۔ اب تجدید و اصلاح کے لئے کوئی نبی نہیں آئے گا۔ اس امت کے علماء، فقہا اور محدثین اپنے اصلاحی اور علمی کارناموں کے ساتھ قوم کی بہترین قیادت وامارت سرانجام دیں گے۔ چہرۂ اسلام سے ہر دور کے بگڑے ہوئے انسانوں کی اڑائی ہوئی دھول دھبہ صاف کریں گے۔ ہر قسم کی خلاف اسلام سازشوں اور جھوٹی نبوتوں کے تاروپود بکھیرتے رہیں گے۔ ہر دور میں اپنی تمام صلاحیتوں کے ساتھ نظام جاہلیت کا مقابلہ کر کے شمع اسلام کو روشن رکھیں گے۔ ہر نئی نبوت اور نئی امت کا محاسبہ کرتے رہیں گے اور پوری امت مسلمہ اس فریضہء ادائیگی میں عنداللہ جوابدہ ہوگی۔

نئی نبوت امت مسلمہ کی توہین ہے

اس افضل امت کے بعد اب کسی مفضول امت کی ضرورت کیا رہ جاتی ہے؟ افضل نبی اور کامل رسول کے بعد کسی ماتحت نبی کا آنا آخر کس مصرف کا رہ جاتا ہے۔ نیا نبی کھڑا کرنا افضل امت کی سخت توہین ہے اور اس کی تمام خوبیوں کو چھین کر اسے نااہل قرار دینا ہے۔ اسے روشنی سے نکال کر پھر اندھیروں کے حوالے کر دینا ہے۔ نئی نبوت کی مثال ایسی ہے۔ جیسے زمزم کی موجودگی میں پیاسا گندے جوہڑوں سے اپنی پیاس بجھائے۔

٢٦

صفحہ ٣٢٣

(الجامع لاحکام القرآن ج ٤ ص ٧٤)

برائی کا حکم دے اور منکر سے روکے وہ خدا کی زمین میں اس کی کتاب کا نائب ہے۔ رون بالمعروف وتنهون عن المنكر مدح

(الجامع لاحکام القرآن ج ٤ ص ١٦٣)

کام دیتے ہو اور منکر سے روکتے ہو۔ اس امت کی کام ہے اور یہ صفت اس کے اندر پائی جاتی ہے۔ یہ ہے جو انبیاء کرام کے عمل سے مشابہ ہے۔ قرآن امت محمدی آخری امت ہے۔ اس کے بعد کوئی امت

سابقہ انبیاء کرام کی تھی۔ بذاتہ خیر اور دوسروں کے امت خیر کا تاج ۔ خود اللہ تعالیٰ نے اس کے سر پر رکھا کی کائنات کے لئے یہ امت قیامت تک چیلنج بن کر میں آئے گا۔ اس امت کے علماء، فقہا اور محدثین بہترین قیادت وامارت سرانجام دیں گے۔ چہرہ اڑائی ہوئی دھول و تہہ صاف کریں گے۔ ہر قسم کی تار و پود بکھیرتے رہیں گے۔ ہر دور میں اپنی تمام گے شمع اسلام کو روشن رکھیں گے۔ ہر نبی نبوت اور نئی سلسلہ اس فریضہء ادائیگی میں عنداللہ جوابدہ ہوگی۔

حصول امت کی ضرورت کیا رہ جاتی ہے؟ افضل نبی جس مصرف کا رہ جاتا ہے۔ نیا نبی کھڑا کرنا افضل توہین کرنا اسے نااہل قرار دینا ہے۔ اسے روشنی سے نبوت کی مثال ایسی ہے۔ جیسے زمزم کی موجودگی

٢٦

یہ دنیا عجائب گاہ اضداد ہے

یہاں نور کے مقابلہ میں اندھیرا، صحت کے مقابلہ میں بیماری، تعمیر کے ساتھ تخریب، خوشی کے ساتھ رنج، نفع کے ساتھ نقصان، سچ کے مقابلہ میں جھوٹ کا سلسلہ اوّل روز سے چلا آ رہا ہے۔ اس طرح روحانیت کے سلسلہ میں، ہدایت کے مقابلہ میں گمراہی، ملائکہ کے مقابلہ میں شیاطین، انبیاء کے مقابلہ میں کذابوں اور دجالوں کی کش مکش بھی ایک تاریخی حقیقت ہے۔

”وكذلك جعلنا لكل نبي عدواً من المجرمين (فرقان:٣١)“ ﴿ہم نے تو اس طرح مجرموں کو ہر نبی کا دشمن بنایا ہے۔﴾

خاتم الرسل کے دور میں خاتم الدجاجلہ کا ظہور مقدر ہوا۔ جب کہ اس سے پہلے آپ ﷺ کی پیش گوئی کے مطابق کئی جھوٹے اور دجال نبوت کے دعوے لے کر اٹھیں گے۔

”قال رسول الله ﷺ ان الله لم يبعث نبياً الا حذر امته الدجال وانا اخر الانبياء وانتم اخر الامم وهو خارج فيكم لا محالة (ابن ماجه ص ٢٩٧، باب الدجال)“ ﴿آپ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے کوئی نبی نہیں بھیجا۔ جس نے اپنی امت کو دجال کے خروج سے نہ ڈرایا ہو۔ مگر ان کے زمانہ میں وہ نہ آیا۔ اب میں آخری نبی ہوں اور تم آخری امت ہو۔ لامحالہ اب وہ تمہارے دور ہی میں آئے گا۔﴾

”قال رسول الله ﷺ انه سيكون فى امتى كذابون ثلاثون كلهم يزعم انه نبى وانا خاتم النبيين لا نبى بعدى (مسلم، ابوداؤد، ترمذی ج٢ ص ٤٥)“ ﴿رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ آئندہ میری امت میں تیس بڑے جھوٹے پیدا ہوں گے۔ ان میں سے ہر ایک بزعم خود نبوت کا دعویٰ کرے گا۔ حالانکہ میں سب نبیوں کے آخر میں آیا ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں ۔﴾

اس حدیث میں تشریعی یا غیر تشریعی، ظلی اور بروزی ہر قسم کی نبوت کی نفی کر دی گئی ہے اور اس کے بعد ہر مدعی نبوت کو دجال اور کذاب کا خطاب دیا گیا ہے۔ اس کے بعد نبوت کی جو بھی قسم برآمد کی جائے گی وہ نری دجل و فریب اور افتراء و کذب تصور کی جائے گی۔

”قال رسول الله ﷺ لا تقوم الساعة حتى يخرج ثلاثون كذاباً دجالاً منهم المسيلمة والعنسى والمختار (ابويعلى ج٦ ص ٤٥، حدیث نمبر ٦٧٨٦، فتح الباری)“

٢٧

صفحہ ٣٢٢

آپﷺ نے فرمایا کہ قیامت اس وقت تک نہیں آئے گی جب تک کہ تیس جھوٹے اور دجال نہ نکل آئیں۔ جن میں مسیلمہ عنسی اور مختار بھی ہیں۔

احادیث میں دجالوں کے تیس عدد میں کیا حکمت ہے۔ اس کے متعلق حافظ ابن حجرؒ لکھتے ہیں: ”ولیس المراد بالحديث من ادعى النبوة مطلقاً فانهم لا يحصون لكون غالبهم ينشاء لهم ذالك من جنون وسوداء وانما المراد من قامت له الشوكة (فتح الباری)“ حدیث مذکور میں مدعیان نبوت سے ہر مدعی نبوت مراد نہیں۔ کیونکہ مدعی نبوت تو بے شمار ہیں۔ اکثر ان دعوؤں کا جوش، جنون یا سوداویت کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ یہاں مراد وہ مدعی نبوت ہیں جو صاحب شوکت ہوں گے۔ (ان کا مذہب تسلیم کیا جائے گا۔ ان کے پیروکاروں کی تعداد بھی زیادہ ہوگی) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کذب وافتراء اور دجل وفریب کو مادی اسباب و وسائل کے ساتھ کسی حد تک ترقی و وسعت کی آزادی ہے۔ اصحاب خیر کا امتحان ہے کہ وہ کس قدر جلدی اس کی سرکوبی کرتے اور اس کی سرعتِ رفتار کو روکنے کی سعی و جہد کرتے ہیں۔ اگر شر کا وجود ختم ہو جائے تو خیر کی آزمائش کیوں کر ہو؟

خاتم النبیین آپ کی خصوصی فضیلت

قرآن میں اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کو رسول اللہ کے ساتھ ساتھ خاتم النبیین کا اعزاز بھی بخشا ہے۔ جو کسی دوسرے پیغمبر کو نہیں ملا اور خاتم النبیین کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اگر آپﷺ تشریف نہ لاتے تو شائد اور افراد کو نبوت مل جاتی۔ بلکہ صحیح مطلب یہ ہے کہ سلسلۂ انبیاء علیہم السلام میں آپﷺ سب سے آخری نبی ہیں۔ اس لئے آپﷺ کی آمد ہی اس وقت ہوئی۔ جب کہ انبیاء علیہم السلام کا ایک ایک فرد آچکا۔ اس لئے آپﷺ کی آمد نے نبوت کا منصب بند نہیں کیا۔ بلکہ جب پروردگار عالم کی مشیت میں نبوت ختم ہوگئی تو اس کی آخری دلیل بن کر آپﷺ مبعوث ہوئے۔ اس معنی میں ہی آپﷺ کو خاتم النبیین کہا گیا ہے۔ اگر علم ازلی میں مزید کچھ افراد کے لئے نبوت مقدر ہوتی اور دنیا کی عمر کچھ اس سے اور دراز ہوتی تو یقیناً آپﷺ کی آمد کا زمانہ بھی ابھی اور مؤخر ہوجاتا۔ آپﷺ کا لقب خاتم النبیین اسی وقت واقع کے مطابق ہوسکتا ہے جب کہ آپﷺ کے بعد کوئی نبی نہ آئے۔ اگر آپﷺ کے بعد بھی کوئی نبی آتا ہے تو پھر آپﷺ آخری نبی کس طرح ہوئے؟ بلکہ اس طرح آپﷺ درمیانی نبی قرار پائیں گے۔ لیکن مرزائی کس طرح دھوکہ دیتے ہیں کہ ہم بھی آنحضورﷺ کو خاتم النبیین مانتے ہیں۔ لیکن اس کے بعد نیا

٢٨

نبی بھی کھڑا کر دیتے ہیں۔ کیا وہ مرزا خاتم النبیین قرار دیتے تھے۔ کیا آپﷺ سے آئندہ نبی بنتے آئیں گے یا بیکار سلسلۂ نبوت پر آپﷺ کی بعثت ن کو توڑنے والا مسلمان کیونکر رہ سکتا ہے

کامل تر نبوت کا دور جاری ہے

دوسرے انبیاء علیہم السلا تک یہ نبوت جاری ہے جو تمام نبوتو نبوت ہی کسی نئی نبوت کے اجراء ک ہوئے کہ کسی جدید نبوت کی ضرورت نئے نبی کی ضرورت پیش آتی ہے جب ہر گز نہیں کہ نئی نبوت کی شاخیں پھوٹ لگیں گے۔ یہ تو کمالات نبوت کا اِخ بالکل پاک ہے۔

اب جھوٹے نبی اور دجال آ

حضور اکرمﷺ نے ق والوں کے لئے کذاب اور دجال کا میں سودائے نبوت جوش مارے تو ا اس پر چسپاں کردے۔

آنحضورﷺ نے فرمایا قیامت سے پہلے جھوٹ قابلِ نفرت اور لائقِ احتراز ہے لے اور دعوت کے خلاف خم ٹھونک کر ا کے خلاف جھوٹ تراشیں یا جھوٹی وافتراق ہی پیدا ہوگا۔ جو زمانے ک

صفحہ ٣٢٥

نبی بھی کھڑا کر دیتے ہیں۔ کیا وہ مرزا غلام احمد قادیانی جیسے لوگوں کی نبوت پر مہر لگانے کے لئے خاتم النبیین قرار دیئے تھے۔ کیا آپﷺ کے کمالات نبوت دائمی ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس سے آئندہ نبی بنتے آئیں گے یا یہ کہ ان کی موجودگی میں کسی نئی نبوت کی ضرورت نہیں رہتی۔ سلسلۂ نبوت پر آپﷺ کی بعثت کے ساتھ مہر لگا کر اسے تو بند کر دیا گیا۔ اب اس کے بعد اس مہر کو توڑنے والا مسلمان کیونکر رہ سکتا ہے۔ ایسے لوگ تو بالاتفاق مرتد ہی قرار پاتے ہیں۔

کمال تر نبوت کا دور جاری ہے

دوسرے انبیاء علیہم السلام کی طرح آپﷺ کا دور نبوت ختم نہیں ہوا۔ بلکہ قیامت تک یہ نبوت جاری ہے جو تمام نبوتوں سے کامل تر ہے۔ البتہ نبی کوئی اور باقی نہیں رہا اور بقائے نبوت ہی کسی نئی نبوت کے اجراء کے لئے مانع ہے۔ آنحضورﷺ کے کمالات نبوت ختم نہیں ہوئے کہ کسی جدید نبوت کی ضرورت ہو۔ ہاں وہ دور ضلالت و گمراہی ختم ہو گیا۔ جس کے لئے کسی نئے نبی کی ضرورت پیش آتی ہے۔ آپﷺ کے کمالات نبوت قائم اور سدا بہار رہنے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ نئی نبوت کی شاخیں پھوٹتی رہیں گی اور کچھ لوگ کمال نبوت سے فیض یاب ہو کر نبی بننے لگیں گے۔ یہ تو کمالات نبوت کا انکار یا نقص ہے اور آپﷺ کی شان رسالت اس نقص سے بالکل پاک ہے۔

اب جھوٹے نبی اور دجال آئیں گے یا قیامت

حضور اکرمﷺ نے آئندہ کسی بھی لحاظ سے منصب نبوت پر دست درازی کرنے والوں کے لئے کذاب اور دجال کا خطاب مخصوص فرمایا ہے۔ جس دور میں اور جب بھی کسی کے سر میں سودائے نبوت جوش مارے تو امت مسلمہ کے لئے ضروری ہے۔ بارگاہ رسالت کا یہ خطاب اس پر چسپاں کر دے۔

آنحضورﷺ نے فرمایا: ”ان بین یدی الساعة کذابین فاحذروهم (مسلم)“ قیامت سے پہلے جھوٹے لوگوں کا ظہور ہوگا۔ ان سے بچ کر رہو۔ جھوٹ تو ہر قسم کا ہی قابل نفرت اور لائق احتراز ہے۔ لیکن یہاں ان جھوٹے لوگوں کا تذکرہ ہے جو حضورﷺ کی نبوت اور دعوت کے خلاف خم ٹھونک کر الگ محاذ قائم کر لیتے ہیں اور نئی امت کھڑی کر دیتے ہیں۔ آپ کے خلاف جھوٹ تراشیں یا جھوٹی نبوت کا دعویٰ کریں۔ بہر حال ان کے ذریعہ امت میں اختلاف و افتراق ہی پیدا ہوگا۔ جو زمانے کا بہت بڑا فتنہ ہے اور اس سے بچنے کے لئے پیشگی مطلع کیا جا رہا

٢٩

صفحہ ٣٢٦

ہے۔ جھوٹے نبی کے حلقہ بگوش سچے نبی کے پیروکاروں کے ساتھ زندہ نہیں رہ سکتے۔ کیونکہ دونوں کے درمیان کوئی قدر مشترک نہیں رہتی۔ جیسا کہ آخر میں خود نبوت باطلہ کے دعوؤں کی روشنی میں یہ حقیقت سامنے آجائے گی کہ دونوں میں وہی فرق ہے جو اندھیرے اور روشنی میں یا کفر واسلام میں ہے۔ کوئی نیا نبی تسلیم کرنے کے بعد آنحضورﷺ آخری نبی، اسلام مکمل دین، ......... اور یہ امت آخری امت نہیں کہلا سکتی۔ جھوٹی نبوت کے تسلیم کر لینے کے بعد تو اسلام کی تمام بنیادیں اکھاڑنی پڑیں گی۔ شرعی قدروں میں کانٹ چھانٹ، ایمانیات میں تغیر و تبدل اور اسلامی معاشرے میں قطع و برید کا بڑا وسیع سلسلہ چلانا پڑتا ہے۔ مرزا قادیانی اپنی ان تمام کوششوں کو بروئے کار لانے کے باوجود کامیاب نہ ہو سکے۔ ”فلعنة الله على الكاذبين“

آنحضورﷺ کے بعد ہر مدعی نبوت کافر ہے

”ودعوى النبوة بعد نبيناﷺ کفر بالاجماع“ آنحضورﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کفر ہے اور اس پر امت کا اجماع ہے۔

(شرح فقہ اکبر ص ٢٠٢، ملا علی قاری)

موجودہ دور کے مدعی نبوت کے مختصر حالات، دعوے، کارنامے اور اس کا حقیقی مشن خود اس کی زبانی۔

مرزا غلام احمد قادیانی تحریک کا بانی ہے۔ اس کا والد مرزا غلام مرتضیٰ سکھ دربار میں ملازم تھا۔ مرزا غلام احمد قادیانی ١٨٣٩ء میں ضلع گورداسپور کے ایک گاؤں قادیان میں پیدا ہوا۔ اس کی تعلیم گھر پر ہی ہوئی۔ ابتدائی فارسی، عربی پڑھ سکتا تھا۔ ١٨٦٤ء میں کلرک کی حیثیت سے ڈسٹرکٹ کورٹ سیالکوٹ میں ملازم ہوا۔ چار سال تک ملازمت کرنے کے بعد پھر چھوڑ دی، اپنی تعلیم کے بارے میں اس نے لکھا ہے:

”بچپن کے زمانہ میں میری تعلیم اس طرح پر ہوئی کہ جب میں چھ سات سال کا تھا تو ایک فارسی خواں معلم میرے لئے نوکر رکھا گیا۔ انہوں نے قرآن شریف اور چند فارسی کتابیں مجھے پڑھائیں۔ اور اس بزرگ کا نام فضل الٰہی تھا۔ جب میری عمر دس برس کے قریب تھی۔ ایک عربی دان معلم میری تربیت کے لئے مقرر کیے گئے...... ان سے میں نے صرف نحو حاصل کی۔ جب میں اٹھارہ سال کا ہوا تو ایک مولوی صاحب سے چند سال پڑھنے کا اتفاق ہوا...... جن سے میں نے منطق و حکمت وغیرہ علوم مروجہ کو جہاں تک خدا تعالیٰ نے چاہا حاصل کیا۔“

(کتاب البرية ص ١٤٦، ١٤٧، خزائن ج ١٣ ص ١٨١، ١٨٠، حاشیہ)

صفحہ ٣٢٧

ان کے والد نے مسلمان روساء کے خلاف ١٨٥٧ء میں ٥٠ گھوڑے خرید کر ٥٠ جنگجو مہیا کر کے انگریزوں کی مدد کی تھی۔

(تحفہ قیصریہ ص ١٨ ، خزائن ج ١٢ ص ٢٧٠ ملخص)

١٨٨٢ء میں یہ دعویٰ کیا کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے مجھے الہام ہوتا ہے۔ بلکہ مختلف کتابوں میں آغاز الہام کے مختلف سال ہیں۔

(بموجب تحفہ گولڑویہ ١٨٦٠ء، بموجب اربعین ١٨٦٥ء تا ١٨٩٤ء تک کے سال درج ہیں)۔

جو نبوت جھوٹ کی بنیاد پر قائم ہو اس میں حافظہ ہمیشہ ایک حال پر نہیں رہتا اور حافظہ کی کوتاہی جھوٹ کا ثبوت ہے۔ یا یہ اختلاف نبی بننے کی تیاری کے تحت حالات کے اتار چڑھاؤ کا نتیجہ ہوگا۔

١٨٨٩ء میں مجدد وقت اور مامور من اللہ کی حیثیت سے بیعت لینی شروع کر دی۔

(سیرت المہدی ج ١ ص ٣٩ ، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٣)

حالانکہ اسلامی شریعت میں کسی مجدد کے لئے ایسی بیعت لینی جائز نہیں کہ مجددیت کا دعویٰ اور مامور من اللہ کی کوئی بنیاد قرآن وسنت میں نہیں ملتی ۔ ١٨٩١ء میں مسیح علیہ السلام کی موت کا اعلان اور خود مسیح موعود اور مہدی موعود ہونے کا دعویٰ کیا۔ جس سے مسلمانوں میں کھلبلی مچ گئی۔

(سیرت المہدی ج ١ ص ١٠٧)

١٩٠١ء میں نبوت کا اعلان کر دیا۔ اربعین کی تاریخ کے مطابق ١٨٦٥ء سے ١٩٠١ء (یعنی ٣٦ سال) تک الہام ہوتا رہا کہ تم نبی نہیں ہو۔ مجدد اور مسیح موعود (یعنی ماتحت نبی) ہو۔

٢٦ مئی ١٩٠٨ء میں بمقام لاہور اپنے خسر میر ناصر نواب کے بقول ہیضہ کے ذریعہ وفات ہوئی۔

زندگی کے آخری ٥ یا ساڑھے پانچ سال نبوت کے اقرار اور اس سے پہلے ٣٦ سال نبوت کے انکار کی الجھن میں گزرے۔ نبوت کے انکار و اقرار کی وجہ سے خود مرزائیوں میں دو گروہ پیدا ہو گئے۔ لاہوری اور قادیانی پہلا گروہ ٣٦ سال کی وحی کو حجت مان کر اسے مجدد کہتا ہے۔ دوسرا گروہ ٣٦ سال کے الہامات اور وحی کو منسوخ قرار دے کر آخری دعویٰ پر ایمان لاتا ہے۔

دعویٰ نبوت کے بعد خدا کی شاگردی

بچپن میں جو کچھ نامکمل سا علم اساتذہ سے پڑھا تھا۔ وہ کالعدم ہو گیا۔ اب براہ راست اللہ تعالیٰ سے علم حاصل کیا جاتا ہے۔ ”سميتك المتوكل وعلمنا من لدنا علماً“ (ازالہ

٣١

صفحہ ٣٢٨

اوہام ص ٢٩٧، خزائن ج ٣ ص ٤٧٦) میں نے تیرا نام متوکل رکھا اور اپنی طرف سے علم سکھایا۔ مرزا قادیانی کے خدا کو عربی خطاب کا محاورہ بھی نہیں ہے۔ "سمیتک" میں کاف مرزا قادیانی کو خطاب کیا جا رہا ہے۔ اس کے بعد "علمناک" ہونا چاہئے تھا۔ لیکن "ہ" کی ضمیر کسی اور ہی طرف موڑ دی گئی۔ بہر حال مرزا قادیانی کی عربی دانی حاضر دماغی، یا وحی کی زبان کے بارے میں تفصیلات کی یہاں گنجائش نہیں ہے۔ حدیث میں آنحضور ﷺ کی ایک صفت متوکل بھی بیان کی گئی ہے۔ خدا کا شاگرد بننے کا دعویٰ اور آپ ﷺ کی اس صفت کو چرا کر اپنے اوپر چسپاں کرنا، بددیانتی اور پاگل پن کی دلیل ہے۔ پھر اس کے بعد دجل وفریب کی کڑوی اور زہریلی گولی امت مسلمہ کے گلے سے یک دم اتارنے کے بجائے ٣٦ سال میں تاویلات اور تحریفات کی کھانڈ چڑھانے میں صرف ہو گئے اور اس کے بعد وقفہ وقفہ سے قدم بڑھایا گیا۔ الہام، مہدی، مجدد، مسیح موعود تک کئی مدارج طے ہوئے۔ اس کے بعد نبوت ورسالت کا جھنڈا لہرایا اور پھر جوش مراق میں اللہ تعالیٰ کی خلعت عظمت وجلالت پر بھی ہاتھ ڈال دیا۔ ایک مسلمان کے لئے خدا اور رسول کا اعلان کافی ہے کہ نبوت کا سلسلہ ختم کر دیا گیا۔ اس کے بعد اگر کوئی شخص جھوٹی نبوت کا دعویٰ کرتا ہے تو رسول اللہ ﷺ کے ارشاد کے مطابق وہ کذاب اور دجال ہے اور مرتد ہونے کی حیثیت سے واجب القتل ہے۔ اسی پر امت مسلمہ کا اجماع ہے۔ مسیلمہ کذاب کا قتل اس کا واضح ثبوت ہے اور فقہائے امت کے فیصلہ کے مطابق ایسے لوگوں کے نبوت کے دعوؤں کی جانچ پرکھ کرنا، عقیدہ ختم نبوت کو مجروح کرنا ہے۔ لیکن ایک جھوٹے شخص کو اس کے جھوٹے دعوؤں کے ساتھ پیش کرنا، اس وقت ضروری ہے جب کہ یہ بات ذہن نشین کرانا مقصود ہو کہ ختم نبوت کے عقیدے سے انحراف اور قصر نبوت میں نقب لگانے کے بعد ایک انسان کے عقل وہوش اس کے قول وکردار اس کی دیانت وامانت اور اس کے علم واخلاق کی کیا کیفیت ہو جاتی ہے۔ دعوؤں کے تضاد سے کس حقیقت کا ظہور ہوتا ہے اور حقیقت کے آئینہ میں ایسے لوگوں کی شکل وصورت کس رنگ میں نظر آتی ہے۔ لہٰذا دجالوں اور کذابوں کا حلیہ اپنے اپنے دعوؤں کی روشنی میں دیکھنا عبرت حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے۔

اس کے ٣٦ سالہ دور کے الہامات اور وحی کے سلسلہ پر بحث کی ضرورت نہیں۔ اس کے الہامات دعوؤں پیشین گوئیوں اور طرز کلام یا انداز وحی کو عقل وشرافت کی کسوٹی پر پرکھنے کے لئے ایک ضخیم کتاب کی ضرورت ہے۔ یہاں صرف ان کے ادعائے نبوت کے دور سے بحث شروع کی جاتی ہے۔

٣٢

صفحہ ٣٢٩

قصر نبوت کے نقب زن کا پہلا حملہ

ہے۔“

(حقیقت النبوۃ ص ٢٢٨)

آنحضرت ﷺ نے دنیا کو فیض نبوت سے روک دیا۔“

(حقیقت النبوۃ ص ١٨٦، ١٨٧)

جو کسی اور نبی کو ہرگز نہیں دی گئی۔ اسی وجہ سے آپ کا نام خاتم الانبیاء ٹھہرا۔ یعنی آپ کی پیروی کمالات نبوت بخشتی ہے اور آپ کی روحانی توجہ نبی تراش ہے۔ یہ قوت قدسیہ کسی اور نبی کو نہیں ملی۔“

(حقیقت الوحی ص ٩٧ حاشیہ، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٠)

ہے۔ مگر نبوت صرف آپ کے فیضان سے مل سکتی ہے۔ براہ راست نہیں مل سکتی۔“

(حقیقت النبوۃ ص ٢٢٨)

حالانکہ نبوت سراسر خدا تعالیٰ کا انتخاب ہوتا ہے۔ لیکن جعلی نبوت درآمد کرنے کے لئے ایسی نامعقول باتیں کرنی پڑتی ہیں اور یہی اس کے جھوٹا ہونے کی دلیل ہیں۔

(انوار خلافت ص ٦٢)

شاید خدا تعالیٰ نے مرزا قادیانی کے بیٹے کے ہاتھ ان کی فہرست تھمادی ہے اور ان کی نبوت جاری کرنے کے لئے اپنا پہلا فیصلہ جو آنحضور ﷺ کے ذریعہ سنایا گیا، منسوخ کر دیا ہو۔

خدا اور رسول کا مقابلہ

ایک جھوٹا نبی یا اس کا پیرو کس ڈھٹائی کے ساتھ خم ٹھونک کر اعلان بالجہر کرتا ہے۔

کہ آنحضرت ﷺ کے بعد نبی نہیں آئے گا تو میں اسے ضرور کہوں گا کہ تو جھوٹا ہے، کذاب ہے۔ آپ کے بعد نبی آسکتے ہیں اور ضرور آسکتے ہیں۔“

(انوار خلافت ص ٦٥)

کتنا زبردست چیلنج ہے۔ خدا اور رسول کو! کہ تم نے نبوت کا دروازہ بند کر دیا تو کیا ہم نبی بننے سے باز رہ سکتے ہیں۔ تلواروں کے سائے میں بھی جنون نبوت ٹھیک ہونے والا نہیں ہے۔

٣٣

صفحہ ٣٣٠

قصر نبوت کے چور

تحریف، تاویل اور جھوٹ کے ذریعہ کسی کا منصب کسی پر چسپاں کر دیتے ہیں اور اپنی مرضی کے مطابق ناواقفوں کو دھوکہ دینے کے لئے بعض الفاظ و معانی کو گڈ مڈ کر دینے میں ماہر ہوتے ہیں۔

خلعت خاتم الانبیاء پر دجل وفریب کی دست درازیاں یا محبوب خدا کی توہین

نبوت کا دعویٰ کرنے کے بعد نیچے کہاں رہ سکتے ہیں۔ مراق کا دورہ پڑتا ہے اور آنحضرت ﷺ کی خلعت رحمت اپنے اوپر چسپاں کرتے ہیں۔

لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔"

(حقیقت الوحی ص ٨٢، خزائن ج ٢٢ ص ٨٥)

الانبیاء ہوں اور خدا نے آج سے بیس برس پہلے براہین احمدیہ میں میرا نام محمد اور احمد رکھا۔ مجھے آنحضرت کا ہی وجود قرار دیا۔"

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٨، خزائن ج ١٨ ص ٢١٢)

(تحفۃ الندوہ ص ١٧، خزائن ج ١٩ ص ١١٥)

تھے اور احمد تھے۔ صرف احمد نہ تھے۔ احمد اگر کوئی ہے تو وہ صرف میں ہوں۔ اس لئے اسم احمد کا مسمیٰ میں ہوں۔"

(ازالہ اوہام ص ٦٧٣، خزائن ج ٣ ص ٤٦٣)

(ریویو آف ریلیجنز قادیان نمبر ٣ ج ٣ ص ١٥٨)

جوش مراق، شتم المرسلین سے بھی اوپر لے جاتا ہے

"یہ بات سچ ہے کہ ہر شخص ترقی کر سکتا ہے اور بڑے سے بڑا درجہ پاسکتا ہے۔ حتیٰ کہ محمد رسول اللہ سے بھی بڑھ سکتا ہے۔" (ملفوظات احمدیہ الفضل مورخہ ١٧ جولائی ١٩٢٢ء، نمبر ٥ ج ١٠ ص ٥)

غور کیجئے! حضور ﷺ کی توہین ہے یا آپ ﷺ کا احترام؟ آپ ﷺ کی آواز سے اپنی آواز اونچی کرنے والے کے بارے میں قرآن میں وعید آئی ہے کہ تمہارے اعمال ضائع ہو جائیں گے۔ لیکن یہاں نبوت چمکتی ہے۔ اس سے بڑھ کر پاگل پن، ظلم اور بدمعاشی کیا ہو سکتی ہے۔

٣٤

صفحہ ٣٣١

مزید ترقی، جملہ انبیاء کا مجموعہ

خدا نے فرمایا۔ میں آدم ہوں، میں شیث ہوں، میں نوح ہوں، میں ابراہیم ہوں، میں اسحاق ہوں، میں یعقوب ہوں، میں اسماعیل ہوں، میں موسیٰ ہوں، میں داؤد ہوں، میں عیسیٰ بن مریم ہوں، میں محمد ہوں یعنی بروزی طور پر۔"

(حقیقۃ الوحی ص ٧٢، ٧٣، خزائن ج ٢٢ ص ٧٦، ٧٧)

نبوت محمد تک ہی محدود رہی۔ یعنی بہر حال محمد ہی نبی رہا نہ اور کوئی۔ یعنی جب کہ میں بروزی طور پر آنحضرت ﷺ ہوں اور بروزی رنگ میں تمام کمالات محمدی مع نبوت محمدیہ میرے آئینہ ظلیت میں منعکس ہیں تو پھر کون سا الگ انسان ہوا۔ جس نے علیحدہ طور پر نبوت کا دعویٰ کیا۔"

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٨، خزائن ج ١٨ ص ٢١٢)

ظلی اور بروزی کی اصطلاح بھی من گھڑت جھوٹ اور فریب کا نقاب ہے۔ اسلام میں اس کا کوئی وجود نہیں ہے۔

لئے آپ ظلی محمد تھے۔"

(الفضل مورخہ ١٦؍ستمبر ١٩١٥ء)

کہا سب وہیں کی اُمت۔"

(الفضل مورخہ ٢٧ اگست ١٩١٥ء)

کچھ سمجھے آپ! اُمیّ امّیت سے نبی بنے، یہ ہے اسرار و رموز؟ کہیں شیطان کی وحی اسے نہ سمجھ لیجئے آپ! دماغ کی چولیں ہل جانے کے بعد جنون کی یہی کیفیت ہوتی ہے۔ شیطان کو جو قیامت تک مہلت ملی ہے، اپنے کام کے لئے وہ دنیا میں جھوٹے نبی کھڑے کرتا رہتا ہے۔

اپنی زبانی حقیقی نبی اور صاحب شریعت نبی

(مرزا قادیانی) ہرگز مجازی نبی نہیں ہیں۔ بلکہ حقیقی نبی ہیں۔"

(حقیقت النبوۃ ص ١٧٤)

نام کے مستحق نہیں۔"

(حقیقۃ الوحی ص ٣٩١، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٦، ٤٠٧)

٣٥

صفحہ ٣٣٢

مقرر کیا وہی صاحب شریعت ہو گیا......میری وحی میں امر بھی ہے نہی بھی۔“

(اربعین نمبر ٤ ص ٦، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥)

نئی نبوت کا خدا اور جبرائیل بھی الگ ہے

ہمارا اور، اور ان کا خدا اور ہے اور ہمارا اور، ہمارا حج اور ہے اور ان کا حج اور، اسی طرح ان سے ہر بات میں اختلاف ہے۔“

(الفضل ج ١٩ نمبر ١٣ مورخہ ٣٠؍ جولائی ١٩٣١ء)

آیا...... اس سے میں نے نام پوچھا تو اس نے کہا: ”ٹیچی ٹیچی“

(حقیقت الوحی ص ٣٣٢، خزائن ج ٢٢ ص ٣٤٦)

شاید پہلا دعویٰ بھی خواب ہی کا کرشمہ تھا۔ جس میں مسلمانوں کے خدا سے اپنا خدا بھی الگ معلوم کر لیا گیا ہے۔ پروردگار عالم نے تو نبوت کا دروازہ بند کر دیا تھا۔ لیکن مرزا قادیانی کے خدا نے کھول دیا اور اس نے غلام احمد کو قادیان میں رسول بنا کر بھیجا۔ ”سچا خدا وہ ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔“

(دافع البلاء ص ١١، خزائن ج ١٨ ص ٢٣١)

خود ساختہ نبی نے دنیا میں کتنا فتور پیدا کر دیا ہے۔ اگر فی الواقع کئی خدا ہوتے تو زمین و آسمان فساد سے بھر جاتے اور موجودہ نظام تلپٹ ہو جاتا۔ ”لو كان فيهما الهة الا الله لفسدتا (انبیاء:٢٢)“ وحدت الہیہ کے بعد وحدت رسالت بھی کتنی بڑی رحمت ہے۔ جس نے مسلمانوں کو رشتۂ وحدت و یگانگت میں منسلک کر دیا ہے اور اسی وحدت کو توڑنے کے لئے جھوٹی نبوت ابھرتی ہے۔

شیطانی تصرف کے خواب

جو خواب من اللہ ہوں۔ ان کی کیفیت یہ ہوتی ہے کہ وہ عقل وشریعت کے خلاف نہیں ہوتے۔ انہیں رؤیا کہا جاتا ہے اور جو خواب شیطان کے تصرف سے ہوں۔ وہ عقل وشریعت سے متصادم ہوتے ہیں۔ انہیں حلم کہا جاتا ہے۔ جس کی جمع احلام آتی ہے۔ قرآن میں مذکور ”اضغاث احلام وما نحن بتاويل الاحلام بعالمين (یوسف:٤٤)“ یہ تو پریشان سے خواب ہیں اور ہمیں ایسے خوابوں کی تعبیر نہیں آتی۔ ایسے خواب عقل وفطرت کے پابند نہیں ہوتے اور انہی جھوٹے خوابوں پر جعلی نبوت قائم ہے۔

٣٦

صفحہ ٣٣٣

چنانچہ مرزا قادیانی کہتے ہیں:

خواب میں دیکھا کہ میں اللہ ہوں اور میں نے یقین کر لیا کہ بیشک میں وہی ہوں ۔"

(آئینہ کمالات ص ٥٦٤، خزائن ج ٥ ص ٥٦٤)

(حقیقت الوحی ص ٧٤، خزائن ج ٢٢ ص ٧٧)

یہاں بھی قرار نہ آیا تو تنزل ہوا۔ "انت منى بمنزلة ولدى“ تو مجھ سے بمنزلہ فرزند کے ہے۔

(حقیقت الوحی ص ٨٦، خزائن ج ٢٢ ص ٨٩)

اب خدائی صفات کا ظہور ہوتا ہے۔ ”اعطيت صفة الافناء والاحياء من رب الفعال“ رب فعال کی طرف سے مارنے اور زندہ کرنے کی صفت مجھے دے دی گئی ہے۔

(خطبہ الہامیہ ص ٢٣، خزائن ج ١٦ ص ٥٥، ٥٦)

حضور اکرم ﷺ نے دجال کے بارے میں فرمایا تھا کہ استدراج کے طور پر وہ اپنے مخالف کو قتل کر کے پھر زندہ کرے گا اور اپنے بارے میں سوال کرے گا تو اس قسم کا دعویٰ مرزا قادیانی بھی کر رہے ہیں۔

دعویٰ نبوت سے قبل حضرت مسیح کے روپ میں

کتابوں میں پیشین گوئیاں ہیں۔“

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ١١٨، خزائن ج ١٧ ص ٢٩٥)

اگر کسی صاحب علم نے کسی آسمانی کتاب میں قادیان کے خود ساختہ مسیح موعود کا تذکرہ پڑھا ہو تو وہ ضرور اسے مشتہر کرے۔ ورنہ جھوٹی نبوت کے ہاتھ کی صفائی کی داد ضرور دے۔

ایک اور الہام یا احتلام کا معمہ نمبر : ١، قادیانی نبی کی زبانی

تک صفت مریمیت میں پرورش پائی۔ پھر مریم کی طرح عیسیٰ کی روح مجھ میں نفخ کی گئی اور استعارہ کے رنگ میں مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا اور آخر کئی مہینے کے بعد جو دس مہینے سے زیادہ نہیں مجھے مریم سے عیسیٰ بنایا گیا۔“

(کشتی نوح ص ٤٦، ٤٧، خزائن ج ١٩ ص ٤٩، ٥٠)

خود ہی اپنی جنس تبدیل کر کے حاملہ ہو جانا اور پھر خود ہی عیسیٰ بن کر نمودار ہو جانا پیغمبر کی ولادت کا نادر نمونہ ہے۔

٣٧

صفحہ ٣٣٤

کیا کوئی ڈاکٹر یا طبیب ایسے شخص کو صحیح الدماغ ہونے کا سرٹیفکیٹ دے سکتا ہے اور یہ استعارہ اس دور میں ہے کوئی فلاسفر جو سمجھا سکے؟

کہ اس نے مسیح موعود بنا کر مجھے بھیجا ہے۔“

(اشتہار ایک غلطی کا ازالہ مندرجہ تبلیغ رسالت ج٦ ص ١٨، مجموعہ اشتہارات ج٣ ص ٤٣٥)

حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے بھی افضل

ہے اور اس نے اس دوسرے مسیح کا نام غلام احمد رکھا۔“

(دافع البلاء ص ١٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣)

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین

اور کسبی عورتیں تھیں۔ جن کے خون سے آپ کا وجود ہوا۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٧، خزائن ج ١١ ص ٢٩١)

اللہ تعالیٰ کو دنیا میں اپنا پیغام دینے کے لئے کسی نیک نام خاندان سے نبی منتخب کرنے میں کیا رکاوٹ پیش آگئی؟ اسے اپنی دعوت و پیغام کے تقدس کا خیال بھی نہ آیا۔

مرزا قادیانی سے ہی پوچھ لیا ہوتا تو اتنی عظیم غلطی نہ ہوتی۔ نہ معلوم کس مصلحت سے ان کا شجرہ نسب مرزا قادیانی کے حوالے کر دیا گیا۔ یا خدا کے نبی کو بدنام کئے بغیر جھوٹے نبی کی گنجائش نہیں نکلتی۔

نہیں۔ حضرت مسیح مردانہ صفت کی اعلیٰ ترین صفت سے محروم ہونے کے باعث ازدواج سے بچے اور کامل حسن مباشرت کا کوئی اعلیٰ نمونہ نہ دے سکے۔“ (کیونکہ یہ صفت آپ کے لئے مخصوص ہو گئی تھی مرتب)

(مکتوبات احمدیہ ج ٣ ص ٢٨)

عادت تھی۔“

(مکتوبات احمدیہ ج ٣ ص ٢٨، ضمیمہ انجام آتھم ص ٥، خزائن ج ١١ ص ٢٨٩، انوار القرآن ص ١٢)

اور مرزا قادیانی نے کبھی کوئی جھوٹ یا گالی زبان و قلم پر آنے نہیں دی۔ اس کا ثبوت آگے آرہا ہے۔

٣٨

صفحہ ٣٣٥

پھر ایسے ناکارہ مسیح سے برابری کا شوق

وغیرہ کے خدا تعالیٰ نے میری فطرت میں بھی رکھے ہیں۔"

(ازالہ اوہام ص ١٩٠، خزائن ج ٣ ص ١٩٢)

غور کیجئے! مرزا قادیانی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نہ گالیاں دیں اور نہ آپ کے حسب و نسب پر انگلی اٹھائی۔ کتنا مہذب اور بے داغ ہے۔ حضرت صاحب کا الہام۔

نئی نبوتوں کے ظہور کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ قانون ہدایت کے حلقہ اور وفاداری و نیاز مندی کے مرکز بدل جاتے ہیں اور پھر ایک دوسرے کے کفر وانکار کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ ایک نبی دوسرے نبی کی امت کو مسلمان تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔ اس طرح فتنہ و انتشار کا گھیرا وسیع ہوتا رہتا ہے۔ اب اسلام وہ قرار پاتا ہے جسے نئی نبوت، اسلام قرار دے، کفر واسلام کی مہر صرف اس کے قبضہ میں ہوتی ہے اور وہی مجاز ہے۔ اس امر کا کہ اپنے پیروکاروں کے علاوہ ہر ایک شخص پر کفر کی مہر لگا دے۔ نہ ان کا اسلام قبول رہا نہ ایمان مستند۔ اب اس کے بعد دیکھے تو پ کا رخ امت مسلمہ کی طرف مڑتا ہے۔

خاتم الانبیاء پر ایمان رکھنے کے باوجود کافر

مانتا یا محمد ﷺ کو مانتا ہے مگر مسیح موعود (یعنی مرزا غلام احمد قادیانی) کو نہیں مانتا وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔"

(کلمۃ الفصل مندرجہ ریویو آف ریلیجنز ص ١١٠)

کافر ہو جائے گا۔"

(حقیقت الوحی ص ١٧٨، خزائن ج ٢٢ ص ١٨٤)

حضرت کا نام بھی نہ سنا ہو۔ وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔"

(آئینہ صداقت ص ٣٥)

قادیانی اسلام الگ ہے

"اے مسلمان کہلانے والو! اگر تم واقعی اسلام کا بول بالا چاہتے ہو تو پہلے خود سچے اسلام کی طرف آؤ۔ جو مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی سے) ہو کر ملتا ہے۔۔۔۔۔ اس کی پیروی سے انسان فلاح و نجات کی منزل مقصود پر پہنچ سکتا ہے۔ یہ وہی فخر اولین و آخرین ہے جو آج سے تیرہ سو برس پہلے رحمۃ للعالمین بن کر آیا تھا اور اب اپنی تکمیل، تبلیغ کے ذریعہ ثابت کرے گا کہ واقعی اس کی

٣٩

صفحہ ٣٣٦

دعوت جمیع ممالک و ملل عالم کے لئے تھی۔“

(اخبار الفضل قادیان مورخہ ٢٦ ستمبر ١٩١٤ء)

سچے مسلمانوں کو جو عقیدت و محبت آنحضورﷺ سے ہے۔ اس میں شگاف ڈالنے کے لئے کتنے جتن کئے جارہے ہیں۔ کیا آپ کو خاتم النبیین اور رحمۃ للعالمین تسلیم کرنے کی یہی حقیقت ہے۔ مسلمانوں کو دھوکا دینے کے لئے آپ کو خاتم النبیین بھی کہتے ہیں اور آپ کے تمام اعزازات چھین کر جھوٹی نبوت پر چسپاں بھی کرتے ہیں۔ کیا اس کے بعد بھی حضورﷺ کے پیروکاروں کے ساتھ قادیانیوں کا کوئی رشتہ باقی رہ جاتا ہے۔ جس کے لئے وہ امت مسلمہ میں گھسے رہنے کے لئے اصرار کر رہے ہیں؟

جمہور مسلمانوں کے خلاف مرزائیوں کا اعتقاد اور سماجی تصور

پڑھیں ۔ کیونکہ ہمارے نزدیک وہ خدا تعالیٰ کے ایک نبی کے منکر ہیں۔“

(انوار خلافت ص٩٠)

موعود کا منکر نہیں۔ اگر یہ بات درست ہے تو پھر ہندوؤں اور عیسائیوں کے بچوں کا جنازہ کیوں نہیں پڑھا جاتا۔ غیر احمدی کا بچہ بھی غیر احمدی ہوا۔ اس کا جنازہ بھی نہیں پڑھنا چاہئے۔“

(انوار خلافت ص٩٣)

دے۔ آپ سے ایک شخص نے بار بار پوچھا اور کئی قسم کی مجبوریوں کو پیش کیا۔ لیکن آپ نے اس کو یہی فرمایا کہ لڑکی کو بٹھائے رکھو۔ لیکن غیر احمدیوں میں نہ دو۔ آپ کی وفات کے بعد اس نے غیر احمدیوں کو لڑکی دے دی تو حضرت خلیفہ اوّل نے اس کو احمدیوں کی امامت سے ہٹا دیا اور جماعت سے خارج کر دیا۔ خلافت کے چھ سالوں میں اس کی توبہ قبول نہ کی۔“

(انوار خلافت ص٩٣، ٩٤)

کریمﷺ نے عیسائیوں کے ساتھ کیا۔ غیر احمدیوں سے ہماری نمازیں الگ کی گئیں۔ ان کو لڑکیاں دینا حرام قرار دیا گیا۔ ان کے جنازے پڑھنے سے روکا گیا۔ اب باقی رہ گیا جو ہم ان کے ساتھ مل کر کر سکتے ہیں۔ دو قسم کے تعلقات ہوتے ہیں۔ ایک دینی دوسرے دنیوی، دین کا تعلق سب سے بڑا ذریعہ عبادت کا اکٹھا ہونا ہے۔ دنیوی تعلق کا بھاری ذریعہ رشتہ ناطہ ہے۔ سو یہ دونوں ہمارے لئے حرام قرار دیئے گئے۔“

(کلمۃ الفصل مندرجہ ریویو آف ریلیجنز ص ١٦٩)

٤٠

صفحہ ٣٣٧

قبول کرتے ہیں۔‘‘

(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٤٨،٥٤٧، خزائن ج ٥ ص ایضاً)

’’دشمن ہمارے جنگل کے خنزیر ہو گئے اور ان کی عورتیں کتیوں سے بڑھ گئیں۔‘‘

(نجم الہدیٰ ص ٥٣، خزائن ج ١٤ ص ٥٣)

اللہ اللہ ! یہ الہام ہے یا وحی یزداں، کتنا پاکیزہ ہے۔ قادیانی نبوت کا کلام۔ ’’فاعتبروا یاولی الابصار‘‘

اپنے معیار کے مطابق مخبوط الحواس نبی

رکھتا ہے۔‘‘

(حقیقت الوحی ص ١٨٢، خزائن ج ٢٢ ص ١٩١)

(ضمیمہ براہین احمدیہ ج ٥ ص ١١١، خزائن ج ٢١ ص ٢٧٥)

ویسے تو مرزا قادیانی کے کلام میں قدم قدم پر تضاد اور بوالعجبی خندہ زن ہے۔ ٣٦ سال کے الہام اور کلام میں اختلاف کا شمار کرنا مشکل ہے۔ لیکن نمونہ کے طور پر چند مثالوں پر اکتفا کرتے ہیں۔ پچھلے دعوؤں کے مقابلہ میں ذیل میں ان کے عہد واقرار کا موازنہ کیجئے تو مخبوط الحواسی خود بخود ظاہر ہو جائے گی۔

آپ کے بعد ہر مدعی نبوت کو کافر سمجھتا ہوں

جماعت کا عقیدہ ہے۔ ان سب باتوں کو مانتا ہوں جو قرآن وحدیث کی رو سے مسلم الثبوت ہیں۔ سیدنا و مولانا محمد ختم المرسلین کے بعد کسی مدعی نبوت و رسالت کو کاذب اور کافر جانتا ہوں۔‘‘

(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٣٠)

آنجناب ﷺ کے بعد اس امت کے لئے کوئی نبی نہیں آئے گا۔ نیا ہو یا پرانا۔‘‘

(نشان آسمانی ص ٤٠، خزائن ج ٤ ص ٣٩٠)

(جامع مسجد دہلی) میں کرتا ہوں کہ میں جناب خاتم الانبیاء کی ختم نبوت کا قائل ہوں اور جو شخص ختم نبوت کا منکر ہو، اس کو بے دین اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں۔‘‘

(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٥٥)

٤١

صفحہ ٣٣٨

(مجموعہ اشتہارات ج٢ ص٢٩٧، ٢٩٨)

(مجموعہ اشتہارات ج١ ص٢٣٠)

(حمامة البشریٰ ص٧٩، خزائن ج٧ ص٢٩٦)

(حمامة البشریٰ ص٧٩، خزائن ج٧ ص٢٩٧)

مقابلہ کے لئے پھر دہرا لیجئے! ان کے سابقہ دعویٰ کہ وہ اپنے پہلے دعوؤں کے مطابق خود کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتے ہیں۔ پہلی اور پچھلی وحی میں تصادم ہو گیا۔

(دافع البلاء ص١١، خزائن ج١٨ ص٢٣١)

(نزول المسیح ص٢، خزائن ج١٨ ص٣٨٠، ٣٨١)

(تتمہ حقیقت الوحی ص٦٨، خزائن ج٢٢ ص٥٠٣)

(حقیقت النبوۃ ص٢٢٨)

(انوار خلافت ص٦٥)

(الفضل مورخہ ١٧ جولائی ١٩٢٢ء نمبر٥ ج١٠ ص٥)

٤٢

صفحہ ٣٣٩

شریعت کے نبی ہو سکتا ہے۔ پس اس بناء پر میں امتی بھی ہوں اور نبی بھی۔“

(تجلیات الٰہیہ ص ٢٠، خزائن ج ٢٠ ص ٤١٢)

جھوٹی نبوت ایک طرفہ تماشا

پچھلے دعوؤں کے ساتھ بطور نمونہ یہ بھی ملاحظہ فرمائیے۔ آخر ایک جھوٹے نبی کے منہ سے کوئی معقول اور سچی بات نکلے بھی کیونکر؟ جس کے متعلق آنحضور ﷺ جھوٹا ہونے کی پیشین گوئی فرما چکے ہیں۔

(تریاق القلوب ص ١٣٠، خزائن ج ١٥ ص ٤٣٢)

حقیقت الوحی میں لکھا تھا۔ میرے نام سے اگر چہ بے خبر ہی ہو، مجھ پر ایمان نہ لانے والا کافر ہو جائے گا۔ کون سی وحی، کون سا الہام اور کون سا دعویٰ سچا ہے۔ کوئی کسی وحی پر ایمان لائے۔ اگر کوئی پہلے ٣٦ سالوں کی وحی پر ایمان لاتا ہے تو پچھلے پانچ سالوں کی وحی کے مطابق کافر قرار پاتا ہے اور پچھلے پانچ سالوں کی وحی تسلیم کرتا ہے تو مرزا قادیانی کی پہلی وحی غلط قرار پاتی ہے اور اس کے ماننے والے کافر ٹھہرتے ہیں۔ وحی بھیجنے والے کی شخصیت مشکوک ہے؟ یا وحی سمجھنے والے کی عقل کوتاہ، کفر سازی کی ان دو گھاٹیوں میں کسی کا قافیہ حیات پھنس کر رہ جائے تو اس کی حالت پر افسوس تو ضرور ہوگا۔ لیکن ان گھاٹیوں کو اڑائے بغیر امت مسلمہ کا ایمان خطرہ سے محفوظ بھی نہیں ہو سکتا۔

پھر یہ کتنی عجیب بات ہے کہ ٣٦ سال تک مرزا قادیانی کبھی مسیح موعود اور مجدد و مہدی کا دعویٰ کرتے رہتے ہیں اور خدا تعالیٰ کی وحی انہیں ٹوکتی نہیں کہ یہ کیا کر رہے ہو۔ ہم نے تمہیں نبی بنایا ہے۔ تم اس سے کمتر حیثیت کا اعلان کر کے منصب نبوت کا وقار کیوں گھٹا رہے ہو؟ یا مرزا قادیانی اس عرصہ میں وحی کا مفہوم سمجھ نہ سکے۔ رحمٰن کی وحی اس قسم کے تضاد سے پاک ہوتی ہے۔ البتہ یہ اس دور کے عیار کی عیاری ہے اور شیطانی وحی کا تازہ نمونہ۔

بہر حال جھوٹی نبوت کے سامنے ایسی گھاٹیاں ضرور پیش آتی ہیں۔ جن میں پائے عقل و دانش لنگ ہو جاتا ہے۔ پہلی اور پچھلی وحی میں تفاوت شاید اسی وجہ سے پیدا ہوا ہو۔ آنحضور ﷺ کے بعد سودائے نبوت کے جوش میں دماغی توازن تو کسی کا بھی برقرار نہیں رہا۔ تاریخ میں جتنے مدعیان نبوت کے حالات ملتے ہیں سبھی اختلال دماغ کے مریض اور سوداویت زدہ تھے۔ ان پر

٤٣

صفحہ ٣٤٠

جب بھی نبی بننے کا دورہ پڑا ہے ان کا اور ان کے ماننے والوں کا سفینہ حیات الفاظ و معانی کے ہیر پھیر اور نبوت کے انکار و اقرار کے بھنور میں ڈوب کر رہ گیا۔ وہ اپنی یادگار کے طور پر دنیا میں فکری انتشار، ذہنی پراگندگی اور باہمی تکفیر و تضلیل کی دھول چھوڑ گئے اور جب دنیا سے رخصت ہوئے تو لعنت و پھٹکار کی بوچھاڑ ان پر جاری تھی اور ہمیشہ کی ذلت و رسوائی ان کی زاد راہ، مرزا قادیانی بھی اس منزل کے راہی ہیں اور اسی حشر سے دوچار۔

اب مرزا قادیانی اپنے بعد دوسروں پر نبوت کا دروازہ بند کرتے ہیں۔ جیسا کہ اجرائے نبوت کی کنجی انہیں کے ہاتھ میں آ گئی ہے اور خاتم الانبیاء کا منصب بھی انہیں مل گیا ہے۔

خدا کی بہت سے مصلحتوں میں رخنہ پیدا کرتا ہے۔"

(تشحیذ الاذہان بابت ماہ اگست ١٩١٧ء)

قادیانی ہے اور کوئی قطعاً نہیں آ سکتا۔"

(تشحیذ الاذہان بابت ماہ مارچ ١٩١٤ء)

یہ وحی اس لئے تراشی گئی کہ خود مرزا قادیانی کے زمانہ میں ہی ان کے بعض مزاج شناس پیروکاروں نے بھی ان کے چشمۂ نبوت سے فیض پانے کے بعد اور آپ کے ہاتھوں نبوت کا دروازہ کھلا دیکھ کر اپنی بیعت کا اعلان کر دیا تھا۔ صحبتِ نبی کے کمال نے انہیں بھی نبی بننے کے لئے تیار کر دیا۔ مثلاً آپ کے دور کے چند مدعیانِ نبوت یہ ہیں:

رسول الله"

(الفضل قادیان مورخہ ١١ نومبر ١٩٣٣ء، نمبر ٥٨ ص ١٧)

(دعویٰ نبوت ١٩٢١ء)

(٢٣؍ مارچ ١٩٠٢ء)

مرزا قادیانی نے جل کر اسے اپنی امت سے خارج کر دیا۔

(دعویٰ ١٩٣١ء)

(١٩٢٤ء)

٤٤

صفحہ ٣٤١

ان کے علاوہ تقریباً دس مزید افراد نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا اور سب نے مرزا قادیانی کی بیعت کی تھی اور موقع پا کر اپنی نبوت کا اعلان کر دیا۔ گو انہیں اتنا قبول عام حاصل نہ ہو سکا جتنا کہ مرزا قادیانی کو حاصل ہوا۔ لیکن مرزا قادیانی نے انہیں جھوٹا اور مخبوط الحواس کہا۔

مرزا قادیانی اگر نبی بن سکتے ہیں تو پھر ان کے کمالات نبوت سے فیض پانے والے کیونکر نبی نہیں بن سکتے۔ جب کہ ان کا دعویٰ ہے کہ نبوت کا دروازہ کھلا ہے۔ ہزاروں نبی آ سکتے ہیں اور ترقی کر کے آنحضورﷺ سے بھی آگے بڑھ سکتے ہیں۔

صرف آپ کے لئے دعویٰ نبوت کس دلیل سے مخصوص ہوا؟ جیسی وحی آپ کی طرف آتی ہے۔ ویسی ہی ان کے پاس بھی آتی ہے اور دوسروں کے پاس بھی آتی رہے گی۔ آپ نے مہر توڑی، پٹارہ کھل گیا۔ اس کے بعد سب کی حیثیت یکساں ہو گئی اور سب کو نبی بننے کی آزادی مل گئی۔

اپنے لئے پیمانے اور، دوسروں کے لئے پیمانے اور، یہ کہاں کا انصاف ہے۔

جس طرح مرزا قادیانی آنحضورﷺ کی ختم نبوت کی مہر لگا کر نبوت کا دعویٰ کر بیٹھے۔ اسی طرح ان کے دور میں چند دوسرے حضرات بھی آپ کی مہر سے نبوت کا دعویٰ کرنے لگے اور آئندہ بھی کر سکتے ہیں۔ آخر آپ کس دلیل سے دوسروں کو شوق نبوت پورا کرنے سے روک سکتے ہیں۔ جو دلیل آپ کی نبوت کے لئے ہے۔ وہی انہیں بھی حاصل ہے۔ ”مسیح موعود نے فرمایا۔ خاتم النبیین کا معنی یہ ہے کہ آپ کی مہر کے بغیر کسی کی نبوت تصدیق نہیں ہو سکتی۔“

(ملفوظات احمدیہ ج ٥ ص ٢٩٠)

آپ نے اپنی نبوت کی تصدیق کے لئے آخر مہر کہاں سے حاصل کی ہے۔ جب کہ ماخذ دونوں کا ایک ہے تو یہ رقابت نبوت کی آگ ہے جو دوسروں کے حق میں شعلے اگل رہی ہے۔

انگریز کی فدائیت میں جہاد کی تنسیخ کا اعلان

بعثت انبیاء کے اہم ترین مقاصد یہ ہیں۔

اقتدار حکومت کے تمام وسائل پر قبضہ کر کے نیکی و بھلائی کو فروغ دیا جائے اور برائیوں کو دبایا جائے۔

٤٥

صفحہ ٣٤٢

نیکی و بدی کی کشمکش اوّل روز سے جاری ہے۔ ہر محاذ پر بدی کا مقابلہ کرنے کے لئے اسلام میں جہاد فرض قرار دیا گیا ہے۔ اسی کے ذریعہ یہ عالمگیر تحریک، زندہ قوت، اور بھر پور امن و انصاف کی دعوت بن سکتا ہے۔ باطل تحریکوں اور ظالم نظام کا تختہ جہاد ہی کے ذریعہ الٹا گیا ہے۔ جذبۂ جہاد کی آبیاری سے اللہ کا دین سدا بہار رہتا ہے۔

لیکن جعلی نبوت نے انگریز کے ظالمانہ نظام اور لادین حکومت کے استحکام و ترقی کے لئے اپنی پوری زندگی نچوڑ کر رکھ دی۔ انگریزوں نے ترکی، شام، عراق، اردن، انڈیا اور بعض دیگر نو آبادیات پر غاصبانہ قبضہ کر کے مسلمانوں پر بے پناہ مظالم ڈھائے۔ ان کی بیخ کنی کی، سولیوں پر لٹکایا۔ ان کے معصوم بچے ذبح کئے۔ عصمتوں کی ارزانی ہوئی۔ آسمان لرز گیا اور زمین اس کے ظلم و جور سے بھر گئی۔ ١٨٥٧ء میں تحریک آزادی ہند کو جس بیدردی و درندگی کے ساتھ کچلا گیا۔ دور عبرت تھا۔

لیکن مرزا قادیانی کی نبوت کی خشتِ اوّل ہی انگریز کی وفاداری پر رکھی گئی تھی اور انہوں نے اوّل روز سے اپنے آقایان ولی نعمت کی تعریف و ستائش کی عادت ڈال لی۔ ان کے خلاف مسلمانوں کو جذبہ جہاد کی تنسیخ کی افیون پلائی گئی۔ تاکہ کسی بھی وقت اس خاکستر میں دبی ہوئی چنگاریاں بھڑک کر انگریزی راج کو بھسم نہ کر دیں اور اس کے ساتھ ہی انگریزوں کا خودکاشتہ پودا بھی جل کر نہ رہ جائے۔ طے یہ پایا کہ انگریزوں کے خلاف مسلمانوں کے جذبہ آزادی اور ولولہ جہاد کو تو بالکل جامد کر دیا جائے۔ لیکن انگریزوں کی حکومت وسیع کرنے اور ان کے ظلم و جور کی تلوار تیز کرنے میں پوری جدوجہد کی جائے۔

سکھوں کے دور اقتدار کے وفادار خاندان سے انگریزوں کو بھی ورثے میں وفاداری ملی۔ اگر مرزا قادیانی کو کسی نے نبی بنایا نہیں تو یہ خود انگریز کی وفاداری و خدمت کے لئے نبی بن کر میدان میں آگئے اور دنیوی مفاد کے لئے ہر اقتدار کی پرستش اصول بنالیا گیا۔ ذیل میں ان کے اعلانات اور ان کے عزائم خود ان کی اپنی زبانی اس حقیقت پر روشنی ڈالتے ہیں۔ ایک انصاف پسند اور حقیقت شناس آدمی جھوٹے نبی کی اصلیت معلوم کرنے میں کوئی دقت محسوس نہیں کرے گا۔

گورنمنٹ پر حملہ کرنا شروع کر دیا اور اس کا نام جہاد رکھا۔“

(ازالہ اوہام ص ٤٧٢ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ٤٩٠)

٤٦

صفحہ ٣٤٣

کی طرف کھینچا چلا جاتا ہے۔ جو سچائی، راست بازی اور انصاف میں ترقی کرتے جاتے ہیں۔ ہم دعا کرتے ہیں کہ خدا اس گورنمنٹ کو ہر شر سے محفوظ رکھے۔ اس کے دشمن (تمام عالم اسلام، عرب) کو ذلت کے ساتھ پسپا کرے۔ محسن کی بدخواہی ایک حرامی بدکار آدمی کا کام ہے۔ اسلام کے دو حصے ہیں۔

اپنے سایہ میں پناہ دی۔ سو وہ سلطنت برطانیہ ہے۔ اگر ہم گورنمنٹ برطانیہ سے سرکشی کریں تو گویا اسلام خدا اور رسول سے سرکشی کرتے ہیں۔“

(شہادۃ القرآن ص ٤٨، خزائن ج ٦ ص ٣٨٠)

جھوٹی نبوت کی زبان سے کس طرح انگریزی روح بول رہی ہے۔ کیا کسی سچے نبی نے ظالم اور خونخوار نظام سے وفاداری کی ہے۔ کفر و ایمان بھی کبھی آپس میں مل سکے ہیں۔ قدم قدم پر جعلی نبوت جھوٹے گل کھلا رہی ہے۔ انگریز اور مرزائی ایک ہی مقصد کی دو تعبیریں ہیں۔

کے لئے، آسمانی برکت کا حکم رکھتی ہے۔ ایسی سلطنت سے لڑائی اور جہاد قطعی حرام ہے۔“

(شہادۃ القرآن ص ٩٢، خزائن ج ٦ ص ٣٨٨)

کے اقبال کے لئے دعا گو ہیں۔“ مسلمانوں کے عقائد میں فتور پیدا کئے بغیر انگریزوں کو ان کے جذبہ جہاد سے ہمیشہ خطرہ رہا۔ یہ کام مرزا سے لیا۔

اور اشتہار شائع کئے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں بھر سکتی ہیں۔ میں نے ایسی کتابیں تمام ممالک عرب، مصر، شام، کابل اور روم تک پہنچادی ہیں۔ میری ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ مسلمان اس سلطنت کے سچے خیرخواہ ہو جائیں اور جہاد کے جوش دینے والے مسائل جو احمقوں (مسلمانوں) کے دلوں کو خراب کرتے ہیں۔ ان کے دلوں سے معدوم ہو جائیں۔“

(تریاق القلوب ص ١٥، خزائن ج ١٥ ص ١٥٥، ١٥٦)

٤٧

صفحہ ٣٤٤

ہے ۔ غازی نام رکھ کر کافروں کو قتل کرتا ہے۔ وہ خدا اور اس کے رسول کا نافرمان ہے ۔“

(ضمیمہ خطبہ الہامیہ ص ١٧، خزائن ج ١٦ ص ١٧)

میں داخل کریں۔ دل کی سچائی سے ان کے مطیع رہیں۔“ (ضرورۃ الامام ص ٢٣، خزائن ج ١٣ ص ٤٩٣)

انگریزی کا ہوں۔ کیونکہ مجھے تین باتوں نے خیر خواہی میں اوّل درجہ بنا دیا ہے۔ اوّل درجہ والد مرحوم کے اثر نے (کیونکہ ان کی وفاداری سکھوں سے انگریزوں کو منتقل ہوئی تھی) گورنمنٹ عالیہ کے احسانوں نے ، خدا تعالیٰ کے الہام نے ۔“ (الہام بھیجنے والا بھی انگریز، نبی بھی انگریزی)

(ضمیمہ تریاق القلوب ص ٣٦٣، خزائن ج ١٥ ص ٤٩١)

ظالموں کے نظام حکومت کو قائم رکھنے کے لئے ہی جعلی نبی پیدا کئے جاتے ہیں۔ لیکن پائیداری کسی کو نصیب نہ ہوئی۔ کیسی نبوت کے سانچے میں ڈھلی ہوئی زبان ان مسلمانوں کے خلاف استعمال ہو رہی ہے۔ جو لادینی حکومت سے آزادی کی جدوجہد کر رہے ہیں۔

ان کے لئے بددعائیں اور انگریزوں کو دعائیں دینے والا قادیانی نبی یہاں اپنی اصلی صورت میں نظر آ رہا ہے۔ انگریزوں کی غلامی سدا رحمت ہے۔ مسلمانوں کی آزادی پر اسے ترجیح حاصل ہے۔ جن کا ماضی یہ ہو۔ وہ آئندہ اسلامی نظام اور مسلمان حکومت کے خیر خواہ و وفادار کس طرح ہو سکتے ہیں۔ جن کی وحی انگریز پرست اور مسلمان دشمن ہو۔ ایسی وحی اور ایسے نبی کا صحیح مقام یورپ ہے نہ کہ پاکستان۔ ایسے لوگوں کو حقیقی اسلامی نظام سے چڑ کیوں نہ ہو؟

انگریز کی حمایت اور اس کی غلامی حرز جان بنانے کی اصلی وجہ

مرزا قادیانی کو اچھی طرح معلوم تھا کہ نئی نبوت کا کاروبار، آزادی کے ساتھ لادینی حکومت کے زیر سایہ ہی چل سکتا ہے اور امت مسلمہ کی قطع و برید سے جو ردّعمل پیدا ہوگا اس سے بچنے کے لئے کسی ایسی ہی حکومت کی ضرورت ہے۔ کچھ لو اور کچھ دو کے اصول کے مطابق انگریزوں سے سودا ہو گیا ہے۔

مکہ میں گزارا ہو سکتا ہے اور نہ قسطنطنیہ میں۔ تو پھر کس طرح ہو سکتا ہے کہ ہم اس کے برخلاف کوئی خیال دل میں لائیں ۔“ (ملفوظات احمدیہ ص ٣٦)

٤٨

میں ۔ نہ روم میں نہ شام میں ، نہ ایران لئے دعا کرتا ہوں ۔“

ہے۔ ایسی سلطنت کا بھلا نام تو لو، جو قتل کرنے کے لئے دانت پیس رہے خدا داد نعمت کی تم قدر کرو اور تم یقین اس ملک میں قائم کی ہے۔ اگر اس گی ..... سو انگریزی سلطنت تمہارے طرف سے تمہاری وہ سپر (ڈھال) مخالف جو مسلمان ہیں۔ ہزارہا درجہ

کوئی بھی سچا نبی یا مجدد نہیں کہہ سکتا اور انگریزوں کو مسلمانوں نبی کو حاصل ہوا۔ جو خود بھی جھوٹا اور

حضرت مرزا صاحب کو مامور من دل سے یقین کرتے ہیں۔ برٹش

اسلام میں جہاد کی جو وحدیث میں موجود ہے۔ ذیل میں سکے کہ مرزا قادیانی اسلام کی اتنی بچانا چاہتے ہیں اور جہاد کو منسوخ نے عطاء کی؟ لیکن ایک جعلی نبوت جھوٹا ہونے کا واضح ثبوت بن سکتی

صفحہ ٣٤٥

کہ وہ خدا اور اس کے رسول کا نافرمان ہے۔“

(ضمیمہ خطبہ الہامیہ ص ٧، خزائن ج ١٦ ص ١٧)

یہی ہے کہ وہ انگریزوں کی بادشاہت کو اپنے اولی الامر سمجھتے ہیں۔“

(ضرورۃ الامام ص ٢٣، خزائن ج ١٣ ص ٤٩٣)

میں تمام مسلمانوں سے اوّل درجہ کا خیر خواہ گورنمنٹ نے خیر خواہی میں اوّل درجہ بنا دیا ہے۔ اوّل درجہ وفادار حکومتوں سے انگریزوں کو منتقل ہوئی تھی) گورنمنٹ عالیہ ہے۔“ (الہام بھیجنے والا بھی انگریز، نبی بھی انگریزی)

(ضمیمہ تریاق القلوب ص ٣٦٣، خزائن ج ١٥ ص ٤٩١)

قائم رکھنے کے لئے ہی جعلی نبی پیدا کئے جاتے ہیں۔ لیکن اس کے سانچے میں ڈھلی ہوئی زبان ان مسلمانوں کے خلاف لئے آزادی کی جدوجہد کر رہے ہیں۔

انگریزوں کو دعائیں دینے والا قادیانی نبی یہاں اپنی اصلی غلامی سدا رحمت ہے۔ مسلمانوں کی آزادی پر اسے ترجیح اسلامی نظام اور مسلمان حکومت کے خیر خواہ و وفادار کس خلاف اور مسلمان دشمن ہو۔ ایسی وحی اور ایسے نبی کا صحیح مقام کوئی اسلامی نظام سے چڑ کیوں نہ ہو؟

راز بتانے کی اصلی وجہ

معلوم تھا کہ نئی نبوت کا کاروبار، آزادی کے ساتھ لا دینی امت مسلمہ کی قطع و برید سے جو ردعمل پیدا ہوگا اس سے ضرورت ہے۔ کچھ لو اور کچھ دو کے اصول کے مطابق

بڑا احسان ہے کہ اگر ہم یہاں سے نکل جائیں تو نہ ہمارا تو پھر کس طرح ہو سکتا ہے کہ ہم اس کے برخلاف کوئی

(ملفوظات احمدیہ ص ٤٦)

٤٨

میں۔ نہ روم میں نہ شام میں، نہ ایران میں نہ کابل میں۔ مگر اس گورنمنٹ میں جس کے اقبال کے لئے دعا کرتا ہوں۔“

(تبلیغ رسالت ج ٦ ص ٦٩، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٣٧٠)

ہے۔ ایسی سلطنت کا بھلا نام تو لو، جو تمہیں اپنی پناہ میں لے لے۔ ہر ایک اسلامی سلطنت تمہیں قتل کرنے کے لئے دانت پیس رہی ہے۔ کیونکہ ان کی نگاہ میں تم کافر و مرتد ٹھہر چکے ہو۔ اس خداداد نعمت کی تم قدر کرو اور تم یقیناً سمجھ لو کہ خدا تعالیٰ نے سلطنت انگریزی تمہاری بھلائی کے لئے اس ملک میں قائم کی ہے۔ اگر اس سلطنت پر کوئی آفت آئے تو وہ آفت تمہیں بھی نابود کر دے گی....... سو انگریزی سلطنت تمہارے لئے ایک رحمت ہے اور تمہارے لئے برکت ہے اور خدا کی طرف سے تمہاری وہ سپر (ڈھال) ہے۔ پس تم دل و جان سے اس سپر کی قدر کرو اور ہمارے مخالف جو مسلمان ہیں۔ ہزار ہا درجہ سے انگریز بہتر ہیں۔ کیونکہ وہ ہمیں واجب القتل نہیں سمجھتے۔“

(تبلیغ رسالت ج ١٠ ص ١٢٣، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٨٢)

کوئی بھی سچا نبی یا مجدد، مصلح اور محدث کسی لادینی حکومت کو مسلمانوں کے لئے رحمت برکت نہیں کہہ سکتا اور انگریزوں کو مسلمانوں سے ہزار درجہ کیا ایک درجہ بھی بہتر نہیں سمجھ سکتا۔ یہ فخر صرف قادیانی نبی کو حاصل ہوا۔ جو خود بھی جھوٹ اور باطل کی پیداوار ہے اور اسی بناء پر مسلمانوں سے کٹ بھی گیا۔

حضرت مرزا صاحب کو مامور من اللہ اور ایک مقدس انسان تصور کرتے ہیں بدوں کسی خوشامد کے دل سے یقین کرتے ہیں۔ برٹش گورنمنٹ ان کے لئے فضل ایزدی اور سایہ رحمت ہے۔“

(الفضل مورخہ ١٣ ستمبر ١٩١٣ء ج ٢ نمبر ٣٨)

اسلام میں جہاد کی جو اہمیت یا اس کی دوامی افادیت ہے۔ اس پر مفصل بحث قرآن وحدیث میں موجود ہے۔ ذیل میں اس کی چند بنیادی خصوصیات کا ذکر کیا جاتا ہے۔ تا کہ یہ واضح ہو سکے کہ مرزا قادیانی اسلام کی اتنی عظیم بنیاد کو ڈھا کر اور ملی روح کو ختم کر کے دنیا میں کس کا تخت اقتدار بچھانا چاہتے ہیں اور جہاد کو منسوخ کرنے کی اتھارٹی اور دین کامل کے قطع و برید کی اجازت انہیں کس نے عطاء کی؟ لیکن ایک جعلی نبوت سے ایسے ہی کارنامے سرانجام دلائے گئے جو قدم قدم پر اس کے جھوٹا ہونے کا واضح ثبوت بن سکیں اور دانشور لوگ کھرے کھوٹے میں اس طرح تمیز کر سکیں۔

٤٩

صفحہ ٣٤٦

جہاد کی دوامی اہمیت

قرآن میں اس کا مقصد یہ بیان کیا گیا ہے۔ ”وقاتلوهم حتى لا تكون فتنة ويكون الدين لله (بقرہ:٢٧)“ اسلام دشمن طاقتوں سے لڑو، یہاں تک کہ فتنہ و فساد باقی نہ رہے اور ملک میں خدائی کا دین غالب ہو جائے۔ خدا کی بندگی سے روکنا یا اس کی جگہ باغیانہ نظام قائم کرنا انسانوں پر بہت بڑا ظلم ہے۔ کیونکہ لادینی نظام انہیں آخرت کی ابدی نعمتوں سے محروم کر دیتا ہے۔ انسانی زندگی میں مخلوق کا اپنے حقوق سے محروم ہو جانا بھی بہت بڑا ظلم ہے۔ اس لئے دنیا میں اسلام کے اجتماعی نظام عدل کا قیام مسلمانوں کا ملی اور ایمانی فریضہ ہے اور اس مقصد کے لئے اپنے ماننے والوں کو اسلام ہر وقت مستعد اور سرگرم عمل دیکھنا چاہتا ہے۔

”وأعدوا لهم ما استطعتم من قوة ومن رباط الخيل (انفال:٦٠)“ اور جہاں تک ہو سکے پورے زور سے اور گھوڑوں کے تیار رکھنے سے ان کے مقابلے کے لئے مستعد رہو۔ یعنی وقت کے لحاظ سے اپنے تمام وسائل و ذرائع کے ساتھ اسلام کو حکمران قوت بنانے کے لئے کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھا جائے۔ اگر اسی جہانگیر ملی فریضہ میں کوئی فرد یا جماعت کوتاہی وغفلت برتے گی تو وہ سخت سزا کی مستحق ہوگی۔ چنانچہ سورہ توبہ میں ارشاد ہے کہ اگر تم نے اللہ اور اس کے رسول اور جہاد فی سبیل اللہ کے مقابلے میں دنیوی کاروبار کو ترجیح دی تو تمہاری جگہ اللہ تعالیٰ کسی دوسری قوم کو لے آئے گا۔ جو یہ فرائض سرانجام دے گی۔

ایک مخلص اور سچے مومن اور منافق کی کسوٹی جہاد ہی ہے۔ منافقین اور ڈیوٹی چور مختلف حیلوں، بہانوں سے اس فریضہ سے جان چھڑانے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ مخلصین کے لئے نہایت واضح حکم ہے۔ ”وجاهدوا فى الله حق جهاده (الحج:٧٨)“ اللہ کی بندگی اور اس کی رضا جوئی کی راہ میں تمام مزاحم طاقتوں سے لڑنے کا حق ادا کرو۔ ملی زندگی کے لئے جہاد روح کی حیثیت رکھتا ہے۔ مسلمان اس پر جب تک اس کی ضروری شرائط و آداب کے ساتھ عمل پیرا رہیں گے فتح و کامرانی عزت اور آزادی انہیں خوش آمدید کہے گی اور جب وہ لہو گرم اور ایمان تازہ رکھنے والے فریضہ میں سست پڑ جائیں گے تو پھر ذلت و غلامی اور نکبت و پسماندگی ان کے گلے کا ہار ہوگی۔ اس حقیقت پر مندرجہ ذیل احادیث روشنی ڈالتی ہیں۔

ترک جہاد کا نتیجہ دائمی غلامی و ذلت ہے

آنحضور ﷺ نے فرمایا: ”واخذتم اذناب البقر ورضيتم بالزرع وتركتم

٥٠

صفحہ ٣٤٧

الجهاد وسلط الله عليكم ذلا لا ينزعه حتى ترجعوا الى دينكم (ابوداؤد كتاب الجهاد) ”جہاد پر دنیوی کاروبار کو ترجیح دی گئی اور اپنے عقیدہ ومسلک کی حکومت قائم کرنے میں کوتاہی کی گئی تو پھر تم پر اللہ تعالیٰ ذلت (غلامی) مسلط کر دے گا۔ یہاں تک کہ تم پھر اس دینی فریضہ (جہاد) کی طرف رجوع نہ کرو۔

اس حدیث میں جہاد کو دین کہا گیا ہے۔ جس سے اس کی اہمیت واضح ہوتی ہے اور اسی دین ہی کے ذریعہ مسلمانوں کو عزت و فضیلت بھی بخشی گئی ہے۔

حضرت شاہ ولی اللہؒ اس حدیث کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ”اعلم ان النبي ﷺ بعث بالخلافة العامة ولغلبة دينه على سائر الاديان لا يتحقق الا بالجهاد واعداد الآلة فاذا تركوا الجهاد واتبعوا اذناب البقر احاط بهم الذل وغلب عليهم أهل سائر الاديان“

(حجۃ اللہ البالغہ ج ٢ ص ١٧٣)

اللہ تعالیٰ نے نبیؐ کو خلافت عامہ اور تمام ادیان پر دین حق کو غالب کرنے کے لئے بھیجا ہے اور یہ کام جہاد اور اس کے لئے ضروری ساز و سامان اختیار کئے بغیر نہیں ہو سکتا۔ پس جب لوگ جہاد ترک کر دیں گے اور دنیوی کاروبار میں منہمک ہو جائیں گے تو ذلت ان کا گھیراؤ کر لے گی اور غیر مذاہب کے لوگ ان پر غالب آ جائیں گے۔

جہاد دوامی فریضہ ہے جسے کوئی منسوخ نہیں کر سکتا

آنحضرت ﷺ نے فرمایا: ”والجهاد ماض منذ بعثنى الله الى ان يقاتل آخر هذه الامة الدجال لا يبطله جور جائر ولا عدل عادل“

(کتاب الجہاد ص ٢٤٧)

اور جہاد میری بعثت سے لے کر قیامت تک جاری رہے گا۔ یہاں تک کہ اس امت کا آخری گروہ دجال سے جنگ کرے گا اور نہ کسی ظالم کا ظلم جہاد کو باطل کر سکتا ہے اور نہ کسی عادل امیر کا عدل یعنی جہاد اس عذر کی بناء پر بھی منسوخ قرار نہیں دیا جا سکتا کہ ہم پر اس وقت جابر حکمران مسلط ہیں اور نہ اس بات کو بہانہ بنایا جا سکتا ہے کہ حکومت اگرچہ کفار کی ہے۔ مگر ہمیں امن نصیب ہے اور ہمارے ساتھ انصاف ہو رہا ہے۔ جیسا کہ مرزا قادیانی کے خاندان کو امن حاصل رہا اور نہ مسلمانوں کے لئے یہ جائز ہے کہ اگر ان کے اپنے ملک میں عدل کا دور دورہ ہو تو وہ مطمئن ہو کر بیٹھ رہیں اور باہر کی دنیا میں جو ظلم و فساد برپا ہو۔ اس کی طرف سے آنکھیں بند کر لیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ جہاد کتنا عالمگیر اجتماعی فریضہ ہے اور اس کی دوامی حیثیت کسی صورت بھی ختم نہیں ہو سکتی اور یہ کہ وہ مسلمانوں کو ہمہ وقتی اس کے لئے تیار اور مصروف دیکھنا چاہتا ہے۔

٥١

صفحہ ٣٤٨

لیکن مرزا قادیانی جذبہ جہاد ختم کر کے مسلمان قوم کو انگریزوں کے قدموں میں ڈال دینا چاہتے ہیں اور یہودیوں کے ایماء پر اسے ہمیشہ کے لئے غلام اور ناکارہ بنا دینا چاہتے ہیں اور اپنی نبوت کو بھی آئندہ سرکوبی کے خطرہ سے محفوظ کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن آفتاب ختم نبوت کی روشنی میں جھوٹی نبوت کا چراغ جل نہیں سکتا۔ نہ انگریز کی حکومت رہی اور نہ اس کی نبوت اب مسلمانوں کو دھوکہ دے سکتی ہے۔ اگر مرزا قادیانی اس قسم کی باتیں نہ کرتے جب بھی وہ بارگاہ رسالت میں کذاب اور مفتری کے خطاب کے مستحق قرار پاچکے تھے۔ البتہ ایسی باتیں نہ کرتے تو ضرور تعجب ہوتا۔ کیونکہ اللہ پر افتراء باندھنے والا سب سے بڑا ظالم ہے اور آنحضور ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنے والا سب سے بڑا جھوٹا ہے اور اللہ تعالیٰ نے ظالموں پر بھی لعنت فرمائی اور جھوٹ بولنے والوں پر بھی۔ ”الا لعنة الله علی الظالمین (ھود: ١٨)“ ”لعنة الله علی الکٰذبین (آل عمران: ٦١)“ اور جو لوگ اللہ کی رحمت سے محروم اور پھٹکارے ہوئے ہوں ان کے منہ سے پھول نہیں برسا کرتے۔ نہ حواس قائم ہوتے ہیں نہ حافظہ درست۔ لایعنی بے مغز اور مہمل گفتگو جھوٹی نبوت کی امتیازی علامات ہیں اور مرزا قادیانی کے سارے لٹریچر میں یہ حقیقت واضح ہے۔

قوم کے مار آستین

جو نبوت جہاد کی تنسیخ کا دعویٰ کر کے استعماری طاقتوں اور غیر اسلامی نظام کی حمایت و وفاداری کا دم بھرتی ہے اور ہمیشہ مسلمانوں کے مقابلہ میں غیر مسلم طاقتوں کی حلیف و خیر خواہ رہی ہو۔ اگر اس کی امت آج بھی مسلمانوں سے غداری کر کے استعماری نظام سے ساز باز کر رہی ہو اور ہر فیصلہ کن معرکہ میں اس نے مسلمانوں کے خلاف سازش کی ہو اور ہر ملک میں اس نے اپنے تخریبی مشن کے اڈے بنا رکھے ہوں تو تعجب نہیں کرنا چاہئے کہ وہ اسی مقصد کے لئے وجود میں آئی ہے۔ اس لئے ایسی امت کے افراد کو ملکی، سیاسی اور انتظامی امور کے اہم مناصب پر متعین کرنا آستین کے سانپ پالنے کے مترادف ہے۔ اس طرح ملک و ملت کو اس سے پہلے بھی ہر محاذ پر ذلت و شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے اور آئندہ بھی ایمان دشمن اور انگریزی نبوت کی ملعون اور منحوس امت سے امت مسلمہ کو کسی خیر کی توقع نہ رکھنی چاہئے اور مسلمانوں کی مرکزی طاقت کو اندر ہی اندر سے کھوکھلا کرنے والی دیمک سے بے فکر نہ ہو جانا چاہئے۔ علامہ اقبالؒ کی بصیرت نے برسوں پہلے اپنی قوم کو اس فتنے سے آگاہ کر دیا تھا۔

٥٢

صفحہ ٣٤٩

گرا کے مسلمان قوم کو انگریزوں کے قدموں میں ڈال ے ہمیشہ کے لئے غلام اور ناکارہ بنا دینا چاہتے ہیں اور محفوظ کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن آفتاب ختم نبوت کی روشنی انگریز کی حکومت رہی اور نہ اس کی نبوت اب مسلمانوں قسم کی باتیں نہ کرتے جب بھی وہ بارگاہ رسالت میں گزر پاچکے تھے۔ البتہ ایسی باتیں نہ کرتے تو ضرور تعجب سے بڑا ظالم ہے اور آنحضورﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ تعالیٰ نے ظالموں پر بھی لعنت فرمائی اور جھوٹ بولنے وں (ہود:٢)“ (آل عمران:٦١) ”اور جو لوگ اللہ کی رحمت سے محروم صول نہیں برتا کرتے۔ نہ حواس قائم ہوتے ہیں نہ جھوٹی نبوت کی امتیازی علامات ہیں اور مرزا قادیانی

بلکہ استعماری طاقتوں اور غیر اسلامی نظام کی حمایت کے مقابلہ میں غیر مسلم طاقتوں کی حلیف وخیر خواہ رہی وفاداری کر کے استعماری نظام سے ساز باز کر رہی ہو کے خلاف سازش کی ہو اور ہر ملک میں اس نے اپنے ہی کرنا چاہئے کہ وہ اسی مقصد کے لئے وجود میں آئی سیاسی اور انتظامی امور کے اہم مناصب پر متعین کرنا اس طرح ملک وملت کو اس سے پہلے بھی ہر محاذ پر قادیانی ایمان دشمن اور انگریزی نبوت کی ملعون اور منحوس پنپنے اور مسلمانوں کی مرکزی طاقت کو اندر ہی اندر جانا چاہئے۔ علامہ اقبال کی بصیرت نے برسوں پہلے

٥٢

محکوم کے الہام سے اللہ بچائے
غارت گر اقوام ہے وہ صورت چنگیز

مسلح جہاد

داخلی اور علمی جہاد کے ساتھ ساتھ مسلح جہاد مندرجہ ذیل صورتوں میں خداوند تعالیٰ نے قیامت تک فرض قرار دیا ہے۔

ہیں اور خدا کی بندگی انجام دینے میں اخلاقی علمی اور سیاسی رکاوٹیں پیدا کرتی ہیں۔ یہ بہت بڑا فتنہ ہے۔ جسے جڑ پیڑ سے اکھاڑنے کا مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے۔

ملک میں امن چین کی زندگی بسر کر رہے ہوں۔ لیکن دنیا کے کسی دوسرے حصہ میں مسلمانوں پر غیر مسلم مظالم توڑ رہے ہوں تو ان کے خلاف بھی مسلح جہاد ضروری ہے۔

جارحانہ اقدام کریں تو ان کے خلاف بھی ہتھیار اٹھانے پڑیں گے۔ ان کے جذبۂ استحصال اور ہوس ملک گیری کو روکنا نہ جائے تو دنیا شروفساد کا گہوارہ بن جائے گی۔

وانصاف اور خدا پرستی کی آزاد فضا میسر آسکے۔ یہ تمام صورتیں جہاد یا جہاد فی سبیل اللہ میں داخل ہیں۔ جس کے لئے مسلمانوں کو حالات واسباب کے مطابق ہمیشہ تیار رہنا ہوگا۔ اقدامی جہاد بھی کرنا ہوگا اور دفاعی بھی اور یہ مسلمانوں کے دینی اور ملی فرائض میں ہمیشہ شامل رہے گا۔ لیکن مرزا قادیانی انگریزوں کی لادینی اور ظالم حکومت کے لئے ترکی، ایران، عراق، مصر، فلسطین اور دیگر ممالک میں مسلمانوں کی سرکوبی کے لئے جہاد عین فرض اور موجب سعادت سمجھتے ہیں۔

خدا تعالیٰ جسے قیامت تک فرض قرار دیتا ہے۔ مرزا قادیانی خدا کا یہ حکم منسوخ کرنے کے لئے نبوت کا نعرہ مار کر میدان میں کود پڑے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں یہ کتنی بڑی جسارت ہے یا بغاوت۔ صحیح معنوں میں یہ نبی انگریزوں کا ہو یا خدا کا؟ اور اصل میں یہ اعلان بھی ان کا جھوٹا اور طاغوتی نبی ہونے کا واضح ثبوت ہے۔

٥٣

صفحہ ٣٥٠
اب چھوڑ دو جہاد کا اے دوستو خیال
دین کے لئے حرام ہے اب جنگ وجدال

(تحفہ گولڑویہ ص ٢٧، خزائن ج ١٧ ص ٧٧)

دین کے لئے تو لڑنا حرام لیکن بے دینی کے لئے حلال ہو گیا۔

دنیا میں سب سے بڑا عذاب ظالموں کی غلامی ہے

کفار کی غلامی دنیا میں مسلمان کے لئے بہت بڑا عذاب ہے۔ جس سے نجات دلانے کے لئے انبیاء کرام مبعوث ہوئے۔ لیکن انگریزی حکومت مرزائی امت کے لئے سایہ رحمت، ان کی وفاداریوں کا مرکز اور ان کی ترکتازیوں کی ڈھال ہے۔ مسلم معاشرے کی قطع وبرید، قرآن وحدیث کی واضح تعلیم میں تحریف و تاویل کی جسارت اور نئی نبوت کے ذریعہ مسلمانوں کے عقائد و ایمان میں تزلزل پیدا کرنے کے لئے غیر اسلامی ریاست سے بڑھ کر موزوں اور کوئی نظام نہیں ہے۔ کیونکہ اسلامی ریاست میں کفر و ارتداد کی تعلیم وتبلیغ کی اجازت نہیں مل سکتی۔

پاکستان کی مخالفت بھی اسی بنیاد پر تھی اور انگریزوں کے بعد ہندوؤں کی غلامی بھی انہیں قبول تھی۔ لیکن جھوٹی نبوت کی تمام کرامات محمدی بیگم کے نکاح کی طرح جھاگ کی مانند بیٹھ گئیں اور مرزائیوں کے علی الرغم جمہوریہ اسلامیہ پاکستان معرض وجود میں آ گیا اور اب پاکستان میں اسلامی نظام کے فروغ کے لئے سعی و جہد کرنے والی جماعتوں کے اس لئے شدید مخالف ہیں کہ اسلامی آئین اور صحیح اسلامی ریاست کے اندر تحریف و ارتداد اور نبوت سازی کا کاروبار آزادی سے چل نہیں سکتا اور مسلمان فرقہ کا نقاب اوڑھ کر بے خبر اور سادہ مسلمانوں کے ایمان پر ڈاکہ نہیں ڈالا جا سکے گا۔ ایک طرف جھوٹ اور افتراء کے زور سے مسلم معاشرے میں فکری انتشار اور ذہنی پراگندگی پیدا کر کے اپنی افرادی قوت بڑھانا چاہتے ہیں۔ دوسری طرف حکومت وقت کے تمام اہم شعبوں میں اپنے آدمی داخل کر کے اقتدار پر بھی قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ تاکہ کسی بھی وقت مسلمان کے انتقامی ردعمل یا ان کے غیظ وغضب کا سیلاب اٹھ کر ہماری کائنات نبوت کو نگل نہ لے۔ اگر اسلامی حکومت انہیں آئینی طور پر غیر مسلم قرار دے کر اقلیت قرار دے دے تو یہ مسلمانوں کے لئے ایک فرقہ کی حیثیت سے مسلمانوں کو دھوکہ نہیں دے سکیں گے۔ جیسا کہ عیسائی، یہودی، سکھ اور ہندو فرقے ہیں۔

اسلامی ریاست کا کلیدی اسامیوں پر متعین نہیں رہ سکتے اور خود ان کا اپنا تحفظ بھی اقلیت کی حیثیت

٥٤

صفحہ ٣٥١

متعین ہو جانے میں ہے۔

غیر مسلم اقلیت قرار پانے سے انکار کیوں؟

پچھلے صفحات میں خود مرزا قادیانی کے اعلان اور دعوؤں سے یہ ثابت کیا جا چکا ہے کہ نئی نبوت ایک نئی امت کے ساتھ برصغیر میں نمودار ہوئی ہے اور بقول ان کے ان کا اسلام، خدا، رسول اور ان کے تمام افکار و عقائد مسلمانوں سے الگ ہیں۔ ان سے سماجی اور معاشرتی تعلقات بالکل منقطع ہیں۔ بلکہ مسلمانوں کے مقابلہ میں ان کے ہاں انگریز انہیں ہر درجہ محبوب ہیں اور ان کی وفاداری واطاعت اور محبت وخلوص کے مستحق ہیں۔ اس طرح انہوں نے اپنی روحانی برادری سے رشتہ جوڑ لیا ہے۔

مسلمانوں کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیتے ہیں۔ ان کی عورتوں کو کتیوں کے نام سے خطاب کرتے ہیں۔ مسلمانوں کو قزاق ، چور اور حرامی بھی تصور کرتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود اپنے آپ کو انہیں میں شمار کرانا چاہتے ہیں اور مسلمان قوم کے مفادات سے بھی حصہ مارنا چاہتے ہیں اور ان میں گھسے رہنے پر اصرار بھی کرتے ہیں۔ عقل و دیانت کے نزدیک ان کا یہ رویہ کہاں تک مبنی بر انصاف ہو سکتا ہے؟ یہ آئندہ وقت بتائے گا۔

برطانیہ کی جاسوسی ، جھوٹے نبی کا حقیقی مشن تھا

انگریز کی غلامی سے چھٹکارا پانے اور مسلمان قوم کو ظالم اور خونخوار حکومت کے پنجہ سے چھڑانے کے لئے علماء اور عوام میں سے جو افراد بھی جدوجہد کر رہے تھے اور انگریزوں کے خلاف باغیانہ جذبات رکھتے تھے۔ ان کی مکمل فہرست لکھ کر قادیانی امت حکومت برطانیہ کو مہیا کرتی رہی ہے۔

نام بھی نقشہ جات میں درج کئے جائیں جو درپردہ اپنے دلوں میں برٹش انڈیا کو دارالحرب سمجھتے ہیں اور ہم امید کرتے ہیں کہ ہماری گورنمنٹ ان نقشوں کو مکمل راز کی طرح اپنے کسی دفتر میں محفوظ رکھے گی۔ ایسے لوگوں کے نام اور پتہ یہ ہیں۔“

(تبلیغ رسالت ج ٥ ص ١١، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٢٢٧)

دنیا کی نظروں میں قادیانیوں کا مشن، انگریز کے ایجنٹ

افتتاح کی تقریب میں ایک جرمن وزیر نے شمولیت کی تو حکومت نے اس سے جواب طلب کیا کہ کیوں تم ایسی جماعت کی کسی تقریب میں شامل ہوئے جو انگریزوں کی ایجنٹ ہے۔“

(الفضل مورخہ یکم نومبر ١٩٣٣ء ج ٢٢ نمبر ٥٤ ، ص ١٢)

٥٥

صفحہ ٣٥٢

باہمی مفاد ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔ اس لئے جہاں میں اپنے سلسلہ کی تبلیغ کرتا تھا۔ وہاں لازماً مجھے گورنمنٹ انگریزی کی خدمت گزاری ( جاسوسی ) بھی کرنی پڑتی تھی۔“

(الفضل قادیان مورخہ ٢٨ ستمبر ١٩٢٣ء ص ١١ ج ١١ نمبر ٢٥)

خدا کا دین دنیا میں غالب کرنے اور دنیا سے ظلم و فساد ختم کرنے والی نبوت کا برسرِاقتدار گروہ سے ہمیشہ تصادم ہوا۔ کبھی کسی جاہلی نظام نے کسی نبی، کسی مجدد اور مصلح اور کسی انقلابی شخصیت کو ٹھنڈے پیٹوں برداشت نہیں کیا۔ کسی نبی نے حکمرانوں سے کوئی ساز باز نہیں کی۔ کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر کوئی مصالحت نہیں کی۔ خدا سے پکڑے ہوئے معاشرے اور اس کے بے دین حکمرانوں کے آستانہ ناز پر کبھی عقیدت و نیاز کا سر نہیں جھکایا اور نہ ایسے خدا کے باغی نظام کی سرپرستی انہیں میسر ہو سکتی تھی۔ کسی جھوٹی نبوت کا سکہ صرف انگریزی حکومت میں چل سکتا ہے اور امت مسلمہ کی ایمانی اور اخلاقی طاقت سے دونوں کو خطرہ ہے۔ جس سے بچنے کے لئے انگریزوں نے جھوٹی نبوت کا سوانگ رچایا۔

انگریز اور قادیانی نبوت دونوں ہم آہنگ ہیں

ہے۔ ہمارے فوائد اس گورنمنٹ سے متحد ہو گئے ہیں۔ اس گورنمنٹ کی تباہی ہماری تباہی ہے۔ اس کی ترقی ہماری ترقی ہے۔ جہاں اس کی حکومت پھیلتی جاتی ہے۔ ہمارے لئے تبلیغ کا ایک میدان نکلتا ہے۔“

(الفضل قادیان مورخہ ١٩ اکتوبر ١٩١٥ء ج ٣ نمبر ٥١)

ترکوں کی شکست پر خوشی کا اظہار یا ترکوں کی گردن پر قادیانی تلوار

١٩١٤ء، ١٩١٨ء کی جنگ عظیم میں ترکوں کو متواتر شکستیں ہوئیں۔ اس پر الفضل (قادیانی اخبار) میں خوشی کا اظہار یوں کیا گیا۔

فتح (بغداد) پر کیوں خوشی نہ ہو۔ عراق، عرب ہو یا شام۔ ہم ہر جگہ اپنی تلوار کی چمک دیکھنا چاہتے ہیں۔“

(الفضل قادیان مورخہ ١٧ دسمبر ١٩١٨ء، ج ٦ نمبر ٤٢ ص ٩)

قادیانی تلوار کی کارکردگی آپ نے دیکھی۔ اس کے عزائم بھی آپ نے دیکھے کہ عالم اسلام کی گردنیں ناپنا چاہتے ہیں۔ پھر انہیں مسلمانوں میں گھسے رہنا بھی چاہتے ہیں۔ یہ امت مار آستین کو کب جھٹک کر الگ کرے گی۔ اس ساعت سعید کا انتظار ہے۔

٥٦

صفحہ ٣٥٣

آج بھی قادیانی فرقہ کی ہمدردیاں اور وفاداریاں غیر ملکی طاقتوں اور پرانے آقاؤں کے ساتھ وابستہ ہیں۔

مسلمانوں کی دھوکہ دہی کے لئے ایک اور قلابازی

انہوں نے انصاف اور سچائی کا خون کیا۔ اس کا اندازہ کون کر سکتا ہے؟“

(ازالہ اوہام ص ٤٩٢، خزائن ج ٣ ص ٣٦٤)

انگریز کا خودکاشتہ پودا

ہے کہ سرکار دولت مدار، اس خودکاشتہ پودا کی نہایت حزم واحتیاط وتحقیق وتوجہ سے کام لے اور اپنے ماتحت حکام کو اشارہ کرے کہ وہ بھی اس خاندان کی ثابت شدہ وفاداری اور اخلاص کا خیال رکھے کہ مجھے اور میری جماعت کو خاص عنایت کی نظر سے دیکھیں۔ ہمارے خاندان نے سرکار انگریزی کی راہ میں اپنا خون بہانے اور جان دینے سے دریغ نہیں کیا اور نہ اب دریغ ہے۔“

(تبلیغ رسالت ج ٧ ص ١٩، ٢٠، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢١)

انگریزی پودا ایشیاء کی سرزمین میں اب کون نہیں پہچان سکتا۔

بھی ہماری جماعت نے علاوہ اور کئی قسم کی خدمات کے ایک ڈبل کمپنی پیش کی۔ خود ہمارے سلسلہ کے بانی کے چھوٹے صاحبزادے نے اپنی خدمات پیش کیں۔ چھ ماہ تک ٹرانسپورٹ کور میں آنریری طور پر کام کرتے رہے۔“

(جماعت احمدیہ کا سپاس نامہ بخدمت لارڈ ریڈنگ وائسرائے ہند مورخہ ٢٤ جنوری ١٩٢٤ء)

اپنی نبوت کے تحفظ کے لئے خونریزی جائز ہے

”سب سے پہلی مقدم اور آخری چیز جس کے لئے ہر احمدی کو اپنے خون کا آخری قطرہ تک بہا دینے میں دریغ نہ کرنا چاہئے۔ ورنہ حضرت مسیح موعود اور سلسلہ قادیانی کی ہتک ہے۔“

(الفضل قادیان مورخہ ٢٠ اگست ١٩٣٥ء ج ٢٣ نمبر ٣٣ ص ٥)

ہے کہ آپ کے احکام کے مقابلے میں وہ ساری دنیا کی پرواہ نہیں کرے گا۔ وہاں وہ یہ بھی عہد کرتا

٥٧

صفحہ ٣٥٤

ہے کہ آپ کی حرمت اور آپ کی تقدیس کے لئے اپنی جان بھی دینا پڑے گی تو دریغ نہیں کرے گا۔‘‘

(الفضل قادیان مورخہ ١٥؍اپریل ١٩٣٠ء ج ١٧ نمبر ٨٠ ص ٣)

لیکن خاتم النبیین کے ناموس کے تحفظ کے لئے ہاتھ اٹھانا گمراہی ہے

١٩٢٩ء میں رنگیلا رسول لکھنے والے لاہور کے ایک ہندو کو جب ایک غیور مسلمان علم الدین نے قتل کردیا تو خلیفہ محمود قادیانی نے یہ بیان دیا۔ ’’انبیاء کی عزت کی حفاظت، قانون شکنی کے ذریعہ نہیں ہوسکتی۔ عزت بچانے کے لئے خون سے ہاتھ رنگنے پڑیں۔ جس کے بچانے کے لئے دین تباہ کرنا پڑے۔ یہ سمجھنا کہ محمد رسول اللہ کی عزت کے لئے قتل کرنا جائز ہے۔ سخت حماقت اور گمراہی ہے۔‘‘

(الفضل قادیان مورخہ ١٩؍اپریل ١٩٢٩ء ص ٧ نمبر ٨٢)

عیار اور بددیانت گروہ کے لینے کے پیمانے اور دینے کے اور ہوتے ہیں۔ جھوٹے نبی کے لئے جان لڑادو۔ لیکن محبوب خدا حضرت خاتم النبیین ﷺ کے خلاف زہر اگلنے والوں کو کھلی چھٹی ہے اور ان کے خلاف کوئی قدم اٹھانا حماقت اور گمراہی ہے۔ کیا اپنے دعوے کے بعد پھر بھی یہ امت مسلمہ میں رہ سکتے ہیں۔ جب کہ اختلاف نبوت نے عقائد ونظریات ہی تبدیل کر دیئے اور وفاداری کے مرکز ہی بدل گئے۔ کیا حضور ﷺ کی توہین گوارا کرنے والا کوئی مسلمان بھی ہوسکتا ہے؟

مذہب کے روپ میں خطرناک سیاسی پروگرام

’’اس وقت اسلام کی ترقی خدائے تعالیٰ نے میرے ساتھ وابستہ کردی ہے۔ یاد رکھو کہ سیاسیات اور اقتصادیات اور تمدنی امور حکومت کے ساتھ وابستہ ہیں۔ یعنی جب تک ہم اپنے نظام کو مضبوط نہ کریں اور تبلیغ اور تعلیم کے ذریعے حکومتوں پر قبضہ کرنے کی کوشش نہ کریں۔ ہم اسلام کی ساری تعلیموں کو جاری نہیں کر سکتے۔‘‘

(الفضل ج ٢٣ نمبر ٢٩٩ ص ٤، مورخہ ٢٥؍جون ١٩٣٦ء)

فرقان بٹالین

اپنے سیاسی عزائم کو دنیا میں وسیع کرنے اور اپنے فرقہ کی حکومت قائم کرنے کے لئے ربوہ سیکرٹریٹ میں مرزائیوں نے ایک بٹالین قائم کی ہے۔ جو بوقت ضرورت کام آسکتی ہے۔ انکوائری رپورٹ کے جج صاحبان اس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔ ’’ان کے پاس رضا کاروں کا ایک جیش بھی ہے۔ جس کو خدام الاحمدیہ کہتے ہیں۔ فرقان بٹالین اس جیش میں سے ایک ہے اور یہ خالص احمدی بٹالین ہے۔‘‘

(انکوائری رپورٹ ص ٢١١)

اب اس بٹالین کا مصرف مرزا محمود کے مذکورہ بیان کی روشنی میں سمجھنا کچھ مشکل نہیں

٥٨

صفحہ ٣٥٥

ہے کہ یہ ایک خالص سیاسی جماعت ہے جو مسلمانوں میں اختلاف نبوت کی بناء پر انتشار پیدا کر کے انگریز یہود کے ناپاک عزائم کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے معرض وجود میں آئی ہے اور اپنی طرز کی ریاست بنانے کے لئے اول روز سے بتدریج عملی مراحل طے کرتی چلی آرہی ہے اور اپنی جماعت کو اسی مقصد کے لئے تربیت دی جارہی ہے۔

مرزا ناصر نے تخت خلافت سنبھالنے کے تین ماہ بعد یہ بیان دیا۔ "ہمیں عظیم قربانیاں دینی ہوں گی۔ جب ہم اپنا سب کچھ خدا کی راہ میں قربان کردیں گے۔ تب خدا کہے گا کہ میں اپنا سب کچھ کیوں بچا رکھوں۔ میں بھی اپنی سب برکتیں تمہیں دیتا ہوں۔"

(الفضل قادیان مورخہ ٢٨ فروری ١٩٦٧ء)

"اپنی جماعت کو آئندہ حالات کے لئے تیار کرنے کی مختلف سکیموں پر توجہ دلائی جاتی ہے۔ ہماری یہ پود صحیح رنگ میں تربیت حاصل کر کے وہ ذمہ داریاں نباہ سکے گی جو عنقریب ان کے کندھوں پر پڑنے والی ہیں۔ کیونکہ میری توجہ کو اس طرف پھیرا گیا تھا کہ آئندہ پچیس سال اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے لئے بڑے ہی اہم اور انقلابی ہیں اور اسلام کے غلبہ کے بڑے سامان اسی زمانہ میں پیدا کئے جائیں گے اور دنیا کثرت سے اسلام میں داخل ہوگی۔ اس وقت اس کثرت کے ساتھ ان میں مربی اور معلم چاہئیں اور معلم اور مربی جماعت کہاں سے لائے گی؟ اگر آج اس کی فکر نہ کی گئی۔ اس لئے ان کی فکر کرو۔ پہلے بڑوں کی تربیت کرنا ضروری ہے تا کہ ان کے ذریعہ ان چھوٹوں کی تربیت کی جاسکے۔ جن پر بڑی اہم ذمہ داریاں عنقریب پڑنے والی ہیں۔"

(الفضل قادیان مورخہ ٢٨ جون ١٩٦٧ء)

جن مقاصد کے لئے اپنی جماعت کو تیار کیا جارہا ہے۔ وہ ان بیانوں سے بخوبی واضح ہیں۔ ظاہر ہے کہ لادینی طاقتوں کے تعاون سے یہ جھوٹی نبوت کی ریاست قائم کرنا چاہتے ہیں۔ تا کہ سیاسی قوت کے ساتھ اپنے مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے اور مخالف مسلمان طبقہ کا دفاع بھی اطمینان کے ساتھ کیا جائے۔ ان بیانات کی روشنی میں ایشیاء میں ابھرنے والی یہ نئی اسرائیلی ریاست مسلمانوں کی ملی اور ایمانی غیرت کو جس طرح چیلنج کررہی ہے۔ اس کے بارے میں غفلت اور فرض ناشناسی کی بناء پر کسی سخت ترین سزا کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں آنے والے فتنہ سے بچائے اور حق و باطل میں صحیح قوت فیصلہ عطاء فرمائے اور اس امر کی توفیق بھی عطاء فرمائے کہ اسلام جس حفاظت اور سلامتی کے ساتھ ہم تک پہنچا ہے ہم اسے اسی احتیاط و حفاظت کے ساتھ آنے والی نسلوں تک پہنچانے میں کامیاب ہوسکیں۔

٥٩

صفحہ ٣٥٦

سرقہ یا تحریف

حریم نبوت میں گھس کر وہ خصوصی الفاظ واصطلاحات بھی چرا لئے جو انبیاء علیہم السلام، امہات المومنین اور صحابہ کرامؓ کے لئے مخصوص ہیں۔ مثلاً نبی کے ساتھ علیہ السلام، ازواج مطہرات کے ساتھ ام المؤمنین، صحابہ کے لئے رضی اللہ عنہ، اسی طرح اپنے نام کے ساتھ علیہ السلام، اپنی مستورات کے لئے ام المؤمنین، اپنے پیروکاروں کے لئے رضی اللہ عنہ کے الفاظ چسپاں کر کے ان مقدس ہستیوں کی توہین کرتے ہیں۔ اس کے بعد سلسلہ اور منہج کی توہین ہوتی ہے۔

قرآن کی توہین

کیا اور خدا کا کلام اس قدر مجھ پر نازل ہوا کہ اگر وہ تمام لکھا جائے تو بیس جزو سے کم نہ ہوگا۔“

(براہین احمدیہ ص٤٩٩، خزائن ج١ ص٥٩٣)

قادیان۔“

(ازالہ اوہام ص٧٧حاشیہ، خزائن ج٣ ص١٤٠)

حضرت صدیقؓ اور فاروقؓ کی توہین

بھی نہ تھے۔“

(المہدی نمبر ٢)

حضرت علیؓ کی توہین

(مرزا قادیانی) اس کو تم چھوڑتے ہو اور مردہ علی کی تم تلاش کرتے ہو۔“

(ملفوظات احمدیہ ج٢ ص١٤٢)

حضرت فاطمہؓ کی توہین

میں سے ہوں۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ص٩ حاشیہ، خزائن ج١٨ ص٢١٣)

کعبہ کی توہین

”من دخلہ کان آمناً “ خانہ کعبہ کو امن کا مقام اللہ تعالیٰ نے بخشا تھا۔ مرزا قادیانی نے یہ آیت قادیان میں اپنی مسجد پر چسپاں کر دی۔

(براہین احمدیہ ص٥٥٨، خزائن ج١ ص٦٦٧)

٦٠

صفحہ ٣٥٧
زمین قادیان اب محترم ہے
ہجوم خلق سے ارض حرم ہے

(درثمین اردو ص ٥٢)

صحابہ کرامؓ کی توہین

پس جو میری جماعت میں داخل ہوا وہ داخل ہوا سید المرسلین کے صحابہ میں۔

(خطبہ الہامیہ ص ١٧١، خزائن ج ١٦ ص ٢٥٨)

نئی نبوت پر ایمان نہ لانے والوں پر بازاری الفاظ کی بوچھاڑ

ہمارے دشمن جنگلوں کے خنازیر ہوں گے اور ان کی عورتیں کتوں سے بڑھ گئی ہیں۔

(نجم الہدیٰ ص ٥٣، خزائن ج ١٤ ص ٥٣)

قلوبهم“ کنجریوں کی اولاد کے بغیر جن کے دلوں پر اللہ نے مہر لگادی ہے۔ باقی سب میری نبوت پر ایمان لا چکے ہیں۔

(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٤٧، ٥٤٨، خزائن ج ٥ ص ٥٤٧، ٥٤٨)

علمائے امت کے خلاف بدزبانی

یہودیانہ خصلت کو چھوڑو گے۔ اے ظالم مولویو! تم پر افسوس کہ تم نے جس بے ایمانی کا پیالہ پیا۔ وہی عوام کالانعام کو پلایا۔“

(انجام آتھم ص ٢١ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢١)

اسلام کے دشمن...... دنیا میں سب جانداروں سے زیادہ پلید اور کراہت کے لائق خنزیر ہیں۔ مگر خنزیر سے زیادہ پلید وہ لوگ ہیں جو اپنے نفسانی جوش کے لئے حق کو چھپاتے ہیں۔ اے مردار خوار مولویو! او گندی روحو! اے اندھیرے کے کیڑو۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢١، خزائن ج ١١ ص ٣٠٥)

ان کے علاوہ مولانا ثناء اللہ، مولانا محمد حسین بٹالویؒ، منشی الٰہی بخش اور دیگر علماء کے خلاف جو گندی زبان اور ذلیل الفاظ بے تحاشا زبان نبوت پر جاری ہوتے رہے۔ انہیں سن کر شیطان نے بھی کان لپیٹ لئے ہوں گے اور ممکن ہے اطمینان کے ساتھ اپنی کارکردگی کی بساط بھی

٦١

PDF 359

لپیٹ دی ہو۔ اگر یہ تہذیب و شرافت ہے تو پھر لغت سے اس کا وہ مفہوم خارج کرنا ہوگا۔ جواب تک شرفاء کے ہاں سمجھا جاتا رہا۔ اس گندگی کی پوٹلی کو کھولنے کی ضرورت نہیں۔ نمونہ اوپر پیش کر دیا گیا۔ کون ہے جو اس زبان پر فدا نہ ہو۔

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ عوام کو گالیاں سکھانے کے لئے ہی نئی نبوت کا ظہور ہوا ہے۔ ملت اسلامیہ سے کٹنے کے بعد یہ شخص آخر دم تک دینی فریضہ کی حیثیت سے دنیا کی سب سے بڑی ظالم اور مسلم کش حکومت کی جاسوسی کرتا رہا اور اس کے بدلے انگریزی وظائف وصول کرتا رہا۔ اس گھناؤنے کردار کے ساتھ ساتھ اس کا یہ بیہودہ اور ایمان سوز دعویٰ یہ بھی ہے۔ ”من فرق بینی وبین المصطفیٰ فما عرفنی“

(خطبہ الہامیہ ص ٢٥٩، خزائن ج ١٦ ص ٢٥٩)

ایسے ظالم نبی اور اس کی سازشی امت کو برداشت کرنے پر خدائی غضب کی بجلیاں نہیں چمکیں گی۔ خدا اور رسول کے خلاف بغاوت پھیلانے اور ان کی شان میں گستاخیاں کرنے والے ذلیل عناصر طاعونی چوہوں کی طرح وبا پھیلاتے رہیں اور خدا اور رسول کی محبت کا دعویٰ کرنے والے مومن خاموش تماشا دیکھتے رہیں؟ اس کا نتیجہ ملی زندگی کے لئے عبرتناک ثابت ہوسکتا ہے۔

انگریزوں کا پروانہ خوشنودی

مرزا قادیانی کے خاندان کا ایک ایک فرد جب بڑھ چڑھ کر انگریزی حکومت پر فدا ہونے لگا تو انگریز جیسی قدرشناس قوم نے سند قبولیت بخشا ۔ ” از رابرٹ کسٹ صاحب بہادر کمشنر لاہور، تہور و شجاعت دستگاہ مرزا غلام مرتضیٰ رئیس قادیان بعافیت باشند، ازاں جا کہ مفسدہ ہندوستان مرقومہ ١٨٥٧ء از جانب آپ کے رفاقت اور خیر خواہی سرکار دولت مدار انگلیشیہ در باب نگہداشت سواراں و بہمرسانی اسپاں بخوبی منصہ ظہور پہنچے اور شروع مفسدہ سے آج تک آپ بدل و جان سرگرم رہے اور باعث خوشنودی سرکار ہوا۔ لہٰذا بصلہ اس خیر خواہی و خیرسگالی کے خلعت مبلغ دو سو روپیہ سرکار سے آپ کو عطاء ہوتا ہے اور حسب منشاء چٹھی صاحب چیف کمشنر بہادر نمبر مورخہ ١٠؍اگست ١٨٥٨ء پروانہ ہذا باظہار خوشنودی سرکار و نیک نامی و وفاداری بنام آپ کے لکھا جاتا ہے ۔“

(شہادۃ القرآن ص ٩٠، ٩١، خزائن ج ٦ ص ٣٨٦، ٣٨٧)

اپنے ہی پیش کردہ دعوٰی کے مطابق جھوٹا نبی

فاتح قادیان مولانا ثناء اللہ کے خلاف مرزا قادیانی نے مورخہ ١٥؍ اپریل ١٩٠٧ء کو ایک اشتہار شائع کیا۔ اس کی آخری سطر یہ ہے۔ ”پس اگر وہ سزا جو انسان کے ہاتھوں سے نہیں بلکہ خدا کے ہاتھوں سے ہے۔ یعنی طاعون، ہیضہ وغیرہ مہلک بیماریاں، آپ پر میری زندگی میں

٦٢

وارد نہ ہوئیں تو میں خدا کی طرف سے نہیں

(اخبار بدر

مرزا قادیانی نے پیش گوئی مہلک بیماریاں حملہ آور ہوں گی اور ا

(مولانا ثناء اللہ مرحوم) کی زندگی میں

ذریعے ٢٦؍ مئی ١٩٠٨ء بمقام لاہور فو بمقام سرگودھا ٹھیک چالیس سال بعد فو

امت کی آنکھیں کھلتی نہیں ہیں اور چہرہ

یہ ہے صحیح قدر پر جھوٹی نبوت زندگی کے تمام شعبوں پر سیر حاصل بح اس کے وہ چند نمایاں خدوخال واضح ہے۔ ایک مسلمان کے اطمینان کے دیا ہے۔ اس کے بعد جو شخص بھی نبوت افتراء پرداز اور ملعون ہوگا۔ پھر اس کی جن پر توجہ دینا بھی کفر ہے اور ختم نبوت واردات سے بچانے کے لئے عوام کے

ختم نبوت اللہ کی رحمت ہے

امت مسلمہ کی وحدت اور پیروی پر تمام مسلمانوں کو اکٹھا کر دینا صرف آنحضور ﷺ کے ذریعہ ہمیں می ویسے تو آنحضور ﷺ نوع لیکن خاتم النبیین کی حیثیت سے آپ دور میں ایک شخص نے نبوت کا جھوٹا دع کرنے کی کوشش کی۔ اپنی ایک الگ ام ساتھ سماجی بائیکاٹ کا اعلان کیا گیا اور سب کچھ ہم سے الگ ہے۔ ان کے سا

صفحہ ٣٥٩

وارد نہ ہوئیں تو میں خدا کی طرف سے نہیں ۔ “

(اخبار بدر قادیان، تبلیغ رسالت ج ١٠ ص ١١٩، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٧٨)

مرزا قادیانی نے پیش گوئی کی تھی کہ سچے کی زندگی میں جھوٹے پر طاعون، ہیضہ وغیرہ مہلک بیماریاں حملہ آور ہوں گی اور اس کی موت انہیں سے ہوگی۔ اس معیار کے مطابق سچے (مولانا ثناء اللہ مرحوم) کی زندگی میں مرزا قادیانی (جھوٹا نبی) اپنی منتخب کردہ مرض ہیضہ کے ذریعے ٢٦؍ مئی ١٩٠٨ء بمقام لاہور فوت ہوا اور مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ مورخہ ١٥؍ مارچ ١٩٤٨ء بمقام سرگودھا ٹھیک چالیس سال بعد فوت ہوئے۔ لیکن اس قسم کی تک بازیوں کے باوجود قادیانی امت کی آنکھیں کھلتی نہیں ہیں اور چہرۂ حقیقت ان کے دماغ میں سما نہیں رہا۔

یہ ہے صحیح تصویر جھوٹی نبوت کی، خود اس کے اپنے لٹریچر کے آئینہ میں مرزا قادیانی کی زندگی کے تمام شعبوں پر سیر حاصل بحث بے سود بھی ہے اور بہت طویل بھی۔ اس مختصر مقالے میں اس کے وہ چند نمایاں خدوخال واضح کئے گئے ہیں۔ جن کی بناء سچ اور جھوٹ بالکل واضح نظر آتا ہے۔ ایک مسلمان کے اطمینان کے لئے اتنی بات کافی ہے کہ خدا اور رسول نے ختم نبوت کا اعلان کر دیا ہے۔ اس کے بعد جو شخص بھی نبوت کا دعویٰ کرے گا۔ آپ کی پیش گوئی کے مطابق کذاب، مفتری، دجال اور ملعون ہوگا۔ پھر اس کی کرامات پیش گوئیوں اور دعووں کی کیا حقیقت رہ جاتی ہے۔ جن پر توجہ دینا بھی کفر ہے اور ختم نبوت کے عقیدہ میں شگاف پیدا کرنے کا باعث ہے۔ لیکن کفر و ارتداد سے بچانے کے لئے عوام کے سامنے جھوٹی نبوت کو بے نقاب کرنا ضروری ہے۔

ختم نبوت اللہ کی رحمت ہے

امت مسلمہ کی وحدت اور مسلم معاشرے کی یگانگت واستحکام کے لئے ایک نبی کی پیروی پر تمام مسلمانوں کو اکٹھا کر دینا اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی رحمت ہے اور یہ وہ عظیم نعمت ہے جو صرف آنحضور ﷺ کے ذریعہ ہمیں میسر ہوئی۔

ویسے تو آنحضور ﷺ نوع انسانی کے لئے ہر لحاظ سے ہی مجسم رحمت بن کر آئے ہیں۔ لیکن خاتم النبیین کی حیثیت سے آپ کی رحمت کے فیضان کا اندازہ اس سے ہوتا ہے کہ ہمارے ملک میں ایک شخص نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کر کے مسلمانوں کے فکر واعتقاد میں کتنا بڑا انتشار پیدا کرنے کی کوشش کی۔ اپنی ایک الگ امت بنائی اور نہ ماننے والوں کو کافر قرار دے دیا۔ ان کے ساتھ سماجی بائیکاٹ کا اعلان کیا گیا اور صاف کہہ دیا کہ ان مسلمانوں کا اسلام، خدا، رسول وغیرہ سب کچھ ہم سے الگ ہے۔ ان کے سیاسی حقوق ہم سے الگ ہیں اور معاشرے میں ان کی حیثیت

٦٣

صفحہ ٣٦٠

منکرین نبوت کی ہے۔ اسی طرح کئی نبوتیں اگر کسی ملک اور کسی دور میں بیک وقت ظہور نما ہو جائیں اور ہر ایک نبی کی اپنی الگ امت ہو۔ ہر ایک کے ہاں قانون و ہدایت کے ماخذ اور وفاداری و اطاعت کے مرکز مختلف ہوں۔ پھر ہر نبوت کے تسلیم و انکار پر اسلام کا نیا فرقہ شروع ہو جائے۔ تو یہاں اسلام کس کے ہاں ملے گا۔ امت مسلمہ کی مرکزیت اور اس کا اتحاد و استحکام کہاں رہے گا۔ نئی امتیں، نئے نبی، نئے مرکز ہدایت اور ہر دور میں نئی، نئی بدلتی شریعت، فکری انتشار اور عملی گمراہی کو کون روک سکتا ہے۔

لیکن خدا اور رسول نے اس فتنہ سے پیشگی مطلع فرما کر قیامت تک امت کے ایمان کو محفوظ کر دیا اور واضح کر دیا کہ اب اس کے بعد سلسلۂ انبیاء ختم کر دیا گیا ہے۔ تمہاری ہدایت اور نجات کے لئے یہی آخری دین، یہی کتاب اور یہی آخری لیکن کامل رسول ہے۔ جو قیامت تک کے دور پر حاوی ہے۔ اب آئندہ جو بھی دعویٰ نبوت کرے گا وہ فریب کار اور کذاب ہوگا اور یہ کارگاہ عالم قرآن و سنت کی موجودگی میں جھوٹے نبیوں کی تکفیر و ارتداد کی شکار گاہ نہیں بن سکے گا اور آئندہ نئے رسولوں کے انتظار سے امت کو سبک دوش کر دیا گیا۔ ورنہ ہر نیا نبی اپنے سے پہلی امتوں کو کافر قرار دے کر اپنے کام کا آغاز کرتا اور نبوت کا دروازہ کھلنے کے بعد یہ سلسلہ قیامت تک رک نہیں سکتا۔ یہ آنحضور ﷺ کی ختم نبوت ہی کی کرامت ہے کہ آپ ﷺ کے بعد جس نے بھی نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا۔ اپنے پیروکاروں سمیت اسلامی معاشرے میں پھٹکار کا مستحق ہوا اور ایمانی فراست ان کے منحوس چہروں کو پہچان لینے میں دھوکا نہیں کھا سکتی اور علمائے امت نے ہر دور میں ایسے فتنہ گروں کو بے نقاب کیا ہے۔ نبوت کا دعویٰ کرنے والوں کو دماغی عدم توازن، فکری اختلال اور ان کا علمی عملی اور اخلاقی افلاس خود ہی ان کے چہرے کا طمانچہ بنا۔ جھوٹ اور تضاد نے ان کے تاریخی چہرے پر سیاہی انڈیل دی۔ اس فکر و کردار کے لوگوں نے ہمیشہ مسلمانوں سے غداری اور باطل سے وفاداری کی۔ کھلم کھلا کافروں کے مقابلہ میں ایسے نقاب پوش غیر مسلم ہمیشہ خطرناک ثابت ہوئے ہیں۔ خدا اور رسول پر جھوٹ بہتان باندھنے والوں سے مسلمانوں کو چوکنا رہنا چاہئے۔

مرزا قادیانی کے دعوے ان کی تحریریں اور ان کے کلام کو دیکھ کر یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ ختم نبوت کی مہر توڑنے والوں کی علمی، فکری اور اخلاقی سطح کس حد تک پست ہوتی ہے۔ وحی و الہام کے نام سے پیش کردہ کلام کی ژولیدگی و پستی، اس امر کی شہادت دیتی ہے کہ مصنف کی یہ تصنیف جھوٹ، غیر مربوط اور مضحکہ خیز دعوؤں کا پلندہ ہے۔ جسے سزا کے طور پر کسی کو پڑھنے کے لئے دیا جا سکتا ہے۔ لیکن علم و ہدایت اور کسی اخلاقی تعلیم و ارشاد کی روشنی یہاں کہاں ملے گی۔ جب

٦٤

کہ کوئی صحیح الدماغ انسان آنحضرت جھوٹے انسان کی کوئی بات عقل مند زینت تو بن سکتے ہیں تاکہ دیکھنے والوں توقع رکھنا گویا کیکر میں انگور لگنے کی خو سے دھوکہ نہ کھانا چاہئے۔ گمراہی اور فر کھڑے کر سکتا ہے۔

نبوت کا دعویٰ کوئی کھیل نہیں

سے پہلے کے خدا اور رسول پر ایمان لانے لوگوں کو دوزخی اور جہنمی بنانے کا نہایت قرار پاتے ہیں اور جھوٹا اور مفتری ہو باعث ہوگا۔ جس پر عوام کی فلاح و نج کھیل نہیں بننے دیا جاتا۔

مرزائیوں کے مذہبی روپ کا

سرسری نگاہ میں بعض سا مذہبی رنگ ڈھنگ سے دھوکہ لگ سک روزہ، کلمہ اور تلاوت کلام پاک سے مذہبی آئینہ میں مسیلمہ کذاب کا چہرہ د آنحضرت ﷺ کی رسالت کا اقرار کر اسلام اور بہ ظاہر دینی بہروپ کا کا دعویٰ نبوت کا جھوٹا اعلان بھی تھا۔ چن کے یہ الفاظ منقول ہیں: ”من م فانی قد اشركت في الامر ”اللہ کے رسول مسیلمہ ک آپ کے ساتھ کار نبوت میں شریک مفہوم سمجھنے والے صحابہ کرام کا متفقہ ف محفوظ ہے کہ مسلمانوں کے خلیفہ اوّل

صفحہ ٣٦١

کہ کوئی صحیح الدماغ انسان آنحضورﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ ہی نہیں کر سکتا۔ اگر کرتا ہے تو جھوٹے انسان کی کوئی بات عقل مند انسان کے لئے قابل توجہ نہیں ہے۔ ایسے لوگ عجائب گھر کی زینت تو بن سکتے ہیں تاکہ دیکھنے والوں کو عبرت حاصل ہو۔ اس کے علاوہ ان سے کسی اور بات کی توقع رکھنا گویا کیکر میں انگور لگنے کی خوش فہمی ہے۔ شیطان کا فریب اگر جھوٹا نبی کھڑا کر دے تو اس سے دھوکہ نہ کھانا چاہئے۔ گمراہی اور فریب کاری کا کام لینے کے لئے وہ ہر طبقہ سے اپنے نمائندے کھڑے کر سکتا ہے۔

نبوت کا دعویٰ کوئی کھیل نہیں کہ جو شخص چاہے۔ اٹھ کر نبوت کا دعویٰ کر ڈالے اور اس سے پہلے کے خدا اور رسول پر ایمان لانے والے تمام لوگوں کو یک دم کافر قرار دے ڈالے۔ نبوت تو لوگوں کو دوزخی اور جنتی بنانے کا نہایت اہم معیار ہوتا ہے۔ نبی اگر سچا ہو تو انکار کرنے والے جہنمی قرار پاتے ہیں اور جھوٹا اور مفتری ہو تو یہ اپنے ساتھ اپنی امت کو بھی دوزخ کا ایندھن بنانے کا باعث ہوگا۔ جس پر عوام کی فلاح و نجات کا مدار اور دنیا میں حق و باطل کا معیار ہو۔ اسے بچوں کا کھیل نہیں بننے دیا جاتا۔

مرزائیوں کے مذہبی روپ کا مغالطہ

سرسری نگاہ میں بعض سادہ حضرات کو مرزائیوں کے مذہبی وظائف و تبلیغ اور ان کے مذہبی رنگ ڈھنگ سے دھوکہ لگ سکتا ہے اور اس جال سے بھی یہ عوام کو ورغلایا کرتے ہیں۔ نماز، روزہ، کلمہ اور تلاوت کلام پاک سے اپنی اسلامیت کا اشتہار دیتے رہتے ہیں۔ لیکن اگر اس ظاہری مذہبی آئینہ میں مسیلمہ کذاب کا چہرہ دیکھا جائے تو وہ بھی خیر القرون کا نماز روزہ ادا کرنے والا اور آنحضورﷺ کی رسالت کا اقرار کرنے والا مذہبی انسان نظر آئے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ اس کے اسلام اور بہ ظاہر دینی بہروپ کا کالعدم کرنے والا اور اس کی تمام نیکیوں کو ڈھا دینے والا اس کا دعویٰ نبوت کا جھوٹا اعلان بھی تھا۔ چنانچہ آنحضورﷺ کو اس نے جو خط لکھا تھا تاریخ طبری میں اس کے یہ الفاظ منقول ہیں: ”من مسيلمة رسول الله الى محمد رسول الله سلام عليك فانى قد اشركت فى الامر معك“

(طبری ج٢ ص٢٠٣)

”اللہ کے رسول مسیلمہ کی طرف سے اللہ کے رسول محمد پر بعد از سلام واضح ہو کہ میں آپ کے ساتھ کار نبوت میں شریک کیا گیا ہوں ۔“ لیکن اسلام کے رمز شناس اور ختم نبوت کا حقیقی مفہوم سمجھنے والے صحابہ کرامؓ کا متفقہ فیصلہ اور اس مسئلہ کا عملی حل زمانے کو تاریخ میں اس صورت میں محفوظ ہے کہ مسلمانوں کے خلیفہ اوّل حضرت ابو بکر صدیقؓ نے ١١ھ خالد بن ولیدؓ کی قیادت میں

٦٥

صفحہ ٣٦٢

ایک عظیم الشان لشکر مسیلمہ کذاب کی سرکوبی کے لئے یمامہ کی طرف بھیجا۔ مسیلمہ کی چالیس ہزار فوج میں سے ٢٨ ہزار بمعہ مسیلمہ کے مارے گئے اور بقایا فوج نے ہتھیار ڈال دیئے۔ اس معرکہ میں بارہ سو مسلمان شہید ہوئے۔ (طبری) جھوٹی نبوت کا دعویٰ ہی وہ عظیم فتنہ تھا۔ جس کے خلاف جہاد کرتے ہوئے صحابہ کرام اور تابعین کی اتنی قیمتی جانیں شہید ہوئیں اور مسیلمہ کو آنحضور ﷺ کی نبوت میں شریک بننے کے جنون نے مرتد اور مباح الدم قرار دے دیا۔ مرزا قادیانی اور مسیلمہ کذاب کے دعوؤں میں کوئی فرق نہیں۔ لیکن زمانے کے حالات کی وجہ سے ان کے انجام میں ضرور فرق واقع ہوا۔ نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرنے کے خلاف یہ اس دور کا فیصلہ ہے۔ جسے آنحضور ﷺ نے فرمایا۔ ”خیر القرون قرنی“ زمانوں میں بہترین زمانہ میرا ہے۔ لیکن مرزا قادیانی کو انگریزی نظام کے ذریعہ تحفظ حاصل تھا۔ یہ عوام کی آنکھوں میں مذہبی دھول جھونک کر مغالطے دیتے رہے اور ملت اسلامیہ سے کاٹ کاٹ کر اپنی افرادی قوت بڑھاتے رہے۔ مسلمانوں کے عزائم سے واقف تھے کہ اگر انہیں آزاد اسلامی ریاست میسر آگئی تو پھر ہمیں برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انگریز پرستی ان کی گھٹی میں پڑ گئی اور اس کے زیر سایہ جعلی نبوت پھلتی پھولتی رہی۔ تقسیم ہند انہیں قبول نہ تھی۔

آخر دم تک لادینی ریاست کی حمایت کی وجہ

اسی بناء پر مرزائیوں نے پاکستان کی مخالفت کی اور اکھنڈ بھارت کے حق میں اپنی سازشیں چلاتے رہے۔ چنانچہ مرزا محمود نے اپنی پسندیدہ پالیسی میں ڈوبا ہوا ایک خواب شائع کرایا۔

کامیابی میں کوئی شک نہیں رہتا۔ اللہ تعالیٰ کی اس مشیت سے کہ اس نے احمدیت کے لئے اتنی وسیع جگہ مہیا کی۔ پتہ لگتا ہے کہ وہ سارے ہندوستان کو ایک سٹیج پر جمع کرنا چاہتا ہے اور سب کے گلے میں احمدیت کا جوڑا ڈالنا چاہتا ہے۔ اس لئے ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ ہندو مسلم سوال اٹھ جائے اور ساری قومیں شیر و شکر ہو کر رہیں۔ تاکہ ملک کے حصے بخرے نہ ہوں۔ بیشک یہ کام بہت مشکل ہے۔ مگر اس کے نتائج بہت شاندار ہیں اور اللہ چاہتا ہے کہ ساری قومیں متحد ہوں تاکہ احمدیت اس وسیع بیس پر ترقی کرے۔ چنانچہ اس رؤیا میں اس طرف اشارہ ہے۔ ممکن ہے کہ عارضی طور پر کچھ افتراق ہو اور کچھ وقت کے لئے دونوں قومیں جدا بیدار رہیں۔ مگر یہ حالت عارضی ہوگی اور ہمیں یہ کوشش کرنی چاہئے کہ جلد دور ہو جائے۔ بہر حال ہم چاہتے ہیں کہ اکھنڈ ہندوستان

٦٦

صفحہ ٣٦٤

بنے اور ساری قومیں باہم شیر و شکر ہو کر رہیں۔"

(الفضل قادیان مورخہ ٥ اپریل ١٩٢٧ء)

یہ واضح رہے کہ حسب حال اور حسب موقع ان کے ہاں خواب گھڑے جاتے ہیں اور ایسے ہی خوابوں پر جھوٹی نبوت کی تعمیر اٹھتی ہے۔ محمدی بیگم کے نکاح کے خواب کی طرح یہ خواب بھی شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا۔

لیکن قوموں کی منافرت کی وجہ سے عارضی طور پر الگ بھی کرنا پڑے۔ یہ اور بات ہے کہ ہم ہندوستان کی تقسیم پر رضامند ہوئے تو خوشی سے نہیں بلکہ مجبوری سے اور پھر یہ کوشش کریں گے کہ کس طرح جلد متحد ہو جائیں۔"

(الفضل قادیان مورخہ ١٦ مئی ١٩٤٧ء)

اور یہ حقیقت باخبر حضرات سے مخفی نہیں کہ ان کی بدنیتی اور سازش کی بناء پر گورداسپور کا ضلع پاکستان سے کٹ کر ہندوستان میں شامل کر دیا گیا اور اس طرح کشمیر ہڑپ کرنے کے لئے بھارت کو بہترین موقع ہاتھ آ گیا۔ کتنا احسان ہے قادیانیوں کا امت مسلمہ پر۔

اکھنڈ بھارت کے لئے خواب دیکھنے اور اس کے لئے جدوجہد کرنے کے باوجود اس امت کو پاکستان کے اہم اور ذمہ دار مناصب پر متعین کیا گیا اور ان کی وفاداری و خدمت گزاری شک و شبہ سے بالاتر سمجھی گئی اور جو لوگ خلوص دل سے پاکستان میں اسلامی نظام لانے کے حامی اور اس کے حقیقی استحکام و سلامتی کی جدوجہد کر رہے ہیں۔ وہ پاکستان میں اسلامی نظام لانے کے حامی اور اس کے حقیقی استحکام و سلامتی کی جدوجہد کر رہے ہیں۔ وہ پاکستان کے مخالف سمجھے جاتے ہیں اور اسی قماش کے لوگ ان کے خلاف طرح طرح کے افتراء کی آندھیاں اٹھاتے رہتے ہیں۔ جیسا کہ آزادی کی جدوجہد کرنے والے مسلمانوں کی فہرست خفیہ طور پر انگریزوں کو پہنچایا کرتے تھے۔ آج اسلامی نظام کے لئے متحرک لوگوں کے خلاف جاسوسی اور نفرت پھیلانے کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔

مرزائیوں کی تمام سازشوں اور مخالفتوں کے باوجود جب پاکستان بن گیا تو پھر ان کے لئے اس کے سوا اور کوئی چارہ کار نہ رہا کہ اپنا پروگرام متحدہ ہندوستان بنانے سے پہلے اپنے لئے ایک صوبہ منتخب کر کے اس میں آزادی سے اتنی قوت فراہم کر لیں۔ جو اصل پروگرام (اکھنڈ بھارت) کے لئے راستے آسان بنا دے۔ مندرجہ ذیل بیان قابل غور ہے۔ جس میں صوبہ بلوچستان کا انتخاب کیا جاتا ہے۔

"بلوچستان کی کل آبادی ٥ یا ٦ لاکھ ہے۔ زیادہ آبادی کو احمدی بنانا مشکل ہے۔ لیکن

٦٧

صفحہ ٣٦٤

تھوڑے آدمیوں کو تو احمدی بنانا کوئی مشکل نہیں۔ جماعت اس طرف اگر پوری توجہ دے تو اس صوبہ کو بہت جلد احمدی بنایا جاسکتا ہے۔ اگر ہم سارے صوبے کو احمدی نہ بناسکیں تو کم از کم ایک صوبہ تو ایسا ہو جائے گا۔ جس کو ہم اپنا صوبہ کہہ سکیں گے۔ پس میں جماعت کو اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ آپ لوگوں کے لئے یہ عمدہ موقع ہے۔ اس سے فائدہ اٹھائیں۔ اسے ضائع نہ ہونے دیں۔ پس تبلیغ کے ذریعہ بلوچستان کو اپنا صوبہ بنا لو تاکہ تاریخ میں اپنا نام رہے۔‘‘

(الفضل قادیان مورخہ ٢١ اگست ١٩٤٨ء ص٢ نمبر ١٨٩)

چونکہ ایک جعلی نبوت کے ذریعہ یہ لوگ امت مسلمہ سے کٹ کر خود بخود الگ ہو گئے۔ اس لئے انہیں مسلمان ریاست میں ایک متوازی نظام حکومت اور اپنی مخصوص پالیسی کی ریاست بنانے کا شدید احساس ہوا اور سیاسی رنگ بھی نکھرنے لگا اور یہی ان کا اصلی رنگ ہے۔ لیکن جب یہ اپنے اس مذموم مقصد میں کامیاب نہ ہو سکے۔ تو پھر جنگلی چوہوں کی طرح پاکستان کے تمام محکموں میں اپنی جماعت کے آدمیوں کو داخل کرنا چاہتے ہیں۔ تا کہ اس طرح ایک مؤثر قوت ہاتھ میں لے کر پورے پاکستان پر اپنی حکمرانی کا خواب پورا کیا جاسکے۔

طرح کام نہیں لے سکتی۔ مثلاً موٹے موٹے محکموں سے فوج ہے۔ پولیس ہے، ایڈمنسٹریشن ہے ریلوے ہے، اکاؤنٹ ہے۔ کسٹمز ہے۔ انجینئرنگ ہے۔ یہ آٹھ دس موٹے موٹے صیغے ہیں۔ جن کے ذریعہ جماعت اپنے حقوق محفوظ رکھ سکتی ہے۔ نوکری اس طرح کیوں نہ کرائی جائے۔ جس جماعت فائدہ اٹھا سکے۔ پیسے بھی اس طرح کمائے جائیں کہ ہر صیغہ میں ہمارے آدمی موجود ہوں اور ہر جگہ ہماری آواز پہنچ سکے۔‘‘

(خطبہ مرزا محمود الفضل قادیان مورخہ ١١؍ جنوری ١٩٥٢ء)

زہد و ریاضت کے نتیجے میں نبوت نہیں ملتی

مرزا قادیانی نے اپنی کتابوں میں یہ کافرانہ مغالطہ بھی دیا ہے کہ: ”آنحضورﷺ کی پیروی کمالات نبوت بخشتی ہے اور آپ کی توجہ روحانی نبی تراش ہے۔‘‘

(حقیقت الوحی ص٩٦ حاشیہ، خزائن ج٢٢ ص١٠٠)

عوام رسولوں کی اتباع اس لئے تو نہیں کرتے کہ کمال اطاعت کی وجہ سے ہم بھی نبی بن جائیں۔ کوئی انسان عبادت کرتے کرتے انتہائی معراج پر پہنچ کر رسول نہیں بنے گا۔ نبوت کوئی ارتقائی کمال نہیں کہ زہد و عبادت کے زور سے حاصل ہو جائے نہ یہ کسی فرد کا اپنا اختیار ہے کہ وہ اٹھ کر خود ہی خدا کا پیغام رساں بن جائے۔ بلکہ دنیا میں لوگوں کو پیغام دینے کے لئے موزوں آدمی

٦٨

صفحہ ٣٦٥

ملی نہیں۔ جماعت اس طرف اگر پوری توجہ دے تو اس ہم سارے صوبے کو احمدی بنالیں تو کم از کم ایک صوبہ تو بنا لیں گے۔ پس میں جماعت کو اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اس سے فائدہ اٹھائیں۔ اسے ضائع نہ ہونے دیں۔ پس تاریخ میں اپنا نام رہے۔‘‘

(الفضل قادیان مورخہ ٢١ اگست ١٩٣٨ء ص ٤ نمبر ١٨٩)

یہ لوگ امت مسلمہ سے کٹ کر خود بخود الگ ہو گئے۔ متوازی نظام حکومت اور اپنی مخصوص پالیسی کی ریاست قائم کرنے لگا اور یہی ان کا اصلی رنگ ہے۔ کہ ہم مدینہ میں کامیاب نہ ہو سکے۔ تو پھر جنگلی چوہوں کی طرح بلوں کے ذریعہ آدمیوں کو داخل کرنا چاہتے ہیں۔ تاکہ اس طرح سے ان پر اپنی حکمرانی کا خواب پورا کیا جاسکے۔ ہمارے آدمی موجود نہ ہوں۔ ان سے جماعت پوری محکموں میں فوج ہے۔ پولیس ہے، ایڈمنسٹریشن ہے تک پہنچتی ہے۔ یہ آٹھ دس موٹے موٹے صیغے ہیں۔ رہ سکتی ہے۔ نوکری اس طرح کیوں نہ کرائی جائے۔ رسوخ کمائے جائیں کہ ہر صیغہ میں ہمارے آدمی موجود

(خطبہ مرزا محمود الفضل قادیان مورخہ ١١ جنوری ١٩٥٢ء)

منافقت

یہ کافرانہ مغالطہ بھی دیا ہے کہ: ”آنحضرت ﷺ کی معانی ہی تراش ہے۔“

(حقیقت الوحی ص ٩٦ حاشیہ ، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٠)

نہیں کرتے کہ کمال اطاعت کی وجہ سے ہم بھی نبی بنائی معراج پر پہنچ کر رسول نہیں بنے گا۔ نبوت کوئی مکمل ہو جائے نہ یہ کسی فرد کا اپنا اختیار ہے کہ وہ اٹھ بٹھائیں لوگوں کو پیغام دینے کے لئے موزوں آدمی ٦٨

آدمی کا انتخاب خود اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اور بوقت ضرورت براہ راست ان کو اس منصب سے نوازا جاتا ہے۔ اس کے بعد ان کی زبان سے جو کچھ ادا ہوتا ہے وہ سب اللہ تعالیٰ ہی کا منشاء ہوتا ہے۔ رسول خالق و مخلوق کے درمیان ایک مقدس واسطہ ہوتے ہیں۔ جن کے ذریعہ لوگ شریعت پر عمل اور خدا کی عبادت کے طریقے سیکھتے ہیں۔ اپنی پہلی زندگی میں بھی اگرچہ وہ زہد و ریاضت اور بہترین صلاحیتوں کا مرقع اور انتہائی پاکیزہ سیرت کا نمونہ ہوتے ہیں۔ لیکن پیغام رسانی کے لئے منتخب انہیں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ جس طرح حکومت کی جانب سے کوئی حاکم مقرر کیا جاتا ہے۔ لیکن کوئی شخص بھی اپنی اعلیٰ ڈگریوں کی بناء پر از خود حاکم نہیں بن سکتا۔ لیکن مرزا قادیانی کا مغالطہ کس قدر پر فریب ہے کہ آپ کی پیروی سے انسان مقام نبوت پر فائز ہو جاتا ہے۔ اتنا ہی نہیں بلکہ آنحضرت ﷺ سے بڑھ کر ترقی بھی کر سکتا ہے۔ اسے مجنون کی بڑ سے بڑھ کر اور کیا کہا جاسکتا ہے۔ ختم نبوت کا یہ مفہوم خیر القرون کے صحابہ کرام اور اس ارضی زندگی کے درخشاں ستاروں نے نہ سمجھا۔ جن کے سامنے قرآن کا نزول ہوا۔ جن کے زہد وتقویٰ اور عبادت و ریاضت کے مقابلہ میں قیامت تک کا سرمایہ استقامت کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ جنہیں اللہ تعالیٰ نے خاتم النبیین کی رفاقت اور دنیا میں اپنے دین کی اقامت کے لئے منتخب فرما کر رضی اللہ عنہم و رضوا عنہ کی سند عطاء فرمائی۔ ان کی سعادت و بامرادی کو کون پاسکتا ہے۔ لیکن ایسی سعید روحیں رسول عربی ﷺ کی مقرب اور معزز ہو کر بھی منصب نبوت پر فائز نہ ہو سکیں۔ اس کے برعکس جھوٹے نبی بننے کا انداز کس قدر شرمناک اور بیہودہ ہے۔ جھوٹ کا جادو قدم قدم پر سر چڑھ کر بول رہا ہے۔

محمدی بیگم کے رشتہ کے لئے جھوٹے نبی کی منت و زاری

اس سے پہلے ذکر کیا جا چکا ہے کہ مرزا قادیانی نبی بننے کے جنون میں تمثیلی رنگ میں خود ہی اپنی جنس تبدیل کر کے مریم بنے۔ پھر خود ہی حاملہ بھی ہو گئے۔ دس ماہ بعد عیسیٰ بن کر زمین پر آٹپکے۔ خود ہی اعلان کر دیا کہ مسیح موعود میں ہی ہوں۔

(کشتی نوح ص ٤٦، ملخص، خزائن ج ١٩ ص ٤٩)

ایسا مسیح موعود بننے کے لئے عورت کا روپ دھار لینا شان نبوت کے بالکل خلاف نہیں ہے؟ نبی بننے کے بعد نچلے کب بیٹھ سکتے ہیں۔ ایک لڑکی کے رشتہ کے لئے جنون کی ساری حدیں پھاند گئے۔ اعلان کر دیا کہ محمدی بیگم کا نکاح اللہ میاں نے آسمان پر میرے ساتھ کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ لڑکی کے والد کو بھی ہر قسم کی ترغیب لالچ اور خوشامد کے زور سے مائل کرنا چاہا۔ مرزا قادیانی کے رشتہ دار چونکہ اسے مسیلمہ کذاب کے نام سے پکارتے تھے۔ لہٰذا زمین والوں نے آسمانی نکاح کو تسلیم نہ کیا اور جھوٹا نبی اس رشتہ کے لئے آخر دم تک رال ٹپکاتا اور کف افسوس ملتا رہا ٦٩

صفحہ ٣٦٦

اور بالآخر حسرت و ناکامی کے گہرے زخم سینے میں لئے ہوئے قبر میں جا پہنچا۔

ذیل کے خطوط میں مرزا قادیانی نے ایک لڑکی کے رشتہ کی خاطر جس پستی و ذلت اور جس ذہنی افلاس و گراوٹ کا ثبوت پیش کیا ہے اور اپنی نبوت کی شان کے عین مطابق جس طرح کے سبز باغ دکھائے ہیں۔ وہ ایک حیلہ باز اور مکار انسان کا کریکٹر کھولنے کے لئے واضح ثبوت ہیں۔

درازی عمر کے لئے دعا کروں گا۔ آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ آپ کی لڑکی کو اپنی زمین اور مملوکات کا ایک تہائی حصہ دوں گا۔ اس لئے انکار میں وقت ضائع نہ کیجئے۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٧٣، خزائن ج ٥ ص ٥٧٢، ٥٧٣)

ہوں۔ آپ کو ایک بزرگ دیندار تصور کرتا ہوں۔ آپ کے حکم کو اپنے لئے فخر سمجھتا ہوں۔ ہبہ نامہ پر جب لکھو، حاضر ہو کر دستخط کر جاؤں۔ اس کے علاوہ وہ میری املاک خدا کی اور آپ کی ہے۔ عزیز بیگ ( محمدی بیگم کا بھائی ) کے لئے پولیس میں بھرتی کرنے کی اور عہدہ دلانے کی خاص کوشش و سفارش کر لی ہے اور اس کا رشتہ میں نے ایک بہت امیر آدمی سے جو میرے عقیدتمندوں میں ہے۔ تقریباً کر دیا ہے۔“

(خاکسار مرزا غلام احمد مورخہ ٢٠؍ فروری ١٨٨٨ء)

جھوٹا نبی ایک عورت کے جنون عشق میں کس طرح گڑ گڑا کر اور بار بار ناک رگڑ کر اپنی نیاز مندی کا نذرانہ پیش کرتا رہا۔ یہ حربہ ناکام ہوا تو محمدی بیگم کے والد اور اس کے شوہر کے لئے ہلاکت کی پیش گوئیاں شروع کر دی گئیں۔ ١٨٨٦ء سے ١٨٩٢ء تک شادی کے لئے درخواستوں اور دھمکیوں کا سلسلہ چلتا رہا۔ لیکن بقول مرزا نکاح آسمان پر ہی بندھا رہ گیا اور یہ نکاح بھی مرزا قادیانی نے اپنی صداقت کا خود ہی معیار ٹھہرایا تھا اور اس کے لئے کافی زور بھی لگایا گیا۔ شیطان کے کھڑے کئے ہوئے نبیوں کی شامت اسی طرح اپنے ہی ہاتھوں آیا کرتی ہے۔ کوئی بھی خواب مرزا قادیانی کا پورا نہ ہو سکا۔ اس کریکٹر کا آدمی جس پر نفس و ہوس کا بھوت بری طرح سوار ہے۔ دعویٰ کرتا ہے کہ مجھے حوض کوثر دیا گیا ہے۔ ”انا اعطینک الکوثر“ کا مصداق میں ہوں۔

(حقیقت الوحی ص ١٠٢، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٥)

”ضرور ہوا کہ ہر ایک نبی کی شان مجھ میں پائی جاتی ہے۔“

(تتمہ حقیقت الوحی ص ٨٥، خزائن ج ٢٢ ص ٥٢١)

مرزا قادیانی کی سیرت میں جھانک کر دیکھئے۔ کون سی پیغمبرانہ صفت جھلک رہی ہے۔

٧٠

صفحہ ٣٦٧

پھر جہنم سینے میں لئے ہوئے قبر میں جا پہنچا۔

مرزا قادیانی نے ایک لڑکی کے رشتہ کی خاطر جس پستی و ذلت اور خوشامد کیا ہے اور اپنی نبوت کی شان کے عین مطابق جس طرح کے پاجی اور مکار انسان کا کریکٹر کھولنے کے لئے واضح ثبوت ہیں۔ جس نے میرا قول مان لیا تو مجھ پر مہربانی اور احسان ہوگا۔ میں خدا سے وعدہ کرتا ہوں کہ آپ کی لڑکی کو اپنی زمین اور مملوکات کا اقرار میں وقت ضائع نہ کیجئے۔”

(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٧٣، خزائن ج ٥ ص ٥٧٢، ٥٧٣)

میں صرف یہی عرض کرتا ہوں کہ آپ کا ہمیشہ ادب ملحوظ رکھتا رہا ہوں اور کرتا ہوں۔ آپ کے حکم کو اپنے لئے فخر سمجھتا ہوں۔ میرا نامہ ہاں اس کے علاوہ وہ میری املاک خدا کی اور آپ کی ہے۔ عزیز لئے پولیس میں بھرتی کرنے کی اور عہدہ دلانے کی خاص کوشش کروں گا۔ ایک بہت امیر آدمی ہے جو میرے عقیدتمندوں میں

(خاکسار مرزا غلام احمد مورخہ ٢٠ فروری ١٨٨٨ء)

دیکھئے عشق میں کس طرح گڑگڑا کر اور بار بار ناک رگڑ کر اپنی پھر ناکام ہوا تو محمدی بیگم کے والد اور اس کے شوہر کے لئے سن ١٨٨٧ء سے ١٨٩٢ء تک شادی کے لئے درخواستوں بقول مرزا نکاح آسمان پر ہی بندھا رہ گیا اور یہ نکاح بھی اپنا معیار ٹھہرایا تھا اور اس کے لئے کافی زور بھی لگایا گیا۔ مگر شامت اسی طرح اپنے ہی ہاتھوں آیا کرتی ہے۔ کوئی بھی برے کریکٹر کا آدمی جس پر نفس و ہوس کا بھوت بری طرح سوار ہوتا ہے۔ ”انا اعطینک الکوثر“ کا مصداق میں

(حقیقت الوحی ص ١٠٢، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٥)

کی شان مجھ میں پائی جاتی ہے۔”

(تتمہ حقیقت الوحی ص ٨٥، خزائن ج ٢٢ ص ٥٢١)

اب انصاف کر دیکھئے۔ کون سی پیغمبرانہ صفت جھلک رہی ہے۔

کیا ایسے شخص کا مقام پاگل خانے کے سوا کوئی اور بھی ہو سکتا ہے؟ اس فکر و کردار پر ایمان لانے والوں کی عقل و دانش پر بھی خدا کی ہزار بار لعنت، واضح رہے کہ اپنے خاندان میں بھی مرزا قادیانی کو دائم المریض، مخبوط الحواس اور مسیلمہ کذاب سے بھی بڑھ کر جعل ساز اور جھوٹا سمجھا جاتا ہے۔ چنانچہ مرزا قادیانی کے سمدھی علی شیر بیگ نے گھر کے بھیدی کی حیثیت سے اسے بے نقاب کیا ہے۔ بنام مرزا غلام احمد قادیانی! ”آپ کی خودساختہ نبوت کا قائل نہیں ہوں۔ احمد بیگ (محمدی بیگم کا والد) ایک سیدھا سادہ مسلمان ہے۔ نہ آپ الہام بازی کرتے نہ وہ کنارہ کش ہوتا۔ اگر احمد بیگ رشتہ طلب کرتا۔ جب کہ وہ مجمع الامراض ہونے کے علاوہ پچاس سال سے زیادہ عمر کا ہوتا اور اس پر وہ مسیلمہ کذاب کے کان بھی کترتا تو کیا آپ اسے رشتہ دے دیتے۔“

(علی شیر بیگ، ١٨٩١ء، بحوالہ قادیانی مذہب ص ٣٨٢)

گھر والے بھی جانتے تھے۔ ایسے دماغ باختہ اور لغو گو انسان کو منہ نہیں لگانا چاہئے اور آخر تک منہ نہیں لگایا۔

ارشاد الہی ہے۔ ”ان الذين يفترون على الله الكذب لا يفلحون (نحل: ١١٦) ”جو لوگ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں فلاح نہیں پاتے۔“ قد خاب من افترى (طه: ٦١) ”جس نے اللہ پر جھوٹ باندھا وہ نامراد ہی رہے گا۔ جھوٹ اور فریب کے تمام ذرائع استعمال کرنے کے لئے شیطان کو اگرچہ جھوٹے نبی کھڑے کرنے کی بھی آزادی ہے۔ لیکن آخر ان کے جھوٹ کا پول کھل کے رہتا ہے اور فریب کا ملمع زیادہ دیر تک رہ نہیں سکتا۔

آنحضور ﷺ نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرنے والوں کے بارے میں جو پیش گوئی فرمائی ہے وہ شیطان کے اسی کارنامے کی طرف اشارہ ہے۔ ایسے لوگوں کے لئے دنیا میں بھی ذلت اور لعنت مخصوص ہے اور آخرت میں جعل سازی اور بغاوت کی دائمی سزا سے بھی دوچار ہونا پڑے گا۔ یہی وہ خسران اور ناکامی ہے جو فلاح کی ضد ہے اور ایسے ہی بددیانت انسانوں کے لئے مخصوص ہے۔ پائیدار کامیابی باعزت اور مطمئن زندگی سے محرومی سب سے بڑا خسارہ ہے۔ اگر کوئی فرقہ اپنی تنظیمی طاقت یا نشر و اشاعت کے وسیع ذرائع کے زور سے جھوٹ اور فریب کا کاروبار کچھ عرصہ چلا بھی لے تو یہ اس کی عنداللہ مقبولیت اور صداقت کی دلیل نہیں ہے۔ دنیا میں کتنے ہی گمراہ کن لیڈر عوامی شہرت و مقبولیت کے آسمان پر چمکے دنیوی خوشحالی اور مادی ترقی نے بھی ان کا ساتھ دیا۔ جھوٹے نعرے بازوں نے بھی ایک بھیڑ اپنے گرد اکٹھی کر لی۔ اس کے برعکس کئی مصلحین اور داعی حق دنیا میں ظالموں کے جبر و قہر کا شکار اور مصائب و آلام سے دوچار رہے۔ امام حسینؓ شہید ہوئے

صفحہ ٣٦٨

اور بظاہر یزید نے فتح پائی۔ قرآن کی اصطلاح میں اس قسم کا فروغ اور ترقی، فلاح و کامیابی نہیں ہے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک فلاح پانے والے کامیاب اور حیات طیبہ کے مالک وہ لوگ ہیں جنہوں نے دنیا میں اللہ کا کلمہ بلند کرنے کی نیکی اور بھلائی کا سکہ چلانے اور باطل کو شکست دینے کے لئے زندگی کی تمام صلاحیتیں نچوڑ کر رکھ دیں۔ خواہ دنیوی لحاظ سے ان کی حالت کیسی ہی کمزور ہو۔ مرزائیوں کے مقابلہ میں تو عیسائی مشنریاں دنیا میں زیادہ پھیلی ہوئی ہیں۔ اگر یہی معیار حق وصداقت اور معراج کامیابی ہے تو ان کے مقابلے میں عیسائی بہت کامیاب ہیں اور اسی طرح کئی اور باطل نظریات اور بے دین تحریکیں بھی اللہ تعالیٰ کے قانون امہال و استدراج کے تحت پھلتی پھولتی نظر آتی ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے ہاں مقبولیت اور کامیابی کا جو معیار ہے وہ انہیں حاصل نہیں ہوسکتا۔ وہ تو صرف دین حق کی وفاداری میں مل سکتا ہے۔ لہٰذا مرزائی امت کی چمک دمک، باشعور اور غیور مسلمانوں کو ہرگز دھوکہ نہیں دے سکتی۔

خدا اور رسول کے غدار مسلمانوں کے وفادار نہیں ہوسکتے

مرزائی اسلام کا نقاب اوڑھ کر انگریزی دور میں مرتد سازی اور فریب کاری کا کام آزادی سے سرانجام دے رہے تھے۔ اس وقت مسلمان مجبور تھے۔ جھوٹی نبوت کی اکاس بیل ملت اسلامیہ سے لپٹتی اور اس کا رس چوستی رہی۔ مگر آزادی کے بعد ٢٧ سال تک قہر الٰہی کو جوش میں لانے والی اس لعنت کو برداشت کرتے رہنا ملک وملت کے لئے ایک سانحہ تھا۔ پھر ایسے خائن اور مسلمان دشمن لوگوں کو نظام مملکت میں اہم ذمہ داریاں سونپنا انہیں راز دار بنانا قومی خودکشی کے مترادف ہے۔ جن کے نبی کا بنیادی کردار قرآن کے الفاظ ومعنی میں ردوبدل اور خیانت وبددیانتی ہو۔ ایسے ظالم شخص کے پیروکار اور خدا و رسول کی امانت میں خیانت کرنے والے لوگ مسلمان عوام کے اجتماعی اور سیاسی حقوق کے بارے میں امین اور معتمد کیسے ثابت ہوسکتے ہیں؟ ہرگز نہیں۔ بزبان خود مسلمانوں کو اپنا بدترین دشمن تصور کرنے والے اور ہر باطل اور ظالم نظام کی رکاب تھامنے والے، امت مسلمہ کے وفادار اور خیر خواہ ہرگز نہیں ہوسکتے۔ کیونکہ اختلاف نبوت نے وفاداری وتعاون کا مرکز ہی بدل کر رکھ دیئے اور انہیں غیر مسلم قرار دینے کے بعد مملکت اسلامیہ کے نظم ونسق اور اس کے اہم شعبوں میں انہیں بحال رکھنا ملک وملت کے لئے بہت بڑا خطرہ ہے۔ ممکن ہے قومی اسمبلی کے صحیح فیصلہ کے بعد اس فرقہ کے کئی افراد اپنی جاسوسانہ فطرت کے تحت کوئی مغالطہ آمیز پوزیشن اختیار کرلیں۔ اس صورت میں بھی ان کے کردار پر کڑی نگاہ رکھنی چاہئے۔

٧٢

صفحہ ٣٦٩

میں اس قسم کا فروغ اور ترقی، فلاح و کامیابی نہیں والے کامیاب اور حیات طیبہ کے مالک وہ لوگ ہیں ی اور بھلائی کا سکہ چلانے اور باطل کو شکست دینے ہیں ۔ خواہ دنیوی لحاظ سے ان کی حالت کیسی ہی کمزور ان دنیا میں زیادہ پھیلی ہوئی ہیں۔ اگر یہی معیار حق قابلے میں عیسائی بہت کامیاب ہیں اور اسی طرح کئی تعالیٰ کے قانون امہال واستدراج کے تحت پھلتی عزت اور کامیابی کا جو معیار ہے وہ انہیں حاصل نہیں سکتا ہے۔ لہٰذا مرزائی امت کی چمک دمک، باشعور

وفادار نہیں ہو سکتے

ی دور میں مرتد سازی اور فریب کاری کا کام مسلمان مجبور تھے۔ جھوٹی نبوت کی اکاس بیل ملت آزادی کے بعد ٢٧ سال تک قہر الٰہی کو جوش میں دولت کے لئے ایک سانحہ تھا۔ پھر ایسے خائن اور داریاں سوچنا انہیں راز دار بنانا قومی خودکشی کے کے الفاظ و معنی میں ردو بدل اور خیانت و بددیانتی امانت میں خیانت کرنے والے لوگ مسلمان عوام ین اور معتمد کیسے ثابت ہو سکتے ہیں؟ ہرگز نہیں۔ والے اور ہر باطل اور ظالم نظام کی رکاب تھامنے نہیں ہو سکتے۔ کیونکہ اختلاف نبوت نے وفاداری سلم قرار دینے کے بعد مملکت اسلامیہ کے نظم ونسق ملت کے لئے بہت بڑا خطرہ ہے۔ ممکن ہے قومی اپنی جاسوسانہ فطرت کے تحت کوئی مغالطہ آمیز کردار پر کڑی نگاہ رہنی چاہئے۔

فکر ونظر کے تمام فتنوں کا علاج صرف کامل اسلامی نظام ہے

اسلام اللہ تعالیٰ کا نازل کردہ ایک ایسا کامل متوازن اور حیات گیر نظام ہے۔ جو قیامت تک کے تمام انسانوں کی زندگی کے تمام مسائل حل کرنے کی نہ صرف صلاحیت رکھتا ہے بلکہ عملاً اس نے ایسا کر کے دکھا بھی دیا ہے۔ اللہ کا دین اصول جہاں بانی سے لے کر انسان کے اخلاقی وتمدن معیشت و معاشرت تجارت وسیاست کے لئے ایک مثالی معیار دے کر انسان کو حقوق شناس بنایا ہے۔ اس نظام کی فرمانروائی میں تمام انسانوں کے بنیادی حقوق محفوظ ہوتے ہیں۔ خدا کا دین ایک ایسا پاکیزہ اخلاقی ماحول پیدا کرتا ہے جس کے اندر سب کے یکساں حقوق اور مادی وروحانی ترقی کے لئے ہر ایک کے لئے برابر مواقع ہوتے ہیں۔ دنیا میں ترقی پذیر، مہذب و پرسکون واطمینان بخش زندگی کی ضمانت صرف اسی نظام میں مل سکتی ہے۔ بشرطیکہ اسے چلانے والے اس پر کامل یقین بھی رکھتے ہوں اور اس کے بارے میں مخلص اور نیک نیت بھی ہوں۔ اس نظام کے لانے والے حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ ہیں۔ جنہوں نے اپنی شفاف اور بے داغ سیرت کی روشنی میں اس کے عملی خدوخال اجاگر فرمائے۔ اب آئندہ نہ کسی نئی کتاب، نئی شریعت اور نئی ہدایت کی ضرورت ہے اور نہ کسی نئے نبی کی۔ اسلام اپنی اخلاقی، سیاسی اور معاشی پالیسی کے بہترین نتائج اس وقت پیش کر سکتا ہے جب کہ اسے دنیا میں کامل فرمانروائی کا موقع دیا جائے۔ محض اس کی جزئیات اور بعض حصے آزمانے سے وہ نتائج برآمد نہیں ہو سکتے۔ جن کا اسلام دعویٰ کرتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں نئی نبوت کے ساتھ ساتھ نئے نئے اسلام دشمن نظریات بھی داخل ہونے لگے اور اسلام کی بعض پالیسیوں سے کھلم کھلا عدم اطمینان اور بیزاری کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ تازہ فتنہ سوشلزم کا ہے۔ جو ایک مستقل سیاسی نظام ہے اور اسلامی نظام کے بالکل خلاف ایک لادینی نظریہ ہے۔ جس کے مبلغ کافی عرصہ سے پاکستان میں سرگرم عمل ہیں۔

اسلام کی عالمگیر اور حیات گیر پوزیشن پر ایمان رکھنے والا شخص کسی دوسرے نظام کی ڈگڈگی سے کس طرح متاثر ہو سکتا ہے؟ ایسے شخص کے نزدیک نہ اسلام کامل نظام ہے نہ آنحضور ﷺ خاتم الانبیاء ہیں۔ نہ قرآن خدا کی مکمل کتاب ہے۔ اسلام کی معاشی یا اقتصادی پالیسی سے غیر مطمئن ذہن پھر اسلام کے حق میں ہرگز یکسو اور مخلص نہیں رہتے۔ لادینی اور غیر ملکی نظریات کے علمبردار اسلامی نظام کے حق میں وفادار اور خیر خواہ نہیں ہو سکتے۔ اس لئے مرزائی اور سوشلسٹ گروہ دونوں آج تک پاکستان میں اس کے لئے رکاوٹیں کھڑی کرتے رہے ہیں۔ دونوں کی ترقی لادینی نظام سے وابستہ ہے۔ ایک گروہ نے حضور ﷺ کو ناقص اور اپنے ہی دور کا نبی

٧٣

صفحہ ٣٧٠

تصور کر کے نئے نبی کی ضرورت محسوس کی اور دوسرے گروہ نے اسلام کو موجودہ دور میں نا قابل عمل اور فرسودہ نظام تصور کر لیا۔ عملاً ختم نبوت کے دونوں قائل نہیں ہیں۔ اسلام کے بعض اصولوں پر اطمینان بھی نہیں۔ لیکن اسلام سے برأت کی جرأت بھی نہیں کرتے اور اسلام کو اپنے ساتھ چپکائے رکھتے ہیں۔ اگر کسی دوسرے نظام پر کسی گروہ کو اطمینان ہے تو اسے اس کا کھلم کھلا اظہار کرنا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں ایسا اسلام قبول نہیں ہے۔ جس میں کسی دوسرے نظام کا پیوند لگا ہوا ہو۔ اس قسم کے تمام نظریاتی اور سیاسی فتنوں کے مکمل استیصال کے لئے یہاں پر مکمل اسلامی نظام کا نفاذ فوری ہونا چاہئے۔ یہ ان تمام چور دروازوں کو بڑی خوبی سے بند کرتا ہے۔ جن کے ذریعے دنیوی ترقی اور مادی آسائشوں کے سبز باغ دکھانے والے لادینی نظریات داخل ہو سکتے ہیں۔ منظم بدی کا مقابلہ منظم نیکی سے ہی کیا جا سکتا ہے۔ اگر یہاں اسلامی نظام عملاً رائج نہ کیا گیا یا اس میں تاخیر سے کام لیا گیا تو اس قسم کے تمام سیاسی اور نظریاتی فتنے ملکی امن و استحکام کو تہ و بالا کرتے رہیں گے اور عوامی زندگی اضطراب کے کوئلوں پر لوٹتی رہے گی۔ ختم نبوت پر ایمان لانے والوں کا کام ختم نہیں ہو گیا اور اس وقت تک اطمینان کا سانس نہیں لیا جا سکتا۔ جب تک کہ اسلام کے نام پر قائم ہونے والے پاکستان میں اللہ تعالیٰ کا دین اور آنحضور ﷺ کی شریعت نافذ نہیں ہو جاتی۔ افراد کی زندگی سے دو عملی اور تضاد کے داغ دھبے صاف کئے بغیر یہاں ایسا مثالی اسلامی معاشرہ وجود میں نہیں آسکتا۔ جس کے فکر و عمل اور عقیدہ و اخلاق کی روشنی بھٹکے ہوئے لوگوں کو دینِ حق کی پناہ لینے پر آمادہ کر سکتی ہے۔

خدا تعالیٰ ہمیں توفیق بخشے کہ ہم اپنی زندگی کے تمام معاملات میں اسلامی تعلیمات کا بہترین اور قابل رشک نمونہ پیش کر کے تمام دنیا پر یہ ثابت کر سکیں کہ انسان کے جملہ مسائل کا حل اس کے تمام دکھوں کا مداوا اس کی تمام پریشانیوں کا واحد علاج صرف خالقِ کائنات ہی کا دین ہے۔ انسانوں کے بنائے ہوئے نظام انسان کو نہ قلبی اطمینان دلا سکتے ہیں۔ نہ دنیا میں پائیدار امن و سلامتی، دنیا میں بھی باعزت اور خوشحال زندگی اس سے حاصل ہوگی اور آخرت کی کامیابی کا مدار بھی اسلام کی پیروی میں ہے۔ اس نصب العین کے لئے پوری نیک نیتی وفاداری اور خلوص کے ساتھ جدوجہد کرتے ہوئے دنیا سے ہم گذر جائیں تو قیامت کے روز ختم المرسلین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے سامنے شرمندگی اٹھانے سے بچ سکیں گے۔ انشاء اللہ! اسلام کی فرمانروائی اور سربلندی سے ہی مسلمان قوم کی سربلندی وابستہ ہے۔

والسلام علی من اتبع الہدیٰ!

٧٢

PDF 372

خاتم النبیین لا نبی بعدی

تحریف مرزائیت

ربوہ سے ایک تحریری علمی مناظرہ

جناب مولانا ہلال احمد دہلویؒ

صفحہ ٣٧٢

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

حرفِ آغاز

ظفر علی خاں صاحب ایڈووکیٹ (مرحوم) کے مکان واقع گارڈن ایسٹ (کراچی) پر ہر اتوار صبح 9 بجے درس قرآن ہوتا تھا۔ اس مجلس میں ہر قسم کے لوگ شریک ہوتے جن میں ایک صاحب مرزائی بھی شریک ہوتے۔ یہ صاحب درس میں کبھی کبھی سوال بھی کرتے تھے۔ سوال کا انداز بظاہر سمجھنے کا ہوتا۔ لیکن حقیقت میں وہ اس انداز سے لوگوں کو متاثر کر کے اپنے دین مرزائی کی تبلیغ کرنا چاہتے تھے۔ درس کے ایک اور صاحب سے انہوں نے اپنے مشن کے انداز میں گفتگو کی۔ ان کا یہ خیال تھا کہ میں ان کو متاثر کر کے اپنے دین مرزائی کی دعوت دوں گا۔ اس مقصد کے لئے کئی بار اپنے گھر بلایا اور مختلف انداز سے اپنے دین مرزائی کی تبلیغ کی۔ لیکن یہ صاحب ان کے دامِ فریب میں نہ آئے اور جب ان کے سامنے اپنے عقائد پیش کئے تو ان میں جہنم کے دائمی ہونے کا مسئلہ بھی زیر بحث آیا۔ اس مسئلہ میں مرزائیوں کا عقیدہ یہ ہے کہ جہنم کا وجود دائمی نہیں ہے۔ کچھ عرصہ بعد بلا تفریق مسلمان و کافر تمام انسان جنت میں داخل کر دیئے جائیں گے اور بعد میں جہنم کو ختم کر دیا جائے گا۔ ان صاحب نے اس عقیدہ کو تسلیم نہیں کیا۔ اس پر ان صاحب نے ایک مراسلہ بنام ”عذاب جہنم دائمی نہیں ہے“ لکھا جس میں چند قرآنی آیات اور احادیث سے یہ ثابت کیا گیا تھا کہ عذاب جہنم دائمی نہیں ہے اور آخر میں علماء کو چیلنج کیا تھا کہ اس کا جواب دیں۔ چنانچہ ان صاحب نے وہ مراسلہ درس کے بعد ہمیں پیش کیا اور خواہش ظاہر کی کہ اس کا مدلل جواب دیا جائے۔ ہم نے بتوفیق الٰہی اس کا مدلل جواب لکھا۔ یہ مرزائی صاحب اس جواب سے متاثر ہوئے اور اپنے مرکز ربوہ (چناب نگر) کا سہارا لے کر اس کو ربوہ بھیجا۔ کچھ دنوں بعد ربوہ کے عبدالحمید صاحب نے 9 صفحات پر مشتمل جواب الجواب لکھا اور ساتھ ہی یہ مطالبہ بھی کیا کہ جن صاحب نے یہ جواب لکھا ہے ان کا نام و پتہ تحریر کیا جائے۔ تاکہ ربوہ کے دو رسالوں الفرقان اور الفضل میں شائع کر دیا جائے۔ ہم نے ان کے اس مطالبے کو پورا نہیں کیا۔ اس لئے اس کی کوئی ضمانت نہیں دی تھی کہ وہ ہماری تحریر کو دیانتداری سے شائع کریں گے۔

اس تمام روداد سے یہ اندازہ ہو گیا کہ یہ فرقہ اپنے باطل عقائد کی اشاعت کے لئے کس قدر چال بازی سے کام لے کر مسلمانوں کو گمراہ کرنا چاہتا ہے۔ اس فرقہ کے بانی مرزا غلام احمد قادیانی نہ صرف نبوت کا دعویٰ کر کے نبی بن بیٹھے بلکہ پورے دینِ اسلام کو مسخ کر کے ایک الگ

٢

صفحہ ٣٧٣

دین قائم کیا۔ اگر مرزا قادیانی کی پوری زندگی کا جائزہ لیا جائے تو یہ دعویٰ صحیح ثابت ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی انگریز حکومت کے پروردہ دشمن اسلام عنصر تھے۔ جن کی مکمل طور پر برٹش حکومت نے پرورش کی تھی اور مرزا قادیانی نے بھی اپنے گورے آقا کی خوب مدح سرائی فرمائی۔ مولانا ظفر علی خاں نے کیا خوب کہا ہے ؎

نبوت بخشی انگریز نے
یہ پودا اسی کا ہے خود کاشتہ

اور یہاں تک حق وفاداری ادا کیا کہ برٹش حکومت کی اطاعت کو فرض عین قرار دیا اور حکومت کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے جہاد جیسے اہم فریضہ کو منسوخ قرار دیا اور اپنی نبوت کو منوانے کے لئے یہاں تک زور لگایا کہ جو شخص مجھ پر ایمان نہیں لائے گا وہ کافر ہے اور خنزیر کی اولاد ہے اور اس کی نماز جنازہ پڑھنا جائز نہیں ہے۔ اس کا تاریخی ثبوت یہ ہے کہ جب قائد اعظم کی نماز جنازہ علامہ شبیر احمد عثمانی نے پڑھائی تو اس وقت چوہدری سر ظفر اللہ قادیانی الگ ہٹ کر کھڑے ہو گئے۔ لوگوں نے اس پر اعتراض کیا تو ظفر اللہ نے جواب دیا ہمارے ہاں غیر احمدی لوگوں کی نماز جنازہ پڑھنا جائز نہیں ہے۔

اسلام آخری مذہب ہے جو تمام دنیا کے انسانوں کی رہنمائی کرتا ہے اور آخرت میں راہ نجات ہے اور جو اس کو قبول نہیں کرے گا قرآن نے اس کو کافر قرار دیا اور عذاب جہنم کو اس کے لئے دائمی قرار دیا۔ اللہ جل شانہ نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا: ”ومن يبتغ غير الاسلام ديناً فلن يقبل منه وهو فى الاخرة من الخسرين (آل عمران: ٨٥) “ اور جو اسلام کے علاوہ اور کوئی دین پسند کرے گا، پس اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا اور وہ آخرت میں نقصان پانے والوں میں سے ہوگا۔ پھر

اسی آرزو کی دعا حضرت مولانا قاضی مظہر حسین صاحبؒ نے اس طرح کی۔

ہو آئین تحفظ ملک میں ختم نبوت کو
مٹا دیں ہم تیری نصرت سے انگریزی نبوت کو

قرآن پاک کے اس دعوے کے مطابق مرزا قادیانی کے آقا انگریز قوم دائمی جہنم کی مستحق قرار دی گئی۔ اس لئے مرزا قادیانی نے اپنے آقا کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے عذاب جہنم کے دائمی ہونے کا انکار کے حق وفاداری ادا کیا اور جہنم کو ماں کے پیٹ سے تشبیہ دے کر جہنم کی اصل حقیقت ختم کر دی۔

٣

صفحہ ٣٧٤

مرزا قادیانی کی انہی ریشہ دوانیوں کی وجہ سے جو اسلام کے خلاف عرصہ دراز سے مسلمانوں میں زہر گھول رہی تھیں۔ علماء اسلام نے ان کا ہر طرح اور ہر موڑ پر مقابلہ کیا اور ان کے باطل عقائد کو مسلمانوں کے سامنے طشت از بام کیا۔ یہاں تک کہ ٧ ستمبر ١٩٧٤ء کا وہ مبارک دن آیا۔ جس میں پاکستان کی پارلیمنٹ نے تاریخ ساز فیصلہ کیا اور اس فرقہ کو عالم اسلام کی برادری سے خارج کر کے ان پر کفر کی ابدی مہر ثبت کر دی۔ اسی طرح اس مملکت خداداد پاکستان میں ٢٦ سال بعد پہلی بار ختم نبوت کو دستوری تحفظ حاصل ہوا۔ اگرچہ اس تاریخ ساز فیصلہ کا سہرا وزیر اعظم مسٹر ذوالفقار علی بھٹو کے سر رہا۔ لیکن یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ یہ دستوری کامیابی دراصل اس ٩٠ سالہ زبردست جدوجہد کا نتیجہ تھی۔ جس کے لئے علماء کرام نے تن و من کی بازی لگائی اور قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ تقریباً لاکھوں صفحات پر مشتمل لٹریچر شائع ہوا۔ ہزاروں کی تعداد میں فدایان ختم نبوت نے جام شہادت نوش کیا۔ لاکھوں کی تعداد میں عاشقان رسول نے قید و بند کی مشکلات برداشت کیں اور مخیر اور مخلص حضرات نے بے حساب دولت ختم نبوت کے تحفظ پر نثار کی۔ پاکستان کے قیام کا منشاء بھی یہی تھا کہ یہاں کتاب وسنت کا نظام قائم ہو۔ اسی عظیم مقصد کے لئے یہ مملکت خداداد رمضان مبارک کی ٢٧ویں شب شب قدر میں دنیا کے نقشہ پر نمودار ہوئی۔ یہ ایسی مبارک ساعت کی برکت کا نتیجہ تھا کہ پاکستانی قوم نے دو مرتبہ فقید المثال اتحاد کا مظاہرہ کیا۔ ایک وطن کا دفاع جو ٦ ستمبر ١٩٦٥ء میں کیا۔ دوسرا ختم نبوت کا دفاع جو اسی ماہ ستمبر کی ٧ تاریخ ١٩٧٤ء میں ہوا۔ ان دونوں موقعوں پر پوری قوم نے جس اتحاد واتفاق کا مظاہرہ کیا۔ اس کی مثال تاریخ میں نہیں ہے۔

جس وقت پوری قوم ختم نبوت کے تحفظ میں برسر پیکار تھی۔ اس وقت قوم کا ہر فرد اپنے اپنے انداز سے اس فرقہ کے گمراہ عقائد کو قوم کے سامنے طشت از بام کر رہا تھا۔ تو اس وقت اس جہاد کی سعادت حاصل کرنے کے لئے ہم نے یہ تحریری مناظرہ جو ربوہ مرکز سے ہمارے درمیان ہوا تھا اس کو شائع کر رہے ہیں۔ تا کہ عام مسلمانوں کو یہ اندازہ ہو سکے کہ اس گمراہ فرقہ نے نہ صرف ختم نبوت کا انکار کیا۔ بلکہ اسلام کے بنیادی اصول میں تحریف کر کے اسلام کے خلاف ایک نیا دین قائم کر دیا۔

پہلا مراسلہ

صاحب مراسلہ نے ”عذاب جہنم دائمی نہیں ہے“ کے زیرعنوان چند آیات اور ایک

٤

صفحہ ٣٧٥

غریب حدیث پیش کر کے اپنے دعوے کو ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس طرح امت کے اجماعی مسئلہ کو مختلف فیہ بنا کر اسلام میں اختلاف پیدا کیا ہے۔ حالانکہ عہد نبوت سے لے کر آج تک جمہور امت کا یہ عقیدہ رہا ہے کہ جس طرح جنت دائم الوجود ہے۔ اسی طرح جہنم بھی دائم الوجود ہے۔ اس سے قبل کہ ہم ان دلائل کا جواب لکھیں۔ ضروری ہے کہ چند اصولی ضابطے سمجھنے کی کوشش کی جائے۔ تاکہ ان کی روشنی میں ہمارے دلائل کا سمجھنا آسان ہو جائے۔

تمام اسلامی فرقوں میں یہ اصول تسلیم کیا جاتا ہے کہ عقائد کے اثبات کے لئے نص قطعی ہونا ضروری ہے۔ جس کی بنیاد آیات محکمات واحادیث مشہورہ ومتواترہ پر قائم ہو۔ ان کے مقابلہ پر دلیل ظنی یا خفی یا قیاس و میلان یا اخبار احاد وغیرہ کو عقائد کے اثبات کے لئے ناقابل یقین حجت سمجھا جاتا ہے۔ عقائد میں توحید و رسالت، مبداء و معاد، عذاب و ثواب، جنت و دوزخ اور عذاب قبر وغیرہ دین اسلام کے اصل ستون سمجھے جاتے ہیں۔ جن پر پورے دین کی بنیاد قائم ہے۔ اگر فقہاء عقائد میں اتنی شدت اختیار نہ کرتے تو لوگ اپنے قیاس و میلان اور وہمی دلائل کا سہارا لے کر اسلامی عقائد کو مسخ کر دیتے اور اسلام بھی عیسائی مذہب کے عقیدہ تثلیث کی بھول بھلیوں میں گم ہو کر رہ جاتا۔

اب آپ عذاب جہنم پر غور کریں تو یقیناً عذاب جہنم کا دائمی ہونا بھی اسلام کے بنیادی عقائد میں شامل ہے۔ جس کی بنیاد دلیل قطعی اور نص شرعی پر قائم ہے۔ اس کے مقابلہ پر عذاب جہنم کے دائمی ہونے کا انکار کرنا اور قیاس و میلان کی بنیاد پر بحث و تنقید کرنا عقیدہ اسلامی کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔ لیکن صاحب مراسلہ کی تحریر سے یہ معلوم ہو رہا ہے کہ یہ صاحب اپنے دعوے پر مصر ہیں اور عذاب جہنم اور وجود جہنم کے دائمی ہونے سے انکار کر رہے ہیں اور اپنے اس عقیدے کو دوسروں کے سر بھی تھوپنا چاہتے ہیں۔ اس لئے ہم نے ضروری سمجھا کہ ان کے دلائل کا جواب دیا جائے۔ ہمیں حیرت اس بات پر ہے کہ واضح آیات سے جو استدلال کیا ہے وہ خالص عقل کی بنیاد پر کیا ہے۔ جو یقیناً باعث حیرت ہے۔

قرآن پاک سمجھنے کے چند اصول

علماء تفسیر نے قرآن پاک کو سمجھنے کے لئے یہ اصول وضع کئے ہیں جو شخص قرآن پاک سے ہدایت حاصل کرنا چاہتا ہے۔ اس کو چاہئے کہ وہ پورے یقین کے ساتھ قرآن پاک کو سرچشمہ ہدایت سمجھے اور اپنے اندر یہ جذبہ پیدا کر لے کہ میں قرآن سے ہدایت حاصل کرنا چاہتا ہوں۔ اگر

٥

صفحہ ٣٧٦

کوئی آیت یا حکم بظاہر اس کی سمجھ میں نہ آئے تو اس میں غلط تاویل کر کے اس آیت کی حقیقت کو تبدیل کرنے کی کوشش نہ کرے۔ اس طرح قرآن ایسے لوگوں کے لئے ہدایت کا ذریعہ نہیں بنتا ہے۔ قرآن پاک میں اسی حقیقت کو اس طرح بیان کیا ہے: ”يضل به كثيراً ويهدى به كثيراً وما يضل به الا الفسقين (البقرة:٢٦) “ ﴿اس سے (یعنی قرآن سے) بہت سے لوگ گمراہ ہوتے ہیں اور بہت سے ہدایت حاصل کرتے ہیں اور اس سے نافرمان لوگ ہی گمراہ ہوتے ہیں۔﴾

اس آیت نے فیصلہ کر دیا کہ نافرمان کون ہیں؟ جو لوگ قرآن کا مطالعہ کرتے ہیں اور پھر اس سے ان کو ہدایت نہیں ملتی ہے۔ دوسری اصل یہ لکھی ہے کہ قرآن پاک سمجھنے میں اپنی عقل کو قرآن پاک کے تابع بنائے۔ اگر کسی آیت کے معنی اس کی سمجھ میں نہیں آتے ہیں تو اس کو اپنی عقل وسمجھ کے مطابق ڈھالنے کی کوشش نہ کرے۔ بلکہ اس آیت کے جو بھی معنی ہیں اس پر ایمان لے آئے۔ اسی طریقہ کو اللہ تعالیٰ نے پسند فرمایا۔ چنانچہ ارشاد ہے: ”والراسخون في العلم يقولون آمنا به (آل عمران:٧) “ ﴿اور جو لوگ علم میں پختہ ہیں وہ کہتے ہیں ہم اس پر ایمان لے آئے۔﴾

قرآن پاک میں کچھ آیات محکمات ہیں اور کچھ متشابہات ہیں۔ محکمات وہ آیات ہیں جن کا سمجھنا انسانی عقل کے لئے آسان ہے اور متشابہات وہ آیات ہیں جن تک انسانی عقل کی رسائی ممکن نہیں ہے۔ یہ آیات اللہ تعالیٰ نے اہل علم اور عقل کے پرستار لوگوں کی آزمائش کے لئے نازل کی ہیں۔ تاکہ یہ لوگ اللہ جل شانہ کے علم کے مقابلہ پر اپنے عجز وانکسار کا اعتراف کریں۔ لیکن جن لوگوں کے دلوں میں کجی ہے۔ وہ ایسی آیات میں غور کر کے ہدایت سے ہٹ جاتے ہیں۔ اگر اس پر غور کیا جائے تو یہ حقیقت واضح طور پر سامنے آتی ہے کہ کلام الٰہی کو سمجھنے کے لئے اگر انسانی عقل ہی کافی ہوتی تو پھر انبیاء علیہم السلام کے بھیجنے کی ضرورت نہیں تھی۔ کتاب کے ساتھ رسول کا آنا اس بات کی کھلی دلیل تھی کہ قرآن پاک بغیر رسول کے مکمل طور پر سمجھ میں نہیں آسکتا اور انبیاء اور رسولوں کو اللہ تعالیٰ نے یہ منصب اس لئے عطا فرمایا کہ ان حضرات کی ہمہ وقت مدد تائید الٰہی اور وحی الٰہی سے کی جاتی ہے۔ اس بنیاد پر ان حضرات کا ہر فیصلہ اور ہر بات حق پر مبنی ہوتی ہے۔ اس اہمیت کے پیش نظر علماء تفسیر نے یہ اصل وضع کی ہے کہ قرآن پاک کی تفسیر کے لئے ضروری ہے کہ پہلے تفسیر بالماثور کی جائے اور تفسیر بالرائے کو اس وقت اختیار کرے۔ جب کہ وہ

٦

صفحہ ٣٧٧

اصول دین کے خلاف نہ ہو اور آنحضرت ﷺ اور صحابہ سے اس سلسلہ میں کچھ منقول نہ ہو۔ صاحب مراسلہ نے اپنے دعوے کو آیات اور احادیث سے ثابت کرنے میں ان اصول کی بالکل رعایت نہیں کی ہے۔ بلکہ آیت سے اپنے دعوے کو ثابت کرنے کے لئے اپنی رائے اور قیاس و میلان کو مقدم رکھا ہے۔ چنانچہ اپنے مراسلہ کی ابتداء کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ” وما خلقت الجن والانس الا لیعبدون (الذاریات:٥٦) ” (میں نے جن وانس کو صرف اس غرض کے لئے پیدا کیا ہے کہ وہ میرے عبد بن جائیں۔)

آیت سے غلط استدلال

جب انسان کو پیدا ہی اس غرض کے لئے کیا گیا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کا عبد بنے تو اگر وہ دائمی طور پر دوزخ میں ہی رکھا جائے تو وہ اس غرض کو پورا نہیں کر سکتا اور پیدائش عالم کا مقصد فوت ہو جاتا ہے۔ خدا تعالیٰ تو فرماتا ہے کہ میں نے جن وانس کو اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ میرے عبد بنیں۔ لیکن یہ تسلیم کیا جائے کہ نیک طبقہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جہنم میں رہے گا اور کبھی اس سے باہر نہیں نکلے گا۔ تو پھر اس کا مطلب یہ ہوا کہ جس غرض کے لئے انسان کو پیدا کیا گیا تھا وہ غرض پوری نہیں ہوئی اور نعوذ باللہ خدا بھی اپنے ارادے و مقصد میں کامیاب نہ ہوگا۔

آیت کا صحیح مفہوم

صاحب مراسلہ نے اپنے دعوے کے اثبات کے لئے جو آیت پیش کر کے اس سے استدلال کیا ہے۔ وہ حقیقت پر مبنی نہیں ہے۔ آیت کا صحیح مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص نظام آفرینش کے تحت تمام جن وانس کو اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے۔ اگر ان میں سے کوئی اپنی تخلیق کے مقصد کو پورا نہیں کرتا ہے تو یہ مجرم سمجھا جائے گا۔ اسلامی نظام کے تحت اس پر سزا دی جائے گی اور مزید آخرت میں بھی اس کو عذاب ہوگا۔ اگر وہ دنیا میں تائب ہو جاتا ہے تو سزا ختم ہو جائے گی اور اگر آخر وقت تک توبہ پر قائم رہتا ہے تو آخرت میں بھی سزا معاف ہو جائے گی۔ ورنہ محدود وقت تک سزا دے کر اللہ اس کے گناہ کو معاف فرما دیں گے اور جنت میں داخل کر دیں گے۔ یہ معاملہ صرف اہل ایمان کے ساتھ ہوگا اور جو لوگ کفر کی حالت میں انتقال کریں گے ان کو ابتداء ہی سے دائمی طور پر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ زیر بحث آیت میں صرف اہل ایمان کو یہ خطاب ہے۔ اس لئے ایمان کے بعد ہی وہ عبادت کرنے کے اہل ہو سکتے ہیں۔ اس آیت سے یہ استدلال کرنا کہ ایمان کے ہوتے ہوئے وہ دائمی طور پر عذاب میں مبتلا رہیں گے۔ اس غلط

٧

صفحہ ٣٧٨

استدلال کے لئے آیت میں کوئی اشارہ نہیں ہے۔ ہاں البتہ دائمی عذاب ان لوگوں کے لئے بتایا گیا ہے۔ جن کا کفر پر انتقال ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔

دائمی عذاب کے مستحق لوگ

فيها اولئك هم شر البريه (البینہ:٦)“ ﴿بے شک اہل کتاب میں سے جو لوگ کافر ہوئے اور مشرک ہوئے وہ جہنم کی آگ میں ہمیشہ رہیں گے۔ یہی بدترین مخلوق ہیں۔ (زمین پر بسنے والوں میں سے)﴾

روئے زمین پر بدترین مخلوق

اس آیت سے یہ بات خوب واضح ہوگئی کہ زمین پر یہ بدترین مخلوق کون ہے اور کن لوگوں کے لئے دائمی عذاب ہوگا۔ اس کے مقابلہ پر صرف ترک عبادت پر دائمی عذاب کا نتیجہ نکال کر مغالطہ دینا یہ دین میں تحریف معنوی کے مترادف ہے۔ دوسرا نتیجہ یہ نکالا ہے کہ اگر وہ دائمی عذاب میں رہیں گے تو یہ انسانی پیدائش کے مقصد کے خلاف ہے۔ زیر بحث آیت سے یہ مطلب اخذ کرنا یہ روح قرآن سے ناواقفیت کی بناء پر ہے۔ پورے قرآن میں کوئی ایک آیت بھی ایسی نہیں ہے۔ جس سے صرف ترک عبادت پر دائمی عذاب کی خبر دی گئی ہو۔ دائمی عذاب تو صرف کافر اور مشرک لوگوں کے لئے ہوگا اور بنی نوع انسان میں اگر کچھ افراد اپنے کفر و شرک کی وجہ سے دائمی طور پر جہنم میں ڈال دیئے بھی جائیں تو اس سے تخلیق انسانی سے عبادت کے مقصد میں کوئی کمی نہیں آتی۔ اس لئے تخلیق انسانی کے مقصد عبادت کے خلاف تو اس وقت ہوتا۔ جب کہ تمام نوع انسانی کے افراد کو دائمی طور پر جہنم میں ڈال دیا جاتا۔ حالانکہ بنی نوع انسان کی کثیر تعداد نفس ایمان کی بنیاد پر ضرور جنت میں داخل ہوگی۔ اس لئے کہ ان لوگوں نے ایمان کے بعد اللہ کی عبادت کی تھی۔

کافر اور مشرکین کے دائمی عذاب کے ثبوت کے لئے بہت سی آیات اور احادیث ہیں۔ جو اپنے معنی میں نص قطعی ہیں اور ان میں کسی قسم کے شک وشبہ یا تاویل و توجیہ کی گنجائش نہیں ہے۔ ہم یہاں چند ایسی آیات اور احادیث ذکر کرتے ہیں۔ جن میں عقل وقیاس یا لغت کے اعتبار سے کسی قسم کی تاویل کی گنجائش نہیں ہے۔

٨

صفحہ ٣٧٩

(النساء:٤٨) ”﴿بلاشبہ اللہ تعالیٰ نہیں بخشیں گے کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے اور بخش دیں گے اس کے علاوہ جس کو چاہیں گے۔﴾

شرک کی مغفرت نہیں

اس آیت میں عربی قواعد کے اعتبار سے بڑی تاکید ہے اور اس کے مختلف پہلو ہیں۔ جن میں سے ایک یہ ہے کہ اس میں لا حرف نفی ہے۔ جس کے معنی میں مطلقاً نفی ہوتی ہے اور اثبات کا پہلو نہیں ہوتا ہے۔ اگر اس نفی کو اثبات میں تبدیل کر کے یہ کہا جائے کہ کچھ عرصہ بعد ان کے عذاب کو ختم کر دیا جائے گا اور اللہ تعالیٰ ان کو بھی معاف کر دیں گے۔ تاکہ تخلیق انسانی کا مقصد پورا ہو جائے تو یہ قرآن پاک میں معنوی تحریف ہے۔ جس کا ارتکاب ایک مسلمان نہیں کر سکتا۔ مزید یہ بھی قابل غور ہے کہ آیت میں واو حرف عطف کے ساتھ دوسرا جملہ ویغفر میں خود اس بات کی تصریح ہے کہ آیت کے پہلے جز میں جن لوگوں کا ذکر ہے۔ ان کی مغفرت نہیں ہوگی اور دوسرے جز میں جو لوگ ہیں ان کی مغفرت کی امید کی جاسکتی ہے اور اگر پہلے جز والے اہل شرک کی مغفرت کا امکان ہوتا تو اللہ جل شانہ آیت کا دوسرا جز ذکر نہ فرماتے۔

خلدین فیھا لا یخفف عنھم العذاب ولاھم ینظرون (آل عمران:٨٨،٨٧)“

﴿ان لوگوں کی سزا یہ ہے کہ ان پر لعنت ہے اللہ کی اور فرشتوں کی اور لوگوں کی اور سب کی۔ ہمیشہ رہیں گے اس میں ان سے عذاب ہلکا نہیں ہوگا اور نہ ان کو شفقت کی نظر سے دیکھا جائے گا۔﴾

اس آیت میں کافر اور مشرکین کے لئے دائمی عذاب پر کس قدر تاکید ہے۔ اوّل خالدین فرمایا اس کے معنی ہمیشہ کے آتے ہیں۔ جس میں لغت کے اعتبار سے انقطاع نہیں ہوتا۔ دوسرے لا یخفف فرمایا۔ جس کے معنی میں اور تاکید ہے کہ ختم تو کیا بلکہ اس عذاب میں کمی بھی نہیں ہوگی اور اگر وہ اللہ تعالیٰ کے حضور میں رحم کی اپیل بھی کریں گے تو بھی ان کو قابل رحم نہیں سمجھا جائے گا۔

الحریق (الحج:٢٢)“ ﴿جب وہ ارادہ کریں گے نکلنے کا اس غم سے دوبارہ اس میں لوٹا دیئے جائیں گے اور کہا جائے گا کہ جلانے والا عذاب چکھو۔﴾

اہل جہنم کافر و مشرکین کو دوبارہ جہنم میں لوٹا دیا جائے گا

یہ آیت خلود نار کے لئے نص قطعی ہے اور استمرار عذاب کے لئے واضح دلیل ہے۔

٩

PDF 381

كلما کا لفظ لغت میں استمرار اور دوام کے لئے آتا ہے۔ اس معنی میں کبھی بھی انقطاع نہیں ہوتا اور پھر اس دوام میں اعیدوا نے مزید تاکید پیدا کر دی کہ جب بھی کافر جہنم سے نکلنے کا ارادہ کریں گے تو ان کو لوٹا دیا جائے گا۔

آگ سے۔﴾

اس آیت میں ما حرف نافیہ ہے اور اس نفی میں کسی خاص مدت کی قید نہیں ہے۔ بلکہ مطلق فرمایا کافر کبھی بھی جہنم سے نہیں نکالے جائیں گے۔

عذاب کے دوام کے لئے اہل جہنم کے جسموں کو بار بار تبدیل کیا جائے گا

(النساء:٥٦) “ ﴿جب بھی ان کی کھال جل کر پک جائے گی ہم ان کی کھال کو دوبارہ بدل دیں گے تا کہ وہ عذاب چکھتے رہیں۔﴾

اس آیت میں اس کا بھی ثبوت ملتا ہے کہ کافر اور مشرکین کے جسم اگر جل جائیں گے تو ان کو دوبارہ صحیح کر کے عذاب کو جاری رکھا جائے گا۔ اگر وقتی طور پر ان کو جہنم میں رکھا جاتا تو بار بار ان کے جسم کی کھال کو کیوں تبدیل کیا ۔ یہ اس کا کھلا ثبوت ہے کہ عذاب دائمی ہوگا اور کبھی انقطاع نہیں ہوگا۔

ولعباً وغرتهم الحيوة الدنيا فاليوم ننساهم كما نسوا لقاء يومهم هذا (الاعراف:٥١،٥٠) “ ﴿کہیں گے اہل جنت (جہنم والوں کے جواب میں) بیشک اللہ تعالیٰ نے دونوں کو (یعنی پانی اور رزق کو) حرام کر دیا ہے کافروں پر۔ جنہوں نے اپنے دین کو لہو ولعب بنایا اور دنیا کی زندگی نے ان کو دھوکہ میں ڈال دیا۔ پس آج کے دن ہم ان کو بھلاتے ہیں۔ جس طرح انہوں نے آج کے دن کی ملاقات کو (دنیا میں) بھلا دیا تھا۔﴾

مقيم (المائدہ:٣٧) “ ﴿وہ جہنم سے نکلنا چاہیں گے۔ لیکن وہ اس سے نہ نکل سکیں گے اور ان کے لئے قائم رہنے والا عذاب ہوگا۔﴾

اہل جہنم پر موت کبھی نہیں آئے گی

١٠

﴿اہل جہنم پکاریں گے اے داروغہ

مشرکین پر جنت حرام ہے ا

للظلمين من انصار (المائـ حرام کر دیا اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے ا

اہل جہنم پر آگ بار بار دہکا

جهنم كلما خبت زدنهم سعيـ کریں گے۔ ان کے منہ کے بل ا بجھے گی ہم ان کے لئے آگ کو اور بھڑ

مرتد کی کبھی بخشش نہیں ہوگی کـ

الله ليغفر لهم ولا ليهديهم سـ اختیار کیا۔ پھر ایمان لائے۔ پھر کفـ نہیں کرے گا اور نہ ان کو ہدایت دے

اہل جہنم کا آخرت میں کوئی خـ

عمران:١٧٦) “ ﴿اللہ تعالیٰ یہ چا ان کے لئے بڑا عذاب ہوگا۔﴾

کے دن جہنم سے نہیں نکالے جائیں گـ

اہل جہنم پر عذاب کبھی ہلکا نہ ہـ

والے عذاب میں مبتلا رہیں گے۔﴾

صفحہ ٣٨١

اہل جہنم پکاریں گے اے داروغہ جہنم تو اپنے رب کا فیصلہ کر دے وہ کہے گا تم اسی میں رہو گے۔﴾

مشرکین پر جنت حرام ہے

للظلمين من انصار (المائدة: ٧٢) ﴿پس اللہ تعالیٰ نے اس پر (یعنی مشرک پر ) جنت کو حرام کر دیا اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے اور ظالموں (مشرکوں ) کے لئے کوئی مدد گار نہ ہوگا۔﴾

اہل جہنم پر آگ بار بار دہکائی جائے گی

جهنم كلما خبت زدنهم سعيرا (بنی اسرائیل:٩٧) ﴿ ہم ان کو قیامت کے دن جمع کریں گے۔ ان کے منہ کے بل اندھا گونگا اور بہرا بنا کر ان کا ٹھکانا جہنم ہے۔ جب بھی آگ بجھے گی ہم ان کے لئے آگ کو اور بھڑکائیں گے۔﴾

مرتد کی کبھی بخشش نہیں ہوگی

الله ليغفر لهم ولا ليهديهم سبيلاً (النساء:١٣٧) ﴿بیشک جو لوگ ایمان لائے پھر کفر اختیار کیا۔ پھر ایمان لائے۔ پھر کفر اختیار کیا۔ پھر کفر میں بڑھتے گئے۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت نہیں کرے گا اور نہ ان کو ہدایت دے گا سیدھے راستہ کی طرف۔﴾

اہل جہنم کا آخرت میں کوئی حصہ نہ ہوگا

عمران:١٧٦) ﴿اللہ تعالیٰ یہ چاہتے ہیں کہ کافروں کے لئے آخرت میں کوئی حصہ نہ رکھیں اور ان کے لئے بڑا عذاب ہوگا۔﴾

کے دن جہنم سے نہیں نکالے جائیں گے اور نہ ان کا کوئی عذر سنا جائے گا۔﴾

اہل جہنم پر عذاب کبھی ہلکا نہ ہوگا

والے عذاب میں مبتلا رہیں گے۔﴾

١١

صفحہ ٣٨٢

عنهم من عذابها (فاطر:٣٦) ”اور جو لوگ کافر ہوئے جہنم کی آگ ان کے لئے ہے۔ ان کا نہ تو فیصلہ کیا جائے گا کہ وہ مرجائیں اور نہ سزا میں کچھ کمی ہوگی ۔“

نمبر ٦ سے ١٥ تک تمام آیات پر غور کریں کہ کس قدر واضح اور مثبت انداز سے جہنم اور عذاب جہنم کے دائمی ہونے کے لئے نص قطعی ہیں۔ نمبر ١٥ میں یہ بھی واضح کر دیا کہ جہنم میں موت بھی نہیں آئے گی اور جن کے لئے کبھی فیصلہ بھی نہیں ہوگا۔ بلکہ ابدالآباد تک اسی عذاب میں مبتلا رہیں گے۔ اس آیت میں ایک اور نکتہ کی جانب اشارہ ہے کہ جب انسان پر مصیبتوں کے پہاڑ ٹوٹتے ہیں تو وہ موت کی تمنا کرتا ہے۔ تا کہ ان مصائب سے نجات مل جائے۔ فرمایا جہنم میں یہ نہیں ہوگا۔ بلکہ مصائب کے ساتھ جہنم کا عذاب چکھنا ہوگا۔ اب تک ہم نے جو آیات لکھی ہیں وہ سب الفاظ و معانی کے اعتبار سے قطعی الثبوت ہیں اور ان میں خالدین وغیرہ کے الفاظ بھی نہیں ہیں۔ جن میں تاویل کی گنجائش ہو۔ جیسا کہ صاحب مراسلہ نے لکھا ہے۔

الفاظ قرآن کی معنوی تحریف

اکثر جس لفظ سے دھوکہ لگا ہے وہ لفظ خلود ہے۔ جو جنتیوں اور جہنمیوں کے لئے قرآن مجید میں ایک ساتھ استعمال کیا گیا ہے اور اس کے معنی ہیں۔ لمبے عرصہ تک رہنا اور استعارۃً ہمیشہ رہنے کا مفہوم لیا جاتا ہے۔

اس کے بعد (مفردات راغب ص ١٥٤) سے استدلال کرتے ہوئے خود یہ عبارت نقل کی ہے ”اصل المخلد الذى يبقى مدة طويلة ثم استعير للمبقى دائماً“ مخلد کے اصل معنی طویل مدت کے آتے ہیں۔ ثم دائمی معنی کے لئے مستعار لیا گیا۔

خالدین کے صحیح معنی اور لغوی دلیل

یہ عبارت ہمارے موقف کی تائید کر رہی ہے کہ مخلد کے اب جو معنی مستعمل ہیں۔ وہ ہمیشہ کے لئے ہیں اور مدۃ طویلہ کے معنی کثیر الاستعمال نہیں رہے۔ لغت کا یہ اصول ہے جب کوئی مشترک لفظ مستعار معنی میں کثیر الاستعمال ہو جائے تو پہلے معنی یا تو قلیل الاستعمال سمجھے جاتے ہیں یا وہ لفظ متروک عنہ کے درجہ میں داخل سمجھا جاتا ہے۔ جس طرح لفظ عین یا لفظ صلوٰۃ ہے۔ اس اصول پر امام راغب نے مخلدا کے معنی یبقی دائما کر کے یہ بتایا ہے کہ اب یہ لفظ ہمیشہ کے معنی میں استعمال ہوگا اور اس پر نص صریح قرینہ بھی ہے۔ یہ عجیب بات ہے کہ خالدین و مخلدا و ابداً یہ الفاظ جب اہل جنت کے لئے استعمال ہوتے ہیں تو ہمیشہ کے معنی میں ان کا

١٢

صفحہ ٣٨٣

استعمال سمجھا جاتا ہے اور جب یہی الفاظ اہل جہنم کے لئے استعمال کئے جاتے ہیں تو یہاں تاویل کر کے مدۃ طویلہ مراد لئے جاتے ہیں۔ اگر تھوڑی دیر کے لئے یہ تسلیم بھی کر لیا جائے کہ مخلد کے معنی مدۃ طویلہ کے ہیں تو پھر قرآن پاک کی مذکورہ آیات کا کیا جواب ہوگا۔ جو مخلد کے بغیر جہنم کے دائمی ہونے پر نص قطعی ہیں۔ نمبر ١ سے لے کر ١٥ تک آپ غور کریں ان تمام آیات میں خالدین یا ابداً یا مخلداً کے بغیر عذاب اور جہنم کے دائمی ہونے کی اس قدر تاکید ہے کہ اس کا انکار کوئی اہل علم نہیں کر سکتا۔ یہ چند آیات ہم نے ادنیٰ تامل سے لکھی ہیں۔ ورنہ غور کرنے سے اور بھی بہت سی آیات ہمارے موقف کی تائید میں مل سکتی ہیں۔

اس کے علاوہ ہم یہاں چند ایسی بھی آیات لکھتے ہیں جن میں خالدین کے ساتھ ابداً کا بھی اضافہ ہے اور علماء لغت نے یہ بات لکھی ہے کہ خالدین کا لفظ ابدیت کے مفہوم میں صریح نہیں ہے۔ جب تک اس کے ساتھ کوئی قرینہ قائم نہ ہو جو دوام کے معنی کی تخصیص کر دے اور جب خالدین کے ساتھ ابداً کا لفظ شامل ہو جاتا ہے تو خلود کے معنی کے لئے قرینہ بن جاتا ہے اور یہ بات ظاہر ہے کہ قرآن مجید میں جہاں خالدین کے ساتھ ابداً کا لفظ آیا ہے وہاں صرف کفار کا بیان ہے اور جہاں صرف خالدین کا لفظ ہے وہاں گنہگار ایمان والوں کا ذکر ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے مؤمن اپنے گناہوں کی سزا پانے کے بعد ایک وقت ضرور جہنم سے نکال لئے جائیں گے۔

(الجن: ٢٣) ”اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا۔ پس اس کے لئے جہنم کی آگ ہے۔ وہ ہمیشہ اس میں رہے گا۔﴾

الا طريق جهنم خالدين فيها ابداً (النساء: ١٦٨، ١٦٩) ”بیشک جن لوگوں نے کفر کیا اور ظلم کیا۔ اللہ ان کی مغفرت نہیں کریں گے اور نہ ان کو ہدایت کا راستہ دکھائیں گے۔ سوائے اس کے کہ ان کو جہنم کا راستہ دکھائیں جس میں وہ ہمیشہ کے لئے رہیں گے۔﴾

کافروں پر اللہ کی لعنت ہوتی ہے

(احزاب: ٦٤، ٦٥) ”بیشک اللہ نے کافروں پر لعنت کی اور ان کے لئے آگ تیار کی ہے۔ جس میں وہ ہمیشہ پڑے رہیں گے۔﴾

١٣

صفحہ ٣٨٤

ان تینوں آیات پر غور کریں کہ عذاب کے دوام کے لئے خالدین کے ساتھ ابداً کا لفظ آیا ہے جو کہ قرینہ ہے۔ خالدین کے لئے کہ کفار کے لئے عذاب دائمی ہوگا۔

کافر اور مشرکین کے لئے انبیاء اور رسولوں کی بھی سفارش کام نہیں دے گی

اس کے علاوہ اس کا امکان ہو سکتا تھا کہ ممکن ہے انبیاء علیہم السلام یا رسول اللہﷺ کی سفارش سے اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرما دیں یا رسول سے قرابت کی وجہ سے مغفرت ہو جائے۔ فرمایا اس کا بھی امکان نہیں ہے کہ کوئی رسول یا ولی اپنے کسی ایسے قرابت والے کے لئے بخشش کی سفارش کرے جو کافر ہو اور کفر ہی کی حالت میں اس کا انتقال ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

الله لهم ذلك بانهم كفروا بالله ورسوله والله لا يهدى القوم الفسقين (توبہ: ٨٠) “ ”﴿آپ ان کے لئے استغفار کریں یا استغفار نہ کریں چاہے آپ ستر مرتبہ بھی ان کے لئے بخشش چاہیں تو بھی اللہ تعالیٰ ہرگز ان کی مغفرت نہیں کرے گا۔ اس لئے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کا انکار کیا اور اللہ نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں کرتا۔﴾

(منافقون:٦) “ ”﴿ان کے لئے برابر ہے کہ آپ بخشش چاہیں یا بخشش نہ چاہیں۔ اللہ تعالیٰ کبھی ان کی مغفرت نہیں کرے گا۔﴾

ان دونوں آیتوں میں فرمایا کہ اگر رسول ان کے لئے اپنے اختیار سے استغفار بھی کریں۔ تب بھی اللہ ان کی مغفرت نہیں فرمائے گا۔ اس لئے کہ ان کا جرم اتنا بڑا ہے جس کی معافی نہیں ہو سکتی ہے۔

القربى من بعد ما تبين لهم انهم أصحب الجحيم (توبہ:١١٣) “ ”﴿نبی اور ایمان والوں کے لئے تو یہ جائز ہی نہیں ہے کہ وہ مشرکین کے لئے مغفرت طلب کریں۔ اگرچہ وہ قریب ہی کے رشتہ دار کیوں نہ ہو۔ جب کہ یہ واضح ہو جائے کہ یہ لوگ جہنم کے مستحق ہیں۔﴾

دیکھئے اس آیت میں یہاں تک منع کر دیا کہ اگر کسی نبی یا رسول کے قریبی رشتہ دار کافر یا مشرک ہوں تو ان کے لئے دعا مغفرت کرنا جائز نہیں ہے تو جب بخشش کے تمام راستے ختم کر دیئے تو اب ان کی مغفرت کی امید نہیں کی جاسکتی۔

١٤

صفحہ ٣٨٥

عذاب کے دوام کے لئے خالدین کے ساتھ ابداً کا لفظ بھی آیا ہے کہ کفار کے لئے عذاب دائمی ہوگا۔ اور رسولوں کی بھی سفارش کام نہیں دے گی

یہ شبہ ہو سکتا تھا کہ ممکن ہے انبیاء علیہم السلام یا رسول اللہ ﷺ کی دعائیں یا رسول سے قرابت کی وجہ سے مغفرت ہو جائے۔ کوئی رسول یا ولی اپنے کسی ایسے قرابت والے کے لئے بخشش کی دعا کرے حالانکہ کفر پر اس کا انتقال ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

استغفر لهم او لا تستغفر لهم ان تستغفر لهم سبعين مرة فلن يغفر الله لهم ذلك بانهم كفروا بالله ورسوله والله لا يهدي القوم الفسقين ﴿آپ استغفار کریں یا استغفار نہ کریں چاہے آپ ستر مرتبہ بھی ان کے لئے استغفار کریں، اللہ ان کی مغفرت نہیں کرے گا۔ اس لئے کہ انہوں نے اللہ اور رسول کے ساتھ کفر کیا اور اللہ نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں کرتا۔﴾

سواء عليهم استغفرت لهم ام لم تستغفر لهم لن يغفر الله لهم ﴿ان کے لئے برابر ہے کہ آپ بخشش چاہیں یا بخشش نہ چاہیں۔ اللہ تعالیٰ کبھی نافرمانوں کو نہیں بخشے گا۔﴾

ان آیات سے معلوم ہوا کہ اگر رسول ان کے لئے اپنے اختیار سے استغفار بھی کریں گے تو انہیں اس کا کوئی فائدہ نہ ملے گا۔ اس لئے کہ ان کا جرم اتنا بڑا ہے جس کی معافی ممکن نہیں۔

ماكان للنبى والذين امنوا ان يستغفروا للمشركين ولو كانوا اولى قربى من بعد ما تبين لهم انهم اصحب الجحيم (توبہ: ١١٣) ﴿نبی اور ایمان والوں کے لئے جائز نہیں کہ وہ مشرکین کے لئے مغفرت طلب کریں۔ اگرچہ وہ قریب کے رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں۔ جب ان پر واضح ہو جائے کہ یہ لوگ جہنم کے مستحق ہیں۔﴾

اس آیت نے یہ معاملہ بھی واضح کر دیا کہ اگر کسی نبی یا رسول کے قریبی رشتہ دار کافریا مشرک ہوں تو ان کے لئے دعائے مغفرت جائز نہیں ہے تو جب بخشش کے تمام راستے ختم کر دیئے گئے تو ابدی عذاب میں کوئی شک نہیں رہتی۔

١٤

اب اس کے بعد یہ کہنا کہ تمام انسانوں کو ایک دن ضرور جنت میں داخل کر دیا جائے گا۔ یہ دعویٰ ان ٢١ آیات میں صریح معنوی تحریف ہے جو کسی طرح بھی جائز نہیں ہے۔ صاحب مراسلہ نے اپنی تائید میں دوسری آیت اور تیسری آیت پیش کی ہے اور ان دونوں سے اپنے مؤقف کی تائید کی ہے۔

.......٢٢ ”ونضع الموازين القسط ليوم القيامة ولا تظلم نفس شيئًا وان كان مثقال حبة من خردل أتينا بها وكفى بنا حاسبين (الانبیاء: ٤٧)“ ﴿قیامت کے دن ہم ایسے تول کے سامان پیدا کریں گے جن کی وجہ سے کسی جان پر ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کیا جائے گا اور کسی کی رائی کے دانے کے برابر (نیکی یا بدی) ہوگی تو ہم اس کو بھی لے آئیں گے اور ہم حساب لینے میں کافی ہیں۔﴾

اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

آیت سے غلط استدلال

اب اگر کوئی شخص بدیوں کی کثرت کی وجہ سے جہنم میں چلا جائے اور پھر ابدالاباد تک اسی میں رہے تو اسے اپنی نیکیوں کا بدلہ نہیں مل سکتا ہے۔ دنیا میں کوئی انسان نہیں جس نے کچھ نہ کچھ نیکی نہ کی ہو۔ پس ضروری ہے کہ اس کی سزا ایک دن ختم ہو جائے۔ تا کہ اس کی نیکیوں کی جزا بھی اسے مل جائے۔ ہمیشہ جہنم میں رہنے سے تو اسے نیکیوں کی جزا کبھی بھی نہیں ملے گی۔

آیت کا صحیح مفہوم

مذکورہ آیت سے جو نتیجہ اخذ کیا ہے وہ خود ساختہ ہے۔ اس پر صریح کوئی دلیل نہیں ہے۔ آیت کا صحیح مفہوم یہ ہے کہ قیامت کے دن ہر انسان کے ساتھ انصاف کیا جائے گا اور اس کے تمام اعمال کو خواہ نیک ہوں یا بد، میزان عدل میں رکھا جائے گا اور جس کا نیکیوں کا پلہ بھاری ہوگا تو وہ کامیاب قرار دیا جائے گا اور اگر برائیاں زیادہ ہوں گی تو ناکام سمجھا جائے گا۔ اس مفہوم کو قرآن پاک میں بار بار دہرایا گیا ہے اور کسی نفس پر ظلم نہ کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ اس کے ہر عمل کا بدلہ کامیابی کی صورت میں دیا جائے۔ بلکہ یہ مطلب ہے کہ کسی نفس کے ساتھ ناانصافی نہیں ہوگی کہ اس کے نیک اعمال کا بدلہ نہ دیا جائے۔ بلکہ جس نے اگر رائی کے دانے کے برابر بھی نیکی کی ہے تو اس کو بھی اس کا پورا صلہ ملے گا۔ لیکن یہ معاملہ صرف اہل ایمان کے ساتھ ہوگا۔ اگر ان کی نیکیاں زیادہ ہیں تو فوراً بخشش ہو جائے گی اور اگر برائیاں بھی ہیں تو اس کی سزا ملے گی اور اس کے

١٥

صفحہ ٣٨٦

بعد جنت میں داخل کر دیا جائے گا اور اگر وہ کافر مشرکین ہیں تو وہاں ان کو ان کے نیک رفاہی کاموں کا بدلہ نہیں ملے گا۔ اس لئے کہ ان کے پاس ایمان نہیں ہے اور ایمان ہی اصل مدار ہے نجات کے لئے، تو اس لئے ان کے ساتھ جدا معاملہ ہوگا۔ دنیا میں جو نیک یا رفاہی کام ان لوگوں نے کئے ہیں۔ ان کا بدلہ دنیا میں ہی دے دیا جاتا ہے اور آخرت میں اس کا صلہ نہیں ملے گا۔

اہل دنیا کے اعمال دنیا میں ہی بیکار ہو جائیں گے

اللہ تعالیٰ نے خود اس کا فیصلہ فرمایا۔ ارشاد فرمایا: ”من كان يريد الحيوة الدنيا وزينتها نوف اليهم اعمالهم وهم فيها لا يبخسون اولئك الذين ليس لهم فى الآخرة الا النار وحبط ما صنعوا فيها وبطل ما كانوا يعملون (هود: ١٥، ١٦) ”جو دنیا اور اس کی زینت چاہتے ہیں ہم ان کو پورا بدلہ ان کے اعمال کا (دنیا ہی میں) دیں گے اور ان میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے لئے آخرت میں صرف آگ ہی ہے اور دنیا میں جو کچھ انہوں نے کیا ہے وہ بے کار ہوگا اور بے اثر کر دیا جائے گا جو کچھ وہ کرتے تھے۔“

یہ آیت اپنے مفہوم میں اس قدر واضح ہے کہ اس میں کسی قسم کی تاویل کی قطعاً گنجائش نہیں ہے اور اس پر تاریخ عالم گواہ بھی ہے۔ کافر اور مشرکین اور بے دین لوگ دنیا کے ہر خطہ اور ہر دور میں رہے اور بہت سے بے دین لوگوں نے بے شمار انسانی فلاح و بہبود کے کام کئے۔ خاص طور پر یورپ کے سائنسدانوں نے ایسی راحت و آرام کی چیزیں ایجاد کی ہیں۔ جن سے انسانیت کو قیامت تک فیض پہنچتا رہے گا۔ قرآن مجید کا وعدہ سچا ہے۔ چنانچہ انہوں نے محنت کی اور انہیں اس کا صلہ اپنے مقصد میں کامیابی کی صورت میں ملا اور عزت وشہرت بھی حاصل ہوئی۔ لیکن یہ سب دنیا کی حد تک ہے۔ آخرت میں ان کو کوئی صلہ نہیں ملے گا۔ اسی مفہوم کو ایک دوسری آیت میں اس طرح اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے۔

کافر اور مشرکین کے اعمال کی حقیقت

”قل هل ننبئكم بالاخسرين اعمالاً الذين ضل سعيهم في الحيوة الدنيا وهم يحسبون انهم يحسنون صنعاً (الكهف: ١٠٣، ١٠٤) ”آپ کہہ دیں کہ کیا ہم آپ کو بتائیں کہ عمل کے اعتبار سے نقصان میں کون ہے وہ لوگ ہیں جن کی کوششیں دنیا کی زندگی میں بیکار ہو گئیں۔ حالانکہ وہ یہ گمان کرتے ہیں کہ یقیناً انہوں نے اچھے عمل کئے ہیں۔“

١٦

صفحہ ٣٨٧

اس آیت نے کافر اور مشرکین کے اعمال کی حقیقت متعین کر دی کہ یہ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم اچھے اعمال کر رہے ہیں۔ حالانکہ ان کی تمام کوششیں ناکام ہو چکی ہیں۔ جیسا کہ بیسویں صدی کے سائنسدانوں نے راحت و آرام کی بے شمار چیزیں ایجاد کیں۔ لیکن اس کے ساتھ بندوق سے لے کر ایٹمی ہتھیار تک ایجاد کئے۔ جن سے لاکھوں انسانوں کی جانوں کو ایک آن میں ختم کیا جاسکتا ہے۔ ہیروشیما کی تاریخ گواہ ہے۔ ایک آن میں ہزارہا انسان لقمہ اجل بن گئے اور اب بھی ایٹمی طاقتیں لرزہ براندام ہیں کہ اگر ایٹمی جنگ شروع ہو گئی تو فریقین میں سے کسی کا بچنا ممکن نہیں ہوگا۔ غرض کہ ان لوگوں نے جو کچھ محنت کی اس کا نتیجہ ان کی ناکامی کی صورت میں ظاہر

ہو گیا۔ اس سے زیادہ واضح آیت اور ہے جس میں کافروں کے اعمال کو سراب سے تشبیہ دے کر ان کی بے ثباتی کی بہترین وضاحت کی ہے۔ چنانچہ ارشاد ہے: ”والذين كفروا اعمالهم كسراب (النور : ٣٩) ” اور وہ لوگ جو کافر ہوئے ان کے اعمال کی مثال سراب ۔ یعنی پانی کی مانند چمکتی ریت کے مانند ہے۔ جس طرح ریت کے ٹیلے کو استقرار نہیں ہوتا۔ بلکہ ہوا کے ساتھ اس کا وجود ختم ہوتا رہتا ہے۔ اسی طرح کافروں کے اعمال ہیں کہ اپنے وجود میں اس قدر سریع الزوال ہیں کہ دوام نہیں ہے۔ جس طرح نقش بر آب ہوتا ہے ایک طرف پانی میں لکیر ڈالئے دوسری طرف فوراً ختم ہوتی چلی جاتی ہے۔

”واما من خفت موازينه فامه هاوية (القارعة: ٨، ٩) ”جس کی نیکیاں کم ہوں گی اس کی ماں ہاویہ جہنم ہوگی۔"

صاحب مراسلہ اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

آیت سے غلط استدلال

یعنی جس طرح بچہ رحم مادر میں ایک معین عرصہ تک رہتا ہے اور پھر اس کے پیٹ سے باہر آ جاتا ہے۔ اس طرح جب دوزخیوں کی اصلاح جہنم میں ہو جائے گی اور وہ عبد بننے کے لائق ہو جائیں گے تو اللہ تعالیٰ انہیں جہنم سے باہر لے آئے گا۔

آیت کا صحیح مفہوم

یہاں بھی سخن سازی سے کام لیا گیا ہے اور آیت کو ایک نئے مفہوم کا جامہ پہنا کر نئے انداز سے پیش کیا ہے۔ جس کے ذریعہ لوگوں کے ذہن سے جہنم کا خوف ختم ہو جائے گا۔ یا پھر بطور اقامت گاہ کے بغرض علاج کچھ عرصہ کے لئے جہنم میں داخل ہونے کا یقین کرایا جا رہا ہے۔ اس طرح رفتہ رفتہ لوگ یہ یقین کر لیں گے کہ چلو دنیا میں من مانی کر لو اور اگر اللہ تعالیٰ نے

١٧

صفحہ ٣٨٨

جہنم میں ڈال بھی دیا تو وہ عارضی ہوگا اور کچھ مدت کے بعد پھر راحت و آرام کی زندگی جنت میں مل جائے گی۔ اس انداز فکر سے نیک اور بد مسلمان اور کافر میں امتیاز ختم ہوکر رہ جائے گا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے خود ارشاد فرمایا ہے: ”أفنجعل المسلمین کالمجرمین مالکم کیف تحکمون (القلم: ٣٥، ٣٦)“ ﴿ کیا ہم مسلمانوں کو مجرموں کے برابر کر دیں۔ تم کو کیا ہوا تم کیسے فیصلے کرتے ہو۔ ﴾

کلام الٰہی کے اس فیصلہ کے بعد کیا اس کا امکان رہ جاتا ہے کہ یہ یقین کر لیا جائے کہ ایک وہ شخص ہے جو پوری زندگی یاد الٰہی اور اس کے اوامر پر عمل کرنے اور اس کے نواہی سے بچنے میں گزارتا ہے۔ ہر قدم پر اس کو مکارہ اور تکالیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور دوسری طرف وہ شخص ہے جو تمام زندگی نافرمانی اور من مانی میں گزارتا ہے۔ اچھے برے میں ذرا بھی تمیز نہیں کرتا ہے تو کیا حق تعالیٰ شانہ کی شان عدل سے یہ ممکن ہے کہ ان دونوں کو ایک مقام میں برابر کردیں یہ تو عام آدمی سے بھی ممکن نہیں ہے۔

لغت کا غلط استعمال

صاحب مراسلہ نے لفظ امہ کو ماں کے پیٹ سے جو تشبیہ دی ہے اور قرآن میں جو نئے معنی پیدا کئے ہیں۔ اس کا ثبوت بھی ہے یا نہیں۔ حالانکہ امہ کے معنی یہ ہیں کہ جن کی نیکیاں کم ہوں گی ان کا ٹھکانہ جہنم ہوگا۔ جہنم کو ماں کے پیٹ سے تشبیہ دینا قرآن کے مقصد کے خلاف ہے۔ اس لئے کہ ماں کا پیٹ جائے قرار ہے اور راحت کی جگہ ہے اور جہنم تکلیف اور سزا کی جگہ ہے۔ دنیا میں کون عقلمند انسان ہے جو ہسپتال کو راحت و آرام کی جگہ قرار دے گا۔ اس کے بعد یہ قیاس کرنا کہ جہنم میں سزا پانے کے بعد ان میں عبد بننے کی صلاحیت پیدا ہو جائے گی یہ بھی درست نہیں ہے۔ اس لئے کہ عبد بننے کی جگہ تو دنیا تھی۔ جہاں اس کو اللہ کی بندگی کرنا تھی۔ لیکن اس نے دنیا میں من مانی کی اور دنیا جو آخرت کی کھیتی تھی اس نے اس میں ایمان ویقین اور نیک عمل کی کاشت کاری نہیں کی اور آخرت میں جنت اور جہنم تو دارالجزاء ہے دارالتربیت نہیں ہے۔ اس لئے یہ کہنا کہ جہنم میں رہنے کے بعد ان میں عبد بننے کی صلاحیت پیدا ہو جائے گی درست نہیں ہے۔

(الاعراف: ١٥٦)“ ﴿ میں اپنا عذاب جس کو چاہتا ہوں پہنچاتا ہوں۔ مگر میری رحمت ہر چیز پر حاوی ہے۔ ﴾

اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔

١٨

غلط استدلال

جب اس کی رحمت جو کی رحمت کے سایہ تلے آجائے او صاحب مراسلہ نے آی پر قائم ہے۔ اپنے ذہن کے خودساخ رحمت کا یہ مطلب نہیں کہ عدل وان کی صفت قہاریت کا مظہر ہے۔ ا عقیدہ ہے کہ جس طرح جنت دائم ہے۔ اہل جہنم کافر مشرکین کے ل کافر و مشرکین کا ٹھکانہ کہاں ہوگا ۔ قرآن وحدیث کے خلاف ہے۔

وسعت رحمت کا صحیح مفہوم

وسعت رحمت کا صحیح آ وہ اپنے بندوں کی معمولی غلطیوں ہیں۔ تاکہ وہ اپنی غلطی سے تائب فرمادیتے ہیں۔ اس طرح جب ب پر اپنے انعامات کا دروازہ نہیں ب یاب ہوتے ہیں۔ حالانکہ عدل و اطاعت نہ کرے تو اللہ تعالیٰ اس ہے۔ اس لئے اس کو مہلت دی ج ملتی ہے۔ یہ ہے رحمت کا معنی او دن ہوگا۔ یہاں تک کہ اللہ جل فرمادیں گے۔ لیکن کافر اور مش ہوں گے۔ اس لئے کہ انہوں ن بند رکھے تھے۔

صفحہ ٣٨٩

کچھ مدت کے بعد پھر راحت و آرام کی زندگی جنت میں اور بد مسلمان اور کافر میں امتیاز ختم ہو کر رہ جائے گا۔ ”أفنجعل المسلمين كالمجرمين مالكم كيف کیا ہم مسلمانوں کو مجرموں کے برابر کر دیں۔ تم کو کیا ہوا تم

یہ غلط قیاس کا امکان رہ جاتا ہے کہ یہ یقین کر لیا جائے کہ خدا اس کے اوامر پر عمل کرنے اور اس کے نواہی سے بچنے میں تکالیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور دوسری طرف وہ شخص گزارتا ہے۔ اچھے برے میں ذرا بھی تمیز نہیں کرتا ہے تو ہے کہ ان دونوں کو ایک مقام میں برابر کر دیں یہ تو عام

ماں کے پیٹ سے جو تشبیہ دی ہے اور قرآن میں جو معنی ہیں۔ حالانکہ امہ کے معنی یہ ہیں کہ جن کی نیکیاں کم ہوں اس سے تشبیہ دینا قرآن کے مقصد کے خلاف ہے۔ اس راحت کی جگہ ہے اور جہنم تکلیف اور سزا کی جگہ ہے۔ دنیا آرام کی جگہ قرار دے گا۔ اس کے بعد یہ قیاس کرنا کہ کی صلاحیت پیدا ہو جائے گی یہ بھی درست نہیں ہے۔ اس کو اللہ کی بندگی کرنا تھی۔ لیکن اس نے دنیا میں من اس میں ایمان ویقین اور نیک عمل کی کاشت کاری سزا گاہ ہے دار التربیت نہیں ہے۔ اس لئے یہ کہنا کہ جہنم پاکیزگی پیدا ہو جائے گی درست نہیں ہے۔ من اشاء ورحمتي وسعت كل شئ جس کو چاہتا ہوں پہنچاتا ہوں۔ مگر میری رحمت ہر چیز پر

سکتے ہیں۔

١٨

غلط استدلال

جب اس کی رحمت ہر ایک چیز پر حاوی ہے تو ضروری ہے کہ دوزخ بھی ایک دن اس کی رحمت کے سایہ تلے آ جائے اور دوزخیوں کو اس سے نکال کر جنت میں داخل کر دیا جائے۔

صاحب مراسلہ نے آیت سے جو استدلال کیا ہے۔ اس کی بنیاد خالص قیاس و میلان پر قائم ہے۔ اپنے ذہن کے خود ساختہ معنی آیت کے ساتھ چسپاں کرنا چاہتے ہیں۔ حالانکہ وسعت رحمت کا یہ مطلب نہیں کہ عدل و انصاف کے تقاضوں کو یکسر ختم کر دیا جائے اور جہنم جو اللہ جل شانہ کی صفت قہاریت کا مظہر ہے۔ اس کے وجود ہی کو ختم کر دیا جائے۔ جب جمہور امت کا یہ اجتماعی عقیدہ ہے کہ جس طرح جنت دائم الوجود ہے۔ اہل جنت کے لئے ، اسی طرح جہنم بھی دائم الوجود ہے۔ اہل جہنم کافر مشرکین کے لئے ، اگر وسعت رحمت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ جہنم کو بھی ختم فرمادیں تو کافر و مشرکین کا ٹھکانہ کہاں ہو گا۔ کیا وہ بھی جنت میں داخل کر دیئے جائیں گے۔ حالانکہ یہ صراحتاً قرآن وحدیث کے خلاف ہے۔

وسعت رحمت کا صحیح مفہوم

وسعت رحمت کا صحیح مفہوم یہ ہے کہ اللہ جل شانہ کی رحمت اس قدر وسیع ہے کہ وہ اپنے بندوں کی معمولی غلطیوں اور گناہوں پر فوری مواخذہ نہیں فرماتے بلکہ اس کو ڈھیل دیتے ہیں۔ تا کہ وہ اپنی غلطی سے تائب ہو جائے اور جب وہ تائب ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو معاف فرما دیتے ہیں۔ اس طرح جب یہ لوگ نافرمانی اور گناہوں میں ملوث رہتے ہیں تو اللہ جل شانہ ان پر اپنے انعامات کا دروازہ نہیں بند کرتے۔ وہ دنیا میں نیک لوگوں کی طرح تمام نعمتوں سے فیض یاب ہوتے ہیں۔ حالانکہ عدل وانصاف کا یہ تقاضہ تھا جب کوئی بندہ اللہ تعالیٰ کو نہ مانے اور اس کی اطاعت نہ کرے تو اللہ تعالیٰ اس کی نعمتوں کو روک سکتے ہیں۔ لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت وسیع ہے۔ اس لئے اس کو مہلت دی جاتی ہے۔ جب وہ تائب ہو جاتا ہے تو گزشتہ گناہوں کی سزائیں بخش دیتا ہے۔ یہ ہے رحمت کا معنی اور اس وسعت رحمت کا مظاہرہ پوری فیاضی کے ساتھ قیامت کے دن ہوگا۔ یہاں تک کہ اللہ جل شانہ ایمان کے ساتھ صرف ایک نیکی کی وجہ سے اس کی مغفرت فرمادیں گے۔ لیکن کافر اور مشرکین اور بے دین لوگوں کے لئے رحمت کے دروازے بند ہوں گے۔ اس لئے کہ انہوں نے دنیا میں اطاعت الٰہی اور ایمان ویقین کے دروازے اپنے اوپر بند رکھے تھے۔

١٩

صفحہ ٣٩٠

مادامت السمٰوت والارض الا ماشاء ربك ان ربك فعال لما يريد ، واما الذين سعدوا ففى الجنة خلدين فيها مادامت السمٰوت والارض الا ماشاء ربك عطاء غير مجذوذ (هود:١٠٦تا١٠٨) ”جو لوگ بدبخت ہوں گے وہ آگ میں داخل کئے جائیں گے۔ اس میں کسی وقت تو ان کے غم سے لمبے لمبے سانس نکل رہے ہوں گے اور کسی وقت رو رو کر ہچکی بندھ جائے گی۔ وہ اس میں اس وقت تک رہتے چلے جائیں گے جب تک کہ آسمان وزمین قائم ہیں۔ سوائے اس کے تیرا رب اور ارادہ کرے اور تیرا رب اپنے ارادہ کو پورا کرنے والا ہے اور جو لوگ خوش نصیب ہوں گے وہ جنت میں داخل کئے جائیں گے اور اس میں اس وقت تک رہیں گے جب تک کہ آسمان وزمین قائم ہیں۔ سوائے اس کے تیرا رب کچھ اور چاہے مگر یہ عطاء ہوگی جو کبھی ختم نہیں ہوگی۔“ اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے صاحب مراسلہ لکھتے ہیں:

آیت سے عجیب منطقی انداز میں استدلال

اس آیت میں دوزخیوں کے متعلق تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم ان کو جہنم سے نکال سکتے ہیں اور ہمارے ارادہ میں کون حائل ہوسکتا ہے۔ لیکن مؤمنوں کے متعلق فرماتا ہے کہ اگر چاہیں تو ان کو بھی جنت سے نکال سکتے ہیں۔ مگر ہم نے یہی چاہا کہ ان کے انعام کو کبھی ختم نہ کیا جائے۔ اس مقابلہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ دوزخ کا عذاب ایک دن ختم ہونے والا ہے۔ کیونکہ دوزخیوں کو جہنم سے نکلنے کی امید دلائی گئی ہے اور جنتیوں کو کہا گیا ہے کہ انہیں نہ ختم ہونے والے انعام سے نوازا جائے گا۔

آیت کی صحیح تفسیر

یہ طویل آیت بھی صاحب مراسلہ نے اپنے مؤقف کی تائید میں پیش کی ہے۔ طرزِ استدلال بتا رہا ہے کہ آیت میں بڑی کھینچ تان کر کے عذاب کے دائمی ہونے کی نفی پر کلام کیا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ یہاں اس آیت کی صحیح تفسیر کا خلاصہ لکھیں جو معالم التنزیل وروح المعانی وطبری اور بحرالمحیط میں اشقیٰ کی بحث میں کی گئی ہے۔ تا کہ آیت کا صحیح مفہوم واضح ہوسکے۔ فرمایا کہ سعید وشقی سے مراد نیک کار اور بدکار لوگ مراد لئے جائیں۔ خواہ وہ مؤمن ہوں یا کافر اور ما کو مَن کے معنی میں لیا جائے۔ پس یہ معنی ہوئے کہ گنہگار کافر دوزخ میں ہوں گے۔ مگر جس کو اللہ تعالیٰ چاہیں یعنی اس کا خاتمہ کفر پر نہ ہو جائے۔ پس اس سے یہ نتیجہ ہمارے سامنے آتا ہے کہ اطاعت پر ناز نہ کرے اور عصیان پر مایوس نہ ہو۔ اسی مفہوم کی تائید مشکوٰۃ کی ایک روایت سے ہوتی ہے۔ جس کو بخاری ومسلم نے بھی نقل کیا ہے۔

٢٠

”عن ابن ما بعمل اهل الجنة فيعمل بعمل اهل حضرت عبداللہ بن مسعو ایک کا نطفہ اللہ تعالیٰ ماں چالیس روز میں پھر وہ اتنی کلمات لے کر بھیجتے ہیں روح پھونک دیتا ہے۔ اس کرتا ہے اور یہاں تک اس کا لکھا پورا ہوتا ہے تو وہ اہل تم میں کوئی شخص دوزخ کے فاصلہ رہ جاتا ہے تو اس کی میں داخل ہو جاتا ہے۔“

ہم نے یہاں پوری طرح واضح ہو جائ آنحضرت ﷺ کا قول یا نہیں ہے۔ اپنے پہلے مرا کی ہے۔ لکھتے ہیں کہ حدی غریب حدیث سے

”يأتي ع ابوابها (معالم التنزي صبح اس کے دروازے کھٹک یعنی اس کے کہ اسلامی تعلیم کے ماتحت بھیانک اور تکلیف دہ چیز بھی اپنے سایہ رحمت می

صفحہ ٣٩٠

”عن ابن مسعودؓ قال حدثنا رسول اللہ ﷺ...... ان احدكم ليعمل بعمل اهل الجنة حتى مايكون بينه وبينها الا ذراع فيسبق عليه الكتاب فيعمل بعمل اهل النار فيدخلها (مسلم ج ٢ ص ٣٣٢، باب القدر ص ٢٠)“ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم سے بیان فرمایا کہ تم میں سے ہر ایک کا نطفہ اللہ تعالیٰ ماں کے پیٹ میں چالیس روز تک رکھتے ہیں اور پھر وہ خون بن جاتا ہے۔ چالیس روز میں پھر وہ اتنی مدت میں گوشت کی بوٹی بن جاتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ ایک فرشتہ کو چار کلمات لے کر بھیجتے ہیں پھر وہ لکھتا ہے اس کا کام وعمر ورزق اور بدبختی یا نیک بختی۔ پھر اس میں روح پھونک دیتا ہے۔ اس ذات کی قسم جس کے سواء کوئی معبود نہیں۔ تم میں سے کوئی جنت کے عمل کرتا ہے اور یہاں تک اس کے اور جنت کے درمیان چند ذراع کا فاصلہ رہ جاتا ہے تو اس کی تقدیر کا لکھا پورا ہوتا ہے تو وہ اہل دوزخ کے کام کرنے لگتا ہے۔ پس وہ اس میں داخل ہو جاتا ہے اور تم میں کوئی شخص دوزخ کے کام کرتا ہے۔ یہاں تک کہ دوزخ اور اس کے درمیان چند ذراع کا فاصلہ رہ جاتا ہے تو اس کی تقدیر کا لکھا پورا ہوتا ہے۔ وہ اہل جنت کے کام کرنے لگتا ہے۔ پس وہ جنت میں داخل ہو جاتا ہے۔ ٭

ہم نے یہاں طویل حدیث کا ترجمہ اس لئے نقل کیا ہے۔ تاکہ اوپر والی آیت کا مفہوم پوری طرح واضح ہو جائے۔ تفسیر کا یہ اصول ہے جب کسی آیت کی تشریح منقول ہو اور آنحضرت ﷺ کا قول یا فعل موجود ہو تو پھر وہاں عقلی اور منطقی تفسیر سے کسی آیت کی تشریح کرنا جائز نہیں ہے۔ اپنے پہلے مراسلہ کے آخر میں ایک حدیث بھی اپنے دعوے کے اثبات کے لئے پیش کی ہے۔ لکھتے ہیں کہ حدیث میں آتا ہے۔

غریب حدیث سے غلط استدلال

”یأتی علی جهنم زمان ليس فيها احد ونسيم الصباح تحرك ابوابها (معالم التنزيل)“ ﴿جہنم پر ایک زمانہ آئے گا کہ اس میں کوئی شخص نہیں ہوگا اور باد نسیم صبح اس کے دروازے کھٹکھٹائے گی۔﴾ یعنی اس کے دروازے کھلے ہوں گے اور دوزخ کے اندر کوئی قیدی نہیں رہے گا۔ غرض کہ اسلامی تعلیم کے ماتحت جزائے نیک تو دائمی ہوگی۔ مگر دوزخ کا عذاب دائمی نہیں ہوگا۔ وہ بیشک بھیانک اور تکلیف دہ چیز ہے۔ بالآخر خدائے تعالیٰ کی رحمت جوش میں آئے گی اور وہ گنہگاروں کو بھی اپنے سایہ رحمت میں لے آئے گی۔ ٢١

ربك ان ربك فعال لما يريد . واما الذين مت السموت والارض الا ماشاء ربك عطاً ”جو لوگ بدبخت ہوں گے وہ آگ میں داخل کئے ے لمبے لمبے سانس نکل رہے ہوں گے اور کسی وقت رو قت تک رہتے چلے جائیں گے جب تک کہ آسمان نا ارادہ کرے اور تیرا رب اپنے ارادہ کو پورا کرنے والا میں داخل کئے جائیں گے اور اس میں اس وقت تک ہے۔ سوائے اس کے تیرا رب کچھ اور چاہے مگر یہ عطاء رفع کرتے ہوئے صاحب مراسلہ لکھتے ہیں :

دلال

یں تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم ان کو جہنم سے نکال سکتے ہے۔ لیکن مومنوں کے متعلق فرماتا ہے کہ اگر چاہیں تو سے یہی چاہا کہ ان کے انعام کو کبھی ختم نہ کیا جائے۔ ایک دن ختم ہونے والا ہے۔ کیونکہ دوزخیوں کو جہنم رکھا ہے کہ انہیں نہ ختم ہونے والے انعام سے نوازا

نے اپنے موقف کی تائید میں پیش کی ہے۔ طرز زخ کے عذاب کے دائمی ہونے کی نفی پر کلام کیا ہے۔ خلاصہ لکھیں جو معالم التنزیل وروح المعانی و طبری کہ آیت کا صحیح مفہوم واضح ہو سکے۔ فرمایا کہ سعید میں ہیں۔ خواہ وہ مومن ہوں یا کافر اور ما کومن کے کر دوزخ میں ہوں گے۔ مگر جس کو اللہ تعالیٰ چاہیں نتیجہ ہمارے سامنے آتا ہے کہ اطاعت پر ناز نہ ئید مشکوٰۃ کی ایک روایت سے ہوتی ہے۔ جس کو

PDF 393

حدیث کا صحیح مفہوم

صاحب مراسلہ نے جو حدیث پیش کی ہے ان کے دیئے ہوئے حوالہ معالم التنزیل کے عربی نسخے میں ہمیں یہ حدیث نہیں ملی۔ اگر ان کے پاس اس کا ثبوت ہے تو پیش کریں۔ ہاں البتہ اس مفہوم کے قریب جو الفاظ ہمیں ملے وہ یہ ہیں۔

"عن ابن مسعودؓ قال ليأتين على جهنم زمان ليس فيها احد وذلك بعد ما يلبثون فيها أحقاباً وعن ابى هريرة مثله معناه عند اهل السنة ............ وثبت ان لا يبقى فيها احد من الايمان اما مواضع الكفار فممتلئة ابداً (معالم التنزيل ج ٢ ص ١٤١) " ابن مسعودؓ سے روایت ہے کہ جہنم پر ایسا زمانہ آئے گا کہ اس میں کوئی آدمی نہیں ہوگا اور یہ سینکڑوں برس کے بعد ہوگا۔ اسی قسم کی روایت ابو ہریرہؓ سے منقول ہے۔ علامہ بغوی لکھتے ہیں۔ اس حدیث کا مطلب اہل سنت کے نزدیک یہ ہے کہ یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ اہلِ ایمان سے کوئی جہنم میں باقی نہیں رہے گا۔ لیکن کافروں سے جہنم بھری ہوئی ہوگی۔

اصول حدیث کی ضرورت

احادیث سے استدلال کرنے کے لئے علماء حدیث نے چند اصول وضع کئے ہیں اور جب تک ان اصول حدیث کو سامنے نہ رکھا جائے اس وقت تک کسی حدیث سے استدلال کرنا غلطی ہے۔ جیسا کہ صاحب مراسلہ سے غلطی ہوئی ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ موصوف علم حدیث اور اصول حدیث سے بالکل واقف نہیں ہیں۔ کاش کہ اس حدیث سے استدلال کرنے سے پہلے اصول حدیث کا مطالعہ کر لیتے۔ لیکن ایسا نہیں کیا بلکہ اسلام کے بنیادی عقیدے کے اثبات کے لئے نص قطعی کے مقابلہ پر غریب حدیث سے استدلال کر رہے ہیں اور اسلام کے بنیادی عقیدے کی اساس اس پر قائم کر رہے ہیں۔ دیکھئے اس حدیث کے متعلق علماء ومحدثین کا فیصلہ کیا ہے۔ چنانچہ صاحب معالم تنزیل ج ٤ ص ٣٩٨ نے اس حدیث کے متعلق یہ لکھا ہے۔

"وقد رواها فى تفسيره عن امير المؤمنين عمر بن الخطاب وابن مسعود وابن عباس وابى هريرة وعبدالله بن عمر وجابر وابى سعيد من الصحابة ورد فى حديث غريب فى معجم الطبرانى الكبير عن ابى امامة صدى بن عجلان الباهلى ولكن سنده ضعيف وقال السدى هى منسوخة لقوله خالدين فيها ابداً " اس آیت کی تفسیر میں اس حدیث کے نقل کرنے والے باوجود حضرت عمرؓ وابن مسعود وابن عباس وابو ہریرہؓ، ابن عمر، جابر، ابوسعید ہیں۔ اس کی غریب میں شمار

٢٢

کیا ہے۔ یہی حدیث معجم طبرانی میں کی سند ضعیف ہے اور علامہ سدی ابداً لیکن علامہ آلوسی نے اپنی تفسیر غریب قرار دیا ہے۔

اس حدیث کے متعلق سے استدلال کرنا کہاں تک د تاکہ حدیث کو سمجھنے اور اس سے واقع نہ ہو۔ ہم چاہتے ہیں کہ مراسلہ کا اس حدیث سے است درست ہو سکتا ہے۔

اصول حدیث

محدثین کرام نے حدیث، متن حدیث کا مطالعہ سلسلہ روایت جو آنحضرت ﷺ حدیث کی صحت کے لئے ضرو وشبہ نہ ہو۔ اگر متن میں شبہ ہے اور اگر متن و سند دونوں اعتب آیت یا حدیث متواتر یا حدیث کے لئے تطبیق یا تاویل یا ترج ساتھ عمل کیا جائے گا۔ جو صحیح حدیث سے احکام کا اثبات جس کے متعلق اوپر علماء ومحد طرح استدلال کیا جا سکتا ہے

قرآن پاک میں شبہ

صاحب مراسلہ قرآن کریم میں ایک جگہ فرما

صفحہ ٣٩٣

کیا ہے۔ یہی حدیث معجم طبرانی کبیر میں۔ ابو امامہ صدی بن عجلان الباہلی سے منقول ہے۔ لیکن اس کی سند ضعیف ہے اور علامہ سدی نے کہا کہ یہ منسوخ ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اس قول سے خالدین فیھا ابداً لیکن علامہ آلوسی نے اپنی تفسیر روح المعانی میں نسخ کے قول کو بھی رد کیا ہے اور اس حدیث کو غریب قرار دیا ہے۔﴾

اس حدیث کے متعلق جلیل القدر محدثین کا یہ فیصلہ ہے۔ اس فیصلہ کے بعد اس حدیث سے استدلال کرنا کہاں تک درست ہے۔ اس بنیاد پر علماء حدیث نے اصول حدیث وضع کئے تاکہ حدیث کو سمجھنے اور اس سے استدلال اور اس سے احکام ثابت کرنے میں آسانی ہو اور غلطی واقع نہ ہو۔ ہم چاہتے ہیں یہاں چند اصول لکھ دیئے جائیں۔ تاکہ یہ فیصلہ ہو سکے کہ صاحب مراسلہ کا اس حدیث سے استدلال کر کے اسلام کے بنیادی عقیدے کو ثابت کرنا کہاں تک درست ہو سکتا ہے۔

اصول حدیث

محدثین کرام نے لکھا ہے کہ حدیث کے دو جز ہوتے ہیں۔ ایک متن حدیث دوئم سند حدیث، متن حدیث کا مطلب آنحضرت ﷺ کے الفاظ ہیں اور سند حدیث کا مطلب ہے وہ سلسلہ روایت جو آنحضرت ﷺ سے لے کر بعد تک کے نقل کرنے والے حضرات تک متصل ہو۔ حدیث کی صحت کے لئے ضروری ہے کہ متن اور سند دونوں درست ہوں اس میں کسی قسم کا شک و شبہ نہ ہو۔ اگر متن میں شبہ ہے تو یہ حدیث مضطرب ہے اور اگر سند میں شبہ ہے تو یہ حدیث ضعیف ہے اور اگر متن و سند دونوں اصول حدیث کے مطابق ہوں تو یہ حدیث صحیح ہے۔ اگر صحیح حدیث کسی آیت یا حدیث متواتر یا حدیث مشہور کے معارض ہے تو آیت اور حدیث میں مطابقت پیدا کرنے کے لئے تطبیق یا تاویل یا ترجیح یا تنسیخ کے اصول وضع کئے ہیں۔ ان اصول پر ان احادیث کے ساتھ عمل کیا جائے گا۔ جو صحیح و مشہور یا متواتر حدیث کا درجہ رکھتی ہوں اور غریب حدیث یا ضعیف حدیث سے احکام کا اثبات نہیں کیا جا سکتا۔ اب آپ خود ہی غور کریں اور فیصلہ کریں یہ حدیث جس کے متعلق اوپر علماء و محدثین کا فیصلہ گزر چکا ہے۔ اس سے اسلام کے بنیادی عقیدے پر کس طرح استدلال کیا جا سکتا ہے۔

قرآن پاک میں شبہ پیدا کرنے کی ناپاک جسارت

صاحب مراسلہ اپنے پہلے مراسلہ کے اختتام پر خود ایک شبہ قائم کر کے لکھتے ہیں کہ قرآن کریم میں ایک جگہ فرمایا۔

٢٢٣

صفحہ ٣٩٤

"وماہم بخارجین منہا (البقرہ:١٦٧)" "وہ (دوزخی) اس (دوزخ کی آگ) سے ہرگز نہیں نکل سکیں گے۔"

اس آیت سے دھوکہ نہیں کھانا چاہئے۔ کیونکہ اوپر کی متعدد آیات سے مضمون واضح ہے۔ اس آیت میں صرف یہ فرمایا ہے کہ دوزخ میں سے کوئی اپنے زور سے نہیں نکل سکے گا۔ ہاں اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہ ایک دن نکال دیئے جائیں گے۔ چنانچہ ایک دوسری آیت سے یہ بات ثابت ہے۔

"کلما ارادوا ان یخرجوا منہا اعيدوا فیہا (سجدۃ:٢٠)" "جب کبھی وہ اس (دوزخ) سے نکلنے کا ارادہ کریں گے تو پھر اسی کی طرف لوٹا دیئے جائیں گے۔"

پس یہ ثابت ہوا کہ آیت میں مراد اپنی جدوجہد اور کوشش سے جہنم سے نکلنا ہے اور وہ اس طرح نہیں نکل سکیں گے۔ صرف خدا کا فضل ہی انہیں ایک دن نکالے گا۔

قرآن پاک شبہ سے پاک ہے

موصوف نے عجیب منطقی انداز سے اپنے دعوے کو اس آیت سے ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ حیرت ہے کہ آیت اپنے حکم میں نص قطعی ہے۔ اس میں کسی قسم کے شبہ کی گنجائش نہیں ہے۔ لیکن پھر بھی خود ہی اس میں شبہ پیدا کیا اور خود ہی اس کی تاویل کر کے اس کا جواب دیا۔ یہ انداز قرآن کے شایان شان نہیں ہے۔ اگر اس انداز سے لوگ قرآن پاک کی تفسیر لکھنے لگیں تو پھر قرآن پاک بازیچہ اطفال بن کر رہ جائے گا۔ اس لئے ضروری ہے کہ آیت کو اپنے اصلی مفہوم میں رکھا جائے اور اس میں کسی قسم کی تاویل یا ارادے کی قید نہ لگائی جائے۔

آیت کے متعلق کبار مفسرین کا فیصلہ

آیت کا صحیح مفہوم یہ ہے کہ یہ آیت کافر اور مشرکین کے حق میں نازل ہوئی ہے کہ یہ لوگ کبھی بھی دوزخ سے نہیں نکالے جائیں گے۔ اس کی تائید میں علامہ قرطبی نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے۔

"دلیل علی خلود الکفار فیہا وانہم لا یخرجون" "یہ آیت دلیل ہے کفار کے ہمیشہ جہنم میں رہنے پر اور وہ کبھی بھی اس سے نہیں نکلیں گے۔

تفسیر مدارک میں ہے: "بل ہم فیہا دائمون" بلکہ وہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔

تفسیر روح المعانی میں ہے: "افادۃ للمبالغۃ فی الخلود والاقناط عن الخلاص وزیادۃ الباء لتاکید النفی" "یہ آیت کفار کے خلود فی النار کے لئے مبالغہ کے

٢٤

صفحہ ٣٩٥

منها (البقرة: ١٦٧) ”وہ (دوزخی) اس (دوزخ کی بجھانا چاہئے۔ کیونکہ اوپر کی متعدد آیات سے مضمون واضح کہ دوزخ میں سے کوئی اپنے زور سے نہیں نکل سکے گا۔ ہاں لوا دیئے جائیں گے۔ چنانچہ ایک دوسری آیت سے یہ بات بوا منها اعيدوا فيها (سجدة: ٢٠) ”جب کبھی وہ تو پھر اسی کی طرف لوٹا دیئے جائیں گے ۔“ میں مراد اپنی جدوجہد اور کوشش سے جہنم سے نکلنا ہے اور وہ بفضل ہی انہیں ایک دن نکالے گا۔

سرے سے دعوے کو اس آیت سے ثابت کرنے کی حکم میں نص قطعی ہے۔ اس میں کسی قسم کے شبہ کی گنجائش پیدا کیا اور خود ہی اس کی تاویل کر کے اس کا جواب دیا۔ کہ اس انداز سے لوگ قرآن پاک کی تفسیر لکھنے لگیں تو رہے گا۔ اس لئے ضروری ہے کہ آیت کو اپنے اصلی مفہوم ارادے کی قید نہ لگائی جائے۔

یت کافر اور مشرکین کے حق میں نازل ہوئی ہے کہ یہ گے۔ اس کی تائید میں علامہ قرطبی نے اپنی تفسیر میں لکھا

ر فيها وانهم لا يخرجون “یہ آیت دلیل ہے ں اس سے نہیں نکلیں گے۔ فيها دائمون “بلکہ وہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔ عادة للمبالغة في الخلود والاقناط عن ے “ یہ آیت کفار کے خلود فی النار کے لئے مبالغہ کے

٢٤

معنی میں ہے اور دوزخ سے عدم خلاص کے لئے مفید ہے اور بخارجین میں باء خبر کی تاکید اور نفی کی تاکید کا کام دے رہی ہے۔ اس آیت کی تفسیر میں اتنے بڑے عظیم المرتبت مفسرین کے فیصلہ کے بعد صاحب مراسلہ کی تاویل کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہتی۔ اس انداز سے دوسری آیت میں ارادے کی قید لگائی ہے اور اس آیت کو بھی اپنے موقف کی تائید میں پیش کیا ہے کہ جب بھی اہل جہنم اپنے ارادے سے جہنم سے نکلنا چاہیں گے تو پھر اس میں لوٹا دیئے جائیں گے اور پھر اللہ تعالیٰ اپنے ارادے سے ان کو جہنم سے نکالیں گے۔ یہ تفسیر خود ساختہ ہے۔ کلام الٰہی کو اپنے منشاء کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کی ہے اور آیت جو کہ مطلق ہے اس کو ارادے کی قید سے مقید کرنا اصولی غلطی ہے۔ جب کہ مطلق کو مقید کرنا خبر آحاد سے بھی جائز نہیں ہے اور اس انداز سے آیت کی تفسیر بیان کرنا تحریف معنوی کے مرادف ہے۔ اس آیت کے سیاق و سباق پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت کے مصداق وہ لوگ ہیں جو آخرت کے دن کو بھلا کر دنیا کے عیش و نشاط میں غرقاب ہو کر دنیا کی زندگی کو آخرت پر ترجیح دیتے ہیں۔ اسی بنیاد پر جمہور مفسرین نے آیت سے خلود فی النار مراد لیا ہے اور یہی اصل منشاء الٰہی ہے۔

ہم نے اپنے پہلے جواب میں صاحب مراسلہ کی پیش کردہ غریب حدیث پر مکمل جرح وتنقید کی تھی۔ اس کے جواب الجواب پر ربوہ کے عبدالحمید صاحب نے لکھا۔

اس سوال کے جواب میں اثباتی رنگ میں قرآن مجید کی ایک آیت یا کوئی غریب حدیث بھی پیش نہیں کی گئی ہے۔ تاکہ دیکھا جائے کہ عذاب جہنم کے دائمی ہونے کا استدلال کس سے کیا جاتا ہے۔

اہل حق کا مسلک

ہم نے اس چیلنج کے جواب میں ٢١ آیات اور ٥ صحیح احادیث پیش کی تھیں اور ساتھ ہی ہم نے اس کی دعوت دی تھی کہ حق کی طرفداری اور حق پسندی اسی میں ہے کہ اب آپ اس کو قبول کرلیں۔ لیکن ہماری یہ آرزوئیں پوری نہ ہوئیں اور ربوہ سے ہمارے جواب الجواب کا جواب نہیں آیا۔ جس کا مطلب یہ تھا کہ حق واضح ہو گیا۔ لیکن ہٹ دھرمی کی وجہ سے اس کو قبول نہیں کیا گیا۔ اہل حق علماء کا یہ شیوہ نہیں کہ وہ غریب حدیث یا تاویل کا سہارا لے کر اپنے مسلک کی بنیاد اس پر قائم کریں۔ بلکہ علماء حق نے ہمیشہ صحیح روایات اور واضح آیات ہی پر اپنے مسلک کی بنیاد

٢٥

صفحہ ٣٩٦

رکھی ہے یہ تو صرف غیر مسلم اقلیتی فرقوں کا کام ہے۔ جنہوں نے اسلام کے نام پر اپنے الگ مذہب کی بنیاد رکھی اور اسلام کا لبادہ اوڑھ کر اسلام کو مسخ کرنے کی ناپاک کوشش کی، خاص طور پر دین مرزائیت کی تمام بنیاد غلط تاویل موضوع احادیث یا ضعیف روایات پر قائم ہے۔ بہر حال ہم نے ادنیٰ کوشش سے یہ چند صحیح احادیث تلاش کی ہیں جو کہ عذاب جہنم کے دائمی ہونے پر نص قطعی ہیں۔ ان میں کسی قسم کی تاویل کی گنجائش نہیں ہے۔

الله لا یشرک بہ شیئاً دخل الجنۃ ومن لقیہ یشرک بہ شیئاً دخل النار (رواہ مسلم ج ١ ص ٦٦) “ ﴿ حضرت جابر بن عبداللہؓ سے روایت ہے میں نے سنا رسول اللہ ﷺ فرماتے تھے جو شخص اللہ سے ملتا ہے۔ اس حالت میں کہ اس نے اللہ کے ساتھ شرک نہ کیا ہو وہ جنت میں داخل ہوگا اور جو شخص اس حالت میں اللہ سے ملے کہ اس نے اس کے ساتھ شرک کیا ہو تو وہ آگ میں داخل ہوگا۔ ﴾

امام نوویؒ شارح مسلم نے اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ:

فقتل نفسہ فھو یتحساہ فی نار جھنم خالداً مخلداً فیھا ابداً ومن تردیٰ من جبل وقتل نفسہ فھو یتردیٰ فی نار جھنم خالداً مخلداً فیھا ابداً (رواہ مسلم ج ١ ص ٧٢) “ ﴿ اس دخول سے مراد کفار کا دخول ہے جو ہمیشہ کے لئے ہوگا۔ جو شخص زہر پیتا ہے پس وہ اپنی جان کو ہلاک کرتا ہے تو وہ جہنم میں اس کو گھونٹ گھونٹ کر کے پیتا رہے گا۔ ہمیشہ کے لئے جہنم میں رہے گا اور جو شخص اپنے آپ کو کسی پہاڑ سے گرا کر ہلاک کر دیتا ہے تو وہ جہنم میں اسی طرح اپنے آپ کو پہاڑ سے گراتا رہے گا اور ہمیشہ کے لئے جہنم میں رہے گا۔ ﴾

امام نوویؒ اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ” انہ محمول علیٰ من فعل ذالک مستحلاً مع علمہ بالتحریم فھذا کافر و لھذہ عقوبۃ “ ﴿ یہ دائمی عذاب اس کو اس وجہ سے ہوگا کہ یہ خودکشی کو جائز سمجھتے ہوئے کرتا ہے تو پس یہ کافر ہو جاتا ہے۔ اس لئے یہ سزا اس کو ملی۔ ﴾

اس حدیث سے کس قدر واضح ثبوت ملتا ہے کہ کفار کے لئے عذاب دائمی ہوگا اور اس

٢٦

صفحہ ٣٩٧

تاکید کے لئے خالد ابداً جیسے الفاظ لائے گئے۔ تاکہ اس میں کوئی تاویل نہ کی جاسکے اور یہ بات یقینی ہے۔ جب مکین کے لئے دوام یقینی ہے تو مکان کا دائمی ہونا بھی ضروری ہے۔

موت کے لئے بھی فنا ہے

٣...... ”عن ابى هريرة قال، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم يؤتى بالموت يوم القيامة فيوقف على الصراط فيقال يا اهل الجنة فيطلعون خائفين وجلين ان يخرجوا من مكانهم الذى هم فيه ثم يقال يا اهل النار فيطلعون مستبشرين فرحين ان يخرجوا من مكانهم الذى هم فيه فيقال هل تعرفون هذا قالوا نعم هذا الموت قال فيؤمر بذبح فيذبح على الصراط ثم يقال للفريقين كلاهما خلود فيما تجدون لا يموت فيها ابداً (سنن ابن ماجه ص ٣٢١) ﴿حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن موت کو لایا جائے گا اور اس کو پل صراط پر کھڑا کیا جائے گا۔ پس اہل جنت سے خطاب کیا جائے گا۔ پس وہ ڈرتے اور لرزتے ہوئے دیکھیں گے کہ کہیں ہم کو جنت سے نکالا تو نہیں جارہا۔ پھر اہل جہنم سے خطاب کیا جائے گا۔ وہ اس کو بشارت سمجھ کر جہنم سے نکلیں گے۔ خوشی سے دیکھیں گے۔ پس ان سب سے کہا جائے گا کہ تم اس کو جانتے ہو جواب میں کہیں گے ہاں یہ موت ہے۔ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ پھر موت کے لئے حکم دیا جائے گا کہ اس کو ذبح کر دیا جائے اور دونوں فریق سے کہا جائے گا کہ تم سب جس حالت میں ہو اسی میں ہمیشہ رہو گے۔ اب تم کو کبھی موت نہ آئے گی۔﴾

اس کے علاوہ یہی روایت مجمع الزوائد ومنبع الفوائد میں ص ٣٩٦ پر باب الخلود لا هل النار فى النار واهل الجنة فى الجنة میں حضرت انسؓ سے منقول ہے۔ اس حدیث کے متعلق نور الدین علی بن ابی بکر الھیثمی نے لکھا ہے: ”رواه ابو يعلى والطبرانى فى الاوسط بنحوه والبزار ورجالهم رجال الصحيح “ اس روایت کو ابو یعلیٰ اور طبرانی نے اوسط میں اسی طرح اور بزار نے نقل کیا ہے اور اس روایت کے سب رواۃ ثقہ اور صحیح ہیں۔

کافر اہل جہنم کے لئے عذاب دائمی ہونے پر دلیل

٤...... ”عن عبدالله بن مسعود قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لو قيل لاهل النار انكم ماكثون عدد كل حصاة فى الدنيا لفرحوا بها ولو قيل لاهل الجنة انكم

٢٧

صفحہ ٣٩٨

ماكثون عدد كل حصاة لحزنوا لكن جعل لهم الأبد (رواه الطبراني كبير ج ١٠ ص ١٨٠، حديث نمبر ١٠٣٨٤) ”حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے منقول ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ اگر اہل جہنم سے کہا جائے کہ تم دنیا میں ان کنکریوں کی تعداد کے بقدر رہو گے تو وہ خوش ہوں گے اور اگر اہل جنت سے کہا جائے کہ تم ان کنکریوں کی تعداد کے بقدر رہو گے تو وہ غمزدہ ہو جائیں گے۔ لیکن سب کے لئے ہمیشہ اپنی اپنی جگہ میں رہنا ہوگا۔﴾

کافر اور مشرکین کے لئے جہنم میں محدود وقت کی نفی

اس حدیث سے جہاں دونوں فریقین کے لئے جنت اور دوزخ میں دائمی رہنا ثابت ہے۔ وہاں اہل جہنم کے لئے محدود یا معین مدت کی بھی نفی ہے۔ اس لئے رسول اقدسﷺ نے کنکریوں کی مثال دے کر یہ ثابت کیا ہے کہ اہل جنت اور اہل جہنم کے لئے جہنم وقتی یا عارضی یا محدود یا متعین وقت کے لئے نہیں ہے بلکہ دونوں فریقین دائمی طور پر رہیں گے۔ جس طرح اہل جنت کبھی جنت سے نہیں نکالے جائیں گے اسی طرح اہل جہنم کافر و مشرکین بھی کبھی جہنم سے نہیں نکالے جائیں گے۔ اس نص صریح کے مقابلہ پر صاحب مراسلہ کی دلیل ملاحظہ ہو۔ اپنے دوسرے مراسلہ میں لکھتے ہیں۔

ہٹ دھرمی کی مثال

لیکن یہ امر قابل غور ہے کہ خود قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے جہنمیوں کے متعلق فرمایا ہے: ”لبثين فيها احقابا (النبا:٢٣) ” یعنی برسوں جہنم میں رہتے چلے جائیں گے۔﴾ احقاب جمع حقب کی ہے اور اس کے معنی لغت کی رو سے یہ ہیں ثمانون سنة یعنی ٨٠ سال مائته عشرون سنة یعنی ١٢٠ سال وقيل الستون یعنی ٦٠ سال ایک صدی یا کئی صدیاں ان معانی کی رو سے آیت کے معنی یہ بنتے ہیں کہ جہنمی صدیوں یا کئی سال جہنم میں رہتے چلے جائیں گے جو بھی معنی کئے جائیں معین اور محدود عرصہ بنتا ہے۔

صاحب مراسلہ کے اس منطقی اور منفی انداز سے ظاہر ہوتا ہے کہ غلط تاویل کرنے میں قرآن پاک کی عظمت کا بھی لحاظ نہیں کرتے اور اپنے خود ساختہ عقیدے کے اثبات کے لئے کلام الٰہی میں تاویل کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ حالانکہ اجماعی طور پر یہ عالم اسلام کا عقیدہ رہا ہے کہ محدود عذاب صرف گنہگار مومنوں کے لئے ہوگا۔

٢٨

يجيبنهم اربعين عاماً اخرجنا منها فان عد تكلمون ثم ييائس القو الحمير ولها شهيق و نمبر ٥٤٣٢) ” حضرت عبد پکاریں گے۔ پس وہ ان کو چا گے۔ پھر وہ اپنے پروردگار کو پکا کے بعد ہم پھر لوٹے تو پس ہم فرمائیں گے۔ پڑے رہو اس میں گی۔ پس ان کے لئے کچھ نہ ہو گدھے کی آواز کے مانند ہوگی۔

ہم نے یہاں پانچ حدیث نمبر ٣ میں لفظوں کے اختلا گنجائش نہیں ہے۔ پہلا لفظ ک استعمال ہوئے ہیں اور جب خا جاتی ہے۔ اس طرح معنوی اختلا ذبح کر دیا جائے گا۔ تو اب ہر فر ہوگا۔ طوالت کے خوف سے ہم کی تائید میں اور بھی احادیث ہیں

مغالطہ کی بدترین مثال

صاحب مراسلہ نے نہیں ہے لکھتے ہیں۔

آپ نے اس پر زور اس کے خلاف نقلی و عقلی دلائل ہ کر دینا اجماع نہیں کہلا سکتا۔ یہ

صفحہ ٣٩٩

يجيبهم اربعين عاماً ثم يقول انكم ماكثون ثم يدعون ربهم فيقولون ربنا اخرجنا منها فان عدنا فانا ظالمون فلا يجيبهم ثم يقول اخسوأ فيها ولا تكلمون ثم ييائس القوم فما هو الا الزفير والشهيق تشبه اصواتهم اصوات الحمير ولها شهيق و آخرها زفير (الترغيب والترهيب ج ٤ ص ٣٩٢، حدیث نمبر ٥٤٣٢) ”﴿ حضرت عبداللہ بن عمروؓ سے روایت ہے کہ فرمایا اہل جہنم مالک (داروغہ جہنم) کو پکاریں گے۔ پس وہ ان کو چالیس سال تک جواب نہ دے گا۔ پھر وہ کہے گا کہ بیشک تم یہیں رہو گے۔ پھر وہ اپنے پروردگار کو پکاریں گے۔ اے ہمارے رب تو ہم کو اس سے نکال۔ پس اگر اس کے بعد ہم پھر لوٹے تو پس ہم ظالم ہوں گے پس ان کو کوئی جواب نہیں دیا جائے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائیں گے۔ پڑے رہو اس میں ذلت کے ساتھ اور مجھ سے بات نہ کرو پھر وہ قوم مایوس ہو جائے گی۔ پس ان کے لئے کچھ نہ ہوگا۔ سوائے اس کے وہ چیخیں گے اور چلائیں گے اور ان کی آواز گدھے کی آواز کے مانند ہوگی۔ اس کی آواز شہق اور آخری آواز زفیر ہوتی ہے۔﴾

ہم نے یہاں پانچ حدیثیں پیش کی ہیں جو دوام کے معنی کے لئے نص صریح ہیں۔ حدیث نمبر ٣ میں لفظوں کے اعتبار سے جو تاکید ہے وہ ایسی ہے۔ اس میں کسی قسم کے شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے۔ پہلا لفظ کلاهما دوئم خلود سوئم ابداً یہ تینوں الفاظ تاکید کے لئے استعمال ہوئے ہیں اور جب خالدین کے ساتھ ابداً کا لفظ استعمال ہو تو دوام کے معنی کی تعیین ہو جاتی ہے۔ اس طرح معنوی اعتبار سے بھی تاکید ہے۔ جب کہ موت کو دونوں فریقوں کے سامنے ذبح کر دیا جائے گا۔ تو اب ہر فریق یہ یقین کرے گا۔ پس ہمارا ٹھکانہ یہی ہے۔ اس کے بعد نکلنا نہ ہوگا۔ طوالت کے خوف سے ہم نے صرف پانچ احادیث پر ہی اکتفا کیا ہے۔ ورنہ ہمارے موقف کی تائید میں اور بھی احادیث ہیں جو کہ کتب احادیث کے ذخیرہ میں دیکھی جاسکتی ہے۔

مغالطہ کی بدترین مثال

صاحب مراسلہ نے اپنے دوسرے مراسلہ میں یہ بھی ادّعا کیا ہے کہ یہ مسئلہ اجماعی نہیں ہے لکھتے ہیں۔

آپ نے اس پر زور دیا ہے کہ عذاب جہنم دائمی ہونے پر امت کا اجماع ہے۔ اس لئے اس کے خلاف نقلی و عقلی دلائل پیش کرنا درست نہیں ہیں۔ حالانکہ بعض مفسرین کا اس عقیدہ کو بیان کر دینا اجماع نہیں کہلا سکتا۔ یہ مسئلہ ایک خالص علمی مسئلہ ہے اور علمی مسائل میں کبھی اجتہاد کا

٢٩

صفحہ ٤٠٠

دروازہ بند نہیں کیا جاسکتا۔

آپ نے یہاں کس قدر مغالطہ دینے کی کوشش کی ہے۔ جس مسئلہ پر امت کے اکثر علماء نے اتفاق کیا ہے۔ آپ اس کو بعض مفسرین کا عقیدہ بتا رہے ہیں۔ حالانکہ اس سے قبل ہم نے امام نوویؒ کا فیصلہ لکھا ہے کہ انہوں نے اس کو جمہور امت کا فیصلہ قرار دیا ہے اور سید سلیمان ندویؒ جن کو آپ نے اپنی تائید میں پیش کیا ہے۔ ان کا فیصلہ سیرت النبیؐ میں یہ لکھا ہوا ہے کہ عذاب جہنم کافر و مشرکین کے لئے دائمی ہوگا اور اسی کو جمہور امت کا فیصلہ قرار دیا ہے۔ چنانچہ سید سلیمان ندویؒ اپنی مشہور کتاب (سیرت النبیؐ ص ٧٩٩) پر جمہور کا مسلک عنوان قائم کر کے لکھتے ہیں۔

عذاب کے دائمی ہونے پر سید سلیمان ندویؒ کا مؤقف

”یہ جو کچھ لکھا گیا ہے۔ اس جماعت کا خیال ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت عمومی کی معتقد ہے جمہور کا مسلک اس سے کچھ مختلف ہے۔ اس کے نزدیک بہشت کی طرح دوزخ بھی ہمیشہ باقی رہے گی اور ان لوگوں کو جو شرک و کفر کے مرتکب ہوں گے کبھی دوزخ سے نجات نہیں ملے گی۔“

لیکن ابتداء میں خود سید سلیمان ندویؒ صاحب نے سیرت النبیؐ میں جمہور کے مسلک کو اختیار نہیں کیا تھا۔ سیرت النبیؐ میں اس مسئلہ پر پوری بحث پڑھنے کے بعد یہ اندازہ ہوتا ہے کہ ندوی صاحب نے جو کچھ لکھا ہے وہ محض ایک اظہار خیال کے درجہ میں لکھا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب اس بحث کا آغاز کیا تو ڈرتے ہوئے اس دعا کے ساتھ قلم اٹھایا ہم اس دعا کو یہاں سیرت النبیؐ مطبوعہ اعظم گڑھ کے حاشیہ ص ٧٨٠ سے نقل کر رہے ہیں۔ جو خود ندوی صاحب کے اپنے قلم سے لکھا ہوا ہے۔ ندوی صاحب نے حاشیہ کے ابتداء میں اپنے مؤقف کی حمایت میں سلف میں سے اہل سنت کے ایک مختصر گروہ کو پیش کیا ہے اور متأخرین میں حافظ ابن قیمؒ کو سب سے بڑا مؤید قرار دیا ہے۔ آخر میں اپنے حاشیہ کو سمیٹتے ہوئے یہ دعا کی ہے۔

”میں نے اس باب کو بہت ڈرتے ڈرتے لکھا ہے کہ اس میں اجمال الٰہی کی تصریح کا جرم عائد ہوتا ہے۔ اگر یہ اختیار کردہ پہلو حق نہ ہو تو اللہ تعالیٰ مجھے معاف کرے اور توبہ کی توفیق بخشے اور اپنی مراد کا دروازہ مجھ پر کھولے۔“

ندوی صاحب کی اس دعا کے بعد یہ امر واضح ہو جاتا ہے کہ انہوں نے جو کچھ لکھا وہ اپنی ایک رائے کی حیثیت سے لکھا۔ جس میں خود ان کو یقین واذعان حاصل نہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ حق تعالیٰ شانہ نے ان کی دعا قبول فرمائی اور جب سید صاحب کا تعلق حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی صاحب نور اللہ مرقدہ کے ساتھ ہوا اور حضرت کی خدمت میں بغرض تزکیہ نفس حاضر

٣٠

صفحہ ٤٠١

مغالطہ دینے کی کوشش کی ہے۔ جس مسئلہ پر امت کے اکثر مفسرین کا عقیدہ بتارہے ہیں۔ حالانکہ اس سے قبل ہم نے اس کو جمہور امت کا فیصلہ قرار دیا ہے اور سید سلیمان نے کیا ہے۔ ان کا فیصلہ سیرت النبی میں یہ لکھا ہوا ہے کہ ہوگا اور اسی کو جمہور امت کا فیصلہ قرار دیا ہے۔ چنانچہ سید بھی ص ٧٩٩ پر جمہور کا مسلک عنوان قائم کر کے لکھتے ہیں۔

سلیمان ندویؒ کا موقف

جماعت کا خیال ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت عمومی کی معتقد ہے۔ اس کے نزدیک بہشت کی طرح دوزخ بھی ہمیشہ باقی رہے گی کبھی دوزخ سے نجات نہیں ملے گی۔“

علامہ شبلیؒ اور سید سلیمان ندویؒ کے مسلک کو سمجھنے کے لئے سیرت النبی میں جمہور کے مسلک کو پڑھنے کے بعد یہ اندازہ ہوتا ہے کہ ایک اظہار خیال کے درجہ میں لکھا ہے۔ اسی کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے اس دعا کے ساتھ قلم اٹھایا ہم اس دعا کو یہاں نقل کر رہے ہیں۔ جو خود ندوی صاحب نے اپنے حاشیہ کے ابتداء میں اپنے موقف کی حمایت میں پیش کیا ہے اور متأخرین میں حافظ ابن قیم کو سب سے زیادہ مانتے ہوئے یہ دعا کی ہے۔

”ڈرتے ڈرتے لکھا ہے کہ اس میں اجمال الٰہی کی تصریح کا خطرہ ہو تو اللہ تعالیٰ مجھے معاف کرے اور توبہ کی توفیق بخشے“

یہ امر واضح ہو جاتا ہے کہ انہوں نے جو کچھ لکھا وہ ان کی وجدان کو یقین واذعان حاصل نہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ جب جناب سید صاحب کا تعلق حضرت حکیم الامت مولانا تھانویؒ کی خدمت میں بغرض تزکیہ نفس حاضر

٣٠

ہوئے اور حقائق منکشف ہوئے تو حضرت کی خدمت میں جہنم کے دائمی ہونے پر استفسار کیا اور کئی بار سوال و جواب کا تبادلہ ہوا اور جب اطمینان ہو گیا کہ جمہور کا مسلک زیادہ واضح ہے تو فوراً رجوع کرلیا۔ ہم یہاں طوالت کے خوف سے پورے سوال و جواب نقل نہیں کرسکتے ہیں ۔صرف حوالہ اور کچھ اشارہ پر اکتفا کرتے ہیں۔ بقیہ تفصیل آپ خود اصل کی مراجعت سے معلوم کرسکتے ہیں۔

(بوادر النوادر حصہ ص ١٢١) پر ندوی صاحب نے حکیم الامت ان الفاظ میں سوال لکھ کر بھیجا۔

” مجھے چند روز سے ایک خلجان سا رہتا ہے اور باوجود غور وفکر کے اطمینان نہیں ہوتا۔ وہ یہ ہے۔۔۔۔”کل شئ ھالك الا وجہ“ بھی نص صریح ہے۔ جس میں احتمال تاویل نہیں معلوم ہوتا اور مؤمنین کے لئے خلود فی الجنۃ اور کفار کے لئے خلود فی النار بھی منصوص ہے۔“ آخر میں سوال کو ختم کرتے ہوئے لکھا ہے کہ: ”اس لئے متحیر ہوں کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔ جناب والا اس کی طرف توجہ سے سرفراز فرمائیں اور عاجز کی خلجان سے نجات بخشیں۔“

سید سلیمان صاحب ندویؒ کے سوال میں اس حقیقت کا اعتراف صاف نظر آرہا ہے کہ جس طرح خلود فی الجنۃ نص صریح ہے۔ اسی طرح خلود فی النار بھی نص صریح ہے۔ لیکن ایک خارجی عارض نے خلجان میں ڈال دیا۔ جس کے حل کرانے کے لئے اپنے مرشد حکیم الامت سے رہنمائی حاصل کی اور جب اپنی غلطی کا احساس ہو گیا تو تسلی ہوگئی اور فنائے جہنم کے مسئلہ سے رجوع کیا اور سیرت النبی کے طبع ثانی کے لئے دیباچہ لکھا تو اس کا اعتراف کیا سیرت النبی کی جلد چہارم کا دیباچہ لکھتے ہوئے اس کا اعتراف ان الفاظ میں کیا کہ:

جہنم کے دائمی ہونے پر سید سلیمان ندویؒ کا اقرار

”میرا دل اضطراب کے عالم میں تھا کہ ایسے مشکل و پیچیدہ راستہ میں معلوم نہیں۔ میرا قلم کہاں کہاں بہکا اور قدم نے کہاں کہاں ٹھوکر کھائی ہے۔ لیکن الحمد للہ والمنۃ کہ سوائے دوزخ کی ابدیت وغیر ابدیت کے ایک مسئلہ کے جس میں جمہور کی رائے ہمارے ساتھ نہ تھی۔“

غرض کہ ہم نے یہاں ندوی صاحب کی یہ عبارت اس لئے نقل کی ہے کہ آپ نے ”عذاب جہنم دائمی نہیں ہے“ کو جمہور کا مسلک بتایا ہے اور ندوی صاحب جن کو آپ نے اپنے ساتھ شامل کیا ہے۔ وہ اس کو ایک مختصر گروہ کا مسلک بتارہے ہیں جو کہ جمہور کے خلاف ہے۔ ہمیں حیرت ہے۔ آپ کے ہاتھ کی صفائی پر کہ سیرت النبیؐ سے اپنے مطلب کی بات تو اخذ کر لی اور مقصد کی بات سے چشم پوشی کر لی۔ فیا اسفیٰ علی ضیاع الحق!

ہم نے سید سلیمان صاحب ندویؒ کے متعلق جو کچھ لکھا ہے اور ان کی تصنیف سیرت

٣١

صفحہ ٤٠٢

النبی سے جو اقتباس نقل کیا ہے۔ وہ صرف اس مقصد کے پیش نظر کیا ہے کہ آپ نے جن کو اپنے موقف کی تائید میں پیش کیا ہے وہ خود آپ کے موقف کے خلاف ہیں اور ان کا مسلک جہنم اور عذاب کے دائمی ہونے میں جمہور کے مسلک کے مطابق ہے۔ جیسا کہ صاحب معالم التنزیل وروح المعانی اور دیگر مشاہیر امت نے اجماع نقل کیا ہے۔ چنانچہ امام نوویؒ نے مسلم کی شرح ص ٤٠١ پر لکھا ہے۔

جہنم کے دائمی ہونے پر امت کا اجماع

”هذا مختصر جامع لمذهب اهل الحق فى هذه المسئلة وقد تظاهرت ادلة الكتاب والسنة واجماع من يعتد به على هذه القاعدة وتواترت بذلك نصوص بتحصل العلم القطعى فاذا تقررت هذه القاعدة حمل عليها جميع ماورد من احاديث الباب وغيرها فان ورد حديث فى ظاهره مخالفة لها وجب تاويله عليها ليجمع بين نصوص الشرع“ اہل حق کے مذہب کا اس مسئلہ میں یعنی (جہنم اور عذاب کے دائمی ہونے میں) اور اس میں کتاب وسنت اور اجماع کے دلائل ظاہر ہوچکے ہیں۔ اس شخص کے لئے جو اس اصول پر اعتقاد رکھے جو اوپر امام نووی نے عذاب جہنم کے کفار کے لئے دائمی ہونے میں بیان کیا ہے اور اس اعتقاد پر نص قطعی تواتر کے درجہ میں موجود ہیں۔ جب یہ بات واضح ہوگئی تو اب اس قاعدہ پر تمام احادیث باب کو اور دیگر احادیث کو اسی پر محمول کیا جائے گا اور جب کوئی حدیث اس مسئلہ کے بظاہر مخالف پیش آئے تو اس میں تاویل کرنا واجب ہوجاتی ہے۔ تاکہ تمام نصوص شرعیہ کے درمیان تطبیق ہوجائے۔

امام نووی، مسلم کے شارح اور فن حدیث میں اپنے دور کے امام وقت تھے۔ ان کا قول امور شرعیہ میں حجت مانا جاتا ہے۔ اس لئے ان کے اس فیصلہ کے بعد یہ کہنا کہ چند علماء کا مسئلہ ہے۔ حقائق سے انحراف ہے جو کسی بھی سلیم الطبع انسان کے لئے مناسب نہیں ہے۔ اس کے بعد صاحب مراسلہ نے یہ بھی لکھا ہے کہ: ”یہ خالص علمی مسئلہ ہے اور علمی مسائل میں اجتہاد کا راستہ بند نہیں کیا جاسکتا ہے۔ چنانچہ کئی مسائل میں علماء امت کا اختلاف رہا ہے اور اب بھی پایا جاتا ہے۔ اس لئے نفس مسئلہ کے متعلق عقلی ونقلی دلائل کو پیش کرنا چاہئے تاکہ اصل حقیقت واضح ہوسکے۔“

اس سلسلہ میں یہ بات کہنا کہ یہ خالص علمی مسئلہ ہے۔ اس سے کس ذی علم کو انکار ہوگا۔ اصل بات قابل غور یہ ہے کہ جب علمی مسائل میں علماء کے درمیان نزاع پیدا ہو تو کس

٣٢٢

صفحہ ٤٠٣

صرف اس مقصد کے پیش نظر کیا ہے کہ آپ نے جن کو اپنے خود آپ کے موقف کے خلاف ہیں اور ان کا مسلک جہنم اور کے مسلک کے مطابق ہے۔ جیسا کہ صاحب معالم التنزیل نے اجماع نقل کیا ہے۔ چنانچہ امام نوویؒ نے مسلم کی شرح

کا اجماع

النافع لمذهب اهل الحق في هذه المسئلة وقد سنة واجماع من يعتقد به على هذه القاعدة المحصل العلم القطعى فاذا تقررت هذه القاعدة من احاديث الباب وغيرها فاذ ورد حديث في عليها ليجمع بين نصوص الشرع“ اہل حق کے عذاب کے دائمی ہونے میں) اور اس میں کتاب وسنت اور اس شخص کے لئے جو اس اصول پر اعتقاد رکھے جو اوپر امام نوویؒ نے بیان کیا ہے اور اس اعتقاد پر نص قطعی صحت واضح ہوگئی تو اب اس قاعدہ پر تمام احادیث باب کو اور اور جب کوئی حدیث اس مسئلہ کے بظاہر مخالف پیش آئے تو تاکہ تمام نصوص شرعیہ کے درمیان تطبیق ہو جائے۔

مگر فن حدیث میں اپنے دور کے امام وقت تھے۔ ان کا قول کے لئے ان کے اس فیصلہ کے بعد یہ کہنا کہ چند علماء کا مسئلہ سلیم الطبع انسان کے لئے مناسب نہیں ہے۔ اس کے بعد کہ خالص علمی مسئلہ ہے اور علمی مسائل میں اجتہاد کا راستہ بند میں علماء امت کا اختلاف رہا ہے اور اب بھی پایا جاتا ہے۔ کی کوشش کرنا چاہئے تاکہ اصل حقیقت واضح ہو سکے۔“ کہ یہ خالص علمی مسئلہ ہے۔ اس سے کس ذی علم کو انکار علمی مسائل میں علماء کے درمیان نزاع پیدا ہو تو کس

٣٢

فریق کی بات تسلیم کی جائے۔ اس کا فیصلہ خود آپ نے کیا ہے کہ نفس مسئلہ کے متعلق نقلی وعقلی دلائل پیش نظر رکھ کر فیصلہ کرنا چاہئے کہ مسئلہ کی جو شق نقلی وعقلی دلائل کی روشنی میں راجح ہو اس کو اختیار کر کے اسی پر اعتقاد قائم کیا جائے اور اسی کو معمول بہ بنایا جائے۔ چنانچہ اس اصول کی بنیاد پر ہم نے اس مسئلہ کی ترجیح اور تائید کے لئے قرآن وحدیث سے نقلی دلائل پیش کئے ہیں اور ان دلائل کے پیش کرنے میں ہم نے اس کا اہتمام کیا ہے کہ وہ دلائل پیش کئے ہیں۔ جو خود آپ کے نزدیک بھی مسلم ہیں۔ لیکن پھر بھی ہمیں خدشہ ہے کہ آپ جس مذہب کے اسٹیج سے لکھ رہے ہیں اس دین مرزائیت کی بنیاد ہی تاویلات فاسدہ پر قائم ہے۔ اس لئے ممکن ہے یہ دلائل بھی آپ کے لئے قابل قبول نہ ہوں۔

عقلی دلائل کے لئے معیار کیا ہونا چاہئے

آپ نے لکھا ہے کہ علمی مسائل میں عقلی دلائل بھی ہونا چاہئیں۔ ظاہر ہے کہ اس سے کسی کو انکار نہیں۔ لیکن عقلی دلائل کے لئے ضروری ہے کہ پہلے ان کی حیثیت کو سمجھا جائے۔ اس لئے کہ اسلام میں فتنہ کا دروازہ اس وقت سے کھلا جب سے لوگوں نے اسلامی احکام اور اعتقاد کو خالص عقلی انداز میں سمجھنا شروع کیا اور یہ غلو یہاں تک بڑھتا گیا کہ یہ لوگ عقل کے پرستار بن گئے۔ جس کا نتیجہ یہ ظاہر ہوا کہ انہوں نے عقل کو معیار کل اور احکام کے لئے اثبات کا ذریعہ بنایا۔ اگر بنی نوع انسان کی ہدایت کے لئے عقل انسانی ہی کافی ہوتی تو پھر انبیاء اور رسولوں اور وحی الہی کی ضرورت باقی نہ رہتی۔ لیکن یہ امر واقعہ ہے کہ عقل جہاں اپنی تمام صلاحیتوں کے ساتھ ناکام ہوتی ہے وہاں سے وحی الہی بنی نوع انسان کی رہنمائی کرتی ہے۔

اسلام میں عقل سلیم کا مقام

لیکن اسلام چونکہ ایک عالمگیر اور فطری مذہب ہے۔ اس لئے اس نے انسانی فطری تقاضوں کو دبایا نہیں بلکہ ان کی اصلاح کر کے ان کی ہمت افزائی کی ہے۔ اسی بنیاد پر اسلام نے انسانی جوہر عقل سلیم کو عضو معطل بنا کر نہیں چھوڑا جس طرح دیگر مذاہب عالم نے عقل کے ساتھ ناانصافی کی۔ اسلام نے عقلی صلاحیتوں کو جائز مقام دیا اور یہ تعلیم دی کہ عقل انسانی مذہبی اعتقاد میں مؤید ثابت ہو سکتی ہے۔ لیکن مثبت نہیں ہو سکتی ہے۔

یہی حال صاحب مراسلہ کا بھی ہے کہ اعتقادی مسئلہ کو عقلی دلائل کی روشنی میں سمجھنا چاہتے ہیں۔ حالانکہ جب کوئی بات قرآن وحدیث سے ثابت ہو جائے تو پھر اس کے اثبات کے

٣٣

صفحہ ٤٠٤

لئے عقلی دلائل کا سہارا لینا اسلام میں کفر و الحاد کو دعوت دیتا ہے۔ اس لئے علماء حق نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ عقلی دلائل سے اسلامی احکام کی تائید کی جاسکتی ہے۔ لیکن احکام کو ثابت نہیں کیا جاسکتا :

جہنم کے دائمی ہونے پر عقلی دلائل

عقلی دلائل سے اسلامی احکام کی تائید کی جاسکتی ہے۔ لیکن احکام کو ثابت نہیں کیا جاسکتا۔ بہر حال جب ہم اس مسئلہ پر بغرض تائید غور کرتے ہیں تو عقل سلیم ہمارے موقف کی تائید کرتی ہے اور یہ نتائج سامنے آتے ہیں کہ اگر جہنم کو اور عذاب کو دائمی تسلیم نہ کیا جائے اور یہ کہا جائے کہ محدود سزا پانے کے بعد تمام انسان جنت میں داخل ہوں گے تو اس خیال سے کفار کو اپنے کفر پر اور گنہگاروں کو اپنے گناہوں پر جرأت ہو جائے گی۔ اس طرح لوگوں میں کفر ومعصیت عام ہو جائے گی۔ اس لئے کہ یہ فطری قانون ہے کہ جب سزا میں تخفیف ہوتی ہے تو نافرمانی پر جرأت بڑھ جاتی ہے اور جہنم کے فنا ہونے کا مطلب یقیناً سزا میں تخفیف ہے۔ اس کا عام مشاہدہ ہے۔ جب ملک کا حاکم جرائم یا بغاوت کی سزا کے نفاذ میں نرمی اختیار کرتا ہے تو جرائم کی کثرت بڑھ جاتی ہے اور قوم کے غدار لوگ بغاوت پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔ پس یہی حالت اللہ تعالیٰ کے ان نافرمان بندوں کی ہے۔ جو کفر اختیار کرتے ہیں اور اپنے اختیار سے دیدہ و دانستہ معصیت کا ارتکاب کرتے ہیں اور علی الاعلان اس سے بغاوت کرتے ہیں۔ اگر اس حالت میں ان کو اس طرح نہ ڈرایا جائے کہ اگر تم اپنے کفر اور معصیت پر اسی طرح قائم رہے تو یاد رکھو ایک دن ہمیشہ کے لئے جہنم میں ڈال دیئے جاؤ گے اور پھر کسی صورت سے بھی جہنم سے خلاصی نہ ہوگی اور ہمیشہ کے لئے عذاب میں مبتلا رہو گے۔ الغرض کفار اور مشرکین کے لئے دائمی عذاب ان کے شرک و کفر جیسے بڑے گناہ کے عین مطابق ہے۔ اس لئے کہ عام اصول ہے کہ جرم جتنا بڑا ہوگا سزا اتنی بڑی ہوگی۔

دوسری دلیل یہ ہے اگر کفار کو بھی سزا پانے کے بعد جنت میں داخل کر دیا جائے گا تو اس طرح اہل جنت اور اہل کفر دونوں برابر ہو جائیں گے اور اس کی نفی تو خود اللہ تعالیٰ نے فرمائی ہے۔

”أَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِينَ كَالْمُجْرِمِينَ مَا لَكُمْ كَيْفَ تَحْكُمُونَ

(قلم: ٣٥، ٣٦) ”پس کیا ہم فرمانبردار اور نافرمان دونوں کو برابر کر دیں گے۔ کیا ہوا تمہیں تم کیا خراب فیصلہ کرتے ہو۔“

اگر اس آیت پر غور کیا جائے تو یہی آیت کافی ہے۔ اس لئے کہ ایک مسلم ہے اور ایک

٣٤

صفحہ ٤٠٥

مجرم ہے۔ مسلم وہ شخص ہے جو اپنے آپ کو ایک اللہ کے حوالہ کر دیتا ہے اور پوری زندگی اس کی مرضی کے مطابق گزارتا ہے۔ اس طرح وہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور عطاء کا مستحق بن جاتا ہے۔ دوسری طرف مجرم ہے جو سرے سے ہی اللہ تعالیٰ کو تسلیم نہیں کرتا ہے۔ ہر قدم پر اس کی مخالفت اور اپنے نفس کی اتباع کرتا ہے۔ اس طرح یہ شخص اللہ تعالیٰ کے غضب کا مستحق بن جاتا ہے۔ اب اگر مرنے کے بعد دونوں کو ایک ہی مقام دیا جائے تو یہ حق تلفی نہیں ہوگی؟ یقیناً یہ بات اللہ جل شانہ کی شان کے خلاف ہے۔ عذاب جہنم کے دائمی ہونے پر صاحب مراسلہ نے سب سے بڑا اعتراض یہ کیا ہے کہ اگر عذاب جہنم کو دائمی تسلیم کیا جائے تو محدود اعمال کی غیر محدود سزا دینا لازم آتا ہے اور یہ عدل وانصاف کے خلاف ہے۔

عذاب کے دائمی ہونے کی نفی پر عقلی دلیل

لکھتے ہیں: قرآن مجید اور احادیث سے ہمارا استدلال یہ ہے کہ جنت چونکہ خدا تعالیٰ کا انعام ہے۔ اس لئے وہ دائمی ہے اور انسان کے محدود اعمال کی غیر محدود جزا خدا تعالیٰ کی صفت رحم ہے، مگر جہنم دائمی نہیں ہے۔ کیونکہ انسان کے محدود برے اعمال کی سزا غیر محدود ظلم ہوگی۔

عقلی دلیل کا جواب

یہ عقلی اعتراض اس انداز سے کرنا ابہام پیدا کرتا ہے۔ اس لئے کہ غیر محدود سزا صرف کفار کو ملے گی۔ بقیہ وہ حضرات جن کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہوگا۔ وہ ضرور جنت میں داخل ہوں گے۔ البتہ کفار کے لئے یہ غیر محدود سزا عدل وانصاف کے عین مطابق ہے۔ کیونکہ ان کا کفر پر تاحیات قائم رہنا اس بات کی کھلی دلیل ہے کہ اگر ان کو دنیا میں دائمی حیات بھی حاصل ہوتی تو یہ تب بھی کفر پر ہی قائم رہتے۔ اللہ جل شانہ نے اس حقیقت کو اس آیت میں اس طرح بیان کیا ہے۔

"ومن الذين اشركوا يود احدهم لو يعمر الف سنة وما هو بمزحزحه من العذاب ان يعمر (بقرہ: ٩٦)" (مشرکین میں سے ہر ایک یہ چاہتا ہے کہ ایک ہزار برس تک کی عمر پائے۔ حالانکہ یہ اس قدر عمر اس کو عذاب سے نہیں بچا سکتی ہے۔)

اس آیت میں واضح طور پر بتلا دیا گیا ہے کہ مشرکین اپنے کفر و شرک پر اس حد تک قائم ہیں کہ اب وہ کسی صورت میں بھی ایمان نہیں لائیں گے۔ کیونکہ جب ان کو عمر کا طویل حصہ ملا اور ہدایت کے لئے رسل اور انبیاء علیہم السلام آئے تو انہوں نے ہدایت قبول نہیں کی۔ اس طرح اگر ان کو ایک ہزار برس کی بھی عمر مل جائے تو بھی یہ ایمان لانے والے نہیں ہیں۔ کیونکہ ان کی نیت ہی

٣٥

صفحہ ٤٠٦

کفر و شرک پر قائم رہنے کی تھی۔ اس لئے اگر ان کو مژدہ بھی سنا دیا جاتا کہ تم کو دنیا میں دائمی حیات حاصل ہوگی تو بھی یہ کفر و شرک پر قائم رہتے۔ لیکن دنیا میں چونکہ کسی کو دائمی حیات حاصل نہیں ہوگی۔ یہ مشیت الٰہی کے خلاف ہے۔ اس لئے ان کی اسی نیت پر فیصلہ کیا جائے گا کہ ان کا کفر و شرک اور برے اعمال غیر محدود مدت تک قائم رہتے اگر ان کو دائمی حیات حاصل ہوتی۔ لیکن دنیا میں ایسا ممکن نہیں ہے۔ اس لئے ان کے غیر محدود کفر و شرک کی نیت کی بناء پر ان کو غیر محدود دائمی عذاب ہوگا اور چونکہ اعمال کا مدار نیت پر ہی ہوتا ہے اور اعمال کا فیصلہ بھی نیت کے صحیح یا غلط ہونے پر ہی ہوتا ہے۔ جیسا کہ حدیث میں رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”انما الاعمال بالنیات (بخاری ج ١ ص ٢) ﴿اعمال کا مدار نیتوں پر ہی ہوتا ہے۔﴾

اسی طرح اہل جنت کو جو دائمی نجات ملے گی وہ بھی اہل ایمان کے ایمان پر غیر محدود زمانے تک رہنے کی نیت پر ملے گی۔ کیونکہ اگر اہل ایمان کو دنیا میں دائمی حیات حاصل ہوتی تو وہ یقیناً دائمی طور پر ایمان پر قائم رہتے۔ درمیان میں تیسرا گروہ ان حضرات کا ہے جو ایمان اور عمل صالح کے ساتھ گنہگار بھی ہوں گے۔ یہاں اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کا معاملہ فرمائیں گے۔ معمولی سزا دے کر جنت میں داخل فرمائیں گے اور کسی کو بغیر سزا کے معاف فرما دیں گے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ”فیغفر لمن یشاء ویعذب من یشاء (البقره:٢٨٤)“ ﴿پس اللہ تعالیٰ جس کو چاہتے ہیں معاف فرماتے ہیں اور جس کو چاہتے ہیں سزا دیتے ہیں۔﴾

اس کے بعد صاحب مراسلہ نے اپنے مؤقف کی تائید میں حضرت ابن عباسؓ کی حدیث پیش کی۔

”للرحمة خلقهم ولم يخلقهم للعذاب“ ﴿اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو رحم کے لئے پیدا کیا ہے۔ عذاب کے لئے نہیں پیدا کیا۔﴾

اس روایت کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ”دنیوی حکومتیں کسی کے جرم کے مطابق سزا دیتی ہیں اور جرم سے زائد سزا دیں تو وہ ظالم کہلاتی ہیں تو کیا خدا تعالیٰ کی ہی حکومت اس قدر ظالم ہے کہ محدود اعمال کی غیر محدود سزا دے عقل اس خیال کی سختی سے تردید کرتی ہے۔“

آپ نے اس روایت سے جو استدلال کیا ہے وہ خود آپ کے نزدیک بھی مسلم نہیں ہے۔ کیونکہ ابن عباسؓ کی حدیث سے جو استدلال آپ نے کیا ہے وہ درست نہیں ہے۔ اس لئے کہ اس روایت سے مطلق عذاب کی نفی ہو رہی ہے۔ حالانکہ وقتی اور محدود عذاب کے تو آپ بھی قائل ہیں۔ جس کو آپ نے اپنے مراسلہ میں روحانی اصلاح کے لئے ہسپتال کی حیثیت دی ہے تو

٣٦

صفحہ ٤٠٧

معلوم ہوا کہ صاحب مراسلہ خود اس حدیث پر صحیح عقیدہ نہیں رکھتے ہیں اور فہم وحدیث میں ان سے تقصیر ہوئی اور اس تقصیر کی بنیاد پر غلط استدلال کیا ہے۔ اگر مذکورہ حدیث کو اپنے ظاہری مفہوم میں لیا جائے تو یہ حدیث بظاہر نص صریح قرآن پاک کی اس آیت کے خلاف معلوم ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اکثر جن و انس کو عذاب کے لئے پیدا فرمایا ہے۔

”ولقد ذرأنا لجهنم كثيراً من الجن والانس“ اور البتہ ہم نے پیدا کئے ہیں۔ بہت سے جن اور انسان جہنم کے لئے قرآن مجید کی اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ قوم جن وانس کی ایک بڑی تعداد جہنم میں جائے گی اور آپ کی پیش کی ہوئی حدیث عذاب کی مطلق نفی کرتی ہے تو اب فیصلہ خود صاحب مراسلہ کریں۔ جب قرآن وحدیث میں اس جیسا باہمی تعارض ہو تو کس پر عمل کرنا چاہئے ،۔ اس بنیاد پر علم اصول حدیث وضع کئے تاکہ جو ظاہری تعارض یا عدم مطابقت پائی جاتی ہے۔ اس کو دور کیا جائے۔ ان اصول کو ہم پچھلے صفحات میں قدرے تفصیل سے لکھ آئے ہیں۔

بہر حال اگر حدیث کو صحیح بھی مان لیا جائے تو یقیناً قرآن پاک کی آیت کو ترجیح دی جائے گی اور حدیث میں تاویل کی جائے گی اور وہ تاویل یہ ہے کہ یہ بات اللہ تعالیٰ کی شان رحمت سے بعید ہے کہ تمام مخلوق کو جہنم میں ڈال دے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے بہت سے انسانوں کے گناہ معاف فرما کر جنت میں داخل کریں گے۔ لیکن وہ لوگ جن کا کفر وشرک کی حالت میں انتقال ہوا۔ جن کی تعداد از روئے قرآن زیادہ ہے۔ یہ سب جہنم میں ڈالے جائیں گے۔ الغرض مذکورہ حدیث سے مراد لوگ ہیں۔ جن کی نیکیاں اور برائیاں دونوں ہوں گی۔ اللہ تعالیٰ ان کی برائیوں کو معاف فرما کر جنت میں داخل فرمائیں گے اور آیت سے مراد وہ لوگ ہیں جن کا کفر وشرک کی حالت میں انتقال ہوا۔ ان کو جہنم کا دائمی عذاب ہوگا۔ اس حدیث کی شرح کرنے کے بعد صاحب مراسلہ نے اللہ تعالیٰ کی حکومت کو دنیا کی حکومت پر قیاس کیا ہے۔ یہ درست نہیں ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ میری مثال نہیں ہے اور نہ کوئی مجھ جیسا ہے کائنات میں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ”لیس کمثله شئ (الشوری: ١١) “﴿اس کے مثل یعنی اللہ تعالیٰ کے مثل کوئی چیز نہیں۔ (زمین و آسمان میں)﴾

جس طرح اللہ تعالیٰ کی ذات کے مشابہ یا مثل کوئی نہیں ہے تو اس طرح اس کی صفات میں بھی کوئی شریک نہیں ہے۔ لہذا یہ قیاس کرنا قطعی غلط ہے۔ یہاں پھر صاحب مراسلہ نے پہلی بات دہرائی ہے۔ محدود اعمال کی غیر محدود سزا دینا ظلم ہے۔ اس کا مفصل جواب پچھلے صفحات میں

٣٧

صفحہ ٤٠٨

لکھ آئے ہیں۔ ان کو دائمی عذاب ان کی کفر کی دائمی نیت کی بناء پر دیا جا رہا ہے۔ اس لئے جب ان کو اتنی طویل عمر عطاء کی اور وہ ایمان نہ لائے تو اگر اس سے بھی زیادہ عمر دی جاتی تو بھی یہ ایمان نہ لاتے۔ اسی لئے کفار جب جہنم میں پکار پکار کر کہیں گے۔

”ربنا اخرجنا منها فان عدنا فانا ظالمون (مؤمنون:١٠٧)“ ﴿اے ہمارے پروردگار تو ہم کو نکال اس سے پس اگر ہم دوبارہ لوٹے تو بیشک ہم ظالم ہوں گے۔﴾

اللہ تعالیٰ جواب میں ارشاد فرمائیں گے۔

”قال اخسئوا فيها ولا تكلمون“ کہا تم پڑے رہو ذلت کے ساتھ اسی جہنم میں اور تم مجھ سے بات نہ کرو۔ اہل جہنم کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے یہ سوال و جواب بتا رہے ہیں کہ یہ لوگ خدا کی رحمت کے قطعاً مستحق نہ ہوں گے۔ جب کسی سے حد درجہ نفرت کا اظہار کیا جاتا ہے تو آخری کلام یہی ہوتا ہے کہ آئندہ مجھ سے بات نہ کی جائے۔ اس انداز سخن سے ہمدردیوں کے تمام پہلو یکسر مفقود ہو جاتے ہیں۔ اس کے بعد پھر کسی رحمت کی امید رکھنا متوقع نہیں۔ صاحب مراسلہ نے اپنے مراسلہ کو ختم کرتے ہوئے ناصحانہ انداز اختیار کیا ہے۔ لکھتے ہیں: ”یہ خالص علمی مسئلہ ہے اور قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے عقل و تفکر کا راستہ بند نہیں کیا ہے۔ بلکہ اسے پسند فرمایا ہے۔ لہٰذا یہ مسئلہ قرآن وحدیث کے عین مطابق ہے۔ لہٰذا آپ آزادانہ طور پر غور کریں۔ یقیناً آپ ہماری ہمنوائی کو پسند کریں گے۔ کیونکہ یہی امر روح قرآن اور ہمارے پیارے آقا ﷺ کے ارشاد کے مطابق ہے کہ جہنم دائمی نہیں ہے۔“

اس انداز تحریف سے معلوم ہو رہا ہے کہ اصل مقصد مسئلہ کی افہام و تفہیم نہیں ہے۔ بلکہ اس ناصحانہ انداز سے یہ صاحب اپنے دین مرزائیت کی تبلیغ کرنا چاہتے ہیں۔ یہ انداز ہمیشہ اقلیتی فرقوں کا رہا ہے۔ اس طرح یہ بھی عام سیدھے سادھے مسلمان لوگوں کو دین مرزائیت کے دام فریب میں پھنسا لیتے ہیں۔ لیکن یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہئے کہ یہ انداز اخلاقی اقدار کے منافی ہے کہ کسی مسئلہ کا سہارا لے کر عام ناواقف لوگوں کو اپنے دین مرزائیت کے دجل و فریب میں پھنسائیں۔ لیکن اب یہ ممکن نہیں رہا۔ اس لئے کہ ختم نبوت کو پاکستان میں دستوری تحفظ حاصل ہو چکا ہے اور تمام دنیا میں مرزا غلام احمد قادیانی کے جھوٹ کی قلعی کھل چکی ہے۔ اب یہ بھی ممکن نہیں رہا کہ اس انداز سے دین مرزائیت کی تبلیغ کی جاسکے۔

ایں خیال است و محال است و جنون

٣٨

صفحہ ٤٠٨

کفر کی دائمی نیت کی بناء پر دیا جا رہا ہے۔ اس لئے جب جائے تو اگر اس سے بھی زیادہ عمر دی جاتی تو بھی یہ ایمان یاد رکھیں گے ۔

عدنا فانا ظالمون (مؤمنون: ١٠٧) ”(اے اگر ہم دوبارہ لوٹے تو بیشک ہم ظالم ہوں گے ۔)“ کہیں گے ۔

لا تکلمون “ کہا تم پڑے رہو ذلت کے ساتھ اسی جہنم کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے یہ سوال و جواب بتا رہے ہیں کہ یہ گے ۔ جب کسی سے حد درجہ نفرت کا اظہار کیا جاتا ہے تو بات نہ کی جائے ۔ اس انداز سخن سے ہمدردیوں کے تمام ہر کسی رحمت کی امید رکھنا متوقع نہیں ۔ صاحب مراسلہ یہ انداز اختیار کیا ہے ۔ لکھتے ہیں: ”یہ خالص علمی مسئلہ براہ راست بند نہیں کیا ہے ۔ بلکہ اسے پسند فرمایا ہے ۔ لہٰذا اور آپ آزادانہ طور پر غور کریں ۔ یقیناً آپ ہماری قرآن اور ہمارے پیارے آقا ﷺ کے ارشاد کے

ہے کسی اصل مقصد مسئلہ کی افہام و تفہیم نہیں ہے ۔ بلکہ بحث کی تبلیغ کرنا چاہتے ہیں ۔ یہ انداز ہمیشہ اقلیتی سادہ سے مسلمان لوگوں کو دین مرزائیت کے دام سمجھ لینی چاہئے کہ یہ انداز اخلاقی اقدار کے منافی وں کو اپنے دین مرزائیت کے دجل و فریب میں کہ ختم نبوت کو پاکستان میں دستوری تحفظ حاصل کے جھوٹ کی قلعی کھل چکی ہے ۔ اب یہ بھی ممکن ہو سکے ۔

اہل سنت والجماعت

انا خاتم النبیین لا نبی بعدی

میرے بعد کوئی نبی نہیں

قادیانی عزائم

اور

پاکستانی مسلمان

جناب محمد نواز ایم ۔ اے

صفحہ ٤١٠

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قادیانیت، ایک سیاسی تحریک

ہمارے ملک میں اسلام اور نظریہ پاکستان سے انحراف کی جتنی تحریکیں کام کر رہی ہیں۔ ان میں قادیانی تحریک سب سے زیادہ منظم اور فعال ہے۔ یہ بظاہر مذہبی نوعیت کی تحریک ہے۔ لیکن در حقیقت یہ ایک جارحیت پسند سیاسی تحریک ہے۔ سیاسی تحریکوں کی طرح اس کے اپنے کچھ مقاصد ہیں۔ جن کے حصول کے لئے معروف سیاسی طریق کار اختیار کرنے کے بجائے اس نے پیچیدہ اور نا قابل فہم مذہبی قسم کا طریق کار اختیار کیا ہوا ہے۔ مہدویت اور مجددیت کے دعوے، ظلی اور بروزی نبوت کے اعلانات، مسیح اور مہدی کے متعلق نظریات، تنسیخ جہاد اور اولی الامر منکم کی تفسیر اور اس طرح کے دیگر الہامات اور پیشین گوئیوں وغیرہ کا پر پیچ نظام ..... قادیانی تحریک کا وہ پراسرار سلسلہ ہے جو اس کے سیاسی خدوخال کو نمایاں نہیں ہونے دیتا۔ بظاہر محسوس ہوتا ہے کہ یہ ایک خالصۃً مذہبی جماعت ہے اور اس کا ملک کی عملی سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔ مگر اس کے وسیع تنظیمی ڈھانچے اور اندرون ملک اور بیرون ملک اس کی پراسرار سرگرمیوں کو دیکھنے سے یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ اس تحریک کے مذہبی بہروپ کے پس پردہ دراصل وہی روح کام کر رہی ہے جو بالعموم زیر زمین کام کرنے والی تحریکوں میں ہوتی ہے۔

یہ بات ہم اپنی طرف سے نہیں کہہ رہے۔ بلکہ اس کا اعتراف اس تحریک کے ایک خلیفہ نے بھی کیا ہے۔

’’پس جو لوگ کہتے ہیں کہ ہم میں سیاست نہیں وہ نادان ہیں۔ وہ سیاست کو سمجھتے ہی نہیں۔ جو شخص یہ نہیں مانتا کہ خلیفہ کی بھی سیاست ہوتی ہے۔ وہ خلیفہ کی بیعت ہی کیا کرتا ہے۔ اس کی کوئی بیعت نہیں اور اصل بات تو یہ ہے کہ ہماری سیاست گورنمنٹ کی سیاست سے بھی زیادہ ہے۔ پس اس سیاست کے مسئلہ کو اگر میں نے بار بار بیان نہیں کیا تو اس کی وجہ صرف یہی ہے کہ میں نے اس سے جان بوجھ کر اجتناب کیا ہے۔ آپ لوگوں کو یہ بات خوب سمجھ لینی چاہئے کہ خلافت کے ساتھ ساتھ سیاست بھی ہے اور جو شخص یہ نہیں مانتا وہ جھوٹی بیعت کرتا ہے۔‘‘

(الفضل مورخہ ١٣؍اگست ١٩٢٦ء)

اسی خلیفہ کا ایک قول یہ بھی ہے: ”غرض سیاست میں مداخلت کوئی غیر دینی فعل نہیں۔ بلکہ یہ دینی مقاصد میں شامل ہے۔ جس کی طرف توجہ کرنا وقتی ضروریات کے مطابق لیڈران قوم کا

٢

صفحہ ٤١١

فرض ہے۔"

(الفضل قادیان مورخہ ٢٨ دسمبر ١٩٢٥ء)

قادیانی سیاست کا حقیقی نصب العین یہ ہے کہ کسی طرح ایک خالصۃ قادیانی ریاست وجود میں لائی جائے۔ چنانچہ یہی خلیفہ صاحب اپنی ایک تقریر میں اس نصب العین پر ان الفاظ میں روشنی ڈالتے ہیں۔

”ہم میں سے ہر ایک احمدی یہ یقین رکھتا ہے کہ تھوڑے عرصہ کے اندر ہی (خواہ ہم اس وقت تک زندہ رہیں یا نہ رہیں۔ لیکن بہرحال یہ عرصہ غیر معمولی طور پر لمبا نہیں ہو سکتا) ہمیں تمام دنیا پر نہ صرف عملی برتری حاصل ہوگی ۔ بلکہ سیاسی اور مذہبی برتری بھی حاصل ہو جائے گی....... جب ہمارے سامنے بعض حکام آتے ہیں تو ہم اس یقین اور وثوق کے ساتھ ان سے ملاقات کرتے ہیں کہ کل یہ نہایت عجز وانکسار کے ساتھ ہم سے استمداد کر رہے ہوں گے۔“

(الفضل قادیان مورخہ ١٢ اکتوبر ١٩٣٩ء)

اس نصب العین کے حصول کے لئے جو طریق کار اختیار کیا گیا وہ یہ تھا : ”میرا خیال ہے کہ ہم حکومت سے صحیح تعاون کر کے جس قدر جلد حکومت پر قابض ہو سکتے ہیں عدم تعاون سے نہیں۔“

ان اقتباسات سے یہ بات اچھی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ قادیانیت دراصل ایک سیاسی تحریک ہے اور اس نے اپنے مخصوص سیاسی عزائم پر مذہبیت کا پردہ ڈال رکھا ہے۔

انگریز اور قادیانی

ملت اسلامیہ ایک ایسی زندہ اور جاندار ملت ہے کہ اگر اس کے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے جائیں اور اس کی اجتماعیت کا شیرازہ منتشر کر کے سیاسی اعتبار سے اگر اسے عاجز و مغلوب بھی کر لیا جائے۔ تب بھی مرتی اور مٹتی نہیں ۔ بلکہ ظلم اور استبداد کے جانکاہ چرکے سہہ کر بھی یہ ابھرتی ہے اور جب ابھرتی ہے تو اس کی تازگی اور توانائی اور اس کی جاذبیت اور کشش میں کوئی فرق واقع نہیں ہوتا۔ چنگیزیت کی مستبدانہ گرفت میں پھنس کر بھی اس کا مقابلہ کرتی ہے۔ اس کی روح ہرگز شکست تسلیم نہیں کرتی۔ اس کا اجتماعی ضمیر ہر حال میں زندہ اور تابندہ رہتا ہے اور اس کی فولادی خودی ہمیشہ ناقابل تسخیر رہتی ہے۔

ملت اسلامیہ کی اسی قوت اور توانائی کے حقیقی سرچشمے صرف دو ہیں، ان میں ایک قرآن اور اس کا تصور جہاد ہے اور دوسرے آنحضرتﷺ کی دائمی اور ابدی نبوت اور

٣

صفحہ ٤١٢

رسالت ...... پوری امت اپنی زندگی کے لئے انہی سرچشموں کی محتاج ہے۔ اگر خدانخواستہ اس امت نے کسی وقت ان سرچشموں سے فیض یاب ہونا ترک کر دیا تو بس وہی لمحہ اس کی مستقل بربادی اور موت کا ہوگا۔

اس امت کے دشمنوں نے ہر دور میں یہ کوشش کی ہے کہ کسی طرح اس کا تعلق ان دونوں سرچشموں سے منقطع ہو جائے۔ خواہ زمانہ قدیم کے معتزلہ ہوں یا دور حاضر کے منکرین سنت، خواہ دور اوّل کے مسیلمہ کذاب اور طلیحہ ہوں یا اس دور کے غلام احمد قادیانی یا بہاء اللہ ایرانی، ان سب کا ہدف حضور ﷺ کی ذات اور قرآن ہی رہے ہیں۔ کسی نے قرآن کو حضور سرورِ کائنات ﷺ سے الگ کرکے پڑھنے اور سمجھنے کی کوشش کی۔ تاکہ وہ اپنے باطل نظریات کو قرآن سے ثابت کرسکے اور کسی نے حضور ﷺ کے مد مقابل کھڑے ہو کر قرآن کی من مانی تاویل اور تفسیر کے لئے مدعی وحی والہام ہونے کا اعلان کر دیا تاکہ وہ اپنے مخصوص عزائم کی تکمیل کے لئے قرآن کی تائید حاصل کرسکے۔

ہر دور کے مبتدعین کی یہ کوشش رہی ہے کہ قرآن سے حضور ﷺ کی سنت اور آپ کے اسوہ کا تعلق منقطع کر دیا جائے۔ کیونکہ جب تک یہ تعلق برقرار ہے اس وقت تک قرآن کی من مانی تاویل کر کے نہ عوام الناس کو گمراہ کیا جاسکتا ہے اور نہ مسلمانوں کی قوت و طاقت کو توڑا جاسکتا ہے۔ جب برصغیر ہند و پاک میں برطانیہ قدم جما رہا تھا۔ تو اس نے اپنی راہ میں مسلمانوں ہی کو سب سے زیادہ مزاحم پایا تھا۔ انگریز نے بھی اس وقت مسلمانوں کی قوت کے اصلی منبع کی بالکل صحیح تشخیص کی تھی۔ ایک انگریز مفکر سر ولیم میور نے واضح طور پر کہا تھا کہ برطانوی عملداری کی راہ میں دو رکاوٹیں ہیں۔ ایک محمد (ﷺ) کی تلوار اور دوسرے محمد (ﷺ) کا قرآن۔ چنانچہ اسلام اور اس کی قوت کو توڑنے اور اسے کمزور کرنے کے لئے مخالفین نے قرآن پاک اور حضور سرورِ کائنات ﷺ کی ذات اقدس پر شدید حملے کئے۔ ان حملوں کے لئے بالعموم دو طریقے اختیار کئے گئے۔ ایک علمی تحقیق اور ریسرچ کے نام پر جھوٹے اور غلط پروپیگنڈے کا جس کی سرپرستی ملحد مستشرقین نے کی اور دوسرے امت کے اندر منافقین اور معاندین کی حوصلہ افزائی کا تاکہ ان کے ذریعہ امت میں انتشار پیدا کیا جائے۔

اس پالیسی کو خود حکومت نے اپنایا۔ علمی تحقیق و ریسرچ کے نام پر کلامی فتنے کھڑے کئے گئے اور قرآن بلا سنت کی تحریک چلائی گئی۔

٤

صفحہ ٤١٣

دوسرے طریقے کے نتیجے میں نوابزادوں، صاحب بہادروں اور سرصاحبان پر مشتمل بیوروکریسی کا ایک گروہ تیار کر کے مسلمانوں پر مسلط کر دیا گیا۔ اس گروہ کی زیر سرپرستی مسلمانوں کی قوت مزاحمت کو کمزور کرنے کے لئے مسلمانوں کے اندر اقتصادی اور مذہبی میدانوں میں کشمکش کے متعدد محاذ کھول دیئے۔ پہلے مسلمانوں کی طاقت انگریزوں کے خلاف صرف ایک محاذ ...... محاذ آزادی ...... پر صرف ہورہی تھی اور وہ اسی ایک محاذ پر یکسو ہو کر انگریزوں سے لڑ رہے تھے۔ مگر بعد میں مستشرقین، منافقین اور بیوروکریٹس کی کوششوں سے ان کی قوت کئی دیگر محاذوں پر بٹ گئی اور مسلمان کمزور ہو کر برطانوی سامراج کی ظالمانہ گرفت میں آگئے۔

برطانوی سامراج کی اس پالیسی کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کا سہرا حقیقتاً آنجہانی مرزا غلام احمد قادیانی کے سر ہے۔ وہ خود اعتراف کرتے ہیں : ”میرا اس درخواست سے جو حضور کی خدمت میں مع اسماء مریدین روانہ کرتا ہوں۔ مدعا یہ ہے کہ اگرچہ میں ان خدمات خاصہ کے لحاظ سے جو میں نے اور میرے بزرگوں نے محض صدق دل اور وفا اور اخلاص اور جوش وفاداری سے سرکار انگریزی کی خوشنودی کے لئے کئے ہیں۔ عنایت خاص کا مستحق ہوں ...... صرف التماس ہے کہ سرکار دولت مدار ایسے خاندان کی نسبت جس کو پچاس سال کے متواتر تجربہ سے ایک وفادار اور جان نثار خاندان ثابت کر چکی ہے اور جس کی نسبت گورنمنٹ عالیہ کے معزز حکام نے ہمیشہ مستحکم رائے سے اپنی چٹھیات میں گواہی دی ہے کہ وہ قدیم سے سرکار انگریزی کے پکے خیر خواہ اور خدمت گزار ہیں ۔ ”اس خودکاشتہ پودے“ کی نسبت نہایت حزم و احتیاط اور تحقیق و توجہ سے کام لے اور اپنے ماتحت حکام کو اشارہ فرمائے کہ وہ بھی اس خاندان کی ثابت شدہ وفاداری اور اخلاص کا لحاظ رکھ کر مجھے اور میری جماعت کو ایک خاص عنایت اور مہربانی کی نظر سے دیکھیں۔ ہمارے خاندان نے سرکار انگریزی کی راہ میں اپنے خون بہانے اور جان دینے سے دریغ نہیں کیا اور نہ اب دریغ ہے۔ لہٰذا ہمارا حق ہے کہ ہم خدمات گذشتہ کے لحاظ سے سرکار دولت مدار کی پوری عنایات اور خصوصی توجہ کی درخواست کریں۔ تاکہ ہر شخص بے وجہ ہماری آبروریزی کے لئے دلیری نہ کر سکے۔“

(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢١ تا ٢٢)

مزید لکھتے ہیں : ”میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ میں تمام مسلمانوں میں اوّل درجہ کا خیر خواہ گورنمنٹ انگریزی کا ہوں۔ کیونکہ مجھے تین باتوں نے خیر خواہی میں اوّل درجہ پر پہنچا دیا ہے۔ اوّل والد مرحوم، دوسرے گورنمنٹ کے احسانوں نے اور تیسرے خداوند تعالیٰ کے الہام نے۔“

(تریاق القلوب ص ٣٣٢، خزائن ج ١٥ ص ٤٩١)

٥

صفحہ ٤١٤

برطانوی سامراج کی غیر مشروط وفاداری کا یہ اعلان مرزا قادیانی کے جانشینوں نے بھی کیا تھا۔ اس کے چند نمونے حسب ذیل ہیں۔

”ہمیں امید ہے کہ برٹش حکومت کی توسیع کے ساتھ ہمارے لئے اشاعت اسلام (یعنی قادیانیت) کا میدان وسیع ہو جائے گا اور غیر مسلم کو مسلم بنانے کے ساتھ ہم مسلمانوں کو پھر مسلمان کریں گے۔“

(الفضل قادیان مورخہ ١١؍فروری ١٩١٨ء)

”فی الواقع گورنمنٹ ایک ڈھال ہے۔ جس کے نیچے احمدی جماعت آگے بڑھتی جاتی ہے۔ اس ڈھال کو ذرا ایک طرف کرو اور دیکھو کہ زہریلے تیروں کی کیسی خطرناک بارش تمہارے سروں پر ہوتی ہے۔ پس کیوں ہم اس گورنمنٹ کے شکر گزار نہ ہوں۔ ہمارے فوائد اس گورنمنٹ کے ساتھ متحد ہوگئے اور اس گورنمنٹ کی تباہی ہماری تباہی اور اس گورنمنٹ کی ترقی ہماری ترقی۔ جہاں جہاں اس گورنمنٹ کی حکومت پھیلتی جاتی ہے۔ ہمارے لئے تبلیغ کا ایک میدان نکلتا ہے۔“

(الفضل قادیان مورخہ ١٩؍اکتوبر ١٩١٥ء)

”سلسلۂ احمدیہ کا گورنمنٹ برطانیہ سے جو تعلق ہے وہ تمام جماعتوں سے زائد ہے۔ ہمارے حالات اس قسم کے ہیں کہ گورنمنٹ اور ہمارے فوائد ایک ہوگئے ہیں۔ گورنمنٹ برطانیہ کی ترقی کے ساتھ ہمیں بھی آگے بڑھنے کا موقع ملتا ہے اور اس کو خدانخواستہ اگر کوئی نقصان پہنچے تو اس صدمہ سے ہم بھی محفوظ نہیں رہ سکتے۔“

(الفضل قادیان ج ٨ نمبر ١١، ص ١، مورخہ ٢٧؍جولائی ١٩١٨ء)

قادیانی گروہ کی برطانوی استعمار سے یہ وفاداری محض سیاسی اور وقتی نوعیت کی نہیں بلکہ یہ اس تحریک کے اساسی عقائد میں شامل ہے اور اس کے نبی کے دعوے کے مطابق یہ خدا کی طرف سے ایک الہامی حکم ہے۔ قادیانیوں کے نزدیک مرزا قادیانی کے وحی والہام کو وہی مرتبہ ومقام حاصل ہے جو ایک سچے مسلمان کی نگاہ میں قرآن اور اس کی آیات کا ہے۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ قادیانی مرزا قادیانی کے الہام کو قرآن کی آیات سے بھی زیادہ اہم مقام دیتے ہیں۔ چنانچہ انگریزی سامراج کی خدمت اور وفاداری قادیانیوں کے اساسی معتقدات میں شامل ہے۔ اگر مرزا قادیانی کے الہامی دعووں کو بنظر غائر مطالعہ کیا جائے تو صاف محسوس ہوگا۔ مرزا قادیانی کی نبوت کے بنیادی مقاصد میں سے ایک اہم مقصد انگریزی استعمار کی خدمت اور اس کا استحکام تھا۔ وہ خود اعلان کرتے ہیں: ”سنو انگریزی سلطنت تمہارے لئے ایک رحمت ہے۔ تمہارے لئے ایک برکت ہے اور خدا کی طرف سے وہ تمہاری سپر ہے۔ پس تم دل وجان سے اس سپر کی قدر کرو

٦

صفحہ ٤١٥

اور تمہارے مخالفین جو مسلمان ہیں۔ ہزار درجہ ان سے انگریز بہتر ہیں۔“

(مجموعہ اشتہارات ج٣ ص٥٨٤)

”مگر ہم اللہ تعالیٰ کے فضل سے کہہ سکتے ہیں کہ جو کچھ بھی ہو جناب جماعت کو ملک معظم کا نہایت وفادار اور سچا خادم پائیں گے۔ چونکہ (یہ) وفاداری جماعت احمدیہ کی شرائط بیعت میں سے ایک شرط رکھی گئی ہے اور بانی سلسلہ نے اپنی جماعت کو وفاداری حکومت کی اس طرح بار بار تاکید کی ہے کہ ان کی ایسی کتابوں میں سے کوئی کتاب بھی نہیں جس میں اس کا ذکر نہ کیا گیا ہو۔“

(الفضل قادیان مورخہ ٢٢؍ دسمبر ١٩١٩ء)

”سو حضور عالی! ہماری فرمانبرداری مذہبی امر ہے۔ اس لئے اگر حکومت کی پالیسی سے قدرے اختلاف کریں۔ کبھی اس کے خلاف کھڑے نہیں ہو سکتے۔ کیونکہ اس صورت میں ہم خود اپنے عقیدے کی رو سے مجرم ہوں گے اور ہمارا ایمان خود حجت قائم کرے گا۔ حضور ملک معظم کی فرمانبرداری ہمارے لئے ایک مذہبی فرض ہے۔ جس میں سیاسی حقوق ملنے یا نہ ملنے کا کچھ دخل نہیں۔ جب تک ہمیں مذہبی آزادی حاصل ہے۔ ہم اپنی ہر چیز تاج برطانیہ پر نثار کرنے کے لئے تیار ہیں اور لوگوں کی دشمنی اور عداوت ہمیں اس سے باز نہیں رکھ سکتی۔“

ان اقتباسات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ تاج برطانیہ سے وابستگی اور اس کی اطاعت و وفاداری قادیانیوں کے نزدیک غیر معمولی اہمیت کی حامل ہے۔ ان کے نبی نے تاج برطانیہ کی وفاداری کو اپنے مقاصد نبوت میں شامل کیا ہے۔ اپنے مریدوں سے اس کے لئے بیعت لی ہے اور اس وفاداری اور فرمانبرداری کو قادیانیوں کے لئے جزو ایمان قرار دیا ہے اور ان کے بنیادی عقائد میں شامل کر کے ملک معظم کی اطاعت کو نماز اور روزہ کی طرح ایک مذہبی فریضہ کی حیثیت دے ڈالی ہے۔

یہ بات اگر محض کسی سیاسی لیڈر کی طرف سے ہوتی تو چنداں قابل التفات نہ تھی۔ مگر یہ بات وہ شخص کہہ رہا ہے جو اپنے آپ کو مدعی وحی والہام کہتا ہے۔ نبوت کا دعویدار بن کر روئے زمین کے تمام مسلمانوں کو کافر قرار دیتا ہے۔ لیکن انگریزوں کو جو مسلمانوں ہی کی طرح اس کی نبوت کا انکار کرتے ہیں۔ مسلمانوں سے ہزار درجہ بہتر سمجھتا ہے اور خود کو ان کے وفادار، فرمانبردار اور اطاعت گزار کی حیثیت سے پیش کرتا ہے۔

ظاہر ہے کہ جو شخص نبوت کے دعوے کے ساتھ انگریزی سامراج کی غیر مشروط وفاداری اور اطاعت کو ایک ”مذہبی فرض“ خیال کرتا ہے اور پھر اس کی تلقین وقتی اور عارضی نوعیت کی

٧

صفحہ ٤١٦

نہیں ہو سکتی۔ بلکہ دائمی اور ابدی ہوگی۔ انگریز کی وفاداری قادیانیوں کے لئے اس وقت تک وبہر حال ایک ”مذہبی فرض“ ہی رہے گی۔ جب تک اس گروہ کا کوئی دوسرا شخص مرزا قادیانی کے اس الہامی حکم کو نبوت کا دعویٰ کر کے منسوخ نہ کر دے اور جب تک اس گروہ میں کوئی دوسرا مدعی نبوت پیدا نہیں ہوتا۔ اس وقت تک مرزا قادیانی کا یہ حکم قادیانی امت کے لئے آج بھی اسی طرح واجب الاحترام رہے گا۔ جیسا یہ ان کی زندگی میں تھا۔

برطانوی سامراج کی خدمت

مرزا قادیانی کے اس الہامی حکم کی روشنی میں قادیانیوں نے انگریزوں کی جو خدمت کی اور اس کے نتیجے میں انہوں نے مسلمانوں کو جو نقصان پہنچایا وہ اگرچہ تفصیل سے تو بیان نہیں کیا جاسکتا۔ تاہم اس سلسلے میں چند اہم باتیں ذیل میں بیان کی جاتی ہیں۔

مزاحمت کا رخ سیاسی اور ملکی مسائل و معاملات سے ہٹانے کے لئے انگریزوں نے عیسائی مشنری کے ذریعے ارتداد کی ایک نئی فتنہ انگیز مہم شروع کر دی۔ جس کے نتیجے میں مسلمانوں میں اشتعال انگیز ردعمل پیدا ہوا۔ مرزا قادیانی (اپنے دعویٰ نبوت سے قبل کے دور میں) مسلمانوں کے وکیل اور مناظر اسلام کی حیثیت سے میدان میں نکل آئے اور عیسائیوں کو مناظرہ کے لئے للکارنا شروع کر دیا۔ اس طرح انہوں نے عیسائیوں کے ساتھ مناظرہ کا بازار گرم کر دیا اور مسلمانوں کے لئے کشمکش کا ایک نیا محاذ کھل گیا۔ اس سے انگریزوں کو یہ فائدہ حاصل ہوا کہ مسلمانوں کی طاقت کا ایک حصہ جو سیاسی میدان میں برطانوی استبداد کی بیخ کنی میں صرف ہو رہا تھا۔ اب مناظرہ بازی میں صرف ہونے لگا اور مسلمانوں کے جوش اور اشتعال کا رخ سیاسی مسائل و معاملات کے بجائے کلامی اور دینیاتی مسائل کی طرف پھر گیا۔ اس صورتحال سے مرزا قادیانی کو بھی فائدہ حاصل ہوا۔ کیونکہ مسلمانوں کے ایک گروہ نے انہیں اپنا خیرخواہ خیال کیا اور اس سے اپنے حق میں نیک توقعات وابستہ کر لیں۔ لیکن مرزا قادیانی نے عیسائی پادریوں سے جس مقصد کے پیش نظر مناظرہ بازی کا سلسلہ قائم کیا تھا۔ وہ ان کے اپنے الفاظ میں یہ تھا:

”میں اس بات کا بھی اقراری ہوں کہ جب پادریوں اور عیسائی مشنریوں کی تحریر نہایت سخت ہوگئی اور حد اعتدال سے بڑھ گئی اور بالخصوص پرچہ نور افشاں میں جو ایک عیسائی اخبار لدھیانہ سے نکلتا ہے۔ نہایت گندی تحریریں شائع ہوئیں اور ان مؤلفین نے ہمارے نبی ﷺ کی نسبت نعوذ باللہ ایسے الفاظ استعمال کئے کہ یہ شخص ڈاکو تھا..... (وغیرہ من الخرافات) تو مجھے

٨

صفحہ ٤١٧

کتابوں اور اخباروں کے پڑھنے سے یہ اندیشہ دل میں پیدا ہوا کہ مبادا مسلمانوں کے دلوں میں جو ایک جوش رکھنے والی قوم ہے۔ ان کلمات کا کوئی سخت اشتعال دینے والا اثر پیدا ہو تب میں نے ان جوشوں کو ٹھنڈا کرنے کے لئے صحیح اور پاک نیت سے یہی مناسب سمجھا اور عام جوش کو دبانے کے لئے حکمت عملی یہی ہے کہ ان تحریرات کا کسی قدر سختی سے جواب دیا جائے۔ تاکہ سریع الغضب کے جوش فرو ہو جائیں اور ملک میں کوئی بدامنی پیدا نہ ہو۔ تب میں نے بمقابل ایسی کتابوں کے جن میں کمال سختی سے بدزبانی کی گئی تھی۔ چند ایسی کتابیں لکھیں جن میں بالمقابل سختی تھی۔ کیونکہ میرے کانشس (ضمیر ) نے قطعی طور پر مجھے فتویٰ دیا کہ اسلام میں بہت سے وحشیانہ جوش رکھنے والے آدمی موجود ہیں۔ ان کے غیض و غضب کی آگ بجھانے کے لئے یہ طریق کافی ہوگا ...... مجھ سے پادریوں کے مقابل پر جو کچھ وقوع میں آیا یہی ہے حکمت عملی سے بعض وحشی مسلمانوں کو خوش کیا گیا ۔"

(تریاق القلوب ص ١٣٠ خزائن ج ١٥ ص ٤٩٠، ٤٩١)

عوامی سطح پر پہلی مرتبہ آریہ سماجیوں سے مذہبی مناظروں کا سلسلہ قائم کیا اور برطانوی سامراج کے سائے میں مسلمانوں کے لئے کشمکش کا ایک اور محاذ گرما دیا۔ جس کے نتیجے میں مقامی غیر مسلم آبادی کو حضور ﷺ کی ذات اقدس پر حملہ کرنے کا موقع مل گیا اور مسلمانوں کو انگریزی حکومت، عیسائی مشنوں اور آریہ سماجوں سے بیک وقت کئی محاذوں پر مذہبی اور سیاسی جنگ لڑنی پڑی۔ اس سے مرزا قادیانی اور حکومت دونوں فائدے میں رہے۔ مرزا قادیانی کو مناظرہ بازی کے اس مظاہرے سے عوام میں اثر ونفوذ حاصل ہوا اور لوگ انہیں احترام کی نگاہ سے دیکھنے لگے۔ یہی بات آگے چل کر ان کے لئے دعویٰ نبوت کی راہ میں بڑی مددگار ثابت ہوئی اور انگریزوں کے لئے مسلمانوں اور ہندوؤں کے باہم مذہبی مناظرہ بازی میں الجھ جانے کے باعث ”تقسیم کرو اور حکومت کرو“ کی حکمت عملی پر عمل کرنا نسبتاً آسان ہو گیا۔

بھر پور حملہ کر دیا۔ مسلمان انگریزوں کی شدید مستبدانہ گرفت میں تھے۔ مرزا قادیانی کے اس اچانک اور غیر متوقع حملہ سے تڑپ کر رہ گئے۔ سب سے پہلے انہوں نے مسلمانوں کے تصور توحید پر ہاتھ صاف کیا۔ مسلمانوں کے نزدیک اللہ تعالیٰ کائنات کے صرف تکوینی دائرہ ہی میں خالق، مالک، مدبر اور حاکم و بادشاہ نہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ وہ انسانی زندگی کے ہر دائرہ میں، خواہ معاش و معاشرت کا دائرہ ہو یا اخلاق و عبادت کا ، صلح و جنگ کا دائرہ ہو یا تہذیب و سیاست کا،

٩

صفحہ ٤١٨

انفرادی ہو یا اجتماعی، حاکم مطلق اور الہ اور معبود ہے اور ہر قسم کی اطاعت و بندگی اور عبادت و عبودیت کا صرف وہی اکیلا سزاوار ہے۔ اللہ تعالیٰ کو صرف تکوینی دائرہ میں معبود اور الہ تسلیم کرنا یا زندگی کے چند خاص گوشوں میں اس کی بندگی کرنا اور چند دوسرے گوشوں میں کسی دوسرے کی اطاعت و وفاداری کا دم بھرنا یہ مسلمانوں کا تصور توحید نہیں اور نہ اس تصور کا اسلام سے کوئی واسطہ ہے۔ یہ عقیدہ عیسائیوں اور یہودیوں کے ہاں قابل قبول ہو سکتا ہے۔ مگر مسلمانوں کے لئے خدا کو زندگی کے ایک دائرہ میں معبود ماننا اور چند دوسرے دائروں میں اسے بے دخل کر دینا یا اس کے ساتھ کسی دوسرے کو شریک کرنا بدترین جرم ہے۔ اس سے توحید کے عقیدہ کا نہ صرف حلیہ بگڑ کر رہ جاتا ہے۔ بلکہ یہ عقیدہ خود مسلمانوں کے لئے بھی سم قاتل ہے۔ جس طرح بجلی کی تار برقی رو کے ختم ہو جانے کے بعد بے کار ہو جاتی ہے۔ بالکل اسی طرح عقیدۂ توحید کے بگڑ جانے سے مسلمانوں کا اجتماعی وجود بھی ناکارہ ہو کر رہ جاتا ہے۔ مسلمانوں کے لئے ہر قسم کی حاکمیت (Soverieanty) کا مستحق صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ اگر اس حاکمیت کے حصے بخرے کر کے کچھ کا مستحق اللہ میاں کو اور کچھ کا مستحق کسی اور صاحب اقتدار ہستی کو قرار دیا جائے تو یہ مسلمانوں کے نزدیک سخت اشتعال انگیز ہوگا۔ مرزا قادیانی نے مسلمانوں کے تصور توحید کا حلیہ بگاڑنے کے لئے اللہ تعالیٰ کی صفت حاکمیت میں برطانوی استعمار کو شریک ٹھہرا کر برملا اعلان کیا کہ: ”میں سچ سچ کہتا ہوں کہ محسن کی بدخواہی کرنا ایک حرامی اور بدکار آدمی کا کام ہے۔ سو میرا مذہب جس کو میں بار بار ظاہر کرتا ہوں۔ یہی ہے کہ اسلام کے دو حصے ہیں۔ ایک یہ کہ خدا تعالیٰ کی اطاعت کرے۔۔۔۔۔ دوسرے اس سلطنت کی۔ جس نے امن قائم کیا۔ جس نے ظالموں کے ہاتھ سے اپنے سایہ میں ہمیں پناہ دی ہو۔ سو وہ سلطنت حکومت برطانیہ کی ہے۔۔۔۔۔ سو اگر ہم گورنمنٹ برطانیہ سے سرکشی کریں تو گویا اسلام اور خدا اور رسول ﷺ سے سرکشی کرتے ہیں۔“

(شہادۃ القرآن ص ج، و خزائن ج ٦ ص ٣٨٠، ٣٨١)

مسلمانوں سے اپنے اختلافات کی نوعیت کو واضح کرتے ہوئے مرزا بشیر الدین محمود لکھتے ہیں کہ: ”حضرت مسیح موعود نے فرمایا کہ ان کا (یعنی مسلمانوں کا) اسلام اور ہے اور ہمارا اور۔ ان کا خدا اور ہے اور ہمارا اور۔ ہمارا حج اور ہے اور ان کا اور، اور اسی طرح ان سے ہر بات میں اختلاف ہے۔“

(الفضل ج ٥ نمبر ٨٠ ص ٨، مورخہ ٢١ اگست ١٩١٨ء)

اللہ تعالیٰ کو انسانی زندگی کے انفرادی اور سیاسی دائرے میں حاکم تسلیم کرنا اور اس کے قانون کے علاوہ کسی قانون کو تسلیم نہ کرنا ہر دور کے مستبد حکمرانوں، دین سے بیزار لوگوں اور ملحدین

١٠

صفحہ ٤١٩

اور متجددین کے مزعومہ عزائم کی راہ میں حائل رہا ہے۔ دین و شریعت کے مخالفین خدا کے محض وجود کو ماننے اور تسلیم کرنے کے مخالف نہیں۔ انہیں اگر کسی چیز سے وحشت ہوتی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی یہی صفت حاکمیت ہے جو انسانی زندگی کے ہر دائرہ پر محیط ہے۔ وہ اس صفت پر پر فریب تاویلوں اور تعبیروں کا پردہ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ کی صفت حاکمیت کا حلیہ بگاڑا جاتا ہے تو اسی وقت دین و سیاست کی تفریق کا فتنہ جنم لیتا ہے۔ یہیں سے استبداد اور چنگیزیت کا دروازہ کھلتا ہے۔ اسی سے امت مسلمانوں میں یزیدیت اور ملوکیت کو راہ ملتی ہے اور یہی وہ فتنہ ہے جس کے ذریعے آزادی اور مساوات کی فضا ختم ہوتی ہے اور انسان اپنے جیسے انسانوں کے غلام بنتے ہیں۔ فتنے کی اسی راہ سے مرزا قادیانی نے مسلمانوں کے اس اساسی عقیدہ پر حملہ کیا اور تاج برطانیہ کے اقتدار اعلیٰ کو غیر مشروط طور پر تسلیم کیا۔ اس کی وفاداری کا حلف اٹھایا اور اپنے مریدوں سے اس پر بیعت لی اور اس طرح اللہ تعالیٰ کی صفت حاکمیت میں برطانیہ کو شریک ٹھہرا کر اس کی حکومت کو ’اولی الامر منکم‘ کی صفت میں لا کھڑا کیا اور انسانی تاریخ کے اس بدترین اور مکروہ ترین ظالمانہ استعمار کے خلاف آواز اٹھانے اور ختم کرنے کی ہر کوشش کو مذہبًا حرام قرار دیا۔

مسلمانوں کے نظام عقائد میں دوسرا اساسی عقیدہ نبی ﷺ کی ابدی رسالت اور ختم نبوت کا ہے۔ عقیدۂ توحید کے بعد ختم نبوت کا یہ عقیدہ مسلمانوں میں اجتماعیت پیدا کرتا ہے اور انہیں زمان و مکان کی قیود سے نکال کر ایک دائمی، ابدی، عالمگیر اور فی الحقیقت لا فانی امت کی حیثیت عطا کرتا ہے۔ مگر مرزا قادیانی نے نہ صرف رسالت کے پاکیزہ اور رافع و اعلیٰ تصور کی غلط تعبیر کر کے اسے چیستان بنا دیا۔ بلکہ اجراء نبوت کا دروازہ کھول کر امت کی سالمیت اور استحکام پر کاری ضرب لگائی اور اس کی ابدی اور عالمگیر ہونے کی حیثیت کو نقصان پہنچایا۔ مرزا قادیانی کی اس ظالمانہ جسارت ہی کا یہ نتیجہ نکلا کہ خود ان کی اپنی امت کے کئی حوصلہ مند افراد نے نبی بننے کے شوق میں نبوت کا اعلان کر ڈالا۔ ان کے ایک خلیفہ صاحب نے اپنے اس عقیدے کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے۔

”انہوں نے (یعنی) مسلمانوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ خدا کے خزانے ختم ہو گئے ہیں۔۔۔۔ ان کا یہ سمجھنا خدا تعالیٰ کی قدر ہی کو نہ سمجھنے کی وجہ سے ہے۔ ورنہ ایک نبی کیا میں تو کہتا ہوں کہ ہزاروں نبی ہوں گے۔“

(انوار خلافت ص ٦٢)

مرزا قادیانی کا ہر خلیفہ، صاحب الہام و وحی ہوتا ہے۔ ان کے پیروکاروں میں سے متعدد افراد نے اپنے نبی ہونے کا اعلان کیا۔ (ان حوصلہ مند قادیانی متنبیوں میں سے چند کے نام

١١

صفحہ ٤٢٠

یہ ہیں۔ مولوی یار محمد قادیانی، احمد نور کابلی قادیانی، عبداللطیف قادیانی، عبداللہ تیما پوری قادیانی، چراغ دین جموی قادیانی، غلام محمد قادیانی، (بحوالہ الیاس برنی، قادیانی مذہب ص ٤٠۔٨٣٧) نہ معلوم قادیان کی نبوت ساز ایجنسی نے ان ”مفتیوں“ کو کیوں فراموش کر دیا ہے) اور مرزا قادیانی خود محدثیت، مجددیت اور ظلیت اور بروزیت کے مقامات سے ترقی کر کے خاتم بدہن نبی ﷺ کی ذات اقدس کے مقام و مرتبہ کے دعویدار بن گئے۔ کس جسارت سے اعلان کرتے ہیں: ”محمد رسول اللہ والذین معہ اشداء علی الکفار “ کے الہام سے مراد صرف میں ہوں۔ محمد رسول اللہ خدا نے مجھے کہا ہے۔“

(الفضل قادیان مورخہ ١٥؍ جولائی ١٩١٥ء)

اس گروہ نے قرآن کی من مانی تاویل کر کے صرف جہاد اور ختم نبوت کے عقیدوں پر ہاتھ صاف نہیں کیا۔ اس کے ساتھ یہ بات بھی ان کے منصوبہ میں شامل تھی کہ خود قرآن کی تحریف بھی کر ڈالی جائے۔ چنانچہ مرزا قادیانی نے اس طرف ان الفاظ میں اشارہ کیا تھا: ”خدا کا کلام مجھ پر اس قدر نازل ہوا ہے کہ اگر وہ تمام لکھا جائے تو بیس جزو سے کم نہ ہوگا۔“

(حقیقت الوحی ص ٣٠١، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٧)

مرزا قادیانی کی اس بات کی تفسیر ایک قادیانی مبلغ نے ان الفاظ میں کی: ”اگر مسیح موعود عین محمد ہیں اور آپ کی بعثت رسول اللہ ﷺ ہی کی بعثت ثانی ہے تو حضرت مسیح موعود کی وحی بھی عین قرآن ہونی چاہئے اور جو وحی بھی آپ پر نازل ہو وہ قرآن جدید، اور قرآن کو خاتم الکتاب کہا گیا تھا تو اس کا مطلب فقط اس قدر مانا جائے گا کہ اس کتاب کی مہر سے آئندہ خدا کی کتابیں یا دوسرے لفظوں میں قرآن کے مزید حصے نازل ہوا کریں گے اور کوئی وجہ نہیں جو مجموعہ میاں صاحب حضرت مسیح موعود کے الہامات کا اب شائع کرائیں گے۔ اس کا نام بجائے البشریٰ کے قرآن جدید نہ رکھا جائے یا قرآن ہی نام رکھ دیا جائے۔ کیونکہ یہ وہی قرآن ہے جو پیرایۂ جدید میں جلوہ گر ہوا ہے۔...... مسیح موعود کی وحی جب عین قرآن ہے جس کا کوئی محمدی انکار نہیں کر سکتا تو پھر اب جو قرآن محمودی حضرات پیش فرمائیں گے۔ ضرور ہے کہ وہ پرانے قرآن کا جو رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوا اور نئے قرآن کا جو حضرت مسیح موعود یا دوسرے لفظوں میں محمد رسول ﷺ کی بعثت ثانی میں نازل ہوا۔ دونوں کا مجموعہ ہونا چاہئے۔ گویا عیسائیوں کی طرح عہد نامہ قدیم کے ساتھ عہد نامہ جدید بھی شامل ہوگا۔ تب یہ قدیم و جدید مل کر وہ قرآن بنے گا۔ جس کے لئے میاں صاحب فرماتے ہیں کہ وہ ”یہدی من یشاء“ والا قرآن ہوگا۔“

(پیغام صلح لاہور مورخہ ١١؍ جون ١٩٣٩ء)

١٢

صفحہ ٤٢١

تحریف قرآن کے اس مذموم منصوبہ پر مرزا قادیانی یا ان کے بعد کے خلفاء تو عمل نہ کر سکے۔ مگر بلوچستان میں بعض قادیانی قرآن کا تحریف شدہ نسخہ تقسیم کرتے پکڑے گئے ہیں۔ جن کی وجہ سے بلوچستان کے مسلمانوں میں شدید اشتعال پایا جاتا ہے۔

بلوچستان کے اس تازہ واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ربوہ کے موجودہ خلیفہ نے قرآن کی تحریف کے اس دیرینہ منصوبہ پر عمل درآمد شروع کر دیا ہے۔

مسلمانوں کے ان بنیادی عقائد پر مرزا قادیانی کے اس اچانک اور بھر پور حملے کے دور رس نتائج نکلے۔

ہونے والی ہر تحریک نمک حرامی کے مترادف ٹھہری۔ اس بناء پر انہیں اپنی محسن گورنمنٹ کو خوش کرنے کے لئے جہاد کی تنسیخ کا اعلان کرنا پڑا۔ جہاد کی تنسیخ کے حق میں اس وقت تک فتویٰ نہیں دیا جا سکتا تھا۔ جب تک کہ قرآن کا تعلق یا تو حضور سرور کائنات ﷺ کی سنت سے منقطع کیا جائے اور یا پھر کسی اور ایسے صاحب الہام و وحی کو اس بات کی اتھارٹی دی جائے کہ جو قرآن کی محکم آیات اور اس کے اساسی تصورات کو بدلنے یا ان کی من مانی تاویل کرنے کا حق رکھتا ہو۔ چنانچہ مرزا قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کر کے قرآن کے ابدی احکام کو بدلنے یا انہیں معطل و منسوخ کرنے کے اختیارات اپنے ہاتھ میں لے لئے اور یہ سب کچھ اپنی محسن گورنمنٹ کی غیر مشروط وفاداری میں کرنا پڑا۔

جہاد کی تنسیخ کا مبنیٰ قادیانی مفہوم یہ تھا کہ انگریزوں یا غیر مسلموں کے خلاف تلوار اٹھانا تو حرام ہے۔ مگر مسلمانوں کے خلاف انگریزوں کے ساتھ مل کر جنگ کرنا، انہیں دبانا اور غلام بنانا جائز ہے۔

مرزا قادیانی کے اس اعلان کے بعد قادیانیوں نے مسلمانوں کے خلاف ایک نہ ختم ہونے والی جنگ کا آغاز کر دیا۔

اسی طرح مسلمانوں کے نزدیک مسیح اور مہدی کی آمد کے تصورات زبردست تحریکی قدر و قیمت کے حامل ہیں۔ یہ محض حضور ﷺ کی پیشین گوئیاں نہیں۔ بلکہ یہ مستقبل میں ظہور پذیر ہونے والے یقینی واقعات ہیں۔ ان تصورات کے ساتھ مسلمانوں کے عالمگیر غلبہ کا تصور وابستہ ہے۔ اسی بناء پر ان تصورات کی وجہ سے یاس اور قنوطیت کی گہری تاریکیوں میں امید و رجائیت کے چراغ روشن رہتے ہیں۔ شکستوں اور محرومیوں کے عین ظلمات میں ان عقائد کی وجہ سے ایک

١٣

صفحہ ٤٢٢

مؤمن کی روح آخری اور بھر پور فتح پر یقین رکھتی ہے اور امت کی اجماعی روح کبھی شکست تسلیم نہیں کرتی اور ہر حال میں ناقابل تسخیر رہتی ہے۔

لیکن چونکہ ان عقائد وتصورات کی یہ تحریکی خصوصیت مرزا قادیانی اور ان کی محسن گورنمنٹ کی نگاہ میں ناپسندیدہ تھی۔ اس لئے ان پر حملہ کر کے خود مسلمانوں کے ساتھ بحث ومناظرہ کا ایک اور محاذ کھول دیا۔

الگ امت کی تشکیل و تنظیم کا کام شروع کر دیا۔ اس نئی ابھرتی ہوئی امت نے امت مسلمہ کے افراد کے ساتھ زندگی کے ہر دائرہ میں کشمکش کا آغاز کر دیا۔ عقائد کے میدان میں نظری بحثوں کا لامتناہی سلسلہ چھیڑ دیا۔ معاشرتی اور مذہبی دائرہ میں مسلمانوں کو کافر، جہنمی، ذریۃ البغایا یعنی کنجریوں کی اولاد جیسے غیر مہذب خطابات سے نوازا گیا اور ان سے کٹ کر الگ ہوگئے۔ مگر سیاسی اور معاشی میدانوں میں ان کے اندر گھس کر ان کے مفادات پر ڈاکہ ڈالنا شروع کر دیا اور مسلمانوں ہی کے وسائل سے کام لے کر انہیں امت مسلمہ سے کاٹ کر قادیانی امت میں شامل کرنے لگے۔

مقابلے میں انہیں اپنا دشمن گردانا اور دوسری طرف اپنے عقیدۂ نبوت کو وسعت دے کر ہندوؤں کے کرشن، رامچندر، بدھ، جین اور گرو نانک وغیرہ کو پیغمبروں کی صف میں شامل کر ڈالا۔ اس سے قادیانیوں نے مقامی غیر مسلم آبادی کی ہمدردیاں اور تائید حاصل کرلی۔ چنانچہ پنڈت نہرو جب لاہور آیا تو قادیانیوں نے اس کا زور دار استقبال کیا۔ اس سے پنڈت نہرو اور ڈاکٹر شنکر داس جیسے ہندو اکابرین متاثر ہوئے اور انہیں یہ کہنا پڑا کہ: ”ہمارے نقطہ نظر سے سب سے زیادہ پسندیدہ عنصر قادیانی ہیں۔ کیونکہ ان کا نبی بھی دیسی ہے۔ ان کے مقدس مقامات بھی اس دیس میں واقع ہیں۔“

(اخبار بندے ماترم، ماہ اپریل ١٩٣٢ء)

مرزا قادیانی کے ان اقدامات کا سو فیصدی فائدہ برطانیہ کو پہنچا۔ مسلمانوں کو حکومت، عیسائی مشن، آریہ سماج اور قادیانی امت سے بیک وقت چار محاذوں پر لڑائی لڑنی پڑی اور وہ بھی اس عالم میں کہ مسلمان برطانوی استعمار کی ظالمانہ گرفت میں بے بس تھے اور ان سب گروہوں کو مسلمانوں کے خلاف ہر قسم کی جارحانہ کاروائی کرنے کی نہ صرف کھلی چھٹی تھی۔ بلکہ ان کی مکمل سرپرستی اور حوصلہ افزائی بھی کی جارہی تھی۔

١٤

صفحہ ٤٢٣

رکھتی ہے اور امت کی اجتماعی روح کبھی شکست تسلیم کی یہ تحریکی خصوصیت مرزا قادیانی اور ان کی محسن لئے ان پر حملہ کر کے خود مسلمانوں کے ساتھ بحث

مرزا قادیانی نے امت کے اندر رہتے ہوئے اپنی ایک لیا۔ اس نئی ابھرتی ہوئی امت نے امت مسلمہ کے افراد ق پیدا کر دیا۔ عقائد کے میدان میں نظری بحثوں کا لامتناہی ق مسلمانوں کو کافر، جہنمی، ذریۃ البغایا یعنی کنجریوں کی اور ان سے کٹ کر الگ ہو گئے۔ مگر سیاسی اور معاشی مفادات پر ڈاکہ ڈالنا شروع کر دیا اور مسلمانوں ہی کے ات کاٹ کر قادیانی امت میں شامل کرنے لگے۔

مسلمانوں کے خلاف محاذ آرائی کی اور انگریزوں کے طرف اپنے عقیدۂ نبوت کو وسعت دے کر ہندؤوں وغیرہ کو پیغمبروں کی صف میں شامل کر ڈالا۔ اس سے مدردیاں اور تائید حاصل کر لی۔ چنانچہ پنڈت نہرو جب استقبال کیا۔ اس سے پنڈت نہرو اور ڈاکٹر شنکر داس جیسے کہ: ”ہمارے نقطہ نظر سے سب سے زیادہ پسندیدہ عنصر مانوں کے مقدس مقامات بھی اس دیس میں واقع ہیں۔“

(اخبار بندے ماترم، ماہ اپریل ١٩٣٢ء)

سو فیصدی فائدہ برطانیہ کو پہنچا۔ مسلمانوں کو حکومت، سے بیک وقت چار محاذوں پر لڑائی لڑنی پڑی اور وہ بھی ظالمانہ گرفت میں بے بس تھے اور ان سب گروہوں کو ائی کرنے کی نہ صرف کھلی چھٹی تھی۔ بلکہ ان کی مکمل

١٤

قادیانی گروہ کے عزائم

قادیانی جماعت کو جس بات نے تحریک کی شکل دی ہے وہ اس کی مذہبیت یا اس کے عقائد نہیں بلکہ اس کے وہ سیاسی عزائم اور مفادات ہیں۔ جن کے حصول کے لئے اس نے وحی والہام کا یہ سارا پر اسرار نظام تعمیر کیا ہے۔ اس تحریک کے رہنما اپنے سیاسی عزائم کو کھل کر کم ہی بیان کرتے ہیں اور جب بیان کرتے ہیں تو ان کے اظہار کے لئے صاف اور واضح انداز بیان اختیار کرنے کے بجائے الہامات پیشین گوئیوں کے رنگ میں کہہ جاتے ہیں۔ عام لوگ اس بات کی حقیقت کو نہیں سمجھ سکتے۔ مگر اس گروہ سے تعلق رکھنے والا ہر فرد سمجھ رہا ہوتا ہے کہ اسے کیا ہدایت دی جارہی ہے۔ یہ الہامات اور پیشین گوئیاں گویا اس گروہ کے (CODEWORD) ہیں۔ جن کے ذریعے ان کے مستقبل کے عزائم اور پالیسیوں کا اظہار بھی ہوتا ہے اور اسی ذریعہ سے اس گروہ کے کارکنوں کو وقتاً فوقتاً رہنمائی بھی حاصل ہوتی رہتی ہے۔

اس گروہ کے ان عزائم کو سمجھنے کے لئے ذیل کے دو الہامات پر نظر ڈال لی جائے تو صاف معلوم ہوگا کہ انہوں نے مسلمانوں کو بے بس پا کر اوّل روز ہی سے اپنے سیاسی غلبہ اور اقتدار کا پلان بنالیا تھا۔ مرزا قادیانی پر یہ الہامات انگریزی اور اردو میں معہ ترجمہ نازل ہوئے ہیں یعنی اللہ میاں نے پہلے انگریزی میں الہام کیا۔ پھر پتہ چلا کہ مرزا قادیانی کے متبعین چونکہ انگریزی نہیں جانتے اس لئے ان الہامات کا ترجمہ بھی اللہ میاں نے خود فرما دیا۔ اب یہ دونوں الہامات معہ ترجمہ ملاحظہ فرمائیے:

یہاں یہ بات واضح رہے کہ ”دشمن“ کا لفظ قادیانی علم کلام کی مخصوص اصطلاح ہے اور قادیانی لٹریچر میں یہ صرف اور صرف مسلمانوں ہی کے لئے استعمال ہوا ہے۔

اس الہام کی حقیقی تفسیر وہ ہے جو خلیفہ محمود نے اپنے خطبہ میں بیان کی تھی: ”اس وقت اسلام کی ترقی خدا تعالیٰ نے میرے ساتھ وابستہ کر دی ہے۔ یاد رکھو سیاسیات، اقتصادیات اور تمدنی امور حکومت کے ساتھ وابستہ ہیں۔ پس جب تک ہم اپنے نظام کو مضبوط نہ کریں اور تبلیغ و تعلیم کے

١٥

صفحہ ٤٢٤

ذریعے حکومتوں پر قبضہ کرنے کی کوشش نہ کریں ہم اسلام کی ساری تعلیم کو جاری نہیں کر سکتے ۔“

(الفضل قادیان مورخہ ٥ فروری ١٩٣٧ء)

اسی خلیفہ کے ایک دوسرے خطبہ کے الفاظ یہ ہیں : ”قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے۔ عام مومن دو مخالفوں پر بھاری ہوتا ہے اور اگر اس سے ترقی کرے تو ..... صحابہ کے طرزِ عمل سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان میں سے ایک ایک نے ہزار کا مقابلہ کیا۔ ہماری جماعت مردم شماری کی رو سے پنجاب میں ٥٦ ہزار ہے۔ گو یہ بالکل غلط ہے اور صرف اسی ضلع گورداسپور میں تیس ہزار افراد رہتے ہیں۔ تب بھی ٧٥، ٧٦ ہزار آدمی بن جاتے ہیں اور ایک احمدی سو کے مقابلے میں رکھا جائے تو ہم ٧٥ لاکھ کا مقابلہ کر سکتے ہیں اور اگر ایک ہزار کے مقابلے میں ہمارا ایک آدمی ہو تو ہم ساڑھے سات کروڑ کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ اتنی ہی تعداد دنیا کے مسلمانوں کی ہے۔ پس سارے مسلمان مل کر بھی جسمانی طور پر ہمیں نقصان نہیں پہنچا سکتے اور اللہ کے فضل سے ہم ان پر بھاری ہیں۔ پھر آج کل جسمانی مقابلہ تو ہے ہی نہیں۔ اس لئے اس لحاظ سے بھی ہمیں فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔“

(الفضل قادیان مورخہ ٢١؍ جون ١٩٣٣ء)

یہی خلیفہ صاحب پھر لکھتے ہیں : ”پس نہیں معلوم ہمیں کب خدا کی طرف سے دنیا کا چارج سپرد کیا جاتا ہے۔ ہمیں اپنی طرف سے تیار ہونا چاہئے کہ دنیا کو سنبھال سکیں۔ تم نے دنیا کو ادھر نہیں لانا ۔ بلکہ لانے والا خدا ہے اس لئے تمہیں آنے والے کا معلم بننے کے لئے ابھی سے کوشش کرنی چاہئے۔

(خطبہ خلیفہ محمود الفضل قادیان مورخہ ٢؍ مارچ ١٩٢٢ء)

”جو شخص ہماری فتح کا قائل نہ ہو گا تو صاف سمجھا جائے گا کہ اس کو ولد الحرام بننے کا شوق ہے۔“

(انوار الاسلام ص ٣١)

ان اقتباسات سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اس گروہ کے کیا سیاسی عزائم ہیں اور مسلمانوں کے خلاف ان کے جذبات کا کیا عالم ہے۔ حالانکہ بظاہر یہ ایک مذہبی گروہ ہے اور ملک میں یا بیرون ملک اس کی سیاسی سرگرمیاں بھی نظر نہیں آتیں۔ یہ گروہ زیرِ زمین رہ کر دشمنانِ اسلام کے ساتھ رشتہ جوڑ کر اور ان کے ایجنٹ کی حیثیت سے مسلمانوں کو تباہ کرنے کی خوفناک سازشوں میں مصروف ہے۔ اگر یہ محض مذہبی گروہ ہوتا تو اس قدر پر اسرار نہ ہوتا اور اگر یہ محض سیاسی جماعت یا تحریک ہوتا تو اسے سازشی طور طریقے اور فسطائی طرزِ عمل اور خفیہ اور زیرِ زمین سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی ضرورت نہ تھی۔

١٦

سیاسی اثر ونفوذ

قادیانی امت کے مرحوم کی تائید اور سفارش سے نمائندے کی حیثیت سے نامزد مرحوم کی نماز جنازہ پڑھنے سے اگر یہ شخص ذرا بھی تک کی نماز جنازہ پڑھنا گوارا کی نمائندگی کیسے کر سکتا ہوں ۔ اپنے اثر و رسوخ سے کام لے لگا اور اس طرح مسلمانوں کے ملک تقسیم ہوا تو باوجود اس بات مرحوم کی ذات سے کوئی تعلق سے کسی کا کوئی حصہ تھا۔ بلکہ قادیانی گروہ اسے دوبارہ مت خلاف سازشوں کا مرکز بنان مقابلہ کیا۔ پھر جب یہی سر سرظفر اللہ کے ساتھ قادیانیوں نتیجے میں پٹھان کوٹ کا ضلع پا ان ساری باتوں طریقے پر وزیر خارجہ بنا دیا گ جماعت میں شامل نہیں ہوتا تحریک کی مخالفت کرتا ہے سارے فوائد خاص اپنے جرائم کو نظر انداز کر کے اسے تقسیم ملک سے کے ساتھ ساز باز کر کے مسل

صفحہ ٤٢٧

پسند کریں ہم اسلام کی ساری تعلیم کو جاری نہیں کر سکتے ۔“

(الفضل قادیان مورخہ ٥ فروری ١٩٣٧ء)

کے خطبہ کے الفاظ یہ ہیں : ”قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے۔ ہے اور اگر اس سے ترقی کرے تو ...... صحابہ کے طرز عمل سے تو ایک نے ہزار کا مقابلہ کیا۔ ہماری جماعت مردم شماری کی رو بالکل غلط ہے۔ اور صرف اسی ضلع گورداسپور میں تیس ہزار افراد فدائی بن جاتے ہیں اور ایک احمدی سو کے مقابلے میں رکھا ہیں اور اگر ایک ہزار کے مقابلے میں ہمارا ایک آدمی ہو تو ہم ہیں۔ اتنی ہی تعداد دنیا کے مسلمانوں کی ہے۔ پس سارے نقصان نہیں پہنچا سکتے اور اللہ کے فضل سے ہم ان پر بھاری ہی نہیں ۔ اس لئے اس لحاظ سے بھی ہمیں فکر کرنے کی

(الفضل قادیان مورخہ ٢١ اگست ١٩٣٤ء)

ہیں : ”ہمیں معلوم نہیں کب خدا کی طرف سے دنیا کا سے تیار ہونا چاہئے کہ دنیا کو سنبھال سکیں۔ تم نے دنیا کو لئے تمہیں آنے والے کا معلم بننے کے لئے ابھی سے

(خطبہ خلیفہ محمود الفضل قادیان مورخہ ٢ مارچ ١٩٣٤ء)

ہوگا تو صاف سمجھا جائے گا کہ اس کو ولد الحرام بننے کا شوق

(انوار الاسلام ص ٤١)

لیا جاسکتا ہے کہ اس گروہ کے کیا سیاسی عزائم ہیں اور کیا عالم ہے۔ حالانکہ بظاہر یہ ایک مذہبی گروہ ہے اور ملک بھی نظر نہیں آتیں۔ یہ گروہ زیر زمین رہ کر دشمنان اسلام حیثیت سے مسلمانوں کو تباہ کرنے کی خوفناک سازشوں ہوتا تو اس قدر پر اسرار نہ ہوتا اور اگر یہ محض سیاسی جماعت شیطانی طرز عمل اور خفیہ اور زیر زمین سرگرمیوں میں ملوث

١٦

سیاسی اثر و نفوذ

قادیانی امت کے سیاسی اثر و نفوذ کا آغاز عین اس تاریخ سے ہوا جب سر فضل حسین مرحوم کی تائید اور سفارش سے سر ظفر اللہ خاں کو وائسرائے کی ایگزیکٹو کونسل میں مسلمانوں کے نمائندے کی حیثیت سے نامزد کیا گیا۔ مسلمانوں کو کافر کہنے والا شخص اور خود اپنے محسن سر فضل حسین مرحوم کی نماز جنازہ پڑھنے سے گریز کرنے والا شخص مسلمانوں کا نمائندہ بن گیا۔

اگر یہ شخص ذرا بھی دیانتدار ہوتا تو صاف کہہ دیتا کہ میں تو مسلمانوں کے معصوم بچوں تک کی نماز جنازہ پڑھنا گوارا نہیں کرتا۔ میرے نزدیک سب مسلمان کافر ہیں اور میں ان کافروں کی نمائندگی کیسے کر سکتا ہوں۔ مگر اس شخص نے اپنی اس پوزیشن سے ناجائز فائدے حاصل کئے۔ اپنے اثر و رسوخ سے کام لے کر مختلف محکموں میں مسلمانوں کے بجائے قادیانیوں کو بھرتی کرنے لگا اور اس طرح مسلمانوں کے اس نام نہاد نمائندے نے مسلمانوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا۔ جب ملک تقسیم ہوا تو باوجود اس بات کے کہ سر ظفر اللہ خاں نہ تو مسلم لیگ میں شامل تھا نہ اس کا قائد اعظم مرحوم کی ذات سے کوئی تعلق تھا اور نہ تحریک پاکستان میں اس کا یا اس گروہ کے اکابر واصاغر میں سے کسی کا کوئی حصہ تھا۔ بلکہ الٹا ان عزائم کا برملا اظہار واعلان کیا گیا کہ اگر پاکستان بن گیا تو قادیانی گروہ اسے دوبارہ متحد کرنے کی کوشش کرے گا۔ حقیقت میں تقسیم سے قبل مسلم لیگ کے خلاف سازشوں کا مرکز بنا رہا تھا۔ ١٩٤٥ء کے انتخابات میں قادیانیوں نے مسلم لیگ کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ پھر جب یہی سر ظفر اللہ خاں باؤنڈری کمیشن کے سامنے پیش ہوا تو بقول جسٹس منیر سر ظفر اللہ کے ساتھ قادیانیوں کے وکیل نے کمیشن کے سامنے اپنا الگ کیس پیش کیا۔ جس کے نتیجے میں پٹھان کوٹ کا ضلع پاکستان سے کٹ گیا اور کشمیر کا مسئلہ الجھ گیا۔

ان ساری باتوں کے باوجود سر ظفر اللہ کو مسلمانوں کی نوزائدہ مملکت میں بڑے پر اسرار طریقے پر وزیر خارجہ بنا دیا گیا۔ یہ بات واقعتاً ایک معمہ ہے کہ ایک شخص تحریک آزادی کی کسی جماعت میں شامل نہیں ہوتا۔ ساری عمر برطانیہ کی نوکری کرتا رہتا ہے اور ملک کی ہر آزادی پسند تحریک کی مخالفت کرتا ہے۔ مگر جب آزادی کی صبح طلوع ہوتی ہے تو وہی شخص انقلاب کے سارے فوائد خاص اپنے لئے سمیٹتا نظر آتا ہے اور تحریک آزادی کے تمام قائدین اس شخص کے جرائم کو نظر انداز کر کے اسے اپنے اندر جذب کر لیتے ہیں۔

تقسیم ملک سے پہلے قادیانی گروہ کی سیاسی حکمت عملی یہ تھی کہ انگریزوں اور ہندوؤں کے ساتھ ساز باز کر کے مسلمانوں کو پہلے معاشی اور سیاسی حیثیت سے کمزور کیا جائے۔ پھر جب

١٧

صفحہ ٤٢٦

انگریز ہندوستان چھوڑنے لگے تو یہ گروہ مسلمانوں کی طرف سے مسلمانوں کا نمائندہ بن کر انگریزوں کے اقتدار کا خود وارث بن جائے اور ہندو اکثریت کی تائید ومعاونت سے اقتدار کو مستقلاً اپنے لئے مخصوص کر لے۔

اس مقصد کے لئے اس گروہ نے انگریزوں کو اپنی مکمل وفاداری کا یقین دلایا۔ آزادی کی ہر تحریک کی بھر پور مخالفت کی۔ مسلمان ممالک میں سے جن جن پر انگریزوں نے فوج کشی کی یہ ان کے حمایتی بن گئے۔ مرزا قادیانی ہی کے بارے میں یہ روایت ہے کہ: ”حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں کہ میں وہ مہدی معہود ہوں اور گورنمنٹ برطانیہ میری وہ تلوار ہے جس کے مقابلے میں ان علماء کی کچھ پیش نہیں جاتی۔ اب غور کرنے کا مقام ہے کہ پھر ہم احمدیوں کو اس فتح سے کیوں خوشی نہ ہو۔ عراق، عرب، شام ہر ہر جگہ اپنی تلوار کی چمک دیکھنا چاہتے ہیں۔“

(الفضل قادیان جلد ٦ نمبر ٤٢ ص ٩، مورخہ ٧ دسمبر ١٩١٨ء)

قادیانیوں نے ہندوؤں کو خوش کرنے کے لئے ایک طرف تو ان کی تمام مشہور شخصیتوں کو پیغمبر کا درجہ دے کر انہیں متاثر کر لیا اور دوسری طرف پنڈت نہرو جیسے لیڈروں کا استقبال کر کے انہیں اپنی وفاداری کا یقین دلانے کی کوشش کی۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پنڈت نہرو نے قادیانیوں کے حق میں مضامین لکھے اور مسلمانوں کے مقابلے میں قادیانیوں کے مؤقف کی بھر پور تائید کی۔

قادیانیوں کو انگریزوں کا جانشین بننے کی توقع تھی۔ مگر تقسیم ملک نے ان کی ساری سکیم کا تانا بانا بکھیر دیا۔ اس سلسلے میں ”منیر رپورٹ“ نے ان الفاظ میں روشنی ڈالی ہے: ”جب تقسیم ہند کے نتیجہ میں ایک نئی علیحدہ مملکت کا دھندلا امکان افق پر نظر آنے لگا تو احمدی آنے والے واقعات کے متعلق متفکر ہونے لگے۔ ١٩٤٥ء سے ١٩٤٧ء کے آغاز تک ان کی بعض تحریروں سے منکشف ہوتا ہے کہ انہیں پہلے انگریزوں کا جانشین بننے کی توقع تھی۔ لیکن جب پاکستان کا دھندلا سا خواب مستقبل کی ایک حقیقت اختیار کرنے لگا تو ان کو یہ امر کسی قدر دشوار معلوم ہوا کہ ایک نئی مملکت کے تصور کو مستقل طور پر گوارا کر لیں۔ انہوں نے اپنے آپ کو عجب گومگو کی حالت میں پایا ہوگا۔ کیونکہ نہ بھارت کی غیر مذہبی ہندو مملکت کو اپنے لئے چن سکتے ہیں۔ نہ پاکستان کو پسند کر سکتے تھے۔ جس میں فرقہ بازی کو روا رکھے جانے کی کوئی توقع نہ تھی۔ ان کی بعض تحریروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ تقسیم کے مخالف تھے اور کہتے تھے کہ اگر ملک تقسیم بھی ہو گیا تو وہ اسے دوبارہ متحد کرنے کی کوشش کریں گے۔ اس کی وجہ واضح طور پر یہ تھی کہ احمدیت کے مرکز قادیان کا مستقبل غیر یقینی نظر آرہا تھا۔ جس کے متعلق مرزا قادیانی بہت سی پیشین گوئیاں کر چکے تھے۔“

(منیر رپورٹ ص ٢٠٩)

١٨

صفحہ ٤٢٧

”ہمارے لئے یہ بات سمجھنا کچھ مشکل نہیں کہ جس گروہ کو الہامی ہدایت یہ ہو ملک اگر تقسیم ہو بھی جائے تو اسے دوبارہ متحد کیا جائے گا۔“

(الفضل قادیان ج ٢٥ نمبر ١٦ ص ٢، مورخہ ١٦ مئی ١٩٤٧ء)

جس کے نزدیک قادیان کی سرزمین مکہ اور مدینہ منورہ سے زیادہ مقدس اور محترم ہو۔ وہ پاکستان کے وجود اور اس کی سالمیت کے بارے میں کس قدر مخلص ہوگا۔ کیا کوئی شخص یہ باور کر سکتا ہے کہ قادیانی اپنے خلیفہ کی ہدایت اور اپنے نبی کے الہامات کو پاکستان کی سالمیت کے مقابلے میں ترک کر دیں گے یا قادیان کے تقدس کو پاکستان کے مقابلے میں کوئی اہمیت نہیں دیں گے؟

پاکستان بن جانے کے بعد اگر اس گروہ کے افراد کی سرگرمیاں صرف مذہبی دائرے کے اندر محدود رہتیں ، اگر یہ ملکی اور بین الاقوامی سطح پر مسلمانوں کے ملی اور قومی مفادات کے خلاف کام نہ کرتے اور محض پر امن شہری کی طرح زندگی بسر کرتے تو یقیناً اس گروہ سے کوئی تعرض نہ کیا جاتا۔ مگر اس کی پراسرار زیر زمین سرگرمیوں اور اس کے سیاسی عزائم کو دیکھ کر کوئی کور چشم ہی ان کے بارے میں یہ رائے قائم کر سکتا ہے کہ یہ پاکستان کے مسلمانوں کے واقعی خیر خواہ ہیں اور انہیں اس گروہ سے کوئی خطرہ نہیں ۔

پاکستان بن جانے کے بعد اس گروہ نے یہ کوشش کی کہ ملک کے اندر کم از کم ایک صوبہ قادیانی بنالیں ۔ تا کہ وہ (BASE) کا کام دے سکے اور اس کے لئے انہوں نے بلوچستان کو منتخب کیا تھا۔

(الفضل قادیان مورخہ ٢١ اگست ١٩٤٨ء، نمبر ١٨٩ ص ٤)

اس سلسلے میں خلیفہ محمود نے اپنے ایک خطبہ میں کہا تھا: ” یہی علاقہ جس کے متعلق میں نے کہا تھا بہت چھوٹا سا ہے۔ اگر تم کوشش کرو اور ہمدردی کے جذبات لے کر لوگوں کے پاس جاؤ تو یہ سارا علاقہ احمدی ہو سکتا ہے۔ اس بات پر تین سال گزر گئے لیکن اس کام کے کرنے کی طرف توجہ نہیں دی گئی ۔ بے شک کتے بھونکتے رہیں گے قافلہ چلتا رہے گا۔“

(الفضل قادیان مورخہ ٥ جولائی ١٩٥٠ء)

تقسیم ملک کے بعد جس عزم کا اظہار کیا گیا تھا وہ یہ تھا: ”ہماری جماعت کو چاہئے کہ وہ اپنے اندر ایک نئی تبدیلی پیدا کرے ۔ ایک ایسی تبدیلی جو ایک قلیل ترین عرصہ میں اسے دوسری قوتوں پر غالب کر دے۔“

(الفضل قادیان مورخہ ٢٢ جولائی ١٩٤٩ء)

قادیانی گروہ اگر اپنے غلبہ و اقتدار کے لئے ایک سیاسی جماعت کے معروف سیاسی طریق کار کے مطابق کوشش کرتا تو یہ اتنی قابل اعتراض بات نہ ہوتی ۔ پاکستان کے مسلمان بھی اسے اس حیثیت سے گوارا کر لیتے۔ مگر وہ اپنے غلبہ و اقتدار کے لئے ایک ایسے جارح مذہبی گروہ

١٩

صفحہ ٤٢٨

کی حیثیت سے کوشش کر رہے ہیں جو مسلمانوں کو کافر قرار دے کر اور انہیں اپنا دشمن سمجھ کر مسلمانوں کی اکثریت پر سازش کے ذریعے اور بیرونی طاقتوں کی مدد سے ان کا آلہ کار بن کر بجبر مسلط ہونا چاہتا ہے اور انہیں اپنا غلام بنا کر ان کے تمام سیاسی، سماجی اور معاشی حقوق غصب کرنا چاہتا ہے۔

اس حیثیت سے قادیانی گروہ نہ صرف پاکستان کے مسلمانوں کا خیر خواہ نہیں بلکہ عالم اسلام کے تمام مسلمانوں کے خلاف اس کے جذبات سخت معاندانہ ہیں۔ عالمی سطح پر بھی اس کا ان تمام عناصر کے ساتھ گٹھ جوڑ ہے جو مسلمانوں کے دشمن ہیں۔ اندرون ملک بھی یہ ان عناصر کی تائید کرتا ہے جو مسلمانوں کے ملی وجود کے مخالف ہیں۔ پاکستان کے سوشلسٹوں اور بدکردار بے دین قسم کے سیاسی لیڈروں سے بھی قادیانیوں کی دوستی ہے اور بیرون پاکستان یہودیوں سے بھی اس کا تعلق قائم ہے اور پاکستان کی وزارت خارجہ نے جس کے سر ظفراللہ خاں اولین سربراہ تھے۔ اس تعلق کو مضبوط بنیادوں پر استوار کیا ہے۔

پاکستان کی قادیانی وزارت خارجہ کے کارنامے

قادیانی غلبہ واقتدار کے مقصد کو حاصل کرنے کے لئے قادیانی لیڈروں نے اپنے کارکنوں کو سرکاری محکموں میں بھرتی کرنے کا منصوبہ بنایا اور پھر اپنے اس سرکاری اثر و رسوخ کو قادیانی گروہ کے فروغ اور استحکام کے لئے استعمال کیا۔ سر ظفراللہ خاں اپنی سرکاری حیثیت سے ناجائز فائدے اٹھانے میں اس حد تک بدنام ہوئے کہ ١٩٥٢ء، ١٩٥٣ء میں ان کے خلاف ملک بھر میں زبردست ایجی ٹیشن ہوا اور کھلم کھلا ان کی برطرفی کا مطالبہ کیا گیا۔ اس ایجی ٹیشن کے دوران معلوم ہوا کہ چوہدری محمد ظفراللہ خاں کا وزیر خارجہ کی حیثیت سے تقرر، ملکی قیادت کی آزاد مرضی سے نہیں ہوا تھا۔ بلکہ ان کا یہ تقرر برطانوی سامراج کے دباؤ کا نتیجہ تھا اور ان کے اس سارے عرصہ وزارت میں انہیں اینگلو امریکی بلاک کا مکمل تحفظ حاصل رہا ہے۔

ظفراللہ خاں نے وزارت خارجہ کے کام کو جس طرح چلایا۔ اس کا اندازہ ذیل کی دو خبروں سے کیجئے:۔

مسٹر شاہد سہروردی آج کل انگلستان میں امیدواروں سے انٹرویو لے رہے ہیں۔ جو ہمارے سفارت خانوں میں ملازمت کرنا چاہتے ہیں۔ یہ خبر پاکستان پہنچی تو یہاں کے اخبارات اور عوام نے شدید غم و غصہ کا اظہار کیا۔ لیکن حکومت پاکستان نے اس کی کچھ پرواہ نہ کی۔ اسی دوران انکشاف ہوا کہ ہمارے محکمہ خارجہ کے جائنٹ سیکرٹری نسلاً یہودی ہیں اور محکمہ خارجہ کے ٨٠ فیصد

٢٠

صفحہ ٤٢٩

قوتوں کو کافر قرار دے کر اور انہیں اپنا دشمن سمجھ کر مسلمانوں کی طاقتوں کی مدد سے ان کا آلہ کار بن کر پھر مسلط ہونا تمام سیاسی، سماجی اور معاشی حقوق غصب کرنا چاہتا ہے۔

نہ صرف پاکستان کے مسلمانوں کا خیر خواہ نہیں بلکہ عالم کے جذبات سخت معاندانہ ہیں۔ عالمی سطح پر بھی اس کا ان ان کے دشمن ہیں۔ اندرون ملک بھی یہ ان عناصر کی تائید ت ہیں۔ پاکستان کے سوشلسٹوں اور بدکردار بے دین کی دوستی ہے اور بیرون پاکستان یہودیوں سے بھی اس کا نے جس کے سر ظفر اللہ خاں اولین سربراہ تھے۔ اس

کے کارنامے

کو حاصل کرنے کے لئے قادیانی لیڈروں نے اپنے کا منصوبہ بنایا اور پھر اپنے اس سرکاری اثر ورسوخ کو استعمال کیا۔ سر ظفر اللہ خاں اپنی سرکاری حیثیت سے نام ہوئے کہ ١٩٥٢ء ١٩٥٣ء میں ان کے خلاف ملک ملکی برطرفی کا مطالبہ کیا گیا۔ اس ایجی ٹیشن کے دوران ارجہ کی حیثیت سے آخر یہ فیصلہ قادیانیت کی آزاد مرضی سامراج کے دباؤ کا نتیجہ تھا اور ان کے اس سارے عمل تحفظ حاصل رہا ہے۔

کے کام کو جس طرح چلایا۔ اس کا اندازہ ذیل کی دو

محکمہ خارجہ کی طرف سے پبلک سروس کمیشن کے صدر امیدواروں سے انٹرویو لے رہے ہیں۔ جو ہمارے ۔ یہ خبر پاکستان پہنچی تو یہاں کے اخبارات اور عوام پاکستان نے اس کی کچھ پرواہ نہ کی۔ اسی دوران یکرٹری غیر مسلم ہیں اور محکمہ خارجہ کے ٨٠ فیصد

٢٠

ملازمین غیر ملکی خصوصاً انگریز ہیں۔ ایک انگریزی معاصر کی اطلاع کے مطابق یہودی جائنٹ سیکرٹری گرملفٹھ کوکین تقسیم سے پہلے پنجاب ہائی کورٹ کا ایک رجسٹرار تھا۔ چونکہ یہ اپنے عہدے کے لحاظ سے ناموزوں انسان تھا۔ اس لئے اس کو اس سے علیحدہ کر دیا گیا۔ تقسیم ملک کے بعد اس کی قسمت چمکی اور وہ وزارت خارجہ کا جائنٹ سیکرٹری بن گیا۔ چونکہ ماتحت افسران نوجوان اور نا تجربہ کار تھے۔ اس لئے وزارت خارجہ کا سب سے زیادہ قابل اعتماد افسر خیال کیا جانے لگا۔ جب فلسطین میں یہودی عربوں کے خون سے ہولی کھیل رہے تھے تو اس وقت پاکستان کی وزارت خارجہ کے قابل اعتماد افسر صاحب اسرائیل میں چھٹیاں منا رہے تھے۔“

(الفضل قادیان مورخہ ٢٧ دسمبر ١٩٤٩ء)

اس خبر کے ساتھ یہ انکشاف بھی ملاحظہ ہو: ”ہمارے مصری سفارت خانے کے سٹاف میں دو نوجوان یہودی لڑکیوں کو ملازم رکھا گیا۔ جس سے مصری عوام اور عربی اخبارات پاکستان سے بہت ناراض ہو گئے۔ ان سے پہلے مصر میں پاکستانی سفیر کا پریس اتاچی بھی یہودی تھا۔“

(گارڈین بحوالہ کوثر لاہور)

ہماری وزارت خارجہ کا پہلا کارنامہ یہ تھا کہ اس نے پاکستان کے خارجی معاملات میں یہودی اثر ونفوذ کی بنیاد رکھی۔ جس کے نتیجے میں عرب ممالک کو پاکستان سے ناراض کر دیا۔

دوسری چیز ایوبی دور سے تعلق رکھتی ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو وزیر خارجہ تھے۔ ان کے زمانے میں ہمارے غیر ملکی سفارت خانوں پر قادیانیوں کے اثرات ملاحظہ ہوں: ”مجھے کچھ عرصہ قبل بغداد کے اندر پاکستانی سفارت خانہ میں جانے کا اتفاق ہوا۔ وہاں یہ دیکھ کر بہت تعجب ہوا کہ لاہوری قادیانیوں کے تبلیغی رسالے سرکاری ٹیبل پر نہ صرف موجود ہیں۔ بلکہ ان کو سرکاری لٹریچر سے بہت زیادہ اہمیت دی جاتی ہے اور قادیانیت ہی کو پاکستان کا سرکاری مذہب سمجھا جاتا ہے۔ اس سے پاکستان کی بہت سخت بدنامی ہوتی جارہی ہے۔ پھر یہ صرف بغداد تک محدود نہیں بلکہ جس سفارت خانہ میں قادیانیوں کو ملازمت مل جاتی ہے وہ سفارت خانے کو قادیانیت کی تبلیغ کے لئے استعمال کرتے ہیں۔“

(ایشیاء لاہور مورخہ ١٧ اگست ١٩٦٢ء)

اسی طرح سر ظفر اللہ نے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب کی حیثیت سے جزائر غرب الہند کا دورہ کیا اور اس دورہ میں ٹرینڈاڈ میں مرزا قادیانی کا آخر الزمان نبی کی حیثیت سے تعارف کرایا۔

(ایشیاء لاہور مورخہ ١٧ ستمبر ١٩٦٢ء)

سرظفر اللہ خاں کی انہی کوششوں کا نتیجہ ہے کہ تقریباً ٤٠ ممالک میں قادیانیوں کے

٢١

صفحہ ٤٣٠

١٣٦ مشن کام کر رہے ہیں۔ ان میں سے ایک اسرائیل میں بھی ہے۔ اس کے علاوہ ان مختلف ممالک سے ان کے ٢٢ اخبارات و رسائل بھی نکلتے ہیں اور ستاون (٥٧) کے قریب مدارس کام کر رہے ہیں۔

(المنبر مورخہ ١٤؍ جولائی ١٩٧٦ء)

محکمہ خارجہ کے علاوہ قادیانیوں نے پاکستانی حکومت کے مختلف محکموں میں گھسنے کا منصوبہ بنایا اور خاص طور پر پاکستان کی فوج میں انہوں نے اپنے اثر و نفوذ کے دائرہ کو خاصی وسعت دی۔ اس سلسلے میں قادیانیوں کے خلیفہ صاحب نے اپنے مریدوں کو واضح الفاظ میں تلقین کی کہ: ”پاکستان میں اگر ایک لاکھ احمدی سمجھ لئے جائیں تو ٩ ہزار احمدیوں کو فوج میں جانا چاہئے ..... فوجی تیاری نہایت اہم چیز ہے۔ جب تک آپ جنگی فنون نہیں سیکھیں گے کام کس طرح کریں گے۔“

(الفضل قادیان مورخہ ١١؍ اپریل ١٩٥٠ء، ج ٣٨ نمبر ٨٥/٣٨)

فوج میں ”فرقان بٹالین“ کے نام سے خالص قادیانیوں پر مشتمل بٹالین موجود ہے۔ اس کی کمان ربوہ کے خلیفہ کے ہاتھ میں ہے اور جسارت کا یہ عالم ہے کہ ١٩٤٨ء میں کشمیر کے محاذ پر ”فرقان فورس“ کے جن سپاہیوں کو تمغے دیئے جانے کا فیصلہ ہوا وہ تمغے علی الاعلان پاک فوج کی انتظامیہ کے بجائے ربوہ کے سیکرٹریٹ کے ذریعے تقسیم ہوئے۔

(الفضل قادیان مورخہ ١١؍ اپریل ١٩٥٠ء)

قادیانیوں کے پاس اسلحہ سازی کے متعدد کارخانے ہیں اور انہوں نے اسلحہ کے بکثرت لائسنس حاصل کئے ہوئے ہیں۔ قادیانی گروہ کی اس منصوبہ بندی کا یہ نتیجہ ہے کہ اس گروہ کے افراد پاکستانی افواج کے اہم کلیدی مناصب پر فائز ہیں اور اب پاکستان کی عسکری قوت کے ایک قابل لحاظ حصے پر قادیانی گروہ کے اثرات کا غلبہ ہے۔

قادیانی ملک کے اہم اور کلیدی عہدوں پر قابض ہیں۔ تمام سرکاری رازوں سے آگاہ ہیں اور سابق صدر مملکت کے سائنسی امور کے مشیر ڈاکٹر عبدالسلام دنیا کی سائنسی تجربہ گاہوں، سائنسدانوں اور ارباب سیاست سے رابطہ رکھتے ہیں اور مرزا ناصر کے بندۂ بے دام ہیں۔

ایم ایم احمد ملک کے پالیسی ساز اداروں کے سر پرست رہے ہیں اور صدر ایوب سے لے کر ذوالفقار علی بھٹو کی صدارت کے ابتدائی دنوں تک ملک کے سیاہ و سفید کے مالک رہے ہیں اور اب یہ بات ملک کے ہر بچے کی زبان پر ہے کہ ملک کو توڑنے کی جو سازش کی گئی تھی اس کا ماسٹر پلان ایم ایم احمد کے ذہن کی پیداوار تھا۔

پاکستان کے قیام کے ابتدائی دنوں میں پاکستان کے پہلے وزیر اعظم کے قتل کی جو ناکام سازش کی گئی تھی۔ ان میں قادیانی اور سوشلسٹ دونوں شریک تھے۔ حال ہی میں گروپ کیپٹن

٢٢

صفحہ ٤٤١

عبدالستار نے یہ انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے صدر پاکستان ذوالفقار علی بھٹو کو حکومت کا تختہ الٹنے کی قادیانی سازش سے باخبر کیا تھا۔ لیکن قادیانی سازش سے خبردار کرنے والا شخص سازش کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا اور اس کے بیان کے مطابق فضائیہ اور فوج کے اعلیٰ افسروں کے اشارے پر اسے مقدمے میں پھانس لیا گیا۔

(نوائے وقت مورخہ ١٨ اگست ١٩٧٣ء)

ریاست کے اندر ریاست

مرزا ناصر احمد نے مسند خلافت پر متمکن ہو کر قادیانیوں کے سامنے کام کا ایک پچیس سالہ منصوبہ رکھا۔ اگرچہ اس منصوبہ کا آخری ہدف صاف طور پر کہیں نہیں بیان کیا گیا۔ مگر اس گروہ کے لیڈروں کے بیانات اور تحریروں سے جو کچھ ظاہر ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ:

کہ آئندہ پچیس تیس سال کے اندر دنیا میں ایک عظیم الشان تغیر پیدا ہونے والا ہے۔ وہ دن قریب ہے کہ جب دنیا کے بہت سے ممالک کی اکثریت اسلام (قادیانیت) قبول کر چکی ہوگی اور دنیا کی سب طاقتیں مل کر آنے والے روحانی انقلاب کو روک نہیں سکتیں۔“

(الفضل قادیان مورخہ ٢٣ نومبر ١٩٦٢ء)

رکاوٹوں کو دور کرنا تاکہ اس کے سائے میں قادیانی غلبہ کی کوشش کی جاسکے۔

قادیانیوں نے اپنے سیاسی غلبہ کے لئے جو منصوبہ تشکیل دیا ہے۔ اس منصوبے کی تکمیل کے لئے وہ جس طرح اپنے آپ کو منظم کئے ہوئے ہیں اور اس مقصد کے لئے وہ جو سرمایہ صرف کر رہے ہیں اسے دیکھ کر صاف معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان میں اس گروہ نے ریاست کے اندر اپنی ایک الگ ریاست قائم کر رکھی ہے۔ قادیانیوں کی یہ ریاست بظاہر غیر مرئی ہے۔ مگر حقیقتاً بڑی طاقتور ہے۔ اس ریاست کی تنظیم اور اس کے کام کی ٹیکنیک یہودیوں کی عالمی تنظیم ”فری میسن“ سے ملتی جلتی ہے۔

قادیانیوں نے اپنے مقصد کے حصول کے لئے اپنے آپ کو سات بڑی تنظیموں میں

٢٣

صفحہ ٤٣٢

تقسیم کر رکھا ہے۔ یہ دراصل ربوہ کی غیر مرئی ریاست کے سات بڑے محکمے ہیں۔ ان محکموں کا مختصر سا جائزہ حسب ذیل ہے۔

یہ مرکزی انجمن ہے۔ اس کے سال ١٩٦٦ء، ١٩٦٧ء کا بجٹ ٢٦،٤٢،٨١٠ روپے تھا۔ اس کے زیر انتظام دس شعبے ہیں جو یہ ہیں: (١) نظارت علیا، (٢) نظارت دیوان، (٣) نظارت بیت المال، (٤) نظارت امور عامہ، (٥) نظارت امور خارجہ، (٦) نظارت اصلاح و ارشاد، (٧) نظارت تعلیم، (٨) نظارت زراعت، (٩) نظارت تجارت، (١٠) نظارت درویشان۔

یہ ١٩٣٤ء میں شروع کی گئی۔ اس کے ٣٥ مقاصد بیان کئے گئے ہیں۔ اس کے قیام کا مقصد قادیانی گروہ کی عددی حیثیت کو ترقی دینا ہے۔ اس کا سال ١٩٦٦ء، ١٩٦٧ء کا بجٹ ٣٨٠، ٤٨،١٣ روپے تھا۔ اس کے ماتحت مبلغین، کارکنان، دفتر اور ڈاکٹروں کی مجموعی تعداد ٣١٢ تھی۔ اس کے علاوہ اس میں چندہ دینے والوں کی تعداد ٢٠۔٢٢ ہزار افراد پر مشتمل ہے۔

١٩٥٨ء میں قائم کیا گیا۔ واضح رہے کہ یہ ایوب کے فوجی انقلاب کا سال بھی تھا۔ اس کا مقصد یہ بیان کیا گیا ہے کہ یہ وقف ایسے افراد تیار کرے گا۔ جو مختلف حصوں میں بیٹھ جائیں اور قادیانی تبلیغ کا کام کریں۔ ١٩٦٥ء میں اس کے مبلغین کی تعداد ٦٥ بیان کی گئی تھی۔ اس کا بجٹ ایک لاکھ ستر ہزار روپے تھا۔ اس کے بارے میں مرزا محمود نے کہا تھا کہ: ”اگر یہ سکیم کامیاب ہوگئی تو تم دیکھو گے کہ دو تین کروڑ لوگ تمہارے اندر داخل ہو جائیں گے اور جب دو کروڑ آدمی تمہارے اندر شامل ہو جائیں گے تو آمدنی کی کمی خود بخود دور ہو جائے گی۔ دو کروڑ آدمی چھ روپے سالانہ دیں تو بارہ کروڑ روپیہ بن جاتا ہے۔ اگر ایک روپیہ ماہوار ہو تو دو ہزار مبلغ رکھے جاسکتے ہیں۔ جو چوبیس لاکھ مربع میل میں پھیل سکتے ہیں اور اتنا رقبہ تو ہمارے سامنے پاکستان کا بھی نہیں۔“

اس تحریک کے ذریعے ١٩٦٥ء میں تین ہزار آٹھ سو ستائیس افراد کو قادیانی بنایا گیا اور ١٩٦٦ء میں چار ہزار مزید افراد اس گروہ میں شامل کئے گئے۔ اس ”وقف“ کو قادیانیوں نے سات سو (٧٠٠) ایکڑ اراضی دی ہے۔ جو قادیانی اپنی زندگیوں کو وقف کرتے ہیں۔ انہیں ٦٠ یا ٧٠ روپے ماہانہ الاؤنس دیا جاتا ہے۔ اس وقف کے تحت پانچ ہزار سے زائد جزوقتی مبلغین کام کر رہے ہیں۔

٢٤

صفحہ ٤٣٣

ہوتی ریاست کے سات بڑے محکمے ہیں۔ ان محکموں کا

سال ١٩٦٦ء، ١٩٦٧ء کا بجٹ ٢٧،٦٢،٨١٠ روپے تھا۔ (١) نظارت علیہ، (٢) نظارت دیوان، (٣) نظارت نظارت امور خارجہ، (٦) نظارت اصلاح و ارشاد، (٩) نظارت تجارت، (١٠) نظارت درویشان۔

ان کے ٣٥ مقاصد بیان کئے گئے ہیں۔ اس کے قیام کا ہوتا ہے۔ اس کا سال ١٩٦٦ء، ١٩٦٧ء کا بجٹ ٣٨٠، کارکنان، دفتر اور ڈاکٹروں کی مجموعی تعداد ٣١٢ تھی۔ تعداد ٢٠۔٢٢ ہزار افراد پر مشتمل ہے۔

ہے کہ یہ ایوب کے فوجی انقلاب کا سال بھی تھا۔ اس افراد تیار کرے گا۔ جو مختلف حصوں میں بیٹھ جائیں اور کے مبلغین کی تعداد ٦٥ بیان کی گئی تھی۔ اس کا بجٹ میں مرزا محمود نے کہا تھا کہ : ”اگر یہ سکیم کامیاب ہو گئی رد داخل ہو جائیں گے اور جب دو کروڑ آدمی تمہارے کو دور ہو جائے گی۔ دو کروڑ آدمی چھ روپے سالانہ روپے ماہوار ہو تو دو ہزار مبلغ رکھے جاسکتے ہیں۔ جو صرف تو ہمارے سامنے پاکستان کا بھی نہیں ۔“ میں تین ہزار آٹھ سو ستائیس افراد کو قادیانی بنایا گیا اور شامل کئے گئے ۔ اس ”وقف“ کو قادیانیوں نے سات زندگیوں کو وقف کرتے ہیں۔ انہیں ٦٠ یا ٧٠ روپے پانچ ہزار سے زائد جز وقتی مبلغین کام کر رہے ہیں۔

٢٤

اس تنظیم کا مقصد خلافت کی حفاظت کرنا ہے۔ یہ نیم عسکری تنظیم ہے۔ اس کے محکموں اور ان کے قائدین کی تقسیم کچھ اس طرح کی ہے: (١) قائد عمومی ، (٢) قائد مال، (٣) قائد تعلیم، (٤) قائد تربیت، (٥) قائد خدمت خلق ، (٦) قائد ذہانت و صحت و صفائی۔

یہ تنظیم عام باشندوں سے تعلق قائم کرتی ہے۔ اس کا دائرہ کار قصر ربوہ سے پاکستانی فوج تک وسیع ہے۔ یہ ملک کی وہ واحد تنظیم ہے جسے اس بات کی اجازت حاصل رہی ہے کہ وہ اپنی زیر نگرانی فوج میں ایک فوجی یونٹ منظم کرے اور اس کے وجود کو دوسروں کے وجود سے تسلیم کرائے۔ ”فرقان بٹالین“ بھی اسی سے تعلق رکھتی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ اس بٹالین کو بعد میں توڑ دیا گیا۔

یہ قادیانی خواتین کی انجمن کا نام ہے۔

یہ دونوں تنظیمیں قادیانی بچوں پر مشتمل ہیں۔ ایک دفعہ مرزا ناصر نے ان بچوں کے ذریعے پچاس ہزار روپے جمع کرائے تھے۔

(المنبر لائل پور مورخہ ١٤ / جولائی ١٩٦٧ء)

قادیانیوں کے اس تنظیمی ڈھانچے پر نظر ڈالنے سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ گروہ صرف امت کے اندر امت ہی کی حیثیت نہیں رکھتا۔ بلکہ یہ مذہبی لبادے میں ریاست کے اندر ریاست عملاً قائم کئے ہوئے ہے جو اپنے مقاصد کے حصول کے لئے سرکاری ملازمین اور قومی اور ملکی وسائل کے بے دریغ استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ ہر سال تقریباً ایک کروڑ روپے صرف کر رہی ہے۔

(انکوائری رپورٹ از ص ٢١٠، ٢١١)

خارجہ حکمت عملی

قادیانی گروہ کی خارجہ حکمت عملی بھی ملک کی خارجہ پالیسی سے عملاً متصادم رہی ہے۔ جب تک سر ظفر اللہ خاں وزارت خارجہ پر براجمان رہے تو جیسا کہ اوپر بیان ہو چکا ہے۔ ان کے ماتحت سفارت خانے قادیانیت کی تبلیغ میں مصروف رہے اور عرب ممالک کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کشیدہ رہے۔

قادیانیوں کا یہودیوں کی ریاست اسرائیل میں مشن موجود ہے۔ درانحالیکہ اس نے

٢٥

صفحہ ٤٣٤

ریاست کو تسلیم نہیں کیا۔ قادیانیوں کا مشن ١٩٢٨ء میں قائم کیا گیا تھا۔ جب برطانیہ نے یہودیوں کی اس ناجائز ریاست کو قائم کیا اور ١٩٤٨ء میں یہودی درندے عرب مسلمانوں سے خون کی ہولی کھیل رہے تھے۔ اس وقت یہ مشن بعافیت یہودیوں کی اس ریاست میں کام کر رہا تھا اور پاکستان کی وزارت خارجہ کا جوائنٹ سیکرٹری گریفتھ کوئین اسرائیل میں موجود تھا۔ مصر کے پاکستانی سفارت خانہ میں یہودی لڑکیاں بھی کام کر رہی تھیں۔

جب ١٩٥٦ء میں عرب مسلمانوں کے ساتھ یہودیوں کی لڑائی ہوئی تو اس وقت اسرائیلی حکمران قادیانیوں کے مشن کی تعریف میں رطب اللسان تھے۔ جیسا کہ مرزا مبارک احمد کی طرف سے شائع کردہ خبر میں بتایا گیا ہے: ”اسرائیل میں احمدیہ مشن حیفہ کے ماؤنٹ کرمل پر واقع ہے۔ ہماری وہاں ایک مسجد ہے۔ ہمارا مشن البشریٰ نامی ایک ماہنامہ بھی شائع کرتا ہے۔ جو عربی بولنے والے تیس مختلف ملکوں کو بھیجا جاتا ہے۔“

(فارن مشن)

مرزا ناصر ١٩٦٧ء میں جب اپنے دورۂ یورپ سے لوٹے تو ان سے عرب مسلمانوں کے خلاف اسرائیلی جارحیت کے بارے میں نامہ نگاروں نے سوال کیا۔ مرزا ناصر نے اس سوال کا جواب دینے سے گریز کیا۔ مرزا ناصر قادیانی کا یہ گریز بے وجہ نہ تھا۔ مسلمانوں کو شکست مرزا ناصر کے گویا دشمنوں کی شکست تھی اور یہودیوں کی فتح، حقیقتاً قادیانیوں کے سرپرستوں کی فتح تھی۔ بیسویں صدی کے آغاز میں جب انگریزوں نے بیت المقدس پر قبضہ کیا تو اس وقت بھی قادیانیوں کے جذبات و احساسات کا عالم عام مسلمانوں سے مختلف تھا۔ انہوں نے مسلمانوں کی شکست اور ہزیمت پر گھی کے چراغ جلائے تھے اور زخم خوردہ مسلمانوں کے زخموں پر نمک چھڑکا تھا۔ اس سلسلے میں ایک قادیانی مبلغ اپنے تاثرات کو ان الفاظ میں بیان کرتا ہے: ”بیت المقدس کے داخلہ پر اس ملک (یعنی انگلستان) میں بہت خوشیاں منائی جارہی ہیں۔ میں نے یہاں کے ایک اخبار میں اس پر ایک آرٹیکل دیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ وعدہ کی زمین جو یہود کو عطاء کی گئی تھی مگر نبیوں کے انکار اور بالآخر مسیح کی عداوت نے یہود کو سزا کے طور پر ہمیشہ کے واسطے وہاں کی حکومت سے محروم کر دیا اور یہود کو سزا کے طور پر حکومت رومیوں کو دی گئی جو بت پرست قوم تھی۔ بعد میں عیسائیوں کو ملی۔ اب اگر مسلمانوں کے ہاتھ سے وہ زمین نکلی ہے تو پھر اس کا حل تلاش کرنا چاہئے۔ کیا مسلمانوں نے کسی نبی کا انکار تو نہیں کیا۔“

(الفضل قادیان مورخہ ١٩؍مارچ ١٩١٨ء)

”اس مضمون کے متعلق وزیراعظم برطانیہ کی طرف سے ان کے سیکرٹری نے شکریہ کا خط لکھا۔ فرماتے ہیں۔ ”مسٹر لائیڈ جارج اس مضمون کی بہت قدر کرتے ہیں۔“ قادیانیوں کی اس یہود نواز

٢٦

صفحہ ٤٣٥

مشن ١٩٤٨ء میں قائم کیا گیا تھا۔ جب برطانیہ نے یہودیوں ١٩٤٨ء میں یہودی درندے عرب مسلمانوں سے خون کی ہولی عافیت یہودیوں کی اس ریاست میں کام کر رہا تھا اور پاکستان کا وفد جو کہ اسرائیل میں موجود تھا، مصر کے پاکستانی سفارت تھے۔

مسلمانوں کے ساتھ یہودیوں کی لڑائی ہوئی تو اس وقت تحریف میں رطب اللسان تھے۔ جیسا کہ مرزا مبارک احمد کی ہے، ”اسرائیل میں احمدیہ مشن حیفہ کے ماؤنٹ کرمل پر واقع مشن، البشریٰ نامی ایک ماہنامہ بھی شائع کرتا ہے۔ جو عربی ہے۔“

(فارن مشن)

اب اپنے دورۂ یورپ سے لوٹے تو ان سے عرب مسلمانوں ے میں نامہ نگاروں نے سوال کیا۔ مرزا ناصر نے اس سوال کا قادیانی کا یہ گریز بے وجہ نہ تھا۔ مسلمانوں کو شکست مرزا ناصر یہود کی فتح۔ حقیقتاً قادیانیوں کے سرپرستوں کی فتح تھی۔

انگریزوں نے بیت المقدس پر قبضہ کیا تو اس وقت بھی عالم عام مسلمانوں سے مختلف تھا۔ انہوں نے مسلمانوں کی ہوئے تھے اور زخم خوردہ مسلمانوں کے زخموں پر نمک چھڑکا تھا۔ اثرات کو ان الفاظ میں بیان کرتا ہے: ”بیت المقدس کے بہت خوشیاں منائی جا رہی ہیں۔ میں نے یہاں کے ایک کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ وعدہ کی زمین جو یہود کو عطاء کی گئی تھی حکومت نے یہود کو سزا کے طور پر ہمیشہ کے واسطے وہاں کی کے طور پر حکومت رومیوں کو دی گئی جو بت پرست قوم تھی۔ اس کے ہاتھ سے وہ زمین نکلی ہے تو پھر اس کا حل تلاش کرنا تو نہیں کیا۔“

(الفضل قادیان مورخہ ١٩؍ مارچ ١٩١٨ء)

اعظم برطانیہ کی طرف سے ان کے سیکرٹری نے شکریہ کا خط مضمون کی بہت قدر کرتے ہیں ۔“ قادیانیوں کی اس یہود نواز

٢٦

خارجہ پالیسی نے تمام عرب ممالک کو پاکستان سے ناراض کر دیا اور وہ بھارت کو پاکستان پر ترجیح دینے لگے اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان اپنے مسلمان برادر ممالک کی بھر پور تائید وحمایت سے محروم ہو گیا۔“

نوکر شاہی میں قادیانی اثرات

پاکستان کی نوکر شاہی میں قادیانی بے پناہ اثرات کے حامل ہیں۔ جن کی وجہ سے قادیانیوں کا یہ گروہ ملک کے وسائل کو اپنے گروہی مفادات کے حق میں استعمال کرنے میں ذرا بھی جھجک محسوس نہیں کرتا۔ مثال کے طور پر ربوہ کی آبادی اور توسیع کے لئے حکومت سے ١٠٣٤ ایکڑ اراضی حاصل کی گئی۔ مگر اس کی قیمت چند پیسے فی مرلہ طے کی گئی۔ پھر اسی اراضی کو تین ہزار رہائشی پلاٹوں میں تقسیم کر کے ہزاروں اور لاکھوں روپے کمائے گئے۔ اس طرح ربوہ کے نام سے قادیانی ریاست کا ہیڈ کوارٹر تعمیر کیا گیا۔ جس میں کوئی غیر قادیانی داخل نہیں ہو سکتا اور پاکستان میں ربوہ ایک ایسا شہر ہے جہاں کوئی غیر قادیانی اپنا نہ مکان خرید سکتا ہے اور نہ وہاں ربوہ کے حکام کی اجازت کے بغیر قیام کر سکتا ہے۔

١٩٧١ء میں صرف قادیانیوں کو ساڑھے گیارہ لاکھ روپے کا زرمبادلہ دیا گیا۔ جب کہ زرمبادلہ کی کمی کے پیش نظر حاجیوں کے لئے حج پر جانے کی پابندی تھی۔ اس رقم سے کم وبیش ایک ہزار سے زائد حاجیوں کو حج بیت اللہ کی سہولتیں مہیا کی جاسکتی تھیں۔ ١٩٦٨ء میں قومی اسمبلی کے اجلاس میں یہ انکشاف بھی کیا گیا کہ تبلیغ اسلام کے نام پر قادیانیوں کو سب سے زیادہ زرمبادلہ (تقریباً ٨٦٢٠٠٠ روپے) دیا گیا۔

نوکر شاہی میں اس گروہ کے اثرات کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ خاص طور پر ایوبی دور میں بعض قادیانیوں کو ٹرسٹ کے اخبارات میں بھر پور نمائش کی جاتی رہی ہے اور جو آزاد اخبارات قادیانیوں کی پراسرار اور زیر زمین سرگرمیوں کا ذرا بھی نوٹس لیتے تھے تو سرکاری مشینری فوراً حرکت میں آجاتی تھی اور ان پر پابندی لگا دی جاتی تھی۔ ایک دفعہ آغا شورش کاشمیری نے اپنے ہفت روزہ چٹان میں قادیانیوں کے بارے میں ”الحمد للہ“ کے عنوان سے ایک مختصر شذرہ تحریر کیا تو ان کا اخبار بند کر دیا گیا۔ پریس ضبط کر لیا گیا اور وہ خود بھی گرفتار کر لئے گئے۔

چٹان لاہور میں آغا شورش کاشمیری نے قادیانی اثرات کے بارے میں اس تشویش کا اظہار کیا: ”اصلاً تو ہم حکومت سے عرض کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن شنوائی نہیں۔ اس لئے اس سے کہنا عبث ہے۔ لیکن ملک کے تمام علماء اور جملہ وابستگان ختم نبوت سے عرض کرنا ہمارا فرض ہے کہ خدا کے لئے ان کی سرگرمیوں سے غافل نہ رہیں۔ یہ عجمی اسرائیل قائم کرنے کے خواب دیکھ

٢٧

صفحہ ٤٣٦

رہے ہیں۔ ان کا حکومت کے دوائر میں بڑا رسوخ ہے۔ ان کے قبضے میں بڑی بڑی ملازمتیں ہیں۔ ان کے ہاتھ دور دور تک پہنچے ہیں۔ خدا کرے ہمارا گمان غلط ہو۔ لیکن بعض افسروں کی ایک جماعت اندر خانہ مرزائی ہو چکی ہے اور تقیہ کر رہی ہے۔ ہمیشہ خدشہ ہے کہ یہ لوگ کسی نازک مرحلہ پر گل بھی کھلا سکتے ہیں۔ خود کاشتہ پودے کی حیثیت سے ان کا بعض ایسے ملکوں سے ناطہ بندھا ہوا ہے جو استعمار کی یادگار ہیں اور جن کی معرفت انہیں یقین ہے کہ ان کا محافظ دستہ ثابت ہو سکتی ہے۔ مرزائی افسروں نے مسلمان حاکموں کو عوام الناس سے برگشتہ کر رکھا ہے۔ ملک کی اقتصادی زندگی پر قابض ہو کر وہ حکومت میں اپنا ہی رسوخ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ جیسا رسوخ یہودیوں کو امریکہ کے صدارتی انتخاب اور برطانیہ کی قومی معیشت میں حاصل ہے۔“

(ہفت روزہ چٹان لاہور ج ١٨ نمبر ١٢ ص ٤، مورخہ ١٨؍مارچ ١٩٦٨ء)

پاکستان میں یہ اثرات اس گروہ کو حاصل ہیں جو اقلیت میں ہے اور ١٩٣١ء کی مردم شماری کی رو سے جس کی تعداد متحدہ ہندوستان میں صرف ٧٦ ہزار تھی۔ پنجاب میں ٥٦ ہزار کا اندازہ لگایا تھا۔ تعداد کی اس قلت پر پردہ ڈالنے کے لئے حال ہی میں مرزا ناصر نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان میں قادیانیوں کی تعداد چالیس لاکھ ہے۔ قادیانیوں کی تعداد کے بارے میں خواہ کس قدر مبالغہ سے کام لیا جائے۔ ان کی تعداد چار پانچ لاکھ سے ہرگز زائد نہیں ہو سکتی۔

یہ قلیل گروہ نوکر شاہی میں اپنے اثرات کے باعث بڑا نازاں ہے اور اپنے اقتدار کے خواب دیکھ رہا ہے۔ لندن میں قادیانیوں کے یورپی کنونشن کے موقع پر سر ظفر اللہ کی موجودگی میں قادیانی حکومت کے منشور پر ان الفاظ میں روشنی ڈالی گئی۔

”اگر احمدیہ جماعت برسر اقتدار آجائے تو امیروں پر ٹیکس لگائے جائیں گے۔ دولت کو از سر نو تقسیم کیا جائے گا اور سود پر پابندی لگا دی جائے گی اور شراب نوشی ممنوع قرار دی جائے گی۔“

(روزنامہ جنگ مورخہ ٤؍اگست ١٩٦٥ء)

یہ اقلیت اپنے برسر اقتدار آنے کے لئے جو طریقے استعمال کر رہی ہے۔ وہ اگر چہ عوام کی نظروں سے اوجھل ہیں۔ تاہم حکومت کی نگاہوں کے سامنے ہیں۔ مگر حکومت اس گروہ کو بے ضرر اور انتہائی وفادار مذہبی فرقہ سمجھتی ہے اور اس گروہ کی سازشیانہ سرگرمیوں کا پردہ چاک کرنے والے ہر شخص کی زبان و قلم پر پابندی عائد کر دیتی ہے۔

١؎ قادیانیوں نے ہر دور میں اپنی تعداد کے بارے میں شدید مغالطہ دیا ہے اور اس سلسلے میں صریح غلط بیانی سے کام لیا ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی زندگی میں دعویٰ کیا تھا کہ (بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر)

٢٨

صفحہ ٤٣٧

حقیقت میں قادیانی امت ایک مستبد اور ظالم اقتدار کے سائے میں پروان چڑھی ہے۔ یہ نہ عوامی تحریک ہے اور نہ عوام سے اس کا کوئی تعلق ہے۔ سامراج نے اسے جنم دیا ہے۔ بیورو کریسی نے اسے تحفظ دے کر پروان چڑھایا ہے اور اب بھی وہ اس کے سہارے قائم ہے اور اپنے اقتدار کے حصول کے لئے درپردہ سازشوں کا جال بچھائے ہوئے ہے۔ اس کے اثر ونفوذ اور اس کی قوت وطاقت کا اصل منبع اندرون ملک بیورو کریسی ہے اور بیرون ملک برطانوی سامراج۔ جب تک اس کے یہ دو سہارے قائم ہیں۔ اس وقت تک اس کا وجود بھی قائم ہے اور جب اس کے یہ سہارے ختم ہو جائیں گے اسی لمحے یہ جعلی امت اپنی موت آپ مر جائے گی۔ قادیانیت ایک لحاظ سے پاکستان کی غدار، بے دین، عوام دشمن نوکر شاہی کا ”دین الٰہی“ ہے۔ جب ملک سے نوکر شاہی کا اقتدار ختم ہوگا اور جس دن اقتدار اس ملک کے اصل وارثوں یعنی عوام کو صحیح معنوں میں منتقل ہوگا۔ اسی دن قادیانیت کا پودا مرجھا جائے گا۔

یہی وجہ ہے کہ قادیانی گروہ ملک میں جمہوری اداروں کے فروغ اور ان کے استحکام کا شدید مخالف ہے اور پاکستان میں آمریت اور خاص طور پر بیورو کریسی کی آمریت کو ملک پر بجبر مسلط کردینے کا حامی ہے۔ اسی بناء پر وہ ملک کے ہر اس گروہ یا پارٹی کا ہمدرد اور بہی خواہ ہے جو ملک میں آمرانہ نظام قائم و برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ اس کے وجود کا قیام و بقا، آمریت کے ساتھ قائم ہے اور جمہوریت میں اسے اپنی موت نظر آتی ہے۔

(بقیہ حاشیہ گزشتہ صفحہ) ہندوستان میں قادیانیوں کی تعداد ایک لاکھ ہے۔ (سیرۃ المہدی حصہ اوّل ص ١٦٥، روایت نمبر ١٥٧) ١٩٠٧ء میں اعلان کیا گیا کہ یہ تعداد چار لاکھ ہے۔ (تبلیغ رسالت ج ١٠ ص ٩٧) ١٩٠٩ء میں بھی یہ تعداد چار لاکھ تھی۔ (حقیقت الوحی ص ١٢٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٢٠) ١٩٢٢ء میں میاں محمود نے دعویٰ کیا کہ قادیانی چار پانچ لاکھ ہیں۔ (الفضل قادیان مورخہ ٢٦؍ فروری ١٩٢٤ء، ج ١١ نمبر ٦٧ ص ٦) ١٩٣٠ء میں یہ تعداد دس لاکھ بیان کی گئی اور اسی سال اس تعداد کو بیس لاکھ تک پہنچا دیا گیا۔ ایک قادیانی مبلغ نے یہاں تک دعویٰ کر ڈالا کہ پنجاب میں اکثریت قادیانیوں کی ہے۔ (رسالہ شمس الاسلام بھیرہ ج ٥ نمبر ١٠) لیکن ١٩٣١ء کی مردم شماری کے اعداد وشمار کی رو سے پنجاب میں ان کی تعداد ٥٦ ہزار تھی اور سارے ہندوستان میں مزید ٢٠ ہزار کا اضافہ لگایا گیا تھا۔ پاکستان میں قصر ربوہ سے قادیانیوں کی تعداد کے بارے میں پھر مبالغہ آرائی سے کام لیا جارہا ہے۔ قادیانیوں کے موجودہ خلیفہ نے قادیانیوں کی موجودہ تعداد ایک کروڑ بیان کی ہے۔ گویا مغربی پاکستان کا ہر چھٹا فرد قادیانی ہے اور اگر صرف پنجاب کو سامنے رکھا جائے تو ہر تیسرا فرد قادیانی ہوگا۔ اگر آج بھی قادیانیوں کا مسلمانوں سے الگ کر کے شمار کیا جائے تو میں یقین سے کہتا ہوں کہ ان کی تعداد بمشکل چار پانچ لاکھ ہوگی۔

٢٩

صفحہ ٤٣٨

سوشلسٹوں سے گٹھ جوڑ

ملک میں آمریت کے نفاذ اور استحکام کے لئے جو عناصر کام کر رہے ہیں۔ قادیانی ان میں سے ہر ایک کے ساتھ تعاون کرتے ہیں۔ نوکر شاہی کا بے دین طبقہ ملک میں آمریت چاہتا ہے۔ قادیانی اس کی بھر پور تائید کرتے ہیں۔ پرویزی گروہ ”مرکز ملت“ کے گمراہ کن فلسفے کی روشنی میں بیوروکریسی کی آمریت کا علمبردار ہے۔ قادیانی اس سے بھی کوئی تعرض نہیں کرتے۔ سوشلسٹ عناصر بھی ایک فسطائی نظام کے علمبردار ہیں۔ قادیانیوں نے ان سے بھی گٹھ جوڑ کر رکھا ہے۔ کئی مقامات پر سوشلسٹوں اور قادیانیوں میں تعاون اور اتحاد کی فضا قائم ہے۔ ان دونوں عناصر کے مقاصد اور طریق کار میں واضح مماثلت پائی جاتی ہے۔ سوشلسٹ آمریت چاہتے ہیں اور یہ قادیانیوں کا عین ایمان ہے ١؎۔ کیونکہ آمریت کے بغیر وہ اپنے وجود کو قائم نہیں رکھ سکتے۔ سوشلسٹ غیر ملکی نظریات درآمد کر کے غیر ملکی سامراجی طاقتوں میں سے کسی نہ کسی کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں اور یہی حال قادیانیوں کا ہے۔ قادیانی بھی ہر طرح کے ہتھکنڈے استعمال کر کے ملک میں دین کی اعلیٰ اقدار اور جمہوریت کو ختم کرنے کے درپے ہیں۔ سوشلسٹ اپنے مقاصد کے حصول کے لئے علاقائی اور لسانی تعصبات کو بھڑکاتے ہیں۔ قادیانی بھی اسی طریق کار کو اپنائے ہوئے ہیں اور مسلمان معاشرہ میں افتراق کو ہوا دیتے، شیعہ، سنی، دیوبندی، بریلوی، سندھی، پنجابی اور بلوچی اور غیر بلوچی تعصبات کو ہوا دیتے رہتے ہیں۔ سوشلسٹ بھی مادی اپیل یعنی روٹی، کپڑے اور مکان کا لالچ دے کر لوگوں کی ہمدردیاں اور تائید حاصل کرتے ہیں۔ قادیانی بھی اسی طرح مادی اپیل کے ذریعے ملازمتوں کا لالچ دے کر اور روپے پیسے کے زور سے لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ سوشلسٹ بھی پروپیگنڈے کے زور سے اپنے رہنما یا قائد کے اندر کچھ مافوق الانسانی خصوصیات کا ڈھنڈورا پیٹ کر اسے عظیم قائد بنا دیتے ہیں اور پھر بڑی فنکاری کے ساتھ وہ لوگوں کا اس حد تک ذہنی غسل (BRAIN WASHING) کر دیتے ہیں کہ وہی عظیم قائد

١؎ (الفضل قادیان مورخہ ٢/ جون ١٩٣٦ء، نمبر ٢٣ ص ٦) قادیانی کس طرح کا فسطائی نظام چاہتے ہیں۔ اس بارے میں قادیان کے ایک سابق خلیفہ محمود احمد نے ان الفاظ میں روشنی ڈالی ہے: ”حکومت ہمارے پاس نہیں کہ ہم جبر کے ساتھ ان لوگوں کی اصلاح کریں اور ہٹلر یا مسولینی کی طرح جو شخص ہمارے حکموں کی تعمیل نہ کرے۔ اسے ملک سے نکال دیں اور جو ہماری باتیں سننے اور ان پر عمل کرنے پر تیار نہ ہو اسے عبرتناک سزا دیں۔ اگر حکومت ہمارے پاس ہوتی تو ہم ایک دن کے اندر اندر یہ کام کر لیتے ۔“

٣٠

صفحہ ٤٤٩

انہیں اپنا نجات دہندہ نظر آتا ہے اور اس کے والہ و شیدائی بن کر اس کے اندھے پیروکار بن جاتے ہیں۔ اسی طرح قادیانی بھی اپنے مریدوں کا ذہنی غسل کر کے ہر خلیفہ کو خدائی اوتار کا درجہ دے دیتے ہیں اور پھر بے چون و چرا اس کی اطاعت کرتے ہیں۔ قادیانی ریاست میں خلیفہ مطلق العنان اختیارات کا حامل ہوتا ہے اور قادیانی جماعت میں فسطائیت اور آمریت کی روح مکمل طور پر جلوہ گر ہوتی ہے۔

سوشلسٹ اپنے مخالفین کے خلاف جھوٹ اور بہتان طرازی کا طوفان اٹھاتے ہیں۔ قادیانیوں کا بھی یہی وطیرہ ہے۔ بڑے سے بڑا جھوٹ بے دریغ اور بلا جھجک بولتے اور بڑی ڈھٹائی کے ساتھ بولتے ہیں اور اپنی مطلب برآری کے لئے ہر قسم کا بہروپ اختیار کر لیتے ہیں۔ جس طرح سوشلسٹ اپنے مخالفین کے خلاف بڑی گھٹیا، بازاری، غیر مہذب اور غیر شریفانہ زبان استعمال کرتے ہیں۔ بالکل اسی طرح قادیانی بھی اپنے مخالفین کے خلاف نہایت لچر زبان استعمال کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ ان کے نبی کی زبان بھی ناشائستہ اور حد درجہ اشتعال انگیز ہوتی ہے۔ سوشلسٹ بھی اپنے مقصد کے لئے ہر قسم کا اخلاقی اور غیر اخلاقی کام کر گزرتے ہیں۔ یہی طریقہ قادیانیوں کا ہے۔ بس فرق صرف یہ ہے کہ قادیانی یہ سب کچھ مرزا غلام احمد قادیانی کو اپنا نبی مان کر مذہبی لبادے میں کرتے ہیں۔ مگر سوشلسٹ خدا اور رسول کا انکار کر کے کھلم کھلا کرتے ہیں۔

قادیانی اور سوشلسٹوں میں یہ مماثلت محض ظاہری نہیں۔ بلکہ عملاً ان کا باہمی گٹھ جوڑ بھی رہا ہے۔ لیاقت علی مرحوم کے قتل کی ناکام سازش میں سوشلسٹ اور قادیانی برابر کے شریک تھے۔ ١٩٦٩ء میں جب سیاسی آزادیاں بحال ہوئیں تو قادیانیوں نے پیپلز پارٹی جو سوشلسٹ نظام کی داعی ہے، کو اپنی وفاداری کا یقین دلایا اور عملاً اس کی تائید کی اور خلیفہ ناصر کے بیان کے مطابق ١٩٧٠ء کے انتخابات کے دوران ٢٠ ہزار قادیانی نوجوان کارکنوں نے پیپلز پارٹی کے حق میں کام کیا اور دامے درمے قدمے اور سخنے پیپلز پارٹی کی بھر پور مدد کی۔

(روزنامہ ندائے ملت ٢٩ دسمبر ١٩٧٠ء)

پیپلز پارٹی اور قادیانیوں کے باہمی اتحاد کا سو فیصد فائدہ قادیانیوں کو ملا۔ پیپلز پارٹی کے پلیٹ فارم سے انہیں عوام سے رابطہ کی سہولت ملی۔ انہوں نے پیپلز پارٹی کے ذریعے ملک میں نظریاتی کشمکش برپا کر دی اور نظریہ پاکستان اور سوشلزم کے حامیوں کے مابین جنگ کا آغاز ہو گیا۔ دراصل یہ جنگ بیورو کریسی اور عوام کی تھی۔ لوگ بیورو کریسی کی آمریت کے خلاف سراپا احتجاج بنے ہوئے تھے اور اس کی آمریت کو ختم کرنے کے درپے تھے۔ مگر اس نظریاتی تصادم سے قادیانیت عوام کے

٣١

صفحہ ٤٤٠

محاسبہ سے محفوظ ہوگئی۔ نہ صرف عوامی محاسبہ سے محفوظ ہوگئی۔ بلکہ پیپلز پارٹی کے پردے میں اسے عوام کی نمائندگی کا سرٹیفکیٹ بھی مل گیا۔ اس طرح وہ پہلے سے کئی گنا زیادہ طاقتور ہوگئی۔ بیورو کریسی کی طاقت ہی دراصل قادیانیوں کی قوت کا سرچشمہ ہے۔ اس بناء پر قادیانی بھی پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہوگئے۔

قادیانی اپنے فاسد معتقدات کے باعث کبھی مسلمانوں میں براہ راست کام نہیں کر سکتے تھے۔ لیکن سوشلزم اور نظریہ پاکستان کے نظریاتی تصادم کے باعث وہ پیپلز پارٹی کے سٹیج سے میدان میں آگئے اور مسلمانوں کے قابل قدر رہنماؤں پر رکیک حملوں کا آغاز کر دیا اور پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑا اور اس طرح دھوکے سے سرزمین پنجاب کے عوام سے ان کی نمائندگی کی سند بھی حاصل کر لی اور ان کے متعدد نمائندے کامیاب ہوکر صوبائی اور قومی اسمبلیوں میں پہنچ گئے۔ حتیٰ پنجاب کی طرف سے تین قادیانیوں کو سینیٹر بھی منتخب کر لیا گیا۔ روٹی کپڑے اور مکان کے مسحور کن وعدوں اور نظریاتی تصادم کے گرد و غبار میں پنجاب کے لوگ یہ نہ دیکھ سکے کہ وہ کن لوگوں کو اپنا نمائندہ منتخب کر رہے ہیں۔ قادیانیوں کی اس کامیابی پر تبصرہ کرتے ہوئے مرزا ناصر کہتا ہے: ”انتخابات میں پاکستان کی نئی نسل نے ثابت کر دیا ہے کہ مسلمانوں کے درمیان اختلافات کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔“

(روزنامہ مشرق ١٨ دسمبر ١٩٧٠ء)

”احمدی فرقہ کو خدا کی خوشنودی اور حمایت حاصل ہے۔ دنیا کی کوئی طاقت یا تمام طاقتیں مل کر بھی ہماری تحریک کو ختم نہیں کر سکتیں۔“

(روزنامہ سادات ١٢ دسمبر ١٩٧٠ء)

الفضل کے مدیر نے فخریہ یہ شعر الاپا۔

زمین کے گونج اٹھے ہیں کنارے
کہو مرزا غلام احمد کی جے ہے

(الفضل قادیان، ٢٨ دسمبر ١٩١٨ء ص ٢، حوالہ ١٧ دسمبر ١٩٧٠ء)

سوشلسٹوں، علیحدگی پسندوں اور قادیانیوں کے اس گٹھ جوڑ کے نتیجے میں جن عناصر کو ١٩٧٠ء کے انتخابات میں جو چونکا دینے والی کامیابی حاصل ہوئی اور اس کامیابی کے بعد ان عناصر نے حصول اقتدار کا جو مکروہ ڈرامہ سٹیج کیا اسے دیکھ کر محب وطن عناصر تڑپ کر رہ گئے۔ ایئر مارشل نور خاں اور نوابزادہ شیر علی جیسے رہنما بول اٹھے کہ ملک میں خوفناک سازش کی جارہی ہے۔ نوکر شاہی میں چھپے ہوئے بعض ایسے افسر ہیں جو ملک کو انتشار اور انارکی کی طرف لے جا رہے ہیں۔ پاکستان کی

٣٢

صفحہ ٤٤١

نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کو ختم کرنے کے درپے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو دو پاکستان، دو دستور، دو وزرائے اعظم اور دو بجٹ جیسے تباہ کن منصوبوں پر عمل پیرا ہیں۔

(روزنامہ جسارت کراچی مورخہ ٢٣ مارچ ١٩٧١ء)

کراچی میں قومی اسمبلی سے پانچ سیاسی جماعتوں کے نمائندوں اور آزاد ارکان نے ایک اجلاس میں مطالبہ کیا کہ قادیانی اقلیت ملک میں سیاسی بحران پیدا کر رہی ہے۔ ایم ایم احمد اس سازش کا سرغنہ ہے۔ اس نے ملک کی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ اسے برطرف کیا جائے اور اس پر غداری اور وطن دشمنی کے الزام میں مقدمہ چلایا جائے۔

پاکستان کی تباہی اور مشرقی پاکستان کے سقوط کا جو المیہ رونما ہوا ہے وہ اگر سازش ہے تو اس سازش کا حقیقی منبع اسلام آباد کی بیورو کریسی تھی جس کا طاقتور ترجمان ایم ایم احمد تھا۔ جس کے مذہبی عقیدے میں سامراج کی وفاداری اور مسلمانوں سے دشمنی بطور اساسی عقیدہ کے شامل ہے اور جس کے مرکز نے ١٩٤٥ء میں یہ پالیسی وضع کی تھی کہ اگر یہ ملک تقسیم بھی ہو جائے تو اسے دوبارہ متحد کیا جائے گا۔

جس گروہ کے موجودہ امام کا پاکستان کے مسلمانوں کے بارے میں جذبات کا یہ عالم ہو: "تم لومڑی کا لبادہ اوڑھ کر اور گیدڑ کا لبادہ پہن کر نکلتے ہو اور چیختے چنگھاڑتے ہو اور سمجھتے ہو کہ ہم تم سے مرعوب ہو جائیں گے۔ ہمیں تو اللہ تعالی نے شیر سے بڑھ کر جرأت عطا فرمائی ہے۔ شیر کی دھاڑ سے میلوں تک بزدل جانور کانپ اٹھتے ہیں۔" (آزاد کشمیر کی قرارداد پر ایک تبصرہ ص ١٠ تا ١٦) اس گروہ سے مسلمان ہرگز عافیت نہیں پاسکتے۔

قادیانیوں کے ان اثرات اور پر اسرار سازش کے پیش نظر یہ بات اب بلاخوف تردید کہی جاسکتی ہے کہ قادیانی نہ صرف پاکستان کے مسلمانوں کے لئے بلکہ عالم اسلام کے سارے مسلمانوں کے لئے عظیم خطرہ ہیں۔ اگر اس خطرہ کا بر وقت اور فوری سد باب نہ کیا گیا تو پھر یہ خطرہ حقیقت کا روپ دھار کر مسلمانوں کو ایک ایسے عظیم المیہ سے دو چار کرے گا کہ جس کے سامنے بغداد، غرناطہ اور ڈھاکہ کے المیے گرد ہو کر رہ جائیں۔

اس وقت پاکستان کے مسلمان جس پیچیدہ صورتحال سے دوچار ہیں وہ کچھ اس قسم کی ہے۔ ایک طرف تو پاکستان عالمی طاقتوں کی سازشوں کی آماجگاہ بن گیا ہے۔ روس، بھارت کے

٤٤٢

صفحہ ٤٤٤

باہمی گٹھ جوڑ پاکستان کے لئے پہلے ہی خطرہ سے کم نہ تھا۔ مگر امریکہ کی یہود نواز پالیسیوں اور اس کی مکاری اور منافقت نے پاکستان کو اندر سے کھوکھلا کر دیا ہے اور امریکہ اپنے تمام حلیفوں سمیت پاکستان میں اسلام اور جمہوریت کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ پاکستان کی بیورو کریسی قادیانیوں کے ذریعے مغربی بلاک کے زیر اثر ہے اور حقیقت یہ ہے کہ قادیانیت امریکی، صہیونی اور برطانیہ جیسی سامراجی طاقتوں کا ایک مضبوط مہرہ ہے۔ پاکستان کی اب تک کی تمام حکومتیں نوکر شاہی کے ہاتھ میں کٹھ پتلی رہی ہیں۔ ملک غلام محمد، سکندر مرزا، ایوب خاں، یحییٰ اور بھٹو دراصل نوکر شاہی کے نمائندے ہیں۔ ان کی اپنی حیثیت کچھ نہیں۔ ان کے تار نوکر شاہی کے ہاتھ میں تھے اور ہیں اور یہ سارے اس نوکر شاہی کے اشاروں پر اچھل کود کرتے رہے ہیں۔ اب تک ہمارے ملک میں جو تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں۔ وہ محض کرداروں کی تبدیلیاں تھیں۔ نام اور مہرے تبدیل ہوتے رہے۔ ملک کی حقیقی قوت بیوروکریسی ہر نئی تبدیلی سے نئی قوت اور توانائی حاصل کرتی رہی ہے اور اب وہ پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہے۔ اس حد تک مضبوط ہے کہ ملک کی فوج بھی اس کے سامنے قطعی بے بس ہے۔ بیوروکریسی کی قوت کا منبع بیرون ملک یعنی مغربی بلاک ہے۔ جو قادیانیوں کے ذریعے بیوروکریسی کو اپنی گرفت میں لئے ہوئے ہے۔

اب پاکستان کے مسلمانوں کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ :

اصولوں کا پابند بنایا جائے اور اس قوت کو اسلام اور مسلمانوں کے مفاد میں استعمال کیا جائے۔

جارحیت سے پاکستان کو محفوظ رکھنے کی راہ نکالی جائے اور ہمارے ملک میں بیرونی ملکوں کے ایجنٹوں کے محاسبہ کے لئے زبردست عوامی تحریک برپا کی جائے۔

یہ دونوں مسائل ملک کے مقتدر رہنماؤں اور جید علماء اور وکلاء کے سامنے ہیں وہ پاکستان کے مسلمانوں کی رہنمائی کے لئے کوئی لائحہ عمل تجویز کریں۔ ان سب سے زیادہ میں ملک کے پڑھے لکھے نوجوانوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آگے بڑھیں اور ملک و قوم کی ڈوبتی ہوئی کشتی کا سہارا بنیں۔ خدا کے بعد اب اگر کسی سے ملت کے دفاع کی امید کی جاسکتی ہے تو وہ ملت کا یہی گرم خون ہے۔ دیکھئے کب جوش میں آتا ہے؟

٣٤

PDF 444

نہ تھا مگر امریکہ کی یہود نواز پالیسیوں اور اس کی لا کر دیا ہے اور امریکہ اپنے تمام حلیفوں سمیت سے بڑی رکاوٹ ہے۔ پاکستان کی بیورو کریسی ہے اور حقیقت یہ ہے کہ قادیانیت امریکی، صیہونی مہرہ ہے۔ پاکستان کی اب تک کی تمام حکومتیں نوکر جو سکندر مرزا، ایوب خاں، یحییٰ اور بھٹو دراصل نوکر تھیں۔ ان کے تار نوکر شاہی کے ہاتھ میں تھے اور اس کو ہلاتے رہے ہیں۔ اب تک ہمارے ملک کی تبدیلیاں تھیں۔ نام اور مہرے تبدیل ہوتے اسے نئی قوت اور توانائی حاصل کرتی رہی ہے اور اتنا مضبوط ہے کہ ملک کی فوج بھی اس کے سامنے ان ملک یعنی مغربی بلاک ہے۔ جو قادیانیوں کے

کہ یہ ہے کہ: مطلق العنان طاقت کو آئین اور جمہوریت کے قادیانیوں کے مفاد میں استعمال کیا جائے۔ نجات دلائی جائے اور بھارت اور روس کی جائے اور ہمارے ملک میں بیرونی ملکوں کے دی جائے۔ اور جید علماء اور وکلاء کے سامنے ہیں وہ تجویز کریں۔ ان سب سے زیادہ میں ملک کچھ ہیں اور ملک وقوم کی ڈوبتی ہوئی کشتی کا کی امید کی جاسکتی ہے تو وہ ملت کا یہی گروہ

خاتم النبیین لا نبی بعدی

میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں

مرزائیت

کی

حقیقت

جناب مولانا حبیب اللہ فاضل رشیدی

صفحہ ٤٤٤

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مرزائیت کی حقیقت

نیا فرقہ، خود کاشتہ پودا

مرزا غلام احمد قادیانی متوطن قادیان اپنے ”فرقہ مرزائیہ“ کے متعلق خود تعارف فرماتے ہیں۔ ”ایک نیا فرقہ جس کا پیشوا اور امام اور پیر یہ راقم ہے۔ پنجاب اور ہندوستان کے اکثر شہروں میں زور سے پھیلتا جاتا ہے۔...... میں نے قرین مصلحت سمجھا کہ اس فرقہ جدیدہ اور نیز اپنے تمام حالات سے جو اس فرقہ کا پیشوا ہوں۔ حضور لیفٹیننٹ گورنر بہادر دام اقبالہ (انگریز بہادر) کو آگاہ کروں اور یہ ضرورت اس لئے بھی پیش آئی کہ یہ ایک معمولی بات ہے۔ ہر ایک فرقہ جو ایک نئی صورت سے پیدا ہوتا ہے۔ گورنمنٹ کو حاجت پڑتی ہے کہ اس کے اندرونی حالات دریافت کرے اور بسا اوقات ایسے نئے فرقے کے دشمن اور خود غرض جن کی عداوت اور مخالفت ہر ایک نئے فرقے کے لئے ضروری ہے۔ گورنمنٹ میں خلاف واقعہ خبریں پہنچاتے ہیں....... گورنمنٹ تحقیق کرے کہ کیا یہ سچ نہیں کہ ہزاروں مسلمانوں نے جو مجھے کافر قرار دیا اور مجھے اور میری جماعت کو کافر قرار دیا....... میں دعویٰ سے گورنمنٹ کی خدمت میں اعلان دیتا ہوں کہ باعتبار مذہبی اصول کے مسلمانوں کے تمام فرقوں میں سے گورنمنٹ کا اوّل درجہ کا وفادار اور جانثار یہی نیا فرقہ ہے۔ جس کے اصولوں میں سے کوئی اصول گورنمنٹ کے لئے خطرناک نہیں...... میں گورنمنٹ عالیہ کو یقین دلاتا ہوں کہ یہ فرقہ جدیدہ...... جس کا میں پیشوا اور امام ہوں۔ گورنمنٹ کے لئے ہرگز خطرناک نہیں....... غرض یہ ایک ایسی جماعت ہے جو سرکار انگریزی کی نمک پروردہ اور نیک نامی حاصل کردہ اور مورد مراحم گورنمنٹ ہیں...... سرکار دولتمدار ایسے خاندان کی نسبت جس کو پچاس برس کے متواتر تجربہ سے ایک وفادار اور جاں نثار ثابت کر چکی ہے۔...... اس خود کاشتہ پودے کی نسبت نہایت حزم اور احتیاط اور تحقیق اور توجہ سے کام لے اور اپنے ماتحت حکام کو اشارہ فرمائے کہ وہ بھی اس خاندان کی ثابت شدہ وفاداری اور اخلاص کا لحاظ رکھ کر مجھے اور میری جماعت کو ایک خاص عنایت اور مہربانی کی نظر سے دیکھیں۔“

(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٨)

٢

صفحہ ٤٤٥

ممانعت جہاد

مرزا قادیانی فرماتے ہیں: ”میری عمر کا اکثر حصہ اس سلطنت انگریزی کی تائید اور حمایت میں گزرا ہے اور میں نے ممانعت جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارہ میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں اور اشتہار شائع کئے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں۔ میں نے ایسی کتابیں تمام ممالک عرب اور مصر، شام اور کابل اور روم تک پہنچا دیں۔ میری ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ مسلمان اس سلطنت کے سچے خیر خواہ ہو جائیں۔ مہدی خونی اور مسیح خونی کی بے اصل روایتیں اور جہاد کے جوش دلانے والے مسائل جو احمقوں کے دلوں کو خراب کرتے ہیں ان کے دلوں سے معدوم ہو جائیں۔“

(تریاق القلوب ص ١٥، خزائن ج ١٥ ص ١٥٥)

میرا مذہب

”میرا مذہب جس کو میں بار بار ظاہر کرتا ہوں۔ یہی ہے کہ اسلام کے دو حصے ہیں۔ ایک یہ کہ خدا تعالیٰ کی اطاعت کرے۔ دوسرے اس سلطنت کی جس نے امن قائم کیا۔ سو وہ سلطنت حکومت برطانیہ ہے۔ اگر ہم گورنمنٹ برطانیہ سے سرکشی کریں تو گویا اسلام اور خدا اور رسول سے سرکشی کرتے ہیں۔“

(شہادۃ القرآن ص ٨٤، خزائن ج ٦ ص ٣٨٠)

ہمارا اختلاف

مرزا بشیر محمود خلیفہ قادیانی جماعت فرماتے ہیں: ”حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) کے منہ سے نکلے ہوئے الفاظ میرے کانوں میں گونج رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ یہ غلط ہے کہ دوسرے لوگوں (مسلمانوں) سے ہمارا اختلاف صرف حیات مسیح اور چند مسائل میں ہے۔ آپ نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ کی ذات، رسول کریم، قرآن، نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ غرضیکہ آپ نے تفصیل سے بتایا کہ ایک ایک چیز میں ہمیں ان سے اختلاف ہے۔“

(خطبہ مندرجہ الفضل قادیان مورخہ ٣٠ جولائی ١٩٣١ء، ج ١٩ نمبر ١٣، مورخہ ٢١ اگست ١٩١٧ء، ٣١؍ دسمبر ١٩١٤ء)

دعاوی مرزا قادیانی

”میں محمد رسول اللہ ہوں اور احمد مختار ہوں۔“ (ایک غلطی کا ازالہ ص ١٢، خزائن ج ١٨ ص ٢١٦، تریاق القلوب ص ٦، خزائن ج ١٥ ص ١٣٣، نزول المسیح ص ٣ حاشیہ، خزائن ج ١٨ ص ٣٨١)

٣

صفحہ ٤٤٦

”یہ بالکل صحیح بات ہے کہ ہر شخص ترقی کر سکتا ہے اور بڑے سے بڑا درجہ پاسکتا ہے۔ حتیٰ کہ محمد رسول اللہ سے بھی بڑھ سکتا ہے۔“

(الفضل قادیان مورخہ ١٧ جولائی ١٩٢٢ء، نمبر ٧٥ ج ١٠ ص ٥)

غیر احمدی مسلمان نہیں

”ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم غیر احمدیوں کو مسلمان نہ سمجھیں اور ان کے پیچھے نماز نہ پڑھیں ۔ کیونکہ وہ خدا تعالیٰ کے ایک نبی (مرزا غلام احمد) کے منکر ہیں۔ یہ دین کا معاملہ ہے۔ اس میں کسی کا اپنا اختیار نہیں کہ کچھ کر سکے۔“

(انوار خلافت ص ٩٠)

کافر دائرہ اسلام سے خارج

”کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے۔ خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا۔ وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔“

(آئینہ صداقت ص ٣٥)

مسلم لیگ سے نفرت

”ہمیں یاد ہے کہ مسلمانوں کے حقیقی مصلح موعود اور دنیا کے سچے ہادی حضرت مسیح موعود مہدی آخرالزمان (مرزا قادیانی) کے حضور جب اس مسلم لیگ کا ذکر آیا تو مرزا صاحب نے اس کی نسبت ناپسندیدگی ظاہر فرمائی۔ پس کیا کوئی ایسا کام جسے خدا کا برگزیدہ مامور ناپسند فرمائے۔ مسلمانوں کے حق میں سازگار و بابرکت ہو سکتا ہے؟ ہرگز نہیں اب بھی اگر مسلمانوں کو اپنے حقیقی نفع وضرر کی کچھ فکر ہے تو ایسے فضول مشاغل سے باز رہیں۔“

(الفضل قادیان مورخہ ٢٨ جنوری ١٩١٦ء، رسالہ ریویو آف ریلیجنز ماہ جنوری ١٩٢٠ء)

اکھنڈ ہندوستان

”جہاں تک میں نے ان پیش گوئیوں پر نظر دوڑائی ہے جو مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے متعلق ہیں اور جہاں تک اللہ تعالیٰ کے اس فعل پر جو مسیح موعود کی بعثت سے وابستہ ہے۔ غور کیا ہے۔ میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ ہندوستان میں ہمیں دوسری اقوام کے ساتھ مل جل کر رہنا چاہئے اور ہندوؤں، عیسائیوں کے ساتھ مشارکت رکھنی چاہئے۔ حضرت مسیح موعود کی وہ پیش گوئیاں جو ہندوؤں کے متعلق ہیں۔ اسی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ مثلاً جے سنگھ بہادر....... مرزا غلام احمد کی جے

٤

صفحہ ٤٤٧

اور ”اے رودر گوپال تیری مہا گیتا میں لکھی ہے۔“ اس لئے ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ ہندو مسلم سوال اٹھ جائے اور ساری قومیں شیر و شکر ہو کر رہیں۔ تاکہ ملک کے حصے بخرے نہ ہوں۔ بیشک یہ مشکل کام ہے۔ مگر اس کے نتائج بھی بہت شاندار ہوں گے اور اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ ساری قومیں متحد ہوں۔ بہر حال ہم چاہتے ہیں کہ اکھنڈ ہندوستان رہے اور ساری قومیں باہم شیر و شکر ہو کر رہیں۔“

(الفضل قادیان مورخہ ٥؍اپریل ١٩٤٧ء ج ٣٥ نمبر ٨١ ص ١٤)

پاکستان عارضی ہے

”ممکن ہے عارضی طور پر افتراق پیدا ہوا ہو اور کچھ وقت کے لئے دونوں قومیں جدا رہیں۔ مگر یہ حالت عارضی ہوگی اور ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ جلد دور ہو جائے۔ بہرحال ہم چاہتے ہیں کہ اکھنڈ ہندوستان بنے۔“

(الفضل قادیان مورخہ ٥؍اپریل ١٩٤٧ء ص ١٥، ج ٣٥ نمبر ٨١)

مجلس علم وعرفان میں خلیفہ محمود نے فرمایا: ”میں قبل ازیں بتا چکا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت ہندوستان کو اکٹھا رکھنا چاہتی ہے۔ لیکن قوموں کی منافرت کی وجہ سے عارضی طور پر الگ بھی کرنا پڑے۔ یہ اور بات ہے ہم ہندوستان کی تقسیم پر اگر رضامند ہوئے تو خوشی سے نہیں بلکہ مجبوری سے اور پھر یہ کوشش کریں گے کہ کسی نہ کسی طرح جلد متحد ہو جائیں۔“

(الفضل قادیان مورخہ ١٦؍مئی ١٩٤٧ء)

انقلاب عظیم

”اگر ہم محنت کریں اور تنظیم کے ساتھ محنت سے کام لیں تو ١٩٥٢ء میں ہم ایک انقلاب عظیم برپا کر سکتے ہیں۔ ہر خادم کو اس عزم سے اس سال تبلیغ کرنی چاہئے کہ اس سال احمدیت کی ترقی نمایاں طور پر دشمن (مسلمان) بھی محسوس کرنے لگے۔ اگر آپ اپنے کاموں پر فریضہ تبلیغ مقدم کریں گے تو یہ ہو نہیں سکتا کہ آپ کے ذریعہ بھولے بھالے مسلمان ہدایت نہ پا جائیں۔ اپنے ارادہ کو بلند کیجئے۔ ہمیشہ مضبوط کیجئے کہ خدا کے فرشتے آپ کے کاموں میں آپ کی مدد کے لئے بیتاب کھڑے ہیں۔ صرف اور صرف دیر آپ کی طرف سے ہو رہی ہے۔ ١٩٥٢ء کو گذرنے نہ دیجئے۔ جب تک احمدیت کا رعب دشمن (مسلمان) اس رنگ میں محسوس نہ کرے کہ اب احمدیت مٹائی جا نہیں سکتی اور وہ مجبور ہو کر احمدیت کی آغوش میں

٥

صفحہ ٤٤٨

آگرے۔“

(الفضل قادیان مورخہ ١٦؍جنوری ١٩٥٢ء ص ٣)

پاکستان میں قادیانی بھرتی

”بھیڑ چال کے طور پر نوجوان ایک ہی محکمہ میں چلے جاتے ہیں۔ حالانکہ متعدد محکمے ہیں۔ جن کے ذریعہ سے جماعت اپنے حقوق حاصل کرسکتی ہے اور اپنے آپ کو شر سے بچاسکتی ہے۔ جب تک سارے محکموں میں ہمارے آدمی موجود نہ ہوں۔ ان سے جماعت پوری طرح کام نہیں لے سکتی۔ مثلاً موٹے موٹے محکموں میں سے فوج ہے، پولیس ہے، ایڈمنسٹریشن ہے، ریلوے ہے، فنانس ہے، اکاؤنٹس ہے، کسٹمز ہے، انجینئرنگ ہے، یہ آٹھ دس موٹے موٹے صیغے ہیں۔ جن کے ذریعہ سے جماعت اپنے حقوق محفوظ کراسکتی ہے۔ ہماری جماعت کے نوجوان فوج میں بے تحاشا جاتے ہیں۔ اس کے نتیجہ میں ہماری نسبت فوج میں دوسرے محکموں کی نسبت سے بہت زیادہ ہے اور ہم اس سے اپنے حقوق کی حفاظت کا فائدہ نہیں اٹھاسکتے۔ باقی محکمے خالی پڑے ہیں۔ بے شک آپ لوگ اپنے لڑکوں کو نوکری کرائیں۔ لیکن وہ نوکری اس طرح کیوں کرائی جائے۔ جس سے جماعت فائدہ اٹھاسکے۔ پیسے بھی اسی طرح کمائے جائیں کہ ہر صیغے میں ہمارے آدمی موجود ہوں اور ہر جگہ ہماری آواز پہنچ سکے۔“

(الفضل قادیان مورخہ ١٩؍جنوری ١٩٥٢ء ص ٢)

قادیانی فتحیاب مسلمان مجرم اور ابوجہل

”ہم فتح یاب ہوں گے اور تم مجرموں کے طور پر ہمارے سامنے پیش ہوگے۔ اس وقت تمہارا حشر بھی وہی ہوگا جو فتح مکہ کے دن ابوجہل اور اس کی پارٹی کا ہوا۔ اس وقت تم اپنی کثرت پر ناز کرتے ہو۔ حالانکہ یہی دلائل ابوجہل کے تھے کہ محمد ﷺ کو کوئی حق نہیں کہ ہمارے ملک کی ننانوے فیصدی آبادی کے خیالات کے خلاف کوئی بات کہے۔ آخر آج جو دلیل تم دیتے ہو۔ کیا وہی دلائل ابوجہل نہیں دیا کرتا تھا۔ تمہارے کہنے پر بیشک حکومت مجھے پکڑ سکتی ہے۔ قید کر سکتی ہے۔ مار سکتی ہے۔ لیکن وہ میرے عقیدے کو دبا نہیں سکتی۔ اس لئے کہ میرا عقیدہ جیتنے والا ہے۔ وہ یقیناً ایک دن جیتے گا۔ تب ایسا تکبر کرنے والے لوگ پشیمان ہونے کی حالت میں آئیں گے اور انہیں کہا جائے گا۔ بتاؤ کیا تمہارا فتویٰ تم پر عائد کیا جائے؟“

(الفضل قادیان مورخہ ٣؍جنوری ١٩٥٢ء ص ٣)

٦

صفحہ ٤٤٩

(الفضل قادیان مورخہ ١٦؍ جنوری ١٩٥٢ء ص٣)

ان ایک ہی محکمہ میں چلے جاتے ہیں۔ حالانکہ متعدد محکمے حقوق حاصل کر سکتی ہے اور اپنے آپ کو شر سے بچا سکتی ایسے آدمی موجود نہ ہوں۔ ان سے جماعت پوری طرح محکموں میں سے فوج ہے۔ پولیس ہے، ایڈمنسٹریشن ہے، ل، کسٹمز ہے، انجینئرنگ ہے، یہ آٹھ دس موٹے موٹے وہ اپنے حقوق محفوظ کرا سکتی ہے۔ ہماری جماعت کے اس کے نتیجہ میں ہماری نسبت فوج میں دوسرے محکموں وجہ سے اپنے حقوق کی حفاظت کا فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔ باقی اپنے لڑکوں کو نوکری کرائیں۔ لیکن وہ نوکری اس طرح کو فائدہ پہنچا سکے۔ پیسے بھی اسی طرح کمائے جائیں کہ ہر ہماری آواز پہنچ سکے۔‘‘

(الفضل قادیان مورخہ ١٩؍ جنوری ١٩٥٢ء ص٢)

اپیل

مال کے طور پر ہمارے سامنے پیش ہو گے۔ اس وقت یل اور اس کی پارٹی کا ہوا۔ اس وقت تم اپنی کثرت پر تے تھے کہ مخالف کو کوئی حق نہیں کہ ہمارے ملک کی تک کوئی بات کہے۔ آخر آج جو دلیل تم دیتے ہو۔ کیا بناء پر بیشک حکومت مجھے پکڑ سکتی ہے۔ قید کر سکتی ہے۔ جا سکتی۔ اس لئے کہ میرا عقیدہ جیتنے والا ہے۔ وہ یقیناً سخت پشیمان ہونے کی حالت میں آئیں گے اور انہیں جائے؟‘‘

(الفضل قادیان مورخہ ٣؍ جنوری ١٩٥٢ء ص٢)

٦

قادیانی مذہب کے اخلاقیات

مرزا غلام احمد قادیانی بانی قادیان کے اخلاق کے متعلق (سیرۃ المہدی حصہ ٣ ص ٢١٠) پر ایک غیر محرم خادمہ مسمات بھانو کا واقعہ پڑھئیے اور سر دھنیے۔ مرزائی نبوت کے اخلاق کا اندازہ لگائیے کہ ایک بیگانی عورت سے مرزا قادیانی کیا کیا کام کرتے تھے۔ کیا مرزائی لوگ ایسے زانی نبی اور زانی مذہب کا پرچار کرتے ہیں؟

دوسرا حوالہ صاف لفظوں میں (الفضل قادیان مورخہ ٣١؍ اگست ١٩٣٨ء ج ٢٦ نمبر ٢٠٠ ص ٦) میں ملاحظہ فرمائیے۔ ”حضرت مسیح موعود ولی اللہ تھے اور ولی اللہ کبھی کبھی زنا کر لیتے ہیں۔ مرزا قادیانی کبھی کبھی زنا کیا کرتے تھے اور موجودہ خلیفہ (مرزا بشیر محمود) ہر وقت زنا کرتا ہے۔‘‘

گر ولی اینست لعنت بر ولی

اور مرزا قادیانی کا شراب پینا تو مشہور ہے۔ گویا آپ زانی و شرابی تھے۔

ناطقہ سر بگریباں ہے اسے کیا کہئے

ایک مرزائی کی درخواست پر ہائی کورٹ کا فیصلہ

”موجودہ خلیفہ (محمود) سخت بدچلن ہے۔ یہ تقدس کے پردے میں عورتوں کا شکار کھیلتا ہے۔ اس کے لئے اس نے بعض مردوں اور بعض عورتوں کو بطور ایجنٹ کے رکھا ہوا ہے۔ ان کے ذریعہ یہ معصوم لڑکیوں اور لڑکوں کو قابو کرتا ہے۔ اس نے ایک سوسائٹی بنائی ہوئی ہے۔ جن میں مرد اور عورتیں شامل ہیں۔ اس سوسائٹی میں زنا ہوتا ہے۔‘‘

(دستخط مسٹر ایف۔ ڈبلیو سکیمپ کی عدالت عبدالرحمن مصری کا بیان)

وائے گر در پس امروز بود فردائے

(جج عدالت عالیہ ہائی کورٹ لاہور پنجاب)

بردرخواست عبدالرحمن مصری احمدی ایسے ہی دو فیصلے عدالت گورداسپور نے امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ اور مولانا محمد حیات صاحبؒ فاتح قادیان کے مقدمات میں صادر کئے تھے جو قابل ملاحظہ ہیں۔

انتہائی نمک حرامی و احسان فراموشی

سر ظفر اللہ قادیانی نے پاکستان کے قائد اعظم کا جنازہ نہ پڑھ کر ایبٹ آباد کے

٧

صفحہ ٤٥٠

انٹرویو میں قائداعظم کو ”کافر“ قرار دیا۔ یہ وہ ڈھٹائی ہے جس کو نوجوانان پاکستان کبھی برداشت نہیں کر سکتے۔

تفو بر تو اے چرخ گرداں تفو

ترغیب قتل علمائے اسلام اور حکومت کا فرض

”ہاں آخری وقت آ پہنچا ہے۔ ان تمام علمائے حق (مرزائیوں) کے خون کا بدلہ لینے کا۔ جن کو شروع سے لے کر آج تک یہ خونی ملا قتل کراتے آئے ہیں۔ ان سب کے خون کا بدلہ لیا جائے گا۔

مرزا محمود کی کذب بیانی اور اشتعال انگیزی

٢٧ دسمبر سالانہ جلسہ ربوہ کے اجتماع پر خلیفہ محمود نے جو تقریر کی اس میں ہماری ضلع منٹگمری کے متعلق صاف جھوٹ بولا۔ کہ میں نے منٹگمری میں کھلے بندوں یہ کہا ہے کہ ایک رات تمام احمدیوں کے مکانوں پر نشانات لگا دو اور پھر کسی وقت ان سب کو قتل کر دو۔“

(الفضل قادیان مورخہ ٢ جنوری ١٩٥١ء)

اس کے جواب میں اسلامیان منٹگمری صرف اسی قدر اعلان کافی سمجھتے ہیں کہ کذاب و دجال باپ کا اکذب بیٹا، مفتری ہے۔

لعنة الله علی الکاذبین!

٨

صفحہ ٤٥٠

۔ یہ وہ ڈھٹائی ہے جس کو نوجوانان پاکستان کبھی

چرخ گرداں تفو

ی کا فرض

ان تمام علمائے حق (مرزائیوں) کے خون کا بدلہ لینے لا قتل کراتے آئے ہیں۔ ان سب کے خون کا بدلہ لیا

انگیزی

اج پر خلیفہ محمود نے جو تقریر کی اس میں ہماری ضلع ے فکری میں کھلے بندوں یہ کہا ہے کہ ایک رات کسی وقت ان سب کو قتل کر دو۔“

(الفضل قادیان مورخہ ٢ جنوری ١٩٥١ء)

ہی صرف اسی قدر اعلان کافی سمجھتے ہیں کہ کذاب

الکاذبین !

خاتم النبیین لا نبی بعدی

میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں

ختم نبوت

اور

قادیانی وسوسے

جناب مولانا محمد ولی الدین فاضل

صفحہ ٤٥٢

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

تقاریظ

١.......مشہور مناظر اسلام و ماہر رد قادیانیت

حضرت مولانا محمد اسماعیل صاحب کٹکی مدظلہ العالی

امیر شریعت وصدر جمعیت العلماء اڑیسہ

ختم نبوت اسلام کا ایک بنیادی عقیدہ ہے۔ اس چودہ سو سالہ متفقہ عقیدۂ اسلام کو ١٩٠١ء میں مرزا غلام احمد قادیانی نے ڈائنامیٹ کرنے کی کوشش کی اور قرآن مجید کی مختلف آیات کو توڑ مروڑ کر اپنی خود ساختہ تفسیر کی بنیاد پر اجرائے نبوت کا دعویٰ کر دیا۔ حالانکہ قادیانیوں کا اصلی عقیدہ یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد اس چودہ سو سال میں کسی قسم کا کوئی نبی نہیں آیا ہے۔ بس ایک نبی مرزا غلام احمد قادیانی ہی آیا ہے اور پھر مرزا قادیانی کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔ گویا قادیانی امت مرزا قادیانی ہی کو آخری نبی یا خاتم النبیین مانتی ہے۔ مگر بھولے بھالے مسلمانوں کو اپنے دام تزویر میں پھانسنے کے لئے اجرائے نبوت کا ڈھونگ رچا رکھا ہے۔ انہی کی غلط تاویلات کے رد میں جناب مولوی محمد ولی الدین صاحب فاضل پنجاب نے ”ختم نبوت اور قادیانی وسوسے“ نامی کتاب لکھی ہے۔ موصوف چونکہ عرصہ دراز تک قادیانی مبلغ اور محتسب رہ چکے ہیں اور مرزا قادیانی کی خانہ ساز جھوٹی نبوت کے دعاوی ودلائل سے اچھی طرح واقف ہیں۔ اس لئے ان کی یہ کتاب یقیناً قابل قدر ہے۔

احقر نے اس کو بالاستیعاب دیکھا ہے اور بلا خوف تردید کہا جاسکتا ہے کہ یہ کتاب ختم نبوت کے سلسلے میں ایک لاجواب کتاب ہے۔ چونکہ مولوی محمد ولی الدین نے اپنے زمانہ قادیانیت میں بہت سے مسلمانوں کو قادیانی بنا کر ان کا ایمان برباد کیا تھا۔ اب تلافی مافات کی شکل میں ان کی پوری کوشش یہی ہے کہ اہل اسلام ، فتنہ قادیانیت سے اچھی طرح واقف ہو جائیں اور قادیانی اس کو پڑھ کر اس باطل مذہب سے توبہ کر لیں۔ مجھے امید ہے کہ یہ کتاب حق کے متلاشی کے لئے رہنما ہوگی۔

مجلس علمیہ آندھرا پردیش

ختم نبوت دین اسلام کا ایک مسلمہ عقیدہ ہے۔ چودہ سو سالہ مسلمہ عقیدہ کو مرزا غلام احمد

٢

صفحہ ٤٥٣

قادیانی اور اس کے ماننے والوں نے نظر انداز کر کے کچھ بے تکی دلیلوں سے اجرائے نبوت ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی ہے اور مزید ستم ظریفی یہ کہ اس کے لئے انہوں نے قرآن مجید کا سہارا لیا جو اللہ کے آخری پیغمبر سیدنا حضرت خاتم النبین ﷺ پر نازل شدہ آخری کتاب ہے۔ شواہد موجود ہیں کہ اسلام کے خلاف قادیانیوں کی یہ ایک خطرناک سازش تھی جو اب بے نقاب ہوچکی ہے۔

محترم مولوی محمد ولی الدین صاحب فاضل پنجاب یونیورسٹی جو نہ صرف ایک زمانہ دراز تک اس فتنہ کا شکار رہے بلکہ مبلغ اور انسپکٹر مالیات جیسے عہدوں پر فائز رہے۔ انہوں نے شعوری طور پر حق کا مطالعہ کیا اور انہیں اپنے مذہب کی ضلالت اور گمراہی کا احساس ہوا۔ جس کے نتیجہ میں انہوں نے قادیانیت سے توبہ کی اور اسلام کی آغوش میں پناہ لی۔ اب یہ آرزو ہے کہ انہوں نے جس کوشش اور صلاحیت کا استعمال قادیانیت کے پھیلانے میں کیا ہے۔ اب وہ اس فتنہ کے رد اور اشاعت حق میں کریں۔ چنانچہ موصوف نے ایک کتاب ”ختم نبوت اور قادیانی وسوسے“ کے نام سے تصنیف مرتب کی ہے۔ اس کتاب کا ہم نے مطالعہ کیا ہے۔ ہمیں خوشی ہوئی کہ یہ کتاب اپنے مقصد اور موضوع کے اعتبار سے نہایت مؤثر اور جامع ہے۔ چونکہ موصوف نے اپنے زمانہ جاہلیت (قادیانیت) میں جن دلائل کا استعمال کیا تھا ان کی خامیوں اور کمزوریوں سے واقف ہیں۔ اس لئے انہوں نے ایک ایک دلیل کے کئی شاندار اور مسکت دلائل دیئے ہیں اور عام فہم انداز میں دیئے ہیں اور اجرائے نبوت کی دلیلوں کا اس انداز سے پوسٹ مارٹم کیا ہے کہ ”اَلْحَقُّ يَعْلُوْ وَلَا يُعْلٰى عَلَيْهِ“ (حق ہی غالب ہوتا ہے مغلوب نہیں ہوتا) کی تصویر سامنے آجاتی ہے۔

ہم پورے وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ یہ کتاب مجموعی لحاظ سے مواد، موضوع، طرز استدلال اور ترتیب مضامین کے اعتبار سے نہایت وقیع اور کامیاب ہے۔ عام مسلمانوں کے لئے تو اس کتاب کا مطالعہ مفید ہی ہوگا۔ لیکن اگر کوئی ہوش مند قادیانی تعصب و عناد سے بالاتر ہو کر کشادہ دلی کے ساتھ اس کا مطالعہ کرے تو انشاء اللہ تعالیٰ ضرور اس پر حق واضح ہوگا اور وہ مجبور ہوگا کہ اپنی عاقبت کی بھلائی کے لئے قادیانیت کے دلدل سے اپنے آپ کو نکالے۔ اللہ تعالیٰ اس کتاب کو اپنے فضل سے قبولیت عامہ نصیب کرے اور مصنف کتاب کے لئے ذریعہ نجات اور عوام کے لئے ذریعہ افادہ بنائے ۔ آمین!

مولانا محمد عبد القوی قاسمی ...... ناظم مجلس علمیہ آندھرا پردیش حافظ سید اکبر الدین قاسمی ...... نائب ناظم مجلس علمیہ آندھرا پردیش

٤

صفحہ ٤٥٤

حضرت حافظ انوار اللہ محمود، معاون امیر حلقہ جماعت اسلامی حیدرآباد

قادیانیت برصغیر ہند و پاک میں اسلام کے خلاف وہ فتنہ عظیم ہے جس نے امتِ مسلمہ کے اندر اعتقادی بحثوں کو پیدا کر کے کفر و ایمان کی بڑی کشمکش برپا کر دی۔ ستم ظریفی تو یہ ہے کہ بانی قادیانیت اور اس کے بعد اس کے پیروؤں نے قرآنی اصطلاحات کو توڑ مروڑ کر اس طرح استعمال کیا ہے کہ عوام اس فتنہ کو بھی تجدیدِ اسلام کی ایک کوشش سمجھ بیٹھے۔ حالانکہ گزشتہ چودہ صدیوں کے دوران امتِ مسلمہ حضرت محمد ﷺ کے آخری نبی ہونے پر نہ صرف یہ کہ مجتمع رہی بلکہ کسی بھی نبی کاذب کو اپنے درمیان ابھرنے کا موقع نہیں دیا۔

جناب مولوی محمد ولی الدین فاضل مبارکباد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے بڑے ہی مدلل انداز سے اس مسئلہ پر روشنی ڈالی ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کوشش کو کامیاب فرمائے اور اس کتاب کو عوام کے لئے ہدایت کا ذریعہ بنائے۔ آمین!

فہرست!

٤

صفحہ ٤٥٥

ن امیر حلقہ جماعت اسلامی حیدرآباد یں اسلام کے خلاف وہ فتنہ عظیم ہے جس نے امت کے کفر وایمان کی بڑی کشمکش برپا کردی۔ ستم ظریفی تو یہ کے پیروؤں نے قرآنی اصطلاحات کو توڑ مروڑ کر اس دید اسلام کی ایک کوشش سمجھ بیٹھے۔ حالانکہ گزشتہ چودہ قے کے آخری نبی ہونے پر نہ صرف یہ کہ مجتمع رہی بلکہ ا موقع نہیں دیا۔ مل مبارکبادی کے مستحق ہیں کہ انہوں نے بڑے ہی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کوشش کو کامیاب فرمائے اور ئے۔ آمین!

فہرست !

٤٥٦ ٤٥٧ ٤٥٧ لف ایک رسول کی بشارت ٤٥٨ ٤٥٩ ٤٦٠ ٤٦٠ ٤٦١ ٤٦٢ کے جوابات ٤٦٣

٥

صفحہ ٤٥٦

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

ختم نبوت کی حقیقت

تمام قوموں کی مذہبی اور تاریخی روایات متفق ہیں کہ نوع انسان کی ابتداء ایک ہی انسان سے ہوئی اور انسانوں کی موجودہ نسل دنیا میں جہاں کہیں پائی جاتی ہے وہ اس آدم کی اولاد ہے جو اس سلسلہ کی کڑیوں میں سے ایک ممتاز کڑی ہے۔ جس کے ساتھ ایک نیا دور شروع ہوا اور جس کی جسمانی تشکیل اس حد تک ہو چکی تھی کہ وہ اللہ تعالیٰ کی وحی کے حامل ہونے کے قابل تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے ذریعہ سے قصرِ نبوت کی بنیاد رکھی اور اسے اپنے کلام اور وحی کا شرف عطاء فرمایا۔ جیسا کہ آیت: "فَتَلَقّٰى اٰدَمُ مِنْ رَّبِّهٖ كَلِمٰتٍ فَتَابَ عَلَيْهِ (البقرة:٣٧)" (یعنی پھر آدم نے اپنے رب سے چند کلمات سیکھ لئے۔) شاہد ہے۔

جب آدم پر وحی کے نزول کا ذکر فرمایا تو بنی آدم کے لئے بھی قانون بنا دیا کہ ہر ایک انسان یا بنی آدم پر وحی کا نزول نہیں ہوگا۔ بلکہ ضرورت کے وقت موزوں اور منتخب انسانوں پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت اور رسالت آ جایا کرے گی۔ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: "يٰبَنِىْ اٰدَمَ اِمَّا يَاْتِيَنَّكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ يَقُصُّوْنَ عَلَيْكُمْ اٰيٰتِىْ فَمَنِ اتَّقٰى وَاَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُوْنَ (الاعراف:٣٥)" (اے بنی آدم اگر کبھی تمہارے پاس تم میں سے رسول آئیں، میری آیات تم پر بیان کریں تو جو کوئی تقویٰ کرے اور اصلاح کر لے ان پر کوئی خوف نہیں اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔)

ابتداء میں چونکہ نوع انسان کے لئے اصول زندگی بالکل سادہ اور تعلیم نہایت آسان تھی۔ کیونکہ انسان ابھی تمدن کی پیچیدگیوں میں مبتلا نہ ہوا تھا اور اس کی زندگی کے تمام معاملات نہایت سادہ تھے اور سب کی زندگی ایک ہی طرح کی تھی اور سب اپنی فطرتی سادگی پر قائم تھے۔ پھر رفتہ رفتہ انسان دنیا کے مختلف حصوں میں پھیل گئے اور مختلف قومیں بن گئیں۔ بعض لوگ اپنے باپ حضرت آدم علیہ السلام کے طریقہ پر چلتے رہے اور مرورِ زمانہ کی وجہ سے کئی ایسے بھی تھے جنہوں نے اپنے آبائی طریقے کو چھوڑ دیا اور اپنی خواہشات کی پیروی کی۔ حتیٰ کہ نسلِ انسانی کی کثرت اور ضروریاتِ معیشت کی وسعت سے طرح طرح کے اختلافات پیدا ہو گئے اور اختلافات نے تفرقہ و انقطاع اور ظلم و فساد کی صورت اختیار کر لی۔ ہر گروہ دوسرے گروہ سے نفرت

صفحہ ٤٥٧

نبوت کی حقیقت

یہ روایات متفق ہیں کہ نوع انسان کی ابتداء ایک ہی آدم سے ہوئی۔ دنیا میں جہاں کہیں پائی جاتی ہے وہ اس آدم کی اولاد اور نسل ہی ہے۔ جس کے ساتھ ایک نیا دور شروع ہوا اور جو اکیلا اللہ تعالیٰ کی وحی کے حامل ہونے کے قابل تھا۔ اس کی بنیاد رکھی اور اسے اپنے کلام اور وحی کا شرف عطاء کیا فتلقی اٰدم من ربہ کلمات فتاب علیہ (البقره:٣٧) ”پھر سیکھ لئے آدم نے اپنے رب سے۔“

اللہ تعالیٰ نے یہ قانون بنا دیا کہ ہر ایک ضرورت کے وقت موزوں اور منتخب انسانوں پر وحی نازل کیا کرے گا۔ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ”یا بنی آدم اما ياتينكم رسل منكم يقصون عليكم آياتي فمن اتقى واصلح فلا خوف عليهم ولا هم يحزنون (الاعراف: ٣٥) ”اے بنی آدم اگر کبھی تمہارے پاس تم میں سے رسول آئیں جو میری آیتیں تم پر پڑھیں تو جو کوئی تقویٰ کرے اور اصلاح کر لے ان پر کوئی خوف نہیں اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔“

اصول و فروع کی بالکل سادہ اور تعلیم نہایت آسان تھی جس کا مدار اس کی زندگی کے تمام معاملات پر تھا اور سب اپنی فطرتی سادگی پر قائم تھے۔ پھر لوگ بڑھ گئے اور مختلف قومیں بن گئیں۔ بعض لوگ اپنے دین پر قائم رہے اور مرور زمانہ کی وجہ سے کئی ایسے بھی تھے جنہوں نے خواہشات کی پیروی کی حتیٰ کہ نسل انسانی کئی گروہوں میں بٹ گئی۔ طرح طرح کے اختلافات پیدا ہو گئے اور قوم ٹکڑے ٹکڑے ہو کر رہ گئی ۔ ہر گروہ دوسرے گروہ سے نفرت

کرنے لگا اور زبردست زیردست کے حقوق پامال کرنے لگا۔ جب یہ صورتحال پیدا ہو گئی تو ضروری ہوا کہ نوع انسانی کی ہدایت اور عدل وانصاف کے قیام کے لئے کلام الہی کی روشنی نمودار ہو۔ چنانچہ روشنی نمودار ہوئی اور خدا کے رسولوں کی دعوت وتبلیغ کا سلسلہ قائم ہو گیا۔

آغاز نبوت

”فبعث الله النبيين مبشرين ومنذرين وانزل معهم الكتب بالحق ليحكم بين الناس فيما اختلفوا فيه (البقره: ٢١٣) ”پھر اللہ تعالیٰ نے نبیوں کو بھیجا خوشخبری دینے والے اور ڈرانے والے اور ان کے ساتھ کتاب اتاری تاکہ لوگوں میں ان باتوں کا فیصلہ کرے۔ جن میں وہ باہم اختلاف کرتے تھے۔“

اب اللہ تعالیٰ نے ہر قوم میں پیغمبر بھیجنے شروع کئے جو لوگوں کو راہِ حق کی تعلیم دینے لگے۔ انہوں نے اپنی اپنی قوموں کو بھولا ہوا سبق یاد دلایا۔ جاہلانہ رسوم کو توڑا اور خدا کی مرضی کے مطابق زندگی بسر کرنے کا طریقہ بتایا اور صحیح قوانین بتا کر ان کی پیروی کی ہدایت کی اور ان کی سمجھ اور ضرورت کے مطابق نہایت سادہ راہِ حق کے طریقے بتائے۔ اس وقت انسان کے لئے صرف اتنا جاننا ضروری تھا کہ خدا ایک ہے اور وہ سب کا خالق ہے اور ہم سب اس کے بندے ہیں اور مرنے کے بعد زندگی ہے جہاں اعمال کا بدلہ ملے گا اور اعمال کے لئے نہایت سادہ اخلاقی اصول کافی تھے۔

شرعی قوانین میں اضافہ

جوں جوں انسانی دماغ ترقی کرتا گیا اور تمدن کی پیچیدگیاں بڑھتی گئیں ۔ ویسے ویسے شریعت کے قوانین میں اضافہ ہوتا گیا۔ حتیٰ کہ آدم ثانی حضرت نوح علیہ السلام کا زمانہ آ گیا۔ ”ولقد ارسلنا نوحاً الى قومه فقال يقوم اعبدوا الله مالكم من اله غيره افلا تتقون (المؤمنون: ٢٣) ”اور ہم نے نوح علیہ السلام کو اس کی قوم کی طرف بھیجا۔ سو اس نے کہا اے میری قوم اللہ کی عبادت کرو۔ تمہارے لئے اس کے سوا کوئی معبود نہیں تو کیا تم تقویٰ اختیار نہیں کرتے۔“

پھر فرمایا: ”ثم ارسلنا رسلنا تترا (المؤمنون: ٤٤) ”پھر ہم نے اپنے رسول پے در پے بھیجے۔“

یہاں تک کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا زمانہ آ گیا ۔ ”وابرهيم اذ قال لقومه

صفحہ ٤٥٨

اعبدوا الله واتقوه (العنکبوت:١٦) ﴿اور ابراہیم علیہ السلام کو (بھیجا) جب اس نے اپنی قوم سے کہا اللہ کی عبادت کرو اور اس کا تقویٰ کرو۔﴾

پھر نبوت کے سلسلے کو جاری رکھتے ہوئے فرمایا: ”ووهبناله اسحق ويعقوب وجعلنا فى ذريته النبوة والكتب (العنکبوت:٢٧)“ ﴿اور ہم نے اسحٰق اور یعقوب عطاء کئے اور ہم نے اس کی اولاد میں نبوت اور کتاب جاری کی۔﴾

پھر ایک اور مقام پر فرمایا: ”ولقد ارسلنا نوحاً وابراهيم وجعلنا فى ذريتهما النبوة والكتب (الحدید:٢٦)“ ﴿اور ہم نے نوح اور ابراہیم کو بھیجا اور ان کی نسل میں نبوت اور کتاب کے سلسلے کو جاری رکھا۔﴾

غرض قوموں کی اصلاح کے لئے وقتاً فوقتاً انبیاء مبعوث ہوتے رہے اور وحی نبوت کا سلسلہ جاری رہا۔ حتیٰ کہ موسیٰ علیہ السلام کا زمانہ آ گیا۔

”ولقد آتينا موسى الكتب وقفينا من بعده بالرسل (البقره:٨٧)“ ﴿اور یقیناً ہم نے موسیٰ کو کتاب دی اور اس کے بعد ہم نے پے در پے رسول بھیجے۔﴾

حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد تقریباً چودہ سو سال تک مختلف ملکوں اور قوموں کی طرف انبیاء آتے رہے۔ تاکہ ہر قوم کو الگ الگ تعلیم و ہدایت دیں۔ آہستہ آہستہ غلط خیالات کو مٹا کر صحیح خیالات پھیلائیں۔ یہاں تک کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا زمانہ آگیا۔

”وقفينا بعيسى ابن مريم وآتينه الانجيل ويعلمه الكتب والحكمة والتورة والانجيل ورسولاً الى بنى اسرائيل (آل عمران:٤٨)“ ﴿اور سب سے پیچھے عیسیٰ ابن مریم کو بھیجا اور اسے انجیل دی اور وہ اسے کتاب اور حکمت اور تورات اور انجیل سکھائے گا اور وہ بنی اسرائیل کی طرف رسول ہوگا۔﴾

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعد صرف ایک رسول کی بشارت

مندرجہ بالا آیات سے آپ نے بخوبی سمجھ لیا ہوگا کہ حضرت نوح علیہ السلام حضرت ابراہیم اور حضرت موسیٰ علیہم السلام جیسے اولوالعزم پیغمبروں کے بعد انبیاء ورسل کا جو سلسلہ جاری وساری رہا اور انبیاء آتے رہے۔ قرآن مجید نے اسے کہیں ”ثم ارسلنا رسلنا تتراً“ اور کہیں ”وقفينا من بعده بالرسل“ کے فقرات سے واضح کیا ہے۔ لیکن آپ سارا قرآن مجید پڑھ جائیں اور بنظر عمیق اس کا مطالعہ کریں آپ کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعد اس قسم کا

٨

صفحہ ٤٥٩

ایک فقرہ بھی نہیں ملے گا۔ ہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام صرف ایک عظیم الشان نبی کا نام لے کر دنیا کو بشارت دیتے ہیں کہ میرے بعد صرف ایک مبعوث ہوگا۔ جس کا اسم گرامی احمد ہوگا۔ (ﷺ)

جیسے ارشاد باری تعالیٰ ہے: ”واذ قال عيسى ابن مريم يبنى اسرائيل انى رسول الله اليكم مصدقا لما بين يدى من التورة ومبشراً برسول يأتى من بعد اسمه احمد (الصف: ٦)“ ﴿اور جب عیسیٰ ابن مریم نے کہا اے بنی اسرائیل میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں۔ اس کی تصدیق کرتا ہوا جو میرے سامنے تورات ہے اور ایک رسول کی خوشخبری دیتا ہوا جو میرے بعد آئے گا اس کا نام احمد ہے۔﴾

آخر وہ وقت آیا جب نفوس انسانی مختلف انبیاء کی تعلیم سے اس قابل ہو چکے تھے کہ اب وہ آخری اور جامع تعلیم پائیں اور اپنے انتہائی کمال کو پہنچیں اور اس قصر نبوت کی تکمیل ہو جس کی بناء حضرت آدم صفی اللہ نے ڈالی تھی۔ اب تقریباً حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت کو چھ سو سال گزرے تھے کہ

ہوئی پہلوئے آمنہ سے ہویدا
دعائے خلیل اور نوید مسیحا

اس عظیم الشان رسولؐ نے مبعوث ہوتے ہی دنیا کو ان الفاظ سے خطاب فرمایا: ”یایها الناس انى رسول الله اليكم جميعاً (الاعراف: ١٥٨)“ ﴿اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں۔﴾

ختم نبوت از روئے قرآن مجید

اس نبوت کو جس کی ابتداء حضرت آدم علیہ السلام سے ہوئی۔ قرآن کریم نے حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر ان الفاظ میں اس کو ختم کر دیا۔

”ماكان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين وكان الله بكل شئ عليما (الاحزاب:٤٠)“ ﴿محمد (ﷺ) تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں۔ لیکن اللہ کے رسول اور نبیوں کے ختم کرنے والے ہیں اور اللہ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔﴾

دنیا میں انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی بعثت کی جو غرض تھی وہ محمد رسول اللہ ﷺ کی مقدس ومطہر ذات میں اپنے کمال کو پہنچ کر پوری ہوگئی اور جب غرض پوری ہوگئی تو اس کے بعد کسی نبی کے

٩

صفحہ ٤٦٠

آنے کی ضرورت باقی نہ رہی۔

”اَلْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِيْناً (المائده:٣)“ ﴿آج میں نے تمہارا دین تمہارے لئے کامل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت کو پورا کر دیا اور تمہارا دین اسلام ہونے پر میں راضی ہوا ۔﴾

چونکہ نبی کی ضرورت دنیا میں تکمیل انسانی کے کسی نئے پہلو کو واضح کرنے کے لئے ہوتی تھی اور قرآن مجید نے تکمیل انسانی کے سارے پہلوؤں کو کمال تک پہنچا دیا۔ اس لئے کسی نئے نبی کی ضرورت بھی نہ رہی۔

عہد کا بوجھ

قرآن مجید ختم نبوت کے مسئلہ کو ایک اور رنگ میں بیان کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء اور ان کی امتوں سے یہ عہد لیا کہ جب وہ عظیم الشان رسول آئے تو اس پر ایمان لانا اور اس کی مدد کرنا اور کہا گیا تھا کہ ”أَ أَقْرَرْتُمْ وَأَخَذْتُمْ عَلٰى ذٰلِكُمْ إِصْرِيْ (آل عمران:٨١)“ ﴿کیا تم اقرار کرتے ہو اور اس پر میرے عہد کا بوجھ (اصر) لیتے ہو؟﴾

”قَالُوْا أَقْرَرْنَا“ ﴿انہوں نے کہا ہم اقرار کرتے ہیں ۔﴾

یہ اقرار اور وہ بوجھ جو ابتدائے آفرینش سے ان پر چلا آ رہا تھا ۔ آپؐ نے اُتار دیا۔ جیسا کہ قرآن مجید فرماتا ہے: ”وَيَضَعُ عَنْهُمْ إِصْرَهُمْ (الاعراف:١٥٧)“ ﴿اور (محمدﷺ) ان سے ان کا بوجھ اُتارتا ہے۔﴾

یہ عہد کا بوجھ سب اقوام کے سر پر رہا۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بعثت پر جو ایمان لائے ان سے یہ بوجھ اتر گیا۔ آپؐ کے بعد کسی اور نبی پر ایمان لانے کا بوجھ قرآن مجید نے ہم پر نہیں ڈالا۔ نہ کوئی اور نبی آ کر اتارے۔ بلکہ ہمیں دعا سکھلائی کہ: ”رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْراً كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِنَا (البقره:٢٨٦)“ ﴿اے ہمارے رب! ہم پر بوجھ نہ ڈالنا۔ جیسا تو نے ان پر ڈالا جو ہم سے پہلے تھے۔﴾

امت مسلمہ کا گواہ

مسئلہ ختم نبوت کو قرآن مجید ایک اور انداز میں یوں بیان کرتا ہے: ”فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيْدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلٰى هٰؤُلَاءِ شَهِيْداً (النساء:٤١)“ ﴿پھر کیا حال ہوگا جب ہم ہر امت سے ایک گواہ لائیں گے اور تم کو ہم ان پر گواہ بنا کر لائیں گے۔﴾

١٠

صفحہ ٤٦١

تو گویا اس امت کے گواہ قیامت کے دن صرف نبی کریم ﷺ ہی ہوں گے۔ دوسری جگہ فرمایا: ”لِیکون الرسول شھیداً علیکم وتکونوا شھداء علی الناس (الحج:٧٨) ”تاکہ رسول تمہارا گواہ ہو اور تم لوگوں کے گواہ بنو۔“ ہر نبی اپنی امت کا گواہ ہوتا ہے اور امتِ مسلمہ کے گواہ صرف محمد عربی ﷺ ہیں۔ اگر اس امت میں کوئی اور نبی پیدا ہونا ہوتا تو یقیناً قیامت کے دن اس امت پر کوئی اور گواہ ہوتا۔ اس سے ثابت ہوا کہ اس امت کا صرف وہی پیغمبر گواہ ہے جو خاتم النبیین ہے۔ ولا غیر۔ غرض قرآن مجید میں اس موضوع پر کئی اور آیات بھی ہیں۔ لیکن طوالت کے خوف سے انہی پر اکتفا کیا جاتا ہے۔

ختم نبوت از روئے احادیث

نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں: ”کلما ھلک نبی خلفہ نبی وانہ لا نبی بعدی (صحیح بخاری ج١ ص ٤٩١) ”(مجھ سے پہلے) جب ایک نبی گزر جاتا تو اس کے بعد دوسرا نبی آجاتا اور میرے بعد کوئی نبی نہیں۔“

ایک اور حدیث میں ہے (حضرت ابوذر فرماتے ہیں) ”قال رسول اللہ ﷺ یا اباذر اوّل الانبیاء آدم وآخرھم محمد (کنزالعمال ج١١ ص ٤٨٠، حدیث نمبر ٣٢٢٦٩) ”کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ سب انبیاء میں پہلے آدم علیہ السلام ہیں اور سب سے آخر میں محمد (ﷺ)۔“

ایک اور حدیث میں اس طرح ہے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ: ”انـــــــــــــا آخر الانبیاء وانتم آخر الامم (سنن ابن ماجہ) ”میں آخری نبی ہوں اور تم سب سے آخری امت ہو۔“

اسی طرح ایک دوسری حدیث میں ہے: ”قال رسول اللہ ﷺ لا نبی بعدی ولا امۃ بعدی (خصائص کبری سیوطی ج٢ ص ١٧٨) ”رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا اور میری امت کے بعد کوئی امت نہ ہوگی۔“

پھر فرماتے ہیں: ”ان الرسالۃ والنبوۃ قد انقطعت فلا رسول بعدی ولا نبی (ترمذی کتاب الرؤیا ج٢ ص ٥٣) ”(نبی کریم ﷺ نے فرمایا) یقیناً رسالت اور نبوت منقطع ہوگئی ہے۔ پس میرے بعد نہ کوئی رسول ہوگا اور نہ کوئی نبی۔“

١١

صفحہ ٤٦٢

آنحضرت ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقعہ پر خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ: ”ایھا الناس انه لا نبى بعدى ولا امة بعدكم (كنزالعمال ج ٥ ص ٢٩٧، حدیث نمبر ١٢٩٢٢)“ ﴿اے لوگو! میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور تمہارے بعد کوئی امت نہ ہوگی۔﴾

نبی عربی ﷺ نے آیت خاتم النبیین کے معنی بیان کرتے ہوئے فرمایا: ”انا خاتم النبیین لا نبى بعدى (مشکوۃ المصابیح)“ ﴿میں نبیوں کو ختم کرنے والا ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔﴾

ختم شد بر نفس پاکش ہر کمال
لا جرم شد ختم ہر پیغمبرے

امت کا باپ

انسان کے انسان کے ساتھ کئی رشتے ہوتے ہیں۔ مگر ایک رشتہ ایسا بھی ہے۔ جس میں کسی دوسرے کی شرکت ممکن نہیں۔ وہ رشتہ ہے باپ کا۔ انسان کے ایک سے زیادہ بھائی ہو سکتے ہیں، ماموں ہو سکتے ہیں، بیٹے ہو سکتے ہیں۔ مگر باپ صرف ایک ہی ہو سکتا ہے۔ بالکل اسی طرح امت مسلمہ کا باپ از روئے قرآن وحدیث صرف حضور خاتم النبیین ﷺ ہیں اور کوئی بھی صحیح النسل مسلمان حضور اکرم ﷺ کے بعد کسی اور کو اپنا باپ تسلیم نہیں کر سکتا۔ چنانچہ خود حضور ﷺ فرماتے ہیں: ”الا ان ربكم واحد ودينكم واحد وقبلتكم واحد وابوكم واحد فكذالك نبيكم واحد وانا خاتم النبيين لا نبي بعدى (كنزالعمال)“ ﴿(اے مسلمانو!) یاد رکھو کہ تمہارا رب ایک ہے اور تمہارا دین ایک ہے اور تمہارا قبلہ ایک ہے اور تمہارا باپ ایک ہے۔ بالکل اسی طرح تمہارا نبی ایک ہے۔ کیونکہ میں خاتم النبیین ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔ (ورنہ وہ امت کا باپ ہوگا)﴾

اس حدیث میں واضح کیا گیا کہ کوئی غیرت مند مسلمان جس طرح اپنے لئے دوسرا باپ تجویز نہیں کر سکتا۔ اسی طرح اپنے نبی ﷺ کے بعد کسی دوسرے کو نبی نہیں مان سکتا اور پھر حضور اکرم ﷺ نے اپنے بعد کسی دوسرے نبی کے پیدا نہ ہونے کے دلائل دیتے ہوئے خاتم النبیین کے معنی بھی بتا دیئے کہ ”لا نبى بعدى“ میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔

١٢

صفحہ ٤٦٣

چونکہ عقیدۂ ختم نبوت اہل اسلام کا متفقہ عقیدہ ہے۔ اس لئے اس کے مزید دلائل کی ضرورت نہیں ہے۔

منکرین ختم نبوت کے دلائل اور ہمارے جوابات

موجودہ دور میں بین الاقوامی سازش کے تحت اسلام کے خلاف کئی فتنے سرگرم عمل ہیں۔ جن میں ایک قادیانی فتنہ بھی ہے۔ یہ گروہ ختم نبوت کا سرے سے منکر ہے اور یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ امت محمدیہ میں رسول اللہ ﷺ کے بعد بھی قیامت تک ہزاروں رسول آ سکتے ہیں۔ اپنے اس خود ساختہ باطل عقیدے کو صحیح ثابت کرنے کے لئے بعض قرآنی آیات کا غلط مفہوم پیش کیا جاتا ہے۔ آئندہ صفحات میں ان آیات قرآنی کا صحیح مفہوم اسلامی عقیدہ کے مطابق بیان کیا گیا ہے اور ان اوہام اور شبہات کا ازالہ توضیحات کے ذریعہ کیا گیا ہے۔ جن کے پیدا کرنے کی اس طبقہ کی طرف سے کوشش کی جاتی ہے۔ اگر برادران اسلام ان جوابات کو اپنے ذہن میں مستحضر رکھیں تو انشاء اللہ قادیانی وسوسوں سے وہ یقیناً محفوظ رہ سکیں گے۔ ”وما علینا الا البلاغ“

اجزائے نبوت کی قادیانی دلیل نمبر: ١

”صراط الذین انعمت علیھم“

کہا جاتا ہے کہ سورۂ فاتحہ میں ان لوگوں کی راہ طلب کی جاتی ہے جن پر انعام کیا گیا ہے۔ بالفاظ دیگر نبوت کے حصول کی دعا ہے۔ کیونکہ یہی سب سے بڑا انعام ہے۔ معلوم ہوا کہ نبوت جاری ہے۔

جوابات

تھی۔ مگر اس دعا کا نزول بعد از نبوت ہوا اور آخر دم تک آنحضرت ﷺ یہ دعا مانگتے رہے۔ حالانکہ اس کی ضرورت باقی نہ رہی۔ کیونکہ اس سے پہلے ہی آپ ﷺ کو نبوت مل چکی تھی اور مقصد پورا ہو چکا تھا۔

جن کو رضائے الٰہی کا پروانہ صادر ہو چکا تھا۔ بقول قادیانی امت ایک نبی ہوا (یعنی مرزا غلام احمد قادیانی) مگر اس کی نبوت مشتبہ ہوگئی۔ بلکہ یہ خود بھی سترہ سال تک اپنی نبوت کو نہ سمجھ سکا اور انکار کرتا رہا اور پھر مرزا قادیانی کی وفات کے بعد قادیانی امت کے پانچ فرقوں میں سے چار فرقے

١٣

صفحہ ٤٦٤

مرزا قادیانی کی نبوت کا انکار کر بیٹھے۔ مذہب کی تاریخ میں مدعی نبوت کے دعویٰ میں استثناء پہلی مرتبہ ہوا ہے۔ سورۃ فاتحہ کی اس دعا میں نبوت مانگی جا رہی تھی تو خود مرزا قادیانی کی سترہ برس تک اپنی نبوت کا منکر نہ بننا پڑتا۔

کہ وہ شریعت و کتاب کی حامل ہوتی ہے۔ جیسے فرمایا: ”واذکروا نعمۃ اللہ علیکم وما انزل علیکم من الکتاب والحکمۃ (البقرہ: ٢٣١)“ ﴿یعنی اللہ کی نعمت کو یاد کرو جو تم پر ہوئی اور جو تم پر کتاب اور حکمت نازل کی گئی۔﴾ تو کیا قرآن مجید کے بعد کوئی دوسری کتاب بھی نازل ہوسکتی ہے؟

ہوئی۔ فرمایا: ”واذکر نعمتی علیک وعلیٰ والدتک (المائدہ: ١١٠)“ ﴿یعنی (اے عیسیٰ علیہ السلام) میری نعمت کو یاد کرو (جو میں نے) تجھ پر اور تیری ماں پر کی۔﴾

ایسا ہی زید بن حارثہؓ پر انعام ہوا۔ فرمایا: ”واذ تقول للذی انعم اللہ علیہ (الاحزاب: ٣٧) “ ﴿یعنی جب تو اسے جس پر اللہ نے انعام کیا کہتا تھا۔﴾ اسی طرح سب مسلمانوں پر انعام الٰہی ہوا کہ بھائی بھائی بن گئے۔ ”واذکروا نعمۃ اللہ علیکم ...... فاصبحتم بنعمتہ اخواناً (آل عمران: ١٠٢)“ ﴿پس اس سے نبوت لازم نہیں آتی۔﴾

گامزن رہنے کی تمنا ہے۔ کیونکہ جو ممکن انعامات ہیں اسی راہ پر ملیں گے۔ مثلاً ہر قسم کے انوار وبرکات اور محبت ویقینِ کامل اور تائیداتِ سماویہ اور قبولیت ومعرفتِ تامہ کے انعام جو امت محمدیہ کے لئے مقرر ہیں۔

قادیانی دلیل نمبر: ٢

”مع الذین انعم اللہ علیھم (النساء: ٦٩)“ کہا جاتا ہے کہ آیت ”انعم اللہ علیھم من النبیین“ میں کامل اطاعت کی بدولت نبی، صدیق، شہید اور صالح بننے کا ذکر ہے۔

جوابات

١٤

فأولئک مع الذین والصالحین وح اطاعت کرتا ہے تو یہ ان شہیدوں اور صالح لوگوں یہاں صالح وغیرہ کی معیت ملتی ہے رفیق ہیں تو کسی کی معیت ہے۔ مگر وہ خدا نہیں بن

الذین انعم اللہ علی اللہ نے انعام کیا۔ جیسا اولئک ھم الصدیقون ایمان لائے تو یہی لوگ شہید، صالح بننے کی بشا

”رضی اللہ عنہم ہے۔ چنانچہ فرمایا: ”ور

آنحضرت ﷺ نے فرم ہو جاتے جن کے متعلق

کے نتائج میں مرد و عورت او انثٰی وھو مؤمن یعملون (النحل یقیناً اسے ایک پاک تر اجر دیں گے۔﴾

صفحہ ٤٦٥

فأولئك مع الذين انعم الله عليهم من النبيين والصديقين والشهداء والصالحين وحسن اولئك رفيقاً (النساء: ٦٩)“ ﴿یعنی جو اللہ اور رسول ﷺ کی اطاعت کرتا ہے تو یہ ان کے ساتھ ہوں گے۔ جن پر اللہ نے انعام کیا۔ یعنی نبیوں، صدیقوں، شہیدوں اور صالح لوگوں کے ساتھ اور یہ اچھے ساتھی ہیں۔﴾

یہاں صاف ”مع الذين“ کا لفظ موجود ہے۔ یعنی اطاعت سے نبیوں اور صدیقوں وغیرہ کی معیت ملتی ہے اور آیت کے آخر پر پھر دہرا دیا کہ ”وحسن اولئك رفيقاً“ یہ کیسے اچھے رفیق ہیں تو کسی کی معیت سے وہی چیز نہیں بن جاتی۔ یوں تو اللہ تعالیٰ کی معیت مومنوں کو حاصل ہے۔ مگر وہ خدا نہیں بن جاتے۔

الذين انعم الله عليهم“ کہ جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے تو یہی وہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے انعام کیا۔ جیسا کہ دوسری جگہ بننے کے سلسلے میں فرمایا: ”والذين آمنوا بالله ورسوله اولئك هم الصديقون والشهداء عند ربهم (الحديد)“ ﴿کہ جو اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے تو یہی لوگ اپنے رب کے نزدیک صدیق اور شہید ہیں۔ غرض مومن کے صدیق، شہید، صالح بننے کی شہادت تو قرآن مجید میں موجود ہے۔ مگر نبی بننے کا کہیں ذکر نہیں۔﴾

”رضی الله عنهم ورضوا عنه“ کا خطاب ملا اور یہی رضائے الٰہی سب سے بڑی نعمت ہے۔ چنانچہ فرمایا: ”ورضوان من الله اكبر (التوبہ: ٧٢)“

آنحضرت ﷺ نے فرمایا: ”لوكان بعدى نبى لكان عمر (مشکوۃ)“ حضرت علیؓ ضرور نبی ہو جاتے جن کے متعلق فرمایا: ”انت منى بمنزلة هارون (ترمذی ج ٢ ص ٢٠٩)“

کے نتائج میں مرد و عورت کو یکساں حیثیت حاصل ہے۔ جیسے فرمایا: ”من عمل صالحاً من ذكر او انثى وهو مؤمن فلنحيينه حيوة طيبة ولنجزينهم اجرهم باحسن ماكانوا يعملون (النحل: ٩٧)“ ﴿کہ جو کوئی اچھا عمل کرتا ہے مرد ہو یا عورت اور وہ مومن ہے تو ہم یقیناً اسے ایک پاک زندگی میں زندہ رکھیں گے اور ہم یقیناً انہیں ان کے بہترین اعمال جو وہ کرتے تھے اجر دیں گے۔﴾

١٥

صفحہ ٤٦٦

کیا اس میں آنحضرت ﷺ کا کمال فیضان ثابت نہ ہوگا کہ عورت جسے کبھی نبوت حاصل نہ ہوئی وہ بھی آپؐ کے طفیل نبوت حاصل کرتی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ نبوت و رسالت اطاعت کاملہ کا نتیجہ نہیں۔

نتیجے میں کسی شخص کو مستقل شریعت عطاء کی جائے؟

انعامات میں شرکت کرنے کا ذکر ہے۔ قطع نظر اس کے کہ ان کا اپنا درجہ کیا ہوگا اور کیا نہ ہوگا۔ قرآن مجید نے مؤمنوں کے لئے ”اولئک من الصالحین (آل عمران:١١٤)“ کہہ کر صالحین کا اور ”هم الصديقون والشهداء عند ربهم (الحدید:١٩)“ کہہ کر صدیقین اور شہداء کا درجہ پیش کیا ہے۔ نبوت کا درجہ پیش نہیں کیا۔ ہاں انبیاء کے ساتھ انعامات میں شرکت ایک ادنیٰ مؤمن کو بھی ہو جاتی ہے۔ جس طرح آنحضرت ﷺ کی زندگی میں ظاہری کامیابیوں میں تمام مدارج کے مؤمنین شریک ہوئے اسی طرح روحانی نعماء میں تمام شریک ہوئے۔ اس شرکت ومعیت سے سب کا نبی، صدیق یا شہید ہونا ثابت نہیں ہوتا۔ اگر بادشاہ کے ساتھ ایک ہی میز پر وزراء، امراء اور عام معززین شریک طعام ہو جائیں تو اس سے سب کا بادشاہ، وزیر یا حاکم بن جانا لازم نہیں آتا۔

اتفاق ہے کہ نبوت موہبت سے ہے۔ اکتساب سے نہیں۔ یعنی کوئی شخص کوشش کر کے نبوت کا منصب حاصل نہیں کر سکتا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ اپنی موہبت سے جس شخص کو چاہے اور جب چاہے اس منصب پر کھڑا کرتا ہے۔ چنانچہ قرآن کریم نے کفار کے اس مطالبہ پر کہ ”لن نؤمن حتى نؤتى مثل ما اوتى رسل الله“ ہم ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ ہم کو بھی اس کا مثل نہ دیا جائے۔ جواب میں فرمایا: ”الله اعلم حيث يجعل رسالته (الانعام:١٢٤)“ کہ اللہ خوب جانتا ہے کہ کسے نبوت کے منصب پر قائم فرمائے۔

پس نبوت کا اکتساب یا کسی کی پیروی سے حاصل ہونا قرآن مجید کی تعلیم اور اس آیت کے صاف مفہوم کے خلاف ہے۔

رسول الا ليطاع باذن الله (النساء:٦٤)“ یعنی ہر ایک رسول مطاع اور امام بنانے کے

١٦

لئے بھیجا جاتا ہے، اس ”ومن يطع الله رسول نہیں ہوتا۔

اطاعت اور پیروی ک آیت میں صرف ایک استدلال کیا جاسکتا۔ جن کی اطاعت کے اطاعت ضروری ہو م کے فہم کا قصور ہے۔ اللہ ﷺ کو ہی مقرر ف ہے۔ پس آپ کے نبوت ثابت کرنا بال

بڑھ کر آخرت میں ان

جب کوئی نبی بیمار ہو نے وفات پائی آپ الله عليهم من النب آپ ﷺ کو اختیار دی حضرت وصدیقین کی معیت آپ بن چکے تھے

والصالحین ( امانت دار تاجر نبیوں

صفحہ ٤٦٧

لئے بھیجا جاتا ہے۔ اس غرض سے نہیں بھیجا جاتا کہ وہ کسی دوسرے رسول کا مطیع اور تابع ہو اور آیت ” ومن یطع اللہ والرسول “ میں مطیعوں کا ذکر ہے اور مطیع کسی بھی صورت میں نبی اور رسول نہیں ہوتا۔

اطاعت اور پیروی بھی امت کے لئے ضروری ہو جائے گی۔ حالانکہ اس امت کے لئے اس آیت میں صرف ایک رسول کی اطاعت ہی کا ذکر کیا گیا ہے۔ زیادہ سے زیادہ اس آیت سے یہ استدلال کیا جاسکتا ہے کہ امت محمدیہ کے افراد کو بطور انعام برکات اور فیوض نبوت تو مل سکتے ہیں جن کی اطاعت کے لئے امت مکلف نہیں ہے۔ لیکن منصب نبوت حاصل نہیں ہو سکتا۔ جس کی اطاعت ضروری ہو جائے۔ اگر قادیانی امت، فیوض اور منصب میں کچھ فرق نہیں کر سکتی تو یہ ان کے فہم کا قصور ہے۔ ورنہ حقیقت یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ کا مطاع صرف رسول اللہ ﷺ کو ہی مقرر فرمایا ہے اور آپؐ ہی کو تاقیامت اس امت کے لئے مکمل اسوۂ حسنہ قرار دیا ہے۔ پس آپؐ کے بعد نہ کوئی مطاع ہو سکتا ہے اور نہ اسوۂ حسنہ۔ لہٰذا اس آیت سے اجرائے نبوت ثابت کرنا باطل ہے۔

بڑھ کر آخرت میں انعامات میں معیت ہے۔

جب کوئی نبی بیمار ہوتا ہے تو اسے دنیا اور آخرت میں اختیار دیا جاتا ہے اور جس بیماری سے آپ نے وفات پائی آپ کو گلا بیٹھنے کی سخت تکلیف ہو گئی۔ سو میں نے آپ کو کہتے سنا ”مع الذین انعم اللہ علیہم من النبیین والصدیقین والشہداء والصالحین“ سو میں نے جان لیا کہ آپ ﷺ کو اختیار دیا گیا ہے۔

(بخاری ج ٢ ص ٦٦٠ ، کتاب التفسیر سورۃ النساء)

حضرت عائشہ صدیقہ نے اس حدیث سے سمجھا کہ آپ ﷺ نے آخرت میں انبیاء وصدیقین کی معیت کو اختیار کر لیا۔ معلوم ہوا کہ اس آیت میں نبی بننے کا ذکر نہیں۔ کیونکہ نبی تو آپ بن چکے تھے۔ آپ ﷺ کی تمنا آخرت کی معیت کے متعلق تھی۔

والصالحین (ترمذی ج ١ ص ٢٢٩ ، کتاب البیوع)“ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ سچا اور امانت دار تاجر نبیوں، صدیقوں، شہیدوں اور صالحین کے ساتھ ہوگا۔ یہ مراد نہیں کہ ہر سچا اور

١٧

صفحہ ٤٦٨

امانتدار تاجر نبی بن جائے گا۔ ورنہ اب تک لاکھوں تاجر نبی بن چکے ہوتے ۔

اللہ ﷺ! آپ میرے اہل وعیال سے زیادہ مجھے محبوب ہیں۔ میں آپ کو یاد کرتا رہتا ہوں۔ حتی کہ آپ کے پاس آتا ہوں اور آپ کو دیکھتا ہوں۔ اب اپنی موت اور آپ کی موت کا خیال کرتا ہوں اور سمجھتا ہوں کہ جب آپ جنت میں داخل ہوں گے۔ آپ تو نبیوں کے ساتھ بلند کئے جائیں گے اور اگر میں جنت میں داخل ہوا تو بھی آپ کو نہ دیکھ سکوں گا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت ”ومن يطع الله...... مع الذين انعم الله......“ نازل فرمائی۔ آپ ﷺ نے اسے بلایا اور یہ آیت سنائی۔

(مواہب اللدنیہ: ٢، المقصد السابع فی وجوب محبتہ ص ٩٧)

اس آیت کے تحت تفاسیر میں ایسی ہی بہت سی ملتی جلتی احادیث درج ہیں۔ جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت کے مطابق اہل ایمان کو جنت میں انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کی معیت حاصل ہوگی۔ آنحضرت ﷺ کا ہر محب صادق آپ کے ساتھ ہوگا۔ لیکن ان روایات کے بالمقابل کوئی موضوع حدیث بھی نہیں ملتی۔ جس میں آتا ہو کہ کسی نے سوال کیا ہو کہ امت میں نبوت کیسے ملے گی تو آپ نے آیت ”من يطع الله والرسول“ پڑھ دی ہو۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت سے تسلسل نبوت کا خیال پیدا کرنا شیطانی وسوسہ ہے۔

قادیانی دلیل نمبر: ٣

”يا بنى آدم اما ياتينكم رسل منكم يقصون (الاعراف: ٣٥)“ ﴿اے آدم کی اولاد اگر کبھی تمہارے پاس تمہیں میں سے رسول آئیں جو تم پر میری آیات بیان کریں تو جو کوئی تقویٰ کرے اور اصلاح کرے ان پر کوئی خوف نہیں ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔﴾

اس آیت سے معلوم ہوا کہ جب تک آدم علیہ السلام کی اولاد رہے گی نبی اور رسول آتے رہیں گے۔

جوابات

ہیں کہ ”البتہ تمہارے پاس ضرور آئیں گے (نبی) رسول۔“ تو اس سے لازم آئے گا کہ ہر زمانے میں کوئی نہ کوئی رسول ضرور موجود ہونا چاہئے۔ ورنہ لوگ کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے پاس تو کوئی رسول نہیں آیا۔

١٨

صفحہ ٤٦٩

ب لاکھوں تاجر نبی بن چکے ہوتے۔ ہے کہ ایک شخص حضور ﷺ کے پاس آیا اور کہا یا رسول مجھے محبوب ہیں۔ میں آپ کو یاد کرتا رہتا ہوں۔ حتیٰ کہ ں۔ اب اپنی موت اور آپ کی موت کا خیال کرتا ہوں ں ہوں گے۔ آپ تو نبیوں کے ساتھ بلند کئے جائیں پ کو نہ دیکھ سکوں گا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت ”ومن “ نازل فرمائی۔ آپ ﷺ نے اسے بلایا اور یہ آیت

(مواہب اللدنیہ:٢، المقصد السابع فی وجوب محبتہ، ص٩٧)

کی ہی بہت سی ملتی جلتی احادیث درج ہیں۔ جن سے عمان کو جنت میں انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین ر محب صادق آپ کے ساتھ ہوگا۔ لیکن ان روایات جس میں آتا ہو کہ کسی نے سوال کیا ہو کہ امت میں ع الله والرسول “ پڑھ دی ہو۔ جس سے معلوم پیدا کرنا شیطانی وسوسہ ہے۔

صل منكم يقصون (الاعراف:٣٥) ”اے ے رسول آئیں جو تم پر میری آیات بیان کریں تو جو ف نہیں ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔﴾ ف آدم علیہ السلام کی اولاد رہے گی نبی اور رسول

”کا اگر یہ ترجمہ کیا جائے جو عموماً قادیانی کرتے نی یا رسول “ تو اس سے لازم آئے گا کہ ہر پہنچے۔ ورنہ لوگ کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے پاس تو

بھی لازم آئے گا۔ کیونکہ اسی وعدۂ الٰہی کے مطابق تشریعی و غیر تشریعی نبی دنیا میں آتے رہے۔ بلکہ آیت کے اگلے الفاظ ”يقصون عليكم آياتی“ اور دوسری آیت کے الفاظ کہ ” والذين كذبوا بآياتنا “ بھی تائید کرتے ہیں کہ آنے والے تشریعی انبیاء ہیں۔ کیونکہ ہر نبی کا کام تلاوت آیات اور قصص آیات ہے۔ جو اس پر نازل ہوتی ہیں۔ محض پچھلے نبیوں کی تعلیمات کو پیش کرنے کا کام مجددین بھی کرتے ہیں۔

بار بار آتے رہنا کیوں نہ مراد لیا جائے۔

أرسلنا نوحاً إلى قومه (الاعراف: ٥٩)“ ”وإلى عاد أخاهم هوداً (٦٥)“ ”وإلى ثمود أخاهم صالحاً (٧٣)“ ”ولوطاً إذقال لقومه (٨٠)“ ”وإلى مدين أخاهم شعيباً (٨٥)“ ”ثم بعثنا من بعدهم موسى (١٠٣)“ اس کے بعد آنحضرت ﷺ کی بعثت کا ذکر فرمایا: ”الذين يتبعون الرسول النبي الامي الذي يجدونه مكتوباً عندهم في التوراة والانجيل يأمرهم بالمعروف وينهاهم عن المنكر ويحل لهم الطيبات ويحرم عليهم الخبائث ويضع عنهم أصرهم والاغلال التي كانت عليهم فالذين آمنوا به وعزروه ونصروه واتبعوا النور الذي أنزل معه أولئك هم المفلحون 0 قل يايهاالناس اني رسول الله اليكم جميعاً (الاعراف: ١٥٧، ١٥٨)“ ﴿وہ جو رسول نبی امی کی پیروی کرتے ہیں۔ جسے وہ اپنے پاس توراۃ و انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں۔ وہ انہیں اچھی باتوں کا حکم دیتا ہے اور بری باتوں سے روکتا ہے اور ان پر پاک چیزیں حلال کرتا ہے اور ناپاک کو حرام کرتا ہے اور ان سے ان کا بوجھ اتارتا ہے اور وہ طوق بھی اتارتا ہے جو ان پر تھے۔ سو جو اس پر ایمان لاتے ہیں اور اس کی تعظیم کرتے ہیں جو اس کے ساتھ نازل ہوا وہی فلاح پانے والے ہیں کہ اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں۔﴾

١٩

صفحہ ٤٧٠

الغرض اس آیت میں اسی قدیم وعدہ کو یاد دلا کر آنحضرت ﷺ پر ایمان کی تلقین ہے ۔ جب آنحضرت ﷺ پر ایمان لے آئے تو اس ارشاد کی تکمیل ہو گئی ۔ بعد میں کوئی رسول آئے گا یا نہیں اس کا ذکر آیت ”اما یاتینکم رسل منکم“ میں نہیں بلکہ آیت ”خاتم النبیین“ میں ہے ۔

آنحضرت ﷺ کے تمام انسانوں کی طرف مبعوث ہونے کا ذکر ہے ۔ جس سے ثابت ہے کہ آپ کی نبوت ہر قوم اور ہر زمانہ کے لئے ہے ۔

حضور علیہ السلام کی تصدیق کا وعدہ لیا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ ”أقررتم واخذتم علی ذالکم اصری (آل عمران: ٨٠)“ یعنی کیا تم اقرار کرتے ہو اور ان باتوں پر میرے عہد کا بوجھ لیتے ہو۔ یہ عہد کا بوجھ سب اقوام کے سر پر رہا۔ حضور ﷺ کی تشریف آوری پر جو ایمان لائے ان سے یہ بوجھ اتر گیا۔ (یضع عنھم اصرھم) آپ ﷺ کے بعد کسی اور نبی پر ایمان لانے کا بوجھ قرآن مجید نے ہم پر نہیں ڈالا۔ جسے کوئی اور آکر اتارے۔

جب رسول نہ آئیں تو کیا کیا جائے ۔ اس کا جواب یہی ہے کہ جب رسول نہ آئیں تو پہلے ہی رسول کی اقتداء کی جائے ۔ چودہ سو سال تک کوئی رسول نہ آیا اور امت نے آنحضرت ﷺ کی اقتداء کی تو اس آیت کے مفہوم میں کوئی فرق نہ آیا تو اب اگر چودہ ہزار سال تک کوئی رسول نہ آئے اور ہم اپنے نبی ﷺ کی اقتداء کرتے رہیں تو آیت کا منشاء پورا ہو جائے گا۔

لئے بھی تلاوت آیات و تزکیہ نفوس کے لئے کسی نبی کی ضرورت نہ ہوگی ۔ آنحضرت ﷺ ہی کا فیضان کافی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خود قادیانی امت کے نبی مرزا غلام احمد قادیانی نے بھی بالآخر اعتراف کیا ہے کہ: ”نوع انسانی کے لئے روئے زمین پر اب کوئی کتاب نہیں ۔ مگر قرآن، اور تمام آدم زادوں کے لئے اب کوئی رسول اور شفیع نہیں مگر محمد مصطفیٰ ﷺ ۔“

(کشتی نوح ص ١٣، خزائن ج ١٩ ص ١٣)

قادیانی دلیل نمبر : ٤

”اللّٰہ یصطفی من الملٰئکۃ رسلاً ومن الناس“

٢٠

صفحہ ٤٧١

اس آیت کا ترجمہ قادیانی یوں کرتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ فرشتوں اور لوگوں میں سے رسول چنتا رہے گا۔“

اس آیت میں ”یصطفی“ کا لفظ ہے جو حال اور مستقبل کے لئے آتا ہے۔ جس سے معلوم ہوا کہ آئندہ حسب ضرورت اللہ کی طرف سے رسول آتے رہیں گے اور فرشتے ان کی طرف وحی لائیں گے۔

جوابات

لغت کی کتاب میں بھیجنا نہیں لکھا۔

(البقرة:١٣٢)“ ابراہیم نے کہا اے میرے بیٹو! اللہ نے تمہارے لئے دین پسند کیا ہے۔ پھر فرمایا: ”یا مریم ان الله اصطفاک وطهرک واصطفاک على نساء العالمين (آل عمران:٤٢)“ اور ”ان الله اصطفى ادم ونوحاً وآل ابراهيم وآل عمران على العالمين (آل عمران:٣٣)“ ان آیات میں دین کو یا آل ابراہیم اور آل عمران کو یا مریم کو چننا اور مبعوث کرنا مراد نہیں، محض فضیلت عطاء کرنا مراد ہے۔ آیت ”الله یصطفی من الملئكة“ سے مراد بھی یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ پہلے بھی ان رسولوں کے مدارج میں ترقی دیتا رہا ہے اور آئندہ بھی دیتا رہے گا۔

ہے۔ جس طرح اس نے ایک وقت تک کتابیں بھیجیں اسی طرح رسول بھیجے۔ اب اگر وہ کتابیں نہ بھیجے یا رسول نہ بھیجے اور نبوت ختم کر دے تو اس پر کوئی الزام نہیں آتا۔ سیاق کلام بتاتا ہے کہ آیت میں ان لوگوں کے خیال کی تردید ہے جو انسانوں کو الوہیت کا مقام دیتے ہیں۔ فرمایا معزز ترین گروہ تو انبیاء ورسل کا ہے۔ مگر وہ بھی الوہیت کے اہل نہیں یا بطور اصول فرمایا کہ اللہ تعالیٰ انسانوں اور ملائکہ کو رسالت کا منصب تو دیتا ہے مگر خدائی نہیں دیتا۔ تم کیوں ان کی طرف خدائی منسوب کرتے ہو۔ سیاق کلام کے ساتھ مذکورہ ترجمہ پر غور کر لیا جائے تو قادیانی استدلال باطل ہو جا- گا۔ ”يا ايها الناس ضرب مثل...... ترجع الامور (الحج:٧٤،٧٣)“ اے لوگو! ایک مثال بیان کی جاتی ہے۔ اسے غور سے سنو۔ وہ جنہیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو ایک مکھی بھی پیدا نہیں کر سکتے۔ گو وہ سب اس کے لئے اکٹھے ہو جائیں اور اگر مکھی ان سے کوئی چیز چھین کر لے

٢١

صفحہ ٤٧٢

جائے تو اسے اس سے چھڑا نہیں سکتے۔ طالب اور مطلوب دونوں کمزور ہیں۔ انہوں نے اللہ کو نہیں پہچانا۔ جیسا کہ پہچاننے کا حق ہے۔ یقینا اللہ طاقتور غالب ہے۔ اللہ فرشتوں اور انسانوں میں سے رسولوں کا اصطفاء کرتا ہے۔ اللہ سمیع و بصیر ہے۔ وہ جانتا ہے جو ان کے آگے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے اور اللہ ہی کی طرف سب کام لوٹائے جائیں گے۔

استمرار تجددی کی بناء پر قادیانی شبہات کا ازالہ

قادیانی یہ بھی کہتے ہیں کہ مضارع ایک ہی وقت میں ماضی، حال اور مستقبل تینوں زمانوں کے لئے آسکتا ہے۔ اس کو استمرار تجددی کہتے ہیں۔ ”اللّٰه يصطفى من الملئكة“ میں استمرار تجددی ہوسکتا ہے۔

جوابات

ممتد ہے۔ مگر رسول مبعوث کرنے کا سلسلہ ایسے نہیں۔ ورنہ ہر منٹ اور سیکنڈ سلسلۂ ارسال رسل جاری رہنا چاہئے۔ اگر کہو، رسول تو ضرورت پر آتا ہے تو ہم کہتے ہیں جب ضرورت نہ ہو جیسا کہ تیرہ سو سال تک بقول قادیانی بھی نہ تھی تو رسولوں کا اصطفاء کس طرح پر ہوا کرتا ہے۔ کیا صفت مرسل معطل رہتی ہے۔ پھر اگر رسول ضرورت پر مبعوث ہوتا ہے تو معلوم ہوا کہ اگر ضرورت نہ ہو تو رسول کا مبعوث نہ ہونا ”اللّٰه يصطفی“ کے استمرار کو باطل نہیں کرتا۔ اگر چودہ سو سال تک رسول پیدا نہ کرنے سے استمرار باطل نہ ہوا نہ وعدۂ الٰہی میں تخلف واقع ہوا تو مزید چودہ ہزار سال بھی اگر اللہ تعالیٰ رسول نہ بھیجے تو کون ہے جو استمرار تجددی کی بناء پر اعتراض کرے۔

جائے۔

(الشوری:٣)“ کہ اللہ جو عزیز و حکیم ہے۔ اسی طرح تیری طرف اور ان کی طرف جو تجھ سے پہلے ہوئے وحی کرتا ہے۔

تمہیں حکم دیتا ہے کہ اپنی امانتیں ان کے سپرد کرو جو ان کے اہل ہیں۔

جو فرمانبردار تھے فیصلہ کرتے تھے۔ اب کیا آنحضرت ﷺ کی طرف وحی آئندہ بھی نازل ہوگی۔

٢٢

صفحہ ٤٧٤

کیا انبیاء کے متعلق آئندہ بھی احکام نازل ہوں گے؟ کیا تورات کے مطابق آئندہ بھی نئے فیصلے کیا کریں گے؟

التجددى بالقرائن اذا كان الفعل مضارعاً (قواعد اللغة العربية) “ یعنی استمرار تجددی کا اندازہ قرائن سے لگایا جاتا ہے اور بعد خاتم النبیین ارسال مرسل کے لئے تو کوئی قرینہ نہیں۔ البتہ اس کے خلاف تمام قرائن مجتمعہ قرینہ ہے۔

قابل تنسیخ ہو یا کوئی حکم نیا آنا ہو۔

دنیا کے لئے ابھی ایک نبی نہ آیا ہو۔

طاقت نہ رہے۔

قارئین پر واضح ہو چکا ہوگا کہ اجزائے نبوت کے مذکورہ تقاضوں میں سے کوئی بھی ایسا تقاضا باقی نہیں رہ گیا ہے۔ جس کی تکمیل کے لئے کسی اور نبی کی بعثت کی ضرورت ہو۔ لہٰذا ختم نبوت میں کوئی شبہ باقی نہیں رہ جاتا۔

قادیانی دلیل نمبر:٥

”ولكن الله يجتبی من رسله (آل عمران:١٧٩)“ کی یہ آیت پیش کر کے اس کا ترجمہ یہ کیا جاتا ہے۔ ”بلکہ اپنے رسولوں میں سے خدا جسے چاہے گا چنے گا۔“

(پاکٹ بک ص٤٠٨)

جوابات

٢٣

صفحہ ٤٧٤

"وماكان الله ليذر المؤمنين على ما انتم عليه حتى يميز الخبيث من الطيب وماكان الله ليطلعكم على الغيب ولكن الله يجتبى من رسله من يشاء فامنوا بالله ورسله وان تؤمنوا وتتقوا فلكم اجر عظيم (آل عمران: ١٧٨) ”اور اللہ ایسا نہیں کہ مؤمنوں کو اس حالت پر چھوڑ دے جس پر (اے گروہ کفار و منافقین) تم ہو۔ (بلکہ خدا انہیں اس حالت سے بلند کرنا چاہتا ہے) یہاں تک کہ ناپاک کو پاک سے الگ کر دے۔ (اور مؤمنین سے ہر قسم کی ایمانی اور عملی کمزوریاں دور کر دے) اور اللہ ایسا بھی نہیں کہ تم کو (اپنی ہدایات وقوانین کے) غیب پر اطلاع دے۔ لیکن اللہ اپنے رسولوں میں سے جسے چاہتا ہے (اس مرتبہ پر) فضیلت بخشتا ہے۔ (جیسا کہ محمد رسول اللہ کو چنا) سوتم اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لاؤ اور اگر تم ایمان لاؤ اور تقویٰ اختیار کرو تو تمہیں بڑا اجر ملے گا ۔﴾

گویا اس آیت میں رسولوں کے سلسلہ کو جاری رکھنے کا کوئی ذکر نہیں ہے۔

جواب میں فرمایا۔ یہ رسول کا کام ہے۔ آئندہ بعثت رسل کے متعلق نہ کسی نے سوال کیا نہ جواب دیا گیا۔

وطیب میں امتیاز نہیں ہوا۔ حالانکہ قرآن مجید فرماتا ہے ۔ ” یحل لهم الطيبات ويحرم عليهم الخبائث (الاعراف: ١٥٧)“

"جاء الحق وزهق الباطل ان الباطل كان زهوقا (بنی اسرائیل: ٨١) ”حق آگیا اور باطل ہلاک ہو گیا۔ بے شک باطل ہلاک ہونے والا ہی تھا۔ پس حق و باطل میں حضور ﷺ کے ذریعہ امتیاز قائم ہو چکا ہے۔ اس لئے اب کسی اور رسول کی ضرورت نہیں رہی۔

قادیانی دلیل نمبر: ٦

قادیانی کہتے ہیں کہ فراعنہ مصر بھی ختم نبوت کے قائل تھے۔ ان کا قول تھا ۔ ”لن يبعث الله من بعده رسولا (المؤمن: ٣٤) ”کہ خدا یوسف علیہ السلام کے بعد رسول پیدا نہیں کرے گا اور یہود کہتے تھے۔ ﴿ لن يبعث الله احداً (الجن: ٧) “کہ خدا کسی رسول کو مبعوث ہی نہیں کرے گا۔﴾

اور یہود کا اجماع ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کے بعد نبی نہیں آئے گا۔ جیسا کہ مسلم الثبوت

٢٤

صفحہ ٤٧٥

لمؤمنين على ما انتم عليه حتى يميز الخبيث عـلى الغيب ولكن الله يجتبى من رسله من وان تؤمنوا وتتقوا فلكم اجر عظيم

کہ مؤمنوں کو اس حالت پر چھوڑ دے جس پر (اے گروہ مخالفت سے بلند کرنا چاہتا ہے ) یہاں تک کہ ناپاک کو تم کی ایمانی اور عملی کمزوریاں دور کر دے ) اور اللہ ایسا غیب پر اطلاع دے۔ لیکن اللہ اپنے رسولوں میں سے ہے۔ (جیسا کہ محمد رسول اللہ کو چنا ) سو تم اللہ اور اس اور تقویٰ اختیار کرو تو تمہیں بڑا اجر ملے گا ۔ ﴿

سلسلہ کو جاری رکھنے کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ کہیں فردا فرداً غیب پر کیوں اطلاع نہیں دی جاتی ؟ مبعث رسل کے متعلق نہ کسی نے سوال کیا نہ جواب دیا

مطلب رکھتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے ذریعہ خبیث جاتا ہے۔ " يحل لهم الطيبات ويحرم عليهم

الباطل ان الباطل كان زهوقا (بنى گیا۔ بے شک باطل ہلاک ہونے والا ہی تھا۔ پس چکا ہے۔ اس لئے اب کسی اور رسول کی ضرورت

نبوت کے قائل تھے۔ ان کا قول تھا ۔ "لـــــن ٢٤) " کہ خدا یوسف علیہ السلام کے بعد رسول بعث الله احداً (الجن:٧) کہ خدا کسی کے بعد نبی نہیں آئے گا۔ جیسا کہ مسلم الثبوت

میں لکھا ہے۔ وغیرہ۔ اسی طرح مسلمان بھی فرعون اور یہود کے نقش قدم پر چل کر ختم نبوت کا عقیدہ اختیار کر چکے ہیں۔

جوابات

فرعون...... لقد جاءكم يوسف...... قلب متكبر جبار (المؤمن : ٣٥،٣٤) “ جس کا ترجمہ یہ ہے کہ : ”قوم فرعون میں سے ایک مؤمن مرد نے جو اپنا ایمان چھپاتا تھا کہا کہ کیا تم ایسے شخص کو قتل کرتے ہو جو کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے اور اس سے پہلے تمہارے پاس یوسف کھلے دلائل لے کر آیا۔ مگر تم اس کے بارے میں جو تمہارے پاس لایا شک میں ہی رہے۔ یہاں تک کہ وہ وفات پا گیا۔ تو تم نے کہا اللہ اس کے بعد کوئی رسول نہیں بھیجے گا۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ اسے گمراہی میں چھوڑتا ہے جو حد سے گزرنے والا ، شک کرنے والا ہے۔ جو اللہ کی آیات کے بارے میں جھگڑا کرتے ہیں۔ بغیر کسی دلیل کے جو ان کے پاس آئی ہو۔ یہ اللہ کے نزدیک اور ان کے نزدیک جو ایمان لائے۔ بیزاری کی بات ہے۔ اسی طرح اللہ ہر متکبر، سرکش کے دل پر مہر لگاتا ہے۔“

یہ آیات تو بتاتی ہیں کہ رجل مؤمن نے کہا کہ:

ہے جو مؤمنین یوسف علیہ السلام کی صفات نہیں ہوسکتیں۔

جانتا۔ اس کو اور اس کی قوم کو توحید، رسالت یوسف اور ختم نبوت کا قائل قرار دینا قرآن اور تاریخ سے ناواقفیت کی انتہاء ہے۔

تھے اور ان کا قول بطور استہزاء تھا۔ جیسا کہ فرعون نے موسیٰ علیہ السلام کے متعلق کہا۔ ”اے وہ شخص جس پر ذکر اتارا گیا ہے تو تو مجنون ہے۔“ یا کہا : " ان رسولكم الذي ارسل اليكم لمجنون (الشعراء:٢٧) “کہ تمہارا رسول جو تمہاری طرف بھیجا گیا ہے مجنون ہے۔

٢٥

صفحہ ٤٧٦

یا یہود نے کہا:”انا قتلنا المسيح عيسى ابن مريم رسول الله (النساء:١٥٧) “کہ ہم نے مسیح ابن مریم رسول کو قتل کر دیا ہے۔ حالانکہ حق یہ ہے کہ نہ فرعون حضرت موسیٰ علیہ السلام کو رسول مانتا تھا نہ ان کی وحی کو ”الذكر“ سمجھتا تھا۔ نہ یہود حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو رسول یقین کرتے تھے۔ اس کے باوجود انہوں نے یہ الفاظ استعمال کئے تو یہ بطور استہزاء تھا نہ بطور صداقت۔ یہی تمام مفسرین کا مذہب ہے۔ قادیانیوں کو کوئی تاریخی ثبوت دینا چاہیئے کہ فرعون اور اس کی قوم حضرت یوسف علیہ السلام کی رسالت کی قائل تھی۔

(الجن:٧) “کہنے والی جنوں کی ایک مشرک قوم تھی۔ جیسا کہ ان کے قول ”ولن نشرك بربنا احدا (الجن :٢)“ سے ظاہر ہے کہ ہم اب آنحضرت ﷺ پر ایمان کے بعد شرک نہ کریں گے۔ وہ کہتے ہیں کہ ان (انسانوں) نے بھی خیال کیا۔ جیسا کہ تم نے خیال کیا کہ خدا کسی کو (بعد از موت) مبعوث نہ کرے گا۔ یہ لوگ آخرت کے منکر تھے۔ یہود کا ایک فرقہ بھی آخرت کا منکر تھا۔ یہود تو موسیٰ علیہ السلام کے بعد ”مسیح“ اور ”احمد“ کی آمد کے منتظر تھے۔ گویا یہود کا اجماع نبوت جاری ہونے پر تھا یا کہ ختم ہونے پر؟ امام ابن ہشام بتاتے ہیں کہ یہود مثل موسیٰ نبی اور وہ نبی کی بعثت کے منتظر تھے اور کہتے تھے کہ جب وہ آئے گا تو یہود مشرکین عرب پر غالب آجائیں گے۔ جیسا کہ آیت ’وكانوا من قبل يستفتحون على الذين كفروا (البقرہ:٨٩)“ سے بھی ظاہر ہے۔ پس یہ آیت بتاتی ہے کہ یہود انبیاء کی آمد کے قائل تھے۔

قوم نے بھی از خود یہ عقیدہ تراش لیا ہو تو اس سے اسلام کے عقیدہ ختم نبوت پر کوئی حرف نہیں آتا۔

قادیانی دلیل نمبر:٧

”لاينال عهدی الظالمین“

”واذ ابتلى ابراهيم ربه بكلمت فاتمهن قال انى جاعلك للناس اماما قال ومن ذريتى قال لا ينال عهدى الظالمين (البقرہ:١٢٤) ”جب اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کو چند باتوں میں آزمایا اور ابراہیم علیہ السلام نے ان کو پورا کر دکھایا تو اللہ تعالیٰ نے کہا میں تجھے لوگوں کا امام بنانے والا ہوں۔ اس نے کہا اور میری ذریت میں سے بھی۔ اللہ تعالیٰ نے کہا میرا عہد ظالموں کو ہرگز نہیں پہنچے گا ۔ ﴾

٢٦

صفحہ ٤٧٧

اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ صرف ظالم قوم ہی نبوت سے محروم رہتی ہے۔

جوابات

ہے۔ ”ان الشرك لظلم عظیم (لقمان:١٣)“ انبیاء تو اسی لئے آتے ہیں کہ ظالموں کا ظلم دور ہو جائے۔ عرب سے بڑھ کر کون سی قوم ظالم تھی۔ اس کی ہدایت کے لئے آنحضرت ﷺ تشریف لائے۔

اور اگر کہو کہ وہ جسے نبوت نہ ملے ظالم ہوتا ہے تو صحابہ کرامؓ اور تمام امت محمدیہ اب تک ظالم ٹھہرتی ہے اور مرزا غلام احمد کی وفات کے بعد تمام قادیانی امت بھی ظالم ٹھہرتی ہے۔

امام بنائے جاتے ہیں اور ابراہیم علیہ السلام اس امامت کے منصب سے پہلے بھی نبی بن چکے تھے۔ یہ امامت کس نوعیت کی تھی۔ لکھا ہے کہ: ”خدا نے ابراہیم علیہ السلام سے کہا تیری نسل اپنے دشمنوں کے دروازے پر قابض ہوگی اور تیری نسل سے دنیا کی ساری قومیں برکت پائیں گی۔“

(پیدائش ٢٢/١٨:١٧)

پھر فرمایا: ”میں تجھ کو اور تیرے بعد تیری نسل کو کنعان کا تمام ملک جس میں تو پردیسی ہے دیتا ہوں۔“

(پیدائش ٨/١٧:٧)

قادیانی دلیل نمبر:٨

”ماكنا معذبين حتى نبعث رسولاً (بنی اسرائیل:١٥)“ یہ آیت ظاہر کرتی ہے کہ خدا جب تک رسول مبعوث نہ کرے کسی کو عذاب نہیں دیتا۔ اگر عذاب ہمیشہ نازل ہوتے رہیں گے تو رسول بھی آتے رہیں گے۔

جوابات

باعث آئے؟

٢٧

صفحہ ٤٧٨

تھے تو آئندہ تیرہ ہزار سال تک جو عذاب آئیں گے وہ کیوں نہ آپ کی تکذیب کے نتیجہ میں قرار دیئے جائیں۔

آنحضرتﷺ کا زمانہ ختم ہو گیا۔

آپﷺ کی ہی نبوت کا زمانہ ہے اور آپ کی ہی تکذیب کے باعث عذاب آتے رہیں گے۔ مرزا قادیانی بھی تو پون صدی پیشتر فوت ہو چکے ہیں۔ اگر موجودہ عذاب فوت شدہ نبی کے باعث آسکتے ہیں تو کیوں نہ کہا جائے کہ آنحضرتﷺ کی تکذیب کے باعث یہ عذاب آرہے ہیں۔

قادیانی دلیل نمبر : ٩

”فلا یظھر علیٰ غیبہ احداً“

قادیانی اس آیت کو پیش کر کے کہتے ہیں کہ چونکہ مرزا قادیانی پر اظہار غیب ہوا۔ یعنی اس کو پیش گوئیاں دی گئیں۔ لہٰذا وہ نبی ہیں اور نبوت جاری ہے۔

جوابات

علیٰ غیبہ احداً الا من ارتضیٰ من رسول“ یعنی کامل طور پر غیب کا بیان کرنا صرف رسولوں کا کام ہے۔ دوسروں کو یہ مرتبہ عطاء نہیں ہوتا۔ رسولوں سے مراد وہ لوگ ہیں جو خدا تعالیٰ کی طرف سے بھیجے جاتے ہیں۔ خواہ وہ نبی ہوں یا رسول یا محدث اور مجدد ہوں۔

(ایام الصلح ص ٧١، خزائن ج ١٤ ص ٣١٩)

اسی طرح ایک اور جگہ لکھتے ہیں : ”فلا یظھر علیٰ غیبہ احداً الا من ارتضیٰ من رسول “ رسول کا لفظ عام ہے۔ جس میں رسول اور نبی اور محدث داخل ہیں...... میں خلیفۃ اللہ اور مامور من اللہ اور مجدد وقت اور مسیح موعود ہوں۔

(آئینہ کمالات اسلام ص ٣٢٢، خزائن ج ٥ ص ٣٢٢)

٢٨

صفحہ ٤٧٩

پھر ایک جگہ مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ: ”ایسے ہی آیت الیوم اکملت لکم دینکم اور آیت ولکن رسول الله وخاتم النبیین میں صریح نبوت کو آنحضرت ﷺ پر ختم کر چکا ہے۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ٥١، خزائن ج ١٧ ص ١٧٤)

مذکورہ حوالہ جات اور ” لم یبق من النبوۃ الا المبشرات “ جیسی احادیث کی روشنی میں زیر بحث آیت کا صرف یہ مفہوم ہے کہ ”علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل “ کے مطابق امت محمدیہ میں بڑے بڑے بزرگ اولیاء اللہ، مجدد و محدث، غوث، قطب و ابدال پیدا ہوتے رہیں گے جو اللہ تعالیٰ سے ہم کلامی کا شرف پائیں گے۔ یہ لوگ اگرچہ نبی اور رسول نہ ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ ان سے وہی کام لے گا جو انبیاء سے لیا کرتا تھا۔ جن میں سے ایک اظہار غیب بھی ہے۔

پیش گوئیوں کا نہ مطلب سمجھ سکے نہ مصداق۔ کاش قادیانی حضرات، مرزا قادیانی کی ان پیش گوئیوں پر ہی سرسری نظر ڈال لیں۔ جن کو انہوں نے اپنے صدق و کذب کا معیار قرار دیا ہے تو ان کے دعویٰ کی حقیقت بآسانی سمجھ میں آسکتی ہے۔

محسوسات سے غائب ہو ”غیب“ ہے۔ ذرا ” یؤمنون بالغیب “ پر غور کیا جائے۔ حضرت نوح علیہ السلام کے واقعات کا ذکر کر کے فرمایا: ” تلک من انباء الغیب نوحیہا الیک ما کنت تعلمہا انت ولا قومک من قبل ہذا (ہود: ٤٩) “ کہ یہ غیب کی خبریں ہیں۔ جن سے تو اور تیری قوم دونوں بے خبر تھے۔

کائنات کے متعلق علم کس قدر ہی کیوں نہ بڑھ جائے۔ ایک حصہ غیب کا ضرور رہتا ہے۔ اسی لئے فرمایا: ”عالم الغیب والشہادۃ (الحشر: ٢٢) “ خدا غیب کو بھی جانتا ہے اور موجود کو بھی۔ اس کے لئے کوئی چیز غائب نہیں۔ البتہ تمہارے لئے ایک حصہ غیب کا ہے اور دوسرا موجود کا۔

ہم غیب کے ایک حصہ کا علم حاصل کرتے چلے جاتے ہیں اور وہ ہمارے لئے موجود بنتا چلا جاتا ہے۔ مگر غیب کی بعض قسمیں ایسی ہیں۔ جن پر ہم اپنی کوشش سے غالب نہیں آسکتے۔ مثلاً خدا کی ذات و صفات، احکام و شرائع اور مابعد الموت۔ یہ صرف نبی کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بتایا

٢٩

صفحہ ٤٨٠

جاتا ہے اور اسی کے توسط سے انسانوں کو ملتا ہے۔ پیش گوئیوں والا غیب تو اولیاء اور محدثین کو بھی حاصل ہوتا ہے۔ مگر حقیقی غیب صرف انبیاء سے مخصوص ہے۔ اس قسم کا ہر غیب رسول اللہ ﷺ کے ذریعہ امت کو دیا جا چکا ہے۔ اس لئے مزید کسی نبوت کی گنجائش نہیں۔

قادیانی دلیل نمبر: ١٠

”يلقى الروح من امره على من يشاء (المؤمن: ١٥) “ ﴿اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے۔ اپنی روح ڈالتا ہے۔﴾ یعنی منصب نبوت اس کو بخشا ہے۔ لہٰذا ثابت ہوا کہ آئندہ بھی نبی آتے رہیں گے۔

جوابات

جیسا کہ حدیث نبوی میں آیا ہے کہ : ”لهم البشرى فى الحيوة الدنيا “ یعنی مومنوں کے لئے مبشرات باقی رہ گئے ہیں۔ یا فرمایا: ”لم يبق من النبوة الا المبشرات“ کہ خدا کا کلام مبشرات کے رنگ میں امت محمدیہ کے لئے باقی رکھا گیا ہے۔ چنانچہ اسی کے تحت گزشتہ چودہ سو سال میں ہزارہا اولیائے امت اور علماء حق کو انوار نبوت ملے اور آثار نبوت بھی ان کے اندر موجزن تھے۔ مگر وہ نبی نہ تھے۔

جیسا کہ حدیث صحیح ”رجال يكلمون من غير ان يكونوا انبیاء“ سے ظاہر ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں سے کلام کرنا اجرائے نبوت کی دلیل نہیں بن سکتی۔

قادیانی دلیل نمبر: ١١

”يتلوه شاهد“

اس آیت کی تفسیر میں قادیانی کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کی صداقت کو ثابت کرنے کے لئے ایک نبی شاہد کی ضرورت ہے۔ چنانچہ لکھتے ہیں ۔ ”اس کی صداقت کو ثابت کرنے کے لئے جب اتنا عرصہ گزر جائے گا کہ پہلے دلائل قصوں کے رنگ میں رہ جائیں تو خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک نیا گواہ آ جائے گا ...... اس جگہ خصوصیت کے ساتھ مسیح موعود (مرزا غلام احمد) کا ذکر ہے۔“

(تفسیر کبیر ج ٦ ص٢٠٢)

٣٠

صفحہ ٤٨١

جوابات

بنایا ہوا قاعدہ ہے۔ جس پر کوئی نص قرآنی یا حدیث دلالت نہیں کرتی اور اگر یہ صحیح ہے تو اس سے لازم آتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام جب آسمان سے نازل ہوں گے تو پھر ان کے بعد ان کی تصدیق کے لئے کوئی اور نبی آئے۔ کیونکہ کیا معلوم کہ وہ درحقیقت عیسیٰ ہے یا نہیں۔ پھر اس نبی کی تصدیق کے لئے کوئی اور نبی آنا چاہئے۔ پس اس سے تسلسل لازم آئے گا اور وہ باطل ہے۔

مانا جائے۔ اس وقت تک آنحضرت ﷺ کی نبوت مشکوک و مشتبہ ہے اور مرزا قادیانی کی گواہی کی محتاج ہے اور اگر فرض کریں کہ مرزا قادیانی نہ آتے اور گواہی نہ دیتے تو آنحضرت ﷺ کی نبوت ہی شکی اور فرضی رہتی۔ ”نعوذ باللہ من هذه الخرافات“ یہ کس قدر بیہودہ خیال ہے اور ہزار افسوس ہے۔ ان قادیانیوں کے ایمان پر جن کے نزدیک ہمارے نبی ﷺ کی نبوت ثابت نہیں ہوئی۔ بلکہ جب مرزا غلام احمد قادیانی نبی بن کر گواہی دی تو ثابت ہوئی۔

کتاب یا روشنی ہی نہیں ہوتی۔ بلکہ اس کے لئے ایک کامل نمونہ بھی موجود ہے جو اس بینہ پر عمل کر کے اُس کے رستہ کو بالکل صاف کر دیتا ہے اور اس میں بھی اس کتاب پر عمل کرنے کی طاقت پیدا کر دیتا ہے۔ اسی طرح کتابوں کا نازل کرنا اور انبیاء کو ان کتابوں کی عملی تعلیم کا نمونہ بنانا یہ اللہ تعالیٰ کی قدیم سے سنت رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آگے جن انبیاء کا ذکر آتا ہے وہ سب اپنی امتوں سے یہی خطاب کرتے ہیں کہ وہ اپنے رب کی طرف سے ایک بینہ پر ہیں۔ کیونکہ ہر نبی کی وحی اس کے حق میں بینہ ہی ہے۔ مگر اس میں ایک دوسری غرض یہ بھی ہے کہ یہ بینہ یعنی قرآن ایسی صاف ہے کہ اس کی شہادت حضرت موسیٰ علیہ السلام کی کتاب اور پہلی کتابوں میں بھی ہے۔

”أفمن“ سے مراد قرآن مجید لیتے ہیں۔ حالانکہ کوئی وجہ نہیں کہ ”من“ سے مراد قرآن لیا جائے۔ جو ایک غیر ذی حیات چیز ہے۔ من صرف ذوی العقول کے لئے آتا ہے۔ آگے آتا ہے: ”اولئک یؤمنون بہ“ کہ وہی اس پر ایمان لاتے ہیں۔ ”اولئک“ کی مشار الیہ ایک جماعت چاہئے جو بینہ پر ہے۔ مرزا محمود کی تاویل سے معنی یوں بنے گا کہ ”قرآن قرآن پر ایمان لائیں گے۔“ اسی لئے وہ اپنی تفسیر میں یہ واضح نہ کر سکے کہ اولئک کا مشار الیہ کون ہے۔

٣١

صفحہ ٤٨٢

قادیانی دلیل نمبر : ١٢

”ولا تنکحوا ازواجہ من بعدہ ابداً (احزاب:٥٣)“ ﴿اور نہ نکاح کرو اس نبی کی بیویوں سے اس کی وفات کے بعد کبھی ۔﴾

قادیانیوں کی طرف سے سب سے زیادہ مضحکہ خیز استدلال اس آیت کی بناء پر کیا گیا ہے کہ: ”اب اگر آنحضرت ﷺ کے بعد سلسلۂ نبوت ختم ہو گیا ہے تو کوئی نبی نہ آئے گا۔ نہ اس کی وفات کے بعد اس کی بیویاں زندہ رہیں گی اور نہ ان کے نکاح کا سوال ہی زیر بحث آئے گا۔ اب اگر اس آیت کو قرآن سے نکال دیا جائے تو کون سا نقص لازم آتا ہے...... ماننا پڑتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد سلسلۂ نبوت جاری ہے اور قیامت تک انبیاء کی ازواج مطہرات ان کی وفات کے بعد بیوگی ہی کی حالت میں رہیں گی۔ کیونکہ رسول اللہ کا لفظ نکرہ ہے۔ جس میں ہر رسل داخل ہے۔“

جوابات

کئی بار ذکر آچکا ہے۔ جیسے ”ولقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ (احزاب:٢١)“ ”کہ تمہارے لئے رسول اللہ میں اسوۂ حسنہ ہے۔ ”قالوا ہذا ما وعدنا اللہ ورسولہ (احزاب:٢٢)“ ”کہ مؤمنوں نے کہا یہی ہے جس کا اللہ نے اور اس کے رسول نے وعدہ دیا تھا ۔ ”ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین (احزاب:٤٠)“ ”مگر اللہ کا رسول اور آخری نبی ہے۔ ”ان کنتن تردن اللہ رسولہ (احزاب:٢٩)“ ”اگر تم اللہ اور اس کے رسول کو چاہتی ہو۔ اور وہی رسول اللہ مراد ہے جس کے متعلق کتب حدیث میں ہزار ہا مرتبہ یہ الفاظ آتے ہیں۔ ”قال رسول اللہ ﷺ“

یہ کہہ دے کہ:

قرآن سے نکال دیئے جانے کے قابل ہے۔ کیونکہ اب کوئی اس طرح پیدا نہیں ہوتا اور نہ ہوگا۔

٣٢

صفحہ ٤٨٣

آئندہ رسول بھی منہ بولے بیٹے کی مطلقہ سے شادی کیا کریں گے۔ ورنہ اس آیت کو نکال دیا جائے۔

معاشرت میں ان کی ازواج سے شادی کرنا فضیلت میں شمار ہوتا تھا اور قرآن نے سورۂ نور میں بیواؤں سے نکاح کا حکم دیا ہے۔ قرآن نے صریح حکم دیا کہ حضور ﷺ کی ازواج سے نکاح نہ کیا جائے۔ وہ آخری امہات المؤمنین ہیں اور آپؐ بوجہ خاتم النبیین ہونے کے آخری ”باپ“ ہیں۔ اگر یہ حکم مذکورہ نہ ہوتا تو اس سے امت میں فتنہ فساد پیدا ہوتا اور ازواج مطہرات کی پوزیشن بجائے امت کی معلمات دین ہونے کے معمولی بھی نہ رہتی۔ اس لئے اس تاریخی حکم کا تاقیامت باقی رکھنا ضروری تھا۔ تاکہ معلوم ہو کہ یہ خواتین مقدسہ آخری مائیں ہیں اور حضور اقدس ﷺ آخری باپ ہیں۔

قادیانی دلیل نمبر : ١٣

”يا ايها الرسل كلوا من الطيبات واعملوا صالحاً (المؤمنون: ٥١)“ ﴿یہ آئندہ آنے والے رسولوں کو پاک چیزیں کھانے کا حکم ہے۔﴾

جوابات

ہارون اور عیسیٰ علیہم السلام۔ صرف ”قلنا“ محذوف ہے اور یہ قرآن مجید کا عام انداز بیان ہے۔ جیسے فرمایا: (١)”جاءت كل نفس معها سائق وشهيد لقد كنت فى غفلة من هذا (ق: ٢١) ”شہید کے بعد قلنا محذوف ہے۔ (٢) ”يعملون له ما يشاء من محاريب وتماثيل وجفان كالجواب وقدور راسيات اعملوا آل داود شكرا (السبا: ١٣) ”راسیات کے بعد قلنا محذوف ہے یعنی ہم نے کہا۔ (٣)” فغفرنا له ذالك وان له عندنا لزلفى وحسن مآب يا داود انا جعلناك خليفة (ص: ٢٦) ”مآب کے بعد قلنا محذوف ہے۔ (٤)”ولقد آتينا داود فضلاً يا جبال اوبى معه والطير (السباء: ١٠) ”فضلا کے بعد قلنا محذوف ہے۔

اصحاب شامل ہیں۔

٣٣

صفحہ ٤٨٤

٣....... مرزا قادیانی تسلیم کرتے ہیں کہ: ”کلام اللہ میں رسل کا لفظ واحد پر بھی اطلاق پاتا ہے اور غیر رسول پر بھی اطلاق پاتا ہے۔“

(شہادۃ القرآن ص ٤٣، خزائن ج ٦ ص ٣١٩)

پس ثابت ہوا کہ: ”یا ایھا الرسل کلوا“ میں اوّل تو ان رسولوں کا ذکر ہے جو اس آیت سے پہلے مذکور ہیں۔ لیکن اگر بالفرض آئندہ کے لئے بھی سمجھا جائے تو اس میں تمام صحابہ اور اس امت کے اولیاء مجددین شامل ہیں اور علمائے حق بھی جو بنی اسرائیل انبیاء کے مثیل ہیں۔

ہم آخر میں قادیانیوں پر اتمام حجت قائم کرنے کے لئے خود مرزا غلام احمد قادیانی کی ایک ایسی تحریر پیش کرتے ہیں جس میں واضح طور پر تسلیم کیا گیا ہے کہ امت محمدیہ کی اصلاح و تربیت کے لئے کوئی نبی مبعوث نہیں ہوگا۔ بلکہ انبیاء کی بجائے مجدد اور روحانی خلیفے یعنی وارثان محمد ﷺ آتے رہیں گے۔

چنانچہ لکھتے ہیں: ”قرآن نے اس امت میں خلیفوں کے پیدا کرنے کا وعدہ کیا ہے...... ایک زمانہ گزرنے کے بعد جب پاک تعلیم پر خیالات فاسدہ کا ایک غبار پڑ جاتا ہے اور حق خالص کا چہرہ چھپ جاتا ہے تب اس خوبصورت چہرے کو دکھلانے کے لئے مجدد اور محدث اور روحانی خلیفے آتے ہیں..... مجددوں اور روحانی خلیفوں کی اس امت میں ایسے ہی طور سے ضرورت ہے جیسا کہ قدیم سے انبیاء کی ضرورت پیش آتی رہی ہے۔“

(شہادۃ القرآن ص ٤٣، خزائن ج ٦ ص ٣٢٠)

مگر افسوس کہ مرزا قادیانی نے بہت جلد قرآن کی اس تعلیم کو بھلا دیا اور خود نبوت کے مدعی بن بیٹھے۔ حالانکہ انہوں نے نہ اپنی نبوت کو قرآن سے ثابت کیا اور نہ اجزائے نبوت کی آیات اپنی کسی کتاب میں درج کرنے کی ہمت کی۔ آج ان کی امت مرزا قادیانی کی وفات کے بعد قرآن کریم کی بیشتر آیات کا غلط مفہوم پیش کر کے اجزائے نبوت ثابت کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس لحاظ سے ایک عام قادیانی اپنے نبی سے زیادہ چالاک ہے کہ اسے قرآن میں تسلسل نبوت کی آیات نظر آرہی ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں ہدایت نصیب کرے اور امت محمدیہ کو ان کے شر سے محفوظ رکھے۔ آمین۔ ”وما علینا الا البلاغ“

ائمہ و اکابر اسلام کے فیصلے

حضرت امام ابو حنیفہؒ (٨٠ھ تا ١٥٠ھ) کے زمانے میں ایک شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا اور کہا: ”مجھے موقع دو کہ میں اپنی نبوت کی نشانیاں اور دلائل پیش کروں۔“

اس پر امام اعظمؒ نے فرمایا: ”جو شخص کسی مدعی نبوت سے کوئی نشانی اور دلیل طلب کرے

٣٤

صفحہ ٤٨٥

گا۔ وہ بھی کافر ہو جائے گا۔ ...... کیونکہ نبی کریم ﷺ فرما چکے ہیں کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔“

علامہ ابن جریر طبری (٢٢٤ھ تا ٣١٠ھ) اپنی مشہور تفسیر قرآن میں فرماتے ہیں:

”رسول کریم ﷺ نے نبوت کو ختم کر دیا۔ اس پر مہر لگا دی۔ اب قیامت تک یہ دروازہ کسی کے لئے نہیں کھلے گا۔“

امام طحاوی (٢٣٩ تا ٣٢١) اپنی کتاب عقیدۃ سلفیہ میں بیان کرتے ہیں: ”محمد ﷺ اللہ کے برگزیدہ بندے، چیدہ نبی اور پسندیدہ رسول ہیں اور وہ خاتم الانبیاء، متقیوں کے امام، سید المرسلین اور حبیب رب العالمین ہیں اور ان کے بعد نبوت کا ہر دعویٰ گمراہی اور خواہش نفس کی بندگی ہے۔“

علامہ ابن حزم اندلسی (٣٨٤ تا ٤٥٦) لکھتے ہیں: ”یقیناً وحی کا سلسلہ نبی ﷺ کی وفات کے بعد منقطع ہو چکا ہے۔ دلیل اس کی یہ ہے کہ وحی صرف ایک نبی کی طرف آتی ہے اور اللہ تعالیٰ فرما چکا ہے کہ محمد نہیں ہیں تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ، مگر وہ اللہ کے رسول اور نبیوں کے ختم کرنے والے ہیں۔“

امام شعرانی (٨٩٨ تا ٩٧٣) فرماتے ہیں: ”نبی کریم ﷺ کے بعد کبھی نہ کوئی نبی آئے گا نہ رسول اور اس میں کسی قسم کی تاویل کی کوئی گنجائش نہیں۔“

محی السنہ امام بغوی (وفات ٥١٦ھ) اپنی تفسیر معالم التنزیل میں لکھتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کے ذریعہ سے نبوت کو ختم کیا۔ پس آپ ﷺ انبیاء کے خاتم ہیں اور حضرت ابن عباسؓ کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فیصلہ فرما دیا ہے کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔“

علامہ زمخشری (٤٦٧ تا ٥٣٨) تفسیر کشاف میں لکھتے ہیں: ”اگر تم کہو کہ نبی ﷺ آخری نبی کیسے ہوئے۔ جب کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آخری زمانہ میں نازل ہوں گے تو میں کہوں گا کہ آپ ﷺ کا آخری نبی ہونا اس معنی میں ہے کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی شخص نبی نہیں بنایا جائے گا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان لوگوں میں سے ہیں جو آپ ﷺ سے پہلے نبی بنائے جا چکے تھے اور جب وہ نازل ہوں گے تو شریعت محمدیہ کے پیرو اور آپ ﷺ کے قبلے کی طرف نماز پڑھنے والے ایک امتی کی حیثیت سے نازل ہوں گے۔ گویا کہ وہ آپ ﷺ ہی کی امت کے ایک فرد ہیں۔“

قاضی عیاض (وفات ٥٤٤) لکھتے ہیں: ”جو شخص خود اپنے حق میں نبوت کا دعویٰ کرے یا اس بات کو جائز رکھے کہ آدمی اپنی کوشش سے نبی بن سکتا ہے اور دل کی صفائی کے ذریعہ سے

٣٥

صفحہ ٤٨٦

مرتبہ نبوت کو پہنچ سکتا ہے۔ جیسا کہ بعض فلسفی اور غالی صوفی کہتے ہیں اور اسی طرح جو شخص نبوت کا دعویٰ کرے کہ اس پر وحی آتی ہے۔ ایسے سب لوگ کافر اور نبی ﷺ کے جھٹلانے والے ہیں۔ کیونکہ آپ ﷺ نے خبر دی ہے کہ آپ ﷺ خاتم النبیین ہیں۔ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں اور آپ ﷺ نے اللہ کی طرف سے یہ خبر دی ہے کہ آپ ﷺ نبوت کے ختم کرنے والے ہیں اور تمام انسانوں کی طرف آپ ﷺ کو بھیجا گیا ہے اور تمام امت کی اس بات پر ایک رائے ہے کہ یہ کلام ظاہری مفہوم کے مطابق ہے ...... اس کے کوئی ڈھکے چھپے معنی اور مطالب نہیں ہیں۔ نہ کسی تاویل کی گنجائش ہے ...... لہٰذا ان تمام گروہوں کے کافر ہونے میں قطعاً کوئی شک نہیں۔‘‘

علامہ شہرستانی (وفات ٥٤٨) اپنی مشہور کتاب الملل والنحل میں لکھتے ہیں: ”اور اسی طرح جو کہے کہ محمد ﷺ کے بعد کوئی نبی پیدا ہونے والا ہے تو اس کے کافر ہونے میں دو آدمیوں کے درمیان کوئی اختلاف نہیں۔‘‘

امام رازیؒ (٦٠٦) اپنی تفسیر کبیر میں آیت خاتم النبیین کی تشریح کرتے ہیں: ”جس نبی کے بعد کوئی دوسرا نبی ہو اور وہ اپنی تعلیم میں کوئی کسر چھوڑ جائے تو اس کے بعد آنے والا نبی اس کسر کو پورا کر سکتا ہے۔ لیکن جس کے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں ہوگا وہ اپنی امت پر زیادہ شفیق ہوتا ہے۔ کیونکہ اس کی مثال اس باپ کی مانند ہوتی ہے جو جانتا ہے کہ اس کی اولاد کا کوئی ولی اور سرپرست اس کے بعد نہیں۔‘‘

علامہ بیضاوی (وفات ٦٨٥ھ) اپنی تفسیر انوار التنزیل میں لکھتے ہیں: ”یعنی آنحضرت ﷺ انبیاء میں سب سے آخری نبی ہیں۔ حضور ﷺ نے انبیاء کا سلسلہ ختم کر دیا۔ جس سے انبیاء کے سلسلے پر مہر کر دی گئی اور عیسیٰ علیہ السلام کا آپ ﷺ کے بعد نازل ہونے سے عقیدۂ ختم نبوت میں کوئی فرق واقع نہیں ہوتا۔ کیونکہ جب وہ نازل ہوں گے تو حضور ﷺ ہی کے دین پر (امتی) ہوں گے۔‘‘

علامہ حافظ الدین نسفی (وفات ٧١٠) اپنی تفسیر مدارک التنزیل میں لکھتے ہیں: ”آپ ﷺ خاتم النبیین ہیں۔ یعنی نبیوں میں سب سے آخری، آپ ﷺ کے بعد کوئی شخص نبی نہیں بنایا جائے گا۔ رہے عیسیٰ علیہ السلام تو وہ ان انبیاء میں سے ہیں جو آپ ﷺ سے پہلے نبی بنائے جا چکے ہیں اور جب وہ نازل ہوں گے تو اس طرح نازل ہوں گے گویا وہ آپ ﷺ کے افراد امت میں سے ہیں۔‘‘

علامہ علاؤ الدین بغدادی (وفات ٧٢٥ھ) اپنی تفسیر خازن میں لکھتے ہیں: ”وخاتم

٣٦

صفحہ ٤٨٧

النبیین یعنی اللہ نے آپ ﷺ پر نبوت ختم کر دی۔ اب نہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی آئے گا نہ آپ ﷺ کے ساتھ کوئی اس میں شریک ہوگا۔ ”وکان اللہ بکل شیء علیما“ یعنی یہ بات اللہ کے علم میں ہے کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں۔“

علامہ ابن کثیر (وفات ٧٧٤ھ) اپنی مشہور تفسیر میں لکھتے ہیں : ”نبی ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں۔ جب آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں تو رسول کا درجہ تو بلند ہے۔ رسول کا منصب خاص ہے۔ نبی کا منصب عام۔ ہر نبی رسول نہیں ہوتا۔ حضور ﷺ کے بعد جو شخص بھی اس مقام (نبوت) کا دعویٰ کرے وہ جھوٹا، مفتری، دجال، گمراہ اور گمراہ کرنے والا ہے۔ چاہے وہ کیسے ہی شعبدے، کرشمے، جادو اور طلسم بنا کر لے آئے...... یہی حیثیت ہر اس شخص کی ہے جو قیامت تک اس منصب کا دعویٰ کرے۔“

علامہ ابن نجیم (وفات ٩٧٠ھ) لکھتے ہیں: ”اگر آدمی یہ نہ سمجھے کہ محمد ﷺ آخری نبی ہیں تو وہ مسلمان نہیں۔ کیونکہ یہ ان باتوں میں سے ہے جن کا جاننا اور ماننا دین کی ضروریات میں سے ہے۔“

الغرض مسیلمہ کذاب اور اسود عنسی کے بعد بھی جس کسی نے نبوت و رسالت کا دعویٰ کیا امت محمدیہ کے علماء حق اور ائمہ عظام نے ان کا بھر پور تعاقب کیا اور ختم نبوت کا تحفظ کر کے ہر قسم کے فتنہ و فساد اور انتشار و تشتت سے ملت کو بچانے کا اپنا اہم فریضہ ادا کیا۔ جس کی وجہ سے آج بھی یہ امت دین واحد اسلام پر قائم ہے۔

قادیانی فریب کاریاں

مرزا غلام احمد کو نبی قرار دینا دراصل اسلام کو منسوخ کرنے اور رسول اللہ ﷺ کی نبوت کو ازکار رفتہ قرار دینے کے مترادف ہے۔ کیونکہ ختم نبوت کا عقیدہ اہل اسلام کا اجماعی اور بنیادی عقیدہ ہے۔ عہدِ نبوت سے لے کر آج تک ہر مسلمان اس بات پر ایمان رکھتا آیا ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ بغیر کسی تخصیص و تاویل کے آخری نبی ہیں۔ آپ ﷺ کے بعد کسی کو منصب نبوت و رسالت عطاء نہیں ہوگا اور نہ ہی اس پر وحی نبوت نازل ہو سکتی ہے اور نہ ایسا الہام جو دین میں حجت ہو۔ امت کا سب سے پہلا اجماع اسی مسئلہ پر ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد جب بھی کسی نے نبوت کا دعویٰ کیا اس کی گردن مار دی گئی۔ اسود عنسی ہو یا مسیلمہ کذاب، کسی سے یہ سوال نہیں کیا گیا کہ اس کی نبوت کیسی ہے؟ ظلی ہے یا بروزی، مستقل ہے یا غیر مستقل، تشریعی ہے یا غیر تشریعی اور نہ اس سے اس کی نبوت کے دلائل طلب کئے گئے۔ بلکہ مطلق نبوت کے اعلان

٣٧

صفحہ ٤٨٨

کے ساتھ ہی ان کذابوں کے خلاف جہاد و قتال کیا گیا۔ جس میں مسیلمہ کذاب کے خلاف لڑی گئی جنگ میں بارہ سو صحابہ کرام شہید ہوئے۔ غرض مسلمان دین کے ہر جزوی اختلاف کو برداشت کرسکتا ہے۔ لیکن اس بنیادی اختلاف کو ہرگز برداشت نہیں کرسکتا۔

قادیانیوں کا آخری نبی

قادیانی امت ختم نبوت کی تردید اور اجرائے نبوت کی تائید میں مذکورہ آیات تو پیش کرتی ہے۔ مگر جب قادیانیوں میں سے کوئی شخص انہی آیات کو بنیاد بنا کر اپنی نئی نبوت کا اعلان کر دیتا ہے تو یہی لوگ اس کا انکار کر دیتے ہیں۔ کیونکہ ان کے نزدیک آنحضرت ﷺ کے بعد قیامت تک صرف مرزا غلام احمد قادیانی ہی کو آخری نبی بنایا گیا ہے۔ چنانچہ قادیانیوں کا بنیادی عقیدہ یہ ہے کہ اس امت کے صرف دو ہی نبی ہیں۔ پہلے محمد رسول اللہ اور آخری غلام احمد رسول اللہ۔ یہی دو شخصیتیں اس امت کے لئے مقدر کی گئی ہیں۔ بعثت اولیٰ میں مرزا قادیانی ہی محمد بن کر پیدا ہوئے تھے اور بعثت ثانیہ میں تو مرزا قادیانی اپنے پورے آب و تاب سے جلوہ گر ہوئے۔ پہلی بعثت میں ہلال تھے تو بعثت ثانیہ میں بدر بن گئے۔ مرزا قادیانی اور محمد رسول اللہ ﷺ دراصل ایک ہی تصویر کے دو رخ اور ایک ہی نبوت کے دو نام ہیں۔ گویا مرزا قادیانی کی بعثت ثانیہ کے بعد اب کسی تیسری بعثت کا کوئی امکان باقی نہیں رہا اور اس طرح قادیانیوں کا مسلمہ عقیدہ ہے کہ مرزا قادیانی کے بعد نبوت کا سلسلہ ختم ہو چکا ہے اور اب تاقیامت صرف خلافت قادیانیہ کا دور باقی رہ گیا ہے۔ نہ نبی آ سکتا ہے نہ مجدد اور نہ کوئی مامور، مرسل، گویا اہل اسلام اور قادیانیوں میں اس مسئلہ میں یہ اختلاف ہے کہ اہل اسلام آنحضرت ﷺ کو آخری نبی مانتے ہیں اور قادیانی امت مرزا غلام احمد کو۔ اہل اسلام آنحضرت ﷺ کے بعد مجددین واولیاء کے سلسلہ کو جاری مانتے ہیں۔ لیکن اہل قادیان کا ایمان ہے کہ آخری نبی مرزا غلام احمد کے بعد نہ نبی آ سکتا ہے نہ مجدد۔ اس طرح انہوں نے آسمان کے सारे دروازے بند کر دیئے ہیں اور لکھتے ہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی کی نسل اور اس رائل فیملی کے افراد ہی یکے بعد دیگرے گدی نشین بن کر خدائی احکام جاری کرتے رہیں گے۔ پس جب یہ صورتحال ہے تو قادیانیوں کی زبان سے اجرائے نبوت کی آیات اور ان سے بے سروپا استدلال عجیب مضحکہ خیز حرکت بن جاتے ہیں اور اس حرکت کا مقصد سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہ کسی طرح مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت ورسالت منوائی جاسکے اور وہی آخری نبی کہلائیں۔

٣٨

صفحہ ٣٨٩

جہاد کیا گیا۔ جس میں تنہا مسیلمہ کذاب کے خلاف لڑی گئی۔ غرض مسلمان دین کے ہر جزوی اختلاف کو برداشت کرسکتا ہے مگر یہ برداشت نہیں کرسکتا۔

قادیانی ان اجزائے نبوت کی تائید میں مذکورہ آیات تو پیش کرتے ہیں لیکن انہی آیات کو بنیاد بنا کر اپنی نئی نبوت کا اعلان کرتے ہیں۔ کیونکہ ان کے نزدیک آنحضرت ﷺ کے بعد کسی اور کو نبی بنایا گیا ہے۔ چنانچہ قادیانیوں کا بنیادی عقیدہ بھی یہی ہے۔ پہلے محمد رسول اللہ اور آخری غلام احمد رسول اللہ بن گئے ہیں۔ بعثت اولیٰ میں مرزا قادیانی ہی محمد بن کر آکر اپنے پورے آب و تاب سے جلوہ گر ہوئے۔ پہلی دفعہ آئے۔ مرزا قادیانی اور محمد رسول اللہ ﷺ دراصل ایک ہی وجود ہیں۔ گویا مرزا قادیانی کی بعثتِ ثانیہ کے بعد اب رہا اسلام اور اس طرح قادیانیوں کا مسلمہ عقیدہ ہے کہ اچھا اور سچا مسلمان صرف قادیانیوں کا طبقہ ہے اور باقی دنیا کافر ومرتد ہے۔ گویا اہل اسلام اور قادیانیوں میں اس قدر اختلاف ہے کہ وہ مرزا کو آخری نبی مانتے ہیں اور اہل سنت آنحضرت ﷺ کے بعد مجددین واولیاء کے سلسلہ کو جاری مانتے ہیں۔ مرزا غلام احمد کے بعد نہ نبی آ سکتا ہے نہ مجدد۔ اس سے بڑھ کر وہ یہ لکھتے ہیں کہ مرزاغلام احمد کے بعد ان کے گدی نشین ہی خدائی احکام جاری کرتے ہیں اور ان کی زبان سے اجزائے نبوت کی آیات تلاوت کی جاتی ہیں اور اس حرکت کا مقصد سوائے اس کے کیا ہے کہ مرزا قادیانی کی نبوت ورسالت منوائی جا سکے اور وہی

٣٨

قادیانیوں کے نزدیک نبوت کی تعریف

قادیانی کہتے ہیں کہ کثرت مکالمہ مخاطبہ الٰہیہ کا نام نبوت ہے اور چونکہ مرزاغلام احمد قادیانی کو کثرت سے امور غیبیہ پر اطلاع دی گئی تھی۔ اس لئے وہ نبی ہیں۔ یہ بھی دراصل ایک ڈھکوسلہ ہے۔ اس لئے کہ نبی پہلے روز ہی نبی بنایا جاتا ہے۔ جب کہ اس کے ساتھ کثرت مکالمہ مخاطبہ کا کوئی مجموعہ نہیں ہوتا۔ بلکہ پہلے روز اس کو بظاہر نبی کا خطاب بھی نہیں ملتا۔ تب بھی وہ نبی ہوتا ہے۔ چنانچہ رسول اکرم ﷺ پر جب پہلی وحی نازل ہوئی تو اس میں نہ نبی کا خطاب تھا نہ امور غیبیہ پر اطلاع۔ مگر اس کے باوجود آپ ﷺ پہلے روز نبی تھے اور اس لمحہ حضور ﷺ اپنی نبوت پر نہ صرف خود ایمان لائے بلکہ دعوت اسلام کا آغاز بھی کر دیا اور پہلے ہی روز آپ ﷺ کی نبوت پر ایمان لانے والے تیار ہو گئے۔

اس کے برعکس مرزا قادیانی پر بقول قادیانی حضرات چالیس برس کی عمر سے ہی نبی ورسول ہونے کے الہامات برستے رہے۔ مگر حیرت ہے کہ تقریباً بیس برس تک خود مرزا قادیانی اپنی نبوت کا انکار کرتے رہے۔ نہ صرف انکار کرتے رہے بلکہ حضرت خاتم النبیین ﷺ کے بعد دعوئی نبوت کرنے والے کو ملعون ودجال بھی کہتے رہے۔ لیکن جب ایک دائمی مرض میں اضافہ ہوا، اور شدت کا دورہ پڑا تو اپنی نبوت مرزا قادیانی کو سمجھ میں آئی اور جس دعوئی کو وہ دجل اور لعنت قرار دیتے رہے وہی دعوئی انہوں نے بڑی بے شرمی کے ساتھ کر دیا۔ چونکہ مرزا قادیانی نے بیس سال تاخیر سے دعوئی نبوت کیا تھا تو الزام سے بچنے کے لئے کہہ دیا کہ نبوت دراصل ”کثرت امور غیبیہ“ کو کہا جاتا ہے اور جب کثرت ہو گئی تو دعوئی نبوت کر دیا۔

اس ڈھکوسلہ کو اگر صحیح مانا جائے تو باپ کے بعد ان کے لڑکے مرزا محمود نے بھی دعوئی نبوت کیا ہے۔ مگر اپنے باپ کی طرح تاخیر کے ساتھ نہیں بلکہ چوبیس سال کی عمر میں ہی ان کی ”کثرت وشدت“ مکمل ہو چکی تھی۔ چنانچہ مرزا محمود نے ١٩١٤ء میں ہی کہہ دیا تھا کہ: ”کثرت امور غیبیہ پر مجھ کو مکمل اطلاع دی جاتی ہے۔“

(الفضل قادیان ٧ مئی ١٩١٤ء و جولائی ١٩١٤ء)

گویا باپ نے ١٩٠١ء میں نبوت کا دعوئی کیا اور بیٹے نے تیرہ سال بعد اور لطف یہ کہ بیٹے نے بھی اسی مرض میں مبتلا رہنے کا اقرار کیا ہے۔ جس مرض کی برکت سے مرزا غلام احمد قادیانی نے نبوت کا دعوئی کیا تھا۔ چنانچہ مرزا قادیانی کے ایک امتی ڈاکٹر شاہ نواز قادیانی نے (رسالہ ریویو قادیان ص ١١ بابت اگست ١٩٢٦ء) میں اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ: ”جب خاندان سے اس کی ابتداء ہو چکی تو پھر اگلی نسل میں بے شک یہ مرض منتقل ہوا۔ چنانچہ حضرت خلیفہ المسیح

٣٩

صفحہ ٤٩٠

الثانی (مرزا محمود) نے فرمایا کہ مجھ کو بھی کبھی کبھی مراق کا دورہ ہوتا ہے۔“ یاد رہے کہ اس مرض کے بارے میں قدیم و جدید حکماء کی یہ تحقیق ہے کہ: ”مریض کے اکثر اوہام اس کام سے متعلق ہوتے ہیں۔ جس میں مریض زمانہ صحت میں مشغول رہا ہو۔ مثلاً ...... مریض صاحب علم ہو تو پیغمبری اور معجزات و کرامات کا دعویٰ کر دیتا ہے۔ خدا کی باتیں کرتا ہے اور لوگوں کو اس کی تبلیغ کرتا ہے۔“

(اکسیر اعظم ج ١ ص ١٨٨)

ڈاکٹر شاہ نواز قادیانی بھی اس تحقیق کی تائید کرتے ہوئے اقرار کرتا ہے کہ: ”ایک مدعی الہام کے متعلق اگر یہ ثابت ہو جائے کہ اس کو ہسٹیریا، مالیخولیا یا مرگی کا مرض تھا تو اس کے دعویٰ کی تردید کے لئے کسی اور ضرب کی ضرورت نہیں رہتی۔ کیونکہ یہ ایک ایسی چوٹ ہے جو اس کی صداقت کی عمارت کو بیخ و بن سے اکھاڑ دیتی ہے۔“

(رسالہ ریویو آف ریلیجنز قادیان بابت ماہ اگست ١٩٢٦ء)

قادیانی نبوت کا نام ”تذکرہ“ ہے

مطلق دعویٰ نبوت اپنی ذات میں کوئی چیز نہیں۔ بلکہ بقول قادیانی امت ”کثرت مکالمہ مخاطبہ“ یا ”وحی نبوت“ سے مراد قرآن ہے اور ساری دنیا کو قرآن پڑھا کر آپ ﷺ کی نبوت منوائی جاتی ہے۔ اسی طرح مرزا قادیانی کی کتاب ”تذکرہ“ ہے۔ جو مرزا قادیانی کی نبوت ہے۔ اس کو دنیا کے سامنے کیوں پیش نہیں کیا جاتا۔ چھپا کر کیوں رکھا جاتا ہے۔ کیوں نہیں تذکرہ پڑھا کر مرزا قادیانی کی نبوت منوائی جاتی۔ یہ تو سراسر فریب اور شرمناک دھوکہ ہے کہ قرآن پڑھا کر مرزا قادیانی کی نبوت منوائی جائے۔ یہی قادیانیوں کا سب سے بڑا دجل ہے کہ اسلام وقرآن پیش کر کے قادیانیت اور ”تذکرہ“ منوایا جاتا ہے۔ ایک سو برس میں ”تذکرہ“ صرف ٤ ہزار کی تعداد میں شائع کیا گیا ہے۔ اسی بات سے اندازہ کیجئے کہ اس کو کتنی راز داری میں رکھا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کو اسی شر سے محفوظ رکھے کہ قرآن کے بعد بھی کسی کتاب پر ایمان لانا پڑے۔ حسبنا کتاب الله!

قادیانیوں کا کلام مجید

اہل اسلام کا کلام مجید قرآن ہے اور قادیانی امت کا کلام مجید تذکرہ ہے۔ اس کے باوجود قادیانی عام مسلمانوں کو دھوکہ دینے کے لئے کہتے ہیں کہ ہم بھی قرآن کو ہی کلام مجید مانتے ہیں۔ کسی اور کتاب کو نہیں۔ یہ کہنے والے یا تو عمداً جھوٹ بولتے ہیں یا شاید انہیں اس کلام مجید کی کچھ خبر نہیں جو مرزا قادیانی پر ٹیچی ٹیچی کی طرف سے نازل ہوا ہے اور جس کے نہ ماننے والے کو وہ

٤٠

صفحہ ٤٩١

ملعون کہتے ہیں۔ چنانچہ پر یقین انداز میں کہا:

آنچہ من بشنویم زوحی خدا
بخدا پاک دانمش از خطا
ہمچو قرآں منزہ اش دانم
از خطاہا ہمیں است ایمانم
آں یقینی کہ بود عیسی را
برکلامیکہ بروشد القا
وآں یقین کلیم بر توراہ
وآں یقین ہائے سید السادات
بخدا کم نیم ازہمہ بروئے یقین
ہر کہ گوید دروغ ہست لعین
بخدا ہست ایں کلام مجید
ازدہان خدائے پاک و وحید

ان اشعار میں مرزا قادیانی نے کلام مجید اس وحی کو قرار دیا ہے جو ان پر نازل ہوئی اور جس کے بارے میں دعویٰ کیا ہے کہ وہ ہر خطا وشبہ سے پاک ہے اور جو اس کا انکار کرے وہ ملعون ہے۔ کیونکہ یہ کلام مجید (تذکرہ) خدائے پاک و وحید کے منہ سے نکلا ہے۔

اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب قرآن مجید کے بعد مرزا قادیانی نے چونکہ صاحب کتاب نبی ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ اس لئے ان کا شمار بھی ان تیس دجالوں میں ہوتا ہے جن کو وہم ہوگا کہ وہ امتی نبی بنائے گئے ہیں۔

خانہ ساز نبوت کا عبرتناک انجام

تخلیق آدم علیہ السلام سے لے کر آخری نبی حضرت خاتم النبین ﷺ تک کوئی مدعی نبوت ایسا نہیں گزرا جس کے فوت ہونے کے ساتھ ہی اس کے ماننے والوں میں یہ اختلاف پیدا ہو گیا ہو کہ ہم جس کو مانتے تھے آیا وہ نبی تھا یا ولی؟ اب تک قادیانیوں کے پانچ بڑے فرقے بن چکے ہیں۔ احمدی لاہوری، قادیانی، دیندار، حقیقت پسند اور جیا پوری۔ ان پانچوں فرقوں میں سے چار فرقے مرزا قادیانی کو نبی نہیں مانتے۔ صرف ایک فرقہ قادیانی مرزا غلام احمد کی نبوت ورسالت پر یقین کرتا ہے۔ مذہبی تاریخ میں اس عجوبہ کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ اگر قرآنی آیات سے اجرائے نبوت ثابت تھی اور مرزا قادیانی نے ان آیات کو اپنی نبوت کی تائید میں پیش کیا تھا تو یہ ممکن ہی نہ تھا کہ قادیانی نبوت ایک معمہ بن جاتی۔ اس لئے دعویٰ نبوت خلل ہے دماغ کا۔

قادیانی درخت کے پھل

اسی طرح قرآن مجید کی جن آیات کو بنیاد بنا کر مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت منوائی جاتی ہے۔ ٹھیک انہی دلائل کی بنیاد پر خود قادیانیوں میں سے بیسیوں افراد نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ یہ وہ قادیانی تھے جنہوں نے مرزا قادیانی پر ایمان لا کر خود کو مرزا قادیانی میں فنا کر دیا تھا۔ اتباع دین

٤١

صفحہ ٤٩٢

قادیانیت ان کا اوڑھنا بچھونا تھا اور مرزا قادیانی کے درخت وجود کی سرسبز شاخیں غالباً ان سے بڑھ کر کوئی دوسرا نہیں تھا۔ انہوں نے مرزا قادیانی کے اس نور سے کامل حصہ پایا۔ جو بقول ان کے انہیں آسمان سے عطاء ہوا تھا۔ غرض کہ وہ قادیانیت کے جیتے جاگتے نمونے تھے اور مرزا قادیانی کے فیوض و برکات کے تازہ پھل۔ لیکن تعجب اور افسوس ہے کہ اجرائے نبوت کے ماننے والے قادیانیوں نے اپنی ہی امت میں پیدا ہونے والے نبیوں کو جھٹلا کر اجرائے نبوت کے باطل عقیدہ کو اپنے ہی ہاتھوں سے دفنا دیا۔ قادیانی امت میں پیدا ہونے والے نبیوں کے مشہور نام یہ ہیں:

(دونوں موخرالذکر نے ملہم و مامور ہونے کا دعویٰ کیا تھا) ان مذکورہ ساتوں قادیانیوں کے علاوہ اور بھی کئی قادیانیوں نے مرزا غلام احمد قادیانی کے طفیل نبوت کا دعویٰ کیا۔ مگر خود قادیانیوں نے ہی ان کو جھٹلا دیا اور اس طرح انہوں نے اپنے ہی عقیدہ اجرائے نبوت کا انکار کر کے یہ ثابت کر دیا کہ ان کا مقصد امت محمدیہ کے خلاف سازش کے سوا کچھ نہیں۔

قادیانی نبی کی بوکھلاہٹ

مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت کے ساتھ ہی جب اہل اسلام حرکت میں آئے اور چاروں طرف سے لعنت لعنت کی آوازیں بلند ہوئیں اور اپنی مصنوعی نبوت کا ملمع اترتے دیکھا تو گھبرا کر یہ اعلان بھی کر دیا جو دعویٰ نبوت سے زیادہ مضحکہ خیز تھا کہ: ”ابتداء سے میرا یہی مذہب ہے کہ میرے دعویٰ کے انکار کی وجہ سے کوئی شخص کافر یا دجال نہیں ہو سکتا۔“

(تریاق القلوب ص ١٣٠، خزائن ص ٤٥٤ ج ١٥)

مذہبی تاریخ کا یہ بھی ایک عجوبہ ہے کہ مرزا قادیانی نے مجدد، مہدی اور نبی ہونے کا بھی دعویٰ کیا اور آدم، نوح، ابراہیم، یعقوب، اسحاق، عیسیٰ علیہم السلام بلکہ محمد ﷺ ہونے کا بھی دعویٰ کیا۔ مگر ساتھ ہی اپنے نہ ماننے والے کو مومن و مسلمان بھی کہا۔ کیا کبھی ایسا ہوا ہے کہ خدا کا نبی اپنے نہ ماننے والے کو کافر کہنے کی بجائے مومن و مسلمان قرار دے؟ اس سے صاف ظاہر ہے کہ اجرائے نبوت کی آڑ لے کر آئندہ آنے والے نبیوں کا استدلال کرنا صرف حماقت و جہالت ہی نہیں بلکہ اسلام دشمنی ہے۔

٤٢

صفحہ ٤٩٣

ہزاروں میں ایک نبی

اجرائے نبوت کے سلسلہ میں پیش کی جانے والی مذکورہ آیات کی روشنی میں ١٩٥٣ء میں جب پاکستان کی تحقیقاتی عدالت میں قادیانی پیشوا مرزا محمود سے سوال کیا گیا کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کتنے سچے نبی گزرے ہیں؟ تو جواب میں مرزا محمود نے کہا: ”میں کسی کو نہیں جانتا مگر اس اعتبار سے کہ ہمارے نبی کریم ﷺ کی حدیث کے مطابق آپ ﷺ کی امت میں آپ کی عظمت و شان کا انعکاس ہوتا ہے۔ سینکڑوں اور ہزاروں ہو چکے ہوں گے۔“

(عدالت کا بیان)

مرزا محمود کے اس جواب کے پیش نظر ہم قادیانیوں سے دریافت کرتے ہیں کہ امت محمدیہ میں پیدا ہونے والے ہزاروں سچے نبیوں میں سے انہوں نے کتنوں کو مانا ہے؟ ظاہر ہے کہ ایک کو بھی نہیں اور یہ جاننے کی کوشش بھی نہیں کی کہ کس کس نے دعویٰ نبوت کیا ہے۔ ورنہ یہ نہ کہتے کہ: ”میں کسی کو نہیں جانتا۔“ جب قرآن کی رو سے اجرائے نبوت ثابت ہے اور یہ اقرار بھی ہے کہ ہزاروں انبیاء آ چکے ہیں تو قادیانیوں نے ان پر ایمان لانا کیوں ضروری نہیں سمجھا؟

اہل اسلام بھی مانتے ہیں کہ خاتم النبیین ﷺ کے بعد ہزاروں نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ مگر وہ سب جھوٹے تھے۔ گویا مسلمانوں اور قادیانیوں میں فرق یہ ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے بعد آنے والے ہزاروں نبیوں کو صادق اور سچے مانتے ہیں اور ہم ان ہزاروں کو کاذب اور دجال اور دوسرا فرق یہ ہے کہ ان ہزاروں میں سے قادیانیوں نے صرف ایک کو سچا مان لیا ہے اور مسلمان اس ایک کو بھی ان ہزاروں میں شمار کرتے ہیں۔

پاکستان کی تحقیقاتی عدالت میں جب مرزا محمود سے پوچھا گیا کہ آیا مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت اور دوسرے کئی دعوؤں پر ایمان لانا جزو ایمان ہے؟ تو صاف جواب دیا کہ مرزا قادیانی کے کسی دعویٰ پر ایمان لانا جزو ایمان نہیں ہے۔

اس سے صاف ظاہر ہو گیا کہ مرزا محمود اور ان کی قادیانی امت بھی مرزا قادیانی کو دل سے جھوٹا ہی سمجھتی ہے۔ کیونکہ اگر وہ سچے نبی ہوتے تو ان پر ایمان لانا یقیناً جزو ایمان ہوتا۔

سلسلہ سے امت تک

جن لوگوں نے قادیانی لٹریچر کا مطالعہ کیا ہے ان پر یہ امر مخفی نہیں کہ ان کی تحریرات کا ایک خاص انداز ہے۔ جب وہ مسلمانوں کے کسی عقیدے کے خلاف کچھ کہنے میں ایک قدم آگے بڑھتے ہیں تو ان کی مخالفت کا احساس کرتے ہوئے دو قدم پیچھے لوٹ جاتے ہیں۔ تاکہ مسلمانوں کو

٤٣

صفحہ ٤٩٤

یہ باور کرا سکیں کہ ان کا بھی وہی عقیدہ ہے جو عامۃ المسلمین کا ہے۔ اپنے آئندہ کے دعوؤں کو ترقی دینے اور بڑھانے کی غرض سے کوئی متضاد ہی بات کہہ دی جاتی ہے اور پھر مسلمانوں کے عقیدے کو بار بار دہرایا جاتا ہے۔ تاکہ وہ بچاؤ کا کام دے سکے۔ اسی لئے ایک منصوبہ کے تحت پہلے پیری مریدی کا ایک سلسلہ قائم کیا جیسے دوسرے سلسلے ہیں۔ سلسلہ عالیہ قادریہ، سلسلہ عالیہ چشتیہ، سلسلہ عالیہ سہروردیہ اور سلسلہ عالیہ کمالیہ کے وزن پر اپنا ایک سلسلہ عالیہ احمدیہ قائم کیا۔ پھر یہ سلسلہ بڑھ کر جماعت اور جماعت سے بڑھ کر فرقہ بن گیا۔ مگر جب مرزا قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کر دیا تو یہی سلسلہ باقاعدہ ایک امت کی شکل اختیار کر گیا۔ کہنے کو تو ایک قادیانی اس کو اب بھی ایک سلسلہ اور جماعت اور فرقہ ہی کہتا ہے۔ مگر یہ سراسر دھوکہ اور دانستہ فریب ہے۔ مرزا قادیانی نے اس کو سلسلہ اور فرقہ اس وقت کہا جب انہوں نے نبوت کا دعویٰ نہیں کیا تھا۔ دعویٰ نبوت کے بعد وہ جماعت وسلسلہ نہیں بلکہ امت بن چکے ہیں۔ کیونکہ دنیا میں کبھی کوئی نبی ایسا نہیں آیا جس نے کوئی سلسلہ یا فرقہ قائم کیا ہو۔ ہر نبی ایک امت بناتا ہے۔ ”لكل امة رسول“ ہر امت کا ایک رسول ہوتا ہے اور ہر نبی کی ایک امت۔ قادیانی اپنے لئے امت کا لفظ اس لئے استعمال نہیں کرتے کہ اس سے کہیں ان کے تبلیغ ارتداد پر کوئی برا اور مخالف اثر نہ پڑے اور مسلمان عوام ان کے دام فریب میں بآسانی پھنس سکیں اور یہ سمجھتے رہیں کہ ایک نئے نبی کو مان کر بھی امت محمدیہ کے اندر شامل ہیں۔ یہ مرزا قادیانی کے انداز تحریر ہی کا کمال ہے کہ رفتہ رفتہ بھولے بھالے مسلمان عوام کو سلسلہ میں شامل کر کے قادیانی امت میں ڈھال دیا جاتا ہے۔ مگر امت محمدیہ اور قادیانی امت کے درمیان جو خطرناک تضاد و فرق ہے اس کا شعور عام قادیانی میں پیدا ہونے نہیں دیا جاتا۔

مجددیت سے نبوت تک

ابتداء مرزا قادیانی نے اپنی تحریرات میں خود کو محدث کے رنگ میں پیش کیا ہے اور پھر یہ دعویٰ بڑھتے بڑھتے مہدویت کا روپ اختیار کر گیا۔ کہیں مجددیت کا دعویٰ پیش کیا اور پھر یہ مجددیت نبوت سے قریب تر بنی۔ پھر یہ جزوی نبوت ٹھہری اور پھر سالم نبوت و رسالت قرار دی گئی۔ پہلے نزول قرآن کے بعد وحی کو ناممکن بتلایا۔ مگر رفتہ رفتہ وحی ولایت کا دروازہ کھولا اور وحی ولایت سے گزر کر وحی نبوت کے مدعی بن بیٹھے اور بعد میں وحی نبوت کا مجموعہ شائع کیا جسے تذکرہ کا نام دیا گیا اور جسے عرف عام میں قادیانیوں کا قرآن کہا جانے لگا۔ ابتداء میں اپنی مسیحیت ومہدویت بلکہ نبوت کی راہ ہموار کرنے کے لئے یہ ہانک دی کہ قیامت تک ہو سکتا ہے کہ ہزاروں مہدی ومسیح پیدا ہوں اور وہ مسیح ابن مریم بھی آسمان سے نازل ہو۔ جس پر حدیث کی ظاہری

٤٤

علامات چسپاں ہوں۔ مگر میں ا لیکن رفتہ رفتہ اپنی تحریرات کے قیامت تک کوئی مہدی ومسیح خو انداز تحریر کا مقصد سوائے اس ک ہوتا رہے اور دوسری طرف ان تشریعی نبی ماننے پر بھی آمادہ ک ایک لحاظ سے سحر کر دیا اور ا کی کامیاب مساعی کے نتیجہ م قادیانی رسول کی گندہ د

خدا کا نبی معصوم نفرت ہوتی ہے۔ وہ کبھی پس اس کے برعکس قادیانی رسول ماننے والوں کو جس انداز میں اور چشم غیرت اشکبار اور خ مرزا قادیانی کے ”اخلاق ف درازی کرتے ہوئے مرزا ق ایمانی کا پیالہ پیا وہی عوام کا

”اے مردار خ جھوٹے ہیں اور کتوں کی طر

”اے بے ایما مولانا سعد اللہ بے وقوفوں کا نطفہ اور کنجر

”اگر تو نری ک

صفحہ ٤٩٥

علامات چسپاں ہوں۔ مگر میں ان ہزاروں میں صرف اس ایک صدی کے لئے مہدی ومسیح ہوں ۔ لیکن رفتہ رفتہ اپنی تحریرات کے کمال سے اپنے ماننے والوں کے ذہن میں یہ بات بٹھا دی کہ اب قیامت تک کوئی مہدی ومسیح نہیں آئے گا۔ غرض کہ ان کی تحریرات کے اس تضاد اور گرگٹ صفت انداز تحریر کا مقصد سوائے اس کے اور کیا ہو سکتا تھا کہ ایک طرف اہل اسلام کی مخالفت کا جوش ٹھنڈا ہوتا رہے اور دوسری طرف اپنے زیر اثر لوگوں کو آہستہ آہستہ ہر قسم کے دعویٰ حتیٰ کہ مرزا قادیانی کو تشریعی نبی ماننے پر بھی آمادہ کیا جاسکے۔ اس ترکیب سے انہوں نے اپنے ہزاروں مریدوں پر گویا ایک لحاظ سے سحر کر دیا اور اپنے مقصد میں ایک حد تک کامیاب بھی ہو گئے تھے۔ مگر اب علماء اسلام کی کامیاب مساعی کے نتیجہ میں ان کا یہ سحر ٹوٹ چکا ہے۔

قادیانی رسول کی گندہ زبانی

خدا کا نبی معصوم ہوتا ہے۔ اس کی زبان پاک ہوتی ہے۔ گندہ زبانی سے اس کو طبعاً نفرت ہوتی ہے۔ وہ کبھی پست خیالی پر مبنی عامیانہ اور بازاری انداز تخاطب کا ارادہ بھی نہیں کرتا۔ اس کے برعکس قادیانی رسول کی زبان انسانی تہذیب و شرافت کی تمام حدود کو پھلانگ کر اپنے نہ ماننے والوں کو جس انداز میں مطعون کرتی ہے۔ اس کے ایک ایک لفظ پر جبین انسانیت عرق آلود اور چشم غیرت اشکبار اور شرم و حیا نوحہ کناں ہوتی ہے۔ یہی وہ زبان ہے جس سے قارئین مرزا قادیانی کے ”اخلاق عالیہ“ کا بآسانی اندازہ کر سکتے ہیں۔ چنانچہ مسلمان علماء کرام پر زبان درازی کرتے ہوئے مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”اے ظالم مولویو! تم پر افسوس کہ تم نے جس بے ایمانی کا پیالہ پیا وہی عوام کالانعام کو پلایا۔“

(انجام آتھم ص ٢١، خزائن ج ١١ ص ٢١ حاشیہ)

”اے مردار خور مولویو! اے گندی روحو، اے اندھیرے کے کیڑو۔ یہ مولوی جھوٹے ہیں اور کتوں کی طرح مردار کا گوشت کھاتے ہیں۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢١، خزائن ج ١١ ص ٣٠٥ حاشیہ)

”اے بے ایمانوا ، اے عیسائیو ، دجال کے ہمراہیو، اسلام کے دشمنو، تمہاری ایسی تیسی ۔“

(اشتہار انعامی تین ہزار ص ٥، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٦٩ حاشیہ فقط )

مولانا سعد اللہ لدھیانویؒ کے بارے میں مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”سعد اللہ لدھیانوی بے وقوفوں کا نطفہ اور کنجری کا بیٹا ہے۔..... خدا تعالیٰ نے اس کی بیوی کے رحم پر مہر لگادی ہے۔“

( تتمہ حقیقت الوحی ص ١٤،١٣، خزائن ج ٢٢ ص ٤٤٥، ٤٤٤)

”اگر تو نرمی کرے گا تو میں بھی نرمی کروں گا۔ اگر تو گالی دے گا تو میں بھی گالی دوں گا۔

٤٥

صفحہ ٤٩٦

غولِ لئیم، فاسق، شیطان، ملعون، نطفہ، سفہا، خبیث، مفسد، مزوّر، منحوس، کنجری کا بیٹا۔“

(انجام آتھم ص ٢٨١، خزائن ج ١١ ص ٢٨١)

حضرت پیر سید مہر علی شاہ صاحب گولڑوی کو ان الفاظ میں گالیاں دیتے ہیں: ”کذاب، خبیث، مزوّر، بچھو کی طرح نیش زن، اے گولڑہ کی سرزمین تجھ پر خدا کی لعنت ہو۔ تو ملعون کے سبب ملعون ہو گئی۔“

(اعجاز احمدی ص ٧٥، خزائن ج ١٩ ص ١٨٨)

حضرت مولانا عبدالحق غزنویؒ کو یوں گالیاں دی جاتی ہیں: ”اے کسی جنگل کے وحشی..... تم نے حق کو چھپانے کے لئے یہ جھوٹ کا گوہ کھایا۔ اے بدذات خبیث، دشمنِ اللہ اور رسول کے تو نے یہ بیہودہ تحریف کی۔ مگر تیرا جھوٹ اے تابکار، پکڑا گیا۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٠، خزائن ج ١١ ص ٣٣٤)

”اے بدذات یہودی صفت، پادریوں کا اس میں منہ کالا ہوا اور ساتھ ہی تیرا بھی۔ اے خبیث کب تک تو جئے گا۔“

رئیس الدجالین عبدالحق غزنوی اور اس کا تمام گروہ علیہم نعال لعنۃ اللہ الف الف مرۃ ان پر خدا کی لعنت کے دس لاکھ جوتے۔ اے پلید دجال، تعصب نے تجھ کو اندھا کر دیا۔ عبدالحق کو پوچھنا چاہئے کہ اس کا وہ مباہلہ کی برکت کا لڑکا کہاں گیا۔ کیا اندر ہی اندر پیٹ میں تحلیل پا گیا یا پھر رجعت قہقری کر کے نطفہ بن گیا۔ اب تک اس کی عورت کے پیٹ سے ایک چوہا بھی پیدا نہ ہوا ..... کیا اب تک عبدالحق کا منہ کالا نہیں ہوا۔ کیا اب تک غزنویوں کی جماعت پر لعنت نہیں پڑی۔

(ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٣١١ تا ٣٢٤ ملخص)

حضرت مولانا ثناء اللہ صاحب امرتسری کو جو گالیاں دیں اس کا نمونہ ملاحظہ ہو۔ اپنی کتاب ”اعجاز احمدی“ میں دس بار لعنت لعنت لکھ کر اخیر پر لکھا: ”اے عورتوں کی عار ثناء اللہ اے جنگلوں کے غول تجھ پر ویل۔“

(اعجاز احمدی ص ٨١ تا ٨٣، خزائن ج ١٩ ص ١٩٣ تا ١٩٦)

مرزا غلام احمد قادیانی نے تقریباً ایسی ہی گالیاں مسلمانوں کے علاوہ دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کو بھی دی ہیں۔ بطور مثال اپنی کتاب ”آریہ دھرم“ میں ہندوؤں کو جن الفاظ میں گالیاں دی ہیں اس کا ایک نمونہ یہ ہے: ”چپکے چپکے حرام کروانا آریوں کا اصول بھاری ہے۔ نام اولاد کے حصول کا ہے۔ ساری شہوت کی بے قراری ہے۔ بیٹا بیٹا پکارتی ہے۔ غلط یار کی اس کو آہ وزاری ہے۔ دس سے کروا چکی زنا۔ لیکن پاک دامن ابھی بے چاری ہے۔ زنِ بیگانہ پر یہ شیدا ہیں۔ جس کو دیکھو وہی شکاری ہے۔“

(آریہ دھرم ص ٧٦، خزائن ج ١٠ ص ٧٥، ٧٦)

٤٦

صفحہ ٤٩٧

یہ تو اپنے نہ ماننے والے عام لوگوں کو دی گئیں۔ مرزا قادیانی کی گندی گالیاں تھیں۔ مگر ہر مذہب کے پاک و برگزیدہ انبیاء کو مرزا قادیانی نے جو گالیاں دی ہیں وہ اس حد تک شرمناک ہیں کہ میں ان کو یہاں درج کر کے اہل اسلام کے دلوں کو مجروح کرنا نہیں چاہتا۔ یہ مضمون خود ایک مستقل کتاب بن سکتا ہے۔

مرزا غلام احمد قادیانی نے امام الزمان اور نبی آخر الزمان ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ کیا ایسا شخص جو اخلاق رذیلہ میں گرفتار ہو امام ضامن اور رسول ہو سکتا ہے؟ اس بات کا فیصلہ خود مرزا قادیانی کی زبانی سنئے۔ اپنی کتاب ”ضرورت الامام“ میں لکھتے ہیں: ”یہ نہایت قابل شرم بات ہے کہ ایک شخص خدا کا دوست کہلا کر پھر اخلاق رذیلہ میں گرفتار ہو اور درست بات کا ذرا بھی متحمل نہ ہو سکے اور جو امام الزمان کہلا کر ایسی کچی طبیعت کا آدمی ہو کہ ادنیٰ ادنیٰ بات میں منہ سے جھاگ آتا ہے۔ آنکھیں پیلی پیلی ہوتی ہیں اور کسی طرح امام الزمان نہیں ہو سکتا۔ (چہ جائیکہ نبی و رسول ہو)“

(ضرورت الامام ص ٨، خزائن ج ١٣ ص ٤٧٨)

جنت کا لالچ

عامۃ المسلمین کو اپنے مذہب میں شامل کرنے کے لئے قادیانی یہ کہتے پھرتے ہیں کہ مرزا قادیانی کو مانے بغیر اب کوئی شخص ناجی اور جنتی نہیں بن سکتا۔ جنت میں جانا چاہتے ہو تو مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی مان کر ہزاروں روپے کا چندہ عمر بھر دیتے رہو اور قادیان کے بہشتی مقبرہ میں دفن ہو جاؤ تو یقیناً جنتی بن جاؤ گے۔ اب مرزا قادیانی کی بعثت کے بعد جنت میں جانے کا یہی ایک حتمی اور یقینی راستہ کھلا ہوا ہے۔ باقی سارے راستے جہنم کی طرف لے جانے والے ہیں۔ اسی لالچ میں کئی لوگوں نے اپنی زندگیاں تباہ کر ڈالیں۔

حالانکہ خود مرزا قادیانی کی اپنی وحی کے پیش نظر خود ان کا جنت میں داخل ہونا محال ہے۔ مثلاً مرزا قادیانی کی ایک مشہور وحی ہے: ”یا آدم اسکن انت وزوجک الجنۃ ویا مریم اسکن انت وزوجک الجنۃ ویا احمد اسکن انت وزوجک الجنۃ“

(براہین احمدیہ ص ٤٩٦، خزائن ج ١ ص ٥٩٠)

مرزا قادیانی کی یہی وحی ”تذکرہ“ (جو قادیانیوں کا قرآن کہلاتا ہے) میں بھی درج ہے۔ اس کی تشریح خود مرزا قادیانی نے یہ کی ہے کہ اس وحی کی رو سے میری تین بیویاں ہوں گی اور تینوں بیویوں کے وقت میرے تین نام ہوں گے۔ پہلی بیوی حرمت بی بی کے وقت میرا نام آدم رکھا گیا ہے۔ دوسری بیوی نصرت جہاں کے وقت میرا نام مریم رکھا گیا ہے۔ (اب یہ قادیانی وحی کا

٤٧

صفحہ ٤٩٨

کرشمہ ہے کہ مریم کو مرد اور نصرت جہاں کو مریم کی بیوی بنادیا) اور تیسری بیوی (محمدی بیگم) کے وقت میرا نام احمد رکھا جائے گا اور میں آدم ، مریم اور احمد بن کر تینوں بیویوں کے ساتھ جنت میں جاؤں گا۔

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٤، خزائن ج ١١ص٣٣٩)

اب میں یہ فیصلہ خود قارئین پر چھوڑتا ہوں کہ مرزا قادیانی اپنی اس وحی کی بنیاد پر جنت میں کس طرح جاسکتے ہیں۔ جب کہ پہلی بیوی حرمت بی بی کو مرزا قادیانی نے اس بناء پر طلاق دے دی تھی کہ اس نے ان کی نبوت اور وحی کو محض فریب قرار دیا تھا اور تیسری بیوی (جس کا نکاح آسمان پر ہوچکا تھا اور زمین پر باوجود خواہش اور کوشش کے مرزا قادیانی سے نہ ہوسکا۔ بلکہ ایک اور شخص سلطان محمد سے ہوا) جس کا نام محمدی بیگم تھا وہ تو مرزا قادیانی کی بیوی ہی نہ بن سکی تو اس کے ساتھ مرزا قادیانی جنت میں کس طرح جاسکتے ہیں۔ البتہ دوسری بیوی نصرت جہاں کے ساتھ جنت میں داخل ہونے کا امکان ہوسکتا ہے۔ مگر غلام احمد بن کر نہیں بلکہ مریم بن کر اور نصرت جہاں غالباً جنت میں ان کی خاوند ہوگی۔ شاید مرزا قادیانی اس تبدیلی جنس پر راضی نہ ہوں۔ اس لئے یہ صورت بھی ممکن نہیں ہے۔ بہرحال کسی بھی بیوی کے ساتھ اور کسی بھی نام کے ساتھ مرزا قادیانی جنت میں داخل نہیں ہوسکتے اور خود کا پتہ نہیں کیا انجام ہو حیرت ہے کہ ساری دنیا کو جنت کی پیشکش کررہے ہیں۔

خطرناک دشمن و بدخواہ

جیسا کہ پہلے گزر چکا مرزا غلام احمد بھی بار بار یہ کہتے رہے کہ میں مسلمانوں کا خیر خواہ ہوں اور میرے دعویٰ کے انکار کی وجہ سے کوئی شخص کافر نہیں ہوجاتا اور عام قادیانی بھی یہ کہہ کر مسلمانوں کو دھوکہ دیتے ہیں کہ ہم مسلمانوں کے دوست ہیں اور یہ کہ پھر سے انہیں باعزت و غالب بنانے کے لئے ہی مرزا قادیانی کو آسمان سے نبی بنایا گیا ہے اور اوپر سے ہدایت ملتی ہے کہ قادیانی بار بار یہ کہہ کر مسلمانوں کو یقین دلائیں کہ ہمیں محبت سب سے ہے نفرت کسی سے نہیں۔

مگر دوسری طرف اندر ہی اندر قادیانی پیشواؤں نے اپنے ماننے والوں میں مسلمانوں سے بے حد نفرت پیدا کر دی اور یہ عقیدہ ان کے دل میں راسخ کردیا کہ مرزا قادیانی کو نبی نہ ماننے والا ایسا ہی غیر مسلم ہے جیسے یہودی اور عیسائی اور یہ کہ نہ ماننے والا اس قدر قابل نفرت ہے کہ نہ اس کے ساتھ شادی میں شریک ہوا جاسکتا ہے نہ غمی میں اور نہ عبادات میں نہ مذہبی رسوم میں۔ حتیٰ کہ سلام کلام بھی منافقانہ بن جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ روئے زمین پر مسلمانوں کے سب سے زیادہ خطرناک دشمن و بدخواہ یہی قادیانی ہیں۔

٤٨

صفحہ ٤٩٩

چنانچہ مرزا غلام احمد قادیانی عمر بھر مسلمان علماء و عوام کو جی بھر کے گالیاں دیتے رہے اور انگریزوں کی اور ان کی عیسائی حکومت کی دل و جان سے حمد و ثناء بیان کرتے رہے۔ حتیٰ کہ عیسائی حکومت کی تائید و وفاداری اور مکمل غلامی کی تبلیغ پر اس قدر کتابیں شائع کروائیں جو بقول ان کے پچاس الماریوں میں سما سکتی ہیں۔ اس لئے مسلمانوں کی خیر خواہی اور دوستی کی باتیں صرف دھوکہ ہیں۔ قادیانی تاریخ بتاتی ہے کہ یہ عیسائی حکومت کی درازی عمر کے لئے رات دن کوشاں رہے۔ ان کی کامیابی اور مسلمانوں کی تباہی کے آرزومند رہے۔ اقصائے عالم پر عیسائی حکومت کے غلبہ و فتح کے لئے دعا گو رہے۔ عیسائیوں کی فتح کو اپنی فتح، ان کی کامیابی کو اپنی کامیابی، ان کی حکومت کو اپنی حکومت اور انگریزوں کو اپنی تلوار قرار دینے میں فخر محسوس کرتے رہے۔ یہ کوئی الزام نہیں ہے، بے شمار شواہد موجود ہیں۔ مگر اس جگہ ایک ایسا حوالہ درج کرنے پر اکتفاء کرتا ہوں جس میں یہ ساری باتیں واضح صورت میں جمع ہو گئی ہیں۔ ١٩١٨ء میں جب انگریزوں نے عراق پر قبضہ کر لیا اور لاکھوں مسلمانوں کو تہہ تیغ کیا اور عراقی عوام کو اپنا غلام بنایا تو قادیان میں چراغاں کئے گئے خوشی کے شادیانے بجائے اور ایک دوسرے کو مبارک باد دی۔ اس موقع پر قادیانی گرو مرزا محمود نے نعروں کی گونج میں تقریر کرتے ہوئے یوں نمک پاشی کی۔

”حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) فرماتے ہیں کہ میں وہ مہدی معہود ہوں اور گورنمنٹ برطانیہ میری وہ تلوار ہے جس کے مقابلے میں ان (مسلمان) علماء کی کچھ پیش نہیں جاتی۔ اب غور کرنے کا مقام ہے کہ پھر ہم احمدیوں کو اس فتح سے کیوں خوشی نہ ہو۔ عراق عرب ہو یا شام۔ ہم ہر جگہ اپنی تلوار کی چمک دیکھنا چاہتے ہیں۔

فتح بغداد کے وقت ہماری فوجیں (؟) مشرق سے داخل ہوئیں۔ دیکھئے کس زمانے میں اس فتح کی خبر دی گئی۔ ہماری گورنمنٹ برطانیہ نے جو بصرہ کی طرف چڑھائی کی اور تمام اقوام سے لوگوں کو جمع کر کے اس طرف بھیجا۔ دراصل اس کے محرک خدا تعالیٰ کے وہ فرشتے تھے جن کو اس گورنمنٹ کی مدد کے لئے اس نے اپنے وقت پر اتارا تا کہ وہ لوگوں کے دلوں کو اس طرف مائل کر کے ہر قسم کی مدد کے لئے تیار کریں۔“

(الفضل قادیان مورخہ ٧ دسمبر ١٩١٨ء، ج ٦ نمبر ٤٢)

اس اقتباس کو بار بار پڑھئے اور پھر پڑھئے۔ یہ اور ایسے بے شمار اقتباسات سے کیا یہ ثابت نہیں ہوتا کہ روئے زمین پر قادیانیوں سے بڑھ کر مسلمانوں کے دشمن و بدخواہ کوئی نہیں۔ ان کا بس چلے تو ساری مسلم حکومتیں انگریز آقاؤں کے حوالے کر دیں اور رات دن فرشتوں کو پکڑ پکڑ کر عیسائی فوج میں بھرتی کروائیں اور اپنی تلوار کی چمک سے ساری مسلم دنیا کو تہس نہس کر کے رکھ

٤٩

صفحہ ٥٠٠

دیں۔ اس لئے عامۃ المسلمین کو ان مار آستینوں سے ہوشیار و چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔

مرزا قادیانی کے حسب نسب، دعاوی اور امراض میں مناسبت

مرزا غلام احمد قادیانی کو کتنی بیماریاں لاحق تھیں۔ اتنے ہی دعوے کر دیئے اور جتنے دعوے کئے اتنے ہی نسب نامے بھی پیش کر دیئے۔ مثلاً سیرۃ المہدی ( قادیانی حدیث کی کتاب حصہ اول ص١٣) پر مرزا بشیر احمد (مرزا قادیانی کا دوسرا لڑکا ) اپنی ماں نصرت جہاں سے روایت بیان کرتا ہے: ”حضرت مسیح موعود کو پہلی دفعہ دوران سر اور ہسٹیریا کا دورہ بشیر اوّل کی وفات کے چند دن بعد ہوا تھا۔“

ہسٹیریا کے دوروں کا ایک لامتناہی سلسلہ جاری ہوا۔ جس کی وجہ سے کبھی نماز میں امامت نہیں کی۔ ہمیشہ اپنے مریدوں کے پیچھے نماز پڑھا کرتے تھے۔ مرزا قادیانی اپنی ایک نماز کا ذکر یوں کرتے ہیں: ”میں نماز پڑھ رہا تھا کہ میں نے دیکھا کہ کوئی کالی کالی چیز میرے سامنے سے اٹھی اور آسمان تک چلی گئی۔ پھر میں چیخ مار کر زمین پر گر گیا اور غشی کی سی حالت ہو گئی۔“ اس کے بعد ان کو باقاعدہ دورے پڑنے شروع ہو گئے۔

اس عبرتناک مرض کے علاوہ مرزا قادیانی کو اکثر خون کی قے ہوتی رہتی۔ مرزا قادیانی کو مراق کا خطرناک مرض موروثی تھا۔ مرزا غلام احمد قادیانی کے ماموں مرزا جمعیت بیگ بھی مراقی تھے۔ ان کے ایک لڑکے مرزا علی شیر اور ایک لڑکی حرمت بی بی جو آگے چل کر مرزا قادیانی کی بیوی بنی، پاگل تھے۔ بہر حال مراق کا یہ مرض موروثی تھا اور اب بھی اس کا سلسلہ جاری ہے۔

مرزا قادیانی کو دق اور سل کا مرض بھی تھا۔ اس مرض کا سلسلہ ان کے والد مرزا غلام مرتضیٰ کی زندگی سے ہی چلا آتا تھا۔ اس مرض کے علاوہ ذیابیطس بھی جوانی کے زمانہ سے لاحق تھی۔ کثرت و سلسل بول کا مرض بھی جوانی سے تھا۔ روزانہ کم از کم تیس چالیس مرتبہ پیشاب آتا۔ لیکن زندگی کا بیشتر حصہ ایسا گزرا ہے۔ جس میں روزانہ سو سو مرتبہ رات کو یا دن کو پیشاب آیا کرتا تھا۔ اسی سے اندازہ کیجئے کہ روزانہ کتنے گھنٹے پیشاب خانے میں صرف ہوتے تھے۔ اس کثرت بول سے جس قدر عوارض ضعف وغیرہ ہوتے ہیں۔ وہ سب ان کے شامل حال رہتے۔ حافظہ انتہائی کمزور تھا۔ حتیٰ کہ اپنا عصا بھی نہیں پہچان سکتے تھے۔ ایک ہی جیب میں گڑ کے ڈھیلے بھی رکھتے اور مٹی کے ڈھیلے بھی۔ کبھی طہارت گڑ کے ڈھیلے سے کرتے اور مٹی کے ڈھیلے منہ میں ڈال لیتے ہوں تو مراق کے باعث کیا تعجب؟ جب دستر خوان پر بیٹھے تو روٹی توڑ توڑ کر دستر خوان پر ڈال دیتے اور کبھی خیال آتا کہ میں دستر خوان پر بیٹھا ہوں تو ایک آدھ ٹکڑا منہ میں ڈال لیتے اور دسترخوان سے اٹھ جاتے۔

٥٠

صفحہ ٥٠١

یہ جس قدر عوارض ہیں۔ اتنے ہی ان کے دعاوی ہیں۔ کبھی خود کو محدث سمجھتے کبھی مجدد، کہیں خود کو مہدی ظاہر کرتے اور کبھی مثیل مسیح ، کبھی عیسیٰ بن مریم کا دعویٰ کرتے اور کبھی محمد عربی ﷺ خود کو بتاتے۔ کبھی تمام انبیاء و رسل سے اعلیٰ وافضل سمجھتے اور کبھی انسانوں کی جائے نفرت و جائے عار ہونے کا دعویٰ کرتے۔

ان متضاد و متخالف دعاوی کے ساتھ ساتھ متضاد حسب نسب اور نسل سے اپنا تعلق جوڑتے۔ چنانچہ مرزا قادیانی نے مدت العمر خود کو مغل ہی بتلایا۔ لیکن جیسا ہی دعویٰ تبدیل ہوا نسب بدل کر چینی الاصل ہونے کا دعویٰ کر دیا۔ پھر ایک دوسرا دعویٰ کر دیا تو خود کو آدھا یہودی اور آدھا اسماعیلی بتلایا۔ پھر کچھ عرصہ بعد دعویٰ تبدیل کر دیا تو ایرانی ہونے کا اعلان کر دیا۔ لیکن ساتھ یہ بھی کہتے ہیں کہ میرے ایرانی (فارسی الاصل) ہونے کا میرے پاس کوئی ثبوت اور خاندانی ریکارڈ تو نہیں مگر مجھے وحی کے ذریعہ بتلایا گیا ہے۔ اس لئے میں مغل نہیں ہوں۔ پھر جب بعض احادیث ان کے دعاوی کے خلاف دکھائی دیں تو خود کو سید ظاہر کر دیا اور جب بابا نانک اور رودر گوپال ہونے کا دعویٰ کر دیا تو اپنے جاٹ (سکھوں کی ایک نسل) ہونے کا اعلان کرنا ضروری سمجھا۔

اس سے قارئین بخوبی اندازہ کر سکتے ہیں کہ یہ شخص تضادات کا مجموعہ اور عوارض کا مارا ہوا ایک مجہول النسب شخص تھا۔ جس کو انگریزوں نے اپنے مفادات اور اغراض کی تکمیل کے لئے استعمال کیا تھا اور آج بھی کر رہے ہیں۔

دجال اور یاجوج ماجوج کے احسانات کا اعتراف و دعا

جب مرزا غلام احمد قادیانی نے عیسیٰ ابن مریم اور امام مہدی ہونے کا دعویٰ کر دیا تو علماء اسلام اور عامۃ المسلمین نے شدید مخالفت کی اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ دجال اور یاجوج ماجوج کی نشاندہی کریں۔ جن کے زمانہ میں عیسیٰ ابن مریم اور امام مہدی کو ظاہر ہونا تھا تو اپنے دعویٰ کے شدید رد عمل اور مخالفت سے گھبرا کر مغربی اقوام اور روس کی حکومتوں کو ہی دجال اور یاجوج ماجوج قرار دیا اور کہا کہ مذہبی اعتبار سے یہ قومیں دجال ہیں اور سیاسی اعتبار سے یاجوج ماجوج ، مگر مرزا قادیانی کی اس چالاکی نے ان کو کوئی فائدہ نہیں پہنچایا اور مسلمانوں کو یقین ہو گیا کہ یہ شخص ہمیں دھوکہ دے رہا ہے۔ اس لئے کہ ایک طرف انگریزوں کو دجال اور یاجوج بھی کہہ رہا ہے اور دوسری طرف اسی دجال اور یاجوج کا وفادار اور شکر گزار بن کر ان کے اقبال و عروج اور ان کی فتوحات و غلبہ کے لئے دعا کی تلقین بھی کر رہا ہے۔ نہ صرف تلقین بلکہ ان کی شکر گزاری اور وفاداری کو فرض قرار دے رہا ہے۔

مندرجہ ذیل اقتباسات مرزا کے اس دجل کا ملمع اتارنے کے لئے کافی ہیں۔

٥١

صفحہ ٥٠٢

وہ لکھتے ہیں: ”ایسا ہی یاجوج ماجوج کا حال بھی سن لیجئے۔ یہ دونوں پرانی قومیں ہیں جو پہلے زمانوں میں دوسروں پر کھلے طور پر غالب نہیں ہوسکیں اور ان کی حالت میں ضعف رہا۔ (جس کا مرزا قادیانی کو دکھ ہے) لیکن خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ آخری زمانہ میں یہ دونوں قوموں سے مراد انگریز اور روس ہیں۔ اس لئے ہر ایک سعادت مند مسلمان کو دعا کرنی چاہئے کہ اس وقت انگریزوں کی فتح ہو۔ کیونکہ یہ لوگ ہمارے محسن ہیں اور سلطنت برطانیہ کے ہماری سر پر بہت احسان ہیں۔ سخت جاہل اور سخت نادان اور سخت نالائق وہ مسلمان ہے جو اس گورنمنٹ سے (یعنی دجال سے) کینہ رکھے۔ اگر ہم اس کا شکر نہ کریں تو پھر ہم خدا تعالیٰ کے بھی ناشکر گزار ہیں۔ کیونکہ ہم نے جو اس گورنمنٹ کے زیرسایہ آرام پایا اور پا رہے ہیں۔ وہ آرام ہم کسی اسلامی گورنمنٹ میں بھی نہیں پاسکتے۔ ہرگز نہیں پاسکتے۔“

(ازالۃ اوہام ص ٥٠٢، خزائن ج ٣ ص ٣٧٣)

اسی لئے مرزا غلام احمد قادیانی نے مسلمانوں میں دجال کی تائید وحمایت کا جذبہ پیدا کرنے کی غرض سے لکھا: ”براہین احمدیہ کے ص ٤٤١ میں ایک پیش گوئی گورنمنٹ برطانیہ کے متعلق ہے کہ: ”مَاکَانَ اللّٰهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَاَنْتَ فِیْهِمْ اَیْنَما تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْهُ اللّٰهِ“ یعنی خدا ایسا نہیں ہے کہ اس (دجالی) گورنمنٹ کو کچھ تکالیف پہنچائے۔ کیونکہ تو ان کی عملداری میں رہتا ہے۔ جدھر تیرا منہ خدا کا بھی اسی طرف منہ ہے۔ چونکہ خدا تعالیٰ جانتا تھا کہ مجھے اس گورنمنٹ کی پرامن سلطنت اور ظل حمایت میں دلی خوشی ہے اور اس (دجال) کے لئے میں دعا میں مشغول ہوں۔ کیونکہ میں اپنے اس کام کو مکہ میں اچھی طرح چلا سکتا ہوں نہ مدینہ میں، نہ روم میں نہ شام میں، نہ ایران میں نہ کابل میں۔ مگر اس (دجالی) گورنمنٹ میں جس کے اقبال کے لئے دعا کرتا ہوں۔ لہٰذا وہ اس الہام میں ارشاد فرماتا ہے کہ اس گورنمنٹ کے اقبال اور شوکت میں تیرے وجود اور تیری دعا کا اثر ہے اور اس کی فتوحات سب تیرے سبب ہیں۔ کیونکہ جدھر تیرا منہ ادھر خدا کا منہ۔ اب گورنمنٹ شہادت دے سکتی ہے کہ اس کو میرے زمانہ میں کیا کیا فتوحات نصیب ہوئیں۔ یہ الہام سترہ برس کا ہے۔ کیا یہ انسان کا فعل ہوسکتا ہے۔ غرض میں اس (دجالی) گورنمنٹ کے لئے بمنزلہ حرزِ سلطنت (تعویذ) کے ہوں۔“

(تبلیغ رسالت ج ٦ ص ٦٩، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٢٧١، ٢٧٢ ملخص)

مرزا غلام احمد قادیانی نے روس اور امریکہ کو ہی دجال اور یاجوج ماجوج قرار دیا ہے اور قارئین جانتے ہیں کہ امریکہ اور روس کی طرف سے بنائے جانے والے فتنوں نے اب تک مسلمانوں کو کس حد تک تباہ کیا ہے اور اب بھی مختلف اسلامی مملکتوں میں ان کی شرارتوں کا سلسلہ ٥٢

جاری ہے ۔ ان کو دعوٰی دینی عوامل کا کیا اصل "جو ہرگز نہیں۔ فرمانبرداری کی جائے تو تو میں مؤذن بنتا۔ اسی یورپ میں چلا جاتا ۔“ قادیانی کی اور یاجوج ماجوج کے کا پورا حق ادا کر دیا ہے ہٹلر اور مسولینی روانی کی ان سے بات کرے اور ہیں اور دل سے ان کے برعکس ہے، یہ اسی کو حکومت وقت سے میں حکومت عاملہ یا اقتباس سے اس کا مسولینی کی طرح اور باتیں سنے اور ان پر ہم ایک دن کے اندر آقاؤں اور یوں اپنے بزرگان کی سمجھنے کی توفیق دے۔

صفحہ ٥٠٣

بتا رہی ہے۔ ان کو ذہن میں رکھ کر قادیانی امت کی ترجمانی کرنے والے مرزا محمود کی اس طبعی و مذہبی خواہش کا کیا نام رکھا جا سکتا ہے؟ اس کو میں قارئین پر چھوڑتا ہوں۔

”جو گورنمنٹ (اسلام دشمن دجالی حکومت) ایسی مہربان ہو اس کی جس قدر بھی فرمانبرداری کی جائے تھوڑی ہے ۔ ایک دفعہ حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ اگر مجھ پر خلافت کا بوجھ نہ ہوتا تو میں مؤذن بنتا ۔ اسی طرح میں کہتا ہوں کہ اگر میں خلیفہ نہ ہوتا تو والنٹیر (سپاہی) ہو کر جنگ یورپ میں چلا جاتا ۔“

(انوار خلافت ص٩٢)

قادیانیوں کو یہ وفاداری مبارک ۔ ہم تو یہی یقین کرتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے دجال اور یاجوج ماجوج کے لئے تعویذ کا کام کیا تھا تو آج ہر قادیانی اس کا وفادار سپاہی بن کر اسلام دشمنی کا پورا حق ادا کر رہا ہے۔

ہٹلر اور مسولینی بننے کی شدید آرزو

مزاجاً ہٹلر کی طرح قادیانی بظاہر بڑے نرم خو اور شیریں گفتار نظر آتے ہیں اور ان سے بات کرنے والا اس غلط فہمی میں مبتلا ہو جاتا ہے کہ یہ دنیا کی اصلاح کی فکر میں گھلے جا رہے ہیں اور دل سے چاہتے ہیں کہ لوگوں کی اصلاح نرمی اخلاق اور دعا سے کی جائے۔ مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ یہ اس لئے نرم نظر آتے اور جابجا اپنی مظلومیت کی دہائی دیتے پھرتے ہیں کہ ان کو حکومت و غلبہ حاصل نہیں ہوا۔ لیکن اگر غلبہ و تسلط ان کو مل جائے اور قادیانیوں کو خدانخواستہ کسی ملک میں حکومت حاصل ہو جائے تو اس ملک و عوام کا اور دیگر اہل مذاہب کا کیا نقشہ ہوگا۔ اس ایک اقتباس سے اس کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے:

”حکومت ہمارے پاس نہیں کہ ہم جبر کے ساتھ ان لوگوں کی اصلاح کریں اور ہٹلر یا مسولینی کی طرح جو شخص ہمارے حکموں کی تعمیل نہ کرے اسے ملک سے نکال دیں اور جو ہماری باتیں سننے اور ان پر عمل کرنے پر تیار نہ ہو اسے عبرتناک سزا دیں۔ اگر حکومت ہمارے پاس ہوتی تو ہم ایک دن کے اندر اندر یہ کام کر لیتے۔“

(الفضل قادیان مورخہ ٥ جون ١٩٤١ء ج ٢٩ نمبر ١٣٧)

حکومت حاصل نہ ہونے کے باوجود عام قادیانیوں کا اپنے ہٹلر اور مسولینی خصلت آقاؤں اور بزرگان کے طریق اصلاح اور ان کی کرم فرمائیوں کا کافی تجربہ ہے ۔ ہر قادیانی اپنے بزرگان کی حرکتوں پر گواہ ہے: خدا کرے کہ قادیانیوں کی آنکھیں کھلیں اور حقائق کو سمجھنے کی توفیق ملے۔

٥٣

صفحہ ٥٠٤

سُوروں والا حملہ

میں جانتا ہوں کہ میری اس کتاب کا جواب دینے کی قادیانی پنڈت ہر ممکن کوشش کریں گے اور یہ بھی جانتا ہوں کہ وہ اس کا کیا جواب دے سکتے ہیں۔ اس لئے کہ جو دلائل انہیں رٹائے گئے ہیں مجھے بھی رٹائے گئے تھے۔ اس کے باوجود میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ قادیانی پنڈت چونکہ غریب قادیانیوں کے چندوں پر پرورش پارہے ہیں اور مرزا قادیانی کے پالتو اور تربیت یافتہ ہیں۔ اس لئے وہ ضرور حق نمک ادا کرنے میں جوش دکھائیں گے اور اس جوش میں خود وہ کیا بنیں گے اپنے آقا و مربی مرزا محمود کی زبانی سنئے : ”میں نے کرید کرید کر ان کے دماغ میں داخل ہونا چاہا۔ مگر چاروں طرف سے ان کے دماغ کا راستہ بند نظر آیا اور مجھے معلوم ہوا کہ سوائے اس کے کہ انہیں کہا جاتا ہے کہ وفات مسیح کی یہ یہ آیتیں رٹ لو یا نبوت کے مسئلہ کی یہ دلیلیں یاد کر لو۔ انہیں اور کوئی بات نہیں سکھلائی جاتی ...... میں نے جس سے بھی سوال کیا معلوم ہوا کہ اس نے اخبار کبھی نہیں پڑھا اور جب کبھی میں نے ان سے امنگ پوچھی تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم تبلیغ کریں گے اور جب سوال کیا کہ کس طرح تبلیغ کرو گے تو یہ جواب دیا کہ جس طرح بھی ہوگا تبلیغ کریں گے۔ یہ الفاظ کہنے والوں کی ہمت تو بتاتے ہیں مگر عقل تو نہیں بتاتے۔ الفاظ سے یہ تو ظاہر ہوتا ہے کہ کہنے والا ہمت رکھتا ہے۔ مگر یہ بھی ظاہر ہو جاتا ہے کہ کہنے والے میں عقل نہیں اور نہ ہی وسعت خیالی ہے۔ جس طرح ہوگا تو سُؤر کہا کرتا ہے۔ اگر سُؤر کی زبان ہوتی اور اس سے پوچھا جاتا کہ تو کس طرح حملہ کرے گا تو وہ یہی کہتا کہ جس طرح ہوگا کروں گا۔ پس سُؤر کا یہ کام ہوتا ہے کہ وہ سیدھا چل پڑتا ہے۔ آگے نیزہ لے کر بیٹھو تو وہ نیزے پر حملہ کر دے گا ، بندوق لے کر بیٹھو تو بندوق کی گولی کی طرف دوڑتا چلا آئے گا۔ پس یہ تو سُوروں والا حملہ ہے کہ سیدھے چلے گئے اور عواقب کا کوئی خیال نہ کیا۔“

(الفضل قادیان مورخہ ٢٤؍ جنوری ١٩٣٥ء، ج ٢٢، نمبر ٨٩)

اس انتباہ کے باوجود قادیانی پنڈت ضرور سُوروں والا حملہ کریں گے اور پھر قطعاً اس امر کی پرواہ نہیں کریں گے کہ وہ نیزہ و بندوق پر حملہ کررہے ہیں یا شکاری پر۔ حیرت ہے کہ جس مسیح کا کام دنیا میں آکر خنزیروں کو قتل کرنا بتایا گیا تھا۔ اسی مسیح موعود کے صحن میں سُوروں کی پرورش ہورہی ہے۔ اس سے آپ بخوبی سمجھ سکتے ہیں کہ ان سُوروں کی پرورش کرنے والا مسیح ابن مریم ہو سکتا ہے یا مسیح الدجال؟ انشاء اللہ وہ وقت ضرور آئے گا جب سارے سُور قتل کر دیئے جائیں گے۔ حدیث نبوی ”يقتل الخنزير“ کبھی باطل نہیں ہو سکتی۔

٥٤

صفحہ ٥٠٤

کا جواب دینے کی قادیانی پنڈت ہر ممکن کوشش جواب دے سکتے ہیں۔ اس لئے کہ جو دلائل انہیں ان کے باوجود میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ قادیانی پنڈت رہے ہیں اور مرزا قادیانی کے پالتو اور تربیت یافتہ جوش دکھائیں گے اور اس جوش میں خود وہ کیا بنیں میں نے کرید کرید کر ان کے دماغ میں داخل ہونا تہ پر نظر آیا اور مجھے معلوم ہوا کہ سوائے اس کے کہ یہ لو یا نبوت کے مسئلہ کی یہ دلیلیں یاد کر لو۔ انہیں اور سے بھی سوال کیا معلوم ہوا کہ اس نے اخبار کبھی پوچھی تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم تبلیغ کریں گے جواب دیا کہ جس طرح بھی ہوگا تبلیغ کریں گے۔ نہیں بناتے۔ الفاظ سے یہ تو ظاہر ہوتا ہے کہ کہنے کہنے والے میں عقل نہیں اور نہ ہی وسعت خیالی تک تو زبان ہوتی اور اس سے پوچھا جاتا کہ تو کس ہوں گا۔ پس سؤر کا یہ کام ہوتا ہے کہ وہ سیدھا حملہ کردے گا، بندوق لے کر بیٹھو تو بندوق کی والا حملہ ہے کہ سیدھے چلے گئے اور عواقب کا

قادیان مورخہ ٢٤/ جنوری ١٩٣٥ء، ج ٢٢، نمبر ٨٩)

سؤروں والا حملہ کریں گے اور پھر قطعاً اس امر تے ہیں یا شکاری پر۔ حیرت ہے کہ جس مسیح کا موعود کے صحن میں سؤروں کی پرورش ہو رہی کی پرورش کرنے والا مسیح ابن مریم ہو سکتا ہے ہمارے سؤر قتل کر دیئے جائیں گے۔ حدیث

خاتم النبیین

لا نبی بعدی

مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ

قادیانیوں کا کلمہ

اور

حکومت پاکستان کا

آرڈیننس

جناب مولانا محمد ولی الدین فاضلؒ

صفحہ ٥٠٦

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قادیانیوں کا کلمہ اور حکومت پاکستان کا آرڈیننس

(میں نسلاً عرب ہوں۔ میرے پردادا شیخ سالم بن عبداللہ عرب سے آکر حیدرآباد کی آصفی فوج میں بھرتی ہوئے۔ ان کے کسی کارنامے سے خوش ہوکر حکومت نے کچھ جاگیر انعام میں دی تھی۔ جس کی وجہ سے عملاً وہ ہندوستان میں آباد ہوگئے۔ علم دین کے حصول اور خدمت دین کا جذبہ وراثت میں ملا۔ میرے والد مولوی محمد بشیر الدین صاحب نے بدقسمتی سے ١٩٠٥ء میں قادیانیت قبول کرلی۔ جب کہ میری عمر پندرہ سال تھی۔ ہم پانچ بھائی تھے جو قادیانیت کی تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے قادیان (صوبہ پنجاب) بھجوائے گئے۔ میں نے چھ سال تک قادیانیت کی مخصوص تعلیم حاصل کی۔ ١٩١٧ء میں پنجاب یونیورسٹی سے مولوی فاضل کیا۔ ١٩٢٦ء تک قادیانیت کے پرچار پر مامور ہوا۔ اس اثناء میں امت محمدیہ سے کٹ جانے کا شدید احساس ہوا اور بعض نظریاتی اختلافات پیدا ہونے شروع ہوئے۔ میرے ذہن میں بیسیوں سوالات ابھرتے رہے۔ مگر بالجبر ان کو دبایا جاتا رہا۔ طویل جدوجہد کے باوجود افسوس ہے کہ قادیانیوں کی اصلاح نہ ہوسکی۔ بالآخر مجھے اس مذہب سے کنارہ کشی اختیار کرنے اور دوبارہ اسلام کی آغوش میں آنے کی توفیق ملی۔ لیکن دُکھ اس بات کا ہے کہ اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ قادیانیت میں گزارا۔ اب میرا اس مذہب سے کوئی تعلق نہیں رہا۔ قادیانیت کے سلسلہ میں جو اختلافی نظریات اور سوالات میرے ذہن میں ابھرے تھے زیر نظر مضمون ان ہی کی ایک کڑی ہے۔ خدا کرے کہ ہمارے قادیانی بھائیوں کو راہِ حق کی طرف لوٹنے کی توفیق ملے)

جب سے پاکستان میں قادیانیوں کو حکومتی سطح پر غیر مسلم اور خارج از امت محمدیہ قرار دیا گیا ہے۔ قادیانی امت میں کہرام مچ گیا اور ہرکس و ناکس کے آگے چیخ و پکار اور واویلا کیا جارہا ہے۔ دیکھو جنرل ضیاء الحق کی حکومت نے قادیانیوں کو باوجود کلمہ طیبہ پڑھنے کے غیر مسلم قرار دیا

صفحہ ٥٠٨

ہے اور پھر اپنی مظلومیت کی دہائی دیتے ہوئے اقوام عالم کے تمام دروازے کھٹکھٹائے اور اپنے سیاسی آقاؤں سے فریاد کی کہ وہ حکومت پاکستان پر دباؤ ڈالیں کہ وہ ہمیں مسلمان سمجھے اور اسلامی حقوق عطا کرے ۔ لیکن افسوس ہے کہ ان کی اب تک کی ساری تگ و دو بے سود اور تمام مساعی رائیگاں چلی گئیں ۔

حقیقت تو یہ ہے کہ ان کا یہ سارا شور و غل لاحاصل ہے ۔ اس لئے کہ حکومت پاکستان کا یہ فیصلہ دراصل قادیانیوں کے اپنے موقف و فتاویٰ کا طبعی ردعمل ہے۔ خود کردہ را علاجے نیست ۔ جب قادیانیوں نے مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی بنایا اور انہیں نبی منوانے کے لئے روپے کو پانی کی طرح بہایا، ہزاروں کتابیں اور رسالے شائع کئے ۔ مباحثے اور مناظرے کئے اور جوش خطابت میں اشتعال انگیز فتوے جاری کئے ۔ اکابرین اسلام کو برا بھلا کہا۔ ان کے عقائد واعمال کا مذاق اڑایا اور قادیانی امت کے ایک ایک فرد پر یہ فرض عائد ہوا کہ وہ مسلمانوں کو غیر مسلم اور خارج از اسلام سمجھے، تو ناظرین سمجھ سکتے ہیں کہ ان اشتعال انگیزیوں کا مسلمانوں کی طرف سے کیا جواب دیا جا سکتا تھا ۔ بطور مثال قادیانیوں کے چند فتوے درج ذیل ہیں :

ہوئے ، خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔"

(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٤)

کے متبعین کو مسلمان نہ سمجھے ایسے ہی ایک احمدی ( قادیانی) کا فرض ہے کہ جو مسیح موعود کی بیعت میں نہیں اسے مسلمان نہ سمجھے ۔"

(انوار خلافت مرزا محمود احمد قادیانی ص ٨٩)

(انوار خلافت ص ٩٠)

صفحہ ٥٠٨

السلام کو مانتا ہے مگر محمدﷺ کو نہیں مانتا، یا محمدﷺ کو مانتا ہے مگر مسیح موعود (مرزا قادیانی) کو نہیں مانتا وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔“

(کلمۃ الفصل ص ١١٠)

ان فتوؤں کے جواب میں قادیانیوں کو بار بار سمجھایا گیا کہ ایسے اشتعال انگیز فتوے جاری نہ کریں اور مسلمانوں کو یہودیوں اور عیسائیوں کی طرح غیر مسلم نہ قرار دیں۔ کیونکہ مسلمان کلمہ گو ہیں، اہل قبلہ ہیں، سیرت رسول پر کما حقہ عامل اور ارکان اسلام کے پابند ہیں۔ محض مرزا قادیانی کو نہ ماننے کی وجہ سے وہ کیونکر غیر مسلم ہو سکتے ہیں؟ اور بار بار اپیل کی گئی کہ ان فتوؤں کا شدید ردعمل آپ لوگوں کے لئے خطرناک ہو سکتا ہے۔ مگر یہ ساری اپیلیں اور مسلم اکابرین کی ساری کوششیں بے سود و بے نتیجہ ثابت ہوئیں اور مسلسل ایک صدی کی اشتعال انگیزیوں اور ہٹ دھرمیوں کا طبعی و لازمی رد عمل وہی رونما ہوا جس کا اندیشہ تھا۔

حکومت پاکستان کے جاری کردہ آرڈیننس کو ظلم قرار دینے والے قادیانیوں کا یہ مطالبہ سراسر احمقانہ ہے کہ وہ تو دنیا بھر کے کلمہ گو مسلمانوں کو غیر مسلم کہیں اور پھر ان سے یہ مطالبہ بھی کریں کہ وہ انہیں مسلمان تسلیم کر لیں۔ قادیانیوں کی یہ ہٹ دھرمی ناقابل فہم ہے کہ وہ تو اہل اسلام کو دائرہ اسلام سے خارج کریں اور پھر ان سے خود کو مسلمان منوائیں۔ چنانچہ قادیانیوں کی اسی منطق نے ملک میں فسادات کی آگ بھڑکائی، لاکھوں کی املاک ضائع ہوئیں اور ہر طرف نفرت و تشدد کے شعلے بلند ہوئے۔ بالآخر حکومت پاکستان نے اس کا حل یہی ڈھونڈا کہ خود قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا جائے۔ اس آرڈیننس کے بعد عوام اور خصوصاً اہل اسلام نے امن و چین کا سانس لیا اور اس طرح یہ فتنہ ہمیشہ کے لئے دبا دیا گیا۔ مستقبل قریب میں اب اس کے دوبارہ سر اٹھانے کے سارے امکانات ختم ہو چکے ہیں۔

حکومت پاکستان کے اس آرڈیننس کے بعد قادیانی حضرات اپنے مسلمان ہونے کی سب سے بڑی دلیل یہ دیتے پھر رہے ہیں کہ ہم بھی مسلمانوں کی طرح کلمہ طیبہ ”لا الہ الا الله

٤

صفحہ ٥٠٩

محمد رسول اللہ“ پڑھتے ہیں۔ اس لئے ہم غیر مسلم نہیں ہو سکتے۔ بعض سادہ لوح مسلمان قادیانیوں کی اس دلیل سے متاثر ہو کر ہمدردی کے جذبات ظاہر بھی کر دیتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ قادیانیوں کا یہ کلمہ پڑھنا اور اس کا دہرانا سراسر دھوکہ ہے اور یہ صرف دکھانے کے دانت ہیں۔ ”کلمۃ حق ارید بھا الباطل“

اس کی تفصیل یہ ہے کہ شریعت اسلامی کی اصطلاح میں اسلام اور کفر میں حد فاصل صرف آنحضرت ﷺ پر ایمان ہے اور تا قیامت اللہ تعالیٰ کی رضا اسی میں ہے کہ اقوام و مذاہب کے امتیازات اور ملتوں اور امتوں کے تمام اختلافات کو مٹا کر ساری دنیا کو آنحضرت ﷺ کے جھنڈے تلے جمع کرے۔ چنانچہ اسی مقصد کے تحت اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو خاتم النبیین کا اعلیٰ ترین منصب عطاء فرمایا ہے۔ لہٰذا اب قیامت تک جو شخص بھی خاتم النبیین ﷺ کے جھنڈے کے نیچے آ جائے اور کلمہ طیبہ ”لا اله الا الله محمد رسول الله“ کا اقرار کرے وہ مسلم ہوگا اور جو نہ آئے وہ کافر یا غیر مسلم ہوگا۔ نہ اس کلمہ میں کوئی کمی بیشی ہو سکتی ہے اور نہ محمد ﷺ کے علاوہ کسی اور کے جھنڈے کو یہ مرتبہ دیا جا سکتا ہے۔ اہل اسلام کا ایمان ہے کہ قیامت تک صرف ”محمد رسول اللہ“ کا جھنڈا رہے گا۔

لیکن قادیانی حضرات کلمہ طیبہ کی اس حیثیت اور محمد رسول اللہ ﷺ کے اس مقام و مرتبہ کے قائل نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مسلمان ہونے کے لئے ”لا اله الا الله محمد رسول اللہ“ کہنا کافی نہیں ہے اور نہ وہ شخص مسلمان کہلا سکتا ہے جو محمد ﷺ کے جھنڈے کے نیچے آ جائے۔ وہ ایسا ہی غیر مسلم کا غیر مسلم رہے گا۔ جیسے کوئی شخص حضرت موسیٰ علیہ السلام، یا عیسیٰ علیہ السلام یا کسی سابقہ نبی کے جھنڈے کے نیچے آ جائے۔ اب محمد رسول اللہ کا جھنڈا باقی نہیں رہا۔ اس کی جگہ مرزا غلام احمد قادیانی کا جھنڈا گاڑا گیا ہے۔ اب کوئی مسلمان کہلانا چاہے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ مرزا قادیانی کے جھنڈے کے نیچے آ کر ان کی نبوت کا اقرار کرے۔ آج دنیا کی

٥

صفحہ ٥١١

تمام اسلامی حکومتیں اور اسی کروڑ اہل اسلام چونکہ مرزا قادیانی کے جھنڈے کے نیچے جمع نہیں ہوئے ہیں۔ اس لئے وہ کلمہ طیبہ پڑھنے کے باوجود غیر مسلم اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ ایسے ہی غیر مسلم جیسے یہودی یا عیسائی ہیں۔ قادیانیوں کے نزدیک چونکہ خلافت کا ماننا بھی جزو اسلام اور شرط ایمان ہے۔ اس لئے مرزا قادیانی کی نبوت پر ایمان لانے کے بعد جب تک ان کے موجودہ خلیفہ مرزا طاہر احمد (اب مرزا مسرور) کو خلیفہ نہ مانا جائے تب تک کوئی شخص مسلمان نہیں ہو سکتا۔ ایسے شخص کو عملاً امت سے خارج کر کے اس کے ساتھ غیر مسلموں جیسا برتاؤ کیا جاتا ہے۔ اس لحاظ سے قادیانیوں کا حقیقی کلمہ یہ بنتا ہے جسے وہ لوگوں سے پوشیدہ رکھتے ہیں۔ حتیٰ کہ سادہ لوح اور ناواقف قادیانی بھی اس کا شعور نہیں رکھتے۔

”لا اله الا الله محمد رسول الله غلام احمد نبی الله، طاہر خلیفۃ الله“

آنحضرت ﷺ نے تو صرف کلمہ طیبہ ”لا اله الا الله محمد رسول الله“ کا اقرار کروا کر دنیا کو مسلمان بنایا تھا اور اسی کلمہ طیبہ کی مدد سے امت محمدیہ کے ہزاروں اولیاء، غوث، قطب، ابدال، مجددین اور محدثین اور علمائے حق نے اصلاح وارشاد اور اشاعت اسلام کا فریضہ ادا کیا اور کر رہے ہیں۔ جس کے نتیجہ میں آج دنیا کے گوشہ گوشہ میں اسلام کے جاں نثار وفدائی نظر آتے ہیں۔ مگر قادیانی حضرات نے کلمہ طیبہ میں اضافہ کر کے اپنے خود ساختہ کلمہ کے نہ ماننے والے دنیا کے اسی کروڑ اہل اسلام کو غیر مسلم بنا ڈالا۔ گویا ان کے نزدیک اب دنیا میں صرف چند لاکھ قادیانی ہی مسلمان رہ گئے ہیں اور باقی سب دائرہ اسلام سے خارج۔ یہی وہ اسلام دشمنی اور در پردہ امت محمدیہ سے غداری ہے۔ جس کا خمیازہ انہیں پاکستان میں بھگتنا پڑ رہا ہے۔

قادیانیوں کے لئے اب بھی وقت ہے۔ اسلام میں توبہ کا دروازہ کھلا ہوا ہے۔ وہ اپنے موقف کا سنجیدگی سے جائزہ لیں اور اسلام میں فتنہ پردازی اور تفرقہ اندازی کا ارتکاب نہ کریں۔

٦

PDF 512

نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم

الجواب الصحيح

فی

حیات المسیح علیہ السلام

حضرت مولانا غلام رسول فیروزی

صفحہ ٥١٢

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

کسی بھائی نے مرزائیوں کی طرف سے سات سوال کئے ہیں۔ جن کا جواب نہایت وضاحت کے ساتھ شمس الہدایہ، سیف چشتیائی، عقیدۃ الاسلام، شہادت القرآن، محمدیہ پاکٹ بک، اسلام اور قادیانیت وغیرہ میں دیا جا چکا ہے۔ اہل اسلام کو چاہئے کہ ان کتابوں کو خرید کر ان سے استفادہ کریں اور اپنے ایمان کی حفاظت کا سامان تیار کریں۔ علمائے اسلام نے مرزائیوں کے تمام تر اعتراضات کے جواب دے رکھے ہیں اور ختم نبوت کی چوکیداری کا حق ادا کر دیا ہے۔ اب اگر مسلمان ان کتابوں کو خرید کر پڑھنے تک کی بھی تکلیف نہ کریں تو اس میں قصور وار وہ خود ہیں نہ کہ علمائے کرام۔

بہر حال ان سات سوالوں کے جواب بھی اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی توفیق سے شائع کئے جا رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ میرا مددگار اور سرکار دوعالم ﷺ میرے شفیع ہیں۔

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نحمده ونصلى على رسوله الكريم !

سوال نمبر : ١

قرآن کریم کی کون سی آیات ثابت کرتی ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام زندہ بجسد عنصری آسمان پر اٹھائے گئے؟

جواب

مرزائیوں کا دعویٰ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام صلیب دیئے گئے۔ صلیب پر مردے کی طرح ہو گئے لیکن مرے نہیں۔ اب میں سب سے پہلے قرآن کریم کی روشنی میں یہ ثابت کروں گا کہ عیسیٰ علیہ السلام صلیب کے نزدیک بھی نہیں گئے اور پھر قرآن ہی سے یہ بتاؤں گا کہ جب صلیب کے نزدیک بھی نہ گئے تو پھر آخر کہاں گئے؟

عیسیٰ علیہ السلام کے صلیب کے قریب بھی نہ جانے کی مندرجہ ذیل چھ دلیلیں ہیں۔

پہلی دلیل

” ومكروا ومكر الله والله خير الماكرين (آل عمران: ٥٤) “ ” یعنی یہود نے مکر کیا اور اللہ نے ان کے خلاف تدبیر کی اور اللہ بہتر تدبیر کرنے والا ہے۔﴿ اس جملے سے جو بات یقینی طور پر معلوم ہوتی ہے۔ وہ یہ ہے کہ یہودی عیسیٰ علیہ السلام کو جسمانی تکلیف نہ دے

٢

سکے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے حضو ويمكر الله والله خير ا خلاف تدبیر کرتا ہے اور اللہ بہتر ان الفاظ نے حضو بتایا۔ اب بالکل یہی الفاظ عیسیٰ عیسیٰ علیہ السلام کو معمولی جسمانی

دوسری دلیل

قیامت کے دن ا بنی اسرائيل عنك ( کے ہاتھ تجھ سے روکے رکھے گھڑے ہوئے ڈھکوسلے کے شخص جو خدا کے اس فرمان رکھے۔“ عیسیٰ علیہ السلام کا

تیسری دلیل

’وماقتلوه وم نہ دیا۔ ﴿ صلیب نہ دیا کام جائے کہ: ”فلاں آدمی پھا کہ اسے پھانسی پر لٹکایا تو یہی ہے کہ وہ پھانسی کی جگہ قتل اس کا نتیجہ ہے )

چوتھی دلیل

’وقولهم ﴿یعنی اللہ نے لعنت کی یہاں قابل غو باعث ہوا۔ لیکن اگر فی ال

صفحہ ٥١٣

سکے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کے ہجرت کے وقت یہی جملہ فرمایا کہ: ”ويمكرون ويمكر الله والله خير الماكرين (انفال:٣٠)“ ﴿کفار مکر کرتے ہیں اور اللہ ان کے خلاف تدبیر کرتا ہے اور اللہ بہتر تدبیر کرنے والا ہے۔﴾

ان الفاظ نے حضور ﷺ کا ہجرت کے موقع پر کفار سے معمولی جسمانی ایذاء تک نہ لینا بتایا۔ اب بالکل یہی الفاظ عیسیٰ علیہ السلام کے حق میں کہے گئے تو یہاں بھی یقیناً یہی مراد ہوگی کہ عیسیٰ علیہ السلام کو معمولی جسمانی ایذاء تک نہ دی گئی۔

دوسری دلیل

قیامت کے دن اللہ تعالیٰ عیسیٰ علیہ السلام کو یہ احسان یاد دلائے گا کہ: ”اذ كففت بنی اسرائيل عنك (المائدہ:١١٠)“ ﴿یعنی یاد کر اے عیسیٰ! جب میں نے بنی اسرائیل کے ہاتھ تجھ سے روکے رکھے۔﴾ یہ ایسی قطعی آیت ہے جو مرزائیوں کے صلیب کے بارے میں گھڑے ہوئے ڈھکوسلے کے دامن کو تار تار کر دیتی ہے اور سخت محرف اور مطلب پرست ہے۔ وہ شخص جو خدا کے اس فرمان کے باوجود کہ: ”میں نے بنی اسرائیل کے ہاتھ عیسیٰ سے روکے رکھے۔“ عیسیٰ علیہ السلام کا صلیب پر چڑھنا ثابت کرے۔

تیسری دلیل

”ماقتلوه وما صلبوه (النساء:١٥٧)“ ﴿یعنی اسے قتل بھی نہ کیا اور صلیب بھی نہ دیا۔﴾ صلیب نہ دیا کا صاف مطلب یہی ہے کہ اسے صلیب پر لے ہی نہیں گئے۔ مثلاً اگر کہا جائے کہ: ”فلاں آدمی پھانسی نہیں دیا گیا۔“ تو مجھے انصاف سے بتائیے کہ کیا اس کا یہ مطلب ہوگا کہ اسے پھانسی پر لٹکایا تو گیا۔ لیکن وہاں سے اس کی جان نہ نکلی؟ نہیں ایسا ہرگز نہیں بلکہ مطلب یہی ہے کہ وہ پھانسی کی جگہ پر پھانسی کی غرض سے لے جایا ہی نہیں گیا۔ (صلیب مطلقاً لٹکانا ہے اور قتل اس کا نتیجہ ہے)

چوتھی دلیل

”وقولهم انا قتلنا المسيح ابن مريم رسول الله (النساء:١٥٧)“

﴿یعنی اللہ نے لعنت کی ہے یہود پر کہ انہوں نے مسیح ابن مريم کے قتل کا دعویٰ کیا۔﴾

یہاں قابل غور امر یہ ہے کہ قتل کا صرف دعویٰ تک کرنا یہود کے لئے اللہ کی لعنت کا باعث ہوا۔ لیکن اگر فی الواقع انہوں نے صلیب پر لٹکا کر عیسیٰ علیہ السلام کو اذیتیں دی ہوتیں تو اس

٣

PDF 515

فعل پر بھی انہیں بدرجہ اولیٰ لعنت ہونا چاہئے تھی۔ قتل کا صرف دعویٰ موجب لعنت ہوا۔ لیکن شدید عذاب اور تکلیف پہنچانا حتی کہ لوگوں نے اسے مردہ یقین کر لیا۔ کیوں نہ موجب لعنت ہوا؟

پانچویں دلیل

”وکان الله عزيزاً حكيما (النساء: ١٥٨) ﴿اور اللہ غالب حکمت والا ہے۔﴾ یہود کے ہاتھوں سے صاف بچالینا واقعی حکمت اور غلبہ ہے۔ لیکن مروا مروا کر کے مردے کی طرح کر دینا مغلوبیت اور عجز ہے۔

چھٹی دلیل

”انی متوفيك ورافعك الى (آل عمران: ٥٥) ﴿اے عیسیٰ میں ہی تیری توفی کرنے والا ہوں اور اپنی طرف اٹھانے والا ہوں۔﴾ یہ فرمان الٰہی عیسیٰ علیہ السلام کو تسلی دینے کے لئے تھا کہ اے عیسیٰ تو فکر نہ کر۔ یہود تیرا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے اور تیری توفی اور رفع میرے ذمے ہے۔ لیکن اگر خدانخواستہ مروا مروا کر عیسیٰ علیہ السلام کو مردے کی طرح کرا دینا تھا تو اس تسلی کا کیا معنی؟ کیا اس تسلی کا یہی مطلب ہے کہ اے عیسیٰ تو فکر نہ کر۔ میں تجھے وہ ذلیل کراؤں گا کہ تیرا منہ ہر ایک ہو جائے گا۔ حتیٰ کہ لوگ تجھے مردہ یقین کر لیں گے؟ (لاحول ولا قوۃ الا بااللہ العلی العظیم)

یہ چھ قرآنی دلیلیں ہیں جو عیسیٰ علیہ السلام کا صلیب کے قریب بھی نہ جانا بتاتی ہیں۔ قرآن کی اس قدر صراحتوں کے باوجود بھی اگر کوئی ضدی اور مطلب پرست عیسیٰ علیہ السلام کے صلیب پر چڑھنے کا عقیدہ رکھے تو میرے پاس سوائے اس کے کچھ چارہ نہیں کہ: ”انا للہ وانا الیہ راجعون“ مرزائی حضرات کے پاس محض لفاظی اور سخن طرازی کے سوائے کچھ بھی نہیں۔ تحقیق اور مفہوم سے یہ مذہب سراسر کھوکھلا ہے۔ قرآن وحدیث سراسر اہل اسلام کا ساتھ دیتے ہیں۔

مرزائیوں پر ایک سوال

آپ کا دعویٰ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام صلیب پر چڑھائے گئے۔ انہیں مردے کی طرح کر دیا گیا۔ لیکن دراصل وہ زندہ تھے۔ پھر وہ مخفی طور پر کشمیر کو ہجرت کر گئے۔ میں پوچھتا ہوں کہ اس ڈھکوسلے کو قرآن، حدیث یا کسی اسلامی تاریخ ہی میں دکھا دیں۔ ورنہ خدا کے لئے...... خدا کے لئے اپنے ایمان کی خیر منائیے اور اگر اپنے ایمان کی پرواہ نہیں تو کم از کم بے گناہ اہل اسلام کو اس گمراہی کے گڑھے میں گرانے کے کیوں در پے ہو؟

٤

آسمان پر جانا

اوّل تو جب معلوم ہو کا صلیبی ڈھکوسلا جھوٹ اور سراسر کے آسمان پر جانے کی مزید دلیل لیکن بہر حال قرآن بل رفعه الله اليه (النساء اسے اپنی طرف اٹھا لیا۔﴾ اس آیت میں رفع ہیں۔ جن میں سے صرف چار

مانیں گے کہ قرآن نے عیسیٰ علی اب اگر رفع سے یقیناً آپ کہیں گے کہ نزول مراد رفع درجات لینا غلط ہے ہاں اگر رفع سے یہ بالکل درست ہے۔ لہذا یہ

اب اللہ کی راہ کے مطابق عبارت یوں بنی کہ شہید ہونا اور خدا اثبات کیا معنی رکھتا ہے؟ میں جانتا ہوں کہ لگائیں گے۔ یعنی تورات کی ہوتا ہے تو پھر العیاذ بااللہ حق بااللہ ) خدا کے لئے آپ صا

صفحہ ٥١٥

ہوتے تھی۔ قتل کا صرف دعویٰ موجب لعنت ہوا۔ لیکن شدید سے مردہ یقین کر لیا۔ کیوں نہ موجب لعنت ہوا؟

حکیما (النساء: ١٥٨) ” اور اللہ غالب حکمت والا تا واقعی حکمت اور غلبہ ہے۔ لیکن مردہ مروا کر کے مردے

تی (آل عمران: ٥٥) ”اے عیسیٰ میں ہی تیری توفی ہوں۔ ﴾

تسلی دینے کے لئے تھا کہ اے عیسیٰ تو فکر نہ کر۔ یہود تیرا کرے دے ہے۔ لیکن اگر خدانخواستہ مروا مروا کر عیسیٰ کی تسلی کا کیا معنی؟ کیا اس تسلی کا یہی مطلب ہے کہ اے ں کہ تیرا منہ کالا ہو جائے گا۔ حتیٰ کہ لوگ تجھے مردہ للہ العلی العظیم) سلام کا صلیب کے قریب بھی نہ جانا بتاتی ہیں۔ قرآن عیسیٰ اور مطلب پرست عیسیٰ علیہ السلام کے صلیب پر کے کچھ چارہ نہیں کہ ”انا للہ وانا الیہ راجعون“ اور سخن طرازی کے سوائے کچھ بھی نہیں۔ تحقیق اور حدیث سراسر اہل اسلام کا ساتھ دیتے ہیں۔

صلیب پر چڑھائے گئے۔ انہیں مردے کی طرح کر کشمیر کو ہجرت کر گئے۔ میں پوچھتا ہوں کہ اس دلیل دکھا دیں۔ ورنہ خدا کے لئے ...... خدا کے ولیا پرواہ نہیں تو کم از کم بے گناہ اہل اسلام کو اس

آسمان پر جانا

اوّل تو جب معلوم ہو گیا کہ عیسیٰ علیہ السلام صلیب پر نہیں گئے اور مرزا غلام احمد قادیانی کا صلیبی ڈھکوسلا جھوٹ اور سراسر جھوٹ ہے تو اب ایک سلیم الطبع انسان کے لئے عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر جانے کی مزید دلیل کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔

لیکن بہر حال قرآن نے اس کی بھی صراحت کر دی ہے۔ فرمایا: ”وما قتلوہ یقیناً بل رفعہ اللہ الیہ (النساء:١٥٧،١٥٨)“ یعنی یہود نے اسے یقیناً قتل نہ کیا۔ بلکہ اللہ نے اسے اپنی طرف اٹھا لیا۔ ﴾

اس آیت میں رفع سے مراد آسمان پر بجسد عنصری جانا، لینے کی بہت سی قطعی وجوہات ہیں۔ جن میں سے صرف چار یہاں پر مختصراً عرض کی جاتی ہیں۔

مانیں گے کہ قرآن نے عیسیٰ علیہ السلام کے رفع اور حدیث نے نزول کا اعلان کیا ہے۔

اب اگر رفع سے مراد رفع درجات لی جائے تو پھر بتائیے کہ نزول سے مراد کیا ہوگی؟ یقیناً آپ کہیں گے کہ نزول سے مراد درجات کا نزول ہوگا۔ یعنی درجات کی پستی، پس رفع سے مراد رفع درجات لینا غلط ہے۔

ہاں اگر رفع سے مراد جسمانی رفع لی جائے تو پھر نزول سے مراد جسمانی نزول ہوگا اور یہ بالکل درست ہے۔ لہٰذا یہاں یقیناً رفع سے مراد رفع جسمانی ہے۔

اب اللہ کی راہ میں قتل ہونا بذات خود درجات کی بلندی کو ظاہر کرتا ہے۔ آپ کے زعم کے مطابق عبارت یوں بنی کہ: ”وہ اللہ کی راہ میں شہید نہ ہوا۔ بلکہ اس کے درجات بلند ہوئے۔“

شہید ہونا اور درجات کی بلندی ایک ہی چیز ہے۔ پھر شہادت کی نفی اور درجات کا اثبات کیا معنی رکھتا ہے؟

میں جانتا ہوں کہ آپ یہودیوں کی طرح یہاں سے سیدھا کتاب تورات میں غوطہ لگائیں گے۔ یعنی تورات کی یہ تعلیم ہے کہ مقتول لعنتی ہوتا ہے۔ میں جواب دوں گا کہ اگر مقتول لعنتی ہوتا ہے تو پھر العیاذ باللہ حضرت یحییٰ اور زکریا علیہما السلام وغیرہ سب لعنتی موت مرے۔ (العیاذ باللہ) خدا کے لئے آپ صاحب قرآن بنیے ۔ توراتی نہ بنیے۔

٥

صفحہ ٥١٦

اس کا مزید جواب یہ ہے کہ تورات کی یہ تعلیم نہیں کہ ہر مقتول لعنتی ہوتا ہے۔ بلکہ تعلیم یہ ہے کہ ہر گنہگار مقتول لعنتی ہوتا ہے۔

(دیکھو تورات کتاب استثناء باب ٢١، آیت ٢٢، ٢٣)

اب عیسیٰ علیہ السلام چونکہ بے گناہ تھے۔ لہٰذا اگر صلیب پہ قتل بھی ہوجاتے تو لعنتی نہ بنتے اور مزید تفصیل کا یہاں موقع نہیں۔ سائل اور مجیب آمنے سامنے ہوں تو اعتراضات رفع کرنے کا لطف ہوتا ہے۔

رفع ہوگا۔ اس آیت میں پہلے عیسیٰ علیہ السلام کے قتل اور صلیب کی نفی کی گئی ہے اور پھر رفع کا اعلان ہوا ہے۔ معلوم ہوا کہ جس کا قتل اور صلیب ہونا تھا اسی کا رفع ہوا۔

اب اگر یہودی عیسیٰ علیہ السلام کی روح کو قتل کرنا چاہتے تھے اور روح کو پھانسی دینا چاہتے تھے تو پھر بے شک رفع بھی روح کا ہوگا۔ لیکن اگر وہ قتل بھی اس جسم کو کرنا چاہتے تھے جس میں روح تھی اور پھانسی بھی اسی جسم کو دینا چاہتے تھے جس میں روح تھی تو پھر یقیناً رفع بھی اسی جسم کا ہوگا۔ جس میں روح تھی۔ فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔

اب عیسیٰ علیہ السلام کے بارے عیسائیوں کے تین دعوے تھے۔

طرف اٹھالیا)

آپ مجھے بتائیے! کہ اللہ تعالیٰ نے قتل اور صلب کے دعووں کی نفی منہ توڑ الفاظ میں کر دی۔ لیکن ان کے آسمانی رفع کے عقیدے کی نفی قرآن نے بالکل اسی طرح منہ توڑ الفاظ میں کیوں نہ کی؟ کیوں نہ کی؟ کیوں نہ کی؟ کیوں نہ کی؟

بلکہ الٹا اپنی طرف اٹھا لینے کا اعلان فرما کر عیسائیوں کے عقیدہ کی تائید کر دی۔ یا اگر تائید نہیں تو کم از کم اتنا تو مانو گے کہ ایک صریح گنجائش عیسائیوں کے عقیدہ کے صحیح ہونے کی چھوڑ دی۔ یہ حسن تردید کے منافی ہے۔ پس ایسی اشد ضرورت کے وقت بھی آسمانی رفع کی دوٹوک نفی نہ کرنا۔ بلکہ اپنی طرف اٹھانے کا اعلان کرنا جسمانی رفع کی کھلی دلیل ہے۔

آسمانی رفع کی باقی قرآنی دلیلوں کا یہاں موقع نہیں۔ اختصار پیش نظر ہے۔

٦

صفحہ ٥١٧

صفت کی یہ تعلیم نہیں کہ ہر مقتول لعنتی ہوتا ہے۔ بلکہ تعلیم یہ

(دیکھو تورات کتاب استثناء باب ٢١، آیت ٢٢، ٢٣)

گناہ تھے۔ لہٰذا اگر صلیب پر قتل بھی ہو جاتے تو لعنتی نہ مشکل اور عجیب آمنے سامنے ہوں تو اعتراضات رفع

جسمانی رفع ہوگا۔ لیکن اگر رفع کا مفعول جسم ہو تو جسمانی کے قتل اور صلیب کی نفی کی گئی ہے اور پھر رفع کا اعلان کیا تھا اسی کا رفع ہوا۔ کی روح کو قتل کرنا چاہتے تھے اور روح کو پھانسی دینا تھا۔ لیکن اگر وہ قتل بھی اس جسم کو کرنا چاہتے تھے جس کرتے تھے جس میں روح تھی تو پھر یقیناً رفع بھی اسی جسم ہوا ہے۔ کے غلط دعویٰ کی تردید اور صحیح دعویٰ کی تائید فرماتا ہے۔

یہودیوں کے تین دعوے تھے۔ ”ما قتلوہ“ وہ قتل نہ ہوا) ”وما صلبوہ“ وہ صلیب نہ دیا گیا) نے کہا: ”رفعہ الله الیہ“ اللہ نے اسے اپنی

قتل اور صلب کے دعووں کی نفی منہ توڑ الفاظ میں کر دی۔ قرآن نے بالکل اسی طرح منہ توڑ الفاظ میں تردید کی؟ فرما کر عیسائیوں کے عقیدہ کی تائید کر دی۔ یا اگر گنجائش عیسائیوں کے عقیدہ کے صحیح ہونے کی چھوڑ ضرورت کے وقت بھی آسمانی رفع کی دوٹوک نفی نہ جسمانی رفع کی کھلی دلیل ہے۔ یہاں موقع نہیں۔ اختصار پیش نظر ہے۔

سوال نمبر :٢

قرآن کی کون سی آیات سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ بجسد عنصری آسمان سے زمین پر نزول فرمائیں گے۔

جواب

پہلی آیت: ”وانه لعلم للساعة (الزخرف: ٦١)“ ﴿یعنی بے شک عیسیٰ قیامت کی نشانی ہوگا۔﴾ یہ آیت پر مرزائیوں کے وارد کردہ اعتراضات کا لطف تو آمنے سامنے ہی ہوگا۔ لیکن اجمالی طور پر تین نکات عرض کرتا ہوں۔

کی موت ہے۔

(ملاحظہ ہو تفسیر معالم التنزیل اور کشاف)

”انہ“ کی ضمیر کا مرجع کسی دوسرے کو ٹھہرانا محض خود غرضی کا کرشمہ ہے۔

منافی ہے۔

اس آیت سے قطعی طور پر ثابت ہے کہ عیسیٰ ابن مریم بذات خود قیامت کی نشانی بنے گا۔ اب جب کہ اس کے آسمان پر جانے کا اعلان ”بل رفعہ الله الیہ“ میں ہوگیا تو ماننا پڑے گا کہ وہ آسمان سے ہی نازل ہو کر قیامت کی نشانی بنے گا۔ بلکہ میں کہتا ہوں کہ آسمان سے اترے عیسیٰ ابن مریم بذات خود آئے گا نہ کہ اس کا کوئی مثیل۔ پس مرزا قادیانی تو رگڑے گئے۔

دوسری آیت: ”وان من اھل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ (النساء: ١٥٩)“ ﴿تمام تر اہل کتاب عیسیٰ پر اس کی موت سے پہلے پہلے ایمان لائیں گے۔﴾ معلوم ہوا کہ ابھی عیسیٰ علیہ السلام نہیں مرے۔ بلکہ جب ان کی موت کا زمانہ آئے گا تو ان پر ان کی موت سے پہلے پہلے تمام تر اہل کتاب ایمان لائیں گے۔

اس آیت کی تشریح مسلم اور بخاری کی حدیث سے بھی ہوتی ہے۔ حضورﷺ نے فرمایا کہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے۔ عیسیٰ ابن مریم ضرور بضرور تم میں نازل ہوگا۔ ”الیٰ ان قال“ سب لوگ ایک سجدہ کو دنیا اور اس کی ہر چیز سے بہتر سمجھنے لگیں گے۔ پھر ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ اگر چاہو تو اس کی تصدیق کے لئے قرآن کی یہ آیت پڑھو۔ ”تمام تر اہل کتاب اس پر اس کی موت سے پہلے پہلے ایمان لائیں گے۔“

٧

صفحہ ٥١٨

یہ حدیث مرزائی مذہب کے لئے سخت مہلک ہے اور اس کے جواب میں مرزائی حضرات کا بغلیں مارنا مذبوحی حرکات کے علاوہ کچھ نہیں۔

ایک چیلنج

اس آیت میں ”لیؤمنن“ کے لفظ میں ل اور ن سے دوہری تاکید کی گئی ہے اور عربی کا قانون ہے کہ جب مضارع میں ل اور ن سے تاکید کی گئی ہو تو معنی ہمیشہ مستقبل کے ہوتے ہیں۔ مثلاً ”لَتُؤْمِنُنَّ، لَتَنْصُرُنَّ، لَيَهْبِطَنَّ“ وغیرہ۔ اس کے خلاف محاورہ عرب سے مرزائیوں کو کوئی مثال پیش کرنے کی توفیق نہ ہوگی۔ پس مراد یہی ہوئی کہ : ”آئندہ زمانے میں کبھی سب لوگ عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لائیں گے۔“

سوال نمبر : ٣

وہ کون سی احادیث مبارکہ ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ بجسد عنصری آسمان پر اٹھائے گئے؟

جواب

جو شخص آیات قرآنی سے گزر گیا۔ احادیث اس کے سامنے کیا حیثیت رکھتی ہیں؟ لیکن پھر بھی ”عن الحسن (ؒ) قال قال رسول اللہ ﷺ لليهود ان عيسى لم يمت وانه راجع اليكم قبل يوم القيمة (تفسير ابن كثير ج ١ ص ٣٦٦) ”بے شک عیسیٰ نہیں مرا بلکہ وہ قیامت سے پہلے پہلے تمہاری طرف لوٹ کر آنے والا ہے۔“

جب عیسیٰ نہیں مرا بلکہ واپس آنے والا ہے تو مرزا قادیانی سے کہئے کہ راہ فرار تلاش کریں۔ اگر آپ کہیں کہ حسن بصری کی حضور ﷺ سے ملاقات نہیں ہوئی تو میں عرض کروں گا کہ حضرت حسن بصری کا قول محدثین میں مشہور ہے کہ وہ فرماتے ہیں۔ میری ایسی روایات جن میں صحابی کا نام نہ ہو وہ سب حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے مروی ہوتی ہیں۔ آپ حجاج بن یوسف کی وجہ سے سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کا نام نہیں لیتے تھے۔ لیکن مرزائیوں کو تو اپنی غرض پیش نظر ہے نہ کہ تحقیق۔

تنبیہ

سائل نے سوالات میں ”زندہ بجسد عنصری آسمان پر جانا اور نازل ہونا۔“ ان الفاظ کا سختی سے اہتمام کیا ہے۔ حالانکہ یہ محض دھوکا ہے۔ جس میں صرف مسلمانوں کو ہی نہیں ڈالا جارہا

٨

صفحہ ٥١٩

بلکہ سائل بے چارے کو خود اس دھوکے میں مبتلا کیا گیا ہے۔ یاد رکھیں کہ عیسیٰ علیہ السلام کے لئے مندرجہ ذیل الفاظ میں سے کوئی ایک لفظ بھی اگر قرآن، حدیث، اقوال صحابہ یا اجماع امت میں مل جائے تو اس سے مرزائی مذہب کا بطلان ہو جاتا ہے۔

ان سب الفاظ کا منشاء اور غرض و غایت ایک ہے اور ان میں سے کسی ایک جملے کا پایا جانا حیات عیسیٰ علیہ السلام کو ثابت کر دیتا ہے۔ ”وهو المراد“

سوال نمبر: ٤

وہ کون سی احادیث ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ بجسد عنصری آسمان سے زمین پر نزول فرمائیں گے؟

جواب

نزول کی احادیث کی تعداد سو کے قریب ہے۔ مسلم اور بخاری کی لاجواب حدیث سوال نمبر ٢ کے جواب میں نقل کر چکا ہوں۔ کنز العمال کی حدیث میں ہے کہ: ”ینزل اخی ابن مریم من السماء“ یعنی میرا بھائی ابن مریم آسمان سے نازل ہوگا۔

اور بیہقی کی حدیث یہ ہے کہ: ”کیف انتم اذا نزل ابن مریم من السماء فیکم وامامکم منکم (الاسماء والصفات مصنف امام بیہقی) ”اے میرے امتیو! تمہاری اس وقت کیا شان ہوگی جب ابن مریم تم میں نازل ہوگا اور تمہارا امام تم میں سے ہوگا۔﴾

مسلم اور بخاری میں بھی یہی حدیث موجود ہے۔ لیکن وہاں آسمان کا لفظ نہیں اور قانون یہ ہے کہ : ”الحدیث یفسر بعضہ بعضاً“ پس بیہقی کی حدیث نے مسلم اور بخاری

٩

صفحہ ٥٢٠

کی حدیث کے معنی بتادیئے۔ (حدیث حدیث کی وضاحت کرتی ہے) اور متعین ہو گیا کہ مسلم اور بخاری کی حدیث میں آسمان کا لفظ موجود ہے۔ حدیث کی وضاحت کا حق حدیث کو ہے نہ کہ خود غرض مرزائیوں کو۔

ابن جریر، درمنثور اور ابن کثیر کی حدیث ہے کہ : ”بے شک عیسیٰ نہیں مرا بلکہ تمہاری طرف لوٹ کر آنے والا ہے۔“

مسند احمد اور مسلم کی حدیث ہے کہ: ”عیسیٰ ابن مریم ضرور بضرور تم میں آئے گا۔ حج یا عمرہ کرے گا۔ میری قبر پر حاضر ہوگا۔ مجھے سلام کہے گا۔ میں جواب دوں گا۔ (تقریباً باختلاف الالفاظ)“

مرزا قادیانی اگر وہی عیسیٰ ابن مریم ہیں تو حج یا عمرہ اور دربار انور پر حاضری کیوں نصیب نہیں ہوئی؟

پیر مہر علی شاہ گولڑوی قدس سرہ، اپنی کتاب (سیف چشتیائی ص ١٠٨) پر یہی حدیث نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں: ”اور ہم پیشین گوئی کرتے ہیں کہ مدینہ منورہ زادہا اللہ شرفاً میں حاضر ہو کر سلام عرض کرنا اور جواب سلام سے مشرف ہونا یہ نعمت قادیانیت کو کبھی نصیب نہ ہوگی۔“

اس کے بعد مرزا قادیانی چھ سال زندہ رہے۔ پیر صاحب کی اس پیشین گوئی کو غلط ثابت کیوں نہ کیا؟

مرزائی حضرات اس حدیث اور اس پیشین گوئی سے جان بخشی کرانے کے لئے بہت کچھ حیلے بازیاں کرتے ہیں۔ مگر راست گو اور صاف دماغ والے پر حق واضح ہو جاتا ہے۔

بہر حال احادیث میں ہبوط ، رجوع، نزول ، زمین کی طرف اترنا کے الفاظ آئے ہیں۔ اکثر نزول کا لفظ استعمال ہوا ہے۔

مرزائیوں پر ایک سوال

اگر ان احادیث میں نزول کا معنی ”پیدا ہونا“ ہے تو امام مہدی کے لئے یہی لفظ کیوں استعمال نہیں ہوا؟ وہاں ظہور کا لفظ کیوں ہے؟

سوال نمبر:٥

حضرت ابو ہریرہؓ کے علاوہ کون سے صحابہ کرامؓ ہیں جنہوں نے قرآن کریم کی کسی آیت کی رو سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا زندہ بجسد عنصری آسمان جانا اور زندہ بجسد عنصری آسمان سے زمین پر نازل ہونا بیان فرمایا ہے؟

١٠

جواب

وغیرہ وغیرہ۔ بھری پڑی ا کے قائل ہیں۔ سیدنا ابن کتاب تیار ہو سکتی ہے۔ ا حاصل ہے کہ: ”باقی ا گے۔ ہدایت پاؤ گے۔ (

وغیرہ تقریباً کرام کا اجماع جو تواتر ہے۔ اس کی تفصیل کے

سوال نمبر:٦

قرآنی حا مفعول ہو اور توفی کا ک یعنی نیند یا موت۔ لیکن ا

جواب

یہ بات د نیند اور موت ہیں۔ ا کی کیا دلیل ہے؟

صفحہ ٥٢١

جواب

وغیرہ وغیرہ۔ بھری پڑی ہیں اور سیدنا ابن عباسؓ ”انی متوفیک و رافعک“ میں تقدیم و تاخیر کے قائل ہیں۔ سیدنا ابن عباسؓ کی تصریحات کو اگر اکٹھا کیا جائے تو مرزائیوں کے خلاف ایک ضخیم کتاب تیار ہوسکتی ہے۔ اس صحابی کو سرکار دو عالم ﷺ نے افقہ الناس فرمایا ہے اور صحابہ کو یہ تمغہ بھی حاصل ہے کہ ”بای اقتدیتم اھتدیتم“ یعنی تم میرے صحابہ میں سے جس کی بھی اتباع کرو گے۔ ہدایت پاؤ گے۔ (لیکن خود غرضی کا کوئی علاج نہیں)

وغیرہ تقریباً تیس سے زائد صحابہ کرامؓ کے اقوال موجود ہیں اور (٤٠٠٠) چار ہزار صحابہ کرامؓ کا اجماع جو فتوحات مکیہ میں تفصیل سے درج ہے اور شیخ اکبرؒ نے اس کی کشفی تائید بھی کی ہے۔ اس کی تفصیل کے لئے جگہ نہیں۔

سوال نمبر: ٦

قرآنی محاورہ سے یہ اصول متعین ہوتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ فاعل ہو، کوئی ذی روح مفعول ہو اور توفی کا فعل استعمال ہو تو اس لفظ کے معنی صرف اور صرف قبض روح کے ہوتے ہیں۔ یعنی نیند یا موت۔ لیکن توفی بمعنی قبض روح مع الجسد لینے کی کیا دلیل ہے؟

جواب

یہ بات دونوں فریقوں میں مسلم ہے کہ توفی کے حقیقی معنی پورا پورا لینا ہیں اور مجازی معنی نیند اور موت ہیں۔ اب آپ ہی مجھے بتائیے کہ یہاں حقیقت کو چھوڑ کر مجاز کی طرف بھاگ جانے کی کیا دلیل ہے؟

صفحہ ٥٢٢

دوسرا جواب

توفی کا لفظ قرآن میں تین معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ ١...... پورا پورا لینا۔ ٢...... نیند دینا۔ ٣...... موت دینا۔ اب مرزائی حضرات کو کھلی اجازت ہے کہ ان تینوں معنوں میں سے جو چاہیں پسند کر لیں۔ بہرحال عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر جانے میں یہ لفظ رکاوٹ نہ بنے گا۔ یعنی قبض ہو کر آسمان پر گئے۔ یا نیند کی حالت میں آسمان پر گئے۔ یا موت کے بعد دوبارہ زندہ ہو کر آسمان پر گئے۔ توفی کا لفظ آسمان پر جاتے وقت کی حالت بتاتا ہے۔ لیکن آسمان پر جانا لفظ توفی سے نہیں بلکہ رفع سے ثابت ہے۔ ویسے اکثر مفسرین نے توفی سے مراد نیند لی ہے۔ جیسا کہ آیت: ”یتوفاکم باللیل (انعام:٦٠)“ میں توفی سے مراد نیند ہے۔

تفسیر درمنثور، ابن جریر، کبیر، معالم التنزیل وغیرہ میں ہے کہ: ”قال الربيع ابن انس المراد بالتوفی النوم وكان عيسى عليه السلام قد نام فرفعه الله الى السماء نائما معناه انی منیمک ورافعك“ ربیع ابن انسؒ کہتے ہیں کہ آیت میں توفی سے مراد نیند ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام سو گئے تھے اور اللہ نے انہیں نیند کی حالت میں آسمان پر اٹھا لیا۔ پس آیت کا معنی یہ ہوا کہ: ”میں تجھے سلانے والا ہوں اور اپنی طرف اٹھانے والا ہوں ۔“

تفسیر ابن کثیر، صاوی، جمل، جلالین، قرطبی، مظہری، کبیر، درمنثور، کشاف، خازن، بیضاوی، جامع البیان، معالم التنزیل، ابن جریر، بحر محیط، النہر الماد وغیرہ میں اس آیت میں توفی سے مراد نیند لکھی ہے۔

(جامع البیان ص٥٢) پر ہے۔ ”المراد بالوفاة ههنا النوم وعليه الاكثرون“ یعنی یہاں توفی سے مراد نیند ہے اور اکثر اہل علم یہی کہتے ہیں۔

اور (ابن کثیر ج ١ص ٣٦٦) پر ہے: ”وقال الاكثرون المراد بالوفاة ههنا النوم كما قال (هو الذی يتوفاكم بالليل) “ اکثر علم والوں نے کہا ہے کہ یہاں توفی سے مراد نیند ہے۔ جیسا کہ آیت ”هو الذی يتوفاكم بالليل“ میں توفی سے مراد نیند ہے۔

پس مرزائی حضرات سے درخواست ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے نیند کی حالت میں آسمان پر اٹھائے جانے کے قائل ہو جائیں۔ اس سوال کے مزید کئی جواب ہیں جو نہایت علمی اور دلچسپ ہیں۔ مگر اختصار کے پیش نظر اسی پر اکتفا کرتا ہوں۔

١٢

صفحہ ٥٢٣

سوال نمبر : ٧

رفع کا فاعل اللہ اور مفعول کوئی ذی روح ہو تو اس کے معنی شرف اور بزرگی اور بلندی درجات کے ہوتے ہیں۔ مثلاً ”لوشئنا لرفعنہ “ ”ورفعناہ مکانا علیا“ لیکن رفع سے مراد جسم سمیت آسمان پر اٹھا لینے کا اصول کہاں سے متعین ہوتا ہے؟ اور اگر ”ماقتلوہ یقیناً بل رفعہ اللہ الیہ“ میں کوئی خاص معنی پوشیدہ ہیں تو وہ کیا ہیں؟ اور ان معانی کا تعین کس اصول کے تحت کیا گیا ہے اور کون سی آیات قرآنی اس معانی کی تائید کرتی ہیں۔

جواب

آیت: ”ورفعناہ مکاناً علیاً (مریم:٥٧)“ جو آپ نے پیش کی ہے اس میں رفع سے مراد رفع درجات نہیں۔ بلکہ یہاں جسمانی رفع مراد ہے۔ ملاحظہ ہو۔ (تفسیر روح المعانی ج ١٣ ص ٣٠١، تفسیر کبیر ج ١١ ص ٢٤٣ ، معالم التنزیل ج ٣ ص ١٧٥ ، در منثور ج ٤ ص ٢٧٣، ابن جریر ج ١٦ ص ١٩٢ اور خصائص کبریٰ، فتح الباری، عمدۃ القاری، ارشاد الساری، فتوحات مکیہ، مرقاۃ، الیواقیت والجواہر ) ان سب کتابوں میں حضرت ادریس علیہ السلام کا آسمان پر جانا لکھا ہے۔ ”من کلمۃ اللہ فی حیات روح اللہ“ پس آپ کا پیش کردہ فارمولا غلط ثابت ہو گیا۔

مرزا طاہر احمد کا جھوٹ

مرزا طاہر احمد قادیانی ( وصال ابن مریم ص ٢٨) پر لکھتا ہے: ”سب علماء اس بات پر متفق ہیں کہ حضرت ادریس جسم سمیت آسمان پر نہیں اٹھائے گئے۔ بلکہ یہاں اٹھائے جانے سے مراد صرف روحانی رفع ہے۔“

میں کہتا ہوں: ”لعنۃ اللہ علی الکذبین (آل عمران:٦١)“ مرزا طاہر قادیانی نے ایسا سفید جھوٹ بولا ہے کہ صاحب شرم کے لئے زندگی تلخ ہو جائے۔ مرزا! میں اس آیت سے ادریس علیہ السلام کا جسمانی رفع ثابت نہیں کرنا چاہتا۔ بلکہ صرف اتنا بتانا چاہتا ہوں کہ اس آیت سے روحانی رفع مراد لینے پر علماء کا اتفاق ہرگز نہیں۔ ہرگز نہیں اور آپ نے سفید جھوٹ بولا ہے، جھوٹ بولا ہے، جھوٹ بولا ہے۔ چنانچہ میں بہت سی کتب کے حوالہ جات لکھ چکا ہوں۔

اصول

قرآنی محاورہ سے جو اصول آپ نے پیش کیا وہ باطل ہو گیا اور اب ہم اصول پیش کرتے ہیں۔

١٣

صفحہ ٥٢٤

پہلا اصول

رفع کا مفہوم ذی جسم ہو تو معنی جسمانی رفع کے ہوتے ہیں۔ مثلاً: ”رفع ابويه علي العرش (یوسف: ١٠٠)“ اور ”ورفعنا فوقكم الطور (النساء: ١٥٤)“ وغیرہ۔ یہاں قُتل اور صلیب کے قرائن بتاتے ہیں کہ مفعول ذی جسم ہے۔ لہٰذا رفع جسمی ہوا۔

دوسرا اصول

بل کے ماقبل اور مابعد میں تصادم لازم ہوتا ہے اور یہ یہاں پر رفع جسمی کی قطعی دلیل ہے۔ مثلاً:

ان اصولوں کے تحت اس آیت میں رفع جسمی لینے پر مکمل بحث پہلے سوال کے جواب میں ہو چکی ہے۔ وہاں دیکھ لی جائے۔

افسوس

مرزا طاہر احمد قادیانی نے (وصال ابن مریم ص ١٥) پر نہایت دلیری سے لکھا ہے کہ حیات مسیح کا عقیدہ مسلمانوں نے عیسائیوں سے لیا ہے۔ لیکن خود اسی رسالہ کے ص ١٨ سے ص ٢٦ تک واقعہ صلیب کا سارا ڈھکوسلا عیسائی کتب اور انجیل کی روشنی میں لکھا ہے۔ مرزا طاہر قادیانی کا رسالہ ذرا غور سے پڑھنے والے پر مرزا قادیانی کی دیانت کی قلعی کھل جاتی ہے۔ طاہر قادیانی نے علماء پر کیچڑ اچھالنے اور بے بنیاد واویلا اور ہنگامہ کرنے کے سوا کچھ نہیں لکھا۔ علمیت دکھانے پر آئے ہیں تو یہی تیر مارا ہے کہ حدیث ”لا مهدی الا عیسیٰ“ آدھی نقل کر دی اور صفت کو صفت میں محصور کرنے کا سنگین جرم کیا اور بخاری کی حدیث ”بينما انا نائم“ کا پہلا جملہ ”لا والله ما قال النبی بعیسیٰ احمر ولكن قال“ کھا گئے اور حسب عادت قطع و برید کیا۔ کیا مرزا طاہر قادیانی یہ بتا سکتا ہے کہ اس نے یہ دونوں حدیثیں نامکمل کیوں لکھیں؟ (کاغذ کی کمی کے پیش نظر اختصار سے کام لے رہا ہوں)

مرزائیوں پر میرے سوالات

اب میں مرزائیوں پر چند سوال کرتا ہوں۔ جن کا جواب وہ دے ہی نہیں سکتے۔

١٤

(البتہ قرآن میں یہ لفظ ضرو لائیں گے) (مستقبل کا صیغہ

حدیث میں لفظ ملا تو یہی ملے

کتاب میں یہ لکھا ہو کہ عیسیٰ ہے کہ میری امت گمراہ جس نے بڑے گروہ کو آسمان پر جانے پر پوری الخبير ، جامع البيان ، بحر

علیہ السلام فوت ہو گئے۔

دکھادو۔ مثلاً حاتم طائی ا اسلامی اصولوں آپ کے مذہب کا ساتھ دکھانے کے قابل ہے؟ وفات مسیح کا مرزا قا میں کہتا ہوں نہیں کہ مرزا قادیانی ک دکھانا پڑیں گی جو قرآن مطالبہ ہوا تو انہوں نے ک اور پھر خصو عقیدہ نہیں ہے جو ہماری صدہا پیش گوئیوں میں س

صفحہ ٥٢٥

(البتہ قرآن میں یہ لفظ ضرور ملے گا کہ اس کی موت سے پہلے پہلے تمام اہل کتاب اس پر ایمان لائیں گے) (مستقبل کا صیغہ)

سوال نمبر :٢...... عیسیٰ علیہ السلام کی موت کا لفظ حدیث میں دکھا دیں۔ یعنی مات عیسیٰ (اگر حدیث میں لفظ ملا تو یہی ملے گا کہ عیسیٰ مرے گا اس پر فناء آئے گی۔ عیسیٰ نہیں مرا، وغیرہ) ۔

سوال نمبر :٣...... عیسیٰ علیہ السلام کی وفات پر پوری امت کا اجماع دکھائیں۔ یعنی کسی کتاب میں یہ لکھا ہو کہ عیسیٰ علیہ السلام کی موت پر پوری امت کا اجماع ہے۔ کیونکہ حدیث صحیح میں ہے کہ میری امت گمراہی پر جمع نہ ہوگی اور حدیث میں یہ بھی ہے کہ ہمیشہ بڑے گروہ کی پیروی کرو جس نے بڑے گروہ کو چھوڑا۔ اسے آگ میں پھینکا جائے گا وغیرہ۔ اگر ملے گا تو یہی ملے گا کہ آسمان پر جانے پر پوری امت کا اتفاق ہے۔ یا آسمان سے نازل ہونے پر اجماع ہے۔ مثلاً تلخیص الخبیر ، جامع البیان ، بحر محیط ، نہر مہاد وغیرہ۔

سوال نمبر :٤...... قسم کھانے کے لئے کسی ایک صحابی کا قول دکھاؤ۔ جس نے کہا ہو کہ عیسیٰ علیہ السلام فوت ہوگئے۔

سوال نمبر :٥...... فلاں ابن فلاں سے مراد اس کا مثیل لینے کی صرف ایک مثال دنیا بھر میں دکھا دو۔ مثلاً حاتم طائی ابن فلاں، یا فلاں ابن ابی کبشہ، اسی طرح عیسیٰ ابن مریم۔

اسلامی اصولوں کے ماخذ قرآن ، حدیث اور اجماع صحابہ و امت میں سے کوئی بھی اگر آپ کے مذہب کا ساتھ نہ دے تو آپ اپنے ضمیر کو جواب دیجئے کہ کیا آپ کا مذہب اسلام کا منہ دکھانے کے قابل ہے؟

وفات مسیح کا مرزا قادیانی کی نبوت سے کیا تعلق ہے؟

میں کہتا ہوں اگر بالفرض المحال وفات مسیح ثابت ہو جائے تو بھی اس کا یہ مطلب نہیں کہ مرزا قادیانی کو نبی تسلیم کر لیا جائے۔ بلکہ مرزا قادیانی کو اپنے اندر مسیح کی وہ خوبیاں دکھانا پڑیں گی جو قرآن میں مذکور ہیں۔ جب مرزا قادیانی سے مسیح کے معجزات دکھانے کا مطالبہ ہوا تو انہوں نے کہا کہ : ”مسیح کے معجزات دراصل مسمریزم تھا ۔“

(ازالہ اوہام ص ١٥٥، ١٥٦، خزائن ج ٣ ص ٢٥٥، ٢٥٦)

اور پھر خصوصاً مرزا قادیانی کا یہ بیان قابل غور ہے۔ ”مسیح کے نزول کا عقیدہ کوئی ایسا عقیدہ نہیں ہے جو ہماری ایمانیات کی کوئی جزو یا ہمارے دین کے رکنوں میں سے کوئی رکن ہو۔ بلکہ صدہا پیش گوئیوں میں سے یہ ایک پیش گوئی ہے جس کا حقیقت اسلام سے کچھ بھی تعلق نہیں۔ جس

١٥

صفحہ ٥٢٦

زمانہ تک یہ پیش گوئی بیان نہیں کی گئی تھی اس زمانہ تک اسلام کچھ ناقص نہ تھا اور جب بیان کی گئی تو اس سے اسلام کچھ کامل نہیں ہو گیا۔

(ازالہ اوہام ص١٤٠،خزائن ج٣ص١٧١)

مرزا قادیانی کے اس دو ٹوک بیان کے بعد مرزائی حضرات کو وفات مسیح پر بحث کرنے کا کوئی حق نہیں رہتا۔ بلکہ مرزا قادیانی کو ختم نبوت کا انکار جہاد وغیرہ کا انکار، انبیاء وصلحاء کی توہین اور مسلمانوں کو گالیاں دینے کی وجہ سے بآسانی ٹاک آؤٹ کیا جا سکتا ہے۔

مثلاً (دافع البلاء ص٥،خزائن ج١٨ص٢٢٠) پر مسیح علیہ السلام کو قرآن کی رو سے فاش لکھ رہے ہیں۔

(ایک غلطی کا ازالہ ص١٠٩ حاشیہ،خزائن ج١٨ص٢١٣) پر حضرت فاطمہؓ کی توہین کر رہے ہیں۔

(نجم الہدیٰ ص٥٣،خزائن ج١٤ص٥٣) پر لکھتے ہیں کہ: ”ہمارے مخالف جنگلوں کے خنزیر ہو گئے اور ان کی عورتیں کتیاؤں سے بڑھ گئیں۔“

(انوار الاسلام ص٣٠،خزائن ج٩ص٣١) پر لکھتے ہیں کہ: ”جو ہماری فتح کا قائل نہ ہو گا تو صاف سمجھا جائے گا کہ اسے حرامزادہ بننے کا شوق ہے اور حلال زادہ نہیں۔“ وغیرہ وغیرہ۔

آج کے مرزائی بھی مرزا قادیانی کی ان لغویات سے دلی طور پر بے زار ہیں اور سوچتے ہیں کہ کاش مرزا قادیانی نے یہ مصیبت کھڑی نہ کی ہوتی تو ہماری دوکانداری خوب چلتی۔

استدعا

آخر میں میری درخواست ہے کہ اس پرچے کو پڑھ کر اس کے جواب اگر آپ قادیانیوں سے مانگتے ہیں اور اس کی تشریح کراتے ہیں تو آپ پر لازم ہے کہ مرزائیوں کے دیئے ہوئے جوابات کو واپس میرے پاس لائیں۔

ورنہ میں علی وجہ البصیرت کہتا ہوں کہ آپ اپنی کم علمی کے باعث ان کے چکر میں پھنس جائیں گے اور آج کے دور میں اکثر لوگوں سے یہی حادثہ پیش آ رہا ہے کہ وہ: (١) قادیانی دلائل اور (٢) اپنی عقل دونوں کو فیصلہ کرنے کے لئے کافی سمجھتے ہیں۔

ارے خدا کے بندو! ایک مسلمان عالم دین جو اس موضوع پر مہارت رکھتا ہو اور دوسرا قادیانی ہو تو ان کی گفتگو آپ سنیں اور پھر فیصلہ کریں۔ تا کہ چوٹ برابر کی ہو۔ ہدایت پھر بھی ہادی کے ہاتھ ہے۔

”وما علینا الا البلاغ المبین“

”وصلی اللہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہ سیدنا محمد وآلہ واصحابہ اجمعین“

١٦

PDF 528

انا خاتم النبیین لا نبی بعدی

میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں

اکرام الہی

بجواب

انعام الہی

حضرت مولانا مفتی عزیز احمد صاحب لاہوریؒ

صفحہ ٥٢٨

گزارش

مرزا بشیر الدین محمود خلیفہ مرزا غلام احمد قادیانی نے ١٢؍ اکتوبر ١٩٥٦ء کو خطبہ عوام کے سامنے دیا۔ (جو رسالہ انعام الٰہی کے نام سے شائع ہوا) اس کے جواب میں یہ چند سطریں لکھی گئی ہیں۔ تاکہ مسلمان دور حاضرہ کی فتنہ انگیزیوں سے محفوظ رہیں اور اہل انصاف حق قبول کرنے میں کچھ عار نہ کریں۔ والسلام!

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

الحمد لله رب العلمین والصلوة والسلام علیٰ خاتم النبیین الذی لا نبی بعدہ، ابدالآبدین وعلیٰ اله واصحابه وازواجه امهات المؤمنین وعلیٰ اولیاء امته اجمعین . اما بعد!

مرزا بشیر الدین محمود خلیفہ مرزا قادیانی نے آیہ کریمہ: ”یا ایها الذین امنو من یرتد منکم عن دینه فسوف یأتی الله بقوم یحبهم ویحبونه اذلة علی المؤمنین اعزة علی الکافرین یجاهدون فی سبیل الله (المائدہ:٥٤)“ کا ترجمہ یوں کیا ہے کہ اے ایمان والو! اگر تم میں سے کوئی شخص بھی تمہارے نظام دین سے الگ ہو جائے تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں تمہیں ایک قوم دے گا جو مومنوں کے ساتھ انکسار کا تعلق رکھنے والے اور کفار کی شرارتوں کا نہایت دلیری سے مقابلہ کرنے والی ہوگی۔“ اس سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ احمدی حق پر ہیں اور غیر احمدی غلطی پر۔ کیونکہ اگر غیر احمدی حق پر ہوتے تو پانچ لاکھ احمدیوں کے مرتد ہونے کے بعد پچاس لاکھ غیر مسلم اسلام میں داخل ہونے چاہئیں تھے اور جب کہ ایسا نہیں ہوا تو غیر احمدیوں کا مذہب غلط ہوا اور احمدیوں کا حق ہوا۔ کیونکہ اگر ایک احمدی اپنے مذہب کو چھوڑ دیتا ہے تو کئی غیر احمدی، احمدیوں میں آجاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کا وعدہ پورا ہو جاتا ہے۔

اس مضمون کو بہت لمبا چوڑا کیا ہے۔ کروڑوں، اربوں کی ضربیں لگائی ہیں۔ مگر مقصد

٢

صفحہ ٥٢٩

صرف یہی نکالا ہے کہ احمدی حق پر ہیں۔ ہم اس خطبہ پر نمبر وار سوال کرتے ہیں۔ اس سے پیشتر آیت کا پورا صحیح ترجمہ پیش کرتے ہیں۔

”اے ایمان والو جو کوئی تم میں سے اپنے دین سے پھر جائے گا (تو اس سے اسلام کو کچھ نقصان نہیں ہوسکتا) ان کے بدلے اللہ تعالیٰ ایسے لوگ لائے گا جن سے اللہ تعالیٰ محبت فرمائے گا وہ اللہ تعالیٰ سے محبت کریں گے۔ مسلمانوں پر بڑے نرم اور کافروں کے مقابلہ میں بڑے سخت ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ کی راہ میں لڑیں گے۔ کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کا خوف نہ کریں گے۔“

آیت کا مطلب یہ ہے کہ اگر کچھ لوگ اسلام کے اصول سے پھر جائیں گے تو ان کے بدلے اللہ تعالیٰ اور دوسرے لوگ اسلام میں داخل فرمادے گا۔ آیہ کریمہ میں کوئی لفظ ایسا نہیں جس کے معنی ایک کے ہوں۔ لفظ من عام ہے۔ ایک، دو، اس سے زائد سب پر بولا جاتا ہے۔ شرح جامی میں ہے۔

”لفظ من مثل ما یستوی فیہ المفرد والمثنیٰ والجموع والذکر والانثیٰ“

لہٰذا من کا ترجمہ ایک کرنا اور اس کے بدلے ایک قوم کا لانا اللہ تعالیٰ پر لازم قرار دینا ہے۔ یہ خلیفہ صاحب کی نرالی منطق ہے۔ صحیح ترجمہ اصول کے مطابق وہ ہے جو ہم نے کیا ہے اور اگر بالفرض خلیفہ صاحب کا ترجمہ مان لیا جائے تب بھی خلیفہ صاحب کا مقصد حاصل نہیں ہوتا کیوں کہ آیت کریمہ میں ان لوگوں کے یہ اوصاف بیان فرمائے۔

ہم خلیفہ صاحب اور ان کی پوری جماعت سے سوال کرتے ہیں کہ کیا ان کے اندر یہ

٣

صفحہ ٥٣٠

اوصاف پائے جاتے ہیں۔ کیا کافروں پر سختی اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کا کوئی تصور احمدیوں میں موجود ہے؟ ہرگز نہیں۔ ”ھاتوا برھانکم ان کنتم صادقین (البقرہ:١١٧)“ بلکہ ان کی ساری کی ساری تحریریں اس کے خلاف ہیں۔ ان کے مذہب کی بنیاد کفار سے دوستی، کفار کی تعریف، کفار کی چاپلوسی پر ہے اور جہاد کے منسوخ ہونے پر ایڑی چوٹی کا زور لگایا گیا ہے۔ انگریز نے اس جماعت کو مسلمانوں کے مقابلہ میں صرف جہاد کا جذبہ مسلمانوں سے فنا کرانے کی غرض سے کھڑا کیا ہے۔

مرزا قادیانی کی اکثر کتابیں انگریزوں کی تعریف اور مسلمانوں کی مذمت سے پر ہیں۔

سلطنت انگریزی کی تائید وحمایت میں گزرا ہے اور میں نے ممانعت جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں کہ ان سے پچاس الماریاں بھر سکتی ہیں۔ پھر میری اور میری جماعت کی پناہ یہ سلطنت ہے یہ امن جو اس سلطنت کے زیر سایہ ہمیں حاصل ہے۔ یہ امن نہ مکہ میں مل سکتا ہے نہ مدینہ میں۔“

چنانچہ (درثمین ص ١٤٢) پر لکھا ہے کہ؎

تاج وتخت ہند قیصر کو مبارک ہو مدام
ان کی بادشاہی میں میں پاتا ہوں رفاہ روزگار

برطانیہ کی اس ملک میں سلطنت نہ ہوتی تو مسلمان مدت سے مجھے ٹکڑے ٹکڑے کرکے معدوم کر دیتے۔“

اب چھوڑ دو جہاد کا اے دوستو خیال
دیں کے لئے حرام ہے اب جنگ اور قتال
اب آگیا مسیح جو دیں کا امام ہے
دیں کی تمام جنگوں کا اب اختتام ہے

٤

صفحہ ٥٣١

اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کا کوئی تصور احمدیوں م ان کنتم صادقین (البقرہ:١١١)‘‘ بلکہ ان تھا۔ ان کے مذہب کی بنیاد کفار سے دوستی، کفار کی داغ ہونے پر ایڑی چوٹی کا زور لگایا گیا ہے۔ انگریز صرف جہاد کا جذبہ مسلمانوں سے فنا کرانے کی غرض

یوں کی تعریف اور مسلمانوں کی مذمت سے پر ہیں۔ ١٥٥) پر لکھتے ہیں کہ: ’’میری عمر کا اکثر حصہ اس اور میں نے ممانعت جہاد اور انگریزی اطاعت سے پچاس الماریاں بھر سکتی ہیں۔ پھر میری اور میری حکومت کے زیر سایہ ہمیں حاصل ہے۔ یہ امن نہ مکہ

مبارک ہو مدام اتا ہوں رفاہ روزگار الامان حصہ اول) پر لکھا ہے کہ: ’’اگر گورنمنٹ خدمت سے مجھے ٹکڑے ٹکڑے کر کے معدوم کر

اے دوستو خیال اب جنگ اور قتال ہی کا امام ہے اب اختتام ہے

اب آسماں سے نور خدا کا نزول ہے
اب جنگ اور جہاد کا فتویٰ فضول ہے
دشمن ہے وہ خدا کا جو کرتا ہے اب جہاد
منکر نبی کا ہے جو رکھتا ہے اعتقاد

مسلمانوں کے فرقوں میں سے یہ فرقہ جس کا میں امام ہوں ایک بڑا امتیازی نشان اپنے ساتھ رکھتا ہے۔ وہ یہ ہے کہ اس فرقہ میں تلوار کا جہاد بالکل نہیں اور نہ اس کا انتظار ہے۔ یعنی اب بھی جہاد فرض نہیں سمجھتا اور آئندہ بھی جہاد فرض نہیں سمجھے گا۔‘‘

ہے کہ وہ نہ صرف جہاد کو موجودہ حالت ہی میں روکتا ہے۔ بلکہ آئندہ بھی کسی وقت اس کا منتظر نہیں۔‘‘

’’دوسرے شکر یہ گورنمنٹ کا، کوئی یہ خیال نہ کرے کہ ہم ظاہری طور پر کہتے ہیں۔ بلکہ یہ بات ہمارے اصول میں داخل ہے کہ گورنمنٹ انگلیشیہ کے احسانات کا شکر یہ دل سے کرتے رہیں۔‘‘

نوٹ: جس طرح مرزائیت کے اور اصول ہیں ان میں سے ایک اصول گورنمنٹ کا شکریہ کرتے رہنا بھی ہے۔ اسی صفحہ پر آگے چل کر لکھتے ہیں کہ: ’’پس اگر کوئی مسلمان اس گورنمنٹ سے نافرمانی کرے گا تو وہ میرے نزدیک خدا تعالیٰ کا گنہگار ہے۔‘‘ اس پر آگے چل کر لکھتے ہیں کہ: ’’میں کہتا ہوں کہ اگر یہ گورنمنٹ نہ ہو تو ایک دوسرے کو چیر کھائیں۔ (یعنی مسلمان ہمیں چیر کھائیں) اسلامی بادشاہوں نے کیا کچھ کیا اور یہ انگریز نیک نیتی سے انصاف کرتے ہیں۔‘‘

قارئین کرام! غور فرمائیں کہ مرزا قادیانی کی تحریروں میں انگریز پرستی اور اسلام کشی اور مسلمان حکمرانوں سے بیزاری کے سوا کچھ نظر نہیں آتا۔ مسلمان بادشاہوں سے مرزا قادیانی اس لئے خفا ہیں کہ ان کے زمانے میں جس کسی مفتری کذاب نے نبوت کا دعویٰ کیا تو اس کو قتل کر دیا گیا

٥

صفحہ ٥٣٢

اور کچل کر رکھ دیا اور اس کو دوبارہ نہ اٹھنے دیا۔ اگر ہندوستان میں بھی آج اسلامی حکومت ہوتی تو مرزا قادیانی کی نبوت کا فتنہ ہرگز سر نہ اٹھا سکتا۔ بلکہ اسی وقت اٹھتے ہی مسمار ہو جاتا اور آج دنیا میں اس کا نام ونشان نہ رہتا۔ اسی لئے تو انگریزوں کا شکریہ اصول مذہب میں داخل کیا گیا۔ مرزائیوں کو مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ سے بھی اسی لئے نفرت ہے کہ وہاں بھی ان کی خیر نہیں۔

رسالہ مذکورہ مسمی (انعام الٰہی ص ١٦) پر خلیفہ صاحب نے اپنی حقانیت کی دلیل پیش کرتے ہوئے لکھا ہے کہ: ”اگر وہ (احمدی) واقعہ میں مرتد ہیں اور غیر احمدی واقعہ میں سچے مؤمن ہیں تو اس قرآنی وعدہ کے مطابق ضروری تھا کہ اگر مسلمانوں میں سے پانچ لاکھ احمدی مرتد ہوئے تو کم از کم پچاس لاکھ عیسائی یا ہندو مسلمان ہو کر ان غیر احمدیوں میں مل جاتا۔ اگر نہیں ہوا تو معلوم ہوا کہ احمدی مرتد نہیں اور غیر احمدی سچے مؤمن نہیں۔“

اس بات کو وہ حضرات خوب اچھی طرح جانتے ہیں جن کا کتب تاریخ سے تعلق ہے۔ یا وہ حضرات جو اخبارات وغیرہ پڑھتے ہیں کہ اخباروں اور رسالوں میں آئے دن یہ خبریں شائع ہوتی رہتی ہیں کہ آج فلاں ملک میں اتنے کافر مسلمان ہوئے۔ فلاں جگہ اتنے ہندو، عیسائی دائرہ اسلام میں داخل ہوئے۔ خلیفہ صاحب کی اس بات سے معلوم ہوتا ہے کہ خلیفہ صاحب کتب تاریخ سے بالکل بے بہرہ ہیں۔ ورنہ یہ ہرگز نہ کہتے۔

بریں عقل ودانش بباید گریست

اگر آج احمدیوں (جو اپنے آپ کو حق پر ثابت کرتے ہیں) غیر احمدیوں کے مقابلہ میں پاسنگ بھی نظر نہیں آتے اور جب سے مرزا قادیانی نے مکاری اور جھوٹی نبوت کی دوکان چلائی ہے۔ تب سے آج تک ان کی پانچ لاکھ کی تعداد ہے ہی نہیں۔ دوسرے یہ کہ اگر ان کے چھوٹے بڑے شیر خوار بچے سب کی میزان لگالی جائے تو بھی ان کی تعداد اتنی نہیں ہوتی تو یہ خلیفہ صاحب کا کہنا کہ اگر پانچ لاکھ احمدی مرتد ہوئے تو اس کے مقابلہ میں کم از کم پچاس لاکھ احمدیوں میں شامل ہونے چاہئیں تھے۔ یہ صرف ان بھولے بھالے مسلمانوں کی آنکھوں میں دھول ڈالنے اور دھوکا دینے کے سوا کچھ نہیں مگر؎

سچائی چھپ نہیں سکتی بناوٹ کے اصولوں سے
کہ خوشبو آ نہیں سکتی کبھی کاغذ کے پھولوں سے

٦

صفحہ ٥٣٣

چنانچہ سرور عالم علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ میری امت کے تہتر فرقے ہو جائیں گے۔ کل دوزخ میں جائیں گے مگر ایک فرقہ، صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ وہ فرقہ ناجیہ کون ہے۔ ارشاد فرمایا کہ جو صحیح طور پر میری سنت پر عمل کرے اور طریق صحابہ پر چلے۔ اب ہم خلیفہ صاحب اور ان کے تمام متبعین سے سوال کرتے ہیں کہ تم اگر اپنے آپ کو حق پر ثابت کرتے ہو تو حضور علیہ السلام کی کون سی سنت پر عمل کرتے ہو اور وہ کون سا عمل اور طریق صحابہ ہے۔ جس پر عمل کر کے اپنی حقانیت کی دلیل پیش کرتے ہو۔ تمہارے پاس کوئی ایسا معیار نہیں جو سنت مصطفیٰ ﷺ اور طریق صحابہ کے مطابق ہو اور نہ تم پیش کر سکتے ہو تو تمہارا یہ حقانیت کا دعویٰ سراسر لغو اور باطل ہے۔

اب غور طلب بات یہ ہے کہ صحابہ کرام کا طریقہ کیا تھا تو اس بات کا کتب تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ صحابہ کرامؓ نے کیا کیا؟ حضرت صدیق اکبرؓ کے زمانہ خلافت میں ہر طرف سے فتنوں نے سر اٹھایا اور مسیلمہ کذاب نے نبوت کا دعویٰ کیا تو حضرت صدیق اکبرؓ نے ہر فتنہ کا مقابلہ کیا اور تلوار کے ساتھ جہاد کر کے ہر فتنے کو ختم کر دیا۔ حضرت سیدنا عمر فاروق اعظمؓ نے جہاد کیا۔ کفار کی سرکوبی کی اور حضور ﷺ نے حضرت عمر فاروقؓ کے متعلق فرمایا۔

ان الشیطان یفر من ظل عمر کہ شیطان حضرت عمر فاروقؓ کے سائے سے بھاگتا ہے۔

مگر مرزا قادیانی سے تو شیطان ایک دم بھر کے لئے بھی جدا نہ ہوا، اور حضرت علی المرتضٰی شیر خدا کے متعلق ارشاد فرمایا: ”انت منی بمنزلة ہارون من موسیٰ الا انہ لا نبی بعدی“

(بخاری ج ٢ ص ٦٣٣، مسلم ج ٢ ص ٢٧٨)

کہ اے علیؓ! کیا تمہیں پسند نہیں کہ تم میرے نزدیک ایسے ہو جیسے حضرت ہارون علیہ السلام، حضرت موسیٰ علیہ السلام کے نزدیک، مگر حضرت ہارون نبی تھے اور میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ دوسری حدیث میں ارشاد فرمایا: ”سیکون فی امتی کذابون ثلٰثون کلہم یزعم انہ نبی اللہ وانا خاتم النبیین لا نبی بعدی“

(ابو داؤد ج ٢ ص ١٢٧، ترمذی ج ٢ ص ٤٥)

میری امت میں تیس یا قریب قریب ان کے دجال و کذاب پیدا ہوں گے۔ ان میں ہر شخص اس بات کا مدعی ہوگا کہ میں خدا کا رسول خدا کا نبی ہوں۔ حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں۔

٧

صفحہ ٥٣٤

سلسلہ نبوت مجھ پر ختم ہو چکا۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ چنانچہ خلیفہ صاحب کے والد مرزا غلام احمد قادیانی تمام عمر اپنی نبوت ثابت کرنے کے درپے رہے اور طرح طرح کی تاویلیں بنائیں اور کہا کہ جس طرح حضرت ہارون و دیگر انبیاء بنی اسرائیل، صاحب کتاب نبی کے ماتحت رہ کر تبلیغ کے کام کو سرانجام دیتے تھے۔ اسی طرح امت محمدیہ میں میں ظلی بروزی نبی ہوں۔ صاحب کتاب نبی کوئی نہیں آئے گا۔ مگر تبلیغ کے کام کو انجام دینے کے لئے ظلی نبی آتے رہیں گے۔ یہ بھی عامۃ المسلمین کو دھوکا دیا جاتا ہے۔ کیونکہ تمام اہل اسلام کا عقیدہ ہے کہ جو انبیاء صاحب کتاب نبی نہ تھے وہ بھی اصل نبی تھے۔ ظلی اور بروزی مجازی نبی نہ تھے۔ اس بات کو مرزا قادیانی بھی بظاہر تسلیم کرتے ہیں کہ صاحب کتاب نبی کوئی نہیں آئے گا۔ (اور مرزا قادیانی اپنے آپ کو ظلی بروزی نبی ثابت کرتے ہیں) تو وہ کون سی نبوت ہے جس کے متعلق سرور عالم علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ مرزا قادیانی نے اپنے آپ کو ظلی نبی ثابت کیا۔ لیکن ان ہر دو حدیث سے ظلی نبوت کا ہی ابطال ہو رہا ہے۔ لہٰذا معلوم ہوا کہ یہ دعوے صرف اور صرف تن پروری کے تمام ڈھونگ ہیں۔

دوسری بات یہ کہ خلیفہ صاحب نے آیت مذکورہ ”یا ایھا الذین آمنو ...... الخ!“ پیش کر کے اپنی حقانیت کی دلیل دینے کی کوشش کی۔ مگر ہم خلیفہ صاحب اور ان کی تمام ذریت امت مرزائیہ سے سوال کرتے ہیں کہ آیت مذکورہ میں ایمان والوں کو خطاب ہے نہ کہ تم لوگوں کو۔ لہٰذا اس آیہ کریمہ کو اپنی حقانیت کی دلیل پیش کرنے سے پہلے اپنا ایماندار ہونا ثابت کریں۔ کیونکہ مذکورہ بالا کتابوں کے (جو مرزا قادیانی کی اپنی لکھی ہوئی ہیں) حوالہ جات سے ثابت ہو چکا ہے کہ مرزا قادیانی نے اقرار کیا ہے کہ جہاد کو نہ تو اب فرض سمجھتا ہے اور نہ ہی آئندہ فرض سمجھے گا۔ لہٰذا جو کوئی فرضیت کا انکار کرے اور حرام کو حلال اور حلال کو حرام کہنے والا تمام اہل اسلام کے نزدیک دائرہ اسلام سے خارج ہو جائے گا۔

مرزا قادیانی نے اپنی اکثر کتابوں میں جہاد کے حرام ہونے کا ہی فتویٰ دیا ہے کہ جہاد اب جائز نہیں بلکہ حرام ہے۔ صرف یہی دلیل مرزا قادیانی اور ان کی تمام ذریت کے ثبوت کفر کے لئے کافی ہے۔ اب خداوند احکم الحاکمین کلام پاک کی صرف ایک آیت پیش کی جاتی ہے۔ جس

٨

صفحہ ٥٣٥

وحی نبی نہیں۔

مرزا غلام احمد قادیانی تمام عمر اپنی نبوت ثابت کرنے کے تائیں اور کہا کہ جس طرح حضرت ہارون و دیگر انبیاء بنی رہ کر تبلیغ کے کام کو سر انجام دیتے تھے۔ اسی طرح امت ئب کتاب نبی کوئی نہیں آئے گا۔ مگر تبلیغ کے کام کو انجام یہ بھی عامۃ المسلمین کو دھوکا دیا جاتا ہے۔ کیونکہ تمام اہل پ نبی نہ تھے وہ بھی اصل نبی تھے۔ ظلی اور بروزی مجازی اہر تسلیم کرتے ہیں کہ صاحب کتاب نبی کوئی نہیں آئے ئی نبی ثابت کرتے ہیں) تو وہ کون سی نبوت ہے جس مایا کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ مرزا قادیانی نے اپنے یث سے ظلی نبوت کا ہی ابطال ہو رہا ہے۔ لہٰذا معلوم ہوا تمام ڈھونگ ہیں۔

آیت مذکورہ ”یا ایھا الذین آمنوا ...... الخ!“ ش کی۔ مگر ہم خلیفہ صاحب اور ان کی تمام ذریت گروہ میں ایمان والوں کو خطاب ہے نہ کہ تم لوگوں ش کرنے سے پہلے اپنا ایماندار ہونا ثابت کریں۔ اں اپنی لکھی ہوئی ہیں) حوالہ جات سے ثابت ہو چکا نہ اب فرض سمجھتا ہے اور نہ ہی آئندہ فرض سمجھے گا۔ ل اور حلال کو حرام کہنے والا تمام اہل اسلام کے

قا جہاد کے حرام ہونے کا ہی فتویٰ دیا ہے کہ جہاد زاقادیانی اور ان کی تمام ذریت کے ثبوت کفر کے ں کی صرف ایک آیت پیش کی جاتی ہے۔ جس

میں اللہ تعالیٰ نے جہاد کا حکم ارشاد فرمایا ہے: ”وقاتلوهم حتى لا تكون فتنة ويكون الدين كله لله (البقرة:١٩٣) ﴿اے مسلمانو! کافروں سے لڑتے رہو۔ یہاں تک کہ فتنہ کفر باقی نہ رہے اور دین کل اللہ تعالیٰ ہی کا ہو جائے۔ یعنی سارا عالم، اسلام کا مطیع ہو جائے۔﴾

اس سے معلوم ہوا کہ جب تک سارا عالم، اسلام کا مطیع نہ ہو جائے۔ جہاد برابر فرض ہے۔ اس کو منسوخ کرنے کا کسی کو حق ہی نہیں۔ منسوخ کرنا تو صاحب شریعت کا کام ہوتا ہے۔ جب کہ مرزا قادیانی بزعم خود کہتے ہیں کہ میں صاحب شریعت نبی نہیں تو ان کو (یعنی مرزا قادیانی) شریعت کے کسی حکم کے منسوخ کرنے کا کیا حق ہے۔ نیز حدیث ابوداؤد سے ثابت ہوتا ہے۔

”والجهاد ما منذ بعثني الله الى ان يقاتل آخر هذه الامة الدجال لا يبطله جور جائر ولا عدل عادل (مشکوۃ ص١٨) ” ﴿حضور نے فرمایا جہاد جاری ہے۔ جب سے مجھے اللہ تعالیٰ نے بھیجا یہاں تک کہ اس امت کے آخری لوگ دجال سے لڑیں گے۔﴾

اس آیہ کریمہ اور حدیث پاک سے جہاد کی دائمی فرضیت کا ثبوت ہے۔ مگر مرزا غلام احمد قادیانی آیات قطعیہ کا انکار کر رہے ہیں۔ جو کوئی آیات قطعیہ کا انکار کرے وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ ویسے تو صرف آیہ کریمہ اور حدیث پاک ہی مرزا قادیانی اور ان کی تمام ذریت کے ثبوت کفر و ارتداد کے لئے کافی ہے۔ مگر اب مرزا قادیانی کے دیگر چند عقائد کفریہ پیش کئے جاتے ہیں۔

مرزا قادیانی نے اپنی کتاب (کشتی نوح ص٢٠، خزائن ج١٩ ص١٨) پر لکھا ہے کہ: ”مریم کی وہ شان ہے جس نے ایک مدت تک اپنے تئیں نکاح سے روکا۔ پھر بزرگان قوم کے نہایت اصرار سے بوجہ حمل نکاح کر لیا۔ گو لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ برخلاف تعلیم توریت عین حمل میں کیوں کر نکاح کیا گیا اور بتول ہونے کے عہد کو کیوں ناحق توڑا گیا اور تعدد ازواج کی کیوں بنیاد ڈالی گئی۔ یعنی باوجود یوسف نجار کی پہلی بیوی ہونے کے پھر مریم کیوں راضی ہوئی کہ یوسف نجار کے نکاح میں آوے۔ مگر میں کہتا ہوں کہ یہ سب مجبوریاں تھیں جو پیش آگئیں۔ اس صورت میں وہ لوگ قابل رحم تھے۔ نہ قابل اعتراض۔“

٩

PDF 537

دیکھا آپ حضرات نے؟ کہ کس زبان درازی کے ساتھ حضرت بتول مریم کی شان میں گستاخی کی پھر یہ کہ نبی کی والدہ کی شان میں بدکاری کی تہمت لگا کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بھی توہین کی۔ یہ یقیناً کفر ہے۔

اب قارئین کرام غور فرمائیں کہ جو شخص نبی اور نبی کی والدہ کی شان میں ایسی صراحۃً گستاخی کرنے کے بعد بھی اپنے آپ کو مومن سمجھے یہ کیسے ہوسکتا ہے۔ بلکہ ایسی گستاخی کرنے والا تو دائرہ اسلام سے خارج اور اپنی سچائی اور حقانیت کی دلیل پیش کرنے میں بالکل جھوٹا اور مفتری ہے۔ کیونکہ قرآن پاک نے حضرت مریم کی پاک دامنی کے متعلق ارشاد فرمایا کہ: ”قد خلت من قبله الرسل وامه صديقه (المائدہ:٧٥) ”اس سے پہلے بہت رسول ہو گزرے اور اس کی ماں صدیقہ ہے۔“

اس آیہ کریمہ میں حضرت مائی صاحبہ کو صدیقہ فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ: ”ومریم ابنت عمران التي احصنت فرجها (التحریم:١٢) ”اور عمران کی بیٹی مریم نے اپنی پارسائی کی حفاظت کی۔“

اس آیہ کریمہ سے بھی حضرت مریم کی پاک دامنی اور بدکاری سے برأت ثابت ہے۔ سورہ مریم میں کہ جب حضرت جبرائیل امین لباس بشری میں حضرت مریم علیہا السلام کے پاس تشریف لائے اور کہا کہ: ”قال انما انا رسول ربك لاهب لك غلما زكيه قالت اني يكون لى غلم ولم يمسسنى بشر ولم اك بغياً (مریم:٢٠،١٩) ”کہا کہ میں تیرے رب کا بھیجا ہوا ہوں کہ میں تجھے ایک ستھرا بیٹا دوں۔ بولی (مریم) کہ میرے لڑکا کہاں سے ہوگا مجھے تو کسی اجنبی آدمی نے ہاتھ تک بھی نہیں لگایا اور نہ میں بدکار ہوں۔“

تو جبرائیل امین نے کہا: ”قال كذالك قال ربك هو على هين ولنجعله آية للناس ورحمة منا وكان امراً مقضيا (مریم:٢١) ”کہا یوں ہی ہے تیرے رب نے فرمایا کہ یہ مجھے آسان ہے اور اس لئے کہ ہم اسے لوگوں کے واسطے نشانی کریں اور اپنی طرف سے ایک رحمت اور اس کا فیصلہ ہو چکا ہے۔“

اس آیت کریمہ سے پتہ چلتا ہے کہ حضرت مریم بالکل پاک دامن ہیں۔ (مرزا قادیانی نے جو یوسف نجار کا حمل قرار دیا ہے وہ سراسر لغو اور باطل ہے اور بہتان عظیم ہے) اور جب جبرائیل امین نے لڑکے کا پتہ دیا تو حضرت مریم نے کہا کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے تو

١٠

جبرائیل امین نے کہا کہ تیرے مقام پر بھی قرآن پاک نے حضر (حقیقت الوحی ص ١٠٣، خزائن ج ٢٢ ص ”انی مع الرس کے (مرزا قادیانی) ساتھ ہوں صواب، اس میں اللہ تعالیٰ کو فاعل (انجام آتھم ص ٥، حاشیہ لکھے ہیں۔ مگر حق یہ ہے کہ آپ (انجام آتھم ص ٥، حاشیہ کسی شب کور وغیرہ کو اچھا کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے الاکمہ والابرص وأحی مگر مرزا قادیا عیسیٰ علیہ السلام کے بارے کا انکار قرآن پاک کا کھلم کھ اسی (ضمیمہ انجام السلام ) خاندان بھی نہایت عورتیں تھیں۔ جن کے خو گستاخ نے حضرت عیسیٰ ع نہیں کہ ان الفاظ کو دہرا السلام کے متعلق بھی لک عبارت کو سن کر یا پڑھ کر (ازالہ اوہام ص نے اس کی فتح کے با کرتے ہوئے پھر ان

صفحہ ٥٣٦

کہ کس زبان درازی کے ساتھ حضرت بتول مریم کی شان پاک میں بدکاری کی تہمت لگا کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی

شان کہ جو محض نبی اور نبی کی والدہ کی شان میں ایسی صراحۃً توہین سمجھے یہ کیسے ہوسکتا ہے۔ بلکہ ایسی گستاخی کرنے والا روحانیت کی دلیل پیش کرنے میں بالکل جھوٹا اور مفتری کی پاک دامنی کے متعلق ارشاد فرمایا کہ: ”قد خلت المائدہ: ٧٥) ”اس سے پہلے بہت رسول ہو گزرے اور

صاحبہ کو صدیقہ فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ: ”ومریم ابنت (تحریم: ١٢) ”اور عمران کی بیٹی مریم نے اپنی پارسائی

مریم کی پاک دامنی اور بدکاری سے برأت ثابت ہے۔ کی لباس بشری میں حضرت مریم علیہا السلام کے پاس رسول ربك لاهب لك غلما زكيا قالت انى يمسسنى بشر ولم اك بغياً (مریم: ١٩، ٢٠) ”کہا کہ میں تیرے رب کی بھیجی ہوئی ہوں ۔ بولی (مریم) کہ میرے لڑکا کہاں سے ہوگا حالانکہ مجھے کسی بشر نے چھوا اور نہ میں بدکار ہوں۔“

قال كذلك قال ربك هو على هين ولنجعله آية للناس ورحمة منا (مریم: ٢١) ”کہا یوں ہی ہے تیرے رب نے فرمایا ہے کہ یہ کام مجھ پر آسان ہے تاکہ ہم اسے لوگوں کے واسطے نشانی کریں اور اپنی طرف سے رحمت۔“

ان آیات سے ثابت ہے کہ حضرت مریم بالکل پاک دامن ہیں۔ ان پر بدکاری کی تہمت لگانے والا سراسر لغو اور باطل ہے اور بہتان عظیم ہے) حضرت مریم علیہا السلام کے پاس جبرائیل آئے اور جب وہ ڈریں تو حضرت مریم نے کہا کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے تو

٥٣٧

جبرائیل امین نے کہا کہ تیرے رب کا حکم ہے اور اس نے فرمایا ہے کہ یہ کام مجھ پر آسان ہے۔ اس مقام پر بھی قرآن پاک نے حضرت مائی صاحبہ کی پاک دامنی کا بیان فرمایا۔ ذرا اور آگے بڑھئے۔

(حقیقۃ الوحی ص ١٠٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٦) پر ہے کہ مرزا قادیانی پر وحی آتی ہے۔

”انى مع الرسول اجيب اخطی واصیب“ یعنی خدا کہتا ہے کہ میں رسول کے (مرزا قادیانی) ساتھ ہوں اور جواب دیتا ہوں اس جواب میں کبھی خطا کرتا ہوں۔ کبھی صواب، اس میں اللہ تعالیٰ کو خاطی ٹھہرایا۔

(انجام آتھم ص ٦ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٩٠) ”عیسائیوں نے بہت سے آپ کے معجزات لکھے ہیں۔ مگر حق یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ صادر نہیں ہوا ۔“ اس میں معجزات کا کھلا انکار ہے۔

(انجام آتھم ص ٧ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٩١) پر ہے کہ: ”آپ نے معمولی تدبیر کے ساتھ کسی شب کور وغیرہ کو اچھا کر دیا ہو۔ یا کسی اور ایسی ہی بیماری کا علاج کیا ہو۔“ اس مقام پر بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزہ کا صاف انکار کیا ہے۔ کیونکہ قرآن پاک میں ہے:وابری الاكمه والابرص واحيى الموتى باذن الله (آل عمران: ٤٩) “

مگر مرزا قادیانی کہتا ہے کہ کسی شب کور وغیرہ کو اچھا کیا ہوگا۔ قرآن پاک میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں حکم ہے کہ آپ نے مادر زاد اندھے کوڑھی کو اچھا کیا۔ مرزا قادیانی کا انکار قرآن پاک کا کھلم کھلا انکار ہے۔

اسی (ضمیمہ انجام آتھم ص ٧، خزائن ج ١١ ص ٢٩١) پر ہے کہ: ”آپ کا (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے۔ تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زنا کار تھیں اور کسبی عورتیں تھیں۔ جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔“ (معاذ اللہ ثم معاذ اللہ) خاتم بدہن گستاخ نے حضرت عیسیٰ روح اللہ کلمۃ اللہ کے نسب پاک کی ایسی توہین کی کہ زبان میں طاقت نہیں کہ ان الفاظ کو دہرائے۔ آپ کے خاندان کی توہین کی کہ وہ ایسے تھے۔ پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق بھی لکھ دیا کہ جس طرح ان کا وجود ظہور پذیر ہوا۔ آپ حضرات غور فرمائیں کہ اس عبارت کو سن کر یا پڑھ کر دوسرا شخص کیا اندازہ لگائے گا۔

(ازالۃ اوہام ص ٦٢٩، خزائن ج ٣ ص ٤٣٩) پر ہے کہ: ”ایک بادشاہ کے زمانہ میں چار سو نبی نے اس کی فتح کے بارے میں پیش گوئی کی اور وہ جھوٹے نکلے اور بادشاہ کو شکست ہوئی۔“ نبی تسلیم کرتے ہوئے پھر ان کی پیش گوئیوں پر حملہ کرنا اور جھوٹا بتانا سخت توہین ہے۔ اس جملہ سے معلوم

١١

صفحہ ٥٣٨

ہوتا ہے کہ جب مرزا قادیانی کی پیش گوئیاں بالکل غلط نکلیں اور مسلمانوں نے اعتراض شروع کئے تو فوراً کہہ دیا کہ میری پیش گوئی غلط نکلی۔ تو کیا ہوا۔ بہت سے انبیاء بھی تو پیش گوئی میں جھوٹے ہو چکے ہیں۔ اس طرح اپنے تقدس کو جتانے کے لئے انبیاء علیہم السلام کے تقدس پر حملہ کیا جو صراحۃً کفر ہے۔

(درثمین ص٥٣) پر ہے کہ۔

ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو
اس سے بہتر غلام احمد ہے

اس میں بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین ہے۔ تمام مسلمانوں کا اجتماعی مسئلہ ہے کہ کوئی امتی، کسی نبی کے برابر نہیں ہوسکتا۔ چہ جائیکہ اپنے آپ کو نبی مرسل سے بڑھ کر کہے۔

حضرات! مرزا قادیانی کی کتابوں سے چند عبارتیں مشتے از خروارے نمونہ نقل کر دیں۔ تمام عبارات کفریہ کے لئے ایک دفتر درکار ہے۔ لہٰذا اسی پر اکتفاء کی جاتی ہے۔

اب قارئین کرام فیصلہ قرآنی پر غور فرمائیں اور مرزا قادیانی کی کتابوں کو دیکھیں کہ اس مفتری، کذاب، مدعی نبوت نے کس بیباکی اور زبان درازی کے ساتھ انبیاء علیہم السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام حضرت مریم کی شان میں کیسی گستاخیاں کیں۔ پھر بھی دعویٰ کہ ہم سچے مسلمان ہیں اور حق پر ہم ہی ہیں۔ کسی نے سچ کہا کہ ۔

بادہ عصیاں سے دامن تر بتر ہے شیخ کا
پھر بھی دعویٰ ہے کہ اصلاح دو عالم ہم سے ہے

یہ کیسے ہوسکتا ہے۔ یہ بات تو روزِ روشن کی طرح واضح ہوگئی کہ مرزا قادیانی اور ان کے تمام متبعین کافر اور مرتد ہیں۔

سرور عالم ﷺ نے ایسے لوگوں کے متعلق ارشاد فرمایا: ”اياكم واياهم لا يضلونكم ولا يفتنونكم“ ﴿تم ان سے علیحدہ اور انہیں اپنے سے باز رکھو۔ تاکہ تم کو گمراہی اور فتنے میں نہ ڈال دیں۔﴾

اب تمام مسلمانوں سے گذارش ہے کہ ان مرتدین سے بالکل قطع تعلق رہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب مسلمانوں کو عمل کی توفیق دے اور بیدین کے فتنے سے بچنے کی توفیق عطاء فرمائے۔ آمین! وما علينا الا البلاغ المبين!

١٢

PDF 540

خاتم النبیین لا نبی بعدی

میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں

خاتم

جناب مشرف بریلویؒ

صفحہ ٥٤٠

ناظرین......!

ہمارا پہلا رسالہ (پمفلٹ) آپ کے ہاتھ پہنچ گیا ہے اور نہ معلوم کس قدر پرچے آپ کو ملیں۔ ہمارا مضمون رسالہ واعظ ١٩٣٦ء سے نقل ہے اور اس کی اشاعت میں دو مخیر ہستیوں کا ہاتھ ہے۔ میں یہ کہنے میں حق بجانب ہوں کہ یہ مضمون موتیوں میں تولنے کے قابل ہے۔ ہم اس کے بعد انشاء اللہ بہت رسالے شائع کریں گے۔ میں آپ سے اپیل کروں گا کہ جماعت تحفظ ختم نبوت ہی کو کامیاب کریں اور زیادہ سے زیادہ ممبر بنیں۔ یہ ایک نیک فریضہ ہے۔

مطالبات

کرے گا؟

مشرف بریلوی!

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

خاتم اور مجدد کے شرعی ولغوی معانی

اصل تفسیر

اس زمانہ میں بہت سے ایسے لوگ پیدا ہوگئے ہیں جو ان بعید احتمالات کو جو حقیقت میں قرآن مجید کی مراد نہیں اس کی تفسیر قرار دے کر آیات قرآنیہ کو اپنی ہوس رانی کا ذریعہ بنانے لگے ہیں۔ حالانکہ ہر عقلمند اس بات سے واقف ہے کہ اگر لغت اور زبان کے اعتبار سے کسی کلام کے مختلف معنی ہو سکتے ہوں تو جب تک متکلم اور مخاطب کی خصوصیات کو ملحوظ نہ رکھا جائے اس کلام کا صحیح مفہوم ادا نہیں ہو سکتا۔

قرآن مجید عربی زبان میں ہے جو دنیا کی سب سے زیادہ وسیع اور فصیح و بلیغ زبان ہے۔ اس لئے ضروری ہے جو شخص قرآن مجید کا صحیح مفہوم معلوم کرنا چاہے وہ پہلے اس زبان

٢

صفحہ ٥٤١

میں تبحر حاصل کرے اور ان تمام علوم میں مہارت تامہ پیدا کرے۔ جو علوم الیہ کہلاتے ہیں۔ علاوہ ازیں یہ بھی لازم ہے کہ آنحضرت ﷺ کے ارشادات عالیہ اور صحابہ، تابعین اور ائمہ لغت کے اقوال بھی اس کے پیش نظر ہوں اور تفسیر کرتے وقت اسلام کے مسلمات اور اجماع امت سے ادھر سے ادھر نہ جائے۔

قرون اولیٰ کے مفسرین (شکر الله مساعیہم) نے عموماً ان امور کو ملحوظ رکھا ہے۔ لیکن افسوس ہے کہ موجودہ زمانہ میں بعض ایسے مفسرین پیدا ہو رہے ہیں۔ جنہیں اپنی قابلیت اور تحقیق کا تو بہت بڑا دعویٰ ہے۔ لیکن جب ان کی تحریرات اور تقریرات کو دیکھا اور سنا جاتا ہے تو بے اختیار خواجہ حافظ کا یہ شعر یاد آجاتا ہے؎

ہزار نکتہ باریک تر ز مو اینجاست
نہ ہر کہ سر بتراشد قلندری داند

آج کل لفظ ”خاتم“ ایسے مفسرین کی جولانگاہ تحقیق بن رہا ہے اور اس کی ایسی توجیہیں پیش کی جاتی ہیں جنہیں پڑھ کر بے ساختہ ہنسی آتی ہے۔ ہمیں ایسی رکیک تاویلات کے متعلق خامہ فرسائی کی ضرورت نہ تھی۔ لیکن چونکہ اس قسم کی تحریرات سے عوام میں غلط فہمی پیدا ہونے کا اندیشہ ہے۔ اس لئے ہم اس کے متعلق کچھ عرض کرنا چاہتے ہیں۔

”اللهم ارنا الحق حقا وارزقنا اتباعه وارنا الباطل باطلاً وارزقنا اجتنابه، بحرمة سيد المرسلين وخاتم النبيين عليه وعلى آله واصحابه من الصلوة افضلها ومن التسليمات اكملها“

خاتم

صحابہ کرامؓ کے نزدیک خاتم کا مفہوم

خداوند تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ”ما كان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين وكان الله بكل شئ عليما (احزاب:٤٠)“ محمد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں وہ تو اللہ کے رسول ہیں اور پیغمبروں کے آخر میں ہیں اور اللہ ہر چیز کو خوب جانتا ہے۔ ﴾

٣

صفحہ ٥٤٢

ساڑھے تیرہ سو سال سے تمام صحابہ کرام، تابعین، تبع تابعین اور فقہاء، محدثین رضوان اللہ علیہم اجمعین آیت مذکور لفظ ”خاتم“ کا یہی مفہوم سمجھتے اور بیان کرتے چلے آئے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔ بلکہ خود صاحب رسالت علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بھی نہایت وضاحت سے فرمایا: ”لا نبی بعدی“ ﴿میرے بعد کوئی نبی نہیں۔﴾

(بخاری ج ٢ ص ٦٣٣ ، مسلم ج ٢ ص ٢٧٨) میں ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا۔ میرا ایک نام عاقب ہے۔ ”والعاقب الذی لیس بعدہ نبی“ ﴿عاقب وہ ہے جس کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔﴾

علامہ ابن قیم زاد المعاد میں لکھتے ہیں: ”العاقب الذی جاء عقب الانبیاء فلیس بعدہ نبی فان العاقب ھو الآخر فھو بمنزلة الخاتم“ ﴿یعنی عاقب جو حضور ﷺ کا نام ہے خاتم کا ہم معنی ہے اور اس کے معنی ہیں سب نبیوں سے پیچھے آنے والا۔ جس کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔﴾

تفسیر خازن اور معالم میں بھی عاقب کے یہی معنی مذکور ہیں۔

انقطاع وحی

(مسلم ج ١ ص ١٩٩) کی ایک دوسری روایت میں حضور ﷺ کا یہ ارشاد مذکور ہے۔ ”وختم بی النبیون“ ﴿پیغمبروں کا مجھ پر خاتمہ ہوچکا ہے۔﴾

ترمذی شریف میں ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا: ”ان الرسالة والنبوة وقد انقطعت فلا رسول بعدی ولا نبی“ ﴿بلاشبہ رسالت بھی منقطع ہوچکی ہے اور نبوت بھی۔ اس لئے میرے بعد نہ تو کوئی رسول ہوگا اور نہ نبی ۔﴾

(ترمذی ج ٢ ص ٥٣)

علامہ ابن حزم اندلسی اپنی کتاب المحلی میں جو گیارہ جلدوں میں ابھی ابھی مصر میں شائع ہوئی ہے۔ فرماتے ہیں: ”انہ علیہ السلام خاتم النبیین لا نبی بعدہ برھان ذالك قول اللہ تعالیٰ ماکان محمد“ ﴿آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔ آپ خاتم النبیین ہیں۔﴾

اور اس کی دلیل یہ آیت ہے۔ ”ماکان محمد...... الخ“ اسی کتاب میں دوسری جگہ لکھتے ہیں: ”ان الوحی لا یکون الا الی نبی وقد قال عزوجل ماکان محمد“

٤

﴿یعنی جب سے حضور ﷺ صرف نبی کی طرف ہوا کر اور خداوند قد نہ ہوگا۔ ﴾

اجماع امت:

صاحب الانبياء وآية الا الانبیاء ہیں اور آیت ا نص قرآنی کا انکا

صاحب الكتاب وصدع

روح المعانی ج ٢٢ جن کی قرآن مجید امت محمدیہ کا اس پر اج

مدعی نبوت کی تکفیر

ملاعلی قاری ﴿نبی ﷺ کے بعد حجة الا عدم نبی بعد ومن اوله بقد مكذب لهذا ا ص ١٢٣) ” تک نہ کوئی نبی تخصیص سے اس

صفحہ ٥٤٣

یعنی جب سے حضورﷺ نے وفات پائی ہے وحی منقطع ہوچکی ہے اور دلیل اس کی یہ ہے کہ وحی صرف نبی کی طرف ہوا کرتی ہے۔ اور خداوند تعالیٰ فرماتا ہے: ”ماکان محمد .......الخ“یعنی آپ کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔

اجماع امت:

صاحب مجمع البحار تذکرۃ الموضوعات میں فرماتے ہیں:”الاجماع الى انه خاتم الانبیاء وایة الاحزاب نص فیه“یعنی امت کا اس اجماع ہو چکا ہے کہ آپ خاتم الانبیاء ہیں اور آیت احزاب اس بارے میں نص ہے۔

نص قرآنی کا انکار

صاحب روح المعانی فرماتے ہیں:”وکونه ﷺ خاتم النبيين مما نطق به الكتاب وصدعت به السنة واجمعت عليه الامة فيكفر مدعی خلافه (تفسیر روح المعانی ج ٢٢ ص ٣٩)“آنحضرتﷺ کا خاتم النبیین ہونا ان مسائل میں سے ہے۔ جن کی قرآن مجید نے تصریح کی اور احادیث نے انہیں بڑی وضاحت سے بیان کر دیا اور تمام امت محمدیہ کا اس پر اجماع ہو گیا۔ جو شخص اس کے برخلاف دعویٰ کرے اسے کافر سمجھا جائے گا۔

مدعی نبوت کی تکفیر پر دلائل

ملا علی قاریؒ لکھتے ہیں:”ودعوى النبوة بعد نبيناﷺ كفر بالاجماع “ نبیﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنا بالا جماع کفر ہے۔

(شرح فقہ اکبرص ٢٠٢)

حجۃ الاسلام امام غزالی فرماتے ہیں:”ان الامة فهمت من هذا اللفظ انه فهم عدم نبی بعده ابداً وعدم رسول بعده ابدا وانه ليس فيه تاويل وتخصیص ومن اوله بتخصیص فكلامه من انواع الهذيان لا يمنع الحكم بتكفيره لا نه مكذب لهذا النص الذي اجمعت الامة على انه غير ماول (الاقتصاد في الاعتقاد ص ١٢٣)“تمام امت محمدیہ نے لفظ خاتم النبیین سے یہی سمجھا کہ آنحضرتﷺ کے بعد ابد تک نہ کوئی نبی ہوگا اور نہ کوئی رسول اور اس لفظ میں کوئی تاویل اور تخصیص نہیں ہو سکتی۔ جو شخص کسی تخصیص سے اس آیت کی تاویل کرے گا تو اس کا یہ بے معنی اور بیہودہ کلام اسے کافر کہنے سے ٥

صفحہ ٥٤٣

روک نہیں سکتا۔ کیونکہ وہ نص قرآنی کی تکذیب کر رہا ہے جس کے متعلق امت کا اجماع ہے کہ نہ اس میں کوئی تاویل ہے اور نہ تخصیص۔

امام المفسرین علامہ ابن کثیر آیت مذکورۃ الصدر کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”هذه الاية نص فی انه لا نبی بعده واذا لا نبی بعده فلا رسول بالطریق الاولی لان مقام الرسالة اخص من مقام النبوة (تفسیر ابن کثیر ج ٦ ص ٥٦٤)“

یہ آیت اس بارے میں نص صریح ہے کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔ کیونکہ مقام رسالت مقام نبوت کی نسبت خاص ہے۔ یعنی لفظ نبی عام ہے اور رسول خاص اور یہ قاعدہ ہے کہ عام کی نفی سے خاص کی نفی ہو جایا کرتی ہے۔

ان شواہد سے واقف ہونے کے بعد بھی اگر کوئی شخص لفظ ”خاتم“ میں کسی قسم کی تخصیص یا تاویل کا قائل ہو۔ تشریعی اور غیر تشریعی کی پچر لگا کر نص صریح اور اجماع امت کا خلاف کرے تو ہم اس کی خدمت میں اس کے سوا اور کیا عرض کر سکتے ہیں۔

اولئك اشهادی فجئنی بمثلهم
اذا جمعتنا یا جریر المجامع

لفظ خاتم کے لغوی معانی

مذکورہ بالا تصریحات کے ہوتے ہوئے ہمیں اس امر کی ضرورت نہ تھی کہ لفظ خاتم کے معنی اور طریق استعمال کے متعلق بھی کچھ تحریر کریں۔ کیونکہ یہ ایک علمی بحث ہے اور ممکن ہے کہ بعض باتیں عوام کی سمجھ میں نہ آئیں۔ لیکن محض اس خیال سے کہ وہ شبہات دور ہو جائیں جو بعض خود غرض لوگوں نے پیدا کر دیئے ہیں، ہم اس کے متعلق بھی کچھ تحریر کرنا چاہتے ہیں۔

لفظ ”خاتم“ کا مادہ ”ختم“ ہے۔ جس کے معنی مہر لگانے اور کسی چیز کے آخر تک پہنچنے اور اسے ختم کر دینے کے ہیں اور یہ لفظ دو طرح سے پڑھا جاتا ہے۔ ”خاتم“ (بکسر تا) اور خاتم (بفتح تا) لیکن خاتم (بکسر تا) مشہور لغت ہے۔ چنانچہ مصباح المنیر میں ہے: ”والکسر ا شهر“ کسرہ زیادہ مشہور ہے۔

قرآن مجید میں بھی حسن اور عاصم کے سوا باقی سب قاریوں نے اسے خاتم (بکسر تا) ہی پڑھا ہے۔ علامہ آلوسی لکھتے ہیں: ”وقرا الجمهور بکسر التاء وفتحها وقرأ عاصم

٦

صفحہ ٥٤٥

وخاتم النبيين بالفتح (تفسير روح المعانی ج ٢٢ ص ٣٩) ”لفظ خاتم بكسر وفتح تا دونوں طرح پڑھا جاتا ہے اور عاصم نے خاتم النبیین کو بفتح تا پڑھا ہے۔ اہل لغت بیان کرتے ہیں کہ لفظ خاتم کو خواہ بکسر تا (خاتم) پڑھو اور خواہ بفتح تا (خاتم) معنی دونوں صورتوں میں ایک ہی ہیں۔ یعنی سب سے آخر۔ چنانچہ صاحب قاموس لکھتے ہیں: ”الخاتم آخر القوم كالخاتم“ ”خاتم اور خاتم دونوں کے معنی سب سے پیچھے آنے والے کے ہیں۔

کلیات ابی البقاء میں لکھتے ہیں: ”وتسمية نبينا خاتم الانبياء لان الخاتم اخر القوم (كليات ابي البقاء ص ٣١٩) ”ہمارے نبی ﷺ کو خاتم الانبیاء اس لئے کہتے ہیں کہ خاتم کے معنی آخر القوم کے ہیں۔

لسان العرب میں جو عربی کا ایک مشہور اور مستند لغت ہے، لکھا ہے: ”خـــــاتــــمـــــهـــــم اخرهم“ خاتم اور خاتم دونوں کے معنی آخر کے ہیں۔

لسان العرب کی جو عبارت ہم نے نقل کی ہے۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ لفظ خاتم جب جمع یا ضمیر جمع کی طرف مضاف ہو تو اس کے معنی صرف آخر کے آیا کرتے ہیں اور اسی بات کو ظاہر کرنے کے لئے اسے ضمیر جمع کی طرف مضاف کر کے دکھایا ہے۔ ایک حدیث بھی اس کے معنی کی تائید کرتی ہے۔ جس میں حضورﷺ نے فرمایا ہے: ”انا خاتم الانبياء ومسجدی خاتم المساجد (کنز العمال ج ١٢ ص ٢٧٠) ”میں آخری نبی ہوں اور میری مسجد آخری مسجد ہے۔ ﴿

مساجد سے مراد انبیاء کی مساجد ہیں۔ کیونکہ اسی حدیث کی دوسری روایت میں صراحتاً مذکور ہے۔ ”انا خاتم الانبياء ومسجدی خاتم مساجد الانبياء“ ”میں آخری پیغمبر ہوں اور میری مسجد انبیاء کی مسجدوں میں سے آخری مسجد ہے۔ ﴿

اس حدیث کے الفاظ نے یہ قطعی طور پر ثابت کر دیا کہ جمع کی طرف مضاف ہونے کی حالت میں خاتم کے معنی آخر کے آئے ہیں۔ صحیح مسلم کی ایک دوسری روایت نے ان معنی کو اور بھی واضح کر دیا ہے۔

ارشاد ہوتا ہے: ”انی آخر الانبياء ومسجدی آخر المساجد“ ”میں آخری نبی ہوں اور میری مسجد آخری مسجد ہے۔ ﴿

٧

صفحہ ٥٢٦

مجازی اور حقیقی معانی

یہ ہم بھی تسلیم کرتے ہیں کہ لفظ ”خاتم“ علم بلاغت کا یہ متفقہ فیصلہ ہے کہ مجازی معنی اسی وقت لئے جاتے ہیں جب حقیقی معنی متعذر اور مشکل ہوں۔ مثلاً جب کسی شخص کو ”خاتم المحدثین“ یا ”خاتم المفسرین“ یا ”خاتم الشعراء“ لکھا جاتا ہے تو مجازاً اور مبالغۃً کہا جاتا ہے۔ اس وقت حقیقی معنی مراد نہیں ہوتے۔ کیونکہ انسان عالم الغیب نہیں۔ اسے کیا معلوم کہ جس شخص کو وہ کسی خاص فن کا خاتم کہہ رہا ہے اس کے بعد اس جیسے یا اس سے بڑھ کر کتنے شخص پیدا ہوں گے۔ اس لئے انسان کے کلام کو ایسی حالت میں مبالغہ یا مجاز پر محمول کرنے کے سوائے کوئی چارہ ہی نہیں۔ لیکن خداوند تعالیٰ چونکہ عالم الغیب ہے اور اس پر سب کچھ عیاں ہے۔ اس لئے خدا کا کلام حقیقت پر محمول ہوگا۔ خصوصاً ایسے وقت میں جب کہ اس کے سینکڑوں شواہد موجود ہوں۔ بنا بریں ایسی تراکیب کو خاتم النبیین کے خود ساختہ معنی کے لئے بطور بند پیش کرنا بعید از عقل و نقل ہے۔

بتصدیق حدیث نبوی

خاتم کے خود ساختہ اور من گھڑت معنی کی تائید میں ایک حدیث بھی پیش کی جاتی ہے۔ جس میں آنحضرت ﷺ نے حضرت عباسؓ سے فرمایا: ”اطمئن یا عم فانك خاتم المهاجرين في الهجرة كما انا خاتم النبيين في النبوة “ لیکن یہ حدیث تو خود اس امر کی دلیل بین ہے کہ خاتم کے معنی آخر کے ہیں۔ کیونکہ ہجرت سے مراد ہجرت مکہ ہے، اور حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اے چچا! آپ مطمئن رہیں۔ آپ کے بعد جو شخص مکہ کو چھوڑ کر مدینہ میں آئے گا اسے اسلامی مہاجر کا لقب نہیں ملے گا اور وہ مہاجرین صحابہؓ میں سے شمار نہیں ہوگا۔ جس طرح میں خاتم الانبیاء ہوں اور میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ اسی طرح تم خاتم المہاجرین ہو۔ اب تمہارے بعد کوئی صحابی مہاجر نہیں کہلائے گا۔ جس طرح حضرت عباسؓ فتح مکہ سے کچھ ہی پہلے ہجرت کر کے مدینہ منورہ پہنچے تھے اور آپ کے بعد پھر کسی مسلمان نے ہجرت نہیں کی۔ کیونکہ ان کی ہجرت کرنے کے بعد مکہ فتح ہو کر دارالسلام ہو گیا اور حضور ﷺ نے فرمایا: ”لا هجرة بعد الفتح (بخاری ج ١ ص ٤٣٣) “کہ فتح مکہ کے بعد ہجرت نہیں۔ ﴾ اس بیان کی تائید ایک دوسری روایت سے ہوتی ہے۔ جسے علامہ ابن حجر نے تہذیب التہذیب میں یوں نقل کیا ہے۔ ”استأذن العباس نبى الله ﷺ فى الهجرة فكتب

٨

اليه يا عم يا عم خاتم النبوة “ حضرت عباسؓ نے نے تحریر کر بھیجا۔ ”اے میرے خدا تعالیٰ تم پر ہجرت اس طرح ان دونوں روایتوں آپ ﷺ نے اس وقت فر بعد ہجرت کی ضرورت بـ

خاتم بمعنی مہر لگانا

اگر خاتم کے مـ یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ پـ جاتا اور کسی چیز پر مہر لگـ طرح حضور ﷺ کے وجود بـ

خاتم بکسر تا اور بفتح تاء

صاحب مجمع البحار ا بكسر التاء اى فاعل الختم علیه انه لا نبى بعده (مجمـ اور بفتح تا بمعنی مہر یعنی وہ شے جو آ امام راغب اصفہانی ہیں: ” ويجود بذالك تار يحصل من المنـ چونکہ خطوط اور مجازی طور پر کبھی ختم سے مراد منتہی اسی لیـ

صفحہ ٥٤٧

انه يا عم يا عم مكانك الذى انت فيه فان الله يختم بك الهجرة كما ختم بى النبوة ”حضرت عباسؓ نے آنحضرتﷺ سے ہجرت کرنے کی اجازت طلب کی تو حضورﷺ نے تحریر کر بھیجا۔ ”اے میرے چچا! اے میرے چچا! تم جس جگہ ہو ابھی وہیں ٹھہرے رہو۔ کیونکہ خدا تعالیٰ تم پر ہجرت اس طرح ختم کر دے گا جس طرح اس نے مجھ پر نبوت ختم کر دی۔“

ان دونوں روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عباسؓ نے ہجرت کی اجازت چاہی تو آپﷺ نے اس وقت اجازت نہ دی اور بعد ازاں اس وقت اجازت دی کہ ان کی ہجرت کے بعد ہجرت کی ضرورت ہی نہ رہی۔ اس لئے آپ کو خاتم المہاجرین کا لقب ملا۔

خاتم بمعنی مہر لگانا

اگر خاتم کے معنی مہر کے لئے جائیں تو اس صورت میں ”خاتم النبیین“ کا مطلب یہ ہے کہ آنحضرتﷺ تمام پیغمبروں کے بمنزلہ مہر کے ہیں۔ یعنی جس طرح مہر سے تحریر کو ختم کیا جاتا اور کسی چیز پر مہر لگا دینے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اب اس میں کوئی چیز داخل نہ ہو سکے گی۔ اسی طرح حضورﷺ کے وجود باجود کے بعد سلسلۂ نبوت میں کوئی شخص داخل نہ ہو سکے گا۔

خاتم بکسر تا اور بفتح تاء

صاحب مجمع البحار اسی معنی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”خاتم النبوة بكسر التاء اى فاعل الختم وهو الاتمام . وبفتحها بمعنى الطابع اى شئ يدل على انه لا نبى بعده (مجمع البحار ج٤ ص١٥) ”خاتم النبوۃ بکسر تا یعنی تمام کرنے والا اور بفتح تا بمعنی مہر یعنی وہ شے جو اس پر دلالت کرے کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔ ﴾

امام راغب اصفہانی مفردات القرآن میں لفظ ختم کے معنی تحریر کرنے کے بعد فرماتے ہیں: ”ويعبر بذلك تارة عن الاستيثاق من الشئ والمنع منه اعتباراً بما يحصل من المنع بالختم على الكتب والابواب (مفردات راغب ص١٤٢)“ یعنی چونکہ خطوط اور دروازوں پر مہر لگانے کا مطلب ان میں کسی چیز کو داخلہ سے روکنا ہے۔ اس لئے مجازی طور پر کبھی ختم سے مراد کسی چیز سے روکنا اور باز رکھنا بھی ہوتا ہے۔ ﴾

متنبی اسی معنی کا اظہار کرتے ہوئے کہتا ہے۔

٩

صفحہ ٥٤٨
اروح وقد ختمت علی فؤادی
بحبک ان یحل بہ سواکا

یعنی یہاں سے اس حالت میں جا رہا ہوں کہ تم نے اپنی محبت کی مہر میرے دل پر لگا دی ہے۔ تاکہ تمہارے سوائے اس میں کوئی داخل نہ ہو سکے۔

لا نبی بعدی

بہر حال خواہ لفظ خاتم کو آخر کے معنی میں لیا جائے یا اس کے معنی مہر کے کئے جائیں۔ مطلب ہر صورت میں یہی ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔

تجدید معانی

اب اگر کوئی شخص لفظ نبی کی کوئی نئی تفسیر اور توجیہہ پیش کرے تو وہ ہرگز قابل قبول نہ ہوگی۔ کیونکہ اصطلاحی الفاظ میں تصرف جائز نہیں۔ اس لئے شریعت نے الفاظ موہمہ کے استعمال سے روکا ہے۔ یعنی ایسے الفاظ کے استعمال کی اجازت نہیں دی۔ جس میں کسی شرعی حکم کے خلاف کا پہلو بھی موجود نہ تھا۔

صحابہ رضوان اللہ علیہم کو حکم ہوتا ہے۔ ”لا تقولوا راعنا“ یعنی حضور ﷺ کو لفظ راعنا سے مخاطب نہ کیا کرو۔ کیونکہ اس میں ذم کا ایک پہلو بھی موجود تھا۔ احادیث میں بہت سے الفاظ استعمال کرنے کی ممانعت اسی بناء پر وارد ہے۔

بعض لوگوں کا یہ قول کہ ائمہ لغت نے جو خاتم النبیین میں خاتم کے معنی آخر کے لکھے ہیں۔ یہ محض ان کے اپنے عقیدے کا اظہار ہے۔ جو حجت نہیں۔ غالب مرحوم کے اس مصرعہ سے زیادہ وقعت نہیں رکھتا۔

دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے

کیونکہ موجودہ زمانہ میں بہت سے غیر مسلم اہل قلم نے عربی زبان کے لغت مرتب کئے ہیں۔ مگر اس معنی پر کسی نے اعتراض نہیں کیا۔ اگر بالفرض یہ معنی غلط ہیں تو کیا ابتدائے اسلام سے لے کر آج تک مسلمانوں میں کوئی ایسا صاحب علم اور محقق پیدا نہیں ہوا جو اس غلطی سے لوگوں کو آگاہ کرتا اور بقول ان کے یہ سب کتب لغت ناقابل اعتبار ہیں تو کیا دنیا میں عربی زبان کا کوئی ایسا لغت بھی ہے جو قابل اعتبار ہو۔ اگر ہے تو کون سا؟ اور اس پر اعتبار کرنے کی وجہ کیا ہے؟

١٠

صفحہ ٥٤٩

جن لوگوں کا یہ خیال ہے کہ بحالت اضافت خاتم کے معنی صرف افضل کے آتے ہیں۔ انہیں چاہئے تھا کہ اپنے اس دعوے کے ثبوت میں کسی امام فن کا قول پیش کرتے۔ جس میں صراحۃً یہ مذکور ہوتا کہ جمع کی طرف مضاف ہونے کی حالت میں خاتم کے معنی صرف افضل کے ہوتے ہیں۔

يقولون اقوالا ولا يعلمونها
ولو قيل هاتوا حققوا لم يحققوا

ختم نبوت

”اليوم اكملت لكم دينكم واتممت عليكم نعمتى (المائده:٣)“ حضرات ! میرے لئے جو مضمون تجویز کیا گیا ہے۔ اس کی عظمت اس امر کی متقاضی تھی اور ہے، کہ کوئی عظیم الشان صاحب علم اس پر تقریر کرتا۔ لیکن میں اپنے محدود علم کی بناء پر جس قدر کہہ سکتا ہوں، کہوں گا۔ مضمون ہے۔ ”ختم نبوت“ جو مسلمانوں میں بہت سمجھا جا رہا ہے۔ اوّل اس لئے کہ مسلمان کہلانے والوں میں سے ایک جماعت ختم نبوت کی بجائے اجرائے نبوت کی قائل ہے۔ دوسرے اس وجہ سے کہ ایک جدید تعلیم یافتہ طبقہ اپنی آزادی کی بناء پر ختم نبوت کا منکر اور اجرائے نبوت کا مؤید ہے اور کہتا ہے کہ اخلاق انسان کی اصلاح کے لئے نبی کی برابر ضرورت ہے۔

لفظ نبی کی لغوی تحقیق

نبی ، نبو، نبا۔ یہ تین لفظ ہیں۔ جن سے نبوت کا لفظ ماخوذ ہے۔ از روئے لغت نبی بروزن فعیل کا مفہوم ہے۔ اطلاع دینے والا ، اطلاع پہنچانے والا۔ پس اطلاع دینے کا نام بھی نبوت ، اطلاع پہنچانا بھی نبوت ۔ قرآن کریم کے الفاظ اس بات کے گواہ ہیں۔ آپ نے پہلے پارہ میں پڑھا ہو گا کہ ”انبئونی“ بتا دو مجھے۔ اطلاع دو مجھے ۔ ”ذالك من انباء الغيب (آل عمران:٤٤)“ یہ غیبی اطلاعات ہیں ۔ ”من انباك هذا (التحریم:٣)“ تمہیں یہ بات کس نے بتائی ۔ جواب دیا گیا کہ مجھے بے انتہاء علم والے نے یہ بات بتائی ۔ کوئی بات بتا دینا۔ کوئی عظیم الشان بات بتا دینا، یا کسی کو پہنچا دینا اس کا نام لغت میں نبوت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ علمائے کرام نے تسلیم کیا ہے کہ لفظ نبوت شرعاً منقول ہے۔ (شرح مواقف ص ٢٦٣) لغوی معنوں میں جو وسعت ہے وہ شرعی معنوں میں نہیں۔

١١

صفحہ ٥٥٠

آپ کو علم ہے کہ: ”سود‘ فائدے کو کہتے ہیں۔ فلاں چیز میں کوئی سود نہیں۔ فلاں بات سود مند ہے۔ میری نصیحت زید کے لئے بڑی سود مند ثابت ہوئی۔ لیکن شرعاً یہ وسعت محدود ہے۔ صلوٰۃ لغۃ اظہار نیاز مندی کو کہتے ہیں۔ کائنات کا ہر ذرہ اسی معنی کے حساب سے مصلی ہے۔ پرندے، درندے، چرندے بلکہ کائنات کا ہر ذرہ اور ہر چیز اپنے اپنے رنگ میں بزبان حال اپنی اپنی نیاز مندی کا اظہار کر رہی ہے۔ لیکن یہی لفظ جب ”یقیمون الصلوٰة“ میں آئے گا تو اس کے معنی محض اظہار نیاز مندی کے نہ ہوں گے۔ بلکہ مخصوص طریق عبادت مقصود ہوگا۔ لغوی وسعت بسا اوقات شریعت میں قائم نہیں رہتی بلکہ محدود ہو جاتی ہے۔

اگر لفظ نبی کو جو فعیل کے وزن پر ہے۔ فاعل کے معنی میں استعمال کیا جائے تو اس کے معنی ہوں گے اطلاع دینے والا۔ گویا ہر اطلاع دینے والے کا نام نبی ہے اور اگر مفعول کے معنی لئے جائیں تو اس کے معنی ہوں گے اطلاع دیا گیا۔ گویا دونوں لغوی معنی میں نبی ہیں۔ اگر کوئی شخص نبوت کے لغوی معنی کی وسعت کو سامنے رکھ کر دعویٰ کرتا ہے کہ میں نبی ہوں تو میرے یہ بزرگ جو قلم ہاتھ میں لئے لکھ رہے ہیں۔ نبی ہیں اور میں جو اطلاع دے رہا ہوں نبی ہوں۔ دونوں میں کوئی فرق نہیں۔ لغت ہی کی آڑ لینی ہے تو پھر ہر اطلاع یابندہ اور ہر اطلاع دہندہ بلکہ لغوی معنی کی وسعت کو نظر انداز کرتے ہوئے اگر ایک چور یا ڈاکو نے کوئی اطلاع دی۔ اطلاع کے لئے ضروری نہیں کہ وہ فری پریس کی ہو۔ بلکہ کوئی اطلاع ہو۔ غلط ہو جھوٹی ہو تو وہ چور یا ڈاکو بھی نبوت کا دعویٰ کر سکتا ہے اور ٹھگ اور بدکار اطلاع دہندہ یا اطلاع یابندہ لغوی اعتبار سے نبی ہے۔ غرض اگر نبوت کے لغوی معنی کی وسعت کو سامنے رکھتے ہوئے زید مدعی نبوت ہے تو اس کی طرح ہر کوئی نبی ہونے کا دعویٰ کر سکتا ہے۔ زید کی تخصیص کی کوئی ضرورت نہیں۔

نبوت کا شرعی مفہوم

لیکن شریعت یا قرآن میں لفظ نبوت کو عام لغوی نہیں بلکہ مخصوص شرعی معنی میں استعمال کیا گیا ہے۔ اس میں بھی لوگوں نے ٹھوکریں کھائیں۔ قرآن کی اصطلاح میں نبوت کیا ہے۔

کیا خدا سے ہم کلام ہونا نبوت ہے؟

بعض لوگوں نے محض خدا سے ہم کلام ہونا، مکالمہ یعنی محض خداوند کریم کا کسی سے کوئی بات کہنا اور اس کی یعنی کہنے والے کی بات کا اسے جواب دینا۔ کیونکہ مکالمہ باب مفاعلہ سے

١٢

صفحہ ٥٥١

رے کو کہتے ہیں۔ فلاں چیز میں کوئی سود نہیں۔ فلاں بات بڑی سود مند ثابت ہوئی۔ لیکن شرعاً یہ وسعت محدود ہے۔ د کائنات کا ہر ذرہ اسی معنی کے حساب سے مصلی ہے۔ کا ہر ذرہ اور ہر چیز اپنے اپنے رنگ میں بزبان حال اپنی ی لفظ جب ”یقیمون الصلوٰۃ“ میں آئے گا تو اس گے۔ بلکہ مخصوص طریق عبادت مقصود ہوگا۔ لغوی وسعت محدود ہو جاتی ہے۔

بر ہے۔ فاعل کے معنی میں استعمال کیا جائے تو اس کے طلاع دینے والے کا نام نبی ہے اور اگر مفعول کے معنی دیا گیا۔ گویا دونوں لغوی معنی میں نبی ہیں۔ اگر کوئی شخص کر دعویٰ کرتا ہے کہ میں نبی ہوں تو میرے یہ بزرگ جو ض جو اطلاع دے رہا ہوں نبی ہوں۔ دونوں میں ہو ہر اطلاع یابندہ اور ہر اطلاع دہندہ بلکہ لغوی معنی کی یا ڈاکو نے کوئی اطلاع دی۔ اطلاع کے لئے ضروری ہو۔ غلط ہو جھوٹی ہو تو وہ چور یا ڈاکو بھی نبوت کا دعویٰ کر یابندہ لغوی اعتبار سے نبی ہے۔ غرض اگر نبوت کے یہ مدعی نبوت ہے تو اس کی طرح ہر کوئی نبی ہونے کا نہیں۔

کے عام لغوی نہیں بلکہ مخصوص شرعی معنی میں استعمال ہیں۔ قرآن کی اصطلاح میں نبوت کیا ہے۔

ہم ہونا، مکالمہ یعنی محض خداوند کریم کا کسی سے کوئی سے جواب دینا۔ کیونکہ مکالمہ باب مفاعلہ سے ١٢

ہے۔ پس نبوت نام ہے شرف ہم کلامی حاصل کرنے کا۔ یعنی نبوت مکالمہ کا نام ہے۔ لیکن یہ نظریہ بھی غلط ہے۔ کائنات کی کون سی چیز اور مخلوقات میں سے کون سی مخلوق ہے۔ جسے پروردگار نے اپنے کلام سے نہیں نوازا۔ کیا تمہیں نہیں نوازا؟

کلام، مکالمہ آپ دیکھیں کہ انسان تو بڑی چیز ہے۔ اس نے اپنے کلام سے ابلیس کو نوازا۔ ”ما منعك (الاعراف: ١٢)“ کون متکلم ہے؟ خدا متکلم ہے۔ جب میں نے تم کو حکم دیا تم نے میرے حکم کی خلاف ورزی کیوں کی؟ ابلیس مخاطب، خدا متکلم۔ پس اگر آپ محض مکالمے کی بناء پر کسی کو نبی ٹھہرانے لگیں تو خیال کرنا کہ قرآن میں خدا نے فرعون کو بھی اپنے کلام سے نوازا۔ فرعون کو ڈوبتے ہوئے کس نے کہا تھا کہ اب خدا پرستی یاد آئی؟ یہ کون بول رہا تھا؟ تم کہہ سکتے ہو کہ بوساطت جبرئیل لیکن پھر وہی بات نبیوں سے بھی گفتگو بوساطت جبرائیل ہی ہوتی تھی۔ کیا تم نے دیکھی نہیں کہ اس نے تو کائنات میں سے زمین کو، آسمان کو اپنے کلام سے نوازا۔

(حم السجدہ: ٢)

ہم اس کلام کی کیفیت نہیں سمجھ سکتے۔ قرآن پر ایمان ہے۔ اس نے ہر ذرہ کو نوازا۔

قرآن کریم میں ہے۔ آسمان سے کہا: اس کے ہر ذرے کو کہا۔ زمین کے ٹکڑے کو کہا۔ کیا تم خوش ہو کر میرے قوانین کی پابندی کرو گے۔ یا ناخوش ہو کر۔ جواب میں زمین و آسمان کا ہر ذرہ بول اٹھا۔ ہم خوش ہو کر تعمیل کریں گے۔ پھر کیا زمین آسمان کے ہر ذرے کو تم نبی کہو گے؟ کس نے کہا تھا کہ اے زمین اپنا پانی چوس لے۔ خدا نے کہا۔

(ھود: ٤٤)

اور اے آسمان تو اپنے پانی کو روک لے۔ کیا اس نے اس کلام سے زمین و آسمان کو نہیں نوازا۔ بلکہ تمہیں تو تسلیم کرنا ہوگا۔

طفل را در مہد گویا او کند

بولنا کس نے سکھایا؟ وہ کہتا ہے کہ میں نے سکھایا۔ جہاں میں مختلف رنگتیں دینے والا ہوں۔ وہاں مختلف بولیوں کا درس دینے والا بھی ہوں۔

(الروم)

میرے ہی دربار سے تمہیں فیض ملا۔ پھر کیا نبوت محض مکالمے کا نام ہے؟

کیا محض وحی والہام کا نام نبوت ہے؟

اس کے بعد دوسرا قول یہ ہے کہ نبوت محض الہام کا نام ہے۔ نبوت کی بنیاد الہام پر ہے۔ ”الہام“ کوئی بات کسی کو القاء کرنا، سوتے یا جاگتے ہوئے کسی بات کو اس کے دل میں ڈال ١٣

صفحہ ٥٥٣

دیتا۔ کیا نبوت کا دارومدار محض وحی اور الہام پر ہے۔ کیا یہ صحیح ہے؟ قرآن کہتا ہے غلط ہے۔ اس نے شہد کی مکھی کو نوازا۔

(النحل:٦٨)

مکھی کو تم سے افضل کیوں نہ کہا جائے۔ اس کا پیدا کیا ہوا شہد شفاء للناس ہے۔ تمہارا پیدا کیا ہوا کلام ”مرض للناس“، ”واوحٰی ربک“ تمہارے پالنے والے نے شہد کی مکھی کو نوازا، کہا تو جس چیز کو تیار کرنا چاہتی ہے وہ شہروں کی بجائے جنگلوں میں تیار کرنا۔ میں نے اسے یہ بات بتائی ہے۔ آخر اس نے کس کی سرگوشی پر۔ کس کی وحی پر۔ کس کے الہام پر شہد تیار کیا؟ میرے بتانے پر۔ ہاں اسی چیز کو تم نے دیکھا ہوگا کہ خود تم کو نوازا۔ وہ کون سی چیز ہے قسم کھا کر کہہ رہا ہے۔ وہ خود تمہاری زندگی کو بطور دلیل پیش کر رہا ہے۔ اس نے تم میں نفع نقصان کے معلوم کرنے کا مادہ پیدا کیا۔ وہ کہتا ہے۔ میں نے تمہیں نوازا۔ میں نے ہر ایک کو نوازا۔ تم محض وحی اور محض الہام کی بناء پر نبوت کے دعویدار بننا چاہتے ہو۔ میں کہتا ہوں ختم نبوت پر پھر بحث کرنا۔ پہلے نبوت پر بحث کرو۔ اگر تمہارا یہ دعویٰ سچا سمجھ لیا جائے تو تمہیں ماننا ہوگا کہ حضرت موسیٰ کی ماں بھی نبی تھی۔ بلکہ دنیا کی ہر ماں نبی ہوئی۔ خدا کہتا ہے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ماں کو دودھ پلانے کا درس ہم نے دیا۔ بیٹے کو صندوق میں بند کیا۔ وہ سمجھتی تھی کہ یہ میرے اپنے غور و فکر کا نتیجہ ہے۔ نہیں میں نے اسے سمجھایا تھا کہ اسے صندوق میں بند کر کے دریا میں ڈال دو۔

(القصص:٧)

کیا تم زید کو مدعی وحی ہونے کی بناء پر نبی مانتے ہو۔ پھر حضرت مسیح کی ماں کو نبی کیوں نہیں مانتے۔ کیا چیز روکتی ہے۔ قرآن کہتا ہے کہ وہ نبی نہ تھیں۔ لیکن وحی الہام اور کلام سے انہیں نوازا۔ خدا کہتا ہے کہ میں نے تم کو دنیا کی عورتوں پر سر بلندی بخشی۔ اگر یہ وحی اور الہام سب کچھ محدود ہے۔ قرآن کہتا ہے پروردگار اس وحی سے غلامان محمد کو قیامت تک نوازتا رہے گا۔ فرشتے ان کے پاس خدا کی طرف سے آتے رہیں گے۔

(حم السجدہ)

وہ کس کو نہیں نوازتا۔ زید عمرو کو نوازتا ہے۔ تم قدر نہیں کرتے۔ اگر محض مکالمے پر نبوت کا دارومدار ہوتا تو کبھی تشبیہ دینے کی ضرورت نہ ہوتی۔ خدا کہتا ہے۔ ہم نے تم کو اس الہام سے نہیں نوازا۔ جس سے مکھی چیونٹی اور ہر ذرے کو نوازا۔ بلکہ اس وحی سے نوازا ہے۔ جس سے نوح اور ابراہیم جیسے عظیم الشان نبیوں کو نوازا تھا۔

(نساء:١٦٣)

صفحہ ٥٥٣

رہا ہے۔ کیا یہ صحیح ہے؟ قرآن کہتا ہے غلط ہے۔ اس

(النحل: ٦٨)

آجائے۔ اس کا پیدا کیا ہوا شہد شفاء للناس ہے۔ تمہارا اوحی ربك ”تمہارے پالنے والے نے شہد کی مکھی کو پہاڑوں میں اور درختوں میں گھر تیار کرنا۔ میں نے اسے یہ سکھایا ہے۔ کس کی وحی پر۔ کس کے الہام پر شہد تیار کیا؟ پھر خدا نے تم کو نوازا۔ وہ کون سی چیز ہے قسم کھا کر کہہ رہا ہے۔ ہاں اس نے تم میں نفع نقصان کے معلوم کرنے کا مادہ رکھا ہے۔ اس نے ہر ایک کو نوازا تم محض وحی اور محض الہام کی بناء پر تم ختم نبوت پر پھر بحث کرنا۔ پہلے نبوت پر بحث کرو۔ ماننا ہوگا کہ حضرت موسیٰ کی ماں بھی نبی تھی۔ بلکہ موسیٰ علیہ السلام کی ماں کو دودھ پلانے کا درس ہم نے دیا۔ یہ میرے اپنے غور و فکر کا نتیجہ نہیں۔ میں نے اس کے دل میں ڈال دیا۔

(القصص: ٧)

تم انہیں نبی نہیں مانتے ہو۔ پھر حضرت مسیح کی ماں کو نبی کیوں نہیں مانتے۔ لیکن وحی الہام اور کلام سے انہیں بھی تو سربلندی بخشی۔ اگر یہ وحی اور الہام سب کچھ ہے تو خدا انسانوں کو قیامت تک نوازتا رہے گا۔ فرشتے ان پر نازل ہوتے رہیں گے۔

(حم السجدہ)

مگر تم قدر نہیں کرتے۔ اگر محض مکالمے پر نبوت ملتی۔ خدا کہتا ہے۔ ہم نے تم کو اس الہام سے نوازا۔ بلکہ اس وحی سے نوازا ہے۔ جس سے نوح

(النساء : ٢٤)

شریعت میں نبوت کا صحیح مفہوم

خدا نے ضروریات زندگی میں انسان کی رہنمائی کے لئے اسے وجدان کی ہدایت سے نوازا۔ جو اس کی رہنمائی ایک محدود دائرہ تک ہے۔ پھر عقل کی رہنمائی کا دائرہ شروع ہوتا ہے۔ عقل کی رہنمائی بھی ایک خاص حد تک پہنچ کر ختم ہو جاتی ہے۔ پھر ہدایت نبوت کی ضرورت ہے۔ وہ کیا چیز ہے۔ نسل انسانی کی نجات فلاح اور سعادت دارین، جو خدائی نصب العین کی پابندی پر موقوف ہے۔ اس کو کسی ایسے انسان کے ذریعے پیش کرنا ہے جس کی امانت اور دیانت پر نامزدگی سے قبل لوگوں کو اعتماد ہو۔ گویا ہدایت نبوت ایسے شخص کی وساطت سے نسل انسانی کے سامنے ایک ایسے پروگرام اور ایک ایسے پورے پورے نصب العین کو رکھ دینے کا نام ہے جس پر نسل انسانی کی نجات کا دارومدار ہو۔

مقام نبوت کیا ہے؟ تنہا مکالمہ و تنہا وحی؟ اور تنہا الہام؟ نہیں آخر وہ کیا چیز ہے؟ مخصوص ہدایت، مخصوص الہام، اور مخصوص وحی کیا چیز ہے؟ قرآن یہ کہتا ہے کہ نسل انسانی کی فلاح و سعادت جس خدائی نصب العین پر موقوف ہے اس نصب العین کو کسی ایسے انسان کے واسطے سے دنیا میں پیش کرنا جس کی امانت و دیانت پر نامزدگی سے قبل لوگوں کو پورا پورا اعتماد ہو۔ لوگوں نے صالح علیہ السلام سے پوچھا اس نامزدگی سے پہلے تو چنگا بھلا انسان تھا۔

(ھود: ٦٢)

تیری دیانت پر ہمیں اعتماد تھا۔ اب تو نے یہ نصب العین پیش کرنا شروع کر دیا ہے۔ نصب العین کا تجویز کرنے والا اللہ ہی ہے۔ اس پر نسل انسانی کی فلاح کا دارومدار ہے۔ لیکن اس کی نشر و اشاعت کے لئے کسی ایرے غیرے کو نامزد نہیں کیا گیا۔ بلکہ اسے جس کی امانت و دیانت پر قبل از نامزدگی اعتماد تھا۔ حضرت رسول کریم ﷺ نے لوگوں سے کہا۔ میں پہلے تو صادق مصدوق اور امین مشہور تھا۔ لیکن اب تم بگڑ بیٹھے ہو۔ گویا نبوت، نامزدگی ہے۔ نبوت ایک موہبت ہے۔ اس لئے پروردگار نے نسل انسانی کو خلافت ارضی کو سپرد کرتے ہی بتا دیا کہ وہ نصب العین کیا ہے۔ جس کی پابندی پر نسل انسانی کی سعادت و فلاح کا دارومدار ہے۔ اس نے وقتاً فوقتاً نسل انسانی کے لئے اس کے ظرف حالت و فہم کے مطابق نصب العین پیش کیا اور اس میں ترقی کا سلسلہ برابر جاری رہا۔

قرآن کہتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے حالات وظروف بدل جانے کے بعد لوگوں کے سامنے نئی چیزیں پیش کیں۔ (آل عمران) نبوت یہ چیز ہے۔

١٥

صفحہ ٥٥٤

آخری مکمل نصب العین

پروردگار نے نسل انسانی کے سارے مستقبل کے اندازے کے بعد ایک ایسا مکمل نصب العین تجویز کیا۔ جس کا نام قرآن ہے اور جو قوائے انسانی میں ہر قسم کی ترقی کا امکان مانتے ہوئے بھی مکمل ہے۔ اس میں تبدیلی کی مطلق گنجائش نہیں۔ یہ نہایت سادہ اور آسان تجویز کیا گیا ہے اور نسل انسانی کی زندگی کے ہر دور میں مفید ہے۔ تمدن اور معاشرت بدل جائے۔ لوگ قمر تک پہنچیں ایک منٹ میں سینکڑوں میل طے کریں۔ لیکن نصب العین وہی رہے گا اور نسل انسانی کی بقاء تک اسی سے تمام مقاصد حاصل ہوتے چلے جائیں گے۔ خدا نے اسی نصب العین کی حفاظت کا ذمہ خود لیا ہے۔ اس سے قبل کوئی نصب العین اس طرح محفوظ نہیں رہا۔

معیار نبوت

آج کل نبوت ورسالت کے دعوے کو ایک تجارتی چیز سمجھ لیا گیا ہے۔ لیکن نبوت کے صحیح مفہوم اور حقیقت پر غور نہیں کیا جاتا۔ آپ کے سامنے یہ چیز آچکی ہے کہ نبوت محض اطلاع پانے یا اطلاع پہنچانے کا نام نہیں۔ نبی اطلاع دہندے یا اطلاع یابندہ کا نام نہیں۔ اگر صرف اطلاع دہندگی یا اطلاع یابندگی کو نبوت کا معیار ٹھہرا لیا جائے تو کافر، فاجر، ابلیس اور فرعون بھی اس کی ذیل میں آجائیں گے۔ اگر نبوت کا معیار صرف مکالمہ ہو تو پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ہم نے عورتوں کو بھی اپنے کلام سے نوازا ہے۔ لیکن ان میں سے کوئی نبی کوئی رسول نہیں۔ اس کلام کو خواب یا بیداری میں تسلیم کریں یا عالم کشف میں یا عالم مثال میں۔ یہ سب انسانی اصطلاحات ہیں۔ ایک حقیقت کو ان تمام الفاظ سے ملوث کرنے کی ضرورت نہیں۔ آخر آپ نے کس چیز کو معیار نبوت ورسالت سمجھ رکھا ہے۔ اگر آپ ان مختصر اشاروں کے ماتحت قرآن کریم کا خود مطالعہ کریں گے تو آپ پر یہ حقیقت منکشف ہو جائے گی۔ اگر کوئی شخص کہے کہ چونکہ مجھے سچے خواب آتے ہیں۔ اس لئے میں نبی ہوں۔ تو اس کا دعویٰ جھوٹا ہے۔ سچے خواب تو مشرکوں اور کافروں کو بھی آتے ہیں۔ حضرت یوسف کے ساتھیوں نے جیل میں ایک خواب دیکھا۔ کیا وہ خواب جھوٹا تھا۔ نہیں سچا تھا۔ نیز اسی زمانے کے غیر مسلم بادشاہ نے خواب دیکھا۔ دنیا کہہ رہی تھی کہ یہ غلط ہے۔ لیکن اس سچے نبی نے صاف صاف کہہ دیا۔

(یوسف)

جس طرح ابھی کسی شاعر نے جوبلی کے متعلق نظم میں کہا ہے کہ رعایا کا پیٹ خالی ہے۔ بادشاہ کو اس کی فکر کرنی چاہئے۔

١٦

صفحہ ٥٥٥
رعیت چو بیخ است وسلطان درخت

یہ اتنی بڑی حقیقت ہے اور ایسے آدمی پر منکشف ہوتی ہے جسے آپ کبھی نبی ماننے کو تیار نہیں۔ نبوت کے معیار مختلف مقرر کئے جاتے ہیں۔ اس نبوت کے متعلق میں پھر وہی کہوں گا کہ معیار کیا ہے۔ لوگوں نے اپنے دعاوی نبوت کی بنیادیں کس چیز پر رکھی ہیں اور قرآن نبوت کا معیار کیا ٹھہراتا ہے۔ پھر انسان فیصلہ کر سکتا ہے کہ آیا اس قرآن کریم کی موجودگی میں دعویٰ نبوت صحیح ہے یا غلط۔ مدعی نبوت صادق ہے یا کاذب۔ نبوت کیا ہے؟ ”سفارۃ بین الله وبين الناس“ (مفردات القرآن) منہاج نبوت کیا ہے۔ ایک نصب العین، ایک کتاب، ایک دستور العمل، عقائد واعمال صحیحہ کا مجموعہ جس کے حسن و قبح میں تمیز کرنے سے انسان کی عقل عاجز ہے۔ اس نصب العین کو آپ زبور کہیں، کتاب کہیں، آیات کہیں، بینات کہیں، نور کہیں، شفا کہیں، فرقان کہیں، قرآن کہیں، ذکر کہیں، رسول کہیں۔ بہر حال یہ سب چیزیں تعبیر ہیں۔ اس نصب العین الٰہی جس کے تجویز کرنے میں کسی انسان یا فرشتے کا ذرہ برابر مشورہ شامل نہیں۔ وہ علیم بذات الصدور کا اپنا تجویز کردہ نصب العین ہے۔ وہ ایسے پاکباز انسانوں کے فیصلے سے انسانوں کو اس سے آگاہ کرتا رہا ہے۔ جس کی امانت و دیانت پر اس عہدے پر سرفراز ہونے سے قبل نسل انسانی کو پورا پورا اعتقاد حاصل ہوتا ہے۔ اس لئے وہ نبیوں کی زندگی کو نبوت سے پہلے بطور شہادت کے پیش کرتا ہے۔ ہر رسول کے متعلق ہے رسول امین، آپ ان تذکروں کو پڑھیں۔ ان کی زندگی میں یہی ملے گا کہ ”انی رسول امین“ رسول کے الفاظ ہیں کہ خدا نے مجھے اس نصب العین کی نشر واشاعت کے لئے ممتاز کیا۔ کیونکہ میری دیانت وامانت پر پہلے تو اعتماد تھا۔ میری زندگی تمہارے سامنے ہے۔ (یونس) اس برے ماحول میں رہتے ہوئے میرا دامن بدکاری اور بدگوئی وغیرہ سے پاک رہا۔ تمہاری گودوں میں پلا۔ تمہاری صحبتوں میں رہا۔ ساتھ مل کر تجارت کی۔ لیکن میرا دامن خیانت یا بددیانتی سے پاک رہا۔ (النجم) میں تم کو اس نصب العین سے آگاہ کرتا ہوں۔ جس پر انسانی فلاح کا دارومدار ہے۔

تھوڑی دیر کے لئے یہی چیز نسل انسانی کے اولین فرد (آدم ؑ) سامنے نہ تھی۔ اس کی طبیعت سلیم تھی۔ وجدان صحیح تھا۔ عقل کامل تھی۔ لیکن اس نورِ نبوت کے سامنے نہ ہونے کے باعث اسے ٹھوکر لگی۔ (البقرہ) تو تم اپنے وجدان اور عقل پر ہر جگہ اعتماد نہیں کر سکتے۔ اس نورِ نبوت کے بغیر ٹھوکریں لگتی ہیں۔

١٧

صفحہ ٥٥٦

شخصیتیں مقصود نہیں

قرآن جگہ جگہ یہ اعلان کرتا ہے کہ بعثت انبیاء سے مقصود ان کی شخصیتیں نہ تھیں بلکہ خود کتاب تھی۔ ہم نے نبیوں سے عہد و پیمان لیا۔ جب ہم نے انہیں رشد و فلاح کا نصب العین دینا چاہا۔ ہم نے ان کو وہ نصب العین دیا۔ جسے حق و باطل اور صحت و فساد میں تمیز کرنے کی میزان کہا جاسکتا ہے۔ مدت تک یہی رواج اور دستور رہا اور اس کی اشاعت کے لئے نبیوں کی ضرورت پیش آئی۔ اگر ہم پیغمبروں اور نبیوں کے ذریعہ اپنے پروگرام سے تمہیں آگاہ نہ کرتے تو پھر تم پر تمہاری جوابدہی کے لئے خدا کی طرف سے اتمام حجت بھی نہ ہوتی اور تم جوابدہ ہی نہ ٹھہرتے۔ جزا وسزا کا سلسلہ ہی ختم ہو جاتا۔

(النساء)

آپ نے غور کیا ہوگا کہ قرآن نے نبیوں کو دوبارہ دنیا میں نہیں بھیجا۔ کیا نوح علیہ السلام کو دوبارہ بھیجا گیا یا نصب العین کو؟ ہود، شعیب، صالح، اور ابراہیم کو نہیں بھیجا گیا۔ بلکہ ان کے پیش کردہ نصب العین کو دوبارہ پیش کیا گیا۔

(الشوریٰ:١٣)

جس کی تبلیغ ان پیغمبروں نے اپنے اپنے زمانہ میں کی تھی۔ کیا شخصیتیں قابل اتباع ہوتی ہیں؟ نہیں! بلکہ مفید و کارآمد تعلیم واجب الاتباع ہونی چاہئے۔

آج نسل انسانی کے سامنے ایک نصب العین الٰہی کو پیش کرنا چاہئے۔ جسے حضرت آدم سے حضرت عیسیٰ علیہم السلام تک تمام نبیوں نے اپنے اپنے دور میں خاص حالات اور خاص زبانوں میں دنیا کے سامنے پیش کیا۔ حقیقت زبان سے تبدیل نہیں ہو سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کہتا ہے۔ جب نسل انسانی کی رہنمائی کی ضرورت ہوئی تو ہم نے اس چیز کو کسی دوسری زبان میں پیش کیا۔ حقیقت ایک تھی۔ ماحول بدلا۔ شخصیتیں بدلیں۔ صورتیں بدلیں۔ لیکن مادہ یعنی نصب العین نہ بدلا۔ بلکہ وہی رہا۔ صورتوں کی تبدیلی سے مادہ نہیں بدلا جاسکتا۔ بار بار انہیں یہی تنبیہ ہوئی ہے۔ آپ نے غور کیا ہوگا کہ قرآن نے ایمان کامل کا معیار کیا رکھا ہے۔ اسی نصب العین کی تصدیق کو رکھا ہے۔ آل عمران اور بقرہ میں ہے۔ ہم اس نصب العین کی تصدیق کرتے ہیں۔ جس کی نشر و اشاعت خدا وقتاً فوقتاً اپنے معزز و نکوکار بندوں کے ذریعہ کرتا رہا ہے۔ متکلمین نے ایمان کی یہی تعریف کی ہے۔ تصدیق کرنی اس نصب العین کی جسے پیش کیا رسول کریم نے۔

(فتح الباری ج ١ شرح مواقف)

صفحہ ٥٥٨

نصب العین کے بقاء کی ضرورت

ضرورت تھی ابقائے سنت ایزدی کی۔ ضرورت تھی ابقائے دین کی۔ خدائے ذوالجلال نے جس کا ایزدی علم ماضی کی طرح مستقبل پر بھی حاوی ہے۔ جو انسانی ترقیوں کو سب سے بہتر جانتا ہے۔ اس سلسلہ کو ختم کرنے کی خاطر تا کہ کسی شخص کے دعویٰ نبوت کے بعد اس کی تصدیق کی ضرورت کا امکان ہی نہ رہے اور آئندہ کے لئے لوگوں کو اس امر کا انتظار نہ رہے کہ دنیا میں کوئی اور بھی نصب العین پیش ہونے والا ہے۔ تحدی کے ساتھ فرمایا کہ: ”الیوم اکملت لکم دینکم“ تم یوم کو خواہ متعارف معنی میں لو یا غیر متعارف معنی میں۔ بہر حال خدا کا یوم یوم ظہور القرآن ہے۔ نبی کا یوم یوم نبوت ہے۔ نزول القرآن کا سارا وقت یوم ہے۔ جس میں یہ نور مجسم سرور دو جہاں کی وساطت سے پیش ہوتا رہا۔

رسول کریم ﷺ کی وساطت ہمیشہ اور سب کے لئے ہے

یہ دعویٰ کرنا کہ نبوت کا معیار صرف وہ چند ہدایتیں ہیں۔ جو انسان کی طرف یا انسان پر خدا کی طرف سے نازل ہوں سراسر غلط ہے۔ کیونکہ قرآن کی تمام ہدایتیں رسول پاک کی وساطت سے تمام نسل انسانی کو دی گئی ہیں۔ کیا قرآن کریم کی ایک ایک آیت بوساطت حضرت رسول کریم ﷺ تمہاری طرف خدا کی جانب سے نازل نہیں ہوئی۔ کیا تم منزل الیہ نہیں۔ جس حد تک حضور ﷺ کی وساطت کا سوال ہے۔ سب کے لئے یکساں ہے۔ اگر وساطت موجود ہے تو زید اور عمرو کی تمیز باقی نہیں رہتی اور مدعی کا دعویٰ غلط ٹھہرتا ہے۔ قرآن رسول کریم پر نازل ہوا۔ اس نے تم کو ایمان کا کامل معیار بتایا۔ ہم اس نصب العین پر ایمان لاتے ہیں جو تو نے ہماری طرف نازل کیا۔ اس کی ایک ایک آیت نہ صرف مسلمانوں پر بلکہ نسل انسانی کے ہر فرد پر نازل ہوئی۔ بعض علماء کا منزل علیہ اور منزل الیہ میں فرق کرنے کی غرض سے علیٰ اور الیٰ پر بحث کرنا فضول ہے۔

”واذکروا نعمت الله علیکم وما انزل علیکم (بقرہ:٢٣١)“ کیا تم یہ نہیں جانتے کہ یہ خدا کا کلام ہے۔ جو رسول کی وساطت سے اتارا گیا ہے۔ اس نے ہم جیسے کتوں کو حضرت خاتم النبیین ﷺ کے صدقہ سے نوازا۔ خدا کا وہ انعام یاد کرو۔ خدا نے نازل کیا کتاب کو جو محکم ہے۔ سراپا حکمت ہے اور وہ تمہیں مرحمت فرمائی۔ دوسرے مقام پر کہا ہے۔ کیا تم خدا کو چھوڑ کر کسی اور سے فیصلہ کراتے ہو۔ حالانکہ اس خدا نے تم پر وہ عدل وانصاف کا بہترین قانون نازل کیا۔

١٩

صفحہ ٥٥٨

بہ وساطت رسول کریم (الانعام:٦٨) خداوند کریم نے تم پر یہ حکم نازل کیا ہے کہ جس محفل میں خدا کے کلام کا استہزاء کیا جارہا ہو۔ تم اس محفل سے اٹھ جاؤ۔ (النساء:١٤٠) اس نے صرف سرور جہاں ہی کو قرآن میں مخاطب نہیں کیا۔ بلکہ تمام نسل انسانی کو مخاطب کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مشن کالج کے پرنسپل نے اسلامیہ کالج کے ہال میں کہا۔ تم اس نبی آخرالزمان حضرت رحمۃ اللعالمین کی توہین کے مرتکب ہو رہے ہو۔ جو تم کہتے ہو کہ ہمارے پیغمبر نے کہا یا پیغمبر اسلام نے کہا۔

دیکھو وہ عیسائی ہو کر کہتا ہے کہ تم اس عمل میں حضورﷺ کی توہین کر رہے ہو۔ وہ صرف اہل اسلام کا نہیں بلکہ ہندو، یہودی اور نصرانی اور تمام نسل انسانی کا پیغمبر ہے۔ مقصود تو یہ ہے کہ نجات حضورﷺ کی پیش کردہ کتاب کی اتباع سے وابستہ ہے۔ ”الیوم اکملت لکم دینکم“ کی آیت کیوں نازل ہوئی۔ وہ یوم اس وقت ختم ہوا جب رحمۃ اللعالمین کی وفات کی گھڑی قریب آئی۔

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا
اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

اب کسی نبی کے آنے کی ضرورت نہیں

اس کی نبوت کا یوم بہترین یوم تھا۔ کیونکہ بہترین نصب العین وقتی ہوتا، یعنی پانچ سو۔ دوہزار یا پانچ ہزار سال کے لئے ہوتا تو اس کے ہمیشہ کے لئے محفوظ رہنے کے دعوے کئے جاتے۔ قرآن نے ہر چیز کو فطرت انسانی کے مطابق پیش کیا۔ قرآن کی موجودگی میں کسی اور نصب العین کی ضرورت نہ تھی۔ پھر کسی نبی کو بھیجنے کی ضرورت نہ تھی۔ پھر نبی کس لئے آئے گا۔ کیونکہ قرآن کریم کی حفاظت کے لئے تو نہیں آئے گا۔ آواز بلند کی جاتی ہے کہ نبی قوت قدسیہ کے ذریعہ لوگوں کے اخلاق سنوارتا ہے۔ وہ قوت قدسیہ کیا ہے۔ وہ قرآن کریم کے نور سے پیدا ہوتی ہے۔ پیٹنٹ دواؤں پر غور کرو۔ بعض گولیاں بچوں کو جلاب دینے کے لئے استعمال ہوتی ہیں۔ بعض دوائیں کسی خاص بیماری کے لئے تریاق ہوتی ہیں۔ کیا ان دواؤں میں ڈاکٹر کے کہنے سے اثر پیدا ہوتا ہے۔ کیا قرآن کریم کا اثر کسی شخصیت کے بنانے کے تابع ہے؟ عوام کہتے ہیں کہ قرآن میں اثر و برکت نہیں۔ لیکن وہ یہ نہیں سوچتے کہ بیسیوں دواؤں کو تو کوئی یونانی دوا فروش بھی اپنے مطب میں نہیں رکھتا۔ باہر پھینک دیتا ہے۔ پھر کیوں خدا نے اسے محفوظ رکھنے کا ذمہ اٹھایا ہے۔ وہ اثر رکھتا ہے۔ لیکن تم نے اسے لکڑی اور لوہے کی الماریوں کی زینت بنا رکھا ہے۔ جب تک یہ چیز تمہارے دل و دماغ میں تھی دنیا تمہاری عزت کرتی تھی۔ لیکن جب دل سے نکل گئی تو تمہارے لئے ذلت کا باعث ہوئی۔

٢٠

صفحہ ٥٥٨

قرآن کریم نے تم پر یہ حکم نازل کیا ہے کہ جس محفل میں خدا کے تے اٹھ جاؤ۔ (النساء: ١٤٠) اس نے صرف سرور جہاں ہی کو انسانی کو مخاطب کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مشن کالج کے ہم اس نبی آخر الزمان حضرت رحمۃ اللعالمین کی توہین کے پیغمبر نے کہا یا پیغمبر اسلام نے کہا۔ تم اس عمل میں حضور ﷺ کی توہین کر رہے ہو۔ وہ صرف ں اور تمام نسل انسانی کا پیغمبر ہے۔ مقصود تو یہ ہے کہ نجات وابستہ ہے۔ ”الیوم اکملت لکم دینکم“ کی آیت جب رحمۃ اللعالمین کی وفات کی گھڑی قریب آئی ؎

سے سوئے قوم آیا
کیمیا ساتھ لایا

کیونکہ بہترین نصب العین وقت ہوتا، یعنی پانچ سو۔ کے ہمیشہ کے لئے محفوظ رہنے کے دعوے کئے جاتے۔ نہیں کیا۔ قرآن کی موجودگی میں کسی اور نصب العین کی تھی۔ پھر نبی کس لئے آئے گا۔ کیونکہ قرآن کریم کی جاتی ہے کہ نبی قوت قدسیہ کے ذریعہ لوگوں کے اخلاق کریم کے نور سے پیدا ہوتی ہے۔ پیٹنٹ دواؤں پر غور لئے استعمال ہوتی ہیں۔ بعض دوائیں کسی خاص بیماری اکٹر کے کہنے سے اثر پیدا ہوتا ہے۔ کیا قرآن کریم کا کہتے ہیں کہ قرآن میں اثر و برکت نہیں۔ لیکن وہ یہ نہیں بھی اپنے مطلب میں نہیں رکھتا۔ باہر پھینک دیتا ہے۔ نہ وہ اثر رکھتا ہے۔ لیکن تم نے اسے لکڑی اور لوہے کی جو تمہارے دل و دماغ میں تھی دنیا تمہاری عزت کرتی مذلت کا باعث ہوئی۔ ٢٠

انا خاتم النبیین لا نبی بعدی

مرزا غلام احمد قادیانی

اور

مسئلہ جہاد

مولانا خلیل الرحمن پانی پتی ؒ

صفحہ ٥٦٠

"الجهاد ماض الى يوم القيامة (حديث)"

جہاد فی سبیل اللہ !

مسئلہ جہاد قرآن وحدیث، تواتر، وتعامل امت سے ثابت ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی مسئلہ جہاد سے انکار کرتے ہیں اور مرزائی بھی۔ بنابریں مسلمان ملکوں اور مسلمانوں کو، یا جن ملکوں میں یہ رہتے ہوں ان کو کسی وقت بھی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

جہاد فی سبیل اللہ کا مقصد، اس کی اہمیت کو قرآن وحدیث سے ثابت کیا گیا ہے اور یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی جہاد کو منسوخ و ممنوع قرار دیتے ہیں۔ اس بارے میں ان کی اپنی تحریریں پیش کی گئی ہیں۔ خلیل الرحمن صاحب پانی پتی، فاضل دیوبند

بسم الله الرحمن الرحيم

جہاد فی سبیل اللہ

اسلام ایک انقلابی نظریہ ومسلک ہے جو تمام دنیا کے نظم کو بدلنا چاہتا ہے اور یہ ردو بدل اپنے نظریہ ومسلک کے مطابق چاہتا ہے اور وہ تقاضہ کرتا ہے کہ دنیا کی تعمیر اسی سسٹم ومسلک کے مطابق ہو۔ اسلام جس نظریہ کو عمل میں لانے کے لئے جو جماعت منتظم کرتا ہے۔ اسی بین الاقوامی جماعت کا نام مسلمان ہے۔ جس طاقت وقوت اور انقلابی جدوجہد کے ذریعہ اس مقصد کو حاصل کیا جائے۔ اس کا نام جہاد ہے۔ ذاتی، قومی، ملکی، لسانی، جغرافیائی اور جماعت کی نفسانی اغراض اور جاہلی تعصب کی حدود کی بناء پر لڑائی نہیں لڑی جاتی۔ ایک گروہ اپنی بالا تری کی خاطر میدان کارزار گرم نہیں کرتا۔ جہاد کا یہ ہرگز مقصد نہیں ہے کہ ایک ظالم خواہ فرد ہو یا قوم، جماعت ہو یا قانون کو ہٹا دیا جائے اور خود اس کی جگہ ظالم بن کر بیٹھ جائے۔ ایک گروہ پر اسی لئے عرصہ حیات تنگ کر دیا جائے کہ وہ زندگی کیوں بسر کرتا ہے۔ وہ آرام و راحت سے کیوں رہتا ہے۔ وہ اپنی ذاتی، ملکی، قومی، لسانی، صنعتی، جغرافیائی خدمات کیوں انجام دیتا ہے اور نہ ہی جہاد کا یہ مقصد ہے کہ برسر اقتدار طبقہ کو اس کے اقتدار سے محروم کر دیا جائے۔ محض اس واسطے کہ وہ طبقہ برسر اقتدار ہے۔ بلکہ اسلام ایک جامع نظریہ وسسٹم ہے جو دنیا سے تمام ظالمانہ اور مفسدانہ نظامات کو مٹانا چاہتا ہے اور ان کی جگہ اپنا ایک اصلاحی، عادلانہ نظام قائم کرنا اور اللہ کے بندوں پر کتاب وسنت کے مطابق حکومت

٢

صفحہ ٥٦١

تیار کرنا چاہتا ہے اور اس کے لئے وہ ایک گروہ یا قوم کو نہیں بلکہ تمام انسانوں کو پکارتا ہے۔ خود ظالم طبقوں، ناجائز انتفاع کرنے والے گروہوں، بادشاہوں، رئیسوں کو پکارتا ہے کہ خالق نے تمہارے لئے جو حد مقرر کر دی ہے۔ اس کو قبول کر لو۔ تمہارے لئے امن ہے۔ یہاں انسانوں سے دشمنی نہیں ہے بلکہ دشمنی عناد، ظلم، بد اخلاقی سے ہے۔

یہ دعوت جو لوگ بھی قبول کرلیں وہ کسی طبقہ، قوم اور ملک سے ہوں۔ مساویانہ حقوق اور یکساں حیثیت سے اسلام کی جماعت کے رکن بن جاتے ہیں اور یہ امت مسلمہ جب وجود میں آجاتی ہے تو اپنے اسی نظریہ و مسلک کے حصول کے لئے جہاد شروع کر دیتی ہے۔ پھر وہ غیر اسلامی نظام کو مٹانے کی کوشش کرتی ہے اور اسی کے بر خلاف تمدن و اجتماع کے معتدل و متوازی ضابطہ کی حکومت قائم کرتی ہے۔ اسی کو قرآن پاک میں کلمتہ اللہ سے تعبیر کیا گیا ہے اور اس امت مسلمہ کا مقصد قرآن نے یہی بیان کیا ہے۔

”كنتم خير امة اخرجت للناس تامرون بالمعروف وتنهون عن المنكر وتؤمنون بالله (آل عمران: ١١٠)“

اب اس امت مسلمہ کا یہ کام ہے کہ دنیا سے ظلم وعناد، جور و فساد، بداخلاقی وطغیان، ناجائز انتفاع کو بزور مٹائے۔ اللہ کے سوا سب کی خداوندی کو ختم کرے۔

”وقاتلوهم حتى لاتكون فتنة ويكون الدين لله (البقره: ١٩٣)“ ﴾ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور اطاعت صرف خدا کے لئے ہو جائے۔﴿

”الا تفعلوہ تكن فتنة فی الارض وفساد كبير (الانفال: ٧٣)“ ﴾اگر تم ایسا نہ کرو گے تو زمین میں فتنہ ہو گا اور بڑا فساد برپا رہے گا۔﴿

پھر حق وباطل کا معیار بتایا کہ اللہ والے خدا کی راہ میں خدا کا قانون عدل دنیا میں قائم کرنے کے لئے لڑتے ہیں اور باطل پرست اور طاغوتی غلام ناحق باطل کی راہ میں جنگ کرتے ہیں اور محض اپنی قوت وشوکت قومی وملکی تعصب کو استعمال کر کے انسانوں کے خدا بن جاتے ہیں۔

”الذين أمنوا يقاتلون فی سبيل الله (نساء: ٧٦)“ ﴾ایمان والے لوگ اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں۔﴿

”والذين كفروا يقاتلون فی سبيل الطاغوت (نساء: )“ ﴾اور جو کافر

٣

صفحہ ٥٦٢

ہیں وہ طاغوت کی راہ میں لڑتے ہیں۔﴾

اور اللہ پاک فرماتے ہیں: ”هو الذی ارسل رسولہ بالھدٰی ودین الحق لیظھرہ علی الدین کلّہ ولوکرہ المشرکون (الصف:٩)“ ﴿وہ خدا ہی ہے جس نے اپنے رسول کو دنیا میں سیدھا راستہ اور حق کی اطاعت کا صحیح ضابطہ دے کر بھیجا ہے۔ تاکہ تمام اطاعتوں کو مٹا کر ایک اللہ کی اطاعت سب پر غالب کر دے۔ خواہ لوگ اس پر راضی ہوں جو خداوندی میں دوسروں کو شریک ٹھہراتے ہیں۔﴾

اس لئے ضروری ہے کہ امت مسلمہ حکومت کے اقتدار پر قبضہ کرے اور اقتدار کی کوشش (جہاد) کے سلسلہ میں تھڑ دلے لوگوں اور جان ومال کی قربانی سے جی چرانے والوں کا عذر قبول نہ کرے۔

”عفا اللہ عنك لم اذنت لھم حتٰی یتبین لك الذین صدقوا وتعلم الکذبین (توبہ:٤٣)“ ﴿خدا آپ کو معاف کرے۔ آپ نے ان لوگوں کو جہاد کی شرکت سے علیحدہ رہنے کی اجازت دے دی۔ حالانکہ جہاد ہی وہ کسوٹی ہے جس سے تم پر کھل سکتا ہے کہ اپنے ایمان میں سچے کون اور جھوٹے کون ہیں۔﴾

”لایستاءذنك الذین یؤمنون باللہ والیوم الاخر ان یجاھدوا باموالھم وانفسھم (توبہ:٤٤)“ ﴿جو لوگ اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں وہ تو تم سے کبھی یہ درخواست نہیں کرسکتے کہ انہیں اپنے مال وجان کے ساتھ جہاد کرنے سے معذور رکھا جائے۔﴾

”انما یستأذنك الذین یؤمنون باللہ والیوم الاخر (توبہ:٤٥)“ ﴿ایسی درخواست صرف وہی لوگ کرتے ہیں جو نہ خدا پر ایمان رکھتے ہیں نہ یوم آخرت پر۔﴾ اور صادق ہونے کی دلیل ہی یہ ہے کہ امت مسلمہ کا کوئی فرد یکسوئی اختیار نہ کرے اور نہ ہی جان ومال سے جہاد کرنے میں جی چرائے۔

جب نظریہ ومسلک حق ہے اور ذات حق ہی کے لئے ہے تو اس حق سے اور مسلک سے نوع انسانی کے کسی حصہ کو محروم نہ ہونا چاہئے اور جہاں بھی ظلم وستم ہورہا ہو علمبرداران حق اسی جگہ جائیں۔

صفحہ ٥٦٣

”وما لكم لا تقاتلون في سبيل الله والمستضعفين من الرجال والنساء والولدان الذين يقولون ربنا اخرجنا من هذه القرية الظالم اهلها

(نساء:٧٥) " ﴿تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم خدا کی راہ میں ان مردوں اور عورتوں اور بچوں کے لئے نہیں لڑتے۔ جنہیں کمزور پاکر دبا دیا گیا ہے اور جو دعائیں مانگتے ہیں کہ خدایا ہمیں اس بستی سے نکال جس کے کارفرما ظالم ہیں۔﴾

یہ ہی وہ نظریہ ومسلک ہے جس پر خود رسول پاک ﷺ اور آپ کے خلفائے راشدین وجملہ صحابہ کرامؓ نے عمل فرمایا۔

امت مسلمہ کے افراد پہلے عرب میں پیدا ہوئے تھے تو انہوں نے عرب ہی کو اولاً زیر نگیں کیا۔ پھر اطراف کے ممالک کو اپنے اصول ومسلک کے تابع کرنے کے لئے دعوت دی اور پھر قوت حاصل کرتے ہی رومی سلطنت سے تصادم شروع کر دیا اور اس طرح حضرت ابو بکر صدیقؓ اور حضرت عمرؓ نے ایرانی اور رومی سلطنت پر پیش قدمی فرمادی۔

مصر وشام، روم وایران کے لوگوں کو جب یہ یقین ہو گیا کہ محض ایک عادلانہ نظام قائم کرنے آئے ہیں اور ان کا مقصد ان ظالم طبقوں کی خداوندی ختم کرنا ہے جو قیصریت وکسرویت کی پناہ میں ہم کو تباہ کر رہے ہیں تو انہوں نے جلد یا بدیر امت مسلمہ کے نظام کو قبول کر لیا۔

جہاد جو کہ منصوص قرآنی حکم ہے اور امت کا اس پر تعامل متواتر ہے اور جس کے متعلق رسول پاک ﷺ کی صریح حدیث ہے۔ ”الجهاد ماض الی یوم القیامة“ کے ذریعہ ہی اس مسلک ونظریہ کو قیامت تک باقی رکھا جا سکتا ہے۔ جس کے ذریعہ ہمیشہ ظالموں اور مجرموں اور باطل طاقتوں کو شکست دی جا سکتی ہے۔

انبیاء علیہم السلام اور ان کے جانشینوں اور پیروؤں کی تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ہمیشہ ظالموں اور مجرموں کے حریف اور مد مقابل رہے اور انہوں نے ظالموں اور مجرموں کی تائید وحمایت سے ہمیشہ احتراز کیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا مقولہ قرآن پاک میں موجود ہے۔

”رب بما انعمت على فلن اكون ظهيراً للمجرمين

(قصص:١٧) " ﴿اے رب جیسا تو نے مجھ پر فضل کیا ہے۔ پھر میں کبھی گنہگاروں اور مجرموں کا مددگار نہ ہوں گا ۔﴾

٥

صفحہ ٥٦٤

خود اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو مخاطب کر کے فرمایا ہے: ”ولا تركنوا الى الذين ظلموا فتمسكم النار ومالكم من دون الله من اولیاء ثم لا تنصرون (هود:١١٣)“ ﴿اور مت جھکو ان کی طرف جو ظالم ہیں۔ پھر تم کو لگے گی آگ اور اللہ کے سوا تمہارا کوئی مددگار نہ ہوگا۔ پھر کہیں مدد نہ پاؤ گے۔﴾

رسول خدا ﷺ کی جامع حدیث ہے: ”افضل الجهاد كلمة حق عند سلطان جائر“ ﴿جہاد کی اعلیٰ ترین قسم ظالم بادشاہ کے سامنے حق بات کہنا ہے۔﴾

رسول اللہ ﷺ، صحابہ کرام اور ان کے سچے جانشینوں نے ہمیشہ جابر حکومت، باطل طاقتوں، سلاطین وقت اور ظالموں کے مقابلے میں علم جہاد بلند کیا اور اسی افضل جہاد سے تاریخ اسلام کا کوئی مختصر سے مختصر عہد اور کوئی چھوٹے سے چھوٹا گوشہ بھی خالی نہیں ہے۔

لیکن قرآن مجید کی ان روشن تعلیمات اور روح اسلام کے بالکل خلاف اور انبیاء و مرسلین صحابہ و تابعین اور ان کے متبعین کے اسوۂ حسنہ کے برعکس مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے عہد کے طاغوت اکبر انگریز کی سرگرم حمایت میں بار بار مسئلہ جہاد کے حرام اور ممنوع ہونے کا اعلان و اظہار کیا۔ حالانکہ یہ وہ وقت تھا جب کہ مسلمانوں میں دینی حمیت کو بیدار کرنے کی سخت ضرورت تھی۔ یہاں پر نہایت اختصار کے ساتھ چند عبارتیں اور اقتباسات پیش کئے جاتے ہیں۔ جن کے ذریعہ معلوم ہو جائے گا کہ مرزا قادیانی نے جہاد کی کس قدر مخالفت کی ہے۔

مرزا غلام احمد قادیانی اور مسئلہ جہاد

موسیٰ علیہ السلام کے وقت میں اس قدر شدت تھی کہ ایمان لانا بھی قتل سے بچا نہیں سکتا تھا اور شیر خوار بچے بھی قتل کئے جاتے تھے۔ پھر ہمارے نبی ﷺ کے وقت میں بچوں، بوڑھوں اور عورتوں کا قتل کرنا حرام کیا گیا اور پھر بعض قوموں کے لئے بجائے ایمان کے صرف جزیہ دے کر مواخذہ سے نجات پانا قبول کیا گیا اور پھر ”مسیح موعود“ (مرزا قادیانی) کے وقت قطعاً جہاد کا حکم موقوف کر دیا گیا۔“

(اربعین نمبر ٤ حاشیہ ص ١٠١، خزائن ج ١٧ ص ٤٤٣)

٦

صفحہ ٥٦٥

ہیں کہ اگر وہ اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں۔ میں نے ایسی کتابوں کو تمام ممالک عرب، مصر اور شام اور کابل اور روم تک پہنچا دیا ہے۔ میری ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ مسلمان اس سلطنت کے سچے خیر خواہ ہو جائیں اور مہدی خونی اور مسیح خونی کی بے اصل روایتیں اور جہاد کے جوش دلانے والے مسائل جو احمقوں کے دلوں کو خراب کرتے ہیں۔ ان کے دلوں سے معدوم ہو جائیں۔“

(تریاق القلوب ص ١٥، خزائن ج ١٥ ص ١٥٥،١٥٦)

برس کی عمر تک پہنچا ہوں۔ اپنی زبان اور قلم سے اہم کام میں مشغول ہوں کہ تا مسلمانوں کے دلوں کو گورنمنٹ انگلشیہ کی سچی محبت اور خیر خواہی اور ہمدردی کی طرف پھیروں اور ان کے بعض کم فہموں کے دلوں سے غلط خیال جہاد وغیرہ کے دور کروں۔ جو دلی صفائی اور مخلصانہ تعلقات سے روکتے ہیں۔“

(تبلیغ رسالت ج ٧ ص ١٠، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ١١)

کے قریب کتابیں اور رسائل اور اشتہارات چھپوا کر اس ملک اور نیز دوسرے بلاد اسلام میں اس مضمون کے شائع کئے ...... جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لاکھوں انسانوں نے جہاد کے وہ غلیظ خیالات چھوڑ دیئے۔ جو نافہم ملاؤں کی تعلیم سے ان کے دلوں میں تھے۔ یہ ایک ایسی خدمت مجھ سے ظہور میں آئی ہے کہ مجھے اس بات پر فخر ہے کہ برٹش انڈیا کے تمام مسلمانوں میں سے اس کی نظیر کوئی مسلمان دکھلا نہیں سکا۔“

(ستارہ قیصرہ ص ٣، خزائن ج ١٥ ص ١١٤)

نیچے یہ حقیقت مخفی ہے کہ لوگ اپنے وقت کو پہچان لیں کہ آسمان کے دروازے کھلنے کا وقت آگیا۔ اب سے زمینی جہاد بند کئے گئے اور لڑائیوں کا خاتمہ ہو گیا ...... جب مسیح آئے گا تو دین کے لئے لڑنا حرام کیا جائے گا۔ سو آج سے دین کے لئے لڑنا حرام کیا گیا۔ اب اس کے بعد جو دین کے لئے تلوار اٹھاتا ہے اور غازی نام رکھا کر کافروں کو قتل کرتا ہے وہ خدا اور اس کے رسول کا نافرمان ہے۔ صحیح بخاری کو کھولو اور اس حدیث کو پڑھو جو مسیح موعود کے حق میں ہے ۔’ یضع الحرب “ جس کے یہ معنی ہیں کہ جب مسیح آئے گا تو جہاد، لڑائیوں کا خاتمہ ہو جائے گا۔ سو مسیح آچکا اور یہ ہی

٧

صفحہ ٥٦٦

ہے جو تم سے بول رہا ہے۔“

(اشتہار چندہ مینارۃ المسیح ب،ت، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٨٤، ٢٨٥)

......٦ تریاق القلوب کے ضمیمہ اشتہار واجب الاظہار میں لکھتے ہیں: ”غرض میں اس لئے ظاہر نہیں ہوا کہ جنگ وجدل کا میدان گرم کروں۔ بلکہ اس لئے ظاہر ہوا ہوں کہ پہلے مسیح کی طرح صلح اور آشتی کے دروازے کھول دوں۔ اگر صلح کاری کی بنیاد درمیان نہ ہو تو پھر ہمارا سارا سلسلہ فضول ہے اور اس پر ایمان لانا بھی فضول۔“

(ضمیمہ تریاق القلوب ص ٣، خزائن ج ١٥ ص ٥٢١)

نوٹ: دیکھئے مرزا قادیانی نے صاف صاف کہہ دیا کہ ہم تو اپنے آقایان ولی نعمت انگریزوں کے نمک خوار ہیں اور ان کے حق خدمت کو ضرور ادا کریں گے جس کی یہ صورت ہے کہ انگریزوں کے خلاف بغاوت تو کجا اپنے دل میں برائی بھی نہ لانا اور ہمارے اس سلسلہ کا مقصد بھی یہ ہے۔ (سلسلہ سے مراد مرزائیت کا ڈھونگ ہے) یعنی مجھ پر ایمان لانے کا مقصد محض انگریزوں سے وفاداری نعوذ باللہ من ذالک ! جس کی تائید ذیل کے نمبر سے بھی ہوتی ہے۔

......٧ ”میں یقین کرتا ہوں کہ جیسے جیسے میرے مرید بڑھیں گے ویسے ویسے مسئلہ جہاد کے معتقد کم ہوتے جائیں گے۔ کیونکہ مجھے مسیح اور مہدی مان لینا ہی جہاد کا انکار کرنا ہے۔“

(تبلیغ رسالت ج ٧ ص ١٧، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ١٩)

......٨ ”پھر میں پوچھتا ہوں کہ جو کچھ میں نے سرکار انگریزی کی امداد حفظ و امن اور جہادی خیالات کے روکنے کے لئے برابر سترہ سال تک پورے جوش سے پوری استقامت سے کام لیا۔ کیا اس کام کی اور اس خدمت نمایاں کی اور اس مدت درازی کی دوسرے مسلمانوں میں جو میرے مخالف ہیں ۔ کوئی نظیر ہے۔“

(کتاب البریہ اشتہار مورخہ ٢٠ ستمبر ١٨٩٧ء، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٣٦٣)

نوٹ: چونکہ مرزا غلام احمد قادیانی انگریز اور انگریزی حکومت سے دنیاوی منافع حاصل کرتے تھے تو خود کو اور مرزائیوں کو ہر وقت انگریزوں کی حمایت کے لئے وقف رکھتے تھے۔ اسی لئے انگریزوں کے خلاف جہاد کو بھی ممنوع قرار دیتے تھے اور پوری زندگی زور لگاتے رہے کہ مسلمانوں کے دلوں سے انگریز اور انگریزی حکومت کے خلاف جو جہاد کا جذبہ پیدا ہو چکا ہے اس کو ختم کر دیا جائے اور ہر اس چیز کی مخالفت مرزا قادیانی کرنا فرض سمجھتے تھے۔ جس کے ذریعہ یہ خدشہ ہو کہ اس بات سے انگریزوں کو نقصان پہنچے گا یا انگریزوں کو ہندوستان چھوڑنا پڑے گا۔

٨

صفحہ ٥٦٧

چندہ مینارۃ المسیح ب، ت، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٨٤، ٢٨٥)

اور واجب الاظہار میں لکھتے ہیں: ”غرض میں اس لئے کروں۔ بلکہ اس لئے ظاہر ہوا ہوں کہ پہلے مسیح کی طرح گر صلح کاری کی بنیاد درمیان نہ ہو تو پھر ہمارا سارا سلسلہ “

(ضمیمہ تریاق القلوب ص ٣، خزائن ج ١٥ ص ٥٢١)

نے صاف صاف کہہ دیا کہ ہم تو اپنے آقایان ولی نعمت خدمت کو ضرور ادا کریں گے جس کی یہ صورت ہے کہ لوں میں برائی بھی نہ لانا اور ہمارے اس سلسلہ کا مقصد بھی ف ہے ) یعنی مجھ پر ایمان لانے کا مقصد محض انگریزوں س کی تائید ذیل کے نمبر سے بھی ہوتی ہے۔ سے میرے مرید بڑھیں گے ویسے ویسے مسئلہ جہاد کے اور مہدی مان لینا ہی جہاد کا انکار کرنا ہے۔“

(تبلیغ رسالت ج ٧ ص ١٧، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ١٩)

میں نے سرکار انگریزی کی امداد حفظ و امن اور جہادی تک پورے جوش سے پوری استقامت سے کام لیا۔ ق مدت درازی کی دوسرے مسلمانوں میں جو میرے

یاد مورخہ ٢٠ دسمبر ١٨٩٧ء، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٢٦٣)

انگریز اور انگریزی حکومت سے دنیاوی منافع حاصل گریزوں کی حمایت کے لئے وقف رکھتے تھے۔ اسی سزا دیتے تھے اور پوری زندگی زور لگاتے رہے کہ سنت کے خلاف جو جہاد کا جذبہ پیدا ہو چکا ہے اس ا قادیانی کرنا فرض سمجھتے تھے۔ جس کے ذریعہ یہ کہا انگریزوں کو ہندوستان چھوڑنا پڑے گا۔

٨

چنانچہ ہندوستان سے انگریزوں کو نکالنے کے لئے مسلم لیگ کا وجود عمل میں آیا تو مرزا غلام احمد قادیانی کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی۔ مگر مرزا قادیانی نے اس کو پسند نہیں کیا اور انگریزوں کے لئے اس جماعت کو نقصان دہ سمجھتے تھے۔ مگر الحمد للہ! اس جماعت نے نظریہ پاکستان کو اپنایا اور شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد صاحب عثمانی صدر دارالعلوم دیوبند کی سرکردگی میں اور حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی کی تائید و نگرانی میں حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب مفتی اعظم پاکستان، مولانا محمد طاہر صاحب قاسمی، مولانا احتشام الحق تھانوی وغیرہ پانچ صد علماء سے بھی زیادہ حضرات کی کوششوں اور برکتوں سے پاکستان کا وجود عمل میں آیا۔ مگر مرزا بشیر الدین محمود کو اس کا دکھ ہے کہ انگریز کیوں چلے گئے اور پاکستان کیوں بنا اور پاکستان بنانے کا جذبہ مسلمانوں میں کیوں پیدا ہوا۔ چنانچہ ایک اقتباس اس سلسلہ میں بھی ملاحظہ فرمائیں۔

تشریف لائے۔ کیونکہ یہ پہلا موقعہ تھا کہ پنجاب کا ایک ایسا معزز اعلیٰ عہدیدار قادیان آیا۔ آپ نے تمام جماعت کو ان کے استقبال کا حکم دیا اور اپنے سکول گراؤنڈ میں ان کا خیمہ لگوایا اور ان کی دعوت بھی کی...... اور فنانشل کمشنر صاحب سے ملاقات کے لئے خود تشریف لے گئے۔ اس وقت آپ کے ساتھ سات آٹھ آدمی آپ کی جماعت کے بھی تھے۔ ایک بات خاص کر قابل ذکر ہے ان دنوں مسلم لیگ نئی نئی قائم ہوئی تھی اور حکام انگریزی اس کی کانسٹیٹیوشن پر ایسے خوش تھے کہ ان کے خیال میں کانگریس کے نقائص دور کرنے میں ایک زبردست آلہ ثابت ہوگی...... فنانشل کمشنر صاحب بہادر نے بھی برسبیل تذکرہ آپ سے مسلم لیگ کا ذکر کیا اور اس کی نسبت آپ کی رائے دریافت کی۔ آپ نے فرمایا: ”میں اسے پسند نہیں کرتا۔“

(سیرت مسیح موعود از مرزا بشیر الدین ص ٧٢، ٧٣)

نوٹ: کیونکہ یہ خطرہ تھا کہ مسلمان علماء مسلم لیگ کی حمایت کریں گے اور جہادی اسپرٹ پیدا کر دیں گے۔ اس لئے مسلم لیگ کو پسند نہ کیا اور پھر آگے چل کر ایسا ہی ہوا۔ جس کا مرزائی صاحبان کو بہت افسوس ہے۔

٩

صفحہ ٥٦٨

آپ نے فرمایا: ”مجھے تو اس سے بو آتی ہے کہ ایک دن یہ بھی کانگریس کا رنگ اختیار کرے گی۔ میں اس طرح سیاست میں دخل دینے کو خطرناک سمجھتا ہوں۔“

”یہ گفتگو تو اس پر ختم ہوئی۔ لیکن ایک سیاسی واقعات کا مطالعہ کرنے والا جانتا ہے کہ آپ کا خیال کس طرح لفظ بلفظ پورا ہوا۔“

(سیرت مسیح موعود ص ٧٤)

نوٹ : اصل خطرہ جہاد کا تھا کہ علمائے اسلام مسلم لیگ میں داخل ہو کر کہیں جہاد کا بگل نہ بجا دیں اور انگریزوں کو یہاں سے رخصت ہونا پڑے اور میرا بنایا کھیل دھرا کا دھرا رہ جائے اور اس کا افسوس مرزا بشیر الدین محمود نے کیا ہے۔ جس کا اظہار ان الفاظ میں ہو گیا کہ: ”آپ کا خیال کس طرح لفظ بلفظ پورا ہوا۔“

رسول خدا ﷺ کو آخری نبی ماننے والے مسلمانو! اس پمفلٹ کو پڑھو اور غور کرو کہ مرزا غلام احمد قادیانی اور مرزائیوں کے جہاد کو ممنوع اور حرام قرار دینے والے خیالات نے مسلمانوں اور مسلمان ملکوں کو کس قدر نقصان پہنچایا ہے اور آئندہ ان ہی خیالات کی بناء پر مسلمانوں اور مسلمان ملکوں کو کسی وقت بھی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں اور خاص کر پاکستان کو تو یہ ہر وقت نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ کیونکہ مرزائی پاکستان میں پھیلے ہوئے ہیں۔ ان کے دفاتر قائم ہیں۔ تنظیمیں موجود ہیں اور یہ کہ پاکستان کی کلیدی آسامیوں پر فائز ہیں اور بغیر اپنے خلیفہ کی مرضی کے کوئی کام نہیں کرتے۔ ان کے لئے حکومت پاکستان سے زیادہ عزیز ترین وجود ان کے خلیفہ کا ہے اور ان کا صدر مقام ربوہ (چناب نگر) عین پاکستان کے بیچ میں واقع ہے۔

کیا کشمیر کی جنگ جب کہ کامیاب ہونے والی ہی تھی مرزائیوں ہی کی سازش سے بند نہیں ہوئی۔ کیونکہ ان کے نزدیک جہاد ممنوع ہے؟

کیا لیاقت علی خان مرحوم وزیر اعظم پاکستان کی شہادت میں ان کا ہاتھ تو نہیں ہے۔ کیونکہ وہ حضور ﷺ کے بعد نبی ماننے والوں کو مسلمان نہیں سمجھتے تھے؟ کیا آئندہ حصول کشمیر کے لئے جنگ کی گئی تو مرزائی ساتھ دیں گے۔ ہرگز نہیں۔ کیونکہ ان کے نزدیک جہاد حرام ہے۔ ان تمام باتوں کی تحقیقات حکومت ہی کر سکتی ہے۔

صفحہ ٥٦٨

ہے کہ ایک دن یہ بھی کانگریس کا رنگ اختیار کرے گی۔ پاک سمجھتا ہوں۔‘‘ ہر ایک سیاسی واقعات کا مطالعہ کرنے والا جانتا ہے کہ

(سیرت مسیح موعود ص ٧٤)

لائے اسلام مسلم لیگ میں داخل ہو کر کہیں جہاد کا بگل نہ بجانا پڑے اور میرا بنا بنایا کھیل دھرا کا دھرا رہ جائے ہے۔ جس کا اظہار ان الفاظ میں ہو گیا کہ: ’’آپ کا

نے والے مسلمانو! اس پمفلٹ کو پڑھو اور غور کرو کہ کو ممنوع اور حرام قرار دینے والے خیالات نے پہنچایا ہے اور آئندہ ان ہی خیالات کی بناء پر نقصان لاحق ہو سکتے ہیں اور خاص کر پاکستان کو تو یہ ہر میں پھیلے ہوئے ہیں۔ ان کے دفاتر قائم ہیں۔ عہدوں پر فائز ہیں اور بغیر اپنے خلیفہ کی مرضی کے ان سے فائز ہیں اور بغیر اپنے خلیفہ کی مرضی کے سے زیادہ عزیز ترین وجود ان کے خلیفہ کا ہے کے بیچ میں واقع ہے۔ ہونے والی ہی تھی مرزائیوں ہی کی سازش سے ہند

استان کی شہادت میں ان کا ہاتھ تو نہیں ہے۔ نہیں سمجھتے تھے؟ کیا آئندہ حصول کشمیر کے کیونکہ ان کے نزدیک جہاد حرام ہے۔ ان

ما کان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول الله و

خاتم النبیین

لا نبی بعدی

میرے بعد کوئی نبی نہیں

اسلامی تعلیمات

اور

مرزا قادیانی

مولانا خلیل الرحمن پانی پتیؒ

صفحہ ٥٧٠

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اسلامی تعلیمات اور مرزا قادیانی

سخت گیری اور ہٹ دھرمی سے پرہیز کیا جائے۔ عفو و درگزر کی عادت رکھو۔ نصیحت کرنے سے مت رکو۔ معقول بات کہتے رہو اور جاہلوں سے کنارہ کرو۔ ان کی جہالت آمیز حرکتوں پر روز روز الجھنے کی ضرورت نہیں۔

وہ اصحاب خیر وتقویٰ ہوتے ہیں۔ اپنے بازوؤں کو جھکائے رکھتے ہیں۔ نرم خوئی ان کا امتیاز ہے۔ ان کے لئے خیر کا باعث نرم خوئی ہوتی ہے۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے: ”من یحرم الرفق یحرم الخیر“ جو نرمی سے محروم کیا گیا وہ ہر نیکی سے محروم کیا گیا۔

ان کی زبان اور ان کے ہاتھ سے کسی کو کوئی تکلیف نہیں پہنچتی۔ ان کے اندر مسلمان ہونے کی کامل نشانیاں پائی جاتی ہیں۔ اللہ کے رسول کا فرمان ہے: ”المسلم من سلم المسلمون من لسانہ ویدہ“ ﴿جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان محفوظ ہو جائیں وہ مسلمان ہے۔﴾

ان کی زبان صاف اور ستھری ہوتی ہے۔ بات کرتے ہیں تو پھول جھڑتے ہیں۔ دوسروں کو اپنی گفتگو سے موہ لیتے ہیں۔ گالی گلوچ ان کی شان سے بعید تر ہے۔ کوئی دوسرا زور سے بولے تو ان کو شرم محسوس ہوتی ہے۔ بازار جیسی جگہوں میں ان کا گذر معذوری کی حالت میں ہوتا ہے۔ وہ سرتاپا حیا ہوتے ہیں۔ حضور اکرم ﷺ کا فرمان ہے: ”الحیاء من الایمان“ ﴿حیا ایمان (کی علامتوں میں) سے ہے۔﴾ ان کی زبان ناشائستہ کلمات سے ملوث نہیں ہوتی۔ وہ ناجائز الفاظ ادا کر ہی نہیں سکتے۔ وہ بازاری قسم کے الفاظ سے نا آشنا ہوتے ہیں۔ درشت کلامی اور دشنام درازی سے ان کا مکمل پرہیز ہوتا ہے۔ ان کو سرور کائنات ﷺ کا فرمان یاد رہتا ہے۔

”سباب المسلم فسوق“ ﴿مسلمان کو گالی دینا بہت بڑا گناہ ہے۔﴾

عام مسلمان اور نیک بندوں کے یہ اوصاف ہیں۔ باقی انبیاء علیہم السلام اور ان کے متبعین کے متعلق تو یقین اور تواتر سے معلوم ہے کہ وہ نہایت شیریں کلام، پاکیزہ زبان، صابر

٢

صفحہ ٥٧١

متحمل، عالی ظرف، فراخ حوصلہ اور دشمن نواز ہوتے ہیں۔ وہ دشنام کا جواب سلام سے، بددعا کا جواب دعا سے، تکبر کا جواب فروتنی سے، اور رذالت کا جواب شرافت سے دیتے ہیں۔ ان کی زبان کبھی کسی کے دشنام اور کسی فحش کلامی سے آلودہ نہیں ہوتی۔ طنز وتعریض تفضیح وتضحیک، ہجو، لغو، ضلع جگت وغیرہ سے ان کی فطرت عالی کو کوئی مناسبت نہیں ہوتی۔ وہ اگر کسی کی تردید یا مذمت کرتے ہیں تو سادہ اور واضح الفاظ میں۔ وہ کسی کے نسب پر حملہ کرنے اس کے خاندان یا آباؤ اجداد پر الزام لگانے اور درباری شاعروں اور لطیفہ گویوں کی طرح چٹکی لینے اور فقرہ چست کرنے کے فن سے بالکل ناآشنا ہوتے ہیں۔ ان کا کلام (موافقت ومخالفت دونوں موقعوں پر) ان کی سیرت اور فطرت کی طرح پاکیزہ، معتدل، متوازن اور واضح ہوتا ہے۔ صحابہ کرامؓ آنحضرتﷺ کی تعریف میں فرماتے ہیں۔

”ما كان رسول اللہﷺ فاحشا صخابا فی الاسواق (ترمذی)“ ﴿رسول اللہﷺ نہ عادتاً سخت گو تھے نہ بے تکلف سخت گو بنتے تھے۔ نہ بازاروں میں خلاف وقار باتیں کرنے والے تھے۔﴾

خود آپﷺ نے مؤمن کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا: ”لیس المؤمن بالطعان ولا باللعان ولا الفاحش ولا البذی (ترمذی)“ ﴿مؤمن نہ طعن وتشنیع کرنے والا ہوتا ہے نہ لعنت بھیجنے والا نہ سخت گو نہ فحش کلام۔﴾

اس کے مقابلہ میں آپ نے منافق کی صفات میں ایک صفت یہ بھی بیان کی ہے۔ ”واذا خاصم فجر (بخاری)“ ﴿جب اس کا کسی سے جھگڑا ہوتا ہے تو فوراً گالی گلوچ پر اتر آتا ہے۔﴾

حضرت انبیاء علیہم السلام اور بالخصوص جناب سید الانبیاء علیہ الصلوٰۃ والسلام کی شان تو بہت رفیع ہے۔ ان کے غلام بھی ان پستیوں سے بلند ہوتے ہیں۔ ان کو اپنے دشمنوں اور بدخواہوں کے حق میں اکثر یہ کہتے ہوئے سنا گیا ہے۔

ہر کہ مارا یار نبود ایزد اورا یار باد
ہر کہ مارا رنج دادہ راحتش بسیار باد

جو ہمارا دوست نہیں خدا اس کا دوست بن جائے۔ ...... جس نے ہمیں دکھ دیا خدا اسی کو

٣

صفحہ ٥٧٢

بہت سکھ دے

ہر کہ او خارے نہد در راہ ما از دشمنی
ہر گلے باغ عمرش بشگفد بے خار باد

جو دشمنی کی وجہ سے ہمارے راہ میں کانٹے بچھائے ...... اس کی عمر کے باغ کا پھول بغیر کانٹے کے کھل جائے

خود مرزا غلام احمد قادیانی کو تسلیم ہے کہ پیشواؤں اور ان امتیوں کے لئے جو امامت اور دینی عظمت کے مرتبہ سے سرفراز ہوں، تحمل، ضبط نفس اور عفو و حلم کی صفت بہت ضروری ہے۔

(ضرورت الامام) میں لکھتے ہیں:

ہے۔ اس لئے ان میں اعلیٰ درجہ کی اخلاقی قوت کا ہونا ضروری ہے۔ تاکہ ان میں طیش نفس اور مجنونانہ جوش پیدا نہ ہو اور لوگ ان کے فیض سے محروم نہ رہیں۔ یہ نہایت قابل شرم بات ہے کہ ایک شخص خدا کا دوست کہلا کر پھر اخلاق رذیلہ میں گرفتار ہو اور درشت بات کا ذرا بھی تحمل نہ ہو سکے اور جو امام زمان کہلا کر ایسی کچی طبیعت کا آدمی ہو کہ ادنیٰ بات میں منہ میں جھاگ آتا ہے۔ آنکھیں نیلی پیلی ہوتی ہیں۔ وہ کسی طرح سے امام زمان نہیں ہو سکتا۔“

(ضرورت الامام ص ٨، خزائن ج ١٣ ص ٤٧٨)

بدتر ہر ایک بد سے وہ ہے جو بدزبان ہے
جس دل میں یہ نجاست بیت الخلاء وہی ہے

(درثمین اردو ص ٨٤)

(ضمیمہ اربعین نمبر ٣، ٤ ص ٥، خزائن ج ١٧ ص ٤٧١)

(کشتی نوح ص ١١، خزائن ج ١٩ ص ١١)

(مواہب الرحمٰن ص ١٨، خزائن ج ١٩ ص ٢٣٦)

صفحہ ٥٧٣
گالیاں سن کر دعا دو پا کے دکھ آرام دو
کبر کی عادت جو دیکھو تم دکھاؤ انکسار

(درثمین اردو ص ٨٤)

لیکن اس کے بالکل برعکس مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے مخالفین کو (جن میں جلیل القدر علماء، عظیم المرتبت مشائخ تھے) ان الفاظ سے یاد کیا ہے اور ان کی اس قدر ہجو کی خاک اڑائی ہے کہ بار بار تہذیب کی نگاہیں نیچی اور حیاء کی پیشانی عرق آلود ہو جاتی ہے۔ ان مخالفین کے لئے۔

ہے۔ ملاحظہ ہو۔‘‘

(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٤٨، خزائن ج ٥ ص ٥٤٨، نور الحق حصہ اوّل ص ١١٨، انجام آتھم ص ٢٨٢)

ادب میں سے ہجویات کا ترجمہ سب سے زیادہ نازک اور مشکل کام ہے۔ اس لئے یہاں چند ہی نمونوں کے ترجمے پیش کئے جاتے ہیں۔ کتاب انجام آتھم میں فرماتے ہیں: ’’اگر یہ گالی دیتے ہیں تو میں نے ان کے کپڑے اتار لئے ہیں اور ان کو ایسا مردار بنا کر چھوڑ دیا ہے جو پہچانا نہیں جاتا۔‘‘

(انجام آتھم ص ١٥٨، خزائن ج ١١ ص ١٥٨)

ہو گئے ہیں اور ان کی عورتیں کتیوں سے بڑھ گئی ہیں۔‘‘

(نجم الہدیٰ ص ٥٣، خزائن ج ١٤ ص ٥٣)

کیا ہے کہ قلم بھی اس کا ترجمہ کرنے سے معذرت کرتا ہے۔ اس لئے عربی داں اصحاب کے لئے اصل اشعار نقل کر دیئے جاتے ہیں۔

ومن اللئام ارى رجلاً فاسقاً
غولاً لعيناً نطفة السفهاء
شكس خبيث مفسد ومزور
نحس يسمى السعد في الجهلاء

٥

صفحہ ٥٧٤
اذیتنی خبثاً فلست بصادق
ان لم تمت بالخزی یا ابن بغاع

(انجام آتھم ص ٢٦٠، خزائن ج ١١ ص ٢٨١)

آبرو اور عالم اسلام کے چیدہ برگزیدہ بزرگ، عارف باللہ اور جید عالم تھے۔ اپنی ہجو اور تشنیع کا نشانہ بنایا ہے۔ ان میں مولانا محمد حسین صاحب بٹالوی، مولانا سید نذیر حسین صاحب محدث دہلوی، مولانا عبدالحق صاحب حقانی، مفتی عبداللہ ٹونکی، مولانا احمد علی صاحب سہارنپوری، مولانا احمد حسین امروہی اور حضرت مولانا رشید احمد صاحب گنگوہی جیسے اعاظم رجال ہیں۔ ان کے لئے انہوں نے ذیاب وکلاب، شیطن لعین، سفہاء لئام، غول اغوٰی اور شقی وملعون کے الفاظ استعمال کئے ہیں۔ ملاحظہ ہو انجام آتھم کے آخر میں مرزا قادیانی کا طویل عربی مکتوب۔

(انجام آتھم ص ٢٥٢،٢٥١، خزائن ج ١١ ص ٢٥٢،٢٥١)

شان میں ایک ہجویہ قصیدہ لکھا ہے جس کے دو شعروں کا ترجمہ انہیں کے قلم سے حسب ذیل ہے۔ ”پس میں نے کہا کہ اے گولڑہ کی زمین تجھ پر لعنت، تو ملعون کے سبب سے ملعون ہوگئی۔ پس تو قیامت کو ہلاکت میں پڑے گی۔ اس فرومایہ نے کمینہ لوگوں کی طرح گالی کے ساتھ بات کی ہے اور ہر ایک آدمی خصومت کے وقت آزمایا جاتا ہے۔“

(اعجاز احمدی ص ٧٥، ٧٦، خزائن ج ١٩ ص ١٨٨)

بعض موقعوں پر مخالفین پر لعنت کرتے ہوئے لعنت کی تعداد کو کسی ایک ہندسہ میں ظاہر کرنے کی بجائے لفظ لعنت کو علیحدہ علیحدہ لکھتے ہیں۔ ضمیمہ نزول مسیح میں انہوں نے مولانا ثناء اللہ صاحب کے لئے دس مرتبہ لعنت لکھا ہے اور نور الحق میں عیسائیوں کے لئے ایک ہزار بار لعنت کا لفظ لکھا ہے۔ یہ لعنت نامہ ان کے جوشِ طبیعت کا عجیب مرقع ہے۔ (نور الحق ص ١١٩ تا ١٢٣، خزائن ج ٨ ص ١٥٨ تا ١٦٢)

جن میں انہوں نے اپنے مخالف علماء کو مجموعی طور پر مخاطب کیا ہے۔ انجام آتھم کے ایک حاشیہ پر

٦

صفحہ ٥٧٥

تحریر فرماتے ہیں: ”اے بدذات فرقہ مولویان ! تم کب تک حق کو چھپاؤ گے۔ کب وہ وقت آئے گا کہ تم یہودانہ خصلت کو چھوڑو گے۔ اے ظالم مولویو! تم پر افسوس کہ تم نے جس بے ایمانی کا پیالہ پیا، وہی عوام کالانعام کو بھی پلایا۔“

(انجام آتھم ص ٢١، خزائن ج ١١ ص ٢١)

خنزیر ہے۔ مگر خنزیر سے زیادہ پلید وہ لوگ ہیں جو اپنے نفسانی جوش کے لئے حق اور دیانت کی گواہی کو چھپاتے ہیں۔ اے مردار خور مولویو! اور گندی روحو! تم پر افسوس کہ تم نے میری عداوت کے لئے اسلام کی سچی گواہی کو چھپایا۔ اے اندھیرے کے کیڑو! تم سچائی کے تیز شعاعوں کو کیوں کر چھپا سکتے ہو۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢١، خزائن ج ١١ ص ٣٠٥)

ہیں اور کتوں کی طرح جھوٹ کا مردار کھا رہے ہیں۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٥، خزائن ج ١١ ص ٣٠٩)

شتر مرغ۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢١، خزائن ج ١١ ص ٣٠٥)

وينتفع من معارفها ويقبلنی ويصدق دعوتى الا ذرية البغايا“ ”ان میری کتابوں کو ہر مسلمان محبت کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور ان کے معارف سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور مجھے قبول کرتا ہے اور میری دعوت کی تصدیق کرتا ہے۔ سوائے کنجریوں کی اولاد کے۔

(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٤٧، خزائن ج ٥ ص ٥٤٧)

مرزا غلام احمد قادیانی کی تحریروں میں کثرت سے جو طنز و استہزا پایا جاتا ہے۔ اس کے بھی چند نمونے ملاحظہ فرمائیں۔

اس میں عقلی اشکالات بتلاتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں: ”ازاں جملہ ایک یہ اعتراض کہ اگر ہم فرض محال کے طور پر قبول کر لیں کہ حضرت مسیح اپنے جسم خاکی کے سمیت آسمان پر پہنچ گئے ہیں تو اس بات کے اقرار سے ہمیں چارہ نہیں کہ وہ جسم جیسا کہ تمام حیوانی و انسانی اجسام کے لئے ضروری ہے۔ آسمان پر بھی تاثیر زمانہ سے ضرور متاثر ہوگا اور یہ مرور زمانہ لا بدی و لازمی طور پر ایک دن

٧

صفحہ ٥٧٦

ضرور اس کے لئے موت واجب ہوگی۔ پس اس صورتحال میں مسیح کی نسبت یہ ماننا پڑتا ہے کہ اپنی عمر کا دورہ پورا کر کے آسمان ہی پر فوت ہوگئے ہیں اور کواکب کی آبادی جو آج کل تسلیم کی جاتی ہے۔ اسی کے کسی قبرستان میں دفن کئے گئے ہوں گے اور اگر پھر فرض کے طور پر اب تک زندہ رہنا ان کا تسلیم کر لیں تو کچھ شک نہیں کہ اتنی مدت کے گذرنے پر پیر فرتوت ہوگئے ہوں گے اور اس کام کے ہرگز لائق نہیں ہوں گے کہ کوئی خدمت دین ادا کر سکیں۔ پھر ایسی حالت میں ان کا دنیا میں تشریف لانا بجز ناحق کی تکلیف کے اور کچھ فائدہ بخش نہیں معلوم ہوتا۔“

(ازالۃ اوہام حصہ اول ص٤٩، ٥٠، خزائن ج٣ ص ١٢٧)

ہوئے لکھتے ہیں: ”کیا حضرت مسیح کا زمین پر اترنے کے بعد عمدہ کام یہی ہوگا کہ وہ خنزیروں کا شکار کھیلتے پھریں گے اور بہت سے کتے ساتھ ہوں گے۔ اگر یہی سچ ہے تو پھر سکھوں اور چماروں اور سانسیوں اور گنڈیلوں وغیرہ کو جو خنزیر کے شکار کو دوست رکھتے ہیں ۔ خوشخبری کی جگہ ہے کہ ان کی خوب بن آئے گی۔“

(ازالۃ اوہام حصہ اول ص ٤٦، ٤٧، خزائن ج٣ ص ١٢٤،١٢٣)

غبارہ (بیلون) پر چڑھنے والے اور پھر تمہارے سامنے اترنے والے کے دھوکے میں آجاؤ۔ سو ہوشیار رہنا۔ آئندہ تم اپنے اس جمے ہوئے خیال کی وجہ سے کسی ایسے اترنے والے کو ابن مریم نہ سمجھ بیٹھنا۔“

(ازالۃ اوہام ص ٢٨٣، خزائن ج٣ ص ٢٤٤)

ٹانگیں تھیں۔ (١) ایک تو ابن مریم کا آخری زمانہ میں جسم خاکی کے ساتھ آسمان سے اترنا تو اس ٹانگ کو تو قرآن شریف اور نیز بعض احادیث نے بھی مسیح ابن مریم کے فوت ہو جانے کی خبر دے کر توڑ دی ہے۔...... (٢) دوسری ٹانگ دجال معہود کا آخری زمانہ میں ظاہر ہونا تھا۔ سو اس ٹانگ کو صحیح مسلم اور صحیح بخاری کی متفق علیہ حدیثوں میں جو صحابہؓ کبار کی روایت سے ہیں۔ دو ٹکڑے کر دیا اور ابن صیاد کو دجال معہود ٹھہرا کر آخری مسلمانوں کی جماعت میں داخل کر کے مار بھی دیا۔ اب اس بحث کی دونوں ٹانگیں ٹوٹ گئیں تو پھر اب تیرہ سو برس کے بعد یہ مردہ جس کے دونوں پیر نہیں کیوں اور کس کے سہارے سے کھڑا ہو سکتا ہے۔“

(ازالۃ اوہام ص٤٣٣، خزائن ج٣ ص٣٢٣)

٨