احتساب قادیانیت جلد 13 · مولانا مفتی محمد شفیع
Ahtasab-e-Qadyaniat · Vol. 13 · Mufti Muhammad Shafi
PDF 1

ردّ قادیانیت

رسائل

احتساب قادیانیت

سیزدہم

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

حضوری باغ روڈ ملتان ۔ فون: 514122

PDF 2

رَدِّ قادیانیت

رسائل

احتساب قادیانیت

سیریز دہم

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

حضوری باغ روڈ ، ملتان ۔ فون : 514122

صفحہ ٣

بسم الله الرحمن الرحيم!

عرض مرتب

الحمدلله وحده والصلوة والسلام على من لا نبى بعده ۔ اما بعد !

محض اللہ رب العزت کے فضل و احسان سے احتساب قادیانیت کی تیرہویں جلد پیش خدمت ہے۔ حضرت الامام علامہ سید محمد انور شاہ کاشمیریؒ کے تین مایہ ناز شاگردوں کے فتنہ قادیانیت سے متعلق رشحات قلم کو یکجا کیا جارہا ہے۔

حضرت مفتی اعظم مولانا مفتی محمد شفیع دیوبندیؒ

پاکستان کے مفتی اعظم اور ہمارے مخدوم حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحبؒ ١٣١٤ھ دیوبند میں پیدا ہوئے۔ اور ١١ شوال ١٣٩٦ھ کو کراچی میں واصل بحق ہوئے۔ دارالعلوم دیوبند ان کا مادر علمی تھا۔ شیخ الاسلام حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کاشمیریؒ کے مایہ ناز شاگرد اور حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کے ممتاز خلفاء میں سے تھے۔ دارالعلوم دیوبند میں مدرس اور دارالافتاء کے صدر نشین رہے۔ دارالعلوم دیوبند میں آپ کے قلم سے ٤٧ ہزار بیاسی فتوے جاری ہوئے۔ قیام پاکستان کے بعد دارالعلوم کراچی قائم کیا۔ درس وتدریس، تصنیف وتالیف آپ کے محبوب مشاغل تھے۔ دو لاکھ کے قریب آپ کے قلم سے فتوے جاری ہوئے۔ آپ کے رد قادیانیت پر گرانقدر کتب ورسائل یہ ہیں:

تالیف فرمائی بعد میں ”ختم نبوت کامل“ کے نام سے اسے جامع ومکمل کتاب کے طور پر شائع فرمایا۔

مرتب فرمائی۔ آپ کی سرپرستی آپ کے استاذِ گرامی حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کاشمیریؒ نے فرمائی۔ التصریح کی تخریج عرب عالم دین شیخ ابوغدہؒ نے کی۔ ملتان عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے اسے

صفحہ ٤

شائع کرنے کی سعادت حاصل کی۔ بعد میں بیروت و مدینہ طیبہ سے اس کے متعدد ایڈیشن شائع ہوئے۔ اس کا اردو ترجمہ ”نزول مسیح اور علامات قیامت“ کے نام سے حضرت مرحوم کے جانشین ہمارے مخدوم ومخدوم زادہ حضرت مولانا محمد رفیع عثمانی مدظلہ نے کیا۔ یہ چاروں مستقل کتابیں ہیں۔ بحمدہ تعالیٰ ان کی بار ہا اشاعت ہوئی۔ عام طور پر مل جاتی ہیں۔ اس لئے ”احتساب قادیانیت“ کی اس جلد میں ان کو شامل کرنے کی قطعاً ضرورت نہیں۔ ان کے علاوہ حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحبؒ کے ذیل کے آٹھ رسائل اس جلد میں شائع کرنے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں:

الاسلامية (عربی) ممالک اسلامیہ سے قادیانیوں کی غداری (اردو)

ان تمام رسائل کا تعارف ہر رسالہ کے ابتداء میں مختصراً عرض کر دیا گیا ہے۔ اس خدمت کے ذریعہ حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحبؒ سے ایک گونہ نسبت حاصل ہو گئی۔ جو یقیناً سعادت دارین ہے۔ حق تعالیٰ اس حقیر سی محنت کو اپنی بارگاہ میں شرف قبولیت نوازیں۔ آنحضرت ﷺ کی امت کے لئے باعث ازدیاد ایقان اور قادیانیوں کے لئے باعث ایمان فرمائیں۔ وما ذلك على الله بعزيز!

مجاہد ملت حضرت مولانا حفظ الرحمن سیوہارویؒ

اسی جلد میں دو رسائل حضرت مولانا حفظ الرحمن سیوہارویؒ کے ہیں:

صفحہ ٥

ہر دو رسائل حضرت مولانا حفظ الرحمٰن سیوہارویؒ کی مشہور زمانہ کتاب ’’قصص القرآن‘‘ سے لئے ہیں۔ حضرت مولانا حفظ الرحمٰن سیوہارویؒ ہندوستان کی معروف دینی شخصیت ہیں۔ آپ نے حضرت مولانا علامہ سید محمد انور شاہ کاشمیریؒ سے حدیث پڑھی۔ دارالعلوم دیوبند جیسے جامعہ میں آپ مدرس رہے۔ آپ کا وصال ١٩٦٢ء میں ہوا۔

شیخ التفسیر حضرت مولانا سید شمس الحق افغانیؒ

حضرت مولانا سید شمس الحق افغانیؒ دارالعلوم دیوبند کے فاضل، حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کاشمیریؒ کے شاگرد، خانقاہ دین پور شریف کے بانی قدوۃ الصالحین حضرت مولانا خلیفہ غلام محمد دین پوریؒ اور حضرت مولانا مفتی محمد حسن امرتسریؒ کے خلیفہ مجاز تھے۔ آپ دارالعلوم دیوبند، جامعہ اسلامیہ بہاول پور ایسے کئی دینی مراکز میں شیخ التفسیر کے منصب پر فائز رہے۔ حکومتی عہدوں نے بھی آپ سے عزت پائی۔ وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے بھی سربراہ رہے۔ ٦؍اگست ١٩٨٣ء میں آپ کا وصال ترنگ زئی پشاور میں آبائی گاؤں میں ہوا۔ آپ کی معروف زمانہ کتاب ’’علوم القرآن‘‘ سے آپ کے دو مقالے اس جلد میں شائع کرنے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں۔

یوں اللہ رب العزت کی توفیق سے اس جلد میں (١٢) رسائل و کتب یکجا ہو گئے ہیں۔ فالحمد للہ ! اس جلد کی ترتیب میں مخدومان گرامی حضرت مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری دامت برکاتہم اور حضرت مولانا محمد عابد صاحب مدظلہ (خلیفہ مجاز حضرت بہلویؒ) کی بے پناہ توجہات اور مشورہ کی سعادت حاصل رہی۔ رفیق محترم مولانا قاضی احسان احمدؒ برادر عزیز مولانا عزیز الرحمٰن ثانی، برادر عزیز حاجی رانا محمد طفیل جاوید، قاری محمد حفیظ اللہ، جناب عزیز الرحمٰن رحمانی، مولانا عبدالستار حیدری کا تخریج، تصحیح میں بہت بڑا حصہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ان حضرات کی جوانی کو رحمت عالمﷺ کی عزت و ناموس کے تحفظ کے لئے اپنی بارگاہ میں شرف قبولیت سے سرفراز فرمائیں۔

آمین بجاہ خاتم النبیینﷺ !

فقیر اللہ وسایا !

١٦؍صفر ١٤٢٥ھ ٧؍اپریل ٢٠٠٤ء

صفحہ ٦

بسم الله الرحمن الرحيم!

فہرست

حضرت مولانا مفتی محمد شفیع دیوبندیؒ

الاسلامية (عربی) ممالک اسلامیہ سے قادیانیوں کی غداری (اردو) ١٠١

حضرت مولانا حفظ الرحمٰن سیوہارویؒ

حضرت مولانا سید شمس الحق افغانیؒ

PDF 7

انا خاتم النبیین لا نبی بعدی

میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں

طریق السداد

فی عقوبة الارتداد

حضرت مولانا مفتی محمد شفیع دیوبندیؒ

صفحہ ٨

بسم الله الرحمن الرحيم !

تعارف

٣١ اگست ١٩٢٤ء کابل میں قادیانی مبلغ نعمت اللہ کو بجرم ارتداد سزائے موت دی گئی۔ اس پر قادیانی اور قادیانی نواز گروہ نے آسمان سر پر اٹھالیا۔ اخبارات میں لے دے شروع ہوگئی۔ اکابر علمائے دیوبند نے والی افغانستان کے اسلامی فیصلہ کی بھر پور تائید کی۔ ارتداد کی اسلامی سزا قتل پر رسائل لکھے۔ اس زمانہ میں حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحبؒ نے اخبارات کو بیان جاری کیا۔ بعد میں معمولی ترمیم واضافہ سے اسے رسالہ کی شکل میں شائع کر دیا۔

(مرتب)

بسم الله الرحمن الرحيم !

طريق السداد في عقوبة الارتداد

خلفائے راشدین ؓ اور قتل مرتد

خلافت اسلامیہ کی ساڑھے تیرہ سوسالہ عمر میں ہمیشہ مرتد کو سزائے موت دی گئی ہے !

قادیانی مذہب اور اس کی تحریفات نے جن ضروریات اسلامیہ کو تختۂ مشق بنایا ہے وہ غالباً ہمارے ناظرین سے مخفی نہیں۔ ختم نبوت کا انکار‘ نزول مسیح کا انکار‘ فرشتوں کا زمین پر آنے سے انکار وغیرہ وغیرہ۔ یہ سب کچھ تھا۔ مگر ہم سمجھتے تھے کہ یہ سب مرزا قادیانی کے دم تک ہیں۔ کیونکہ : ’’وہ اپنے آپ کو خدا کا نبی کہتے تھے اور اس کا مستحق سمجھتے تھے کہ حدیث نبوی کے ذخیرہ میں سے جس حصہ کو چاہیں لیں اور جس کو چاہیں (نعوذ باللہ) ردی کی ٹوکری میں ڈال دیں۔‘‘ جس کا خود مرزا قادیانی نے (اربعین نمبر ٣ ص ١٥‘ خزائن ج ١٧ ص ٤٠١ ملخص وغیرہ میں) کھلے بندوں اعلان کیا ہے۔ لیکن آج نعمت اللہ خان مرزائی کے قتل نے یہ بات دکھلا دی کہ:

ایں خانہ تمام آفتاب است

مرزا قادیانی کے مرنے سے بھی نصوص شرعیہ کی تحریف اور بدیہی الثبوت مسائل اسلامیہ کے انکار کا دروازہ بند نہیں ہوا۔ بلکہ ان کا روحانی فیض آج تک اپنے لوگوں میں کام کر رہا

٢

صفحہ ٩

ہے۔ جس کی ایک نظیر یہ ہے کہ شریعت اسلام کا کھلا ہوا فیصلہ ہے کہ مسلمان ہونے کے بعد مرتد ہونے کی سزا قتل ہے۔ آیات قرآنیہ کے بعد احادیث نبویہ کا ایک بڑا دفتر اس حکم کا صاف طور سے اعلان کر رہا ہے۔ جن میں سے تقریباً تیس حدیثیں ہمارے زیر نظر ہیں۔ جن کو اگر ضرورت سمجھی گئی تو کسی وقت پیش کیا جائے گا۔ اس کے بعد اگر خلافت اسلامیہ کی تاریخ پر ایک نظر ڈالیں تو چاروں خلفائے راشدین ؓ سے لے کر بعد کے تمام خلفاء کا متواتر عمل بتلا رہا ہے کہ یہ مسئلہ ان بدیہیات اسلامیہ سے ہے کہ جس کا انکار کسی مسلمان سے متصور نہیں۔ بایں ہمہ آج جبکہ دولت افغانستان نے اس شرعی اور قطعی فیصلہ کے ماتحت نعمت اللہ خان مرزائی کو قتل کر دیا تو فرقہ مرزائیہ کی دونوں پارٹیاں قادیانی اور لاہوری اور بالخصوص اس کا آرگن پیغام صلح سرے سے اس حکم کے انکار پر تل گئے اور دولت افغانستان پر طرح طرح کے بیہودہ عیب لگانے اور ان کے عین شرعی فیصلہ کو وحشیانہ حکم ثابت کرنے میں ایڑی چوٹی کا زور صرف کیا۔ ہمیں اس دیدہ دلیری معاصر سے سخت تعجب ہوا کہ وہ ملت اسلامیہ کو چیلنج دیتا ہے کہ: ”از روئے شریعت اسلامیہ مرتد کی سزا قتل ہونا ثابت کریں“۔ حالانکہ یہ مسئلہ اسلام میں اس قدر بدیہی الثبوت ہے کہ ہم کسی مسلمان پر بلکہ خود ایڈیٹر پیغام صلح پر یہ بدگمانی نہیں کر سکتے کہ وہ اس قدر ناواقف اور احکام شرعیہ سے غافل ہوں گے کہ ان کو قتل مرتد کی کوئی دلیل ادلّہ شرعیہ میں نہیں ملی۔ میں تسلیم کرتا ہوں کہ قرآن کریم کے دلائل اور اس کے محیّر العقول لطائف ان کی پرواز سے بالاتر ہونے کی وجہ سے ان کی نظر سے اوجھل رہے ہوں۔ لیکن یہ کیسے تسلیم کیا جا سکتا ہے کہ احادیث کا اتنا بڑا دفتر ایک ایسے شخص پر بالکل مخفی رہے جو منہ بھر بھر کر علم کی ڈینگ مارتا ہے اور علمائے اسلام کے منہ آتا ہے؟۔ ہاں میں ان کو اس میں بھی معذور سمجھتا کہ یہ سب حدیثیں غیر درسی کتابوں میں ہوتیں۔ لیکن حیرت تو یہ ہے کہ ان میں سے دس بارہ حدیثیں وہ ہیں جو حدیث کی درسی کتابوں (صحاح) پر ایک سرسری نظر ڈالنے والے کے بلا تکلف سامنے آ جاتی ہیں۔ جن سے معمولی درجہ کے طالب علم ناواقف نہیں رہ سکتے۔ مگر ایڈیٹر پیغام صلح ہیں کہ نہایت دلیری کے ساتھ کہہ رہے ہیں کہ سنت نبوی میں قتل مرتد کا کوئی اسوہ نہیں ملتا۔ ہم نہیں کہہ سکتے کہ یہ کلام غیظ و غضب کی بدحواسی میں ان کے قلم سے نکل گیا ہے۔ جس پر وہ افاقہ کے بعد قرآن وحدیث کو دیکھ کر پشیمان ہوئے ہوں گے۔ یا واقع میں ان کی تحصیل اور مبلغ علم یہی ہے کہ جس حکم سے قرآن وحدیث اور تعامل سلف کے دفتر بھرے ہوئے ہوں ان کا دماغ اس کے علم سے ایسا کورا ہے کہ علمائے اسلام کو اس کے اثبات کا اس بیہودہ خیال پر چیلنج دے ٣

صفحہ ١٠

رہے ہیں کہ وہ ثابت نہ کرسکیں گے۔ اور اگر ایسا ہے تو ہم ایڈیٹر صاحب کو اس معاملہ میں بھی معذور سمجھیں گے۔ کیونکہ ان کو مرزا قادیانی ایک ایسے کام میں لگا گئے ہیں جس سے وہ کسی وقت فارغ نہیں ہوسکتے۔ مرزا قادیانی کے متہافت اور متعارض اقوال کی گتھیوں کا سلجھانا ہی عمر گنوا دینے کے لئے کافی ہے۔ ان کو کہاں فرصت کہ وہ خاتم الانبیاءﷺ کے دین کی طرف متوجہ ہوں اور آپﷺ کی احادیث کو پڑھیں اور سمجھیں۔ اگر چہ مرزائی فرقہ کی حالت کا تجربہ رکھنے والے حضرات یہاں بھی یہی کہیں گے کہ یہ سب شقیں غلط ہیں۔ دراصل یہ سب احکام قرآن وحدیث ان کے ضرور سامنے ہیں مگر وہ جان بوجھ کر دیکھتی آنکھوں ان کا انکار کررہے ہیں۔ اور وہ اس میں بھی معذور ہیں۔ کیونکہ ان کے آقا مرزا قادیانی کی یہی تعلیم ہے جس پر ان کی زندگی کے بہت سے کارنامے شاہد ہیں۔ بہر حال صورت کچھ ہو۔ آج پیغام صلح دنیائے اسلام کو پیغام جنگ دے کر یہ چاہتا ہے کہ اس مسئلہ کو اخباری گھوڑ دوڑ کا میدان بنائے۔ اگر اس کے نزدیک اسی کی ضرورت ہے کہ اس بدیہی الثبوت مسئلہ پر بحث کرکے اخبار کے کالموں کو پر کیا جائے تو ہمیں بھی کچھ ضرورت نہیں کہ اس کو غیر ضروری ثابت کریں۔ لہٰذا ہم مختصر طور پر یہ دکھلانا چاہتے ہیں کہ شریعت اسلامیہ مرتد کے لئے کیا سزا تجویز کرتی ہے اور خلفائے راشدینؓ اور بعد کے تمام خلفاء نے مرتدین کے ساتھ کیا معاملہ کیا ہے؟۔

قرآن عزیز اور قتل مرتد

اس بحث کو چونکہ مجھ سے پہلے اور افاضل بھی مفصل لکھ چکے ہیں۔ اس لئے صرف ایک آیت کو مختصراً پیش کرنے پر اکتفا کیا جاتا ہے۔ قال تعالٰی:”انما جزاء الذین یحاربون اللہ ورسولہ ٠ المائدہ ٣٣“ یہ آیت ان لوگوں کے بارہ میں نازل ہوئی ہے جو آنحضرتﷺ کے زمانہ میں مرتد ہوگئے تھے۔ جس کا طویل واقعہ اکثر کتب حدیث وتفسیر میں موجود ہے اور آنحضرتﷺ نے اس آیت کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے ان لوگوں کو قتل کیا۔ جیسا کہ (صحیح بخاری ج٢ ص٦٦٣ اور فتح الباری ج٨ ص٢٠٦ باب انما جزاء الذین یحاربون اللہ) وغیرہ تمام معتبر کتب حدیث وتفسیر میں موجود ہے اور امام بخاریؒ نے قتل مرتد کے بارہ میں اسی آیت سے استدلال کرنے کے لئے احکام مرتد کے ابواب کو اسی آیت سے شروع فرمایا ہے۔ نیز سورۃ مائدہ کی تفسیر میں حضرت سعید ابن جبیرؓ سے نقل کیا ہے کہ آیت میں:

٤

صفحہ ١١

”یحاربون اللہ“ سے مراد کافر ہوتا ہے۔ بخاری ج ٢ ص ٦٦٣ اور فتح الباری میں بحوالہ ابن حاتمؒ اسی کی تائید کی گئی ہے۔ الغرض آیت مذکورہ مرتد کے لئے سزائے قتل تجویز کرتی ہے۔ پھر قتل کے معنے مطلقاً جان لینے کے ہیں۔ خواہ تلوار سے یا سنگساری سے یا کسی اور طریق سے۔ جیسا کہ امام راغب اصفہانیؒ نے مفردات القرآن میں اور صاحب اقرب الموارد نے اقرب میں نقل کیا ہے۔

حدیث نبوی اور قتل مرتد

ہم نے نقل کیا ہے کہ کثیر تعداد احادیث اس مسئلہ کے ثبوت میں وارد ہوئی ہیں۔ جن میں سے تقریباً تیس حدیثیں ایک سرسری نظر ڈالنے سے ہمارے سامنے ہیں۔ لیکن اخبار کے کالم اس کام کے لئے زیادہ موزوں نہیں معلوم ہوتے کہ ان میں اس قدر احادیث کا سلسلہ نقل کیا جائے۔ اس لئے صرف ان گیارہ احادیث پر اکتفا کیا جاتا ہے جو کتب صحاح یعنی احادیث کی درسی کتابوں میں موجود ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ یہ بھی اخباری دنیا کے لئے بہت زائد ہے۔

لا یعذب بعذاب اللہ عن ابن عباسؓ“ ”جو شخص اپنے دین اسلام کو بدلے اس کو قتل کر ڈالو۔

مرتبہ حضرت معاذؓ یمن پہنچے تو دیکھا کہ ان کے پاس ایک مرتد قید کر کے لایا گیا ہے۔ حضرت معاذؓ نے فرمایا: ”لا اجلس حتی یقتل ، قضاء اللہ ورسولہ ثلاث مرات فامربہ فقتل . بخاری ج ٢ ص ١٠٢٣ باب حکم المرتد“ میں اس وقت تک نہ بیٹھوں گا جب تک کہ اس کو قتل نہ کیا جائے۔ یہی ہے اللہ اور رسول کا حکم۔ تین مرتبہ یہی کہا۔ چنانچہ اس کو قتل کیا گیا۔ (روایت کیا اس کو بخاری، مسلم، نسائی، ابو داؤد وغیرہ نے)

ہی ایک جماعت کے متعلق حکم فرمایا: ”اینما لقیتموہم فاقتلوہم فان فی قتلہم اجراً لمن قتلہم یوم القیامۃ . بخاری ج ٢ ص ١٠٢٤ باب قتل الخوارج والملحدین“ ان کو جہاں پاؤ قتل کر ڈالو۔ اس لئے کہ ان کے قتل کرنے میں ثواب ہے۔ (صحیح بخاری و مسلم)

صفحہ ١٢

الخوارج میں حضرت ابوسعید خدریؓ سے نقل کی ہے۔

قتل کیا۔ جس کا طویل واقعہ اکثر کتب حدیث بخاری ج٢ ص ٦٦٣ وغیرہ میں موجود ہے۔

کہ مسلمان کا قتل ہرگز حلال نہیں ۔مگر تین شخص کو قتل کیا جائے گا: ”النفس بالنفس والثيب الزاني والمارق لدينه التارك للجماعة ٠ بخاری ومسلم ج٢ ص ٥٩ باب مايباح به دماء المسلم “ جان کے بدلے میں جس کی جان لی جائے اور بیاہا ہونے کے بعد زنا کرنے والا اور اپنے دین اسلام اور جماعت مسلمین کو چھوڑنے والا۔

چڑھے اور لوگوں سے خطاب کر کے فرمایا کہ میں تمہیں خدا کی قسم دیتا ہوں کہ کیا تم جانتے ہو کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کسی مسلم کا قتل اس وقت تک جائز نہیں جب تک اس سے تین کاموں میں سے کوئی کام سرزد نہ ہو۔ اور وہ تینوں یہ ہیں: ” زنى بعد احصانه وكفر بعد اسلام وقتل نفساً بغير نفس ٠ نسائی ج٢ ص ١٦٥ باب مايحل به دم المسلم / ترمذی / ابن ماجه “ بیاہا ہونے کی صورت میں زنا کرنا اور اسلام کے بعد کافر ہونا اور کسی شخص کو بغیر حق کے قتل کرنا۔

دیکھو مسلم ج٢ ص ١٥٩ باب مايحل به دم المسلم اور مستدرک حاکم وغیرہ!

کنز العمال ج١ ص ٩١ باب الارتداد “ جو شخص اپنے دین اسلام کو بدلے اسے قتل کر دو۔

(بخاری ومسلم)

عن جبيرؓ ج٢ ص ١٣٩ باب الحكم فيمن ارتد “ جب کوئی اسلام چھوڑ کر کفر کی طرف بھاگے تو اس کا خون حلال ہے۔

عن ابن عبّاسؓ ص ١٨٢ باب اقامة الحدود “ جو شخص قرآن کی کسی آیت کا انکار کرے

٩

صفحہ ١٣

اس کی گردن مار دینا حلال ہو گیا۔ یہ سب حدیثیں ہیں جو صحاح کی کتابوں میں موجود ہیں اور اکثر صحیحین بخاری و مسلم میں مذکور ہیں۔ ان تمام فرامین نبویہ کے ہوتے ہوئے ایڈیٹر پیغام صلح کا یہ کہنا کس قدر ان کے علم کی داد دیتا ہے کہ ”سنت نبویہ میں قتل مرتد کا کوئی اسوہ نہیں ملتا“ اس کے جواب میں ہم بجز اس کے کیا کہیں کہ ہمارے نبی کریم ﷺ کے دین اور آپ ﷺ کی احادیث میں دخل دینا ہی ان کی اصولی غلطی اور خوامخواہ دخل در معقولات ہے۔ ان کو چاہئے کہ وہ اپنے مہدی، مسیح، نبی، میکائیل، عیسیٰ، موسیٰ، ابراہیم، آدم، مرد، عورت، حاملہ، حائضہ، غرض ہر رنگی مقتدا کی عبارات اور اس کے ادھیڑ بن میں لگے رہیں اور احکام اسلامیہ کو ان لوگوں کے سپرد کریں جو اس کے اہل ہیں۔

خلفائے راشدین ؓ اور قتل مرتد

اس بحث میں سب سے پہلے افضل الناس بعد الانبیاء خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق اکبرؓ کا عمل ملاحظہ فرمائیے۔

جب آنحضرت ﷺ کی وفات ہوئی اور مدینہ کے ارد گرد میں بعض عرب مرتد ہو گئے تو خلیفہ وقت صدیق اکبرؓ شرعی حکم کے مطابق ان کے قتل کے لئے کھڑے ہو گئے اور عجب یہ کہ فاروق اعظمؓ جیسا اسلامی سپہ سالار اس وقت ان کے قتل میں بوجہ نزاکت وقت تأمل کرتا ہے۔ لیکن یہ خدا کی حدود تھیں جن میں مساہلت سے کام لینا صدیق اکبرؓ کی نظر میں مناسب نہ تھا۔ اس لئے فاروق اعظمؓ کے جواب میں بھی یہی فرمایا: "هيهات هيهات مضى النبي ﷺ وانقطع الوحى والله لا جاهدنهم ما استمسك السيف فى يدى . تاريخ الخلفاء ص ٦١ فصل فى ما وقع فى خلافته . " ”ہیہات ہیہات آنحضرت ﷺ کی وفات ہو گئی اور وحی منقطع ہو گئی۔ خدا کی قسم میں ضرور ان سے اس وقت تک جہاد کرتا رہوں گا جب تک میرا ہاتھ تلوار پکڑ سکے گا۔“ یہاں تک کہ فاروق اعظمؓ کو بھی بحث کے بعد حق واضح ہو گیا اور اجماعی قوتوں سے مرتدین پر جہاد کیا گیا اور ان میں سے بہت سے تہ تیغ کر دیئے گئے۔

جو نبوت کا دعویٰ کرنے کی وجہ سے باجماع صحابہؓ مرتد قرار دیا گیا تھا۔ چنانچہ ایک لشکر حضرت خالدؓ کی سرکردگی میں اس کی طرف روانہ کیا جس نے مسیلمہ کذاب کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ (فتح الباری،

٧

صفحہ ١٤

تاریخ الخلفاء ص ٦٣ فصل فی ما وقع فی خلافتہ‘ طبع اصح المطابع کراچی) اس واقعہ سے یہ بھی ثابت ہوا کہ آنحضرت ﷺ کے بعد ہر مدعی نبوت مرتد ہے۔ اگر چہ وہ کسی قسم کی نبوت کا دعویٰ کرے یا کوئی تاویل کرے۔ کیونکہ مسیلمہ کذاب جس کو صدیق اکبرؓ نے قتل کرایا ہے وہ آنحضرت ﷺ کی نبوت ورسالت کا منکر نہیں تھا۔ بلکہ اپنی اذان میں اشهد ان محمداً رسول الله ، کا اعلان کرتا تھا۔ (تاریخ طبری ج ١ حصہ دوم ص ١٠٠‘ اردو نفیس اکیڈمی لاہور) پھر جس جرم میں اس کو مرتد ’واجب القتل‘ سمجھا گیا وہ صرف یہ تھا کہ آپﷺ کی نبوت کو ماننے کے باوجود اپنی نبوت کا بھی دعویٰ کرتا تھا۔ جیسا کہ مرزا قادیانی کا بعینہ یہی حال ہے۔

لئے علاء ابن الحضرمیؓ کو روانہ کیا۔

(تاریخ الخلفاء ص ٦٣)

ابی جہل کو حکم فرمایا۔

(تاریخ الخلفاء ص ٦٣)

مہاجرین کو ان کے قتل کے لئے بھیجا۔

(تاریخ الخلفاء ص ٦٣)

فرمایا۔

(تاریخ الخلفاء ص ٦٣)

یہ تمام واقعات وہ ہیں جو اسلام کے سب سے پہلے خلیفہ اور افضل الناس بعد الانبیاء کے حکم سے ہوئے اور صحابہ کرامؓ کے ہاتھوں ان کا ظہور ہوا۔ صحابہ کرامؓ کی جماعت تھی جو کسی خلاف شرع حکم کو دیکھنا موت سے زیادہ ناگوار سمجھتی تھی۔ کیسے ہو سکتا تھا کہ اگر معاذ اللہ صدیق اکبرؓ بھی کسی خلاف شریعت حکم کا ارادہ کرتے تو تمام صحابہ کرامؓ ان کی اطاعت کر لیتے اور خون ناحق میں اپنے ہاتھ رنگتے؟۔ لہٰذا یہ واقعات اور اسی طرح باقی تمام خلفائے راشدینؓ کے واقعات تنہا صدیق اکبرؓ وغیرہ کا عمل نہیں بلکہ تمام صحابہ کرامؓ کا اجماعی فتویٰ ہے کہ شریعت میں مرتد کی سزا قتل ہے۔

خلیفہ ثانی فاروق اعظمؓ اور قتل مرتد

٨

صفحہ ١٥

صدیق اکبرؓ کے ساتھ اور شریک مشورہ تھے۔

روز تک اسلام کی طرف بلانا چاہئے اور روزانہ ان کو ایک ایک روٹی دی جائے۔ اگر تین روز تک نصیحت کے بعد بھی ارتداد سے توبہ نہ کریں تو قتل کر دیا جائے۔ (کنز العمال ج ١ ص ٣١٢ تا ٣١٣ ‘ اس قسم کی متعدد روایات ہیں )

خلیفہ ثالث حضرت عثمان غنیؓ اور قتل مرتد

قتل مرتد کو آنحضرت ﷺ کا فرمان سمجھتے تھے اور لوگوں سے اس کی تصدیق کراتے تھے۔

کفر بعد ایمانہ طائعا فانہ یقتل ٠ کنز العمال ج ١ ص ٣١٣ حدیث ١٤٧٠ باب حکم الاسلام ٠“ جو شخص ایمان کے بعد اپنی خوشی سے کافر ہو جائے اس کو قتل کیا جائے۔

مرتد کو تین مرتبہ توبہ کرنے کے لئے فرماتے تھے۔ اگر قبول نہ کرتا قتل کر دیتے تھے۔

(کنز العمال ج ١ ص ٣١٣ حدیث ١٤٧١)

کی خدمت میں لایا گیا۔ آپ نے اس کو تین مرتبہ توبہ کی طرف بلایا۔ اس نے قبول نہ کیا تو قتل کردیا۔

(کنز العمال ج ١ ص ٣١٣ حدیث ١٤٧٢)

جماعت کو گرفتار کیا اور ان کی سزا کے بارے میں مشورہ کے لئے حضرت عثمانؓ کی خدمت میں خط لکھا۔ آپ نے جواب میں تحریر فرمایا: ”اعرض علیہم دین الحق فان قبلوہا فخل عنہم وان لم یقبلوہا فاقتلہم ٠ کنز العمال ج ١ ص ٣١٣ حدیث ١٤٧٣ “ ان پر دین حق پیش کرو۔ اگر قبول کرلیں تو ان کو چھوڑ دو۔ ورنہ قتل کردو۔

خلیفہ رابع حضرت علی کرم اللہ وجہہ اور قتل مرتد

٩

صفحہ ١٦

کیا۔

(بخاری ج ٢ ص ١٠٢٣ باب حکم المرتد والمرتدہ)

قتال کے لئے لشکر بھیجا تو اس میں، میں بھی شریک تھا۔ ہم نے دیکھا کہ ان لوگوں میں تین فرقے ہیں۔ بعض پہلے نصاریٰ تھے پھر مسلمان ہوئے اور اسی پر ثابت قدم رہے۔ اور بعض نصاریٰ تھے اور ہمیشہ اسی مذہب پر رہے۔ اور بعض لوگ وہ تھے کہ پہلے نصرانیت چھوڑ کر مسلمان ہو گئے تھے اور پھر نصرانیت کی طرف لوٹ گئے۔ ہمارے امیر نے اس تیسرے فرقے سے کہا کہ اپنے خیال سے توبہ کرو۔ اور پھر مسلمان ہو جاؤ۔ انہوں نے انکار کیا تو امیر نے ہمیں حکم دیا۔ ہم سب ان پر ٹوٹ پڑے اور مردوں کو قتل اور بچوں کو گرفتار کر لیا۔

(کنز العمال ج ١ ص ٣١٤ حدیث ١٤٧٦ باب الارتداد واحکامہ)

خدمت میں حاضر تھا کہ مستورد ابن قبیصہ گرفتار کر کے لایا گیا جو اسلام سے مرتد ہو کر نصرانی ہو گیا تھا۔ آپ نے حکم دیا کہ ٹھوکروں میں مسل کر مار ڈالا جائے۔

(کنز العمال ج ١ ص ٣١٤ حدیث ١٤٧٧)

یہ ان خلفائے راشدین کا حکم عمل جن کے اقتداء کے لئے تمام امت اسلامیہ مامور ہے اور جن کے متعلق آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے: ”علیکم بسنتی وسنة الخلفاء الراشدین ٠ مشکوة ص ٣٠ باب الاعتصام بالکتاب والسنة“ تم پر لازم ہے کہ میری سنت اور خلفائے راشدین کی سنت کی اقتدا کرو۔

کیا قتل مرتد کے لئے محاربہ اور سلطنت کا مقابلہ شرط ہے؟

ہماری مذکورہ بالا تحریر میں اس کا کافی جواب آچکا ہے۔ کیونکہ اول تو جو احادیث سزائے مرتد کے بارے میں نقل کی گئی ہیں۔ ان میں کوئی محاربہ اور مقابلہ کی شرط نہیں۔ بلکہ عموماً مرتد کے قتل کا اعلان ہے۔ اس کے بعد جن لوگوں کو خلفائے راشدینؓ نے سزائے ارتداد میں قتل کیا ہے۔ ان میں دونوں قسم کے آدمی ہیں۔ وہ بھی جو مرتد ہونے کے بعد محاربہ کے لئے کمر بستہ ہوئے اور وہ بھی جن سے کسی قسم کا ارادہ فساد یا محاربہ کا ظاہر نہیں ہوا۔ وہ لوگ جو قتل مرتد کو یہ کہہ کر اڑا دینا چاہتے ہیں کہ اسلام میں صرف انہیں مرتدین کے قتل کا حکم ہوا ہے، جو محاربہ اور سلطنت کے مقابلہ پر آمادہ

١٠

صفحہ ١٧

ہوں وہ آنکھیں کھولیں اور احادیث اور عمل سلف پر نظر ڈالیں کہ وہ کیا بتا رہے ہیں؟۔ کیا سزائے ارتداد میں سنگسار بھی کیا جا سکتا ہے؟ مذکورۃ الصدر احادیث اور واقعات سلف نے اس سوال کو بھی طے کر دیا ہے۔ کیونکہ ان سے واضح ہو چکا ہے کہ اصل سزائے ارتداد قتل ہے اور ہم بحوالہ امام راغب اصفہانی اور دیگر اہل لغت یہ نقل کر چکے ہیں کہ قتل کے معنی جان لینا ہے۔ خواہ تلوار سے یا سنگساری سے یا کسی اور ذریعہ سے۔ لہٰذا جب سزائے قتل مرتد کے لئے ثابت ہو گئی تو امام وقت کو اختیار ہے کہ مصالح وقت کو دیکھ کر جس صورت سے چاہے قتل کرے۔ چنانچہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا واقعہ ابھی نقل کیا گیا ہے کہ انہوں نے ایک مرتد کو زیادہ سرکش سمجھ کر آگ میں جلا کر مارنے کا حکم دے دیا۔

خلفائے راشدین ؓ کے بعد باقی خلفاء اسلام اور قتل مرتد

حضرت عبداللہ بن زبیرؓ نے اپنے زمانہ خلافت میں مختار ابن ابی عبید کو اسی جرم میں قتل کیا تھا جو آج مرزا قادیانی کے لئے معراج ترقی ہے۔ یعنی اس کے دعوے نبوت کو ارتداد قرار دے کر قتل کیا گیا ہے۔

(فتح الباری ص ٤٥٥ ج ٦‘ تاریخ الخلفاء ص ١٦٤)

خالد قسری نے اپنے زمانہ حکومت میں جعد ابن درہم کو ارتداد ہی کی سزا میں قتل کیا۔

(فتح الباری ص ٢٣٩ ج ١٢ باب حکم المرتد والمرتدہ)

عبدالملک ابن مروان نے اپنے زمانہ خلافت میں حارث نامی ایک شخص کو اسی جرم میں قتل کیا جو آج مرزا قادیانی کا دعویٰ اور ان کی امت کا مذہب ہے۔ (یعنی دعویٰ نبوت)

(شفاء قاضی عیاض ص ٢٥٧‘٢٥٨ ج ٢)

خلیفہ منصور نے اپنے عہد خلافت میں فرقہ باطنیہ کے مرتدین کو قتل کیا۔

(فتح الباری ص ٢٣٩ ج ١٢ باب حکم المرتد والمرتدہ)

یہ بھی یاد رہے کہ فرقہ باطنیہ کا بانی بھی ابتداء میں ایک صوفی مزاج آدمی تھا۔ مسلمانوں کی عموماً اور اہل بیت کی خصوصاً بہت ہمدردی کا دعویٰ کرتا تھا۔ شروع میں مرزا قادیانی کی طرح لوگوں پر تصوف کا رنگ ظاہر کیا اور کچھ لوگ معتقد ہو گئے تو نبوت کا دعوے دار بن گیا اور اسی جرم میں واجب القتل سمجھا گیا۔

خلیفہ مہدی منصور کے بعد تخت خلافت پر جلوہ افروز ہوئے تو باقی ماندہ باطنیہ کی

١١

صفحہ ١٨

استیصال کی فکر کی اور ان میں سے بہت سے آدمی موت کے گھاٹ اتار دیئے۔

(فتح الباری ص٢٣٩ ج١٢ باب حکم المرتد والمرتدہ)

خلیفہ معتصم باللہ نے اپنے عہد خلافت میں ابن ابی الغراقیہ کو اس لئے قتل کیا کہ وہ اسلام سے مرتد ہوا تھا۔

(شفاء ص٢٥٨ ج٢)

قاضی عیاضؒ نے شفاء میں بہت سے مرتدین کے قتل کا ذکر کرنے کے بعد لکھا ہے: ”وفعل ذالك غير واحد من الخلفاء والملوك باشباههم واجمع علماء وقتهم على صواب فعلهم“ اور بہت سے خلفاء اور بادشاہوں نے مرتدین کے ساتھ ایسا ہی معاملہ کیا ہے اور ان کے زمانہ کے علماء نے ان کے فعل کو موافق شرع ہونے پر اتفاق کیا ہے۔

(شفاء ص٢٥٧،٢٥٨ ج٢)

ہمیں اس مختصر گزارش میں تمام خلفاء کی تاریخ اور ان کے قتل کے واقعات کا استیعاب کرنا نہیں ہے۔ بلکہ چند خلفاء اسلام کے طرزِ عمل کا نمونہ پیش کر کے ایڈیٹر پیغام صلح کو یہ دکھلادینا ہے کہ آج نعمت اللہ مرزائی کے قتل پر کسی وجہ سے جو طرح طرح کے الزام دولتِ کابل پر لگائے جارہے ہیں وہ درحقیقت نہ صرف تمام خلفائے اسلام اور اسلامی سیاست پر عیب لگانا ہے۔ بلکہ خلفائے راشدین کی سنت پر بیہودہ اعتراض اور احکامِ قرآنیہ اور احادیث نبویہ پر الزام ہے۔ (نعوذ باللہ)

آئمہ اربعہؒ اور قتل مرتد

ایڈیٹر پیغام صلح نے جہاں تمام احکام قرآنیہ اور احادیث نبویہ اور تعامل سلف کو پسِ پشت ڈال کر قتلِ مرتد کا انکار کر دیا تو کیا عجب ہے کہ اس نے فقہ حنفی کے ساتھ بھی یہی معاملہ کیا اور نہایت وقاحت کے ساتھ کہہ دیا کہ: ”فقہ حنفی میں اس کی کوئی تصریح نہیں ملتی“۔ ہم یہ دکھلانا چاہتے ہیں کہ مرتد کے لئے سزائے موت قتل نہ فقط فقہ حنفی کا متفق علیہ مسئلہ ہے بلکہ کل فقہائے امت اور بالخصوص آئمہ اربعہؒ کا اجماعی حکم ہے۔

حضرت امام اعظم ابو حنیفہؒ

دیکھو جامع صغیر ص ٢٥١ باب الارتداد والحاق بدار الحرب مصنفہ حضرت امام محمدؒ: ”ويعرض على المرتد حرّاً كان اوعبداً الاسلام فان ابى قتل . “

١٢

صفحہ ١٩

مرتد پر اسلام پیش کیا جائے۔ خواہ وہ آزاد ہو یا غلام۔ پس اگر انکار کرے تو قتل کر دیا جائے۔ اور ملاحظہ ہو: ”قال محمد ان شاء الا مام آخر المرتد ثلاثا ان طمع فی توبة او ساله عن ذالک المرتد وان لم يطمع فى ذالك ولم يساله المرتد فقتله فلاباس بذالك ٠ موطا امام محمدؒ باب المرتد ص ٢٧١“ حضرت امام محمدؒ فرماتے ہیں کہ اگر امام کو یہ توقع ہو کہ یہ مرتد توبہ کر لے گا یا خود مرتد مہلت طلب کرے تو امام کو اختیار ہے کہ تین روز تک اس کے قتل کو مؤخر کر دے۔ اور اگر نہ اس کو توبہ کی توقع ہو اور نہ خود مہلت طلب کرے۔ ایسی صورت میں اگر امام اس کو بلا مہلت دیئے قتل کر دے تو مضائقہ نہیں۔

حضرت امام مالکؒ

حضرت امام مالکؒ فرماتے ہیں کہ میرے نزدیک مرتد کے معاملہ میں وہی قول قابل عمل ہے جو حضرت فاروق اعظمؓ نے فرمایا۔ یعنی مرتد کو تین روز مہلت دے کر توبہ کی طرف بلایا جائے۔ اگر توبہ نہ کرے تو قتل کر دیا جائے۔

(شفاء ص ٢٢٦ ج ٢)

حضرت امام شافعیؒ

حضرت امام شافعیؒ سے اس مسئلہ میں دو روایتیں ہیں۔ اول یہ کہ مرتد کو کوئی مہلت نہ دی جائے ۔ بلکہ اگر وہ وہیں توبہ نہ کرے تو فوراً قتل کر دیا جائے ۔ اور دوسری یہ کہ تین دن کی مہلت دینے کے بعد توبہ نہ کرنے کی صورت میں قتل کر دیا جائے۔

(شفاء ص ٢٢٧٢٢٦ ج ٢)

حضرت امام احمد بن حنبلؒ

امام احمد بن حنبلؒ کا بھی یہی مذہب نقل کیا جاتا ہے۔

(شفاء ص ٢٢٦ ج ٢)

اس قدر گزارش کے بعد ہمارے خیال میں کسی مسلمان کو جس طرح اس مسئلہ کے حکم میں شک و شبہ کی گنجائش نہیں رہتی۔ اسی طرح اس میں بھی شبہ نہیں رہتا کہ مرزائی حضرات قطعیات اسلامیہ سے انکار کر دینے اور بے حیائی کے ساتھ نصوص شرعیہ کے ٹھکرانے کو کوئی بڑی بات نہیں سمجھتے۔ ويحسبونه هيناً وهو عندالله عظيم!

بندہ محمد شفیع عفا اللہ عنہ مدرس دارالعلوم دیوبند ربیع الاول ١٣٤٢ھ

١٣

PDF 20

شیزان کی مصنوعات کا بائیکاٹ کیجئے!

شیزان کی مشروبات ایک قادیانی طائفہ کی ملکیت ہیں۔ افسوس کہ ہزارہا مسلمان اس کے خریدار ہیں۔ اسی طرح شیزان ریستوران جو لاہور، راولپنڈی اور کراچی میں بڑے زور سے چلائے جارہے ہیں۔ اسی طائفے کے سربراہ شاہ نواز قادیانی کی ملکیت ہیں۔ قادیانی شیزان کی سرپرستی کرنا اپنے عقیدہ کا جزو سمجھتا ہے۔ کیونکہ اس کی آمدنی کا سولہ فیصد حصہ چناب نگر (سابقہ ربوہ) میں جاتا ہے۔ جس سے مسلمانوں کو مرتد بنایا جاتا ہے۔ مسلمانوں کی ایک خاصی تعداد ان ریستوران کی مستقل گاہک ہے۔ اسے یہ احساس ہی نہیں کہ وہ ایک مرتد ادارہ کی گاہک ہے اور جو چیز کسی مرتد کے ہاں پکتی ہے وہ حلال نہیں ہوتی۔ شیزان کے مسلمان گاہکوں سے التماس ہے کہ وہ اپنے بھول پن پر نظر ثانی کریں۔ جس ادارے کا مالک ختم نبوت سے متعلق قادیانی چوچلوں کا معتقد ہو مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی مانے اور سواد اعظم اس کے نزدیک کافر ہو اور جہاں ننانوے فیصد ملازم قادیانی ہوں ایک روایت کے مطابق شیزان کی مصنوعات میں چناب نگر کے بہشتی مقبرہ کی مٹی ملائی جاتی ہے۔

اے فرزندان اسلام!

آج فیصلہ کر لو کہ شیزان اور اسی طرح کی دوسری قادیانی مصنوعات کے مشروبات نہیں پیؤ گے اور شیزان کے کھانے نہیں کھاؤ گے۔ اگر تم نے اس سے اعراض کیا اور خوردونوش کے ان اداروں سے باز نہ آئے تو قیامت کے دن حضور ﷺ کو کیا جواب دو گے؟۔ کیا تمہیں احساس نہیں کہ تم اس طرح مرتدوں کی پشت پناہی کر رہے ہو۔

(آغا شورش کاشمیریؒ)

PDF 21

انا خاتم النبيين لا نبي بعدي

میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔

دعاوی مرزا

حضرت مولانا مفتی محمد شفیع دیوبندیؒ

صفحہ ٢٢

بسم الله الرحمن الرحيم!

تعارف

شیخ الاسلام حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ کی ہدایت پر آپ کے شاگردان رشید حضرات اکابر دیوبند نے قادیانیت کی تردید میں رسائل لکھے اور رد قادیانیت کے لٹریچر میں ایک گرانقدر ذخیرہ علمی جمع کردیا۔ تب اس زمانہ میں ہمارے مخدوم حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحبؒ نے ”دعاوی مرزا“ رسالہ تحریر فرمایا۔ نئے حوالجات کے ساتھ پیش خدمت کرنے کی سعادت حاصل کررہے ہیں۔ فالحمدلله اولاً وآخراً!

(مرتب)

بسم الله الرحمن الرحيم!

دعاوی مرزا

الحمدلله وكفى وسلام على عباده الذين اصطفى خصوصاً على سيدنا محمد المجتبى ومن بهديه اهتدى!

یوں تو مہدی بھی ہو عیسیٰ بھی ہو سلمان بھی ہو
تم سبھی کچھ ہو بتاؤ تو مسلمان بھی ہو

دنیا میں بہت سے گمراہ فرقے پیدا ہوئے اور آئے دن ہوتے رہتے ہیں۔ لیکن مرزائی فرقہ ایک عجیب چیستان ہے کہ اس کے دعوے اور عقیدے کا پتہ آج تک خود مرزائیوں کو بھی نہیں لگا۔ جس کی وجہ اصل میں یہ ہے کہ اس فرقے کے بانی مرزا قادیانی نے خود اپنے وجود کو دنیا کے سامنے ایک لاینحل معمے کی شکل میں پیش کیا ہے اور ایسے متناقض اور متضاد دعوے کئے کہ خود ان کی امت بھی مصیبت میں ہے کہ ہم اپنے گرو کو کیا کہیں۔ کوئی تو ان کو مستقل صاحب شریعت نبی کہتا ہے۔ کوئی غیر تشریعی نبی مانتا ہے۔ اور کسی نے ان کی خاطر ایک نئی قسم کا نبی لغوی تراشا ہے اور ان کو مسیح موعود، مہدی، اور لغوی یا مجازی نبی کہتا ہے۔

٢

صفحہ ٢٣

اور یہ حقیقت ہے کہ مرزا قادیانی کا وجود ایک ایسی چیستان ہے جس کا حل نہیں ۔ انہوں نے اپنی تصانیف میں جو کچھ اپنے متعلق لکھا ہے اس کو دیکھتے ہوئے یہ متعین کرنا بھی دشوار ہے کہ مرزا قادیانی انسان ہیں یا اینٹ پتھر ۔ مرد ہیں یا عورت ۔ مسلمان ہیں یا ہندو۔ مہدی ہیں یا حارث ۔ ولی ہیں یا نبی ۔ فرشتے ہیں یا دیو ۔ جیسا کہ دعاوی مندرجہ رسالہ ہذا سے معلوم ہوتا ہے۔ نوٹ: اگر کوئی مرزائی یہ ثابت کر دے کہ یہ عبارت مرزا قادیانی کی نہیں تو فی عبارت دس روپیہ انعام دیا جائے گا۔

مرزائیوں کے تمام فرقوں کو کھلا چیلنج؟

دعویٰ کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ مرزائی امت کے تینوں فرقے مل کر قیامت تک یہ بھی متعین نہیں کر سکتے کہ مرزا قادیانی کا دعویٰ کیا ہے اور وہ کون ہے اور کیا ہے؟ ۔ دنیا سے اپنے آپ کو کیا کہلوانا چاہتا ہے؟۔ لیکن جب ہم ان کی تصانیف کو غور سے پڑھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ دعاوی میں اختلاط واختلاف بھی ان کی ایک گہری چال ہے ۔ وہ اصل میں خدائی کا دعویٰ کرنا چاہتا تھا۔ لیکن سمجھا کہ قوم اس کو تسلیم نہ کرے گی۔ اس لئے تدریج سے کام لیا۔ پہلے خادم اسلام مبلغ بنے ۔ پھر مجدد ہوئے۔ پھر مہدی ہوگئے۔ اور جب دیکھا کہ قوم میں ایسے بیوقوفوں کی کمی نہیں جو ان کے ہر دعوے کو مان لیں ۔ تو پھر کھلے بندوں، نبی، رسول، خاتم الانبیاء وغیرہ سبھی کچھ ہو گئے۔ اور ہونہار مرد نے اپنے آخری دعوے خدائی کی بھی تمہید ڈال دی تھی۔ جس کی تصدیق عبارات مذکورہ ٢٦ تا ٣٠ سے بخوبی ہوتی ہے۔ لیکن شامت سے عمر نے وفا نہ کی۔ ورنہ مرزائی دنیا کا خدا بھی نئی روشنی اور نئے فیشن کا بن گیا ہوتا ۔ خود مرزا قادیانی کی عبارات ذیل میں اس تدریجی ترقی اور اس کے سبب پر ہمارے دعوے کے گواہ ہیں ۔ مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ:

”میری دعوت کے مشکلات میں سے ایک رسالت ایک وحی الہی ایک مسیح موعود کا دعویٰ تھا۔“

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٥٣ خزائن ج ٢١ ص ٦٨)

پھر کہتے ہیں کہ علاوہ اس کے اور مشکلات یہ معلوم ہوتے ہیں کہ بعض امور اس دعوت میں ایسے تھے کہ ہرگز امید نہ تھی کہ قوم ان کو قبول کر سکے۔ اور قوم پر تو اس قدر بھی امید نہ تھی کہ وہ اس امر کو بھی تسلیم کر سکیں کہ بعد زمانہ نبوت وحی غیر تشریعی کا سلسلہ منقطع نہیں ہوا اور قیامت تک باقی ہے۔ نیز حقیقت الوحی کی عبارت ذیل بھی خود اس تدریجی ترقی کی شاہد ہے جس نے صاف

٢

صفحہ ٢٤

معلوم ہوتا ہے کہ پہلے مرزا قادیانی ختم نبوت کے قائل تھے اور کسی نبی کا پیدا ہونا جائز نہ رکھتے تھے۔ اور اپنے آپ کو نبی نہیں کہتے تھے۔ بعد میں ارزانی غلہ نے نبی بنا دیا۔ لکھتے ہیں:

”اسی طرح اوائل میں میرا یہی عقیدہ تھا کہ مجھ کو مسیح ابن مریم سے کیا نسبت ہے۔ وہ نبی تھے اور خدا کے بزرگ مقربین میں سے اور اگر کوئی امر میری فضیلت کے متعلق ظاہر ہوتا تھا تو میں اس کو جزوی فضیلت قرار دیتا تھا مگر بعد میں جو خدائے تعالیٰ کی وحی بارش کی طرح میرے پر نازل ہوئی۔ اس نے مجھے اس عقیدہ پر قائم نہ رہنے دیا اور صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا ۔“

(حقیقت الوحی ص ١٤٩، ١٥٠، روحانی خزائن ج ٢٢ ص ١٥٣، ١٥٤)

اس کے بعد ہم مرزا قادیانی کے دعاوی خود ان کی تصانیف سے مع حوالہ صفحات نقل کرتے ہیں جو دعوے متعدد کتابوں اور مختلف مقامات پر موجود ہیں۔ بغرض اختصار عبارات تو ان میں سے ایک ہی نقل کر دی گئی ہے۔ باقی کے حوالہ صفحات درج کئے گئے ہیں۔ بندہ محمد شفیع دیوبندی عفی اللہ عنہ وعافاہ ٢٠ ربیع الثانی ١٣٤٥ھ

١...... مبلغ اسلام اور مصلح ہونے کا دعویٰ

”یہ عاجز مؤلف براہین احمدیہ حضرت قادر مطلق جل شانہ کی طرف سے مامور ہوا ہے کہ بنی اسرائیلی مسیح کے طرز پر کمال مسکینی وفروتنی اور غربت اور تذلل وتواضع سے اصلاح خلق کے لئے کوشش کرے۔“

(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٣)

٢...... مجدد ہونے کا دعویٰ

”اب بتلائیں کہ اگر یہ عاجز حق پر نہیں ہے تو پھر وہ کون آیا جس نے اس چودھویں صدی کے سر پر مجدد ہونے کا ایسا دعویٰ کیا جیسا کہ اس عاجز نے کیا۔“

(ازالہ اوہام ص ١٥٤، خزائن ج ٣ ص ١٧٩ ملخص)

٣...... محدث ہونے کا دعویٰ

”اس میں کچھ شک نہیں کہ یہ عاجز خدائے تعالیٰ کی طرف سے امت کے لئے محدث ہو کر آیا ہے اور محدث بھی ایک معنے سے نبی ہوتا ہے۔ گو اس کے لئے نبوت تامہ نہیں مگر تاہم جزئی طور پر وہ ایک نبی ہے۔“ (توضیح المرام ص ١٨، خزائن ج ٣ ص ٦٠، ازالہ اوہام ص ٥٨٧، خزائن ج ٣ ص ٤١٦)

م

صفحہ ٢٥

٤...... امام زماں ہونے کا دعویٰ

’’میں لوگوں کے لئے تجھے امام بناؤں گا۔ تو ان کا رہبر ہوگا۔‘‘

(ضرورۃ الامام ص ٢٦‘ خزائن ج ١٣ ص ٤٩٧)

٥...... خلیفہ الٰہی اور خدا کا جانشین ہونے کا دعویٰ

’’میں نے ارادہ کیا ہے کہ اپنا جانشین بناؤں تو میں نے آدم کو یعنی تجھے پیدا کیا۔‘‘

(حقیقۃ الوحی ص ٧٢‘ روحانی خزائن ج ٢٢ ص ٧٦)

٦...... مہدی ہونے کا دعویٰ

اشتہار معیار الاخبار وریویو آف ریلیجنز نومبر و دسمبر ١٩٠٣ء وغیرہ یہ دعویٰ مرزا قادیانی کی اکثر تصانیف میں بکثرت موجود ہے۔ اس لئے نقل عبارت کی حاجت نہیں۔

٧...... حارث مددگار مہدی ہونے کا دعویٰ

’’واضح ہو کہ یہ پیشین گوئی جو ابو داؤد کی صحیح میں درج ہے کہ ایک شخص حارث نام یعنی حارث ماوراء النہر سے یعنی سمرقند کی طرف سے نکلے گا جو آل رسول کو تقویت دے گا۔ جس کی امداد ونصرت ہر ایک مومن پر واجب ہوگی۔ الہامی طور پر مجھ پر ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ پیشین گوئی اور مسیح کے آنے کی پیشین گوئی جو مسلمانوں کا امام اور مسلمانوں میں سے ہوگا دراصل یہ دونوں پیشین گوئیاں متحد المضمون ہیں۔ اور دونوں کا مصداق یہی عاجز ہے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص ٧٩‘ روحانی خزائن ج ٣ ص ١٤١)

٨...... نبی امتی اور بروزی وظلی یا غیر تشریعی ہونے کا دعویٰ

’’اور چونکہ وہ بروز محمدی جو قدیم سے موعود تھا وہ میں ہوں۔ اس سے بروزی رنگ کی نبوت مجھے عطا کی گئی۔‘‘

(اشتہار ایک غلطی کا ازالہ ص ٨‘ روحانی خزائن ج ١٨ ص ٢١٥)

٩...... نبوت ورسالت اور وحی کا دعویٰ

’’سچا خدا وہی ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔‘‘ (دافع البلاء ص ١١‘ خزائن ج ١٨ ص ٢٣١) ’’حق یہ ہے کہ خدا کی وہ پاک وحی جو میرے پر نازل ہوتی ہے اس میں ایسے لفظ رسول اور مرسل اور نبی کے موجود ہیں۔ نہ ایک دفعہ بلکہ ہزار دفعہ۔‘‘ (ایک غلطی کا ازالہ ص ٨‘ خزائن ج ١٨ ص ٢٠٦)

٥

صفحہ ٢٦

”میں خدا کی تیئس برس کی متواتر وحی کو کیونکر رد کر سکتا ہوں۔ میں اس کی اس پاک وحی پر ایسا ہی ایمان لاتا ہوں جیسا کہ ان تمام وحیوں پر ایمان لاتا ہوں جو مجھ سے پہلے ہو چکی ہیں۔“

(حقیقت الوحی ص ١٥٠، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٤)

امت محمدیہ کے چالیس کروڑ مسلمان کافر جہنمی ہیں

”کفر دو قسم پر ہے۔ ایک کفر کہ ایک شخص اسلام سے ہی انکار کرتا ہے اور آنحضرتﷺ کو خدا کا رسول نہیں مانتا۔ دوسرے یہ کفر کہ مثلاً وہ مسیح موعود کو نہیں مانتا اور اس کو باوجود اتمام حجت کے جھوٹا جانتا ہے۔ جس کے ماننے اور سچا جاننے کے بارہ میں خدا اور رسول نے تاکید کی ہے اور پہلے نبیوں کی کتابوں میں بھی تاکید پائی جاتی ہے۔ پس اس لئے کہ وہ خدا اور رسول کے فرمان کا منکر ہے کافر ہے۔ اور اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ دونوں قسم کے کفر ایک ہی قسم میں داخل ہیں۔“

(حقیقت الوحی ص ١٧٩، خزائن ج ٢٢ ص ١٨٥)

”اور اس بات کو تقریباً نو برس کا عرصہ گزر گیا کہ جب میں دہلی گیا تھا اور میاں نذیر حسین غیر مقلد کو دعوت دین اسلام کی گئی۔“

(اربعین نمبر ٤ حاشیہ ص ١٢، خزائن ج ١٧ ص ٤٣١ حاشیہ)

یہی دعویٰ سیرت الابدال‘ انجام آتھم وغیرہ میں بھی مذکور ہے۔ اور کہتے ہیں کہ: ”اب دیکھو خدا نے میری وحی اور میری تعلیم اور میری بیعت کو نوح کی کشتی قرار دیا اور تمام انسانوں کے لئے اس کو مدارِ نجات ٹھہرایا۔“

(اربعین نمبر ٤ ص ٦، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥)

جس کو چاہے قبول اور جس کو چاہے ردّی کی طرح پھینک دے

”اور مجھے بتلایا گیا تھا کہ تیری خبر قرآن اور حدیث میں موجود ہے اور تو ہی اس آیت کا مصداق ہے۔ ھو الذی ارسل رسولہ بالھدی ودین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ! (اعجاز احمدی ص ٧ خزائن ج ١٩ ص ١١٣) اس عبارت میں نبوت تشریعی کے ساتھ ساتھ یہ بھی دعویٰ ہے کہ ہمارے رسولﷺ اس آیت کے مصداق نہیں جو صریح کفر ہے اور کہتا ہے کہ: ”اب دیکھو کہ

٦

صفحہ ٢٧

صاحب الشریعت افتراء کر کے ہلاک ہوتا ہے نہ ہر ایک مفتری تو اول تو یہ دعویٰ بے دلیل ہے۔ خدا نے افتراء کے ساتھ شریعت کی کوئی قید نہیں لگائی۔ ماسوائے اس کے یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیا چیز ہے۔ جس نے اپنی وحی کے ذریعہ چند امر اور نہی بیان کئے۔ وہی صاحب شریعت ہو گیا۔ پس اس تعریف کی رو سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں۔ کیونکہ میری وحی میں امر بھی اور نہی بھی۔ مثلاً یہ الہام ”قل للمؤمنین یغضوا من ابصارھم ذالک ازکی لھم“ یہ براہین احمدیہ میں درج ہے اور اس میں امر بھی ہے اور نہی بھی اور اس پر تئیس برس کی مدت بھی گزر گئی اور ایسا ہی اب تک میری وحی میں امر بھی ہوتے ہیں اور نہی بھی۔

(اربعین نمبر ٤ ص ٦‘ خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥)

پھر لکھتے ہیں: ”چونکہ میری وحی میں امر بھی اور نہی بھی اور شریعت کے ضروری احکام کی تجدید بھی۔“

(اربعین نمبر ٤ ص ٦‘ خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥ حاشیہ)

”اور ہم اس کے جواب میں خدا کی قسم کھا کر بیان کرتے ہیں کہ میرے اس دعوے کی حدیث بنیاد نہیں بلکہ قرآن اور وہ وحی ہے جو میرے پر نازل ہوئی۔ ہاں! تائیدی طور پر وہ حدیثیں بھی پیش کرتے ہیں جو قرآن شریف کے مطابق ہیں اور میری وحی کے معارض نہیں اور دوسری حدیثوں کو ہم ردی کی طرح پھینک دیتے ہیں۔“

(اعجاز احمدی ص ١٤٠‘ ١٣٠‘ خزائن ج ١٩ ص ١٤٠)

١٣......اپنے لئے دس لاکھ معجزات کا دعویٰ

”اور میں اس خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اسی نے مجھے بھیجا ہے اور اسی نے میرا نام نبی رکھا ہے اور اسی نے مجھے مسیح موعود کے نام سے پکارا ہے اور اس نے میری تصدیق کے لئے بڑے بڑے نشانات ظاہر کئے جو تین لاکھ تک پہنچتے ہیں۔“ (تتمہ حقیقت الوحی ص ٦٨‘ خزائن ج ٢٢ ص ٥٠٣) اور براہین احمدیہ حصہ پنجم میں: ”دس لاکھ تعداد معجزات شمار کی ہے۔“

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٥٨‘ خزائن ج ٢١ ص ٥٧)

١٤......تمام انبیاء سابقین سے افضل ہونے کا دعویٰ اور سب کی توہین

”بلکہ سچ تو یہ ہے کہ اس نے اس قدر معجزات کا دریا رواں کر دیا ہے کہ باستثناء ہمارے نبیﷺ کے باقی تمام انبیاء علیہم السلام میں ان کا ثبوت اس کثرت کے ساتھ قطعی اور یقینی طور پر محال ہے اور خدا نے اپنی حجت پوری کر دی ہے۔ اب چاہے کوئی قبول کرے یا نہ کرے۔“

(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٣٦‘ خزائن ج ٢٢ ص ٥٧٤)

٧

صفحہ ٢٨

١٥...... آدم علیہ السلام ہونے کا دعویٰ

لکھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے ان کو اس کلام میں آدم علیہ السلام قرار دیا ہے: ”یــــــا آدم اسکن انت وزوجك الجنة “

(اربعین نمبر ٣ ص ٤٣‘ روحانی خزائن ج ١٧ ص ٤١١‘ ٤١٢)

١٦...... ابراہیم علیہ السلام ہونے کا دعویٰ

”آیت: ’’واتخذوا من مقام ابراہیم مصلی‘‘ اس کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ جب امت محمدیہ میں بہت فرقے ہو جائیں گے۔ تب آخر زمانہ میں ایک ابراہیم پیدا ہوگا اور ان سب فرقوں میں وہ فرقہ نجات پائے گا کہ اس ابراہیم کا پیرو ہوگا۔“

(اربعین نمبر ٣ ص ٤٢‘ خزائن ج ١٧ ص ٤٢١)

”میں آدم ہوں‘ میں شیث ہوں‘ میں نوح ہوں‘ میں ابراہیم ہوں‘ میں اسحٰق ہوں‘ میں اسماعیل ہوں‘ میں یعقوب ہوں‘ میں یوسف ہوں‘ میں موسیٰ ہوں‘ میں داؤد ہوں‘ میں عیسیٰ ہوں‘ اور آنحضرت ﷺ کے نام کا مظہر اتم ہوں۔ یعنی ظلی طور پر میں محمد اور احمد ہوں۔“

(حاشیہ حقیقت الوحی ص ٧٢‘ خزائن ج ٢٢ ص ٧٦)

٢٦...... عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام ہونے کا دعویٰ

”اس خدا کی تعریف جس نے تجھے مسیح بن مریم بنایا۔“ (حاشیہ حقیقت الوحی ص ٧٢‘ خزائن ج ٢٢ ص ٧٥) یہ دعویٰ تقریباً سب ہی کتابوں میں موجود ہے۔

٢٧...... عیسیٰ علیہ السلام افضل ہونے کا دعویٰ اور ان کو مغلظات‘ بازاری گالیاں

ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو ...... اس سے بہتر غلام احمد ہے

(دافع البلاء ص ٢٠‘ خزائن ج ١٨ ص ٢٤٠)

٨

صفحہ ٢٩

”خدا نے اس امت میں سے مسیح موعود بھیجا جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے۔ مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میری جان ہے اگر مسیح ابن مریم میرے زمانہ میں ہوتا تو وہ کام جو میں کرسکتا ہوں ہرگز نہ کر سکتا۔ اور وہ نشان جو مجھ سے ظاہر ہو رہے ہیں ہرگز نہ دکھلا سکتا۔“ (حقیقت الوحی ص ١٤٨ خزائن ج ٢٢ ص ١٥٢) ”آپ کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے۔ تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زنا کار کسبی عورتیں تھیں جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔“ (حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم ص ٧ خزائن ج ١١ ص ٢٩١) ”پس اس نادان اسرائیلی نے ان معمولی باتوں کا پیشین گوئی کیوں نام رکھا۔“ (ضمیمہ انجام آتھم ص ٤ خزائن ج ١١ ص ٢٨٨) ”یہ بھی یاد رہے کہ آپ کو کسی قدر جھوٹ بولنے کی بھی عادت تھی۔“

(حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم ص ٥ خزائن ج ١١ ص ٢٨٩)

٢٨...... نوح علیہ السلام سے افضل ہونے کا دعویٰ اور ان کی توہین

”اور خدائے تعالیٰ میرے لئے اس کثرت سے نشان دکھلا رہا ہے کہ اگر نوح علیہ السلام کے زمانہ میں وہ نشان دکھلائے جاتے تو وہ لوگ غرق نہ ہوتے۔“

(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٣٧ خزائن ج ٢٢ ص ٥٧٥)

٢٩...... مریم علیہا السلام ہونے کا دعویٰ

”پہلے خدا نے میرا نام مریم رکھا اور بعد اس کے ظاہر کیا کہ اس مریم میں خدا کی طرف سے روح پھونکی گئی اور پھر فرمایا کہ روح پھونکنے کے بعد مریمی مرتبہ عیسوی مرتبہ کی طرف منتقل ہو گیا اور اس طرح مریم سے عیسیٰ پیدا ہو کر ابن مریم کہلایا۔“

(حاشیہ حقیقت الوحی ص ٧٢ روحانی خزائن ج ٢٢ ص ٧٥)

٣٠...... آنحضرت ﷺ کے ساتھ برابری کا دعویٰ

”یعنی محمد مصطفیٰ ﷺ اس واسطہ کو ملحوظ رکھ کر اور اس میں ہو کر اور اس نام محمد واحمد سے مسمی ہو کر میں رسول بھی ہوں اور نبی بھی۔“ (ایک غلطی کا ازالہ ص ٧ روحانی خزائن ج ١٨ ص ٢١١) ”بار ہا بتلا چکا ہوں کہ میں بموجب آیت: ”وآخرین منھم لما یلحقوا بھم“ بروزی طور پر وہی خاتم الانبیاء ہوں۔“ (ایک غلطی کا ازالہ ص ٨ خزائن ج ١٨ ص ٢١٢) اکثر ان اوصاف کو اپنے لئے ثابت کیا ہے جو آنحضرت ﷺ کے لئے مخصوص ہیں۔

٩

صفحہ ٣٠

٣١......ہمارے نبیﷺ سے افضلیت کا دعویٰ

"ہمارے نبی اکرمﷺ کے معجزات کی تعداد صرف تین ہزار لکھی ہے۔" (تحفہ گولڑویہ ص٤٠ روحانی خزائن ج١٧ ص١٥٣) اور اپنے معجزات کی تعداد براہین احمدیہ حصہ پنجم ص٥٦ خزائن ج٢١ ص٧٢ پر دس لاکھ بتلائی ہے: "لہ خسف القمر المنير وان لى غسا القمران المشرقان اتنکر ٠" اس کے لئے یعنی آنحضرتﷺ کے لئے چاند کے خسوف کا نشان ظاہر ہوا اور میرے لئے چاند اور سورج دونوں کا۔ اب کیا تو انکار کرے گا۔" (اعجاز احمدی ص٧١ روحانی خزائن ج١٩ ص١٨٣) اس میں آپﷺ پر افضلیت کے دعوے کے ساتھ معجزہ شق القمر کا انکار اور توہین بھی ہے۔

٣٢......میکائیلؑ ہونے کا دعویٰ

"اور دانیال نبی نے اپنی کتاب میں میرا نام میکائیل رکھا ہے۔"

(حاشیہ اربعین نمبر ٣ ص٢٥ خزائن ج١٧ ص٤١٣)

٣٣......خدا کی مثل ہونے کا دعویٰ

"اور عبرانی میں لفظی معنے میکائیل کے ہیں خدا کے مانند۔"

(حاشیہ اربعین نمبر ٣ ص٢٥ خزائن ج١٧ ص٤١٣)

٣٤......اپنے بیٹے کا خدا کی مثل ہونے کا دعویٰ

"انا نبشرك بغلام مظهر الحق والعلى كان الله نزل من السماء ٠"

(استفتاء ص٨٥ خزائن ج٢٢ ص٧١٢)

٣٥......خدا کا بیٹا ہونے کا دعویٰ

"انت منى بمنزلة اولادى"

(حاشیہ اربعین نمبر ٤ ص١٩ خزائن ج١٧ ص٤٥٢)

٣٦......اپنے اندر خدا کے اتر آنے کا دعویٰ

آپ کو الہام ہوا: "آواہن" جس کی تفسیر خود ہی یہ کرتے ہیں کہ: "خدا تیرے اندر اتر آیا۔"

(کتاب البریہ ص٨٥ خزائن ج١٣ ص١٠٢)

١٠

صفحہ ٣١

٣٧...... خود خدا ہونا بحالت کشف اور زمین و آسمان پیدا کرنا

”اور میں نے اپنے کشف میں دیکھا کہ میں خود خدا ہوں اور یقین کیا کہ وہی ہوں۔

(پھر کہتا ہے) اور اس کی الوہیت مجھ میں موجزن ہے۔ (پھر کہتا ہے) اور اس حالت میں یوں کہہ رہا تھا کہ ہم ایک نیا نظام اور آسمان اور نئی زمین چاہتے ہیں تو میں نے پہلے تو آسمان و زمین کو اجمالی صورت میں پیدا کیا۔ جس میں کوئی ترتیب اور تفریق نہ تھی۔ پھر میں نے منشاء حق کے موافق اس کی ترتیب و تفریق کی اور میں دیکھتا تھا کہ میں اس کے خلق پر قادر ہوں۔ پھر میں نے آسمان دنیا کو پیدا کیا اور کہا: ”انا زينا السماء الدنيا بمصابیح ۔“ پھر میں نے کہا اب ہم انسان کو مٹی کے خلاصہ سے پیدا کریں گے۔ پھر میری حالت کشف سے الہام کی طرف منتقل ہو گئی اور میری زبان پر جاری ہوا: ”اردت ان استخلف فخلقت آدم انا خلقنا الانسان فی احسن تــقــویــم ۔“ یہ الہامات ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے میرے پر ظاہر ہوئے۔“ (کتاب البریہ ص ٨٥،٨٦ خزائن ج ١٣ ص ١٠٣،١٠٥، آئینہ کمالات اسلام ص ٥٦٤ خزائن ج ٥ ص ایضاً)

٣٨...... مرزا قادیانی میں حیض کا خون ہونا اور پھر اس کا بچہ ہونا

”منشی الٰہی بخش کی نسبت یہ الہام ہوا۔ یہ لوگ خون حیض تجھ میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ یعنی ناپاکی پلیدی اور خباثت کی تلاش میں ہیں اور خدا چاہتا ہے کہ جو اپنی متواتر نعمتیں جو تیرے پر ہیں دکھلائے اور خون حیض سے تجھے کیونکر مشابہت ہو اور وہ کہاں تجھ میں باقی ہے۔ پاک تغیرات نے اس خون کو خوبصورت لڑکا بنا دیا اور وہ لڑکا جو اس خون سے بنا میرے ہاتھ سے پیدا ہوا۔“

(حاشیہ اربعین نمبر ٤ ص ١٩ خزائن ج ١٧ ص ٤٥٢)

٣٩...... حاملہ ہونا

عبارت مذکورہ۔

(کشتی نوح ص ٤٧ روحانی خزائن ج ١٩ ص ٥٠)

٤٠...... حجر اسود ہونے کا دعویٰ

الہام یہ ہے کہ:

یکے پائے من مے بوسد...... و من میگفتم کہ حجر اسود منم

(حاشیہ اربعین نمبر ٤ ص ١٥ روحانی خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥)

١١

صفحہ ٣٢

٤١....... بیت اللہ ہونے کا دعویٰ

”خدا نے اپنے الہامات میں میرا نام بیت اللہ بھی رکھا ہے۔“

(حاشیہ اربعین نمبر ٤ ص ١٥‘ خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥)

٤٢....... سلمان ہونے کا دعویٰ

الہام ہوا: ”انت سلمان منی یاذالبرکات . “

(تذکرہ ص ٦٠٣)

٤٣...... کرشن ہونے کا دعویٰ

”آریہ قوم کے لوگ کرشن کے ظہور کا ان دنوں میں انتظار کرتے ہیں۔ وہ کرشن میں ہی ہوں ۔“

(تتمہ حقیقت الوحی ص ٨٥‘ خزائن ج ٢٢ ص ٥٢١)

٤٤...... آریوں کا بادشاہ ہونے کا دعویٰ

”اور یہ دعویٰ صرف میری طرف سے نہیں بلکہ خدا نے بار بار میرے پر ظاہر کیا ہے کہ جو کرشن آخری زمانہ میں ظاہر ہونے والا تھا وہ تو ہی ہے۔ آریوں کا بادشاہ ۔“

(تتمہ حقیقت الوحی ص ٨٥‘ خزائن ج ٢٢ ص ٥٢٢)

نبی اور عیسیٰ تو اپنی زبانی بن گیا مگر بادشاہت میں زبانی جمع خرچ سے کام نہیں چلتا۔ اس لئے پھر کہا کہ بادشاہت سے مراد آسمانی بادشاہت ہے۔ فقط!

١٢

PDF 33

انا خاتم النبیین لا نبی بعدی

میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں

مسیح موعود کی پہچان

حضرت مولانا مفتی محمد شفیع دیوبندیؒ

صفحہ ٣٤

بسم اللہ الرحمن الرحیم

مسیح موعود کی پہچان

تعارف

الحمدللہ وکفٰی وسلام علٰی عبادہ الذین اصطفٰی!

امت محمدیہ علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کے آخری دور میں بتقاضائے حکمت الٰہیہ دجال اکبر کا خروج مقدر و مقرر تھا۔ جس کے شر سے تمام انبیائے سابقین اپنی اپنی امتوں کو ڈراتے آئے تھے۔ (ابوداؤد ج٢ ص١٣٤ باب خروج الدجال عن انسؓ) اور حسب تصریحات احادیث متواترہ اس کا فتنہ تمام اگلے پچھلے فتنوں سے اشد ہوگا۔ اس کے ساتھ ساحرانہ قوتیں اور خوارق عادات بے شمار ہوں گے۔

اسی کے ساتھ زمرۂ انبیاء میں خاتم الانبیاء ﷺ کی مخصوص شان اور خاتم الامم کے ساتھ خاص عنایات حق کے اظہار کے لئے باقتضائے حکمت الٰہیہ یہ بھی مقدر و مقرر تھا کہ فتنہ دجال سے امت کو بچانے اور دجال کو شکست دینے کے لئے حضرت مسیح عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں نزول فرمائیں گے جو اپنی مخصوص شان مسیحی سے مسیح دجال کا خاتمہ کریں گے۔

خروج دجال اور نزول عیسیٰ علیہ السلام کے واقعات امت مرحومہ کے آگے آنے والے تمام فتن اور واقعات میں سب سے اہم تھے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر اپنی امت پر سب سے زیادہ رحیم و شفیق رسول اللہ ﷺ نے ان واقعات کی تبیین و تعیین میں اور مسیح دجال و مسیح عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کی علامات و نشانات بتلانے میں انتہائی تفصیل و توضیح سے کام لیا ہے۔ سو سے زیادہ احادیث ہیں جو مختلف اوقات میں صحابہ کرامؓ کے مختلف مجامع میں مختلف عنوانات کے ساتھ بیان کی گئی ہیں۔ عیسیٰ ابن مریم علیہ الصلوٰۃ والسلام کے حالات و علامات اور بوقت نزول ان کی مکمل کیفیات کا اظہار فرمایا۔

یہ احادیث درجہ تواتر کو پہنچی ہوئی ہیں۔ اکابر محدثین نے ان کو متواتر قرار دیا ہے اور خبر متواتر سے جو چیز ثابت ہو اس کا قطعی اور یقینی ہونا تمام اہل عقل اور اہل دین کے نزدیک باتفاق

٢

صفحہ ٣٥

مسلم ہے۔ ان تمام احادیث معتبرہ کو احقر نے اپنے عربی رسالہ ”التصریح بما تواتر فی نزول المسیح“ میں جمع کر دیا ہے اور اس میں ہر حدیث پر نمبر ڈال دیئے ہیں۔ اس رسالہ میں صرف حدیث کا نمبر اور کتاب کا حوالہ دینے پر اکتفاء کیا گیا ہے اور انشاء اللہ کسی وقت ان احادیث کو مع ترجمہ وتشریح بھی شائع کر دیا جائے گا۔ (اب یہ ترجمہ وتشریح کا کام برخوردار عزیز مولوی محمد رفیع عثمانی سلمہ مدرس دارالعلوم کراچی نے کر دیا ہے۔ جو ”علامات قیامت اور نزول مسیح“ کے نام سے شائع ہو چکا ہے۔ محمد شفیع ٣٠ صفر ١٣٩٤ھ )

علاوہ ازیں خود قرآن کریم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جتنی علامات اور نشانیاں بتلائی ہیں اتنی کسی رسول اور نبی کے متعلق نہیں بتلائیں۔ یہاں تک کہ خود سرور کائنات آنحضرت ﷺ جن پر قرآن اترا ہے ان کی بھی مادی اور جسمانی علامات ونشانات قرآن نے اس تفصیل سے نہیں بتلائے۔ تمام انبیاء علیہم السلام کے درمیان صرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ قرآن کا یہ معاملہ اور رسول کریم ﷺ کی تعلیمات میں اس پر مزید در مزید اضافہ بلاشبہ اس لئے تھا کہ آخر زمانہ میں ان کا اس امت میں تشریف لانا مقدر و مقرر تھا۔ اس لئے ضروری سمجھا گیا کہ ان کی علامات ونشانات امت کو ایسی وضاحت سے بتلا دیئے جائیں کہ پھر کسی کو کسی اشتباہ والتباس کی ادنیٰ گنجائش نہ رہے۔ اس رسالہ میں جمع کی ہوئی تمام علامات ونشانات کو دیکھنے کے بعد ہر شخص یہ کہہ اٹھے گا کہ کسی انسان کی تعیین کے لئے اس سے زیادہ نشانات وعلامات نہیں بتلائے جاسکتے اور تمام انبیاء علیہم السلام میں سے اس کام کے لئے صرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے انتخاب میں شاید یہ حکمت بھی ہو کہ ان کی پیدائش اور خلقت و تربیت تمام بنی نوع انسان سے جدا ایک خاص معجزانہ طریق پر ہوئی ہے۔ ان کے حالات کسی دوسرے انسان کے ساتھ ملتبس اور مشتبہ ہو ہی نہیں سکتے۔

الغرض قرآن وحدیث نے آخر زمانہ میں آنے والے مسیح عیسیٰ علیہ السلام کی تعیین اور اس میں پیدا ہونے والے ہر التباس واشتباہ کو رفع کرنے کے لئے اس قدر اہتمام فرمایا کہ اس سے زیادہ اہتمام عادتاً ناممکن ہے۔ تا کہ کوئی جھوٹا مدعی اپنے آپ کو مسیح موعود کہہ کر امت کو گمراہ نہ کر سکے۔ (قرآن مجید سے نزول عیسیٰ علیہ السلام کا مکمل ثبوت حضرت الاستاذ العلامہ مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ کی کتاب ”عقیدۃ الاسلام فی نزول عیسیٰ علیہ السلام“ میں اور حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ شیخ الحدیث جامعہ اشرفیہ لاہور کی کتاب ”کلمۃ اللہ فی حیات روح اللہ“ (احتساب قادیانیت جلد دوم میں اس رسالہ سمیت حضرت مولانا کاندھلویؒ

٣

صفحہ ٣٦

کی جملہ رد قادیانیت پر کتب شائع ہو گئی ہیں۔ فلحمد للہ !) میں تفصیل کے ساتھ موجود ہے اور اس مسئلہ سے متعلق احادیث احقر کے عربی رسالہ ”التصريح بماتواتر فی نزول المسیح“ میں مذکور ہیں۔)

لیکن شاباش ہے مرزا غلام احمد قادیانی کو کہ انہوں نے قرآن وحدیث کے اس تمام اہتمام کے مقابلہ میں اکھاڑا جمادیا اور ان میں بیان کی ہوئی تمام چیزوں پر پانی پھیر کر خود مسیح موعود بن بیٹھے اور اس سے زیادہ حیرت ان لوگوں پر ہے جنہوں نے قرآن وحدیث اور آنحضرت ﷺ پر ایمان رکھنے کے دعویدار ہوتے ہوئے ان کو مسیح موعود مان لیا۔ لیکن اس امت میں سے کسی شخص کا مسیح موعود بننا بغیر اس کے ممکن نہیں تھا کہ قرآن وحدیث کی قائم کی ہوئی تمام مضبوط ومستحکم بنیادوں کو اکھاڑ کر ایک نیا دین نئی ملت بنائی جائے۔ اس لئے مرزا قادیانی نے:

کیا کہ حضرت عیسیٰ ؑ کی وفات ہوچکی ہے۔ ان کی قبر کشمیر میں ہے۔

بلکہ ان کا شبیہ و مثیل آئے گا۔

آنحضرت ﷺ پر ختم ہوچکی ہے۔ اب کوئی نبی پیدا نہیں ہو سکتا۔ عیسیٰ ؑ تو پہلے کے نبی ہیں۔ ان کا آنا ختم نبوت کے منافی نہیں تھا۔ اگر کوئی ان کا مثیل و شبیہ آئے تو مسئلہ ختم نبوت اس کی راہ میں حائل ہوتا ہے۔ اس لئے اس اجماعی مسئلہ کی تحریف کرنا پڑی اور نبوت کی خود ساختہ قسمیں بنا کر بعض اقسام کا سلسلہ جاری قرار دیا۔

اس کے نتیجے میں اپنی ایک مٹھی بھر جماعت کے سوا امت کے ستر کروڑ مسلمانوں کو کافر ٹھہرایا۔

ایک ملت نہیں ہو سکتے۔ کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ کسی نبی کے ماننے والے بھی مسلمان کہلائیں اور اس کو جھوٹا سمجھنے والے بھی مسلمان رہیں۔ اس طرح ملت اسلامیہ کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے ایک علیحدہ

٤

صفحہ ٣٧

ملت کی تعمیر کی گئی۔ یہ سارے کفریات اس کے نتیجے میں آئے کہ قرآن وحدیث کی بے شمار تصریحات کے خلاف اپنے آپ کو مسیح موعود قرار دیا۔

اس لئے احقر نے اس مختصر رسالہ میں آخر زمانہ میں آنے والے مسیح ؑ کی تمام نشانیاں اور علامات بحوالہ قرآن وحدیث جمع کردی ہیں۔ تا کہ ہر دیکھنے والا ایک نظر میں دیکھ لے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے جو جو علامات بیان کی ہیں مرزا غلام احمد قادیانی میں ان میں سے کوئی موجود ہے یا نہیں۔

ہم نے سہولت کے لئے ان حالات و علامات کو ایک جدول کی صورت میں پیش کیا ہے جس کے ایک خانے میں آنے والے مسیح، حضرت مسیح ؑ کی علامات ذکر کی گئی ہیں۔ دوسرے خانے میں ان کا حوالہ قرآن یا حدیث سے دیا گیا ہے۔ احادیث کی عبارت طویل تھی۔ اس لئے تمام احادیث کو مع ان کے حوالوں کے ’التصریح بماتواتر فی نزول المسیح“ میں جمع کر دیا ہے۔ اس جدول میں صرف حدیث کا نمبر لکھا جائے گا جس کو اصل حدیث دیکھنا ہو اس نمبر کے حوالہ سے ”التصریح بماتواتر فی نزول المسیح“ میں دیکھے۔ تیسرے خانے میں مرزا قادیانی کے حالات وعلامات کا مقابلہ دکھلانا تھا۔

مگر ہمیں تو ان علامات میں سے کوئی بھی مرزا قادیانی میں نظر نہیں آئی ۔ بلکہ صراحۃً اس کے مخالف علامات وحالات معلوم ہوئے۔ مخالف حالات اور وہ بھی ذاتی اور گھریلو معاملات سے متعلق اگر بیان کئے جائیں تو دیکھنے والے شاید اس کو تہذیب کے خلاف سمجھیں ۔

اس لئے ہم نے یہ خانہ سب جگہ خالی چھوڑ دیا ہے کہ مرزا قادیانی کو مسیح موعود ماننے والے خدا کو حاضر و ناظر جان کر ایمان داری سے اس خانہ کو خود پر کریں۔ شاید اللہ تعالیٰ اسی کو ان کے لئے ذریعہ ہدایت بنا دیں۔

وماذالك على الله بعزيز!

محمد شفیع عفا اللہ عنہ مدرس دار العلوم دیوبند شعبان ١٣٤٥ھ

٥

صفحہ ٣٨

ذٰلِكَ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ قَوْلَ الْحَقِّ الَّذِيْ فِيْهِ يَمْتَرُوْنَ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مسیح موعود کا نام، کنیت اور لقب

مسیح موعود کے خاندان کی پوری تفصیل

صرف ماں سے پیدا ہوئے ۔ بَشَرٌ وَّ لَمْ اَكُ بَغِيًّا ؕ

عہ (ہارون سے اس جگہ ہارون نبی علیہ السلام مراد نہیں ۔ کیونکہ وہ تو مریمؑ سے بہت پہلے گزر چکے تھے، بلکہ ان کے نام پر حضرت مریمؑ کے بھائی کا نام ہارون رکھا گیا تھا (کذا رواہ مسلم والنسائی والترمذی مرفوعًا)۔

٦

صفحہ ٣٩

والدہ مسیح موعود (علیہ السلام) حضرت مریم٤ کے بعض حالات

حضرت مسیح (علیہ السلام) کے ابتدائی حالات استقرارِ حمل وغیرہ

٧

صفحہ ٤٠

٢٥ اس گوشہ کا مشرقی جانب میں ہونا ۔ مَكَانًا شَرْقِيًّا ان کا پردہ ڈالنا ۔ فَاتَّخَذَتْ مِنْ دُوْنِهِمْ حِجَابًا

٢٦ ان کے پاس بشکلِ انسان فرشتہ کا فَاَرْسَلْنَا اِلَيْهَا رُوْحَنَا آنا ۔ فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِيًّا

٢٧ مریم کا پناہ مانگنا ۔ اِنِّیْٓ اَعُوْذُ بِالرَّحْمٰنِ مِنْكَ

٢٨ فرشتہ کا من جانب اللہ ولادتِ حضرت لِاَهَبَ لَكِ غُلَامًا زَكِيًّا عیسیٰ علیہ السلام کی خبر دینا ۔

٢٩ مریم کا اس خبر پر تعجب کرنا کہ بغیر صحبت اَنّٰی یَکُوْنُ لِيْ غُلٰمٌ وَّلَمْ مرد کے کیسے بچہ ہوگا ؟ يَمْسَسْنِیْ بَشَرٌ

٣٠ فرشتہ کا منجانب اللہ یہ پیغام دینا کہ اللہ قَالَ رَبُّكِ هُوَ عَلَيَّ هَيِّنٌ تعالیٰ پر یہ سب آسان ہے ۔

٣١ بحکمِ خداوندی بغیر صحبت مرد کے اُن کا فَحَمَلَتْهُ حاملہ ہونا ۔

٣٢ دردِ زہ کے وقت ایک کھجور کے درخت فَاَجَآءَهَا الْمَخَاضُ کے نیچے جانا ۔ اِلٰی جِذْعِ النَّخْلَةِ

آپ کی ولادت کس جگہ اور کس طرح پر ہوئی

٣٣ مسکونہ مکان سے دور ایک باغ کے گوشہ فَانْتَبَذَتْ بِهٖ مَكَانًا میں ولادت ہوئی ۔ قَصِيًّا ۔

٣٤ حضرت مریم ایک کھجور کے درخت کے اِلٰی جِذْعِ النَّخْلَةِ تَنہ پر ٹیک لگائے ہوئے تھیں ۔

٣٥ ولادت کے بعد مریم کا بوجہ حیاء کے قَالَتْ يٰلَيْتَنِیْ مِتُّ قَبْلَ پریشان ہونا اور لوگوں کی تہمت سے هٰذَا وَكُنْتُ نَسْيًا مَّنْسِيًّا ڈرنا ۔

٣٦ درخت کے نیچے سے فرشتہ کا آواز دینا فَنَادٰىهَا مِنْ تَحْتِهَا

٨

صفحہ ٤١

کہ گھبراؤ نہیں اللہ نے تمھیں ایک سردار دیا ہے ۔ اَلَّا تَحْزَنِیْ قَدْ جَعَلَ رَبُّکِ تَحْتَکِ سَرِیًّا

ولادت کے بعد حضرت مریم کی غذا تازہ کھجوریں ۔ تُسَاقِطْ عَلَیْکِ رُطَبًا جَنِیًّا ۔

حضرت مریم کا آپ کو گود میں اٹھا کر گھر لانا ۔ فَاَتَتْ بِہٖ قَوْمَہَا تَحْمِلُہٗ

ان کی قوم کا تہمت رکھنا اور بدنام کرنا ۔ یٰمَرْیَمُ لَقَدْ جِئْتِ شَیْئًا فَرِیًّا

حضرت مریم سے رفع تہمت کے لئے من جانب اللہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا کلام فرمانا ۔ اور یہ فرمانا کہ میں نبی ہوں قَالَ اِنِّیْ عَبْدُ اللّٰہِ اٰتٰنِیَ الْکِتٰبَ وَ جَعَلَنِیْ نَبِیًّا ۔

حضرت مسیح موعود کے خصائص

مسیح موعود کا مُردوں کو بحکم خدا زندہ کرنا وَ اُحْیِ الْمَوْتٰی

برص کے بیمار کو شفا دینا ۔ اُبْرِئُ الْاَکْمَہَ وَ الْاَبْرَصَ

مادر زاد اندھے کو بحکم الٰہی شفا دینا ۔

مٹی کی چڑیوں میں بحکم الٰہی جان ڈالنا ۔ فَاَنْفُخُ فِیْہِ فَیَکُوْنُ طَیْرًا بِاِذْنِ اللّٰہِ

آدمیوں کے کھائے ہوئے کھانے کو بتا دینا کہ کیا کھایا تھا ؟ وَ اُنَبِّئُکُمْ بِمَا تَاْکُلُوْنَ وَ مَا تَدَّخِرُوْنَ فِیْ بُیُوْتِکُمْ

جو چیزیں لوگوں کے گھروں میں چھپی ہوئی رکھی ہیں اُن کو بن دیکھے بتا دینا ۔ " " "

کفار بنی اسرائیل کا حضرت عیسیٰ کے قتل کا ارادہ کرنا اور حفاظتِ الٰہی ۔ وَ مَکَرُوْا وَ مَکَرَ اللّٰہُ وَ اللّٰہُ خَیْرُ الْمَاکِرِیْنَ

٩

صفحہ ٤٢

٤٩ کفار کے نرغہ کے وقت آپ کا آسمان پر زندہ اٹھانا ۔ اِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ اِلَيَّ ۔

حضرت مسیح موعودؑ کا حلیہ

٥٠ آپ کا وجیہ ہونا ۔ وَجِيْهًا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ

٥١ آپ کا قد و قامت درمیانہ ہے ۔ حدیث ٧٣ بروایت ابو داؤد و ابن ابی شیبہ احمد ابن حبان و طبرانی بحوالہ فتح

٥٢ رنگ سفید سرخی مائل ہے ۔ . . .

٥٣ بالوں کی لمبائی دونوں شانوں تک ہوگی ۔ . . .

٥٤ بالوں کا رنگ بہت سیاہ چمک دار ہوگا ۔ جیسے نہانے کے بعد بال ہوتے ہیں ۔ . . .

٥٥ بال گھنگرالے ہوں گے ۔ . . . (بعض روایات میں ہے کہ سیدھے بال ہونگے جیسا کہ حدیث ١٥ میں ہے ممکن ہے کہ اختلاف دو وقتوں کے لحاظ سے ہو)

٥٦ صحابہؓ میں آپ کے مشابہ عروہ بن مسعودؓ ہیں . . .

٥٧ آپ کی خوراک لوبیا اور جو چیزیں آگ پر نہ پکیں ۔ حدیث ٧٢ رواہ الدیلمی

آخر زمانہ میں آپ کا دوبارہ نزول

٥٨ قربِ قیامت میں پھر آسمان سے اُترنا ۔ حدیث ٧١ لغایت ٧٥

٥٩ نزول کے وقت آپ کا لباس : دو زرد رنگ کے کپڑے پہنے ہوئے ہوں گے حدیث ٧٤ ابو داؤد وغیرہ

١٠

صفحہ ٤٣

حدیث ٤٤ ابن عساکر

حدیث ٤٥ درمنثور

بوقت نزول آپ کے بعض حالات

پر رکھے ہوئے اتریں گے ۔

حدیث ٢٥ مسلم ۔ ابو داؤد ۔

ترمذی ۔ احمد ۔

دجال کو قتل کریں گے ۔

حدیث ٤٨ ابن عساکر

سانس کی ہوا پہنچ جائے گی وہ مر جائے گا ۔

حدیث ٥١ صحیح مسلم

جہاں تک آپ کی نظر جائے گی

مقامِ نزول اور وقتِ نزول کی مکمل تعیین و توضیح

حدیث ٥١ مسلم

" "

میں نزول ہوگا ۔

" "

" "

بوقتِ نزول حاضرین کا مجمع اور انکی کیفیت

کے مسجد میں موجود ہوگی جو دجال سے لڑنے کے لئے جمع ہوئے ہوں گے ۔

حدیث ٧٢ مسلم

صفحہ ٤٤

حدیث ٦٩ دیلمی

حدیث ١٣ و ٤١ تا ٤٤

حدیث ٣ مسلم واحمد

حدیث ٤١ ابو داود ، ابن ماجہ

ابن حبان ، ابن خزیمہ

حدیث ٤١ ابو نعیم

بعد نزول آپ کتنے دنوں دنیا میں رہیں گے

حدیث ٧٢ ابوداؤد الطیالسی

احمد ، ابن حبان ، ابن جریر

بعد نزول آپ کا نکاح اور اولاد

حدیث ٧٢، فتح الباری ص ١٥٨

حدیث ١٠١ کتاب الخطط للمقریزی

حدیث ٧٢ مذکور

نزول کے بعد مسیح موعود کے کارنامے

حدیث ٧١ بخاری ومسلم

١٢

صفحہ ٤٥

حدیث ١٧ بخاری و مسلم

کو مٹائیں گے ۔

حدیث ١٣

کھلوائیں گے اور اس کے پیچھے دجال ہوگا

" "

کریں گے ۔

" "

" "

کے پاس واقع ہوگا ۔

" "

" "

کر دیئے جائیں گے ۔

" "

" "

کہ ہمارے پیچھے یہودی چھپا ہوا ہے ۔

حدیث ١٧، ابوداؤد، احمد،

مٹ جائیں گے ۔

ابن ابی شیبہ، ابن حبان، ابن جریر

حدیث ١٧ بخاری و مسلم

کوئی کافر ہی باقی نہ رہے گا ۔

حدیث ١٧ مسند احمد

نہ رہے گا ۔

حدیث ١٧ مذکور

کہ کوئی قبول نہ کرے گا ۔

حدیث ١٧ مسلم، مسند احمد

کریں گے ۔

١٣

صفحہ ٤٦

٩٥ حضرت مسیح مقام فج الروحا میں تشریف حدیث ٧٢ مسلم ، مسند احمد لے جائیں گے ۔ ٩٦ حج یا عمرہ یا دونوں کریں گے ۔ " " " " ٩٧ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ اقدس پر تشریف لے جائیں گے . درمنثور ٩٨ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے سلام کا جواب دیں گے جس کو سب حاضرین سنیں گے ۔

مسیح موعودؑ لوگوں کو کس مذہب پر چلائیں گے

٩٩ آپ قرآن وحدیث پر خود بھی عمل کریں گے حدیث ٥٥ اشاعہ اور لوگوں کو بھی اس پر چلائیں گے ۔

مسیح موعودؑ کے زمانہ میں ظاہری و باطنی برکات

١٠٠ ہر قسم کی دینی ودنیوی برکات نازل حدیث ٥٨ مسلم ، ابوداؤد ہوں گے ۔ ترمذی ، مسند احمد ۔ ١٠١ سب کے دلوں سے بغض وحسد اور کینہ نکل جائے گا ۔ حدیث ٧١ مسلم وغیرہ ١٠٢ ایک انار اتنا بڑا ہو گا کہ ایک جماعت کے لئے کافی ہوگا ۔ حدیث ٥٨ مذکور ١٠٣ ایک دودھ دینے والی اونٹنی لوگوں کی ایک جماعت کے لئے کافی ہوگی ۔ ١٠٤ ایک دودھ والی گائے ایک قبیلہ کیلئے کافی ہو جائیگی۔ " " ١٠٥ ہر ڈنک والے زہریلے جانور کا ڈنک " " وغیرہ نکال لیا جائے گا ۔ حدیث ١١٤ ابوداؤد، ابن ماجہ

١٤

صفحہ ٤٧

میں ہاتھ دے گی تو وہ اس کو نقصان نہ پہنچائے گا ۔

حدیث ١٣ ابو داؤد ابن ماجہ

کو کوئی تکلیف نہ پہنچا سکے گا ۔

" "

جیسے کتا ، ریوڑ کی حفاظت کے لئے رہتا ہے ۔

" "

جائے گی جیسے برتن پانی سے بھر جاتا ہے ۔

" "

" "

یہ برکات کتنی مدت تک رہیں گی ؟

حدیث ٧ مسلم واحمد ، حاکم

لوگوں کے حالات متفرقہ جو مسیح موعودؑ کے وقت ہونگے

حدیث ٧ مسلم

ایک لشکر چلے گا ۔

" "

مجمع ہو گا ۔

" "

ہو جائیں گے ۔

" "

" "

" "

١٥

صفحہ ٤٨

حدیث ١٧ مسلم

" "

پہلے خروج دجال کی غلط خبر مشہور ہونا

مشغول ہوں گے تو خروج دجال کی غلط خبر مشہور ہو جائے گی۔

حدیث ١٧ مسلم

آئیں گے تو دجال نکل آئے گا

" "

اس زمانہ میں عرب کا حال

سب کے سب بیت المقدس میں ہوں گے۔

حدیث ١٧ ابوداؤد، ابن ماجہ

لوگوں کے بقیہ حالات

ہو جائیں گے (یہ پہاڑ ملک شام میں ہے)

حدیث ١٧ احمد، حاکم، طبرانی

مبتلا ہوں گے۔ یہاں تک کہ بعض لوگ اپنی کمان کا چلہ جلا کر کھا جائیں گے۔

" " " "

دے گا کہ تمہارا فریاد رس آگیا۔

" "

پیٹ بھرے ہوئے کی آواز ہے۔

" "

١٦

صفحہ ٤٩

غزوۂ ہندوستان کا ذکر

کرے گا اور اس کے بادشاہوں کو قید کرے گا۔

حدیث ٤٦ ابو نعیم

" "

علیہ السلام کو ملک شام میں پائے گا ۔

" "

حدیث ٤٩ ابن نجار

" "

" "

پر تمام دنیا سے مستغنی ہو جائیں گے

" "

مسیح موعودؑ کے زمانہ کے اہم واقعات

آپ کے نزول سے پہلے دجال کا خروج

حدیث ٥٠ مذکور

دجال کی علامات

ہو گا ک ، ف ، ر

حدیث ٣١ مسند احمد

" "

" "

١٧

صفحہ ٥٠

باقی نہ رہے گی جس کو وہ فتح نہ کرے۔

حدیث ٧١ مسند احمد

سے محفوظ رہیں گے۔

" "

فرشتوں کا پہرہ ہو گا۔ جو دجال کو اندر نہ گھسنے دیں گے۔

حدیث ٧٣

تو ظریب احمر میں سبخہ (کھاری زمین) کے ٹیلہ پر جا کر ٹھیرے گا۔

" "

منافقین کو مدینہ سے نکال پھینکیں گے اور تمام منافق مرد و عورت دجال کے ساتھ ہو جائیں گے۔

حدیث ٧٦ مسند احمد

دوزخ ہوگی مگر حقیقت میں اُس کی جنت دوزخ اور دوزخ جنت ہو گی۔

حدیث ٧٣ مسند احمد

برابر اور دوسرا مہینہ کے برابر اور تیسرا ہفتہ کے برابر ہوگا۔ اور پھر باقی ایام عادت کے موافق ہوں گے

" "

کانوں کا درمیانی فاصلہ چالیس ہاتھ ہوگا

" "

سے کلام کریں گے۔

" "

١٨

صفحہ ٥١

ہو جائے گی

حدیث ٥٠ مذکور

" "

کر دے گا۔

حدیث ٣٨٧ طبرانی

تو فوراً باہر آکر اس کے پیچھے ہو جائیں گے

" "

تلوار سے اس کے دو ٹکڑے بیچ سے کر دیگا اور پھر اُس کو بلائے گا تو وہ صحیح سالم ہو کر ہنستا ہوا سامنے آجائے گا۔

" "

جن کے پاس جڑاؤ تلواریں اور ساج ہوں گے۔

حدیث ١٢٧ ابوداؤد ،

ابن ماجہ وغیرہ

ایک فرقہ دجال کا اتباع کرے گا۔ اور ایک فرقہ اپنی کاشت کاری میں لگا رہے گا اور ایک فرقہ دریائے فرات کے کنارے پر اس کے ساتھ جہاد کرے گا ۔

حدیث ٧٢ ابن ابی شیبہ ،

عباس بن حمید ، حاکم ، بیہقی ،

ابن ابی حاتم ۔

اور دجال پاس ایک بستی میں لشکر بھیجیں گے

" "

سفید) گھوڑے پر سوار ہوگا اور یہ سارا لشکر شہید ہو جائے گا ان میں سے ایک بھی واپس نہ آئے گا ۔

" "

١٩

صفحہ ٥٢

دجال کی ہلاکت اور اس کے لشکر کی شکست

حدیث ١٣ مذکور

حدیث ١٣ ، ١٤

یاجوج ماجوج کا نکلنا اور ان کے بعض حالات

حدیث ٥ مذکور

" "

" "

" "

مسیح موعود کا یاجوج ماجوج کیلئے بددعا فرمانا اور انکی ہلاکت

حدیث ٥ مذکور

" "

٢٠

صفحہ ٥٣

حضرت عیسیٰ کا جَبَلِ طُور سے اُترنا

کو لیکر جبل طور سے زمین پر اتریں گے :

حدیث ٥٨ مذکور

کی بدبو سے بھری ہوئی ہوگی ۔

" "

کہ بدبو دور ہو جائے ۔

" "

زمین دُھل جائے گی ۔

" "

پھلوں سے بھر جائے گی ۔

" "

مسیح موعود کی وفات اور اس سے قبل و بعد کے حالات

کہ میرے بعد ایک شخص کو خلیفہ بنائیں جس کا نام مُقعد ہے ۔

حدیث ٥٩ الاشاعة للبرزنجی

حدیث ٥٥ و ٥٧ مسند احمد و موطا فقط

میں چوتھی قبر آپ کی ہوگی ۔

" "

ارشاد کے لئے مُقعد کو خلیفہ بنائیں گے ۔

" "

" "

لیا جائے گا ۔

" "

٢١

صفحہ ٥٤

١٧٥ یہ واقعہ مقعد کی موت سے تین سال حدیث ٥٥ و ١٥ مسند احمد بعد ہوگا۔ و حافظ ۔ ١٧٦ اس کے بعد قیامت کا حال ایسا ہوگا جیسے کوئی پورے نومہینہ کی حاملہ کہ معلوم نہیں کب ولادت ہو جائے۔ " ١٧٧ اس کے بعد قیامت کی بالکل قریبی " علامات ظاہر ہوں گی۔

ذٰلك عیسیٰ ابن مریم قول الحق الذی فیه یمترون!

مسیح موعود علیہ السلام کی مکمل سوانح حیات اور عمر بھر کے کارنامے اور ان کے مسکن و مدفن کا پورا جغرافیہ اس تفصیل و تحقیق کے ساتھ قرآنی آیات اور حدیثی روایات میں جب ایک سمجھ دار آدمی کے سامنے آتا ہے تو خود بخود یہ سوال پیدا ہو جاتا ہے کہ لاکھوں انبیاء علیہم السلام کی عظیم الشان جماعت میں سے صرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی کیا خصوصیت ہے کہ ان کے تذکرہ کو قرآن و حدیث نے اتنی زیادہ اہمیت دی ہے کہ کسی اور نبی کے لئے اس کا عشر عشیر بھی مذکور نہیں۔ یہاں تک کہ سید الاولین والآخرین خاتم الانبیاء ﷺ کے حالات طیبات اور سیرت و شمائل بھی قرآن عزیز میں اس تفصیل و توضیح کے ساتھ نظر نہیں آتے۔ حالانکہ تمام انبیاء و رسل کی جماعت پر آپ ﷺ کی سیادت و عظمت باجماع امت ثابت ہونے کے علاوہ خود حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بعثت کے مقاصد میں بتصریح قرآن مجید یہ بھی ایک اہم مقصد ہے کہ دنیا میں آپ ﷺ کی تشریف آوری کا اعلان فرماتے ہوئے آپ ﷺ کی سیادت کا سکہ قلوب پر بٹھا دیں۔ ان حالات پر نظر کرتے ہوئے یہ یقین کرنا پڑتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے تذکرہ کی یہ اہمیت ضرور کسی بڑی مصلحت و حکمت پر مبنی ہے۔

پھر جب ذرا تامل سے کام لیا جاتا ہے تو صاف معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ خصوصی اہمیت بھی ان عنایات الٰہیہ کا نتیجہ ہے جو ازل سے امت محمدیہ کی قسمت میں مقدر ہو چکی تھی اور حضرت خاتم الانبیاء والمرسلین ﷺ کی شان رحمت اللعالمین کا ایک مظہر ہے۔ جس نے امت کے لئے مذہبی شاہراہ کو اتنا ہموار اور صاف کر چھوڑا ہے کہ اس کا لیل و نہار برابر ہے۔ اس راستہ کے قدم قدم پر ایسے نشانات بتلا دیئے ہیں کہ چلنے والے کو کہیں التباس پیش نہیں آسکتا۔ یعنی قیامت تک جتنے قابل اقتداء انسان پیدا ہونے والے تھے ان میں اکثر کے نام

٢٢

صفحہ ٥٥

لے لے کر ان کی مفصل کیفیات پر امت کو مطلع فرما دیں تا کہ اپنے اپنے وقت میں یہ بزرگان دین ظاہر ہوں تو امت ان کے قدم لے اور ان کے افعال واقوال کو اپنا اسوہ بنائے۔ پھر ارشاد و ہدایت کے سلسلہ میں چونکہ حضرت مسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام نبوت کی شان امتیاز رکھتے ہیں۔ اس لئے ان کے ذکر کی اہمیت سب سے زیادہ ہونا لازمی تھی۔ کیونکہ نبی کی شان تمام دنیا سے برتر ہے۔ اس کی ادنیٰ توہین وتنقیص کا اشارہ بھی کفر صریح ہے۔ تمام مرشدین اور مجددین امت کی شخصی معرفت میں اگر کوئی شبہ باقی بھی رہے تو بجز اس کے کہ ان کی برکات و فیوض سے محرومی ہو۔ امت کے ایمان کا خطرہ نہیں ہے۔ بخلاف مسیح ؑ کے کہ اگر ان کی علامات اور پہچان میں کوئی شبہ کا موقع یا التباس کی گنجائش رہے اور امت مرحومہ ان کو نہ پہچانے تو یہاں کفر وایمان کا سوال پیدا ہو جاتا ہے اور امت کا ایمان خطرہ میں آ جاتا ہے۔ اندیشہ قوی ہوتا ہے کہ نہ پہچاننے کی وجہ سے امت آپ کی توہین وتنقیص میں مبتلا ہو کر ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھے اور پھر دجالی فتنوں اور یاجوج ماجوج کی بلاؤں کا شکار ہو جائے۔

اس لئے رحمت اللعالمین ﷺ کا فرض تھا کہ مسیح ؑ کی پہچان کو اتنا روشن فرما دیں کہ کسی بصیر انسان کو ان سے آنکھ چرانے کی مجال نہ رہے۔ خدا کی ہزاراں ہزار رحمتیں اور بے شمار درود اس حریص بالمؤمنین اور رؤف و رحیم رسول ﷺ پر جس نے اس مسئلہ کو اتنا صاف اور روشن فرما دیا کہ اس سے زیادہ عادۃً ناممکن ہے۔

دنیا میں ایک شخص کی تعریف اور پہچان کے لئے اس کا نام اور ولدیت وسکونت وغیرہ دو تین اوصاف بتلا دینا ایسا کافی ہو جاتا ہے کہ پھر اس میں کوئی شک باقی نہیں رہتا۔ ایک کارڈ پر جب یہ دو تین نشان لکھ دیئے جاتے ہیں تو مشرق سے مغرب میں ٹھیک اپنے مکتوب الیہ کے پاس پہنچتا ہے۔ اور کسی دوسرے کو یہ مجال نہیں ہوتی کہ اس پر اپنا حق ثابت کر دے یا چٹھی رساں سے یہ کہہ کر لے لے کہ میں ہی اس کا مکتوب الیہ ہوں۔

لیکن ہمارے آقا نبی کریم ﷺ نے صرف انہیں نشانات کے بتلا دینے پر اکتفاء نہیں فرمایا۔ بلکہ مسیح ؑ کے نام کی جو چٹھی مسلمانوں کے ہاتھوں میں دی ہے اس کی پشت پر پتہ کی جگہ ان کی ساری سوانح عمری اور شمائل وخصائل حلیہ لباس اور عملی کارنامے بلکہ ان کے مقام نزول اور جائے قرار اور مسکن ومدفن کا پورا جغرافیہ تحریر فرما دیا ہے۔ اور پھر اسی پر بس نہیں فرمائی بلکہ آپ کا شجرہ نسب اور آپ کے متعلقین تک کے احوال کو مفصل لکھ دیا ہے۔ مگر افسوس کہ اس پر بھی بعض قزاق اس فکر میں ہیں کہ رسول مقبول ﷺ کی اس تمام کوشش پر (خاکم بدہن) خاک ڈال کر اس

٢٣

صفحہ ٥٦

چوتھی کو بجالائیں اور اس طرح دنیا میں مسیح موعود بن بیٹھیں۔

مرزائیوں سے چند سوال

مجھ کو یہ پوچھنا ہے مرزا سے
یہ کبھی ہوش میں بھی آتے ہیں

لوگ جو ناواقفیت یا کسی مغالطہ وغلط فہمی سے مرزائیت کے جال میں پھنسے ہوئے ہیں میں ان کو خدا اور اس کے رسول ﷺ کا واسطہ دے کر دلی خیر خواہی اور ہمدردی سے عرض کرتا ہوں کہ یہ دین و آخرت کا معاملہ ہے۔ ہر شخص کو اپنی قبر میں اکیلا جانا اور حساب دینا ہے۔ کوئی جتھا اور جماعت وہاں کام نہ آئے گی۔ خدا کے لئے ہوش میں آئیں اور عقل خداداد سے کام لیں اور سمجھیں کہ کیا مرزا غلام احمد قادیانی انہیں اوصاف وعلامات اور نشانات کے آدمی تھے جو سید الانبیاء ﷺ نے مسیح موعود کی پہچان کے لئے امت کے سامنے رکھے ہیں۔

دمشق کے ضلع یا صوبہ میں واقع ہے؟۔

کھائی تھیں؟۔

٢٤

صفحہ ٥٧

پا کر شفاء دی ہے؟۔

کے زمانہ میں نصرانیت کو ترقی ہوئی؟۔

ہم نے نقشہ میں درج کئے ہیں؟۔

نہیں ملتا؟۔ یا اور افلاس، فقر و فاقہ اور ذلت ان کے قدموں کی برکت سے دنیا میں پھیل گئے؟۔

١؎ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ مرزا قادیانی میں باوجود مسیح یا مثیل مسیح کے دعویٰ یہ وصف نہ ہوا۔ ورنہ ساری دنیا خالی ہو جاتی۔ کیونکہ یہود و نصاریٰ اور ہنود واقعی کافر ہیں ہی۔ مرزا غلام احمد قادیانی کے نزدیک دنیا کے کروڑوں مسلمان بھی کافر ہیں۔ (حقیقت الوحی ص ١٧٩ خزائن ج ٢٢ ص ١٨٥) میرا ماننا مدار نجات کے لئے ضروری ہے۔ (اربعین نمبر ٤ ص ٦، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥) میرا مخالف جہنمی ہے۔ (انجام آتھم ص ٦٢، خزائن ج ١١ ص ٦٢، تذکرہ ص ١٦٣، ٣٣٦) جس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں۔ (تذکرہ ص ٦٠٧)

٢٥

صفحہ ٥٨

ایک انار ایک جماعت کے لئے ایک بکری کا دودھ ایک قبیلہ کے لئے کافی ہو جائے؟۔

وخلاف کی طرح ڈالی؟۔ ٭

سے تمام زمین آلودہ نجاست و بد بو ہوئی اور مرزا قادیانی کی دعا سے بارش نے اس کو دھویا ہے؟۔

الغرض مسیح ؑ کے حالات و نشانات کا مکمل نقشہ بحوالہ قرآن وحدیث آپ کے سامنے ہے۔ آنکھیں کھول کر ایک ایک نشان اور ایک ایک علامت کو مرزا قادیانی میں تلاش کیجئے اور خدا تعالیٰ کی نظروں سے غائب ہیں تو مخلوق ہی سے شرمائیے کہ رسول مقبول ﷺ کی یہ چٹھی جس پر یہ نشانات اور یہ پتہ لکھا ہوا ہے۔ آپ کس کے سپرد کرتے ہیں؟۔ اور اگر کہیں مرزا غلام احمد قادیانی سے مراد عیسیٰ اور چراغ بی بی سے مریم اور دمشق اور مدینہ سے قادیان اور نصرانیت کے مٹانے سے مراد اس کی ترقی اور عزت سے مراد ذلت ہے تو اس خانہ ساز مرزائی لغت پر قرآن اور احادیث نبویہ کی اس تحریف بلکہ ان کا مضحکہ بنانے کو کیا واقعی تمہاری عقل قبول کرتی ہے؟۔ اور کیا دنیا میں کوئی انسان اس پر راضی ہو سکتا ہے۔ اور اگر تحریفات و تاویلات اور استعارات کی یہی گرم بازاری ہے تو پھر کیا دنیا کا کوئی کام یا کوئی معاملہ درست رہ سکتا ہے؟۔

ہم تو جب جانیں کہ مرزا قادیانی یا ان کی امت کسی عیسیٰ نامی دمشقی آدمی کا ایک کارڈ چٹھی رساں سے یہ کہہ کر وصول کر لیں کہ آسمان میں قادیان ہی کا نام دمشق ہے اور میرا ہی نام عیسیٰ

٢٦

صفحہ ٥٩

ہے اور چراغ بی بی ہی کا نام مریم ہے۔ کبھی یہ کہہ کر دیکھو کہ چٹھی رساں اور ساری دنیا تمہیں کیا کہے گی؟۔

ہاں! مگر رسول کریم ﷺ کی اس چٹھی کو لاوارث سمجھ کر راستہ میں اڑانا چاہتے ہیں۔ مگر یاد رہے کہ آج بھی آپ ﷺ کے وہ وارث موجود ہیں جو آپ ﷺ ہی کی لکیر کے فقیر ہیں اور اسی کو اپنی بادشاہی سمجھتے ہیں اور اسی عہد پر جان دے دینے کو اپنی فلاح دارین جانتے ہیں جو نبی کریم ﷺ سے باندھ چکے ہیں:

اگرچہ خرمن عمرم غم تو داد بباد
بخاك پائے عزیزت کہ عہد نشکستم

اس لئے ہم بعون اللہ تعالیٰ ببانگ دہل کہتے ہیں کہ مرزائی امت کتنا ہی زور لگائے مگر یہ والا نامہ اسی مکتوب الیہ کو ملے گا جس کے نام پر آج سے تیرہ سو برس پہلے آنحضرت ﷺ نے تحریر فرمایا اور بروایت ابو ہریرہؓ ان کو سلام پہنچایا ہے۔

واللہ باللہ! ہمیں مرزا قادیانی سے کوئی عداوت نہیں۔ کون چاہتا ہے کہ گھر آئے ہوئے مسیح کو اور ان کی مسیحائی کو ٹھکرائے؟۔ بالخصوص ایسے وقت جب کہ قوم کو مسیح کی سخت حاجت ہے۔ مگر بات وہی ہے کہ مسیح تو ماننے کے لئے تیار ہیں مگر کوئی مسیحائی بھی تو دکھلائے:

ہوں میں پروانہ مگر شمع تو ہو رات تو ہو
جان دینے کو ہوں موجود کوئی بات تو ہو
دل بھی حاضر سر تسلیم بھی خم کو موجود
کوئی مرکز ہو کوئی قبلہ حاجات تو ہو
دل تو بے چین ہے اظہار ارادات کے لئے
کسی جانب سے کچھ اظہار کرامات تو ہو
دل کشا بادہ صافی کا کسے ذوق نہیں
باطن افروز کوئی پیر خرابات تو ہو

مسلمانو! آپ کی مذہبی غیرت وحمیت اور خداداد عقل وفہم کو کیا ہوا کہ آپ کو مشاہدات اور بدیہیات کے انکار کی طرف بلایا جاتا ہے اور آپ ذرا عقل سے کام نہیں لیتے:

اے کشتہ ستم! تیری غیرت کو کیا ہوا؟

٢٧

صفحہ ٦٠

خدا کے لئے ذرا ہوش میں آؤ اور اس فتنہ کے انجام پر نظر ڈالو کہ اگر یہی مرزائی لغت اور قادیانی زبان اور اس کے عجیب استعارات رہے تو قرآن وحدیث اور مذہب اسلام کا تو کہنا کیا ساری دنیا کا گھروندا اور عالم کا نظام برباد ہو جائے گا۔ ایک شخص اگر زید کے گھر پر دعویٰ کرے کہ یہ میرا ہے اور مرزا قادیانی کی طرح کہے کہ آسمانی دفتروں میں میرا ہی نام زید لکھا ہوا ہے اور مالک مکان کی جتنی علامات اور نشانات سرکاری کاغذوں میں درج ہیں ان سب کا مستحق برنگ استعارات میں ہوں تو بتلائیے کہ آپ کے پاس اس کا کیا جواب ہوگا؟ ۔ اسی طرح اگر ایک مرد کسی غیر منکوحہ پر اسی حیلہ سے اپنی بی بی ہونے کا دعویٰ کرے یا کوئی عورت اسی مرزائی استعارہ کے بل پر کسی غیر مرد کو اپنا خاوند بتائے یا کوئی ملازم دوسرے ملازم کی تنخواہ وصول کرلے یا کوئی بھنگی بادشاہی محل میں گھس کر شاہی بیگمات کو اسی مرزائی فلسفہ کی طرف دعوت دے۔ یا ایک قتل عمد کا مجرم اپنا جرم اسی مرزائی استعارات کے ذریعہ کسی دوسرے غریب کے سر ڈال دے اور کہے کہ آسمانی دفتروں میں اسی کا نام وہ ہے جو قاتل کے لئے لکھا ہوا ہے تو فرمائیے کہ مرزائی اصول اور ان کے استعارات کی دنیا کو جائز رکھتے ہوئے کسی کو کیا حق ہے کہ ان لوگوں کی زبان بند کر سکے یا ہاتھ روک سکے اور جب نوبت اس پر پہنچ گئی تو خود سمجھئے کہ دین ومذہب تو کیا خود دنیا داری کے بھی لالے پڑ جائیں گے۔

الغرض دنیا کے تمام معاملات بیع وشراء لین دین، نکاح و طلاق، جزاء و سزا میں ایک شخص کی تعیین کے لئے جب اس کا نام اور ولدیت وسکونت وغیرہ دو چار وصف ذکر کر دیئے جاتے ہیں تو اس شخص کی تعیین وتمیز ایسی حتمی اور یقینی ہو جاتی ہے کہ اس میں کسی شبہ کی گنجائش نہیں رہتی اور کسی دوسرے کی مجال نہیں ہوتی کہ اس کے احوال واقوال کو اپنی طرف منسوب کر سکے اور اس کی مملوکات میں تصرف کر سکے۔ نہ یہاں کوئی استعارہ چل سکتا ہے نہ مجاز۔ دنیا کے تمام کارخانے اسی اسلوب پر قائم ہیں۔

غضب ہے کہ جس شخص کے متعلق خاتم الانبیاء ﷺ نے دو چار نہیں، دس بیس نہیں، ایک سو اسی (١٨٠) علامات و نشانات امت کو بتلائے ہوں۔ امت کو اب بھی اس کی تعیین میں شبہ رہے اور آپ ﷺ کے صاف وصریح ارشادات کو استعارات و مجاز کہہ کر ٹال دے:

ہرگز باور نمے آید زروئے اعتقاد
ایں ہمہ بافتن و دین پیمبر داشتن

٢٨

صفحہ ٦١

بلکہ بلاشبہ یہ آنحضرت ﷺ کی صریح تکذیب اور قرآن وحدیث کو جھٹلانا ہے۔ (نعوذ باللہ منہ) یا اللہ تو ہماری قوم کو عقل دے اور عقل سے کام لینے کی توفیق دے کہ اس جیسے بدیہیات کے انکار میں مبتلا نہ ہوں۔

واللہ الہادی وعلیہ التکلان العبد الضعیف محمد شفیع الدیوبندی غفرلہ ولوالدیہ ومشائخہ مدرس دارالعلوم دیوبند شعبان ١٣٤٦ھ

٢٩

PDF 62

ماہنامہ لولاک

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی دفتر ملتان سے شائع ہونے والا ﴿ماہنامہ لولاک﴾ جو قادیانیت کے خلاف گرانقدر جدید معلومات پر مکمل دستاویزی ثبوت ہر ماہ مہیا کرتا ہے۔ صفحات 64، کمپیوٹر کتابت، عمدہ کاغذ وطباعت اور رنگین ٹائیٹل، ان تمام تر خوبیوں کے باوجود زر سالانہ فقط یک صد روپیہ، منی آرڈر بھیج کر گھر بیٹھے مطالعہ فرمائیے۔

رابطہ کے لئے:

دفتر مرکزیہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان

ہفت روزہ ختم نبوت کراچی

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا ترجمان ﴿ہفت روزہ ختم نبوت﴾ کراچی گزشتہ بیس سالوں سے تسلسل کے ساتھ شائع ہو رہا ہے۔ اندرون و بیرون ملک تمام دینی رسائل میں ایک امتیازی شان کا حامل جریدہ ہے۔ جو مولانا مفتی محمد جمیل خان صاحب مدظلہ کی زیر نگرانی شائع ہوتا ہے۔ زر سالانہ صرف 350/= روپے

رابطہ کے لئے:

دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت جامع مسجد باب الرحمت پرانی نمائش ایم اے جناح روڈ کراچی نمبر 3

PDF 63

انا خاتم النبیین لا نبی بعدی

میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔

وصول الافکار

الی اصول الاکفار

حضرت مولانا مفتی محمد شفیع دیوبندیؒ

صفحہ ٦٤

بسم الله الرحمن الرحيم!

حکیم الامت حضرت تھانوی قدس سرہ کی رائے گرامی

رسالہ ”وصول الافکار الی اصول الاکفار“ کے متعلق

مولانا عبدالماجد صاحب دریا آبادی کے ایک مفصل خط پر تنقید کے آخر میں حضرت تھانویؒ نے مندرجہ ذیل جملے تحریر فرمائے ہیں۔ یہ خط ٧ شعبان ١٣٥١ھ کا تحریر فرمودہ ہے اور ماہنامہ ”النور“ تھانہ بھون ربیع الثانی ١٣٥٢ھ میں شائع ہوا تھا اور پھر امداد الفتاویٰ مبوب کی جلد چہارم ص ٥٣٩ پر شائع ہوا ہے۔ وہ جملے یہ ہیں ۔

”مولوی محمد شفیع صاحب نے اصول تکفیر میں ایک مختصر اور جامع مانع اور نافع رسالہ لکھا ہے۔ بعض اجزاء میں میں بھی الجھا تھا۔ مگر ان کی تقریر و تحریر سے قریب قریب مسئلہ صاف ہوگیا۔ وہ عنقریب چھپ جاوے گا۔ میں نے اس کا نام رکھا ہے۔ وصول الافکار الی اصول الاکفار۔“ ٧ شعبان ١٣٥١ھ!

بسم الله الرحمن الرحيم!

الحمد لله وكفى وسلام على عباده الذين اصطفى خصوصاً سيدنا محمدن المجتبى ومن بهديه اهتدى . أما بعد!

کسی مسلمان کو کافر یا کافر کو مسلمان کہنا دونوں جانب سے نہایت ہی سخت معاملہ ہے۔ قرآن کریم نے دونوں صورتوں پر شدید نکیر فرمائی ہے۔ مسلمان کو کافر کہنے کے متعلق ارشاد ہے:

”يا ايها الذين امنوا اذا ضربتم فى سبيل الله فتبينوا ولا تقولوا لمن القى اليكم السلام لست مؤمنا . تبتغون عرض الحيوة الدنيا فعند الله

٢

صفحہ ٦٥

مغانم كثيرة ٠ كذلك كنتم من قبل فمن الله عليكم فتبينوا، ان الله كان بما تعلمون خبيرا ، نساء : ٩٤ “

”اے ایمان والو! جب تم اللہ کی راہ میں سفر کیا کرو تو ہر کام کو تحقیق کر کے کیا کرو اور ایسے شخص کو جو کہ تمھارے سامنے اطاعت ظاہر کرے۔ دنیوی زندگی کے سامان کی خواہش میں یوں مت کہہ دیا کرو کہ تو مسلمان نہیں۔ کیونکہ خدا کے پاس بہت غنیمت کے مال ہیں۔ پہلے تم بھی ایسے ہی تھے پھر اللہ تعالیٰ نے تم پر احسان کیا۔ سو غور کرو بیشک اللہ تعالیٰ تمھارے اعمال کی پوری خبر رکھتے ہیں۔ (یعنی جب تم اول مسلمان ہوئے تھے۔ اگر تمھیں بھی یہی کہہ دیا جاتا کہ تم مسلمان نہیں تو تم کیا کرتے)“

الغرض اس آیت سے معلوم ہوا کہ جو شخص اپنا اسلام ظاہر کرے تو جب تک اس کے کفر کی پوری تحقیق نہ ہو جائے اس کو کافر کہنا ناجائز اور وبال عظیم ہے۔ اسی طرح اس کے مقابل یعنی کافر کو مسلمان کہنے کی ممانعت اس آیت میں ہے:

” اتريد ون ان تهدو ا من اضل الله ومن يضلل الله فلن تجد له سبيلا ، نساء: ٨٨“

”کیا تم لوگ اس کا ارادہ رکھتے ہو کہ ایسے لوگوں کو ہدایت کرو جن کو اللہ تعالیٰ نے گمراہی میں ڈال رکھا ہے اور جس کو اللہ تعالیٰ گمراہی میں ڈال دیں۔ اس کے لیے کوئی سبیل نہ پاؤ گے۔“

سلف صالحینؒ صحابہ کرامؓ و تابعینؒ اور مابعد کے آئمہ مجتہدینؒ نے اس بارہ میں بڑی احتیاط سے کام لینے کی ہدایتیں فرمائی ہیں۔ حضرات متکلمین اور فقہاء نے اس باب کو نہایت اہم اور دشوار گزار سمجھا ہے۔ اور اس میں داخل ہونے والوں کے لیے بہت زیادہ تیقظ و بیداری کی تلقین فرمائی ہے۔

چنانچہ حضرت علامہ قاریؒ نے شفاء میں فرمایا ہے:

”ادخال كافر فى ملة (الاسلامية) او اخراج مسلم عنها عظيم فى الدین ٠ شفاء ج ٢ ص ٢٤١ فصل تحقيق القول فى اكفار المتأ ولين “

”کسی کافر کو اسلام میں داخل سمجھنا یا مسلمان کو اسلام سے خارج سمجھنا (دونوں چیزیں) سخت ہیں۔“

٣

صفحہ ٦٦

لیکن آج کل اس کے برعکس یہ دونوں معاملے اس قدر سہل سمجھ لئے گئے ہیں کہ کفر و اسلام اور ایمان و ارتداد کا کوئی معیار اور اصول ہی نہ رہا۔

ایک جماعت ہے جس نے تکفیر بازی کو ہی مشغلہ بنا رکھا ہے۔ ذرا سی خلاف شرع بلکہ خلاف طبع کوئی بات کسی سے سرزد ہوئی اور ان کی طرف سے کفر کا فتویٰ لگا۔ ادنیٰ ادنیٰ فرعی باتوں پر مسلمانوں کو اسلام سے خارج کہنے لگتے ہیں۔ ادھر ان کے مقابل دوسری جماعت ہے جن کے نزدیک اسلام و ایمان کوئی حقیقت محصلہ نہیں رکھتے بلکہ وہ ہر اس شخص کو مسلمان کہتے ہیں جو مسلمان ہونے کا دعویٰ کرے خواہ تمام قرآن و حدیث اور احکام اسلامیہ کا انکار اور توہین کرتا رہے۔ ان کے نزدیک اسلام کے مفہوم میں ہر قسم کا کفر کھپ سکتا ہے۔ انھوں نے ہندوؤں اور دوسرے مذاہب باطلہ کی طرح اسلام کو بھی محض ایک قومی لقب بنا دیا ہے کہ عقائد جو چاہے رکھے اقوال و اعمال میں جس طرح چاہے آزاد رہے۔ وہ بہر حال مسلمان ہے۔ اور اس کو اپنے نزدیک وسعت خیال اور وسعت حوصلہ سے تعبیر کرتے ہیں اور تمام سیاسی مصالح کا محور و مدار اسی کو بنا رکھا ہے۔

لیکن یاد رہے کہ اسلام اور پیغمبر اسلام ﷺ اس کجروی اور افراط و تفریط کے دونوں پہلوؤں سے سخت بیزار ہیں۔ اسلام نے اپنے پیروؤں کیلئے ایک آسمانی قانون پیش کیا ہے جو شخص اس کو ٹھنڈے دل سے تسلیم کرے اور کوئی تنگی اپنے دل میں اس کے ماننے سے محسوس نہ کرے وہ مسلمان ہے اور جو اس قانون الٰہی کے کسی ادنیٰ حکم کا انکار کر بیٹھے وہ بلاشبہ بلا تردد دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔ اس کے دائرۂ اسلام میں داخل رکھنے سے اسلام بیزار ہے اور اس کے ذریعہ اسلامی برادری کی مردم شماری بڑھانے سے اسلام اور مسلمانوں کو غیرت ہے۔ اور ان چند لوگوں کے داخل اسلام ماننے سے ہزاروں مسلمانوں کے خارج از اسلام ہو جانے کا قوی اندیشہ ہے۔ جیسا کہ بہت دفعہ اس کا تجربہ اور مشاہدہ ہو چکا ہے۔

اور یہ ایک مضرت ایسی ہے کہ اگر فی الواقع ہزاروں مصالح بھی اس کے مقابلہ میں موجود ہوں تو وہ کسی مذہب دوست مسلمان کے لئے ہرگز قابل التفات نہیں ہوسکتیں۔ بالخصوص جب کہ وہ مصالح بھی محض موہوم اور خیالی ہو۔

الغرض ابنائے زمانہ کی اس افراط و تفریط اور کفر و اسلام کے معاملہ میں بے احتیاطی کو دیکھ کر مدت سے خیال ہوتا تھا کہ اس بحث پر ایک مختصر جامع رسالہ لکھا جائے جس میں کفر و اسلام کا معیار ہو۔

٤

صفحہ ٦٧

اور اصولی طور پر یہ بات واضح کر دی جائے کہ وہ کون سے عقائد یا اقوال ہیں جن کی بنا پر کوئی مسلمان اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔ اسی اثناء میں ذیل کے سوال کا جواب لکھنے کی ضرورت پیش آئی۔ تو اس کو کسی قدر تفصیل کے ساتھ لکھ دیا گیا جس سے علاوہ اصول تکفیر معلوم ہونے کے بعض فرقوں کا حکم بھی واضح ہو گیا۔ اور مرتد کے بعض احکام بھی معلوم ہو گئے اور مجموعہ کا نام ”وصول الافکار الی اصول الاکفار“ رکھا گیا ہے۔ وما توفیقی الا باللہ العلی العظیم!

سوال اوّل: کفر واسلام کا معیار کیا ہے اور کس وجہ سے کسی مسلمان کو مرتد یا خارج از اسلام کہا جاسکتا ہے؟

الجواب! ارتداد کے معنی لغت میں پھر جانے اور لوٹ جانے کے ہیں۔ اور اصطلاح شریعت میں ایمان واسلام سے پھر جانے کو ارتداد اور پھرنے والے کو مرتد کہتے ہیں۔ اور ارتداد کی صورتیں دو ہیں۔ ایک تو یہ کہ کوئی کم بخت صاف طور پر تبدیل مذہب کر کے اسلام سے پھر جائے۔ جیسے عیسائی، یہودی، آریہ سماجی وغیرہ مذہب اختیار کرلے۔ یا خداوند عالم کے وجود یا توحید کا منکر ہو جائے۔ یا آنحضرت ﷺ کی رسالت کا انکار کر دے۔ (والعیاذ باللہ تعالیٰ)

دوسرے یہ کہ اس طرح صاف طور پر تبدیل مذہب اور توحید ورسالت سے انکار نہ کرے۔ لیکن کچھ اعمال یا اقوال یا عقائد ایسے اختیار کرے جو انکار قرآن مجید یا انکار رسالت کے مرادف وہم معنی ہوں۔ مثلاً اسلام کے کسی ایسے ضروری و قطعی حکم کا انکار کر بیٹھے جس کا ثبوت قرآن مجید کی نص صریح سے ہو یا آنحضرت ﷺ سے بطریق تواتر ثابت ہوا ہو۔ یہ صورت بھی باجماع امت ارتداد میں داخل ہے۔ اگر چہ اس ایک حکم کے سوا تمام احکام اسلامیہ پر شدت کے ساتھ پابند ہو۔

ارتداد کی اس دوسری صورت میں اکثر مسلمان غلطی میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ اور ایسے لوگوں کو مسلمان سمجھتے ہیں۔ اور یہ اگرچہ بظاہر ایک سطحی اور معمولی غلطی ہے۔ لیکن اگر اس کے ہولناک نتائج پر نظر کی جائے تو اسلام اور مسلمان کے لئے اس سے زیادہ کوئی چیز مضر نہیں۔ کیونکہ اس صورت میں کفر واسلام کے حدود ممتاز نہیں رہتے۔ کافر ومومن میں کوئی امتیاز نہیں رہتا۔ اسلام کے چالاک دشمن اسلامی برادری کے ارکان بن کر مسلمانوں کے لئے ”مار آستین“ بن سکتے ہیں۔ اور دوستی کے لباس میں دشمنی کی ہر قرار داد کو مسلمانوں میں نافذ کر سکتے ہیں۔

اس لئے مناسب معلوم ہوا کہ اس صورت ارتداد کی توضیح کسی قدر تفصیل کے ساتھ کر

٥

صفحہ ٦٨

دی جائے اور چونکہ ارتداد کی صحیح حقیقت ایمان کے مقابلہ ہی سے معلوم ہو سکتی ہے۔ اس لئے پہلے اجمالاً ایمان کی تعریف اور پھر ارتداد کی حقیقت لکھی جاتی ہے۔

ایمان و ارتداد کی تعریف

ایمان کی تعریف مشہور ومعروف ہے جس کے اہم جزو دو ہیں۔ ایک حق سبحانہ وتعالیٰ پر ایمان لانا۔ دوسرے اس کے رسولﷺ پر۔ لیکن جس طرح اللہ تبارک وتعالیٰ پر ایمان کے یہ معنی نہیں کہ صرف اس کے وجود کا قائل ہو جائے۔ بلکہ اس کی تمام صفات کاملہ، علم، سمع، بصر، قدرت وغیرہ کو اسی شان کے ساتھ ماننا ضروری ہے جو قرآن وحدیث میں بتلائی ہیں۔ ورنہ یوں تو ہر مذہب وملت کا آدمی خدا کے وجود وصفات کو مانتا ہے۔ یہودی، نصرانی، مجوسی، ہندو سب ہی اس پر متفق ہیں۔

اسی طرح رسول اللہﷺ پر ایمان لانے کا بھی یہ مطلب نہیں ہو سکتا کہ آپﷺ کے وجود کو مان لے کہ آپﷺ مکہ معظمہ میں پیدا ہوئے اور مدینہ طیبہ کی طرف ہجرت کی۔ تریسٹھ سال عمر ہوئی۔ فلاں فلاں کام کئے۔ بلکہ رسول اللہﷺ پر ایمان لانے کی حقیقت وہ ہے جو قرآن مجید میں بالفاظ ذیل بتلائی ہے:

”فلا وربک لا یؤمنون حتی یحکموک فیما شجر بینہم ثم لا یجدوا فی انفسہم حرجاً مما قضیت ویسلموا تسلیما ٠ نساء: ٦٥“

”قسم ہے آپﷺ کے رب کی یہ لوگ اس وقت تک مسلمان نہیں ہو سکتے جب تک کہ وہ آپﷺ کو اپنے تمام نزاعات واختلافات میں حکم نہ بنا دیں اور پھر جو فیصلہ آپﷺ فرما دیں اس سے اپنے دلوں میں کوئی تنگی محسوس نہ کریں اور اس کو پوری طرح تسلیم نہ کر لیں ۔“

روح المعانی میں اسی آیت کی تفسیر سلف سے اس طرح نقل فرمائی ہے:

”فقد روی عن الصادق انہ قال لو ان قوما عبدوا اللہ تعالیٰ واقاموا الصلوۃ وآتوا الزکوۃ وصاموا رمضان وحجوا البیت ثم قالوا لشئی صنعہ رسول اللہﷺ الآ صنع خلاف ما صنع او وجدوا فی انفسہم حرجاً لکا نوا مشرکین ٠ روح المعانی ص٦٥ جزء“

”حضرت جعفر صادقؒ سے منقول ہے کہ اگر کوئی قوم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے۔ اور

٦

صفحہ ٦٩

نماز کی پابندی کرے۔ اور زکوٰۃ ادا کرے۔ اور رمضان کے روزے رکھے۔ اور بیت اللہ کا حج کرے۔ مگر پھر کسی ایسے فعل کو جس کا ذکر حضور ﷺ سے ثابت ہو یوں کہے کہ آپ ﷺ نے ایسا کیوں کیا۔ اس کے خلاف کیوں نہ کیا۔ اور اس کے ماننے سے اپنے دل میں تنگی محسوس کرے تو یہ قوم مشرکین میں سے ہے۔“

آیت مذکورہ اور اس کی تفسیر سے واضح ہوگیا کہ رسالت پر ایمان لانے کی حقیقت یہ ہے کہ رسول کے تمام احکام کو ٹھنڈے دل سے تسلیم کیا جائے اور اس میں کسی قسم کا پس و پیش یا تردد نہ کیا جائے۔

اور جب ایمان کی حقیقت معلوم ہو گئی تو کفر و ارتداد کی صورت بھی واضح ہو گئی۔ کیونکہ جس چیز کے ماننے اور تسلیم کرنے کا نام ایمان ہے۔ اسی کے نہ ماننے اور انکار کرنے کا نام کفر و ارتداد ہے۔ (صرح بہ فی شرح المقاصد) اور ایمان و کفر کی مذکورہ تعریف سے یہ بھی ثابت ہو گیا کہ کفر صرف اسی کا نام نہیں کہ کوئی شخص اللہ تعالیٰ یا رسول اللہ ﷺ کو سرے سے نہ مانے۔ بلکہ یہ بھی اسی درجہ کا کفر اور نہ ماننے کا ایک شعبہ ہے کہ آنحضرت ﷺ سے جو احکام قطعی ویقینی طور پر ثابت ہیں۔ ان میں سے کسی ایک حکم کے تسلیم کرنے سے (یہ سمجھتے ہوئے کہ حضور ﷺ کا حکم ہے) انکار کر دیا جائے۔ اگر چہ باقی سب احکام کو تسلیم کرے اور پورے اہتمام سے سب پر عامل بھی ہو۔

اور وجہ یہ ہے کہ کفر و ارتداد حضرت مالک الملک والملکوت کی بغاوت کا نام ہے اور سب جانتے ہیں کہ بغاوت جس طرح بادشاہ کے تمام احکام کی نافرمانی اور مقابلہ پر کھڑے ہو جانے کو کہتے ہیں۔ اسی طرح یہ بھی بغاوت ہی سمجھی جاتی ہے کہ کسی ایک قانون شاہی کی قانون شکنی کی جائے۔ اگر چہ باقی سب احکام کو تسلیم کرلے۔

شیطان ابلیس جو دنیا میں سب سے بڑا کافر اور کافر گر ہے۔ اس کا کفر بھی اسی دوسری قسم کا کفر ہے۔ کیونکہ اس نے بھی نہ تبدیل مذہب کیا۔ نہ خدا تعالیٰ کے وجود قدرت وغیرہ کا انکار کیا۔ نہ ربوبیت سے منکر ہوا۔ صرف ایک حکم سے سرتابی کی جس کی وجہ سے ابدالآباد کیلئے مطرود وملعون ہو گیا۔

حافظ ابن تیمیہ الصارم المسلول ص ٢٦٦ طبع بیروت ١٩٩٨ء میں فرماتے ہیں:

”كما ان الردة تتجرد عن السب فكذلك تتجرد عن قصد تبديل الدين وارادة التكذيب بالرسالة كما تجرد كفر ابليس عن قصد التكذيب بالربوبية“

صفحہ ٧٠

”جیسا کہ ارتداد بغیر اس کے بھی ہو سکتا ہے کہ حق تعالیٰ یا اس کے رسول ﷺ کی شان میں سب و شتم سے پیش آئے اسی طرح بغیر اس کے بھی ارتداد متحقق ہو سکتا ہے کہ آدمی تبدیل مذہب کا یا تکذیب رسول کا قصد کرے۔ جیسا کہ ابلیس لعین کا کفر تکذیب ربوبیت سے خالی ہے۔“

الغرض ارتداد صرف اسی کو نہیں کہتے کہ کوئی شخص اپنا مذہب بدل دے یا صاف طور پر خدا اور رسول کا منکر ہو جائے۔ بلکہ ضروریات دین کا انکار کرنا اور قطعی الثبوت والدلالۃ احکام میں سے کسی ایک کا بعد علم انکار کر دینا بھی اسی درجہ کا ارتداد اور کفر ہے۔

تنبیہ : ہاں اس جگہ دو باتیں قابل خیال ہیں۔ اول تو یہ کہ کفر و ارتداد اس صورت میں عائد ہوتا ہے جب کہ حکم قطعی کے تسلیم کرنے سے انکار اور گردن کشی کرے اور اس حکم کے واجب التعمیل ہونے کا عقیدہ نہ رکھے۔ لیکن اگر کوئی شخص حکم کو تو واجب التعمیل سمجھتا ہے مگر غفلت یا شرارت کی وجہ سے اس پر عمل نہیں کرتا تو اس کو کفر و ارتداد نہ کہا جائے گا۔ اگرچہ ساری عمر میں ایک دفعہ بھی اس حکم پر عمل کرنے کی نوبت نہ آئے۔ بلکہ اس شخص کو مسلمان ہی سمجھا جائے گا۔ اور پہلی صورت میں کہ کسی حکم قطعی کو واجب التعمیل ہی نہیں جانتا۔ اگرچہ کسی وجہ سے وہ ساری عمر اس پر عمل بھی کرتا رہے جب بھی کافر مرتد قرار دیا جائے گا۔ مثلاً ایک شخص پانچوں وقت کی نماز کا شدت کے ساتھ پابند ہے۔ مگر فرض اور واجب التعمیل نہیں جانتا یہ کافر ہے۔ اور دوسرا شخص جو فرض جانتا ہے مگر کبھی نہیں پڑھتا وہ مسلمان ہے۔ اگرچہ فاسق و فاجر اور سخت گناہ گار ہے۔

دوسری بات قابل غور یہ ہے کہ ثبوت کے اعتبار سے احکام اسلامیہ کی مختلف قسمیں ہو گئی ہیں۔ تمام اقسام کا اس بارہ میں ایک حکم نہیں۔ کفر و ارتداد صرف ان احکام کے انکار سے عائد ہوتا ہے جو قطعی الثبوت بھی ہوں اور قطعی الدلالت بھی۔ قطعی الثبوت ہونے کا مطلب تو یہ ہے کہ ان کا ثبوت قرآن مجید یا ایسی احادیث سے ہو جن کے روایت کرنے والے آنحضرت ﷺ کے عہد مبارک سے لے کر آج تک ہر زمانہ اور ہر قرن میں مختلف طبقات اور مختلف شہروں کے لوگ اس کثرت سے رہے ہوں کہ ان سب کا جھوٹی بات پر اتفاق کر لینا محال سمجھا جائے۔ (اسی کو اصطلاح حدیث میں تواتر اور ایسی احادیث کو احادیث متواترہ کہتے ہیں)

اور قطعی الدلالۃ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ جو عبارت قرآن مجید میں اس حکم کے متعلق واقع ہوئی ہے یا حدیث متواترہ سے ثابت ہوئی ہے وہ اپنے مفہوم مراد کو صاف صاف ظاہر کرتی

٨

صفحہ ٧١

ہو۔ اس میں کسی قسم کی الجھن نہ ہو کہ جس میں کسی کی تاویل چل سکے۔

پھر اس قسم کے احکام قطعیہ اگر مسلمانوں کے ہر طبقہ خاص و عام میں اس طرح مشہور و معروف ہو جائیں کہ ان کا حاصل کرنا کسی خاص اہتمام اور تعلیم و تعلم پر موقوف نہ رہے۔ بلکہ عام طور پر مسلمانوں کو وراثتاً وہ باتیں معلوم ہو جاتی ہوں۔ جیسے نماز روزہ حج زکوۃ کا فرض ہونا چوری و شراب خوری کا گناہ ہونا، آنحضرت ﷺ کا خاتم الانبیا ہونا وغیرہ تو ایسے احکام قطعیہ کو ضروریات دین کے نام سے تعبیر کرتے ہیں۔ اور جو اس درجہ مشہور نہ ہوں وہ صرف قطعیات کہلاتے ہیں۔ ضروریات نہیں۔

اور ضروریات اور قطعیات کے حکم میں یہ فرق ہے کہ ضروریات دین کا انکار باجماع امت مطلقاً کفر ہے۔ ناواقفیت و جہالت کو اس میں عذر نہ قرار دیا جائے گا۔ اور نہ کسی قسم کی تاویل سنی جائے گی۔

اور قطعیات محضہ جو شہرت میں اس درجہ کو نہیں پہنچتے تو حنفیہ کے نزدیک اس میں یہ تفصیل ہے کہ اگر کوئی عامی آدمی بوجہ ناواقفیت و جہالت کے ان کا انکار کر بیٹھے تو ابھی اس کے کفر وارتداد کا حکم نہ کیا جائے گا۔ بلکہ پہلے اس کو تبلیغ کی جائے گی کہ یہ حکم اسلام کے قطعی الثبوت اور قطعی الدلالت احکام میں سے ہے۔ اس کا انکار کفر ہے۔ اس کے بعد بھی اگر وہ اپنے انکار پر قائم رہے تب کفر کا حکم کیا جائے گا۔

”كما فى المسايرة والمسامرة لابن الهمام و لفظه واما ماثبت قطعاً ولم يبلغ حد الضرورة كاستحقاق بنت الابن السدس مع البنت الصلبية با جماع المسلمين فظاهر كلام الحنفية الاكفار بجحده بانهم لم يشترطوا فى الاكفار سوى القطع فى الثبوت (الى قوله) ويجب حمله على ما اذا علم المنكر ثبوته قطعاً ٠ مسامره /١٤٩“

”اور جو حکم قطعی الثبوت تو ہو مگر ضرورت کی حد کو نہ پہنچا ہو۔ جیسے (میراث میں) اگر پوتی اور بیٹی حقیقی جمع ہوں تو پوتی کو چھٹا حصہ ملنے کا حکم اجماع امت سے ثابت ہے۔ سو ظاہر کلام حنفیہ کا یہ ہے کہ اس کے انکار کی وجہ سے کفر کا حکم کیا جائے۔ کیونکہ انہوں نے قطعی الثبوت ہونے کے سوا اور کوئی شرط نہیں لگائی (الیٰ قولہ) مگر واجب ہے کہ حنفیہ کے اس کلام کو اس صورت میں محمول کیا جائے کہ جب منکر کو اس کا علم ہو کہ یہ حکم قطعی الثبوت ہے۔“

٩

صفحہ ٧٢

خلاصہ کلام یہ ہے کہ جس طرح کفر و ارتداد کی ایک قسم تبدیل مذہب ہے اسی طرح دوسری قسم یہ بھی ہے کہ ضروریات دین اور قطعیات اسلام میں سے کسی چیز کا انکار کر دیا جائے یا ضروریات دین میں کوئی ایسی تاویل کی جائے جس سے ان کے معروف معانی کے خلاف معنی پیدا ہو جائیں اور غرض معروف بدل جائے۔ اور ارتداد کی اس قسم دوم کا نام قرآن کی اصطلاح میں الحاد ہے:

”قال تعالیٰ ان الذين يلحدون فی آياتنا لايخفون علينا، حم السجده:٤٠“ ”جو لوگ ہماری آیات میں الحاد کرتے ہیں وہ ہم سے چھپ نہیں سکتے۔“

اور حدیث میں اس قسم کے ارتداد کا نام زندقہ رکھا گیا ہے۔ جیسا کہ صاحب مجمع البحار نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے روایت کرتے ہوئے فرمایا ہے:

”اتی علیٌّ بزنادقة ھی جمع زنديق (الی قوله) ثم استعمل فی کل ملحد فی الدين والمراد ھھنا قوم ارتدوا عن الاسلام ، مجمع البحار ج ٢ ص ٤٤ باب الزا مع النون“

”حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے پاس چند زنادقہ ( گرفتار کر کے ) لائے گئے۔ زنادقہ جمع زندیق کی ہے اور لفظ زندیق ہر اس شخص کیلئے استعمال کیا جاتا ہے جو دین میں الحاد (یعنی بے جا تاویلات ) کرے اور اس جگہ مراد ایک مرتد جماعت ہے۔

اور علمائے کلام اور فقہاء اس خاص ارتداد کا نام باطنیت رکھتے ہیں اور کبھی وہ بھی زندقہ کے لفظ سے تعبیر کر دیتے ہیں۔

شرح مقاصد میں علامہ تفتازانی اقسام کفر کی تفصیل اس طرح نقل فرماتے ہیں:

” یہ بات ظاہر ہو چکی ہے کہ کافر اس شخص کا نام ہے جو مومن نہ ہو۔ پھر اگر وہ ظاہر میں ایمان کا مدعی ہو تو اس کو منافق کہیں گے۔ اور اگر مسلمان ہونے کے بعد کفر میں مبتلا ہوا ہے تو اس کا نام مرتد رکھا جائے گا۔ کیونکہ وہ اسلام سے پھر گیا ہے۔ اور اگر دو یا دو سے زیادہ معبودوں کی پرستش کا قائل ہو تو اس کو مشرک کہا جائے گا۔ اور اگر ادیان منسوخہ یہودیت و عیسائیت وغیرہ میں کسی مذہب کا پابند ہو تو اس کو کتابی کہیں گے۔ اور اگر عالم کے قدیم ہونے کا قائل ہو اور تمام واقعات و حوادث کو زمانہ کی طرف منسوب کرتا ہو تو اس کو دہریہ کہا جائے گا اور اگر وجود باری تعالیٰ ہی کا قائل نہ ہو تو اس کو معطل کہتے ہیں اور اگر نبی کریم ﷺ کی نبوت کے اقرار اور شعار اسلام نماز

١٠

صفحہ ٧٣

روزہ وغیرہ کے اظہار کے ساتھ کچھ ایسے عقائد دلی رکھتا ہو جو بالاتفاق کفر ہیں تو اس کو زندیق کہا جاتا ہے۔“

(ترجمہ عبارت شرح مقاصد ص ٤٦٨ و ص٤٦٩ ج ٢)

ومثله فی کلیات ابی البقاء!

(ص ٥٥٣‘٥٥٤)

زندیق کی تعریف میں جو عقائد کفریہ کا دل میں رکھنا ذکر کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ مثل منافق کے اپنا عقیدہ ظاہر نہیں کرتا بلکہ یہ مراد ہے کہ اپنے عقیدہ کفریہ کو ملمع کر کے اسلامی صورت میں ظاہر کرتا ہے۔

”کما ذکرہ الشامی حیث قال فان الزندیق یموہ کفرہ ویروج عقیدتہ الفاسدة ویخرجها فی الصورة الصحيحة و هذا معنیٰ ابطان الکفر فلا ينافی اظهاره الدعویٰ ، شامی باب المرتد ص ٣٢٤ ج ٣“

”علامہ شامی نے فرمایا ہے کہ زندیق اپنے کفر پر ملمع سازی کرتا ہے اور اپنے عقیدۂ فاسدہ کو رائج کرنا چاہتا ہے اور اس کو عمدہ صورت میں ظاہر کرتا ہے اور زندیق کی تعریف میں جو یہ لکھا جاتا ہے کہ وہ اپنے کفر کو چھپاتا ہے۔ اس کا یہی مطلب ہے (کہ وہ اپنے کفر کو ایسے عنوان اور صورت میں پیش کرتا ہے جس سے لوگ مغالطہ میں پڑ جائیں) اس لئے یہ اخفاء کفر اظہار دعویٰ کے منافی نہیں ۔“

کفر کی اقسام مذکورہ بالا میں سے آخری قسم اس جگہ زیر بحث ہے جس کے متعلق شرح مقاصد کے بیان سے ظاہر ہو گیا کہ جس طرح اقسام سابقہ کفر کے انواع ہیں اسی طرح یہ صورت بھی اسی درجہ کا کفر ہے کہ کوئی شخص نبی کریم ﷺ کی رسالت اور قرآن مجید کے احکام کو تسلیم کرنے کے باوجود صرف بعض احکام و عقائد میں اختلاف رکھتا ہو۔ اگر چہ دعویٰ مسلمان ہونے کا کرے اور تمام ارکان اسلام پر شدت کے ساتھ عامل بھی ہو۔

ایک شبہ کا جواب

یہ بات عام طور پر مشہور ہے کہ اہل قبلہ کی تکفیر جائز نہیں اور کتب فقہ و عقائد میں بھی اس کی تصریحات موجود ہیں۔ نیز بعض احادیث سے بھی یہ مسئلہ ثابت ہے:

”کما رواہ ابو داؤد ج ١ ص ٢٥٢ باب الغزو مع أئمة الجور فی الجہاد ، عن انسؓ قال قال رسول اللہ ﷺ ثلث من اصل الا یمان الکف عمن

١١

صفحہ ٧٤

قال لا اله الاالله ولا تكفره بذنب ولا تخرجه من الاسلام بعمل ، الحديث“

”حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے رشاد فرمایا کہ ایمان کی اصل تین چیزیں ہیں ایک یہ کہ جو شخص کلمہ لا اله الاالله کا قائل ہو اس کے قتل سے باز رہو۔ اور کسی گناہ کی وجہ سے اس کو کافر مت کہو اور کسی عمل بد کی وجہ سے اس کو اسلام سے خارج نہ قرار دو۔“

اس لئے مسئلہ زیر بحث میں یہ شبہ پیدا ہو جاتا ہے کہ جو شخص نماز روزہ کا پابند ہے وہ اہل قبلہ میں داخل ہے۔ تو پھر بعض عقائد میں خلاف کرنے یا بعض احکام کے تسلیم نہ کرنے سے اس کو کیسے کافر کہا جاسکتا ہے؟۔ اور اسی شبہ کی بنیاد پر آج کل بہت سے مسلمان قسم ثانی کے مرتدین یعنی ملحدین و زنادقہ کو مرتد و کافر نہیں سمجھتے۔ اور یہ ایک بھاری غلطی ہے جس کا صدمہ براہ راست اصول اسلام پر پڑتا ہے۔ کیونکہ میں اپنے کلام سابق میں عرض کرچکا ہوں کہ اگر قسم دوم کے ارتداد کو ارتداد نہ سمجھا جائے تو پھر شیطان کو بھی کافر نہیں کہہ سکتے۔ اس لئے ضرورت ہوئی کہ اس شبہ کے منشاء کو بیان کرکے اس کا شافی جواب ذکر کیا جائے۔ اصل اس کی یہ ہے کہ شرح فقہ اکبر ص ١٨٩ وغیرہ میں امام اعظم ابو حنیفہؒ سے اور حواشی شرح عقائد میں شیخ ابوالحسن اشعری سے اہل سنت والجماعۃ کا یہ مسلک نقل کیا گیا ہے:

” ومن قواعد اهل السنة و الجماعة ان لايكفروا احد من اهل القبلة (كذافى شرح العقائد النسفية ص ١٢١) وفى شرح التحرير ص ٣١٨ ج ٣ وسياقها عن ابی حنیفةؒ ولا نكفر اهل القبلة بذنب انتهى فقيده بالذنب فى عبارة الامام واصله فى حديث ابى داؤد كما مر آنفاً ، “

”اہلِ سنت والجماعۃ کے قواعد میں سے ہے کہ اہل قبلہ میں سے کسی شخص کی تکفیر نہ کی جائے۔ (شرح عقائد نسفی) اور شرح تحریر ص ٣١٨ ج ٣ میں ہے کہ یہ مضمون امام اعظم ابو حنیفہؒ سے منقول ہے کہ ہم اہل قبلہ میں سے کسی شخص کو کسی گناہ کی وجہ سے کافر نہیں کہتے۔ سو اس میں بذنب کی قید موجود ہے اور غالباً یہ قید حدیث ابو داؤد کی بناء پر لگائی گئی ہے جو ابھی گزر چکی ہے۔“

جس کا صحیح مطلب تو یہ ہے کہ کسی گناہ میں مبتلا ہو جانے کی وجہ سے کسی مسلمان کو کافر مت کہو۔ خواہ کتنا ہی بڑا گناہ ہو (بشرطیکہ کفر و شرک نہ ہو) کیونکہ گناہ سے مراد اس جگہ پر وہی گناہ ہے جو حدِ کفر تک نہ پہنچا ہو۔

”کمافی كتاب الايمان لابن تيميه حيث قال ونحن اذا قلنا اهل

١٢

صفحہ ٧٥

السنة متفقون على ان لا نكفر بالذنب فانما نريد به المعاصى كالزنا والشرب انتهى اوضحه القونوى فى شرح العقيدة الطحاوية ، “ ”جیسا کہ حافظ ابن تیمیہ کی کتاب الایمان میں ہے کہ ہم جب یہ کہتے ہیں کہ اہل سنت والجماعت اس پر متفق ہیں کہ اہل قبلہ میں سے کسی شخص کو کسی گناہ کی وجہ سے کافر نہ کہیں تو اس جگہ گناہ سے ہماری مراد معاصی مثل زنا و شراب خوری وغیرہ ہوتے ہیں اور علامہ قونوی نے عقیدہ طحاوی کی شرح میں اس مضمون کو خوب واضح کر دیا ہے۔“

ورنہ پھر اس عبارت کے کوئی معنی نہیں رہتے۔ اور لفظ بذنب کے اضافہ کی (جیسا کہ فقہ اکبر اور شرح تحریر کے حوالہ سے اوپر نقل ہوا ہے) کوئی وجہ باقی نہیں رہتی ۔ اب شبہات کی ابتداء یہاں سے ہوئی کہ بعض علماء کی عبارتوں میں اختصار کے مواقع میں بذنب کا لفظ بوجہ معروف ومشہور ہونے کے چھوڑ دیا گیا ۔ اور مسئلہ کا عنوان عدم تکفیر اہل القبلہ ہو گیا ۔ حدیث وفقہ سے نا آشنا اور غرض متکلم سے ناواقف لوگ یہاں سے یہ سمجھ بیٹھے کہ جو شخص قبلہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھ لے اس کو کافر کہنا جائز نہیں۔ خواہ کتنے ہی عقائد کفریہ رکھتا ہو۔ اور اقوال کفریہ بکتا پھرے۔ اور یہ بھی خیال نہ کیا کہ اگر یہی لفظ پرستی ہے تو اہل قبلہ کے لفظوں سے تو یہ بھی نہیں نکلتا کہ قبلہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھے۔ بلکہ ان لفظوں کا مفہوم تو اس سے زائد نہیں کہ صرف قبلہ کی طرف منہ کر لے خواہ نماز بھی پڑھے یا نہ پڑھے۔ اگر یہ معنی مراد لئے جائیں تو پھر دنیا میں کوئی شخص کافر ہی نہیں رہ سکتا۔ کیونکہ کبھی نہ کبھی ہر شخص کا منہ قبلہ کی طرف ہو ہی جاتا ہے اور ظاہر ہے کہ لفظ اہل قبلہ کی مراد تمام اوقات واحوال کا استیعاب باستقبال قبلہ نہیں۔

خوب سمجھ لیجئے کہ لفظ اہل قبلہ ایک شرعی اصطلاح ہے جس کے معنی اہل اسلام کے ہیں اور اسلام وہی ہے جس میں کوئی بات کفر کی نہ ہو۔ لہٰذا یہ لفظ صرف ان لوگوں کیلئے بولا جاتا ہے جو تمام ضروریات دین کو تسلیم کریں۔ اور آنحضرت ﷺ کے تمام احکام پر (بشرط ثبوت) ایمان لائیں۔ نہ ہر اس شخص کیلئے جو قبلہ کی طرف منہ کرلے۔ جیسے دنیا کی موجودہ عدالتوں میں اہل کار کا لفظ صرف ان لوگوں کیلئے بولا جاتا ہے جو با ضابطہ ملازم اور قوانین ملازمت کا پابند ہو۔ اس کے مفہوم لغوی کے موافق ہر کام والے آدمی کو اہل کار نہیں کہا جاتا۔ اور یہ جو کچھ لکھا گیا علم فقہ و عقائد کی کتابیں تقریباً تمام اس پر شاہد ہیں جن میں سے بعض عبارات درج ذیل ہیں:۔

حضرت ملا علی قاریؒ شرح فقہ اکبر میں فرماتے ہیں:

١٣

صفحہ ٧٦

”اعلم ان المراد باهل القبلة الذين اتفقوا على ماهو من ضروريات الدين كحدوث العالم وحشر الاجساد وعلم الله تعالى بالكليات والجزئيات وما اشبه ذلك من المسائل المهمات فمن واظب طول عمره على الطاعات والعبادات مع اعتقاد قدم العالم ونفى الحشر او نفى علم سبحانه وتعالى بالجزئيات لايكون من اهل القبلة وان المراد بعدم تكفير احد من اهل القبلة عند اهل السنة انه لا يكفر احد ما لم يوجد شئی من امارات الكفر وعلاماته ولم يصدر عنه شئی من موجباته ، شرح فقه اكبر ص ١٨٩“

”خوب سمجھ لو کہ اہل قبلہ سے مراد وہ لوگ ہیں جو ان تمام عقائد پر متفق ہوں جو ضروریات دین میں سے ہیں۔ جیسے حدوث عالم اور قیامت و حشر ابدان اور اللہ تعالیٰ کا علم تمام کلیات و جزئیات پر حاوی ہونا اور اسی قسم کے دوسرے عقائد مہمہ ۔ پس جو شخص تمام عمر طاعات و عبادات پر مداومت کرے۔ مگر ساتھ ہی عالم کے قدیم ہونے کا معتقد ہو یا قیامت میں مردوں کے زندہ ہونے کا یا حق تعالیٰ کے علم جزئیات کا انکار کرے وہ اہل قبلہ میں سے نہیں۔ اور یہ کہ اہل سنت کے نزدیک اہل قبلہ کی تکفیر نہ کرنے سے مراد یہی ہے کہ ان میں سے کسی شخص کو اس وقت تک کافر نہ کہیں۔ جب تک اس سے کوئی ایسی چیز سرزد نہ ہو جو علامات کفر یا موجبات کفر میں سے ہے۔“

اور شرح مقاصد مبحث سابع میں مذکور الصدر مضمون کو مفصل بیان کرتے ہوئے لکھا ہے:

”فلا نزاع فى كفر اهل القبلة المواظب طول العمر على الطاعات با عتقاد قدم العالم ونفى الحشر ونفى العلم بالجزئيات ونحو ذالك وكذلك بصدور شئی من موجبات الكفر عنه ، “

”اس میں کسی کا اختلاف نہیں کہ اہل قبلہ میں سے اس شخص کو کافر کہا جائے گا جو اگرچہ تمام عمر طاعات و عبادات میں گزارے۔ مگر عالم کے قدیم ہونے کا اعتقاد رکھے یا قیامت و حشر کا یا حق تعالیٰ کے عالم جزئیات ہونے کا انکار کرے۔ اسی طرح وہ شخص جس سے کوئی چیز موجبات کفر میں سے صادر ہو جائے۔“

اور علامہ شامی نے ردالمحتار باب الامامۃ جلد اول میں بحوالہ تحریر الاصول نقل فرمایا ہے:

”لاخلاف فى كفر المخالف من اهل القبلة المواظب طول عمره

١٤

صفحہ ٧٧

علی الطاعات کما فی شرح التحریر ، شامی ج ١ ص ٤١٤ باب الامامة ،“ ”اس میں سے کسی کا خلاف نہیں کہ اہل قبلہ میں جو شخص ضروریات دین میں سے کسی چیز کا منکر ہو وہ کافر ہے۔ اگرچہ تمام عمر طاعات وعبادات میں گزار دے۔“

اور شرح عقائد نسفی کی شرح نبراس میں ہے: ”اھل القبلة فی اصطلاح المتکلمین من یصدق بضروریات الدین الی قوله فمن انکر شیئا من الضروریات (الی قوله) لم یکن من اھل القبلة ولو کان مجاھدا بالطاعات وکذلک من باشر شیئا من امارات التکذیب کسجود صنم والاھانة بامر شرعی والاستھزاء علیه فلیس من اھل القبلة ومعنی عدم تکفیر اھل القبلة ان لا یکفر بارتکاب المعاصی ولا بانکار الا مور الخفیة غیر المشھورة ھذا ما حققه المحققون ، نبراس ص ٣٤٢ من قواعد اھل السنة ان لا یکفر احد من اھل القبلة ،“

اہل قبلہ متکلمین کی اصطلاح میں وہ شخص ہے جو تمام ضروریات دین کی تصدیق کرے۔ پس جو شخص ضروریات دین میں سے کسی چیز کا انکار کرے وہ اہل قبلہ میں سے نہیں۔ اگرچہ عبادت واطاعت میں مجاہدات کرنے والا ہو۔ ایسے ہی وہ شخص جو علامات کفر وتکذیب میں سے کسی چیز کا مرتکب ہو۔ جیسے بت کو سجدہ کرنا یا کسی امر شرعی کی اہانت واستہزاء کرنا وہ اہل قبلہ میں سے نہیں اور اہل قبلہ کی تکفیر نہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ معاصی کے ارتکاب کی وجہ سے اس کو کافر نہ کہیں اور نہ ایسے امور کے انکار کی وجہ سے کافر کہیں جو اسلام میں مشہور نہیں۔ یعنی ضروریات دین میں سے نہیں۔

تنبیہ: کسی مسلمان کو کافر کہنے کے معاملہ میں آج کل ایک عجیب افراط وتفریط رونما ہے۔ ایک جماعت ہے کہ جس نے مشغلہ یہی اختیار کر لیا ہے کہ ادنیٰ معاملات میں مسلمانوں پر تکفیر کا حکم لگا دیتے ہیں اور جہاں ذرا سی کوئی خلاف شرع حرکت کسی سے دیکھتے ہیں تو اسلام سے خارج کہنے لگتے ہیں۔ اور دوسری طرف نو تعلیم یافتہ آزاد خیال جماعت ہے جس کے نزدیک کوئی قول وفعل خواہ کتنا ہی شدید اور عقائد اسلامیہ کا صریح مقابل ہو کفر کہلانے کا مستحق نہیں۔ وہ ہر مدعی اسلام کو مسلمان کہنا فرض سمجھتے ہیں۔ اگرچہ اس کا کوئی عقیدہ اور عمل اسلام کے موافق نہ ہو اور ضروریات دین کا انکار کرتا ہو۔ اور جس طرح کسی مسلمان کو کافر کہنا ایک سخت پرخطر معاملہ ہے اسی

١٥

صفحہ ٧٨

طرح کافر کو مسلمان کہنا بھی اس سے کم نہیں۔ کیونکہ حدود کفر و اسلام میں التباس بہر دو صورت لازم آتا ہے۔ اس لئے علماء امت نے ہمیشہ ان دونوں معاملوں میں نہایت احتیاط سے کام لیا ہے۔ امر اول کے متعلق تو یہاں تک تصریحات ہیں کہ اگر کسی شخص سے کوئی کام خلاف شرع صادر ہو جائے اور اس کلام کی مراد میں محاورات کے اعتبار سے چند احتمال ہوں اور سب احتمالات میں یہ کلام ایک کلمہ کفر بنتا ہو۔ لیکن صرف ایک احتمال ضعیف ایسا بھی ہو کہ اگر اس کلام کو اس پر حمل کیا جائے تو معنی کفر نہیں رہتے۔ بلکہ عقائد حقہ کے مطابق ہو جاتے ہیں تو مفتی پر واجب ہے کہ اسی احتمال ضعیف کو اختیار کر کے اس کے مسلمان ہونے کا فتویٰ دے۔ جب تک کہ خود وہ متکلم اس کی تصریح نہ کرے کہ میری مراد یہ معنی نہیں۔ اسی طرح اگر کوئی مسلمان کسی ایسے عقیدہ کا قائل ہو جاوے جو آئمہ اسلام میں سے اکثر لوگوں کے نزدیک کفر ہو۔ لیکن بعض آئمہ اس کے کفر ہونے کے قائل نہ ہوں تو اس کفر مختلف فیہ سے بھی مسلمان پر کفر کا حکم کرنا جائز نہیں۔ (صرح به فی البحر الرائق باب المرتدین ج٥) ومثله فی ردالمحتار وجامع الفصولین من باب كلمات الكفر!

اور امر دوم کے متعلق بھی صحابہ کرامؓ اور سلف صالحینؒ کے تعامل نے یہ بات متعین کر دی کہ اس میں تہاون و تکاسل کرنا اصول اسلام کو نقصان پہنچانا ہے۔ آنحضرت ﷺ کی وفات کے بعد جو لوگ مرتد ہوئے تھے۔ ان کا ارتداد قسم دوم ہی کا ارتداد تھا۔ صریح طور پر تبدیل مذہب (عموماً) نہ تھا۔ لیکن صدیق اکبرؓ نے ان پر جہاد کرنے کو اتنا زیادہ اہم سمجھا کہ نزاکت وقت اور اپنے ضعف کا بھی خیال نہ فرمایا۔ اسی طرح مسیلمہ کذاب مدعی نبوت اور اس کے ماننے والوں پر جہاد کیا جس میں جمہور صحابہؓ شریک تھے۔ جن کے اجماع سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ جو شخص ختم نبوت کا انکار کرے یا نبوت کا دعویٰ کرے وہ مرتد ہے۔ اگرچہ تمام ارکان اسلام کا پابند اور زاہد و عابد ہو۔

ضابطہ تکفیر: اس لئے تکفیر مسلم کے بارہ میں ضابطہ شرعیہ یہ ہو گیا کہ جب تک کسی شخص کے کلام میں تاویل صحیح کی گنجائش ہو اور اس کے خلاف کی تصریح متکلم کے کلام میں نہ ہو۔ یا اس عقیدہ کے کفر ہونے میں ادنیٰ سے ادنیٰ اختلاف آئمہ اجتہاد میں واقع ہو۔ اس وقت تک اس کے کہنے والے کو کافر نہ کہا جائے۔ لیکن اگر کوئی شخص ضروریات دین میں سے کسی چیز کا انکار کرے یا کوئی ایسی ہی تاویل و تحریف کرے جو اس کے اجماعی معانی کے خلاف معنی پیدا کر دے تو اس شخص کے کفر میں کوئی تامل نہ کیا جائے۔ واللہ سبحانہ وتعالی اعلم!

١٦

صفحہ ٧٩

تنبیہ ضروری: مسئلہ زیر بحث میں اس بات کا ہر وقت خیال رکھنا ضروری ہے کہ یہ مسئلہ نہایت نازک ہے۔ اس میں بیباکی اور جلد بازی سے کام لینا سخت خطرناک ہے۔ مسئلہ کی دونوں جانب نہایت احتیاط کی مقتضی ہیں۔ کیونکہ جس طرح کسی مسلمان کو کافر کہنا وبال عظیم ہے اور حسب تصریح حدیث اس کہنے والے کے کفر کا اندیشہ قوی ہے۔ اسی طرح کسی کافر کو مسلمان کہنا یا سمجھنا بھی اس سے کم نہیں۔ جیسا کہ عبارت شفاء سے منقول ہے۔ اور شفاء میں مسئلہ کی نزاکت کو بایں الفاظ بیان فرمایا ہے:

”ولمثل هذا ذهب ابو المعالي رحمة الله فى اجوبته لابی محمد عبدالحق و كان سئل عن المسألة فاعتذر له بان الغلط فيها يصعب لان ادخال کافر فی الملة واخراج مسلم عنها عظيم في الدين ٠ شفاج ٢ ص ٢٤١ فصل في تحقيق القول في اكفار المتأولين ٠“

”ابوالمعالی نے جو محمد عبدالحق کے سوالات کے جواب لکھے ہیں۔ ان میں ان کا بھی یہی مذہب ثابت ہے۔ کیونکہ ان سے ایسا ہی سوال کیا گیا تھا جس کے جواب میں انہوں نے عذر کر دیا کہ اس بارہ میں غلطی سخت مصیبت کی چیز ہے۔ کیونکہ کسی کافر کو مذہب اسلام میں داخل سمجھنا یا مسلمان کو اس سے خارج سمجھنا دین میں بڑے خطرہ کی چیز ہے۔“

اسی لئے ایک جانب تو یہ احتیاط ضروری ہے کہ اگر کسی شخص کا کوئی مبہم کلام سامنے آئے جو مختلف وجوہ کو محتمل ہو اور سب وجوہ سے عقیدہ کفریہ قائل کا ظاہر ہوتا ہو۔ لیکن صرف ایک وجہ ایسی بھی ہو جس سے اسلامی معنی اور صحیح مطلب بن سکے۔ گو وہ وجہ ضعیف ہی ہو۔ تو مفتی وقاضی کا فرض ہے کہ اس وجہ کو اختیار کر کے اس شخص کو مسلمان کہے۔ (كما صرح بـه فـى الشفاء فـى هذه الصفحة وبمثله صرح في البحر وجامع الفصولين وغيره)

اور دوسری طرف یہ لازم ہے کہ جس شخص میں کوئی وجہ کفر کی یقیناً ثابت ہو جائے۔ اس کی تکفیر میں ہرگز تاخیر نہ کرے اور نہ اس کے متبعین کو کافر کہنے میں دریغ کرے۔ جیسا کہ علماء امت کی تصریحات محررہ بالا سے بخوبی واضح ہو چکا۔ والله اعلم وعلمه اتم واحکم !

تتمہ مسئلہ از امداد الفتاویٰ جلد سادس

یہ کل بیان اس صورت میں تھا جب کہ کسی شخص یا جماعت کے متعلق عقیدہ کفریہ رکھنا یا

١٧

صفحہ ٨٠

اقوال کفریہ کا کہنا متیقن طریق سے ثابت ہو جائے۔ لیکن اگر خود اسی میں کسی موقع پر شک ہو جائے کہ یہ شخص اس عقیدہ کا معتقد یا اس قول کا قائل ہے یا نہیں۔ تو اس کے لئے احوط و اسلم وہ طریق ہے جو امداد الفتاویٰ میں درج ہے۔ جس کو بعینہ ذیل میں بطور تتمہ نقل کیا جاتا ہے۔

اگر کسی خاص شخص کے متعلق یا کسی خاص جماعت کے متعلق حکم بالکفر میں تردد ہو خواہ تردد کے اسباب علماء کا اختلاف ہو خواہ قرائن کا تعارض ہو یا اصول کا غموض، تو اسلم یہ ہے کہ نہ کفر کا حکم کیا جائے نہ اسلام کا حکم۔ اول میں تو خود اس کے معاملات کے اعتبار سے بے احتیاطی ہے اور حکم ثانی میں دوسرے مسلمانوں کے معاملات کے اعتبار سے بے احتیاطی ہے۔ پس احکام میں دونوں احتیاطوں کو جمع کیا جائے گا۔ یعنی اس سے نہ عقد مناکحت کی اجازت دیں گے نہ اس کی اقتداء کریں گے نہ اس کا ذبیحہ کھائیں گے۔ اور نہ اس پر سیاست کافرانہ جاری کریں گے۔ اگر تحقیق کی قدرت ہو اس کے عقائد کی تفتیش کریں گے اور اس تفتیش کے بعد جو ثابت ہو ویسے ہی احکام جاری کریں گے۔ اور اگر تحقیق کی قدرت نہ ہو تو سکوت کریں گے اور اس کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کریں گے۔ اس کی نظیر وہ حکم ہے جو اہل کتاب کی مشتبہہ روایات کی متعلق حدیث میں وارد ہے:

”لا تصدقوا اهل الكتاب ولا تكذبوهم وقولوا أمنا بالله وما انزل الينا الاية البخارى ج ٢ ص ١٠٩٤ باب لا تسئلوا اهل الكتاب“

”نہ اہل کتاب کی تصدیق کرو نہ تکذیب بلکہ یوں کہو کہ ہم اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور اس وحی پر جو ہم پر نازل ہوئی۔“

دوسری فقہی نظیر احکام خنثی کے ہیں:

”يوخذفيه بالاحوط والا وثق فى امور الدين وان لا يحكم بثبوت حكم وقع الشك فى ثبوته واذا وقف خلف الامام قام بين صف الرجال والنساء و يصلى بقناع ويجلس فى صلاته جلوس المرأة ويكره له فى حياته لبس الحلى والحرير وان يخلوا به غير محرم من رجل او امرأة اويسا فر مع غير محرم من الرجال والاناث ولا يغسله رجل ولا امرأة ويتيمم با لصعيد ويكفن كما يكفن الجارية وامثاله مما فصله الفقهاء ١١ شعبان ٥١ھ / جواهر الفقه ج ١ ص ٣٨“

١٨

صفحہ ٨١

”خنثیٰ مشکل کے بارہ میں امور دین میں وہ صورت اختیار کی جائے جس میں احتیاط ہو اور کسی ایسی چیز کے ثبوت کا اس پر حکم نہ کیا جائے جس کے ثبوت میں شک ہو اور جب وہ امام کے پیچھے نماز کی صف میں کھڑا ہو تو مردوں اور عورتوں کی صف کے درمیان کھڑا ہو۔ اور عورتوں کی طرح دوپٹہ اوڑھ کر نماز پڑھے اور قعدہ میں اس طرح بیٹھے جیسے عورتیں بیٹھتی ہیں۔ اور اس کے لئے زیور اور ریشمی کپڑا پہننا مکروہ ہے۔ اور یہ بھی مکروہ ہے کہ کوئی مرد یا عورت غیر محرم اس کے ساتھ خلوت میں بیٹھے یا ایسے مرد یا عورت کے ساتھ سفر کرے جو اس کا محرم نہ ہو اور مرنے کے بعد اس کو نہ کوئی مرد غسل دے نہ عورت۔ بلکہ تیمم کرا دیا جائے اور کفن ایسا دیا جائے جیسا لڑکیوں کو دیا جاتا ہے اور اسی طرح دوسرے احکام جن کو فقہاء نے مفصل لکھا ہے۔“

مشورہ: یہ بحث کہ کن کن امور سے کوئی مسلمان خارج از اسلام ہو جاتا ہے اور حکم تکفیر کے لئے شرعی ضابطہ کیا ہے۔ اور اہل قبلہ کو کافر نہ کہنے کی کیا مراد ہے۔ اس کے متعلق ایک جامع مانع بہترین رسالہ رئیس المحدثین حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ کا اکفار الملحدین کے نام سے عربی زبان میں شائع ہو چکا ہے۔ جو حضرات ان مسائل کو مکمل دیکھنا چاہتے ہیں اس کی مراجعت کریں۔ (اس کا اب اردو ترجمہ بھی ہو گیا ہے۔ عام مل جاتا ہے۔ مرتب)

سوال دوم: اس عام سوال کے بعد چند فرقوں کے متعلق خاص طور پر سوال کی ضرورت محسوس ہوئی۔ اول فرقہ چکڑالویہ۔ دوم فرقہ مرزائیہ۔ ان دونوں فرقوں کے عقائد درج ذیل ہیں۔ ان عقائد کو زیر نظر رکھتے ہوئے ان فرقوں کے متعلق تحریر فرمایا جائے کہ یہ فرقے دائرہ اسلام میں داخل ہیں یا نہیں۔

نوٹ: اس رسالہ میں روافض سے متعلق بھی بحث تھی۔ جو بوجہ کتاب کا موضوع نہ ہونے کے ہم نے ترک کر دی ہے۔ (مرتب)

فرقہ چکڑالویہ کے عقائد

پنجاب میں ایک فرقہ ہے جو اپنے آپ کو اہل قرآن کہتا ہے۔ اس کا بانی عبداللہ چکڑالوی ہے اور اسی کی طرف اس کی نسبت کی جاتی ہے۔ اس فرقہ کے عقائد کا نمونہ خود بانی فرقہ عبداللہ چکڑالوی کی کتاب (برہان الفرقان علیٰ صلوٰۃ القرآن) سے بحوالہ صفحات لکھا جاتا ہے۔ تا کہ علمائے کرام اس پر غور فرمائیں کہ یہ فرقہ اور اس کے متبعین مسلمان ہیں یا نہیں۔ وہ عقائد بعینہ

١٩

صفحہ ٨٢

اس کے الفاظ میں یہ ہیں:

منقول از برہان الفرقان علیٰ صلوٰۃ القرآن از عبداللہ چکڑالوی

نماز پڑھنا کفر و شرک ہے۔

(ص ٥ سطر ٦)

کے سوا اور کوئی چیز ہرگز خاتم النبیین پر وحی نہیں ہوئی۔

(ص ٩ سطر ٣)

ایسا کرے وہ مشرک ہو جاتا ہے۔

(ص ٢١ سطر ١٦)

احکام بتائے ہیں۔ وہ حقیقت میں خاتم النبیین پر سب کرتے ہیں۔

(ص ١٥ سطر ٢١)

و دائمی عذاب ہے۔ افسوس شرک فی الحکم میں آج کل اکثر لوگ مبتلا ہیں۔

(ص ١٦ سطر ٢١)

دینی مسئلہ سمجھتے ہیں اور اس کے برا ہونے کا ان کو خیال تک بھی نہیں آتا۔ بلکہ اس کے برا سمجھنے والے کو برا سمجھتے ہیں۔ اعلانیہ بڑے زور و شور سے کہتے ہیں اور اس اپنے کہنے پر قرآن شریف سے دلائل پیش کرتے ہیں کہ جس طرح اللہ کا حکم ماننا فرض ہے اسی طرح رسول اللہ سلام علیہ کا العجب ثم العجب اور اس مشرکانہ خیال کو اصل اصول جانتے ہیں۔

(ص ١٧ سطر ٢)

تعلیم دی ہے اور بس دیگر ذریعہ سے تعلیم نہیں دی۔

(ص ١٩ سطر ١٥)

واجب الاتباع دو چیزیں نہیں بلکہ ایک ہی شے ہے قرآن مجید۔ اور محمد رسول اللہ سلام علیہ بے شک دو چیزیں ہیں۔ لیکن آپ کی فرمانبرداری کا قرآن مجید میں کسی جگہ حکم نہیں ہوا۔

(ص ٢١ سطر ١١)

٢٠

صفحہ ٨٣

رسول اللہ کی فرمانبرداری کا حکم ہوا۔ وہاں رسول اللہ سے مراد فقط قرآن مجید ہی ہے۔

(ص٢١ سطر١٩)

کل کے لوگوں میں سے آپ کسی کے پاس نہیں آئے۔ اگر کسی صاحب کے پاس آپ کی آمدورفت ہو تو بتا دیں: ”یاایھاالذین آمنوا اطیعوا اللہ ورسولہ ولاتولوا عنہ . “ اس جگہ رسول اللہ سے مراد آپ کی ذات نہیں ہو سکتی۔ ورنہ معنی لغو ہو جاتے ہیں۔ لہٰذا رسول اللہ سے مراد اس جگہ پر قرآن مجید ہی ہے۔

(ص٣٠ سطر١)

سے صرف یہ مراد ہے کہ جس طرح قرآن مجید پر میں عمل کرتا ہوں اسی طرح تم بھی عمل کرو۔ کسی مومن یا رسول کا ہر ایک فعل واجب الاتباع نہیں۔

(ص٤٢ سطر١)

آیت:” ولا تقربوا الصلوٰۃ “ سے ثابت ہے۔ لیکن قرآن مجید پڑھنے سے کہیں نہیں روکا گیا۔

(ص٥٨ سطر١٠)

علیہ نے یہ باتیں کہی بھی ہیں تو وحی خفی سے نہیں ۔ بلکہ عقل انسانی سے۔

(ص٦٠ سطر١٣)

بالا یقیناً پاؤں کا دھونا بھی فرض ہے۔ مسح جائز نہیں۔ خواہ ننگے پاؤں پر ہو خواہ جرابوں پر یا موزوں پر۔ جس قدر ایسی احادیث ہیں جن میں یہ ذکر ہے کہ رسول اللہ سلام علیہ نے موزوں اور جرابوں پر مسح کیا اور دوسروں کو ایسا کرنے کی اجازت دی۔ سب باطل اور رسول اللہ پر افتراء ہیں۔

(ص٦٢ سطر١)

آگ کی پکی ہوئی چیزیں‘ یا اونٹ کا گوشت کھانے یا قے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ جن احادیث میں یہ مضمون ہے کہ یہ چیزیں وضو کو توڑنے والی ہیں۔ وہ بے ہودہ اور مردود ہیں۔

(ص٨٢ سطر١)

٢١

صفحہ ٨٤

عقائد فرقہ ہذا مندرجہ الصلوٰۃ للہ !

عقائد فاسدہ: دلائل کاسدہ:

عقیدہ:١........... آسمانی کتابوں میں کوئی فرق نہیں سب ہم رتبہ وہم پلہ ہیں۔

دلیل:١........... جس چیز کا بیج ازل سے جاری ہوا ابد تک رہے گا بدلنے کا امکان نہیں ہے ۔ ایسی ہی کتابیں ایک خدا کی ہیں سب یکساں ہوں گی لا تبديل لخلق الله !

عقیدہ:٢........... نبیوں میں فرق نہیں ہے سب ایک درجہ کے ہیں اور سلسلۂ نبوت تا قیامت جاری رہے گا۔

دلیل:٢........... ”لا نفرق بين احد من رسله ولن تجد لسنة الله تحويلا“

عقیدہ:٣........... اوقات نماز چار ہیں۔ تہجد، فجر، مغرب، ظہر۔

دلیل:٣........... تہجد کا وقت نفل کے لئے باقی کا فرض کے لئے ہے۔ دلیل یہ ہے: ”رب المشرق والمغرب . واقم الصلوة لدلوك الشمس...... الخ“

عقیدہ:٤........... قبلہ پورب اور پچھم دو طرف ہے۔ تہجد و فجر مشرق جانب اور ظہر ومغرب پچھم جانب ہیں۔

دلیل:٤........... دلیل : ” رب المشرق والمغرب . “ ہے۔ غرض جب آفتاب پورب کی سمت میں ہو تو پورب کرے۔ جیسے تہجد و فجر میں اور جب پچھم ہو تو پچھم کی جانب۔ جیسے ظہر و مغرب میں۔

عقیدہ:٥........... تکبیر نماز اللہ اکبر نہیں ہے۔ بلکہ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ہے۔

دلیل:٥........... سلیمان علیہ السلام کا قصہ: ”انه من سليمان وانه بسم الله الرحمن الرحيم“ موجود ہے۔

عقیدہ:٦........... ارکان چودہ ہیں جو داخل نماز ہیں اور وہ یہ نہیں ہیں جو لوگ سمجھتے ہیں ۔ اور عقیدہ رکھتے ہیں۔

دلیل:٦........... ”انا اعطيناك الكوثر“ کوثر سے مراد سبع مثانی ۔ سبع مثانی سے مراد چودہ اور چودہ سے مراد ارکان ۔

٢٢

صفحہ ٨٥

عقیدہ :٧................ یہ اذان ممنوع ہے۔ آثار آسمانی سے نمازی آوے گا۔ دلیل :٧................ قرآن میں ذکر نہیں ہے۔ بلکہ : ” ان انکر الاصوات لصوت الحمير“ آیا ہے۔

عقیدہ :٨................ وضو کا لفظ خود ساختہ اور غلط ہے۔ اصل لفظ غسل سکر ہے۔ دلیل :٨................ ”فاغسلوا وجوهكم وايديكم الى المرافق“

عقیدہ :٩................ وضو میں صرف ہاتھ منہ دھونا ہے اور سر پیر کا مسح کرنا ہے بس۔

عقیدہ :١٠................ جب سے زمانہ نے رنگ بدلا اور میرے جانشین ہوئے اصلی نماز کی صورت بگاڑ دی اور مشرکانہ دعائیں شامل کر دی ہیں۔

عقیدہ :١١................ رکعت کا لفظ قصر (قصر) تحریف ہو کر بنا ہے۔ اصل قصر اولیٰ اخریٰ ہے۔ رکعت اولیٰ رکعت اخریٰ نہیں ہے۔

عقیدہ :١٢................ صلوٰۃ جنازہ میں ہاتھ نہ باندھے۔ دلیل :١٢................ ”واخفض جناحك للمؤمنين ،“ دلیل ہے۔

عقیدہ :١٣................ رمضان شریف کا مہینہ تیس دن کا ہے۔ دلیل :١٣................ ”وواعدنا موسى ثلثين ليلة ٠“ دلیل ہے۔

عقیدہ :١٤................ ”شهر رمضان“ سے شمسی مہینہ مراد ہے۔ دلیل :١٤................ ورنہ آیت بالا کے معنی درست نہ ہوں گے۔

١٥................ صورت نماز اہل قرآن یہ ہے کہ اپنی تکبیر کہتا ہوا بصورت قعدہ بیٹھ جائے۔ پھر تکبیر کے ساتھ کھڑا ہو۔ پھر بایاں ہاتھ دائیں بغل میں دبائے اور دایاں ہاتھ بائیں شانے پر رکھے۔ پھر رکوع کرے۔ پھر سجدہ میں ٹھوڑی رکھے۔ پھر سر۔ پھر جلسہ میں آئے اور سینہ میں ہاتھ رکھے۔ پھر سجدہ کرے۔ وغیرہ وغیرہ۔

الجواب !

١................ ”قل اطيعوا الله والرسول فان تولوا فان الله لا يحب الكافرين ٠ آل عمران : ٣٢“

٢................ ”قال الله تبارك و تعالى ٠ وما ارسلنا من رسول الا ليطاع

٢٣

صفحہ ٨٦

باذن الله ولو انهم اذظلموا انفسهم جاؤك فاستغفروا الله واستغفر لهم الرسول لو جدوا الله تو ابا رحيماً ٠ نساء:٦٤ “

٣.......... ”يا ايها الذين أمنوا اطيعوا الله واطيعو الرسول واولى الامر منكم فان تنازعتم فى شىء فردوه الى الله والرسول ٠ نساء:٥٩ “

٤.......... ”واطيعوا الله واطيعوا الرسول ٠ فان توليتم فانما على رسولنا البلاغ المبين ٠ تغابن:١٢ “

٥.......... ”ماكان لمؤمن ولا مؤمنة اذا قضى الله ورسوله امرا ان يكون لهم الخيرة من امرهم ٠ ومن يعص الله ورسوله فقدضل ضلالا مبيناً ٠ الاحزاب:٣٦ “

٦.......... ”فلا وربك لا يؤ منون حتى يحكموك فيما شجر بينهم ثم لايجد وافى انفسهم حرجاً مما قضيت ويسلمو اتسليماً ٠ نساء :٦٥ “

٧.......... ”قل ان كنتم تحبون الله فاتبعونى يحببكم الله ٠ آل عمران:٣١ “

٨.......... ”وما اتاكم الرسول فخذوه وما نهاكم عنه فانتهوا ٠ حشر:٧ “

٩.......... ”هو الذى بعث فى الا ميين رسولا منهم يتلوا عليهم اياته ويزكيهم ويعلمهم الكتاب والحكمة وان كانوا من قبل لفى ضلال مبين ٠ جمعه:٢ “

١٠.......... ”وانزلنا اليك الذكر لتبين للناس ما نزل اليهم ولعلهم يتفكرون ٠ نحل:٤٤ “

١١.......... ”وارسلناك للناس رسولا وكفى بالله شهيداً ٠ من يطع الرسول فقد اطاع الله ومن تولى فما ارسلناك عليهم حفيظاً ٠ نساء:٧٩ ٠ ٨٠ “

١٢.......... ”لقد كان لكم فى رسول الله اسوة حسنة ٠ احزاب:٢١ “

١٣.......... ”ومن يشا قق الرسول من بعد ما تبين له الهدى ويتبع غير سبيل المؤ منين نو له ما تولى ونصله جهنم وساء ت مصيراً ٠

٢٤

صفحہ ٨٧

نساء:١١٥ “

وكلماته واتبعوه لعلكم تهتدون ، الاعراف:١٥٨“

اويصيبهم عذاب اليم ٠ نور:٦٣“

المنافقين يصدون عنك صدودًا ٠ نساء:٦١“

آیات مذکورہ بالا ونیز دیگر آیات کثیرہ سے نہایت صراحت اور وضاحت کے ساتھ دو امر ثابت ہوتے ہیں۔

ایک یہ کہ قرآن مجید اپنے ماننے والوں کو جس طرح احکام قرآنیہ کی اطاعت کا حکم دیتا ہے۔ اسی طرح آنحضرت ﷺ کے احکام کی اطاعت پر مجبور کرتا ہے۔ جیسا کہ آیت نمبر ١ و آیت نمبر ٨ سے ثابت ہوتا ہے۔

دوسرے یہ کہ آنحضرت ﷺ کی بعثت کے مقاصد میں سے یہ بھی ہے کہ آپ ﷺ قرآن مجید کے صحیح مطالب وصحیح تفسیر بیان فرمائیں۔ جیسا کہ آیت نمبر ٩ و نمبر ١٠ سے ثابت ہے۔

اسی لئے جب کسی آیت کے متعلق آپ ﷺ سے کوئی تفسیر منقول ہو تو اس کے مخالف کوئی دوسری تفسیر ہرگز قابل التفات نہ ہوگی۔ اگرچہ الفاظ قرآن میں باعتبار لغت کے اس کا احتمال بھی موجود ہو۔

آنحضرت ﷺ کے عہد مبارک سے آج تک تمام امت محمدیہ کا یہی اعتقاد رہا ہے۔ اور اگر کسی نے کبھی اس کے خلاف عقیدہ ظاہر کیا ہے تو اسکو باجماع مسلمین کافر و مرتد سمجھا گیا اور اس کے ساتھ وہی معاملہ کیا گیا جو کفار و مرتدین کے ساتھ شریعت میں معمول ہے۔

ایسی ہی تفسیر کے متعلق حق تعالیٰ کا ارشاد ہے:

”ان الذين يلحدون فى آياتنا لايخفون علينا ، افمن يلقى فى النار خير ام من ياتى امنا يوم القيامة ، اعملوا ما شئتم ، انه بما تعملون بصير ٠ حم سجده:٤٠ “

حضرت ابن عباسؓ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں:

٢٥

صفحہ ٨٨

”هو يضع الكلام على غير موضعه اخرجه ابن ابی حاتم . (كذافي الاتقان ص ١٩١ ج ٢)“ الحاد کرنے والا وہ شخص ہے جو کلام کو بے محل استعمال کرے۔

اور تفسیر روح المعانی میں ہے:

”ينحرفون فى تاويل آيات القران عن جهة الصحت والاستقامة يحملونها على المحامل الباطلة وهو مراد ابن عباس بقوله يضعون الكلام فى غير موضعه انتهى ثم قال فى تفسير قوله تعالى) افمن يلقى فى النار الاية تنبيه على كيفية الجزاء (ثم قال فى قوله ) اعملوا ماشئتم تهديد شديد للكفر الملحدين الذين يلقون فى النار (روح ص ١١٢ و ١١٣ ج ٢٤)“

”وہ آیات کی تفسیر میں صحت و استقامت سے علیحدہ ہوتے ہیں اور ان کو معانی باطلہ پر محمول کرتے ہیں اور یہی مراد حضرات ابن عباسؓ کی ہے۔ اس ارشاد سے کہ وہ لوگ کلام کو بے محل استعمال کرتے ہیں (اس کے بعد حق تعالیٰ کے ارشاد:’افمن يلقى فى النار ٠ الايه ‘ کی تفسیر میں لکھا ہے) کہ یہ اس پر تنبیہ ہے کہ کفار ملحدین کی سزا کیسی ہو گی (پھر :’ اعملوا ما شئتم ‘ کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ یہ تہدید شدید ہے کفار ملحدین کے لئے جو جہنم میں ڈالے جائیں گے۔“

عقائد نسفی ہے:

”النصوص على ظاهرها والعدول عنها الى معان يدعيها اهل الباطل الحاد “

”نصوص اپنے ظاہری معانی پر محمول ہیں اور ان معانی سے ایسے معانی کی طرف عدول کرنا جن کا اہل باطل دعویٰ کرتے ہیں الحاد ہے۔“

اور علامہ سیوطیؒ نے اتقان میں نقل کیا ہے کہ ایک شخص آیت کریمہ : ”من ذا الذی يشفع عنده “ کے الفاظ کو تحلیل کر کے : ”من ذل ذی“ قرار دے کر یہ تفسیر کرتا تھا کہ (جو شخص اپنے نفس کو ذلیل کرے۔ وہ اللہ کے نزدیک سفارش کر سکتا ہے۔

شیخ الاسلام سراج الدین بلقینیؒ سے اس کے متعلق سوال کیا گیا تو یہ فتویٰ دیا کہ وہ ملحد زندیق ہے۔ (اتقان مصری ص ١٩١ ج ٢ فصل مايحتاج اليه المفسر )

اور قرآن شریف میں ہے:

”لا تحرك به لسانك لتعجل به ان علينا جمعه وقرأنه فاذا قرأناه

٢٦

صفحہ ٨٩

فاتبع قرانه ثم ان علينا بيانه ٠ القيامة ١٦“ ”اے پیغمبر! آپ قرآن پر اپنی زبان نہ ہلایا کیجئے۔ تا کہ آپ اس کو جلد جلدی لیں۔ ہمارے ذمہ ہے اس کا جمع کر دینا۔ اور اس کا پڑھوا دینا تو جب ہم اس کو پڑھنے لگا کریں تو آپ اس کے تابع ہو جایا کیجئے۔ پھر اس کا بیان کر دینا ہمارے ذمہ ہے۔

الغرض آیات و عبارات مذکورہ سے واضح ہوا کہ جو شخص وہ عقائد رکھے جو فرقہ چکڑالویہ کی کتابوں سے سوال میں ظاہر کئے گئے ہیں وہ بلاشبہ ملحد و زندیق اور کافر خارج از اسلام ہے۔ کیونکہ وہ بہت سی ضروریات دین کا منکر ہے۔ جیسا کہ عقائد مذکورہ کے دیکھنے والے پر مخفی نہیں رہ سکتا۔ عقائد مذکورہ کا ضروریات دین کے خلاف ہونا چونکہ بالکل بدیہی اور آفتاب کی طرح روشن ہے۔ اس لئے ضرورت نہیں کہ ہر عقیدے کے متعلق جدا جدا کچھ لکھا جاوے۔

علاوہ ازیں اس وقت ہجوم مشاغل کے سبب فرصت بھی نہیں۔ آئندہ اگر فرصت ملی یا کسی دوسرے صاحب نے ہمت کی اور اس کی تفصیل لکھ دی تو انشاء اللہ تعالیٰ اُس کو اس رسالہ کا ضمیمہ بنا دیا جاوے گا۔

فرقہ مرزائیہ کے عقائد

مرزا غلام احمد ساکن قادیان ضلع گورداسپور پنجاب اس فرقہ کا بانی ہے اور اس وقت اس فرقہ کی تین پارٹیاں مشہور ہیں۔ ایک ظہیر الدین اروپی کی متبع اور دوسری مرزا محمود کی متبع جس کو قادیانی پارٹی کہا جاتا ہے۔ تیسرے مسٹر محمد علی لاہوری کی متبع جس کو لاہوری پارٹی کہا جاتا ہے۔

پہلی پارٹی مرزا غلام احمد کے مذہب کو بغیر کسی نفاق و تاویل کے ظاہر کرتی ہے اور ان کو ان کی تعلیم کے مطابق نبی اور رسول مستقل ناسخ شریعت مانتی ہے کلمہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ! کو معاذ اللہ منسوخ کہتی ہے اور آنحضرت ﷺ کی شہادت میں مرزا کا نام لینا ضروری سمجھتے ہیں۔

دوسری پارٹی خواہ اپنی چالاکی کی وجہ سے کہ مسلمان ایسے شدید کفر سے فوراً متنفر ہو جائیں گے۔ یا اپنی کم فہمی کی وجہ سے مرزا کی تصریحات کے خلاف اُس کو صاحب شریعت ناسخ القرآن نہیں مانتی۔ لیکن نبی اور رسول ہونے کا بلکہ دوسرے انبیاء سے افضل ہونے کا اعتقاد رکھتی اور ظاہر کرتی ہے۔

تیسری پارٹی اس کو مسیح موعود اور مہدی و امام کہتی ہے۔ نبی اور رسول کا لفظ بھی اس کے

٢٧

صفحہ ٩٠

لئے استعمال کرتی ہے۔ مگر یہ کہہ کر کہ لغوی اور مجازی امتی نبی ہیں۔ ایسے نہیں جیسے پہلے انبیاء گزرے ہیں۔

ان تینوں پارٹیوں کے عقائد مفصل حضرت مولانا سید مرتضیٰ حسن صاحب دام مجدہم نے اپنے رسالہ ”اشد العذاب“ میں ان کی کتابوں میں سے بقیہ صفحات نقل کئے ہیں جن میں سے بعض بطور نمونہ اس جگہ نقل کئے جاتے ہیں۔ (یہ رسالہ اور دیگر رسائل حضرت سید مرتضیٰ حسن احتساب قادیانیت جلد دہم میں مکمل شائع ہو گئے ہیں۔ مرتب)

اروبی مرزائی کے عقائد

رسالہ المبارک ص ٣ میں اروبی کہتا ہے۔ اپنے عقائد کا خلاصہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ! پر سچے دل سے ایمان رکھتے ہوئے احسن طور پر یہ بیان کرنا ہو گا کہ لا الہ الا اللہ احمد جری اللہ۔ اور اسی کتاب کے صفحہ مذکور پر ہے۔ قرآن کریم کو سچے دل سے منجانب اللہ یقین کرتے ہوئے اس تازہ وحی الٰہی پر یقین لانا مقدم سمجھنا ہو گا جو حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) علیہ الصلوٰۃ والسلام پر نازل ہوئی۔

پھر اسی صفحہ میں لکھتا ہے اور خدا کی عبادت کرتے وقت مسجد اقصیٰ اور مسیح موعود کے مقام قادیان کی طرف منہ کرنے کو ترجیح دینی ہو گی۔ پھر رسالہ ”تبدیل قانون“ ص ٢، ٣ میں مفصل تحریر کے ذیل میں لکھتا ہے۔ ”یہی وجہ ہے کہ آج ہمارے لئے وہ شریعت نہیں رہی جو آج سے تیرہ سو برس پہلے تھی۔ دیکھو حضرت مسیح موعود کیسی وضاحت سے لکھتے ہیں.......... الخ۔“

قادیانی پارٹی کے عقائد

مرزا محمود خلیفہ قادیان اپنی کتاب (حقیقت النبوۃ ص ١٧٤) میں لکھتے ہیں کہ: ”پس شریعت اسلام نبی کے جو معنی کرتی ہے اس کے معنی سے حضرت صاحب ہرگز مجازی نبی نہیں بلکہ حقیقی نبی ہیں۔“ اور اخبار الفضل جلد دوم نمبر ١٢٢ و نمبر ١٢٣ مورخہ ٤ و ١٦ اپریل ١٩١٥ء میں ہے کہ: ”محکم کیا ہے حضرت مسیح موعود نبی ہیں یہ بلحاظ نفس نبوت یقیناً ایسے جیسے ہمارے آقا سیدنا محمد ﷺ محکم کیا ہے۔ نبی کا منکر: ”اولٰئک ہم الکٰفرون حقاً۔“ کے فتوے کے نیچے داخل ہے۔ (اشد العذاب ص ٢٥ بحوالہ رسالہ موجودہ قادیانی مذہب)

اور رسالہ موجودہ قادیانی مذہب ص ٣ میں بحوالہ تشحیذ الاذہان جلد ٢ نمبر ١٤ لکھا ہے:

٢٦

صفحہ ٦١

قرآن شریف میں انبیاء کے منکرین کو کافر کہا گیا ہے۔ اور ہم لوگ حضرت مسیح موعود کو نبی اللہ مانتے ہیں۔ اس سے ہم آپ کے منکروں کو کافر کہتے ہیں۔

لاہوری پارٹی کے عقائد

اشد العذاب ص ٧٥ میں بحوالہ ہنڈبل نمبر ٢ ص ١: ”قبل اس کے کہ جناب میاں صاحب اور ان کے مریدین کے عقائد کو خلاف عقائد حضرت مسیح موعود دکھایا جاوے یہ بتا دینا ضرور ہے کہ ہم حضرت مسیح موعود کے متعلق یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ آپ امام الزمان مجدد ملہم من اللہ جزوی ظلی بروزی مجازی امتی نبی بمعنی محدث نہ بمعنی نبی مہدی و مسیح موعود ہیں ۔

یہ تو وہ عقیدہ ہے جو لاہوری پارٹی مرزا کے متعلق رکھتی ہے اس کے علاوہ خود اس کے رئیس مسٹر محمد علی صاحب نے اپنے انگریزی ترجمہ قرآن میں بہت سی آیات قرآنیہ کی ایسی تحریف کی ہے جن میں سے ہر ایک مستقل وجہ کفر معلوم ہوتی ہے۔ ان عقائد پر غور کرتے ہوئے ہر ایک پارٹی کے متعلق جدا جدا تحریر فرمایا جاوے کہ یہ پارٹیاں خارج از اسلام ہیں یا ان میں کوئی تفصیل ہے؟ ۔

الجواب: ان تینوں پارٹیوں میں چند وجوہ تو کفر ہیں اور بعض وجوہ خاص خاص پارٹیوں کے ساتھ مخصوص ہیں۔ اس جگہ مشترکہ وجوہ میں سے چند وجوہ پر اکتفاء کیا جاتا ہے۔ وہ یہ ہیں:

نہیں مسلمان بلکہ مہدی و مسیح سمجھنا ۔

اور اس کے اجماعی مفہوم کو بدلنا۔

تینوں پارٹیوں میں مشترک ہیں اور ان کے کفر کیلئے کافی ہیں۔ ان کے علاوہ دوسری بہت سی وجوہ اور بھی ہیں جن کے استیعاب کی اس جگہ ضرورت نہیں اور وجوہ مذکورہ بالا کے کفر ہونے کا ثبوت تمام کتب مذہب میں موجود ہے۔ جن میں سے چند عبارات اس جگہ نقل کی جاتی ہیں:

علامہ خفاجی شرح شفاء میں فرماتے ہیں:

”وقال ابن القاسم فى من تنباء انه كالمرتد سواء كان دعا ذلك

٢٩

صفحہ ٩٢

ای الى متابعة نبوته سرا كان او جهراً كمسيلمة لعنه الله وقال اصبغ بن الفرج هو الى من زعم انه نبى يوحى اليه كالمرتد فى احكامه لانه قد كفر بكتاب الله لانه كذبه ﷺ فى قوله انه خاتم النبين ولا نبى بعده مع الفرية على الله ، نسيم الرياض ج٤ ص٣٩٣“

”ابن قاسم اس شخص کے متعلق کہتے ہیں جو نبوت کا دعویٰ کرے کہ وہ مثل مرتد کے ہے خواہ اپنی نبوت کی طرف وہ لوگوں کو سراً دعوت دے یا جہراً جیسے مسیلمہ کذاب لعنہ اللہ تعالیٰ اور اصبغ بن فرج فرماتے ہیں کہ وہ یعنی وہ شخص جو یہ کہے کہ میں نبی ہوں اور مجھ پر وحی آتی ہے۔ تمام احکام میں مثل مرتد کے ہے اس لئے کہ وہ کتاب اللہ کا منکر ہے۔ کیونکہ اس نے آنحضرت ﷺ کی اس حکم میں تکذیب کی کہ آپ ﷺ خاتم النبین ہیں اور آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں اور اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ پر افتراء بھی کرتا ہے۔ (کیونکہ اس نے اس کو نبی صاحب وحی نہیں بنایا۔ یہ محض افتراء کرتا ہے کہ مجھ پر وحی آتی ہے)“

علامہ زرقانی فرماتے ہیں:

”قال ابن حبان من ذهب الى ان النبوة مكتسبة لا تنقطع او الى ان الولى افضل من النبى فهو زنديق يجب قتله شرح مواهب ، زرقانى ص١٨٨ج٦“

ابن حبان فرماتے ہیں جو شخص یہ اعتقاد رکھے کہ نبوت کسب وعمل سے حاصل ہو سکتی ہے اور کبھی منقطع نہ ہوگی یا یہ کہ نبی سے ولی افضل ہے وہ زندیق ہے اس کا قتل واجب ہے:

شفاء قاضی عیاض میں ہے کہ:

”وقد قتل عبدالملك ابن مروان الحارث المتنبىء وصلبه و فعل ذلك غير واحد من الخلفاء والملوك باشباههم واجمع علماء وقتهم على صواب فعلهم والمخالف فى ذلك من كفرهم كافر ، اكفار الملحدين ص٥٦ طبع کراچی“

عبدالملک ابن مروان نے حارث مدعی نبوت کو قتل کیا اور سولی پر چڑھایا اور یہی معاملہ بہت سے خلفاء اور شاہان اسلام نے مدعیان نبوت کے ساتھ کیا ہے اور ہر زمانہ کے علماء نے اس پر اجماع واتفاق کیا کہ ان خلفاء اور ملوک کا فعل درست ہے اور جو شخص ان مدعیان نبوت کے کفر میں

٣٠

صفحہ ٩٣

اختلاف کرے وہ بھی کافر ہے۔

اور شرح شفاء میں ہے: ”وكذلك نكفر من ادعى نبوه احد مع نبيناﷺ ای فی زمنه كمسيلمة الكذاب والاسود العنسى اوادعى نبوة احد بعده فانه خاتم النبيين بنص القران والحديث فهذا تكذيب الله ورسولهﷺ کا لعيسوية ، نسيم الرياض شرح شفاء ج٤ ص٥٠٧)“

اسی طرح ہم اس شخص کو بھی کافر سمجھتے ہیں جو ہمارے نبیﷺ کے ساتھ کسی کو نبی مانے یعنی خود آنحضرتﷺ کے زمانہ مبارک میں کسی کو نبی تسلیم کرے۔ جیسے مسیلمہ کذاب اور اسود عنسی یا آپﷺ کے بعد کسی شخص کی نبوت کا قائل ہو۔ اس لئے کہ آنحضرتﷺ بنص قرآن وحدیث خاتم النبیین ہیں تو (آپﷺ کے ساتھ یا آپﷺ کے بعد کسی کو نبی قرار دینا) اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی تکذیب ہے جیسے عیسویہ کہتے ہیں۔

اور مجمع الانہر ص ٣٠٥ میں ہے: ”وهاتان المسئلتان من جملة ماكفروا به بتجويز النبوة بعد النبيﷺ وسلم الذی اخبر تعالى انه خاتم النبيين“

اور یہ دونوں مسئلے ان مسائل میں سے ہیں جن کی وجہ سے ان لوگوں کی تکفیر کی گئی ہے۔ کیونکہ انھوں نے نبی کریمﷺ کے بعد نبوت جاری رہنے کو جائز قرار دیا۔ جن کے متعلق حق تعالےٰ نے خبر دی ہے کہ آپﷺ خاتم النبیین ہیں۔

فتاویٰ عالمگیری میں ہے: ”اذالم يعرف ان محمداﷺ آخر الانبياء فليس بمسلم ولوقال انارسول او قال بالفار سيته من پيغمبر م يريد به من پيغام می برم يكفر ، فتاوى عالمگيری ج٢ ص٢٦٣“

جو کوئی شخص یہ اعتقاد نہ رکھے کہ محمدﷺ آخرالانبیاء ہیں وہ مسلمان نہیں ہے۔ اور اگر یہ کہا کہ میں رسول ہوں (اگرچہ اس کی مراد اصطلاحی رسول و پیغمبر نہ ہو) بلکہ پیغام رساں مراد ہو جب بھی وہ کافر ہے۔ (کیونکہ یہ تاویل بے معنی اور الحاد کا دروازہ کھولنے والی ہے)

علامہ ابن حجر مکی شافعیؒ اپنے فتاویٰ میں تحریر فرماتے ہیں:

٣١

صفحہ ٩٤

”من اعتقد وحیا بعد محمد ﷺ کفر باجماع المسلمین“ جو شخص آنحضرت ﷺ کے بعد کسی نبی وحی کا اعتقاد کرے وہ باجماع مسلمین کافر ہے۔

اشباہ والنظائر کتاب السیر والردۃ میں لکھتے ہیں: ”اذا لم یعرف ان محمد اﷺ آخر الانبیاء فلیس بمسلم الانہ من لضروریات ٠ اشباہ ص ١٠٢“ جو شخص نبی کریم ﷺ کو آخر الانبیاء نہ سمجھے وہ مسلمان نہیں۔ اس لئے کہ یہ مسئلہ ضروریات دین میں سے ہے۔

اور ملا علی قاری شرح شمائل میں مہر نبوت کے متعلق فرماتے ہیں کہ: ”واضافتہ الی النبوۃ لانہ ختم بہ بیت النبوۃ حتی لا یدخل بعدہ احد“ خاتم النبوت میں خاتم کی اضافت نبوت کی طرف اس لئے کی گئی کہ اس نے بیت نبوت پر مہر لگا دی کہ اس کے بعد اس میں کوئی داخل نہ ہوسکے گا۔

اور نیز علامہ موصوف شرح فقہ اکبر ص٢٠٢ میں فرماتے ہیں کہ : ”ودعوی النبوۃ بعد نبینا ﷺ کفر بالاجماع“ اور ہمارے نبی ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنا باجماع مسلمین کفر ہے۔

اور علامہ سید محمود آلوسی مفتی بغداد نے اپنی تفسیر میں اس مسئلہ کو نہایت مکمل لکھا ہے جس کے چند جملے یہ ہیں: ”وکونہ ﷺ خاتم النبیین مما نطقت بہ الکتب وصدعت بہ السنۃ واجمعت علیہ الامۃ فیکفر المدعی خلافہ ویقتل ان اصر ٠ روح المعانی ص ٦٥ ج ٧“ آنحضرت ﷺ کا خاتم النبیین ہونا ان چیزوں میں سے ہے جن پر قرآن مجید نے تصریح فرمائی اور احادیث نبویہ نے ان کو واضح کر دیا۔ پس جو شخص اس کے خلاف کا مدعی ہو اس کو کافر کہا جاوے گا۔ اور اگر اس پر اصرار کرے گا تو قتل کیا جائے گا۔

اور تحفہ شرح منہاج میں لکھا ہے: ”اوکذب رسولاً او نبیاً نقصہ بای منقص کان صفراسمہ یرید تحقیرہ اوجوز بنبوۃ احد بعد وجود نبوۃ نبینا ﷺ نبی قبل فلایرد ٠

٣٢

صفحہ ٩٥

اکفار الملحدین ص ٤٢ “

یا کسی رسول و نبی کی تکذیب کرے یا ان کی کسی طرح تنقیص شان کرے خواہ اسی طرح ہو کہ ان کے نام کی تصغیر بقصد تحقیر کرے۔ یا ہمارے نبی ﷺ کی نبوت کے بعد کسی دوسرے شخص کے لئے نبوت کو جائز رکھے (وہ کافر ہے) اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام (باجود نبی ہونے کے آخر زمانہ میں نازل ہوں گے۔ اس سے ختم نبوت پر شبہ نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ وہ آنحضرت ﷺ سے پہلے نبی ہو چکے ہیں۔)

اور ابن حزم میں فرماتے ہیں کہ:

”وكذلك من قال ( الى قوله ) او ان بعد محمد ﷺ نبيا غير عيسى بن مريم عليه السلام فانه لا يختلف اثنان فى تكفيره لصحة قيام الحجة بكل ( الملل والنحل ج ٢ ص ٢٦٩)“

ایسے ہی وہ شخص بھی کافر ہے جو یہ کہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد بجز عیسیٰ علیہ السلام کے کوئی اور نبی ہے۔ کیونکہ یہ ایسی کھلی ہوئی بات ہے کہ اس میں دو آدمی بھی اختلاف نہیں کر سکتے۔ اس لئے کہ اس پر حجت قائم ہے۔

اور شیخ ابو شکور سالمی تمہید میں تحریر فرماتے ہیں:

”وقالت الروافض ان العالم لا يكون خاليا من النبي قط و هذا كفر لان الله تعالى قال و خاتم النبين ومن ادعى النبوة فى زماننا فانه يصير كافرا ومن طلب منه المعجزات فانه يصير كافرا لانه لا شك فى النص فيجب الاعتقاد بانه لا شركة لاحد فى النبوة لمحمد ﷺ بخلاف ما قاله الروافض ان عليا كان شريكاً لمحمد ﷺ فى النبوة وهذا منهم كفر“

روافض کہتے ہیں کہ عالم کسی وقت ہرگز نبی سے خالی نہیں رہ سکتا اور یہ کفر ہے۔ کیونکہ حق تعالیٰ نے فرمایا ہے: ”و خاتم النبیین“ اور جو شخص ہمارے زمانہ میں نبوت کا دعویٰ کرے وہ کافر ہو جاتا ہے۔ اور جو شخص اس سے بطور (اعتقاد) معجزات طلب کرے وہ بھی کافر ہے۔ کیونکہ اس نے نص قرآنی میں شک کیا۔ پس واجب ہے کہ یہ اعتقاد رکھا جائے کہ محمد ﷺ کے ساتھ نبوت میں کسی کی شرکت نہیں ہے۔ بخلاف روافض کے جو کہتے ہیں کہ حضرت علیؓ آنحضرت ﷺ کے ساتھ نبوت میں شریک تھے اور یہ ان کا (کھلا ہوا) کفر ہے۔

٣٣

صفحہ ٩٦

اور حضرت امام غزالی اپنی کتاب اقتصاد میں فرماتے ہیں:

” ان الامة فهمت بالاجماع من هذا اللفظ ومن قرائن احواله انه افهم عدم نبی بعده ابدا وعدم رسول بعده ابد وانه ليس فيه تاويل ولا تخصیص ...... (الاقتصاد باب الرابع في بيان من يجب التكفير من الفرق ص ١٢٣) فكلامه من انواع الهذيان لايمنع الحكم بتكفيره لانه مكذب لهذا النص الذي اجمعت الامة على انه غير مأول ولا مخصوص “

تمام امت محمدیہ نے اس لفظ (یعنی خاتم النبیین) سے یہی سمجھا ہے کہ اس نے یہ بتلایا ہے کہ نبی کریم ﷺ کے بعد قیامت تک نہ کوئی نبی ہوگا نہ رسول اور یہ کہ نہ اس میں کوئی تاویل ہے نہ تخصیص اور جو شخص اس میں کسی قسم کی تخصیص و تاویل کرے اس کا کلام مجنونانہ ہذیان (بڑ) اور یہ تاویل اس پر حکم کفر کرنے سے مانع نہیں ہے کیونکہ وہ اس نص قرآنی کی تکذیب کرنے والا ہے جس کے متعلق امت کا اجماع ہے کہ وہ نہ مؤول ہے نہ مخصوص۔

اور حضرت غوث اعظم شیخ عبدالقادر جیلانیؒ غنیۃ الطالبین ج ١ ص ٨٨ میں فرماتے ہیں:

” ادعت ایضا ان علیا نبی (الى قوله) لعنهم الله والملائكة وسائر خلقه الى يوم الدين وقلع آثارهم و آبار خضرائهم ولا جعل منهم فى الارض دیار لا نهم بالغوا فى غلوهم و مردوا على الكفرو تركو الاسلام وفار قوالايمان وجحدو الا اله والرسل والتنزيل نعوذ بالله ممن ذهب الى هذه المقالة . “

روافض نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ حضرت علیؓ نبی ہیں۔ لعنت کرے اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے اور تمام مخلوق ان پر قیامت تک اور برباد کرے ان کی کھیتوں کو اور نہ چھوڑے ان میں سے کوئی گھر میں بسنے والا ۔ اس لئے کہ انہوں نے اپنے غلو میں مبالغہ سے کام لیا اور کفر میں جم گئے اور اسلام و ایمان کو چھوڑا اور انبیاء اور قرآن کا انکار کیا۔ پس ہم اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگتے ہیں۔ اس شخص سے جس نے یہ قول اختیار کیا۔

اور علامہ عارف باللہ شیخ عبدالغنی نابلسیؒ شرح فراید میں روافض کی تکفیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

٣٤

صفحہ ٩٧

”فساد مذهبهم غنى عن البيان لشهادة العيان كيف و هو يؤ الى تجويز نبى مع نبينا ﷺ او بعده و ذلك يستلزم تكذيب القران و قد نص على انه خاتم النبيين واخر المرسلين و فى السنة العاقب لا نبى بعدى واجمعت الامة على ابقاء هذ الكلام على ظاهره وهذا احد المسائل المشهورة اللتی كفرنا بها الفلاسفة لعنهم الله تعالى . اكفار الملحدين ص ٤٢ طبع ديوبند انڈيا“

ان کے مذہب کا فساد محتاج بیان نہیں بلکہ مشاہد ہے اور کیوں نہ ہو جب کہ اس سے یہ لازم آتا ہے کہ ہمارے آقا ﷺ کے ساتھ یا بعد بھی کوئی نبی پیدا ہو سکتا ہے۔ اور اس سے قرآن کی تکذیب لازم آتی ہے۔ اس لئے کہ اس کی تصریح کر دی گئی ہے کہ آپ ﷺ خاتم النبیین اور آخر المرسلین ہیں۔ اور حدیث میں ہے کہ میں عاقب ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ اور امت کا اجماع ہے کہ یہ کلام اپنے ظاہر پر بغیر کسی تاویل و تخصیص کے رکھا جائے اور یہ بھی انہیں مسائل میں سے ہے۔ جن کی وجہ سے ہم نے فلاسفہ ملاعنہ کی تکفیر کی ہے۔

اور ظاہر ہے کہ یہ لوگ مرزا کو باوجود ان خیالات و عقائد باطلہ کفریہ کے جو باجماع امت کفر ہیں اور جن سے مرزائی کتابیں لبریز ہیں نہ صرف مسلمان بلکہ مسیح موعود مہدی موعود۔ محدث وغیرہ مانتے ہیں جس کا کھلا ہوا نتیجہ یہ ہے کہ (معاذ اللہ ) تمام اسلاف امت صحابہ کرامؓ و تابعینؒ اور آئمہ اجتہاد اور ساڑھے تیرہ سو برس کے علماء گمراہی وضلالت میں تھے کہ وہ جن اقوال و افعال کو باجماع کفر وضلال کہتے ہیں۔ وہ بجائے کفر وضلالت کے ہدایت مجسمہ اور مسیحیت موعودہ ہے اور کوئی ایسا عقیدہ رکھنا جس سے تمام امت کا گمراہی پر ہونا لازم آئے بالاتفاق کفر ہے۔

شفاء قاضی عیاض اور اس کی شرح ملا علی قاریؒ میں ہے:

”وكذلك نقطع بتكفير كل قائل قال قول يتوصل به الى تضليل الامة المرحومة وتكفير جميع الصحابة ٠ شرح شفا للقاری ص ٥٢١ ج ٢ “

اور ایسے ہی ہم اس شخص کے کفر کا بھی یقین رکھتے ہیں جو کوئی ایسا قول اختیار کرے جس سے تمام امت مرحومہ اور تمام صحابہ کرامؓ کی تکفیر لازم آتی ہو۔

اور علامہ ابن حجر مکیؒ کتاب ”الزواجر عن اقتراف الکبائر“ میں اسی مضمون کو ان الفاظ میں لکھتے ہیں:

٣٥

صفحہ ٩٨

”وفی معنی ذلک کل من فعل فعلا اجمع المسلمون علی انہ لا یصدر الاعن کافر (الی قولہ) اویشک فی نبوۃ نبی (الی قولہ) اوفی تکفیر کل قائل قولا یتوصل بہ الی تضلیل الامۃ ( زواجرص ٢٤ ج ١)“

اور اسی حکم میں ہے وہ شخص جو کوئی ایسا فعل کرے جس کے متعلق مسلمانوں کا اجماع ہو کہ یہ فعل سوائے کافر کے کسی سے صادر نہیں ہو سکتا۔ یا کسی نبی کی نبوت میں شک کرے یا اس شخص کی تکفیر میں شک کرے جو ایسا قول اختیار کرتا ہے کہ جس سے تمام امت کا گمراہ ہونا سمجھا جائے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ایسے شخص کے کفر میں جو شخص شک کرے وہ بھی کافر ہے۔ پس جب کسی کافر کو جس کا کفر کھلا ہوا اور صاف ہو صرف مسلمان کہنا بلکہ اس کے کفر میں شک کرنا بھی کفر ہے۔ جیسا کہ زواجر کی عبارت مذکورہ سے ثابت ہوا۔ اگرچہ کسی تاویل کے ساتھ ہو تو پھر مرزا کو اس کے عقائد معلوم ہونے کے بعد مہدی اور مسیح وغیرہ کہنے والا ضرور بالضرور کافر اور خارج از اسلام ہے اور قاضی عیاضؒ نے شفاء میں اور ملا علی قاریؒ نے اس کی شرح میں اس پر اجماع نقل کیا ہے۔ ولفظہ ہذا!

”فالا جماع علی کفر من لم یکفر احد امن النصاری والیہود وکل من فارق دین المسلمین او وقف اوشک قال القاضی ابوبکر لان التوقیف والاجماع اتفاقا علی کفرہم فمن وقف فی ذلک فقد کذب النص والتوقیف اوشک فیہ والتکذیب والشک فیہ لا یقع الامن کافر۔ (متن الشفاء از شرح قاری ص ٥١٠ ج ٢)“

اس شخص کے کفر پر اجماع ہے جو نصاریٰ و یہود میں سے کسی کو کافر نہ سمجھے یا اس شخص کو کافر نہ سمجھے جو مسلمانوں کے دین سے جدا ہو۔ یا اس میں (بلاوجہ شرعی) توقف یا شک کرے قاضی ابوبکر فرماتے ہیں کہ نقل شرعی اور اجماع دونوں ان کے کفر پر متفق ہیں۔ پس جو شخص اس میں (بلاوجہ شرعی) توقف یا شک کرے۔ اس نے نص شرعی کی تکذیب کی اور اس میں تکذیب یا شک کافر ہی کر سکتا ہے۔

اسی طرح درمختار باب المرتدین میں اس شخص کے متعلق جس نے کسی نبی کی توہین کی ہو تصریح کرتے ہیں:

”ومن شک فی عذابہ و کفرہ کفر (الشامی ج ٢ ص ٣١٧)“

٣٦

صفحہ ٩٩

اور جو شخص اس کے کفر اور معذب ہونے میں شک کرے وہ بھی کافر ہے۔

ایک شبہ کا ازالہ

اگر یہ کہا جائے کہ یہود و نصاریٰ اور ہندو آریہ وغیرہ کو مسلمان کہنا تو بے شک حسب تصریحات مذکورہ کفر ہے۔ لیکن قادیانی کا کفر اس درجہ میں نہیں۔ اس کے متعلق اگر کوئی شخص بوجہ حسن ظن کے تاویل کرے تو گنجائش ہے۔ کیونکہ وہ مدعی اسلام ہے اور ظاہر میں قرآن و حدیث کا اقرار کرتا ہے اور نماز روزہ وغیرہ احکام و شرائع اسلامیہ کا پابند ہے تو جواب اس کا یہ ہے کہ ضروریات دین کے خلاف میں تاویل معتبر نہیں۔ اور نہ اس کی گنجائش ہے۔ ورنہ اگر یہی حسن ظن اور تاویل کی وسعت کی جائے تو دنیا میں کوئی کافر نہیں رہتا۔ کیونکہ عموماً کفار کے طبقات کچھ نہ کچھ تاویل رکھتے ہیں۔ بت پرست اور مشرکین کی تاویل خود قرآن میں مذکور ہے: ”ما نعبدهم الا لیقربونا الی الله زلفیٰ (زمر ٣)“ اور یہ ان کی تاویل بلاشبہ مرزا کی تاویلات سے زیادہ بہتر ہے۔

مرزا قادیانی کے عقائد کفریہ

نبوت کا دعویٰ‘ وحی کا دعویٰ‘ ختم نبوت کا انکار‘ ختم نبوت کے اجماعی معانی اور اس بارہ میں آیات قرآنیہ کی تحریف‘ عیسیٰؑ کی سخت ترین توہین‘ دوسرے انبیاء کی توہین۔ وغیرہ وغیرہ! ان کی تمام تصانیف میں اس قدر واضح اور صاف ہیں کہ ان میں کوئی تاویل کرنا اس سے کم نہیں جو مشرکین کی تاویل بت پرستی کے متعلق آیت مذکورہ میں گزری ہے یا حدیث میں ہے کہ مشرکین بوقت طواف تلبیہ میں کہا کرتے تھے۔ لا شریک لک الا شریکا ہو لک

(ترمذی)

اس لئے علماء نے تصریح فرمائی ہے کہ ضروریات دین کے بارہ میں اجماعی معانی کے سوا آیات و روایات کی کسی دوسرے معنی کی طرف تاویل کرنا عذر مسموع نہیں اور یہ تاویل ان پر حکم تکفیر کے لئے مانع نہیں ہو سکتی۔ حضرت مولانا سید محمد انور شاہ صاحب کشمیریؒ نے اپنے رسالہ اکفار الملحدین میں اس کے متعلق کافی نقول جمع فرمادی ہیں۔ (من شاء فلیراجع ثمہ) ولله الحمد اولہ وآخرہ)

PDF 100

ضروری اعلان

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی دفتر ملتان سے شائع ہونے والا ﴿ماہنامہ لولاک﴾ جو قادیانیت کے خلاف گرانقدر جدید معلومات پر مکمل دستاویزی ثبوت ہر ماہ مہیا کرتا ہے۔ صفحات 64‘ کمپیوٹر کتابت‘ عمدہ کاغذ و طباعت اور رنگین ٹائیٹل‘ ان تمام تر خوبیوں کے باوجود زر سالانہ فقط یک صد روپیہ منی آرڈر بھیج کر گھر بیٹھے مطالعہ فرمائیے۔

رابطہ کے لئے

ناظم دفتر ماہنامہ لولاک ملتان

دفتر مرکزیہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

حضوری باغ روڈ ملتان

PDF 101

خاتم النبيين لا نبي بعدي

میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں

عالم الاسلام والقاديانيه

عداوة القاديانية للممالك الاسلامية

ممالک اسلامیہ سے قادیانیوں کی غداری

حضرت مولانا مفتی محمد شفیع دیوبندیؒ

صفحہ ١٠٢

تعارف

١٩٥٣ء کی تحریک ختم نبوت جب پاکستان میں چلی تو پوری امت مسلمہ کو قادیانی کذاب اور قادیانیت کے مذموم عقائد وعزائم سے باخبر کرنا ضروری ہو گیا۔ اللہ رب العزت نے یہ کام مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع صاحبؒ سے لیا۔ آپ نے ”ممالک اسلامیہ سے قادیانیوں کی غداری“ کے عنوان پر عربی اردو میں ایک پمفلٹ مرتب کیا۔ اسلامی ممالک بالخصوص عرب دنیا کو بھجوایا گیا۔ عربی متن اور اس کا اردو ترجمہ پیش خدمت ہے۔

بسم الله الرحمن الرحيم!

عالم الاسلام والقاديانية

عداوة القاديانيه للمالك الاسلامية قاطبة

”القاديانية شرذمة من الهند تنسب الى قاديان كورة من بنجاب

بسم اللہ الرحمن الرحیم!

ممالک اسلامیہ سے قادیانیوں کی غداری

عراق وبغداد

عراق کی فتح اور عمدہ نتائج

”لارڈ ہارڈنگ کا یہ سفر (سفر عراق) سابق وائسرائے لارڈ کرزن کے سفر خلیج فارس سے زیادہ اہم اور زیادہ اچھے نتائج کی امید دلاتا ہے۔ ہم اس وقت اس سفر کے نتائج اس کی اہمیت کا صحیح اندازہ ناظرین پر چھوڑتے ہیں...... یقیناً اس نیک دل افسر (لارڈ ہارڈنگ) کا عراق جانا عمدہ نتائج پیدا کرے گا۔ ہم ان نتائج پر خوش ہیں...... خدا ملک گیری اور جہانبانی اس کے سپرد کرتا

٢

صفحہ ١٠٣

الهند خرج منها رئيسهم مرزا غلام احمد قد تدرج فى دعاويه من مبلغ الاسلام و مرشده الى المجدد ثم المحدث ثم النبى ثم الرسول والوحى والشريعة ٠ ولم يزل يتشدق فى دعاويه الباطلة ويخبط خبط العشواء فتارة قال انا آدم و تارة نوح و تارة ابراهيم و اخرى موسىٰ و عيسىٰ و محمد ﷺ و احمد عليه السلام و ادعى ايضاً انه مريم ام عيسى عليه السلام و انه كرشن رئيس عبدة الاصنام من الهنود و مع ذلك تعلّىٰ على سائر الانبياء وائمة الامة وتفوه فى شانهم من السب والشتم بما تقشعر منه الجلود فهذه القاديانية من زنادقة هذا الزمان يظهرون الاسلام والايمان بالقرآن والرسول ثم يؤمنون هذا المتنبى الكذاب ويكفرون من لم يؤمن به حتى اطلقو القول بتكفير الامة المرحومة كلهم الا من آمن بمتنبيهم الكذاب وقد عادت هذه الطائفة الطاغية داهية على السلام والمسلمين والممالك الاسلامية قاطبة و ذالك لان هذه الجرثومة قد غرسها الانكليز للتفريق بين المسلمين وغيره من اغراضه الفاسدة وقد اقر به هذا المتنبّى الكذاب فى بعض الرسائله ولم يزل هذا المتنبّى يتملق عند الانكليز ويمدحه بملا شدقيه وكتبه مملوة من ذالك فهذه نبذة مما جنت هذه الشرذمة على الاسلام والممالك الاسلامية وقد اقرت بها واشاعتها فى الجرائد والصحف بغاية الوقاحة نذكر انموذجا منها نقلا عن تصانيفهم وجرائدهم ٠ “

ہے۔ جو اس کی مخلوق کی بہتری چاہتا ہے اور اس کو حکمراں بناتا ہے جو اس کا اہل ہوتا ہے۔ پس ہم پھر کہتے ہیں کہ ہم خوش ہیں۔ کیونکہ ہمارے خدا کی بات پوری ہوئی ہے...... اور ہمیں امید ہے کہ برٹش حکومت کی توسیع کے ساتھ ہمارے لئے اشاعت اسلام کا میدان بھی وسیع ہو جائے گا...... اور غیر مسلم کو مسلم بنانے کے ساتھ ہم مسلمانوں کو پھر مسلمان کریں گے۔“

(اخبار الفضل قادیان جلد ٢ شمارہ نمبر ١٠٣ ص ١٣ ١١ فروری ١٩١٥ء)

عراق کے فتح کرنے میں احمدیوں نے خون بہائے

”عراق کے فتح کرنے میں احمدیوں نے خون بہائے اور میری (میاں محمود احمد) تحریک پر سینکڑوں آدمی بھرتی ہو کر چلے گئے........... لیکن جب وہاں حکومت قائم ہو گئی تو

٣

صفحہ ١٠٤

سلطة الاسلام الی تسلط البریطانیة رئیس القادیانیة الیوم مرزا محمود قد خطب یوم الجمعة فی قادیان . “

” ان رجال الاحمدیة (القادیانیة) قد بذلوا انفسهم واراقوا دمائهم فی فتح العراق (للبریطانیة) وبامری دخل مائة من الرجال فی عسکر البریطانیة ولكنها لما احکمت سلطتها فی تلک البلاد و تمكنت فیها قد شرطت علی عمالها الحریة للمسیحین فی نشر مذهبهم والدعوة الیه ولم تشترط مثل ذلک للاحمدیین (یسمون انفسهم احمدیین اضافة الی غلام احمد) بل الاحمدیون ان شکوا الی عامل العراق ما یعتریهم من الاذی لا یلتفت الیه “

(الفضل قادیان جلد ١١ شماره ١٧ ص ٨‘ ٣١ اگست ١٩٢٣ء)

گورنمنٹ نے یہ شرط تو کروائی کہ پادریوں کو عیسائیت کی اشاعت کرنے میں کوئی روک نہ ہو۔ مگر احمدیوں کے لئے صرف اس قسم کی شرط نہ رکھی۔ بلکہ اگر احمدی اپنی تکلیف پیش کرتے ہیں تو بھی عراق کے ہائی کمشنر اس میں دخل دینے کو اپنی شان سے بالا سمجھتے ہیں۔“

(الفضل قادیان جلد ١١ شمارہ نمبر ١٧، ص ٨ / ٣١ اگست ١٩٢٣ء)

مذکورہ تحریر سے یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ مرزائیوں کا مذہبی نصب العین یہ ہے کہ دنیا کی جہانبانی انگریزوں کو ملے۔ تاکہ ان کے زیر سایہ یہ اپنی مذہبی تبلیغ کرنے میں آزاد رہیں۔ یہ نہایت ہی خوفناک نظریہ ہے۔

گورنمنٹ برطانیہ قادیانیوں کی تلوار ہے

” حضرت مسیح موعود (مرزا) فرماتے ہیں کہ میں وہ مہدی موعود ہوں اور گورنمنٹ برطانیہ میری وہ تلوار ہے...... جس کے مقابلہ میں ان علماء کی کچھ پیش نہیں جاتی...... اب غور کرنے کا مقام ہے کہ پھر ہم احمدیوں کو اس فتح (بغداد) سے کیوں خوشی نہ ہو...... عراق عرب ہو یا شام۔ ہم ہر جگہ اپنی تلوار کی چمک دیکھنا چاہتے ہیں۔ فتح بغداد کے وقت ہماری فوجیں مشرق سے داخل ہوئیں۔ دیکھئے کس زمانہ میں اس فتح کی خبر دی گئی۔ ہماری گورنمنٹ برطانیہ نے جو بصرہ کی طرف چڑھائی کی اور تمام اقوام سے لوگوں کو جمع کرکے اس کی طرف بھیجا۔ دراصل اس کے محرک خدا تعالیٰ کے وہ فرشتے تھے جن کو اس گورنمنٹ کی مدد کے لئے اس نے ایسے وقت اتارا جبکہ وہ لوگوں

٤

صفحہ ١٠٥

”هذه الخطبة قد نشرت من قاديان فى جريدتهم الاسبوعيه الفضل نمبر ١٧ وايضاً نشر فى هذه الجريدة ١٩١٥ء ١١ فرورى نمبر ١٠٣ ص ٢ جلد ٢“ ”سفر لوردهارڈنگ هذا (يعنى سفره العراق اهم من سفره العراق اهم من سفر لورد كرزن الى خليج فارس وارجى لنتائج المفيدة قد سرنا ذهاب هذا الامير الصالح القلب الى العراق لمانرى فى ذهابه اليه فوائد عظيمه وان الله تعالى يفوض الحكومة الى من يراه اهلا لها ونرجو ان يتسع لنا دائرة العمل فى التبليغ والاشاعة حسبما تتسع دائرة الحكومة البريطانيه اهه“ وقد نشر فى هذه الجريدة

”قال المسيح الموعود (يعنى متنبيّهم الكذاب مرزا) اننى انا المهدى الموعود وان حكومة البريطانية سيفى الذى نصرت به فى حرب علماء الاسلام ۔ فانظروا كيف لا يفرح الاحمدييون بهذا الفتح (يعنى فتح بغداد) ونحن نحب ان نرى لمعان هذا السيف (يعنى دولته البريطانية فى العالم كله العراق والشام فيه سواء“

”قد دخلت عساكرنا فى فتح بغداد من جهة الشرق وان حكومة البرطانية لما حملت على بصره ارسل الله اليها ملكين ينصران هذه الدولة ۔ صنيعهم بالشام (سيريا) قال فى الجريدة المذكورة“

(الفضل قادیان ج ٦ شماره ٤٢ ص ٩ / ٧ دسمبر ١٩١٨ء)

کے دلوں کو اس طرف مائل کر کے ہر قسم کی مدد کے لئے تیار کریں۔“

(الفضل قادیان ج ٦ شماره ٤٢ / ٧ دسمبر ١٩١٨ء ص ٩)

سیریا (شام)

بیت المقدس کے حقدار صرف قادیانی ہیں

”اگر یہودی اس لئے بیت المقدس کی تولیت کے مستحق نہیں کہ وہ جناب مسیح اور حضرت نبی کریم ﷺ کی رسالت و نبوت کے منکر ہیں...... اور عیسائی اس لئے غیر مستحق ہیں کہ انہوں نے خاتم النبیین کی رسالت و نبوت کا انکار کر دیا ہے تو یقیناً یقیناً غیر احمدی (مسلمان) بھی مستحق تولیت بیت المقدس نہیں...... کیونکہ یہ بھی اس زمانہ میں مبعوث ہونے والے خدا کے ایک

٥

صفحہ ١٠٦

”وان لم يكن اليهود أهلا لولاية بيت المقدس لانحرافهم عن الايمان بنبوة عيسى عليه السلام ونبوة نبينا ﷺ وكذالك ليست النصارى اهلا لذلك لانكارهم نبوة خاتم النبيين فكذلك المسلمون غير الاحمديين ليسوا اهلا لذلك فانهم انكروا نبوة من بعث من اولى العزم فى هذا الزمان نبيا من الله فان قيل ان نبوة مرزا غلام احمد ليست بثابت فيقال عند من ،

اولوالعزم نبی (مرزا قادیانی) کے منکر اور مخالف ہیں۔ اگر کہا جائے کہ حضرت مرزا صاحب کی نبوت ثابت نہیں تو سوال ہوگا کہ کن کے نزدیک؟۔ اگر جواب یہ ہے کہ نہ ماننے والوں کے نزدیک۔ تو اس طرح یہود کے نزدیک مسیح اور آنحضرت ﷺ کی اور مسیحیوں کے نزدیک آنحضرت ﷺ کی رسالت ونبوت بھی ثابت نہیں۔ اگر منکرین کا فیصلہ ایک نبی کو غیر نبی ٹھہراتا ہے تو کروڑوں عیسائیوں اور یہودیوں کا اجماع ہے کہ نعوذ باللہ آنحضرت ﷺ منجانب اللہ نبی اور رسول نہ تھے۔ پس اگر غیر احمدی بھائیوں کا یہ اصل درست ہے کہ بیت المقدس کی تولیت کے مستحق تمام نبیوں کے ماننے والے ہی ہو سکتے ہیں تو ہم اعلان کرتے ہیں کہ احمدیوں کے سوا خدا کے تمام نبیوں کا مومن اور کوئی نہیں۔“

(الفضل قادیان ج ٩ شمارہ ٣٦ ص ٤، ٧ نومبر ١٩٢١ء)

اگر اہل قادیان نبی نہ مانتے تو......؟

”اب اگر مسلمانوں کے ہاتھ سے وہ زمین نکلی ہے تو پھر اس کا سبب تلاش کرنا چاہئے۔ کیا مسلمانوں نے کسی نبی کا انکار تو نہیں کیا...... سلطنت برطانیہ کے انصاف اور امن اور آزادی مذہب کو ہم دیکھ چکے آزما چکے ہیں اور آرام پا رہے ہیں۔ اس سے بہتر کوئی حکومت مسلمانوں کے لئے نہیں ہے۔ اس زمانہ میں کوئی مذہبی جنگ نہیں۔“

(اخبار الفضل جلد ٥ شمارہ ٥٧ ص ٨، ٢٨ مارچ ١٩١٨ء)

ترکی

ترک سے مذہباً ہمارا کوئی تعلق نہیں

قادیانی جماعت کا ایڈریس بخدمت ایڈورڈ میکلیگن لیفٹیننٹ گورنر پنجاب:

”ہم یہ بتا دینا چاہتے ہیں کہ مذہباً ہمارا ترکوں سے کوئی تعلق نہیں۔ ہم اپنے مذہبی نقطہ خیال سے اس امر کے پابند ہیں کہ اس شخص کو اپنا مذہبی پیشوا سمجھیں جو حضرت مسیح موعود کا جانشین ہو اور دنیاوی لحاظ سے اسی کو اپنا بادشاہ سلطان یقین کریں جس کی حکومت کے نیچے ہم رہتے ہوں۔

٦

صفحہ ١٠٧

فان قلتم عند المخالفين فنبوة المسيح ومحمد ﷺ عند اليهود ونبوة نبينا عند النصارى كذالك غير ثابتة ، فان كان بقول المخالفين يحكم بتكذيب الانبياء فاجتماع ملايين من اليهود والنصارى على مخالفة نبينا وانكار نبوة يستلزم عدم نبوة ﷺ ۔ فان سلمنا ضابطة المسلمين بان المستحق لتولية بيت المقدس هم الذين امنو بجميع الانبياء فنحن لا نحاشى باعلان ان مصداقه ليس الا الاحمدیون فان غيرهم من الامة المحمدية لم يؤمنوا بنبی هذا الزمان (غلام احمد)“

(الفضل قادیان ج ٩ شماره ٣٦ ص ٤ / ٧ نومبر ١٩٢١ء)

”وايضاً ذكر فى هذه الجريدة خطبة لبعض قائدى هذه الفرقة قال فيها“

” انا جربنا عدل الحكومة البريطانية والامن والاطمینان فيها و حرية المذهب فاليوم ليست حكومة احرى بالمسلمين من حكومة البريطانية . “

(الفضل قادیان جلد ٥ شماره ٧٥ ص ٨‘ ١٩ مارچ ١٩١٨ء)

صنيعهم بالتركية

”ذكر فى جريدة الفضل المذكور . انا نرى ان نصدع بالصدق فى پس ہمارے خلیفہ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے خلیفہ ثانی ہیں اور ہمارے بادشاہ اور سلطان حضور ملک معظم ہیں ۔“

(الفضل قادیان ٢٢ دسمبر ١٩١٩ء ج ٧ ش ٤٨)

سلطان ٹرکی ہرگز خلیفۃ المسلمین نہیں

”صیغہ امور عامہ قادیان کا اعلان“ اخبار لیڈر الہ آباد مجریہ ٢١ جنوری ١٩٢٠ء میں خلافت کانفرنس کا ایڈریس بخدمت جناب وائسرائے شائع کیا گیا ہے ۔ فہرست دستخط کنندگان میں مولوی ثناء اللہ امرتسری کے نام سے پہلے کسی شخص مولوی محمد علی قادیانی کا نام درج ہے ۔ مولوی محمد علی کے نام کے ساتھ قادیانی کا لفظ محض لوگوں کو دھوکہ دینے کے لئے لکھا ہے ۔ اور نہ قادیان سے کوئی تعلق رکھنے والا احمدی نہیں ہے‘ جو سلطان ٹرکی کو خلیفۃ المسلمین تسلیم کرتا ہو...... معلوم ہوتا ہے کہ یہ مولوی محمد علی صاحب لاہوری سرگروہ کے غیر مبائع ہیں ۔ لیکن وہ لفظ قادیانی کے ساتھ لکھنے کے ہرگز مستحق نہیں ہیں ۔ نہ اس لئے کہ وہ قادیان کے باشندہ ہیں اور نہ اس لئے کہ وہ مرکز قادیان سے تعلق رکھتے ہیں ۔ اگر ان کے عقیدہ کے مطابق سلطان ٹرکی خلیفۃ المسلمین ہے تو اس عقیدہ کو ظاہر کرنے کے لئے قادیان کی آڑ کیوں لیتے ہیں؟ ۔ لہذا بذریعہ اس اعلان کے پبلک کو مطلع کیا

٧

صفحہ ١٠٨

امرنا بانه ليس بيننا وبين الترك اى رابطة مذهبية فان مذهبنا ان لا نقتدى مذهبا وعقيدة الا بمن هو خليفة المسيح الموعود عندنا وان لا نطيع الا سلطان الذى نحن فى امرته وسلطاننا اليوم الملك المعظم للبريطانية“

(الفضل قادیان جلد ٧ شماره ٤٨ ٢٢ دسمبر ١٩١٩ء)

”قد نشر فى جريدة جلد ٧ نمره (٦١) ١٦ فبرائر ١٩٢٠ء اعلامية من صيغة الامور العامة فى قاديان“

”لعلم كل من ينسلك فى القاديانية ان من اعتقد فى سلطان التركية انه خليفة المسلمين فليس هو من الاحمديين القاديانيين.“

صنيعهم بافغانستان

---- ”فى ٣١ اگست ١٩٢٤ء قتل رجلان من القاديانية فى كابل

جاتا ہے کہ قادیان سے تعلق رکھنے والے کسی احمدی کا یہ عقیدہ نہیں ہے کہ سلطان ٹرکی خلیفۃ المسلمین ہے۔“

(الفضل قادیان ج ٧ ش ٦١، ١٦ / فروری ١٩٢٠ء)

افغانستان

شاہ افغانستان امیر امان اللہ خاں کے عہد حکومت میں نعمت اللہ خان مرزائی کو مرزائی عقائد رکھنے کی وجہ سے علماء افغانستان کے فتویٰ سے مرتد قرار دیدیا گیا تھا اور شریعت مطہرہ کے قانون کے مطابق اس جرم ارتداد میں اس کو بتاریخ ٣١/ اگست ١٩٢٤ء بعد نماز ظہر بروز اتوار بمقام شیر پور (چھاؤنی کابل) سنگسار کر کے قتل کیا گیا۔ اس پر ہندوستان کے مرزائیوں نے شور و غل مچایا اور اس فعل کو خلاف اسلام قرار دینے کی کوشش کی۔ اس پر اس وقت کے حضرات علماء کرام نے تحقیقی مقالات اور اخبارات میں مضامین لکھے۔ اسی موضوع پر شیخ الاسلام پاکستان حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی نور اللہ مرقدہ نے اپنا رسالہ ”الشهاب لرجم الخاطف المرتاب“ لکھا جس نے مسئلہ ارتداد کو شرعی نقطہ نظر سے حل کرتے ہوئے فرقہ مرزائیہ کو ہمیشہ کے لئے لاجواب اور خاموش کر دیا۔

عبداللطیف مرزائی جہاد کی مخالفت کی وجہ سے قتل کیا گیا

”ہمیں یہ معلوم نہ تھا کہ حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید کی شہادت کی وجہ

صفحہ ١٠٩

(افغانستان) بامر الحكومة و ذلك لانه ثبت عند حكومة افغانستان ارتداد هما عن الاسلام باعتقادهم النبوة لمرزا غلام احمد وايضاً ثبت عندها انهما من جواسيس الانكليز وهما يدسسان بين المسلمين من وحى متنبيهم ان حكم القرآن بالجهاد وقد نسخه نبى هذا العصر مرزا غلام احمد وانه لايجوز اليوم لاحد الجهاد بالسيف لاعلائكلمة الله وكان قتلهما بفتوى العلماء واتفاقهم على ذلك فاغتاظت القاديانية على افغانستان لذلك والتجأت الى ملجاء هم الانكليز وحرضتهم ومجلس الدول المتحده على كبت الحكومة الافغانيه“ وقال خليفة متنبيهم مرزا محمود فى خطبة يوم الجمعة بقاديان . “

” ان رجالنا حين دخلوا فى افغانستان لو سكتوا عن بيان عقيدة کیا تھی؟۔ اس کے متعلق ہم نے مختلف افواہیں سنیں مگر کوئی یقینی اطلاع نہ ملی تھی۔ ایک عرصہ دراز کے بعد اتفاقاً ایک لائبریری میں ایک کتاب ملی جو چھپ کر نایاب ہو گئی تھی۔ اس کتاب کا مصنف ایک اطالوی انجینئر ہے۔ جو افغانستان میں ایک ذمہ دار عہدہ پر فائز تھا۔ لکھتا ہے کہ صاحبزادہ عبداللطیف صاحب کو اس لئے شہید کیا گیا کہ وہ جہاد........کے خلاف ....... تعلیم دیتے تھے .......اور حکومت افغانستان کو خطرہ لاحق ہو گیا تھا کہ اس سے افغانوں کا جذبہ حریت کمزور ہو جائے گا....... اور ان پر انگریزوں کا اقتدار چھا جائے گا۔ اس کتاب کے مصنف کی یہ بات اس لئے بھی یقینی ہے کہ وہ شاہ افغانستان کا درباری تھا.......اور اس لئے بھی کہ وہ اکثر باتیں خود وزراء اور شہزادوں سے سن کر لکھتا ہے اور ایسے معتبر راوی کی روایت سے یہ امر پایہ ثبوت تک پہنچتا ہے کہ اگر صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید خاموشی سے بیٹھے رہتے اور جہاد کے خلاف .......کوئی لفظ بھی نہ کہتے تو حکومت افغانستان کو انہیں شہید کرنے کی ضرورت محسوس نہ ہوتی۔‘‘

(میاں محمود احمد کا خطبہ جو مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد ٢٣ نمبر ٤١ ص ٦‘ ١٦ اگست ١٩٣٥ء)

جماعت احمدیہ کا مسلک جہاد کی مخالفت ہے

’’اگر ہمارے آدمی افغانستان میں خاموش رہتے اور جہاد کے باب میں جماعت احمدیہ کے مسلک کو بیان نہ کرتے تو شرعی طور پر ان پر کوئی اعتراض نہ تھا۔ مگر وہ اس بڑھتے ہوئے

٩

صفحہ ١١٠

الاحمديين فى مسئلة الجهاد بانه منسوخ لما قتلوا ولكنهم اضطروا على بيانها اعانة لمملكة البريطانيه وحبهم اياها الذى اشربوه فى قلوبهم من قاديان . “

(الفضل قادیان جلد ٢٢ شماره ٣١ ص ٦ ، ٧ اگست ١٩٣٥ء)

جوش کا شکار ہو گئے جو انہیں حکومت برطانیہ کے متعلق تھا۔ ۔۔۔۔ اور وہ اس ہمدردی کی وجہ سے سزا کے مستحق ہو گئے جو قادیان سے لے کر گئے تھے۔“

(الفضل قادیان ج ٢٢ ش ٣١ ص ٦ ، ٢٦ اگست ١٩٣٥ء)

گورنمنٹ افغانستان کے خلاف سازشی خطوط

”افغان گورنمنٹ کے وزیر داخلہ نے مندرجہ ذیل اعلان شائع کیا ہے۔ کابل کے دو اشخاص ملا عبد الحکیم چہار آسیائی و ملا نور علی دکان دار قادیانی عقائد کے گرویدہ ہو چکے تھے اور لوگوں کو اس عقیدہ کی تلقین کر کے انہیں صلاح کی راہ سے بھٹکا رہے تھے۔ جمہوریہ نے ان کی اس حرکت سے مشتعل ہو کر ان کے خلاف دعویٰ دائر کر دیا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مجرم ثابت ہو کر عوام کے ہاتھوں پنجشنبہ ١١ رجب کو عدم آباد پہنچائے گئے۔ ان کے خلاف مدت سے ایک اور دعویٰ دائر ہو چکا تھا اور مملکت افغانیہ کے مصالح کے خلاف غیر ملکی لوگوں کے سازشی خطوط انکے قبضے سے پائے گئے۔ ۔۔۔۔ جن سے پایا جاتا ہے کہ وہ افغانستان کے دشمنوں کے ہاتھوں بک چکے تھے۔“

(الفضل قادیان ج ١٢ ش ٩٦ ص آخری ٣/ مارچ ١٩٢٥ء)

لیگ اقوام سے افغانستان کیخلاف مداخلت کی اپیل

”جماعت احمدیہ کے امام میرزا بشیر الدین محمود صاحب خلیفۃ المسیح الثانی نے لیگ اقوام سے پر زور اپیل کی ہے کہ حال میں پندرہ پولیس کانسٹیبلوں اور سپرنٹنڈنٹ کے روبرو دو احمدی مسلمانوں کو محض مذہبی اختلاف کی وجہ سے حکومت کابل نے سنگسار کر دیا ہے۔ اس کے لئے دربار افغانستان سے باز پرس کے لئے مداخلت کی جائے۔ کم از کم ایسی وحشیانہ حکومت اس قابل نہیں کہ مہذب سلطنتوں کے ساتھ ہمدردانہ تعلقات رکھنے کے قابل سمجھی جائے۔“

(الفضل قادیان ج ١٢ ش ٩٥....... ٢٨ فروری ١٩٢٥ء)

قسطنطنیہ فتح ہو گیا اور کابل کو فتح کیا جائے گا

”اب دیکھ لو قسطنطنیہ بھی مفتوح ہو گیا۔ پھر حضرت مسیح موعود کے مخالف آپ کو اکثر کہا کرتے تھے۔ کابل میں چلو پھر دیکھو تمہارے ساتھ کیا سلوک ہوتا ہے۔ اب ایسے سامان پیدا ہو

١٠

صفحہ ١١١

وايضاً نقل فى هذه الجريدة القاديانية! من حكومة افغانستان فى امرالمقتولين . مانصه! ” ان ملا عبدالحكيم وملا نور على قد اختارا مذهب القاديانية فرفع امرهما جمهور المسلمين من افغانستان الى القضاء حتى قتلا بايدى المسلمين بعد ثبوت الجرم عليهما على انهما قد ثبتت عليهما خيانة مملكة افغانستان فى اعانة اعدائها وبرزت من عندهما خطوط و مقررات تدل على رہے ہیں کہ عنقریب انشاء اللہ ہم کابل میں جائیں گے اور ان کو دکھائیں گے کہ جن کو وہ قتل کرنا چاہتے تھے اس کے (مرزا قادیانی کے) خدام خدا کے فضل سے صحیح سلامت رہیں گے۔“

(اخبار الفضل مورخہ ٢٧؍مئی ١٩١٩ء ج ٦ ص ٧ نمبر ٩٠)

امیر امان اللہ خاں نے نادانی سے انگریزوں سے جنگ شروع کی

”اس وقت (بعہد شاہ امان اللہ خاں) جو کابل نے گورنمنٹ انگریزی سے نادانی سے جنگ شروع کر دی ہے۔ احمدیوں کا فرض ہے کہ گورنمنٹ کی خدمت کریں کیونکہ گورنمنٹ کی اطاعت ہمارا فرض ہے......لیکن افغانستان کی جنگ احمدیوں کے لئے ایک نئی حیثیت رکھتی ہے کیونکہ کابل وہ زمین ہے جہاں ہمارے نہایت قیمتی وجود مارے گئے اور ظلم سے مارے گئے اور بے سبب اور بلاوجہ مارے گئے۔ پس کابل وہ جگہ ہے جہاں احمدیت کی تبلیغ منع ہے اور اس پر صداقت کے دروازے بند ہیں۔ اس لئے صداقت کے قیام کے لئے گورنمنٹ برطانیہ کی فوج میں شامل ہو کر ان ظالمانہ روکوں کو دفع کرنے کے لئے گورنمنٹ برطانیہ کی مدد کرنا احمدیوں کا مذہبی فرض ہے۔ پس کوشش کرو۔ تاکہ تمہارے ذریعے وہ شاخیں پیدا ہوں۔ جن کی حضرت مسیح موعود نے اطلاع دی ہے۔“

(الفضل قادیان ج ٦ ش ٩٠ ص ٨......٢٧؍مئی ١٩١٩ء)

جنگ کابل میں مرزائیوں کی انگریزوں کو معقول امداد

”قادیانی جماعت کا ایڈریس بخدمت ہزایکسی لینسی لارڈ ریڈنگ وائسرائے ہند‘ جب کابل کے ساتھ جنگ ہوئی تب بھی ہماری جماعت نے اپنی طاقت سے بڑھ کر مدد دی۔ اور علاوہ اور کئی قسم کی خدمات کے ایک ڈبل کمپنی پیش کی جس کی بھرتی بوجہ جنگ ہو جانے کے رک گئی۔ ورنہ ایک ہزار سے زائد آدمی اس کے لئے نام لکھوا چکے تھے......اور خود ہمارے سلسلہ کے بانی کے

١١

صفحہ ١١٢

انہما کانا اجیرین لا عداء المملكة .“

(الفضل قادیان ج ١٢ شمارہ ٩٦ ص آخری ٣ مارچ ١٩٢٠ء)

”قال فی جريدة الفضل مظہراً اللفرح والسرور بتسلط الکفار علی قسطنطنیہ وارہا بالمملكة افغانستان مانصہ . فانظر والی قسطنطنیہ وارہا بالمملكة افغانستان مانص“

چھوٹے صاحبزادے اور ہمارے موجودہ امام کے چھوٹے بھائی نے اپنی خدمات پیش کیں اور چھ ماہ تک ٹرانسپورٹ کور میں آنریری کے طور پر کام کرتے رہے۔“ (الفضل قادیان ٤ جولائی ١٩٢١ء ج ٩ ش ١)

عبداللطیف مرزائی کو امیر امان اللہ خان نے کیوں قتل کروایا

”ہمارے آدمی کابل میں مارے گئے۔ محض اس لئے کہ وہ جہاد کرنے کے مخالف تھے۔ اٹلی کے ایک انجینئر نے جو حکومت افغانستان کا ملازم تھا لکھا ہے کہ امیر حبیب اللہ خان نے صاحبزادے عبداللطیف کو اسی لئے مروایا کہ وہ جہاد کے خلاف تعلیم دے کر مسلمانوں کا شیرازہ بکھیرتا تھا۔ پس ہم نے اپنی جانیں اس لئے قربان کیں۔ انگریزوں کی جانیں بچیں..... مگر آج ہمیں بعض حکام سے یہ بدلہ ملا ہے کہ ہم سب سے باغی اور شورش پسند والا سلوک روا رکھا گیا ہے۔“

(الفضل قادیان یکم نومبر ١٩٢٣ء ج ٢٢ ش ٤٥ ص ١٢)

حضرات! جنگ کابل کا مختصر واقعہ ہے کہ ١٩١٩ء میں افغانستان کے ترقی پسند برطانیہ دوست حکمراں حبیب اللہ کو شہید کر دینے کے بعد اس ملک کے قدامت پسندوں نے ان کے بھائی نصر اللہ خان کو بادشاہ بنانے کی کوشش کی تھی۔ لیکن امیر شہید کے خلف الرشید امان اللہ خان نے اپنے چچا کو قید کر کے خود تخت حکومت پر متمکن ہو گئے۔ افغانستان کی عنان حکومت ہاتھ میں لینے کے بعد امیر امان اللہ خان نے برطانیہ کے خلاف اعلان جہاد کر دیا....... اور افغانستان کی فوجیں درہ خیبر سے گزر کر آزاد سرحدی قبائل سے مل گئیں !!

بہر حال اس جنگ کے نتیجہ میں پہلے تو عارضی صلح ہوئی اور اس کے بعد ١٩٢١ء میں مستقل صلح نامہ ہو گیا۔ جس کی رو سے افغانستان کی کامل آزادی کو تسلیم کر لیا گیا۔ امیر امان اللہ خان نے روس کے ساتھ بھی تعلقات خوشگوار قائم رکھے اور ہر دور حکومت کے درمیان ایک معاہدہ کر کے روس کے ساتھ تعلقات کو استوار بنالیا....... ایسے حضرات بہت کم ہیں جو اس حقیقت سے آگاہ ہوں کہ اس آزادی میں بہت کچھ محمودی اور عبیدی اور دیوبندی سیاست کا بھی ہاتھ ہے؟۔ حسب الحکم مولانا شیخ الہند مرحوم مولانا عبید اللہ سندھی مرحوم کئی برس تک کابل میں قیام پذیر رہے اور جلوت وخلوت میں

١٢

صفحہ ١١٣

”فانظر والى قسطنطنیہ فانہا قد فتحت ونحن ندخل افغانستان عن قریب ان شاء اللہ فاتحین“

(الفضل قادیان ج ٦ شمارہ ٩٠ ص ٧/ ٢٧ مئی ١٩١٩ء)

وقال خلیفتہم محمود فی خطبۃ الجمعۃ بقادیان ٢٧ مئی ١٩١٩ء: ”ان فی ہذا العہد(یعنی عہد سلطنت شاہ امان اللہ بکابل) الحرب شجر حریت کی تخم ریزی کرتے رہے جس کا نتیجہ امیر امان اللہ خان کا اعلان جہاد اور حصول حریت افغانیہ تھی۔ تب ہی تو ایک انگریز نے جو برطانیہ کی طرف سے نمائندہ تھا کہا تھا کہ یہ صلح درحقیقت برطانیہ اور مولانا عبیداللہ کے درمیان ہے۔ حضرات متذکرہ صدر عبارت سے اچھی طرح اس بات کا اندازہ ہو چکا ہو گا کہ امیر امان اللہ خان نے جہاد کر کے اپنے ملک کو انگریزوں کی غلامی سے نجات دلا کر دولت حریت سے بہرہ ور کیا...... اس جنگ میں مرزائیوں نے انگریزوں کی فوج میں شامل ہو کر ایک اسلامی ملک کو کس طرح نیست و نابود کرنے کے لئے ”اپنی قوت و طاقت سے زیادہ ہمدردی“ اور اسی ملک میں بیٹھ کر جہاد کی مخالفت کرنا کیا اسلام اور اسلامی اسٹیٹ سے کھلی ہوئی غداری نہیں؟۔ دنیا کی کوئی باخبر حکومت ایسی منافقت اور غداری برداشت نہیں کر سکتی۔ ہمیں خوف ہے کہ خدانخواستہ کسی وقت میں ہمارے ملک کے ساتھ بھی ایسی ہی غداری کریں گے۔ مسلمانوں کو ہوشیار رہنا چاہیے۔

پاکستان سے قادیانیوں کی غداریاں

پیش کیا۔

مسلمانوں سے جدا رہنے کی پالیسی اختیار کر رکھی ہے۔

(آفتاب احمد سیکرٹری جموں و کشمیر مسلم کانفرنس اخبار آزاد)

تیار کی۔ پاکستانی فوج ہوتے ہوئے یہ متوازی فوج کیسے اور کیوں؟۔

(اللہ رکھا ساغر کشمیری)

١٣

صفحہ ١١٤

اللتـى حـدث بـيـن مملكة افغانستان والانكليز بسؤء فهم من اميرها ، ففريضة الاحمديين في هذا الحرب ان يعينو البرطانيه بنفوسهم ونفاسهم وان يشتر كوافي جنود البريطانيه وهذا فرضهم من حيث المذهب ، “

(الفضل قادیان ج ٦ شماره ٩٠ ص ٨ ٢٧ مئی ١٩١٩ء)

” وايضـاً قــال خليفتهم فى خطاب الترحيب لللورد ريدن امتنانا عليـه بـمــا اسـلـفـت امتهم فى خدمة البريطانية فى مبارزه المسلمين بافغانستان مانصه“

”انـه قـد اعـانت جماعتنا فى حرب البرطانيا بكابل فوق طاقتهم وابـن نـبـيـنـا مـرزا غلام احمد اخــو خليفة اليوم قد تولى هذه الخدمة بنفسه .“

(الفضل قادیان ج ٩ شماره ٤١ جولائی ١٩٢١ء)

وايـضـا قـال خـلـيـفـتـهـم مـرزا محمود فى خطبة فى نومبر ١٩٣٤ء بقاديان: ”انا بذلنا انفسنا لنحفظ انفس الانكليسيين ولكنهم عاملونا معاملة البغاة والاعداء .“

(الفضل قادیان یکم نومبر ١٩٣٤ء ج ٢٢ شماره ٥٤ ص ١٢)

اقـرار خـلـيـفة الـيـوم مـرزا مـحـمـود بان جماعتهم قوم علحدة من المسلمين:

”قـال انـى ارسـلـت رسالة الى مفوض الامر ببريطانيه ان يجعلوا حـقـوق جـمـاعـتـنـا عـلـى حـدة من المسلمين كما انهم جعلوها للفارسيين والـعـيـسـائيين فقال كيف ذلك وانتم فرقة من المسلمين لا قوم براسه فقلت لا بـل ان كـنـا فرقة مـن قـوم فذالك الفارسية والعيسائية فرقة من قومهم فلا فرق . “

(الفضل قادیان ١٣ نومبر ١٩٤٦ء بحوالہ اخبار زمیندار ١٣ جولائی ١٩٥٣ء)

مملکت پاکستان کے وجود کو عارضی قرار دیا۔

کو نیست و نابود کرنے کی کوشش کی۔

میں شامل ہوئی تھیں۔ پھر ان پر بھارت نے ناجائز قبضہ کرلیا۔ ان کی پیروی میں ظفر اللہ قادیانی

١٤

صفحہ ١١٥

”فهذا انموذج ما جنت طائفة القاديانية على الاسلام والمسلمين ودول المسلمين ذكرناها نصحاً للمسلمين ليكونوا اعلى حذر من مكائدهم فانهم فى ظواهرهم ملتبسون بالمسلمين ويعدون انفسهم مسلمين ويصلون الصلوة ويقرون القرآن ويضمرون فى قلوبهم النفاق والكفر ولايزالون يطلبون الفرص لكيد المسلمين ودولهم . وهذا دينهم وديدنهم بالامة الاسلامية .“

قد بدت البغضاء من افواههم وما تخفى صدورهم اكبر اللهم انا نجعلك فى نحورهم ونعوذ بك من شرورهم !

العبد محمد شفيع من كراتشى باكستان ٤ شعبان ١٣٧٢ھ ١٨ اپریل ١٩٥٣ء

نے غداری سے کام لیا۔ ان کی ہر تقریر و وعظ سے بھارت کو فائدہ پہنچا۔

تھے جس کی پاداش میں اب تک چند مرزائی گرفتار ہیں۔

مرزا محمود کا اقرار کہ وہ مسلمانوں سے علیحدہ اقلیت ہیں

”میں نے اپنے ایک نمائندہ کی معرفت ایک بڑے ذمہ دار افسر کو کہلا بھیجا ہے کہ پارسیوں اور عیسائیوں کی طرح ہمارے حقوق بھی تسلیم کئے جائیں جس پر افسر نے کہا کہ وہ تو اقلیت ہیں اور تم ایک مذہبی فرقہ ۔ اس پر میں نے کہا کہ پارسی اور عیسائی بھی تو مذہبی فرقہ ہیں جس طرح ان کے حقوق علیحدہ تسلیم کئے گئے ہیں اس طرح ہمارے بھی کئے جائیں۔ تم ایک پارسی پیش کرو اس کے مقابلہ میں دو احمدی (مرزائی) پیش کرتا جاؤں گا۔“

(اخبار الفضل ١٣ نومبر ١٩٣٦ء بحوالہ اخبار زمیندار ١٣ جولائی ١٩٥٢ء ٢٠ شوال ١٣٧١ھ)

شائع کردہ : ناظم سلسلہ تبلیغ و اشاعت شعبہ دار الافتاء آرام باغ کراچی

١٥

صفحہ ١١٦

نبذة من نفثات صدر الدجال القادیانی

ادعاء المعجزات لنفسه والتفضل علی الانبیاء والاستخفاف بشانہم

قادر بل فلما ظهر علی ید احد من الانبیاء مثل ما ظهر علی یدی من المعجزات لتصدیق دعوتی بفضل الله تبارک وتعالیٰ . "

( تتمۃ حقیقت الوحی ص ١٣٦ خزائن ج ٢٢ ص ٥٧٤ )

معجزات بحیث لا یمکن ثبوتہا من سائر الانبیاء علیہم السلام قطعا ویقینا سوی نبینا محمد ﷺ فقد اتم الله تعالیٰ حجۃ فمن شاء فلیؤمن ومن شاء فلیکفر . "

( تتمۃ حقیقت الوحی ص ١٣٦ خزائن ج ٢٢ ص ٥٧٤ )

ما کانوا لیغرقوا . "

( تتمۃ حقیقت الوحی ص ١٣٧ خزائن ج ٢٢ ص ٥٧٥ )

دوں گا کہ میں معجزات دکھلا سکتا ہوں۔ بلکہ خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے میرا جواب یہ ہے کہ میرا دعویٰ ثابت کرنے کے لئے اس قدر معجزات دکھلائے ہیں کہ بہت ہی کم نبی ایسے آئے ہیں جنہوں نے اس قدر معجزات دکھلائے ہوں۔‘‘

( تتمۃ حقیقت الوحی ص ١٣٦ خزائن ج ٢٢ ص ٥٧٤ )

باستثناء ہمارے نبی ﷺ کے باقی تمام انبیاء علیہم السلام میں ان کا ثبوت کثرت کے ساتھ قطعی اور یقینی طور پر محال ہے اور خدا نے اپنی حجت پوری کردی۔ اب چاہئے کوئی قبول کرے یا نہ کرے۔‘‘

(ایضاً)

نوح کے زمانہ میں وہ نشان دکھلائے جاتے تو وہ لوگ غرق نہ ہوتے۔‘‘

( تتمۃ حقیقت الوحی ص ١٣٧ خزائن ج ٢٢ ص ٥٧٥ )

١٦

صفحہ ١١٧

٤......... ”والذى نفسى بيده هو الذى بعثنى وسمانى نبيا و دعانى باسم المسيح الموعود واظهر لتصديق دعوتى آيات عظيمة تبلغ ثلثمائة الف وقد ذكرت نبذة منها فى هذا الكتاب . “

(تتمہ حقیقت الوحی ص ٦٨‘ خزائن ج ٢٢ ص ٥٠٣)

٥.........” الاخبار عن المغيبات التى ذكرت فى هذه السطور تشتمل على آيات جلية فيصلة تنيف على عشر مائة الف . “

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٥٦‘ خزائن ج ٢١ ص ٧٢)

٦.........” والذى نفسى بيده لو قامت شهود آيات العظام التى ظهرت لتصديق دعوتى فى صعيد واحد لماستطاع احد من ملوك الارض ان يكافهم بافواجه وجنوده . “

(اعجاز احمدی ص ٢‘ خزائن ج ١٩ ص ١٠٨)

٧.........” فواعجبا لخصومى يشنعون على بما يمرقون به من الاسلام ولو كان فى قلوبهم تقوى لما قالوا على ما يشمل الانبياء من قبلى . “

(اعجاز احمدی ص ٦٥‘ خزائن ج ١٩ ص ١١٢)

ترجمہ : ٤....... ”اور میں اس خدا کا قسم کھا کر کہتا ہوں کہ جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اس نے مجھے بھیجا ہے ۔ اور میرا نام نبی رکھا ہے اور اس نے مجھے مسیح موعود کے نام سے پکارا ہے اور اس نے میری تصدیق کے لئے بڑے بڑے نشانات ظاہر کئے ہیں جو تین لاکھ تک پہنچتے ہیں۔ جن میں سے بطور نمونہ اس کتاب میں لکھے گئے ہیں۔“

(تتمہ حقیقت الوحی ص ٦٨‘ خزائن ج ٢٢ ص ٥٠٣)

ترجمہ : ٥....... ”ان چند سطروں میں جو پیش گوئیاں ہیں وہ اس قدر نشانوں پر مشتمل ہیں جو دس لاکھ سے زائد ہیں اور نشان بھی ایسے کھلے کھلے جو اول درجہ پر خارق عادت ہیں۔“

(براہین احمدیہ ص ٥٦‘ خزائن ج ٢١ ص ٧٢)

ترجمہ : ٦....... ”مجھے اس خدا کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ۔ وہ نشان جو میرے لئے ظاہر کئے گئے اور میری تائید میں ظہور میں آئے اگر ان کے گواہ ایک جگہ کھڑے کئے جائیں تو دنیا کا کوئی بادشاہ ایسا نہ ہوگا جو اس کی فوج ان گواہوں سے زیادہ ہو۔“

(اعجاز احمدی ص ٢‘ خزائن ج ١٩ ص ١٠٨)

ترجمہ : ٧....... ”اب کس قدر تعجب کی جگہ ہے کہ میرے مخالف میرے پر وہ اعتراض

١٧

صفحہ ١١٨

٨........... ”وعلى هذا فليس فى قلوبهم من الايمان نقير ولا قطمير فانه ليس لى من الله معاملة الا وفيها شركاء من الانبياء السابقين فكل قدح يقدحون به فى امرى لابد ان يرد على نبى من الانبياء السابقين . “

(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٦٨‘ خزائن ج ٢٢ ص ٥٦٥)

ادعاء النبوة مع الشريعة الجديدة لنفسه

١........... ”قد قيل لى ان بشارتك مذكورة فى القرآن وما مصداق هذه الاية الا انت هو الذى ارسل رسوله بالهدى ودين الحق ليظهره على الدين كله . “

(اعجاز احمدی ص ٧١‘ خزائن ج ١٩ص١١٣)

٢........... ”هو الله الذى ارسل رسوله . “ يعنى نفسه بالهدى و دين

کرتے ہیں جس کی رو سے ان کو اسلام سے ہاتھ دھونا پڑتا ہے۔ اگر ان کے دل میں تقویٰ ہوتی تو ایسے اعتراض کبھی نہ کرتے جن میں دوسرے نبی شریک غالب ہیں۔“

(اعجاز احمدی ص ٧٥‘ خزائن ج ١٩ص ١١٢)

ترجمہ: ٨...... ”اگر یہی بات ہے تو ان لوگوں کا ایمان آج بھی نہیں کل بھی نہیں۔ کیونکہ خدائے تعالیٰ کا کوئی معاملہ مجھ سے ایسا نہیں جس میں کوئی نبی شریک نہ ہو اور کوئی اعتراض میرے پر ایسا نہیں کہ کسی اور نبی پر وہی اعتراض وارد نہ ہوتا ہو۔“

(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٦٨‘ خزائن ج ٢٢ ص ٥٦٥)

دعویٰ نبوت جدیدہ

ترجمہ: ١...... ”اور مجھے بتلایا گیا تھا کہ تیری خبر قرآن اور حدیث میں موجود ہے اور تو ہی اس آیت کا مصداق ہے کہ: ”هو الذى ارسل رسوله بالهدى و دين الحق ليظهره على الدين كله . “

(اعجاز احمدی ص ٧١‘ خزائن ج ١٩ص١١٣)

ترجمہ: ٢...... ”خدا وہی خدا ہے جس نے اپنے رسول یعنی اس عاجز کو ہدایت اور دین حق اور تہذیب اخلاق کے ساتھ بھیجا۔“

(اربعین نمبر ٣ ص ٣٦‘ خزائن ج ١٧ ص ٤٢٦)

ترجمہ: ٣...... ”اور اگر کہو کہ صاحب شریعت افتراء کر کے ہلاک ہوتا ہے نہ ہر ایک مفتری تو اول تو یہ دعویٰ بے دلیل ہے۔ خدا نے افتراء کے ساتھ شریعت کی کوئی قید نہیں لگائی۔

١٨

صفحہ ١١٩

الحق و تهذیب الاخلاق . “

(اربعین نمبر ٣ ص ٣٦ خزائن ج ١٧ ص ٤٢٦)

٣.......... ”فان قلت ان كل مفتر على الله بنبوة لا يهلك بافتراء بل من ادعى الشريعة خاصته قلنا اولا ان هذه دعوى بلا دليل فان الله تعالى لم يقيد وعيد الاهلاك لاجل الافتراء بقيد الشريعة ولو سلمنا فليست الشريعة الا من اوتى في وحيه اوامر و نواهى واخذ به لامته قانونا فخصمنا ملزم لهذا التعريف ايضاً فانى صاحب الشريعة بهذا المعنى الاترى...... انى اوتيت فى الوحى اوامر و نواهى ومن جملتها قوله تعالى قل للمؤمنين يغضوا من ابصارهم ويحفظوا فروجهم ذلك ازكى لهم الخ وهذا الوحى قد فى البراهين الاحمدية وفيه امر ونهى وقد مضت عليه ثلث وعشرون سنة وكذالك فى عامة ما يوحى الى يكون امر ونهى وان قلت ان المراد من الشريعة هى التى فيها احكام جديدة قلنا باطل فان الله تعالى قال ان هذا لفي الصحف الاولى صحف ابراهيم وموسى و حاصله ان التعليم القرآنى موجود فى التوراة

ماسوائے اس کے یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیا چیز ہے۔ جس نے اپنی وحی کے ذریعے چند امر اور نہی بیان کئے اور اپنی امت کے لئے ایک قانون مقرر کیا وہی صاحب شریعت ہو گیا۔ پس اس تعریف کی وجہ سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں۔ کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہے۔ اور نہی بھی۔ مثلاً یہ الہام:”قل للمؤمنين يغضوا من ابصارهم ويحفظوا فروجهم ذلك ازكى لهم ، “ یہ براہین احمدیہ میں درج ہے اور اس میں امر بھی ہے اور نہی بھی اور اس پر ٢٣ برس کی مدت بھی گزر گئی اور ایسا ہی اب تک میری وحی میں امر بھی ہوتے ہیں اور نہی بھی اور اگر کہو کہ شریعت سے وہ شریعت مراد ہے۔ جس میں نئے احکام ہوں تو یہ باطل ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ”ان هذا لفي الصحف الاولى صحف ابراهيم و موسى“ ، یعنی قرآنی تعلیم توریت میں بھی موجود ہے اور یہ کہو کہ شریعت وہ ہے جس میں باستیفائے امر و نہی کا ذکر ہو تو یہ بھی باطل ہے۔ کیونکہ اگر توریت یا قرآن میں باستیفائے احکام شریعت کا ذکر ہوتا تو پھر اجتہاد کی گنجائش نہ تھی۔“

(اربعین نمبر ٤ ص ٦، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥، ٤٣٤)

ترجمہ: ٤....... ”اور جو شخص حکم ہو کر آیا ہے اس کو اختیار ہے کہ حدیثوں کے ذخیرہ میں سے جس انبار کو چاہے خدا سے علم پا کر قبول کرے اور جس ڈھیر کو چاہے خدا سے علم پا کر رد

١٩

صفحہ ١٢٠

ايضاً وان قلت ان الشريعة هي التي تستوفى الاوامر والنواهى كلها فهو ايضاً باطل فانه لوكانت الاحكام الشريعة برمتها مستوفاة في التوراة اوالقرآن المجيد مابقى لاجتهاد موضع ٠ “

(اربعین نمبر ٤ ص ٦ خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥‘٤٣٦)

٤.......... ” من جاء من الله حكما فله ان ياخذ من ذخيرة الاحاديث ماشاء يعلم من الله ويرد ما شاء٠ “

(حاشیہ تحفہ گولڑویہ ص ١٠‘ خزائن ج ١٧ ص ٥١)

٥.......... ” نقول فعليهم ان ينبوا ما معنى لفظ الحكم الوارد في شان المسيح الموعود المروى في صحيح البخارى ونحن نعلم بيقين ان الحكم هو الذى يقبل حكم لرفع الاختلاف وتكون فيصلة ناطقة نافذة وان جعل الفا من الاحاديث موضوعة ٠ “

(اعجاز احمدی ص ٢٩‘ خزائن ج ١٩ ص ١٣٩)

٦.......... ” ونحن نقول في جوابه نقسم بالله ان الاحاديث ليست باساس دعوى بل القرآن والوحى الذي ينزل على نذكر للتأييد احاديثا تكون مطابقة القرآن ولم تكن معارضة لما اوحى الى وما سوى ذلك من الاحاديث فنبذه نبذ الانجاس والاقذار ٠ (والعياذ بالله) “

(اعجاز احمدی ص ٣٠‘ خزائن ج ١٩ ص ١٤٠)

کرے ۔“

(حاشیہ تحفہ گولڑویہ ص ١٠‘ خزائن ج ١٧ ص ٥١)

ترجمہ : ٥...... ”مگر ہم با ادب عرض کرتے ہیں کہ پھر وہ حکم کا لفظ جو مسیح موعود کی نسبت جو صحیح بخاری میں آیا ہے اس کے ذرا معنی تو کریں ۔ ہم تو اب تک یہی سمجھتے تھے کہ حکم اس کو کہتے ہیں کہ اختلاف رفع کرنے کے لئے اس کا حکم قبول کیا جائے اور اس کا فیصلہ گو وہ ہزار حدیث کو بھی موضوع قرار دے ناطق سمجھا جائے ۔“

(اعجاز احمدی ص ٢٩‘ خزائن ج ١٩ ص ١٣٩)

ترجمہ : ٦...... ”اور ہم اس کے جواب میں خدائے تعالیٰ کی قسم کھا کر بیان کرتے ہیں کہ میرے اس دعوٰی کی حدیث بنیاد نہیں ۔ بلکہ قرآن اور وہ وحی ہے جو میرے پر نازل ہوئی ۔ ہاں تائیدی طور پر ہم وہ حدیثیں بھی پیش کرتے ہیں جو قرآن شریف کے مطابق ہیں اور میرے وحی کے معارض نہیں ۔ اور دوسری حدیثوں کو ہم ردی کی طرح پھینک دیتے ہیں ۔“

(اعجاز احمدی ص ٣٠‘ خزائن ج ١٩ ص ١٤٠)

٢٠

صفحہ ١٢١

ادعاء المساوات بل الافضيلة على نبينا ﷺ

والعياذ بالله

لا من نفسى وحصل لى ذلك كله بالفناء فى الرسول فلم يناقض مفهوم خاتم النبيين . "

(حقیقت النبوۃ ص ٢٦٢، ایک غلطی کا ازالہ ص ٤، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٨)

باسمه لغلبة الاتحاد ونفى الغير يته وانعكس منه الوجه المحمدی كالمراة الصافية فاطلاق النبی عليه لايفض خاتم النبوة فانه عين ....... محمد ولو على سبيل الظلية . "

(ضمیمہ حقیقت النبوۃ ص ٢٦٣، ایک غلطی کا ازالہ ص ٥، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٩)

آنحضرت ﷺ سے افضلیت کا دعویٰ

میرے نفس کی رو سے اور یہ تمام بحیثیت فنا فی الرسول مجھ ہی کو حاصل ہے۔ لہذا خاتم النبیین کے مفہوم میں فرق نہ آیا۔"

(حقیقت النبوۃ ص ٢٦٢، ایک غلطی کا ازالہ ص ٤، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٨)

اتحاد اور نفی غیریت کے اسی کا نام پالیا ہو اور صاف آئینہ کی طرح محمدی چہرہ کا اس میں انعکاس ہو گیا ہو تو وہ بغیر مہر توڑنے کے نبی کہلائے گا۔ کیونکہ وہ محمد ہی ہے گو ظلی طور پر۔"

(ضمیمہ حقیقت النبوۃ ص ٢٦٣، ایک غلطی کا ازالہ ص ٥، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٩)

اور احمد سے مسمی ہو کر میں رسول بھی ہوں اور نبی بھی ہوں۔"

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٧، خزائن ج ١٨ ص ٢١١، ضمیمہ حقیقت النبوۃ ص ٢٦٥)

اور ظلی طور پر محبت کے آئینہ کے ذریعے سے وہی نام پایا۔ اگر کوئی شخص اس وحی الہی پر ناراض ہو کہ

٢١

صفحہ ١٢٢

فاذا رسول ونبی ۔ “

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٧ خزائن ج ١٨ ص ٢١١ ضمیمہ حقیقت الوحی ص ٢٦٥)

٤.............”ولہذا الوجہ یبقی خاتم النبیین محفوظاً فانی سمیت باسم محمد واحمد من مراۃ الصحبۃ علی وجہ الانعکاس والظلیۃ ومن ظنہ ہذا الوحی الالہی وانہ لم سمانی نبیاً رسولاً فہذا من غایۃ حمقہ فان بتسمیتی نبیا و رسولاً لا یفض خاتم اللہ تعالیٰ ۔ “

(ضمیمہ حقیقت الوحی ص ٢٦٥، ایک غلطی کا ازالہ ص ٧، خزائن ج ١٨ ص ٢١١)

٥.............”وانی اقول ان تلقبی بالقاب النبوۃ و الرسالۃ بعد محمد الذی ہو خاتم النبیین فی الحقیقۃ لیس مما یشنع علیہ ولا یناقض ختمیۃ ﷺ فانی قد ذکر مرارا انی علی موجب قولہ تعالی و اخرین منہم لما یلحقوابہم عین محمد الخاتم النبیین علی وجہ البروز واللہ تعالی قد سمانی نبیا ورسول فی البراہین الاحمدیۃ قبل ہذا بعشرین سنۃ وجعلنی عین وجودہ ﷺ فہذا الوجہ لم یتزلزل خاتمیۃ ﷺ بنبوتی فان الظل لا ینفصل عن ذی الظل ۔ “

(ایضاً ص ٢٦٥ ایک غلطی کا ازالہ ایضاً)

٦.............”ولم صرت عین محمد ﷺ علی سبیل الظلیۃ والبروز فلم یفض خاتم خاتم النبیین فان نبوۃ محمد ﷺ علی ہذا بقیت محدودۃ فی نفسہ ولم یتنباء غیر محمد ﷺ ۔ “

(ایضاً ص ٢٦٦ ایک غلطی کا ازالہ ص ٨ خزائن ج ١٨ ص ٢١٢)

خدائے تعالیٰ نے کیوں میرا نام نبی اور رسول رکھا ہے تو یہ اس کی حماقت ہے۔ کیونکہ میرے نبی اور رسول ہونے سے خدا کی مہر نہیں ٹوٹتی ۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ایضاً منقول از ضمیمہ حقیقت الوحی ص ٢٦٥)

ترجمہ: ٥......”مگر میں کہتا ہوں کہ آنحضرت ﷺ کے بعد جو درحقیقت خاتم النبیین تھے مجھے نبی اور رسول کے لفظ پکارا جانا کوئی اعتراض کی بات نہیں اور اس سے مہر ختمیت نہیں ٹوٹتی ۔ کیونکہ میں بارہا بتلا چکا ہوں کہ میں بموجب آیہ کریمہ : ” وآخرین منہم لما یلحقوابہم “ بروزی طور پر وہی نبی خاتم الانبیاء ہوں اور خدا نے اب سے بیس برس پہلے براہین احمدیہ میں میرا نام محمد اور احمد رکھا ہے۔ اور مجھے آنحضرت ﷺ کا بھی وجود قرار دیا ہے۔ پس اس طور سے آنحضرت ﷺ کے خاتم الانبیاء ہونے میں میری نبوت سے کوئی تزلزل نہیں آیا۔ کیونکہ ظل اپنی اصل سے علیحدہ نہیں ہوتا ۔ “

(ایضاً ص ٢٦٥ ایک غلطی کا ازالہ ص ایضاً)

٢٢

صفحہ ١٢٣

٧............ ”ولما صرت البروز المحمدى الذى كان موجوداً من قديم اعطيت النبوة البروزية و تلك النبوة فسائر المخلوقات في جنبها عاجزة فانها قد ختمت . “

(ضمیمہ حقیقت الوحی ص ٢٦٨‘ ایک غلطی کا ازالہ ص ١١‘ خزائن ج ١٨ ص ٢١٥)

٨............ ”كان مقدرا ان يبرز لمحمد ﷺ بروز فقد برز والآن لم يبق الاستنباط من منبع النبوة سبيل غيره . “

(کتاب مذکور ص ٢٦٨‘ ایک غلطی کا ازالہ ص ١١‘ خزائن ج ١٨ ص ٢١٥)

٩............ ”وعلى هذا قد سمانى تبارك و تعالى مراراً بالنبي والرسول ولكن عن سبيل البروز بحيث يرتفع نفسى من الدين ولا يبقى الا محمد ﷺ فبهذا لقبت بمحمد واحمد فلم تذهب النبوة والرسالة الى غير محمد ﷺ بل بقى امر محمد عند محمد نفسه ﷺ (ضمیمہ ص ٢٦٦‘ ایک غلطی کا ازالہ ص ١٢‘ خزائن ج ١٨ ص ٢١٦) افترى على الله ان هذة الايات نزلت في شانه . “

١٠............ ”وما رميت اذ رميت ولكن الله رمى . “

(ضمیمہ حقیقت الوحی ص ٨٩‘ خزائن ج ٢٢ ص ٧٠٥)

١١............ ”دنى فتدلى فكان قاب قوسين او ادنى . “

(ایضاً ص ٨١)

١٢............ ”سبحن الذى اسرى بعبده ليلاً ...... الخ . “

(ایضاً ص ٨١‘ خزائن ج ٢٢ ص ٧٠٧)

١٣............ ”قل ان كنتم تحبون الله فاتبعونى يحببكم الله ...... الخ “

ترجمہ:٦ ...... ”اور چونکہ میں ظلی طور پر محمد ہوں۔ پس اس طور سے خاتم النبیین کی مہر نہیں ٹوٹی۔ کیونکہ محمد ﷺ کی نبوت محمد تک ہی محدود رہی۔ یعنی بہرحال محمد ﷺ نبی رہے نہ اور کوئی ......... الخ۔“

(حقیقت الوحی ص ١٦٢‘ ایک غلطی کا ازالہ ص ٨‘ خزائن ج ١٨ ص ٢١٢)

ترجمہ:٧ ...... ”اور چونکہ وہ بروز محمدی جو قدیم سے موجود تھا وہ میں ہوں۔ اس سے بروزی رنگ کی نبوت مجھے عطا کی گئی۔ اس نبوت کے مقام پر تمام دنیا بے دست و پا ہے۔ کیونکہ نبوت پر مہر ہے۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ص ١١‘ خزائن ج ١٨ ص ٢١٥‘ ضمیمہ حقیقت الوحی ص ٢٦٨)

ترجمہ:٨ ...... ”ایک بروز محمدی جمیع کمالات محمدیہ کے ساتھ آخری زمانہ کے لئے مقدر تھا۔ سو وہ ظاہر ہو چکا۔ اب بجز اس کھڑکی کے اور کوئی کھڑکی نبوت کے چشمہ سے پانی لینے کے لئے

٢٣

صفحہ ١٢٤

(ایضاً ص ٨١)

(ضمیمہ حقیقت الوحی ص ٨٣ خزائن ج ٢٢ ص ٧٠٩)

سرير . “

(ضمیمہ حقیقت الوحی ص ٨٣ خزائن ج ٢٢ ص ٧٠٩)

وما تاخر . “

(الاستفتاء ضمیمہ حقیقت الوحی ص ٨٤ خزائن ج ٢٢ ص ٧١١)

(ضمیمہ حقیقت الوحی ص ٨٥ خزائن ج ٢٢ ص ٧١٢)

(ص ٨٥ خزائن ج ٢٢ ص ٧١٢)

(ص ٨٦ خزائن ج ٢٢ ص ٧١٣)

(الاستفتاء ص ٨٦ خزائن ج ٢٢ ص ٧١٤)

(حقیقت الوحی ص ٨٠ خزائن ج ٢٢ ص ٨٣)

معجزاته صلی اللہ علیہ وسلم بلغت ثلثة الاف و ادعى لنفسه فى الجزء الخامس من البراهين الاحمدية ، “ (ص ٥٦ خزائن ج ٢١ ص ٧٥) عشر مائة الف فانظر كيف فضل نفسه على نبينا صلی اللہ علیہ وسلم بتكثير المعجزات آية كثرة (نعوذ بالله من هذه الكفريات القبيحة) “

باقی نہیں ۔ “

(کتاب مذکورہ ص ٢٦٨ ایک غلطی کا ازالہ ص ایضاً)

ترجمہ:٩.......” اور اسی بناء پر خدا نے بار بار میرا نام نبی اللہ اور رسول رکھا۔ مگر بروزی صورت میں میرا نفس درمیان نہیں ہے ۔ بلکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اسی لحاظ سے میرا نام محمد اور احمد ہوا ۔ پس نبوت اور رسالت کسی دوسرے کے پاس نہیں گئی ۔ محمد کی چیز محمد ہی کے پاس رہی ۔ علیہ الصلوٰۃ والسلام ۔“

(حقیقت النبوۃ ص ٢٦٩ ایک غلطی کا ازالہ ص ١٢ خزائن ج ١٨ ص ٢١٦)

نوٹ :نمبر ١٠ سے نمبر ٢١ تک چونکہ ترجمہ کی ضرورت نہ تھی ۔ اس لئے ترجمہ نہیں کیا گیا ۔

٢٤

صفحہ ١٢٥

اتنكر . “

(اعجاز احمدی ص ٧١ خزائن ج ١٩ ص ١٨٣)

وبقى فتح اخر ابين منه غلبة ونصرة وقد قدر ان يكون زمانه زمان المسيح الموعود والى هذا اشير فى قوله سبحان الذى اسرى . “

(سيرة الابدال ص ١٩٣ خزائن ج ١٦ ص ٢٨٨)

ذى روح من الانس والجان كما يفهم من آية اسجدوا لادم ثم اذله الشيطان واخرجه من الجنان ورد الحكومة الى هذا الثعبان ومس ادم ذلة وخزى فى هذا الحرب العوان وان الحرب سجال وللا تقياء عندالرحمن فخلق الله المسيح الموعود ليجعل الهزيمة على الشيطان فى اخر الزمان وكان وعداً مكتوباً فى القرآن . “ (حاشيه درحاشيه ص ت خطبه الالهاميه ملحقه سيرة الابدال خزائن ج ١٦ ص ٣١٢)

(اربعین نمبر ٤ ص ٣٦ خزائن ج ١٧ ص ٣٨٥)

(دافع البلا ص ٦ خزائن ج ١٨ ص ٢٢٦)

(ايضاً)

الفلك باعيننا ووحينا ان الذين يبايعونك انما يبايعون الله يد الله فوق ايديهم قل انما انا بشر مثلكم يوحى الى انما الهكم اله واحد والخير كله فى

ترجمہ : ٢٢......”تحفہ گولڑویہ کے ص ٣٠١‘ خزائن ج ١٧ ص ١٥٣ پر جناب رسول الله ﷺ کے معجزات کی تعداد تین ہزار لکھی ہے اور اپنے معجزات کی براہین احمدیہ جلد پنجم‘ خزائن ج ٢١ ص ٧٥ پر دس لاکھ بتلائی ہے۔ جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی‘ رسول الله ﷺ سے تین سو سے زائد درجہ عالی تھے۔“ نعوذ بالله من هذه الكفريات القبيحة !

صفحہ ١٢٦

القرآن ٠ “

(دافع البلاء ص ١١ خزائن ج ١٨ص ٢٢٦‘ ٢٢٧)

٣٠............ ”وما ارسلناک الا رحمتہ للعالمین ٠ اعملوا علی مکانتکم انی عامل فسوف تعلمون ٠ “

(حقیقت الوحی ص ٨٢ خزائن ج ٢٢ص ٨٥)

هذه ترجمة ما هذئ به الاسود الكاذب من الكفر الازب كفراً بواحاً وصراحاً

لعنة الله عليه والملئكة والناس اجمعين !

ترجمہ : ٢٣...... ”اس کے لئے چاند کا خسوف ظاہر ہوا۔ اور میرے لئے چاند اور سورج دونوں کا۔ اب کیا تو انکار کرے گا۔“

(اعجاز احمدی ص ٧١ خزائن ج ١٩ص ١٨٣)

ترجمہ : ٢٤...... ”اور ظاہر ہے کہ فتح مبین کا وقت ہمارے نبی کریم کے زمانہ میں گزر گیا۔ اور دوسری فتح باقی رہی کہ پہلے غلبہ سے بہت بڑی اور زیادہ ظاہر ہے اور مقدر تھا۔ اس کا وقت مسیح موعود کا وقت ہو اور اس طرف خدا کے اس قول میں اشارہ ہے: ”سبحان الذی ٠ “

(سیرۃ الابدال ملحقہ خطبہ الہامیہ ص ١٩٣ خزائن ج ١٦ص ٢٨٨)

نوٹ : ٢٥ نمبر سے آگے ترجمہ کی ضرورت نہ تھی۔

٢٦

PDF 127

انا خاتم النبیین لا نبی بعدی

میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔

ایمان و کفر قرآن کی روشنی میں

حضرت مولانا مفتی محمد شفیع دیوبندیؒ

صفحہ ١٢٨

بسم الله الرحمن الرحيم!

تعارف

عرصہ ہوا حضرت مولانا عبدالماجد دریا آبادی کے کچھ سوال دربارہ قادیانیت النور تھانہ بھون میں شائع ہوئے۔ حکیم الامت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانویؒ نے ان کا جواب دیا جو امداد الفتاویٰ کی جلد ششم میں موجود ہے۔ ان سوالات کے جوابات پر مشتمل حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحبؒ نے رسالہ ”وصول الافکار الی اصول الکفار“ مرتب کیا۔ بعد میں ١٩٥٣ء کی تحریک ختم نبوت میں مسٹر جسٹس منیر کی عدالت میں انکوائری کے دوران میں یہ بحث دوبارہ چل نکلی۔ حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحبؒ نے ”ایمان و کفر قرآن کی روشنی میں“ کتاب تحریر کی۔ اس مجموعہ میں اسے شائع کرنے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں۔ البتہ اس کے آخر میں جو وصول الافکار کا خلاصہ تھا وہ حذف کر دیا ہے۔ اس لئے کہ وصول افکار کے مکمل متن کے ہوتے ہوئے خلاصہ کی ضرورت نہ تھی۔ فالحمدلله!

بسم الله الرحمن الرحيم!

الحمدلله وکفی وسلام علی عبادہ الذین اصطفی خصوصاً علی سیدنا محمد المصطفی ومن بہدیہ اہتدے!

ایمان‘ اسلام‘ کفر کے الفاظ جتنے ہر طبقہ میں متعارف ہیں کہ ہر فرقے کے ان پڑھ جاہل تک ان کو جانتے ہیں۔ اتنا ہی ان کی جامع مانع تعریف کرنا دشوار بھی ہے۔ اور یہ صرف کفر و ایمان کے ساتھ مخصوص نہیں۔ بلکہ عام متعارف اور زبان زد الفاظ جن کے معانی سمجھنے میں کسی بچہ کو بھی کوئی شک وشبہ نہیں ہوتا۔ جیسے ٹوپی‘ کرتہ‘ پاجامہ‘ جوتہ‘ مکان‘ میز‘ کرسی‘ لوٹا‘ گلاس وغیرہ! لیکن

٢

صفحہ ١٢٩

اگر انہیں الفاظ میں سے کسی لفظ کی جامع مانع تعریف کا سوال پیدا ہو۔ تو بڑے سے بڑا ماہر چکرا جائے گا اور پورے غور و فکر کے بعد بھی جو تعریف کرے گا اس میں یہ خطرہ رہے گا کہ شاید اس کے مفہوم کے بعض افراد رہ گئے ہوں یا غیر مفہوم کے افراد اس میں داخل ہوگئے ہوں۔

علماء سلف مفسرین محدثین فقہاء متکلمین نے ایمان و اسلام کی مکمل تعریف۔ پھر کفر کی تعریف اور اس کے اقسام پر طویل مباحث اور مستقل رسالے لکھے ہیں۔ اس آخری دور میں مخزن علوم اسلامیہ سند العلماء استاذ الاساتذہ سیدی و استاذی حضرت العلامہ مولانا محمد انور شاہ کشمیری قدس سرہ سابق صدر المدرسین دارالعلوم دیوبند نے اس موضوع پر ایک نہایت مکمل اور مفصل کتاب بنام اکفار الملحدین تصنیف فرمائی ہے۔ سبب تصنیف یہ تھا کہ کفر کی ایک خاص قسم جس کو زندقہ یا الحاد کہتے ہیں اور یہی اس زمانہ کا کفر نفاق ہے۔ اس کو اسلام و ایمان سے ممتاز کرنا اور مسلمان اور زندیق میں فرق کرنا ہمیشہ غور طلب مسئلہ رہا ہے۔ اور اس زمانہ میں علوم قرآن وحدیث سے عام ناواقفیت کی بناء پر یہ اور بھی مشکل ہو گیا۔ ملحدین اور زنادقہ کی بن آئی کہ اسلام کے بھیس میں بدترین کفر کی تبلیغ کرتے رہیں۔ اور مسلم معاشرہ کا جز بنے رہیں اور مسلمانوں کے مار آستین بن کر ان کو ڈستے رہیں۔ بہت سے نیک دل مسلمان بھی اس فتنہ کا شکار ہونے لگے کہ جو شخص بھی اپنے آپ کو مسلمان کہے۔ اس کو مسلمان سمجھنا چاہئے خواہ وہ عقائد و اعمال کچھ بھی رکھتا ہو۔ اور آج کل کی عرف میں اس کو سیاسی دانشمندی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ لیکن اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ اسلام کسی حقیقت یا عقیدہ و نظریہ کا نام نہیں۔ بلکہ ایک بے معنی لفظ ہے جس کا جی چاہے اپنے عقائد اپنے خیالات اپنے اعمال پر قائم رہتے ہوئے مسلمان ہو سکتا ہے۔ اسلام اس پر کوئی پابندی عائد نہیں کرتا۔

اس فتنہ کے ہولناک نتائج اسلام اور مسلمانوں کے لئے جس قدر تباہ کن تھے وہ محتاج بیان نہیں۔ اس لئے کفر کی اس قسم کو جو اسلام کے لباس اور اسلام کے دعویٰ کے ساتھ عمل میں آتی ہے پوری طرح واضح کرنا وقت کا ایک اہم مسئلہ بن گیا۔

خصوصاً اس معاملہ میں دو چیزیں ایسی تھیں کہ ان میں عوام سے گزر بعض خواص اہل علم بھی اشتباہ میں پڑ سکتے ہیں۔

قائل ہو۔ مگر صاف طور پر نہیں بلکہ تاویل کے ساتھ قائل ہو اس کو کافر نہ کہا جائے۔ اور یہ بھی ظاہر

٣

صفحہ ١٣٠

ہے کہ جو شخص بھی دعوائے اسلام کے ساتھ کسی کافرانہ عقیدہ و قول کو اختیار کرتا ہے تو کسی نہ کسی تاویل کی آڑ لے کر ہی اختیار کرتا ہے۔ اس کا نتیجہ پھر وہی نکلتا ہے کہ کسی مدعی اسلام کو کافر کہنا جائز نہ ہو۔ حالانکہ نصوص قرآن و حدیث اس کے خلاف شاہد ہیں۔ اس لئے ضرورت تھی کہ فقہاء متکلمین کے اس متفقہ اصول کی وضاحت کی جائے کہ تاویل کے ساتھ کسی عقیدہ کفریہ کا قائل ہونا موجب کفر نہیں۔

(ب)...... یہ مسئلہ بھی ایک صحیح و صریح حدیث سے ثابت اور علماء و فقہاء کے نزدیک مسلمہ ہے کہ کسی اہل قبلہ کو کافر نہ کہا جائے۔ اس کا نتیجہ بھی بظاہر یہی نکلتا ہے کہ جو مدعی اسلام کعبہ کو اپنا قبلہ قرار دے۔ پھر خواہ وہ اللہ اور رسول کے بارے میں کیسے ہی غلط عقائد رکھتا ہو اور توہین کرتا ہو اس کو کافر نہ کہا جائے۔

یہ دونوں شبہات چونکہ علمی رنگ کے ہیں۔ اس لئے اور بھی ضروری ہوا کہ ان کی اصل حقیقت کو واضح کیا جائے۔ اس لئے حضرت الاستاذ حضرت شاہ صاحب قدس سرہ نے اس موضوع پر قلم اٹھایا اور ایسی بے نظیر کتاب تصنیف فرمائی کہ اس سے پہلے کوئی کتاب اتنی جامع نظر نہیں آئی۔

مگر اس کے ساتھ ہی اول تو یہ کتاب عربی زبان میں ہے۔ دوسرے حضرت شاہ صاحب قدس سرہ کی اس رفعت علمی کی آئینہ دار ہے جس تک پہنچنے کے لئے خود ایک بڑا علم درکار ہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ عوام تو اس کے استفادہ سے محروم تھے ہی۔ روز بروز استعداد علمی کے تناقص نے اکثر اہل علم کو بھی محروم کر دیا۔ اس تصنیف کے شائع ہونے کے بعد ہی سے بہت سے حضرات کا مطالبہ تھا کہ اس کے مضامین کو آسان ترتیب کے ساتھ سلیس اردو میں لکھا جائے۔ (اب اس کتاب کا اردو ترجمہ ہو گیا ہے۔ مکتبہ لدھیانوی کراچی سے مل سکتی ہے) بہت سے دوستوں نے احقر کو بھی اس ضرورت کی طرف توجہ دلائی اور خود بھی اس کی ضرورت کا احساس پہلے سے تھا۔

لیکن بحکم قضاء و قدر یہ کام آج تک تعویق میں پڑا رہا۔ اب جبکہ پاکستان میں قادیانی فتنہ نے نیا جنم لیا۔ اور ١٩٥٣ء کی تحریک میں پنجاب کی تحقیقاتی عدالت میں مسلمان اور کافر اور اسلام اور کفر کی تعریف کے متعلق سوالات کئے گئے۔ اور کفر و اسلام میں تلبیس کرنے والے پرانے شکاری نئے جال لے کر میدان میں آئے تو یہ مسئلہ اسلامیان پاکستان کے لئے پھر از سر نو معرکۂ بحث بن گیا۔ اس وقت ضرورت کا احساس دو چند ہو گیا اور بنام خدا تعالیٰ زیر نظر اوراق کی کتابت شروع کی۔

٤

صفحہ ١٤١

اس میں استاذ محترم کے تمام مواد بحث اور تحقیقات کو پورا لے لیا گیا ہے۔ مگر ترتیب و بیان سب اس ناکارہ کا ہے اور استاذ محترم کا روئے سخن چونکہ ایک خاص فتنہ اور خاص اعتراضات کے جواب کی طرف تھا۔ اس لئے اسلام و ایمان یا کفر اور اس کی اقسام کی پوری تحقیق اس کتاب میں نہ تھی۔ اس کا احقر نے اضافہ کیا اور کسی خاص فرقہ کے عقائد و خیالات کو مدار بحث بنائے بغیر عمومی اور کلی طور پر مسئلہ کفر و اسلام کو واضح کرنے کی کوشش کی۔ اور اب الحمد للہ یہ کتاب مسئلہ کفر و اسلام کی تمام ضروری مباحث پر حاوی اور ازالہ شبہات کے لئے کافی ہوگئی ہے۔ واللہ سبحانہ وتعالیٰ ولی التوفیق وھو بہ حقیق!

بناء پاکستان کے وقت مسئلہ کفر و اسلام کے ساتھ ایک اور بحث کا دروازہ کھلا کہ دنیا میں قوموں کی تقسیم و تفریق نسل و وطن اور رنگ و لسان کی بنیاد پر ہے یا مذہب ۔ یعنی کفر و اسلام کی بنیاد پر۔ پھر بناء پاکستان کے بعد بھی یہ بحث مختلف صورتوں سے سامنے آتی رہی۔ اس لئے شروع میں اس مسئلہ پر بھی قرآن وحدیث کی روشنی میں ایک مختصر جامع شذرہ لکھا گیا۔ ربنا تقبل منا انک انت السمیع العلیم!

بندہ محمد شفیع عفا اللہ عنہ مقیم کراچی بمقام لاہور جمادی الاول ١٣٧٣ھ جنوری ١٩٥٤ء

بسم الله الرحمن الرحيم!

مقدمہ

ایک قوم کو دوسری قوم سے جدا کرنے والے اصول

تمام انسان اصل میں ایک قوم اور ایک ملت تھی۔ ایک ہی ماں باپ سے پیدا ہوئے تھے۔ اور انسانیت کے ابتدائی دور میں سب کے نظریات و عقائد اور معاشی و معاشرتی اصول بھی ایک ہی تھے۔ سب ایک خدا کو ماننے والے اور اس کے احکام کو جو بذریعہ رسول ان تک پہنچے واجب الاتباع سمجھنے والے تھے۔ پھر جوں جوں ان کے افراد دنیا میں پھیلتے گئے اور ایک دوسرے

٥

صفحہ ١٣٢

سے دوری ہوتی گئی۔ اور بڑھتے بڑھتے یہ دوری مشرق سے مغرب اور جنوب سے شمال تک پوری زمین کے اطراف پر حاوی ہو گئی تو معاشی اور معاشرتی اصول میں فرق پڑا۔ بول چال میں اختلاف آیا۔ زبانیں مختلف ہو گئیں۔ اس کے ساتھ عقائد ونظریات بھی متاثر ہوئے۔ خدا پرستی کی جگہ مخلوق پرستی کا دروازہ کھلا۔ اور خدا کی مخلوق مختلف اقوام میں بٹ گئی اور قومیتوں کی جنگ شروع ہوگئی۔ اقوام کے باہمی تنازع کے ساتھ تعاون و تناصر کی ضرورت پیش آئی تو مختلف گروہوں نے مختلف اصول پر اپنے اپنے اعوان وانصار بنائے۔ شروع میں آبادی کی چار سمت مشرق‘ مغرب‘ جنوب اور شمال کے اصول پر دنیا میں چار قومیں سمجھی گئیں۔ پھر زمین کی سات اقلیموں کی بنیاد پر سات قومیں مانی گئیں (ملل ونحل شہرستانی ص ١٠ / المقدمۃ الاولٰی) پھر کسی نے نسل ونسب کی بنیاد پر اپنی قوم کو یکجا کر کے دوسرے قبائل وانساب کے مقابلہ پر نبرد آزما کر دیا۔ کسی نے جغرافیائی اور وطنی یا لسانی بنیادوں پر لوگوں کو اپنی قوم بنالیا۔ اور جو ان بنیادوں میں ان سے مختلف تھے ان کو جداگانہ اور حریف قوم قرار دیا۔ کسی نے نظریات وعقائد کو قومیت کی بنیاد بنا کر مخلوق پرستوں کو ایک قوم بنایا اور خالص خدا پرستوں کو حریف قوم قرار دیا۔

چوں ندیدند حقیقت رہ افسانہ زدند

اللہ تعالیٰ نے بنی آدم کی صلاح و فلاح کے لئے ہر قرن میں اور ہر امت میں اپنے انبیاء بھیجے: ”وان من امۃ الا خلا فیہا نذیر . فاطر ٢٤“ ہر ایک امت میں ہماری طرف سے کوئی ڈرانے والا ہو گزرا ہے۔

ان سب انبیاء کی ایک ہی تعلیم تھی کہ یہ خود ساختہ اختلافات ختم کر کے پھر ملت واحدہ بن جاؤ۔ مخلوق پرستی کو چھوڑ کر صرف ایک خدا کی پرستش کرو۔ نسلی، جغرافیائی اور لسانی امتیازات کو اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کی نشانیاں اور صرف معاشرت میں سہولت پیدا کرنے کے اسباب اور نعمتیں سمجھو۔ ان کو قومی تفرقہ کی بنیادیں نہ بناؤ۔ جس کو کچھ ماننے والوں نے مانا اور بدبختوں نے انکار و مقابلہ کی راہ اختیار کی جس سے کفر و اسلام کی جنگ چھڑ گئی۔

ہمارے رسول خاتم الانبیاء ﷺ بھی تمام انبیاء کی سنت کے مطابق یہی پیغام لائے اور سب سے زیادہ موثر طریقہ پر اس کو پھیلایا۔ قرآن نے ایک طرف تو نسلی وطنی اور لسانی امتیازات کو آیات قدرت اور نعمائے الہیہ کہہ کر ان کا صحیح مقام بتلایا کہ وہ معاشرت میں سہولت پیدا کرنے کے اسباب ہیں۔ قومیتوں کی بنیادیں نہیں ہیں۔ ملاحظہ ہوں ارشادات قرآنی:

٦

صفحہ ١٣٣

والوانكم . ان فى ذالك لاآيات للعالمين . روم ٢٢ “ترجمہ:......اور اس کی نشانیوں میں سے زمین و آسمان کا پیدا کرنا ہے۔ اور تمہاری زبانوں اور رنگوں کا مختلف ہونا بے شک اس میں البتہ نشانیاں ہیں جہاں والوں کے لئے۔

نے تمہیں شاخوں اور قبیلوں میں تقسیم کیا۔ تاکہ تم پہچانے جاؤ۔

اور دوسری طرف قدیم وحدت کو ازسرنو قائم کرنے کی دعوت دی۔ آیت مذکورہ بالا سے پہلے ارشاد ہوا: ”ياايها الناس انا خلقناكم من ذكر وانثى . حجرات: ١٣ “ ترجمہ:......اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک ہی ماں باپ کے جوڑے سے پیدا کیا۔

”خلقكم من نفس واحدة وخلق منها زوجها . نساء: ١ “ترجمہ:......تم کو ایک جان سے پیدا کیا اور اسی جان سے اس جوڑے کو۔

رسول کریم ﷺ نے اپنی آخر عمر میں حجۃ الوداع کا خطبہ دیتے ہوئے جہاں اسلامی دستور کے اور بنیادی اصول بتلائے وہیں یہ بھی ارشاد فرمایا:

”ايهاالناس ربكم واحد لا فضل لعربى على عجمى ولا لعجمى على عربى ولا لاحمر على اسود ولا لاسود على احمر الا بالتقوى ان اكرمكم عندالله اتقكم ، “ترجمہ:......اے لوگو! تمہارا پروردگار ایک ہے۔ عربی کو عجمی پر اور عجمی کو عربی پر کوئی فضیلت حاصل نہیں۔ اسی طرح کسی گورے کو کالے اور کالے کو گورے پر کوئی تفوق حاصل نہیں۔ مگر تقویٰ کی وجہ سے۔ بے شک تم میں سب سے زیادہ مکرم اللہ کے نزدیک وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ متقی ہو۔

الغرض! اس معاملہ میں رسول اللہ ﷺ کی دعوت کا خلاصہ یہ تھا کہ فرقہ وارانہ اور صوبجاتی اختلافات کی دلدل میں پھنسی ہوئی دنیا کو پھر ایک صحیح متحدہ قومیت کی طرف لائیں۔ جو ان کے جدامجد حضرت آدم ؑ کی میراث تھی۔ اس کے لئے دو طریق اختیار کئے گئے۔

نے بنالی تھیں ان کو یکسر باطل قرار دیا۔ کیوں کہ اگر بنیادوں پر قوموں کی تقسیم اور انسانیت کا تفرقہ تسلیم کرلیا جائے تو اولاً تو یہ خلاف عقل ہے کہ کسی زمین یا کسی خاندان میں پیدا ہونے کی غیر

٧

صفحہ ١٣٤

اختیاری اور ضعیف وجہ سے کوئی شخص قومی اور اجتماعی معاملات میں دوسروں سے علیحدہ قوم سمجھا جائے۔ ثانیاً اگر انسان کی متحدہ قومیت میں اس کے تفرقے قبول کر لئے جائیں تو ان کو کسی وقت اور کسی حال میں مٹایا نہیں جاسکتا۔ جو شخص عرب یا عجم کے کسی خاندان میں پیدا ہو چکا ہے اب اس کے اختیار میں نہیں کہ دوسرے خاندان میں پیدا ہو جائے۔ اسی طرح جو ایشیاء میں پیدا ہوا وہ یورپ میں دوبارہ پیدا نہیں ہو سکتا۔ الغرض یہ جغرافیائی، وطنی، لسانی اور نسلی تفرقے بہت سی حکمتوں پر مبنی ہیں۔ ان کا مٹانا نہ کسی کے اختیار ہے اور نہ کسی عقل مند کو ان کے مٹانے کی کوشش کرنا چاہئے۔ ہاں! یہ ضروری ہے کہ ان امتیازات کی حد اور ان کا صحیح مقام پہچانا جائے کہ ان کی غرض صرف معاشی و معاشرتی سہولتیں ہیں اور بس! قومیتوں کی جدائی کا ان سے کوئی تعلق نہیں۔

دوسرا طریقہ ...... دعوت اتحاد کا یہ تھا کہ نظریات و عقائد کی بناء پر قومیت کی تفریق کا اصول تو تسلیم ہے کہ خدا کے ماننے والے اس کے منکروں کے ساتھ مل کر ایک قوم نہیں ہو سکتے۔ بلاشبہ جو لوگ خدا اور اس کے رسولوں کے منکر ہوں گے وہ ماننے والوں سے علیحدہ دوسری ملت اور قوم قرار دیئے جائیں گے۔ قرآن نے اسی اصول کی بناء پر فرمایا:

”خلقکم فمنکم کافر و منکم مؤمن ٠ تغابن: ٢“ ترجمہ : ...... اس نے تم کو پیدا کیا۔ سو تم میں سے بعض کافر ہیں اور بعض مومن ۔

”انا ھدیناہ السبیل اما شاکرا و اما کفورا ٠ الدھر : ٣ “ ترجمہ : ...... ہم نے بلاشبہ انسان کو راہ بتا دی۔ خواہ وہ شکر گزار بنے یا ناشکرا !

اور ایک جگہ اسی نظریاتی اور عقائد کے اختلافات کی بناء پر ایک گروہ کو حزب اللہ اور دوسرے کو حزب الشیطان کا لقب دیا۔

الغرض! عقائد و نظریات کے اختلاف کو قوموں کے تفرقہ کا سبب اصولی طور پر تسلیم کر لیا گیا ہے۔ پھر اس تفریق کو مٹانے کے لئے خدا پرستی کے اصول صحیحہ اور عقائد حقہ کی اشاعت و تبلیغ اور مخلوق پرستی یا انکار خدا اور رسول جیسے عقائد باطلہ کے مقاصد اور ان کی دینوی و اخروی تباہ کاری کو بیان کر کے خلق خدا کو ان سے بچانے کی تدبیریں اختیار کیں اور نصیحت و ہمدردی کا کوئی پہلو اٹھا نہیں رکھا جس کے ذریعے ناعاقبت اندیش انسانوں کو تباہی کی طرف جانے والے راستہ سے روکا نہ گیا ہو۔

لیکن بہت سے بد نصیب اور بے بصیرت انسانوں نے اس ہمدردی کو دشمنی سمجھا اور

٨

صفحہ ١٣٥

عداوت و پیکار پر آمادہ ہو گئے۔ جس کے نتیجے میں کفر و اسلام کی جنگ چھڑ گئی۔ اب اگر کوئی شخص اس جنگ کو ختم کرنا چاہے تو اس کے دو ہی راستے ہیں۔ ایک یہ کہ خدا پرست اہل حق اپنے نظریہ کو چھوڑ کر منکروں اور کافروں کے سامنے ہتھیار ڈال دیں اور خدا کی مخلوق کو منکرین خدا کے حوالہ کر دیں۔ یعنی دوسرے لفظوں میں شفیق ڈاکٹر بیمار کی غلط روش سے عاجز آ کر اپنے ہاتھ سے اس کو زہر پلا دے۔

یا پھر صورت یہ ہے کہ غلط کار منکرین خدا و رسول اپنی روش سے باز آ جائیں۔ ان دونوں طریق میں سے پہلا طریق تو معقول نہیں اور دوسرا اپنے اختیار میں نہیں۔ اس لئے یہ کفر و اسلام کا اختلاف اس وقت تک جاری رہنا ناگزیر ہے جب تک کہ منکرین خدا و رسول یا ہوش میں آ جائیں یا ختم ہو جائیں۔

خلاصہ یہ ہے کہ اسلام کی اصل دعوت حقیقت میں ایک اصلی اور صحیح متحدہ قومیت کی ہے جو وطنی اور لسانی بنیادوں پر نہیں بلکہ اصول صحیحہ اور عقائد حقہ پر مبنی ہو جس میں خدا اور اس کے رسولوں کی مخالفت کا گذر نہ ہو۔ اس لئے جو لوگ اس متحدہ قومیت کے منشور سے جدا ہو گئے وہ جدا قوم اور جدا امت کہلائے۔ یہیں سے دو قومی نظریہ پیدا ہو گیا جس نے پاکستان بنوایا۔

ہندوستان میں جنگ آزادی کا سلسلہ ایک زمانہ سے جاری تھا۔ مگر اس کے بعض علمبرداروں نے نور و ظلمت کے متضاد عناصر یعنی کفر و اسلام سے مرکب ایک غلط متحدہ قومیت کا نامعقول اور ناقابل عمل نظریہ بنا رکھا تھا۔ چند علمائے ربانی اس نظریہ کی عین گرما گرمی کے وقت بھی مسلمانوں کو ہمیشہ اسی دو قومی نظریہ کی طرف رہنمائی فرماتے رہے۔ مگر اس وقت یہ آواز نہ سنی گئی۔ اور بالآخر جنگ آزادی کی بیل اسی وقت منڈھے چڑھی۔ جبکہ مسلمانوں کی ایک جماعت اس صحیح دو قومی (ٹونیشن) نظریہ کی قائل ہو کر اسی کو بنیاد قرار دے کر میدان عمل میں اتر آئی۔

پاکستان کے ہر باشندہ بلکہ دنیا کے سب مسلمانوں کو حکیم الامت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ اور قائد اعظم اور ان کے رفقاء کار میں سے شیخ الاسلام حضرت مولانا عثمانی رحمۃ اللہ علیہ کا ہمیشہ شکر گزار رہنا چاہئے۔ جنہوں نے مسلمانوں کو صحیح راہ دکھائی اور اس کے نتیجہ میں حق تعالیٰ نے ان کو ایک آزاد و خود مختار سلطنت بخشی۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ ایک قوم کو دوسری قوم سے جدا کرنے کے اسباب دنیا میں مختلف سمجھے گئے تھے۔ لیکن اسلام نے اپنی تعلیمات سے واضح کر دیا کہ قوموں کی تفریق و تقسیم صرف ایک

٩

صفحہ ١٣٦

ہی اصول۔ یعنی خدا کو ماننے یا نہ ماننے کی بنیاد پر ہو سکتی ہے جس کا نام اسلام اور کفر ہے۔ دوسری کوئی چیز ایسی نہیں جو انسانیت کے ٹکڑے کر کے ان کو مختلف گروہوں میں بانٹ دے۔ مقدمہ ختم ہوا۔ اب اس رسالہ کا اصل مقصد شروع کیا جاتا ہے۔ واللہ الموفق والمعین!

ایمان اور کفر کی تعریف

یہ ظاہر ہے کہ خدا کو ماننا اس کی اطاعت و فرمانبرداری کا نام ہے اور نہ ماننا نافرمانی کا۔ پھر خدا کی فرمانبرداری یعنی اس کی پسند و ناپسند کو پہچان کر پسندیدہ چیزوں کو اختیار کرنا اور ناپسندیدہ سے بچنا۔ اس دنیا میں بغیر اس کے عادتاً ممکن نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی پیغام لانے والا رسول آئے جو اس کی پسند و ناپسند کو ممتاز کر کے بتلا دے۔ کیونکہ انسان محض اپنی عقل سے تو اپنے باپ بھائی اور بیٹے اور دوست کی پسند و ناپسند کو بھی ممتاز نہیں کر سکتا۔ جب تک کہ خود اس کے کلام یا طرز عمل سے اس کا اظہار نہ ہو جائے تو پھر حق تعالیٰ جس کی ذات انسانی ادراک و دسترس سے بالا تر ہے۔ اس کی پسند و ناپسند کا ادراک انسان محض اپنی عقل سے کیسے کر سکتا ہے۔ یہی حکمت ہے انبیاء علیہم السلام کے دنیا میں بھیجنے کی۔

الغرض اس دنیا میں خدا کے ماننے کا صرف ایک طریق ہے کہ اس کے رسول کی لائی ہوئی ہدایات کو دل اور زبان سے تسلیم کرے۔ اسی کا نام اسلام ہے اور اس کی ہدایات کو تسلیم نہ کرنے کا ہی نام کفر ہے۔

مذہب کا سب سے بڑا بنیادی مسئلہ ایمان و کفر ہے۔ اس لئے قرآن کریم نے اپنی سب سے پہلی سورت (بقرہ) کی سب سے پہلی آیات میں اسی مضمون کو بیان فرمایا۔ بلکہ پورے عالم کو تین گروہوں میں تقسیم کر دیا۔ مومن، کافر اور منافق۔ سورۃ بقرہ کی ابتدائی چار آیتیں مومنین کی شان میں اور بعد کی دو آیتیں کفار کے بارے میں آئی ہیں۔ اور اس کے بعد تیرہ آیتیں منافقین کے حال میں ہیں۔ یہ تین گروہ حقیقت میں دو ہی ہیں۔ کیونکہ کافر اور منافق اصل میں ایک ہی گروہ ہے۔ لیکن منافقین کی ظاہری صورت عام کفار سے مختلف ہونے کی بناء پر ان کا بیان علیحدہ کیا گیا۔ چونکہ کفار کا یہ گروہ اسلام اور مسلمانوں کے لئے زیادہ خطرناک اور اشد ہے۔ اس لئے اس کے حال کا بیان زیادہ تفصیل سے تیرہ آیتوں میں کیا گیا۔ یہ پوری انیس آیتیں ہو گئیں۔ ان میں سے چند مع ترجمہ درج ذیل ہیں:

١٠

صفحہ ١٣٧

بسم الله الرحمن الرحيم

بالغيب ويقيمون الصلوة ومما رزقنهم ينفقون . والذين يؤمنون بما انزل اليك وما انزل من قبلك وبالآخرة هم يوقنون . اولئك على هدى من ربهم واولئك هم المفلحون . بقره: ١ تا ٥“

یہ کتاب ایسی ہے جس میں کوئی شبہ نہیں ۔ راہ بتانے والی ہے خدا سے ڈرنے والوں کو ۔ وہ خدا سے ڈرنے والے لوگ ایسے ہیں جو یقین لاتے ہیں چھپی ہوئی چیزوں پر اور قائم رکھتے ہیں نماز کو اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں ۔ اور وہ لوگ ایسے ہیں جو یقین رکھتے ہیں اس وحی پر جو آپﷺ کی طرف اتاری گئی اور اس وحی پر بھی جو آپﷺ سے پہلے اتاری گئی اور آخرت پر بھی وہ لوگ یقین رکھتے ہیں۔ بس یہ لوگ ہیں ٹھیک راہ پر جو ان کے پروردگار کی طرف سے ملی ہے اور یہ لوگ ہیں پورے کامیاب ۔

لايؤمنون . ختم الله على قلوبهم وعلى سمعهم وعلى ابصارهم غشاوة ولهم عذاب عظيم . بقره: ٦ / ٧“

بیشک جو لوگ کافر ہو چکے ہیں برابر ہے ان کے حق میں خواہ اب ان کو ڈرائیں یا نہ ڈرائیں وہ ایمان نہ لائیں گے۔ بند لگا دیا اللہ نے ان کے دلوں پر اور ان کے کانوں پر اور ان کی آنکھوں پر پردہ ہے۔ اور ان کے لئے سزا بڑی ہے۔

بمؤمنين . بقرة: ٨“

اور لوگوں میں بعض ایسے جو کہتے ہیں ہم ایمان لائے اللہ پر اور آخری دن پر ۔ حالانکہ وہ بالکل ایمان والے نہیں۔

”المفلحون“ تک چار آیتوں میں مومنین کا بیان ہے اور اس کے بعد ”عذاب عظیم“ تک کفار کا اور اس کے بعد: ”ومن الناس“ سے منافقین کا بیان شروع ہوا ہے۔ اور اس کے ضمن میں ایمان وکفر اور مومنین وکافر اور منافق کی تعریف بھی آگئی۔ ابتدائی چار آیتیں جو مومنین کے بارہ میں آئی ہیں۔ ان میں اولاً مومن اور ایمان کا اجمالی ذکر کیا گیا: ”الذين

١١

صفحہ ١٣٨

يؤمنون بالغيب ”یعنی وہ لوگ جو غیب پر ایمان لاتے ہیں ترجمان القرآن حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ غیب سے اس جگہ وہ تمام اعتقادیات مراد ہیں جو انسان کی نظر و مشاہدہ سے غائب ہیں۔ جیسے فرشتے، قیامت، جنت، دوزخ، پل صراط اور میزان عدل وغیرہ!

(تفسیر ابن کثیر و خازن وغیرہ)

اس اجمال میں لفظ بالغیب لانے سے اس طرف بھی اشارہ ہو سکتا ہے کہ ان کا ایمان حاضر و غائب یکساں ہے۔ ان کے مقابل فریق منافقین کی طرح نہیں جس کا حال اگلی آیات میں یہ بیان ہوا ہے کہ: ”واذا لقوا الذين آمنوا قالوا امنا واذا خلوا الى شيطينهم قالوا انا معكم . بقرة ١٤ “ یعنی جب وہ ایمان والوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے اور جب کفار کے پاس جاتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں۔

اس ایمان اجمالی کی تفصیل بعد کی تیسری آیت میں مکمل تعریف کے ساتھ ان الفاظ میں بیان کی گئی ہے: ” الذین یؤمنون بما انزل الیک وما انزل من قبلك و بالآخرة هم يوقنون . “ یعنی وہ لوگ جو آنحضرت ﷺ پر نازل شدہ کتاب اور شریعت پر بھی ایمان لائے اور آپ ﷺ سے پہلے انبیاء پر نازل شدہ وحی اور شریعت پر بھی۔ اور وہ آخرت کا بھی یقین رکھتے ہیں۔

ایمان کا سب سے پہلا جز جو اللہ پر ایمان لانا ہے۔ اس کو صراحتاً ذکر کرنے کی اس لئے ضرورت نہ سمجھی گئی کہ جب اللہ پر ہی کسی کا ایمان نہ ہو تو اس کے کسی رسول یا وحی پر ایمان لانے کے کوئی معنی ہی نہیں ہو سکتے اور اسی سورۃ کے ختم پر جب مکرر ایمان کے مفہوم کی تشریح فرمائی گئی تو وہاں ایمان باللہ کو صریح ان لفظوں میں ذکر بھی کر دیا گیا: ”آمن الرسول بما انزل اليه من ربه والمؤمنون . كل آمن بالله وملئكته وكتبه ورسوله . لا نفرق بين احد من رسله . بقرة: ٢٨٥ “

عوام میں جو ایمان مجمل و مفصل مشہور ہیں۔ یہ غالباً اسی پر مبنی ہیں۔ ایمان مجمل سورت بقرۃ کی پہلی آیات سے اور ایمان مفصل اس کی آخری آیات سے لیا گیا ہے۔

پس آیت مذکورہ سے ایمان کے تین بنیادی اصول معلوم ہوئے: (١)...... اللہ پر ایمان لانا۔ (٢)...... رسول اللہ ﷺ اور انبیاء سابقین کی سب وحیوں پر ایمان۔ (٣)...... آخرت پر ایمان۔ اور یہی تین چیزیں درحقیقت ایمان کے اصول ہیں۔ باقی

١٢

صفحہ ١٣٩

سب فروع ہیں:

امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ نے فیصل التفرقة بین الاسلام والزندقة ص ١٩٥ میں لکھا ہے:

”اصول الايمان ثلثة الايمان بالله و برسوله و باليوم الآخر ، وما عداه فروع “ ایمان کے اصول تین ہیں۔ اللہ تعالیٰ پر ایمان۔ اس کے رسول پر ایمان۔ اور قیامت پر ایمان۔ اس کے ماسوا سب فروع ہیں۔

اور ان اصول کو بھی کوئی مختصر کرنا چاہے تو صرف ایمان بالرسول میں سب اصول آ جاتے ہیں۔ کیونکہ جب تک اللہ پر ایمان نہ ہو اس کے رسول پر ایمان ہو ہی نہیں سکتا اور رسول پر ایمان ہو جائے تو یوم قیامت پر ایمان خود اس کے اندر داخل ہے۔ کیونکہ ایمان بالرسول سے ان تمام ہدایتوں پر ایمان لانا مراد ہے۔ جو رسول نے پیش کی ہیں اور ظاہر ہے ان ہدایتوں میں روز قیامت کی تصدیق بھی ایک بہت بڑی ہدایت ہے۔ اسی لئے آئمہ اسلام نے ایمان کی تعریف اس طرح فرمائی ہے:

”هو تصديق بجميع ماجاء به النبى ﷺ فيما علم مجيئه بالضرورة (البحر الرائق ج ٥ ص ١١٩ باب احکام المرتدین) ”ایمان رسول اللہ ﷺ کی تصدیق کرنے کا نام ہے۔ ہر اس چیز میں جس کا ثبوت آپ ﷺ سے قطعی اور بدیہی طور پر ہو جائے۔

فائدہ متعلقہ ختم نبوت

اس آیت میں ایمان اور مومن کی تعریف کے ضمن میں ایک لطیف طریقہ پر یہ بھی بتلا دیا گیا ہے کہ سلسلہ نبوت و رسالت و وحی رسالت آنحضرت ﷺ پر ختم ہے۔ کیوں کہ اس میں آنحضرت ﷺ پر نازل شدہ وحی پر ایمان لانے کے ساتھ صرف انبیاء سابقین اور ان کی وحی پر ایمان لانے کی تلقین ہے۔ انبیاء مابعد کا کوئی ذکر نہیں۔ ظاہر ہے کہ اگر آپ ﷺ کے بعد بھی کسی قسم کا نبی مبعوث ہونے والا ہوتا تو جس طرح انبیاء سابقین کی وحی پر یقین کرنے کو جزء ایمان قرار دیا گیا۔ اسی طرح انبیاء مابعد پر ایمان لانے کا ذکر بھی ضروری تھا۔ بلکہ ایک حیثیت سے انبیاء مابعد کا ذکر بہ نسبت انبیاء سابقین کے زیادہ ضروری تھا۔ کیونکہ انبیاء

١٣

صفحہ ١٤٠

سابقین کا ذکر تو خود قرآن میں بھی آچکا ہے اور رسول اللہ ﷺ کی تشریحات و توضیحات میں اس سے زیادہ آچکا ہے۔ اس کے متعلق امت کے گمراہ ہونے کا کوئی خطرہ نہیں تھا۔ بخلاف اس نبی کے جو آئندہ مبعوث ہونے والا ہو تا کہ اس کے حالات و علامات سے امت واقف نہیں اور امت کو بلا واسطہ اس سے سابقہ پڑنا تھا۔ اور اس کے ماننے یا نہ ماننے پر امت کی نجات یا ہلاکت کا دارومدار ہوتا ایسی حالت میں خدا کی آخری کتاب اور رؤف و رحیم نبی ﷺ کا فرض ہوتا کہ آئندہ مبعوث ہونے والے نبی کی پوری کیفیات و حالات و علامات کو ایسی طرح واضح کرتے کہ اس میں کسی اشتباہ و التباس کی گنجائش نہ رہتی اور پھر امت کو اس پر اور اس کی وحی پر ایمان لانے اور اس کی اطاعت کرنے کے غیر مبہم احکام بکثرت و صراحت قرآن و حدیث میں مذکور ہوتے۔

مگر بجائے اس کے ہوا یہ کہ قرآن نے جہاں اصول ایمان کا تذکرہ کیا تو انبیاء سابقین اور ان کی وحی پر ایمان لانے کو جزو ایمان کی حیثیت سے ذکر فرمایا اور بعد میں مبعوث ہونے والے کسی نبی یا رسول کا یا اس کی وحی کا نام تک نہ لیا۔ پھر ایک جگہ نہیں قرآن میں دس سے زیادہ آیات اسی مضمون کی آئی ہیں جن میں آپ ﷺ سے پہلے آنے والی وحی پر ایمان لانے کی تاکید ہے بعد کی کسی وحی یا نبی کا تذکرہ تک نہیں۔

یہ قرآن کی ایک کھلی ہوئی شہادت اس امر پر ہے۔ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی مبعوث نہیں ہو گا۔ صرف عیسیٰ بن مریم ؑ آخر زمانہ میں آئیں گے جو پہلے مبعوث ہو چکے ہیں اور جن پر امت محمدیہ پہلے سے ایمان رکھتی ہے لہٰذا کوئی نیا پیدا ہونے والا شخص اس امت کو اپنی نبوت و وحی کی طرف دعوت دے کر امت کے لئے مدار نجات نہیں بن سکتا۔ واللہ الموفق والمعین!

مومن و کافر کی تعریف اور کفر کے اقسام

اس عنوان کا اگرچہ مجمل خاکہ عنوان اول کے ضمن میں آچکا ہے لیکن پوری وضاحت کے لئے اس کی تشریح اس عنوان میں لکھی جاتی ہے جس کا مبنی وہی آیات ہیں جن کا ذکر عنوان اول میں آیا ہے اور چونکہ اسلام و کفر کی تعریف میں چند اصطلاحی الفاظ کا استعمال ہوتا ہے اس لئے ان الفاظ کی تعریفات پہلے لکھی جاتی ہیں۔

١٤

صفحہ ١٤١

تعریفات

ایمان: رسول اللہ ﷺ کی قلبی تصدیق ہر اس چیز میں جس کا ثبوت آپ ﷺ سے قطعی اور بدیہی طور پر ہو چکا ہو بشرطیکہ اس کے ساتھ اطاعت کا اقرار بھی ہو ۔

اسلام: اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت وفرمانبرداری کا اقرار بشرطیکہ اس کے ساتھ ایمان یعنی تصدیق قلبی موجود ہو ۔

کفر: جن امور کی تصدیق ایمان میں ضروری ہے ان میں سے کسی امر کی تکذیب وانکار ۔

مومن: وہ شخص جو رسول اللہ ﷺ کی دل سے تصدیق کرے ہر اس امر میں جس کا ثبوت آپ ﷺ سے قطعی اور بدیہی طور پر ہو چکا ہو ۔ بشرطیکہ زبان سے بھی اس تصدیق کا اور اطاعت کا اقرار کرے ۔

مسلمان: وہ شخص جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت وفرمانبرداری کا اقرار کرے بشرطیکہ دل میں بھی ان کی تصدیق رکھتا ہو ۔

کافر: وہ شخص جو ان میں سے کسی ایک چیز کا دل سے انکار یا زبان سے تکذیب کردے ۔

اسلام وایمان اور مسلم ومومن میں فرق

لغۃ ایمان تصدیق قلبی کا نام ہے اور اسلام اطاعت وفرمانبرداری کا ۔ ایمان کا محل قلب ہے اور اسلام کا محل اعضاء وجوارح ہیں ۔ لیکن شرعاً ایمان بغیر اسلام کے اور اسلام بغیر ایمان کے معتبر نہیں ۔ یعنی اللہ اور اس کے رسول کی محض دل میں تصدیق کرلینا شرعاً اس وقت تک معتبر نہیں جب تک زبان سے اس تصدیق کا اظہار اور اطاعت وفرمانبرداری کا اقرار نہ کرے اور اطاعت وفرمانبرداری کا اقرار اس وقت تک معتبر نہیں جب تک اس کے ساتھ دل میں اللہ اور اس کے رسول کی تصدیق نہ ہو ۔

الغرض لغوی مفہوم کے اعتبار سے ایمان واسلام الگ الگ مفہوم رکھتے ہیں اور قرآن وحدیث میں اسی لغوی مفہوم کی بناء پر ایمان واسلام کے اختلاف کا ذکر بھی ہے ۔ لیکن خود قرآن وحدیث کی ہی تصریحات کے مطابق یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ شرعاً کوئی ایمان بدون اسلام کے یا

١٥

صفحہ ١٤٢

اسلام بدون ایمان کے معتبر نہیں، اسی مضمون کو بعض اہل تحقیق نے اس طرح بیان فرمایا ہے کہ ایمان و اسلام کی مسافت تو ایک ہے۔ فرق مبدء اور منتہی میں ہے۔ ایمان قلب سے شروع ہوتا ہے اور ظاہر پر منتہی ہوتا ہے اور اسلام ظاہر سے شروع ہو کر قلب پر منتہی ہوتا ہے۔ اگر قلبی تصدیق ظاہری اقرار وغیرہ تک نہ پہنچے تو وہ تصدیق ایمان معتبر نہیں۔ اسی طرح ظاہری اقرار و اطاعت اگر تصدیق قلبی تک نہ پہنچے تو وہ اسلام معتبر نہیں۔ (افادہ الاستاذ العلامہ مولانا انور شاہ قدس سرہ)

اب جب ایمان و اسلام کا لغوی اور شرعی مفہوم متعین ہو گیا تو مومن و مسلم کا مفہوم بھی ظاہر ہو گیا۔ شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانی رحمۃ اللہ علیہ نے صحیح مسلم کی شرح میں اس مسئلہ پر سیر حاصل بحث کی ہے۔ اس میں حضرت امام غزالیؒ اور حضرت امام سبکیؒ کی یہی تحقیق لکھی ہے جو اوپر گزر چکی۔ حضرت امام سبکیؒ کے چند جملے یہ ہیں۔

الاسلام موضوع للانقياد الظاهر مشروطاً فيه الايمان و الايمان موضوع للتصديق الباطن مشروطاً فيه القول عند الامكان

(فتح الملهم جلد ١ ص ١٥١)

”اسلام“ موضوع ہے ظاہری اطاعت و فرمانبرداری کے لئے۔ مگر اس میں ایمان شرط ہے اور ایمان موضوع ہے باطنی تصدیق کے لئے۔ مگر اس میں زبان سے کہنا بھی شرط ہے۔ بوقت امکان۔

اور شیخ کمال الدین بن ہمامؒ شارح ہدایہ نے اپنی عقائد کی مستند و مشہور کتاب اور اس کی شرح مسامرہ میں امت محمدیہ کا اتفاق اس پر نقل فرمایا ہے اس کے الفاظ یہ ہیں:

وقد اتفق اهل الحق وهم فريقا الاشاعرة والحنفيه على تلازم الايمان والاسلام بمعنى انه لا ايمان يعتبر بلا اسلام و عكسه اى لا اسلام يعتبر بدون ايمان فلا ينفك احدهما عن الاخر ( ص ١٨٦ جلد ٤ طبع )

اور اہل حق نے اتفاق کیا ہے اور وہ دونوں گروہ اشاعرہ اور حنفیہ ہیں کہ ایمان اور اسلام باہم متلازم ہیں۔ یعنی ایمان بلا اسلام کے معتبر نہیں اور نہ اس کا عکس۔ یعنی نہ اسلام بلا ایمان کے معتبر۔ پس ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوتے۔

١٦

صفحہ ١٤٣

ثبوت قطعی

جو چیز آنحضرت ﷺ سے بذریعہ تواتر ہم تک پہنچی ہے اس کا ثبوت قطعی ہے جیسے قرآن‘ نمازوں کی تعداد‘ تعداد رکعات اور رکوع وسجود وغیرہ کی کیفیات۔ اذان‘ زکوٰۃ کی تفصیلات۔ حج اور اس کی بہت سی تفصیلات۔ آنحضرت ﷺ پر ختم نبوت وغیرہ۔

تواتر کے معنی یہ ہیں کہ آنحضرت ﷺ سے لیکر ہم تک ہر قرن ہر زمانہ میں دنیا کے مختلف خطوں میں اس کو آنحضرت ﷺ سے روایت کرنے والے اتنی تعداد میں رہے ہوں کہ ان سب کا غلطی یا کذب پر متفق ہو جانا عقلاً محال سمجھا جاتا ہو۔

ثبوت بدیہی

جس کو عرف فقہاء اور متکلمین میں ضروری یا بالضرورۃ کے لفظ سے تعبیر کیا جاتا ہے یہ ہے کہ تواتر کے ساتھ ساتھ اس کی شہرت تمام خاص وعام مسلمانوں میں اس درجہ ہو جائے کہ عوام تک اس سے واقف ہوں۔ جیسے نماز‘ روزہ‘ زکوٰۃ اور حج کا فرض ہونا۔ اذان کا سنت ہونا۔ اور نبوت کا آنحضرت ﷺ پر ختم ہو جانا وغیرہ۔

ضروریات دین

جو چیزیں آنحضرت ﷺ سے بذریعہ تواتر اس درجہ شہرت و بداہت کے ساتھ ثابت ہوں کہ ہر خاص وعام اس سے باخبر ہو۔ ان کو فقہا اور متکلمین کی اصطلاح میں ضروریات دین کہا جاتا ہے۔

تنبیہ

ایمان بہت سی مجموعی چیزوں کی تصدیق وتسلیم کا نام ہے جن کا ذکر اوپر تعریف میں آچکا ہے۔ لیکن کفر میں ان سب چیزوں کا انکار یا تکذیب ضروری نہیں بلکہ ان میں سے کسی ایک چیز کی تکذیب وانکار بھی کفر ہے خواہ باقی سب چیزوں کو بصدق دل سے قبول کرتا ہو۔ اسی لئے ایمان اور اسلام ایک ہی حقیقت ہے اور کفر کی بہت سی اقسام ہو گئی ہیں جن میں سے دو بنیادی قسمیں تو قرآن کی مذکورہ آیات سورہ بقرہ میں بیان کر دی گئیں۔ ایک کفر ظاہر اور دوسرے کفر نفاق‘ باقی اقسام کی تفصیل وتشریح اب بیان کی جاتی ہیں۔ واللہ الموفق والمعین!

١٧

صفحہ ١٤٤

کفر اور کافر کے اقسام

اس رسالہ کا اصل موضوع بحث یہی مضمون ہے جیسا کہ تمہید میں لکھا جا چکا ہے: مذکور الصدر تفصیل میں یہ معلوم ہو چکا کہ کفر تکذیب رسول کا نام ہے پھر تکذیب کی چند صورتیں ہیں اور ان صورتوں کے اختلاف ہی سے کفر کی چند اقسام بن جاتی ہیں جن کو حضرت امام غزالیؒ نے اپنی کتاب ’فیصل التفرقہ بین الاسلام والزندقہ‘ نیز اپنی کتاب ’لاقتصاد فی الاعتقاد‘ میں اور حضرت شاہ عبدالعزیز قدس سرہ اپنے فتاویٰ میں اور امام بغویؒ نے آیت: ”ان الذین کفروا سواء علیہم ٠“ کی تفسیر میں تفصیل کے ساتھ تحریر فرمایا ہے۔ نیز علم عقائد و کلام کی مستند کتب شرح مواقف و شرح مقاصد میں بھی ان کا تفصیلی ذکر ہے۔ ان اقسام تکذیب کا خلاصہ یہ ہے۔

تعالیٰ کا رسول ہی تسلیم نہ کرے۔ جیسے بت پرست‘ یہود اور نصاریٰ۔

قول کو صراحتاً غلط یا جھوٹ قرار دے۔ یعنی آپ ﷺ کی بعض ہدایات پر ایمان رکھے اور بعض کی تکذیب کرے۔

آنحضرت ﷺ کا قول یا فعل نہیں ہے یہ بھی درحقیقت رسول کی تکذیب ہے۔

مفہوم کی تاویل کر کے قرآن و حدیث کی قطعی تصریحات کے خلاف کسی خود ساختہ مفہوم پر محمول کرے۔ کفر و تکذیب کی یہ صورت چونکہ دعوائے اسلام اور ادائیگی شعائر اسلام کے ساتھ ہوتی ہے اس لئے اس میں اکثر لوگوں کو بہت مغالطہ پیش آتا ہے۔ خصوصاً جب اس پر نظر کی جائے کہ تاویل کے ساتھ انکار کرنا با تفاق علماء تکذیب میں داخل نہیں اور ایسے شخص کو کافر بھی نہیں کہا جاسکتا اور ظاہر ہے کہ ملحدین بھی کسی تاویل کا سہارا ضرور لیتے ہیں۔ اس لئے اس قسم کی تشریح و توضیح زیادہ ضروری ہے تاکہ تاویل اور الحاد میں فرق معلوم ہوسکے اور معلوم ہو جائے کہ تاویل کے محل میں تاویل موجب کفر نہیں۔ مگر الحاد و زندقہ کی تاویل بالا جماع موجب کفر ہے۔ اس

١٨

صفحہ ١٤٥

لئے اس مضمون کو تفصیل کے ساتھ لکھا جاتا ہے۔

کفر زندقہ و الحاد

تکذیب کی یہ چوتھی صورت قرآن کی اصطلاح میں ”الحاد“ اور حدیث میں ”الحاد وزندقہ“ کے نام سے موسوم ہے۔

الذين يلحدون فى آياتنا لا يخفون علينا ، افمن يلقى فى النار خيرا م من ياتى امنا يوم القيامة (الآية) عن ابن عمرؓ قال سمعت رسول الله ﷺ يقول سيكون فى هذه الامة مسخ الا وذلك فى المكذبين بالقدر والزنديقية اخرجه الامام احمد فى مسنده (ج ٢ ص ١٠٨ ) وقال فى الخصائص سنده صحيح )

”جو لوگ ہماری آیات میں الحاد کرتے ہیں وہ ہم سے پوشیدہ نہیں کیا وہ شخص جو جہنم میں ڈالا جائے گا بہتر ہے یا وہ جو امن کے ساتھ آئے گا قیامت کے دن ۔ حضرت ابن عمرؓ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ فرماتے تھے کہ عنقریب اس امت میں مسخ ہوگا‘ اور سن رکھو کہ وہ تقدیر کو جھٹلانے والوں میں ہوگا‘ اور زندیقین میں اس کو امام احمد نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے اور خصائص میں کہا ہے کہ اس کی سند صحیح ہے۔

امام بخاریؒ (ج ٢ ص ١٠٢٣) نے اس قسم کی تکذیب کے متعلق صحیح بخاری میں ایک مستقل باب لکھا ہے ”باب قتل من ابى قبول الفرائض وما نسبوا الى الردة “ اس باب میں اس قسم کی تکذیب کو بھی ارتداد قرار دیا ہے اور حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے مسویٰ شرح مؤطا میں اس قسم کی تکذیب کے متعلق لکھا ہے۔

”وان اعترف به ظاهراً ولكن يفسر بعض ماثبت من الدين ضرورة بخلاف مافسره الصحابة والتابعون واجمعت عليه الامة فهو الزنديق كما اذا اعترف بان القرآن حق وما فيه من ذكر الجنة والنار حق لكن المراد بالجنة الابتهاج الذى يحصل بسبب الملكات المحمودة و المراد بالنار هى الندامة التى تحصل بسبب الملكات المذمومة وليس فى الخارج جنة ولانار فهو زنديق ۔ مسویٰ شرح مؤطا ج ٢ ص ١٣٠ “

١٩

صفحہ ١٤٦

”اور اگر اقرار تو کرے اس کا ظاہری طور پر لیکن دین کی بعض ان چیزوں کی جو ثابت ہیں ایسی تفسیر بیان کرے جو صحابہ اور تابعین اور اجماع امت کے خلاف ہو تو وہ زندیق ہے، مثلاً یہ تو اقرار کرے کہ قرآن حق ہے اور جو اس میں جنت و دوزخ کا ذکر ہے وہ بھی ٹھیک ہے لیکن جنت سے مراد وہ خوشی و فرحت ہے جو اخلاق حمیدہ سے پیدا ہوتی ہے اور دوزخ سے مراد وہ ندامت ہے جو اخلاق مذمومہ کے سبب حاصل ہوتی ہے۔ ویسے کوئی نہ جنت ہے نہ دوزخ۔ پس یہ شخص زندیق ہے۔“

تاویل اور تحریف میں فرق

ثم التاويل تاويلان تاويل لا يخالف قاطعا من الكتاب والسنة واتفاق الامة وتاويل يصادم ما ثبت بقاطع فذلك الزندقة فكل من انكر رؤية الله تعالى يوم القيامة او انكر عذاب القبر وسؤال المنكر والنكير او انكر الصراط والحساب سواء قال لا اثق بهؤلاء الرواة او قال اثق بهم لكن الحديث مأول ثم ذكر تاويلاً فاسد الم يسمع من قبله فهو الزنديق ...... او قال ان النبي ﷺ خاتم النبوة ولكن معنى هذا الكلام انه لا يجوز ان يسمى بعده احد بالنبي و اما معنى النبوة وهو كون الانسان مبعوثا من الله تعالى الى الخلق مفترض الطاعته معصوماً من الذنوب ومن البقاء على الخطاء فيما يرى فهو موجوده فى الائمة بعده فذلك الزنديق (اكفار الملحدين

ص٤٤،٤٥ مطبوعہ مجلس علمی کراچی )

”پھر تاویل کی دو قسمیں ہیں۔ ایک تاویل تو وہ ہے جو کتاب و سنت اور اتفاق امت کی کسی قطعی بات کی مخالف نہیں اور ایک تاویل وہ ہے جو ان مذکورہ چیزوں سے ثابت شدہ کسی حکم قطعی کی متصادم ہو۔ پس یہ شکل ثانی ”زندقہ“ ہے پس جو شخص اللہ تعالیٰ کی رؤیت کا منکر ہو قیامت کے روز، یا عذاب قبر کا منکر ہو۔ اور منکر اور نکیر کے سوال کا منکر ہو، یا پل صراط اور حساب کا منکر ہو۔ خواہ وہ یوں کہے کہ مجھے ان راویوں پر اعتبار نہیں اور یا یوں کہے کہ ان راویوں کا تو اعتبار ہے مگر حدیث کے معنی دوسرے ہیں اور یہ کہہ کر ایسی تاویل بیان کرے جو اس سے پہلے نہیں سنی گئی۔ پس وہ ”زندیق“ ہے۔ یا یوں کہے کہ نبی اکرم ﷺ خاتم النبوۃ ہیں۔ لیکن اس کے معنی یہ ہیں کہ

٢٠

صفحہ ١٤٧

آپﷺ کے بعد کسی شخص کا نام ”نبی“ رکھنا جائز نہیں، مگر نبوۃ کے معنی اور مصداق یعنی انسان کا خدا تعالیٰ کی طرف سے مبعوث ہونا مخلوق کی طرف کہ اس کی اطاعت فرض اور وہ گناہوں سے معصوم ہو اور اس بات سے معصوم ہو کہ اگر اس کی رائے میں غلطی ہو تو وہ اس پر باقی رہے تو یہ معنی اور مصداق آپ کے بعد آئمہ میں موجود ہیں۔ پس یہ شخص ’زندیق‘ ہے۔

تکذیب رسول کی یہ چوتھی صورت جس کا نام زندقہ و الحاد ہے درحقیقت نفاق کی ایک قسم ہے اور عام نفاق سے زیادہ اشد اور خطرناک ہے۔ آنحضرتﷺ کی وفات کے بعد جب کہ سلسلہ وحی سے منقطع ہو گیا اور کسی شخص کے دل میں چھپے ہوئے کفر ونفاق کے معلوم ہونے کا ہمارے پاس کوئی قطعی ذریعہ نہیں ہے تو اب منافق صرف ان ہی لوگوں کو کہہ سکتے ہیں جن سے اسلام کا مدعی ہونے کے ساتھ ساتھ کچھ اقوال یا اعمال ایسے سرزد ہو جائیں جو ان کے باطنی کفر کی غمازی کریں۔ زندقہ و الحاد اسی کی ایک مثال ہے اور اسی لئے عمدۃ القاری شرح بخاری میں اور تفسیر ابن کثیر میں آیت: ”فی قلوبہم مرض: البقرہ“ کے تحت میں حضرت امام مالکؒ کا یہ قول نقل کیا گیا ہے: ”المنافق فی عہد رسول اللہ ﷺ ھو الزندیق الیوم . تفسیر ابن کثیر جلد ١ ص ٤٦ طبع مصر“

یعنی آنحضرتﷺ کی وفات کے بعد کسی کے دل میں کفر و نفاق کتنا ہی چھپا ہو۔ لیکن ہمارے پاس اس کا ذریعہ علم نہ ہونے کے باعث ہم اس کو کافر یا منافق نہیں کہہ سکتے اب نفاق کی ایک ہی قسم موجود ہے جس کو زندقہ کہتے ہیں۔ یعنی دعوائے اسلام اور شرائع کا پابند ہونے کے ساتھ کوئی عقیدہ کفریہ رکھنا یا ضروریات دین میں تاویل باطل کر کے اس کے اجماعی معنی میں تحریف کرنا۔

حجۃ الاسلام حضرت امام غزالی رحمتہ اللہ علیہ جو امت کے مسلّم امام ہیں اور تمام اسلامی فرقے ان کی امامت کے قائل ہیں۔ خدا بخش قادیانی نے اپنی کتاب عسل مصفیٰ میں جس کو مرزا غلام احمد نے حرفا حرفا سن کر تصدیق کی ہے ص ١٦٤ پر مجددین اسلام کی فہرست لکھتے ہوئے حضرت امام غزالیؒ کو پانچویں صدی ہجری کا مجدد قرار دیا ہے۔

حضرت امام غزالیؒ نے مسئلہ کفر و ایمان میں الحاد و زندقہ کی شدید مضرت اور اس مسئلہ کی نزاکت کا خیال فرما کر ایک مستقل کتاب ”التفرقہ بین الاسلام والزندقہ“ تصنیف فرمائی جس میں قرآن وسنت اور عقل و نقل سے واضح کر دیا کہ تاویل اور الحاد میں کیا فرق ہے اور یہ

٢١

صفحہ ١٤٨

کہ زنادقہ و ملاحدہ کی اسلامی برادری میں کوئی جگہ نہیں وہ دائرۂ اسلام سے قطعاً خارج ہیں۔ اگرچہ وہ اپنے آپ کو مسلمان کہیں۔ نیز کسی مدعی اسلام کے کافر قرار دینے میں جو احتیاط لازم ہے اس کے پیش نظر امام موصوف نے اس کتاب میں ایک زریں وصیت اور ضابطہ بیان فرمایا ہے۔ اس کو مع ترجمہ کے لکھا جاتا ہے:

فصل: اعلم ان شرح ما يكفر به وما لا يكفر به يستدعى تفصيلا طويلا يفتقر الى ذكر كل المقالات و المذاهب و ذكر شبهه كل واحد ودليله ووجه بعده عن الظاهر ووجه تاويله وذلك لا تحويه مجلدات وليس يسع لشرح ذلك اوقاتى فاقتنع الآن بوصيه وقانون اما الوصية فأن تكف لسانك عن اهل القبلة ما امكنك ما داموا قائلين لا اله الا الله محمد رسول الله غير مناقضين لها والمناقضة تجويزهم الكذب على رسول الله ﷺ بعذر او غير عذر فان التكفير فيه خطر والسكوت لا خطر فيه واما القانون فهو ان تعلم ان النظريات قسمان قسم يتعلق باصول العقائد و قسم يتعلق بالفروع واصول الايمان ثلاثة الايمان با لله وبرسوله وباليوم الآخر وماعداه فروع (واعلم ان الخطاء فى اصل الامامة وتعيينها وشروطها ومايتعلق بها لا يو جب شى منه تكفيراً فقد انكر ابن كيسان اصل وجوب الامامة ولا يلزم تكفيره يلتفت الى قوم يعظمون امر الامامة بما ويجعلون الا يمان بالامام مقرونا بالا يمان بالله وبرسوله (اصل ص ٣٥) والى خصومهم المكفرين لهم بمجرد مذهبهم فى الامامة وكل ذلك اسراف اذ ليس فى واحد من القولين تكذيب الرسول ﷺ اصلا ومهما وجد التكذيب وجب التكفير وان كان فى الفروع فلو قال قائل مثلا البيت الذى بمكة ليس هى الكعبة التى امر الله بحجها فهذا كفر اذ ثبت تواتراً عن رسول الله ﷺ لذالك البيت بانه الكعبة لا ينفعه انكاره بل يعلم قطعا انه معاند فى انكاره الا ان يكون قريب عهد بالاسلام ولم يتواتر عنده ذلك وكذلك من نسب عائشة ؓ الى الفاحشة وقد نزل القرآن ببرآتها فهو كافر لان هذا وامثاله لا يمكن الا بتكذيب او انكار والتواتر ينكره الانسان بلسانه ولا يمكنه ان يجهله بقلبه ٠ نعم

٢٢

صفحہ ١٤٩

لو انكر ما ثبت باخبار الاحاد فلا يلزمه به الكفر ولو انكر ما ثبت بالاجماع فهذا فيه نظر لان معرفة كون الاجماع حجة قاطعة مختلف فيه فهذا حكم الفروع واما الاصول الثلثة فكل ما لم يحتمل التاويل فى نفسه وتواتر نقله ولم يتصور ان يقوم برهان على خلافه فخلافه تكذيب محض و مثاله ما ذكرناه من حشر الاجساد والجنة والنار واحاطة علم الله تعالى بتفاصيل الامور وما يتطرق اليه احتمال ولو بالمجاز البعيد فينظر فيه الى برهان فان كان قاطعا وجب القول به لكن ان كان فى اظهاره مع العوام ضرر لقصور فهمهم فاظهاره بدعة وأن لم يكن البرهان قاطعاً يعلم ضرورة فى الدين كنفى المعتزلة للرؤية عن البارى تعالى فهذا بدعة وليس يكفر واما ما يظهر له ضرر فيقع فى محل لاجتهاد والنظر فيحتمل ان يكفر ويحتمل ان لا يكفر ............ (ثم قال) ولا ينبغى ان نظن ان التكفير ونفيه ينبغى ان يدرك قطعاً فى كل مقام بل التكفير حكم شرعى يرجع الى اباحة المال ولسفك الدم او الحكم بالخلود فى النار فمأخذه كمأ خذ سائر الاحكام الشرعية تارة يدرك بيقين وتارة بظن غالب وتارة يترد دفيه ومهما حصل التردد فالتوقف فى التكفير اولى والمبادرة الى التكفير انما يغلب على طباع من نعيب عليهم الجهل !

ولا بد من التنبيه بقاعدة اخرى فهو ان المخالف قد يخالف نصاً متواتراً ويزعم انه ماؤل ولكن تاويله لا انقداح له اصلا فى اللسان لا على قرب ولا على بعد فذلك كفر وصاحبه مكذب وان كان يزعم انه ماؤل ٠

(فيصل التفرقة بين الاسلام والزندقة ص ١٩٥ ١٩٨)

جاننا چاہئے کہ اس بات کی شرح کرنے کے لئے کہ کیا چیزیں موجب تکفیر ہیں اور کیا نہیں۔ بہت تفصیل طویل درکار ہے۔ کیونکہ اس میں ضرورت ہے تمام مقالات و مذاہب کے ذکر کرنے کی اور ہر ایک کا شبہ اور اس کی دلیل۔ اور اس کے بعد کی وجہ ظاہر ہے۔ اور اس کی تاویل کی وجہ کی۔ اور یہ متعدد جلدوں میں بھی نہیں سما سکتا۔ اور نہ اس کی شرح کیلئے میرے وقت میں گنجائش ہے۔ اس لئے میں اس وقت ایک قانون اور ایک وصیت پر اکتفا کرتا ہوں۔

٢٣

صفحہ ١٥٠

وصیت: سو وصیت تو یہ ہے کہ تم اپنی زبان کو اہل قبلہ کی تکفیر سے روکو جب تک ممکن ہو یعنی جب تک وہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کے قائل رہیں اور اس سے مناقضہ نہ کریں اور مناقضہ کا مطلب یہ ہے کہ وہ نبی کریمﷺ کے کسی حکم کے غلط اور جھوٹ ہونے کو جائز سمجھیں خواہ کسی عذر سے یا بغیر عذر کے۔ کیونکہ تکفیر میں تو خطرہ ہے اور سکوت میں کوئی خطرہ نہیں۔

ضابطہ تکفیر

اور قانون یہ ہے کہ تمھیں معلوم کرنا چاہئے کہ نظریات کی دو قسمیں ہیں ایک قسم وہ ہے جو اصول عقائد سے متعلق ہے اور دوسری قسم وہ ہے جو فروع کے متعلق ہے۔ اور ایمان کے اصول تین ہیں۔ اول: اللہ پر ایمان لانا۔ دوم: اس کے رسولﷺ پر بھی۔ سوم: قیامت کے دن پر۔ اور ان کے علاوہ جو ہیں وہ فروع ہیں۔ اور جاننا چاہئے کہ خطاء (غلطی) امامت کی اصل اور اس کے تعین اور اس کی شروط وغیرہ میں جیسا کہ روافض وخوارج میں پائی جاتی ہے۔ ان میں سے کوئی چیز بھی موجب تکفیر نہیں ہے۔ کیونکہ ابن کیسان نے امامت کے اصل وجوب ہی کا انکار کیا ہے اور نہیں لازم ہے اس کی تکفیر۔ اور نہیں التفات کیا جائے گا اس قوم کی طرف۔ جو امامت کے معاملہ کو عظیم سمجھتے ہیں اور امام کے ساتھ ایمان لانے کو خدا اور رسول کے ساتھ ایمان لانے کے برابر کرتے ہیں۔ اور نہ ان کے مخالفین کی طرف التفات کیا جائے گا۔ جو ان کی تکفیر کرتے ہیں محض اس لئے کہ وہ مسئلہ امامت میں اختلاف رکھتے ہیں۔ یہ سب حد سے گزرنا ہے کیونکہ ان دونوں اقوال میں سے کسی میں بھی رسول اللہﷺ کی تکذیب بالکل لازم نہیں آتی۔ اور جس جگہ تکذیب پائی جائیگی تو تکفیر ضروری ہوگی اگر چہ وہ فروع ہی میں ہو، مثلاً کوئی شخص یوں کہے کہ جو گھر مکہ معظمہ میں ہے۔ وہ کعبہ نہیں ہے جس کے حج کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے تو یہ کفر ہے کیونکہ نبی کریمﷺ سے تواتر کے ساتھ اس کے خلاف ثابت ہے اور اگر وہ اس امر کا انکار کرے اور کہے کہ حضورﷺ نے اس گھر کے کعبہ ہونے کی شہادت ہی نہیں دی تو اس کا انکار اس کو نافع نہ ہوگا۔ بلکہ اس کا اپنے انکار میں معاند ہونا قطعی طور پر معلوم ہو جائے گا۔ بجز اس کے کہ وہ نیا نیا مسلمان ہوا ہو۔ اور یہ بات اس کے نزدیک ابھی حد تواتر تک نہ پہنچی ہو۔ اور اسی طرح جو شخص حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر تہمت باندھے۔ حالانکہ قرآن مجید میں ان کی براءت نازل ہو چکی تو وہ بھی کافر ہے۔ کیونکہ یہ اور اس جیسی باتیں بغیر تکذیب اور انکار کے ممکن نہیں اور تواتر کا

٢٤

صفحہ ١٥١

کوئی انسان زبان سے خواہ انکار کر دے مگر یہ ناممکن ہے کہ اس کا قلب اس سے نا آشنا ہو ہاں! البتہ اگر کسی ایسے امر کا انکار کرے جو خبر واحد سے ثابت ہے تو اس سے کفر لازم نہ آئے گا اور اگر کسی ایسی چیز کا انکار کرے جو کہ اجماع سے ثابت ہے تو اس میں ذرا تامل کی ضرورت ہے۔ کیوں کہ اجماع کا حجت ہونا مختلف فیہ ہے تو اس کا حکم فروع کا ہوگا، اور اصول ثلاثہ کے متعلق یہ ہے کہ جو فی نفسہ تاویل کو محتمل نہیں اور اس کی نقل تواتر کے ساتھ ثابت ہے اور اس کے خلاف کسی دلیل کے قائم ہونے کا تصور نہیں ہو سکتا۔ سو اس کی مخالفت کرنا تو تکذیب ہے۔ اور اس کی مثال وہی ہے جو ذکر ہو چکی ہے یعنی حشر و نشر اور جنت و دوزخ اور حق تعالیٰ کے علم کا تمام امور کی تفصیلات پر محیط ہونا۔ اور جو اس میں سے ایسے ہیں کہ ان میں احتمال کی راہ ہے اگرچہ مجاز بعید ہی کے طریق پر ہو، تو اس میں دلیل کی طرف دیکھا جائے گا۔ پس اگر دلیل قطعی ہو۔ تب تو اس کا قائل ہونا واجب ہے۔ لیکن اگر اس کے ظاہر کرنے میں عوام کا ضرر ہو بوجہ ان کے قصور فہم کے۔ تب تو اس کا ظاہر کرنا بدعت ہے اور اگر دلیل قطعی نہ ہو جیسے معتزلہ کا رؤیت باری سے انکار کرنا۔ پس یہ بدعت ہے۔ اور کفر نہیں ہے اور وہ چیز جس کا ضرر ظاہر ہو تو وہ مقام اجتہاد میں واقع ہو جائے گی۔ پس ممکن ہے کہ اس کی وجہ سے تکفیر بھی کی جاوے اور ممکن ہے کہ تکفیر نہ بھی کی جائے (پھر آگے چل کر فرمایا ہے) اور یہ مناسب نہیں کہ تم یہ خیال کر لو کہ تکفیر اور عدم تکفیر کے لئے ضروری ہے کہ ہر جگہ یقینی طور پر معلوم ہو جائے۔ بلکہ بات یہ ہے کہ تکفیر ایک حکم شرعی ہے۔ جس کا نتیجہ ہے کہ اس سے اباحت مال اور خون کا ہدر ہونا۔ یا خلود فی النار کا حکم لازم آتا ہے۔ سو اس کا منشا بھی دوسرے احکام شرعیہ کے منشا کی طرح ہے۔ کہ کبھی تو یقین کے ساتھ معلوم ہوتا ہے اور کبھی ظن غالب کے ساتھ اور کبھی تردد کے ساتھ۔ اور جب تردد ہو تو تکفیر میں توقف کرنا بہتر ہے اور تکفیر میں جلدی کرنا ان ہی طبیعتوں پر غالب ہوتا ہے جن پر جہل کا غلبہ ہے۔ اور ایک قاعدہ پر بھی تنبیہ کر دینا ضروری ہے، وہ یہ کہ مخالف کبھی کسی نص متواتر کی مخالفت کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ وہ ماؤل ہے لیکن اس کی تاویل ایسی ہوتی ہے کہ اس کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی زبان میں نہ قریب نہ بعید۔ تو یہ کفر ہے اور ایسا شخص مکذب ہے۔ اگرچہ وہ یہ سمجھتا رہے کہ وہ ماؤل ہے۔ آخر میں کچھ اور اسی قسم کی تاویلات باطلہ کا بیان کر کے لکھا:

فامثال هذه المقالات تكذيبات عبر عنها بالتاويلات (ایضاً)

پس اسی جیسی باتیں تکذیبات ہیں جن کا نام تاویلات رکھ لیا گیا ہے:

٢٥

صفحہ ١٥٢

حضرت امام غزالیؒ کی اس مفصل تحریر سے واضح ہو گیا کہ قرآن وحدیث میں ایسی تاویلات باطلہ کرنا جو ان کے اجماعی مفہوم کو بدل دیں اور امت کے اجماعی عقائد کے خلاف کوئی نیا مفہوم ان سے پیدا ہو جائے ایسی تاویل بھی تکذیب رسول ہی کے حکم میں ہے جس کا کفر ہونا ظاہر ہے۔

ائمہ اسلام کی مزید شہادتیں زندقہ کے کفر ہونے پر

اس میں سب سے پہلی اور سب سے قوی شہادت حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کا وہ اجماع ہے جو رسول اکرم ﷺ کی وفات کے بعد ”مانعین زکوۃ“ کو مرتد قرار دے کر ان سے جہاد کرنے پر ہوا۔ حالانکہ یہ سب لوگ نماز روزہ اور تمام شعائر اسلام کے پابند تھے۔ صرف ایک حکم شرعی ”زکوۃ“ کا انکار کرنے سے باجماع صحابہ کافر قرار دیئے گئے۔ حافظ ابن تیمیہؒ نے ان کے متعلق لکھا ہے:

وفيهم من الردة عن شرائع الاسلام بقدر ما ارتد عنه من شعائر الاسلام اذكان السلف قد سموا مانعى الزكوة مرتدين مع كونهم يصومون ويصلون ٠

(فتاویٰ ابن تیمیہ ص ٢٩١ ج ٤)

ان لوگوں میں شعائر اسلام سے مرتد ہونا پایا جاتا ہے کیونکہ ایک شعار اسلام (زکوٰۃ) کے منکر ہیں۔ کیونکہ سلف نے ان کا نام مرتدین رکھا ہے۔ اگرچہ یہ نماز بھی پڑھتے تھے اور روزے بھی رکھتے تھے۔

دوسری شہادت صحابہ کرامؓ کا وہ اجماع ہے جو ”مسیلمہ کذاب“ کے کفر وارتداد اور اس کے مقابلہ میں جہاد پر ہوا۔ حالانکہ وہ اس کی پوری جماعت کلمہ کی قائل تھی۔ اور حسب تصریح تاریخ ابن جریر طبری ص ٢٤٤ ج ٣ / اپنی اذانوں میں : ” اشهد ان محمد رسول الله “ کی شہادت مناروں پر پکارنے والے اور نماز روزے کے پابند تھے۔ مگر اس کے ساتھ وہ آیت خاتم النبیین ! اور حدیث : ”لا نبي بعدي ٠ “ میں قرآن وحدیث کی تصریحات اور امت کے اجماعی عقیدہ کے خلاف تاویلات کر کے ”مسیلمہ کذاب“ کو آنحضرت ﷺ کے ساتھ نبوت کا شریک مانتے تھے۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے باجماع و اتفاق ان کو کافر قرار دیا اور ان سے جہاد

صفحہ ١٥٣

کرنا ضروری سمجھا اور خالد بن ولیدؓ کی امارت میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا عظیم الشان لشکر جہاد کے لئے روانہ ہوا۔ مسیلمہ کذاب کے پیروؤں میں سے چالیس ہزار مسلح جوان مقابلہ پر آئے۔ معرکہ نہایت سخت ہوا۔ صحابہ کرامؓ کے لشکر میں سے بارہ سو حضرات شہید ہوئے۔ اور مسیلمہ کے لشکر سے اٹھائیس ہزار آدمی مارے گئے اور خود مسیلمہ بھی مارا گیا۔ (تاریخ طبری)

جمہور صحابہؓ میں سے کسی ایک نے بھی اس پر انکار نہ کیا اور نہ کسی نے یہ کہا کہ یہ لوگ کلمہ گو اہل قبلہ ہیں۔ ان کو کیسے کافر کہا جائے؟ نہ کسی کو اس کی فکر ہوئی کہ اسلامی برادری میں سے اتنی بڑی اور قوی جماعت کم ہو جائے گی۔ اسی لئے عام کتب عقائد میں اس مسئلہ کو اجماعی مسئلہ قرار دیا ہے ”جوہرة التوحید“ میں ہے:

ومن لمعلوم ضروری جحد من دیننا یقتل کفرا لیس حد وقال شارحہ ان ھذا مجمع علیہ وذکر ان الماتریدیۃ یکفرون بعد ھذا بانکار القطعی وان لم یکن ضروریا ،

”جو شخص کسی قطعی بدیہی حکم کا انکار کرے اس کو بوجہ کافر ہو جانے کے قتل کیا جائے گا۔ بطور حد کے نہیں۔ اور اس کتاب کی شرح میں ہے کہ اس بات پر امت کا اجماع ہے اور یہ بھی لکھا ہے کہ علماء ماتریدیہ مطلقاً قطعی حکم کے انکار کو کفر قرار دیتے ہیں خواہ بدیہی نہ ہو۔

اور حافظ حدیث امام ابن تیمیہؒ نے اپنی کتاب ”اقامۃ الدلیل“ میں اجماع کو سب سے بڑی قطعی دلیل قرار دیا ہے:

واجماعھم حجة قاطعة یجب اتباعھا بل ھی اوکد الحجج وھی مقدمة علی غیرھا . (اقامة الدلیل ص ١٣٠ ج٣)

”اور امت کا اجماع حجت قاطعہ ہے جس کا اتباع واجب ہے بلکہ وہ تمام حجتوں سے زیادہ موکد ہے۔ اور وہ غیر اجماع پر مقدم ہے۔“

ائمہ اسلام‘ مفسرین‘ محدثین‘ فقہا اور متکلمین‘ سب کے سب اس مسئلہ میں یک زبان ہیں کہ ضروریات دین یعنی اسلام کے قطعی اور یقینی مسائل میں سے کسی مسئلہ میں تاویلات باطلہ کر کے اس کو اس مفہوم اور صورت سے نکالنا جو قرآن وحدیث میں مصرح ہے اور جمہور امت وہی مفہوم سمجھتی آئی ہے درحقیقت قرآن وحدیث اور عقائد اسلام کی تکذیب کرنا ہے۔ علم عقائد کی مشہور مستند کتاب ”مقاصد“ میں کفر اور کافر کی تعریف کرتے ہوئے لکھا ہے:

٢٧

صفحہ ١٥٤

وان كان مع اعترافه بنبوة النبی ﷺ واظهاره شعائر الاسلام يبطن عقائد هى كفر بالاتفاق، خص باسم الزنديق، “

”اور اگر کوئی ایسا ہو کہ نبی کریم ﷺ کی نبوت کے اقرار کے ساتھ ساتھ اور شعائر اسلام کے اظہار کے باوجود ایسے عقائد پوشیدہ رکھتا ہو جو بالاتفاق کفر ہیں تو اس کو زندیق کے نام سے خاص کیا جاتا ہے۔“

ردالمحتار میں علامہ شامیؒ نے اسی مضمون کی تشریح میں فرمایا ہے:

فان الزنديق يموه كفره ويروج عقيدته الفاسدة ويخرجها فى الصورة الصحيحة وهذا معنى ابطاله الكفر فلا ينافى اظهاره والدعوى الى الضلال،

(ص٣٢٤ ج٣)

کیونکہ زندیق ملمع سازی کرتا ہے اپنے کفر کے ساتھ اور اپنے فاسد عقیدہ کو رواج دیتا ہے اور نکالتا ہے اس کو صحیح صورت میں۔ اور یہی معنی ہیں ”ابطال کفر“ کے۔ پس وہ ”جہار“ (یعنی کھلم کھلا کفر) کے منافی نہیں۔ اور نہ گمراہی کی طرف دعوت دینے کے منافی ہے۔

حضرت شاہ عبدالعزیز صاحب دہلوی قدس سرہ نے اپنے فتاویٰ میں اقسام تکذیب و کفر کا بیان ان الفاظ میں فرمایا ہے:

ولا شبهة ان الايمان مفهومه الشرعى المعتبر به فى كتب الكلام والعقائد و التفسير والحديث هو تصديق النبى ﷺ فيما علم مجيئه ضرورة عما من شأنه ذلك ليخرج الصبى والمجنون و الحيوانات، والكفر عدم الايمان عما من شأنه ذلك التصديق فمفهوم الكفر هو عدم تصديق النبی ﷺ فيما علم مجيئه ضرورة وهو بعينه ما ذكرنا من ان من انكر واحدا من ضروريات الدين اتصف بالكفر نعم عدم التصديق له مراتب اربع فيحصل للكفر ايضا اقسام اربعة، الاول كفر الجهل وهو تكذيب النبی ﷺ صريحا فيما علم مجيئه به مع العلم (اى فى زعمه الباطل) بكونه عليه السلام كاذباً فى دعواه وهذا وهو كفر ابى جهل واضرابه والثانى كفر الجحود و العناد وهو تكذيبه مع العلم بكونه صادقا فى دعواه وهو كفر اهل الكتاب لقوله تعالى الذين آتيناهم الكتاب يعرفونه كمايعرفون ابناءهم

٢٦

صفحہ ١٥٥

وقوله وجحدوا بها واستيقنتها انفسهم ظلما وعلوا، وكفر ابليس من هذا القبيل والثالث كفر الشك كما كان لاكثر المنافقين والرابع كفر التاويل وهو ان يحمل كلام النبي ﷺ على غير محله او على التقية و مراعاة المصالح ونحو ذلك ولما كان التوجه الى القبلة من خواص معنى الايمان سواء كان شاملة وغير شاملة عبروا عن اهل الايمان باهل قبلة كما ورد في الحديث نهيت عن قتل المصلين و المراد المؤمنين مع ان نص القرآن على ان اهل القبلة هم المصدقون بالنبي ﷺ في جميع ما علم مجيئه وهو قوله تعالى وصد عن سبيل الله وكفر به والمسجد الحرام واخراج اهله منه اكبر عند الله . فتاوی عزیزی ج ١ ص ٤٢ “

ترجمہ : اور اس میں شبہ نہیں کہ ایمان کا مفہوم شرعی جو کہ کتب کلام وعقائد و تفسیر وحدیث میں معتبر ہے وہ یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کی تصدیق کرنا ان تمام باتوں میں جن کا آپ ﷺ سے منقول ہونا بداہتہ معلوم ہے یہ اس شخص پر جو تصدیق کا اہل ہے یعنی بچہ۔ اور مجنون اور حیوانات اس سے خارج ہیں اور کفر اسی شخص کے عدم ایمان کو کہتے ہیں۔ پس کفر کا مطلب یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کی ان باتوں میں تصدیق نہ کرنا۔ اور وہ بعینہ وہی بات ہے جو ہم نے ذکر کی کہ جو شخص ضروریات دین میں سے کسی ایک بات کا بھی انکار کرے وہ صفت کفر کے ساتھ موصوف ہو جائے گا۔ ہاں! عدم تصدیق کے چار درجات ہیں۔ اس لئے کفر کے بھی چار اقسام نکلیں گے۔ اول کفر جہل اور وہ نبی کریم ﷺ کی تکذیب کرنا صریحاً ان چیزوں میں جن کو آپ ﷺ لے کر آئے۔ یہ سمجھتے ہوئے (یعنی اپنے زعم باطل میں) کہ نبی ﷺ کاذب ہیں اپنے دعوے میں اور یہ ابو جہل وغیرہ کا کفر ہے۔ دوسرا کفر جحود اور عناد اور وہ یہ کہ آپ ﷺ کو باوجود دل سے سچا جاننے کے تکذیب کئے جانا۔ اور یہ اہل کتاب کا کفر ہے جیسا حق تعالیٰ نے فرمایا کہ جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ اس نبی کو پہچانتے ہیں جیسے اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں اور دوسری جگہ فرمایا کہ ان لوگوں نے انکار کیا۔ حالانکہ ان کے دل پر یقین ہیں اور یہ انکار ظلم اور تعلی وتکبر کے سبب سے ہے اور ابلیس کا کفر اسی قسم میں سے ہے اور تیسرا کفر شک جیسا کہ اکثر منافقین کا تھا اور چوتھا کفر تاویل اور وہ یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کے کلام کو اس کے غیر محل پر محمول کرے یا اس کو تقیہ پر اور مراعاۃ مصالح وغیرہ پر محمول کرے۔ اور جبکہ توجہ الی القبلہ ایمان کا خاصہ ہے خواہ خاصہ شاملہ ہو یا غیر شاملہ اس لئے اہل

٢٩

صفحہ ١٥٦

ایمان کو اہل قبلہ سے تعبیر کر دیتے ہیں جیسا کہ حدیث میں وارد ہے کہ مجھے نماز پڑھنے والوں کے قتل کرنے سے منع کیا گیا ہے اور مراد اس جگہ مسلمان ہیں نیز نص قرآن اس پر شاہد ہے کہ اہل قبلہ وہی ہیں جو نبی کریم ﷺ کی تمام لائی ہوئی چیزوں میں تصدیق کرتے ہیں اور وہ نص حق تعالیٰ کا یہ قول ہے اور اللہ کی راہ سے روکنا اور اس کے ساتھ کفر کرنا اور مسجد حرام کے ساتھ اور اس کے اہل کو اس سے نکالنا زیادہ شدید ہے اللہ کے نزدیک۔ خوب سمجھ لینا چاہیے۔

حافظ ابن قیمؒ نے شفاء العلیل میں انہی تاویلات باطلہ کے متعلق فرمایا: مافي الشفاء العليل للحافظ بن القيم، والتاويل الباطل يتضمن تعطيل ماجاء به الرسول والكذب على المتكلم انه اراد ذلك المعنى فتضمن ابطال الحق وتحقيق الباطل ونسبة المتكلم الى مالا يليق به من التلبيس والالغاز مع القول عليه بلا علم انه اراد هذا المعنى فالمتأول عليه ان يبين صلاحية اللفظ للمعنى الذى ذكره اولاً و استعمال المتكلم له فى ذالك المعنى فى اكثر المواضع حتى اذا استعمله فيما يحتمل غيره يحمل على ما عهد منه استعماله فيه وعليه ان يقيم دليلا سالما عن المعارض على الموجب بصرف اللفظ عن ظاهره وحقيقته الى مجازه و استعارته والا كان تلك مجرد دعوى منه فلا يقبل . ” حافظ ابن قیمؒ کی شفاء العلیل میں ہے کہ ’اور تاویل باطل متضمن ہے۔ رسولوں کی لائی ہوئی چیزوں کو معطل کرلے کہ اور متکلم پر جھوٹ کو‘ کہ اس نے یہ معنی مراد لئے پس لازم آئے گا اس سے ابطال حق، اور باطل کا ثبوت اور متکلم کی نسبت ایسی چیز کی طرف جو اس کے شایانِ شان نہیں یعنی تلبیس اور معمّہ کی باتیں کرنا نیز اس پر یہ افتراء بلا علم کہ اس نے اس سے یہ معنی مراد لئے۔ پس تاویل کرنے والے پر لازم ہے کہ سب سے پہلے یہ ثابت کرے کہ لفظ مستعمل میں اس معنی کی صلاحیت ہے جو اس نے ذکر کئے ہیں اور یہ بھی کہ متکلم نے بھی اس کو اکثر مواضع میں انہی معنی میں استعمال کیا ہے تاکہ جب متکلم اس کو ایسے کلام میں استعمال کرے جہاں دوسرا احتمال بھی ہو تو وہ اسی معنی پر محمول ہو جس میں اس کا استعمال مروج رہا ہے اور اس پر یہ بھی لازم ہے کہ دلیل قائم کرے ایسی کہ جو معارض سے سالم ہو اس بات پر کہ جو موجب ہوا ہے لفظ کو ظاہری اور حقیقی معنی سے مجاز اور استعارہ کی طرف پھیرنے کا ورنہ تو یہ صرف ایک دعویٰ ہوگا جو قابلِ قبول نہ ہوگا۔

٣٠

صفحہ ١٥٧

فتاویٰ ابن تیمیہ میں ہے :

ثم لوقد رانهم متأولون لم يكن تاويلهم سائغاً بل تاويل الخوارج ومانعى الزكواة اوجه من تاويلهم أما الخوارج فانهم ادعوا اتباع القرآن وان ما خالفه من السنة لا يجوز العمل به امّا مانعوا الزكواة فقد ذكروا انهم قالوا ان الله قال لنبيه فقط فليس علينا ان ندفعها لغيره فلم يكونوا يدفعونها لابى بكر ولا يخرجونها له ۔ (فتاویٰ ابن تیمیہ ج ٤ ص ٢٩٧)

اور اگر یہ بھی مان لیا جائے کہ یہ لوگ متأولین (یعنی تاویل کرنے والے) ہیں تو ان کی تاویل قابل قبول نہیں ۔ بلکہ خوارج اور مانعین زکوٰۃ کی تاویل تو اس سے زیادہ اقرب اور قابل قبول تھی۔ کیونکہ خوارج نے دعویٰ کیا تھا اتباع قرآن کا اور سنت میں جو قرآن کے مخالف ہو اس پر ترک عمل اور عدم جواز کا اور مانعین زکوٰۃ کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو خطاب فرما کر فرمایا کہ: ” آپ ﷺ لیجئے ان کے مالوں سے صدقہ اور یہ خطاب ہے نبی کریم ﷺ کو ۔ پس ہم پر غیر نبی کی طرف زکوٰۃ ادا کرنا لازم نہیں ۔ اس لئے وہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو زکوٰۃ ادا نہیں کرتے تھے۔

وفى ص ١٨٥ وقد اتفق الصحابة والائمة بعدهم على قتال مانعى الزكواة وان كانوا يصلون الخمس ويصومون شهر رمضان وهؤلاء لم يكن لهم شبهة سائغه فلهذا كانوا مرتدين وهم يقاتلون على منعها وان اقروا بالوجوب كما امر الله ۔ ” اور ص ١٨٥ میں ہے اور صحابہؓ نے اور ائمہؒ نے مانعین زکوٰۃ سے جہاد کرنے پر اجماع فرمایا اگر چہ وہ پانچ وقت کی نمازیں پڑھتے تھے۔ اور رمضان شریف کے روزے رکھتے تھے اور ان حضرات کو کوئی شبہ پیش نہیں آیا لہٰذا یہ مرتد تھے اور اُن سے جہاد کیا جائے گا۔ اس کے روکنے پر اگر چہ وہ اس کے وجوب کا اقرار کریں جیسا کہ حق تعالیٰ نے حکم دیا ہے ۔“

وقال فى ص ٦٩ بغية المرتاد انما القصد ههنا التنبيه على ان عامة هذه التاويلات مقطوع ببطلانها وان الذى يتاوله او يسوغ تاويله فقد يقع فى الخطاء فى نظيره او فيه بل قد يكفر من تاويله ۔ ” یہاں مقصود اس بات پر تنبیہ کرنا ہے کہ عام طور سے یہ تاویلیں یقیناً باطل ہیں اور جو شخص یہ تاویلیں کرتا یا ایسی تاویل کو جائز

٣١

صفحہ ١٥٨

رکھتا ہے وہ کبھی اس کے مثل میں اور کبھی خود اسی میں (خطائیں) پڑ جاتا بلکہ کبھی تاویل کرنے والا کافر ہو جاتا ہے۔

اور شرح جمع الجوامع میں ہے: "جاحد الجمع عليه من الدين بالضرورة كافر قطعاً . " "جس چیز پر اجماع قطعی ثابت ہو اس کا منکر کافر ہے قطعاً

اور علامہ عبدالحکیم سیالکوٹی نے خیالی حاشیہ شرح عقائد میں لکھا ہے: "والتاويل فى ضروريات الدين لا يدفع الكفر ٠ حاشيه نمبر ٣ خیالی ص ١٢٦ "اور ضروریات دین میں تاویل کرنا کفر سے نہیں بچا سکتا۔"

اور شیخ اکبر محی الدین ابن العربی نے فتوحات مکیہ میں فرمایا ہے: "التاويل الفاسد كالكفر ٠ باب ٢٨٩ ج ٢ ص ٨٥٧ " "تاویل فاسد کفر کی طرح ہے۔

اور وزیر یمانی کی ایثار الحق علی الخلق ص ٤٤١ میں ہے: "لان الكفر هو جحد الضروريات من الدين او تاويلها ، " "کیوں کہ کفر یہی ہے کہ ضروریات دین کا انکار کرنا یا اس کی تاویل کرنا ۔"

قاضی عیاضؒ کی کتاب الشفاء بتعریف حقوق المصطفیٰ میں ہے: وذلك يقطع بتكفير كل من كذب وانكر قاعدة من قواعد الشريعة وما عرف يقينا بالنقل المتواتر من فعل رسول الله ﷺ ووقع الاجماع المتصل عليه كمن انكر وجوب الصلوات الخمس او عدد ركعاتها وسجدتها ويقول انما اوجب الله علينا فى الكتاب الصلواة على الجملة وكونها خمسا وعلى هذه الصفات والشروط لا اعلمه اذ لم يرد فيه فى القرآن نص جلى ٠

(شفاء ج ٢ ص ٢٤٨ فصل مقالات الكفر)

"اور اسی طرح قطعی طور پر کافر کہا جائے گا اس شخص کو۔ جھٹلا دے یا انکار کرے قواعد شرعیہ میں سے کسی قاعدہ کا یا اس چیز کا جو فعل رسول اللہ ﷺ سے نقل متواتر کے ساتھ یقینی طور پر معلوم ہوا ہے اور اس پر اجماع منعقد ہو چکا ہے۔ جیسے کوئی پانچ نمازوں یا ان کی رکعات کے عدد یا سجدوں کا انکار کرے۔ اور یوں کہے کہ حق تعالیٰ نے قرآن مجید میں نماز تو فی الجملہ واجب کی ہے۔

صفحہ ١٥٩

ان صفات اور شروط کے ساتھ میں اس کو نہیں مانتا کیونکہ اس کی قرآن میں کوئی نص جلی نہیں ہے۔“

اور شرح شفاء قاضی عیاض میں ہے: وكذلك انعقد اجماعهم على ان مخالفة السمع الضرورى كفر و خروج عن الاسلام (ص ١٢١) ایسے ہی سب کا اجماع اس پر منعقد ہے کہ یقینی روایات کی مخالفت کفر اور اسلام سے خروج ہے۔

تنبیہ : یہاں صحابہؓ و تابعینؒ اور ائمہ دین کی تصریحات سے یہ بات واضح ہو چکی کہ تاویل کرنے والے کی تکفیر نہ کرنے کا ضابطہ عام نہیں بلکہ وہ تاویل جو ضروریات دین کے خلاف کی جائے وہ تاویل نہیں بلکہ تحریف اور الحاد ہے اور باجماع امت کفر ہے اور اگر تاویل مطلقاً رفع کفر کے لئے کافی سمجھی جائے تو شیطان بھی کافر نہیں رہتا کہ وہ بھی اپنے فعل کی تاویل پیش کر رہا ہے: ”خلقتنی من نار و خلقته من طین: اعراف ١٢“ اسی طرح بت پرست مشرکین بھی کافر نہیں ہو سکتے۔ کیونکہ ان کی تاویل تو خود قرآن میں مذکور ہے:”ما نعبدهم الا ليقربونا الى الله زلفى: الزمر ٣“ اس سے واضح ہو گیا کہ جو تاویل کسی نص صریح یا اجماع یا ضروریات دین کے مخالف ہو وہ تاویل نہیں بلکہ تحریف اور تکذیب رسول ہے جس کا دوسرا نام الحاد و زندقہ ہے۔

مسئلہ تکفیر اہل قبلہ

جو لوگ ایمان و اسلام کا اظہار کرتے ہیں اور نماز، روزہ وغیرہ کے پابند ہیں مگر اسلام کے کسی قطعی اور یقینی حکم میں تاویلات باطلہ کر کے تصریحات کتاب و سنت اور اجماع امت کے خلاف اس کا مفہوم بدلتے ہیں، ان کو کافر و مرتد قرار دینے پر دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ لوگ کلمہ گو اہل قبلہ ہیں اور اہل قبلہ کی تکفیر باتفاق امت ممنوع ہے اس لئے ضروری ہے کہ اس جگہ اہل قبلہ کے مفہوم کو واضح کیا جائے۔

اصل اس باب میں آنحضرت ﷺ کی دو حدیثیں ہیں۔ ایک وہ جو بخاری (ج ١ ص ٥٧ باب فضل استقبال القبلۃ ) ومسلم وغیرہ میں اطاعت امراء کے بارے میں حضرت انسؓ سے منقول ہے اس کے الفاظ یہ ہیں:

”من شهد ان لا اله الا الله واستقبل قبلتنا وصلى صلوتنا واكل

٣٣

صفحہ ١٦٠

ذبيحتنا فهو مسلم ، الا ان تروا كفرا بواحا عندكم من الله فيه برهان . “ ”جو شخص لا الہ الا اللہ کی شہادت دے اور ہمارے قبلہ کا استقبال کرے اور ہماری نماز پڑھے اور ہمارا ذبیحہ کھائے تو یہی مسلمان ہے مگر یہ کہ دیکھو تم کفر صریح تمہارے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس میں دلیل ہو۔“

اور دوسری روایت ابو داؤد کتاب الجہاد (ج ١ ص ٢٥٢ باب الغز امع ائمة الجور) میں ہے جس کا متن یہ ہے:

عن انس قال قال رسول الله ﷺ ثلاث من اصل الایمان الکف عمن قال لا اله الا الله ولا تكفره بذنب ولا تخرجه من الاسلام بعمل .

حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ تین چیزیں اصل ایمان ہیں۔ رکنا اس شخص سے جو لا الہ الا اللہ کہے اور نہ تکفیر کرو اس کی کسی گناہ کے سبب اور نہ اسے خارج از اسلام قرار دو کسی عمل کے سبب۔

اس میں سے پہلی حدیث میں تو ختم کلام پر خود ہی تصریح کر دی گئی ہے کہ کلمہ گو کو اس وقت تک کافر نہ کہا جائے گا جب تک اس سے کوئی قول یا فعل موجب کفر صریح اور ناقابل تاویل یقینی طور پر ثابت نہ ہو جائے۔

اور دوسری حدیث کے الفاظ میں اس کی تصریح ہے کہ کسی گناہ یا عمل کی وجہ سے خواہ وہ کتنا ہی سخت ہو کافر نہ کہا جائے گا۔ لیکن باتفاق علماء امت۔ گناہ سے مراد اس جگہ کفر کے سوا دوسرے گناہ ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ عملی خرابیاں فسق و فجور کتنا ہی زیادہ ہو جائے ان کی وجہ سے اہل قبلہ کو کافر نہ کہا جائے گا۔ نہ یہ کہ قطعیات اسلام کے خلاف عقائد کا اظہار بھی کرتا رہے تب بھی اس کو کافر نہ سمجھا جائے۔

مانعین زکوٰۃ اور جھوٹے مدعی نبوت مسیلمہ کذاب اور اس کی جماعت کو کافر و مرتد قرار دے کر ان سے جہاد کرنے پر صحابہ کرامؓ کا اجماع اس کی کھلی ہوئی شہادت ہے کہ اہل قبلہ جن کی تکفیر ممنوع ہے۔ اس کا مفہوم یہ نہیں کہ جو قبلہ کی طرف منہ کرلے یا نماز پڑھ لے۔ اس کو کسی عقیدہ باطلہ کی وجہ سے بھی کافر نہ کہا جائے بلکہ معلوم ہوا کہ کلمہ گو یا اہل قبلہ یہ دو اصطلاحی لفظ ہیں۔ ان کے مفہوم میں صرف وہ مسلمان داخل ہیں جو شعائر اسلام نماز وغیرہ کے پابند ہونے کے ساتھ تمام موجبات کفر اور عقائد باطلہ سے پاک ہوں۔

٣٤

صفحہ ١٦١

اہل قبلہ کا یہ مفہوم تمام علماء امت کی کتابوں میں بصراحت و وضاحت موجود ہے۔ ذیل میں چند اقوال آئمہ اسلام کے پیش کئے جاتے ہیں جن سے دو چیزوں کی شہادت پیش کرنا مقصود ہے۔

قرآن و سنت اور اجماع امت سے ثابت شدہ مفہوم کے خلاف کوئی مفہوم قرار دینا بھی تکذیب رسول کے حکم میں ہے اور ایسی تکذیب کو زندقہ والحاد کہا جاتا ہے۔

محقق ابن امیر الحاج جو حافظ ابن حجر اور شیخ ابن ہمام کے مشہور شاگرد اور محقق ہیں‘ شرح تحریر الاصول‘ اہل قبلہ کی تعریف کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

”هو الموافق على ما هو من ضروریات الاسلام کحدوث العالم وحشر الاجساد من غير أن يصدر عنه شىء من موجبات كفر قطعا من اعتقاد راجع الى وجود اله غير الله تعالى او حلوله فى بعض اشخاص الناس او انكار نبوة محمد ﷺ او ذمه او استخفافه ونحو ذلك المخالف فى اصول سواها (الى ان قال) وقد ظهر من هذا ان عدم تكفير اهل القبلة بذنب ليس على عمومه الا ان يحمل الذنب على ما ليس بكفر فيخرج الكفر به كما اشار اليه السبكى. (شرح تحریر)“ ”اہل قبلہ وہ ہے جو موافق ہو تمام ضروریات اسلام کے‘ جیسے عالم کا حدوث‘ اور حشر اجساد‘ اس طرح پر کہ اس سے کوئی چیز موجبات کفر میں سے صادر نہ ہو۔ مثلاً ایسا اعتقاد جو مقتضی ہو حق تعالیٰ کے ساتھ دوسرے خدا کے ماننے کو۔ اور خدا تعالیٰ کے کسی شخص میں حلول کرنے کو۔ یا نبوۃ محمد ﷺ کے انکار کو۔ یا آپﷺ کی مذمت یا آپﷺ کے استخفاف کو۔ اور اسی طرح کی اور باتیں (یہاں تک کہ مصنف فرماتے ہیں کہ) اسی سے ظاہر ہو گیا کہ اہل قبلہ کی کسی گناہ کی وجہ سے تکفیر نہ کرنے کی حدیث اپنے عموم پر نہیں ہے۔ ہاں اگر گناہ سے مراد کفر کے علاوہ لیا جائے جیسا کہ علامہ سبکیؒ نے اس طرف اشارہ فرمایا ہے تو عموم مراد ہوسکتا ہے۔

نیز شرح مقاصد میں عدم تکفیر اہل قبلہ کی توضیح کرتے ہوئے لکھا ہے:

قال المبحث السابع فى حكم مخالف الحق من اهل القبلة ليس بكا

٣٥

صفحہ ١٦٢

فما لم يخالف ماهو من ضروريات الدين كحدوث العالم وحشر الاجساد .

”ساتواں مبحث اس شخص کے حکم میں جو مخالف حق ہو ۔ اہل قبلہ میں سے کہ وہ کافر نہیں جب تک مخالفت نہ کرے کسی چیز کی ضروریات دین میں سے جیسے عالم کا حادث ہونا اور حشر ونشر ۔“

قال الشارح ان الذين اتفقوا على ماهو من ضروريات الاسلام كحدوث العالم وحشر الاجساد و مايشبه ذلك واختلفوا في اصول سواها كمسئلة الصفات وخلق الافعال وعموم الارادة وقدم الكلام وجواز الرؤية ونحوذلك ممالا نزاع فيه ان الحق فيه واحد هل يكفر المخالف للحق بذلك الاعتقاد و بالقول به ام لا فلانزاع في كفر اهل القبلة المواظب طول العمر على الطاعات باعتقاد قدم العالم ونفى الحشر ونفى العلم بالجزئيات ونحوذلك وكذا بصدور شىء من موجبات الكفر عنه .

(شرح مقاصد)

”شارح فرماتے ہیں اور معنی اس کے یہ ہیں کہ جولوگ ضروریات اسلام پر تو متفق ہیں۔ جیسے حدوث عالم اور حشر وغیرہ اور ان کے سوا دوسرے اصول میں اختلاف کرتے ہیں جیسے مسئلہ صفات اور خلق افعال اور عموم ارادہ اور ”کلام اللہ کا قدیم“ ہونا اور ”رؤیۃ اللہ“ کا جواز وغیرہ جن میں کوئی نزاع اس امر میں نہیں ہے کہ اس میں حق ایک ہی ہے تو کیا اس اعتقاد اور اس کا قائل ہونے کی وجہ سے اس مخالف حق کی تکفیر کی جائے گی یا نہیں؟ سو کوئی اختلاف نہیں ہے ایسے اہل قبلہ کی تکفیر میں جو تمام عمر طاعات پر مداومت کرنے کے ساتھ ”قدم عالم“ اور نفی حشر اور نفی بالجزئیات وغیرہ کا قائل ہو ۔ اور اسی طرح موجبات کفر میں سے کسی چیز کے صدور سے اس کے کفر میں کوئی اختلاف نہیں ۔“

اور ملاں علی قاری کی شرح فقہ اکبر میں ہے:

اعلم ان المراد باهل القبلة الذين اتفقوا على ما هو من ضروريات الدين كحدوث العالم وحشر الاجساد و علم الله بالكليات وبالجزئيات وما اشبه ذلك من المسائل فمن واظب طول عمره على الطاعات والعبادات مع اعتقاد قدم العالم و نفى الحشر او نفى علمه سبحانه بالجزئيات لا يكون من اهل القبلة وان المراد بعد عدم تكفير احد من اهل القبلة عند اهل السنة انه لا يكفر مالم يوجد شىء من امارات الكفر و علاماته ولم يصدر عنه شىء من

٣٦

صفحہ ١٦٣

موجباته . شرح فقه اكبر ص ١٨٩“ جاننا چاہئے کہ اہل قبلہ سے مراد وہ لوگ ہیں جو تمام ضروریات دین پر متفق ہیں جیسے حدوث عالم اور حشر ونشر اور علم اللہ بالجزیات وغیرہ پس جو شخص تمام عمر طاعات وعبادات کا پابند ہونے کے باوجود (قدم عالم اور نفی حشر یا نفی علم اللہ بالجزیات کا معتقد ہو وہ اہل قبلہ نہیں ہے اور مراد اہل قبلہ سے اہل سنت کے نزدیک یہ ہے کہ اس کی تکفیر اس وقت تک نہ کی جائے گی جب تک علامات کفر میں سے کوئی چیز اس میں نہ پائی جائے اور جب تک اس سے موجبات کفر میں سے کوئی بات سرزد نہ ہو۔

اور فخرالاسلام بزدوی کی ”کشف الاصول باب الاجماع ج ٢ ص ٢٣٨ “ میں نیز امام سیف الدین آمدی کی کتاب ”الاحکام فی اصول الاحکام “ میں اور ”غایۃ التحقیق شرح اصول حسامی“ میں ہے:

ان غلا فیه ( ای فی هواه) حتی وجب اکفاره به لا یعتبر خلافه وو فاقه ایضا لعدم دخوله فی مسمی الامة المشهود لها بالعصمة وان صلی الی القبلة واعتقد نفسه مسلما لان الامة لیست عبارة عن المصلین الی القبلة بل عن المؤمنین وهو کافر وان کان لایدری انه کافر . (غایة التحقیق)

اگر غلو کیا اپنی خواہشات نفسانیہ میں حتی کہ واجب ہو گئی اس کی تکفیر اس کی وجہ سے اجماع میں اس کے خلاف یا مخالفت کا اعتبار نہ ہوگا اور اگرچہ وہ قبلہ کی طرف نماز پڑھتا ہو اور اپنے آپ کو مسلمان سمجھتا ہو۔ کیونکہ ”امت“ قبلہ کی طرف نماز پڑھنے والوں کا نام نہیں ہے۔ بلکہ ”مومنین“ کا نام ہے اور وہ کافر ہے۔ اگرچہ اس کو اپنے کافر ہونے کا علم نہ ہو۔

اور رد المختار باب الامامة میں علامہ شامی نے بحوالہ شرح تحریر الاصول ابن همام لکھا ہے:

”لاخلاف فی کفر المخالف فی ضروریات الاسلام وان کان من اهل القبلة المواظب طول عمره علی الطاعات کما فی شرح التحریر (شامی ج ١ ص ٤١٤ باب الامامة) “ جو شخص ضروریات اسلام کا مخالف ہو۔ اس کے کفر میں کوئی اختلاف نہیں۔ اگر چہ وہ اہل قبلہ میں سے ہو اور تمام عمر طاعات پر پابند رہے۔

اور بحرالرائق شرح کنز الدقائق میں ہے:

٣٧

صفحہ ١٦٤

والحاصل ان المذهب عدم تكفير احد من المخالفين فيما ليس من الاصول المعلومة من الدين ضرورة (بحر) اور حاصل یہ ہے کہ مذہب یہ ہے کہ مخالفین میں سے کسی کی تکفیر نہ کی جائے جو اصول دین کے سوا کسی چیز میں مخالف ہیں۔

اور شرح عقائد نسفی کی شرح نبراس میں ہے:

اهل القبلة فى اصطلاح المتكلمين من يصدق بضروريات الدين اى الامور التى علم ثبوتها فى الشرع واشتهر فمن انكر شيئاً من الضروريات كحدوث العالم وحشر الاجساد وعلم الله سبحانه بالجزئيات و فرضية الصلواة والصوم لم يكن من اهل القبلة ولو كان مجاهدا بالطاعات وكذالك من باشر شيئاً من امارات التكذيب كسجود الصنم والاهانة بامر شرعى والاستهزاء عليه فليس من اهل القبلة و معنى عدم تكفير اهل القبلة ان لا يكفر بارتكاب المعاصى ولا بانكار الامور الخفية غير المشهورة (نبراس ص ٣٤٢)

اہل قبلہ متکلمین کی اصطلاح میں وہ ہے جو تمام ضروریات دین کی تصدیق کرتا ہو۔ یعنی ان امور کی جن کا ثبوت شریعت میں معلوم و مشہور ہے۔ پس جو انکار کرے کسی چیز کا ضروریات دین میں سے جیسے حدوث عالم اور حشر اور علم اللہ بالجزئیات اور فرضیت نماز روزہ تو وہ اہل قبلہ سے نہ ہوگا۔ اگرچہ وہ طاعات کا پابند ہو اور اسی طرح وہ شخص بھی اہل قبلہ میں سے نہ ہوگا جو کسی ایسے فعل کا ارتکاب کرے جو کہ تکذیب کی کھلی علامت ہے جیسے بت کو سجدہ کرنا یا کسی ایسے امر کا ارتکاب کرے کہ جس امر شرعی کا استہزاء اور اہانت ہو وہ اہل قبلہ نہیں ہے اور اہل قبلہ کی تکفیر نہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ارتکاب معاصی سے اس کی تکفیر نہ کی جائے یا امور خفیہ غیر مشہورہ کے انکار سے اس کی تکفیر نہ کی جائے۔

اور علم عقائد کی معروف و مستند کتاب ”مواقف“ میں ہے:

لايكفر اهل القبلة الا فيما فيه انكار ما علم مجيئه به بالضرورة او اجمع عليه كاستحلال المحرمات .

اہل قبلہ کی تکفیر نہ کی جائے گی مگر اس صورت میں کہ اس میں ضروریات دین کا انکار یا ایسی چیز کا انکار لازم آئے جس پر اجماع ہو چکا ہے جیسے حرام اشیاء کو حلال سمجھنا۔

٣٨

صفحہ ١٦٥

اور شرح فقہ اکبر میں ہے:

ولا يخفى ان المراد بقول علمائنا لا يجوز تكفير اهل القبلة بذنب ليس مجرد التوجه الى القبلة فان الغلاة من الروافض الذين يدعون ان جبرئيل غلط فى الوحى فان الله تعالى ارسله الى علىّ وبعضهم قالوا انه اله وان صلوا الى القبلة ليسوا بمؤمنين وهذا هو المراد بقوله ﷺ من صلى صلوتنا واكل ذبيحتنا فذالك مسلم ٠ (شرح فقه اكبر ص ١٩٩)

یہ بات مخفی نہیں ہے کہ ہمارے علماء کے اس قول کی مراد کہ اہل قبلہ کی تکفیر کسی گناہ کے سبب جائز نہیں۔ محض قبلہ کی طرف رخ کر لینے کی نہیں کیونکہ بعض متشدد روافض ایسے ہیں جو مدعی ہیں کہ جبرئیل نے وحی لانے میں غلطی کی۔ کیونکہ حق تعالیٰ نے ان کو حضرت علیؓ کے پاس بھیجا تھا۔ اور بعض روافض کہتے ہیں کہ حضرت علیؓ معبود ہیں۔ یہ لوگ اگر چہ قبلہ کی طرف نماز پڑھتے رہیں مگر مومن نہیں۔ اور یہی مراد ہے نبی کریم ﷺ کے فرمان کی۔ جو ہماری نماز پڑھے اور ہمارا ذبیحہ کھائے تو یہی مسلم ہے۔

اور کلیات ابوالبقاء میں ہے:

فلانكفر اهل القبلة مالم يات بما يوجب الكفر وهذا من قبيل قوله تعالى ان الله يغفر الذنوب جميعاً مع ان الكفر غير مغفور ومختار جمهور اهل السنة من الفقهاء والمتكلمين عدم اكفار اهل القبلة من المبتدعة المأولة فى غير الضرورية لكون التاويل شبه كما فى خزانة الجزجانى والمحيط البرهانى و احكام الرازى و اصول البزدوى و رواه الكرخى والحاكم الشهيد عن الامام ابى حنيفة والجزجانى عن الحسن بن زياد و شارح المواقف و المقاصد والامدى عن الشافعى والاشعرى لا مطلقا

(كليات ابى البقاء ص ٥٥٤)

پس ہم اہل قبلہ کی تکفیر نہ کریں گے جب تک ان سے موجبات کفر کا صدور نہ ہو۔ اور یہ اسی طرح ہے جیسے حق تعالیٰ کا فرمان ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے باوجود اس کے کفر غیر مغفور ہے۔ اور مذہب جمہور اہل السنّت کا فقہاء و متکلمین میں سے بدعتی جو تاویلات کرتے ہیں غیر ضروریات دین میں۔ ان کے متعلق یہ ہے کہ ان کی تکفیر نہ کی جائے۔ جیسا کہ خزانہ جرجانی،

٣٩

صفحہ ١٦٦

اور محیط برہانی اور احکام رازی اور اصول بزدوی میں ہے۔ اور یہی روایت کیا ہے کرخی اور حاکم شہید نے امام ابو حنیفہؒ سے اور جرجانی سے حسن بن زیاد سے اور شارح مواقف اور المقاصد اور آمدی نے شافعی سے اور اشعری سے۔

اور فتح المغیث شرح الفیۃ الحدیث میں ہے:

اذ لا نكفر احدا من اهل القبلة الا بانكار قطعي من الشريعة (ص ١٤٢) ہم اہل قبلہ میں سے کسی کی تکفیر نہیں کرتے مگر بسبب انکار کے کسی قطعی حکم شرع کا۔

اور امام ربانی مجدد الف ثانیؒ نے اپنے مکتوبات میں تحریر فرمایا ہے:

و چوں ایں فرقہ مبتدعہ اهل قبله اند در تکفیر آنها جرات نباید نمود تا زمانی که انکار ضروریات دینیه ننمایند و رد متواترات احکام شرعیه نکنند و قبول ما علم مجيئه من الدين بالضرورة نکنند،

(مکتوبات

ص ٣٨ ج ٢ ص ٦/٨)

اور چونکہ یہ فرقہ مبتدعہ اہل قبلہ میں اس لئے ان کی تکفیر میں جرات نہیں کرنی چاہئے جب تک کہ یہ ضروریات دین کا انکار اور متواترات احکام شرعیہ کا رد نہ کریں اور ضروریات دین کو قبول نہ کریں۔

عقائد عضدیہ میں ہے:

لا نكفر احدا من اهل القبلة الا بما فيه نفی الصانع المختار او بما فيه شرك او انکار النبوة و انکار ما علم من الدين بالضرورة او انکار مجمع عليه واما غير ذلك فالقائل مبتدع وليس بكافر،

ہم اہل قبلہ میں سے کسی کی تکفیر نہیں کریں گے مگر اس سبب سے کہ اس میں حق تعالیٰ کے وجود کی نفی ہو اور یا جس میں شرک ہو یا انکار نبوت ہو یا ضروریات دین کا انکار ہو یا کسی مجمع علیہ امر کا انکار ہو اور اس کے سوا۔ پس اس کا قائل مبتدع ہے کافر نہیں۔

کسی مدعی اسلام کی تکفیر میں انتہائی احتیاط

مذکور الصدر تقریر سے یہ تو معلوم ہوگیا کہ ہر قبلہ کی طرف منہ کرنے والے کو اہل قبلہ نہیں کہتے۔ یہ شریعت کا ایک اصطلاحی لفظ ہے جو صرف ان لوگوں کے حق میں بولا جاتا ہے جو ہمارے

٤٠

صفحہ ١٦٧

قبلہ کی طرف نماز پڑھیں اور ضروریات دین میں سے کسی چیز کا انکار یا تحریف نہ کریں۔ جس کی بناء پر بہت سے ایسے لوگوں کو بھی کافر قرار دینا پڑے گا جو اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں اور نماز روزہ بھی ادا کرتے ہیں قرآن کی تلاوت اور حج وزکوۃ بھی کرتے ہیں مگر اسلام کے قطعی اور ضروری احکام میں سے کسی حکم کے منکر ہیں۔

لیکن اس جگہ ایک دوسری بے احتیاطی کا خطرہ ہے کہ مسلمانوں میں باہمی تکفیر کا دروازہ کھل سکتا ہے جو ان کے لئے تباہی کا راستہ ہے اور ایک زمانہ سے یہ خطرہ صرف خطرہ ہی نہیں رہا۔ بلکہ ایک واقعہ بن گیا ہے۔ کہ حقائق دین سے ناواقف کچھ نام کے علماء نے یہ پیشہ بنا لیا کہ ذرا ذرا سی بات پر مسلمان کو کافر قرار دینے لگے۔ باہمی کفر کے فتوے چلنے لگے اس میں ان لوگوں کو کتب فقہ کے ان مسائل سے بھی دھوکا لگا جو کلمات کفریہ کے نام سے بیان کئے جاتے ہیں کہ فلاں فلاں باتیں کلمہ کفر ہیں جن کا حاصل اس کے سوا نہیں کہ جس کلمہ سے قطعیات اسلام میں سے کسی چیز کا انکار نکلتا ہے۔ اس کو کلمہ کفر قرار دیا گیا لیکن اس کے ساتھ ہی حضرات فقہاء نے اس کی بھی تصریح فرمادی ہے کہ ان کلمات کے کلمات کفر ہونے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ جس شخص کی زبان سے یہ کلمات نکلیں اس کو بے سوچے سمجھے اور بدون تحقیق مراد کے کافر کہہ دیا جائے۔ جب تک یہ ثابت نہ ہو جائے کہ اس کی مراد وہی معنی و مفہوم ہیں جو کافرانہ عقیدہ یا کسی ضروری اسلام کا انکار ہے۔

لیکن حقیقت حال سے ناواقف لوگوں نے ان کلمات ہی کو فیصلہ کا مدار بنالیا۔ اور تکفیر بازی شروع کر دی جس کی ایک بھاری مضرت تو یہ ہوئی کہ ایک مسلمان کو کافر کہنا بڑا سخت معاملہ ہے جس کے اثرات پورے اسلامی معاشرہ پر پڑتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس میں اپنے ایمان کا خطرہ ہوتا ہے جس کا بیان گزر چکا ہے دوسری طرف اس تکفیر بازی سے یہ شدید نقصان پہنچا کہ فتوائے کفر ایک معمولی چیز ہوکر رہ گئی ہے۔ جو مدعی اسلام درحقیقت کافر ہیں ان کو یہ کہنے کا موقع مل گیا کہ لوگ تو ایک دوسرے کو کافر کہا ہی کرتے ہیں ہم بھی اس تکفیر بازی کے شکار ہیں۔

اس لئے ضروری معلوم ہوا کہ اس جگہ یہ بھی واضح کردیا جائے کہ کسی ایسے شخص کو جو اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہے کو کافر قرار دینے میں انتہائی احتیاط لازم ہے معمولی باتوں پر یا کسی محتمل اور مبہم کلام پر بغیر تحقیق مراد کے ایسا فتویٰ دینے میں اپنے ایمان کا خطرہ ہے اس بے

٤١

صفحہ ١٦٨

احتیاطی کے متعلق امام غزالیؒ کا مفصل مقالہ آپ اوپر ملاحظہ فرما چکے ہیں۔ مزید توضیح و تاکید کے لئے مندرجہ ذیل سطور اور لکھی جاتی ہیں۔

تکفیر مسلم خود کفر ہے

حدیث صحیح میں رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے:

”عن ابی سعيد الخدریؓ قال قال رسول الله ﷺ ما اكفر رجل رجلا الا باء احدهما ان كان كافر او الا كفر بتكفيره (ترغيب والترهيب للمنذرى ج ٣ ص ٤٥٧ حديث نمبر ٤٠٨٩) وفى رواية فقد وجب الكفر على احدهما، اكفار الملحدين ص ٥٠“

حضرت ابو سعید خدریؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا نہیں تکفیر کرتا کوئی شخص کسی شخص کی مگر ان دونوں میں سے ایک کفر کا مستحق ہو جاتا ہے۔ کیونکہ اگر وہ شخص فی الواقع کافر تھا تب تو وہ کافر ہوا ہی۔ ورنہ یہ تکفیر کرنے والا اس کی تکفیر کے سبب کافر ہو گیا۔ اور ایک روایت میں کہ ان دونوں میں سے ایک پر کفر واجب ہو گیا۔

ایک شبہ اور جواب: خلاصہ یہ ہے کہ جس شخص کو کافر کہا گیا ہے اگر وہ واقع میں کافر نہیں ہے تو کہنے والا کافر ہو جائے گا۔ لیکن کفر کی جو تعریف بنص قرآن اوپر لکھی گئی ہے۔ وہ بظاہر اس شخص پر منطبق نہیں ہوتی جس نے کسی کو بلاوجہ شرعی غلط طور پر کافر کہہ دیا۔ کیوں کہ ایسا کہنے والے نے نہ خدا کی تکذیب کی اور نہ اس کے رسول کی اسی لئے بعض فقہا نے اس کو محض تہدید و تخویف پر محمول کیا ہے۔ جیسے ترک صلوٰۃ پر فقد کفر کے الفاظ بطور تہدید کے آئے ہیں جن سے حقیقی کفر مراد نہیں۔

اور مختصر مشکل الاثار میں (حسب منقول از اکفار الملحدین ص ٥١) اور امام غزالیؒ نے اپنی کتاب ”ایثار الحق علی الخلق ص ٤٢٢“ میں اس کا یہ مطلب قرار دیا ہے کہ کسی کو کافر کہنے سے اس جگہ یہ مراد ہے کہ اس کے عقائد و خیالات کفر ہیں تو اگر فی الواقع اس کے عقائد میں کوئی چیز کفر کی نہیں بلکہ سب عقائد ایمان کے ہیں تو گویا ایمان کو کفر کہنا لازم آئے گا اور ایمان کو کفر کہنا بلاشبہ اللہ اور رسول کی تکذیب ہے۔ قرآن کا ارشاد ہے:

ومن يكفر بالايمان فقد حبط عمله (مائدة ٥) جو شخص ایمان سے انکار

٤٢

صفحہ ١٦٩

کرے اس کے عمل ضائع ہو گئے۔

حاصل یہ ہے کہ جس شخص کے عقائد میں کوئی چیز کفر کی نہیں خواہ اعمال اس کے کتنے ہی خراب ہوں اس کو کافر کہنا جائز نہیں۔ بلکہ ایسے شخص کو کافر کہنے سے خود کہنے والے کا ایمان خطرہ میں پڑ جاتا ہے۔ کیوں کہ اس کو کافر کہنے کا حاصل یہ ہوتا ہے کہ گویا ایمان کو کفر کہہ رہا ہے۔ اس تقریر سے یہ بھی واضح ہو گیا کہ جس شخص کے عقائد میں کوئی عقیدہ کفریہ ہے اس کی وجہ سے اگر کسی نے اس کو کافر کہہ دیا تو کہنے والا باتفاق کافر نہیں ہوگا کیوں کہ اس نے ایمان کو کفر قرار نہیں دیا۔ اگر چہ حضرات فقہاء اور علمائے محققین نے ایسی حالت میں بھی اس کو کافر کہنے میں جلد بازی کرنے سے سختی سے منع کیا ہے۔ جب تک کہ اس کے عقیدہ کفریہ یا کلمہ کفریہ کی کوئی جائز تاویل ہو سکتی ہے اس کو کافر کہنا جائز نہیں سمجھا۔ تاہم اگر کسی کے کسی عقیدہ یا کلمہ کفر کو سن کر جلد بازی میں کافر کہہ دیا تو کہنے والا باجماع فقہاء کافر نہیں ہوگا۔

اسی طرح اگر کسی شخص کو کسی کے متعلق غلط خبر یا غلط فہمی یا کسی اور وجہ سے کسی عقیدہ کفریہ کا دھوکا اور مغالطہ ہوا۔ مثلاً اس کو خیال ہوا کہ فلاں آدمی نے معاذ اللہ کسی نبی کی توہین کی ہے یا اللہ تعالیٰ کی شان میں گستاخی کی ہے تو ایسی صورت میں لازم تو یہ تھا وہ اس خیال کی تحقیق کرتا اور خلاف واقعہ پا کر بدگمانی سے باز آ جاتا۔ لیکن اس نے بے احتیاطی سے محض اپنے خیال کی بناء پر اس کو کافر کہہ دیا۔ اس صورت میں بھی کہنے والے نے چونکہ ایمان کو کفر نہیں کہا اس لئے کہنے والا کافر نہیں ہو گا یہ دوسری بات ہے کہ بے احتیاطی کی وجہ سے گنہگار ہو۔

حضرات فقہاء نے اس معاملہ میں اس درجہ احتیاط کا حکم دیا ہے کہ اگر کسی شخص سے کوئی مشتبہ کلام سرزد ہو جائے جس میں سو احتمال میں سے ننانوے احتمالات مضمون کفر ہونے کے ہوں اور صرف ایک احتمال عبارت میں اس کا بھی ہو کہ اس کے کوئی صحیح اور جائز معنی بن سکتے ہوں تو مفتی پر لازم ہے کہ ننانوے احتمالات کو چھوڑ کر اسی ایک احتمال کی طرف مائل ہو اور اس کو کافر کہنے سے باز رہے۔ بشرطیکہ وہ خود اپنے کسی قول و فعل سے اس کی تصریح نہ کر دے کہ اس کی مراد وہی معنی ہیں جن سے کفر عائد ہوتا ہے۔ فتاویٰ عالمگیری میں اسی مضمون کو اس طرح بیان کیا گیا ہے:

”اذا كان فى المسئلة وجوه توجب الكفر ووجه واحد يمنع فعلى المفتى ان يميل الى ذلك الوجه الا اذا صرح بارادة ما يوجب الكفر فلا ينفعه التأويل حينئذ . “ جب کسی مسئلہ میں متعدد وجوہ کفر کی موجب ہوں اور ایک وجہ مانع کفر ہو تو

٤٣

صفحہ ١٧٠

مفتی کے ذمہ ضروری ہے کہ اس ایک وجہ کی طرف مائل ہو مگر جبکہ قائل اس وجہ کی تصریح کردے جو موجب کفر ہے تو پھر تاویل سے اس وقت کوئی فائدہ نہ ہوگا۔

تنبیہ : یہ معلوم ہونا چاہئے کہ فقہا کے اس کلام کے یہ معنی نہیں جو بعض جہلاء نے سمجھے ہیں کہ کسی شخص کے عقائد واقوال میں ایک عقیدہ و قول بھی ایمان کا ہو تو اس کو مومن سمجھو کیونکہ یہ معنی ہوں تو پھر دنیا میں کوئی کافر حتیٰ کہ شیطان ابلیس بھی کافر نہیں رہتا۔ کیونکہ ہر کافر کا کوئی نہ کوئی عقیدہ اور قول تو ضرور ہی ایمان کے موافق ہوتا ہے بلکہ مقصد حضرات فقہاء کا یہ ہے کہ کسی شخص کی زبان سے نکلا ہوا کوئی کلمہ جو لغت و عرف کے اعتبار سے مختلف معانی پر محمول ہو سکتا ہے جن میں ایک معنی کے اعتبار سے یہ کلمہ عقیدہ کفریہ سے نکل جاتا ہے اور دوسرے تمام معانی اس کو عقیدہ کفریہ ٹھہراتے ہیں تو ایسی حالت میں مفتی پر لازم ہے کہ اس کے کلام کو صحیح معنی پر محمول کر کے اس کو مومن ہی قرار دے بشرطیکہ وہ خود ایسی تصریح نہ کر دے کہ اس کی مراد معنی کفری ہیں۔

الغرض حدیث مذکور میں کسی مسلمان کو غلط طور پر کافر کہنے کو خود کہنے والے کے لئے کفر قرار دیا ہے خواہ محض تہدید و تخویف کے لئے ہو جیسا کہ بعض فقہاء نے سمجھا ہے (اليواقيت للشعرانی ) یا اس سے حقیقتاً کفر مراد ہو بہر دو صورت حدیث سے یہ نتیجہ ضرور نکلتا ہے کہ کسی مدعی اسلام کو کافر کہنے میں سخت احتیاط لازم ہے۔ اور اسی بناء پر محققین علماء و فقہاء نے ایسے کلمات و عقائد کی بناء پر جن کے کفر ہونے میں علماء کا اختلاف ہو یا اس کے کوئی صحیح معنی کسی تاویل جائز سے بن سکتے ہوں۔ کسی مسلمان کی تکفیر کو جائز نہیں سمجھا۔

احتیاط کا دوسرا پہلو

جس طرح فروعی اختلافات کی وجہ سے یا کسی محتمل اور مبہم کلام کی وجہ سے یا کسی ایسے عقیدہ و کلمہ کی وجہ سے جس کے کفر ہونے میں علماء کا اختلاف ہو کسی مسلمان کو کافر کہنا سخت بے احتیاطی اور اپنے ایمان کو خطرہ میں ڈالنا ہے کیونکہ اس صورت میں ایمان کو کفر کہنا لازم آتا ہے ٹھیک اسی طرح کسی یقینی کافر کو مسلمان ٹھہرانا بھی نہایت خطرناک جرم اور اپنے ایمان کو خطرہ میں ڈالنا ہے۔ کیونکہ اس سے کفر کو ایمان قرار دینا لازم آتا ہے اور یہ ظاہر ہے کہ ایمان کو کفر یا کفر کو ایمان قرار دینا اگر اپنے اختیار و ارادہ سے ہو تو بلاشبہ کفر ہے ورنہ کفر کے خطرہ سے تو خالی نہیں۔

٤٤

صفحہ ١٧١

علاوہ ازیں کسی کافر کو مسلمان کہہ دینا محض ایک لفظی سخاوت نہیں بلکہ پوری ملت اور اسلامی معاشرہ پر ظلم عظیم ہے۔ کیونکہ اس سے پوری ملت کا معاشرہ متاثر ہوتا ہے نکاح، نسب، میراث، ذبیحہ، امامت نماز اور اجتماعی اور سیاسی حقوق سبھی پر اثر پڑتا ہے اس لئے کفر کی وہ صورت جس کو حسب تقریر مذکور اصطلاح شرع میں زندقہ اور الحاد کہا جاتا ہے جس میں ایک شخص خدا اور رسول کے ماننے کا دل اور زبان سے معترف بھی ہے اور نماز روزہ حج زکوٰۃ وغیرہ شعائر اسلام کا پابند بھی ہے مگر اس کے ساتھ کچھ عقائد کفریہ رکھتا ہے یا ضروریات دین میں تاویل باطل کر کے احکام دین کی تحریف کرتا ہے۔ اس کا معاملہ نہایت خطرناک مزلۃ الاقدام ہے اس میں ذرا سی بے احتیاطی ایک حقیقی مسلمان کو اسلام سے خارج بھی کر سکتی ہے اور ایک دشمن اسلام کافر کو اسلامی برادری کا مار آستین بھی بنا سکتی ہے اور یہ دونوں خطرے ملت کے لئے بڑے عظیم اور ان کے عواقب و نتائج نہایت دور رس ہیں۔

نوٹ: اس سے آگے وصول الافکار الی اصول الاکفار‘‘ کا خلاصہ تھا۔ اسے حذف کر دیا ہے۔ متذکرہ بالا رسالہ مکمل اس جلد میں شامل اشاعت ہے۔ مرتب!

PDF 172

سالانہ رد قادیانیت کورس

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ہر سال ٥ شعبان سے ٢٨ شعبان تک مدرسہ ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر ضلع جھنگ میں ”رد قادیانیت وعیسائیت کورس“ ہوتا ہے۔ جس میں ملک بھر کے نامور علماء کرام و مناظرین لیکچرز دیتے ہیں۔ علماء ، خطباء اور تمام طبقہ حیات سے تعلق رکھنے والے اس میں داخلہ لے سکتے ہیں۔ تعلیم کم از کم درجہ رابعہ یا میٹرک پاس ہونا ضروری ہے۔ ............ رہائش ، خوراک ، کتب و دیگر ضروریات کا اہتمام مجلس کرتی ہے۔

رابطہ کے لئے

(مولانا) عزیز الرحمن جالندھری

ناظم اعلیٰ : عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان

PDF 173

اَنَا خَاتَمُ النَّبِیّٖنَ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ

میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں

البیان الرفیع

(بیان در مقدمہ بہاول پور)

حضرت مولانا مفتی محمد شفیع دیوبندیؒ

صفحہ ١٧٤

بسم الله الرحمن الرحیم!

تعارف

حامداً ومصلیاً!

عالم نبیل فاضل جلیل مولانا مفتی محمد شفیع صاحب سابق مفتی دارالعلوم دیوبند بہت بلند پایہ فاضل تھے۔ مدتوں تک دارالعلوم دیوبند میں مفتی کے عہدہ جلیلہ پر فائز رہے ہیں۔ فتنہ مرزائیہ کی تردید میں آپ کی بہت سی مصنفات ہیں۔ مگر ختم نبوت تین حصوں میں ایک لاجواب تصنیف ہے۔ آپ کا بیان ٢١/ اگست ١٩٣٢ء کو ڈسٹرکٹ جج صاحب بہاولپور کی عدالت میں ہوا۔ بیان ٧ بجے صبح سے شروع ہوا اور گیارہ بجے مختار مدعاعلیہ نے جرح کی جو ٢١/ اگست کو ١ بجے ختم ہوئی۔ مفتی صاحب نے مختار مدعاعلیہ کی جرح کے مسکت جواب دیئے اور مرزائیت کے کفر و ارتداد کو روز روشن کی طرح واضح کر دیا۔ مفتی صاحب کا یہ بیان جن معارف و حقائق علمیہ کا خزینہ ہے۔ اس کا صحیح اندازہ پڑھنے سے ہو سکتا ہے۔ اسے اس مجموعہ میں شائع کرنے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں۔ مرتب!

بسم الله الرحمن الرحیم!

منکر ختم نبوت بالاجماع کافر و مرتد ہے

میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ نہ صرف میرے نزدیک بلکہ تمام علمائے امت کے نزدیک یہ متفقہ مسئلہ ہے کہ جو شخص نبی کریم ﷺ کے بعد کسی قسم کی نبوت کا دعویٰ کرے یا ختم نبوت کا انکار کرے وہ کافر و مرتد ہے اور اسکا نکاح کسی مسلمان عورت سے جائز نہیں۔ اگر نکاح کے بعد یہ عقائد اختیار کرے تو نکاح فسخ ہو جاتا ہے اور بغیر حکم قاضی اور بلا عدت اسے دوسرا نکاح کرنے کا اختیار ہوگا۔ اس کے ثبوت کیلئے سب سے پہلے میں عدالت کی توجہ اس طرف مبذول کراتا ہوں۔ کہ کس وقت ایک مسلمان کو کن افعال یا اقوال کی بناء پر کافر کہا جاسکتا ہے۔ یہ بات مسلم ہے کہ خدائے تعالیٰ یا اس کے رسول کا انکار کفر ہے۔ لیکن یہ بات ذرا توضیح طلب ہے کہ رسول کے

٢

صفحہ ١٧٥

انکار کے کیا معنی ہیں؟۔

رسول ﷺ کے انکار کے معنے

میں سب سے پہلے ایک آیت پیش کرتا ہوں۔ قرآن شریف میں ارشاد ہے: ”فلا وربك لا يؤمنون حتى يحكموك فيما شجر بينهم ثم لا يجدوا في انفسهم حرجا مما قضيت ويسلموا تسليما ٠ نساء ٦٥“

اس آیت میں صراحتہً بیان کیا گیا ہے کہ وہ شخص ہرگز مومن نہیں ہو سکتا جو آنحضرت ﷺ کو اپنے تمام معاملات میں حکم نہ بنائے اور آپ ﷺ کے فیصلہ کو ٹھنڈے دل سے قبول نہ کرے۔ اس آیت کی تفصیل میں حضرت امام جعفر صادقؒ فرماتے ہیں کہ: ”لو ان قوما عبدوا الله تعالى واقاموا الصلوٰة واتوا الزکوٰة وصاموا رمضان وحجوا البيت ثم قالوا لشئى صنعه رسول الله ﷺ الا صنع خلاف ماصنع او وجدوا فى انفسهم حرجاً لكانوا مشركين . “

(روح المعانی ج ٢ جز ٥ ص ٦٥)

جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی قوم یا جماعت خدا کی عبادت کرے۔ نماز پڑھے زکوٰۃ دے، روزے رکھے اور سارے اسلامی کام ادا کرے۔ لیکن آنحضرت ﷺ کے کسی فعل پر حرف گیری کرے وہ مشرک ہے۔

خدا اور رسول ﷺ کے حکم کا انکار کفر ہے

اس بناء پر تمام علمائے امت کا اتفاق ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا انکار کفر ہے۔ اسی طرح اس کے کسی ایک حکم کا نہ ماننا بھی کفر ہے۔

ابلیس کا کفر انکارِ حکم کی وجہ سے ہے

سب سے پہلا کافر ابلیس مانا جاتا ہے۔ وہ اسی قسم کا منکر ہے۔ وہ خدا کا منکر نہیں صرف خدا کے ایک حکم نہ ماننے کی وجہ سے کافر مانا گیا ہے۔ اس لئے میں اس کے متعلق چند علماء کی عبارتیں پیش کرتا ہوں:

اهل القبلة) ليس بكافر مالم يخالف ماهو من ضروريات الدين“ اس کے بعد اسی کتاب میں ہے: ”فلا نزاع فی کون اهل القبلة المواظب طول العمر علی

٣

صفحہ ١٧٦

الطاعات با عتقاد نفى الحشر ونفى العلم با لجزيات او نحو ذالك كذالك بصدور شئى من موجبات الكفر عنه “ اس عبارت کا مطلب یہ ہے کہ اس میں کسی کو اختلاف نہیں کہ اہل قبلہ میں سے جو شخص ساری عمر مداومت کرنے والا ہو ۔ جب وہ قدم عالم کا قائل ہو جائے یا حشر کا انکار کرے یا اس کے امثال کا تو وہ کافر ہے یا ایسا ہی کوئی اور حکم موجبات کفر میں سے اس سے صادر ہو۔

اہل قبلہ کا معنی

حضرت ملا علی قاریؒ تحریر کرتے ہیں: ”اعلم ان المراد باهل القبلة الذين اتفقوا على ماهو من ضروريات الدين كحدوث العالم وحشر الا جساد و علم الله بالكليات والجزئيات وما اشبه ذالك من المسائل فمن واظب طول عمره على الطاعات والعبادات مع اعتقاد قدم العالم ونفى الحشر ونفى علمه سبحانه بالجزيات ولا يكون من اهل القبلة وان المراد بعدم تكفير احد من اهل القبلة عند اهل السنة انه لا يكفر مالم يوجد شئى من امارات الكفر وعلاماته ولم يصدر عنه شئى من موجباته ، شرح فقه اكبر ص ١٨٩ “

یعنی اہل قبلہ (جن کی تکفیر نہیں کی جاتی) سے وہ لوگ مراد ہیں ۔ جو ضروریات دین پر متفق ہوں ۔ تو جو شخص ساری طاعات و عبادات پر مداومت کرے ۔ مگر قدم عالم اور نفی حشر کا قائل ہو ۔ وہ اہل قبلہ نہیں ہے اور اہل قبلہ کی تکفیر نہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ جب تک کوئی چیز علامات کفر میں سے اس میں نہ پائی جائے ۔ اس وقت تک اس کی تکفیر نہ کی جائے ۔ علامہ شامی در المختار جلد اول ص ٤١٤ / ٤١٥ باب الامامة میں ہے: ”لا خلاف فی کفر المخالف فی ضروريات الاسلام من حدوث العالم وحشر الا جساد و نفى العلم با الجزئيات وان كان من اهل القبلة المواظب طول عمره على الطاعات كمافى شرح التحرير “

یعنی امت میں کسی کو اس میں اختلاف نہیں کہ جو شخص ضروریات اسلام کا مخالف ہو۔ وہ کافر ہے۔ اگر چہ اہل قبلہ سے ہو اور ساری عمر عبادات پر مداومت کرے۔ یہی مضمون ، بحر الرائق ۔ شرح کنز باب المرتدین اور غایۃ التحقیق شرح حسامی اور کشف الاصول میں ہے۔ نیز اس میں علمائے

٤

صفحہ ١٧٧

محققین کی تحقیق اس طرح نقل فرمائی ہے: ”اهل القبلة فی اصطلاح المتکلمین من یصدق بضروریات الدین ای الامور التی علم ثبوتهافی الشرع واشتهر . النبراس شرح شرح العقائد ص ٣٤٢“

”یعنی متکلمین کی اصطلاح میں اہل قبلہ وہ شخص ہے جو تمام ضروریات دین کی تصدیق کرے۔ یعنی وہ امور جن کا ثبوت شریعت میں معلوم و مشہور ہے۔“ جو شخص ضروریات دین میں کسی چیز کا انکار کرے۔ وہ اہل قبلہ میں سے نہیں ۔ اگر چہ اطاعات میں انتہائی کوشش کرنے والا ہو۔ ایسے ہی وہ شخص جو کسی ایسے کام کا مرتکب ہو۔ تکذیب رسول کی علامت ہے۔ جیسے توہین کسی امر شرعی کی یا کسی امر شرعی کا استہزاء کرنا۔

یہاں تک کہ علمائے محققین کی چند شہادت اس بات پر پیش کی ہیں کہ جیسا کہ آنحضرتﷺ کا انکار کفر ہے۔ اسی طرح آپﷺ کے احکام میں سے کسی ایک قطعی حکم کا انکار بھی کفر ہے۔ قطعی الثبوت سے میرا مطلب وہ حکم ہے جو اسلام میں ایسا مشہور و معروف ہے کہ امت قرون اولیٰ سے لے کر آج تک ایسا ہی سمجھتی چلی آئی ہے۔

قطعی الثبوت اور ضروریات دین میں فرق

قطعی الثبوت اور ضروریات دین میں اتنا فرق ہے کہ ضروریات دین ان کو کہا جاتا ہے۔ جن کا ثبوت تواتر کو پہنچ کر ایسا ہی واضح ہو گیا ہو کہ تمام امت اسے ہمیشہ ایسا ہی جانتی رہی ہو۔ قطعی الثبوت وہ چیز ہے جس کا ثبوت آنحضرت علیہ الصلوٰۃ والسلام سے علمی قواعد کی بنا پر قطعی ہو۔ خواہ امت کا کوئی فرد اسے نہ جانتا ہو۔ اس لئے قطعی الثبوت کے انکار کو اس وقت کفر کہا جائے گا۔ جبکہ اس کی تبلیغ اس کو کر دی جائے۔ ضروریات دین کا منکر مطلق کافر ہے۔ اس میں تبلیغ کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہ بات جو میں نے علماء کی تحقیق سے پیش کی ہے۔ خود مرزا قادیانی اور اس کے متبعین کی کتابوں میں موجود ہے۔ مرزا قادیانی لکھتا ہے:

”کیونکہ کافر کا لفظ مومن کے مقابلے پر ہے اور کفر دو قسم ہے۔ ایک یہ کفر کہ ایک شخص اسلام سے ہی انکار کرتا ہے اور آنحضرتﷺ کو خدا کا رسول نہیں مانتا۔ دوسرا یہ کفر کہ مثلاً وہ مسیح موعود کو نہیں مانتا اور اس کو باوجود اتمام حجت کے جھوٹا جانتا ہے۔ جس کے ماننے اور سچا جاننے کے بارے میں خدا اور رسول نے تاکید کی ہے۔ اور پہلے نبیوں کی کتابوں میں بھی تاکید پائی جاتی ہے

٥

صفحہ ١٧٨

پس اس لئے کہ وہ خدا اور رسول کے فرمان کا منکر ہے۔ کافر ہے۔ اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ دو قسم کے کفر ایک ہی قسم میں داخل ہیں۔‘‘

(حقیقت الوحی ص ٧٩، خزائن ج ٢٢ ص ١٨٥)

اور اسی کتاب میں لکھتا ہے: ’’علاوہ اس کے جو مجھے نہیں مانتا۔ وہ خدا اور رسول کو نہیں مانتا۔‘‘

(حقیقت الوحی ص ١٦٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٦٨)

نیز مسٹر محمد علی ایم اے لاہوری اپنی تفسیر بیان القرآن ص ٥٧٤ میں آیت کریمہ: ’’ان الذين يكفرون بالله ورسله ويريدون ان يفرقوا بين الله ورسله‘‘ کے تحت میں لکھتا ہے کہ: ’’اللہ اور اس کے رسولوں میں تفریق سے صرف یہ مراد نہیں کہ اللہ کو مان لیا اور رسولوں کا انکار کر دیا۔ جیسے براہمن ہیں بلکہ یہ بھی کہ بعض رسولوں کو مان لیا اور بعض کا انکار کر دیا۔ جیسے تمام اہل کتاب کی حالت ہے اور یہ اس لئے کہ اللہ کے کسی رسول کا انکار گویا اللہ ہی کا انکار ہے۔‘‘

نیز (مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ) واشهد اننا نتمسك بكتاب الله القران ونتبع اقوال رسول الله منبع الحق والعرفان ونقبل ما انعقد عليه الاجماع بذلك الزمان لا نزيد عليها ولا ننقص منها وعليها نحي وعليها نموت ومن زاد على هذه الشريعة مثقال ذرة او نقص منها او كفر بعقيدة اجماعية فعليه لعنة الله والملئكة والناس اجمعين .‘‘

(انجام آتھم ص ١٤٤، خزائن ج ١١ ص ١٤٤)

’’گواہ رہو کہ ہم اللہ تعالیٰ کی کتاب قرآن سے تمسک کرتے ہیں اور رسول کے اقوال کا اتباع کرتے ہیں، جو حق اور معرفت کا چشمہ ہے اور ہم ان چیزوں کو قبول کرتے ہیں۔ جس پر اس زمانہ میں اجماع منعقد ہوا۔ نہ اس پر زیادتی کرتے ہیں اور نہ کمی اسی پر زندہ رہیں گے اور اسی پر مریں گے جو شخص مقدار ایک شوشہ کے زیادتی کرے یا کمی کرے۔ اس پر اللہ کی لعنت، ملائکہ کی لعنت، تمام آدمیوں کی لعنت، یہ میرا عقیدہ ہے۔‘‘

ان عبارتوں سے یہ بات واضح ہو گی کہ علمائے اسلام کے نزدیک متفقہ طور پر خود مرزا قادیانی کے نزدیک جس طرح رسول کا انکار کفر ہے۔ اسی طرح اسلام کے کسی اجماعی عقیدہ یا ضروریات دین میں سے کسی چیز کا انکار بھی کفر ہے۔

٦

صفحہ ١٧٩

مرزا نے بہت سے ضروریات دین کا انکار کیا ہے

اس کے بعد میں یہ پیش کرنا چاہتا ہوں کہ مرزا قادیانی نے ضروریات دین میں سے بہت سی چیزوں کا انکار کیا اور اسی بناء پر وہ باجماع امت کافر و مرتد ہیں۔ اس وقت ان ضروریات دین سے پہلی چیز ختم نبوت کا انکار ہے اور نبوت کا دعویٰ اور وحی اور شریعت مستقلہ کا دعویٰ ہے۔ نبوت کے دعویٰ کا خود مدعا علیہ کو اپنے بیان میں اقرار ہے۔ اس لئے کسی حوالہ کی ضرورت نہیں۔

وحی اور شریعت مستقلہ کے دعویٰ کے ثبوت میں مرزا قادیانی کے اقوال ذیل پیش کرتا ہوں کہ: ”سچا خدا وہی ہے کہ جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔“

(دافع البلاء ص ١١‘ خزائن ج ١٨ ص ٢٣١)

یہی مضمون اور دعویٰ: ”اور ہرگز ممکن نہیں کہ کوئی شخص جھوٹا ہو کر اور خدا پر افتراء کر کے آنحضرت کے زمانہ نبوت کے موافق یعنی ٢٣ برس تک مہلت پاسکے۔ ضرور ہلاک ہوگا۔“

(اربعین جز ٤ ص ٥‘ خزائن ج ١٧ ص ٤٣٤)

ایک اور جگہ لکھا ہے کہ: ”حق یہ ہے کہ خدا وند تعالیٰ کی وہ پاک وحی جو مجھ پر نازل ہوتی ہے۔ اس میں ایسے الفاظ رسول اور مرسل اور نبی کے موجود ہیں۔ نہ ایک دفعہ بلکہ صدہا دفعہ (اس کے اوپر الفاظ یہ ہیں) کہ چند روز ہوئے کہ ایک مخالف کی طرف سے یہ اعتراض پیش ہوا۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٦‘ خزائن ج ١٨ ص ٢٠٦)

”اسی طرح اوائل میں میرا بھی عقیدہ تھا کہ مجھ کو مسیح ابن مریم سے کیا نسبت ہے۔ وہ نبی ہے اور خدا کے بزرگ مقربین سے ہے اور اگر کوئی امر میری فضیلت کی نسبت ظاہر ہوتا تو میں اس کو جزئی فضیلت قرار دیتا تھا۔ مگر بعد میں جو خدا تعالیٰ کی وحی کی بارش کی طرح میرے پر نازل ہوئی۔ اس نے مجھے اس عقیدہ پر قائم نہ رہنے دیا اور صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا۔“

(حقیقت الوحی ص ١٤٩‘ خزائن ج ٢٢ ص ١٥٣‘ ١٥٤)

”اب ظاہر ہے کہ ان الہامات میں میری نسبت بار بار بیان کیا گیا ہے کہ یہ خدا کا فرستادہ اور خدا کا مامور خدا کا امین اور خدا کی طرف آیا ہے جو جو کچھ کہتا ہے۔ اس پر ایمان لاؤ اور اس کا دشمن جہنمی ہے۔“

(انجام آتھم ص ٦٢‘ خزائن ج ١١ ص ٦٢)

٧

صفحہ ١٨٠

اور مرزا قادیانی لکھتا ہے کہ: ”مجھے اپنی وحی پر ایسا ہی ایمان ہے۔ جیسے توراۃ اور انجیل اور قرآن مجید پر تو کیا مجھ سے توقع ہو سکتی ہے کہ میں ان کے ظنیات بلکہ موضوعات کے ذخیرہ کو سن کر اپنے یقینیات کو چھوڑ دوں گا۔“

(اربعین نمبر ٣ ص ١٩ خزائن ج ١٧ ص ٤٥٤)

”اسی طرح میں اسکی اس پاک وحی پر ایسا ہی ایمان لاتا ہوں۔ جیسا کہ ان تمام خدا کی وحیوں پر ایمان لاتا ہوں جو مجھ سے پہلے ہو چکی ہیں۔“

(حقیقت الوحی ص ١٥٠ خزائن ج ٢٢ ص ١٥٤)

مرزا قادیانی کے اقوال اس بارہ میں اگر جمع کئے جاویں تو اور بھی بہت سے ہیں۔ لیکن ان سے بقدر ضرورت یہ بات معلوم ہوگئی کہ مرزا قادیانی وحی اور رسالت کا مدعی ہے اور اپنی وحی کو بالکل قرآن کے برابر سمجھتا ہے۔ اور اس کے منکر کو جہنمی کہتا ہے۔

تیرہ سو سال کا اسلامی اجماعی عقیدہ

اس کے بعد امت محمدیہ کا ساڑھے تیرہ سو برس کا عقیدہ اس بارے میں پیش کرتا ہوں کہ جو شخص وحی اور نبوت کا دعویٰ کرے یا آنحضرت ﷺ کے بعد کسی نبی کا آنا یا کسی کو نبوت دیا جانا تجویز کرے۔ اس کے متعلق علمائے امت کی کیا رائے ہے اور آئمہ امت نے کیا فرمایا؟۔

علامہ خفاجی شرح شفاء میں لکھتے ہیں: ”قال ابن القاسم فيمن تنباء انه كا المرتد سواء كان دعا ذلك الى متابعة نبوته سرا كان او جهرا كمسيلمة لعنة الله تعالى وقال ابن الفرج هو اى من زعم انه نبي يوحى اليه كا المرتد فى احكامه لا نه قد كفر بكتاب الله لانه كذبه ﷺ فى قوله انه خاتم النبيين ولا نبى بعده مع الفرية على الله ، نسيم الرياض ج ٤ ص ٢٩٣“ ایسے ہی ابن قاسم نے اس شخص کے متعلق کہا ہے کہ دعویٰ نبوت کرے اور کہے کہ مجھ پر وحی نبوت آتی ہے اور ابن قاسم مدعی نبوت کے بارہ میں فرماتے ہیں کہ وہ مثل مرتد کے ہے۔ خواہ لوگوں کو اپنے اتباع کی دعوت دے یا نہ دے۔ اور پھر یہ دعویٰ خفیہ ہو یا علانیہ جیسے مسیلمہ کذاب۔ اور ابن الفرج فرماتے ہیں جو شخص یہ کہے کہ میں نبی ہوں اور مجھ پر وحی آتی ہے۔ وہ مثل مرتد کے ہے۔ اس لئے کہ اس نے قرآن سے کفر کیا۔ آنحضرت ﷺ کو اس قول میں جھٹلا دیا کہ آپ ﷺ خاتم النبیین ہیں اور آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں اور اس نے اپنے اللہ پر افتراء بھی باندھا کہ اس نے مجھے نبی بنایا ہے۔“

٨

صفحہ ١٨١

اسی طرح شرح شفا میں ہے: ”كذلك نكفر من ادعى نبوة احد مع نبينا عليه السلام ان فى زمنه كمسيلمة الكذاب والاسود العنسى اوادعى النبوة احد بعده فانه خاتم النبيين بنص القرآن والحديث فهذا تكذيب لله ورسوله عليه السلام . نسيم الرياض ج ٤ ص ٥٠٦ “یعنی ہم ایسے ہی اس شخص کو بھی کافر کہتے ہیں جو ہمارے نبی ﷺ کے ساتھ نبوت کا دعویٰ کرے۔ یعنی آپ ﷺ کے زمانے میں جیسے مسیلمہ کذاب اور اسود عنسی نے کیا یا آپ ﷺ کے بعد کرے۔ اس لئے کہ آپ ﷺ خاتم الانبیاء ہیں بنص قرآن وحدیث۔ پس دعویٰ اللہ اور اس کے رسول کی تکذیب ہے۔

نیز ہے: ”اذالم يعرف ان محمداً ﷺ آخر الانبياء فليس بمسلم لا نه من ضروريات الدين . الاشباه والنظائر كتاب السير ص ١٠٢ “ ”یعنی جب کوئی شخص یہ نہ جانے کہ آنحضرت ﷺ تمام نبیوں کے آخری ہیں۔ کافر ہے۔ کیونکہ آپ کا آخری نبی ہونا ضروریات دین میں سے ہے“۔

نیز فقہ حنفی کی مشہور کتاب البحر الرائق ص ١٢١ ج ٥ میں ہے کہ: ”اگر کوئی کلمہ شک کے ساتھ یہ کہے کہ اگر انبیاء کا فرمان صحیح اور سچ ہو تو وہ کافر ہو جاتا ہے۔ اسی طرح اگر یہ کہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں ۔“

نیز فتاویٰ عالمگیریہ ص ٢٦٣ ج ٢ میں ہے: ”اذالم يعرف ان محمدا عليه السلام آخر الأنبياء “ ”یعنی اگر کوئی آدمی یہ عقیدہ نہ رکھے کہ آنحضرت ﷺ آخری نبی ہیں تو وہ مسلمان نہیں اور اگر کہے کہ میں رسول ہوں یا فارسی میں کہے کہ من پیغمبرم اور مراد یہ ہو کہ میں پیغام پہنچاتا ہوں۔ تب بھی کافر ہو جاتا ہے۔ جس کا منشا یہ ہے کہ ایسے الفاظ ہوں۔ جو دعویٰ نبوت کے موہم ہوں۔ وہ بھی کفر ہے۔

علامہ ابن حجر مکی اپنے فتاویٰ میں لکھتے ہیں: ”من اعتقد وحيا بعد محمد ﷺ فقد كفر باجماع المسلمين “یعنی جو شخص آنحضرت ﷺ کے بعد وحی کا اعتقاد رکھے۔ وہ با جماع مسلمین کافر ہے۔

حضرت ملا علی قاریؒ شرح فقہ اکبر ص ٢٠٢ میں تحریر فرماتے ہیں: ”ودعوى النبوة بعد نبينا كفر بالا جماع“ ”آنحضرت ﷺ کے بعد دعویٰ نبوت کرنا باجماع کفر ہے ۔

علامہ سید محمود آلوسی مفتی بغداد اپنی تفسیر کے ص ٦٥ ج ٧ میں لکھتے ہیں: ”وکونہ

٩

صفحہ ١٨٢

عليه الصلوۃ والسلام خاتم النبيين من مانطقت ...... الخ ’’یعنی آنحضرت ﷺ کا آخری نبی ہونا ان مسائل میں ہے۔ جن پر تمام آسمانی کتابیں ناطق ہیں۔ جن کو حدیث نبویہ نے نہایت وضاحت کے ساتھ بیان کر دیا ہے۔ جس پر امت نے اجماع کیا ہے۔ اس لئے اس کے خلاف کا مدعی کافر سمجھا جائے گا۔ اگر کوئی اصرار کرے گا تو قتل کیا جاوے گا۔‘‘

حافظ ابن حزمؒ اپنی کتاب الملل والنحل ص ٢٦٩ ج ٢ باب الکلام فیمن یکفر ولا یکفر میں لکھتے ہیں: ”وکذلك من قال ...... الخ“ اور ایسا ہی جو شخص یہ کہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد سوائے عیسیٰ ابن مریم کے اور کوئی نبی ہے تو کوئی شخص بھی اس کے کافر ہونے میں اختلاف نہیں کر سکتا۔ کیونکہ ان امور پر صحیح اور قطعی حجت قائم ہو چکی ہے۔‘‘

حضرت غوث اعظم شیخ عبد القادر جیلانیؒ غنية الطالبين ص ٨٨ طبع سوم مصر میں فرماتے ہیں کہ: ”ادعت ایضاً ...... الخ“ روافض نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ حضرت علیؓ نبی ہیں۔ خدا ان کو لعنت کرے اور اس کے فرشتے بھی اور اس کی تمام مخلوق دن قیامت تک اور جلا دے۔ ان کے کھیتوں کو۔ کیونکہ انہوں نے اس بارہ میں غلو سے کام لیا ہے اور اسلام کو چھوڑ دیا ہے۔ پس ہم اللہ سے پناہ مانگتے ہیں۔ اس شخص سے جس نے یہ قول کیا ہے۔‘‘

ان تمام حوالہ جات سے یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہو گئی کہ امت محمدیہ قرن اول سے لے کر آج تک اس پر متفق ہے کہ جو شخص آنحضرت ﷺ کے بعد وحی یا نبوت کا دعویٰ کرے یا ختم نبوت کا انکار کرے۔ وہ کافر اور مرتد ہے۔ اس کے بعد مرزا قادیانی کی عبارتیں اس کی تائید میں پیش کرتا ہوں:

”وماکان لی ان ادعی النبوۃ واخرج من الاسلام والحق بقوم کافرین“ (حمامة البشریٰ ص ٧٩ خزائن ج ٧ ص ٢٩٧) ”مجھ سے یہ نہیں ہو سکتا کہ نبوت کا دعویٰ کروں اور اسلام سے نکل جاؤں اور کافر قوم کے ساتھ مل جاؤں۔‘‘ اس قول سے معلوم ہو گیا کہ پہلے خود مرزا قادیانی کا عقیدہ بھی یہی رہا۔ جو تمام امت کا عقیدہ تھا۔

مدعیان نبوت کے خلاف اسلامی درباروں کے فیصلے

اس کے بعد میں چند وہ فیصلے پیش کرنا چاہتا ہوں۔ جو مدعیان نبوت کے بارہ میں اسلامی درباروں سے صادر ہوئے۔ اسلام میں سب سے پہلا مدعی مسیلمہ کذاب اور پھر اسود عنسی

١٠

صفحہ ١٨٣

ہیں ۔ اسود عنسی کو وہاں حضورﷺ کے حکم سے قتل کر دیا گیا اور کسی نے نہ پوچھا کہ تیری نبوت کے کیا دلائل ہیں اور تیرے صدق کا معیار کیا ہے۔

(ملاحظہ ہو فتح الباری ص ٥٥ ج ٦)

آنحضرت ﷺ کے بعد مسیلمہ کذاب پر باجماع صحابہؓ جہاد کیا گیا اور آخر اسے قتل کیا گیا۔ وہ سب سے پہلا اجماع جو اسلام میں منعقد ہوا۔ وہ مسیلمہ کے جہاد پر تھا۔ جس میں کسی نے یہ بحث نہ ڈالی کہ مسیلمہ اپنی نبوت کے لئے کیا دلائل اور کیا معجزات رکھتا ہے۔ بلکہ اس بناء پر آنحضرتﷺ کے بعد دعویٰ نبوت سرے سے کذب و افتراء مان لیا گیا۔ اس لئے باجماع صحابہؓ اس پر جہاد کیا گیا۔ اس کے بعد حضرت صدیق اکبرؓ کے عہد میں طلیحہ نامی ایک شخص نے دعویٰ نبوت کیا اور حضرت صدیق اکبرؓ نے اس کے قتل کیلئے حضرت خالدؓ کو بھیجا۔

(فتوح البلدان ص١٠٢)

اس کے بعد حارث نامی ایک شخص نے خلیفہ عبدالملک کے عہد میں دعویٰ نبوت کیا۔ خلیفہ نے علماء وقت سے جو کہ صحابہؓ اور تابعین تھے۔ فتویٰ لیا اور متفقہ فتویٰ سے اسے قتل کر کے سولی پر چڑھا دیا گیا۔ کسی نے اس بحث کو روا نہ رکھا کہ اس کی صداقت کا معیار دیکھیں اور معجزات اور دلائل طلب کریں۔ قاضی عیاض نے اس واقعہ کو اپنی کتاب (شفاء ج ٢ ص ٢٥٧/ ٢٥٨ مطبوعہ مصر ١٩٥٠) میں نقل کر کے فرمایا ہے: ”وفعل ذالك غیر واحد من الخلفاء والملوك با شباههم “ یعنی بہت سے خلفاء بادشاہوں نے بہت سے ایسے مدعیان نبوت کے ساتھ ایسا ہی سلوک کیا ہے اور اس وقت کے علماء نے اجماع کیا ہے کہ یہ ان کی کاروائی صحیح اور درست تھی۔ اور جو شخص ان کے کفر کا منکر ہو۔ وہ خود کافر ہے۔ ہارون رشید کے زمانہ میں ایک شخص نے دعویٰ نبوت کیا۔ خلیفہ نے علماء کے متفقہ فیصلہ سے اسے قتل کیا۔ کتاب المحاسن ص ٩٦ جلد اول میں مذکور ہے۔

یہاں تک میری گذارش کا خلاصہ یہ تھا کہ تمام امت اس پر متفق ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد جو شخص دعویٰ نبوت یا وحی کا کرے یا ختم نبوت کا انکار کرے۔ وہ کافر مرتد ہے اور اس فیصلے کو قرون اول سے لیکر تمام اسلامی عدالتوں اور درباروں نے نافذ کیا ہے کہ مدعی نبوت اور اس کے ماننے والے دونوں کافر مرتد ہیں۔

آئمہ کے ان اقوال سے یہ بات ثابت اور واضح ہو گئی کہ یہ جو کچھ ختم نبوت کا عقیدہ پیش کیا گیا ہے۔ وہ قرآن مجید کی آیت: ” ولكن رسول الله و خاتم النبيين “ کا صریح حکم ہے اور یہ بھی واضح ہو گیا کہ اس آیت کا مطلب سوائے اس کے اور نہیں ہو سکتا جو صحابہؓ نے اور تابعینؒ نے باجماع بیان کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کسی قسم کی نبوت کا دعویٰ جائز نہیں۔

١١

صفحہ ١٨٤

تفسیر ابن کثیر ص ٧٩ جلد ٨ آیت خاتم النبیین کی تفسیر میں ہے: ”فهذه الآية نص فى انه لا نبي بعده ...... الخ “ یعنی یہ آیت اس بات میں نص صریح ہے کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں ہو سکتا تو رسول بطریق اولیٰ نہیں ہوگا۔ کیونکہ ہر رسول کا نبی ہونا ضروری ہے۔ اور عکس ضروری نہیں۔ اسی پر رسول اللہ ﷺ سے احادیث متواترہ وارد ہوئی ہیں۔ جس کو صحابہ کرامؓ کی ایک بڑی جماعت نے آپ ﷺ سے نقل کیا ہے۔

اسی کتاب کے صفحہ نمبر ٩١ ج ٨ میں ہے: ”فمن رحمة الله ارسال محمد...... الخ “ یعنی پس بندوں پر خدا کی رحمت ہے ۔ محمد ﷺ کو ان کی طرف بھیجنا ۔ پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنحضرت کی تعظیم و تکریم میں یہ بات بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ پر تمام انبیاء اور رسل کو ختم کر دیا ہے اور دین حنیف کو آپ ﷺ پر کامل اعتماد ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اور اس کے رسول نے اپنی احادیث متواترہ میں خبر دی ہے کہ میرے بعد کوئی نیا نبی پیدا ہونے والا نہیں ۔ تا کہ امت جان لے کہ ہر وہ شخص جو آپ ﷺ کے بعد اس مقام نبوت کا دعویٰ کرے وہ بڑا جھوٹا اور مفتری ہے۔ دجال اور ضال مضل ہے ۔ اگر چہ شعبدہ بازی بھی کرے اور قسم قسم کے جادو اور طلسم اور نیرنگیاں دکھلائے ۔ اس لئے کہ سب کا سب عقلاء کے نزدیک باطل اور گمراہی ہے اور ایسے ہی خداوند تعالیٰ ان پر لعنت کرے اور ایسے ہی قیامت تک ہر مدعی نبوت پر یہاں تک کہ وہ مسیح الدجال تک ختم کر دیئے جاویں گے ۔ اس بارہ میں جو احادیث متواترہ کا دعویٰ ابن کثیر نے کیا ہے۔ وہ سب تقریباً میرے رسالہ ختم النبوۃ ( جو طبع شدہ ہے ) میں محفوظ ہیں ۔

حدیث شریف میں ہے :”لا تقوم الساعة حتى تبعث دجالون كذابون كلهم يزعم انه نبي وانا خاتم النبيين لا نبي بعدی“ یعنی قیامت اس وقت تک نہیں ہوگی۔ جب تک بہت سے دجال اور جھوٹے لوگ نہ اٹھائے جائیں۔ جن میں ہر ایک یہ کہتا ہو گا کہ میں نبی ہوں ۔ حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں اور میرے بعد کوئی نبی ہونے والا نہیں۔ (ابوداؤد ج ٢ ص ١٢٧ كتاب الفتن‘ ترمذی ج ٢ ص ٤٥ باب لا تقوم الساعة حتى يخرج كذابون)

دوسری حدیث میں ہے: ”مثلي ومثل الانبياء من قبلى ...... الخ “ یعنی میرے اور پہلے انبیاء کی مثال ایسی ہے۔ جیسے کسی نے گھر بنایا ہو اور آراستہ و پیراستہ کیا ہو ۔ مگر ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی ہو اور اس کے آس پاس لوگ چکر لگاتے ہوں اور خوش ہوتے ہوں اور یہ

١٢

صفحہ ١٨٥

کہتے ہوں کہ یہ ایک اینٹ کیوں نہ رکھی گئی تاکہ تعمیر مکمل ہو جاتی ۔ وہ آخری اینٹ میں ہوں اور میں ہی خاتم النبیین ہوں ۔

(بخاری ج ١ ص ٥٠١ باب خاتم النبیین)

تیسری حدیث : ” فضلت علی الانبیاء ...... الخ “ یعنی مجھے تمام انبیاء پر چھ چیزوں میں فضیلت دی گئی ہے۔ چھٹی یہ ہے کہ میرے ساتھ تمام انبیاء کو ختم کر دیا گیا ہے۔

(مسلم ج ١ ص ١٩٩ کتاب المساجد ومواضع الصلوٰة)

چوتھی حدیث : ” انا اخر الانبیاء وانتم اخر الامم ...... الخ “ میں انبیاء کا آخری ہوں اور تم تمام امتوں کے آخری ہو

(ابن ماجه ص ٢٩٧ باب فتنة الدجال وخروج عیسی بن مریم )

یہاں تک میرے بیان کا ایک جزو ختم ہوا کہ ضروریات دین کا انکار باجماع امت کفر ہے۔ اور ختم نبوت کا عقیدہ اور اسی طرح مدعی نبوة کا مرتد ہونا بھی ضروریات دین میں سے ہے۔ مرزا قادیانی نے ان تمام ضروریات دین کا کھلے طور پر انکار کر دیا ہے۔ لہٰذا وہ باجماع امت کافر و مرتد ہیں۔

توہین انبیاء علیہم السلام

اس کے بعد دوسری چیز توہین انبیاء علیہم السلام ہے۔ انبیاء پر ایمان لانا اور ان کی بلا تخصیص و استثناء توقیر کرنا اور تعظیم کرنا قرآن اور حدیث کا کھلا ہوا فیصلہ اور اجماعی مسئلہ ہے۔ اس کے بارے میں قرآن شریف کا ارشاد ہے: ”ان الذین یکفرون بالله ورسله ویریدون ان یفرقوا بین الله ورسله . نساء ١٥٠ “ اس آیت سے معلوم ہوا کہ تمام انبیاء پر بلا استثناء ایمان لانا ضروری ہے۔

مرزا قادیانی نے اپنی متعدد کتابوں میں متعدد مواقع پر انبیاء کی توہین کی ہے۔ خاص کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اس قدر اہانت اس کی کتابوں میں صراحتاً موجود ہے کہ ایک بھلا آدمی بھی دوسرے آدمی کو نہیں کہہ سکتا۔ مرزا قادیانی لکھتا ہے کہ : ”لیکن مسیح کی راستبازی اپنے زمانہ میں دوسرے راستبازوں سے بڑھ کر ثابت نہیں ہوتی ۔ بلکہ یحییٰ علیہ السلام نبی کو اس پر ایک فضیلت ہے کیونکہ وہ شراب نہیں پیتا تھا اور کبھی نہیں سنا گیا کہ کسی فاحشہ عورت نے آ کر اپنی کمائی کے مال سے اس کے سر پر عطر ملا تھا یا ہاتھوں اور اپنے سر کے بالوں سے اس کے بدن کو چھوا تھا یا کوئی بے تعلق

١٣

صفحہ ١٨٦

جوان عورت اس کی خدمت کرتی تھی۔ اسی وجہ سے خدا تعالیٰ نے قرآن میں یحییٰ کا نام حصور رکھا مگر مسیح کا یہ نام نہ رکھا۔ کیونکہ ایسے قصے اس نام کے رکھنے سے مانع تھے۔“

(دافع البلاء ص ٤ خزائن ج ١٨ ص ٢٢٠ حاشیہ)

اس عبارت نے یہ بات بھی صاف کر دی ہے کہ اس میں جو کچھ حضرت مسیح کے متعلق کہا گیا ہے۔ وہ مرزا قادیانی کا اپنا عقیدہ ہے جس کو بحوالہ قرآن بیان کرتے ہیں۔ وہ کسی عیسائی وغیرہ کا قول نقل نہیں کرتے۔ اسی طرح اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ: ”پس اس نادان اسرائیلی نے ان معمولی باتوں کی پیشگوئی کیوں نام رکھا۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٤ خزائن ج ١١ ص ٢٨٨)

اس کتاب کے حاشیہ پر لکھتے ہیں کہ: ”ہاں آپ کو گالیاں دینے اور بد زبانی کی اکثر عادت تھی۔ مگر میرے نزدیک آپ کی یہ حرکات جائے افسوس نہیں۔ کیونکہ آپ تو گالیاں دیتے تھے اور یہودی ہاتھ سے کسر نکال لیا کرتے تھے۔ یہ بھی یاد رہے کہ آپ کو کسی قدر جھوٹ بولنے کی بھی عادت تھی۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥ خزائن ج ١١ ص ٢٨٩ حاشیہ)

ضمیمہ انجام آتھم میں ہے کہ: ”اور آپ کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے۔ تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں۔ جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔“ اسی صفحہ پر ہے کہ: ”آپ کا کنجریوں سے میلان اور صحبت بھی شاید اسی وجہ سے ہو کہ جدی مناسبت درمیان ہے۔“ اسی صفحہ پر ہے کہ: ”سمجھنے والے سمجھ لیں کہ ایسا انسان کس چلن کا آدمی ہو سکتا ہے۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٧ خزائن ج ١١ ص ٢٩١ حاشیہ)

مرزا قادیانی نے ضمیمہ انجام آتھم میں یہ گالیاں یسوع کا نام لے کر کہی ہیں اور خود لکھتا ہے کہ: ”ابن مریم جس کو عیسیٰ اور یسوع بھی کہتے ہیں“ (توضیح المرام ص ٣ خزائن ج ٣ ص ٥٢) اسی طرح مرزا قادیانی اپنی کتاب میں لکھتا ہے کہ: ”اور مفتری ہے۔ وہ شخص جو مجھے کہتا ہے کہ میں مسیح ابن مریم کی عزت نہیں کرتا۔ بلکہ مسیح تو مسیح میں تو اس کے چار بھائیوں کی بھی عزت کرتا ہوں۔“ (کشتی نوح ص ١٦ خزائن ج ١٩ ص ١٨) اس کے حاشیہ پر لکھتا ہے کہ: ”یسوع مسیح کے چار بھائی اور دو بہنیں تھیں۔“

(کشتی نوح ص ١٦ خزائن ج ١٩ ص ١٨ حاشیہ)

مرزا قادیانی کی ان عبارات سے یہ بات بھی صاف ہو گئی کہ جس کو یسوع کہتے ہیں۔ وہی عیسیٰ ابن مریم ہے۔ لہٰذا یہ بات نا قابل التفات ہے کہ مرزا قادیانی نے گالیاں یسوع کو دی ہیں نہ کہ عیسیٰ کو۔ نیز کشتی نوح کے حاشیہ پر خود مرزا قادیانی بجائے یسوع کے لفظ عیسیٰ لکھ کر کہتے ہیں

١٤

صفحہ ١٨٧

کہ: ”یورپ کے لوگوں کو جس قدر شراب نے نقصان پہنچایا ہے اس کا سبب تو یہ تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام شراب پیا کرتے تھے۔“

(کشتی نوح ص ٦٥ خزائن ج ١٩ ص ٧١ حاشیہ)

ان عبارات سے مرزا قادیانی کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین کرنا اور مغلظات گالیاں دینا ثابت ہوگیا۔

توہین انبیاء علیہم السلام بالاجماع کفر ہے

اس کے بعد علمائے امت کا متفقہ فیصلہ اس بارہ میں پیش کرتا ہوں کہ جو شخص خدا کے کسی نبی کی ادنیٰ توہین کرے۔ وہ باجماع امت کافر ہے۔ درمختار شامی ص ٣٥٦ ج ١ باب المرتد میں ہے: ”والکافر بسب نبی من الانبیاء“ یعنی وہ شخص جو کسی نبی کو گالیاں دینے کی وجہ سے کافر ہوگیا۔ اسے قتل کیا جائے گا اور اس کی توبہ قطعاً قبول نہ ہوگی اور جو شخص اس کے کفر اور عذاب میں شک کرے وہ بھی کافر ہے۔“

یہی مضمون درمختار میں فصل جزیہ کے ساتھ نقل کیا ہے۔ فتاویٰ بزازیہ میں بھی ہے کہ اگر اپنے دل سے بھی کسی نبی کو مبغوض رکھے۔ اس کا بھی یہی حکم ہے۔ اسی طرح شامی ص ٣١٧ ج ٣ باب المرتد ہے: ”قال ابن السحنون المالکی واجمع المسلمون ........... .......الخ“ یعنی ابن سحنون مالکی فرماتے ہیں کہ: ”تمام مسلمانوں نے اجماع کیا ہے کہ رسول کو گالیاں دینے والا کافر ہے اور اس کا حکم قتل ہے اور جو شخص اس کے کفر اور عذاب میں شک کرے وہ بھی کافر ہے۔“ یہی عبارت بعینہ شفا وغیرہ میں بھی موجود ہے۔ کتاب الخراج میں ہے: ”ای مسلم سب ........... الخ“ یعنی جو مسلمان آنحضرت ﷺ کو گالیاں دے یا آپ ﷺ کی تکذیب کرے یا آپ ﷺ پر عیب لگائے تو وہ کافر ہوگیا۔ اس کی عورت اس سے بائنہ ہوگئی۔

تحفہ شرح منہاج باب المرتدین میں ہے: ”اوکذب نبیاً او رسولاً“ یعنی جو شخص نبی یا رسول کی تکذیب کرے یا کسی شخص کی نبوت کو ہمارے رسول کریم ﷺ کے بعد جائز رکھے۔ وہ کافر ہے۔

امت کے اجماعی فیصلوں سے مرزا قادیانی کے کفر اور ارتداد کی دوسری وجہ مل گئی۔ ان وجوہ سے ثابت ہوگیا کہ مرزا قادیانی اور ان کے متبعین بالا جماع کافر و مرتد ہیں۔

١٥

صفحہ ١٨٨

مسلمان عورت کا نکاح کافر مرد کے ساتھ جائز نہیں

اس کے بعد یہ معلوم ہونا چاہئے کہ کسی مسلمان عورت کا نکاح کسی کافر کے ساتھ ہرگز کسی وقت جائز نہیں سمجھا گیا اور اگر بعد نکاح خاوند کفر اختیار کرے اس کا نکاح ہمیشہ فسخ شمار کیا گیا ہے: ”لا هن حل لهم ولا هم يحلون لهن (الممتحنة: ١٠) “ یعنی مسلمان عورتیں کفار کے لئے حلال نہیں اور نہ کفار مرد مسلمان عورتوں کیلئے حلال ہیں۔ قرآن کا یہ کھلا ہوا فیصلہ ہے اور خود مرزا قادیانی اور ان کے متبعین بھی اس کے قائل ہیں۔

فتاویٰ احمدیہ ص ٧ جلد ٢ میں ” تاکید کی جاتی ہے کہ کوئی احمدی اپنی لڑکی غیر احمدی کے نکاح میں نہ دے۔“ اسی طرح مرزا محمود نے لکھا ہے کہ:

”ایک اور سوال بھی ہے کہ غیر احمدی کو لڑکی دینا جائز ہے یا نہیں۔ حضرت مسیح موعود نے اس احمدی پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ جو اپنی لڑکی غیر احمدی کو دے۔ آپ سے ایک شخص نے بار بار پوچھا اور کئی قسم کی مجبوریوں کو پیش کیا۔ لیکن آپ نے اس کو یہی فرمایا کہ لڑکی کو بٹھائے رکھو۔ لیکن غیر احمدیوں کو نہ دو۔ آپ کی وفات کے بعد اس نے غیر احمدیوں کو لڑکی دیدی تو حضرت خلیفہ اول نے اس کو احمدیوں کی امامت سے ہٹا دیا اور جماعت سے خارج کر دیا اور اپنی خلافت کے چھ سالوں میں اس کی توبہ قبول نہ کی۔ باوجود کہ وہ بار بار توبہ کرتا رہا۔ اب میں نے اس کی سچی توبہ دیکھ کر قبول کر لی ہے۔

(انوار خلافت ص ٩٣،٩٤)

میں اپنے بیان کو اس پر ختم کرتا ہوں کہ باجماع امت بہ تصریح قرآن وحدیث کوئی مسلمان عورت کسی قادیانی مذہب والے کے نکاح میں نہیں رہ سکتی۔ اگر وہ بعد نکاح کے ایسا مذہب اختیار کر لے تو شرعاً وہ نکاح فسخ ہو جائے گا۔ قضائے قاضی اور عدت کی ضرورت نہیں۔

١٦

PDF 189

انا خاتم النبیین لا نبی بعدی

میرے بعد کوئی نبی نہیں

فتاویٰ جات رد قادیانیت

(ماخوذ از فتاویٰ دارالعلوم دیوبند ج ٢)

حضرت مولانا مفتی محمد شفیع دیوبندیؒ

صفحہ ١٩٠

بسم الله الرحمن الرحيم !

تعارف

حضرت مولانا مفتی محمد شفیع دیوبندیؒ عرصہ تک دارالعلوم دیوبند کے دارالافتاء کے صدر نشین رہے۔ آپ کے زمانہ افتاء میں دیوبند سے جو آپ کے فتاویٰ جات جاری ہوئے ۔ اسے فتاویٰ دارالعلوم دیوبند کی جلد دوم میں ” امداد المفتيين “ کے نام سے جمع کر دیا گیا ہے۔ دارالاشاعت کراچی سے یہ شائع ہوئی۔ اس کے ١٠٨٠ صفحات ہیں۔ اس میں سے فتنہ قادیانیت سے متعلق حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحبؒ کے تمام فتاویٰ جات کو ”احتساب قادیانیت“ کی اس جلد میں شائع کرنے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں ۔ فالحمد للہ!

اہل قبلہ کی تکفیر نہ کرنے کا مطلب

سوال ١:...... ”لاتکفر اهل قبلتك“ حدیث ہے یا نہیں اور اس کا کیا مطلب ہے؟

جواب ١:...... حدیث: ” لا تکفر اهل قبلتك “ کے متعلق جواباً عرض ہے کہ ان لفظوں کے ساتھ تو یہ جملہ کسی حدیث کی کتاب میں نظر سے نہیں گزرا۔ لیکن اس مضمون کے جملے بعض احادیث میں وارد ہیں مگر قادیانی مبلغ جو ان الفاظ کو نا تمام نقل کر کے اپنے کفر کو چھپانا چاہتا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ اس کی حیثیت اس سے زیادہ نہیں جیسے قرآن سے کوئی شخص: ” لا تقربوا الصلوٰۃ “ نقل کرے۔ کیونکہ جن احادیث میں اس قسم کے لفظ واقع ہیں ان کے ساتھ ایک قید بھی مذکور ہے۔ یعنی بذنب او لعمل وغیرہ جس کی غرض یہ ہے کہ کسی گناہ ومعصیت کی وجہ سے کسی اہل قبلہ کو یعنی مسلّم مسلمان کو کافر مت کہو۔ چنانچہ بعض روایات میں اس کے بعد ہی یہ لفظ بھی منقول ہیں ۔ الا ان تروا كفراً بواحاً ! یعنی جب تک کفر صریح نہ دیکھو کافر مت کہو۔ خواہ گناہ کتنا بھی سخت کرے۔

٢

صفحہ ١٩١

یہ روایت ابوداؤد کتاب الجہاد (ج١ ص٢٥٢ باب الغزو مع ائمة الجور) میں حضرت انسؓ سے اس طرح مروی ہے: ”الكف عمن قال لا اله الا الله ولا تكفره بذنب ولا تخرجه من الا سلام بعمل“

نیز بخاری (ج١ ص٥٧ باب فضل استقبال القبلة) نے حضرت انسؓ سے روایت کیا ہے: ”مرفوعا من شهد ان لا اله الا الله واستقبل قبلتنا وصلى صلا تنا واكل ذبيحتنا فهو المسلم . “

اہل قبلہ سے مراد باجماع امت وہ لوگ ہیں جو تمام ضروریات دین کو مانتے ہیں۔ ناکہ یہ قبلہ کی طرف نماز پڑھ لیں۔ چاہے ضروریات اسلامیہ کا انکار کرتے رہیں۔

كما فى شرح المقاصد الجلد الثانى من صفحه ٢٦٨ الى صفحه ٢٧٠ قال المبحث السابع فى حكم مخالف الحق من اهل القبلة ليس بكافر ما لم يخالف ما هو من ضروريات الدين الى قوله والا فلا نزاع فى كفر اهل القبلة المواظب طول العمر على الطاعات با عتقاد قدم العالم ونفى الحشر ونفى العلم بالجزئيات وكذا بصدور شئى من موجبات الكفر....... الخ . وفى شرح الفقه الاكبر وان غلا فيه حتى وجب اكفاره لا يعتبر خلافه و فاقه ايضا الى قوله وان صلى الى القبلة و اعتقد نفسه مسلما لان الامة ليست عبارة عن المصلين الى القبلة بل عن المومنين ونحوه فى الكشف البذدوى صفحه ٢٢٨ ج ٣ (لا خلاف فى كفره المخالف فى ضروريات الا سلام وان كان من اهل القبلة المواظب طول عمره على الطاعات . (اكفار الملحدين ص ١١ مطبوعه ديوبند) وقال الشامى ايضاً اهل القبلة فى اصطلاح المتكلمين من يصدق بضروريات الدين أى الا مور التى علم ثبو تها فى الشرع واشتهر ومن انكر شيئاً من الضروريات الاسلام كحدوث العالم وحشر الا جساد ونفى العلم بالجزئيات وفرضية الصلوة والصوم لم يكن من اهل القبلة ولو كان مجاهد ابا لطاعات الى قوله و معنى عدم تكفير اهل القبلة ان لا يكفر با رتكاب المعاصى ولا بانكار الا مور الخفية غير المشهورة هذا ما حققه المحققون فا حفظه ومثله قال المحقق ابن امير الحاج فى شرح

٣

صفحہ ١٩٢

التحریر لا بن ہمام والنہی عن تکفیر اہل القبلۃ ہو الموافق علی ماہو من ضروریات الاسلام ہذہ جملۃ قلیلۃ من اقوال العلماء نقلتہا واکتفیت بہا لقلۃ الفراغۃ وتفصیل ہذہ المسئلۃ فی رسالتہ اکفار الملحدین فی شئی من ضروریات الدین لشیخنا ومولانا الکشمیری مدظلہ واللہ اعلم“

اہل قبلہ کا مطلب

سوال ٢:...... کلمہ گو اور اہل قبلہ کی شرعاً کیا تعریف ہے؟ قادیانی مرزائی ولا ہوری مرزائی احمدی اہل قبلہ و کلمہ گو مسلمان ہیں یا نہیں۔ اگر نہیں تو کس وجہ سے؟

الجواب ٢:...... کلمہ گو اور اہل قبلہ ایک خاص اصطلاح ہے اسلام اور مسلمانوں کی‘ جس کا یہ مطلب کسی کے نزدیک نہیں کہ جو کلمہ پڑھ لے خواہ کسی طرح پڑھے وہ مسلمان ہے یا جو قبلہ کی طرف منہ کرے وہ مسلمان ہے۔ بلکہ یہ لفظ اصطلاحی نام ہے اس شخص کا جو تمام احکام اسلامیہ کا پابند ہو۔ جیسے کہا جاتا ہے کہ فلاں شخص ایم اے پاس ہے۔ تو ایم اے ایک اصطلاحی نام ہے ان تمام علوم کا جو اس درجہ میں سکھائے جاتے ہیں نہ یہ کہ جو ایم اے کے الفاظ میں پاس ہوتا ہو اور یاد رکھتا ہو۔ اس طرح اہل قبلہ کے معنی بھی باتفاق امت یہی ہیں کہ جو تمام احکام اسلامیہ کا پابند ہو: کما صرح بہ فی عامۃ کتب الکلام ! اور اسکی مفصل بحث رسالہ ”اکفار الملحدین “ مصنفہ حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کاشمیریؒ میں موجود ہے۔ ضرورت ہو تو ملاحظہ فرمایا جائے۔ مگر رسالہ عربی زبان میں ہے۔ (اب اس کا ترجمہ بھی شائع ہو گیا ہے۔ مرتب) (اردو زبان میں بھی اس مضمون کا ایک رسالہ احقر کا ہے جس کا نام وصول الافکار ہے) واللہ تعالیٰ اعلم، امداد المفتیین جلد دوم ص ١١١ تا ص ١١٣!

اللہ تعالیٰ سے ہم کلامی کا دعویٰ کرنا

سوال ٣:...... اللہ جل جلالہ کا کلام کرنا اپنے بندہ سے اور بندہ کا اللہ تعالیٰ سے یہ منصب و درجہ خاص انبیاء علیہم السلام کا ہے یا عام ۔ اگر خاص انبیاء علیہم السلام کا ہے اور نبوت ختم ہو چکی ہے۔ اب فی زمانہ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ سے یہ کلام فرمایا تو اس پر اور اس کلام کو حق جاننے والا اور اس کے معتقد پر شرعاً کیا حکم ہوگا۔ بینوا بسند الکتاب ، توجروا من اللہ الوہاب؟

٤

صفحہ ١٩٣

آنحضرت ﷺ کے بعد قطعاً منقطع ہے اور مدعی اس کا کافر ہے۔ صرح بہ فی شرح الشفاء۔ البتہ بصورت الہام عامۂ مومنین کو حاصل ہوسکتا ہے۔ لیکن عرفاً اس کو کلام نہیں کہا جاتا۔ اس لیے ایسے الفاظ بولنا کہ (اللہ تعالیٰ نے مجھ سے کلام فرمایا) اگر اس کی مراد یہ ہے کہ بطور وحی کے بالمشافہہ فرمایا تب تو کفر ہے اور اگر مراد اس سے بطور الہام دل میں ڈالنا ہے تب بھی درست نہیں۔ کیونکہ اس میں ایہام ہوتا ہے ادعاء وحی کا اور کفر کے ایہام سے بچنا بھی ضروری ہے۔

(امداد المفتیین ج ٢ ص ١٢٨)

وفات عیسیٰ ؑ پر چند اشکالات اور ان کا جواب

کثیر بر حاشیہ فتح البیان ص ٣٧٨ ج ١ الیواقیت الجواہر ج ٢ ص ٢١ شرح فقہ اکبر ص ١٠ میں بھی یہی مضمون ہے۔

کنز العمال ص ١٢٠ ج ٦، جلالین ص ٥٢ (زیر آیت: ”فیوفیہم اجورہم: آل عمران“ حاشیہ پر حدیث نقل کی ہے) اس حدیث سے وفات ثابت ہوتی ہے۔

عیسیٰ ؑ کی طرح آسمان پر کیوں نہ اٹھائے گئے؟

المائدہ ٧٥“ اس آیت سے وفات عیسیٰ ؑ پر استدلال کرنا کیسا ہے؟۔

کہ تشریعی نبوت ختم ہوچکی۔ لیکن غیر تشریعی نبوت ختم نہیں۔ کیا یہ صحیح ہے؟۔

ہے۔ مگر سب میں بلاسند لکھی ہے اور جب تک سند معلوم نہ ہو کیسے یقین کر لیا جائے کہ یہ حدیث صحیح قابل عمل ہے؟۔ اگر اسی طرح بلاسند روایات پر عمل کریں تو سارا دین برباد ہوجائے۔ اسی لیے

٥

صفحہ ١٩٤

بعض اکابر محدثین نے (غالباً حضرت عبداللہ ابن مبارک نے فرمایا ہے: ”لولا الاسناد لقال من شاء ماشاء “دوسرے! اگر بالفرض سند موجود بھی ہو اور مان لو کہ صحیح بھی ہو تو غایت یہ ہے کہ یہ حدیث دوسری احادیث سے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع آسمانی پر صریح ہیں اور درجہ تواتر کو پہنچ گئی ہیں۔ ان کی معارض ہوگی اور تعارض کے وقت شرعی اور عقلی قاعدہ یہی ہے کہ اقویٰ کو ترجیح ہوتی ہے اور ظاہر ہے کہ ایک غیر معروف حدیث ان تمام صحیح اور قوی متواتر روایات حدیث پر راجح نہیں ہوسکتی۔ یہ قادیانی ہی مذہب کی خصوصیت ہے کہ مطلب کے موافق نہ ہو تو صحیح بخاری ومسلم کی حدیث کو معاذ اللہ ردی کی ٹوکری میں ڈالنے کیلئے تیار ہوجائیں اور مطلب کے بزعم خود موافق ہو تو ضعیف روایت کو ایسا اہم بنائیں کہ صحیح اور متواتر روایات پر ترجیح دے دیں۔ کوئی مسلمان ایسا نہیں کرسکتا۔

حدیث عاش علیہ السلام مائۃ وعشرین سنۃ

سے وفات مسیح کا شبہ اور اس کا جواب

٢....... اس حدیث سے وفات کا ثابت کرنا قادیانی فراست ہی کی خصوصیات سے ہے۔ اولاً: اس لئے کہ حدیث خود متکلم فیہ ہے۔ بعض محدثین نے اس کو قابل اعتماد نہیں مانا۔ ثانیاً: اگر حدیث ثابت بھی ہوجائے تو صحاح ستہ میں جو قوی اور صریح و صحیح روایات حضرت عیسیٰ ؑ کے رفع آسمانی اور نزول فی آخر الزمان کے متعلق وارد ہیں۔ یہ حدیث ان کا معارضہ عقلاً و اصولاً نہیں کرسکتی۔ ثالثاً: حدیث کی مراد صاف یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ زمین پر ایک سو بیس سال زندہ رہے۔ آسمان پر زندہ رہنا چونکہ بطور معجزہ ہے۔ اس لئے اس حیات کو حیات دنیوی میں شمار نہ کرنا چاہیے تھا اور نہ کیا گیا۔ اور اس حدیث میں زمین اور اس عالم عناصر کی حیات کا ذکر ہے بطور اعجاز، جو حیات کسی کے لئے ثابت ہو۔ اس کا اس میں شمار کرنا اور داخل سمجھنا عقل ونقل کے خلاف ہے۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو آسمان پر کیوں نہ اٹھایا گیا؟

٣....... حق تعالیٰ کے معاملات ہر شخص کے ساتھ جدا جداگانہ ہیں کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ اللہ تعالیٰ سے یہ سوال کرے کہ جو معاملہ نوح ؑ کے ساتھ کیا وہی موسیٰ ؑ کے ساتھ کیوں نہ کیا اور جو ابراہیم ؑ کے ساتھ کیا وہی ہمارے نبی کریم ﷺ کے ساتھ کیوں نہ کیا۔ اور صرف

٦

صفحہ ١٩٥

ان معاملات و واقعات سے ایک نبی کو دوسرے نبی پر نہ کوئی ترجیح و تفضیل دی جاسکتی ہے۔ جب تک دوسری صحیح و صریح روایات تفضیل پر دلالت نہ کریں۔ انبیاء علیہم السلام کی تاریخ پڑھنے والوں پر مخفی نہیں کہ بعض انبیاء کو آروں کے ذریعہ دو ٹکڑے کر دیا گیا اور بعض کو آگ میں ڈالا گیا اور بعض کو خندق وغیرہ میں پھر کسی پر آفات و مصائب اول جاری کر دیئے۔ پھر آخر الامر بچا لیا اور کسی کو اول ہی سے محفوظ رکھا۔ اب یہ سوال کرنا کہ جیسے عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھا کر زندہ رکھا گیا ہے۔ ایسا ہی حضرت نبی کریمﷺ کے ساتھ معاملہ کیوں نہ کیا گیا۔ یہ تو ایسا ہی سوال ہے جیسے کوئی یوں کہے کہ جو معاملہ موسیٰ علیہ السلام اور لشکر فرعون کے ساتھ بنص قرآن کیا گیا۔ وہی معاملہ نبی کریمﷺ اور کفار مکہ کے ساتھ کیوں نہ ہوا کہ جنگ احد میں حضورﷺ کا دندان مبارک شہید ہونے اور چہرۂ انور زخمی ہونے کی نوبت آئی۔ آپﷺ کو ہجرت کر کے وطن اور مکہ چھوڑنا پڑا۔ غار میں چھپنا پڑا۔ سب کفار قریش پر ایک دفعہ ہی آسمانی بجلی کیوں نہ آگئی۔ یا دریا میں غرق کیوں نہ ہو گئے ۔ جیسے یہ سوال حضرت حق تعالیٰ کے معاملات میں بے جا ہیں ایسے ہی یہ بھی بالکل بے جا اور نامعقول سوال ہے کہ جیسے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ رکھا آپﷺ کو بھی زندہ آسمان پر رکھنا چاہیے تھا۔ کیونکہ زیادہ دنوں تک زندہ رہنا یا آسمان پر رہنا ان سے کوئی فضیلت نبی کریمﷺ پر ثابت نہیں ہوتی۔ کیونکہ زیادتی عمر فضیلت ہوتی تو بہت سے صحابہ کرامؓ اور عوام امت کی عمریں آپﷺ سے دوگنی چوگنی ہوئی ہیں۔ ان کو بھی افضل کہہ سکیں گے اور اسی طرح اگر آسمان میں رہنا یا چڑھنا ہی مدار فضیلت ہو تو فرشتوں کو حضورﷺ سے افضل ماننا لازم آئے گا جو نصوص شرعیہ اور اجماع امت کے خلاف ہے۔

آیت ”قد خلت من قبلہ الرسل“ اور ”اموات غیر احیاء“ سے وفات

مسیح پر استدلال صحیح نہیں۔

انہیں لوگوں کا کام ہے جنہیں عربی عبارت سمجھنے سے کوئی علاقہ نہیں اور جو محاورات زبان سے بالکل واقف نہیں۔ کیونکہ اول تو اس جیسے عمومات سے کسی خاص واقعہ مشہورہ پر کوئی اثر محاورات کے اعتبار سے نہیں پڑتا۔ بلکہ اس کی ایسی مثال ہے جیسے کوئی بیمار طبیب سے پوچھے کہ پرہیز کس چیز کا ہے؟۔ وہ کہہ دے کہ ترشی اور تیل مت کھاؤ۔ ترشی اور تیل کے سوا ساری چیزیں کھاؤ، مضر نہیں۔ اب اگر یہ بیوقوف جا کر پتھر یا لوہا کھائے یا سنکھیا کھائے اور استدلال میں قادیانی مجتہدین کا سا

٧

صفحہ ١٩٦

استدلال پیش کرے کہ حکیم صاحب نے کہا تھا کہ ترشی اور تیل مت کھاؤ۔ ترشی اور تیل کے سوا ساری چیزیں کھاؤ۔ کوئی مضر نہیں۔ اور ساری چیزوں میں پتھر اور لوہا اور سنکھیا (زہر) بھی داخل ہے۔ لہٰذا میں جو کچھ کھاتا ہوں حکیم صاحب کے فرمانے سے کھاتا ہوں۔ انصاف کیجئے کہ کوئی عقلمند اس کو صحیح العقل سمجھے گا؟۔ اور پھر یہ بھی انصاف کیجئے کہ اس قادیانی استدلال میں اور اس میں کوئی فرق ہے یا نہیں۔ ذرا غور سے معلوم ہو جائے گا کہ اگر بالفرض خلت کے معنی موت ہی ہوں تو بھی اس سے ان انبیاء کی موت ثابت نہیں ہو سکتی جن کے لئے قرآن وحدیث کی دوسری نصوص حیات ثابت کرتی ہیں۔ جیسے سب چیز کھاؤ کے قول سے پتھر اور زہر کا کھانا داخل مراد نہیں۔ اس کے علاوہ خلت کے معنے لغت میں موت کے نہیں بلکہ گزر جانے کے ہیں۔ خواہ مر کر خواہ کسی دوسرے طریقہ سے جیسے عیسیٰ ؑ کے لئے ہوا۔ امام راغب اصفہانی مفردات القرآن میں اس لفظ کے یہی معنی لکھتے ہیں:

”والخلو يستعمل فى الزمان والمكان لكن لما تصور فى الزمان المضى فسر اهل اللغة خلا الزمان يقول مضى الزمان وذهب قال تعالى وما محمد الا رسول قد خلت من قبله الرسل ۔“

(مفردات القرآن ص ١٥٨)

یہ لفظ صریح ہیں کہ خلت کے معنی قرآن شریف میں چلے جانے اور گزر جانے کے ہیں جس میں عیسیٰ ؑ اور دوسرے انبیاء بلاشبہ برابر ہوگئے۔ تعجب ہے کہ قادیانی خانہ ساز پیغمبر کے صحابی اتنی سی بات کو کیوں نہیں سمجھتے اور اگر حق تعالیٰ ان کو چشم بصیرت عطاء فرمائے اور وہ اب بھی غور کریں تو سمجھیں گے کہ آیت بجائے وفات عیسیٰ ؑ پر دلیل ہونے کے حیات کی طرف مشیر ہے۔ کیونکہ صریح لفظ مات وغیرہ چھوڑ کر خلت شاید اللہ تعالیٰ نے اسی لئے اختیار فرمایا ہے کہ کسی بے وقوف کو موت عیسیٰ ؑ کا شبہ نہ ہوجائے۔ اگرچہ محاورہ شناس کو تو پھر بھی شبہ کی گنجائش نہ تھی۔

فرمایا ہے۔ اس کے اعتبار سے بھی یہی ہے کہ یہ سب حضرات ایک معین مدت کے بعد مرنے والے ہیں۔ نہ یہ کہ بالفعل مرچکے ہیں۔ اور یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسا نبی کریمﷺ کو خطاب کر کے فرمایا گیا ہے: ”انک میت وانهم میتون“ تو کیا اس کا یہ مطلب تھا کہ معاذ اللہ آپﷺ اس وقت وفات پاچکے ہیں۔ بلکہ بالاتفاق وہی معنے مذکور مراد ہیں کہ ایک وقت معین میں

٨

صفحہ ١٩٧

وفات پانے والے ہیں۔ یہ بھی جھوٹی نبوت کی نحوست ہے کہ اتنی سی بات سمجھ میں نہ آئی۔

کیونکہ مسئلہ ختم نبوت عقیدہ کا مسئلہ ہے۔ جو باجماع امت بغیر دلیل قطعی کے کسی چیز سے ثابت نہیں ہو سکتا اور دلیل قطعی قرآن کریم اور حدیث متواتر اور اجماع امت کے سواء کوئی نہیں۔ ابن عربی کا قول ان میں سے فرمائیے کس میں داخل ہے؟۔ اس لئے اس کا استدلال میں پیش کرنا ہی اصولی غلطی ہے۔ ثانیاً خود ابن عربی اپنی اسی کتاب فتوحات میں نیز فصوص میں اس کی تصریح کرتے ہیں کہ نبوت شرعی ہر قسم کی ختم ہو چکی ہے۔ ابن عربی اور دوسرے حضرات کی عبارتیں صریح و صاف رسائل ذیل میں مذکور ہیں: ”عقیدۃ الاسلام فی حیات عیسیٰ علیہ السلام، التنبیہ الطربی فی الذب عن ابن العربی وغیرہ“

اسی طرح صاحب مجمع البحار اور ملا علی قاری بھی اپنی دوسری تصانیف میں اسی کی تصریح کرتے ہیں جو جمہور کا مذہب ہے۔ یعنی ہر قسم کی نبوت ختم ہو چکی ہے۔ آئندہ یہ عہدہ کسی کو نہ ملے گا۔

حدیث لو کان موسیٰ وعیسیٰ حیین کی تحقیق

سوال ١٠:...... ”لوکان موسیٰ وعیسیٰ حیین“ کی یہ حدیث کسی کی کتاب میں موجود ہے یا کہ بیہقی کا جو حوالہ دیا جاتا ہے۔ اس میں ہے یا نہیں؟۔

جواب:...... حدیث: ”لوکان موسیٰ وعیسیٰ حیین“ کسی کی معتبر کتاب میں موجود نہیں۔ البتہ تفسیر ابن کثیر میں ضمناً یہ الفاظ لکھے ہیں اور اسی طرح اور بعض کتب تصوف میں نقل کر دیا ہے۔ مگر سب جگہ بلا سند نقل کیا ہے۔ اس لئے یہ حدیث بچند وجوہ احادیث مشہورہ کے معارض نہیں ہو سکتی۔ اولاً: معارض کیلئے مساوات فی القوۃ شرط ہے اور اس حدیث کا کہیں پتہ نہیں اور جہاں کہیں ہے تو وہ بلا سند ہے اور یہ قول ائمہ حدیث کا مقبول و مشہور ہے کہ: ”لولا الاسناد لقال من شاء ماشاء“ ثانیاً: اگر بالفرض یہ حدیث معتبر ہی ہو تو احادیث متواترہ دربارہ حیات و نزول عیسیٰ علیہ السلام کے معارض ہوگی اور ترجیح کی نوبت آئے گی تو ظاہر ہے کہ احادیث کثیرہ متواترۃ المعنے کو اس کے مقابلہ میں ترجیح ہوگی نہ ایک اس حدیث کو جس کا حدیث ہونا بھی ہنوز متعین نہیں۔ ثالثاً: اگر ان الفاظ کو صحیح اور ثابت بھی مان لیا جائے تب بھی اس سے وفات عیسیٰ علیہ السلام ثابت نہیں

٩

صفحہ ١٩٨

ہوتی۔ بلکہ اس کے معنے صاف یہ ہوتے ہیں کہ عالم زمین پر حیات ہوتے۔ کیونکہ حدیث میں اتباع نبوت کا ذکر ہے اور یہ اتباع اس عالم کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔ سو یہ صحیح ہے کہ اگر عیسیٰ ؑ اس عالم میں زندہ ہوتے تو آپ ﷺ کا اتباع کرتے۔ اب چونکہ ایک دوسرے عالم میں ہیں زندہ ہیں۔ اس لیے اتباع ان پر ضروری نہ رہا۔ یہ سمجھنے کیلئے اتنا ہی کافی ہے۔ اور اگر اس مضمون کو مبسوط دیکھنا چاہیں تو مولانا سید مرتضیٰ حسن صاحب نے اس مضمون پر مستقل رسالہ لکھا ہے۔ وہ ملاحظہ فرمائیے۔ (الحمد للہ ! احتساب قادیانیت جلد دہم کے ص ٣٤٨ تا ٣٥٦ پر یہ رسالہ مکمل شائع ہو گیا ہے۔ مرتب)

شیخ ابن عربی کے قول کا مطلب

سوال ١١:...... شیخ محی الدین ابن عربی فرماتے ہیں کہ: ’’لا نبی بعدی ، ‘‘ کے یہ معنی ہیں کہ تشریعی نبوت ختم ہو چکی۔ لیکن غیر تشریعی نبوت ختم نہیں ہوئی یہ صحیح ہے یا نہیں؟

جواب:...... شیخ محی الدین ابن عربی کا قول استدلال میں پیش کرنا اولاً تو اصولاً غلطی ہے۔ کیونکہ مسئلہ ختم نبوت عقیدہ کا مسئلہ ہے جو باجماع امت بغیر دلیل قطعی کے کسی چیز سے ثابت نہیں ہو سکتا اور دلیل قطعی قرآن کریم اور حدیث متواتر اور اجماع امت کے سوا کوئی نہیں۔ ابن عربی کا قول ان میں سے فرمائیے کس میں داخل ہے۔ اس لیے اس استدلال میں پیش کرنا ہی اصولی غلطی ہے۔ ثانیاً خود ابن عربیؒ اپنی اسی کتاب فتوحات (ج ٣ ص ٣٨ مطبوعہ دارالکتب مصر) میں نیز فصوص میں اس کی تصریح کرتے ہیں کہ نبوت شرعی ہر قسم کی ختم ہو چکی ہے اور جس عبارت کو سوال میں پیش کیا ہے۔ اس کا صحیح مطلب خود فتوحات کی تصریح سے یہ ہے کہ نبوت غیر تشریعی ایک خاص اصطلاح شیخ اکبرؒ کی ہے جو مرادف ولایت ہے۔ نہ وہ نبوت جو مصطلح شرع ہے۔ کیونکہ جمیع اقسام نبوت کے انقطاع پر خود فتوحات کی بے شمار عبارتیں شاہد ہیں۔ ابن عربی اور دوسرے حضرات کی عبارتیں صریح و صاف رسائل مذکورۃ الصدر میں کچھ مذکور ہیں۔ اور قلمی احقر کے پاس منقول لیکن سب کے نقل کرنے کی فرصت و ضرورت نہیں۔

اسی طرح صاحب مجمع البحار اور ملا علی قاری بھی اپنی دوسری تصانیف میں اس کی تصریح کرتے ہیں جو جمہور کا مذہب ہے۔ یعنی ہر قسم کی نبوت ختم ہو چکی ہے۔ آئندہ یہ عہدہ کسی کو نہ ملے گا۔ واللہ تعالیٰ اعلم!

(امداد المفتین ج ٢ ص ١٣٤)

١٠

صفحہ ١٩٩

مرزائی اگر جماعت میں شریک ہو جائے تو نماز مکروہ نہیں ہوگی

سوال ١٢:...... لاہوری جماعت کے مرزائی حنفیوں کی جماعت نماز میں شریک ہو جاتے ہیں تو نماز میں کوئی کراہت آتی ہے یا نہیں۔ خصوصاً ایسی حالت میں کہ حنفی ایسے جاہل ہوں کہ اگر امام مرزائی کو روکے تو خوف فتنہ کا ہو۔؟

جواب:...... نماز میں کوئی کراہت نہیں آتی۔ البتہ مسلمانوں کی جماعت میں تا بمقدور ان کو شریک نہ ہونے دیا جائے۔ کیونکہ اس سے عام مسلمان ان کو مسلمان سمجھ کر ان کے دھوکے میں آجاتے ہیں اور ان کو اپنی مفسدانہ ریشہ دوانیوں کا موقع مل جاتا ہے۔ ہاں اگر ان کے منع کرنے میں فتنہ کا اندیشہ شدید ہو تو چندے صبر کیا جائے اور آہستہ آہستہ لوگوں کو ان کے عقائد باطلہ اور مکائد پر مطلع کرتے رہنا چاہیے۔ (واللہ تعالیٰ اعلم) (امداد المفتین ج ٢ ص ٢٣٢ ص ٢٣٣)

(الحمد للہ اب قادیانیوں کی طرح لاہوری مرزائیوں کا کفر بھی امت مسلمہ کے سامنے الم نشرح ہو چکا ہے۔ پوری دنیا میں کہیں کوئی لاہوری یا قادیانی مسلمانوں کے ساتھ کسی دینی امر میں اتحاد نہیں رکھتے۔ اس کے باوجود اب بھی اگر کہیں لاہوری مرزائی مسلمانوں کے ساتھ شامل ہوتا ہو تو ان کو علیحدہ کرنا مسلمانوں پر ضروری ہے۔ اب چپ رہنا دینی و ایمانی غیرت کے منافی ہے۔ احقاق حق اور ابطال باطل کے بعد مصلحت کوشی کفر و اسلام کی حدود کو خلط ملط کرنا ہے جو حرام ہے۔ مرتب)

اپنے کو مسلمان ظاہر کر کے مسلمان لڑکی سے قادیانی کا نکاح کرنا

سوال ١٣:...... ایک شخص جسکی تحریر موجود ہے کہ میں احمدی نہیں ہوں اور نہ میرا لڑکا احمدی ہے۔ نکاح میرے لڑکے سے کر دو۔ جب نکاح ہو چکا تو معلوم ہوا کہ اب تک احمدی ہے اور لڑکا بھی احمدی ہے اور ہماری لڑکی کو بھی احمدی کرنا چاہتے ہیں۔ آیا نکاح جائز ہے یا نہیں۔ جب نکاح ہوا لڑکی نابالغ تھی۔ اب بالغ ہے۔؟

جواب:...... جمہور علماء جو مرزا قادیانی کے عقائد پر مطلع ہوئے سب کے نزدیک وہ کافر مرتد ہے اور اسی طرح وہ لوگ جو اس کو باوجود ان عقائد کے معلوم ہونے کے مسلمان سمجھے خواہ نبی کہے یا مسیح یا جو کچھ بھی کہے بہر حال کافر مرتد ہے۔ اس کی تحقیق کی ضرورت ہو تو مطبوعہ رسالہ ”فتاویٰ تکفیر قادیان“ جس میں سینکڑوں علماء ہندوستان کے دستخط ہیں منگوا کر ملاحظہ فرمائیے۔ اور

١١

صفحہ ٢٠٠

مرتد کا نکاح کسی طرح صحیح نہیں ہوتا۔ بلکہ اگر بعد نکاح مرتد ہو جاوے تو فسخ ہو جاتا ہے: ”قال فی الدر المختار ويبطل منه اتفاقا ما يعتمد الملة وهى خمس النكاح والشهادة...... الخ . “

(حاشیه شامی من باب المرتد ص ٣٣٠ ج ٣)

اس لئے اس لڑکی کا نکاح منعقد ہی نہیں ہوا۔ دوسری جگہ نکاح کرنا شرعاً درست ہے۔

اس کے علاوہ صورت مذکورہ میں تو اگر قادیانی کو مرتد کافر بھی نہ مانا جائے تب بھی لڑکی اور اس کے اولیاء کو فسخ نکاح کا اختیار ہے۔ کیونکہ خاوند وغیرہ نے بوقت نکاح ان کو دھوکہ دیا ہے: ”قال الشامى لو تزوجة على انه حر او سنی او قادر على المهر والنفقة فبان بخلافه الى قوله لها الخيار ثم قال بعد اسطر لو زوج بنته الصغيرة من ينكر انه يشرب المسكر فاذا هو مدمن له وقالت بعد ما كبرت لا ارضى بالنكاح ان لم يكن يعرفه الاب بشربه وكان غلبة اهل بيته صالحين فالنكاح باطل . “

(شامی باب الکفاءۃ صفحہ ٣٦٢ جلد ٢ مصری)

عبارات مذکورہ سے یہ معلوم ہوا کہ اگر بالفرض قادیانی کو کافر نہ مانیں تب بھی صورت مذکورہ میں لڑکی کو یہ اختیار حاصل ہے کہ بذریعہ حاکم مسلم اپنا یہ نکاح فسخ کرالے۔ واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم!

(امداد المفتین ص ٥٠٧ ص ٥٠٨)

قادیانی کا نکاح مسلمہ کے ساتھ جائز نہیں

سوال ١٤:...... حنفی کا نکاح قادیانی سے جائز ہے یا نہیں؟۔

جواب:...... مرزا قادیانی کے متبعین خواہ قادیانی پارٹی سے متعلق ہوں یا لاہوری سے جمہور علماء امت اہل ہندوستان و حجاز و مصر و شام کے اجماع و اتفاق سے خارج از اسلام ہیں جس کی وجہ مفصل و مدلل حضرت مولانا سید مرتضیٰ حسن صاحب ناظم تبلیغ دارالعلوم دیوبند کے رسالہ ”اشد العذاب“ میں مذکور ہے۔ اور فتاویٰ علمائے ہندوستان کے مہری اور دستخطی جداگانہ چھپے ہوئے ہیں۔ اگر ضرورت ہو تو ان دونوں رسالوں کو ملاحظہ فرمالیا جائے۔ خلاصہ یہ کہ فرقہ قادیانی مسلمان نہیں۔ اس لئے کسی مسلمان مرد و عورت کا نکاح ان سے جائز نہیں۔ اور اگر کسی نے پڑھ بھی دیا تو شرعاً معتبر نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم! (نوٹ: رسالہ ”اشد العذاب“ احتساب قادیانیت کی جلد دہم میں چھپ چکا ہے۔ مرتب!)

١٢

صفحہ ٢٠١

مرزائی کا دھوکہ دے کر سنی عورت سے نکاح کرنا

سوال ١٥:...... کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک مرزائی شخص نے اپنے کو سنی المذہب ہونے کا یقین دلا کر نکاح کیا۔ لڑکی اگر چہ نکاح سے مطلقاً متنفر تھی۔ لیکن اس کے والد نے نکاح اس سے کر دیا۔ تین ماہ خاوند کے گھر رہی۔ ہم بستری بھی ہوئی۔ حمل ٹھہر گیا۔ بعدش بعض شرائط نکاح کے پورا نہ کرنے پر و نیز اچھا سلوک نہ کرنے پر لڑکی اپنے والدین کے گھر آئی۔ وہ شخص کہ جب تک لڑکی اس کے گھر میں تھی اسے سنیوں کے مترجم قرآن پڑھنے سے منع کرتا تھا۔ منکوحہ کو بایں وجہ بھی زید سے نفرت ہے اور تھی۔ اور کہتی ہے کہ خنزیر کے یہاں میں جانا نہیں چاہتی ہوں۔ پس اندریں صورت کیا حکم ہے کہ آیا اس کا نکاح زید سے فسخ ہو گیا یا شرعاً کیا صورت ہے۔ اور نیز زید لاہور میں ہے۔ اور اس کی منکوحہ اور اس کے والد ملتان میں اور وضع حمل ملتان میں ہوا۔ اس نے اس مدت میں اپنی بیوی کی خیر خبر بھی نہیں لی؟۔

جواب:...... مرزائی خواہ قادیانی ہوں یا لاہوری جمہور علماء کے نزدیک کافر و مرتد ہیں۔ ہندوستان اور بیرون ہند میں جن علماء حضرات کو ان کے مذہب پر اطلاع ہوئی سب نے باجماع ان کی تکفیر کی ہے۔ اور مسلمان عورت کا نکاح کسی کافر سے کسی طرح حلال نہیں: ’لن یجعل اللہ للکافرین علی المومنین سبیلا ٠‘‘ اسی لئے عورت کا نکاح مرزائی سے منعقد ہی نہیں ہوا۔ اب دوسری جگہ نکاح کر سکتی ہے۔ قانونی گرفت سے بچنے کیلئے حکام وقت سے اجازت لے لی جائے۔ فقط: واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم !

(امداد المفتیین ج ٢ ص ٥٨ ص ٥٩)

خاوند مرزائی ہو گیا تو فوراً نکاح جاتا رہا

سوال ١٦:...... ایک مولوی صاحب نے اپنی لڑکی صغیرہ کا نکاح اپنے ایک رشتہ دار سے کر دیا۔ کچھ عرصہ بعد زوج مرزائی ہو گیا۔ منکوحہ نے بلوغت کے بعد عدالت میں فسخ نکاح کیلئے دعویٰ دائر کر دیا۔ آیا اس کا نکاح فسخ ہو گیا۔ یا نہیں؟۔

جواب:...... ان (مرزائی) عقائد کی وجہ سے زید کافر اور مرتد ہو گیا اور نکاح اس کا مسماتہ ہندہ سے فسخ ہو گیا۔ خاوند کے مرتد ہو جانے سے فوراً بلا قضاء قاضی فسخ ہو جاتا ہے۔ جیسا کہ درمختار میں باب نکاح الکافر میں ہے: ’’ وارتداد احد ھما فسخ عاجل بلا قضاء (قولہ بلا قضاء) ای بلا توقف علیٰ قضاء القاضی وکذا بلاتوقف علی مضی عدة

١٣

صفحہ ٢٠٢

في المدخول بها ، ‘‘

(شامی ص ٤٢٥، ج ٢/ امداد المفتین ج ٢ ص ٦٣٨، ٦٣٩)

قادیانی کو کسی اسلامی جلسہ یا ادارہ میں شریک کار بنانا !

سوال ١٧:...... قادیانیوں‘ مرزائیوں احمدی ہو یا محمودی‘ میل جول رکھنا ان کے ساتھ کھانا‘ پینا‘ اٹھنا‘ بیٹھنا‘ شادی بیاہ کرنا‘ ان سے مسلمانوں کو اپنی مساجد اور قبرستانوں کیلئے چندہ لینا یا ان کو اشاعت اسلام کی غرض سے چندہ دینا جائز ہے یا نہیں ؟ ۔٢...... وقتی مصلحت کو مدنظر رکھتے ہوئے مسلمانوں کو اپنی انجمنوں مجلسوں وغیرہ کا قادیانیوں کو ممبر عام اس سے کہ وہ خصوصی ہوں یا عمومی بنا کر رکھنا جائز ہے یا نہیں؟۔

(٣)...... کچھ لکھے پڑھے کہتے ہیں کہ قادیانی یہاں صرف بیس ہی تو ہیں ۔ اگر ان کو شامل کر لیا جائے تو کیا حرج ہے؟۔ مسلمانوں کی شان نہیں کہ وہ اس قلیل مقدار سے خوف زدہ ہو کر اس اشتراک عمل سے باز رہیں ۔ یہ ایک مولوی صاحب کا مقولہ ہے۔ لہٰذا ہم کو بتایا جائے کہ یہ مولوی صاحب ٹھیک فرماتے ہیں یا نہیں؟۔

جواب:...... مرزا غلام احمد قادیانی باتفاق امت کافر ہیں ۔ ان کے وجوہ کفر اور عقائد کفریہ کو علماء نے مستقل رسالوں میں جمع کر دیا ہے۔ ضرورت ہو تو رسائل ذیل میں دیکھ لیا جائے ۔ ’’اشد العذاب ‘‘ مصنفہ مولانا مرتضیٰ حسن صاحب ’’القول الصحیح ‘‘......’’فتاویٰ تکفیر قادیان ‘‘ اور جب کہ یہ لوگ کافر و مرتد ٹھہرے تو ان کو اسلامی اداروں کا رکن بنایا جائے گا تو گویا خود علماء اسلام ان کو ایک عزت دینی کے عہدہ پر جگہ دے رہے ہیں ۔ اس سے عوام پر یہ اثر ہوتا ہے کہ ان لوگوں کو مثل علمائے اسلام کے مقتداء سمجھنے لگتے ہیں اور ان کے فتوے ماننے لگتے ہیں ۔ جو سراسر ضلالت و گمراہی ہے۔ اور جس قدر مصالح ان لوگوں کی شرکت میں پیش نظر ہیں اس سے بہت زیادہ نقصانات شدیدہ کا خطرہ ہی نہیں بلکہ یقین ہے۔ اس لئے ہرگز ان لوگوں کو اسلامی مجالس میں شریک نہ کرنا چاہیے ہمارے اکابر و اساتذہ نے بہت غور وفکر اور تجارب کے بعد ہی رائے قائم کی ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم !

(امداد المفتین ج ٢ ص ١٠٢٢)

قادیانی سے مقاطعہ جائز ہے؟

سوال ١٨:...... زید نے کہا کہ کمیٹی مجھ کو چھوڑ دے مگر قادیانیوں کو نہیں چھوڑوں گا۔ اس وجہ سے کمیٹی نے زید سے ترک موالات کر لیا۔ اسی باعث کمیٹی والے تقریب وغیرہ میں نہ زید کو

١٤

صفحہ ٢٠٣

بلاتے ہیں۔ نہ زید کے یہاں جاتے ہیں۔ مگر زید کے ساتھ کمیٹی والے ہمدردی ہی کرتے ہیں۔ زید کے ساتھ نشست اور خلا ملا (ملا جلا) ہی ہے تو آیا ترک موالات کامل ہے یا ناقص۔ ترک موالات کی تعریف مشرح طور سے تحریر فرمائی جائے۔ تاکہ اس پر عمل کیا جاوے؟۔

جواب:...... زید کا ایسا کہنا سخت گناہ ہے اور کفر کا اندیشہ ہے۔ لیکن فقط اتنی بات سے خارج نہیں ہوا۔ لہٰذا جو حقوق عام مسلمانوں کے ہیں ان کا وہ بھی حقدار ہے۔ مثلاً مل جائے تو سلام کرنا یا سلام کا جواب دینا۔ بیمار ہو تو عیادت کرنا وغیرہ۔ اس لئے ایسے حقوق عامہ کو ترک نہ کیا جائے۔ مگر خصوص تعلقات نکاح شادی وغیرہ بالکل قطع کر دیئے جائیں اور اگر یہ خیال ہو کہ مکمل ترک موالات کرنے اور قطع تعلق کرنے سے وہ راہ راست پر آجائے گا تو اس میں بھی مضائقہ نہیں کہ چند روز کیلئے بالکل قطع تعلقات کر دیا جائے۔ مگر اس صورت کو ہمیشہ نہ رکھیں۔

وقد صرح العینی فی شرح المنیۃ بکراہۃ المعاشرۃ تارک الصلوٰۃ فھذا اولیٰ ۔ واللہ تعالیٰ اعلم!

(امداد المفتین ج ٢ ص ١٠٢٣)

قادیانی کی تجہیز وتکفین اور ان کے نکاح میں شرکت

سوال ١٩:...... کسی قادیانی کی تجہیز و تکفین میں دیدہ و دانستہ حصہ لینے والے مسلمان کے حق میں کیا حکم ہے؟۔

حکم ہے؟۔

قادیانیوں کے ساتھ کیا برتاؤ کریں تا کہ وہ عنداللہ ماخوذ نہ ہوں؟۔

جواب:...... مرزا غلام احمد کے تمام متبعین خواہ کسی پارٹی کے ہوں جمہور علمائے اسلام کے اتفاق سے کافر و مرتد ہیں۔ ان کے جنازہ کی نماز پڑھنا یا شریک ہونا ہرگز جائز نہیں۔ اور جو کوئی مسلمان شریک ہو وہ گناہ گار ہے۔ توبہ کرنی چاہئے۔

١٥

صفحہ ٢٠٤

ان کو اپنی گمراہی پھیلانے کا موقع ملتا ہے۔ قال اللہ تعالیٰ: ’’فلا تقعد بعد الذکریٰ: الانعام ٦٨......ولا ترکنوا الی الذین ظلموا فتمسکم النار: ھود ١١٣‘‘

پرہیز ضروری ہے۔

’’صرح بہ فی کلمات الکفر من جامع الفصولین والبحر‘‘

نہ رکھنا چاہیے۔ اگرچہ رشتہ داری وقرابت بھی ہو۔ رشتہ اسلام کے قطع کرنے والے کے ساتھ رشتہ قرابت کوئی چیز نہیں۔

مرتد کا نکاح کسی سے منعقد نہیں ہوسکتا: ’’قال فی الدر المختار ولا یصح ان ینکح مرتد او مرتدة احداً من الناس مطلقاً‘‘

(امداد المفتین ج٢ ص١٠٢٣ ص١٠٢٤)

قادیانیوں سے اختلاط

سوال ٢٠:......مرزائیوں کے دونوں فریق قادیانی ولاہوری بالیقین مرتد خارج عن الاسلام ہیں یا نہیں۔ اگر ہیں تو مرتد کا کیا حکم ہے۔ مرتدین کے ساتھ اختلاط برتاؤ کرنا عوام کو ان کی باتیں سننا، جلسوں میں شریک ہونا، ان سے مناکحت کرنا، ان کی شادی وغمی میں شریک ہونا، ان کے ساتھ کھانا پینا، تجارتی تعلقات قائم رکھنا، ان کو ملازم رکھنا۔ یہ امور جائز ہیں یا نہیں؟۔

جواب:......مرزا غلام احمد کا کافر مرتد ہونا اور ان کے اقوال وکلمات غیر محصورہ کا غیر محتمل للتاویل ہونا اظہر من الشمس ہوچکا ہے۔ اور اسی لئے جمہور علمائے امت ان کی تکفیر پر متفق ہیں۔ اس کی مفصل تحقیق کرنا ہو تو مستقل رسائل مثل ’’اشد العذاب‘‘ مصنفہ مولانا مرتضیٰ حسن صاحب اور ’’القول الصحیح فی مکائد المسیح‘‘ مصنفہ مولانا محمد سہول صاحب اور مطبوعہ ’’فتاویٰ علمائے ہند در بارہ تکفیر قادیانی‘‘ جس میں ہر ضلع وصوبہ کے علماء کے سینکڑوں دستخط وتصدیق ہیں۔ ملاحظہ فرمائے جائیں۔ پھر مرزائیوں کے دونوں فرقے قادیانی اور لاہوری اتنی

١٦

صفحہ ٢٠٥

بات پر متفق ہیں کہ وہ (مرزا قادیانی) اعلیٰ درجہ کا مسلمان بلکہ مجدد و محدث اور مسیح موعود تھے اور ظاہر ہے کہ کسی کافر مرتد کے متعلق بعد اس کے عقائد معلوم ہو جانے کے ایسا عقیدہ رکھنا خود کفر و ارتداد ہے۔ اس لئے بلاشبہ دونوں فرقے کافر و مرتد ہیں۔ اور اب تو لاہوریوں نے جو تحریف قرآن اور انکار ضروریات دین کا خاص طور پر بیڑا اٹھایا ہے۔ اس کے سبب اب وہ اپنے کفر و ارتداد میں مرزا صاحب کے تابع ہونے سے مستغنی ہوکر خود بالذات ارتداد کے علمبردار ہیں۔ اس لئے دونوں فریق سے عام مسلمانوں کا اختلاط اور ان کی باتیں سننا جلسوں میں ان کو شریک کرنا یا خود ان کے جلسوں میں شریک ہونا ۔ شادی و غمی اور کھانے پینے میں ان کو شریک کرنا سخت گناہ ہے۔ اور مناکحت قطعاً حرام ہے۔ اور جو نکاح پڑھ بھی دیا جائے تو نکاح منعقد نہیں ہوتا ۔ بلکہ اگر بعد انعقاد نکاح مرزائی ہو جائے تو نکاح فوراً فسخ ہو جاتا ہے۔ البتہ تجارتی تعلقات اور ملازمت میں رہنا یا ملازم رکھنا بعض صورتوں میں جائز ہے۔ بعض میں وہ بھی ناجائز ہے۔ اس لئے بلاضرورت شدیدہ اس سے بھی احتراز ضروری ہے۔

(امداد المفتین ج ٢ ص ١٠٢٤ ص ١٠٢٥)

١٧

PDF 206

ہفت روزہ ختم نبوت کراچی

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا ترجمان ہفت روزہ ختم نبوت کراچی گذشتہ بیس سالوں سے تسلسل کے ساتھ شائع ہو رہا ہے۔ اندرون و بیرون ملک تمام دینی رسائل میں ایک امتیازی شان کا حامل جریدہ ہے۔ جو شیخ المشائخ خواجہ خواجگان حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم العالیہ و پیر طریقت حضرت مولانا سید نفیس الحسینی دامت برکاتہم کی زیر سرپرستی اور مولانا مفتی محمد جمیل خان کی زیر نگرانی شائع ہوتا ہے۔

زر سالانہ صرف =/350 روپے

رابطہ کے لئے:

منیجر ہفت روزہ ختم نبوت کراچی

دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت جامع مسجد باب الرحمت پرانی نمائش ایم اے جناح روڈ کراچی نمبر 3

PDF 207

انا خاتم النبیین لا نبی بعدی

میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔

فلسفہ ختم نبوت

حضرت مولانا حفظ الرحمن سیوہارویؒ

صفحہ ٢٠٨

مولانا حفظ الرحمن سیوہارویؒ

مولانا محمد حفظ الرحمن سیوہارویؒ ١٨٩٨ء میں سیوہارہ ضلع بجنور میں پیدا ہوئے۔ ١٩٦٢ء میں دہلی میں وفات پائی۔ مدرسہ فیض عام سیوہارہ، مدرسہ شاہی باغ مراد آباد اور دارالعلوم دیوبند میں تعلیم حاصل کی۔ اساتذہ میں امام العصر علامہ انور شاہ کشمیریؒ اور شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانیؒ ایسے نادرِ روزگار شیوخ کا شمار ہوتا ہے۔ مختلف اوقات میں دارالعلوم دیوبند، مدرسہ اسلامیہ ڈابھیل اور مدرسہ اسلامیہ کلکتہ میں درس دیا۔ ندوۃ المصنفین دہلی کی بنیاد رکھی۔ جمعیۃ علماء ہند میں کام کیا۔ یو پی کی اسمبلی اور ہندوستان کی پارلیمنٹ کے ممبر رہے۔ درج ذیل بلند پایہ کتابیں تصنیف فرمائیں:

١۔ قصص القرآن، چار جلد۔ ٢۔ اسلام کا اقتصادی نظام۔ ٣۔ اخلاق اور فلسفہ اخلاق۔ ٤۔ بلاغ المبین۔ ٥۔ رسول کریم ﷺ

قصص القرآن ج ٤ ص ٩ تا ٢١٠ سے ١۔ ”حیات عیسیٰ علیہ السلام“ اور ٢۔ ”فلسفہ ختم نبوت“ مقالہ دوسری جلد سے یہ دو رسائل احتساب قادیانیت کی جلد ہذا میں شامل کر رہے ہیں۔

٢

صفحہ ٢٠٩

فلسفہ ختم نبوت

الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰی عَبْدِہٖ لِیَکُوْنَ لِلْعَالَمِیْنَ نَذِیْراً وَالصَّلوٰۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی مُحَمَّدِ نِ الْمَبْعُوْثِ کَافَّۃً لِّلنَّاسِ بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا اَمَّا بَعْد!

نبوت و رسالت کا وہ سلسلہ جو حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہو کر حضرت عیسٰی علیہ السلام تک پہنچا تھا رُشد و ہدایت کے اسلوب و نہج کے لحاظ سے اس معنی میں یکسانیت رکھتا ہے کہ اس تمام سلسلہ میں نبوت و رسالت جغرافیائی حدود میں محدود رہی ہے اور اس لیے مختلف زبانوں میں ایک ہی وقت میں متعدد انبیاء علیہم السلام کی بعثت فرائض رسالت ادا کرتی رہی ہے حتیٰ کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام کے پیغامِ حق نے اگر چہ ایک گونہ وسعت اختیار کی اور بنی اسرائیل کی گم کردہ راہ بھیڑوں کے علاوہ بھی بعض حلقہ انسانی اس دعوت کے مخاطب بنے‘ تاہم انھوں نے عالمگیر دعوت و پیغام کا دعویٰ نہیں کیا اور انجیل شاہد ہے کہ خود ذاتِ قدسی نے یہ صراحت کہہ دیا کہ ان کی بعثت کا تخاطب محدود ہے۔ لیکن یہ سلسلہ آخر کب تک اسی طرح محدود رہ سکتا تھا؟ اور جو حلقہ دعوت و ارشاد آہستہ آہستہ ترقی پذیر اور وسعت گیر ہوتا جا رہا تھا وہ قانونِ قدرت کے عام اصول کے خلاف کس طرح ہمیشہ کے لیے محصور رہ سکتا تھا؟

البتہ انتظار تھا تو اس کا کہ وہ وقت قریب آ جائے جبکہ دنیا کی وسیع پہنائیوں اور عالمگیر وسعتوں کے درمیان ایسی ہم آہنگی پیدا ہو جائے کہ نہ ایک کے مفاد و مضار دوسرے حصوں سے اوجھل ہو سکیں اور نہ بیگانہ و بے تعلق رہ سکیں بلکہ خدا کی یہ وسیع کائنات مادی اسباب کی ہمہ گیری کی بدولت ایک ”کنبہ“ بن جائے اور انسان کبیر (عالم) کے تمام جوارح (ممالک و امصار) ایک دوسرے کے ساتھ اس طرح وابستہ ہو جائیں کہ ایک کا نفع و ضرر دوسروں کے نفع و ضرر پر اثر انداز ہونے لگے بلکہ قانونِ فطرت اپنا

٣

صفحہ ٢١٠

مظاہرہ کرے اور مادی دنیا کی ہمہ گیر ہم آہنگی کے رونما ہونے سے قبل روحانی پیغام سعادت کو عالمگیر وسعت اور ہمہ گیر عظمت عطا فرمائے۔ چنانچہ عالم اسباب میں فطرت کے عام قانون کی طرح رُشد و ہدایت کا جو آغاز پہلے انسان کے ذریعہ ہوا تھا اس کا انجام اس مقدس ہستی تک پہنچ کر کامل ومکمل ہو گیا جس کا نام محمد ﷺ اور احمد ﷺ ہے اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَرَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا. (مائدہ ٣) مسئلہ کے اس پہلو کی تعبیر یوں بھی کی جاسکتی ہے کہ اس عالم رنگ وبو میں دو زندگیاں توام اور ہم رشتہ نظر آتی ہیں ایک مادی اور دوسری روحانی اور خدائے برتر کی ربوبیت کاملہ نے عالم کی ان ہر دو حیات کی رہ گزر کے لیے روشنی کا بھی انتظام کیا ہے تاکہ ان پر عمل پیرا ہو کر زندگی کی ٹھوکروں، لغزشوں اور تاریک راہوں سے محفوظ رہا جا سکے، چنانچہ اسی مقصد کے لیے اس نے مادی دنیا کے لیے آگ کا درخت لگایا۔ اَفَرَاَیْتُمُ النَّارَ الَّتِیْ تُوْرُوْنَ ءَاَنْتُمْ اَنْشَاْتُمْ شَجَرَتَهَا اَمْ نَحْنُ الْمُنْشِئُوْنَ (واقعہ ٧١، ٧٢) چقماق میں آگ پیدا کی اور تیل کو ذریعہ بنا کر دیئے کو روشنی بخشی۔ یَکَادُ زَیْتُهَا یُضِیْءُ وَلَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَارٌ (نور ٣٥) مگر اس روشنی کو آغاز بھی بخشا اور انجام بھی اور فطری اور مصنوعی دونوں طریقوں سے اس کی ابتداء کو انتہا تک پہنچا کر کامل ومکمل کر دیا کہ اس کے بعد نہ روشنی کی طلب باقی رہے نہ انتظار۔

غرض جو روشنی صنعت کے ہاتھوں دیئے کی شکل میں نمود پذیر ہوئی اور شمع کا فوری، لالٹین، روشن گیس اور بجلی کے قمقموں کی شکل میں ترقی کرتی رہی اور جو روشنی براہِ راست فطرت کے ہاتھوں چھوٹے سے ستارہ کی صورت میں چمکی اور بڑے بڑے روشن ستاروں اور بدر وقمر کی شکل میں رُوبہ ترقی نظر آتی رہی وہ آخرکار ایک ایسی روشنی پر جا کر رُک گئی۔ جس کے بعد کسی روشنی کی ضرورت ہی باقی نہ رہی اور طلب وانتظار کی تمام شکلیں اس روشنی میں جا کر ختم ہو گئیں، دنیا نے جس کو آفتاب کہہ کر پکارا۔ اسی طرح اس کی رحمت عالم اور ربوبیت کامل نے روحانی روشنی کا آغاز پہلے انسان حضرت آدم علیہ السلام کے ذریعہ کیا اور مادی دنیا کی وسعتوں کے ساتھ ساتھ اس کو نوح، ہود، صالح، ابراہیم، اسمعیل، اسحٰق، موسیٰ، عیسیٰ علیہم السلام جیسے نبیوں اور رسولوں کے ذریعہ روحانی ستارے اور قمر وبدر بنا کر وسعت عطا فرمائی اور آہستہ آہستہ ترقی دے کر اس درجہ پر پہنچا دیا کہ مناسب وقت آنے پر وہ روشنی محمد ﷺ کے پیغام رُشد و ہدایت کی شکل میں آفتاب روحانیت بن کر سارے عالم پر چھا گئی۔ ٤

صفحہ ٢١١

یہی وجہ ہے کہ اگر قرآن عزیز نے سورۂ قمر میں مادی آفتاب کے لیے ”سراج“ کی تشبیہ دے کر اس کی عالمگیر درخشانی کا ذکر فرمایا تو سورۂ احزاب میں روحانی آفتاب محمد ﷺ کو ”سراجاً منیراً“ کہہ کر دونوں آفتاب ہائے درخشاں کی ہم آہنگی کا اعلان فرمایا اور مادی و روحانی ہر دو آفتاب عالمتاب کو سراج (چراغ) سے تشبیہ دے کر ساتھ ہی اس حقیقت کو بھی واضح کر دیا کہ گو یہ روشنیاں اپنی ہمہ گیر وسعت کے لحاظ سے آفتاب کہلانے کی مستحق ہیں تاہم یہ بات کسی طرح فراموش نہیں ہونی چاہیے کہ یہ انجام اصل کے اعتبار سے اسی آغاز کا کامل و مکمل نمونہ ہے جس کی ابتدائی نمود روحانی اور مادی دیئے (سراج) سے ہوئی اور روحانی وسعت و عظمت کے لحاظ سے بعض کو بعض پر اور ایک کو سب پر فضیلت و برتری حاصل ہوئی مگر اصل اور بنیاد کے پیش نظر سب کی نہاد ایک ہی روشنی ”وحی الٰہی“ سے وابستہ و پیوستہ ہے۔ الانبیاء اخوة من علات و دينهم واحد.

(مسند احمد ج٢ ص٢٣)

ان ہر دو حقائق کے پیش نظر لانے کے بعد یہ حقیقت بھی لائقِ توجہ ہے کہ فطرت ہم کو روز و شب یہ تماشا دکھلا رہی ہے کہ اس کار زارِ حیات میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ زیر و بم‘ نشیب و فراز‘ عروج و زوال اور زوال و کمال کے دائرہ میں محدود و محصور ہے یعنی جب کسی امر کے متعلق کہا جائے کہ یہ عروج و کمال کو پہنچ رہا ہے تو اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اب سے قبل اس میں جو کمی تھی وہ پوری ہو رہی ہے اور اسی طرح جب یہ سنا جاتا ہے کہ فلاں شئے ابھی ابتدائی درجہ میں ہے تو اس سے یہ مراد ہوتی ہے کہ اس کو ابھی بحد کمال پہنچنا ہے۔

غرض آغاز اور انجام‘ ابتداء اور انتہاء ان ہی دو نقطوں سے کار زارِ ہستی کا دائرہ بنتا ہے اور یہی دونوں زوال و عروج‘ نقص و کمال اور نشیب و فراز کی پرکار بناتے ہیں۔ پس آدم علیہ السلام نبوت کا آغاز تھے اور محمد ﷺ اس کا آخری انجام۔

پس جو شخص بھی دلیل یا وجدان کی ہدایت سے یہ تسلیم کرتا ہے کہ کائنات ہست و بود سب کچھ اسی کی مخلوق ہے تو گویا وہ یہ تسلیم کر لیتا ہے کہ یہ سب نہ ازلی ہیں نہ ابدی بلکہ ان کے لیے آغاز بھی ہے اور انجام بھی‘ اور اس لیے انسانی تخلیق نے کوئی بھی روپ اختیار کیا ہو بہرحال پہلا انسان اپنے ساتھ ہی مادی و روحانی ہدایت لے کر آیا ہے اور یہی وہ آغاز تھا جس کو ادیان سماوی نے نبوتِ آدم کے نام سے یاد کیا ہے اور جس کا سلسلہ برابر اس دنیا میں قائم رہا تا آنکہ محمد ﷺ کا ظہور ہوا اور ذاتِ قدسی صفات نے

٥

صفحہ ٢١٢

بعثت عام کا اعلان فرمایا۔

تو اب اس روحانی رشد و ہدایت یا پیغام الہی کے نشو و ارتقاء کے لیے اگر ذات اقدس محمد ﷺ کے ساتھ ختم نبوت کو وابستہ نہ سمجھا جائے تب تین صورتوں میں سے کوئی ایک صورت ہی وقوع پذیر تسلیم کی جاسکتی ہے۔ ایک! یہ کہ سلسلۂ نبوت و رسالت نبی اکرم ﷺ پر ختم نہیں ہوا بلکہ اس سے آگے ترقی و تکمیل کی راہ پر گامزن ہے یہاں تک کہ اس حد کمال تک پہنچ جائے جس کے بعد کسی تکمیل کی حاجت باقی نہ رہے‘ دوسری! صورت یہ کہ اس سلسلہ کے آغاز نے جو ترقی کی راہ اختیار کی ہے وہ تنزل کی جانب مائل ہو جائے اور یہ پیغام کسی طرح بھی شرمندۂ تکمیل نہ ہو سکے۔ تیسری! شکل یہ ہے کہ جو سلسلہ ایک خاص حیثیت میں رُوبہ ترقی ہے وہ جب حد تکمیل کو پہنچ جائے تو پھر کمال صورت زوال اختیار کر لے یا یوں کہہ دیجئے کہ حد کمال آغاز کی جانب لوٹ جائے اور تحصیل حاصل کا نمونہ پیش کر دے۔

لیکن آخری دو شکلیں غیر معقول بلکہ فطری تقاضا کے خلاف ہیں‘ پہلی صورت تو اس لیے کہ اس سے خدائے تعالیٰ کی ربوبیت کاملہ اور صفت رحمت و قدرت کا نقص لازم آتا ہے کہ جس مقصد سے اس نے ایک آغاز کیا تھا اسی مرضی و مشیت کے باوجود اس کو درجۂ تکمیل نہ دے سکا۔ تعالیٰ اللہ علواً کبیراً۔

اور اگر اس کو تسلیم کر لیا جائے تو یہ گویا مان لینا ہو گا کہ کائنات ہست و بود میں نقص‘ نشیب‘ زوال اور ابتداء کے علاوہ کمال‘ فراز‘ عروج اور انتہاء کا وجود ہی نہیں ہے گویا دکان فطرت میں عیب کے سوا ہنر کا کوئی سودا موجود ہی نہیں۔ اسی طرح دوسری شکل‘ اس لیے جب کہ تکمیل ایسی حقیقت کا نام ہے جس کے بعد اس سلسلہ کی نہ ضرورت باقی رہے نہ طلب‘ تو پھر رشد و ہدایت اور پیغام حق جیسی روشن شئے کے پایۂ تکمیل تک پہنچ جانے کے بعد اس کو ابتداء سے پھر دہرانا بے معنی بات ہے اور تحصیل حاصل نہ عقل کا کام ہے نہ حکمت و دانائی کا۔ چہ جائیکہ ایسے فعل کی نسبت اس ذات کی جانب ہو جس کے لیے کہا گیا ہے اِنَّ رَبَّکَ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ۔

پس اگر مؤخر الذکر دونوں صورتیں غیر معقول اور ناقابل توجہ ہیں تو اب پہلی شکل ہی لائق غور رہ جاتی ہے مگر جب اس کی تحلیل کی جائے تو یہ سوال خود بخود سامنے آ جاتا ہے کہ جب کہ تاریخ ادیان و ملل نے بلکہ واقعات و حقائق نے یہ ثابت کر دیا اور روشن دلائل و براہین سے ثابت کر دیا کہ قرآن عزیز ایک ایسا روحانی قانون‘ دستور‘ آئین

٦

صفحہ ٢١٣

اور پیغام رُشد و ہدایت ہے جس کی نظیر پیش کرنے سے تمام سابقہ ادیان اور موجودہ مدعیان وحی و الہام عاجز و درماندہ رہے ہیں اور ہیں۔ تو پھر علم و عقل اور حکمت و دانش کا وہ کون سا تقاضا ہے جس کے پیش نظر اَلْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي (مائدہ ٣) کا انکار کیا جاسکے اور جو تکمیل کہ محمد ﷺ کے ذریعہ ہوچکی اس کو جھٹلا کر اور تاریخ ادیان کی صاف اور صادق شہادت کا منکر بن کر اس سلسلہ کی آخری کڑی ”نبی منتظر“ کے لیے چشم براہ ہوا جاسکے۔

یہی وہ حقیقت ہے جس کو قرآن عزیز نے وَلٰكِنْ رَّسُولَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ (احزاب ٤٠) کہہ کر روشن کیا ہے اور جس کی شہادت خود ذات قدسی صفات نے یہ کہہ کر دی ہے۔

قال رسول الله ﷺ مثلی و مثل النبیین من قبلی کمثل رجل بنی داراً فاتمها الا لبنة۔ واحدة فجئت انا فاتممت تلک اللبنة۔ (مسند احمد ج ٣ ص ٩)

ترجمہ۔ میری اور دوسرے انبیاء علیہم السلام کی مثال اس شخص کی طرح ہے جس نے مکان بنایا اور اس کو مکمل کر لیا مگر ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی پس میں قصر نبوت کی وہی اینٹ ہوں جس نے آ کر اس قصر کی تکمیل کر دی۔

آپ کہہ سکتے ہیں کہ اس بات کو مان لینے میں کیا حرج ہے کہ قصر نبوت کی تکمیل آپ ﷺ ہی کی ذات سے ہوئی لیکن پھر آپ ﷺ کے کمالِ نبوت کے مختلف اطوار و احوال میں سے یہ امتیازی شان بھی منصۂ شہود پر آئی کہ جو شخص بھی جدید نبی یا رسول بنے اس کا انتساب آپ ﷺ ہی کے فیضِ نبوت کے ساتھ وابستہ ہو یعنی آئندہ بھی نبی اور رسول آتے رہیں۔ مگر وہ مستقل نہ ہوں بلکہ آپ ﷺ کے ماتحت اور قرآن ہی کے زیر نگیں ہوں، لیکن یہ کہنا اس لیے صحیح نہیں ہے کہ جو بات کہی گئی اس کو خواہ کسی خوبصورت سے خوبصورت عنوان سے کہیے سب کا حاصل یہی نکلتا ہے کہ محمد ﷺ کی نبوت و رسالت کے بعد نبی اور رسول کی احتیاج باقی ہے اور اس کے بغیر دین الہی اور پیغام ربانی تشنۂ تکمیل ہے۔ ورنہ تو تکمیلِ نبوت کے بعد نبی اور رسول کی جگہ خاتم النبیین کے صرف نائب اور جانشین ہونے چاہئیں تاکہ ان کے ذریعہ پیغامِ کامل اور ہدایت تام کی یاد دہانی ہوتی رہے اور یہی وہ نیابت و وراثت ہے جس کا حق خدمت علماء امت اَلْعُلَمَاءُ وَرَثَةُ الْأَنْبِيَاءِ (کنز العمال ج ١٠ ص ١٣٥ حدیث نمبر ٢٨٦٧٩) کے مصداق بن کر ادا کرتے چلے آئے ہیں اور تاقیامِ حشر کرتے رہیں گے۔

٧

صفحہ ٢١٤

اس اہم مسئلہ کی وضاحت یوں بھی کی جاسکتی ہے کہ کتاب کائنات کے وہ صفحات جن پر مذاہب وملل کی تاریخ ثبت ہے شاہد ہیں کہ اقطاع عالم کے درمیان رسل و رسائل اور دیگر وسائل کے مفقود ہونے کی وجہ سے جبکہ فطرت نے رشد و ہدایت کے پیغام کو عرصہ مدید تک جغرافیائی حدود میں محدود رکھا اور اس لیے ایک ہی دور میں متعدد مقامات پر متعدد انبیاء ورسل کا ظہور ہوتا رہا اور پھر جب کائنات پر وہ زمانہ پرتو ڈالنے لگا جس کے قریبی عرصہ میں ساری کائنات کے باہم روابط نے ہم آہنگی اور تعارف کی بنیاد ڈال دی اور فطری تقاضا کی بناء پر روحانی پیغام نے بھی بعثت خاص کی جگہ بعثت عام کی شکل اختیار کر لی اور ایک ایسا پیغام آ گیا جو تمام عالم کے لیے یکساں طور پر بیک وقت رُشد و ہدایت کا آفتاب بن کر درخشاں ہے۔ تو اس کے بعد یا تو یہ ہونا چاہیے کہ وحی پیغام رہتی دنیا تک کے لیے رُشد و ہدایت کا پیغام بنے اور جس پیغمبر کی معرفت وہ پیغام آیا ہے اس کی ذات اقدس کو اس پیغام کا مکمل و متمم مان کر خاتم الانبیاء والرسل تسلیم کیا جائے۔ ورنہ غور کیا جائے کہ محدود پیغام و دعوت حق کے بعد جب بعثت عام نے ساری کائنات کی رہنمائی کا فرض انجام دے دیا تو اس کے بعد ضرورت وطلب کا کونسا عنوان باقی رہا جس کی تکمیل کے لیے اس سلسلہ کو پھر بھی جاری رکھا جائے اور یا بعثت خاص کو دہرایا جائے؟ جس کا حاصل عروج سے انحطاط کی شکل میں ظاہر ہو اور یا بعثت عام کی تحصیل حاصل کی غیر معقولیت معقولیت کی شکل اختیار کرے اور آیت وَمَا اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا کَافَّةً لِلنَّاسِ (سباء ٢٨) کی بشارت کو بے حقیقت بنا دیا جائے۔

ذات اقدس محمد ﷺ کی بعثت عام کے بعد ایسی حیثیت سے اس سلسلہ کا اجراء تحصیل حاصل اور غیر معقول اس لیے ہے کہ فطرت کے مادی اور روحانی تقاضا کے خلاف اگر قدرت حق کو یہ منظور تھا کہ پیغام و دعوت اور نظام رُشد و ہدایت تدریجی طور پر ترقی پذیر نہ ہو اور مادی دنیا کے محدود حالات سے بے نیاز ہو کر انجام پائے تو بلاشبہ آغاز ہی میں وحی الٰہی ”بعثت عام“ کی شکل اختیار کرتی اور پھر رہتی دنیا تک وحی بروئے کار ہوتی اور یا اس کا سلسلہ کسی تکمیل کا محتاج نہ ہو کر رہتی دنیا تک تجدید کی شکل میں جاری رہتا۔

مگر واقعات اور مشاہدات اس کے خلاف ہیں اور اوّل محدود پیغامات کا سلسلہ اور ان کے درمیان ترقی پذیر وسعت کا دائرہ اور پھر دعوت عام کی شکل میں اس ترقی کی انتہاء یہ پوری تدریجی کیفیت صاف بتلا رہی ہے کہ فطرت الٰہی نے فیصلہ کر لیا ہے کہ دوسرے امور کی طرح رُشد و ہدایت الٰہی کا یہ پیغام بھی آغاز کی نمو کے ساتھ آہستہ

٨

صفحہ ٢١٥

آہستہ ترقی پذیر اور وسعت گیر ہوتا رہے تا آنکہ وہ وقت آ جائے کہ یہ وسعت عالمگیر دعوت بن کر پایۂ تکمیل کو پہنچ جائے اور یہ سلسلہ اس حد پر پہنچ کر ختم ہو جائے اور آئندہ نبی و رسول کی جگہ نائبین رسول علماء تاقیام ساعت اس مکمل قانون دعوت کی روشنی میں تبلیغ حق کا فرض انجام دیتے رہیں تا کہ ایک جانب ”وحدت امت“ کا وہ نظام جو بعثت عام اور دعوت عام سے وابستہ ہو چکا ہے پارہ پارہ نہ ہو سکے اور دوسری جانب حیات عالم کے ساتھ ساتھ اس پیغام حق کا فرض بھی مسلسل ادا ہوتا رہے اور اس طرح خدائے برتر کا یہ اعلان تَبَارَكَ الَّذِي نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَى عَبْدِهِ لِيَكُونَ لِلْعَالَمِينَ نَذِيرًا (فرقان ١) جدید نبی منتظر اور رسول مطلوب کے نظریہ کی شکل میں بے روح ہو کر نہ رہ جائے۔

سطور بالا میں انبیاء علیہم السلام کے پیغام حق کی وحدت کا تذکرہ آ چکا ہے مسئلہ ختم نبوت کے ساتھ اس کا بہت گہرا تعلق ہے اور اس سلسلہ کی دلیل روشن کے لیے تمہید و توطیہ بننے کی حیثیت رکھتا ہے۔

اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ جب ہم اس خاکدان ہستی پر نظر ڈالتے ہیں تو یہ حقیقت ہر جگہ نمایاں نظر آتی ہے کہ ہر کثرت کے لیے کوئی نقطہ وحدت ضرور ہے چنانچہ افراد کے لیے نوع، انواع کے لیے جنس، اجناس کے لیے جوہر، جواہر کے لیے وجود اور وجودات کے لیے وجود بحت (خالص) محور و مرکز ہے اسی طرح اجسام کے لیے سطح، سطحات کے لیے خط اور خطوط کے لیے نقطہ مرکز و مدار ہے، نیز اعداد خواہ اپنی کثرت میں کسی حد تک کیوں نہ پہنچ جائیں ان کا محور و مرکز ہر حالت میں ”اکائی“ ہے۔

غرض جب بھی کسی کثرت کا تصور کیجئے اس کے ساتھ وحدت کا تصور لازم و ضروری ہے اور اگر وحدت کو پیش نظر لائیے تو وہ کسی نہ کسی کثرت کے لیے محور و مرکز ہونے کا ضرور پتہ دیتی ہے پس وحدت و کثرت کا یہی رابطہ ہے جس نے حدود عدم سے گزر کر ہست کے ساتھ تعلق پیدا کیا اور اس کو عالم ہست و بود کا نام دیا۔

تو اس حقیقت کو پیش نظر رکھ کر جب ہم سلسلہ نبوت و رسالت پر نظر ڈالتے ہیں اور سبع سماوات کی طرح سطح عالم پر مختلف ادوار میں ہزاروں سیارگان رشد و ہدایت کو ضوفشاں پاتے ہیں۔ تب مسطورہ بالا حقیقت کی بنیاد پر فطرت تقاضا کرتی ہے کہ اس کثرت کا بھی کوئی نقطہ وحدت ضرور ہونا چاہیے جو کثرت کے لیے محور و مرکز بن سکے اور جس طرح ”اکائی“ کے بعد کثرت کے لیے کوئی اور مبداء و منتہاء نہیں ہے اسی طرح انبیاء و رسل کے سلسلۂ کثرت کے لیے بھی ایک ہی مبداء و منتہاء ہونا از بس ضروری ہے۔

٩

صفحہ ٢١٦

یہی وہ حقیقت ہے جو ”ختم نبوت“ کے نام سے موسوم ہے اور اسی کو قرآن حکیم نے اس جوہر حکمت کے ساتھ ادا کیا ہے۔

مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٍ مِنْ رِّجَالِكُمْ وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيّٖنَ. (احزاب ٤٠) ”محمدﷺ مردوں میں سے کسی کے صلبی باپ نہیں ہیں تاہم وہ خدا کے پیغمبر اور آخرالانبیاء ہیں۔“

نبوت ”نباء“ سے ماخوذ ہے جس کے معنی ”خبر دینا“ ہے اور رسالت کے معنی ”پیغام“ ہیں اور اسلام کی اصطلاح میں نبوت و رسالت خدا کی جانب سے ایک منصب ہے جو مخلوق کی رُشد و ہدایت کے لیے کسی مخصوص انسان کو عطا ہوتا ہے اور اس کے لائے ہوئے پیغام کو ”وحی“ کہتے ہیں کیونکہ یہ پیغام درحقیقت پیغمبر کا اپنا کلام نہیں ہوتا بلکہ خدائے برتر کا فرمان ہوتا ہے جس میں خطاء و قصور یا سہو و نسیان کی مطلق گنجائش نہیں ہوتی۔

لَا يَأْتِيْهِ الْبَاطِلُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَلَا مِنْ خَلْفِهٖ تَنْزِيْلٌ مِّنْ حَكِيْمٍ حَمِيْدٍ. (حم سجدہ ٤٢) ”اس (وحی الٰہی) کے سامنے سے اور نہ اس کے پیچھے سے باطل کا گزر بھی نہیں ہوتا یہ تو اتارتا ہے حکمت والے ہر طرح قابل ستائش والے کی جانب سے (یعنی خدا کی جانب سے)

گویا اس کا مطلب یہ ہوا کہ جب خدائے برحق کسی شخصیت کو نبوت و رسالت یعنی پیغام حق سے سرفراز کر دیتا ہے تو تمام انسانوں کا فرض ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے خالق و مالک خدا کے فرمان ”وحی الٰہی“ کے سامنے بے چون و چرا سر تسلیم خم کر دیں وہ شخصیت کی صداقت اور خدا کی جانب سے اس کے دعویٰ وحی کی حقانیت کا تو ہر حیثیت سے حق رکھتے ہیں لیکن اگر اس کے دونوں دعوؤں کی تصدیق و تائید عقل کی راہ سے دلائل و براہین کے ساتھ ہو جائے اور کسوٹی پر اس کی صداقت بے لوث اور صاف روشن ہو جائے تب اس کے دیئے ہوئے پیغام خدا کو ماننے نہ ماننے میں وہ آزاد نہیں رہ سکتے اور بلاشبہ اس کے پیغام کو پیغام حق سمجھ کر قبول کر لینا اور اس کے سامنے سر نیاز جھکا دینا فرض اوّلین ہے۔ ہاں چونکہ وہ پیغام کسی بڑے سے بڑے عاقل و فرزانہ انسان کا ”پیغام“ نہیں بلکہ ”پیغام الٰہی“ ہے اس لیے وہ خود یہ ضروری سمجھتا ہے کہ جو کچھ کہے عقل کی کنج و کاؤ سے خواہ کتنا ہی بالاتر ہو لیکن عقل کی نگاہ میں اور دلائل و براہین کے ترازو میں ناممکن اور محال نہ ہو کیونکہ فطرت اور عقل کے درمیان بیر نہیں ہے بلکہ عقل فطرت کے قوانین کے سمجھنے اور سمجھ کر قبول کرنے کے لیے بہترین ذریعہ اور آلہ ہے اور وحی الٰہی درحقیقت

١٠

صفحہ ٢١٧

فطرت کے روحانی قوانین کی ترجمان ہے۔

بہر حال کسی نبی یا رسول کے مبعوث ہونے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ خدا کی مخلوق ”جن و بشر“ اپنی روحانی سعادت اور اخلاق و کردار کی بلندی کے لیے اپنے عقل و دماغ کے اختراع کی بجائے پیغام حق کو راہنما بنائے تاکہ ذی عقل کائنات الٰہی اس راہ میں رقیبانہ تضاد و تصادم سے بے نیاز ہو کر انسانوں کے نہیں بلکہ انسانوں کے پیدا کرنے والے خدا کے قوانین پر عمل پیرا ہو کر اجتماعی وحدت‘ عالمگیر اخوت و مساوات کی قدروں کو حاصل کر سکیں اور ایک دوسرے کا حاکم و محکوم اور آقا و غلام بننے کے بجائے سب ہی یکساں طور پر صرف اپنے پیدا کرنے والے ہی کے محکوم و غلام بن جائیں۔

دوسری جانب اس خاکدان عالم کا یہ حال ہے کہ اس کی ہر ایک شئے نشو و ارتقاء کے قانون قدرت میں جکڑی ہوئی نظر آتی ہے جس کا تقاضا یہ ہے کہ اگر مادی اور روحانی قوانین و نوامیس کی خالق ایک ہی ذات ہے تو بلاشبہ دونوں کے نوامیس و قوانین میں ہم آہنگی اور وحدت کارفرما نظر آنی چاہیے ورنہ العیاذ باللہ وحدت و اکائی کی جگہ دوئی کو محور و مرکز ماننا پڑے گا جو فطرتاً ناممکن اور عقلاً محال ہے۔

تب از بس ضروری ہے کہ رشد و ہدایت کے اس منصب ”نبوت و رسالت“ کا سلسلہ بھی قانون ارتقا سے اسی طرح جکڑا ہوا ہونا چاہیے جس طرح مادیات کا‘ اور اس لیے تسلیم کرنا ہوگا کہ ”رشد و ہدایت“ کا یہ سلسلہ ارتقائی بنیادوں پر اس طرح ترقی پذیر ہو کہ کائنات انسانی اپنے بقاء و وجود تک کسی وقت بھی اس راہ میں نشو و ارتقاء سے محروم نہ رہے۔

اس حقیقت کے واضح ہو جانے کے بعد اب رُشد و ہدایت کے اس نظام کو جو منصب نبوت و رسالت کے نام سے معنون ہے یوں سمجھنا چاہیے کہ قانون قدرت نے ایک جانب انسان کی مادی نشو و ارتقاء کا یہ سامان مہیا کیا کہ اس کی عقل و دانش اور اس کے شعور دماغی کو آہستہ آہستہ ترقی پذیر کرنا شروع کیا اور دوسری جانب اسی معیار پر انسان کو روحانی و اخلاقی تربیت کا ساز و سامان بھی انبیاء و رسل کے ذریعہ آہستہ آہستہ ترقی پذیر شکل میں عطا فرمایا اور آخر ایک وقت وہ بھی آیا کہ انسان عقل و شعور کی ابتدائی اور متوسط منازل سے گزر کر بلوغ و کمال کی اس حد پر پہنچ گئے جس کو ان کے لیے حد کمال کہا جا سکتا ہے اور جس معراج کمال پر پہنچ کر انسان ”انسان کامل“ کہلانے کا بجا طور پر مستحق ہو جاتا ہے۔ تاہم حد بلوغ کی اس معراج ارتقاء پر پہنچ جانے پر بھی اس کی جلاء اور صیقل کے لیے رہتی دنیا تک نت نئے سامان ہوتے رہیں گے اور خالق کائنات

١١

صفحہ ٢١٨

کی ربوبیت کاملہ ان کے کمال کو نقص سے محفوظ رکھنے کے لیے اپنی تربیت حق کا ہاتھ ان سے نہ اٹھائے گی۔

ٹھیک اسی طرح نبوت و رسالت کی شمع رُشد و ہدایت کا یہی حال رہا ہے کہ وہ ہزاراں ہزار سال تک اپنے ابتدائی اور متوسط منازلِ ارتقاء سے گزرتی رہی اور آخرکار وہ وقت بھی آ پہنچا کہ اس کی ترقی اور نشو و ارتقاء نے ”کمال و تمام“ کی شکل اختیار کر لی اور اس حد کمال پر پہنچ گئی جہاں اس کے ذریعہ کائناتِ ہست و بود کے سامنے ایسا قانون مکمل اور دستور کامل آ گیا جو ہر طرح عقل و شعور انسانی کے حدِ بلوغ کے مناسب حال ہے اور جس کی راہنمائی اور روشنی ”عروجِ کمال“ کی ضامن و کفیل ہے۔ ساتھ ہی اس میں یہ لچک بھی موجود ہے کہ گو یہ قانونِ رُشد و ہدایت اپنے بنیادی اصول کے لحاظ سے اٹل اور غیر متبدل ہے مگر عقل و شعور کے کمال و بلوغ کے تحفظ کے لیے جس طرح اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کاملہ نے راہیں مسدود نہیں کیں بلکہ رہتی دنیا تک اس کی تربیت کے سامان مہیا کیے ہیں اسی طرح اس منصبِ نبوت و رسالت کی تکمیل اور نقطۂ ارتقاء کے حد کمال پر پہنچ جانے کے بعد اس کی عطا کردہ رشد و ہدایت کے تحفظ کی راہیں بھی بند نہیں کیں اور تاقیام قیامت اس کے جلاء و صیقل کے لیے عُلَمَاءُ أُمَّتِیْ کَأَنْبِيَاءِ بَنِيْ إِسْرَائِيْل کا سلسلہ قائم و دائم رکھا۔

یہی وہ حقیقت ہے جس کو حدیث نبوی ﷺ نے خاتم النبیین کی تفسیر کو ایک روشن مثال کے ذریعہ سمجھایا اور ”ختم نبوت“ کی حقیقی روح کو مادی شکل میں پیش کر کے حرفِ آخر قرار دیا۔

عن ابی ھریرۃ ان رسول اللہ ﷺ قال ان مثلی و مثل الانبیاء من قبلی کمثل رجل بنیٰ بیتا فاحسنہ واجملہ الا موضع لبنۃ من زاویۃ فجعل الناس یطوفون بہ ویعجبون لَہُ و یقولون ھلاّ وُضعت ھذہ اللبنۃ قال فانا اللبنۃ وانا خاتم النبیین. (رواہ البخاری فی کتاب الانبیاء باب خاتم النبیین ج ١ ص ٥٠١) و فی بعض الفاظہ فکنت انا سددت موضع تلک اللبنۃ ختم بی البنیان و ختم بی الرسول.

(کنز العمال ج ١١ ص ٤٥٣ حدیث ٣٢١١٧ عن ابن عساکر)

حضرت ابوہریرہؓ آنحضرت ﷺ سے روایت فرماتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میری اور مجھ سے پہلے نبیوں اور رسولوں کی مثال ایسی ہے جیسے کسی شخص نے گھر بنایا اور اس کو بہت عمدہ آراستہ پیراستہ کیا مگر اس کے ایک گوشہ میں ایک اینٹ کی جگہ تعمیر میں

١٢

صفحہ ٢١٩

چھوڑ دی تو اب لوگ اس کو دیکھنے جوق در جوق آتے ہیں اور خوش ہوتے ہیں مگر ساتھ ہی کہتے جاتے ہیں کہ یہ ایک اینٹ بھی کیوں نہ بھر دی گئی تاکہ تعمیر کی تکمیل ہو جاتی چنانچہ میں نے اسی جگہ کو پُر کیا ہے اور میں وہی نبوت کی آخری اینٹ ہوں جس سے قصر مکمل ہو گیا اور میں ہی آخر الانبیاء ہوں۔

حاصل کلام یہ ہے کہ رب العلمین کی ربوبیت کاملہ نے کائنات ہست و بود میں قانون ارتقاء کو جس طرح نافذ فرمایا ہے اس کا تقاضا یہ ہے کہ عقل و شعور انسانی کے حد بلوغ پر پہنچ جانے کے باوجود اس کی ترقی کا سلسلہ تا ابد جاری رہے اور اس میں ایسی پابندی یا روک نہ ہونی چاہیے جس سے اس کی صلاحیتوں کے نشو و ارتقاء کا سد باب ہو جائے اور دوسری جانب پیغام حق کا جو سلسلہ نبوت و رسالت (بذریعہ وحی الہیٰ) عالم کی رُشد و ہدایت کے لیے عطا ہوا ہے وہ بھی حد کمال و تمام پر پہنچ جانے کے باوجود فطرت کے قانون ارتقاء کے مطابق نہ کمال سے نقص کی جانب رجوع کرے کہ حقیقتِ ظل اور بروز کے پردہ میں مستور ہو کر رہ جائے اور نہ ربوبیت حق کے اس عطاء ونوال اور بخشش کا ہی سد باب ہو جائے جو ”رشد و ہدایت“ کے عنوان سے معنون اور عالم انسانی کی حقیقی راہنما ہے اس لیے طریقہ یہ رکھا گیا کہ جب انسان اپنے عقل و شعور میں حد بلوغ تک پہنچ گیا یا اس کے سامان پوری طرح مہیا ہو گئے تب نبوت و رسالت کو بھی بحد کمال و تمام پہنچا کر ختم کر دیا گیا اور اعلان کر دیا گیا۔

اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ. (مائدہ ٣) ”آج میں نے تمھارے لیے تمہارا دین کامل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت (نبوت و رسالت) کو پورا کر دیا ۔“

مگر رشد و ہدایت کو رہتی دنیا تک اس طرح باقی رکھا کہ آخری پیغمبر کے ذریعہ جو آخری پیغام کامل و مکمل بن کر آیا وہ اساس و بنیاد قرار پائے اور نت نئی مادی ترقیات کے ساتھ ساتھ اس کا فیضان علم بھی درخشاں و تاباں رہے اور یہ خدمت علماء حق کے سپرد ہو۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو کلام معجز نظام نے اس انداز میں بیان کیا ہے۔

فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْهُ إِلَى اللّٰهِ وَالرَّسُوْلِ. (نساء ٥٩) ”اگر تم کسی معاملہ میں اختلاف کرو تو اس اختلاف کو اللہ اور اس کے پیغمبر محمد ﷺ کی جانب رجوع کرو۔

ظاہر ہے کہ اگر نبوت و رسالت محمد ﷺ پر پہنچ کر کامل نہ ہوتی اور اس کا سلسلہ کمالِ نبوت ہی کی شکل میں آگے بڑھتا رہتا تو یہ نہ کہا جاتا کہ محمد ﷺ کی جانب یعنی ان کے ارشاداتِ حق کی جانب رجوع کرو بلکہ خطاب یہ ہوتا کہ تم اللہ کی جانب اور جو نبی تم

١٣

صفحہ ٢٢٠

میں موجود ہو اس کی جانب رجوع کرو اس لیے نبوت و رسالت کو ظل و بروز کی اصطلاحوں کی آڑ میں باقی رکھنے کی کوشش کرنا قانون فطرت اور دین حق کے صریح خلاف اور باطل ہے‘ چنانچہ اس حقیقت کو نمایاں کرنے کے لیے قرآن حکیم نے کئی جگہ مختلف معجزانہ خطابت کو اختیار کیا ہے ایک جگہ ارشاد ہے۔

وَأُوحِيَ إِلَيَّ هَذَا الْقُرْآنُ لِأُنذِرَكُم بِهِ وَمَن بَلَغَ (انعام ١٩) ”اور میری جانب اس قرآن کی وحی کی گئی تاکہ اس کے ذریعہ میں تم کو (بری باتوں سے) ڈراؤں اور ان تمام لوگوں کو بھی جن کو (رہتی دنیا تک) یہ قرآن پہنچے۔“

اور دوسری جگہ ہے۔

وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ (انبیاء ١٠٧) ”اور نہیں بھیجا ہم نے تم کو مگر تمام جہان والوں کے لیے رحمت بنا کر۔“

اور ایک جگہ ہے۔

هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَكَفَى بِاللَّهِ شَهِيدًا (فتح ٢٨) ”اللہ وہ ہے جس نے بھیجا اپنے رسول محمد ﷺ کو ہدایت اور دین حق دے کر‘ تاکہ اس کو تمام ادیان پر غالب کرے اور اللہ اس کے لیے بطور گواہ کافی ہے۔“

اور ایک جگہ ارشاد ہے۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنكُمْ (نساء ٥٩) ”اے ایمان والو اللہ کی اطاعت کرو اور رسول محمد ﷺ کی اور ان کی اطاعت کرو جو تم میں سے اولی الامر ہیں۔“

اس آیت میں صاف طور پر یہ کہہ دیا گیا ہے کہ اب انسانی رشد و ہدایت کے لیے صرف ایک ہی طریقہ ہے کہ اللہ کی اور محمد ﷺ کی اطاعت کی جائے اور محمد ﷺ کے علاوہ اب کسی نبی و رسول کی اطاعت کا سوال نہیں ہے بلکہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کا آخری طریقہ یہ ہے کہ تم میں سے جو صاحب امر ہوں۔ (علماء‘ مجتہدین‘ خلفاء حق) ان کی پیروی کرو۔

ان آیاتِ بینات کے علاوہ قرآن حکیم نے جن آیات میں خدا کی کتابوں یا رسولوں پر ایمان لانے کی ہدایت کی ہے وہاں یہ کہہ کر مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنزِلَ مِن قَبْلِكَ (بقرہ ٤) آمَنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَالْكِتَابِ الَّذِي نَزَّلَ عَلَى رَسُولِهِ وَالْكِتَابِ

١٤

صفحہ ٢٢١

الَّذِیْ اَنْزَلَ مِنْ قَبْلُ . (نساء ١٣٦) ”کہ محمد ﷺ اور ان سے پہلے نبیوں اور رسولوں اور قرآن اور اس سے قبل کی کتابوں پر ایمان لاؤ“ اس حقیقت کو نمایاں کیا اور ابھارا ہے کہ جہاں تک پیغمبر اور کتاب اللہ پر ایمان لانے کا تعلق ذات اقدس، قرآن حکیم اور اس سے قبل کے نبیوں، رسولوں اور کتابوں کا ہے اور یہ صرف اس لیے کہ یہ سلسلہ آگے بشکل نبوت و رسالت اور وحی الٰہی نہیں چلے گا بلکہ محمد ﷺ کی رسالت ہی بہ حد کمال پہنچ کر قیامت تک بلافصل باقی اور جاری رہے گی اور قرآن حکیم کامل و مکمل دستورِ ہدایت بن کر ہمیشہ اس کے لیے زندہ شہادت دے گا۔

حق تعالیٰ کی جانب سے ”خاتم النبیین“ کا جو منصب جلیل ذات اقدس ﷺ کو عطا ہوا ہے عقل و نقل دونوں اعتبار سے ایک اور صرف ایک ہی معنی رکھتا ہے اور وہ یہ ہے کہ محمد ﷺ آخر انبیاء و رسل ہیں اور نبوت و رسالت کا سلسلہ آپ ﷺ پر پہنچ کر ختم ہو گیا۔

تاج العروس میں ہے (و) الخاتم (من کل شئی عاقبته واخرته كخاتمته والخاتم واخرالقوم كالخاتم) و منه قوله تعالی و خاتم النبیین ای آخرهم الخ.

(فصل الخاء من باب المیم)

تاج العروس کے علاوہ تمام معتبر اور مشہور عربی لغات ناطق ہیں، کہ ”خاتَم“ بفتح تا ہو یا بہ کسرۂ تا ”آخری“ اس کے حقیقی معنی ہیں اور جب کسی شخصیت کے لیے بولا جائے تو ”آخرالقوم“ مراد ہوتے ہیں۔ اس لیے آخرالانبیاء والرسل ہونا ذات اقدس ﷺ کی وہ خصوصیت ہے جس میں دوسرا کوئی شریک و سہیم نہیں۔

یہ درست ہے کہ خاتم بمعنی ”مہر“ بھی حقیقی معنی ہیں اور یہی نہیں ان دونوں کے ماسوا اس لفظ کے چند اور معانی بھی حقیقی ہیں لیکن اطلاقات ہی اس کو ظاہر کر سکتے ہیں کہ ان ہر دو حقیقی معنی میں سے کون سے معنی بر محل ہیں؟ مثلاً جب آپ ہاتھ میں انگشتری پہنے ہوئے ہوں اور اس پر آپ کا نام کندہ ہو، اس وقت اگر کہا جائے کہ ”خاتمک فی انملک“ تو اس اس وقت خاتم بمعنی ”مہر“ حقیقی معنی ہوں گے لیکن اس لفظ خاتم کو اگر کسی انسان پر اطلاق کریں تو اس وقت خاتم بمعنی ”آخر“ حقیقی معنی ہوں گے اور خاتم القوم یا خاتم الانبیاء تب ہی صحیح ہوگا کہ آنے والا شخص قوم کا آخری فرد یا نبیوں کا آخری نبی ہو اور اس حقیقی اطلاق کی موجودگی میں مجازی معنی تب ہی قابل اعتناء ہوں گے کہ یا حقیقی معنی اس مقام پر ناممکن الاستعمال ہوں اور یا مجازی معنی حقیقی معنی سے مغائر و متضاد نہ ہوں بلکہ اس کے ساتھ پوری مطابقت رکھتے ہوں۔

١٥

صفحہ ٢٢٢

تب یہ بات واضح اور صاف ہے کہ اگر کوئی شخص بلاغت قرآن اور اعجاز نظم قرآنی کے خلاف بلکہ عربیت کے عام اصول کے خلاف آیت کریمہ ”خاتم النبیین“ میں خاتم کے حقیقی معنی ترک کر کے بلحاظ اطلاق مجازی معنی ”مہر“ کے لیتا ہے تب بھی مجازی معنی اور مفہوم وہی صحیح اور لائق توجہ ہو سکتے ہیں جو حقیقی معنی ”آخر“ سے متبائن اور متخالف نہ ہوں‘ اور نبیوں کی مہر کا یہ مطلب ہوگا کہ جس طرح کسی تحریر یا کسی شئے کے ختم پر ”مہر“ اس لیے لگائی جاتی ہے کہ اس پر تحریر یا شئے کا اختتام ہو گیا اور اب کسی بھی اضافے کی گنجائش باقی نہیں رہی۔ اسی طرح ذات اقدس ﷺ انبیاء و مرسلین کے سلسلہ کے لیے ”مہر“ ہیں کہ آپ ﷺ کے بعد اب فہرست انبیاء و رسل میں کسی اضافہ کی گنجائش نہیں رہی اور اس سلسلہ پر مہر لگ گئی اور جس طرح کاغذ یا لفافہ پر مہر ثبوت ہے اس امر کا کہ اب اس کے بعد کسی مضمون یا لفظ و جملہ کی توقع عبث ہے۔ اسی طرح نبیوں کی مہر اس کے لیے کھلی دلیل ہے کہ اب کسی اضافہ کی توقع محال ہے پس ”مہر“ بہ اطلاق مجاز کے اس مفہوم کو چھوڑ کر اگر کسی خاص مزعومہ کی بناء پر یہ معنی مراد ہوں کہ ذاتِ اقدس ﷺ نبیوں کے لیے مہر ہیں کہ جس طرح کوئی کاغذ یا تحریر جب ہی مستند ہوتی ہے کہ اس پر ذمہ دار شخصیت کی مہر ثبت ہو‘ اس طرح کوئی نبی یا رسول نہیں بن سکتا جب تک آپ ﷺ اس کے لیے مہر تصدیق نہ بن جائیں تو یہ مراد دو وجہ سے باطل ہے اوّل! اس لیے کہ یہ مفہوم حقیقی معنی ”آخر“ کے متضاد و متبائن ہیں۔ دوئم! اس لیے کہ ہزاروں یا لاکھوں انبیاء علیہم السلام جو ذات اقدس ﷺ کے زمانہ بعثت سے قبل اس کائناتِ ارضی پر مبعوث ہو چکے اپنی اپنی اُمت کے زمانہ میں ان کی نبوت غیر مستند اور ناقابل قبول رہی اس لیے کہ ان کی نبوت تصدیق کنندہ ”مہر“ ان کی بعثت سے ہزاروں یا سینکڑوں برس کے بعد آئی جبکہ وہ اپنے اپنے فرضِ منصبی سے سبکدوش ہو چکے تو اب بے سود و بے فائدہ۔ اور اگر یہ مراد ہے کہ آپ ﷺ کے بعد جو نبی آئیں گے ان کے لیے آپ ﷺ ”مہر“ ہیں تو یہ ترجیح بلا مرجح کیوں؟ کہ ہزاروں لاکھوں انبیاء و رسل کے لیے تو مہر نہ بنے اور بعد میں آنے والوں کے لیے ”مہر“ قرار پائے اور اگر یہ مطلب ہے کہ اگلوں اور پچھلوں سب ہی انبیاء و رُسل کے لیے مہر تصدیق ہیں تب بھی اگلوں کے لیے مہر ہونا بے کار رہا کہ ان کے وقت نبوت گزر جانے کے بعد مہر تصدیق پہنچی۔

علاوہ ازیں یہ احتمالات خود ساختہ اور ظنی ہیں اور کسی ایک احتمال کے یقینی ہونے کی بھی قرآن میں صراحت موجود نہیں ہے تو پھر حقیقی اطلاق کو ترک اور حقیقی سے

١٦

صفحہ ٢٢٣

مطابق مجازی مفہوم سے روگردانی کے بعد ایسے احتمالات جو حقیقی مفہوم کا حق نہ ادا کرتے ہوں باطل نہیں تو اور کیا ہیں؟

پھر یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ قرآن کا حکیمانہ طریق استدلال یہ ہے کہ وہ ایک مقام پر جو بات کہنا چاہتا ہے اس کو متعدد جگہ مختلف اسالیب بیان کے ساتھ اس طرح ادا کر دیتا ہے کہ ایک آیت دوسری آیت کی خود ہی تفسیر بن جاتی ہے اور حقیقت حال روشن ہو کر سامنے آ جاتی ہے۔ اس حقیقت کو مفسرین نے اس طرح ادا کیا ہے کہ القران یفسر بعضہ بعضا یعنی قرآن کا بعض حصہ دوسرے بعض حصہ کی خود تفسیر کر دیتا ہے چنانچہ یہی صورت حال یہاں بھی موجود ہے وہ یہ کہ قرآن حکیم اسلام کی خوبی بیان کرتے ہوئے اعلان کرتا ہے۔

اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَرَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا . (مائدہ ٣) ”آج میں نے تمھارے لیے تمہارا دین کامل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت تمام کر دی اور تمھارے لیے اسلام کو دین کی حیثیت میں پسند کر لیا۔“

آیت کریمہ کو ایک مرتبہ خوب غور سے پھر پڑھیے اور دیکھئے کہ اس جگہ نہ ”خَاتَم“ ہے اور نہ ”خَاتِم“ کہ اس کو معرض بحث میں لا کر خود ساختہ احتمالات پیدا کر لیے جائیں‘ بلکہ یہاں صاف صاف کہا گیا ہے کہ جو دین اسلام وجود انسانی کے ساتھ ساتھ رشد و ہدایت کا مرکز بنا ہوا ہے اس کو آج ”کامل“ اور اس نعمت دین کو تمام کر دیا گیا‘ اور ظاہر ہے کہ ”کامل“ کا مقابل ”ناقص“ اور ”تمام“ کا متوازی ”ناتمام“ ”ادھورا“ ہوتا ہے یعنی ایک چیز آہستہ آہستہ ترقی پذیر تھی اور رفتہ رفتہ اس حد پر پہنچ گئی جس کے بعد اب ترقی کا خاتمہ ہے اس لیے کہ وہ کامل ومکمل ہو کر سامنے آ گئی جس کے بعد ناقص یا ناتمام کے دہرانے کا سوال ہی باقی نہیں رہتا۔

سو اگر یہ صحیح ہے کہ اسلام دورِ محمدی ﷺ پر پہنچ کر ہی کامل اور تمام ہوا ہے تو بلاشبہ آیت کریمہ وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ کے یہی معنی صحیح ہو سکتے ہیں محمد ﷺ اسی دین کے پیغمبر ہیں جو کائنات انسان کی ابتداء سے ہی رشد و ہدایت انسانی کا فرض انجام دے رہا ہے اور خدا کا پسندیدہ ہے وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ اور انسانیت کی مادی ترقی کے ساتھ ساتھ وہ بھی روحانی مدارج ارتقاء طے کرتے ہوئے آج ”کامل“ اور ”تمام“ ہو گیا اور اب کسی جدید پیغام کی حاجت نہیں رہی اور جب جدید پیغام کی ضرورت نہیں ہے تو اب نئے پیغمبر کی بھی ضرورت خود بخود باقی نہیں رہی اور رہتی دنیا تک یہی کامل

١٧

صفحہ ٢٢٤

پیغام اور پیغمبر انسانی دنیا کے لیے کافی اور بس ہے۔ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ۔ لہٰذا حقیقی اطلاق لیجیے یا مجازی ”خاتم“ کے معنی اور مفہوم میں ”آخر“ ہونے کا تصور غیر منفک اور لازم ہے اور اس کے خلاف جو کچھ بھی ہے وہ باطل ہے۔

آیت کریمہ کا شانِ نزول اگرچہ ایک خاص واقعہ سے تعلق رکھتا ہے لیکن اپنے مفہوم و معنی کے لحاظ سے ہمہ گیر اور غیر موقت ہے اور عربیت اور نقل و روایات دونوں لحاظ سے ایک ٹھوس حقیقت کا اظہار کرتی ہے۔

اس آیت کے تین حصے ہیں ایک میں کہا گیا ہے کہ محمد ﷺ تم مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں اس لیے کہ آپ ﷺ کی ”اولادِ ذکور“ حیاتِ مستعار کو پورا کر چکی اور آپ ﷺ صلبی بیٹا نہیں رکھتے اور اسلام میں لے پالک ”متبنیٰ“ بے معنی رسم ہے اور اس سے دوسرے کا بیٹا گود لینے والے کا بیٹا نہیں بن جاتا اور اس کے احکام حاصل نہیں کر لیتا تو ایسی شکل میں زیدؓ کو محمد ﷺ کا بیٹا کہنا ہر طرح غلط ہے۔ مَاکَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٍ مِنْ رِّجَالِكُمْ مگر اس سے یہ احساس پیدا نہیں ہونا چاہیے کہ جب آپ ﷺ مردوں میں سے کسی کے صلبی باپ نہیں ہیں تو امت کے ساتھ کس طرح آپ ﷺ کو شفقتِ پدری ہو سکتی ہے؟ حالانکہ امم سابقہ و سالفہ میں انبیاء و رسل اپنی اپنی امتوں کے بیشتر صلبی باپ بھی رہے ہیں اور روحانی باپ بھی۔ یہ احساس اس لیے نہیں ہونا چاہیے کہ اگرچہ آپ ﷺ امت مرحومہ کے صلبی باپ نہیں ہیں تو نہ ہوں مگر روحانی باپ تو ہیں جیسا کہ ہمیشہ انبیاء و رسل اپنی اپنی امتوں کے روحانی باپ ہوتے ہیں بلکہ روحانی باپ کا رشتہ و رابطہ تو صلبی باپ سے بھی ہزار ہا درجہ بڑھ چڑھ کر ہے۔ کیونکہ وہ مادی و روحانی دونوں تربیتوں کا کفیل و مربی ہے اس لیے دوسرے نبیوں اور رسولوں کی طرح آپ بھی خدا کے رسول ہیں۔ وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ یہ آیت کا دوسرا حصہ ہے۔

پھر بات اسی حد پر پہنچ کر ختم نہیں ہو جاتی بلکہ امت مرحومہ کے لیے اس سے بھی بلند و بالا یہ بشارت ہے کہ آپ ﷺ سے قبل جس قدر بھی روحانی باپ (انبیاء و رسل) گزرے ہیں علیٰ قدر مراتب ان میں امت کے لیے شفقت و رحمت کا جذبہ محدود رہا ہے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ ان کے گزر جانے کے بعد دوسرا روحانی باپ (نبی یا رسول) مبعوث ہو کر امت پر میری ہی طرح یا مجھ سے زیادہ شفقت و تربیت کا حق ادا کرنے والا ہے، لیکن ذات اقدس ﷺ کی یہ شانِ رفیع ہے کہ آپ ﷺ صرف اللہ کے رسول ہی نہیں ہیں بلکہ آخر الانبیاء والرسل ہیں جن کے بعد کسی نبی اور رسول کی بعثت کی

١٨

صفحہ ٢٢٥

ضرورت نہیں رہی۔ اس لیے کہ دین کامل ہو گیا اور خدا کی نعمت پوری ہو گئی ایسی صورت میں تم اندازہ کر سکتے ہو کہ اس کی شفقت و رحمت کا کیا ٹھکانہ ہو گا؟ جو مربی یہ سمجھتا ہو کہ اب اگلوں کی طرح اس کے بعد دوسرا کوئی مربی آنے والا نہیں ہے کہ امت پر اپنی رحمت نچھاور کرے اب تو رہتی دنیا تک اس کی آغوش تربیت وا رہے گی اور اسی کی نبوت و رسالت کا غیر منقطع سلسلہ جاری رہے گا۔ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ۔

خلاصہ یہ کہ محمد ﷺ کی شانِ مبارک اس خصوصی امتیاز کی حامل ہے کہ اس کی بعثت کے بعد کسی نبی یا رسول کی بعثت کی حاجت باقی نہیں رہی اور اس طرح یہ حقیقت بھی روشن ہو گئی کہ ذاتِ اقدس ﷺ اس امر کے باعث نہیں ہیں کہ انھوں نے نبوت و رسالت کا سلسلہ ختم کر دیا بلکہ جب خدا تعالیٰ کو منظور ہوا کہ اب یہ سلسلۂ نبوت و رسالت اس ارتقائی منزل پر پہنچ گیا ہے کہ آخری پیغام بن کر کامل و تمام ہو جائے تو ذات اقدس ﷺ کو اس نے چن لیا اور بلاشراکت غیرے ان کو یہ منصب عظمیٰ عطا فرمایا۔ وَذٰلِکَ فَضْلُ اللّٰهِ يُؤْتِيْهِ مَنْ يَّشَاءُ وَاللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيْمِ. (مائده ٥٤) پھر کسی نادان کا یہ کہنا کہ اگر آپ ﷺ آخر الانبیاء والرسل ہیں تو یہ آپ ﷺ کی منقبت نہیں بلکہ نقص ہے کہ آپ ﷺ اس رحمت کے لیے سدباب ثابت ہوئے جو نبوت و رسالت کے عنوان سے جاری تھی۔

اس نادان کا یہ خیال اسی طرح فاسد ہے جس طرح اس شخص کا خیال جس نے ایک محفل میں شرکت کی اور دیکھا کہ جو معزز مہمان بھی آتا ہے اس کا پُرجوش استقبال ہوتا ہے اور اس سے محفل کی رونق میں اضافہ ہوتا جاتا ہے مگر جب اس نے دیکھا کہ ایک شخص ایسا بھی آ پہنچا جس کو سب نے حاصلِ محفل سمجھ کر نہ صرف پُرجوش استقبال ہی کیا بلکہ تمام محفل کا سرتاج کہا اور اس کے بعد محفل اپنا کام کر کے ختم ہو گئی تو یہ نادان بہت کڑھا اور پچھتانے لگا کہ کاش یہ حاصل محفل نہ بنتا اور محفل اسی طرح سجی سجائی رہتی اور مہمانوں کی آمد کا یہ سلسلہ یونہی جاری رہتا۔

ٹھیک اسی طرح محمد ﷺ کے آخر الانبیاء والرسل ہونے پر یہ نادان اپنے فسادِ خیال کا اظہار کر رہا اور باطل تاویلات کے درپے ہو رہا ہے۔ يُضِلُّ بِهِ مَنْ يَّشَاءُ وَيَهْدِیْ بِهِ مَنْ يَّشَاءُ.

(بقره ٢٦)

قرآنِ عزیز نے اکثر مقامات پر ”نبی“ اور ”رسول“ کے ایک ہی معنی لیے ہیں جس کو اردو میں پیغمبر سے تعبیر کیا جاتا ہے لیکن خاص خاص مقامات پر وہ نبی اور رسول

١٩

صفحہ ٢٢٦

میں فرق بھی کرتا ہے اس فرق کو علماء اسلام نے یوں ظاہر کیا ہے کہ نبی عام ہے اور رسول خاص یعنی خدائے تعالیٰ جس شخصیت کو ہمکلامی کا شرف عطا فرماتے ہیں وہ ”نبی“ کہلاتا ہے کیونکہ لغت میں ”نبی“ خبر دینے والے کو کہتے ہیں۔ گویا جو شخص خدا سے براہ راست لے کر بندگان خدا کو اس کے احکام کی خبر دے وہ نبی ہے، قطع نظر اس امر کے کہ اس کو جدید کتاب یا جدید شریعت عطا کی گئی ہو یا نہ کی گئی ہو، لیکن جب خدا نے ہم کلامی کے منصب کے ساتھ ساتھ اس شخصیت کو ”کتاب جدید“ یا ”شریعت جدیدہ“ بھی عطا کی ہو تو اس کو ”رسول“ کہتے ہیں۔ چنانچہ اس مقام پر قرآن حکیم نے اسی فرق و امتیاز کو معجزانہ اسلوب کے ساتھ ظاہر کیا ہے وہ کہتا ہے کہ جہاں تک گزشتہ انبیاء و رسل کی فہرست کا تعلق ہے اس فہرست میں آپ ﷺ کا منصب صرف ”نبی“ نہیں بلکہ ”رسول“ ہے اور خود قرآن اس کے لیے شہادت جاوید ہے اور جبکہ وہ پیغام الٰہی کے سلسلہ میں آخری پیغمبر ہیں تو اس جگہ یہ یقین کر لینا چاہیے کہ وہ صرف مصطلحہ رسولوں کے ہی آخر نہیں ہیں بلکہ سرتاسر سلسلۂ نبوت کے لیے ”آخر“ ہیں تاکہ ظاہر ہو جائے کہ جب وہ خاتم الانبیاء ہیں تو خاتم الرسل بدرجہ اولیٰ و اتم ہیں، کیونکہ جب عام ہی کا وجود مفقود ہے تو خاص کا وجود کس طرح کتم عدم سے ظاہر ہو سکتا ہے؟ ”وَخَاتَمَ النَّبِیِّین“ اور اسی نمایاں حقیقت کو خود ذات اقدس ﷺ نے ایک طویل صحیح حدیث میں برہان قاطع کے طور پر ظاہر کیا ہے۔ ”لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ“ میرے بعد اب کسی نبی کی بعثت نہیں ہے۔ ”اِنَّ الرِّسَالَةَ وَالنُّبُوَّةَ قَدْ اِنْقَطَعَتْ فَلَا رَسُولَ بَعْدِیْ وَلَا نَبِیَّ“ (ترمذی ج ٢ ص ٥٣ باب ذہبت النبوۃ و بقیت المبشرات) بلاشبہ رسالت اور نبوت دونوں ختم ہو گئے پس میرے بعد نہ رسول ہے اور نہ نبی۔ خُتِمَ بِیَ الْاَنْبِیَاءُ مجھ پر انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کے سلسلہ کا خاتمہ ہو گیا۔ ”اَنَا الْعَاقِبُ الَّذِیْ لَیْسَ بَعْدِیْ نَبِیٌّ“ (ترمذی ج ٢ ص ١١١ باب ماجاء فی اسماء النبی ﷺ) میرا نام عاقب (عاقب: انجام کو پہنچنے والا) ہے۔

میرے بعد نبی کی بعثت نہیں ہے۔ وَخُتِمَ بِیَ النَّبِیُّوْنَ اور مجھ پر نبیوں کا سلسلہ ختم ہو گیا۔

(مسند احمد، ترمذی، مسلم، بخاری وغیرہا)

٢٠

PDF 227

خاتم النبیین لا نبی بعدی

سب سے آخری نبی جن کے بعد کوئی نبی نہیں

حیات سیدنا عیسیٰ علیہ السلام

حضرت مولانا حفظ الرحمٰن سیوہارویؒ

صفحہ ٢٢٨

حیات حضرت عیسیٰ علیہ السلام

قرآن عزیز اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام

حضرت عیسیٰ علیہ السلام جلیل القدر اور اولوالعزم پیغمبروں میں سے ہیں اور جس طرح نبی اکرم ﷺ خاتم الانبیاء و رسل ہیں اسی طرح عیسیٰ علیہ السلام خاتم الانبیاء بنی اسرائیل ہیں اور جمہور کا اس پر اجماع ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے درمیان کوئی نبی مبعوث نہیں ہوا اور درمیان کا یہ زمانہ جس کی مدت تقریباً پانچ سو ستر سال ہے۔ فترۃ (انقطاع وحی) کا زمانہ رہا ہے۔

عیسیٰ علیہ السلام کی جلالت قدر اور عظمت شان کا ایک امتیازی نشان یہ بھی ہے کہ اگر انبیاء بنی اسرائیل میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کو نبوت و رسالت کا ”مقام امامت“ حاصل ہے تو عیسیٰ علیہ السلام مجدد انبیاء بنی اسرائیل ہیں، اس لیے کہ قانون ربانی (تورات) کے بعد بنی اسرائیل کی رشد و ہدایت کے لیے انجیل (بائبل) سے زیادہ عظیم المرتبہ دوسری کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی اور یہ ایک حقیقت ہے کہ انجیل کا نزول قانون تورات کی تکمیل ہی کی شکل میں ہوا ہے یعنی نزول توراۃ کے بعد یہود نے جو قسم قسم کی گمراہیاں دین حق میں پیدا کر لی تھیں انجیل نے توراۃ کی شارح بن کر بنی اسرائیل کو ان گمراہیوں سے بچنے کی دعوت دی اور اس طرح تکمیل توراۃ کا فرض انجام دیا اور بنی اسرائیل میں حضرت موسیٰ کا فراموش شدہ پیغام ہدایت عیسیٰ علیہ السلام ہی نے دوبارہ یاد دلایا اور تازہ باران رحمت کے ذریعہ اس خشک کھیتی کو دوبارہ زندگی بخشی۔

مزید برآں یہ کہ عیسیٰ علیہ السلام سرور کائنات محمد ﷺ کے سب سے بڑے مناد اور مبشر ہیں اور ہر دو مقدس پیغمبروں کے درمیان ماضی اور مستقبل دونوں زمانوں میں خاص رابطہ اور علاقہ پایا جاتا ہے۔

قرآن عزیز نے نبی اکرم ﷺ کی مماثلت کے سلسلہ میں جن پاک ہستیوں

٢

صفحہ ٢٢٩

کے واقعات سے بہت زیادہ بحث کی ہے ان میں حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی مقدس ہستیاں زیادہ نمایاں نظر آتی ہیں۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی شخصیت قرآن کے ”تذکیر بایام اللہ“ میں اس لیے زیادہ اہمیت رکھتی ہے کہ جس دین قویم اور ملت بیضاء کا عروج و کمال محمد ﷺ کی تقدیس کے ساتھ وابستہ تھا اور جس ملت کی دعوت و تبلیغ کا محور و مرکز ذاتِ اقدس بننے والی تھی، وہ ”ملت ابراہیم“ کے نام سے موسوم ہے ”مِلَّةَ أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمَ“ کیونکہ یہی وہ بوڑھے پیغمبر ہیں جنھوں نے شرک کے مقابلہ میں سب سے پہلے توحید الٰہی کو حنیفیت کا لقب دیا اور آئندہ ہمیشہ کے لیے خدا کی راہِ مستقیم کے لیے ”ملۃ حنیفیہ“ کا امتیاز قائم کر دیا، یعنی جو خدا کی پرستش کے لیے مظاہر کائنات کی پرستش کو وسیلہ بناتا ہے وہ ”مشرک“ ہے اور جو خالق کائنات کی یکتائی کا قائل ہو کر براہ راست اسی کی پرستش کرتا ہے وہ ”حنیف“ ہے، پس اس مقدس پیغمبر نے خدا پرستی کے اس حقیقی تصور کو عملی حیثیت میں اس درجہ نمایاں کیا کہ مستقبل میں ادیانِ حق کے لیے اس کی پیروی حق و صداقت کا معیار بن گئی اور خدائے برتر کی جانب سے قبولیت کا یہ شرف عطا ہوا کہ یہ مقدس پیغمبر کائناتِ رشد و ہدایت کا امام اکبر اور مجددِ اعظم قرار پا گیا ”وَاتَّبِعُوا مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا“ اور پیروی کرو ابراہیم علیہ السلام کی ملت کی جو سب سے کٹ کر صرف خدا کی جانب جھکنے والا ہے۔

مِلَّةَ أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمَ هُوَ سَمَّاكُمُ الْمُسْلِمِينَ مِنْ قَبْلُ وَ فِی هٰذَا. (حج ٧٨)

یہ ملت ہے تمھارے باپ ابراہیم علیہ السلام کی اس نے تمہارا نام ”مسلم“ رکھا، نزول قرآن سے قبل اور اس قرآن میں بھی تمہارا نام ”مسلم“ ہے۔ (مسلم اور حنیف مفہوم میں متحد ہیں۔ مسلم خدا کا تابعدار اور حنیف سب سے منہ پھیر کر صرف خدا کا ہو جانے والا)

اور موسیٰ علیہ السلام کی مقدس زندگی کا تذکرہ اس لیے اہمیت کا حامل ہے کہ ان کی دعوت و تبلیغ کے واقعات یعنی قوم کی جہالت و نافرمانی، دشمنانِ خدا سے نبرد آزمائی پیہم مصائب و آلام پر صبر و استقلال کا دوام و ثبات، اور اسی قسم کے دوسرے کوائف و حالات میں ان کے اور نبی اکرم ﷺ کے درمیان بہت زیادہ مشابہت و مناسبت پائی جاتی ہے اور اس لیے وہ واقعات و حالات قبول و انکارِ حق اور ان سے پیدا شدہ نتائج کے سلسلہ میں بصیرت و عبرت کا سامان مہیا کرتے اور نظائر و شواہد کی حیثیت رکھتے ہیں۔

اور عیسیٰ علیہ السلام کی حیاتِ طیبہ کا مقدس ذکر مسطورہ بالا خصوصیات و

٣

صفحہ ٢٣٠

امتیازات کی بنا پر خاص اہمیت رکھتا ہے۔ غرض قرآن عزیز نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حالات و واقعات کو بسط و تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے اور ان کی حیاتِ طیبہ کے دیباچہ کے طور پر ان کی والدہ حضرت مریم علیہا السلام کے واقعاتِ زندگی کو بھی روشن کیا ہے تاکہ قرآن کا مقصد ”تذکیر بایام اللہ“ پورا ہو۔ یہ ذکر پاک قرآن عزیز کی تیرہ سورتوں میں ہوا ہے۔ ان میں سے کسی جگہ نام مبارک عیسیٰ (یسوع) سے یاد کیا گیا ہے اور کسی جگہ ”مسیح“ اور ”عبداللہ“ کے لقب سے اور کسی مقام پر کنیت ”ابن مریم“ کے اظہار کے ساتھ۔ نقشہ ذیل اس حقیقت کا کاشف اور اربابِ مطالعہ کی بصیرت کے لیے ممد و معاون ہے۔

شمار سورہ آیات عیسیٰ مسیح عبداللہ ابن مریم تعداد آیات ١ البقرہ ٨٧، ١٣٦، ٢٥٣ ٣ ٠ ٠ ٢ ٣ ٢ آل عمران ٤٥، ٥٢_٥٩، ٨٤ ٥ ١ ٠ ١ ١٠ ٣ النساء ١٥٦_١٥٩، ١٧١_١٧٢ ٣ ١ ٠ ٢ ٦ ٤ المائدہ ١٧، ٤٦، ٧٢، ٧٥_٧٨، ١١٠_١٢٠ ٦ ٥ ٠ ٥ ١٨ ٥ الانعام ٨٥ ١ ٠ ٠ ٠ ١ ٦ التوبہ ٣٠_٣١ ٠ ١ ٠ ١ ٢ ٧ مریم ١٦_٣٤ ١ ٠ ١ ١ ١٩ ٨ المؤمنون ٥٠ ١ ٠ ٠ ١ ١ ٩ الاحزاب ٧_٨ ١ ٠ ٠ ١ ٢ ١٠ الشوریٰ ١٣ ١ ٠ ٠ ٠ ١ ١١ الزخرف ٥٧_٦٣ ١ ٠ ٠ ١ ٧ ١٢ الحدید ٢٧ ١ ٠ ٠ ١ ١ ١٣ الصف ٦، ١٤ ٢ ٠ ٠ ٢ ٢

عمران و حنہ: بنی اسرائیل میں عمران ایک عابد و زاہد شخص تھے اور اسی زہد و عبادت کی وجہ سے نماز کی امامت بھی ان ہی کے سپرد تھی اور ان کی بیوی حنہ بھی بہت پارسا و عابدہ تھیں اور اپنی نیکی کی وجہ سے وہ دونوں بنی اسرائیل میں بہت زیادہ محبوب و

٤

صفحہ ٢٣١

مقبول تھے۔

(تفسیر ابن کثیر جلد ١ آل عمران)

محمد بن اسحق ”صاحب مغازی“ نے عمران کا نسب نامہ اس طرح بیان کیا ہے۔ عمران بن یاشم بن میشا بن حزقیا بن ابراہیم بن غریا بن ناوش بن اجر بن یہوا بن نازم بن مقاسط بن ایشا بن ایاز بن رحبعم (رحبعام) بن سلیمان بن داؤد (علیہما الصلوٰۃ والسلام) اور حافظ ابن عساکر رحمتہ اللہ علیہ نے ان ناموں کے علاوہ دوسرے نام بیان کیے ہیں اور ان دونوں بیانات میں کافی اختلاف پایا جاتا ہے تاہم اس پر تمام علماء انساب کا اتفاق ہے کہ عمران حضرت سلیمان علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں اور حنہ بنت فاقوذ بن قبیل بھی داؤد علیہ السلام کی نسل سے ہیں۔

(البدایہ والنہایہ ج ٢ ص ٥٦)

عمران صاحب اولاد نہیں تھے اور ان کی بیوی حنہ بہت زیادہ متمنی تھیں کہ ان کے اولاد ہو، وہ اس کے لیے درگاہ الٰہی میں دست بدعاء اور قبولیت دعاء کے لیے ہر وقت منتظر رہتی تھیں۔

کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حنہ صحن مکان میں چہل قدمی کر رہی تھیں، دیکھا کہ ایک پرند اپنے بچہ کو چگا رہا ہے، حنہ کے دل پر یہ دیکھ کر سخت چوٹ لگی اور اولاد کی تمنا نے بہت جوش مارا اور حالت اضطراب میں بارگاہ الٰہی میں دعاء کے لیے ہاتھ اٹھا دیئے اور عرض کیا: ”پروردگار! اسی طرح مجھ کو بھی اولاد عطا کر کہ وہ ہماری آنکھوں کا نور اور دل کا سرور بنے“ دل سے نکلی ہوئی دعاء نے قبولیت کا جامہ پہنا اور حنہ نے چند روز بعد محسوس کیا کہ وہ حاملہ ہیں، حنہ کو اس احساس سے اس درجہ مسرت ہوئی کہ انھوں نے نذر مان لی کہ جو بچہ پیدا ہوگا اس کو ہیکل (مسجد اقصیٰ) کی خدمت کے لیے وقف کر دوں گی۔ (بنی اسرائیل کی مذہبی رسوم میں سے یہ رسم بہت مقدس سمجھی جاتی تھی کہ وہ اپنی اولاد کو ہیکل کی خدمت کے لیے وقف کریں)

(البدایہ والنہایہ جلد ٢ ص ٥٢)

بہر حال اللہ تعالیٰ نے عمران کی بیوی حنہ کی دعاء کو شرف قبولیت بخشا اور وہ مسرت و شادمانی کے ساتھ امید برآنے کی گھڑی کا انتظار کرنے لگیں۔

بشر بن اسحق کہتے ہیں کہ حنہ ابھی حاملہ ہی تھیں کہ ان کے شوہر عمران کا انتقال ہو گیا۔

مریم علیہا السلام کی ولادت

جب مدت حمل پوری ہو گئی اور ولادت کا وقت آ پہنچا تو حنہ کو معلوم ہوا کہ ان کے بطن سے لڑکی پیدا ہوئی ہے، جہاں تک اولاد کا تعلق ہے حنہ کے لیے یہ لڑکی بھی

٥

صفحہ ٢٣٢

لڑکے سے کم نہ تھی مگر ان کو یہ افسوس ضرور ہوا کہ میں نے جو نذر مانی تھی وہ پوری نہیں ہو سکے گی اس لیے کہ لڑکی کس طرح مقدس ہیکل کی خدمت کر سکے گی؟ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے افسوس کو یہ کہہ کر بدل دیا کہ ہم نے تیری لڑکی کو ہی قبول کیا اور اس کی وجہ سے تمہارا خاندان بھی معزز اور مبارک قرار پایا، حنہ نے لڑکی کا نام مریم رکھا، سریانی میں اس کے معنی ”خادم“ کے ہیں، چونکہ یہ ہیکل کی خدمت کے لیے وقف کر دی گئیں اس لیے یہ نام موزوں سمجھا گیا۔

قرآن عزیز نے اس واقعہ کو معجزانہ اختصار کے ساتھ اس طرح بیان کیا ہے۔

اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰى اٰدَمَ وَنُوْحًا وَّ اٰلَ اِبْرٰهِيْمَ وَاٰلَ عِمْرٰانَ عَلَى الْعٰلَمِيْنَ o ذُرِّيَّةًۢ بَعْضُهَا مِنْۢ بَعْضٍ ط وَاللّٰهُ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ o اِذْ قَالَتِ امْرَاَةُ عِمْرٰانَ رَبِّ اِنِّیْ نَذَرْتُ لَكَ مَا فِیْ بَطْنِیْ مُحَرَّرًا فَتَقَبَّلْ مِنِّیْ اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ o فَلَمَّا وَضَعَتْهَا قَالَتْ رَبِّ اِنِّیْ وَضَعْتُهَا اُنْثٰى وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا وَضَعَتْ وَلَيْسَ الذَّكَرُ كَالْاُنْثٰى وَاِنِّیْ سَمَّيْتُهَا مَرْيَمَ وَاِنِّیْ اُعِيْذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ o فَتَقَبَّلَهَا رَبُّهَا بِقَبُوْلٍ حَسَنٍ وَّ اَنْۢبَتَهَا نَبَاتًا حَسَنًا وَّ كَفَّلَهَا زَكَرِيَّاءَ

(آل عمران ٣٣، ٣٧)

”بیشک اللہ نے آدم اور نوح اور آل ابراہیم اور آل عمران کو (اپنے اپنے زمانہ میں) جہان والوں پر بزرگی عطا فرمائی (ان میں سے) بعض، بعض کی ذریت ہیں اور اللہ سننے والا، جاننے والا ہے (وہ وقت یاد کرو) جب عمران کی بیوی نے کہا: ”خدایا! میں نے نذر مان لی ہے کہ میرے پیٹ میں جو (بچہ) ہے وہ تیری راہ میں آزاد ہے، پس تو اس کو میری جانب سے قبول فرما، بیشک تو سننے والا جاننے والا ہے۔ پھر جب اس نے جنا تو کہنے لگی: ”پروردگار! میرے لڑکی پیدا ہوئی ہے۔ اور اللہ خوب جانتا ہے جو اس نے جنا ہے۔ اور لڑکا اور لڑکی یکساں نہیں ہیں (یعنی ہیکل کی خدمت لڑکی نہیں کر سکتی لڑکا کر سکتا ہے اور میں نے اس کا نام مریم رکھا ہے، اور میں اس کو اس کی اولاد کو شیطان رجیم کے فتنہ سے تیری پناہ میں دیتی ہوں۔ پس مریم کو اس کے پروردگار نے بہت اچھی طرح قبول فرمایا اور اس کی نشوونما اچھے طریق پر کی اور زکریا کو اس کا نگران کار بنا دیا۔“

(عمران، حضرت موسیٰ علیہ السلام کے والد کا نام بھی ہے اور حضرت مریم علیہا السلام کے والد کا بھی۔ یہاں والد مریم علیہا السلام مراد ہیں)

حضرت مریم علیہا السلام جب سن شعور کو پہنچیں اور یہ سوال پیدا ہوا کہ مقدس ہیکل کی یہ امانت کس کے سپرد کی جائے تو کاہنوں (ہیکل کے مقدس خدمتگاروں کو کاہن

٦

صفحہ ٢٣٣

کہتے ہیں) میں سے ہر ایک نے یہ خواہش ظاہر کی کہ اس مقدس امانت کا کفیل مجھ کو بنایا جائے مگر اس امانت کی نگرانی کا اہل حضرت زکریا سے زیادہ کوئی نہ تھا، اس لیے کہ وہ مریم علیہا السلام کی خالہ ایشاع (الیشبع) کے شوہر بھی تھے اور مقدس ہیکل کے معزز کاہن اور خدائے برتر کے نبی بھی تھے، اس لیے سب سے پہلے انھوں نے ہی اپنا نام پیش کیا مگر جب سب کاہنوں نے یہی خواہش ظاہر کی اور باہمی کشمکش کا اندیشہ ہونے لگا تو آپس میں طے پایا کہ قرعہ اندازی کے ذریعہ اس کا فیصلہ کر لیا جائے، اور بقول روایاتِ بنی اسرائیل تین مرتبہ قرعہ اندازی کی گئی، وہ دریا میں اپنے قلم (پورے) ڈالتے مگر قرعہ کی شرط کے مطابق ہر مرتبہ زکریا علیہ السلام ہی کا نام نکلتا، کاہنوں نے جب یہ دیکھا کہ اس معاملہ میں زکریا علیہ السلام کے ساتھ تائید غیبی ہے تو انھوں نے بخوشی اس فیصلہ کے سامنے سر تسلیم خم کر دیا اور اس طرح یہ ”سعید امانت“ حضرت زکریا کے سپرد کر دی گئی۔

کہا جاتا ہے کہ مریم علیہا السلام کی کفالت کا یہ معاملہ اس لیے پیش آیا کہ وہ یتیم تھیں اور مردوں میں سے کوئی ان کا کفیل نہیں تھا، اور بعض کہتے ہیں کہ اس زمانہ میں قحط کا بہت زور تھا اس لیے کفالت کا سوال پیدا ہوا۔ لیکن یہ دونوں باتیں اگر نہ بھی ہوتیں تب بھی کفالت کا سوال اپنی جگہ پھر بھی باقی رہتا اس لیے کہ مریم علیہ السلام اپنی والدہ کی نذر کے مطابق ”نذرِ ہیکل“ ہو چکی تھیں اور چونکہ لڑکی تھیں اس لیے از بس ضروری تھا کہ وہ کسی مرد نیک کی کفالت میں اس خدمت کو انجام دیتیں۔

غرض زکریا علیہ السلام نے حضرت مریم علیہا السلام کے صنفی احترامات کا لحاظ رکھتے ہوئے ہیکل کے قریب ایک حجرہ ان کے لیے مخصوص کر دیا تا کہ وہ دن میں وہاں رہ کر عبادت الٰہی سے بہرہ ور ہوں اور جب رات آتی تو ان کو اپنے مکان پر ان کی خالہ ایشاع کے پاس لے جاتے اور وہ وہیں شب بسر کرتیں۔ (مولانا آزاد ترجمان القرآن ج ٢ ص ٤٤٤) میں لکھتے ہیں ”قرآن میں حضرت مسیح علیہ السلام کے ظہور کا ذکر زیادہ تفصیل کے ساتھ دو جگہ کیا ہے یہاں اور سورۂ آل عمران کی آیات ٣٥۔٦٣ میں، یہاں یہ ذکر حضرت زکریا کی دعاء اور حضرت یحییٰ کی پیدائش کے بیان سے شروع ہوا ہے اور اناجیل اربعہ میں سے سینٹ لوقا کی انجیل ٹھیک ٹھیک اسی طرح یہ تذکرہ شروع کرتی ہے لیکن سورۂ آل عمران میں یہ تذکرہ اس سے بھی پیشتر کے ایک واقعہ سے شروع ہوتا ہے یعنی حضرت مریم کی پیدائش اور ہیکل میں پرورش پانے کے واقعہ سے اور اس بارہ میں چاروں انجیلیں خاموش ہیں لیکن انیسویں صدی میں متروک اناجیل کا جو نسخہ ویٹیکان کے کتب خانہ سے برآمد ہوا، اس نے حضرت مریم علیہا السلام کی

١٧

صفحہ ٢٣٤

پیدائش کا یہ مفقود ٹکڑا مہیا کر دیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کم از کم چوتھی صدی عیسوی کے اوائل تک سرگزشت کا یہ ٹکڑا بھی اسی طرح الہامی یقین کیا جاتا تھا جس طرح بقیہ ٹکڑے یقین کیے جاتے ہیں۔“

حنہ اور ایشاع: ابن کثیر فرماتے ہیں کہ جمہور کا قول یہ ہے کہ ایشاع (الیشبع) مریم علیہا السلام کی ہمشیرہ تھیں اور حدیث معراج میں نبی اکرم ﷺ نے عیسیٰ اور یحییٰ علیہما السلام کے متعلق یہ فرما کر ”وھما ابنا خالتا“ جو رشتہ ظاہر فرمایا ہے اس سے بھی جمہور کے قول کی تائید ہوتی ہے۔

لیکن جمہور کا یہ قول قرآن عزیز اور ”تاریخ“ دونوں کے خلاف ہے اس لیے کہ قرآن نے مریم علیہا السلام کی ولادت کے واقعہ کو جس اسلوب کے ساتھ بیان کیا ہے وہ صاف بتا رہا ہے کہ عمران اور حنہ، مریم علیہا السلام کی ولادت سے قبل اولاد سے قطعاً محروم تھیں یہی وجہ ہے کہ حنہ نے مریم علیہا السلام کی ولادت پر یہ نہیں کہا: ”خدایا! میرے تو پہلے بھی ایک لڑکی موجود تھی، اب تو نے دوبارہ بھی لڑکی ہی عطا فرمائی“ بلکہ درگاہ الٰہی میں یہ عرض کیا کہ جس شکل میں میری دعاء تو نے قبول فرمائی ہے اس کو حسب وعدہ تیری نذر کیسے کروں؟ نیز توراۃ اور بنی اسرائیل کی تاریخ سے بھی کہیں یہ ثابت نہیں کہ عمران اور حنہ کے مریم علیہا السلام کے ماسواء کوئی اور اولاد بھی تھی بلکہ اس کے برعکس تاریخ یہود اور اسرائیلیات کا مشہور قول یہ ہے کہ ایشاع، مریم علیہا السلام کی خالہ تھیں۔

دراصل جمہور کی جانب یہ منسوب قول صرف حدیث معراج کے مسطورہ بالا جملہ کے پیش نظر ظہور میں آیا ہے حالانکہ نبی اکرم ﷺ کا یہ ارشاد (وھما ابنا خالتا وہ دونوں خالہ زاد بھائی ہیں) مجاز متعارف کی شکل میں ہے یعنی آپ ﷺ نے بہ طریق توسع والدہ کی خالہ کو عیسیٰ علیہ السلام کی خالہ فرمایا ہے اور اس قسم کا توسع عام بول چال میں شائع و ذائع ہے۔

علاوہ ازیں ابن کثیر (رحمہ اللہ) کا اس کو ”قول جمہور“ کہنا بھی محل نظر ہے اس لیے کہ محمد بن اسحق، اسحق بن بشر، ابن عساکر، ابن جریر اور ابن حجر (رحمہم اللہ) جیسے جلیل القدر اصحاب حدیث و سیر کا رجحان اس جانب ہے کہ ایشاع، حنہ کی ہمشیرہ اور مریم علیہا السلام کی خالہ ہیں، حنہ کی بیٹی نہیں ہیں۔

مریم علیہا السلام کا زہد و تقویٰ

مریم علیہا السلام شب و روز عبادت الٰہی میں رہتیں اور جب خدمت ہیکل کے

٨

صفحہ ٢٣٥

لیے ان کی نوبت آتی تو اس کو بھی بخوبی انجام دیتی تھیں حتیٰ کہ ان کا زہد و تقویٰ بنی اسرائیل میں ضرب المثل بن گیا اور ان کی زہادت و عبادت کی مثالیں دی جانے لگیں۔

مقبولیت خداوندی: زکریا علیہ السلام مریم علیہا السلام کی ضروری نگہداشت کے سلسلہ میں کبھی کبھی ان کے حجرہ میں تشریف لے جایا کرتے تھے لیکن ان کو یہ بات عجیب نظر آتی کہ جب وہ خلوت کدہ میں داخل ہوتے تو مریم علیہا السلام کے پاس اکثر بے موسم کے تازہ پھل موجود پاتے۔ (یہ تفصیل اگرچہ تفسیری روایات سے ماخوذ ہے اور آیت میں صرف لفظ ”رزق“ آیا ہے لیکن آیت سے بصراحت ثابت ہوتا ہے کہ مریم کا یہ رزق انسانی داد و دہش کا نتیجہ نہیں تھا، بلکہ بطور کرامت من جانب اللہ تھا) آخر زکریا علیہ السلام سے نہ رہا گیا اور انھوں نے دریافت کیا مریم تیرے پاس یہ بے موسم پھل کہاں سے آتے ہیں۔ مریم علیہا السلام نے فرمایا: ”یہ میرے پروردگار کا فضل و کرم ہے، وہ جس کو چاہتا ہے بے گمان رزق پہنچاتا ہے“ حضرت زکریا علیہ السلام نے یہ سنا تو سمجھ گئے کہ خدائے برتر کے یہاں مریم کا خاص مقام اور مرتبہ ہے اور ساتھ ہی بے موسم تازہ پھلوں کے واقعہ نے دل میں یہ تمنا پیدا کر دی کہ جس خدا نے اپنی قدرت کاملہ سے یہ پھل بے موسم پیدا کر دیئے کیا وہ میرے بڑھاپے اور بیوی کے بانجھ ہونے کے باوجود مجھ کو بے موسم پھل (بیٹا) عطا نہ کرے گا؟ یہ سوچ کر انھوں نے خشوع و خضوع کے ساتھ بارگاہ ربانی میں دعاء کی اور وہاں سے شرف قبولیت کا مژدہ عطا ہوا۔

وَكَفَّلَهَا زَكَرِيَّا كُلَّمَا دَخَلَ عَلَيْهَا زَكَرِيَّا الْمِحْرَابَ وَجَدَ عِنْدَهَا رِزْقًا قَالَ يَا مَرْيَمُ اَنّٰى لَكِ هٰذَا قَالَتْ هُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ اِنَّ اللّٰهَ يَرْزُقُ مَنْ يَّشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ ۝ (آل عمران ٣٧) ”اور اس (مریم) کی کفالت زکریا نے کی، جب اس (مریم) کے پاس زکریا داخل ہوتے تو اس کے پاس کھانے کی چیزیں رکھی پاتے۔ زکریا نے کہا: ”اے مریم! یہ تیرے پاس کہاں سے آئیں“ مریم نے کہا ”یہ اللہ کے پاس سے آئی ہیں، بلاشبہ اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے بے گمان رزق دیتا ہے۔“

مریم علیہا السلام اسی طرح ایک عرصہ تک اپنے مقدس مشاغل کے ساتھ پاک زندگی بسر کرتی رہیں اور مقدس ہیکل کا سب سے مقدس مجاور حضرت زکریا علیہ السلام بھی ان کے زہد و تقویٰ سے بے حد متاثر تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی عظمت اور جلالت قدر کو اور زیادہ بلند کیا اور فرشتوں کے ذریعہ ان کو برگزیدۂ بارگاہِ الٰہی ہونے کی یہ بشارت سنائی۔

اِذْ قَالَتِ الْمَلٰئِكَةُ يٰمَرْيَمُ اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰكِ وَطَهَّرَكِ وَاصْطَفٰكِ عَلٰى

٩

صفحہ ٢٣٦

نِسَاءِ الْعٰلَمِیْنَ يٰمَرْيَمُ اقْنُتِیْ لِرَبِّکِ وَاسْجُدِیْ وَارْکَعِیْ مَعَ الرّٰکِعِیْنَ ۝ وَمَا کُنْتَ لَدَيْهِمْ اِذْ يُلْقُوْنَ اَقْلَامَهُمْ اَيُّهُمْ يَکْفُلُ مَرْيَمَ وَمَا کُنْتَ لَدَيْهِمْ اِذْ يَخْتَصِمُوْنَ ۝

”(اے پیغمبر وہ وقت یاد کیجیے) جب فرشتوں نے کہا: اے مریم: بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے تجھ کو بزرگی دی اور پاک کیا اور دنیا کی عورتوں پر تجھ کو برگزیدہ کیا، اے مریم! اپنے پروردگار کے سامنے جھک جا اور سجدہ ریز ہو جا اور نماز پڑھنے والوں کے ساتھ نماز ادا کر، اور تم اس وقت ان کاہنوں کے پاس موجود نہ تھے جب وہ اپنے قلموں (پوروں) کو (قرعہ اندازی کے لیے) ڈال رہے تھے کہ مریم کی کفالت کون کرے اور تم اس وقت (بھی) موجود نہ تھے جب وہ اس کفالت کے بارہ میں آپس میں جھگڑ رہے تھے۔“

(آل عمران ٤٢-٤٤)

حضرت مریم علیہا السلام جبکہ نہایت مرتاض، عابد و زاہد اور تقویٰ و طہارت میں ضرب المثل تھیں اور جبکہ عنقریب ان کو جلیل القدر پیغمبر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ ماجدہ ہونے کا شرف بھی حاصل ہونے والا تھا تو من جانب اللہ ان کی تقدیس و تطہیر کا یہ اعلان بلاشبہ حق بحقدار رسید کا مصداق ہے، تاہم علمی اور تاریخی اعتبار سے بلکہ خود قرآن و احادیث کے مفہوم کے لحاظ سے یہ مسئلہ قابل توجہ ہے کہ آیت ”وَاصْطَفٰکِ عَلٰی نِسَاءِ الْعٰلَمِیْنَ“ کی مراد کیا ہے اور کیا درحقیقت حضرت مریم علیہا السلام کو بغیر کسی استثناء کے کائنات کی تمام عورتوں پر برتری اور فضیلت حاصل ہے؟ اور یہی نہیں بلکہ اس آیت فضیلت نے مریم علیہا السلام کی ذات سے متعلق علماء سلف میں چند اہم مسائل کو زیر بحث بنا دیا ہے مثلاً (١) کیا عورت نبی ہوسکتی ہے؟ (٢) کیا حضرت مریم نبی تھیں؟ (٣) اگر نبی نہیں تھیں تو آیت کے جملہ ”وَاصْطَفٰکِ عَلٰی نِسَاءِ الْعٰلَمِیْنَ“ کا مطلب کیا ہے؟

کیا عورت نبی ہوسکتی ہے؟

محمد بن اسحق، شیخ ابوالحسن اشعری، قرطبی، ابن حزم (نور اللہ مرقدهم) اس جانب مائل ہیں کہ عورت نبی ہوسکتی ہے بلکہ ابن حزم تو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ حضرت حوا، سارہ، ہاجرہ، ام موسیٰ علیہ السلام، آسیہ اور مریم (علیھن السلام) یہ سب نبی تھیں، اور محمد بن اسحق رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ اکثر فقہاء اس کے قائل ہیں کہ عورت نبی ہوسکتی ہے اور قرطبی فرماتے ہیں کہ مریم علیہا السلام نبی تھیں۔

ان حضرات کے اقوال کے برعکس خواجہ حسن بصری، امام الحرمین شیخ عبدالعزیز اور قاضی عیاض (نور اللہ مرقدهم) کا رجحان اس جانب ہے کہ عورت نبی نہیں ہوسکتی اور

١٠

صفحہ ٢٣٧

اس لیے مریم علیہا السلام بھی نبی نہیں تھیں، قاضی رحمۃ اللہ علیہ اور ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ یہ بھی کہتے ہیں کہ جمہور کا مسلک یہی ہے اور امام الحرمین تو اجماع تک کا دعویٰ کرتے ہیں۔ جو علماء یہ فرماتے ہیں کہ عورت نبی نہیں ہو سکتی وہ اپنی دلیل میں اس آیت کو پیش کرتے ہیں۔ وَمَا اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ اِلَّا رِجَالاً نُّوْحِیْ اِلَیْهِمْ. (النحل ٤٣) ”اور تم سے پہلے ہم نے نہیں بھیجے مگر مرد کہ وحی بھیجتے تھے ہم ان کی طرف۔“ اور خصوصیت کے ساتھ حضرت مریم علیہا السلام کی نبوت کے انکار پر یہ دلیل دیتے ہیں کہ قرآن عزیز نے ان کو ”صدیقہ“ کہا ہے، سورۂ مائدہ میں؟

مَا الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ اِلَّا رَسُوْلٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ وَاُمُّهُ صِدِّیْقَةٌ (مائدہ ٧٥) ”مسیح بن مریم علیہ السلام صرف اللہ تعالیٰ کے رسول تھے ان سے پہلے بھی رسول گزر چکے اور ان کی والدہ پاک دامن تھیں۔“

اور سورۂ نساء میں قرآن عزیز نے منعم علیہم کی جو فہرست دی ہے وہ اس کے لیے نص قطعی ہے کہ ”صدیقیت“ کا درجہ ”نبوت“ سے کم اور نازل ہے۔

اور جو حضرات عورت کے نبی ہونے کے قائل ہیں وہ فرماتے ہیں کہ قرآن عزیز نے حضرت سارہ، ام موسیٰ اور حضرت مریم علیہن السلام کے متعلق جن واقعات کا اظہار کیا ہے ان میں بصراحت موجود ہے کہ ان پر خدا کے فرشتے وحی لے کر نازل ہوئے اور ان کو منجانب اللہ بشارات سے سرفراز فرمایا اور ان تک اپنی معرفت، عبادت کا حکم پہنچایا، چنانچہ حضرت سارہ کے لیے سورۂ ہود اور سورۂ الذاریت اور ام موسیٰ کے لیے سورۂ قصص میں اور مریم علیہا السلام کے لیے آل عمران اور سورۂ مریم میں بواسطہ ملائکہ اور بلا واسطہ خطاب الٰہی موجود ہے اور ظاہر ہے کہ ان مقامات پر وحی کے لغوی معنی (وجدانی ہدایت یا مخفی اشارہ) کے نہیں ہیں جیسا کہ آیت ”وَاَوْحٰی رَبُّکَ اِلَی النَّحْلِ“ (نحل ٦٨) میں شہد کی مکھی کے لیے وحی کا اطلاق کیا گیا ہے۔

اور خصوصیت کے ساتھ حضرت مریم علیہا السلام کے نبی ہونے کی یہ واضح دلیل ہے کہ سورۂ مریم میں ان کا ذکر اسی اسلوب کے ساتھ کیا گیا ہے، جس طریقہ پر دیگر انبیاء ورسل علیہم السلام کا تذکرہ کیا ہے مثلاً ”وَاذْکُرْ فِی الْکِتٰبِ مُوْسٰی“ (مریم ٥١) ”وَاذْکُرْ فِی الْکِتٰبِ اِدْرِیْسَ“ (مریم ٥٦) ”وَاذْکُرْ فِی الْکِتٰبِ اِسْمٰعِیْلَ“ (مریم ٥٤) ”وَاذْکُرْ فِی الْکِتٰبِ اِبْرٰهِیْمَ“ (مریم ٤١) ”وَاذْکُرْ فِی الْکِتٰبِ مَرْیَمَ“ (مریم ١٦) یا مثلاً ”فَاَرْسَلْنَا اِلَیْهَا رُوْحَنَا“ (مریم ١٧) ہم نے مریم کی جانب اپنے فرشتہ جبرائیل کو بھیجا۔ یا

١١

صفحہ ٢٣٨

مثلاً قَالَ اِنَّمَا اَنَا رَسُوْلُ رَبِّكِ (مریم ١٩) میں بلاشبہ تیرے پروردگار کی جانب سے پیغامبر ہوں۔‘‘ نیز آل عمران میں مریم علیہا السلام کو ملائکۃ اللہ نے جس طرح خدا کی جانب سے پیغامبر بن کر خطاب کیا ہے وہ بھی اس دعوے کی روشن دلیل ہے۔

اور مریم علیہا السلام کے صدیقہ ہونے سے متعلق جو سوال ہے اس کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اگر قرآن نے حضرت مریم علیہا السلام کو ’’صدیقہ‘‘ کہا ہے تو یہ لقب ان کی شان نبوت کے اسی طرح منافی نہیں ہے جس طرح حضرت یوسف علیہ السلام کے مسلم نبی ہونے کے باوجود آیت ’’یُوْسُفُ اَيُّهَا الصِّدِّيْقُ‘‘ (یوسف ٤٦) میں ان کا صدیق ہونا ان کے نبی ہونے کو مانع نہیں ہے، بلکہ ذکر پاک کی مقامی خصوصیت کی بناء پر مذکور ہوا ہے کیونکہ جو ’’نبی‘‘ ہے وہ بہرحال ’’صدیق‘‘ ضرور ہے البتہ اس کا عکس ضروری نہیں ہے۔

ان علماء اسلام کی ترجمانی جس تفصیل کے ساتھ کتاب الفصل میں مشہور محدث ابن حزم (رحمہ اللہ) نے کی ہے اس تفصیل وقوت کے ساتھ دوسری جگہ نظر سے نہیں گزری اس لیے سطور ذیل میں اس پورے مضمون کا ترجمہ لائق مطالعہ ہے۔

نبوۃ النساء اور ابن حزم

یہ فصل ایسے مسئلہ کے متعلق ہے جس پر ہمارے زمانہ میں قرطبہ (اندلس) میں شدید اختلاف بپا ہوا، علماء کی ایک جماعت کہتی ہے کہ عورت نبی نہیں ہوسکتی اور جو ایسا کہتا ہے کہ عورت نبی ہوسکتی ہے وہ ایک نئی بدعت ایجاد کرتا ہے اور دوسری جماعت قائل ہے کہ عورت نبی ہوسکتی ہے اور نبی ہوئی ہیں اور ان دونوں سے الگ تیسری جماعت کا مسلک توقف ہے اور وہ اثبات ونفی دونوں باتوں میں سکوت کو پسند کرتے ہیں، مگر جو حضرات عورت سے متعلق منصب نبوت کا انکار کرتے ہیں، ان کے پاس اس انکار کی کوئی دلیل نظر نہیں آتی البتہ بعض حضرات نے اپنے اختلاف کی بنیاد اس آیت کو بنایا ہے۔ وَمَا اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالاً نُّوْحِيْ اِلَيْهِمْ. (نحل ٤٣)

میں کہتا ہوں کہ اس بارہ میں کس کو اختلاف ہے اور کس نے یہ دعویٰ کیا ہے؟ کہ اللہ تعالیٰ، عورت کو ہدایت خلق کے لیے رسول بنا کر بھیجتا ہے یا اس نے کسی عورت کو ’’رسول‘‘ بنایا ہے، بحث رسالت کے مسئلہ میں نہیں ہے بلکہ نبوت میں ہے، پس طلب حق کے لیے ضروری ہے کہ اوّل یہ غور کیا جائے کہ لغت عرب میں لفظ ’’نبوت‘‘ کے کیا معنی ہیں؟ تو ہم اس لفظ کو ’’انباء‘‘ سے ماخوذ پاتے ہیں جس کے معنی ’’اطلاع دینا‘‘ ہیں، پس

١٢

صفحہ ٢٣٩

نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جس شخص کو اللہ تعالیٰ کسی معاملہ کے ہونے سے قبل بذریعہ وحی اطلاع دے یا کسی بھی بات کے لیے اس کی جانب وحی نازل فرمائے وہ شخص مذہبی اصطلاح میں بلاشبہ ”نبی“ ہے۔ آپ اس مقام پر یہ نہیں کہہ سکتے کہ وحی کے معنی اس الہام کے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے کسی مخلوق کی سرشت میں ودیعت کر دیا ہے جیسا کہ شہد کی مکھی کے متعلق خدائے برحق کا ارشاد ہے ”واوحی ربک الی النحل“ (نحل ٦٨) اور نہ وحی کے معنی ظن اور وہم کے لے سکتے ہیں اس لیے کہ ان دونوں کو ”علم یقین“ سمجھنا (جو وحی کا قدرتی نتیجہ ہے) مجنون کے سوا اور کسی کا کام نہیں ہے اور نہ یہاں وہ معنی مراد ہو سکتے ہیں جو ”باب کہانت“ سے تعلق رکھتے ہیں (یعنی یہ کہ شیاطین، آسمانی باتوں کو سننے اور چرانے کی کوشش کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی جانب سے ان پر شہاب ثاقب کے ذریعہ رجم کیا جاتا ہے اور جس کے متعلق قرآن یہ کہتا ہے اور ”شیاطین الجن والانس یوحی بعضهم الی بعض زُخرف القول غرورا“ (انعام ١١٢) کیونکہ یہ ”باب کہانت“ رسول اللہ ﷺ کی ولادت باسعادت کے وقت سے مسدود ہو گیا اور نہ اس جگہ وحی کے معنی نجوم کے تجربات علمیہ سے تعلق رکھتے ہیں جو خود انسانوں کے باہم سیکھنے سکھانے سے حاصل ہو جایا کرتے ہیں اور نہ اس کے معنی اس رویا (خواب) کے ہو سکتے ہیں جن کے سچ یا جھوٹ ہونے کا کوئی علم نہیں ہے بلکہ ان تمام معانی سے جدا ”وحی بمعنی نبوۃ“ یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے قصد اور ارادہ سے ایک شخص کو ایسے امور کی اطلاع دے جن کو وہ پہلے سے نہیں جانتا اور مسطورۂ بالا ذرائع علم سے الگ یہ امور حقیقت ثابتہ بن کر اس شخص پر اس طرح منکشف ہو جائیں گویا آنکھوں سے دیکھ رہا ہے اور اللہ تعالیٰ اس علم خاص کے ذریعہ اس شخص کو بغیر کسی محنت وکسب کے بداہتہ ایسا صحیح یقین عطا کر دے کہ وہ ان امور کو اس طرح معلوم کر لے جس طرح وہ حواس اور بداہت عقل کے ذریعہ حاصل کر لیا کرتا ہے اور اس کو کسی قسم کے شک و شبہ کی گنجائش باقی نہیں رہتی اور خدا کی یہ وحی یا تو اس طرح ہوتی ہے کہ فرشتہ آ کر اس شخص کو خدا کا پیغام سناتا ہے اور یا اس طرح کہ اللہ تعالیٰ براہ راست اس سے خطاب کرتا ہے۔

پس اگر ان حضرات کے نزدیک جو عورت کے نبی ہونے کا انکار کرتے ہیں ...... نبوۃ کے معنی یہ نہیں ہیں تو وہ ہم کو سمجھائیں کہ آخر نبوت کے معنی ہیں کیا؟ حقیقت یہ ہے کہ وہ اس کے ماسوا اور کوئی معنی بیان ہی نہیں کر سکتے۔

اور جبکہ نبوت کے معنی وہی ہیں جو ہم نے بیان کیے تو اب قرآن کے ان

١٣

صفحہ ٢٤٠

مقامات کو بغور مطالعہ کیجیے جہاں یہ مذکور ہے کہ اللہ عزوجل نے عورتوں کے پاس فرشتوں کو بھیجا اور فرشتوں نے اللہ تعالیٰ کی جانب سے ان عورتوں کو ”وحی حق“ سے مطلع کیا چنانچہ فرشتوں نے اللہ تعالیٰ کی جانب سے ام اسحق (سارہ علیہا السلام) کو اسحق علیہ السلام کی ولادت کی بشارت سنائی، اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے۔

”وامرأتہ قائمۃ فضحکت فبشرنھا باسحق ومن وراء اسحق یعقوب قالت یویلتا ءالد وانا عجوز وھذا بعلی شیخا ان ھذا لشئ عجیب o قالوا اتعجبین من امر اللہ رحمۃ اللہ وبرکاتہ علیکم اھل البیت۔“ (ھود ٧١ تا ٧٣) ان آیات میں

فرشتوں نے ام اسحق کو اللہ تعالیٰ کی جانب سے اسحق اور ان کے بعد یعقوب علیہما السلام کی بشارت سنائی ہے اور سارہ علیہا السلام کے تعجب پر یہ کہہ کر دوبارہ خطاب کیا ہے ”اتعجبین من امر اللہ“ تو یہ کیسے ممکن ہے کہ والدہ اسحق (سارہ) علیہا السلام نبی تو نہ ہوں اور اللہ تعالیٰ فرشتوں کے ذریعہ اس طرح ان سے خطاب کرے؟

اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ، جبرائیل فرشتہ کو مریم (ام عیسیٰ علیہا السلام) کے پاس بھیجتا ہے اور ان کو مخاطب کر کے یہ کہتا ہے قَالَ اِنَّمَا اَنَا رَسُوْلُ رَبِّکِ لِاَھَبَ لَکِ غُلَامًا زَکِیًّا (مریم ١٩) تو یہ ”وحی حقیقی“ کے ذریعہ نبوت نہیں تو اور کیا ہے اور کیا اس آیت میں صاف طور پر نہیں کہا گیا کہ مریم علیہا السلام کے پاس جبرائیل علیہ السلام اللہ تعالیٰ کی جانب سے پیغامبر بن کر آئے؟ نیز زکریا علیہ السلام جب مریم علیہا السلام کے حجرہ میں آتے تو ان کے پاس اللہ کا غیب سے دیا ہوا رزق پاتے تھے اور انھوں نے اسی رزق کو دیکھ کر بارگاہ الہٰی میں صاحب فضیلت لڑکا پیدا ہونے کی دعا کی تھی، اسی طرح ہم موسیٰ علیہ السلام کی والدہ کے معاملہ میں دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر وحی نازل فرمائی کہ تم اپنے اس بچہ کو دریا میں ڈال دو اور ساتھ ہی ان کو اطلاع دی کہ میں اس کو تمہاری جانب واپس کروں گا اور اس کو ”نبی مرسل“ بناؤں گا، پس کون شک کر سکتا ہے کہ یہ ”نبوت“ کا معاملہ نہیں ہے؟ معمولی عقل و شعور رکھنے والا آدمی ہی بآسانی یہ سمجھ سکتا ہے کہ اگر موسیٰ علیہ السلام کی والدہ کا یہ عمل اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ شرفِ نبوت سے وابستہ نہ ہوتا اور محض خواب کی بنا پر یا دل میں پیدا شدہ وسوسہ کی وجہ سے وہ ایسا کرتیں تو ان کا یہ عمل نہایت ہی مجنونانہ اور متہورانہ ہوتا، اور اگر آج ہم میں سے کوئی ایسا کر بیٹھے تو ہمارا یہ عمل یا گناہ قرار پائے گا اور یا ہم کو مجنون اور پاگل کہا جائے گا اور علاج کے لیے پاگل خانہ بھیج دیا جائے گا۔ یہ ایک ایسی صاف اور واضح بات

١٤

صفحہ ٢٤١

ہے جس میں شک و شبہ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ تب یہ کہنا قطعاً درست ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ کا موسیٰ علیہ السلام کو دریا میں ڈال دینا اسی طرح وحی الٰہی کی بنا پر تھا جس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام نے رؤیا (خواب) میں اپنے بیٹے (اسمعیل علیہ السلام) کا ذبح کرنا بذریعہ وحی معلوم کر لیا تھا۔ (نبی کا خواب بھی وحی ہوتا ہے، نبی اکرم ﷺ نے بھی ایک حدیث میں ایسا ہی فرمایا ہے) اس لیے کہ اگر حضرت ابراہیم علیہ السلام نبی نہ ہوتے اور ان کے ساتھ وحی الٰہی کا سلسلہ وابستہ نہ ہوتا اور پھر وہ یہ عمل محض ایک خواب یا نفس میں پیدا شدہ ظن کی وجہ سے کر گزرتے تو ہر شخص ان کے اس عمل کو یا گناہ سمجھتا یا انتہائی جنون یقین کرتا۔ تو اب بغیر کسی تردد کے یہ کہا جا سکتا ہے کہ ام موسیٰ علیہا السلام نبی تھیں۔

علاوہ ازیں حضرت مریم علیہا السلام کی نبوت پر ایک یہ دلیل بھی پیش کی جا سکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سورۂ کھیعص میں ان کا ذکر انبیاء علیہم السلام کے زمرہ میں کیا ہے اور اس کے بعد ارشاد فرمایا ہے ”اولئک الذین انعم اللہ علیہم من النبیین من ذریۃ ادم و ممن حملنا مع نوح“ (مریم ٥٨) (یہی ہیں وہ انبیاء آدم کی نسل سے اور ان میں سے جن کو ہم نے نوح کے ساتھ کشتی میں سوار کیا جن پر اللہ کا انعام و اکرام ہوا) تو آیت کے اس عموم میں مریم علیہا السلام کی تخصیص کر کے ان کو انبیاء کی فہرست میں سے الگ کر لینا کسی طرح صحیح نہیں ہو سکتا۔

رہی یہ بات کہ قرآن نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر کرتے ہوئے مریم علیہا السلام کے لیے یہ کہا ہے ”وامہ صدیقۃ“ تو یہ لقب ان کی نبوت کے لیے اسی طرح مانع نہیں جس طرح حضرت یوسف علیہ السلام کے نبی اور رسول ہونے کے لیے یہ آیت مانع نہیں۔ ”یوسف ایھا الصدیق“ اور یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے۔ (وباللہ التوفیق)

اب حضرت سارہ، حضرت مریم، حضرت ام موسیٰ علیہن السلام کے مسئلہ نبوت کے ساتھ فرعون کی بیوی (آسیہ) کو بھی شامل کر لیجیے اس لیے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے۔

کَمُلَ من الرجال کثیر ولم یکمل من النساء الا مریم بنت عمران و اسیۃ بنت مزاحم امراءۃ فرعون (او کما قال علیہ السلام) (بخاری ج ١ ص ٤٨٨ کتاب الانبیاء باب قولہ واذ قالت الملائکۃ میں الفاظ حدیث یہ ہیں۔ قال النبی ﷺ فضل عائشہ علی النساء کفضل الثرید علی سائر الطعام کمل من

١٥

صفحہ ٢٤٢

الرجال کثیر و لم یکمل من النساء الا مریم بنت عمران و آسیۃ امراۃ فرعون ”مردوں میں سے تو بہت سے آدمی کامل ہوئے ہیں مگر عورتوں میں سے صرف یہی دو کامل ہوئیں۔ مریم بنت عمران اور آسیہ بنت مزاحم زوجہ فرعون۔“ مردوں میں سے بہت ہی کامل ہوئے عورتوں میں کامل نہیں ہوئیں مگر آسیہ زوجہ فرعون اور مریم بنت عمران اور تحقیق عائشہؓ کی فضیلت تمام عورتوں پر اس طرح ہے جس طرح ثرید باقی طعام پر)

اور واضح رہے کہ مردوں میں یہ درجۂ کمال بعض رسولوں (علیہم السلام) ہی کو حاصل ہوا ہے اور اگرچہ ان کے علاوہ انبیاء و رسل بھی درجۂ نبوت و رسالت پر مامور ہیں لیکن ان مرسلین کاملین کے درجہ سے نازل ہیں اس لیے حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جن عورتوں کو منصب نبوت سے سرفراز فرمایا ہے ان میں صرف ان دو عورتوں کو ہی درجۂ کمال تک پہنچنے کی فضیلت حاصل ہے کیونکہ حدیث میں جس درجۂ کمال کا ذکر ہو رہا ہے جو ہستی بھی اس درجہ سے نازل ہے وہ کامل نہیں ہے۔

بہر حال اس حدیث سے یہ ثابت ہوا کہ اگرچہ بعض عورتیں بہ نص قرآن نبی ہیں لیکن ان میں سے ان دو عورتوں کو بھی درجۂ کمال ملا، درجات کے اس فرق کو خود قرآن نے اس طرح بیان کیا ہے ”تلک الرسل فضلنا بعضہم علیٰ بعض“ حقیقت یہ ہے کہ کامل اس کو کہا جاتا ہے جس کی نوع میں سے کوئی دوسرا اس کا ہمسر نہ ہو پس مردوں میں سے ایسے کامل خدا کے چند ہی رسول ہوئے ہیں جن کی ہمسری دوسرے انبیاء و رسل کو عطا نہیں ہوئی اور بلاشبہ ان ہی کاملین میں سے ہمارے پیغمبر محمد ﷺ اور ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام ہیں، جن کے متعلق نصوص (قرآن و حدیث) نے ان فضائل کمال کا اظہار کیا ہے جو دوسرے انبیاء و رسل کو حاصل نہیں ہیں، اسی طرح عورتوں میں سے وہی درجۂ کمال کو پہنچی ہیں جن کا ذکر نبی اکرم ﷺ نے اس حدیث میں کیا ہے۔

(کتاب الفصل فی الملل والاہواء والنحل مطبوعہ مصر ١٣٤٨ھ جلد ٥ ص ١٢۔١٣۔١٤)

ابن حزم (رحمہ اللہ) کے اس طویل مضمون کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر وحی کے ان معانی کو نظر انداز کر کے ”جن کا اطلاق بلحاظ عموم لغت جبلت یا نفس میں ظن و وہم کے درجہ کا القاء والہام پر ہوتا ہے“ وہ اصطلاحی معنی لیے جائیں جن کو قرآن نے انبیاء و رسل کے لیے مخصوص کیا ہے تو اس کی دو صورتیں ہیں ایک وہ (وحی) جس کا منشاء مخلوق خدا کی رشد و ہدایت اور تعلیم اوامر و نواہی سے ہو، اور دوسری یہ کہ خدائے تعالیٰ کسی شخص سے براہ راست یا فرشتہ کے واسطہ سے اس قسم کا خطاب کرے کہ جس سے بشارات دنیا، یا

١٦

صفحہ ٢٤٣

کسی ہونے والے واقعہ کے ہونے سے قبل اطلاع دینا، یا خاص اس کی ذات کے لیے کوئی امر و نہی فرمانا مقصود ہو۔ اب اگر پہلی صورت ہے تو یہ ”نبوۃ مع الرسالۃ“ ہے۔ (یہاں نبی اور رسول کے اس فرق کو نظر انداز کر دیا گیا ہے جو علم کلام کی خاص اصطلاح ہے کیونکہ قرآن کثرت کے ساتھ نبی اور رسول کو مرادف معنی میں استعمال کرتا ہے) اور بالاتفاق سب کے نزدیک یہ درجہ صرف مردوں کے ساتھ ہی مخصوص ہے جیسا کہ سورۂ النحل کی آیت سے واضح ہے اور اس مسئلہ میں قطعاً دو رائے نہیں ہیں۔

اور اگر وحی الٰہی کی دوسری شکل ہے تو ابن حزم اور ان کے مؤیدین علماء کی رائے میں یہ بھی نبوت ہی کی ایک قسم ہے کیونکہ قرآن عزیز نے سورۂ شوریٰ میں انبیاء علیہم السلام پر نزولِ وحی کے جو طریقہ بیان کیے ہیں اور اس وحی پر بھی صادق آتے ہیں۔ سورۂ شوریٰ میں ہے۔

وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ يُّكَلِّمَهُ اللّٰهُ اِلَّا وَحْيًا اَوْ مِنْ وَّرَاءِ حِجَابٍ اَوْ يُرْسِلَ رَسُوْلًا فَيُوْحِيَ بِاِذْنِهٖ مَا يَشَاءُ اِنَّهُ عَلِيٌّ حَكِيْمٌ (شوریٰ ٥١) ”اور کسی انسان کے لیے یہ صورت ممکن نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس سے (بالمشافہ) گفتگو کرے مگر یا وحی کے ذریعہ یا پس پردہ کلام کے ذریعہ اور یا اس صورت سے کہ اللہ کسی فرشتہ کو پیغمبر بنا کر بھیجے اور وہ اس کی اجازت سے جس کو کہ وہ چاہے اس بشر کو وحی لا کر سنا دے بلاشبہ وہ بلند و بالا ہے حکمت والا ہے۔“

اور جبکہ قرآن نے وحی کی اس دوسری قسم کا اطلاق بہ نص صریح حضرت مریم، حضرت سارہ، حضرت ام موسیٰ اور حضرت آسیہ علیہن السلام پر کیا ہے جیسا کہ سورۂ ہود، قصص، آل عمران، مریم سے ظاہر ہوتا ہے تو ان مقدس عورتوں پر ”نبی کا اطلاق“ قطعاً صحیح ہے اور اس کو بدعت کہنا سرتاسر غلط ہے۔

ابن حزم (رحمہ اللہ) کے مؤید علماء نے اس سلسلہ میں پیدا ہونے والے اس شبہ کا جواب بھی دیا ہے ”کہ قرآن نے جس طرح صاف الفاظ میں مرد انبیاء کو نبی اور رسول کہا ہے، اس طرح ان عورتوں میں سے کسی کو نہیں کہا“ جواب کا حاصل یہ ہے کہ جبکہ ”نبوۃ مع الرسالۃ“ جو کہ مردوں کے لیے ہی مخصوص ہے کائناتِ انسانی کی رشد و ہدایت اور تعلیم و تبلیغ نوعِ انسانی سے متعلق ہوتی ہے تو اس کا قدرتی تقاضہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس شخص کو اس شرف سے ممتاز فرمایا ہے اس کے متعلق وہ صاف صاف اعلان کرے کہ وہ خدا کا بھیجا ہوا نبی اور رسول ہے، تاکہ امت پر اس کی دعوت و تبلیغ کا قبول

١٧

صفحہ ٢٤٤

کرنا لازم ہو جائے اور خدا کی حجت پوری ہو اور چونکہ نبوت کی وہ قسم جس کا اطلاق عورتوں پر بھی ہوتا ہے خاص اسی ہستی سے وابستہ ہوتی ہے جس کو یہ شرف ملا ہے تو اس کے متعلق صرف یہی اظہار کر دینا کافی ہے کہ جو ”وحی من اللہ“ انبیاء و رسل کے لیے ہی مخصوص ہے اس سے ان چند عورتوں کو بھی مشرف کیا گیا ہے۔

عورتوں کی نبوت کے اثبات و انکار کے علاوہ تیسری رائے ان علماء کی ہے جو اس مسئلہ میں ”سکوت اور توقف“ کو ترجیح دیتے ہیں ان میں شیخ تقی الدین سبکی (رحمہ اللہ) نمایاں حیثیت رکھتے ہیں، فتح الباری میں ان کا یہ قول مذکور ہے۔

قال السبکی اختلف فی ہذہ المسئلۃ ولم یصح عندی فی ذلک شئ الخ. (فتح الباری جلد ٦ کتاب الانبیاء ص ٤٧١) سبکی فرماتے ہیں: ”اس مسئلہ میں علماء کی آراء مختلف ہیں اور میرے نزدیک اس بارہ میں اثباتاً یا نفیاً کوئی بات ثابت نہیں ہے۔“

کیا حضرت مریم نبی ہیں

اس تفصیل سے یہ ضرور معلوم ہوتا ہے کہ عورتوں کی نبوت کے انکار پر امام الحرمین کا دعویٰ اجماع صحیح نہیں ہے نیز یہ بھی تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ فہرست انبیاء میں مسطورہ بالا دوسری مقدس عورتوں کے مقابلہ میں حضرت مریم علیہ السلام کی نبوت کے متعلق قرآنی نصوص زیادہ واضح ہیں، یہی وجہ ہے کہ امام اشعری ابن حزم اور قرطبی (رحمہم اللہ) کے درمیان حضرت مریم علیہ السلام کے علاوہ بقیہ نبیات کی فہرست کے بارہ میں خاصہ اختلاف نظر آتا ہے اور حضرت مریم علیہ السلام کی نبوت کے متعلق تمام مثبتین نبوت کا اتفاق ہے۔

ہم کو ابن کثیر (رحمہ اللہ) کے اس دعوے سے بھی اختلاف ہے کہ جمہور، انکار کی جانب ہیں البتہ اکثریت غالباً سکوت اور توقف کو پسند کرتی ہے۔

آیت ”وَاصْطَفٰکِ عَلٰی نِسَاءِ الْعٰلَمِیْنَ“ کا مطلب

جو علماء عورتوں میں نبوت کے قائل ہیں اور حضرت مریم علیہا السلام کو نبی تسلیم کرتے ہیں ان کے مسلک کے مطابق تو آیت ”وَاصْطَفٰکِ عَلٰی نِسَاءِ الْعٰلَمِیْنَ“ کا مطلب صاف اور واضح ہے وہ یہ کہ حضرت مریم علیہا السلام کو کائنات کی تمام عورتوں پر فضیلت حاصل ہے، جو عورتیں نبی نہیں ہیں ان پر اس لیے کہ مریم علیہا السلام نبی ہیں اور جو عورتیں نبی ہیں ان پر اس لیے کہ وہ ان قرآنی نصوص کے پیش نظر جو ان کے فضائل و کمالات سے تعلق رکھتی ہیں باقی نبیات پر برتری رکھتی ہیں۔

١٨

صفحہ ٢٤٥

لیکن جو علماء عورتوں کی نبوت کا انکار فرماتے ہیں اور حضرت مریم علیہا السلام کو ”نبیہ“ نہیں تسلیم کرتے وہ اس آیت کی مراد میں دو جدا جدا خیال رکھتے ہیں، بعض کہتے ہیں کہ آیت کا جملہ ”نساء العلمین“ عام ہے اور ماضی، حال اور مستقبل کی تمام عورتوں کو شامل ہے، اس لیے بلاشبہ حضرت مریم علیہا السلام کو بغیر کسی استثناء کے کائناتِ انسانی کی تمام عورتوں پر فضیلت و برتری حاصل ہے اور اکثر کا قول یہ ہے کہ آیت کے لفظ ”العلمین“ سے کائنات کی وہ تمام عورتیں مراد ہیں جو حضرت مریم علیہا السلام کی معاصر تھیں، یعنی قرآنِ عزیز حضرت مریم علیہا السلام کے زمانہ کا واقعہ نقل کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ بشارت دی کہ وہ اپنے زمانہ کی تمام عورتوں میں برگزیدہ اور صاحبِ کمال ہیں اور ہم نے ان سب میں سے ان کو چن لیا ہے اور ”العلمین“ کا یہ اطلاق وہی حیثیت رکھتا ہے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی امت (بنی اسرائیل) کے لیے اس آیت میں اختیار کی گئی ہے۔

وَلَقَدِ اخْتَرْنٰهُمْ عَلٰی عِلْمٍ عَلَی الْعٰلَمِیْنَ . (دخان ٣٢) ”اور بلاشبہ ہم نے اپنے علم سے ان (بنی اسرائیل) کو جہان والوں کے مقابلہ میں پسند کر لیا ہے۔“

حالانکہ باتفاق نصوص قرآن و حدیث یہ مسلم ہے کہ امتِ محمدیہ ﷺ کو علی الاطلاق کائنات کی تمام امتوں پر برتری اور فضیلت حاصل ہے، ارشادِ باری ہے۔

كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ . (آل عمران ١١٠) ”(اے امتِ محمدیہ) تم بہترین ہو جو کائناتِ انسانی (کی خدمت) کے لیے پیدا کی گئی ہے۔“

اور جبکہ باتفاق آراء بنی اسرائیل کی فضیلت کے متعلق یہ کہا جاتا ہے کہ ”العلمین“ سے ان کی معاصر امم و اقوام مراد ہیں کہ ان میں سے امتِ موسیٰ علیہ السلام کو فضیلت حاصل ہے تو حضرت مریم علیہا السلام کی فضیلت کے باب میں بھی یہی معنی مراد لینے چاہئیں۔

حضرت مریم کا تقدس اور تقویٰ و طہارت، حضرت عیسیٰ علیہ السلام جیسے جلیل القدر کی والدہ ہونے کا شرف، مرد کے ہاتھ لگائے بغیر معجزہ کے طور پر ان کے مشیمۂ معلیٰ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت باسعادت بلاشبہ ایسے امور ہیں جن کی بدولت ان کو معاصر عورتوں پر فضیلت و برتری حاصل تھی۔

پھر یہ حقیقت بھی فراموش نہیں ہونی چاہیے کہ بابِ فضیلت ایک وسیع باب ہے اور جس طرح کسی شے کی حقیقت بیان کرنے میں بلیغ اور عمدہ طریق بیان یہ ہے کہ

١٩

صفحہ ٢٤٦

وہ جامع و مانع ہو یعنی اس کی حقیقت پر اس طرح حاوی ہو کہ تمام دوسری چیزوں سے ممتاز ہو جائے نہ ایسی کمی رہ جائے کہ اصل حقیقت پوری طرح بیان نہ ہو سکے اور نہ ایسا اضافہ ہو کہ بعض دوسرے حقائق بھی اس کے ساتھ شامل ہو جائیں۔ اسی طرح اس کے برعکس بیان فضیلت کے لیے فصاحت و بلاغت کا تقاضہ یہ ہے کہ اس کو بیان حقیقت کی طرح حدود و قیود میں نہ جکڑ دیا جائے کیونکہ اس مقام پر حقیقت شے نہیں بلکہ فضیلت شے کا اظہار ہو رہا ہے جو اگر اسی طرح کے دوسرے افراد پر بھی صادق آ جائے تو بیان حقیقت کی طرح اس میں کوئی خلل واقع نہیں ہوتا بلکہ اس موقع پر وسعت بیان ہی از بس ضروری ہوتا ہے تاکہ مخاطب کے دل میں اظہار فضیلت سے جو نفسیاتی اثر پیدا کرنا ہے وہ دل نشین اور موثر ہو سکے۔

تو ایسی صورت میں ”علی نساء العلمین“ کے معنی یہ نہیں ہوں گے کہ حضرت مریم علیہا السلام کے علاوہ دوسری کوئی مقدس عورت اس شرف کو نہیں پہنچ سکتی یا نہیں پہنچی بلکہ مطلب یہ ہوگا کہ حضرت مریم کو فضائل و کمالات میں بلند سے بلند مرتبہ حاصل ہے، باب فضائل کی یہی وہ حقیقت ہے جس کے فراموش کر دینے پر فضائل صحابہؓ وغیرہ میں اکثر ہم کو لغزش ہو جاتی اور چند مقدس اشخاص سے متعلق فضائل کے مابین تضاد اور تناقض نظر آنے لگتا ہے، البتہ ان فضائل کی حدود سے گزر کر جب ہم صاحب فضائل افراد کے انفرادی و اجتماعی اعمال کا جائزہ لے کر فرق مراتب بیان کرتے ہیں تو وہ ضرور ایک دوسرے کے لیے حد فاصل ثابت ہوتے ہیں۔ مثلاً حضرات صحابہؓ و صحابیاتؓ کے فضائل کے پیش نظر فرق مراتب کا صحیح فیصلہ جب ہی ممکن ہو سکتا ہے کہ ان کے ان فضائل کے ساتھ ساتھ جو زبان وحی ترجمان سے نکلے ہیں ان سے متعلق خصوصی ارشادات قرآنی و حدیثی، ان کی اسلامی خدمات، اسلام سے متعلق ان کی سرفروشیاں، جاں سپاریاں، نصرت حق میں مالی فداکاریاں، اسلام کے نازک ترین لمحات میں ان کے علم و تدبر کی عقدہ کشائیاں اور ان کی عملی جدوجہد کی رفیع سرگرمیاں ان سب کو سامنے رکھ کر فیصلہ کیا جائے۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور بشارات کتب سابقہ

ادیان و ملل کی تاریخ کا مطالعہ کرنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ دین حق اور ملت بیضاء کی تبلیغ و دعوت کا سلسلہ اگرچہ آدم علیہ السلام سے شروع ہو کر خاتم الانبیاء محمد ﷺ تک برابر جاری رہا ہے لیکن اس سلسلہ کو مزید قوت پہنچانے اور سربلند کرنے کے

٢٠

صفحہ ٢٤٧

لیے سنۃ اللہ یہ رہی ہے کہ صدیوں بعد ایک ایسے اولوالعزم اور جلیل القدر پیغمبر کو بھیجے جو امتداد زمانہ کی وجہ سے پیدا شدہ عام روحانی اضمحلال کو دور کر کے قبول حق کے افسردہ رجحانات میں تازگی بخشے اور ضعیف روحانی عواطف کو قوی سے قوی تر بنا دے گویا مذہب کی خوابیدہ دنیا میں حق و صداقت کا صور پھونک کر ایک انقلاب عظیم بپا کر دے اور مردہ دلوں میں نئی روح ڈال دے اور اکثر ایسا ہوتا رہا ہے کہ جن اقوام و امم میں اس عظیم المرتبہ پیغمبر کی بعثت ہونے والی ہوتی ہے صدیوں پہلے ان کے ہادیان ملت اور داعیان حق (انبیاء علیہم السلام) اس مقدس رسول کی آمد کی بشارات وحی الٰہی کے ذریعہ سناتے رہتے ہیں تاکہ اس کی دعوت حق کے لیے زمین ہموار رہے اور جب اس نور حق کے روشن ہونے کا وقت آ جائے تو ان اقوام و امم کے لیے اس کی آمد غیر متوقع حادثہ نہ بن جائے۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی ان چند اولوالعزم، جلیل القدر اور مقدس رسولوں میں سے ایک ہیں اور اسی بنا پر انبیاء بنی اسرائیل میں سے متعدد انبیاء علیہم السلام ان کی آمد سے قبل ان کے حق میں منادی کرتے اور آمد کی بشارت سناتے نظر آتے ہیں اور ان ہی بشارات کی وجہ سے بنی اسرائیل مدت مدید سے منتظر تھے کہ مسیح موعود کا ظہور ہو تو ایک مرتبہ وہ پھر موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ کی طرح اقوام عالم میں معزز و ممتاز ہوں گے اور رُشد و ہدایت کی خشک کھیتی میں روح تازہ پیدا ہو گی اور خدا کے جاہ و جلال سے ان کے قلوب ایک مرتبہ پھر چمک اٹھیں گے۔ بائیبل (توراۃ و انجیل) اپنی لفظی و معنوی تحریفات کے باوجود آج بھی ان چند بشارات کو اپنے سینہ میں محفوظ رکھتی ہے جو حضرت مسیح علیہ السلام کی آمد سے تعلق رکھتی ہیں۔ توراۃ استثناء میں ہے۔

”اور اس موسیٰ نے کہا کہ خداوند سینا سے آیا اور شعیر (ساعیر) سے ان پر طلوع ہو، اور فاران کے پہاڑوں سے جلوہ گر ہوا۔“ (باب ٣٣ آیت ٢٠)

اس بشارت میں ”سینا سے خدا کی آمد“ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نبوت کی جانب اشارہ ہے اور ”ساعیر سے طلوع ہونا“ نبوت عیسیٰ علیہ السلام مراد ہے، کیونکہ ان کی ولادت باسعادت اسی پہاڑ کے ایک مقام ”بیت اللحم“ میں ہوئی ہے اور یہی وہ مبارک جگہ ہے جہاں سے نور حق طلوع ہوا اور ”فاران پر جلوہ گر ہونا“ آفتاب رسالت کی بعثت کا اعلان ہے کیونکہ فاران، حجاز کے مشہور پہاڑی سلسلہ کا نام ہے۔

”دیکھ میں اپنا پیغمبر تیرے آگے بھیجتا ہوں جو تیری راہ تیار کرے گا۔“

(متی باب ١١ آیت ١٠)

٢١

صفحہ ٢٤٨

”بیابان میں پکارنے والے کی آواز آتی ہے کہ خداوند کی راہ تیار کرو، اس کے راستے سیدھے بناؤ۔“

(یسعیا باب ٤٠ آیت ٣۔٤)

اس بشارت میں ”پیغمبر سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام مراد ہیں اور بیابان میں پکارنے والے حضرت یحییٰ علیہ السلام ہیں جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مناد تھے اور ان کی بعثت سے قبل بنی اسرائیل میں ان کی بعثت و رسالت کا مژدۂ جانفزا سناتے تھے۔

اور متی کی انجیل میں ہے۔

”جب یسوع، ہیرودیس بادشاہ کے زمانہ میں یہودیہ کے بیت اللحم میں پیدا ہوا تو دیکھو کئی مجوس پورب سے یروشلم میں یہ کہتے ہوئے آئے کہ یہودیوں کا بادشاہ جو پیدا ہوا ہے وہ کہاں ہے؟ .......... یہ سن کر ہیرودیس بادشاہ اور اس کے ساتھ یروشلم کے سب لوگ گھبرائے اور اس نے قوم کے سب سردار کاہنوں اور فقیہوں کو جمع کر کے ان سے پوچھا کہ مسیح کی پیدائش کہاں ہونی چاہیے؟ انھوں نے اس سے کہا کہ یہودیہ کے بیت اللحم میں کیونکہ نبی (یسعیاہ علیہ السلام) کی معرفت یوں لکھا گیا ہے اے بیت اللحم یہوداہ کے علاقہ : تو یہوداہ کے حاکموں میں ہرگز سب سے چھوٹا نہیں کیونکہ تجھ میں سے ایک سردار نکلے گا جو میری امت اسرائیل کی گلہ بانی کرے گا۔“

(متی باب ٢ آیت ١، ٦)

اور دوسری جگہ ہے۔

”اور جب وہ یروشلم کے نزدیک پہنچے اور زیتون کے پہاڑ پر بیت فگے کے پاس آئے تو یسوع نے دو شاگردوں کو یہ کہہ کر بھیجا کہ اپنے سامنے کے گاؤں میں جاؤ وہاں پہنچتے ہی ایک گدھی بندھی ہوئی اور اس کے ساتھ بچہ تمھیں ملے گا، انھیں کھول کر میرے پاس لے آؤ اور اگر کوئی تم سے کچھ کہے تو کہنا کہ یہ خداوند کو درکار ہیں وہ فی الفور انھیں بھیج دے گا یہ اس لیے ہوا کہ جو نبی کی معرفت کہا گیا تھا وہ پورا ہو کہ ”صیہون کی بیٹی سے کہو کہ دیکھ تیرا بادشاہ تیرے پاس آتا ہے اور گدھے پر سوار ہے بلکہ لادو بچہ پر“

(متی باب ٢١ آیت ١۔٥)

اور یوحنا کی انجیل میں ہے۔

”اور یوحنا (یحییٰ علیہ السلام) کی گواہی یہ ہے کہ جب یہودیوں نے یروشلم سے کاہن اور لاوی یہ پوچھنے کے لیے اس (یحییٰ علیہ السلام) کے پاس بھیجے کہ تو کون ہے؟ تو اس نے اقرار کیا اور انکار نہ کیا بلکہ اقرار کیا کہ میں تو مسیح نہیں ہوں انھوں نے اس سے پوچھا پھر کون ہے؟ کیا تو ایلیاہ ہے، اس نے کہا میں نہیں ہوں ،کیا تو وہ نبی

٢٢

صفحہ ٢٤٩

ہے؟ اس نے جواب دیا نہیں۔ پس انھوں نے اس سے کہا پھر تو ہے کون؟ تا کہ ہم اپنے بھیجنے والوں کو جواب دیں کہ تو اپنے حق میں کیا کہتا ہے؟ اس نے کہا: ”میں جیسا کہ یسعیاہ نبی نے کہا ہے۔ بیابان میں پکارنے والے کی آواز ہوں کہ تم خداوند کی راہ سیدھی کرو۔“

(یوحنا باب ١ آیت ١٩ تا ٢٣)

اور مرقس اور لوقا کی انجیلوں میں ہے۔

”جب لوگ منتظر تھے اور سب اپنے اپنے دل میں یوحنا (یحییٰ علیہ السلام) کی بابت سوچتے تھے کہ آیا وہ مسیح ہے یا نہیں تو یوحنا (یحییٰ علیہ السلام) نے ان سب کے جواب میں کہا: میں تو تمھیں پانی سے بپتسمہ دیتا ہوں مگر جو مجھ سے زور آور ہے وہ آنے والا ہے، میں اس کی جوتی کا تسمہ کھولنے کے لائق نہیں وہ تمھیں روح القدس سے بپتسمہ دے گا۔“

(لوقا باب ٣ آیت ١٥۔١٦)

ان ہر دو بشارات سے بھی یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہود اپنی مذہبی روایات کی بنا پر جن اولوالعزم پیغمبروں کی بعثت کے منتظر تھے ان میں مسیح علیہ السلام بھی تھے، اور حضرت یحییٰ علیہ السلام نے ان کو بتایا کہ وہ نہ ایلیا ہیں نہ وہ نبی اور نہ مسیح علیہم السلام بلکہ مسیح علیہ السلام کی بعثت کے مناد اور مبشر ہیں۔ (عہد نامہ جدید (انجیل) میں یوحنا دو جدا جدا شخصیتیں ہیں، ایک یحییٰ علیہ السلام اور دوسری عیسیٰ علیہ السلام کے حواری اور شاگرد)

قرآن عزیز نے بھی حضرت زکریا اور حضرت یحییٰ علیہما السلام کے واقعہ کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بعثت کی تمہید قرار دیا ہے اور یحییٰ علیہ السلام کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مبشر اور مناد بتایا ہے۔ آل عمران میں ہے۔

فَنَادَتْهُ الْمَلٰٓئِكَةُ وَهُوَ قَائِمٌ يُّصَلِّي فِي الْمِحْرَابِ اِنَّ اللّٰهَ يُبَشِّرُكَ بِيَحْيٰی مُصَدِّقًا بِكَلِمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ. (آل عمران ٣٩) ”پس فرشتوں نے اس (زکریا) کو اس وقت پکارا جبکہ وہ حجرہ میں کھڑا ہوا نماز پڑھ رہا تھا، بیشک اللہ تعالیٰ تجھ کو یحییٰ (فرزند) کی بشارت دیتا ہے جو اللہ کے کلمہ (عیسیٰ علیہ السلام) کی تصدیق کرے گا۔“

ولادت مبارک: عابد و زاہد اور عفت مآب مریم علیہا السلام اپنے خلوت کدہ میں مشغول عبادت رہتی اور ضروری حاجات کے علاوہ کبھی اس سے باہر نہیں نکلتی تھیں، ایک مرتبہ مسجد اقصیٰ (ہیکل) کے مشرقی جانب لوگوں کی نگاہوں سے دور کسی ضرورت سے ایک گوشہ میں تنہا بیٹھی تھیں کہ اچانک خدا کا فرشتہ (جبرائیل) انسانی شکل میں ظاہر ہوا، حضرت مریم نے ایک اجنبی شخص کو اس طرح بے حجاب سامنے دیکھا تو گھبرا گئیں اور

٢٣

صفحہ ٢٥٠

فرمانے لگیں: اگر تجھ کو کچھ بھی خدا کا خوف ہے تو میں خدائے رحمان کا واسطہ دے کر تجھ سے پناہ چاہتی ہوں۔“ فرشتہ نے کہا: ”مریم! خوف نہ کھا میں انسان نہیں بلکہ خدا کا فرستادہ فرشتہ ہوں اور تجھ کو بیٹے کی بشارت دینے آیا ہوں۔“ حضرت مریم نے یہ سنا تو ازراہ تعجب فرمانے لگیں: ”میرے لڑکا کیسے ہو سکتا ہے جبکہ مجھ کو آج تک کسی بھی شخص نے ہاتھ نہیں لگایا اس لیے کہ نہ تو میں نے نکاح کیا ہے اور نہ میں زانیہ ہوں۔“ فرشتہ نے جواب دیا: میں تو تیرے پروردگار کا قاصد ہوں اس نے مجھ سے اسی طرح کہا ہے اور یہ بھی فرمایا ہے کہ یہ میں اس لیے کروں گا کہ تجھ کو اور تیرے لڑکے کو کائنات کے لیے اپنی قدرت کاملہ کے اعجاز کا ”نشان“ بنا دوں اور لڑکے میں میری جانب سے ”رحمۃ“ ثابت ہوگا اور میرا یہ فیصلہ اٹل ہے، مریم! اللہ تعالیٰ تجھ کو ایک ایسے لڑکے کی بشارت دیتا ہے جو اس کا کلمہ ہوگا (یعنی توالد و تناسل کے عام قانون سے جدا قانون اعجاز کے مطابق محض حکم الٰہی اور ارادہ باری سے ہی رحم مریم میں وجود پذیر ہو جائے گا) اس کا لقب ”مسیح“ (بمعنی مبارک یا سیاح جس کا کوئی گھر نہ ہو) اور اس کا نام عیسیٰ (یسوع) ہوگا، اور وہ دنیا اور آخرت دونوں میں باوجاہت اور صاحب عظمت رہے گا کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے مقربین میں سے ہوگا، وہ اللہ تعالیٰ کے نشان کے طور پر بحالت شیر خوارگی لوگوں سے باتیں کرے گا اور سن کہولت (بڑھاپے کا ابتدائی دور) بھی پائے گا تا کہ کائنات کی رشد و ہدایت کی خدمت کی تکمیل کرے اور یہ سب کچھ اس لیے ضرور ہو کر رہے گا کہ اللہ تعالیٰ کا قانون قدرت یہ ہے کہ جب وہ کسی شے کو وجود میں لانا چاہتا ہے تو اس کا محض یہ ارادہ اور حکم کہ ”ہو جا“ اس شے کو نیست سے ہست کر دیتا ہے لہٰذا یہ یونہی ہو کر رہے گا اور اللہ تعالیٰ اس کو اپنی کتاب عطا کرے گا، اس کو حکمت سکھائے گا اور اس کو بنی اسرائیل کی رشد و ہدایت کے لیے رسول اور اولوالعزم پیغمبر بنائے گا۔

قرآن عزیز نے ان واقعات کا معجزانہ اسلوب بیان کے ساتھ سورۂ آل عمران اور سورۂ مریم میں اس طرح ذکر کیا ہے۔

إِذْ قَالَتِ الْمَلٰٓئِكَةُ يٰمَرْيَمُ إِنَّ اللَّهَ يُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ مِّنْهُ اسْمُهُ الْمَسِيْحُ عِيْسٰى ابْنُ مَرْيَمَ وَجِيْهًا فِى الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِيْنَ O وَيُكَلِّمُ النَّاسَ فِىْ الْمَهْدِ وَكَهْلاً وَّمِنَ الصّٰلِحِيْنَ O قَالَتْ رَبِّ أَنّٰى يَكُوْنُ لِيْ وَلَدٌ وَّلَمْ يَمْسَسْنِيْ بَشَرٌ ط قَالَ كَذٰلِكِ اللَّهُ يَخْلُقُ مَا يَشَآءُ ط إِذَا قَضٰى أَمْرًا فَإِنَّمَا يَقُوْلُ لَهُ كُنْ فَيَكُوْنُ O وَيُعَلِّمُهُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ وَالتَّوْرٰةَ وَالْإِنْجِيْلَ وَرَسُوْلاً إِلٰى بَنِيْ إِسْرَآئِيْلَ O

(آل عمران ٤٥۔٤٩)

٤٤

صفحہ ٢٥١

وَاذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ مَرْيَمَ اِذِ انْتَبَذَتْ مِنْ اَهْلِهَا مَكَانًا شَرْقِيًّا ۝ فَاْتَّخَذَتْ مِنْ دُوْنِهِمْ حِجَابًا فَاَرْسَلْنَا اِلَيْهَا رُوْحَنَا فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِيًّا ۝ قَالَتْ اِنِّیْٓ اَعُوْذُ بِالرَّحْمٰنِ مِنْكَ اِنْ كُنْتَ تَقِيًّا ۝ قَالَ اِنَّمَا اَنَا رَسُوْلُ رَبِّكِ لِاَهَبَ لَكِ غُلٰمًا زَكِيًّا ۝ قَالَتْ اَنّٰی يَكُوْنُ لِیْ غُلٰمٌ وَّلَمْ يَمْسَسْنِیْ بَشَرٌ وَّلَمْ اَكُ بَغِيًّا ۝ قَالَ كَذٰلِكِ قَالَ رَبُّكِ هُوَ عَلَیَّ هَيِّنٌ وَلِنَجْعَلَهٗ اٰيَةً لِّلنَّاسِ وَرَحْمَةً مِّنَّا وَكَانَ اَمْرًا مَّقْضِيًّا ۝ (مریم ١٦ تا ٢١)

(وہ وقت قابل ذکر ہے) جب فرشتوں نے کہا: ”اے مریم! اللہ تعالیٰ تجھ کو اپنے کلمہ کی بشارت دیتا ہے، اس کا نام مسیح، عیسیٰ بن مریم ہوگا، وہ دنیا و آخرت میں صاحب وجاہت اور ہمارے مقربین میں سے ہوگا اور وہ (ماں کی) گود میں اور کہولت کے زمانہ میں لوگوں سے کلام کرے گا اور وہ نیکوکاروں میں سے ہوگا۔ مریم نے کہا: میرے لڑکا کیسے ہو سکتا ہے جبکہ مجھ کو کسی مرد نے ہاتھ تک نہیں لگایا“ فرشتہ نے کہا: ”اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے اسی طرح پیدا کر دیتا ہے، وہ جب کسی شے کے لیے حکم کرتا ہے تو کہہ دیتا ہے، ”ہو جا“ اور وہ ہو جاتی ہے، اور اللہ اس کو کتاب، حکمت اور توراۃ و انجیل کا علم عطا کرے گا اور وہ بنی اسرائیل کی جانب اللہ کا رسول ہوگا۔“

”اور اے پیغمبر! کتاب میں مریم کا واقعہ ذکر کرو اس وقت کا ذکر جب وہ ایک جگہ کہ پورب کی طرف تھی اپنے گھر کے آدمیوں سے الگ ہوئی، پھر اس نے ان لوگوں کی طرف سے پردہ کر لیا، پس ہم نے اس کی طرف اپنا فرشتہ بھیجا اور وہ ایک بھلے چنگے آدمی کے روپ میں نمایاں ہو گیا، مریم اسے دیکھ کر (گھبرا گئی اور) بولی: ”اگر تو نیک آدمی ہے تو میں خدائے رحمان کے نام پر تجھ سے پناہ مانگتی ہوں“ فرشتہ نے کہا ”میں تیرے پروردگار کا فرستادہ ہوں اور اس لیے نمودار ہوا ہوں کہ تجھے ایک پاک فرزند دے دوں“ مریم بولی: ”یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ میرے لڑکا ہو حالانکہ کسی مرد نے مجھے چھوا نہیں اور نہ میں بدچلن ہوں؟“ فرشتہ نے کہا: ہوگا ایسا ہی، تیرے پروردگار نے فرمایا کہ یہ میرے لیے کچھ مشکل نہیں، وہ کہتا ہے، یہ اس لیے ہوگا کہ اس (مسیح) کو لوگوں کے لیے ایک نشان بنا دوں اور میری رحمت کا اس میں ظہور ہو اور یہ ایسی بات ہے جس کا ہونا طے ہو چکا ہے۔“

جبرائیل امین نے مریم علیہا السلام کو یہ بشارات سنا کر ان کے گریبان میں پھونک دیا اور اس طرح اللہ تعالیٰ کا کلمہ ان تک پہنچ گیا۔ مریم علیہا السلام نے کچھ عرصہ کے بعد خود کو حاملہ محسوس کیا تو بہ تقاضائے بشری ان پر ایک اضطرابی کیفیت طاری ہو گئی

٢٥

صفحہ ٢٥٢

اور اس کیفیت نے اس وقت شدید صورت اختیار کر لی، جب انھوں نے دیکھا کہ مدتِ حمل ختم ہو کر ولادت کا وقت قریب سے قریب تر ہوتا جا رہا ہے، انھوں نے سوچا کہ اگر یہ واقعہ قوم کے اندر رہ کر پیش آیا تو چونکہ وہ حقیقت حال سے واقف نہیں ہے اس لیے نہیں معلوم وہ کس کس طرح بدنام اور بہتان طرازیوں کے ذریعہ کس درجہ پریشان کرے اس لیے مناسب یہ ہے کہ لوگوں سے دور کسی جگہ چلے جانا چاہیے، یہ سوچ کر وہ یروشلم (بیت المقدس) سے تقریباً نومیل کوہِ سراۃ (ساعیر) کے ایک ٹیلہ پر چلی گئیں جو اب ”بیت اللحم“ کے نام سے مشہور ہے۔ یہاں پہنچ کر چند روز بعد دردِ زہ شروع ہوا تو تکلیف و اضطراب کی حالت میں کھجور کے ایک درخت کے نیچے تنہ کے سہارے بیٹھ گئیں اور پیش آنے والے نازک حالات کا اندازہ کر کے انتہائی قلق اور پریشانی کی حالت میں کہنے لگیں ”کاش کہ میں اس سے پہلے مرچکی ہوتی اور میری ہستی کو لوگ یک قلم فراموش کر چکے ہوتے“ تب نخلستان کے نشیب سے خدا کے فرشتہ نے پھر پکارا ”مریم! غمگین نہ ہو تیرے پروردگار نے تیرے تلے نہر جاری کر دی ہے اور کھجور کا تنہ پکڑ کر اپنی جانب ہلا تو پکے اور تازہ خوشے تجھ پر گرنے لگیں گے پس تو کھا پی اور اپنے بچے کے نظارہ سے آنکھیں ٹھنڈی کر اور رنج و غم کو بھول جا۔“

حضرت مریم علیہا السلام پر تنہائی، تکلیف اور نزاکت حال سے جو خوف طاری اور اضطراب پیدا ہو گیا تھا فرشتہ کی تسلی آمیز پکار اور عیسیٰ علیہ السلام جیسے برگزیدہ بچہ کے نظارہ سے کافور ہو گیا اور وہ عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھ دیکھ کر شاد کام ہونے لگیں۔ تاہم یہ خیال پہلو میں ہر وقت کانٹے کی طرح کھٹکتا رہتا تھا کہ اگرچہ خاندان اور قوم میری عصمت و پاکدامنی سے ناآشنا نہیں ہے پھر بھی ان کی اس حیرت کو کس طرح مٹایا جاسکے گا کہ بن باپ کے کس طرح ماں کے پیٹ سے بچہ پیدا ہو سکتا ہے؟

مگر جس خدائے برتر نے ان کو یہ بزرگی اور برتری بخشی وہ کب ان کو اس کرب و بے چینی میں مبتلا رہنے دیتا، اس لیے اس نے فرشتہ کے ذریعہ مریم علیہا السلام کے پاس پھر یہ پیغام بھیجا کہ جب تو اپنی قوم میں پہنچے اور وہ تجھ سے اس معاملہ کے متعلق سوالات کرے تو خود جواب نہ دینا بلکہ اشارہ سے ان کو بتانا کہ میں روزہ دار ہوں اور اس لیے آج کسی سے بات نہیں کرسکتی تم کو جو کچھ دریافت کرنا ہے اس بچہ سے دریافت کر لو تب تیرا پروردگار اپنی قدرتِ کاملہ کا نشان ظاہر کر کے ان کی حیرت کو دور اور ان کے قلوب کو مطمئن کر دے گا۔ مریم علیہا السلام وحی الٰہی کے ان پیغامات پر مطمئن ہو

٢٦

صفحہ ٢٥٣

کر بچے کو گود میں لیے بیت المقدس کو روانہ ہوئیں، جب شہر میں پہنچیں اور لوگوں نے اس حالت میں دیکھا تو چہار جانب سے ان کو گھیر لیا اور کہنے لگے: ”مریم! یہ کیا؟ تو نے تو بہت ہی عجیب بات کر دکھائی اور بھاری تہمت کا کام کر لیا، اے ہارون کی بہن! نہ تو تیرا باپ برا آدمی تھا اور نہ تیری ماں ہی بدچلن تھی پھر تو یہ کیا کر بیٹھی۔“

مریم علیہا السلام نے خدا کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے لڑکے کی جانب اشارہ کر دیا کہ جو کچھ دریافت کرنا ہے اس سے معلوم کر لو میں تو آج روزہ سے ہوں۔ (بنی اسرائیل کے یہاں روزہ میں خاموشی بھی داخل عبادت تھی) لوگوں نے یہ دیکھ کر انتہائی تعجب کے ساتھ کہا: ”ہم کس طرح ایسے شیر خوار بچہ سے باتیں کر سکتے ہیں جو ابھی ماں کی گود میں بیٹھنے والا بچہ ہے“ مگر بچہ فوراً بول اٹھا: ”میں اللہ کا بندہ ہوں، اللہ نے (اپنے فیصلۂ تقدیر میں) مجھ کو کتاب (انجیل) دی ہے اور نبی بنایا ہے اور اس نے مجھ کو مبارک بنایا خواہ میں کسی حال اور کسی جگہ بھی ہوں اور اس نے مجھ کو نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیا ہے کہ جب تک میں زندہ رہوں یہی میرا شعار ہو اور اس نے مجھ کو اپنی ماں کا خدمت گزار بنایا اور خود سر اور نافرمان نہیں بنایا اور اس کی جانب سے مجھ کو سلامتی کا پیغام ہے جس دن کہ میں پیدا ہوا اور جس دن کہ میں مروں گا اور جس دن کہ پھر زندہ اٹھایا جاؤں گا۔ اللہ تعالیٰ نے ان تفصیلات کو سورۂ انبیاء، تحریم اور سورۂ مریم میں ذکر فرمایا ہے۔

وَالَّتِي أَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيهَا مِنْ رُّوْحِنَا وَجَعَلْنَهَا وَابْنَهَا اٰیَةً لِّلْعٰلَمِيْنَ. (انبیاء ٩١) ”اور اس عورت (مریم) کا معاملہ جس نے اپنی پاکدامنی کو قائم رکھا، پھر ہم نے اس میں اپنی ”روح“ کو پھونک دیا اور اس کو اور اس کے لڑکے کو جہان والوں کے لیے ”نشان“ ٹھہرایا ہے۔“

وَمَرْيَمَ ابْنَةَ عِمْرَانَ الَّتِي احصنت فرجها فَنَفَخْنَا فِيهِ مِنْ رُّوْحِنَا. (تحریم ١٢) ”اور عمران کی بیٹی مریم کہ جس نے اپنی عصمت کو برقرار رکھا پس ہم نے اس میں اپنی روح کو پھونک دیا۔“

فَحَمَلَتْهُ فَانْتَبَذَتْ بِهٖ مَكَانًا قَصِيًّاہ فَاَجَآءَهَا الْمَخَاضُ اِلَى جِذْعِ النَّخْلَةِ قَالَتْ يٰلَيْتَنِي مِتُّ قَبْلَ هٰذَا وَكُنْتُ نَسْيًا مَّنْسِيًّاہ فَنَادٰهَا مِنْ تَحْتِهَا اَلَّا تَحْزَنِیْ قَدْ جَعَلَ رَبُّكِ تَحْتَكِ سَرِيًّاہ وَهُزِّیْ اِلَيْكِ بِجِذْعِ النَّخْلَةِ تُسٰقِطْ عَلَيْكِ رُطَبًا جَنِيًّاہ فَكُلِيْ وَاشْرَبِيْ وَقَرِّیْ عَيْنًا فَاِمَّا تَرَيِنَّ مِنَ الْبَشَرِ اَحَدًا فَقُوْلِیْ اِنِّیْ نَذَرْتُ لِلرَّحْمٰنِ صَوْمًا فَلَنْ اُكَلِّمَ الْيَوْمَ اِنْسِيًّاہ فَاَتَتْ بِهٖ قَوْمَهَا تَحْمِلُهُ ط قَالُوْا يٰمَرْيَمُ لَقَدْ جِئْتِ

٢٧

صفحہ ٢٥٤

شَيْئًا فَرِيًّا ۝ يَا اُخْتَ هٰرُوْنَ مَا كَانَ اَبُوْكِ امْرَاَ سَوْءٍ وَّمَا كَانَتْ اُمُّكِ بَغِيًّا ۝ فَاَشَارَتْ اِلَيْهِ ط قَالُوْا كَيْفَ نُكَلِّمُ مَنْ كَانَ فِى الْمَهْدِ صَبِيًّا ۝ قَالَ اِنِّیْ عَبْدُ اللّٰهِ ط اٰتٰنِيَ الْكِتٰبَ وَجَعَلَنِیْ نَبِيًّا ۝ وَجَعَلَنِیْ مُبٰرَكًا اَيْنَ مَا كُنْتُ قف وَ اَوْصٰنِیْ بِالصَّلٰوةِ وَالزَّكٰوةِ مَادُمْتُ حَيًّا ۝ وَّبَرًّا بِوَالِدَتِیْ وَلَمْ يَجْعَلْنِیْ جَبَّارًا شَقِيًّا ۝ وَالسَّلٰمُ عَلَیَّ يَوْمَ وُلِدْتُّ وَيَوْمَ اَمُوْتُ وَيَوْمَ اُبْعَثُ حَيًّا ۝ (مریم ٢٧ تا ٣٣) ”پھر اس ہونے والے فرزند کا حمل ٹھہر گیا وہ (اپنی حالت چھپانے کے لیے) لوگوں سے الگ ہو کر دور چلی گئی پھر اسے دردِ زہ (کا اضطراب) کھجور کے ایک درخت کے نیچے لے گیا (وہ اس کے تنہ کے سہارے بیٹھ گئی) اس نے کہا: کاش میں اس سے پہلے مر چکی ہوتی، میری ہستی لوگ یک قلم بھول گئے ہوتے! اس وقت (ایک پکارنے والے فرشتے نے) اسے نیچے سے پکارا غمگین نہ ہو، تیرے پروردگار نے تیرے تلے نہر جاری کر دی ہے، اور کھجور کے درخت کا تنہ پکڑ کے اپنی طرف ہلا، تازہ اور پکے ہوئے پھلوں کے خوشے تجھ پر گرنے لگیں گے، کھا پی (اور اپنے بچہ کے نظارے سے) آنکھیں ٹھنڈی کر، پھر اگر کوئی آدمی نظر آئے (اور پوچھ گچھ کرنے لگے) تو (اشارہ سے) کہہ دے، میں نے خدائے رحمان کے حضور روزہ کی منت مان رکھی ہے، میں آج کسی آدمی سے بات چیت نہیں کر سکتی، پھر ایسا ہوا کہ وہ لڑکے کو ساتھ لے کر اپنی قوم کے پاس آئی، لڑکا اس کی گود میں تھا، لوگ (دیکھتے ہی) بول اٹھے ”مریم! تو نے عجیب ہی بات کر دکھائی اور بڑی تہمت کا کام کر گزری۔ اے ہارون کی بہن! نہ تو تیرا باپ برا آدمی تھا نہ تیری ماں بدچلن تھی (تو یہ کیا کر بیٹھی) اس پر مریم نے لڑکے کی طرف اشارہ کیا (کہ یہ تمھیں بتلا دے گا کہ حقیقت کیا ہے) لوگوں نے کہا: بھلا اس سے ہم کیا بات کریں جو ابھی گود میں بیٹھنے والا شیر خوار بچہ ہے، مگر لڑکا بول اٹھا، میں اللہ کا بندہ ہوں، اس نے مجھے کتاب دی اور نبی بنایا، اس نے مجھے بابرکت کیا خواہ میں کسی جگہ ہوں، اس نے مجھے نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیا کہ جب تک زندہ رہوں یہی میرا شعار ہو، اس نے مجھے اپنی ماں کا خدمت گزار بنایا، ایسا نہیں کیا کہ خود سر اور نافرمان ہوتا، مجھ پر اس کی طرف سے سلامتی کا پیغام ہے جس دن پیدا ہوا، جس دن مروں گا اور جس دن پھر زندہ اٹھایا جاؤں گا۔“

قوم نے ایک شیر خوار بچہ کی زبان سے جب یہ حکیمانہ کلام سنا تو حیرت میں رہ گئی اور اس کو یقین ہو گیا کہ مریم علیہا السلام کا دامن بلاشبہ ہر قسم کی برائی اور تلوث سے پاک ہے اور اس بچہ کی پیدائش کا معاملہ یقیناً منجانب اللہ ایک ”نشان“ ہے۔

٢٨

صفحہ ٢٥٥

یہ خبر ایسی نہیں تھی کہ پوشیدہ رہ جائے، قریب اور بعید سب جگہ اس حیرت زدہ واقعہ اور عیسیٰ علیہ السلام کی معجزانہ ولادت کے چرچے ہونے لگے اور طبائع انسانی نے اس مقدس ہستی کے متعلق شروع سے ہی مختلف کروٹیں بدلنی شروع کر دیں، اصحابِ خیر نے اس کے وجود کو اگر یمن و سعادت کا ماہتاب سمجھا۔ تو اصحابِ شر نے اس کی ہستی کو اپنے لیے فالِ بد جانا اور بغض و حسد کے شعلوں نے اندر ہی اندر ان کی فطری استعداد کو کھانا شروع کر دیا۔

غرض اسی متضاد فضاء کے اندر اللہ تعالیٰ اپنی نگرانی میں اس مقدس بچہ کی تربیت اور حفاظت کرتا رہا تاکہ اس کے ہاتھوں بنی اسرائیل کے مردہ قلوب کو حیاتِ تازہ بخشے اور ان کی روحانیت کے شجر خشک کو ایک مرتبہ پھر بار آور اور مثمر بنائے۔

وَجَعَلْنَا ابْنَ مَرْيَمَ وَاُمَّهُ اٰیَةً وَّ اٰوَیْنَا هُمَا اِلٰی رَبْوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَّ مَعِیْنٍ ۝

(المؤمنون ٥٠) عن ابن عباس فى قوله واوينا هما الى ربوة ذات قرار و معين قال المعين، الماء الجارى، وهو النهر الذى قال الله تعالى ”قد جعل ربک تحتک سریا“ وكذا قال الضحاک و قتادة الى ربوة ذات قرار و معين هو بيت المقدس فهذا والله اعلم هو الاظهر لا نه المذکور فى الاية الاخرى والقرآن يفسر بعضه بعضا وهذا اولى ما یفسر به ثم الاحاديث الصحيحة ثم الاثار (تفسیر ابن کثیر جلد ٣ ص ٢٤٦) اور ہم نے عیسیٰ بن مریم اور اس کی ماں (مریم) کو (اپنی قدرت کا) نشان بنا دیا اور ان دونوں کا ایک بلند مقام (بیت اللحم) پر ٹھکانہ بنایا جو سکونت کے قابل اور چشمہ والا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے آیت ”واوینا ھما الی ربوة ذات قرار و معین“ کی تفسیر میں منقول ہے کہ ”معین“ سے نہر جاری مراد ہے اور یہ اسی نہر کا ذکر ہے جس کو آیت ”وقد جعل ربک تحتک سریا“ میں بیان کیا گیا ہے اور ضحاک اور قتادہ رحمہا اللہ کا بھی یہی قول ہے کہ ”الی ربوہ ذات قرار و معین“ سے بیت المقدس کی سرزمین مراد ہے، اور یہی قول زیادہ ظاہر ہے اس لیے کہ دوسری آیت میں بیت المقدس (کی نہر) کا ہی ذکر ہے اور قرآن کا بعض حصہ خود ہی دوسرے حصہ کی تفسیر کر دیا کرتا ہے اور تفسیر آیات میں پہلی جگہ اسی طریق تفسیر کو حاصل ہے اس کے بعد صحیح احادیث کے ذریعہ تفسیر کا اور اس کے بعد آثار کے ذریعہ تفسیر کا درجہ ہے۔

(تفسیر ابن کثیر)

بشاراتِ ولادت : قرآن عزیز نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بچپن کے حالات میں ٢٩

صفحہ ٢٥٦

سے صرف اسی اہم واقعہ کا ذکر کیا ہے باقی بچپن کے دوسرے حالات کو جن کا ذکر قرآن کے مقصد تذکیر و موعظت سے خاص تعلق نہیں رکھتا تھا نظر انداز کر دیا ہے۔ لیکن اسرائیلیات کے مشہور ناقل حضرت وہب بن منبہ رضی اللہ عنہ سے جو واقعات منقول ہیں اور متی کی انجیل میں بھی جن کا ذکر موجود ہے ان میں سے یہ واقعہ بھی ہے کہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت ہوئی تو اسی شب میں فارس کے بادشاہ نے آسمان پر ایک نیا ستارہ روشن دیکھا، بادشاہ نے درباری نجومیوں سے اس کے متعلق دریافت کیا تو انھوں نے بتایا کہ اس ستارہ کا طلوع کسی عظیم الشان ہستی کی پیدائش کی خبر دیتا ہے جو ملک شام میں پیدا ہوئی ہے، تب بادشاہ نے خوشبوؤں کے عمدہ تحفے دے کر ایک وفد کو ملک شام روانہ کیا کہ وہ اس بچہ کی ولادت سے متعلق حالات و واقعات معلوم کریں، وفد جب شام پہنچا تو اس نے تفتیش حال شروع کی اور یہودیوں سے کہا کہ ہم کو اس بچہ کی ولادت کا حال سناؤ جو مستقبل قریب میں روحانیت کا بادشاہ ثابت ہوگا، یہود نے اہل فارس کی زبان سے یہ کلمات سنے تو اپنے بادشاہ ہیرودیس کو خبر کی، بادشاہ نے وفد کو دربار میں بلا کر استصواب حال کیا اور ان کی زبانی واقعہ کو سن کر بہت گھبرایا اور پھر وفد کو اجازت دی کہ وہ اس بچہ کے متعلق مزید معلومات حاصل کریں، پارسیوں کا یہ وفد بیت المقدس پہنچا اور جب حضرت یسوع علیہ السلام کو دیکھا تو اپنے رسم و رواج کے مطابق اوّل ان کو سجدہ تعظیم کیا اور پھر مختلف قسم کی خوشبوئیں ان پر نثار کیں اور چند روز وہیں قیام کیا، دوران قیام میں وفد کے بعض آدمیوں نے خواب میں دیکھا کہ ہیرودیس اس بچہ کا دشمن ثابت ہوگا اس لیے تم اب اس کے پاس نہ جاؤ اور بیت اللحم سے سیدھے فارس کو چلے جاؤ صبح کو وفد نے فارس کا ارادہ کرتے وقت حضرت مریم علیہا السلام کو اپنا خواب سناتے ہوئے کہا کہ معلوم ایسا ہوتا ہے کہ یہودیہ کے بادشاہ ہیرودیس کی نیت خراب ہے اور وہ اس مقدس بچہ کا دشمن ہے۔ اس لیے بہتر یہ ہے کہ تم اس کو ایسی جگہ لے جا کر رکھو جو اس کی دسترس سے باہر ہو، اس مشورہ کے بعد حضرت مریم علیہا السلام یسوع مسیح علیہ السلام کو اپنے بعض عزیزوں کے پاس مصر لے گئیں اور وہاں سے ناصرہ چلی گئیں اور جب عیسیٰ علیہ السلام کی عمر مبارک تیرہ سال کی ہوئی تو ان کو ساتھ لے کر دوبارہ بیت المقدس واپس آئیں۔ یہی روایات یہ بھی ظاہر کرتی ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بچپن کے حالات زندگی بھی غیر معمولی تھے اور ان سے طرح طرح کے کرامات کا صدور ہوتا رہتا تھا۔ (واللہ اعلم بحقیقۃ الحال) (تاریخ ابن کثیر جلد ٢ ص ٧٧ و انجیل متی باب ٢)

٣٠

صفحہ ٢٥٧

حلیہ مبارک : بخاری کی حدیث معراج میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: میری ملاقات حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے ہوئی تو میں نے ان کو میانہ قد ، سرخ سپید پایا، بدن ایسا صاف شفاف تھا معلوم ہوتا تھا کہ ابھی حمام سے نہا کر آئے ہیں، اور بعض روایات میں ہے کہ آپ کے کاکل کاندھوں تک لٹکے ہوئے تھے، اور بعض احادیث میں ہے کہ رنگ کھلتا ہوا گندم گوں تھا بخاری کی روایت اور اس روایت میں اداء وتعبیر کا فرق ہے، حسن میں اگر صباحت کے ساتھ ملاحت کی آمیزش بھی ہوتی ہے تو اس رنگ میں ایک خاص کیفیت پیدا ہو جاتی ہے، کسی وقت اگر سرخی جھلک آئی تو صباحت نمایاں ہو جاتی ہے اور اگر کسی وقت ملاحت غالب آ گئی تو چہرہ پر حسن و لطافت کے ساتھ کھلتا ہوا گندم گوں رنگ چمکنے لگتا ہے۔

بعثت و رسالت : حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے قبل بنی اسرائیل ہر قسم کی برائیوں میں مبتلا تھے اور انفرادی و اجتماعی عیوب و نقائص کا کوئی پہلو ایسا نہیں تھا جو ان سے بچ رہا ہو، وہ اعتقاد اور اعمال دونوں ہی قسم کی گمراہیوں کا مرکز و محور بن گئے تھے حتی کہ اپنی ہی قوم کے ہادیوں اور پیغمبروں کے قتل تک پر جری اور دلیر ہو گئے تھے، یہودیہ کے بادشاہ ہیرودیس نے حضرت یحییٰ علیہ السلام کو اپنی محبوبہ کے اشارہ پر کیسے عبرتناک طریقہ پر قتل کرا دیا تھا اور اس نے یہ سفاکانہ اقدام صرف اس لیے کیا کہ وہ حضرت یحییٰ علیہ السلام کی بڑھتی ہوئی روحانی مقبولیت کو برداشت نہ کر سکا اور اپنی محبوبہ سے ناجائز رشتہ پر ان کے نہی عن المنکر (برائی سے بچانے کی ترغیب) کی تاب نہ لا سکا اور یہ عبرتناک سانحہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی مبارک ہی میں ان کی بعثت سے قبل پیش آچکا تھا۔

دائرۃ المعارف (انسائیکلوپیڈیا للبستانی) میں یہود سے متعلق جو مقالہ ہے اس کے تاریخی مواد سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کی بعثت سے پہلے یہود کے عقائد و اعمال کا یہ حال تھا کہ وہ مشرکانہ رسوم و عقائد کو جزء مذہب بنا چکے تھے اور جھوٹ، فریب، بغض و حسد جیسی بداخلاقیوں کو تو عملاً اخلاق کریمانہ کی حیثیت دے رکھی تھی اور اسی بناء پر بجائے شرمسار ہونے کے وہ ان پر فخر کا اظہار کرتے تھے اور ان کے علماء و احبار نے تو دنیا کے لالچ و حرص میں کتاب اللہ (توراۃ) تک کو تحریف کیے بغیر نہ چھوڑا اور درہم و دینار پر خدا کی آیات کو فروخت کر ڈالا یعنی عوام سے نذر اور بھینٹ حاصل کرنے کی خاطر حلال کو حرام اور حرام کو حلال بنانے سے بھی دریغ نہیں کیا اور اس طرح قانون الٰہی کو مسخ کر ڈالا۔

٣١

صفحہ ٢٥٨

یہود کی اعتقادی اور عملی زندگی کا مختصر اور مکمل نقشہ ہم کو شعیا علیہ السلام کی زبانی خود توراۃ نے اس طرح دکھایا ہے۔

”خداوند فرماتا ہے: یہ امت (بنی اسرائیل) زباں سے تو میری عزت کرتی ہے مگر ان کا دل مجھ سے دور ہے اور یہ بے فائدہ میری پرستش کرتے ہیں کیونکہ یہ میرے حکموں کو پیچھے ڈال کر آدمیوں کے حکموں کی تعلیم دیتے ہیں۔“

بہر حال ان ہی تاریک حالات میں جب حضرت یحییٰ علیہ السلام کے قتل کا واقعہ بھی ہو گزرا اور بنی اسرائیل نے خدا کے حکموں کے خلاف بغاوت و سرکشی کی حد کر دی تب وہ وقت سعید آ پہنچا کہ جس مبارک بچہ نے حضرت مریم کی آغوش میں پیغام حق سنا کر بنی اسرائیل کو حیرت میں ڈال دیا تھا۔ سن رشد کو پہنچ کر اس نے یہ اعلان کر کے ”کہ وہ خدا کا رسول اور پیغمبر ہے اور رشد و ہدایت خلق اس کا فرض منصبی“ قوم میں ہلچل پیدا کر دی، وہ شرف رسالت سے مشرف ہو کر اور حق کی آواز بن کر آیا اور اپنی صداقت و حقانیت کے نور سے تمام اسرائیلی دنیا پر چھا گیا اس مقدس ہستی نے قوم کو للکارا اور احبار کی علمی مجلسوں، راہبوں کے خلوتکدوں، بادشاہ اور امراء کے درباروں اور عوام و خواص کی محفلوں میں حتیٰ کہ کوچہ و برزن اور بازاروں میں شب و روز یہ پیغام حق سنایا۔

لوگو! اللہ تعالیٰ نے مجھ کو اپنا رسول اور پیغمبر بنا کر تمھارے پاس بھیجا ہے اور تمہاری اصلاح کی خدمت میرے سپرد فرمائی ہے میں اس کی جانب سے پیغام ہدایت لے کر آیا ہوں اور تمھارے ہاتھ میں خدا کا جو قانون (توراۃ) ہے اور جس کو تم نے اپنی جہالت اور کجروی سے پسِ پشت ڈال دیا ہے میں اس کی تصدیق کرتا اور اس کی مزید تکمیل کے لیے خدا کی کتاب (انجیل) لے کر آیا ہوں، یہ کتاب حق و باطل کا فیصلہ کرے گی اور آج جھوٹ و سچ کے درمیان فیصلہ ہو کر رہے گا۔ سنو اور سمجھو اور اطاعت کے لیے خدا کے حضور جھک جاؤ کہ یہی دین و دنیا کی فلاح کی راہ ہے۔

اب ان حقائق اور ان کے عواقب و نتائج کو قرآن کی زبانی سنیے اور ”احقاق حق و ابطال باطل“ کے لطف سے بہرہ مند ہو کر عبرت و موعظت حاصل کیجیے، کیونکہ ”تذکیر بایام اللہ“ سے قرآن کا مقصد عظیم یہی بصیرت و عبرت ہے۔

وَلَقَدْ آتَیْنَا مُوْسَی الْکِتٰبَ وَ قَفَّیْنَا مِنْ بَعْدِہٖ بِالرُّسُلِ وَآتَیْنَا عِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ الْبَیِّنٰتِ وَاَیَّدْنٰہُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ ط اَفَکُلَّمَا جَآءَ کُمْ رَسُوْلٌ بِمَا لَا تَهْوٰی اَنْفُسُکُمُ اسْتَکْبَرْتُمْ فَفَرِیْقًا کَذَّبْتُمْ وَفَرِیْقًا تَقْتُلُوْنَ ۝ وَقَالُوْا قُلُوْبُنَا غُلْفٌ ط بَلْ

٣٢

صفحہ ٢٥٩

لَعَنَهُمُ اللّٰهُ بِكُفْرِهِمْ فَقَلِيْلًا مَّا يُؤْمِنُوْنَ o

(البقره ٨٧، ٨٨)

وَ اِذْ كَفَفْتُ بَنِیْ اِسْرَآئِيْلَ عَنْكَ اِذْ جِئْتَهُمْ بِالْبَيِّنٰتِ فَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ اِنْ هٰذَا اِلَّا سِحْرٌ مُّبِيْنٌ (المائده ١١٠) ”اور بیشک ہم نے موسیٰ کو کتاب (تورات) عطا کی اور اس کے بعد ہم (پے در پے) پیغمبر بھیجتے رہے اور ہم نے عیسیٰ بن مریم کو واضح معجزے دے کر بھیجا اور ہم نے اس کو روحِ پاک (جبرائیل) کے ذریعہ قوت و تائید عطا کی، کیا جب کبھی تمھارے پاس کوئی پیغمبر ایسے احکام لے کر آیا جن پر عمل کرنے کو تمہارا دل نہیں چاہتا تھا تو تم نے غرور کیا پس (پیغمبروں کی) ایک جماعت کو جھٹلایا اور ایک جماعت کو قتل کرتے رہے، اور کہتے ہیں کہ ہمارے دل (قبولِ حق کے لیے) غلاف میں ہیں (یہ نہیں) بلکہ ان کے کفر کے سبب خدا نے ان پر لعنت کی ہے پس بہت تھوڑے ہیں جو ایمان لاتے ہیں۔“

”اور (اے عیسیٰ!) یاد کر جب ہم نے بنی اسرائیل کو تجھ سے باز رکھا، اس وقت جبکہ تو ان کے پاس کھلے معجزات لے کر آیا تو جو ان میں سے منکر تھے انھوں نے کہا کہ یہ کچھ نہیں ہے مگر کھلا جادو ہے۔“

وَ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَیَّ مِنَ التَّوْرٰاةِ وَ لِاُحِلَّ لَكُمْ بَعْضَ الَّذِیْ حُرِّمَ عَلَيْكُمْ وَ جِئْتُكُمْ بِاٰيَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِيْعُوْنِ o اِنَّ اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِيْمٌ o فَلَمَّا اَحَسَّ عِيْسٰى مِنْهُمُ الْكُفْرَ قَالَ مَنْ اَنْصَارِیْ اِلَى اللّٰهِ قَالَ الْحَوَارِيُّوْنَ نَحْنُ اَنْصَارُ اللّٰهِ o

(آل عمران ٥٠۔٥٢)

ثُمَّ قَفَّيْنَا عَلٰى اٰثَارِهِمْ بِرُسُلِنَا وَ قَفَّيْنَا بِعِيْسَى ابْنِ مَرْيَمَ وَ اٰتَيْنٰهُ الْاِنْجِيْلَ o

(حدید ٢٧)

اِذْ قَالَ اللّٰهُ يٰعِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ اذْكُرْ نِعْمَتِیْ عَلَيْكَ وَعَلٰى وَالِدَتِكَ اِذْ اَيَّدْتُّكَ بِرُوْحِ الْقُدُسِ تُكَلِّمُ النَّاسَ فِی الْمَهْدِ وَكَهْلًا وَاِذْ عَلَّمْتُكَ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ وَالتَّوْرٰاةَ وَالْاِنْجِيْلَ o

(مائده ١١٠)

وَ اِذْ قَالَ عِيْسَى بْنُ مَرْيَمَ يٰبَنِیْ اِسْرَآئِيْلَ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ مُّصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَیَّ مِنَ التَّوْرٰاةِ وَ مُبَشِّرًا بِرَسُوْلٍ يَّأْتِیْ مِنْۢ بَعْدِی اسْمُهٗ اَحْمَدُ o

(الصف ٦)

”اور میں تصدیق کرنے والا ہوں اس توراۃ کی جو میرے سامنے ہے اور (میں اس لیے آیا ہوں) تاکہ تمھارے لیے بعض وہ چیزیں حلال کر دوں جو تم پر حرام کر دی گئی تھیں اور میں تمھارے پاس تمھارے پروردگار کی نشانی لے کر آیا ہوں، پس خدا سے

٣٣

صفحہ ٢٦٠

ہوں پس اللہ کا خوف کرو، اور میری پیروی کرو، بلاشبہ اللہ تعالیٰ میرا اور تمہارا پروردگار ہے۔ پس اس کی عبادت کرو یہی سیدھی راہ ہے۔ پس جبکہ عیسیٰ علیہ السلام نے ان سے کفر محسوس کیا تو فرمایا اللہ کے لیے کون میرا مددگار ہے تو شاگردوں نے جواب دیا ہم ہیں اللہ کے (دین کے) مددگار۔‘‘

’’پھر ان کے بعد (نوح و ابراہیم علیہم السلام کے بعد) ہم نے اپنے رسول بھیجے اور ان کے بعد عیسیٰ بن مریم کو رسول بنا کر بھیجا اور اس کو کتاب (انجیل) عطا کی۔‘‘

’’(وہ وقت یاد کے لائق ہے) جب اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کہے گا: اے عیسیٰ بن مریم! میری اس نعمت کو یاد کر جو میری جانب سے تجھ پر اور تیری والدہ پر نازل ہوئی جبکہ میں نے روح القدس (جبرائیل) کے ذریعہ تیری تائید کی کہ تو کلام کرتا تھا آغوش مادر میں اور بڑھاپے میں اور جبکہ میں نے تجھ کو سکھائی کتاب، حکمت، توراۃ اور انجیل۔‘‘

’’اور (وہ وقت یاد کرو) جب عیسیٰ بن مریم نے کہا: ’’اے بنی اسرائیل! بلاشبہ میں تمہاری جانب اللہ کا بھیجا ہوا (پیغمبر ہوں) تصدیق کرنے والا ہوں توراۃ کی جو میرے سامنے ہے اور بشارت سنانے والا ہوں ایک پیغمبر کی جو میرے بعد آئے گا اس کا نام احمد ہے۔‘‘

آیاتِ بیّنات: حق و صداقت کے تسلیم و انقیاد میں انسانی فطرت ہمیشہ سے دو طریقوں سے مانوس رہی ہے ایک یہ کہ ’’مدعیِ حق‘‘ کی حقانیت و صداقت، دلائل کی قوت اور براہین کی روشنی کے ذریعہ ثابت اور واضح ہو جائے اور دوسرا طریقہ یہ کہ دلائل و براہین کے ساتھ ساتھ منجانب اللہ اس کی صداقت کی تائید میں عام قانونِ قدرت سے جدا بغیر اسباب و وسائل اور تحصیل علم و فن کے اس کے ہاتھ پر امورِ عجیبہ کا مظاہرہ اس طرح ہو کہ عوام و خواص اس کے مقابلہ سے عاجز و درماندہ ہو جائیں اور ان کے لیے اسباب و وسائل کے بغیر ان امور کی ایجاد ناممکن ہو، پہلے طریق کے ساتھ یہ دوسرا طریق انسان کے عقل و فکر اور اس کی نفسیاتی کیفیات میں ایسا انقلاب پیدا کر دیتا ہے کہ ان کا وجدان یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ داعیِ حق (نبی و پیغمبر) کا یہ عمل در اصل خود اس کا اپنا فعل نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ خدا کی قوت کام کر رہی ہے اور بلاشبہ یہ اس کے صادق ہونے کی مزید دلیل ہے۔ چنانچہ قرآنِ عزیز میں آیت ’’وما رمیت اذ رمیت ولکن اللہ رمی‘‘ (انفال ١٧) (اور اے پیغمبر (بدر کے غزوہ میں) جب تو نے (دشمنوں پر) مٹھی بھر خاک پھینکی تھی تو تو نے وہ مشتِ خاک نہیں پھینکی تھی لیکن اللہ تعالیٰ

٣٤

صفحہ ٢٦١

نے پھینکی تھی) میں اسی حقیقت کا اظہار مقصود ہے مگر ان ہر دو طریقوں میں سے ان اصحاب علم و دانش پر جو قوت فہم و ادراک میں بلند مقام رکھتے ہیں پہلا طریقہ زیادہ موثر ثابت ہوتا ہے اور وہ دوسرے طریقہ کو پہلے طریقہ کی تائید و تقویت کی حیثیت سے قبول کرتے اور داعی حق (نبی و پیغمبر) کے دعویٰ نبوت و رسالت کی صداقت کا مزید عملی ثبوت یقین کر کے اس پر ایمان لے آتے ہیں اور ان حضرات ارباب عقل و فکر کے برعکس ارباب قوت و اقتدار اور ان کی ذہنیت سے متاثر عام انسانی قلوب دوسرے طریقہ تصدیق سے زیادہ متاثر ہوتے اور نبی و پیغمبر کے معجزانہ افعال کو کائنات کی طاقت و قوت کے دائرہ سے بالاتر ہستی کا ارادہ و قوت فعل یقین کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں اور ان امور کو ”خدائی نشان“ باور کر کے دعوتِ حق و صداقت کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دیتے ہیں۔

قرآن عزیز نے اکثر و بیشتر مقامات پر پہلے طریق دلیل کو ”حجۃ اللہ“ ”برہان“ اور ”حکمتہ“ سے تعبیر کیا ہے۔ سورۂ انعام میں خدا کی ہستی اس کی وحدانیت، معاد و آخرت اور دین کے بنیادی عقائد کو دلائل، نظائر اور شواہد کے ذریعہ سمجھانے کے بعد رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا ہے۔

قُلْ فَلِلّٰهِ الْحُجَّةُ الْبَالِغَةُ (انعام ١٥٠) (اے محمد! ﷺ) کہہ دیجیے، اللہ کے لیے ہی ہے حجت کامل (یعنی مکمل اور روشن دلیل)

اور اس سورۃ میں دوسری جگہ حضرت ابراہیم کے تذکرہ میں ہے۔

تِلْكَ حُجَّتُنَا اٰتَيْنٰهَا اِبْرٰهِيْمَ عَلٰى قَوْمِهٖ. (انعام ٨٣) ”اور یہ ہماری ”دلیل“ ہے جو ہم نے ابراہیم کو اس کی قوم کے مقابلہ میں عطا کی۔“

اور سورۂ نساء میں ہے۔

رُسُلاً مُّبَشِّرِيْنَ وَمُنْذِرِيْنَ لِئَلَّا يَكُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَى اللّٰهِ حُجَّةٌ بَعْدَ الرُّسُلِ.

(نساء ١٦٥)

يٰاَيُّهَا النَّاسُ قَدْ جَاءَكُمْ بُرْهَانٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ. (نساء ١٧٤) ”(ہم نے بھیجے) پیغمبر خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے تاکہ لوگوں کی جانب سے خدا پر پیغمبر بھیجنے کے بعد کوئی حجت (دلیل) باقی نہ رہے (کہ ہمارے پاس دلائل کے ذریعہ راہِ مستقیم بتانے کوئی نہ آیا تھا اس لیے ہم دینِ حق کی معرفت سے محروم رہے۔)

”اے لوگو! بیشک تمھارے پاس تمھارے پروردگار کی جانب سے برہان (قرآن) آ گیا۔“

٣٥

صفحہ ٢٦٢

اور سورۃ یوسف میں ہے۔ لَوْلَا اَنْ رَّاٰ بُرْهَانَ رَبِّهٖ. (یوسف ٢٤) ”اگر نہ ہوتی یہ بات کہ دیکھ لی تھی اس (یوسف) نے اپنے پروردگار کی دلیل۔“

اور سورۃ نحل میں ہے۔ اُدْعُ اِلٰی سَبِیْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ. (نحل ١٢٥) ”اپنے پروردگار کے راستہ کی جانب دعوت حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ اور تبادلہ خیالات کرو ان (مخالفین) کے ساتھ اچھے طریق گفتگو سے۔“

اور سورۃ نساء میں ہے۔ وَاَنْزَلَ اللّٰهُ عَلَيْكَ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ. (نساء ١١٣) ”اور اللہ تعالیٰ نے اتارا تجھ پر کتاب کو اور حکمت کو۔“

اسی طرح ”حکمت“ کا یہ ذکر سورۃ بقرہ، آل عمران، مائدہ، لقمان، ص، زخرف، احزاب اور قمر میں بہ کثرت موجود ہے اور دوسرے طریق دلیل کو اکثر ”آیۃ اللہ“ اور ”آیات اللہ“ اور بعض مقامات پر ”آیات بیّنات“ اور ”بیّنات“ کہا ہے۔

ناقہ صالح علیہ السلام کے متعلق ارشاد ہے۔ هٰذِهٖ نَاقَةُ اللّٰهِ لَكُمْ اٰيَةً (اعراف ٧٣) ”یہ اونٹنی تمہارے لیے (خدا کی جانب سے) ایک نشان ہے۔“

اور حضرت مسیح اور ان کی والدہ مریم علیہا السلام کے متعلق ارشاد ہے۔ وَجَعَلْنٰهَا وَابْنَهَا اٰيَةً. (انبیاء ٩١) ”اور ہم نے کر دیا مریم اور اس کے لڑکے عیسیٰ علیہما السلام کو جہاں والوں کے لیے ”نشان“ (معجزہ)“

اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے واقعات میں ارشاد باری ہے۔ وَلَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسٰی تِسْعَ اٰيَاتٍ (بنی اسرائیل ١٠١) ”اور ہم نے موسیٰ کو نو نشان (معجزات) عطا کیے۔“

اور حضرت مسیح علیہ السلام کو جو معجزات دیے گئے تھے ان کے متعلق ارشاد ہے۔ وَاٰتَیْنَا عِیْسَی بْنَ مَرْيَمَ الْبَيِّنٰتِ. (بقرہ ٨٧) اِذْ جِئْتَهُمْ بِالْبَيِّنٰتِ فَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ اِنْ هٰذَا اِلَّا سِحْرٌ مُّبِيْنٌ. (مائدہ ١١٠) ”اور دیے ہم نے عیسیٰ بن مریم کو معجزات۔ اس وقت جبکہ تو ان کے پاس کھلے معجزات لے کر آیا تو کہا بنی اسرائیل میں سے منکروں نے یہ تو کھلا ہوا جادو ہے۔“

٣٦٤

صفحہ ٢٦٣

ہم نے اس مقام پر اکثر و بیشتر کا لفظ قصداً اختیار کیا ہے کیونکہ قرآن عزیز کے اسلوب بیان سے واقف و دانا اس سے بے خبر نہیں ہے کہ اس نے ان الفاظ کے استعمال میں وسعت تعبیر سے کام لیا ہے یعنی جبکہ ”معجزہ“ بھی ایک خاص قسم کا ”برہان“ ہے اور قرآن اور آیات قرآن جس طرح سرتاسر ”علم و برہان“ ہیں اسی طرح ”معجزہ“ بھی ہے اس لیے معجزہ پر برہان کا اطلاق اور کتاب اللہ کے جملوں پر آیت اور آیات اللہ کا اطلاق مجاز نہیں بلکہ حقیقت ہے۔ مثلاً حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دو معجزوں عصاء اور ید بیضاء کے متعلق سورۂ قصص میں ہے۔

فَذَانِكَ بُرْهَانَانِ مِنْ رَّبِّكَ. (قصص ٣٢) ”پس تیرے رب کی جانب سے یہ دو دلیلیں ہیں۔“

اور کتاب اللہ اور اس کے جملوں پر آیت اور آیات کے اطلاقات سے تو قرآن کی کوئی طویل سورۃ ہی خالی ہو گی، تمام قرآن میں جگہ جگہ اس کثرت سے اس کا استعمال ہوا ہے کہ اس کی فہرست مستقل موضوع بن سکتا ہے۔

اسی طرح ”آیات بینات“ کا اگرچہ بکثرت اطلاق کتاب اللہ (قرآن، توراۃ، زبور، انجیل) اور ان کی آیات پر ہوا ہے مگر مسطورۂ بالا مقامات کی طرح بعض بعض جگہ اس کو ”معجزات“ کے لیے بھی استعمال کیا گیا ہے۔

لائق توجہ بات اور حقیقت معجزات

نبی اور رسول کی بعثت کا مقصد کائنات کی رشد و ہدایت اور دین و دنیا کی فلاح و خیر کی رہنمائی ہے اور وہ منجانب اللہ وحی کی روشنی میں اس فرض منصبی کو انجام دیتا اور علم و برہان اور حجت حق کے ذریعہ راہ صداقت دکھلاتا ہے، وہ یہ دعویٰ نہیں کرتا کہ فطرت اور ماوراء فطرت امور میں تصرف و تغیر بھی اس کا کار منصبی ہے۔ بلکہ وہ بار بار یہ اعلان کرتا ہے کہ میں خدا کی جانب سے بشیر و نذیر اور داعی الی اللہ بن کر آیا ہوں، میں انسان ہوں اور خدا کا ایلچی، اس سے زائد اور کچھ نہیں ہوں تو پھر اس کے دعویٰ صداقت کے امتحان اور پرکھ کے لیے اس کی تعلیم، اس کی تربیت اور اس کی شخصیت کا زیر بحث آنا یقیناً معقول لیکن اس سے ماوراء فطرت اور خارق عادات عجائبات و غرائب کا مطالبہ خلاف عقل اور بے جوڑ بات معلوم ہوتی ہے اور یوں نظر آتا ہے جیسا کہ کسی طبیب حاذق کے دعویٰ حذاقت طب پر اس سے یہ مطالبہ کرنا کہ وہ طلسمی کھٹکے کی ایک عمدہ الماری یا لکڑی کا ایک عجیب قسم کا کھلونا بنا کر دکھائے، طبیب نے یہ دعویٰ نہیں کیا تھا کہ

٣٧

صفحہ ٢٦٤

وہ ماہر لوہار یا بڑھئی ہے بلکہ اس کا دعویٰ تو امراض جسمانی کے علاج کا ہے، اسی طرح پیغمبر خدا کا یہ دعویٰ نہیں ہوتا کہ وہ خدا کی طرح کائنات پر ہمہ قسم کے تصرف و تغیر کا مالک و قادر ہے بلکہ اس کا دعویٰ تو یہ ہے کہ وہ تمام امراض روحانی کے لیے طبیب کامل اور حاذق و ماہر ہے۔

پس دعویٰ نبوت اور معجزات (خارق عادات امور) کے درمیان کیا تعلق ہے؟ اور کیا اس لیے یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ ”معجزہ“ لوازم نبوت میں سے نہیں ہے؟

بلاشبہ یہ سوال بہت زیادہ قابل توجہ ہے اور اس لیے علم کلام میں اس مسئلہ کو کافی اہمیت دی گئی ہے لیکن ہم نے ”آیات بینات“ عنوان کے ماتحت ابتداء کلام میں دعویٰ نبوت کی صداقت سے متعلق دلائل کی جو تقسیم انسانی طبائع اور ان کے فطری رجحانات کے پیش نظر کی ہے وہ بھی ایک ناقابل انکار حقیقت ہے اور جوہر عقل کے تفاوت درجات نے بلاشبہ انسانوں کی قوت فکریہ کو جدا جدا دو طریقوں کی جانب مائل کر دیا ہے، ان حالات میں جب ایک نبی اور رسول یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ خدا کی جانب سے ایک ایسے منصب پر مامور ہے جو ریاضات و مجاہدات اور نیک عملی کی قوت سے نہیں بلکہ محض خدا کی موہبت اور عطا سے حاصل ہوتا ہے اور یہ ”منصب نبوت و رسالت“ ہے اور اس کا مقصد کائنات کی رشد و ہدایت اور تعلیم حق و صداقت ہے تو بعض انسانی دماغ اور ان کا جوہر عقل اس جانب متوجہ ہو جاتا ہے کہ اگر اس ہستی کا یہ دعویٰ صحت پر مبنی ہے تو اس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ اس کو خدائے برتر کے ساتھ اس درجہ قربت حاصل ہے جو دوسرے انسانوں کے لیے ناممکن ہے۔ پس جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ اس کی صدائے اصلاح اور اس کی تعلیم ہمارے قدیم رسم و رواج یا مذہب و دھرم کے ان عقائد و اعمال کے خلاف ہے جس کو ہم حق سمجھتے آئے ہیں تو ان متضاد اور مخالف تعلیمات کی صداقت و بطالت کے امتحان کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ یہ ہستی کوئی اور ماوراء فطرت یا خارق امر کر دکھائے تو ہمارے لیے یہ سمجھنا بہت آسان ہو جائے گا کہ بغیر اسباب و وسائل کے اس ہستی کے ہاتھ ایسے امر کا صدور یقیناً اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اس کو خدائے برتر کے ساتھ خاص قرب حاصل ہے، تب ہی تو خدائے برحق نے یہ ”نشان“ دکھا کر اس کی صداقت پر مہر لگا دی، نیز وہ صاحب قوت و اقتدار انسان جن کے غور و فکر کی قوت ایسے سانچہ میں ڈھلی گئی ہے کہ ان پر کوئی امر حق اس وقت تک مؤثر ہی نہیں ہوتا جب تک کہ ان کی متکبرانہ طاقت کو غیبی ٹھوکر سے بیدار نہ کیا جائے وہ بھی اس کے منتظر رہتے

٣٨

صفحہ ٢٦٥

ہیں کہ مدعی نبوت و رسالت اپنی صداقت کو دلیل و برہان کے ساتھ ساتھ ایک ایسے ”کرشمہ“ کے ذریعہ ناقابل انکار بنا دے کہ جس کا صدور دوسرے انسانوں سے یا تو ممکن ہی نہ ہو اور یا بغیر اسباب و وسائل کے استعمال کیے وجود پذیر نہ ہو سکتا ہو۔ تاکہ یہ باور کیا جا سکے کہ بلاشبہ اس ہستی کی تعلیم و تبلیغ کو خدائے برتر کی تائید حاصل ہے۔ اسی لیے علماءِ کلام نے دعویٰ نبوت اور معجزہ کے درمیان تعلق پر بحث کرتے ہوئے یہ مثال بیان کی ہے کہ ایک شخص جب یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اس کو بادشاہِ وقت نے اپنا نائب مقرر کر کے بھیجا ہے تو اس ملک یا صوبہ کے باشندے خواستگار ہوتے ہیں کہ مدعی نیابت اپنے دعویٰ کی صداقت کے لیے کوئی سند اور علامت پیش کرے چنانچہ مدعی نیابت ایک جانب اگر سند دکھاتا ہے تو دوسری جانب ایسی ”نشانی“ بھی پیش کرتا ہے جس کے متعلق یہ یقین کیا جا سکے کہ بادشاہ کی عطا کردہ یہ نشانی اس کے عطیہ اور اس منصب کی تصدیق کے علاوہ اور کسی طرح بھی حاصل نہیں کی جا سکتی مثلاً بادشاہ کی انگشتری (مہر حکومت) یا ایسا خاص عطیہ جو صرف اس منصب پر فائز ہستی کو عطا کیا جاتا ہو۔

تو اگرچہ بظاہر دعویٰ نیابت اور انگشتری یا عطیہ خاص کے درمیان کوئی مطابقت نہیں ہے تاہم اس تعلقِ خاص نے جو شاہی تصدیق سے وابستہ ہے ان دونوں کے درمیان اہم ربط پیدا کر دیا ہے۔

لیکن جبکہ یہ طریقِ تصدیق، معیارِ صداقت و حقانیت میں دوسرے درجہ کی حیثیت رکھتا ہے اور حقیقۃً معیاری حیثیت صرف طریقِ اوّل ”حجتہ و برہانِ حق“ کو ہی حاصل ہے اس لیے معجزہ کے وقوع و صدور کا معاملہ پہلے طریق کے وجود و صدور سے قطعاً جدا ہے اور وہ یہ کہ ہر ایک مدعی نبوت و رسالت کے لیے از بس ضروری ہے کہ وہ اپنے دعویٰ حق و صداقت کو حجتہ و برہان کی روشنی اور علمِ یقین کی قوت کے ذریعہ ثابت کرے اور اپنی تعلیم، تربیت اور شخصی حیات کے ہر پہلو میں دعویٰ اور دلیل و برہان کی مطابقت کو واضح کرے اور انسانی جوہرِ عقل کے فکر و تدبر کی رہنمائی کا فرض اس طرح انجام دے کہ ہر قسم کے ظن و وہم اور فاسد و کاسد خیالات کے مقابلہ میں ”یقینِ محکم“ روزِ روشن کی طرح نمودار ہو جائے اور اس ادائے فرض کے لیے کسی کی جانب سے نہ مطالبہ شرط ہے اور نہ جستجو لازم بلکہ یہ نبی اور رسول کا براہِ راست وہ فرض ہے جس کے لیے خدائے تعالیٰ نے اس کو منتخب اور مامور کیا ہے، اور اگر ایک لمحہ کے لیے بھی وہ اس میں کوتاہی کرتا ہے تو گویا اپنے فرض کی پوری عمارت کو اپنے ہاتھ سے برباد کر دیتا ہے۔

٣٩

صفحہ ٢٦٦

يٰٓاَيُّهَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ وَاِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهٗ (مائده ٦٧)

”اے پیغمبر! جو تم پر نازل کیا گیا ہے تم اس کو پورا پورا پہنچا دو اور اگر تم نے ایسا نہ کیا تو منصب رسالت کو ادا نہ کیا۔“

اس کے برعکس معجزہ کے لیے یہ ضروری نہیں ہے کہ نبی اور رسول اس کو ضروری دکھائے یا مخالفین کے ہر مطالبہ پر اس کی تکمیل کرے بلکہ ”معجزہ“ حجت و برہان کی وہ قسم ہے جو اکثر معاندین کے مطالبہ پر وقوع پذیر ہوتا ہے اور اس لیے اس کا صدور صرف عالم الغیب کی اپنی ”حکمت و مصلحت“ پر ہی موقوف رہتا ہے اور وہی خوب جانتا ہے کہ معجزہ کے بارہ میں کس کا سوال جویائے حق کی حیثیت میں ہے اور کس کا تعنت اور انکار مزید کے لیے، کن سعید روحوں پر اس کا یہ اثر پڑے گا کہ وہ کہہ اٹھیں گے ”اٰمَنَّا بِرَبِّ مُوْسٰى وَهٰرُوْنَ“ (الشعراء ٤٨) اور کن بدبختوں پر اس طرح اثر انداز ہو گا کہ یوں گویا ہوں گے۔ ”اِنْ هٰذَآ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِيْنٌ “ (مائده ١١٠)

پس قرآن عزیز نے اگر ایک جانب بہ نصوص قطعیہ یہ ظاہر کیا ہے کہ اس نے اپنے نبیوں اور رسولوں کو حجۃ و برہان کے ساتھ مزید تائید و تقویت کے لیے معجزات عطا کیے ہیں تو دوسری جانب یہ بھی صاف صاف نبی کی زبانی کہلا دیا ہے کہ میں خدا کی جانب سے فقط ”نذیر مبین“ ”بشیر و نذیر“ اور ”رسول و نبی“ ہوں میں نے یہ دعویٰ ہرگز نہیں کیا کہ میں کائناتِ خداوندی کے تصرفات و تغیرات اور ماوراء فطرت امور پر قادر ہوں۔ ہاں خدائے برتر اگر چاہے تو وہ ایسا کر سکتا ہے اور اس نے ایسا کیا بھی ہے، مگر وہ جب ہی کرتا ہے کہ اس کی حکمت و مصلحت اس کی متقاضی ہو۔

چنانچہ حضرت داؤد و سلیمان علیہما السلام کو منطق الطیر اور تسخیر ہوا، طیور و جن، کے نشان دیئے گئے، حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ”تسع آیات بینات۔ نو کھلے نشان“ عطا کیے گئے جن میں سے دو نشان عصا اور ید بیضاء کو قرآن نے ”بڑے نشان“ کہا ہے اور بحر قلزم میں غرقِ فرعون اور نجاتِ قوم موسیٰ کا عجیب و غریب واقعہ مستقل ایک ”نشانِ عظیم“ ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام پر دہکتی آگ کے شعلوں کو ”برد و سلام“ بنا دیا، حضرت صالح علیہ السلام کی قوم کے لیے ”ناقہ صالح“ کو نشان بنایا کہ جونہی اس کو کسی نے ستایا اسی وقت خدا کا عذاب قوم کو تباہ و برباد کر جائے گا چنانچہ ٹھیک اسی طرح پیش آیا، حضرت ہود اور حضرت نوح علیہما السلام سے ان کی قوموں نے عذاب طلب کیا اور کافی سمجھانے کے بعد بھی جب ان کا اصرار قائم رہا تو ان پیغمبروں نے عذاب الٰہی کی جو وعیدیں سنائی

٤٠

صفحہ ٢٦٧

تھیں وہ ٹھیک اپنے اپنے وقت پر پوری ہوئیں حالانکہ ان سب مواقع میں بہ ظاہر اسباب نزول عذاب اور وقوع حوادث و ہلاکت کے کوئی سامان نہیں تھے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو جو مختلف نشان (معجزات) دیئے گئے ان کو بھی قرآن نے صاف صاف بیان کر دیا ہے جو ابھی زیر بحث آئیں گے اور آخر میں خاتم الانبیاء محمدﷺ کو علمی معجزہ قرآن عطا کیا جس کی تحدی (مقابلہ کے چیلنج) کا کوئی جواب نہ دے سکا، نیز بدر کے معرکہ میں فرشتوں کا نزول اور ان کے ذریعہ مسلمانوں کی نصرت و یاوری اور ”وما رمیت اذ رمیت ولکن اللّٰه رمی“ کے اعلان سے اس مشہور معجزہ کا اظہار فرمایا جس نے بدر کے میدان میں مٹھی بھر خاک کو ایک ہزار دشمنوں کی آنکھوں کا آزار بنا دیا اور ”شق القمر“ کا معجزہ عطا فرمایا۔

معاملہ زیر بحث کا یہ ایک پہلو یا ایک رخ ہے اور دوسرا پہلو یہ ہے کہ جب خاتم الانبیاء محمدﷺ کی دعوتِ ارشاد و تبلیغ حق کے روشن دلائل و براہین کا کوئی جواب مخالفین سے نہ بن پڑا تو از راہ تعنت و سرکشی عجائبات اور خارقِ عادات امور کا مطالبہ کرنے لگے۔ تب اللہ تعالیٰ نے بذریعہ وحی پیغمبرﷺ کو اطلاع دی کہ ان کا مقصد طلب حق اور جستجوئے صداقت نہیں ہے بلکہ یہ جو کہہ رہے ہیں سرکشی، ضد اور تعصب کی راہ سے کہتے ہیں اس لیے ان کا جواب یہ نہیں ہے کہ خدا کے نشانات کو بھان متی کا تماشہ یا مداری کا کھیل بنا دیا جائے بلکہ اصل جواب یہ ہے کہ ان سے کہہ دو، میں ان تصرفات کا مدعی نہیں ہوں میں تو نیک و بد، امور میں تمیز پیدا کرنے، خدا کے بندوں کا خدا کے ساتھ رشتہ ملانے اور نیک و بدکاروں کے انجام کو واضح کرنے کے لیے ”نذیر مبین“ اور ”نبی رسول“ ہوں۔

وَقَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ لَکَ حَتّٰی تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الْاَرْضِ یَنْبُوْعًا اَوْ تَکُوْنَ لَکَ جَنَّةٌ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّعِنَبٍ فَتُفَجِّرَ الْاَنْہٰرَ خِلٰلَہَا تَفْجِیْرًا ہ اَوْ تُسْقِطَ السَّمَآءَ کَمَا زَعَمْتَ عَلَیْنَا کِسَفًا اَوْ تَاْتِیَ بِاللّٰہِ وَالْمَلٰٓئِکَةِ قَبِیْلًا ہ اَوْ یَکُوْنَ لَکَ بَیْتٌ مِّنْ زُخْرُفٍ اَوْ تَرْقٰی فِی السَّمَآءِ وَلَنْ نُّؤْمِنَ لِرُقِیِّکَ حَتّٰی تُنَزِّلَ عَلَیْنَا کِتٰبًا نَّقْرَؤُہٗ قُلْ سُبْحَانَ رَبِّیْ ہَلْ کُنْتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوْلًا ہ

(بنی اسرائیل ٩٣،٩٠)

وَلَوْ فَتَحْنَا عَلَیْہِمْ بَابًا مِّنَ السَّمَآءِ فَظَلُّوْا فِیْہِ یَعْرُجُوْنَ لَقَالُوْا اِنَّمَا سُکِّرَتْ اَبْصَارُنَا بَلْ نَحْنُ قَوْمٌ مَّسْحُوْرُوْنَ ہ

(الحجر ١٤، ١٥)

وَاِنْ یَّرَوْا کُلَّ اٰیَةٍ لَّا یُؤْمِنُوْا بِہَا

(الانعام ٢٥)

”اور انھوں نے (مشرکوں نے) کہا ہم اس وقت تک ہرگز تیری بات نہیں

٣١

صفحہ ٢٦٨

مانیں گے کہ تو ہمارے لیے زمین سے چشمہ ابال دے یا تیرے واسطے کھجوروں کا اور انگوروں کا باغ ہو اور تو اس کے درمیان زمین پھاڑ کر نہریں بہا دے یا تو جیسا گمان کرتا ہے ہمارے اوپر آسمان گرا دے یا تو اللہ اور اس کے فرشتوں کو (ہمارے) مقابل لائے یا تیرے واسطے ایک سونے کا (طلائی) مکان ہو اور یا تو چڑھ جائے آسمان پر اور ہم تیرے چڑھ جانے کو بھی ہرگز اس وقت تک نہیں تسلیم کریں گے تاوقتیکہ تو ہمارے پاس (آسمان سے) کتاب لے کر آئے کہ اس کو ہم پڑھیں (اے محمد ﷺ!) کہہ دیجیے پاک ہے میرے پروردگار کے لیے میں اس کے سوا کچھ نہیں کہ انسان ہوں، خدا کا پیغمبر ہوں۔‘‘

’’اور اگر کھول دیں ہم ان پر آسمان کا ایک دروازہ اور یہ اس پر چڑھنے لگیں تب بھی ضرور یہی کہیں گے کہ اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ مست کر دی گئی ہیں ہماری آنکھیں بلکہ ہم پر جادو کر دیا گیا ہے۔‘‘

’’اور اگر یہ ہر قسم کے نشان بھی دیکھ لیں تب بھی (ضد اور تعصب کی بنا پر) ایمان لانے والے نہیں ہیں۔‘‘

اب ان تفصیلات سے یہ بھی بخوبی روشن ہو گیا کہ علم کلام میں جن علماء کی رائے یہ ظاہر کی گئی ہے کہ ’’معجزہ دلیل نبوت نہیں ہے‘‘ ان کی مراد کیا ہے؟ وہ دراصل دعوٰی نبوت کی صداقت سے متعلق مسطورہ بالا ہر دو دلائل کے فرق کو ظاہر کرنا چاہتے ہیں اور یہ بتانا چاہتے ہیں کہ جو ہستی نبوت و رسالت کا دعوٰی کرتی ہے اس پر لازم اور ضروری ہے کہ اپنے دعوٰی کی تصدیق کے لیے ’’حجت و برہان‘‘ پیش کرے اور دلائل کی روشنی میں اپنی حقانیت کو ثابت کرے اور وحی الٰہی کی جو تعلیم وہ کائنات کی ہدایت کے لیے پیش کرتی ہے۔ برہان و حجت کے ذریعہ اس کی حقیقت کو واضح کرے، تو گویا اس طرح نبوت و رسالت اور حجت و برہان صداقت میں لازم و ملزوم کا رشتہ ہے اس کے برعکس نبوت کے ساتھ معجزات اور آیات اللہ (نشانات خداوندی) کا تعلق اس طرح کا نہیں ہے بلکہ اس میں یہ تفصیل ہے کہ اگر مخالفین کے مطالبہ پر یا بہ تقاضائے حکمت الٰہی نبی اور رسول از خود اپنی صداقت کی تائید میں کوئی نشان (معجزہ) دکھائے تو بلاشبہ وہ اس ہستی کے نبی و رسول ہونے کی ناقابل انکار ’’دلیل‘‘ ہے اور اس کا انکار درحقیقت اس رسول کی صداقت کا انکار ہے۔ کیونکہ اس صورت میں یہ انکار، حقیقت اور واقعہ کا انکار ہے اور حقیقت کا انکار ’’حق‘‘ نہیں بلکہ ’’باطل‘‘ ہوتا ہے جو نبوت و رسالت کے مقصد کے ساتھ کسی طرح بھی جمع نہیں ہو سکتا۔ البتہ اگر حکمت الٰہی کا تقاضا یہ ہو کہ تعلیم حق کی روشنی، وحی الٰہی پر دلائل

١٤٢

صفحہ ٢٦٩

و براہین کا یقین اور اصول دین پر حجت و برہان کا قیام، ہوتے ہوئے اب مخالفین کے بار بار طلب معجزات و عجائبات کی پرواہ نہ کی جائے اور نبی و رسول، وحی الٰہی کی روشنی میں حجت و برہان کے ذریعہ تعلیم حق کو جاری رکھے اور مخالفین کے جواب میں صاف صاف کہہ دے کہ میں نے ماوراء فطرت پر قدرت کا کبھی دعوٰی نہیں کیا تو اس صورت میں بندوں پر خدا کی حجت تمام ہو جاتی ہے اور کسی امت اور قوم کو یہ حق نہیں رہتا کہ وہ تعلیم حق کے دلائل و براہین اور روشن حجت و بینہ سے اس لیے منہ پھیرے اور اس لیے اس کا انکار کر دے کہ اس کی طلب پر اچھنبوں اور عجائبات کا مظاہرہ کیوں نہیں کیا گیا۔

پس قرآن عزیز نے جن انبیاء و رسل کے واقعات و حالات ”تذکیر بایام اللہ“ کے سلسلہ میں بیان کرتے ہوئے نصوص قطعیہ کے ذریعہ صراحت و وضاحت سے یہ ثابت کیا ہے کہ ہم نے ان کی صداقت کے نشان کے طور پر نشانات (معجزات) کو عطا اور مخالفین کے سامنے ان کا مظاہرہ کیا تو ہمارا فرض ہے کہ ہم بے چون و چرا ان کو قبول اور ان کی تصدیق کریں اور عجائب پرستی کے الزام سے خائف ہو کر عالم غیب کی اس تصدیق سے گریز نہ کریں اور نہ رکیک و باطل تاویلات کے پردہ میں ان کے انکار پر آمادہ ہو جائیں کیونکہ ایسا کرنا اس آیت کا مصداق بن جانا ہے۔

وَیَقُوْلُوْنَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَّ نَکْفُرُ بِبَعْضٍ وَّ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّتَّخِذُوْا بَیْنَ ذٰلِکَ سَبِیْلاً. (النساء،١٥٠) ”اور وہ کہتے ہیں کہ ہم کتاب الٰہی کے بعض پر ایمان لاتے ہیں اور بعض کا انکار کرتے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ ایمان و کفر کے درمیان میں ایک راہ بنالیں۔“

اور ظاہر ہے کہ یہ مومن و مسلم کی نہیں بلکہ کافر و منکر کی راہ ہے، مومن و مسلم کی راہ تو سیدھی راہ یہ ہے۔

یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِی السِّلْمِ کَآفَّۃً وَلَا تَتَّبِعُوْا خُطُوَاتِ الشَّیْطٰنِ اِنَّہٗ لَکُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ ۝ (البقرہ ٢٠٨) ”اے پیروانِ دعوتِ ایمانی! اسلام میں پوری طرح داخل ہو جاؤ (اور اعتقاد و عمل کی ساری باتوں میں مسلم بن جاؤ، مسلم ہونے کے لیے صرف اتنا ہی کافی نہیں کہ زبان سے اسلام کا اقرار کر لو) اور دیکھو شیطانی وسوسوں کی پیروی نہ کرو، وہ تو تمہارا کھلا دشمن ہے۔“

بہر حال ”سنّتِ اللہ“ یہ جاری رہی ہے کہ جب کسی قوم کی ہدایت یا تمام کائنات انسانی کی فوز و فلاح کے لیے نبی اور پیغمبر مبعوث ہوتا ہے تو اس کو من جانب اللہ محکم دلائل و براہین اور آیات اللہ (معجزات) دونوں سے نوازا جاتا ہے، وہ ایک جانب وحی

٤٣

صفحہ ٢٧٠

الٰہی کے ذریعہ کائنات کے معاش و معاد سے متعلق اوامر و نواہی اور بہترین دستور و نظام پیش کرتا ہے تو دوسری جانب حسب مصلحت خداوندی ”خدائی نشانات“ کا مظاہرہ کر کے اپنی صداقت اور منجانب اللہ ہونے کا ثبوت دیتا ہے، نیز ہر ایک پیغمبر کو اسی قسم کے معجزات و نشانات عطا کیے جاتے ہیں جو اس زمانہ کی علمی ترقیوں یا قومی و ملکی خصوصیتوں کے مناسب حال ہونے کے باوجود معارضہ کرنے والوں کو عاجز و درماندہ کر دیں اور کوئی ان کے مقابلہ میں تابِ مقاومت نہ لا سکے اور اگر تعصب و ضد درمیان میں حائل نہ ہوں تو اپنی اکتسابی ترقیوں اور خصوصیتوں کے حقائق سے آگاہ ہونے کی وجہ سے اس اعتراف پر مجبور ہو جائیں کہ یہ جو کچھ سامنے ہے انسانوں کی قدرت سے بالاتر، اس کی دسترس سے باہر، اور صرف خدائے واحد ہی کی جانب سے ہے۔

مثلاً حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانہ میں علم نجوم (Astronomy) اور علم کیمیا (Chemistry) کا بہت زور تھا اور ساتھ ہی ان کی قوم کواکب و نجوم کے اثرات کو ان کے ذاتی اثرات سمجھتی اور ان کو مؤثر حقیقی یقین کر کے خدائے واحد کی جگہ ان کی پرستش کرتی تھی اور ان کا سب سے بڑا دیوتا شمس (سورج) تھا کیونکہ وہ روشنی اور حرارت دونوں کا حامل تھا اور یہی دونوں چیزیں ان کی نگاہ میں کائنات کی بقاء و فلاح کے لیے اصل الاصول تھیں اور اسی بنا پر کرۂ ارضی میں ”آگ“ کو اس کا مظہر مان کر اس کی بھی پرستش کی جاتی تھی، علاوہ ازیں ان کو اشیاء کے خواص و اثرات اور ان کے ردِ عمل پر بھی کافی عبور تھا گویا آج کی علمی تحقیقات کے لحاظ سے وہ کیمیاوی طریقہائے عمل سے بھی بڑی حد تک واقف تھے۔

اس لیے اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کو ان کی قوم کی ہدایت اور خدا پرستی کی تعلیم و تلقین کے لیے ایک جانب ایسے روشن حجت و برہان عطا فرمائے جن کے ذریعہ وہ قوم کے غلط عقائد کے ابطال اور احقاقِ حق کی خدمت انجام دیں اور مظاہر پرستی کی وجہ سے حقیقت کے چہرہ پر تاریکی کا جو پردہ پڑ گیا تھا اس کو چاک کر کے حقیقت کے رخِ روشن کو نمایاں کر سکیں۔ ”وَتِلْکَ حُجَّتُنَا اٰتَیْنٰهَا اِبْرٰهِیْمَ عَلٰی قَوْمِهِ نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَآءُ اِنَّ رَبَّکَ حَکِیْمٌ عَلِیْمٌ“ (انعام ٨٤) اور دوسری جانب جب کواکب پرست اور بت پرست بادشاہ سے لے کر عام افرادِ قوم نے ان کے دلائل و برہان سے لاجواب ہو کر اپنی مادی طاقت کے گھمنڈ پر دہکتی آگ میں جھونک دیا تو اسی خالق اکبر نے جس کی دعوت و ارشاد کی خدمت حضرت ابراہیم علیہ السلام انجام دے رہے تھے ”کُوْنِیْ بَرْدًا وَّ

٤٤

صفحہ ٢٧١

سَلَامًا“ کہہ کر اپنی قدرت کا وہ عظیم الشان نشان (معجزہ) عطا کیا جس نے باطل کے پرہیبت ایوان میں زلزلہ پیدا کر دیا اور تمام قوم اس خدائی مظاہرہ سے عاجز، حیران و پریشان اور ذلیل و خاسر ہو کر رہ گئی ”وَأَرَادُوْ بِهِ كَيْدًا فَجَعَلْنٰهُمُ الْأَخْسَرِيْنَ“ (الانبیاء ٧٠) اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں سحر (Magic) مصری علوم وفنون میں بہت زیادہ نمایاں اور امتیازی شان رکھتا تھا اور مصریوں کو فن سحر میں کمال حاصل تھا، اس لیے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو قانون ہدایت (توراۃ) کے ساتھ ساتھ ”ید بیضاء“ اور ”عصاء“ جیسے معجزات دیے گئے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ساحرین مصر کے مقابلہ میں جب ان کا مظاہرہ کیا تو سحر کے تمام ارباب کمال اس کو دیکھ کر یک زبان ہو کر پکار اٹھے کہ بلاشبہ یہ سحر نہیں یہ تو اس سے جدا اور انسانی طاقت سے بالاتر مظاہرہ ہے جو خدائے برحق نے اپنے سچے پیغمبروں کی تائید کے لیے ان کے ہاتھ پر کرایا ہے کیونکہ ہم سحر کی حقیقت سے بخوبی واقف ہیں اور یہ کہہ کر انھوں نے فرعون اور قوم فرعون کے سامنے بے خوفی کے ساتھ اعلان کر دیا کہ وہ آج سے موسیٰ اور ہارون کے خدائے واحد ہی کے پرستار ہیں۔ ”فَاُلْقِيَ السَّحَرَةُ سٰجِدِيْنَ قَالُوْا اٰمَنَّا بِرَبِّ الْعٰلَمِيْنَ رَبِّ مُوْسٰی وَهٰرُوْنَ.“ (الشعراء ٤٦۔٤٨) مگر فرعون اور امراء دربار اپنی بدبختی سے یہی کہتے رہے ”قَالَ لِلْمَلَاِ حَوْلَه اِن هٰذَا لَسٰحِرٌ عَلِيْمٌ“ (الشعراء ٣٤) ”فَلَمَّا جَاءَ هُمْ مُّوْسٰی بِاٰيٰتِنَا بَيِّنٰتٍ قَالُوْا مَاهٰذَا اِلَّا سِحْرٌ مُّفْتَرى وَمَا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِىْ اٰبَائِنَا الْاَوَّلِيْنَ“ (قصص ٣٦)

اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں علم طب (Science Medical) اور علم الطبیعات (Physics) کا بہت چرچا تھا اور یونان کے اطباء و حکماء (فلاسفر) کی طب و حکمت گرد و پیش کے ممالک و امصار کے ارباب کمال پر بہت زیادہ اثر انداز تھی اور ملکوں میں صدیوں سے بڑے طبیب اور فلسفی اپنی حکمت و دانش اور کمالاتِ طب کا مظاہرہ کر رہے تھے مگر خدائے واحد کی توحید اور دینِ حق کی تعلیم سے خواص و عوام یکسر محروم تھے اور خود بنی اسرائیل بھی جو کہ نبیوں کی نسل میں ہونے پر ہمیشہ فخر کرتے رہتے تھے جن گمراہیوں میں مبتلا تھے سطور گزشتہ میں ان پر روشنی پڑ چکی ہے۔

پس ان حالات میں ”سنتہ اللہ“ نے جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو رشد و ہدایت کے لیے منتخب کیا تو ایک جانب ان کو حجتہ و برہان (انجیل) اور حکمت سے نوازا تو دوسری جانب زمانہ کے مخصوص حالات کے مناسب چند ایسے نشان (معجزات) بھی عطا فرمائے جو اس زمانہ کے ارباب کمال اور ان کے پیروؤں پر اس طرح اثر انداز ہوں کہ

٤٥

صفحہ ٢٧٢

جویائے حق کو اس اعتراف میں کوئی جھجک باقی نہ رہے کہ بلاشبہ یہ اعمال اکتسابی علوم سے جدا محض خدائے تعالیٰ کی جانب سے رسول برحق کی تائید میں رونما ہوئے ہیں اور متعصب و متمرد کے پاس اس کے علاوہ اور کوئی چارہ کار نہ رہے کہ ان کو ’’صریح جادو‘‘ کہہ کر اپنے بغض و حسد کی آگ کو اور مشتعل کرے۔

عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات

عیسیٰ علیہ السلام کے ان معجزات میں سے جن کا مظاہرہ انھوں نے قوم کے سامنے کیا قرآن عزیز نے ’’چار معجزات‘‘ کا بصراحت ذکر کیا ہے۔ (١) وہ خدا کے حکم سے مردہ کو زندہ (٢) اور پیدائشی نابینا کو بینا اور جذامی کو چنگا کر دیا کرتے تھے۔ (٣) وہ مٹی سے پرند بنا کر اس میں پھونک دیتے تھے اور خدا کے حکم سے اس میں روح پڑ جاتی تھی۔ (٤) وہ یہ بھی بتا دیا کرتے تھے کہ کس نے کیا کھایا اور خرچ کیا اور کیا گھر میں ذخیرہ محفوظ رکھا ہے؟

قوموں میں ایسے مسیحا موجود تھے جن کے علاج و معالجے اور اکتسابی تدابیر سے مایوس مریض شفا پاتے تھے، ان میں ماہر طبیعیات ایسے فلسفی بھی کم نہ تھے جو روح و مادہ کے حقائق اور ارضی و سماوی اشیاء کی ماہیات پر بے نظیر نظریات و تجربات کے مالک سمجھے جاتے تھے اور حقائق اشیاء ان کی باریک بینی اور مہارت ارباب کمال کے لیے باعث صد نازش تھی لیکن جب ان کے سامنے عیسیٰ علیہ السلام نے اسباب و وسائل اختیار کیے بغیر ان امور کا مظاہرہ کیا تو ان پر بھی ہدایت و ضلالت کی قدرتی تقسیم کے مطابق یہی اثر پڑا کہ جس شخص کے قلب میں حق کی طلب موجزن تھی اس نے اقرار کیا کہ بلاشبہ اس قسم کا مظاہرہ انسانی دسترس سے باہر اور نبی برحق کی تائید و تصدیق کے لیے منجانب اللہ ہے اور جن دلوں میں رعونت، حسد اور بغض و عناد تھا ان کے تعصب نے وہی کہنے پر مجبور کیا جو ان کے پیشتر وہ انبیاء و رسل سے کہتے آئے تھے۔ ”ان ھٰذا الا سحر مبین“

چوتھے معجزے کے بارہ میں بعض مفسرین کہتے ہیں کہ اس کے مظاہرہ کی وجہ یہ پیش آئی کہ مخالفین جب ان کی دعوتِ رشد و ہدایت سے نفور ہو کر ان کو جھٹلاتے اور ان کے پیش کردہ آیاتِ بینات (معجزات) کو سحر اور جادو کہتے تو ساتھ ہی از راہِ تمسخر یہ بھی کہہ دیا کرتے تھے کہ اگر تم خدائے تعالیٰ کے ایسے مقبول بندے ہو تو بتاؤ آج ہم نے کیا کھایا ہے اور کیا بچا رکھا ہے؟ تب عیسیٰ علیہ السلام ان کے تمسخر کو سنجیدگی سے بدل دیتے اور وحی الٰہی کی نصرت سے ان کے سوال کا جواب دے دیا کرتے تھے۔

(البدایہ والنہایہ جلد ٢ ص ٨٢)

٤٦

صفحہ ٢٧٣

مگر قرآن حکیم نے اس معجزہ کو جس انداز میں بیان کیا ہے اس کو غور کے ساتھ مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس ”نشان“ کے مظاہرہ کی وجہ مفسرین کے بیان کردہ توجیہ سے زیادہ دقیق اور وسیع معلوم ہوتی ہے اور وہ یہ کہ عیسیٰ علیہ السلام پیغام ہدایت و تبلیغ حق کی خدمت انجام دیتے ہوئے اکثر و بیشتر لوگوں کو دنیا میں انہماک، دولت و ثروت کے لالچ اور عیش پسند زندگی کی رغبت، سے باز رکھنے پر مختلف اسالیب بیان کے ذریعہ توجہ دلایا کرتے تھے تو جس طرح بعض سعید روحیں اس کلمہ حق کے سامنے سرتسلیم خم کر دیتی تھیں اس کے برعکس شریر النفس انسان ان کے مواعظ حسنہ سے قلبی نفرت و اعراض کے باوجود امتثال امر کرنے والی ہستیوں سے زیادہ ان کو یہ باور کراتیں کہ ہم تو ہمہ وقت آپ کے اس ارشاد کی تعمیل میں سرگرم عمل رہتے ہیں لہٰذا قدرت حق نے یہ فیصلہ کیا کہ ان منافقین کی منافقت کی مضرت کو زائل کرنے کے لیے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ایسا ”نشان“ عطا کیا جائے کہ اس ذریعہ سے حق و باطل منکشف ہو جائے اور حقوق اللہ اور حقوق انسانی کے اتلاف پر جو ذخیرہ اندوزی کا سامان کیا جا رہا ہے اس کا پردہ چاک کر دیا جائے۔

ان چہارگانہ خدائی نشان (معجزات) کے علاوہ خود حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بغیر باپ کے پیدائش بھی ایک عظیم الشان ”خدائی نشان“ تھا، جس کے متعلق ابھی تفصیلات سن چکے ہو۔

معجزات مسیح علیہ السلام اور قادیانی

حضرت مسیح علیہ السلام کے ہاتھ پر جن معجزات کا ظہور ہوا یا ان کی ولادت جس معجزانہ طریق پر ہوئی، یہود نے از راہ حسد ان کا انکار کیا تو کیا لیکن بعض فطرت پرست مدعی اسلام حضرات نے بھی ان کے انکار کے لیے راہ پیدا کرنیکی ناکام سعی فرمائی ہے ان میں سے بعض حضرات وہ ہیں جنھوں نے اس انکار کو ذاتی مفاد کے لیے نہیں بلکہ فطرت پرست اور منکرین خدا یورپین علماء جدید سے مرعوبیت کی بنا پر یہ روش اختیار کی ہے، تاکہ ان کی مذہبیت پر عجائب پرستی کا الزام عائد نہ ہو سکے، ان میں سرسید اور مولوی چراغ علی صاحب خصوصیت سے قابل ذکر ہیں اور بعض وہ یہود صفت اشخاص ہیں جو اپنی ذاتی غرض اور ناپاک مقصد کی خاطر از راہ حسد و بغض حضرت مسیح کے ان معجزات کا نہ صرف انکار کرتے ہیں بلکہ تاویلات باطل کے پردہ میں ان کا مضحکہ اڑاتے ہیں، ان میں سے متنبی کذاب مرزا قادیانی اور مسٹر محمد علی مرزائی لاہوری خصوصیت سے قابل ذکر ہیں۔

٤٧

صفحہ ٢٧٤

قادیانی اور لاہوری نے تو یہ ظلم کیا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کے معجزہ ”اَنِّیْ اَخْلُقُ لَكُمْ مِّنَ الطِّيْنِ كَهَيْئَةِ الطَّيْرِ فَاَنْفُخُ فِيْهِ فَيَكُوْنُ طَيْرًا بِاِذْنِ اللّٰهِ“ (ال عمران ٤٩) کے متعلق یہ کہہ دیا کہ مسیح کا یہ عمل ایک تالاب کی مٹی کا رہین منت تھا۔ معجزہ کچھ نہیں تھا، اس تالاب کی مٹی کی یہ خاصیت تھی کہ جس کسی پرند کی شکل بنائی جاتی اور منہ سے دم تک سوراخ رکھ دیا جاتا تو ہوا بھر جانے سے اس میں آواز بھی پیدا ہو جاتی تھی اور حرکت بھی گویا العیاذ باللہ ان بدبختوں کے نزدیک حضرت مسیح علیہ السلام کی جانب سے منکروں کے مقابلہ میں یہ معجزانہ صداقت نہیں تھی بلکہ مداری یا شعبدہ باز کا تماشہ تھا۔

اسی طرح احیاء موتیٰ (مردہ کو زندہ کر دینا) کے معجزہ کا بھی انکار کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا ہے کہ قرآن عزیز نے یہ فیصلہ سنا دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ موت کے بعد کسی کو اس دنیا میں قبل از قیامت زندگی نہیں بخشے گا، لیکن لطف یہ ہے کہ اگر پورے قرآن کو از اوّل تا آخر پڑھ جائیے تو کسی ایک آیت میں بھی آپ کو یہ فیصلہ نہیں ملے گا بلکہ اس دعویٰ کے خلاف متعدد مقامات پر اس کا اثبات پائے گا کہ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں موت دینے کے بعد حیاتِ تازہ بخشی ہے، مثلاً سورۂ بقرہ کی آیت ذبح بقرہ کے واقعہ میں ارشاد ہے۔ ”فَقُلْنَا اضْرِبُوْهُ بِبَعْضِهَا كَذٰلِكَ يُحْيِ اللّٰهُ الْمَوْتٰى“ (بقرہ ٧٣) یا سورۂ بقرہ ہی کی اس آیت میں ارشاد ہوتا ہے ”فَاَمَاتَهُ اللّٰهُ مِائَةَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَهٗ قَالَ كَمْ لَبِثْتَ قَالَ لَبِثْتُ يَوْمًا اَوْ بَعْضَ يَوْمٍ ط قَالَ بَلْ لَّبِثْتَ مِائَةَ عَامٍ“ (بقرہ ٢٥٩) یا اسی سورہ میں تیسری جگہ مذکور ہے ”وَاِذْ قَالَ اِبْرٰهِيْمُ رَبِّ اَرِنِيْ كَيْفَ تُحْيِ الْمَوْتٰى قَالَ اَوَلَمْ تُؤْمِنْ قَالَ بَلٰى وَلٰكِنْ لِّيَطْمَئِنَّ قَلْبِيْ ط قَالَ فَخُذْ اَرْبَعَةً مِّنَ الطَّيْرِ فَصُرْهُنَّ اِلَيْكَ ثُمَّ اجْعَلْ عَلٰى كُلِّ جَبَلٍ مِّنْهُنَّ جُزْءًا ثُمَّ ادْعُهُنَّ يَأْتِيْنَكَ سَعْيًا.“ (بقرہ ٢٦٠) چنانچہ ان تمام واقعات میں ”احیاء موتیٰ“ کے صاف صریح معانی ثابت ہیں اور جن حضرات نے ان مقامات میں احیاء موتیٰ سے مجازی یا کنائی معنی لیے ہیں ان کو طرح طرح کی تاویلات کی پناہ لینی پڑی ہے مگر ان کی تاویلات سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ احیاء موتیٰ کی یہ تاویل اس وجہ سے نہیں کر رہے ہیں کہ قرآن کے نزدیک اس کا دنیا میں وقوع ممنوع ہے بلکہ وہ کہتے ہیں کہ آیاتِ مسطورۂ بالا کے سیاق و سباق کے پیشِ نظر یہی معنی مناسبِ حال ہیں۔

غرض یہ دعویٰ کہ قرآن ممنوع قرار دیتا ہے کہ دار دنیا میں ”احیاء موتیٰ“ وقوع پذیر ہو صرف مرزا قادیانی اور مسٹر لاہوری کے دماغ کی اُپج ہے جو قطعاً باطل اور غیر ثابت ہے اور اس کی پشت پر کوئی دلیل نہیں ہے، رہا یہ امر کہ خدا کے عام قانونِ فطرت

٤٨

صفحہ ٢٧٥

کے ماتحت ایسا نہیں پیش آتا رہتا سو اگر ایسا ہوتا رہتا تو پھر ”یہ معجزہ“ ہرگز نہ کہلاتا اور خدائے برتر کا قانون خاص جو تصدیق انبیاء علیہم السلام کے مقصد سے کبھی کبھی مخالفین کے مقابلہ میں بہ طور تحدی (چیلنج) کے پیش آتا رہا ہے کوئی خصوصیت نہ رکھتا۔

اسی طرح حضرت مسیح کی بن باپ پیدائش کے مسئلہ کا بھی انکار کیا گیا ہے اور قادیانی اور لاہوری نے بھی اس کے خلاف بے دلیل ہرزہ سرائی کی ہے لیکن اس مسئلہ کی موافق و مخالف آراء سے قطع نظر ایک غیر جانبدار منصف جب حضرت مسیح کی پیدائش سے متعلق تمام آیات قرآنی کا مطالعہ کرے تو اس پر یہ حقیقت بخوبی آشکارا ہو جائے گی کہ قرآن حضرت مسیح سے متعلق یہود کی تفریط اور نصاریٰ کی افراط دونوں کے خلاف اپنا وہ فرض منصبی ادا کرنا چاہتا ہے جس کے لیے قرآن کی دعوت حق کا ظہور ہوا ہے، یہود اور نصاریٰ اس بارہ میں دو قطعاً مخالف اور متضاد سمتوں میں چلے گئے ہیں، یہود کہتے ہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام مفتری اور کاذب اور شعبدہ باز تھے اور نصاریٰ کہتے ہیں کہ وہ خدا، خدا کے بیٹے، یا ثالث ثلثہ تھے، ان حالات میں قرآن نے ان اوہام وظنون کے خلاف علم و یقین کی راہ دکھاتے ہوئے دونوں کے خلاف یہ فیصلہ دیا کہ راہِ حق افراط اور تفریط کے درمیان ہے اور صراط مستقیم کی یہی سب سے بڑی شناخت ہے۔

وہ کہتا ہے واضح رہے کہ حضرت مسیح مفتری اور کاذب نہیں تھے بلکہ خدا کے سچے پیغمبر اور راہِ حق کے داعی صادق تھے، انھوں نے دعوت حق کی تصدیق کے لیے جو بعض عجیب باتیں کر دکھائیں وہ معجزات انبیاء کی فہرست میں شامل ہیں نہ کہ ساحروں اور شعبدہ بازوں کی، اور یہ بھی صحیح ہے کہ ان کی پیدائش بغیر باپ کے ہوئی مگر اس سے یہ کیسے لازم آسکتا ہے کہ وہ خدا یا خدا کے بیٹے ہو گئے، کیا جو شخص پیدائش کا محتاج ہو اور پیدائش میں بھی ماں کے پیٹ کا محتاج اور جو شخص بشری لوازم کھانے پینے کا محتاج ہو وہ عبد اور بشر کے ماسوا خدا یا معبود ہو سکتا ہے؟ نہیں ہرگز نہیں۔

یہاں اس حقیقت کو فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ نصاریٰ نے حضرت مسیح علیہ السلام کے متعلق الوہیت کا جو عقیدہ قائم کیا تھا اس کا بہت بڑا سہارا یہی واقعہ تھا جیسا کہ وفد نجران اور نبی اکرم ﷺ کی باہمی گفتگو سے ظاہر ہوتا ہے۔

تو جبکہ قرآن نے یہود و نصاریٰ کے ان تمام باطل عقائد کی واضح الفاظ میں تردید کر کے جو انھوں نے حضرت مسیح کے متعلق قائم کر لیے تھے اپنا فریضہ اصلاح انجام دیا، یہ کیسے ممکن تھا کہ اگر بن باپ کی پیدائش کا واقعہ باطل اور غیر واقعی تھا اور جو سہارا

٤٩

صفحہ ٢٧٦

بن رہا تھا الوہیت مسیح کا، اس کے متعلق واضح طور سے قرآن تردید نہ کرتا؟ بلکہ اس کے برعکس وہ جگہ جگہ اس واقعہ کو ٹھیک اس طرح بیان کرتا جاتا جیسا کہ متی کی انجیل میں بیان کیا گیا ہے، اس کا فرض تھا کہ سب سے پہلے اسی پر ضرب کاری لگاتا اور صرف اس قدر کہہ کر کہ حضرت مسیح کا باپ فلاں شخص تھا اس ساری عمارت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکتا جس پر الوہیت مسیح کی بنیاد رکھی گئی ہے۔ مگر اس نے یہ طریقہ اختیار نہیں کیا بلکہ یہ کہا کہ یہ بات کسی طرح بھی مسیح کی الوہیت کی دلیل نہیں بن سکتی، کیوں؟ اس لیے کہ ”ان مثل عیسیٰ عنداللہ کمثل آدم خلقہ من تراب ثم قال لہ کن فیکون“ (آل عمران ٦٠) پس اگر ”بن باپ کی پیدائش مسیح کو درجہ الوہیت دے سکتی ہے تو آدم کو اس سے زیادہ الوہیت کا حق حاصل ہے کہ وہ بن ماں باپ کے پیدا ہوا ہے۔

بہر حال جن تاویل پرستوں نے حضرت مسیح کی بن باپ پیدائش سے متعلق آیات کے جملوں کو جدا جدا کر کے غلط احتمالات پیدا کیے ہیں وہ اس لیے باطل ہیں کہ جب اس واقعہ سے متعلق آیات کو یکجا کر کے مطالعہ کیا جائے تو ایک لمحہ کے لیے بھی آیات کے معانی میں بن باپ پیدائش کے معنی کے ماسوا دوسرے کسی بھی احتمال کی گنجائش باقی نہیں رہتی مگر یہ کہ عربی زبان کے الفاظ کے معین مدلولات و اطلاقات میں تحریف معنوی پر بے جا جسارت کی جائے۔

نیز بقول مولانا ابوالکلام جن اصحاب نے بغیر باپ کے پیدائش سے متعلق آیات میں تاویل باطل کی ہے ان کی دلیل کا مدار صرف اس بات پر ہے کہ حضرت مریم کا نکاح اگرچہ یوسف سے ہو چکا تھا مگر رخصتی عمل میں نہیں آئی تھی، ایسی صورت میں میاں بیوی کے درمیان مقاربت گو شریعت موسوی کے خلاف نہیں تھی تاہم وقت کے رسم و رواج کے قطعاً خلاف تھی اس لیے حضرت مسیح کی پیدائش لوگوں پر گراں گزری“ لیکن اول تو اس واقعہ کا ثبوت ہی موجود نہیں سب بے سند بات ہے دوسرے یہودیوں نے حضرت مریم پر جو بہتان لگایا تھا ’انسائیکلو پیڈیا آف بائبل‘ میں تصریح ہے کہ اس بہتان کی نسبت ایک شخص پینتھرا نامی کی جانب کی تھی نہ کہ یوسف نجار کی جانب، اس لیے تاویل باطل کی یہ بنیاد ہی از سر تا پا غلط اور بے اصل ہے۔

(ترجمان القرآن جلد٢)

علاوہ ازیں جہاں تک اس مسئلہ کا عقلی پہلو ہے سو عقل بھی اس کے امکان کو ممنوع اور محال قرار نہیں دیتی بلکہ اس کو ممکن الوقوع تسلیم کرتی ہے۔ کیا سائنس کی موجودہ دنیا سے آشنا حضرات اس حقیقت سے ناواقف ہیں کہ آج جبکہ سائنس کی جدید تحقیق نے

٥٠

صفحہ ٢٧٧

نظریوں سے آگے قدم بڑھا کر مشاہدہ اور تجربہ سے یہ ثابت کر دیا کہ دوسرے حیوانات کی طرح انسان کی خلقت و پیدائش بھی بیضہ سے ہوتی ہے اور اس کو اصطلاح میں خلیہ تخم۔ (خلیہ کو انگریزی میں (Cell) کہتے ہیں) کہتے ہیں، یہ خلیہ مرد اور عورت دونوں میں ہوتا ہے اور حمل قرار پا جانے کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ مرد کے خلیات تخم عورت کے بیضہ میں داخل ہو جاتے ہیں، یہی خلیہ زندگی اور حیات کا تخم ہے اور قدرت حق نے اس کو بہت باریک جثہ عطا فرمایا ہے۔ (اس کا قطر انچ کا ١/٥٠٠ ہوتا ہے) تو اس تحقیق نے امریکہ اور انگلینڈ کے سائنسدانوں کو اس جانب متوجہ کر دیا ہے کہ کیوں وہ ایک ایسی کوشش نہ کریں کہ بغیر مرد کی مقاربت کے جنس رجال کے خلیات تخم کو آلات کے ذریعہ جنس اناث کے بیض میں داخل کر کے ”وجود انسانی“ حاصل کرنے میں کامیاب ہوں۔ سائنس دانوں کا یہ تخیل ابھی عملی حیثیت سے کتنا ہی دور ہو لیکن اس سے یہ نتیجہ ضرور پیدا ہوتا ہے کہ عقل یہ ممکن سمجھتی ہے کہ انسانی پیدائش، آنکھوں دیکھے عام طریق ولادت کے علاوہ بعض دوسرے طریقوں سے بھی ہو سکتی ہے اور ان کو قانون قدرت کے خلاف اس لیے نہیں کہا جا سکتا کہ ہم نے قدرت کے تمام قوانین کا احاطہ نہیں کر لیا ہے بلکہ انسان جس قدر علم و دانش کی جانب بڑھتا جاتا ہے اس کے سامنے قدرت حق کے قانون کے نئے نئے گوشے کھلتے جاتے ہیں۔

پس اگر یہ صحیح ہے کہ جو بات کل ناممکن نظر آتی تھی آج وہ ممکن کہی جا رہی ہے اور جلد یا بہ دیر اس کے وقوع پر یقین کیا جا رہا ہے تو نہیں معلوم پھر اس قانون قدرت سے انکار کر دینے کے کیا معنی ہیں کہ جس کا علم اگرچہ ابھی تک ہم کو حاصل نہیں ہے مگر انبیاء و رسل جیسے قدسی صفات ہستیوں پر اس علم کی حقیقت آشکارا ہے تو کیا علمی دلیل کا یہ بھی کوئی پہلو ہے کہ جس بات کا ہم کو علم نہ ہو اور عقل اس کو ناممکن اور محال نہ ثابت کرتی ہو اس کا انکار صرف ”عدم علم“ کی وجہ سے کر دیا جائے۔ خصوصاً جب یہ انکار ایک مدعی مسیحیت و نبوت کی جانب سے ہو تو اس کے لیے تو یہی کہا جا سکتا ہے۔

اب ان ”آیات بینات“ کو قرآن حکیم سے سنیے اور موعظت و عبرت کے حصول کا سر و سامان کیجئے کہ ماضی کے ان واقعات کی تذکیر سے قرآن کا یہی عظیم مقصد ہے۔

وَيُعَلِّمُهُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ وَالتَّوْرَاةَ وَالْإِنْجِيْلَ o وَرَسُوْلاً اِلٰی بَنِیْ اِسْرَآئِيْلَ اَنِّیْ قَدْ جِئْتُكُمْ بِآيَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ اَنِّیْ اَخْلُقُ لَكُمْ مِّنَ الطِّيْنِ كَهَيْئَةِ الطَّيْرِ فَانْفُخُ فِيْهِ فَيَكُوْنُ طَيْرًا بِاِذْنِ اللّٰهِ وَ اُبْرِئُ الْاَكْمَهَ وَالْاَبْرَصَ وَاُحْيِ الْمَوْتٰی بِاِذْنِ

٥١

صفحہ ٢٧٨

اللَّهِ وَأُنَبِّئُكُمْ بِمَا تَأْكُلُوْنَ وَمَاتَدَّخِرُوْنَ فِي بُيُوْتِكُمْ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً لَّكُمْ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ ۝ وَمُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيَّ مِنَ التَّوْرٰةِ وَلِأُحِلَّ لَكُم بَعْضَ الَّذِي حُرِّمَ عَلَيْكُمْ وَجِئْتُكُمْ بِآيَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيْعُوْنِ ۝ إِنَّ اللَّهَ رَبِّي وَ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ هَذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِيمٍ ۝

(آل عمران ٤٨ تا ٥١)

وَإِذْ تَخْلُقُ مِنَ الطِّينِ كَهَيْئَةِ الطَّيْرِ بِإِذْنِي فَتَنْفُخُ فِيهَا فَتَكُونُ طَيْرًا بِإِذْنِي وَتُبْرِئُ الْأَكْمَهَ وَالْأَبْرَصَ بِإِذْنِي وَإِذْ تُخْرِجُ الْمَوْتَى بِإِذْنِي.

(مائده ١١٠)

فَلَمَّا جَاءَهُمُ الْبَيِّنٰتِ قَالُوا هَذَا سِحْرٌ مُبِينٌ.

(الصف)

اور خدا سکھاتا ہے اس (عیسیٰ) کو کتاب، حکمت، توراۃ اور انجیل اور وہ رسول ہے بنی اسرائیل کی جانب (وہ کہتا ہے) کہ بیشک میں تمھارے پاس تمھارے پروردگار کی جانب سے ”نشان“ لے کر آیا ہوں، وہ یہ کہ میں تمھارے لیے مٹی سے پرند کی شکل بناتا پھر اس میں پھونک دیتا ہوں اور وہ خدا کے حکم سے زندہ پرند بن جاتا ہے اور پیدائشی اندھے کو سوجاکھا کر دیتا اور سپید داغ کے جذام کو اچھا کر دیتا ہوں اور خدا کے حکم سے مردہ کو زندہ کر دیتا ہوں اور تم کو بتا دیتا ہوں جو تم کھا کر آتے ہو اور جو تم گھر میں ذخیرہ رکھ آتے ہو، سو اگر تم حقیقی ایمان رکھتے ہو تو بلاشبہ ان امور میں (میری صداقت اور منجانب اللہ ہونے کے لیے) ”نشان“ ہے، اور میں تورات کی تصدیق کرنے والا ہوں جو میرے سامنے ہے اور (اس لیے بھیجا گیا ہوں) تاکہ بعض ان چیزوں کو جو تم پر حرام ہو گئی ہیں تمھارے لیے حلال کر دوں تمھارے لیے پروردگار ہی کے پاس سے ”نشان“ لایا ہوں۔ پس تم اللہ سے ڈرو اور (اس کے دیے ہوئے احکام میں) میری اطاعت کرو۔

بلاشبہ اللہ تعالیٰ ہی میرا اور تمہارا پروردگار ہے سو اس کی عبادت کرو یہی سیدھی راہ ہے۔

اور (اے عیسیٰ بن مریم ! تو میری اس نعمت کو یاد کر) جبکہ تو میرے حکم سے گارے سے پرند کی شکل بنا دیتا اور پھر اس میں پھونک دیتا تھا اور وہ میرے حکم سے زندہ پرند بن جاتا تھا اور جبکہ تو میرے حکم سے پیدائشی اندھے کو سوجاکھا اور سپید داغ کے کوڑھ کو اچھا کر دیتا تھا اور جبکہ تو میرے حکم سے مردہ کو زندہ کر کے قبر سے نکالتا تھا۔

پھر جب وہ (عیسیٰ علیہ السلام) ان کے پاس کھلے نشان لے کر آیا تو انھوں نے (بنی اسرائیل نے) کہا: ”یہ تو کھلا ہوا جادو ہے۔“

انبیاء علیہ السلام نے جب کبھی بھی قوموں کے سامنے آیات اللہ کا مظاہرہ کیا ہے۔ تو منکروں نے ہمیشہ ان کے متعلق ایک بات ضرور کہی ہے۔ ”یہ تو کھلا ہوا جادو

٥٢

صفحہ ٢٧٩

ہے‘‘ پس کیا ایک جویائے حق اور غیر متعصب انسان کے لیے یہ جواب اس جانب رہنمائی نہیں کرتا کہ انبیاء علیہم السلام کے اس قسم کے مظاہرے ضرور عام قوانین قدرت سے جدا ایسے علم کے ذریعہ ظہور پذیر ہوتے تھے جو صرف ان قدسی صفات ہستیوں کے لیے ہی مخصوص رہا ہے اور ان کے علاوہ انسانی دنیا اس کے فہم حقیقت سے بہرہ مند نہیں ہوئی تب ہی ان لوگوں کے پاس ”جو از رہ عناد و ضد انکار پر تلے ہوئے تھے“ اس کے انکار کے لیے اس سے بہتر دوسری تعبیر نہیں تھی کہ وہ ان امور کو ”سحر و جادو“ کہہ دیں۔ لہٰذا ان امور کو سحر و جادو کہنا بھی ان کے ”معجزہ“ اور ”نشان خداوندی“ ہونے کی زبردست دلیل ہے۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی تعلیمات کا خلاصہ

بہر حال حضرت عیسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو حجۃ و برہان اور آیات اللہ کے ذریعہ دین حق کی تعلیم دیتے رہتے اور ان کے بھولے ہوئے سبق کو یاد دلا کر مردہ قلوب میں حیات تازہ بخشتے رہتے تھے۔

خدا اور خدا کی توحید پر ایمان، انبیاء و رسل علیہم السلام کی تصدیق، آخرت (معاد پر ایمان، ملائکۃ اللہ پر ایمان، قضاء و قدر پر ایمان، خدا کے رسولوں اور کتابوں پر ایمان، اخلاق حسنہ کے اختیار، اعمال سیئہ سے پرہیز و اجتناب، عبادت الٰہی سے رغبت، دنیا میں انہماک سے نفرت اور خدا کے کنبہ (مخلوق خدا) سے محبت و مودت یہی وہ تعلیم و تلقین تھی جو ان کی زندگی کا مشغلہ اور فرض منصبی بنا ہوا تھا، وہ بنی اسرائیل کو توراۃ، انجیل اور حکیمانہ پند و نصائح کے ذریعہ ان امور کی جانب دعوت دیتے مگر بدبخت یہود اپنی فطرت کج، صدیوں کی مسلسل سرکشی اور تعلیم الٰہی سے بغاوت کی بدولت اس درجہ متشدد ہو گئے تھے اور انبیاء و رسل کے قتل نے ان کے قلوب کو حق و صداقت کے قبول میں اس درجہ سخت بنا دیا تھا کہ ایک مختصر سی جماعت کے علاوہ ان کی جماعت کی بڑی اکثریت نے ان کی مخالفت اور ان کے ساتھ حسد و بغض کو اپنا شعار اور اپنی جماعتی زندگی کا معیار بنا لیا اور اس لیے انبیاء کی سنت راشدہ کے مطابق رشد و ہدایت کے حلقہ بگوشوں میں دنیوی جاہ و جلال کے لحاظ سے کمزور و ناتواں اور زبردست پیشہ ور طبقہ کی اکثریت نظر آتی تھی ضعفاء کا یہ طبقہ اگر اخلاص و دیانت کے ساتھ حق کی آواز پر لبیک کہتا تو بنی اسرائیل کا وہ سرکش و مغرور حلقہ ان پر اور خدا کے پیغمبر پر پھبتیاں کستا، توہین و تذلیل کا مظاہرہ کرتا اور اپنی عملی جدوجہد کا بڑا حصہ معاندت و مخالفت میں صرف کرتا رہتا تھا۔

٥٣

صفحہ ٢٨٠

وَلَمَّا جَاءَ عِيْسٰی بِالْبَيِّنٰتِ قَالَ قَدْ جِئْتُكُمْ بِالْحِكْمَةِ وَلِاُبَيِّنَ لَكُمْ بَعْضَ الَّذِيْ تَخْتَلِفُوْنَ فِيْهِ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِيْعُوْنِ ۚ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ رَبِّيْ وَ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ ۙ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِيْمٌ O فَاخْتَلَفَ الْاَحْزَابُ مِنْ بَيْنِهِمْ فَوَيْلٌ لِّلَّذِيْنَ ظَلَمُوْا مِنْ عَذَابِ يَوْمٍ اَلِيْمٍ.

(زخرف ٦٣ ۔ ٦٥)

وَ اِذْ قَالَ عِيْسَی ابْنُ مَرْيَمَ يٰبَنِيْ اِسْرَآءِيْلَ اِنِّيْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ مُّصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيَّ مِنَ التَّوْرٰةِ وَمُبَشِّرًا بِرَسُوْلٍ يَّأْتِيْ مِنْ بَعْدِی اسْمُهُ اَحْمَدُ ۙ فَلَمَّا جَاءَ هُمْ بِالْبَيِّنٰتِ قَالُوْا هٰذَا سِحْرٌ مُّبِيْنٌ.

(الصف ٦)

فَلَمَّا اَحَسَّ عِيْسٰی مِنْهُمُ الْكُفْرَ قَالَ مَنْ اَنْصَارِيْ اِلَی اللّٰهِ ۙ قَالَ الْحَوَارِيُّوْنَ نَحْنُ اَنْصَارُ اللّٰهِ ۚ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ ۚ وَاشْهَدْ بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ O رَبَّنَا اٰمَنَّا بِمَا اَنْزَلْتَ وَ اتَّبَعْنَا الرَّسُوْلَ فَاكْتُبْنَا مَعَ الشّٰهِدِيْنَ O

(آل عمران ٥٢ ، ٥٣)

اور جب عیسٰی ظاہر دلائل لے کر آئے تو کہا: بلاشبہ میں تمھارے پاس ’’حکمت‘‘ لے کر آیا ہوں اور اس لیے آیا ہوں تاکہ ان بعض باتوں کو واضح کر دوں جن کے متعلق تم آپس میں جھگڑ رہے ہو، پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو بیشک اللہ تعالیٰ ہی میرا اور تمہارا پروردگار ہے، سو اس کی پرستش کرو یہی سیدھی راہ ہے‘‘ پھر وہ آپس میں گروہ بندی کرنے لگے سو ان لوگوں کے لیے درد ناک عذاب کے ذریعہ ہلاکت اور خرابی ہے۔

اور (وقت یاد کرو) جب عیسٰی بن مریم نے کہا: ’’اے بنی اسرائیل: بلاشبہ میں تمہاری جانب اللہ کا پیغمبر ہوں، تصدیق کرنے والا ہوں توراۃ کی جو میرے سامنے ہے اور بشارت دینے والا ہوں ایک رسول کی جو میرے بعد آئے گا نام اس کا احمد ہے‘‘ پس جب (عیسٰی علیہ السلام) آیا ان کے پاس معجزات لے کر تو وہ (بنی اسرائیل) کہنے لگے، یہ تو کھلا ہوا جادو ہے۔

پھر جب عیسٰی نے ان (بنی اسرائیل) سے کفر محسوس کیا تو کہا: ’’اللہ کی جانب میرا کون مدد گار ہے؟‘‘ حواریوں نے جواب دیا ’’ہم ہیں اللہ کے (دین کے) مددگار ہم اللہ پر ایمان لے آئے اور تم گواہ رہنا کہ ہم مسلمان ہیں، اے ہمارے پروردگار جو تو نے اتارا ہے ہم اس پر ایمان لے آئے اور ہم نے رسول کی پیروی اختیار کر لی پس تو ہم کو (دین حق کی) گواہی دینے والوں میں سے لکھ لے۔

حواری عیسٰی علیہ السلام

مگر عیسٰی علیہ السلام معاندین و مخالفین کی در اندازیوں اور ہرزہ سرائیوں کے

٥٤

صفحہ ٢٨١

باوجود اپنے فرض منصبی ”دعوۃ الی الحق“ میں سرگرم عمل رہتے اور روز و شب بنی اسرائیل کی آبادیوں اور بستیوں میں پیغام حق سناتے اور روشن دلائل اور واضح آیات اللہ کے ذریعہ لوگوں کو قبول حق و صداقت پر آمادہ کرتے رہتے تھے اور خدا اور حکم خدا سے سرکش اور باغی انسانوں کی اس بھیڑ میں ایسی سعید روحیں بھی نکل آتی تھیں جو عیسیٰ علیہ السلام کی دعوت حق پر لبیک کہتی اور سچائی کے ساتھ دین حق کو قبول کر لیتی تھیں، ان ہی پاک بندوں میں وہ مقدس ہستیاں بھی تھیں جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے شرف صحبت سے فیضیاب ہو کر نہ صرف ایمان ہی لے آئی تھیں بلکہ دین حق کی سربلندی اور کامیابی کے لیے انھوں نے جان و مال کی بازی لگا کر خدمت دین کے لیے خود کو وقف کر دیا تھا اور اکثر و بیشتر حضرت مسیح علیہ السلام کے ساتھ رہ کر تبلیغ و دعوت کو سرانجام دیتی تھیں اسی خصوصیت کی وجہ سے وہ ”حواری“ (رفیق) اور ”انصار اللہ“ (اللہ کے دین کے مددگار) کے مقدس القاب سے معزز و ممتاز کی گئیں۔ چنانچہ ان بزرگ ہستیوں نے پیغمبر خدا کی حیات پاک کو اپنا اسوہ بنایا اور سخت سے سخت اور نازک سے نازک حالات میں بھی ان کا ساتھ نہیں چھوڑا اور ہر طرح معاون و مددگار ثابت ہوئیں۔

وَإِذْ أَوْحَيْتُ إِلَى الْحَوَارِيّٖنَ اَنْ اٰمِنُوْا بِيْ وَبِرَسُوْلِيْ قَالُوْا اٰمَنَّا وَاشْهَدْ بِاَنَّنَا مُسْلِمُوْنَ.

(مائدہ ١١١)

يٰاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْا أَنْصَارَ اللّٰهِ كَمَا قَالَ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ لِلْحَوَارِيّٖنَ مَنْ اَنْصَارِيْ إِلَى اللّٰهِ ۙ قَالَ الْحَوَارِيُّوْنَ نَحْنُ أَنْصَارُ اللّٰهِ فَاٰمَنَتْ طَّائِفَةٌ مِّنْ بَنِيْ إِسْرَائِيْلَ وَ كَفَرَتْ طَّائِفَةٌ ۖ فَاَيَّدْنَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا عَلٰى عَدُوِّهِمْ فَاَصْبَحُوْا ظَاهِرِيْنَ.

(الصف ١٤)

اور (اے عیسیٰ وہ وقت یاد کرو) جبکہ میں نے حواریوں کی جانب (تیری معرفت) یہ وحی کی کہ مجھ پر اور میرے پیغمبر پر ایمان لاؤ تو انھوں نے جواب دیا ”ہم ایمان لائے اور اے خدا! تو گواہ رہنا کہ ہم بلاشبہ مسلمان ہیں“ اے ایمان والو! تم اللہ کے (دین کے) مددگار ہو جاؤ جیسا کہ عیسیٰ بن مریم نے جب حواریوں سے کہا: ”اللہ کے راستہ میں کون میرا مددگار ہے“ تو حواریوں نے جواب دیا: ”ہم ہیں اللہ (کی راہ) کے مددگار۔ پس بنی اسرائیل کی ایک جماعت ایمان لائی اور ایک گروہ نے کفر اختیار کیا سو ہم نے مومنوں کی ان کے دشمنوں کے مقابلہ میں تائید کی پس وہ (مومن) غالب رہے۔ (حواری، ناصح، رفیق، مددگار کو کہتے ہیں اور دھوبی کو بھی، آخری معنی میں یہ

٥٥

صفحہ ٢٨٢

مناسبت ہے کہ جس طرح دھوبی کپڑے کو سپید کر دیتا ہے اسی طرح عیسیٰ علیہ السلام کے حواری دل کے میل صاف کر دیا کرتے تھے)

گذشتہ سطور میں یہ واضح ہو چکا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے یہ حواری بیشتر غریب اور مزدور طبقہ میں سے تھے کیونکہ انبیاء علیہم السلام کی دعوت و تبلیغ کے ساتھ ”سنۃ اللّٰہ“ یہی جاری رہی ہے کہ ان کی صدائے حق پر لبیک کہنے اور دین حق پر جان سپاری کا مظاہرہ کرنے کے لیے اوّل غریب اور کمزور طبقہ ہی آگے بڑھتا ہے اور زبردست ہی فدا کاری کا ثبوت دیتے ہیں اور وقت کی صاحب اقتدار اور زبردست ہستیاں اپنے غرور اور گھمنڈ کے ساتھ مقابلہ اور معارضہ کے لیے سامنے آتی اور معاندانہ سرگرمیوں کے ساتھ اعلاء کلمۃ اللّٰہ کی راہ میں سنگ گراں بن جاتی ہیں لیکن جب خدائے تعالیٰ کا قانون پاداش عمل اپنا کام کرتا ہے تو نتیجہ میں فلاح و کامرانی ان کمزور فدایان حق ہی کا حصہ ہو جاتا ہے اور متکبر و مغرور ہستیاں یا ہلاکت کے قعر مذلت میں جا گرتی ہیں اور یا مقہور و مغلوب ہو کر سرنگوں ہو جانے کے ماسوا کوئی چارہ کار نہیں دیکھتیں۔

حواری عیسیٰ علیہ السلام اور قرآن و انجیل کا موازنہ

قرآن عزیز نے عیسیٰ علیہ السلام کے حواریوں کی منقبت بیان کی ہے، سورہ آل عمران کی آیات تمھارے سامنے ہیں، حضرت مسیح علیہ السلام جب دین حق کی نصرت و یاری کے لیے پکارتے ہیں تو سب سے پہلے جنھوں نے ”نحن انصار اللّٰہ“ کا نعرہ بلند کیا وہ یہی پاک ہستیاں تھیں، سورۂ صف میں اللہ رب العالمین نے جب مسلمانوں کو مخاطب کر کے ”کونوا انصار اللّٰہ“ کی ترغیب دی تو ”تذکیر بایام اللّٰہ“ کے پیش نظر ان ہی مقدس ہستیوں کا ذکر کیا اور ان ہی کی مثال اور نظیر دے کر نصرت حق کے لیے برانگیختہ کیا اور سورۂ مائدہ میں ان کے قبول ایمان اور دعوت حق کے سامنے انقیاد و تسلیم کا جو نقشہ کھینچا ہے وہ بھی ان کے خلوص، حق طلبی اور حق کوشی کی زندہ جاوید تصویر ہے۔ یہ سب کچھ تو اس وقت کا حال ہے جب تک حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان کے درمیان موجود ہیں لیکن آپ کے ”رفع الی السماء“ کے بعد بھی ان کی پر استقامت اور دین قویم کی فدا کارانہ خدمت کے متعلق سورۂ صف کی آیت ”فَاَیَّدْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا عَلٰی عَدُوِّہِمْ فَاَصْبَحُوْا ظٰہِرِیْنَ“ (الصف ١٤) میں کافی اشارہ موجود ہے اور شاہ عبدالقادر (نور اللہ مرقدہ) نے اسی بنا پر آیت زیر بحث کی تفسیر کرتے ہوئے تاریخی شہادت کا اس طرح ذکر فرمایا ہے۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعد ان کے یاروں (حواریوں) نے بڑی محنتیں کی

٥٦

صفحہ ٢٨٣

ہیں تب ان کا دین نشر ہوا، ہمارے حضرت کے پیچھے بھی خلیفوں نے اس سے زیادہ کیا۔ مگر اس کے برعکس بائبل (انجیل) بعض مقامات میں اگر ان کی منقبت اور مدح سرائی میں رطب اللسان ہے تو دوسری جانب ان کو بزدل اور منافق ثابت کرتی ہے۔ انجیل یوحنا میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مشہور و معتمد علیہ حواری یہودا کے متعلق اس وقت کا حال جب حضرت یسوع علیہ السلام کو یہودی گرفتار کرنا چاہتے ہیں، اس طرح مذکور ہے۔

”یہ باتیں کہہ کر یسوع اپنے دل میں گھبرایا اور یہ گواہی دی کہ میں تم سے سچ سچ کہتا ہوں کہ تم میں سے ایک شخص مجھے پکڑوائے گا، شاگرد شبہ کر کے کہ وہ کس کی نسبت کہتا ہے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے............ ایک شخص جس سے یسوع محبت کرتا تھا....... اس نے یسوع کی چھاتی کا سہارا لے کر کہا اے خداوند وہ کون ہے؟ یسوع نے جواب دیا کہ جسے میں نوالہ ڈبو کر دے دونگا وہی ہے۔ پھر اس نے نوالہ ڈبو دیا اور لے کر شمعون اسکریوتی کے بیٹے یہوداہ کو دے دیا اور اس نوالہ کے بعد شیطان اس میں سما گیا۔“

(یوحنا باب ١٣ آیت ٢١ تا ٢٧)

اور انجیل متی میں اس شمعون پطرس حواری کے متعلق ”جو بقول اناجیل ساری عمر حضرت یسوع کا پیارا اور معتمد علیہ رہا“ یہ مسطور ہے۔

”شمعون پطرس نے اس سے کہا، اے خداوند تو کہاں جاتا ہے، یسوع نے جواب دیا کہ جہاں میں جاتا ہوں اب تو میرے پیچھے نہیں آ سکتا مگر بعد میں میرے پیچھے آئے گا۔ پطرس نے اس سے کہا، اے خداوند میں اب تیرے پیچھے کیوں نہیں آ سکتا میں تو تیرے لیے اپنی جان دوں گا۔ یسوع نے جواب دیا، کیا تو میرے لیے اپنی جان دے گا؟ میں تجھ سے سچ سچ کہتا ہوں کہ مرغ بانگ نہ دے گا جب تک کہ تو تین بار میرا انکار نہ کرے گا۔“

(متی باب ٢٦ آیت ٣٣، ٣٥)

اور اسی متی باب ٢٦ آیت ٥٦ کی انجیل میں تمام شاگردوں (حواریوں) کی بزدلی اور حضرت یسوع کو بے یار و مددگار چھوڑ کر فرار ہو جانے کا اس طرح ذکر کیا گیا ہے۔

”اس پر سارے شاگرد اسے چھوڑ کر بھاگ گئے۔“ (متی باب ٢٦ آیت ٥٦)

ان حوالہ جات سے تین ایسی باتیں ثابت ہوتی ہیں جن کو کسی طرح بھی عقل و نقل تسلیم کرنے کو تیار نہیں اول یہ کہ جو شاگرد اور حواری حضرت یسوع کے زیادہ قریب، ان کے معتمد علیہ اور ان کی نگاہوں میں محبوب تھے وہ نتیجہ میں نہ صرف بزدل بلکہ

٥٧

صفحہ ٢٨٤

”منافق“ نکلے مگر عقل و نقل کا فیصلہ یہ ہے کہ اگرچہ ہر ایک پیغمبر اور مصلح کی جماعت میں ایک چھوٹا سا گروہ منافقین کا عموماً ہوتا ہے جو اپنی دنیوی اغراض کی خاطر بہ کراہت قلب ظاہر داری کے طور پر شریک جماعت ہونا مفید سمجھتا ہے، مگر ایک مصلح اور پیغمبر کے درمیان ہمیشہ سے یہ فرق رہا ہے کہ مصلح خواہ اپنی جماعت کے منافقین سے پوری طرح آگاہ نہ ہو سکے لیکن نبی اور پیغمبر کو ”وحی الٰہی“ کے ذریعہ شروع سے ہی مخلص اور منافق کی اطلاع دے دی جاتی ہے تاکہ ایک منکر و کافر سے زیادہ جس گروہ سے جماعت حق اور اس کی دعوت و اصلاح کو ضرر پہنچ سکتا ہے نبی اس کے حالات سے غافل نہ رہے۔ پس اسی پر کوئی منافق کسی وقت اور کسی حالت میں بھی نبی اور پیغمبر کا محبوب، معتمد علیہ اور مقرب نہیں ہو سکتا، البتہ یہ ایک جدا امر ہے کہ نبی، دین حق کی مصالح کی وجہ سے اس کے ساتھ اعراض اور درگزر کا طریق عمل مناسب سمجھے جیسا کہ نبی اکرم ﷺ نے اپنے ایک صحابیؓ کے اس سوال پر کہ ”جب آپ ﷺ منافقین کے حالات منافقت سے آگاہ ہیں تو ان کا مقابلہ کرکے کیوں ان کو کیفر کردار تک نہیں پہنچا دیتے تاکہ جماعت مسلمین کو ان کی منافقت سے نجات ملے۔“ یہ جواب دیا ”اس لیے کہ ان کے قبول ایمان کی ظاہر داری کے بعد ہمارے سخت گیر طریقہ کے متعلق غیر مسلموں کو یہ دھوکا نہ ہو کہ وہ کہہ اٹھیں ”محمد ﷺ، اپنے ساتھیوں کو بھی قتل کرنے سے نہیں چوکتے۔“

دوسری بات یہ ثابت ہوتی ہے کہ یہوداہ کے اندر شیطان نے اس وقت حلول کیا جب حضرت یسوع نے اپنے ہاتھ سے اس کو نوالہ ڈبو کر دیا، مگر یہ بات بھی اس لیے عقل و نقل کے خلاف ہے کہ بزرگوں اور مقدس انسانوں کے ہاتھوں سے جو کچھ ہوتا ہے اس کا اثر برکت، طہارت اور تقدیس تو ہوا کرتا ہے لیکن شیطان کا حلول اور بدی کا نفوذ نہیں ہوا کرتا، بیشک یہ درست ہے کہ جب حق کا ترازو قائم ہوتا ہے تو اس سے کھرا اور کھوٹا دونوں کی حقیقت کا انکشاف ہو جایا کرتا ہے لیکن یہ کبھی نہیں ہوتا کہ اس پیمانہ کے مس کرنے سے کسی کھرے میں کھوٹ پیدا ہو جائے اور انجیل کے اس بیان میں صورت حال پہلی نہیں بلکہ دوسری ہے۔

تیسری بات یہ کہ حضرت یسوع کے تمام ان حواریوں میں سے ”جن کی مدح و ستائش میں جگہ جگہ بائبل رطب اللسان ہے“ ایک، دو یا دس، پانچ نہیں سب کے سب نہایت بزدلی اور غداری کے ساتھ اس وقت حضرت مسیح سے کنارہ کش ہو گئے جب دین حق کی حمایت و نصرت کے لیے سب سے زیادہ ان کی ضرورت تھی اور جبکہ پیغمبر خدا

٥٨

صفحہ ٢٨٥

(علیہ الصلوٰۃ والسلام) دشمنوں کے نرغہ میں پھنسے ہوئے تھے۔

مگر انجیل کی اس شہادت کے خلاف، سورۂ آل عمران میں قرآن عزیز نے یہ شہادت دی ہے کہ اس نازک وقت میں جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے حواریوں کو دین حق کی نصرت و یاری کے لیے پکارا تو سب نے اولوالعزمی اور فدا کارانہ جذبہ کے ساتھ یہ جواب دیا ”نحن انصار اللّٰہ“ اور پھر حضرت مسیح کے سامنے اپنی استقامت دین اور اپنے مخلصانہ ایمان کے متعلق شہادت دے کر نصرت کا پورا پورا یقین دلایا اور پھر سورۂ صف میں قرآن عزیز نے یہ بھی ظاہر کیا کہ ان حواریوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے جو کچھ کہا تھا ان کی موجودگی میں اور ان کے بعد سچی وفاداری کے ساتھ نبھایا اور بلاشبہ مومنین صادقین ثابت ہوئے اور اس لیے اللہ تعالیٰ نے بھی ان کی مدد فرمائی اور ان کو دشمنان حق کے مقابلہ میں کامیاب کیا۔

انجیل اور قرآن کے اس موازنہ کو دیکھ کر ایک انصاف پسند یہ کہے بغیر نہیں رہ سکتا کہ اس معاملہ میں ”حق“ قرآن کے ساتھ ہے اور علماء نصاریٰ نے انجیل میں تحریف کر کے اس قسم کے گھڑے ہوئے واقعات کا اضافہ اس لیے کیا ہے تا کہ صدیوں بعد کے خود ساختہ عقیدہ ”صلیب مسیح“ سے متعلق یہ داستان صحیح ترتیب پر قائم ہو سکے کہ جب مسیح علیہ السلام کو صلیب پر لٹکایا گیا تو انھوں نے یہ کہتے کہتے جان دے دی ”ایلی ایلی لما سبقتنی اے خدا! اے خدا! تو نے مجھے کیوں یکہ و تنہا چھوڑ دیا“ اور کسی ایک شخص نے بھی مسیح کا ساتھ نہ دیا۔ بہر حال حواریوں سے متعلق بائبل کی یہ تصریحات محرف اور خود ساختہ داستان سرائی سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتیں۔

نزول مائدہ: مخلص اور فدا کار حواریوں کی جماعت اگرچہ صادق الایمان اور راسخ الاعتقاد تھی مگر علمی و مجلسی تکلفات گفت و شنید کے لحاظ سے سادہ لوح اور ضروریات زندگی کے سر و سامان کے اعتبار سے غرباء اور ضعفاء کی جماعت تھی اس لیے انھوں نے از راہ سادگی و سادہ دلی حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے یہ درخواست کی کہ جس خدائے برتر میں یہ لامحدود طاقت ہے کہ اس کا ایک نمونہ آپ کی ذات اقدس اور وہ نشان (معجزات) ہیں خدائے تعالیٰ نے جن کو آپ کی تصدیق نبوت و رسالت کے لیے آپ کے ہاتھ پر ظاہر فرمایا اس خدا میں یہ طاقت بھی ضرور ہو گی کہ وہ ہمارے لیے غیب سے ایک دسترخوان نازل کر دیا کرے تا کہ ہم روزی کمانے کی فکر سے آزاد ہو کر باطمینان قلب یاد خدا اور دین حق کی دعوت و تبلیغ میں مصروف رہا کریں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے یہ سن کر ان

٥٩

صفحہ ٢٨٦

کو نصیحت فرمائی کہ اگرچہ خدا کی طاقت بے غایت اور بے نہایت ہے لیکن کسی سچے بندہ کے لیے یہ زیبا نہیں کہ وہ اس طرح خدا کو آزمائے، پس خدا سے ڈرو اور ایسے خیالات سے بچو، یہ سن کر حواریوں نے جواب دیا ”ہم اور خدا کو آزمائیں، حاشا ہمارا یہ مقصد نہیں ہمارا تو یہ مطلب ہے کہ رزق کی جدوجہد سے دل کو مطمئن کر کے خدا کے اس عطیہ کو زندگی کا سہارا بنا لیں اور آپ کی تصدیق میں ہم کو حق الیقین کا اعتقاد راسخ حاصل ہو جائے اور ہم اس خدائی پر کائنات انسانی کے لیے شاہد عدل بن جائیں۔“

حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے جب ان کا بڑھتا ہوا اصرار دیکھا تو بارگاہ الٰہی میں دعا کی۔ اے خدا! تو ان کے سوال کو پورا کر اور آسمان سے ایسا مائدہ (دسترخوان نعمت) نازل فرما کہ وہ ہمارے لیے تیرے غضب کا مظہر ثابت نہ ہو بلکہ ہمارے اوّل و آخر سب کے لیے خوشی کی یادگار (عید) بن جائے اور تیرا ”نشان“ کہلائے اور اس ذریعہ سے ہم کو اپنے غیبی رزق سے شاد کام کرے کیونکہ تو ہی بہتر رزق رساں ہے“ اس دعاء کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے وحی نازل فرمائی: عیسیٰ! تمہاری دعاء قبول ہے، میں اس کو ضرور نازل کروں گا، لیکن یہ واضح رہے کہ اس کھلی نشانی نازل ہونے کے بعد اگر ان میں سے کسی نے بھی خدا کے حکم کی خلاف ورزی کی تو پھر ان کو عذاب بھی ایسا ہولناک دوں گا جو کائنات کے کسی انسان کو نہیں دیا جائے گا۔

قرآن عزیز نے نزول مائدہ کے واقعہ کا اس معجزانہ اسلوب بیان کے ساتھ ذکر کیا ہے۔

اِذْ قَالَ الْحَوَارِيُّوْنَ يٰعِيْسَى بْنَ مَرْيَمَ هَلْ يَسْتَطِيْعُ رَبُّكَ اَنْ يُّنَزِّلَ عَلَيْنَا مَآئِدَةً مِّنَ السَّمَآءِ قَالَ اتَّقُوا اللّٰهَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ ۝ قَالُوْا نُرِيْدُ اَنْ نَّاْكُلَ مِنْهَا وَتَطْمَئِنَّ قُلُوْبُنَا وَنَعْلَمَ اَنْ قَدْ صَدَقْتَنَا وَ نَكُوْنَ عَلَيْهَا مِنَ الشّٰهِدِيْنَ ۝ قَالَ عِيْسَى بْنُ مَرْيَمَ اللّٰهُمَّ رَبَّنَآ اَنْزِلْ عَلَيْنَا مَآئِدَةً مِّنَ السَّمَآءِ تَكُوْنُ لَنَا عِيْدًا لِّاَوَّلِنَا وَاٰخِرِنَا وَ اٰيَةً مِّنْكَ وَارْزُقْنَا وَاَنْتَ خَيْرُ الرّٰزِقِيْنَ ۝ قَالَ اللّٰهُ اِنِّيْ مُنَزِّلُهَا عَلَيْكُمْ فَمَنْ يَّكْفُرْ بَعْدُ مِنْكُمْ فَاِنِّيْٓ اُعَذِّبُهٗ عَذَابًا لَّاۤ اُعَذِّبُهٗٓ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِيْنَ ۝

(مائدہ ١١٢، ١١٥)

اور (دیکھو) جب ایسا ہوا تھا کہ حواریوں نے کہا تھا اے عیسیٰ بن مریم! کیا تمہارا پروردگار ایسا کرسکتا ہے کہ آسمان سے ہم پر ایک خوان اتاردے؟ (یعنی ہماری غذا کے لیے آسمان سے غیبی سامان کردے) عیسیٰ نے کہا خدا سے ڈرو (اور ایسی فرمائشیں نہ کرو) اگر تم ایمان رکھتے ہو۔ انھوں نے کہا (مقصود اس سے قدرت الٰہی کا امتحان نہیں

٦٠

صفحہ ٢٨٧

ہے بلکہ ) ہم چاہتے ہیں (ہمیں غذا میسر آئے، تو) اس میں سے کھائیں اور ہمارے دل آرام پائیں اور ہم جان لیں کہ تو نے ہمیں سچ بتلایا تھا، اور اس پر ہم گواہ ہو جائیں۔ اس پر عیسیٰ بن مریم نے دعا کی ”اے اللہ! اے ہمارے پروردگار! ہم پر آسمان سے ایک خوان بھیج دے کہ اس کا آنا ہمارے لیے اور ہمارے اگلوں اور پچھلوں سب کے لیے عید قرار پائے اور تیری طرف سے (فضل و کرم کی) ایک نشانی ہو، ہمیں روزی دے تو سب سے بہتر روزی دینے والا ہے۔“ اللہ نے فرمایا ”میں تمھارے لیے خوان بھیجوں گا، لیکن جو شخص اس کے بعد بھی (راہ حق سے) انکار کرے گا تو میں اسے (پاداش عمل میں) عذاب دوں گا۔ ایسا عذاب کہ تمام دنیا میں کسی آدمی کو بھی ویسا عذاب نہیں دیا جائے گا۔

یہ مائدہ نازل ہوا یا نہیں؟ قرآن عزیز نے اس کے متعلق کوئی تفصیل نہیں بیان کی اور نہ کسی مرفوع حدیث میں اس کا کوئی تذکرہ پایا جاتا ہے البتہ آثار صحابہ و تابعین رضی اللہ عنہم میں ضرور تفصیلات مذکور ہیں۔

مجاہد اور حسن بصری رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ مائدہ کا نزول نہیں ہوا اس لیے کہ خدائے تعالیٰ نے اس کے نزول کو جس شرط کے ساتھ مشروط کر دیا طلب کرنے والوں نے یہ محسوس کرتے ہوئے کہ انسان ضعیف البنیان اور کمزوریوں کا مجسمہ ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ کسی لغزش یا معمولی خلاف ورزی کی بدولت اس درد ناک عذاب کے سزاوار ٹھہریں اپنے سوال کو واپس لے لیا، علاوہ ازیں اگر مائدہ کا نزول ہوا ہوتا تو ایسا نشان الٰہی (معجزہ) تھا کہ نصاریٰ اس پر جس قدر بھی فخر کرتے وہ کم تھا اور ان کے یہاں اس کی جس قدر بھی شہرت ہوتی وہ بے جا نہیں ہوتی تاہم ان کے یہاں اس نزول مائدہ کا اس طرح کوئی تذکرہ نہیں پایا جاتا ہے۔ (تفسیر ابن کثیر جلد ٢ ص ١١٦ مگر یوحنا کی انجیل باب ٦ میں تو یہ اشارہ پایا جاتا ہے کہ یہ واقعہ ”عید فصح“ کے موقعہ پر پیش آیا)

اور حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ یہ واقعہ پیش آیا اور مائدہ کا نزول ہوا، جمہور کا رجحان اسی جانب ہے البتہ اس کے نزول کی تفصیلات میں مختلف اقوال پائے جاتے ہیں۔ مثلاً صرف ایک دن نازل ہوا، یا چالیس روز تک نازل ہوتا رہا؟ اور پھر اترنا بند ہو گیا تو کیوں؟ اور صرف یہی ہوا کہ نازل نہ ہوا یا جن لوگوں کی خلاف ورزی کی وجہ سے بند ہوا ان پر سخت قسم کا عذاب بھی آ پہنچا؟ جو نقول یہ کہتی ہیں کہ مائدہ کا نزول صرف ایک دن نہیں بلکہ چالیس دن تک برابر جاری رہا وہ بند ہو جانے کا سبب یہ بیان کرتی ہیں کہ نزول مائدہ پر حکم یہ

٦١

صفحہ ٢٨٨

ہوا کہ اس کو فقیر، مسکین اور مریض ہی کھائیں تونگر اور بھلے چنگے نہ کھائیں مگر چند روز تعمیل کے بعد لوگوں نے آہستہ آہستہ اس کی خلاف ورزی شروع کر دی یا یہ حکم ملا تھا کہ اس کو کھائیں سب مگر اگلے روز کے لیے ذخیرہ نہ کریں مگر کچھ عرصہ کے بعد اس کی خلاف ورزی ہونے لگی اور نتیجہ یہ نکلا کہ نہ صرف مائدہ کا نزول ہی بند ہو گیا بلکہ خلاف ورزی کرنے والے خنزیر اور بندر کی شکل میں مسخ کر دیے گئے۔ (نزول مائدہ کا سوال اگرچہ کیا تھا حواریوں نے مگر کیا تھا سب کی جانب سے اس لیے یہ واضح رہے کہ جن نقول میں خلاف ورزی اور اس سے متعلق عذاب کا ذکر ہے ان کا اشارہ حواریوں میں سے کسی کی جانب مطلق نہیں ہے کیونکہ یہ بات نصوص قرآنی کے خلاف ہے)

بہر حال ان آثار میں جو قدر مشترک ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب عیسیٰ علیہ السلام کی دعا قبول فرمالی تو مشیت باری کا یہ حکم ہوا کہ مائدہ تیار ہو چنانچہ لوگوں کی آنکھوں دیکھتے خدا کے فرشتے فضاء آسمانی سے اس کو لے کر اترے ادھر فرشتے آہستہ آہستہ اس کو لیے ہوئے اتر رہے تھے اور ادھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام انتہائی خشوع و خضوع کے ساتھ درگاہ الٰہی میں دست بدعا تھے کہ مائدہ آ پہنچا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اوّل دو رکعت نماز شکر ادا کی اور پھر مائدہ (خوان) کو کھولا تو اس میں تلی ہوئی مچھلیاں اور تر و تازہ پھل اور روٹیاں موجود پائیں اور خوان کھولتے ہی ایسی نفیس خوشبو نکلی کہ اس کی مہک نے سب کو مست کر دیا، حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ کھائیں مگر لوگوں نے اصرار کیا کہ ابتداء آپ کریں، آپ نے ارشاد فرمایا، یہ میرے لیے نہیں ہے تمہاری طلب پر نازل ہوا ہے، یہ سن کر سب گھبرائے کہ نہ معلوم اس کا نتیجہ کیا ہو کہ خدا کا رسول تو نہ کھائے اور ہم کھائیں آپ نے یہ دیکھ کر ارشاد فرمایا ”اچھا فقراء، مساکین، معذورین اور مریضوں کو بلاؤ یہ ان کا حق ہے۔“ تب ہزارہا بندگان خدا نے شکم سیر ہو کر کھایا مگر مائدہ کی مقدار میں کوئی فرق نہیں آیا۔

اس مسئلہ میں حضرت شاہ عبدالقادر (نور اللہ مرقدہ) مجاہد اور حسن بصری رحمہم اللہ کے ہم نوا معلوم ہوتے ہیں اور نزول مائدہ سے متعلق ان دونوں جماعتوں سے الگ ایک اور لطیف بات ارشاد فرماتے ہیں۔ موضح القرآن میں ہے۔

(ھل یستطیع) ”ہو سکے“ یہ معنی کہ ہمارے واسطے تمہاری دعا سے اس قدر خرق عادت کرے یا نہ کرے۔ فرمایا (اتقوا اللہ) ”ڈرو اللہ سے“ یعنی بندہ کو چاہیے کہ اللہ کو نہ آزمائے کہ میرا کہا مانتا ہے یا نہیں اگرچہ خاوند (آقا و مالک) بہتیری مہربانی

٦٢

صفحہ ٢٨٩

کرے۔ ”ونكون عليها من الشهدين“ یعنی برکت کی امید پر مانگتے ہیں اور (تاکہ) معجزہ ہمیشہ مشہور ہے، آزمانے کو نہیں۔ کہتے ہیں وہ خوان اترا یکشنبہ کو وہ نصاریٰ کی عید ہے جیسے ہم کو روز جمعہ۔

بعضے کہتے ہیں وہ خوان اترا چالیس روز تک اور پھر بعضوں نے ناشکری کی یعنی حکم ہوا تھا کہ فقراء اور مریض کھائیں نہ محفوظ (تونگر) اور چنگے پھر قریب اسی آدمی سور اور بندر ہو گئے (مگر) یہ عذاب پہلے یہود میں ہوا تھا پیچھے کسی کو نہیں ہوا۔

اور بعضے کہتے ہیں (مائدہ) نہ اترا، تہدید سن کر مانگنے والے ڈر گئے نہ مانگا، لیکن پیغمبر کی دعا عبث نہیں اور اس کلام (قرآن) میں نقل کرنا بے حکمت نہیں، شاید اس دعا کا اثر یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی امت (نصاریٰ) میں آسودگی مال سے ہمیشہ رہی اور جو کوئی ان میں ناشکری کرے تو شاید آخرت میں سب سے زیادہ عذاب پائے۔ اس میں مسلمان کو عبرت ہے کہ اپنا مدعا خرق عادت کی راہ سے نہ چاہے پھر اس کی شکر گزاری بہت مشکل ہے، اسباب ظاہری پر قناعت کرے تو بہتر ہے۔ اس قصہ میں بھی ثابت ہوا کہ حق تعالیٰ کے آگے حمایت پیش نہیں کی جاتی۔ (موضح القرآن سورہ مائدہ)

اس سلسلہ میں حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے موعظت و بصیرت سے متعلق بہت خوب بات ارشاد فرمائی ہے۔

عیسیٰ علیہ السلام سے ان کی قوم نے نزول مائدہ کی درخواست کی تو اللہ تعالیٰ کی جانب سے جواب ملا ”تمہاری درخواست اس شرط کے ساتھ منظور کی جاتی ہے کہ نہ اس میں خیانت کرنا، نہ اس کو چھپائے رکھنا اور نہ اس کو ذخیرہ کرنا ورنہ یہ بند کر دیا جائے گا اور تم کو ایسا عبرتناک عذاب دوں گا جو کسی کو نہ دیا جائے گا۔“

اے معشر عرب! تم اپنی حالت پر غور کرو کہ اونٹوں اور بکریوں کی دم پکڑ کر جنگلوں میں چراتے پھرتے تھے، پھر خدائے تعالیٰ نے اپنی رحمت سے تمھارے درمیان ہی سے ایک برگزیدہ رسول مبعوث فرمایا جس کے حسب ونسب سے تم اچھی طرح واقف ہو، اس نے تم کو یہ خبر دی کہ عنقریب تم عجم پر غالب آ جاؤ گے اور اس پر چھا جاؤ گے اور اس نے تم کو سختی کے ساتھ منع فرمایا کہ مال و دولت کی فراوانی دیکھ کر ہرگز تم چاندی اور سونے کے خزانے جمع نہ کرنا مگر قسم بخدا کہ زیادہ لیل و نہار نہ گزریں گے کہ تم ضرور سونے چاندی کے خزانے جمع کرو گے اور اس طرح خدائے برتر کے درد ناک عذاب کے مستحق بنو گے۔

(ابن کثیر ج ٢ سورہ مائدہ)

٦٣

صفحہ ٢٩٠

”رفع الی السماء“ یعنی زندہ آسمان پر اٹھا لیا جانا

حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے نہ شادی کی اور نہ بود و ماند کے لیے گھر بنایا، وہ شہر شہر اور گاؤں گاؤں خدا کا پیغام سناتے اور دین حق کی دعوت و تبلیغ کا فرض انجام دیتے اور جہاں بھی رات آ پہنچتی وہیں کسی سر و سامان راحت کے بغیر شب بسر کر دیتے تھے اور چونکہ ان کی ذات اقدس سے مخلوق خدا جسمانی و روحانی دونوں طرح کی شفاء اور تسکین پاتی تھی اس لیے جس جانب بھی ان کا گزر ہو جاتا خلقت کا انبوہ حسن عقیدت کے ساتھ جمع ہو جاتا اور والہانہ محبت کے ساتھ ان پر نثار ہو جانے کو تیار رہتا تھا۔

یہود کو اس دعوت حق کے ساتھ جو بغض و عناد تھا اس نے اس بڑھتی ہوئی مقبولیت کو انتہائی حسد اور سخت خطرہ کی نگاہ سے دیکھا اور جب ان کے مسخ شدہ قلوب کسی طرح اس کو برداشت نہ کر سکے تو ان کے سرداروں، فقیہوں، فریسیوں اور صدوقیوں نے ذات اقدس کے خلاف سازش شروع کی اور طے یہ پایا کہ اس ہستی کے خلاف کامیابی حاصل کرنے کی بجز اس کے کوئی صورت نظر نہیں آتی کہ بادشاہ وقت کو مشتعل کر کے اس کو دار پر چڑھا دیا جائے۔

گذشتہ چند صدیوں سے یہود کے ناگفتہ بہ حالات کی بدولت اس زمانہ میں یہودیہ کے بادشاہ ہیرودیس کی حکومت اپنے باپ دادا کے علاقہ میں سے بمشکل ایک چوتھائی پر قائم تھی اور وہ بھی برائے نام اور اصل حکومت و اقتدار، وقت کے بت پرست شہنشاہ قیصر روم کو حاصل تھا اور اس کی نیابت میں پلاطیس یہودیہ کے اکثر علاقہ کا گورنر یا بادشاہ تھا۔

یہود اگرچہ اس بت پرست بادشاہ کے اقتدار کو اپنی بدبختی سمجھ کر اس سے متنفر تھے مگر حضرت مسیح علیہ السلام کے خلاف قلوب میں مشتعل حسد کی آگ نے اور صدیوں کی غلامی سے پیدا شدہ پست ذہنیت نے ایسا اندھا کر دیا کہ انجام اور نتیجہ کی فکر سے بے پرواہ ہو کر پلاطیس کے دربار میں جا پہنچے اور عرض کیا: ”عالی جاہ! یہ شخص نہ صرف ہمارے لیے بلکہ حکومت کے لیے بھی خطرہ بنتا جا رہا ہے اگر فوراً ہی اس کا استیصال نہ کر دیا گیا تو نہ ہمارا دین ہی صحیح حالت میں باقی رہ سکے گا اور اندیشہ ہے کہ کہیں آپ کے ہاتھ سے حکومت کا اقتدار بھی نہ چلا جائے اس لیے کہ اس شخص نے عجیب و غریب شعبدے دکھا کر خلقت کو اپنا گرویدہ بنا لیا ہے اور ہر وقت اس گھات میں لگا ہے کہ عوام کی اس طاقت کے بل پر قیصر اور آپ کو شکست دے کر خود بنی اسرائیل کا بادشاہ بن جائے۔ اس

٦٤

صفحہ ٢٩١

شخص نے لوگوں کو صرف دنیاوی راہ سے ہی گمراہ نہیں کیا بلکہ اس نے ہمارے دین تک کو بھی بدل ڈالا اور لوگوں کو بددین بنانے میں منہمک ہے پس اس فتنہ کا انسداد از بس ضروری ہے تا کہ بڑھتا ہوا یہ فتنہ ابتدائی منزل ہی میں کچل ڈالا جائے۔‘‘

غرض کافی گفت و شنید کے بعد پلاطیس نے ان کو اجازت دے دی کہ وہ حضرت مسیح علیہ السلام کو گرفتار کر لیں اور شاہی دربار میں مجرم کی حیثیت سے پیش کریں، بنی اسرائیل کے سردار، فقیہ اور کاہن یہ فرمان حاصل کر کے بیحد مسرور ہوئے اور فخر و مباہات کے ساتھ ایک دوسرے کو مبارکباد دینے لگے کہ آخر ہماری سازش کارگر ہوئی اور ہماری تدبیر کا تیر ٹھیک نشانہ پر بیٹھ گیا اور کہنے لگے کہ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ خاص موقعہ کا منتظر رہا جائے اور کسی خلوت اور تنہائی کے موقعہ پر اس طرح اس کو گرفتار کیا جائے کہ عوام میں ہیجان نہ ہونے پائے۔ انجیل یوحنا میں اس واقعہ سے متعلق یہ کہا گیا ہے۔

’’پس سردار کاہنوں اور فریسیوں نے صدر عدالت کے لوگوں کو جمع کر کے کہا ہم کرتے کیا ہیں؟ یہ آدمی تو بہت معجزے دکھاتا ہے، اگر ہم اسے یونہی چھوڑ دیں تو سب اس پر ایمان لے آئیں گے اور رومی آ کر ہماری جگہ اور قوم دونوں پر قبضہ کر لیں گے اور ان میں سے کائفا نام ایک شخص نے جو اس سال سردار کاہن تھا ان سے کہا تم کچھ نہیں جانتے اور نہ سوچتے ہو کہ تمھارے لیے یہی بہتر ہے کہ ایک آدمی امت کے واسطے مرے نہ کہ ساری قوم ہلاک ہو۔

(یوحنا باب ١١ آیت ٤٧ تا ٥٠)

یہ اس مشورہ کا تذکرہ ہے جو بادشاہ کے پاس جانے سے قبل آپس میں ہوا اور یہ خطرہ ظاہر کیا گیا کہ اگر اس ہستی کو یونہی چھوڑ دیا گیا تو بادشاہ وقت (قیصر) کہیں سلطنت کے لیے خطرہ سمجھ کر رہی سہی برائے نام حکومت یہود کا بھی خاتمہ نہ کر دے۔

اور مرقس کی انجیل میں ہے۔

دو دن کے بعد فصح اور عید فطیر ہونے والی تھی اور سردار کاہن اور فقیہ موقعہ ڈھونڈ رہے تھے کہ اسے کیونکر فریب سے پکڑ کر قتل کریں کیونکہ کہتے تھے کہ عید کو نہیں ایسا نہ ہو کہ لوگوں کا بلوہ ہو جائے۔

(مرقس ١٤، آیت ١، ٢)

دوسری جانب حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے حواریوں کے مکالمہ کو سورۂ آل عمران اور سورۂ صف کے حوالہ سے نقل کیا جا چکا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے جب یہود کے کفر و انکار اور معاندانہ ریشہ دوانیوں کو محسوس کیا تو ایک جگہ اپنے حواریوں کو جمع کیا اور ان سے فرمایا کہ بنی اسرائیل کے سرداروں اور کاہنوں کی معاندانہ سرگرمیاں تم

٦٥

صفحہ ٢٩٢

سے پوشیدہ نہیں ہیں۔ اب وقت کی نزاکت اور کڑی آزمائش و امتحان کی گھڑی کی قربت تقاضا کرتی ہے کہ میں تم سے سوال کروں کہ تم میں کون وہ افراد ہیں جو اس کفر و انکار کے سیلاب کے سامنے سینہ سپر ہو کر خدا کے دین کے ناصر و مددگار بنیں گے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا یہ ارشاد مبارک سن کر سب نے بڑے جوش و خروش اور صداقت ایمانی کے ساتھ جواب دیا ”ہم ہیں اللہ کے مددگار، خدائے واحد کے پرستار، آپ گواہ رہیں کہ ہم مسلم وفا شعار ہیں اور درگاہ باری میں اپنی اس اطاعت کوشی پر استقامت کے لیے یوں دست بدعا ہیں، اے پروردگار! ہم تیری اتاری ہوئی کتاب پر ایمان لے آئے اور صدق دل کے ساتھ تیرے پیغمبر کے پیرو ہیں، خدایا! تو ہم کو صداقت و حقانیت کے فداکاروں کی فہرست میں لکھ لے“

حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے فریضہ دعوت و تبلیغ کے خلاف یہود بنی اسرائیل کی مخالفانہ سرگرمیوں سے متعلق حالات کا یہ حصہ تو اکثر و بیشتر ایسا ہے کہ قرآن اور انجیل کے درمیان اصولاً اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے لیکن اس کے مابعد کے پورے حصہ بیان میں دونوں ہی قطعاً جدا جدا راہیں ہیں اور ان کے درمیان اس درجہ تضاد ہے کہ کسی طرح بھی ایک کو دوسری راہ کے قریب نہیں لایا جاسکتا۔ البتہ اس جگہ پہنچ کر یہود اور نصاریٰ دونوں کا باہمی اتحاد ہو جاتا ہے اور دونوں کے بیانات واقعہ سے متعلق ایک ہی عقیدہ پیش کرتے ہیں، فرق ہے تو یہ کہ یہود اس واقعہ کو اپنا کارنامہ اور اپنے لیے باعث فخر سمجھتے ہیں اور نصاریٰ اس کو یہود بنی اسرائیل کی ایک قابل لعنت جدوجہد یقین کرتے ہیں۔

یہود اور نصاریٰ دونوں کا مشترک بیان یہ ہے کہ یہود کے سرداروں اور کاہنوں کو یہ اطلاع ملی کہ اس وقت یسوع علیہ السلام لوگوں کی بھیڑ سے الگ اپنے شاگردوں کے ساتھ ایک بند مکان میں موجود ہیں، یہ موقع بہترین ہے، اس کو ہاتھ سے نہ دیجیے، فوراً ہی یہ لوگ موقع پر پہنچ گئے اور چاروں طرف سے مکان کا محاصرہ کر کے یسوع علیہ السلام کو گرفتار کر لیا اور توہین و تذلیل کرتے ہوئے پلاطیس کے دربار میں لے گئے تاکہ وہ ان کو سولی پر لٹکائے اور اگرچہ پلاطیس نے عیسیٰ علیہ السلام کو بے قصور سمجھ کر چھوڑ دینا چاہا مگر بنی اسرائیل کے اشتعال پر مجبوراً سپاہیوں کے حوالہ کر دیا، سپاہیوں نے ان کو کانٹوں کا تاج پہنایا، منہ پر تھوکا، کوڑے لگائے اور ہر طرح کی توہین و تذلیل کرنے کے بعد مجرموں کی طرح سولی پر لٹکا دیا اور دونوں ہاتھوں میں میخیں ٹھونک دیں، سینہ کو برچھی کی انی سے چھید دیا اور اس کسمپرسی کی حالت میں انھوں نے یہ کہتے ہوئے جان دے

٦٦

صفحہ ٢٩٣

دی ”ایلی ایلی لما سبقتنی“ انجیل متی میں اس واقعہ کی تفصیلات کو ان الفاظ کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔

سردار کاہن نے اس سے کہا: میں تجھے زندہ خدا کی قسم دیتا ہوں کہ اگر تو خدا کا بیٹا مسیح ہے تو ہم سے کہہ دے۔ یسوع نے اس سے کہا: تو نے خود کہہ دیا بلکہ میں تم سے کہتا ہوں کہ اس کے بعد تم ابن آدم کو قادر مطلق کی دہنی طرف بیٹھے اور آسمان کے بادلوں پر آتا دیکھو گے، اس پر سردار کاہن نے یہ کہہ کر اپنے کپڑے پھاڑے کہ اس نے کفر بکا ہے، اب ہمیں گواہوں کی کیا حاجت رہی، دیکھو تم نے ابھی یہ کفر سنا ہے تمہاری کیا رائے ہے، انھوں نے جواب میں کہا: وہ قتل کے لائق ہے، اس پر انھوں نے اس کے منہ پر تھوکا اور اس کے مکے مارے اور بعض نے طمانچے مار کر کہا ”اے مسیح ہمیں نبوت سے بتا کہ تجھے کس نے مارا (متی باب ٢٦ ٦٧ تا ٦٨) جب صبح ہوئی تو سب سردار کاہنوں اور قوم کے بزرگوں نے یسوع کے خلاف مشورہ کیا کہ اسے مار ڈالیں اور اسے باندھ کر لے گئے اور پیلاطیس حاکم کے حوالہ کیا (متی باب ٢٧ آیت ١۔٢) اور حاکم کا دستور تھا کہ عید پر لوگوں (بنی اسرائیل) کی خاطر ایک قیدی جسے وہ چاہتے تھے چھوڑ دیتا تھا، اس وقت برابا نام ان کا ایک مشہور قیدی تھا پس جب وہ اکٹھے ہوئے تو پیلاطیس نے ان سے کہا تم کسے چاہتے ہو کہ میں تمہاری خاطر چھوڑ دوں؟ برابا کو یا یسوع کو جو مسیح کہلاتا ہے؟ (متی باب ٢٧ آیت ١٥ تا ١٧) وہ بولے برابا کو پیلاطیس نے ان سے کہا پھر یسوع کو جو مسیح کہلاتا ہے کیا کروں؟ سب نے کہا اس کو صلیب دی جائے اس نے کہا کہ کیوں؟ اس نے کیا برائی کی ہے؟ مگر وہ اور بھی چلا چلا کر بولے کہ اس کو صلیب دی جائے، جب پیلاطیس نے دیکھا کہ کچھ بن نہیں پڑتا الٹا بلوہ ہوتا جاتا ہے تو پانی لے کر لوگوں کے روبرو اپنے ہاتھ دھوئے اور کہا: ”میں اس راست باز کے خون سے بری ہوں تم جانو“ سب لوگوں نے جواب دے کر کہا: ”کہ اس کا خون ہماری اور ہماری اولاد کی گردن پر“ اس پر اس نے برابا کو ان کی خاطر چھوڑ دیا اور یسوع کو کوڑے لگوا کر حوالے کیا تا کہ صلیب دی جائے۔ اس پر حاکم کے سپاہیوں نے یسوع کو قلعہ میں لے جا کر ساری پلٹن اس کے گرد جمع کی اور اس کے کپڑے اتار کر اسے قرمزی چوغہ پہنایا اور کانٹوں کا تاج بنا کر اس کے سر پر رکھا اور ایک سرکنڈا اس کے دہنے ہاتھ میں دیا اور اس کے آگے گھٹنے ٹیک کر اسے ٹھٹھوں میں اڑانے لگے کہ اے یہودیوں کے بادشاہ۔ آداب۔ اور اس پر تھوکا اور وہی سرکنڈا لے کر اس کے سر پر مارنے لگے اور جب اس کا ٹھٹھا کر چکے تو چوغے کو

٦٧

صفحہ ٢٩٤

اس پر سے اتار کر پھر اس کے کپڑے اسے پہنائے اور صلیب دینے کو لے گئے۔ (متی باب ٢٧ آیت ٢٧ تا ٣١) اس وقت اس کے ساتھ دو ڈاکو صلیب پر چڑھائے گئے۔ ایک دائیں اور ایک بائیں اور راہ چلنے والے سر ہلا ہلا کر اس کو لعن طعن کرتے اور کہتے تھے۔ اے مقدس کے ڈھانے والے اور تین دن میں بنانے والے اپنے تئیں بچا، اگر تو خدا کا بیٹا ہے تو صلیب پر سے اتر آ اسی طرح سردار کاہن بھی فقیہوں اور بزرگوں کے ساتھ مل کے ٹھٹھے کے ساتھ کہتے تھے اس نے اوروں کو بچایا اپنے تئیں نہیں بچا سکتا۔

(متی باب ٢٧ آیت ٣٨ تا ٤٢)

اور دوپہر سے لے کر تیسرے پہر تک تمام ملک میں اندھیرا چھایا رہا اور تیسرے پہر کے قریب یسوع نے بڑی آواز سے چلا کر کہا: ”ایلی، ایلی لما سبقتنی“ (اے میرے خدا! اے میرے خدا! تو نے مجھ کو کیوں چھوڑ دیا) جو وہاں کھڑے تھے ان میں سے بعض نے سن کر کہا، یہ ایلیا کو پکارتا ہے ...... یسوع پھر بڑی آواز سے چلایا کہ جان دے دی۔

(متی باب ٢٧ آیت ٤٥ تا ٥٠)

تفصیلات میں کم و بیش فرق کے ساتھ یہی مفروضہ داستان باقی تینوں انجیلوں میں بھی مذکور ہے، چاروں انجیلوں کی یہ متفقہ مگر مفروضہ داستان کا مطالعہ کرنے کے بعد طبیعت پر قدرتی اثر یہ پڑتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کی موت انتہائی بیکسی اور بے بسی کی حالت میں درد ناک طریقہ سے ہوئی اور اگرچہ خدا کے پاک اور مقدس بندوں کے لیے یہ کوئی انوکھی بات نہ تھی بلکہ مقربین بارگاہ صمدی کے لیے اس قسم کی کڑی آزمائشوں کا مظاہرہ اکثر ہوتا رہا ہے لیکن اس واقعہ کا یہ پہلو اس کے مفروضہ اور گھڑے ہوئے ہونے پر روزِ روشن کی طرح شاہد ہے کہ حضرت یسوع نے ایک اولوالعزم پیغمبر بلکہ مرد صالح کی طرح اس واقعہ کو صبر و رضاء الٰہی کے ساتھ انگیز نہیں کیا بلکہ ایک انتہائی مایوس انسان کی طرح خدا سے شکوہ کرتے کرتے جان دے دی ”ایلی، ایلی لما سبقتنی“ کہتے ہوئے جان دے دینا مایوسی اور شکوہ کی وہ صورت حال ہے جو کسی طرح بھی حضرت مسیح علیہ السلام کے شایان شان نہیں کہی جاسکتی، پھر اس واقعہ کا یہ پہلو بھی کم حیرت زدہ نہیں ہے کہ بقول انجیل کے یسوع مسیح نے اس حادثہ سے قبل تین مرتبہ خدائے تعالیٰ سے یہ درخواست کی ”اے میرے باپ اگر ہو سکے تو یہ (موت کا) پیالہ مجھ سے ٹل جائے“ اور جب یہ درخواست کسی طرح قبول نہ ہوئی تو مایوس ہو کر یہ کہنا پڑا ”اگر یہ میرے پیے بغیر نہیں ٹل سکتا تو تیری مرضی پوری ہو“ باعثِ حیرت یہ بات ہے کہ جبکہ

٦٨

صفحہ ٢٩٥

عقیدہ ”کفارہ“ کے مطابق حضرت مسیح کا یہ معاملہ خدا اور اس کے بیٹے (العیاذ باللہ) کے درمیان طے شدہ تھا تو پھر اس درخواست کے کیا معنی اور اگر لوازم بشریت کی بنا پر تھا تو خدا کی مرضی معلوم ہو جانے اور اس پر قناعت کر لینے کے بعد پھر یہ بے صبر اور مایوس انسانوں کی طرح جان دینے کا کیا سبب؟

یہود کی گھڑی ہوئی اس داستان کو چونکہ نصاریٰ نے قبول کر لیا تو یہود ازرو فخر و غرور اس پر بیحد مسرور ہیں اور کہتے ہیں کہ مسیح ناصری اگر ”مسیح موعود“ ہوتا تو خدائے تعالیٰ اس بے بسی اور بے کسی کے ساتھ اس کو ہمارے ہاتھ میں نہ دے دیتا کہ وہ مرتے وقت تک خدا سے شکوہ کرتا رہا کہ اس کو بچائے مگر خدا نے اس کی کوئی مدد نہ کی حالانکہ ہمارے باپ دادا اس وقت بھی کافی اشتعال دیتے رہے کہ اگر تو حقیقۃً خدا کا بیٹا اور ”مسیح موعود“ ہے تو کیوں تجھ کو خدا نے ہمارے ہاتھوں اس ذلت سے نہ بچا لیا۔

واقعہ یہ ہے کہ نصاریٰ کے پاس جبکہ اس چبھتے ہوئے الزام کا کوئی جواب نہیں تھا اور واقعہ کی ان تفصیلات کو مان لینے کے بعد ”عقیدہ کفارہ“ کی کوئی قیمت باقی نہیں رہ جاتی تھی تب انھوں نے واقعہ کی ان تفصیلات کے بعد ایک پارۂ بیان کا اور اضافہ کیا۔

یوحنا کی انجیل میں ہے۔

”لیکن جب انھوں نے یسوع کے پاس آ کر دیکھا کہ وہ مر چکا ہے تو اس کی ٹانگیں نہ توڑیں مگر ان میں سے ایک سپاہی نے بھالے سے اس کی پسلی چھیدی اور فی الفور اس سے خون اور پانی بہہ نکلا۔ (یوحنا باب ١٩، آیت ٣٣-٣٤) ان باتوں کے بعد ارمیتیہ کے رہنے والے یوسف نے جو یسوع کا شاگرد تھا۔ یہودیوں کے خوف سے خفیہ طور پر پیلاطیس سے اجازت چاہی کہ یسوع کی لاش لے جائے، پیلاطیس نے اجازت دے دی پس وہ آ کر اس کی لاش لے گیا اور نیکدیمس بھی آیا جو پہلے یسوع کے پاس رات کو گیا تھا اور پچاس سیر کے قریب مر اور عود ملا ہوا لایا، پس انھوں نے یسوع کی لاش لے کر اسے سوتی کپڑے میں خوشبودار چیزوں کے ساتھ کفنایا جس طرح کہ یہودیوں میں دفن کرنے کا دستور ہے اور جس جگہ اسے صلیب دی گئی وہاں ایک باغ تھا اور اس باغ میں ایک نئی قبر تھی جس میں کبھی کوئی نہ رکھا گیا تھا۔ پس انھوں نے یہودیوں کی تیاری کے دن کے باعث یسوع کو وہیں رکھ دیا۔

(یوحنا باب ١٩ آیت ٣٨ تا ٤٢)

ہفتہ کے پہلے دن مریم مگدلینی ایسے تڑکے کہ ابھی اندھیرا ہی تھا قبر پر آئی اور پتھر کو قبر سے ہٹا ہوا دیکھا پس وہ شمعون پطرس اور اس کے دوسرے شاگرد کے پاس جسے

٦٩

صفحہ ٢٩٦

یسوع عزیز رکھتا تھا دوڑی ہوئی گئی اور ان سے کہا کہ خداوند کو قبر سے نکال لے گئے اور ہمیں معلوم نہیں کہ اسے کہاں رکھ دیا۔ (یوحنا باب ٢٠ آیت ١،٢) لیکن مریم باہر قبر کے پاس کھڑی روتی رہی اور جب روتے روتے قبر کی طرف جھک کے اندر نظر کی تو دو فرشتوں کو سفید پوشاک پہنے ہوئے ایک کو سرہانے اور دوسرے کو پائنتی بیٹھے دیکھا جہاں یسوع کی لاش پڑی تھی انھوں نے اس سے کہا۔ اے عورت، تو کیوں روتی ہے اس نے ان سے کہا اس لیے کہ میرے خداوند کو اٹھا لے گئے اور معلوم نہیں کہ اسے کہاں رکھا یہ کہہ کر وہ پیچھے پھری اور یسوع کو کھڑے دیکھا اور نہ پہچانا کہ یہ یسوع ہے۔ (یوحنا باب ٢٠ آیت ١١ تا ١٤)

یسوع نے اس سے کہا مریم! وہ پھر کر اس سے عبرانی زبان میں بولی ”ربونی“ یعنی اے استاذ! یسوع نے اس سے کہا مجھے نہ چھو کیونکہ میں اب تک باپ کے پاس اوپر نہیں گیا لیکن میرے بھائیوں کے پاس جا کر ان سے کہو کہ میں اپنے باپ اور تمھارے باپ کے اور اپنے خدا اور تمھارے خدا کے پاس اوپر جاتا ہوں ،مریم مگدلینی نے آ کر شاگردوں کو خبر دی کہ میں نے خداوند کو دیکھا اور اس نے مجھ سے یہ باتیں کہیں۔ پھر اسی دن جو ہفتہ کا پہلا دن تھا شام کے وقت جب وہاں کے دروازے جہاں شاگرد تھے یہودیوں کے ڈر سے بند تھے۔ یسوع آ کر بیچ میں کھڑا ہوا اور ان سے کہا کہ تمہاری سلامتی ہو اور یہ کہہ کر اس نے اپنے ہاتھ اور پسلی انھیں دکھائی پس شاگرد خداوند کو دیکھ کر خوش ہوئے۔ یسوع نے پھر ان سے کہا کہ تمہاری سلامتی ہو جس طرح باپ نے مجھے بھیجا ہے اسی طرح میں بھی تمھیں بھیجتا ہوں اور یہ کہہ کر ان کو پھونکا اور ان سے کہا ”روح القدس’ لو۔“

(یوحنا باب ٢٠ آیت ١٩ تا ٢٢)

ہر ایک شخص معمولی غور وفکر کے بعد بہ سہولت سمجھ سکتا ہے کہ یہ پارۂ بیان، پہلے حصہ بیان کے ساتھ غیر مربوط اور قطعاً بے جوڑ ہے بلکہ یہ اندازہ لگانا ہی مشکل ہو جاتا ہے کہ یہ دونوں تفصیلات ایک ہی شخصیت سے وابستہ ہیں ،کیونکہ پہلا پارۂ بیان ایک ایسی شخصیت کا مرقع ہے جو بے بس بیکس مایوس اور خدا سے شاکی نظر آتی ہے اور دوسرا حصہ بیان ایسی ہستی کا رخ روشن پیش کرتی ہے جو خدائی صفات سے متصف، ذاتِ باری کی مقرب اور پیش آمدہ واقعات سے مطمئن ومسرور ہے بلکہ ان کے وقوع کی متمنی اور ان کو اپنے اداء فرض کا اہم جزء سمجھتی ہے ؎

ببین تفاوت رہ از کجاست تا بکجا !

بہر حال حقیقت چونکہ دوسری تھی اور ایک عرصہ دراز کے بعد ”عقیدۂ کفارہ“ کی

٧٠

صفحہ ٢٩٧

بدعت نے نصاریٰ کو اس کے خلاف اس گھڑے ہوئے افسانہ کی تصنیف پر مجبور کر دیا اس لیے قرآن عزیز نے حضرت مریم اور حضرت عیسیٰ علیہما السلام سے متعلق دوسرے گوشوں کی طرح اس گوشہ سے بھی جہالت و تاریکی کا پردہ ہٹا کر حقیقت حال کے رُخ روشن کو جلوہ آراء کرنا ضروری سمجھا اور اس نے اپنا وہ فرض انجام دیا جس کو مذاہب عالم کی تاریخ میں ”قرآن کی دعوت تجدید و اصلاح“ کہا جاتا ہے۔

مکر یہود سے عیسیٰ علیہ السلام کی حفاظت

اس نے بتایا کہ جس زمانہ میں بنی اسرائیل، پیغمبر حق اور رسولِ خدا (عیسیٰ بن مریم) کے خلاف خفیہ تدبیروں اور سازشوں میں مصروف اور ان پر نازاں تھے اسی زمانہ میں خدائے برتر کے قانون قضاء و قدر نے یہ فیصلہ نافذ کر دیا کہ کوئی طاقت اور مخالف قوت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام پر قابو نہیں پاسکتی اور ہماری محکم تدبیر اس کو دشمنوں کے ہر ”مکر“ سے محفوظ رکھے گی اور نتیجہ یہ نکلا کہ جب بنی اسرائیل نے ان پر نرغہ کیا تو ان کو پیغمبر خدا پر کسی طرح دسترس حاصل نہ ہوسکی اور ان کو بحفاظت تمام اُٹھا لیا گیا اور جب بنی اسرائیل مکان میں گھسے تو صورت حال ان پر مشتبہ ہوگئی اور وہ ذلت و رسوائی کے ساتھ اپنے مقصد میں ناکام رہے اور اس طرح خدا نے اپنا وعدہ پورا کر دکھایا جو عیسیٰ بن مریم کی حفاظت کے لیے کیا گیا تھا۔

تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ جب عیسیٰ علیہ السلام نے یہ محسوس فرمایا کہ اب بنی اسرائیل کے کفر و انکار کی سرگرمیاں اس درجہ بڑھ گئی ہیں کہ وہ میری توہین و تذلیل بلکہ قتل کے لیے سرگرم سازش ہیں تو انہوں نے خاص طور سے ایک مکان میں اپنے حواریوں کو جمع کیا اور ان کے سامنے صورت حال کا نقشہ پیش فرما کر ارشاد فرمایا: امتحان کی گھڑی سر پر ہے، کڑی آزمائش کا وقت ہے، حق کو مٹانے کی سازشیں پورے شباب پر ہیں، اب میں تمھارے درمیان زیادہ نہیں رہوں گا اس لیے میرے بعد دین حق پر استقامت، اس کی نشر و اشاعت اور یاری و نصرت کا معاملہ صرف تمھارے ساتھ وابستہ ہو جانے والا ہے اس لیے مجھے بتلاؤ کہ خدا کی راہ میں سچا مددگار کون کون ہے حواریوں نے یہ کلام حق سن کر کہا ”ہم سب ہی خدا کے دین کے مددگار ہیں، ہم سچے دل سے خدا پر ایمان لائے ہیں اور اپنی صداقت ایمانی کا آپ ہی کو گواہ بناتے ہیں۔ اور یہ کہنے کے بعد انسانی کمزوریوں کے پیش نظر اپنے دعویٰ پر ہی بات ختم نہیں کر دی بلکہ درگاہ الٰہی میں دست بدعا ہو گئے کہ جو کچھ ہم کہہ رہے ہیں تو اس پر ہم کو استقامت عطا

٧١

صفحہ ٢٩٨

فرما اور ہم کو اپنے دین کے مددگاروں کی فہرست میں لکھ لے اس جانب سے مطمئن ہو کر اب حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے فریضہ دعوت وارشاد کے ساتھ ساتھ منتظر رہے کہ دیکھے معاندین کی سرگرمیاں کیا رخ اختیار کرتی ہیں اور خدائے برحق کا فیصلہ کیا صادر ہوتا ہے؟ اللہ تعالیٰ نے اس سلسلہ میں قرآن عزیز کے ذریعہ یہود ونصاریٰ کے ظنون واوہام فاسدہ کے خلاف علم و یقین کی روشنی بخشتے ہوئے یہ بھی بتلایا کہ جس وقت معاندین اپنی خفیہ تدبیروں میں سرگرم عمل تھے اسی وقت ہم نے بھی اپنی قدرت کاملہ کی مخفی تدبیر کے ذریعہ یہ فیصلہ کر لیا کہ عیسیٰ بن مریم کے متعلق معاندین حق کی تدبیر کا کوئی گوشہ بھی کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کی پوشیدہ تدابیر کے مقابلہ میں کسی کی پیش نہیں جا سکے گی اس لیے کہ اس کی تدبیر سے بہتر کوئی تدبیر ہو ہی نہیں سکتی۔

وَمَكَرُوْا وَمَكَرَ اللّٰهُ وَاللّٰهُ خَيْرُ الْمَاكِرِيْنَ. (آل عمران) اور انھوں نے (یہود نے عیسیٰ علیہ السلام کے خلاف) خفیہ تدبیر کی اور اللہ نے (یہود کے مکر کے خلاف) خفیہ تدبیر کی اور اللہ سب سے بہتر خفیہ تدبیر کا مالک ہے۔

لغت عرب میں ”مکر“ کے معنی ”خفیہ تدبیر اور دھوکا کرنے کے“ ہیں اور علم معانی کے قاعدہ ”مشاکلہ“ کے مطابق جب کوئی شخص کسی کے جواب یا دفاع (Defence) میں خفیہ تدبیر کرتا ہے۔ تو خواہ وہ اخلاق اور مذہب کی نگاہ میں کتنی ہی عمدہ تدبیر کیوں نہ ہو اس کو بھی ”مکر“ ہی سے تعبیر کیا جاتا ہے جیسا کہ ہر ایک زبان کے محاورہ میں بولا جاتا ہے ”برائی کا بدلہ برائی ہے“ حالانکہ ہر شخص یہ یقین رکھتا ہے کہ برائی کرنے والے کے جواب میں اسی قدر مقابلہ کا جواب دینا اخلاق اور مذہب دونوں کی نگاہ میں ”برائی“ نہیں ہے، تاہم تعبیر میں دونوں کو ہم شکل ظاہر کر دیا جاتا ہے اور اسی کو ”مشاکلہ“ کہتے ہیں اور یہ فصاحت و بلاغت کا اہم جزء سمجھا جاتا ہے۔

غرض خفیہ تدبیر دونوں جانب سے تھی ایک جانب برے بندوں کی بری تدبیر اور دوسری جانب خدائے برتر کی بہترین تدبیر، نیز ایک جانب قادر مطلق کی تدبیر کامل تھی جس میں نقص و خامی کا امکان نہیں، اور دوسری جانب دھوکے اور فریب کی خام کاریاں تھیں جو تار عنکبوت ہو کر رہ گئیں۔

آخر وہ وقت آ پہنچا کہ بنی اسرائیل کے سرداروں، کاہنوں اور فقیہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ایک بند مکان میں محاصرہ کر لیا، ذاتِ اقدس اور حواری مکان

_ ٢ _

صفحہ ٢٩٩

کے اندر بند ہیں اور دشمن چاروں طرف سے محاصرہ کیے ہوئے ہیں لہٰذا اب قدرتی طور پر یہ سوال پیدا ہوا کہ وہ کیا صورت ہوئی کہ جس سے دشمن ناکام رہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو کسی طرح کا بھی گزند نہ پہنچا سکے تاکہ خدائے قادر کا وعدۂ حفاظت اور دعویٰ تدبیر خیر پورا ہو تو اس کے متعلق قرآن نے بتلایا کہ بیشک خدا کا وعدہ پورا ہوا اور اس کی تدبیر محکم نے عیسیٰ علیہ السلام کو دشمنوں کے ہاتھوں سے ہر طرح محفوظ رکھا اور صورت یہ پیش آئی کہ اس نازک گھڑی میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو وحی الٰہی نے یہ بشارت سنائی ”عیسیٰ! خوف نہ کر تیری مدت پوری کی جائے گی (یعنی تم کو دشمن قتل نہیں کر سکیں گے اور نہ تم اس وقت موت سے دوچار ہو گے) اور ہو گا یہ کہ میں تجھ کو اپنی جانب (ملاء اعلیٰ کی جانب) اٹھا لوں گا اور ان کافروں سے ہر طرح تجھ کو پاک رکھوں گا (یعنی یہ تجھ پر کسی قسم کا قابو نہ پاسکیں گے) اور تیرے پیروؤں کو ان کافروں پر ہمیشہ غالب رکھوں گا (یعنی بنی اسرائیل کے مقابلہ میں قیامت تک عیسائی اور مسلمان غالب رہیں گے، اور ان کو کبھی ان دونوں پر حاکمانہ اقتدار نصیب نہیں ہوگا) پھر انجام کار میری جانب (موت کے بعد) لوٹ آنا ہے پس میں ان باتوں پر فیصلہ حق دوں گا جن کے متعلق تم سب آپس میں اختلاف کر رہے ہو۔

اِذْ قَالَ اللّٰهُ يٰعِيْسٰى اِنِّيْ مُتَوَفِّيْكَ وَرَافِعُكَ اِلَيَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَجَاعِلُ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْكَ فَوْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ ثُمَّ اِلَيَّ مَرْجِعُكُمْ فَاَحْكُمُ بَيْنَكُمْ فِيْمَا كُنْتُمْ فِيْهِ تَخْتَلِفُوْنَ O

(آل عمران ٥٥)

وَاِذْ كَفَفْتُ بَنِيْ اِسْرَآئِيْلَ عَنْكَ اِذْ جِئْتَهُمْ بِالْبَيِّنٰتِ فَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ اِنْ هٰذَا اِلَّا سِحْرٌ مُّبِيْنٌ O

(مائدہ ١١٠)

(وہ وقت ذکر کے لائق ہے) جب اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ سے کہا ”اے عیسیٰ! بے شبہ میں تیری مدت کو پوری کروں گا اور تجھ کو اپنی جانب اٹھا لینے والا ہوں اور تجھ کو کافروں (بنی اسرائیل) سے پاک رکھنے والا ہوں اور جو تیری پیروی کریں گے ان کو تیرے منکروں پر قیامت تک کے لیے غالب رکھنے والا ہوں، پھر میری جانب ہی لوٹنا ہے، پھر میں ان باتوں کا فیصلہ کروں گا جن کے بارہ میں (آج) تم جھگڑ رہے ہو۔

(قیامت کے دن اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ کو اپنے احسانات شمار کراتے ہوئے فرمائے گا) اور وہ وقت یاد کرو جب میں نے بنی اسرائیل کو تجھ سے روک دیا (یعنی وہ کسی طرح تجھ پر قابو نہ پاسکے) جبکہ تو ان کے پاس معجزات لے کر آیا اور ان میں سے

صفحہ ٣٠٠

کافروں نے کہہ دیا: یہ تو جادو کے ماسوا اور کچھ نہیں ہے۔

تو اب جبکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یہ اطمینان دلا دیا گیا کہ اس سخت محاصرہ کے باوجود دشمن نہ تم کو قتل کر سکیں گے اور تم کو غیبی ہاتھ ملاء اعلیٰ کی جانب اٹھا لے گا، اور اس طرح دشمنانِ دین کے ناپاک ہاتھوں سے آپ ہر طرح محفوظ کر دیئے جائیں گے تو اس جگہ پہنچ کر ایک دوسرا سوال پیدا ہوا کہ یہ کس طرح ہوا اور واقعہ نے کیا صورت اختیار کر لی؟ کیونکہ یہود و نصاریٰ تو کہتے ہیں کہ مسیح کو سولی پر بھی لٹکایا اور مار بھی ڈالا تب قرآن نے بتلایا کہ مسیح بن مریم علیہما السلام کے قتل و صلیب کی پوری داستان سرتاسر غلط اور جھوٹ ہے بلکہ اصل معاملہ یہ ہے کہ جب مسیح علیہ السلام کو بقید حیات ملاء اعلیٰ کی جانب اٹھا لیا گیا اور اس کے بعد دشمن مکان کے اندر گھس پڑے تو ان پر صورتِ حال مشتبہ کر دی گئی اور وہ کسی طرح نہ جان سکے کہ آخر اس بند مکان میں سے مسیح علیہ السلام کہاں چلا گیا۔

رفع عیسیٰ علیہ السلام

وَقَوْلِهِمْ اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيْحَ عِيْسَى بْنَ مَرْيَمَ رَسُوْلَ اللّٰهِ وَمَا قَتَلُوْهُ وَمَا صَلَبُوْهُ وَلٰـكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ وَ اِنَّ الَّذِيْنَ اخْتَلَفُوْا فِيْهِ لَفِيْ شَکٍّ مِّنْهُ مَالَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ اِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ وَمَا قَتَلُوْهُ يَقِيْنًا ۝ بَلْ رَّفَعَهُ اللّٰهُ اِلَيْهِ ط وَ كَانَ اللّٰهُ عَزِيْزًا حَكِيْمًا ۝

(نساء ١٥٨،١٥٧)

اور (یہود ملعون قرار دیئے گئے) اپنے اس قول پر کہ ہم نے مسیح عیسیٰ بن مریم پیغمبر خدا کو قتل کر دیا حالانکہ انھوں نے نہ اس کو قتل کیا اور نہ سولی پر چڑھایا بلکہ (خدا کی خفیہ تدبیر کی بدولت) اصل معاملہ ان پر مشتبہ ہو کر رہ گیا اور جولوگ اس کے قتل کے بارہ میں جھگڑ رہے ہیں بلاشبہ وہ اس (عیسیٰ) کی جانب سے شک میں پڑے ہوئے ہیں ان کے پاس حقیقت حال کے بارہ میں ظن (اٹکل) کی پیروی کے سوا علم کی روشنی نہیں ہے اور انھوں نے عیسیٰ کو یقیناً قتل نہیں کیا بلکہ ان کو اللہ نے اپنی جانب (ملاء اعلیٰ کی جانب) اٹھا لیا، اور اللہ غالب حکمت والا ہے۔

قرآن عزیز کا یہ وہ بیان ہے جو یہود و نصاریٰ کے اختراعی فسانہ کے خلاف اس نے حضرت مسیح بن مریم علیہما السلام کے متعلق دیا ہے اب دونوں بیانات آپ کے سامنے ہیں اور عدل و انصاف کا ترازو آپ کے ہاتھ میں، پہلے حضرت مسیح علیہ السلام کی شخصیت اور ان کے دعوت و ارشاد کے مشن کو تاریخی حقائق کی روشنی میں معلوم کیجیے اور ٧٤

صفحہ ٣٠١

اس کے بعد ایک مرتبہ پھر ان تفصیلی واقعات پر نظر ڈالیے جو ایک اولوالعزم پیغمبر، مقرب بارگاہ الٰہی اور نصاریٰ کے عقیدۂ باطل کے مطابق خدا کے بیٹے کو خدا کے فیصلہ کے سامنے مایوس، مضطرب، بے یار و مددگار اور خدا سے شاکی ظاہر کرتے ہیں اور ساتھ ہی اس تضادِ بیان پر بھی غور فرمائیے کہ ایک جانب عقیدۂ کفارہ کی بنیاد صرف اس پر قائم ہے کہ حضرت مسیح خدا کا بیٹا بن کر آیا ہی اس غرض سے تھا کہ مصلوب ہو کر دنیا کے گناہوں کا کفارہ ہو جائے اور دوسری جانب صلیب اور قتلِ مسیح کی داستان اس اساس پر کھڑی کی گئی ہے کہ جب وہ وقت موعود آ پہنچتا ہے تو خدا کا یہ فرضی بیٹا اپنی حقیقت اور دنیا میں وجود پذیری کو یکسر فراموش کر کے ”ایلی، ایلی لما سبقتنی“ کا حسرت ناک جملہ زبان سے کہتا اور مرضی الٰہی پر اپنی ناخوشی کا اظہار کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ کیا کسی شخص کو یہ سوال کرنے کا حق نہیں ہے کہ اگر نصاریٰ کے بیان کردہ واقعات کے دونوں حصے صحیح اور درست ہیں تو ان دونوں کے باہم یہ تضاد کیسا اور اس عدم مطابقت کے کیا معنی؟

پس اگر ایک حقیقت بیں اور دور رس نگاہ ان تمام پہلوؤں کو سامنے رکھ کر اور واقعات و حالات کی ان تمام کڑیوں کو باہم جوڑ کر اس مسئلہ کا مطالعہ کرے تو وہ تصدیقِ حق کے پیشِ نظر بلامتامل یہ فیصلہ کرے گی کہ بائبل کی یہ داستان تضاد کی حامل اور گھڑی ہوئی داستان ہے اور قرآن نے اس سلسلہ میں جو فیصلہ دیا ہے وہی حق اور مبنی بر صداقت ہے۔

تاریخ شاہد ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کے بعد سے سینٹ پال سے قبل تک نصاریٰ ”یہود“ کی اس خرافی داستان سے قطعاً بے تعلق تھے لیکن جب سینٹ پال (پولوس رسول) نے تثلیث اور کفارہ پر جدید عیسائیت کی بنیاد رکھی تو کفارہ کے عقیدہ کی استواری کے لیے یہود کی اس خرافی داستان کو بھی مذہب کا جزء بنا لیا گیا۔

لیکن واقعہ سے متعلق حد درجہ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ جبکہ چودہ صدیوں سے قرآنِ حکیم نے عیسیٰ علیہ السلام کی عظمت و جلالتِ قدر کا اعلان کرتے ہوئے ان کے ”رفع الی السماء“ کی حقیقت کو یہود و نصاریٰ کی خرافی داستان کے خلاف علم و یقین کی روشنی میں نمایاں اور یہود و نصاریٰ کو دلائل و براہین کے ذریعہ لاجواب اور سرنگوں کر دیا تھا تو اس کے مقابلہ میں آج ایک مدعی اسلام، دعویٰ نبوت و مسیحیت کے شوق یا ہندوستان پر مسلط عیسائی حکومت کی خود غرضانہ خوشامد میں یہود و نصاریٰ کے اسی عقیدہ کو دوبارہ زندہ کرنا اور اس پر اپنے ”باطل عقیدۂ نبوت“ کی بنیاد رکھنا چاہتا ہے اور پنجاب (قادیان) کا یہ متنبّی قرآن عزیز کی تصریحات سے بے نیاز ہو کر نہایت جسارت کے

٧٥

صفحہ ٣٠٢

ساتھ ان تمام واقعات کی تصدیق کرتا ہے جو اس سلسلہ میں یہود و نصاریٰ نے اپنے اپنے باطل مزعومہ عقائد کی تکمیل کے لیے اختراع کیے ہیں، وہ کہتا ہے کہ بلاشبہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یہود نے اسیر کیا، ان کا ٹھٹھا اڑایا، ان کے منہ پر تھوکا ان کے طمانچے بھی لگائے، ان کو کانٹوں کا تاج بھی پہنایا، اور ان کے علاوہ ہر قسم کی توہین و تذلیل کا سلوک کرنے کے بعد ان کو صلیب پر بھی چڑھایا اور اپنے زعم میں ان کو قتل بھی کر ڈالا البتہ یہود و نصاریٰ کی حرف بحرف تصدیق کے بعد بغیر کسی قرآنی نص، حدیثی روایت اور تاریخی شہادت کے اپنی جانب سے یہ اضافہ کرتا ہے کہ جب شاگردوں کے مطالبہ پر نعش ان کے حوالہ کر دی گئی اور وہ تجہیز و تکفین کے لیے آمادہ ہوئے تو دیکھا کہ جسم میں جان باقی ہے تب انھوں نے خفیہ طور پر ایک خاص مرہم کے ذریعہ ان کے زخموں کا علاج کیا اور جب وہ چنگے ہو گئے تو پوشیدہ رہ کر کشمیر کو چلے گئے اور وہاں بھی حیات کے آخری لمحوں تک خود کو چھپائے رکھا اور گمنامی میں وہیں انتقال پا گئے گویا یوں کہیے کہ یہود و نصاریٰ کی مفروضہ داستان میں حضرت مسیح علیہ السلام سے متعلق توہین و تذلیل کے جس قدر بھی پہلو تھے وہ سب تو متنبی کذاب نے قبول کر لیے باقی ان کی عظمت شان اور جلالت مرتبہ سے متعلق پہلو کو داستان سے خارج کر کے اس کے ساتھ ایک ایسا فرضی حصہ جوڑ دیا جس سے ایک جانب نیچر پرستوں کو اپنی جانب مائل کرنے کا سامان مہیا ہو سکے اور دوسری جانب عیسیٰ علیہ السلام کی باقی زندگی مبارک کو گمنامی کے ساتھ وابستہ کر کے توہین و تذلیل کا ایک گوشہ جو تشنہ سامان رہ گیا تھا اس کی تکمیل ہو جائے۔ (انا للہ و انا الیہ راجعون)

متنبی پنجاب کو یہ سب کچھ کرنے کی کیوں ضرورت پیش آئی؟ اس کی جانب ابھی اشارہ کیا جا چکا ہے اور اس کی تفصیل کے لیے پروفیسر، برنی کی کتاب ”قادیانی مذہب“ (اس کا محقق نسخہ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان ملتان نے شائع کیا اور دارالعلوم دیوبند مجلس تحفظ ختم نبوت کل ہند نے اس کا عکس شائع کیا ہے) لائق مطالعہ ہے یا خود متنبی کذاب کی تصنیفی ہفوات اس حقیقت کو عریاں کرنے میں مدد دیتی ہیں۔

ہمارے پیش نظر تو یہ مسئلہ ہے کہ متنبی پنجاب نے کس طرح قرآن حکیم کی نصوص قطعیہ کے خلاف یہود و نصاریٰ کے عقیدہ ”توہین، تصلیب اور قتل عیسیٰ علیہ السلام“ کی تائید پر بے جا جسارت کا اقدام کیا اور جس حد تک اختلاف کیا اس میں بھی دعویٰ قرآنی کے خلاف ان کی حیات طیبہ کو نامراد و ناکام اور گمنام ثابت کرنے کی سعی لاحاصل کی۔

آپ ابھی سن چکے ہیں کہ قرآن عزیز نے بنی اسرائیل کے مقابلہ میں خدائے

٧٦

صفحہ ٣٠٣

تعالیٰ کی جانب سے دعویٰ حفاظت و برتری کو کس قوتِ بیان کے ساتھ نمایاں کیا ہے ”ومکروا ومکر اللہ واللہ خیرالماکرین“ ”انی متوفیک و رافعک الی و مطہرک من الذین کفروا“ اور پھر کس زور کے ساتھ یہ اعلان کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے دعویٰ حفاظت کو اس شان کے ساتھ پورا کیا کہ دشمن کسی حیثیت سے بھی مسیح بن مریم علیہما السلام پر قابو نہ پا سکے اور ہاتھ تک نہ لگا سکے ”واذ کففت بنی اسرائیل عنک“ ”وما قتلوہ وما صلبوہ و لکن شبہ لھم، ما قتلوہ یقیناً بل رفعہ اللہ الیہ“

(نساء ١٥٧)

وعدہ خداوندی: تو اب قابل غور ہے یہ بات کہ ہم دنیا میں روز و شب یہ مشاہدہ کرتے رہتے ہیں کہ اگر کسی صاحب قوت و اقتدار ہستی کے عزیز، دوست، یا مصاحب کے خلاف ان کا دشمن درپے آزار یا قتل کے درپے ہوتا ہے اور یہ سمجھ کر کہ ہم صاحب اقتدار ہستی کی اعانت کے بغیر دشمن کے مقابلہ میں عہدہ برآ نہیں ہو سکتے۔ وہ صاحب اقتدار کی جانب رجوع کرتے ہیں اور یہ ہستی ان کو پوری طرح اطمینان دلاتی ہے کہ دشمن ان کو کسی طرح نقصان نہیں پہنچا سکتا بلکہ ان تک اس کی دسترس ہی نہیں ہونے دی جائے گی تو ہر ایک اہل عقل اس کا یہی مطلب لیتا ہے کہ اب کسی بھی حالت میں ان کو دشمن کا خطرہ باقی نہیں رہا مگر یہ کہ صاحب اقتدار ہستی یا اپنے وعدہ کا ایفاء نہ کرے اور جھوٹا ثابت ہو اور یا دشمن کی طاقت اتنی زیادہ ہو کہ وہ خود بھی اس حمایت و نصرت میں مغلوب و مقہور ہو کر رہ جائے۔

پس جب انسانی دنیا میں یہ اطلاع موصول ہو کہ صاحب اقتدار ہستی کے عزیز، دوست یا مصاحب کو اس کے دشمن نے گرفتار کر لیا، مارا پیٹا، منہ پر تھوکا اور ہر طرح ذلیل و رسوا کر کے اپنے گمان میں مار بھی ڈالا اور مردہ سمجھ کر نعش اس کے عزیزوں کے سپرد کر دی مگر حسب اتفاق نبض دیکھنے سے معلوم ہوا کہ کہیں جان اٹکی رہ گئی ہے لہٰذا علاج معالجہ کیا گیا اور وہ رو بصحت ہو گیا تو دنیا انسانی اس صاحب اقتدار ہستی کے متعلق کیا رائے قائم کرے گی جس نے اس مظلوم کی حمایت و نصرت کا وعدہ کیا تھا؟ یہ اس نے اپنا وعدہ پورا کیا یا نہیں کیا؟ ظاہر ہے کہ نہیں کیا خواہ قصداً نہیں کیا یا اس لیے کہ وہ مجبور رہا۔

پس اگر دنیا انسانی کے معاملات میں صورت حال یہ ہے تو معلوم نہیں کہ متنبی پنجاب کے عقل و دماغ نے قادر مطلق خدا کے متعلق کس ذہنیت کے ماتحت یہ فیصلہ کیا کہ خدا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کو ہر قسم کی حفاظت و صیانت کے وعدہ کے باوجود دشمن کے ہاتھوں وہ سب کچھ ہونے دیا جس کو یہود و نصاریٰ کی اندھی تقلید میں متنبی پنجاب نے

٧٧

صفحہ ٣٠٤

تسلیم کرلیا اور اشک شوئی کے لیے صرف اس قدر اضافہ کردیا کہ اگرچہ یہود نے صلیب و قتل کے بعد سمجھ لیا تھا کہ روح قفس عنصری سے نکل چکی ہے مگر حقیقۃً ایسا نہیں ہوا تھا بلکہ رمق جان ابھی غیر محسوس طور پر باقی تھی اس لیے اسی طرح ان کی جان بچ گئی جس طرح موجودہ زمانہ میں اب سے چند سال قبل جیلوں میں پھانسی دینے کا جو طریقہ رائج تھا اس کی وجہ کبھی پھانسی پانے کے بعد رمق جان باقی رہجاتی تھی اور نعش کی سپردگی کے بعد علاج معالجہ سے وہ اچھا ہوجاتا تھا۔

بہر حال ہم تو اس ذات واحد قادر مطلق خدا پر ایمان رکھتے ہیں جس نے جب کبھی بھی اپنے خاص بندوں (نبیوں اور رسولوں) سے اس قسم کا وعدہ حفاظت وصیانت کیا ہے تو پھر اس کو پورا بھی ایسی شان سے کیا ہے قادر مطلق ہستی کے لیے شایاں اور لائق ہی حضرت صالح علیہ السلام اور ان کی قوم کے منکرین حق کا معاملہ سورہ نمل میں جس معجزانہ شان کے ساتھ بیان ہوا ہے اس پر غور فرمائیے ارشاد باری ہے۔

وَكَانَ فِى الْمَدِيْنَةِ تِسْعَةُ رَهْطٍ يُفْسِدُوْنَ فِى الْاَرْضِ وَلَا يُصْلِحُوْنَ قَالُوْا تَقَاسَمُوْا بِاللّٰهِ لَنُبَيِّتَنَّهُ وَاَهْلَهُ ثُمَّ لَنَقُوْلَنَّ لِوَلِيِّهِ مَا شَهِدْنَا مَهْلِكَ اَهْلِهِ وَاِنَّا لَصٰدِقُوْنَ ۝ وَمَكَرُوْا مَكْرًا وَّ مَكَرْنَا مَكْرًا وَّ هُمْ لَا يَشْعُرُوْنَ ۝ فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ مَكْرِهِمْ اَنَّا دَمَّرْنٰهُمْ وَقَوْمَهُمْ اَجْمَعِيْنَ ۝ فَتِلْكَ بُيُوْتُهُمْ خَاوِيَةً بِمَا ظَلَمُوْا اِنَّ فِى ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّقَوْمٍ يَّعْلَمُوْنَ ۝ وَاَنْجَيْنَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَكَانُوْا يَتَّقُوْنَ ۝

(نمل ٤٨ تا ٥٣)

اور شہر میں نو شخص تھے جو (بہت) مفسد تھے اور کوئی کام صلاح کاری کا نہیں کرتے تھے، انھوں نے آپس میں کہا: ”باہم قسمیں کھاؤ کہ ہم ضرور صالح اور اس کے گھر والوں پر شبخوں ماریں گے اور پھر اس کے وارثوں سے کہہ دیں گے کہ ہم اس کے خاندان کی ہلاکت کے وقت موقعہ پر موجود ہی نہیں تھے اور قسم بخدا ہم ضرور سچے ہیں“ اور انھوں نے (صالح کے خلاف) خفیہ سازش کی اور ہم نے (بھی ان کی سازش کے خلاف) خفیہ تدبیر کی اور وہ ہماری مخفی تدبیر کو نہیں سمجھتے تھے پس (اے محمد ﷺ) دیکھو! کہ ان کی خفیہ سازشی تدبیر کا کیا حشر ہوا؟ یہ کہ ہم نے ان کو (مفسدوں کو) اور ان کی سرکش قوم کو سب کو ہلاک کر دیا (نگاہ اٹھا کر) دیکھو یہ (قریب ہی) ہیں ان کے گھروں کے کھنڈر ویران ہیں ان کے ظلم کی وجہ سے، بیشک اس واقعہ میں نشانی ہے سمجھ والوں کے لیے اور ہم نے نجات دی ایمان والوں کو جو کہ پرہیز گار تھے۔

اور پھر مطالعہ کیجیے اس عظیم الشان واقعہ کا جو ہجرت خاتم الانبیا ﷺ سے تعلق رکھتا ہے اور سورۂ انفال میں دشمنان حق کی ذلت و رسوائی کا ابدی اعلان ہے۔

٧٨

صفحہ ٣٠٥

ان دونوں واقعات میں حق و باطل کے معرکوں، دشمنوں کی خفیہ سازشوں اور انبیاء علیہم السلام کی حفاظت کے لیے وعدہ الٰہی اور اس کے بے غل وغش پورا ہونے کا جو نقشہ قرآن عزیز نے پیش کیا ہے، تاریخی نگاہ سے ان پر غور فرمائیے اور فیصلہ کیجئے کہ جس خدا نے صالح علیہ السلام اور خاتم الانبیاء محمد ﷺ کے ساتھ اپنے وعدۂ حفاظت کو اس شانِ رفیع کے ساتھ پورا کیا ہو کیا متنبی پنجاب کے عقیدہ کے مطابق اسی شان معجزانہ کے ساتھ وہ عیسیٰ علیہ السلام کے حق میں پورا ہوا؟ نہیں ہرگز نہیں۔ حالانکہ آیاتِ قرآنی شاہد ہیں کہ ان دونوں واقعات کے مقابلہ میں عیسیٰ بن مریم علیہما السلام سے کیے گئے وعدے زیادہ واضح تفصیلات رکھتے ہیں اور ان میں صاف صاف کہا گیا ہے کہ خدا کے بہترین مخفی فیصلہ کے مطابق حضرت مسیح علیہ السلام کے دشمن ان کو ہاتھ تک نہ لگا سکیں گے تب ہی تو قیامت کے روز اللہ تعالیٰ اپنے جن احسانات و انعامات کو شمار کرائے گا ان میں سے ایک بڑا انعام و احسان یہ بھی ہوگا ”واذ کففت بنی اسرائیل عنک“ اور جبکہ ہم نے بنی اسرائیل کو تجھ سے روک دیا تھا۔

متنبی پنجاب کو اگر اپنی نبوت اور مسیحیت کے افتراء اور ڈھونگ کو مضبوط کرنے کے لیے حضرت مسیح علیہ السلام کے زندہ آسمان پر اٹھائے جانے کے خلاف اس درجہ ناگواری تھی جیسا کہ متنبی کذاب کی تصنیفات سے معلوم ہوتا ہے، تب بھی یہود اور نصاریٰ کی اس اندھی تقلید کے لیے مقابلہ میں جو نصوصِ قرآنی کے خلاف ”کفر بواح“ تک پہنچاتی اور حضرت مسیح کی شان رفیع کے حق میں باعث توہین و تذلیل اور وعدہ الٰہی کی تکذیب کرتی ہے“ کیا یہ کافی نہیں تھا کہ تاویل باطل کے پردہ میں اتنا ہی کہہ دیا جاتا کہ وہ اگرچہ بقید حیات آسمان پر نہیں اٹھائے گئے مگر اللہ تعالیٰ نے بند مکان سے کسی طریق پر ان کو دشمنوں کے نرغے سے نکال کر محفوظ کر دیا اور دشمن کسی طرح ان کو نہ پا سکے (تاویل باطل اس لیے کہ حیاتِ عیسیٰ علیہ السلام سے متعلق دیگر نصوص قرآنی، حدیثی اور اجماع امت کے پیش نظر اس مقام پر یہ تاویل بلاشبہ ”باطل“ ہے مگر اس سے کم از کم حضرت مسیح علیہ السلام کی توہین اور وعدہ الٰہی کی تکذیب کا پہلو نہیں نکلتا) لیکن وائے بر حالِ متنبی قادیان کہ خدا کے سچے پیغمبر حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کے ساتھ بغض و عناد نے ”خسر الدنیا والآخرۃ“ کا مصداق بنا کر ہی چھوڑا۔

قادیانی تلبیس اور اس کا جواب

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اس معرکۃ الآرا مسئلہ میں ”جو ان کی عظمت اور ٧٩

صفحہ ٣٠٦

جلالت کا زبردست نشان ہے۔“ سورۂ آل عمران کی آیات کا باہمی ربط اور ترتیب ذکری خصوصیت کے ساتھ قابل توجہ ہے کہ متنبی کاذب نے اس میں بھی ”تلبیس الحق بالباطل“ کا ثبوت دے کر ناواقف کو گمراہ کرنے کی کوشش کی ہے۔

قرآن عزیز سورۂ آل عمران میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح کے دشمنوں کے نرغہ میں گھر جانے سے متعلق جس تسلی اور وعدہ کا ذکر کیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ فطری شکل وصورت یہ پیش آئی کہ جب دشمنانِ دین نے حضرت مسیح علیہ السلام کا ایک بند مکان میں محاصرہ کر لیا تو ایک اولوالعزم پیغمبر اور خدائے برحق کے درمیان تقرب کا جو رشتہ قائم ہے اس کے پیش نظر قدرتی طور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یہ خیال پیدا ہوا کہ اب کیا پیش آنے والا ہے، راہِ حق میں جاں سپاری یا قدرتِ الٰہی کا کوئی اور کرشمہ؟ اور اگر دشمنوں سے تحفظ کے لیے کوئی کرشمہ پیش آنے والا ہے تو اس کی کیا شکل ہوگی کیونکہ بظاہر کوئی سامان نظر نہیں آتا اور اگر تحفظ ہوا بھی تو کیا کچھ مصائب و آلام اٹھانے کے بعد تحفظ جان ہوگا یا دشمن کسی بھی صورت میں قابو نہ پاسکیں گے؟ تب اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مخاطب کرتے ہوئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قلب میں فطری طور پر پیدا ہونے والے سوالات کا ترتیب وار اس طرح جواب دیا ”عیسیٰ! میری یہ ذمہ داری ہے کہ میں تیری مقررہ مدتِ حیات پوری کروں گا یعنی مطمئن رہو کہ تجھ کو دشمن قتل نہ کر پائیں گے“ (انی متوفیک) ”اور صورت یہ ہوگی کہ اس وقت میں تجھ کو اپنی جانب یعنی ملاء اعلیٰ کی جانب اٹھا لوں گا“ (ورافعک الی) ”اور یہ بھی اس طرح نہیں کہ پہلے سب کچھ مصائب ہو گزریں گے اور پھر ہم تجھ کو آخر میں علاج معالجہ کرا کر اٹھائیں گے نہیں بلکہ یوں ہوگا کہ تو دشمن کے ناپاک ہاتھوں سے ہر طرح محفوظ رہے گا اور کوئی دشمن تجھ کو ہاتھ تک نہ لگا سکے گا“ (ومطہرک من الذین کفروا) یہ تو تمھارے فطری سوالات کا جواب ہوا لیکن اس سے بھی زیادہ ہم یہ کریں گے کہ جو تیرے پیرو ہیں (خواہ غلط کار ہوں جیسا کہ نصاریٰ اور خواہ صحیح العقیدہ ہوں جیسا کہ (مسلمان) ان کو قیامت تک یہود پر غالب رکھیں گے اور تاقیام قیامت کبھی ان کو حاکمانہ اقتدار نصیب نہیں ہوگا، باقی رہا تمام معاملات کا فیصلہ سو اس کے لیے (قیامت کا) دن مقرر ہے اس روز سب اختلافات ختم ہو جائیں گے اور حق و باطل کا دوٹوک فیصلہ کر دیا جائے گا۔

زیر بحث آیات کی یہ تفسیر جس طرح سلف صالحین اور اجماع امت کے مطابق ہے اسی طرح اس آیات میں کیے گئے متعدد وعدوں کی ترتیب میں بھی کوئی فرق نہیں پڑتا

٨٠

صفحہ ٣٠٦

اور مقدم کو موخر اور موخر کو مقدم کرنے کی ضرورت پیش نہیں آتی مگر مرزائے قادیانی نے اپنی ”مسند مسیحیت و نبوت“ کو قائم کرنے کے لیے قرآن، احادیث صحیحہ اور اجماع امت کے خلاف جبکہ یہ دعویٰ کیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت ہو چکی تو اس سلسلہ کی آیات میں تحریف معنوی کی ناکام سعی کو بھی ضروری سمجھا اور دعویٰ کیا کہ اگر مسیح علیہ السلام کی موت کے وقوع کو رفع الی السماء اور تطہیر اور تفوق المتبعین علی الکافرین سے قبل تسلیم نہ کیا جائے گا تو ترتیب ذکری میں فرق آ جائے گا اور مقدم کو موخر اور موخر کو مقدم ماننا پڑے گا اور یہ قرآن عزیز کی شان بلاغت کے خلاف ہے لہٰذا یہ ماننا چاہیے کہ ”انی متوفیک“ کے وعدہ کا وقوع ہو چکا اور عیسیٰ علیہ السلام پر موت آ چکی۔

مرزا قادیانی کی ”یہ تلبیس“ اگرچہ ان حضرات سے تو پوشیدہ نہیں رہ سکتی جو عربیت اور قرآن کے اسلوب بیان کا ذوق رکھتے ہیں، لیکن عوام کو مغالطہ میں ڈال سکتی ہے اس لیے اس عنوان کے شروع ہی میں آیات کی تفسیر کو اس طرح بیان کر دیا گیا کہ مرزا کی جانب سے جو تلبیس کی گئی ہے وہ خود بخود زائل ہو جائے تاہم مزید تشریح کے لیے یہ اور اضافہ ہے کہ ترتیب ذکری کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ کلام میں اگر چند باتیں ترتیب وار ذکر کی گئی ہیں تو ان کا وقوع بھی اس طرح ہونا چاہیے کہ اس کلام میں ذکر کردہ ترتیب بگڑنے نہ پائے اور مقدم کو موخر اور موخر کو مقدم کرنا نہ پڑے اور یہ جب ضروری ہے کہ کلام کی فصاحت و بلاغت کا تقاضہ ہی یہ ہو کہ ترتیب ذکری میں فرق نہ آنے پائے ورنہ تو بعض مقامات پر تقدیم و تاخیر کو بھی فصاحت کی جان سمجھا جاتا ہے اور یہ علم معانی کا مشہور مسئلہ ہے۔

پس قرآن کی ان آیات میں جمہور اہل اسلام کی تفسیر کے مطابق ترتیب ذکری بحالہ قائم ہے اس لیے کہ خدا کی جانب سے پہلا وعدہ یہ ہے کہ میں تمہاری مقررہ مدت پوری کروں گا ”انی متوفیک“ یعنی تمہاری موت ان دشمنوں کے ہاتھ سے نہیں ہوگی بلکہ تم اپنی طبعی موت سے مرو گے، مگر اس پہلے وعدہ کو پورا کرنے کے لیے متعدد صورتیں ہو سکتی تھیں یہ کہ دشمنوں پر باہر سے اچانک حملہ ہو جائے اور وہ فرار ہو جائیں یا سب وہیں کھیت رہیں اور حضرت مسیح علیہ السلام ان کی زد سے بچ جائیں، یا یہ کہ قوم عاد و ثمود کی طرح زمین یا آسمان سے قدرتی عذاب آ کر ان سب کو ہلاک کر دے، یا یہ کہ حضرت مسیح کسی ترکیب سے ان کے نرغہ میں سے محفوظ نکل جائیں اور ان کی دسترس سے باہر ہو جائیں، یا یہ کہ اللہ تعالیٰ اپنے کرشمہ قدرت سے عیسیٰ علیہ السلام کو مکان بند رہتے

٨١

صفحہ ٣٠٨

ہوئے ملاء اعلیٰ کی جانب اٹھا لے وغیرہ وغیرہ تو قرآن نے بتلایا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خبر دی کہ پہلے وعدہ کا ایفاء مسطورۂ بالا آخری شکل یعنی ”ورافعک الیٰ“ کی شکل میں ہوگا اور ہوگا بھی ایسی قدرت کاملہ کے ہاتھوں کہ اس محاصرہ کے باوجود دشمن اپنے ناپاک ہاتھ تجھ کو نہیں لگا سکیں گے اور میں ان کافروں کے ہاتھ سے تجھ کو پاک رکھوں گا ”ومطھرک من الذین کفروا“ اور ان باتوں کے علاوہ یہ بھی ہوگا کہ میں تیرے پیروؤں کو تیرے منکروں پر قیامت تک غالب رکھوں گا۔ بہرحال بعد کے یہ تینوں وعدے بالترتیب جب ہی عمل میں آئیں گے کہ پہلے وعدہ اوّل وقوع پذیر ہو جائے یعنی تیری موت ان کے ہاتھوں نہ ہو بلکہ اپنی مقررہ مدت پر پہنچ کر طبعی موت آئے، ان آیات میں پہلے وعدہ کے متعلق یہ نہیں کہا گیا کہ میں اوّل تجھ کو ماروں گا اور پھر بالترتیب یہ سب امور انجام دوں گا کیونکہ یہ قول صرف جاہل ہی کہہ سکتا ہے لیکن جس کو گفتگو کا معمولی بھی سلیقہ ہے وہ ہرگز ایسا کہنے کی جرأت نہیں کرے گا کیونکہ ترتیب ذکری کے لیے یہ تو ہونا چاہیے کہ ان امور کے وقوع میں ایسی صورت نہ پیدا ہو جائے کہ ترتیب میں فرق لا کر تقدیم و تاخیر کا عمل جراحی کرنا پڑے لیکن اگر کوئی شے زمانہ کا امتداد اور طوالت چاہتی ہے اور اس کے آخری حصہ وقوع ان تمام امور کے بعد پیش آتا ہے جو اس کے بعد مذکور تھے مگر ترتیب ذکری میں مطلق کوئی فرق نہیں آتا تو ایسی شکل میں اس وقوع کے متاخر ہو جانے سے کسی عالم کے نزدیک بھی کلام کی فصاحت و بلاغت میں نقص واقع نہیں ہوتا اور نہ اس قسم کے وقوع ترتیبی کا ترتیب ذکری کے ساتھ کوئی تعلق ہوتا ہے۔

پس مسئلہ زیر بحث میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طبعی موت کا وقوع کبھی بھی ہو اس کا ترتیب ذکری سے مطلق کوئی علاقہ نہیں ہے، یہاں تو ”انی متوفیک“ کہہ کر یہ بتلایا گیا ہے کہ دیئے گئے متعدد وعدوں میں پہل اور اولیت اس وعدہ کو حاصل ہے کہ تمہاری موت کا سبب یہ یہود بنی اسرائیل نہیں ہوں گے بلکہ جب بھی یہ مقررہ مدت پوری ہو گی اس طریق پر ہوگی جو عام طور پر میری جانب منسوب کی جاتی ہے (یعنی طبعی موت) اور یہ وعدہ بہرحال باقی تین وعدوں سے پہلے ہی رہا تب یہ تینوں وعدے وقوع میں آ سکے اور اگر کہیں دشمن حضرت مسیح علیہ السلام کی موت کا سبب بن گئے ہوتے تو پھر ”رفع“ اور ”تطہیر“ کے لیے کوئی صورت ہی نہ رہ جاتی اور مرزا قادیانی کی طرح باطل اور رکیک تاویلات کی آڑ لینی پڑتی اور آیات زیر بحث کی ”روح“ فنا ہو کر رہ جاتی اور یہ اس لیے کہ اگر ”رفع“ سے رفع روحانی اور ”تطہیر“ سے روحانی پاکی مراد لیے جائیں

٨٢

صفحہ ٣٠٩

تو یہ قطعاً بے محل اور بے موقع ہوگا کیونکہ قرآن کے ارشاد کے مطابق یہ وعدے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دیئے جا رہے ہیں تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یہ بتلانا کہ تمہارے متعلق یہود کا یہ اعتقاد ”کہ تم کاذب اور ملعون ہو“ غلط ہے اور تم مطمئن رہو کہ میں تمہارا رفع روحانی کرنے والا ہوں قطعاً عبث تھا کیونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پیغمبر خدا ہیں اور جانتے ہیں کہ یہود کا افتراء کیا حقیقت رکھتا ہے نیز یہود کو حضرت مسیح کے رفع روحانی کا پتہ نہیں ہو سکتا کیونکہ یہ معاملہ عالم غیب سے متعلق ہے تو خدائے برتر کا یہ ارشاد نہ حضرت مسیح کی برمحل تسلی کا باعث ہو سکتا تھا اور نہ یہود کے لیے سود مند اور یہی حال دوسرے وعدۂ تطہیر کا ہے بلکہ جب بقول قادیانی یہود کے ہاتھوں حضرت مسیح صلیب پر چڑھا دیئے گئے تو غش پا لینے کے بعد شاگردوں کا مرہم عیسیٰ لگا کر چنگا کر لینے اور پھر منجانب اللہ جن کی ہدایت و ارشاد کے لیے مامور کیے گئے تھے ان سے جان بچا کر بھاگ جانے اور زندگی بھر گمنامی میں زندگی بسر کرتے رہنے کے بعد ”رَافِعُكَ إِلَیَّ“ اور ”مطہرک من الذین کفروا“ کہہ دینے سے نہ یہود کے عقیدہ کے متعلق مسیح علیہ السلام کی ہی تردید ہو گی اور نہ ایک غیر جانبدار انسان ہی یہ سمجھ سکے گا کہ ایسے موقعہ پر جبکہ عیسیٰ علیہ السلام دشمنوں کے نرغے میں ہیں اور جبکہ ان کو یہ یقین ہے کہ میں خدا کا پیغمبر ہوں اور موت کے بعد رفع روحانی اور تطہیر لازم شے ہے، ان تسلیوں اور وعدوں کا کیا فائدہ ہے، خصوصاً جبکہ ان کے ساتھ دشمن نے وہ سب کچھ کر لیا جو وہ کرنا چاہتا تھا۔

البتہ جمہور اہل حق کی تفسیر کے مطابق آیاتِ قرآن کی روح اپنی معجزانہ بلاغت کے ساتھ پوری طرح ناطق ہے کہ یہ وعدے حضرت مسیح سے جس طرح کیے گئے وہ برمحل اور فطری اضطراب کے لیے بلاشبہ باعث تسکین ہیں اور نبی اکرم ﷺ کی بعثت کا وقت کے یہود و نصاریٰ کے وراثتی عقائد باطلہ کی تردید کے لیے کافی اور مدلل۔

توفی کا معنی: جمہور اہل حق کی یہ تفسیر ”توفی“ کے معنی ”مقررہ مدت پوری کرنا“ اختیار کر کے کی گئی ہے جس کا حاصل (توفی بمعنی موت) نکلتا ہے لیکن توفی کے یہ حقیقی معنی نہیں ہیں بلکہ بطور کنایہ کے مستعمل ہوئے ہیں کیونکہ لغت عرب میں اس کا مادہ (مصدر) وفی، یفی، وفاء ہے جس کے معنی ”پورا کرنے“ کے آتے ہیں اور اس کو جب باب تفعل میں لے جا کر ”توفی“ بناتے ہیں تو اس کے معنی ”کسی شے کو پورا پورا لے لینا“ یا ”کسی شے کو سالم قبضہ میں کر لینا“ آتے ہیں (توفى، اخذه وافيا تاماً يقال ”توفيت من فلان مالى عليه“) اور چونکہ موت میں بھی اسلامی عقیدہ کے مطابق روح کو پورا

٨٣

صفحہ ٣١٠

لے لیا جاتا ہے اس لیے کنایہ کے طور پر ”کہ جس میں حقیقی معنی محفوظ رہا کرتے ہیں“ توفی بمعنی موت مستعمل ہوتا ہے اور کہتے ہیں ”توفاہ اللہ ای اماتہ“ لیکن اگر کسی موقعہ پر دوسرے دلائل ایسے موجود ہوں جن کے پیش نظر توفی کے حقیقی معنی لیے جا سکتے ہوں یا حقیقی کے ماسوا دوسرے معنی بن ہی نہ سکتے ہوں تو اس مقام پر خواہ فاعل ”اللہ تعالیٰ“ اور مفعول ”ذی روح انسان“ ہی کیوں نہ ہو وہاں حقیقی معنی ”پورا لے لینا“ ہی مراد ہوں گے۔ مثلاً آیت ”الله یتوفی الانفس حین موتها والتی لم تمت فی منامها“ (زمر٤٢) اللہ پورا لے لیتا ہے جانوں کو ان کی موت کے وقت اور ان جانوں کو جن کو ابھی موت نہیں آئی ہے پورا لے لیتا ہے نیند میں“ میں ”والتی لم تمت“ کے لیے بھی لفظ ”توفی“ بولا گیا یعنی ایک جانب یہ صراحت کی جا رہی ہے کہ یہ وہ جانیں (نفوس) ہیں جن کو موت نہیں آئی اور دوسری جانب یہ بھی بصراحت کہا جا رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نیند کی حالت میں ان کے ساتھ ”توفی“ کا معاملہ کرتا ہے، تو یہاں اللہ تعالیٰ فاعل ہے ”متوفی“ اور نفس انسانی مفعول ہے ”متوفی“ مگر پھر بھی کسی صورت سے ”توفی بمعنی موت“ صحیح نہیں ہیں ورنہ تو قرآن کا جملہ ”والتی لم تمت“ العیاذ باللہ مہمل ہو کر رہ جائے گا۔ یا مثلاً ”وهو الذی یتوفکم بالیل ویعلم ماجرحتم بالنهار (انعام ٦٠) اور وہی (اللہ) ہے جو پورا لے لیتا یا قبضہ میں کر لیتا ہے تم کو رات میں اور جانتا ہے جو تم کماتے ہو دن میں“ میں بھی کسی طرح توفی بمعنی موت نہیں بن سکتے حالانکہ توفی کا فاعل اللہ اور مفعول انسانی نفوس ہیں، یا مثلاً آیت ”حتی اذا جاء احدکم الموت توفته رسلنا“ (انعام ٦١) یہاں تک کہ جب آتی ہے تم میں سے ایک کسی کو موت، قبض کر لیتے ہیں یا پورا لے لیتے ہیں اسکو ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے)“ میں ذکر موت ہی کا ہو رہا ہے لیکن پھر بھی ”توفته“ میں توفی کے معنی موت کے نہیں بن سکتے ورنہ بے فائدہ تکرار لازم آئے گا یعنی ”احدکم الموت“ میں جب لفظ ”موت“ کا ذکر آ چکا تو اب ”توفته“ میں بھی اگر توفی کے معنی موت ہی کے لیے جائیں تو ترجمہ یہ ہوگا، ”یہاں تک کہ جب آتی ہے تم میں سے ایک کسی کو موت، موت لے آتے ہیں ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے) اور ظاہر ہے کہ اس صورت میں دوبارہ لفظ موت کا ذکر بے فائدہ ہے اور کلام فصیح و بلیغ اور معجز تو کیا روزمرہ کے محاورہ اور عام بول چال کے لحاظ سے بھی پست اور لاطائل ہو جاتا البتہ اگر ”توفی“ کے حقیقی معنی ”کسی شے پر قبضہ کرنا یا اس کو پورا لے لینا“ مراد لیے جائیں تو قرآن عزیز کا مقصد ٹھیک ٹھیک ادا ہوگا اور کلام بھی اپنے حد اعجاز پر قائم رہے گا۔

٨٤

صفحہ ٣١١

اب ہر ایک عاقل غور کر سکتا ہے کہ یہ دعویٰ کرنا کہ توفی کے حقیقی معنی موت کے ہیں خصوصاً جبکہ فاعل خدا ہو اور مفعول ذی روح کہاں تک صحیح اور درست ہے؟

بہر حال اس موقعہ پر ”موت“ اور ”توفی“ دونوں کا ساتھ ساتھ بیان ہونا اور دونوں کا ایک ہی معمول ہوتا اور پھر دونوں کے معنی میں فرق و تفاوت اس بات کے لیے واضح دلیل ہے کہ یہ دونوں مرادف الفاظ نہیں ہیں اور جس طرح لیث و اسد (بمعنی شیر) ابل و جمل (بمعنی اونٹ) نون و حوت (بمعنی مچھلی) وغیرہ اسماء کا اور جمع، شمل، کسب (بمعنی جمع ہونا) اور لبث، مکث (بمعنی ٹھہرنا) اور عطش و ظما (پیاس) اور جوع، سغب (بمعنی بھوک) مصادر کا حال ہے، موت اور توفی کے درمیان وہ معاملہ نہیں ہے بلکہ ان کے حقیقی معانی میں نمایاں فرق ہے۔

اور مثلاً آیۃ ”فامسکوھن فی البیوت حتی یتوفھن الموت“ (نساء ١٥) پس روکے رکھو ان (عورتوں) کو گھروں میں یہاں تک کہ لے لے ان کو موت“ میں موت کو فعل توفی کا فاعل قرار دیا گیا ہے اور ہر ایک زبان کی نحو (گرامر) کا یہ مسلمہ مسئلہ ہے کہ فاعل اور فعل ایک نہیں ہوتے، کیونکہ فعل، فاعل سے صادر ہوتا ہے، عین ذات فاعل نہیں ہوا کرتا تو اس سے یہ بخوبی واضح ہو جاتا ہے کہ توفی کے حقیقی معنی ”موت“ کے ہرگز ہرگز نہیں ہیں، ورنہ اس کا اطلاق جائز نہیں ہو سکتا تھا۔

ان تین مقامات کے علاوہ سورۂ بقرہ کی آیت ٢٨١۔

ثُمَّ توفى کل نفس بما کسبت.

پھر پورا دیا جائے گا ہر ایک نفس کو جو کچھ اس نے کمایا ہے۔

اور سورۂ نحل کی آیت ١١١۔

وتوفی کل نفس ما عملت. اور پورا دیا جائے گا ہر نفس کو جو کچھ اس نے کمایا ہے۔

میں بھی توفی کا فاعل اللہ تعالیٰ اور مفعول ”نفس انسانی“ ہے تاہم یہاں بھی توفی بمعنی موت نہیں بن سکتے اور یہ بہت واضح اور صاف بات ہے۔

غرض ان آیات میں باوجود اس امر کے کہ ”توفی“ کا فاعل اللہ تعالیٰ اور اس کا مفعول ”انسان یا نفس انسانی“ ہے، پھر بھی باجماع اہل لغت وتفسیر ”موت کے معنی“ نہیں ہو سکتے خواہ اس لیے کہ دلیل اور قرینہ اس معنی کے خلاف ہے اور یا اس لیے کہ اس مقام پر توفی کے حقیقی معنی (پورا لے لینا یا قبض کر لینا) کے ماسوا ”موت کے معنی“ کسی طرح

٨٥

صفحہ ٣١٢

بن ہی نہیں سکتے۔

تو مرزا قادیانی کا یہ دعویٰ کہ ”توفی“ اور ”موت“ مرادف الفاظ ہیں یا یہ کہ توفی کا فاعل اگر اللہ تعالیٰ اور مفعول، انسان یا نفس انسانی ہو تو اس جگہ صرف ”موت“ ہی کے معنی ہوں گے۔ دونوں دعویٰ باطل اور نصوص قرآن کے قطعاً مخالف ہیں۔ ”فھاتوا برھانکم ان کنتم صادقین“

توفی کا حقیقی معنی فوت نہیں

توفی اور موت یقیناً مرادف الفاظ نہیں ہیں اور توفی کے حقیقی معنی ”موت“ نہیں بلکہ ”پورا لے لینا یا قبض کر لینا“ ہیں۔ قرآن عزیز سے اس کی ایک واضح دلیل یہ ہے کہ پورے قرآن میں کسی ایک جگہ بھی موت کا فاعل اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی کو قرار نہیں دیا مگر اس کے برعکس توفی کا فاعل متعدد مقامات پر ملائکہ (فرشتوں) کو ٹھہرایا ہے مثلاً سورۃ نساء ٩٧ میں ہے ”ان الذین توفہم الملئکۃ“ بیشک وہ لوگ جن کو فرشتوں نے قبض کر لیا یا پورا پورا لے لیا“ اور سورہ انعام ٦١ میں ہے ”توفتہ رسلنا“ قبض کر لیا یا پورا لے لیا اس کو ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتوں) نے۔ اور سورۃ سجدہ میں ہے ”قل یتوفکم ملک الموت“ (اے محمد ﷺ کہہ دیجیے قبض کرے گا تم کو موت کا فرشتہ“ اور سورۃ انفال ٥٠ میں ہے۔ ولو تری اذ یتوفی الذین کفروا الملئکۃ اور کاش کہ تو دیکھے جس وقت کہ قبض کرتے ہیں، فرشتے ان لوگوں (کی روحوں) کو جنھوں نے کفر کیا ہے۔

ان تمام مقامات پر اگرچہ توفی ”کنایۃً“ بمعنی موت استعمال ہوا ہے لیکن پھر بھی چونکہ اس کی نسبت اللہ تعالیٰ کی بجائے ملائکہ اور ملک الموت کی جانب ہو رہی تھی اس لیے لفظ ”متوفی“ کا اطلاق کیا گیا اور لفظ ”موت“ استعمال نہیں کیا گیا اور یہ صرف اس لیے کہ موت تو اللہ کا فعل ہے اور موت کے وقت انسان کا یعنی روح انسانی کا قبض کرنا اور اس کو پورا پورا لے لینا یہ فرشتوں کا عمل ہے، تو جن مقامات میں یہ بتلانا مقصود ہے کہ جب خدا کسی کی اجل پوری کر دیتا ہے اور موت کا حکم صادر فرماتا ہے تو اس کی صورت عمل کیا پیش آتی ہے ان مقامات میں موت کا اطلاق ہرگز موزوں نہیں تھا بلکہ ”توفی“ کا لفظ ہی اس حقیقت کو ادا کر سکتا تھا۔

موت اور توفی کے درمیان قرآنی اطلاقات کے پیش نظر ایک بہت بڑا فرق یہ بھی ہے کہ قرآن عزیز نے جگہ جگہ ”موت“ اور ”حیات“ کو تو مقابل ٹھہرایا ہے لیکن ”توفی“ کو کسی ایک مقام پر بھی ”حیات“ کا مقابل قرار نہیں دیا۔ مثلاً سورۃ ملک ٢ میں

٨٦

صفحہ ٣١٣

ہے ”ہو الذی خلق الموت والحیٰوۃ۔“ خدا ہی وہ ذات ہے جس نے پیدا کیا موت کو اور زندگی کو“ اور سورۂ فرقان ٣ میں ہے ”ولا یملکون موتا ولا حیوٰۃ“ اور وہ نہیں مالک ہیں موت کے اور نہ حیات کے اور اسی طرح ان دونوں کے مشتقات کو مقابل ٹھہرایا ہے مثلاً ”کیف تحیی الموتٰی“ (بقرہ ٢٦٠) ”یحیی الارض بعد موتھا۔“ (روم ٢٤) ”فاحیا بہ الارض بعد موتھا“ (بقرہ ١٦٤) ”واحیی الموتٰی باذن اللّٰہ“ (ال عمران ٤٩) ”وھو یحیی الموتٰی“ (شوریٰ ٩) (وغیر ذلک کثیرا) البتہ توفی کے حقیقی معنی میں چونکہ یہ وسعت موجود ہے کہ اسلام کے نقطۂ نظر سے موت کی جو حقیقت ہے بطریق کنایہ اس پر بھی حسب موقعہ اس کا اطلاق ہو سکتا ہے تو یہ استعمال اور اطلاق بھی جائز ٹھہرا اور اس میں کسی کو بھی اختلاف نہیں۔

”متوفی“ کے معنی کی اس مفصل تشریح و توضیح کا حاصل یہ ہوا کہ لغت عرب اور قرآنی اطلاقات دونوں اس کے شاہد ہیں کہ توفی اور موت دونوں کے حقیقی معنی میں بھی اور دونوں کے اطلاقات میں بھی واضح فرق ہے اور دونوں مترادف الفاظ نہیں ہیں۔ خواہ متوفی کا فاعل اللہ تعالیٰ اور مفعول انسان اور روح انسانی ہی کیوں نہ ہو۔ مگر اسلامی نقطۂ نظر سے چونکہ موت ایک ایسی حقیقت کا نام ہے جس پر بطریق ”توسع“ اور کنایہ توفی کا اطلاق کیا جا سکتا ہے پس جس مقام پر قرینہ اور محل استعمال کا تقاضہ یہ ہو گا کہ وہاں توفی بول کر کنایۃً موت کے معنی لیے جانے چاہئیں تو اس جگہ ’موت‘ کے معنی مراد ہوں گے لیکن اس کے برعکس اگر دلیل، قرینہ اور محل استعمال حقیقی معنی کا متقاضی ہے تو اس جگہ وہی معنی مراد ہوں گے اور ان ہی کو مقدم سمجھا جائے گا خواہ کنائی معنی وہاں قطعاً نہ بن سکتے ہوں اور خواہ بن سکتے ہوں مگر محل استعمال اور دوسرے دلائل اس کو مرجوح یا ممنوع قرار دیتے ہوں۔

یہی وہ حقیقت ہے جس کو بہ نظر غائر مطالعہ کرنے کے بعد لغت کے مشہور امام ابوالبقاء نے یہ تصریح کی ہے کہ عوام میں توفی کے معنی اگرچہ ”موت“ کے سمجھے جاتے ہیں مگر خواص کے نزدیک اس کے معنی ”پورا لے لینا اور قبض کرنا“ ہیں۔ فرماتے ہیں۔ التوفی الاماتہ وقبض الروح والخ۔ سورہ مائدہ کی آیت ”انی متوفیک میں اگر حقیقی معنی مراد ہوں۔ جیسا کہ جلیل القدر علما تفسیر و لغت نے اختیار کیے ہیں۔۔۔۔ تب بھی مرزا قادیانی کے علی الرغم آیات زیر بحث کا یہ مطلب ہو گا کہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یہ تسلی دی گئی ”اے عیسیٰ! میں تجھ کو پورا پورا لے لینے والا ہوں یا تجھ کو قبض کرنے والا ہوں اور صورت یہ ہو گی کہ میں تجھ کو اپنی جانب (ملاء اعلیٰ کی جانب) اٹھا لینے والا ہوں

....... ٨٧

صفحہ ٣١٤

اور تجھ کو دشمنوں کے ناپاک ہاتھوں سے پاک رکھنے والا ہوں‘ یعنی جب شروع میں یہ بتلایا کہ تجھ کو قبض کر لیا جائے گا یا پورا لے لیا جائے گا تو قدرتی طور پر سوال پیدا ہوا کہ قبض کرنے اور پورا لے لینے کی مختلف شکلیں ہیں مثلاً ایک یہ کہ موت آ جائے اور روح کو قبض کر لیا جائے اور دوسری یہ کہ زندہ ملاء اعلیٰ کی جانب (اپنی جانب) اٹھا لیا جائے۔ تو یہاں کون سی صورت پیش آئے گی پس اس کو صاف اور واضح کرنے کے لیے کہا گیا کہ دوسری شکل اختیار کی جائے گی تاکہ دشمنوں کی سازشوں کے مقابلہ میں معجزانہ تدبیر کے ذریعہ وعدہ الٰہی ”ومکروا ومکر اللہ واللہ خیر الماکرین“ پورا ہو اور ”واذ کففت بنی اسرائیل عنک“ کا عظیم الشان مظاہر ہو جائے۔ اور ”متوفی“ اور ”رفع“ ہو جانے پر نتیجہ یہ نکلے کہ ذات اقدس کافروں کے ہاتھ سے ہر طرح محفوظ ہو جائے اور اس طرح وعدہ ربانی ”ومطہرک من الذین کفروا“ بغیر کسی تاویل کے صحیح ہو جائے اور تاویل باطل کے ذریعہ شک اور تردد یا حقیقت حال سے انکار صرف ان ہی قلوب کا حصہ رہ جائے جو قرآن سے علم حاصل کرنے کی بجائے اول اپنے ذاتی اوہام وظنون کو راہنما بناتے اور قرآن کے منطوق و مفہوم کے خلاف اس کے منہ میں اپنی زبان رکھ دینا چاہتے ہیں اور اس سے وہ کہلانا چاہتے ہیں جو وہ خود کہنا نہیں چاہتا مگر وہ قرآن عزیز کی اس صفت سے غافل رہتے ہیں ”لایاتیہ الباطل من بین یدیہ ولا من خلفہ تنزیل من حکیم حمید۔“ (حم سجدہ ٤٢) اس قرآن کے آگے سے اور نہ اس کے پیچھے سے (کسی جانب سے بھی) باطل نہیں پھٹک سکتا‘ یہ اتارا ہوا ہے ایسی ہستی کی جانب سے جو حکمت والی‘ خوبیوں والی ہے۔“

متنبی پنجاب کو جب قرآن عزیز کی ان نصوص سے متعلق تحریف معنوی میں ناکامی ہوئی اور خسران کے سوا کچھ ہاتھ نہ آیا تو مجبور ہو کر اور قرآن عزیز کے اطلاقات‘ احادیث صحیحہ کی اطلاعات اور اجماع امت کے فیصلہ کو پس پشت ڈال کر ”فلسفہ“ کی آغوش میں پناہ لینے کا ارادہ کیا اور اپنی تصانیف میں یہ ہرزہ سرائی کی کہ اگر حضرت مسیح آسمان پر زندہ اٹھا لیے گئے تو یہ عقل کے خلاف ہے اس لیے کہ کوئی مادی جسم ملاء اعلیٰ تک پرواز نہیں کر سکتا اور پہنچ بھی جاتا تو اتنی طویل مدت کیسے زندہ ہے اور وہاں کھانے‘ پینے اور رفع حاجت کرنے کی صورت کیسے عمل میں آسکتی ہے؟

فلسفہ جدید اور رفع مسیح علیہ السلام

قدرت الٰہی کے معجزانہ افعال کو خلاف عقل کہہ کر بات اگر ختم ہو سکتی تو شاید

٨٨

صفحہ ٣١٥

قادیانی کی یہ فلسفیانہ موشگافی درخور اعتنا سمجھی جا سکتی لیکن آج فلسفہ جدید بہ شکل سائنس ترقی کر کے جس حد تک پہنچ چکا ہے وہاں نظریات (Thiorts) نہیں بلکہ مشاہدات اور عملیات (Pratiees) اس بات کو ثابت کر رہے ہیں کہ فضاء کے موانعات کو اگر آہستہ آہستہ ہٹا دیا جائے یا ان کو ضبط (Controt) میں لے آیا جائے تو مادی جسم کے لیے غیر معلوم بلندی تک پہنچنا ممکن العمل ہو جائے گا اور اس کے لیے جو جدوجہد کر رہے ہیں اس کو ممکن العمل سمجھ کر ہی کر رہے ہیں اور سائنٹیفک (Scientific) طریقہ پر کر رہے ہیں، پس اگر آج کا انسان میلوں اوپر ہوائی جہاز کے ذریعہ جا سکتا ہے اور ٹیلی ویژن کے ذریعہ ہزاروں میل سے مادی انسان کے ساتھ باتیں کرتے وقت اس کے جسم کی تصویر لے سکتا ہے اور ہوا اور آفتاب کی لہروں اور شعاعوں پر کنٹرول کر کے ہزاروں میل تک اپنی آواز کو بذریعہ ریڈیو نشر کر سکتا ہے گویا وہ سب کچھ اس وقت ہو رہا ہے تو اس انساں کے خالق بلکہ خالق کائنات کے متعلق از رہ تفلسف یہ کہنا کہ وہ مادی جسم کو ملاء اعلیٰ تک کیسے لے جا سکتا ہے اپنی غباوت پر مہر کرنا نہیں تو اور کیا ہے۔

اور اگر ادویات اور غذاؤں اور حفظان صحت کے مختلف طریق سے عمر طبعی کو دوگنا اور تین گنا کیا جا سکتا اور کیا جا رہا ہے نیز اگر مختلف غذاؤں کے اثرات و نتائج میں یہ فرق ہو سکتا ہے اور ہوتا ہے کہ کسی سے فضلہ زیادہ بنے اور کسی سے بہت کم بنے اور کسی سے قطعاً نہ بنے بلکہ وہ خالص خون کی شکل میں تحلیل ہو جائے اور اگر انسان اپنی ریاضتوں اور مجاہدوں کے ذریعہ روحانی قوت کو بڑھا کر آج اس دنیا میں دنوں، ہفتوں بلکہ مہینوں بغیر خورد نوش زندہ رہ سکتا ہے تو مجبور انسانوں کی ان کامیاب کوششوں کو صحیح سمجھنے کے باوجود خالق ارض و سماوات کی جانب حضرت مسیح علیہ السلام کی رفعت آسمانی پر مسطورہ بالا شکوک پیش کرنا یا ان کے پیش نظر ان کے بجسد عنصری ملاء اعلیٰ تک پہنچنے اور وہاں زندہ رہنے کا انکار کرنا اگر جہالت نہیں تو اور کیا ہے؟

حقیقت یہ ہے کہ جو شخص علمی حقائق سے نا آشنا اور علوم قرآن سے محروم ہے وہ ”خلاف عقل“ اور ”ماوراء عقل“ ان دونوں باتوں کے درمیان فرق کرنے سے عاجز ہے اور اس لیے ہمیشہ ماوراء عقل کو خلاف عقل کہہ کر پیش کرتا رہتا ہے۔

دراصل انسان کی فکری گمراہیوں کا سرچشمہ صرف دو ہی باتیں ہیں ایک یہ کہ انسان ”عقل“ سے اس درجہ بے بہرہ ہو جائے کہ ہر ایک بات بے سمجھے بوجھے مان لے اور اندھوں کی طرح ہر ایک راہ پر چلنے لگے دوسری بات یہ کہ جو حقیقت بھی عقل سے

٨٩

صفحہ ٣١٦

بالاتر نظر آئے اس کو فوراً جھٹلا دے اور یہ یقین کر لے کہ جس شے کو اس کی سمجھ یا چند انسانوں کی سمجھ ادراک نہیں کر سکتی وہ شے حقیقۃً وجود نہیں رکھتی اور تکذیب کے لائق ہے حالانکہ بہت سی باتیں وہ ہیں جو ایک دور کے تمام عقلاء کے نزدیک ماوراء عقل سمجھی جاتی ہیں، اس لیے کہ ان کی عقلیں ان باتوں کا ادراک کرنے سے عاجز رہیں مگر وہی باتیں علمی ترقی کے دوسرے دور میں جا کر نہ صرف ممکن الوقوع قرار پاتی، بلکہ مشاہدہ اور تجربہ میں آ جاتی ہیں پس اگر ہر ایک وہ شے جو کسی ایک انسان یا جماعت یا اس دور کے تمام اہل عقل کے نزدیک ماوراء عقل تھی ”خلاف عقل“ کہلانے کی مستحق تھی تو وہ دوسرے دور میں کیوں عقل کے لیے ممکن ہوئی بلکہ مشاہدہ میں آ گئی۔

قرآن عزیز نے گمراہی کی اس پہلی حالت کو (جہل، ظن، خرص (اٹکل)) سے تعبیر کیا ہے اور دوسری حالت کو ”الحاد“ کہا ہے ”اور یہ دونوں حالتیں ”علم و عرفان“ سے محرومی کا نتیجہ ہوتی ہیں۔“

خلاف عقل اور ماوراء عقل کے درمیان یہ فرق ہے کہ خلاف عقل بات وہ ہو سکتی ہے جس کے نہ ہو سکنے کے متعلق علم و یقین کی روشنی میں مثبت دلائل و براہین موجود ہوں اور عقل، دلیل و برہان اور علم و یقین سے یہ ثابت کرتی ہو کہ ایسا ہونا ناممکن اور محال ذاتی ہے اور ماوراء عقل اس بات کو کہتے ہیں کہ بعض باتوں کے متعلق عقل ہی کا یہ فیصلہ ہے کہ چونکہ انسانی عقل کا ادراک ایک خاص حد سے آگے نہیں بڑھتا اور حقیقت اسی حد پر ختم نہیں ہو جاتی لہٰذا ہر وہ بات جو عقل کے احاطہ میں نہ آ سکتی ہو مگر اس کے انکار پر علم و یقین کے ذریعہ برہان و دلیل بھی نہ دی جا سکتی ہو تو ایسی بات کو خلاف عقل نہیں بلکہ ماوراء عقل کہیں گے۔

خلاف عقل اور ماوراء عقل کے درمیان امتیاز ہی کا یہ نتیجہ ہے کہ جن چیزوں کو کل کی دنیا میں عام طور پر خلاف عقل کہا جاتا رہا ان کو اہل دانش و بینش نے خلاف عقل نہ سمجھتے ہوئے موجودہ دور میں ممکن بلکہ موجود کر دکھایا اور کل یہی عقل کی ترقی آج کی بہت سی ماوراء عقل باتوں کو احاطہ عقل میں لا سکے گی اور نہ معلوم یہ سلسلہ کب تک جاری رہے گا۔

پس جو شخص حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بجسد عنصری رفع الی السماء کا اس لیے منکر ہے کہ عقلی فلسفہ اس کا انکار کرتا ہے تو اس کا یہ دعویٰ ”برہان و دلیل اور علم و یقین کی جگہ محض جہل، ظن، اٹکل کے ماتحت ہے اور ایسے حضرات کے لیے پھر عالم غیب کی تمام

٩٠

صفحہ ٣١٧

ماوراء عقل باتوں مثلاً وحی، فرشتہ، جنت، جہنم، حشر، معاد، معجزہ وغیرہ تمام باتوں کو خلاف عقل کہہ کر جھٹلا دینا چاہیے۔

قرآن عزیز نے ان ہی جیسے منکرین حق کے متعلق صاف صاف مکذبین کا لقب تجویز کر دیا ہے۔

بَلْ كَذَّبُوْا بِمَا لَمْ يُحِيْطُوْا بِعِلْمِهِ وَلَمَّا يَأْتِهِمْ تَأْوِيْلُهُ كَذٰلِكَ كَذَّبَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِيْنَ.

(یونس ٣٩)

نہیں یہ بات نہیں ہے (جیسا کفار کہتے ہیں) اصل حقیقت یہ ہے کہ جس بات پر یہ اپنے علم سے احاطہ نہ کر سکے اور جس بات کا نتیجہ ابھی پیش نہیں آیا اس کے جھٹلانے پر آمادہ ہو گئے۔ ٹھیک اسی طرح انھوں نے بھی جھٹلایا تھا جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں تو دیکھو، ظلم کرنے والوں کا کیسا کچھ انجام ہو چکا ہے؟

آیت میں کذبوا بما لم یحیطوا بعلمہ کہہ کر جس حقیقت کا اعلان کیا گیا ہے ”یعنی انسان کی عقل جس بات کا ادراک نہ کر سکے اس کو دلیل و برہان اور علم یقین کے بغیر ہی جھٹلا دینا اور صرف اس بناء پر انکار کر دینا کہ یہ بات ہماری سمجھ سے بالاتر ہے“ اس کی ایک نظیر مرزا قادیان کا وہ انکار ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ”رفع الی السماء“ سے متعلق ہے اور اس کے خلیفہ مسٹر لاہوری کی فلسفیانہ موشگافیاں بھی اسی بے دلیل انکار وجود کا شعبہ ہیں۔

اس حربہ کو بھی کمزور سمجھ کر متنبی پنجاب نے پھر رخ بدلا اور یہ دعویٰ کیا کہ اس موقعہ کے علاوہ قرآن کے کسی مقام سے یہ ثابت نہیں کیا جا سکتا کہ ”رفع“ سے ”رفع روحانی“ کے ماسوا کوئی معنی لیے گئے ہیں یعنی مادی شے کی جانب رفع کی نسبت کی گئی ہو لہٰذا اس مقام پر بھی رفع روحانی کے علاوہ معنی لینا قرآن کے اطلاق و استعمال کے خلاف ہے۔

مگر متنبی کاذب کا یہ دعویٰ اوّل تو بنیاداً ہی غلط ہے کیونکہ اگر کسی لفظ کے محل استعمال سے یا قرآن ہی کی دوسری نصوص سے ایک معنی متعین ہیں تب یہ سوال پیدا کرنا کہ یہی استعمال دوسرے کسی مقام پر جب تک ثابت نہیں ہوگا قابل تسلیم نہیں، حد درجہ کی نادانی ہے تاوقتیکہ دلیل سے یہ ثابت نہ کر دیا جائے کہ لغت عرب میں اس لفظ کا اس معنی میں استعمال جائز ہی نہیں اور اگر اتمام حجت کے طور پر اس قسم کے لچر سوال یا دعوٰی کو قابل جواب یا لائق رد سمجھا ہی جائے تو سورۃ والنازعات ٢٧ کی یہ آیت کافی و وافی ہے۔

ءَ اَنْتُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمِ السَّمَآءُ (اے افرادِ نسل انسانی!) خلقت اور پیدائش کے

٩١

صفحہ ٣١٨

لحاظ سے بنہا رفع سمکہا (الآیہ) کیا تم زیادہ بھاری اور بوجھل ہو یا آسمان، جس کو خدا نے بنایا اور اس کے بوجھل جسم کو بلند کیا۔

اور ایک آسمان پر ہی کیا موقوف ہے یہ ہم سے لاکھوں اور کروڑوں میل دور فضا میں سورج، چاند اور ستاروں کو خدائے برتر نے جو بلندی اور رفعت عطا کی ہے کیا یہ سب کے سب مادی اجسام نہیں ہیں؟ اور اگر ہیں اور یقیناً ہیں تو جس خالق ارض و سماوات نے ان مادی اجسام کا رفع کیا ہے وہ اگر ایک انسانی مخلوق کا رفع آسمانی کردے تو اس کو قرآن کے اطلاق و استعمال کے خلاف کہنا غباوت اور جہالت نہیں تو اور کیا ہے، البتہ ثبوت درکار ہے تو اس کے لیے قرآن عزیز کی نصوص، صحیح احادیث اور اجماع امت سے زیادہ موثق ثبوت اور کیا ہو سکتا ہے؟

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا رفع سماوی اور چند جذباتی باتیں

مرزا قادیانی نے اگرچہ اس مسئلہ میں جمہور کے خلاف یہود و نصاریٰ کی پیروی میں تحریف مطالب کی کافی سعی ناکام کی ہے اور مسٹر لاہوری نے بھی تفسیر قرآن میں تحریف معنوی کے ذریعہ اپنے مقتداء کی مدد کی تاہم دل کا چور ان کو مطمئن نہیں کر سکا اور اس لیے انھوں نے دلائل و براہین کی جگہ جذبات کو دلیل راہ بنایا اور کبھی تو یہ کہا کہ جو لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر زندہ تسلیم کرتے ہیں وہ ان کو خاتم الانبیاء محمدﷺ پر فضیلت دیتے ہیں کہ آپ زمین پر ہوں اور حضرت عیسیٰ آسمان پر۔ یہ تو سخت توہین کی بات ہے۔

لیکن علمی حلقوں میں اس لچر اور پوچ جذبہ کی کیا قدر و قیمت ہو سکتی ہے جبکہ ہر ایک مذہبی انسان اس حقیقت سے بخوبی آشنا ہے کہ اگرچہ فرشتے ہمیشہ بقید حیات ملاء اعلیٰ میں موجود اور سکونت پذیر ہیں تاہم ان سب کے مقابلہ میں بلکہ ان کی جلیل القدر ہستیوں مثلاً جبرائیل و میکائیل کے مقابلہ میں بھی ایک مفضول سے مفضول نبی کا رتبہ بہت بلند اور عالی ہے حالانکہ وہ نبی زمین پر مقیم رہا ہے اور جبرائیل کا قیام ملاء اعلیٰ کے بھی بلند تر مقام پر رہتا ہے چہ جائیکہ خاتم الانبیاءﷺ کا مرتبہ جلیل کہ جس کی عظمت ”بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر“ میں مضمر ہے، علاوہ ازیں نبی اکرمﷺ نے شب معراج میں ”قاب قوسین او ادنیٰ“ کا جو تقرب پایا ہے وہ نہ کسی ملک اور فرشتہ کو حاصل ہوا اور نہ کسی نبی اور رسول کو اس لیے حضرت مسیح کا رفع آسمانی اس ”رفعت“ کو پہنچ ہی نہیں سکتا جو اسریٰ میں آپ کو حاصل ہوئی بہرحال فاضل و مفضول کے درمیان فرق مراتب کے لیے تنہا ملاء

٩٢

صفحہ ٣١٩

ادنیٰ کا قیام معیار فضیلت نہیں ہے خصوصاً اس ”افضل ہستی“ کے مقابلہ میں جس کی فضیلت کا معیار خود اس کا وجود باجود ہو اور جس کی ذاتِ قدسی صفات خود ہی منبع فضائل اور مرجع کمالات ہو، ایسی ہستی سے تو ”مقام“ عزت و مرتبہ پاتا ہے نہ کہ وہ ذات گرامی ۔

حسنِ یوسف، دمِ عیسیٰ، یدِ بیضا داری
آنچہ خوباں ہمہ دارند تو تنہا داری

اور کبھی یہ کہا کہ جو شخص عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ تسلیم کرتا ہے وہ ”العیاذ باللہ“ نبی اکرم ﷺ کی اس لیے توہین کرتا ہے کہ وہ بقید حیات نہیں رہے اور اس طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو پھر ذاتِ اقدس پر برتری حاصل ہو گئی۔

یہ مقولہ پہلے سے بھی زیادہ بے کیف اور بے معنی ہے بلکہ سرتاسر غلط بنیاد پر قائم، اس لیے کہ کون اہل عقل اور ذی ہوش کہہ سکتا ہے کہ ”زندگی“ بھی فاضل و مفضول کے درمیان معیار فضیلت ہے، اس لیے کہ زندگی کی قیمت ذاتی کمالات و فضائل سے ہے نہ اس لیے کہ وہ زندگی ہے پھر ”معیار فضیلت“ کی اس بحث سے قطع نظر اس موقع پر نبی اکرم ﷺ کے مسئلہ فضیلت کو درمیان لانا اس لیے بھی قطعاً بے محل ہے کہ جبکہ قرآن عزیز کی نصوص نے تمام کائنات پر آپ ﷺ کی برتری کو ثابت کر دیا اور آپ ﷺ کی سیرت نے زندہ شہادت بن کر ان نصوص کی تصدیق کر دی تو کسی بھی انسان کی ”زندگی“ یا ”رفع آسمانی“ یا اور کوئی ”وجہ فضیلت“ اس کے مقابلہ میں نہیں لائی جاسکتی، اور ہر ایک حالت وصورت میں ”فضل کلی“ اسی جامع کمالات ہستی کو حاصل رہے گا۔

وَلٰکِن شُبِّہَ لہم کی تفسیر

اس مسئلہ کو ختم کرنے سے پہلے اب ایک بات باقی رہ جاتی ہے کہ سورۂ نساء کی مسطورۂ بالا آیت میں ”وَلٰکِنۡ شُبِّہَ لَہُمۡ“ کی کیا تفسیر ہے؟ یعنی وہ کیا اشتباہ تھا جو یہودیوں پر طاری کر دیا گیا، تو قرآن عزیز اس کا جواب اس مقام پر بھی اور آل عمران میں بھی ایک ہی دیتا ہے اور وہ ”رفع الی السماء“ ہے، آل عمران میں اس کو وعدہ کی شکل میں ظاہر کیا ”وَرَافِعُکَ اِلَیَّ“ اور نساء میں ایفاء وعدہ کی صورت میں یعنی ”بَلۡ رَّفَعَہُ اللّٰہُ اِلَیۡہِ“ جس کا حاصل یہ نکلتا ہے کہ محاصرہ کے وقت جب منکرین حق گرفتاری کے لیے اندر گھسے تو وہاں عیسیٰ علیہ السلام کو نہ پایا، یہ دیکھا تو سخت حیران ہوئے اور کسی طرح اندازہ نہ لگا سکے کہ صورتِ حال کیا پیش آئی اور اس طرح ”ولکن شبہ لہم“ کا مصداق بن کر رہ گئے، اس کے بعد قرآن کہتا ہے ”اِنَّ الَّذِیۡنَ اخۡتَلَفُوۡا فِیۡہِ لَفِیۡ شَکٍّ مِّنۡہُ

٩٣

صفحہ ٣٢٠

مالهم به من علم الا اتباع الظن وما قتلوه يقينا“ تو یہ اشتباہ کے بعد جو صورت حال پیش آئی اس کا نقشہ بیان کیا گیا ہے اور اس سے دو باتیں بصراحت ظاہر ہوتی ہیں ایک یہ کہ یہود اس سلسلہ میں اس طرح شک میں پڑ گئے تھے کہ گمان اور اٹکل کے ماسوا ان کے پاس علم و یقین کی کوئی صورت باقی نہیں رہ گئی تھی اور دوسری بات یہ کہ انھوں نے کسی کو قتل کر کے یہ مشہور کیا کہ انھوں نے ”مسیح علیہ السلام“ کو قتل کر دیا اور یا پھر آیت زمانہ نبوت محمدی کے یہود کا حال بیان کر رہی ہے۔

پس قرآن عزیز کے ان واضح اعلانات کے بعد جو حضرت مسیح علیہ السلام کی حفاظت و صیانت کے سلسلہ میں کیے گئے ہیں اور جن کو تفصیل کے ساتھ سطور بالا میں بیان کر دیا گیا ہے ان دو باتوں کی جزئی تفصیلات کا تعلق آثار صحابہ رضی اللہ عنہم اور تاریخی روایات پر رہ جاتا ہے اور اس سلسلہ میں صرف ان ہی روایات و آثار کو قابل تسلیم سمجھا جائے گا جو اپنی صحت روایت کے ساتھ ساتھ ان بنیادی تصریحات سے نہ ٹکراتی ہوں جن کا ذکر متعدد مقامات پر قرآن عزیز نے بصراحت کر دیا ہے اور ”القرآن یفسر بعضہ بعضا“ قرآن کا ایک حصہ دوسرے حصہ کی خود ہی تفسیر کر دیتا ہے“ کے اصول پر جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دشمن ہاتھ تک نہ لگا سکے اور وہ محفوظ ملاء اعلیٰ کی جانب اٹھا لیے گئے اور جیسا کہ حیوۃ عیسیٰ علیہ السلام کی بحث میں ابھی نصوص قرآنی سے ثابت ہوگا کہ وہ وقوع قیامت کے لیے ”نشان“ ہیں اور اس لیے دوبارہ کائنات ارضی میں واپس آ کر اور مفوضہ خدمت انجام دے کر پھر موت سے دوچار ہوں گے۔

شخص مقتول و مصلوب سے متعلق آثار و تاریخ کی جو ملی جلی روایات ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ ”سبت کی شب“ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام بیت المقدس کے ایک بند مکان میں اپنے حواریوں کے ساتھ موجود تھے کہ بنی اسرائیل کی سازش سے دمشق کے بت پرست بادشاہ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی گرفتاری کے لیے ایک دستہ بھیجا اس نے آ کر محاصرہ کرلیا۔ اسی اثناء میں اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو ملاء اعلیٰ کی جانب اٹھا لیا جب سپاہی اندر داخل ہوئے تو انھوں نے حواریوں میں ایک ہی شخص کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ہم شبیہ پایا اور اس کو گرفتار کر کے لے گئے اور پھر اس کے ساتھ وہ سب کچھ ہوا جس کا ذکر گزشتہ سطور میں ہو چکا ہے۔ ان ہی روایات میں بعض اس کا نام یودس بن کریا یوطا بیان کرتے ہیں اور بعض جرجس اور دوسرے داؤد بن لوزا کہتے ہیں۔

پھر ان روایات میں سے بعض میں ہے کہ یہ شخص مقتول اپنی خلقت ہی میں

٩٤

صفحہ ٣٢١

حضرت مسیح علیہ السلام کا مشابہ اور ان کا نقش ثانی تھا، اسرائیلیات انجیلی میں ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حواریوں میں سے یہودا اسخریوطی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا شبیہ تھا اور بعض روایات میں ہے کہ جب یہ نازک گھڑی آ پہنچی تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے حواریوں کو دعوت و تبلیغ حق سے متعلق تلقین و ہدایات کے بعد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے بذریعہ وحی مجھ کو مطلع کر دیا ہے کہ میں ایک مدت تک کے لیے ملاء اعلیٰ کی جانب اٹھا لیا جاؤں گا اور یہ واقعہ مخالفین اور متبعین دونوں کے لیے سخت آزمائش و امتحان بن جانے والا ہے لہٰذا تم میں سے جو شخص اس پر آمادہ ہو کہ اللہ تعالیٰ اس کو میرا شبیہ بنا دے اور وہ خدا کی راہ میں جام شہادت پیے اس کو جنت کی بشارت ہے، تب ایک حواری نے پہل کی اور خود کو اس کے لیے پیش کیا اور منجانب اللہ وہ حضرت کا ہم شکل ہو گیا اور سپاہیوں نے اس کو گرفتار کر لیا۔ (واقعات کی یہ تفصیلات تاریخ ابن کثیر جلد ٢ اور کتب تفسیر میں منقول ہیں)

یہ تفصیلات نہ قرآن میں مذکور ہیں اور نہ احادیث مرفوعہ میں اس لیے وہ صحیح ہوں یا غلط نفس مسئلہ اپنی جگہ اٹل ہے اور قرآن کی آیات میں منصوص، اس لیے اصحاب ذوق کو اختیار ہے کہ وہ صرف قرآن کے اس اجمال پر ہی قناعت کریں کہ حضرت مسیح علیہ السلام کا رفع الی السماء اور ہر طرح دشمنوں سے تحفظ نیز یہود پر معاملہ کا مشتبہ ہو کر کسی دوسرے کو قتل کرنا، یہود و نصاریٰ کے پاس اس سلسلہ میں علم و یقین سے محروم ہو کر ظن و تخمین اور شک و شبہ میں مبتلا ہو جانا اور قرآن کا حقیقت واقعہ کو علم و یقین کی روشنی میں ظاہر کر دینا یہ سب حقائق ثابتہ ہیں یا ”ولکن شبه لهم“ اور ”ان الذین اختلفوا فیہ لفی شک منہ“ (الآیہ) کی تفسیر میں ان روایات کی تفصیلات کو بھی قبول کر لیں اور یہ سمجھ کر تسلیم کریں کہ زیر بحث آیات کی تفسیر ان تفصیلات پر موقوف نہیں ہے بلکہ یہ امر زائد ہے جو آیات کی تفسیر صحیح کے لیے مؤید ہے۔

حیات عیسیٰ علیہ السلام کی حکمت

سورۂ آل عمران، مائدہ اور نساء کی زیر بحث آیات سے یہ ثابت ہو چکا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق حکمت الٰہی کا یہ فیصلہ صادر ہوا کہ ان کو بقید حیات ملاء اعلیٰ کی جانب اٹھا لیا جائے اور وہ دشمنوں اور کافروں سے محفوظ اٹھا لیے گئے لیکن قرآن نے اس مسئلہ میں صرف اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ حسب موقعہ ان کی حیات امروز پر نصوص قطعیہ کے ذریعہ متعدد جگہ روشنی ڈالی ہے اور ان مقامات میں اس جانب بھی

٩٥

صفحہ ٣٢٢

اشارات کیے ہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام کی حیاتِ طویل اور رفع الی السماء میں کیا حکمت مستور تھی تا کہ اہل حق کے قلوب تازگی ایمان سے شگفتہ ہو جائیں اور باطل کوش اپنی کور باطنی پر شرمائیں۔

ليؤمنن به قبل موته

وَإِنْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ وَيَوْمَ الْقِيٰمَةِ يَكُوْنُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا (نساء ١٥٩) اور کوئی اہل کتاب میں سے باقی نہ رہے گا مگر یہ کہ وہ ضرور ایمان لائے گا عیسیٰ پر اس (عیسیٰ) کی موت سے پہلے اور وہ (عیسیٰ) قیامت کے دن ان پر (اہل کتاب پر) گواہ بنے گا۔

اس آیت سے قبل آیات میں وہی مسطورہ بالا واقعہ مذکور ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کو نہ صلیب پر چڑھایا گیا اور نہ قتل کیا گیا بلکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی جانب اٹھا لیا یہ یہود و نصاریٰ کے اس عقیدہ کی تردید ہے جو انھوں نے اپنے باطل زعم اور اٹکل سے قائم کر لیا تھا، ان سے کہا جا رہا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کے متعلق صلیب پر چڑھائے جانے اور قتل کیے جانے کا دعویٰ قابل لعنت ہے کیونکہ بہتان اور لعنت توام ہیں اس کے بعد اس آیت میں امر اوّل کی تصدیق میں اس جانب توجہ دلائی جا رہی ہے کہ آج اگر اس ملعون عقیدہ پر فخر کر رہے ہو تو وہ وقت بھی آنے والا ہے جب عیسیٰ بن مریم علیہما السلام خدائے برتر کی حکمت و مصلحت کو پورا کرنے کے لیے کائنات ارضی پر واپس تشریف لائیں گے اور اس عینی مشاہدہ کے وقت اہل کتاب (یہود و نصاریٰ) میں سے ہر ایک موجود ہستی کو قرآن کے فیصلہ کے مطابق عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لانے کے سوا کوئی چارہ کار باقی نہ رہے گا اور پھر جب وہ اپنی مدت حیات ختم کر کے موت کی آغوش سے دوچار ہو جائیں گے تو قیامت کے دن اپنی امت (اہل کتاب) پر اسی طرح گواہ ہوں گے جس طرح تمام انبیاء و مرسلین اپنی اپنی امتوں پر شاہد بنیں گے۔

یہ حقیقت کچھ مخفی نہیں ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق اگرچہ یہود و نصاریٰ دونوں واقعہ صلیب و قتل پر متفق ہیں لیکن اس سلسلہ میں دونوں کے عقائد کی بنیاد قطعاً متضاد اصول پر قائم ہے، یہود، حضرت مسیح علیہ السلام کو مفتری و کاذب کہتے اور دجال سمجھتے ہیں اور اس لیے فخر کرتے ہیں کہ انھوں نے یسوع مسیح کو صلیب پر بھی چڑھایا اور پھر اس حالت میں مار بھی ڈالا۔ اس کے برعکس نصاریٰ کا عقیدہ یہ ہے کہ دنیا کا پہلا انسان آدم علیہ السلام گنہگار تھا اور ساری دنیا گنہگار تھی اس لیے خدا کی صفت ”رحمت“

٩٦

صفحہ ٣٢٣

نے ارادہ کیا کہ دنیا کو گناہوں سے نجات دلائے اس لیے اس کی صفت ”رحمت“ نے ابنیت (بیٹا ہونے) کی شکل اختیار کی اور اس کو دنیا میں بھیجا تا کہ وہ یہود کے ہاتھوں سولی پر چڑھے اور مارا جائے اور اس طرح ساری کائنات ماضی و مستقبل کے گناہوں کا ”کفارہ“ بن کر دنیا کی نجات کا باعث بنے۔

سورۂ نساء کی آیات میں قرآن عزیز نے صاف صاف کہہ دیا کہ حضرت مسیح علیہ السلام کے قتل کے دعویٰ کی بنیاد کسی بھی عقیدہ پر مبنی ہو لائق لعنت اور باعث ذلت و خسران ہے، خدا کے سچے پیغمبر کو مفتری سمجھ کر یہ عقیدہ رکھنا بھی لعنت کا موجب اور خدا کے بندے اور مریم کے بطن سے پیدا انسان کو خدا کا بیٹا بنا کر اور ”کفارہ“ کا باطل عقیدہ تراش کر مسیح علیہ السلام کو مصلوب و مقتول تسلیم کرنا بھی گمراہی اور علم و حقیقت کے خلاف اٹکل کا تیر ہے اور اس سلسلہ میں صحیح اور مبنی بر حقیقت فیصلہ وہی ہے جو قرآن نے کیا ہے اور جس کی بنیاد ”علم و یقین اور وحی الٰہی“ پر قائم ہے۔

پس آج جبکہ تمہارے سامنے اس اختلاف کے فیصلہ کے لیے جو شک و ظن کی شکستہ بنیادوں پر قائم تھا علم و یقین کی روش آ چکی ہے پھر بھی تم اپنے ظنون فاسدہ اور اوہام فاسدہ پر اصرار کر رہے ہو اور حضرت مسیح سے متعلق باطل عقیدہ کو ترک کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے ہو تو قرآن کا ایک دوسرا فیصلہ اور وحی الٰہی کا یہ اعلان بھی سن لو کہ تمہاری نسلوں پر وہ وقت بھی آنے والا ہے جب قرآن کے اس صحیح فیصلہ اور اعلان حق کے مطابق حضرت مسیح ملاء اعلیٰ سے کائنات ارضی کو واپس ہوں گے اور ان کی یہ آمد ایسی مشاہد ہوگی کہ یہود و نصاریٰ میں سے ایک فرد بھی ایسا نہ رہے گا جو بادل خواستہ یا با دل ناخواستہ اس ذات گرامی پر یہ ایمان نہ لے آئے کہ بلاشبہ وہ خدا کے سچے رسول ہیں، خدا کے بیٹے نہیں، برگزیدہ انسان ہیں ، مصلوب و مقتول نہیں ہوئے تھے بقید حیات ہماری آنکھوں کے سامنے ہیں ”وان من اهل الکتب الا لیؤمنن به قبل موته“

یہ بات خاص طور پر قابل توجہ ہے کہ سورۂ آل عمران اور سورۂ مائدہ کی طرح اس جگہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لیے لفظ ”توفی“ نہیں بولا گیا بلکہ بصراحت لفظ ”موت“ استعمال کیا گیا ہے، یہ کیوں؟ صرف اس لیے کہ ان دونوں مقامات پر جس حقیقت کا اظہار مقصود ہے اس کے لیے ”توفی“ ہی مناسب ہے جیسا کہ سورۂ آل عمران سے متعلق آیات کی تشریح و تفسیر میں گزر چکا اور سورۂ مائدہ سے متعلق آیت کی تفسیر میں عنقریب بیان ہوگا اور اس جگہ چونکہ براہ راست ”موت“ ہی کا تذکرہ مطلوب ہے، اور

٩٧

صفحہ ٣٢٤

اس حالت کا ذکر ہے جس کے بعد حضرت مسیح علیہ السلام بھی "کُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الموت" کا مصداق بننے والے ہیں، اس لیے یہاں "موت" کو بصراحت لانا ہی از بس ضروری تھا، اور یہ مزید برہان ہے اس دعویٰ کے لیے کہ آل عمران اور مائدہ میں لفظ "موت" کی جگہ "توفی" کا اطلاق بلاشبہ خاص مقصد رکھتا ہے ورنہ جس طرح ان دونوں مقامات پر توفی کا اطلاق کیا گیا تھا اسی طرح یہاں بھی کیا جاتا یا جس طرح اس جگہ لفظ "موت" کا اطلاق کیا گیا ہے اسی طرح ان دونوں مقامات پر بھی لفظ موت ہی کا استعمال ہونا چاہیے تھا، مگر قرآن عزیز کے ان دقیق اسالیب بیان کے فرق کا فہم طالبین حق کا ہی حصہ ہے نہ کہ مرزا قادیانی اور مسٹر لاہوری جیسے اصحاب زیغ کا جو اپنی خاص اغراض ذاتی کے پیش نظر پہلے ایک نظریہ ایجاد کر لیتے ہیں اور بعدازاں اس سلسلہ کی تمام آیات قرآنی کو اسی کے سانچہ میں ڈھال کر اس کا نام ”تفسیر قرآن“ رکھتے ہیں۔

بہرحال جمہور کے نزدیک آیت زیر عنوان کی تفسیر یہی ہے جو سپرد قلم کی جا چکی، مشہور محدث، جلیل القدر مفسر اور اسلامی مورخ، عماد الدین بن کثیر رحمہ اللہ اس تفسیر کو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور حسن بصری رحمہ اللہ سے بسند صحیح نقل کرنے کے بعد تحریر فرماتے ہیں۔

قتادہ عبدالرحمن اور بہت سے مفسروں کا یہی قول ہے اور یہی قول حق ہے جیسا کہ عنقریب ہم دلیل قاطع سے اس کو ثابت کریں گے۔ (انشاء اللہ تعالیٰ)

(ابن کثیر ج ١)

اور سرتاج محدثین ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ بھی اسی کی تائید کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔

اسی تفسیر پر حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے یقین کیا ہے اور ابن عباس رضی اللہ عنہ کی اس تفسیر کو ابن جریر نے بروایت سعید بن جبیر اور ابو رجاء نے بھی حسن رحمتہ اللہ علیہ سے بسند صحیح روایت کیا ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”قبل موتہ“ یعنی قبل موت عیسیٰ علیہ السلام قسم بخدا بیشک و شبہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بقید حیات ہیں اور جب وہ آسمان سے اتریں گے تو سب اہل کتاب ان پر ایمان لے آئیں گے، اور ابن جریر رحمہ اللہ نے اسی تفسیر کو اکثر اہل علم سے نقل کیا ہے اور ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ وغیرہ نے اسی تفسیر کو ترجیح دی ہے۔

(فتح الباری ج ٦ ص ٣٥٧)

مگر اس صحیح تفسیر کے علاوہ کتب تفسیر میں احتمال عقلی کے طور پر دو قول اور بھی منقول ہیں۔ مگر وہ دونوں بلحاظ سند ضعیف اور ناقابل اعتماد اور بلحاظ سیاق و سباق (یعنی

٩٨

صفحہ ٣٢٥

آیت زیر بحث سے قبل اور بعد کی آیات کے لحاظ سے) غلط اور ناقابل التفات ہیں یعنی ایسے احتمالات عقلی ہیں جو نقل اور آیات کے باہمی نظم و ترتیب کے خلاف ہیں۔

ان ہر دو معانی میں سے ایک معنی یہ ہیں کہ ”موتہ“ میں جو ضمیر ہے اس کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بجائے اہل کتاب کی جانب لوٹایا جائے اور آیت کا ترجمہ یوں کیا جائے ”اور اہل کتاب میں سے کوئی فرد ایسا نہیں ہے جو اپنی موت سے پہلے عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان نہ لے آتا ہو“ یعنی اگرچہ یہود و نصاریٰ اپنی زندگی میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے متعلق قرآن کے بتلائے ہوئے عقیدے پر ایمان نہیں لاتے اور اپنے اپنے عقیدہ پر قائم رہتے ہیں، لیکن جب ان کو ”موت“ آجاتی ہے تو وہ اس آخری حالت میں ”جو نزع کا وقت کہلاتا ہے“ صحیح عقیدہ کے مطابق ایمان لے آتے ہیں اور اہل کتاب کے ہر ایک فرد پر بلا استثناء یہی حالت گزرتی ہے اور دوسرے معنی یہ ہیں کہ ”اہل کتاب کا ہر ایک فرد اپنی موت سے پہلے محمد ﷺ پر ایمان لے آتا ہے“ یعنی جب وہ عالم دنیا سے منقطع ہو کر عالم غیب سے وابستہ ہو رہا ہوتا ہے اس وقت اس پر اصل حقیقت منکشف ہو جاتی ہے کہ محمد ﷺ بیشک خدا کے سچے پیغمبر تھے۔

پس اس بات سے قطع نظر کہ یہ دونوں تفسیریں نقل روایت کے اعتبار سے ناقابل اعتماد اور غیر صحیح اور آیات کے سیاق و سباق کے خلاف ہیں عقلی نقطہ نظر سے بھی غلط ہیں اس لیے کہ اگر آیت کے معنی یہ ہیں جو سطور بالا میں نقل کیے گئے تب یہ آیت اپنے مقصد بیان کے خلاف بے معنی اور بے نتیجہ ہو جاتی ہے (العیاذ باللہ) کیونکہ قرآن عزیز دوسرے مقامات پر یہ صاف کہہ چکا ہے کہ جب انسان عالم دنیا سے کٹ کر عالم غیب سے وابستہ ہو جاتا ہے اور نزع کی یہ کیفیت اس پر طاری ہو جاتی ہے کہ جو معاملات اس ساعت سے قبل تک اس کے لیے غیب کے معاملات تھے وہ مشاہدہ میں آنے شروع ہو جاتے ہیں تو اس وقت اس کے اعمال و کردار کا صحیفہ لپیٹ دیا جاتا ہے اور اب تبدیلی اعتقاد کا کوئی نتیجہ اور ثمرہ نہیں ملتا یعنی اس وقت کا نہ اقرار و اعتراف معتبر اور نہ انکار مستند۔

فَلَمَّا جَاءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَيِّنٰتِ فَرِحُوْا بِمَا عِنْدَهُمْ مِّنَ الْعِلْمِ وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهِ يَسْتَهْزِؤُنَ O فَلَمَّا رَاَوْا بَأْسَنَا قَالُوْا اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَحْدَهُ وَكَفَرْنَا بِمَا كُنَّا بِهِ مُشْرِكِيْنَ O فَلَمْ يَكُ يَنْفَعُهُمْ اِيْمَانُهُمْ لَمَّا رَاَوْ بَأْسَنَا سُنَّةَ اللّٰهِ الَّتِيْ قَدْ خَلَتْ فِيْ عِبَادِهِ وَخَسِرَ هُنَالِكَ الْكٰفِرُوْنَ O

(المومن ٨٥:٨٣)

٩٩

صفحہ ٣٢٦

وَلَیْسَتِ التَّوْبَةُ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السَّیَّاتِ حَتّٰی اِذَا حَضَرَ اَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ اِنِّیْ تُبْتُ الْئٰنَ وَلَا الَّذِیْنَ یَمُوْتُوْنَ وَهُمْ كُفَّارٌ اُولٰئِكَ اَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا o

(النساء ١٨)

پس جب آئے ان کے پاس پیغمبر واضح دلائل لے کر تو اس چیز سے خوش ہوئے جو ان کے پاس علم سے تھی اور گھیر لیا ان کو اس چیز نے جس کی وہ مذاق بناتے تھے پس جب انھوں نے ہمارا عذاب دیکھا تو انھوں نے کہا ہم خدائے واحد پر ایمان لے آئے اور جن چیزوں کو ہم اس کا شریک بناتے تھے اس سے منکر ہوئے پس نہیں مانع ہوا ان کا (یہ) ایمان جب انھوں نے ہمارے عذاب کا مشاہدہ کر لیا، یہ اللہ کی سنت ہے جو اس کے بندوں میں ہمیشہ جاری رہی اور اس موقعہ پر کافروں نے زیاں پایا۔

لیکن ان لوگوں کی توبہ، توبہ نہیں ہے جو (ساری عمر تو) برائیاں کرتے رہے، لیکن جب ان میں سے کسی کے آگے موت آ کھڑی ہوئی تو کہنے لگا ”اب میں توبہ کرتا ہوں“ (ظاہر ہے کہ ایسی توبہ سچی توبہ نہیں ہوئی) اسی طرح ان لوگوں کی توبہ بھی توبہ نہیں ہے جو دنیا سے کفر کی حالت میں جاتے ہیں، ان تمام لوگوں کے لیے ہم نے درد ناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔

تو ایسی صورت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام یا محمد ﷺ کا خصوصیت کے ساتھ ذکر کیا معنی رکھتا ہے؟ انسان جب اس حالت پر پہنچ جاتا ہے تو اس کے سامنے سے غیب کے پردے ہٹ جاتے ہیں اور ”برزخ“ ملائکۃ اللہ، عذاب یا راحت، جنت و جہنم غرض دین حق کی تعلیم کردہ غیب کی ساری حقیقتیں اس پر منکشف ہو جاتی ہیں اور اس میں یہود و نصاریٰ کی ہی خصوصیت کیا ہے یہ حالت تو ہر ایک ابن آدم پر گزرنے والی ہے، نیز جب اس قسم کا ایمان قابل قبول ہی نہیں ہے تو اس کا ذکر اسی اسلوب کے ساتھ ہونا چاہیے تھا جو غرق فرعون کے وقت فرعون کے ایمانی اعتراف و اقرار کے لیے اختیار کیا گیا اور جس میں اس وقت کی ایمانی پکار کی بے وقعتی ظاہر کی گئی ہے نہ کہ ایسے اسلوب بیان کے ساتھ گویا مستقبل میں ہونے والے کسی ایسے عظیم الشان واقعہ کی خبر دی جا رہی ہے جو مخاطبین (یہود و نصاریٰ) کے عقائد و عزائم کے خلاف حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے متعلق قرآن کی تصدیق اور اس کے اٹل فیصلہ کی زندہ شہادت بن کر پیش آنے والا ہے۔ ورنہ تو ایک عیسائی اور یہودی پنجہ موت میں آ جانے کے وقت جان عزیز سپرد کر دینے سے پہلے حضرت عیسیٰ پر ایمان لایا تب کیا اور نہ لایا تب کیا اس کی یہ تصدیق کائنات انسانی

١٠٠

صفحہ ٣٢٧

کے علم و ادراک سے باہر صرف اس کے اور خدا کے درمیان تعلق رکھتی ہے اور ظاہر ہے کہ ایسی بات کا ایسے موقعہ پر تذکرہ کرنا قطعا بے محل ہے جہاں ایک قوم کو اس کے ایک خاص عقیدہ پر ملزم و مجرم بنانے کے لیے فیصلہ حق کی تائید کے لیے ماضی اور مستقبل میں کائنات ارضی پر پیش آنے والے واقعات کو پیش کیا جا رہا ہے جیسا کہ آیت کے سیاق و سباق سے واضح ہو رہا ہے، علاوہ ازیں ان احتمالات کی یہاں اس لیے بھی گنجائش نہیں ہے کہ غرغرہ کے وقت حضرت عیسیٰ یا محمد ﷺ پر اس قسم کا ایمان تو ہر اس اہل کتاب سے متعلق ہے جو اس آیت کے نزول سے کچھ دن قبل یا صدیوں قبل گزر چکے اور مر کھپ چکے ہیں۔ لہٰذا اگر آیت میں یہ مضمون بیان کرنا مقصود تھا تو اس کے لیے موکد مستقبل کی یہ تعبیر ”لیؤمنن“ فصاحت و بلاغت کلام کے بالکل خلاف ہے اس کے لیے تو ایسی تعبیر کی ضرورت تھی جو ماضی، حال اور استقبال تینوں زمانوں پر حاوی ہوتی تاکہ قرآن کا مفہوم اپنے توسع کے لحاظ سے پوری طرح ادا ہوتا۔

نیز دوسرے معنی تو اس لیے بھی قطعا غلط اور بے محل ہیں کہ اس آیت سے قبل اور بعد کی آیات میں یعنی سیاق و سباق میں خاتم الانبیاء محمد ﷺ کا ذکر ہی نہیں ہے کیونکہ شروع آیات میں صرف حضرت مسیح علیہ السلام کا ذکر ہو رہا ہے اور اس آیت کے آخر میں یہ ارشاد ہوا ہے۔ ”ویوم القیمۃ یکون علیہم شہیداً“ اور واضح ہے یہ بات کہ اس جگہ شاہد سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام مراد ہیں اور علیہم کی ضمیر سے ان کی امت تو پھر نبی اکرم ﷺ کا ذکر کیے بغیر درمیان کی کسی ضمیر کا مرجع ذات اقدس کو قرار دینا نہ صرف یہ کہ فصاحت و بلاغت کے منافی ہے بلکہ قاعدہ عربیت کے قطعا خلاف اور انتشار ضمائر کا موجب ہے۔

غرض بے غل وغش صحیح معنی وہی ہیں جو جمہور نے اختیار کیے ہیں اور یہ دونوں خود ساختہ احتمالات آیت کی تفسیر تو کیا صحیح احتمال کہلانے کے بھی مستحق نہیں ہیں۔ (اس مقام کے علاوہ سورۂ مائدہ ٧٥ کی آیت ما المسیح بن مریم الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل اور سورۂ آل عمران کی ابتداء سے بیاسی آیات تک جو وفد نجران سے تعلق رکھتی ہیں۔ یہ سب مقامات دلالۃ النص، اشارۃ النص کی شکل میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات کے لیے دلیل و برہان ہیں اور اگرچہ ان کی تفصیلات اور وجوہ استشہاد میرے پاس مدون و مرتب ہیں تاہم کتاب کی طوالت کے خوف سے اس جگہ ان کو نظر انداز کر دیا گیا ہے بوقت فرصت انشاء اللہ مستقل مضمون کی صورت میں ہدیۂ ناظرین ہوگا اور یا پھر

١٠١

صفحہ ٣٢٨

حجۃ الاسلام علامہ محمد انور شاہ نور اللہ مرقدہ کی کتاب ”عقیدۃ الاسلام فی حیوۃ عیسیٰ علیہ السلام اس مقصد کے لیے قابل مراجعت ہے۔)

حیوۃ ونزول عیسیٰ علیہ السلام اور احادیث صحیحہ

قرآن عزیز نے جس معجزانہ اختصار کے ساتھ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع سماوی، حیات امروز اور علامت قیامت بن کر نزول من السماء، کے متعلق تصریحات کی ہیں صحیح ذخیرۂ احادیث نبوی میں ان آیات ہی کی تفصیلات بیان کر کے ان حقائق کو روشن کیا گیا ہے، چنانچہ امام حدیث بخاری اور مسلم نے صحیحین (صحیح بخاری، صحیح مسلم) میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ روایت متعدد طریقہائے سند سے نقل کی ہے۔

قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: والذی نفسی بیدہ لیوشکن ان ینزل فیکم ابن مریم حكماً عدلاً فیکسر الصلیب ویقتل الخنزیر و یضع الجزیہ و یفیض المال حتى لا یقبل احداً و حتّی يكون السجدۃ خیر لۀ من الدنیا وما فیھا ثم قال ابو ھریرۃ اقرؤا ان شئتم وان مِّنْ اَھْلِ الْكِتَابِ اِلَّا لَیُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ وَیَوْمَ الْقِیٰمَةِ یَكُوْنُ عَلَیْھِمْ شَھِیْدًا․ (بخاری کتاب الانبیاء ج١ ص ٤٩٠ باب نزول عیسیٰ بن مریم)

رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے ضرور وہ وقت کے آنے والا ہے کہ تم میں عیسیٰ بن مریم حاکم عادل بن کر اتریں گے وہ صلیب کو توڑیں گے اور خنزیر کو قتل کریں گے (یعنی موجودہ عیسائیت کو مٹائیں گے) اور جزیہ اٹھا دیں گے (یعنی نشانِ الٰہی کے مشاہدہ کے بعد اسلام کے سوا کچھ بھی قبول نہیں ہوگا ”اور اسلامی احکام میں بارشاد رسول اللہ ﷺ جزیہ کا حکم اسی وقت تک کے لیے ہے) اور مال کی اس درجہ کثرت ہوگی کہ کوئی اس کو قبول کرنے والا نہیں ملے گا اور خدا کے سامنے ایک سجدہ دنیا و مافیہا سے زیادہ قیمت رکھے گا (یعنی! مالی کثرت کی وجہ سے خیرات و صدقات کے مقابلہ میں عبادت نافلہ کی اہمیت بڑھ جائے گی) پھر ابوہریرہؓ نے فرمایا اگر تم (قرآن سے اس کا استشہاد) چاہو تو یہ آیت پڑھو (وان من اھل الکتاب (الآیہ)) اور کوئی اہل کتاب میں سے نہ ہوگا مگر (عیسیٰ کی) موت سے پہلے اس پر (عیسیٰ پر) ضرور ایمان لے آئے گا اور وہ (عیسیٰ) قیامت کے دن ان پر گواہ ہوگا۔

(٢) بخاری اور مسلم میں بسند نافع مولیٰ ابو قتادہ انصاری رضی اللہ عنہ حضرت ابوہریرہؓ سے یہ روایت بھی منقول ہے۔

قال رسول اللہ ﷺ کیف انتم اذا نزل ابن مریم فیکم وامامکم

١٠٢

صفحہ ٣٢٩

منکم۔ (بخاری کتاب الانبیاء ایضاً) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس وقت تمہارا کیا حال ہوگا جب تم میں ابن مریم اتریں گے اور اس حالت میں اتریں گے کہ تم ہی میں سے ایک شخص تمہاری امامت کر رہا ہوگا۔

ان دونوں روایات کے علاوہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے متعدد طریقہائے سند سے اور روایات بھی صحیحین: مسند احمد اور سنن ابو داؤد نسائی، ترمذی ابن ماجہ میں درج ہیں جو یہی مفہوم و معنی ادا کرتی ہیں ان میں سے ایک زیادہ مفصل ہے اور مسئلہ زیر بحث کے بعض دوسرے پہلوؤں کو بھی نمایاں کرتی ہے۔ مسند احمد میں ہے۔

(٣) ان النبی ﷺ قال: ”الانبیاء اخوة لعلات امهاتهم شتّی و دينهم واحد وانى اولى الناس بعيسى بن مريم لانه لم يكن نبى بينى و بينه و انه نازل فاذا رأيتموه فاعرفوه رجلٌ مربوعا الى الحمرة والبياض عليه ثوبان ممصران كان رأسه يقطر ان لم يصبه بلل: فيدق الصليب و يقتل الخنزير و يضع الجزيه و يدعو الناس الى الاسلام و يهلك الله فى زمانه المسيح الدجال ثم تقع الامانة على الارض حتّى ترفع الاسود مع الابل والنمار مع البقر و الذئاب مع الغنم و يلعب الصبيان بالحيات لا تضرهم فيمكث اربعين سنة ثم يتوفى و يصلى عليه المسلمون۔

(مسند احمد ج ٢ ص ٤٠٦)

نبی ﷺ نے فرمایا: ”تمام انبیاء اصولِ دین میں علاتی بھائیوں کی طرح ہیں دین سب کا ایک اور فروعِ دین مختلف اور میں دوسرے انبیاء کے مقابلہ میں عیسیٰ بن مریم سے زیادہ قریب ہوں اس لیے کہ ان کے اور میرے درمیان کوئی نبی مبعوث نہیں ہوا اور بلاشبہ وہ کائناتِ ارضی پر اتریں گے پس جب تم ان کو دیکھو تو اس حلیہ سے پہچان لینا۔ میانہ قد، سرخ و سپید رنگ ہوگا ان کے جسم پر دو سرخی مائل رنگ کی چادریں ہوں گی ایسا معلوم ہوگا گویا فی الحال غسل کر کے آ رہے ہیں اور سر سے پانی کے قطرے موتی کی طرح ٹپک پڑنے والے ہیں۔ وہ صلیب کو توڑیں گے اور خنزیر کو قتل کریں گے (موجودہ عیسائیت کا خاتمہ کر دیں گے) اور جزیہ اٹھا دیں گے اور لوگوں کو ”اسلام“ کی دعوت دیں گے اور اللہ تعالیٰ ان کے زمانہ میں تمام ادیان و ملل کو مٹا دے گا اور صرف ایک ہی دین ”دین اسلام“ باقی رہ جائے گا اور اللہ تعالیٰ ان ہی کے زمانہ میں مسیح دجال کو ہلاک کرے گا، پھر کائنات میں ”امانت“ (امن و خیر) جگہ کر لے گی حتیٰ کہ شیر، اونٹوں کے ساتھ، چیتے گائے بیلوں کے ساتھ، بھیڑیے بکریوں کے ساتھ چرتے نظر آئیں گے اور

١٠٣

صفحہ ٣٣٠

بچے سانپوں کے ساتھ کھیلیں گے اور ان کو کوئی گزند نہیں پہنچے گا، پس عیسیٰ علیہ السلام چالیس سال اس زمین پر زندہ رہیں گے پھر وفات پا جائیں گے اور مسلمان ان کے جنازہ کی نماز ادا کریں گے۔

اور صحیح مسلم میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایک طویل حدیث روایت کی گئی ہے اس میں خروج دجال کا ذکر کرتے ہوئے نبی اکرم ﷺ کا یہ ارشاد مبارک مذکور ہے۔

قيمت الصلوة فينزل عيسى بن مريم۔ الخ۔

(مسلم ج ٢ ص ٣٩٣ کتاب الفتن واشراط الساعۃ)

پس جب مسلمان ملک شام پہنچیں گے تو دجال کا خروج ہوگا ابھی مسلمان اس کے مقابلہ میں جنگ کی تیاریاں کر رہے ہوں گے، صفیں درست کرتے ہوں گے کہ نماز کے لیے اقامت ہونے لگے گی، اس درمیان میں عیسیٰ بن مریم کا نزول ہوگا اور وہ مسلمانوں کی امامت کا فرض انجام دیں گے۔

اور صحیح مسلم میں حضرت نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ سے ایک طویل روایت منقول ہے جس میں یہ مذکور ہے۔

اذ بعث الله المسيح بن مريم عليه السلام فينزل عند المنارة البيضاء شرقى دمشق بين مهرودتين واضعاً كفيه على اجنحة ملكين اذا طأطأ رأسه قطرو اذا رفعه تحدر منه جمان كاللولوء (الخ)

(مسلم ج ٢ ص ٤٠١ باب ذکر الدجال)

(ابھی دجال ایک مسلمان پر اپنے شیطانی کرشموں کی آزمائش کر ہی رہا ہوگا) کہ اللہ تعالیٰ مسیح بن مریم کو بھیج دے گا، وہ جب کائنات ارضی پر اتریں گے تو مسجد دمشق کے مشرقی جانب کے سپید منارہ پر اتریں گے اور ان کے بدن پر (سرخی مائل) گہری زرد رنگ کی دو چادریں ہوں گی (یعنی ایک بدن کے اوپر کے حصہ پر اور دوسری زیریں حصہ بدن پر لپٹی ہوئی)) اور دو فرشتوں کے بازوؤں پر سہارا لیے ہوں گے، جب سر جھکائیں گے تو سر سے پانی ٹپک پڑنے لگے گا اور جب سر اٹھائیں گے تو پانی کے قطرے موتیوں کی طرح ٹپکیں گے (یعنی غسل کیے آ رہے ہوں گے)

اور مختلف طریقہائے سند سے امام احمد نے مسند میں اور ترمذی رحمہ اللہ نے سنن میں حضرت مجمع بن حارثہ رضی اللہ عنہ سے بسند صحیح یہ روایت کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے۔

يقتل ابن مريم الدجال بباب لد (ترمذی) ابن مریم، دجال کو باب لد پر قتل

١٠٤

صفحہ ٣٣١

کریں گے۔ امام ترمذی اس روایت کو نقل کر کے فرماتے ہیں ”ہٰذا حدیث صحیح“ اور اس کے بعد ان حضرات صحابہ کی فہرست شمار کراتے ہیں جن سے نزول عیسیٰ بن مریم اور ان کے ہاتھوں قتل دجال سے متعلق روایات کتب حدیث میں منقول ہیں۔ فرماتے ہیں۔ اور اس باب میں حضرت عمران بن حصین، نافع بن عیینہ، ابو برزہ اسلمی، حذیفہ بن اسید، ابو ہریرہ، کیسان، عثمان بن العاص، جابر بن عبداللہ، ابو امامہ باہلی، ابن مسعود، عبداللہ بن عمرو بن العاص، سمرہ بن جندب، نواس بن سمعان عمرو بن عوف، حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں۔

(ترمذی باب ماجاء فی قتل عیسیٰ ابن مریم الدجال ج ٢ ص ٤٩)

اور امام احمد نے مسند میں امام مسلم نے صحیح میں، اور اصحاب سنن نے سنن میں، بروایت حضرت حذیفہ بن الاسید، نبی اکرم ﷺ سے یہ روایت نقل کی ہے۔

فقال اشرف علينا رسول الله ﷺ من غرفة و نحن نتذاكر الساعة فقال ”لاتقوم الساعة حتي تروا عشر آيات طلوع الشمس من مغربها والدخان، والدابة، و خروج ياجوج وماجوج و خروج عيسى بن مريم والدجال و ثلثة خسوف خسف بالمشرق و خسف بالمغرب و خسف بجزيرة العرب و نار تخرج من قعر عدن تسوق و تحشر الناس تبيت معهم حيث باتوا و تقيل معهم حيث قالوا. (ابو داؤد ج ٢ ص ١٣٣ باب امارات الساعۃ وکنز العمال

ج ١٤ ص ٢٥٧ حدیث ٣٨٦٣٩ مسند احمد ج ٤ ص ٧ واللفظ لہ)

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، ہم (صحابہ) ایک مجلس میں بیٹھے ہوئے قیامت کے متعلق بات چیت کر رہے تھے کہ نبی اکرم ﷺ نے بالاخانہ سے جھانکا اور ارشاد فرمایا: ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک تم دس نشان نہ دیکھ لو گے، آفتاب کا مغرب سے طلوع، دخان (دھواں) دابۃ الارض، خروج یاجوج و ماجوج، عیسیٰ بن مریم کا نزول، دجال کا خروج، تین مقامات میں خسوف کا پیش آنا (زمین میں دھنس جانا) مشرق میں مغرب میں اور جزیرۃ العرب میں، آگ کا قعر عدن سے نکلنا جو لوگوں کو ہنکائے لے جائے گی اور جب رات کو لوگ آرام کریں گے تو وہ بھی ٹھہر جائے گی اور جب دوپہر کو قیلولہ کریں گے تب بھی وہ ٹھہری رہے گی“۔

اور محدث ابن ابی حاتم نے اور جلیل القدر محدث و مفسر ابن جریر طبری رحمتہ

١٠٥

صفحہ ٣٣٢

اللہ علیہ ج ٣ ص ٢٨٩ زیر آیت انی متوفیک رافعک نے بروایت حسن بصری رحمہ اللہ بسند صحیح حیات ونزول عیسیٰ بن مریم سے متعلق ایک روایت نقل کی ہے اس میں ہے۔

قال رسول اللہ ﷺ لیھودان عیسٰی لم یمت وانہ راجع الیکم قبل یوم القیمہ.

رسول اللہ ﷺ نے یہود سے فرمایا: ”عیسٰی علیہ السلام مرے نہیں اور بلاشبہ وہ قیامت سے پہلے تمہاری جانب لوٹ کر آئیں گے ۔

اسی طرح ابن ابی حاتم اور ابن جریر رحمہما اللہ نے سورۃ نساء کی آیات متعلقہ وفد نجران کی تفسیر کرتے ہوئے اصول حدیث کے نقطہ نظر سے بہ سند حسن ایک طویل روایت ربیع بن انس رحمتہ اللہ علیہ سے نقل کی ہے اس میں بھی بصراحت یہ مذکور ہے ۔

فقال لھم النبی ﷺ تعلمون ان ربنا حی لایموت ان عیسٰی یأتی علیہ الفناء. (زیر آیت اللہ لا الہ الا ھو الحی القیوم تفسیر طبری ج ٣ ص ١٦٣) ہونا ہوگا۔

نبی اکرم ﷺ نے اس جگہ لفظ ”یأتی“ فرمایا ہے جو مستقبل کے لیے بولا جاتا ہے لفظ ”اتی“ نہیں فرمایا جو ماضی کے لیے مخصوص ہے۔

اور بیہقی نے کتاب الاسماء والصفات ص ٣٢٤ باب قولہ تعالیٰ یعیسٰی انی متوفیک و رافعک میں اور محدث علی متقی گجراتی نے کنز العمال ج ١٤ ص ٦١٩ حدیث ٣٩٧٢٦ میں باسناد حسن وصحیح اس سلسلہ میں جو روایات نقل فرمائی ہیں ان میں نزول عیسٰی علیہ السلام کے ذکر کے ساتھ ”من السماء“ کا لفظ صراحت سے موجود ہے۔

یہ اور اسی قسم کا کثیر ذخیرۂ حدیث ہے جو حیات و نزول عیسٰی بن مریم پیغمبر بنی اسرائیل علیہ الصلوٰۃ والسلام سے متعلق کتب حدیث وتفسیر میں منقول ہے اور جو قوتِ سند کے لحاظ سے صحیح اور حسن سے کم رتبہ نہیں رکھتا اور باعتبار شہرت وتواتر روایات جن کا یہ حال ہے کہ حسب تصریح امام ترمذی ، حافظ حدیث عماد الدین ابن کثیر، حافظ حدیث ابن حجر عسقلانی اور دیگر ائمہ حدیث سولہ جلیل القدر صحابہ رضی اللہ عنہم نے ان کو روایت کیا ہے جن میں سے بعض صحابہ کا یہ دعویٰ ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے یہ تصریحات سینکڑوں صحابہ کے مجمع میں خطبہ دے کر فرمائیں اور یہ صحابہ کرام بغیر کسی انکار و اجنبیت کے ان روایات کو خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم کے دور خلافت میں علی روس الاشہاد سناتے تھے چنانچہ ان جلیل القدر صحابہ رضی اللہ عنہ سے جن ہزارہا شاگردوں نے سنا ان میں سے یہ عظیم المرتبہ ہستیاں قابل ذکر ہیں جن میں ہر فرد روایت حدیث میں ضبط و حفظ ، ثقاہت و

١٠٦

صفحہ ٣٣٣

علمی تبحر کے پیش نظر امامت و قیادت کا درجہ رکھتا ہے۔ مثلاً سعید بن المسیب، نافع مولیٰ ابو قتادہ رضی اللہ عنہ، حنظلہ بن علی الاسلمی، عبدالرحمن بن آدم، ابو سلمہ، ابو عمرہ، عطاء بن بشار، ابو سہیل، مؤثر بن عفارہ، یحییٰ بن ابی عمرو، جبیر بن نفیر، عروہ بن مسعود ثقفی، عبداللہ بن زید انصاری، ابو زرعہ، یعقوب بن عامر، ابو نضرہ، ابو الطفیل رحمہم اللہ۔

پھر ان علماء کبار اور محدثین اعلام سے جن بے شمار تلامذہ نے سنا اُن میں سے راویانِ حدیث کے طبقہ میں جن کو حدیث اور علوم قرآن کا رتبہ بلند حاصل ہے اور جو اپنے اپنے وقت کے ”امام فی الحدیث“ اور ”امیر المؤمنین فی الحدیث“ تسلیم کیے گئے ہیں، بعض کے اسماء گرامی یہ ہیں: ابن شہاب زہری، سفیان بن عیینہ، لیث، ابن ابی ذئب، اوزاعی، قتادہ، عبدالرحمن بن ابی عمرہ، سہیل، جبلہ بن سحیم، علی بن زید، ابو رافع، عبدالرحمن بن جبیر، نعمان بن سالم، معمر، عبداللہ بن عبیداللہ رحمہم اللہ۔

غرض ان روایات و احادیث صحیحہ کا صحابہ، تابعین، تبع تابعین یعنی خیر القرون کے طبقات میں اس درجہ شیوع ہو چکا تھا اور وہ بغیر کسی انکار کے اس درجہ لائق قبول ہو چکی تھیں کہ ائمہ حدیث کے نزدیک حضرت مسیح علیہ السلام کی حیات و نزول سے متعلق ان احادیث کو مفہوم و معنی کے لحاظ سے درجہ ”تواتر“ حاصل تھا اور اسی لیے وہ بے جھجک اس مسئلہ کو ”احادیث متواترہ“ سے ثابت اور مسلم کہتے تھے اور حقیقت بھی یہ ہے کہ روایت حدیث کے تمام طبقات و درجات میں ان روایات کو ”تلقی بالقبول“ کا یہ درجہ حاصل رہا ہے کہ ہر دور میں اس کے رواۃ میں ”ائمہ حدیث“ اور روایت حدیث کے ”مدار“ نظر آتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ان مرفوع و موقوف بر صحابہ رضی اللہ عنہم احادیث و روایات کے ناقلین میں امام احمد، امام بخاری، امام مسلم، ابو داؤد، نسائی، ترمذی، ابن ماجہ جیسے اصحاب صحیح وسنن ائمہ حدیث کے اسماء گرامی شامل ہیں اور وہ باتفاق ان روایات کی صحت و حسن کے قائل ہیں۔ چنانچہ یہ اور اسی قسم کی احادیث صحیحہ کا ذکر کرتے ہوئے مشہور محدث و مفسر ابن کثیر اپنی تفسیر میں اوّل یہ عنوان قائم کرتے ہیں۔

ذکر الاحادیث الواردة فی نزول عیسیٰ بن مریم علیھما الصلوٰة والسلام الی الارض من السماء فی اخر الزمان قبل یوم القیمة. (ج١ ص ٥٧٨)

ان احادیث کا ذکر جو حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کے آسمان سے زمین پر اترنے کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔

اور اس کے بعد سلسلہ کی احادیث کو نقل کرنے کے بعد آخر میں یہ تحریر فرماتے ہیں۔

١٠٧

صفحہ ٣٣٤

فهذه احادیث متواترة عن رسول الله ﷺ من رواية ابى هريرة وابن مسعود و عثمان بن العاص و ابى امامه والنواس بن السمعان و عبدالله بن عمرو بن العاص و مجمع بن حارثه و ابی شريحه و حذيفه بن اسيد رضی الله عنهم و فيها دلالة على صفة نزوله و مكانه.

(ابن كثير ج ١ ص ٥٨٢ زیر آیت وان من اهل الکتب)

پس یہ ہیں وہ احادیث جو رسول اللہ ﷺ سے تواتر کے درجہ تک منقول ہوئی ہیں اور یہ نقل روایت (آپ کے صحابہ) ابو ہریرہ ابن مسعود، عثمان بن العاص، ابو امامہ، نواس بن سمعان، عبداللہ بن عمرو بن العاص، مجمع بن حارثہ، ابی شریحہ حذیفہ بن اسید رضی اللہ عنہم سے ثابت ہے اور ان روایات میں عیسیٰ بن مریم کے طریقہ نزول اور مکان نزول سے متعلق بھی رہنمائی موجود ہے۔

اور حافظ حدیث ابن حجر عسقلانی (نور اللہ مرقدہٗ) علامہ ابوالحسین آبری رحمہ اللہ سے نزولِ عیسیٰ علیہ السلام سے متعلق احادیث کے تواتر کو فتح الباری میں ان الفاظ کے ساتھ نقل کرتے ہیں۔

قال ابو الحسن الخسعى الابرى بان المهدى من هذه الامة وان عيسى يصلي خلفه الخ.

(فتح الباری ج ٦ ص ٣٥٨ باب نزول عیسیٰ بن مریم)

ابوالحسن خسعی ابری سے منقول ہے کہ احادیث رسول اس بارہ میں تواتر کو پہنچ چکی ہیں کہ مہدی اسی امت میں سے ہوں گے اور عیسیٰ علیہ السلام ان کے پیچھے نماز پڑھیں گے۔

اور تلخیص الحبیر کتاب الطلاق کے ضمن میں یہ تحریر فرماتے ہیں۔

واما رفع عيسى فاتفق اصحاب الاخبار والتفسير على انه ببدنه حيًا. الخ.

(تلخیص الحبیر ج ٣ ص ٤٢٢ زیر حدیث نمبر ١٦٠٧)

لیکن رفع عیسیٰ علیہ السلام کا معاملہ تو تمام علماء حدیث و تفسیر کا اس پر اجماع ہے کہ وہ اپنے جسد عنصری کے ساتھ ہنوز زندہ ہیں (اور وہی قریب قیامت نازل ہوں گے) اور محدث عصر محقق وقت علامہ سید محمد انور شاہ ”عقیدۃ الاسلام“ میں اس ”تواتر“ کی تائید میں یہ تحریر فرماتے ہیں۔

وللمحدث العلامة الشوكاني رسالة سماها التوضيح في تواتر ما جاء في المنتظر والدجال والمسيح ذكر فيها تسعة و عشرين حديثا في نزوله عليه السلام مابين صحيح و حسن و صالح هذا وازيد منه مرفوع واما الاثار

١٠٨

صفحہ ٣٣٥

يفوق الاحصاء الخ.

اور محدث علامہ شوکانی نے ایک رسالہ تصنیف کیا ہے جس کا نام یہ رکھا ہے ”التوضيح في التواتر ماجاء في المنتظر والدجال والمسيح“ اس رسالہ میں انھوں نے انتیس احادیث حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول سے متعلق نقل کی ہیں جو اصول حدیث کے لحاظ سے صحیح، حسن، صالح تینوں درجات کو شامل ہیں، اور مرفوع احادیث اس تعداد سے بھی زیادہ موجود ہیں اور آثار صحابہ رضی اللہ عنہم تو بے شمار ہیں۔

اور یہی وجہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع سماوی اور حیات و نزول من السماء پر امت محمدیہ علیہا الصلوٰۃ والسلام کا اجماع منعقد ہو چکا ہے چنانچہ علم عقائد و کلام کی مشہور و مستند کتاب عقیدۂ سفارینی میں امت کے اس اجماع کی تصریح موجود ہے۔

ومنها اى من علامات الساعة العظمى العلامة الثالثة ان ينزل من السماء سيد (المسيح) عيسى بن مريم عليه السلام و نزوله ثابت بالكتاب والسنة واجماع الامة...... واما الاجماع فقد اجمعت الامة على نزوله ولم يخالف فيه احد من اهل الشريعة وانما انكر ذلك الفلاسفه والملاحده ممن لا يعتد بخلافه.

اور علامات قیامت میں سے تیسری علامت یہ ہے کہ حضرت (مسیح) عیسیٰ بن مریم علیہ السلام آسمان سے اتریں گے اور ان کا آسمان سے اترنا کتاب (قرآن) سنت (حدیث) اور اجماع امت سے قطعاً ثابت ہے۔۔۔۔۔۔ (قرآن وحدیث سے نزول ثابت کرنے کے بعد فرماتے ہیں) جہاں تک اجماع امت کا تعلق ہے تو اس میں ذرا شبہ نہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان سے نازل ہونے پر امت کا اجماع ہے اور اس بارہ میں پیروان شریعت اسلامی میں سے کسی ایک کا بھی خلاف موجود نہیں البتہ فلسفیوں اور ملحدوں نے نزول عیسیٰ کا انکار کیا ہے اور اسلام میں ان کا انکار قطعاً بے وقعت ہے۔

(صحابہ، تابعین اور تبع تابعین کے تین زمانوں کو ”خیرالقرون“ کہا جاتا ہے چونکہ نبی معصوم ﷺ نے ان تینوں کے متعلق یہ ارشاد فرمایا ہے ”خیر القرون قرنی، ثم الذين يلونهم، ثم الذين يلونهم“ سب سے بہتر میرا زمانہ ہے پھر ان لوگوں کا جو اس زمانہ سے قریب ہیں اور پھر ان کا جو اس دوسرے زمانہ سے متصل ہیں، اور اس کے بعد فرمایا، پھر جھوٹ کی کثرت ہو جائے گی یعنی ان ہر سہ ادوار کے بعد اکثریت کے اندر دینی انحطاط پیدا ہو جائے گا اور اسلامی خصوصیات اخلاق مٹ جائیں گی۔)

١٠٩

صفحہ ٣٣٦

حیات و نزول مسیح کی حکمت

گزشتہ سطور میں حیات و نزول مسیح علیہ السلام کو دلائل و براہین کی روشنی میں بیان کیا گیا ہے جو ایک منصف اور طالب حق کو علم یقین عطا کرتے ہیں، اب مزید طمانیت قلب کے لیے ان چند حکمتوں کا ذکر بھی مناسب معلوم ہوتا ہے جن کو علماء حق نے اس سلسلہ میں بیان فرمایا ہے لیکن اس کے مطالعہ سے قبل یہ حقیقت بہر حال پیش نظر رکھنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی حکمتوں اور اس کی مشیت کی مصلحتوں کا احاطہ عقل انسانی کے لیے ناممکن ہے اور مخلوق، خالق کائنات کے اسرار و حکم پر عبور بھی کیسے کر سکتی ہے؟ تاہم علماء امت فراست مومن اور علم حق کی راہ سے دین اور احکام دین کے اسرار و مصالح پر قلم فرسائی کرتے اور اپنی محدود دسترس کے مطابق اس موضوع پر علمی حقائق کا اظہار کرتے آئے ہیں۔

اسلامی دور کی علمی تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ دورِ اوّل میں ”علم الاسرار“ کی امامت کا شرف عمر بن الخطاب، علی بن ابی طالب اور صدیقہ عائشہ رضی اللہ عنہم کو حاصل تھا اور اس کے بعد اگرچہ ہر ایک صدی میں دو چار علماء ربانی اس کے ماہر و محقق رہے ہیں لیکن خصوصیت کے ساتھ خلیفہ اموی عمر بن عبدالعزیز، امام ابو حنیفہ، علامہ عزالدین بن عبدالسلام مصر، حافظ ابن تیمیہ، امام غزالی، رومی، سید مرتضیٰ زبیدی اور شاہ ولی اللہ دہلوی کو اس علم سے خاص مناسبت تھی اور اللہ تعالیٰ نے اس سلسلہ میں ان کو فطری ملکہ عطا فرمایا تھا۔

بہرحال ”حکمت“ کی حیثیت لطائف و نکات کی ہوتی ہے اور اس کو دلیل و حجت کا مرتبہ نہیں دیا جا سکتا اس لیے زیر بحث مسئلہ میں بھی ”حکمت و مصلحت“ کا ذکر اسی نقطہ نظر سے سمجھنا چاہیے۔ واللہ اعلم بالصواب ولکل شئٍ عندہ فصل الخطاب“

پڑھ چکے تھے کہ ان کو دو شخصیتوں ”مسیح ہدایت“ اور ”مسیح ضلالت“ سے سابقہ پڑے گا۔ اس لیے وہ منتظر تھے کہ موسیٰ علیہ السلام کے بعد ”مسیح ہدایت“ کا ظہور کب ہوتا ہے لیکن شومی قسمت کہ جب مسیح ہدایت کا ظہور ہوا تو انھوں نے بغض و حسد کی راہ سے اس کو ”مسیح ضلالت“ کہہ کر رد کر دیا اور صرف یہی نہیں بلکہ آمادۂ قتل ہو گئے اور چونکہ قتل انبیاء ان کا دستور رہا تھا اس لیے وہ اس پر ہر وقت جری رہتے تھے، پس جبکہ وہ دوسرے انبیاء علیہم السلام کی طرح ان کے قتل کے بھی قائل ہو گئے تو یہ تعجب خیز بات نہ ہوئی“ کہ

١١٠

صفحہ ٣٣٧

جب مسیح ضلالت (دجال) کا خروج ہو تو یہود اس کو مسیح ہدایت کہہ کر قومی حیثیت سے اس کے پیرو ہو جائیں کیونکہ مذہبی تعلیم کے پیش نظر ان پر مسیح ہدایت کا اتباع ضروری تھا اور جب وہ مسیح ہدایت کو مسیح ضلالت کہہ کر قتل کر چکے تو اب مسیح ضلالت کو ہی اس کے دعویٰ کے مطابق مسیح ہدایت تسلیم کرنے پر آمادہ ہو جائیں گے مگر مشیت الٰہی فیصلہ کر چکی تھی کہ مسیح ضلالت کی گمراہی کا فتنہ چونکہ عظیم الشان ہوگا اور وہ اوّل خدائی کا دعویٰ کرے گا اور اس کے بعد مسیح ہدایت بنے گا اس لیے اس کا خروج قیامت کے قریب ہی ہونا چاہیے جو دور فتن یعنی فتنوں کی آماجگاہ ہوگا اس لیے حکمت الٰہی کا یہ بھی منشاء ہوا کہ ”مسیح ہدایت“ کو یہود کے فتنہ سے اس طرح بچا لیا جائے کہ وہ اس کو ہاتھ بھی نہ لگا سکیں اور جب وہ وقت آ پہنچے کہ مسیح ضلالت اپنی گمراہی کا علم بلند کرے تو مسیح ہدایت ملاء اعلیٰ سے کائنات ارضی پر اترے اور یہود بنی اسرائیل جو کہ بہ تعداد کثیر مسیح ضلالت کے پیرو ہو رہے ہوں گے اپنی آنکھوں سے حق و باطل کا مشاہدہ کر لیں اور جب مسیح ہدایت کے مقدس ہاتھوں سے مسیح ضلالت کا خاتمہ ہو جائے تو ”جاء الحق وزھق الباطل ان الباطل کان زھوقا“ (بنی اسرائیل ٨١) حق الیقین بن کر ان کی نگاہوں کے سامنے آ جائے اور اس طرح قبول حق کے ماسوا ان کے لیے دوسرا چارہ کار باقی ہی نہیں رہے اور یا پھر وہ بھی مسیح ضلالت کے ساتھ ”فی النار“ کر دیے جائیں۔

نیز یہ حقیقت بھی پیش نظر رہے کہ ادیان وملل کی تاریخ میں صرف یہود ہی ایک ایسی جماعت ہے جس نے اپنے انبیاء علیہم السلام کو بھی قتل کرنے سے ہاتھ نہیں روکا لیکن حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد یہود نے جن انبیاء کے خون ناحق سے ہاتھ رنگے تھے وہ صرف ”نبی“ ہی تھے جو ”علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل“ کا مصداق تھے مگر کوئی صاحب شریعت رسول ان کے اس قتل ناحق کا مظلوم نہیں بنا تھا اس لیے یہ پہلا موقعہ تھا کہ انھوں نے ایک جلیل القدر رسول (عیسیٰ بن مریم) کو قتل کرنے کا نہ صرف ارادہ کیا بلکہ دنیوی اسباب کے لحاظ سے مکمل تیاری کر لی تھی تب مشیت حق نے یہ فیصلہ کیا کہ مسیح ہدایت کو اس طرح بچا لیا جائے کہ خود یہود کو بھی محسوس ہو جائے کہ وہ مسیح بن مریم پر دسترس نہ پا سکے۔ لہٰذا فیصلہ مشیت بروئے کار آیا اور حضرت مسیح کو ملاء اعلیٰ کی جانب اٹھا لیا گیا اور تمام دنیوی اسباب ہیچ ہو کر رہ گئے، لیکن اس احساس کے باوجود چونکہ حقیقت حال تک نہ پہنچ سکے اور ظن و گمان ہی کے قعر میں پڑے رہے گو اپنی بات رکھنے کے لیے مشہور یہی کرتے رہے کہ ہم نے مسیح بن مریم کو قتل کر دیا، ادھر متبعین مسیح

١١١

صفحہ ٣٣٨

نہایت (نصاریٰ) کی بدبختی دیکھیے کہ کچھ عرصہ کے بعد پولوس رسول نے ان میں عقیدۂ تثلیث و کفارہ کی بدعت پیدا کر کے یہود کے گھڑے ہوئے افسانہ صلیب کو بھی داخل عقیدہ کر دیا، اور اب یہود و نصاریٰ دونوں جماعتیں اس گمراہی میں مبتلا ہوگئیں کہ عیسیٰ بن مریم صلیب پر چڑھا کر قتل کر دیئے گئے۔ تب قرآن عزیز نے نازل ہو کر حق و باطل کے درمیان فیصلہ سنایا اور حضرت مسیح علیہ السلام کے متعلق دونوں جماعتوں نے جو دو الگ الگ رخ اختیار کیے تھے اور پھر ایک مسئلہ میں دونوں کا اتفاق بھی ہو گیا تھا ان سب کے متعلق علم یقین کے ذریعہ حقیقت حال کو واشگاف اور دونوں کی گمراہی کو واضح کر کے قبول حق کے لیے دعوت دی مگر جماعتی حیثیت سے دونوں نے انکار کر دیا اور حضرت مسیح سے متعلق اپنے اپنے گمراہ کن عقیدہ پر قائم رہے، مگر عالم الغیب والشہادہ چونکہ ان حقائق کا ان کے وقوع سے قبل عالم و دانا تھا اس لیے اس کی حکمت کا یہ بھی تقاضا ہوا کہ مسیح ہدایت کو کائنات ارضی پر اس وقت دوبارہ بھیجا جائے جب مسیح ضلالت کا بھی خروج ہو چکے تا کہ یہود و نصاریٰ کے سامنے حقیقت حال مشاہدہ کے درجہ میں روشن ہو جائے، یہود آنکھوں سے دیکھ لیں کہ جس کے قتل کے مدعی تھے قدرت الٰہی کے کرشمے کی بدولت وہ بقید حیات موجود ہے اور نصاریٰ نادم ہوں کہ حضرت مسیح کی سچی پیروی چھوڑ کر جو گمراہ کن عقیدہ اختیار کیا تھا وہ سرتاپا باطل اور ہیچ تھا اور اس طرح ہدایت و ضلالت کے معرکہ میں حق کی سربلندی اور باطل کی پستی کا دونوں مشاہدہ کر کے قرآن عزیز کی تصدیق پر مجبور ہو جائیں اور دونوں جماعتیں ”ایمان حق“ کو برضاء و رغبت اختیار کر لیں اور اپنے باطل عقائد پر شرمسار و سرنگوں ہو جائیں اور چونکہ ان دونوں جماعتوں کے علاوہ ہدایت و ضلالت کا یہ مشاہدہ و مظاہرہ دوسرے اہل باطل بھی کریں گے اس لیے وہ بھی حلقہ بگوش اسلام ہو جائیں گے اور اس طرح احادیث صحیحہ کے مطابق اس زمانہ میں کائنات ارضی کا صرف ایک ہی مذہب ہوگا اور وہ ”اسلام“ ہوگا ”هو الذی ارسل رسوله بالھدیٰ و دین الحق لیظهره علی الدین كله و کفیٰ باللّٰه شهيدا.“

(فتح ٢٨)

معاندین حق کے درمیان ”سنۃ اللہ“ کے دو مستقل دور رہے ہیں۔ پہلا دور حضرت نوح علیہ السلام سے شروع ہو کر حضرت لوط علیہ السلام پر ختم ہوتا ہے، اس دور میں سنۃ اللہ یہ رہی کہ جب قوموں نے اپنے پیغمبروں کی صدائے حق پر کان نہ دھرا بلکہ برابر اس کا تمسخر کرتی اور اس کے پیغام حق کے آڑے آتی رہیں، تب اللہ تعالیٰ کے عذاب نے ان کو

١١٢

صفحہ ٣٣٩

ہلاک کر دیا اور دوسروں کے لیے ان کو باعث عبرت و بصیرت بنا دیا اور دوسرا دور حضرت ابراہیم علیہ السلام سے شروع ہو کر خاتم الانبیاء محمد ﷺ تک پہنچتا ہے اس دور میں سنت اللہ کی خصوصیت یہ رہی ہے کہ جب اعداء حق اور دشمنان دین قویم نے کلمہ حق کی مخالفت پر اصرار کیا، اپنے پیغمبروں کو ایذا دی اور ان کے ساتھ تمسخر کو اپنا نصب العین بنا لیا تو اللہ تعالیٰ نے ان قوموں کو ہلاک کرنے کی بجائے اپنے پیغمبروں کو یہ حکم دیا کہ وہ خدا کی راہ میں وطن چھوڑ دیں اور ”ہجرت کر جائیں چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام پہلے پیغمبر ہیں جنھوں نے قوم (یہ حضرت ابراہیم کی اپنی قوم نہیں تھی اس لیے کہ یہ بنی سام (سامی) تھے اور نماردہ عراق اور ان کی قوم بنی حام کے حامی تھے) کے سامنے یہ اعلان حق کیا ”انی مہاجر الی ربی انہ ھو العزیز الحکیم“ (عنکبوت ٢٦) اور عراق سے شام کی جانب ہجرت فرما گئے۔

پھر یہی صورت حضرت موسیٰ علیہ السلام کو پیش آئی اور وہ بنی اسرائیل کو ساتھ لے کر مصر سے شام کو ہجرت کر گئے مگر فرعون اور اس کے لشکریوں نے چونکہ مزاحمت کی اور ہجرت کے بھی آڑے آئے اس لیے وہ بحر قلزم میں غرق کر دیئے گئے۔

اور یہی صورت نبی اکرم محمد ﷺ کو پیش آئی کہ جب قریش مکہ نے اذیت، تمسخر، دین حق کے تصادم، اعمال دین کی مزاحمت میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کیا تب مشیت الٰہی کا فیصلہ ہوا کہ آپ مکہ سے مدینہ کو ہجرت کر جائیں چنانچہ ہر قسم کی نگرانی اور مکان کے ہر طرف محاصرہ کے باوجود کرشمہ قدرت سے آپ محفوظ و مامون مدینہ ہجرت کر گئے۔

”سنت اللہ“ کے اسی دور میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بعثت ہوئی اور ان کی قوم بنی اسرائیل نے ان کے ساتھ اور ان کی دعوت حق کے ساتھ بھی وہ سب کچھ کیا جو معاندین حق اور دشمنان دین اپنے پیغمبروں کے ساتھ کرتے رہے تھے اور ان میں ایک یہ خصوصیت زیادہ تھی کہ وہ حضرت مسیح علیہ السلام سے قبل چند انبیاء کو قتل تک کر چکے تھے اور اب حضرت مسیح علیہ السلام کے قتل کے درپے تھے، اسی کے ساتھ یہ مسطورۂ بالا حقیقت بھی فراموش نہیں رہنی چاہیے کہ یہود، مسیح ہدایت اور مسیح ضلالت دو مسیح کے منتظر تھے اور حضرت عیسیٰ بن مریم کو مسیح ضلالت قرار دے کر آج بھی مسیح ہدایت کے منتظر ہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کی حکمت بالغہ کا یہ فیصلہ ہوا کہ حضرت مسیح علیہ السلام کی ہجرت کائنات ارضی کی بجائے ملاء اعلیٰ کی جانب ہو تاکہ مقررہ وقت آنے پر وہ مسیح ہدایت اور مسیح

١١٣

صفحہ ٣٤٠

ضلالت کے درمیان مشاہدہ سے امتیاز کر سکیں اور ایک جانب اگر مسیح ہدایت کو مسیح ہدایت سمجھیں تو دوسری جانب قرآن کے فیصلہ حق کی صداقت و حقانیت کو دیکھ کر دین حق ”اسلام“ کے سامنے سر تسلیم خم کر دیں اور ساتھ ہی نصاریٰ کو بھی اپنی جہالت اور یہود کی کورانہ تقلید پر ندامت ہو اور وہ بھی تعلیم قرآن کی صداقت پر یقین و اعتقاد کے ساتھ شہادت دینے پر آمادہ ہو جائیں۔

کچھ عجیب صورت حال ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام اور خاتم الانبیاء محمد ﷺ کے درمیان دعوت و تبلیغ حق اور معاندین کی جانب سے حق کی معاندت و مخالفت اور پھر اس کے نتائج و ثمرات میں بہت ہی زیادہ مشابہت پائی جاتی ہے، دونوں کو اپنی قوم نے دونوں کو جھٹلایا، دونوں کی قوتوں نے سازش قتل کے بعد مکانوں کا محاصرہ کیا، قدرت حق کے کرشمہ اعجاز نے دونوں کو دشمنوں کی دسترس سے ہر طرح محفوظ رکھا، دونوں کے لیے ہجرت کا معاملہ پیش آیا، البتہ نبی اکرم ﷺ کی بعثت چونکہ بعثت عامہ تھی اور اس کی دعوت و تبلیغ کے لیے ذات اقدس ﷺ کا کرۂ ارضی پر قیام مسلسل ضروری تھا اس لیے مکہ سے مدینہ کو ہجرت کا حکم ہوا اور عیسیٰ بن مریم علیہما الصلوٰۃ والسلام چونکہ قوم کو دعوت حق پہنچا چکے تھے اور ایک خاص مقصد عظیم کے پیش نظر ان کا مدت مدید کے بعد کائنات پر موجود ہونا ضروری تھا اس لیے ان کو ہجرت ارضی کی بجائے ہجرت سماوی پیش آئی پھر جس طرح نبی اکرم ﷺ نے اپنے زمانہ کے قائد ضلالت ”امیہ بن خلف“ کو اپنے حربہ سے قتل کیا عیسیٰ بن مریم علیہما السلام بھی اپنی قوم کے مسیح ضلالت دجال کو قتل کریں گے اور جس طرح نبی اکرم ﷺ کو ہجرت کے بعد آپ کے وطن مکہ پر قدرت حق نے اقتدار عطا فرما دیا عیسیٰ بن مریم کا نزول بھی شام ہی کے اس مشہور شہر میں ہوگا جس سے اپنی قوم کی معاندانہ سازشوں کی بنا پر ملاء اعلیٰ کی جانب ہجرت پیش آئی تھی اور بیت المقدس، دمشق اور شام کے پورے ملک پر یہود کے علی الرغم ان کی حکومت ہوگی۔

(خلاصہ از عقیدۃ الاسلام)

گستاخ اور بے باک بنا دیا تھا کہ وہ یہ سمجھ بیٹھے کہ کسی ہستی کے متعلق یہ فیصلہ کہ وہ نبی صادق ہے یا متنبی کاذب ہمارے ہاتھ میں ہے اور جس کو ہم اور ہمارے فقیہ ”کاذب“ قرار دے دیں وہ واجب القتل ہے چنانچہ اسی زعم باطل میں انھوں نے عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کو مسیح ضلالت کہا اور ان کے فقیہوں نے قتل کا فتویٰ صادر کر دیا حالانکہ یہ وہ جلیل القدر ہستی تھی کہ موسیٰ علیہ السلام کے بعد بنی اسرائیل میں اس پایہ کا کوئی پیغمبر

١١٤

صفحہ ٣٤١

مبعوث ہی نہیں ہوا تھا اور اس نے جدید پیغام حق (انجیل) کے ذریعہ روحانیت کی مردہ کھیتی میں دوبارہ جان ڈال دی تھی تب اللہ تعالیٰ کی مشیت کا فیصلہ ہوا کہ ہمیشہ کے لیے بنی اسرائیل کے اس زعم باطل کو پاش پاش کر دیا جائے اور دکھا دیا جائے کہ رب العلمین ، خالق کائنات جس کی حفاظت کا وعدہ کر لے کائنات کی کوئی ہستی یا مجموعہ کائنات بھی اس پر دسترس نہیں پاسکتی چنانچہ ید قدرت نے اس وقت اس مقدس ہستی کو جسد عنصری کے ساتھ ملاء اعلیٰ کی جانب اٹھا لیا جب کہ مکان کے محاصرہ کے ساتھ دشمنوں نے اس کی حفاظت جان کے تمام وسائل دنیوی مسدود کر دیئے تھے۔

پھر اس واقعہ نے ایک نئی صورت پیدا کر دی وہ یہ کہ مذاہب کی تاریخ میں صرف حضرت مسیح علیہ السلام ہی کی شخصیت ایسی ہے جن کے قتل و عدم قتل کے متعلق حق و باطل کے درمیان سخت اختلاف پیدا ہوا اور یہود و نصاریٰ کے باہم واقعہ صلیب و قتل پر اتفاق کے باوجود دو باطل اور متضاد عقائد کی کشمکش نظر آنے لگی یہود قتل و صلیب کی وجہ یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ان کے نزدیک وہ ”مسیح ضلالت“ تھے اور نصاریٰ وجہ صلیب یہ بتلاتے ہیں کہ وہ خدا کے بیٹے تھے جو کائنات کے گناہوں کا کفارہ بننے کے لیے بھیجے گئے تھے تاکہ پاپی دنیا پاپ سے پاک ہو جائے اور صدیوں بعد جب قرآن نے ”امر حق“ کو واضح اور مسیح بن مریم سے متعلق حقیقت حال کو روشن کیا تب بھی دونوں جماعتوں نے جماعتی حیثیت سے اس کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ لہٰذا قدرت حق کا فیصلہ ہوا کہ خود مسیح بن مریم علیہما السلام ہی وقت موعود پر نازل ہو کر قرآن کے فیصلہ کی تصدیق کر دیں اور یہود و نصاریٰ کے باطل عقائد کا خود بخود اس طرح خاتمہ ہو جائے اور اس کے بعد مدعیان اہل کتاب کو شرک و باطل کی پیروی کے لیے کوئی گنجائش باقی نہ رہے اور خدا کی حجت ان پر تمام ہو جائے۔

نیز جبکہ اللہ تعالیٰ نے کائنات ہست و بود کے لیے یہ فیصلہ کر دیا ہے کہ خدا کی ہستی کے ماسوا ہر ایک وجود کو فنا اور موت ہے ”کل نفس ذائقۃ الموت“ ”کل شیء ھالک الا وجہہ“ اور یہ ظاہر ہے کہ ملاء اعلیٰ اور عالم قدس مقام موت نہیں ہے بلکہ مقام حیات ہے اس لیے از بس ضروری ہے کہ عیسیٰ بن مریم علیہما السلام بھی موت کا ذائقہ چکھیں اور اس کے لیے کائنات ارضی پر اتریں تاکہ زمین کی امانت زمین ہی کے سپرد ہو اس لیے ”حیات و رفع“ کے بعد ”نزول ارضی“ مقدر ہوا۔ (فتح الباری جلد ٦)

علماء حق نے حیات و نزول عیسیٰ علیہ السلام سے متعلق ”اسرار و حکم“ بیان

١١٥

صفحہ ٣٤٢

فرماۓ ہیں یہاں ان کا احاطہ مقصود نہیں ہے اس لیے مختصر چند حکمتوں کا ذکر کر دیا گیا ورنہ محدثِ عصر علامہ سید محمد انور شاہ نور اللہ مرقدہٗ نے اس سلسلہ میں ایک طویل مقالہ عقیدۃ الاسلام میں سپرد قلم فرمایا ہے جو لائق مطالعہ ہے، حضرت استاد نے نہایت لطیف مگر دقیق پیرایۂ بیان میں کائناتِ عالم کو ”انسانِ کبیر“ اور انسان کو ”عالمِ صغیر“ قرار دے کر ان ہر دو عالم کی حیات و موت پر جو بحث فرمائی ہے اس سے حضرت مسیح کے رفع اور قربِ قیامت میں کائنات ارضی کی جانب رجوع کی حکمت بہت اچھی طرح واضح ہو جاتی ہے لیکن یہ کتاب چونکہ اس دقیق بحث کی متحمل نہیں ہے اس لیے اپنی جگہ قابل مراجعت ہے۔

آخر میں اب اپنی جانب سے چند جملے اس سلسلہ میں اضافہ کر کے اس مبحث کو ختم کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے۔

(٣) قرآنِ عزیز میں ”میثاقِ انبیاء“ سے متعلق یہ ارشاد باری ہے۔ وَإِذْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَ النَّبِيِّينَ لَمَا آتَيْتُكُمْ مِنْ كِتَابٍ وَ حِكْمَةٍ ثُمَّ جَاءَ كُمْ رَسُولٌ مُصَدِّقٌ لِمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهِ وَلَتَنْصُرُ نَّهُ قَالَ ءَ اَقْرَرْتُمْ وَأَخَذْ تُمْ عَلَى ذَلِكُمْ إِصْرِى قَالُوا أَقْرَرْنَا قَالَ فَاشْهَدُوْا وَأَنَا مَعَكُمْ مِّنَ الشَّهِدِيْنَ ۝ (آل عمران ٨١) اور وہ وقت قابلِ ذکر ہے جبکہ اللہ نے نبیوں سے (یہ) عہد لیا کہ جب تمھارے پاس (خدا کی جانب سے) کتاب اور حکمت آئے پھر ایسا ہو کہ تمہاری موجودگی میں ایک رسول محمد ﷺ آئے جو تصدیق کرتا ہو ان کتابوں کی جو تمھارے پاس ہیں، ضرور تم اس پر ایمان لانا اور ضرور اس کی مدد کرنا، اللہ نے کہا: کیا تم نے اقرار کیا، انھوں نے جواب دیا ہاں ہم نے اقرار کیا، اللہ نے کہا: پس تم اپنے اس عہد پر گواہ رہو اور میں بھی تمھارے ساتھ گواہ ہوں۔

آل عمران کی ان آیات میں حسب تفسیر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما اس عہد و پیمان کا تذکرہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے ازل میں خاتم الانبیاء محمد ﷺ کے متعلق انبیاء و رسل علیہم السلام سے لیا، قرآن کے اسلوب بیان کے مطابق اگرچہ یہ خطاب انبیاء و رسل کی معرفت ان کی امتوں سے تھا کہ ان میں سے جو امتیں خاتم الانبیاء ﷺ کا زمانہ مبارک پائیں تو ان پر ایمان لائیں اور دعوتِ حق میں ان کی نصرت و یاری کریں، چنانچہ ہر ایک پیغمبر نے اپنے اپنے دور میں تعلیم حق کے ساتھ ساتھ خدا کے اس وعدہ کو بھی یاد دلایا اور ان میں سے اہل حق نے وعدہ دیا اور اقرار کیا کہ ضرور ان پر ایمان لائیں گے اور پیغامِ حق میں ان کی مدد کریں گے۔ (عن علی وابن عباس فی تفسیر ایۃ ”ما بعث اللہ نبیاً من الانبیاء الا اخذ علیہ المیثاق لئن بعث اللہ محمدا وهو حى

١١٦

صفحہ ٣٤٣

ليؤمنن به ولينصرنه وامره ان ياخذ الميثاق على امه لئن بعث محمد وهم احياء ليؤمنن به ولينصرنه. (تفسیر ابن کثیر جلد ١ ص ٣٧٨) اللہ تعالیٰ نے انبیاء میں سے جس نبی کو بھی کسی قوم کی رشد و ہدایت کے لیے مبعوث فرمایا تو اس سے یہ عہد ضرور لیا ہے کہ اگر تم میں سے کوئی اس وقت زندہ ہو جبکہ محمد ﷺ کی بعثت ہو تو تم ضرور اس پر ایمان لانا اور ضرور اس کی مدد کرنا اور ان سے یہ بھی کہا کہ وہ اپنی اپنی امتوں سے بھی یہی عہد و پیمان لیں کہ ان میں سے جو اس وقت موجود ہوں وہ اس پر ایمان لائیں اور اس کی مدد کریں۔)

تو یہ ”میثاق النبیین“ اگرچہ اس طرح پورا ہوتا رہا تاہم ازل میں چونکہ اس عہد و میثاق کے اوّل مخاطب حضرات انبیاء و رسل تھے اس لیے اس میثاق کی عملی حیثیت کا تقاضا تھا کہ خود انبیاء و رسل میں سے بھی کوئی نبی یا رسول اس عہد و میثاق کا عملی مظاہرہ کر کے دکھلائے تاکہ یہ خطاب اولیں براہ راست بھی موثر ثابت ہو مگر ”ثم جاء کم رسول“ میں بقاعدہ عربیت خطاب تھا ان انبیاء و رسل سے جو ذات اقدس سے پہلے اس کائناتِ ارضی میں مبعوث ہونے والے تھے کیونکہ ازل ہی میں محمد ﷺ کے لیے یہ مقرر ہو چکا تھا ”ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین“ پس محمد ﷺ کی صفت ”خاتم النبیین“ اور ازل سے مقدر ”میثاق النبیین“ کا اجتماع صرف اسی ایک شکل میں ممکن تھا کہ انبیاء سابقین میں سے کوئی ایک پیغمبر بعثت محمد ﷺ کے بعد نزول فرمائیں اور وہ اور ان کی امت دنیائے انسانی کے سامنے خاتم الانبیاء ﷺ پر ایمان لائیں اور ”دین حق کی مدد و نصرت کا مظاہرہ کریں تاکہ ”لتومنن به ولتنصرنه“ کا وعدہ حق پورا ہو۔

گزشتہ صفحات میں یہ حقیقت بخوبی عیاں ہو چکی ہے کہ اگرچہ تمام انبیاء و رسل اپنے اپنے زمانہ میں محمد ﷺ کی آمد کی بشارات دیتے چلے آتے تھے لیکن یہ خصوصیت حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی کے حصہ میں آئی کہ وہ ذاتِ اقدس کی بعثت کے لیے تمہید اور براہ راست مناد و مبشر بنے اور بنی اسرائیل کو تعلیم حق دیتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا ”انی رسول اللہ الیکم مصدقا لما بین یدی من التورة و مبشراً برسول یاتی من بعد اسمہ احمد“ اور حقیقت یہ ہے کہ خاتم انبیاء بنی اسرائیل ہی کا یہ حق تھا کہ وہ خاتم الانبیاء والرسل کی بعثت کا ”مناد“ اور ”مبشر“ ہو۔ اس لیے حکمت ربانی کا یہ فیصلہ ہوا کہ ”میثاق النبیین“ کے وقار کے لیے ان ہی کو منتخب کیا جائے اور اس معاملہ میں وہی تمام انبیاء و رسل کی نمائندگی کریں تاکہ امتوں کی جانب سے ہی نہیں بلکہ براہ راست انبیاء و رسل کی جانب سے وفاء عہد کا عملی مظاہرہ ہو سکے۔ اسی حقیقت کے پیش نظر نبی اکرم ﷺ نے یہ ارشاد

١١٧

صفحہ ٣٤٤

فرمایا ”انا اولی الناس بعیسیٰ بن مریم والانبیاء اولاد علات لیس بینی و بینہ نبی“ مگر قرآن چونکہ خدا کا آخری پیغام ہے اور ”انا لہ لحافظون“ کے وعدۂ الٰہی نے رہتی دنیا تک اس کو تحریف سے محفوظ کر دیا ہے اس لیے قدرتی طور پر اس کی تعلیم کے ثمرات دوسرے انبیاء علیہم السلام کی تعلیمات کے مقابلہ میں مدت طویل تک اپنا کام کرتے رہیں گے اور اس کی روشنی سے قلوب کو گرمانے اور طاعتِ ربانی کے لیے مشتعل کرنے کے لیے ”علماء امت“ انبیاء بنی اسرائیل کی طرح خدمت حق انجام دیتے رہیں گے لیکن جب بعثت محمد ﷺ کو گزرے ہوئے۔۔ بہت ہی طویل عرصہ ہو جائے گا اور امتِ مرحومہ کے عملی قویٰ اور اجتماعی اعضاء میں انتہائی اضمحلال پیدا ہو کر یہ کیفیت ہو جائے گی کہ ان کی بیداری اور تیز روی کے لیے صرف علماء حق کی روحانیت ہی کافی ثابت نہیں ہوگی وہ وقت اس کا متقاضی ہوگا کہ کوئی ”قائم بالحجۃ“ ان کو سنبھالے اور اس لیے مشیت الٰہی نے مقدر کیا کہ جو ہستی (عیسیٰ بن مریم) انبیاء و رسل کے میثاقِ ازل کی نمائندگی کے لیے مامور ہے اس کا ایسے ہی وقت نزول ہو اور وہ امت محمد ﷺ کے درمیان رہ کر ذاتِ اقدس کی نیابت اور امت کی امامت کا فرض انجام دے اور ”لتومنن بہ و لتنصرنہ“ کا عملی مظاہرہ کر کے دکھلائے۔

اب کرشمہ قدرت دیکھیے کہ ازل کے ان مقدرات نے جو کہ ملاءِ اعلیٰ سے تعلق رکھتے تھے کائناتِ ارضی میں کس طرح اپنی بساط بچھائی؟ بنی اسرائیل اپنے جلیل القدر پیغمبر کے قتل کے لیے سازش مکمل کر چکے ہیں، شاہی دستہ چہار جانب سے مکان کو محصور کیے ہوئے ہے مگر قدرت حق اپنا کام اس طرح نہیں کرتی کہ معجزانہ کرشمہ کے ذریعہ ان کو محفوظ وہاں سے نکال کر خدا کی وسیع زمین کے دوسرے حصہ میں ”ہجرت“ کرا دیتی، نہیں، بلکہ ہوا یہ کہ ان کو ملاءِ اعلیٰ کی ہجرت کے لیے محفوظ و مامون زندہ اٹھا لیا اور سازش و محصور کرنے والوں کو ظن و ریب کی دلدل میں پھنسا کر ان کے لیے خسر الدنیا والآخرہ کا نشان عطا کر دیا اور پھر ارضی انسان کے ارضی احکام کے لیے وہ وقت مقرر کر دیا جو ”میثاق النبیین“ کی نمائندگی کے لیے موزوں تھا، یہی ہے وہ حقیقت جس کو زبان وحی ترجمان نے اس طرح ظاہر فرمایا ”وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ لَیُوْشِکَنَّ اَنْ یَّنْزِلَ فِیْکُمْ اِبْنُ مَرْیَمَ حَکَماً عَدْلاً“ اور اسی کو نص قرآن نے یوں واضح کیا ہے۔ ”وانہ لعلم للساعۃ“

(زخرف ٦١)

پھر یہ ہستی میثاقِ انبیاء و رسل کی نمائندگی کا اس طرح حق ادا کرے گی کہ جب

١١٨

صفحہ ٣٤٥

اس کا نزول ہوگا تو اس کرشمہ قدرت کو دیکھ کر مسلمانوں کے قلوب تصدیق قرآن اور تازگی ایمان سے روشن ہو جائیں گے اور وہ حق الیقین کے درجہ میں یقین کریں گے کہ بلاشبہ راہِ مستقیم صرف ”اسلام“ ہی ہے اور مخبر صادق کی جس طرح یہ خبر ”صادق“ نکلی عالم غیب سے متعلق اس کی تمام خبریں اسی طرح حق اور بلاشبہ حق ہیں، اور نصاریٰ بحیثیت قوم اپنے باطل عقیدے ”تثلیث و کفارہ“ پر نادم و شرمسار ہوں گے اور قرآن اور محمد ﷺ پر ایمان لانے کو اپنے لیے راہِ نجات اور راہِ سعادت یقین کریں گے اور یہود جب مسیح ہدایت اور مسیح ضلالت کے معرکہ حق و باطل کا مشاہدہ کرلیں گے اور مسیح ہدایت کے نزول سے اپنے دعوٰی قتل و صلیب کے ملعون عقیدہ کو باطل پالیں گے تو اب ان کو بھی ”ایمان بالحق“ کے سواء کوئی چارہ کار نہیں رہے گا اور مسیح ضلالت کے رفقاء کے علاوہ وہ سب ہی ”مسلم“ بن جائیں گے۔ یہی ہے قرآن کی وہ خبر صادق ”وَاِنْ مِّنْ اَھْلِ الْکِتَابِ اِلَّا لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ“ مسلمانوں میں ایمان کی تازگی و شگفتگی، نصاریٰ اور یہود میں تبدیلی عقائد کا حیرت انگیز انقلاب دیکھ کر اب مشرک جماعتوں پر بھی قدرتی اثر پڑے گا، اور ساتھ ہی خدا کے مقدس پیغمبر کے زبردست روحانی اثرات کار فرما ہوں گے اور نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ بھی حلقہ بگوشِ اسلام ہو جائیں گے اور اس طرح وحی ترجمان، حامل قرآن محمد ﷺ کا یہ ارشاد اپنی صداقت کو نمایاں کرے گا۔ ”ویدعو الناس الی الاسلام ویھلک اللہ فی زمانہ الملل کلھا الا الاسلام ویھلک اللہ فی زمانہ الدجال۔“

اس تفصیل سے یہ بھی روشن ہوگیا کہ قرآن اور احادیث کی تصریحات ثابت کر رہی ہیں کہ اگر اس فرض کی انجام دہی کے لیے کوئی جدید نبی مبعوث ہوتا تو ایک جانب نبی اکرم ﷺ کا خصوصی شرف ”خاتم النبیین“ باقی نہ رہتا اور دوسری جانب ”میثاق النبیین“ کے خطاب اولین کا عملی مظاہرہ عالم وجود میں نہ آتا کیونکہ وہ ہستی بہرحال محمد ﷺ کی امت ہی میں سے ہوتی۔ البتہ سابق نبی کی آمد نقلاً اور عقلاً دونوں حیثیت سے شرفِ خصوصی ”خاتم النبیین“ کے لیے بھی قادح نہیں ہے اور ”میثاق النبیین“ کو بھی پورا کرتی ہے۔

واقعاتِ نزول، صحیح احادیث کی روشنی میں

گزشتہ صفحات میں نزول عیسٰی علیہ السلام سے متعلق جو صحیح احادیث ذکر کی گئیں اور ان سے اور بعض دوسری صحیح احادیث سے جو تفصیلات ظاہر ہوتی ہیں ان کو ترتیب کے ساتھ یوں بیان کیا جاسکتا ہے۔

١١٩

صفحہ ٣٤٦

قیامت کا دن اگرچہ معین ہے مگر ذات باری کے ماسوا کسی کو اس کا علم نہیں ہے اور اس کا وقوع اچانک ہوگا ”وعنده علم الساعة“ اور قیامت کا علم خدا ہی کو ہے۔ ”حتی اذا جاء تهم الساعة بغتة.“ حتیٰ کہ ان پر اچانک قیامت کی گھڑی آ جائے گی۔ ”لاتاتیهم الا بغتة“ قیامت ان پر نہیں آئے گی مگر اچانک۔ اور حدیث جبرائیل میں ہے ”ما المسئول عنها باعلم من السائل“ (جبرائیل نے کہا) قیامت کے بارہ میں آپ سے زیادہ مجھے بھی علم نہیں جو اجمالی علم آپ کو ہے اسی قدر مجھ کو بھی ہے۔ اور ایک حدیث میں ہے ”سمعت رسول اللہ ﷺ یقول قبل ان یموت بشھر: تساءلون عن الساعة وانما علمها عند الله.“ تم مجھ سے قیامت کے متعلق سوال کرتے ہو تو اس کا علم تو اللہ ہی کو ہے۔ البتہ قرآن عزیز اور احادیث صحیحہ نے چند ایسی علامات بیان کی ہیں جو قیامت کے قریب پیش آئیں گی اور ان سے صرف اس کے نزدیک ہو جانے کا پتہ چل سکتا ہے، ان ”اشراط ساعت“ میں سے ایک بڑی علامت حضرت مسیح علیہ السلام کا ملاء اعلیٰ سے نزول ہے جس کی تفصیلات یہ ہیں۔

مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان سخت معرکہ جنگ بپا ہو رہا ہوگا اور مسلمانوں کی قیادت و امامت سلالہ رسول اللہ ﷺ میں سے ایک ایسے شخص کے ہاتھ میں ہوگی جس کا لقب ”مہدی“ ہوگا اس معرکہ آرائی کے درمیان ہی میں مسیح ضلالت ”دجال“ کا خروج ہوگا یہ نسلاً یہودی اور یک چشم ہوگا، کرشمہ قدرت نے اس کی پیشانی پر (ک ف ر) کافر لکھ دیا ہوگا جس کو اہل ایمان فراست ایمانی سے پڑھ سکیں گے اور اس کے دجل و فریب سے جدا رہیں گے۔ یہ اوّل خدائی کا دعویٰ کرے گا اور شعبدہ بازوں کی طرح شعبدے دکھا کر لوگوں کو اپنی جانب توجہ دلائے گا، مگر اس سلسلہ کو کامیاب نہ دیکھ کر کچھ عرصہ کے بعد ”مسیح ہدایت“ ہونے کا مدعی ہوگا یہ دیکھ کر یہود بہ کثرت بلکہ قومی حیثیت سے اس کے پیرو ہو جائیں گے اور یہ اس لیے ہوگا کہ یہود، مسیح ہدایت کا انکار کر کے ان کے قتل کا دعویٰ کر چکے ہیں اور مسیح ہدایت کی آمد کے آج تک منتظر ہیں، اسی حالت میں ایک روز دمشق (شام) کی مسجد جامع میں مسلمان منہ اندھیرے نماز کے لیے جمع ہوں گے، نماز کے لیے اقامت ہو رہی ہوگی اور مہدی موعود امامت کے لیے مصلے پر پہنچ چکے ہوں گے کہ اچانک ایک آواز سب کو اپنی جانب متوجہ کر لے گی مسلمان آنکھ اٹھا کر دیکھیں گے تو سپید بادل چھایا ہوا نظر آئے گا اور تھوڑے سے عرصہ میں یہ مشاہدہ ہوگا کہ عیسیٰ علیہ السلام دو زرد حسین چادروں میں لپٹے ہوئے اور فرشتوں کے بازوؤں پر

١٤٠

صفحہ ٣٤٧

سہارا دیئے ہوئے ملاء اعلیٰ سے اتر رہے ہیں۔ فرشتے ان کو مسجد کے منارِ شرقی پر اتار دیں گے اور واپس چلے جائیں گے، اب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا تعلق کائناتِ ارضی کے ساتھ دوبارہ وابستہ ہو جائے گا اور وہ عام قانونِ فطرت کے مطابق صحنِ مسجد میں اترنے کے لیے سیڑھی کے طالب ہوں گے۔ فوراً تعمیل ہوگی اور وہ مسلمانوں کے ساتھ نماز کی صفوں میں آ کھڑے ہوں گے۔ مسلمانوں کا امام (مہدی موعود) از راہِ تعظیم پیچھے ہٹ کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے امامت کی درخواست کرے گا۔ آپ فرمائیں گے کہ یہ اقامت تمھارے لیے کہی گئی ہے اس لیے تم ہی نماز پڑھاؤ، فراغتِ نماز کے بعد اب مسلمانوں کی امامت حضرت مسیح علیہ السلام کے ہاتھوں میں آ جائے گی اور وہ حربہ لے کر مسیح ضلالت (دجال) کے قتل کے لیے روانہ ہو جائیں گے اور شہر پناہ کے باہر اس کو بابِ لد پر مقابل پائیں گے، دجال سمجھ جائے گا کہ اس کے دجل اور زندگی کے خاتمہ کا وقت آ پہنچا اس لیے خوف کی وجہ سے رانگ کی طرح پگھلنے لگے گا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام آگے بڑھ کر اس کو قتل کر دیں گے اور پھر جو یہود، دجال کی رفاقت میں قتل سے بچ جائیں گے وہ اور عیسائی سب اسلام قبول کر لیں گے اور مسیح ہدایت کی سچی پیروی کے لیے مسلمانوں کے شانہ بشانہ کھڑے نظر آئیں گے، اس کا اثر مشرک جماعتوں پر بھی پڑے گا اور اس طرح اس زمانہ میں اسلام کے ماسوا کوئی مذہب باقی نہیں رہے گا۔

ان واقعات کے کچھ عرصہ بعد یاجوج و ماجوج کا خروج ہوگا اور اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے مطابق عیسیٰ علیہ السلام مسلمانوں کو اس فتنہ سے محفوظ رکھیں گے، حضرت مسیح علیہ السلام کا دور حکومت چالیس (اور مسلم میں ہے کہ دور حکومت سات سال رہے گا، حافظ ابن کثیر فرماتے ہیں کہ تطبیق کی صورت یہ ہے کہ جب حضرت مسیح کا رفع سماوی ہوا اس وقت ان کی عمر تینتیس سال تھی اور نزول کے بعد سات سال مزید بقیدِ حیات رہیں گے اس طرح کائنات ارضی میں کل مدتِ حیات چالیس سال ہو جائے گی) سال رہے گا اور اس درمیان میں وہ ازدواجی زندگی بسر کریں گے اور ان کے دورِ حکومت میں عدل و انصاف اور خیر و برکت کا یہ عالم ہوگا کہ بکری اور شیر ایک گھاٹ پانی پئیں گے اور بدی اور شرارت کے عناصر دب کر رہ جائیں گے۔

(ماخوذ از صحیح احادیث عن ابن عساکر فی تاریخہٖ)

وفات مسیح علیہ السلام

چالیس سالہ دورِ حکومت کے بعد عیسیٰ علیہ السلام کا انتقال ہو جائے گا اور نبی اکرم ﷺ کے پہلو میں دفن ہوں گے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی طویل حدیث میں ہے۔

١٤١

صفحہ ٣٤٨

فیمکث اربعین سنة ثم یتوفی و یصلی علیہ المسلمون ویدفنونہ. (مسند احمد ج ٢ ص ٤٠٦) پھر وہ کائنات ارضی پر اتر کر چالیس سال قیام کریں گے اور اس کے بعد وفات پا جائیں گے اور مسلمان ان کے جنازہ کی نماز پڑھیں گے اور ان کو دفن کر دیں گے۔

اور ترمذی نے بسند حسن محمد بن یوسف بن عبداللہ بن سلام کے سلسلہ سے حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے یہ روایت نقل کی ہے۔ قال مکتوب فی التوراة صفة محمد و عیسی بن مریم یدفن معہ. (ترمذی ج ٢ ص ٢٠٢ باب ماجاء فی فضل النبی ﷺ) عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تورات میں محمد ﷺ کی صفت (حلیہ و سیرت) مذکور ہے اور یہ بھی مسطور ہے کہ عیسیٰ بن مریم علیہما السلام ان کے ساتھ پہلو میں دفن ہوں گے۔

و یوم القیمة یکون علیہم شہیدا

سورۂ مائدہ میں حضرت مسیح علیہ السلام کے مختلف حالات کا تذکرہ کیا گیا ہے پھر آخر سورت بھی ان ہی کے تذکرہ پر ختم ہوتی ہے۔ اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے اوّل قیامت کے اس واقعہ کا نقشہ کھینچا ہے جب انبیاء علیہم السلام سے ان کی امتوں کے متعلق سوال ہوگا اور وہ غایت ادب سے اپنی لاعلمی کا اظہار کریں گے اور عرض کریں گے خدایا! آج کا دن تو نے اس لیے مقرر فرمایا ہے کہ ہر معاملہ میں حقائق امور کے پیش نظر فیصلہ سنائے اور ہم چونکہ صرف ظواہر ہی پر کوئی حکم لگا سکتے ہیں اور قلوب اور حقائق کا دیکھنے والا تیرے سوا کوئی نہیں اس لیے آج ہم کیا شہادت دے سکتے ہیں، صرف یہی کہہ سکتے ہیں کہ ہمیں کچھ معلوم نہیں، تو علام الغیوب ہے اس لیے تو ہی سب کچھ جانتا ہے۔

یوم یجمع اللہ الرسل فیقول ماذا اجبتم قالوا لا علم لنا انک انت علام الغیوب۔ (مائدہ ١٠٩) وہ دن (قابل ذکر ہے) جب کہ اللہ تعالیٰ پیغمبروں کو جمع کر دے گا، پھر کہے گا تم (اپنی اپنی امتوں کی جانب سے) کیا جواب دیئے گئے؟ وہ (پیغمبر) کہیں گے (تیرے علم کے سامنے) ہم کچھ نہیں جانتے بلاشبہ تو ہی غیب کی باتوں کا خوب جاننے والا ہے۔

ظاہر ہے کہ انبیاء علیہم السلام کا ”لا علم لنا“ فرمانا ”علم حقیقی کی نفی پر ہی مبنی ہوگا، یہ مطلب نہیں ہوگا کہ وہ درحقیقت اپنی امتوں کے جواب سے لاعلم ہیں کہ کس نے ایمان کو قبول کیا اور کس نے انکار کیا کیونکہ جواب کا مقصد اگر یہ ہو تو یہ صریح جھوٹ اور

١٢٢

صفحہ ٣٤٩

کذب بیانی ہے اور انبیاء علیہم السلام کی جانب اس عمل بد کی نسبت ناممکن ہے، اس لیے انبیاء علیہم السلام کا یہ جواب مسطورۂ بالا حقیقت کے ہی پیش نظر ہوگا ظاہر حالات کے علم سے انکار پر مبنی نہیں ہوگا اس کے لیے خود قرآن عزیز ہی شاہد عدل ہے کیونکہ وہ متعدد جگہ یہ کہتا ہے کہ قیامت کے دن انبیاء علیہم السلام اپنی اپنی امتوں پر شہادت دیں گے کہ ہم نے ان تک خدا کا پیغام پہنچا دیا تھا اور یہ کہ انھوں نے ہماری دعوت کو قبول کیا یا رد کر دیا تو ان ہر دو مقامات پر نظر رکھنے کے بعد یوں کہا جائے گا کہ پاس ادب کے طریقہ پر اول انبیاء علیہم السلام کا یہی جواب ہوگا جو مائدہ میں مذکور ہے لیکن جب ان کو خدائے برتر کا یہ حکم ہوگا کہ وہ صرف اپنے علم کے مطابق شہادت دیں تب وہ شہادت دیں گے۔

فَكَيْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلٰى هٰؤُلَاءِ شَهِيدًا (النساء ٤١)

وَجِيْءَ بِالنَّبِيّٖنَ وَالشُّهَدَاءِ وَقُضِيَ بَيْنَهُمْ بِالْحَقِّ (زمر ٦٩)

پھر (اے پیغمبر! کیا حال ہوگا اس دن، (یعنی قیامت کے دن) جب ہم ہر ایک امت سے ایک گواہ طلب کریں گے (یعنی اس کے پیغمبر کو طلب کریں گے جو اپنی امت کے اعمال و احوال پر گواہ ہوگا) اور ہم تمھیں بھی ان لوگوں پر گواہی دینے کے لیے طلب کریں گے۔

اور لائے جائیں گے (قیامت کے دن) انبیاء اور شہداء اور فیصلہ کیا جائے گا ان لوگوں کے درمیان اچھائی اور برائی کا حق کے ساتھ۔

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بھی ”لاعلم لنا“ کی یہی تفسیر بیان فرمائی ہے۔

عن ابن عباس یوم یجمع الله الایہ بقولہ الرب عزوجل لا علم لنا الا علم انت اعلم بہ منا (تفسیر ابن کثیر جلد ١ زیر یوم یجمع الرسل) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما آیت یوم یجمع الله الرسل (الآیۃ) کی تفسیر میں فرماتے ہیں: انبیاء علیہم السلام رب عزوجل سے عرض کریں گے ہم کو کوئی علم نہیں ہے مگر ایسا علم کہ جس کے متعلق تو ہم سے بہتر جانتا ہے۔

اور شیخ المحققین علامہ سید انور شاہ رحمۃ اللہ آیت کے جملہ ”لاعلم لنا“ کو ”علم حقیقی کے انکار“ پر محمول کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں۔

”یہ بات مسلم ہے کہ ایک انسان کو ...... خواہ وہ کسی درجہ اور رتبہ کا ہو ...... دوسرے انسان کے متعلق جو کچھ بھی معلوم ہوتا ہے وہ علم حقیقی کے لحاظ سے ”ظن“ کے

١٢٣

صفحہ ٣٥٠

درجہ سے آگے ”علم“ تک نہیں پہنچتا، اسی بنا پر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے ”نحن نحكم بالظواھر والله متولى السرائر“ ہم ظاہر معاملات پر حکم لگاتے ہیں اور بھیدوں اور حقیقتوں پر تو صرف خدا کو ہی قابو حاصل ہے۔ نیز ایک دوسری حدیث میں ہے ذات اقدس نے ارشاد فرمایا: تم میرے پاس اپنے جھگڑے لاتے ہو اور بعض تم میں سے زیادہ چرب زبان ہوتے ہیں اور مجھ کو علم غیب نہیں ہے کہ حقیقت سے آگاہ ہو جایا کروں اس لیے جو بھی فیصلہ دیتا ہوں ظاہر حالات پر ہی دیتا ہوں تو یاد رہے کہ جو شخص بھی اپنی چرب زبانی سے کسی بھائی کا ادنیٰ سا ٹکڑا بھی ناحق حاصل کرے گا وہ بلاشبہ جہنم کا ٹکڑا حاصل کرے گا۔“

(عقیدۃ الاسلام ص ١٦٥)

بہر حال قرآن عزیز، احادیث رسول، آثار صحابہ اور اقوالِ علماء سب یہی ظاہر کرتے ہیں کہ اس موقعہ پر انبیاء علیہم السلام کا جواب ”عدم علم“ کو ظاہر نہیں کرتا بلکہ از رہ پاس ادب ”حقیقی علم پر انکار“ کو واضح کرتا ہے۔

غرض، ذکر یہ تھا کہ اس مقام پر اصل تذکرہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اس واقعہ کا ہو رہا ہے جو قیامت میں پیش آئے گا جبکہ اللہ تعالیٰ ان پر اپنے انعامات شمار کرانے کے بعد ان سے ان کی امت کے متعلق سوال کرے گا اور وہ حسب حال جوابات پیش کریں گے مگر سابق آیات میں چونکہ دوسرے مطالب ذکر ہوئے تھے اس لیے ان سے امتیاز پیدا کرنے کے لیے تمہیداً قیامت میں ہونے والے ان سوال و جواب کا ذکر ضروری ہوا جو عام طور پر انبیاء علیہم السلام سے ان کی امتوں کے متعلق کیے جائیں گے اور اس لیے بھی یہ تذکرہ ضروری تھا کہ اگلی آیات میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے جواب کا جو ذکر کیا گیا ہے اس کا پیرایہ بیان بھی انبیاء علیہم السلام کے جواب کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے۔

وَإِذْ قَالَ اللّٰهُ يٰعِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ ءَاَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُوْنِيْ وَأُمِّيَ إِلٰهَيْنِ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ قَالَ سُبْحٰنَكَ مَا يَكُوْنُ لِيْ أَنْ أَقُوْلَ مَا لَيْسَ لِيْ بِحَقٍّ إِنْ كُنْتُ قُلْتُهُ فَقَدْ عَلِمْتَهُ تَعْلَمُ مَا فِيْ نَفْسِيْ وَلَا أَعْلَمُ مَا فِيْ نَفْسِكَ إِنَّكَ أَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوْبِ ۝ مَا قُلْتُ لَهُمْ إِلَّا مَا أَمَرْتَنِيْ بِهِ أَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ رَبِّيْ وَرَبَّكُمْ وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيْدًا مَّا دُمْتُ فِيْهِمْ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِيْ كُنْتَ أَنْتَ الرَّقِيْبَ عَلَيْهِمْ وَأَنْتَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ ۝ إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ.

(مائدہ ١١٦، ١١٨)

اور (وہ وقت بھی قابلِ ذکر ہے) جب اللہ تعالیٰ عیسیٰ بن مریم سے کہے گا:

١٢٤

صفحہ ٣٥١

”کیا تو نے لوگوں (بنی اسرائیل) سے کہہ دیا تھا کہ مجھ کو اور میری ماں کو دونوں کو اللہ کے ماسوا خدا بنا لینا“ عیسیٰ کہیں گے: ”پاکی تجھ کو ہی زیبا ہے میرے لیے کیسے ممکن تھا کہ میں وہ بات کہتا جو کہنے کے لائق نہیں، اگر میں نے یہ بات ان سے کہی ہوتی تو یقیناً تیرے علم میں ہوتی (اس لیے کہ) تو وہ سب کچھ جانتا ہے جو میرے جی میں ہے اور میں تیرا بھید نہیں پا سکتا، بلاشبہ تو غیب کی باتوں کا خوب جاننے والا ہے، میں نے اس بات کے ماسوا جس کا تو نے مجھ کو حکم دیا ان سے اور کچھ نہیں کہا وہ یہ کہ صرف اللہ کی ہی پوجا کرو جو میرا اور تمہارا سب کا رب ہے اور میں ان پر اس وقت تک کا گواہ ہوں جب تک میں ان کے درمیان رہا پھر جب تو نے مجھ کو ”قبض کر لیا“ تو ہی ان پر نگہبان تھا اور تو ہر چیز پر گواہ ہے اگر تو ان سب کو عذاب چکھائے تو یہ تیرے بندے ہیں اور اگر ان کو بخش دے، پس تو ہی بلاشبہ غالب، حکمت والا ہے۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب اپنا جواب دے چکیں گے تب اللہ تعالیٰ یہ ارشاد فرمائے گا۔

قَالَ اللّٰهُ هٰذَا یَوْمُ یَنْفَعُ الصّٰدِقِیْنَ صِدْقُهُمْ لَهُمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَآ اَبَدًا ط رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَرَضُوْا عَنْهُ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ o

(مائدہ ١١٩)

اللہ تعالیٰ فرمائے گا یہ ایسا دن ہے کہ جس میں راستبازوں کی راستبازی ہی کام آسکتی ہے، ان ہی کے لیے بہشت ہے جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں اور جن میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اور وہ خدا سے راضی اور خدا ان سے راضی (کا مقام اعلیٰ پائیں گے) یہ بہت ہی بڑی کامیابی ہے۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا جواب ایک جلیل القدر پیغمبر کی عظمت شان کے عین مطابق ہے، وہ پہلے بارگاہ رب العزت میں عذر خواہ ہوں گے کہ یہ کیسے ممکن تھا کہ میں ایسی نامناسب بات کہتا جو قطعاً حق کے خلاف ہے ”سبحنک ما یکون لی ان اقول ما لیس لی بحق“ پھر پاس ادب کے طور پر خدا کے علم حقیقی کے سامنے اپنے علم کو ہیچ اور بے علمی کے مرادف ظاہر کریں گے ”ان کنت قلته فقد علمته تعلم ما فی نفسی ولا اعلم ما فی نفسک انک انت علام الغیوب“ اور اس کے بعد اپنے فرض کی انجام دہی کا حال گزارش کریں گے ”ما قلت لہم الا ما امرتنی بہ ان اعبدوا اللہ ربی و ربکم“ اور پھر امت نے اس دعوت حق کا جواب کیا دیا؟ اس کے متعلق ظاہر امور کی

١٢٥

صفحہ ٣٥٢

شہادت کا بھی اس ”اسلوب کے ساتھ ذکر کریں گے جس میں ان کی شہادت خدا کی شہادت کے مقابلہ میں بے وقعت نظر آئے۔ ”وكنت عليهم شهيداً ما دمت فيهم فلما توفيتنى كنت انت الرقيب عليهم وانت على كل شىء شهيداً“ اور اس کے بعد یہ جانتے ہوئے کہ امت میں مومنین قانتین بھی ہیں اور منکرین جاحدین بھی وقوع عذاب اور طلب مغفرت کا اس انداز میں ذکر کریں گے جس سے ایک جانب خدا کے مقرر کردہ پاداش عمل کے قانون کی خلاف ورزی بھی مترشح نہ ہو اور دوسری جانب امت کے ساتھ رحمت و شفقت کے جذبہ کا جو تقاضا ہے وہ بھی پورا ہو جائے ”ان تعذبهم فانهم عبادك وان تغفر لهم فانك انت العزيز الحكيم“ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام عرضداشت یا جواب کے مضمون کو ختم کر چکے تو رب العالمین نے اپنے قانون عدل کا یہ فیصلہ سنا دیا تا کہ مستحق رحمت و مغفرت کو مایوسی نہ پیدا ہو بلکہ مسرت و شادمانی سے ان کے قلوب روشن ہو جائیں اور مستحق عذاب غلط توقعات قائم نہ کرسکیں ”قال الله هذا يوم ينفع الصدقين صدقهم“ (الآيہ)

ان تمام تفصیلات کا حاصل یہ ہے کہ آیات زیر بحث کا سیاق و سباق صراحت کرتا ہے کہ واقعہ قیامت کے روز پیش آئے گا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ملاء اعلیٰ پر اٹھا لیے جانے کے وقت پیش نہیں آیا، اس لیے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے واقعہ کی ابتداء ”يوم يجمع الله الرسل“ (الآيہ) سے کرنا اور انتہاء واقعہ ”هذا يوم ينفع الصدقين صدقهم“ (الآيہ) پر ہونا روز قیامت کے ماسوا اور کسی دن پر صادق نہیں آ سکتا اور اس ایک قطعی بات کے علاوہ دوسرے کسی احتمال کی مطلق گنجائش نہیں ہے۔

نیز یہ تفصیلات واضح کرتی ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنی امت کے قبول و انکار کے حالات سے آگاہی کے باوجود آیات مائدہ میں مذکور اسلوب بیان اس لیے اختیار فرمائیں گے کہ دوسرے انبیاء و رسل علیہم السلام بھی مقام کی نزاکت حال اور رب العزت کے دربار میں غایت پاس ادب کے لیے یہی اسلوب بیان اختیار فرمائیں گے۔

اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنی امت کے قبول و انکار کے حالات سے آگاہی کے باوجود آیات مائدہ میں مذکور اسلوب بیان اس لیے اختیار فرمائیں گے کہ دوسرے انبیاء و رسل علیہم السلام بھی مقام کی نزاکت حال اور رب العزت کے دربار میں غایت پاس ادب کے لیے یہی اسلوب بیان اختیار فرمائیں گے۔

اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اور انبیاء علیہم السلام کے جوابات میں اسلوب

١٢٦

صفحہ ٣٥٣

بیان کی یکسانیت کے باوجود اجمال وتفصیل کا فرق صرف اس لیے ہے کہ زیر بحث آیات میں اصل مقصود حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی امت کے قبول وانکار اور ان کے نتائج وثمرات کا تذکرہ ہے اور انبیاء علیہم السلام کا ذکر صرف واقعہ کی تمہید کے طور پر ہے۔

حقیقت حال کے اس انکشاف کے بعد اب جمہور امت مسلمہ کے خلاف خلیفہ قادیانی مسٹر محمد علی لاہوری کی تحریف معنوی بھی قابل مطالعہ ہے کہتے ہیں کہ سورۂ مائدہ میں مذکور حضرت عیسیٰ اور پروردگار عالم کا یہ سوال و جواب اس وقت پیش آ چکا جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نعش ملنے پر شاگردوں نے ان کا علاج کر کے چنگا کر لیا اور پھر وہ شام سے فرار ہو کر مصر اور مصر سے کشمیر پہنچے اور گمنامی کی حالت میں انتقال فرما گئے۔ مسٹر لاہوری نے اپنے دعوٰی میں دو دلائل پیش کیے ہیں ایک یہ کہ عربیت کے قاعدے سے لفظ ”اذ“ ماضی کے لیے مستعمل ہے نہ کہ مستقبل کے لیے اور دوسری دلیل یہ کہ اگر جمہور کے عقیدہ کے مطابق حضرت مسیح علیہ السلام کا انتقال نہیں ہوا اور وہ قیامت کے قریب نازل ہوں گے تو ضروری ہے کہ ان کو اپنی امت (نصارٰی) کے عقیدۂ الوہیت مسیح اور تثلیث کا علم ہو چکا ہو گا کیونکہ نصارٰی نے ان کے رفع کے زمانہ تک تثلیث کو نہیں اپنایا تھا اور اگر ایسا ہوتا تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا جواب ایسے اسلوب پر نہ ہوتا جس سے ان کی لاعلمی ظاہر ہوتی ہے۔

مسٹر لاہوری نے قرآن کی تحریف معنوی پر یہ اقدام یا تو اس لیے کیا کہ اپنے مرشد متنبی قادیان علیہ ما علیہ کے دعوٰی مسیحیت کو قوت پہنچائیں اور مغالطہ اور سفسطہ سے کام لے کر ”خسران مبین“ کا سامان مہیا کریں اور یا پھر وہ قواعد عربیت سے اس درجہ ناواقف ہیں کہ نہ ان کو نحو کے معمولی استعمالات ہی کا علم ہے اور نہ وہ آیات قرآنی کے سیاق وسباق کا ہی کچھ درک رکھتے ہیں اور صرف جاہلانہ دعاوی پر دلیر نظر آتے ہیں۔

جن قوانین عربیت میں ”اذ“ اور ”اذا“ کے درمیان یہ فرق بیان کیا گیا ہے کہ ”اذ“ اگر فعل مستقبل پر بھی داخل ہو تب بھی ”ماضی“ کے معنی دیتا ہے اور ”اذا“ اگرچہ فعل ماضی پر بھی داخل ہو تب بھی مستقبل کے معنی دیا کرتا ہے ان ہی قوانین میں علماء معانی و بلاغت یہ بھی تصریح کرتے ہیں کہ بسا ایسا ہوتا ہے کہ کسی گزرے ہوئے واقعہ کو اس طرح پیش کرنے کے لیے گویا وہ زمانہ حال میں پیش آ رہا ہے صیغہ مستقبل سے تعبیر کر لیا کرتے ہیں یعنی اس کے لیے ”اذا“ کا استعمال جائز رکھتے بلکہ مستحسن سمجھتے اور اس کو ”استحضار“ اور ”حکایۃ الحال“ کہتے ہیں اور اسی طرح مستقبل میں ہونے والے ایسے واقعہ

١٢٧

صفحہ ٣٥٤

کو جس کے وقوع سے متعلق یہ یقین دلانا ہو کہ وہ ضرور ہو کر رہے گا اور ناممکن ہے کہ اس کے خلاف ہو سکے اکثر ماضی کے صیغہ سے تعبیر کرنا مستحسن سمجھتے بلکہ بلاغت تعبیر کے لحاظ سے ضروری اور مفید یقین کرتے ہیں، کیونکہ اس طرح مخاطب اور سامع کے سامنے ہونے والے واقعہ کا نقشہ اس طرح آ جاتا ہے گویا وہ ہو گزرا ہے اور یہ بھی ”استحضار“ ہی کی ایک صورت سمجھی جاتی ہے، دور کیوں جائیے لفظ ”اذ“ کا استعمال مستقبل کے لیے خود قرآن عزیز میں متعدد مقامات پر ثابت ہے۔

سورۂ انعام میں قیامت کے دن مجرموں کی کیا کیفیت ہو گی اس کا نقشہ کھینچتے ہوئے کہا گیا ہے۔

وَلَوْ تَرى إِذْ وُقِفُوْا عَلَى النَّارِ فَقَالُوْا يٰلَيْتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُكَذِّبَ بِاٰيٰتِ رَبِّنَا وَنَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ. (الانعام ٢٧) ”اور کاش کہ تو دیکھے جس وقت کہ وہ کھڑے کیے جائیں گے آگ (جہنم) کے اوپر پس کہیں گے اے کاش کہ ہم لوٹا دیئے جائیں دنیا میں اور نہ جھٹلائیں ہم اپنے رب کی نشانیوں کو اور ہو جائیں ہم ایمان والوں میں سے۔“

اور اسی سورۂ انعام میں روز قیامت مجرموں کی حالت کا اس طرح ذکر کیا گیا ہے۔

وَلَوْ تَرى إِذْ وُقِفُوْا عَلَى رَبِّهِمْ قَالَ اَلَيْسَ هٰذَا بِالْحَقِّ قَالُوْا بَلٰى وَرَبِّنَا قَالَ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ. (انعام ٣٠) ”اور کاش کہ تو دیکھے، جب وہ اپنے پروردگار کے سامنے کھڑے کیے جائیں گے تو (پروردگار) کہے گا کیا یہ حق نہیں ہے؟ وہ کہیں گے قسم ہے پروردگار کی یہ (روز حشر) حق اور سچ ہے، پس (پروردگار) کہے گا تو چکھو اس کے بدلہ میں عذاب جو تم کفر کیا کرتے تھے۔“

اور ان ہی مجرمین کی روز قیامت حالت کا نقشہ سورۂ سبا میں اس طرح بیان کیا گیا ہے۔

وَلَوْ تَرى إِذْ فَزِعُوْا فَلَا فَوْتَ وَأُخِذُوْا مِنْ مَّكَانٍ قَرِيْبٍ وَّقَالُوْا اٰمَنَّا بِه. (سبا ٥١، ٥٢) ”اور کاش کہ تو دیکھے جبکہ وہ (منکرین) گھبرائیں گے پس نہیں بھاگ سکیں گے اور پکڑے جائیں گے قریب سے اور کہیں گے ہم (اب) اس پر ایمان لے آئے۔“

اور سورۂ سجدہ میں اس حقیقت کو ان الفاظ کے ساتھ بیان کیا ہے۔

وَلَوْ تَرى إِذِ الْمُجْرِمُوْنَ نَاكِسُوْا رُءُوْسِهِمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ. (سجدہ ١٢) ”اور کاش کہ تو دیکھے جبکہ مجرم اپنا سر نیچے ڈالے ہوئے ہوں گے اپنے رب کے سامنے۔“

یہ اور اسی قسم کے متعدد مقامات ہیں جن میں مستقبل کے واقعات کو ماضی کے

١٢٨

صفحہ ٣٥٥

ساتھ تعبیر کیا گیا اور اس لیے لفظ ”اذ“ کا استعمال مفید سمجھا گیا۔ پس جس طرح ان مقامات میں ”اذ وقفوا“ ”قال“ ”قالوا“ ”اذ فزعوا“ ”اخذوا“ ”اذ المجرمون ناکسوا“ تمام افعال لفظ ”اذ“ کے باوجود مستقبل کے معنی دے رہے ہیں اسی طرح ”اذ قال الله یعیسیٰ“ کے استعمال کو مستقبل کے لیے سمجھئے اور جس طرح ان تمام مقامات کے سیاق و سباق دلالت کر رہے ہیں کہ ان واقعات کا تعلق روز قیامت سے ہے ٹھیک آیات مائدہ کی زیر بحث آیات کا سیاق و سباق صراحت کر رہا ہے کہ اس واقعہ کا تعلق قیامت کے دن سے ہے۔

قاعدۂ عربیت کی اس حقیقت افروز تحقیق کے بعد مسٹر لاہوری کی دوسری دلیل پر نظر ڈالیے تو وہ اس سے بھی زیادہ لچر نظر آئے گی اس لیے کہ گزشتہ تحقیق سے یہ واضح ہو چکا کہ سورۂ مائدہ کی آیات زیر بحث میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا جواب ہرگز اس بات پر مبنی نہیں ہے کہ ان کو اپنی امت کی گمراہی کا علم نہیں ہوگا اور وہ اپنی لاعلمی ظاہر کریں گے، ایک مرتبہ ان آیات پر پھر غور کرو گے تو صاف نظر آئے گا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا اصل جواب صرف یہ ہے ”ماقلت لهم الا ما امرتنی به ان اعبدوا الله ربی و ربکم“ اور اوّل و آخر باقی آیات میں یا جواب کے مناسب حال تمہید ہے اور یا اللہ تعالیٰ کی جلالت و جبروت اور اپنی بیچارگی و درماندگی بلکہ عبودیت کا اظہار ہے جس میں ایک جلیل القدر پیغمبر کی شان کے مناسب حضرۃ القدس کے سامنے شہادت پیش کی گئی ہے، علاوہ ازیں اگر مسٹر لاہوری کا یہ قول صحیح مان لیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع سماوی تک نصاریٰ نے چونکہ تثلیث کا عقیدہ نہیں اختیار کیا تھا اس لیے انھوں نے لاعلمی کا اظہار کیا تو اس صورت میں اللہ تعالیٰ کا یہ سوال کیا معنی رکھتا ہے ”ء انت قلت للناس اتخذونی وامی الهین من دون الله“ کیا العیاذ باللہ اس کا یہ مطلب نہ ہوا کہ خدا نے عیسیٰ علیہ السلام کی امت پر جھوٹا الزام لگایا ہے پھر یہ کیا کم حیرت کی بات ہے کہ قادیانی اور لاہوری ایک جانب تو یہ کہہ رہے ہیں مگر اس کے قطعاً متضاد آئینہ کمالات میں قادیانی نے یہ کہا ہے کہ جب عیسیٰ علیہ السلام کی روح کو یہ معلوم ہوا اور اس کو بتلایا گیا کہ اس کی امت کس طرح شرک میں مبتلا ہوگئی تب عیسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کی۔ خدایا! تو میرا مثیل نازل فرما تا کہ میری امت اس شرک سے نجات پائے اور تیری سچی پرستار بنے ؎ ببیں تفاوت رہ از کجاست تا بکجا۔

حقیقت یہ ہے کہ قادیانی اور لاہوری کی تفسیر کا معیار یہ نہیں ہے کہ وہ قرآن ١٢٩

صفحہ ٣٥٦

کی آیات کے مطالب قرآن کی زبان سے سننا چاہتے ہیں بلکہ پہلے سے ایک باطل عقیدہ کو عقیدہ بناتے ہیں اور پھر اس کے سانچہ میں قرآن کو ڈھالنا چاہتے ہیں اور جب قرآن اس سانچہ میں ڈھلنے سے انکار کرتا ہے تو تحریف کے حربہ سے زبردستی اس پر مشق ستم کرنا چاہتے ہیں، مگر وہ ایسا کرتے وقت میں حقیقت کو فراموش کر دیتے ہیں کہ قرآن امت کی ہدایت کے لیے رہتی دنیا تک امام الہدیٰ ہے۔ اس لیے کوئی ”ملحد و زندیق“ خواہ کتنی ہی تحریف معنوی کی کوشش کرے ہمیشہ ناکام اور خاسر رہے گا اور خود قرآنی اطلاقات ہی اس کے عقیدہ و فکر کی بطالت کے لیے ناطق حجت ہوں گے بلکہ بمصداق دروغ گورا حافظہ نہ باشد وہ اکثر اپنے ہی متضاد اقوال کی بھول بھلیوں میں پھنس کر اپنی کذب بیانی اور تفسیری افتراء پر مہر لگا لیتا ہے جس کی تازہ شہادت ابھی سطور بالا میں نقل ہو چکی ہے۔

فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِى كُنتَ اَنْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ

حیات و رفع مسیح علیہ السلام سے متعلق گذشتہ مباحث میں ”توفی“ کی حقیقت پر کافی روشنی پڑ چکی ہے اور سورۃ مائدہ کی آیات مسطورہ بالا کی تفسیر کے بھی تمام پہلو واضح ہو چکے ہیں، تاہم قرآن کے اعجاز بلاغت اور اسلوب بیان کی لطافت سے مستفید ہونے کے لیے چند سطور اس مسئلہ پر بھی سپرد قلم کر دینا مناسب ہے کہ اس مقام پر قرآن نے عیسیٰ علیہ السلام کے قیام ارضی کو ”مادمت فیهم“ سے اور کائنات ارضی سے انقطاع تعلقات کو ”توفیتنی“ سے کیوں تعبیر کیا؟

گذشتہ سطور میں لغت اور معانی کے حوالوں سے یہ تو ثابت ہو چکا کہ ”توفی“ کے حقیقی معنی ”اخذ و تناول“ (لے لینے اور قبضہ میں کر لینے) کے ہیں اور موت کے معنی میں بطور کنایہ اس کا استعمال ہوتا ہے اور یہ کہ کنایہ میں حقیقی معنی برابر ساتھ ساتھ رہتے ہیں مجاز کی طرح یہ نہیں ہوتا کہ حقیقی معنی سے جدا ہو کر لفظ غیر موضوع لہ میں استعمال ہونے لگے۔ پس اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق قرآن کا عقیدہ یہ ہوتا کہ ان کو موت آ چکی اور سوال و جواب کا یہ سلسلہ موت کے اسی وقت سے متعلق ہے نہ کہ قیامت کے دن سے تو پھر بلاغت و معانی کا تقاضا یہ تھا کہ اس موقعہ پر ”حیات“ اور ”موت“ ایک دوسرے کے متضاد الفاظ کو استعمال کیا جاتا تاکہ یہ حقیقت واضح ہو سکتی کہ سوال و جواب کا معاملہ ”موت“ کے ہم قرین ہے اور پھر لفظ ”موت“ کی صراحت اپنے مقابل لفظ ”حیات“ کی طالب ہوتی مگر قرآن نے ان دونوں الفاظ کی بجائے ”مادمت فیهم“ ١٣٠

صفحہ ٣٥٧

کو ”حیوۃ“ کی اور ”توفی“ کو ”موت“ کی جگہ استعمال کیا ہے تو یہ کس لیے اور کس مقصد سے یا بغیر کسی حکمت و مصلحت کے یہ اسلوب اختیار کر لیا؟ جمہور امت تو اس کا ایک ہی جواب رکھتی ہے اور وہ یہ کہ قرآن نے دوسرے مقامات کی طرح اس مقام پر بھی اعجاز و ایجاز سے کام لیا ہے اور ان دو لفظوں میں وہ حضرت مسیح علیہ السلام کی زندگی، رفع، نزول اور موت، تمام مراحل کو سمو دینا چاہتا ہے، وہ اگر یہ کہتا ”ماحییت، میں جب تک زندہ رہا“ اور ”فلما امتنی، پس جب تو نے مجھ کو موت دے دی“ تو اس کا مطلب یہ ہوتا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بھی عام حالات کے مطابق دو ہی مراحل پیش آئے ہیں ”زندگی“ اور ”موت“ اور ان دونوں مرحلوں کے درمیان کوئی خاص صورت حال پیش نہیں آئی، لیکن جبکہ یہ خلاف واقعہ تھا اور ان کی زندگی اور موت کے درمیان دو اہم مراحل پیش آ چکے ہوں گے ایک ”ملاء اعلیٰ کی جانب بقید حیات رفع“ اور دوسرا ”کائنات ارضی پر دوبارہ رجوع (نزول)“ اس لیے از بس ضروری ہوا کہ حیوۃ اور موت کی جگہ دو ایسے الفاظ اختیار کیے جائیں جو ان چاروں مراحل پر صادق آ سکیں اور جبکہ متعدد مقامات پر حسب حال ان مراحل کی تفصیل بیان ہو چکی ہے تو اعجاز بلاغت کا یہی تقاضا ہے کہ اب ان کو ایجاز و اختصار کے ساتھ بیان کیا جائے۔

صورت حال کا یہی نقشہ تھا جس کے لیے قرآن عزیز نے ”ماحییت“ کی جگہ ”ما دمت فیہم“ استعمال کیا تاکہ یہ جملہ اختصار کے ساتھ حضرت مسیح علیہ السلام کی زندگی کے دونوں حصوں پر حاوی ہو جائے اس حصہ پر بھی جو ابتداء زندگی سے شروع ہو کر ”رفع الی السماء“ پر ختم ہوتا ہے اور اس حصہ پر بھی جو ”نزول ارضی“ سے شروع ہو کر ”موت“ پر جا کر ختم ہو جاتا ہے اور اسی طرح قرآن نے ”فلما امتنی“ کی جگہ ”فلما توفیتنی“ کا اسلوب بیان اختیار کیا تاکہ یہ جملہ بھی پہلے جملہ کی طرح باقی دونوں مرحلوں کو اپنے اندر سمو لے اس مرحلہ کو بھی جو ”رفع الی السماء“ کی صورت میں پیش آیا اور اس مرحلہ کو بھی جو نزول کے بعد ”موت“ کی صورت میں نمودار ہوا کیونکہ موت سے تو صرف ایک ہی حقیقت ظاہر ہو سکتی تھی مگر ”توفی“ میں بیک وقت دونوں حقیقتیں موجود تھیں، حقیقی معنی کے لحاظ سے صرف ”اخذ و تناول“ اور کنایہ کے اعتبار سے اخذ و تناول کے ساتھ ساتھ ”موت“ جیسا کہ سطور بالا میں ”کنایہ“ اور ”مجاز“ کے باہمی فرق سے معلوم ہو چکا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام عرض کریں گے، خدایا! جو وقت میں نے ان کے درمیان گزارا اس کے لیے تو بیشک میں شاہد ہوں لیکن ”توفی“ کے اوقات

١٤١

صفحہ ٣٥٨

میں ان پر فقط تو ہی نگہبان رہا، باقی تیری شہادت تو ہر حالت میں ہر وقت ہر شے پر حاوی ہے۔

مسئلہ متعلقہ کی یہ پوری بحث اس سے قطع نظر کہ نبی معصوم ﷺ نے آیات کی تفسیر میں کیا ارشاد فرمایا ہے، لغت، معانی، بلاغت کے پیش نظر تھی ورنہ ان آیات کی تفسیر میں ایک مومن صادق کے لیے وہ صحیح مرفوع احادیث کافی ہیں جن کو محدثین نے بسند صحیح روایت کیا ہے۔ مثلاً مشہور محدث حافظ ابن عساکرؒ نے بروایت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ سے جو حدیث نقل کی ہے اس کا ترجمہ یہ ہے۔

جب قیامت کا دن ہوگا تو تمام انبیاء علیہم السلام کو اور ان کی امتوں کو بلایا جائے گا اور عیسیٰ علیہ السلام بھی بلائے جائیں گے، اللہ تعالیٰ اوّل ان کے سامنے اپنی ان نعمتوں کو شمار کرائے گا جو دنیا میں ان پر نازل ہوتی رہیں اور عیسیٰ علیہ السلام ان سب کا اعتراف کریں گے اس کے بعد اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا۔ ”ء انت قلت للناس اتخذونی و أمى الهین من دون اللہ“ تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام انکار فرمائیں گے، پھر نصاریٰ بلائے جائیں گے اور ان سے سوال کیا جائے گا تو وہ دروغ بیانی کرتے ہوئے کہیں گے کہ ہاں، عیسیٰ علیہ السلام نے ہم کو یہی تعلیم دی تھی، یہ سن کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر سخت خوف طاری ہو جائے گا، بدن کے بال کھڑے ہو جائیں گے اور خشیت الٰہی سے ان کا رواں رواں بارگاہِ صمد میں سجدہ ریز ہو جائے گا اور یہ مدت ایک ہزار سال معلوم ہو گی حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے نصاریٰ کے خلاف حجت قائم کر دی جائے گی اور ان کی خود ساختہ صلیب پرستی کا راز فاش کر دیا جائے گا اور پھر ان کو جہنم میں جھونک دیئے جانے کا حکم ہو جائے گا۔

(تفسیر ابن کثیر جلد ١ سورۂ مائدہ)

اور محدث ابن ابی حاتم نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے بسند صحیح یہ روایت نقل کی ہے۔

”حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”کہ اللہ تعالیٰ جب قیامت کے دن عیسیٰ علیہ السلام سے ان کی امت کے متعلق سوال کرے گا تو اپنی جانب سے عیسیٰ علیہ السلام پر جواب بھی القاء کر دے گا“ اور اس القاء کے متعلق نبی اکرم ﷺ نے یہ فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر القاء ہوگا کہ وہ یہ جواب دیں ”سبحانک ما یکون لی ان اقول ما لیس لی بحق“

(ایضاً)

اور صحیحین (بخاری و مسلم) اور سنن میں جو حدیث شفاعت منقول و مشہور ہے

١٣٢

صفحہ ٣٥٩

اس سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ جس طرح قیامت میں تمام انبیاء علیہم السلام اپنی اپنی امتوں سے متعلق اللہ تعالیٰ کے سامنے جوابدہ ہوں گے اور معاملہ کے پیش آنے سے قبل خائف و ہراساں ہوں گے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی ان میں سے ایک ہوں گے اور ان پر یہ خوف طاری ہو رہا ہو گا کہ جب ان سے امت کی مشرکانہ بدعت پر سوال ہو گا تو وہ درگاہِ صمدی میں کس طرح اس سے عہدہ برآ ہو سکیں گے؟

الحاصل سورۂ مائدہ کی ان آیات کی تفسیر وہی صحیح ہے جو جمہور امت کی جانب سے منقول ہے اور قادیانی اور لاہوری کی تفسیر بالرائے الحاد و زندقہ سے زیادہ کوئی وقعت نہیں رکھتی۔

حضرت مسیح علیہ السلام کی دعوتِ اصلاح اور بنی اسرائیل کے فرقے

گزشتہ مباحث میں پڑھ چکے ہو کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو انجیل عطا کی تھی اور یہ الہامی کتاب دراصل توراۃ کا تکملہ تھی یعنی حضرت مسیح علیہ السلام کی تعلیمی اساس اگرچہ توراۃ ہی پر قائم تھی مگر یہود کی گمراہیوں، مذہبی بغاوتوں اور سرکشیوں کی وجہ سے جن اصلاحات کی ضرورت تھی اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح علیہ السلام کی معرفت انجیل کی شکل میں ان کے سامنے پیش کر دیا تھا، حضرت مسیح علیہ السلام کی بعثت سے پہلے یہود کی اعتقادی اور عملی گمراہیاں اگرچہ بے شمار حد تک پہنچ چکی تھیں اور حضرت مسیح علیہ السلام نے مبعوث ہو کر ان سب کی اصلاح کے لیے قدم اٹھایا تاہم چند اہم بنیادی باتیں خصوصیت کے ساتھ قابل اصلاح تھیں جن کی اصلاح کے لیے حضرت مسیح علیہ السلام بہت زیادہ سرگرم عمل رہے۔

میں مل جاتی ہے باقی قیامت، آخرت، آخرت میں جزا و سزا، حشر و نشر، یہ سب باتیں غلط ہیں، یہ ”صدوقی“ تھے۔

رکھتی تھی کہ وصول الی اللہ کے لیے از بس ضروری ہے کہ لذاتِ دنیا اور اہل دنیا سے کنارہ کش ہو کر ”رہبانیت“ کی زندگی اختیار کی جائے چنانچہ وہ بستیوں سے الگ خانقاہوں اور جھونپڑیوں میں رہنا پسند کرتے تھے مگر یہ جماعت حضرت مسیح علیہ السلام کی بعثت سے کچھ پہلے اپنی حیثیت کھو چکی تھی اور اب ترک دنیا کے پردہ میں دنیا کی ہر قسم کی گندگی میں آلودہ نظر آتی تھی، ظاہر رسم و طریق زاہدوں کا سا ہوتا مگر خلوت کدوں میں وہ سب کچھ نظر آتا جن

١٤٣

صفحہ ٣٦٠

سے رندانِ بادہ خوار بھی ایک مرتبہ حیا سے آنکھیں بند کرلیں، یہ ”فریسی“ کہلاتے تھے۔

یہ حال تھا کہ جن رسوم اور خدمات کو لوجہ اللہ کرنا چاہیے تھا اور جن اعمال کے نیک نتائج خلوص پر مبنی تھے ان کو تجارتی کاروبار بنا لیا تھا اور جب تک ہر ایک رسم اور خدمت ہیکل پر بھینٹ اور نذر نہ لے لیں قدم نہ اٹھائیں حتیٰ کہ اس مقدس کاروبار کے لیے انھوں نے تورات کے احکام تک میں تحریف کر دی تھی یہ ”کاہن“ تھے۔

نے عوام میں آہستہ آہستہ یہ عقیدہ پیدا کر دیا تھا کہ مذہب اور دین کے اصول و اعتقادات کچھ نہیں ہیں مگر وہ جن پر وہ صاد کر دیں، ان کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ حلال کو حرام اور حرام کو حلال بنا دیں، احکامِ دین میں اضافہ یا کمی کر دیں۔ جس کو چاہیں جنت کا پروانہ لکھ دیں اور جس کو چاہیں جہنم کی سند تحریر کر دیں، خدا کے یہاں ان کا فیصلہ اٹل اور اَن مٹ ہے، غرض بنی اسرائیل کے ”ارباباً من دون اللہ“ بنے ہوئے تھے اور تورات کی لفظی اور معنوی ہر قسم کی تحریف میں اس درجہ جری تھے کہ اس کو دنیا طلبی کا مستقل سرمایہ بنا لیا تھا اور عوام و خواص کی خوشنودی کے لیے ٹھہرائی ہوئی قیمت پر احکامِ دین کو بدل ڈالنا ان کا مشغلہ دِینی تھا۔ یہ ”احبار“ یا ”فقیہ“ تھے۔

یہ تھیں وہ جماعتیں اور یہ تھے ان کے عقائد و اعمال جن کے درمیان حضرت مسیح علیہ السلام مبعوث ہوئے اور جن کی اصلاحِ حال کے لیے ان کی بعثت ہوئی انھوں نے ہر ایک جماعت کے فاسد عقائد و اعمال کا جائزہ لیا، رحم و شفقت کے ساتھ ان کے عیوب و نقائص پر نکتہ چینی کی، ان کو اصلاحِ حال کے لیے ترغیب دی اور ان کے عقائد و افکار اور ان کے اعمال و کردار کی نجاستوں کو دور کر کے ان کا رشتہ خالقِ کائنات اور ذاتِ واحد کے ساتھ دوبارہ قائم کرنے کی سعی کی۔ مگر ان بدبختوں نے اپنے اعمالِ سیاہ کی اصلاح سے یکسر انکار کر دیا اور نہ صرف یہ بلکہ ان کو ”مسیح ضلالت“ کہہ کر ان کی دعوتِ حق و ارشاد کے دشمن اور ان کے خلاف سازشیں کر کے ان کی جان کے درپے ہو گئے۔

اناجیل اربعہ: حضرت مسیح علیہ السلام پر جو انجیل نازل ہوئی تھی کیا موجودہ چاروں انجیلیں وہی ہیں یا یہ حضرت مسیح علیہ السلام کے بعد کی تصانیف ہیں؟ اس کے متعلق تمام اہلِ علم کا جن میں نصاریٰ بھی شامل ہیں، اتفاق ہے کہ ان میں سے کوئی ایک بھی حضرت مسیح علیہ السلام کی انجیل نہیں ہے اور نہ اس کا ترجمہ ہے، لیکن پھر ان موجودہ انجیلوں کے

١٤٢

صفحہ ٣٦١

متعلق عیسائی کیا کہتے ہیں اور ناقدین کی رائے کیا ہے؟ یہ مسئلہ تفصیل طلب ہے۔

یہ بات بہرحال تسلیم شدہ ہے کہ موجودہ چاروں انجیلوں کے متعلق نصاریٰ کے پاس کوئی ایسی سند موجود نہیں جس کی بنا پر وہ یہ کہہ سکیں کہ ان کی روایات کا سلسلہ یا ان کی ترتیب و تالیف کا زمانہ حضرت مسیح یا ان کے شاگردوں (حواریوں) تک پہنچتا ہے۔ نہ اس کے لیے کوئی مذہبی سند ہے اور نہ تاریخی بلکہ اس کے خلاف خود عیسائیت کی مذہبی تاریخ اس امر کی شاہد ہے کہ پہلی صدی عیسوی سے چوتھی صدی عیسوی کے اوائل تک عیسائیوں میں اکیس سے زیادہ انجیلیں الہامی یقین کی جاتی اور رائج و معمول بہا تھیں لیکن ٣٢٥ء میں نایسیا کی کونسل نے ان میں سے صرف چار کو منتخب کر کے باقی کو متروک قرار دے دیا اور سخت حیرت کا مقام ہے کہ کونسل کا یہ انتخاب کسی تاریخی اور علمی بنیاد پر نہیں ہوا بلکہ ایک طرح کی فال نکالی گئی اور اسی کو الہامی اشارہ تسلیم کر لیا گیا، چنانچہ ان اکیس سے زائد انجیلوں میں سے بعض یورپ کے قدیم کتب خانوں میں پائی گئی ہیں، مثلاً انیسویں صدی میں ویٹیکان کے مشہور کتب خانہ سے متروک اناجیل کا ایک نسخہ برآمد ہوا تھا جس میں موجودہ چاروں انجیلوں سے بہت کچھ زائد موجود ہے، موجودہ نسخوں میں سے سینٹ لوقا کی انجیل میں خصوصیت کے ساتھ حضرت مسیح کی پیدائش کا واقعہ تفصیل سے درج ہے لیکن سورۂ مریم میں قرآن عزیز نے اس واقعہ کو جس طرح حضرت مریم کی پیدائش اور ہیکل میں تربیت کے ذکر سے شروع کیا ہے نہ لوقا کی انجیل میں اس کا ذکر ہے اور نہ باقی تینوں انجیلوں میں مگر ویٹیکان کے اس نسخہ میں یہ واقعہ ٹھیک سورۂ مریم میں مذکور واقعہ کی طرح درج ہے (ترجمان القرآن جلد دوم) اسی طرح سولہویں صدی میں روما کے مشہور پوپ سکٹس (Skits) کے قدیم کتب خانہ میں ایک اور متروک انجیل کا نسخہ برآمد ہوا جس کا نام انجیل برنابا ہے، یہ نسخہ پوپ کے مقرب لاٹ پادری فرامرنیو نے پڑھا اور پوپ کی اجازت کے بغیر کتب خانہ سے چرا لایا، چونکہ اس میں خاتم الانبیاء محمد ﷺ سے متعلق کثرت سے واضح اور صاف بشارتیں موجود تھیں حتیٰ کہ ”احمد“ نام تک مذکور تھا نیز الوہیت مسیح کے خلاف عقیدہ کی تعلیم پائی جاتی تھی اس لیے وہ لاٹ پادری مسلمان ہو گیا، حال ہی میں اس کا عربی ترجمہ مصر میں علامہ سید رشید رضا مرحوم نے المنار پریس سے شائع کیا ہے جو قابل مطالعہ ہے، ڈاکٹر سعادہ نے اس کے مقدمہ میں جو قابل قدر علمی تحقیق پیش کی ہے اس میں ہے کہ اس انجیل کا پتہ پانچویں صدی عیسوی کے اواخر میں اس تاریخی منشور (حکمنامہ) سے چلتا ہے جو خاتم الانبیاء محمد ﷺ کی بعثت سے

١٣٥

صفحہ ٣٦٢

پہلے عیسائیوں کے پوپ گلیسیوس...... کی جانب سے کلیساؤں کے نام بھیجا گیا تھا اور جس میں ان کتابوں کے نام درج تھے جن کا پڑھنا پڑھانا عیسائیوں پر حرام کیا گیا تھا ان ہی میں انجیل برنابا کا نام بھی شامل تھا۔

علاوہ ازیں محققین یورپ بھی آج اس کو تسلیم کرتے ہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام کے بعد ابتدائی تین صدیوں میں ایک سو سے زائد انجیلیں پائی جاتی تھیں جو بعد میں چار کو چھوڑ کر باقی متروک کر دی گئیں اور کلیسہ کے فیصلہ کے مطابق ان کا پڑھنا حرام کر دیا گیا اس لیے آہستہ آہستہ وہ سب مفقود ہوتی چلی گئیں اور کہتے ہیں کہ ان مفقود نسخوں میں ایک مشہور انجیل، انجیل ایکٹس (انجیل غنطسی) بھی تھی جو اب ناپید ہے۔

نیز یہ بات بھی خصوصیت کے ساتھ قابل توجہ ہے کہ سینٹ پال (پولوس رسول) کے جو خطوط ہیں اور جن پر موجودہ عیسائیت کی بنیادیں قائم ہیں ان کے مطالعہ سے جگہ جگہ یہ پتہ چلتا ہے کہ وہ لوگوں کو خبر دار کرتا اور ڈراتا ہے کہ وہ ان انجیلوں کی جانب توجہ نہ دیں جو مسیح کے نام کی بجائے دوسرے ناموں سے منسوب ہیں کیونکہ مجھ کو روح القدس نے اسی کے لیے مامور کیا ہے کہ میں انجیل مسیح کی حمایت کروں، اسی کو اسوہ بناؤں اور اس کی تعلیم کو تمام عیسائی دنیا میں پھیلاؤں، چنانچہ حسب ذیل جملے اس کی صراحت کرتے ہیں کہ اس کے نزدیک مسیح کی انجیل عیسائیوں میں متروک ہو چکی تھی اور بعد کی بے سند انجیلوں کا عام رواج ہو گیا تھا اور ان ہی میں سے یہ چار ہیں جو نائسیا کی کونسل نے بغیر کسی سند کے فال کے ذریعہ صحیح تسلیم کر لیں۔

اب ان چار کا حال بھی سنیے۔ ان میں سے سب سے قدیم متی کی انجیل تسلیم کی جاتی ہے با ایں ہمہ اس کے متعلق نصاریٰ میں سے علماء متقدمین تو بالاتفاق اور علماء موجودہ میں سے اکثر اس کے قائل ہیں کہ موجودہ انجیل متی اصل نہیں ہے بلکہ اس کا ترجمہ ہے اس لیے کہ اصل کتاب عبرانی زبان میں تھی جو اب ناپید ہے اور ضائع ہو گئی لیکن یہ اصل کا ترجمہ ہے یا اس میں بھی تحریف ہوئی ہے اس کے متعلق کوئی تاریخی سند موجود نہیں حتیٰ کہ مترجم کا نام تک معلوم نہیں اور نہ یہ پتہ کہ کس زمانہ میں یہ ترجمہ ہوا۔ (اظہار الحق مولانا رحمۃ اللہ کیرانوی (نور اللہ مرقدہ) جلد اوّل ص ١٦١) اور مشہور عیسائی عالم جرجیس زوین الفتوحی اللبنانی نے اپنی کتاب میں تصریح کی ہے کہ متی نے اپنی انجیل بیت المقدس میں بیٹھ کر ٣٩ء میں عبرانی میں تصنیف کی تھی جیسا کہ مقدس ایرونیوس نے کہا ہے کہ اوسیبوس نے اپنی تاریخ میں بیان کیا ہے کہ متی کی انجیل کا یونانی ترجمہ اصل نہیں

١٤٦

صفحہ ٣٦٣

ہے اور جب بانتیوس نے یہ ارادہ کیا تھا کہ وہ ہندوستان جا کر عیسائیت کی تبلیغ کرے تو اس نے متی کی انجیل کو عبرانی میں مکتوب اسکندریہ کے کتب خانہ میں محفوظ دیکھا تھا مگر وہ نسخہ مفقود ہو گیا اور نہیں کہا جا سکتا کہ کس زمانہ میں کس شخص نے یونانی زبان میں موجودہ ترجمہ کو روشناس کرایا۔

(الفارق بین المخلوق والخالق جلد ١ ص ٢٠ ماخوذ از کتاب جرجیس زوین لبنانی مطبوعہ بیروت)

دوسری انجیل مرقس کی ہے۔ اس کے متعلق مشہور عیسائی عالم پطرس گواماگ اپنی کتاب مروج الاخبار فی تراجم الابرار میں مرقس کی سوانح حیات پر لکھتے ہوئے کہتا ہے کہ یہ نسلاً یہودی لاوی اور پطرس حواری عیسیٰ علیہ السلام کا شاگرد تھا۔ رومیوں نے جب عیسائیت اختیار کر لی تو ان کے مطالبہ پر یہ انجیل تصنیف کی، یہ الوہیت مسیح کا منکر تھا اور اس نے اپنی انجیل میں اس حصہ کو بھی نہیں لیا جس میں حضرت مسیح علیہ السلام پطرس کی مدح کرتے ہیں، یہ ٦٨ء میں اسکندریہ کے قید خانہ میں قتل ہوا، بت پرستوں نے اس کو قتل کر دیا (قصص الانبیاء للنجار) اور عیسائی دنیا کو اس بارہ میں اختلاف ہے کہ مرقس کی انجیل کب تصنیف ہوئی، چنانچہ الفارق کے مصنف مرشد الطالبین ص ١٧٠ کے حوالہ سے نقل کرتے ہیں کہ علماء نصاریٰ کا خیال یہ ہے کہ یہ پطرس کی نگرانی میں ٦١ء میں تصنیف ہوئی۔

(الفارق ص ٣١٦)

تیسری انجیل سینٹ لوقا کی انجیل ہے، جس قدر اختلاف علماء نصاریٰ میں متی کی انجیل سے متعلق ہے اس سے بھی زیادہ لوقا کی انجیل کی صحت و عدم صحت کے متعلق اختلاف ہے، چنانچہ الفارق کے مصنف نے اس سلسلہ میں خود علماء نصاریٰ کے ہی اقوال نقل کیے ہیں اور ثابت کیا ہے کہ یہ الہامی کتاب نہیں ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ مسٹر گڈل ...... اپنے رسالہ الہام میں دعویٰ کرتا ہے کہ لوقا کی انجیل الہامی نہیں ہے، وجہ یہ ہے کہ لوقا نے خود اپنی انجیل کی ابتداء میں یہ لکھا ہے کہ یہ (انجیل) اس نے ٹاوفیلس کے ساتھ خط و کتابت کی بنا پر لکھی ہے وہ اس کو مخاطب کر کے لکھتا ہے کہ مسیح کی باتیں جن لوگوں نے آنکھوں سے دیکھی تھیں انھوں نے ہم تک جس طرح پہنچائی ہیں ان کو بہت سے لوگ ہم سے نقل کر رہے ہیں اس لیے میں ضروری سمجھتا ہوں کہ ان کو خود ہی صحیح طریقہ پر جمع کر دوں تاکہ تم کو صحیح حقیقت معلوم ہو جائے، اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس نے حضرت مسیح علیہ السلام کا زمانہ نہیں پایا، اور محققین نصاریٰ یہ بھی تصریح کرتے ہیں کہ لوقا کی انجیل مرقس کی انجیل کے بعد وجود میں آئی ہے اور پطرس اور پولوس کے

١٣٧

صفحہ ٣٦٤

مرنے کے بعد تصنیف کی گئی ہے۔

(قصص الانبیاء للنجار ص ٢٧٧، ٢٧٩)

اصل بات یہ ہے کہ لوقا انطاکیہ میں طبابت کرتا تھا، اس نے مسیح کو نہیں دیکھا، اور مسیحیت کو سینٹ پال (پولوس) سے سیکھا ہے اور پولوس کے متعلق یہ بات پایہ تحقیق کو پہنچ چکی ہے کہ وہ دراصل متعصب یہودی اور عیسائیت کا بدترین دشمن تھا اور نصاریٰ کے خلاف علی الاعلان اپنی جدوجہد جاری رکھتا تھا مگر جب اس نے یہ دیکھا کہ اس کی ہمہ قسم کی مخالفتوں اور رکاوٹوں کے باوجود مسیحیت کی ترقی ہوتی جا رہی ہے اور روکے نہیں رکتی تب اس نے یہوديانہ مکر و فریب سے کام لیا اور اعلان کیا کہ عجیب معجزہ ہوا، میں بحالت صحت تھا کہ ایک دم اس طرح زمین پر گرا جیسا کہ کوئی غشی میں پچھاڑ دیتا ہے اور اس حالت میں حضرت مسیح علیہ السلام نے مجھ کو چھوا اور پھر سخت زجر و توبیخ کی کہ آئندہ تو ہرگز میرے پیروؤں کے خلاف کوئی اقدام نہ کرنا پس میں اسی وقت حضرت مسیح علیہ السلام پر ایمان لے آیا اور پھر حضرت مسیح علیہ السلام کے حکم سے میں مسیحی دنیا کی خدمت کے لیے مامور ہو گیا، انھوں نے مجھ کو فرمایا کہ میں لوگوں کو مسیح کی انجیل کی بشارت سنا دوں اور اس کے اتباع کی ترغیب دوں، چنانچہ اس نے آہستہ آہستہ ”کلیسہ“ پر ایسا قبضہ کیا کہ دین عیسوی کی اصل صداقتوں کو مٹا کر بدعتوں اور برائیوں کا مجموعہ بنا دیا، الوہیت مسیح، تثلیث و ابنیت اور کفارہ کی بدعت ایجاد کر کے مسیحیت کو وثنیت میں تبدیل کر دیا اور شراب، مردار اور خنزیر سب کو حلال بنا دیا، یہی وہ مسیحیت ہے پولوس کے صدقہ میں جس سے آج دنیا روشناس ہے، اس کے بعد کون کہہ سکتا ہے کہ پولوس کے شاگرد لوقا کی انجیل الہامی انجیل ہے اور جیروم کہتا ہے کہ بعض قدیم علماء نصاریٰ اس کے قائل ہیں کہ لوقا کی انجیل کے ابتدائی دو باب الہامی نہیں الحاقی ہیں کیونکہ یہ اس نسخہ میں موجود نہیں ہیں جو مارسیوں فرقہ کے ہاتھوں میں ہے اور مشہور نصرانی عالم اکہارن لکھتا ہے کہ لوقا کی انجیل کے باب ٢٢ آیات ٤٣-٤٧ الحاقی ہیں، وہ یہ بھی کہتا ہے کہ معجزات سے متعلق جو بیان ہے اس میں کذب بیانی اور شاعرانہ مبالغہ سے کام لیا گیا ہے جو غالباً کاتب کی جانب سے اضافہ ہیں لیکن اب صدق کا کذب سے امتیاز حد درجہ دشوار ہے اور کلی میشس لکھتا ہے کہ متی اور مرقس کی انجیلیں بہت جگہ آپس میں مخالف اور متضاد واقعات کی حامل ہیں لیکن جس معاملہ میں دونوں کا اتفاق ہو اس کو لوقا کی انجیل کے بیان پر ترجیح حاصل ہے (الفارق بین المخلوق والخالق) اور یہ واضح رہے کہ لوقا کی انجیل میں بیس سے زیادہ مواقع پر متی کی انجیل سے اضافہ ہے اور مرقس کی انجیل سے تو اس سے بھی کہیں زیادہ۔

١٣٨

صفحہ ٣٦٥

(قصص الانبیاء ص ٤٧٧) پس ان تمام دلائل سے نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ لوقا کی انجیل ہرگز الہامی نہیں ہے اور نہ کسی حواری کی تصنیف ہے۔

چوتھی انجیل یوحنا کی ہے۔ اس کے متعلق نصاریٰ کا عام عقیدہ یہ ہے کہ یہ حضرت مسیح علیہ السلام کے محبوب شاگرد یوحنا زبدی کی ہے، زبدی صیاد، یوحنا کے والد کا نام تھا جلیل کے بیت صیدا میں ولادت ہوئی اور حواری عیسیٰ علیہ السلام کا شرف حاصل ہوا اور نصاریٰ میں مشہور بارہ حواریوں میں سے سب سے زیادہ ان ہی کو تقدیس حاصل ہے۔ جرجیس زوین اللبنانی لکھتا ہے کہ جس زمانہ میں شیرنطوس اور بیسوس اور ان کی جماعت اپنے عقیدہ کی تشہیر کر رہی تھی کہ الوہیت مسیح کا عقیدہ باطل ہے وہ بشر تھے اور حضرت مریم علیہ السلام کے بطن سے پیدا ہوئے اور حضرت مریم علیہ السلام سے قبل وہ عالم وجود میں نہیں تھے اس زمانہ میں ٩٦ء میں پادریوں، لاٹ پادریوں کی مجلس مشاورت ہوئی اور انھوں نے یوحنا کی خدمت میں حاضر ہو کر درخواست پیش کی کہ وہ حضرت مسیح کی باتیں تحریر کریں اور جو باتیں دوسری انجیلوں میں پائی جاتی ہیں ان کے ماسوا جو کچھ معلوم ہو وہ لکھیں خصوصیت سے الوہیت مسیح کا مسئلہ ضرور لکھیں تاکہ شیرنطوس وغیرہ کی جماعت کے خلاف ہمارے ہاتھ مضبوط ہوں، تب یوحنا ان کی بات نہ ٹال سکے اور یہ انجیل لکھنے پر مجبور ہوئے۔ (قصص الانبیاء ص ٤٧٧) مگر اس کے باوجود مسیحی علماء زمانہ تصنیف کی تعین میں مختلف نظر آتے ہیں، بعض کہتے ہیں ٦٥ء میں تالیف ہوئی اور بعض ٩٦ء اور بعض ٩٨ء میں تصنیف ہونا بیان کرتے ہیں۔

مگر ان کے مقابلہ میں ان مسیحی علماء کی بھی تعداد کم نہیں ہے جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یوحنا کی انجیل، حواری یوحنا کی تصنیف ہرگز نہیں ہے چنانچہ کیتھولک ہیرالڈ جلد ٧ (مطبوعہ ١٨٤٤ء) میں پروفیسر لن سے منقول ہے کہ انجیل یوحنا از ابتداء تا انتہاء مدرسہ اسکندریہ کے ایک طالب علم کی تصنیف ہے اور برٹش نیدر لکھتا ہے کہ انجیل یوحنا اور رسائل یوحنا ان میں سے کوئی ایک بھی حضرت مسیح علیہ السلام کے شاگرد یوحنا کی تصنیف نہیں ہے بلکہ کسی شخص نے دوسری صدی کے اوائل میں اس کو تصنیف کر کے اس لیے یوحنا کی جانب منسوب کر دیا تاکہ وہ لوگوں میں مقبول و مشہور بن جائے اور صاحب الفارق کہتے ہیں کہ مشہور مسیحی عالم کروئیس ...... کا بیان ہے کہ یہ انجیل شروع میں بیس ابواب پر مشتمل تھی بعد میں افاس کے کنیسہ نے اس میں اکیسویں باب کا اضافہ کر دیا جبکہ یوحنا کا انتقال ہو چکا تھا۔ (الفارق ص ٤٣٢-٤٣١) ان حوالہ جات سے یہ بخوبی آشکارا ہوتا ہے کہ

١٣٩

صفحہ ٣٦٦

بلاشبہ یہ یوحنا حواری کی انجیل نہیں ہے اور صرف اس مقصد سے تصنیف کر کے یوحنا کی جانب منسوب کی گئی کہ الوہیت مسیح کے عقیدۂ کنیسہ کو قوت پہنچائی جائے اور اصلاح عقیدہ کی جو آواز کبھی کبھی مسیحی دنیا میں اٹھتی تھی اس کو دبایا جائے۔

چہارگانہ اناجیل کے متعلق سطور بالا مختصر تنقیدات کے علاوہ ان کے الہامی نہ ہونے کے دو واضح دلائل یہ بھی ہیں کہ ان چاروں انجیلوں میں حضرت مسیح علیہ السلام کی زندگی کے وقائع درج ہیں حتیٰ کہ نصاریٰ کے زعم کے مطابق ان کی گرفتاری صلیب، قتل، مر کر جی اٹھنے اور حواریوں پر ظاہر ہونے وغیرہ تک کے حالات بھی موجود ہیں۔ پس اگر یہ اناجیل انجیل مسیح یا اس کا کوئی حصہ ہوتیں تو ان میں ان باتوں کا قطعاً تذکرہ نہیں ہونا چاہیے تھا، وہ واقعات تو مسیح کے بعد ان کے شاگرد علیحدہ جمع کرتے اور ان کو ایک تاریخی حیثیت حاصل ہوتی نہ کہ وہ کتاب اللہ کہلانے کے مستحق ہوتے اور یہ کہ جس طرح ان انجیلوں کے مصنفین کے بارہ میں اختلاف ہے اسی طرح ان تصنیفات کے باہم روایات واقعات میں بھی تناقض اور سخت اختلاف پایا جاتا ہے یعنی بعض معجزات و عجیب واقعات ایسے ہیں جو ایک انجیل میں پائے جاتے ہیں اور دوسری انجیل میں ان کا اشارہ تک نہیں ہے یا بعض میں ایک واقعہ جس طرح مذکور ہے دوسری میں کچھ زیادتی یا کمی کے ساتھ ایسے طریقہ پر بیان ہوا ہے کہ پہلی انجیل کے بیان میں اور اس میں صریح تضاد اور خلاف نظر آتا ہے مثلاً صلیب مسیح علیہ السلام کا واقعہ اناجیل میں تضاد بیان کے ساتھ منقول ہے۔

یہ بات بھی کم حیرت کے لائق نہیں ہے کہ یہ اناجیل اربعہ جن جن زبانوں میں منقول ہوئی ہیں ان کی عبارات و کلمات کے بقاء و تحفظ کی کبھی پرواہ نہیں کی گئی بلکہ ایک ہی زبان کے مختلف ایڈیشنوں اور اشاعتوں میں بہ کثرت الفاظ اور جملوں کی تبدیلی، کمی اور بیشی موجود ہے خصوصاً جن مقامات پر علماء اسلام اور علماء نصاریٰ کے درمیان بشارات کے سلسلہ میں یہ بحث آ گئی ہے کہ ان کا مصداق خاتم الانبیاء ﷺ ہیں یا حضرت مسیح یا کوئی اور نبی نیز جن مقامات پر الوہیت مسیح کی صراحت میں فرق پڑتا نظر آتا ہو ان کو کافی تختہ مشق بنایا جاتا رہا ہے۔

اگر تحریفات لفظی و معنوی اور تضاد بیان کی تفصیلات و تصریحات کو بہ نظر وسیع مطالعہ کرنا ہو تو اس کے لیے مولانا رحمت اللہ کیرانویؒ کی اظہار الحق، حافظ ابن قیم کی ہدایۃ الحیاریٰ باجہ جی زادہ کی الفارق بین المخلوق والخالق اور مولانا آل نبی امروہی کی اظہار حق لائق دید کتابیں ہیں۔

١٤٠

صفحہ ٣٦٧

غرض موجودہ چاروں انجیلیں الہامی انجیلیں نہیں ہیں، نہ ان کے الہامی ہونے کی روایتی سند ہے اور نہ تاریخی، نہ ان کے مصنفین کے متعلق قطعی اور یقینی علم حاصل ہے اور نہ زمانہائے تصانیف ہی متعین ہیں بلکہ اس کے خلاف پولوس کے بیانات، ان کتابوں کی تاریخی حیثیت، مضامین و مطالب کا باہمی تضاد و تغیر، اس پر شاہد ہیں کہ یہ ہرگز انجیل مسیح یا اس کا حصہ نہیں ہیں اور یہ کہ انجیل مسیح ”نصاریٰ“ کے ہی ہاتھوں اوّل تحریف لفظی و معنوی کا شکار ہوئی اور اس کے بعد مفقود ہو گئی بلکہ ان چہارگانہ انجیلوں میں سے بھی کوئی اصل نہیں ہے بلکہ یونانی اور اس سے منقول دوسری زبانوں کے تراجم ہیں جو تبدیلی و تغیر اور نقص و ازدیاد کا برابر شکار ہوتے رہے ہیں اور صرف یہی نہیں کہ یہ اناجیل اربعہ انجیل مسیح نہیں ہیں بلکہ کسی علمی، تاریخی اور مذہبی سند سے ان کا شاگردان مسیح کی تصنیف ہونا بھی ثابت نہیں ہے بلکہ بعد کے مصنفین کی تصانیف میں البتہ ان تراجم میں مواعظ و نصائح اور مقالات حکمت کے سلسلہ میں ایک حصہ ایسا ضرور ہے جو حضرت مسیح علیہ السلام کے ارشادات عالیہ سے ماخوذ ہے اور اس لیے نقل میں کہیں کہیں اصل کی جھلک نظر آ جاتی ہے۔

قرآن اور انجیل: قرآن عزیز کی بنیادی تعلیم یہ ہے کہ جس طرح خدا ایک ہے اسی طرح اس کی صداقت بھی ایک ہی ہے اور وہ کبھی کسی خاص قوم، خاص جماعت اور خاص گروہ کی وراثت نہیں رہی بلکہ ہر قوم اور ہر ملک میں خدا کی ہدایت و رشد کا پیغام ایک ہی اساس و بنیاد پر قائم رہتے ہوئے اس کے سچے پیغمبروں یا ان کے نائبوں کے ذریعہ ہمیشہ دنیا کے لیے راہ مستقیم کا داعی اور مناد رہا ہے اور اسی کا نام ”صراط مستقیم“ اور ”اسلام“ ہے اور قرآن اسی بھولے ہوئے سبق کو یاد دلانے آیا ہے اور یہی وہ آخری پیغام ہے جس نے تمام مذاہب ماضیہ کی صداقتوں کو اپنے اندر سمو کر کائنات ارضی کی ہدایت کا بیڑا اٹھایا ہے اور اس لیے اب اس کا انکار گویا خدا کی تمام صداقتوں کا انکار ہے، اسی بنیادی تعلیم کے پیش نظر اس نے حضرت مسیح علیہ السلام کی عظمت شان کو سراہا اور یہ اعتراف کیا کہ بلاشبہ انجیل الہامی کتاب اور خدا کی کتاب ہے لیکن ساتھ ہی جگہ جگہ یہ بھی بہ دلائل بتلایا کہ علماء اہل کتاب نے اس کی سچی تعلیم کو مٹا ڈالا، بدل ڈالا اور ہر قسم کی تحریف کر کے اس کی تعلیم کو شرک و کفر کی تعلیم بنا دیا۔ مگر بعض بعض مقامات پر اہل کتاب کو تورات و انجیل کے خلاف عمل پر ملزم بناتے ہوئے موجودہ تورات و انجیل کے حوالے بھی دیتا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ نزول قرآن کے وقت اصل نسخے بھی اگرچہ محرّف شکل ہی میں کیوں نہ ہوں پائے جاتے تھے، بہرحال اس وقت بھی یہ دونوں کتابیں

١٤١

صفحہ ٣٦٨

لفظی اور معنوی دونوں قسم کی تحریفات سے اس درجہ مسخ ہو چکی تھیں کہ وہ تورات موسٰی اور انجیل مسیح کہلانے کی مستحق نہیں رہی تھیں۔ چنانچہ قرآن نے اصل کتابوں کی عظمت، اور اہلِ کتاب کے ہاتھوں ان کی تحریف اور ان کا مسخ دونوں کو واضح طور پر بیان کیا ہے۔

نَزَّلَ عَلَيْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ وَ اَنْزَلَ التَّوْرٰةَ وَالْاِنْجِيْلَ O مِنْ قَبْلُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَاَنْزَلَ الْفُرْقَانَ ط

(آل عمران ٤،٣)

وَيُعَلِّمُهُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ وَالتَّوْرٰةَ وَالْاِنْجِيْلَ .

(آل عمران ٤٨)

يٰاَهْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تُحَآجُّوْنَ فِىْ اِبْرٰهِيْمَ وَمَآ اُنْزِلَتِ التَّوْرٰةُ وَالْاِنْجِيْلُ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِهٖ ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ O

(آل عمران ٦٥)

(اے محمد ﷺ) اللہ نے تجھ پر کتاب کو اتارا حق کے ساتھ جو تصدیق کرنے والی ہے ان کتابوں کی جو اس کے سامنے ہیں اور اتارا اس نے تورات اور انجیل کو (قرآن سے) پہلے جو ہدایت ہیں لوگوں کے لیے اور اتارا فرقان (حق و باطل میں فرق کرنے والی) اور سکھاتا ہے وہ کتاب کو، حکمت کو، تورات کو، انجیل کو۔ اے اہل کتاب! تم کس لیے ابراہیم کے بارہ میں جھگڑتے ہو اور حال یہ ہے کہ تورات اور انجیل کا نزول نہیں ہوا مگر ابراہیم کے بعد پس کیا تم اتنا بھی نہیں سمجھتے۔

وَقَفَّيْنَا عَلٰۤى اٰثَارِهِمْ بِعِيْسَى ابْنِ مَرْيَمَ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ التَّوْرٰةِ وَاٰتَيْنٰهُ الْاِنْجِيْلَ فِيْهِ هُدًى وَّ نُوْرٌ ۙ وَّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ التَّوْرٰةِ وَهُدًى وَّ مَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِيْنَ ۙ وَلْيَحْكُمْ اَهْلُ الْاِنْجِيْلِ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ فِيْهِ ط وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ O

(المائده ٤٦، ٤٧)

وَلَوْ اَنَّهُمْ اَقَامُوا التَّوْرٰةَ وَالْاِنْجِيْلَ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْهِمْ مِّنْ رَّبِّهِمْ لَاَ كَلُوْا مِنْ فَوْقِهِمْ وَمِنْ تَحْتِ اَرْجُلِهِمْ مِنْهُمْ اُمَّةٌ مُّقْتَصِدَةٌ ط وَ كَثِيْرٌ مِّنْهُمْ سَآءَ مَا يَعْمَلُوْنَ O

(المائده ٦٦)

قُلْ يٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لَسْتُمْ عَلٰى شَيْءٍ حَتّٰى تُقِيْمُوا التَّوْرٰةَ وَالْاِنْجِيْلَ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ ط

(المائده ٦٨)

وَاِذْ عَلَّمْتُكَ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ وَالتَّوْرٰةَ وَالْاِنْجِيْلَ .

(المائده ١١٠)

اَلَّذِيْنَ يَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِيَّ الْاُمِّيَّ الَّذِىْ يَجِدُوْنَهٗ مَكْتُوْبًا عِنْدَهُمْ فِى التَّوْرٰةِ وَالْاِنْجِيْلِ .

(الاعراف ١٥٧)

اِنَّ اللّٰهَ اشْتَرٰى مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ اَنْفُسَهُمْ وَاَمْوَالَهُمْ بِاَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ يُقَاتِلُوْنَ

١٤٢

صفحہ ٣٦٩

فِي سَبِيلِ اللّٰهِ فَيَقْتُلُوْنَ وَيُقْتَلُوْنَ وَعْدًا عَلَيْهِ حَقًّا فِى التَّوْرٰةِ وَالْاِنْجِيْلِ. (توبہ ١١١)

اور پیچھے بھیجا ہم نے عیسیٰ بن مریم کو جو تصدیق کرنے والا ہے اس کتاب کی جو سامنے ہے تورات اور دی ہم نے اس کو انجیل جس میں ہدایت اور نور ہے اور جو اپنے سے پہلی کتاب تورات کی تصدیق کرتی ہے اور سرتاسر ہدایت اور نصیحت ہے پرہیز گاروں کے لیے اور چاہیے کہ اہل انجیل اس کے مطابق فیصلہ دیں جو ہم نے انجیل میں اتار دیا ہے اور جو اللہ کے اتارے ہوئے قانون کے موافق فیصلہ نہیں دیتا پس یہی لوگ فاسق ہیں۔

اور اگر وہ تورات اور انجیل کو قائم رکھتے (تحریف کر کے ان کو مسخ نہ کر ڈالتے) اور اس کو قائم رکھتے جو ان کی جانب ان کے پروردگار کی جانب سے نازل ہوا ہے تو البتہ وہ (فارغ البالی کے ساتھ) کھاتے اپنے اوپر سے اور اپنے نیچے سے بعض ان میں سے میانہ رو صلاح کار ہیں اور اکثر ان کے بدعمل ہیں۔

(اے محمد ﷺ) کہہ دیجئے: اے اہل کتاب! تمھارے لیے ٹکنے کی کوئی جگہ نہیں ہے جب تک تورات اور انجیل اور اس شے کو جس کو تمھارے پروردگار نے تم پر نازل کیا قائم نہ کرو (تا کہ اس کا نتیجہ قرآن کی تصدیق نکلے)

اور جب میں نے تجھ کو (اے عیسیٰ) سکھائی کتاب، حکمت، تورات اور انجیل۔

(نکوکار) وہ لوگ ہیں جو پیروی کرتے ہیں الرسول کی جو نبی امی ہے اور جس کا ذکر اپنے پاس تورات اور انجیل میں لکھا پاتے ہیں۔

بلاشبہ اللہ نے خرید لیا ہے مومنوں سے ان کی جانوں اور ان کے مالوں کو اس بات پر کہ ان کے لیے جنت ہے وہ اللہ کے راستہ میں جنگ کرتے ہیں پس قتل کرتے ہیں اور قتل ہوتے ہیں ان کے لیے اللہ کا وعدہ سچا ہے جو تورات اور انجیل میں کیا گیا ہے۔

غرض یہ مدح و منقبت ہے اس تورات اور انجیل کی جو تورات موسیٰ اور انجیل مسیح کہلانے کی مستحق اور در حقیقت کتاب اللہ تھیں لیکن یہود و نصاریٰ نے ان الہامی کتابوں کے ساتھ کیا معاملہ کیا اس کا حال بھی قرآن ہی کی زبان سے سنیے۔

اَفَتَطْمَعُوْنَ اَنْ يُّؤْمِنُوْا لَكُمْ وَ قَدْ كَانَ فَرِيْقٌ مِّنْهُمْ يَسْمَعُوْنَ كَلَامَ اللّٰهِ ثُمَّ يُحَرِّفُوْنَهُ مِنْ بَعْدِ مَا عَقَلُوْهُ وَهُمْ يَعْلَمُوْنَ ۝ (بقرہ ٧٥)

فَوَيْلٌ لِّلَّذِيْنَ يَكْتُبُوْنَ الْكِتٰبَ بِاَيْدِيْهِمْ ثُمَّ يَقُوْلُوْنَ هٰذَا مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ لِيَشْتَرُوْا بِهِ ثَمَنًا قَلِيْلاً ط فَوَيْلٌ لَّهُمْ مِّمَّا كَتَبَتْ اَيْدِيْهِمْ وَوَيْلٌ لَّهُمْ مِّمَّا يَكْسِبُوْنَ ۝

(بقرہ ٧٩)

١٤٣

صفحہ ٣٧٠

کیا تم توقع رکھتے ہو کہ وہ تمہاری بات مان لیں گے حالانکہ ان میں ایک گروہ ایسا تھا جو اللہ کا کلام سنتا تھا پھر اس کو بدل ڈالتا تھا باوجود اس بات کے کہ وہ اس کے مطالب کو سمجھتا تھا اور وہ دیدہ و دانستہ تحریف کرتے تھے۔

پس افسوس ان (مدعیان علم) پر جن کا شیوہ یہ ہے کہ خود اپنے ہاتھ سے کتاب لکھتے ہیں پھر لوگوں سے کہتے ہیں یہ اللہ کی طرف سے ہے اور یہ سب کچھ اس لیے کرتے ہیں تاکہ اس کے معاوضہ میں ایک حقیر سی قیمت دنیوی فائدہ کی حاصل کر لیں پس افسوس اس پر جو کچھ ان کے ہاتھ لکھتے ہیں اور افسوس اس پر جو کچھ وہ اس ذریعہ سے کماتے ہیں۔

يُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِهِ.

(المائدہ ٤١)

وہ (اہل کتاب) کتاب اللہ (توراۃ و انجیل) کے کلمات کو ان کے محل و مقام سے بدل ڈالتے ہیں (یعنی تحریف لفظی اور معنوی دونوں کرتے ہیں)

ان کے علاوہ ثمن قلیل (معمولی پونجی) کے عوض آیات اللہ کی فروخت کرنے کے متعلق تو بقرہ، آل عمران، نساء، توبہ میں متعدد آیات موجود ہیں جن کا حاصل یہ ہے کہ یہود و نصاریٰ، تورات و انجیل کی دونوں طرح تحریف کیا کرتے تھے تحریف لفظی کے ذریعہ بھی اور تحریف معنوی کے سلسلہ سے بھی، گویا سیم و زر کے لالچ سے عوام و خواص کی خواہشات کے مطابق کتاب اللہ کی آیات میں لفظی و معنوی تحریف ان کے فروخت کرنے کی حیثیت رکھتی ہے جس سے بڑھ کر شقاوت و بدبختی کا دوسرا کوئی عمل نہیں اور جو ہر حالت میں موجب ”لعنت“ ہے۔

انجیل اور حواری عیسیٰ علیہ السلام

مفسرین عام طور پر حواری کو ”حور“ سے ماخوذ کہتے ہیں جس کے معنی کپڑے کی سپیدی کے ہیں، جب کپڑا دُھل جانے کے بعد سپید ہو جاتا ہے تو اہل عرب کہا کرتے ہیں ”حار الثوب“ اس لیے دھوبی کو ”حواری“ کہتے ہیں اور ”حواریوں“ اس کی جمع آتی ہے، اس معنی کے پیش نظر حضرت مسیح علیہ السلام کے شاگردوں کو یا اس لیے حواری کہتے ہیں کہ ان میں سے اکثر دھوبی اور مچھیرے کا پیشہ کرتے تھے اور یا اس لیے کہ جس طرح دھوبی کپڑا صاف کر دیتا ہے یہ بھی حضرت مسیح علیہ السلام کی تعلیم سے لوگوں کے قلوب کو روشن کر دیا کرتے تھے، حواری کے معنی ناصر و مددگار اور ناصح کے بھی آتے ہیں اور عبدالوہاب نجار فرماتے ہیں کہ نصاریٰ حضرت مسیح علیہ السلام کے حواریوں کو ”شاگرد“

١٤٤

صفحہ ٣٧١

کہتے ہیں، یہ تعبیر بے اصل نہیں ہے بلکہ اس حقیقت پر مبنی ہے کہ یہ اصل کے اعتبار سے ”حبور“ عبرانی لفظ ہے جس کے معنی ”شاگرد“ کے ہیں اور اس کی جمع ”حبوریم“ آتی ہے، یہی حبوریم ہے جو عربی میں جا کر حواری اور حواریین کہلایا۔

حواریین عیسیٰ علیہ السلام کا گزشتہ صفحات میں تفصیل سے ذکر آ چکا ہے لیکن قرآن عزیز نے صرف ”حواریوں“ کہہ کر مجمل تذکرہ کیا ہے کسی کا نام مذکور نہیں ہے، انجیل نے البتہ ان کے نام بھی بتلائے ہیں اور تعداد بھی، چنانچہ متی کی انجیل کے باب میں بارہ نام شمار کرائے ہیں اور چار انجیلوں سے خارج برنابا کی متروک انجیل کے باب ١٤ میں بھی یہی تعداد مسطور ہے، البتہ چند ناموں میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ نقشہ حسب ذیل ہے۔

انجیل متی انجیل برنابا

(قصص الانبیاء للنجار ص ٤٨٤)

دونوں انجیلوں کے درمیان صرف دو ناموں میں اختلاف ہے۔ متی میں توما اور سمعان قانوی ہیں اور برنابا میں ان کی جگہ خود برنابا اور تداوس ہیں۔ ان میں کون صحیح کہتا ہے؟ اس کا فیصلہ مشکل ہے لیکن دلیل کی روشنی میں یہ کہنا بہت آسان ہے کہ کلیسا کی کونسل نے بے دلیل اور بے سند صرف اس بنا پر برنابا اور اس کے رفیق تداوس کے نام

١٤٥

صفحہ ٣٧٢

نامنظور کر دیے کہ ان دونوں کی روایات الوہیت مسیح اور کفارہ کے خلاف سچی عیسائیت پر مبنی تھیں اور یہ کلیسہ کے اس عقیدہ کے قطعاً خلاف تھیں جو سینٹ پال کی محرف عیسائیت کا مقبول عقیدہ تھا اور ہے مگر عجیب بات یہ ہے کہ اگرچہ برنابا کا نام موجودہ عیسائیت میں حواریوں سے خارج سمجھا جاتا ہے تاہم ان رسولوں کی فہرست میں آج بھی موجود ہے جنھوں نے ملکوں میں خدائی بادشاہت کا اعلان کیا اور دین مسیحی کی دعوت و تبلیغ کا فرض انجام دیا ہے۔

حضرت مسیح علیہ السلام اور موجودہ مسیحیت

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تعلیم حق کا خلاصہ گذشتہ بیانات میں سپرد قلم ہو چکا ہے، وہ خدا کے سچے پیغمبر، حق و صداقت کے داعی، دین مبین کے ہادی و مبلغ تھے اور خدا کے تمام سچے پیغمبروں کی طرح ان کی تعلیم بھی پہلی صداقتوں کی مؤید اور وقت کی انفرادی و اجتماعی ضروریات کے انقلابات و حوادث کے مناسب حال انجیل کی شکل میں اصلاح و انقلاب کے لیے منادی تھی، توحید خالص، معرفت کردگار کے لیے کردگار سے ہی بلاوسیلہ تقرب، محبت و شفقت، رحمت و عفو کی اخلاقی برتری ان کی پاک تعلیم کا نچوڑ تھا، لیکن انسانی انقلابات کی ذہنی تاریخ میں اس سے زیادہ حیرت اور تعجب کی غالباً دوسری کوئی بات نہ ہو کہ حضرت مسیح علیہ السلام کی مقدس تعلیم ہی کے نام پر موجودہ مسیحیت، توحید کی جگہ تثلیث، معرفت حق کے لیے ابنیت کا عقیدہ، نجات کے لیے علم و عمل کی دستکاری کی جگہ کفارہ پر ایمان جیسی مشرکانہ اور جاہلانہ بدعات کی تبلیغ اور نشر و اشاعت میں سرگرم عمل ہے۔

تثلیث؟ بسانی نے دائرۃ المعارف (Encyclopadia) میں اس مسئلہ پر مسیحی نقطہ نظر سے سیر حاصل بحث کی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ عیسائی مذہب نے سب سے پہلے تثلیث کا نام ”رسولوں کے عہد“ میں سنا، اس سے قبل مسیحیت اس عقیدہ سے قطعاً نا آشنا تھی اور رسولوں کا عہد سینٹ پال (پولوس رسول) سے شروع ہوتا ہے، یہ وہی حضرت ہیں جن کی بدولت دین مسیحی نے نیا جنم لیا اور جن کی یہودیت نے از رہ تعصب مسیحی صداقت و توحید کے عقیدہ کو وثنیت اور شرک سے آلودہ کر کے کامیابی کا سانس لیا، یہ عقیدہ دراصل وثنی (بت پرستانہ) فلسفہ کی موشگافیوں کی پیداوار اور صنم پرستانہ عقیدہ ”اوتار“ کی صدائے بازگشت ہے اور اس حقیقت پر مبنی ہے کہ ذات یا صفت خداوندی بشکل انسانی کائنات ارضی میں وجود پذیر ہو سکتی ہے۔ گویا یہ عقیدہ فلاسفہ ہیلائینیسن اور غنو سطیبین کے عقائد فلسفیانہ کا ایک معجون مرکب ہے چنانچہ تاریخ قدیم سے پتہ چلتا ہے کہ

١٤٦

صفحہ ٣٧٣

دوسری صدی عیسوی میں انطاکیہ کے بشپ (Bishap) تھیوفیلوس نے سب سے پہلے اس سلسلہ میں ایک یونانی کلمہ ”ثریاس“ کا استعمال کیا اس کے بعد ایک دوسرے بشپ ترتیانوس نے اس کے قریب قریب ایک لفظ ”تیرنیتاس“ ایجاد کیا، یہی وہ یونانی لفظ ہے جو موجودہ مسیحی عقیدہ ”ثالوث“ (تثلیث) کے مرادف اور ہم معنی ہے، اگر اس مسئلہ کی حقیقت کو ذرا اور گہری نظر سے دیکھنے کی کوشش کی جائے تو تاریخی حقائق سے یہ بات نمایاں نظر آئے گی کہ ثالوث کا عقیدہ دراصل مسیحیت اور وثنیت کی اس آمیزش کا نتیجہ ہے جو مسیحیت کے غلبہ اور وثنیت (بت پرستی) کی مغلوبیت کی وجہ سے پیش آیا، خصوصاً جب مصری بت پرستوں نے اس مذہب کو قبول کیا تو انھوں نے اس عقیدہ کو بہت ترقی دی اور فلسفیانہ دقیقہ سنجیوں کے ساتھ اس کو علمی بحث بنا دیا، مسیحیت قبول کر لینے کے بعد بت پرستوں پر جو ردعمل ہوا اس کے نتائج میں سے ایک اہم بات یہ تھی کہ ان کی خواہش ہمیشہ یہ رہی کہ وہ کس طرح گذشتہ وثنیت کی موجودہ مسیحیت کے ساتھ مطابقت پیدا کریں؟ تا کہ اس طرح قدیم و جدید دونوں ادیان کے ساتھ ربط قائم رہ سکے چنانچہ بقول مولانا ابوالکلام آزاد ”اسکندریہ کے فلسفہ آمیز اصنامی تخیل سیراپیز (Serapis) سے تثلیثی وحدت کی اصل لی گئی، اور ایزیز (Isis) کی جگہ حضرت مریم علیہا السلام کو اور ہورس (Horus) کی حضرت مسیح علیہ السلام کو دی گئی“ اور اس یونانی اور مصری فلسفیانہ وثنیت کی بدولت موجودہ مسیحیت میں الوہیت مسیح اور تثلیث ”کلیسہ کا مقبول“ عقیدہ بن گیا۔

یہ عقیدۂ تثلیث ابھی سن طفولیت ہی میں تھا کہ علماء نصاریٰ میں اس کے رد و قبول پر معرکۃ الآراء بحثیں شروع ہو گئیں، ”نیقاؤ“ کی کونسل میں ، مشرقی گر جاؤں میں اور خصوصی و عمومی مجالس میں جب بحث نے طول کھینچا تو ”کلیسہ“ نے فیصلہ دیا کہ مسئلہ ثالوث (تثلیث) حق اور اس کے خلاف ”الحاد“ ہے۔ ان ملحد جماعتوں اور فرقوں میں نمایاں فرقہ ”ایبونیین“ ہے جو کہتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام انسان محض تھے، دوسرا ”سابلیین“ ہے جس کا خیال ہے کہ خدا، ذات واحد ہے اور اب، ابن، روح القدس، یہ مختلف صورتیں ہیں جن کا اطلاق مختلف حیثیتوں سے ذات واحد ہی پر ہوتا ہے۔ تیسرا فرقہ ”آریوسین“ ہے، اس کا عقیدہ ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام اگرچہ ”ابن اللہ“ ہیں مگر ”اب“ کی طرح ازلی نہیں ہیں بلکہ کائنات بلند و پست سے قبل ”اب“ کی تخلیق سے مخلوق ہوا ہے اور اس لیے وہ ”اب“ سے نیچے اور اس کی قدرت کے سامنے مغلوب و خاضع ہے ١۔ چوتھا فرقہ ”مقدونین“ ہے ان کا کہنا ہے کہ صرف ”اب“ اور ”ابن“ ہی

١٤٧

صفحہ ٣٧٤

اقنوم ہیں ”روح القدس“ اقنوم نہیں ہے بلکہ مخلوق ہے۔

کلیسہ نے ان کو اور اسی قسم کے دوسرے فرقوں کو ”ملحد“ قرار دے کر نیقاوی کی کونسل منعقدہ ٣٢٥ء اور قسطنطنیہ کی کونسل منعقدہ ٣٨١ء کے مطابق ثالوث (تثلیث) کو مسیحی عقیدہ کی بنیاد تسلیم کیا اور فیصلہ دیا کہ ”اب“ اور ”ابن“ اور ”روح القدس“ تینوں جدا جدا مستقل اقنوم (اصل) ہیں اور عالم لاہوت میں تینوں کی وحدت ہی خدا ہے گویا اس طرح ریاضی اور علم ہندسہ کے اٹل اور ناقابل انکار بدیہی مسئلہ کے خلاف یا یوں کہیے کہ بداہت عقل کے خلاف یہ تسلیم کر لیا کہ ”ایک“ تین ہے اور ”تین“ ”ایک“ اور یہ بھی کہا کہ ”ابن“ ازل ہی میں ”اب“ سے پیدا ہوا اور ”روح القدس“ کا صدور بھی ازل ہی میں ”اب“ سے ہوا ہے، اور پھر ٥٨٩ء میں طلیطلہ کونسل نے یہ ترمیم منظور کر لی کہ ”روح القدس“ کا صدور ”اب“ سے ہی نہیں بلکہ ”اب“ اور ”ابن“ دونوں سے ہوا ہے۔ اس ترمیم کو ”لاطینی کلیسہ“ نے تو بغیر چون و چرا تسلیم کر لیا اور اس کو کلیسہ کا عقیدہ بنا لیا، لیکن ”یونانی کلیسہ“ اوّل تو خاموش رہا مگر اس کے کچھ عرصہ کے بعد اس ترمیم کو ”بدعت“ قرار دے کر تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور اس باہمی اختلاف نے اس قدر شدید صورت اختیار کر لی کہ ”یونانی کلیسہ“ اور ”کیتھولک لاطینی کلیسہ“ کے درمیان کبھی اتفاق و اتحاد پیدا نہ ہوسکا۔

ثالوث یا تثلیث کا یہ عقیدہ دین مسیحی کے رگ و پے میں خون کی طرح ایسا سرایت کر گیا کہ مسیحی بڑے فرقوں رومن کیتھولک اور پراٹسٹنٹ کے درمیان سخت بنیادی اختلافات کے باوجود بنیادی طور پر اس میں اتفاق ہی رہا اور صرف یہی نہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ قابل حیرت ہے یہ بات کہ لوتھر کی جماعت اور اصلاح پسند کلیساؤں نے بھی ایک عرصہ دراز تک اس کیتھولک عقیدہ کو ہی بغیر کسی اصلاح و ترمیم کے عقیدہ تسلیم کیا۔ البتہ تیرہویں صدی عیسوی میں فرقہ لاہوتی کی اکثریت نے اور جدید فرقوں سوسینیائی...... جرمانی...... موحدین...... اور عمومین...... وغیرہم نے اس عقیدہ کو نقل و عقل کے خلاف کہہ کر تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ (دائرۃ المعارف للبستانی جلد ٦ ص ٣٠٥ کلمہ (ثالوث))

یہ ہے مسیحیت میں عقیدۂ تثلیث کی وہ مختصر تاریخ جس سے یہ حقیقت بخوبی آشکارا ہو جاتی ہے کہ دین مسیح کی حقیقی صداقت کی تباہی کا راز اسی الحاد اور مشرکانہ بدعت کے اندر پوشیدہ ہے جو صنم پرستانہ تخیل کا رہین منت ہے۔

عقیدۂ ثالوث کیا شے ہے اور ”اب“ ”ابن“ ”روح القدس“ کی تعبیرات کی

١٤کی ١٨ ١٤٨

صفحہ ٣٧٥

حقیقت کیا ہے، یہ مسئلہ بھی مسیحیت کے ان مباحث میں سے ہے جن کا فیصلہ کن جواب کبھی نہ مل سکا اور جس قدر اس کو صاف اور واضح کرنے کی سعی کی گئی اس میں الجھاؤ اور پیچیدگی کا اضافہ ہی ہوتا گیا اور نتیجہ یہ نکلا کہ جس عقیدہ کو مسیحیت میں اساسی اور بنیادی حیثیت حاصل تھی وہی ”معمہ“ بن کر رہ گیا اور قدیم و جدید علماء نصاریٰ کو یہ کہنا پڑا کہ تثلیث میں توحید ہے اور توحید میں تثلیث، یہ مذہب کا ایسا مسئلہ ہے جو دنیا میں حل نہیں ہو سکتا اور دوسرے عالم میں پہنچ کر ہی یہ عقدہ حل ہو گا اس لیے یہاں اس کو عقل سے سمجھنے کی کوشش کرنا فضول ہے بلکہ خوش عقیدگی کے ساتھ قبول کر لینا ہی نجات کی راہ ہے، چنانچہ اواخر انیسویں صدی کے مشہور عیسائی عالم پادری فنڈر نے ”میزان الحق“ میں یہی ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔

تاہم اس صنم پرستانہ فلسفہ کی جو تشریحات کی گئی ہیں ان کو مختصر طور پر یوں سمجھنا چاہیے کہ اس کائنات ہست و بود کو جس میں ہم بس رہے ہیں ”عالم ناسوت“ کہا جاتا ہے اور ملاء اعلیٰ کہ جس کا تعلق عالم غیب سے ہے وہ اور اس سے ماوراء جہاں نہ زمین و زماں کا گزر اور نہ مکین و مکاں کا، جہاں سب کچھ ہے لیکن مادیت سے بالاتر اور وراء الوراء ہے اس کا نام ”عالم لاہوت“ ہے، تو جب زیر و بالا اور بلند و پست کچھ بھی نہ تھا اور ازل کی غیر محدود وسعت میں ”وقت“ ایک بے معنی لفظ تھا اس وقت تین اقنوم تھے۔ (اقنوم کے معنی ہیں ”اصل“) ”باپ“ ”بیٹا“ ”روح القدس“ اور ان ہی تین اقانیم کی مجموعی حقیقت کا نام ”خدا“ ہے۔ رومن کیتھولک، پراٹسٹنٹ اور ان دونوں سے جدا کلیسہ شرقی تینوں ہی اس پر متفق ہیں اور اسی کو دین مسیحیت کی روح یقین کرتے ہیں اور بڑی جسارت کے ساتھ دعویٰ کرتے ہیں کہ کتاب مقدس کی تصریحات اسی کا اعلان کرتی ہیں۔

اس عجوبہ روزگار عقیدہ نے اس حد پر پہنچ کر جو نئے نئے مباحث و افکار پیدا کیے ان کا مطالعہ کرنے سے دیدۂ حیرت اور چشم عبرت کے لیے بہت کچھ سامان مہیا ہو جاتا ہے، بڑی بڑی مذہبی کونسلوں، بڑے بڑے کلیساؤں کے بشپوں اور پاپاؤں نے اس عقیدہ کی تشریح میں یہ عجیب و غریب مباحث پیدا کیے کہ ”اقنوم اوّل“ باپ سے کس طرح اقنوم ثانی ”بیٹے کی ولادت ہوئی اور پھر باپ سے یا باپ اور بیٹے دونوں سے کس طرح اقنوم ثالث ”روح القدس“ پھوٹ کر نکلی یا کس طرح اس کا صدور ہوا اور یہ کہ ان کے باہم نسبت کیا ہے اور ان کے جدا جدا کیا القاب و صفات ہیں جو ایک دوسرے کو آپس میں ممتاز کرتے ہیں اور پھر جب یہ تثلیث، توحید بن جاتی ہے تو اس کی صفات و

صفحہ ٣٧٦

القاب کی کیا صورت ہو جاتی ہے، نیز یہ کہ جس کو ہم خدا کہتے ہیں اس میں تینوں اقانیم برابر کے شریک ہیں یا کوئی ایک پورا اور دوسرے دو جزوی حصہ دار ہیں اور جزوی شرکت ہے تو کس نسبت اور تعلق سے ہے؟ غرض خدائے برتر کی مقدس اور پاک ہستی کو معاذ اللہ کمہار کے چاک پر رکھا ہوا برتن فرض کر کے جس طرح اس کو بنایا اور تیار کیا ہے اور توحید خالص کو تباہ و برباد کر کے جس طرح شرک و ترکیب کا نیا سانچہ ڈھالا ہے دنیائے مذاہب و ادیان کی تاریخ میں ایسا مذہبی تغیر و انقلاب چشم فلک نے نہ کبھی دیکھا نہ سنا۔ ”ان ھذا لشیء عجاب“ بہرحال ”باپ“ ”بیٹا“ ”روح القدس“ کی جدا جدا تفصیلات و تشریحات اور پھر وحدت سے ترکیب اور ترکیب سے وحدت کی عجوبہ تعبیرات کی ایک بھول بھلیاں ہے جس کا کہیں اور چھور نظر ہی نہیں آتا اور جب کہنے والا ہی لفظی تعبیرات کے علاوہ ”حقیقت“ سمجھنے سے عاری ہے تو سننے والا کیا خاک سمجھ سکتا ہے۔

باپ : اقانیم ثلاثہ میں ”اب“ پہلا اقنوم ہے اس سے اقنوم ثانی کی ولادت ہوئی اور عالم لاہوت میں یہ کبھی بھی دوسرے اور تیسرے اقانیم سے جدا نہیں ہوتا مگر مسیحی فرقوں میں کنیسہ کی عام تعلیم کے مطابق اکثر فرقے یہ کہتے ہیں کہ وحدت لاہوت میں تینوں کا درجہ مساوی ہے اور کسی کو کسی پر برتری حاصل نہیں ہے اور آریوسی ....... کہتے ہیں کہ ایسا نہیں ہے بلکہ دوسرا اقنوم ”بیٹا“ اقنوم اوّل کی طرح ازلی نہیں ہے البتہ عالم بالا و پست سے غیر معلوم مدت پہلے اقنوم اوّل سے پیدا ہوا ہے اس لیے اس کا درجہ ”باپ“ کے بعد اور اس سے کم ہے اور مقدونی فرقہ کہتا ہے کہ صرف دو ہی اقنوم ہیں ”باپ“ اور ”بیٹا“ اور ”روح القدس“ مخلوق ہے اور فرشتوں میں سے ایک فرشتہ ہے جس کا پایہ تمام ملائکۃ اللہ سے بلند ہے اور طلیطلہ کی کونسل کا فیصلہ یہ ہے کہ روح القدس ”باپ“ اور ”بیٹا“ دونوں سے پھوٹ کر نکلی ہے یا دونوں سے ہی اس کا صدور ہوا ہے مگر قسطنطنیہ کی کونسل روح القدس کو صرف ”باپ“ ہی سے صادر ہونا بتلاتی ہے، اور قدیم و جدید فرقوں میں سے ایک بڑی جماعت اقنوم ثالث مریم علیہا السلام کو تسلیم کرتی اور روح القدس کے اقنوم ہونے کا انکار کرتی ہے۔

بیٹا : عربی میں ”ابن“ فرنچ میں ”فنی“ ....... اور انگریزی میں ”سن“ (Son) اور اردو میں ”بیٹا“ کہتے ہیں، یہ اس شکل انسانی پر بولا جاتا ہے جو عام قانون قدرت کے مطابق مرد و عورت کے جنسی تعلقات کا نتیجہ ہوتا ہے مگر عقیدۂ ثالوث کے مطابق وہ عالم لاہوت میں ”باپ“ سے جدا بھی نہیں ہے اور پیدا بھی ہے اور پھر بعض کے نزدیک اس کی پیدائش

صفحہ ٣٧٧

ازلی ہے اور بعض کے نزدیک غیر ازلی آگے چل کر کہتے ہیں کہ جب ”باپ“ کی مشیت کا فیصلہ ہوا تو اقنوم ثانی ”بیٹا“ عالم ناسوت (کائنات ہست و بود) میں مریم کے بطن سے پیدا ہو کر ”مسیح“ کہلایا اور بعض کا تو یہ دعویٰ ہے کہ خود باپ ہی عالم ناسوت میں بیٹا بن کر مریم کے بطن سے تولد ہوا اور مسیح کی شکل میں روشناس ہوا اور طرفہ تماشا یہ کہ بعض کے نزدیک تو اقنوم ثانی ”ابن“ کو اقنوم اوّل ”اب“ پر برتری اور تفوق حاصل ہے۔ روح القدس: اسی طرح ”روح القدس“ کے متعلق بھی سخت اختلاف ہے، کوئی کہتا ہے کہ وہ اقنوم ہی نہیں ہے اس لیے عالم لاہوت میں اس کو الوہیت حاصل نہیں ہے چنانچہ مقدونی اور آریوسی کہتے ہیں کہ وہ ملائکۃ اللہ میں سے ہے اور ان میں سب سے برتر و بلند ہے اور مازاتونیوس کہتا ہے کہ روح القدس کی تعبیر مجاز ہے اور اللہ تعالیٰ کے افعال پر مجازاً اس کا اطلاق کیا جاتا ہے ورنہ الگ سے کوئی حقیقت نہیں ہے اسی بنا پر اس قول کے قائلین کو ”مجازیین“ کہا جاتا ہے اور علماء جدید میں کلارک کہتا ہے کہ الہامی کتابوں (عہد نامہ قدیم و جدید) میں کسی ایک جگہ بھی ”الوہیت“ کا درجہ نہیں دیا گیا۔ فرقہ ”مقدونی“ نے الوہیت روح القدس کا انکار کرتے ہوئے شد و مد سے یہ کہا کہ اگر جوہر الوہیت میں روح القدس کو بھی دخل ہوتا تو یا وہ مولود ہوتی یا غیر مولود، اگر مولود ہے تو اس کے اور ”ابن“ کے درمیان کیا فرق رہا اور اگر غیر مولود ہے تو اس کے اور ”اب“ کے درمیان کیا امتیاز ہے۔

ان کے مقابلہ میں دوسری جماعتیں کہتی ہیں کہ ”روح القدس“ کو بھی الوہیت حاصل ہے، بوسیبو رومانی کہتا ہے کہ روح القدس کا صدور ”اب“ اور ”ابن“ دونوں سے ہوا اور وہ ان کے جوہر نفس سے ہے اور دونوں کے ساتھ وحدت لاہوت میں ”الٰہ“ ہے اور اثناسیوس کہتا ہے کہ روح القدس کی الوہیت ناقابل انکار ہے اور کتب سماویہ میں روح پر ”الٰہ“ کا اور ”الٰہ“ پر ”روح“ کا اطلاق ثابت و مسلم ہے اور اس کی جانب ان ہی امور کی نسبت کی گئی ہے جن کا تعلق ذاتِ خدا کے ماسوا اور کسی سے نہیں ہے۔ مثلاً تقدیس ذات، معرفت جمیع حقائق وغیرہ اور یہ عقیدۂ قدیم سے چلا آتا ہے جیسا کہ نظم وسولجیا سے ثابت ہے جس کی قدامت تالیف سب کے نزدیک مسلم ہے، اس میں الوہیت روح القدس کا اعتراف موجود ہے، اور مولف لفیلو پیٹرس نے انکار الوہیت روح پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نصاریٰ کے نزدیک خدائے حقیقی کی توحید کا تثلیث میں مضمر ہونا ایک مسلم حقیقت ہے پھر روح کو الوہیت سے خارج کرنا کوئی معنی نہیں رکھتا اور مقدونیوں ـــــ

١٥١

صفحہ ٣٧٨

اعتراض کا جواب دیتے ہوئے مار اثناسیوس کہتا ہے کہ کتب سماوی میں روح کو ابن نہیں کہا گیا بلکہ روح الاب اور روح الابن کے اطلاقات پائے جاتے ہیں لہٰذا اس کو ”ابن“ یا ”اب“ کہنا صحیح نہیں اور نہ اس کو الوہیت سے نکال کر مخلوق کہنا درست ہو سکتا ہے، اور ادراک بشری عاجز ہے کہ ان فلسفیانہ بحثوں سے ”روح القدس“ کی حقیقت تک پہنچ سکے البتہ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ فقط تولید (پیدا ہونا) ہی تنہا ایسا واسطہ نہیں ہے جو ”اب“ کے ساتھ قائم ہو بلکہ انبثاق (صدور یا پھوٹ نکلنا) بھی ایک شکل ہو سکتی ہے مگر ہم اس دنیا میں تولید اور انبثاق کے درمیان فرق ظاہر کرنے پر قادر نہیں ہیں، البتہ یہ ضرور کہہ سکتے ہیں کہ تولید و انبثاق دونوں کا ”اب“ کے ساتھ ازلی و ابدی لزوم و تلازم کا تعلق ہے پس ہمارے لیے ہرگز یہ مناسب نہیں ہے کہ فلاسفہ قدیم (فلاسفہ یونان) کی طرح ”روح القدس“ اور ”اب“ کے درمیان فلسفیانہ موشگافیوں کے ذریعہ وہ اعتقادات قبول کر لیں جو انھوں نے خدا سے صدور ارواح کے متعلق پیدا کر لیے ہیں۔

اسی کے ساتھ ساتھ وہ اختلافات بھی پیش نظر رہنے چاہئیں جو گزشتہ سطور میں بیان ہو چکے ہیں کہ بعض کلیسہ ”روح القدس“ کا فقط اقنوم اوّل (باپ) سے صادر ہونا مانتے ہیں اور بعض کہتے ہیں کہ ”باپ“ اور ”بیٹا“ دونوں سے اس کا صدور ہوا ہے، یہ اختلاف بھی عیسائی فرقوں کے مابین سخت کشاکش کا باعث رہا ہے کیونکہ ٣٨١ء میں منعقدہ کونسل قسطنطنیہ نے ”منشور ایمانی“ میں یہ واضح کر دیا تھا کہ ”روح القدس“ کا صدور ”باپ“ ہی سے ہوا ہے اور عرصہ تک یہی عقیدہ مسیحی دنیا میں نافذ رہا لیکن ٥٨٧ء میں اوّل ہسپانیہ کے کلیسہ نے پھر فرانس کے کلیسہ نے اور اس کے بعد تمام لاطینی رومن کلیساؤں نے اس ترمیم کو جزء عقیدہ بنایا کہ ”روح القدس“ کا صدور اقنوم اوّل (باپ) اور اقنوم ثانی ”بیٹا“ دونوں سے ہوا ہے۔ عیسائی علماء کہتے ہیں کہ دراصل یہ بحث ٨٦٦ء میں سب سے پہلے شرق کے بطریق فوتیوس نے اس لیے پیدا کی کہ اس کی اور اس کی جماعت کی یہ خواہش تھی کہ کسی طرح شرق (یونان) کے کلیسہ کو غرب (روم) کے کلیسہ سے جدا کر دیا جائے اور مشرق و مغرب کے کلیساؤں کا اتحاد باقی نہ رہنے دیا جائے، اسی خیال کی تائید و تقویت کے لیے ١٠٥٣ء میں بطریق میخائیل کر دلاریوس نے اس عقیدہ کو بہت شائع کیا اور آخر کار صدیوں تک ان اختلافات نے کلیسہ ہائے شرق و غرب کے درمیان مخالفانہ کشاکش کو قائم رکھا اور دونوں کلیسہ ایک دوسرے پر یہ الزام قائم کرتے رہے کہ مخالف کلیسہ نے مسیحیت میں ایجاد و بدعت کی آمیزش کر کے حقیقی مذہب کو مٹا

صفحہ ٣٧٩

ڈالا ہے اور رومن کیتھولک اور پراٹسٹنٹ کی بالعموم اور کلیساؤں کے مختلف فرقوں کی بالخصوص کشمکش کا یہ سلسلہ اس وقت تو انتہائی شدت اختیار کر چکا تھا اور باہم ہولناک خونریزیوں اور بہیمانہ مظالم کا جہنم بن چکا تھا جبکہ اسلام، اعتقادات کی سادگی، اعمالِ صالحہ کی پاکیزگی اور اپنی علمی و عملی روحانیت کی شگفتگی کی بدولت ”امنِ عام“ اور ”رحمت“ کا نیر درخشاں بنا ہوا تھا۔

ازمنہ مظلمہ اور اصلاح کنیسہ کی آواز

یہ وہ زمانہ تھا جب عیسائیوں کے مذہبی معمولی معمولی اختلافات کی بنا پر پوپ کی حکومت اور پیروانِ پوپ کی حکومتوں کے ذریعہ ایک دوسری جماعت کو گردن زدنی اور کشتنی قرار دیتی اور ہزاروں لاکھوں انسانوں کو وحشت ناک عذابوں میں مبتلا کر کے قتل کر دیا کرتی تھیں، اسی بنا پر مورخین تاریخ کے اس دور کو ازمنہ مظلمہ (زمانہاۓ تاریک) کے نام سے یاد کرتے ہیں۔

قرآن نے حضرت مسیح علیہ السلام کے متعلق جس حقیقت اور صداقت کا اظہار کیا تھا، پوپ اور کلیسا سے مرعوبیت نے اگرچہ ایک مدتِ مدید تک عیسائیوں کو اس طرف متوجہ نہیں ہونے دیا مگر پھر بھی یہ صدائے حق اثر کیے بغیر نہ رہ سکی، اس کی تفاصیل اگرچہ خاتم الانبیاء محمد ﷺ کی حیاتِ طیبہ میں مذکور ہوں گی لیکن یہاں صرف اس قدر اشارہ کرنا مقصود ہے کہ رومن کیتھولک، پراٹسٹنٹ اور دوسرے فرقوں نے بغیر کسی جھجک کے سینٹ پال کی تحریف (تثلیث) مسیحیت کا بنیادی عقیدہ تسلیم کر لیا تھا اور اگرچہ بعض چھوٹی چھوٹی جماعتوں یا افراد نے کبھی کبھی اس کے خلاف آواز اٹھائی مگر وہ آواز دب کر رہ گئی اور نقار خانہ میں طوطی کی صدا سے زیادہ اس کی حیثیت نہ بن سکی مثلاً ٣٢٥ء اور ٣٨١ء میں جب نیقاوی کونسل اور قسطنطنیہ کونسل نے تثلیث کو دینِ مسیحی کی بنیاد قرار دیا اس وقت ابیونین نے صاف صاف اعلان کر دیا کہ حضرت مسیح صرف انسان ہیں اور الوہیت کا ان سے کوئی علاقہ نہیں اور سابلیٹین کہتے تھے کہ اقانیم ثلاثہ، تین مختلف جوہر نہیں ہیں بلکہ وحدت لاہوتی کی مختلف صورتیں اور تعبیریں ہیں جن کو اللہ تعالیٰ صرف اپنی ذاتِ واحد کے لیے اطلاق کرتا ہے، تاہم اس وقت تک چونکہ پوپ اور کلیسہ کے فیصلے خدائی فیصلے سمجھے جاتے تھے اور بشپ اور پاپا ”ارباباً من دون اللہ“ یقین کیے جاتے تھے اس لیے ان اصلاحی آوازوں کو ”الحاد“ کہہ کر دبا دیا گیا مگر جب صلیبی جنگوں نے عیسائیوں کو مسلمانوں کے اتنا قریب کر دیا کہ انھوں نے اسلام کے اعتقادی اور عملی نظام کا بہت کچھ نقشہ اپنی

صفحہ ٣٨٠

آنکھوں سے دیکھا اور اسلام سے متعلق بطارقہ Batariqa اساقفہ (Bishaps) کی غلط بیانی اور بہتان ان پر ظاہر ہونے لگی تب ان میں بھی آزادی فکر نے کروٹ لی اور کورانہ تقلید کو شکست و ریخت کرنے کا جذبہ پیدا ہوا چنانچہ لوتھر کی آواز پہلی صدائے حق تھی جس نے جرأت کے ساتھ ”ارباباً من دون اللہ“ کے بتوں کو ماننے سے انکار کر دیا اور پوپ کے مقابلہ میں کتاب مقدس کی پیروی کی دعوت دی، مگر آپ کو تعجب ہو گا یہ سن کر کہ پوپ کی جانب سے لوتھر کے خلاف جو الحاد اور بددینی کے الزامات لگائے گئے تھے ان میں سب سے بڑا الزام یہ تھا کہ یہ در پردہ ”مسلمان“ ہو گیا ہے اور پاپا کے خلاف اس کی صدا قرآن کی صدائے بازگشت ہے۔

بہر حال یہی وہ صدائے اصلاح تھی جو بلاشبہ اسلام کی دعوتِ تفکر وتعقل سے متاثر ہو کر آہستہ آہستہ ”اصلاح کنیسہ“ کے نام سے مسیحی دنیا میں گونج اٹھی اور آگ کی طرح ہر طرف اس کے شعلے بلند نظر آنے لگے، ان ہی اصلاحات میں سے ایک اہم اصلاحی تخیل یہ بھی تھا کہ عقیدۂ ثالوث کتاب مقدس (عہد نامہ جدید) کے قطعاً خلاف ہے چنانچہ تیرہویں صدی عیسوی میں قدیم لاہوتی فرقہ کے جمہور نے نسطوری فرقہ کے جماعتی فیصلہ نے اور جدید جماعتوں میں سے سوسینیائیں ...... جرمائین ...... موحدین ...... اور عمومیین ...... اور دوسری جماعتوں نے تعلیم کلیسا کے خلاف مذہبی بغاوت کرتے ہوئے صاف کہہ دیا کہ تثلیث کا عقیدہ نقل وعقل دونوں کے خلاف اور ناقابل تسلیم ہے، اور اگرچہ قومی و مذہبی عصبیت نے ان کو اسلامی عقیدہ کا پیرو ہونے سے باز رکھا تاہم انھوں نے عقیدۂ تثلیث کی مختلف شکلوں کے ساتھ ایسی تعبیرات کرنی شروع کر دیں جس سے عقیدۂ ثالوث باطل ہو کر توحید الٰہی کے پاک اور مقدس جراثیم پیدا ہونے لگے مثلاً سویڈنبرگ نے کہا: ”اقانیم ثلاثہ“ ”باپ“ ”بیٹا“ ”روح القدس“ کا تعلق حضرت مسیح علیہ السلام کی ذات کے ماسوا ذاتِ احدیت سے نہیں ہے، یعنی مسیح کی ذات اپنی طبع لاہوتی کے پیش نظر ”باپ“ ہے اور عالم ناسوت میں انسانی شکل کے تقید کی وجہ سے ”بیٹا“ اور اقنوم ثانی ہے اور اس حیثیت سے کہ ”روح القدس“ کا صدور اس سے ہوا ہے وہ اقنوم ثالث ”روح“ ہے، غرض ثالوث کا تعلق صرف حضرت مسیح سے ہے“ اور کانٹ (Cant) کہتا ہے کہ عقیدۂ ثالوث کے یہ معنی نہیں ہیں کہ ”باپ“ ”بیٹا“ ”روح القدس“ بلکہ یہ عالم لاہوت میں خدائے برتر کی تین بنیادی صفات کی جانب اشارہ ہے جو باقی تمام صفات کے لیے مصدر اور منبع کی حیثیت رکھتی ہیں اور وہ ”قدرت“ (اب) حکمت (ابن) اور ”محبت“ (روح) ہیں یا اللہ تعالیٰ کے ان تین افعال کی جانب اشارہ ہے جو ”خلق“

صفحہ ٣٨١

”حفظ“ اور ”ضبط“ کے نام سے بھی تعبیر کیے جاتے ہیں اور ہیگل اور شیلنگ نے اس خیال کی کافی اشاعت کی کہ عقیدۂ ثالوث حقائق کی طرح کوئی حقیقت نہیں ہے بلکہ ایک تخیلی نظریہ ہے، ان کی مراد یہ ہے کہ جہاں تک حقیقت کا تعلق ہے خدائے برتر کی ذات وحدہٗ لاشریک لہٗ ہے اور مسیح علیہ السلام مخلوقِ خدا لیکن عالم خیال و تصور میں جب ہم لاہوتی عالم کی جانب پرواز کرتے ہیں تو ہمارا خیال اس عالم میں خدا، مسیح اور روح القدس کو ”اب“ ”ابن“ اور ”روح“ کی تعبیرات دیتا اور ان کے باہم تعلق کو اقانیم ثلاثہ کی حیثیت میں دیکھتا ہے۔

”عقلیین“، ”لوتھرین“ اور ”موحدین“ اور ”جرمنین“ کے علاوہ بھی بہت لوگ ہیں جو سابلیین کے عقیدہ کو اختیار کر کے ایک بڑی جماعت کی شکل اختیار کر رہے ہیں۔ ان تمام باتوں کے باوجود اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ یورپ کی نشاۃ جدید میں بھی عام طور پر تمام کلیساؤں کا ثالوث (تثلیث) پر ہی عقیدہ ہے اور ان کے نزدیک اس کلمہ کی تعبیر وہی ہے جو چوتھی صدی عیسوی میں متعدد مذہبی کونسلوں نے کی اور جو بلاشبہ شرک جلی اور توحید کے یکسر منافی ہے۔

قرآن اور عقیدۂ تثلیث

نزول قرآن کے وقت جمہور مسیحی جن بڑے فرقوں میں تقسیم تھے ثالوث کے متعلق ان کا عقیدہ تین جدا جدا اصولوں پر مبنی تھا، ایک فرقہ کہتا تھا کہ مسیح عین خدا ہے اور خدا ہی بشکل مسیح دنیا میں اتر آیا ہے اور دوسرا فرقہ کہتا تھا کہ مسیح ابن اللہ (خدا کا بیٹا ہے اور تیسرا کہتا تھا کہ وحدت کا راز تین میں پوشیدہ ہے، باپ، بیٹا، مریم اور اس جماعت میں بھی دو گروہ تھے اور دوسرا گروہ حضرت مریم کی جگہ ”روح القدس“ کو اقنوم ثالث کہتا تھا غرض وہ حضرت مسیح علیہ السلام کو ثالث ثلاثہ (تین میں کا تیسرا) تسلیم کرتے تھے، اس لیے قرآن کی صدائے حق نے تینوں جماعتوں کو جدا جدا بھی مخاطب کیا ہے اور یکجا بھی اور دلائل و براہین کی روشنی میں مسیحی دنیا پر یہ واضح کیا ہے کہ اس بارہ میں راہِ حق ایک اور صرف ایک ہے اور وہ یہ کہ مسیح، مریم کے بطن سے پیدا شدہ انسان اور خدا کا سچا پیغمبر اور رسول ہے باقی جو کچھ بھی کہا جاتا ہے وہ باطل محض ہے...... خواہ اس میں تفریط ہو جیسا کہ یہود کا عقیدہ ہے کہ العیاذ باللہ وہ شعبدہ باز اور مفتری تھے یا افراط ہو جیسا کہ نصاریٰ کا عقیدہ ہے کہ وہ خدا ہیں یا خدا کے بیٹے ہیں یا تین میں کے تیسرے ہیں۔

قرآن عزیز نے صرف یہی نہیں کیا کہ نصاریٰ کے تردیدی پہلو کو ہی اس

١٥٥

صفحہ ٣٨٢

سلسلہ میں واضح کیا ہو بلکہ اس کے علاوہ حضرت مسیح علیہ السلام کی شانِ رفیع کی اصل حقیقت کیا ہے اور عنداللہ ان کو کیا قربت حاصل ہے اس پر بھی نمایاں روشنی ڈالی ہے تاکہ اس طرح یہود کے عقیدۂ باطل کی بھی تردید ہو جائے اور افراط و تفریط سے جدا ”راہِ حق“ آشکارا نظر آنے لگے۔

حضرت مسیح علیہ السلام خدا کے مقرب اور برگزیدہ رسول ہیں

قَالَ اِنِّی عَبْدُ اللّٰہِ ط اٰتٰنِیَ الْکِتٰبَ وَ جَعَلَنِیْ نَبِیًّا o وَّ جَعَلَنِیْ مُبٰرَکًا اَیْنَ مَا کُنْتُ وَ اَوْصٰنِیْ بِالصَّلٰوۃِ وَ الزَّکٰوۃِ مَا دُمْتُ حَیًّا o وَّ بَرًّا بِوَالِدَتِیْ وَ لَمْ یَجْعَلْنِیْ جَبَّارًا شَقِیًّا o وَ السَّلٰمُ عَلَیَّ یَوْمَ وُلِدْتُّ وَ یَوْمَ اَمُوْتُ وَ یَوْمَ اُبْعَثُ حَیًّا o

(مریم ٣٠:٣٣)

”مسیح“ نے کہا: ”بیشک میں اللہ کا بندہ ہوں اور اس نے مجھ کو نبی بنایا ہے اور مجھ کو مبارک ٹھہرایا جہاں بھی میں رہوں، اور اس نے مجھ کو نماز کی اور زکوٰۃ کی وصیت فرمائی جب تک بھی میں زندہ رہوں اور اس نے مجھ کو میری والدہ کے لیے نیکوکار بنایا اور مجھ کو سخت گیر اور بدبخت نہیں بنایا، مجھ پر سلامتی ہو جب میں پیدا ہوا، جب میں مر جاؤں اور جب حشر کے لیے زندہ اٹھایا جاؤں۔

اِنْ ھُوَ اِلَّا عَبْدٌ اَنْعَمْنَا عَلَیْہِ وَجَعَلْنٰہُ مَثَلًا لِّبَنِیْ اِسْرَآئِیْلَ o وَلَوْ نَشَآءُ لَجَعَلْنَا مِنْکُمْ مَّلٰئِکَۃً فِی الْاَرْضِ یَخْلُفُوْنَ o وَاِنَّہٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَۃِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِھَا وَاتَّبِعُوْنِ ط ھٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ o

(زخرف ٥٩)

وہ (مسیح) نہیں ہے مگر ایسا بندہ جس پر ہم نے انعام کیا اور ہم نے اس کو مثال بنایا ہے بنی اسرائیل کے لیے اور اگر ہم چاہتے تو کر دیتے ہم تم میں سے فرشتے زمین میں چلنے پھرنے والے اور بلاشبہ وہ (مسیح) نشان ہے قیامت کے لیے پس اس بات پر تم شک نہ کرو اور میری پیروی کرو، یہی سیدھا راستہ ہے۔

وَ اِذْ قَالَ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ یٰبَنِیْ اِسْرَآئِیْلَ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ اِلَیْکُمْ مُّصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرٰۃِ وَ مُبَشِّرًۢا بِرَسُوْلٍ یَّاْتِیْ مِنْۢ بَعْدِی اسْمُہٗ اَحْمَدُ ط

(الصف ٦)

اور (وہ وقت یاد کرو) جب عیسیٰ بن مریم نے کہا: ”اے بنی اسرائیل! بلاشبہ میں تمہاری جانب اللہ کا رسول ہوں، تصدیق کرنے والا ہوں جو میرے سامنے ہے تورات، اور بشارت دینے والا ہوں ایک رسول کی جو میرے بعد آئے گا، اس کا نام احمد ہے۔

حضرت مسیح نہ خدا ہیں نہ خدا کے بیٹے

لَقَدْ کَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْا اِنَّ اللّٰہَ ھُوَ الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ قُلْ فَمَنْ یَّمْلِکُ مِنَ

١٥٦

صفحہ ٣٨٣

اللّٰهِ شَيْئًا اِنْ اَرَادَ اَنْ يُّهْلِكَ الْمَسِيْحَ ابْنَ مَرْيَمَ وَاُمَّهٗ وَمَنْ فِى الْاَرْضِ جَمِيْعًا ط وَلِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا ط يَخْلُقُ مَا يَشَآءُ ط وَاللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ ۝

(المائدہ ١٧)

لَقَدْ كَفَرَ الَّذِيْنَ قَالُوْا اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْمَسِيْحُ ابْنُ مَرْيَمَ ط وَقَالَ الْمَسِيْحُ يَا بَنِىْٓ اِسْرَآئِيْلَ اعْبُدُوا اللّٰهَ رَبِّىْ وَرَبَّكُمْ ط اِنَّهٗ مَنْ يُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّٰهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ وَمَاْوٰهُ النَّارُ ط وَمَا لِلظّٰلِمِيْنَ مِنْ اَنْصَارٍ ۝

(المائدہ ٧٢)

وَقَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا سُبْحٰنَهٗ ط بَلْ لَّهٗ مَا فِى السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط كُلٌّ لَّهٗ قَانِتُوْنَ ۝

(بقرہ ١١٦)

اِنَّ مَثَلَ عِيْسٰى عِنْدَ اللّٰهِ كَمَثَلِ اٰدَمَ ط خَلَقَهٗ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهٗ كُنْ فَيَكُوْنُ.

(آل عمران ٥٩)

يٰاَهْلَ الْكِتٰبِ لَا تَغْلُوْا فِىْ دِيْنِكُمْ وَلَا تَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الْحَقَّ ط اِنَّمَا الْمَسِيْحُ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ رَسُوْلُ اللّٰهِ وَكَلِمَتُهٗ اَلْقٰهَا اِلٰى مَرْيَمَ وَرُوْحٌ مِّنْهُ فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَرُسُلِهٖ وَلَا تَقُوْلُوْا ثَلٰثَةٌ ط اِنْتَهُوْا خَيْرًا لَّكُمْ ط اِنَّمَا اللّٰهُ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ ط سُبْحٰنَهٗ اَنْ يَّكُوْنَ لَهٗ وَلَدٌ م لَّهٗ مَا فِى السَّمٰوٰتِ وَمَا فِى الْاَرْضِ ط وَكَفٰى بِاللّٰهِ وَكِيْلًا.

(نساء ١٧١)

بَدِيْعُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط اَنّٰى يَكُوْنُ لَهٗ وَلَدٌ وَّلَمْ تَكُنْ لَّهٗ صَاحِبَةٌ ط وَخَلَقَ كُلَّ شَىْءٍ ج وَهُوَ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيْمٌ ۝

(انعام ١٠٢)

مَا الْمَسِيْحُ ابْنُ مَرْيَمَ اِلَّا رَسُوْلٌ ج قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ ط وَاُمُّهٗ صِدِّيْقَةٌ ط كَانَا يَاْ كُلَانِ الطَّعَامَ .

(المائدہ ٧٥)

لَنْ يَّسْتَنْكِفَ الْمَسِيْحُ اَنْ يَّكُوْنَ عَبْدًا لِّلّٰهِ وَلَا الْمَلٰٓئِكَةُ الْمُقَرَّبُوْنَ ط وَمَنْ يَّسْتَنْكِفْ عَنْ عِبَادَتِهٖ وَيَسْتَكْبِرْ فَسَيَحْشُرُهُمْ اِلَيْهِ جَمِيْعًا ۝

(النساء ١٧٢)

وَقَالَتِ الْيَهُوْدُ عُزَيْرُ نِ ابْنُ اللّٰهِ وَقَالَتِ النَّصَارَى الْمَسِيْحُ ابْنُ اللّٰهِ ط ذٰلِكَ قَوْلُهُمْ بِاَفْوَاهِهِمْ ج يُضَاهِئُوْنَ قَوْلَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَبْلُ ط قَاتَلَهُمُ اللّٰهُ ج اَنّٰى يُؤْفَكُوْنَ ۝

(توبہ ٣٠)

قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ ۝ اَللّٰهُ الصَّمَدُ ۝ لَمْ يَلِدْ ۝ وَلَمْ يُوْلَدْ ۝ وَلَمْ يَكُنْ لَّهٗ كُفُوًا اَحَدٌ ۝

(اخلاص ١،٤)

بلاشبہ ان لوگوں نے کفر اختیار کر لیا جنھوں نے یہ کہا: ”بیشک اللہ وہی مسیح بن مریم ہے“ کہہ دیجیے اگر اللہ یہ ارادہ کر لے کہ مسیح بن مریم، اُن کی والدہ اور کائناتِ زمینی پر جو

١٧٤

صفحہ ٣٨٤

کچھ بھی ہے سب کو ہلاک کر ڈالے تو کون شخص ہے جو اللہ سے (اس کے خلاف) کسی شے کے مالک ہونے کا دعویٰ کر سکے اور اللہ کے لیے ہی بادشاہت ہے آسمانوں کی اور زمین کی، وہ جو چاہتا ہے اس کو پیدا کر دیتا ہے اور اللہ ہر شے پر قدرت رکھنے والا ہے بلاشبہ ان لوگوں نے کفر اختیار کیا جنھوں نے کہا ”بلاشبہ اللہ وہی مسیح بن مریم ہے“ حالانکہ مسیح نے یہ کہا: ”اے بنی اسرائیل! اللہ کی عبادت کرو جو میرا اور تمہارا پروردگار ہے، بیشک جو اللہ کے ساتھ شریک ٹھہراتا ہے پس یقیناً اللہ نے اس پر جنت کو حرام کر دیا ہے اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے اور ظالموں کے لیے کوئی مدد نہیں ہے۔

اور انھوں نے کہا اللہ نے ”بیٹا“ بنا لیا ہے، وہ ذات تو ان باتوں سے پاک ہے بلکہ (اس کے خلاف) اللہ کے لیے ہی ہے جو کچھ بھی ہے آسمانوں اور زمین میں، ہر شے اس کے لیے تابعدار ہے۔

بلاشبہ عیسیٰ علیہ السلام کی مثال اللہ کے نزدیک آدم کی سی ہے کہ اس کو مٹی سے پیدا کیا پھر اس کو کہا ہو جا تو وہ ہو گیا۔

اے اہل کتاب اپنے دینی معاملہ میں حد سے نہ گزرو اور اللہ کے بارہ میں حق کے ماسوا کچھ نہ کہو، بلاشبہ مسیح عیسیٰ بن مریم اللہ کے رسول ہیں اور اس کا کلمہ ہیں جس کو اس نے مریم پر ڈالا (یعنی بغیر باپ کے اس کے حکم سے مریم کے بطن میں وجود پذیر ہوئے) اور اس کی روح ہیں پس اللہ پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لاؤ اور تین (اقانیم) نہ کہو اس سے باز آ جاؤ تمھارے لیے بہتر ہو گا، بلاشبہ اللہ خدائے واحد ہے، پاک ہے اس سے کہ اس کا بیٹا ہو، اسی کے لیے ہے (بلا شرکت غیرے) جو کچھ بھی ہے آسمانوں اور زمین میں اور کافی ہے اللہ ”وکیل“ ہو کر۔

وہ (خدا) موجد ہے آسمانوں اور زمین کا، اس کے لیے بیٹا کیسے ہو سکتا ہے اور نہ اس کے بیوی ہے اور اس نے کائنات کی ہر شے کو پیدا کیا ہے اور وہی ہر شے کا جاننے والا ہے۔

مسیح بن مریم نہیں ہیں مگر خدا کے رسول بلاشبہ ان سے پہلے رسول گزر چکے اور ان کی والدہ صدیقہ ہیں، یہ دونوں کھانا کھاتے تھے یعنی دوسرے انسانوں کی طرح کھانے پینے وغیرہ امور میں وہ بھی محتاج تھے۔

ہرگز مسیح اس سے ناگواری نہیں اختیار کرے گا کہ وہ اللہ کا بندہ کہلائے اور نہ مقرب فرشتے (حتیٰ کہ روح القدس ”جبرائیل“ ) ناک بھویں چڑھائیں گے، اور جو شخص

١٥٨

صفحہ ٣٨٥

بھی اس کی عبادت سے ناگواری کا اظہار کرے اور غرور اختیار کرے تو قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سب کو اپنی جانب اکٹھا کرے گا (یعنی جزا و سزا کے دن سب حقیقت حال کھل جائے گی)

اور یہود کہتے ہیں عزیر خدا کا بیٹا ہے اور نصارٰی کہتے ہیں مسیح خدا کا بیٹا ہے یہ ان کے منہ کی باتیں ہیں۔ پس کرنے لگے اگلے کافروں کی بات، اللہ ان کو ہلاک کرے کہاں سے پھرے جاتے ہیں۔

(اے محمد ﷺ) کہہ دیجئے، اللہ یکتا ہے، اللہ بے نیاز ہستی ہے، نہ کسی کا باپ ہے اور نہ کسی کا بیٹا اور کائنات میں کوئی اس کا ہمسر نہیں ہے۔

قرآن نے اس سلسلہ میں اپنی صداقت تبلیغ اور اصلاح عقائد و اعمال کا جو مدلل اور واضح اعلان کیا اس کے مطالعہ کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ موجودہ کتاب مقدس کے محرف اور مسخ کر دیئے جانے کے باوجود جس شکل و صورت میں آج موجود ہے وہ کسی ایک مقام پر بھی ”ثالوث“ کے اس عقیدہ کا پتہ نہیں دیتی جس کی تفصیلات و تشریحات ابھی سطور بالا میں علماء نصارٰی، مذہبی کونسلوں اور کلیساؤں سے نقل ہو چکی ہیں اور بجز تعبیر کے کہ جگہ جگہ حضرت مسیح کی زبان سے خدا کو ”باپ“ اور خود کو ”بیٹا“ ظاہر کیا گیا ہے اس کے لیے اور کوئی ثبوت واضح اور مصرح طور پر مہیا نہیں ہے۔ پس اگر ہم اس سے قطع نظر بھی کرلیں کہ یہ تعبیرات ”تحریفی“ اور صنم پرستی کے تخیل کی رہین منت ہیں اور بالفرض یہ تسلیم کرلیں کہ خدائے برتر کی جانب سے سچی الہامی انجیل میں بھی یہ تعبیرات موجود تھیں تب بھی ان سے نصارٰی کا عقیدۂ ”تثلیث“ کسی طرح صحیح ثابت نہیں ہو سکتا کیونکہ ”ابن“ کا لفظ اگرچہ حقیقی معنی کے لحاظ سے اس انسان پر بولا جاتا ہے جو کسی کی صلب یا کسی کے بطن سے مادہ منویہ کے ذریعہ پیدا ہوا ہو تاہم محاورات زبان اور اہل زبان کے استعمالات و اطلاقات شاہد ہیں کہ یہ لفظ کبھی مجاز کے طور پر اور کبھی تشبیہ یا کنایہ کے طریق سے اور بھی مختلف معانی پر بولا جاتا ہے، مثلاً ایک بڑی عمر کا شخص اپنے سے چھوٹے کو مجازاً ”ابن“ (بیٹا) کہہ دیا کرتا ہے، یا بادشاہ اپنی رعایا کو اولاد کہہ کر خطاب کرتا ہے یا استاد اپنے شاگردوں کو ”بیٹا“ کہہ کر پکارتا ہے یا جو شخص کسی علم و ہنر کا ماہر یا اس کی خدمت میں سرشار ہوتا ہے تو اس کو کنایۃً اس علم و ہنر کا بیٹا کہہ کر یاد کرتے ہیں اور کہا کرتے ہیں ”ابن القانون“ ”ابن الفلسفۃ“ ”ابن الفلاحۃ“ ”ابن الحدادۃ“ یا دنیا طلبی کی حرص و آز میں اگر حد سے گزر چکا ہے تو اس کو ”ابن الدراہم“ ”ابن الدنانیر“ کہہ دیا کرتے ہیں، اس طرح مسافر کو ”ابن السبیل“، مشہور شخصیت کو

صفحہ ٣٨٦

”ابن جلا“ بڑے ذمہ دار انسان ”ابن لیلھا“ آنے والے دن سے بے پرواہ شخص کو ”ابن یومہ“ دنیا ساز ہستی کو ”ابن الوقت“ کہتے ہیں یا جس کے اندر کوئی وصف نمایاں طور پر موجود ہوتا ہے تو اس وصف کی جانب لفظ ابن کو منسوب کر کے ذات موصوف کو یاد کرتے ہیں مثلاً صبح کو ”ابن ذکاء“ کہتے ہیں اور ان تمام مثالوں سے زیادہ یہ کہ انبیاء بنی اسرائیل اپنی امتوں کو ابناء اور اولاد کے ساتھ ہی خطاب کرتے اور نصائح و مواعظ میں یہ ظاہر فرماتے ہیں کہ امم و اقوام انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی روحانی اولاد ہوتی ہیں۔

اور یہی حال ”اب“ اور ”باپ“ کے اطلاقات و استعمالات کا ہے، ایک چھوٹا اپنے بڑے کو، ایک ضرورتمند اپنے مربی کو، ایک شاگرد اپنے استاد کو، ایک امتی اپنے نبی و رسول کو ”اب“ اور ”باپ“ کہنا فخر سمجھتا ہے حالانکہ ظاہر ہے کہ اس قسم کے تمام اطلاقات مجاز، کنایہ اور تشبیہ کے طور پر کیے جاتے ہیں، اس طرح بے نظیر مقرر اور خطیب کو ”ابوالکلام“ بہترین انشا پرداز کو ”ابوالقلم“ ماہر نقاد کو ”ابوالنظر“ ڈراؤنی اور ہیبت ناک شے کو ”ابوالہول“ سخی کو ”ابوالجواد“ فن کاشتکاری کے ماہر کو ”ابوالفلاحہ“ صنعت و حرفت کے حاذق کو ”ابوالصنع“ شب و روز بولتے رہتے ہیں۔

تو ان اطلاقات کے پیش نظر بآسانی یہ کہا جا سکتا ہے کہ کتاب مقدس میں ذات احدیت پر اب (باپ) کا اطلاق ربِ حقیقی کی حیثیت میں اور حضرت مسیح پر ابن (بیٹا) کا اطلاق محبوب و مقبولِ الٰہی کی حیثیت میں ہوا ہے یعنی جس طرح باپ اور بیٹے کے درمیان محبت و شفقت کا رشتہ مضبوط و مستحکم ہوتا ہے اس سے کہیں زیادہ محبت و شفقت کا وہ رشتہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے اور اس کے مقدس پیغمبر مسیح علیہ السلام کے درمیان قائم ہے۔ ایک صحیح حدیث میں بھی نبی اکرم ﷺ نے اس استعارہ اور تشبیہ کو استعمال فرماتے ہوئے کہا ہے۔ ”الخلق عیال اللّٰہ“ (تمام مخلوق خدا کا کنبہ ہے)

پس روزمرہ کے محاورات و اطلاقات کو نظر انداز کر کے کتاب مقدس کے لفظ ”اب“ اور ”ابن“ کے ایسے معانی و مطالب مراد لینا ”جو صریح شرک کے مرادف ہوں بلکہ اس سے بھی زیادہ قباحت و شناعت کے ساتھ خدا کی ہستی کو تین اقانیم سے مرکب ظاہر کرتے اور خدا کے حصے بخرے بناتے ہوں“ کسی طرح بھی جائز نہیں ہو سکتا اور صریح ظلم اور اقدام شرک ہے۔ ”تعالی اللّٰہ علواً کبیراً“ بالخصوص ایسی صورت میں جبکہ ان ہی اناجیل میں بصراحت حضرت مسیح علیہ السلام کے انسان اور مخلوق خدا ہونے پر نصوص موجود ہوں مثلاً یوحنا کی انجیل میں حضرت مسیح علیہ السلام کا یہ ارشاد مذکور ہے۔

(باب ١ آیت ٥١)

صفحہ ٣٨٧

”میں تم سے سچ سچ کہتا ہوں کہ تم آسمان کو کھلا ہوا اور خدا کے فرشتوں کو اوپر جاتے اور ابن آدم (مسیح) پر اترتے دیکھو گے۔“

(یوحنا باب ١ آیت ٥١)

اور باب ١٣ میں بصراحت خود کو ”رسول“ کہا ہے۔ ”میں تم سے سچ سچ کہتا ہوں کہ نوکر اپنے مالک سے بڑا نہیں ہوتا، اور نہ ”رسول“ اپنے بھیجنے والے سے۔ (یوحنا باب ١٣ آیت ١٦) (نوٹ: موجودہ اناجیل میں رسول کی جگہ ”بھیجا ہوا“ کر دیا ہے مرتب)

اور باب ٤ میں ہے۔ ”کیونکہ یسوع نے خود گواہی دی کہ ”نبی“ اپنے وطن میں عزت نہیں پاتا۔“

(یوحنا باب ٤ آیت ٤٣، ٤٤)

اور باب ٣ میں ہے۔ ”اور آسمان پر کوئی نہیں چڑھا سوائے اس کے جو آسمان سے اترا یعنی ابن آدم جو آسمان میں ہے۔“

(یوحنا باب ٣ آیت ١٣)

اور باب ٦ میں ہے۔ ”پس جو معجزہ اس نے دکھایا وہ لوگ اسے دیکھ کر کہنے لگے جو ”نبی“ دنیا میں آنے والا تھا فی الحقیقت یہی ہے۔“

(یوحنا باب ٦ آیت ١٤)

اور انجیل متی میں ہے۔ ”لیکن اس لیے کہ تم جان لو کہ ابن آدم (مسیح) کو زمین پر گناہوں کے معاف کرنے کا اختیار ہے۔“

(متی باب ٩ آیت ٦)

علاوہ ازیں اگر عہد نامہ جدید میں حضرت مسیح علیہ السلام کے لیے ”ابن“ کا اطلاق موجود ہے تو نیکوکار انسانوں پر بھی ”ابناء اللہ“ اور بدکاروں کے لیے ”ابناء ابلیس“ کا اطلاق پایا جاتا ہے چنانچہ انجیل متی میں ہے۔

(باب ٥ آیت ٩)

”مبارک ہیں وہ جو صلح کراتے ہیں کیونکہ وہ ”خدا کے بیٹے“ کہلائیں گے۔“

(متی باب ٥ آیت ٩)

اور انجیل یوحنا میں ہے۔ ”یسوع نے ان سے کہا۔ اگر تم ابراہیم کے فرزند ہوتے تو ابراہیم کے سے کام کرتے...... انھوں نے اس سے کہا ہم حرام سے پیدا نہیں ہوئے ہمارا ایک باپ ہے یعنی خدا۔

(یوحنا باب ٨ آیت ٤٠، ٤١)

لہٰذا عقیدۂ تثلیث میں نصاریٰ کے لیے موجودہ کتاب مقدس سے بھی کوئی حجت و دلیل نہیں ملتی اور اس لیے بغیر کسی شک و ریب کے یہ کہنا حق ہے کہ یہ عقیدۂ

١٦١

صفحہ ٣٨٨

تثلیث صنم پرستانہ عقائد کے امتزاج کا نتیجہ ہے۔

لائق توجہ بات

یہ بات کبھی فراموش نہیں ہونی چاہیے کہ ادیان و ملل سابقہ کے مسخ و تحریف میں تحریف کرنے والوں کو اس سے بہت زیادہ مدد ملی کہ بنیادی عقائد میں صراحت اور وضاحت کی جگہ وقت کے معبروں ،مفسروں اور ترجمانوں نے کنایات، استعارات اور تشبیہات سے بہت زیادہ کام لیا۔ ان تعبیرات کا نتیجہ یہ نکلا کہ جب ان مذاہب حق کا صنم پرستوں اور فلسفیوں سے واسطہ پڑا اور انھوں نے کسی نہ کسی طرح اس دین حق کو قبول کر لیا تو اپنے فلسفیانہ اور مشرکانہ افکار و خیالات کے لیے ان ہی استعارات و تشبیہات کو پشت و پناہ بنایا اور آہستہ آہستہ ملت حقیقی کی شکل وصورت بدل کر اس کو معجون مرکب بنا ڈالا، اس حقیقت کے پیش نظر قرآن عزیز نے وجود باری، توحید، رسالت، الہامی کتب، ملائکۃ اللہ، غرض بنیادی عقائد میں ذو معنی الفاظ، پر پیچ تشبیہات اور توحید میں خلل انداز استعارات و کنایات کی بجائے واضح، صریح اور غیر مبہم اطلاقات کو اختیار کیا ہے تاکہ کسی ملحد، زندیق اور مشرک فلسفی کو توحید خالص میں شرک اور اوہام و ظنون کی نکتہ آفرینیوں کا موقعہ ہاتھ نہ آنے پائے اور اگر کوئی شخص اس کے باوجود بھی بے جا جسارت کرے تو خود قرآن عزیز کی نصوص صریحہ ہی اس کے الحاد کو پاش پاش کر دیں۔

کفارہ؟ موجودہ مسیحیت کا دوسرا عقیدہ جس نے دین مسیحی کی حقیقت کو برباد کر ڈالا ”کفارہ“ کا عقیدہ ہے، اس کی بنیاد اس تخیل پر قائم ہے کہ تمام کائنات ”جس میں نیکو کار اور انبیاء و رسل سب ہی شامل ہیں“ ابتداء آفرینش سے ہی گنہگار ہے، آخر رحمت الہی کو جوش آیا اور اس کی مشیت نے ارادہ کیا کہ ”بیٹے“ کو کائنات ارضی میں بھیجے اور وہ مصلوب ہو کر اوّل و آخر تمام کائنات کے گناہوں کا کفارہ ہو جائے اور اس طرح دنیا کو نجات اور مکتی حاصل ہو سکے، لیکن اس عقیدہ کے قوام بنانے کے لیے چند ضروری اجزاء کی ضرورت تھی جن کے بغیر یہ عمارت کھڑی نہیں کی جاسکتی تھی اس لیے ”عہد پولس“ میں سب سے پہلے مسیحیت نے یہودیت کے اس عقیدہ کو تسلیم کر لیا کہ ان کو صلیب پر بھی چڑھایا گیا اور مار بھی ڈالا گیا اور اس کو شرف قبولیت دینے کے بعد دوسرا قدم یہ اٹھایا کہ ”الوہیت“ کے باوجود مسیح کا صلیب پانا اور قتل ہونا اپنے لیے نہیں بلکہ کائنات کی نجات کے لیے تھا، چنانچہ جب اس پر یہ حادثہ گزر گیا تو اس نے پھر الوہیت کی چادر اوڑھ لی اور عالم لاہوت میں باپ اور بیٹے کے درمیان دوبارہ لاہوتی رشتہ قائم ہو گیا۔

١٦٢

صفحہ ٣٨٩

پس جس مذہب میں خدائے برتر کے ساتھ صحت عقیدہ اور نیک عملی مفقود ہو کر نجات کا دار و مدار عمل و کردار کی بجائے ”کفارہ“ پر قائم ہو جائے اس کا حشر معلوم؟

قرآن نے اسی لیے جگہ جگہ یہ واضح کیا ہے کہ نجات کے لیے عقیدہ کی صحت یعنی صحیح خدا پرستی اور نیک عملی کے ماسوا کوئی دوسری راہ نہیں ہے اور جو شخص بھی اس ”راہ مستقیم“ کو ترک کر کے خوش عقیدگی اور اوہام و ظنون کو اسوۂ بنائے گا اور نیک عملی اور صحیح خدا پرستی پر گامزن نہ ہوگا وہ بلاشبہ گمراہ ہے اور راہ مستقیم سے یکسر محروم۔

ان الذین امنوا والذین ھادوا و النصاریٰ والصابئین من امن باللہ و الیوم الآخر و عمل صالحاً فلھم اجرھم عند ربھم ولا خوف علیھم ولاھم یحزنون۔

(بقرہ ٦٢)

جو لوگ اپنے کو مومن کہتے ہیں اور جو یہودی ہیں اور جو نصاریٰ ہیں اور جو صابی ہیں ان میں سے جو بھی اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان لے آیا اور اس نے نیک عمل کیے تو یہی وہ لوگ ہیں جن کا اجر ان کے پروردگار کے پاس ہے، نہ ان پر خوف طاری ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔

یعنی قرآن کی دعوت اصلاح ادیان وملل کا مقصد یہ نہیں ہے کہ یہودی، نصرانی صابی گروہوں کی طرح ایک نیا گروہ مومنوں کے نام سے اس طرح اضافہ کر دے کہ گویا وہ بھی ایک قومی، نسلی یا ملکی گروہ بندی ہے کہ خواہ اس کی خدا پرستانہ زندگی اور عملی زندگی کتنی ہی غلط اور برباد ہو یا سرے سے مفقود ہو مگر اس گروہ بندی کا فرد ہونے کی وجہ سے ضرور کامیاب اور خدا کی جنت ورضا کا مستحق ہے، قرآن کا مقصد ہرگز یہ نہیں ہے بلکہ وہ یہ اعلان کرنے آیا ہے کہ اس کی دعوت حق سے پہلے کوئی شخص کسی بھی گروہ اور مذہبی جماعت سے تعلق رکھتا ہو اگر اس نے (قرآن کی تعلیم حق) کے مطابق خدا پرستی اور نیک عملی کو اختیار کر لیا ہے تو بلاشبہ وہ نجات یافتہ اور کامیاب ہے ورنہ تو وہ اگر مسلمان گھر میں پیدا ہوا، پلا اور بڑھا اور اسی سوسائٹی میں زندگی گزار کر مر گیا مگر قرآن کی دعوت حق کے مطابق خدا پرستی اور نیک عملی دونوں سے محروم رہا یا مخالف تو اس کے لیے نہ کامیابی ہے اور نہ فوز و فلاح۔

باقی رہا مسیحیت کے کفارہ کا خصوصی مسئلہ تو قرآن نے اس کے ابطال اور اس کی تردید کے لیے یہ راہ اختیار کی کہ جن بنیادوں پر اس کو قائم کیا گیا تھا ان کی ہی جڑ کاٹ دی۔ چنانچہ گذشتہ سطور میں صلیب اور قتل مسیح کے انکار اور رفع الی السماء کے اثبات کے مبحث میں اس پر کافی روشنی پڑ چکی ہے۔

١٦٣

PDF 390

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوۃ

ملت اسلامیہ کی بین الاقوامی تنظیم ہے

جو حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ نے قائم فرمائی ، مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ

نے چار چاند لگائے اور شیخ الاسلام حضرت مولانا محمد یوسف بنوریؒ نے اس تحریک کو کامیابی سے

ہمکنار کیا اور اب شیخ المشائخ حضرت مولانا خان محمد دامت برکاتہم کی قیادت میں قادیانیت کے

خاتمہ کی مہم پر ہے۔

اغراض و مقاصد

اسلام کی دعوت و تبلیغ ، ناموس ختم نبوت کی پاسبانی، قادیانیت و فتنہ ارتداد کی سرکوبی،

باطل فتنوں کا مقابلہ مجلس کا عظیم اور مقدس مقصد ہے ، قادیانیوں کے سامراجی آقاؤں کی سرپرستی میں مستشرقین کی

شکل میں مسلمانوں کو گمراہ کرنے کے لیے اربوں کھربوں کے منصوبے شروع کرنے کے پیش نظر

مجلس تحفظ ختم نبوت کی ذمہ داریوں میں کئی گنا اضافہ ہوگیا ہے ، اندرون و بیرون ملک مجلس کے مبلغ ، دفاتر، مدارس،

مساجد ان ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونے کیلئے وقف ہیں مجلس کا سالانہ میزانیہ کئی لاکھ کا ہے ، لاہور، کراچی

کا صرف لٹریچر اندرون و بیرون ملک تقسیم کیا جاتا ہے ، جامع مسجد ربوہ ، جامع مسجد کراچی اور دیگر شہروں میں مجالس کے

تعمیراتی منصوبے تشنہ تکمیل ہیں چونکہ لندن اور دوسرے ممالک میں بھی دفاتر قائم کیے جارہے

ہیں ، اندرون و بیرون ملک قادیانیوں کے ساتھ مقدمات کی وجہ سے مجلس کی ذمہ داریاں بہت بڑھ

گئی ہیں ختم نبوت کی خدمت اور مالی اعانت اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی

شفاعت کا ذریعہ ہے۔ آنجناب سے توقع رکھتے ہیں کہ آپ اس کارخیر میں ضرور شریک ہونگے

واجرکم علی اللہ ۔ والسلام علیکم ورحمۃ اللہ

فقیر خان محمد امیر مرکزیہ ، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوۃ ، حضوری باغ روڈ ملتان

پاکستان ، فون ٤٠٩٧٨

PDF 391

خاتم النبیین لا نبی بعدی

میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔

مسئلہ ختم نبوت

حضرت مولانا سید شمس الحق افغانیؒ

صفحہ ٣٩٢

ختم نبوت

ختم نبوت کا مسئلہ اسلامی تاریخ کے کسی دور میں مشکوک و مشتبہ نہیں رہا اور نہ اس پر بحث کی ضرورت سمجھی گئی لیکن برصغیر پاک و ہند میں انگریزی حکومت نے اپنے مفاد اور تاریخی اسلام دشمنی کی تکمیل کے لیے اسلام کے اس مرکزی عقیدہ پر ضرب لگانا ضروری سمجھا تاکہ مسلمانوں کی وحدت کو ختم کیا جائے۔ اس سازش کی تکمیل کے لیے انگریزوں کو (بھارتی) پنجاب کے ضلع گورداسپور (بستی قادیان) سے ایک ایسا شخص ہاتھ آیا جو اس مقصد کی تکمیل کے لیے موزوں تھا۔ اس نے انگریزوں کی حمایت کے تحت اپنی امت بنائی اور نئی نبوت کی بنیاد ڈالی اور بہت سی کتابیں لکھیں۔ ان کتابوں کے بنیادی مقصد تین ہیں۔

یہی اس کی ساری کارروائی کا خلاصہ ہے۔ بقول اقبال مرحوم ع

سلطنت اغیار را رحمت شمرد
رقصہائے گرد کلیسا کرد و مرد

(غیروں (انگریز) کی حکومت کو اللہ تعالیٰ کی رحمت قرار دیا۔ کلیسا کے گرد ناچتا ہوا مر گیا)

اس لیے ناواقف مسلمانوں کے ایمان بچانے کے لیے ضروری ہوا کہ ختم نبوت پر کچھ عرض کریں۔ اسلام کو ایک عمارت سمجھو اور اہم عمارت کے تین نقشے ہوتے ہیں۔ جن کو انجینئر مرتب کرتا ہے۔

١۔ ذہنی و فکری نقشہ ٢۔ تحریری و کتابتی نقشہ ٣۔ خارجی نقشہ

٢

صفحہ ٣٩٣

اسلام عقائد، اخلاق و عبادات کی ایک عمارت تھی جس کا پورا نقشہ علم الہی میں منضبط تھا۔ پھر اس نقشہ کو کتاب وسنت میں منضبط کیا گیا۔ جو عمارت اسلام کی گویا تحریری شکل تھی۔ پھر مسلمانوں کا تقریباً چودہ سو سال کا مسلسل عمل اس نقشہ اور عمارتِ اسلام کا خارجی وجود تھا۔ یہ تینوں وجود باہمی متفق ہوتے آئے ہیں۔ اللہ کے علم میں اسلام کی جو حقیقت تھی وہ ہی قرآن و حدیث میں نمودار ہوئی اور قرآن و حدیث میں اسلام کی جو حقیقت تھی وہی مسلمانوں کے ذہن و فکر میں متواتر نسلاً بعد نسل منتقل ہوتی گئی۔ اسلام کے بنیادی امور میں مسلمانوں نے اختلاف نہیں کیا اگر چہ دیگر امور میں اختلاف رہا۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام میں بہت فرقے پیدا ہوئے لیکن آج تک انھوں نے ختم نبوت کی بنیادی حقیقت میں کسی قسم کا اختلاف نہیں کیا۔ البتہ اسلام اور اسلام کے سرچشموں یعنی کتاب وسنت سے الگ ہو کر انکار کیا جا سکتا تھا اور کیا گیا۔ اب ہم اس مسئلہ پر دو پہلوؤں سے بحث کریں گے۔ ١۔ نقل۔ ٢۔ عقل۔

نقل میں تین امور زیر بحث آئیں گے۔ ١۔ کتاب یعنی قرآن اور ختم نبوت۔

٢۔ حدیث اور ختم نبوت۔ ٣۔ اجماع اور ختم نبوت۔

اس کے بعد ختم نبوت کے عقلی پہلو کو بیان کریں گے۔

١۔ قرآن اور ختم نبوت

قرآن حکیم کی ایک سو سے زائد آیات میں مسئلہ ختم نبوت بیان کیا گیا ہے۔ ہم نظر بہ اختصار چند آیات کا انتخاب کرتے ہیں۔ پہلی آیت ختم نبوت ہے جو سورۂ احزاب میں ہے۔ مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ ط وَكَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمًا (احزاب ٤٠) یہ آیت بالخصوص ختم نبوت پر دال ہے۔ ترجمہ یہ ہے۔ ”محمدﷺ باپ نہیں کسی کا تمھارے مردوں میں سے لیکن رسول ہے اللہ کا اور مہر سب نبیوں پر۔“ یعنی آپﷺ کی تشریف آوری سے نبیوں کے سلسلے پر مہر لگ گئی۔ اب کسی کو نبوت نہیں دی جائے گی۔ بس جن کو ملنی تھی مل چکی۔ اس لیے آپﷺ کی نبوت کا دور سب نبیوں کے بعد رکھا جو قیامت تک چلتا رہے گا۔ حضرت مسیح علیہ السلام بھی آخری زمانے میں بحیثیت آپﷺ کے ایک امتی کے آئیں گے جیسے تمام انبیاء اپنے اپنے مقام پر موجود ہیں مگر شش جہت میں عمل صرف نبوتِ محمدیہ کا جاری و ساری ہے اور اللہ سب چیزوں کو جاننے والا ہے یعنی یہ بھی جانتا ہے کہ زمانہ ختم نبوت اور محل ختم نبوت کونسا ہے۔ خاتم تاء کے کسرہ کے ساتھ اکثر قراء کی قرأت ہے اور

٣

صفحہ ٣٩٤

فتح تا کے ساتھ حسن و عاصم کی قرأت ہے۔ پہلی قرأت کے بموجب خاتم النبیین کا معنی سب نبیوں کو ختم کرنے والا اور فتح والی قرأت کا معنی سب نبیوں پر مہر۔ دونوں قرأتوں کا مطلب ایک ہے وہ یہ کہ آپ ﷺ آخری نبی ہیں اور آپ ﷺ کے بعد عطاء نبوت کا دروازہ بند ہے کیونکہ مہر کا معنی بندش نبوت بیان کرنے کا ایک بلیغ پیرایہ ہے جس پر خود قرآن، سنت، لغت عربیہ متفق ہیں۔ قرآن نے ان کافروں کے متعلق جن کے نصیب میں ایمان نہیں تھا، ان کے حق میں بندش ایمان کو بلفظ مہر بیان کیا۔ فرمایا۔

إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوْا سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ ءَاَنْذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ ۝ خَتَمَ اللَّهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ وَعَلَى سَمْعِهِمْ ط (بقرہ ٦، ٧)

یقیناً کچھ خاص لوگ ایسے کافر ہیں کہ خواہ تو ڈرائیں یا نہ ڈرائیں، وہ ایمان نہیں لائیں گے کیونکہ مہر لگ چکی ہے ان کے دلوں اور کانوں پر۔

اگر مہر کی تعبیر سے یہاں ایمان کا دروازہ بند ہوا تو آیت خاتم النبیین میں نبوت کا دروازہ بند ہونا ضروری ہے۔ صاحب قرآن نے خود آیت کی تفسیر کی ہے۔ مسلم میں ابو ہریرۃ اور ابو داؤد و ترمذی میں ثوبان سے مرفوعاً روایت ہے کہ قیامت سے قبل دجالون، کذابون نبوت کا دعویٰ کریں گے وَاَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّنَ لَا نَبِيَّ بَعْدِی.

(ترمذی ج ٢ ص ٤٥ باب لا تقوم الساعۃ حتی یخرج کذابون)

حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں میرے بعد کسی کو نبوت نہیں مل سکتی۔ یہی الفاظ حذیفہؓ سے طبرانی و احمد نے مرفوعاً نقل کیے ہیں۔ بخاری و مسلم میں بروایۃ ابو ہریرہؓ نبوت کو ایک ایسے گھر سے تشبیہ دی ہے جس کی تعمیر میں ہر نبی کی نبوت بطور ایک خشت کے لگ گئی اور تکمیل عمارت میں صرف ایک خشت کی جگہ خالی تھی۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں فَاَنَا هٰذِهِ اللَّبِنَةُ وَ اَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّنَ (بخاری ج ١ ص ٥٠١ باب خاتم النبیین) ابو ہریرہؓ سے مرفوعاً حضور ﷺ کی چھ خصوصیات ذکر ہیں۔ ان میں چھٹی خصوصیت وَ خُتِمَ بِیَ النَّبِيُّوْنَ.

(مسلم ج ١ ص ١٩٩ کتاب المساجد و مواضع الدعوۃ)

یعنی مجھ پر پیغمبری کا سلسلہ ختم ہوا (رواہ مسلم فی الفضائل) ابن ماجہ نے باب فتنۃ الدجال ص ٢٩٧ میں ابو امامۃ سے مرفوعاً روایت نقل کی ہے وَاَنَا آخِرُ الْاَنْبِيَاءِ وَاَنْتُمْ آخِرُ الْاُمَمِ. یعنی میں آخری نبی ہوں اور تم آخری امت ہو۔ اسی طرح صحیحین میں حضور ﷺ کا حضرت علیؓ کو یہ فرمانا کہ اَنْتَ مِنِّی بِمَنْزِلَةِ هَارُوْنَ مِن موسى اِلَّا اِنَّه لَا نَبِيَّ بَعْدِی. (مسلم ج ٢ ص ٢٧٨ باب فضائل علیؓ) یعنی تیرا تعلق مجھ سے وہ ہے جو حضرت

٤

صفحہ ٣٩٥

ہارون کو موسیٰ علیہ السلام سے تھا بجز اس کے کہ ہارون نبی تھے اور میرے بعد نبی نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح صحیحین کی یہ روایت کہ لَمْ يَبْقَی مِنَ النُّبُوَّةِ إِلَّا المبشرات .

(بخاری ج ٢ ص ١٠٣٥ باب مبشرات)

کہ نبوت میں سے کوئی چیز باقی نہیں رہی بجز سچے خوابوں کے۔ آیت ختم کے متعلق خود مرزا قادیانی لکھتے ہیں ”مگر وہ رسول اللہ ہے ختم کرنے والا ہے نبیوں کا۔“ یہ آیت بھی صاف دلالت کر رہی ہے کہ بعد ہمارے نبی ﷺ کوئی رسول دنیا میں نہیں آئے گا۔ (ازالہ اوہام ص ٦١٤ خزائن ج ٣ ص ٤٣١) نیز مرزا قادیانی لکھتے ہیں الا تعلم ان الرب الرحیم المتفضل سمّٰی نَبِيَّنَا صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمَ الْاَنْبِيَاءِ بِغَيْرِ اسْتِثْنَاءِ وَفَسَّرَ نَبِيَّنَا فِیْ قَوْلِهٖ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ بِبَيَانٍ وَاضِحٍ لِلطَّالِبِیْن. (حمامۃ البشریٰ ص ٢٠ خزائن ج ٧ ص ٢٠٠)

”ہمارے نبی ﷺ نے خَاتَمَ النَّبِیِّیْن کی تفسیر لا نبی بعدی کے ساتھ فرمائی کہ میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا اور طالبین حق کے لیے یہ بات واضح ہے۔“ گویا حدیث لا نبی بعدی میں لا نفی کو عام تسلیم کیا ہے۔ (ایام الصلح ص ١٤٦ خزائن ج ١٤ ص ٣٩) مرزا قادیانی لکھتے ہیں۔

”آنحضرت نے بار بار فرما دیا تھا کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور حدیث لا نبی بعدی ایسی مشہور تھی کہ کسی کو اس کی صحت میں کلام نہ تھا اور قرآن شریف جس کا لفظ لفظ قطعی ہے اپنی آیت کریمہ ولکن رَسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّيْنَ سے بھی اس کی تصدیق کرتا تھا کہ فی الحقیقت ہمارے نبی کریم پر نبوت ختم ہو چکی ہے۔“

(ص ١٩٩ کتاب البریہ خزائن ج ١٣ ص ٢١٧)

مرزا قادیانی مزید لکھتے ہیں۔

رہ ہست او خیر الرسل خیر الانام
ہر نبوت را برو شد اختتام

(سراج منیر ص ٣ خزائن ج ١٢ ص ٩٥)

ان تصریحات کے بعد اس امر میں کیا کوئی شبہ باقی رہ سکتا ہے کہ آیت مذکورہ ختم نبوت میں قطعی الثبوت ہونے کے علاوہ قطعی الدلالت بھی ہے۔

لفظ خاتم النبیین اور لغت عرب

روح المعانی میں ہے کہ خاتم ما یختم بہ کو کہا جاتا ہے جیسے طابع ما یطبع بہ کو کہا جاتا ہے فمعنی خَاتَمَ النَّبِيِّيْنَ الَّذِیْ خُتِمَ النَّبِيُّوْنَ بِهٖ ومعناہ آخِرُ النَّبِيِّيْنَ.

(روح المعانی ج ٢٢ ص ٣٢)

| ٥ |

صفحہ ٣٩٦

النُّبُوَّةَ الخ.

مِنْ اَسْمَائِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَهُوَ الَّذِيْ خَتَمَ النُّبُوَّةَ بِمَجِيئِهِ.

نَبِیَّ بَعْدِیْ.

مِنْ كُلِّ شَیْءٍ عَاقِبَتُهُ وَاٰخِرُهُ.

الْقَوْمِ ثُمَّ قَالَ وَنَفْیُ الْاَعَمِّ يَسْتَلْزِمُ نَفْیَ الْاَخَصِّ.

وَخَاتِمَةُ الشَّیْءِ اٰخِرُهُ وَمُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ خَاتَمُ الْاَنْبِيَاءِ.

لفظ خاتم النبیین ومفسرین کرام

قرآن حکیم کی جس قدر تفاسیر عہد صحابہ سے لے کر عہد مرزا تک لکھی گئی ہیں یا بعد عہد مرزا یا قرآن کے جس قدر تراجم کیے گئے ہیں سب نے خاتم النبیین کی تفسیر و تشریح یہ کی ہے کہ حضور ﷺ کے بعد کسی کو نبوت نہیں مل سکتی لیکن جس گورداسپوری کو نبی بننے کی سوجھی، صرف اس نے وہ بھی اوّل میں نہیں بلکہ آخر میں اپنا عقیدہ دربارۂ ختم نبوت اور اپنی تشریح ختم نبوت کو بدل ڈالا تا کہ نبی بننے کی گنجائش نکل آئے جس سے اس کو خلافِ امید کامیابی ہوئی۔ اس کا اپنا بیان ہے کہ مجھے یہ گمان نہ تھا کہ مسلمان اس چیز کو قبول کریں گے کہ نبوت جاری ہے لیکن انگریز تعلیم اور انگریزی حکومت کی حمایت اور زوال فہم و عظمتِ دین نے ناشدنی کو شدنی بنایا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ یہاں تک کہ اس مصنوعی نبوت نے ایک کامیاب اور نفع بخش فیکٹری کی شکل اختیار کی اور مرتد سازی کا نام تبلیغ اسلام رکھ کر اس فیکٹری کی آمدنی میں خوب اضافہ کیا گیا۔ دوسری طرف اس نبوت کے ماننے والوں پر عہدوں اور تنخواہوں کی بارش ہونے لگی جس نے انھیں یہ

٦

صفحہ ٣٩٧

احساس دلایا کہ یہ سب کچھ اس خود ساختہ نبوت پر ایمان لانے کی برکت ہے یا بالفاظ دیگر مرزا کا معجزہ ہے جس سے مسلمانوں کی اکثریت محروم ہے۔ اگر حالات اور ہماری غفلت کی رفتار یہی رہی تو عجب نہیں کہ مسلمانوں کو ایک اور اسرائیل سے دوچار ہونا پڑے گا لیکن اس وقت کوئی تدبیر کارگر نہ ہو گی۔

کشوری محکم اساسے بایدت
دیدۂ مردم شناسے بایدت
مرشد رومی حکیم پاک زاد
سر مرگ و زندگی برما کشاد
ہر ہلاک امت پیشیں کے بود
زانکہ برجندل گماں بردند عود ۔اقبال

وَلَكِنَّهُ رَسُوْلُ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيّٖنَ الَّذِيْ خَتَمَ النُّبُوَّةَ فَطَبَعَ عَلَيْهَا فَلَا تُفْتَحُ لِاَحَدٍ بَعْدَهُ اِلٰی قِيَامِ السَّاعَةِ ...... وَبِنَحْوِ الَّذِيْ قُلْنَا وَفِی ذَالِكَ قَالَ اَهْلُ التَّاوِيْلِ .

(ج ٢٢ ص ١٦ زیر آیت خاتم النبیین)

یعنی آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور خاتم النبیین جس نے نبوت کو ختم کیا اور اس پر مہر لگا دی پس وہ آپ ﷺ کے بعد کسی پر نہ کھولی جائے گی قیامت کے قائم ہونے تک اور ایسا ہی آئمہ تفسیر، صحابہ و تابعین نے فرمایا۔

بِكَسْرِ التَّاءِ (مِنْ خَاتَمِ النَّبِيّٖنَ) بِمَعْنٰی اِنَّهُ الَّذِي خَتَمَ الانبیاء وَقُرِءَ ذَالِكَ فِيْمَا يُذْكَرُ الْحَسَنُ وَالْعَاصِمُ وَخَاتَمَ النَّبِيّٖنَ بِفَتْحِ التَّاءِ بِمَعْنَی اِنَّهُ آخِرُ النَّبِيّٖنَ .

(ج ٢٢ ص ١٦ زیر آیت خاتم النبیین)

خاتم النبیین بکسر التاء اس معنی میں کہ آپ ﷺ نے تمام انبیاء کو ختم کر دیا اور جیسا کہ منقول ہے قراء میں سے حسن اور عاصم نے اس کو بفتح التاء پڑھا ہے اس معنی میں کہ آپ آخر النبیین ہیں۔

فَهٰذِهِ الْاٰيَةُ نَصٌّ فِیْ اِنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدَهُ وَاِذَا كَانَ لَا نَبِيَّ بَعْدَهُ فَلَا رَسُوْلَ بَعْدَهُ بِالطَّرِيْقِ الْاَوْلٰی لِاَنَّ مَقَامَ الرِسَالَةِ اَخَصُّ مِنْ مَقَامِ النُّبُوَّةِ فَاِنَّ كُلَّ رَسُوْلٍ نَبِيٌّ

٧

صفحہ ٣٩٨

وَلَا يَنْعَكِسُ وَبِذَالِكَ وَرَدَتِ الْأَحَادِيثُ الْمُتَوَاتِرَةُ مِنْ رَسُولِ اللهِ مِنْ حَدِيثِ جَمَاعَةٍ مِنَ الصَّحَابَةِ.

(ابن کثیر ج ٦ ص ٣٨١ زیر آیت خاتم النبیین)

یہ آیت نص صریح ہے کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں ہو سکتا جب کوئی نبی نہ ہو تو رسول بدرجہ اولیٰ نہ ہوگا کیونکہ رسالت نبوۃ سے خاص ہے۔ ہر رسول کا نبی ہونا ضروری ہے اور ہر نبی کا رسول ہونا ضروری نہیں۔ اس پر رسول اللہ ﷺ کی احادیث متواترہ وارد ہوئی جو صحابہ کی بڑی جماعت نے آپ ﷺ سے نقل کی ہے۔ آگے لکھتے ہیں۔

لِيَعْلَمُوْا أَنَّ مَنْ كُلَّ مَنِ ادَّعَى هَذَ الْمَقَامَ بَعْدَهُ فَهُوَ كَذَّابٌ أَفَّاكٌ دَجَّالٌ ضَالٌّ مُضِلٌّ.

(ج: ٨ ص ٩١)

تاکہ امت جان لے تاکہ آپ ﷺ کے بعد ہر وہ شخص جو اس مقام کا (نبوت) کا دعویٰ کرے وہ جھوٹا افتراء پرداز اور دجال اور گمراہ و گمراہ کنندہ ہے۔

خَاتَمُ بِفَتْحِ التَّاءِ بِمَعْنَى الطَّابِعِ وَبِكَسْرِهَا بِمَعْنَى الطَّابِعِ وَفَاعِلُ الْخَتْمِ وَتُقَوِّيْهِ قِرَاءَةُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَ لَكِنْ نَّبِيًّا خَتَمَ النَّبِيِّنَ فَإِنْ قُلْتَ كَيْفَ كَانَ اخِرَ الْاَنْبِيَاءِ وَعِيْسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ يَنْزِلُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ قُلْتُ مَعْنَى كَوْنِهِ آخِرَ الْاَنْبِيَاءِ أَنَّهُ لَا يُنَبَّأُ اَحَدٌ بَعْدَهُ وَ عِيْسَى مِمَّنْ نُبِّئَ قَبْلَهُ.

(کشاف ج ٣ ص ٥٤٤‘ ٥٤٥ زیر آیت خاتم النبیین)

خاتم بفتح التاء بمعنی المہر وبکسر التاء بمعنی مہر کرنے والا اور اس معنی کی تقویت کرتی ہے۔ ابن مسعودؓ کی قرأت ولکن نبیا ختم النبیین ۔ اگر آپ یہ کہیں کہ آپ خاتم الانبیاء کس طرح ہو سکتے ہیں اور عیسیٰ علیہ السلام آخر زمان میں آسمان سے اتریں گے۔ جواب یہ ہے کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی شخص نبی نہ بنایا جائے گا اور عیسیٰ ان لوگوں میں سے ہیں جو آپ ﷺ سے پہلے نبی بنا کر بھیجے گئے۔

وَالْمُرَادُ بِالنَّبِيِّ مَاهُوَ اَعَمُّ مِنَ الرَّسُوْلِ فَيَلْزَمُ مِنْ كَوْنِهِ خَاتَمَ النَّبِيِّنَ كَوْنُهِ خَاتَمَ الْمُرْسَلِيْنَ وَالْمُرَادُ بِكَوْنِهِ خَاتَمَهُمْ إِنْقِطَاعُ حُدُوثِ وَصْفِ النُّبُوَّةِ فِي أَحَدٍ مِنَ الثَّقَلَيْنِ بَعْدَ تَحَلِّيْهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ بِهَا فِي هَذِهِ النَّشْأَةِ وَلَا يَقْدَحُ فِي ذَالِكَ مَا اَجْمَعَتْ عَلَيْهِ الْأُمَّةِ وَاشْتَهَرَتْ فِيهِ الْأَخْبَارُ وَلَعَلَّهَا بَلَغَتْ مَبْلَغَ التَّوَاتُرِ الْمَعْنَوِيِّ وَنَطَقَ بِهِ الْكِتَابُ عَلَى قَوْلٍ وَّ وَجَبَ الْإِيْمَانُ بِهِ وَاكْفَرَ مُنْكِرُهُ كَالْفَلَاسِفَةِ مِنْ

٨

صفحہ ٣٩٩

نُزُوْلِ عِيْسَىٰ عَلَيْهِ السَّلَامُ آخِرَ الزَّمَانِ لِأَنَّهُ كَانَ نَبِيًّا قَبْلَ تَحَلِّيْ نَبِيِّنَا بِالنُّبُوَّةِ فِيْ هٰذِهِ النَّشْأَةِ.

(روح المعانی ج ٢٢ ص ٣٢ زیر آیت خاتم النبیین)

آنحضرت ﷺ کے خاتم النبیین ہونے سے مراد یہ ہے کہ آپ ﷺ کے اس عالم میں وصف نبوت سے متصف ہونے کے بعد نبوت کا پیدا ہونا منقطع ہو گیا اور ختم نبوت اس عقیدہ سے معارض نہیں۔ جس پر امت نے اجماع کیا اور جس میں احادیث شہرت کو پہنچی اور شاید درجہ تواتر معنوی کو پہنچ جائیں اور جس پر قرآن نے تصریح کی ہے اور جس پر ایمان لانا واجب ہے اور اس کے منکر فلاسفہ کو کافر سمجھا گیا۔ یعنی نزول عیسیٰ علیہ السلام سے وصف نبوت سے متصف ہونے سے پہلے وصف نبوت سے متصف ہو چکے تھے۔

خَاتَمَ النَّبِيّٖنَ بِفَتْحِ التَّاءِ عَاصِمٌ بِمَعْنَى الطَّابِعِ اَىْ آخِرُهُمْ اَىْ لَا نُبِّئَ اَحَدٌ بَعْدَهُ وَعِيْسَىٰ مِمَّنْ نُبِّئَ قَبْلَهُ وَغَيْرُهُ بِكَسْرِ التَّاءِ بِمَعْنَى الطَّابِعِ وَفَاعِلِ الْخَتْمِ وَتُقَوِّيْهُ قِرَاءَةُ ابْنِ مَسْعُوْدٍ.

عاصم کی قرأت میں بفتح التاء بمعنی الطابع جس سے مراد آخر ہے اور عیسیٰ علیہ السلام آپ سے پہلے نبی بنائے گئے اور عاصم کے بغیر سب قراء کے نزدیک بکسر التاء بمعنی مہر کرنے والا اور ختم کرنے والا جس کی ابن مسعودؓ کی قرأت تائید کرتی ہے۔

کے معنی آخری نبی کے ہیں۔ (ج ٥ ص ٢٦٧) یہی معنی تفسیر بحر المحیط ج ٧ ص ٢٣٦ اور ابو السعود برحاشیہ تفسیر کبیر ص ٦٨٨ میں لکھا ہے۔

لکھتے ہیں۔

مَنِ ادَّعٰى مِنْهُمْ أَنَّهُ يُوْحٰى إِلَيْهِ وَإِنْ لَّمْ يَدَّعِ النُّبُوَّةَ فَهٰؤُلَاءِ كُلُّهُمْ كُفَّارٌ مُكَذِّبُوْنَ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَنَّهُ أَخْبَرَ أَنَّهُ خَاتَمَ النَّبِيّٖنَ وَلَا نَبِيَّ بَعْدَهُ وَأَخْبَرَ عَنِ اللّٰهِ أَنَّهُ خَاتَمُ النَّبِيّٖنَ وَأَنَّهُ أُرْسِلَ إِلَى كَافَّةِ النَّاسِ وَأَجْمَعَتِ الْأُمَّةُ عَلَى حَمْلِ هٰذَا الْكَلَامِ عَلَى ظَاهِرِهٖ وَأَنَّ مَفْهُوْمَهُ الْمُرَادُ بِهٖ دُوْنَ تَأْوِيْلٍ وَّلَا تَخْصِيْصٍ فَلَا شَكَّ فِيْ كُفْرِ هٰؤُلَاءِ الطَّوَائِفِ قَطْعًا إِجْمَاعًا وَّ سَمْعًا.

جو وحی کا دعویٰ کرے اگرچہ نبوت کا دعویٰ نہ کرے تو یہ سب گروہ کفار ہیں پیغمبر ﷺ کو جھٹلانے والے، جس نے خبر دی کہ وہ آخری نبی ہیں اور ان کے بعد کوئی نبی

٩

صفحہ ٤٠٠

نہیں ہو سکتا اور وہ سب لوگوں کی طرف بھیجے گئے ہیں اور آپ ﷺ کے ظاہری معنی پر بلا تاویل و تخصیص محمول ہونے پر امت متفق ہے تو اس کے خلاف معنی اختیار کرنے کے کفر میں کوئی شک نہیں۔

٩۔ غزالی لکھتے ہیں۔

ان الامة فهمت بالاجماع من هذه اللفظ ومن قرائن احواله انه افهم عدم نبی بعده ابدا وعدم رسول الله ابدا . وانه ليس فيه تاويل ولا تخصيص فمنكر هذا لايكون الامنكر الاجماع . الاقتصاد ص ١٢٣ المطبعة السادسة.

ترجمہ : امت نے اجماع سے اس لفظ (خاتم النبیین) سے احوال و قرائن سے یہ سمجھا ہے کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی و رسول نہیں اس میں کوئی تاویل و تخصیص نہیں (ختم نبوت) کا منکر اجماع کا منکر ہے۔

اسی طرح تمام کتب تفاسیر میں یہی معنی خاتم النبیین کے بیان ہوئے ہیں اور چونکہ صحابہ سے یہی معنی ختم النبوت فی الآثار میں منقول ہے۔

عمومی انداز میں یہ مسئلہ کہ حضور علیہ السلام کے بعد نبوت کسی کو نہیں دی جا سکتی ایک سو سے زائد آیات قرآن میں ثابت ہے، جن کو ہم آئندہ چند عنوانات کے تحت لائیں گے یہاں قادیانیوں کی چند تحریفات اور شیطانی وساوس کا ازالہ کرنا چاہتے ہیں، جو آیت خاتم النبیین سے متعلق ہیں۔

پہلی تحریف : اگر آیت ختم النبیین کا معنی آخری نبی ہے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول اس کے خلاف ہے۔ اس کا جواب گزر گیا کہ ختم نبوت کا معنی عطاء نبوت کی بندش ہے جس پر مہر لگ گئی ہے لیکن پرانے نبی سے زوال نبوت مراد نہیں لہٰذا دور محمدی میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری ایسی ہے جیسے ایک گورنر کے صوبہ میں دوسرا گورنر آ جائے جو اس گورنر کے احکام کا تابع ہو کر آئے گا بلکہ اگر غور سے دیکھا جائے تو نزول عیسیٰ علیہ السلام دلیل ختم نبوت ہے اگر آئندہ نبوت کا سلسلہ جاری ہوتا تو سابق انبیاء میں سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو لائے جانے کی ضرورت نہ تھی۔ انبیاء علیہم السلام کے سابق تعداد میں سے ایک نبی کو واپس لانا اس امر کی دلیل ہے کہ انبیاء علیہم السلام کی تعداد حضور علیہ السلام کی بعثت پر پوری ہو گئی۔ اس لیے دوبارہ لانے کے لیے سابق انبیاء علیہم السلام میں سے ایک نبی یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا انتخاب کیا گیا۔

تحریف دوم : خاتم النبیین کے معنی مہر کے ہیں یعنی آپ کے بعد آپ کی مہر و تصدیق

١٠

صفحہ ٤٠١

سے انبیاء بنیں گے۔ اس کے لیے اولاً ہم یہ پوچھتے ہیں کہ یہ معنی لغت عربی کی کس کتاب میں لکھا ہے یا کس حدیث میں بیان ہوا ہے یا کونسی تفسیر میں لکھا ہے جب کہ خود قرآن مثلاً خَتَمَ اللّٰهُ عَلٰی قُلُوْبِهِمْ. اَلْیَوْمَ نَخْتِمُ عَلٰۤی اَفْوَاهِهِمْ اور احادیث متواترہ اور اجماع امت میں مہر کے معنی بندشِ نبوت کے ہیں تو مہر کے معنی اس کے خلاف نبوت جاری کرنے کے کیسے ہو سکتے ہیں جب کہ خود مرزا قادیانی نے بندش کے معنی کیے ہیں اور اگر مراد جاری کرنا ہوتا تو اس میں حضور ﷺ کی خصوصیت کیا رہی جبکہ اور پیغمبروں کے بعد بھی نبوت جاری رہی اور آپ کے بعد بھی بلکہ اگر اس سے مراد اجراء نبوت ہوتی تو کم از کم اس تیرہ سو سال میں کئی سو نبی آ جانے چاہیے تھے کہ آپ ﷺ کا یہ کمال خوب ظاہر ہو جائے اور اگر نبوت آپ ﷺ کی اتباع سے ملتی تو نبوت وہبی نہ رہی، کسبی ہو گئی۔ اس کے علاوہ اس صورت میں یہ ماننا پڑے گا کہ تیرہ سو سال میں پیغمبر اسلام کا کوئی متبع کامل پیدا نہ ہوا کہ اس کو اتباع کے ثمرہ میں نبی بنایا جاتا۔ تیرہ سو سال کے بعد صرف آریہ ورت میں انگریز کی عنایت سے صرف ایک ہی پیدا ہوا اور اس کو بھی آخر تک اپنی نبوت میں شک رہا۔ کبھی اقرار کبھی انکار۔ یہاں تک کہ اس کے ماننے والے دو جماعتوں میں تقسیم ہوئے۔

تحریف سوم: آیت خاتم النبیین میں الف لام عہد خارجی یا ذہنی ہے جس سے مراد صرف تشریعی انبیاء ہیں گویا آپ تشریعی انبیاء کے خاتم ہیں عہد خارجی کے لیے سابق کلام میں خاص تشریعی انبیاء علیہم السلام کا ذکر ضروری ہے جو یہاں نہیں، اور عہد ذہنی اس وقت لیا جاتا ہے جب استغراق ممکن نہ ہو جیسے اَکَلَهُ الذِّئْبُ اور اِشْتَرِ اللَّحْمَ عِنْدَ عَامَّةِ اَهْلِ الْاُصُوْلِ وَالْعَرَبِيَّةِ لَامُ التَّعْرِیْفِ سَوَاءٌ دَخَلَتْ عَلَی الْمُفْرَدِ اَوْ الْجَمْعِ تُفِیْدُ لِاِسْتِغْرَاقِ اِلَّا اِذَا كَانَ مَعْهُوْدًا. ((کلیات ابی البقاء ص ٥٦٣) و فی الكشف ج ١ ص ٢٢٠ وان دخلت على الجمع فَاِنْ كَانَ وَالَّا وفى الرضى ج ٢ ص ١٠٣ فَاِذَا لَمْ يَكُنْ لِلْبَعْضِيَّةِ لَعَدَمِ دَلِيْلِهَا يوجب كونِهَا للاستغراق)

تحریف چہارم: خاتم النبیین میں الف لام استغراق حقیقی کے لیے نہیں بلکہ عرفی کے لیے ہے یعنی انبیاء تشریعی مراد ہیں نہ مطلق انبیاء جیسے وَيَقْتُلُوْنَ النَّبِيّٖنَ میں صرف بعض وہ انبیاء مراد ہیں جو بنی اسرائیل کے زمانے میں تھے۔ جواب یہ ہے کہ استغراق عرفی وہاں لیا جاتا ہے جہاں استغراق حقیقی ممکن نہ ہو جیسے جمع الامیر الصاغة کیونکہ تمام دنیا کے سناروں کا جمع کرنا ممکن نہیں بلحاظ عرف و عادت کے لیکن خاتم النبیین بلا تکلف

١١

صفحہ ٤٠٢

استغراق درست ہے بخلاف یقتلون النبیین جہاں استغراق ممکن نہیں۔ ہم پوچھتے ہیں کہ آیت ولکن البر من امن بالله واليوم الاخر والكتاب والنبيين. (بقره ١٧٧) اسی طرح و وضع الكتاب وجیئ بالنبيين (زمر ٦٩) اور اذ اخذ الله ميثاق النبيين. (ال عمران ٨١) کیا استغراق حقیقی مراد ہے یا عرفی۔

تحریف پنجم: خاتم کے معنی نگینہ انگشتری لے کر زینت مراد ہے یعنی آپ ﷺ انبیاء کی زینت ہیں۔ جواب یہ ہے کہ حقیقی معنی لینا جب تک محال نہ ہو مجازی معنی مراد لینا درست نہیں اور یہاں حقیقی معنی درست ہے اور لغت احادیث اجماع نے اس کو متعین کیا ہے لہذا مجاز لینا غلط ہے ورنہ قرآن کے کسی لفظ سے معنی کا تعین نہ ہو سکے گا اور ہر لفظ مجازات اور تاویلات کا اکھاڑہ بن کر اپنی حقیقت کھو دے گا اور صوم وصلوۃ زکوٰۃ سب کے معنی بدل جائیں گے۔

آیت خاتم النبیین کے بعد اب ہم قرآن حکیم کی چند دیگر آیات کو پیش کرتے ہیں۔

دلیل کمالی: آیت دوم۔ اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِيْنًا (المائدہ آیت ٣) اس آیت میں کمال دین کا اعلان ہوا۔ وہ دن حدیث بخاری کے بموجب عرفہ کا دن تھا۔ مظہری میں ہے کہ حضور ﷺ اس کے بعد صرف اکیاسی دن زندہ رہے۔ (ابن کثیر ج ٣ ص ٤٢ زیر آیت الیوم اکملت لکم دینکم)

اس آیت کے متعلق لکھتے ہیں کہ یہ آیت امت پر سب سے بڑی نعمت ہے۔ حَيْثُ اَكْمَلَ تَعَالَى لَهُمْ دِيْنَهُمْ فَلَا يَحْتَاجُوْنَ إِلَى دِيْنٍ غَيْرِهِ وَلَا إِلَى نَبِيٍّ غَيْرِ نَبِيِّهِمْ وَلِهذَا جَعَلَهُ الله تعالى خَاتَمَ الْأَنْبِيَاءِ وَبَعَثَهُ إِلَى الْإِنْسِ وَالْجِنِّ.

امام رازی اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں۔ إِنَّ الدِّيْنَ مَا كَانَ نَاقِصًا اَلْبَتَّةَ بَلْ كَانَ اَبَدًا كَامِلًا كَانَتِ الشَّرَائِعُ النَّازِلَةُ كَافِيَةً فِيْ ذَالِكَ الْوَقْتِ اِلَّا اَنَّهُ تَعَالَى كَانَ عَالِمًا فِيْ اَوَّلِ وَقْتِ المبعث بِاَنَّ مَاهُوَ كَامِلٌ فِيْ هَذَا الْيَوْمِ لَيْسَ بِكَامِلٍ فِي الْغَدِ وَلَا صَلَاحَ فِيْهِ لَاجَرَمَ كَانَ ينسخ بَعْدَ الثُّبُوْتِ وَكَانَ يُزِيْلُ بَعْدَ التَّحَكُّمِ وَاَمَّا فِيْ اٰخِرِ زَمَانِ المبعث فَاَنْزَلَ اللهُ شَرِيْعَةً كَامِلَةً وَ حَكَمَ بِبَقَائِهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ فَالشَّرْعُ اَبَدًا كَانَ كَامِلًا اِلَّا اِنَّ الْاَوَّلَ كَمَالٌ اِلَى زَمَانٍ مَخْصُوْصٍ وَالثَّانِيْ كَمَالٌ اِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ فَلِاَجْلِ هذَا الْمَعْنىٰ قَالَ الْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ.

(تفسیر کبیر ج ١١ ص ١٣٨ زیر آیت الیوم اکملت لکم دینکم)

یہ آیت ختم نبوت پر دال ہے بوجوہات ذیل۔

١٢

صفحہ ٤٠٤

اخیر میں ہوئی کہ فہرست نبوت میں کوئی نبی باقی نہ رہا۔

کے لیے یا محرف کی تحریف کو دور کرنے کے لیے، لیکن قرآن اور دین اسلام کامل ہے اس میں ترمیم و تنسیخ ہو نہیں سکتی اور اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ (حجر ٩) میں قرآن کے الفاظ اور معانی بلکہ تلفظ تک کی حفاظت کا اعلان ہے لہٰذا ازالہ تحریف کی بھی ضرورت نہیں۔ باقی رہی تجدید و تبلیغ دین، اس کے لیے نبی کی ضرورت نہیں بلکہ کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ (ال عمران ١١٠) یہ ساری امت کا اجتماعی وظیفہ اور فریضہ ہے۔

فضول قرار پائیں گے کیونکہ جب تک اس نئے نبی پر مسلمان ایمان نہیں لائیں گے تو قرآن اور حدیث اور پوری اسلامی شریعت پر اوّل سے آخر تک عمل کرنے کے باوجود وہ کافر اور ابدی جہنمی ہوں گے تو کمال دین اس نبی پر ایمان لانے میں منحصر ہوا اور اس پر ایمان لائے بغیر پورا دین نامکمل بلکہ کالعدم رہا۔

دلیل میثاقی: آیت وَاِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِیْثَاقَ النَّبِیّٖنَ لَمَآ اٰتَیْتُکُمْ مِّنْ کِتٰبٍ وَّ حِکْمَةٍ ثُمَّ جَآءَ کُمْ رَسُوْلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَکُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهٖ وَلَتَنْصُرُنَّهٗ (ال عمران ٨١) جب اللہ نے انبیاء سے عہد لیا کہ جب میں تم کو کتاب وحکمت دوں اور اس کے پیچھے ایسا رسول آئے جو تمہاری آسمانی کتابوں کی تصدیق کرے تو تم اس پر ایمان لاؤ اور اس کی مدد کرو۔ یہ تمام انبیاء علیہم السلام سے عالم ارواح میں عہد لیا گیا۔ اس میں ثُمَّ جَآءَ کُمْ رَسُوْل جس سے حضرت نبی کریم علیہ السلام مراد ہے ان کا سب انبیاء کے بعد تشریف لانا ثابت ہوتا ہے جو دلیل ہے کہ مشیت الٰہی میں جس قدر انبیاء مقدر تھے ان سب کو اللہ نے آپﷺ سے پہلے مبعوث فرمایا اور آپﷺ کو سب سے اخیر میں بھیجا۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ آپﷺ کی بعثت باعث بندش نہیں ہوئی بلکہ مقدر آپﷺ کو سب سے آخر میں بھیجنا تھا۔

دلیل بعثت عمومی: قُلْ یٰاَیُّهَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَیْکُمْ جَمِیْعًا نِ الَّذِیْ لَهٗ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ (الاعراف آیۃ ١٥٨) تَبٰرَکَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰی عَبْدِهٖ لِیَکُوْنَ لِلْعٰلَمِیْنَ نَذِیْرًا۔ (الفرقان آیۃ ١) وَمَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ (الانبیاء آیۃ ١٠٧)

١٣

صفحہ ٤٠٤

یہ آیات دال ہیں کہ نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بعثت تمام اقوام اور ازمان کو شامل ہے تو قیامت تک کے انسان آپ ﷺ کی امت ہیں اور آپ ﷺ ان سب کی طرف مبعوث ہیں جو دلیل ہے کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی مبعوث نہ ہوگا۔ آپ ﷺ کی موجودگی میں جو اکمل الانبیاء ہیں کسی نبی کی ضرورت نہیں، جیسے سورج کے بعد کسی چراغ اور دریا کے بعد شبنم کی حاجت نہیں اور آیت وَمَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ میں پہلے حضور ﷺ سے نسبی ابوت کی نفی کی گئی اور وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِيّٖنَ میں روحانی اور دینی ابوت ثابت کی گئی جس سے معلوم ہوا کہ جیسے ابوت نسبیہ میں تشارک نہیں تو ابوت دینیہ میں بھی تشارک نہیں۔ اگر ایک آدمی کے دو باپ نہیں ہو سکتے تو اسی طرح امت کے دو روحانی باپ نہیں ہو سکتے۔

فَاعْبُدُوْنِ. (الانبیاء آیہ ٢٥)

عَمَلُكَ. (الزمر ٦٤)

(فاطر آیہ ٣١)

ان آیات اور اسی قسم کی دوسری آیات میں وحی الٰہی کا تذکرہ کیا گیا ہے اور ان سب آیات میں قید قبلیت کے ساتھ مقید کیا گیا حالانکہ اگر مابعد میں بھی کوئی وحی یا نبوت ہوتی تو یہ قید سبب اضلال ہو سکتی ہے بلکہ وحی ماقبل کی طرح وحی مابعد کا بھی ذکر کرنا ضروری تھا اور مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ کے ساتھ مِنْ خَلْفِهِ کا ذکر بھی ضروری تھا اور کم از کم وحی کو مطلق چھوڑ دیا جاتا تاکہ وحی مابعد کی گنجائش بھی باقی رہتی۔

دلیل وعدی: فَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِهٖ وَعَزَّرُوْهُ وَنَصَرُوْهُ وَاتَّبَعُوا النُّوْرَ الَّذِيْ اُنْزِلَ مَعَهٗ اُولٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ. (الاعراف آیہ ١٥٧) ایسی تمام آیات جن میں صرف اللہ اور رسول کی اطاعت پر جنت اور فلاح کا وعدہ کیا گیا ہے انقطاع نبوت کی دلیل ہے کیونکہ

صفحہ ٤٠٥

اور نبی کا آنا اگر ہوتا خواہ بروزی یا ظلی تو جنت اور فلاح اس کے ماننے پر موقوف ہوتی، تو اس قسم کی تمام آیات کا مضمون کیونکر درست ہو سکتا۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وحی اور نبوت بند ہے۔

حدیث اور ختم النبوۃ

عَنْ أَبُو هُرَيْرَةَ اَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ قَالَ أَنَّ مَثَلِي وَمَثَلَ الْأَنْبِيَاءِ مِنْ قَبْلِيْ كَمَثَلِ رَجُلٍ بَنَى بَيْتًا فَأَحْسَنَهُ وَأَجْمَلَهُ إِلَّا مَوْضِعَ لَبِنَةٍ مِنْ زَاوِيَةٍ فَجَعَلَ النَّاسُ يَطُوْفُوْنَ بِهِ وَيَعْجَبُوْنَ لَهُ وَيَقُوْلُوْنَ هَلَّا وُضِعَتْ هٰذِهِ اللَّبِنَةُ قَالَ فَأَنَا اللَّبِنَةُ وَاَنَا خَاتَمُ النَّبِيّيْنَ.

(بخاری ج ١ ص ٥٠ باب خاتم النبیین)

. ابو ہریرہؓ سے مرفوعاً روایت ہے کہ میری اور مجھ سے پہلے انبیاء کی مثال ایسی ہے، جیسے کسی شخص نے گھر بنایا اور اس کو آراستہ کیا مگر ایک اینٹ کی جگہ کونے می ں چھوڑی لوگ اس کے پاس گزرتے ہیں اور خوش ہوتے ہیں اور کہتے ہیں یہ ایک اینٹ بھی کیوں نہ رکھ دی فرمایا وہ آخری اینٹ میں ہوں اور میں خاتم النبیین ہوں۔

الَّذِيْ لَيْسَ بَعْدَهُ نَبِيٌّ.

(بخاری و مسلم ج ٢ ص ٢٦١ باب فی اسمائہ )

میں محمد ہوں، احمد ہوں، عاقب ہوں۔ عاقب سے مراد یہ ہے کہ جس کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔

(ترمذی ج ٢ ص ٢٠٩)

اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتا۔

(مشکوٰۃ ص ٥٥٨ مناقب عمرؓ ازالہ اوہام ص ٢٣ خزائن ج ٣ ص ٢١٩)

نَبِيَّ بَعْدِيْ

(بخاری و مسلم ج ٢ ص ٢٧٨ باب فضائل علیؓ مشکوٰۃ ص ٥٦٣ باب مناقب علیؓ)

وَأَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدُ وَسَيَكُوْنُ خُلَفَاءُ فَيَكْثُرُوْنَ.

(بخاری ج ١ ص ٤٩١ باب نزول عیسی بن مریم)

بنی اسرائیل کی عنان سیاست انبیاء کے ہاتھوں میں رہی جب ایک نبی فوت ہوتا تو اس کا جانشین نبی ہوتا مگر میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔ عنقریب خلفاء کا سلسلہ شروع ہوگا پس بکثرت ہوں گے۔

مرزا لکھتے ہیں۔ وحی و رسالت ختم ہو گئی مگر ولایت و امامت و خلافت کبھی ختم

١٥

صفحہ ٤٠٦

نہ ہوگی۔

(مکتوب مرزا تحفۃ الاذہان ج ١ ص ١)

(ترمذی ج ٢ ص ٥٣ باب ذھبت النبوہ و بقیت المبشرات۔

تحفہ بغداد مرزا ص ٧ مرزا ازالہ اوہام ص ٦١٤ میں لکھتے ہیں۔ اب وحی و رسالت تا بقیامت منقطع ہے۔ آئینہ کمالات ص ٣٧٧ پر لکھتے ہیں۔ ہرگز نہ ہوگا کہ اللہ ہمارے نبی کے بعد کسی کو نبی کر کے بھیجے اور یہ نہ ہوگا کہ سلسلہ نبوت کو اس کے منقطع ہو جانے کے بعد جاری کر دے۔ حمامۃ البشریٰ ص ٣٤ پر لکھتے ہیں آپ کی وفات کے بعد وحی منقطع ہو گئی، اور اللہ نے آپ پر نبیوں کا خاتمہ کر دیا۔ حقیقۃ ص ٦٤ ضمیمہ عربی میں لکھتے ہیں ۔ إِنَّ رَسُوْلَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّيْنَ وَعَلَيْهِ انْقَطَعَتْ سِلْسِلَةُ الْمُرْسَلِيْنَ.

(رواہ مسلم ج ٢ ص ٢٦١ باب فی اسمائہ )

قَالَ النوویُّ الْمُقَفَّی الْعَاقِب یعنی میں آخر الانبیاء ہوں۔

وَاٰخِرُهُمْ مُحَمَّدٌ. پہلا نبی آدم اور آخر محمد ﷺ ۔ ابن حجر نے فتح الباری میں اس کو صحیح کہا۔ مرزا نے لکھا اور سب سے آخر محمد مصطفیٰ ﷺ کو پیدا کیا جو خاتم الانبیاء اور ختم الرسل ہیں۔

(حقیقۃ الوحی ص ١٤١)

الانبیاء اور تم آخر الامم ہو۔

(ابن ماجہ ص ٢٩٧ باب فتنۃ الدجال)

الصَّالِحَةُ (نسائی و ابو داؤد ص ٨١ ج ١ باب الدعا فی الرؤیا) میرے بعد سوائے رویا صالحہ کے کوئی جز باقی نہیں رہا۔ اسی طرح اَنَا اخر الانْبِيَاءِ وَ مَسْجِدِى اخر الْمَسَاجِدِ.

(مسلم ج ١ ص ٣٤٦ باب فضل الصلوٰۃ بمسجدی)

وفی البزار۔ و مسجدی اخر مساجد الانبیاء (الترغیب المنذری ج ٢ ص ١٧٣ حدیث ١٧٧١ مجمع الزوائد ج ٤ ص ٧ کنز العمال ج ١٢ ص ٢٧٠ حدیث ٣٤٩٩٩ باب فضل الحرمین من الاکمال) میں آخری نبی ہوں اور میری مسجد، مساجد انبیاء کی خاتم ہے۔ اسی طرح دو سو سے زائد احادیث ختم نبوت کے متعلق موجود ہیں اور اسی پر عقیدہ قائم ہوا ہے۔ قرآن کی کسی آیت اور احادیث میں سے کسی حدیث میں سلسلہ نبوت کے جاری کرنے کی خبر نہیں دی گئی اور

١٦

صفحہ ٤٠٧

نہ صحابہ تابعین اور تبع تابعین اور نہ مابعد زمانہ میں مرزا کے علاوہ کسی کا یہ عقیدہ رہا ہے۔ ایسی صورت میں محض قیاس آرائی اور نو تراشیدہ تاویلات سے اجراء نبوت کا عقیدہ پیدا کرنا کسی قدر عقل اور دین سے محرومی کی دلیل ہے۔ اَللّٰھُمَّ احْفَظْنَا مِنْ ھٰذِہِ الشَّقَاوَةِ.

ختم نبوت اور اجماع امت

ابن خلدون لکھتے ہیں کہ اس امت میں پہلا اجماع دعویٰ نبوت کی وجہ سے مسیلمہ کذاب کے کفر و قتل پر ہوا اور اس کی دیگر برائیاں صحابہ کو اس کے قتل کے بعد معلوم ہوئیں اور اسی طرح کا اجماع بلافصل قرنا بعد قرن مدعی نبوت کے کفر و ارتداد اور قتل پر جاری رہا اور تشریعی اور غیر تشریعی نبوت کی کوئی تفصیل نہیں پوچھی گئی۔ خاتم النبیین للشیخ الانور ص ٣٣ وص ٤٤ علامہ قاری شرح فقہ اکبر مجتبائی ص ٢٠٢ میں لکھتے ہیں۔ دَعوی النُّبُوَّةِ بَعْدَ نَبِیِّنَا كُفْرٌ بِالْاِجْمَاعِ. اسی طرح عام کتب تفسیر وشروح حدیث اور کتب کلام میں اجماع مدعی نبوت کے کفر پر اجماع امت کی تصریح کی گئی ہے۔

ختم نبوت اور درایت

اللہ کے سوا ہر چیز کے لیے ابتداء اور انتہا ہوتی ہے۔ نبوت کے لیے بھی ابتداء اور انتہا کا ہونا ضروری ہے۔ انسانی زندگی کا ابتدائی زمانہ طفولیت کا تھا بتدریج انسانی عقل میں ترقی ہوتی گئی تو جس طرح عہد طفولیت کا لباس طفل کی بدنی ترقی کے ساتھ ساتھ بدلتا رہتا ہے اسی طرح عقل و شعور انسانی کی ترقی کے ساتھ ساتھ روحانی لباس یعنی شریعت کا بدل جانا بھی ضروری تھا۔ اس لیے مختلف نبوتیں اور شریعتیں آتی رہیں۔ حضرت خاتم الانبیاء علیہ السلام کے زمانے تک عقل و شعور انسانی کی نشوونما مکمل ہوئی تو ضرورت تھی کہ اس وقت انسان کو کامل شریعت اور نبوت کی نعمت عطاء کی جاتی جس کا قرآن نے اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ کا اعلان کر کے شریعت کاملہ کی عطا کردگی کا اعلان کیا اور اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَ اِنَّا لَهٗ لَحَافِظُوْنَ میں حفاظت دین و شریعت کا بھی اعلان ہوا تاکہ مستقبل میں نوع انسانی کسی جدید نبی کی آمد سے بے نیاز ہو کر اس کے انتظار میں نہ رہے کہ نبی کے آنے کا مقصد یا تکمیل دین ہے یا حفاظت دین وہ دونوں مکمل ہوچکے۔ باقی تبلیغ، تو یہ امت اور علماء کا کام ہے جس کے لیے نبی کی ضرورت نہیں جیسے قرآن میں ہے۔ كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ (ال عمران ١١٠) اور وَلْتَكُنْ مِّنْكُمْ اُمَّةٌ يَّدْعُوْنَ اِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَيَنْهَوْنَ ١٧

صفحہ ٤٠٨

عَنِ الْمُنْكَرِ (ال عمران ١٠٤) اور یہی فریضہ تبلیغ امت نے۔ صرف شیخ معین الدین رحمۃ اللہ علیہ نے بقول ڈاکٹر اسمتھ نوے لاکھ ہندوؤں کو مسلمان کیا۔ (ملاحظہ ہو نقش حیات) اور تاریخ اسلام بھی اس کی شاہد ہے کہ حضور ﷺ نے اپنے وصال کے بعد تقریباً لاکھ سوا لاکھ مسلمان چھوڑے۔ لیکن آج ستر کروڑ مسلمان ہیں جو امت کی تبلیغ سے مسلمان ہوئے۔ یہ کس قدر نامعقول امر ہے کہ امت کی کوششوں سے جو ستر کروڑ مسلمان پیدا ہوئے ہیں، اس کے بعد ایک ایسے نبی کی آمد ضروری ہے جو ان ستر کروڑ مسلمانوں کی تکفیر کر کے صرف اپنے چند مریدوں میں اسلام کی وسعت کو منحصر کر دے گویا اس کی آمد کفار کو مسلمان بنانے کے بجائے مسلمانوں کو کافر بنانے کے لیے تھی۔

مرزائی وساوس کا جواب

نبوت جیسا بنیادی مسئلہ جو کفر و ایمان کے درمیان ایک حد فاصل کی حیثیت رکھتا ہے، مرزائیوں نے جب اجراء نبوت کو قرآن، احادیث، اجماع امت، صحابہ، تابعین، فقہاء، متکلمین، محدثین کے خلاف پایا تو ڈوبتے کو تنکے کا سہارا کے تحت چند مصنفین کی مبہم عبارات کا سہارا لینا شروع کیا۔ اگرچہ دوسری جگہ ان حضرات کی صریح عبارات نے قادیانی استدلال کا بھانڈا پھوڑ دیا تاہم مرتا کیا نہ کرتا کے تحت جو کچھ اسی قسم کے دلائل یا وساوس ان کے ہیں ہم ان کا جواب بھی دینا چاہتے ہیں۔

حضرت عائشہؓ پر مرزائی افتراء

مرزائی کہتے ہیں کہ حضرت عائشہؓ نے فرمایا ہے۔ قُوْلُوْا إِنَّهُ خَاتَمُ الْاَنْبِيَاءِ وَلَا تَقُوْلُوْا لَا نَبِيَّ بَعْدَهُ۔ یہ درمنثور تحت آیت خاتم النبیین اور (تکملہ مجمع البحار ج ٥ ص ٥٠٢ حرف زی) پر ہے۔ یہاں تلبیس کر کے باقی عبارت کو انھوں نے کاٹ دیا۔ یہ لفظ صدیقہؓ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے سلسلہ میں ارشاد فرمایا۔ اَصْلُهَا فِي حَدِيثِ عِيْسَى اِنَّهُ يَقْتُلُ الْخِنْزِيْرَ وَيُكْسِرُ الصَّلِيبَ وَيَزِيْدُ فِى الْحَلَالِ اَىْ يَزِيْدُ فِي حَلَالِ نَفْسِهِ بِاَنْ يَتَزَوَّجَ وَيُوْلَدَ لَهُ وَكَانَ لَمْ يَتَزَوَّجُ قَبْلَ رَفْعِهِ إِلَى السَّمَاءِ فَزَادَ فِى الْهُبُوطِ فِى الْحَلَالِ فَحِيْنَئِذٍ يُؤْمِنُ كُلُّ اَحَدٍ مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ وَيَتَيَقَّنُ اَنَّهُ بَشَرٌ وَّ عَنْ عَائِشَةَ قُوْلُوْا إِنَّهُ خَاتَمُ الْاَنْبِيَاءِ وَلَا تَقُوْلُوْا لَا نَبِيَّ بَعْدَهُ. (وهذا ناظر الی نزول عیسی علیہ السلام) اس پوری عبارت سے معلوم ہوا کہ صدیقہؓ نے فرمایا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے آسمان پر اٹھائے جانے سے قبل نکاح نہیں کیا تھا۔ آسمان سے اترنے کے بعد نکاح کریں گے اور

١٨

صفحہ ٤٠٩

اولاد بھی ہوگی۔ یہی حلال میں اضافہ ہے۔ خنزیر خوری اور صلیب پرستی کا خاتمہ کریں گے، اور سب اہل کتاب ان پر ایمان لائیں گے اس لیے حضور علیہ السلام کو خاتم الانبیاء کہو، لیکن لا نبی بعدہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول سے انکار کی بنیاد پر نہ کہو۔ آپ کا مقصد لا نبی بعدہ کی نفی سے فقط یہ ہے کہ اس لفظ کو نزول عیسیٰ کی نفی کے معنی میں استعمال کر کے مت کہو، باقی جدید نبوت کی نفی میں حضرت صدیقہؓ خود نفی کی قائلہ ہیں کہ مسند احمد جلد ٦ ص ١٢٩ میں آپ نے حضور ﷺ سے مرفوعاً روایت کی ہے۔ لَا يَبْقَى بَعْدِىْ مِنَ النُّبُوَّةِ اِلَّا الْمُبَشِّرَاتِ وَهِىَ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ. نیز روایت عائشہؓ منقطع الاسناد بھی ہے۔

حضرت علیؓ پر افتراء

کہ آپ نے ابو عبدالرحمان السلمی استاذ حسنین کو کہا کہ ان کو خاتَم بالفتح پڑھاؤ۔

جواب ظاہر ہے کہ آپ کے ہاں یہی قرأت رائج تھی اور ہم نے مدلل بیان کیا ہے کہ معنی کے لحاظ سے قرأت فتح و کسرہ میں فرق نہیں۔ خود حضرت علی بندش نبوت کی حدیث کے راوی ہیں۔ بخاری و مسلم میں اَنْتَ مِنِّی بِمَنْزِلَةِ هَارُوْنَ مِنْ مُّوْسٰی اِلَّا اَنَّهُ لَا نَبِیَّ بَعْدِی.

شیخ اکبر پر افتراء

شیخ اکبر نے ولی کے لیے نبوت ثابت کی ہے۔ الجواب۔ صوفیہ کی اصطلاح میں نبوت بمعنی لغوی یعنی انباء عن الغیب مطلقاً وحیا او الہاما مراد ہے۔ وحی کو وہ شرع اور الہام کو غیر شرع کہتے ہیں ورنہ شیخ نبوت شرعی کے دروازہ کو بند تسلیم کرتے ہیں۔ شیخ فتوحات مکیہ ج ٢ ص ٢٧٦ باب ١٨٨ میں لکھتے ہیں۔ اِنَّ الرُّؤْيَا جُزْءٌ مِنْ اَجْزَاءِ النُّبُوَّةِ فَقَدْ بَقِىَ لِلنَّاسِ مِنَ النُّبُوَّةِ هٰذَا وَغَيْرُهُ وَمَعَ هٰذَا لَا يُطْلَقُ اِسْمُ النُّبُوَّةِ وَلَا النَّبِى اِلَّا عَلَى الْمُشْرِعِ (اَىْ صَاحِبِ الْوَحْىِ) خَاصَّةً اور ص ٧٥ باب ٣٦٢ میں لکھتے ہیں۔ وختم بمحمّد جميع الرسل عليهم السلام و ختم بشرعيه جميع الشرائع. ونقل عنه في اليواقيت ج ٢ ص ٣٧ طبع مصر هذا باب اغلق بعد موت محمد فلا يفتح لاحد الى يوم القيامة لكن بقى للاوليا وحى الالهام الذى لا تشريع فيه.

امام راغب پر افتراء

بحر المحیط ج ٣ ص ٢٨٧ پر امام راغب کی طرف منسوب ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ ارباب اطاعت میں یہ نبیوں کے ساتھ شامل ہوں گے۔ مراد انبیاء سابقین ہیں کیونکہ امام موصوف نے ختم نبوت کی تصریح کی ہے چنانچہ معنی ختم نبوت کے تحت لکھتے ہیں۔ اَنَّهُ خَاتَمُ النَّبِيّيْنَ لِاَنَّهُ خَتَمَ النُّبُوَّةَ اَىْ تَمَّمَهَا بِمَجِيْهِ.

١٩

صفحہ ٤١٠

جلال الدین رومیؒ پر افتراء

فکر کن در راہ نیکو خدمتے
تا نبوت یابی اندر امتے

اس سے مقصود وہ قرب الہی ہے جو فیض نبوت سے حاصل ہوتا ہے۔ خود نبوت مراد نہیں کیونکہ رومی خود ختم نبوت کے قائل ہیں دفتر پنجم میں ہے۔

یارسول اللہ رسالت را تمام
تو نمودی ہمچو شمس بے غمام

دفتر چہارم میں ہے۔

ایں ہمہ افکار کفران زاد شان
چوں در آمد سید آخر زمان

علامہ قاریؒ پر افتراء

موضوعات کبیر ص ١٠٠ طبع اصح المطابع کراچی میں حدیث لَوْ عَاشَ اِبْرَاهِيْمُ لَكَانَ نَبِيًّا قُلْتُ مَعَ هَذَا لَوْ عَاشَ اِبْرَاهِيْمُ وَصَارَ نَبِيًّا وَكَذَا لَوْ صَارَ عُمَرُ نَبِيًّا لَكَانَ مِنْ اَتْبَاعِهِ عَلَيْهِ السَّلَام كَعِيْسٰى وَخِضَر وَاِلْيَاسَ عَلَيْهِمُ السَّلَامُ فَلَا يُنَاقِضُ قَوْلَهُ وَخَاتَمَ النَّبِيّيْنَ اِذِ الْمَعْنٰى لَايَاْتِىْ نَبِىٌّ بَعْدَهُ يَنسخ مِلَّتَهُ وَلَمْ يَكُنْ مِنْ اُمَّتِهِ. اس کا جواب یہ ہے کہ ابراہیم اور عمر کی نبوت اگر ہوتی تو عہد نبوت میں ہوتی نہ بعد زمانے میں اور عیسیٰ، خضر و الیاس علیہم السلام اگر آئیں تو وہ پرانے ہیں نئے نہیں لہٰذا وہ بحیثیت امتی آئیں گے۔ خود علامہ قاریؒ نے شرح شمائل باب اوّل ص ٣٣ میں یہی فرمایا ہے۔ اَنَّهُ خَتَمَ هُمُ اَىْ جَاءَ آخِرَهُمْ فَلَا نَبِىَّ بَعْدَهُ اَىْ لَا يُنَبَّاُ اَحَدٌ بَعْدُ فَلَا يُنَافِىْ نُزُوْلَ عِيْسٰى مُتَابِعًا لِشَرِيْعَتِهِ مُسْتَمِدًّا مِنَ الْقُرْآنِ وَالسُّنَّةِ وَقَالَ فِى الْمِرْقَاتِ (ج ٥ ص ٣٧٦) الْمُقْفِىْ اَىْ مَن قَفَا اَثَرَهُ اِذَا تَبِعَهُ يَعْنِىْ اَنَّهُ آخِرُ الْاَنْبِيَاءِ الْاٰتِى عَلىٰ اَثَرِهِمْ لَا نَبِىَّ بَعْدَهُ وَقَالَ فِىْ شَرْحِ الْفِقْهِ الْاَكْبَر (المجتبائی ص ٢٠٢) وَدَعْوَى النُّبُوَّةِ بَعْدَ نَبِيِّنَا كُفْرٌ بِالْاِجْمَاعِ. نیز لَوْ عَاشَ اِبْرَاهِيْمُ صِدِّيْقًا نَّبِيًّا ابن ماجہ کی روایت ہے اس میں ابوشیبہ ابراہیم بن عثمان ساقط راوی ہے (تہذیب التہذیب) صحیح حدیث بخاری ج ٢ ص ٩١٤ باب وَمَن سمى باسماء الانبیاء کی یہ ہے۔ لوقضى اَنْ يَّكُوْنَ بَعْدَ مُحَمَّدٍ نَبِى عَاشَ ابنه وَلٰكِن لَّا نَبِىَّ بَعْدَهُ.

امام ربانی مجدد الف ثانی پر افتراء

امام ربانیؒ کے مکتوبات ج ١ مکتوب ٣٠١ میں حصول کمالات نبوت متابعان را

٢٠

صفحہ ٤١١

بطریق تبعیت و وراثت بعد از بعثت خاتم الرسل علیہ وعلیٰ جمیع الانبیاء والرسل الصلوٰۃ والتحیات منافی خاتمیت اونیست فلاتکن من الممترین۔ اس عبارت سے مرزائیوں نے امام ربانی کی طرف اجراء نبوت کو منسوب کیا حالانکہ آپ کا مقصد حصول کمالات بعض اجزاء نبوت ہے اور بعض کا حصول کل کے حصول کو مستلزم نہیں۔ امام موصوف خود دفتر دوم ص ١٨٠ حصہ ہفتم مکتوب نمبر ٢٧ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی میں عقائد اہل السنت کے متعلق لکھتے ہیں۔ و خاتم الانبیاء محمد رسول است...... وعیسیٰ علیہ السلام کہ نزول خواہد نمود عمل بشریعت او خواہد کرد و بعنوان امت او خواہد بود اور دفتر سوم حصہ ہشتم ص ٣٠٥ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی میں لکھتے ہیں۔ اوّل انبیاء آدم علیہ السلام و آخر ایشاں خاتم نبوت شان حضرت محمد رسول اللہ ﷺ است وعیسیٰ علیہ السلام کہ از اسمان نزول خواہد فرمود متابعت شریعت خاتم الرسل خواہد نمود۔ یہ تمام بیان مرزائیت کے خلاف ہے ختم نبوت کے علاوہ اس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول من السماء مذکور ہے اور مجدد کے متعلق مرزا شہادت القرآن پر لکھتے ہیں۔ ”یہ کہنا کہ مجدد پر ایمان لانا فرض نہیں انحراف ہے کیونکہ اللہ فرماتا ہے۔ وَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذَالِكَ فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُوْنَ.“

شاہ ولیؒ اللہ پر افتراء

تفہیمات الٰہیہ ج ٢ ص ٧٢ تفہیم نمبر ٥٥ مطبوعہ مجلس علمی ڈھابیل پر شاہ صاحبؒ لکھتے ہیں ختم بہ النبیون ای لا یوجد من یامرہ اللہ سبحانہ با التشریع علی الناس جس سے مرزائیوں نے یہ نتیجہ نکالا کہ حضور علیہ السلام کے بعد صرف شرعی نبوت بند ہے۔ حالانکہ اس کی تشریح خود شاہؒ صاحب نے تفہیمات ج ٢ ص ١٤٧ میں کی ہے۔ فرماتے ہیں، وَصَارَ خَاتِمَ هٰذِهِ الدَّوْرَةِ فَذَالِكَ لا يُمْكِنُ اَنْ يُوْجَدَ بَعْدَهُ نَبِيٌّ اور پھر ج ١ تفہیم ٦٥ ص ١٤٧ مطبوعہ ڈھابیل میں فرماتے ہیں مُحَمَّدٌ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمُ النَّبِيِّيْنَ لَا نَبِيَّ بَعْدَهُ وَ دَعْوَتُهُ عَامَّةٌ لِجَمِيْعِ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ وَهُوَ اَفْضَلُ الْاَنْبِيَاءِ بِهٰذِهِ الْخَاصَّةِ وَ بِخَوَاصَّ اُخْرٰی وَقَالَ فِى (حجۃ اللہ البالغہ ج ٢ ص ٢١٢ مبحث فی الفتن مطبوعہ نور محمد کراچی) فِى حَدِيْثِ بَدْءِ هٰذَا الْاَمْرِ نُبُوَّةٌ اَقُوْلُ فَالنُّبُوَّةُ انْقَضَتْ بِوَفَاةِ النَّبِيِّ عَلَيْهِ السَّلامُ وَالْخِلَافَةُ لَا سَيْفَ فِيهَا بِمَقْتَلِ عُثْمَانَ وَالْخِلَافَةُ بِشَهَادَةِ عَلِيٍّ كَرَّمَ اللّٰهُ وَجْهَهُ وخلع الْحَسَنُ اور فارسی ترجمہ میں لکھتے ہیں آیت خاتم النبیین کے متعلق نیست محمد ﷺ پدر ہیچ کس از مردمان شما ولیکن پیغمبر خدا و مہر پیغمبران یعنے بعد از وے ہیچ پیغمبر نباشد۔

٢١٠

صفحہ ٤١٢

مولانا محمد قاسمؒ پر افتراء

ان کی طرف ختم زمانی کا انکار منسوب کیا گیا حالانکہ آپؒ فرماتے ہیں۔ ’’اگر اطلاق اور عموم ہے تو خاتمیت زمانی ظاہر ہے ورنہ تسلیم لزوم خاتمیت زمانی بدلالت التزامی ضرور ثابت ہے۔ ادھر تصریحات نبوی ﷺ اَنْتَ مِنِّیْ بِمَنْزِلَةِ ھَارُوْنَ مِنْ مُّوْسٰی اِلَّا اَنَّہٗ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ. جو بطرز مذکور لفظ خاتم النبیین سے ماخوذ ہے، اس باب میں کافی ہے کیونکہ یہ مضمون درجہ تواتر کو پہنچا۔ پھر اس پر اجماع بھی منعقد ہے گو الفاظ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ بسند تواتر منقول نہ ہو۔ پس یہ عدم تواتر الفاظ باوجود تواتر معنوی ایسا ہوگا جیسے تواتر عدد رکعات فرائض وغیرہ۔ جیسے اس کا منکر کافر ہے ویسا اس کا (لا نبی بعدی) منکر بھی کافر ہے۔‘‘ (تحذیر الناس ص ١٣، ١٤ دارالاشاعت کراچی) مناظر عجیبہ ص ٣٩ مطبوعہ سہارن پور میں لکھتے ہیں۔ ’’خاتمیت زمانی اپنا دین ایمان ہے، ناحق کی تہمت کا البتہ کوئی علاج نہیں۔‘‘

مولانا عبدالحیؒ پر افتراء

مولانا موصوف نے دافع الوسواس فی اثر ابن عباسؓ ص ٣٩ پر لکھا ہے علماء اہل السنت بھی اس امر کی تصریح کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے عہد میں کوئی نبی صاحب شرع جدید نہیں ہوسکتا جو نبی آپ کا ہم عصر ہوگا وہ متبع شریعت محمدیہ ہوگا پس بتقدیر بعثت محمدیہ عام ہے‘‘ حالانکہ یہ مضمون زمین کے دیگر طبقات اور ان کے انبیاء کے متعلق ہے جس کی وضاحت زجر الناس ص ٨٤ پر آپؒ نے کی ہے۔ خَتْمُ نَبِیِّنَا حَقِیْقِیٌّ بِالنِّسْبَةِ اِلٰی اَنْبِیَاءِ جَمِیْعِ الطَّبَقَاتِ بِمَعْنٰی اَنَّہٗ لَمْ یُعْطَی النُّبُوَّةُ لِاَحَدٍ فِیْ طَبَقَةٍ اور مجموع الفتاویٰ ج ١ ص ٩٩ میں مولانا موصوفؒ لکھتے ہیں۔ قَالَ اَبُوْ شَکُوْرٍ فِی التَّمْھِیْدِ اِعْلَمْ اَنَّ الْوَاجِبَ عَلٰی کُلِّ عَاقِلٍ اَنْ یَّعْتَقِدَ اَنَّ مُحَمَّدًا کَانَ رَسُوْلَ اللّٰهِ وَالْاٰنَ ھُوَ رَسُوْلُ اللّٰهِ وَکَانَ خَاتِمَ الْاَنْبِیَاءِ وَلَا یَجُوْزُ بَعْدَہٗ اَنْ یَّکُوْنَ اَحَدٌ نَبِیًّا وَمَنْ ادَّعَی النُّبُوَّةَ فِیْ زَمَانِنَا یَکُوْنُ کَافِرًا. ان تصریحات سے کوئی کہہ سکتا ہے کہ آپؒ ختم نبوت کے منکر تھے؟

ختم نبوت علامہ اقبال کی نظر میں

قادیانیت یہودی مذہب کا چربہ ہے

’’میرے نزدیک بہائیت قادیانیت سے زیادہ مخلص ہے کیونکہ وہ کھلے طور پر اسلام سے باغی ہے لیکن مؤخر الذکر (قادیانیت) اسلام کے چند نہایت اہم اصولوں کو ظاہری طور پر قائم رکھتی ہے لیکن باطنی طور پر اسلام کی روح اور مقاصد کے لیے مہلک

٢٢

صفحہ ٤١٣

ہے ۔ اس کا (قادیانی فرقے) حاسد خدا کا تصور کہ جس کے پاس دشمنوں کے لیے لاتعداد زلزلے اور بیماریاں ہوں اس کا (قادیانی فرقہ کا) نبی کے متعلق نجومی کا تخیل اور اس کا روح مسیح کے تسلسل کا عقیدہ وغیرہ یہ تمام چیزیں اپنے اندر یہودیت کے اتنے عناصر رکھتی ہیں گویا یہ تحریک یہودیت کی طرف رجوع ہے۔‘‘

(حرف اقبال ص ١٢٣ مرتبہ لطیف احمد شروانی مطبوعہ المنار اکادمی لاہور)

٢۔ ”اسلامی ایران میں موبدانہ اثر کے ماتحت ملحدانہ تحریکیں اٹھیں اور انھوں نے بروز، حلول، ظل وغیرہ اصطلاحات وضع کیں تا کہ تناسخ کو اس تصور میں چھپا سکیں۔ ان اصطلاحات کا وضع کرنا اس لیے لازم تھا کہ وہ مسلم کے قلوب کو ناگوار نہ گزریں۔ حتیٰ کہ مسیح موعود کی اصطلاح بھی اسلامی نہیں بلکہ اجنبی ہے اور اس کا آغاز بھی اسی موبدانہ تصور میں ملتا ہے۔ یہ اصطلاح ہمیں اسلام کے دورِ اوّل کی تاریخی اور مذہبی ادب میں نہیں ملتی۔‘‘

(حرفِ اقبال ص ١٢٣، ص ١٢٤)

٣۔ قادیانی گروہ اسلامی وحدت کا دشمن ہے

”مسلمان ان تحریکوں کے معاملہ میں زیادہ حساس ہیں جو ان کی وحدت کے لیے خطرناک ہے۔ چنانچہ ہر ایسی مذہبی جماعت جو تاریخی طور پر اسلام سے وابستہ ہو لیکن اپنی بناء نئی نبوت پر رکھے اور بزعم خود اپنے الہامات پر اعتقاد نہ رکھنے والے تمام مسلمانوں کو کافر سمجھے، مسلمان اسے اسلام کی وحدت کے لیے ایک خطرہ تصور کرے گا اور یہ اس لیے کہ اسلامی وحدت ختم نبوت سے استوار ہوتی ہے۔‘‘ (حرفِ اقبال ص ١٢٢) مرزا محمود خلیفہ قادیان دوم آئینہ صداقت ص ٣٥ پر لکھتے ہیں۔ ”کُل مسلمان جو حضرت مسیح موعود کی بیعت میں شامل نہیں خواہ انھوں نے مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔‘‘

٤۔ میں اس باب میں کوئی شک اور شبہ نہیں رکھتا کہ یہ احمدی اسلام اور ملک دونوں کے غدار ہیں۔ (خط اقبال بنام جواہر لال مندرجہ بنام ”کچھ پرانے خطوط“ حصہ اوّل ص ٢٩٣ مرتبہ جواہر لال مطبوعہ جامعہ لمیٹڈ نئی دہلی انڈیا)

٥۔ میری رائے میں قادیانیوں کے لیے صرف دو راہیں ہیں یا وہ بہائیوں کی تقلید کریں یا پھر ختم نبوت کی تاویلوں کو چھوڑ کر اس اصول کو اس کے پورے مفہوم کے ساتھ قبول کریں۔ ان کی جدید تاویلیں محض اس غرض سے ہیں کہ ان کا شمار حلقہ اسلام میں ہو تا کہ ان کو سیاسی فوائد پہنچ سکیں۔‘‘

(حرفِ اقبال ص ١٢٧)

٦۔ ”میری رائے میں حکومت کے لیے بہترین طریق کار یہ ہوگا کہ وہ

٢٣

صفحہ ٤١٤

قادیانیوں کو ایک الگ جماعت تسلیم کرے یہ قادیانیوں کی پالیسی کے عین مطابق ہوگا اور مسلمان ان سے رواداری سے کام لے گا جیسے وہ باقی مذاہب کے معاملہ میں اختیار کرتا ہے‘‘ (حرف اقبال ص ١٤٨، ١٤٩) یہ قادیانیوں کی پالیسی کے مطابق اس لیے ہے کہ مرزا بشیر الدین خلیفہ دوم کا خطبہ مندرجہ الفضل میں ہے۔ جس میں ”مسیح موعود (مرزا) نے فرمایا۔ ان کا (مسلمانوں کا) اسلام اور ہے اور ہمارا اور، ان کا خدا اور ہے ہمارا خدا اور، ہمارا حج اور ہے ان کا حج اور، اسی طرح ان سے ہر بات میں اختلاف ہے۔‘‘

(الفضل قادیان ٢١ اگست ١٩١٧ء ص ٨ ج ٥ نمبر ١٥)

٧۔ علامہ اقبال کا انگریزی حکومت کو مشورہ۔ نئے دستور میں اقلیتوں کے تحفظ کا خیال رکھا گیا ہے۔ ”میرے خیال میں قادیانی حکومت سے بھی علیحدگی کا مطالبہ کرنے میں پہل نہیں کریں گے۔ ملت اسلامیہ کو اس مطالبہ کا پورا حق حاصل ہے کہ قادیانیوں کو علیحدہ کر دیا جائے اگر حکومت نے یہ مطالبہ تسلیم نہیں کیا تو مسلمانوں کو شک گزرے گا کہ حکومت اس نئے مذہب کی علیحدگی میں دیر کر رہی ہے...... حکومت نے ١٩١٩ء میں سکھوں کی طرف سے علیحدگی کے مطالبہ کا انتظار نہ کیا۔ اب وہ قادیانیوں سے ایسے مطالبہ کا کیوں انتظار کر رہی ہے۔‘‘ (حرف اقبال ص ١٤٨) مزید علامہ لکھتے ہیں ”مسلمانوں کی نماز میں قطع تعلق، نکاح وغیرہ کے معاملات میں مسلمانوں سے بائیکاٹ اور سب سے بڑھ کر یہ اعلان کہ دنیائے اسلام کافر ہے۔ یہ تمام امور قادیانیوں کی علیحدگی پر دال ہیں بلکہ واقعہ یہ ہے کہ وہ اسلام سے کہیں اس سے دور ہیں جتنے سکھ ہندؤوں سے کیونکہ سکھ ہندؤوں سے باہمی شادیاں کرتے...... پھر جب قادیانی مذہبی معاشرتی معاملات میں علیحدگی اختیار کرتے ہیں۔ پھر وہ سیاسی طور پر مسلمانوں میں شامل رہنے کے لیے کیوں مضطرب ہیں۔

(حرف اقبال ص ١٤٧، ١٤٨)

٨۔ پابندی باغی جماعت پر لگانی چاہیے۔ علامہ اقبال انگریزی حکومت کو لکھتے ہیں۔ ”اگر کسی قوم کی وحدت خطرے میں ہو تو اس کے لیے اس کے سوا چارہ کار نہیں کہ وہ معاندانہ قوتوں کے خلاف مدافعت کرے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ مدافعت کا کیا طریقہ ہے۔ وہ طریقہ یہ ہے کہ اصل جماعت کو رواداری کی تلقین کی جائے حالانکہ اس کی وحدت خطرہ میں ہو اور باغی گروہ کو تبلیغ کی پوری اجازت ہو۔ اگرچہ وہ تبلیغ جھوٹ اور دشنام سے لبریز ہو۔ (حرف اقبال ص ١٢٦) میں کہتا ہوں کہ مرزا کی یہ ایک گالی کروڑوں گالیوں سے زیادہ ہے۔ وہ آئینہ کمالات ص ٥٤٨ میں لکھتے ہیں۔ جو لوگ مجھے نہیں مانتے اور میرے دعویٰ پر ایمان اور تصدیق نہیں رکھتے وہ سب زنا کی اولاد ہے۔

٢٤

PDF 415

انا خاتم النبیین لا نبی بعدی

میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔

مسئلہ حیات سیدنا عیسیٰ علیہ السلام

حضرت مولانا سید شمس الحق افغانیؒ

صفحہ ٤١٦

حیات عیسیٰ علیہ السلام

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے نزول

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان کو اٹھایا جانا اور اس وقت زندہ ہونا اور آخری زمانے میں زمین پر نزول فرمانا اہل اسلام کا متفقہ عقیدہ ہے کہ تقریباً چودہ سو سال سے لے کر اب تک اسلام کے تمام فرقے اسی پر متفق چلے آتے ہیں اور اسلامی فرقوں میں اس عقیدے کے متعلق کوئی اختلاف نہیں پایا جاتا حالانکہ دیگر بیسیوں اعتقادی مسائل میں اختلاف موجود رہا۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ کتاب وسنت کی روشنی میں اس مسئلہ کو اس قدر واضح اور صاف کیا گیا ہے کہ جس کو اسلام کے ساتھ معمولی تعلق بھی ہو وہ اس مسئلہ میں اختلاف کا روادار نہیں اور اسلام اور مسئلہ حیات و نزول مسیح علیہ السلام کو لازم وملزوم سمجھتے رہے ہیں اور یہ کہ تسلیم اسلام کے ساتھ اس مسئلہ کا انکار قطعاً جمع نہیں ہو سکتا۔ تفسیر بحر المحیط ج ٢ ص ٤٧٣ میں امام ابن عطیہ سے اجماع کے الفاظ منقول ہیں۔

حَيَاتُ الْمَسِيْحِ بِجِسْمِهِ إِلَى الْيَوْمِ وَنُزُوْلُهُ مِنَ السَّمَاءِ بِجِسْمِهِ الْعُنْصُرِي مِمَّا أَجْمَعَ عَلَيْهِ الْأُمَّةُ وَتَوَاتَرَ بِهِ الاحادیث.

حضرت مسیح علیہ السلام کا جسم کے ساتھ اس وقت تک زندہ ہونا اور جسم عنصری کے ساتھ آسمان سے اتر کر آنا ایسا عقیدہ ہے جس پر پوری امت کا اتفاق ہے اور پیغمبر ﷺ کی متواتر احادیث سے ثابت ہے۔

تفسیر جامع البیان میں اِنِّی مُتَوَفِّیْکَ کے تحت تفسیر وجیز سے نقل کیا گیا ہے۔

وَالْإِجْمَاعُ عَلَى أَنَّهُ حَيٌّ فِى السَّمَاءِ يَنْزِلُ يَقْتُلُ الدَّجَّالَ وَيُؤَيِّدُ الدِّينَ.

اس پر اجماع ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ ہیں، اتریں گے، دجال کو قتل کریں گے اور دین اسلام کو مضبوط کریں گے۔

اسی طرح امام شوکانی کے رسالہ التَّوْضِيْحِ فِيمَا تَوَاتَرَ فِي الْمُنْتَظَرِ وَالدَّجَّالِ

٢

صفحہ ٤١٧

وَالْمَسِيْحِ اور امام سیوطی کے اَلْاِعْلَام بِحُكْمِ عِيْسَى عَلَيْهِ السَّلَام میں تواتر اور اجماع مذکور ہے۔ حجج الکرامہ ص ٤٣٤ میں امام شوکانی کی انتیس احادیث دوبارہ نزول عیسیٰ علیہ السلام کے ذکر کے بعد تواتر اور اجماع کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسی طرح حافظ ابن حجر نے تلخیص الحبیر کتاب الطلاق میں لکھا ہے۔ اَلْاِجْمَاعُ عَلَى اَنَّهُ رُفِعَ بِبَدَنِهِ حَيًّا کہ اس پر اجماع ہے کہ وہ بدن کے ساتھ زندہ اٹھائے گئے ہیں۔ اسی طرح فتح الباری میں ذکر ادریسؑ کے سلسلہ میں حضرت مسیح ؑ کے نزول پر اجماع منقول ہے۔ اسی طرح تفسیر ابن کثیر میں تواتر نزول کی صراحت کی گئی ہے۔ اسی طرح۔

حضرت مسیح علیہ السلام کے زندہ ہونے اور دوبارہ آنے کی تصریح کی ہے ”اور یہ کتاب اس کے اقرار کے مطابق اس وقت لکھی گئی تھی کہ وہ بزعم خود نبی تھا۔“

(دیکھو ایام الصلح ص ٧٥ خزائن ج ١٤ ص ٣٠٩)

میں وَ اِن عُدْتُم عُدْنَا کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ ”اس میں مسیح کے جلالی اور ظاہر ہونے کا اشارہ ہے۔ اگر نرمی قبول نہ کرو گے تو وہ زمانہ بھی آنے والا ہے کہ جب مسیح علیہ السلام جلالت کے ساتھ دنیا پر اتریں گے اور جلالِ الٰہی گمراہی کو نیست و نابود کر دے گا۔ میرا زمانہ اس زمانہ کے لیے بطور ارہاص واقعہ ہوا ہے۔“

خزائن ج ١ ص ٥٩٣ میں یوں ذکر کرتے ہیں کہ ”جب حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق و اقطار میں پھیل جائے گا۔“

کہ ”آنحضرت ﷺ نے عمر کو قتل سے منع کیا، اور فرمایا اگر یہی دجال ہے تو اس کا صاحب عیسیٰ بن مریم ہے جو اس کو قتل کرے گا ہم اسے قتل نہیں کر سکتے۔“

حیات و نزولِ مسیح کے مسئلہ پر ہم مختصراً قرآنی، حدیثی، تاریخی اور عقلی حیثیت سے روشنی ڈالیں گے۔ اجماعی حیثیت سے ہم نے مسئلہ پر روشنی ڈال دی ہے۔

حیاتِ مسیح علیہ السلام قرآنی روشنی میں

٣

صفحہ ٤١٨

نے حضرت مسیح علیہ السلام کے خلاف تدبیر کی اور اللہ نے ان کو بچانے کی تدبیر کی۔ اللہ کی تدبیر سب تدبیر کرنے والوں کی تدبیر سے بہتر ہے۔ مرزا قادیانی نے اس آیۃ کا مطلب یہ بیان کیا۔ یہودیوں نے حضرت مسیح علیہ السلام کے لیے قتل و صلیب کا حیلہ سوچا تھا خدا نے مسیح کو وعدہ دیا اور کہا کہ تیرا اپنی طرف رفع کروں گا۔ (اربعین جلد ٣ ص ١٠) پھر آئینہ کمالات ص ٤٠ وص ٤٦ میں لکھتے ہیں کہ وعدے کے الفاظ دلالت کرتے ہیں کہ وہ وعدہ جلد پورا ہونے والا ہے۔ پھر مرزا قادیانی ازالہ اوہام ص ٣٨٠ میں لکھتے ہیں کہ پھر بعد اس کے ان کے (یہود) کے حوالے کیا گیا۔ تازیانے لگائے گئے۔ گالیاں سننا طمانچے کھانا، ہنسی اور ٹھٹھے میں اڑائے جانا اس نے دیکھا۔ آخر صلیب پر چڑھا دیا۔ آیت مذکورہ کی مرزائی تفسیر نہ صرف یہ کہ بے دلیل اور تحریف ہے خود ایک عظیم بہتان اور ذاتِ خداوندی کی شان کے بھی خلاف ہے۔ بقول مرزا یہود نے حضرت مسیح کے خلاف تدبیر کی اور اللہ نے بچانے کی۔ پھر یہود نے اس کو تازیانے بھی لگائے، گالیاں بھی دیں، ٹھٹھا اور تمسخر بھی اڑایا، سولی پر بھی چڑھایا پھر بھی قرآن نے یہ کہا کہ اللہ خیرالماکرین ہے اور اس کی تدبیر بہتر و کامیاب رہی۔ اگر مرزائی تحریف کے اس خود ساختہ شوشے کو بھی مان لیا جائے کہ سولی پر اتارنے سے یہود نے اس کو مردہ سمجھا لیکن اس کی آخری رمق باقی تھی اور علاج سے اچھے ہوئے۔ پھر کشمیر جا کر بہت مدت کے بعد طبعی موت سے مر گئے، تو بھی موت کے وقوع کی راہ میں یہود کی غلط فہمی آڑے آ گئی۔ نہ کوئی خرقِ عادت کارنامہ آیت مذکورہ کی روح اللہ کی حفاظتی تدبیر کا یہودی تدبیر سے موازنہ کر کے اللہ کی تدبیر کی پوری کامیابی اور عظمت کا بیان کرنا مقصود ہے لیکن مرزا کی تفسیر کے تحت اس وعدہ الٰہی کے باوجود یہود نامسعود حضرت مسیح علیہ السلام کے ساتھ جو کچھ کرنا چاہتے تھے وہ سب کچھ کر چکے لیکن پھر بھی بقول مرزا تدبیر اور وعدہ الٰہی بلند اور کامیاب رہا۔ اس طرح مرزا نے حضرت مسیح اور خدائے قرآن دونوں کی یہود کے مقابلے میں توہین اور تذلیل کی۔ اگر دماغ میں کجی اور الحاد نہ ہو تو آیت کا مطلب صاف ہے کہ یہود نے حضرت مسیح کے خلاف تدبیر کی کہ ان کو بے عزت کر کے سولی پر چڑھا دیا جائے لیکن اللہ کی تدبیر بچانے کی تھی لہٰذا اللہ کی تدبیر غالب رہی کہ اللہ نے اس کو آسمان پر اٹھا لیا اور یہود اس کا بال تک بیکا نہ کر سکے۔ تقریباً چودہ سو سال سے قرآنی علوم کے ماہرین صحابہ و تابعین وغیرہ نے یہی مطلب سمجھا لیکن چودھویں صدی میں مسیحیت کی دوکان جمانے والے نے یہ نامعقول مطلب تراشا۔

٤

صفحہ ٤١٩

الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَجَاعِلُ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْكَ فَوْقَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَةِ ثُمَّ اِلَیَّ مَرْجِعُكُمْ فَاَحْكُمُ بَیْنَكُمْ فِیْمَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَ ط (ال عمران ٥٥)

جس وقت کہا اللہ نے اے عیسیٰ میں لے لوں گا تجھ کو اور اٹھا لوں گا تجھ کو اپنی طرف اور پاک کر دوں گا تجھ کو کافروں سے اور رکھوں گا ان کو جو تیرے تابع ہیں غالب ان لوگوں سے جو انکار کرتے ہیں قیامت کے دن تک پھر میری طرف تم سب کو آنا ہے پھر میں فیصلہ کر دوں گا جس بات میں تم جھگڑتے تھے۔

توفی کے متعلق کلیات ابی البقاء میں ہے۔

التَّوَفِّیُ الْاِمَاتَةُ وَ قَبْضُ الرُّوْحِ وَعَلَيْهِ اسْتِعْمَالُ الْعَامَّةِ وَالْاِسْتِيفَاءُ وَاَخْذُ الْحَقِّ وَ عَلَيْهِ اسْتِعْمَالُ الْبُلَغَاءِ۔ یعنی توفی کا لفظ عوام کے ہاں موت دینے اور جان لینے کے لیے استعمال ہوتا ہے لیکن بلغاء کے نزدیک اس کے معنی پورا وصول کرنا اور ٹھیک لینا ہے۔

گویا ان کے نزدیک موت پر توفی کا اطلاق اس حیثیت سے ہے کہ اس میں کسی خاص عضو سے نہیں بلکہ پورے بدن سے جان لی جاتی ہے تو اگر خدا نے کسی کی جان بدن سمیت لی تو اس پر توفی کا اطلاق بطریق اولیٰ ہوگا اور روح مع البدن لینا توفی کے مفہوم میں داخل ہے۔ عام طور پر چونکہ روح بدن کے بغیر لی جاتی ہے اس لیے موت پر توفی کا اطلاق کثرت سے آیا اور یہاں یہ راز ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کی حالت چونکہ عام حالات سے مختلف تھی اس لیے اہم ترین ضرورت کے موقع پر بھی اللہ نے عیسیٰ علیہ السلام کے حق میں موت کا اطلاق نہیں کیا بلکہ توفی کا کیا جو قبض روح اور قبض روح مع البدن دونوں کو شامل ہے۔ یہ غلط ہے کہ فاعل اگر خدا ہو اور مفعول ذی روح ہو، تو توفی موت کے معنی میں ہوگا۔ بالفرض اگر موت کے معنی میں ہو تو ضحاک شاگرد ابن عباس نے معالم میں تقدم و تاخیر کا قول نقل کیا ہے۔ یعنی متوفیک، میں تم کو موت دوں گا زمین پر اتارنے کے بعد۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ سورۂ زمر میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ اَللّٰهُ یَتَوَفَّی الْاَنْفُسَ حِیْنَ مَوْتِهَا وَالَّتِیْ لَمْ تَمُتْ فِیْ مَنَامِهَا ط (زمر٤٢) یہاں فاعل اللہ اور مفعول ذی روح ہے پھر بھی نیند کی حالت کے متعلق فرمایا کہ اللہ جان لیتا ہے موت کے وقت اور وہ جان بھی لیتا ہے جو نیند کی حالت میں مری نہیں۔ یہاں نیند پر توفی کا اطلاق آیا اور توفی کو عدم موت کے ساتھ جمع کیا۔ اس حقیقت کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق توفی کے لفظ میں موت کا معنی مراد نہیں بلکہ اٹھا لینے کا معنی مراد ہے اور یہی معنی

٥

صفحہ ٤٢٠

ابن عباس کا صحیح قول ہے جو روح المعانی میں مذکور ہے اور مناسب حال عیسیٰ علیہ السلام بھی ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یہودی محاصرہ کے وقت جو پریشانی لاحق تھی وہ مندرجہ ذیل امور کی وجہ سے تھی۔

جواب میں یٰعِیْسٰی اِنِّیْ مُتَوَفِّیْكَ (ال عمران ٥٥) میں تم کو لے لوں گا اور دست برد سے بچا لوں گا جیسے وَاِذْ كَفَفْتُ بَنِیْ اِسْرَآئِیْلَ عَنْكَ (المائدہ ١١٠) میں بنی اسرائیل کو تم تک پہنچنے سے روکوں گا۔

طرف پہنچنے نہ دیا جائے گا یا اور کوئی صورت ہوگی۔ اس کے جواب میں فرمایا کہ میں تجھ کو اپنی طرف آسمان پر اٹھا لوں گا۔

تھے۔ اس کے متعلق کیا انتظام ہوگا؟ اس کے متعلق فرمایا۔ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا (ال عمران ٥٥) میں منکروں سے تم کو اور تمہاری والدہ کو پاک کردوں گا۔ چنانچہ اس کا انتظام قرآن اور خاتم الانبیاء علیہ السلام کی زبان سے کیا گیا کہ آپ اور آپ کی والدہ کی زندگی بے داغ ہے۔

مقابلہ میں کیا حال ہوگا تو فرمایا۔ وَجَاعِلُ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْكَ فَوْقَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَةِ (ال عمران ٥٥) کہ قیامت تک تیرے تابع تیرے منکروں پر غالب ہوں گے۔ یہ وعدہ آج بھی ایک حقیقت ہے۔ اسرائیل کا وجود اس وعدے پر اثر انداز نہیں کہ خود قرآن نے یہود کی ذلت اور مسکنت میں دو استثنائی صورتیں بیان کی ہیں۔ ایک یہ کہ یہود اسلام لا کر اسلام کی پناہ میں آ جائیں۔ دوم یہ کہ کسی قوم عیسائی کی پناہ میں آ جائے۔ اِلَّا بِحَبْلٍ مِّنَ اللّٰهِ وَحَبْلٍ مِّنَ النَّاسِ (ال عمران ١١٢) یعنی ذلت اور مسکنت کی دو صورتیں مستثنائی ہیں۔ اسلام لا کر اللہ کی پناہ میں آ جانا یا عیسائی قوم کی پناہ میں آنا۔ اسرائیل برطانیہ، امریکہ اور عیسائی اقوام کی پناہ کی وجہ سے موجود ہے جس کا استثناء خود قرآن نے کیا ہے۔ یہود کی قوت اور اقتدار عیسائیوں کے سہارے قائم ہے لیکن مسلمانوں کا اقتدار عیسائیوں کے سہارے کا محتاج نہیں۔ خواہ امریکہ ہو یا روس۔ بلکہ خود آپس میں متحد ہو کر سامان قوت کی فراہمی کا محتاج ہے کہ وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِیْعًا

٦

صفحہ ٤٢١

(ال عمران ١٠٣) کے تحت نوے کروڑ مسلمان ایک منظم بلاک بن جائے اور واعدوا لھم ما استطعتم من قوۃ (انفال ٦٠) کے تحت سامان قوت کی تیاری میں لگ جائے اور اپنی خداداد مشترک دولت اس میں صرف کر دے تو مستقل عزت مسلمانوں کے لیے اب بھی پہلے کی طرح حاصل ہوگی لیکن حبل اللہ اور اسلام پر عمل پیرا ہونے سے مسلمانوں کی قوت ہے نہ کہ اسلام کو چھوڑ کر مغربیت اختیار کرنے اور اسلام میں تحریف کرنے سے وہ قوی ہوں گے۔ یورپ کی قوت بھی تعلیم اسلامی کے اجزاء سے ہے۔ یعنی سامان قوت کی تیاری اور قوانین قدرت کا علم حاصل کر کے اس سے استفادہ کرنا۔ ان کے غیر اسلامی اجزاء یعنی ان کے تمدن کو ان کی ترقی میں دخل نہیں بلکہ ان کی وجہ سے مادی ترقی کے باوجود ان کا زوال شروع ہوگیا ہے۔ وہ غیر اسلامی اجزاء خدا اور آخرت فراموشی، انبیاء علیہم السلام کے اخلاقی اقدار کو زندگی سے خارج کرنا، نسل و وطن کے بت کی پرستش کرنا، زنا، جوا بازی، لواطت، شراب نوشی، سود، عیاشی جنھوں نے مغربی قوت کے اعصاب کو کمزور کر دیا ہے اس کمزوری کی وجہ سے مغرب کی نمبر ایک طاقت کوریا اور ویت کانگ کی معمولی بے سر و سامان ریاستوں کے ہاتھوں پٹ رہی ہے اور اب توبہ کرنے پر آمادہ ہے لیکن توبہ بھی قبول نہیں ہوتی۔ مغرب زدہ مسلمانوں کی یہ بدقسمتی ہے کہ ان کے ذہنی انحطاط نے ان کو سامان قوت کے ترک اور سامان زوال کے اپنانے پر آمادہ کیا ہے مسلمانوں کی بڑی قوت اسلام ہے وہ اس میں تحریف کر رہے ہیں اور اسباب زوال میں خطرناک چیز یورپ کی شیطانی تہذیب ہے اس کو وہ اپنا رہے ہیں۔

الْمَسِيحَ عِيسَىٰ ابْنَ مَرْيَمَ رَسُوْلَ اللّٰهِ وَمَا قَتَلُوْهُ وَمَا صَلَبُوْهُ وَلٰكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ ط وَاِنَّ الَّذِيْنَ اخْتَلَفُوْا فِيْهِ لَفِيْ شَكٍّ مِّنْهُ ط مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ اِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ ج وَمَا قَتَلُوْهُ يَقِيْنًا o بَلْ رَّفَعَهُ اللّٰهُ اِلَيْهِ ط وَكَانَ اللّٰهُ عَزِيْزًا حَكِيْمًا o وَاِنْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهٖ قَبْلَ مَوْتِهٖ وَ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ يَكُوْنُ عَلَيْهِمْ شَهِيْدًا ط

(النساء ١٥٦ تا ١٥٩)

یہود کے دلوں پر بندش ہدایت کی مہر لگ چکی ان کے کفر کی وجہ سے اور حضرت مریم پر بڑا بہتان باندھنے کی وجہ سے اور اس وجہ سے کہ وہ کہتے ہیں کہ ہم عیسیٰ بن مریم کو جو خدا کے رسول تھے قتل کر ڈالا اور انھوں نے اس کو نہ قتل کیا نہ سولی پر چڑھایا لیکن شبہ پڑ گیا ان کو اور جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق اختلاف کرتے تھے وہ شک میں ہیں ان کو علم نہیں صرف اٹکل پچو باتوں پر چلتے ہیں اور انھوں نے یقیناً حضرت عیسیٰ

کے

صفحہ ٤٢٢

علیہ السلام کو قتل نہیں کیا بلکہ اس کو اللہ نے اپنی طرف اٹھا لیا اور وہ غالب اور حکمت والا ہے اور اہل کتاب کا کوئی گروہ نہیں مگر وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر اس کے مرنے سے پہلے ایمان لائے گا اور وہ ان کے اعمال پر گواہ ہوں گے۔

اس آیت میں چند امور بیان ہوئے ہیں۔

صلب کے قائل ہیں جیسے یہود و نصاریٰ وہ قطعاً غلطی پر ہیں۔ قرآن نے واضح الفاظ میں ان کی تردید کی۔ مرزائیوں یا مرزا کا یہ کہنا کہ سولی پر چڑھائے گئے ہیں لیکن سولی پر مرے نہیں۔ یہ قول بھی یہود و نصاریٰ کی طرح قرآن کے خلاف ہے۔ مَا صَلَبُوْہُ کا یہ معنی تراشنا کہ سولی پر نہیں مرے لغت عرب کے خلاف ہے۔ صلب کے معنی سولی پر چڑھانا اور ماصلب کا معنی سولی پر نہ چڑھانا ہے۔ یہ قطعاً قرآن کی تحریف ہے کہ ماصلبوہ کا یہ معنی لیا جائے کہ یہود نے حضرت عیسیٰ کو سولی پر چڑھایا لیکن سولی پر اس کو موت نہیں آئی۔

عیسیٰ قتل نہیں ہوئے اللہ نے اس کو اپنی طرف اٹھایا۔ ماقتلوہ اور بل رفعہ اللہ میں ضمیر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو راجع ہے اور عیسیٰ نام ہے جسم اور روح دونوں کا یعنی عیسیٰ جو مجموعہ روح و جسم کا ہے اس پر قتل واقع نہیں ہوا بلکہ بجائے قتل کے رفع الی اللہ واقع ہوا۔ یہ ظاہر ہے کہ مراد یہ ہے کہ یہاں جس ذات سے قتل کی نفی ہوئی اسی کے لیے رفع کا اثبات ہے اور قتل نہ صرف جسم کا ممکن ہے اور نہ صرف روح کا بلکہ جسم اور روح کے مجموعہ پر قتل واقع ہو سکتا ہے کیونکہ قتل کا مفہوم یہ ہے کہ کسی خارجی موثر کے ذریعہ روح کو جسم سے الگ کیا جائے۔ جب غیر مقتول جسم مع روح ہے تو مرفوع الی اللہ بھی جسم و روح کا مجموعہ ہوگا۔

اس کے خلاف قرینہ نہ ہو تو جسمانی رفع ہی مراد ہوگا جیسے سورۂ یوسف میں وَرَفَعَ أَبَوَيْهِ عَلَى الْعَرْشِ (یوسف ١٠٠) کہ حضرت یوسف علیہ السلام نے والدین کو تخت پر اٹھایا جس کا معنی جسم اور روح دونوں کا اٹھانا ہے نہ کہ والدین کی روح کو اٹھانا۔

ایک وجہ یہ کہ مجاز کو اختیار کرنا ہے بلا قرینہ مثلاً يَرْفَعُ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَالَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ (مجادلہ ١١) یہاں چونکہ جسمانی رفع مراد نہ تھا دینی رفع مراد تھا

٨

صفحہ ٤٢٣

تو بطور قرینہ لفظ درجات لایا گیا۔ اسی طرح وَرَفَعْنَا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَاتٍ. (زخرف ٣٢) یہاں بھی قرینہ موجود ہے جو لفظ درجات ہے۔

دوسری وجہ روحانی رفع مراد لینے کے غلط ہونے کی یہ ہے کہ وَمَا قَتَلُوْهُ يَقِيْنًا بَلْ رَّفَعَهُ اللّٰهُ إِلَيْهِ کہ یہود نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے ان کو اپنی طرف اٹھایا۔ اب روحانی رفع مراد لینے میں معنی یہ ہوگا، کہ یہود نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے ان کا مرتبہ بلند کیا جو بالکل تحریف اور غلط ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس واقعہ سے قبل چالیس سال پیغمبر کی حیثیت سے زمین پر رہے اور پیغمبر کے مرتبہ کی بلندی پیغمبر کے وقت سے ان کو حاصل ہوتی ہے تو اس وقت مرتبہ کی بلندی کی تخصیص بے فائدہ ہے اس کے علاوہ عربی زبان میں بَلْ کا استعمال دو مقابل چیزوں میں ہوتا ہے لیکن یہاں اگر رفع سے روحانی رفع اور مرتبہ کی بلندی مرزائی تحریف کے مطابق لی جائے تو مقابلہ فوت ہو جائے گا جس سے بَلْ کا استعمال غلط پڑے گا کیونکہ معنی یہ ہوگا کہ یہود نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مصلوب ومقتول نہیں کیا بلکہ اللہ نے اس کا مرتبہ بلند کیا۔ اگر کوئی پیغمبر یا مومن ناحق مقتول ومصلوب ہو جائے تو وہ شہید ہوگا اور شہید کا مرتبہ بلند ہوتا ہے تو اس کا مقابلہ بَلْ رفعہ اللہ کے لیے درست ہوگا جب کہ اس سے بھی مرتبہ کی بلندی اور رفع روحانی مراد ہوگا۔ مرزائی تحریف کا یہ دعویٰ کہ بائبل کی رو سے مصلوب ملعون ہوتا ہے اس لیے ملعونیت کی نفی اور مرتبہ کی بلندی میں مقابلہ صحیح ہوا، یہ بھی جھوٹ اور غلط ہے۔ بائبل میں صاف لکھا ہے کہ جو کسی جرم سے مصلوب ہو وہ ملعون ہے نہ وہ مصلوب جو ناحق سولی دیا گیا ہو بلکہ وہ تو شہید ہوگا۔

تیسری وجہ یہ ہے کہ روحانی رفع اللہ نے ہر نبی کو عطا کیا ہے خصوصاً خاتم الانبیاء کو سب سے بڑھ کر روحانی رفع عطا ہوئی تو اگر یہی معنی مراد ہوتا اور رفع جسمانی آسمانی مراد نہ ہوتا، تو بَلْ رَّفَعَهُ اللّٰهُ إِلَيْهِ کے الفاظ ہر نبی کے حق میں مذکور ہوتے خصوصاً خاتم الانبیاء علیہ السلام کے حق میں تو حضرت مسیح علیہ السلام سے رفع کی خصوصیت باقی نہ رہتی۔ خصوصیت صاف بتلا رہی ہے کہ یہ رفع جسمانی جو صرف حضرت مسیح علیہ السلام سے خاص ہے یا جس کو رفع جسمانی ہو چکا ہو۔

چوتھی وجہ یہ ہے کہ اس رفع کے بعد قرآن میں وَكَانَ اللّٰهُ عَزِيْزًا حَكِيْمًا کے الفاظ آئے ہیں جو اسی انداز میں کسی اور نبی کے بارے میں نہیں آئے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ رفع جسمانی مراد ہے جس میں قدرت وقوت کا بھی ظہور ہے جس پر

٩

صفحہ ٤٢٤

لفظ عزیز دلالت کرتا ہے اور حکمت کا بھی ظہور ہے جس پر لفظ حکیما دلالت کرتا ہے جس کو ہم آگے چل کر بیان کریں گے۔ دوسرا امر جو آیت مذکورہ سے معلوم ہوتا ہے وہ ہے وَإِنْ مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ. (نساء ١٥٩) جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اہل کتاب کا کوئی فرقہ نہ ہوگا مگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لائیں گے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے بہ اور مَوْتِهِ دونوں ضمیروں کا مرجع حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہے۔ لَيُؤْمِنَنَّ کا لفظ جس میں نون تاکید ثقیلہ ہے جو مضارع کو مستقبل سے مختص کرتا ہے۔ یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت کے مضمون کا تعلق نزول قرآن کے مابعد زمانے سے ہے اور ایسے زمانے سے ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو حصول کتاب سے زمینی تعلق قائم ہو جو نزول مسیح کا زمانہ ہے جس سے مسیح کا نزول ثابت ہوا اور بل رفعہ اللہ سے صعود ثابت ہوتا ہے تو پوری آیت رفع و نزول دونوں پر مشتمل ہے یہی وجہ ہے کہ صحیحین کی حدیث بروایت ابی ہریرةؓ نزول مسیح علیہ السلام کی حدیث مرفوع کے بعد ابو ہریرةؓ فرماتے ہیں فَاقْرَؤُا ان شئتم وَإِنْ مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ جس میں یہ بتلانا مقصود ہے کہ نزول مسیح من السماء کے بعد اہل کتاب ان پر ایمان لائیں گے۔ یہ مسئلہ خالص نقلی ہے، عقل سے معلوم نہیں ہو سکتا۔ اس لیے ابو ہریرةؓ کا موقف اس میں مرفوع کے حکم میں ہے یعنی حضور علیہ السلام سے ابو ہریرةؓ نے یہ ضرور سن لیا ہو گا کہ تمام کتابیوں کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لانا ان کے آخر کے زمانے میں نازل ہونے اور تشریف لانے کے بعد ضرور ہو گا۔ باقی مَوْتِہ کی ضمیر کتابی کو لوٹانا صحیح نہیں۔ ایک تو انتشارِ ضمائر شان بلاغت کے خلاف ہے دوم مَوْتِہ کی قید لغو ہو کر شان بلاغت کے خلاف ہو گی کیونکہ معنی یہ ہو گا کہ ہر کتابی اپنے مرنے سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لائیگا حالانکہ ایمان تو مرنے سے پہلے لایا جاتا ہے جیسے نماز روزہ کو مرنے سے پہلے ادا کیا جاتا ہے۔ تو جو چیز عقل سے معلوم ہو اس کو بطور قید لانا کہ وہ مرنے سے پہلے ایمان لائیں گے ایسا ہے جیسے کوئی یہ کہے کہ میں نے روٹی کھائی مرنے سے پہلے، پانی پیا مرنے سے پہلے اور ظاہر ہے کہ یہ غیر بلیغ کلام ہے۔ اگر یہ توجیہ کی جائے کہ حالت نزع میں ایمان لائیں گے تو یہ ایمان غیر معتبر ہے ورنہ فرعون بھی مومن قرار پائے گا تو ایسے غیر معتبر ایمان کا ذکر ہی عبث ہے اس کے علاوہ نزع کی حالت میں تو ہر کافر اپنے نبی پر ایمان لاتا ہے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ اس امر کی تخصیص نہیں رہی۔

١٠

صفحہ ٤٢٥

يَصُدَّنَّكُمُ الشَّيْطٰنُ اِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِيْنٌ ط (الزخرف آیۃ ٦١، ٦٢) حضرت عیسیٰ علیہ السلام قیامت کی نشانی ہے قیامت میں شک نہ کرو اور میری پیروی کرو یہی سیدھی راہ ہے شیطان تم کو اس بات کے ماننے سے نہ روکے۔ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔

عیسیٰ علیہ السلام کو قیامت کی علامت دو وجہ سے ٹھہرایا گیا۔ ایک ان کی بلا باپ پیدائش جو مردوں کو دوبارہ زندہ کرنے کی دلیل ہے۔ دوم قیامت کے قریب ان کا آسمان سے نزول جو قرب قیامت کی نشانی ہے۔ سیاق و سباق کے مطابق اِنَّہٗ کی ضمیر کا مرجع عیسیٰ علیہ السلام ہے اور اس کے سوا جو بھی رائے ہو وہ ضعیف ہے۔ (ابن ماجہ ص ٣٠٩ باب فتنۃ الدجال) میں حدیث اسراء کے تحت حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے قیامت کا سوال ہوا۔ آپ نے فرمایا کہ اس کے واقع ہونے کا وقت تو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا اور جب دجال کا ذکر ہوا تو حضرت عیسیٰ نے فرمایا میں نازل ہوں گا اور اس کو قتل کروں گا۔ اس آیت کی تفسیر میں ابن جریر نے آسمان سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول قیامت سے پہلے ابن عباس، ابی مالک، عوف، مجاہد، قتادہ، سدی ضحاک و ابن زید کی روایات سے نقل کیا ہے جو آپ کے نزول کی دلیل ہے اور آیت مذکورہ میں اسی نزول کے پیش نظر حضرت عیسیٰ کو قیامت کی علامت قرار دیا گیا ہے۔ یہی صحیح معنی ہے۔ اگر بغیر باپ کے پیدائش کی علامت ہوتی تو اس اطلاق کے زیادہ حق دار حضرت آدم علیہ السلام تھے جن کی پیدائش ماں اور باپ دونوں کے بغیر ہوئی لیکن قرآن میں علم للساعۃ کا اطلاق ان پر نہیں آیا۔ معلوم ہوا کہ مراد الٰہی علامت قیامت کا حضرت عیسیٰ کا آسمان سے قرب قیامت میں نزول ہے اور جو اس عقیدے سے روک دے وہ شیطان ہے۔ فَلَا يَصُدَّنَّكُمُ الشَّيْطٰنُ تم کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان سے نازل ہونے کے عقیدے سے شیطان روک نہ دے۔ یعنی اس عقیدے سے روکنے والا قرآن کے اس ارشاد کے مطابق شیطان ہے۔

عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ وَجِيْهًا فِى الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِيْنَ ط (ال عمران ٤٥) (اس وقت کو یاد کرو) جبکہ فرشتوں نے کہا کہ اے مریم علیہ السلام بے شک اللہ تم کو بشارت دیتے ہیں ایک کلمہ کی جو منجانب اللہ ہوگا اس کا نام مسیح عیسیٰ علیہ السلام بن مریم علیہ السلام ہوگا با آبرو ہوں گے دنیا میں اور آخرت میں اور منجملہ مقربین کے ہوں گے۔

١١

صفحہ ٤٢٦

یہاں عیسیٰ علیہ السلام کے حق میں ان کا مقربین سے ہونا بیان ہوا ہے۔ دوسری جگہ اہل جنت کے حق میں سورۃ واقعہ میں بیان ہوا ہے اُولٰٓئِکَ الْمُقَرَّبُوْنَ فِيْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ۔ (واقعہ ١١، ١٢) تیسری جگہ ملائکہ کے حق میں آیا ہے لَنْ یَّسْتَنْکِفَ الْمَسِیحُ اَنْ یَّکُوْنَ عَبْدًا لِّلّٰهِ۔ وَلَا الْمَلٰٓئِکَةُ الْمُقَرَّبُوْنَ (نساء ١٧٢) مسیح کو اللہ کے بندہ ہونے سے عار نہیں اور نہ مقرب ملائکہ کو عار ہے۔ ان تینوں جگہ میں قرب سے مراد قرب جسمی و حسی و سماوی مراد ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسی آیت کی تفسیر میں امام رازی نے تفسیر کبیر اور ابو السعود نے اپنی تفسیر میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان پر جسم کے ساتھ اٹھایا جانا ذکر کیا ہے اور مدارک، خازن، سراج المنیر اور کشاف میں ہے فَکَوْنُهٗ مِنَ الْمُقَرَّبِیْنَ۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مقربین میں سے ہونا، ان کو آسمان پر اٹھانا اور ملائکہ کی صحبت اختیار کرنا اور پھر باقیماندہ امور کی تکمیل کے لیے ان کا زمین پر نزول فرمانا مثلاً نکاح، حج، جہاد کرنا اور مسیحی اقوام کے فتنوں کو مٹانا۔

حیات و نزول مسیح علیہ السلام حدیث کی روشنی میں

سے جو حدیث نقل کی ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا۔ قسم ہے خدا کی کہ عیسیٰ علیہ السلام اوپر سے تم میں نازل ہوگا۔ حضرت مریم علیہ السلام کا فرزند جو حاکم ہوگا، انصاف والا، صلیبی قوت توڑ دے گا اور خنزیر کے قتل کا حکم دے گا اور تمام لوگوں کے مسلمان ہو جانے سے جہاد کی ضرورت نہ رہے گی کہ لوگوں کو ایک سجدہ تمام دنیا کی دولت سے بہتر نظر آئے گا۔ پھر ابو ہریرہؓ نے اس کی تصدیق کے لیے اس آیت کی طرف توجہ دلائی جس کا معنیٰ یہ ہے کہ اس وقت کوئی کتابی نہ ہوگا مگر ایمان لائے گا عیسیٰ علیہ السلام پر۔“ (بقول مرزا قادیانی قرآن کے بعد اصح کتاب بخاری کی حدیث ہے)

کے درمیان نبی نہیں اور وہ اتریں گے جب اس کو دیکھو تو پہچان لو۔ وہ قامت کے درمیانے ہیں سرخ و سفید ہیں۔ دو زرد کپڑوں میں اتریں گے۔ سر کے بال اس کے ایسے معلوم ہوں گے کہ گویا اس سے پانی ٹپکتا ہے اگرچہ اس کو پانی نہیں پہنچا ہوگا تو اسلام پر لوگوں سے جہاد کریں گے۔ صلیبی قوت توڑ دیں گے۔ خنزیر کے قتل کا حکم دیں گے جزیہ موقوف کریں گے۔ اس کے وقت اسلام کے سوا تمام ادیان کا خاتمہ ہوگا دجال کو قتل کریں گے زمین میں چالیس برس رہیں گے پھر وفات پائیں گے اور مسلمان اس پر نماز جنازہ

١٢

صفحہ ٤٢٧

پڑھیں گے۔

(ابو داؤد عن ابو ہریرۃ مرفوعاً ج ٢ ص ١٣٥ باب خروج الدجال)

کیا ہے کہ ابن مریم زمین پر اتریں گے شادی کریں گے اور اولاد پیدا ہو گی اور ٹھہریں گے زمین پر پینتالیس برس پھر فوت ہوں گے اور دفن ہوں گے میرے مقبرہ میں تو قیامت میں اٹھیں گے ہم اور عیسیٰ ابن مریم ایک مقبرہ سے، جو ابوبکرؓ و عمرؓ کے درمیان ہوں گے۔

عیسیٰ علیہ السلام دمشق کے مشرق میں سفید منارہ پر اتریں گے دو کپڑوں میں درمیان دو فرشتوں کے۔ دونوں ہاتھ فرشتوں پر رکھے ہوتے ہوں گے دجال کو باب لد پر پائیں گے تو اس کو قتل کریں گے۔

آیات حیات مسیح علیہ السلام کثیر التعداد ہیں اور احادیث تو حد تواتر کو پہنچتی ہیں جو ٢٩ صحابہؓ سے منقول ہیں لیکن ہم نے بغرض اختصار پانچ آیات اور صرف چار احادیث پر اکتفاء کیا۔ ان احادیث میں حضور علیہ السلام نے تحفظ ایمان اور گمراہی سے بچانے کے لیے حضرت مسیح کی جو علامات ذکر کی ہیں وہی کافی شافی ہیں اور جو گمراہ ہیں کہ استعارات اور مجازات سے وہ پوری تاریخ اور ایک دنیا کو بدلا سکتے ہیں ان کے لیے قرآن و احادیث کا دفتر بھی بے کار ہے۔ ان چار احادیث سے حضرت مسیح موعود کی معرفت کی جو واضح علامات ہیں وہ نمبر وار حسب ذیل ہیں۔

سے منسوب ہوگا لیکن مرزا غلام احمد کا باپ تھا مرزا غلام مرتضیٰ تھا اور اس کی والدہ کا نام ممتاز بی بی تھا اور وہ باپ سے منسوب تھا نہ کہ ماں سے۔

قانون بند تھا اور انگریز کا قانون خود اس پر اور اس کے مریدوں پر بھی نافذ تھا۔

حاصل ہوا کہ اس سے پہلے نہ تھا۔ خود ان کا باپ ان کے اقرار کے مطابق پچاس گھوڑوں کے سواروں کو مہیا کر کے تحریک آزادی ١٨٥٧ء میں صلیبی قوت کو ہندوستان پر مسلط کرنے کے لیے لڑا اور خود مرزا نے تحفہ قیصریہ میں اپنے آنے کا مقصد یہ ظاہر کیا کہ میں انگریز کی صلیبی حکومت کے لیے ایک ایسی فوج تیار کروں جو انگریز کی حکومت کی وفادار ہو۔

١٣

صفحہ ٤٢٨

میں اضافہ ہوا۔

نے مال نہیں دیا بلکہ لینا شروع کیا۔ چندہ عام اور چندہ بہشتی مقبرہ کو شرط ایمان قرار دیا۔

ساری دنیا سے زائد ہو گی لیکن مرزا کے وقت میں نصاریٰ نے مسلمانوں کو مرتد بنانا شروع کیا اور لاکھوں کو مرتد کیا۔

زمین ہی پر رہے۔

نصیب نہیں ہوا۔

زیارت بھی کبھی نصیب نہیں ہوئی۔

ہوا، اور نہ دجال کا۔ البتہ اس کی روحانی اولاد نے دجال کی قوم یہود سے تل ابیب میں تعلق پیدا کیا جب کہ تمام عالم اسلام کا ان سے تعلق منقطع ہو چکا ہے۔ شاید کہ ظہور دجال کے وقت امداد کے لیے حاضر رہیں۔

وقت باقی رہے بلکہ اور نئے باطل ادیان بھی خلاف اسلام پیدا ہوئے جن میں خود ایک دین مرزائیت ہے جو وحدت اسلامی کے برخلاف ایٹم بم ہے۔

کی ہوگی اور نہ اولاد ہوگی۔ لیکن مرزا کی شادی اور اولاد دعویٰ سے قبل موجود تھی۔

بجائے خود جہاد کو حرام ٹھہرا کر نصاریٰ کے استعمار کے لیے راہ صاف کیا۔ جزیہ کا تو سوال ہی نہیں رہا۔

١٤

صفحہ ٤٢٩

کی لڑائیاں موقوف ہوں گی لیکن مرزا کے وقت میں مختلف مذاہب نے مسلمانوں پر ہندوستان ترکی، فلسطین، شمالی افریقہ میں جو مظالم کیے۔ ان کی تاریخ میں نظیر نہیں۔ یہ سب مرزا کی برکت تھی۔

١٨۔ امن قائم ہوگا اور جنگ ختم ہوگی لیکن مرزا کے وقت میں اور اس کے بعد اس کا نام و نشان مٹ گیا اور جنگ کے لیے وہ مہلک اوزار تیار کیے گئے کہ مرزا اور اس کے بعد کی ایک جنگ کی تباہی سابق زمانے کی سینکڑوں جنگوں کی تباہی سے زیادہ ہے۔

ان علامات کے لحاظ سے مرزا کی شخصیت ضد مسیح موعود ہے۔ باقی رہا یہ مسئلہ کہ مجازات و استعارات کی مشین سے پوری تاریخ بھی بدلائی جاسکتی ہے جس کی نہ قادیان میں کبھی کمی رہی نہ ربوہ میں۔ تو ایسی صورت میں تمام قرآن و حدیث بلکہ پوری تاریخ کو بازیچہ اطفال بنایا جاسکتا ہے اور ایسا کرنے سے یہ خیال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ پھر قادیانی و مرزائی تاویلات کے آگے ہر چیز کی حقیقت بدلائی جاسکتی ہے اور الفاظ اور تعبیرات سے کسی مقصد کا تعین ممکن نہیں بلکہ مرزائیوں کے لیے الفاظ ربڑ کا ایک ایسا تسمہ ہے کہ جہاں تک چاہو اس کو پھیلا سکتے ہو اور ایسی صورت میں کہ نزول مسیح کی علامات اس کی ضد پر بھی چسپاں کیے جاسکتے ہیں تو پھر ان علامات کا بیان ہی بے فائدہ رہا کیونکہ علامات سے مسیح کی شخصیت کا تعین مقصود تھا اور جب نہ نام سے تعین ممکن نہ والدہ کے نام سے نہ مکان سے نہ مقاصد نزول سے بلکہ ان تمام علامات کی ضد شخصیت کو بھی اس میں گھسیڑا جاسکتا ہے تو تمام نظامہائے سلطنت کے دفتری الفاظ بھی تاویل سے لغو اور بے فائدہ ہو سکتے ہیں۔

شیخ اکبر اور حیات عیسیٰ علیہ السلام

شیخ اکبر فتوحات مکیہ باب ص ٣٦٧ ج ٣ ص ٣٤١ میں لکھتے ہیں۔

فِى حَدِيْثِ الْمِعْرَاجِ فَلَمَّا دَخَلَ اِذَا بِعِيْسٰى بِجَسَدِهِ عَيْنِهِ فَاِنَّهُ لَمْ يَمُتْ اِلَى الْآنَ بَلْ رَفَعَهُ اللّٰهُ اِلَى هٰذِهِ السَّمَاءِ وَاَسْكَنَهُ بِهَا وَحَكَمَهُ فِيْهَا وَهُوَ شَيْخَنَا الْاَوَّلُ الَّذِى رَجَعْنَا عَلٰى يَدِهِ وَلَهُ بِنَا عِنَايَةٌ عَظِيْمَةٌ وَّلَا يَغْفَلُ عَنَّا سَاعَةً وَّاَرْجُوْ اَنْ اُدْرِكَهُ فِى نُزُوْلِهِ اِنْشَاءَ اللّٰهُ تَعَالٰى.

حدیث معراج میں ہے کہ وہ داخل ہوئے تو ان کو عیسیٰ علیہ السلام جسم کے ساتھ ملے کیونکہ وہ اب نہیں مرے بلکہ اللہ نے اس کو اس آسمان تک اٹھایا اور اس میں بسایا اور اس کا حکم اس میں چلتا رہا اور وہ ہمارے پہلے شیخ ہیں جس کے ہاتھ پر ہم نے

١٥

صفحہ ٤٣٠

خدا کی طرف رجوع کیا۔ ان کو ہم پر مہربانی ہے اور ہم سے وہ غفلت نہیں کرتے مجھے امید ہے کہ اگر اللہ نے چاہا تو میں اس کے زمین پر نازل ہونے کا زمانہ پا لوں گا۔

حیات مسیح تاریخی نقطہ نظر سے

حضرت مسیح حضور علیہ السلام کے قریب تر پیغمبر ہیں اور تمام نصاریٰ اور مسلمان ان کی عظمت اور شخصیت کو مانتے ہیں۔ نصاریٰ نے بالخصوص ہزاروں سال کے آثار قدیمہ کو دریافت کیا لیکن نہ خود نصاریٰ اور نہ مورخوں کو یہ پتہ لگا کہ عیسیٰ علیہ السلام مرنے سے بچ کر فلسطین سے طویل سفر کاٹ کر کشمیر آئے اور پھر وہیں فوت ہو کر محلہ خانیار میں دفن ہوئے اور نہ ہندوستان اور کشمیر والوں کو پتہ لگا۔ صرف مرزا کو دعویٰ مسیحیت کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لیے نئی تاریخ بنانی پڑی۔ اگر اس طرح فرضی تاریخ گھڑنا درست ہو تو تمام گذشتہ انبیاء اور سلاطین کی تاریخیں ناقابل اعتبار قرار پائیں گی بلکہ پوری تاریخ ناقابل اعتبار بن جائے گی۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات و نزول کی حکمت

ا۔ آپ کی ذاتی حیثیت کے اعتبار سے

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نانا (عمران) جو زاہد اور امام تھے حضرت سلیمان علیہ السلام کی نسل سے تھے اور آپ کی بیوی حنہ بنت فاقوذ حضرت داؤد علیہ السلام کی نسل سے تھی۔ جو بناء بر تحقیقی قول حضرت زکریا علیہ السلام کی بیوی ایشاع کی بھانجی تھی۔ گویا حضرت یحییٰ علیہ السلام کو حضرت مریم علیہ السلام کے خالہ زاد بھائی کہا گیا ہے وہ مجاز ہے کیونکہ عمران و حنہ کی حضرت مریم علیہ السلام کے سوا اور کوئی اولاد نہ تھی۔ مریم کے معنی سریانی زبان میں خادم کے ہیں۔ حضرت مریم سے حضرت مسیح عیسیٰ علیہ السلام نفخہ جبرائیل سے پیدا ہوئے۔ مسیح کے معنی مبارک ہے یا بمعنی سیاحت کرنے والے جس کا گھر نہ ہو۔ نفخہ جبرائیلی جو گریبان مریم میں پھونکا گیا وہ کلمہ کن تھا۔ اس وجہ سے کلمہ کہلائے۔ اس بنیاد پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شخصیت مادری رشتہ سے انسانی ہے اور نفخہ جبرائیلی کے اعتبار سے ملکی ہے۔ نفخہ جبرائیل پدری تعلق کے قائم مقام تھا لہذا ذات مسیح میں مادری اور پدری دونوں رشتوں کا جمع ہونا ضروری ہے۔ مادری رشتہ کے لحاظ سے زمین پر رہنا، زمینی خواہشات کھانا، پینا، میلان صنفی کا موجود ہونا ضروری تھا اور جبرائیلی اور ملکی رشتہ کے لحاظ سے ملکی خواص کھانے، پینے وغیرہ خواہشات کا منقطع ہونا لازمی تھا۔

١٦

صفحہ ٤٣١

اس حکمت کی بنیاد پر آپ میں زمینی اور انسانی زندگی کے صفات بھی جمع کیے گئے اور ملکی زندگی سے آسمانی زندگی اور انسانی خواہشات سے استغناء اور ملکی صفات آپ کو عطا کیے گئے۔ لہٰذا حضرت مسیح علیہ السلام کا طولِ حیاتِ سماوی اور ضروریاتِ انسانی سے منقطع ہونا آپ کی شخصیت کے ملکی پہلو کا عقلی تقاضا ہے اور جب دوبارہ زمین پر نزول فرمائیں گے تو زمینی خواص سے موصوف ہوں گے۔ اس لیے حدیث نزولِ مسیح میں آیا ہے کہ يَتَزَوَّجُ وَيُوْلَدُ لَهٗ کہ وہ شادی کریں گے اور ان کی اولاد بھی ہوگی۔ شیخ اکبر فتوحات باب میں لکھتے ہیں۔ نصفہ بشر و نصفہ ملک یعنی حضرت مسیح علیہ السلام کا نصف بشر اور نصف ملک ہے۔ آسمان پر ملکی خواص اور زمین پر انسانی خواص ہوں گے۔

ازالہ شبہہ : سطحی نگاہ والے شبہہ کرتے ہیں کہ اگر مسیح علیہ السلام آسمان پر ہیں تو کھانا پینا کہاں سے ہے اس کا پہلا جواب تو اب گزرا کہ آسمانی زندگی ان کے ملکی طرز کی زندگی ہے جس میں وہ کھانے، پینے اور اس کے لوازمات سے بے نیاز ہیں۔ جس کے کچھ نظائر زمینی زندگی میں بھی موجود ہیں۔

کہ انھوں نے عراق میں ایک آدمی دیکھا کہ وہ نہ کھاتا تھا نہ پیتا تھا۔

کھاتی اور نہ پیتی تھی۔ جس کا واقعہ مشہور ہے۔

نام ایک عورت کا شوہر شہید ہو چکا تھا تو اس نے شوہر کو خواب میں دیکھا کہ وہ جنت کا طعام کھاتا ہے تو اس نے اس میں سے ایک ٹکڑا اپنی بیوی کو دے دیا۔ جب وہ خواب سے بیدار ہوئی تو اس کو عمر بھر بھوک نہیں لگی۔

بحوالہ مذکورہ طبقات دوسرا جواب یہ ہے کہ زمین کو آسمان سے ایسی نسبت ہے جیسے رائی کے دانہ کو پہاڑ سے۔ تو جب اس چھوٹی زمین پر اللہ تعالیٰ نے اربوں مخلوقات کے کھانے کا انتظام فرما دیا ہے تو کیا آسمان پر ایک فرد کی ضروریات کا انتظام کرنا اس کے لیے مشکل ہے؟ قطعاً نہیں۔

٢۔ حکمت نزول حضرت عیسیٰ علیہ السلام بلحاظ ختم نبوۃ

وَإِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِيْثَاقَ النَّبِيّٖنَ لَمَا اٰتَيْتُكُمْ مِّنْ كِتٰبٍ وَّ حِكْمَةٍ ثُمَّ جَآءَ كُمْ رَسُوْلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهٖ وَلَتَنْصُرُنَّهٗ ط قَالَ ءَاَقْرَرْتُمْ وَاَخَذْتُمْ عَلٰى ذٰلِكُمْ

١٧

صفحہ ٤٣٤

اِصْرِیْ ط قَالُوْا اَقْرَرْنَا ط قَالَ فَاشْهَدُوْا وَاَنَا مَعَكُمْ مِّنَ الشّٰهِدِيْنَ ط (ال عمران ٨١)

جب لیا اللہ نے عہد نبیوں سے کہ جو کچھ میں نے دیا کتاب اور علم اور پھر آئے تمھارے پاس بڑا رسول کہ سچا بتا دے تمھارے پاس والی کتاب کو تو اس رسول پر ایمان لاؤ گے اور اس کی مدد کرو گے۔ فرمایا کیا تم نے اقرار کیا اور اس شرط پر ہمارا عہد قبول کر لیا بولے ہم نے اقرار کر لیا۔ فرمایا تو اب گواہ رہو اور میں بھی تمھارے ساتھ گواہ ہوں۔

حضرت علیؓ اور حضرت عبداللہ بن عباس کی تفسیر کے مطابق یہ عہد انبیاء علیہم السلام سے خاتم الانبیاء علیہ السلام کے بارہ میں لیا گیا گویا حضور نبی کریم ﷺ نبی الامم اور نبی الانبیاء بھی ہیں۔ آیت مذکورہ میں انبیاء علیہم السلام نے خاتم الانبیاء کی نبوت کو اعتقاداً اور اقراراً تسلیم کیا اور نصرۃ بالواسطہ بھی انبیاء علیہم السلام نے حضور ﷺ کی نبوت کی تصدیق کر دی اور اپنی امتوں کو آپ ﷺ کے نبی ہونے اور امداد دینے کی تاکید فرمائی جیسے موسیٰ علیہ السلام نے توراۃ کی کتاب استثناء باب ١٨، باب ٢٣، داؤد علیہ السلام نے زبور باب ٤٥، حضرت سلیمان علیہ السلام نے غزل الغزلات، حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے انجیل یوحنا باب ١٩ آیت ٥ تا آیت ١٥ میں اعلان کیا۔ اب ضرورت تھی کہ آپ کی نبی الانبیاء کا عملی بالذات ظہور ہو جس کی ایک صورت حدیث معراج میں آپ کی امامت انبیاء علیہم السلام کی شکل میں ہوئی اور دوسری عملی صورت یہ ہوئی کہ آپ سے قریب نبی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آخری زمانہ تک زندہ رکھ کر نبی ہونے کے باوجود امتی کی پوزیشن میں خدمت دین محمدی کے لیے آسمان سے نازل فرمانا طے کیا گیا تا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جملہ انبیاء علیہم السلام سابقین کے نمائندہ کے طور پر شرع محمدی کی خدمت و نصرت عملی رنگ میں انجام دیں اور حضور ﷺ کی نبی الانبیائی کے عہدہ کو نمایاں کر دیں۔ نبی الانبیائی کے منصب کی عملی تکمیل آئندہ کسی نبی کے ذریعہ ممکن نہ تھی کہ حضور ﷺ کے بعد نبوت کا دروازہ بند تھا، اس لیے سابق انبیاء علیہم السلام میں سے ایک نبی کو آخری وقت کی نصرت دین محمدی اور اظہار شان نبی الانبیائی کے لیے باقی رکھنا پڑا جو حضور نبی کریم ﷺ کے بعد عطاء عہدۂ نبوت کی بندش کی دلیل ہے یہی حکمت نزولِ عیسیٰ علیہ السلام حضور ﷺ کے ختم نبوت کی حیثیت سے ہے۔

٣۔ حکمت نزول مسیح علیہ السلام بلحاظ فتن عالمی و اصلاح عمومی

اس سلسلے میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کی حکمتیں حسب ذیل ہیں۔

١٨

صفحہ ٤٣٣

دجال مدعی الوہیت ہوگا اور آپ توحید باری قائم کرنے اور غیر اللہ کی الوہیت کی طرف دعوت دینے کے جرم میں اس کو قتل کریں گے جس سے خود آپ کی امت کی گمراہی جو خود حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو الہ مانتی ہے خود حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اس عمل قتل دجال سے باطل قرار پائے گی اور نصاریٰ کو ذہن نشین ہو جائے گا کہ خدا کے سوا کسی اور کو الہ ماننا ایسا عقیدہ ہے جو موجب سزاء قتل ہے۔

ہاتھوں دجال یہودی اور اس کے ماننے والے یہود قتل کیے جائیں گے تو یہ عملاً یہود کے اس جھوٹے دعویٰ کی تردید اور سزاء ہوگی۔

رکھنے کی وجہ سے سیاحت کرتے تھے اس لیے مسیح کہلائے اور دجال مسیح ضلالت ہے جو دائیں آنکھ کے ممسوح ہونے کی وجہ سے مسیح کہلاتا تھا تو آپ ہی کے ہاتھوں دجال ممسوح العین کے قتل اور اس کے متبعین کی تباہی زیادہ موزوں تھی۔

ہے اس کو دیکھ کر عالم موجود کی اس تباہی اور خون ریزی اور عالمگیر فساد کی اصلاح اور ازالہ مادی ذرائع سے ہونا ناممکن ہوگیا ہے۔ پوری دنیا مادیت پرستی کی وجہ سے جہنم کے کنارہ پر کھڑی ہے۔ انسانی اخلاق کا تقریباً خاتمہ ہو چکا ہے۔ انسانی لباس میں اس وقت حیوانیت اور حیوانی جذبات برسر عروج ہیں۔ اصلاح کی راہیں مادی ذرائع سے کلیتاً مسدود ہو چکی ہیں۔ اس وقت کا مشرقی و مغربی بلاک یاجوج و ماجوج کی صورت میں دنیا کی تخریب میں مصروف ہے۔ یاجوج ماجوج کو عبرانی زبان میں غوغ ماغوغ اور انگریزی میں گاگ میگاگ کہتے ہیں۔ ملاحظہ ہو عقیدۃ الاسلام ص ٢٩٨ روس اور اسی طرح چین یاجوج ہے اور برطانیہ اور اسی طرح امریکہ وغیرہ ماجوج ہے اور بعض کاس میکاس اور بعض چین ماچین سے تعبیر کرتے ہیں۔ ناسخ التواریخ نے ہبوط آدم علیہ السلام سے تاریخ تعمیر سد ذی القرنین تک کی تاریخ ٣٤٦٠ ہبوطی لکھا ہے اور کبھی یاجوج ماجوج کا اطلاق مطلق کافر پر کیا جاتا ہے حدیث حشر میں ہے۔

مِنْ یَاْجُوْجَ وَ مَاْجُوْجَ اَلْفٌ وَّ مِنْکُمْ رَجُلٌ۔ یعنی دوزخ میں یاجوج ماجوج سے ہزار اور تم میں سے ایک ہوگا۔

یعنی کافروں سے ہزار اور تم سے ایک ہوگا۔ حافظ ابن حجرؒ اور قرطبیؒ نے اس کی

صفحہ ٤٣٤

تشریح کی ہے۔ اَىْ مِنْهُمْ وَمِمَّنْ كَانَ عَلَى الشِّرْكِ مِثْلَهُمْ وَرَجُلٌ مِّنكُمْ اَىْ مِنْ اَحْزَابِهِ وَمِمَّنْ كَانَ مِثْلَهُمْ. گویا مِنْهُمْ سے مطلق کافر اور مِنْكُمْ سے مطلق مومن مراد ہیں۔ سنہدرین جو کبار الیہود سے ہے اور ان کے ہاں حدیث کا درجہ رکھتا ہے۔ جو خزائن الروم میں عبرانی خط میں موجود ہے نقل کیا ہے کہ عالم ٤٢٩١ کے بعد یتیم ہو جائے گا اور اس کے بعد کوک ماکوک کی لڑائیاں ہوں گی، اور باقی ایام ماشح کے ہوں گے۔ صاحب ناسخ نے ماشح مبارک کو خاتم الانبیاء پر محمول کیا ہے اور عبری کبار میں ماشح کے بعد لکھا ہے کہ اس کے بعد عالم یتیم بلا راعی رہ جائے گا یعنی نبوت ختم ہوگی بہرحال دور حاضر میں عالمی فساد مادیت انتہائی کی شکل میں متشکل ہو گئی ہے اس کا ازالہ اپنی ضد یعنی روحانیت انتہائی کے بغیر ناممکن ہے جس کے لیے قدرت کی طرف سے حضرت مسیح علیہ السلام مقدر ہے کہ وہ روح القدس کی پھونک سے پیدا ہوئے یہ پہلی روحانیت ہوئی وَاَيَّدْنٰهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ (بقرہ ٨٧) کے تحت زمینی زندگی میں بھی آپ کی تقویت روح القدس سے کی گئی۔ یہ دوسری روحانی قوت ہوئی۔ آسمان پر روح القدس کے ذریعہ اٹھائے گئے یہ تیسری تقویت روحانیت کی ہوئی۔ آپ کا نزول از روئے حدیث ایسی حالت میں ہوگا وَاضِعًا كَفَّيْهِ عَلى اَجْنِحَةِ مَلَكَيْنِ کہ آپ کی دونوں ہتھیلیاں دو فرشتوں کے بازوؤں پر رکھی ہوئی ہوں گی جیسے مسلم کی حدیث میں نواس بن سمعان سے آیا۔ یہ پانچویں ملکی اور روحانی قوت ہوئی۔ ان تمام قوتوں کا اثر یہ ہوگا کہ آپ کا ایک دعائیہ جملہ کہ اے خدا ان مادی مفسد یاجوجی ماجوجی، قوتوں کو ہلاک کر دے ایسا کام انجام دے گا کہ تمام مادہ پرست یاجوجی ماجوجی ہستیاں اپنی اپنی جگہ پر ہلاک ہوں گی اور خس کم جہاں پاک کے تحت تخریبی سائنس کے علمبرداروں کا خاتمہ ہو جائے گا اور پوری زمین ان کی لاشوں سے پر اور بدبودار ہو جائے گی۔ مسلم کی حدیث نواس بن سمعان میں آیا ہے کہ یاجوج ماجوج حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا اور ان کے متبعین کا بھی محاصرہ کریں گے۔ فَيَرْغَبُ نَبِىُّ اللّٰهِ عِيسى وَأَصْحَابُهُ يُرسِلُ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ. حضرت عیسیٰ اور ان کے ساتھی دعا کریں گے تو اللہ ان پر گردن پکڑنے والی بیماری مسلط کر دے گا۔ فَيُصْبِحُوْنَ فَرْسىٰ كَنَفْسٍ وَاحِدَةٍ تو ہو جائیں گے سب کے سب مردہ لاشوں کا ڈھیر کہ گویا ان سب کا مرنا ایک آدمی کا مرنا ہوگا۔ بالشت بھر زمین خالی نہ ہوگی جو ان کی لاشوں کی بدبو سے پر نہ ہوئی ہو گی تو اللہ بختی اونٹوں جتنے بڑے بڑے پرندے بھیجے گا جو ان کی لاشوں کو اٹھا کر کہیں اور جگہ پھینک دیں گے۔ سائنس نے جو موجودہ ایٹمی دور کو جنم دیا ہے اس کے ازالے کی تدبیر مادی قوت سے ممکن نہیں۔ اگر کوئی صالح حکومت ان کے توڑ کے لیے کارخانہ بنائے

صفحہ ٤٣٥

تاکہ ان کا مقابلہ کیا جائے تو یہ مفسد قوتیں اس قدر آگے نکل چکی ہیں کہ ان کی برابری مشکل ہے اور پھر سائنسی آلات حرب سے مسلح سلطنتیں مشرقی بلاک کی یا مغربی بلاک کی، سب تخریب عالم اور فساد اور خدا دشمنی پر متفق ہیں۔ فساد اس قدر زور دار ہے جس کی نظیر تاریخ بشری میں ناپید ہے اس لیے صحیح مسلم ج ٢ ص ٤٠٥ باب قصۃ الجساسۃ میں عمران بن حصین کی حدیث میں اس دجالی فتنہ کے متعلق مذکور ہے۔

مَا بَيْنَ خَلْقِ آدَمَ الیٰ قِیَامِ السَّاعَةِ اَمْرٌ اَكْبَرُ مِنَ الدَّجَّالِ. دجالی فتنہ سے بڑا کوئی فتنہ پیدائش آدم سے قیامت تک نہیں۔

پانچویں حکمت: پانچویں حکمت یہ ہے کہ موجودہ دور کے عالمی فتنوں اور ایٹمی تباہیوں کے بانی مبانی یہود و نصاریٰ ہیں۔ اشتراکیت کا بانی کارل مارکس یہودی ہے۔ ایٹم بم کا موجد شوپن ہار یہودی ہے۔ تہذیب جدید کے خدا فراموشانہ، فاسقانہ معاشرہ اور انسان کش سامراجیت کی بنیاد مسیحی طاقتوں نے قائم کی ہے اور دیگر مذاہب والوں کو مثلاً مسلمانوں کو بگاڑنے والی بھی عیسائی قومیں ہیں۔ اس لیے ضروری ہوا کہ ایک اسرائیلی پیغمبر جو مسیحی اقوام کا پیشوا ہے انہی کے ہاتھوں ان کی امت کے پیدا کردہ فساد کا خاتمہ ہو۔ الغرض امت مسیح علیہ السلام نے مادی اور سائنسی ایٹمی ذرائع سے جو عالمی فساد برپا کیا ہے اور زمینی قوتیں اس کے مقابلہ سے عاجز ہیں اور اب بجز مذکورہ آسمانی تدبیر کے زمین کی اصلاح قطعا ناممکن ہے اس لیے عقلاً بھی نزول مسیح علیہ السلام کی ضرورت ہے جو خدا کی تدبیر نے ہزاروں سال پیشتر طے کر دیا ہے نہ کہ دجالی قوتوں کا وہ کاسہ لیس شخص جو مسیحیت کی دکان جما کر دجالی قوتوں کا دست بازو بن جائے اور اسلام کے چودہ سو سال میں کمائے ہوئے مسلمانوں کو کافر کہہ کر سابق محنت کو بھی ختم کر دے۔

فائدہ: سد ذوالقرنین کے متعلق

دنیا میں اسوقت بہت سد ہیں۔ ایک دیوار چین جو طویل و عریض ہے جس کو منگولی زبان میں نکوہ اور ترکی زبان میں بوقورقہ کہتے ہیں۔

دوم بخارا اور ترمذ کے درمیان جس کو در بند کہتے ہیں یہ تیمور کے وقت میں موجود تھا۔

سوم داغستان کا سد۔ اس کا نام باب ابواب ہے اور در بند بھی کہتے ہیں۔ بستانی نے دائرۃ المعارف میں اس کی تفصیل بیان کی ہے۔

چہارم وہ سد جو کا کیشیا میں قفقاز کے پاس درہ داریال میں ہے۔ یاقوت نے

صفحہ ٤٣٦

معجم البلدان میں لکھا ہے کہ وہ پگھلے ہوئے تانبے کا ہے اور باقی تین سد پتھر کے ہیں۔ لہٰذا قرآنی تشریح کے مطابق سد ذوالقرنین سے یہی سد چہارم مراد ہے۔ ناسخ التواریخ میں اس کی تصریح کی گئی ہے۔ اس کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ خرداد نے کتاب الممالک میں لکھا ہے کہ عباسی خلیفہ واثق باللہ نے سد ذوالقرنین کی تحقیق کے لیے ماہرین کا ایک کمیشن بھیجا تو اس نے بھی اسی سد کو مطابق قرآن قرار دیا۔ اسی سد ذوالقرنین کو فارس میں درہ آہنی اور ترکی زبان میں دامر کاپو اور چینی زبان میں پھاگ کوان ہے یعنی کور کا درہ۔ کور سے مراد کورش ہے۔ کورش سائرس کیخسرو کا نام ہے۔

ذوالقرنین : ذوالقرنین کے تین سفر قرآن میں ذکر ہیں۔ مغربی، مشرقی اور تیسرا سفر غالباً شمالی ہے۔

ذوالقرنین کون تھا؟ امام رازیؒ نے تفسیر کبیر سورۂ کہف میں لکھا ہے کہ مقدونیہ کا سکندر بن فیلقوس تھا جو ارسطو کا شاگرد تھا۔ امام رازیؒ نے ارسطو کے کافر ہونے کی تصریح کی ہے۔ بعضوں نے کیقباد کہا ہے اور بعضوں نے فغفور چین بتلایا ہے۔ بعضوں نے یمن کا بادشاہ ذونواس حمیری بتلایا ہے اور بعضوں نے سامی بادشاہ جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کا معاصر تھا، اس کو ذوالقرنین قرار دیا۔ بعض اس کو مصعب بن عبداللہ قرار دیتے ہیں جیسے ابن عبدالبر نے لکھا ہے۔ بعض نے عبداللہ بن ضحاک قرار دیا ہے اور بعض نے سائرس جس کو گورش بھی کہتے ہیں، ذوالقرنین قرار دیا۔ یہ آخری قول صحیح ہے۔ باقی اقوال صحیح نہیں ہیں۔ یہاں اور اقوال بھی ہیں لیکن وہ بھی صحیح نہیں۔ مصعب بن عبداللہ و عبداللہ بن ضحاک کی سند صحیح نہیں۔ حافظ ابن حجرؒ نے تردید کی ہے اور معاصر حضرت ابراہیم علیہ السلام خواہ مصعب ہو یا عبداللہ بن ضحاک ہو ان کی معاصرت حضرت ابراہیم علیہ السلام سے تاریخاً ثابت نہیں اور نہ تعمیر سد کا انتساب ان کو ثابت ہے۔ باقی سلاطین مومن نہ تھے۔ حالانکہ قرآن ان کو کم از کم رجل صالح بتاتا ہے اور ان کی طرف اس معین سد کی تعمیر کی نسبت کی صحت بھی ضروری قرار دیتا ہے لہٰذا سائرس ذوالقرنین جو مومن صالح تھا جو ٥٥٩ قبل از مسیح میں گزرے ہیں۔ ان کے تین اسفار بھی تاریخاً ثابت ہیں۔ سکندر نے قفقاز کا سفر نہیں کیا۔ نہ دیگر مذکورہ افراد نے سفر کیا ہے۔ ذوالقرنین کا مغربی سفر ایشیائے کوچک کا تھا اور سورج کا غروب عین حمئہ میں سمرنا کے سمندر کے پانی میں تھا جو سیاہ ہے۔ سائرس نے بابل فتح کر کے بنی اسرائیل کو نجات دی اور بیت المقدس کی تعمیر کی اور یسعیاہ علیہ السلام نے ایک سو ساٹھ سال قبل اس تعمیر بیت المقدس کی پیشین گوئی کی تھی۔ یرمیاہ نبی نے پیشین گوئی کی تھی کہ بابل میں ستر سال یہودی قید رہیں

صفحہ ٤٣٧

گے ۔ پھر بیت المقدس آباد ہو گا۔ امام رازیؒ نے بھی کبیر میں تصریح کی ہے کہ سد کی تعمیر سائرس نے کی ۔ ذوالقرنین یقیناً سائرس ہے۔ سائرس دانیال علیہ السلام کے دین کا پیرو تھا۔ یہی تحقیق تاریخ کے علاوہ صحیفہ یسعیاہ علیہ السلام (باب ٤٥ آیہ ١ تا ٤ و مکاشفہ دانیال باب ٨ آیہ ١ تا ٨، زکریا کی کتاب باب ٦ آیت ١٢ و عزرا باب ١ آیت ١ تا ٤) سے ماخوذ ہے۔ جو قدیم تاریخ کے اہم ترین ماخذ ہیں۔ ابراہیم زردشت بھی دانیال علیہ السلام کا شاگرد تھا۔ وہ موحد تھا اس کا اوستا اعوذ باللہ و بسم اللہ سے شروع ہوتا ہے۔ ابن کثیر کی بھی یہی تحقیق ہے۔ کتبات اصطخر میں دارا کو بھی مومن اور دشمن مجوسیت قرار دیا گیا ہے۔ سائرس ذوالقرنین دارا سے پہلے ہو گزرے ہیں۔ یاجوج ماجوج کے متعلق ان کے درازی قامت کے واقعات غلط ہیں۔ ابن کثیر نے اپنی تاریخ میں اور حافظ ابن حجر نے بخاری کے باب یاجوج ماجوج میں اس کی تردید کی ہے۔ اسی طرح ترمذی کی روایت، ابی ہریرہؓ کی روایت کہ وہ سد کھودتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ کل باقی کھودیں گے لیکن انشاء اللہ بھول جاتے ہیں تو سد اسی طرح ہو جاتا ہے۔ جب وقت آئے گا تو انشاء اللہ کہہ دیں گے تو کھود کر آئیں گے یہ بھی ضعیف روایت ہے۔ امام احمد بن حنبلؒ سے ابن کثیرؒ نے اپنی تفسیر جلد ٣ ص ١٠٥ میں نقل کیا کہ یہ خلاف القرآن ہے۔

فَمَا اسْطَاعُوْا اَنْ يَّظْهَرُوْهُ وَ مَا اسْتَطَاعُوْا لَهُ نَقْبًا. (الکہف ٩٧) یاجوج ماجوج نہ سد پر چڑھ سکتے ہیں اور نہ اس میں شگاف کر سکتے ہیں۔

ابن کثیرؒ کہتے ہیں کہ یہ روایت حضرت ابو ہریرہؓ نے کعب الاحبار سے لی ہے۔ لوگوں نے غلطی سے مرفوع سمجھ لیا ہے۔ یاجوج ماجوج کا خروج جیسے عقیدۃ الاسلام میں ہے کہ ان کا خروج سد سے نہ ہوگا بلکہ بحیرہ کیسپین سے منچوریا تک کسی جگہ سے ہوگا۔ قرآن نے جہاں سد کا استحکام بیان کیا ہے تو اس کے توڑنے کو قیامت کی علامت قرار دیا ہے لیکن جہاں خروج یاجوج ماجوج کا ذکر کیا وہاں سد کا ذکر تک نہیں کیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ خروج سد کے راستے سے نہ ہوگا۔ حدیث متفق علیہ۔ ویل العرب قد اقترب فتح الیوم من روم یاجوج و ماجوج مثل ھذہ. (مسلم کتاب الفتن ج ٢ ص ٣٨٨) عمدۃ القاری جلد ١١ میں کرمانی سے منقول ہے کہ یہ استعارہ ہے شیوع فتن سے کہ بند فتنے انگلی کے حلقے کے انداز پر کھل گئے۔ خود سد کا کھل جانا مراد نہیں۔ (دیکھو عقیدۃ الاسلام) ذوالقرنین کی تشریح میں مختلف اقوال ہیں لیکن اصطخر کے آثار قدیمہ سے ذوالقرنین کا جو مجسمہ برآمد ہوا ہے اس میں ذوالقرنین کی آہنی ٹوپی کے دائیں بائیں لوہے کے ابھرے ہوئے سینگ ملی طرح لوہے کے سینگ نما خول بنے ہوئے ہیں۔ یہی وجہ تسمیہ زیادہ درست ہے۔

PDF 438

ایک درخواست

آخر میں ایک درخواست ہے کہ کیا تم باپ کے قاتل کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھایا کرتے ہو؟۔ (غیر مہذب الفاظ کہنے کی گستاخی کی معافی چاہتا ہوں۔)

اگر کوئی کسی کی بہن بیٹی کو اغواء کر کے لے جائے کیا اس کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھایا کرتے ہیں؟ اور ایسے شخص کے ساتھ آپ کی دوستی اور یارانہ رہا کرتا ہے؟ اگر ہمیں اپنے باپ کے قاتل کے بارے میں غیرت ہے اور ہمیں اپنی بہو بیٹی کی عزت پر ہاتھ ڈالنے والے کے بارے میں غیرت ہے کہ ہماری اس کے ساتھ کبھی صلح نہیں ہو سکتی، کبھی دوستی نہیں ہو سکتی، کبھی اس کے ساتھ ملنا بیٹھنا نہیں ہو سکتا تو میں پوچھتا ہوں کہ جن موذیوں نے آنحضرت ﷺ کی ناموس نبوت پر ہاتھ ڈالا (معاذ اللہ) جنہوں نے مرزا غلام احمد قادیانی کو محمد رسول اللہ بنا ڈالا جنہوں نے محمد رسول اللہ ﷺ کا کلمہ پڑھنے والے تمام مسلمانوں کو کافر، حرامزادے، سور اور ان کی عورتوں کو کتیوں کا خطاب دیا۔ ان موذیوں کے بارے میں آپ کی غیرت کیوں مر گئی ہے............!!

آپ ان کے ساتھ کیوں لین دین کرتے ہیں؟ ان کے ساتھ کیوں میل جول رکھتے ہیں؟ مسلمانوں کے معاشرہ میں ان کے وجود کو کیوں برداشت کرتے ہیں؟ کیا رحمت دو عالم حضور نبی کریم ﷺ کی ناموس نبوت کسی کے باپ اور کسی کی بہو بیٹی کے برابر بھی نہیں؟۔

کیا آپ وعدہ کرتے ہیں کہ آئندہ ان موذیوں سے کوئی تعلق نہیں رکھیں گے اور ان سے کوئی لین دین نہیں کریں گے۔ حق تعالیٰ شانہ ہمیں ایمانی غیرت نصیب فرمائیں اور ہم سب کو قیامت کے دن حضور نبی کریم رحمت اللعالمین خاتم الانبیاء ﷺ کے خدام میں اٹھائیں اور ہم سب کو آنحضرت ﷺ کی شفاعت نصیب فرما کر ہماری بخشش فرمائیں۔ آمین!

محمد یوسف لدھیانویؒ

١٣ جنوری ١٩٨٩ء

PDF 439

شیزان کی مصنوعات کا بائیکاٹ کیجئے!

شیزان کی مشروبات ایک قادیانی طائفہ کی ملکیت ہیں۔ افسوس کہ ہزار ہا مسلمان اس کے خریدار ہیں۔ اسی طرح شیزان ریستوران جو لاہور، راولپنڈی اور کراچی میں بڑے زور سے چلائے جارہے ہیں۔ اسی طائفے کے سربراہ شاہ نواز قادیانی کی ملکیت ہیں۔ قادیانی شیزان کی سرپرستی کرنا اپنے عقیدہ کا جزو سمجھتا ہے۔ کیونکہ اس کی آمدنی کا سولہ فیصد حصہ چناب نگر (سابقہ ربوہ) میں جاتا ہے۔ جس سے مسلمانوں کو مرتد بنایا جاتا ہے۔ مسلمانوں کی ایک خاصی تعداد اس ریستوران کی مستقل گاہک ہے۔ اسے یہ احساس ہی نہیں کہ وہ ایک مرتد ادارہ کی گاہک ہے اور جو چیز کسی مرتد کے ہاں پکتی ہے وہ حلال نہیں ہوتی۔ شیزان کے مسلمان گاہکوں سے التماس ہے کہ وہ اپنے بھول پن پر نظر ثانی کریں۔ جس ادارے کا مالک ختم نبوت سے متعلق قادیانی چوچلوں کا معتقد ہو مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی مانے اور سواد اعظم اس کے نزدیک کافر ہو اور جہاں ننانوے فیصد ملازم قادیانی ہوں ایک روایت کے مطابق شیزان کی مصنوعات میں چناب نگر کے بہشتی مقبرہ کی مٹی ملائی جاتی ہے۔

اے فرزندان اسلام ! آج فیصلہ کرلو کہ شیزان اور اسی طرح کی دوسری قادیانی مصنوعات کے مشروبات نہیں پیو گے اور شیزان کے کھانے نہیں کھاؤ گے۔ اگر تم نے اس سے اعراض کیا اور خوردونوش کے ان اداروں سے باز نہ آئے تو قیامت کے دن حضورﷺ کو کیا جواب دو گے؟۔ کیا تمہیں احساس نہیں کہ تم اس طرح مرتدوں کی پشت پناہی کر رہے ہو۔

(آغا شورش کاشمیریؒ)

PDF 440

ضروری اعلان

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی دفتر ملتان سے شائع ہونے والا

﴿ماہنامہ لولاک﴾

جو قادیانیت کے خلاف گرانقدر جدید معلومات پر مکمل دستاویزی ثبوت

ہر ماہ مہیا کرتا ہے۔ صفحات 64‘ کمپیوٹر کتابت‘ عمدہ کاغذ و طباعت اور

رنگین ٹائیٹل‘ ان تمام تر خوبیوں کے باوجود زر سالانہ فقط یک صد روپیہ منی

آرڈر بھیج کر گھر بیٹھے مطالعہ فرمائیے۔

رابطہ کیلئے

ناظم دفتر ماہنامہ لولاک ملتان

دفتر مرکزیہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

حضوری باغ روڈ ملتان

فون: 514122 فیکس: 542277