نغماتِ ختم نبوت · محمد طاہر رزاق
Nagmat Khatm-e-Nubuwwa · Tahir Abdul Razzaq
PDF 1

نغمات

ختم نبوت

حصہ اول

محمد

ترتیب و تدوین: محمد طاہر رزاق

PDF 2

نغمات ختمِ نبوّت

ترتیب و تدوین

محمّد طاہر رزّاق

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوة

حضوری باغ روڈ ملتان ☎ 40978

صفحہ 3

انتساب

صحابیِ رسولؐ حضرت وحشیؓ بن حَرب کے نام ــــــ جنہوں نے یمامہ کے میدان میں مسیلمہ کذّاب کو جہنم واصل کیا۔

صفحہ 4

فہرست

صفحہ

صفحہ 5
صفحہ 6

شعاع اولیں

تحریک تحفظ ختم نبوت میں جہاں ادیبوں اور خطیبوں نے عظیم معرکے سرانجام دیے ہیں، وہاں شاعروں کی خدمات بھی آب زر سے لکھنے کے قابل ہیں۔ اسلامی غیرت و حمیت سے سرشار اسلام کے ان فرزندوں نے فتنہ قادیانیت کی جو مذمت و مرمت کی ہے، وہ تاریخ تحفظ ختم نبوت کا ایک درخشاں باب ہے۔ انہوں نے اپنے قلم کو تلوار بنا لیا اور لفظوں کو شعلوں کا جسم دے کر قادیانیت کے قلعے پر ٹوٹ پڑے اور اس قلعہ ارتداد میں دراڑیں ڈال دیں۔ ان کی ولولہ انگیز، جہاد آفریں اور باطل سوز شاعری کی گونج ہندوستان کے کونے کونے تک پہنچی اور خوابیدہ مسلمانوں میں بیداری اور تڑپ پیدا کرتی گئی۔ بڑے بڑے جلسوں میں جہاں نامور خطیبوں کو مدعو کیا جاتا، وہاں ان شاعروں کو بھی دعوت دی جاتی۔ جلسے میں ان کی شمولیت کسی نامی خطیب سے کم اہمیت نہ رکھتی۔ وہ اپنے کلام اور آواز کا جادو جگاتے، لوگوں کو تڑپاتے، رلاتے، عشق رسولؐ سکھاتے اور ختم نبوت کا مجاہد بناتے۔ وہ انتھک اور باہمت لوگ ہوا کے دوش پر سوار ہندوستان کے گاؤں گاؤں اور شہر شہر پہنچے اور محسن انسانیت کے امتیوں کو قادیانیت کی زہرناکیوں سے بچانے کا سامان کیا۔ یہ ان کی شب و روز محنت کا نتیجہ ہے کہ آج قادیانیت اور بانی قادیانیت ایک گالی بن چکے ہیں۔ ان کا کلام، جو ہماری تاریخ کا ایک بہت بڑا سرمایہ ہے، افسوس کہ وہ اکٹھا نہ کیا گیا، جس کی وجہ سے بہت سا کلام گردش لیل و نہار کی نذر ہو گیا، جو ہمارے لیے ایک سانحے سے کم حیثیت نہیں رکھتا۔ ایک دن میرے واجب الاحترام دوست جناب فیاض اختر ملک، جناب محمد متین خالد اور جناب محمد صدیق شاہ، جو اپنے دل میں اسلام کی تڑپ اور ختم نبوت کے عشق کی لازوال دولت رکھتے ہیں، مجھے حکم دیا کہ اس ایمان پرور اور جہاد آفریں کلام کو اکٹھا کیا جائے اور پہلی کوشش میں جتنا کلام مل جائے، اسے فوراً شائع کر دیا جائے کیونکہ ہمارے تحریکی لٹریچر میں اس لٹریچر کی اشد ضرورت ہے۔ سب دوستوں

صفحہ 7

نے اپنی اپنی بساط کے مطابق اس ”دولت“ کو تلاش کرنا شروع کیا۔ ہر کوئی اپنی ہمت کے مطابق اس دولت کو اکٹھی کر کے لایا اور اس ساری دولت کو میں نے اکٹھا کر کے ایک بڑے خزانے ”نغمات ختم نبوت“ جلد اول کی شکل میں آپ کی خدمت میں پیش کر دیا ہے۔ ہم نے دوران تلاش یہ دیکھا ہے کہ ان عظیم شاعروں کا کام ہمارے دینی اور سیاسی لٹریچر میں یوں بکھرا پڑا ہے‘ جیسے چرخ نیلوفری پر ستارے بکھرے پڑے ہیں۔ انشاء اللہ جلد ہی ان ستاروں کو اکٹھا کر کے ایک کہکشاں ”نغمات ختم نبوت“ جلد دوم کے نام سے آپ کی خدمت میں پیش کرنے کا اعزاز حاصل کریں گے۔ آپ سے خصوصی دعاؤں کی خصوصی التجا! خدا آپ کا اور ہمارا حامی و ناصر ہو!

خاکپائے مجاہدین ختم نبوت محمد طاہر رزاق بی۔ایس سی‘ ایم۔اے (تاریخ) 15 اکتوبر 1993ء لاہور

صفحہ 8

حرف پیشیں

عزیز محمد طاہر رزاق تشریف لائے اور اپنی کتاب ”تحفظ ختم نبوت“ بطور تحفہ میرے سپرد کی۔۔۔۔۔۔ پھر ایک کتاب کی ڈمی میرے حوالے کی‘ جس کا مجوزہ نام ”نغمات ختم نبوت“ ہے اور ساتھ ہی فرمائش کر دی کہ ”نغمات“ کا تعارف لکھنا ہے۔ عزیزوں کا حکم سر آنکھوں پر‘ کتاب ”تحفظ ختم نبوت“ چند روز میں پڑھ ڈالی۔ محمد طاہر رزاق صاحب نے بڑی محنت صرف کی ہے اور مرزا غلام احمد قادیانی کی اصل تحریروں سے باحوالہ عبارتیں نقل کر کے اس مسیلمہ عصر حاضر‘ کا کچا چٹھا بیان فرما دیا ہے۔ ”نغمات ختم نبوت“ میں قادیانی نبوت اور قادیانی نبی کے بارے میں بہت سے شعرائے کرام کی نظمیں ہیں‘ جن میں مولانا ظفر علی خان‘ علامہ اقبال‘ آغا شورش‘ سید امین گیلانی‘ ساغر صدیقی‘ سیف الدین سیف‘ حنیف اسعدی‘ جانباز مرزا‘ حنیف رضا اور دیگر اہل ایمان و اخلاص شامل ہیں۔ خدا ان سب کی یہ تبلیغی کوشش قبول فرمائے اور ان کو بدرجہا جزائے خیر سے نوازے۔

پھر ایک اور ملاقات میں‘ میں نے پوچھا کہ اے عزیز محترم! خود آپ کے پاس مرزائے قادیاں کی اصل کتب موجود ہیں۔ ان کا جواب تھا کہ تقریباً ساری موجود ہیں۔۔۔ میں نے عرض کیا کہ احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ وہ کتابیں سنبھال کر رکھیں‘ بلکہ ان کے عکسی نسخے بھی تیار کروائیں اور ان کو محفوظ کرنے کا قابل اعتماد بندوبست کریں۔۔۔ میں نے مزید تاکیداً کہا کہ قادیانی حضرات مرزا غلام احمد کی کتب یا ان پر لکھی جانے والی کتب لائبریریوں میں رہنے نہیں

صفحہ 9

دیتے‘ ہاتھ صاف کر جاتے ہیں‘ حتیٰ کہ ذاتی لائبریریوں تک بھی بڑی چابک دستی سے رسائی حاصل کرتے ہیں۔ یہ لوگ بڑے غالی دشمن مرزائیت بن کر اعتماد جماتے ہیں اور پھر مرزائیوں کے خلاف کچھ لکھنے کے بہانے وہ کتب نکلواتے اور غائب کر دیتے ہیں۔ میں اس باب میں ایک سے زیادہ ذاتی لائبریریوں کے باب میں گواہ ہوں۔

مرزائی حضرات کو مرکز کے متوسلین کی جانب سے ایسی کتب اڑانے کا حکم وقتاً فوقتاً ملتا رہتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ وہ ایسا حکم کیوں دیتے ہیں؟ کیا وہ خوش نہیں ہوتے کہ مرزائے قادیان کی اصل تحریریں دیکھنے اور مستفید ہونے کا موقع ملتا ہے؟------ اصل بات یہ ہے کہ وہ مرزا کی اصل تحریریں جوں کی توں لوگوں کو دکھانا نہیں چاہتے--- ”مرکز“ والوں کو معلوم ہے کہ ان تحریروں میں کیا خرافات ہیں‘ چنانچہ وہ ان تحریروں کے نظرثانی شدہ اور محرف نسخے عام کرتے ہیں۔ خود اپنے ہم مذہب قادیانیوں کی اکثریت کثیرہ کو حقیقی مرزا سے واقف نہیں ہونے دیتے۔

آج ہم جب کہتے ہیں کہ مرزائے قادیان نے انگریز کے ساتھ سازباز کی تو قادیانی حضرات فوراً تردید کرتے ہیں‘ لیکن اگر وہ خود مرزائے قادیان کی اپنی تحریریں اس ضمن میں دیکھ لیں تو بہت سوں کے دل ہل جائیں--- قادیانی امت کے اکثر افراد کو مرزا غلام احمد کے بارے میں ”مرکز“ کی طرف سے جو کچھ شائع شدہ ملتا ہے‘ وہ بہت کچھ صاف کرنے کے بعد تقسیم ہوتا ہے۔ جارج برنارڈ شا نے ایک جگہ لکھا ہے:

"A Saint is a dead rogue, revised and edited."

کم از کم مرزائے قادیان کے بارے میں تو یہی ہو رہا ہے۔ قادیانی امت کے افراد بیچارے اکثر مخلص لوگ ہیں‘ جو اسلام کے نام پر فریب کھائے ہوئے ہیں--- وہ تو اسی نقارے کو سن سن کے بہرے ہوتے جا رہے ہیں کہ مرزائی علماء اور مبلغین خوب خوب اسلام کی خدمت کر رہے ہیں اور حق یہ ہے کہ خود ان نام نہاد علماء اور مبلغین میں سے بھی بھاری اکثریت اسی طرح کے مرزا غلام احمد کو جانتی ہے جس طرح ”مرکز“ نے ان کی آگاہی یا علم کا اہتمام کیا‘ اور پھر ان میں سے غالب اکثریت رفتہ رفتہ پیٹ کی لپیٹ میں آ کے عاجز ہو کر رہ جاتی ہے‘ مزید

صفحہ 10

بر آں یہ کہ ہر قادیانی اس طرح معاہدوں اور تمسکوں میں بندھ جاتا ہے کہ ہل نہیں سکتا، ثم مزید بر آں یہ کہ ہر قادیانی اپنی اور اپنی اولاد کی شادیوں کے باب میں بھی اس طرح مقید ہو کر رہ جاتا ہے کہ خواہ اندر سے زندگی کے کسی مرحلے پر اس کو حقیقت سے آگاہی ہو بھی جائے تو وہ پھڑک نہیں سکتا۔ وہ گستاخی کرے تو گھر اس کا نہیں رہتا، وہ گستاخی کرے تو اس کا بیٹا اور بھائی بہن جہاں پھنسے ہوتے ہیں، وہ بے بس نظر آنے لگتے ہیں۔۔۔ یہی نہیں جان خطرے میں پڑ جاتی ہے، ہم نے خود بعض ایسے دل جلوں کی باتیں سنی ہیں، لیکن ضعف ایمان کے باعث جن خطرات کا نقشہ ان کے سامنے ہوتا ہے، وہ بغاوت نہیں کرتے ہیں۔ جن لوگوں نے بغاوت کی وہ بہت تھوڑے ہیں۔۔۔ یا تو وہ زور دار برادری والے ہوں یا ان کو کسی مضبوط گروہ یا جمعیت کی سرپرستی میسر آجائے، ورنہ عاجز ہو کر پٹ کر اور مار کھا کر واپس اسی بھورے میں دھنس جائیں۔۔۔ اور قادیانی امت کا ایک فرد کہلاتے ہوئے رحلت فرما جائیں۔

ملک محمد جعفر، جو جنرل اختر ملک اور جنرل ملک عبدالعلی کے بھائی بند تھے، قادیانیت سے تائب ہوئے تو انہوں نے مجبورین قادیانیت کی حالت زار کو واضح کرنے کے لیے ایک کتاب لکھی جو بڑی مدلل تھی اور درحقیقت وہ ایک خط تھا جو ان کے اپنے قادیانی عزیزوں کے نام تھا، جو قادیانیت کے جال میں کئی کئی طرح پھنس کر رہ گئے تھے۔ یہ ملک جعفر وہی ہیں، جنہوں نے اٹک میں وکالت شروع کی، پھر لاہور ہائی کورٹ میں پریکٹس کرتے رہے، پھر پیپلز پارٹی کی بھٹو وزارت میں وزیر بھی رہے۔ ان کی کتاب، جو بیچارے مقید قادیانی علماء اور مبلغین کی دردمندانہ ترجمانی کرتی ہے، اب لائبریریوں سے غائب ہے۔ مرزا شفیق نے ”شہر سدوم“ لکھی، پڑھ کر رونگٹے کھڑے ہو گئے، پھر وہ کتاب بھی غائب اور شفیق مرزا بھی ملاقاتیوں سے کنارہ کش، ان کے عزیزوں پر اور خود ان پر اہل ربوہ کے ہاتھوں جو گزری، وہ ہم نے اپنے کئی دوستوں کی موجودگی میں ان کی زبان سے اپنے کانوں سے سنی۔ اسی طرح ہمارے کرم فرما مرزا محمد حسین، جو مرزا محمود احمد کی بچیوں کے ٹیوٹر تھے، سالہا سال دارالخلافت قادیان میں نہیں بلکہ بیت الخلافت میں رہے، پھر جب مرزا محمود احمد کے بارے میں اپنی شاگردوں کی زبانی سنی جانے والی باتوں پر یقین آگیا تو صدمے سے ایک رات کے اندر گنجے ہو گئے۔ کہا کرتے تھے،

صفحہ 11

میرے ننھیال ددھیال میں گنجے نہیں پائے جاتے ہیں۔ ایک رات میں فلاں حقیقت سے بالیقین آگاہ ہو کر گنجا ہو گیا۔

جیسا کہ پہلے عرض ہوا قادیانی امت کے اکثر افراد کو واقعی خبر نہیں کہ قادیانیت کیا ہے۔ وہ تو خانوادۂ غلام احمد کی ظاہری اسلام داری پر مرے جا رہے ہیں‘ اور عقیدت و ایثار میں اس طرح بندھ گئے ہیں کہ اب سچ سن نہیں سکتے‘ اگر سچ ان تک پہنچ جائے تو ان کی کتنی دل شکنی ہو‘ اس کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا۔۔۔۔۔۔ درحقیقت قادیانی امت ایک مالی اور سیاسی کمپنی ہے‘ جس پر دین کا رنگ و روغن چڑھایا گیا ہے اور اس کمپنی کی دولت اور وجاہت کا مالک خانوادۂ غلام احمد قادیانی ہے۔ عام قادیانی اس رنگ و روغن پر فریفتہ ہے‘ اندر کیا ہے‘ حقائق کیا ہیں؟ اس سے محض اندرونی حلقہ واقف ہوتا ہے اور اندرونی حلقہ بڑے ہی استاد اور فن کار افراد کا مجموعہ ہوتا ہے۔ وہ افراد ایمان کی نمائش کرنے والے عیاش لوگ ہوتے ہیں جو زر کے بت پوجتے ہیں‘ جن کے آگے بھی ہوس ناچتی ہے اور پیچھے بھی۔

آپ کو حسن بن صباح کی امت کے احوال معلوم ہیں۔ اس کے فدائی تو قادیانی فدائیوں سے بھی آگے تھے۔ انہوں نے بھنگ کے نشے میں ایک جعلی جنت دیکھ رکھی ہوتی تھی۔ وہ جنت جس میں شراب و شاہد کی فراوانی تھی‘ جس کا انہوں نے فقط جلوہ دیکھا یا کچھ بھی مزہ چکھا اور پھر دوبارہ بھنگ کے نشے میں خوفناک اور تاریک شب کے ہولناک منظر میں چھوڑ دیے گئے تھے۔ ان کی بے تابی‘ ان کے خوف‘ ان کی جنت گم گشتہ کے دائمی حصول کا مسئلہ پھر کس طرح حل ہوتا تھا؟ تاریخیں گواہ ہیں۔۔۔۔ کیا وہ فدائی بیچارے‘ جو مخلص مسلمان اکابر کی جان لینے کے درپے رہتے تھے‘ بلکہ جن کے ہاتھوں تقریباً دوسو سال کے عرصے میں ہزاروں اکابر اور لاکھوں عام مسلمان ہلاک ہوئے‘ یہ جانتے بھی تھے کہ وہ کس فریب میں مبتلا ہیں؟ وہ تو شیخ الجبال کے ادنیٰ فدائی تھے۔ شیخ الجبال یعنی حسن بن صباح کے دس جانشین ہوئے‘ آخری خورشاہ تھا‘ جو ہلاکو کے حملے میں اپنے قلعہ الموط سمیت ہلاک ہو گیا۔۔۔۔۔۔ قلعہ الموط میں اہل حشیش کا اندرونی حلقہ چلتا رہا۔ اس میں کا ایک فرد چل بسا تو کوئی دوسرا‘ جو آزمودہ کار عیار‘ صاحب فن اور ظالم اور عیاش اور بندۂ ہوس ہو‘ وہ اس کی جگہ آگیا۔ دو سو سال ایک

صفحہ 12

”منظم اندرونی حلقہ“ اپنا کاروبار مکر و تزویر چلاتا رہا‘ عالم اسلام کو تہ و بالا کرتا رہا اور اس حلقے سے باہر والے سادہ دل قربان ہوتے رہے اور قتل کرتے رہے۔------ وہ ظاہر پر مرتے رہے۔ ان کا پکا سبق یہ تھا کہ ہر ظاہر کا ایک باطن ہے‘ مثلاً بظاہر کسی معصوم اور بے گناہ کی بربادی بباطن ثواب حج کا درجہ رکھتی تھی۔

یہ کائنات بڑی منظم ہے‘ ذرہ ذرہ باہم مربوط ہے‘ اس کے محکم اصول و آئین ہیں۔۔۔ اس محکم تنظیم کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر یعنی کذب و دروغ بھی منظم ہو کر چل پڑے تو بڑا وقت نکال جاتا ہے۔ بہرحال حسن بن صباح کی تحریک کی اصلیت تاریخ میں مرقوم ہے‘ یہ الگ بات ہے اس کی اولاد آج مہذب روپ اختیار کر کے اور علم و تحقیق میں نام پیدا کر کے اپنا کام دوسرے طریق پر کر رہی ہے۔ اب خنجر نہیں‘ اب دیگر ہتھیار ہیں مگر شکار بہرطور امت مسلمہ ہے اور روح اسلام۔ اسی طرح مرزائے قادیان کے گرد ایک حلقہ تھا‘ جو حقیقت کو جانتا تھا‘ بلکہ اس سالوسی حقیقت کی تعمیر میں شریک مستعد تھا۔ اس حلقے کے افراد کو معلوم تھا کہ حسن بن صباح کے داعیوں کی طرح تقدس اور پاک بازی کا لبادہ اوڑھ کر روحوں کو کس طرح لوٹنا ہے۔ وہ ”اندرونی حلقہ“ اب بھی قائم ہے۔ کیا نور الدین اور اس کے عزیزوں کو نہیں معلوم کہ اصلیت کیا ہے؟ کیا ظفر اللہ خان چودھری اور اس کے ہم ہوس اور ہم نفس یاروں کو نہیں معلوم کہ وہ کیا کھیل کھیل رہے ہیں؟ کیا مرزا محمود احمد اور اس کی اولاد کو نہیں معلوم کہ وہ اسلام اور اہل اسلام کی کیا کیا ”خدمت“ کر رہے ہیں؟ مگر عام قادیانی تو باطنی داعیوں کی طرح اندھا دھند فدا ہوا جا رہا ہے۔۔۔ باطنی تنظیم کی طرح ان کی تنظیم بھی بڑی مستحکم ہے‘ بڑا وقت نکال جائے گی۔۔۔ حسن بن صباح کے مہذب وارث ہیروں اور موتیوں میں تل رہے ہیں۔ لاکھوں جانوں اور روحوں پر حکومت کرتے ہیں۔ اسی طرح مرزا غلام احمد کے تقدس ماب‘ پاکیزہ سرشت وارث سونے اور جواہرات میں تلتے رہیں‘ دوسروں کی محنت کی کمائی پر اپنے سالوس و زور کے زور پر عیش کرتے رہیں۔ ان کا کمال فن لائق داد ہے‘ اور ان کے سادہ دل فدائیوں کی سادگی لائق ہمدردی۔۔۔ جرمن فلاسفر نطشے نے لکھا تھا کہ قیامت اس وقت تک نہیں آئے گی‘ جب تک وہ ہونق پیدا نہ ہو جائے جس کو کوئی عقیدت

صفحہ 13

مند نہ ملے۔۔

ایک بھارتی فنکار الوہی قوتوں کا مظہر بن گیا۔ دنیا بھر میں مرید پیدا کر لیے۔ امریکہ میں خصوصاً ایک بہت بڑا مرکز قائم کیا۔ نام رجنیش بابا تھا۔ خوب عیاشی کی‘ مگر کمبخت کو کوئی اندرونی حلقہ بنانے کی نہ سوجھی‘ کوئی نورالدین اور چودھری ظفراللہ خان اس کو بھی مل جاتا تو وہ اور اس کی تحریک صبائیوں اور قادیانیوں کی طرح بڑا وقت نکال جاتی۔ یہ رجنیش بابا شاید 1991 میں مرا‘ اب بھی امریکہ اور بھارت میں اس کے فدائی چیلے بے شمار موجود ہیں۔ اسی طرح بمشکل ایک سال ہونے کو ہے کہ ایک شخص حضرت عیسیٰ کا بروز بن کر امریکہ میں اٹھا۔ نام کریش تھا۔ اس پر ایمان لانے والے اس کی خاطر جانوں پر کھیل گئے۔ اگر اس کے کاروبار کا مہتمم بھی کوئی ذہین اندرونی حلقہ ہوتا تو وہ اتنی جلدی بھسم نہ ہوتا‘ شعبدہ باز تو یہاں وہاں موجود ہیں‘ دنیا بھر میں ہیں‘ عالم اسلام میں تو روحانی پیشوائیت کے پردے میں یہ ناٹک یہاں وہاں عام کھیلا جا رہا ہے اور اس ناٹک کے ذریعے زندگی کو عیاشی کا زیور پہنانے والے چھرے اڑا رہے ہیں۔ شکار ہونے والے ضروری نہیں کہ ان پڑھ ہوں‘ اور شکار کرنے والے ضروری نہیں کہ بہت ہی پڑھے لکھے لوگ ہوں‘ یہ کاروبار ایک عجیب کاروبار ہے‘ جس میں روحانی اور فطری تقاضے گمراہ ہو کر غلط پٹڑی پر پڑ جاتے ہیں۔ احمق مقتدی‘ اور عالم و فاضل مقتدی‘ علامہ اقبالؒ نے فرمایا تھا۔

در طلبش دل تپید دیر و حرم آفرید
ما بہ تمنائے او‘ او بہ تماشائے ما

معنی ہے

(خدا کی تلاش میں دل بے تاب ہوا‘ لہٰذا تسکین کی خاطر اس نے عبادت گاہیں اور عقیدت کدے پیدا کر لیے۔ ہم نے یہ سب کچھ خدا کی تمنا اور اشتیاق میں کیا اور خدا ہماری اس بے تابی کے باعث ہماری ٹامک ٹوئیوں کا تماشا دیکھتا رہا)

صفحہ 14

----- آخر یہ تو ایک حقیقت ہے اور ناقابل تردید حقیقت کہ آدمی کے روحانی تقاضے جسمانی بھوک کی طرح تشفی اور تسکین چاہتے ہیں۔ پھر جس طرح آدمی جسمانی تقاضے صحیح طور پر بھی پورے کرتا ہے اور غلط طور پر بھی، بالکل اسی طرح وہ اپنے روحانی تقاضے بھی ہر دو طرح پورے کر لیتا ہے۔ بت پرستی ذوق عبودیت ہی کی تسکین کی کوشش ہے۔ وہ جو ہدایت پا گئے، وہ اللہ کی عطا کردہ وحی کے مطابق چلے اور عبادت خداوندی اور ذکر الٰہی اور اطاعت اوامر کے باعث اطمینان کی دولت پانے میں کامیاب ہو گئے --- بصورت دیگر، گمراہ ہو گئے۔ بت پوجنے والا کون شخص ہے؟ وہی جو اندر کی بھوک مٹانا چاہتا ہے۔ وہ عبادت بہ تقاضائے فطرت کرتا ہے، وہ مجبور ہے اس پر، لیکن بے تابی میں گمراہ ہو جاتا ہے یا اہل ہوس کے ہتھے چڑھ کر گمراہ ہو جاتا ہے اور یہ گمراہ کرنے والے اشخاص اپنے اپنے دور کے مذہبی تقدس والے نمائشی لوگ ہوتے ہیں--- یہ اندرونی بھوک مٹانے والا فرد ہر قسم کا ہو سکتا ہے، کسان بھی، مزدور بھی، بادشاہ بھی، وزیر بھی، پڑھا لکھا بھی اور ان پڑھ بھی۔ کسی غلط راستے پر پڑھے لکھے جا رہے ہوں تو محض ان کو دیکھ کر یہ فرض نہیں کر لینا چاہیے کہ فلاں راستے پر چونکہ پڑھے لکھے جا رہے ہیں، لہٰذا وہ صراط مستقیم ہے۔ عام لوگ بارہا خواص کی گمراہی کے باعث گمراہ ہو جاتے ہیں۔ پڑھا لکھا ہونا اور معاملہ ہے، نور ایمان کا مالک ہونا جدا مسئلہ ہے۔

پھر یہ بھی ضروری نہیں کہ ایک آدمی، جو دنیوی علوم میں سے بعض علوم پر حاوی ہو، وہ روحانی اور دینی امور پر بھی قدرت رکھتا ہو۔ علم کی ایک کھڑکی کھلی ہو تو آدمی بحرالعلوم نہیں ہو جاتا، ابو نواس بغداد کا مشہور شاعر گزرا ہے، اس کا ہم عصر ایک شخص نظام تھا، جو معتزلہ کے گروہ کا فرد تھا اور فلسفے کے زور پر علامہ بنتا اور بہت دلیل بازی کرتا تھا۔ اس سے اشارۃً خطاب کر کے ابو نواس نے کہا تھا۔

فقل لمن يدعى بالعلم فلسفته!
حفظت شيئا و غابت عنك اشياء

مراد ہے، اس شخص سے کہہ دو جو فلسفے کی بنا پر علم پر حاوی ہونے کا دعوے دار ہے کہ دار ہے کہ تم نے

صفحہ 15

ایک شے یاد رکھ لی‘ اور پا لی مگر بہت سی اشیاء تمہاری نظروں سے اوجھل رہیں (یا اوجھل ہوگئیں)

ہمارے یہاں یا یوں کہئے کہ امت مسلمہ میں عموماً پڑھے لکھے لوگوں کی فیصد تعداد کیا ہے؟ اور پھر ان میں جو دین میں راسخ ہوں‘ وہ کتنے ہیں؟ علاوہ ازیں یہ بات پھر وہیں کی وہیں رہتی ہے کہ دینی علم یا امور شریعت سے آگاہ ہونے کے باوجود وہ کتنے لوگ ہیں جن کا ایمان پختہ ہے‘ جن کے بارے میں یقین ہو کہ وہ لالچ یا خوف میں مبتلا ہو کر غلط راہ قبول نہیں کر لیں گے۔ گمراہی کے اسباب گنے نہیں جا سکتے‘ اور جو لوگ گمراہ ہو جاتے ہیں‘ وہ روز بروز اپنی گمراہ برادری میں پھنستے اور کھنچتے چلے جاتے ہیں۔ تجارت کا معاملہ‘ رشتوں کا معاملہ‘ نوکری کا معاملہ‘ نوکری میں ترقی کا معاملہ‘ بیرونی علمی وظائف کا معاملہ‘ ایکسپورٹ امپورٹ کا معاملہ اور پھر اپنی برادری کے بڑھنے سے اپنی قوت کے پھیلنے کے احساس کا معاملہ --- مراد ہے کوئی ایک چکر نہیں‘ ذرا ایمان کمزور ہو تو دل میں بے شمار گمراہ کن واہمے ڈیرہ ڈال لیتے ہیں--- خانہ خالی را دیو می گیرد‘ ویران گھر جن بھوت کا مسکن بن جاتا ہے‘ مضبوط ایمان سے خالی دل بھی ہوس کی مختلف بلاؤں میں گرفتار ہو کر رہ جاتا ہے۔ ہمارے قادیانی عزیز قابل رحم لوگ ہیں۔ ان میں اکثر وہ ہیں جو ضعف ایمان کے باعث گرفتار ہوس ہوئے اور اب اسی ضعف ایمان کے باعث اس پھندے سے نکل نہیں سکتے‘ اصل رشتہ اللہ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا ہے‘ باقی سب دروغ۔ علامہ اقبال نے کیا خوب فرمایا تھا۔

یہ مال و دولت دنیا یہ رشتہ و پیوند
بتان وہم و گماں لا الہ الا اللہ

رہے وہ افراد جو اس کاروبار مکر کو چلانے والے ہیں تو فتنہ گری ان کی دولت‘ عیاشی اور سیادت و قیادت کا مسئلہ ہے‘ وہ اپنی بادشاہی کیوں چھوڑیں‘ اور وہ اپنی رعیت کو کیوں بھاگنے دیں؟

فان ہیمر جرمن محقق تھا۔ اس کی کتاب "History of the Assassins" حسن بن صباح‘ شیخ الجبال کی حشیشی امت کی بڑی حد تک صحیح روداد ہے۔ اس کتاب میں فان ہیمر

صفحہ 16

لکھتا ہے کہ بعض اوقات کسی بڑی مذہبی جمعیت کے خلاف کوئی نہ کوئی ایسی جماعت پیدا ہو جاتی ہے جو بڑی جمعیت کی ناقد اور مصلح بن کر سامنے آتی ہے۔ اس جماعت کے اکابر بڑے مذہبی تقدس کا اظہار کرنے والے لوگ ہوتے ہیں، مگر اندر سے وہ اس دین کے دشمن ہوتے ہیں۔ وہ اکابر عموماً عیاش اور باطناً دین کے امور ظاہری کے شدید مخالف ہوتے ہیں۔ ان کو جب بھی موقع ملے، وہ اصل دین سے وابستہ جمعیت کو نقصان پہنچانے سے دریغ نہیں کرتے، بلکہ اگر قوت میسر آجائے تو قتل و غارت پر بھی اتر آتے ہیں۔ قرامطیوں، طاہریوں اور جنابیوں نے یہی کچھ کیا، لاکھوں مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ آزاد خیال اور اباحیت پسند اپنی جگہ جو چاہیں کریں مگر ان کی آزاد روی دوسروں کی دشمن کیوں ہو جاتی ہے؟ حق یہ ہے کہ آزاد خیالی بڑا ہی متعصب مرض ہے۔

خداوند متعال امت مسلمہ کو ایسے فتنوں سے بچائے اور اس نے جن لوگوں کو ان گمراہوں اور خصوصاً گمراہوں کے سرداروں کو ہدایت کرنے کی توفیق سے نوازا ہے اور انہوں نے اس ہدایت کا فریضہ ادا کیا ہے، ان سب کو جنت الفردوس میں مقام عالی عطا فرمائے۔ ان برگزیدہ افراد میں یقیناً وہ لوگ بھی ہیں، جنہوں نے قلم سے ہر اس جہاد میں حصہ لیا، ان میں بالیقین وہ بھی ہیں جن کا منظوم کلام اس مجموعے یعنی ”نغمات ختم نبوت“ میں شامل ہے، خدائے رحمن و رحیم سے دعا ہے کہ وہ عزیزم محمد طاہر رزاق کے خلوص و ہمت میں اضافہ فرمائے اور ان کو حق کی پاسداری اور باطل گدازی کے جذبے سے مزید سرشار کرے۔

(پروفیسر) محمد منور ڈائریکٹر اقبال اکیڈمی، پاکستان لاہور یکم ستمبر 1993

صفحہ 17

آغازیہ

قادیانیت کی ساری عمارت انکار ختم نبوت پر کھڑی ہے۔ قادیانی سب سے بڑا جھوٹ یہ بولتے ہیں کہ وہ محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین تسلیم کرتے ہیں۔ توجیہ یہ پیش کرتے ہیں کہ مرزا غلام احمد (جو احمد کا غلام نہیں تھا) اپنی کوئی شریعت نہیں لایا تھا۔ خاتم النبیین کا مفہوم وہ یہ گھڑتے ہیں کہ شریعت والے نبی کی آمد کا سلسلہ بند ہوگیا ہے، لیکن جو شریعت محمدی کا تابع ہو، وہ نبی آسکتا ہے اور اس بات کا جواز قرب قیامت میں عیسیٰ علیہ السلام کی آمد کو بناتے ہیں، جبکہ عیسیٰ علیہ السلام تو پیدائشی نبی تھے، لیکن حضورؐ کے امتی بن کر آئیں گے، جبکہ مرزا قادیانی پیدائشی امتی ہے، لیکن نبی کہلانے لگا۔

جن اکابرین اسلام کے اقوال غلط رنگ دے کر مرزا اپنی تائید میں پیش کرتا ہے، ان کے تو وہ پیروں کی خاک کے برابر بھی نہیں تھا، اسی لیے تو ان کی شہادت لایا، پھر بھی اس نے نہ سوچا کہ علمیت اور روحانیت کے ان پہاڑوں نے نبوت کے ایک ذرے پر بھی ہاتھ نہیں ڈالا اور یہ ابن الجہل پوری نبوت پر قابض ہوگیا۔ آدم سے لے کر حضور علیہ الصلوۃ والسلام تک جتنے انبیاء آئے، ان میں سے کسی نے بھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ فلاں نبی بھی میں تھا اور فلاں رسول بھی میں تھا۔ یہ اعزاز صرف مرزا کو حاصل ہوا کہ جتنے بھی نبی آئے، نعوذ باللہ، سب اسی پیکر ضلالت کا پرتو تھے، حتیٰ کہ رسول کریمؐ تک کی روحانیت کی تکمیل، معاذ اللہ، اس کی ذات میں ہوئی۔

دراصل مرزا قادیانی بہت بڑا ”وارداتیا“ تھا۔ پہلے ولی بنا، پھر مجدد بنا اور پھر پیغمبری کا

صفحہ 18

سرکلر جاری کر دیا۔ زمین کم لگی تو عرش پر بھی صوفہ بچھا کر بیٹھ گیا۔ انسان سے خدا بن بیٹھا۔ اس کا اپنا بیان ہے کہ آدم کو دیکھنا ہو تو مجھے دیکھو‘ موسیٰ اور عیسیٰ کو دیکھنا ہو تو مجھے دیکھو‘ یہاں تک کہ خدا کو دیکھنا ہو تو مجھے دیکھو۔ وہ اپنے جتنے بھی دیدار کراتا ہے‘ مجھے تو سب ایک ہی پردے پر نظر آتے ہیں‘ جس کے پیچھے سے آواز آتی ہے کہ ابلیس کو دیکھنا ہو تو مرزا قادیانی کو دیکھو۔

نیکی دنیا میں کم ہے اور بدی زیادہ‘ یہی وجہ ہے کہ جب کوئی بدی کی طرف بلاتا ہے تو لوگوں کی اکثریت اس کی طرف لپکتی ہے۔ مرزا قادیانی بہت بڑی بدی کا استعارہ ہے‘ اس لیے مجھے اس امر پر تعجب نہیں ہوتا کہ خاصے پڑھے لکھے لوگ بھی مرزا کا دم بھرتے ہیں۔ ابلیس بھی تو بہت زیادہ علم رکھتا تھا لیکن مردود ٹھہرا۔

مرزا مالیخولیا کا مستند مریض تھا۔ اس کی تحریر گواہ ہے کہ وہ اس مرض کی دوائیں منگاتا رہتا تھا‘ دورے تو عام پڑتے تھے‘ لیکن مخصوص ایام میں وہ بالکل فاتر العقل ہو جاتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے نبیوں کی بڑی بڑی آزمائشیں کیں‘ سارے جسم میں کیڑے تک ڈالے‘ لیکن کسی نبی کو پاگل یا کسی پاگل کو نبی نہیں بنایا۔ گویا اس کی بیماری تک اس کے جھوٹ کا اعلان تھی۔ آفریں ہے اس کے پیروکاروں پر کہ ایک پاگل کے پیچھے لگ گئے۔

میں بڑی دردمندی کے ساتھ اس کے ماننے والوں سے ایک بات پوچھنا چاہتا ہوں کہ خدا کے بندو! یہ تو سوچو کہ جو شخص رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی‘ جگہ جگہ توہین کرتا ہے‘ تحقیر و تنقیص کرتا ہے‘ اپنے آپ سے انہیں کمتر ثابت کرتا ہے‘ لیکن نمائندہ خود کو انہیں کا بتاتا ہے‘ کتنا بڑا چور ہے۔ وہ جو جھوٹے دعووں کا اندھیرا کر کے ختم نبوت کا دروازہ توڑ رہا ہے‘ اس چور کی سزا ہاتھ کاٹنا نہیں‘ اس کو تو سارے کے سارے کو قیمے قیمے کر دینا چاہیے۔ یہ تو حضورؐ کے حجرے میں گھس کر سب کچھ چرا لینا چاہتا ہے‘ یہاں تک کہ خود آپؐ کو‘ آپؐ کے اہل بیت کو‘ آپؐ کے قرآن کو‘ آپؐ کے اسلام کو‘ آپؐ کے خدا کو‘ گویا پوری کائنات کو غصب کرنا چاہتا ہے۔

اگر آپ کے گھر میں کوئی ڈاکہ پڑ جائے تو آپ کیسا کیسا تڑپیں گے‘ کیا کیا جتن کریں گے

صفحہ 19

اس کی گرفتاری کے لیے، لیکن ایک ڈاکو، خدا کو، اس کے محبوب کو، اس کے رسولوں کو، اس کے دین کو اڑا لے گیا ہے اور آپ خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں، بلکہ اس کے جرم میں برابر کے شریک ہیں، اس سے اپنا حصہ مانگتے ہیں۔ کیا آخرت کا خاکہ بھی آپ کے ذہنوں میں نہیں رہا، کیا من حیث الجماعت اپنے ضمیروں کے مجاور بن بیٹھے۔ یاد رکھو ایک دن تم زمین کی خوراک بھی بنو گے، پھر دیکھنا زمین تمہیں کیسا چباتی ہے، پھر دیکھنا اپنے مرزا قادیانی کو، فرشتے کیسے اسے آگ کے درے لگا رہے ہوں گے، قیامت سے پہلے جہنم اس سے لپٹ رہی ہوگی۔ ڈرو اس وقت سے اور تائب ہو جاؤ، اس گناہِ عظیم سے، اللہ تعالیٰ بڑا ہی رحیم ہے، معاف کردے گا۔

مبارکباد کے مستحق ہیں طاہر رزاق، جنہوں نے ”نغماتِ ختمِ نبوت“ مرتب کی، جنہوں نے اپنے میزانِ عمل میں نیکیوں کا پہاڑ رکھ دیا۔ قابلِ قدر ہے ان کا جذبہ کہ اس سے پہلے بھی وہ ایک کتاب ”تحفظِ ختمِ نبوت“ (نثری) تالیف کر چکے ہیں۔ محمد مصطفےٰ ﷺ کا یہ عاشق تمہیں آئینہ دکھانا چاہتا ہے تاکہ تم اپنی اور اپنے مرزا کی بھیانک شکلیں دیکھ کر اپنے آپ کو پہچان سکو۔ یاد رکھو

؎ باخدا دیوانہ باش و با محمدؐ ہوشیار

اللہ تعالیٰ کبھی برداشت نہیں کر سکتا کہ اس کے محبوب پر کوئی ایک انگلی بھی اٹھائے۔ تم کیا کیا قیامتیں ڈھا رہے ہو اور تمہیں ڈر نہیں لگتا۔ یقیناً تم اس گروہ سے ہو جس کے متعلق ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ ہم نے ان کے دلوں پر مہریں لگا دی ہیں۔ ”لعنت اللہ علی الکاذبین“

مظفر وارثی یکم ستمبر 1993

صفحہ 20

ارمغان حمیت

جس طرح محبت رسولؐ ایمان کی دلیل ہے‘ اسی طرح عقیدہ ختم نبوت بھی ایمان کی بنیاد بلکہ ایمان ہے۔ جس طرح سورج کے مقابلے میں اندھیارے آتے ہیں‘ ایسے ہی طلوع اسلام سے آج تک مختلف ادوار میں نبوت کے جھوٹے دعویدار اپنی منحوس صورتوں کے ساتھ نمودار ہوتے رہے۔ ایسے عناصر کی تردید اور ان کے بطلان کے لیے عاشقان مصطفیٰؐ بھرپور جوش ایمان کے ساتھ جلوہ افروز ہوتے چلے آئے ہیں۔ یہ ایک داستان غیرت ہے جس پر ہماری اسلامی تاریخ کو فخر ہے۔ حسن یوسف کی جلوہ آرائی سے متاثر ہو کر مصر کی عورتوں نے اپنی انگلیاں کاٹ لی تھیں مگر عقیدت کا یہ کس قدر بے مثال انداز تھا کہ فاران کی چوٹیوں سے لے کر دیبل اور دہلی کی فضاؤں تک محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں مردان اسلام نے اپنے سر کٹا دیے۔

یہ لازوال حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ نبی امن و رحمت‘ بانی اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النبیینؐ ہونے کے اقرار کے بغیر دعویٰ مسلمانی فضول ہے۔ اس عقیدہ پر اسلام کی پوری عمارت استوار ہے۔۔۔ یہ محض ایک ماننے اور تسلیم کرنے کا مسئلہ نہیں ہے‘ بلکہ مسلم معاشرہ کے انفرادی اور اجتماعی معاملات پر اس عالمگیر عقیدہ کے گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امت کے اجتماعی شعور نے اس نظریے کی پاسداری کا ہمیشہ قوت ایمانی کے ساتھ خیال رکھا ہے۔ یہاں تک کہ اس کی مدافعت میں اگر تلوار بھی اٹھانا پڑی تو اس سے دریغ نہیں کیا گیا۔

اس عقیدہ کی اہمیت‘ اس کے مضمرات اور اس کی لطافتوں کے اسرار سے نقاب کشائی کے لیے ہمارے ذخیرۂ علم و ادب میں ایک وسیع لٹریچر موجود رہا ہے۔ یہ لٹریچر اب بھی مسلسل تخلیق ہو رہا ہے۔

برصغیر پاک و ہند وہ خطہ عشق و محبت ہے جہاں سے میر عربؐ کو ٹھنڈی ہوا جاتی

صفحہ 21

ہے۔ یہاں کی مٹی میں جوش اور جرات ہے۔ اس دھرتی پر مرزا غلام احمد قادیانی کی طرف سے دعویٰ نبوت اسلامیان برصغیر کی غیرت ایمانی کو للکارنے کے مترادف تھا۔ اس دعوت نبوت کے بعد اہل فکر و نظر نے جس طرح اس فتنہ کی بیخ کنی کے لیے علمی و عملی میدانوں میں جدوجہد کی‘ وہ ہماری حمیت و غیرت کی تاریخ کا ایک درخشاں باب اور مسلمانوں کے عشق خود آگاہ کی ایمان افروز جدوجہد کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ منکرین ختم نبوت کی سرکوبی کے لیے نثری لٹریچر کے ساتھ ساتھ شعراء کرام بھی کسی سے پیچھے نہیں رہے اور اس جہاد میں اپنی بہترین تخلیقی صلاحیتوں کے ساتھ نبرد آزما ہوئے۔ برادرم محمد طاہر رزاق صاحب نے انتہائی محنت کے ساتھ سچے جذبوں کے تحت شعراء کرام کی ان بکھری ہوئی کاوشوں کو یکجا کر کے ایک قابل تحسین کارنامہ سرانجام دیا ہے۔ کتاب میں شامل باطل کے خلاف مقدس مزاحمتی کلام کے شعراء کرام میں علامہ اقبال‘ مولانا ظفر علی خان‘ شورش کاشمیری‘ ساغر صدیقی‘ احسان دانش‘ احمد ندیم قاسمی‘ قتیل شفائی‘ حفیظ تائب‘ شہزاد احمد‘ سید امین گیلانی‘ عاصی کرنالی‘ انور جمال اور یزدانی جالندھری جیسے اہم ناموں نے اس کی اہمیت مزید اجاگر کر دی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ یہ تالیف آنے والی نسلوں کے لیے ارمغان حمیت و محبت ثابت ہوگی اور اس کا ایک ایک شعر نبوت کے نام نہاد دعویداروں کے ایوانوں میں صدائے حق بن کر گونجتا رہے گا۔

دعا گو نذیر احمد غازی اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل‘ لاہور ہائی کورٹ

صفحہ 28
صفحہ 23

عشق خاتم النبین صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم

٭ ظفر علی خاں ٭

نماز اچھی‘ حج اچھا‘ روزہ اچھا‘ زکوٰۃ اچھی
مگر میں باوجود اس کے مسلماں ہو نہیں سکتا
نہ جب تک کٹ مروں میں خواجہ بطحا‘ کی حرمت پر
خدا شاہد ہے کامل میرا ایماں ہو نہیں سکتا
صفحہ 24

آرزو

٭ آغا شورش کاشمیریؒ ٭

اگر ام القریٰ میں خالق کونین نے شورش
بہ عہد احمدؐ مرسل مجھے پیدا کیا ہوتا
حرا کی خاک میں تحلیل میرے جسم و جاں ہوتے
مری لوح جبیں پر آپؐ ہی کا نقش پا ہوتا
قدوم سرورؐ کونین کی عظمت بحمد اللہ
میں خاک رہگزر ہوتا تو پھر بھی کیمیا ہوتا
دماغ و دل چمک اٹھتے رخ پرنور کی ضو سے
نظر اٹھتی جہاں تک جلوۂ خیرالوریٰ ہوتا
بہر عنوان اس ذات گرامی پر نظر رہتی
کبھی ان پر کبھی ان کے غلاموں پر فدا ہوتا
صفحہ 25
رسولؐ اللہ کے ادنیٰ غلاموں کی ثنا لکھتا
کلام اللہ کے الفاظ میں نغمہ سرا ہوتا
شہنشاہوں کے تخت و تاج میرے پاؤں میں ہوتے
مرا سر سید الکونینؐ کے در پر جھکا ہوتا
خداوندان دولت کے گریباں پھاڑ دیتا میں
محمدؐ کی قسم قرآن کے پرچم گاڑ دیتا میں
صفحہ 26

نعت

٭ محمد حنیف الاسعدی ٭

کوئی ان کے بعد نبی ہوا؟ نہیں! ان‘ کے بعد کوئی نہیں
کہ خدا نے خود بھی تو کہہ دیا، نہیں! ان‘ کے بعد کوئی نہیں
کوئی ایسی ذات ہمہ صفت؟ کوئی ایسا نور ہمہ جہت؟
کوئی مصطفٰے، کوئی مجتبیٰ؟ نہیں! ان‘ کے بعد کوئی نہیں
بجز ان کے رحمت ہر زماں، کوئی اور ہو تو بتائیے!
نہیں، ان‘ سے پہلے کوئی نہ تھا، نہیں! ان‘ کے بعد کوئی نہیں
کسی ایسی ذات کا نام لو جو امیں بھی ہو، جو اماں بھی ہو
ہے مرے یقین کا فیصلہ، نہیں! ان‘ کے بعد کوئی نہیں
یہ نگار خانہ روز و شب، اسی مبتدا کی خبر ہے سب
مگر ایسا جلوۂ حق نما، نہیں! ان‘ کے بعد کوئی نہیں!
صفحہ 27
یہ سوال تھا کوئی اور بھی ہے گناہ گاروں کا آسرا
تو رواں رواں یہ پکار اٹھا، نہیں! اُن کے بعد کوئی نہیں
وہ قدم اٹھے تو بیک قدم، ہمہ کائنات تھی زیر پا
یہ بلندیاں کوئی چھو سکا؟ نہیں! اُن کے بعد کوئی نہیں
کوئی اُن کے بعد نبی ہوا؟ نہیں! اُن کے بعد کوئی نہیں
کہ خدا نے خود بھی تو کہہ دیا، نہیں! اُن کے بعد کوئی نہیں
صفحہ 28

ختم الرسلؐ

٭ یزدانی جالندھری ٭

صفحہ خلقت پہ حرف اولیں ختم الرسلؐ
بن کے آئے آخریں آخریں ختم الرسلؐ
وہ حرا سے لے کے اترے نسخہ رشد و ہدا
حامل فرقان و شرع متیں ختم الرسلؐ
مژدۂ الیوم اکملت لکم جن سے ملا
آخری وہ مصدر روح الامیںؑ ختم الرسلؐ
وہ کہ ایوان رسالت کی ہیں خشت آخری
خاتم ختم نبوت کے نگیں ختم الرسلؐ
ایک امی اور سینہ ہے سفینہ علم کا
اک یتیم مہ لقا در ثمیں ختم الرسلؐ
صفحہ 29
وہ کہیں طہٰ، کہیں یٰسین، مزمل کہیں
وہ کہیں خیر البشر ہیں وہ کہیں ختم الرسلؐ
وہ امام الانبیاء وہ تاجدار ہل اتیٰ
محفل معراج کے مسند نشیں ختم الرسلؐ
ان کی رحمت ہے محیط ہر زمان و ہر مکاں
بے گماں ہیں رحمتہ للعالمیں، ختم الرسلؐ
ان سے یزدانی ہے میرے قلب و جاں میں روشنی
میرا ایماں ، میرا دیں، میرا یقیں ختم الرسلؐ

(۱۹ ستمبر ۱۹۸۸ء)

صفحہ 30

ختم المرسلین

٭ سید انوار ظہوری ٭

اس نعمت عظیم سے خالی زمانہ تھا
اک آخری نبی کا سوالی زمانہ تھا
اللہ کی رضا تھی، سبھی انبیاءؑ کے بعد
آئے نہ کوئی اور نبی مصطفےٰؐ کے بعد
جب کل صفات جمع ہوئیں ایک ذات میں
ختم الرسلؐ کو بھیج دیا کائنات میں
کردار میں فرید وہ اخلاق میں وحید
اب دوسرے نبی کی ضرورت نہ تھی مزید
نور مبیں جریدۂ سیرت کا ہر سبق
ہے آخری کتاب الٰہی ورق! ورق!
صفحہ 31
وہی ہیں افضل و اشرف وہی ہیں ختم رسلؐ
شرف انہیں کو ملا منصب امامت کا
ہر اک کمال ہوا ختم ذات والا پر
رسول بن کے بڑھایا شرف رسالت کا
کیا ہے خاتم پیغمبراںؐ انہیں رب نے
انہیں پہ ختم ہوا سلسلہ رسالت کا
وہ شخص کاذب و مرتد ہے ازروئے قرآن
اب ان کے بعد جو دعویٰ کرے نبوت کا

(سکندر لکھنوی)

صفحہ 32

الہام و آزادی

٭ اقبالؔ ٭

ہو بندۂ آزاد اگر صاحب الہام
ہے اس کی نگہ فکر و عمل کے لیے مہمیز
اس کے نفس گرم کی تاثیر ہے ایسی
ہو جاتی ہے خاک چمنستان شرر آمیز
شاہیں کی ادا ہوتی ہے بلبل میں نمودار
کس درجہ بدل جاتے ہیں مرغان سحر خیز
اس مرد خود آگاہ و خدا مست کی صحبت
دیتی ہے گداؤں کو شکوہ جم و پرویز
محکوم کے الہام سے اللہ بچائے
غارت گر اقوام ہے وہ صورت چنگیز
صفحہ 33

نبوت

٭ اقبالؒ ٭

میں نہ عارف نہ مجدد نہ محدث نہ فقیہ
مجھ کو معلوم نہیں کیا ہے نبوت کا مقام
ہاں مگر عالم اسلام پہ رکھتا ہوں نظر
فاش ہے مجھ پر ضمیر فلک نیلی فام
عصر حاضر کی شب تار میں دیکھی میں نے
یہ حقیقت کہ ہے روشن صفت ماہ تمام
وہ نبوت ہے مسلماں کے لیے برگ حشیش
جس نبوت میں نہیں قوت و شوکت کا پیام
صفحہ 34

مہدی برحق

* اقبالؔ *

سب اپنے بنائے ہوئے زنداں میں ہیں محبوس
خاور کے ثوابت ہوں کہ افرنگ کے سیار
پیران کلیسا ہوں کہ شیخان حرم ہوں
نے جدت گفتار ہے‘ نے جدت کردار
ہیں اہل سیاست کے وہی کہنہ خم و پیچ
شاعر اسی افلاس تخیل میں گرفتار
دنیا کو ہے اس مہدی برحق کی ضرورت
ہو جس کی نگہ زلزلہ عالم افکار
صفحہ 35

امامت

٭ اقبالؒ ٭

تو نے پوچھی ہے امامت کی حقیقت مجھ سے
حق تجھے میری طرح صاحب اسرار کرے
ہے وہی تیرے زمانے کا امام برحق
جو تجھے حاضر و موجود سے بیزار کرے
موت کے آئینے میں تجھ کو دکھا کر رخ دوست
زندگی تیرے لیے اور بھی دشوار کرے
دے کے احساس زیاں تیرا لہو گرما دے
فقر کی سان چڑھا کر تجھے تلوار کرے
فتنہ ملت بیضا ہے امامت اس کی
جو مسلماں کو سلاطیں کا پرستار کرے
صفحہ 36

جہاد

٭ اقبالؔ ٭

فتویٰ ہے شیخ کا یہ زمانہ قلم کا ہے
دنیا میں اب رہی نہیں تلوار کارگر
لیکن جناب شیخ کو معلوم کیا نہیں
مسجد میں اب یہ وعظ ہے بے سود بے اثر
تیغ و تفنگ دست مسلماں میں ہے کہاں؟
ہو بھی تو دل ہیں موت کی لذت سے بے خبر
کافر کی موت سے بھی لرزتا ہو جس کا دل
کہتا ہے کون اس کو مسلماں کی موت مر
تعلیم اس کو چاہیے ترک جہاد کی
دنیا کو جس کے پنجۂ خونیں سے ہو خطر
صفحہ 37
باطل کے فال و فر کی حفاظت کے واسطے
یورپ زرہ میں ڈوب گیا دوش تا کمر
ہم پوچھتے ہیں شیخ کلیسا نواز سے
مشرق میں جنگ شر ہے تو مغرب میں بھی ہے شر
حق سے اگر غرض ہے تو زیبا ہے کیا یہ بات
اسلام کا محاسبہ‘ یورپ سے درگزر
صفحہ 38

ہندی مسلمان

٭ اقبالؔ ٭

غدار وطن اس کو بتاتے ہیں برہمن
انگریز سمجھتا ہے مسلماں کو گداگر
پنجاب کے ارباب نبوت کی شریعت
کہتی ہے کہ یہ مومن پارینہ ہے کافر
آوازۂ حق اٹھتا ہے کب اور کدھر سے
”مسکیں دلکم ماندہ دریں کشمکش اندر“
صفحہ 39

مہدی

٭ اقبالؔ ٭

قوموں کی حیات ان کے تخیل پہ ہے موقوف
یہ ذوق سکھاتا ہے ادب مرغ چمن کو
مجذوب فرنگی نے بانداز فرنگی
مہدی کے تخیل سے کیا زندہ وطن کو
اے وہ کہ تو مہدی کے تخیل سے ہے بیزار
نومید نہ کر آہوئے مشکیں سے ختن کو
ہو زندہ کفن پوش تو میت اسے سمجھیں
یا چاک کریں مردک ناداں کے کفن کو
صفحہ 40

پنجابی مسلمان

٭ اقبالؒ ٭

مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت
کر لے کہیں منزل تو گزرتا ہے بہت جلد
تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا
ہو کھیل مریدی کا تو ہرتا ہے بہت جلد
تاویل کا پھندا کوئی صیاد لگا دے
یہ شاخ نشیمن سے اترتا ہے بہت جلد
صفحہ 41

”مرزا غلام احمد قادیانی“ علامہ اقبالؒ کی نظر میں

عصر من پیغمبرے ہم آفرید
میرے زمانے نے ایک نبی بھی پیدا کیا
آنکہ در قرآن بجز خود را ندید
جس کو اپنے سوا قرآن میں کچھ نظر نہ آیا
تن پرست و جاہ مست و کم نگاہ
خود پسند، عزت چاہنے والا، کوتاہ نظر
اندرونش بے نصیب از لا الہ
اس کا دل لا الہ سے خالی ہے
در حرم زاد و کلیسا را مرید
مسلمانوں کے گھر پیدا ہوا اور عیسائیوں کا غلام بنا
پردۂ ناموس ما را پر درید
اس نے ہماری ناموس کے پردے کو چاک کرایا
صفحہ 42
دامن او گرفتن ابلہی است
اس سے عقیدت رکھنا حماقت ہے
سینہ او از دل روشن تہی است
اس کا سینہ دل کی روشنی سے خالی ہے
الحذر! از گرمئ گفتار او
اس کی چرب زبانی سے بچو
الحذر! از حرف پہلو دار او
اس کی چالبازانہ باتوں سے بچو‘
شیخ او لرد فرنگی را مرید
اس کا پیر شیطان اور فرنگی کا غلام ہے
گرچہ گوید از مقام بایزید
اگرچہ وہ کہتا ہے کہ میں بایزید کے مقام سے بول رہا ہوں
گفت دین را رونق از محکومی است
وہ کہتا ہے کہ غلامی میں ہی دین کی رونق ہے
صفحہ 43
زندگانی از خودی محرومی است
اس کی زندگی خودی سے محروم ہے
دولت اغیار را رحمت شمرد
غیروں کی دولت کو وہ رحمت جانتا ہے
رقصہا گرد کلیسا کرد و مرد
اس نے گرجا کے گرد رقص کیا اور مر گیا
صفحہ 28
صفحہ 45

کشمیر کمیٹی

٭ مولانا ظفر علی خاںؒ ٭

باطل کا جنازہ تھا بڑی دھوم سے نکلا
قائم ہوئی جس دن نئی کشمیر کمیٹی
نابود ہوئے اندلسی اور دمشقی
دونوں نے بساط اپنی نحوست کی لپیٹی
مرزا کی نبوت کے لیے کھودی گئی قبر
گاڑی گئی جس میں یہ خرافات کی پیٹی
صفحہ 46

مباہلہ

٭ مولانا ظفر علی خاںؒ ٭

وہ بھاگتے ہیں اس طرح مباہلے کے نام سے
فرار کفر جس طرح ہو مسجد حرام سے
پکار کر یہ کہہ رہا ہے زلزلہ بہار کا
نہ بچ سکے گا قادیاں خدا کے انتقام سے
مسیلمہ کے جانشیں گرہ کٹوں سے کم نہیں
کتر کے جیب لے گئے پیمبری کے نام سے
سنا بھی تو نے ہم نفس! کہ مادیاں دمشق کی
ہوئی ہے جفت اندلس کے خنگ بد لگام سے
بچی بچی کے دوش پر سری نگر میں اٹھ گیا
جناب ”ظل مسیح“ کا جنازہ دھوم دھام سے
میں قادیاں سے کیا لڑوں کہ فرصت آج کل نہیں
رکوع سے سجود سے قعود سے قیام سے

۲۱ فروری ۱۹۳۴ء

صفحہ 47

مداری کی پٹاری

٭ مولانا ظفر علی خاں ٭

قسم ہے قادیان کے گل رخوں کی گل عذاری کی
غلام احمد کی الماری پٹاری ہے مداری کی
پرستان کو نہ شرمائے بھلا قصر خلافت کیوں
کہ فصل گل ہے اور آمد ہے ابر نو بہاری کی
بشیر الدین اور کشمیر کی ہمدردیاں چھوڑے
نظر نخچیر سے تم پھیرتے ہو اک شکاری کی
جواب "الفضل" کا ترکی بہ ترکی دے تو دیں ہم بھی
اتاریں کیسے لیکن نقل اصوات حماری کی
مرے ہر شعر کی زد کاسہ سر پر ہی پڑتی ہے
نہ لائے گا کبھی محمود تاب اس ضرب کاری کی
یہ مانا بھول جائے قادیاں میرے تحائف کو
مگر کیا بھول سکتا ہے وہ سوغاتیں بخاری کی
صفحہ 48

قادیان کی نبوت

٭ مولانا ظفر علی خاںؒ ٭

بروزی ہے نبوت قادیاں کی
برازی ہے خلافت قادیاں کی
عداوت حق سے‘ باطل سے محبت
ہے اتنی ہی حقیقت قادیاں کی
ہیں احمق جس قدر ہندوستان میں
ہے آباد ان سے جنت قادیاں کی
نصاریٰ کی پرستش کے سب اسرار
سکھاتی ہے شریعت قادیاں کی
دمشق اور اندلس کے بھاگ جاگے
بٹی جس وقت لعنت قادیاں کی
صفحہ 49
مسلمانوں کی آزادی ہو نابود
الم نشرح ہے نیت قادیاں کی
لگے رونے بشیر الدین محمود
بنائی میں نے وہ گت قادیاں کی

کی طرف اشارہ ہے۔

صفحہ 50

متنبی کی الماری

٭ ظفر علی خاںؒ ٭

اے کہ ہے اپنی رواداری پہ تجھ کو فخر و ناز
قادیاں میں کافروں کی مومن آزاری بھی دیکھ
خواجہ اجمیر کی درگاہ دیکھ آیا ہے تو!!
اب بہشتی مقبرہ کی چار دیواری بھی دیکھ‘
ترمذی کو اور بخاری کو رٹا تو کیا ہوا؟
قادیاں جا اور غلام احمد کی الماری بھی دیکھ
تو نے اپنی فوج کی دیکھی قواعد مدتوں‘
اب نصاریٰ کے رضاکاروں کی تیاری بھی دیکھ
کاٹنا مقصود ہے جس سے شجر اسلام کا
قادیاں کے لندنی ہاتھوں میں وہ آری بھی دیکھ
صفحہ 51
مشی فی النوم اور اس کے فلسفے پر کر نظر
قادیاں کے نازنینوں کی طرحداری بھی دیکھ
سن لے اپنے کان سے ”الفضل“ کی گالی گلوچ
لکھنو شرما گیا جس سے وہ بھٹیاری بھی دیکھ
آج آتا ہے نظر گو تجھ کو باطل سربلند
اپنی آنکھوں سے کل اس کی ذلت و خواری بھی دیکھ
صفحہ 52

فتنہ آخر زماں

مولانا ظفر علی خاںؒ کی ایک یادگار نظم

اے قادیاں‘ اے قادیاں تیرے بڑے لنگور کو
لپٹا لیا کرتا ہے جو ہر شب نئی اک حور کو
جس نے ہنسایا ناچ کر کشمیر اور میسور کو
جس کی ترش روئی ملی نیبو کو اور امچور کو
لکھوں دمشقی گورخر یا اندلس کی ماریاں
اے قادیاں اے قادیاں اے فتنہ آخر زماں
پیسہ ترا ایمان ہے‘ گالی تری پہچان ہے
جنس نفاق و کفر سے چمکی تری دکان ہے
صفحہ 53
بہتاں خدا پر باندھنا تیرے نبی کی شان ہے
الہام جو بھی ہے ترا آوردۂ شیطان ہے
یہ بھی خدا کا آخری اسلام پر احسان ہے
نقاش کی مٹھی میں گر پوشیدہ تیری جان ہے
اے قادیاں اے قادیاں اے دشمن اسلامیاں
اے فتنۂ آخر زماں
صفحہ 54

اپنی اپنی قسمت

٭ مولانا ظفر علی خاںؒ ٭

قادیان پہلے تو پاپا کا بڑا بھائی بنا
پھر وہ انگریزوں کے گھر کا معتبر نائی بنا
مذہبی صرافے میں نرخ اس کا گرتا ہی گیا
پیسے سے دھیلا ہوا اور دھیلے سے پائی بنا
دیکھ لو جا کر بہشتی مقبرے والوں کا حال
کوئی بھتنا ہو گیا‘ کوئی چھلپائی بنا
شرک ان پچکے ہوئے گالوں کا پاؤڈر ہو گیا
کفر کی اکڑی ہوئی گردن کی نکٹائی بنا
صفحہ 55
اک نیا کذاب جب پیدا ہوا پنجاب میں
قادیاں اس طفل ناہموار کی دائی بنا
اپنا اپنا ہے مقدر اپنا اپنا ہے نصیب
ہو گیا کوئی مسلمان‘ کوئی مرزائی بنا
صفحہ 56

منکر ختم نبوت کا حشر

٭ مولانا ظفر علی خاںؒ ٭

قادیانیت پہ کر سکتا ہے وہی انتقاد
منتقل جاں میں ہے جس کی شعلہ زن جوش جہاد
جو رہا ہے عمر بھر زندانی زلف فرنگ
جس کو انگریزوں نے دی رہ رہ کے اس جذبے کی داد
جو رسولؐ اللہ کے ناموس پر قرباں ہوا
نامرادی میں بھی جو ثابت ہوا بامراد
جانتا ہے جو غلام احمد کی الماری کا بھید
پرزے پرزے کر دیا مرزا کا جس نے اجتہاد
جان سکتا ہے وہی مرزائیوں کی عاقبت
جس کے ہے پیش نظر حشر ثمود انجام عاد
منکر ختم نبوت کے مقدر میں ہے درج
ذلت و خواری و رسوائی الی یوم التناد
صفحہ 57

پناہ بخدا

٭ مولانا ظفر علی خاںؒ ٭

نبی کے بعد نبوت کا ادعا ہو جسے
ہر ایسے بطل خرافات سے خدا کی پناہ
نئے صنم کدوں میں آ گئے نئے نئے بت
نئے بتوں کی نئی گھات سے خدا کی پناہ
ٹیچی ٹیچی ہے ادھر اور ادھر غلام احمد
ہزار بار ان آفات سے خدا کی پناہ
خدا بچائے ہمیں ان کے ساتھ ملنے سے
منافقوں کی موالات سے خدا کی پناہ
جو بن کے بوعلی آئے حکیم نور الدین
تو بوعلی کی اشارات سے خدا کی پناہ
کسی خدا کا تو قائل ہے قادیاں بھی، ضرور
جو مانگتا ہے فکاہات سے خدا کی پناہ
بنے جو باپ خدا کا اور اس کی بیوی بھی
ہر ایسے مسخرے کی ذات سے خدا کی پناہ
صفحہ 58
ان ابلہانہ حکایات پر نبیؐ کی پھٹکار
ان احمقانہ روایات سے خدا کی پناہ
وزیر ہند کا لطف کہن معاذ اللہ
اور ان کی تازہ عنایات سے خدا کی پناہ
وہی ہے مرتبہ ایماں کا جو ہے درجہ کفر
اس آج کل کی مساوات سے خدا کی پناہ
اگر کرامت پیر حرم ہے استدراج
تو پیر اور اس کی کرامات سے خدا کی پناہ
صفحہ 59

ظفر علی خاں ؒ

اگر منہ زور ہے باطل کا گھوڑا
تو میرے پاس بھی ہے حق کا کوڑا
چلی پنجاب میں جب دیں کی گاڑی
تو اٹکا قادیانیت کا روڑا
کیا مرزا نے بدنام انبیاء کو
محمد مصطفےٰ تک کو نہ چھوڑا
دیے اسلام کو چرکے جنہوں نے
انہیں سے اس نے اپنا رشتہ جوڑا
نبوت لنگڑی اور اندھی خدائی
ملا ہے خوب ان دونوں کا جوڑا
یہی اس کی نبوت کی ہے پہچان
کہ مر کر بھی نہ منہ لندن سے موڑا

(رنگون۔ یکم ستمبر ۱۹۳۶ء)

صفحہ 60

٭ مولانا ظفر علی خاںؒ ٭

عناد اور بغض کی تصویر بن کر
گئے لندن بشیر الدین محمود
یہ مقصد آپ کا ہے اس سفر سے
کہ سرحد پر بچھا دی جائے بارود
دکھائے یورپ آ کر اس کو بتی
جہنم کی لپٹ جس میں ہو موجود
یہ ساری سرزمین پھر بھک سے اڑ جائے
اور افغانوں کی جمعیت ہو نابود
کوئی اس دیں کے دشمن کو بتائے
کہ ساری کوششیں ہیں تیری بے سود
بھلا برطانیہ کو کیا پڑی ہے
کہ دوزخ میں تیری خاطر پڑے کود
ہے تو بھی کیا کسی کرنل کی میم
بھگا کے لے گئے ہوں جس کو مسعود
صفحہ 61

٭ ظفر علی خاںؒ ٭

کہاں پنجاب میں اسلام! تیری اٹھ گئی غیرت
بٹھایا کفر کو لا کر نبیؐ کے ہم نشینوں میں
حدیث اسمہ احمد غلام احمد پر چسپاں ہے
پڑے خاک اس سلیقے پر، لگے آگ ان قرینوں میں
کھلونا قادیاں کا بن گئی وہ سطوت کبریٰ
ہے اب تک شور جس کا آسمانوں اور زمینوں میں
صفحہ 62

٭ ظفر علی خاںؒ ٭

اکملت لکم پڑھ کے زبان عربی میں
ظلی و بروزی کی نبوت کو مٹا دوں
ہے جن کو محمدؐ کی مساوات کا دعویٰ
مثوہ جہنم کی وعید ان کو سنا دوں
کچھ فرق بروز اور تناسخ میں نہیں ہے
انکار ہو جن کو انہیں اقرار کرا دوں
اسلام سے جس قوم کو ہے کچھ بھی محبت
میں اس کے لیے راہ میں آنکھوں کو بچھا دوں
صفحہ 63

٭ مولانا ظفر علی خاںؒ ٭

سرکار نے ضبط کیا ”زمیندار“ کا مطبع
میرزائیوں کے گھر میں جلے گھی کے چراغ آج
چمکاۓ گئے اندلسی اور دمشقی
روشن ہوۓ اسلام کے سینے کے داغ آج
کیا طرفہ تماشا ہے کہ ہوں آ کے معارض
کعبہ کی عنادل سے کلیسا کے کلاغ آج
خمیازہ کش عشق رسولؐ عربی ہوں
میرے دل مضطر کو میسر ہے فراغ آج
توحید کی دہلیز پہ ہوں ناصیہ فرسا
پہنچا ہے مرا عرش معلے پہ دماغ آج
جو بوالہوسوں کو نہ ملی ہے نہ ملے گی
اس دولت سرمد کا ملا مجھ کو سراغ آج
صفحہ 64
ہے جس کی ہر اک بوند میں کوثر کی ملونی
ساقی نے دیا مجھ کو وہ لبریز ایاغ آج
مرزائی بجاتے ہوئے بغلیں نکل آئے
خوش تھے کہ ہوا باغ ”زمیندار“ کا زاغ آج
لیکن یہ خوشی تھی فقط اک عشرہ کی مہمان
پھر رحمت باری سے وہی داغ ہے باغ آج
صفحہ 65

٭ مولانا ظفر علی خاں ٭

اگر چندہ کی حاجت ہے تو کر دعویٰ رسالت کا
بغیر اس ڈھونگ کے چندہ مہیا ہو نہیں سکتا
سنا ہے قادیاں میں بانسری بجتی ہے گوکل کی
مگر ہر بانسری والا کنہیا ہو نہیں سکتا
یہ آساں ہے کہ بدلے جون اور بچھو بنے لیکن
کبھی بھی شہد کی مکھی سے تتیا ہو نہیں سکتا
اگر مکہ سے بھی وہ ڈھینچوں ڈھینچوں کرتا آجائے
قیامت تک خر عیسیٰ گویا ہو نہیں سکتا
مجدد الف ثانی سے غلام احمد کو کیا نسبت
ثریٰ کتنا بھی اونچا ہو ثریا ہو نہیں سکتا
برادر خواندگی کی شرط اگر ہے میرزائیت
قیامت تک بھی ہم سے یہ تو بھیا ہو نہیں سکتا
صفحہ 66
سرشت مرد مومن کا بدلنا غیر ممکن ہے
چنبیلی کا یہ پودا بھٹ کٹیا ہو نہیں سکتا
وطن کے پوجنے والو تعلق نوع انساں کا
قطرہ سے محبت کا تلیا ہو نہیں سکتا
جسے اسلام کی عزت پہ کٹ مرنا نہ آتا ہو
مسلمانوں کے بیڑے کا کھیویا ہو نہیں سکتا
صفحہ 67

ارمغان قادیان

تم کو گر منظور ہے سیر جہان قادیان
اے مسلمانو! خریدو ”ارمغان قادیان“
جی کو بہلاؤ گے کیونکر گر نہ لو گے یہ کتاب
کیونکہ مٹ جانے کو ہے نام و نشان قادیان
اس بجھارت کو نہ بوجھا آج تک کوئی ادیب
میں نے ہی آخر کو حل کی چیستان قادیان
میرے ہی خامے کی رنگینی تھی جس کے فیض سے
ہو گئی سننے کے قابل داستان قادیان
میں نے دی اس کو لگام اور ہو گیا اس پر سوار
ورنہ کس کو مانتی تھی مادیان قادیان
کس طرح ممکن ہے، دل پر ہو کسی کو اختیار
جب ہوں دل کے چھیننے والے بتان قادیان
مجھ سے پوچھو، کیوں فدا ہے قادیان کشمیر پر
مجھ سے بڑھ کر کون ہوگا رازدان قادیان
جو مجاور ہیں بہشتی مقبرے کے آج کل
بیچتے پھرتے ہیں گھر گھر استخوان قادیان
صفحہ 68
صرف غائب نحو عنقا اور سلاست ناپدید
ان سب اجزا سے مرکب ہے زبان قادیاں
”اک برہنہ سے نہ یہ ہوگا کہ تا باندھے ازار“
یہ کہ ”تا“ ہے شاہکار شاعران قادیاں
لوگ حیراں تھے کہ جب پھیکا ہے پکوان اس قدر
ہوگئی پھر اتنی اونچی کیوں دکان قادیاں
جو فروشی کے لیے گندم نمائی شرط تھی
تھا بڑا ہی کائیاں بازارگان قادیاں
کیا سلوک ان سے روا رکھتے ہیں منکر اور نکیر
قبر میں خود دیکھ لیں گے منکران قادیاں

نے تحصیل بٹالہ گورداسپور اور پٹھان کوٹ کو ہندوستان میں شامل کر دیا۔ قادیاں تحصیل بٹالہ میں ہے۔ (نظیر)

قادیانی چھا رہے تھے اور ان پر کشمیر میں مرزائیت کی تبلیغ کا الزام تھا۔ شعر میں اسی راز کی طرف اشارہ ہے۔ (نظیر)

(لاہور ۔ ۴ اپریل ۱۹۳۴ء)

صفحہ 69

خنجر قادیاں

”حاجی محمد حسین سر عسکر رضا کاران اسلام بٹالہ ضلع گورداسپور ایک مخلص اور پر جوش مسلمان نوجوان تھے، جنہیں ۳؍ اپریل ۱۹۳۰ء کو ایک قادیانی محمد علی نے خنجر مار کر شہید کردیا۔ موسیو مرزا بشیر الدین محمود نے قاتل کو غازی کا خطاب دیا۔ پریوی کونسل تک اس کے لیے لڑے۔ آخر قاتل کیفر کردار کو پہنچا اور پھانسی پر لٹکایا گیا۔ مرزا محمود نے اس کے جنازے کو کندھا دیا‘ اس کی نماز جنازہ پڑھائی اور اسے ”بہشتی مقبرہ“ میں دفنایا۔ یہ نظم اسی واقعے کی یادگار ہے۔“

شہیدوں کا خوں رنگ لایا کرے گا
نشان ظالموں کا مٹایا کرے گا
کہاں تک مسلماں کے قاتل کو شیطاں
خدا کے غضب سے بچایا کرے گا
بٹالہ میں اسلام کا زور بازو
حریفوں کے چھکے چھڑایا کرے گا
صفحہ 70
دکھایا کرے گا جلال محمدؐ
علم قادیاں کا جھکایا کرے گا
راہ حق میں او مٹنے والے ترا غم
ہمیں خوں کے آنسو رلایا کرے گا

بنایا تھا۔ وہاں دفن ہونے والوں سے بڑی بڑی رقوم وصول کی جاتی تھیں اور انہیں بہشتی ہونے کی سندیں دی جاتی تھیں۔ (نظیر لدھیانوی)

صفحہ 71

حدیث قادیاں

(رواہ بخاری)

٭ مولانا ظفر علی خاں ٭

حقیقت قادیاں کی پوچھ لیجئے ابن جوزی سے
نکوکاری کے پردے میں سیہ کاری کا حیلہ ہے
یہ وہ تلبیس ہے ابلیس کو خود ناز ہے جس پر
مسلمانوں کو اس رندے نے اچھی طرح چھیلا ہے
پلی ہے مغربی تہذیب کے آغوش عشرت میں
نبوت بھی رسیلی ہے پیمبر بھی رسیلا ہے
نصاریٰ کی رضا جوئی ہے مقصد اس نبوت کا
اور ابطال جہاد انجاح مقصد کا وسیلا ہے
بیاس اور اس کی موجیں آئے دن کرتی ہیں غمازی
کہ پوتا قادیاں کے رب اکبر کا رنگیلا ہے

۱۷ جون ۱۹۲۹ء

صفحہ 72

حضرت پاپائے قادیاں کے حضور میں

مسرت کی تانیں اڑائے چلا جا
محبت کی پینگیں بڑھائے چلا جا
غنیمت سمجھ فرصت عاشقی کو
حسینوں سے آنکھیں لڑائے چلا جا
تری بات پر گر نہ ایمان لائے
مسلماں کو کافر بنائے چلا جا
سنا جاہلوں کو نبوت کی باتیں
پیمبر کا رتبہ گھٹائے چلا جا
بھلائے چلا جا خدا کے غضب کو
شریعت کی بنیاد ڈھائے چلا جا
ترے مقبرے کے بہشتی بھی سن لیں
میرے شعر چمٹے پہ گائے چلا جا
صفحہ 73

اطالوی حسینہ

”ہوٹل سیسل لاہور کی ایک اطالوی منتظمہ، جو ہوٹل میں موسیو بشیر الدین محمود کے ایک روزہ قیام کے بعد اچانک غائب ہو گئی اور دوسرے دن قادیاں کی ”مقدس“ سرزمین میں دیکھی گئی۔ اس واقعہ پر مولانا نے ذیل کی نظم سپرد قلم کی۔“

(نظیر)

اے کشور اطالیہ کے باغ کی بہار
لاہور کا دمن ہے ترے فیض سے چمن
پیغمبر جمال تری دل ربا ادا
پروردگار عشق ترا چلبلا چلن
الجھے ہوئے ہیں دل تری زلف سیاہ میں
ہیں جس کے ایک تار سے وابستہ سو ختن
پروردۂ فسوں ہے تری آنکھ کا خمار
آوردۂ جنوں ہے تری بوئے پیرہن
صفحہ 74
پیمانہ نشاط تری ساق صندلی
بیعانہ سرور ترا مرمری بدن
رونق ہے ہوٹلوں کی ترا حسن بے حجاب
جس پر فدا ہے شیخ تو لٹو ہے برہمن
جب قادیاں پہ تیری نشیلی نظر پڑی
سب نشہ نبوت نقلی ہوا ہرن
میں بھی ہوں تیری چشم پر افسوں کا معترف
جادو وہی ہے آج جو ہو قادیاں شکن

(لاہور۔ ۸؍ مارچ ۱۹۳۴ء)

صفحہ 75

اطالوی حسینہ مس روفو

تمہیں مشی فی النوم کی بھی خبر ہے
زمانے کے اے بے خبر فیل سوفو
ملے گا تمہیں یہ سبق قادیاں سے
جہاں چل کے سوتے میں آئی ہے روفو
دبستاں میں جانا نہیں چاہتے ہو
تو پہنچو شبستاں میں اے بے وقوفو
بہار آ رہی ہے خزاں جا رہی ہے
ہنسو کھل کھلا کر دمشقی شگوفو
کرشن اور خورسند کیا اس کو سمجھیں
تمہیں داد دو اس کی عبدالرؤفو
جب اوقات موجود ہے قادیاں کی
کہاں مر رہی ہو تفو اور زوفو!

(۱۴ مارچ ۱۹۳۴ء)

کرشن سے مراد مہاشے کرشن ایڈیٹر روزنامہ ”پرتاپ“ لاہور اور خورسند سے لالہ خوشحال چند ایڈیٹر ”ملاپ“ لاہور ہیں۔ عبدالرؤف سے مراد مسلمان ۔ (نظیر)

صفحہ 76

پیغمبر قادیاں کا برزخی ترانہ

تکمیل عمر بھر مرے القاب کی نہ ہو
ان پر اگر اضافہ سی آئی ڈی نہ ہو
بغداد کے سقوط کا قصہ ہے ناتمام
جب تک کہ اس میں درج مری ڈائری نہ ہو
ہنستا ہے میرے حال پہ ظالم ابوالوفا
ڈرتا ہوں میں کہیں یہ قضا کی ہنسی نہ ہو
مارا کسی نے شعلے سے میرے جگر میں تیر
لاہور کا کہیں یہ محمد علی نہ ہو
میری بلا سے مکہ لٹے کربلا لٹے
چندے سے ہے غرض مجھے اس میں کمی نہ ہو
یہ کس کتاب میں ہے کہ خیر البشر کے بعد
ہرگز کسی کو دعویٰ پیغمبری نہ ہو
کیا مصطفےٰ کے بعد نہ آیا مسیلمہ
پھر قادیاں میں کس لیے مجھ سا نبی نہ ہو
اس اخرجوا الیہود کا قائل نہیں ہوں میں
برطانیہ سے جس کی سند مل چکی نہ ہو
صفحہ 77
پیش نظر اگر ہے خلافت کی کانٹ چھانٹ
پھر قادیاں ہی کس لیے کینٹربری نہ ہو
جس کے ثمر مرے لیے اس درجہ تلخ ہوں
اسلام کی وہ شاخ خدایا ہری نہ ہو

(۲۲ جولائی ۱۹۲۰ء)

مسرت کا اظہار کیا تھا۔ شعر میں اسی حقیقت کی طرف اشارہ ہے۔ (نظیر)

جو غلط نکلی اور مولانا ثناء اللہ کا انتقال مرزا کی موت سے ربع صدی بعد ہوا۔ شعر میں اسی پیش گوئی کی طرف اشارہ ہے۔ (نظیر)

چپقلش رہتی تھی۔ (نظیر)

حرمتی کی گئی تھی۔ شعر میں اسی حقیقت کی طرف اشارہ ہے۔ (نظیر)

صفحہ 78

دور جاہلیت کی یاد

٭ مولانا ظفر علی خاںؒ ٭

بتان قادیاں اس واسطے مجھ پر بگڑتے ہیں
کہ دور جاہلیت میں مرا دل ان پہ مائل تھا
زکوٰۃ حسن دینے میں ذرا وہ بخل کرتے تھے
مگر میں بے لیے ٹلتا نہ تھا ایسا ہی سائل تھا
پیمبر زادگی ان کی مرے لیے آڑے تو آتی تھی
مگر میں اس نبوت کا نہ قائل ہوں نہ قائل تھا
میں رند لم یزل ہوں اس کی کچھ پروا نہ تھی مجھ کو
کہ ان کے اور میرے درمیاں اسلام حائل تھا
صفحہ 79
وہ ٹھکراتے رہے اپنے کف پا سے مجھے لیکن
مرا ہاتھ ان کی نور افروز گردن میں حمائل تھا
نگاہ رشک سے دیکھا مجھے ”الفضل“ نے برسوں
میں ان کے ابروئے خمدار کے خنجر کا گھائل تھا
انہیں ہے قادیاں میں آج کل دعویٰ خدائی کا
بتوں کی اس خدائی کا میں پہلے ہی سے قائل تھا

(۱۴؍ جولائی ۱۹۲۰ء)

صفحہ 80

فروری ۳۴ء کی بات ہے، جب قادیانیوں نے اسلامیہ کالج لاہور کے طلباء کو مرتد کرنے کی مردود کوشش کی، تو اکابر ملت نے اس فتنہ کی سرکوبی کے لیے مسجد مبارک میں تقریریں کیں، جس پر حکومت نے حضرت مولانا ظفر علی خاں صاحبؒ، حضرت مولانا لال حسین صاحب اخترؒ، حضرت مولانا عبدالمنان صاحب اور احمد یار خان صاحب سیکرٹری مجلس احرار الاسلام کو مقید و محبوس کر دیا۔ ایک دن مولانا ظفر علی خان سے ایک قیدی نے شکایت کی کہ جیل والے اسے اتنے دانے دیتے ہیں کہ پیسے نہیں جاتے۔ حضرت مولانا نے اپنے رفقاء کو بلا لیا اور سب حضرات نے باری باری چکی پیس کر وہ باقی دانے ختم کر دیے۔ اس دوران میں مولانا اختر نے حضرت مولانا سے ارشاد کی درخواست کی، تو ارتجالاً ”حضرت مولانا کی زبان پر یہ شعر آگئے، جو تاحال کسی کتاب میں شائع نہیں ہو سکے۔ حضرت مولانا اختر کے شکریہ کے ساتھ ہدیہ قارئین کرام ہیں۔ (مدیر)

غلام احمد بھلا کیا جان سکتا ہے کہ دیں کیا ہے
رموز علم الاسما چہ داند ذوق ابلیسی
ادھر توحید کی باتیں ادھر تثلیث کی گھاتیں
مری فطرت حجازی ہے سرشت اس کی ہے انگلسی
صفحہ 81
یہ کہہ کر حق جتا دوں گا محمدؐ کی شفاعت پر
کہ آقا تیری خاطر میں نے چکی جیل میں پیسی
مقابل قادیانی ہو نہیں سکتے ہیں اختر کے
پڑے گا ایک ہی تھپڑ تو جھڑ جائے گی بتیسی
ہوا جب علم کا چرچا دیا فتویٰ یہ مرزا نے
ہمارا علم ہے دریا کہ نام اس کا ہے سائیسی
ہے امرتسر سے مغرب کی طرف مینارۂ مرزا
یہ نکتہ حل کریں مرقد سے اٹھ کر آج ادریسی

(تبلیغ رسالت، جلد ۹، صفحہ ۴۰)

صفحہ 82

نذر شہیدان ختم نبوت

”مارچ ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت کے دوران جب عشق رسولؐ سے معمور سینوں کو وقت کے یزیدیوں کی گولیوں نے چھلنی کر دیا تھا۔ لاہور، فیصل آباد، سیالکوٹ، راولپنڈی اور ملتان کی سرزمین خواجہ بدر و حنین صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حرمت پر کٹ مرنے والوں کے خون سے لالہ زار بن گئی تھی۔ اس وقت ملتان کے مایہ ناز ادیب اور شاعر جناب علامہ طالوت مرحوم نے ان شہیدوں کی بارگاہ میں یہ نذرانہ سلام پیش کیا تھا“۔

سلام ان پر جنہوں نے سنت سجاد زندہ کی
سلام ان پر جنہوں نے کربلا کی یاد زندہ کی
سلام ان پر کہ جو ختم نبوت کے تھے شیدائی
سلام ان پر کہ جن کی جرأت رندانہ کام آئی
صفحہ 83
سلام ان پر جنہوں نے مشعلیں حق کی جلائی ہیں
سلام ان پر جنہوں نے گولیاں سینوں پہ کھائی ہیں
سلام ان پر جو جیتے تھے فقط اسلام کی خاطر
جناب خواجہ ہر دوسرا کے نام کی خاطر
سلام ان پر کہ جو ختم رسالت کے تھے پروانے
جو عاقل باخدا تھے اور حضور خواجہ دیوانے
سلام ان پر کہ جن کی غیرت ایمان تھی زندہ
سلام ان پر قیامت تک ہے جن کا نام پائندہ
صفحہ 84

کمترین کا بیڑا غرق

٭ طالوت ٭

مشرقی پنجاب سے آنے کے بعد
قادیان کا کعبہ ٹیڑھا ہوگیا
مرزا صاحب کا ہے الہام ٹھیک
کمترین کا غرق بیڑا ہوگیا
مرکزیت دی ”ابو لولو“ نے چھوڑ
عشق بھی جی کا بکھیڑا ہوگیا
ڈارون صاحب کی بندر بانٹ سے
کمترین کا غرق بیڑا ہوگیا
ان میں حرب و ضرب کی ہمت کہاں
ان کو کافی اک تھپیڑا ہوگیا
وہ چپت آ کر پڑی رخسار پر
کمترین کا غرق بیڑا ہوگیا
صفحہ 85

ترانہ قادیان

٭ علامہ طالوتؒ ٭

سارے جہاں سے اچھی ہے قادیاں ہماری
ہم اس کے ہیں بچھیرے وہ مادیاں ہماری
خنجر سے تیز تر ہیں ملاحیاں ہماری
جن سے بھری پڑی ہیں الماریاں ہماری
منکر ہیں قادیاں کے ذریتہ البغایا
ہے کاسہ سر ان کا اور لاٹھیاں ہماری
دیتے ہیں مہوشوں کو ہم مشی فی النوم'
کس درجہ دلربا ہے یہ چیستاں ہماری
تثلیث کی امانت سینوں میں ہے ہمارے
ہے جس کے ذکر سے تر ہر دم زباں ہماری
اے گلستان لندن وہ دن ہیں یاد تجھ کو
جب تیرا باغ باں تھا اور ڈالیاں ہماری
صفحہ 86
اے موج بیاس تو نے دیکھی ہیں مدتوں تک
پریوں کے جمگھٹے میں اٹھکیلیاں ہماری
”پیغام“ کے مجدد۱ ”الفضل“ کے پیمبر۲
وہ ان کی گالیاں ہیں یہ پھبتیاں ہماری
”چرچل“ سے جاکے پوچھو کیا اس میں مصلحت تھی
مغرب کی وادیوں میں گونجی اذاں ہماری
اے امت محمدؐ! اپنے نصیب کو‘ رو!!
الٹا ہے ٹاٹ تیرا چمکی دکاں ہماری
طالوت کا ترانہ بانگ درا ہے گویا
ہوتی ہے جادہ پیما پھر قادیاں ہماری

(منقول روزنامہ ”زمیندار“ لاہور۔ ۴ مارچ ۱۹۳۴ء)

۱۔ ”پیغام“۔۔۔ ۲۔ ”الفضل“۔۔۔ قادیانی اخبار۔

صفحہ 87

فتنہ ارتداد

٭ حضرت طالوت مرحوم ٭

ہیں مٹانے والے ہم سب فتنہ اشرار کو
اے خدا تو فتح دے اسلام کے احرار کو
دشمنان ملک و ملت سے ہماری جنگ ہے
تھام لو بہر خدا تبلیغ کی تلوار کو
ہے نبوت کے لیے تہذیب شرط اولیں
ہم نبی کیوں کر کہیں پھر شاتم ابرار کو
قادیانی پائے آزادی میں تھے خار مغیل
نوک سوزن سے نکالو بھائیو اس خار کو
جب پلومر کی ہو ٹانک وائن ہی سر پر سوار
کیوں نہ ہوں الہام اک بدمست و میخوار کو
خطہ پنجاب میں بھیجا ہے اک افیونی نبی
رب لندن سے شکایت ہے یہی اخیار کو
صفحہ 88

توہین رسالت

٭ مظفر وارثی ٭

اظہار میں باطن کی حقیقت نہیں ہوتی
مرزائی کا دل ہوتا ہے صورت نہیں ہوتی
پڑھتے ہیں محمدؐ کا زباں سے کلمہ بھی
شرح کلمۂ ختم نبوت نہیں ہوتی
آئین کی رو سے وہ مسلماں نہیں ہیں
تاویل کی محتاج شریعت نہیں ہوتی
مرعوب کسی دعوے سے ہوتا نہیں قانون
انصاف کی آواز میں لکنت نہیں ہوتی
چپ رہتا مظفرؔ تو گنہگار ٹھہرتا
سچ کہنے سے توہین عدالت نہیں ہوتی
صفحہ 89

دربار رسالتؐ

٭ آغا شورش کاشمیریؒ ٭

ایک ایوان فلک بوس کے دربانوں میں
میں بھی ہوں ختم نبوت کے نگہبانوں میں
اس کی رحمت کے خزانوں میں نہیں کوئی کمی
اس کے میخوار بھی ساقی ہیں خمستانوں میں
مالداروں میں نہیں اس سے ارادت باقی
اس کا چرچا ہے غریبوں کے سیہ خانوں میں
میں ہوں سرکار دو عالمؐ کے غلاموں کا غلام
میری گردن کہیں جھکتی ہے جہانبانوں میں؟
شاتم سید کونینؐ کا خوں جائز ہے
آج تک بھی یہی جذبہ ہے مسلمانوں میں
صفحہ 90
دوستو آؤ محمدؐ پہ نچھاور کر دیں
تار جتنے بھی بقایا ہیں گریبانوں میں
پادشہ مجھ سے قصیدوں کی توقع نہ کریں
میں ہوں دربار رسالتؐ کے ثنا خوانوں میں
صفحہ 91

بشارت

٭ شورش کاشمیریؒ ٭

پہنچوں گا بارگاہ رسالت مآبؐ میں
شورش ملی ہے مجھ کو بشارت یہ خواب میں
قید فرنگ میں وہ زمانہ گزر گیا
جانا تھا سر کے بل مجھے ورنہ شباب میں
جب بھی کسی نے سیرت اقدس کی بات کی
کیا کیا نہیں ملا ہے سوال و جواب میں
اس سر کو ان کے در پہ کٹا کر رہوں گا میں
یہ آرزو ہے اس دل پر اضطراب میں
اٹھوں گا عاشقان محمدؐ کے ہمرکاب
لکھا گیا ہے میری شفاعت کے باب میں
صفحہ 92
تھے جس سے مستنیر صحابہؓ کے روز و شب
وہ لازوال نور کہاں آفتاب میں
کیا دور ہے کہ ختم نبوت کے راہزن
بیٹھے ہیں چھپ چھپا کے سیاسی نقاب میں
ربوہ مٹے گا قہر الہی سے بالضرور
تاخیر ہو رہی ہے خدا کے عذاب میں
صفحہ 93

مدینہ کی عظمت

قادیاں کی موت

٭ شورش کاشمیریؒ ٭

اسی رعایت انتساب سے نیک نام ہوں میں
حضور سرور کونینؐ کا غلام ہوں میں
شہنشہوں سے مجھے کوئی واسطہ ہی نہیں
بہ فیض خواجہ گیہاں بلند بام ہوں میں
مروں گا ختم نبوت کی پاسبانی میں
جہاد عشق رسالتؐ میں تیز گام ہوں میں
میں اپنے پاؤں تلے قادیاں کو روندوں گا
بہ عشق دین نبیؐ تیغ بے نیام ہوں میں
صفحہ 94
زوال امت ربوہ قریب آ پہنچا
مسیلمہ سے صحابہ کا انتقام ہوں میں
پکارتا ہوں بخاریؒ کی رہگزاروں سے
کلام شاعر مشرق کی دھوم دھام ہوں میں
ظفر علی کے قلم کا جلال ہے مجھ میں
زباں کے حسن میں تلمیذ بوالکلام ہوں میں
کھڑا ہوں مہر علی شاہؒ کے آستانہ پر
انہی کے در کی بدولت تو بامقام ہوں میں
مرے حریف مجھے گالیاں ضرور بکیں
غلام میر اممؐ ہوں تو نیک نام ہوں میں
کہاں ہیں ملت بیضا کی نوجواں نسلیں
قلم کے زور پہ اقبال کا پیام ہوں میں
مری گرفت سے ربوہ پہ کپکپی طاری
خدا کا شکر ہے مقبول خاص و عام ہوں میں
صفحہ 95

شہیدانِ ختم نبوّتؐ

٭ آغا شورش کاشمیریؒ ٭

خاک لاہور کی توقیر بڑھانے والے
گولیاں تنے ہوئے سینوں پہ کھانے والے
جبر کا نام زمانہ سے مٹانے والے
صبر ایّوبؑ کی تصویر دکھانے والے
گردنیں عشقِ پیمبرؐ میں کٹانے والے
دھجیاں لشکرِ باطل کی اڑانے والے
دغدغہ طارقؒ و بوذرؓ کا دکھانے والے
طنطنہ دین فروشوں کا مٹانے والے
پرچم سیّدؐ کونین اڑانے والے
قرنِ اول کی روایات دکھانے والے
صفحہ 96
آگ طاغوت پرستوں میں لگانے والے
ہیبت لشکر اسلام بٹھانے والے
معجزہ قوت بازو کا دکھانے والے
نقشہ حیدر کرار جمانے والے
سر بکف عرصہ پیکار میں آنے والے
جان تک ختم نبوت پہ لٹانے والے
قتل گاہوں میں شہیدوں کا لہو بول اٹھا
سر کٹاتے ہیں محمدؐ کے گھرانے والے
باخدا ان کے مقامات سے واقف ہی نہیں
خانقاہوں میں مریدوں کو نچانے والے
پرچم دعوت و ارشاد لیے پھرتے ہیں
چادریں زینبؓ و صغریٰؓ کی چرانے والے
بچ نہیں سکتے کبھی قہر خدا سے شورش
خون احرار سفینوں میں لٹانے والے
صفحہ 97

سلام

٭ آغا شورش کاشمیریؒ ٭

وہ ایک پرچم رہے سلامت اس اک لوا کو سلام پہنچے
حرم کی عزت پہ کٹنے والوں کے نقش پا کو سلام پہنچے
عروس لالہ بہار پر ہے‘ بہار کو تہنیت کا ہدیہ
چمن چمن پر درود لازم‘ صبا صبا کو سلام پہنچے
یزیدیوں کو ستم مبارک‘ حسینیوں کی وفا کے قرباں
فقیر گوشہ نشین کا خاک کربلا کو سلام پہنچے
نفس نفس برکتوں کے مخزن‘ قدم قدم رحمتوں کے چشمے
ہر ایک حلقہ بگوش سردار انبیا کو سلام پہنچے
زمین لاہور جن کے خوں سے بہشت کو ماند کر چکی ہے
تمام خونیں کفن شہیدان باصفا کو سلام پہنچے
صفحہ 98
کچھ اس ادا سے لڑے مجاہد' خدا کی رحمت کو پیار آیا
بلالؓ و بوذرؓ کے ہم نشینان باوفا کو سلام پہنچے
جو تیغ کی دھار چومتے ہیں' جو کوئے قاتل میں گھومتے ہیں'
نثار جس پر قضا کے تیور' اس اک ادا کو سلام پہنچے
چلے چلو دوستو! کبھی تو زمانہ کروٹ ضرور لے گا
خجستہ پا رہروؤں کا ہر ایک بے نوا کو سلام پہنچے
وہ ایک کشتی جو قعر دریا میں ڈوبتی تھی' پکار اٹھی'
بلاکشان فریب ساحل کا ناخدا کو سلام پہنچے
سلگ رہے ہیں گلاب و لالہ خطیب اعظم کے زمزموں سے
ہمارا اس باوقار و بے باک رہنما کو سلام پہنچے
جہاں بظاہر ہیں استراحت میں پادشاہے جہاں پناہے'
اسی فضا میں درود گونجے' اسی فضا کو سلام پہنچے'

۱۔ سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ

صفحہ 99

ضرورت ہے

٭ شورش کاشمیریؒ ٭

ضرورت ہے‘ سیاسی نوجوانوں کی ضرورت ہے
مجھے اس مملکت کے پاسبانوں کی ضرورت ہے
لرز جائے زمین قادیاں جن کے تہور سے‘
اب ایسے انقلاب آور نشانوں کی ضرورت ہے
وضاحت کر نہیں سکتا‘ مگر آواز دیتا ہوں
کہ اس کرب و بلا میں سخت جانوں کی ضرورت ہے
کہاں ہیں سید الکونینؐ کی امت کے دیوانے؟
کہ ناموس نبیؐ کے پاسبانوں کی ضرورت ہے
امڈ آئے تھے جو تاریخ میں کشور کشا ہو کر
یہاں اسلام کو ان تیغ رانوں کی ضرورت ہے
صفحہ 100
عزیزو شاعر مشرق کا لہجہ ڈھونڈ کر لاؤ
سواد ایشیا کو خوش بیانوں کی ضرورت ہے
غلام احمد کی امت خوان استعمار تک پہنچی
اب اس کے بعد اس کو بد زبانوں کی ضرورت ہے

۱۔ مرزا غلام احمد قادیانی

صفحہ 101

ربوہ

٭ شورش کاشمیریؒ ٭

اس نامراد شہر کی ہیبت مٹائے جا
ربوہ غلط مقام ہے اس کو ہلائے جا
سنتا ہوں قادیاں کا جنازہ نکل گیا
اس کا وجود پاؤں کی ٹھوکر پہ لائے جا
مرزائیوں کی پود ہے منقار زیر پر
یہ آ لگے ہیں گور کنارے دبائے جا
اپنے خدا سے مانگ محمدؐ سے انتساب
ان کے حضورؐ عشق کے دیپک جلائے جا
آئے گی موت واقعی ایک دن ضرور
پھر موت کیا ہے کچھ نہیں غیرت دکھائے جا
صفحہ 102
ناموس مصطفےٰؐ کا تقاضا ہے ان دنوں
مہر و وفا کے نام پہ گردن کٹائے جا
اسلام سے دغا کا نتیجہ ہے خودکشی
اس پرفریب دور کے چھکے چھڑائے جا
مت ڈر کسی مسیلمہ کذاب سے کبھی
ہر ایک دوں نہاد کو راہ سے ہٹائے جا
حکام کج نہاد کا اب خوف ہیچ ہے
خوف خدائے پاک دلوں پر بٹھائے جا
مرزائیوں سے قطع تعلق ہے ناگزیر
ان کے ہر ایک راز کا پردہ اٹھائے جا
شورش قلم کی خارہ شگافی کے زور پر
نسل نو ہی کو خواب گراں سے جگائے جا
صفحہ 103

فردوس میں اقبالؒ سے ملاقات

٭ شورش کاشمیریؒ ٭

حکیم شرق کو میں نے اترسوں خواب میں دیکھا
محمدؐ مصطفےٰؐ کی بارگاہ قدس میں پایا
کہاں میں اور کہاں وہ عرش سے نزدیک تر گوشہ
ملائک نے مجھے اقبال کی محفل میں پہنچایا
کہا میں نے کہ میں ہوں آپ کے لاہور کا شہری
مرے افکار پر ہے آپ کے افکار کا سایا
قلم ہو یا زباں کہتا ہوں وہ جو آپ نے لکھا
مری باتیں سنیں تو شاعر مشرق نے فرمایا
تمہارے ہاں ابھی تک سارق ختم نبوتؐ ہیں
سمجھ میں کیا تمہاری دین پیغمبرؐ نہیں آیا؟
صفحہ 104
مرے افکار کو دانشوروں نے روند ڈالا ہے
سوانح کیا لکھے میرے ستم توڑا ستم ڈھایا
انہیں معلوم کیا؟ اسلام پر بیتی تو کیا بیتی؟
مسلمانوں کے وارث ہوگئے یاران بے مایا
کتابیں نام سے میرے مگر افکار یورپ کے
سیاسی ملحدوں نے نوجوان نسلوں کو بہکایا
پیمبرؐ کے دغا بازوں کو ایسی پٹخنی دے دو
کہ ان کی ڈار کا ہر فرد ہے شیطان کا جایا
صفحہ 105

عزم بالجزم

٭ شورش کاشمیریؒ ٭

گردن طاغوت و باطل کو جھکایا جائے گا
خواجہ کونینؐ کا ڈنکا بجایا جائے گا
ہم کسی فرعون کی طاقت سے ڈر سکتے نہیں
ناچ تگنی کا حریفوں کو نچایا جائے گا
کر رہے ہیں اہل ربوہ سازشوں پہ سازشیں
اب انہیں اسلام کے در پر جھکایا جائے گا
قرن اول کی روایت کا پھریرا تھام کر
ارض پاکستان کو جنت بنایا جائے گا
ہم کسی بھی دشمن اسلام کے ساتھی نہیں
ہم جو کہتے ہیں وہ کر کے بھی دکھایا جائے گا
صفحہ 106
رنگ لائے گا یقیناً شیوۂ صبر و رضا
جبر و استبداد کا مینار ڈھایا جائے گا
سید لولاکؐ پر قربان ہونے کے لیے
منبر و محراب کو بھی آزمایا جائے گا
خون دل سے میں نے لکھی ہے یہ نظم دلکشا
یہ ترانہ دار کے تختہ پہ گایا جائے گا
اس وطن میں نشاۃ اسلام کی تحریک کو
اب بہر عنوان اے شورش اٹھایا جائے گا
صفحہ 107

اعلان عام

قادیاں کے زلہ خواروں کو نچایا جائے گا
غیرت اسلام کا ڈنکا بجایا جائے گا
صورت حالات کے ویرانہ آباد میں
دبدبہ فاروق اعظمؓ کا بٹھایا جائے گا
کٹ مروں گا خواجہ کونینؐ کے ناموس پر
سر کوئی شے ہی نہیں، یہ بھی کٹایا جائے گا
جانتا ہوں اہل ربوہ کے سیاسی پیچ و خم
کافران دین قیم کو جھکایا جائے گا
گونجتا ہے نعرۂ تکبیر ہر میدان میں
ایشیا میں اس کی ہیبت کو بٹھایا جائے گا
مسند میر اممؐ کے وارثوں کو بے خطر
کھینچ کر اسلام کی چوکھٹ پہ لایا جائے گا
صفحہ 108
عرصہ کونین میں لخت دل زہراؓ کا نام
استقامت کے حریفوں کو سنایا جائے گا
دار کے تختہ پہ کھنچوا دو کہ میں ڈرتا نہیں
جھنگ کے پہلو سے ربوہ کو اٹھایا جائے گا
قادیانی ارض پاکستان میں یا للعجب؟
راز کیا ہے ایک دنیا کو بتایا جائے گا
سرزمین پاک میں سرمایہ داری کا وجود
اب مٹانا ہی پڑا ہے تو مٹایا جائے گا
ناصر احمد چیز کیا ہے کلچڑی گنجی کا جوش
ارتداد اس کا زمانہ کو دکھایا جائے گا
صفحہ 109

قادیانی بیٹی کا خط

٭ شورش کاشمیریؒ ٭

”قصر خلافت ربوہ سے راقم کے نام ایک خط آیا ہے۔ نویسندہ نے آخر میں ایک لڑکی لکھا ہے۔ خط کیا ہے‘ مرقع دشنام ہے۔ راقم کے نزدیک ہر لڑکی کافر ہو یا مسلمان بیٹی ہوتی ہے۔ نظم ذیل اس بیٹی کے جواب میں ہے“۔

ایک بیٹی کی زبان کلک اور دشنام؟ کیا
تیرا خط ہے قادیاں کا پارۂ الہام کیا
لامحالہ تو غلام احمد کی پیروکار ہے
یہ بھی دیکھا ہے‘ ہوا اس شخص کا انجام کیا
گالیاں اسلام کے بیٹوں کو دینا واشگاف
ناصر احمد کا ترے نوک زباں ہے نام کیا
صفحہ 110
مہدی موعود انگریزوں کا زلہ خوار تھا
کیا اسے معلوم تھا مصحف ہے کیا اسلام کیا
عورتوں سے بحثا بحثی شیوۂ مرداں نہیں
لڑکیاں کیا چیز ہیں ان کی نوائے خام کیا
اے کنیز ناصر احمد کیا تجھے معلوم ہے
رنگ لائے گی کسی دن گردش ایام کیا
بے حجابانہ قلم لے کر نکل آئی ہے تو
گھر کے آنگن میں تجھے ملتا نہیں آرام کیا
ماسوائے خواجہ بطحاؐ کوئی آقا نہیں
کوئی ظلی ہو بروزی ہو کسی سے کام کیا
گوہر شب تاب ہیں مہر و وفا کے پھول ہیں
لڑکیاں ہر قوم کی صدق و صفا کے پھول ہیں
صفحہ 111

دلیل ایمان

* شورش کاشمیریؒ *

یہی عشق کامل یہی راز دیں ہے
محمدؐ نہیں ہیں تو کچھ بھی نہیں ہے
وہ خورشید تاباں وہ مہر مبیں ہے
ملائک کا محور‘ حرم کی زمیں ہے
وہ میر اممؐ ہیں ازل سے ابد تک
وہ امی لقب خاتم المرسلیںؐ ہے
جہاں انؐ کے نقش قدم پڑ چکے ہیں
وہ ارض مقدس بہشت بریں ہے
رسالتؐ کے فیضان سے اس نگر کا
ہر اک ذرۂ خاک در ثمیں ہے
صفحہ 112
مجھے بخشوائیں گے محشر میں آقا ؐ
گناہگار ہوں مجھ کو اس پہ یقیں ہے
اسی آستاں سے ارادت ہے مجھ کو
یہی در ہے جس پہ جبیں بھی جبیں ہے
لگائی ہے لو میں نے آلِ نبیؐ سے
مرے عشق کا ہر تصور حسیں ہے
کرم کیجئے اس پہ اے میر بطحا ؐ
کہ شورش بہت عاجز و کمتریں ہے
صفحہ 113

برسبیل ارتجال

٭ آغا شورش کاشمیری ٭

سوچتے ہیں میرے اس مصرعے پہ اکثر ہم نشیں
بزدلوں کی دوستی سے فائدہ کوئی نہیں
جس کا سینہ ہو رسالتؐ کی ضیا سے مستنیر
غیر کی چوکھٹ پہ جھک سکتی نہیں اس کی جبیں
زلزلے کی شکل میں آئے گا قہر ذوالجلال
قادیاں غرقاب ہوگا ہے یہی میرا یقیں
سرزمین پاک میں ختم نبوت سے مذاق
ایک ہلچل ہے ملائک میں سر عرش بریں
امت ختم الرسلؐ میں ایک رہزن کا ظہور
کانپتا ہے چرخ مینائی لرزتی ہے زمیں
صفحہ 114
ملتفت رہتے ہیں اس پر بندگان اختیار
خاک ربوہ سے رعایت؟ اے الٰہ العالمیں
قادیاں کی سرزمین خاک مدینہ کی حریف
اہل ربوہ امت میر اممؐ کے نکتہ چیں
ٹاپتے پھرتے ہیں یاران سڑیل ان دنوں
ان میں لیکن ایک بھی اسلام کا محرم نہیں
کیا پتے کی بات کی ہے شاعر اسلام نے
”بے ید بیضا ہے پیران حرم کی آستیں“
تین صدیوں سے اسی فن میں اتارو ہو گئے
کاسہ لیسی تو نہیں تھا ہم مسلمانوں کا دیں
ناصر احمد چیز کیا ہے؟ اک گدائے لم یزل
مجھ کو اے شورش ڈرا سکتا نہیں کوئی لعیں
صفحہ 115

نسل نو سے خطاب

٭ شورش کاشمیری ٭

محمدؐ کا پرچم اڑائے چلا جا
رسالت کا ڈنکا بجائے چلا جا
اگر اپنی بخشش کی خواہش ہے شورش
جبیں انؐ کے در پہ جھکائے چلا جا
تیرے پاس اس کے سوا اور کیا ہے
پیام محمدؐ سنائے چلا جا
ترا آخرت میں وثیقہ یہی ہے
خدا کے لیے سر کٹائے چلا جا
خدا کے لیے سر کٹانے کا مطلب؟
نبیؐ کا پھریرا اڑائے چلا جا
صفحہ 116
فدایان شاہ دو عالمؐ کی راہ میں
عقیدت کے موتی لٹائے چلا جا
رسالت کی چوکھٹ پہ شاہ اممؐ کو
پکارے چلا جا بلائے چلا جا
فقط دجل ہے قادیانی نبوت
یہ حرف غلط ہے مٹائے چلا جا
جو خفاش ہیں تیرے مدمقابل
نقاب ان کے رخ سے اٹھائے چلا جا
صفحہ 117

ــــــ میں کسی اوقاف کا ملا نہیں

٭ شورش کاشمیریؒ ٭

میرا سر ہرگز کبھی شورش کہیں جھکتا نہیں
شکر ایزد! میں کسی اوقاف کا ملا نہیں
ابتدا سے خواجۂ کون و مکاں کا ہوں غلام
میں کسی حاکم کے آگے ہاتھ پھیلاتا نہیں
ہوں دبستان کلیم ایشیاء کا خوشہ چیں
میری تحریریں ہیں شاہد میں غلط لکھتا نہیں
میں نے دیکھے ہیں سیاسی رہنماؤں کے جنود
دوستانہ ان سے رکھتا ہوں مرید ان کا نہیں
دین کیا ہے؟ گنبد خضریٰ سے لیتا ہوں سبق
اس بلندی کے سوا میرا کوئی طغرا نہیں
صفحہ 118
کون آتا ہے یہاں اور کون جاتا ہے یہاں
میں نے اس تاریک پہلو پر کبھی سوچا نہیں
ڈوم ڈھاری واعظوں کے روپ میں منبر نشیں
ایک بھی اس ڈار میں اسلام کا شیدا نہیں
قادیاں کے مغلئی مرحوم دہلی کے کلال
ان بتوں میں کون؟ اس بازار کا پتا نہیں
فیصلہ دو ٹوک ہے شورش محمدؐ کی قسم
میرا موقف ہے شہادت اب مجھے جینا نہیں
صفحہ 119

اعلان حق

٭ شورش کاشمیریؒ ٭

قادیانی ملک پر قبضہ جما سکتے نہیں
خواجہ گیہاںؐ کی امت کو جھکا سکتے نہیں
میرزائی سامراجی طاقتوں کے زور پر
ہم مسلمانوں کی غیرت کو مٹا سکتے نہیں
یادگار ابنِ ملجم ہے غلام احمد کی پود
ہم کسی عنواں‘ اسے خاطر میں لا سکتے نہیں
ان کا مسلک ریزہ چینی خوان استعمار کی
قادیانی اس روش سے باز آ سکتے نہیں
ہارڈنگ تھا قافیہ محمود احمد تھا ردیف
راز ایسا ہے کہ ہم پردہ اٹھا سکتے نہیں
صفحہ 120
جو مسلماں کھائے گا شیزان ہوٹل میں طعام
ہم اسے قہر الٰہی سے بچا سکتے نہیں
قادیانی لونچڑوں کو اس چمن کے باغباں
ملت بیضا کی محفل میں بٹھا سکتے نہیں
اہل ربوہ کے خلیفہ کی دسیسہ کاریاں
سرور کونینؐ کے پیرو بھلا سکتے نہیں
مفلسان دین قیم کاسہ لیسان فرنگ
خواجہ کون و مکاں کو منہ دکھا سکتے نہیں
صفحہ 121

میرزا ناصر احمد

کنکوے باز

٭ شورش کاشمیریؔ ٭

اپنے دادا کی نبوت کو تماشا کر دیا
ناصر احمد نے مرے صوبہ کو رسوا کر دیا
ملت بیضا کے فرزندوں پہ غنڈے چھوڑ کر
اس غلط فہمی میں تھا شاید کہ پسپا کر دیا
اور کیا لکھوں عزیزان گرامی منزلت؟
ایک ہنگامہ سیاہ کاروں نے برپا کر دیا
قادیانی کیا ہیں؟ اسرائیل کے لخت جگر
ان کے بل ہم نے نکالے اور نہتا کر دیا
صفحہ 122
امت کافر کے ایڈووکیٹ اعجاز حسین
صورت حالات نے طرفہ تماشا کر دیا
اس وطن میں دین کے باغی ٹھہر سکتے نہیں
ہم نے اس مقصد کو ہر مقصد پہ اولیٰ کر دیا
اب چٹختی ہیں بہشتی مقبرے کی ہڈیاں
اہل ربوہ کو بہر عنوان ننگا کر دیا
خواجہ کونینؐ کی غیرت کا پرچم گاڑ کر
دیدہ و دل کو نثار راہ بطحا کر دیا
صحبت اقبالؔ کے فیضان نے شورش مجھے
شہر یار یثرب و بطحا کا شیدا کر دیا
صفحہ 123

ایک لاکھ روپے

٭ شورش کاشمیریؒ ٭

ہر ایک کام فقیہان کج کلاہ نے کیا
پاس خاطر سرکار ایں و آں کے لیے
عظیم جنگ میں برطانیہ کی بھینٹ دیے
وطن کے لخت جگر تیغ خوں فشاں کے لیے
لٹائے اپنی عقیدت کے سجدہ ہائے نیاز
ہر ایک دور میں برطانوی نشاں کے لیے
ہمیشہ خوف خدا سے کیا گریز و فرار
بتائی عمر رواں‘ عیش جاوداں کے لیے
ہر ایک فاسق و فاجر کا احترام کیا
بہر طریق زر و مال کی دکاں کے لیے
صفحہ 124
مگر وطن کے امیرو! سوال کرتا ہوں
دیا ہے مال کبھی شاہ دو جہاںؐ کے لیے
تمہارے باب میں الفاظ ہیں درشت مرے
کہاں سے لاؤں کمال سخن بیاں کے لیے
مجھے ہے خواجہ گیہاںؐ سے بے پناہ رغبت
انہی کا ورد ہے شورش مری زباں کے لیے
مرے قلم سے ہے بھونچال ارض ربوہ میں
حکیم شرقؒ قیامت تھے قادیاں کے لیے
میں ایک لاکھ روپے مانگتا ہوں اے شورش
ہر ایک پیر و جواں سے اس امتحاں کے لیے
صفحہ 125

میں!

٭ شورش کاشمیریؒ ٭

غریب شہر ہوں لیکن بلند بام ہوں میں
حضور سرور کونینؐ کا غلام ہوں میں
کسی حریف سے دبنا مرا شعار نہیں
بپاس جادہ و منزل خجستہ گام ہوں میں
مرا سلام نئی پود کے جوانوں کو
حکیم شرقؒ کا ان کے لیے پیام ہوں میں
دل و دماغ کو بطحا نے کر دیا مضبوط
محاذ جنگ پہ شمشیر بے نیام ہوں میں
مرے رفیق مری لغزشیں معاف کریں
شریک حلقہ رندان تیزگام ہوں میں
صفحہ 126
میں ایک روز مدینے ضرور جاؤں گا
بہ فیض سید کونینؐ خوش مقام ہوں میں
کسی ذلیل قلمکار سے تعلق کیا
خدا کا شکر ہے تلمیذ بوالکلامؔ ہوں میں
تمام عمر سلاسل سے واسطہ رکھا
یہی سبب ہے کہ محبوب خاص و عام ہوں میں
شوشوں سے تعلق نہیں مجھے شورش
خدا کا لطف و کرم ہے کہ نیک نام ہوں میں
صفحہ 127

طلوع آفتاب

٭ شورش کاشمیریؒ ٭

ہوگیا توحید کے بیٹوں کا بیڑا پار دیکھ
خواجہ کونینؐ کا فیضان رحمت بار دیکھ
عشق پیغمبرؐ کی دولت محو ہو سکتی نہیں
رنگ لایا جذبہ قربانی و ایثار دیکھ
غیرت دین براہیمیؑ کا پرچم گڑ گیا
نوجواں خواب گراں سے ہوگئے بیدار دیکھ
ان کی نظروں میں کہاں جچتا تھا شاہوں کا جلال
سید الکونینؐ کے عشاق کا دربار دیکھ
بتکدے گرنے لگے اسلام کی یلغار سے
کانپ اٹھے نعرۂ تکبیر سے کفار دیکھ
صفحہ 128
جب تخیل کا احاطہ کر گئی نعتِ نبیؐ
خامہ عنبر شمامہ ہو گیا تلوار دیکھ
واقعات ماضی مرحوم کے پیشِ نظر
وقت کے اس موڑ پر حالات کی رفتار دیکھ
جھک نہیں سکتا رسالت کے حدی خوانوں کا سر
رک نہیں سکتی کبھی اسلام کی یلغار دیکھ
قوم کے مخلص نمائندوں نے اسے طے کیا
جو قضیہ تھا کبھی دشوار سے دشوار دیکھ
صفحہ 129

عجمی اسرائیل

٭ شورش کاشمیریؔ ٭

کرۂ ارضی کی ہر عنوان سے تذلیل ہے
قادیان! مابین ہند و پاک اسرائیل ہے
میرا یہ لکھنا کہ ربوہ کی خلافت ہے فراڈ
خواجہ کونینؐ کے ارشاد کی تعمیل ہے
دم بریدہ ہفتگی‘ یک چشم گل اس کا مدیر
مصلح موعود کے الہام کی تکمیل ہے
اہلیہ مرزا غلام احمد کی ام المومنین
ہے کہاں قہر خدا؟ قہر خدا میں ڈھیل ہے
کیا تماشا پیمبر بن گیا عرضی نویس
گفتنی اجمال ہے ناگفتنی تفصیل ہے
صفحہ 130
کاسہ لیسی کا حصار‘ مخبری کا زہرناب
ان سیاسی مغبچوں کے خون میں تحلیل ہے
قادیان والو قیامت ہوں تمہارے واسطے
میرے رشحات قلم میں صور اسرافیل ہے
اپنی تحریر میں اسلام کے عنوان سے
شاعر مشرق نے جو لکھا ہے‘ سنگ میل ہے
میں نے جو کچھ بھی لکھا ہے‘ قادیان کے باب میں
پارۂ الہام ہے‘ آوازۂ جبرائیل ہے
صفحہ 131

شہداء ختم نبوت کے نام

٭ ساغر صدیقی مرحوم ٭

جو شہادت کا جام پیتے ہیں!
سچ ہے مرتے نہیں وہ جیتے ہیں
ان کو غلماں سلام کرتے ہیں
خلد میں وہ قیام کرتے ہیں
ان سے تاریخ کے ورق روشن
عہد اسلاف کے سبق روشن
ان کی تعظیم آسمانوں پر
ان کا احسان دو جہانوں پر
بحر تقدیس کا صدف کہئے
یاد میں ان کی گل فشاں رہئے
صفحہ 132
ملک و ملت کے وہ حبیب ہوئے
حوض تسنیم کے قریب ہوئے
لب یزداں پہ نام ہے ان کا
کملی والا امام ہے ان کا
وہ ستاروں میں رقص کرتے ہیں
ماہ پاروں میں رقص کرتے ہیں
عظمت کائنات ہوتے ہیں
پاسبان حیات ہوتے ہیں
صفحہ 133

ملتان پوچھتا ہے

تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء میں ملتان میں حکومت کے وحشی درندوں نے گولیاں چلا کر چھ محافظین ختم نبوت کو شہید کر دیا تھا۔ یہ نظم ساغر صدیقی مرحوم کا ان شہداء کو خراج تحسین ہے۔

٭

ملتان کے شہیدو! ملتان کے ستارو!
ملتان تم پہ نازاں
ملتان تم پہ قربان
ملتان کی حیا تم
مسرور ہو گئی ہیں ملتان کی فضائیں
پرنور ہو گئی ہیں ملتان کی فضائیں
ملتان مسکرایا
ملتان جگمگایا
ملتان جھومتا ہے!
صفحہ 134
ملتان چومتا ہے!
نقش قدم تمہارے ملتان کے دلارو!
ملتان کے شہیدو!
ملتان کی بہاریں
خاموش رہ گزاریں
تم کو بھلائیں کیسے!
دل کو منائیں کیسے!
ملتان کی نشانی!
ملتان لٹ گیا ہے‘ ملتان کے نظارو!
ملتان کے شہیدو‘ ملتان کے ستارو!
ملتان کی نظر سے
ملتان کے جگر سے
صدیوں لہو بہے گا
تازہ یہ غم رہے گا
ملتان ہنس رہا ہے‘ ملتان رو رہا ہے
پھولوں میں جیسے کوئی کانٹے چبھو رہا ہے
صفحہ 135
ملتان کی دعائیں
ملتان کی صدائیں
کہتی ہیں یہ فسانہ
سن لے جسے زمانہ
ٹوٹے گا دست ظالم‘ ملتان کے سہارو
ملتان کے شہیدو‘ ملتان کے ستارو
ملتان کی تمنا
ملتان کا تقاضا
انصاف شہریارو
ملتان کے ستارو
بیٹے کہاں ہیں میرے‘ ملتان پوچھتا ہے
کیوں چھا گئے اندھیرے‘ ملتان پوچھتا ہے
ملتان کو بتاؤ!
ملتان کو بتاؤ!
انسانیت کے نغمے‘ انسان کے لبوں پر
سو سو سلام تم پر
صفحہ 136
دوزخ حرام تم پر
تم نے اٹھالیا ہے
تم نے بچالیا ہے
بطحا کا سبز پرچم‘ ملتان کے نگارو!
ملتان کے شہیدو‘ ملتان کے شعارو!
صفحہ 137

بیاد شہداء ختم نبوت ۱۹۵۳ء

٭ سیف الدین سیف ٭

جو آئے تھے ختم نبوت میں کام
کہو ان شہیدوں پہ لاکھوں سلام
بھلایا نہیں وہ فسانہ ابھی
ہمیں یاد ہے وہ زمانہ ابھی
موذن کو مجرم بنایا گیا
نمازی کٹہرے میں لایا گیا
نبوت کے اقرار پر گولیاں
مساجد کی دیوار پر گولیاں
محمدؐ تیرے نام پر گولیاں
صفحہ 138
صداقت کے پرچم جلائے گئے
شہیدوں کے لاشے چرائے گئے
جوانوں کے حلقوم تلوار پر
کئی لوگ کھینچے گئے دار پر
جنہیں بیر ختم رسالت سے تھا
جنہیں اک تعلق بطالت سے تھا
ظالم وہ صیاد پھر آ گئے
قاتل وہ جلاد پھر آ گئے
صفحہ 139

بجا گفت

٭ سید امین گیلانی ٭

ختم رسل کے بعد پیمبر‘ غلط غلط
نازل ہو اب کتاب کسی پر‘ غلط غلط
ہے باعث نجات فقط مصطفےٰؐ کی ذات
ہو اور کوئی شافع محشر‘ غلط غلط
نشہ یہ معرفت کا کہیں سے نہ مل سکا
تجھ سا ہو کوئی ساقی کوثر‘ غلط غلط
ہاں ہاں ہزار بار بپا ہوں قیامتیں
اٹھے گا تیرے در سے مرا سر‘ غلط غلط
میں اور عدوئے دیں کی سنوں پھر بھی چپ رہوں
گردن بھی ہو‘ اگر تہہ خنجر‘ غلط غلط
ہاں ہر قدم پر خوف خدا بجا بجا
غیر از خدا کسی کا کوئی ڈر‘ غلط غلط
صفحہ 140

قادیانی فتنہ

قادیانی فتنہ اٹھا ہے مسلمانو! اٹھو خواب سے بے دار ہو للہ دیوانو! اٹھو
حرمت دین محمد کے نگہبانو! اٹھو شعلہ سامانی دکھاؤ، شعلہ سامانو! اٹھو
مٹ رہا ہے دین وحدت اور ہم دیکھا کریں آؤ پھر پہلا سا جوش زندگی پیدا کریں
آگیا ہے ”روسیاہ“ تخت نبوت کے قریب کفر صف آرا ہوا ہے نور وحدت کے قریب
چھا رہی ہیں ظلمتیں شمع رسالت کے قریب خیمہ زن ہیں بجلیاں باران رحمت کے قریب
فتنہ دجال کی قربت کا پیغام آگیا لو خبر اسلام کی، نرغے میں اسلام آگیا
فتنہ یہ اٹھا ہے ہنگامہ اٹھانے کے لیے مشعل نور محمد کو بجھانے کے لیے
یہ بلا آئی ہے تم سب کو جگانے کے لیے غیرت دینی تمہاری آزمانے کے لیے
تم ہو ناموس محمد کے نگہباں یاد رہے تم مسلماں ہو، مسلماں ہو، مسلماں یاد رہے
خواب سے بے دار ہو روح الامیں کا واسطہ متحد ہو، رحمتہ للعالمین کا واسطہ!
پستیوں کو چھوڑ دو دین مبیں کا واسطہ رفعتوں کو ڈھونڈ لو، عرش بریں کا واسطہ
فتنے جتنے اٹھ رہے ہیں، سب فنا ہو جائیں گے
تم جو چونکو گے حوادث خود فنا ہو جائیں گے
صفحہ 141
ختم نبوت زندہ باد
ختم نبوت زندہ باد
جسم میں جب تک جاں رہے یہ تیرا ایمان رہے
سدا رہے یہ تجھ کو یاد ختم نبوت زندہ باد
ختم نبوت زندہ باد
ختم نبوت ہے ایمان ختم نبوت دین کی جان
یہ اسلام کی ہے بنیاد ختم نبوت زندہ باد
ختم نبوت زندہ باد
اس سے کرے گا جو انکار وہ اسلام کا ہے غدار
دین ہوا اس کا برباد ختم نبوت زندہ باد
ختم نبوت زندہ باد
بات یہ ہے بالکل ظاہر کہیں گے ہم اس کو کافر
جو بھی کرے منسوخ جہاد ختم نبوت زندہ باد
ختم نبوت زندہ باد
صفحہ 142
یہی ہے مومن کی پہچان کرتا ہے حق کا اعلان
سہ لیتا ہے ہر افتاد ختم نبوت زندہ باد
ختم نبوت زندہ باد
حق منوا کر چھوڑیں گے باطل کا منہ توڑیں گے
عزم ہمارا ہے فولاد ختم نبوت زندہ باد
ختم نبوت زندہ باد
ختم نبوت زندہ باد
صفحہ 143

٭ سید امین گیلانی ٭

پر محمدؐ کی جہاں توہین ہو کٹ جائیں گے
وہ قدم دوزخ میں جائیں گے اگر ہٹ جائیں گے
تم بھی اس جان دو عالم سے وفاداری کرو
اس کے دشمن سے کھلا اظہار بیزاری کرو
ان کی عزت کے محافظ ہو تو عزت آپ کی
آپ کے ہم، آپ کا سکہ، حکومت آپ کی
آپ اگر ان کے نہیں پھر کرسیاں خالی کریں
ملک کی، ملت کی، مذہب کی نہ پامالی کریں
صفحہ 144

٭ سید امین گیلانی ٭

اف یوں ہو‘ توہین محمدؐ اور پھر ملک ہمارا ہو
کیوں نہ جگر ہو ٹکڑے ٹکڑے اور دل پارہ پارہ ہو
صبر کی حد ہوتی ہے کوئی کب تک آخر صبر کریں
اس بے شرمی کے جینے سے بہتر ہے ہم ڈوب مریں
قید ہو اب یا دار کا تختہ جو گزرے گی جھیلیں گے
نام پہ تیرے‘ جان دو عالم جان کی بازی کھیلیں گے
تو ہے ہم کو جان سے بڑھ کر مال اور ملک سے پیارا ہے
تیری محبت کامل ایماں‘ یہ ایمان ہمارا ہے
ہاں اب ہم سے صبر نہ ہو گا لاکھ کہیں غدار ہیں ہم
یا مانیں‘ یا جان ہے حاضر جینے سے بیزار ہیں ہم
صفحہ 145

٭ سید امین گیلانی ٭

اٹھو ختم نبوت کا علم کھولو مسلمانو!
یہ موقع کھو دیا تم نے تو پچھتاؤ گے نادانو
ابھی کل گولیاں کھا کھا کے کتنے نوجواں تڑپے
تڑپتا دیکھ کر جن کو زمین و آسماں تڑپے
تم ان کی آرزو سمجھو تم ان کا مدعا جانو
اٹھو ختم نبوت کا علم کھولو مسلمانو
دلائے جو یقیں ختم نبوت کی حفاظت کا
جو یہ کہہ دے کہ دے گا ساتھ وہ حق و صداقت کا
جو یہ وعدہ نہ دے اس شخص کو تم بے وفا سمجھو
اسے غدار ملت‘ دشمن دیں‘ بے حیا سمجھو
تمہارے در پہ لاکھوں بار آئے تم نہ پہچانو
اٹھو ختم نبوت کا علم کھولو مسلمانو
صفحہ 146
رسولؐ اللہ کی ختم نبوت کی قسم مجھ کو
تریپن کے شہیدوں کی شہادت کی قسم مجھ کو
نجات دین و دنیا ہے اسی میں تم یقیں جانو
اٹھو ختم نبوت کا علم کھولو مسلمانو
یہ موقع کھو دیا تم نے تو پچھتاؤ گے نادانو
اٹھو سب مل کے ناموس رسالت کے نگہبانو
اٹھو ختم نبوت کا علم کھولو مسلمانو
یہ موقع کھو دیا تم نے تو پچھتاؤ گے نادانو
صفحہ 147

٭ سید امین گیلانی ٭

(تحریک تحفظ ختم نبوت ۱۹۵۳ء میں رضا کاروں کا جوش و جذبہ دیکھ کر)

یہ سر مست و بے خود‘ جری اور جیالے
یہ خوددار ماؤں کی گودوں کے پالے
ترے نام پر سر کٹا دینے والے
یہ ختم نبوت کا پرچم سنبھالے
بڑھے جا رہے ہیں بڑھے جا رہے ہیں
نہیں ان کو پرواہ کچھ بیش و کم کی
انہیں روک سکتی ہے جھڑکی نہ دھمکی
انہیں فکر ہے گولیوں کی نہ بم کی
کفن سر پہ جانیں خدا کے حوالے
بڑھے جا رہے ہیں بڑھے جا رہے ہیں
صفحہ 148
چمکتا ہے چہروں پہ کیا نور ایماں
خجل ہو اگر دیکھ لے ماہ تاباں
لبوں پر درود اور پہلو میں قرآں
کمر میں ہیں تیغیں نہ کاندھوں پہ بھالے
بڑھے جا رہے ہیں بڑھے جا رہے ہیں
نہ کانپے قدم ہی نہ جی ڈگمگائے
برسنے لگیں گولیاں مسکرائے
ترا نام لے کر لہو میں نہائے
ترے پیار میں یوں مرے مرنے والے
کہ تو لطف کی اک نظر ان پہ ڈالے
بڑھے جا رہے ہیں بڑھے جا رہے ہیں
صفحہ 149

٭ سید امین گیلانی ٭

(ارباب حکومت سے)

مرا پیغام پہنچا دو یہ ارباب حکومت کو
دبا سکتے نہیں تم جبر سے اہل صداقت کو
جو حق والے ہیں کہنے سے ہرگز رک نہیں سکتے
کٹا سکتے ہیں سر باطل کے آگے جھک نہیں سکتے
سنو، ہاں ہاں سنو، ہم یہ علی الاعلان کہتے ہیں
غلام احمد کو کافر اور بے ایمان کہتے ہیں
کرے ختم نبوت کا کوئی انکار کافر ہے
بھرے اجلاس میں کہتا ہوں میں، سو بار کافر ہے
اگر جمہوریت ہے بات پھر جمہور کی مانو
تم ان مرزائیوں کو خارج از اسلام گردانو
صفحہ 150
بگوش ہوش سن لو فیصلہ ہے ہر جیالے کا
قیامت تک نہ ہم چھوڑیں گے دامن کملی والے کا
مسلماں ہو کے تم حق کی حمایت کیوں نہیں کرتے
محمدؐ کی شریعت کی حفاظت کیوں نہیں کرتے
غلامان محمدؐ پر اگر یوں ظلم ڈھاؤ گے
قیامت میں رسولؐ اللہ کو کیا منہ دکھاؤ گے
تمہارے جبر سے ہم کیوں کریں ایمان کا سودا
خدائے پاک سے ہم نے کیا ہے جان کا سودا
تمہیں جو ناز ہو تم کو ستم ڈھانا بھی آتا ہے
ہمیں راہ وفا میں ہنس کے مر جانا بھی آتا ہے
اگر تیغ جفا ہم پر یونہی تم آزماؤ گے
ہمارے خون کے سیلاب میں خود ڈوب جاؤ گے
صفحہ 151

٭ سید امین گیلانی ٭

یوں عشق کی تکمیل مسلمان کریں گے
اس جان دو عالم پہ فدا جان کریں گے
یوں روح کی تسکین کا سامان کریں گے
ایماں کے لیے جان کو قربان کریں گے
وہ وقت بھی آ جائے گا ارباب حکومت
غدار و وفادار میں پہچان کریں گے
انگریز کی ہر چال کا محمود ہے مہرہ
انگریز کے مہرے کو پریشان کریں گے
ہم اہل جنوں اور جھکیں موت کے آگے
ہم جب بھی مرے موت پہ احسان کریں گے
کافر ہے، جسے ختم نبوت کا ہو انکار
روکے گا ہمیں کون یہ اعلان کریں گے
واللہ وہ دن آئے گا خود اس کے پجاری
”ربوے“ کے صنم خانے کو ویران کریں گے
صفحہ 152

٭ سید امین گیلانی ٭

(جنرل ضیاء الحق صدر پاکستان سے)

اے جناب صدر پاکستان اے عالی وقار
آپ سے کچھ عرض کرنا ہے بعجز و انکسار
آپ ہیں اسلام کے اور آپ کا اسلام ہے
حفظ ناموس نبوت آپ ہی کا کام ہے
آج بھی مرزا کو کہتے ہیں جو مہدی اور مسیح
کیا مٹا سکتے نہیں ہیں آپ یہ رسم قبیح
قادیاں والے کے جتنے بھی حواری تھے جناب
ان کو دیتے ہیں رضی اللہ کا اب تک خطاب
آسماں ان پر گرے یا ان کو کھا جائے زمین
زوجہ مرزا کو کہتے ہیں یہ ام المومنین
صفحہ 153
وہ یہ لکھتا ہے کہ میری جیب میں ہیں سو حسین
کیا یہ پڑھ سن کر کسی مومن کو آسکتا ہے چین
کیا یہ سب بے غیرتی برداشت ہم کرتے رہیں
زہر کے یہ جام ہم پیتے رہیں' مرتے رہیں
ان کے ہونٹوں کے لیے کیا کوئی بھی تالا نہیں
کیا یہاں اسلام کا کوئی بھی رکھوالا نہیں؟
اس نبیؐ کا واسطہ' کیجئے کچھ ان کا احتساب
جس نبیؐ کی گرد پا سے آپ ہیں عزت مآب
چھین لیں ان سے کلیدی کرسیاں ساری حضور
غیر کے جاسوس لے ڈوبیں گے اک دن بے قصور
آنچ آنے دیں نہ کوئی ملک پر اسلام پر
ہم ہیں کٹ مرنے کو حاضر' مصطفےٰؐ کے نام پر
صفحہ 154

٭ سید امین گیلانی ٭

(مرزا طاہر کے بھاگ جانے پر ختم نبوت کانفرنس ربوہ میں پڑھی)

بھاگ گیا انگلینڈ بھگوڑا بھاگ گیا
چیلے چھوڑ کے گرو اکیلا بھاگ گیا
ساتھ اپنے لے جاتا، سارے مرزائی
کتنا بزدل نکلا، تنہا بھاگ گیا
اٹھو بستی والو، ان کے سر کچلو
چھوڑ کے سارے سانپ سپیرا بھاگ گیا
شیر کی پیٹھ پہ چوہا ناچتا پھرتا تھا
شیر نے لی انگڑائی چوہا بھاگ گیا
سچے دل سے توبہ کر لیں مرزائی
سوچتے کیا ہیں بھاگنے والا بھاگ گیا
سچ اور جھوٹ میں فرق یہی ہے گیلانی
سچے ہیں میدان میں، جھوٹا بھاگ گیا
صفحہ 155

٭ سید امین گیلانی ٭

ظلم جو چاہیں ڈھائیں مرزا کافر ہے
سب منظور سزائیں مرزا کافر ہے
ہم تو کہیں گے کافر اس کو یہ بے شک
ہتھکڑیاں پہنائیں مرزا کافر ہے
بند بند بھی کاٹے کوئی ناہنجار
آپ یہ کہتے جائیں مرزا کافر ہے
ختم نبوت پر ہو جائیں گے قربان
سولی پر لٹکائیں مرزا کافر ہے
اس کاذب نے دعویٰ کیا نبوت کا
ہر اک کو سمجھائیں مرزا کافر ہے
کوئی نہ یہ سمجھے میں تنہا کہتا ہوں
سب مل کر دہرائیں مرزا کافر ہے
صفحہ 156
ایم۔ این۔ اے ہیں جتنے ان کو بلوا کر
ان سے یہ لکھوائیں مرزا کافر ہے
بھٹو ہو کہ کوثر یا عبدالقیوم
اللہ سے شرمائیں مرزا کافر ہے
بھٹو جی مانو بھی یہ کیا کرتے ہو
آئیں بائیں شائیں مرزا کافر ہے
وہ بھی ہے کافر اس کو نہ سمجھے جو کافر
کیوں حق بات چھپائیں مرزا کافر ہے
راضی رکھو کملی والے آقا کو
ہائے وہ روٹھ نہ جائیں مرزا کافر ہے
قریہ قریہ، بستی بستی، نگر نگر
گیت یہ میرا گائیں مرزا کافر ہے
جشن منائیں گے ہم اس دن گیلانی
بھٹو جو فرمائیں مرزا کافر ہے
صفحہ 157

٭ سید امین گیلانی ٭

واہ رے اے چنڈال‘ ترے کیا کہنے ہیں
تو ہے بڑا دجال‘ ترے کیا کہنے ہیں
ختم نبوت پر تو نے ڈاکہ ڈالا
کھا کے پرایا مال‘ ترے کیا کہنے ہیں
کوئی فرشتہ تیرا ٹیچی ٹیچی ہے
کوئی ہے مٹھن لال‘ ترے کیا کہنے ہیں
الٹے بوٹ پہن کر تو چلتا ہوگا
کیسی بانکی چال‘ ترے کیا کہنے ہیں
کاج اوپر کے بٹن پھنسائے ہیں نچلے
واہ بھئی مست جمال‘ ترے کیا کہنے ہیں
حلیہ دیکھو‘ آنکھیں ٹیڑھی‘ سر فٹ بال
پچکے پچکے گال‘ ترے کیا کہنے ہیں
صفحہ 158
جب کوئی تصویر دکھاتا ہے تیری
ڈر جاتے ہیں بال‘ ترے کیا کہنے ہیں
پیدا ہو نہیں سکتا رہتی دنیا تک
اب کوئی تجھ سا لال‘ ترے کیا کہنے ہیں
بیوی کہتی ہوگی جب تو پی آئے
جانی سرت سنبھال‘ ترے کیا کہنے ہیں
نظم انوکھے ڈھب کی لکھ کر گیلانی
تو نے کیا کمال‘ ترے کیا کہنے ہیں
صفحہ 159

٭ سید امین گیلانی ٭

مرکز ملت، ختم نبوت نکتہ وحدت، ختم نبوت
جس کی حفاظت، فرض ہے سب کا وہ ہے امانت، ختم نبوت
چھن گئی جس سے وہ ہوا مفلس ایسی ہے دولت، ختم نبوت
دین سلامت ہے، جو اب تک اس کی ہے علت، ختم نبوت
جن کے لیے صدیقؓ لڑے تھے وہ ہے صداقت، ختم نبوت
منکر کاش اس بات کو سمجھیں حق کی ہے رحمت، ختم نبوت
میرا دیں ایمان یہی ہے
وحدت امت، ختم نبوت
صفحہ 160

٭ سید امین گیلانی ٭

نبی آتے رہے آخر میں نبیوں کے امام آئے
وہ دنیا میں خدا کا آخری لے کر پیام آئے
جھکانے آئے بندوں کی جبیں اللہ کے در پر
سکھانے آدمی کو آدمی کا احترام آئے
وہ آئے جب تو عظمت بڑھ گئی دنیا میں انساں کی
وہ آئے جب تو انساں کو فرشتوں کے سلام آئے
پر پرواز بخشے اس نے ایسے آدمیت کو
ملائک رہ گئے پیچھے کچھ ایسے بھی مقام آئے
خدا شاہد یہ ان کے فیض صحبت کا نتیجہ تھا
شہنشہ گر پڑے قدموں میں جب ان کے غلام آئے
وہ آئے جب تو دنیا اس طرح سے جگمگا اٹھی
کہ خورشید درخشاں جس طرح بالائے بام آئے
صفحہ 161
وہ ہیں بے شک بشر لیکن تشہد میں اذانوں میں
جہاں دیکھو خدا کے نام کے بعد ان کا نام آئے
کیا جب بھی کسی کذاب نے دعویٰ نبوت کا
تو جھٹ میدان میں ختم نبوت کے غلام آئے
بروز حشر امیں جب نفسا نفسی کا سماں ہوگا
وہاں وہ کام آئیں گے جہاں کوئی نہ کام آئے
صفحہ 162

٭ سید امین گیلانی ٭

میں تو کبھی نہ مانوں گا‘ لاحول ولا
کانا بھی پیغمبر تھا‘ لاحول ولا
بھانو سے شب کو ٹانگیں دبواتا تھا
آگے کیا ہوتا ہوگا؟ لاحول ولا
خود ہی اپنے ایک شعر میں کہتا ہے
میں ہوں مٹی کا کیڑا‘ لاحول ولا
مٹی کا ڈھیلا منہ میں رکھ لیتا تھا
گڑ کی ڈلی سے استنجا‘ لاحول ولا
خود کہا ہے حمل رہا نو ماہ مجھے
مجھ کو ہوا‘ پھر میں پیدا‘ لاحول ولا
خود ہی پاگل بی بی مریم بنتا ہے
خود ہی مریم کا بیٹا‘ لاحول ولا
صفحہ 163
کبھی کہا میں بالمیک ہوں چوہڑوں کا
کبھی کہا میں ہوں موسیٰ لاحول ولا
دن کو سو سو بار کیا کرتا تھا موت
آدمی تھا یا پرنالہ‘ لاحول ولا
سمجھ کے پگڑی‘ اک دن بیوی کی شلوار
سر پہ باندھ کے آ بیٹھا لاحول ولا
خود لکھتا ہے چودھویں شب کا چاند ہوں میں
یہ دعویٰ اور یہ بوتھا لاحول ولا
گھر سے نکلا پہن کے الٹی گرگابی
دیکھ ذرا اس کا نخرا لاحول ولا
اس کے ماننے والوں سے کوئی پوچھے
آدمی تھا یا پاجامہ‘ لاحول ولا
جب بھی کہیں نام آیا اس کا گیلانی
منہ سے مرے فوراً نکلا لاحول ولا
صفحہ 164

٭ سید امین گیلانی ٭

مرتدوں کا یارو بائیکاٹ کرو
للہ بات کو سمجھو‘ بائیکاٹ کرو
ماؤں‘ بہنو! بچو بائیکاٹ کرو
بوڑھو اور جوانو‘ بائیکاٹ کرو
ان سے سودا مت لو بائیکاٹ کرو
ان کو سودا مت دو بائیکاٹ کرو
دس ہی دن میں یہ ربوے کو بھاگیں گے
بات ہماری مانو بائیکاٹ کرو
بائیکاٹ سے یہ خود ہی کٹ جائیں گے
کیا کر لے گا بھٹو بائیکاٹ کرو
بائیکاٹ کا نعرہ گونجے گلی گلی
گھر گھر میں چرچا ہو بائیکاٹ کرو
صفحہ 165
ہم سے کما کر یہ اپنی تبلیغ کریں
ظلم نہیں یہ لوگو بائیکاٹ کرو
توڑ چکے جو ناطہ کملی والے سے
ان سے ناطہ توڑو بائیکاٹ کرو
یہ تو ہیں باغی سرکارِ دو عالم کے
اے اللہ کے بندو بائیکاٹ کرو
دل میں اگر کچھ بھی اسلام کی غیرت ہے
گیلانی کی مانو بائیکاٹ کرو
صفحہ 166

٭ سید امین گیلانی ٭

ہمیں کچھ نہ کچھ کام کرنا پڑے گا
جو خواہش ہے جینے کی مرنا پڑے گا
چڑھاؤ نہ یوں دار پر اہل حق کو
تمہیں مسندوں سے اترنا پڑے گا
نہ بھٹکیں گے ہم راہ حق سے اگرچہ
ہمیں جان دے کر گزرنا پڑے گا
اگر جرم ہے دین حق کی حفاظت
تو یہ جرم سو بار کرنا پڑے گا
جو نکلے ہیں گھر سے نہیں ان کو پرواہ
کہاں موت کے گھاٹ اترنا پڑے گا
غلام احمد اور اس کی امت ہے کافر
حکومت کو اعلان کرنا پڑے گا
صفحہ 167

٭ سید امین گیلانی ٭

ہمیں معلوم ہے تم کو ستم ڈھانا بھی آتا ہے
یقیں کر اے ستم گر ہم کو مر جانا بھی آتا ہے
اگر ناحق تمہیں طوفاں بپا کرنے کا چسکہ ہو
تو حق والوں کو طوفانوں سے ٹکرانا بھی آتا ہے
شریعت کی حفاظت کے لیے ان بے نواؤں کو
کفن پہنے ہوئے میدان میں آنا بھی آتا ہے
میں یوں تڑپوں گا ظالم دیکھ کر تو بھی تڑپ اٹھے
تڑپنا بھی مجھے آتا ہے تڑپانا بھی آتا ہے
رسولؐ اللہ کی عزت کی خاطر اہل ایماں کو
گریباں چاک کر کے گولیاں کھانا بھی آتا ہے
امین بخشی ہے یہ تاثیر میرے نطق کو حق نے
مجھے پیر و جواں کا خون کھولانا بھی آتا ہے
صفحہ 168

٭ سید امین گیلانی ٭

ختم نبوت کے دیوانے ہیں ہم لوگ
شمع رسالت کے پروانے ہیں ہم لوگ
حق کے لیے میدان میں ہم ڈٹ جاتے ہیں
آپ کے جانے اور پہچانے ہیں ہم لوگ
نیا نہ کوئی مذہب ہم چلنے دیں گے
دین پرانا‘ اور پرانے ہیں ہم لوگ
اہل زمانہ ہم لوگوں کی قدر کرو
حسن حقیقی کے دیوانے ہیں ہم لوگ
لعل حسین ہو‘ اشعر ہو یا گیلانی
اور ہیں کچھ دن پھر افسانے ہیں ہم لوگ

۱۔ مولانا لعل حسین اختر ــــــــ ۲۔ مولانا عبدالرحیم اشعر

صفحہ 169

٭ سید امین گیلانی ٭

جو سچی بات ہے وہ برملا کرتے رہیں گے ہم
سزا دیتے رہے ہو تم، یہ خطا کرتے رہیں گے ہم
ہمیشہ حق سے باطل کو جدا کرتے رہیں گے ہم
یہ حق ہے اہل حق کا حق ادا کرتے رہیں گے ہم
نبوت تخت ان کا خاتمیت تاج ہے ان کا
یونہی تعریف شاہ دوسرا کرتے رہیں گے ہم
رسولؐ اللہ ہم کو جان سے پیارے ہیں نادانو
رسولؐ اللہ پر جانیں فدا کرتے رہیں گے ہم
بجز اسلام ہر آئین نامنظور ہے ہم کو
زباں ہے منہ میں جب تک یہ صدا کرتے رہیں گے ہم
جئیں اسلام کی خاطر، مریں اسلام کی خاطر
امین اللہ سے یہ التجا کرتے رہیں گے ہم
صفحہ 170

٭ سید امین گیلانی ٭

تو مجھ کو آزما ظالم‘ میں تجھ کو آزماؤں گا
تو خنجر تیز کر‘ میں حریت کے گیت گاؤں گا
تو جتنا جبر کر سکتا ہے کر لے باوجود اس کے
میں طوفاں بن کے اٹھوں گا‘ میں آندھی بن کے چھاؤں گا
پرستش کے لیے جتنے بھی بت تم نے تراشے ہیں
میں اک اک کر کے توڑوں گا‘ میں اک اک کر کے ڈھاؤں گا
رسول پاک‘ ختم المرسلیں ہیں جو نہ مانے گا
وہ بے ایمان ہے‘ میں اہل ایماں کو بتاؤں گا
اگر چڑتے ہیں کافر نعرۂ ختم نبوت سے
میں یہ نعرہ لگاتا ہوں‘ میں یہ نعرہ لگاؤں گا
خوشا‘ قاتل تو مجھ کو قتل کر نام محمدؐ پر
رسول‘ اللہ کے آگے سرخرو ہو کر تو جاؤں گا
صفحہ 171

٭ سید امین گیلانی ٭

اک یوں بھی عبادت ہوتی ہے ہم یوں بھی عبادت کرتے ہیں
ناموس رسولؐ اکرم کی جاں دے کے حفاظت کرتے ہیں
اپنا نہ کوئی سمجھے ان کو دشمن ہیں یہ دین اور ملت کے
یہ ختم نبوت کے منکر، توہین نبوت کرتے ہیں
جینے کا ہمیں کچھ شوق نہیں، مرنے کی ہمیں کچھ فکر نہیں
وہ مر کے بھی زندہ رہتے ہیں جو حق کی حمایت کرتے ہیں
حق پر تو کڑی نگرانی ہو باطل پہ کوئی بھی قید نہیں
افسوس مسلماں ہو کر کیا ارباب حکومت کرتے ہیں
ہم میں جو وطن کا مجرم ہو، سر اس کا جدا تن سے کر دو
للہ خبر لو ان کی جو ”ربوے“ میں خلافت کرتے ہیں
ہم برسر میدان کہتے ہیں، سچ جھوٹ میں حاکم فرق کریں
ہم وہ تو نہیں ہیں، چھپ چھپ کر جو ان کی شکایت کرتے ہیں
صفحہ 172

٭ سید امین گیلانی ٭

فرما گئے یہ ختم نبوت کے تاجدار
تا حشر میرے بعد نبوت نہ آئے گی
قرآن وہ کتاب ہدایت ہے جس کے بعد
بے شک کوئی کتاب ہدایت نہ آئے گی
میں ہوں وہ جس پہ دین کی تکمیل ہو گئی
اب کوئی دین' کوئی شریعت نہ آئے گی
اصحاب ہیں جو میرے ستاروں کی مثل ہیں
اب ان سے بڑھ کے کوئی جماعت نہ آئے گی
امت مری ہے آخری امت جہان میں
کوئی نیا نبی' نئی امت نہ آئے گی
صفحہ 173
کذاب قادیاں نے مگر کر دیا کمال
شاید اسے یقیں تھا قیامت نہ آئے گی
کاش اب بھی اس کے امتی توبہ کریں امین
کب تک انہیں حیا، انہیں غیرت نہ آئے گی
صفحہ 174

زرد چہرہ ہو گیا ملت کے ہر غدار کا

٭ سید امین گیلانی ٭

آؤ لہرائیں فضاؤں میں علم احرار کا
وقت پھر طالب ہوا قربانی و ایثار کا
پھر یہ دیوانے کریں گے بے نقاب اس خوف سے
زرد چہرہ ہو گیا ملت کے ہر غدار کا
حق پرستوں کی نگاہوں میں ہیں پنہاں بجلیاں
راست بازوں کی زباں میں ہے اثر تلوار کا
پھر اسی دھن میں چلیں ہم بے نیاز مرگ و زیست
نعرۂ حق لب پہ ہو نظروں میں تختہ دار کا
بے سروساماں سہی، باطل سے کیوں گھبرائیں ہم
حق ہمارے ساتھ ہے، کیا ڈر ہمیں اشرار کا
صفحہ 175
وقت نازک ہے اٹھو اے جاں فروشان وطن
رخ بدلنا ہے ہمیں حالات کی رفتار کا
سرور کونینؐ سے ہے سر کا سودا ہوچکا
ہم نہ پوچھیں گے امین کیا بھاؤ ہے بازار کا
صفحہ 176

اس دور میں ایسے لوگ کہاں؟

٭ سید امین گیلانی ٭

اخلاص و حمیت کا پیکر، ہمت کا دھنی، جرات کا نشاں
اسلام کی خاطر وقف رہا، شورش کا قلم شورش کی زباں
یوں اس کی جوانی گزری ہے، اس ملک کی آزادی کے لیے
پاؤں میں پہن کر زنجیریں، دیوانہ پھرا زنداں زنداں
اللہ اللہ سالار جری وہ لشکر ختم نبوت کا
للکار سے اس کی رہتا تھا، ربوے کا صنم لرزاں لرزاں
جب حق کا علم لے کر وہ اٹھا پھر رک نہ سکا بڑھتا ہی رہا
باطل کے بتوں کو ڈھا ڈھا کر، دیتا تھا صنم خانوں میں اذاں
داؤد" و بخاری" و مدنی" کے جذبات کا پرتو تھا اس میں
افسوس کہ اس کے ساتھ گیا وہ جوش عمل وہ رنگ بیاں
صفحہ 177
درد سے ہو بے تاب نہ کیوں ہو آنکھ میری پر آب نہ کیوں
روؤں نہ بھلا کیوں، شورش کو اس دور میں ایسے لوگ کہاں
عاشق وہ تری توحید کا تھا پروانہ تھا شمع نبوت کا
یا رب میری دل سے ہے یہ دعا تو اس کو عطا کر باغ جناں
صفحہ 178

غدار وطن

٭ جانباز مرزا مرحوم ٭

غدار وطن غدار نبیؐ اس پاک وطن میں کیوں کر ہیں؟
میں پوچھتا ہوں یاران وطن یہ خار چمن میں کیوں کر ہیں؟
ناموس محمدؐ عربی پر ہم جان نچھاور کر دیں گے
گر وقت نے ہم سے خوں مانگا‘ ہم وقت کا دامن بھر دیں گے
باطل نے بھی ہم کو جانا ہے‘ ہم دار و رسن کے راہی ہیں
ہم موت سے لڑنا جانتے ہیں‘ اس بات کی قسمیں کھائی ہیں
باطل کی نبوت باطل ہے‘ یہ زہر ہے ابن آدم کو
یہ ٹولہ ہے ابلیسوں کا‘ کہہ دو سارے عالم کو
ہو قادیاں یا پھر ربوہ ہو‘ میخانے ہیں افرنگ کے یہ
یوں ننگ شرافت کہتے انہیں‘ اسلام کی راہ میں ننگ ہیں یہ
صفحہ 179
جمہور تقاضا کرتی ہے‘ یہ کفر کی بستی ختم کرو
یہ جاسوسوں کا ڈیرہ ہے‘ اس ڈیرے کو بھی ختم کرو
ورنہ پھر میدان میں ہیں‘ سمجھو کہ کفن بردوش بھی ہیں
ہم ختم نبوت کے وارث‘ اس راہ میں سرفروش بھی ہیں
تم سانپوں کے رکھوالے ہو‘ کیوں دودھ پلاتے ہو ان کو
یہ پاک وطن کے دشمن ہیں‘ تم دوست سمجھے ہو جن کو
ہمت تو کرو جانباز ذرا‘ یہ بیڑہ ڈوبنے والا ہے
تم دیکھتے ہو دجالوں کا‘ اس دنیا میں منہ کالا ہے
صفحہ 180

غدار

٭ جانباز مرزا مرحوم ٭

اہل ربوہ جانتے ہیں ہم بڑے خو دار ہیں
قرن اول کے مسلمانوں کے ہم آثار ہیں
خواجہ کونینؐ کی عزت پہ ہم کٹ جائیں گے
نام لیوا احمد مختار کے، جی دار ہیں
صدر صاحب! اس حقیقت کو نہ ہرگز بھولئے
قادیانی سرزمین پاک کے غدار ہیں
شیخ جی کی کم بصیرت پر تعجب کیا کریں؟
”حضرت“ کوثر بھی اب تو دین سے بیزار ہیں
نوٹ کر لے یہ ہماری بات ”ربوے“ کا ”امیر!“
اس زمیں پر ہم خدا کی آخری تلوار ہیں
صفحہ 181

اشعار یہ جانباز کے ربوہ میں سناؤ

٭ جانباز مرزا ٭

زندہ ہیں زمانے میں ثناخوان محمدؐ
تابندہ رہے گا یوں ہی گلستان محمدؐ
ہو لاکھ خزاں، لالہ و گل کھلتا رہے گا
اس گل کو شہیدوں کا لہو ملتا رہے گا
اس زور سے اٹھی ہیں انا الحق کی صدائیں
منصور نے سولی پہ بھی دی اس کو دعائیں
شیطان کے قدموں کی زمیں ایسی ہلی ہے
کہ اسے جا کے اماں اپنے خداؤں میں ملی ہے
قاتل ہو تو مقتول کے انداز بھی سمجھو!
اس موت میں جینے کے کچھ انداز بھی سمجھو
صفحہ 182
تم کفر میں جینے کی سزا پا کے رہو گے
باطل ہے زہر، دیکھنا تم کھا کے رہو گے
کذاب کی امت ہو مسلمان نہیں ہو
اس کفر میں ایماں کی پہچان نہیں ہو
اس دور میں بوجہل کی اولاد تمہی ہو
تم لاکھ پڑھو کلمہ مسلمان نہیں ہو
بہتر ہے شرافت سے سمجھ جاؤ وگرنہ
آتا ہے مسلماں کو باطل سے نمٹنا
یہ رنگ بدلنا ہے ہمیں جام و صبو کا!
بدلا ہمیں لینا ہے شہیدوں کے لہو کا!
اشعار یہ جانباز کے ربوہ میں سناؤ
آئینہ میری نظم کا باطل کو دکھاؤ
صفحہ 183

ارمغان قادیان

٭ جانباز مرزاؔ ٭

آزاد کشمیر اسمبلی نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا۔ یہ نظم اس وقت کہی گئی تھی۔

یہ باطل کے لیے دیکھو! عجب منحوس سال آیا
کہ اس سن میں غلام احمد کی امت پر زوال آیا
کہا ایوان نے یہ قادیانی غیر مسلم ہیں
کہ جب کشمیر کی اسمبلی میں یہ سوال آیا
نبی بننے کی ٹھانی جب سے کذابوں لٹیروں نے
بڑھا ابلیس کا حلقہ تو فطرت کو جلال آیا
فرنگی نے جو بویا تھا وہ پودا کٹنے والا ہے
خبر سنتے ہی اولاد فرنگی کو ملال آیا
صفحہ 184
خریدا کس طرح تم نے مسلمانوں کے ایمان کو
بتاؤ کس طرح یورپ کے دلالوں کو زوال آیا
حقیقت میں نبوت کا فقط دعویٰ ہی دعویٰ تھا
غرض چندے سے تھی ان کو‘ حرام آیا حلال آیا
بہت کذاب آئے ہیں‘ ابھی کچھ اور آئیں گے
مگر اس دور کا کذاب آیا‘ بے مثال آیا
بہشتی مقبرے کی ہڈیوں سے آگ نکلے گی
شہیدان نبوت کے لہو کو جب جلال آیا
انہیں پکڑو‘ انہیں ڈھونڈو یہ جاسوس کا ٹولہ ہے
حکومت خود کہے گی جب حکومت کو خیال آیا
پتہ اس دن چلے گا قادیانی کون ہیں؟ کیا ہیں؟
کہ جب بنگال کے جانباز چیتے کا سوال آیا
صفحہ 185

٭ جانباز مرزا ٭

ہزار بار بھی ابلیس قادیاں سے اٹھے
دلوں سے نقش محمدؐ مٹا سکو گے نہ تم!
کبھی جو ساز فرنگی پہ تم نے گایا تھا!
وہ راگ جھوٹی نبوت کا گا سکو گے نہ تم
خدا نے چاہا، سلامت رہیں یہ دیوانے
کہیں بھی اپنا تماشہ دکھا سکو گے نہ تم
مجھے قسم ہے براہیم کے گلستان کی
کہ آگ کفر کی پھر سے جلا سکو گے نہ تم
جسے جلایا بخاریؒ نے خون سے اپنے
وہ شمع لاکھ بجھاؤ، بجھا سکو گے نہ تم
جہاں فریب نبوت دیا تھا تم نے کبھی
اجڑ چکی ہے وہ بستی بسا سکو گے نہ تم
ابھی تو بازوئے جانباز میں حرارت ہے
اب اپنے دجل کا پرچم اڑا سکو گے نہ تم
صفحہ 186

مرثیہ قادیاں

٭ ازھر درانی مرحوم ٭

حشر تک ماتم کرے گی سرزمین قادیاں
کیوں لیا تو نے جنم اس پر لعین قادیاں
ہے وہ ننگ آدمیت زانیوں کا سرغنہ
جس کے ہاتھوں لٹ گئی ہر مہ جبین قادیاں
اے رئیس کاذباں ہو تجھ پہ لعنت بے شمار
تو ذلیل دو جہاں ہے اے کمین قادیاں
تو کہ ہے مادر پدر آزاد اے تخم رذیل
تجھ سے ہے شیطان بھی کمتر بدترین قادیاں
اے مسیح و مہدی و پیغمبری کے دعوے دار
شکل دیکھی ہے کبھی اپنی لعین قادیاں
صفحہ 187
فتنہ دجال جس کی تو نے رکھی تھی بنا
اس کا مدفن بن رہی ہے اب زمین قادیاں
جاگ اٹھے ہیں پاسبان دین ختم المرسلینؐ
اب مٹا کر چین لیں گے جگ سے ”دین“ قادیاں
صفحہ 188

٭ نعیم صدیقی ٭

جعلی بنا کے مہر نبوت وہ لائے تھے
بازار دیں میں کفر کا سکہ چلا چکے
جو بیچتے تھے داروئے ترک جہاد یاں
تاویل کی دکان وہ اپنی بڑھا چکے
اک دوسرے کو بڑھ کے مبارک کہو کہ آج
نوے برس کا قرض پرانا چکا چکے
ہیں محو جشن فتح محبان مصطفےٰؐ
اک مسجد ضرار کو مل جل کے ڈھا چکے

(ہفت روزہ ”آئین“ ۱۵؍ ستمبر ۱۹۷۴ء)

صفحہ 189

٭ وقار انبالوی ٭

(نامور صحافی‘ شاعر‘ کالم نویس ”سرراہے“ روزنامہ نوائے وقت)

ظفر اللہ خاں قادیانی‘ ٹائمز (برطانیہ) کی دہلیز پر

”قادیان سے ترا خود کشتہ پودا اکھڑا
اور کملا گیا ربوہ میں بھی اس کا مکھڑا
تو ہی کہہ دے کہ کہاں جائیں پرستار تیرے
کوئی سنتا نہیں دنیا میں ہمارا دکھڑا“

(روزنامہ ”نوائے وقت“ ۱۲ جون ۱۹۷۴ء)

صفحہ 190

تمہیں محمدؐ کا عشق اب بھی پکارتا ہے

٭ سید منظور الحسن شاہ ٭

سنو محمدؐ کا نام نامی زبان اپنی پہ لانے والو
اسی کے صدقے سے ملنے والی کتاب ہستی سجانے والو
اسے حرا میں رلانے والو
اسے محبت جتانے والو
مگر محمدؐ کے دشمنوں سے، محبتوں کو بڑھانے والو
تمہارے اندر نبیؐ کی الفت کی اک رمق بھی نہیں رہی ہے
تمہارے چہرے پہ اس کی یادوں کی ایک جھلک بھی نہیں رہی ہے
نبیؐ سے عشق و وفا نبھانے کے دعویدارو
ذرا محمدؐ کے پیار کا اپنے واسطے تم مقام دیکھو
گریباں اپنے بھی جھانک دیکھو
اسی نبیؐ کی محبتوں کا مقام دیکھو
کہ جس نے امت سے پیار کرنے پہ چمن طائف میں زخم کھائے
وہی محمدؐ کہ جس نے اپنے
صفحہ 191
تمام آنسو خدا کے آگے تمہاری خاطر ہی ہیں بہائے
شہید دندان بھی کرائے! شدید صدمات بھی اٹھائے
وہی محمدؐ کہ جس نے تم کو ہیں درس انسانیت سکھائے
وہی محمدؐ کہ جس نے تمہارے پیار خاطر ہی اپنا آبائی شہر چھوڑا
وہی محمدؐ کہ جس نے فاقے تو کر لیے پر نہ تم سے عہد وفا کو توڑا
وہی محمدؐ کہ جس کے ہونٹوں سے پتھروں کے عوض دعاؤں کے پھول برسے
وہی محمدؐ کہ جس کی چند مسکراہٹوں پر خدا تمہارے گناہ بخشے
اسی کی روح عظیم تمہاری الفتوں کو تلاش کرنے میں سرگرم ہے
مگر تمہاری محبتوں کے خزانے خالی پڑے ہیں لوگو!
تمہارے آقاؐ تمہاری غیرت کو دیکھ کر چپ کھڑے ہیں لوگو
نبی کے دشمن بڑے ہیں لوگو، کفر کے پہرے کڑے ہیں لوگو
مگر ہم اپنی محبتوں پر
رسولؐ سے بے وفائیوں کے لبادے اوڑھے کھڑے ہیں لوگو!
ہمارے آقاؐ ہماری چاہت کو دیکھ کر چپ کھڑے ہیں لوگو!
سنو! محمدؐ کا نام سنتے ہی آنسوؤں کو بہانے والو!
سنو! محمدؐ کے منہ سے نکلے حروف کو بیچ کھانے والو!
سنو! نبیؐ کے نقوش پا کی تلاش میں نکلے راستوں کو مٹانے والو!
صفحہ 192
سنو! محمدؐ کے دشمنوں سے محبتوں کو بڑھانے والو!
تمہیں ذرا بھی خبر نہیں ہے
کہ قادیانی تمہارے آقاؐ کی عصمتوں کو
طویل مدت سے ماند کرنے میں سرگرم ہیں
وہ کب سے تمہاری بے بسی اور بے حسی پر
خوشی کے نعرے لگا رہے ہیں
نبیؐ کے دیں کو مٹا رہے ہیں
بنائے اسلام ڈھا رہے ہیں
تمہیں تمہارے عظیم آباء سے ملنے والی
میراث عشق محمدی کو مٹا رہے ہیں
سنو! محمدؐ کا دیں بچانے فلک سے کوئی نہیں آئے گا
تفرقہ بازی کے بت گرانے فلک سے کوئی نہیں آئے گا
نجاست قادیاں مٹانے فلک سے کوئی نہیں آئے گا
نبیؐ سے عہد وفا نبھانے فلک سے کوئی نہیں آئے گا
سنو محمدؐ کے بے وفاؤ
تمہیں کو اپنے نبیؐ سے وعدے نبھانے ہوں گے
تمہیں کو امت کو ایک رستے پہ لانا ہوگا
صفحہ 193
تمہیں کو ہی دشمنان امت دبانے ہوں گے
تمہیں کو فتنہ قادیاں کو مٹانا ہوگا
نبیؐ سے عشق و وفا نبھانے کے دعویدارو!
تمہیں محمدؐ کا عشق اب بھی پکارتا ہے
خدا بھی بھٹکے ہوؤں کے رستے سنوارتا ہے
چلو خدارا!
منافقت کے قبیح لبادے اتار ڈالیں
نبیؐ کے دشمن اجاڑ ڈالیں
خدا کی رحمت پکار ڈالیں
چلو کہ فتنہ قادیاں کو
جڑوں سے اس کی اکھاڑ ڈالیں
چلو کہ اپنے لہو کو عشق محمدیؐ پر نثار ڈالیں
صفحہ 194

پیغام ختم نبوت’

٭ محمد شریف ماہی ٭

محمدؐ نبی پہ نبوت ختم ہے‘ یہ اعلان ہر دم سناتے رہیں گے
کرے دعویٰ اب جو نبوت کا جھوٹا‘ وہ کافر ہے ہم یہ بتاتے رہیں گے
محمدؐ نبی پہ نبوت ختم ہے اگر پوچھو سچ تو ہر نعمت ختم ہے
مذہب ختم ہے‘ شریعت ختم ہے‘ نیا کوئی نہ ہوگا‘ سمجھاتے رہیں گے
ہمیشہ چلے گی محمدیؐ شریعت‘ سدا قائم رہے گی محمدیؐ نبوت
نبوت رسالت شریعت محمدیؐ کا قانون ہم تو چلاتے رہیں گے
محمدؐ کی جو ہو نبوت کا باغی‘ وہ ہے رب کی بھی ربوبیت کا باغی
خدا اور نبیؐ کے اس باغی کا ہم تو‘ سر تن سے ہر دم اڑاتے رہیں گے
خواہ کوئی بھی ہو یہاں نبوت کا باغی محمدؐ نبی کی ہو سنت کا باغی
حدیث اور قرآن کا جو بھی منکر‘ مسلماں نہیں‘ وہ بتاتے رہیں گے
ہے مسلم وہی جو ہو قرآں کے تابع‘ حدیث محمدؐ کے فرماں کے تابع
مطابق صحابہؓ کے سنت کا عامل وہی ہے مسلماں سناتے رہیں گے
جسے نہ ہو دل میں صحابہؓ کی الفت‘ محمدؐ نبی کی ہو سنت سے نفرت
صرف نام کے وہ مسلمان ماہی‘ ایسے لوگ دوزخ میں جاتے رہیں گے
صفحہ 195

محمدؐ کا باغی مٹانا پڑے گا

٭ محمد شریف ساہی ٭

رب لم یزل کو منانے کی خاطر محمدؐ نبی کو منانا پڑے گا
محمدؐ کی ختم نبوت پہ یارو دل و جاں سے ایمان لانا پڑے گا
محمدؐ نبی وجہ تخلیق دنیا‘ وہ محبوب رب اور سردار انبیاء
محمدؐ ہی رحمت دو جگ ہیں یارو عقیدہ اسی پہ جمانا پڑے گا
محمدؐ نبی پہ نبوت ختم ہے‘ اور مذہب اسلام بھی ہے مکمل
قبر اور حشر میں نجات کے لیے عمل تم کو اس پہ کمانا پڑے گا
چاہتے ہو گر دو جہاں کامیابی راضی ہو تم سے خدا مصطفےٰؐ بھی
تو قرآن ذی شان فرمان نبی کا محبت سے سینے لگانا پڑے گا
جو آقا کی ختم نبوت کا باغی‘ بگڑ چکا جس کا توازن دماغی
وہ اسلاموں خارج ہے مردود کافر یہ اعلان منہ سے سنانا پڑے گا
محمدؐ کے دیوانو‘ پروانو‘ سن لو میری بات کو یاد رکھنا ہمیشہ
ایمان کو تازہ کرنے کی خاطر تمہیں زندگی بھر یہاں آنا پڑے گا
صفحہ 196
ہمیں جو سبق دیا صدیقؓ اکبر وہی سبق دیا امیر شریعتؒ
ختم نبوت کے باغی کو یارو صفحہ ہستی سے ہی مٹانا پڑے گا
پہلا باغی نکلا مسیلمہ کذاب ایہہ اسی کا ہوا تھا پھر خانہ خراب ایہہ
صدیقؓ اکبر نے فرمایا یارو جہنم میں اس کو پہنچانا پڑے گا
خلفاء اربعہ نے کی یہ شجاعت کی ختم نبوت کی سب نے حفاظت
صحابہؓ کے نقش قدم چلتے ہوئے ہمیں بھی عمل یوں کمانا پڑے گا
قاضی احسانؒ جالندھری نے کہا تھا ہم مسلم سبھی ایک جا ہولیں گے
ختم نبوت پہ ایماں ہمارا جی ہر مولوی کو یہاں آنا پڑے گا
مجھے بول کر تم ابھی یہ سناؤ اور نوری فرشتوں کو وعدہ لکھاؤ
تم زندگی بھر یوں ہی جلسہ سننے کو آتے رہو گے یہاں آنا پڑے گا
ماہی نے بھی یہ عزم کیا دل سے رہی زندگی تو میں آتا رہوں گا
خداوند قدوس توفیق بخشے تو نام اپنا خادم لکھانا پڑے گا
صفحہ 197

مرزائی ترانہ

٭ جامی ٹی۔اے علیگ ٭

نہ حماقت کا مرقع ہوں نہ سودائی ہوں!
مختصر یہ ہے کہ بے وقت کی شہنائی ہوں
کام ہے تفرقہ اندازی مذہب میرا
ملک و ملت کے لیے باعث رسوائی ہوں
مسلک ختم نبوت کا نہیں میں قائل
پیرو خاص غلام ابق مرزائی ہوں
میرا مذہب نہیں دیتا مجھے تعلیم جہاد
مفت میں جان گنواؤں کوئی سودائی ہوں
میرا قرآں بھی الگ‘ میری حدیثیں بھی الگ
نہ مسلماں نہ یہودی ہوں نہ عیسائی ہوں
صفحہ 198
کوئی مکہ سے غرض ہے نہ مدینہ سے مجھے
شاہدِ مکر و ریا مرکزِ ہرجائی ہوں
تاج شاہی سے عقیدت ہے قدیمی مجھ کو
بتِ افرنگ کا دیرینہ تمنائی ہوں
ظفر اللہ نے اغیار پہ دی ہے مجھ کو
مظہرِ شوکتِ اسکندر و کسرائی ہوں
کیا عجب ہے کہ نظر آؤں میں یزداں کا حریف
پیشِ آئینہ ابھی محوِ خود آرائی ہوں
اہلِ ایماں کو بلاتا ہوں جہنم کی طرف
میں!! کہ ابلیسِ معظم کا بڑا بھائی ہوں
صفحہ 199

٭ جامی بی۔اے’ علیگ ٭

ہر مسلماں کا یہی مسلک یہی ایمان ہے
منکر ختم نبوت’ منکر قرآن ہے
درحقیقت دور حاضر کا ہر اک جھوٹا نبی
شکل انسانی میں جیتا جاگتا شیطان ہے
لا نبی بعدی خود فرما گئے ختم رسلؐ
جن کا ہر قول مبیں اللہ کا فرمان ہے
کاذب و زندیق کا حاصل ہوا جس کو لقب
مسیلمہ کذاب کا پیرو وہ بے ایمان ہے
موت پاخانے میں پائی حشر دوزخ میں ہوا
عہد نو کے مہدی موعود کی کیا شان ہے
صفحہ 200
پھر کوئی بوبکر اور فاروق پیدا ہو یہاں
مرتدوں کی زد میں یارب ارض پاکستان ہے
رابطے ہیں ان کے بھارت اور اسرائیل سے
چشم گردوں ان کی چالیں دیکھ کے حیران ہے
پیشوا ابلیس ان کا راہبران یزید
اور امام وقت ان کا موشے دایان ہے
جان ہو قربان ناموس رسالت کے لیے
دل میں جامی کے ہمیشہ سے یہی ارمان ہے
صفحہ 201

ختم نبوۃ

٭ حضرت شوقی ٭

سر میں خیال مصطفےٰؐ، دل میں غم نبی نہیں
حق کی قسم یہ زندگی، موت ہے زندگی نہیں
ہے یہ حقیقت عیاں، ہزل نہیں، ہنسی نہیں
خاتم انبیاء کے بعد اور نبی؟ کبھی نہیں!
طبع اسیر مصطفےٰ تشنہ بے خودی نہیں
واقف حال ماسوا اب میری آگہی نہیں
پھر تبر خلیلؑ سے توڑ بتان آذری
عشق ہے آج حکمراں عقل کی دل لگی نہیں
آتش عشق کے شرر خاک حرم میں جا کے ڈھونڈھ
ارض عجم میں شور ہے شورش بوذریؓ نہیں
صفحہ 202
منکر خاتم رسلؐ بعثت نو کا مدعی
ہے ازلی عدو مرا‘ ایسوں سے دوستی نہیں
عرش عظیم مدح گو فرش زمیں درود خواں‘
ذکر رسولؐ سے تہی کوئی مقام بھی نہیں
شاہ عرب کی اک مثال چشم فلک نہ پا سکی
کون و مکاں میں آپؐ کی کوئی نظیر ہی نہیں
ختم حضورؐ پاک پر سلسلۂ رسل ہوا
قابل التفات ہی اب کوئی مفتری نہیں
مجھ کو بھی اے کریم ہو طیبہ کی حاضری نصیب
سچ ہے تری جناب میں لطف کی کچھ کمی نہیں
آہن بخت تیرہ کو شوق دل فگار تو!
عشق نبیؐ سے زر بنا عشق سی شے کوئی نہیں
صفحہ 203

تاج و تخت ختم نبوت' زندہ باد

٭ حکیم آزاد شیرازی ٭

پاکستان میں ہے مرزائیت مردہ باد جعلی اور بھونڈی نبوت مردہ باد
اب یہ کسی کو دھوکا دے سکتی ہی نہیں ابلیسی طاغوتی قوت مردہ باد
اب تو شریعت کی ہے عدالت' زندہ باد
تاج و تخت ختم نبوت' زندہ باد
ربوہ کا ہے بہشتی ”قبرستان“ کہاں؟ مرزا بشیرالدین کا ہے ارمان کہاں؟
دجل و فریب کے رنگین جال اب ٹوٹ گئے ضیاء حق آ پہنچی، اب شیطان کہاں؟
زندہ باد! آئین شریعت' زندہ باد
تاج و تخت ختم نبوت' زندہ باد
شاہ جی کے دل کی خواہش مشکور ہوئی روز و شب کی ہر کاوش مشکور ہوئی
شیخ لاہوری سے لے کر بنوری تک مخلص تھی سب کی کوشش مشکور ہوئی
قافلہ سالار شریعت' زندہ باد
تاج و تخت ختم نبوت' زندہ باد
مولوی تاج محمود ہو یا کہ انصاری آغا شورش ہو کہ مظفر علی شمسی
مظہر علی اظہر ہو یا ابوالحسنات مولوی محمد علی، کفایت اور قاضی
سب ہیں راہروان جنت' زندہ باد
تاج و تخت ختم نبوت' زندہ باد
صفحہ 204
خون تمہارا لے آیا ہے رنگ آخر فیصلہ کن حق و باطل کی جنگ آخر
بھاگ گئی لندن اولاد فرنگ آخر دیکھ کے رہ گئی دنیا ساری دنگ آخر
اے شہدائے ختم نبوت! زندہ باد
تاج و تخت ختم نبوت! زندہ باد
پاکستان میں نظم خلافت، زندہ باد عدل و مساوات اور اخوت، زندہ باد
فرقہ بندی چھوڑ کے ایک اور نیک بنو فرد ہوں سب مربوط ملت، زندہ باد
آخری نبیؐ کی آخری امت! زندہ باد
تاج و تخت ختم نبوت، زندہ باد
صفحہ 205

مرزا غلام احمد قادیانی علیہ اللعنۃ سے

٭ علی اصغر چشتی صابری ٭

ناز سے ساقی نے جب مجھ کو اشارہ کر دیا تب غلام احمد کو میں نے یہ حوالہ کر دیا
”تیری ہر ایک پیش گوئی جھوٹی ثابت ہوگئی تو نے اپنے ماننے والوں کو رسوا کر دیا
مجھ کو اپنے جال میں پھنسایا شیطان نے تو نے ناسمجھی میں ایک ہنگامہ برپا کر دیا
تو ہمیشہ اہل حق کو گالیاں دیتا رہا اپنا تو نے اپنے ہاتھوں سے کباڑا کر دیا
تو نے اہل بیت کی توہین اور تحقیر کی اور ان کی ذات پر حملے پہ حملہ کر دیا
حضرت عیسیٰ پہ تو نے باندھ دی صد تہمتیں اصل اپنا تو نے اس سے آشکارا کر دیا“
اس نے یہ پڑھ کر کہا چشتی تیری ہر بات نے
میرے دعوے کو اٹھا کر پارہ پارہ کر دیا

۱۔ مندرجہ ذیل اشعار۔ ۲۔ غلام احمد قادیانی۔ ۳۔ دعویٰ نبوت۔

صفحہ 206

مرزا غلام احمق

٭ شاہین اقبال اثر ٭

فتنہ تھا قادیانی مرزا غلام احمق آفت تھی ناگہانی مرزا غلام احمق
فہم و ادب نہیں کچھ نام و نسب نہیں کچھ منحوس خاندانی مرزا غلام احمق
کذاب کی علامت سچائی سے بغاوت اک جھوٹ اک کہانی مرزا غلام احمق
ایسی بھی سادگی کیا الٹا ہے تیرا جوتا ٹیڑھی ہے شیروانی مرزا غلام احمق
تھا شیطنت کا مسکن انسانیت کا دشمن حیوانیت کا بانی مرزا غلام احمق
ہر کفر تولنے میں اور جھوٹ بولنے میں تیرا نہیں تھا ثانی مرزا غلام احمق
شیطان کی شرارت کفار کی عمارت انگریز کی نشانی مرزا غلام احمق
پیروں کی گرد تھا وہ عورت نہ مرد تھا وہ تھا جنس درمیانی مرزا غلام احمق
ہیضے کا مرض تو یہ عبرت تھی موت تیری ناقص تھی زندگانی مرزا غلام احمق
تو تو گزر گیا پر اب تک ہے فتنہ بن کر تیرا وجود فانی مرزا غلام احمق
میرا اثر ہے دعویٰ دوزخ میں ہے وہ بیشک
بکتا ہے پانی پانی مرزا غلام احمق
صفحہ 207

جاگ رہے ہیں نبیؐ کے غلام

٭ شاعر عالم شیر عالم جے پوری ٭

جاگ رہے ہیں نبیؐ کے غلام پاک وطن میں صبح اور شام
ختم نبوت کے ڈاکو مٹ جائیں گے قافلے ابو جہل کے لٹ جائیں گے
گوروں کے ایجنٹ لندن سے بولے مرزا بھگوڑے نے یوں لب کھولے
اپنے شیطانوں کو اس نے پکارا اے ربوہ والو میں مرشد تمہارا
مانا کہ جان بچا کے میں بھاگا چھوڑ کے اپنی قوم کو ہائے بھاگا
ایسا رہبر تم کہاں پاؤ گے جہاں بھی جاؤ گے جوتے کھاؤ گے
غلط راہوں میں تمہیں ڈال دیا ہے کافر بنا کے اچھال دیا ہے
جھوٹے نبی کے جھوٹے پجاری ربوہ کے جنگل میں رہیں گے بھکاری
کل بھی ہارے تھے آج بھی ہاریں گے ہر گام پر مسلمان انہیں ماریں گے
فتح و نصرت تمہیں نہ ملے گی ناپاک دل کی کلی نہ کھلے گی
خدا کے شیر نہیں خدا کے ہو دشمن لوٹ نہ سکو گے نبوت کا گلشن
ملت اسلام سے کر کے بے ایمانی رسوا زمانے میں ہوئے قادیانی
یہ عالم ہے اب بوکھلائے ہوئے ہیں
دین کے دشمن گھبرائے ہوئے ہیں
صفحہ 208

یہ دین قادیانی، جاودانی ہو نہیں سکتا

٭ حضرت مولانا عبدالعزیز صاحب شوقی انبالوی ٭

زمین پر جب نکاح آسمانی ہو نہیں سکتا تو پھر ہرگز پیمبر قادیانی ہو نہیں سکتا
وہ اپنے منہ میاں مٹھو بنے لیکن بایں صورت مکاں کا رہنے والا لامکانی ہو نہیں سکتا
میرے خالق نے بخشا ہے مجھے اسلام سا مذہب کوئی اس دین کا دنیا میں ثانی ہو نہیں سکتا
نبوت جس کی وابستہ ہو پائے اہل یورپ سے وہ دنیا میں کبھی حق کی نشانی ہو نہیں سکتا
دلائل سے غرض کیا صرف اتنا جانتا ہوں میں خدا والا اسیر بد زبانی ہو نہیں سکتا
ادھر اسلام کا دعویٰ ادھر کفار سے الفت ہمیں تو اعتبار قادیانی ہو نہیں سکتا
جہاں میں دشمن ختم رسلؐ موجود ہیں جب تک دل ناشاد وقف شادمانی ہو نہیں سکتا
کہاں سے لائیں جرات مرزائی بحث کرنے کی مقابل اہل حق کا نقش فانی ہو نہیں سکتا
جسے نعلین پوشی میں دھوکا پیش آ جائے وہ ملت میں کسی جدت کا بانی ہو نہیں سکتا
گئے انگریز تو ”خود کاشتہ پودا“ بھی سوکھے گا یہ دین قادیانی جاودانی ہو نہیں سکتا
جو دنیا میں شریک زمرہ باطل رہے شوقی
وہ عقبیٰ میں قرین کامرانی ہو نہیں سکتا
صفحہ 209

قادیان کی جھوٹی نبوت کا

طول و عرض

٭ مولانا محمد حیات غمگیں ٭

سنو میرے بھائیو عجب ہے کہانی کہوں گا وہی جو لکھے قادیانی
کہ لنگر جو خالی پڑا ہے ادھورا منی آرڈروں سے ہو جائے گا پورا
مکھن اور خیراتی کی یہ گفتگو ہے کرشن‘ جے سنگھ بہادر بھی تو ہے
کہیں اس نے دیکھی جو ایسی ضرورت عورت بنا پھر وہ مریم کی صورت
بنا جو وہ مریم سنو خوش کلامی حیض و حمل دکھا کر نشانی
ہوئی درد زہ اور جنی پھر وہ مریم مریم سے یوں بن گیا ابن مریم
مجدد بنا اور مجدد سے بڑھ کر بنا وہ پیمبر‘ پیمبر سے بڑھ کر
بنا پھر محمدؐ جو ختم الرسل ہے پڑی ہل چل اور پڑا شور و غل ہے
کسی نے کہا جو‘ کیا دل لگی ہے کبھی تو مجدد کبھی تو نبی ہے
تو بولا یوں ہاتف کہ ظلی نبی ہے نبی امتی ہے نبی امتی ہے!
تلون مزاجی کے یہ ہیرے پھیرے دنیا کے دھندے ہیں سارے یہ تیرے
کہانی بڑھانے کا ہے خوب پھندا عمر بھر جو دیتا رہے گا وہ چندہ
بہشتی قبر کا سنو اور قصہ! ساری کمائی کا دیوے جو حصہ
کرے پورا چندہ قبر کا بیانہ جنت کو ہوگا وہ سیدھا روانہ
جو چندہ نہ دیوے نہ قبریں خریدے وہ مر کر جہنم کو جائیں گے سیدھے
یہ پیغمبری ہے یا سوداگری ہے عجب زرگری ہے‘ عجب زرگری ہے
صفحہ 210

عزم

٭ عارف صحرائی ٭

پالا پڑا ہے فتنوں سے امت کو جس قدر
دیں کے خلاف برپا کیا سب ہی نے غدر
نقصان دیں کو سب ہی نے پہنچایا ہے مگر
مرزائیت اساس پہ پڑتی ہے ٹوٹ کر
اس حد تلک نہ کوئی بھی بڑھ پایا آج تک
فتنہ ہے قادیان کا سب سے عجیب تر
برطانوی نبی تری "پرواز" خوب ہے
دیں میں نقب لگائی ہے ایمان لوٹ کر
ختم الرسلؐ کے نام پہ قربان میری جاں
مرزا کے پیرو آپؐ کی جانیں گے کیا قدر؟
الحاد کی بنیاد کو ڈھانے کا عزم ہے
ربوہ ہو قادیان ہو یا جو کوئی نگر،
صفحہ 211

صدارتی آرڈیننس کا نفاذ

اور مرزا طاہر کا فرار

٭ عارف صحرائی ٭

لایا ہے رنگ جذبہ ایمان دیکھ لو مرزائیت تڑپ اٹھی کیا خوب تیر تھا
تابوت قادیان میں آخر گڑی وہ کیل اغماض جس سے تھوڑا بھی خطرہ خطیر تھا
برداشت ایسے شخص کی اولاد کیسے ہو؟ چوکھٹ پہ جو فرنگ کی مثل فقیر تھا
اب صاف کھل گئی ہے غلاظت کی ٹوکری مدت سے جس کے گرد غلاف حریر تھا
بتلا دیا ہے وقت نے سارے جہان کو ”اک حرف ناصحانہ“ تو حبہ حقیر تھا
مفرور ہو گیا ہے جو سن کر یہ فیصلہ معلوم ہو گیا کہ وہ اصلی شریر تھا
اسلم قریشی کیس سے طاہر کا بھاگنا اس پر دلیل ہے کہ وہ مجرم ضمیر تھا
الغرض کہ مرزا کا لندن کو یہ رجوع
”پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا“
صفحہ 212

سراپائے مرزا

٭ سلطان قدیر ٭

بڑے کذاب ہیں یہ قادیانی بدل لیتے ہیں آیات قرآنی
غلام احمد کا عقد آسمانی کیا ہے نظر بد کی ترجمانی
کہ حال چشم مرزا بھی وہی ہے جو ہے دجال کی اک آنکھ کانی
مسیحا کو لگے قے دست، توبہ نبی جی پر بلائے آسمانی!
کبھی بیوی کبھی بیٹا خدا کا عجب مرزا کی ہے یہ بد زبانی
سدا بادہ کشی افیون خوری بڑی رنگین تھی مرزا کی جوانی
سمجھ کر گڑ جو ڈھیلوں کا تناول یہ مجنوں پن یہ وحشی زندگانی
کہ رونا نوجواں کا چھوڑیئے گا بنا لیتا ہے اپنا دانا پانی
یہ کوئی طنز کی باتیں نہیں ہیں
قدیر عین حقیقت ہے بیانی
صفحہ 213

اکمل قادیانی شاعر کو مخاطب کر کے

غلام احمد قادیانی

٭ مولانا فضل احمد صاحب صدیقی ٭

غلام احمد مسیح قادیانی ہوا کذاب پیدا قادیاں میں
امین الملک اور جے سنگھ بہادر رہی انسانیت جس سے زیاں میں
غلام احمد تھا بے شک کرم خاکی نہ آدم زاد تھا وہم و گماں میں
بشر کی جائے نفرت تھا یقیناً سراپا عار تھا وہ انس و جاں میں
مسیحا ٹانک وائن کا تھا رسیا جو بکتی تھی پلومر کی دوکاں میں
تھا انگریزی حکومت کا مدح خواں پچاس الماریاں لکھی تھی شاں میں
کیا اس کو ذلیل و خوار حق نے کہ گندوں کی نہیں نصرت جہاں میں
ہوا غرق خجالت اس کا بیڑا وہی خود کمترین تھا اس جہاں میں
مسیلمہ پھر ہوا ہے ہم میں پیدا اور آگے سے ہے بڑھ کر اپنی شاں میں
جو چاہے دیکھنا دجال اکمل غلام احمد کو دیکھے قادیاں میں
صفحہ 214

جے مرزا قادیاں والے کی!

* حنیف رضا *

بقول م۔ ش (جنکا نام محمد شفیع) پاکستان کے سیاق و سباق میں مذہبی اختلاف کے باوجود قادیانی جماعت کے سربراہ کو پاکستان کی قیادت کی دعوت دینا کسی کے عقل و فہم سے بالا نہیں ہونی چاہیے اور قادیانی جماعت کے سربراہ کی خواہش کے مطابق چونکہ ان کی حکومت قائم ہونے ہی والی ہے، لہٰذا اس ”خیالی ریاست“ کا قومی ترانہ حاضر ہے۔ جسے چناب کی لہروں کی قدرتی موسیقی کے پس منظر گنگنایا جاسکتا ہے۔ سکولوں، کالجوں میں گایا جاسکتا ہے اور سالانہ جلسہ کے اجتماع میں بھی بجایا جاسکتا ہے، جس سے مرزا قادیانی کی بد روح بھی خوش ہوگی اور اس کے درجات بھی بلند ہوں گے۔ آزمائش شرط ہے۔

نہ خنجر کی نہ بھالے کی نہ روس ہتھوڑے والے کی
نہ پنڈت کی نہ لالے کی نہ گورے کی نہ کالے کی
نہ رانی خاں کے سالے کی جے مرزا قادیاں والے کی
روح اللہ کی مسند اس کو ملی
رب سویا ساتھ تو کھاٹ ملی
تب کس گئی اس کے دل کی کلی
اور ”کشتی نوح“ پھر خوب چلی
سر ہوگئی چوٹی ہمالے کی
جے مرزا قادیاں والے کی
صفحہ 215
مجنوں سی ہر دم حالت تھی تنہائی میں ہنسنا عادت تھی
دم نکلا جو رفع حاجت کی کیا اس کی شان رسالت تھی
کیا بات نکلتے نالے کی جے مرزا قادیاں والے کی
اسلام کا دامن چھوڑ دیا ایمان کا ساغر توڑ دیا
رخ شرم و حیا سے موڑ دیا غیرت کا خون نچوڑ دیا
ہے ڈھیلے کھانے والے کی جے مرزا قادیاں والے کی
بانکی وہ ادا تیکھے چتون
نازک گدرائے سیمیں بدن
انگڑائی کا منظر توبہ شکن
اتارے نقابوں کی چلمن
اور مستی کان کے بالے کی
جے مرزا قادیاں والے کی
تقریر کرو ”سب اچھا ہے“ تبلیغ کرو ”سب اچھا ہے“
تحریف کرو ”سب اچھا ہے“ ”تسلیم کرو سب اچھا ہے“
پروا نہیں کملی والے کی جے مرزا قادیاں والے کی
اسلام کا پرچم پھاڑ جلا اس دھرتی کو بھی آگ لگا
ریلوے کی زمیں پہ جھوم کے گا طیارے سے آواز لگا
ہے انگریزوں کے پالے کی
جے مرزا قادیاں والے کی

۱۲؍ جنوری ۱۹۷۴ء

صفحہ 216

کشمیر اسمبلی زندہ باد

٭ الحاج حنیف رضا ٭

زندہ باد اے خطہ کشمیر کے دانشورو!
تم نے پھینکی سارق ختم نبوت پر کمند
تم نے پورا کر دیا اقبالؔ کا دیرینہ خواب
رنگ لائی ہے بخاریؒ کی مسلسل قید و بند
تم سدا زندہ رہو گے دہر میں با صد وقار
روز محشر بھی خدا کے روبرو ہو ارجمند
سن تریپن کے شہیدوں کا لہو رنگین ہے
کب تلک چھپتی پھرے گی قادیاں کی گوسفند
آج روحِ بوبکرؓ شاداں و فرحاں ہوگئی
خائب و خاسر ہوئے مسیلمہ کے بھائی بند
عظمت ختم رسلؐ پائندہ و تابندہ باد
ہو گیا پھر لا نبی بعدی کا پرچم بلند
صفحہ 217

مرزا غلام احمد قادیانی

٭ علی اصغر چشتی ٭

آ تجھ کو بتاؤں کہ بہت خوار ہے مرزا
ابلیس کے پھندے میں گرفتار ہے مرزا
فرعون کو جس نفس نے دریا میں ڈبویا
اس نفس خبیثہ کا پرستار ہے مرزا
شیطان کی غلامی میں ملی جس کو نبوت
رسوائے زمانہ' وہ سیاہ کار ہے مرزا
گرگٹ کی طرح رنگ بدلنا پڑا جس کو
پھر بھی رہا ناکام' وہ مکار ہے مرزا
اپنوں کو اور بیگانوں کو دھوکہ دیا جس نے
خود بھی رہا دھوکے میں وہ عیار ہے مرزا
صفحہ 218
تھی جس کے رگ و ریشہ میں انگریز پرستی
انگریز کا پالا ہوا غدار ہے مرزا
جس دل پر لگی مہر بصیرت گئی جس کی
اور سلب بصارت ہوئی وہ عار ہے مرزا
دن جس نے گزارے مرض کفر میں سارے
اور ٹس سے ہوا مس نہ وہ بیمار ہے مرزا
ساقی نے دیے جام جو چشتی کو مسلسل
پی پی کے کہا اس نے کہ مردار ہے مرزا
صفحہ 219

مرزا قادیانی

٭ حکیم محمد شریف خاں مخمور درانی ٭

وہ کاذب ہے اکذب ہے جھوٹا نبی ہے
وہ جھوٹا ہے مہدی وہ شیطاں جلی ہے
کبھی ہے بروزی کبھی ہے وہ ظلی
حقیقت میں انگریز کا ہے مصلی
مسیلمہ طلیحہ کا ہے وہ برادر
وہ دریائے کذب و ریا کا شناور
وہ بیگم محمدی پہ مرتا رہا ہے
سدا اس کی فرقت میں جلتا رہا ہے
فقط ٹیچی ٹیچی ہے پیغام اس کا
جہنم کے ماتھے پہ ہے نام اس کا
صفحہ 220
نہ مکی نہ مدنی وہ ہے قادیانی
کہیں اس کو ابلیس و دجال ثانی!
منافق ہے کافر ہے دجال ہے وہ
کہ جھوٹی نبوت کی فٹ بال ہے وہ
وہ شیطاں مجسم ہے مکار بھی ہے
سنو منتظر کہ وہ بدکار بھی ہے

١ ۔ مصلی پنجابی میں خاکروب کو کہتے ہیں۔ دوسرے معنی اس کے انگریز کے در پر سر کو جھکانے والا ہوں گے۔

صفحہ 221

نبوت کے داعی کو بعد محمدؐ تقاضائے ایماں ہے کذاب کہئے

٭ مخمور درانی ٭

نبوت کے داعی کو بعد محمدؐ ‘ تقاضائے ایماں ہے کذاب کہئے
جو مانے گا مرزا کی جھوٹی نبوت‘ جہنم میں پھر اس کو غرقاب کہئے
محمدؐ کا ثانی نہیں ہے جہاں میں‘ یہ ممکن کہاں ہے‘ یہ ممکن نہیں ہے
ذرا ڈھونڈ دیکھو زمان و مکاں میں‘ محمدؐ کے ثانی کو نایاب کہئے
وہ جھوٹی نبوت کا شاہکار بن کر‘ وہ حسن مجازی پہ مرتا رہا ہے‘
وہ بیگم محمدی کی خاطر جہاں میں‘ رہا مضطرب مثل سیماب کہئے
وہ جھوٹا نبی ہے وہ جھوٹا مجدد‘ وہ جھوٹا ہے مہدی وہ جھوٹا مسیحا‘
کلام خدا کا میں سچ کہہ رہا ہوں کہ نا آشنائے آداب کہئے
کہاں ٹیچی ٹیچی‘ کہاں شان قرآں‘ کہاں مرزا کاذب‘ کہاں نور یزداں
ہے بہتر یہی اس لعیں کو‘ دجال کہئے یا کذاب کہئے
صفحہ 222
فرنگی کی دعوت پہ لبیک کہہ کر‘ نبی بن گیا ہے نہ سوچا نہ سمجھا
غلام شہ عیش و عشرت‘ مریض مرض ہائے اعصاب کہئے
محمدؐ ہمارا دو عالم کا پیارا‘ اجالا زمانے کا ہے مختصر وہ
مگر قادیانی نبی کو جہاں میں‘ یم خود پرستی کا گرداب کہئے
صفحہ 223

وطن کے نوجوانوں، محافظوں اور پاسبانوں کے نام

ایک طالب علم کا پیغام

٭ ادریس احمد آزاد ٭

اے وطن کے بازوئے شمشیر زن کچھ ہوش کر
قادیانی دشمنوں کو اب ذرا خاموش کر
ٹمٹماتے ہیں ابھی تک، میری راہوں کے چراغ
بن کے قاسم ظلم کو مٹی میں تو روپوش کر
بھیڑیے غرا رہے ہیں، تیرے گھر کے سامنے
”شورش“ غیرت کے ناطے، اٹھ نگاہ جوش کر
کر خودی کی چشم سے، یک چشم کی مٹی پلید
گھونپ کے سینے میں خنجر اس کو محو دوش کر
صفحہ 224
رزم گاہ قادیاں کے دیں فروشوں کی صفیں
چیر کے شمشیر سے، جام شہادت نوش کر
ایک ٹھوکر مار کر ربوے کے ٹیلے توڑ دے
ایک ہی تھپڑ سے پورا قادیاں بے ہوش کر
منتظر آزاد کیوں ہے خنجر و شمشیر کا
تو صدائے حق کو پھر اب آشنائے گوش کر
صفحہ 225

عظمت ختم نبوت

٭ ناشر حجازی ٭

تیرے ہی واسطے حق نے کیے ہیں بحر و بر پیدا
ستارے اور قمر پیدا، گلستاں اور شجر پیدا
فدا ہے جان میری عظمت ختم نبوت پر
کچل دوں گا خلاف اس کے کہیں ہو فتنہ گر پیدا
کیا انگریز نے تھا دامن ملت کو صد پارہ
خدا کے فضل سے اب ہو رہے ہیں بخیہ گر پیدا
”شہیدان وفا“ کا خون ضائع ہو نہیں سکتا
کہ ملت کے صدف میں ہو رہے ہیں پھر گہر پیدا
صفحہ 226

عین ایماں ہے

٭ فیروز نصیر آبادی ٭

نبیؐ کی عزت و حرمت پہ مرنا عین ایماں ہے
سر مقتل بھی ان کا ذکر کرنا عین ایماں ہے
ڈراتا ہے ہمیں دار و رسن سے کیوں ارے ناداں
نبیؐ کے عشق میں سولی پہ چڑھنا عین ایماں ہے
جو فتنہ ملت بیضا کی بنیادوں سے ٹکرائے
میرے نزدیک اس کا سر کچلنا عین ایماں ہے
جلا پروانہ شمع پر یہ راز زندگی کہہ کر
کسی کے عشق میں جلنا پگھلنا عین ایماں ہے
شہیدان وفا تقدیر سے بھی جنگ کرتے ہیں
وہ کہتے ہیں رہ الفت میں مرنا عین ایماں ہے
صفحہ 227
چلا ہوں سوئے مقتل پھر لگانے جان کی بازی‘
قضا سے مسکراتے کھیل جانا عین ایماں ہے
یزیدی ہوں‘ پلیدی ہوں صدائے حق نہیں دبتی
کہ رسم کربلائی زندہ کرنا عین ایماں ہے
صفحہ 228

استاد بداں

٭ مقصود عالم شاہ کوٹی ٭

ملعون زماں کہئے، کذاب جہاں کہئے
مرزے کو خباثت کا، منحوس نشاں کہئے
لاریب نہیں ملتا، مطعون کوئی ایسا
انسان کے جامے میں، عفریت نہاں کہئے
فیضان فرنگی ہے، بکواس حرامی کی
تلمیذ سگاں کہئے، استاد بداں کہئے
مردود کی آنکھیں تک آپس میں نہیں ملتیں
ایسے میں مسیحیت ملتی ہے کہاں کہئے!
ملحد کے تعاقب میں بیباک صداؤں کو
مقصود سخن کہئے، سرمایہ جاں کہئے
صفحہ 229

ڈھینچوں ڈھینچوں

”ہفتگی لاہور“

کے نام

٭ قمر الحسنین قمر ٭

ڈھینچوں ڈھینچوں ہفتگی لاہور پتا تاش کا
نور ایماں سے ہے خالی سینہ اس فحاش کا
گالی بکتا ہے ہمیشہ مجلس احرار کو
یہ فرنگی زادہ بھی ہے پالتو بکتاش کا
اس کے مہدی کو ملی برطانیہ سے شہ مدام
یہ نہال آرزو ہے ملکہ عیاش کا
زیروی کو ہم نے دیکھا یکی دروازہ کے بیچ
ٹانگیں اوپر سر تھا نیچا اس غبی نباش کا
صفحہ 230
بلونت سنگھ اور ماؤنٹ بیٹن کا وظیفہ خوار ہے
نطفۂ مرزا مرکب زیروی اوباش— کا
باز آ جا زیروی یک چشم گل— اور— یاد رکھ
پھوڑ دیں گے سر ترا لاہور کے بدمعاش کا
میرزا و زیروی صرصر سموم کفر ہیں
گالی بکنے پر مہیا رزق ہے قلاش کا
صفحہ 231

مرزا قادیانی کی اصلیت

٭ محمد سلیم ساقی ٭

میں تجھ کو بتاتا ہوں کہ مرزا کی اصل کیا ہے
کرگس کی اوقات اول‘ شاہیں کا گمان آخر
بنتا ہے مہدی و مسیح و نبی‘ خدا‘ ابن خدا
سردار البشر اول‘ شرمگاہ انسان آخر
کرتا ہے وحی و اعجاز و الہامات کا دعویٰ
تکذیب حدیث اول‘ تحریف قرآن آخر
کردار میں گفتار میں شیطان کی برہان
بخدا! کذاب عصر اول‘ زندیق زمان آخر
مراق‘ ہسٹیریا‘ ہیضہ‘ نسیان‘ یہ جملہ امراض
نبیوں کی توہین اول‘ پاگل کی پہچان آخر
صفحہ 232

٭ ابراہیم اسماعیل ٭

کبھی اسلام ”کفر قادیانیت“ نہیں ہوتا
کبھی لفظ ضیاء ہم معنی ظلمت نہیں ہوتا
کہاں وعظ نبوت اور کہاں بکواس مرزا کی
مقال مرسلاں ہذیان پر وحشت نہیں ہوتا
بچو اس سے مسلمانو! وہ داعی جہنم کا
کبھی جھوٹا پیمبر داعی جنت نہیں ہوتا
نہیں ہے، قادیانیت کبھی اسلام کے معنی
کبھی مفہوم مسلم قادیانیت نہیں ہوتا
صفحہ 233

٭ حافظ مشتاق عباسی ٭

ابلیس کی ہو تم جاں اے لعین قادیاں
وہ ہے تجھ پہ قربان اے لعین قادیاں
تو نے راہ حق سے کتنوں کو دیا ہے بھٹکا
تجھ پہ کفر و شرک نازاں، اے لعین قادیاں
تیری مسلوں پر کیے انگریز نے دستخط تمام
واہ کیا ہے تیری شان اے لعین قادیاں
لکھ دیا لوح و قلم نے تیرے حق میں
ہوگا تو ذلیل جاوداں اے لعین قادیاں
صفحہ 234

بیاد شہدائے ختم نبوت

٭ غلام نبی میر ناسک ٭

لگائی جب سے مغنی نے ساز پر مضراب
مچلتے اشک ہیں آنکھوں میں جان ہے بیتاب
ظلام شب میں بھٹکتے ہیں تارے آہوں کے
ابھرتا دیکھئے کب ہے افق سے وہ مہتاب
تمام رات جنوں میں لٹائے آنکھوں نے
دل و جگر کے خزانوں کے گوہر نایاب
یہ کشت زار محبت ہے لالہ زار نہیں
کیا ہے خون سے عشاق نے اسے سیراب
عبث ڈراتا ہے نمرود اپنی آتش سے
کہ پیش عشق محمدؐ ہیں سرد یہ الہاب
صفحہ 235
یہ بانکپن جو ازل سے ملا شہیدوں کو
شفق میں، لعل بدخشاں میں، گل میں، مے نایاب
تہی ہیں بادۂ حب نبیؐ سے سب کے سبو
نہ سر اٹھاتے کبھی ورنہ دشمن و کذاب
وہ آگ لالہ و گل کی رگوں نے کب پائی
تپش سے جس کی ہیں ناسک کے جان و دل بیتاب
صفحہ 236

۱۹۵۳ء میں دوبارہ تحریک ختم نبوت چلی، جس کے نتیجہ میں ستمبر ۱۹۷۴ء میں قادیانیوں کو ملک کی منتخب پارلیمنٹ نے غیر مسلم قرار دیا۔ دونوں تحریکوں کے امتزاج کے حوالہ سے ایک نظم ملاحظہ فرمائیں۔

یہ جیت ان کی ہے جو خون میں نہائے تھے

٭ محمد ارشد کمال ٭

تمام اہل وطن‘ السلام‘ جیت گئے
جنہوں نے پائی حیات دوام‘ جیت گئے
جناب ختم رسلؐ کے غلام‘ جیت گئے
خواص ہار گئے ہیں‘ عوام‘ جیت گئے
صفحہ 237
یہ جیت ان کی ہے‘ جو خون میں نہائے تھے
جو جراتوں کے نشاں‘ عظمتوں کے سائے تھے
صداقتوں کے افق پر جو جگمگائے تھے
جنہوں نے ختم رسلؐ کے علم اٹھائے تھے
ہوئی ہے جہد وفا کامیاب‘ زندہ باد
فریب و مکر ہوا بے نقاب‘ زندہ باد
ابھر رہا ہے نیا آفتاب‘ زندہ باد
یہ انقلاب ہے یہ انقلاب‘ زندہ باد
تمام قوم زمانے میں سربلند ہوئی
خدا کا شکر کہ سچائی فتح مند ہوئی
صفحہ 238

یہاں ورد درود پاک کرنا عین ایماں ہے

٭ عنایت اللہ رشیدی ٭

ادب گاہ رسالت ہے یہ‘ ڈرنا عین ایماں ہے
یہاں ورد درود پاک کرنا عین ایماں ہے
وہ ختم المرسلیںؐ ہیں‘ باعث اتمام نعمت ہیں
نبوت ختم ہے انؐ پر‘ سمجھنا‘ عین ایماں ہے
کئی کذاب آئیں گے‘ کئی دجال آئیں گے
گریباں دجل کا صد چاک کرنا عین ایماں ہے
کسی جھوٹے نبی کی بات سننا کفر ہے پیارے!
نبیؐ کے دشمنوں سے جنگ کرنا عین ایماں ہے
زبانیں کھینچ لیں گے ہم‘ وہ چہرے نوچ ڈالیں گے
”گرہ کٹ“ قوم کو یارو پکڑنا عین ایماں ہے
صفحہ 239
گریں سو بجلیاں ہم پر، قدم آگے بڑھائیں گے
زمانے سے نہیں، اللہ سے ڈرنا عین ایماں ہے
عدو سے ڈرنے والے ہم نہیں، ہوں گے کوئی بزدل
ہر اک کذاب سے ہر بار بھڑنا عین ایماں ہے
کہاں پھرتا ہے تو بھولا ہوا ہے راہ سودائی!
سبق بھولے ہوئے پھر یاد کرنا عین ایماں ہے
عنایت میں کہاں طاقت لکھے تعریف عربیؐ کی
دلوں کو یاد سے آقاؐ کی بھرنا عین ایماں ہے
صفحہ 240

کاروان ختم نبوت

٭ حفیظ رضا پسروری ٭

ہم نے ہر دور میں تقدیس رسالت کے لیے
وقت کی تیز ہواؤں سے بغاوت کی ہے
توڑ کر سلسلۂ رسم سیاست کا فسوں
اک فقط نام محمدؐ سے محبت کی ہے
ہم نے بدلا ہے زمانے میں محبت کا مزاج
ہم نے ہر دل کو نئی راہ و نوا بخشی ہے
مرحلے بند و سلاسل کے کئی طے کر کے
چہرۂ دار و رسن کو بھی ضیاء بخشی ہے
صفحہ 241

جنرل اعظم خان ————— تو بھی سن!

* شریف جالندھری *

مندرجہ ذیل نظم سابقہ ارباب اقتدار کے عہد زبوں حال میں شائع ہوئی تھی۔ اس دور میں اسلام کی سربلندی و عظمت کی تحریکوں کا جو حشر کیا گیا اور بحالی جمہوریت کے نام نہاد علمبرداروں نے اپنے عہد اقتدار میں ملک گیر جمہوری تحریک کو بزور اقتدار جس طرح پامال کیا‘ یہ نظم اس کی صحیح عکاسی ہے۔

یاد تو ہوگا تم کو بھی وہ مرحلہ جب یہاں سخت جانوں کو کچلا گیا
پاسداری کے ہر تلخ عنوان کا نام لے کر جوانوں کو کچلا گیا
چھینتی ہی رہی دین کی برتری عشق کے سب فسانوں کو کچلا گیا
حق کی داستاں جن کا ایمان تھی ان بہادر جوانوں کو کچلا گیا
وقت ان حادثوں کو سمیٹے ہوئے
دور ماضی کے گوشوں میں گم ہوگیا
صفحہ 242
یک بیک حکمراں قوموں کا جنوں ملک میں ہر طرف لہرانے لگا!
کچھ فقیروں، گداؤں کی آواز سے حکمرانوں کا دل خوف کھانے لگا!
اک صدا سارے عالم پہ چھانے لگی آبروئے رسالت بچائیں گے ہم
بام و در چیخ اٹھے کہ اے ظالمو آبروئے نبوت بچائیں گے ہم
دین کی آبرو کو بچائیں گے ہم قوم کا قافلہ آج تیار ہے
عشق کی داستاں پھر مرتب ہوئی دینداروں کا سر پھر سر دار ہے
داستان حرم خون سے رنگین ہوئی
وقت کا قافلہ مسکرانے لگا
دوستو! ساتھیو! آؤ سوچیں کہ کیا خون ناحق یونہی رائیگاں جائے گا
اسم شبیر خاموش تصویر ہے خون ناحق کچھ رنگ لائے گا
قادیانی نبوت کے افکار سے اس کی گفتار اس کے کردار سے
دین کی آبرو کل بھی خطرے میں تھی!
دین کی آبرو اب بھی خطرے میں ہے!
صفحہ 243

٭ سائیں حیاتؔ ٭

مرزا صاحب نوں نبی بنا دتا ایس انگریز مداری نے چھل کر کے
مدد واسطے نال چا کھڑا کیتا نور دین خلیفے نوں پہل کر کے
اسیں تاں کہندے ہاں مرزائی بھیڈاں نوں چنگے ہون تاں اڑ جان پھل کر کے
ہن تاں لواں گے دم حیات سائیں ایس جھوٹے نبی نوں کھرل کر کے
صفحہ 244

مرزا غلام احمد قادیانی

کانا بھڑ بھونجا نبی

٭ محمد شریف مانی ٭

آکھاں حمد میں ذات ربانی نوں اس واحد پاک لاثانی نوں
ہر اک دے حال دے جانی نوں جو مالک کل سمندر دا
زمین' آسمان' سمندر دا
اتے واقف ہر دے پھندر دا
پھر پڑھاں درود رسول اتے اس اللہ دے مقبول اتے
اس نبی دے ہر اصول اتے میں واراں اصول قلندر دا
تے زمین' آسمان' سمندر دا
جنہاں بھنیا بت ہر مندر دا
او ہادی والی امت دا جو منبع نرا صداقت دا
تاج پہن کے ختم نبوت دا آیا شافع گدا و سکندر دا
بن رحمت کل سمندر دا
بت بھنن لئی ہر مندر دا
ایہہ آخری چودھویں چند آیا باطل دے توڑن پھند آیا
کر نبوت دا بوہا بند آیا کم ٹھپ کے باہر اندر دا
مار جندا کس کے جندر دا
مکا قصہ سارے دھندر دا

١۔ اصل وچہ ایہہ لفظ سنسار سی گا۔ ٢۔ مکر و فریب۔ ٣۔ دھندہ۔۔۔

صفحہ 245
اوہدے بعد نبی کوئی آوناں نئیں اللہ نے نبی بناوناں نئیں
ایہہ قرآن قانون بدلاؤناں نئیں اٹل فیصلہ ایہہ بھگوندر دا
جو مالک کل سمندر دا
ایہہ زمین آسمان سمندر دا
ہن جو دعویٰ کرے جھوٹا ایہہ جو نبی بنے مرے جھوٹا ایہہ
جو حامی بھرے جھوٹا ایہہ ہے ساتھی اوسے پتندر دا
او پتر جنگلی بندر دا
یا، ہندو کافر مندر دا
ساڈے اللہ نے فرما دتا قرآن حدیث سنا دتا
کر واضح نبی سمجھا دتا ایہہ مسئلہ پورے سکندر دا
جو کل توڑے نبوت جندر دا
او پتر کتے بندر دا
میری امت چوں تیہہ بندے جی دعویٰ کرن گے جھوٹ او گندے جی
او کفر دے پکے رہندے جی کھیڈ کرن گے عین قلندر دا
کوئی بنے گا پت رام چندر دا
کوئی قادیاں دا کوئی جالندھر دا
انہوں وچوں مسیلمہ کذاب اٹھیا کرن اپنا خانہ خراب اٹھیا
غلام احمد وچہ پنجاب اٹھیا جو ٹوڈی انگریز پتندر دا
حال ویکھو جھوٹے پیغمبر دا
ایہہ کنجر پرلے نمبر دا
ایہہ جمیاں مرزا قادیاں دا بھن سہرا سر بھانڈیاں دا
ایہہ مرکز بغض عنادیاں دا منہ کھولیا بکڑ بندر دا
حال ویکھو جھوٹے پیغمبر دا
ایہہ کنجر پرلے نمبر دا

۷۴۔ خداوند۔

صفحہ 246
اپنے اُٹھدیاں بند جہاد کیتا او رب رسول ناشاد کیتا
خود اپنا آپ برباد کیتا خوش کیتا دل پھتھو دا
حال دیکھو جھوٹے پیغمبر دا
ایہ کنجر پرلے نمبر دا
جد مرزے جہاد حرام کیتا انگریز نے اُچا نام کیتا
واں نواں تیار اسلام کیتا داؤ چل گیا جدوں چکندر دا
حال دیکھو جھوٹے پیغمبر دا
ایہ کنجر پرلے نمبر دا
انگریز خبیث مداری نے اسلام دے دشمن بھاری نے
اتے ظلم ستم دی کٹاری نے اک چن لیا گنڈو گنڈؤ دا
حال دیکھو جھوٹے پیغمبر دا
ایہ کنجر پرلے نمبر دا
پو چٹی چت انگریزاں دی موج مانی گھوڑے سیزاں دی
کرسی تے پلنگاں میزاں دی رہیا ہر دم ٹٹی ٹمبر دا
حال دیکھو جھوٹے پیغمبر دا
ایہ کنجر پرلے نمبر دا
ایہہ مکار پت مکاری دا اک ناری ایہہ سو ناری دا
ایہہ ٹوڈی انگریز مداری دا ایہہ ملک فرنگی مندر دا
حال دیکھو جھوٹے پیغمبر دا
ایہ کنجر پرلے نمبر دا
جو ویری مسلماناں دا سب مومن با ایماناں دا
آزادی دا ارماناں دا ایہہ تھن چنگدا اوسے کنجر دا
حال دیکھو جھوٹے پیغمبر دا
ایہ کنجر پرلے نمبر دا
صفحہ 247
ایہ انگریز دے خصے چم دا سی اہدی لتاں اندر گھمدا سی
نہ ہم دا سی نہ تم دا سی سی ٹٹو انگریز پلیدو دا
حال دیکھو جھوٹے پیغمبر دا
ایہ کنجر پرلے نمبر دا
انگریز دیاں لتاں گھٹ گھٹ کے لوکاں توں پیسے لٹ لٹ کے
سب قادیاں دے وچ سٹ سٹ کے آباد کر لیا تکیہ کنجر دا
حال دیکھو جھوٹے پیغمبر دا
ایہ کنجر پرلے نمبر دا
اہدا کوئی وی کم نہیں چنگا سی باطل دے رنگ وچ رنگا سی
پا بیٹھا ہر تھاں پنگا سی ایہ ٹوڈی انگریز فرنگی دا
حال دیکھو جھوٹے پیغمبر دا
ایہ کنجر پرلے نمبر دا
میں کہنا واں مرزائیاں نوں بے شرماں نو بے حیائیاں نوں
نہ مارو بس وڈیائیاں نوں پڑھ دیکھو کلام پلیدو دا
لندا ایہو کلام پیغمبر دا
ایہ کنجر پرلے نمبر دا
کتے بن دا بت کیندے دا بندے دے نطفے گندے دا
دیکھو حال ایہ گورکھ دھندے دا سب ڈھانچہ پھندے پھندر دا
کلام دیکھو جھوٹے پیغمبر دا
ایہ کنجر پرلے نمبر دا
کتے بن دا بڈی بندہ ایہ ٹٹی دا کیڑا گندہ ایہ
کھورے کی گورکھ دھندا ایہ کتے بن دا جے سنگھ بہادر دا
کلام دیکھو جھوٹے پیغمبر دا
ایہ کنجر پرلے نمبر دا
صفحہ 248
نہ ماں وچوں نہ باپ وچوں اک دنیا دی چپ چاپ وچوں
میں جمیاں آپے آپ وچوں لے جھوٹا باہر اندر دا
کلام ویکھو جھوٹ پیغمبر دا
ایہہ کنجر پرلے نمبر دا
بن موسیٰ عیسیٰ آیا واں محمد دی شبیہ پلٹایاں واں
سچ مچ میں رحمت سایاں واں مینوں بھیدا والی انبر دا
حال ویکھو جھوٹ پیغمبر دا
ایہہ کنجر پرلے نمبر دا
کدے کہندا میں خود اللہ واں اللہ دا سچا پلا واں
پت اللہ دا پر کلا واں منہ ویکھو بھوت قلندر دا
کلام پڑھ لو جھوٹ پیغمبر دا
ایہہ کنجر پرلے نمبر دا
میں مسیح دا بن اوتار آیاں مریم دے پیٹوں باہر آیاں
عقلوں بھل دا بُدھوں بیمار آیاں ہر وقت مریض سمندر دا
حال ویکھو جھوٹ پیغمبر دا
ایہہ کنجر پرلے نمبر دا
کدے آدم کدے موعود بنے کدے نصاریٰ کدے یہود بنے
منٹ منٹ چہ کدی مردود بنے پتہ چلیا نہیں اس بھندر دا
حال ویکھو جھوٹ پیغمبر دا
ایہہ کنجر پرلے نمبر دا
اک جیب چہ روڑے پاندا سی دوجی وچ گڑ نوں لکاندا سی
تھاں گڑ دی روڑے کھاندا سی تھاں روڑے گڑ نوں ونڈدا
حال ویکھو جھوٹ پیغمبر دا
ایہہ کنجر پرلے نمبر دا
صفحہ 249
ہندا ایہو کلام شریفاں دا پاک بازاں دا تے حنیفاں دا
پلندا جھوٹ تعریفاں دا خود پت ابلیس مچندر دا
حال ویکھو جھوٹ پیغمبر دا
ایہ کنجر پرلے نمبر دا
مارے وچہ کتاباں لت پت ایہ لکھن لگے نہ کیتی کوئی ہت ایہ
میرا منکر کنجری دا پت اے خود پتر جھلے ڈنگر دا
حال ویکھو جھوٹ پیغمبر دا
ایہ کنجر پرلے نمبر دا
اک تھاں ایہ کتاب چہ آہندا اے جہڑا میری نبوت جھٹلاندا ایہ
میرے اتے ایماں نہیں لیاندا اے او پتر سوری بندر دا
ایہ دیکھو کلام پیغمبر دا
ایہ کنجر پرلے نمبر دا
او پتر جنگلی سوراں دا بدمعاشاں بازاری خوتاں دا
خود سور ایہ لکھاں سوراں دا ہے نطفہ جنگلی بندر دا
حال ویکھو جھوٹ پیغمبر دا
ایہ کنجر پرلے نمبر دا
میں حکومت پاکستان تائیں تے ضیاء الحق جوان تائیں
اس دیس دے ہر انسان تائیں کہنا ویکھو حال اس گنڈو دا
حال ویکھو جھوٹ پیغمبر دا
ایہ کنجر پرلے نمبر دا
چھڈ جھوٹ موٹھ تے لاف ذرا کر اپنے دماغ نوں صاف ذرا
مینوں دسو کر انصاف ذرا ایہ پت بندے دا کہ بندر دا
حال ویکھو جھوٹ پیغمبر دا
ایہ کنجر پرلے نمبر دا
صفحہ 250
انسانوں ذرا انسان بنوں سچ مومن مسلمان بنوں
یا کنجر سور شیطان بنوں بنوں جو کہندا تہانوں اندر دا
حال ویکھو جھوٹے پیغمبر دا
ایہہ کنجر پرلے نمبر دا
او منور حسین گیلانی دی میرے سلف دی خاص نشانی دی
ایہہ فرمائش سی میرے جانی دی سن اٹھاہٹھ مہینہ ستمبر دا
حال ویکھو جھوٹے پیغمبر دا
ایہہ کنجر پرلے نمبر دا
اللہ نے کرم کما دتا فضلاں دا مینہ وسا دتا
ماہی توں کم ایہہ کرا دتا ایس خادم اک بگوندر دا
حال سنیا جھوٹے پیغمبر دا
ایہہ کنجر پرلے نمبر دا
صفحہ 251

مرزے دی بول گئی سی ککڑوں کوں

٭ شریف عباسی ٭

برطانوی سرکار دا سہارا مرزے لیتا سی
انگریز توں حرام لے لے کھادا پیتا سی
دماغ اوٹ ہوگیا پھر اوہدا چپ چپیتا سی
مسیلمہ کذاب وانگوں دعویٰ اس کیتا سی
نبی دیاں وارثاں نے بھن دتا منہ
مرزے دی بول گئی سی ککڑوں کوں
انگریز منحوس نے برطانوی فرنگی نے
وڈے دھوکے باز نے تے وڈے سارے ڈھنگی نے
ویری اسلام دے تے کفر دی پتنگی نے
ملک وچوں لبھیا اک پاگل تے بھنگی نے
انہاں کیہا اٹھ کر نبوت دا دعویٰ توں
مرزے دی بول گئی سی ککڑوں کوں
صفحہ 252
مرزے دا باپ وی انگریز دا جی ٹوڈی سی
حرام کھا کھا اہدی ٹنڈ ہوگئی روڈی سی
شرم تے حیا اہنے ساری لاہ چھوڑی سی
ہر ویلے انگریز اگے مار بہندا گوڈی سی
کہندا رب تے رسول انگریز باپو توں
مرزے دی بول گئی سی ککڑوں کوں
ٹوڈی دائی ٹوڈی مرزا جمیاں منحوس ایہہ
فرنگی دی حمایت کیتی ڈٹ کے دیوس ایہہ
تباہ کیتا جس انسانیت دا نموس ایہہ
لکھیاں کتاباں کٹھے کر ککھ پھوس ایہہ
اپنے جانے بڑی مار گیا پھاں پھاں
مرزے دی بول گئی سی ککڑوں کوں
آؤ اہدے تہانوں الہام دساں دوستو
انگریزی نبی ٹوڈی دا کلام دساں دوستو
کیویں گزری صبح کیویں شام دساں دوستو
غلام احمد نام فرنگی غلام دساں دوستو
غور نال سنو کڈھ کے کناں وچوں روں
مرزے دی بول گئی سی ککڑوں کوں
صفحہ 253
لکھدا ایہ اک جگہ اپنی کتاب وچہ
میں کئی واصل ہویاں جا کے رب دی جناب وچہ
رب کاروائی کیتی میرے نال او خواب وچہ
جیڑھی مرد عورت کردے کٹھے سوں حجاب وچہ
پھیر مینوں منڈا جمیاں گویا او میں ای ہوں
مرزے دی بول گئی سی ککڑوں کوں
کدے کہندا بندہ نئیں میں بندے دائی پت نئیں
رب دا میں خصم آں تے بیوی آں پر گت نئیں
ایہ نبی دا کلام اے ایہ گند نئیں تے کت نئیں
ایہو جئے بے شرمے دے لائے جاندے جت نئیں
غور نال سن لے سرکار میری توں
مرزے دی بول گئی سی ککڑوں کوں
کدے کہندا میں تے جی مراق دا بیمار واں
ہگنے تے موتنے توں بڑا کئی لاچار واں
پر گڑ دی جگہ روٹیاں نوں کھان دا ہشیار واں
عیسٰیؑ واں موسیٰ واں جے سنگھ اوتار واں
پر گڑ دیاں روٹیاں نال پونجھدا سی گوں
مرزے دی بول گئی سی ککڑوں کوں
صفحہ 254
پہلے وی اس مرزے دے مداری لکھاں کھڈاؤندے رہے
باندری دے کھیڈ وانگوں ڈورو پھڑ وجاؤندے رہے
فرعونی جادوگراں وانگ جال کئی وچھاؤندے رہے
پر عاشقاں نوں ویکھ سارے پیر اگوں چاؤندے رہے
بھجے جاندے کردے رہے سارے بھوں بھوں
مرزے دی بول گئی سی ککڑوں کوں
میں اپنی سرکار نوں ایہ کردا اعلان ایں
مرزا تے مرزائی سارے پکے بے ایمان ایں
نہ ایہ انسان پورے نہ ایہ مسلمان ایں
ختم نبوت دے منکر تے شیطان ایں
ماہی نوں چاہے کتے بلا کے پچھ لویں توں
مرزے دی بول گئی سی ککڑوں کوں
صفحہ 255

مرزے نال ٹکر لیندی آ

جگنی

دو لکڑیاں دو کانے جدوں حق نے ٹھوکے پھانے
مرزا مریا ٹٹی خانے ایہہ گل ساری دنیا جانے
مائی میریا جگنی کہندی آ
باطل نال ٹکر لیندی آ
کتے بندہ بڑھی ہور کتے بن دا مور چکور
نبوت دا ڈاکو چور موذی بچے گور
مائی میریا جگنی کہندی آ
مرزے نال ٹکر لیندی آ
کتے آکھے میں ہاں موسیٰ کتے آکھے اک دا ٹوسہ
لکھ لعنت اے منحوسہ تینوں شرم نہ آئی دیوسہ
مائی میریا جگنی کہندی آ
مرزے نال ٹکر لیندی آ
صفحہ 256
کتے آکھے میں ہاں عیسیٰ کی بولیا بول ابلیسہ
تینوں شرم نہ آئی خبیثہ بھریا روٹیاں دے نال کیسہ
ماہی میریا جگنی کہندی آ
مرزے نال ٹکر لیندی آ
ڈاکٹر عبدالستار دی دھی جیدا نام جی زینب سی
سی خادم مرزے دی خورے کیتا کی کی سی
ماہی میریا جگنی کہندی آ
مرزے نال ٹکر لیندی آ
اک بھانو سی مکار رہندی ہر دم خدمت گار
لتاں گھٹدی اٹھے پہر ہوندا مرزا خوش عیار
ماہی میریا جگنی کہندی آ
مرزے نال ٹکر لیندی آ
جو نئیں من دے میری نبوت سن کے اگوں کر دے ہت
او کنجریاں دے پت مرزا آپ کتے دا پت
ماہی میریا جگنی کہندی آ
مرزے نال ٹکر لیندی آ

۱۔ سیرت المہدی‘ جلد دوئم‘ ص ۲۷۳ --- ۲۔ سیرت المہدی‘ جلد دوئم‘ ص ۲۶۰---

۳۔ آئینہ کمالات اسلام‘ ص ۵۴۷

صفحہ 257
تینوں ظفر اپنے ویاہ دیناں تیرے دل دی آس پجا دیناں
تینوں لڑکیاں دو وکھا دیناں سب پردہ دور ہٹا دیناں
ماہی میرا جگنی کہندی آ
مزے نال ٹکر لیندی آ
منہ لمبا تے اک گول ہے سی دو لڑکیاں آیاں کول ہے سی
دوناں دیاں عمراں سولہ ہے سی میں کیتی خوب ٹٹول ہے سی
ماہی میرا جگنی کہندی آ
مزے نال ٹکر لیندی آ
منہ لمبے والی پسند آئی او نظری مینوں قند آئی
دوجی تے نظری گند آئی لمبی جی وانگ کمند آئی
ماہی میرا جگنی کہندی آ
مزے نال ٹکر لیندی آ
مرزے نے کیہا بول جہدا چہرا پورا گول
ظفرا توں رکھ اہنوں کول اوتے موتی ایہہ ان مول
صفحہ 258
ایہہ ماہی دا اعلان سن لے سارا اج جہان
غلام احمد ہے شیطان مرزا پکا بے ایمان
ماہی میریا جگنی کہندی آ
مرزے نال ٹکر لیندی آ
بالکل سچا ایہہ اعلان سن لے حکومت پاکستان
مرزائی پکے بے ایمان ایہو کہندا کل جہان
ماہی میریا جگنی کہندی آ
مرزے نال ٹکر لیندی آ
سن لے ضیاء الحق جوان ماریں وچہ قرآن دھیان
آکھے نبی تے رب رحمان او مرزا کوئی نئیں مسلمان
ماہی میریا جگنی کہندی آ
مرزے نال ٹکر لیندی آ
صفحہ 259

٭ امین نقوی ٭

میرا مدنی نبی یگانہ ایں جیہدا عرش تے اونا جانا ایں
اوہ سچا مرزا جھوٹا اے اوہ سوہنا ایں ایہہ کانا ایں
اونہوں عرش تے رب بلواندا اے ایہہ ٹٹی وچہ مر جاندا اے
اوہ براق‘ اوہدی اسواری اے ایہہ چھکڑیاں وچہ کھہہ کھاندا اے
چھڈ مرزے قادیاں والے نوں انگریز دے گھالے مالے نوں
کیہ پتہ نقوی ملت دا اس انھے دل دے کالے نوں
کیہ اوہنے چند چڑھایا اے کیہ کھویا اے کیہ پایا اے
اے نقوی نفس دے پالن لئی جس رب رسول بھلایا اے
سب جھوٹے دعوے کردا اے ہر مسئلے دے وچہ ہردا اے
لکھ لعنت نقوی مرزے تے وچہ ٹٹی خانے مردا اے

ہے‘ لہٰذا سو کا فرق ہوا۔۔۔ سو دن چور کے تو ایک دن شاہ کا۔

نازل ہوا کہ اس کا بستر ہی بیت الخلا بن چکا تھا۔ (نقوی)

صفحہ 260
جن کو نہ کچھ پاس پیغمبر کے ادب کا
چن چن کے میں اس قوم کو مٹی میں ملاؤں
اسلام سے جس قوم کو ہے کچھ بھی محبت
میں اس کے لیے راہ میں آنکھوں کو بچھاؤں

(مولانا ظفر علی خاںؒ)

قادیاں کو غرض اسلام کی تبلیغ سے کیا
یہ تگ و دو ہے فقط پیٹ کے دھندے کے لیے
اب بھی کیا دیجئے گا چندہ بشیر الدین کو
شیرمال اور کباب اور پندے کے لیے

(مولانا ظفر علی خاںؒ)

صفحہ 261
محمد سے خطا ممکن، مگر بے عیب ذات اس کی
خدایا تو کہاں ہے کیا ہوئی تیری غضب ناکی
کبھی حج ہو گیا ساقط، کبھی قید جہاد اٹھی
شریعت قادیاں کی ہے رضا جوئی نصارٰی کی
(مولانا ظفر علی خانؒ)
یہ فتنہ پرداز قادیانی نئے نئے گل کھلا رہے ہیں
ادھر رقیبوں سے مل رہے ہیں ادھر ہمارے گھر آ رہے ہیں
منافقوں کی یہ ہے نشانی، زباں پہ دیں ہو تو کفر دل میں
اسی نشانی سے قادیانی تعارف اپنا کرا رہے ہیں
پڑا ہے چندے کا جب سے پھندا گلے میں ان قادیانیوں کے
ہمارے ہی گھر سے بھیک لے کر ہمیں کو آنکھیں دکھا رہے ہیں
(مولانا ظفر علی خانؒ)
صفحہ 262
طاعت رب العلیٰ، عشق محمدؐ مصطفیٰ
رہروان دین پیغمبرؐ کی بنیادیں ہیں دو
بیسوا کا عارض گلگوں ہے زعم سلطنت
دامن فرمانروائی خون ناحق سے نہ دھو
سید الکونینؐ کی پھٹکار اس ملعون پر
جس کے دل میں ہے نبوت کا تصور گومگو

(شورش کاشمیریؒ)

حضور خواجہ خیر الانام سے پہلے
فضا اداس تھی ان کے پیام سے پہلے
نہ ابتداء کی خبر تھی نہ انتہا معلوم
حضور سرور عالم کے نام سے پہلے

(شورش کاشمیریؒ)

صفحہ 263
دامن کش قربانی و ایثار کہاں ہیں
اے قوم ترے قافلہ سالار کہاں ہیں
کس موڑ پہ ہے تذکرۂ ختم نبوت
ناموس پیمبرؐ کے نگہدار کہاں ہیں
لاہور کے ذرات کی گلگونہ قبا بول
بادہ کش خمخانہ احرار کہاں ہیں
پھر شوق شہادت کی نوا گونج رہی ہے
اللہ کی رحمت کے طلبگار کہاں ہیں

(شورش کاشمیریؒ)

ناموس مصطفےٰؐ کے نگہدار زندہ باد
بس میں نہیں کہ ان سے ارادت کو چھوڑ دوں
جاؤں گا اس کے بعد جہنم کی آگ میں
شورش اگر حضورؐ کی الفت کو چھوڑ دوں

(شورش کاشمیریؒ)

صفحہ 264
میکدوں میں بادۂ عشق نبی کا دور ہو
بتکدوں میں غیرت دین حسن پیدا کرو
قادیاں کے زاغ دخمہ کی نبوت کے خلاف
بازوؤں میں قوت خیبر شکن پیدا کرو
(شورش کاشمیری)
مرزائیوں کی بابت اقبال کے قلم سے
جو کچھ نکل چکا ہے ان کو سنا رہا ہوں
اس دور پرخطر کے ویرانہ سخن میں‘
جو لوگ مر چکے ہیں ان کو جگا رہا ہوں
ماضی تو بک چکا ہے اب حال بک رہا ہے
دانشوروں کے ہاتھوں اقبال بک رہا ہے
(شورش کاشمیری)
صفحہ 265
وہ جسے کہہ رہے ہیں ضعف دماغ
ہم اسی کو مراق کہتے ہیں
مدعی جو بھی ہو نبوت کا
دین سے اس کو عاق کہتے ہیں

(علامہ طالوت)

مرزائی سے سوال؟

ایک مرزائی سے سوال کیا
تو جہنم سے کیوں نہیں ڈرتا؟
توند پر ہاتھ پھیر کر بولا
یہ جہنم جو یوں نہیں بھرتا

(شاعر احرار قمر الحسنین)

صفحہ 266

مرزائے قادیاں

مرزائے قادیاں رہبر نہ تھا!
دم بریدہ مرزا احقر نہ تھا؟
اور غلام احمد فرنگی راج میں!
سامراجی پالتو افسر نہ تھا!

(شاعر احرار قمر الحسنین)

درس وفا

بھلا کیا دیں گے وہ درس وفا
جو یورپ کا چوڑا کھا رہے ہیں
یہ تہذیب نوی کی راہ تاریک
کہ مصلح بھی اسی پر جا رہے ہیں

(شاعر احرار قمر الحسنین)

صفحہ 267
ہر ظلم سہیں گے ہمیں منظور نہ ہوگا
مانا نہ گیا امت مرزا کو جو کافر
دستور وہ اسلام کا دستور نہ ہوگا

(سید امین گیلانی)

دیکھو گے برا حال محمدؐ کے عدو کا
منہ پر ہی گرا جس نے بھی مہتاب پہ تھوکا
مایوس نہ ہوں ختم نبوت کے محافظ
نزدیک ہے انجام شہیدوں کے لہو کا

(سید امین گیلانی)

کب موت سے ڈرتے ہیں غلامان محمدؐ
یہ اپنے غلاموں پہ ہے فیضان محمدؐ
ہوتا ہے الگ سر مرا شانوں سے تو ہو جائے
پر ہاتھ سے چھوٹے گا نہ دامان محمدؐ

(سید امین گیلانی)

ہر حال میں حق بات کا اظہار کریں گے
منبر نہیں ہوگا تو سر دار کریں گے
جب تک بھی دہن میں ہے زباں، سینے میں دل ہے
کاذب کی نبوت کا ہم انکار کریں گے
صفحہ 268
ہمیں اس لیے ہے تمنائے جنت
کہ جنت میں ان کا نظارہ کریں گے
پس از مصطفےٰ جو کہے میں نبی ہوں
وہ جھوٹا ہے‘ جھوٹے کو رسوا کریں گے

(سید امین گیلانی)

جو ختم نبوت کا طرف دار نہیں ہے
لاریب وہ جنت کا سزاوار نہیں ہے
خاموش رہے سن کے جو اسلام کی توہین
بے شرم ہے‘ بزدل ہے‘ وہ خوددار نہیں ہے

(سید امین گیلانی)

اپنی ہوس

ابھرے ہیں عیب ان کے اور خوبیاں دبی ہیں
بے دین اگر نہیں ہیں تو شیخ جی غبی ہیں
اپنی ہوس کے آگے ملت کو چھوڑ بھاگے
اور کہہ دیا کہ ہم تو اس عہد کے نبی ہیں

(لسان العصر اکبر الہ آبادی)

صفحہ 269

مرزائی اور ہم

فرق ہے کتنا ہم میں اور مرزائیوں میں
وہ اپنے عاشق’ خود سے بیزار ہیں ہم
جھوٹے نبی کے سچے پیروکار ہیں وہ
سچے نبیؐ کے جھوٹے پیروکار ہیں ہم

(مظفر وارثی)

خنجر ایمان

منکر ختم نبوت ہو رہا ہے قادیاں
آ گیا وقت جہاد ایمان کا خنجر نکال
کہہ دو مرزا سے کہ خاک کعبہ اڑ سکتی نہیں
اپنے دل سے یہ تمنائے جنوں پرور نکال

(ظفر الملت)

صفحہ 270
مٹا دے اپنی ہستی آج ناموس محمدؐ پر
یہ نکتہ ہے مسلماں کی حیات جاودانی کا

(حافظ سہارنپوری)

مسلم نہیں جو ختم نبوت کا ہے منکر
یہ شق تو اب آئین وطن کی ہے رگ جاں

(عاصی کرنالی)

سیفدار حیدرؓ و صدیقؓ باش
قاطع مرتد و ہر زندیق باش

(عتیق الرحمن)

ہشیار ہو اے ختم نبوت کے محافظ
کس کام میں مصروف ہے باطل کی ہوا دیکھ

(عتیق الرحمن)

جان سکتا ہے وہی مرزائیوں کی عاقبت
جس کے ہے پیش نظر حشر ثمود انجام عاد

(مولانا ظفر علی خانؒ)

صفحہ 271
خدا نے تم کو بصیرت اگر عطا کی ہے
تو قادیانیوں کے تیر بے کمال سے بچو

(مولانا ظفر علی خاں)

اسلم یہ واقعہ ہے کہ ذات خدا کے بعد
میرے نبی پہ ختم ہیں، عظمت کے سلسلے

(اسلم کولسری)

زندہ ہیں قادیانی نبوت کے زلہ خوار
قدرت سے دار و گیر میں کچھ ڈھیل ہوگئی

(شورش کاشمیری)

خواجہ کونینؐ مجھ کو بخشوائیں گے ضرور،
اپنے آقا کے لیے شورش فنا ہو جاؤں گا

(شورش کاشمیری)

محمدؐ کی عزت پر ہم جان دے کر
شفاعت بروز جزا چاہتے ہیں

(سید امین گیلانی)

صفحہ 272
مرزائیوں کے حق میں قیامت ہے بٹالہ
کافر کا جنازہ اسی بستی سے نکالا

(مولانا ظفر علی خاںؒ)

نہیں قائل ہوا میں آج تک ان کی شریعت کا
خدا جن کا بروزی ہے نبی جن کا برازی ہے

(مولانا ظفر علی خاںؒ)

منکر ختم نبوت ہو کے اہل قادیاں
اپنے وقتوں کے ثمود و عاد ہو جانے لگے

(مولانا ظفر علی خاںؒ)

مرزائیوں کا نام ذرا دیر میں مٹا
حق کے جلال سے یہی اک ڈھیل ہو گئی

(مولانا ظفر علی خاںؒ)

مرزائیوں سے قطع تعلق ہے مراد
اس طائفے سے کام نہیں رکھتے خردمند

(مولانا ظفر علی خاںؒ)

صفحہ 273
خدا نے دین کامل کر دیا ہے اے امین ان پر
محمدؐ پرچم ختم نبوت لے کے آئے ہیں

(امین)

کچھ شبہ کر نہ ختم نبوت میں بھول کر
وہ آخری نبیؐ ہیں صداقت قبول کر

(سید انوار ظہوری)

ہمیشہ یاد رہتی ہے حدیث ”لانبی بعدی“
میرے ایمان کی بنیاد ہے ختم نبوت پر

(اخگر سرحدی)

تمہی پر ختم کر دی ہر فضیلت
اے ختم رسلؐ! ہادی کلؐ! سید ابرارؐ

(اثر لدھیانوی)

محمدؐ اول و آخر ہیں بے شک
نبوت کے مقدس کارواں میں

(امین نقوی)

تصدیق پیش گوئی انجیل ہو گئی
ختم رسلؐ سے دین کی تکمیل ہو گئی

(انور جمال)

صفحہ 274
تو کسی ایک زمانے کا ہادی تو نہیں
از ازل تا بہ ابد سارا زمانہ تیرا

(اسمعیل ذبیح)

تیرے وجود پہ فہرست انبیاء ہے تمام
تجھی پہ ختم ہے روح الامیں کی نامہ بری

(احسان دانش)

تجھ سے پہلے کا جو ماضی ہے ہزاروں کا سہی
اب جو تا حشر کا فردا ہے وہ تنہا تیرا

(احمد ندیم قاسمی)

زمانہ ابد تک گل فشاں رہے گا
تجھے مرحبا مرحبا کہتے کہتے

(اثر صہبائی)

سلام تم پر کہ حق نے تم کو دیا ہے قرآن معجزہ بھی
تمہی پہ تکمیل دیں ہوئی ہے تمہی ہو سب انبیاء کے خاتم

(ا ر حسین رشیدی)

ہاں آخری نبی ہو نبوت کے باب میں
جس کی نہیں نظیر وہ تنہا تمہی تو ہو

(اشرف سلیم)

صفحہ 275
ازل مقام سے پہلے ابد مقام کے بعد
جہاں جہاں پہ خدا ہے وہاں وہاں تیرا نام

(ایوب خاور)

ہمارے رہبر خدا کے دلبر درود تم پر سلام تم پر
تمہی تو ہو آخری پیغمبرؐ درود تم پر سلام تم پر

(بدر ساگری)

ابن مریم کی بشارت آپ ہیں ختم ہے جس پر نبوت آپ ہیں
مظہر نور حقیقت آپ ہیں آپ ہیں شمع ہدایت آپ ہیں

(بیدل فاروقی)

خاتم الانبیاء محمدؐ ہیں
ابتدا کہئے انتہا کہئے

(بابر احسانی-حکیم)

سورج کو جس کے جسم کا سایہ نہیں ملے
یہ وصف حق کے آخری پیغمبر میں ہے

(برگ یوسفی)

قرآں ہے اپنے واسطے دستور زندگی
ہر دور میں رہے گی قیادت رسولؐ کی

(بسمل صابری)

صفحہ 276
گل ہوگا نہ وہ تا حشر باطل کی ہوا سے
روشن جو کیا حق کا دیا میرے نبیؐ نے

(جواز جعفری)

خدا کا دنیا کی سمت پیغام آخری اور دل نشیں بھی
یہ اک آواز جو زمانوں کی ترجماں‘ دہر آفریں بھی

(جعفر طاہر)

وہ دنیا میں حسن توازن کا پیمانہ
پل پل اس کا دست نگر ہر ایک زمانہ

(جلیل عالی)

تا حشر دیکھ لینا ایسا کبھی نہ ہوگا
بعد نبیؐ ہو کوئی‘ سچا نبی نہ ہوگا

(حامی۔ وزیر علی شاہ)

عرب کی سر زمیں کو آسمانوں نے بشارت دی
تیرے خطے سے ہوگا آخری پیغمبر پیدا

(حسرت حسین حسرت)

ازل سے حق تعالیٰ نے ابد تک جو کیا پیدا
محمدؐ ابتداء ٹھہرے محمدؐ انتہا ٹھہرے

(حافظ پیلی بھیتی)

صفحہ 277
ختم رسلؐ کا مرتبہ ازل سے تجھے ملا
ہیں با ادب تمام پیمبر ترے حضور

(حفیظ تائب)

سلام اس پر کہ بعد اس کے نہ آئے گا نبی کوئی
نہ اس سا کوئی آیا ہے نہ آئے گا نبی کوئی

(حافظ لدھیانوی)

محمدؐ مصطفیٰ پر ہی نبوت ختم ہے لوگو!
نظر اس حکمِ پیمبرؐ پہ رکھنا عین ایماں ہے

(حبیب الرحمن کاچوی)

ہر اک نظام ہے ناکام و فتنہ در آغوش
حضورؐ آپ کے لائے ہوئے پیام کے بعد

(حماد۔ ابوالبیان)

صفحہ 278
وہ قاسم کوثر ہیں وہی ختم رسلؐ ہیں
وہ مصدر اخلاق ہیں وہی نور ہدیٰ ہیں

(خالد شفیق)

وہی معلم اعظم کہ جس سے تا بہ ابد
زمانہ کرتا رہے گا علوم کی تحصیل

(خالد علیم)

چھینٹیں پڑی ہیں جس سے شفاعت کی چار سو
ختم رسلؐ ہی حشر میں وہ آبشار ہے

(رمز محمود الہ آبادی)

ہر اک نبی تھا خاص کسی دور کے لیے
تا حشر ہے نبوت سردار انبیاءؐ

(رشید کامل)

تیری ہر بات کا قصہ چلے گا — قیامت تک یہی سکہ چلے گا
سبھی معیار ثابت ہوں گے وقتی — ہمیشہ بس ترا اسوہ چلے گا

(روحی کنجاہی)

ہے تیرا پیغام اٹوٹ فلسفہ تیرا اٹل
نامکمل تھی خدائی تشنہ تھی پیمبری

(ساغر صدیقی)

صفحہ 279
اے ختم رسلؐ تیرے تبسم کی عنایت
گلشن کی تروتازگی کونین کی دولت

(سعید وارثی)

مچی اک دھوم عالم میں محمدؐ مصطفیٰ آئے
ہوا اتمام دیں جن پر وہ ختم الانبیاء آئے

(سالک عبدالمجید)

سلسلہ ختم نبوت کا ہوا تیرے بعد
پھر نہ لایا کوئی پیغام خدا تیرے بعد

(سجاد رضوی)

سب انبیاء سے پہلے بنا نور آپؐ کا
لیکن حضورؐ آئے تو سب انبیاء کے بعد

(سید سیفی)

ہر اک سمت سے آتی ہے تیری ہی خوشبو
ہر اک زمانہ' زمانہ تیرے جمال کا ہے

(شہزاد احمد)

دست کرم نے شفقت و اکرام دے دیا
بندوں کو اپنا آخری انعام دے دیا

(شیخ نظامی)

صفحہ 280
مرتد ہے وہ جو ختم نبوت کا ہے منکر
کافر ہے جسے اپنی نبوت کا گماں ہو

(شمیل پانی پتی)

ہمیشہ یہ عالم میں گونجا کرے گی
اذان محمدؐ نوائے محمدؐ

(شوق عرفانی)

اسی کا عکس ہیں سارے جہاں کی تہذیبیں
کہاں نہیں ہے ضیائے محمدؐ عربی

(صبا اکبر آبادی)

محمدؐ نبی سرور سروراں
حبیب خدا ختم پیغمبراں

(مصطفیٰ بجنوری)

وہ حسن باطن وہ حسن ظاہر وہ نور اول وہ نور آخر
سدا رہا ہے سدا رہے گا اسی کے زیر اثر زمانہ

(ضمیر فاطمی)

کہیں اول کہیں آخر محمدؐ مصطفیٰ تم ہو
ہماری ابتدا تم ہو ہماری انتہا تم ہو

(ضیاء)

صفحہ 281
اے خدا کے آخری پیغمبر تجھ پر سلام
سب سے اونچا ہے خدا کے بعد تیرا ہی مقام

(ظہور۔ حافظ محمد ظہور الحق)

وہ ختم المرسلیںؐ ہیں باعث اتمام نعمت ہیں
نبوت ختم ہے ان پر سمجھنا عین ایماں ہے

(عنایت اللہ رشیدی)

ہر نبوت کے لیے وقت پہ جانا ٹھہرا
آپؐ آئے تو نہ جانے کے لیے آپؐ آئے

(عاصی کرنالی)

مکمل دین تم پر ہوگیا اے رہبر کامل
قیامت تک تیری سنت پہ چلنا عین ایمان ہے

(عالم فدائی)

علوم حاضرہ سے تیرگی دل کی نہیں جاتی
محمدؐ کی کتاب آخری سے روشنی مانگیں

(عبدالمجید تمنا)

جس امت کو ختم الرسلؐ کی نسبت کا اعزاز ملا
دہر میں غیر اللہ سے کیونکر وہ دب جائے گھبرائے

(فقیر۔ حافظ محمد افضل)

صفحہ 282
قیامت تک خدائی کے حقیقی رہنما تم ہو
نبوت فخر کرتی ہے کہ ختم الانبیاءؐ تم ہو

(فیض لدھیانوی)

جو کچھ تھا ناتمام مکمل کیا اسے
آئے حضورؐ اس لیے سب انبیاءؑ کے بعد

(شکیل شفائی)

قیامت تک رہے گا جلوہ فرما
رسولؐ اللہ کا عہد گرامی

(قمر انجم)

ہو گیا اتمام نعمت آپؐ پر
کامل و جامع شریعت آپؐ کی

(محمد منظور علی شیخ۔ پروفیسر)

میرے حضورؐ کی سیرت فروغ پائے گی
یہ وہ کمال ہے جس کو زوال کوئی نہیں

(محمد منیر قصوری۔ پروفیسر)

جب اپنی پوری جوانی پہ آ گئی دنیا
تو زندگی کے لیے آخری پیغام آیا

(مولانا محمد علی جوہر)

صفحہ 283
آپ ہی ہیں حق کی جانب سے جہاں کے واسطے
آخری پیغام بر بھی آخری پیغام بھی

(محمد افضل تحسین۔صوبیدار)

رسالت کو شرف ہے ذات اقدس کے تعلق سے
نبوت ناز کرتی ہے کہ ختم الانبیاء تم ہو

(مولانا محمد اسعد اللہ خان اسعد)

بعثت خواجہ ہوئی بعد رسولان کرام
صفیں ہو جائیں مکمل تو امام آتا ہے

(مظہر الدین۔حافظ)

آخری تاج نبوت ان کو پہنایا گیا
تا قیامت دیں کے رہبر ہیں محمدؐ مصطفیٰ

(مسلم غازی)

آمد ہے اب ان کی عالم میں جن سے وجود ارض و سماء
اب ختم ہے سب کی رہبری کونین کے رہبر آتے ہیں

(نجم آفندی)

آپؐ ہی پر ختم ہے پیغمبری کا سلسلہ
جس کے بعد آنا نہیں کوئی پیغمبر آپؐ ہیں

(نیاز سواتی)

صفحہ 284
تمہی تو ہو آخری پیغمبر تمہی تو ہو دو جہاں کے رہبر
تمہی ہو سردار ہر دو عالم صلوٰۃ تم پر سلام تم پر

(نذر غوری)

عرش سے وحی کا تا حشر نہیں ہوگا نزول
تا ابد ختم نبوت کی ضیاء میرے حضورؐ

(ندیم نیازی)

تو نبوت کے قصیدے کا مقدس مقطع
دیں کی تکمیل کا پیغام سنانے والے

(نعیم صدیقی)

قطار نبیوں کی آدم سے لے کر عیسیٰ تک
فضا بنائی گئی آخری نبیؐ کے لیے

(نازش قادری)

تا حشر دیکھ لینا ایسا کبھی نہ ہوگا
بعد نبی ہو کوئی سچا نبی نہ ہوگا

(وزیر علی شاہ حامی)

نبی خاتم پہ جو سو جان سے قربان ہوتے ہیں
خدا شاہد ہے وہی صاحب ایمان ہوتے ہیں

(وقار صدیقی)

صفحہ 285
کچھ خوف نہیں کچھ فکر نہیں دامن کو تیرے جب تھاما ہے
اک تیرے سوا اے ختم رسلؐ محشر میں ہمارا کوئی نہیں

(وقار احمد قادری)

تو ہی تکمیل ہے نبوت کی
تو ہی معراج آدمیت کی

(وحیدہ نسیم)

وہ شہنشاہ رسلؐ فخر رسلؐ ختم رسلؐ
دونوں عالم کا شرف دونوں جہاں کی عزت

(وقار ام پوری)

نہیں ہے کوئی پیغمبر میرے حضورؐ کے بعد
حضورؐ سب کے ہیں، سب کے لیے پیام حضورؐ

(ہارون الرشید ارشد)

رواں تھا، رواں ہے، رواں ہی رہے گا
قیامت تلک کاروان محمدؐ

(برہم ناتھ قاصر)

شان معراج سے بس یہ عقدہ کھلا
مرکز عشق ہیں خاتم الانبیاء

(بھگوان داس بھگوان)

صفحہ 286
یہ وہ ذات مقدس ہے رسالت ختم ہے جن پر
ہوا ہے اور نہ ہوگا اب کوئی ہم سر محمدؐ کا

(پیارے لعل رونق دہلوی)

مبارک ہو زمانے کو کہ ختم المرسلیںؐ آیا
سحاب رحم بن کر رحمۃ اللعالمیںؐ آیا

(جگن ناتھ آزاد)

زمیں سے فلک تک‘ فلک سے زمیں تک
ہر اک سمت ہے داستان محمدؐ

(موج گڑھی‘ راجندر بہادر)

محمدؐ کے یہ باغی ہم سے مل کر رہ نہیں سکتے
یہ بیگانوں کے ہیں‘ ہم ان کو اپنا کہہ نہیں سکتے

(سید امین گیلانی)

سچے نبیوں کا اقرار ضروری ہے
جھوٹے نبیوں کا انکار ضروری ہے
ختم نبوت کی نگری میں چور گھسے
نگری والے ہوں بیدار ضروری ہے

(سید امین گیلانی)

صفحہ 287
تاریک ہی رہے گی میری زندگی کی رات
جب تک فروزاں شمع رسالت نہ ہوسکے
ریاض خدا کا گل سرسبد محمدؐ ازل و محمدؐ ابد
محمدؐ کہ حامد بھی محمود بھی محمدؐ کہ شاہد و مشہود بھی
محمدؐ سراج و محمدؐ منیر محمدؐ بشیر و محمدؐ نذیر
محمدؐ کلیم و محمدؐ کلام محمدؐ پہ لاکھوں درود و سلام
زمانہ رہتی دنیا تک سنائے گا زمانے کو
درود ان کا‘ کلام ان کا‘ پیغام ان کا‘ قیام ان کا
سورج نے ضیا اس چشم سے لی‘ اس نطق سے غنچے پھول بنے
اٹھا تو ستارے فرش پہ تھے‘ بیٹھا تو زمین کو عرش کیا
صفحہ 288
اب کوئی الجھن نہ ہوگی دین اکمل کی قسم
زندگی کی الجھنیں سلجھا گیا بطحا کا چاند
خود کلمہ طیبہ سے یہ مسئلہ ثابت ہے
توحید میں شامل ہے اقرار رسالت کا
تعلق ہے میرا اہل نظر کے اس قبیلے سے
خدا کو جس نے پہچانا محمدؐ کے وسیلے سے
جس کو شعاع عشق محمدؐ عطا ہوئی
مسرور اس کا راستہ آساں ہو گیا
مال و زر جہاں کی تمنا نہیں مجھے
عشق رسولؐ میری متاع حیات ہے
صفحہ 289
دہلیز مصطفی سے کہاں اٹھ کے جاؤں گا
میرا تو آسرا ہی پیمبر کی ذات ہے
جس قلب کو نہیں ہے محمدؐ کا غم نصیب
میری نگاہ میں وہ یقیناً ہے کم نصیب
کوئی طلب ہے مجھے زیست میں تو اتنی ہے
نبیؐ کی چاہ ملے اور بے پناہ ملے
کروں گا میں حقیقت عیاں دوستو
کٹ جائے چاہے میری زبان دوستو
صفحہ 290
لکھتا ہوں خون دل سے یہ الفاظ احمریں
بعد از رسولؐ ہاشمی کوئی نبی نہیں
جس زمین پر ہو نبوت کی توہین دوستو
گر پڑے نہ کہیں وہاں آسماں دوستو
مٹ گئے مٹ جائیں گے اعداء تیرے
نہ مٹا ہے نہ مٹے گا کبھی چرچا تیرا
وہ دانائے سبل ختم الرسلؐ مولائے کل جس نے
غبار راہ کو بخشا فروغ وادی سینا
صفحہ 291
نگاہ عشق و مستی میں وہی اول وہی آخر
وہی قرآن وہی فرقاں وہی یٰسین وہی طہٰ
رخ مصطفیٰؐ ہے وہ آئینہ کہ اب ایسا دوسرا آئینہ
نہ ہماری بزم خیال میں نہ دکان آئینہ ساز میں
ہر حال میں حق بات کا اظہار کریں گے
منبر نہیں ہوگا تو سر دار کریں گے
جب تک بھی دہن میں ہے زباں سینے میں دل ہے
کاذب کی نبوت کا ہم انکار کریں گے
صفحہ 292
جن کو نہ ہو کچھ پاس پیغمبرؐ کے ادب کا
چن چن کے میں اس قوم کو مٹی میں ملا دوں
اسلام سے جس قوم کو ہے کچھ بھی محبت
میں اس کے لیے راہ میں آنکھوں کو بچھا دوں
نبی کی عزت و حرمت پہ مرنا عین ایمان ہے
سر مقتل بھی ان کا ذکر کرنا عین ایمان ہے
قادیانی فتنہ اٹھا ہے مسلمانو! اٹھو
خواب سے بیدار ہو للہ دیوانو! اٹھو
حرمت دین محمدؐ کے نگہبانو! اٹھو
شعلہ سامانی دکھاؤ شعلہ سامانو! اٹھو
صفحہ 293
جو مسئلہ ختم نبوت کا ہو حامی
منظور ہمیں اس کے غلاموں کی غلامی
کب موت سے ڈرتے ہیں غلامان محمدؐ
یہ اپنے غلاموں پہ ہے فیضان محمدؐ
ہوتا ہے الگ سر مرا تو شانوں سے ہو جائے
پر ہاتھ سے چھوٹے گا نہ دامان محمدؐ
تکمیل نبوت ہو بھی چکی اجزائے نبوت کیا معنی
جب مہر منور تاباں ہو ہم رات کا دھوکا کیوں کھائیں
صفحہ 294
مصطفےٰؐ سے عشق رکھ مرزا کا سودائی نہ ہو
دین حق پر رکھ یقیں باطل کا شیدائی نہ ہو
ہری ہے شاخ تمنا ابھی جلی تو نہیں
دلوں کی آگ دبی ہے، ابھی بجھی تو نہیں
جفا کی تیغ سے گردن وفا شعاروں کی
کٹی ہے برسر میداں مگر جھکی تو نہیں
مسلماں لاکھ برے ہوں مگر نام محمدؐ پر
وہ تیار ہیں ہر حالت میں اپنا سر کٹانے کو
صفحہ 295
ہوشیار ہو اے ختم نبوت کے محافظ
کس کام میں مصروف ہے باطل کی ہوا دیکھ
رشتہ نہ ہو قائم جو محمدؐ سے وفا کا
پھر جینا بھی برباد ہے مرنا بھی اکارت
محمدؐ مصطفیٰ کے واسطے کیا کیا سعادت ہے
نبوت ہے‘ رسالت ہے‘ قیادت ہے‘ امامت ہے
مرزائیت دور ہوگی سنت صدیقؓ سے
یہ فتنہ آخر دور ہوگا قتل زندیق سے
یہ پہلی نشانی ہے مرد خدا کی
کہ الفت ہو دل میں شہ انبیاء کی
صفحہ 296
توڑیں گے ہر اک لات و ہبل جھوٹے نبی کا
پابوس ہر اک مسجد ضرار کریں گے
٭
اے جان دینے والو محمدؐ کے نام پر
ارفع بہشت سے بھی تمہارا مقام ہے
٭
تحریک پاک ختم نبوت کے عاشقو
واللہ! تم پر آتش دوزخ حرام ہے
٭
شہید عشق نبی ہوں میری لحد پہ شمع قمر جلے گی
اٹھا کے لائیں گے خود فرشتے چراغ خورشید سے جلا کر
٭
چشم اقوام یہ نظارہ ابد تک دیکھے
رفعت شان رفعنا لک ذکرک دیکھے
٭