نغمات
ختم نبوت
حصہ اول
محمد
ترتیب و تدوین: محمد طاہر رزاق
نغمات ختمِ نبوّت
ترتیب و تدوین
محمّد طاہر رزّاق
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوة
حضوری باغ روڈ ملتان ☎ 40978
انتساب
صحابیِ رسولؐ حضرت وحشیؓ بن حَرب کے نام ــــــ جنہوں نے یمامہ کے میدان میں مسیلمہ کذّاب کو جہنم واصل کیا۔
فہرست
صفحہ
- انتساب 3
- شعاع اولین (محمد طاہر رزاق) 6
- حرف پیشیں (پروفیسر محمد منور) 8
- آغازیہ (مظفر وارثی) 17
- ارمغان حمیت (نذیر احمد غازی) 20
- ہدیہ نعت 23
- علامہ اقبالؒ 32
- مولانا ظفر علی خاںؒ 44
- علامہ طالوتؒ 82
- مظفر وارثی 88
- آغا شورش کاشمیریؒ 89
- ساغر صدیقی 131
- سیف الدین سیف 137
- سید امین گیلانی 139
- جانباز مرزا 178
- ازہر درانی 186
- نعیم صدیقی 188
- وقار انبالوی 189
- منظور الحسن شاہ 190
- محمد شریف عاصی 194
- جامی بی اے علیگ 197
- حضرت شوق 201
- حکیم آزاد شیرازی 203
- علی اصغر چشتی صابری 205
- شاہین اقبال اثر 206
- عالم شیر عالم جے پوری 207
- مولانا عبدالعزیز شوق انبالوی 208
- محمد حیات غمگین 209
- عارف صحرائی 210
- سلطان قدیر 212
- فضل احمد صدیقی 213
- حنیف رضا 214
- علی اصغر چشتی 217
- حکیم محمد شریف خاں منتظر درانی 219
- ادریس احمد آزاد 223
- ناشر حجازی 225
- فیروز فتح آبادی 226
- مقصود عالم شاہ کوٹی 228
- قمر الحسنین قمر 229
- محمد سلیم ساقی 231
- ابراہیم اسمعیل 232
- حافظ مشتاق عباسی 233
- غلام نبی میر ناسک 234
- محمد ارشد کمال 236
- عنایت اللہ رشیدی 238
- حفیظ رضا پسروری 240
- شریف جالندھری 241
- سائیں حیات 243
- محمد شریف عاصی 244
- امین نقوی 259
- متفرقات (شاہکار قطعات و اشعار) 261
شعاع اولیں
تحریک تحفظ ختم نبوت میں جہاں ادیبوں اور خطیبوں نے عظیم معرکے سرانجام دیے ہیں، وہاں شاعروں کی خدمات بھی آب زر سے لکھنے کے قابل ہیں۔ اسلامی غیرت و حمیت سے سرشار اسلام کے ان فرزندوں نے فتنہ قادیانیت کی جو مذمت و مرمت کی ہے، وہ تاریخ تحفظ ختم نبوت کا ایک درخشاں باب ہے۔ انہوں نے اپنے قلم کو تلوار بنا لیا اور لفظوں کو شعلوں کا جسم دے کر قادیانیت کے قلعے پر ٹوٹ پڑے اور اس قلعہ ارتداد میں دراڑیں ڈال دیں۔ ان کی ولولہ انگیز، جہاد آفریں اور باطل سوز شاعری کی گونج ہندوستان کے کونے کونے تک پہنچی اور خوابیدہ مسلمانوں میں بیداری اور تڑپ پیدا کرتی گئی۔ بڑے بڑے جلسوں میں جہاں نامور خطیبوں کو مدعو کیا جاتا، وہاں ان شاعروں کو بھی دعوت دی جاتی۔ جلسے میں ان کی شمولیت کسی نامی خطیب سے کم اہمیت نہ رکھتی۔ وہ اپنے کلام اور آواز کا جادو جگاتے، لوگوں کو تڑپاتے، رلاتے، عشق رسولؐ سکھاتے اور ختم نبوت کا مجاہد بناتے۔ وہ انتھک اور باہمت لوگ ہوا کے دوش پر سوار ہندوستان کے گاؤں گاؤں اور شہر شہر پہنچے اور محسن انسانیت کے امتیوں کو قادیانیت کی زہرناکیوں سے بچانے کا سامان کیا۔ یہ ان کی شب و روز محنت کا نتیجہ ہے کہ آج قادیانیت اور بانی قادیانیت ایک گالی بن چکے ہیں۔ ان کا کلام، جو ہماری تاریخ کا ایک بہت بڑا سرمایہ ہے، افسوس کہ وہ اکٹھا نہ کیا گیا، جس کی وجہ سے بہت سا کلام گردش لیل و نہار کی نذر ہو گیا، جو ہمارے لیے ایک سانحے سے کم حیثیت نہیں رکھتا۔ ایک دن میرے واجب الاحترام دوست جناب فیاض اختر ملک، جناب محمد متین خالد اور جناب محمد صدیق شاہ، جو اپنے دل میں اسلام کی تڑپ اور ختم نبوت کے عشق کی لازوال دولت رکھتے ہیں، مجھے حکم دیا کہ اس ایمان پرور اور جہاد آفریں کلام کو اکٹھا کیا جائے اور پہلی کوشش میں جتنا کلام مل جائے، اسے فوراً شائع کر دیا جائے کیونکہ ہمارے تحریکی لٹریچر میں اس لٹریچر کی اشد ضرورت ہے۔ سب دوستوں
نے اپنی اپنی بساط کے مطابق اس ”دولت“ کو تلاش کرنا شروع کیا۔ ہر کوئی اپنی ہمت کے مطابق اس دولت کو اکٹھی کر کے لایا اور اس ساری دولت کو میں نے اکٹھا کر کے ایک بڑے خزانے ”نغمات ختم نبوت“ جلد اول کی شکل میں آپ کی خدمت میں پیش کر دیا ہے۔ ہم نے دوران تلاش یہ دیکھا ہے کہ ان عظیم شاعروں کا کام ہمارے دینی اور سیاسی لٹریچر میں یوں بکھرا پڑا ہے‘ جیسے چرخ نیلوفری پر ستارے بکھرے پڑے ہیں۔ انشاء اللہ جلد ہی ان ستاروں کو اکٹھا کر کے ایک کہکشاں ”نغمات ختم نبوت“ جلد دوم کے نام سے آپ کی خدمت میں پیش کرنے کا اعزاز حاصل کریں گے۔ آپ سے خصوصی دعاؤں کی خصوصی التجا! خدا آپ کا اور ہمارا حامی و ناصر ہو!
خاکپائے مجاہدین ختم نبوت محمد طاہر رزاق بی۔ایس سی‘ ایم۔اے (تاریخ) 15 اکتوبر 1993ء لاہور
حرف پیشیں
عزیز محمد طاہر رزاق تشریف لائے اور اپنی کتاب ”تحفظ ختم نبوت“ بطور تحفہ میرے سپرد کی۔۔۔۔۔۔ پھر ایک کتاب کی ڈمی میرے حوالے کی‘ جس کا مجوزہ نام ”نغمات ختم نبوت“ ہے اور ساتھ ہی فرمائش کر دی کہ ”نغمات“ کا تعارف لکھنا ہے۔ عزیزوں کا حکم سر آنکھوں پر‘ کتاب ”تحفظ ختم نبوت“ چند روز میں پڑھ ڈالی۔ محمد طاہر رزاق صاحب نے بڑی محنت صرف کی ہے اور مرزا غلام احمد قادیانی کی اصل تحریروں سے باحوالہ عبارتیں نقل کر کے اس مسیلمہ عصر حاضر‘ کا کچا چٹھا بیان فرما دیا ہے۔ ”نغمات ختم نبوت“ میں قادیانی نبوت اور قادیانی نبی کے بارے میں بہت سے شعرائے کرام کی نظمیں ہیں‘ جن میں مولانا ظفر علی خان‘ علامہ اقبال‘ آغا شورش‘ سید امین گیلانی‘ ساغر صدیقی‘ سیف الدین سیف‘ حنیف اسعدی‘ جانباز مرزا‘ حنیف رضا اور دیگر اہل ایمان و اخلاص شامل ہیں۔ خدا ان سب کی یہ تبلیغی کوشش قبول فرمائے اور ان کو بدرجہا جزائے خیر سے نوازے۔
پھر ایک اور ملاقات میں‘ میں نے پوچھا کہ اے عزیز محترم! خود آپ کے پاس مرزائے قادیاں کی اصل کتب موجود ہیں۔ ان کا جواب تھا کہ تقریباً ساری موجود ہیں۔۔۔ میں نے عرض کیا کہ احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ وہ کتابیں سنبھال کر رکھیں‘ بلکہ ان کے عکسی نسخے بھی تیار کروائیں اور ان کو محفوظ کرنے کا قابل اعتماد بندوبست کریں۔۔۔ میں نے مزید تاکیداً کہا کہ قادیانی حضرات مرزا غلام احمد کی کتب یا ان پر لکھی جانے والی کتب لائبریریوں میں رہنے نہیں
دیتے‘ ہاتھ صاف کر جاتے ہیں‘ حتیٰ کہ ذاتی لائبریریوں تک بھی بڑی چابک دستی سے رسائی حاصل کرتے ہیں۔ یہ لوگ بڑے غالی دشمن مرزائیت بن کر اعتماد جماتے ہیں اور پھر مرزائیوں کے خلاف کچھ لکھنے کے بہانے وہ کتب نکلواتے اور غائب کر دیتے ہیں۔ میں اس باب میں ایک سے زیادہ ذاتی لائبریریوں کے باب میں گواہ ہوں۔
مرزائی حضرات کو مرکز کے متوسلین کی جانب سے ایسی کتب اڑانے کا حکم وقتاً فوقتاً ملتا رہتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ وہ ایسا حکم کیوں دیتے ہیں؟ کیا وہ خوش نہیں ہوتے کہ مرزائے قادیان کی اصل تحریریں دیکھنے اور مستفید ہونے کا موقع ملتا ہے؟------ اصل بات یہ ہے کہ وہ مرزا کی اصل تحریریں جوں کی توں لوگوں کو دکھانا نہیں چاہتے--- ”مرکز“ والوں کو معلوم ہے کہ ان تحریروں میں کیا خرافات ہیں‘ چنانچہ وہ ان تحریروں کے نظرثانی شدہ اور محرف نسخے عام کرتے ہیں۔ خود اپنے ہم مذہب قادیانیوں کی اکثریت کثیرہ کو حقیقی مرزا سے واقف نہیں ہونے دیتے۔
آج ہم جب کہتے ہیں کہ مرزائے قادیان نے انگریز کے ساتھ سازباز کی تو قادیانی حضرات فوراً تردید کرتے ہیں‘ لیکن اگر وہ خود مرزائے قادیان کی اپنی تحریریں اس ضمن میں دیکھ لیں تو بہت سوں کے دل ہل جائیں--- قادیانی امت کے اکثر افراد کو مرزا غلام احمد کے بارے میں ”مرکز“ کی طرف سے جو کچھ شائع شدہ ملتا ہے‘ وہ بہت کچھ صاف کرنے کے بعد تقسیم ہوتا ہے۔ جارج برنارڈ شا نے ایک جگہ لکھا ہے:
"A Saint is a dead rogue, revised and edited."
کم از کم مرزائے قادیان کے بارے میں تو یہی ہو رہا ہے۔ قادیانی امت کے افراد بیچارے اکثر مخلص لوگ ہیں‘ جو اسلام کے نام پر فریب کھائے ہوئے ہیں--- وہ تو اسی نقارے کو سن سن کے بہرے ہوتے جا رہے ہیں کہ مرزائی علماء اور مبلغین خوب خوب اسلام کی خدمت کر رہے ہیں اور حق یہ ہے کہ خود ان نام نہاد علماء اور مبلغین میں سے بھی بھاری اکثریت اسی طرح کے مرزا غلام احمد کو جانتی ہے جس طرح ”مرکز“ نے ان کی آگاہی یا علم کا اہتمام کیا‘ اور پھر ان میں سے غالب اکثریت رفتہ رفتہ پیٹ کی لپیٹ میں آ کے عاجز ہو کر رہ جاتی ہے‘ مزید
بر آں یہ کہ ہر قادیانی اس طرح معاہدوں اور تمسکوں میں بندھ جاتا ہے کہ ہل نہیں سکتا، ثم مزید بر آں یہ کہ ہر قادیانی اپنی اور اپنی اولاد کی شادیوں کے باب میں بھی اس طرح مقید ہو کر رہ جاتا ہے کہ خواہ اندر سے زندگی کے کسی مرحلے پر اس کو حقیقت سے آگاہی ہو بھی جائے تو وہ پھڑک نہیں سکتا۔ وہ گستاخی کرے تو گھر اس کا نہیں رہتا، وہ گستاخی کرے تو اس کا بیٹا اور بھائی بہن جہاں پھنسے ہوتے ہیں، وہ بے بس نظر آنے لگتے ہیں۔۔۔ یہی نہیں جان خطرے میں پڑ جاتی ہے، ہم نے خود بعض ایسے دل جلوں کی باتیں سنی ہیں، لیکن ضعف ایمان کے باعث جن خطرات کا نقشہ ان کے سامنے ہوتا ہے، وہ بغاوت نہیں کرتے ہیں۔ جن لوگوں نے بغاوت کی وہ بہت تھوڑے ہیں۔۔۔ یا تو وہ زور دار برادری والے ہوں یا ان کو کسی مضبوط گروہ یا جمعیت کی سرپرستی میسر آجائے، ورنہ عاجز ہو کر پٹ کر اور مار کھا کر واپس اسی بھورے میں دھنس جائیں۔۔۔ اور قادیانی امت کا ایک فرد کہلاتے ہوئے رحلت فرما جائیں۔
ملک محمد جعفر، جو جنرل اختر ملک اور جنرل ملک عبدالعلی کے بھائی بند تھے، قادیانیت سے تائب ہوئے تو انہوں نے مجبورین قادیانیت کی حالت زار کو واضح کرنے کے لیے ایک کتاب لکھی جو بڑی مدلل تھی اور درحقیقت وہ ایک خط تھا جو ان کے اپنے قادیانی عزیزوں کے نام تھا، جو قادیانیت کے جال میں کئی کئی طرح پھنس کر رہ گئے تھے۔ یہ ملک جعفر وہی ہیں، جنہوں نے اٹک میں وکالت شروع کی، پھر لاہور ہائی کورٹ میں پریکٹس کرتے رہے، پھر پیپلز پارٹی کی بھٹو وزارت میں وزیر بھی رہے۔ ان کی کتاب، جو بیچارے مقید قادیانی علماء اور مبلغین کی دردمندانہ ترجمانی کرتی ہے، اب لائبریریوں سے غائب ہے۔ مرزا شفیق نے ”شہر سدوم“ لکھی، پڑھ کر رونگٹے کھڑے ہو گئے، پھر وہ کتاب بھی غائب اور شفیق مرزا بھی ملاقاتیوں سے کنارہ کش، ان کے عزیزوں پر اور خود ان پر اہل ربوہ کے ہاتھوں جو گزری، وہ ہم نے اپنے کئی دوستوں کی موجودگی میں ان کی زبان سے اپنے کانوں سے سنی۔ اسی طرح ہمارے کرم فرما مرزا محمد حسین، جو مرزا محمود احمد کی بچیوں کے ٹیوٹر تھے، سالہا سال دارالخلافت قادیان میں نہیں بلکہ بیت الخلافت میں رہے، پھر جب مرزا محمود احمد کے بارے میں اپنی شاگردوں کی زبانی سنی جانے والی باتوں پر یقین آگیا تو صدمے سے ایک رات کے اندر گنجے ہو گئے۔ کہا کرتے تھے،
میرے ننھیال ددھیال میں گنجے نہیں پائے جاتے ہیں۔ ایک رات میں فلاں حقیقت سے بالیقین آگاہ ہو کر گنجا ہو گیا۔
جیسا کہ پہلے عرض ہوا قادیانی امت کے اکثر افراد کو واقعی خبر نہیں کہ قادیانیت کیا ہے۔ وہ تو خانوادۂ غلام احمد کی ظاہری اسلام داری پر مرے جا رہے ہیں‘ اور عقیدت و ایثار میں اس طرح بندھ گئے ہیں کہ اب سچ سن نہیں سکتے‘ اگر سچ ان تک پہنچ جائے تو ان کی کتنی دل شکنی ہو‘ اس کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا۔۔۔۔۔۔ درحقیقت قادیانی امت ایک مالی اور سیاسی کمپنی ہے‘ جس پر دین کا رنگ و روغن چڑھایا گیا ہے اور اس کمپنی کی دولت اور وجاہت کا مالک خانوادۂ غلام احمد قادیانی ہے۔ عام قادیانی اس رنگ و روغن پر فریفتہ ہے‘ اندر کیا ہے‘ حقائق کیا ہیں؟ اس سے محض اندرونی حلقہ واقف ہوتا ہے اور اندرونی حلقہ بڑے ہی استاد اور فن کار افراد کا مجموعہ ہوتا ہے۔ وہ افراد ایمان کی نمائش کرنے والے عیاش لوگ ہوتے ہیں جو زر کے بت پوجتے ہیں‘ جن کے آگے بھی ہوس ناچتی ہے اور پیچھے بھی۔
آپ کو حسن بن صباح کی امت کے احوال معلوم ہیں۔ اس کے فدائی تو قادیانی فدائیوں سے بھی آگے تھے۔ انہوں نے بھنگ کے نشے میں ایک جعلی جنت دیکھ رکھی ہوتی تھی۔ وہ جنت جس میں شراب و شاہد کی فراوانی تھی‘ جس کا انہوں نے فقط جلوہ دیکھا یا کچھ بھی مزہ چکھا اور پھر دوبارہ بھنگ کے نشے میں خوفناک اور تاریک شب کے ہولناک منظر میں چھوڑ دیے گئے تھے۔ ان کی بے تابی‘ ان کے خوف‘ ان کی جنت گم گشتہ کے دائمی حصول کا مسئلہ پھر کس طرح حل ہوتا تھا؟ تاریخیں گواہ ہیں۔۔۔۔ کیا وہ فدائی بیچارے‘ جو مخلص مسلمان اکابر کی جان لینے کے درپے رہتے تھے‘ بلکہ جن کے ہاتھوں تقریباً دوسو سال کے عرصے میں ہزاروں اکابر اور لاکھوں عام مسلمان ہلاک ہوئے‘ یہ جانتے بھی تھے کہ وہ کس فریب میں مبتلا ہیں؟ وہ تو شیخ الجبال کے ادنیٰ فدائی تھے۔ شیخ الجبال یعنی حسن بن صباح کے دس جانشین ہوئے‘ آخری خورشاہ تھا‘ جو ہلاکو کے حملے میں اپنے قلعہ الموط سمیت ہلاک ہو گیا۔۔۔۔۔۔ قلعہ الموط میں اہل حشیش کا اندرونی حلقہ چلتا رہا۔ اس میں کا ایک فرد چل بسا تو کوئی دوسرا‘ جو آزمودہ کار عیار‘ صاحب فن اور ظالم اور عیاش اور بندۂ ہوس ہو‘ وہ اس کی جگہ آگیا۔ دو سو سال ایک
”منظم اندرونی حلقہ“ اپنا کاروبار مکر و تزویر چلاتا رہا‘ عالم اسلام کو تہ و بالا کرتا رہا اور اس حلقے سے باہر والے سادہ دل قربان ہوتے رہے اور قتل کرتے رہے۔------ وہ ظاہر پر مرتے رہے۔ ان کا پکا سبق یہ تھا کہ ہر ظاہر کا ایک باطن ہے‘ مثلاً بظاہر کسی معصوم اور بے گناہ کی بربادی بباطن ثواب حج کا درجہ رکھتی تھی۔
یہ کائنات بڑی منظم ہے‘ ذرہ ذرہ باہم مربوط ہے‘ اس کے محکم اصول و آئین ہیں۔۔۔ اس محکم تنظیم کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر یعنی کذب و دروغ بھی منظم ہو کر چل پڑے تو بڑا وقت نکال جاتا ہے۔ بہرحال حسن بن صباح کی تحریک کی اصلیت تاریخ میں مرقوم ہے‘ یہ الگ بات ہے اس کی اولاد آج مہذب روپ اختیار کر کے اور علم و تحقیق میں نام پیدا کر کے اپنا کام دوسرے طریق پر کر رہی ہے۔ اب خنجر نہیں‘ اب دیگر ہتھیار ہیں مگر شکار بہرطور امت مسلمہ ہے اور روح اسلام۔ اسی طرح مرزائے قادیان کے گرد ایک حلقہ تھا‘ جو حقیقت کو جانتا تھا‘ بلکہ اس سالوسی حقیقت کی تعمیر میں شریک مستعد تھا۔ اس حلقے کے افراد کو معلوم تھا کہ حسن بن صباح کے داعیوں کی طرح تقدس اور پاک بازی کا لبادہ اوڑھ کر روحوں کو کس طرح لوٹنا ہے۔ وہ ”اندرونی حلقہ“ اب بھی قائم ہے۔ کیا نور الدین اور اس کے عزیزوں کو نہیں معلوم کہ اصلیت کیا ہے؟ کیا ظفر اللہ خان چودھری اور اس کے ہم ہوس اور ہم نفس یاروں کو نہیں معلوم کہ وہ کیا کھیل کھیل رہے ہیں؟ کیا مرزا محمود احمد اور اس کی اولاد کو نہیں معلوم کہ وہ اسلام اور اہل اسلام کی کیا کیا ”خدمت“ کر رہے ہیں؟ مگر عام قادیانی تو باطنی داعیوں کی طرح اندھا دھند فدا ہوا جا رہا ہے۔۔۔ باطنی تنظیم کی طرح ان کی تنظیم بھی بڑی مستحکم ہے‘ بڑا وقت نکال جائے گی۔۔۔ حسن بن صباح کے مہذب وارث ہیروں اور موتیوں میں تل رہے ہیں۔ لاکھوں جانوں اور روحوں پر حکومت کرتے ہیں۔ اسی طرح مرزا غلام احمد کے تقدس ماب‘ پاکیزہ سرشت وارث سونے اور جواہرات میں تلتے رہیں‘ دوسروں کی محنت کی کمائی پر اپنے سالوس و زور کے زور پر عیش کرتے رہیں۔ ان کا کمال فن لائق داد ہے‘ اور ان کے سادہ دل فدائیوں کی سادگی لائق ہمدردی۔۔۔ جرمن فلاسفر نطشے نے لکھا تھا کہ قیامت اس وقت تک نہیں آئے گی‘ جب تک وہ ہونق پیدا نہ ہو جائے جس کو کوئی عقیدت
مند نہ ملے۔۔
ایک بھارتی فنکار الوہی قوتوں کا مظہر بن گیا۔ دنیا بھر میں مرید پیدا کر لیے۔ امریکہ میں خصوصاً ایک بہت بڑا مرکز قائم کیا۔ نام رجنیش بابا تھا۔ خوب عیاشی کی‘ مگر کمبخت کو کوئی اندرونی حلقہ بنانے کی نہ سوجھی‘ کوئی نورالدین اور چودھری ظفراللہ خان اس کو بھی مل جاتا تو وہ اور اس کی تحریک صبائیوں اور قادیانیوں کی طرح بڑا وقت نکال جاتی۔ یہ رجنیش بابا شاید 1991 میں مرا‘ اب بھی امریکہ اور بھارت میں اس کے فدائی چیلے بے شمار موجود ہیں۔ اسی طرح بمشکل ایک سال ہونے کو ہے کہ ایک شخص حضرت عیسیٰ کا بروز بن کر امریکہ میں اٹھا۔ نام کریش تھا۔ اس پر ایمان لانے والے اس کی خاطر جانوں پر کھیل گئے۔ اگر اس کے کاروبار کا مہتمم بھی کوئی ذہین اندرونی حلقہ ہوتا تو وہ اتنی جلدی بھسم نہ ہوتا‘ شعبدہ باز تو یہاں وہاں موجود ہیں‘ دنیا بھر میں ہیں‘ عالم اسلام میں تو روحانی پیشوائیت کے پردے میں یہ ناٹک یہاں وہاں عام کھیلا جا رہا ہے اور اس ناٹک کے ذریعے زندگی کو عیاشی کا زیور پہنانے والے چھرے اڑا رہے ہیں۔ شکار ہونے والے ضروری نہیں کہ ان پڑھ ہوں‘ اور شکار کرنے والے ضروری نہیں کہ بہت ہی پڑھے لکھے لوگ ہوں‘ یہ کاروبار ایک عجیب کاروبار ہے‘ جس میں روحانی اور فطری تقاضے گمراہ ہو کر غلط پٹڑی پر پڑ جاتے ہیں۔ احمق مقتدی‘ اور عالم و فاضل مقتدی‘ علامہ اقبالؒ نے فرمایا تھا۔
ما بہ تمنائے او‘ او بہ تماشائے ما
معنی ہے
(خدا کی تلاش میں دل بے تاب ہوا‘ لہٰذا تسکین کی خاطر اس نے عبادت گاہیں اور عقیدت کدے پیدا کر لیے۔ ہم نے یہ سب کچھ خدا کی تمنا اور اشتیاق میں کیا اور خدا ہماری اس بے تابی کے باعث ہماری ٹامک ٹوئیوں کا تماشا دیکھتا رہا)
----- آخر یہ تو ایک حقیقت ہے اور ناقابل تردید حقیقت کہ آدمی کے روحانی تقاضے جسمانی بھوک کی طرح تشفی اور تسکین چاہتے ہیں۔ پھر جس طرح آدمی جسمانی تقاضے صحیح طور پر بھی پورے کرتا ہے اور غلط طور پر بھی، بالکل اسی طرح وہ اپنے روحانی تقاضے بھی ہر دو طرح پورے کر لیتا ہے۔ بت پرستی ذوق عبودیت ہی کی تسکین کی کوشش ہے۔ وہ جو ہدایت پا گئے، وہ اللہ کی عطا کردہ وحی کے مطابق چلے اور عبادت خداوندی اور ذکر الٰہی اور اطاعت اوامر کے باعث اطمینان کی دولت پانے میں کامیاب ہو گئے --- بصورت دیگر، گمراہ ہو گئے۔ بت پوجنے والا کون شخص ہے؟ وہی جو اندر کی بھوک مٹانا چاہتا ہے۔ وہ عبادت بہ تقاضائے فطرت کرتا ہے، وہ مجبور ہے اس پر، لیکن بے تابی میں گمراہ ہو جاتا ہے یا اہل ہوس کے ہتھے چڑھ کر گمراہ ہو جاتا ہے اور یہ گمراہ کرنے والے اشخاص اپنے اپنے دور کے مذہبی تقدس والے نمائشی لوگ ہوتے ہیں--- یہ اندرونی بھوک مٹانے والا فرد ہر قسم کا ہو سکتا ہے، کسان بھی، مزدور بھی، بادشاہ بھی، وزیر بھی، پڑھا لکھا بھی اور ان پڑھ بھی۔ کسی غلط راستے پر پڑھے لکھے جا رہے ہوں تو محض ان کو دیکھ کر یہ فرض نہیں کر لینا چاہیے کہ فلاں راستے پر چونکہ پڑھے لکھے جا رہے ہیں، لہٰذا وہ صراط مستقیم ہے۔ عام لوگ بارہا خواص کی گمراہی کے باعث گمراہ ہو جاتے ہیں۔ پڑھا لکھا ہونا اور معاملہ ہے، نور ایمان کا مالک ہونا جدا مسئلہ ہے۔
پھر یہ بھی ضروری نہیں کہ ایک آدمی، جو دنیوی علوم میں سے بعض علوم پر حاوی ہو، وہ روحانی اور دینی امور پر بھی قدرت رکھتا ہو۔ علم کی ایک کھڑکی کھلی ہو تو آدمی بحرالعلوم نہیں ہو جاتا، ابو نواس بغداد کا مشہور شاعر گزرا ہے، اس کا ہم عصر ایک شخص نظام تھا، جو معتزلہ کے گروہ کا فرد تھا اور فلسفے کے زور پر علامہ بنتا اور بہت دلیل بازی کرتا تھا۔ اس سے اشارۃً خطاب کر کے ابو نواس نے کہا تھا۔
حفظت شيئا و غابت عنك اشياء
مراد ہے، اس شخص سے کہہ دو جو فلسفے کی بنا پر علم پر حاوی ہونے کا دعوے دار ہے کہ دار ہے کہ تم نے
ایک شے یاد رکھ لی‘ اور پا لی مگر بہت سی اشیاء تمہاری نظروں سے اوجھل رہیں (یا اوجھل ہوگئیں)
ہمارے یہاں یا یوں کہئے کہ امت مسلمہ میں عموماً پڑھے لکھے لوگوں کی فیصد تعداد کیا ہے؟ اور پھر ان میں جو دین میں راسخ ہوں‘ وہ کتنے ہیں؟ علاوہ ازیں یہ بات پھر وہیں کی وہیں رہتی ہے کہ دینی علم یا امور شریعت سے آگاہ ہونے کے باوجود وہ کتنے لوگ ہیں جن کا ایمان پختہ ہے‘ جن کے بارے میں یقین ہو کہ وہ لالچ یا خوف میں مبتلا ہو کر غلط راہ قبول نہیں کر لیں گے۔ گمراہی کے اسباب گنے نہیں جا سکتے‘ اور جو لوگ گمراہ ہو جاتے ہیں‘ وہ روز بروز اپنی گمراہ برادری میں پھنستے اور کھنچتے چلے جاتے ہیں۔ تجارت کا معاملہ‘ رشتوں کا معاملہ‘ نوکری کا معاملہ‘ نوکری میں ترقی کا معاملہ‘ بیرونی علمی وظائف کا معاملہ‘ ایکسپورٹ امپورٹ کا معاملہ اور پھر اپنی برادری کے بڑھنے سے اپنی قوت کے پھیلنے کے احساس کا معاملہ --- مراد ہے کوئی ایک چکر نہیں‘ ذرا ایمان کمزور ہو تو دل میں بے شمار گمراہ کن واہمے ڈیرہ ڈال لیتے ہیں--- خانہ خالی را دیو می گیرد‘ ویران گھر جن بھوت کا مسکن بن جاتا ہے‘ مضبوط ایمان سے خالی دل بھی ہوس کی مختلف بلاؤں میں گرفتار ہو کر رہ جاتا ہے۔ ہمارے قادیانی عزیز قابل رحم لوگ ہیں۔ ان میں اکثر وہ ہیں جو ضعف ایمان کے باعث گرفتار ہوس ہوئے اور اب اسی ضعف ایمان کے باعث اس پھندے سے نکل نہیں سکتے‘ اصل رشتہ اللہ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا ہے‘ باقی سب دروغ۔ علامہ اقبال نے کیا خوب فرمایا تھا۔
بتان وہم و گماں لا الہ الا اللہ
رہے وہ افراد جو اس کاروبار مکر کو چلانے والے ہیں تو فتنہ گری ان کی دولت‘ عیاشی اور سیادت و قیادت کا مسئلہ ہے‘ وہ اپنی بادشاہی کیوں چھوڑیں‘ اور وہ اپنی رعیت کو کیوں بھاگنے دیں؟
فان ہیمر جرمن محقق تھا۔ اس کی کتاب "History of the Assassins" حسن بن صباح‘ شیخ الجبال کی حشیشی امت کی بڑی حد تک صحیح روداد ہے۔ اس کتاب میں فان ہیمر
لکھتا ہے کہ بعض اوقات کسی بڑی مذہبی جمعیت کے خلاف کوئی نہ کوئی ایسی جماعت پیدا ہو جاتی ہے جو بڑی جمعیت کی ناقد اور مصلح بن کر سامنے آتی ہے۔ اس جماعت کے اکابر بڑے مذہبی تقدس کا اظہار کرنے والے لوگ ہوتے ہیں، مگر اندر سے وہ اس دین کے دشمن ہوتے ہیں۔ وہ اکابر عموماً عیاش اور باطناً دین کے امور ظاہری کے شدید مخالف ہوتے ہیں۔ ان کو جب بھی موقع ملے، وہ اصل دین سے وابستہ جمعیت کو نقصان پہنچانے سے دریغ نہیں کرتے، بلکہ اگر قوت میسر آجائے تو قتل و غارت پر بھی اتر آتے ہیں۔ قرامطیوں، طاہریوں اور جنابیوں نے یہی کچھ کیا، لاکھوں مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ آزاد خیال اور اباحیت پسند اپنی جگہ جو چاہیں کریں مگر ان کی آزاد روی دوسروں کی دشمن کیوں ہو جاتی ہے؟ حق یہ ہے کہ آزاد خیالی بڑا ہی متعصب مرض ہے۔
خداوند متعال امت مسلمہ کو ایسے فتنوں سے بچائے اور اس نے جن لوگوں کو ان گمراہوں اور خصوصاً گمراہوں کے سرداروں کو ہدایت کرنے کی توفیق سے نوازا ہے اور انہوں نے اس ہدایت کا فریضہ ادا کیا ہے، ان سب کو جنت الفردوس میں مقام عالی عطا فرمائے۔ ان برگزیدہ افراد میں یقیناً وہ لوگ بھی ہیں، جنہوں نے قلم سے ہر اس جہاد میں حصہ لیا، ان میں بالیقین وہ بھی ہیں جن کا منظوم کلام اس مجموعے یعنی ”نغمات ختم نبوت“ میں شامل ہے، خدائے رحمن و رحیم سے دعا ہے کہ وہ عزیزم محمد طاہر رزاق کے خلوص و ہمت میں اضافہ فرمائے اور ان کو حق کی پاسداری اور باطل گدازی کے جذبے سے مزید سرشار کرے۔
(پروفیسر) محمد منور ڈائریکٹر اقبال اکیڈمی، پاکستان لاہور یکم ستمبر 1993
آغازیہ
قادیانیت کی ساری عمارت انکار ختم نبوت پر کھڑی ہے۔ قادیانی سب سے بڑا جھوٹ یہ بولتے ہیں کہ وہ محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین تسلیم کرتے ہیں۔ توجیہ یہ پیش کرتے ہیں کہ مرزا غلام احمد (جو احمد کا غلام نہیں تھا) اپنی کوئی شریعت نہیں لایا تھا۔ خاتم النبیین کا مفہوم وہ یہ گھڑتے ہیں کہ شریعت والے نبی کی آمد کا سلسلہ بند ہوگیا ہے، لیکن جو شریعت محمدی کا تابع ہو، وہ نبی آسکتا ہے اور اس بات کا جواز قرب قیامت میں عیسیٰ علیہ السلام کی آمد کو بناتے ہیں، جبکہ عیسیٰ علیہ السلام تو پیدائشی نبی تھے، لیکن حضورؐ کے امتی بن کر آئیں گے، جبکہ مرزا قادیانی پیدائشی امتی ہے، لیکن نبی کہلانے لگا۔
جن اکابرین اسلام کے اقوال غلط رنگ دے کر مرزا اپنی تائید میں پیش کرتا ہے، ان کے تو وہ پیروں کی خاک کے برابر بھی نہیں تھا، اسی لیے تو ان کی شہادت لایا، پھر بھی اس نے نہ سوچا کہ علمیت اور روحانیت کے ان پہاڑوں نے نبوت کے ایک ذرے پر بھی ہاتھ نہیں ڈالا اور یہ ابن الجہل پوری نبوت پر قابض ہوگیا۔ آدم سے لے کر حضور علیہ الصلوۃ والسلام تک جتنے انبیاء آئے، ان میں سے کسی نے بھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ فلاں نبی بھی میں تھا اور فلاں رسول بھی میں تھا۔ یہ اعزاز صرف مرزا کو حاصل ہوا کہ جتنے بھی نبی آئے، نعوذ باللہ، سب اسی پیکر ضلالت کا پرتو تھے، حتیٰ کہ رسول کریمؐ تک کی روحانیت کی تکمیل، معاذ اللہ، اس کی ذات میں ہوئی۔
دراصل مرزا قادیانی بہت بڑا ”وارداتیا“ تھا۔ پہلے ولی بنا، پھر مجدد بنا اور پھر پیغمبری کا
سرکلر جاری کر دیا۔ زمین کم لگی تو عرش پر بھی صوفہ بچھا کر بیٹھ گیا۔ انسان سے خدا بن بیٹھا۔ اس کا اپنا بیان ہے کہ آدم کو دیکھنا ہو تو مجھے دیکھو‘ موسیٰ اور عیسیٰ کو دیکھنا ہو تو مجھے دیکھو‘ یہاں تک کہ خدا کو دیکھنا ہو تو مجھے دیکھو۔ وہ اپنے جتنے بھی دیدار کراتا ہے‘ مجھے تو سب ایک ہی پردے پر نظر آتے ہیں‘ جس کے پیچھے سے آواز آتی ہے کہ ابلیس کو دیکھنا ہو تو مرزا قادیانی کو دیکھو۔
نیکی دنیا میں کم ہے اور بدی زیادہ‘ یہی وجہ ہے کہ جب کوئی بدی کی طرف بلاتا ہے تو لوگوں کی اکثریت اس کی طرف لپکتی ہے۔ مرزا قادیانی بہت بڑی بدی کا استعارہ ہے‘ اس لیے مجھے اس امر پر تعجب نہیں ہوتا کہ خاصے پڑھے لکھے لوگ بھی مرزا کا دم بھرتے ہیں۔ ابلیس بھی تو بہت زیادہ علم رکھتا تھا لیکن مردود ٹھہرا۔
مرزا مالیخولیا کا مستند مریض تھا۔ اس کی تحریر گواہ ہے کہ وہ اس مرض کی دوائیں منگاتا رہتا تھا‘ دورے تو عام پڑتے تھے‘ لیکن مخصوص ایام میں وہ بالکل فاتر العقل ہو جاتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے نبیوں کی بڑی بڑی آزمائشیں کیں‘ سارے جسم میں کیڑے تک ڈالے‘ لیکن کسی نبی کو پاگل یا کسی پاگل کو نبی نہیں بنایا۔ گویا اس کی بیماری تک اس کے جھوٹ کا اعلان تھی۔ آفریں ہے اس کے پیروکاروں پر کہ ایک پاگل کے پیچھے لگ گئے۔
میں بڑی دردمندی کے ساتھ اس کے ماننے والوں سے ایک بات پوچھنا چاہتا ہوں کہ خدا کے بندو! یہ تو سوچو کہ جو شخص رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی‘ جگہ جگہ توہین کرتا ہے‘ تحقیر و تنقیص کرتا ہے‘ اپنے آپ سے انہیں کمتر ثابت کرتا ہے‘ لیکن نمائندہ خود کو انہیں کا بتاتا ہے‘ کتنا بڑا چور ہے۔ وہ جو جھوٹے دعووں کا اندھیرا کر کے ختم نبوت کا دروازہ توڑ رہا ہے‘ اس چور کی سزا ہاتھ کاٹنا نہیں‘ اس کو تو سارے کے سارے کو قیمے قیمے کر دینا چاہیے۔ یہ تو حضورؐ کے حجرے میں گھس کر سب کچھ چرا لینا چاہتا ہے‘ یہاں تک کہ خود آپؐ کو‘ آپؐ کے اہل بیت کو‘ آپؐ کے قرآن کو‘ آپؐ کے اسلام کو‘ آپؐ کے خدا کو‘ گویا پوری کائنات کو غصب کرنا چاہتا ہے۔
اگر آپ کے گھر میں کوئی ڈاکہ پڑ جائے تو آپ کیسا کیسا تڑپیں گے‘ کیا کیا جتن کریں گے
اس کی گرفتاری کے لیے، لیکن ایک ڈاکو، خدا کو، اس کے محبوب کو، اس کے رسولوں کو، اس کے دین کو اڑا لے گیا ہے اور آپ خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں، بلکہ اس کے جرم میں برابر کے شریک ہیں، اس سے اپنا حصہ مانگتے ہیں۔ کیا آخرت کا خاکہ بھی آپ کے ذہنوں میں نہیں رہا، کیا من حیث الجماعت اپنے ضمیروں کے مجاور بن بیٹھے۔ یاد رکھو ایک دن تم زمین کی خوراک بھی بنو گے، پھر دیکھنا زمین تمہیں کیسا چباتی ہے، پھر دیکھنا اپنے مرزا قادیانی کو، فرشتے کیسے اسے آگ کے درے لگا رہے ہوں گے، قیامت سے پہلے جہنم اس سے لپٹ رہی ہوگی۔ ڈرو اس وقت سے اور تائب ہو جاؤ، اس گناہِ عظیم سے، اللہ تعالیٰ بڑا ہی رحیم ہے، معاف کردے گا۔
مبارکباد کے مستحق ہیں طاہر رزاق، جنہوں نے ”نغماتِ ختمِ نبوت“ مرتب کی، جنہوں نے اپنے میزانِ عمل میں نیکیوں کا پہاڑ رکھ دیا۔ قابلِ قدر ہے ان کا جذبہ کہ اس سے پہلے بھی وہ ایک کتاب ”تحفظِ ختمِ نبوت“ (نثری) تالیف کر چکے ہیں۔ محمد مصطفےٰ ﷺ کا یہ عاشق تمہیں آئینہ دکھانا چاہتا ہے تاکہ تم اپنی اور اپنے مرزا کی بھیانک شکلیں دیکھ کر اپنے آپ کو پہچان سکو۔ یاد رکھو
اللہ تعالیٰ کبھی برداشت نہیں کر سکتا کہ اس کے محبوب پر کوئی ایک انگلی بھی اٹھائے۔ تم کیا کیا قیامتیں ڈھا رہے ہو اور تمہیں ڈر نہیں لگتا۔ یقیناً تم اس گروہ سے ہو جس کے متعلق ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ ہم نے ان کے دلوں پر مہریں لگا دی ہیں۔ ”لعنت اللہ علی الکاذبین“
مظفر وارثی یکم ستمبر 1993
ارمغان حمیت
جس طرح محبت رسولؐ ایمان کی دلیل ہے‘ اسی طرح عقیدہ ختم نبوت بھی ایمان کی بنیاد بلکہ ایمان ہے۔ جس طرح سورج کے مقابلے میں اندھیارے آتے ہیں‘ ایسے ہی طلوع اسلام سے آج تک مختلف ادوار میں نبوت کے جھوٹے دعویدار اپنی منحوس صورتوں کے ساتھ نمودار ہوتے رہے۔ ایسے عناصر کی تردید اور ان کے بطلان کے لیے عاشقان مصطفیٰؐ بھرپور جوش ایمان کے ساتھ جلوہ افروز ہوتے چلے آئے ہیں۔ یہ ایک داستان غیرت ہے جس پر ہماری اسلامی تاریخ کو فخر ہے۔ حسن یوسف کی جلوہ آرائی سے متاثر ہو کر مصر کی عورتوں نے اپنی انگلیاں کاٹ لی تھیں مگر عقیدت کا یہ کس قدر بے مثال انداز تھا کہ فاران کی چوٹیوں سے لے کر دیبل اور دہلی کی فضاؤں تک محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں مردان اسلام نے اپنے سر کٹا دیے۔
یہ لازوال حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ نبی امن و رحمت‘ بانی اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النبیینؐ ہونے کے اقرار کے بغیر دعویٰ مسلمانی فضول ہے۔ اس عقیدہ پر اسلام کی پوری عمارت استوار ہے۔۔۔ یہ محض ایک ماننے اور تسلیم کرنے کا مسئلہ نہیں ہے‘ بلکہ مسلم معاشرہ کے انفرادی اور اجتماعی معاملات پر اس عالمگیر عقیدہ کے گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امت کے اجتماعی شعور نے اس نظریے کی پاسداری کا ہمیشہ قوت ایمانی کے ساتھ خیال رکھا ہے۔ یہاں تک کہ اس کی مدافعت میں اگر تلوار بھی اٹھانا پڑی تو اس سے دریغ نہیں کیا گیا۔
اس عقیدہ کی اہمیت‘ اس کے مضمرات اور اس کی لطافتوں کے اسرار سے نقاب کشائی کے لیے ہمارے ذخیرۂ علم و ادب میں ایک وسیع لٹریچر موجود رہا ہے۔ یہ لٹریچر اب بھی مسلسل تخلیق ہو رہا ہے۔
برصغیر پاک و ہند وہ خطہ عشق و محبت ہے جہاں سے میر عربؐ کو ٹھنڈی ہوا جاتی
ہے۔ یہاں کی مٹی میں جوش اور جرات ہے۔ اس دھرتی پر مرزا غلام احمد قادیانی کی طرف سے دعویٰ نبوت اسلامیان برصغیر کی غیرت ایمانی کو للکارنے کے مترادف تھا۔ اس دعوت نبوت کے بعد اہل فکر و نظر نے جس طرح اس فتنہ کی بیخ کنی کے لیے علمی و عملی میدانوں میں جدوجہد کی‘ وہ ہماری حمیت و غیرت کی تاریخ کا ایک درخشاں باب اور مسلمانوں کے عشق خود آگاہ کی ایمان افروز جدوجہد کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ منکرین ختم نبوت کی سرکوبی کے لیے نثری لٹریچر کے ساتھ ساتھ شعراء کرام بھی کسی سے پیچھے نہیں رہے اور اس جہاد میں اپنی بہترین تخلیقی صلاحیتوں کے ساتھ نبرد آزما ہوئے۔ برادرم محمد طاہر رزاق صاحب نے انتہائی محنت کے ساتھ سچے جذبوں کے تحت شعراء کرام کی ان بکھری ہوئی کاوشوں کو یکجا کر کے ایک قابل تحسین کارنامہ سرانجام دیا ہے۔ کتاب میں شامل باطل کے خلاف مقدس مزاحمتی کلام کے شعراء کرام میں علامہ اقبال‘ مولانا ظفر علی خان‘ شورش کاشمیری‘ ساغر صدیقی‘ احسان دانش‘ احمد ندیم قاسمی‘ قتیل شفائی‘ حفیظ تائب‘ شہزاد احمد‘ سید امین گیلانی‘ عاصی کرنالی‘ انور جمال اور یزدانی جالندھری جیسے اہم ناموں نے اس کی اہمیت مزید اجاگر کر دی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ یہ تالیف آنے والی نسلوں کے لیے ارمغان حمیت و محبت ثابت ہوگی اور اس کا ایک ایک شعر نبوت کے نام نہاد دعویداروں کے ایوانوں میں صدائے حق بن کر گونجتا رہے گا۔
دعا گو نذیر احمد غازی اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل‘ لاہور ہائی کورٹ
عشق خاتم النبین صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم
٭ ظفر علی خاں ٭
مگر میں باوجود اس کے مسلماں ہو نہیں سکتا
نہ جب تک کٹ مروں میں خواجہ بطحا‘ کی حرمت پر
خدا شاہد ہے کامل میرا ایماں ہو نہیں سکتا
آرزو
٭ آغا شورش کاشمیریؒ ٭
بہ عہد احمدؐ مرسل مجھے پیدا کیا ہوتا
حرا کی خاک میں تحلیل میرے جسم و جاں ہوتے
مری لوح جبیں پر آپؐ ہی کا نقش پا ہوتا
قدوم سرورؐ کونین کی عظمت بحمد اللہ
میں خاک رہگزر ہوتا تو پھر بھی کیمیا ہوتا
دماغ و دل چمک اٹھتے رخ پرنور کی ضو سے
نظر اٹھتی جہاں تک جلوۂ خیرالوریٰ ہوتا
بہر عنوان اس ذات گرامی پر نظر رہتی
کبھی ان پر کبھی ان کے غلاموں پر فدا ہوتا
کلام اللہ کے الفاظ میں نغمہ سرا ہوتا
شہنشاہوں کے تخت و تاج میرے پاؤں میں ہوتے
مرا سر سید الکونینؐ کے در پر جھکا ہوتا
خداوندان دولت کے گریباں پھاڑ دیتا میں
محمدؐ کی قسم قرآن کے پرچم گاڑ دیتا میں
نعت
٭ محمد حنیف الاسعدی ٭
کہ خدا نے خود بھی تو کہہ دیا، نہیں! ان‘ کے بعد کوئی نہیں
کوئی مصطفٰے، کوئی مجتبیٰ؟ نہیں! ان‘ کے بعد کوئی نہیں
نہیں، ان‘ سے پہلے کوئی نہ تھا، نہیں! ان‘ کے بعد کوئی نہیں
ہے مرے یقین کا فیصلہ، نہیں! ان‘ کے بعد کوئی نہیں
مگر ایسا جلوۂ حق نما، نہیں! ان‘ کے بعد کوئی نہیں!
تو رواں رواں یہ پکار اٹھا، نہیں! اُن کے بعد کوئی نہیں
وہ قدم اٹھے تو بیک قدم، ہمہ کائنات تھی زیر پا
یہ بلندیاں کوئی چھو سکا؟ نہیں! اُن کے بعد کوئی نہیں
کوئی اُن کے بعد نبی ہوا؟ نہیں! اُن کے بعد کوئی نہیں
کہ خدا نے خود بھی تو کہہ دیا، نہیں! اُن کے بعد کوئی نہیں
ختم الرسلؐ
٭ یزدانی جالندھری ٭
بن کے آئے آخریں آخریں ختم الرسلؐ
حامل فرقان و شرع متیں ختم الرسلؐ
آخری وہ مصدر روح الامیںؑ ختم الرسلؐ
خاتم ختم نبوت کے نگیں ختم الرسلؐ
اک یتیم مہ لقا در ثمیں ختم الرسلؐ
وہ کہیں خیر البشر ہیں وہ کہیں ختم الرسلؐ
وہ امام الانبیاء وہ تاجدار ہل اتیٰ
محفل معراج کے مسند نشیں ختم الرسلؐ
ان کی رحمت ہے محیط ہر زمان و ہر مکاں
بے گماں ہیں رحمتہ للعالمیں، ختم الرسلؐ
ان سے یزدانی ہے میرے قلب و جاں میں روشنی
میرا ایماں ، میرا دیں، میرا یقیں ختم الرسلؐ
(۱۹ ستمبر ۱۹۸۸ء)
ختم المرسلین
٭ سید انوار ظہوری ٭
اک آخری نبی کا سوالی زمانہ تھا
آئے نہ کوئی اور نبی مصطفےٰؐ کے بعد
ختم الرسلؐ کو بھیج دیا کائنات میں
اب دوسرے نبی کی ضرورت نہ تھی مزید
ہے آخری کتاب الٰہی ورق! ورق!
شرف انہیں کو ملا منصب امامت کا
ہر اک کمال ہوا ختم ذات والا پر
رسول بن کے بڑھایا شرف رسالت کا
کیا ہے خاتم پیغمبراںؐ انہیں رب نے
انہیں پہ ختم ہوا سلسلہ رسالت کا
وہ شخص کاذب و مرتد ہے ازروئے قرآن
اب ان کے بعد جو دعویٰ کرے نبوت کا
(سکندر لکھنوی)
الہام و آزادی
٭ اقبالؔ ٭
ہے اس کی نگہ فکر و عمل کے لیے مہمیز
اس کے نفس گرم کی تاثیر ہے ایسی
ہو جاتی ہے خاک چمنستان شرر آمیز
شاہیں کی ادا ہوتی ہے بلبل میں نمودار
کس درجہ بدل جاتے ہیں مرغان سحر خیز
اس مرد خود آگاہ و خدا مست کی صحبت
دیتی ہے گداؤں کو شکوہ جم و پرویز
محکوم کے الہام سے اللہ بچائے
غارت گر اقوام ہے وہ صورت چنگیز
نبوت
٭ اقبالؒ ٭
مجھ کو معلوم نہیں کیا ہے نبوت کا مقام
ہاں مگر عالم اسلام پہ رکھتا ہوں نظر
فاش ہے مجھ پر ضمیر فلک نیلی فام
عصر حاضر کی شب تار میں دیکھی میں نے
یہ حقیقت کہ ہے روشن صفت ماہ تمام
وہ نبوت ہے مسلماں کے لیے برگ حشیش
جس نبوت میں نہیں قوت و شوکت کا پیام
مہدی برحق
* اقبالؔ *
خاور کے ثوابت ہوں کہ افرنگ کے سیار
نے جدت گفتار ہے‘ نے جدت کردار
شاعر اسی افلاس تخیل میں گرفتار
ہو جس کی نگہ زلزلہ عالم افکار
امامت
٭ اقبالؒ ٭
حق تجھے میری طرح صاحب اسرار کرے
ہے وہی تیرے زمانے کا امام برحق
جو تجھے حاضر و موجود سے بیزار کرے
موت کے آئینے میں تجھ کو دکھا کر رخ دوست
زندگی تیرے لیے اور بھی دشوار کرے
دے کے احساس زیاں تیرا لہو گرما دے
فقر کی سان چڑھا کر تجھے تلوار کرے
فتنہ ملت بیضا ہے امامت اس کی
جو مسلماں کو سلاطیں کا پرستار کرے
جہاد
٭ اقبالؔ ٭
دنیا میں اب رہی نہیں تلوار کارگر
لیکن جناب شیخ کو معلوم کیا نہیں
مسجد میں اب یہ وعظ ہے بے سود بے اثر
تیغ و تفنگ دست مسلماں میں ہے کہاں؟
ہو بھی تو دل ہیں موت کی لذت سے بے خبر
کافر کی موت سے بھی لرزتا ہو جس کا دل
کہتا ہے کون اس کو مسلماں کی موت مر
تعلیم اس کو چاہیے ترک جہاد کی
دنیا کو جس کے پنجۂ خونیں سے ہو خطر
یورپ زرہ میں ڈوب گیا دوش تا کمر
ہم پوچھتے ہیں شیخ کلیسا نواز سے
مشرق میں جنگ شر ہے تو مغرب میں بھی ہے شر
حق سے اگر غرض ہے تو زیبا ہے کیا یہ بات
اسلام کا محاسبہ‘ یورپ سے درگزر
ہندی مسلمان
٭ اقبالؔ ٭
انگریز سمجھتا ہے مسلماں کو گداگر
پنجاب کے ارباب نبوت کی شریعت
کہتی ہے کہ یہ مومن پارینہ ہے کافر
آوازۂ حق اٹھتا ہے کب اور کدھر سے
”مسکیں دلکم ماندہ دریں کشمکش اندر“
مہدی
٭ اقبالؔ ٭
یہ ذوق سکھاتا ہے ادب مرغ چمن کو
مجذوب فرنگی نے بانداز فرنگی
مہدی کے تخیل سے کیا زندہ وطن کو
اے وہ کہ تو مہدی کے تخیل سے ہے بیزار
نومید نہ کر آہوئے مشکیں سے ختن کو
ہو زندہ کفن پوش تو میت اسے سمجھیں
یا چاک کریں مردک ناداں کے کفن کو
پنجابی مسلمان
٭ اقبالؒ ٭
کر لے کہیں منزل تو گزرتا ہے بہت جلد
تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا
ہو کھیل مریدی کا تو ہرتا ہے بہت جلد
تاویل کا پھندا کوئی صیاد لگا دے
یہ شاخ نشیمن سے اترتا ہے بہت جلد
”مرزا غلام احمد قادیانی“ علامہ اقبالؒ کی نظر میں
میرے زمانے نے ایک نبی بھی پیدا کیا
آنکہ در قرآن بجز خود را ندید
جس کو اپنے سوا قرآن میں کچھ نظر نہ آیا
تن پرست و جاہ مست و کم نگاہ
خود پسند، عزت چاہنے والا، کوتاہ نظر
اندرونش بے نصیب از لا الہ
اس کا دل لا الہ سے خالی ہے
در حرم زاد و کلیسا را مرید
مسلمانوں کے گھر پیدا ہوا اور عیسائیوں کا غلام بنا
پردۂ ناموس ما را پر درید
اس نے ہماری ناموس کے پردے کو چاک کرایا
اس سے عقیدت رکھنا حماقت ہے
سینہ او از دل روشن تہی است
اس کا سینہ دل کی روشنی سے خالی ہے
الحذر! از گرمئ گفتار او
اس کی چرب زبانی سے بچو
الحذر! از حرف پہلو دار او
اس کی چالبازانہ باتوں سے بچو‘
شیخ او لرد فرنگی را مرید
اس کا پیر شیطان اور فرنگی کا غلام ہے
گرچہ گوید از مقام بایزید
اگرچہ وہ کہتا ہے کہ میں بایزید کے مقام سے بول رہا ہوں
گفت دین را رونق از محکومی است
وہ کہتا ہے کہ غلامی میں ہی دین کی رونق ہے
اس کی زندگی خودی سے محروم ہے
غیروں کی دولت کو وہ رحمت جانتا ہے
اس نے گرجا کے گرد رقص کیا اور مر گیا
کشمیر کمیٹی
٭ مولانا ظفر علی خاںؒ ٭
قائم ہوئی جس دن نئی کشمیر کمیٹی
دونوں نے بساط اپنی نحوست کی لپیٹی
گاڑی گئی جس میں یہ خرافات کی پیٹی
مباہلہ
٭ مولانا ظفر علی خاںؒ ٭
فرار کفر جس طرح ہو مسجد حرام سے
پکار کر یہ کہہ رہا ہے زلزلہ بہار کا
نہ بچ سکے گا قادیاں خدا کے انتقام سے
مسیلمہ کے جانشیں گرہ کٹوں سے کم نہیں
کتر کے جیب لے گئے پیمبری کے نام سے
سنا بھی تو نے ہم نفس! کہ مادیاں دمشق کی
ہوئی ہے جفت اندلس کے خنگ بد لگام سے
بچی بچی کے دوش پر سری نگر میں اٹھ گیا
جناب ”ظل مسیح“ کا جنازہ دھوم دھام سے
میں قادیاں سے کیا لڑوں کہ فرصت آج کل نہیں
رکوع سے سجود سے قعود سے قیام سے
۲۱ فروری ۱۹۳۴ء
مداری کی پٹاری
٭ مولانا ظفر علی خاں ٭
غلام احمد کی الماری پٹاری ہے مداری کی
کہ فصل گل ہے اور آمد ہے ابر نو بہاری کی
نظر نخچیر سے تم پھیرتے ہو اک شکاری کی
اتاریں کیسے لیکن نقل اصوات حماری کی
نہ لائے گا کبھی محمود تاب اس ضرب کاری کی
مگر کیا بھول سکتا ہے وہ سوغاتیں بخاری کی
قادیان کی نبوت
٭ مولانا ظفر علی خاںؒ ٭
برازی ہے خلافت قادیاں کی
عداوت حق سے‘ باطل سے محبت
ہے اتنی ہی حقیقت قادیاں کی
ہیں احمق جس قدر ہندوستان میں
ہے آباد ان سے جنت قادیاں کی
نصاریٰ کی پرستش کے سب اسرار
سکھاتی ہے شریعت قادیاں کی
دمشق اور اندلس کے بھاگ جاگے
بٹی جس وقت لعنت قادیاں کی
الم نشرح ہے نیت قادیاں کی
بنائی میں نے وہ گت قادیاں کی
- ا۔ تاریخی قصہ خلافت کے حوالے سے مرزا قادیانی کے مرنے کے بعد لاہوری اور قادیانی فرقوں
کی طرف اشارہ ہے۔
متنبی کی الماری
٭ ظفر علی خاںؒ ٭
قادیاں میں کافروں کی مومن آزاری بھی دیکھ
خواجہ اجمیر کی درگاہ دیکھ آیا ہے تو!!
اب بہشتی مقبرہ کی چار دیواری بھی دیکھ‘
ترمذی کو اور بخاری کو رٹا تو کیا ہوا؟
قادیاں جا اور غلام احمد کی الماری بھی دیکھ
تو نے اپنی فوج کی دیکھی قواعد مدتوں‘
اب نصاریٰ کے رضاکاروں کی تیاری بھی دیکھ
کاٹنا مقصود ہے جس سے شجر اسلام کا
قادیاں کے لندنی ہاتھوں میں وہ آری بھی دیکھ
قادیاں کے نازنینوں کی طرحداری بھی دیکھ
سن لے اپنے کان سے ”الفضل“ کی گالی گلوچ
لکھنو شرما گیا جس سے وہ بھٹیاری بھی دیکھ
آج آتا ہے نظر گو تجھ کو باطل سربلند
اپنی آنکھوں سے کل اس کی ذلت و خواری بھی دیکھ
فتنہ آخر زماں
مولانا ظفر علی خاںؒ کی ایک یادگار نظم
لپٹا لیا کرتا ہے جو ہر شب نئی اک حور کو
جس نے ہنسایا ناچ کر کشمیر اور میسور کو
جس کی ترش روئی ملی نیبو کو اور امچور کو
لکھوں دمشقی گورخر یا اندلس کی ماریاں
اے قادیاں اے قادیاں اے فتنہ آخر زماں
پیسہ ترا ایمان ہے‘ گالی تری پہچان ہے
جنس نفاق و کفر سے چمکی تری دکان ہے
الہام جو بھی ہے ترا آوردۂ شیطان ہے
یہ بھی خدا کا آخری اسلام پر احسان ہے
نقاش کی مٹھی میں گر پوشیدہ تیری جان ہے
اے قادیاں اے قادیاں اے دشمن اسلامیاں
اے فتنۂ آخر زماں
اپنی اپنی قسمت
٭ مولانا ظفر علی خاںؒ ٭
پھر وہ انگریزوں کے گھر کا معتبر نائی بنا
پیسے سے دھیلا ہوا اور دھیلے سے پائی بنا
کوئی بھتنا ہو گیا‘ کوئی چھلپائی بنا
کفر کی اکڑی ہوئی گردن کی نکٹائی بنا
قادیاں اس طفل ناہموار کی دائی بنا
اپنا اپنا ہے مقدر اپنا اپنا ہے نصیب
ہو گیا کوئی مسلمان‘ کوئی مرزائی بنا
منکر ختم نبوت کا حشر
٭ مولانا ظفر علی خاںؒ ٭
منتقل جاں میں ہے جس کی شعلہ زن جوش جہاد
جس کو انگریزوں نے دی رہ رہ کے اس جذبے کی داد
نامرادی میں بھی جو ثابت ہوا بامراد
پرزے پرزے کر دیا مرزا کا جس نے اجتہاد
جس کے ہے پیش نظر حشر ثمود انجام عاد
ذلت و خواری و رسوائی الی یوم التناد
پناہ بخدا
٭ مولانا ظفر علی خاںؒ ٭
ہر ایسے بطل خرافات سے خدا کی پناہ
نئے صنم کدوں میں آ گئے نئے نئے بت
نئے بتوں کی نئی گھات سے خدا کی پناہ
ٹیچی ٹیچی ہے ادھر اور ادھر غلام احمد
ہزار بار ان آفات سے خدا کی پناہ
خدا بچائے ہمیں ان کے ساتھ ملنے سے
منافقوں کی موالات سے خدا کی پناہ
جو بن کے بوعلی آئے حکیم نور الدین
تو بوعلی کی اشارات سے خدا کی پناہ
کسی خدا کا تو قائل ہے قادیاں بھی، ضرور
جو مانگتا ہے فکاہات سے خدا کی پناہ
بنے جو باپ خدا کا اور اس کی بیوی بھی
ہر ایسے مسخرے کی ذات سے خدا کی پناہ
ان احمقانہ روایات سے خدا کی پناہ
وزیر ہند کا لطف کہن معاذ اللہ
اور ان کی تازہ عنایات سے خدا کی پناہ
وہی ہے مرتبہ ایماں کا جو ہے درجہ کفر
اس آج کل کی مساوات سے خدا کی پناہ
اگر کرامت پیر حرم ہے استدراج
تو پیر اور اس کی کرامات سے خدا کی پناہ
- ۱۔ اشارات اور شفا بوعلی سینا کی تصنیف سے ہیں۔
- ۲۔ فکاہات روزنامہ ”زمیندار“ کے مزاحیہ کالم کا عنوان ہوتا تھا۔
ظفر علی خاں ؒ
تو میرے پاس بھی ہے حق کا کوڑا
چلی پنجاب میں جب دیں کی گاڑی
تو اٹکا قادیانیت کا روڑا
کیا مرزا نے بدنام انبیاء کو
محمد مصطفےٰ تک کو نہ چھوڑا
دیے اسلام کو چرکے جنہوں نے
انہیں سے اس نے اپنا رشتہ جوڑا
نبوت لنگڑی اور اندھی خدائی
ملا ہے خوب ان دونوں کا جوڑا
یہی اس کی نبوت کی ہے پہچان
کہ مر کر بھی نہ منہ لندن سے موڑا
(رنگون۔ یکم ستمبر ۱۹۳۶ء)
٭ مولانا ظفر علی خاںؒ ٭
گئے لندن بشیر الدین محمود
یہ مقصد آپ کا ہے اس سفر سے
کہ سرحد پر بچھا دی جائے بارود
دکھائے یورپ آ کر اس کو بتی
جہنم کی لپٹ جس میں ہو موجود
یہ ساری سرزمین پھر بھک سے اڑ جائے
اور افغانوں کی جمعیت ہو نابود
کوئی اس دیں کے دشمن کو بتائے
کہ ساری کوششیں ہیں تیری بے سود
بھلا برطانیہ کو کیا پڑی ہے
کہ دوزخ میں تیری خاطر پڑے کود
ہے تو بھی کیا کسی کرنل کی میم
بھگا کے لے گئے ہوں جس کو مسعود
٭ ظفر علی خاںؒ ٭
بٹھایا کفر کو لا کر نبیؐ کے ہم نشینوں میں
حدیث اسمہ احمد غلام احمد پر چسپاں ہے
پڑے خاک اس سلیقے پر، لگے آگ ان قرینوں میں
کھلونا قادیاں کا بن گئی وہ سطوت کبریٰ
ہے اب تک شور جس کا آسمانوں اور زمینوں میں
٭ ظفر علی خاںؒ ٭
ظلی و بروزی کی نبوت کو مٹا دوں
ہے جن کو محمدؐ کی مساوات کا دعویٰ
مثوہ جہنم کی وعید ان کو سنا دوں
کچھ فرق بروز اور تناسخ میں نہیں ہے
انکار ہو جن کو انہیں اقرار کرا دوں
اسلام سے جس قوم کو ہے کچھ بھی محبت
میں اس کے لیے راہ میں آنکھوں کو بچھا دوں
٭ مولانا ظفر علی خاںؒ ٭
میرزائیوں کے گھر میں جلے گھی کے چراغ آج
چمکاۓ گئے اندلسی اور دمشقی
روشن ہوۓ اسلام کے سینے کے داغ آج
کیا طرفہ تماشا ہے کہ ہوں آ کے معارض
کعبہ کی عنادل سے کلیسا کے کلاغ آج
خمیازہ کش عشق رسولؐ عربی ہوں
میرے دل مضطر کو میسر ہے فراغ آج
توحید کی دہلیز پہ ہوں ناصیہ فرسا
پہنچا ہے مرا عرش معلے پہ دماغ آج
جو بوالہوسوں کو نہ ملی ہے نہ ملے گی
اس دولت سرمد کا ملا مجھ کو سراغ آج
ساقی نے دیا مجھ کو وہ لبریز ایاغ آج
مرزائی بجاتے ہوئے بغلیں نکل آئے
خوش تھے کہ ہوا باغ ”زمیندار“ کا زاغ آج
لیکن یہ خوشی تھی فقط اک عشرہ کی مہمان
پھر رحمت باری سے وہی داغ ہے باغ آج
٭ مولانا ظفر علی خاں ٭
بغیر اس ڈھونگ کے چندہ مہیا ہو نہیں سکتا
سنا ہے قادیاں میں بانسری بجتی ہے گوکل کی
مگر ہر بانسری والا کنہیا ہو نہیں سکتا
یہ آساں ہے کہ بدلے جون اور بچھو بنے لیکن
کبھی بھی شہد کی مکھی سے تتیا ہو نہیں سکتا
اگر مکہ سے بھی وہ ڈھینچوں ڈھینچوں کرتا آجائے
قیامت تک خر عیسیٰ گویا ہو نہیں سکتا
مجدد الف ثانی سے غلام احمد کو کیا نسبت
ثریٰ کتنا بھی اونچا ہو ثریا ہو نہیں سکتا
برادر خواندگی کی شرط اگر ہے میرزائیت
قیامت تک بھی ہم سے یہ تو بھیا ہو نہیں سکتا
چنبیلی کا یہ پودا بھٹ کٹیا ہو نہیں سکتا
وطن کے پوجنے والو تعلق نوع انساں کا
قطرہ سے محبت کا تلیا ہو نہیں سکتا
جسے اسلام کی عزت پہ کٹ مرنا نہ آتا ہو
مسلمانوں کے بیڑے کا کھیویا ہو نہیں سکتا
ارمغان قادیان
اے مسلمانو! خریدو ”ارمغان قادیان“
جی کو بہلاؤ گے کیونکر گر نہ لو گے یہ کتاب
کیونکہ مٹ جانے کو ہے نام و نشان قادیان
اس بجھارت کو نہ بوجھا آج تک کوئی ادیب
میں نے ہی آخر کو حل کی چیستان قادیان
میرے ہی خامے کی رنگینی تھی جس کے فیض سے
ہو گئی سننے کے قابل داستان قادیان
میں نے دی اس کو لگام اور ہو گیا اس پر سوار
ورنہ کس کو مانتی تھی مادیان قادیان
کس طرح ممکن ہے، دل پر ہو کسی کو اختیار
جب ہوں دل کے چھیننے والے بتان قادیان
مجھ سے پوچھو، کیوں فدا ہے قادیان کشمیر پر
مجھ سے بڑھ کر کون ہوگا رازدان قادیان
جو مجاور ہیں بہشتی مقبرے کے آج کل
بیچتے پھرتے ہیں گھر گھر استخوان قادیان
ان سب اجزا سے مرکب ہے زبان قادیاں
”اک برہنہ سے نہ یہ ہوگا کہ تا باندھے ازار“
یہ کہ ”تا“ ہے شاہکار شاعران قادیاں
لوگ حیراں تھے کہ جب پھیکا ہے پکوان اس قدر
ہوگئی پھر اتنی اونچی کیوں دکان قادیاں
جو فروشی کے لیے گندم نمائی شرط تھی
تھا بڑا ہی کائیاں بازارگان قادیاں
کیا سلوک ان سے روا رکھتے ہیں منکر اور نکیر
قبر میں خود دیکھ لیں گے منکران قادیاں
- ۱۔ غالباً تیرہ سال کے بعد اگست ۱۹۴۷ء میں یہ پیش گوئی پوری ہوگئی، جب ہندوستان کی تقسیم کے وقت ریڈ کلف ایوارڈ
نے تحصیل بٹالہ گورداسپور اور پٹھان کوٹ کو ہندوستان میں شامل کر دیا۔ قادیاں تحصیل بٹالہ میں ہے۔ (نظیر)
- ۲۔ تحریک کشمیر کے ایام میں کشمیر کمیٹی کو اس کے صدر علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ نے محض اس لیے توڑ دیا تھا کہ اس پر
قادیانی چھا رہے تھے اور ان پر کشمیر میں مرزائیت کی تبلیغ کا الزام تھا۔ شعر میں اسی راز کی طرف اشارہ ہے۔ (نظیر)
- ۳۔ قادیانی تصانیف میں بیشتر زبان کی غلطیاں ہیں۔ اس شعر میں ”تا“ کے غلط استعمال کی طرف اشارہ ہے۔ (نظیر)
(لاہور ۔ ۴ اپریل ۱۹۳۴ء)
خنجر قادیاں
”حاجی محمد حسین سر عسکر رضا کاران اسلام بٹالہ ضلع گورداسپور ایک مخلص اور پر جوش مسلمان نوجوان تھے، جنہیں ۳؍ اپریل ۱۹۳۰ء کو ایک قادیانی محمد علی نے خنجر مار کر شہید کردیا۔ موسیو مرزا بشیر الدین محمود نے قاتل کو غازی کا خطاب دیا۔ پریوی کونسل تک اس کے لیے لڑے۔ آخر قاتل کیفر کردار کو پہنچا اور پھانسی پر لٹکایا گیا۔ مرزا محمود نے اس کے جنازے کو کندھا دیا‘ اس کی نماز جنازہ پڑھائی اور اسے ”بہشتی مقبرہ“ میں دفنایا۔ یہ نظم اسی واقعے کی یادگار ہے۔“
❖
نشان ظالموں کا مٹایا کرے گا
خدا کے غضب سے بچایا کرے گا
حریفوں کے چھکے چھڑایا کرے گا
علم قادیاں کا جھکایا کرے گا
راہ حق میں او مٹنے والے ترا غم
ہمیں خوں کے آنسو رلایا کرے گا
- ا۔ مرزائے قادیاں نے ”مدینہ معظمہ و منورہ کے قبرستان جنت البقیع“ کے جواب میں قادیاں میں ”بہشتی مقبرہ“
بنایا تھا۔ وہاں دفن ہونے والوں سے بڑی بڑی رقوم وصول کی جاتی تھیں اور انہیں بہشتی ہونے کی سندیں دی جاتی تھیں۔ (نظیر لدھیانوی)
حدیث قادیاں
(رواہ بخاری)
٭ مولانا ظفر علی خاں ٭
نکوکاری کے پردے میں سیہ کاری کا حیلہ ہے
یہ وہ تلبیس ہے ابلیس کو خود ناز ہے جس پر
مسلمانوں کو اس رندے نے اچھی طرح چھیلا ہے
پلی ہے مغربی تہذیب کے آغوش عشرت میں
نبوت بھی رسیلی ہے پیمبر بھی رسیلا ہے
نصاریٰ کی رضا جوئی ہے مقصد اس نبوت کا
اور ابطال جہاد انجاح مقصد کا وسیلا ہے
بیاس اور اس کی موجیں آئے دن کرتی ہیں غمازی
کہ پوتا قادیاں کے رب اکبر کا رنگیلا ہے
۱۷ جون ۱۹۲۹ء
حضرت پاپائے قادیاں کے حضور میں
محبت کی پینگیں بڑھائے چلا جا
غنیمت سمجھ فرصت عاشقی کو
حسینوں سے آنکھیں لڑائے چلا جا
تری بات پر گر نہ ایمان لائے
مسلماں کو کافر بنائے چلا جا
سنا جاہلوں کو نبوت کی باتیں
پیمبر کا رتبہ گھٹائے چلا جا
بھلائے چلا جا خدا کے غضب کو
شریعت کی بنیاد ڈھائے چلا جا
ترے مقبرے کے بہشتی بھی سن لیں
میرے شعر چمٹے پہ گائے چلا جا
اطالوی حسینہ
”ہوٹل سیسل لاہور کی ایک اطالوی منتظمہ، جو ہوٹل میں موسیو بشیر الدین محمود کے ایک روزہ قیام کے بعد اچانک غائب ہو گئی اور دوسرے دن قادیاں کی ”مقدس“ سرزمین میں دیکھی گئی۔ اس واقعہ پر مولانا نے ذیل کی نظم سپرد قلم کی۔“
(نظیر)
لاہور کا دمن ہے ترے فیض سے چمن
پیغمبر جمال تری دل ربا ادا
پروردگار عشق ترا چلبلا چلن
الجھے ہوئے ہیں دل تری زلف سیاہ میں
ہیں جس کے ایک تار سے وابستہ سو ختن
پروردۂ فسوں ہے تری آنکھ کا خمار
آوردۂ جنوں ہے تری بوئے پیرہن
بیعانہ سرور ترا مرمری بدن
رونق ہے ہوٹلوں کی ترا حسن بے حجاب
جس پر فدا ہے شیخ تو لٹو ہے برہمن
جب قادیاں پہ تیری نشیلی نظر پڑی
سب نشہ نبوت نقلی ہوا ہرن
میں بھی ہوں تیری چشم پر افسوں کا معترف
جادو وہی ہے آج جو ہو قادیاں شکن
(لاہور۔ ۸؍ مارچ ۱۹۳۴ء)
اطالوی حسینہ مس روفو
زمانے کے اے بے خبر فیل سوفو
جہاں چل کے سوتے میں آئی ہے روفو
تو پہنچو شبستاں میں اے بے وقوفو
ہنسو کھل کھلا کر دمشقی شگوفو
تمہیں داد دو اس کی عبدالرؤفو
کہاں مر رہی ہو تفو اور زوفو!
(۱۴ مارچ ۱۹۳۴ء)
کرشن سے مراد مہاشے کرشن ایڈیٹر روزنامہ ”پرتاپ“ لاہور اور خورسند سے لالہ خوشحال چند ایڈیٹر ”ملاپ“ لاہور ہیں۔ عبدالرؤف سے مراد مسلمان ۔ (نظیر)
پیغمبر قادیاں کا برزخی ترانہ
ان پر اگر اضافہ سی آئی ڈی نہ ہو
بغداد کے سقوط کا قصہ ہے ناتمام
جب تک کہ اس میں درج مری ڈائری نہ ہو
ہنستا ہے میرے حال پہ ظالم ابوالوفا
ڈرتا ہوں میں کہیں یہ قضا کی ہنسی نہ ہو
مارا کسی نے شعلے سے میرے جگر میں تیر
لاہور کا کہیں یہ محمد علی نہ ہو
میری بلا سے مکہ لٹے کربلا لٹے
چندے سے ہے غرض مجھے اس میں کمی نہ ہو
یہ کس کتاب میں ہے کہ خیر البشر کے بعد
ہرگز کسی کو دعویٰ پیغمبری نہ ہو
کیا مصطفےٰ کے بعد نہ آیا مسیلمہ
پھر قادیاں میں کس لیے مجھ سا نبی نہ ہو
اس اخرجوا الیہود کا قائل نہیں ہوں میں
برطانیہ سے جس کی سند مل چکی نہ ہو
پھر قادیاں ہی کس لیے کینٹربری نہ ہو
جس کے ثمر مرے لیے اس درجہ تلخ ہوں
اسلام کی وہ شاخ خدایا ہری نہ ہو
(۲۲ جولائی ۱۹۲۰ء)
- ۱۔ سقوط بغداد۔ پہلی جنگ عظیم کے دوران میں جب انگریزوں نے ترکوں سے عراق چھین لیا تو قادیاں نے
مسرت کا اظہار کیا تھا۔ شعر میں اسی حقیقت کی طرف اشارہ ہے۔ (نظیر)
- ۲۔ ابوالوفا مولوی ثناء اللہ امرتسری ایڈیٹر ”اہل حدیث“۔ مرزا قادیاں نے‘ جن کی موت کی پیش گوئی کی تھی
جو غلط نکلی اور مولانا ثناء اللہ کا انتقال مرزا کی موت سے ربع صدی بعد ہوا۔ شعر میں اسی پیش گوئی کی طرف اشارہ ہے۔ (نظیر)
- ۳۔ مولوی محمد علی ایم۔اے‘ ایل۔ایل۔بی میرزائیوں کی لاہوری جماعت کے امیر تھے۔ ان سے قادیاں کی
چپقلش رہتی تھی۔ (نظیر)
- ۴۔ پہلی جنگ عظیم کے بعد ممالک ترک و عرب پر اتحادیوں نے قبضہ کر لیا تھا اور بعض مقامات مقدسہ کی بے
حرمتی کی گئی تھی۔ شعر میں اسی حقیقت کی طرف اشارہ ہے۔ (نظیر)
دور جاہلیت کی یاد
٭ مولانا ظفر علی خاںؒ ٭
کہ دور جاہلیت میں مرا دل ان پہ مائل تھا
مگر میں بے لیے ٹلتا نہ تھا ایسا ہی سائل تھا
مگر میں اس نبوت کا نہ قائل ہوں نہ قائل تھا
کہ ان کے اور میرے درمیاں اسلام حائل تھا
مرا ہاتھ ان کی نور افروز گردن میں حمائل تھا
نگاہ رشک سے دیکھا مجھے ”الفضل“ نے برسوں
میں ان کے ابروئے خمدار کے خنجر کا گھائل تھا
انہیں ہے قادیاں میں آج کل دعویٰ خدائی کا
بتوں کی اس خدائی کا میں پہلے ہی سے قائل تھا
(۱۴؍ جولائی ۱۹۲۰ء)
فروری ۳۴ء کی بات ہے، جب قادیانیوں نے اسلامیہ کالج لاہور کے طلباء کو مرتد کرنے کی مردود کوشش کی، تو اکابر ملت نے اس فتنہ کی سرکوبی کے لیے مسجد مبارک میں تقریریں کیں، جس پر حکومت نے حضرت مولانا ظفر علی خاں صاحبؒ، حضرت مولانا لال حسین صاحب اخترؒ، حضرت مولانا عبدالمنان صاحب اور احمد یار خان صاحب سیکرٹری مجلس احرار الاسلام کو مقید و محبوس کر دیا۔ ایک دن مولانا ظفر علی خان سے ایک قیدی نے شکایت کی کہ جیل والے اسے اتنے دانے دیتے ہیں کہ پیسے نہیں جاتے۔ حضرت مولانا نے اپنے رفقاء کو بلا لیا اور سب حضرات نے باری باری چکی پیس کر وہ باقی دانے ختم کر دیے۔ اس دوران میں مولانا اختر نے حضرت مولانا سے ارشاد کی درخواست کی، تو ارتجالاً ”حضرت مولانا کی زبان پر یہ شعر آگئے، جو تاحال کسی کتاب میں شائع نہیں ہو سکے۔ حضرت مولانا اختر کے شکریہ کے ساتھ ہدیہ قارئین کرام ہیں۔ (مدیر)
رموز علم الاسما چہ داند ذوق ابلیسی
مری فطرت حجازی ہے سرشت اس کی ہے انگلسی
کہ آقا تیری خاطر میں نے چکی جیل میں پیسی
پڑے گا ایک ہی تھپڑ تو جھڑ جائے گی بتیسی
ہمارا علم ہے دریا کہ نام اس کا ہے سائیسی
یہ نکتہ حل کریں مرقد سے اٹھ کر آج ادریسی
- ۱۔ "قادیان ضلع گورداسپور، پنجاب میں ہے جو لاہور سے گوشہ جنوب مغرب میں واقع ہے"۔
(تبلیغ رسالت، جلد ۹، صفحہ ۴۰)
- ۲۔ مشہور جغرافیہ دان۔
نذر شہیدان ختم نبوت
”مارچ ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت کے دوران جب عشق رسولؐ سے معمور سینوں کو وقت کے یزیدیوں کی گولیوں نے چھلنی کر دیا تھا۔ لاہور، فیصل آباد، سیالکوٹ، راولپنڈی اور ملتان کی سرزمین خواجہ بدر و حنین صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حرمت پر کٹ مرنے والوں کے خون سے لالہ زار بن گئی تھی۔ اس وقت ملتان کے مایہ ناز ادیب اور شاعر جناب علامہ طالوت مرحوم نے ان شہیدوں کی بارگاہ میں یہ نذرانہ سلام پیش کیا تھا“۔
سلام ان پر جنہوں نے کربلا کی یاد زندہ کی
سلام ان پر کہ جن کی جرأت رندانہ کام آئی
سلام ان پر جنہوں نے گولیاں سینوں پہ کھائی ہیں
جناب خواجہ ہر دوسرا کے نام کی خاطر
جو عاقل باخدا تھے اور حضور خواجہ دیوانے
سلام ان پر قیامت تک ہے جن کا نام پائندہ
کمترین کا بیڑا غرق
٭ طالوت ٭
قادیان کا کعبہ ٹیڑھا ہوگیا
کمترین کا غرق بیڑا ہوگیا
عشق بھی جی کا بکھیڑا ہوگیا
کمترین کا غرق بیڑا ہوگیا
ان کو کافی اک تھپیڑا ہوگیا
کمترین کا غرق بیڑا ہوگیا
ترانہ قادیان
٭ علامہ طالوتؒ ٭
ہم اس کے ہیں بچھیرے وہ مادیاں ہماری
خنجر سے تیز تر ہیں ملاحیاں ہماری
جن سے بھری پڑی ہیں الماریاں ہماری
منکر ہیں قادیاں کے ذریتہ البغایا
ہے کاسہ سر ان کا اور لاٹھیاں ہماری
دیتے ہیں مہوشوں کو ہم مشی فی النوم'
کس درجہ دلربا ہے یہ چیستاں ہماری
تثلیث کی امانت سینوں میں ہے ہمارے
ہے جس کے ذکر سے تر ہر دم زباں ہماری
اے گلستان لندن وہ دن ہیں یاد تجھ کو
جب تیرا باغ باں تھا اور ڈالیاں ہماری
پریوں کے جمگھٹے میں اٹھکیلیاں ہماری
”پیغام“ کے مجدد۱ ”الفضل“ کے پیمبر۲
وہ ان کی گالیاں ہیں یہ پھبتیاں ہماری
”چرچل“ سے جاکے پوچھو کیا اس میں مصلحت تھی
مغرب کی وادیوں میں گونجی اذاں ہماری
اے امت محمدؐ! اپنے نصیب کو‘ رو!!
الٹا ہے ٹاٹ تیرا چمکی دکاں ہماری
طالوت کا ترانہ بانگ درا ہے گویا
ہوتی ہے جادہ پیما پھر قادیاں ہماری
(منقول روزنامہ ”زمیندار“ لاہور۔ ۴ مارچ ۱۹۳۴ء)
۱۔ ”پیغام“۔۔۔ ۲۔ ”الفضل“۔۔۔ قادیانی اخبار۔
فتنہ ارتداد
٭ حضرت طالوت مرحوم ٭
اے خدا تو فتح دے اسلام کے احرار کو
دشمنان ملک و ملت سے ہماری جنگ ہے
تھام لو بہر خدا تبلیغ کی تلوار کو
ہے نبوت کے لیے تہذیب شرط اولیں
ہم نبی کیوں کر کہیں پھر شاتم ابرار کو
قادیانی پائے آزادی میں تھے خار مغیل
نوک سوزن سے نکالو بھائیو اس خار کو
جب پلومر کی ہو ٹانک وائن ہی سر پر سوار
کیوں نہ ہوں الہام اک بدمست و میخوار کو
خطہ پنجاب میں بھیجا ہے اک افیونی نبی
رب لندن سے شکایت ہے یہی اخیار کو
توہین رسالت
٭ مظفر وارثی ٭
مرزائی کا دل ہوتا ہے صورت نہیں ہوتی
پڑھتے ہیں محمدؐ کا زباں سے کلمہ بھی
شرح کلمۂ ختم نبوت نہیں ہوتی
آئین کی رو سے وہ مسلماں نہیں ہیں
تاویل کی محتاج شریعت نہیں ہوتی
مرعوب کسی دعوے سے ہوتا نہیں قانون
انصاف کی آواز میں لکنت نہیں ہوتی
چپ رہتا مظفرؔ تو گنہگار ٹھہرتا
سچ کہنے سے توہین عدالت نہیں ہوتی
دربار رسالتؐ
٭ آغا شورش کاشمیریؒ ٭
میں بھی ہوں ختم نبوت کے نگہبانوں میں
اس کے میخوار بھی ساقی ہیں خمستانوں میں
اس کا چرچا ہے غریبوں کے سیہ خانوں میں
میری گردن کہیں جھکتی ہے جہانبانوں میں؟
آج تک بھی یہی جذبہ ہے مسلمانوں میں
تار جتنے بھی بقایا ہیں گریبانوں میں
پادشہ مجھ سے قصیدوں کی توقع نہ کریں
میں ہوں دربار رسالتؐ کے ثنا خوانوں میں
بشارت
٭ شورش کاشمیریؒ ٭
شورش ملی ہے مجھ کو بشارت یہ خواب میں
قید فرنگ میں وہ زمانہ گزر گیا
جانا تھا سر کے بل مجھے ورنہ شباب میں
جب بھی کسی نے سیرت اقدس کی بات کی
کیا کیا نہیں ملا ہے سوال و جواب میں
اس سر کو ان کے در پہ کٹا کر رہوں گا میں
یہ آرزو ہے اس دل پر اضطراب میں
اٹھوں گا عاشقان محمدؐ کے ہمرکاب
لکھا گیا ہے میری شفاعت کے باب میں
وہ لازوال نور کہاں آفتاب میں
کیا دور ہے کہ ختم نبوت کے راہزن
بیٹھے ہیں چھپ چھپا کے سیاسی نقاب میں
ربوہ مٹے گا قہر الہی سے بالضرور
تاخیر ہو رہی ہے خدا کے عذاب میں
مدینہ کی عظمت
قادیاں کی موت
٭ شورش کاشمیریؒ ٭
حضور سرور کونینؐ کا غلام ہوں میں
شہنشہوں سے مجھے کوئی واسطہ ہی نہیں
بہ فیض خواجہ گیہاں بلند بام ہوں میں
مروں گا ختم نبوت کی پاسبانی میں
جہاد عشق رسالتؐ میں تیز گام ہوں میں
میں اپنے پاؤں تلے قادیاں کو روندوں گا
بہ عشق دین نبیؐ تیغ بے نیام ہوں میں
مسیلمہ سے صحابہ کا انتقام ہوں میں
پکارتا ہوں بخاریؒ کی رہگزاروں سے
کلام شاعر مشرق کی دھوم دھام ہوں میں
ظفر علی کے قلم کا جلال ہے مجھ میں
زباں کے حسن میں تلمیذ بوالکلام ہوں میں
کھڑا ہوں مہر علی شاہؒ کے آستانہ پر
انہی کے در کی بدولت تو بامقام ہوں میں
مرے حریف مجھے گالیاں ضرور بکیں
غلام میر اممؐ ہوں تو نیک نام ہوں میں
کہاں ہیں ملت بیضا کی نوجواں نسلیں
قلم کے زور پہ اقبال کا پیام ہوں میں
مری گرفت سے ربوہ پہ کپکپی طاری
خدا کا شکر ہے مقبول خاص و عام ہوں میں
شہیدانِ ختم نبوّتؐ
٭ آغا شورش کاشمیریؒ ٭
گولیاں تنے ہوئے سینوں پہ کھانے والے
جبر کا نام زمانہ سے مٹانے والے
صبر ایّوبؑ کی تصویر دکھانے والے
گردنیں عشقِ پیمبرؐ میں کٹانے والے
دھجیاں لشکرِ باطل کی اڑانے والے
دغدغہ طارقؒ و بوذرؓ کا دکھانے والے
طنطنہ دین فروشوں کا مٹانے والے
پرچم سیّدؐ کونین اڑانے والے
قرنِ اول کی روایات دکھانے والے
ہیبت لشکر اسلام بٹھانے والے
معجزہ قوت بازو کا دکھانے والے
نقشہ حیدر کرار جمانے والے
سر بکف عرصہ پیکار میں آنے والے
جان تک ختم نبوت پہ لٹانے والے
قتل گاہوں میں شہیدوں کا لہو بول اٹھا
سر کٹاتے ہیں محمدؐ کے گھرانے والے
باخدا ان کے مقامات سے واقف ہی نہیں
خانقاہوں میں مریدوں کو نچانے والے
پرچم دعوت و ارشاد لیے پھرتے ہیں
چادریں زینبؓ و صغریٰؓ کی چرانے والے
بچ نہیں سکتے کبھی قہر خدا سے شورش
خون احرار سفینوں میں لٹانے والے
سلام
٭ آغا شورش کاشمیریؒ ٭
حرم کی عزت پہ کٹنے والوں کے نقش پا کو سلام پہنچے
عروس لالہ بہار پر ہے‘ بہار کو تہنیت کا ہدیہ
چمن چمن پر درود لازم‘ صبا صبا کو سلام پہنچے
یزیدیوں کو ستم مبارک‘ حسینیوں کی وفا کے قرباں
فقیر گوشہ نشین کا خاک کربلا کو سلام پہنچے
نفس نفس برکتوں کے مخزن‘ قدم قدم رحمتوں کے چشمے
ہر ایک حلقہ بگوش سردار انبیا کو سلام پہنچے
زمین لاہور جن کے خوں سے بہشت کو ماند کر چکی ہے
تمام خونیں کفن شہیدان باصفا کو سلام پہنچے
بلالؓ و بوذرؓ کے ہم نشینان باوفا کو سلام پہنچے
نثار جس پر قضا کے تیور' اس اک ادا کو سلام پہنچے
خجستہ پا رہروؤں کا ہر ایک بے نوا کو سلام پہنچے
بلاکشان فریب ساحل کا ناخدا کو سلام پہنچے
ہمارا اس باوقار و بے باک رہنما کو سلام پہنچے
اسی فضا میں درود گونجے' اسی فضا کو سلام پہنچے'
۱۔ سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ
ضرورت ہے
٭ شورش کاشمیریؒ ٭
مجھے اس مملکت کے پاسبانوں کی ضرورت ہے
اب ایسے انقلاب آور نشانوں کی ضرورت ہے
کہ اس کرب و بلا میں سخت جانوں کی ضرورت ہے
کہ ناموس نبیؐ کے پاسبانوں کی ضرورت ہے
یہاں اسلام کو ان تیغ رانوں کی ضرورت ہے
سواد ایشیا کو خوش بیانوں کی ضرورت ہے
اب اس کے بعد اس کو بد زبانوں کی ضرورت ہے
۱۔ مرزا غلام احمد قادیانی
ربوہ
٭ شورش کاشمیریؒ ٭
ربوہ غلط مقام ہے اس کو ہلائے جا
سنتا ہوں قادیاں کا جنازہ نکل گیا
اس کا وجود پاؤں کی ٹھوکر پہ لائے جا
مرزائیوں کی پود ہے منقار زیر پر
یہ آ لگے ہیں گور کنارے دبائے جا
اپنے خدا سے مانگ محمدؐ سے انتساب
ان کے حضورؐ عشق کے دیپک جلائے جا
آئے گی موت واقعی ایک دن ضرور
پھر موت کیا ہے کچھ نہیں غیرت دکھائے جا
مہر و وفا کے نام پہ گردن کٹائے جا
اسلام سے دغا کا نتیجہ ہے خودکشی
اس پرفریب دور کے چھکے چھڑائے جا
مت ڈر کسی مسیلمہ کذاب سے کبھی
ہر ایک دوں نہاد کو راہ سے ہٹائے جا
حکام کج نہاد کا اب خوف ہیچ ہے
خوف خدائے پاک دلوں پر بٹھائے جا
مرزائیوں سے قطع تعلق ہے ناگزیر
ان کے ہر ایک راز کا پردہ اٹھائے جا
شورش قلم کی خارہ شگافی کے زور پر
نسل نو ہی کو خواب گراں سے جگائے جا
فردوس میں اقبالؒ سے ملاقات
٭ شورش کاشمیریؒ ٭
محمدؐ مصطفےٰؐ کی بارگاہ قدس میں پایا
کہاں میں اور کہاں وہ عرش سے نزدیک تر گوشہ
ملائک نے مجھے اقبال کی محفل میں پہنچایا
کہا میں نے کہ میں ہوں آپ کے لاہور کا شہری
مرے افکار پر ہے آپ کے افکار کا سایا
قلم ہو یا زباں کہتا ہوں وہ جو آپ نے لکھا
مری باتیں سنیں تو شاعر مشرق نے فرمایا
تمہارے ہاں ابھی تک سارق ختم نبوتؐ ہیں
سمجھ میں کیا تمہاری دین پیغمبرؐ نہیں آیا؟
سوانح کیا لکھے میرے ستم توڑا ستم ڈھایا
انہیں معلوم کیا؟ اسلام پر بیتی تو کیا بیتی؟
مسلمانوں کے وارث ہوگئے یاران بے مایا
کتابیں نام سے میرے مگر افکار یورپ کے
سیاسی ملحدوں نے نوجوان نسلوں کو بہکایا
پیمبرؐ کے دغا بازوں کو ایسی پٹخنی دے دو
کہ ان کی ڈار کا ہر فرد ہے شیطان کا جایا
عزم بالجزم
٭ شورش کاشمیریؒ ٭
خواجہ کونینؐ کا ڈنکا بجایا جائے گا
ناچ تگنی کا حریفوں کو نچایا جائے گا
اب انہیں اسلام کے در پر جھکایا جائے گا
ارض پاکستان کو جنت بنایا جائے گا
ہم جو کہتے ہیں وہ کر کے بھی دکھایا جائے گا
جبر و استبداد کا مینار ڈھایا جائے گا
سید لولاکؐ پر قربان ہونے کے لیے
منبر و محراب کو بھی آزمایا جائے گا
خون دل سے میں نے لکھی ہے یہ نظم دلکشا
یہ ترانہ دار کے تختہ پہ گایا جائے گا
اس وطن میں نشاۃ اسلام کی تحریک کو
اب بہر عنوان اے شورش اٹھایا جائے گا
اعلان عام
غیرت اسلام کا ڈنکا بجایا جائے گا
صورت حالات کے ویرانہ آباد میں
دبدبہ فاروق اعظمؓ کا بٹھایا جائے گا
کٹ مروں گا خواجہ کونینؐ کے ناموس پر
سر کوئی شے ہی نہیں، یہ بھی کٹایا جائے گا
جانتا ہوں اہل ربوہ کے سیاسی پیچ و خم
کافران دین قیم کو جھکایا جائے گا
گونجتا ہے نعرۂ تکبیر ہر میدان میں
ایشیا میں اس کی ہیبت کو بٹھایا جائے گا
مسند میر اممؐ کے وارثوں کو بے خطر
کھینچ کر اسلام کی چوکھٹ پہ لایا جائے گا
استقامت کے حریفوں کو سنایا جائے گا
دار کے تختہ پہ کھنچوا دو کہ میں ڈرتا نہیں
جھنگ کے پہلو سے ربوہ کو اٹھایا جائے گا
قادیانی ارض پاکستان میں یا للعجب؟
راز کیا ہے ایک دنیا کو بتایا جائے گا
سرزمین پاک میں سرمایہ داری کا وجود
اب مٹانا ہی پڑا ہے تو مٹایا جائے گا
ناصر احمد چیز کیا ہے کلچڑی گنجی کا جوش
ارتداد اس کا زمانہ کو دکھایا جائے گا
قادیانی بیٹی کا خط
٭ شورش کاشمیریؒ ٭
”قصر خلافت ربوہ سے راقم کے نام ایک خط آیا ہے۔ نویسندہ نے آخر میں ایک لڑکی لکھا ہے۔ خط کیا ہے‘ مرقع دشنام ہے۔ راقم کے نزدیک ہر لڑکی کافر ہو یا مسلمان بیٹی ہوتی ہے۔ نظم ذیل اس بیٹی کے جواب میں ہے“۔
تیرا خط ہے قادیاں کا پارۂ الہام کیا
لامحالہ تو غلام احمد کی پیروکار ہے
یہ بھی دیکھا ہے‘ ہوا اس شخص کا انجام کیا
گالیاں اسلام کے بیٹوں کو دینا واشگاف
ناصر احمد کا ترے نوک زباں ہے نام کیا
کیا اسے معلوم تھا مصحف ہے کیا اسلام کیا
عورتوں سے بحثا بحثی شیوۂ مرداں نہیں
لڑکیاں کیا چیز ہیں ان کی نوائے خام کیا
اے کنیز ناصر احمد کیا تجھے معلوم ہے
رنگ لائے گی کسی دن گردش ایام کیا
بے حجابانہ قلم لے کر نکل آئی ہے تو
گھر کے آنگن میں تجھے ملتا نہیں آرام کیا
ماسوائے خواجہ بطحاؐ کوئی آقا نہیں
کوئی ظلی ہو بروزی ہو کسی سے کام کیا
گوہر شب تاب ہیں مہر و وفا کے پھول ہیں
لڑکیاں ہر قوم کی صدق و صفا کے پھول ہیں
دلیل ایمان
* شورش کاشمیریؒ *
محمدؐ نہیں ہیں تو کچھ بھی نہیں ہے
ملائک کا محور‘ حرم کی زمیں ہے
وہ امی لقب خاتم المرسلیںؐ ہے
وہ ارض مقدس بہشت بریں ہے
ہر اک ذرۂ خاک در ثمیں ہے
گناہگار ہوں مجھ کو اس پہ یقیں ہے
اسی آستاں سے ارادت ہے مجھ کو
یہی در ہے جس پہ جبیں بھی جبیں ہے
لگائی ہے لو میں نے آلِ نبیؐ سے
مرے عشق کا ہر تصور حسیں ہے
کرم کیجئے اس پہ اے میر بطحا ؐ
کہ شورش بہت عاجز و کمتریں ہے
برسبیل ارتجال
٭ آغا شورش کاشمیری ٭
بزدلوں کی دوستی سے فائدہ کوئی نہیں
جس کا سینہ ہو رسالتؐ کی ضیا سے مستنیر
غیر کی چوکھٹ پہ جھک سکتی نہیں اس کی جبیں
زلزلے کی شکل میں آئے گا قہر ذوالجلال
قادیاں غرقاب ہوگا ہے یہی میرا یقیں
سرزمین پاک میں ختم نبوت سے مذاق
ایک ہلچل ہے ملائک میں سر عرش بریں
امت ختم الرسلؐ میں ایک رہزن کا ظہور
کانپتا ہے چرخ مینائی لرزتی ہے زمیں
خاک ربوہ سے رعایت؟ اے الٰہ العالمیں
قادیاں کی سرزمین خاک مدینہ کی حریف
اہل ربوہ امت میر اممؐ کے نکتہ چیں
ٹاپتے پھرتے ہیں یاران سڑیل ان دنوں
ان میں لیکن ایک بھی اسلام کا محرم نہیں
کیا پتے کی بات کی ہے شاعر اسلام نے
”بے ید بیضا ہے پیران حرم کی آستیں“
تین صدیوں سے اسی فن میں اتارو ہو گئے
کاسہ لیسی تو نہیں تھا ہم مسلمانوں کا دیں
ناصر احمد چیز کیا ہے؟ اک گدائے لم یزل
مجھ کو اے شورش ڈرا سکتا نہیں کوئی لعیں
نسل نو سے خطاب
٭ شورش کاشمیری ٭
رسالت کا ڈنکا بجائے چلا جا
جبیں انؐ کے در پہ جھکائے چلا جا
پیام محمدؐ سنائے چلا جا
خدا کے لیے سر کٹائے چلا جا
نبیؐ کا پھریرا اڑائے چلا جا
عقیدت کے موتی لٹائے چلا جا
پکارے چلا جا بلائے چلا جا
یہ حرف غلط ہے مٹائے چلا جا
نقاب ان کے رخ سے اٹھائے چلا جا
ــــــ میں کسی اوقاف کا ملا نہیں
٭ شورش کاشمیریؒ ٭
شکر ایزد! میں کسی اوقاف کا ملا نہیں
ابتدا سے خواجۂ کون و مکاں کا ہوں غلام
میں کسی حاکم کے آگے ہاتھ پھیلاتا نہیں
ہوں دبستان کلیم ایشیاء کا خوشہ چیں
میری تحریریں ہیں شاہد میں غلط لکھتا نہیں
میں نے دیکھے ہیں سیاسی رہنماؤں کے جنود
دوستانہ ان سے رکھتا ہوں مرید ان کا نہیں
دین کیا ہے؟ گنبد خضریٰ سے لیتا ہوں سبق
اس بلندی کے سوا میرا کوئی طغرا نہیں
میں نے اس تاریک پہلو پر کبھی سوچا نہیں
ڈوم ڈھاری واعظوں کے روپ میں منبر نشیں
ایک بھی اس ڈار میں اسلام کا شیدا نہیں
قادیاں کے مغلئی مرحوم دہلی کے کلال
ان بتوں میں کون؟ اس بازار کا پتا نہیں
فیصلہ دو ٹوک ہے شورش محمدؐ کی قسم
میرا موقف ہے شہادت اب مجھے جینا نہیں
اعلان حق
٭ شورش کاشمیریؒ ٭
خواجہ گیہاںؐ کی امت کو جھکا سکتے نہیں
میرزائی سامراجی طاقتوں کے زور پر
ہم مسلمانوں کی غیرت کو مٹا سکتے نہیں
یادگار ابنِ ملجم ہے غلام احمد کی پود
ہم کسی عنواں‘ اسے خاطر میں لا سکتے نہیں
ان کا مسلک ریزہ چینی خوان استعمار کی
قادیانی اس روش سے باز آ سکتے نہیں
ہارڈنگ تھا قافیہ محمود احمد تھا ردیف
راز ایسا ہے کہ ہم پردہ اٹھا سکتے نہیں
ہم اسے قہر الٰہی سے بچا سکتے نہیں
قادیانی لونچڑوں کو اس چمن کے باغباں
ملت بیضا کی محفل میں بٹھا سکتے نہیں
اہل ربوہ کے خلیفہ کی دسیسہ کاریاں
سرور کونینؐ کے پیرو بھلا سکتے نہیں
مفلسان دین قیم کاسہ لیسان فرنگ
خواجہ کون و مکاں کو منہ دکھا سکتے نہیں
میرزا ناصر احمد
کنکوے باز
٭ شورش کاشمیریؔ ٭
ناصر احمد نے مرے صوبہ کو رسوا کر دیا
ملت بیضا کے فرزندوں پہ غنڈے چھوڑ کر
اس غلط فہمی میں تھا شاید کہ پسپا کر دیا
اور کیا لکھوں عزیزان گرامی منزلت؟
ایک ہنگامہ سیاہ کاروں نے برپا کر دیا
قادیانی کیا ہیں؟ اسرائیل کے لخت جگر
ان کے بل ہم نے نکالے اور نہتا کر دیا
صورت حالات نے طرفہ تماشا کر دیا
اس وطن میں دین کے باغی ٹھہر سکتے نہیں
ہم نے اس مقصد کو ہر مقصد پہ اولیٰ کر دیا
اب چٹختی ہیں بہشتی مقبرے کی ہڈیاں
اہل ربوہ کو بہر عنوان ننگا کر دیا
خواجہ کونینؐ کی غیرت کا پرچم گاڑ کر
دیدہ و دل کو نثار راہ بطحا کر دیا
صحبت اقبالؔ کے فیضان نے شورش مجھے
شہر یار یثرب و بطحا کا شیدا کر دیا
ایک لاکھ روپے
٭ شورش کاشمیریؒ ٭
پاس خاطر سرکار ایں و آں کے لیے
عظیم جنگ میں برطانیہ کی بھینٹ دیے
وطن کے لخت جگر تیغ خوں فشاں کے لیے
لٹائے اپنی عقیدت کے سجدہ ہائے نیاز
ہر ایک دور میں برطانوی نشاں کے لیے
ہمیشہ خوف خدا سے کیا گریز و فرار
بتائی عمر رواں‘ عیش جاوداں کے لیے
ہر ایک فاسق و فاجر کا احترام کیا
بہر طریق زر و مال کی دکاں کے لیے
دیا ہے مال کبھی شاہ دو جہاںؐ کے لیے
کہاں سے لاؤں کمال سخن بیاں کے لیے
انہی کا ورد ہے شورش مری زباں کے لیے
حکیم شرقؒ قیامت تھے قادیاں کے لیے
ہر ایک پیر و جواں سے اس امتحاں کے لیے
میں!
٭ شورش کاشمیریؒ ٭
حضور سرور کونینؐ کا غلام ہوں میں
کسی حریف سے دبنا مرا شعار نہیں
بپاس جادہ و منزل خجستہ گام ہوں میں
مرا سلام نئی پود کے جوانوں کو
حکیم شرقؒ کا ان کے لیے پیام ہوں میں
دل و دماغ کو بطحا نے کر دیا مضبوط
محاذ جنگ پہ شمشیر بے نیام ہوں میں
مرے رفیق مری لغزشیں معاف کریں
شریک حلقہ رندان تیزگام ہوں میں
بہ فیض سید کونینؐ خوش مقام ہوں میں
کسی ذلیل قلمکار سے تعلق کیا
خدا کا شکر ہے تلمیذ بوالکلامؔ ہوں میں
تمام عمر سلاسل سے واسطہ رکھا
یہی سبب ہے کہ محبوب خاص و عام ہوں میں
شوشوں سے تعلق نہیں مجھے شورش
خدا کا لطف و کرم ہے کہ نیک نام ہوں میں
طلوع آفتاب
٭ شورش کاشمیریؒ ٭
خواجہ کونینؐ کا فیضان رحمت بار دیکھ
عشق پیغمبرؐ کی دولت محو ہو سکتی نہیں
رنگ لایا جذبہ قربانی و ایثار دیکھ
غیرت دین براہیمیؑ کا پرچم گڑ گیا
نوجواں خواب گراں سے ہوگئے بیدار دیکھ
ان کی نظروں میں کہاں جچتا تھا شاہوں کا جلال
سید الکونینؐ کے عشاق کا دربار دیکھ
بتکدے گرنے لگے اسلام کی یلغار سے
کانپ اٹھے نعرۂ تکبیر سے کفار دیکھ
خامہ عنبر شمامہ ہو گیا تلوار دیکھ
واقعات ماضی مرحوم کے پیشِ نظر
وقت کے اس موڑ پر حالات کی رفتار دیکھ
جھک نہیں سکتا رسالت کے حدی خوانوں کا سر
رک نہیں سکتی کبھی اسلام کی یلغار دیکھ
قوم کے مخلص نمائندوں نے اسے طے کیا
جو قضیہ تھا کبھی دشوار سے دشوار دیکھ
عجمی اسرائیل
٭ شورش کاشمیریؔ ٭
قادیان! مابین ہند و پاک اسرائیل ہے
خواجہ کونینؐ کے ارشاد کی تعمیل ہے
مصلح موعود کے الہام کی تکمیل ہے
ہے کہاں قہر خدا؟ قہر خدا میں ڈھیل ہے
گفتنی اجمال ہے ناگفتنی تفصیل ہے
ان سیاسی مغبچوں کے خون میں تحلیل ہے
قادیان والو قیامت ہوں تمہارے واسطے
میرے رشحات قلم میں صور اسرافیل ہے
اپنی تحریر میں اسلام کے عنوان سے
شاعر مشرق نے جو لکھا ہے‘ سنگ میل ہے
میں نے جو کچھ بھی لکھا ہے‘ قادیان کے باب میں
پارۂ الہام ہے‘ آوازۂ جبرائیل ہے
شہداء ختم نبوت کے نام
٭ ساغر صدیقی مرحوم ٭
سچ ہے مرتے نہیں وہ جیتے ہیں
ان کو غلماں سلام کرتے ہیں
خلد میں وہ قیام کرتے ہیں
ان سے تاریخ کے ورق روشن
عہد اسلاف کے سبق روشن
ان کی تعظیم آسمانوں پر
ان کا احسان دو جہانوں پر
بحر تقدیس کا صدف کہئے
یاد میں ان کی گل فشاں رہئے
حوض تسنیم کے قریب ہوئے
کملی والا امام ہے ان کا
ماہ پاروں میں رقص کرتے ہیں
پاسبان حیات ہوتے ہیں
ملتان پوچھتا ہے
تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء میں ملتان میں حکومت کے وحشی درندوں نے گولیاں چلا کر چھ محافظین ختم نبوت کو شہید کر دیا تھا۔ یہ نظم ساغر صدیقی مرحوم کا ان شہداء کو خراج تحسین ہے۔
٭
ملتان تم پہ نازاں
ملتان تم پہ قربان
ملتان کی حیا تم
مسرور ہو گئی ہیں ملتان کی فضائیں
پرنور ہو گئی ہیں ملتان کی فضائیں
ملتان مسکرایا
ملتان جگمگایا
ملتان جھومتا ہے!
نقش قدم تمہارے ملتان کے دلارو!
ملتان کے شہیدو!
ملتان کی بہاریں
خاموش رہ گزاریں
تم کو بھلائیں کیسے!
دل کو منائیں کیسے!
ملتان کی نشانی!
ملتان لٹ گیا ہے‘ ملتان کے نظارو!
ملتان کے شہیدو‘ ملتان کے ستارو!
ملتان کی نظر سے
ملتان کے جگر سے
صدیوں لہو بہے گا
تازہ یہ غم رہے گا
ملتان ہنس رہا ہے‘ ملتان رو رہا ہے
پھولوں میں جیسے کوئی کانٹے چبھو رہا ہے
ملتان کی صدائیں
کہتی ہیں یہ فسانہ
سن لے جسے زمانہ
ٹوٹے گا دست ظالم‘ ملتان کے سہارو
ملتان کے شہیدو‘ ملتان کے ستارو
ملتان کی تمنا
ملتان کا تقاضا
انصاف شہریارو
ملتان کے ستارو
بیٹے کہاں ہیں میرے‘ ملتان پوچھتا ہے
کیوں چھا گئے اندھیرے‘ ملتان پوچھتا ہے
ملتان کو بتاؤ!
ملتان کو بتاؤ!
انسانیت کے نغمے‘ انسان کے لبوں پر
سو سو سلام تم پر
تم نے اٹھالیا ہے
تم نے بچالیا ہے
بطحا کا سبز پرچم‘ ملتان کے نگارو!
ملتان کے شہیدو‘ ملتان کے شعارو!
بیاد شہداء ختم نبوت ۱۹۵۳ء
٭ سیف الدین سیف ٭
کہو ان شہیدوں پہ لاکھوں سلام
ہمیں یاد ہے وہ زمانہ ابھی
نمازی کٹہرے میں لایا گیا
مساجد کی دیوار پر گولیاں
محمدؐ تیرے نام پر گولیاں
شہیدوں کے لاشے چرائے گئے
جوانوں کے حلقوم تلوار پر
کئی لوگ کھینچے گئے دار پر
جنہیں بیر ختم رسالت سے تھا
جنہیں اک تعلق بطالت سے تھا
ظالم وہ صیاد پھر آ گئے
قاتل وہ جلاد پھر آ گئے
بجا گفت
٭ سید امین گیلانی ٭
نازل ہو اب کتاب کسی پر‘ غلط غلط
ہے باعث نجات فقط مصطفےٰؐ کی ذات
ہو اور کوئی شافع محشر‘ غلط غلط
نشہ یہ معرفت کا کہیں سے نہ مل سکا
تجھ سا ہو کوئی ساقی کوثر‘ غلط غلط
ہاں ہاں ہزار بار بپا ہوں قیامتیں
اٹھے گا تیرے در سے مرا سر‘ غلط غلط
میں اور عدوئے دیں کی سنوں پھر بھی چپ رہوں
گردن بھی ہو‘ اگر تہہ خنجر‘ غلط غلط
ہاں ہر قدم پر خوف خدا بجا بجا
غیر از خدا کسی کا کوئی ڈر‘ غلط غلط
قادیانی فتنہ
حرمت دین محمد کے نگہبانو! اٹھو شعلہ سامانی دکھاؤ، شعلہ سامانو! اٹھو
مٹ رہا ہے دین وحدت اور ہم دیکھا کریں آؤ پھر پہلا سا جوش زندگی پیدا کریں
آگیا ہے ”روسیاہ“ تخت نبوت کے قریب کفر صف آرا ہوا ہے نور وحدت کے قریب
چھا رہی ہیں ظلمتیں شمع رسالت کے قریب خیمہ زن ہیں بجلیاں باران رحمت کے قریب
فتنہ دجال کی قربت کا پیغام آگیا لو خبر اسلام کی، نرغے میں اسلام آگیا
فتنہ یہ اٹھا ہے ہنگامہ اٹھانے کے لیے مشعل نور محمد کو بجھانے کے لیے
یہ بلا آئی ہے تم سب کو جگانے کے لیے غیرت دینی تمہاری آزمانے کے لیے
تم ہو ناموس محمد کے نگہباں یاد رہے تم مسلماں ہو، مسلماں ہو، مسلماں یاد رہے
خواب سے بے دار ہو روح الامیں کا واسطہ متحد ہو، رحمتہ للعالمین کا واسطہ!
پستیوں کو چھوڑ دو دین مبیں کا واسطہ رفعتوں کو ڈھونڈ لو، عرش بریں کا واسطہ
تم جو چونکو گے حوادث خود فنا ہو جائیں گے
ختم نبوت زندہ باد
سدا رہے یہ تجھ کو یاد ختم نبوت زندہ باد
یہ اسلام کی ہے بنیاد ختم نبوت زندہ باد
دین ہوا اس کا برباد ختم نبوت زندہ باد
جو بھی کرے منسوخ جہاد ختم نبوت زندہ باد
سہ لیتا ہے ہر افتاد ختم نبوت زندہ باد
ختم نبوت زندہ باد
حق منوا کر چھوڑیں گے باطل کا منہ توڑیں گے
عزم ہمارا ہے فولاد ختم نبوت زندہ باد
ختم نبوت زندہ باد
ختم نبوت زندہ باد
٭ سید امین گیلانی ٭
وہ قدم دوزخ میں جائیں گے اگر ہٹ جائیں گے
اس کے دشمن سے کھلا اظہار بیزاری کرو
آپ کے ہم، آپ کا سکہ، حکومت آپ کی
ملک کی، ملت کی، مذہب کی نہ پامالی کریں
٭ سید امین گیلانی ٭
کیوں نہ جگر ہو ٹکڑے ٹکڑے اور دل پارہ پارہ ہو
صبر کی حد ہوتی ہے کوئی کب تک آخر صبر کریں
اس بے شرمی کے جینے سے بہتر ہے ہم ڈوب مریں
قید ہو اب یا دار کا تختہ جو گزرے گی جھیلیں گے
نام پہ تیرے‘ جان دو عالم جان کی بازی کھیلیں گے
تو ہے ہم کو جان سے بڑھ کر مال اور ملک سے پیارا ہے
تیری محبت کامل ایماں‘ یہ ایمان ہمارا ہے
ہاں اب ہم سے صبر نہ ہو گا لاکھ کہیں غدار ہیں ہم
یا مانیں‘ یا جان ہے حاضر جینے سے بیزار ہیں ہم
٭ سید امین گیلانی ٭
یہ موقع کھو دیا تم نے تو پچھتاؤ گے نادانو
تڑپتا دیکھ کر جن کو زمین و آسماں تڑپے
اٹھو ختم نبوت کا علم کھولو مسلمانو
جو یہ کہہ دے کہ دے گا ساتھ وہ حق و صداقت کا
اسے غدار ملت‘ دشمن دیں‘ بے حیا سمجھو
اٹھو ختم نبوت کا علم کھولو مسلمانو
تریپن کے شہیدوں کی شہادت کی قسم مجھ کو
اٹھو ختم نبوت کا علم کھولو مسلمانو
یہ موقع کھو دیا تم نے تو پچھتاؤ گے نادانو
اٹھو ختم نبوت کا علم کھولو مسلمانو
یہ موقع کھو دیا تم نے تو پچھتاؤ گے نادانو
٭ سید امین گیلانی ٭
(تحریک تحفظ ختم نبوت ۱۹۵۳ء میں رضا کاروں کا جوش و جذبہ دیکھ کر)
❖
یہ خوددار ماؤں کی گودوں کے پالے
ترے نام پر سر کٹا دینے والے
یہ ختم نبوت کا پرچم سنبھالے
انہیں روک سکتی ہے جھڑکی نہ دھمکی
انہیں فکر ہے گولیوں کی نہ بم کی
کفن سر پہ جانیں خدا کے حوالے
خجل ہو اگر دیکھ لے ماہ تاباں
لبوں پر درود اور پہلو میں قرآں
کمر میں ہیں تیغیں نہ کاندھوں پہ بھالے
بڑھے جا رہے ہیں بڑھے جا رہے ہیں
برسنے لگیں گولیاں مسکرائے
ترا نام لے کر لہو میں نہائے
ترے پیار میں یوں مرے مرنے والے
کہ تو لطف کی اک نظر ان پہ ڈالے
بڑھے جا رہے ہیں بڑھے جا رہے ہیں
٭ سید امین گیلانی ٭
(ارباب حکومت سے)
دبا سکتے نہیں تم جبر سے اہل صداقت کو
جو حق والے ہیں کہنے سے ہرگز رک نہیں سکتے
کٹا سکتے ہیں سر باطل کے آگے جھک نہیں سکتے
سنو، ہاں ہاں سنو، ہم یہ علی الاعلان کہتے ہیں
غلام احمد کو کافر اور بے ایمان کہتے ہیں
کرے ختم نبوت کا کوئی انکار کافر ہے
بھرے اجلاس میں کہتا ہوں میں، سو بار کافر ہے
اگر جمہوریت ہے بات پھر جمہور کی مانو
تم ان مرزائیوں کو خارج از اسلام گردانو
قیامت تک نہ ہم چھوڑیں گے دامن کملی والے کا
محمدؐ کی شریعت کی حفاظت کیوں نہیں کرتے
قیامت میں رسولؐ اللہ کو کیا منہ دکھاؤ گے
خدائے پاک سے ہم نے کیا ہے جان کا سودا
ہمیں راہ وفا میں ہنس کے مر جانا بھی آتا ہے
ہمارے خون کے سیلاب میں خود ڈوب جاؤ گے
٭ سید امین گیلانی ٭
اس جان دو عالم پہ فدا جان کریں گے
یوں روح کی تسکین کا سامان کریں گے
ایماں کے لیے جان کو قربان کریں گے
وہ وقت بھی آ جائے گا ارباب حکومت
غدار و وفادار میں پہچان کریں گے
انگریز کی ہر چال کا محمود ہے مہرہ
انگریز کے مہرے کو پریشان کریں گے
ہم اہل جنوں اور جھکیں موت کے آگے
ہم جب بھی مرے موت پہ احسان کریں گے
کافر ہے، جسے ختم نبوت کا ہو انکار
روکے گا ہمیں کون یہ اعلان کریں گے
واللہ وہ دن آئے گا خود اس کے پجاری
”ربوے“ کے صنم خانے کو ویران کریں گے
٭ سید امین گیلانی ٭
(جنرل ضیاء الحق صدر پاکستان سے)
آپ سے کچھ عرض کرنا ہے بعجز و انکسار
حفظ ناموس نبوت آپ ہی کا کام ہے
کیا مٹا سکتے نہیں ہیں آپ یہ رسم قبیح
ان کو دیتے ہیں رضی اللہ کا اب تک خطاب
زوجہ مرزا کو کہتے ہیں یہ ام المومنین
کیا یہ پڑھ سن کر کسی مومن کو آسکتا ہے چین
کیا یہ سب بے غیرتی برداشت ہم کرتے رہیں
زہر کے یہ جام ہم پیتے رہیں' مرتے رہیں
ان کے ہونٹوں کے لیے کیا کوئی بھی تالا نہیں
کیا یہاں اسلام کا کوئی بھی رکھوالا نہیں؟
اس نبیؐ کا واسطہ' کیجئے کچھ ان کا احتساب
جس نبیؐ کی گرد پا سے آپ ہیں عزت مآب
چھین لیں ان سے کلیدی کرسیاں ساری حضور
غیر کے جاسوس لے ڈوبیں گے اک دن بے قصور
آنچ آنے دیں نہ کوئی ملک پر اسلام پر
ہم ہیں کٹ مرنے کو حاضر' مصطفےٰؐ کے نام پر
٭ سید امین گیلانی ٭
(مرزا طاہر کے بھاگ جانے پر ختم نبوت کانفرنس ربوہ میں پڑھی)
چیلے چھوڑ کے گرو اکیلا بھاگ گیا
کتنا بزدل نکلا، تنہا بھاگ گیا
چھوڑ کے سارے سانپ سپیرا بھاگ گیا
شیر نے لی انگڑائی چوہا بھاگ گیا
سوچتے کیا ہیں بھاگنے والا بھاگ گیا
سچے ہیں میدان میں، جھوٹا بھاگ گیا
٭ سید امین گیلانی ٭
سب منظور سزائیں مرزا کافر ہے
ہم تو کہیں گے کافر اس کو یہ بے شک
ہتھکڑیاں پہنائیں مرزا کافر ہے
آپ یہ کہتے جائیں مرزا کافر ہے
ختم نبوت پر ہو جائیں گے قربان
سولی پر لٹکائیں مرزا کافر ہے
ہر اک کو سمجھائیں مرزا کافر ہے
کوئی نہ یہ سمجھے میں تنہا کہتا ہوں
سب مل کر دہرائیں مرزا کافر ہے
ان سے یہ لکھوائیں مرزا کافر ہے
بھٹو ہو کہ کوثر یا عبدالقیوم
اللہ سے شرمائیں مرزا کافر ہے
بھٹو جی مانو بھی یہ کیا کرتے ہو
آئیں بائیں شائیں مرزا کافر ہے
وہ بھی ہے کافر اس کو نہ سمجھے جو کافر
کیوں حق بات چھپائیں مرزا کافر ہے
راضی رکھو کملی والے آقا کو
ہائے وہ روٹھ نہ جائیں مرزا کافر ہے
قریہ قریہ، بستی بستی، نگر نگر
گیت یہ میرا گائیں مرزا کافر ہے
جشن منائیں گے ہم اس دن گیلانی
بھٹو جو فرمائیں مرزا کافر ہے
٭ سید امین گیلانی ٭
تو ہے بڑا دجال‘ ترے کیا کہنے ہیں
ختم نبوت پر تو نے ڈاکہ ڈالا
کھا کے پرایا مال‘ ترے کیا کہنے ہیں
کوئی فرشتہ تیرا ٹیچی ٹیچی ہے
کوئی ہے مٹھن لال‘ ترے کیا کہنے ہیں
الٹے بوٹ پہن کر تو چلتا ہوگا
کیسی بانکی چال‘ ترے کیا کہنے ہیں
کاج اوپر کے بٹن پھنسائے ہیں نچلے
واہ بھئی مست جمال‘ ترے کیا کہنے ہیں
حلیہ دیکھو‘ آنکھیں ٹیڑھی‘ سر فٹ بال
پچکے پچکے گال‘ ترے کیا کہنے ہیں
ڈر جاتے ہیں بال‘ ترے کیا کہنے ہیں
اب کوئی تجھ سا لال‘ ترے کیا کہنے ہیں
جانی سرت سنبھال‘ ترے کیا کہنے ہیں
تو نے کیا کمال‘ ترے کیا کہنے ہیں
٭ سید امین گیلانی ٭
جس کی حفاظت، فرض ہے سب کا وہ ہے امانت، ختم نبوت
چھن گئی جس سے وہ ہوا مفلس ایسی ہے دولت، ختم نبوت
دین سلامت ہے، جو اب تک اس کی ہے علت، ختم نبوت
جن کے لیے صدیقؓ لڑے تھے وہ ہے صداقت، ختم نبوت
منکر کاش اس بات کو سمجھیں حق کی ہے رحمت، ختم نبوت
میرا دیں ایمان یہی ہے
وحدت امت، ختم نبوت
٭ سید امین گیلانی ٭
وہ دنیا میں خدا کا آخری لے کر پیام آئے
سکھانے آدمی کو آدمی کا احترام آئے
وہ آئے جب تو انساں کو فرشتوں کے سلام آئے
ملائک رہ گئے پیچھے کچھ ایسے بھی مقام آئے
شہنشہ گر پڑے قدموں میں جب ان کے غلام آئے
کہ خورشید درخشاں جس طرح بالائے بام آئے
جہاں دیکھو خدا کے نام کے بعد ان کا نام آئے
تو جھٹ میدان میں ختم نبوت کے غلام آئے
وہاں وہ کام آئیں گے جہاں کوئی نہ کام آئے
٭ سید امین گیلانی ٭
کانا بھی پیغمبر تھا‘ لاحول ولا
آگے کیا ہوتا ہوگا؟ لاحول ولا
میں ہوں مٹی کا کیڑا‘ لاحول ولا
گڑ کی ڈلی سے استنجا‘ لاحول ولا
مجھ کو ہوا‘ پھر میں پیدا‘ لاحول ولا
خود ہی مریم کا بیٹا‘ لاحول ولا
کبھی کہا میں ہوں موسیٰ لاحول ولا
دن کو سو سو بار کیا کرتا تھا موت
آدمی تھا یا پرنالہ‘ لاحول ولا
سمجھ کے پگڑی‘ اک دن بیوی کی شلوار
سر پہ باندھ کے آ بیٹھا لاحول ولا
خود لکھتا ہے چودھویں شب کا چاند ہوں میں
یہ دعویٰ اور یہ بوتھا لاحول ولا
گھر سے نکلا پہن کے الٹی گرگابی
دیکھ ذرا اس کا نخرا لاحول ولا
اس کے ماننے والوں سے کوئی پوچھے
آدمی تھا یا پاجامہ‘ لاحول ولا
جب بھی کہیں نام آیا اس کا گیلانی
منہ سے مرے فوراً نکلا لاحول ولا
٭ سید امین گیلانی ٭
للہ بات کو سمجھو‘ بائیکاٹ کرو
ماؤں‘ بہنو! بچو بائیکاٹ کرو
بوڑھو اور جوانو‘ بائیکاٹ کرو
ان سے سودا مت لو بائیکاٹ کرو
ان کو سودا مت دو بائیکاٹ کرو
دس ہی دن میں یہ ربوے کو بھاگیں گے
بات ہماری مانو بائیکاٹ کرو
بائیکاٹ سے یہ خود ہی کٹ جائیں گے
کیا کر لے گا بھٹو بائیکاٹ کرو
بائیکاٹ کا نعرہ گونجے گلی گلی
گھر گھر میں چرچا ہو بائیکاٹ کرو
ظلم نہیں یہ لوگو بائیکاٹ کرو
توڑ چکے جو ناطہ کملی والے سے
ان سے ناطہ توڑو بائیکاٹ کرو
یہ تو ہیں باغی سرکارِ دو عالم کے
اے اللہ کے بندو بائیکاٹ کرو
دل میں اگر کچھ بھی اسلام کی غیرت ہے
گیلانی کی مانو بائیکاٹ کرو
٭ سید امین گیلانی ٭
جو خواہش ہے جینے کی مرنا پڑے گا
چڑھاؤ نہ یوں دار پر اہل حق کو
تمہیں مسندوں سے اترنا پڑے گا
نہ بھٹکیں گے ہم راہ حق سے اگرچہ
ہمیں جان دے کر گزرنا پڑے گا
اگر جرم ہے دین حق کی حفاظت
تو یہ جرم سو بار کرنا پڑے گا
جو نکلے ہیں گھر سے نہیں ان کو پرواہ
کہاں موت کے گھاٹ اترنا پڑے گا
غلام احمد اور اس کی امت ہے کافر
حکومت کو اعلان کرنا پڑے گا
٭ سید امین گیلانی ٭
یقیں کر اے ستم گر ہم کو مر جانا بھی آتا ہے
تو حق والوں کو طوفانوں سے ٹکرانا بھی آتا ہے
کفن پہنے ہوئے میدان میں آنا بھی آتا ہے
تڑپنا بھی مجھے آتا ہے تڑپانا بھی آتا ہے
گریباں چاک کر کے گولیاں کھانا بھی آتا ہے
مجھے پیر و جواں کا خون کھولانا بھی آتا ہے
٭ سید امین گیلانی ٭
شمع رسالت کے پروانے ہیں ہم لوگ
حق کے لیے میدان میں ہم ڈٹ جاتے ہیں
آپ کے جانے اور پہچانے ہیں ہم لوگ
نیا نہ کوئی مذہب ہم چلنے دیں گے
دین پرانا‘ اور پرانے ہیں ہم لوگ
اہل زمانہ ہم لوگوں کی قدر کرو
حسن حقیقی کے دیوانے ہیں ہم لوگ
لعل حسین ہو‘ اشعر ہو یا گیلانی
اور ہیں کچھ دن پھر افسانے ہیں ہم لوگ
۱۔ مولانا لعل حسین اختر ــــــــ ۲۔ مولانا عبدالرحیم اشعر
٭ سید امین گیلانی ٭
سزا دیتے رہے ہو تم، یہ خطا کرتے رہیں گے ہم
ہمیشہ حق سے باطل کو جدا کرتے رہیں گے ہم
یہ حق ہے اہل حق کا حق ادا کرتے رہیں گے ہم
نبوت تخت ان کا خاتمیت تاج ہے ان کا
یونہی تعریف شاہ دوسرا کرتے رہیں گے ہم
رسولؐ اللہ ہم کو جان سے پیارے ہیں نادانو
رسولؐ اللہ پر جانیں فدا کرتے رہیں گے ہم
بجز اسلام ہر آئین نامنظور ہے ہم کو
زباں ہے منہ میں جب تک یہ صدا کرتے رہیں گے ہم
جئیں اسلام کی خاطر، مریں اسلام کی خاطر
امین اللہ سے یہ التجا کرتے رہیں گے ہم
٭ سید امین گیلانی ٭
تو خنجر تیز کر‘ میں حریت کے گیت گاؤں گا
میں طوفاں بن کے اٹھوں گا‘ میں آندھی بن کے چھاؤں گا
میں اک اک کر کے توڑوں گا‘ میں اک اک کر کے ڈھاؤں گا
وہ بے ایمان ہے‘ میں اہل ایماں کو بتاؤں گا
میں یہ نعرہ لگاتا ہوں‘ میں یہ نعرہ لگاؤں گا
رسول‘ اللہ کے آگے سرخرو ہو کر تو جاؤں گا
٭ سید امین گیلانی ٭
ناموس رسولؐ اکرم کی جاں دے کے حفاظت کرتے ہیں
اپنا نہ کوئی سمجھے ان کو دشمن ہیں یہ دین اور ملت کے
یہ ختم نبوت کے منکر، توہین نبوت کرتے ہیں
جینے کا ہمیں کچھ شوق نہیں، مرنے کی ہمیں کچھ فکر نہیں
وہ مر کے بھی زندہ رہتے ہیں جو حق کی حمایت کرتے ہیں
حق پر تو کڑی نگرانی ہو باطل پہ کوئی بھی قید نہیں
افسوس مسلماں ہو کر کیا ارباب حکومت کرتے ہیں
ہم میں جو وطن کا مجرم ہو، سر اس کا جدا تن سے کر دو
للہ خبر لو ان کی جو ”ربوے“ میں خلافت کرتے ہیں
ہم برسر میدان کہتے ہیں، سچ جھوٹ میں حاکم فرق کریں
ہم وہ تو نہیں ہیں، چھپ چھپ کر جو ان کی شکایت کرتے ہیں
٭ سید امین گیلانی ٭
تا حشر میرے بعد نبوت نہ آئے گی
بے شک کوئی کتاب ہدایت نہ آئے گی
اب کوئی دین' کوئی شریعت نہ آئے گی
اب ان سے بڑھ کے کوئی جماعت نہ آئے گی
کوئی نیا نبی' نئی امت نہ آئے گی
شاید اسے یقیں تھا قیامت نہ آئے گی
کب تک انہیں حیا، انہیں غیرت نہ آئے گی
زرد چہرہ ہو گیا ملت کے ہر غدار کا
٭ سید امین گیلانی ٭
وقت پھر طالب ہوا قربانی و ایثار کا
زرد چہرہ ہو گیا ملت کے ہر غدار کا
راست بازوں کی زباں میں ہے اثر تلوار کا
نعرۂ حق لب پہ ہو نظروں میں تختہ دار کا
حق ہمارے ساتھ ہے، کیا ڈر ہمیں اشرار کا
رخ بدلنا ہے ہمیں حالات کی رفتار کا
ہم نہ پوچھیں گے امین کیا بھاؤ ہے بازار کا
اس دور میں ایسے لوگ کہاں؟
٭ سید امین گیلانی ٭
اسلام کی خاطر وقف رہا، شورش کا قلم شورش کی زباں
یوں اس کی جوانی گزری ہے، اس ملک کی آزادی کے لیے
پاؤں میں پہن کر زنجیریں، دیوانہ پھرا زنداں زنداں
اللہ اللہ سالار جری وہ لشکر ختم نبوت کا
للکار سے اس کی رہتا تھا، ربوے کا صنم لرزاں لرزاں
جب حق کا علم لے کر وہ اٹھا پھر رک نہ سکا بڑھتا ہی رہا
باطل کے بتوں کو ڈھا ڈھا کر، دیتا تھا صنم خانوں میں اذاں
داؤد" و بخاری" و مدنی" کے جذبات کا پرتو تھا اس میں
افسوس کہ اس کے ساتھ گیا وہ جوش عمل وہ رنگ بیاں
روؤں نہ بھلا کیوں، شورش کو اس دور میں ایسے لوگ کہاں
عاشق وہ تری توحید کا تھا پروانہ تھا شمع نبوت کا
یا رب میری دل سے ہے یہ دعا تو اس کو عطا کر باغ جناں
غدار وطن
٭ جانباز مرزا مرحوم ٭
میں پوچھتا ہوں یاران وطن یہ خار چمن میں کیوں کر ہیں؟
گر وقت نے ہم سے خوں مانگا‘ ہم وقت کا دامن بھر دیں گے
ہم موت سے لڑنا جانتے ہیں‘ اس بات کی قسمیں کھائی ہیں
یہ ٹولہ ہے ابلیسوں کا‘ کہہ دو سارے عالم کو
یوں ننگ شرافت کہتے انہیں‘ اسلام کی راہ میں ننگ ہیں یہ
یہ جاسوسوں کا ڈیرہ ہے‘ اس ڈیرے کو بھی ختم کرو
ورنہ پھر میدان میں ہیں‘ سمجھو کہ کفن بردوش بھی ہیں
ہم ختم نبوت کے وارث‘ اس راہ میں سرفروش بھی ہیں
تم سانپوں کے رکھوالے ہو‘ کیوں دودھ پلاتے ہو ان کو
یہ پاک وطن کے دشمن ہیں‘ تم دوست سمجھے ہو جن کو
ہمت تو کرو جانباز ذرا‘ یہ بیڑہ ڈوبنے والا ہے
تم دیکھتے ہو دجالوں کا‘ اس دنیا میں منہ کالا ہے
غدار
٭ جانباز مرزا مرحوم ٭
قرن اول کے مسلمانوں کے ہم آثار ہیں
خواجہ کونینؐ کی عزت پہ ہم کٹ جائیں گے
نام لیوا احمد مختار کے، جی دار ہیں
صدر صاحب! اس حقیقت کو نہ ہرگز بھولئے
قادیانی سرزمین پاک کے غدار ہیں
شیخ جی کی کم بصیرت پر تعجب کیا کریں؟
”حضرت“ کوثر بھی اب تو دین سے بیزار ہیں
نوٹ کر لے یہ ہماری بات ”ربوے“ کا ”امیر!“
اس زمیں پر ہم خدا کی آخری تلوار ہیں
اشعار یہ جانباز کے ربوہ میں سناؤ
٭ جانباز مرزا ٭
تابندہ رہے گا یوں ہی گلستان محمدؐ
اس گل کو شہیدوں کا لہو ملتا رہے گا
منصور نے سولی پہ بھی دی اس کو دعائیں
کہ اسے جا کے اماں اپنے خداؤں میں ملی ہے
اس موت میں جینے کے کچھ انداز بھی سمجھو
باطل ہے زہر، دیکھنا تم کھا کے رہو گے
اس کفر میں ایماں کی پہچان نہیں ہو
تم لاکھ پڑھو کلمہ مسلمان نہیں ہو
آتا ہے مسلماں کو باطل سے نمٹنا
بدلا ہمیں لینا ہے شہیدوں کے لہو کا!
آئینہ میری نظم کا باطل کو دکھاؤ
ارمغان قادیان
٭ جانباز مرزاؔ ٭
آزاد کشمیر اسمبلی نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا۔ یہ نظم اس وقت کہی گئی تھی۔
کہ اس سن میں غلام احمد کی امت پر زوال آیا
کہ جب کشمیر کی اسمبلی میں یہ سوال آیا
بڑھا ابلیس کا حلقہ تو فطرت کو جلال آیا
خبر سنتے ہی اولاد فرنگی کو ملال آیا
بتاؤ کس طرح یورپ کے دلالوں کو زوال آیا
غرض چندے سے تھی ان کو‘ حرام آیا حلال آیا
مگر اس دور کا کذاب آیا‘ بے مثال آیا
شہیدان نبوت کے لہو کو جب جلال آیا
حکومت خود کہے گی جب حکومت کو خیال آیا
کہ جب بنگال کے جانباز چیتے کا سوال آیا
٭ جانباز مرزا ٭
دلوں سے نقش محمدؐ مٹا سکو گے نہ تم!
کبھی جو ساز فرنگی پہ تم نے گایا تھا!
وہ راگ جھوٹی نبوت کا گا سکو گے نہ تم
خدا نے چاہا، سلامت رہیں یہ دیوانے
کہیں بھی اپنا تماشہ دکھا سکو گے نہ تم
مجھے قسم ہے براہیم کے گلستان کی
کہ آگ کفر کی پھر سے جلا سکو گے نہ تم
جسے جلایا بخاریؒ نے خون سے اپنے
وہ شمع لاکھ بجھاؤ، بجھا سکو گے نہ تم
جہاں فریب نبوت دیا تھا تم نے کبھی
اجڑ چکی ہے وہ بستی بسا سکو گے نہ تم
ابھی تو بازوئے جانباز میں حرارت ہے
اب اپنے دجل کا پرچم اڑا سکو گے نہ تم
مرثیہ قادیاں
٭ ازھر درانی مرحوم ٭
کیوں لیا تو نے جنم اس پر لعین قادیاں
جس کے ہاتھوں لٹ گئی ہر مہ جبین قادیاں
تو ذلیل دو جہاں ہے اے کمین قادیاں
تجھ سے ہے شیطان بھی کمتر بدترین قادیاں
شکل دیکھی ہے کبھی اپنی لعین قادیاں
اس کا مدفن بن رہی ہے اب زمین قادیاں
اب مٹا کر چین لیں گے جگ سے ”دین“ قادیاں
٭ نعیم صدیقی ٭
بازار دیں میں کفر کا سکہ چلا چکے
جو بیچتے تھے داروئے ترک جہاد یاں
تاویل کی دکان وہ اپنی بڑھا چکے
اک دوسرے کو بڑھ کے مبارک کہو کہ آج
نوے برس کا قرض پرانا چکا چکے
ہیں محو جشن فتح محبان مصطفےٰؐ
اک مسجد ضرار کو مل جل کے ڈھا چکے
(ہفت روزہ ”آئین“ ۱۵؍ ستمبر ۱۹۷۴ء)
٭ وقار انبالوی ٭
(نامور صحافی‘ شاعر‘ کالم نویس ”سرراہے“ روزنامہ نوائے وقت)
ظفر اللہ خاں قادیانی‘ ٹائمز (برطانیہ) کی دہلیز پر
اور کملا گیا ربوہ میں بھی اس کا مکھڑا
تو ہی کہہ دے کہ کہاں جائیں پرستار تیرے
کوئی سنتا نہیں دنیا میں ہمارا دکھڑا“
(روزنامہ ”نوائے وقت“ ۱۲ جون ۱۹۷۴ء)
تمہیں محمدؐ کا عشق اب بھی پکارتا ہے
٭ سید منظور الحسن شاہ ٭
اسی کے صدقے سے ملنے والی کتاب ہستی سجانے والو
اسے حرا میں رلانے والو
اسے محبت جتانے والو
مگر محمدؐ کے دشمنوں سے، محبتوں کو بڑھانے والو
تمہارے اندر نبیؐ کی الفت کی اک رمق بھی نہیں رہی ہے
تمہارے چہرے پہ اس کی یادوں کی ایک جھلک بھی نہیں رہی ہے
نبیؐ سے عشق و وفا نبھانے کے دعویدارو
ذرا محمدؐ کے پیار کا اپنے واسطے تم مقام دیکھو
گریباں اپنے بھی جھانک دیکھو
اسی نبیؐ کی محبتوں کا مقام دیکھو
کہ جس نے امت سے پیار کرنے پہ چمن طائف میں زخم کھائے
وہی محمدؐ کہ جس نے اپنے
شہید دندان بھی کرائے! شدید صدمات بھی اٹھائے
وہی محمدؐ کہ جس نے تم کو ہیں درس انسانیت سکھائے
وہی محمدؐ کہ جس نے تمہارے پیار خاطر ہی اپنا آبائی شہر چھوڑا
وہی محمدؐ کہ جس نے فاقے تو کر لیے پر نہ تم سے عہد وفا کو توڑا
وہی محمدؐ کہ جس کے ہونٹوں سے پتھروں کے عوض دعاؤں کے پھول برسے
وہی محمدؐ کہ جس کی چند مسکراہٹوں پر خدا تمہارے گناہ بخشے
اسی کی روح عظیم تمہاری الفتوں کو تلاش کرنے میں سرگرم ہے
مگر تمہاری محبتوں کے خزانے خالی پڑے ہیں لوگو!
تمہارے آقاؐ تمہاری غیرت کو دیکھ کر چپ کھڑے ہیں لوگو
نبی کے دشمن بڑے ہیں لوگو، کفر کے پہرے کڑے ہیں لوگو
مگر ہم اپنی محبتوں پر
رسولؐ سے بے وفائیوں کے لبادے اوڑھے کھڑے ہیں لوگو!
ہمارے آقاؐ ہماری چاہت کو دیکھ کر چپ کھڑے ہیں لوگو!
سنو! محمدؐ کا نام سنتے ہی آنسوؤں کو بہانے والو!
سنو! محمدؐ کے منہ سے نکلے حروف کو بیچ کھانے والو!
سنو! نبیؐ کے نقوش پا کی تلاش میں نکلے راستوں کو مٹانے والو!
تمہیں ذرا بھی خبر نہیں ہے
کہ قادیانی تمہارے آقاؐ کی عصمتوں کو
طویل مدت سے ماند کرنے میں سرگرم ہیں
وہ کب سے تمہاری بے بسی اور بے حسی پر
خوشی کے نعرے لگا رہے ہیں
نبیؐ کے دیں کو مٹا رہے ہیں
بنائے اسلام ڈھا رہے ہیں
تمہیں تمہارے عظیم آباء سے ملنے والی
میراث عشق محمدی کو مٹا رہے ہیں
سنو! محمدؐ کا دیں بچانے فلک سے کوئی نہیں آئے گا
تفرقہ بازی کے بت گرانے فلک سے کوئی نہیں آئے گا
نجاست قادیاں مٹانے فلک سے کوئی نہیں آئے گا
نبیؐ سے عہد وفا نبھانے فلک سے کوئی نہیں آئے گا
سنو محمدؐ کے بے وفاؤ
تمہیں کو اپنے نبیؐ سے وعدے نبھانے ہوں گے
تمہیں کو امت کو ایک رستے پہ لانا ہوگا
تمہیں کو فتنہ قادیاں کو مٹانا ہوگا
نبیؐ سے عشق و وفا نبھانے کے دعویدارو!
تمہیں محمدؐ کا عشق اب بھی پکارتا ہے
خدا بھی بھٹکے ہوؤں کے رستے سنوارتا ہے
چلو خدارا!
منافقت کے قبیح لبادے اتار ڈالیں
نبیؐ کے دشمن اجاڑ ڈالیں
خدا کی رحمت پکار ڈالیں
چلو کہ فتنہ قادیاں کو
جڑوں سے اس کی اکھاڑ ڈالیں
چلو کہ اپنے لہو کو عشق محمدیؐ پر نثار ڈالیں
پیغام ختم نبوت’
٭ محمد شریف ماہی ٭
کرے دعویٰ اب جو نبوت کا جھوٹا‘ وہ کافر ہے ہم یہ بتاتے رہیں گے
محمدؐ نبی پہ نبوت ختم ہے اگر پوچھو سچ تو ہر نعمت ختم ہے
مذہب ختم ہے‘ شریعت ختم ہے‘ نیا کوئی نہ ہوگا‘ سمجھاتے رہیں گے
ہمیشہ چلے گی محمدیؐ شریعت‘ سدا قائم رہے گی محمدیؐ نبوت
نبوت رسالت شریعت محمدیؐ کا قانون ہم تو چلاتے رہیں گے
محمدؐ کی جو ہو نبوت کا باغی‘ وہ ہے رب کی بھی ربوبیت کا باغی
خدا اور نبیؐ کے اس باغی کا ہم تو‘ سر تن سے ہر دم اڑاتے رہیں گے
خواہ کوئی بھی ہو یہاں نبوت کا باغی محمدؐ نبی کی ہو سنت کا باغی
حدیث اور قرآن کا جو بھی منکر‘ مسلماں نہیں‘ وہ بتاتے رہیں گے
ہے مسلم وہی جو ہو قرآں کے تابع‘ حدیث محمدؐ کے فرماں کے تابع
مطابق صحابہؓ کے سنت کا عامل وہی ہے مسلماں سناتے رہیں گے
جسے نہ ہو دل میں صحابہؓ کی الفت‘ محمدؐ نبی کی ہو سنت سے نفرت
صرف نام کے وہ مسلمان ماہی‘ ایسے لوگ دوزخ میں جاتے رہیں گے
محمدؐ کا باغی مٹانا پڑے گا
٭ محمد شریف ساہی ٭
محمدؐ کی ختم نبوت پہ یارو دل و جاں سے ایمان لانا پڑے گا
محمدؐ نبی وجہ تخلیق دنیا‘ وہ محبوب رب اور سردار انبیاء
محمدؐ ہی رحمت دو جگ ہیں یارو عقیدہ اسی پہ جمانا پڑے گا
محمدؐ نبی پہ نبوت ختم ہے‘ اور مذہب اسلام بھی ہے مکمل
قبر اور حشر میں نجات کے لیے عمل تم کو اس پہ کمانا پڑے گا
چاہتے ہو گر دو جہاں کامیابی راضی ہو تم سے خدا مصطفےٰؐ بھی
تو قرآن ذی شان فرمان نبی کا محبت سے سینے لگانا پڑے گا
جو آقا کی ختم نبوت کا باغی‘ بگڑ چکا جس کا توازن دماغی
وہ اسلاموں خارج ہے مردود کافر یہ اعلان منہ سے سنانا پڑے گا
محمدؐ کے دیوانو‘ پروانو‘ سن لو میری بات کو یاد رکھنا ہمیشہ
ایمان کو تازہ کرنے کی خاطر تمہیں زندگی بھر یہاں آنا پڑے گا
ختم نبوت کے باغی کو یارو صفحہ ہستی سے ہی مٹانا پڑے گا
پہلا باغی نکلا مسیلمہ کذاب ایہہ اسی کا ہوا تھا پھر خانہ خراب ایہہ
صدیقؓ اکبر نے فرمایا یارو جہنم میں اس کو پہنچانا پڑے گا
خلفاء اربعہ نے کی یہ شجاعت کی ختم نبوت کی سب نے حفاظت
صحابہؓ کے نقش قدم چلتے ہوئے ہمیں بھی عمل یوں کمانا پڑے گا
قاضی احسانؒ جالندھری نے کہا تھا ہم مسلم سبھی ایک جا ہولیں گے
ختم نبوت پہ ایماں ہمارا جی ہر مولوی کو یہاں آنا پڑے گا
مجھے بول کر تم ابھی یہ سناؤ اور نوری فرشتوں کو وعدہ لکھاؤ
تم زندگی بھر یوں ہی جلسہ سننے کو آتے رہو گے یہاں آنا پڑے گا
ماہی نے بھی یہ عزم کیا دل سے رہی زندگی تو میں آتا رہوں گا
خداوند قدوس توفیق بخشے تو نام اپنا خادم لکھانا پڑے گا
مرزائی ترانہ
٭ جامی ٹی۔اے علیگ ٭
مختصر یہ ہے کہ بے وقت کی شہنائی ہوں
کام ہے تفرقہ اندازی مذہب میرا
ملک و ملت کے لیے باعث رسوائی ہوں
مسلک ختم نبوت کا نہیں میں قائل
پیرو خاص غلام ابق مرزائی ہوں
میرا مذہب نہیں دیتا مجھے تعلیم جہاد
مفت میں جان گنواؤں کوئی سودائی ہوں
میرا قرآں بھی الگ‘ میری حدیثیں بھی الگ
نہ مسلماں نہ یہودی ہوں نہ عیسائی ہوں
شاہدِ مکر و ریا مرکزِ ہرجائی ہوں
تاج شاہی سے عقیدت ہے قدیمی مجھ کو
بتِ افرنگ کا دیرینہ تمنائی ہوں
ظفر اللہ نے اغیار پہ دی ہے مجھ کو
مظہرِ شوکتِ اسکندر و کسرائی ہوں
کیا عجب ہے کہ نظر آؤں میں یزداں کا حریف
پیشِ آئینہ ابھی محوِ خود آرائی ہوں
اہلِ ایماں کو بلاتا ہوں جہنم کی طرف
میں!! کہ ابلیسِ معظم کا بڑا بھائی ہوں
٭ جامی بی۔اے’ علیگ ٭
منکر ختم نبوت’ منکر قرآن ہے
درحقیقت دور حاضر کا ہر اک جھوٹا نبی
شکل انسانی میں جیتا جاگتا شیطان ہے
لا نبی بعدی خود فرما گئے ختم رسلؐ
جن کا ہر قول مبیں اللہ کا فرمان ہے
کاذب و زندیق کا حاصل ہوا جس کو لقب
مسیلمہ کذاب کا پیرو وہ بے ایمان ہے
موت پاخانے میں پائی حشر دوزخ میں ہوا
عہد نو کے مہدی موعود کی کیا شان ہے
مرتدوں کی زد میں یارب ارض پاکستان ہے
چشم گردوں ان کی چالیں دیکھ کے حیران ہے
اور امام وقت ان کا موشے دایان ہے
دل میں جامی کے ہمیشہ سے یہی ارمان ہے
- ۱- ضرورت شعری کے لیے مسیلمہ کو مسلمہ لکھا گیا ہے۔
ختم نبوۃ
٭ حضرت شوقی ٭
حق کی قسم یہ زندگی، موت ہے زندگی نہیں
ہے یہ حقیقت عیاں، ہزل نہیں، ہنسی نہیں
خاتم انبیاء کے بعد اور نبی؟ کبھی نہیں!
طبع اسیر مصطفےٰ تشنہ بے خودی نہیں
واقف حال ماسوا اب میری آگہی نہیں
پھر تبر خلیلؑ سے توڑ بتان آذری
عشق ہے آج حکمراں عقل کی دل لگی نہیں
آتش عشق کے شرر خاک حرم میں جا کے ڈھونڈھ
ارض عجم میں شور ہے شورش بوذریؓ نہیں
ہے ازلی عدو مرا‘ ایسوں سے دوستی نہیں
عرش عظیم مدح گو فرش زمیں درود خواں‘
ذکر رسولؐ سے تہی کوئی مقام بھی نہیں
شاہ عرب کی اک مثال چشم فلک نہ پا سکی
کون و مکاں میں آپؐ کی کوئی نظیر ہی نہیں
ختم حضورؐ پاک پر سلسلۂ رسل ہوا
قابل التفات ہی اب کوئی مفتری نہیں
مجھ کو بھی اے کریم ہو طیبہ کی حاضری نصیب
سچ ہے تری جناب میں لطف کی کچھ کمی نہیں
آہن بخت تیرہ کو شوق دل فگار تو!
عشق نبیؐ سے زر بنا عشق سی شے کوئی نہیں
تاج و تخت ختم نبوت' زندہ باد
٭ حکیم آزاد شیرازی ٭
اب یہ کسی کو دھوکا دے سکتی ہی نہیں ابلیسی طاغوتی قوت مردہ باد
اب تو شریعت کی ہے عدالت' زندہ باد
تاج و تخت ختم نبوت' زندہ باد
دجل و فریب کے رنگین جال اب ٹوٹ گئے ضیاء حق آ پہنچی، اب شیطان کہاں؟
زندہ باد! آئین شریعت' زندہ باد
تاج و تخت ختم نبوت' زندہ باد
شیخ لاہوری سے لے کر بنوری تک مخلص تھی سب کی کوشش مشکور ہوئی
قافلہ سالار شریعت' زندہ باد
تاج و تخت ختم نبوت' زندہ باد
مظہر علی اظہر ہو یا ابوالحسنات مولوی محمد علی، کفایت اور قاضی
سب ہیں راہروان جنت' زندہ باد
تاج و تخت ختم نبوت' زندہ باد
بھاگ گئی لندن اولاد فرنگ آخر دیکھ کے رہ گئی دنیا ساری دنگ آخر
اے شہدائے ختم نبوت! زندہ باد
تاج و تخت ختم نبوت! زندہ باد
پاکستان میں نظم خلافت، زندہ باد عدل و مساوات اور اخوت، زندہ باد
فرقہ بندی چھوڑ کے ایک اور نیک بنو فرد ہوں سب مربوط ملت، زندہ باد
آخری نبیؐ کی آخری امت! زندہ باد
تاج و تخت ختم نبوت، زندہ باد
مرزا غلام احمد قادیانی علیہ اللعنۃ سے
٭ علی اصغر چشتی صابری ٭
”تیری ہر ایک پیش گوئی جھوٹی ثابت ہوگئی تو نے اپنے ماننے والوں کو رسوا کر دیا
مجھ کو اپنے جال میں پھنسایا شیطان نے تو نے ناسمجھی میں ایک ہنگامہ برپا کر دیا
تو ہمیشہ اہل حق کو گالیاں دیتا رہا اپنا تو نے اپنے ہاتھوں سے کباڑا کر دیا
تو نے اہل بیت کی توہین اور تحقیر کی اور ان کی ذات پر حملے پہ حملہ کر دیا
حضرت عیسیٰ پہ تو نے باندھ دی صد تہمتیں اصل اپنا تو نے اس سے آشکارا کر دیا“
میرے دعوے کو اٹھا کر پارہ پارہ کر دیا
۱۔ مندرجہ ذیل اشعار۔ ۲۔ غلام احمد قادیانی۔ ۳۔ دعویٰ نبوت۔
مرزا غلام احمق
٭ شاہین اقبال اثر ٭
فہم و ادب نہیں کچھ نام و نسب نہیں کچھ منحوس خاندانی مرزا غلام احمق
کذاب کی علامت سچائی سے بغاوت اک جھوٹ اک کہانی مرزا غلام احمق
ایسی بھی سادگی کیا الٹا ہے تیرا جوتا ٹیڑھی ہے شیروانی مرزا غلام احمق
تھا شیطنت کا مسکن انسانیت کا دشمن حیوانیت کا بانی مرزا غلام احمق
ہر کفر تولنے میں اور جھوٹ بولنے میں تیرا نہیں تھا ثانی مرزا غلام احمق
شیطان کی شرارت کفار کی عمارت انگریز کی نشانی مرزا غلام احمق
پیروں کی گرد تھا وہ عورت نہ مرد تھا وہ تھا جنس درمیانی مرزا غلام احمق
ہیضے کا مرض تو یہ عبرت تھی موت تیری ناقص تھی زندگانی مرزا غلام احمق
تو تو گزر گیا پر اب تک ہے فتنہ بن کر تیرا وجود فانی مرزا غلام احمق
میرا اثر ہے دعویٰ دوزخ میں ہے وہ بیشک
بکتا ہے پانی پانی مرزا غلام احمق
جاگ رہے ہیں نبیؐ کے غلام
٭ شاعر عالم شیر عالم جے پوری ٭
ختم نبوت کے ڈاکو مٹ جائیں گے قافلے ابو جہل کے لٹ جائیں گے
گوروں کے ایجنٹ لندن سے بولے مرزا بھگوڑے نے یوں لب کھولے
اپنے شیطانوں کو اس نے پکارا اے ربوہ والو میں مرشد تمہارا
مانا کہ جان بچا کے میں بھاگا چھوڑ کے اپنی قوم کو ہائے بھاگا
ایسا رہبر تم کہاں پاؤ گے جہاں بھی جاؤ گے جوتے کھاؤ گے
غلط راہوں میں تمہیں ڈال دیا ہے کافر بنا کے اچھال دیا ہے
جھوٹے نبی کے جھوٹے پجاری ربوہ کے جنگل میں رہیں گے بھکاری
کل بھی ہارے تھے آج بھی ہاریں گے ہر گام پر مسلمان انہیں ماریں گے
فتح و نصرت تمہیں نہ ملے گی ناپاک دل کی کلی نہ کھلے گی
خدا کے شیر نہیں خدا کے ہو دشمن لوٹ نہ سکو گے نبوت کا گلشن
ملت اسلام سے کر کے بے ایمانی رسوا زمانے میں ہوئے قادیانی
یہ عالم ہے اب بوکھلائے ہوئے ہیں
دین کے دشمن گھبرائے ہوئے ہیں
یہ دین قادیانی، جاودانی ہو نہیں سکتا
٭ حضرت مولانا عبدالعزیز صاحب شوقی انبالوی ٭
وہ اپنے منہ میاں مٹھو بنے لیکن بایں صورت مکاں کا رہنے والا لامکانی ہو نہیں سکتا
میرے خالق نے بخشا ہے مجھے اسلام سا مذہب کوئی اس دین کا دنیا میں ثانی ہو نہیں سکتا
نبوت جس کی وابستہ ہو پائے اہل یورپ سے وہ دنیا میں کبھی حق کی نشانی ہو نہیں سکتا
دلائل سے غرض کیا صرف اتنا جانتا ہوں میں خدا والا اسیر بد زبانی ہو نہیں سکتا
ادھر اسلام کا دعویٰ ادھر کفار سے الفت ہمیں تو اعتبار قادیانی ہو نہیں سکتا
جہاں میں دشمن ختم رسلؐ موجود ہیں جب تک دل ناشاد وقف شادمانی ہو نہیں سکتا
کہاں سے لائیں جرات مرزائی بحث کرنے کی مقابل اہل حق کا نقش فانی ہو نہیں سکتا
جسے نعلین پوشی میں دھوکا پیش آ جائے وہ ملت میں کسی جدت کا بانی ہو نہیں سکتا
گئے انگریز تو ”خود کاشتہ پودا“ بھی سوکھے گا یہ دین قادیانی جاودانی ہو نہیں سکتا
جو دنیا میں شریک زمرہ باطل رہے شوقی
وہ عقبیٰ میں قرین کامرانی ہو نہیں سکتا
قادیان کی جھوٹی نبوت کا
طول و عرض
٭ مولانا محمد حیات غمگیں ٭
کہ لنگر جو خالی پڑا ہے ادھورا منی آرڈروں سے ہو جائے گا پورا
مکھن اور خیراتی کی یہ گفتگو ہے کرشن‘ جے سنگھ بہادر بھی تو ہے
کہیں اس نے دیکھی جو ایسی ضرورت عورت بنا پھر وہ مریم کی صورت
بنا جو وہ مریم سنو خوش کلامی حیض و حمل دکھا کر نشانی
ہوئی درد زہ اور جنی پھر وہ مریم مریم سے یوں بن گیا ابن مریم
مجدد بنا اور مجدد سے بڑھ کر بنا وہ پیمبر‘ پیمبر سے بڑھ کر
بنا پھر محمدؐ جو ختم الرسل ہے پڑی ہل چل اور پڑا شور و غل ہے
کسی نے کہا جو‘ کیا دل لگی ہے کبھی تو مجدد کبھی تو نبی ہے
تو بولا یوں ہاتف کہ ظلی نبی ہے نبی امتی ہے نبی امتی ہے!
تلون مزاجی کے یہ ہیرے پھیرے دنیا کے دھندے ہیں سارے یہ تیرے
کہانی بڑھانے کا ہے خوب پھندا عمر بھر جو دیتا رہے گا وہ چندہ
بہشتی قبر کا سنو اور قصہ! ساری کمائی کا دیوے جو حصہ
کرے پورا چندہ قبر کا بیانہ جنت کو ہوگا وہ سیدھا روانہ
جو چندہ نہ دیوے نہ قبریں خریدے وہ مر کر جہنم کو جائیں گے سیدھے
یہ پیغمبری ہے یا سوداگری ہے عجب زرگری ہے‘ عجب زرگری ہے
عزم
٭ عارف صحرائی ٭
دیں کے خلاف برپا کیا سب ہی نے غدر
نقصان دیں کو سب ہی نے پہنچایا ہے مگر
مرزائیت اساس پہ پڑتی ہے ٹوٹ کر
اس حد تلک نہ کوئی بھی بڑھ پایا آج تک
فتنہ ہے قادیان کا سب سے عجیب تر
برطانوی نبی تری "پرواز" خوب ہے
دیں میں نقب لگائی ہے ایمان لوٹ کر
ختم الرسلؐ کے نام پہ قربان میری جاں
مرزا کے پیرو آپؐ کی جانیں گے کیا قدر؟
الحاد کی بنیاد کو ڈھانے کا عزم ہے
ربوہ ہو قادیان ہو یا جو کوئی نگر،
صدارتی آرڈیننس کا نفاذ
اور مرزا طاہر کا فرار
٭ عارف صحرائی ٭
تابوت قادیان میں آخر گڑی وہ کیل اغماض جس سے تھوڑا بھی خطرہ خطیر تھا
برداشت ایسے شخص کی اولاد کیسے ہو؟ چوکھٹ پہ جو فرنگ کی مثل فقیر تھا
اب صاف کھل گئی ہے غلاظت کی ٹوکری مدت سے جس کے گرد غلاف حریر تھا
بتلا دیا ہے وقت نے سارے جہان کو ”اک حرف ناصحانہ“ تو حبہ حقیر تھا
مفرور ہو گیا ہے جو سن کر یہ فیصلہ معلوم ہو گیا کہ وہ اصلی شریر تھا
اسلم قریشی کیس سے طاہر کا بھاگنا اس پر دلیل ہے کہ وہ مجرم ضمیر تھا
”پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا“
سراپائے مرزا
٭ سلطان قدیر ٭
غلام احمد کا عقد آسمانی کیا ہے نظر بد کی ترجمانی
کہ حال چشم مرزا بھی وہی ہے جو ہے دجال کی اک آنکھ کانی
مسیحا کو لگے قے دست، توبہ نبی جی پر بلائے آسمانی!
کبھی بیوی کبھی بیٹا خدا کا عجب مرزا کی ہے یہ بد زبانی
سدا بادہ کشی افیون خوری بڑی رنگین تھی مرزا کی جوانی
سمجھ کر گڑ جو ڈھیلوں کا تناول یہ مجنوں پن یہ وحشی زندگانی
کہ رونا نوجواں کا چھوڑیئے گا بنا لیتا ہے اپنا دانا پانی
قدیر عین حقیقت ہے بیانی
اکمل قادیانی شاعر کو مخاطب کر کے
غلام احمد قادیانی
٭ مولانا فضل احمد صاحب صدیقی ٭
امین الملک اور جے سنگھ بہادر رہی انسانیت جس سے زیاں میں
غلام احمد تھا بے شک کرم خاکی نہ آدم زاد تھا وہم و گماں میں
بشر کی جائے نفرت تھا یقیناً سراپا عار تھا وہ انس و جاں میں
مسیحا ٹانک وائن کا تھا رسیا جو بکتی تھی پلومر کی دوکاں میں
تھا انگریزی حکومت کا مدح خواں پچاس الماریاں لکھی تھی شاں میں
کیا اس کو ذلیل و خوار حق نے کہ گندوں کی نہیں نصرت جہاں میں
ہوا غرق خجالت اس کا بیڑا وہی خود کمترین تھا اس جہاں میں
مسیلمہ پھر ہوا ہے ہم میں پیدا اور آگے سے ہے بڑھ کر اپنی شاں میں
جو چاہے دیکھنا دجال اکمل غلام احمد کو دیکھے قادیاں میں
جے مرزا قادیاں والے کی!
* حنیف رضا *
بقول م۔ ش (جنکا نام محمد شفیع) پاکستان کے سیاق و سباق میں مذہبی اختلاف کے باوجود قادیانی جماعت کے سربراہ کو پاکستان کی قیادت کی دعوت دینا کسی کے عقل و فہم سے بالا نہیں ہونی چاہیے اور قادیانی جماعت کے سربراہ کی خواہش کے مطابق چونکہ ان کی حکومت قائم ہونے ہی والی ہے، لہٰذا اس ”خیالی ریاست“ کا قومی ترانہ حاضر ہے۔ جسے چناب کی لہروں کی قدرتی موسیقی کے پس منظر گنگنایا جاسکتا ہے۔ سکولوں، کالجوں میں گایا جاسکتا ہے اور سالانہ جلسہ کے اجتماع میں بھی بجایا جاسکتا ہے، جس سے مرزا قادیانی کی بد روح بھی خوش ہوگی اور اس کے درجات بھی بلند ہوں گے۔ آزمائش شرط ہے۔
نہ پنڈت کی نہ لالے کی نہ گورے کی نہ کالے کی
نہ رانی خاں کے سالے کی جے مرزا قادیاں والے کی
روح اللہ کی مسند اس کو ملی
رب سویا ساتھ تو کھاٹ ملی
تب کس گئی اس کے دل کی کلی
اور ”کشتی نوح“ پھر خوب چلی
سر ہوگئی چوٹی ہمالے کی
جے مرزا قادیاں والے کی
دم نکلا جو رفع حاجت کی کیا اس کی شان رسالت تھی
کیا بات نکلتے نالے کی جے مرزا قادیاں والے کی
اسلام کا دامن چھوڑ دیا ایمان کا ساغر توڑ دیا
رخ شرم و حیا سے موڑ دیا غیرت کا خون نچوڑ دیا
ہے ڈھیلے کھانے والے کی جے مرزا قادیاں والے کی
نازک گدرائے سیمیں بدن
انگڑائی کا منظر توبہ شکن
اتارے نقابوں کی چلمن
اور مستی کان کے بالے کی
جے مرزا قادیاں والے کی
تحریف کرو ”سب اچھا ہے“ ”تسلیم کرو سب اچھا ہے“
پروا نہیں کملی والے کی جے مرزا قادیاں والے کی
اسلام کا پرچم پھاڑ جلا اس دھرتی کو بھی آگ لگا
ریلوے کی زمیں پہ جھوم کے گا طیارے سے آواز لگا
جے مرزا قادیاں والے کی
۱۲؍ جنوری ۱۹۷۴ء
کشمیر اسمبلی زندہ باد
٭ الحاج حنیف رضا ٭
تم نے پھینکی سارق ختم نبوت پر کمند
رنگ لائی ہے بخاریؒ کی مسلسل قید و بند
روز محشر بھی خدا کے روبرو ہو ارجمند
کب تلک چھپتی پھرے گی قادیاں کی گوسفند
خائب و خاسر ہوئے مسیلمہ کے بھائی بند
ہو گیا پھر لا نبی بعدی کا پرچم بلند
مرزا غلام احمد قادیانی
٭ علی اصغر چشتی ٭
ابلیس کے پھندے میں گرفتار ہے مرزا
اس نفس خبیثہ کا پرستار ہے مرزا
رسوائے زمانہ' وہ سیاہ کار ہے مرزا
پھر بھی رہا ناکام' وہ مکار ہے مرزا
خود بھی رہا دھوکے میں وہ عیار ہے مرزا
انگریز کا پالا ہوا غدار ہے مرزا
جس دل پر لگی مہر بصیرت گئی جس کی
اور سلب بصارت ہوئی وہ عار ہے مرزا
دن جس نے گزارے مرض کفر میں سارے
اور ٹس سے ہوا مس نہ وہ بیمار ہے مرزا
ساقی نے دیے جام جو چشتی کو مسلسل
پی پی کے کہا اس نے کہ مردار ہے مرزا
مرزا قادیانی
٭ حکیم محمد شریف خاں مخمور درانی ٭
وہ جھوٹا ہے مہدی وہ شیطاں جلی ہے
حقیقت میں انگریز کا ہے مصلی
وہ دریائے کذب و ریا کا شناور
سدا اس کی فرقت میں جلتا رہا ہے
جہنم کے ماتھے پہ ہے نام اس کا
کہیں اس کو ابلیس و دجال ثانی!
کہ جھوٹی نبوت کی فٹ بال ہے وہ
سنو منتظر کہ وہ بدکار بھی ہے
١ ۔ مصلی پنجابی میں خاکروب کو کہتے ہیں۔ دوسرے معنی اس کے انگریز کے در پر سر کو جھکانے والا ہوں گے۔
نبوت کے داعی کو بعد محمدؐ تقاضائے ایماں ہے کذاب کہئے
٭ مخمور درانی ٭
جو مانے گا مرزا کی جھوٹی نبوت‘ جہنم میں پھر اس کو غرقاب کہئے
محمدؐ کا ثانی نہیں ہے جہاں میں‘ یہ ممکن کہاں ہے‘ یہ ممکن نہیں ہے
ذرا ڈھونڈ دیکھو زمان و مکاں میں‘ محمدؐ کے ثانی کو نایاب کہئے
وہ جھوٹی نبوت کا شاہکار بن کر‘ وہ حسن مجازی پہ مرتا رہا ہے‘
وہ بیگم محمدی کی خاطر جہاں میں‘ رہا مضطرب مثل سیماب کہئے
وہ جھوٹا نبی ہے وہ جھوٹا مجدد‘ وہ جھوٹا ہے مہدی وہ جھوٹا مسیحا‘
کلام خدا کا میں سچ کہہ رہا ہوں کہ نا آشنائے آداب کہئے
کہاں ٹیچی ٹیچی‘ کہاں شان قرآں‘ کہاں مرزا کاذب‘ کہاں نور یزداں
ہے بہتر یہی اس لعیں کو‘ دجال کہئے یا کذاب کہئے
غلام شہ عیش و عشرت‘ مریض مرض ہائے اعصاب کہئے
محمدؐ ہمارا دو عالم کا پیارا‘ اجالا زمانے کا ہے مختصر وہ
مگر قادیانی نبی کو جہاں میں‘ یم خود پرستی کا گرداب کہئے
وطن کے نوجوانوں، محافظوں اور پاسبانوں کے نام
ایک طالب علم کا پیغام
٭ ادریس احمد آزاد ٭
قادیانی دشمنوں کو اب ذرا خاموش کر
بن کے قاسم ظلم کو مٹی میں تو روپوش کر
”شورش“ غیرت کے ناطے، اٹھ نگاہ جوش کر
گھونپ کے سینے میں خنجر اس کو محو دوش کر
چیر کے شمشیر سے، جام شہادت نوش کر
ایک ہی تھپڑ سے پورا قادیاں بے ہوش کر
تو صدائے حق کو پھر اب آشنائے گوش کر
عظمت ختم نبوت
٭ ناشر حجازی ٭
ستارے اور قمر پیدا، گلستاں اور شجر پیدا
کچل دوں گا خلاف اس کے کہیں ہو فتنہ گر پیدا
خدا کے فضل سے اب ہو رہے ہیں بخیہ گر پیدا
کہ ملت کے صدف میں ہو رہے ہیں پھر گہر پیدا
عین ایماں ہے
٭ فیروز نصیر آبادی ٭
سر مقتل بھی ان کا ذکر کرنا عین ایماں ہے
نبیؐ کے عشق میں سولی پہ چڑھنا عین ایماں ہے
میرے نزدیک اس کا سر کچلنا عین ایماں ہے
کسی کے عشق میں جلنا پگھلنا عین ایماں ہے
وہ کہتے ہیں رہ الفت میں مرنا عین ایماں ہے
قضا سے مسکراتے کھیل جانا عین ایماں ہے
کہ رسم کربلائی زندہ کرنا عین ایماں ہے
استاد بداں
٭ مقصود عالم شاہ کوٹی ٭
مرزے کو خباثت کا، منحوس نشاں کہئے
انسان کے جامے میں، عفریت نہاں کہئے
تلمیذ سگاں کہئے، استاد بداں کہئے
ایسے میں مسیحیت ملتی ہے کہاں کہئے!
مقصود سخن کہئے، سرمایہ جاں کہئے
ڈھینچوں ڈھینچوں
”ہفتگی لاہور“
کے نام
٭ قمر الحسنین قمر ٭
نور ایماں سے ہے خالی سینہ اس فحاش کا
یہ فرنگی زادہ بھی ہے پالتو بکتاش کا
یہ نہال آرزو ہے ملکہ عیاش کا
ٹانگیں اوپر سر تھا نیچا اس غبی نباش کا
نطفۂ مرزا مرکب زیروی اوباش— کا
باز آ جا زیروی یک چشم گل— اور— یاد رکھ
پھوڑ دیں گے سر ترا لاہور کے بدمعاش کا
میرزا و زیروی صرصر سموم کفر ہیں
گالی بکنے پر مہیا رزق ہے قلاش کا
- ١۔ مرزائیوں کا ہفت روزہ ”لاہور“
- ٢۔ ایڈیٹر ”لاہور“ ثاقب زیروی قادیانی
مرزا قادیانی کی اصلیت
٭ محمد سلیم ساقی ٭
کرگس کی اوقات اول‘ شاہیں کا گمان آخر
بنتا ہے مہدی و مسیح و نبی‘ خدا‘ ابن خدا
سردار البشر اول‘ شرمگاہ انسان آخر
کرتا ہے وحی و اعجاز و الہامات کا دعویٰ
تکذیب حدیث اول‘ تحریف قرآن آخر
کردار میں گفتار میں شیطان کی برہان
بخدا! کذاب عصر اول‘ زندیق زمان آخر
مراق‘ ہسٹیریا‘ ہیضہ‘ نسیان‘ یہ جملہ امراض
نبیوں کی توہین اول‘ پاگل کی پہچان آخر
٭ ابراہیم اسماعیل ٭
کبھی لفظ ضیاء ہم معنی ظلمت نہیں ہوتا
مقال مرسلاں ہذیان پر وحشت نہیں ہوتا
کبھی جھوٹا پیمبر داعی جنت نہیں ہوتا
کبھی مفہوم مسلم قادیانیت نہیں ہوتا
٭ حافظ مشتاق عباسی ٭
وہ ہے تجھ پہ قربان اے لعین قادیاں
تجھ پہ کفر و شرک نازاں، اے لعین قادیاں
واہ کیا ہے تیری شان اے لعین قادیاں
ہوگا تو ذلیل جاوداں اے لعین قادیاں
بیاد شہدائے ختم نبوت
٭ غلام نبی میر ناسک ٭
مچلتے اشک ہیں آنکھوں میں جان ہے بیتاب
ظلام شب میں بھٹکتے ہیں تارے آہوں کے
ابھرتا دیکھئے کب ہے افق سے وہ مہتاب
تمام رات جنوں میں لٹائے آنکھوں نے
دل و جگر کے خزانوں کے گوہر نایاب
یہ کشت زار محبت ہے لالہ زار نہیں
کیا ہے خون سے عشاق نے اسے سیراب
عبث ڈراتا ہے نمرود اپنی آتش سے
کہ پیش عشق محمدؐ ہیں سرد یہ الہاب
شفق میں، لعل بدخشاں میں، گل میں، مے نایاب
تہی ہیں بادۂ حب نبیؐ سے سب کے سبو
نہ سر اٹھاتے کبھی ورنہ دشمن و کذاب
وہ آگ لالہ و گل کی رگوں نے کب پائی
تپش سے جس کی ہیں ناسک کے جان و دل بیتاب
۱۹۵۳ء میں دوبارہ تحریک ختم نبوت چلی، جس کے نتیجہ میں ستمبر ۱۹۷۴ء میں قادیانیوں کو ملک کی منتخب پارلیمنٹ نے غیر مسلم قرار دیا۔ دونوں تحریکوں کے امتزاج کے حوالہ سے ایک نظم ملاحظہ فرمائیں۔
یہ جیت ان کی ہے جو خون میں نہائے تھے
٭ محمد ارشد کمال ٭
جنہوں نے پائی حیات دوام‘ جیت گئے
جناب ختم رسلؐ کے غلام‘ جیت گئے
خواص ہار گئے ہیں‘ عوام‘ جیت گئے
جو جراتوں کے نشاں‘ عظمتوں کے سائے تھے
صداقتوں کے افق پر جو جگمگائے تھے
جنہوں نے ختم رسلؐ کے علم اٹھائے تھے
فریب و مکر ہوا بے نقاب‘ زندہ باد
ابھر رہا ہے نیا آفتاب‘ زندہ باد
یہ انقلاب ہے یہ انقلاب‘ زندہ باد
تمام قوم زمانے میں سربلند ہوئی
خدا کا شکر کہ سچائی فتح مند ہوئی
یہاں ورد درود پاک کرنا عین ایماں ہے
٭ عنایت اللہ رشیدی ٭
یہاں ورد درود پاک کرنا عین ایماں ہے
وہ ختم المرسلیںؐ ہیں‘ باعث اتمام نعمت ہیں
نبوت ختم ہے انؐ پر‘ سمجھنا‘ عین ایماں ہے
کئی کذاب آئیں گے‘ کئی دجال آئیں گے
گریباں دجل کا صد چاک کرنا عین ایماں ہے
کسی جھوٹے نبی کی بات سننا کفر ہے پیارے!
نبیؐ کے دشمنوں سے جنگ کرنا عین ایماں ہے
زبانیں کھینچ لیں گے ہم‘ وہ چہرے نوچ ڈالیں گے
”گرہ کٹ“ قوم کو یارو پکڑنا عین ایماں ہے
زمانے سے نہیں، اللہ سے ڈرنا عین ایماں ہے
ہر اک کذاب سے ہر بار بھڑنا عین ایماں ہے
سبق بھولے ہوئے پھر یاد کرنا عین ایماں ہے
دلوں کو یاد سے آقاؐ کی بھرنا عین ایماں ہے
کاروان ختم نبوت
٭ حفیظ رضا پسروری ٭
وقت کی تیز ہواؤں سے بغاوت کی ہے
توڑ کر سلسلۂ رسم سیاست کا فسوں
اک فقط نام محمدؐ سے محبت کی ہے
ہم نے بدلا ہے زمانے میں محبت کا مزاج
ہم نے ہر دل کو نئی راہ و نوا بخشی ہے
مرحلے بند و سلاسل کے کئی طے کر کے
چہرۂ دار و رسن کو بھی ضیاء بخشی ہے
جنرل اعظم خان ————— تو بھی سن!
* شریف جالندھری *
مندرجہ ذیل نظم سابقہ ارباب اقتدار کے عہد زبوں حال میں شائع ہوئی تھی۔ اس دور میں اسلام کی سربلندی و عظمت کی تحریکوں کا جو حشر کیا گیا اور بحالی جمہوریت کے نام نہاد علمبرداروں نے اپنے عہد اقتدار میں ملک گیر جمہوری تحریک کو بزور اقتدار جس طرح پامال کیا‘ یہ نظم اس کی صحیح عکاسی ہے۔
پاسداری کے ہر تلخ عنوان کا نام لے کر جوانوں کو کچلا گیا
چھینتی ہی رہی دین کی برتری عشق کے سب فسانوں کو کچلا گیا
حق کی داستاں جن کا ایمان تھی ان بہادر جوانوں کو کچلا گیا
وقت ان حادثوں کو سمیٹے ہوئے
دور ماضی کے گوشوں میں گم ہوگیا
کچھ فقیروں، گداؤں کی آواز سے حکمرانوں کا دل خوف کھانے لگا!
اک صدا سارے عالم پہ چھانے لگی آبروئے رسالت بچائیں گے ہم
بام و در چیخ اٹھے کہ اے ظالمو آبروئے نبوت بچائیں گے ہم
دین کی آبرو کو بچائیں گے ہم قوم کا قافلہ آج تیار ہے
عشق کی داستاں پھر مرتب ہوئی دینداروں کا سر پھر سر دار ہے
داستان حرم خون سے رنگین ہوئی
وقت کا قافلہ مسکرانے لگا
دوستو! ساتھیو! آؤ سوچیں کہ کیا خون ناحق یونہی رائیگاں جائے گا
اسم شبیر خاموش تصویر ہے خون ناحق کچھ رنگ لائے گا
قادیانی نبوت کے افکار سے اس کی گفتار اس کے کردار سے
دین کی آبرو کل بھی خطرے میں تھی!
دین کی آبرو اب بھی خطرے میں ہے!
٭ سائیں حیاتؔ ٭
مدد واسطے نال چا کھڑا کیتا نور دین خلیفے نوں پہل کر کے
اسیں تاں کہندے ہاں مرزائی بھیڈاں نوں چنگے ہون تاں اڑ جان پھل کر کے
ہن تاں لواں گے دم حیات سائیں ایس جھوٹے نبی نوں کھرل کر کے
مرزا غلام احمد قادیانی
کانا بھڑ بھونجا نبی
٭ محمد شریف مانی ٭
ہر اک دے حال دے جانی نوں جو مالک کل سمندر دا
زمین' آسمان' سمندر دا
اتے واقف ہر دے پھندر دا
اس نبی دے ہر اصول اتے میں واراں اصول قلندر دا
تے زمین' آسمان' سمندر دا
جنہاں بھنیا بت ہر مندر دا
تاج پہن کے ختم نبوت دا آیا شافع گدا و سکندر دا
بن رحمت کل سمندر دا
بت بھنن لئی ہر مندر دا
کر نبوت دا بوہا بند آیا کم ٹھپ کے باہر اندر دا
مار جندا کس کے جندر دا
مکا قصہ سارے دھندر دا
١۔ اصل وچہ ایہہ لفظ سنسار سی گا۔ ٢۔ مکر و فریب۔ ٣۔ دھندہ۔۔۔
ایہہ قرآن قانون بدلاؤناں نئیں اٹل فیصلہ ایہہ بھگوندر دا
جو مالک کل سمندر دا
ایہہ زمین آسمان سمندر دا
ہن جو دعویٰ کرے جھوٹا ایہہ جو نبی بنے مرے جھوٹا ایہہ
جو حامی بھرے جھوٹا ایہہ ہے ساتھی اوسے پتندر دا
او پتر جنگلی بندر دا
یا، ہندو کافر مندر دا
ساڈے اللہ نے فرما دتا قرآن حدیث سنا دتا
کر واضح نبی سمجھا دتا ایہہ مسئلہ پورے سکندر دا
جو کل توڑے نبوت جندر دا
او پتر کتے بندر دا
میری امت چوں تیہہ بندے جی دعویٰ کرن گے جھوٹ او گندے جی
او کفر دے پکے رہندے جی کھیڈ کرن گے عین قلندر دا
کوئی بنے گا پت رام چندر دا
کوئی قادیاں دا کوئی جالندھر دا
انہوں وچوں مسیلمہ کذاب اٹھیا کرن اپنا خانہ خراب اٹھیا
غلام احمد وچہ پنجاب اٹھیا جو ٹوڈی انگریز پتندر دا
حال ویکھو جھوٹے پیغمبر دا
ایہہ کنجر پرلے نمبر دا
ایہہ جمیاں مرزا قادیاں دا بھن سہرا سر بھانڈیاں دا
ایہہ مرکز بغض عنادیاں دا منہ کھولیا بکڑ بندر دا
حال ویکھو جھوٹے پیغمبر دا
ایہہ کنجر پرلے نمبر دا
۷۴۔ خداوند۔
خود اپنا آپ برباد کیتا خوش کیتا دل پھتھو دا
حال دیکھو جھوٹے پیغمبر دا
ایہ کنجر پرلے نمبر دا
واں نواں تیار اسلام کیتا داؤ چل گیا جدوں چکندر دا
حال دیکھو جھوٹے پیغمبر دا
ایہ کنجر پرلے نمبر دا
اتے ظلم ستم دی کٹاری نے اک چن لیا گنڈو گنڈؤ دا
حال دیکھو جھوٹے پیغمبر دا
ایہ کنجر پرلے نمبر دا
کرسی تے پلنگاں میزاں دی رہیا ہر دم ٹٹی ٹمبر دا
حال دیکھو جھوٹے پیغمبر دا
ایہ کنجر پرلے نمبر دا
ایہہ ٹوڈی انگریز مداری دا ایہہ ملک فرنگی مندر دا
حال دیکھو جھوٹے پیغمبر دا
ایہ کنجر پرلے نمبر دا
آزادی دا ارماناں دا ایہہ تھن چنگدا اوسے کنجر دا
حال دیکھو جھوٹے پیغمبر دا
ایہ کنجر پرلے نمبر دا
نہ ہم دا سی نہ تم دا سی سی ٹٹو انگریز پلیدو دا
حال دیکھو جھوٹے پیغمبر دا
ایہ کنجر پرلے نمبر دا
سب قادیاں دے وچ سٹ سٹ کے آباد کر لیا تکیہ کنجر دا
حال دیکھو جھوٹے پیغمبر دا
ایہ کنجر پرلے نمبر دا
پا بیٹھا ہر تھاں پنگا سی ایہ ٹوڈی انگریز فرنگی دا
حال دیکھو جھوٹے پیغمبر دا
ایہ کنجر پرلے نمبر دا
نہ مارو بس وڈیائیاں نوں پڑھ دیکھو کلام پلیدو دا
لندا ایہو کلام پیغمبر دا
ایہ کنجر پرلے نمبر دا
دیکھو حال ایہ گورکھ دھندے دا سب ڈھانچہ پھندے پھندر دا
کلام دیکھو جھوٹے پیغمبر دا
ایہ کنجر پرلے نمبر دا
کھورے کی گورکھ دھندا ایہ کتے بن دا جے سنگھ بہادر دا
کلام دیکھو جھوٹے پیغمبر دا
ایہ کنجر پرلے نمبر دا
میں جمیاں آپے آپ وچوں لے جھوٹا باہر اندر دا
کلام ویکھو جھوٹ پیغمبر دا
ایہہ کنجر پرلے نمبر دا
بن موسیٰ عیسیٰ آیا واں محمد دی شبیہ پلٹایاں واں
سچ مچ میں رحمت سایاں واں مینوں بھیدا والی انبر دا
حال ویکھو جھوٹ پیغمبر دا
ایہہ کنجر پرلے نمبر دا
کدے کہندا میں خود اللہ واں اللہ دا سچا پلا واں
پت اللہ دا پر کلا واں منہ ویکھو بھوت قلندر دا
کلام پڑھ لو جھوٹ پیغمبر دا
ایہہ کنجر پرلے نمبر دا
میں مسیح دا بن اوتار آیاں مریم دے پیٹوں باہر آیاں
عقلوں بھل دا بُدھوں بیمار آیاں ہر وقت مریض سمندر دا
حال ویکھو جھوٹ پیغمبر دا
ایہہ کنجر پرلے نمبر دا
کدے آدم کدے موعود بنے کدے نصاریٰ کدے یہود بنے
منٹ منٹ چہ کدی مردود بنے پتہ چلیا نہیں اس بھندر دا
حال ویکھو جھوٹ پیغمبر دا
ایہہ کنجر پرلے نمبر دا
اک جیب چہ روڑے پاندا سی دوجی وچ گڑ نوں لکاندا سی
تھاں گڑ دی روڑے کھاندا سی تھاں روڑے گڑ نوں ونڈدا
حال ویکھو جھوٹ پیغمبر دا
ایہہ کنجر پرلے نمبر دا
پلندا جھوٹ تعریفاں دا خود پت ابلیس مچندر دا
حال ویکھو جھوٹ پیغمبر دا
ایہ کنجر پرلے نمبر دا
میرا منکر کنجری دا پت اے خود پتر جھلے ڈنگر دا
حال ویکھو جھوٹ پیغمبر دا
ایہ کنجر پرلے نمبر دا
میرے اتے ایماں نہیں لیاندا اے او پتر سوری بندر دا
ایہ دیکھو کلام پیغمبر دا
ایہ کنجر پرلے نمبر دا
خود سور ایہ لکھاں سوراں دا ہے نطفہ جنگلی بندر دا
حال ویکھو جھوٹ پیغمبر دا
ایہ کنجر پرلے نمبر دا
اس دیس دے ہر انسان تائیں کہنا ویکھو حال اس گنڈو دا
حال ویکھو جھوٹ پیغمبر دا
ایہ کنجر پرلے نمبر دا
مینوں دسو کر انصاف ذرا ایہ پت بندے دا کہ بندر دا
حال ویکھو جھوٹ پیغمبر دا
ایہ کنجر پرلے نمبر دا
یا کنجر سور شیطان بنوں بنوں جو کہندا تہانوں اندر دا
حال ویکھو جھوٹے پیغمبر دا
ایہہ کنجر پرلے نمبر دا
او منور حسین گیلانی دی میرے سلف دی خاص نشانی دی
ایہہ فرمائش سی میرے جانی دی سن اٹھاہٹھ مہینہ ستمبر دا
حال ویکھو جھوٹے پیغمبر دا
ایہہ کنجر پرلے نمبر دا
اللہ نے کرم کما دتا فضلاں دا مینہ وسا دتا
ماہی توں کم ایہہ کرا دتا ایس خادم اک بگوندر دا
حال سنیا جھوٹے پیغمبر دا
ایہہ کنجر پرلے نمبر دا
مرزے دی بول گئی سی ککڑوں کوں
٭ شریف عباسی ٭
انگریز توں حرام لے لے کھادا پیتا سی
دماغ اوٹ ہوگیا پھر اوہدا چپ چپیتا سی
مسیلمہ کذاب وانگوں دعویٰ اس کیتا سی
نبی دیاں وارثاں نے بھن دتا منہ
مرزے دی بول گئی سی ککڑوں کوں
وڈے دھوکے باز نے تے وڈے سارے ڈھنگی نے
ویری اسلام دے تے کفر دی پتنگی نے
ملک وچوں لبھیا اک پاگل تے بھنگی نے
انہاں کیہا اٹھ کر نبوت دا دعویٰ توں
مرزے دی بول گئی سی ککڑوں کوں
حرام کھا کھا اہدی ٹنڈ ہوگئی روڈی سی
شرم تے حیا اہنے ساری لاہ چھوڑی سی
ہر ویلے انگریز اگے مار بہندا گوڈی سی
مرزے دی بول گئی سی ککڑوں کوں
فرنگی دی حمایت کیتی ڈٹ کے دیوس ایہہ
تباہ کیتا جس انسانیت دا نموس ایہہ
لکھیاں کتاباں کٹھے کر ککھ پھوس ایہہ
مرزے دی بول گئی سی ککڑوں کوں
انگریزی نبی ٹوڈی دا کلام دساں دوستو
کیویں گزری صبح کیویں شام دساں دوستو
غلام احمد نام فرنگی غلام دساں دوستو
مرزے دی بول گئی سی ککڑوں کوں
میں کئی واصل ہویاں جا کے رب دی جناب وچہ
رب کاروائی کیتی میرے نال او خواب وچہ
جیڑھی مرد عورت کردے کٹھے سوں حجاب وچہ
پھیر مینوں منڈا جمیاں گویا او میں ای ہوں
مرزے دی بول گئی سی ککڑوں کوں
رب دا میں خصم آں تے بیوی آں پر گت نئیں
ایہ نبی دا کلام اے ایہ گند نئیں تے کت نئیں
ایہو جئے بے شرمے دے لائے جاندے جت نئیں
غور نال سن لے سرکار میری توں
مرزے دی بول گئی سی ککڑوں کوں
ہگنے تے موتنے توں بڑا کئی لاچار واں
پر گڑ دی جگہ روٹیاں نوں کھان دا ہشیار واں
عیسٰیؑ واں موسیٰ واں جے سنگھ اوتار واں
پر گڑ دیاں روٹیاں نال پونجھدا سی گوں
مرزے دی بول گئی سی ککڑوں کوں
باندری دے کھیڈ وانگوں ڈورو پھڑ وجاؤندے رہے
فرعونی جادوگراں وانگ جال کئی وچھاؤندے رہے
پر عاشقاں نوں ویکھ سارے پیر اگوں چاؤندے رہے
مرزے دی بول گئی سی ککڑوں کوں
مرزا تے مرزائی سارے پکے بے ایمان ایں
نہ ایہ انسان پورے نہ ایہ مسلمان ایں
ختم نبوت دے منکر تے شیطان ایں
مرزے دی بول گئی سی ککڑوں کوں
مرزے نال ٹکر لیندی آ
جگنی
مرزا مریا ٹٹی خانے ایہہ گل ساری دنیا جانے
مائی میریا جگنی کہندی آ
باطل نال ٹکر لیندی آ
نبوت دا ڈاکو چور موذی بچے گور
مائی میریا جگنی کہندی آ
مرزے نال ٹکر لیندی آ
لکھ لعنت اے منحوسہ تینوں شرم نہ آئی دیوسہ
مائی میریا جگنی کہندی آ
مرزے نال ٹکر لیندی آ
تینوں شرم نہ آئی خبیثہ بھریا روٹیاں دے نال کیسہ
ماہی میریا جگنی کہندی آ
مرزے نال ٹکر لیندی آ
سی خادم مرزے دی خورے کیتا کی کی سی
ماہی میریا جگنی کہندی آ
مرزے نال ٹکر لیندی آ
لتاں گھٹدی اٹھے پہر ہوندا مرزا خوش عیار
ماہی میریا جگنی کہندی آ
مرزے نال ٹکر لیندی آ
او کنجریاں دے پت مرزا آپ کتے دا پت
ماہی میریا جگنی کہندی آ
مرزے نال ٹکر لیندی آ
۱۔ سیرت المہدی‘ جلد دوئم‘ ص ۲۷۳ --- ۲۔ سیرت المہدی‘ جلد دوئم‘ ص ۲۶۰---
۳۔ آئینہ کمالات اسلام‘ ص ۵۴۷
تینوں لڑکیاں دو وکھا دیناں سب پردہ دور ہٹا دیناں
ماہی میرا جگنی کہندی آ
مزے نال ٹکر لیندی آ
منہ لمبا تے اک گول ہے سی دو لڑکیاں آیاں کول ہے سی
دوناں دیاں عمراں سولہ ہے سی میں کیتی خوب ٹٹول ہے سی
ماہی میرا جگنی کہندی آ
مزے نال ٹکر لیندی آ
منہ لمبے والی پسند آئی او نظری مینوں قند آئی
دوجی تے نظری گند آئی لمبی جی وانگ کمند آئی
ماہی میرا جگنی کہندی آ
مزے نال ٹکر لیندی آ
مرزے نے کیہا بول جہدا چہرا پورا گول
ظفرا توں رکھ اہنوں کول اوتے موتی ایہہ ان مول
غلام احمد ہے شیطان مرزا پکا بے ایمان
ماہی میریا جگنی کہندی آ
مرزے نال ٹکر لیندی آ
بالکل سچا ایہہ اعلان سن لے حکومت پاکستان
مرزائی پکے بے ایمان ایہو کہندا کل جہان
ماہی میریا جگنی کہندی آ
مرزے نال ٹکر لیندی آ
سن لے ضیاء الحق جوان ماریں وچہ قرآن دھیان
آکھے نبی تے رب رحمان او مرزا کوئی نئیں مسلمان
ماہی میریا جگنی کہندی آ
مرزے نال ٹکر لیندی آ
٭ امین نقوی ٭
اوہ سچا مرزا جھوٹا اے اوہ سوہنا ایں ایہہ کانا ایں
اونہوں عرش تے رب بلواندا اے ایہہ ٹٹی وچہ مر جاندا اے
اوہ براق‘ اوہدی اسواری اے ایہہ چھکڑیاں وچہ کھہہ کھاندا اے
چھڈ مرزے قادیاں والے نوں انگریز دے گھالے مالے نوں
کیہ پتہ نقوی ملت دا اس انھے دل دے کالے نوں
کیہ اوہنے چند چڑھایا اے کیہ کھویا اے کیہ پایا اے
اے نقوی نفس دے پالن لئی جس رب رسول بھلایا اے
سب جھوٹے دعوے کردا اے ہر مسئلے دے وچہ ہردا اے
لکھ لعنت نقوی مرزے تے وچہ ٹٹی خانے مردا اے
- ۱۔ یاد رہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کی پیدائش ۱۸۴۰ء میں ہوئی‘ جبکہ میری پیدائش ۱۹۴۰ء میں
ہے‘ لہٰذا سو کا فرق ہوا۔۔۔ سو دن چور کے تو ایک دن شاہ کا۔
- ۲۔ فرقہ غلامیہ کے بانی‘ مرزا غلام احمد قادیانی پر موت کے وقت ہیضہ کی صورت میں ایسا عذاب
نازل ہوا کہ اس کا بستر ہی بیت الخلا بن چکا تھا۔ (نقوی)
چن چن کے میں اس قوم کو مٹی میں ملاؤں
اسلام سے جس قوم کو ہے کچھ بھی محبت
میں اس کے لیے راہ میں آنکھوں کو بچھاؤں
(مولانا ظفر علی خاںؒ)
یہ تگ و دو ہے فقط پیٹ کے دھندے کے لیے
اب بھی کیا دیجئے گا چندہ بشیر الدین کو
شیرمال اور کباب اور پندے کے لیے
(مولانا ظفر علی خاںؒ)
خدایا تو کہاں ہے کیا ہوئی تیری غضب ناکی
کبھی حج ہو گیا ساقط، کبھی قید جہاد اٹھی
شریعت قادیاں کی ہے رضا جوئی نصارٰی کی
(مولانا ظفر علی خانؒ)
ادھر رقیبوں سے مل رہے ہیں ادھر ہمارے گھر آ رہے ہیں
منافقوں کی یہ ہے نشانی، زباں پہ دیں ہو تو کفر دل میں
اسی نشانی سے قادیانی تعارف اپنا کرا رہے ہیں
پڑا ہے چندے کا جب سے پھندا گلے میں ان قادیانیوں کے
ہمارے ہی گھر سے بھیک لے کر ہمیں کو آنکھیں دکھا رہے ہیں
(مولانا ظفر علی خانؒ)
رہروان دین پیغمبرؐ کی بنیادیں ہیں دو
بیسوا کا عارض گلگوں ہے زعم سلطنت
دامن فرمانروائی خون ناحق سے نہ دھو
سید الکونینؐ کی پھٹکار اس ملعون پر
جس کے دل میں ہے نبوت کا تصور گومگو
(شورش کاشمیریؒ)
فضا اداس تھی ان کے پیام سے پہلے
نہ ابتداء کی خبر تھی نہ انتہا معلوم
حضور سرور عالم کے نام سے پہلے
(شورش کاشمیریؒ)
اے قوم ترے قافلہ سالار کہاں ہیں
کس موڑ پہ ہے تذکرۂ ختم نبوت
ناموس پیمبرؐ کے نگہدار کہاں ہیں
لاہور کے ذرات کی گلگونہ قبا بول
بادہ کش خمخانہ احرار کہاں ہیں
پھر شوق شہادت کی نوا گونج رہی ہے
اللہ کی رحمت کے طلبگار کہاں ہیں
(شورش کاشمیریؒ)
بس میں نہیں کہ ان سے ارادت کو چھوڑ دوں
جاؤں گا اس کے بعد جہنم کی آگ میں
شورش اگر حضورؐ کی الفت کو چھوڑ دوں
(شورش کاشمیریؒ)
بتکدوں میں غیرت دین حسن پیدا کرو
قادیاں کے زاغ دخمہ کی نبوت کے خلاف
بازوؤں میں قوت خیبر شکن پیدا کرو
(شورش کاشمیری)
جو کچھ نکل چکا ہے ان کو سنا رہا ہوں
اس دور پرخطر کے ویرانہ سخن میں‘
جو لوگ مر چکے ہیں ان کو جگا رہا ہوں
ماضی تو بک چکا ہے اب حال بک رہا ہے
دانشوروں کے ہاتھوں اقبال بک رہا ہے
(شورش کاشمیری)
ہم اسی کو مراق کہتے ہیں
مدعی جو بھی ہو نبوت کا
دین سے اس کو عاق کہتے ہیں
(علامہ طالوت)
مرزائی سے سوال؟
تو جہنم سے کیوں نہیں ڈرتا؟
توند پر ہاتھ پھیر کر بولا
یہ جہنم جو یوں نہیں بھرتا
(شاعر احرار قمر الحسنین)
مرزائے قادیاں
دم بریدہ مرزا احقر نہ تھا؟
اور غلام احمد فرنگی راج میں!
سامراجی پالتو افسر نہ تھا!
(شاعر احرار قمر الحسنین)
درس وفا
جو یورپ کا چوڑا کھا رہے ہیں
یہ تہذیب نوی کی راہ تاریک
کہ مصلح بھی اسی پر جا رہے ہیں
(شاعر احرار قمر الحسنین)
مانا نہ گیا امت مرزا کو جو کافر
دستور وہ اسلام کا دستور نہ ہوگا
(سید امین گیلانی)
منہ پر ہی گرا جس نے بھی مہتاب پہ تھوکا
مایوس نہ ہوں ختم نبوت کے محافظ
نزدیک ہے انجام شہیدوں کے لہو کا
(سید امین گیلانی)
یہ اپنے غلاموں پہ ہے فیضان محمدؐ
ہوتا ہے الگ سر مرا شانوں سے تو ہو جائے
پر ہاتھ سے چھوٹے گا نہ دامان محمدؐ
(سید امین گیلانی)
منبر نہیں ہوگا تو سر دار کریں گے
جب تک بھی دہن میں ہے زباں، سینے میں دل ہے
کاذب کی نبوت کا ہم انکار کریں گے
کہ جنت میں ان کا نظارہ کریں گے
پس از مصطفےٰ جو کہے میں نبی ہوں
وہ جھوٹا ہے‘ جھوٹے کو رسوا کریں گے
(سید امین گیلانی)
لاریب وہ جنت کا سزاوار نہیں ہے
خاموش رہے سن کے جو اسلام کی توہین
بے شرم ہے‘ بزدل ہے‘ وہ خوددار نہیں ہے
(سید امین گیلانی)
اپنی ہوس
بے دین اگر نہیں ہیں تو شیخ جی غبی ہیں
اپنی ہوس کے آگے ملت کو چھوڑ بھاگے
اور کہہ دیا کہ ہم تو اس عہد کے نبی ہیں
(لسان العصر اکبر الہ آبادی)
مرزائی اور ہم
وہ اپنے عاشق’ خود سے بیزار ہیں ہم
جھوٹے نبی کے سچے پیروکار ہیں وہ
سچے نبیؐ کے جھوٹے پیروکار ہیں ہم
(مظفر وارثی)
خنجر ایمان
آ گیا وقت جہاد ایمان کا خنجر نکال
کہہ دو مرزا سے کہ خاک کعبہ اڑ سکتی نہیں
اپنے دل سے یہ تمنائے جنوں پرور نکال
(ظفر الملت)
یہ نکتہ ہے مسلماں کی حیات جاودانی کا
(حافظ سہارنپوری)
یہ شق تو اب آئین وطن کی ہے رگ جاں
(عاصی کرنالی)
قاطع مرتد و ہر زندیق باش
(عتیق الرحمن)
کس کام میں مصروف ہے باطل کی ہوا دیکھ
(عتیق الرحمن)
جس کے ہے پیش نظر حشر ثمود انجام عاد
(مولانا ظفر علی خانؒ)
تو قادیانیوں کے تیر بے کمال سے بچو
(مولانا ظفر علی خاں)
میرے نبی پہ ختم ہیں، عظمت کے سلسلے
(اسلم کولسری)
قدرت سے دار و گیر میں کچھ ڈھیل ہوگئی
(شورش کاشمیری)
اپنے آقا کے لیے شورش فنا ہو جاؤں گا
(شورش کاشمیری)
شفاعت بروز جزا چاہتے ہیں
(سید امین گیلانی)
کافر کا جنازہ اسی بستی سے نکالا
(مولانا ظفر علی خاںؒ)
خدا جن کا بروزی ہے نبی جن کا برازی ہے
(مولانا ظفر علی خاںؒ)
اپنے وقتوں کے ثمود و عاد ہو جانے لگے
(مولانا ظفر علی خاںؒ)
حق کے جلال سے یہی اک ڈھیل ہو گئی
(مولانا ظفر علی خاںؒ)
اس طائفے سے کام نہیں رکھتے خردمند
(مولانا ظفر علی خاںؒ)
محمدؐ پرچم ختم نبوت لے کے آئے ہیں
(امین)
وہ آخری نبیؐ ہیں صداقت قبول کر
(سید انوار ظہوری)
میرے ایمان کی بنیاد ہے ختم نبوت پر
(اخگر سرحدی)
اے ختم رسلؐ! ہادی کلؐ! سید ابرارؐ
(اثر لدھیانوی)
نبوت کے مقدس کارواں میں
(امین نقوی)
ختم رسلؐ سے دین کی تکمیل ہو گئی
(انور جمال)
از ازل تا بہ ابد سارا زمانہ تیرا
(اسمعیل ذبیح)
تجھی پہ ختم ہے روح الامیں کی نامہ بری
(احسان دانش)
اب جو تا حشر کا فردا ہے وہ تنہا تیرا
(احمد ندیم قاسمی)
تجھے مرحبا مرحبا کہتے کہتے
(اثر صہبائی)
تمہی پہ تکمیل دیں ہوئی ہے تمہی ہو سب انبیاء کے خاتم
(ا ر حسین رشیدی)
جس کی نہیں نظیر وہ تنہا تمہی تو ہو
(اشرف سلیم)
جہاں جہاں پہ خدا ہے وہاں وہاں تیرا نام
(ایوب خاور)
تمہی تو ہو آخری پیغمبرؐ درود تم پر سلام تم پر
(بدر ساگری)
مظہر نور حقیقت آپ ہیں آپ ہیں شمع ہدایت آپ ہیں
(بیدل فاروقی)
ابتدا کہئے انتہا کہئے
(بابر احسانی-حکیم)
یہ وصف حق کے آخری پیغمبر میں ہے
(برگ یوسفی)
ہر دور میں رہے گی قیادت رسولؐ کی
(بسمل صابری)
روشن جو کیا حق کا دیا میرے نبیؐ نے
(جواز جعفری)
یہ اک آواز جو زمانوں کی ترجماں‘ دہر آفریں بھی
(جعفر طاہر)
پل پل اس کا دست نگر ہر ایک زمانہ
(جلیل عالی)
بعد نبیؐ ہو کوئی‘ سچا نبی نہ ہوگا
(حامی۔ وزیر علی شاہ)
تیرے خطے سے ہوگا آخری پیغمبر پیدا
(حسرت حسین حسرت)
محمدؐ ابتداء ٹھہرے محمدؐ انتہا ٹھہرے
(حافظ پیلی بھیتی)
ہیں با ادب تمام پیمبر ترے حضور
(حفیظ تائب)
نہ اس سا کوئی آیا ہے نہ آئے گا نبی کوئی
(حافظ لدھیانوی)
نظر اس حکمِ پیمبرؐ پہ رکھنا عین ایماں ہے
(حبیب الرحمن کاچوی)
حضورؐ آپ کے لائے ہوئے پیام کے بعد
(حماد۔ ابوالبیان)
وہ مصدر اخلاق ہیں وہی نور ہدیٰ ہیں
(خالد شفیق)
زمانہ کرتا رہے گا علوم کی تحصیل
(خالد علیم)
ختم رسلؐ ہی حشر میں وہ آبشار ہے
(رمز محمود الہ آبادی)
تا حشر ہے نبوت سردار انبیاءؐ
(رشید کامل)
سبھی معیار ثابت ہوں گے وقتی — ہمیشہ بس ترا اسوہ چلے گا
(روحی کنجاہی)
نامکمل تھی خدائی تشنہ تھی پیمبری
(ساغر صدیقی)
گلشن کی تروتازگی کونین کی دولت
(سعید وارثی)
ہوا اتمام دیں جن پر وہ ختم الانبیاء آئے
(سالک عبدالمجید)
پھر نہ لایا کوئی پیغام خدا تیرے بعد
(سجاد رضوی)
لیکن حضورؐ آئے تو سب انبیاء کے بعد
(سید سیفی)
ہر اک زمانہ' زمانہ تیرے جمال کا ہے
(شہزاد احمد)
بندوں کو اپنا آخری انعام دے دیا
(شیخ نظامی)
کافر ہے جسے اپنی نبوت کا گماں ہو
(شمیل پانی پتی)
اذان محمدؐ نوائے محمدؐ
(شوق عرفانی)
کہاں نہیں ہے ضیائے محمدؐ عربی
(صبا اکبر آبادی)
حبیب خدا ختم پیغمبراں
(مصطفیٰ بجنوری)
سدا رہا ہے سدا رہے گا اسی کے زیر اثر زمانہ
(ضمیر فاطمی)
ہماری ابتدا تم ہو ہماری انتہا تم ہو
(ضیاء)
سب سے اونچا ہے خدا کے بعد تیرا ہی مقام
(ظہور۔ حافظ محمد ظہور الحق)
نبوت ختم ہے ان پر سمجھنا عین ایماں ہے
(عنایت اللہ رشیدی)
آپؐ آئے تو نہ جانے کے لیے آپؐ آئے
(عاصی کرنالی)
قیامت تک تیری سنت پہ چلنا عین ایمان ہے
(عالم فدائی)
محمدؐ کی کتاب آخری سے روشنی مانگیں
(عبدالمجید تمنا)
دہر میں غیر اللہ سے کیونکر وہ دب جائے گھبرائے
(فقیر۔ حافظ محمد افضل)
نبوت فخر کرتی ہے کہ ختم الانبیاءؐ تم ہو
(فیض لدھیانوی)
آئے حضورؐ اس لیے سب انبیاءؑ کے بعد
(شکیل شفائی)
رسولؐ اللہ کا عہد گرامی
(قمر انجم)
کامل و جامع شریعت آپؐ کی
(محمد منظور علی شیخ۔ پروفیسر)
یہ وہ کمال ہے جس کو زوال کوئی نہیں
(محمد منیر قصوری۔ پروفیسر)
تو زندگی کے لیے آخری پیغام آیا
(مولانا محمد علی جوہر)
آخری پیغام بر بھی آخری پیغام بھی
(محمد افضل تحسین۔صوبیدار)
نبوت ناز کرتی ہے کہ ختم الانبیاء تم ہو
(مولانا محمد اسعد اللہ خان اسعد)
صفیں ہو جائیں مکمل تو امام آتا ہے
(مظہر الدین۔حافظ)
تا قیامت دیں کے رہبر ہیں محمدؐ مصطفیٰ
(مسلم غازی)
اب ختم ہے سب کی رہبری کونین کے رہبر آتے ہیں
(نجم آفندی)
جس کے بعد آنا نہیں کوئی پیغمبر آپؐ ہیں
(نیاز سواتی)
تمہی ہو سردار ہر دو عالم صلوٰۃ تم پر سلام تم پر
(نذر غوری)
تا ابد ختم نبوت کی ضیاء میرے حضورؐ
(ندیم نیازی)
دیں کی تکمیل کا پیغام سنانے والے
(نعیم صدیقی)
فضا بنائی گئی آخری نبیؐ کے لیے
(نازش قادری)
بعد نبی ہو کوئی سچا نبی نہ ہوگا
(وزیر علی شاہ حامی)
خدا شاہد ہے وہی صاحب ایمان ہوتے ہیں
(وقار صدیقی)
اک تیرے سوا اے ختم رسلؐ محشر میں ہمارا کوئی نہیں
(وقار احمد قادری)
تو ہی معراج آدمیت کی
(وحیدہ نسیم)
دونوں عالم کا شرف دونوں جہاں کی عزت
(وقار ام پوری)
حضورؐ سب کے ہیں، سب کے لیے پیام حضورؐ
(ہارون الرشید ارشد)
قیامت تلک کاروان محمدؐ
(برہم ناتھ قاصر)
مرکز عشق ہیں خاتم الانبیاء
(بھگوان داس بھگوان)
ہوا ہے اور نہ ہوگا اب کوئی ہم سر محمدؐ کا
(پیارے لعل رونق دہلوی)
سحاب رحم بن کر رحمۃ اللعالمیںؐ آیا
(جگن ناتھ آزاد)
ہر اک سمت ہے داستان محمدؐ
(موج گڑھی‘ راجندر بہادر)
یہ بیگانوں کے ہیں‘ ہم ان کو اپنا کہہ نہیں سکتے
(سید امین گیلانی)
جھوٹے نبیوں کا انکار ضروری ہے
ختم نبوت کی نگری میں چور گھسے
نگری والے ہوں بیدار ضروری ہے
(سید امین گیلانی)
جب تک فروزاں شمع رسالت نہ ہوسکے
محمدؐ کہ حامد بھی محمود بھی محمدؐ کہ شاہد و مشہود بھی
محمدؐ سراج و محمدؐ منیر محمدؐ بشیر و محمدؐ نذیر
محمدؐ کلیم و محمدؐ کلام محمدؐ پہ لاکھوں درود و سلام
درود ان کا‘ کلام ان کا‘ پیغام ان کا‘ قیام ان کا
اٹھا تو ستارے فرش پہ تھے‘ بیٹھا تو زمین کو عرش کیا
زندگی کی الجھنیں سلجھا گیا بطحا کا چاند
توحید میں شامل ہے اقرار رسالت کا
خدا کو جس نے پہچانا محمدؐ کے وسیلے سے
مسرور اس کا راستہ آساں ہو گیا
عشق رسولؐ میری متاع حیات ہے
میرا تو آسرا ہی پیمبر کی ذات ہے
میری نگاہ میں وہ یقیناً ہے کم نصیب
نبیؐ کی چاہ ملے اور بے پناہ ملے
کٹ جائے چاہے میری زبان دوستو
بعد از رسولؐ ہاشمی کوئی نبی نہیں
گر پڑے نہ کہیں وہاں آسماں دوستو
نہ مٹا ہے نہ مٹے گا کبھی چرچا تیرا
غبار راہ کو بخشا فروغ وادی سینا
وہی قرآن وہی فرقاں وہی یٰسین وہی طہٰ
نہ ہماری بزم خیال میں نہ دکان آئینہ ساز میں
منبر نہیں ہوگا تو سر دار کریں گے
کاذب کی نبوت کا ہم انکار کریں گے
چن چن کے میں اس قوم کو مٹی میں ملا دوں
اسلام سے جس قوم کو ہے کچھ بھی محبت
میں اس کے لیے راہ میں آنکھوں کو بچھا دوں
سر مقتل بھی ان کا ذکر کرنا عین ایمان ہے
خواب سے بیدار ہو للہ دیوانو! اٹھو
حرمت دین محمدؐ کے نگہبانو! اٹھو
شعلہ سامانی دکھاؤ شعلہ سامانو! اٹھو
منظور ہمیں اس کے غلاموں کی غلامی
یہ اپنے غلاموں پہ ہے فیضان محمدؐ
پر ہاتھ سے چھوٹے گا نہ دامان محمدؐ
جب مہر منور تاباں ہو ہم رات کا دھوکا کیوں کھائیں
دین حق پر رکھ یقیں باطل کا شیدائی نہ ہو
دلوں کی آگ دبی ہے، ابھی بجھی تو نہیں
کٹی ہے برسر میداں مگر جھکی تو نہیں
وہ تیار ہیں ہر حالت میں اپنا سر کٹانے کو
کس کام میں مصروف ہے باطل کی ہوا دیکھ
پھر جینا بھی برباد ہے مرنا بھی اکارت
نبوت ہے‘ رسالت ہے‘ قیادت ہے‘ امامت ہے
یہ فتنہ آخر دور ہوگا قتل زندیق سے
کہ الفت ہو دل میں شہ انبیاء کی
پابوس ہر اک مسجد ضرار کریں گے
ارفع بہشت سے بھی تمہارا مقام ہے
واللہ! تم پر آتش دوزخ حرام ہے
اٹھا کے لائیں گے خود فرشتے چراغ خورشید سے جلا کر
رفعت شان رفعنا لک ذکرک دیکھے