قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر بحث کی مصدقہ رپورٹ جلد 2 · مولانا اللہ وسایا
Komi Asambli Qadiyani Mosadka Report · Vol. 2 · Moulana Allaha Vasaya
PDF 1

لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ

قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر بحث کی

مصدقہ رپورٹ

تحقیق و تخریج

حضرت مولانا اللہ وسایا مدظلہ

جلد دوم

٤، ٥، ٦، ٧، ٨

عالمی مجلس تَحَفُّظِ خَتْمِ نُبُوَّت ، ملتان

PDF 2

قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر بحث کی

مصدقہ رپورٹ

جلد دوم

٨،٧،٦،٥،٤

تحقیق و تخریج

حضرت مولانا اللہ وسایا مدظلہ

مبلغ

عالمی مجلس تحفظ ختمِ نبوت ملتان

صفحہ ٥٧٩

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ!

فہرست ...... حصہ نمبر 4

یسوع اور مسیح دو شخصیتیں نہیں ایک ہے 606 محدث ناقص نبی ہوتا ہے 608 اس امت میں مرزا قادیانی کے علاوہ کوئی نبی نہیں 613 مسیح و یسوع ایک ہیں 614 مرزا قادیانی کا دعویٰ خدائی 615 غیر متعلقہ جوابات، چیئرمین کی رولنگ 623 گواہ گول مول جواب اور حیلہ بازی کرتا ہے، وزیر قانون 629 مرزا ناصر کی مشکل 630 سیدہ مریم علیہا السلام کی اہانت کے حوالہ جات، معاذ اللہ 631 پیر مہر علی شاہ گولڑویؒ کی اہانت، معاذ اللہ 633 مولانا رشید احمد گنگوہیؒ کی اہانت، معاذ اللہ 633 مولانا سعد اللہ کی اہانت، معاذ اللہ 634 مرزا ناصر کی گراؤنڈ 636 گالی محبت کا رنگ ہے؟ 637 ہر بات کے دو معنی؟ 637 حوالہ نہیں، ہاں مل گیا، مرزا ناصر کا فرمان 639 مرزا کے مخالف عیسائی، یہودی مشرک ہیں 640 مخالفوں کو گالیاں 641 ذریۃ البغایا میرے مخالف کنجریوں کی اولاد 642 مرزا کا مخالف جہنمی ہے 647

گے، کچھ باقی رہیں گے 657 666 674 ش نہ کی جائے 681 686 ہ، اس دوران کسی اور کو نبوت ملی؟ 696 سکتا 697 698 701 صرف ایک امتی نبی 705 فلسفہ 709 711 712 714 رولنگ 715 717

...... حصہ نمبر 5

730 کمیٹی کی کارروائی ہے 734 کارروائی چل رہی ہے 736 746 نا ہے 748 آئیں، مرزا ناصر 748

صفحہ ٥٧٩

مرزا ناصر کا اعتراف شرمندگی 657 مرزا قادیانی کا کہنا کہ کچھ قادیانی تباہ ہوں گے، کچھ باقی رہیں گے 666 اس وقت کوئی کافر نہیں 674 غیر احمدیوں کو مسلمان ثابت کرنے کی کوشش نہ کی جائے 681 مرزا کے نہ ماننے والے مسلمان نہیں 686 آنحضرت ﷺ کے بعد مرزا قادیانی تک اس دوران کسی اور کو نبوت ملی؟ 696 مرزا قادیانی کے علاوہ اور کوئی نبی نہیں بن سکتا 697 تیرہ چودہ سو سال میں کوئی نبی آیا؟ 698 صرف مرزا قادیانی ہی نبی ہے 701 آنحضرت ﷺ کی بشارت کے مطابق صرف ایک امتی نبی 705 امکان اور ایمان میں فرق، مرزا ناصر کا نیا فلسفہ 709 ہزاروں نبی آسکتے ہیں 711 مرزا خاتم النبیین؟ 712 مرزا ناصر کی قلابازیاں 714 مرزا ناصر کے خلاف چیئرمین صاحب کی رولنگ 715 مرزا ناصر احمد صاحب کی نئی شاہکار تلبیس 717

فہرست ...... حصہ نمبر 5

ایک پارسی، دو قادیانی 730 ہماری عدالتی کارروائی نہیں ہے بلکہ ایک کمیٹی کی کارروائی ہے 734 بغیر تعصب کے، بالکل کھلے ذہن سے کارروائی چل رہی ہے 736 ہزاروں نبی ہوں گے، مرزا محمود! 746 مرزا قادیانی! امت محمدیہ میں پہلا امتی نبی ہے 748 مرزا قادیانی کے بعد اور آسکتے ،مگر شاید نہ آئیں، مرزا ناصر 748

فہرس

یسوع اور مسیح دو شخصیتیں نہیں ایک ہ محدث ناقص نبی ہوتا ہے اس امت میں مرزا قادیانی کے علاو مسیح و یسوع ایک ہیں مرزا قادیانی کا دعویٰ خدائی غیر متعلقہ جوابات ، چیئرمین کی رولنگ گواہ گول مول جواب اور حیلہ بازی ک مرزا ناصر کی مشکل سیدہ مریم علیہا السلام کی اہانت کے ح پیر مہر علی شاہ گولڑوی کی اہانت، معاذ ا مولانا رشید احمد گنگوہی کی اہانت، معا مولانا سعد اللہ کی اہانت، معاذ اللہ مرزا ناصر کی گراؤنڈ گالی محبت کا رنگ ہے؟ ہر بات کے دو معنی؟ حوالہ نہیں، ہاں مل گیا، مرزا ناصر کا فرما مرزا کے مخالف عیسائی، یہودی مشرک مخالفوں کو گالیاں ذریۃ البغایا میرے مخالف کنجریوں کی مرزا کا مخالف جہنمی ہے

صفحہ ٥٨٠

581 811 815 816 816 ق ہے؟ 817 819 عورتوں کو کتیا کہا 824 830 832 836 842 844

حصہ نمبر 6

863 867 868 870 870 ے ہے؟ 871 871 872 873 874

امت نے کبھی نہیں سمجھا کہ قادیان میں غلام احمد ...... 757 انبیاء سے میں کم نہیں ہوں، مرزا قادیانی کا اعلان 758 حضور علیہ السلام کے بعد صرف ایک نبی ہونا لازم ہے 759 مسیح بن مریم علیہ السلام دمشق میں آئیں گے نہ کہ ...... 761 مرزا قادیانی کا کلام، دیگر انبیاء کے کلام کی طرح کلام الہی ہے 762 دین کو قائم کرنے کے لئے نبی کی ضرورت نہیں 766 قادیانیوں کا علیحدگی کا رجحان 767 دشمن کے مذہب کو ہم کھا جائیں گے، قادیانی خلیفہ کا اعلان 768 ہمارے دشمن کا حال ابو جہل جیسا ہوگا، قادیانی خلیفہ کا اعلان 771 ١٩٥٢ء گذرنے نہ پائے کہ دشمن احمدیت کی آغوش میں آگرے 771 عیسائیوں اور پارسیوں کی طرح، قادیانی حقوق بھی 773 انگریز کی اطاعت اسلام کا حصہ، مرزا قادیانی کا فرمان 774 غیر ملکی غاصبین سے آزادی کیا بغاوت ہوگی؟ 775 انگریز خود قانون شکن تھا، مرزا ناصر کا اعلان 787 انگریزوں کو سمندر میں دھکیلا جا سکتا ہے، مرزا ناصر 790 میں مولانا نہیں، میاں عطاء اللہ 792 مرزا قادیانی کی گالیوں کی وضاحت 794 ایک دوسرے کے خلاف تین فتوؤں کا ذکر 795 مرزا کی بدزبانی اور فرقوں کے باہمی فتوؤں کا آپس میں کوئی جوڑ نہیں 796 ڈائریکٹ اس پوائنٹ پر آئیں کہ مرزا نے سخت کلامی کیوں کی؟ 796 کیا دوسروں کی بدزبانی مرزا قادیانی کی بدزبانی کو جواز فراہم کرتی ہے؟ 797 مرزا قادیانی نے اپنے مخالفین کی تمام گالیوں کو جو اسے دی گئیں جمع کر دیا 800 مرزا ناصر کا علامہ اقبال کے متعلق جھوٹ پکڑا گیا 809

صفحہ ٥٨١

باہمی فتوؤں کی پوزیشن 811 مرزا ناصر کا نیا پینترا 815 مرزا ناصر کا اور پینترا 816 مرزا قادیانی کی نئی گالیاں 816 عام آدمی اور مدعی نبوت دونوں کی بدزبانی میں کیا فرق ہے؟ 817 نبی کی سخت زبان، عام انسان کی طرح؟ 819 مرزا قادیانی نے مخالفوں کو جنگلوں کے خنزیر، ان کی عورتوں کو کتیا کہا 824 ذریۃ البغایا کی گالی کی تفصیل 830 قادیانیوں کی تعداد 832 جو مسلمان ہونے کے مدعی، نہ کہ مسلمان 836 ولد الحرام بننے کا شوق، مرزا قادیانی کی گالی 842 محمد پھر اتر آئے ہم میں، پر پھر بحث 844

فہرست ...... حصہ نمبر 6

برطانیہ کے ریزولیوشن کے بارہ میں استفسار 863 مختصر سوانح بانی سلسلہ احمدیہ 867 مرزا ناصر کا اعتراف غلطی 868 مودودی صاحب نے مسیح علیہ السلام کا ذکر نہیں کیا 870 قادیانیت کے مخالف ہماری آغوش میں 870 ”تبادلہ خیال کرو“ کا کیا مطلب اور کس کی طرف سے ہے؟ 871 مرزا ناصر کا انکار 871 خونی ملا کے متعلق سوال اور مرزا ناصر کی معذرت 872 الفضل رسالہ آپ کی پارٹی کا ہے؟ 873 کیا تردید آپ کے علم میں آئی؟ 874

امت نے کبھی نہیں سمجھا کہ انبیاء سے میں کم نہیں ہوں حضور علیہ السلام کے بعد م مسیح بن مریم علیہ السلام و مرزا قادیانی کا کلام، دیگر ا دین کو قائم کرنے کے لئے قادیانیوں کا علیحدگی کار، جو دشمن کے مذہب کو ہم کھا ج ہمارے دشمن کا حال ابو جہل ١٩٥٢ء گذرنے نہ پائے گا عیسائیوں اور پارسیوں کی انگریز کی اطاعت اسلام کا غیر ملکی غاصبین سے آزادی انگریز خود قانون شکن تھا م انگریزوں کو سمندر میں دھک میں مولانا نہیں، میاں عط مرزا قادیانی کی گالیوں کی ایک دوسرے کے خلاف مرزا کی بدزبانی اور فرقوں ڈائریکٹ اس پوائنٹ پر آ کیا دوسروں کی بدزبانی م مرزا قادیانی نے اپنے خا مرزا ناصر کا علامہ اقبال پر

صفحہ ٥٨٢

دشمن محسوس کرتا ہے کہ ہم اس کے مذہب کو کھا جائیں گے 875 میرا مخالف عیسائی ، یہودی ،مشرک اور جہنمی ہے 877 مرزا ناصر کی بدحواسی 878 اکھنڈ ہندوستان 878 مرزا صاحب کی تحریر میں مسلمان سے کیا مطلب ہے؟ 879 مدعی مسلمان، حقیقی مسلمان؟ 880 حقیقی مسلمان کم ہیں ، یا ہیں نہیں؟ 884 سب قادیانی حقیقی مسلمان نہیں؟ 885 آپ کے نقطۂ نظر سے کوئی غیر احمدی، مسلمان نہیں؟ 887 قادیانیوں نے کہا کہ ہمیں مسلمانوں سے الگ شمار کیا جائے 895 احمدیوں کا بھی کوئی علیحدہ کیلنڈر ہے؟ 895 ”ماہِ وفا“ کون سے مہینے کو کہتے ہیں؟ 897 افغانستان میں یہی مہینے ہیں؟ 897 کس مہینے کا نام کس وجہ سے رکھا، تفصیل دے دیں 899 ”ضیاء الاسلام پریس“ قادیان میں تھا؟ 899 مرزائیوں کا درود شریف 900 احمدیوں کو چھوڑ کر غیر احمدیوں میں کیوں قوم تلاش کرتے ہو؟ 904 احمدی اپنے آپ کو علیحدہ امت کہتے ہیں 906 مسلمانوں کے پیچھے نماز نہ پڑھو 906 مسلمانوں کا چھوٹا بچہ مر جائے تو قادیانی اس کا جنازہ نہیں پڑھتے 911 مرزا غلام احمد کا کوئی بیٹا تھا جو قادیانی نہیں ہوا؟ 914

فہرست ...... حصہ نمبر 7

ہم فتح یاب ہوں گے، تم ابو جہل کی مثل ہو گے؟ 924

583

925 927 931 932 933 933 936 937 937 943 947 950 951 کہ 959 961 گا 962 962 964 968 رح تھی، معاذاللہ 970 973 نا؟ 978 978

صفحہ ٥٨٣

تمہیں دوسرے فرقوں کو بکلی ترک کرنا پڑے گا 925 دشمن محسوس کرتا ہے کہ ت مرزا کی بیعت نہ کرنے والے جہنمی 927 میرا مخالف عیسائی، یہو ہم اس کے مذہب کو کھا جائیں گے 931 مرزا ناصر کی بدحواسی ١٩٣٩ء میں یہ بات کیوں؟ 932 اکھنڈ ہندوستان دشمن کون تھے؟ 933 مرزا صاحب کی تحریر میں کون اسلام کے دشمن تھے؟ 933 مدعی مسلمان، حقیقی مسل آپ دشمن کس کو سمجھتے ہیں؟ 936 حقیقی مسلمان کم ہیں، با دشمنوں کو کھا جائیں گے؟ 937 سب قادیانی حقیقی مسل ١٨٥٧ء غدر کے متعلق 937 آپ کے نقطۂ نظر سے ک محمد پھر آئے ہیں ہم میں، معاذ اللہ 943 قادیانیوں نے کہا کہ ہم الفضل جماعت احمدیہ کا اخبار ہے؟ 947 احمدیوں کا بھی کوئی علیحد البدر آپ کا اخبار تھا؟ 950 ”ماہ، وفا“ کون سے م ’الفضل‘ آپ کی جماعت کے کس شعبے کا ہے؟ 951 افغانستان میں یہی صیغ رسول کریم کے معجزات تین ہزار تھے اور میرے تیس لاکھ 959 کس مہینے کا نام کس وج چاند اور سورج کا گرہن 961 ”ضیاء الاسلام پریس“ آنحضرت کے لئے پہلی کا چاند میرے لئے چودھویں کا 962 مرزائیوں کا درود شریف آپ کے جھنڈے پر یہی نشان ہے 962 احمدیوں کو چھوڑ کر غیر اح مرزا قادیانی کے وقت میں اسلام کا چاند مکمل ہو گیا؟ 964 احمدی اپنے آپ کو علیحد دو بدر سے مراد؟ 968 مسلمانوں کے پیچھے نما آپ ﷺ کے وقت دین کی حالت پہلی کے چاند کی طرح تھی، معاذ اللہ 970 مسلمانوں کا چھوٹا بچہ م مرزا قادیانی نے نبی کریم ﷺ کو ہلال اور خود کو بدر کہا 973 مرزا غلام احمد کا کوئی بی چودھویں کا چاند، کیا مرزا صاحب کا زمانہ آخری زمانہ تھا؟ 978 مرزا صاحب کے زمانہ میں کتنا اسلام پھیلا؟ 978 ہم فتح یاب ہوں گے،

صفحہ ٥٨٤

مرزا قادیانی صرف مجدد نہیں 979 مرزا ناصر نے معافی مانگ لی 981 دین کے معاملہ میں باقی مسلمانوں سے مختلف ہیں 985 مرزا ناصر حوالہ دینے میں دیانت ...... 987 آپ کی جماعت کے کسی راہنما نے اس نظم کی مذمت کی؟ 992 ان کو جماعت سے کبھی خارج کیا؟ 994 پچاس الماریاں صرف انگریزوں کی تعریف میں 996 پچاس الماریوں کا سائز؟ 997 لاہوری محضر نامہ کے متعلق سوال 997 مرزا صاحب نے کبھی نبوت کا دعویٰ نہیں کیا؟ 1000 مرزا ناصر جی، جی سے ہوں، ہوں تک 1001 کیا مسیح ناصری نے اپنے پیروں کو یہودیوں سے الگ نہیں کیا؟ 1004 مرزا قادیانی نے انگریز کی مدح کی 1010 قادیانی اپنے آپ کو مسلمانوں سے علیحدہ شمار کرتے تھے؟ 1015 درود شریف کے متعلق سوال 1017 مرزا قادیانی نے اپنے مریدوں سے کہا اپنے کو احمدی مسلمان لکھواؤ 1019 ملت اسلامیہ کا ایک عظیم عنصر 1025 میرا مخالف عیسائی، یہودی، مشرک اور جہنمی ہے 1027 کنجریوں اور بدکاروں کی اولاد نے مجھے نہیں مانا 1027 بغایا کا مطلب "گمراہ" 1029 بغایا کا یہ ترجمہ کہاں پرنٹ ہے؟ 1030 جو شخص تیری پیروی نہیں کرے گا ...... 1032 مسلمانوں سے رشتہ ناتہ حرام اور ناجائز ہے 1032

صفحہ ٥٨٥

فہرست ...... حصہ نمبر 8

قادیانی گروہوں کے خطوط، ٹرمز کی فراہمی اور جرح کے سوالات کا پیشگی نوٹس 1042 اقتباسات کی تصدیق کا طریقہ کار 1046 کارروائی کا خفیہ ہونا 1049 قادیانی وفد پر جرح 1050 حوالوں کو چھپانے کا حربہ 1050 غیر احمدیوں سے شادی؟ 1053 ہمیں پارسیوں اور عیسائیوں کی طرح علیحدہ نمائندگی دی جائے 1054 مسلم لیگ پر احسان نہ دھریں، آپ کے اپنے مفادات تھے 1056 علیحدہ نہیں، جدا؟ 1056 الفضل کی ذمہ داری سے انکار؟ 1058 اگر پاکستان بن بھی گیا تو ہم یہ کوشش کریں گے کہ یہ تقسیم ختم ہو؟ 1058 آپ کا مشن ہے کہ نہیں؟ 1062 اسرائیل میں احمدیہ جماعت ہے؟ 1063 اس نے آپ کو رپورٹ کیا کہ اسرائیل کے پریذیڈنٹ نے یہ باتیں کیں 1068 آپ نے گورنمنٹ کو بتلایا کہ اسرائیلی کیا سوچتے ہیں؟ 1068 اکھنڈ بھارت؟ 1069 دیکھ لیجئے کہ آپ کی پبلی کیشن ہے؟ 1070 احمدی اپنی لڑکیاں غیر احمدیوں کو نہ دیں 1073 جو میرا مخالف ہوگا وہ یہودی، مشرک، جہنمی ہے 1076 آپ کے مخالفین میں مسلمان بھی تھے؟ 1076 دشمن یہ سمجھتا ہے کہ ہم اس کے مذہب کو کھا جائیں گے 1077

مرزا قادیانی صرف مرزا ناصر نے مو دین کے معاملہ میں مرزا ناصر حوالہ د آپ کی جماعت ان کو جماعت س پچاس الماریاں پچاس الماریوں لاہوری محضر نام مرزا صاحب۔ مرزا ناصر جی، ہ کیا مسیح ناصری مرزا قادیانی ۔ قادیانی اپنے آ درود شریف ۔ مرزا قادیانی ۔ ملت اسلامیہ کا میرا مخالف عیس کنجریوں اور س بغایا کا مطلب بغایا کا یہ ترجم جو شخص تیری ب مسلمانوں س

صفحہ ٥٨٦

دہلی میں ہزاروں کی تعداد میں تھے وہ سب غصے میں تھے 1084 امرتسر میں بھی مسلمان مخالفت کر رہے تھے 1085 کیا قرآن کریم اور مرزا کے الہامات دونوں کا درجہ برابر ہے؟ 1086 مرزا کا الہام ایسے ہی ہے، جیسے قرآن؟ 1086 دونوں کو ایک لیول میں رکھتے ہیں کہ دونوں صحیح کلام ہیں؟ 1087 مرزا کا الہام احادیث سے بلند ہے؟ 1087 الفضل کا حوالہ 1088 مرزا کا الہام حدیث پر مقدم ہے 1089 آرٹیکل نمبر ٢٠ 1093 آپ ایک فرقہ ہیں یا آپ ہی اصلی اسلام ہیں؟ 1094 حضرت مسیح علیہ السلام کو آپ تشریعی نبی سمجھتے ہیں یا امتی نبی؟ 1096 حضرت عیسیٰ علیہ السلام تشریعی نبی نہیں تھے؟ 1098 اس وقت جواب نہیں دے سکتا، مرزا ناصر 1105 مرزا نے کیا علوم قرآنی دیئے، وہ نہیں بتا سکتے 1110 وہ مہر صرف ایک مرتبہ استعمال ہوئی 1113 مرزا قادیانی کے علاوہ اور کوئی نبی نہیں؟ مرزا ناصر احمد کا جواب گریز 1114 ہزاروں نبی آئیں گے؟ 1115 جہاد کے متعلق آپ کا کیا عقیدہ ہے؟ 1117 انگریز کے دور میں جہاد ملتوی 1120 آج سے دین کے لئے لڑنا حرام کیا گیا؟ 1134 کیا شاہ عبدالعزیز دہلویؒ نے ہندوستان کو دارالحرب نہیں قرار دیا تھا؟ 1136 جہاد کا حکم موقوف کر دیا گیا؟ 1139

587 NATIONAL A

No. 04

NATIONAL A

PRO

THE SPECIAL WHOLE HOU TO CONSIDE

OFF

Thurs

(C

1. Programme for sittings of the 2. Message of Thanks from Sena Cyprus Issue... ... ... ...

PRINTED BY THE MANAGER, PRI PUBLISHED BY THE

صفحہ ٥٨٧

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

No. 04

THE

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN

PROCEEDINGS

OF

THE SPECIAL COMMITTEE OF THE

WHOLE HOUSE HELD IN CAMERA

TO CONSIDER THE QADIANI ISSUE

OFFICIAL REPORT

Thursday, the 8th August, 1974

(Contains Nos. 1—21)

CONTENTS

Pages

1. Programme for sittings of the Special Committee ... ... ... ... 510-511

2. Message of Thanks from Senate and National Assembly of Turkey for support on Cyprus Issue ... ... ... ... 511

(Continued)

PRINTED BY THE MANAGER, PRINTING CORPORATION OF PAKISTAN PRESS, ISLAMABAD PUBLISHED BY THE NATIONAL BOOK FOUNDATION, ISLAMABAD.

دہلی میں ہزاروں کی تعداد امرتسر میں بھی مسلمان مخالف کیا قرآن کریم اور مرزا کے مرزا کا الہام ایسے ہی ہے ج دونوں کو ایک لیول میں رکھ مرزا کا الہام احادیث سے الفضل کا حوالہ مرزا کا الہام حدیث پر مقد آرٹیکل نمبر ٢٠ آپ ایک فرقہ ہیں یا آپ حضرت مسیح علیہ السلام کو آپ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مقر اس وقت جواب نہیں دے مرزا نے کیا علوم قرآنی و وہ مہر صرف ایک مرتبہ استع مرزا قادیانی کے علاوہ اور ہزاروں نبی آئیں گے؟ جہاد کے متعلق آپ کا کیا ا انگریز کے دور میں جہاد مان آج سے دین کے لئے لڑ کیا شاہ عبدالعزیز دہلوی کی جہاد کا حکم موقوف کر دیا گیا

صفحہ ٥٨٩

588 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

No. 04

THE

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN

PROCEEDINGS

OF

THE SPECIAL COMMITTEE OF THE

WHOLE HOUSE HELD IN CAMERA

TO CONSIDER THE QADIANI ISSUE

OFFICIAL REPORT

Thursday, the 8th August, 1974

(Contains Nos. 1-21)

٢

589 NATIONAL ASSEM

صفحہ ٥٨٩

TAN 8th Aug, 1974 No:04 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

3 Steering Committee Meetings ... 511-512 4 Foundation Stone-laying Ceremony of the Parliament House ... 512-514 5 Adjournment of the Special Committee ... 514

6 Cross-examination of the Qadiani Group Delegation ... 514-546 7 Written Answers to Oral Questions in the Cross-examination 546 8 Irrelevant Answers to Questions in the Cross-examination ... 546-547 9 Supply of Quotations for asking Questions ... 548 10 Time for Answering Questions ... 548-549 11 Written Answers to Oral Questions in the Cross examination ... 549 12 Questions Based on Documents not readily available ... 549-550 13 Admittance of visitors during sittings of the Special Committee ... 550 14 Method of Asking Questions during Cross-examination ... 551 15 Production of Books/Documents for Quotations cited in the Questions 551-552 16 Repetition of Arguments by the Witness 552-553

AKISTAN

17 Cross-examination of the Qadiani Group Delegation ... 553-590 18 Quotations Unsupported by Original documents 590-591 19 Cross-examination of the Qadiani Group Delegation ... 591-626 20 Interruptions by the Witness while a Question is put ... 626-627 21 Cross-examination of the Qadiani Group Delegation - (Continued)... 627-664 22 Procedure and Strategy for further Cross-examination ... 664-668

EE OF THE

CAMERA

ANI ISSUE

صفحہ ٥٩١

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

509 THE NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN

PROCEEDINGS

OF

THE SPECIAL COMMITTEE OF THE

WHOLE HOUSE HELD IN CAMERA

TO CONSIDER THE QADIANI ISSUE.

OFFICIAL REPORT

(سرکاری رپورٹ)

Thursday, the 8th August. 1974. (بروز جمعرات، ٨؍ اگست ١٩٧٤ء)

The Special Committee of the Whole House of the National Assembly of Pakistan met in Camera in the Assembly Chamber, (State Bank Building), Islamabad, at ten of the clock, in the morning. Mr. Chairman (Sahibzada Farooq Ali) in the Chair.

(پاکستان کی قومی اسمبلی کے مکمل ایوان کی خصوصی کمیٹی کا اجلاس اسمبلی کے چیمبر میں (اسٹیٹ بینک بلڈنگ) اسلام آباد میں صبح دس بجے منعقد ہوا۔ اسپیکر قومی اسمبلی (صاحبزادہ فاروق علی) نے صدارت کی)

(Recitation from the Holy Quran) (تلاوت قرآن شریف)

٤

NATIONAL ASSEM

510 PROGRAMME FO

SPECIAL C

بیٹھنے کا پروگرام)

Mr. Chairman: B just want to tell the honou finalised the programme to sit up to 13th because, ou foundation stone of Natio would have been very inconv the break on the 10th, the m they had not come to attend for the Members of the Na placed us in an awkwar Assembly will continue. We

قبل میں معزز اراکین کو بتانا چاہتا ہوں کہ ہم س ١٣؍ اگست تک ہوگا۔ وہ اس لئے کہ چودہ ہے۔ ١٠؍ اگست کو اجلاس کے التوا کی صورت (اسلام آباد سے) چلے جاتے اور اگر وہ اس ہے واپس نہ آسکے تو یہ ہم سب کے لئے ایک ت تک جاری رہے گا)

Maulana Shah Ah The invitation will be issu Assembly? اسپیکر صاحب کی طرف سے ١٤؍ اگست کے

صفحہ ٥٩١

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

510 PROGRAMME FOR SITTINGS OF THE

SPECIAL COMMITTEE

(خصوصی کمیٹی کے بیٹھنے کا پروگرام)

Mr. Chairman: Before the Delegation is called, I just want to tell the honourable members that we have finalised the programme to some extent. The Assembly will sit up to 13th because, on the 14th we are laying the foundation stone of National Assembly Building. So, it would have been very inconvenient for the members if, after the break on the 10th, the members would have gone; and if they had not come to attend the ceremony, which is mostly for the Members of the National Assembly, it would have placed us in an awkward position. So upto 13th the Assembly will continue. We will finish......

(جناب چیئرمین: وفد کو بلانے سے قبل میں معزز اراکین کو بتانا چاہتا ہوں کہ ہم نے کسی حد تک پروگرام طے کر لیا ہے۔ اسمبلی کا اجلاس ١٣ اگست تک ہوگا۔ وہ اس لئے کہ چودہ اگست کو نیشنل اسمبلی کی عمارت کا سنگ بنیاد رکھا جا رہا ہے۔ ١٠ اگست کو اجلاس کے التوا کی صورت میں اراکین کو زحمت ہوگی۔ اس صورت میں اراکین (اسلام آباد سے) چلے جاتے اور اگر وہ اس تقریب کے لئے جو صرف ان ہی کے لئے ہورہی ہے واپس نہ آسکتے تو یہ ہم سب کے لئے ایک نامناسب بات ہوگی۔ چنانچہ اسمبلی کا اجلاس ١٣ اگست تک جاری رہے گا)

Maulana Shah Ahmad Noorani Siddiqi: 14th?

The invitation will be issued by the Speaker of National Assembly?

(مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی: کیا سپیکر صاحب کی طرف سے ١٤ اگست کے

٥

صفحہ ٥٩٢

592 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

لئے دعوت نامے جاری کئے جاچکے ہیں؟)

Mr. Chairman: No, it will be, the invitation will be by the Minister-in-Charge of C.D.A. because they are piloting it. That was my proposal. They are building it, so the invitation should go from them. Indirectly, it is our function....

(جناب چیئرمین: نہیں دعوت نامے وزیر انچارج سی ڈی اے نے جاری کر دیئے ہیں۔ یہ ان کی ذمہ داری ہے۔ گو بالواسطہ یہ ہماری تقریب ہے۔ مگر دعوت نامے ان ہی کی طرف سے جائیں گے)

Maulana Shah Ahmad Noorani Siddiqui: Indirectly, we are the hosts?

(مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی: بالواسطہ ہم میزبان ہیں؟)

Mr. Chairman: .... and indirectly, we are the hosts. So, we will complete the examination of Mirza Nasir Ahmad and of Lahori Party. If we complete it by 10th, on the 11th is Sunday. On 12th or 13th, we can meet as National Assembly. So, we won't be missing those two days; we would utilize those two days and then the break of a week or ten days can be after 14th. Instead of 10th to 20th, it will be from 14th to 21st or 22nd or 23rd.

(جناب چیئرمین: اور بالواسطہ ہم میزبان ہیں۔ ہم مرزا ناصر احمد اور لاہوری پارٹی کا بیان ١٠؍اگست تک مکمل کرلیں گے۔ ١١؍اگست کو اتوار کا دن ہے۔ ١٢؍اور ١٣؍اگست کو ہم بحیثیت قومی اسمبلی اجلاس کریں گے۔ اس طرح دو دن ضائع ہونے سے بچ جائیں گے اور ہم ان دنوں میں کام کرلیں گے۔ ١٤؍اگست کے بعد ہفتے/دس دن کا وقفہ ہوگا۔ جو کہ ١٤؍اگست تا ٢١ یا ٢٢ یا ٢٣؍اگست تک ہوگا)

٦

593 NATIONAL ASSEMBLY

Prof. Ghafoor Ahm Special Committee both?

اور خصوصی کمیٹی دونوں؟)

Mr. Chairman: Yes.

Prof. Ghafoor Ahm Special Committee both?

اور خصوصی کمیٹی دونوں؟)

511 Mr. Chairman: T Assembly both, because both ar preference is given to this wor And we will know from the At long, after today's sitting, we n work we survey the work and thi the work as to how long we wil Lahori party. And I think we wil of this week. I think so. I think everyone?

مٹی اور اسمبلی دونوں ساتھ ساتھ چل رہے ہیں۔ ج کا اجلاس ختم ہونے کے بعد ہم اٹارنی جنرل سے رح ہم ہر روز کام کا جائزہ لیتے رہیں گے۔ اس کے ں ہے کہ اس ہفتے کے آخر تک کام مکمل کرلیں گے۔ لئے قابل قبول ہے)

Members: Yes.

Mr. Chairman: Than

بہت شکریہ)

٧

صفحہ ٥٩٣

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

Prof. Ghafoor Ahmad: The Assembly and Special Committee both? (پروفیسر غفور احمد: قومی اسمبلی اور خصوصی کمیٹی دونوں؟)

Mr. Chairman: Yes. (جناب چیئرمین: جی ہاں!)

Prof. Ghafoor Ahmad: The Assembly and Special Committee both? (پروفیسر غفور احمد: قومی اسمبلی اور خصوصی کمیٹی دونوں؟)

511 Mr. Chairman: The Special Committee and Assembly both, because both are running side by side. The preference is given to this work... the Special Committee. And we will know from the Attorney- General as to how long, after today's sitting, we need to sit. After every day's work we survey the work and then maybe we will again survey the work as to how long we will take. Then we will call the Lahori party. And I think we will be able to finish by the end of this week. I think so. I think this programme is agreed to everyone?

(جناب چیئرمین: خصوصی کمیٹی اور اسمبلی دونوں ساتھ ساتھ چل رہے ہیں۔ خصوصی کمیٹی کے کام کو ترجیح دی جائے گی۔ آج کا اجلاس ختم ہونے کے بعد ہم اٹارنی جنرل سے معلوم کریں گے کہ اور کتنا وقت لگے گا۔ اس طرح ہم ہر روز کام کا جائزہ لیتے رہیں گے۔ اس کے بعد ہم لاہوری پارٹی کو بلائیں گے۔ میرا خیال ہے کہ اس ہفتے کے آخر تک کام مکمل کر لیں گے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ پروگرام سب حضرات کے لئے قابل قبول ہے)

Members: Yes. (اراکین: جی ہاں!)

Mr. Chairman: Thank you very much. (جناب چیئرمین: آپ کا بہت بہت شکریہ)

N 8th Aug, 1974 No:04

لئے دعوت نامے جاری کئے جا the invitation will because they are are building it, so directly, it is our

(جناب چیئرم کر دیئے ہیں۔ یہ ان کی ذمہ کی طرف سے جائیں گے) i Siddiqui:

(مولانا شاہ ا ctly, we are the s of Mirza Nasir te it by 10th, on we can meet as those two days; break of a week h to 20th, it will

(جناب چیئ کا بیان ١٠ اگست تک مکم قومی اسمبلی اجلاس کریں میں کام کر لیں گے۔ ١٣ ٢٣ اگست تک ہوگا) اگست تک ہوگا)

صفحہ ٥٩٤

594 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

MESSAGE OF THANKS FROM SENATE AND

NATIONAL ASSEMBLY OF TURKEY FOR

SUPPORT ON CYPRUS ISSUE

Mr. Chairman: I have received messages of thanks from the Chairman, from the President of Senate and from the Speaker of National Assembly of Turkey, and thanks to all the members. They have desired that their thanks may be conveyed to all the Members of this National Assembly, for their support, for their good wishes and........

(جناب چیئرمین: مجھے پیغامات مل چکے ہیں جو کہ ترکی کی سینٹ کے صدر اور قومی اسمبلی کے سپیکر کی طرف سے اراکین قومی اسمبلی (پاکستان) کے لئے ہیں۔ انہوں نے ترکی کی حمایت اور یکجہتی کے لئے اراکین قومی اسمبلی کا شکریہ ادا کیا ہے۔ انہوں نے باہمی خیر سگالی کے جذبات.......)

Maulana Shah Ahmad Noorani: Point of information, Sir.

Mr. Chairman: .... and they have also reciprocated the same.

Maulana Shah Ahmad Noorani Siddiqui: Thanks for what?

(مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی: کس بات کا شکریہ؟)

Mr. Chairman: For the resolution, for the message we sent on the Cyprus issue.

(جناب چیئرمین: یہ (اظہار تشکر) اس ریزولیوشن اور پیغام کے سلسلہ میں ہے جو ہم نے قبرص کے مسئلہ پر بھجوائے ہیں)

STEERING COMMITTEE MEETINGS

Maulana Shah Ahmad Noorani Siddiqui: What about the Steering Committee, Sir?

٨

595 NATIONAL ASSEMBLY O

یقی: سٹیئرنگ کمیٹی کے متعلق کیا خیال ہے؟)

Maulana Shah Ahmad What about the steering Commi some date....

یقی: کیا آپ سٹیئرنگ کمیٹی کے لئے تاریخ مقرر

Mr. Chairman: What?

Maulana Shah Ahma ....for the Steering Committee?

ا: سٹیئرنگ کمیٹی کے لئے؟) نے کل فرمایا تھا کہ آج صبح 9 بجے سٹیئرنگ کمیٹی کی

، جمعرات کو 9 بجے یہ فیصلہ ہوا تھا کہ کل صبح 9 بجے ت کو 9 بجے کے بعد The entire House

س کمیٹی کی کوئی میٹنگ ہو رہی ہے یا نہیں؟ لیں گے نا جی! ڈیڑھ بجے کے بعد، جب دوپہر کا ہے۔

then we survey the ent there is need, the Steering Com There is no restriction. If you lik you can meet in the evening an House.

Yes, Mian Mahmud Ali

رضروری ہوا تو سٹیئرنگ کمیٹی کا اجلاس کسی وقت بھی

٩

صفحہ ٥٩٥

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

(مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی: سٹیئرنگ کمیٹی کے متعلق کیا خیال ہے؟)

512 جناب چیئرمین: جی؟

Maulana Shah Ahmad Noorani Siddiqui:

What about the steering Committee? Are you going to fix some date....

(مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی: کیا آپ سٹیئرنگ کمیٹی کے لئے تاریخ مقرر کرنے والے ہیں؟)

(جناب چیئرمین: کیا؟) Mr. Chairman: What?

Maulana Shah Ahmad Noorani Siddiqui:

....for the Steering Committee?

(مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی: سٹیئرنگ کمیٹی کے لئے؟)

چوہدری ظہور الٰہی: آپ نے کل فرمایا تھا کہ آج صبح 9 بجے سٹیئرنگ کمیٹی کی میٹنگ ہوگی۔

جناب چیئرمین: نہیں، وہ کل پھر رات کو 9 بجے یہ فیصلہ ہوا تھا کہ کل صبح 9 بجے سٹیئرنگ کمیٹی کی میٹنگ نہیں ہوگی۔ کیونکہ رات کو 9 بجے کے بعد The entire House discussed all the matters.

چوہدری ظہور الٰہی: اب سٹیئرنگ کمیٹی کی کوئی میٹنگ ہو رہی ہے یا نہیں؟

جناب چیئرمین: اب آج کر لیں گے نا جی! ڈیڑھ بجے کے بعد، جب دوپہر کا بریک ہوتا ہے۔ یا رات کو جب ایڈجرن ہوتی ہے۔

then we survey the entire situation. After that, if there is need, the Steering Committee can meet at any time. There is no restriction. If you like, after this break for lunch, you can meet in the evening at any time. That is up to the House.

Yes, Mian Mahmud Ali Kasuri.

(تب ہم اس پر غور کریں گے۔ اگر ضروری ہوا تو سٹیئرنگ کمیٹی کا اجلاس کسی وقت بھی

٩

صفحہ ٥٩٦

596 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

ہوسکتا ہے۔ کوئی پابندی نہیں۔ اگر آپ چاہیں تو دوپہر کے کھانے کے وقفہ کے بعد شام کو اجلاس ہوسکتا ہے۔ یہ سب ایوان پر منحصر ہے۔ جی میاں محمود علی قصوری صاحب!)

FOUNDATION STONE LAYING CEREMONY OF

THE PARLIAMENT HOUSE

Mian Mahmud Ali Kasuri: Mr. Speaker, Sir,.... oh!.... Mr. Chairman, Sir, I wanted to know if the President has been invited for the National Assembly stone- laying foundation laying ceremony; and if he is going to be present, is he going to lay the foundation stone?

(میاں محمود علی قصوری: مسٹر سپیکر! جناب...... اوہ!..... مسٹر چیئرمین! جناب والا! میں معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ صدر پاکستان کو قومی اسمبلی (کی عمارت) کی سنگ بنیاد رکھنے کے لئے مدعو کیا گیا ہے۔ کیا وہ اس مقصد کے لئے تشریف لانے والے ہیں)

(Interruption)

(مداخلت)

513 میاں محمود علی قصوری: بھئی! میں پوچھنا چاہتا ہوں۔

Has he been invited? And if he has been invited, is he going to lay the foundtion stone?

(کیا انہیں دعوت دی جاچکی ہے۔ اگر ایسا ہے تو کیا صدر پاکستان سنگ بنیاد رکھنے کے لئے آئیں گے)

Mr. Chairman: I have already told that the invitation have been sent by the Minister-in-Charge.

(جناب چیئرمین: میں پہلے ہی بتا چکا ہوں کہ وزیر متعلقہ نے دعوت نامہ بھجوا دیا ہے)

Mian Mahmud Ali Kasuri: No, no, Mr. Speaker, Sir. Sir, Mr. Chairman, Sir, that will have an important effect. If the Head of the State is in the town.... and I am told

١٠

صفحہ ٥٩٧

AKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

ہوسکتا ہے۔ کوئی پابندی نہیں۔ اگر آپ ہوسکتا ہے۔ یہ سب ایوان پر منحصر ہے۔ جی میاں محمود علی قصوری صا

G CEREMONY OF HOUSE

i: Mr. Speaker, Sir,.... know if the President ssembly stone- laying if he is going to be on stone?

(میاں محمود علی قصوری میں معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ صدر پاک مدعو کیا گیا ہے۔ کیا وہ اس مقصد کے

513 میاں محمود علی قصور

e has been invited, is

(کیا انہیں دعوت دی کے لئے آئیں گے)

ready told that the r-in-Charge.

(جناب چیئرمین: No, no, Mr. Speaker, have an important own.... and I am told

597 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

that he is issuing invitations for the reception.... then we would like to know: is he going to be present at this function? And if he is going to be insulted like this, then some of us may not come.

(میاں محمود علی قصوری: نہیں، نہیں۔ مسٹر سپیکر۔ جناب، جناب! مسٹر چیئرمین! جناب اس کا بہت اچھا تاثر ہوگا۔ اگر سربراہ مملکت اسلام آباد میں موجود ہیں اور اس تقریب کے لئے تشریف نہ لائیں۔ تو یہ ایک طرح سے ان کے لئے بے توقیری کی بات ہوگی۔ تو ہم (اراکین اسمبلی) میں سے بھی کئی اس تقریب پر نہیں آئیں گے)

Mr. Chairman: No, no, these remarks should not be made. (جناب چیئرمین: نہیں، نہیں۔ ایسے ریمارکس نہیں دینے چاہئیں)

Mian Mahmud Ali Kasuri: No, no, but I want to convey the sentiments of some of the members at least to you. And I am sure the whole House will like the....

(میاں محمود علی قصوری: نہیں، نہیں۔ میں کچھ اراکین کے جذبات آپ تک پہنچانا چاہتا ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ پورا ایوان......)

Mr. Chairman: No, I would....

Mian Mahmud Ali Kasuri: ....Head of the State to be respected to the utmost.

(میاں محمود علی قصوری: صدر پاکستان (سربراہ مملکت) کی انتہائی عزت کرنی چاہئے)

Mr. Chairman: No. Now we may call them.

(جناب چیئرمین: نہیں، اب ہم انہیں بلالیں) پروفیسر غفور احمد: جناب عالی میں ایک گذارش...... جناب چیئرمین: نہیں، میاں صاحب دو دن سے چپ بیٹھے ہوئے تھے یا انہوں نے کچھ نہ کچھ بات تو کرنی تھی نا جی! Yes. میاں محمود علی قصوری: جناب! آپ سارا دن بولتے ہیں اور آپ کو کوئی تکلیف نہیں ہوتی۔

11

صفحہ ٥٩٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

جناب چیئرمین: یہاں تو میں آٹھ گھنٹے بول ہی نہیں سکتا۔

Here lies the difficulty.

514 جناب چیئرمین: اور ایک نہ ایک انہوں نے ٹارگٹ بنانا ہے۔

جی، پروفیسر غفور احمد!

----------------

ADJOURNMENT OF THE SPECIAL

COMMITTEE

پروفیسر غفور احمد: سر! یہ جو التواء ہوگا چودہ کے بعد، یہ دس دن کا ہوگا؟

Mr. Chairman: A week or ten days.

(جناب چیئرمین: ایک ہفتہ یا دس دن)

پروفیسر غفور احمد: جی؟

Mr. Chairman: That we will see after this or we will....

(جناب چیئرمین: اس کو ہم بعد میں دیکھیں گے یا ہم ......)

پروفیسر غفور احمد: نہیں، میرا مطلب یہ تھا کہ چونکہ ہم یہ کام کر رہے ہیں، اس لئے التواء کی کوئی ضرورت تو نہیں ہے۔

میاں محمود علی قصوری: دہاڑی لگے گی آپ کی۔

Mr. Chairman: That we will discuss in Mirpur, Mangla. وہ ڈسکس کر لیں گے That is all at the convenience of the honourable members. If they like, we can discuss it in the chamber.

Should we call them? Mr. Attorney-General are you prepared?

Yes, call them.

(جناب چیئرمین: اس پر میر پور منگلا میں بات کریں گے۔ یہ سب معزز اراکین کی صوابدید اور سہولت پر ہے۔ اگر وہ چاہیں تو اس پر چیمبر میں بات ہو سکتی ہے۔ کیا انہیں بلا لیں۔ مسٹر اٹارنی جنرل کیا آپ تیار ہیں!۔ جی ہاں! ان کو بلا لیں)

١٢

599 NATIONAL ASSEM

(The Delegation e اخل ہوا)

Mr. Chairman: Y جنرل!)

----------------

CROSS- EXAMINAT

GROUP I

تان): مرزا صاحب.......

احمدیہ ربوہ): کچھ سوالات جو آپ نے ب پڑھ لیں۔

ب!

خاص کا تعلق حضرت فاطمہؓ سے ہے۔ اس رؤیا کا ایک علم مدون ہوا بڑا زبردست، اور ہور امام ہیں۔ اس علم کے اور علم کی حیثیت نظر آتا ہے کہ کشوف ورؤیا کی تعبیر کی جاتی کے لئے میں چند رؤیا جو پہلے آئی ہیں وہ ہے اس کی سمجھ نہیں آسکتی۔

”فارسی میں ہے۔ جس کا ترجمہ بھی ہو چکا ایک رات خواب میں دیکھا کہ پیغمبر کی ور اس ہیبت سے آپ بیدار ہو گئے۔ ابن ا کہ تو پیغمبر کے علم میں اور ان کی سنت کی گا۔ صحیح کو سقیم سے جدا کرے گا۔“

میں یہ دیکھتے ہیں کہ روضہ مطہرہ میں سے عض کو ناپسند کیا۔ اس صالح انسان پر کپکپی

صفحہ ٥٩٩

599 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

(The Delegation entered the Chamber) (وفد چیمبر میں داخل ہوا)

Mr. Chairman: Yes, Mr. Attorney- General. (جناب چیئرمین: جی، جناب اٹارنی جنرل!)

CROSS- EXAMINATION OF THE QADIANI

GROUP DELEGATION

جناب یحییٰ بختیار (اٹارنی جنرل پاکستان): مرزا صاحب......

مرزا ناصر احمد (گواہ، سربراہ جماعت احمدیہ ربوہ): کچھ سوالات جو آپ نے لکھوائے تھے، وہ رہ گئے ہوں گے۔

515 جناب یحییٰ بختیار: ہاں! وہ آپ بیشک پڑھ لیں۔

مرزا ناصر احمد: ہاں! وہ پڑھ دیتا ہوں۔

فارسی کی ”درثمین“ چاہئے لائبریرین صاحب!

ایک سوال ایک کشف کے متعلق پوچھا گیا تھا جس کا تعلق حضرت فاطمہؓ سے ہے۔ اس سلسلے میں میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ امت محمدیہ میں تعبیر رؤیا کا ایک علم مدون ہوا بڑا زبردست، اور اس کے اماموں میں امام جعفر صادق اور ابن سیرین مشہور امام ہیں۔ اس علم کے اور علم کی حیثیت سے یہ مدون ہوا اور امت مسلمہ کی تاریخ میں ہمیں یہ نظر آتا ہے کہ کشوف و رؤیا کی تعبیر کی جاتی ہے۔ کشوف پہ اعتراض نہیں کیا جاتا۔ اس نکتہ کو سمجھانے کے لئے میں چند رؤیا جو پہلے آئی ہیں وہ بتانا چاہتا ہوں۔ اس کے بغیر جس کے متعلق سوال کیا گیا ہے اس کی سمجھ نہیں آسکتی۔

پہلی مثال ہے امام ابو حنیفہؒ کی ”تذکرۃ الاولیاء“ فارسی میں ہے۔ جس کا ترجمہ بھی ہو چکا ہے۔ اس میں یہ لکھا ہے کہ: ”حضرت امام ابو حنیفہؒ نے ایک رات خواب میں دیکھا کہ پیغمبرؐ کی ہڈیاں لحد سے جمع کیں اور بعض کو چھوڑ کر بعض کو پسند کر لیا اور اس ہیبت سے آپ بیدار ہوگئے۔ ابن سیرینؒ کے اصحاب میں سے ایک نے پوچھا تو اس نے کہا کہ تو پیغمبرؐ کے علم میں اور ان کی سنت کی حفاظت میں ایسا درجہ پائے گا کہ اس میں متعارف ہو جائے گا۔ صحیح کو سقم سے جدا کرے گا۔“

تو اتنا بھیانک خواب کے اپنے خواب، رؤیا میں یہ دیکھتے ہیں کہ روضہ مطہرہ میں سے آپ ﷺ کے جسم مطہر کی ہڈیاں لیں اور بعض کو پسند کیا۔ بعض کو ناپسند کیا۔ اس صالح انسان پر کپکپی

١٣

صفحہ ٦٠٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

طاری ہو گئی۔ وہ کانپ اٹھے کہ یہ میں نے کیا دیکھ لیا اور اصحاب ابن سیرینؒ کے، جو ان کے شاگرد516 وغیرہ تھے۔ ان کے پاس گئے اور کہا کہ میں نے یہ خواب دیکھی ہے۔ گھبرائے ہوئے تھے تو انہوں نے کہا کہ گھبرانے کی بات نہیں۔ آپ نے جو خواب دیکھی، جو رؤیا دیکھی، اس کی تعبیر ہے اور تعبیر یہ ہے کہ آپ سنت نبویؐ میں جو غلط باتیں شامل ہو چکی ہیں ان کو صحیح سے علیحدہ کر دیں گے اور خالص سنت نبویؐ کے قیام کا ذریعہ بنیں گے۔

دوسری رؤیا جو یہاں میں مثال کے طور پر پیش کرنا چاہتا ہوں۔ وہ ”گلدستہ کرامات“ سے ہے اور سوانح حضرت سید عبدالقادر جیلانیؒ ہے۔ ہمارے ایک مشہور بزرگ ہیں جن کا نام تعارف کا محتاج نہیں۔ سید شیخ عبدالقادرؒ ..... میں شروع سے ..... کتاب ”جواہر القلائد“ میں لکھا ہے کہ: ”فرمایا جناب محبوب سبحانی، قطب ربانی، سید شیخ عبدالقادر جیلانیؒ نے کہ ایک روز ہم نے یہ عالم طفولیت (یعنی عمر تو بڑی تھی لیکن اپنے آپ کو ایک بچے کی شکل میں دیکھا) ایک ہم یہ عالم طفولیت خواب راحت میں تھے۔ کیا دیکھا کہ فرشتگان آسمان بحکم ربانی ہم کو اٹھا کر حضرت عائشہ صدیقہؓ کی خدمت میں لے گئے۔ انہوں نے ہم کو گود میں اٹھایا۔ چھاتی سے لگایا اور اتنا پیار کیا تھا کہ پستان مبارک میں دودھ بھر آیا اور سر پستان ہمارے منہ میں رکھ کر (سر پستان ہمارے منہ میں رکھ کر) دودھ پلایا۔ اتنے میں جناب رسالت مآب ﷺ بھی وہاں رونق افروز ہوئے اور فرمایا کہ: یا عائشہ ھذا ولدنا حق قرۃ عینا وجیھا فی الدنیا ولآخرۃ من المقربین۔“

اس کی بھی اس کشف، اس رؤیا کی بھی تعبیر کی گئی ہے۔ سید عبدالقادر جیلانیؒ پر اعتراض نہیں کیا گیا۔517 تیسری مثال اس وقت جو میں دینا چاہتا ہوں، وہ حضرت مولانا سید احمد بریلویؒ کے ایک خواب کی ہے۔

”ایک دن حضرت علی کرم اللہ وجہہ اور جناب سیدۃ النساء فاطمۃ الزہرہؓ کو سید صاحب نے خواب میں دیکھا۔ اس رات کو حضرت علیؓ نے اپنے دست مبارک سے آپ کو نہلایا اور حضرت فاطمہؓ نے ایک لباس اپنے ہاتھ سے آپ کو پہنایا۔ بعد ان وقوعات کے کمالات طریقہ نبوت کے نہایت آب و تاب کے ساتھ آپ پر جلوہ گر ہونے لگے۔ (یہ خواب کی تعبیر بتائی گئی ہے اس میں) اور وہ عنایات ازلی جو مکنون اور محجوب تھیں۔ ظاہر ہوگئیں اور تربیت یزدانی، بلا واسطہ کسی کے، متکفل حال آپ کے ہو گئی۔“

اور ایک چھوٹی سی مثال اور ہے۔ حضرت مولوی اشرف علی صاحب تھانویؒ فرماتے ہیں: ”ہم نے خواب میں حضرت فاطمہؓ کو دیکھا۔ انہوں نے ہم کو اپنے سے چمٹا لیا۔ ہم اچھے ہو گئے۔“

(افاضات الیومیہ جلد٦، بحوالہ ”دیوبندی مذہب“ ص١٥٦)

١٤

صفحہ ٦٠١

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

اور بانی سلسلہ احمدیہ نے ایک کشف دیکھا، رؤیا دیکھا، اسی طرح اور اس کی طرف ریفرنس کیا۔ اپنی کتاب ”نزول المسیح“ کے صفحہ ٤٢٦ کے حاشیہ میں۔ جس کی دو سطریں جو ہیں وہ سوال کے اندر لی گئی ہیں اور اس میں آپ نے یہ شروع میں لکھا ہے کہ یہ کشف جو ”براہین احمدیہ“ میں مندرج ہے۔ اس کی طرف ریفرنس ہے۔ اس واسطے ہم ”براہین احمدیہ“ لیتے ہیں کہ اس میں کشف کیا درج ہے۔ ”براہین احمدیہ“ کی یہ عبارت ہے: ”ایک رات اس عاجز نے اس کثرت سے درود شریف پڑھا کہ دل و جان اس سے معطر ہو گیا۔ اسی رات خواب میں دیکھا کہ آب زلال کی شکل پر نور کی مشکیں518 اس عاجز کے مکان میں لئے آتے ہیں اور ایک نے ان میں سے کہا کہ یہ وہی برکات ہیں جو تو نے محمد ﷺ کی طرف بھیجی تھیں۔“

”اور ایسا ہی عجیب ایک اور قصہ یاد آیا ہے کہ ایک مرتبہ الہام ہوا جس کے معنی یہ تھے کہ ملاء اعلیٰ کے لوگ خصومت میں ہیں۔ یعنی ارادۂ الٰہی احیائے دین کے لئے جوش میں ہے۔ لیکن ہنوز ملاء اعلیٰ پر شخص محی کے تعین ظاہر نہیں ہوئی۔ اس لئے وہ اختلاف میں ہے۔ اسی اثناء میں خواب میں دیکھا کہ لوگ ایک محی کو تلاش کرتے پھرتے ہیں اور ایک شخص اس عاجز کے سامنے آیا اور اشارہ سے اس نے کہا: ھذا رجل یحب رسول اللہ یعنی یہ وہ آدمی ہے جو رسول اللہ ﷺ سے محبت رکھتا ہے اور اس قول سے یہ مطلب تھا کہ شرط اعظم اس عہدہ کی محبت رسول ﷺ ہے۔ سو وہ اس شخص میں متحقق ہے اور ایسا ہی الہام متذکرہ بالا میں جو آل رسول ﷺ پر درود بھیجنے کا حکم ہے تو اس میں یہی سر ہے کہ افاضہ انوار الٰہی میں محبت اہل بیت کو بھی نہایت عظیم دخل ہے اور جو شخص حضرت احدیت کے مقربین میں داخل ہوتا ہے۔ وہ (یعنی اہل بیت) وہ انہیں طیبین، طاہرین کی وراثت پاتا ہے اور تمام علوم و معارف میں ان کا وارث ٹھہرتا ہے۔

اس جگہ ایک نہایت روشن کشف یاد آیا ہے اور وہ یہ ہے کہ ایک مرتبہ نماز مغرب کے بعد عین بیداری میں ایک تھوڑی سی غیبت حس سے جو خفیف سے نشہ سے مشابہ تھی ایک عجیب عالم ظاہر ہوا کہ پہلے ایک دفعہ چند آدمیوں کے جلد جلد آنے کی آواز آئی۔ جیسے سرعت چلنے کی حالت میں پاؤں کی جوتی اور519 موزہ کی آواز آتی ہے۔ پھر اسی وقت پانچ آدمی نہایت وجیہ اور مقبول اور خوبصورت سامنے آگئے۔ یعنی جناب پیغمبر خدا ﷺ اور حضرت علیؓ اور حسنینؓ و فاطمۃ الزہراؓ (میں غلط پڑھ گیا ہوں) (پیغمبر خدا ﷺ و حضرت علیؓ و حسنینؓ و فاطمۃ الزہراؓ) رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین اور ایک نے ان میں سے اور ایسا یاد پڑتا ہے کہ حضرت فاطمہؓ نے نہایت محبت اور شفقت سے مادر مہربان کی طرح اس عاجز کا سر اپنی ران پر رکھ لیا۔ پھر بعد اس کے ایک کتاب مجھ

١٥

صفحہ ٦٠٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

کو دی گئی۔ جس کی نسبت یہ بتلایا گیا کہ یہ تفسیر قرآن ہے۔“

(براہین احمدیہ ص ٥٠٣،٥٠٤، خزائن ج ١ ص ٥٩٨،٥٩٩)

تو یہ وہ کشف ہے جس کی طرف ”نزول مسیح“ میں اشارہ کیا گیا ہے۔ اب ظاہر ہے کہ کشف ہے۔ جس طرح دوسرے کشوف میں اولیائے امت نے حضرت فاطمۃ الزہراؓ کے متعلق کشوف دیکھے یا جیسے حضرت امام ابوحنیفہؒ نے نہایت بظاہر بھیانک کشف دیکھا۔ لیکن اس کی تعبیر کی گئی تو جیسا کہ امت محمدیہ کا متفقہ فیصلہ ہے کہ کشوف و رؤیا کی تعبیر کی جاتی ہے۔ ان پر اعتراض نہیں کیا جاتا۔ اس کشف کی بھی تعبیر ہونی چاہئے اور تعبیر اس کی اس کے اندر واضح ہے۔ کیونکہ جیسا کہ ابھی میں نے بتایا ہے۔ اس کشف میں پانچ وجود آپ کے سامنے آئے اور ان کی موجودگی میں، جن میں نبی اکرم ﷺ اور صحابہ کھڑے ہوئے تھے۔ ”مادر مہربان کی طرح میرا سر اپنی ران کے ساتھ لگایا۔“ کا مطلب ہے کہ کشف میں خود کو بہت چھوٹے بچے کی طرح دیکھا کہ آپ کا سر صرف ران تک پہنچتا تھا۔

اور اس قسم کے اس سے زیادہ واضح حوالے اور بھی ہیں جن کو میں نے چھوڑ دیا ہے۔ لیکن جو میں نے بیان کئے وہ بھی بڑے واضح ہیں تو یہ ایک کشف ہے جس کی تعبیر ہونی چاہئے۔ جو پہلوں نے کی اور یہاں بھی واضح ہے۔ آگے اور بھی میں کچھ......

520 جناب یحییٰ بختیار: آپ نے، مرزا صاحب، خواب اور کشف کا ذکر کیا۔ دونوں میں فرق کیا ہے؟

مرزا ناصر احمد: جو خواب ہے اس کے لئے حالت خواب ضروری ہے۔ یعنی نیند میں وہ نظارہ نظر آتا ہے اور کشف عام طور پر حالت بیداری یا حالت نیم بیداری میں نظر آتا ہے۔ مثلاً ہمارے شہنشاہ ایران کی بائیوگرافی میں لکھا ہے کہ ایک دفعہ جوانی کی حالت میں وہ اپنے باغ میں ٹہل رہے تھے۔ اپنے اتالیق کے ساتھ۔ تو وہاں ان کو کشفی نظارہ دکھایا گیا اور مہدی ان کے سامنے آگئے تو یہ ان کی کتاب میں ہے۔ یعنی اس لئے خواب کی نہیں ...... کشف میں عام طور پر

مرزا ناصر احمد کے دجل کو کہ اصل عبارت جو مرزا قادیانی کی پڑھی۔ اس میں ”اس عاجز کا سر اپنی ران پر رکھ لیا۔“ لیکن دو منٹ بعد مرزا ناصر نے اس عبارت کو بدل کر ”سر ران کے ساتھ لگا لیا“ کر دیا۔ یعنی ان کا سر ران تک آیا۔ گویا مرزا قادیانی بچہ تھا۔ پورے ہاؤس کے سامنے بات کو اپنے دجل سے کہاں تک لے گیا؟

١٦

صفحہ ٦٠٣

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

حالت بیداری، حالت نیم بیداری.......

جناب یحییٰ بختیار: یہ جو وحی آتی ہے کسی نبی پر.......

مرزا ناصر احمد: یہ پھر نئے سوال شروع ! ایک درخواست ہے۔.......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں کہ وحی کشف کی حالت میں آسکتی ہے۔ خواب کی حالت میں آسکتی ہے یا بالکل بیداری کی حالت میں آتی ہے؟

مرزا ناصر احمد: جس حالت میں ہو وہ دیکھنے والا بیان کر دیتا ہے کہ میں نے یہ کس طرح دیکھا۔

جناب یحییٰ بختیار: یعنی ہر حالت میں آسکتی ہے، وحی جو ہے؟

مرزا ناصر احمد: وحی کے متعلق میں.......

جناب یحییٰ بختیار: کیونکہ وحی تو صرف نبیوں کو آتی ہے ناں جی ! یہ تو .......

مرزا ناصر احمد: نہیں وحی شہد کی مکھی کو بھی آتی ہے: اوحٰی ربک الیٰ النحل

جناب یحییٰ بختیار: اور جو وحی نبیوں کو آتی ہے۔.......

521 مرزا ناصر احمد: یہ میں قرآن کریم کی آیت پڑھ رہا ہوں۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی! میں آپ سے اسی واسطے Clarification (وضاحت) پوچھ رہا ہوں۔

مرزا ناصر احمد: اوحٰی الیٰ ام موسٰی حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ پر وحی نازل ہوئی۔ میرا مطلب ہے، میں نے ایک مثال دی ہے۔ بس! مثالیں زیادہ دینے کی ضرورت نہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: اور جو وحی نازل ہوتی ہے نبی پر، اس پر تو کسی تعبیر کی ضرورت نہیں ہوتی؟ جیسے خواب کی تعبیر کی ضرورت ہوتی ہے۔

مرزا ناصر احمد: جو وحی ہے، ہمارے اسلامی محاورہ میں، اسلامی اصطلاح میں، اس کی تفسیر کی جاتی ہے۔ تعبیر نہیں کی جاتی۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں! میں یہی کہتا ہوں۔

مرزا ناصر احمد: ہاں! یعنی وہ فرق آ گیا ناں، تفسیر کی جاتی ہے تعبیر نہیں کی جاتی۔

جناب یحییٰ بختیار: اور جو خواب ہوتا ہے کشف ہوتا ہے۔ اس کی تعبیر کی جاتی ہے؟

١٧

صفحہ ٦٠٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

مرزا ناصر احمد: اُس کی تعبیر کی جاتی ہے۔ جناب یحییٰ بختیار: تفسیر کی ضرورت نہیں؟ مرزا ناصر احمد: ہاں! اُس کی تفسیر کی ضرورت نہیں۔ جناب یحییٰ بختیار: اور جو نبی ہوتے ہیں، ان کو کشف ...... مرزا ناصر احمد: ان کو کشف بھی ہیں، بڑی کثرت سے، احادیث میں بیان ہوئے ہیں۔ کشوف بھی ہیں۔ رؤیا بھی ہیں۔ وحی بھی ہے۔ وہ تو خزانہ رکھتے ہیں خدا کا۔ جناب یحییٰ بختیار: اور جو نبی کا کشف ہوتا ہے، اس کی بھی ...... 522 مرزا ناصر احمد: اس کی بھی تعبیر ہوتی ہے۔ جناب یحییٰ بختیار: تعبیر یا قیاس؟ مرزا ناصر احمد: نہیں، تعبیر ہوتی ہے۔ جناب یحییٰ بختیار: کشف اور خواب میں، جہاں تک تعبیر کا تعلق ہے، کوئی فرق نہیں؟ مرزا ناصر احمد: ہاں! کوئی فرق نہیں۔ جناب یحییٰ بختیار: اب آپ جو دوسرے سوال ہیں، مرزا صاحب! ان کا جواب دیں۔ پھر میں ان کی طرف آتا ہوں۔ مرزا ناصر احمد: ایک یہ سوال کیا گیا تھا کہ بانی سلسلہ احمدیہ نے اپنے فارسی منظوم کلام میں یہ فرمایا: عیسیٰ کجاست تابنہد پابمنبرم

یہ دو باتیں پہلے تمہید کی ضروری ہیں تمہید میں ایک یہ کہ شعراء نے ایک محاورہ بنایا ہے۔ ”قطعہ بند“ جس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ دو شعر مل کے صحیح مفہوم اور پورے مفہوم ادا کر رہے ہیں۔ قطعہ بند کے یہ (معنی) ہیں۔ یہ قطعہ بند ہے۔ اس میں دو شعر ”اینک منم“ اور ”آن را“ جو اگلا شعر ہے۔ یہ دونوں مل کے مفہوم کو پورا ادا کر رہے ہیں۔ اس میں تو نہیں، ایک دوسرے ایڈیشن میں یہ لکھا بھی ہوا ہے۔ ”قطعہ بند“ اور اس سے پہلے جو ہیں اشعار، وہ اس کا معنی ادا کر رہے ہیں، اور وہ یہ ہیں:

موعودم و بحلیہ ماثور آمدم حیف است گر بدیدہ نہ بینند منظرم
رنگم چوں گندم است بر مفرق بین است 523 بر آں ساں کہ آمدست در اخبار سرورم
ایں مقنعم نہ جائے شکوک است والتباس باید جدا کنند ز مسیحائے احمرم

١٨

صفحہ ٦٠٥

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

اور اس میں آپ نے یہ مضمون بیان کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے مسیح ناصری کا الگ حلیہ بیان کیا اور میرا حلیہ الگ بیان کیا۔ آپ کو کشف میں دونوں شبیہیں دکھائی گئیں اور آپ کی بشارات

”اینك منم کہ حسب بشارات آمدم“ (میرا دعویٰ صرف یہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ کی بشارات نے جو مقام مجھے دیا، ان بشارات کے مطابق میں اس مقام کا دعویٰ کرتا ہوں اور جو آنحضرت ﷺ کی بشارات کے نتیجہ میں میرا مقام ہے اس پر مسیح ناصری کا دعویٰ نہیں ہو سکتا)

یہ جو ہے ناں، ”پا بمنبرم“ یہ پہلا حصہ: ”اینك منم کہ حسب بشارات آمدم“

(جس مقام کا میں دعویٰ کر رہا ہوں۔ وہ مقام نبی اکرم ﷺ نے میرے لئے متعین کیا ہے)

جب آنحضرت ﷺ نے وہ مقام مسیح ناصری کے لئے نہیں، بلکہ مسیح محمدی کے لئے مقرر کیا ہے تو مسیح ناصری اس پر دعویٰ ہی نہیں کر سکتا۔

اور آگے اس کی دوسری دلیل یہ دی: ”آن را کہ حق بہ جنت خلد مقام داد“

(وہ فرد، وہ شخص جس کو اللہ تعالیٰ نے جنت میں جگہ دے دی)

”چون برخلاف وعد بیرون آرد از ارم“ (وہ جنت سے اللہ تعالیٰ کے وعدہ کے برخلاف کیسے نکل کے باہر آ جائے گا)

524 تو یہ دعویٰ تھا کہ میرا مقام یہ ہے اور اس کے لئے دو دلیلیں دیں: ایک تو یہ کہ اس مقام کی تعین محمد ﷺ نے مسیح محمدی کے لئے کی ہے۔ مسیح موسوی کے لئے نہیں کی اور دوسرے یہ کہ جیسا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ تعلیم ہے اسلام کی کہ جو شخص ایک دفعہ جنت میں چلا جائے وہ پھر واپس نہیں آیا کرتا۔ تو دوسری دلیل یہ دی کہ وہ تو جنت میں چلا گیا۔ وہ کیسے واپس آ کے اس مقام کا دعویٰ کریں گے تو یہ اس کا مطلب ہے۔ یہ ایک اور حوالہ تھا جو میں نے صرف دینا ہے......

جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! بس، تاکہ میں ایک دو اور سوال پوچھ سکوں......

مرزا ناصر احمد: اچھا! ہاں، ہاں۔ ٹھیک ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: آپ نے جب یہاں یہ ذکر کیا کہ: ”عیسٰی کجا است تا بنهد پا بمنبرم“ یہ یسوع کی طرف اشارہ ہے؟ یا عیسٰی کی طرف۔ جس کا ذکر قرآن کریم میں آتا ہے؟ دو شخصیتیں اس وقت ہیں ہمارے سامنے۔

19

صفحہ ٦٠٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

(یسوع اور مسیح دو شخصیتیں نہیں ایک ہے )

مرزا ناصر احمد : نہیں، نہیں، کوئی دو شخصیتیں نہیں۔٥٢٤ وہ تو کل ہو گیا تھا فیصلہ۔ اس کا میں جواب دے دیتا ہوں۔ جو آپ کہہ رہے ہیں۔ وہ کل یہ فیصلہ ہو گیا تھا کہ مسیح ناصری کا علم ہمیں صرف قرآن کریم دیتا ہے۔......

جناب یحییٰ بختیار : نہیں ! انہوں نے کچھ چیزیں یسوع کے بارے میں کہی ہیں......

مرزا ناصر احمد : نہیں، یسوع کا علم ہمیں انجیل دیتی ہے، بائبل دیتی ہے۔

جناب یحییٰ بختیار : ہاں ! نہیں، یعنی انہوں نے، میں یہ پوچھتا ہوں......

مرزا ناصر احمد : ہاں ! میں وہی بتا رہا ہوں ناں ! میں سوال سمجھ گیا ہوں۔

٥٢٥ اس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر ہے۔ جن کے متعلق بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اس امت کو جس مسیح کی بشارت دی گئی تھی۔ وہ مسیح موسوی ہیں۔ ان کا آپ جواب دے رہے ہیں۔ امت محمدیہ کو مسیح موسوی کی، عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت نہیں دی گئی تھی۔ بلکہ امت میں سے ایک فرد کی بشارت دی گئی تھی اور اس کا نام، مسیح بھی رکھا گیا تھا اور ”مہدی“ بھی رکھا گیا تھا اور یہ بتایا گیا تھا اور یہ بتایا گیا تھا۔ لا مہدی الا عیسیٰ

یہ دونوں Designations یہ صفاتی ہیں۔ نام ”مسیح“ بھی اور ”مہدی“ بھی، یہ ایک ہی شخص کے نام ہیں۔ وہ تو اس جھگڑے، اس بحث میں نہیں جانا چاہتے۔ لیکن یہاں یہ ہے کہ بعض لوگوں کے خیال میں مسیح علیہ السلام جن کا ذکر قرآن کریم میں ہے۔ وہ دوسرے انجیل والے نہیں۔ جن کا قرآن کریم میں ہے وہ آئیں گے دوبارہ، اس امت کے مسیح اور مہدی بن کر۔ تو بانی سلسلہ نے اس کے مقابلے میں یہ کہا کہ جس کشف میں نبی اکرم ﷺ کو دکھایا گیا۔ مسیح علیہ السلام کا حلیہ، وہ آپ نے بیان کیا اور ہماری حدیث نے اس کو ریکارڈ کیا۔ وہ اس حلیہ سے مختلف ہے۔ جس حلیہ میں آنے والے مہدی کو آپ نے کشف میں دیکھا اور اس وجہ سے یہ آگے پیچھے دلیل دے کے اور آگے نتیجہ یہ نکالا کہ جس مقام کو مسیح محمدی کے لئے خاتم الانبیاء محمد ﷺ نے معین کر دیا ہے۔ اس مقام کا دعویٰ مسیح علیہ السلام، جو مسیح ناصری تھے، نہیں کر سکتے۔

اے قادیانی کرم فرما ! توجہ فرمائیں۔ مرزا ناصر احمد کیا کہہ رہے ہیں۔ اتنے رنگ تو گرگٹ بھی نہیں بدلتا جتنے پینترے موصوف بدل رہے ہیں۔ کئی دنوں سے دھائی تھی کہ مسیح اور یسوع دو شخصیتیں ہیں۔ آج اس مؤقف سے بدل گئے؟

صفحہ ٦٠٧

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

جناب یحییٰ بختیار: یہ دعویٰ جو ہے مرزا صاحب! کہ مسیح علیہ السلام پھر آئیں گے اور......

مرزا ناصر احمد: ہاں! یہ عقیدہ بعض لوگوں کا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: اور مرزا صاحب کا یہ کہنا کہ وہ مسیح موعود ہے......

526 مرزا ناصر احمد: وہ مسیح موعود ہے۔ وہ جو مسیح موسوی تھے۔ وہ فوت ہو گئے اور داخل جنت ہو گئے۔ دوبارہ نہیں آئیں گے۔

جناب یحییٰ بختیار: یہ جو ہیں یہ مسیح موعود ہیں؟ آچکے ہیں؟ ان کے Attributes ان میں ہیں؟

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں۔ بعض خوبیوں، بعض خصوصیات اس مسیح کی بھی رکھتے ہیں۔ لیکن چونکہ مسیح اور مہدی ایک ہی وجود ہے۔ اس لئے مہدویت بہر حال آپ پر غالب ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، یہاں میں صرف یہ آپ سے پوچھنا چاہتا تھا کہ جب یہ کہتے ہیں کہ: ”عیسیٰ کجا است ......“ یہ وہی مسیح موعود کا ذکر آجاتا ہے اس میں؟

مرزا ناصر احمد: ناں، ناں، ناں!”عیسیٰ کجا است......“

جناب یحییٰ بختیار: وہ جو فوت ہو گئے اس عیسیٰ کا ذکر ہے؟

مرزا ناصر احمد: ہاں! اس کا ذکر ہے۔ وہ مسیح موسوی جو فوت ہو گئے، وہ اس مقام کا دعویٰ کیسے کر سکتے ہیں جو مقام محمد a نے مسیح محمدی، اپنے ایک روحانی بیٹے کے لئے مقرر کیا ہے؟

جناب یحییٰ بختیار: اور جو یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ وہ فوت نہیں ہوئے اور آئیں گے تو اس کے جواب میں یہ بات کہی کہ وہ جب آئیں گے: ”عیسیٰ کجا است......“

مرزا ناصر احمد: نہیں، وہ تو...... میں اس کا جواب دے رہا ہوں۔ وہ مسئلہ ہے۔ حیات مسیح اور وفات مسیح کا۔ تو اس کے اوپر بھی اگر کوئی سوال ہو، تو ان کے جواب دے دیں گے۔

527 جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں یہ پوچھ رہا ہوں کہ اگر یہ جو مرزا صاحب کہہ رہے ہیں کہ......

مرزا ناصر احمد: مرزا صاحب یہ فرماتے ہیں۔ مختصر الفاظ میں کہ مسیح، جن کا ذکر قرآن کریم میں موسوی امت کے مسیح کی حیثیت سے ہے۔ وہ فوت ہو چکے ہیں اور اس امت میں آنے والے مسیح ایک دوسرا شخص ہے اور اسی کے لئے بشارات نبوی علیہ الصلوٰۃ والسلام ہیں۔ یعنی یہ آپ کا عقیدہ ہے۔ تو جب بشارات نبوی a اس امت کے ایک فرد کے لئے ہیں۔ ان کے یعنی عقیدے کے مطابق تو پھر وہ مسیح جس کا تعلق موسیٰ سے ہے اور جس کے لئے محمد a نے بشارات

٢١

صفحہ ٦٠٨

608 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

نہیں دیں۔ اس کے دعویدار نہیں ہو سکتے۔ بڑی سادہ سی بات ہے۔

(محدث ناقص نبی ہوتا ہے)

جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! مرزا غلام احمد کے بارے میں آپ نے کل یہ فرمایا تھا کہ وہ امتی نبی ہیں۔ پرسوں بھی یہ بات ہوئی ہے اور سوال یہ تھا کہ باقیوں سے افضل ہیں۔ باقی نبیوں سے کہ نہیں؟ آپ نے کہا کہ حضرت عیسیٰ سے افضل ہیں۔ یہی بات چل رہی ہے۔ اسی سلسلے میں آپ نے یہ کہا کہ ان کی افضلیت ہے اور ان کی جو وجوہات آپ نے دیں، یہ جب ”حقیقت الوحی“ میں آتا ہے کہ: ”امتی نبی ناقص نبی ہوتا ہے۔“

اس کا کیا مطلب ہے؟

مرزا ناصر احمد: امتی نبی ......؟

جناب یحییٰ بختیار: ناقص۔

مرزا ناصر احمد: ...... ناقص نبی؟ کون سا حوالہ ہے؟ ”یہ حقیقت الوحی“ ہے؟

جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی! ”ازالہ اوہام“ ہے۔ یہ حصہ دوم ہے جی! Page 407 ایڈیشن، میرا خیال ہے، یہی ہوگا۔

528 مرزا ناصر احمد: پڑھ دیں۔ آپ پڑھ دیں یا میں پڑھ دیتا ہوں۔

جناب یحییٰ بختیار: میں یہ ذرا آپ کو پڑھے دیتا ہوں......

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں! آپ پڑھ دیں۔ یہاں ملی نہیں کتاب۔

جناب یحییٰ بختیار: ”یعنی ہر ایک رسول مطاع اور امام بنانے کے لئے بھیجا جاتا ہے۔ اس غرض سے نہیں بھیجا جاتا کہ کسی دوسرے کا مطیع اور تابع ہو۔ ہاں محدث جو مرسلین میں سے ہے۔ امتی بھی ہوتا ہے اور ناقص طور پر نبی بھی۔“

(ازالہ اوہام ص٥٢٩، خزائن ج٣ ص٤٠٧)

مرزا ناصر احمد: یہاں امتی نبی کی بحث نہیں ہے۔ یہاں تو محدث کے متعلق فرما رہے ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، آگے کہتا ہے: ”وہ محدث جو ناقص قسم کا......“

مرزا ناصر احمد: نہیں، ہر محدث نبی نہیں ہوتا۔ ہر نبی محدث ہوتا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: اور وہ یہ جو یہاں ہے......

مرزا ناصر احمد: یہاں محدث کی بات ہے۔

٢٢

صفحہ ٦٠٩

609 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی! محدث کی بات ہے: ”ہاں محدث جو مرسلین میں سے ہے......“ غلام احمد صاحب بھی تو محدث تھے؟

مرزا ناصر احمد: امتی نبی تھے۔

جناب یحییٰ بختیار: امتی نبی تھے اور محدث بھی تھے؟

مرزا ناصر احمد: ہاں! حضرت محمد ﷺ بھی محدث تھے۔

529 جناب یحییٰ بختیار: ہاں، یہی میں کہہ رہا ہوں ناں جی کہ آپ اس Sense (معنی) میں کہ.......

مرزا ناصر احمد: یعنی وہ دونوں دیئے، جو عام ہے کہ ہر نبی محدث ہے لیکن ہر محدث نبی نہیں ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی، میں یہی کہہ رہا ہوں۔ یہاں جو پھر وہ کہتے ہیں: ”امتی بھی ہوتا ہے اور ناقص طور پر نبی بھی امتی وہ اس وجہ سے کہ وہ بکلی تابع شریعت، رسول اللہ اور مشکوٰۃ رسالت سے فیض پانے والا ہوتا ہے اور نبی اس وجہ سے کہ خدا تعالیٰ نبیوں کا سا معاملہ اس سے کرتا ہے۔“

(ازالہ اوہام ص ٥٦٩، خزائن ج ٣ ص ٤٠٧)

مرزا ناصر احمد: کانبیاء بنی اسرائیل۔

جناب یحییٰ بختیار: یہاں سے آپ دیکھ لیجئے گا: ”لیکن افسوس کہ مولوی صاحب مرحوم کو یہ سمجھ نہ آیا کہ صاحب نبوت تامہ ہرگز امتی نہیں ہوسکتا اور جو شخص کامل طور پر رسول اللہؐ کہلاتا ہے......“ (ایضاً)

مرزا ناصر احمد: یہاں بکلی نہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: میں بھیج دیتا ہوں۔

مرزا ناصر احمد: ہاں۔ (اپنے وفد کے ایک رکن سے) جاؤ لے آؤ...... کتاب ملی؟ (اٹارنی جنرل سے) یہ جو اگر اس صفحہ کو شروع سے پڑھا جائے تو (مسئلہ) حل ہو جاتا ہے۔ یہ خود ہی اپنے اندر حل ہو جاتا ہے۔ ”پھر صفحہ ٤٢٥ میں فرماتے ہیں......“ (یہ اعتراض جو ہے، جس کتاب کے اعتراضات کا جواب دے رہے ہیں یہ اس کا ہے صفحہ ٤٢٥) ”اس بات پر تمام سلف

١؎ دجل اور سفلہ پن کی حد ہوگئی۔ سوال مرزا قادیانی ملعون قادیان کے متعلق ہے۔ لیکن مرزا ناصر کمینگی پر اتر آیا۔ آنحضرت ﷺ کو اس میں لا کھڑا کیا۔ حالانکہ کروڑوں محدث خود آنحضرت ﷺ کے نقش پا کا صدقہ ہیں۔

٢٤

AN 8th Aug, 1974 No:04

نہیں دیں۔ اس کے دعویدار نہیں

جناب یحییٰ بختیار

فرمایا تھا کہ وہ امتی نبی ہیں۔ ہیں۔ باقی نبیوں سے کہ نہیں ہے۔ اسی سلسلے میں آپ نے جب ”حقیقت الوحی“ میں آتا اس کا کیا مطلب

مرزا ناصر احمد :

جناب یحییٰ بختیار

مرزا ناصر احمد :

جناب یحییٰ بختیار

407 ایڈیشن، میرا خیال ہے

528 مرزا ناصر احمد

جناب یحییٰ بختیار

مرزا ناصر احمد

جناب یحییٰ بختیار

ہے۔ اس غرض سے نہیں کہ سے ہے۔ امتی بھی ہوتا ہے

مرزا ناصر احمد

فرمارہے ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار

مرزا ناصر احمد

جناب یحییٰ بختیار

مرزا ناصر احمد

صفحہ ٦١٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

وخلف کا اتفاق ہو چکا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام جب نازل ہو گا تو امت محمدیہ میں داخل کیا جائے گا اور فرماتے ہیں کہ قسطلانی نے بھی تو مذاہب الدنیا 530 میں یہی لکھا ہے اور عجیب تر یہ ہے کہ وہ امتی بھی ہوگا اور نبی بھی لیکن افسوس کہ مولوی صاحب مرحوم کو یہ سمجھ نہ آیا کہ صاحب نبوت تامہ ہرگز امتی نہیں ہو سکتا۔“

یہاں ”صاحب نبوت تامہ“ سے مراد مستقل نبی ہے: ”ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ آنحضرت ﷺ سے قبل شارع انبیاء کی امتوں میں جو غیر شارع انبیاء پیدا ہوئے جیسا کہ بنی اسرائیل میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شریعت کے بعد ہزاروں کی تعداد میں غیر شارع انبیاء پیدا ہوئے۔ وہ بنی اسرائیل کے نبی تو تھے لیکن حضرت موسیٰ علیہ السلام کی کامل اتباع کے نتیجے میں ان کو مہر نبوت ہی نہیں ملی بلکہ اللہ تعالیٰ نے بقطع نظر اس کے کہ وہ بنی اسرائیل میں سے ہیں، ان کو اپنی حکمت کاملہ سے نوع انسانی (نہیں بلکہ یہاں یہ ہوگا کہ بنی اسرائیل) کی اصلاح کے لئے بطو ر نبی کے بھجوایا۔“

اس میں ایک فرق ہے، وہ بڑا باریک اور لمبا ہے، میں صرف اشارہ کروں گا۔ وہ یہ کہ ہر نبی جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی امت میں پیدا ہوا، بنی اسرائیل میں اس نے کسی نہ کسی چھوٹے یا بڑے معاملہ میں حضرت موسیٰ کی شریعت کی اصلاح کر دی اور یہ چیز نمایاں طور پر حضرت مسیح کی زندگی میں ہمیں نظر آتی ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام حضرت موسیٰ علیہ السلام کی امت میں تھے۔ اسرائیلی نبی تھے۔ لیکن حضرت موسیٰ نے انتقام پر زور دیا، یہ ان کی شریعت کا حصہ ہے، انتقام لینا۔ کیونکہ اس وقت کے حالات، کمزوری کے اور ایک بزدلی جو اس وقت بنی اسرائیل میں پیدا ہوگئی تھی۔ اس کا تقاضا یہ تھا کہ ان کو یہ حصہ ایک دیا جائے الٰہی تعلیم کا انتقام لینا ہے تمہیں۔ لیکن اس کے مقابلے میں حضرت مسیح علیہ السلام جو موسوی امت میں سے تھے۔ انہوں نے جب وہ انتقام والا جذبہ جو تھا وہ غلط Extreme تک پہنچ 531 گیا۔ انہوں نے آکر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شریعت کے خلاف، ان کی ہدایات کے خلاف یہ تعلیم دی کہ اگر کوئی تیری ایک گال پر تھپڑ لگاتا ہے تو دوسری بھی آگے کر دو۔ پس وہ موسوی شریعت کے تابع اور یہ بنی اسرائیل کے نبی اور ان کی کوئی شریعت نہیں ہے۔ کیونکہ شریعت کا ایک مکمل حصہ جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کو دیا گیا، اس کو منسوخ نہیں کیا اور یہ جو باریک باریک فرق انہوں نے حالات کی تبدیلی سے اپنے دعووں میں کئے وہ بتائے ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی کامل اتباع کے نتیجے میں ان کو نبوت نہیں ملی۔ کیونکہ کامل اتباع ہی ہمیں نظر نہیں آتی۔ لیکن نبی اکرم ﷺ کی بعثت کے بعد اور قرآن عظیم کے نزول کے بعد

٢٤

صفحہ ٦١١

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

ایک کامل اور مکمل ہدایت نامہ مل گیا۔ اب اس قسم کا مستقل نبی نہیں پیدا ہوسکتا امت محمدیہ میں جو ایک شوشہ بھی قرآن کریم کی ہدایات میں تبدیلی پیدا کرے۔ اس واسطے امت محمدیہ میں امتی نبی آ سکتا ہے، غیر شرعی، مستقل حیثیت کا نبی نہیں آسکتا۔ روز یہی یہ بحث ہے جو مسیح علیہ السلام کو نبوت ملی بنی اسرائیل کی امت، وہ امتی نبی کی حیثیت نہیں تھی، بلکہ مستقل حیثیت نبی کی تھی۔ تو وہ اس امت میں نہیں آسکتے۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، مرزا صاحب! میں آپ سے یہ عرض کر رہا تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام امتی نبی نہیں تھے، کیونکہ ان کی شریعت آگئی تھی اپنی۔

مرزا ناصر احمد: حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی کوئی شریعت نہیں۔ کوئی بھی نہیں مانتا۔ کیونکہ وہ صاحب شریعت نبی نہیں تھے۔ وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شریعت کے تابع نبی تھے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام۔

جناب یحییٰ بختیار: اور ان کے علاوہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے علاوہ کوئی اور صاحب شریعت نبی ہیں؟

532 مرزا ناصر احمد: ہاں، ان سے پہلے۔

جناب یحییٰ بختیار: تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام امتی نبی ہیں؟

مرزا ناصر احمد: امتی نبی نہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: شرعی بھی نہیں، تو امتی بھی نہیں ہیں؟

مرزا ناصر احمد: غیر شرعی، غیر امتی نبی ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: غیر شرعی غیر امتی نبی ہیں؟

مرزا ناصر احمد: غیر امتی نبی ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: ان کا Status (مقام) کیا ہوگا؟ امتی نبی سے بلند ہوگا؟

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، ان کا Status امتی نبی سے ......

جناب یحییٰ بختیار: مختلف ہوگا؟

مرزا ناصر احمد: علیحدہ ہوگا، مختلف ہوگا۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، ہاں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک امتی نبی جو ہوتا ہے ......

مرزا ناصر احمد: یہاں یہ امتی نبی کی نہیں بحث ......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، ان کو ......

٢٥

صفحہ ٦١٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

مرزا ناصر احمد: نہیں، یہ جو ہیں ناں الفاظ ......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں یہ کہتا ہوں کہ ان کو ناقص کہا گیا۔

مرزا ناصر احمد: کن کو؟

جناب یحییٰ بختیار: امتی نبی جو ہے وہ ناقص ہوگا مقابلاً اس نبی کے جو اپنی شرع لائے؟

533 مرزا ناصر احمد: یہاں تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق ناقص کا لفظ نہیں آیا۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، ان کے متعلق نہیں۔ کیونکہ جو امتی ہے اس کے متعلق پوچھا ہے آپ سے۔

مرزا ناصر احمد: یہاں ...... نہیں، میں اس کا جواب دیتا ہوں، مختصراً۔ امید کرتا ہوں کہ خدا مجھے توفیق دے گا آپ سمجھ جائیں گے۔

یہاں امتی نبی کا نہیں ذکر، اس بحث میں جو یہاں ہے ہمارے سامنے۔ یہاں بانی سلسلہ احمدیہ ان محدثین کی بات کر رہے ہیں۔ جن کے متعلق نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ”کانبیاء بنی اسرائیل“ کہ وہ نبی تو نہیں تھے لیکن ان کا مقام بنی اسرائیل کے نبیوں کی مانند تھا۔ ذرا انتظار کریں۔ میں یہاں یہ بتا دیتا ہوں آپ کو: ”ہاں محدث جو مرسلین میں سے ہے امتی بھی ہوتا ہے (یہ امت محمدیہ کا ذکر آگیا ناں) اور ناقص طور پر نبی بھی۔ امتی وہ اس وجہ سے کہ وہ بہ کلی تابع شریعت رسول اللہ اور مشکوٰۃ رسالت سے فیض پانے والا ہوتا ہے اور نبی اس وجہ سے کہ (یہ فقرہ بڑا اہم ہے اور نبی اس وجہ سے کہ) خدا تعالیٰ نبیوں کا سا معاملہ اس سے کرتا ہے۔“

خدا اس کو نبی نہیں کہتا، نہ نبی بناتا ہے۔ لیکن نبیوں کا سا معاملہ اس سے کرتا ہے۔ جیسا کہ حدیث میں ہے: ”کانبیاء بنی اسرائیل“ یعنی وہ نبی نہیں ہوں گے لیکن کانبیاء ہوں گے، نبیوں کی طرح ہوں گے۔ نبیوں کا سا معاملہ ان سے کیا جائے گا اور یہاں بھی یہی فقرہ ہے۔ تو اس میں ان محدثین کا ذکر ہے۔ جن534 کی طرف نبی اکرم ﷺ کی حدیث اشارہ کرتی ہے کہ میری امت میں ایسے ایسے مقربین میرے اور میرے متبعین پیدا ہوں گے جو علماء، امتی کانبیاء بنی اسرائیل، میری امت کے علماء کا ایک گروہ ایسا ہے جو بنی اسرائیل کے نبیوں کی طرح ہوگا۔ نبی نہیں ہوگا۔

جناب یحییٰ بختیار: ناقص نبی جو ہے ......

مرزا ناصر احمد: ہاں، ناں ”کانبیاء بنی اسرائیل“

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، یہ جو ”ناقص نبی“ استعمال ہوا ہے۔ یہ ان کے بارے میں ہوا ہے۔ اپنے بارے میں نہیں کہہ رہے وہ؟

٢٦

صفحہ ٦١٣

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

مرزا ناصر احمد: نہیں، یہ تو محدثین کی بات ہو رہی ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، یعنی ان کے بارے میں کہہ رہے ہیں وہ ناقص نبی ہوں گے؟

مرزا ناصر احمد: کانبیاء بنی اسرائیل ہوں گے۔ ان سے انبیاء کا سا معاملہ ہوگا۔ ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کانبیاء کا سا معاملہ کرے گا۔ لیکن انبیاء نہیں ہوں گے وہ۔

جناب یحییٰ بختیار: مگر یہ جو ہے ناں ”ناقص نبی“ مجھے یہ Confusion (پریشانی) ہوئی کہ......

مرزا ناصر احمد: نہیں وہ یہی نقص ہے ناں۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میرا خیال تھا کہ شاید اسلام میں بھی اور نبی گزرے ہیں۔

مرزا ناصر احمد: ہاں نہیں نہیں، کانبیاء بنی اسرائیل۔

جناب یحییٰ بختیار: یعنی اور کوئی نبی نہیں؟

مرزا ناصر احمد: ہاں، اور کوئی نبی نہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: ناقص قسم کے یا کسی کیٹگری کے؟

535 مرزا ناصر احمد: نہیں نہیں، اس کو کانبیاء بنی اسرائیل کو ”ناقص نبی“ کا فقرہ کہہ گئے......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، وہ یعنی وہ لفظ ”ناقص“ استعمال ہوا ہے۔ اسی لئے میں نے آپ کو توجہ دلائی ہے۔

مرزا ناصر احمد: لیکن آگے جا کر اس کو واضح کر دیا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: وہ نبی نہیں ہیں؟

(اس امت میں مرزا قادیانی کے علاوہ کوئی نبی نہیں)

مرزا ناصر احمد: وہ نبی بالکل نہیں!۔

جناب یحییٰ بختیار: جو ناقص نبی ہوتا ہے وہ نبی نہیں ہوتا۔ وہ نبیوں کی طرح Treat کیا جاتا ہے۔

مرزا ناصر احمد: ہاں، نبی نہیں، ان سے معاملہ انبیاء کا سا معاملہ ہے۔

لے کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے۔ اب تسلیم کیا کہ حضور علیہ السلام کی امت میں اور کوئی کسی قسم کا نبی نہیں، صرف مرزا قادیانی ہی نبی ہے۔ مرزا ناصر نے اس کا اعتراف کیا۔

٢٧

صفحہ ٦١٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

جناب یحییٰ بختیار: آپ مرزا صاحب! یہ جب آپ حضرت مریم کا ذکر کرتے ہیں تو کیا ان کی بھی دو شخصیتیں ہیں یا ایک ہی شخصیت ہے؟

(مسیح و یسوع ایک ہیں)

مرزا ناصر احمد: میں سمجھتا تھا کہ دو شخصیتوں کا معاملہ کل صاف ہو گیا۔ تو میری غلط فہمی تھی۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، بات یہ ہے، مرزا صاحب! کہ آپ نے Clarification (وضاحت) کی ہے کہ جہاں جہاں مرزا صاحب نے یسوع کا ذکر کیا ہے یا عیسیٰ کا ذکر کیا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہے یا عیسیٰ میں یہ نقائص تھے۔ جھوٹ بولتے تھے، نعوذ باللہ......

مرزا ناصر احمد: نہ صرف نقائص کے متعلق......

جناب یحییٰ بختیار: ......تو وہ یسوع کی طرف اشارہ ہے جو انجیل میں یا عیسائیوں کی نظر میں ہے۔

536 مرزا ناصر احمد: جو...... جب آپ نے الزامی جواب دیتے ہوئے نصاریٰ کو یہ کہا کہ تم جس خداوند یسوع مسیح کو...... یہ فقرہ ہمیشہ ”خداوند یسوع مسیح“ کہنا چاہئے ورنہ پتہ نہیں لگتا انجیل کا ہے۔...... تم جس خداوند یسوع مسیح کو پیش کرتے ہو، تمہاری اپنی کتب اس کے یہ حالات بتاتی ہیں اور وہ پاک نبی خدا کا، جو بنی اسرائیل میں آیا اور عیسیٰ بن مریم اس کا نام تھا۔ قرآن کریم نے تو اس کی بڑی تعریف کی وہ تو مقربین الٰہی میں تھا۔ انبیاء میں سے ایک نبی تھا اور جب آپ نے دادیوں، نانیوں کا ذکر چھیڑا تو میں نے کہا دادیوں، نانیوں کا ذکر ہمیں قرآن میں نہیں ملتا۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی، ان کا تو عیسائیوں کا یہ عقیدہ ہے کہ وہ اللہ کے بیٹے ہیں تو وہ اللہ کی مائیں ہو گئیں ناں جو دادیاں نانیاں ہوئیں۔

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں۔ وہ تو قرآن میں نہیں آتا۔

جناب یحییٰ بختیار: میں اسی لئے آپ سے پوچھ رہا تھا کہ......

مرزا ناصر احمد: نہیں، وہ تو ظاہر ہے، پوچھنے کی ضرورت ہی نہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: یہ، مرزا صاحب ایک کتاب ”کتاب البریہ“ ص ٧٨،٧٩ پر مرزا صاحب نے فرمایا کہ: ”وہ یسوع جنہوں نے خدائی کا دعویٰ کیا“

١؎ مرزا ناصر احمد صاحب کا اعتراف شکست!! مسیح اور یسوع دو شخصیتیں نہیں، ایک ہی ہے۔

٢٨

صفحہ ٦١٥

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

یہ لوگوں نے انہیں کہا کہ وہ خدا ہیں یا انہوں نے خود کہا؟

مرزا ناصر احمد: عیسائیوں میں بعض فرقے، Unitarian (موحد) بھی ہیں خدائے واحد کو ماننے والے ہیں۔ لیکن عیسائیوں کی بڑی بھاری اکثریت خصوصاً Catholicism (کیتھولزم) جو ایک زمانے میں سب پر حاوی تھی اور دوسرے فرقے سر اٹھانے کے قابل نہیں تھے کیونکہ Inquisition clergy کے Courts جو تھے ناں...... وہ اتنی سخت سزائیں دیتے تھے کہ وہ 537 فرقہ کوئی بن نہیں سکتا تھا۔ بہر حال، تو Catholicism (کیتھولزم) اور بعد جو مختلف فرقے بنے۔ اس وقت بھی اکثر عیسائی فرقے خداوند یسوع مسیح پر ایمان لاتے ہیں۔ لیکن انہی میں ایسے فرقے بھی ہیں۔ تعداد میں تھوڑے ہیں۔ جو Unitarian (موحد) کہلاتے ہیں۔ یعنی ایک خدا کو ماننے والے۔ تثلیث کو نہیں ماننے والے۔ تو انہوں نے، یعنی اب آپ کے...... یہ تمہید تھی......

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، ہاں۔

مرزا ناصر احمد: ...... جب انہوں نے یہ کہا کہ ”ہم خداوند یسوع مسیح پر ایمان لاتے ہیں“ تو انہوں نے یہ نہیں کہا کہ ”مسیح نے تو اس سے انکار کیا مگر ہم ایمان لاتے ہیں“ انہوں نے غلط دلائل خود انجیل اور بائبل سے نکال کے دنیا کے سامنے یہ اعلان کیا کہ تورات اور انجیل کے ان حوالوں کی رو سے ہم خداوند یسوع مسیح پر ایمان لاتے ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں یہ Clarification (وضاحت) چاہتا تھا......

مرزا ناصر احمد: ہاں، وہ آ گیا ناں جواب۔

جناب یحییٰ بختیار: ...... کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے خود نہیں کہا۔ یسوع نے خود نہیں کہا......

مرزا ناصر احمد: جو ان کو خداوند یسوع مسیح مانتے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ مسیح نے خود کہا۔ ورنہ تو......

جناب یحییٰ بختیار: ان کا دعویٰ ہے؟

مرزا ناصر احمد: ہاں، ان کا یہی دعویٰ ہے کہ خود کہا ہے ورنہ تو وہ اعلان ہی نہ کر سکتے۔

(مرزا قادیانی کا دعویٰ خدائی)

جناب یحییٰ بختیار: یہ مرزا غلام احمد صاحب نے تو کبھی یہ نہیں سمجھا کہ وہ خدا ہیں؟

٢٩

صفحہ ٦١٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

کیونکہ یہاں ایک...... 538 مرزا ناصر احمد: نہیں کبھی نہیں سمجھا۔ اس کا جواب تو میں دے دیتا ہوں Categorical۔ بالکل غلط اور افتراء ہے کہ کبھی ایسا سمجھا۔ جناب یحییٰ بختیار: یہ جو ان کا ترجمہ ہے ”کتاب البریہ“ صفحہ ٧٨...... مرزا ناصر احمد: ”کتاب البریہ“ کونسا صفحہ؟ Mr. Yahya Bakhtiar: Page No. 78. Mirza Nasir Ahmad: 78. جناب یحییٰ بختیار: ”میں نے اپنے ایک کشف میں دیکھا کہ میں خدا ہوں۔ میں خود خدا ہوں۔“

(کتاب البریہ ص ٧٨، خزائن ج ١٣ص ١٠٣)

مرزا ناصر احمد: یہ بات سن لیں جی۔ یہیں سے جواب مل جائے گا۔ میں نے کہا ہے کہ آپ نے کبھی نہیں دعویٰ کیا۔ نہ سمجھا اپنے کو خدا۔ یہاں یہ نہیں کہا کہ: ”میں خدا اپنے آپ کو سمجھتا ہوں“ یہ کہا ہے: ”میں نے ایک کشف دیکھا“ اور جیسا کہ میں واضح کرچکا ہوں کہ کشف کی تعبیر ہوتی ہے اور بہتوں نے بھی کشف دیکھے...... جناب یحییٰ بختیار: ہاں، نہیں، میں یہی کہہ رہا ہوں...... مرزا ناصر احمد: ......خدا ہونے کے کشف امت مسلمہ میں اور بہتوں نے بھی دیکھے۔ جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں یہی کہہ رہا ہوں نا جی کہ: ”میں نے ایک کشف میں دیکھا کہ میں خود خدا ہوں اور یقین کیا کہ وہی ہوں......“

(ایضاً)

مرزا ناصر احمد: کشف میں۔ جناب یحییٰ بختیار: کشف میں ہی۔ مرزا ناصر احمد: ہاں۔ 539 جناب یحییٰ بختیار: ”......اور میرا اپنا کوئی ارادہ اور کوئی خیال اور کوئی عمل نہیں رہا اور میں ایک سوراخ دار برتن کی طرح ہوگیا ہوں۔ یا اس شے کی طرح جسے کسی دوسری شے نے اپنی بغل میں دبا لیا ہو اور اسے اپنے اندر بالکل مخفی کرلیا ہو۔ یہاں تک کہ اس کا کوئی نام و نشان باقی نہ رہ گیا ہو۔ اس اثناء میں میں نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ کی روح مجھ میں محیط ہوگئی اور میرے جسم پر مستولی ہوکر اپنے وجود میں مجھے پنہاں کرلیا۔ یہاں تک کہ میرا کوئی ذرہ بھی باقی نہ رہا اور میں نے اپنے جسم کو دیکھا تو میرے اعضاء اس کے اعضاء اور میری آنکھ اس کی آنکھ اور میرے کان اس ٣٠

صفحہ ٦١٧

617 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

کے کان اور میری زبان اس کی زبان بن گئی تھی۔ میرے رب نے مجھے پکڑا اور ایسا پکڑا کہ میں بالکل اس میں محو ہو گیا۔"

(کتاب البریہ ص ٧٨، خزائن ج ١٣ ص ١٠٤، ١٠٣) *

مرزا ناصر احمد : یہ ٹھیک ہے، یہ کشف ہے۔

جناب یحییٰ بختیار : کشف جو انبیاء کا ہوتا ہے۔ وہ نبی کے برابر ہوتا ہے یا......

مرزا ناصر احمد : یہ جو ہے، اگر آپ فرمائیں، اجازت دیں تو میں پڑھ دوں یہ بانی سلسلہ احمدیہ کا؟

جناب یحییٰ بختیار : آپ مجھ سے اجازت کیوں چاہتے ہیں؟ (مرزا صاحب! آپ......) Mirza Sahib, you....

مرزا ناصر احمد : نہیں، یعنی اس سے زیادہ ہے جو آپ نے پڑھا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار : نہیں، یہ جو میں نے پڑھا ہے۔ اس کا میں کہہ رہا ہوں وہ تو آپ نے کہہ دیا۔ میں نے کہا کشف جو ہے ایک نبی کا جو کشف ہوتا ہے......

مرزا ناصر احمد : نبی کا کشف جو ہے۔

540 جناب یحییٰ بختیار : وہ وحی کے برابر نہیں ہوتا؟

مرزا ناصر احمد : نبی کا کشف سچا ہوتا ہے۔ لیکن ایسا کشف ہے اس کی تعبیر کرنی پڑے گی۔

جناب یحییٰ بختیار : تو اگر کشف میں یہ دیکھیں کہ وہ خدا ہیں تو وہ سچے......

مرزا ناصر احمد : اس کی تعبیر ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کا آلہ کار بنے گا۔ یہ تعبیر ہے اس کی۔

جناب یحییٰ بختیار : انہوں نے کی ہے یہ؟

مرزا ناصر احمد : خود کی ہے۔ تو پڑھ دوں؟ اس واسطے میں نے کہا تھا کہ پڑھ دیتا ہوں تو جواب آجائے گا۔

جناب یحییٰ بختیار : اور اس کے آگے وہ لکھتے ہیں کہ ”انہوں نے“ آپ پڑھ لیجئے...... کہ: ”انہوں نے آسمان اور زمین پیدا کئے۔“

(کتاب البریہ ص ٧٩، خزائن ج ١٣ ص ١٠٥)

مرزا ناصر احمد : ہاں، ہاں، ہاں۔ بالکل کشف میں دیکھا۔

جناب یحییٰ بختیار : آپ Explain (واضح) کر دیں اس کو۔

مرزا ناصر احمد : یہ ایک خواب ہے۔ رویاء اور کشف کو ظاہر پر محمول نہیں کیا جاتا۔ یہ میں آپ کو بتاتا ہوں۔ آپ نے بانی سلسلہ احمدیہ نے ”آئینہ کمالات اسلام“ کے صفحہ ٥٤٤ پر یہ لکھا ہے: ”لا نعني بهذه الواقعة كما يؤثر في كتب اصحاب وحدة الوجود“

٣١

8th Aug, 1974 No:04

کیونکہ یہاں ایک...... 538 مرزا ناصر Categorical جناب یحییٰ مرزا ناصر

جناب یحییٰ خود خدا ہوں۔“

مرزا ناصر کہ آپ نے کبھی نہیں سمجھتا ہوں، یہ کہا ہے تعبیر ہوتی ہے اور بہت

جناب یحییٰ

مرزا ناصر

جناب یحییٰ دیکھا کہ میں خود خدا ہو

مرزا ناصر

جناب یحییٰ

مرزا ناصر

539 جناب اور میں ایک سوراخ و بغل میں دبا لیا ہو اور رہ گیا ہو۔ اس اثناء مستولی ہو کر اپنے وج اپنے جسم کو دیکھا تو

صفحہ ٦١٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

اس کا ترجمہ یہ ہے کہ: ”ہمارے اس کشف سے وہ مراد نہیں جو وحدت الوجود والے یا حلول کے قائل مراد لیا کرتے ہیں۔“ بلکہ یہ 541 کشف تو بخاری کی ایک حدیث سے بالکل موافق ہے جس میں نفل پڑھنے والے بندوں کے قرب کا ذکر ہے۔ جس حدیث کا حوالہ دیا گیا ہے تو وہ صحیح بخاری کی یہ حدیث ہے: ”لایزال عبدی یتقرب علی من نوافل حتی احبہ فاذااحببتہ، کنت سمعہ الذی یسمع بہ وبصرہ الذی یبصر بہ ویدہ التی یبطش بھا ورجلہ التی یمشی بھا (٣٢٥)“ یہ بخاری کی حدیث ہے اور اس کے معنی ہیں: نفل گزار بندہ میرے قرب میں ترقی کرتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں۔ جب میں اس سے محبت کرتا ہوں تو میں اس کے کان بن جاتا ہوں جن سے وہ سنتا ہے۔ آنکھیں بن جاتا ہوں جن سے وہ دیکھتا ہے۔ ہاتھ بن جاتا ہوں جن سے وہ پکڑتا ہے اور پاؤں بن جاتا ہوں جن سے وہ چلتا ہے۔“

یہ خود آپ نے، بانی سلسلہ نے اپنے کشف کی آگے تعبیر کی ہے اور اپنی تعبیر کی بنیاد حدیث نبوی صلوٰۃ اللہ علیہ، اس کے اوپر کی ہے۔ پھر آپ فرماتے ہیں: ”خدا نے کہا اب میں نیا آسمان اور نئی زمین بناؤں گا۔ اس کا مطلب یہی ہے کہ زمین مرگئی۔ یعنی زمینی لوگوں کے دل سخت ہوگئے۔ گویا مرگئے۔ کیونکہ خدا کا چہرہ ان سے چھپ گیا اور گزشتہ آسمانی نشان سب بطور قصوں کے ہوگئے تو خدا نے ارادہ کیا کہ وہ نئی زمین اور نیا آسمان بنادے۔ وہ کیا ہے نیا آسمان اور کیا ہے نئی زمین۔ نئی زمین وہ پاک دل ہے جن کو خدا اپنے ہاتھ سے تیار کررہا ہے اور جو خدا سے ظاہر ہوئے اور خدا ان سے ظاہر ہوگا اور نیا آسمان وہ نشان ہیں جو اس کے بندے کے ہاتھ سے اور اسی کے اذن سے ظاہر ہورہی ہے۔“

542 تو خود آپ نے اسے قابل تعبیر کشف قرار دیا۔ یعنی ایک ایسا کشف جس کی تعبیر کی جاتی ہے۔ اسی طرح ایک حدیث میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ: ”میں نے عالم کشف میں اپنے رب کو ایک نوجوان کی شکل پر دیکھا اور اس کے لمبے بال اور اس کے پاؤں میں سونے کے جوتے تھے۔“

اب ظاہر ہے کہ جس کا مادی وجود ہی نہیں اس کو اس شکل میں دیکھنے کا اس کے علاوہ کوئی مطلب ہی نہیں کہ اس کی تعبیر کی جائے گی۔

جناب یحییٰ بختیار: یہ مرزا صاحب! حدیث کا حوالہ چاہتے ہیں۔ جواب ذکر کیا آپ نے؟

٣٢

صفحہ ٦١٩

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

مرزا ناصر احمد : جی؟

جناب یحییٰ بختیار: یہ جس حدیث کا آپ نے ذکر کیا اس کا حوالہ اگر آپ دیں۔

مرزا ناصر احمد : جس حدیث کا ذکر کیا اس کا حوالہ یہ ہے: ”الیواقیت والجواہر“ جلد اوّل، ص٧١، بحوالہ طبرانی، نیز ”موضوعات کبیر“ صفحہ ٤٦۔ تین کتابوں کا ذکر ان حوالوں میں آگیا ہے۔

اسی طرح حضرت شاہ ولی اللہ صاحب نے یہ دیکھا کہ کشف میں، رویاء میں خود کو خدا دیکھا اور بھی بہت ساری ہیں۔ بہر حال، یہ نکتہ یاد رکھنے کے قابل کہ کشوف کی تعبیر کی جاتی ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں وہ آپ سے اسی قسم کی ایک اور......

مرزا ناصر احمد : ہاں، ہاں۔ اچھا ہے سارے مسئلے آج حل ہوجائیں۔

543 جناب یحییٰ بختیار: مسئلے تو کبھی نہیں حل ہوں گے مرزا صاحب! ہم تو صرف جو ایشو Issue سامنے ہے۔ اس کی کچھ وضاحت چاہتے ہیں۔

مرزا صاحب! کا یہ جی ایک حوالہ ہے ”سیرت المہدی ص ٨٢، (ج١، روایت نمبر ١٠٠)“

”میں نے کچھ احکامات قضا و قدر کے متعلق لکھے اور ان پر دستخط کروانے کی غرض سے اللہ کے پاس گیا۔ انہوں نے نہایت شفقت سے اپنے پاس پلنگ پر بٹھایا۔ اس وقت میری حالت یہ ہوئی جیسے ایک بیٹا اپنے باپ سے سال ہا سال کے بعد ملتا ہے۔“ یعنی وہ خدا کے بیٹے......

مرزا ناصر احمد : نہیں، نہیں، ایسے جیسے......

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، یعنی خواب میں انہوں نے سمجھا کہ وہ......

مرزا ناصر احمد : نہیں، نہیں، بالکل نہیں سمجھا۔ ”ایسے جیسے“ کا اردو زبان میں تو یہ مطلب نہیں ہے کہ بیٹا بن گیا۔ اس کا مطلب ایک بالکل اجنبی کسی کے پاس جاتا ہے۔ آپ کے پاس آتا ہے اور آپ شفقت سے اس سے ملتے ہیں۔ بات کرتے ہیں اور وہ جا کر کہے گا کہ اٹارنی جنرل نے مجھ سے بالکل ایسا سلوک کیا جیسا باپ بیٹے سے کرتا ہے۔ بیٹا بن گیا آپ کا؟

١؎ سرے سے یہ آنحضرت ﷺ کی حدیث ہی نہیں ہے۔ اس وقت الیواقیت ج ١ ص ٧١ (طبع اوّل ١٣٥١ھ مصر) میرے سامنے ہے اس صفحہ پر اس کا نشان تک نہیں۔ موضوعات کبیر، کتاب کا نام ہی اس روایت کے ابطال کے لئے کافی ہے۔ اگر روایت ہو بھی تو موضوع ہے۔ وضع کردہ ہے۔ قطعاً حضور ﷺ کی یہ حدیث نہیں لیکن اس ابن دجال کو دیکھو۔ حق پدری کے لئے دجال کے جرم کو ہلکا کرنے کے لئے۔ آنحضرت ﷺ کی ذات کو بھی نہ چھوڑا کہ آپ ﷺ کی طرف ایک غیر صحیح قول کی نسبت کر کے آپ ﷺ پر افتراء کیا۔

٣٣

صفحہ ٦٢٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

جناب یحییٰ بختیار : خیر وہ تو جیسا ہوا۔ جب وہ یہ کہتے ہیں کہ.......

مرزا ناصر احمد : ”ایسے جیسے“ نے مطلب بتا دیا۔

جناب یحییٰ بختیار : وہ ایک جگہ اور ...... یہ اخبار ”الفضل“ سے لیا گیا ہے۔ پتہ نہیں کونسا ان کا حوالہ ہے۔ وہ میں آپ کو بتا دوں گا ......

مرزا ناصر احمد : جی، یہ کونسا؟

544 جناب یحییٰ بختیار : ...... اللہ تعالیٰ کے متعلق وہ کہتے ہیں۔ ریفرنس ہے ایک کہ : ”وہ بہت خوبصورت عورت ہے.......“

مرزا ناصر احمد : نہیں جی، ہمارے علم میں تو ایسا نہیں۔ لیکن بڑا افسوس ہے۔ معذرت کرتا ہوں کہ .......

جناب یحییٰ بختیار : نہیں، میں ...... اسی واسطے Explanation (وضاحت) ضروری ہے ناں۔

مرزا ناصر احمد : نہیں، چیک کریں گے ناں۔

جناب یحییٰ بختیار : نہیں، میں کہتا ہوں کہ اگر چیز ہے ہی نہیں تو میں آپ سے سوال ہی نہیں پوچھتا اس پر۔

مرزا ناصر احمد : نہیں، ہمارے علم میں نہیں۔ لیکن میں نے آپ کو بتایا تھا کہ نہ تصدیق کرنے کے قابل نہ تردید کرنے کے قابل۔ جب تک چیک نہ کر لوں۔

جناب یحییٰ بختیار : وہ ٹھیک ہے ناں، مرزا صاحب! میں تو آپ کی Attention draw (توجہ مبذول) کروں گا۔

مرزا ناصر احمد : نہیں نہیں، وہ میں اعتراض نہیں کر رہا ہوں۔ میں ویسے بات کر رہا ہوں کہ ہم چیک کر کے اس کو بتائیں گے۔

جناب یحییٰ بختیار : نہیں، یہ میں نے ابھی تک پڑھا ہی نہیں۔

مرزا ناصر احمد : ہاں، ٹھیک ہے۔ اچھا، چھوڑ دیا؟

جناب یحییٰ بختیار : میں نے پڑھا ہی نہیں ابھی تک۔ میں آپ کو پڑھ کر سنا رہا ہوں۔ پھر آپ چیک کریں گے۔

مرزا ناصر احمد : آپ نے ”عورت“ کہا ناں، بس اتنا اشارہ کافی ہے۔

جناب یحییٰ بختیار : ”وہ خوبصورت عورت ہے.......“

٣٤

صفحہ ٦٢١

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

545 مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، ”خوبصورت عورت ہے اللہ“ اور اس کو......

جناب یحییٰ بختیار: تو ایسی کوئی چیز آپ کے علم میں ہے؟

مرزا ناصر احمد: میرے علم میں کہیں نہیں۔ نہ ہمارے ان بزرگوں کے علم میں ہے کوئی۔ دیکھنا یہ ہے کہ کس نے یہ حوالہ بنایا۔ اس عرصے میں ہمیں اگر وہ مجلہ مل جائے حضرت!

Mr. Yahya Bakhtiar: I have, Sir, to look up one or two references. So, they will come out after the break.

(جناب یحییٰ بختیار: ایک یا دو حوالہ جات میں جناب دیکھ چکا ہوں وہ وقفہ کے بعد آجائیں گے)

Mr. Chairman: Yes, after the break.

(جناب چیئرمین: جی ہاں! وقفہ کے بعد)

The Delegation is permitted to withdraw; to report at 12:15. (وفد کو سوا بارہ بجے تک وقفہ کرنے کی اجازت ہے)

The honourable Members may kindly keep sitting.

(معزز اراکین تشریف رکھیں)

(The Delegation left the Chamber)

Mr. Chairman: The Special Committee is adjourned to meet at 12:15.

(خصوصی کمیٹی کا اجلاس سوا بارہ بجے تک ملتوی کیا جاتا ہے)

----------

(The Special Committee adjourned for a short break to reassemble at 12:15 pm.)

(خصوصی کمیٹی کا اجلاس ملتوی ہوتا ہے چھوٹے سے وقفہ کے بعد سوا بارہ بجے دوبارہ ہوگا)

(The Special Committee re-assembled after short break, Mr. Chairman (Sahibzada Farooq Ali) in the Chair.)

(خصوصی کمیٹی کا اجلاس چھوٹے سے وقفہ کے بعد ہوا چیئرمین (صاحبزادہ فاروق علی)

٣٥

8th Aug, 1974 No:04

جناب یحییٰ

مرزا ناصر

جناب یحییٰ

کونسا ان کا حوالہ ہے

مرزا ناصر

544 جناب یحییٰ

کہ: ”وہ بہت خوبصورت

مرزا ناصر

معذرت کرتا ہوں کہ یہ

جناب یحییٰ

ضروری ہے ناں۔

مرزا ناصر

جناب یحییٰ

ہی نہیں پوچھتا اس پر

مرزا ناصر

تصدیق کرنے کے

جناب یحییٰ

draw (توجہ مبذول

مرزا ناصر

ہوں کہ ہم چیک کریں

جناب یحییٰ

مرزا ناصر

جناب یحییٰ

ہوں۔ پھر آپ چیک

مرزا ناصر

جناب یحییٰ

صفحہ ٦٢٢

622 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

کی صدارت میں)

جناب چیئرمین: ہاں، فرمائیے۔

مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی: وہ کل غالباً......

546 جناب چیئرمین: یہ دروازہ بند کر دیں۔

جی، مولانا شاہ احمد نورانی!

------------------

WRITTEN ANSWER TO ORAL QUESTION IN

THE CROSS- EXAMINATION

مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی: جی، وہ کل غالباً آپ نے یہ طے فرمایا تھا کہ اس سے ابتدأ Definite جواب لے لیا جائے اور اس کے بعد ان کو اگر تشریح وغیرہ کرنی ہے تو کر دیں۔ لیکن تحریری بیان کوئی نہیں ہوگا۔ وہ آج تحریر پڑھ رہے تھے۔

جناب چیئرمین: میں نے ابھی اٹارنی جنرل صاحب سے بات کی ہے اپنے چیمبر میں۔ اب وہ سلسلہ وہ دوسرا شروع کریں گے۔ وہ اسی طریقے سے جیسے کہ کل رات کو Decide ہوا تھا ناں، بالکل اسی طریقے سے۔

جی، مولانا مفتی محمود صاحب!

------------------

IRRELEVANT ANSWERS TO QUESTIONS IN

THE CROSS- EXAMINATION

مولوی مفتی محمود: جی عرض یہ ہے کہ کل بھی یہ بات ہوئی تھی کہ وہ ایک جواب لکھ کر لاتے ہیں اور پڑھتے ہیں اور سوال ہوتا ہے ایک بات کے متعلق۔ وہ جواب دیتے ہیں دوسری بات کا۔ اب سوال آج تھا کشف کے متعلق۔ انہوں نے کشف کے مقابلے میں جب کہ کشف میں اور خواب میں فرق ہے، وہ خود تسلیم کرتے ہیں...... خواب کی چار، پانچ، چھ مثالیں دیں کہ فلاں نے خواب دیکھا۔ فلاں نے خواب دیکھا۔ انہوں نے بھی دیکھا۔ تو گویا ان کے جرم سے ہمارا جرم کم ہو جاتا ہے۔ اسی طریقے سے پانچ، چھ اور لوگوں کی مثالیں دی گئیں ان کے خوابوں کی کوئی مثال کشف کی نہیں تھی۔ تو میں کہتا ہوں کہ وہ جو چیز پوچھی جائے ۔ اسی کا جواب دے۔ ایک چیز پوچھی جاتی ہے، جواب اور باتوں کا آ جاتا ہے۔ اس لئے میں سمجھتا ہوں......

٣٦

صفحہ ٦٢٣

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

(غیر متعلقہ جوابات، چیئرمین کی رولنگ)

547 جناب چیئرمین: ہاں، ٹھیک ہے۔ میں نے کل بھی ریمارک کیا تھا۔ میں نے Observe کیا تھا۔ بہت سی Irrelevant (غیر متعلقہ) چیزیں آ رہی ہیں۔

مولوی مفتی محمود: ....... بہت سا وقت ضائع ہو جاتا ہے۔

جناب چیئرمین: یہی بات میں نے کل کہی تھی، یہی بات کہی تھی۔ بہت سی Irrelevant (غیر متعلقہ) چیزیں آ رہی ہیں۔ اس میں سوال ہو جائے۔ پھر اس کا جواب ہو جائے۔ پھر مختصر Explanation (وضاحت کریں) اگر ضرورت ہو۔

مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی: Explanation (وضاحت) قرآن اور حدیث کی روشنی میں، مختصر Explanation (وضاحت)

جناب چیئرمین: ہاں، یہ ٹھیک ہے، بالکل ٹھیک ہے۔

مولوی مفتی محمود: وہ اس طریقے سے جیسے آپ کہیں کسی کو کہ ”چور ہے وہ“ تو وہ کہتا ہے کہ ”فلاں بھی چور تھا، فلاں بھی چور تھا، فلاں بھی چور تھا۔“

جناب چیئرمین: نہیں، میں نے اٹارنی جنرل صاحب سے ابھی ڈسکس کیا ہے چیمبر میں۔ I think now the procedure will be all right (میرا خیال ہے کہ اب ضابطہ کی کارروائی درست ہے) (مداخلت)

جناب چیئرمین: ہاں جی۔ ایک سیکنڈ۔ (مداخلت)

جناب محمد حنیف خان: وہ Question (سوال) کرنا شروع کر دیتا ہے۔

جناب چیئرمین: نہیں، ان کا اپنا Method (انداز) ہے Put کرنے کا۔ ایک بات یہ ہے کہ ان کو، گواہ کو روکا جائے گا کہ جب Question put (سوال) کیا جا رہا ہو تو پھر بیچ میں، جب تک Question complete (مکمل سوال) نہ ہو جائے، بیچ میں نہ بولیں۔

548 SUPPLY OF QUOTATIONS FOR ASKING

QUESTIONS

Mr. Yahya Bakhtiar: Sir, I will respectfully submit that explanations are different; you may or may not accept, but I request the honourable members not to supply

٣٧

N 8th Aug, 1974 No:04

کی صدارت میں)

جناب چیئرمین

مولانا شاہ احمد

546 جناب چیئرم

جی، مولانا شاہ احمد

UESTION IN TION

مولانا شاہ احمد سے ابتداً Definite جوا کر دیں۔ لیکن تحریری بیان کوئی

جناب چیئرمین میں۔ اب وہ سلسلہ وہ دوسرا ش ہوا تھا ناں، بالکل اسی طریقے

جی، مولانا مفتی محم

UESTIONS IN TION

مولوی مفتی محمو لاتے ہیں اور پڑھتے ہیں اور بات کا۔ اب سوال آج تھا کہ میں اور خواب میں فرق ہے فلاں نے خواب دیکھا۔ فلاں ہمارا جرم کم ہو جاتا ہے۔ اسی ط کوئی مثال کشف کی نہیں تھی۔ چیز پوچھی جاتی ہے، جواب اور

صفحہ ٦٢٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

me loose balls to score boundaries.

(جناب یحییٰ بختیار: جناب! میں گذارش کروں گا کہ توجیہات مختلف نوعیت کی ہوتی ہیں۔ جنہیں قبول یا رد کیا جاسکتا ہے۔ تاہم میں معزز اراکین سے عرض کروں گا کہ مجھے انٹ شنٹ قسم کی چیزیں نہ بھیجیں)

Mr. Chairman: Yes, that I have also felt.

(جناب چیئرمین: جی ہاں! یہ بات میں بھی محسوس کرچکا ہوں) یعنی حوالہ جات۔ یہ حوالہ جات جو کتابوں سے لکھے ہوئے ہیں یا پمفلٹ سے لکھے ہوئے ہیں۔ اس کی بجائے ان کی اپنی کتاب ہو۔ حوالہ جات پیش کرنے کا Best (سب سے) طریقہ یہ ہے کہ یہ کتابیں پڑی ہیں ان کی، وہیں سے کتاب اٹھائی، وہیں سے مارک کیا کہ یہ آپ کا لکھا ہوا ہے وہ جو Questions (سوالات) ہمارے Approve ہوئے ہیں۔ ان میں کئی حوالہ جات نکلتے ہی نہیں ہیں۔

Yes, Haji Moula Bakhsh Soomro.

(جی! حاجی مولا بخش سومرو)

TIME FOR ANSWERING QUESTIONS

Sardar Moula Bakhsh Soomro: Sir, the explanation that he gives should not go beyond 5 or 10 minutes; and for the "Hawala", when the books are available, he should not be given time that I will read my own book and come prepared tomorrow. "It should not be put off to the next day, think today. And explanation should not go beyond 5 or 10 minutes.

(سردار مولا بخش سومرو: جناب والا! جو وضاحتیں وہ دیتے ہیں پانچ یا دس منٹ سے زیادہ نہیں ہونا چاہئیں۔ جب کتابیں اور حوالے موجود ہوتے ہیں تو پھر (گواہ) کو مزید وقت نہیں ملنا چاہئے کہ وہ کتابیں مطالعہ کرکے دوسرے روز تیاری کرکے آئیں۔ جواب اور وضاحت کے لئے پانچ یا دس منٹ سے زیادہ وقت نہیں ہونا چاہئے)

٣٨

صفحہ ٦٢٥

625 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

Mr. Chairman: Haji Sahib, it varies from question to question. There are certain questions which should be replied to there and then; certain explanation should be there and then. But there are certain things which have to be searched out.

(جناب چیئرمین: حاجی صاحب! یہ سوال کی نوعیت پر منحصر ہے۔ بعض سوالات کا جواب فوری ملنا چاہئے۔ کچھ سوالات ایسے ہوتے ہیں۔ جن کے جوابات کے لئے مزید وقت اور تحقیق ضروری ہوتی ہے)

Sardar Moula Bakhsh Soomro: He reads it like a "Khutba" and takes half an hour; that should not be allowed.

(سردار مولا بخش سومرو: وہ (گواہ) خطبہ کے انداز میں پڑھتا اور آدھ آدھ گھنٹہ لے لیتا ہے۔ اس کی اجازت نہیں ہونی چاہئے)

Mr. Chairman: No, no, that will not be. Should we call them?

(جناب چیئرمین: نہیں، نہیں! اس کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ کیا اب انہیں بلالیں؟)

549

(جی ہاں! جناب عزیز بھٹی) Yes, Mr. Aziz Bhatti.

جناب عبدالعزیز بھٹی: عرض یہ ہے کہ جہاں ان کے Irrelevant (غیر متعلقہ) ہوں جی Answer (جواب) وہاں یہ پاور آپ خود استعمال کریں کہ انہیں وہیں بند کردیں۔

جناب چیئرمین: مولانا ظفر احمد انصاری!

---

WRITTEN ANSWERS TO ORAL QUESTIONS IN

THE CROSS-EXAMINATION

مولانا محمد ظفر احمد انصاری: بہرحال، اس میں تو جیسا کہ اٹارنی جنرل صاحب فرمائیں گے۔ میں سمجھتا ہوں وہی صورت ٹھیک رہے گی۔ لیکن ایک چیز کل بھی میں نے عرض کی تھی

٣٩

N 8th Aug, 1974 No:04

(جناب یحییٰ بختیار ہوتی ہیں۔ جنہیں قبول یا رد کر غلط قسم کی چیزیں نہ بھیجیں)

also felt.

(جناب چیئرمین یہ حوالہ جات جو کتابوں سے اپنی کتاب ہو۔ حوالہ جات ہیں ان کی، وہیں سے کتا Questions (سوالات نہیں ہیں۔

(جی! حاجی مولا

STIONS

mro: Sir, the beyond 5 or 10 the books are I will read my t should not be lanation should

(سردار مولا سے زیادہ نہیں ہونا چاہئیں نہیں ملنا چاہئے کہ وہ کت وضاحت کے لئے پانچ یا

صفحہ ٦٢٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

کہ انہیں لکھی ہوئی چیز زیادہ پڑھنے کا موقع نہ دیا جائے۔......

جناب چیئرمین: ٹھیک ہے۔

مولانا محمد ظفر احمد انصاری: ......اس کو، جب تک بہت ہی ناگزیر نہ ہو جائے، اس لئے کہ پھر کراس ایگزامینیشن کا کوئی فائدہ نہیں رہتا کہ جب وہ آدمی کتاب اور رسالے لکھ کر کے لے آئے۔

-------

QUESTIONS BASED ON DOCUMENTS NOT

READILY AVAILABLE

مولانا محمد ظفر احمد انصاری: دوسری چیز ایک اور عرض کرنا چاہتا ہوں۔ وہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں بہت سے سوالات ”الفضل“ یا دوسرے اخبارات کے حوالے سے دیئے گئے ہیں۔ جہاں تک ممکن ہے لوگ چیک کر رہے ہیں۔ لیکن عام طور پر ”الفضل“ نہیں ہے۔ تو وہ سوالات کچھ اسی طرح بھی ہو سکتے ہیں کہ: ”آپ یہ بتائیں کہ یہ ”الفضل“ میں ہے یا نہیں ہے؟“ اگر وہ یہی کہہ دیں کہ: ”ہم اس کے بارے میں نہ تصدیق کر سکتے ہیں، نہ اس 550 کو جھٹلا سکتے ہیں“ تو یہ ہمارے ریکارڈ پر آجائے۔ لیکن وہ سوال آجائے۔ ممکن ہے کہ ہم دوسرے روز، تیسرے روز وہ پرچہ فراہم بھی کر سکیں۔ نہیں بھی فراہم کر سکیں تو وہ سوال ریکارڈ پر ہوگا کہ یہ پوچھا گیا ”الفضل“ کے حوالے سے۔

”الفضل“ ہم نے شروع سے برابر کوشش کی کہ وہ بھیج دیں ہمیں۔ یہاں تک کہ جب انہوں نے یہ کہا کہ معین کاپیاں بتائیے، کون کون سے نمبر، تو وہ بھی لکھ کے بھیجا۔ لیکن یہ انہوں نے نہیں بھیجا۔ اب ظاہر ہے کہ ”الفضل“ کی اتنی دیر کی فائلیں تو کسی کے پاس نہیں ہوتیں۔ لہٰذا جو اس پر مبنی سوالات ہیں، وہ ریکارڈ میں ضرور آجائیں۔

جناب چیئرمین: ٹھیک ہے۔ (مداخلت)

جناب چیئرمین: ایک سیکنڈ جی۔

-------

ADMITTANCE OF VISITORS DURING

SITTINGS OF THE SPECIAL COMMITTEE

Mr. Chairman: I would request only one thing to the Members. While coming to attend this secret session, they should not bring their friends, their relatives inside the

٤٠

صفحہ ٦٢٧

627 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

Assembly buildings. It has caused us a lot of inconvenience. And the responsibility is of all of us collectively. There have been certain cases- reported- where people have even quarrelled with the security people while coming inside the gate. I think it should be discouraged and it should be stopped altogether for two or three days. Then we can have it. Yes Maulana Ghulam Ghaus Hazarvi.

(جناب چیئرمین: میں اراکین سے صرف ایک گزارش کروں گا۔ جب وہ اس خفیہ اجلاس کے لئے آئیں تو اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کو اسمبلی کی عمارت کے اندر نہ لائیں۔ یہ ہمارے لئے مشکلات پیدا کرتا ہے۔ یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ کئی بار نوٹس میں آیا ہے کہ لوگ سیکورٹی والوں سے جھگڑا کرتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ اس کی حوصلہ شکنی ہونا چاہئے اور یہ سلسلہ دو تین دن کے لئے بند کیا جانا چاہئے۔ تب ہی ہم اطمینان سے کام کر سکتے ہیں۔ جی مولانا غلام غوث ہزاروی صاحب!)

-------------------

551 METHOD OF ASKING QUESTIONS DURING

CROSS- EXAMINATION

مولانا غلام غوث ہزاروی: سوالات کے سلسلے میں یہ عرض ہے کہ جو سوال بڑا اہم ہو، جس کا ریکارڈ پر آنا ضروری ہے۔ اس میں اتنا ہی پوچھا جائے کہ ”یہ مرزا صاحب نے یا مرزا محمود نے کہا ہے یا نہیں؟“ اتنا ان کو تقریر کے لئے خواہ مخواہ موقع دینا اور تبلیغ کا، آدھ آدھ گھنٹے تک وہ سنائیں ہم کو، ہم ان کی تقریر سننے یہاں نہیں بیٹھے رہتے۔ اس لئے سوال کی طرز یہ ہونی چاہئے کہ ”یہ لکھا ہے یا نہیں، اور یہ آپ مانتے ہیں، درست ہے کہ نہیں؟“ بس اس کی ضرورت ابھی نہیں ...... جناب چیئرمین: ٹھیک ہے جی۔

-------------------

PRODUCTION OF BOOKS/DOCUMENTS FOR

QUESTIONS CITED IN THE QUESTIONS

مولانا غلام غوث ہزاروی: اور دوسری بات یہ ہے کہ جن حضرات نے سوالات

٤١

صفحہ ٦٢٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

دیئے ہیں۔ کوئی سوال نہ پوچھا جائے جب تک اس کا حوالہ پاس موجود نہ ہو۔ میں نے جتنے سوالات دیئے ہیں۔ میرے پاس کتابیں ہیں، ان کے حوالے اور مجھے پوری طرح معلوم ہے کہ اٹارنی جنرل صاحب نے جو سوال کل پوچھا تھا، قطعی میں نے خود لکھا ”البدر“ میں کہ:

محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل غلام احمد کو دیکھے قادیان میں
محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شان میں

میں نے خود دیکھا ”البدر“ میں۔ میں، مرزا صاحب کے سامنے پیش ہوا۔ انہوں نے ”جزاک اللہ“ کہا تحسین کرتے ہوئے اندر لے گئے زنانہ میں۔ یہ میں نے خود دیکھا۔ میرے پاس پرچہ نہیں 552 تھا اس لئے میں نے اس کے لئے نوٹس نہیں دیا۔ جب تک کہ موجود نہ ہو کوئی پرچہ یا کوئی پمفلٹ یا کوئی کتاب.......

جناب چیئرمین: ٹھیک ہے جی۔

مولانا غلام غوث ہزاروی: ....... اس وقت تک اس کا نوٹس سوال کا نہیں دینا چاہئے۔

جناب چیئرمین: بالکل ٹھیک ہے جی۔ میں اب ان کو بلانے لگا ہوں۔

مسٹر احمد رضا خان قصوری!

--------

REPETITION OF ARGUMENTS BY THE

WITNESS

Sahibzada Ahmad Raza Khan Qasuri: Mr. Chairman, for the last two, three days, what I am noticing is that the witness is repeating his statement again and again, and not only repeating his oral statement, but sometimes he quotes same books again and again. We are not here to be taught what Ahmadi faction is; and he is not here to preach to us. So I think, being the Chairman of this Committee, you should see to it that the repetition does not take place.

(صاحبزادہ احمد رضا خان قصوری: جناب چیئرمین! گزشتہ دو تین دنوں سے میں یہ مشاہدہ کر رہا ہوں کہ گواہ اپنے بیان کا تکرار بار بار کر رہا ہے۔ گواہ نہ صرف اپنے زبانی جوابات کو

٤٢

صفحہ ٦٢٩

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

بار بار دہراتا ہے۔ بلکہ بعض اوقات کتابوں کے حوالے بھی تکرار کے ساتھ پیش کرتا ہے۔ ہم یہاں کوئی سبق پڑھنے نہیں آئے اور نہ ہی گواہ کو یہاں کسی درس کے لئے بلایا گیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ بحیثیت چیئرمین خصوصی کمیٹی آپ کو دیکھنا چاہئے کہ بار بار کی تکرار نہ ہو )

( گواہ گول مول جواب اور حیلہ بازی کرتا ہے، وزیر قانون )

Abdul Hafeez Pirzada: Sir, it has disadvantages; it has also got some advantages because, from the point of view of the prosecutor also, you have to repeat the question sometimes; and the more they repeat an answer, the more contradictions are established. So, now that we have displayed so much paitence, for about a days and a half, I think we should bear with this, because you would appreciate that the witness is trying to be evasive and therefore the Attorney- General has had to ask a question time and again. So, let us bear with it for about a day or a day and a half. We are now coming to a close.

(عبدالحفیظ پیرزادہ: جناب والا! اس کے کچھ تو نقصانات ہیں۔ مگر چند ایک فوائد بھی ہیں۔ استغاثہ کے نقطہ نظر سے بعض اوقات سوال کو دہرایا جاتا ہے۔ اس طرح گواہ جس قدر اپنے جواب کو دہرائے گا۔ اس قدر تضادات سامنے آئیں گے۔ جہاں ہم نے اتنا بردباری سے کام لیا ہے۔ ایک آدھ دن اور سہی۔ آپ کو اندازہ ہو گیا ہوگا کہ گواہ حیلہ بازی سے کام لیتا ہے۔ یا جواب کو گول کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس لئے اٹارنی جنرل کو سوال پھر سے سوال کرنا پڑتا ہے۔ چنانچہ اب جب کہ کاروائی اختتام کے قریب ہے ہمیں ایک آدھ دن اور صبر سے کام لینا چاہئے)

553 Mr. Chairman: Mr. Ahmad Raza Qasuri, as we usually do after everyday's proceedings, today after 1:30 and after 9:30, then again we will survey that day's position, and then we can have suggestions. I have discussed the matter

٤٣

صفحہ ٦٣٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

with the Attorney- General and he says that now, for this hour, he will adopt his own method of putting the questions. Yes, they may be called.

(جناب چیئرمین: مسٹر احمد رضا قصوری! جیسا کہ ہمارا معمول ہے۔ آج کی کارروائی کے بعد ڈیڑھ بجے دن اور ساڑھے نو بجے رات کے بعد ہم تمام پوزیشن کا جائزہ لیں گے اور تجاویز پر غور کریں گے۔ میں نے اٹارنی جنرل سے بات کی ہے۔ وہ اپنے انداز اور طریقے کے مطابق سوالات کریں گے۔ ہاں! اب انہیں (یعنی وفد کو) بلا لیں)

(The Delegation entered the chamber)

(وفد ہال میں داخل ہوا)

Mr. Chairman: Yes, Mr. Attorney- General.

(جناب چیئرمین: جی ہاں! اٹارنی جنرل صاحب)

CROSS- EXAMINATION OF THE QADIANI

GROUP DELEGATION

جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! میں آپ سے ایک سوال پوچھ رہا تھا کہ جب حضرت مریم کا ذکر کرتے ہیں مرزا صاحب، تو یہ ایک ہی شخصیت ہے یا دو شخصیتیں ہیں۔ آپ نے کہا کہ شخصیتوں کا تو کل فیصلہ ہو گیا تھا۔

مرزا ناصر احمد: ہاں، کل ہو گیا تھا فیصلہ۔

(مرزا ناصر کی مشکل)

جناب یحییٰ بختیار: تو اس سلسلے میں میں Clarification (وضاحت) چاہتا ہوں کہ جب وہ ذکر کرتے ہیں تو وہ مریم ہیں۔ جن کا ذکر انجیلوں میں آیا ہے یا وہ مریم ہیں جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ ہیں؟

مرزا ناصر احمد: بانی سلسلہ احمدیہ نے اپنی کتب اور تقریر و تحریر میں اس مقدس عورت کا بھی ذکر کیا جو قرآن کریم میں مریم کے نام سے یاد کی جاتی ہے اور بعض جگہ آپ نے اس مریم کا بھی ذکر کیا جس کو عیسائی لوگ خداوند یسوع سے نسبت دیتے ہیں۔

٤٤

صفحہ ٦٣١

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

جناب یحییٰ بختیار: یعنی دو شخصیتیں ہیں ان کی نظر میں پھر، جیسے......

مرزا ناصر احمد: میں نے تو اپنا جواب دے دیا ہے۔......

554 جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں وہی جواب......

مرزا ناصر احمد: ......نتیجہ آپ نکال لیں۔

جناب یحییٰ بختیار: ......جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں آپ کا جواب ہے، وہ یہاں بھی وہی ہے؟

مرزا ناصر احمد: ہاں! وہی یہاں ہے۔

(سیدہ مریم علیہا السلام کی اہانت کے حوالہ جات، معاذ اللہ)

جناب یحییٰ بختیار: یہاں جو ایک جگہ ذکر آجاتا ہے: ”اور مریم کی وہ شان ہے جس نے ایک مدت تک اپنے تئیں نکاح سے روکا۔ پھر بزرگان قوم کے نہایت اصرار سے بوجہ حمل...... بوجہ حمل...... کے نکاح کر لیا۔“

(کشتی نوح ص ١٦، خزائن ج ١٩ ص ١٨)

مرزا ناصر احمد: یہ کیا؟ کہاں ہے؟

جناب یحییٰ بختیار: یہ ہے جی (کشتی نوح ص ٣٧) شروع کی تین چار لائنیں چھوڑ کر جی، میرے ایڈیشن میں۔

مرزا ناصر احمد: بانی سلسلہ احمدیہ نے یہاں یہ لکھا ہے: ”کیونکہ یہ سب بزرگ مریم بتول کے پیٹ سے ہیں اور مریم کی وہ شان ہے جس نے ایک مدت تک اپنے تئیں نکاح سے روکا، پھر بزرگان قوم کے نہایت اصرار سے بوجہ حمل کے نکاح کر لیا۔ گو لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ برخلاف تعلیم توریت عین حمل میں کیوں کر نکاح کیا گیا اور بتول ہونے کے عہد کو کیوں ناحق توڑا گیا اور تعدد ازدواج کی کیوں بنیاد ڈالی گئی۔ یعنی، باوجود یوسف نجار کی پہلی بیوی کے ہونے کے پھر مریم کیوں راضی ہوئی کہ یوسف نجار کے نکاح میں آوے۔ مگر میں کہتا ہوں کہ یہ سب مجبوریاں تھیں جو پیش آگئیں۔ اس صورت میں وہ لوگ قابل رحم تھے نہ قابل اعتراض۔“

555 جناب یحییٰ بختیار: تو یہ جو ہے......

مرزا ناصر احمد: یہ ”کشتی نوح“ کا حوالہ ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، یہ اشارہ جو ہے۔ یہ اس حضرت مریم کی طرف ہے جن کا ذکر قرآن کریم میں ہے؟ یا ان کی طرف ہے جن کا عیسائی ذکر کرتے ہیں؟

٤٥

صفحہ ٦٣٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

مرزا ناصر احمد : اس کی یہ پہلی سطر ہے۔ اس کے صفحے کی پہلی سطر : ”وہ شخص جو مجھے کہتا ہے کہ میں مسیح ابن مریم کی عزت نہیں کرتا، بلکہ مسیح تو مسیح، میں تو اس کے چاروں بھائیوں کی بھی عزت کرتا ہوں ۔“

جناب یحییٰ بختیار : نہیں میں یہ پوچھ رہا ہوں ناں جی ، یہ اشارہ جو ہے۔ یہ تحریر جو ہے ......

مرزا ناصر احمد : اس تحریر میں ذکر ہے ان حضرت مریم کا جن کا ذکر قرآن کریم میں آیا ہے۔ لیکن حوالے بعض اعتراضات کے جواب میں قرآن کریم سے دیئے گئے۔ نہ قرآن کریم سے۔ نہیں بائبل سے دیئے گئے ۔

جناب یحییٰ بختیار : یعنی یہ جو حضرت مریم کا ذکر ہے ، یہ وہ حضرت مریم ہیں ۔ جن کا ذکر قرآن کریم میں آیا ہے اور ان کے متعلق جو کہا ہے ......

مرزا ناصر احمد : جو اعتراضات ہیں۔ ان کے جواب بائبل سے دیئے گئے ہیں ۔

جناب یحییٰ بختیار : حمل سے مجبور ہو کے نکاح کیا بزرگوں کے کہنے پر؟

مرزا ناصر احمد : ہاں، ہاں ۔

جناب یحییٰ بختیار : یہ، یہ......

مرزا ناصر احمد : بائبل سے لیا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار : یہ انجیل سے لیا ہے اور اس کو Justify (جائز) کر رہے ہیں: ”556 مگر میں یہ کہتا ہوں کہ یہ سب مجبوریاں تھیں جو پیش آئیں ۔ اس صورت میں وہ لوگ قابل رحم تھے ۔“

مرزا ناصر احمد : ”وہ قابل رحم تھے نہ قابل اعتراض ۔“

بائبل میں جو ہے ان کے بارے میں ۔

Mr. Yahya Bakhtiar: He is justifying or explaining?

( جناب یحییٰ بختیار : وہ اس کو صحیح قرار دے رہے ہیں یا وضاحت کر رہے ہیں )

Mirza Nasir Ahmad: Explaining the situation, justifying the act.

( مرزا ناصر احمد : صورتحال کی وضاحت کر رہے ہیں۔ معاملے کو جائز قرار دے رہے ہیں )

٤٦

صفحہ ٦٣٣

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

(پیر مہر علی شاہ گولڑویؒ کی اہانت، معاذ اللہ)

جناب یحییٰ بختیار: اب مرزا صاحب میں کچھ اور سبجیکٹ کی طرف آتا ہوں۔ تھوڑی دیر کے لئے۔ کچھ حوالے نہیں مل رہے۔ مرزا صاحب کے زمانے میں کچھ اور علماء اور بزرگ تھے۔ خدا جانے ان سے بھی Controversy رہی یا مخالفت رہی یا کیا بات تھی۔ یہ تو Context آپ بتائیں گے۔ مگر یہ ہے کہ کیا مرزا صاحب نے حضرت پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑہ شریف مرحوم کو ملعون کہا؟

مرزا ناصر احمد: کہاں؟ حوالہ کیا ہے اس کا؟

جناب یحییٰ بختیار: اس میں شعر ہے عربی میں: ”میرے پاس ایک خط آیا۔ ایک جھوٹے آدمی کی طرف سے جو تزویر کر رہا تھا۔ تلبیس کر رہا تھا۔ وہ کتاب خبیث کی تھی اور جیسے بچھو ڈنگ مارتے ہیں۔ تو میں نے کہا کہ تیرے لئے ہلاکتیں ہوں اے گولڑے کی زمین! تو ملعون ہوگئی ہے ایک ملعون کے سبب سے، اس لئے تو ہلاکت میں پڑے گی۔“

(اعجاز احمدی ضمیمہ نزول المسیح، ص٧٥، خزائن ج١٩ ص١٨٨)

557 Mr. Chairman: The librarian may hand over the book to the witness.

(جناب چیئرمین: لائبریرین کتاب گواہ کو دیں)

جناب یحییٰ بختیار: میں دو چار اور بھی پڑھ لیتا ہوں تاکہ آپ اکٹھے دیکھ لیں۔

مرزا ناصر احمد: ہاں، ٹھیک ہے۔

(مولانا رشید احمد گنگوہیؒ کی اہانت، معاذ اللہ)

جناب یحییٰ بختیار: کیا مرزا صاحب نے مولانا رشید احمد گنگوہیؒ کو ”اندھا شیطان، لعین، دیو، گمراہ، شقی، ملعون، من المفسدین“ لکھا ہے؟ یہ ہے (انجام آتھم ص٢٥٢، خزائن ج١١ ص٢٥٢)

مرزا ناصر احمد: ہاں چیک کریں گے۔

جناب یحییٰ بختیار: آپ یہ چیک کرلیں۔

Mr. Chairman: I think, Mr. Attorney- General let it be put to the witness one by one. The books.....

(جناب چیئرمین: میرا خیال ہے کہ اٹارنی جنرل ایک ایک کر کے گواہ سے سوال پوچھیں......)

٤٧

صفحہ ٦٣٤

634 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

Mr. Yahya Bakhtiar: Sir, these three quotations are alike. (جناب یحییٰ بختیار: جناب تینوں سوال ایک جیسے ہیں)

مولانا غلام غوث ہزاروی: وہ یہ جواب دیں کہ ہے یا نہیں۔

جناب چیئرمین: مولانا صاحب! تشریف رکھیں۔

جناب یحییٰ بختیار: میں تینوں پر آرہا ہوں۔ یہ تینوں پڑھ کے پھر میں ان سے پوچھتا ہوں۔

Mr. Chairman: The books, all the three books may be handed over to the witness and he should say it is there or it is not there.

(جناب چیئرمین: مہربانی کر کے تینوں کتابیں گواہوں کے سامنے پیش کردیں اور وہ یہ کہیں کہ یہ یہاں ہے اور یہ یہاں نہیں ہے)

(مولانا سعد اللہ کی اہانت ، معاذ اللہ)

جناب یحییٰ بختیار: کیا مرزا صاحب نے مولوی سعد اللہ کا نام لے کر ”بدکار عورت کا بیٹا“ اور ”بدگو، خبیث، منحوس، لعین، شیطان، نطفہ سفیہان“ لکھا ہے؟ یہ ہے جی (انجام آتھم ص ٢٨١، ٢٨٢) تو یہ تین آپ چیک کرلیں اور......

558 Mr. Chairman: The librarian may please hand over the books to the witness.

(جناب چیئرمین: لائبریرین، مہربانی کرکے کتابیں گواہ کو پیش کریں)

ایک کتاب ابھی مفتی صاحب پڑھ رہے تھے وہ بھی نہیں؟ وہ ایک کتاب ابھی مفتی صاحب پڑھ رہے تھے۔ وہ تو دے دیں نا۔ نہیں دی؟ اب یہ پڑھ لیں۔ And rest of the books may also be given. (اور مہربانی کر کے باقی کتابیں بھی دے دیں)

مرزا ناصر احمد: یہ جو ضمیمہ ”نزول المسیح“ از قصیدہ ضمیمہ ”نزول المسیح“ کا ایک حوالہ تین میں سے ہے۔ یہ یہاں ہے۔ ٹھیک ہے۔ لیکن اس کا جواب جو ہے بعد میں دیں گے۔ اور دوسرے ”انجام آتھم“ (اپنے وفد کے ایک رکن سے) کونسا صفحہ ہے؟ یہ جو ہے ٢٥٢ صفحہ ”انجام آتھم“ کا حوالہ ہے، ہاں، یہ بھی درست ہے۔ حوالہ ہے۔

٤٨

صفحہ ٦٣٥

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

جناب چیئرمین: تھرڈ کا Page بتائیں۔

مرزا ناصر احمد: جی، ٢٨١، ٢٨٢ ہاں جی، ٢٨١، ٢٨٢ کا حوالہ بھی موجود ہے۔ لیکن کتابیں دیکھیں تو اس کا جواب دیا جاسکتا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: یہ یہاں موجود ہیں کتابیں۔

مرزا ناصر احمد: ہاں، یہ ہیں۔

Mr. Chairman: Next question.

(جناب چیئرمین: اگلا سوال)

جناب یحییٰ بختیار: آپ اس کی کچھ وضاحت دینا چاہتے ہیں جی۔

مرزا ناصر احمد: ہاں جی، میں اس کی وضاحت دینا چاہتا ہوں۔ ان کتابوں کا حوالہ دیکھ کے۔ اس وقت نہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں آپ Briefly بتا سکتے ہیں کہ وہ کیا وجہ تھی؟ پھر تو آپ Detail (تفصیل) میں بتا دیں نا۔

مرزا ناصر احمد: اکٹھا دے دوں گا۔ وقت ضائع ہوگا خواہ مخواہ۔

559 جناب یحییٰ بختیار: نہیں، یعنی کیا انہوں نے ان کے خلاف کچھ کہا اس واسطے یا......؟

مرزا ناصر احمد: اس کے دو طرح کے جواب ہیں۔ دونوں دوں گا، انشاء اللہ۔ ایک یہ کہ ان کے جواب میں یا کن حالات میں ان کو کہا گیا اور دوسرے یہ ان کو اس سے زیادہ کسی اور نے تو نہیں کہا۔ کیونکہ اگلے آدمی کی پوزیشن بھی تو پتہ لگنی چاہئے ناں۔

جناب یحییٰ بختیار: ......کہ انہوں نے ان کی شان میں کچھ کہا اور انہوں نے ان کے جواب میں کہا؟

مرزا ناصر احمد: یا ان کا مقام دوسرے فرقوں کے نزدیک کیا تھا۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، جیسے بھی Explanation (وضاحت) ہے، یہی ہے نا؟

مرزا ناصر احمد: ہاں! یہی Explanation (وضاحت) ہے۔

Mr. Yahya Bakhtiar: In reply or in retaliation?

(جناب یحییٰ بختیار: جواب میں یا ردعمل میں؟)

١؎ اس وقت مرزا کی کتابیں دیکھ کر گویا سانپ سونگھ گیا۔

٤٩

صفحہ ٦٣٦

636 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

مرزا ناصر احمد : نہیں، بغیر اس کے کہ میں کوئی جواب دوں، میں نتیجہ نہیں نکال سکتا۔

جناب یحییٰ بختیار : نہیں، یعنی آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ کسی نے ان کے متعلق کچھ کہا اور اس کے جواب میں یہ آیا ہے؟

مرزا ناصر احمد : میں دیکھ کے ...... یہ کہہ رہا ہوں۔ یہ چیزیں ہیں جو ذہن میں آتی ہیں۔ Philosophically (فلسفیانہ طور پر) Theoretically (نظری طور پر) لیکن جب تک کتابیں چیک نہ کی جائیں۔ دیکھا نہ جائے۔ اس وقت تک انسان کسی صحیح نتیجے تک نہیں پہنچ سکتا۔

جناب یحییٰ بختیار : جو ریفرنس آپ کے سامنے ہے۔ جو کتاب آپ کے سامنے ہے۔ جس سے یہ میں نے Quote کیا ہے۔ اس میں تو کوئی اس کی Explanation (وضاحت) نہیں ہے۔ اس کے علاوہ کہیں اور آپ دیکھیں گے؟

560 مرزا ناصر احمد : نہیں، اس میں بھی ساری کتاب اگر میں پڑھوں تو بڑی دیر لگ جائے گی۔

جناب یحییٰ بختیار : یہ کتاب آپ کے سامنے موجود ہے جیسے آپ ......

مرزا ناصر احمد : کتنے صفحات ہیں اس کے؟ ”انجام آتھم“ جو ہے اس کو دو دن لگ جائیں گے پڑھتے ہوئے مجھے۔

جناب یحییٰ بختیار : نہیں، اسی Passage (پیراگراف) میں آگے یا پیچھے ......

مرزا ناصر احمد : نہیں، آگے پیچھے کہیں اور ذکر آیا ہو ان کا، جب تک پوری تسلی نہ کی جائے، جواب میں کیسے دے سکتا ہوں؟

جناب یحییٰ بختیار : تو فی الحال آپ جواب نہیں دے سکتے اس کا؟

مرزا ناصر احمد : میں اس کا جواب بعد میں دے سکتا ہوں ١؎۔

(مرزا ناصر کی گراؤنڈ)

جناب یحییٰ بختیار : نہیں، یعنی مختصراً کہ کونسی گراؤنڈ ہوگی آپ کی؟

مرزا ناصر احمد : جی؟

جناب یحییٰ بختیار : کہ کس گراؤنڈ ......

١؎ تصنیف، مرزا کی آگے پیچھے سے مکمل معائنہ و چیکنگ و تسلی کے بعد جواب دیں گے۔ تف بر تو اے چرخ گردوں، تف! خلیفہ اپنے نبی کی تصنیف پر تحفظات کا شکار ہے۔ گویا نہ اگلے بنے نہ نگلے بنے۔

٥٠

صفحہ ٦٣٧

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

مرزا ناصر احمد: یعنی جب تک میں اس کو سٹڈی نہ کروں، کتب کو، جواب کی گراؤنڈ کیسے بتا سکتا ہوں۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، یہ میں نے کہا کہ انہوں نے ان کی شان میں کچھ کہا تو جواب دے رہے ہیں یہ؟ یا انہوں نے اپنی طرف سے ...... وہ خاموش تھے۔ انہوں نے ان کے بارے میں کہا؟ دو چیزیں ہو سکتی ہیں۔

مرزا ناصر احمد: کتابیں دیکھ کے پتہ لگے گا ناں کہ کونسی چیز ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: آپ کو ان کا پہلے علم نہیں تھا؟

561 مرزا ناصر احمد: میں نے تو کتابیں پڑھی ہوئی ہیں۔ مجھے پہلے علم تھا لیکن اس نقطہ نگاہ سے......

جناب یحییٰ بختیار: میں نے تو کوئی نقطہ نگاہ نہیں کہا۔

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، کہ اعتراض کے رنگ میں جو پیش کیا جاتا ہے۔ وہ ہمارے جماعت کے جو مناظر ہیں، مناظرہ کرنے والے، ان کو تو سارے دلائل کا پتہ ہوگا۔ لیکن میں اپنی جماعت کا مناظرہ کرنے والا نہیں۔

(گالی محبت کا رنگ ہے؟)

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، مرزا صاحب! کیا گالیوں پر بھی کبھی کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا؟ آپ کہتے ہیں کہ ”اعتراض کے رنگ میں“ یہ کوئی محبت کا رنگ تو نہیں ہے۔

مرزا ناصر احمد: یہ بھی دیکھنا ہے۔ نہیں یہ دیکھنا ہے؟

جناب یحییٰ بختیار: آپ کہتے ہیں کہ ”ہم ہمیشہ پیار سے باتیں کرتے ہیں، لوگوں کو Convince (قائل) کرتے ہیں پیار سے“ اور میں یہ دیکھ رہا ہوں۔ اس لئے میں نے یہ سوال کیا۔

مرزا ناصر احمد: پھر میں آپ کو یہ بتاتا ہوں۔ یہ بھی پتہ لگنا چاہئے کہ گالیاں ہیں بھی یا نہیں۔

(ہر بات کے دو معنی؟)

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، یہ ہو سکتا ہے۔ کیونکہ اگر آپ یہی کہتے ہیں کہ ”بدکار عورت

١؎ کہاں وہ کروفر کہاں یہ رسوائی ۔ اس کو کہتے ہیں ہائے وہ بلندی، ہائے یہ پستی ۔

٢؎ جناب اٹارنی جنرل بس کریں۔ اس سے زیادہ اس مسکین کی اور کیا رسوائی ہوگی؟۔

٥١

صفحہ ٦٣٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

کا بیٹا“ کے دو معنی ہیں ”بدگو“ کے دو معنی ہیں ”خبیث“ کے دو معنی ہیں ”منحوس“ کے دو معنی ہیں۔ ایک اچھے ہیں، ایک برے ہیں۔ تو وہ تو اور بات ہو جاتی ہے؟

مرزا ناصر احمد: نہیں یہاں تو عربی ہے ناں۔ یہ عربی کا ترجمہ ہے ناں۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی، عربی کا ترجمہ ہے۔

مرزا ناصر احمد: تو عربی کے لفظ کے پتہ نہیں کتنے معنی ہیں۔ دو نہیں، پتہ نہیں دس معنی ہوں۔

562

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں، میں یہی کہہ رہا ہو کہ ”بدکار عورت کا بیٹا“ عربی میں کچھ اور معنی رکھتا ہے؟

مرزا ناصر احمد: عربی میں ”بدکار عورت کا بیٹا“ نہیں کہا گیا۔

جناب یحییٰ بختیار: یہ ترجمہ یہیں سے لیا گیا ہے کہ نہیں؟

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں ترجمہ جو ہے، وہ ایک ترجمہ ہوتا ہے لفظی، وہ کر دیا یہاں۔ لیکن ہم نے جس وقت اپنی تحقیق کرنی ہے تو ہمیں اس لفظ کے وہ معنی جو عربی محاورہ میں مختلف استعمال ہوتے ہیں۔ ان ساروں کو سامنے رکھ کر یہ فیصلہ کرنا پڑے گا کہ اس Context میں کون سے معنی میں عربی کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: جیسے ”شیطان“ کا ہے۔ اس کا عربی میں، اردو میں، فارسی میں کچھ فرق ہوگا آپ کے خیال میں؟

مرزا ناصر احمد: جو ”شیطان“ کا لفظ ہے ناں، اس کے پانچ دس معنی تو ضرور ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: مگر دونوں زبانوں میں کوئی فرق نہیں اس میں۔

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، بالکل فرق ہے۔ عربی زبان میں اس کو اس معنی میں بھی استعمال کیا جاسکتا ہے کہ اس خاص معنی میں اس کو کسی اور زبان میں استعمال نہ کیا گیا ہو۔

جناب یحییٰ بختیار: جس میں تعریف کی شکل بھی ہوگی یا کہ.......

مرزا ناصر احمد: تعریف اور اس کے میں نام نہیں لے رہا۔ وہ تو جب ہوگی۔ آپ بحث سے پہلے...... اس بحث کے اوپر...... کیسے بحث کی جاسکتی ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: ٹھیک ہے، آپ اس کو Explain (واضح) کر دیجئے۔

ایک حوالہ ہے جی مرزا صاحب کا۔ ”جو شخص میرا مخالف ہے وہ عیسائی، یہودی، مشرک 563 اور جہنمی ہے۔“ آپ کے علم میں کوئی ایسا......

٥٢

صفحہ ٦٣٩

639 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

مرزا ناصر احمد : نہیں، اگر میں دیکھوں تو بتا دیتا ہوں۔

جناب یحییٰ بختیار : آپ کے علم میں نہیں فی الحال ایسا کوئی ......

مرزا ناصر احمد : نہیں، اس کے الفاظ صحیح تو دیکھنے سے ہی پتہ چل سکتے ہیں۔ حوالہ بتائیں ، یہاں پر شاید کتاب ہو۔

جناب یحییٰ بختیار : حوالہ جی ”نزول المسیح “ ص ٤ اور وہ ”تذکرہ“ بھی آگے لکھا ہوا ہے ”تذکرہ“ میں صفحہ ٢٢٧۔

مرزا ناصر احمد : ہاں، یہ دیکھ لیتے ہیں۔ شاید یہاں نکل آئے ۔ ”نزول المسیح “ صفحہ ٤ پر تو ایسی کوئی عبارت نہیں۔

Mr.Chairman: Mr. Attorney-General, the witness says it is not there on page4.

(مسٹر چیئرمین : گواہ کہہ رہا ہے کہ یہ صفحہ ٤ پر نہیں ہے)

مرزا ناصر احمد : صفحہ ٤ کے اوپر جو میرے پاس ......

جناب چیئرمین : نہیں، وہ ریفرنس ہے ”تذکرہ“ کا؟

جناب یحییٰ بختیار : نہیں جی ، یہ ”نزول المسیح “ ......

مرزا ناصر احمد : یہ ”نزول المسیح “ صفحہ ٤ آپ نے فرمایا ہے ناں؟

جناب یحییٰ بختیار : ہاں، اور ”تذکرہ“ صفحہ ٢٢٧۔

(حوالہ نہیں، ہاں مل گیا، مرزا ناصر کا فرمان)

مرزا ناصر احمد : میرے پاس ”نزول المسیح “ ہے۔ اس کے صفحہ ٤ پر تو ایسی عبارت کوئی نہیں ۔ عبارت کا ایک آدھ فقرہ پڑھ دیں تو میں ......

جناب یحییٰ بختیار : ”جو میرا مخالف ہے ......“

مرزا ناصر احمد : ہاں، ہاں، یہ مل گیا۔

جناب چیئرمین : مل گیا ٹھہر جائیں جی۔

564 جناب یحییٰ بختیار : مل گیا جی؟

مرزا ناصر احمد : یہ اگر آپ کو تکلیف نہ ہو تو الفاظ پڑھ دیں تو مقابلہ ہو جائے گا۔

جناب یحییٰ بختیار : آپ Compare کر لیں جی۔

٥٣

AN 8th Aug, 1974 No:04

کا بیٹا“ کے دو معنی ہیں ”بد گو“ ایک اچھے ہیں ، ایک برے ہیں

مرزا ناصر احمد :

جناب یحییٰ بختیار

مرزا ناصر احمد :

معنی ہوں۔

562 جناب یحییٰ بختیار

میں کچھ اور معنی رکھتا ہے؟

مرزا ناصر احمد :

جناب یحییٰ بختیار

مرزا ناصر احمد :

یہاں۔ لیکن ہم نے جس وقت مختلف استعمال ہوتے ہیں۔ا میں کون سے معنی میں عربی کا لف

جناب یحییٰ بختیار

کچھ فرق ہوگا آپ کے خیال

مرزا ناصر احمد :

جناب یحییٰ بختیار

مرزا ناصر احمد :

استعمال کیا جاسکتا ہے کہ اس غ

جناب یحییٰ بختیار

مرزا ناصر احمد :

بحث سے پہلے...... اس بحث

جناب یحییٰ بختیار

ایک حوالہ ہے جی

563

اور جہنمی ہے۔“ آپ کے علم

صفحہ ٦٤٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

مرزا ناصر احمد: ”جو میرا مخالف ہے......“

(مرزا کے مخالف عیسائی، یہودی مشرک ہیں)

جناب یحییٰ بختیار: ”اور جو میرے مخالف تھے ان کا نام عیسائی، یہودی اور مشرک رکھا گیا۔“

(نزول المسیح حاشیہ ص٤، خزائن ج١٨ ص٣٨٢)

مرزا ناصر احمد: یہ عبارت تو یہ نہیں کہہ رہی کہ ”میں نے ان کا نام رکھا“......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی،......

مرزا ناصر احمد: ......کسی اور طرف اشارہ ہے۔ یہ عبارت ہے یہاں۔ یہ بتاتی ہے کہ کسی جگہ آپ کے خیال میں ان کا نام عیسائی اور مشرک رکھا گیا تھا۔ ٹھیک ہے، یہ یہاں ہے تو، لیکن اس کا وہ جواب دیں گے بعد میں۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں یہاں صرف یہ وضاحت چاہتا ہوں کہ مرزا صاحب کا جو کہنا ہے کہ: ”جو میرا مخالف ہے......“

مرزا ناصر احمد: ”اور جو میرا مخالف ہے اس کا نام......“

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، وہ تو ٹھیک ہے جی......

مرزا ناصر احمد: ہاں، کس جگہ یہ رکھ......

جناب یحییٰ بختیار: ......”مخالف“ سے ان کی مراد صرف عیسائی، یہودی، نصاریٰ کی طرف ہے؟ کہ وہ مخالف جو ان پر ایمان نہیں لاتے، جو ان کو نبی نہیں مانتے وہ بھی آجاتے ہیں؟

565 مرزا ناصر احمد: یہی میں نے کہا ناں کہ یہ فقرہ یہاں موجود ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی، نہیں، میں اس کے علاوہ پوچھتا ہوں کہ اور......

مرزا ناصر احمد: ہاں جی، میں وہی بات کہہ رہا ہوں اس پر جو اس کا جواب ہے۔ وہ میں دیکھ کے......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، یہ بھی پھر آپ اپنے جواب میں جو میرا یہ سوال ہے کہ جو ”مخالف“......

مرزا ناصر احمد: ہاں، میں سمجھ گیا۔

جناب یحییٰ بختیار: ......”مخالف“ سے آپ کا مطلب کیا ہے“

مرزا ناصر احمد: ”مخالف“ سے مراد صرف غیر مسلم ہیں یا مسلمان بھی ہیں۔

٥٤

صفحہ ٦٤١

641 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

جناب یحییٰ بختیار: غیر احمدی۔

مرزا ناصر احمد: صرف غیر مسلم ہیں یا مسلمان بھی شامل ہیں اس میں۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں مسلمانوں میں تو آپ کہتے ہیں کہ آپ ہیں، ہم نہیں ہیں، اس قسم کے ہیں اور اس قسم کے ہیں۔ کیٹیگریز آجاتی ہیں۔

مرزا ناصر احمد: میں بالکل نہیں کہتا جی۔ میں تو جو فقرہ اس وقت کہہ رہا ہوں وہ ریکارڈ پر آنا چاہئے......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، ریکارڈ پر تو......

مرزا ناصر احمد: ......آیا اس میں غیر مسلم ہیں یا مسلم بھی شامل ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی۔ اور یہ بھی کہ جو مرزا صاحب کا مخالف ہے وہ ویسے ہی ہو جاتا ہے جیسے عیسائی ، یہودی ، مشرک۔

مرزا ناصر احمد: آپ یعنی اس کا جواب چاہتے ہیں؟

566 جناب یحییٰ بختیار: ہاں، میں اس پر Clarification (وضاحت) چاہتا ہوں۔

مرزا ناصر احمد: ہاں۔ اس کا جواب چاہتے ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: جواب چاہتا ہوں کیونکہ وہ ایک ہی کیٹیگری میں آجاتے ہیں۔

مرزا ناصر احمد: ٹھیک ہے، میں سمجھ گیا۔ جواب اس کا......

(مخالفوں کو گالیاں)

جناب یحییٰ بختیار: پھر اس طرح جی، جو مخالف ہیں ان کے بارے میں مرزا صاحب نے کہا ہے کہ: ”دشمن ہمارے بیابانوں کے خنزیر ہو گئے اور ان کی عورتیں کتیوں سے بڑھ گئی ہیں۔“ (نجم الہدیٰ ص ٥٣، خزائن ج ١٤ ص ایضاً) یہاں بھی آپ یہ نوٹ کر لیجئے۔

مرزا ناصر احمد: حوالہ کیا ہے اس کا؟

جناب یحییٰ بختیار: ”نجم الہدیٰ“ صفحہ ٥٣۔

مرزا ناصر احمد: اس کا تو میں مختصر جواب ابھی دے سکتا ہوں، لیکن تفصیلی بعد میں دوں گا۔

جناب یحییٰ بختیار: تو اگر آپ دے دیں مرزا صاحب! تو بہت سارے سوال ہیں ۔ وقت بچ جائے گا۔ جس پر آپ دے سکتے ہیں ابھی ۔

٥٥

صفحہ ٦٤٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

مرزا ناصر احمد: اس کے مخالف مسلمان نہیں۔ بلکہ وہ عیسائی ہیں جو اسلام پر حملہ آور ہو رہے تھے۔

جناب یحییٰ بختیار: یہ انہوں نے کس زمانے میں......

مرزا ناصر احمد: اس میں آگے پیچھے نصاریٰ کا ذکر ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں کیا یہ آپ کو یاد ہے کہ کس زمانے میں انہوں نے کہا تھا؟ ......نبوت کے دعوےٰ سے پہلے یا بعد میں؟

567 مرزا ناصر احمد: یہ جو ہے ناں کتاب......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی، کئی کتابیں آپ نے کل آپ نے Citation دی ١٨٧٢ء کی کہ مرزا صاحب نے خود اس زمانے میں ١٨٧٢ء میں لکھا تھا عیسائیوں کے خلاف......

مرزا ناصر احمد: اس ساری کتاب کا مضمون جو ہے وہ عیسائیوں کے خلاف ہے اور بڑا کھول کے ان کا ذکر آیا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، تو میں یہی پوچھنا چاہتا ہوں......

مرزا ناصر احمد: ......پہلے بھی اور آخر میں بھی قطع نظر اس کے کہ لکھی کب گئی۔ جب وہ مضمون بتاتا ہے کہ وہ نصاریٰ کے متعلق ہے تو تاریخ اس مضمون کے خلاف کیسے بتا دے گی؟

(ذرية البغايا میرے مخالف کنجریوں کی اولاد)

مولوی مفتی محمود: جناب والا! عربی کا حوالہ میں پڑھ دیتا ہوں، اس میں ہے: ”تلك كتب ينظر اليها كل مسلم بعين المحبة والمودة وينتفع من معارفها يقبلنى و يصدق دعوتى الا ذرية البغايا الذين ختم الله على قلوبهم فهم لا يقبلون“

جناب چیئرمین: اس کا ترجمہ بھی کر دیں اور حوالہ بھی دیں۔

مولوی مفتی محمود: ترجمہ یہ ہے: ”یہ وہ کتابیں ہیں جن کی طرف دیکھتا ہے ہر مسلمان محبت اور مودت کی آنکھ سے، اور اس کے علوم سے نفع اٹھاتا ہے اور مجھے قبول کرتا ہے اور میری دعوت کی تصدیق کرتا ہے۔ مگر وہ لوگ جو کنجریوں کی اولاد ہیں، جن کے دلوں پر اللہ نے مہر لگا دی، وہ قبول مجھے نہیں کرتے۔“

جناب چیئرمین: حوالہ؟ حوالہ بھی دیں۔

568 مولوی مفتی محمود: یہ ”آئینہ کمالات“ صفحہ ٥٤٧، (خزائن ج ٥ ص ایضاً)

٥٦

صفحہ ٦٤٣

643 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974. No:04

Mr. Chairman: This book may also be given to the witness. (جناب چیئرمین: یہ کتاب بھی گواہ کو دی جائے)

Mr. Yahya Bakhtiar: This is.... Sir, this is a question because Mirza Sahib said whatever was referred to in the previous question was with reference to Christians; he will give a detailed reply later. Now I ask about the Muslims; what Mirza Sahib said.

(جناب یحییٰ بختیار: یہ سوال اس لئے ہے کہ مرزا صاحب نے کہا ہے کہ پچھلے سوال کا تعلق عیسائیوں سے تھا اور حوالہ بھی عیسائیوں کے بارے میں تھا اور یہ کہ وہ (گواہ) تفصیلی جواب بعد میں دے گا۔ اب میرا سوال مسلمانوں کے بارے میں ہے۔ جن کے متعلق مرزا صاحب نے کہا:) ”کل مسلمانوں نے مجھے قبول کر لیا اور میری دعوت کی تصدیق کی ۔ مگر کنجریوں اور بدکاروں کی اولاد نے مجھے نہیں مانا۔“

مرزا ناصر احمد: یہ کہاں کا حوالہ ہے؟ ہاں، ابھی جو صفحہ ٥٤٧......

جناب یحییٰ بختیار: میں نے وہ ریفرنس کے لئے نکالا تھا۔

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، بس ٹھیک ہے۔ یہ جو جتنے ہیں ناں، یہ گالیاں دینے وغیرہ کا الزام، یہ سب پڑھ دیں تو اکٹھا ہم جواب دے دیں گے اس کا۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی، مجھے جو ہے ناں، کچھ ریفرنسز مل رہی ہیں اس وقت، کچھ جو نہیں مل رہیں وہ میں ڈھونڈ رہا ہوں۔

مرزا ناصر احمد: نہیں، میرا مطلب ہے کہ ہم پر جتنے اعتراض ہے...... یہ تو فرسودہ ہے سوال، آٹھ دس سال سے ہو رہا ہے...... تو اس کا جواب دے دیں گے۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، اگر ان کے جواب آپ ابھی دے سکتے ہیں، ابھی دیکھیں ناں یہاں: ”کل مسلمانوں نے مجھے قبول کر لیا اور میری دعوت کی تصدیق کر لی......“

مرزا ناصر احمد: یہ کتاب مجھے بھجوا دیجئے۔

جناب چیئرمین: کتاب آگئی ہے۔ کتاب دیکھ کے آپ بتا دیں کہ یہ ہے یا نہیں ہے۔

569مرزا ناصر احمد: اس میں ”ذريۃ البغايا“ جو لفظ ہے۔ وہ جس معنی میں عربی میں استعمال کرتے ہیں......

٥٧

صفحہ ٦٤٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

Mr. Chairman: No. This is an explanation. Now, first, the witness has to say whether the writing exists in the book or not.

(جناب چیئرمین: نہیں ۔ یہ وضاحت ہے۔ گواہ کو پہلے یہ بتانا ہوگا کہ تحریر کتاب میں موجود ہے یا نہیں)

مرزا ناصر احمد: ہاں، یہ الفاظ یہاں ہیں۔

Mr. Chairman: Now the explanation can come.

(جناب چیئرمین: اس کے بعد وضاحت آئے گی)

مرزا ناصر احمد: اور یہ Explanation (وضاحت) ہم دیں گے بعد میں۔ ٹھیک ہے، درست ہے۔ یہ ریکارڈ کر لیں۔

Mr. Chairman: The witness is....

جناب یحییٰ بختیار: ابھی نہیں دے سکتے آپ؟ اس میں مرزا صاحب! کوئی Difficult (مشکل) مسئلہ آپ کے لئے تو نہیں ہونا چاہئے۔

مرزا ناصر احمد: نہیں ”ذریۃ البغایا“ کی بحث کرنا ضروری، اس کے لئے عربی لغت کی کتب کا حوالہ ضروری ہے، محاورے کا بھی ضروری ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: آپ کل سے فرما رہے ہیں کہ مسلمان کون ہے؟ آپ کہتے ہیں کہ: ”کل مسلمانوں نے مجھے قبول کر لیا اور میری دعوت کی تصدیق کر لی مگر کنجریوں اور بدکاروں کی اولاد نے......“

مرزا ناصر احمد: ”...... ذریۃ البغایا نے...... مگر ذریۃ البغایا نے قبول نہیں کیا ۔“ ذریۃ البغایا کا معنی کنجریاں نہیں ہیں۔ ”ذریۃ البغایا“ کا معنی کنجریوں کی اولاد نہیں ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: ”بدکاروں کی اولاد اور کنجریوں کی اولاد“ کے کیا معنی ہیں جو آپ سمجھتے ہیں؟

570

مرزا ناصر احمد: سارے حوالے دے کے میں آپ کو Convince (قائل) انشاء اللہ کراؤں گا کہ اس کے معنے غلط لئے جا رہے ہیں اور دوسرے جو اعتراض ہیں کہ گالیاں دیں سخت الفاظ استعمال کئے۔ وہ سارا ایک وقت میں حل ہو جائے گا۔ مسئلہ یہی حل ہونا چاہئے ناں کہ گالیاں دی ہیں یا نہیں۔ اگر دی ہیں تو کیوں دی ہیں۔ ان کا جواب کیا ہے۔ ایک وقت میں حل ہو جائے گا۔

٥٨

صفحہ ٦٤٥

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

جناب یحییٰ بختیار: پھر ایک اور ریفرنس ہے جی، وہ بھی میں دیکھ لوں گا۔ مگر یہاں جو میرے پاس نوٹ کیا ہوا ہے، وہ آپ نوٹ کرلیں۔

مرزا ناصر احمد: ہاں نوٹ کرلیتے ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: ”اور ہماری فتح کا قائل نہیں ہوگا تو صاف سمجھا جائے گا کہ اس کو ولدالحرام بننے کا شوق ہے۔“

(انوارالاسلام ص٣٠، خزائن ج٩ ص٣١)

مرزا ناصر احمد: اس کا حوالہ کیا ہے؟

جناب یحییٰ بختیار: ”انوارالاسلام ص٣٠“

مرزا ناصر احمد: یہ بھی دیکھ لیں گے۔

Mr. Yahya Bakhtiar: Page may be verified

(جناب یحییٰ بختیار: صفحہ کی تصدیق کرلیں)

page 30.

جناب چیئرمین: اگر کتاب ہے تو کتاب دے دیں۔

جناب یحییٰ بختیار: اور اس پر میں آپ سے یہ Request (درخواست) کروں گا کہ یہ جو ہے:”ہماری فتح“ سے کیا مراد تھی مرزا صاحب کی؟

مرزا ناصر احمد: غلبۂ اسلام۔

جناب یحییٰ بختیار: یعنی ایک چیز جو Establish (ثابت) ہوگی یا ہو گئی؟

مرزا ناصر احمد: ہوگی۔

571 جناب یحییٰ بختیار: تو قائل تو پھر Future (مستقبل) میں ہوگا۔ پہلے سے ”ولدالحرام بننے کا شوق“ اس کو کہہ دیا۔

مرزا ناصر احمد: جو مستقبل میں اسلام اتنا غالب آجائے گا......

آپ نے دوسری جگہ لکھا ہے:”ساری دنیا میں اسلام غالب آجائے گا اور نوع انسانی محمد ﷺ کے جھنڈے تلے جمع ہوجائے گی اور یہ حالت ہوگی کہ جو لوگ نبی کریم ﷺ کو ماننے والے نہ ہوں گے ان کی حالت ہوگی چوڑھوں چماروں کی طرح۔“

جناب یحییٰ بختیار: ”ولدالحرام بننے کا شوق“ دیکھئے، مرزا صاحب! میرے پاس شاید یہ عبارت غلط ہو۔ اس واسطے میں کہہ نہیں سکتا۔ مگر جو لکھا ہوا ہے اس کا میں یہ کہہ رہا ہوں، کہتے ہیں کہ:”اور ہماری فتح کا قائل نہیں ہوگا تو صاف سمجھا جائے گا......“

(انوارالاسلام ص٣٠، خزائن ج٩ ص٣١)

٥٩

صفحہ ٦٤٦

646 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

مرزا ناصر احمد: ابھی یہ تو اعلان ہی نہیں کیا گیا کہ ہماری فتح ہو گئی ہے۔ مستقبل کے متعلق!......

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، میں یہی پوچھنا چاہتا تھا، Clarification (وضاحت) چاہتا تھا۔

مرزا ناصر احمد: ہاں مستقبل کی بات ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، میں یہی پوچھنا چاہتا تھا، Clarification (وضاحت) چاہتا تھا۔

مرزا ناصر احمد: مستقبل کے متعلق بات ہے۔ آج کے......

جناب یحییٰ بختیار: مستقبل کے متعلق بات۔ اور ساتھ یہ بھی ہے......

مرزا ناصر احمد: ......اس نسل کے متعلق نہیں ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: 572 کہ: ”اس کو ولد الحرام بننے کا شوق ہے“

مرزا ناصر احمد: یہ سارے اکٹھے آجائیں گے جواب۔ بڑے کھل کر آئیں گے۔ سارے لکھ دیں گے ہم کہ یہ کہا ہے اور اس کا یہ جواب ہے۔ یہ ساری فہرست اگر ہمیں دے دیں تو ہم......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی، جب تک ہمارے پاس جو حوالے ہیں ہم خود Verify (تصدیق) نہ کر لیں......

١؎ یہاں پہنچ کر قادیانی حضرات کے مقدر پر میرا دل خون کے آنسو رو رہا ہے کہ دجال قادیان کا دجال خلیفہ کس طرح سادہ قادیانیوں کے سامنے صرف جھوٹ نہیں بولتے۔ بلکہ جھوٹ سے بھی زیادتی کرتے ہیں۔ حوالہ مذکور میں مرزا قادیانی نے یہ عبارت عبداللہ آتھم سے مباحثہ سے متعلق لکھی۔ جب عبداللہ آتھم مرزا کی پیشین گوئی کے مطابق نہ مرا تو مرزا قادیانی نے اس کے نہ مرنے کے باوجود کہا کہ ہماری فتح ہو گئی۔ ”جو ہماری فتح کا قائل نہ ہوگا اس کو ولد الحرام بننے کا شوق ہے“ مجھ مسکین کی درخواست پر قادیانی کرم فرما یہ حوالہ اپنے طور پر گھر میں دیکھ لیں کہ جو بات مرزا نے اپنے متعلق کہی، مرزا ناصر نے اسے آنحضرت ﷺ سے متعلق قرار دے کر دنیا کی آنکھوں میں اپنے دجل کی مٹی ڈالنی چاہی، اور جو بات ماضی کے متعلق ہے۔ اسے مستقبل سے متعلق کردیا۔ قادیانی یہ حوالہ پڑھیں کہ ان کے خلیفہ کتنے بڑے کذاب ہیں۔ وہ پڑھیں اور فیصلہ کریں ورنہ یاد رکھیں کہ وہ قیامت کے دن یہ نہ کہہ سکیں گے کہ ہمیں کسی نے نہیں سمجھایا تھا۔ مرزا کے حوالہ کی عبارت مرزا ناصر کے استدلال کو قبول کرتی ہے؟ نہیں، ہرگز نہیں۔

٦٠

صفحہ ٦٤٧

647 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

مرزا ناصر احمد: نہیں، جو دینا چاہتے ہیں، وہ دے دیں۔ اس کا ایک جواب بڑا واضح اور بڑا روشن اور ٹھیک، وہ جو ہے وہ سارا آجائے گا سامنے۔ جو لکھا گیا ہے وہ لکھا ہوا ہے۔ جس وجہ سے لکھا گیا وہ وجہ دنیا کے سامنے آنی چاہئے۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، اسی وجہ سے تو ہم Clarification (وضاحت) چاہتے ہیں......

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں۔

جناب یحییٰ بختیار: ورنہ آپ کو تکلیف کیوں دیتے۔

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں وضاحت بڑی ضروری ہے۔

(مرزا کا مخالف جہنمی ہے)

جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! یہ مرزا صاحب فرما رہے ہیں ’’تبلیغ رسالت‘‘ میں صفحہ ٢٧......

مرزا ناصر احمد: کونسا؟ کتاب کون سی ہے؟

جناب یحییٰ بختیار: ’’تبلیغ رسالت‘‘ جلد نہم صفحہ ٢٧۔

’’جو شخص تیری پیروی نہیں کرے گا اور تیری بیعت میں داخل نہیں ہوگا اور تیرا مخالف رہے گا، وہ خدا اور رسول ﷺ کی نافرمانی کرنے والا جہنمی ہوگا۔‘‘

(تبلیغ رسالت ج٩ ص٢٧، تذکرہ ص٣٣٦ طبع٣، مجموعہ اشتہارات ج٣ ص٢٧٥)

573 مرزا ناصر احمد: یہ کہاں کا حوالہ ہے؟

جناب یحییٰ بختیار: ’’تبلیغ رسالت‘‘ کا ہے، جلد نہم۔

مرزا ناصر احمد: جی، یہ دیکھ کے تصدیق یا تردید کریں گے۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، یہ ابھی آپ دیکھ لیجئے۔

Mr. Chairman: The book may be handed over to the witness. Yes,this writing is admitted as already produced?

(جناب چیئرمین: کتاب گواہ کو دی جائے۔ ہاں یہ تحریر مانتے ہیں۔ یا پہلے سے پیش شدہ تحریر کو تسلیم کرتے ہیں) جو Writing (تحریر) دی گئی ہے گواہ اس کو تسلیم کرتا ہے یا نہیں؟

٦١

ISTAN 8th Aug, 1974 No:04

مرزا ناصر احمد: ابھی متعلق!.....

جناب یحییٰ بختیار: (وضاحت) چاہتا تھا۔

مرزا ناصر احمد: ہاں

جناب یحییٰ بختیار: (وضاحت) چاہتا تھا۔

مرزا ناصر احمد: مسئلہ

جناب یحییٰ بختیار:

مرزا ناصر احمد: ......

572 جناب یحییٰ بختیار:

مرزا ناصر احمد: یہ ساری لکھ دیں گے ہم کہ یہ کہا ہے اور اس کا

جناب یحییٰ بختیار: Verify (تصدیق) نہ کرلیں۔

لے یہاں پہنچ کر قادیانی قادیان کا دجال خلیفہ کس طرح سے سے بھی زیادتی کرتے ہیں۔ حوا سے متعلق لکھی۔ جب عبداللہ آتھم نہ مرنے کے باوجود کہا کہ ہماری شوق ہے۔ مجھے مسکین کی درخواست بات مرزا نے اپنے متعلق کہی، م آنکھوں میں اپنے دجل کی مٹی متعلق کردیا۔ قادیانی یہ حوالہ پڑ کریں ورنہ یاد رکھیں کہ وہ قیامت کے حوالہ کی عبارت مرزا ناصر کے

صفحہ ٦٤٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

مرزا ناصر احمد : یہ جو...... ہاں جی، اس میں وہ فقرہ ہے۔ آگے پیچھے اور بھی ہیں۔ تو جواب دیں گے۔

جناب یحییٰ بختیار : اب کل، مرزا صاحب! جو آپ فرما رہے تھے۔ اس پر کچھ ممبران کو ابھی تک Further clarification (مزید وضاحت) کی ضرورت ہے۔ اس لئے میں اسے بہر حال دہراتا ہوں: ”کہ جو شخص خدا اور رسول ﷺ کو نہ مانے....... کیا کوئی شخص جو خدا اور رسول ﷺ کو نہ مانے، وہ ملت اسلامیہ میں رہ سکتا ہے؟

مرزا ناصر احمد : جو شخص......؟

جناب یحییٰ بختیار : بڑا Clear (واضح) ہے جی۔

مرزا ناصر احمد : ہاں، ہاں، بالکل Clear (واضح) ہے۔ جو شخص اللہ اور محمد ﷺ پر ایمان لاتا ہے۔ وہ مسلمان ہے۔ جو شخص اللہ اور محمد ﷺ پر ایمان نہیں لاتا وہ مسلمان نہیں۔

جناب یحییٰ بختیار : اگر یہ کہیں کہ اللہ اور رسول ﷺ کو مانتا ہے تو مسلمان ہے، اگر نہیں مانتا تو مسلمان نہیں......

مرزا ناصر احمد : میں نے یہ الفاظ..... تو کیا فرق پڑتا ہے؟

جناب یحییٰ بختیار : 574...... تو یہ جو مسلمان نہیں رہتا، یہ دائرہ ملت سے خارج ہے...... جو آپ Define کر رہے ہیں...... نہ صرف ملت اسلام سے؟

مرزا ناصر احمد : تو میں کہہ رہا ہوں کہ وہ مسلمان ہی نہیں ہے۔ میں یہ...... بڑا واضح میرا فقرہ تھا، میرے خیال میں۔

جناب یحییٰ بختیار : اور جو مرزا غلام احمد صاحب کو نہیں مانتا؟

مرزا ناصر احمد : جو شخص بھی..... یعنی پہلے سے آگے چلوں گا میں...... جو شخص بھی اللہ اور محمد ﷺ کو مانتا ہے، وہ مسلمان ہے۔ جو بعد میں...... اور جو احکام قرآن کریم میں ہیں، سات سو، نبی اکرم ﷺ کے ارشادات ہیں، یہ کرنا ہے، وہ نہیں کرنا، ان کو نہیں مانتا، وہ گناہ گار ہے۔ جس کے لئے حدیث میں ”کفر“ کا لفظ بھی استعمال ہوا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار : وہ آپ نے Clarify (واضح) کر دیا، اس پر No confusion in there (کوئی ابہام نہیں ہے) سوال صرف یہ تھا کہ جو اللہ اور رسول ﷺ کو نہیں مانتا.....

مرزا ناصر احمد : جو اللہ اور رسول ﷺ کو نہیں مانتا......

٦٢

صفحہ ٦٤٩

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

جناب یحییٰ بختیار: ...... وہ ملت اسلامیہ سے خارج ہے۔......

مرزا ناصر احمد: مسلمان نہیں ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: دائرہ اسلام سے خارج ہے، وہ مسلمان نہیں ہے۔ پھر میں نے آپ سے سوال پوچھا تھا کہ جو مرزا غلام احمد صاحب کو نبی نہیں مانتا، وہ......

مرزا ناصر احمد: ”جو نبی نہیں مانتا“ اگر...... آپ نے صرف ایک فقرہ کہا نا...... اس کا تجزیہ کریں تو دو فقرے بنتے ہیں۔ جو مرزا غلام احمد صاحب کو نبی نہیں مانتا اور اس کے ساتھ ہی اللہ اور رسول ﷺ کو بھی نہیں مانتا، وہ اسلام سے خارج ہے۔

575 جناب یحییٰ بختیار: اس کے ساتھ ہی......

مرزا ناصر احمد: ہاں، اس کے ساتھ ہی اللہ اور رسول ﷺ کو نہیں مانتا، وہ اسلام سے خارج ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: مگر یہ تو نہیں ہے......

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، اگلا فقرہ۔ میں نے ”دو“ کہا ہے ناں۔ اور دوسرے یہ کہ جو مرزا غلام احمد صاحب کو نبی نہیں مانتا، لیکن اللہ اور رسول ﷺ پر ایمان لاتا ہے۔ وہ اسلام سے خارج نہیں ہے؎1

جناب یحییٰ بختیار: مطلب یہ ہوا کہ جو اللہ اور رسول ﷺ پر ایمان لاتا ہے، ان کو مانتا ہے اور مرزا غلام احمد صاحب کو نبی نہیں مانتا۔ وہ پھر بھی مسلمان رہ سکتا ہے؟ گناہ گار ہوگا وہ؟

مرزا ناصر احمد: ہاں، غیر مسلم نہیں ہے۔ گناہ گار ہوگا، ہوگا۔

جناب یحییٰ بختیار: لیکن یہ نہیں کہہ سکتے ہم کہ جو مرزا غلام احمد صاحب کو نبی نہیں مانتا، وہ اللہ اور رسول ﷺ کو بھی نبی نہیں مانتا۔ اللہ اور رسول ﷺ کو بھی نہیں مانتا؟

مرزا ناصر احمد: عام جب یہ ہم بولیں گے فقرہ، تو آپ درست کہہ رہے ہیں۔ عام طور پر یہی ہے۔ لیکن اس میں وہ آ گیا ناں، اتمام حجت والا آ گیا ناں۔ وہ آگے تفریق ہوگئی ناں۔ جو مرزا غلام احمد صاحب کو نبی نہیں مانتا، باوجود اس کے کہ یہ سمجھتا ہے کہ خدا اور رسول ﷺ کا

1؎ مرزا قادیانی کہتا ہے ”خدا تعالیٰ نے میرے اوپر ظاہر کیا کہ ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا، وہ مسلمان نہیں (تذکرہ ص ٦٠٧ طبع سوم مطبوعہ چناب نگر) اب مرزا کہتا ہے جو نہیں مانتا وہ مسلمان نہیں، مرزا ناصر کہتا ہے کہ وہ دائرہ اسلام سے خارج نہیں، یعنی مسلمان ہے۔ اب ان دونوں میں سچا کون؟ یا دونوں جھوٹے۔ قادیانی غور فرمائیں۔

٦٤

KISTAN 8th Aug, 1974 No:04

مرزا ناصر احمد: یہ جو جواب دیں گے۔ جناب یحییٰ بختیار: اس کو ابھی تک clarification میں اسے بہرحال دہراتا ہوں: ”ک خدا اور رسول ﷺ کو نہ مانے، وہ مل مرزا ناصر احمد: جو شخص جناب یحییٰ بختیار: ہاں مرزا ناصر احمد: ہاں، ایمان لاتا ہے۔ وہ مسلمان ہے۔ جو جناب یحییٰ بختیار: ا نہیں مانتا تو مسلمان نہیں...... مرزا ناصر احمد: میں 574 جناب یحییٰ بختیار: ہے...... جو آپ Define کر مرزا ناصر احمد: تو میں میرا فقرہ تھا، میرے خیال میں۔ جناب یحییٰ بختیار: ا مرزا ناصر احمد: جو شخ اور محمد ﷺ کو مانتا ہے، وہ مسلمان سو، نبی اکرم ﷺ کے ارشادات کے لئے حدیث میں ”کفر“ کا لفظ جناب یحییٰ بختیار: ( confusion in there کو نہیں مانتا...... مرزا ناصر احمد: ج

صفحہ ٦٥٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04 .

حکم ہے کہ نبی مانے، اس کا مقام اور ہے اور جو نبی نہیں مانتا اور اس کے اوپر اتمام حجت نہیں ہوئی، اس کا مقام اور ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، یہاں جو مرزا صاحب کہہ رہے ہیں: ”علاوہ اس کے جو مجھے نہیں مانتا وہ خدا اور رسول ﷺ کو بھی نہیں مانتا۔ کیونکہ میری نسبت خدا اور رسول ﷺ کی پیش گوئی موجود ہے۔“

576 مرزا ناصر احمد: وہ شخص جو یہ جانتے ہوئے کہ آپ کی نسبت خدا اور رسول ﷺ کی پیشگوئی موجود ہے، وہ نہیں مانتا، وہ خدا اور رسول ﷺ کو نہیں مانتا۔ یہی میں نے کہا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: وہ دائرہ اسلام اور ملت اسلامیہ دونوں سے باہر ہے؟

مرزا ناصر احمد: ہاں۔ اتمام حجت کے بعد جو باغیانہ طریق اختیار کرے اور وہ تو یہ کہتا ہے ناں کہ ”میں جانتا ہوں، مجھ پر اتمام حجت ہوئی کہ خدا اور رسول ﷺ کا حکم تو یہی ہے کہ مانو۔ مگر میں نہیں مانتا“ وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ خدا اور رسول ﷺ کو نہیں مانتا۔

جناب یحییٰ بختیار: اور ”اتمام حجت“ کا تو ہم آپ سے کل بھی ذکر کر چکے ہیں۔

مرزا ناصر احمد: ہاں، وہ تو ہو گیا کہ جو خدا کے نزدیک اتمام حجت ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: اور اس کا فیصلہ جو ہے......

مرزا ناصر احمد: وہ قیامت کے دن ہوگا۔

جناب یحییٰ بختیار: ...... قیامت کے دن ہوگا۔ اگر اس دنیا میں کوئی آدمی مجھے کہے کہ ”بھئی! یہ اتمام حجت ہو گیا.....“

مرزا ناصر احمد: اور آپ کسی مواخذہ اور سزا کے اس دنیا میں حقدار نہیں بنتے۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، ایک منٹ کے لئے۔ اگر اتمام حجت ہو جائے، اس کے بعد......

١؎ مرزا ناصر کہتے ہیں کہ مرزا کا منکر کون ہے؟ اس کا فیصلہ قیامت کو ہوگا۔ لیکن مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ میری بیعت نہ کرنے والا جہنمی ہے۔ آخرت کو فیصلہ ہونا تھا؟ تو مرزا نے جہنمی کا فیصلہ کیوں سنا دیا؟ معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی کے نزدیک مرزا کا نہ ماننے والا مسلمان نہیں۔ خدا کے نزدیک قابل مواخذہ ہے اور جہنمی ہے۔ لیکن مرزا ناصر کے لئے یہ کہنا گلے کا کانٹا بن گیا۔ نہ اگلے بنے نہ نگلے بنے۔ اس لئے ممبران کے سامنے اس کی درگت بن رہی ہے۔ یہ تو دنیا کا عذاب ہے۔ ”ولعذاب الاخرة اكبر لو كانوا يعلمون (القرآن)“

٦٤

صفحہ ٦٥١

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

مرزا ناصر احمد: اس کے بعد بھی آپ اس دنیا میں نہیں بنتے۔

جناب یحییٰ بختیار: ...... وہ کافر اور ملت اسلامیہ سے باہر ہو جاتا ہے؟

مرزا ناصر احمد: اتمام حجت کے بعد جو شخص باغیانہ ذریعہ اختیار کر کے یہ اعلان کرتا ہے کہ ”خدا اور رسول ﷺ کا حکم تو ہے لیکن میں نہیں مانتا“ تو اس نے خدا اور رسول ﷺ کے حکم کا انکار کیا۔

577 جناب یحییٰ بختیار: اگر کوئی یہ کہے کہ جی ”یہ خدا اور رسول ﷺ کا کوئی حکم نہیں ہے، یہ آپ کا خیال ہے“......

مرزا ناصر احمد: وہ تو میں نے ابھی بتایا جی، وہ دوسری قسم ہے۔ اسی واسطے میں نے کہا کہ پھر آگے دو قسمیں بن جاتی ہیں۔ ایک وہ جو کہتا ہے کہ ”خدا اور رسول ﷺ کا حکم ہے مگر میں نہیں مانتا“ وہ تو دائرہ اسلام، اسلام سے خارج ہو گیا۔ جو یہ کہتا ہے کہ ”میں سمجھتا ہی نہیں کہ خدا اور رسول ﷺ کا حکم ہے“ وہ اسلام سے خارج نہیں ہوا، وہ ملت اسلامیہ سے بالکل خارج نہیں ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: اب ”اتمام حجت“ پر بھی کچھ Clarification (وضاحت) کی مزید ضرورت ہے۔ کیونکہ آپ کو میں نے تکلیف دی، دو دفعہ کہ اس کی وضاحت کریں اور پوزیشن Clear (واضح) نہیں ہوئی۔

مرزا ناصر احمد: کونسا پہلو تشنہ رہ گیا اور اسے Clear (واضح) ہونا چاہئے؟

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، وہ اسی لئے میں آپ کو بتا رہا ہوں۔ آپ کہتے ہیں کہ ”اتمام حجت کے باوجود اس کی دو قسمیں ہیں“ ایک تو وہ عبدالحکیم صاحب ہیں جو بیعت لے آئے، بعد میں وہ مرتد ہوئے۔ یہ آپ کا نقطہ نظر ہے۔ وہ یہ کہتے ہیں کہ ”میں نہیں مانتا۔“ ایک تو وہ کیٹگری ہے کہ......

مرزا ناصر احمد: نہیں، وہ کیٹگری نہیں ہے...... نہیں، ان دو کیٹیگریز میں وہ نہیں ہے۔ کیٹیگریز جو دو بنیں ہماری اس بحث میں، ایک وہ شخص ہے جو اعلان کرتا ہے: ”واستیقنت انفسہم“ میں نے کل قرآن کریم کی آیت: ”واستیقنتھا انفسہم578“ کہ قرآنِ کریم کہتا ہے کہ دنیا میں ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں کہ جن کے دل یقین کرتے ہیں، لیکن وہ انکار کرتے ہیں اس سے۔ یہ قرآن کریم نے بیان کیا ہے......

جناب یحییٰ بختیار: یہ بالکل درست ہے۔

٦٥

KISTAN 8th Aug, 1974 No:04

حکم ہے کہ نبی مانے، اس کا مقام اور اس کا مقام اور ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: مجھے نہیں مانتا وہ خدا اور رسول ﷺ گوئی موجود ہے۔“

576 مرزا ناصر احمد: کی پیشگوئی موجود ہے، وہ نہیں مانتا،

جناب یحییٰ بختیار: وہ

مرزا ناصر احمد: ہاں، کہتا ہے ناں کہ ”میں جانتا ہوں، مجھ مانو۔ مگر میں نہیں مانتا“ وہ دائرہ اسلا

جناب یحییٰ بختیار: او

مرزا ناصر احمد: ہاں،

جناب یحییٰ بختیار: او

مرزا ناصر احمد: وہ قیا

جناب یحییٰ بختیار: کہ ”بھئی! یہ اتمام حجت ہو گیا......“

مرزا ناصر احمد: اور آ

جناب یحییٰ بختیار: کے بعد......

١؎ مرزا ناصر کہتے ہیں کہ قادیانی کہتے ہیں کہ میری بیعت نہ کا فیصلہ کیوں سنا دیا؟ معلوم ہوا کہ کے نزدیک قابل مؤاخذہ ہے اور جہ اگلے بنے نہ ٹکے بنے۔ اس لئے مبا ہے۔ ”ولعذاب الاٰخرۃ اکبر لو

صفحہ ٦٥٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

مرزا ناصر احمد: ..... تو جو ایسے لوگ ہیں، وہ اس اتمام حجت میں آتے ہیں۔ جس کے بعد پھر خدا اور رسول ﷺ کے منکر، بغاوت کی وجہ سے، اور وہ اسلام سے خارج ۔ یہ ایک قسم ہے ......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، .......

مرزا ناصر احمد: ...... دوسری قسم وہ ہے جو یہ نہیں کہتے کہ ”ہمیں سمجھ آ گئی ہے“ اور کہتے ہیں کہ ”ہم نہیں سمجھے صحیح یا غلط“ قطع نظر اس کے یعنی سمجھ آئی ہے یا نہیں، وہ یہ کہتے ہیں کہ ”ہمیں سمجھ نہیں آئی“ اور انکار کرتے ہیں۔ وہ لوگ نہیں ہیں جن پر اتمام حجت ہو چکا ......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں یہ چاہتا ہوں .......

مرزا ناصر احمد: ....... اور اگر مخفی ہوا ہے تو یہ اللہ بہتر جانتا ہے۔ میرا اور آپ کا کام نہیں کہ اس پر حکم لگائیں۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں، ”اتمام حجت“ کا جو مفہوم ہے۔ اسے میں واضح کرانا چاہتا ہوں کہ اگر اتمام حجت ہو جائے تو اس میں کیا ضروری ہے کہ Convince (قائل) بھی ہو جائے؟

مرزا ناصر احمد: ”اتمام حجت“ کے معنی ہی یہ ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: یہ دیکھیں جی، یہ میں نے جو ڈکشنری ......

مرزا ناصر احمد: ”وجحدوا بھا واستیقنتھا انفسھم“

579 جناب یحییٰ بختیار: ”اتمام حجت“ ......

مرزا ناصر احمد: یہ ڈکشنری کون سی ہے؟

جناب یحییٰ بختیار: ”نور اللغات۔“ اور دوسری میں بھی ایسے ہی آ جاتا ہے۔

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، یہ کونسی لغت ہے؟

جناب یحییٰ بختیار: ”نور اللغات“ جلد اول۔

مرزا ناصر احمد: یہ تو کوئی سٹینڈرڈ ڈکشنری نہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: کوئی سٹینڈرڈ ڈکشنری آپ لے آئیے۔ ہم اسی سے دیکھ لیتے ہیں۔

مرزا ناصر احمد: نہیں، یہاں ہونی چاہئے۔ سٹینڈرڈ ڈکشنری یا تو ”مفردات راغب“ ہے، قرآن کریم کے الفاظ کے بیان کے لئے، یا پھر ہماری بڑی بڑی ڈکشنریز۔

جناب یحییٰ بختیار: ”اتمام حجت“ جو ہے ناں جی، میں آپ کو یہاں پڑھ کر سناتا ہوں۔ ڈکشنری کی کوئی Value (قدر و قیمت) نہ ہی سہی، وہ آپ جج کرلیں: ”اتمام

٦٦

صفحہ ٦٥٣

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

حجت: حجت کا پورا کرنا۔ کسی امر میں آخری مرتبہ سمجھانے اور معاملہ طے کرنے کی جگہ۔‘‘

مرزا ناصر احمد: اس کی تو اردو بھی ٹھیک نہیں۔ ڈکشنری کہاں سے ٹھیک ہوگی؟

جناب یحییٰ بختیار: ’’حجت کا پورا کرنا‘‘ اس میں کوئی غلطی ہے؟

مرزا ناصر احمد: ہاں، یہ سارا فقرہ، اردو نہیں ٹھیک۔

جناب یحییٰ بختیار: ’’حجت کا پورا کرنا‘‘......

مرزا ناصر احمد: ’’حجت کا پورا کرنا‘‘ کیا مطلب؟

جناب یحییٰ بختیار: Argument (دلائل) کو Complete (مکمل) کرنا۔

580 مرزا ناصر احمد: پھر لفظی ...... کوئی انگریزی کا فقرہ لے کر اس کا ترجمہ معلوم ہوتا ہے یہ۔ یہی میں نے کہا تھا کہ اس کی اردو درست نہیں ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انگریزی کا فقرہ لے کر اس کا ترجمہ کر دیا۔

جناب یحییٰ بختیار: ’’کسی امر میں آخری مرتبہ سمجھانے اور معاملہ طے کرنے کی جگہ۔‘‘

مرزا ناصر احمد: جو، جو ...... یہ فقرہ بتاتا ہے کہ یہ ڈکشنری معیاری نہیں۔ ’’منجد‘‘ ہے۔ ’’اقرب‘‘ ہے۔ اصل ’’مفردات راغب‘‘ ہے۔ ’’لسان العرب‘‘ ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: آپ کوئی ڈکشنری لے آئیں۔ جو مفہوم آپ دے رہے ہیں ......

مرزا ناصر احمد: ہاں، میں ڈکشنری سے بتا دوں گا۔ یہی تو میں کہہ رہا ہوں۔

جناب یحییٰ بختیار: ...... کہ ’’اتمام حجت‘‘ کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ’’صرف سمجھا دینا، اچھی طرح، آخر تک‘‘ بلکہ یہ ہے کہ ’’وہ Convince (قائل) ہو جائے۔‘‘

مرزا ناصر احمد: میں ...... نہیں، نہیں، میں ذرا تجزیہ کروں اس فقرے کا۔ ’’اتمام حجت‘‘ کے معنی ہو ہی نہیں سکتے کہ ’’سمجھانے والا مطمئن ہو گیا کہ میں نے سمجھا دیا۔‘‘ This is ridiculous (یہ مضحکہ خیز ہے) ’’اتمام حجت کے معنی یہ ہیں کہ ’’جسے سمجھایا گیا ہے وہ مطمئن ہو گیا کہ یہ بات صحیح ہے‘‘ یہ کہنا کہ ’’اتمام حجت‘‘ کے یہ معنی ہیں کہ ’’سمجھانے والا سمجھ جائے کہ جی میں نے تو سمجھا دیا‘‘ یہ مسخرا پن ہے ......

جناب یحییٰ بختیار: میرا یہ مطلب ہے کہ جو Impression ہوتا ہے ......

Mirza Nasir Ahmad: This is ridiculous.

(مرزا ناصر احمد: یہ مضحکہ خیز ہے)

جناب یحییٰ بختیار: میں اس لئے، مرزا صاحب! آپ کی توجہ دلا رہا ہوں ......

٦٧

صفحہ ٦٥٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

581

مرزا ناصر احمد: جی ٹھیک ہے۔ بڑی مہربانی۔

جناب یحییٰ بختیار: ......ڈکشنری سے مطلب یہ نکلتا ہے۔

مرزا ناصر احمد: اصل، صحیح ڈکشنری جو ہے...... یہ ڈکشنری غلط ہے......

جناب یحییٰ بختیار: یہ ڈکشنری غلط ہوگی...... یہ تین چار ڈکشنریاں ہیں......

مرزا ناصر احمد: ......لیکن جو صحیح ہے وہ آپ کے سامنے پیش کردیں گے۔

جناب یحییٰ بختیار: ......کہ وہ...... یہ ہے ان ڈکشنریوں کے مطابق کہ ”اتمام حجت“ کا مطلب یہ ڈکشنری سے نکلتا ہے کہ ”اپنی طرف سے انہوں نے پورا سمجھانے کی کوشش کی......“

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں۔

جناب یحییٰ بختیار: ......Explain (واضح) کرنے کی کوشش کی......“

مرزا ناصر احمد: نہ، نہ، یہی میں نے کہا کہ ”اپنی طرف سے تو مطلب ہے کہ جو سمجھانے والا ہے اس کی تسلی ہوئی ”اتمام حجت“ یہ ہے کہ ”جس کو سمجھایا گیا ہے اس کی تسلی ہوئی۔“

جناب یحییٰ بختیار: یعنی یہ کوشش جو ہے، سمجھانے والے کی ہوتی ہے یا سمجھنے والے کی؟

مرزا ناصر احمد: سمجھنے والے کی۔ سمجھنے والے کی ”اتمام حجت“ سمجھنے والے کی ذہنی کیفیت ہے۔ یہ سمجھانے والے کی نہیں۔ یعنی ایک شخص ہوتا ہے وہ ایک دلیل دے کے کہتا ہے کہ ”میں نے تو اتمام حجت کردیا......“

جناب یحییٰ بختیار: دیکھیں، مرزا صاحب! آپ مجھے سمجھاتے ہیں۔ تو اتمام حجت میں آپ کی بھی Effort (کوشش) ہے، میری بھی Effort (کوشش) ہے......

582

مرزا ناصر احمد: اور نتیجہ آپ کی Effort (کوشش) پر منحصر ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، نتیجہ میری Effort (کوشش) پر ہے کہ میں سمجھا ہوں یا نہیں سمجھا۔ آپ جج نہیں ہیں اس بات کے کہ میں سمجھا ہوں یا نہیں سمجھا......

مرزا ناصر احمد: نہیں میں نہیں جج۔

جناب یحییٰ بختیار: ......آپ نہیں کہہ سکتے کہ ”کافر ہے“

مرزا ناصر احمد: یہی میں نے کہا پہلے، کہ وہ ایک شخص جو خود اعلان، انکار نہ کرے۔ بلکہ سمجھانے والا سمجھے میں نے سمجھا دیا، اتمام حجت کردیا۔ سمجھنے والا سمجھے کہ مجھ پر اتمام حجت نہیں ہوا۔ تو کسی کا حق نہیں کہ وہ اس کے اوپر حکم نازل کرے۔ کیونکہ حدیث میں نبی کریم ﷺ نے یہی فرمایا: ”اشققت قلبہ“ کہ تجھے کیسے معلوم ہوا، اس کے حالات اور ذہن کو دیکھ کر، کہ وہ حقیقتاً نہیں سمجھا؟

٦٨

صفحہ ٦٥٥

655 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

جناب یحییٰ بختیار: یعنی ”اتمام حجت“ کا دوسرا مطلب جو آپ لے رہے ہیں، وہ صرف Convince (قائل) نہیں ہوتا۔ بلکہ کہہ رہے ہیں کہ ”ہاں Convince (قائل) ہو گیا ہوں؟“

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، ”اتمام حجت“ جو ہے۔ میں نے پہلے کہا ہی یہ تھا۔

جناب یحییٰ بختیار: اس لئے تو میں Clarification (وضاحت) لے رہا ہوں۔

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، میں نے یہی کہا تھا کہ جو شخص یہ کہتا ہے کہ ”مجھ پر اتمام حجت ہو گیا، میں جانتا ہوں کہ واقعہ یہی ہے کہ یہ خدا تعالیٰ کا حکم ہے، لیکن پھر بھی نہیں مانتا۔“ کل آپ نے پوچھا تھا ”دنیا میں ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں؟“ میں نے عرض کی تھی کہ ”میں خود گواہ ہوں۔“

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں نے کہا Rare (خال خال) ہوتے ہوں گے۔

583 مرزا ناصر احمد: ہاں، Rare (خال خال)۔ اور پھر میں نے قرآن کریم کی آیت پیش کر دی۔ قرآن کریم کہتا ہے ایسے لوگ ہوتے ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: تو پھر اس Interpretation (توضیح) کے مطابق یہ جو الفاظ آئے ہوئے ہیں کیونکہ میں ......

مرزا ناصر احمد: ہاں، اس Interpretation (توضیح) کے مطابق ”اتمام حجت“ جہاں آئے گا۔ ہمارے لٹریچر میں، اس سے مراد یہ ہوگی کہ وہ Convince (قائل) بھی ہو گیا ہے۔ اگر اس دنیا کا ہے۔ قائل بھی ہو گیا اور اعلان بھی کر دیا ......

جناب یحییٰ بختیار: اعلان بھی کر دیا؟

مرزا ناصر احمد: ...... اور اگر وہ Convince (قائل) ہو گیا ہے اور اعلان نہیں کرتا، تو اس کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہے۔ ہمارا یہ نہیں ہے کوئی کام۔

جناب یحییٰ بختیار: اور یہ جو ریفرنس آرہے ہیں کہ : ”جو ......“

مرزا ناصر احمد: یہ سارے ریفرنس کا یہ مطلب ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، اس کے علاوہ جو باقی ریفرنسز ہیں، ان میں جو کہتے ہیں کہ ”جی کافر ہے“ اور ”دائرہ اسلام سے خارج ہے“......

مرزا ناصر احمد: سارے، اس کے سارے......

جناب یحییٰ بختیار: ...... اس کیٹیگری میں آتے ہیں؟

مرزا ناصر احمد: اس کیٹیگری کے ہیں۔

٦٩

صفحہ ٦٥٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

جناب یحییٰ بختیار: باقیوں پر نہیں Apply (لاگو) ہوتا؟ مرزا ناصر احمد : ہاں۔ لیکن دوسروں کے متعلق ہمارے احادیث میں اور اسلام کے محاورے میں کثرت کے ساتھ ”گناہ“ کو ”کفر“ کے ساتھ تعبیر کیا گیا ہے۔

584 جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں یہ کہتا ہوں، جو آپ کی تحریرات ہیں۔ تقاریر ہیں۔ ان میں جو ایسا ذکر آتا ہے۔ میں ان کی طرف ......

Mr. Chairman: You want to continue, Mr. Attorney- General?

(مسٹر چیئرمین: مسٹر اٹارنی جنرل! کیا آپ جاری رکھنا چاہتے ہیں؟)

Mr. Yahya Bakhtiar: Just five minutes more, Sir.

(جناب یحییٰ بختیار: جناب والا! صرف پانچ منٹ کے لئے)

Mr. Chairman: I see.

(مسٹر چیئرمین: ہاں ٹھیک ہے)

جناب یحییٰ بختیار: آپ یہ دیکھیں نا جی، کہ کل اسی پوائنٹ پر کل میں نے آپ کو پڑھ کر بھی سنایا تھا، پرسوں: ”ہر ایک شخص جو موسیٰ علیہ السلام کو مانتا ہے مگر عیسیٰ علیہ السلام کو نہیں مانتا، عیسیٰ علیہ السلام کو مانتا ہے مگر محمد ﷺ کو نہیں مانتا، محمد ﷺ کو مانتا ہے مگر مسیح موعود کو نہیں مانتا، وہ نہ صرف کافر ہے بلکہ پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔“

(کلمۃ الفصل ص١١٠، مصنفہ مرزا بشیر احمد پسر مرزا قادیانی)

ان سے مراد صرف وہی ہیں جو اتمام حجت کے بعد ......؟

مرزا ناصر احمد : ہاں، ہاں اتمام حجت کے بعد۔

جناب یحییٰ بختیار: یہ میں Clarify (واضح) کرنا چاہتا تھا۔ پھر آگے ہے جی: ”ہم چونکہ مرزا صاحب کو نبی مانتے ہیں اور غیر احمدی آپ کو نبی نہیں مانتے، اس لئے قرآن پاک کی تعلیم کے مطابق کسی نبی کا انکار بھی کفر ہے۔ غیر احمدی بھی کافر ہیں ۔“ تو ......

مرزا ناصر احمد : یہ بھی یہی ہے ”نہیں مانتے“ کا مطلب ......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، ”غیر احمدی“ کا یہ مطلب نہیں کہ سارے کے سارے ......؟

585 مرزا ناصر احمد : نہیں، سارے نہیں۔ وہ غیر احمدی جن پر اتمام حجت اس معنی میں ہو گیا ہے۔ وہ ہے۔

٧٠

صفحہ ٦٥٧

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

جناب یحییٰ بختیار: اور یہ جو آگے انہوں نے فرمایا ہے کہ: ”حضرت مسیح موعود نے غیر احمدیوں کے متعلق صرف وہی سلوک جائز رکھا ہے جو نبی کریم ﷺ نے عیسائیوں کے ساتھ۔“ تو یہ بھی وہی کیٹیگری ہے؟

مرزا ناصر احمد: نہیں، یہ تو چیک کرنے والا حوالہ ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں کل، پرسوں سنا چکا ہوں۔

مرزا ناصر احمد: یہ سنا چکے ہیں؟

جناب یحییٰ بختیار: ہاں۔

مرزا ناصر احمد: اس کا کیا ہے ریفرنس؟

جناب یحییٰ بختیار: یہ ہے جی ”ریویو آف ریلیجنز“ صفحہ ١٢٩۔ یہ میں نے تفصیل سے سنایا ہے۔ میں سارا پڑھ دیتا ہوں پھر آپ کو یاد آ جائے گا۔ یہ پہلی لائن میں نے پڑھی ہے۔ مرزا صاحب! میں تفصیل سے پڑھ دیتا ہوں......

(مرزا ناصر کا اعتراف شرمندگی)

مرزا ناصر احمد: میں بڑا شرمندہ ہوں۔ یہ لکھا ہوا تھا اور جا کے چیک نہیں کیا۔

جناب یحییٰ بختیار: میں یہ تفصیل سے سناتا ہوں۔ پھر آپ کو یاد آ جائے گا۔ کل میں نے سنایا تھا آپ کو کہ: ”حضرت مسیح موعود نے غیر احمدیوں کے ساتھ صرف وہی سلوک جائز رکھا جو نبی کریم ﷺ نے عیسائیوں کے ساتھ کیا۔ غیر احمدیوں سے ہماری نمازیں الگ کی گئیں......“

586 مرزا ناصر احمد: یہ مجھے یاد آ گیا۔ میں تو اس بات پر معذرت کر رہا ہوں کہ انہوں نے نوٹ کیا لیکن چیک نہیں کیا۔ میں بہت شرمندہ ہوں۔ میں ابھی جا کے یہی کام کروں گا۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، اسی واسطے میں کہتا ہوں کہ......

مرزا ناصر احمد: ہاں، چیک کر لیتے ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: ...... چیک کر لیجئے۔ پھر آخری بات...... مرزا صاحب! آپ معاف کریں، I am repeating myself (میں اپنی بات دہرا رہا ہوں)

Mirza Nasir Ahmad: I would have to repeat (مرزا ناصر احمد: مجھے اپنی بات دہرانی پڑے گی) myself.

Mr. Yahya Bakhtiar: No, no, by all means, by all

٧١

صفحہ ٦٥٨

658 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

means.

(جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں، بصد شوق)

میں یہ سمجھتا ہوں کہ جو مرزا بشیر الدین محمود صاحب کہہ چکے ہیں۔ وہ اس میں کوئی Confusion (ابہام) ہو گیا جو آپ کہہ رہے ہیں۔ پوزیشن Clear (واضح) نہیں ہے میرے لئے، میں نہیں سمجھا، اور اس لئے میں کہہ رہا ہوں۔ وہ کہتے ہیں کہ: ”جب کہ یہ مسئلہ بالکل صاف ہے کہ مسیح موعود کے ماننے کے بغیر نجات نہیں ہو سکتی.....“ اب دیکھیں ایک اور کیٹیگری ہے جو کہ......

مرزا ناصر احمد: نجات......

جناب یحییٰ بختیار: ایک منٹ مجھے عرض کرنی ہے۔

مرزا ناصر احمد: ہاں، ٹھیک ہے، ٹھیک ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: اتمام حجت کے بعد ایک آدمی کافر ہو گیا اور کسی کیٹیگری میں چلا گیا اور وہ ختم۔ مگر ایک آدمی جب اس کیٹیگری میں آیا ہی نہیں: ”جب کہ یہ مسئلہ بالکل صاف ہے کہ مسیح موعود کو ماننے کے بغیر نجات نہیں ہو سکتی تو کیوں خواہ مخواہ غیر احمدیوں کو مسلمان ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔“

587

مرزا ناصر احمد: اس میں تو جو بات پہلے ہو چکی......

جناب یحییٰ بختیار: ...... یہ میں کہہ رہا تھا کہ آپ ابھی ان کو غیر احمدی ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں ”ثابت کرنے کی کوشش نہ کریں ۔“ اس پر آپ Further explanation (مزید وضاحت) دیں......

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں......

جناب یحییٰ بختیار: ...... آپ کہتے ہیں: ”اس کے باوجود غیر احمدی، جو ان کو نہیں مانتے، وہ مسلمان کی کیٹیگری میں آتے ہیں“ وہ کہتے ہیں: ”نہیں آتے، آپ کوشش نہ کریں۔“

مرزا ناصر احمد: یہ مسلمان کی اس کیٹیگری میں......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، یہ نہیں کہہ رہے۔

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: اس کو پورے ریفرنس سے دیکھیں۔

مرزا ناصر احمد: ہاں، ریفرنس دیکھ لیتے ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: ریفرنس سے آپ دیکھیں کہ وہ بالکل صاف کہہ رہے ہیں کہ ”کوشش ہی نہ کریں۔ غیر احمدی، جو ان کو نہیں مانتے،......“

٧٢

صفحہ ٦٥٩

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

مرزا ناصر احمد: یہاں سوال یہ ہے....... میں کچھ وضاحت کردوں؟

جناب یحییٰ بختیار: ہاں یہ.......

مرزا ناصر احمد: نہیں، ابھی ہو جائے گی۔ یہاں نجات یافتہ اور غیر نجات یافتہ مسلمان کی بحث ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: آپ نے کہا تھا کہ وہ بڑا مسئلہ ہے، اس دن آپ نے کہا۔ میں یہ پوچھنا چاہ رہا ہوں.......

588 مرزا ناصر احمد: تو میں اس کے متعلق، دس پندرہ منٹ اور نجات کے متعلق کہہ دوں گا۔

جناب یحییٰ بختیار: وہ آپ کل فرما دیجئے یا ابھی شام کو۔ سوال صرف یہ ہے، جو میں آپ کے لئے Explain (واضح) کرنا چاہتا ہوں.......

مرزا ناصر احمد: جی، میں سمجھ گیا۔ آپ کو Confusion (ابہام) یہ ہے کہ جو میں نے کہا اور جو مجھ سے پہلے حضرت خلیفہ ثانی نے فرمایا۔ ان میں جوڑ نہیں ملتا۔

جناب یحییٰ بختیار: مجھے یہ Contradiction (خلاف بیانی) نظر آتا ہے۔ اس سینس sense میں.......

مرزا ناصر احمد: میں یہ سمجھ گیا ہوں۔

جناب یحییٰ بختیار: وہ یہ کہتے ہیں کہ.......

مرزا ناصر احمد: ”تم کوشش کیوں کرتے ہو پھر ان کو.......“

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، کہ ”جو مرزا غلام احمد صاحب کو نبی نہیں مانتے.......“

مرزا ناصر احمد: ”....... ان کو مسلمان بنانے کی کوشش کیوں کرتے ہو۔“

جناب یحییٰ بختیار: ”....... وہ مسلمان نہیں ہیں۔ ان کی نجات نہیں ہوسکتی۔ جو آئندہ بھی نہیں مانیں گے ان کی نجات نہیں ہوسکتی۔“ یہ اتمام حجت والی بات نہیں کہ ان پر اتمام حجت ہو گیا اور انکار کیا۔ نہیں۔ ”جو نہیں مانے گا In future (مستقبل) میں.......“

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں۔

Mr. Yahya Bakhtiar: ......"who would not accept him there is no hope for him. Do not try to make him a Muslim. He is not.

(جناب یحییٰ بختیار: وہ اسے مستقبل میں قبول نہیں کرے گا۔ اس کے لئے امید کی

٧٣

صفحہ ٦٦٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

کوئی کرن نہیں۔اسے مسلمان بنانے کی کوشش نہ کرنا۔وہ نہیں ہے) مرزا ناصر احمد: ”نجات“ کے معنی ”No hope for them“ (اس کے لئے کوئی امید نہیں) نہیں ہیں۔۔۔۔۔۔ جناب یحییٰ بختیار: ”ان کی نجات نہیں ہوسکتی۔۔۔۔۔۔“ 589 Mirza Nasir Ahmad: This must be corrected. (مرزا ناصر احمد: یہ درست کیا جائے) Mr. Yahya Bakhtiar: "......Unless they accept him" (جناب یحییٰ بختیار: تاوقتیکہ وہ اسے مان نہ لیں) مرزا ناصر احمد: نہیں، ”نجات“ کا جب تک ہمیں مطلب نہ سمجھ آئے۔۔۔۔۔۔ جناب یحییٰ بختیار: خیر، وہ جو میں سمجھا ہوں۔۔۔۔۔۔ مرزا ناصر احمد: آپ اس کا ترجمہ نہ کریں۔ جناب یحییٰ بختیار: جو میں سمجھا ہوں اس کے مطابق میں نے۔۔۔۔۔۔ مرزا ناصر احمد: ٹھیک ہے۔

Mr. Chairman: That is all? (جناب چیئرمین: بس یہ کافی ہے)

Mr. Yahya Bakhtiar: Yes. (جناب یحییٰ بختیار: جی ہاں)

Mr.Chairman: The delegation is permitted to leave till 6:0'clock. (جناب چیئرمین: وفد کو ٦ بجے تک کیلئے جانے کی اجازت ہے) (The delegation left the chamber) (وفد چیمبر سے چلا گیا)

Mr. Chairman: Anything which the honourable members may want to bring to the notice. (جناب چیئرمین: کوئی ایسی بات جو معزز اراکین نوٹس میں لانا چاہتے ہوں) مولانا عبدالمصطفیٰ الازہری: جناب سپیکر صاحب! ٧٤

صفحہ ٦٦١

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

جناب چیئرمین: ہاں جی، مولانا عبدالمصطفیٰ الازہری! The rest of the members may please keep sitting. (باقی ممبران تشریف رکھیں) مولانا عبدالمصطفیٰ الازہری نے تقریر کرنی ہے۔ مولانا عبدالمصطفیٰ الازہری: نہیں، تقریر نہیں کرنی ہے، حضرت! جناب چیئرمین: نہیں آپ ..... (مداخلت) آپ تشریف رکھیں ناں جی۔ مولانا عبدالمصطفیٰ الازہری: یہ مولانا ہزاروی صاحب کے پاس ...... (مداخلت) 590 جناب چیئرمین: (اراکین سے) آپ تشریف رکھیں جی۔ تشریف رکھیں۔ ----------

QUOTATIONS UNSUPPORTED BY ORIGINAL

DOCUMENTS

مولانا عبدالمصطفیٰ الازہری: مولانا ہزاروی صاحب کے پاس ایک حوالہ ہے۔ بہت اہم، اور انہوں نے پیش بھی کیا ہے۔ میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ حوالہ ان سے منگوایا جائے 1؎۔

1؎ مولانا عبدالمصطفیٰ الازہری نے جس حوالہ کا ذکر کیا ہے اور سپیکر صاحب وہ پیش کرنے پر آمادہ نہ ہوئے، وہ حوالہ قادیانی حواس باختگی اور ژولیدہ ذہنی کا شاہکار ہے۔ مرزا قادیانی کا مرید تھا جس کا نام سراج الحق تھا۔ اس نے جون ١٩١٥ء میں تذکرۃ المہدی نامی کتاب لکھی۔ اس کے ص١٥٧ پر سراج الحق قادیانی نے کسی شخص کا جو مرزا کا مخالف تھا اس کا واقعہ بدیں الفاظ نقل کیا۔ پڑھئے کہ قادیانی اخلاقیات کا مظہر ہے۔ ’’اس بات پر وہ شخص سخت غضبناک ہوکر رہنے لگا۔ دیکھو جی! مرزا رات کو لگائی (بیوی) سے بدکاری کرتا ہے اور صبح کو بے غسل ...... بھرا ہوا ہوتا ہے اور کہہ دیتا ہے کہ مجھے یہ الہام ہوا اور وہ الہام ہوا۔ میں مہدی ہوں، مسیح ہوں۔‘‘ (تذکرۃ المہدی ص١٥٧) خالی جگہ عبارت جو میں نے نقل کرتے ہوئے چھوڑ دی یہاں قادیانی مصنف نے مرد کی شرم گاہ کا نام جلی حروف میں نمایاں کر کے پنجابی زبان میں لکھا ہے۔ یہ حوالہ قادیانی لٹریچر میں کمینگی کا شاہکار ہے۔ اب قادیانیوں نے اسی کتاب کا کمپیوٹر ایڈیشن شائع کیا یہ واقعہ کمپیوٹر ایڈیشن کے ص١١١ پر آیا ہے۔ لیکن عبارت منقولہ کی جگہ خالی چھوڑ دی۔ اس لفظ کو بمع اصل کے قادیانی ڈکار گئے۔

٧٥

Aug, 1974 No:04 کوئی کرن نہیں۔ ا مرزانا کوئی امید نہیں) ٹیل جناب corrected. (مرزا accept (جناب مرزانا جناب مرزانا جناب مرزانا

(جناب

(جناب tted to leave

(جناب

honourable

(جناب مولا

صفحہ ٦٦٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

جناب چیئرمین: یہ کوئی بات نہیں ہے۔ یہ آپ کی......

مولانا غلام غوث ہزاروی: حوالہ یہ ہے کہ مرزا جی نے ایک گندی جگہ کا نام لیا ہے۔ انہوں نے مجھ سے کہا۔ لیکن حوالہ نہیں ہے ان کے پاس۔ میں ایک بات عرض کرتا ہوں......

جناب چیئرمین: کوئی ضرورت نہیں، میں نے رد کر دیا ہے۔ ان کا......

(مداخلت)

جناب چیئرمین: نہیں، کوئی ضرورت نہیں جواب دینے کی۔ میں نے ان کا اعتراض اور سوال رد کر دیا ہے۔ بالکل Ruled out

مولانا غلام غوث ہزاروی: میں آج کے مباحثے کے بارے میں عرض کرتا ہوں کہ آج مرزا صاحب بری طرح پھنسے ہیں۔ اس لئے کہ ”اتمام حجت“ جس کے معنی وہ کر رہے ہیں جس کو دنیا بالکل تسلیم نہیں کر سکتی۔ ”اتمام حجت“ یہی ہے کہ بولنے والا اتمام حجت پوری کر دے۔ قرآن کریم میں......

جناب چیئرمین: مولانا! یہ پھر بحث کی بات ہے۔ ضابطے کی بات ہو گی۔ یہ آپ کی جو تقریر ہوتی ہے ناں اس میں وقت کا ضیاع ہو رہا ہے۔ (مداخلت)

591 جناب چیئرمین: نہ، نہ، یہ بات جو ہے، یہ اٹارنی جنرل ......

مولانا غلام غوث ہزاروی: میں اپنے بھائیوں کی خاطر تھوڑا سا عرض کرتا ہوں......

جناب چیئرمین: نہیں، کوئی ضرورت نہیں، بعد میں کریں گے۔ بعد میں ساری چیز کریں گے۔

مولانا غلام غوث ہزاروی: میرا مطلب یہ ہے کہ ”اتمام حجت“ قرآن میں ہے: ”مبشرين ومنذرين لئلّا يكون للناس على الله حجة بعد الرسل (النساء: ١٦٥)“

Mr. Chairman: Sardar Moula Bakhsh soomro to please resume his seat; and Mr.Qusuri also.

(مسٹر چیئرمین: سردار مولا بخش سومرو صاحب مہربانی کر کے اپنی نشست پر تشریف رکھیں اور مسٹر قصوری صاحب بھی)

مولانا غلام غوث ہزاروی: اتمام حجت ہوتا ہے، پیغمبر آتے ہی اتمام حجت کے لئے ہیں۔ اور ان کے نہ ماننے سے سارے لوگ ملت اسلامیہ سے خارج ہو جاتے ہیں۔

جناب چیئرمین: ہاں، اچھا ٹھیک ہے۔

صفحہ ٦٦٣

663 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

مولانا غلام غوث ہزاروی: اور یہ جو ہے: ”واستيقنت انفسهم“ اس کا تعلق اتمام حجت سے کوئی نہیں۔ ایسے لوگ موجود ہیں کہ جن کا دل گواہی دیتا ہے۔ لیکن وہ نہیں مانتے۔ جیسا اہل کتاب کے بارے میں قرآن میں ہے: ”يعرفونه كما يعرفون ابناء هم“

جناب چیئرمین: ٹھیک ہے۔ یہ تقریر بعد میں کریں گے ناں جی۔

Any honourable member who would like to say (کیا کوئی معزز رکن کوئی بات کہنا چاہتا ہے) something?

چوہدری ظہور الٰہی صاحب! آپ ......

مولانا غلام غوث ہزاروی: بہرحال، میں ایک بات عرض کرتا ہوں۔ اٹارنی جنرل صاحب کی خاطر، کہ یہ اس وقت کے ستر کروڑ مسلمانوں کے لئے اتمام حجت نہیں کہ وہ مرزا کو مانیں۔

592 جناب چیئرمین: شہزادہ سعید الرشید عباسی! آپ کچھ ......

(مداخلت)

جناب چیئرمین: نہیں، نہیں، آپ تقریر کریں ناں، جس نے کرنی ہے۔ میاں محمود علی قصوری! آپ کچھ کہیں گے؟

میاں محمود علی قصوری: نہیں، جناب! آپ خود فرما رہے ہیں ......

Mr. Chairman: The House is adjourned to meet (مسٹر چیئرمین: ایوان شام ٦ بجے تک کیلئے ملتوی ہوتا ہے) at 6:00 P.m.

(The special committe adjourned for lunch break, re-assemble at 6:00 pm.) (خصوصی کمیٹی کا اجلاس کھانے کے وقفے کے لئے ملتوی ہوتا ہے۔ شام چھ بجے دوبارہ ہوگا)

(The special committee re-assembled after lunch break, Mr. Chairman(Sahibzada Farooq Ali)in the Chair.) (خصوصی کمیٹی کا اجلاس کھانے کے وقفے کے بعد دوبارہ ہوا۔ چیئرمین (صاحبزادہ فاروق) کی صدارت میں)

Mr. Chairman: Are we ready? They may be called (مسٹر چیئرمین: کیا ہم تیار ہیں؟ ان کو بلایا جائے؟)

حضرت مولانا عطاء اللہ صاحب! فرمائیں۔ جی۔ وہ ابھی ان کو بلایا ہے۔

٧٧

8th Aug, 1974 No:04 جناب چیئرمین مولانا غلام غوث ہے۔ انہوں نے مجھ سے کہا جناب چیئرمین اعتراض اور سوال رد کر دیا ۔ مولانا غلام غوث آج مرزا صاحب بری طرح جس کو دنیا بالکل تسلیم نہیں کر قرآن کریم میں ...... جناب چیئرمین کی جو تقریر ہوتی ہے ناں ا 591 جناب چیئر مولانا غلام غوث جناب چیئرمین کریں گے۔ مولانا غلام غوث ”ومبشرين ومنذرين لئل khsh soomro to (مسٹر چیئرمین رکھیں اور مسٹر قصوری صاح مولانا غلام غوث لئے ہیں۔ اور ان کے نہ مان جناب چیئرمین

صفحہ ٦٦٥

664 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

(وہ کسی وقت بھی آجائیں) They may enter at any time.

مولوی مفتی محمود: بلا لیا آپ نے؟

جناب چیئرمین: ہاں، بلالیا۔ آپ سے پوچھ کے۔ Yes, now they are coming.

Yes, the Attorney- General.

(وہ اب آرہے ہیں، جی اٹارنی جنرل)

-------------------

593 CROSS- EXAMINATION OF THE QADIANI

GROUP DELEGATION

جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! کچھ جوابات دے رہے ہیں جو حوالے نوٹ کئے آپ نے؟

مرزا ناصر احمد: جی کچھ تو تیار ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: جو بھی ہیں وہ پہلے آپ فرمادیں۔ پھر میں آگے پوچھتا ہوں۔

مرزا ناصر احمد: ایک تو ”ظل“ اور ”بروز“ کی اصطلاحات کے متعلق تھا ناں۔ تو یہ کہیں تو پڑھ دوں؟

جناب یحییٰ بختیار: یہ اصولاً جو ہے، اگر آپ اچھی طرح کہہ بھی سکتے ہیں تو اگر آپ پڑھ کے سنائیں گے تو Objection (اعتراض) ہو جاتا ہے کہ جواب آپ پڑھ کے سنا رہے ہیں۔

مرزا ناصر احمد: اکثر ان میں سے اقتباسات ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: اقتباسات بیشک پڑھ کرسنائیں آپ۔ باقی مضمون.......

مرزا ناصر احمد: جی، باقی تو ٹھیک ہے۔

جناب چیئرمین: اگر اقتباسات جو ہیں وہ ساتھ فائل ہو جائیں۔

مرزا ناصر احمد: نہیں، وہ سنادیں گے۔ پھر اس کے بعد وہ حوالے ہم نوٹ کرلیں گے۔ پھر وہ فائل کردیں بیشک۔

Mr. Chairman: It would save us a lot of time. (مسٹر چیئرمین: اس سے ہمارا کافی وقت بچے گا) اگر جواب ہو کسی کا مختصر، تو پڑھ کر سنادیں۔

٧٨

665 NATIONAL ASSEMBLY

را صاحب جو اقتباس پڑھیں گے وہ Explain ہے۔ حوالہ بھی سمجھنا ضروری ہے۔ ت بھی سن لیں گے۔

آپ نے فرمایا تھا ”ظلی“ اور ”بروزی“....... نے کل فائل کردیا تھا۔ اپس کر دیا تھا۔ ائل کردیں۔

-

Defin (تعریف) ہے۔ Def (تعریف) ہے۔ Defination may filed. An the evidence. Part of the examin جائے اور یہ شہادت (گواہی) کا حصہ تصور ہوگی) انتخاب خلافت کے اراکین کا فائل۔ یہ تو فائل ہی کردیں۔

Mr. Yahya Bakhtiar: ر دستاویز شامل ہو؟)

Mr. Chairman: Yes, دستاویز شامل ہو)

لکھیں اور Annexure (کاغذات منسلک (تاریخ کے ساتھ)

...

Anne (کاغذات منسلک کریں) اس کی ی، ڈی، اور ساتھ Dated (تاریخ) ہو۔

٧

صفحہ ٦٦٥

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، مرزا صاحب جو اقتباس پڑھیں گے وہ Explain (واضح) ہوگا ناں۔ اس لئے وہ پڑھنا ضروری ہے۔ حوالہ بھی سمجھنا ضروری ہے۔

594 مرزا ناصر احمد: اور سب دوست بھی سن لیں گے۔

یہ سوال تھا ”ظل“ اور ”بروز“ کا جو آپ نے فرمایا تھا ”ظلی“ اور ”بروزی“......

جناب یحییٰ بختیار: وہ تو آپ نے کل فائل کر دیا تھا۔

جناب چیئرمین: نہیں ہوا تھا، واپس کر دیا تھا۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، وہ تو فائل کردیں۔

جناب چیئرمین: وہ فائل کردیں۔

جناب یحییٰ بختیار: وہ تو Definition (تعریف) ہے۔

جناب چیئرمین: یہ Definition (تعریف) ہے۔

Defination may filed. And that will be read as part of the evidence. Part of the examination.

(تعریف کارروائی کے ساتھ لف کی جائے اور یہ شہادت (گواہی) کا حصہ تصور ہوگی)

مرزا ناصر احمد: ایک پرانا تھا، مجلس انتخاب خلافت کے اراکین کا فائل۔ یہ تو فائل ہی کرنا ہے؟

جناب چیئرمین: اس کو بھی فائل کردیں۔

Mr. Yahya Bakhtiar: File as a document, Sir.

(جناب یحییٰ بختیار: جناب! بطور دستاویز شامل ہو؟)

Mr. Chairman: Yes, File as a Document.

(جناب چیئرمین: جی ہاں! بطور دستاویز شامل ہو)

اس کے ساتھ Date (تاریخ) لکھیں اور Annexure (کاغذات منسلک کرنا) شروع کردیں۔ نئے، With date (تاریخ کے ساتھ)

مرزا ناصر احمد: یہ ایک اور ہے......

جناب چیئرمین: Annexure (کاغذات منسلک کریں) اس کی Continuation (تسلسل) میں، اے، بی، سی، ڈی، اور ساتھ Dated (تاریخ) ہو۔

٧٩

صفحہ ٦٦٧

666 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

(مرزا قادیانی کا کہنا کہ کچھ قادیانی تباہ ہوں گے، کچھ باقی رہیں گے)

595 مرزا ناصر احمد : یہ ٢٦؍جنوری ١٩١٦ء کے متعلق ایک وہ تھا سوال، جسے نوٹ کر لیا تھا۔ جو کل شام کو رہ گیا تھا تو آج صبح بھی یہ سوال ہو چکا ہے کہ ٢٦؍جنوری کے ”الفضل“ میں لکھا ہے ”امت“ کا لفظ احمدیوں کے متعلق۔ یہ اس کا جواب ہے۔ یہ حوالہ میں پہلے پڑھ دیتا ہوں ”الفضل“ ٢٦؍جنوری ١٩١٦ء میں وہ پڑھا گیا یہاں ایک حوالہ۔ اس سلسلے میں جو حوالہ پورا ہے وہ یہ ہے، اور فرمایا: ”کہ پہلا مسیح صرف مسیح تھا اس لئے اس کی امت گمراہ ہوئی اور موسوی سلسلے کا خاتمہ ہوا۔ اگر میں بھی صرف مسیح ہوتا تو ایسا ہی ہوتا۔ لیکن میں مہدی اور محمد ﷺ کا بروز بھی ہوں...... اس لئے میری امت کے دو حصے ہوں گے۔ ایک وہ جو مسیحیت کا رنگ اختیار کریں گے اور تباہ ہو جائیں گے۔ دوسرے وہ جو مہدویت کا رنگ اختیار کریں گے اور یہ قیامت تک رہیں گے۔“

یہ تو حضرت خلیفہ اول کی زبانی بات ہے۔ یہ لکھنے والے جو ہیں، خلفاء میں سے نہیں ہیں، ایک اور صاحب ہیں لکھ رہے ۔ اسی کے آگے، اسی پیراگراف کے اگلے حصے میں لکھا ہے:

”ہماری جماعت کی دو پارٹیاں ہو جائیں گی......“

”ہماری جماعت کی“ امت کی نہیں۔ تو وہ ایک لکھنے والا وہاں ”امت“ لکھ گیا۔ اس کے علاوہ ”امت“ کے معنی عربی میں جماعت کے بھی ہیں۔ چنانچہ (عربی) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے امت مسلمہ کو کہ: ”تم میں سے ایک امت ایسی ہونی چاہئے جو خیر کی طرف بلائے۔“

596 اس کا ترجمہ حضرت مولانا ابوالاعلیٰ مودودی صاحب نے یہ کیا ہے...... ”امت“ کے معنی: ”تم میں کچھ لوگ تو ایسے ضرور رہنے چاہئیں......“ ”لوگ“۔ ”امت“ کے معنی یہاں ”لوگ“ کیا گیا ہے۔

حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کا ترجمہ یہ ہے: ”باید کہ باشد از شما گروہے“ انہوں نے ”گروہ“ ترجمہ اس کا کیا ہے ”امت“ کا۔

مولانا وحید الزماں کا ترجمہ ہے: ”ہر آئینہ چاہیے کہ ہو تم میں سے ایک گروہ“ انہوں نے بھی ”گروہ“ ترجمہ کیا ہے۔ تو اس ”الفضل“ کے اس مضمون میں جو لفظ ”امت“ لکھا گیا۔ اس کے ساتھ اسی پیرے کے آخر میں جماعت لکھا گیا اور قرآن کریم نے ”امت“ کو بمعنی ”گروہ“ کے بھی استعمال کیا ہے۔ لوگوں کا، لوگ جب اکٹھے ہو جائیں، تو اس کا

٨٠

667 NATIONAL ASSEMBLY OF

ت“ اس معنی میں استعمال نہیں ہوا جس سے غلط فہمی کا کوئی

ڈکشنری بھی منگوائی گئی تھی۔ یہ ”اتمام حجت“ کے متعلق کے معنی کئے ہیں:

غب“ میں، جو قرآن کریم کے عربی الفاظ کی ایک مستند ستیقنت ھا انفسھم“ کے معنی اب میں بتا رہا ہوں۔

ان واثبات ما فی القلب نفسہ“ کہ جو دل میں کتا ہو کہ بات یوں ہے، اس کا انکار کرنا اور جو دل میں ق رکھتا ہے۔ یہ ”مفردات راغب“ میں ہے۔

ہے: (عربی) ”تلک......“

م نے ابراہیم علیہ السلام کو اس کی قوم کے خلاف حجت ذکر فرمایا کہ بتوں کے ٹوٹنے پر قوم نے حضرت ابراہیم پ نے فرمایا کہ ان بتوں سے پوچھو۔ جن کو تم خدا سمجھتے سار ہو گئے اور انہوں نے شکست کو تسلیم کر لیا۔

) ”قالوا......“ یہ اسی کے ضمن میں ہے۔

س معنی کو میں نے Explain (واضح) کرنے کی ں، وہ معنی آپ لکھتے ہیں: ”میں یہ کہتا ہوں...... میں یہ اور خدا نے عام طور پر میرے لئے آسمان سے نشان موعود ہونے کے بارہ میں خدا کے نزدیک اتمام حجت چکا ہے، وہ قابل مواخذہ ہوگا“

، یہی In continuation (تسلسل میں) پڑھتا ہوں: ”اور اتمام حجت کا علم محض اللہ تعالیٰ کو ہے۔ ہاں مختلف استعداد اور مختلف فہم پر مجہول ہیں اس لئے اتمام ہوگا۔ پس جو لوگ بوجہ عملی استعداد کے خدا کی براہین نی سے سمجھ سکتے ہیں اور شناخت کر سکتے ہیں وہ اگر خدا س درجہ پر ہوں گے اور جو لوگ اس قدر فہم اور علم نہیں

٨١

صفحہ ٦٦٧

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

بھی استعمال کیا گیا ہے۔ اس لئے وہ ”امت“ اس معنی میں استعمال نہیں ہوا جس سے غلط فہمی کا کوئی امکان ہوسکے۔

یہ ”اتمام حجت“ کے متعلق صحیح ڈکشنری بھی منگوائی گئی تھی۔ یہ ”اتمام حجت“ کے متعلق قرآن کریم اور لغت نے جو ”اتمام حجت“ کے معنی کئے ہیں:

لغت میں...... ”مفردات راغب“ میں، جو قرآن کریم کے عربی الفاظ کی ایک مستند لغت ہے، اس میں ”جحدوا بھا واستیقنتھا انفسھم“ کے معنی اب میں بتارہا ہوں۔ ”جحدوا“ کے معنی ”نفی ما فی القلب اثبات واثبات ما فی القلب نفیہ“ کہ جو دل میں ہو اس کا ...... جو دل میں ہو۔ یعنی آدمی سمجھتا ہو کہ بات یوں ہے، اس کا انکار کرنا اور جو دل میں بات نہ ہو اس کا اقرار کرلینا۔ یہ دل سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ ”مفردات راغب“ میں ہے۔

اسی طرح سورۃ ”انعام“ میں ہے: (عربی) ”تلک......“

یہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے ابراہیم علیہ السلام کو اس کی قوم کے خلاف حجت عطاء کی تھی۔ اس حجت کا دوسری جگہ یوں ذکر فرمایا کہ بتوں کے ٹوٹنے پر قوم نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے آکے جب بحث کی تو آپ نے فرمایا کہ ان بتوں سے پوچھو۔ جن کو تم خدا سمجھتے ہو۔ انہی سے پوچھ لو۔ اور اس طرح وہ شرمسار ہوگئے اور انہوں نے شکست کو تسلیم کرلیا۔

سورۃ ”انبیاء“ میں ہے: (عربی) ”قالوا......“ یہ اسی کے ضمن میں ہے۔

بانی سلسلہ احمدیہ نے بھی، جس معنی کو میں نے Explain (واضح) کرنے کی کوشش کی ہے۔ وہ اپنی کتاب میں لکھتے ہیں، وہ معنی آپ لکھتے ہیں: ”میں یہ کہتا ہوں...... میں یہ کہتا ہوں...... کہ چونکہ مسیح موعود میں ہوں اور خدا نے عام طور پر میرے لئے آسمان سے نشان ظاہر کئے ہیں پس جس شخص پر میرے مسیح موعود ہونے کے بارہ میں خدا کے نزدیک اتمام حجت ہوچکا ہے اور میرے دعوے پر وہ اطلاع پاچکا ہے، وہ قابل مواخذہ ہوگا“

اور اس کے بعد آپ لکھتے ہیں، یہی In continuation (تسلسل میں) بیچ میں دوسرا مضمون آگیا۔ اس کو میں چھوڑ رہا ہوں: ”اور اتمام حجت کا علم محض اللہ تعالیٰ کو ہے۔ ہاں عقل اس بات کو چاہتی ہے کہ چونکہ لوگ مختلف استعداد اور مختلف فہم پر مجبول ہیں اس لئے اتمام حجت بھی صرف ایک ہی طرف سے نہیں ہوگا۔ پس جو لوگ بوجہ عملی استعداد کے خدا کی براہین اور نشانوں اور دین کی خوبیوں کو بہت آسانی سے سمجھ سکتے ہیں اور شناخت کرسکتے ہیں وہ اگر خدا کے رسول سے انکار کریں تو وہ کفر کے اول درجہ پر ہوں گے اور جو لوگ اس قدر فہم اور علم نہیں

٨١

N 8th Aug, 1974 No:04

(مرزا قادیانی کا کہنا

595 مرزا ناصر احمد تھا۔ جو کل شام کو رہ گیا تھا تو ہے ”امت“ کا لفظ احمدیوں ”الفضل“ ٢٦ جنوری ١٩١٦ء ہے، اور فرمایا: ”کہ پہلا مسیح ہوا۔ اگر میں بھی صرف مسیح ہ اس لئے میری امت کے دو جائیں گے۔ دوسرے وہ جو م

یہ تو حضرت خلیفہ ہیں، ایک اور صاحب ہیں لک

”ہماری جماعت کی دو پارٹیاں ”ہماری جماعت

کے علاوہ ”امت“ کے معنی عر

اللہ تعالیٰ فرماتا کی طرف بلائے۔“

596 اس کا ترجمہ

کے معنی: ”تم میں کچھ لوگ تو ا

”لوگ“ ”امت

حضرت شاہ ولی نے ”گروہ“ ترجمہ اس کا کیا

مولانا واحدالزماں انہوں نے بھی

”امت“ لکھا گیا۔ اس کے ”امت“ کو بمعنی ”گروہ“ ک

صفحہ ٦٦٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

رکھتے، مگر خدا کے نزدیک ان پر بھی ان کے فہم کے مطابق حجت پوری ہوچکی ہے۔...... خدا کے نزدیک....... ان سے بھی رسول کے انکار کا مواخذہ ہوگا۔ مگر بہ نسبت پہلے منکرین کے کم۔ بہرحال کسی کے کفر اور اس پر اتمام حجت کے بارے میں فرد فرد کا حال دریافت کرنا ہمارا کام نہیں ہے۔ یہ اس کا کام ہے جو عالم الغیب ہے۔ ہم اس قدر کہہ سکتے ہیں کہ خدا کے نزدیک جس پر اتمام حجت ہو چکا ہے اور خدا کے نزدیک جو منکر ٹھہر چکا ہے وہ مواخذہ کے لائق ہوگا۔ اور ہمارا یہ کام نہیں ہے کہ ہم اس کے اوپر......“

یہ ہے ”حقیقت الوحی“ صفحہ ١٨٥، ١٨٤۔

”اتمام حجت“ از روئے لغت: ”دلالت“۔ یہ از روئے لغت...... ”مفردات“ میں ہے کہ: ”حجت ایسی واضح دلالت کو کہتے ہیں جو راہِ حق کو بالکل واضح کردے اور دو متضاد باتوں میں سے ایک کی صحت کی مقتضی ہو۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: (عربی) قل...... کہ ”کامل حجت اللہ ہی کے لئے ہے۔ نیز فرمایا کہ لوگوں کے لئے تمہارے خلاف کوئی حجت نہ ہو بجز ظالموں کے۔ اُس میں اللہ تعالیٰ نے ظالموں کی حجت کو حجت شمار نہیں کیا۔“

599 ”حجت“ کے معنی ”لسان العرب“ میں...... جو ایک اور عربی کی بڑی لغت ہے...... یوں ہیں: ”حجت“ کے معنی ”برہان“ کے ہیں یہ بھی کہا گیا حجت وہ ہوتی ہے جس سے دشمن کو مغلوب کرلیا جائے۔“ یعنی وہ مان لے کہ میں شکست کھا گیا ہوں۔ یعنی جو تم بات کر رہے ہو، وہ درست ہے۔

امام الازہری کہتے ہیں کہ: ”حجت وہ دلیل و طریق ہے جس سے خصومت کے وقت ظفر و غلبہ حاصل ہوجائے۔“

اور یہ ”محیط المحیط“ یہ ہے۔ ”لغات القرآن“ از پرویز: ”حجت: دلیل“ ”محیط“ میں ہے کہ: ”دلیل کو بیّنۃ اس لئے کہتے ہیں کہ اس سے بات واضح اور صاف ہو جاتی ہے اور حجت اس لئے کہتے ہیں کہ اس سے فریقِ مقابل پر فتح حاصل ہو جاتی ہے۔“

وہی کہ وہ اعلان کر دیتا ہے کہ جو بات تم کہہ رہے ہو وہ ٹھیک ہے اور وہ اپنی شکست کا اعلان کر دیتا ہے۔ اور ”اتمام حجت“....... ”اتمام حجت“ بولتے ہیں ناں ہم عام طور پر...... ”اتمام“ کا معنی ”مفردات“ میں ہے: (عربی)

600 ”اتمہ“ وہاں ہے ”اتمامِ حجت“ میں، ایک دوسرا مصدر استعمال کیا گیا ہے۔ جس کا فعل بنتا ہے ”اتمہ“ اور اس کے معنی ہیں کہ: ”دلیل کو اس انتہاء تک پہنچا دینا، ”اتمام“ کے معنی حجت کو

٨٢

صفحہ ٦٦٩

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

اس انتہا تک پہنچا دینا کہ اس کے بعد اس چیز کی حقانیت کے لئے کسی اور چیز کی ضرورت نہ رہے۔‘‘

ہاں، ایک ہے ”کلمۃ الفصل“ وہ جو جس کی معذرت میں نے کی تھی۔ ایک بات تو یہ ہے کہ جو سوال تھا یہاں کیا گیا۔ اس میں مصنف کا نام غلط لکھا ہوا تھا۔ یہ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب، جو ہماری جماعت کے دوسرے خلیفہ ہیں، ان کی کتاب نہیں ہے۔ جو سوال کیا گیا تھا اس میں یہ بتایا گیا تھا کہ اس کے لکھنے والے جماعت احمدیہ کے دوسرے خلیفہ ہیں......

جناب یحییٰ بختیار: ان کی Compilation ہے۔

مرزا ناصر احمد: نہیں، ان کی compilation نہیں ہے۔ یہی میں بتا رہا ہوں۔ انہوں نے نہیں لکھی۔

جناب یحییٰ بختیار: تقریباً ان کو اکٹھا کیا گیا ہے۔

مرزا ناصر احمد: نہ، نہ، نہ، وہ بھی نہیں۔ اس کے لکھنے والے ہیں مرزا بشیر احمد۔ مرزا بشیر الدین محمود احمد، جو جماعت کا خلیفہ ثانی ہیں۔ وہ نہیں ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، وہ تو میں نے علیحدہ کہا۔ وہ تو مرزا صاحب! میں نے کہا ”صاحبزادہ بشیر احمد“ وہ تو میں نے کہا ان کا قول ہے۔

مرزا ناصر احمد: یہ ”کلمۃ الفصل“ کی......

601 جناب یحییٰ بختیار: نہیں، ایک اور حوالہ جو میں نے دیا......

مرزا ناصر احمد: نہیں نہیں، وہ اور حوالہ ہے۔ یہی میں کہہ رہا ہوں۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، مجھے کوئی Confusion (ابہام) نہیں ہے۔

مرزا ناصر احمد: نہیں، وہ تو میں صرف بتا رہا ہوں۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی، ممکن ہے وہ......

مرزا ناصر احمد: میں صرف اتنا بتا رہا ہوں کہ یہ خلیفہ المسیح الثانی کی کتاب نہیں۔ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کی کتاب ہے۔ یہ وضاحت میں کر رہا ہوں، بس۔

یہاں آپ یہ لکھتے ہیں، یہ سارا مضمون ہے اس کا۔ جہاں سے یہ پیرا شروع ہوا ہے۔ جہاں سے حوالہ لیا گیا تھا۔ اس پیرا سے جہاں سے وہ شروع ہوتا ہے۔ اس سے میں شروع کرتا ہوں: ”اس جگہ یہ یاد رہے کہ کفر دو قسم کا ہوتا ہے۔ ایک ظاہری کفر ایک باطنی کفر......“ یہ دراصل فلسفیانہ بحث ہے ایک اور تصنیف پر۔

جناب یحییٰ بختیار: ایک اور کیٹیگری آگئی؟

٨٣

AN 8th Aug, 1974 No:04

رکھتے، مگر خدا کے نزدیک ان نزدیک...... ان سے بھی رسول کسی کے کفر اور اس پر اتمام حجت اس کا کام ہے جو عالم الغیب ہے چکا ہے اور خدا کے نزدیک جو منکر اس کے اوپر......‘‘

یہ ہے ”حقیقت الو

”اتمام حجت“ از

ہے کہ: ”حجت ایسی واضح دلالت سے ایک کی صحت کی مقتضی ہو۔ ہی کے لئے ہے۔ نیز فرمایا کہ لو میں اللہ تعالیٰ نے ظالموں کی حجت

599 ”حجت“ کے مع یوں ہیں: ”حجت“ کے معنی ”غ مغلوب کر لیا جائے۔“ یعنی وہ درست ہے۔

امام الازہری کہتے ظفر و غلبہ حاصل ہو جائے۔“

اور یہ ”محیط المحیط“

ہے کہ: ”دلیل کو بیّنہ اس لئے لئے کہتے ہیں کہ اس سے فریق وہی کہ وہ اعلان کر اعلان کر دیتا ہے۔ اور ”اتمام ح کا معنی ”مفردات“ میں ہے: (

600 ”حجۃ“ وہاں فعل بنتا ہے ”اتمہ“ اور اس کے

صفحہ ٦٧٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

مرزا ناصر احمد : ہاں، ایک اور کیٹیگری ہے جو ہماری پہلی بحث میں نہیں آتی: ”...... ایک ظاہری کفر اور ایک باطنی کفر۔ ظاہر کفر تو یہ ہے کہ انسان کسی نبی کا کھلے طور پر انکار کردے......“ یعنی کہہ دے کہ میں مثلاً حضرت موسیٰ علیہ السلام کو نہیں مانتا، نبی، یا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نہیں مانتا۔ یہ کھلے طور پر انکار جیسے ہوتے ہیں دنیا میں، تو وہ ظاہری کفر ہے: ”...... اور اس کو مامور بہ ہدایت خلق اللہ نہ مانے، جس طرح پر کہ یہود نے مسیح ناصری کا انکار کیا۔“

602 اب یہاں بھی میں اپنی طرف سے یہ بات کہنے لگا ہوں کہ لکھتے ہوئے تو آدمی ان باریکیوں میں ہر جگہ نہیں جاتا...... ”جس طرح پر کہ یہود نے مسیح ناصری کا انکار کیا“ حالانکہ یہود نے مسیح ناصری کا انکار نہیں کیا تھا۔ یہود میں سے جو منکر تھے وہ ”یہود“ کے نام سے پکارے گئے اور جنہوں نے قبول کرلیا، یہود میں سے ایمان لے آئے، وہ کرسچین، انہوں نے ان کو مان لیا۔ میرا مطلب یہ ہے کہ اس قسم کی باریکیوں پر جائیں تو کوئی ایک صفحہ بھی کسی کتاب کا اب ایسا نہیں رہتا جو قابل اعتراض نہ بن جائے: ”...... جس طرح پر کہ یہود نے مسیح ناصری کا انکار کیا یا جس طرح نصاریٰ نے نبی کریم ﷺ کو خدا کی طرف سے نہ مانا......“

حالانکہ ہزاروں اس وقت بھی ہوگئے اور بعد میں بھی ہوتے رہے: ”...... اور باطنی کفر یہ ہے کہ ظاہری طور پر تو کسی نبی پر ایمان لانے کا اصرار کیا جائے اور اس کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مامور سمجھا جائے۔ لیکن حقیقت میں انسان اس نبی کی تعلیم سے بہت دور......“ اب وہ گناہ والا کفر آ گیا ہے کہ کوئی......

جناب یحییٰ بختیار : یہ تو منافق ہوگیا۔

مرزا ناصر احمد : نہیں گناہ...... منافق بھی اور ہے۔ منافق وہ ہے جو دل سے تسلیم کرتا ہے کہ یہ نبی جو ہے سچا نہیں اور اعلان کرتا ہے کہ ”میں ایمان لاتا ہوں“ لیکن یہ وہ گناہ گار ہے جو مثلاً نماز میں کوئی سستی کر جاتا ہے یا کوئی روزوں میں سستی کر جاتا ہے۔ تو عملاً اپنی عملی زندگی میں تعلیم سے دور ہو جاتا ہے۔ تو اس بحث میں وہ حوالہ آیا ہے جو یہاں پیش کیا گیا تھا اور یہ جو پہلی اس کی ابتدائی اٹھان جو ہے، اس کا...... وہ بتاتا ہے کہ یہاں وہ مراد نہیں لی گئی جو غلطی سے، غلط فہمی کی بناء پر، جس کی وجہ سے یہاں اعتراض کر دیا گیا تھا۔

603 جناب یحییٰ بختیار : مرزا صاحب! ایک تو جو آپ نے فرمایا کہ ”امت“ کا مطلب جو ہے، گروہ کے بھی ہیں۔ پارٹی کے بھی ہیں۔ گروپ کے بھی ہیں۔ کسی طبقے کے بھی ہوسکتے ہیں۔

٨٤

صفحہ ٦٧١

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

مرزا ناصر احمد: لوگ۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں لوگ۔ تو اب ہماری جو مشکل ہے۔ اس میں کچھ اضافہ ہی ہو گیا ہے جب آپ کہتے ہیں کہ ”امت محمدیہ“ محمدیہ گروہ، گروپ، پارٹی۔ یہ تو وہی ہیں جو مسلمان ہیں۔

مرزا ناصر احمد: ملت اسلامیہ۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی، ملت اسلامیہ۔

مرزا ناصر احمد: امت محمدیہ۔

جناب یحییٰ بختیار: وہ بڑا سرکل جو آپ نے کہا ناں کہ جس میں ......

مرزا ناصر احمد: جس میں گناہ گار بھی ہیں......

جناب یحییٰ بختیار: ......کافر بھی ہیں......

مرزا ناصر احمد: ہاں، اور درمیانے درجے کا بھی ، سارے ہی ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: وہ کافر جو ہیں وہ نکال کر باقی جو تھوڑا بہت کفر کرتے ہیں۔ وہ بھی اور ......مگر مسلمان ہر حالت میں ہیں وہ؟

مرزا ناصر احمد: ہاں ،مسلمان ہر حالت میں ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: مسلمان ہیں۔ تو اب یہ جو ”دائرہ اسلام“ ہے۔ یہ بھی ایک گروپ ہوگا؟

مرزا ناصر احمد: میں نے اسی واسطے دوسرے دن ایک اور تمثیل لی تھی۔ مجھے شبہ تھا کہ شاید......

604 جناب یحییٰ بختیار: اب مجھے ”دائرہ اسلام“ بڑا گروپ معلوم ہوتا ہے اور ”ملت اسلامیہ“......

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، وہ ”دائرہ اسلام“ چھوٹا گروپ ہے۔ اس کی وجہ میں بتاتا ہوں۔ یہ جب ہم نے ......یہ میں نے ......معاف کریں۔ جب میں نے یہ عرض کی تو بنیاد رکھی اس قول پر...... ”مفردات راغب“ جو قرآن کریم کی لغت ہے۔ انہوں نے ”اسلام“ کے معنی کرتے ہوئے کہا کہ اسلام دو قسم کا ہے۔ ایک اسلام ہے ایمان...... بالا، فوق الایمان۔ اور ایک اسلام ہے ایمان سے نیچے یا دون الاسلام۔ دو قسم کا اسلام ہے۔ تو دائرہ اسلام جو ہماری...... جو یہاں آپ کے سوالات اور میرے جوابات میں آیا کیونکہ ہماری بحث تو ......میری طرف سے بہت زیادتی ہو گی کیونکہ میں تو یہاں بطور Witness (گواہ) کے ہوں......

٨٥

TAN 8th Aug, 1974 No:04

مرزا ناصر احمد: بال ظاہری کفر اور ایک باطنی کفر۔ ظاہر دے کہ میں مثلاً حضرت موسیٰ علی کھلے طور پر انکار جیسے ہوتے ہیں اللہ نہ مانے، جس طرح پر کہ یہود

602 اب یہاں بھی یہ باریکیوں میں ہر جگہ نہیں جاتا.... نے مسیح ناصری کا انکار نہیں کیا تھا جنہوں نے قبول کرلیا، یہود میں مطلب یہ ہے کہ اس قسم کی باریکیو قابل اعتراض نہ بن جائے: ” نصاریٰ نے نبی کریم ﷺ کو خدا حالانکہ ہزاروں ان کفریہ ہے کہ ظاہری طور پر تو کس سے مامور سمجھا جائے۔ لیکن حقیق والا کفر آ گیا ہے کہ کوئی......

جناب یحییٰ بختیار

مرزا ناصر احمد: آ ہے کہ یہ نبی جو ہے سچا نہیں اور مثلاً نماز میں کوئی سستی کر جاتا ہ تعلیم سے دور ہو جاتا ہے۔ تو اس کی ابتدائی اٹھان جو ہے، اس ک بناء پر، جس کی وجہ سے یہاں اس

603 جناب یحییٰ بخت مطلب جو ہے، گروہ کے بھی ا ہو سکتے ہیں۔

صفحہ ٦٧٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں، جی، یہ تو مسئلہ ایسا ہے......

مرزا ناصر احمد: بہرحال، سوال و جواب میں جو چیز آئی، وہ ”مافوق الایمان“ کے متعلق ہم نے کہا، میں نے کہا کہ ”دائرہ اسلام“ ہے...... جو ایمان سے بالا چیز ہے...... تو وہ درجہ اندر کا ہے۔ چھوٹا سرکل دائرہ اسلام کا، وہ بڑا نہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: اس سے خارج ہو کے بھی مسلمان رہ سکتے ہیں؟

مرزا ناصر احمد: ہاں، بڑا درجہ جو ہے وہ ”ملت اسلامیہ“ کا سرکل ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی، وہ میں سمجھ گیا، وہ میں سمجھ گیا۔ اب میں ”اتمام حجت“ پر کچھ مزید وضاحت کی ضرورت سمجھتا ہوں۔ آپ نے فرمایا کہ یہ وہ چیز ہے جو دل سے تعلق رکھتی ہے۔ دل میں ایک چیز ہو، مگر انسان انکار کرے......

605 مرزا ناصر احمد: نہیں، اتمام حجت ہوا یا نہیں ہوا۔ اس شخص کے متعلق جو خود تسلیم نہیں کرتا کہ مجھ پر اتمام حجت ہو گیا۔ یہ دل سے تعلق رکھتا ہے اور انسان کا کام نہیں کہ اس کے اوپر حکم لگائے۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، مرزا صاحب! میں ایک اور چیز کی طرف آ رہا تھا......

مرزا ناصر احمد: اچھا! معاف کیجئے۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، آپ نے کل بھی فرمایا تھا اور آج صبح بھی فرمایا کہ ”اتمام حجت“ کا یہ مطلب ہے کہ اس کو ایک چیز سمجھ آ جائے، پوری دلیل اس کے سامنے ہو جائے اور وہ انکار کرے۔ سمجھ جائے، Convinced (قائل) ہو اور انکار کرے۔

مرزا ناصر احمد: ایک، ایک کیٹیگری......

جناب یحییٰ بختیار: ایک Accept (قبول کرنا) ہاں، ہاں۔

مرزا ناصر احمد: ہاں، ایک قسم یہ ہے کہ سمجھ گیا ہے اور کہتا ہے ”میں سمجھ تو گیا ہوں“ اعلان کرتا ہے: ”میں سمجھ گیا ہوں، مگر مانوں گا نہیں“

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، ہاں، ”میں انکار کرتا ہوں“

مرزا ناصر احمد: ”سمعنا وعصینا“ قرآن کریم کہتا ہے......

جناب یحییٰ بختیار: یہ جو ہے، یہ اس کیٹیگری میں ہے جو مسلمان نہیں ہو سکتا؟

مرزا ناصر احمد: ہاں جی رہ ہی نہیں سکتا۔ آپ ہی انکار کر دیا۔

٨٦

صفحہ ٦٧٣

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، ہاں تو اس پر آپ نے فرمایا کہ اس کے ساتھ اعلان کا ہونا ضروری ہے۔

مرزا ناصر احمد: اس کی طرف سے۔

606 جناب یحییٰ بختیار: ہاں اس کی طرف سے۔ ابھی یہ اعلان مزید Definition (تعریف) ہوگی کہ فرض کرو کہ کسی عالم نے مرزا غلام احمد صاحب کی باتیں سنیں اور وہ Convince (قائل) ہوگیا...... میں ایک مثال دے رہا ہوں۔ وہ Convince (قائل) ہوگیا ہے۔ مرزا صاحب کے نقطہ نظر سے، اور وہ اعلان کرتا ہے کہ ”نہیں، مرزا صاحب سچے نبی نہیں“ تو یہ اعلان......

مرزا ناصر احمد: نہ نہیں، پھر وہ رہ گیا ایک حصہ، ایک حصہ رہ گیا۔ وہ یہ اعلان کرتا ہے کہ ”میں یہ تو سمجھ گیا ہوں کہ یہ سچے ہیں، مگر میں ایمان نہیں لاتا“

جناب یحییٰ بختیار: ہاں ایسے ہی، ایسے ہی۔

مرزا ناصر احمد: ہاں، وہ ایک حصہ رہ گیا تھا ناں۔

جناب یحییٰ بختیار: پھر تو Simple (سادہ) ہے جی۔ Then there is no complication. پھر میں یہ پوچھوں گا کہ جو یہ کیٹیگری ہے کہ اتمام حجت کے بعد جو مرزا صاحب کو نہ مانے اور خدا کا رسول نہ مانے، وہ خدا اور رسول ﷺ کو نہ ماننے کے برابر کافر ہے۔ اتمام حجت کے بعد۔ اس طرح آپ نے Define (تعریف) کیا؟

مرزا ناصر احمد: جس نے خود کہا کہ ”مجھ پر اتمام حجت ہو گیا اور میں نہیں مانتا؟“

جناب یحییٰ بختیار: ”میں نہیں مانتا“ یہ اس کیٹیگری میں ہے، جو کہتا ہے، وہ بالکل ہی کافر، سو فیصد ہی کافر ہے؟

مرزا ناصر احمد: ہاں، وہ کافر ہے، دائرہ اسلام سے خارج۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، دائرہ اسلام سے خارج ہے، کیونکہ وہ تو......؟

مرزا ناصر احمد: نہیں، یعنی وہ تو اسلام ہی سے خارج ہے۔ غیر مسلم ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: وہ تو مسلمان ہی نہیں رہا جی؟

607 مرزا ناصر احمد: ہاں، غیر مسلم ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: میں اس کا کہتا ہوں کہ وہ سو فیصد ہی کافر؟

مرزا ناصر احمد: غیر مسلم کہہ لیں۔

٨٧

صفحہ ٦٧٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

جناب یحییٰ بختیار: مسلمان نہیں رہا وہ؟

مرزا ناصر احمد: ہاں، غیر مسلم۔

جناب یحییٰ بختیار: اب، آپ کے اندازے کے مطابق، کتنے لوگوں نے ایسا اعلان کیا؟

مرزا ناصر احمد: اس میں اندازے کا تو سوال ہی نہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: یعنی علم کیا ہوگا؟

مرزا ناصر احمد: ان کے اپنے علم کے مطابق کہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں! میں علم کا کہہ رہا ہوں۔ علم کے مطابق۔

مرزا ناصر احمد: میرے علم میں یہ تو ہے۔ نہیں، میرے علم میں یہ تو ہے، میں نے خود سنا ہے کہ ”اگر اللہ بھی آجائے اور کہے کہ بانی سلسلہ سچے ہیں۔ تب بھی ہم نہیں مانیں گے ۔“

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، وہ تو ایک اور چیز ہے۔

مرزا ناصر احمد: نہیں، ہاں، وہ ”اگر“ کے ساتھ۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، وہ ”اگر“ کے ساتھ ہے اور ساتھ ہی وہ یہ نہیں کہتے کہ میں Convince (قائل) ہو گیا ہوں۔

مرزا ناصر احمد: میرے علم میں اس وقت ...... میرے علم اور میرے حافظہ میں ...... Combine (اکٹھا) بریکٹ کردیں، علم اور حافظہ ...... کوئی آدمی نہیں۔

(اس وقت کوئی کافر نہیں)

608 جناب یحییٰ بختیار: کوئی آدمی نہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ فی الحال جس نتیجے پر ہم پہنچے ہیں۔ اس کے مطابق کوئی بھی کافر اس وقت نہیں ہے؟

مرزا ناصر احمد: اس سینس Sense میں۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، اس لحاظ سے؟

مرزا ناصر احمد: ہاں، ٹھیک ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: اس لحاظ سے ملت اسلامیہ سے باہر؟

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، بالکل۔

جناب یحییٰ بختیار: دیگر الفاظ میں، ایسا کوئی شخص نہیں جو مسلمان نہ ہو؟

مرزا ناصر احمد: ایسا کوئی شخص نہیں جو اسلام کا دعویٰ کرے اور مسلمان نہ ہو۔

٨٨

صفحہ ٦٧٥

675 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04 جناب یحییٰ بختیار: ہم یہ تو Concede کرتے ہیں ہم ان لوگوں کا ذکر کرتے ہیں جو اللہ اور رسول ﷺ پر ایمان رکھتے ہیں۔ میں عیسائیوں، یہودیوں کا ذکر نہیں کر رہا ہوں۔ مرزا ناصر احمد: ہاں، ایمان رکھتے ہیں...... ہاں، نہیں، ٹھیک ہے۔ جناب یحییٰ بختیار: ہماری بحث یہ ہے کہ جو اللہ اور رسول ﷺ پر ایمان رکھتے ہیں۔ اس کے بعد سوال آتا ہے مرزا غلام احمد صاحب پر کہ ان کو ہم نبی مانتے ہیں یا نہیں۔ سوال ان کا ہے اس وقت۔ اس وقت آپ کی نظر میں ان مسلمانوں میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہیں جس کو آپ کہیں کہ Hundred percent، سو فیصدی کافر ہے؟ مرزا ناصر احمد: ہاں، جو غیر مسلم ہے۔ جناب یحییٰ بختیار: جو کہ علم کی بات ہے۔ اعلان نہیں کرتا۔ مرزا ناصر احمد: ہاں، علم کی۔ غیر مسلم ہے۔ کوئی ایسا نہیں جسے میں غیر مسلم کہوں۔ جناب یحییٰ بختیار: ہے ہی نہیں یا علم میں نہیں ہے؟ 609 مرزا ناصر احمد: میرے علم اور حافظے میں نہیں۔ جناب یحییٰ بختیار: اب دوسری کیٹیگری یہ آجاتی ہے جو اتمام حجت کے بغیر مرزا صاحب کو نہ مانے۔ مرزا ناصر احمد: نہیں، تین قسمیں ہیں یہ۔ جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں آرہا ہوں اس پر۔ جو ہماری بحث ہوئی ہے...... مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں۔ جناب یحییٰ بختیار: ...... اس سے جو میں نتیجے پر پہنچ سکا ہوں...... مرزا ناصر احمد: ہاں جی، ٹھیک ہے، ٹھیک ہے۔ جناب یحییٰ بختیار: پھر جو...... جہاں آپ درست سمجھتے ہیں کہ میں نے غلطی کی ہے۔ وہ آپ پوائنٹ آؤٹ کردیں گے۔ مرزا ناصر احمد: ٹھیک ہے۔ جناب یحییٰ بختیار: جو اتمام حجت کے بغیر مرزا صاحب کو نہ مانے، مگر خدا اور رسول ﷺ کو مانے، وہ کافر کسی حد تک ہے مگر دائرہ اسلام سے خارج نہیں...... مرزا ناصر احمد: ہاں، وہ...... جناب یحییٰ بختیار: ...... اور دائرہ اسلام سے خارج ہے، ملت اسلامیہ سے نہیں؟ ٨٩

8th Aug, 1974 No:04 جناب یحییٰ بخ مرزا ناصر احمد جناب یحییٰ بخ مرزا ناصر احمد جناب یحییٰ بخ مرزا ناصر احمد جناب یحییٰ بخ مرزا ناصر احمد سنا ہے کہ ”اگر اللہ بھی آجائے جناب یحییٰ بخ مرزا ناصر احمد جناب یحییٰ بخ Convince (قائل) ہو مرزا ناصر احمد Combine (اکٹھا) کر

608 جناب یحییٰ پر ہم پہنچے ہیں۔ اس کے مطا مرزا ناصر احمد جناب یحییٰ بخ مرزا ناصر احمد جناب یحییٰ بخ مرزا ناصر احمد جناب یحییٰ بخ مرزا ناصر احمد

صفحہ ٦٧٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

مرزا ناصر احمد : ہاں، ملت اسلامیہ سے خارج بالکل نہیں۔

جناب یحییٰ بختیار : مگر دائرہ اسلام سے خارج ہے؟

مرزا ناصر احمد : وہ ”دائرہ اسلام“ کو چھوڑ دیں۔ اگر اس سے Confusion (ابہام) پیدا ہوتا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار : نہیں......

610 مرزا ناصر احمد : یہ آپ کی مرضی ہے۔ وہ کافر گناہ گار ہے۔ اگر یہ فقرہ بنالیں تو زیادہ واضح ہو جائے گا۔ وہ کافر و گناہ گار ہے۔ لیکن......

جناب یحییٰ بختیار : میں ایسے کہے دیتا ہوں......

مرزا ناصر احمد : ......لیکن ملت اسلامیہ سے خارج نہیں۔

جناب یحییٰ بختیار : میں ایسے کہے دیتا ہوں: پہلے وہ کیٹیگری جو کہ خدا اور رسول ﷺ پر ایمان رکھتے ہیں، مگر اتمام حجت کے باوجود...... جس Sense (معنی) میں آپ نے Interpret (تشریح) کیا ہے اس کو......

مرزا ناصر احمد : نہیں، پھر اگر لکھ لیں کہ ”اتمام حجت“ کے باوجود یہ اعلان کرے کہ......“

جناب یحییٰ بختیار : میں نے کہا ہے ”جسے آپ نے Interpret (تشریح) کیا ہے۔“

مرزا ناصر احمد : ہاں، ہاں۔

جناب یحییٰ بختیار : وہ ریکارڈ ہوچکا ہے۔ ”جیسے Interpret (تشریح) کیا۔“ اسی واسطے میں کہتا ہوں کہ وہ اعلان کرے تو وہ تو بالکل ہی کافر ہے، مسلمان نہیں، جو مرزا صاحب کو نہیں مانتے۔ پھر اس کے بعد ایسے لوگ ہیں جو اللہ اور رسول ﷺ پر ایمان رکھتے ہیں، مگر وہ مرزا صاحب کو اتمام حجت کے بغیر، یعنی ان پر نہیں ہوا......

مرزا ناصر احمد : یعنی وہ کہتے ہیں کہ ”ہم پر نہیں ہوا“

جناب یحییٰ بختیار : ”ہم پر نہیں ہوا۔“

مرزا ناصر احمد : خواہ ہوچکا ہو، لیکن وہ کہتے ہیں۔

611 جناب یحییٰ بختیار : اعلان نہیں کیا انہوں نے، یہی مطلب ہوا ناں؟

مرزا ناصر احمد : ظاہر ہے، ظاہر ہے۔

جناب یحییٰ بختیار : اعلان نہیں کیا ۔ تو وہ کافر ہیں ......

٩٠

صفحہ ٦٧٧

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

مرزا ناصر احمد: وہ کافر گناہ گار ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: ......مگر ملت اسلامیہ سے......

مرزا ناصر احمد: وہ کافر گناہ گار ہیں، مگر ملت اسلامیہ سے خارج نہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: دائرہ اسلام سے خارج، ملت......

مرزا ناصر احمد: نہیں، وہ ملت اسلامیہ سے خارج نہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، یہ سمجھے کہ سو فیصدی کافر نہیں، جسے میں نے پہلے کہا۔

مرزا ناصر احمد: کافر گناہ گار ہیں۔ یعنی ”کفر“ بمعنی کافر کے۔

جناب یحییٰ بختیار: ایک اور کیٹیگری آتی ہے...... میں اس کا علیحدہ ذکر نہیں لانا چاہتا۔ میں اس پر آ رہا ہوں...... اب یہ جو ہے، تیسری کیٹیگری جو ہے...... یہ دو کیٹیگریز تو ہمارے سامنے آگئیں اس وقت۔ ایک وہ جو بالکل ہی کافر، جو کہ اتمام حجت کے باوجود انکار کر رہے ہیں۔ اعلانیہ انکار کر رہے ہیں۔ کوئی ان کی پوزیشن میں شک کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔ پھر اس میں بھی کوئی شک پیدا نہیں ہوتا کہ یہ جو ہیں، ملت اسلامیہ میں ہیں، وہ مسلمان ہیں، گناہ گار کہیں ان کو......

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں۔

جناب یحییٰ بختیار: ......ففٹی (Fifty) پرسنٹ (٥٠ فیصد) کہیں Twenty-five (٢٥ فیصد) کافر کہیں، مگر ہیں مسلمان......

مرزا ناصر احمد: ملت اسلامیہ میں ہیں، اور غیر مسلم ان کو نہیں کہا جاسکتا۔

612 جناب یحییٰ بختیار: تو یہ دونوں جو پوزیشنیں ہیں، واضح ہو گئیں۔

مرزا ناصر احمد: جی۔

جناب یحییٰ بختیار: اور ایک تیسری کیٹیگری وہ ہے جو اتمام حجت کے بعد یا اس کے بغیر خدا اور رسول ﷺ کو مانتے ہیں اور مرزا صاحب پر ایمان رکھتے ہیں، وہ سو فیصدی مسلمان اور سو فیصدی Non-kafir ......میں اس کیٹیگری میں رکھتا ہوں ان کو...... ان کو آپ احمدی سمجھیں یا......

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں۔

جناب یحییٰ بختیار: یعنی ایک کیٹیگری جو ہے ناں یہ...... یہ تین کیٹیگریز جو ہیں، ان میں سے ہمیں کسی پر بھی کوئی Doubt نہیں رہا۔ یہ بحث چل رہی ہے اور ایک کیٹیگری ہے گناہ گاروں کی، جو سب میں ہیں۔

مرزا ناصر احمد: ہاں۔

٩١

صفحہ ٦٧٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

جناب یحییٰ بختیار: وہ ہیں، ہر ایک کیٹیگری میں ہوں گے۔ مرزا ناصر احمد: ہاں، وہ ہر کیٹیگری میں...... جناب یحییٰ بختیار: کافروں میں بھی ہیں۔ مرزا ناصر احمد: احمدیوں میں بھی ہیں، دیوبندیوں میں بھی ہیں۔ جناب یحییٰ بختیار: جو اتمام حجت کے بغیر...... یہ تو سب میں موجود ہیں۔ اس لئے ان کو چھوڑ دیا جائے بیچ میں۔

اب مرزا صاحب! سوال یہ ہے کہ ہر ایک کی پوزیشن کلیئر (Clear) (واضح) ہے۔ ایک وہ جو کہ کافر ہیں، سو فیصدی کافر ہیں اور ان کے کفر میں کوئی شک نہیں۔ اللہ اور رسول ﷺ کو بھی نہیں مانتے۔ مرزا صاحب کو بھی نہیں مانتے اتمام حجت کے باوجود۔ ایک وہ ہیں جو اتمام حجت کے بعد مرزا صاحب کو نہیں مانتے وہ بھی کافر۔ ان میں بھی کوئی شک نہیں ہے۔ پھر باقی جو ہیں وہ مسلمان ہیں۔ ان کی ہم نے کیٹیگریز بنالی ہیں۔

مرزا ناصر احمد: ہاں، کفر! جناب یحییٰ بختیار: تو جب مرزا بشیر احمد صاحب فرماتے ہیں کہ: ”کیوں خواہ مخواہ غیر احمدیوں کو مسلمان ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔“ (کلمۃ الفصل ص ١٢٩) یہ کون سی کیٹیگری ہے؟ مرزا ناصر احمد: وہی جو آپ نے بنائی ہے۔ جناب یحییٰ بختیار: پوزیشن تو بالکل کلیئر Clear (واضح) ہے۔ مرزا ناصر احمد: ہیں؟ جناب یحییٰ بختیار: پوزیشن تو بالکل کلیئر Clear (واضح) ہے۔ مرزا ناصر احمد: یہ کفر و گناہ والی۔ جناب یحییٰ بختیار: دیکھیں ناں جی کہ...... مرزا ناصر احمد: ”کافر و گناہ گار“ کہا تھا نا آپ نے۔ جناب یحییٰ بختیار: میں نے عرض کیا ناں...... میرا سوال سنیں...... ایک کیٹیگری ہے وہ ہیں ہی کافر، کوئی شک ہی نہیں اس پر۔ دوسری کیٹیگری ہیں ہی مسلمان کوئی شک نہیں اس میں۔ گناہ کیا ہوگا اس لئے تو وہ کہتے ہیں کہ ”کیوں ان کو مسلمان ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔“ مرزا ناصر احمد: ”جو گناہ گار ہیں، ان کو بے گناہ کیسے کہتے ہو تم۔“

٩٢

صفحہ ٦٧٩

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی، گناہ گار پھر مسلمان ہیں، مسلمانی تو نہیں ختم ہو جاتی۔ یہ تو ہم Concede کر چکے ہیں مسلمان، ملت محمدی میں شامل ہیں۔ گناہ گار احمدیوں 614 میں بھی ہیں...... گناہ گار کافروں میں بھی ہیں۔ ان کی بات میں نہیں کر رہا۔ یہ بھی کہتے ہیں کہ ”ان کو مسلمان ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔“

مرزا ناصر احمد: نہیں، ”کافر و گناہ گار جو ہیں ان کو بے گناہ ثابت کرنے کی کیسے کوشش کرتے ہو۔“

جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی، یہ میں نہیں......

مرزا ناصر احمد: میں تو ......

جناب یحییٰ بختیار: میرا مطلب جو ہے میں وہ واضح نہیں کر سکا۔ اب میں نے عرض یہ کیا کہ جو کافر ہے۔ اس کے تو مسلمان ہونے کا کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ نہ کوئی اس کو ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

مرزا ناصر احمد: اس کو چھوڑیں۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، وہ تو چھوڑ دیا۔

اب وہ جو کیٹگری ہے کافروں کی، جو کہ اتمام حجت کے باوجود مرزا صاحب پر ایمان نہیں لاتے ۔ وہ ایسے ہی ہیں جیسے خدا اور رسول ﷺ پر ایمان نہیں لاتے۔ ان کا بھی کوئی سوال نہیں پیدا ہوتا، ان کو کون مسلمان ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اب رہ گئی دو اور کیٹگریز جو ان کے مسلمان ہونے میں کوئی شک نہیں ہے......

مرزا ناصر احمد: ہاں، ”ملت اسلامیہ سے باہر“ ان کو کہا ہی نہیں جا سکتا ایک سیکنڈ کے لئے بھی۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، نہیں کیا جا سکتا۔ تو یہ جب کہتے ہیں کہ ”ان کو کیوں خواہ مخواہ مسلمان ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں“ مطلب یہ کہ ”وہ نہیں ہیں اور ثابت کر رہے ہیں“ یہ کس کا ذکر ہو رہا ہے؟

615 مرزا ناصر احمد: میرے نزدیک تو اس میں کوئی تضاد نہیں...... میں اپنی رائے بتا رہا ہوں ناں...... میرے نزدیک اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ کیٹگری جس کے متعلق ہم نے کہا کہ ”ملت اسلامیہ سے باہر نہیں“ ان کو غیر مسلم نہیں کہا جا سکتا۔ لیکن کافر و گناہ گار ہیں۔ تو یہ فرما رہے ہیں یہاں پر کہ ”جو گناہ گار ہے اس کو بے گناہ کیسے ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہو۔“

٩٣

KISTAN 8th Aug, 1974 No:04

جناب یحییٰ بختیار: وہ

مرزا ناصر احمد: ہاں، و

جناب یحییٰ بختیار: کا

مرزا ناصر احمد: احمدیو

جناب یحییٰ بختیار: ج ان کو چھوڑ دیا جائے بیچ میں۔

اب مرزا صاحب ! سوال ایک وہ جو کہ کافر ہیں، سو فیصدی کافر بھی نہیں مانتے۔ مرزا صاحب کو بھی نہ کے بعد مرزا صاحب کو نہیں مانتے وہ مسلمان ہیں۔ ان کی ہم نے کیٹگریز

مرزا ناصر احمد: ہاں، کی

جناب یحییٰ بختیار: تو

”کیوں خواہ مخواہ غیر احم الفصل ص ١٢٩) یہ کون سی کیٹگری ہے؟

مرزا ناصر احمد: وہی جو

جناب یحییٰ بختیار: پوز

مرزا ناصر احمد: ہیں؟

جناب یحییٰ بختیار: پوز

مرزا ناصر احمد: یہ کفر و

جناب یحییٰ بختیار: دی

مرزا ناصر احمد: ”کافر

جناب یحییٰ بختیار: میں وہ ہیں ہی کافر ،کوئی شک ہی نہیں اس گناہ کیا ہو گا اس نے تو وہ کہتے ہیں کہ

مرزا ناصر احمد: ”جو گنا

صفحہ ٦٨٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

جناب یحییٰ بختیار: یعنی گناہ گار تھے وہ......

مرزا ناصر احمد: یہ، یہ جو ہے کون سا حوالہ ہے؟ ممکن ہے، Context اور ہو۔

جناب یحییٰ بختیار: یہ ”کلمۃ الفصل“ صفحہ ١٢٩۔ کل میں نے آپ کو: ”اب جبکہ یہ مسئلہ بالکل صاف ہے کہ مسیح موعود کے ماننے کے بغیر نجات نہیں ہو سکتی تو کیوں خواہ مخواہ غیر احمدیوں کو مسلمان ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔“

میں یہ کہتا ہوں، عرض کرتا ہوں......

مرزا ناصر احمد: جی، جی، یہ نکل آیا ہے۔ میں پڑھ رہا ہوں۔

یہ صفحہ ١٢٩ آپ نے فرمایا ”کلمۃ الفصل ص ١٢٩“

جناب یحییٰ بختیار: میرا خیال ہے، یہاں تو صفحہ ...... ١٢٩ یا ١٢٨ ہے۔ وہ پرنٹ ایسا ہے۔

مرزا ناصر احمد: صفحہ ١٤٨ پر......

جناب یحییٰ بختیار: وہ کل آپ کو بتایا تھا جی یہ۔

مرزا ناصر احمد: ہاں، یہ ١٤٨ پر نہیں وہاں نکلا۔

جناب یحییٰ بختیار: کل آپ کو ایک ریفرنس دیا تھا۔ وہ کہاں ہے بھٹی صاحب!

616 مرزا ناصر احمد: دیکھتے ہیں، دیکھتے ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: یہ کل میں نے آپ کو بتایا تھا۔ آپ نے اس پر Comments (تبصرے) بھی کئے۔

مرزا ناصر احمد: نہیں، میں نے Comments (تبصرے) نہیں کئے وہاں۔ اس وقت تک تو ہمارے پاس یہ کتاب ہی نہیں تھی۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، ممکن ہے کہ Verify (تصدیق) نہ کیا ہو آپ نے۔

مرزا ناصر احمد: ہاں Verify (تصدیق) نہیں کیا۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، نہ کیا ہو۔

مرزا ناصر احمد: یہ سارا صفحہ میں پڑھ دیتا ہوں۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، یعنی یہ چیز میں کہتا ہوں جو یہاں ہے......

مرزا ناصر احمد: وہ یہاں نہیں ہے۔ نظر نہیں آرہی مجھے اور غور سے پڑھ لیتے ہیں۔

٩٤

صفحہ ٦٨١

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

(غیر احمدیوں کو مسلمان ثابت کرنے کی کوشش نہ کی جائے)

جناب یحییٰ بختیار: ”اب جبکہ مسئلہ صاف ہے کہ مسیح موعود کے ماننے کے بغیر نجات نہیں ہوسکتی تو کیوں خواہ مخواہ غیر احمدیوں کو مسلمان ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔“

(کلمۃ الفصل ص ١٢٩)

مرزا ناصر احمد: ”...... کوشش کی جاتی ہے“ یہاں تو نہیں ہے یہ، صفحہ ١٤٨ پر یہ فقرے نہیں ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: یہ نکال لیں جی ہم۔

مرزا ناصر احمد: ہاں، اگر پتہ لگ جائے ابھی۔

Mr. Yahya Bakhtiar: I am sorry, Sir, it was page 128, 129.

(جناب یحییٰ بختیار: مجھے افسوس ہے، یہ صفحہ ١٢٩، ١٢٨ تھا) وہ جو ہے نا جی، پرنٹ ایسا ہے۔ یہ ١٢٩ پر آئے گا۔ ١٢٨ سے شاید شروع ہوا ہے۔

”کلمۃ الفصل ...... ریویو آف ریلیجن ...... اس میں جی: اب جبکہ یہ مسئلہ بالکل صاف ہے کہ مسیح موعود کے ماننے کے بغیر نجات ......

(کلمۃ الفصل ص ١٢٩)

مرزا ناصر احمد: ہاں جی، یہ یہاں ہے، ١٢٩

جناب یحییٰ بختیار: ”...... نہیں ہو سکتی تو کیوں خواہ مخواہ غیر احمدیوں کو مسلمان ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔“

(کلمۃ الفصل ص ١٢٩)

میرا اب

مرزا ناصر احمد: یہ، یہ، یہ ہے۔ یہ بالکل واضح ہے کہ یہاں مسئلہ نجات کا، اور نجات کا تعلق گناہ سے بھی ہے۔ تو یہاں یہ سوال ہے ”جو گناہ گار ہے اس کو بے گناہ ثابت کرنے کی کوشش کیوں کی جاتی ہے۔“

جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! ......

مرزا ناصر احمد: نہیں، میں اس کے معنی کر رہا ہوں۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں، میں آپ کو سوال پورا Explain (واضح) نہیں کر سکا۔ معاف کیجئے، گناہ گار جو ہیں۔ احمدیوں میں بھی ہیں۔ یہاں غیر احمدیوں کی بات ہو رہی

95

صفحہ ٦٨٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

ہے۔ ”کیوں غیر احمدیوں کو مسلمان بنانے، ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔“ تو اس Context میں آپ ذرا ان کو Explain (واضح) کریں۔

مرزا ناصر احمد : ہاں جی، میں اسی کا جواب دے رہا ہوں ......

جناب یحییٰ بختیار : ......کیونکہ آپ یہ نہیں کہیں گے کہ احمدیوں میں گناہ گار نہیں ہیں۔ اس لئے گناہ گار کا یہاں تعلق نہیں ہے۔

مرزا ناصر احمد : میں بات سمجھ گیا۔ میں ابھی واضح کر دیتا ہوں۔

618 گنہگار احمدیوں میں بھی ہیں اور وہابیوں میں بھی ہیں، ساروں میں ہیں۔ اللہ معاف کرے۔ کوئی تھوڑا گناہ گار ہے، کوئی زیادہ گناہ گار۔ اسی واسطے ہم کو ہر وقت استغفار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ لیکن گناہ گناہ میں فرق ہے۔ ایک گناہ ہے چغلی کرنے کا، ایک گناہ ہے غیبت کرنے کا، ایک گناہ ہے چوری کرنے کا۔ یہاں نہ ماننا جو ہے، وہ ایک گناہ ہے اور ہزار گناہوں میں احمدیت میں داخل ہونے والا مبتلا ہو سکتا ہے۔ مگر اس گناہ میں وہ مبتلا نہیں ہوا کہ اس نے انکار نہیں کیا۔ اس واسطے جو یہاں زیر بحث مضمون ہے، اس میں احمدی شامل ہی نہیں ہو سکتا، کیونکہ بات یہ ہے کہ یہ گناہ ......جو شخص یہ گناہ کرتا ہے کہ اس نے جس کو ماننا چاہئے تھا، اپنی ناسمجھی کی وجہ سے اس کو نہیں مانا اور اس طرح ایک حد تک گناہ گار ہو گیا۔ اس کو بے گناہ ثابت کرنے کی کیوں کوشش کی جا رہی ہے۔

جناب یحییٰ بختیار : نہیں مرزا صاحب! میں یہ گزارش کرتا ہوں کہ ”مسلمان ثابت کرنے کی کوشش“ یعنی کہ گنجائش ہی نہیں۔ مسلمان تو وہ ہے، گناہ گار ہے۔ وہ جو میں نے اس دن عرض کیا کہ: ”آخر گناہ گار ہوں کافر نہیں ہوں میں“ یہاں یہ بتایا جا رہا ہے کہ وہ کافر ہیں، آپ ان کو مسلمان ثابت کرنے کی کیوں کوشش کر رہے ہیں۔

مرزا ناصر احمد : یعنی اگر اس کی بجائے یہ ہوتا کہ ”اس کافر گناہ گار کو بے گناہ ثابت کرنے کی کوشش کیوں کی جارہی ہے“ ......

جناب یحییٰ بختیار : ہاں، اگر وہ بات ہوتی تو پھر ......

مرزا ناصر احمد : ......اور زیادہ سخت ہوتی، موجودہ صورت سے زیادہ سخت ہوتی۔

619 جناب یحییٰ بختیار : نہیں، اب تو بالکل صاف یہ لکھا ہے کہ: ”غیر احمدیوں کو مسلمان ثابت کرنے کی کوشش مت کرو کیونکہ ان کی نجات کی کوئی گنجائش نہیں کیونکہ یہ نبی جو ہیں......“

٩٦

صفحہ ٦٨٣

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

مرزا ناصر احمد: پھر نجات کا مسئلہ آگیا۔ اس کو چھوڑیں۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی، میں یہ کہہ رہا ہوں کہ یہاں جو ہے، وہ بالکل صاف الفاظ میں آ جاتا ہے اور میں یہی عرض کر رہا تھا کہ کیٹگری صاف ہے۔

مرزا ناصر احمد: نہیں، وہ حصہ تو صاف ہو گیا۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، وہ مطلب میں اسی واسطے کہہ رہا ہوں کہ ابھی اس کے بعد ہم آگے بڑھ سکتے ہیں۔ کچھ اس میں یہ ہے کہ ایک کیٹگری کافر، Undoubted, ......undiluted

مرزا ناصر احمد: وہ ہو گیا، ہاں وہ ہو گیا۔

جناب یحییٰ بختیار: No doubt ، کیونکہ یہ کوشش، ثابت کرنے کی ضرورت نہیں اور دوسری کیٹیگری مسلمان، کوئی ان کی مسلمانی میں فرق نہیں......

مرزا ناصر احمد: ہاں۔

جناب یحییٰ بختیار: ...... گناہ گار ضرور ہوں گے، پانچ فیصدی کافر ضرور ہوں گے......

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں......

جناب یحییٰ بختیار: ...... پر ملت اسلامیہ میں وہ ہیں......

مرزا ناصر احمد: ہاں، وہ ہیں، بالکل۔

جناب یحییٰ بختیار: ...... اور مسلمان ہیں ان کے مسلمان ہونے میں کوئی Doubt (شک) نہیں ہے۔ تو پھر کون کوشش کر رہا تھا ان کو ثابت کرنے کی؟ کیوں ثابت کر رہا تھا؟

620 مرزا ناصر احمد: دیکھیں ناں، ملت اسلامیہ میں جو ہیں۔ ان میں سے گناہ گار کے لئے ”خارج از اسلام“ کا حدیث نے استعمال کیا ہے لفظ......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی، پھر اس کو کہتے ہیں......

مرزا ناصر احمد: ...... گناہ گار کے لئے، کہ جو ظالم کے ساتھ چلتا ہے: (عربی) ”خرج من الاسلام......“ تو چونکہ ایسے الفاظ ہمارے لٹریچر کی اصطلاح میں تھے۔ اس لئے وہ استعمال کئے۔ اب گھر والا جو ہے...... میں...... مجھ سے آپ مطلب پوچھتے ہیں، میں مطلب بتا دیتا ہوں آپ کو: (عربی) اور یہ ہے یعنی بانی سلسلہ کی ایک کتاب نہیں، کسی خلیفہ وقت کی ایک کتاب نہیں ہے۔ اور......

٩٧

8th Aug, 1974 No:04

ہے۔ ”کیوں غیر احمدیوں Context میں آپ فرما

مرزا ناصر احمد

جناب یحییٰ ہیں۔ اس لئے گناہ گار کا یہ

مرزا ناصر احمد 618 گنہگار احمد معاف کرے۔ کوئی تھوڑا کی ہدایت کی گئی ہے۔ لی غیبت کرنے کا، ایک گناہ گناہوں میں احمدیت میں نے انکار نہیں کیا۔ اس وا کیونکہ بات یہ ہے کہ یہ گ کی وجہ سے اس کو نہیں مانا کیوں کوشش کی جا رہی ہے

جناب یحییٰ بختیار کی کوشش“ یعنی کہ گنجائش ط ”آخر گناہ گار ہوں کافر ت ثابت کرنے کی کیوں کوش

مرزا ناصر احمد کرنے کی کوشش کیوں کی

جناب یحییٰ ب

مرزا ناصر احمد 619 جناب کو مسلمان ثابت کرنے جو ہیں......“

صفحہ ٦٨٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، یہ اگر آپ یہ کہتے ہیں کہ ان کا قول نہیں ہے، تو پھر میں اس پر بات نہیں کروں گا۔ اگر آپ یہ کہتے ہیں ......

مرزا ناصر احمد: اس معنی میں ......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، یہ کہ یہ مسیح ثانی کا قول نہیں ہے؟

مرزا ناصر احمد: اس معنی میں جو آپ لے رہے ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں ، وہ معنی ...... دیکھیں ، مرزا صاحب! میری ایک Difficulty (مشکل) ہے۔ میں Explain (واضح) کر دیتا ہوں کہ جو ایڈووکیٹ ہوتے ہیں اور جو پاکستان یا برٹش سسٹم سے واقف ہیں ...... اور آپ بھی جانتے ہیں کہ ان کی جو Jurisprudence ہے۔ ہمیں یہ بتایا جاتا ہے کہ جو الفاظ کے Simple (سادہ) معنی ہوں ، ظاہر معنی ہوں ، اگر وہ صاف ہوں تو پھر آپ کو کسی اور تعبیر کی اور تشریح کی ضرورت نہیں۔

Words must be taken in their literal, simple sense, and that is the intention of the author, the speaker and the writer. This is the first rule.

(الفاظ کو لغوی اور سادہ معنی میں لینا چاہئے اور یہی مصنف مقرر اور لکھنے والے کا مقصد ہوتا ہے۔ یہ سب سے پہلا اصول ہے)

621 مرزا ناصر احمد: بشرطیکہ وہ اس پر اتھارٹی ہو۔

جناب یحییٰ بختیار: جو اس نے لکھا ہے۔ صاف ظاہر ہوتا ہے۔ تو اس کے بعد آپ یہ نہیں ......

Mirza Nasir Ahmad: If he is an authority.

(مرزا ناصر احمد: بشرطیکہ وہ مسلم حیثیت کا مالک ہو)

Mr. Yahya Bakhtiar: No question. Anybody This is the rule.

(جناب یحییٰ بختیار: اس کا قطعاً سوال نہیں۔ خواہ کوئی بھی ہو۔ یہی اصول ہے)

Mirza Nasir Ahmad: No, no. Then this would be considered as his views, not the views of the Jamaat.

(مرزا ناصر احمد: یہ اس کا نقطہ نظر سمجھا جائے گا، نہ کہ جماعت کا)

٩٨

صفحہ ٦٨٥

685 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

Mr. Yahya Bakhtiar: This is diffrent. (جناب یحییٰ بختیار: یہ الگ بات ہے)

مرزا ناصر احمد: ہاں، میں آپ کو یہ بتا رہا ہوں کہ وہ یہ Views (نقطۂ نظر)...... میں یہی بتانے لگا تھا......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں کہتا ہوں، اگر آپ کہتے ہیں کہ خلیفہ ثانی کا View (نقطۂ نظر) ہے، تب تو ٹھیک ہے۔ میں اس سے آگے پڑھتا ہوں۔

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، یہ خلیفہ ثانی کی تو نہیں، یہ خلیفہ ثانی کی نہیں ہے عبارت۔ یہ تو میں کہہ رہا ہوں۔

جناب یحییٰ بختیار: مرزا بشیر احمد صاحب۔ I am sorry.. (مجھے افسوس ہے)

مرزا ناصر احمد: ہاں، وہ خلیفہ ثانی نہیں ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں مگر وہ جماعت کے ایسے بڑے رہنماء ہیں......

مرزا ناصر احمد: ایک جماعت کے بہت بزرگ ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: ......بزرگ رہنماء ہیں۔ میں یہ عرض کرتا ہوں کہ And he is an authority who can interpret (اور ان کی حیثیت مسلمہ ہے جس کا حوالہ دیا جاسکتا ہے) یہ میں نہیں کہتا کہ جو ان کی Interpretation (توضیح) ہوگی۔ That will prevail over that of Khalifa.

622 Mirza Nasir Ahmad: He is not an authority against Khulifa. (مرزا ناصر احمد: وہ خلیفہ کے مقابلہ میں مسلمہ حیثیت نہیں رکھتا)

Mr. Yahya Bakhtiar: Not against Khulifa. If there is a word of Khulifa,that will prevail, but if there is no word of Khulifa, then this authority will prevail. (جناب یحییٰ بختیار: خلیفہ کے مقابلے میں نہیں۔ اگر خلیفہ کا قول موجود ہو تو وہی قول مانا جائے گا۔ لیکن اگر خلیفہ کا قول موجود نہ ہو تو پھر یہ بات تسلیم کرنا ہوگی)

مرزا ناصر احمد: ہاں، اگر اس کے علاوہ اور کوئی نہیں۔

٩٩

صفحہ ٦٨٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

جناب یحییٰ بختیار: کوئی اتھارٹی نہیں۔ تو میں کہتا ہوں ان کا یہ جو قول ہے: ”اب جبکہ مسئلہ بالکل صاف ہے کہ مسیح موعود کے ماننے کے بغیر نجات نہیں ہوسکتی تو کیوں خواہ مخواہ غیر احمدیوں کو......“

آپ ذرا غور فرمائیں کہ ”غیر احمدی“ is very important from my point of view (یہ نقطہ نظر بہت اہم ہے) اور اس کے بعد: ”......مسلمان ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہو۔“ مطلب یہ ہے جنہوں نے مرزا غلام احمد صاحب کو نبی نہیں تسلیم کیا، نبی نہیں مانا، ان کو ”غیر احمدی“ کہا گیا اور صاف کہا گیا کہ ان کو مسلمان ثابت کرنے کی کوشش نہ کریں، وہ مسلمان نہیں ہیں، نہیں ہیں، نہیں ہیں۔ ......This is how i understand (میں اس کا مطلب سمجھتا ہوں)

مرزا ناصر احمد: ہاں۔

Mr. Yahya Bakhtiar: ......Literal fact.

(جناب یحییٰ بختیار: لغوی معنی میں)

(مرزا کے نہ ماننے والے مسلمان نہیں)

Mirza Nasir Ahmad: And this is what I deny.......

(مرزا ناصر احمد: اور میں اس سے انکار کرتا ہوں)

Mr. Yahya Bakhtiar: No, that is for you.

(جناب یحییٰ بختیار: نہیں، یہ آپ پر منحصر ہے)

ابھی وہ آگے فرماتے ہیں اس کتاب میں: ”......جو تمام رسولوں کا ماننا جزو ایمان نہیں سمجھتے۔ پس اس آیت کے تحت ہر ایک شخص جو موسیٰ علیہ السلام کو تو مانتا ہے مگر عیسیٰ علیہ السلام کو نہیں مانتا، یا عیسیٰ علیہ السلام کو مانتا ہے مگر محمد ﷺ کو نہیں مانتا......“

(کلمۃ الفصل ص ١١٠)

623مرزا ناصر احمد: یہ ہم پھر پیچھے چلے گئے۔ وہ جو ہم نے فیصلہ کر لیا تھا ناں......

جناب یحییٰ بختیار: یہ میں اس لئے کہہ رہا ہوں......

مرزا ناصر احمد: ......”اتمام حجت“ والا فیصلہ، جو ایک دفعہ کرچکے ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، یہ: ”محمد ﷺ کو نہیں مانتا، اور محمد ﷺ کو تو مانتا ہے مگر مسیح موعود کو نہیں مانتا، وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔“

(کلمۃ الفصل ص ١١٠)

١٠٠

صفحہ ٦٨٧

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

میں عرض اس لئے کر رہا ہوں کہ کیوں Repeat کر رہا ہوں۔ ایک Writer speaker، author (مصنف مقرر) کی Intention (مدعا) جو ہے۔ وہ اس کی بار بار جو چیز کہتے ہیں اس سے بھی ظاہر ہوتی ہے کہ دائرہ اسلام سے خارج سمجھتے ہیں اور پھر غیر احمدی کو مسلمان سمجھتے ہیں اور ہم نے جو کیٹیگریز متعین کی ہیں......

مرزا ناصر احمد: ”جو ہم نے کی ہیں“...... اگر اس خاکسار کو بھی ”ہم“ میں شامل کر رہے ہیں......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی، آپ نے، جو آپ نے کی ہیں۔ میں تو آپ سے پوچھ رہا ہوں۔

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، نہیں، نہیں، اوہو! میری بات سنئے، نہیں، نہیں، میں اعتراض نہیں کر رہا کوئی، میں بات کر رہا ہوں۔ میں تو یہ کہہ رہا ہوں کہ اگر خاکسار کو بھی اس میں شامل کیا گیا ہے تو بطور خلیفہ وقت۔ اس اتھارٹی کو میرے مقابلے میں پیش نہیں کیا جاسکتا۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، وہ تو میں مانتا ہوں۔ اس پر...... اگر آپ کو reject (رد) کریں۔ تب تو کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

624 مرزا ناصر احمد: میں اس کے اس مفہوم کو Reject (رد) کرتا ہوں اور میری ناقص رائے میں اس کا ایک ایسا مفہوم بھی ہے جو ہماری بنائی ہوئی کیٹیگریز کے اندر بالکل فٹ آجاتا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: تو یہ جو کہہ رہے ہیں: ”آپ کیوں خواہ مخواہ ثابت کر رہے ہیں“ غلط بات ہے؟

مرزا ناصر احمد: یہ گناہ گار ہیں، یعنی میرے نزدیک۔

جناب یحییٰ بختیار: یعنی یہ غیر احمدی کے بارے میں جو کہا، وہ غلط بات ہے؟

مرزا ناصر احمد: جو آپ کی Interpretation (مفہوم) ہے، وہی لی جائے تو غلط بالکل۔

جناب یحییٰ بختیار: یعنی یہ Plain لفظ جو کہہ رہے ہیں......

مرزا ناصر احمد: جو آپ کی Interpretation (مفہوم) ہے اس لحاظ سے یہ بات غلط ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! میری کوئی Interpretation (مفہوم) نہیں ہے۔ مرزا صاحب میری کوئی ڈکشنری نہیں۔ میں تو وہ Ordinary (عام) ڈکشنری جو

101

N 8th Aug, 1974 No:04

جناب یحییٰ بختیار: جبکہ مسئلہ بالکل صاف ہے کہ احمدیوں کو......“

آپ ذرا غور فرمائیں point of view (یہ نقطہ کوشش کر رہے ہو۔“ مطلب مانا، ان کو ’غیر احمدی‘ کہا گیا مسلمان نہیں ہیں، نہیں ہیں، نہ مطلب سمجھتا ہوں)

مرزا ناصر احمد: fact.

(جناب یحییٰ بختیار: (مرزا what I deny. ...... (مرزا ناصر احمد: for you. (جناب یحییٰ بختیار

ابھی وہ آگے فرماتے سمجھے۔ پس اس آیت کے تحت مانتا، یا عیسیٰ علیہ السلام کو مانتا

623 مرزا ناصر احمد: جناب یحییٰ بختیار: مرزا ناصر احمد: جناب یحییٰ بختیار: موعود کو نہیں مانتا، وہ نہ صرف کافر

صفحہ ٦٨٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

ہے اسی پر چلتا ہوں......

مرزا ناصر احمد : نہیں، نہیں Interpretation (مفہوم)......

جناب یحییٰ بختیار : ......Interpretation (مفہوم) پر نہیں۔

مرزا ناصر احمد : میں نے ”ڈکشنری“ نہیں کہا......

جناب یحییٰ بختیار : نہیں، میں عرض کر رہا تھا کہ......

مرزا ناصر احمد : میں نے Interpretation (مفہوم)......

جناب یحییٰ بختیار : ......اس میں کہتے ہیں ”غیر احمدی“ اب میرے نزدیک ”غیر احمدی“ وہ ہیں جنہوں نے نبی مرزا صاحب کو نہیں مانا......

مرزا ناصر احمد : میں آپ کی بات سمجھ 625 گیا۔

جناب یحییٰ بختیار : ......دوسرے وہ کہتے ہیں کہ ”مسلمان“ میں مسلمان کی وہی Definition (تعریف) چاہتا ہوں......

مرزا ناصر احمد : وہی ہوگی ہم نے ایک......Agree (اتفاق) کر گئے ہم......

جناب یحییٰ بختیار : وہ کہتے ہیں کہ ”ان کو مسلمان......“ غیر احمدیوں کو مسلمان ثابت کرنے کی کوشش نہ کریں۔ میں صرف یہ عرض کر رہا تھا کہ یہاں پر Confusion (ابہام) کوئی نہیں۔ ایک کیٹگری کافروں کی ہے، ان پر شک نہیں۔ دوسری کیٹیگری ان کی ہے جو کہ کافر ہیں مگر ہیں مسلمان، ان میں بھی کوئی شک نہیں......

مرزا ناصر احمد : ہاں، کافر و گناہ گار۔

جناب یحییٰ بختیار : ......کون ثابت کرنے کی کوشش کر رہا تھا؟ اور کن کو ثابت کرنے کی کوشش کر رہا تھا؟

مرزا ناصر احمد : ہاں، ٹھیک ہے۔

جناب یحییٰ بختیار : ......یہ میرا Question (سوال) تھا۔

مرزا ناصر احمد : وہ ٹھیک ہے۔ وہ ٹھیک ہے۔ میں یہ کہتا ہوں اگر اس کی اس Interpretation (مفہوم) کے علاوہ، جو اس وقت آپ نے کی، اور کوئی Interpretation (مفہوم) ممکن نہ ہو تو اس کو رد کرتا ہوں میں۔

جناب یحییٰ بختیار : ہاں، نہیں، وہ اور بات ہے کہ آپ اس کو Reject (رد) کرتے ہیں۔

١٠٢

689 NATIONAL ASSEMB

(رد) کرتے ہیں۔

ان کا یہ جو دوسرا حوالہ میں نے آپ کو سنایا : ”کافر

روشنی میں چلے جائیں گے۔

Expla (واضح) کرتے ہیں؟

گیا۔ بلکہ زیادہ دیر ہو رہی ہے۔

Mr. Chairman: T

withdraw, to report at 8:00 p.m

نے کی اجازت ہے۔ وفد آٹھ بجے رات واپس

(The deligation b

سے چلا گیا)

Mr. Chairman: Th

at 8:00 p.m for Maghrab pray

کے لئے اجلاس آٹھ بجے تک ملتوی کیا جاتا ہے)

[The special Comm

prayers to meet at 8:00 p.m.]

ز کے لئے ملتوی کیا جاتا ہے۔ رات آٹھ بجے

[The special Committe

prayers, Mr. Chairman(Sahib

ماز کے بعد دوبارہ ہوا۔ چیئرمین (صاحبزادہ

صفحہ ٦٨٩

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

مرزا ناصر احمد: ہاں، Reject (رد) کرتے ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: اب اسی طرح ان کا یہ جو دوسرا حوالہ میں نے آپ کو سنایا: ”کافر اور پکا کافر ہے“......

(کلمۃ الفصل ص ١١٠)

626 مرزا ناصر احمد: سارے اسی کی روشنی میں چلے جائیں گے۔

جناب یحییٰ بختیار: ...... اسی کو Explain (واضح) کرتے ہیں؟

چوہدری ظہور الٰہی: نماز کا وقت ہوگیا۔ بلکہ زیادہ دیر ہورہی ہے۔

جناب چیئرمین: اچھا، بہت اچھا۔

جناب یحییٰ بختیار: نماز کے بعد جی۔

Mr. Chairman: The delegation is permitted to withdraw, to report at 8:00 p.m.

(جناب چیئرمین: وفد کو باہر جانے کی اجازت ہے۔ وفد آٹھ بجے رات واپس آئے گا)

(The deligation left the chamber.)

(وفد ہال سے چلا گیا)

Mr. Chairman: The House is adjourned to meet at 8:00 p.m for Maghrab prayers.

(جناب چیئرمین: مغرب کی نماز کے لئے اجلاس آٹھ بجے تک ملتوی کیا جاتا ہے)

[The speacial Committee adjourned for Maghrab prayers to meet at 8:00 p.m.]

(خصوصی کمیٹی کا اجلاس مغرب کی نماز کے لئے ملتوی کیا جاتا ہے۔ رات آٹھ بجے دوبارہ ہوگا)

[Thr special Committee re-assembled after Maghrab prayers, Mr. Chairman(Sahibzada Farooq Ali)in the Chair.]

(خصوصی کمیٹی کا اجلاس مغرب کی نماز کے بعد دوبارہ ہوا۔ چیئرمین (صاحبزادہ فاروق علی) کی صدارت میں)

———

١٠٣

8th Aug, 1974 No:04

ہے اسی پر چلتا ہوں......

مرزا ناصر احمد:

جناب یحییٰ بختیار:

مرزا ناصر احمد:

جناب یحییٰ بختیار:

مرزا ناصر احمد:

جناب یحییٰ بختیار:

احمدی ”وہ ہیں جنہوں نے آ

625 مرزا ناصر احمد:

جناب یحییٰ بختیار:

Definition (تعریف

مرزا ناصر احمد:

جناب یحییٰ بختیار:

کرنے کی کوشش نہ کریں

کوئی نہیں۔ ایک کیٹگری کا

مگر ہیں مسلمان، ان میں ک

مرزا ناصر احمد:

جناب یحییٰ بختیار:

کی کوشش کر رہا تھا؟

مرزا ناصر احمد:

جناب یحییٰ بختیار:

مرزا ناصر احمد:

erpretation

) Interpretation

جناب یحییٰ بختیار:

کرتے ہیں۔

صفحہ ٦٩٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

INTERRUPTIONS BY THE WITNESS WHEN A

QUESTION IS PUT

صاحبزادہ صفی اللہ: آپ نے کل فرمایا تھا کہ جب تک اٹارنی جنرل سوال کو ختم نہ کر لیں تو گواہ کو چاہئے کہ وہ مداخلت نہ کرے۔ لیکن کل سے اب تک اس نے اس پر بالکل عمل نہیں کیا اور اٹارنی جنرل کے سوال کے دوران وہ بحث شروع کرتا ہے یعنی اس سے قطع کلام کرتا ہے۔

627 جناب چیئرمین: نہیں، میں بالکل روکوں گا بھی، ٹوکوں گا بھی، اٹارنی جنرل صاحب کہتے ہیں کہ یہ طریقہ کار وہ یہ سمجھتے ہیں کہ بہتر ہے۔

صاحبزادہ صفی اللہ: نہیں، وہ مداخلت کرتا ہے۔

جناب چیئرمین: وہ اٹارنی جنرل ......

جناب محمد حنیف خان: انہوں نے، اٹارنی جنرل صاحب نے یہ نہیں کہا کہ ”میں سوال ہی نہ کروں اور وہ کہے کہ میں سمجھ گیا ہوں“ انہوں نے یہ کہا کہ اس کو Latitude (مہلت) دی جائے کہ جو کچھ بھی وہ کہے۔ لیکن ان کا سوال مکمل ضرور ہونا چاہئے۔

صاحبزادہ صفی اللہ: چھوڑ دے اٹارنی جنرل صاحب کو سوال پورا کرنے کے لئے۔

جناب چیئرمین: ٹھیک ہے۔ میں پوائنٹ آؤٹ کردوں گا، ٹھیک ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: (صاحبزادہ صفی اللہ سے) آپ ٹھیک کہتے ہیں۔ میں نے دو دفعہ آج ان کو کہا بھی کہ میں نے ابھی سوال پورا ہی نہیں کیا اور آپ ......

صاحبزادہ صفی اللہ: لیکن وہ پھر بھی عمل نہیں کر رہے۔

Mr. Chairman: They may be called.

(مسٹر چیئرمین: ان کو بلا لیا جائے)

----------

(The Deligation entered the Chamber)

(وفد چیمبر میں داخل ہوا)

----------

Mr. Chairman: Mr. Attorney General.

(مسٹر چیئرمین: مسٹر اٹارنی جنرل)

١٠٤

صفحہ ٦٩١

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

CROSS- EXAMINATION OF THE QADIANI

GROUP DELEGATION

مرزا ناصر احمد : ایک سوال اور رہ گیا ۔ وہ پارسیوں کا کوئی حوالہ دیا تھا آپ نے کہ پارسیوں کے ساتھ اپنے آپ کو ملایا ۔

628 جناب یحییٰ بختیار : ہاں ، وہ کسی کو جو بھیجا تھا Messenger کو اپنے ، کہ بڑے افسر کو ...... جو مرزا صاحب نے کہا تھا کہ میں ایک بڑے افسر ......

مرزا ناصر احمد : ہاں ، ہاں ۔ تو وہ جو ہے اخبار ، اگر کوئی شروع سے پڑھے تو ساری بات خود واضح ہو جاتی ہے ۔

جناب یحییٰ بختیار : مرزا صاحب ! آپ وہ پڑھ دیجئے یا آپ Explain (واضح) کر دیں کہ یہ چیز تھی ، اور وہ فائل کر دیں ۔

مرزا ناصر احمد : نہیں ، میں پڑھ دیتا ہوں ۔ اخبار ہی ہے ، اس کا کچھ حصہ پڑھنے والا ہے ۔ یہ اخبار ١٣؍نومبر ١٩٣٢ء کا ہے ۔ اس میں حضرت خلیفہ ثانی کا خطبہ ہے ۔ جو چھپا ہے ۔ اس میں آپ لکھتے ہیں : ’’اس مسئلہ کے حل کو ...... تب میں نے اس خیال سے کہ جب میرے ساتھ بھی اس کا کوئی تعلق ہے ۔ ایک جماعت کا امام ہونے کے لحاظ سے ، خلیفہ ثانی ہونے کے لحاظ سے ، تو مجھے سوچنا چاہئے کہ میں کس رنگ میں کام کر سکتا ہوں ۔ اس مسئلہ پر غور کیا اور میں اس نتیجے پر پہنچا کہ ممکن ہے کہ برطانوی حکومت اس غلطی میں مبتلا ہو کہ اگر مسلم لیگ کو نظر انداز بھی کر دیا جائے تو مسلمان قوم بحیثیت مجموعی ہمارے خلاف یعنی انگریزی حکومت کے خلاف نہیں ہوگی ۔ بلکہ ایسے مسلمان جو لیگ میں شامل نہیں اور ایسی جماعتیں جو لیگ کے ساتھ تعلق نہیں رکھتیں ، ان کو ملا کے وہ ایک منظم حکومت ہندوستان میں قائم کر سکے گی ۔ (یہ انگریزوں کا خیال ہے) اس خیال کے آنے پر میں نے مزید سوچا اور فیصلہ کیا کہ ایسے لوگ جو لیگ میں شامل نہیں ، ان کو اکٹھا کر کے اور گورنمنٹ کے اوپر زور دیا جائے کہ اپنی یہ غلط فہمی دور کر لو کہ ایسا نہیں 629 ہوگا ۔ دونوں آپس میں مل جائیں ۔ سارے دوسرے بھی ، جو لیگ سے باہر ہیں ، مل کر گورنمنٹ پر یہ واضح کر دیں کہ خواہ ہم لیگ میں نہیں ، لیکن اگر لیگ کے ساتھ ٹکراؤ ہوا تو ہم اس کو مسلمان قوم کے ساتھ ٹکراؤ سمجھیں گے اور جو جنگ ہوگی اس میں ہم بھی لیگ کے ساتھ شامل ہوں گے ۔‘‘

تو یہ بڑی واضح ہیں ساری عبارتیں ۔ اس کے بعد وہ صرف آخری حصے کو لے کے اور اس کا غلط مطلب لے لینا ، یہ درست نہیں ۔ باقی رہا یہ سوال ...... ابھی بات ختم نہیں ہوئی میری ......

١٠٥

صفحہ ٦٩٢

692 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

جناب یحییٰ بختیار: اس سوال کے بارے میں؟ یا دوسرا سوال ہے؟ مرزا ناصر احمد: اسی، اسی کے متعلق۔

Mr. Chairman: This is the explanation. The writing.... (جناب چیئرمین: یہ وضاحت ہے، تحریر......) مرزا ناصر احمد: ایک اور ہے......

Mr. Chairman: Just a minute, just a minute. That writing is admitted which was put to the witness ..... that writing which was refused to by the Attorney- General that is appeared in "Al-Fazal"? (جناب چیئرمین: گواہ کو جو تحریر دکھائی گئی تھی وہ اسے تسلیم کرتا ہے۔ وہ تحریر جس کا حوالہ اٹارنی جنرل نے دیا تھا۔ وہ کیا ”الفضل“ میں شائع ہوئی تھی)

Mr. Yahya Bakhtiar: That has not been denied by Mirza Sahib; but he is explaining. (جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب نے اس سے انکار نہیں کیا بلکہ اس نے وضاحت کی ہے)

Mr. Chairman: It is the explanation. But that is admitted? (جناب چیئرمین: یہ وضاحت ہے۔ لیکن اس کو تسلیم کیا ہے)

Mr. Yahya Bakhtiar: That is admitted, Yes. Mr. Chairman: Yes, the witness may explain. (جناب چیئرمین: جی ہاں! گواہ وضاحت کر سکتا ہے)

مرزا ناصر احمد: وہ تو Admit (تسلیم) کر لیا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، وہ تو میں نے کہا کہ Admit (تسلیم) کر لیا ہے۔

مرزا ناصر احمد: لیکن میں نے بتایا ہے کہ اس خطبہ کے جو اقتباسات ہیں......

630 جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی، وہ میں سمجھ گیا۔

مرزا ناصر احمد: ......وہ واضح ہیں۔ اس کے علاوہ مسلم لیگ کا ١٩٤٠ء کا ایک ریزولیوشن ہے۔ وہ تو ١٩٣٦، ٤٧ سے کہیں پہلے کا ہے ناں۔ وہ جو ریزولیوشن پاس ہوا تو ٢٥ یا

١٠٦

صفحہ ٦٩٣

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

٢٣؍مارچ ١٩٤٠ء کا علیحدہ ریزولیوشن ہے۔ یہ ہمارے ایک دوست نے اطلاع دی ہے کہ ......میں نے آدمی بھجوا دیئے ہیں اخباروں کی تلاش میں ......٢٥ اور ٢٦...... کہ سب سے پہلے مبارکباد جماعت احمدیہ کے خلیفہ نے دی مسلم لیگ کو، پاکستان بنانے کے متعلق اور یہ اس وقت مارچ کے اخباروں میں اس تاریخ کو چھپ گئی ہے اور وہ تو خیر لکھتے ہیں کہ ”اگر ضرورت ہو تو میں اس بات کی گواہی دینے پر تیار ہوں۔“ لیکن امید ہے کہ اخبار مل جائیں گے اور گواہی دینے کی ضرورت نہیں رہے گی۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، وہ اخبار لے آئیں۔ میرا جو سوال تھا وہ یہ تھا کہ جب تک ٣؍جون ١٩٤٧ء کا اعلان نہیں ہوا، جماعت احمدیہ اکھنڈ بھارت کے حق میں تھی اور میں نے یہ سوال اس لئے پوچھا کہ ایک میں نے آپ کو حوالہ دیا تھا ایک Fact کا، اور یہ ایک سوال تھا، اور اس کے علاوہ منیر انکوائری کورٹ کی جو Findings ہیں۔ اس بارے میں، وہ میرے مدنظر ہیں ......

مرزا ناصر احمد: ہاں، لیکن اس سے پہلے......

جناب یحییٰ بختیار: ......وہ کہتے ہیں، ان کی Writings (تحریر) سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ They were not in favour of Pakistan till the time of independence,that is not material (کہ وہ حصولِ آزادی تک پاکستان کے حق میں نہیں تھے۔) وہی جو میں نے کہا تھرڈ جون۔ باقی یہ کہ مسلم لیگ کے ساتھ یا ہم مسلم لیگ کے ساتھ لڑیں گے۔ سوال صرف پاکستان کے بننے کا ہے یا نہ بننے کا۔ تو اس میں آپ کہہ رہے ہیں کہ اور کتاب ہے اور اخبار ہے۔

631 مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، اسی اخبار میں یہ ہے کہ جو مسلم لیگ نے پاکستان......

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، وہ تو اب آپ اخبار لائیں گے ناں جی۔

مرزا ناصر احمد: نہیں پاکستان کے...... وہ تو اس اخبار میں ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: آپ نے کہا کہ......

مرزا ناصر احمد: یہ جو ہے، یہ اخبار، جس میں سے حوالہ لے کر یہ سوال بنایا گیا ہے، اس اخبار میں یہ ہے کہ مسلم لیگ پاکستان بنانے کے لئے جو کوشش کر رہی ہے اس کی جنگ میں ہم شامل ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: وہ دیکھ لیں جی......

مرزا ناصر احمد: ہاں، وہ اسی اخبار میں ہے۔

١٠٧

صفحہ ٦٩٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

جناب یحییٰ بختیار: ...... ہاں، کیونکہ منیر نے ایک Finding (رائے) دی ہے، اس لئے میں......

مرزا ناصر احمد: نہیں، یہ اخبار ہے، یہ واضح ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، ٹھیک ہے ناں جی۔ وہ تو Findings (آراء) سے......

مرزا ناصر احمد: اور جو دوسرے اخبار ہیں مبارکبادی اس کے لئے ہم نے آدمی بھجوا دیئے ہیں، وہ آپ کو دے دیں گے۔

جناب یحییٰ بختیار: وہ آپ بھیج دیجئے۔

مرزا ناصر احمد: اور یہ ١٩٢٥ء میں ١٩٢٥ء میں ایک اور مضمون ہے کہ ...... یہ تراشا بھی ہمارے پاس موجود ہے...... کہ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد اس جماعت کی پالیسی کے اعلان سے قبل ایک خط میں بھی مسلم لیگ کی تائید میں ہدایت فرما چکے تھے۔ اس خط کی نقل قائد اعظم محمد علی جناح کی خدمت میں بھجوائی گئی تو آپ نے امام جماعت احمدیہ کے اس فیصلے پر خوشی ومسرت کا اظہار فرمایا۔

632 جناب یحییٰ بختیار: ٹھیک ہے، نہیں جی، میرا جو جس......

مرزا ناصر احمد: نہیں، یہ وہی Struggle (کوشش) ہے پاکستان بننے کی۔

جناب یحییٰ بختیار: میں نے جو آپ کو عرض کی کہ ایک Impact ایک منیر صاحب کی انکوائری رپورٹ، ان میں Finding (آراء) دی ہیں۔ ایک Comment (تبصرہ) ہے۔ ایک میں Finding (رائے) ہے۔ تو میں نے کہا کہ آپ Explain (واضح) کر رہے ہیں اور باقی جہاں تک میرا ...... جس Context میں میں نے سوال پوچھا تھا آپ سے، وہ یہ نہیں تھا کہ آپ پاکستان کے حق میں ہیں یا خلاف تھے یا ہیں۔ یہ نہیں تھا۔ وہ یہ تھا کہ آپ کی ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ آپ باقی مسلمانوں سے اپنے آپ کو Separate (الگ تھلگ) رکھیں، علیحدہ رکھیں، اور اس میں یہ ہوا تھا کہ ”ایک پارسی کے مقابلے میں دو پارسی ...... دو احمدی پیش کروں گا۔“

مرزا ناصر احمد: ہیں جی؟

جناب یحییٰ بختیار: کہ ”اگر پارسی ایک پیش کیا جاتا ہے تو میں اس کے مقابلے میں دو احمدی پیش کروں گا۔“......

مرزا ناصر احمد: وہ، وہ ...... یہ جو ہے ناں ......

١٠٨

صفحہ ٦٩٥

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

جناب یحییٰ بختیار: ......وہ جو ہے Separatism (علیحدگی)...... مرزا ناصر احمد: ......میرا قصور ہے، میرا قصور ہے۔ جو آپ ......یہ جو آپ کر رہے ہیں ناں سوال، یہ اس اخبار کے اوپر Based ہے اور اسی اخبار میں اسی خطبے کے اندر خلیفہ ثانی نے یہ بیان کیا ہے کہ ”میں نے ان حالات میں مسلم لیگ سے مشورے کے بعد اور ان کی مرضی کے ساتھ یہ Stand (اقدام) لیا تاکہ مسلم لیگ کی جو کوشش پاکستان بننے کے لئے ہے، اس میں اور زیادہ استحکام پیدا ہو اور طاقت پیدا ہو۔“

633 جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں نے Explain (واضح) کیا۔ جو میرا تھا ناں Separatism (علیحدگی) کا ......

مرزا ناصر احمد: جی، وہ ٹھیک ہے۔ لیکن اسی میں جواب ہے۔ اسی اخبار کے اندر جواب موجود ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: اس پر پھر میں بعد میں آ رہا ہوں جی، کیونکہ کچھ اور حوالے ہیں۔ مرزا صاحب! میں ابھی کوئی اور سوال پوچھ لوں آپ سے؟ May I proceed (کیا میں آگے چلوں؟)

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں۔

جناب یحییٰ بختیار: خاتم النبیین کے بارے میں جو مولانا ابوالعطاء صاحب نے ایک کتاب لکھی ہے، مولانا مودودی صاحب کی کتاب کے جواب میں Annexure No.6 ضمیمہ ٦، اس میں مولانا فرماتے ہیں، مولانا ابوالعطاء صاحب کہ: ”خاتمیت محمدیہ میں آنحضرت ﷺ کے خاتم النبیین ماننے والوں کے دو مختلف نظریے ہیں۔ پہلا نظریہ یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی خاتمیت نے دیگر انبیاء کے فیوض کو بند کر کے فیضان محمدی کا وسیع دروازہ کھول دیا......“

(مسٹر چیئرمین: کیا صفحہ؟) Mr. Chairman: Page?

جناب یحییٰ بختیار: Page 8, Sir (صفحہ نمبر ٨) ”......پہلا نظریہ یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی خاتمیت نے دیگر انبیاء کے فیوض کو بند کر کے فیضان محمدی کا وسیع دروازہ کھول دیا۔ آپ کی امت کے لئے آپ کی پیروی کے طفیل وہ تمام انعامات ممکن الحصول ہیں جو پہلے ”منعم علیہم“ لوگوں کو ملتے رہے ہیں۔“

634 یہ تو ایک نظریہ ہے جو کہ آپ کا نظریہ ہے۔ دوسرا نظریہ یہ ہے کہ آپ کے مولانا ابوالعطاء صاحب کے نقطہ نظر سے......

١٠٩

صفحہ ٦٩٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، عطاء صاحب کے نزدیک۔

جناب یحییٰ بختیار: ...... وہ یہ ہے ...... ہاں جی، ہاں جی ...... یہ ہے کہ:

”آنحضرت ﷺ کی خاتمیت فیضان محمدی کے بند ہونے کے مترادف ہے ......“

مرزا ناصر احمد: کیا ہونے کے مترادف ہے؟

جناب یحییٰ بختیار: ...... خاتمیت فیضان محمدی کے بند ہونے کے مترادف ہے ......“

مرزا ناصر احمد: ہاں جی۔

جناب یحییٰ بختیار: ...... ”...... آپ کی امت ان تمام اعلیٰ انعامات سے محروم ہو گئی جو بنی اسرائیل یا پہلی امتوں کو ملتے رہے ہیں،“ اب اس سے جو میں یہ سمجھا ہوں کہ آنحضرت ﷺ کے بعد، جیسے آپ کہتے ہیں، امتی نبی آئیں گے، اور یہ ایک فیض کا دروازہ ہے جو بند نہیں ہوا اور وہ دوسرے کہتے ہیں جی ...... آپ کے نقطہ نظر سے ...... یہ فیض کا دروازہ، رحمت کا دروازہ بند ہو گیا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ آج کل یہ دروازہ بند ہے یا کھلا ہے؟

مرزا ناصر احمد: یہ سوال جو ہے یہ اس ......

(آنحضرت ﷺ کے بعد مرزا قادیانی تک اس دوران کسی اور کو نبوت ملی؟)

جناب یحییٰ بختیار: یا ...... میں ایک اور سوال پوچھ لیتا ہوں ...... یہ چودہ سو سال میں، آنحضرت ﷺ کے بعد اور مرزا غلام احمد قادیانی کی پیدائش سے پہلے کوئی اور نبی آیا یا اس دوران میں یہ دروازہ فیض کا کھلا کسی ایک منٹ کے لئے؟

635 مرزا ناصر احمد: جس فیض محمدی کی طرف یہ اقتباس جو ابھی آپ نے سنایا ہے، اشارہ کرتا ہے، وہ صرف امتی نبی نہیں بلکہ ہر قسم کا فیض ......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں ......

مرزا ناصر احمد: ...... مثلاً وحی کے نزول کا فیض۔ دوسرے یہ ایک خاص زمانے کے خیالات کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں تو اس بات پر کچھ وضاحت چاہتا ہوں آپ سے۔ ...... یہ سوال ہے ”خاتم النبیین“ کا اور اس کی Further clarification (مزید وضاحت) بھی میرے خیال میں ہو گی کہ آیا اور نبی آ سکتے ہیں ...... امتی نبی میرا مطلب ......

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں۔

١١٠

صفحہ ٦٩٧

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

جناب یحییٰ بختیار: ...... یا نہیں آسکتے۔ تو آپ کا نقطہ نظر یہ ہے کہ آسکتے ہیں؟

مرزا ناصر احمد: نہیں، میں نے تو کوئی جواب نہیں دیا۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، جہاں تک میں سمجھا ہوں، یہ مولانا لکھتے ہیں کہ: ”دیگر انبیاء کے فیوض کو بند کر کے فیضانِ محمدی ﷺ کا وسیع دروازہ کھول دیا ہے۔“

مرزا ناصر احمد: اس میں نبوت کا کوئی ذکر نہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: یعنی یہ ”خاتم النبیین“ پر بحث ہے اور نبوت کا کوئی ذکر نہیں؟

مرزا ناصر احمد: جی نہیں، صرف نبوت کا ذکر نہیں ہے......

جناب یحییٰ بختیار: میں تو کہتا ہوں کہ صرف نبوت کا ذکر ہے۔ اس کا کیا مطلب ہے، یعنی اور نبی آسکتے ہیں یا نہیں آسکتے؟

مرزا ناصر احمد: وہ تو ویسے آپ سوال پوچھ سکتے ہیں۔ مگر اس کو ......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں نے اس واسطے، کیونکہ آپ ......

(مرزا قادیانی کے علاوہ اور کوئی نبی نہیں بن سکتا)

636 مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں بات یہ ہے کہ ایک ہے فلاسفی اور ایک ہے حقیقت۔ یہ فلسفیانہ سوال ہے کہ امکان ہے یا نہیں، اور جو حقیقت ہے وہ یہ ہے کہ امت محمدیہ میں جتنے عظیم واقعات اصولی طور پر ہونے تھے، ان سب کا ذکر احادیث نبوی ﷺ میں جو تفسیر ہے قرآنِ عظیم کی...... آنحضرت ﷺ کے سارے ارشادات، ہمارے عقیدے کے مطابق، قرآنِ عظیم کی تفسیر ہے...... تو قرآنِ کریم اور اس کے تفسیر کے اندر ہر اس اہم واقعہ کی خبر دی گئی ہے جو واقعہ امت محمدیہ سے تعلق رکھتا ہے، قیامت تک کے لئے اور ان...... یہ جو اطلاعات ہیں، یہ پیشین گوئیاں ہیں آئندہ کے متعلق۔ ان کے متعلق جو پیش خبریاں ہیں، ان کے مطالعہ سے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ صرف ایک امتی نبی کی بشارت دی گئی ہے۔ تو حقیقت تو یہ ہے...... باقی امکانی جو ہے...... اور آ سکتے ہیں یا نہیں...... یہ بھی امت محمدیہ کے ہمارے بزرگوں نے اس پر بحث کی ہے اور جو ہم نے ساتھ ضمیمے بھجوائے تھے، اس کے اندر یہ بحث موجود ہے۔ مثلاً برصغیر پاک و ہند کے مایہ ناز محدث شارح مشکوٰۃ شریف، مشہور امام اہل سنت حضرت ملا علی قاری، جن کی وفات ١٦٠٦ء میں ہوئی۔ یعنی آج سے تقریباً چار پانچ سو سال پہلے، وہ ”موضوعات کبیر، کے ص٦٩ پر...... ١٦٠٦ء عیسوی ہے ہجری نہیں، ١٦٠٦ء عیسوی...... وہ موضوعات کبیر“ میں لکھتے ہیں: (عربی)

١١١

صفحہ ٦٩٨

698 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

تو اس میں انہوں نے امکان کا اظہار کیا ہے۔ یہ ہو سکتا تھا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام امتی نبی بن جاتے، یہ ہو سکتا تھا کہ حضرت عمرؓ امتی نبی بن جاتے۔ اسی طرح سے یہاں بہت سارے اور دوسرے بھی ہیں۔ ایک ہے امکانی بات اور ایک ہے اس نقطہ نگاہ کے بعد کہ نبی اکرم ﷺ نے امت کے آئندہ انقلابات عظیمہ کے متعلق جو بشارتیں اور پیش خبریاں دی ہیں، ان میں کسی اور کا ذکر بھی ہے؟ تو ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے سوائے نزول عیسیٰ علیہ السلام کے اور مہدی اور اپنے وقت کے امتی نبی کے اور کوئی بشارت نہیں ملی، یعنی ہمارے علم میں نہیں ہے۔ اگر کسی اور دوست کے علم میں ہو، اگر وہ بتا دیں......

جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! آپ سے یہ عرض کر رہا تھا، مولانا ابوالعطاء صاحب نے ایک دلیل دی ہے اور مولانا مودودی صاحب کے اس یا باقی مسلمانوں کے نقطہ نظر سے کہ ان کے بقول دروازہ بند ہو گیا ہے فیض کا، اللہ کی رحمت کا۔ جیسے رحمت اللعالمین آئے تھے اس طرح اور بھی نبی آئیں گے؟ یہ کہتے ہیں یہ دروازہ بند نہیں ہوا۔ میں یہ پوچھ رہا تھا کہ تیرہ سو سال میں یہ دروازہ تھوڑی دیر کے لئے بھی کھلا یا نہیں کھلا، فیض آیا یا نہیں آیا، رحمت آئی یا نہیں آئی؟ میں یہ پوچھ رہا تھا، نبی کے بارے میں، کہ کوئی اور نبی آیا یا نہیں آیا؟

مرزا ناصر احمد: دیکھیں ناں، آپ بھی ”رحمت“ کا لفظ استعمال کر کے مجھ سے سوال کرتے ہیں کبھی ”نبی“ کا۔ تو ”رحمت“ والا لفظ استعمال کرنا چاہئے۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں اس Context (بارے) میں آپ سے...... اگر آپ مجھے موقع دیں...... ”خاتم النبیین“ کی بحث ہے......

مرزا ناصر احمد: جی وہ تو میں سمجھ گیا۔

(تیرہ چودہ سو سال میں کوئی نبی آیا؟)

جناب یحییٰ بختیار: ایک منٹ کے لئے...... ایک طرف تو یہ نقطہ نظر پیش کیا جاتا ہے کہ حضرت محمد ﷺ آخری نبی ہیں اور کوئی نبی نہیں آ سکتا، کسی قسم کا، کسی قسم کی کیٹیگری کا، کسی Kind کا، کسی Sort کا نہیں، تو ان کے متعلق یہ کہتے ہیں کہ وہ تو یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ کے فیض کا

١؎ اگر ایک کے علاوہ کسی کا ذکر نہیں۔ تو گویا مرزا کے بعد نبوت بند ہے۔ تو پھر ”خاتم النبیین“ مرزا قادیانی ہوئے کہ ان کے بعد کوئی نبی نہیں۔ حضور ﷺ ”خاتم النبیین“ نہ ہوئے اس لئے کہ آپ ﷺ کے بعد مرزا نبی ہے۔ یہ ہے قادیانی کفر کی اندرونی کیفیت؟

١١٢

صفحہ ٦٩٩

699 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

دروازہ بند ہوگیا۔ یہ دروازہ کھلا رہے گا، یہ جو میں سمجھتا ہوں ان کی لاجک logic, plain reading, simple reading جو ان کی ہے کہ یہ دروازہ بند نہیں ہوا، اور نبی آئیں گے۔

تو میں نے یہ عرض کیا کہ کیا مرزا صاحب کی پیدائش سے قبل یہ 638 تیرہ چودہ سو سال میں کوئی نبی آیا؟ آپ کہتے ہیں کہ آپ کے علم میں نہیں۔

مرزا ناصر احمد: نہیں، ان تیرہ چودہ سو سال میں امتی نبی تو کوئی نہیں آئے، مگر کانیباء بنی اسرائیل سینکڑوں، ہزاروں آئے۔

جناب یحییٰ بختیار: یہاں تو مرزا صاحب! سوال یہ ہے کہ یہ کہتے ہیں کہ وہ باقی جتنے بھی پیغمبر ہیں، باقی......

مرزا ناصر احمد: نہیں، جو آپ نے پڑھا ہے......

جناب یحییٰ بختیار: ......وہ دروازے تو آپ بھی کہتے ہیں کہ وہ بند ہیں۔

مرزا ناصر احمد: نہیں نہیں، جو آپ نے کوئی سوال پڑھا ہے، اس میں تو وہ بات نہیں ہے، جو آپ کہتے ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: میں پھر پڑھتا ہوں: ”پہلا نظریہ یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی خاتمیت نے دیگر انبیاء کے فیوض کو بند کر کے......“ تو جہاں تک باقی انبیاء کے فیوض ہیں، یہودیوں کے، عیسائیوں کے، وہ تو بند ہوچکے۔ اس میں تو کوئی Dispute نہیں ہے، نہ مولانا مودودی صاحب کا، نہ مولانا ابوالعطاء صاحب کا۔ اب سوال یہ ہے کہ امتی نبی کا جو دروازہ ہے، وہ کہتے ہیں کہ وہ بند ہے، یہ کہتے ہیں کہ کھلا ہے، اور کئی آئیں گے۔

مرزا ناصر احمد: نہیں، یہ مجھے تھوڑا سا اجازت دیں، میں اس کو واضح کروں، اپنے عقیدہ کے لحاظ سے۔

ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ پہلے انبیاء کے فیوض کے نتیجہ میں کوئی نبی بن ہی نہیں سکتا۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ بحث جو ہے وہ نبوت کا دروازہ کھولنے والی نہیں ہے۔ بلکہ بحث یہ ہے کہ پہلے انبیاء کے فیوض کا دروازہ حضرت محمد ﷺ 639 نے بند کر دیا اور آپ کی بعثت کے بعد اور قرآن کریم کے نزول کے بعد اب صرف ایک دروازہ خدا تعالیٰ کے فیوض کے حاصل کرنے کا ہے تو وہ اتباع محمد ﷺ کا ہے۔ لیکن جب مقابلہ ہو پہلے انبیاء سے جن کے فیوض کے طفیل نبوت ملتی نہیں تھی، تو اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہاں جو بحث ہے، کتاب کے اس حصہ میں، یا کہیں اور ہوگی۔ مجھے نہیں پتہ، لیکن

١١٣

STAN 8th Aug, 1974 No:04

تو اس میں انہوں نے امتی نبی بن جاتے، یہ ہو سکتا تھا سارے اور دوسرے بھی ہیں۔ آ اکرم ﷺ نے امت کے آئندہ اقو میں کسی اور کا ذکر بھی ہے؟ تو ہم ا السلام کے اور مہدی اور اپنے وقت نہیں ہے۔ اگر کسی اور دوست کے

جناب یحییٰ بختیار: صاحب نے ایک دلیل دی ہے ا سے کہ ان کے بقول دروازہ بند ہ اس طرح اور بھی نبی آئیں گے؟ سال میں یہ دروازہ تھوڑی دیر کے آئی؟ میں یہ پوچھ رہا تھا، نبی کے

مرزا ناصر احمد: دیکھی کرتے ہیں کبھی ”نبی“ کا۔ تو ”رس

جناب یحییٰ بختیار: اگر آپ مجھے موقع دیں۔...... ”خ

مرزا ناصر احمد: جی

(تیرہ

جناب یحییٰ بختیار: کہ حضرت محمد ﷺ آخری نبی ہ Kind کا، کسی Sort کا نہیں

١؎ اگر ایک کے علاوہ النبیین“ مرزا قادیانی ہوئے کہ اس لئے کہ آپ ﷺ کے بعد مر

صفحہ ٧٠٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

اس حصہ میں ”امتی نبی“ کی بحث کوئی نہیں، بلکہ فیوض محمدیہ ﷺ کے جاری رہنے کی بحث ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: میں، میں پھر غلطی پر ہوں جی۔ میں پھر پڑھ دیتا ہوں، کیونکہ یہ ساری کتاب جو ہے مودودی صاحب کے کتابچہ ”خاتم النبیین“ کا تفصیلی جواب ہے۔ پھر یہاں فرماتے ہیں: ”خاتمیت محمدیہ آنحضرت ﷺ کو ”خاتم النبیین“ ماننے والوں کے دو مختلف نظریے ہیں.....“ یعنی ”خاتم النبیین“ پر جو بحث ہے اس پر دو نظریے ہیں، دو School of thought ہیں۔ ایک..... ابھی کسی اور فیض کا ذکر نہیں ہے، میں جو سمجھتا ہوں......

مرزا ناصر احمد: جب پہلے انبیاء کا ذکر آگیا تو وہ اس فیض کا ذکر ہی نہیں آسکتا۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی، میں Explain (واضح) کروں آپ کو، پہلا نظریہ یہ ہے......

مولانا عبدالمصطفیٰ الازہری: محترم چیئرمین صاحب! ذرا یہ گڑبڑ پڑ رہی ہے۔ سوال مکمل ہو جائے پھر وہ جواب دیں تو ٹھیک ہے۔ ہم لوگ کچھ سمجھ نہیں سکتے اس سلسلے سے۔

جناب یحییٰ بختیار: میں نے یہ عرض کیا جی کہ ساری بحث اس بات کی ہے کہ ”خاتم النبیین“ کے کیا معنی ہیں۔ اس پر مولانا ابوالعطاء صاحب فرماتے ہیں کہ : ”خاتمیت محمدیہ یا آنحضرت ﷺ کو ”خاتم النبیین“ ماننے والوں کے دو مختلف نظریے ہیں۔ پہلا نظریہ یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی خاتمیت نے دیگر انبیاء کے فیوض کو بند کر کے فیضان محمدی ﷺ کا وسیع دروازہ کھول دیا ہے۔ آپ کی امت کے لئے آپ ﷺ کی پیروی کے طفیل وہ تمام انعامات ممکن الحصول ہیں جو پہلے منعم علیہم لوگوں کو ملتے رہے ہیں۔“ یعنی جو باقی امتیں ہیں ان کو جو انعامات ملتے رہے وہ تو ختم ، وہ دروازہ تو بند، جیسے میں سمجھتا ہوں، مگر اس امت میں، امت محمدیہؐ میں یہ فیض جاری رہے گا۔ اور یہ فیض..... جیسے آپ نے ”محضر نامہ“ میں کہا کہ ”یہ کھڑکی کھلی ہے جس سے کہ نبی آسکتا ہے“ جو میں سمجھ سکا، اس کا بھی میں حوالہ دے دیتا ہوں کہ دروازہ کھلا ہے:

”آپ کی امت کے لئے آپ کی پیروی کے طفیل وہ تمام انعامات ممکن الحصول ہیں جو پہلے منعم علیہم لوگوں کو ملتے رہے ہیں دوسرا نظریہ یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی خاتمیت فیضان محمدیؐ کی بند ہونے کے مترادف ہے۔ آپ ﷺ کی امت ان تمام اعلیٰ انعامات سے محروم ہو گئی جو بنی اسرائیل یا پہلے امتوں کو ملتے رہے ہیں۔“

اب میرا جی سوال یہ ہے کہ کیا اس میں اس بات کا ذکر ہے کہ اور نبی آئیں گے؟ اور یہ فیض اور نبی کے آنے کے متعلق ہے یا یہ کہ......

١١٤

صفحہ ٧٠١

701 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

مرزا ناصر احمد : نہیں اس میں نہیں ذکر

جناب یحییٰ بختیار : ٹھیک ہے۔ میں اس سے اور آگے نہیں چلتا۔

اب میں مرزا صاحب! آپ سے یہ عرض کروں گا کہ آپ کے عقیدے کے مطابق آنحضرت ﷺ کے بعد اور نبی آسکتے ہیں یا نہیں؟ ظاہر ہے کہ مرزا غلام احمد صاحب کو آپ 641 امتی نبی سمجھتے ہیں۔ آسکتے ہیں؟ پھر دوسرا سوال یہ ہوتا ہے ...... تاکہ آپ تشریح کریں ...... اس عرصہ میں صرف وہی نبی آئے ہیں یا اور بھی آئے ہیں؟ اس کی آپ تشریح کریں۔

مرزا ناصر احمد : سوال ختم ہو گیا جی؟

جناب یحییٰ بختیار : ہاں جی، ہو گیا۔

(صرف مرزا قادیانی ہی نبی ہے)

مرزا ناصر احمد : ہم یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ امت محمدیہ میں صرف وہی امتی نبی آسکتے ہیں جن کی بشارت محمد ﷺ نے دی ہو۔

جناب یحییٰ بختیار : ختم کر لیا آپ نے؟

مرزا ناصر احمد : ہاں، ختم میرا بیان۔

جناب یحییٰ بختیار : اور آپ کے نظریہ کے مطابق وہ بشارت صرف مرزا غلام احمد صاحب کے بارے میں ہے یا یہ مسیح موعود کے بارے میں ہے اور کسی نبی کے بارے میں نہیں؟

مرزا ناصر احمد : ہاں، وہ بشارت ہمارے عقیدے کی رو سے صرف مہدی اور مسیح کے متعلق ہے۔

جناب یحییٰ بختیار : اور یہ جو آپ نے کہا، یہ جو ہے، کسی حدیث کے حوالے سے کہتے ہیں ......

مرزا ناصر احمد : یہ جی میں بہت سی احادیث کے حوالے سے کہتا ہوں۔

جناب یحییٰ بختیار : ...... کہ صرف ایک آئیں گے، اس کے علاوہ اور نہیں آئیں گے، نہ ہی پہلے آئے ہیں؟

مرزا ناصر احمد : نہیں، یہ دیکھیں ناں ......

642 جناب یحییٰ بختیار : میں Explain (وضاحت) کر دوں گا جی، کہ حضرت

١١٥

STAN 8th Aug, 1974 No:04

اس حصہ میں ”امتی نبی“ کی بحث ک

جناب یحییٰ بختیار : ساری کتاب جو ہے مودودی صا فرماتے ہیں: ”خاتمیت محمدیہ آ نظریے ہیں ......“ یعنی ”خاتم ال thought ہیں۔ ایک ...... امتی

مرزا ناصر احمد : جن

جناب یحییٰ بختیار : نظریہ یہ ہے ......

مولانا عبد المصطفیٰ سوال مکمل ہو جائے پھر وہ جواب

جناب یحییٰ بختیار : ”خاتم النبیین“ کے کیا معنی ہیں آنحضرت ﷺ کو ”خاتم النبی آنحضرت ﷺ کی خاتمیت نے کھول دیا ہے۔ آپ کی امت الحصول ہیں جو پہلے منعم علیہ انعامات ملتے رہے وہ تو ختم، وہ میں یہ فیض جاری رہے گا۔ اور ب جس سے کہ نبی آسکتا ہے، جو ”آپ کی امت کے لئے آپ ک علیھم لوگوں کو ملتے رہے ہ بند ہونے کے مترادف ہے۔ آ اسرائیل یا پہلے امتوں کو ملتے رہ اب میرا جی سوال ی فیض اور نبی کے آنے کے متعلق

صفحہ ٧٠٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

غلام احمد صاحب سے پہلے کوئی نبی نہیں آیا امتی۔ کیونکہ اگر آپ کہتے ہیں کہ صرف ایک کے بارے میں ہے، آپ کا عقیدہ ، اور وہ مسیح موعود ہے تو ظاہر ہے کہ ان سے پہلے نہیں آیا کوئی۔ کیونکہ انہی کا دعویٰ ہے۔ انہی کو مانتے ہیں کہ یہی تھے مسیح موعود۔ اور میرا خیال ہے کہ ان کے بعد بھی نہیں آئیں گے۔ یعنی بالکل دروازہ جو ہے فیض کا ، بند ہے۔ صرف تھوڑی دیر کے لئے کھلا اور ایک نبی کے لئے کھلا اور اس پر آپ کہتے ہیں کہ یہ آپ اس لئے کہہ رہے ہیں کہ حدیث سے اس کی تصدیق ہوتی ہے۔ یہ درست ہے جی؟

مرزا ناصر احمد : جب آپ کا سوال ...... جناب یحییٰ بختیار : ہاں، ہو گیا۔ مرزا ناصر احمد : آپ اگر اس کتاب کا حوالہ دیں گے تو اس میں ایک فیض نہیں بلکہ وہ تمام فیوض ...... جناب یحییٰ بختیار : نہیں جی ، وہ میں نے چھوڑ دیا۔

مرزا ناصر احمد : وہ تو چھوڑ دیا، لیکن وہ قید آپ نے لگادی ہے۔ اس لئے میں جواب دیتا ہوں۔ بہر حال، جو میں سمجھتا ہوں ، جواب دوں گا۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے طفیل ان تمام فیوض سے زیادہ فیوض حاصل کئے جاسکتے ہیں جو تعداد میں ہزاروں لاکھوں ہیں۔ جو پہلے تمام انبیاء کے ذریعے سے حاصل کئے جاسکتے تھے اور ان فیوض میں سے صلحاء کا پیدا ہونا ، ان فیوض میں سے ان لوگوں کا پیدا ہونا جن کو ہم معنوی لحاظ سے شہید کہتے ہیں۔ ان لوگوں کا پیدا ہونا جو صالح وہ جو صدیق کہلاتے ہیں اور امتی نبوت کا بھی دروازہ کھلا ہے اور اس کے نیچے بے شمار اور اس کے انگنت فیوض ہیں جو محمد ﷺ کے طفیل حاصل کئے جاسکتے ہیں۔

643 جناب یحییٰ بختیار : نہیں جی ، وہ تو اور بات ہے ......

مرزا ناصر احمد : ...... منعم علیہم کا جو گروہ ہے ، جس کی طرف ہمیں سورۃ ”فاتحہ“ کا : ”اهدنا الصراط المستقیم صراط الذین انعمت علیہم“ اس حدیث ، اس آیت قرآنی سورہ فاتحہ کی جو ہے۔ اس سے ہم منعم علیہ گروہ کا محاورہ استعمال کرتے ہیں۔ ان لوگوں کا راستہ جن پر تیرے انعام نازل ہوئے اور قرآن کریم میں اس Context میں سورہ ”فاتحہ“ میں جو منعم علیہ گروہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے: صراط الذین انعمت علیہم اس میں : ”من النبیین والصدیقین والشہداء والصالحین و حسن اولیک رفیقا“ تو یہ چوٹی کے چار درجوں کا

١١٦

صفحہ ٧٠٣

703 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

قرآن کریم کی دوسری آیت میں ایک دوسرے مقام پر ذکر آیا ہے اور امت محمدیہ میں ان چودہ سو سال میں یہ جو مجموعہ منعم علیہ گروہ کا، وہ ایک ایک وقت میں مختلف درجات ہزاروں ہزار بھی پیدا ہوئے اور ایک وقت میں منعم علیہ کا وہ گروہ جس کو ”امتی نبی“ کہا جاتا ہے، وہ ایک پیدا ہوا۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ فیوض محمدی کا دروازہ کھلا نہیں، یا صرف ایک اس نے جھلک دکھلائی اور ہماری نظروں سے غائب ہو گیا۔ وہ تو ہر وقت ہمارے اوپر اپنے جلوے ظاہر کر رہا ہے۔

Mr. Chairman: The question of Attorney- General is un-answered.....

(جناب چیئرمین: اٹارنی جنرل کے سوال کا جواب نہیں ملا......)

Mr. Yahya Bakhtiar: I will just, Sir, repeat the question in a different form if I am permitted.

(جناب یحییٰ بختیار: اگر آپ اجازت دیں تو میں اپنا سوال دوسرے طریقے میں دہراتا ہوں)

Mr. Chairman: Yes, the question is un-answered the Attorney General may repeat the question.

(جناب چیئرمین: اجازت ہے۔ سوال کا جواب نہیں آیا۔ اٹارنی جنرل سوال دوبارہ کریں)

644 Mr. Yahya Bakhtiar: I will repeat it in a different form. (جناب یحییٰ بختیار: میں اپنا سوال دوسرے طریقے سے کرتا ہوں)

کیا مولانا مودودی صاحب نے یا کسی اور مسلمان علماء میں سے کسی نے بھی یہ کہا کہ فیض محمدی کا دروازہ بند ہوا...... اس سینس (Sense) میں جو آپ کہہ رہے ہیں۔ کہ کوئی بزرگ اولیاء صادقین میں سے کوئی نہیں آئیں گے؟ یہ تو کسی نے نہیں کہا۔ وہ تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ وہ تو اب بھی کہتے ہیں کہ نیک بندے آئیں گے جو اللہ کا پیغام لوگوں کو دیں گے۔ اس پر تو ...... یہ فیض تو ہر وقت جاری رہے گا۔ اس پر تو کوئی Dispute ہی نہیں ہے۔

سوال یہ میں آپ سے Simple (سادہ) پوچھ رہا ہوں کہ آپ کے نظریے کے مطابق کوئی اور نبی مرزا غلام احمد صاحب کے علاوہ آسکتا ہے یا نہیں آسکتا؟

١١٧

8th Aug, 1974 No:04

غلام احمد صاحب سے پہ... بارے میں ہے، آپ کا عق... انہی کا دعویٰ ہے۔ انہی کو د... آئیں گے۔ یعنی بالکل دی... کے لئے کھلا اور اس پر آی... تصدیق ہوتی ہے۔ یہ در...

مرزا ناصر احم...

جناب یحییٰ ب...

مرزا ناصر احم...

تمام فیوض......

جناب یحییٰ ب...

مرزا ناصر احم...

دیتا ہوں۔ بہر حال، جو م... ان تمام فیوض سے زیادہ ... تمام انبیاء کے ذریعے س... میں سے ان لوگوں کا پید... صالح وہ جو صدیق کہلا... کے انگنت فیوض میں جو م...

643 جناب ی...

مرزا ناصر احم...

کا: ”اهدنا الصراط الم... سورہ فاتحہ کی جو ہے۔ اس... پر تیرے انعام نازل ہو... علیہ گروہ کی طرف اشارہ... والصديقين والشهدا...

صفحہ ٧٠٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

مرزا ناصر احمد: پہلے ”آسکتا ہے“ کا جواب ہے: آسکتا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: آسکتا ہے؟

مرزا ناصر احمد: آسکتا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی۔ مگر حقیقت میں صرف ایک ہی آیا ہے؟

مرزا ناصر احمد: لیکن عملاً صرف وہی آسکتا ہے جس کی بشارت محمد ﷺ نے دی ہو۔

جناب یحییٰ بختیار: اور انہوں نے بغیر مرزا صاحب کے کسی کی بشارت نہیں دی؟ یعنی آپ کو احادیث کا علم ہے۔

مرزا ناصر احمد: میرے علم کے مطابق نہیں دی۔ لیکن اگر کوئی اور یہ ثابت کرے کہ حضرت محمد ﷺ نے کسی اور کی بھی بشارت دی ہے تو میں Commit (پابند ہوں) یہ کہہ کے کہ وہی نبی آسکتا ہے جس کی بشارت محمد ﷺ نے دی۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، اگر میں یہ کہوں، مرزا صاحب! کہ اگر یہ اصول مان لیا جائے کہ اللہ کا فیض جاری رہے گا۔ اللہ کے خزانے بند نہیں ہوئے۔ نبی کی Sense (معنی) میں645..... ”نبی کی سینس (Sense) میں“ میں اس واسطے کہہ رہا ہوں...... اور اگر یہ اصول مان لیا جائے تو پھر کیونکہ ابھی دنیا شروع ہی ہوئی ہے۔ تیرہ سو سال کچھ بات ہی نہیں، تیرہ ہزار سال گزریں گے، ہزاروں نبی آسکتے ہیں۔ آپ کہتے ہیں: ”نہیں، صرف ایک ہی نبی آئے گا، امتی ایک ہی آیا ہے۔“ چونکہ آپ کے مطابق بشارت آنحضرت محمد ﷺ کی یہی ہے کہ ایک ہی ہوگا، اور نہیں آئیں گے۔ میں آپ کا مطلب سمجھ گیا ہوں کیا؟

مرزا ناصر احمد: یہ پورا صاف نہیں ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: میں پھر عرض کر دیتا ہوں......

مرزا ناصر احمد: نہیں میں نے یہ کہا کہ میرے علم میں صرف ایک کی بشارت ہے اور میں، میں...... میری بات ابھی ختم نہیں ہوئی...... اور میں، میں، میں یہ، اس اصول کو، یہ عقیدہ رکھتا ہوں کہ امت محمدیہ میں سوائے اس امتی نبی کے جس کی بشارت خود محمد ﷺ نے دی ہو، اور کوئی نہیں آسکتا۔

جناب یحییٰ بختیار: اور نہیں، بس یہی میں کہنا چاہتا ہوں۔

مرزا ناصر احمد: یہ اصول ہے، میرے نزدیک۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، ہاں۔ نہ آیا ہے، نہ آئیں گے؟

١١٨

صفحہ ٧٠٥

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

مرزا ناصر احمد: نہیں، صرف وہ آسکتا ہے جس کی بشارت دی گئی ہو۔

(آنحضرت ﷺ کی بشارت کے مطابق صرف ایک امتی نبی)

جناب یحییٰ بختیار: تو انہوں نے بشارت صرف ایک کی دی ہے؟

مرزا ناصر احمد: ہمارے نزدیک؟

جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی۔ میں عقیدے کی بات کر رہا ہوں ناں جی۔

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہمارے عقیدے کے مطابق امتی نبی صرف ایک کی بشارت دی گئی ہے، مہدی اور مسیح کے نام سے اور...... لیکن نبی اکرم ﷺ کے بے شمار فیوض ہیں۔ 646 وہ فیوض ہیں جو کانبیاء بنی اسرائیل۔

جناب یحییٰ بختیار: میں انبیاء کا ذکر کر رہا ہوں۔

مرزا ناصر احمد: کانبیاء بنی اسرائیل۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں انبیاء کا کہہ رہا ہوں کہ نبی جو ہیں وہ آپکے عقیدے کے مطابق سوائے ایک کے اور نہیں آسکتے اور نہ آئے ہیں؟ میں یہ پوچھ رہا ہوں کہ یہ آپ کا عقیدہ ہے؟

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہمارے اس عقیدے کے مطابق کہ وہی امتی نبی آسکتا ہے جس کی بشارت خود حضرت خاتم الانبیاء نے دی ہو۔

جناب یحییٰ بختیار: اس کے علاوہ نہیں آسکتا۔

مرزا ناصر احمد: اس کے علاوہ نہیں آسکتا۔ لیکن کانبیاء بنی اسرائیل ہزاروں آسکتے ہیں۔ اس میں بھی ”نبی“ کا آگیا ہے ناں: ”کانبیاء بنی اسرائیل۔“

جناب یحییٰ بختیار: یعنی ابھی...... غیر امتی نبی اور ہو سکتے ہیں؟

مرزا ناصر احمد: کانبیاء بنی اسرائیل ہو سکتے ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: وہ، وہ فیض محمدیؐ ہو گا کیا؟

مرزا ناصر احمد: بالکل فیض محمدیؐ، اور تو کوئی فیض، ہی نہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: وہ نبی نہ ہوئے علماء ہو گئے۔

مرزا ناصر احمد: کانبیاء بنی اسرائیل۔

جناب یحییٰ بختیار: یعنی علماء ہو گئے۔ نبی کا تو Status (مقام) نہ ہوا جی ان کا۔

مرزا ناصر احمد: انبیاء کی طرح اللہ تعالیٰ ان سے سلوک کرے گا۔

١١٩

KISTAN 8th Aug, 1974 No:04

مرزا ناصر احمد: پہلے“

جناب یحییٰ بختیار: آ

مرزا ناصر احمد: آسکتا

جناب یحییٰ بختیار: ہا

مرزا ناصر احمد: لیکن م

جناب یحییٰ بختیار: ا یعنی آپ کو احادیث کا علم ہے۔

مرزا ناصر احمد: میر حضرت محمد ﷺ نے کسی اور کی بھی بش وہی نبی آسکتا ہے جس کی بشارت محمد

جناب یحییٰ بختیار: جائے کہ اللہ کا فیض جاری رہے گا میں...... ”نبی کی سینس 645 (Sense) جائے تو پھر کیونکہ ابھی دنیا شروع گزریں گے، ہزاروں نبی آسکتے ہ ایک ہی آیا ہے۔ ”چونکہ آپ کے م اور نہیں آئیں گے۔ میں آپ کا مط

مرزا ناصر احمد: یہ پو

جناب یحییٰ بختیار: ا

مرزا ناصر احمد: نہیں اور میں، میں...... میری بات ابھی م رکھتا ہوں کہ امت محمدیہ میں سوائ کوئی نہیں آسکتا۔

جناب یحییٰ بختیار: ہ

مرزا ناصر احمد: یہ اص

جناب یحییٰ بختیار: ا

صفحہ ٧٠٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

647 جناب یحییٰ بختیار: انبیاء کی طرح اللہ تعالیٰ ان سے سلوک کرے گا۔ میں یہ پوچھتا ہوں کہ "نبی" جس کو ہم کہتے ہیں ناں، ایک تو یہ ہوا جو آپ نے صحیح Explain (واضح کیا) کہ یہ لکھا کہ اللہ تعالیٰ انبیاء کی طرح سلوک کریں گے......

مرزا ناصر احمد: وہ میں نے اپنا عقیدہ بتا دیا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں صرف کہتا ہوں "نبی" جو کہتے ہیں ناں......

مرزا ناصر احمد: ہاں، وہی۔ میں نے اپنا عقیدہ بتا دیا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: کوئی اور نہیں آ سکتے؟

مرزا ناصر احمد: نہیں، میں نے عقیدہ یہ بتایا ہے کہ میرے نزدیک صرف وہی نبی، امتی نبی، امت محمدیہ میں آسکتا ہے جس کی بشارت حضرت خاتم الانبیاء ﷺ نے دے دی ہو۔

جناب یحییٰ بختیار: اور وہ انہوں نے صرف ایک کے متعلق دی ہے۔..... آپ کا یہ عقیدہ ہے....... اور وہ آچکا ہے؟

مرزا ناصر احمد: ہاں! اس شرط کے ساتھ بیان کریں تو ٹھیک ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: وہ صرف ایک ہی آچکا ہے۔

مرزا ناصر احمد: اور دوسرے کانبیاء بنی اسرائیل ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، اور نہیں، وہ تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا اب نہیں آسکتے ناں جی اور، کیونکہ ایک کی بشارت ہے اور وہ ختم ہو گیا۔

مرزا ناصر احمد: یہ میں نے یہ بھی وضاحت کی تھی کہ ایک ہے "آنا" ایک ہے "آ سکتا" یعنی امکان۔ تو کئی دفعہ ہم......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں۔ وہ تو میں نے اسی واسطے آپ سے Clarify (واضح) کیا ہے کہ جب آنحضرت ﷺ کی بشارت ایک کے بارے میں ہے تو آ ہی نہیں سکتا۔ یہ عقیدے کی بات ہوگئی ناں جی۔

648 مرزا ناصر احمد: یہ عقیدے کی بات ہے کہ صرف وہی آسکتا ہے جس کی بشارت دی گئی ہے......

جناب یحییٰ بختیار: بشارت صرف ایک کی ہے؟

مرزا ناصر احمد: لیکن یہ امکان کہ اللہ تعالیٰ میں یہ طاقت ہے یا نہیں، اس قسم کی بھی بعض دفعہ باتیں چلتی ہیں۔

١٢٠

صفحہ ٧٠٧

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

جناب یحییٰ بختیار: نہیں نہیں، وہ میں نہیں کہہ رہا......

مرزا ناصر احمد: ہاں، یہی میں وضاحت کرنا چاہتا ہوں۔

جناب یحییٰ بختیار: .......میں یہ کہہ رہا ہوں کہ یہ ”خاتم النبیین“ کی جو بحث ہے، اس میں آپ کے عقیدے اور Interpretation (مفہوم) کی میں وضاحت چاہتا تھا۔

مرزا ناصر احمد: جی وہ میں نے کر دی ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں۔ یہ آنحضرت ﷺ کے بعد صرف ایک نبی جن کی بشارت، مسیح موعود ہیں، آنحضرت ﷺ نے کی ہے؟

مرزا ناصر احمد: ہمارے علم کے مطابق۔

جناب یحییٰ بختیار: وہی آئے ہیں، ان کے بعد اور کوئی نہیں آسکتے؟

مرزا ناصر احمد: ہمارے علم کے مطابق۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں عقیدے کے مطابق۔

اب مرزا صاحب! ایک یہ حوالہ ہے ”انوار خلافت“ سے، میں پڑھ کے آپ کو سناتا ہوں: ”اور انہوں نے خداوند تعالیٰ کی قدر 649 (عربی میں اس کے بعد آتا ہے جی) خدا تعالیٰ کی قدر کو نہیں سمجھا اور یہ سمجھ لیا ہے کہ خدا کے خزانے ختم ہو گئے ہیں۔ اس لئے کسی کو کچھ نہیں دے سکتا۔ اسی طرح یہ کہتے ہیں کہ خواہ کتنا ہی زہد اور اتقاء بڑھ جائے پرہیز گاری اور تقویٰ میں کئی نبیوں سے آگے گزر جائے، معرفت الٰہی کتنی ہی حاصل کر لے۔ لیکن خدا اس کو کبھی نبی نہیں بنائے گا اور کبھی نہیں بنائے گا۔ ان کا یہ سمجھنا خدا تعالیٰ کی قدرت کو ہی نہ سمجھنے کی وجہ سے ہے۔ ورنہ ایک نبی کیا، میں کہتا ہوں کہ ہزاروں نبی ہوں گے۔“

(انوار خلافت ص ٦٢ مرزا بشیر الدین محمود)

”ہوں گے“

مرزا ناصر احمد: یہ کون ہے؟

جناب یحییٰ بختیار: مرزا بشیر الدین محمود صاحب...... (انوار خلافت)......

مرزا ناصر احمد: یہ دیکھ سکتے ہیں؟

جناب یحییٰ بختیار: ......ص ٦٢۔

Mr. Chairman: The book may be handed over to the witness the librarian may hand over the book. The librarian may hand over the book to the witness.

١٢١

صفحہ ٧٠٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

(جناب چیئرمین: کتاب گواہ کو دی جائے۔ لائبریرین کتاب کو گواہ کو دے دیں)

میاں مسعود احمد: جناب صدر! مجھے سوال Put کرنے کے طریق سے کچھ اختلاف ہے۔ میں سمجھتا ہوں......

جناب چیئرمین: ایک سیکنڈ۔ تشریف رکھیں۔ بیٹھیں۔

This we discuss always afterwards.

(اس پر ہم بعد میں بات کریں گے)

میاں مسعود احمد: میں عرض کر رہا ہوں پروسیجر کے مطابق۔

جناب چیئرمین: یہ پروسیجر بھی ہم ڈسکس کرتے ہیں After this (اس کے بعد) ہمیشہ ہر روز Afterwards discuss کرتے ہیں۔

we have laid down certain rules of procedure.

(ہم نے کچھ قواعد اور اصول بنا رکھے ہیں)

650 جناب یحییٰ بختیار: اور اسی کے ساتھ اب صفحہ ٦٥ بھی میں پڑھ لیتا ہوں، پھر آپ سنیں۔.....: ”وہ تو مخالفت سے ڈراتے ہیں۔ لیکن اگر میری گردن کے دونوں طرف تلوار بھی رکھ دی جائے اور مجھے کہا جائے کہ تم یہ کہو کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا تو میں اسے کہوں گا تو جھوٹا ہے، کذاب ہے، آپ ﷺ کے بعد نبی آ سکتے ہیں اور ضرور آ سکتے ہیں۔“

(انوار خلافت ص ٦٥)

Mr. Chairman: The book may be handed over to the witness. (جناب چیئرمین: یہ کتاب گواہ کو دے دی جائے)

جناب یحییٰ بختیار: اب اس کے ساتھ جب، مرزا صاحب! میں سوال Complete (مکمل) کروں......

مرزا ناصر احمد: یہ ٦٥ صفحہ آپ نے پڑھا؟

جناب یحییٰ بختیار: ٦٢ اور ٦٥، دو۔

مرزا ناصر احمد: ٦٢ اور ٦٥؟

جناب یحییٰ بختیار: جی ہاں۔

Mr. Chairman: The book may be handed over to the witness. (جناب چیئرمین: یہ کتاب گواہ کو دے دی جائے)

١٢٢

صفحہ ٧٠٩

709 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04 جناب یحییٰ بختیار: یہ آپ کو یہ دیتے ہیں۔ آپ اس سے دیکھ لیجئے۔ Mr. Chairman: Let the witness verify it let the (جناب چیئرمین: تاکہ گواہ اس کی تصدیق کرسکیں) witness verify.

(امکان اور ایمان میں فرق، مرزا ناصر کا نیا فلسفہ)

مرزا ناصر احمد: یہ...... اس کا جواب یہ ہے کہ ایک ہے امکان ”آسکتا ہے یا نہیں آسکتا“ ایک یہ ہے ایمان کہ ”ایک آ گیا۔“ جہاں تک ”آسکتے ہیں“ کا سوال ہے، میں یہ بتا رہا ہوں کہ جو حوالے آپ نے پڑھے ہیں وہاں امکان کے متعلق ہے۔ جناب یحییٰ بختیار: یہ حوالے درست تو ہیں ناں جی؟ 651 مرزا ناصر احمد: حوالے درست ہیں۔ لیکن اس میں امکان کا ذکر ہے۔ جیسا کہ ”تقویت الایمان“ میں...... جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں آپ سے یہ عرض کروں گا پھر جی کہ اس طرح آپ کہیں کہ کیا مرزا بشیر الدین محمود صاحب کو رسول اللہ ﷺ کی بشارت کا علم تھا یا نہیں تھا؟ ان کو اس بات کا علم تھا کہ انہوں نے کیا بشارت کی ہے کہ ایک ہی مسیح موعود آئیں گے؟ مرزا ناصر احمد: ان کو...... انہوں نے یہ کہا ہے کہ اس کا امکان خدا تعالیٰ کی...... جناب یحییٰ بختیار: اس کا امکان ہی نہیں ہوسکتا جب وہ بشارت کا علم ہو، میں عرض کر رہا ہوں، آپ یہ Explain (واضح) کریں۔ مرزا ناصر احمد: نہیں نہیں، امکانی بحث میں ہے وہ۔ اچھا، اب سمجھ گیا۔ اب میں سمجھ گیا۔ میرے نزدیک امکان کی بحث...... جناب یحییٰ بختیار: نہیں نہیں، وہ ”امکان“ نہیں کہہ رہے...... ”آئیں گے“ مرزا ناصر احمد: وہ بھی امکانی آنا ہے۔ جناب یحییٰ بختیار: نہیں، وہ نہیں کہتے ”آسکتے ہیں“...... ”آئیں گے“...... آپ ذرا غور سے دیکھ لیں اس پر ”آئیں گے“۔ مرزا ناصر احمد: آپ نے، آپ نے، آپ نے...... انکوائری کمیٹی، جو منیر کمیٹی ہے۔ اس میں بھی یہ سوال کیا گیا تھا اور اس میں وہاں یہی کہا ہے کہ ”میری مراد امکان کی ہے“ ایک شخص خود...... ١٢٣

PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04 (جناب چیئرمین: کتاب میاں مسعود احمد: جناب اختلاف ہے۔ میں سمجھتا ہوں...... جناب چیئرمین: ایک سیکنڈ twards. (اس پر ہم بعد میں بات کریں میاں مسعود احمد: میں عرض جناب چیئرمین: یہ پروسی بعد) ہمیشہ ہر روز wards discuss ules of procedure. (ہم نے کچھ قواعد اور اصول 650 جناب یحییٰ بختیار: او آپ دونوں......: ”وہ تو مخالفت سے ڈر رکھ دی جائے اور مجھے کہا جائے کہ تم یہ اسے کہوں گا تو جھوٹا ہے، کذاب ہے، آ t may be handed over to (جناب چیئرمین: یہ کتا جناب یحییٰ بختیار: ب Complete (مکمل) کروں...... مرزا ناصر احمد: یہ ٦٥ صفح جناب یحییٰ بختیار: ١٦٢ مرزا ناصر احمد: ١٦٢ اور ٥ جناب یحییٰ بختیار: جی ہا may be handed over to (جناب چیئرمین: یہ کتا

صفحہ ٧١٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، وہ تو Interpretation (مفہوم) ہے۔ یہاں میں جو آپ سے پوچھ رہا ہوں......

مرزا ناصر احمد: نہیں، Interpretation (مفہوم) خود Author کی، تو دو، دو Interpretation (مفہوم) ہوگئیں۔ ایک لکھنے والے کی Interpretation (مفہوم) کہ ”میں امکان کے متعلق652 بات کر رہا ہوں“ اور آج ایک میری Interpretation (وضاحت) کہ انہوں نے درست کہا تھا کہ ”امکان کے متعلق بات کر رہا ہوں“......

جناب یحییٰ بختیار: دیکھیں، مرزا صاحب!......

مرزا ناصر احمد: اور ”امکان“ کے متعلق، اگر مجھے اجازت ہو؟......

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، آپ پورا کرلیں پھر میں......

مرزا ناصر احمد: اگر ”امکان“ کے متعلق جب بحث ہو تو یہ ”تقویۃ الایمان“ حضرت مولانا محمد اسماعیل صاحب شہید کی صفحہ ٣٧ کے اوپر لکھا ہے: ”اس شہنشاہ خدا تعالیٰ کی تو یہ شان ہے کہ ایک آن میں ایک حکم ”کن“ سے چاہے تو کروڑوں نبی اور ولی اور جن اور فرشتہ جبرائیل اور محمد ﷺ کے برابر پیدا کر ڈالے۔“

اب یہ بالکل ان کا، یہ ایمان رکھنے کے باوجود کہ آنحضرت ﷺ خاتم النبیین ہیں اور آپ جیسا اور کوئی نہیں آسکتا۔ اس ایمان کے باوجود امکان کی بات کر رہے ہیں۔

Mr. Chairman: Yes, Attorney- General.

(جناب چیئرمین: جی ہاں! اٹارنی جنرل)

Mr. Yahya Bakhtiar: Shall I proceed?

(جناب چیئرمین: جی ہاں!) Mr. Chairman: Yes.

جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! میں پھر یہ عرض کرتا ہوں کہ میرے نزدیک سوال بالکل سادہ ہے۔ ”ختم نبوت“ کے معنی کیا ہیں؟ جو ہمارے سب مسلمانوں کا عقیدہ ہے۔ اس عقیدے میں جو قرآن کی روشنی میں ابھی تک اللہ تعالیٰ کا کوئی اور فرمان نہیں آیا کہ ”میں ابھی نیا آدمی بھیجتا ہوں“ میں نبی بھیجتا ہوں، میں نئی شرع بھیجتا ہوں۔“ اللہ تعالیٰ تو سب کچھ کر سکتا ہے۔ امکان کی بات میں نہیں کرتا۔ جو اس وقت اللہ تعالیٰ کا حکم653 ہمارے سامنے ہے۔ ان کی کتاب ہمارے سامنے ہے۔ اس کی تفسیر کا سوال ہے۔ دو نقطہ

١٢٤

صفحہ ١٢٥

711 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

ہائے نظر پیش کئے گئے۔ ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ اور نبی نہیں آسکتے ۔ ”خاتم النبیین“ کا یہ مطلب ہے ۔ دوسرا مطلب یہ لیا جاتا ہے کہ نہیں اور نبی آسکتے ہیں۔ پھر اس کے بعد دوسرا سوال یہ میں نے پوچھا کہ اور نبی آسکتے ہیں تو کتنے آئیں گے؟ آپ نے کہا کہ بشارت آنحضرت ﷺ کی یہ ہے کہ مسیح موعود آئیں گے اور وہ آچکے ہیں۔ اس پر آپ کا عقیدہ یہ کہ اور نہیں آئیں گے اسی Context (ضمن) میں میں نے یہ عرض کیا کہ بشارت کا مرزا بشیر الدین محمود صاحب کو بھی علم ہوگا۔ یہ یقیناً ایسی بات تو نہیں ہے کہ آپ کو علم ہو، ان کو نہ ہو۔ اس کے باوجود یہ کہتے ہیں کہ ”اور نبی آئیں گے“ اور میں الفاظ پھر پڑھ کے دیتا ہوں آپ کو......

مرزا ناصر احمد: نہیں، وہ تو واضح ہے، واضح ہے۔

(ہزاروں نبی آسکتے ہیں)

جناب یحییٰ بختیار: یہ قیاس کی بات نہیں، امکان کی بات نہیں۔ میں یہ کہہ رہا ہوں۔ "He is saying: "certainly, definitely." (پورے یقین اور اعتماد کے ساتھ کہہ رہے ہیں ۔) ذرا پھر غور فرمائیے۔

"...... اور یہ سمجھ لیا کہ خدا کے خزانے ختم ہو گئے۔ اس لئے کسی کو کچھ نہیں دے سکتا۔ اس طرح یہ کہتے ہیں کہ خواہ کتنا ہی زہد و تقویٰ میں بڑھ جائے پرہیز گاری اور تقویٰ میں کئی نبیوں سے آگے گزر جائے، معرفت الٰہی کتنی ہی حاصل کرلے۔ لیکن خدا اس کو کبھی نبی نہیں بنائے گا ۔“ یعنی یہ قرآن شریف کی جو Present interpretation (موجودہ تفسیر) ہے۔ اللہ کا جو present (موجودہ) حکم ہے۔ اس کی Interpretation (وضاحت) ہو رہی ہے۔ ”نہیں بنائے گا اور کبھی نہیں بنائے گا۔“

”ان کا یہ سمجھنا خدا تعالیٰ کی قدرت کو نہ سمجھنے کی وجہ سے ہے۔ ورنہ ایک نبی تو کیا، میں کہتا ہوں ہزاروں نبی ہوں گے۔“

654 ”ابھی اللہ تعالیٰ نے اور حکم نہیں دیا۔ جو حکم دیا ہے اسی کی Interpretation (وضاحت) پر کہہ رہے ہیں:”اور میں کہتا ہوں کہ اور نبی ہوں گے“ امکان کی بات نہیں ہے اور پھر آگے یہاں فرماتے ہیں، مرزا صاحب:”وہ تو مخالفت سے ڈراتے ہیں۔ لیکن اگر میری گردن کے دونوں طرف تلوار بھی رکھ دی جائے اور مجھے کہا جائے کہ تم یہ کہو کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا تو میں کہوں گا تو جھوٹا ہے، کذاب ہے، آپ ﷺ کے بعد نبی آسکتے ہیں اور ضرور

١٢٥

F PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، جو آپ سے پوچھ رہا ہوں......

مرزا ناصر احمد: نہیں، on دو، دو Interpretation (مفہوم (مفہوم) کہ ”میں امکان کے متعلق بات (وضاحت) کہ انہوں نے درست کہا تھا

جناب یحییٰ بختیار: دیکھیں

مرزا ناصر احمد: اور ”امکان

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، آ

مرزا ناصر احمد: اگر ”امکا حضرت مولانا محمد اسماعیل صاحب شہید کی شان ہے کہ ایک آن میں ایک حکم ”کن جبرائیل اور محمد ﷺ کے برابر پیدا کر ڈالے اب یہ بالکل ان کا، یہ ایمان اور آپ جیسا اور کوئی نہیں آسکتا۔ اس ایما rney- General.

(جناب چیئرمین: جی ہاں

all I proceed?

(جناب چیئرمین: جی ہاں

جناب یحییٰ بختیار: مرزا صا بالکل سادہ ہے۔ ”ختم نبوت“ کے معنی عقیدے میں جو قرآن کی روشنی میں اہم آدمی بھیجتا ہوں“ میں نبی بھیجتا ہوں، میں اللہ تعالیٰ تو سب کچھ کر سکتا ہے۔ حکم 653 ہمارے سامنے ہے۔ ان کی کتاب

صفحہ ٧١٢

712 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

آسکتے ہیں۔" دیکھیں، یہ یہاں امکان کی بات آ گئی، وہاں نہیں ہے امکان کی بات۔

مرزا ناصر احمد: جس وقت آپ کا سوال ختم ہو جائے گا اس وقت میں جواب دوں گا۔

جناب یحییٰ بختیار: تو میرا سوال یہی ہے جی کہ انہوں نے یہ کہا کہ "اور نبی آئیں گے اور ضرور آئیں گے" امکان کی بات نہیں کی کہ اللہ تعالیٰ کوئی حکم نازل کرے کوئی اور وحی نازل کرے کسی اور نبی کو۔ ہم تو کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا آخری حکم آچکا ہے۔ آخری کتاب آچکی ہے۔ یہ ہمارا عقیدہ ہے۔ یہ آپ کا عقیدہ ہے اور اس کی Interpretation (وضاحت) ہو رہی ہے کہ "خاتم النبیین" کے کیا معنی ہیں اور اسی پر میں نے عرض کیا اور آپ نے کہا کہ آپ کا عقیدہ یہ ہے کہ صرف ایک اور مسیح موعود آئیں گے، اور آچکے ہیں۔ یہاں پر یہ کہتے ہیں کہ "ہزاروں نبی آسکتے ہیں" اور "آئیں گے" تو اس پر آپ فرمائیے۔

مرزا ناصر احمد: جو میں سمجھا ہوں وہ یہ ہے کہ آپ نے فیصلہ نہیں فرمایا۔ بلکہ سوال کیا ہے جس کا جواب مجھے دینا ہے۔

655 جناب یحییٰ بختیار: ہاں، میرا کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہے۔

مرزا ناصر احمد: میری رائے میں سوائے امکان کے اور کوئی بات نہیں اور اس لئے کہ علم کے باوجود بھی بعض دفعہ امکان کی بحث کی جاتی ہے۔ جیسا کہ حضرت اسماعیل صاحب شہید، جن کا میں نے حوالہ ابھی پڑھا۔ ان کا ایمان ہے کہ حضرت محمد ﷺ کے بعد کوئی شرعی نبی نہیں آسکتا۔ اس پختہ ایمان پر قائم ہوتے ہوئے، اور جہاں تک میں نے ان کو سمجھا ہے ایک سیکنڈ کے لئے بھی یہ خیال نہ رکھتے ہوئے کہ کوئی محمد ﷺ کے بعد صاحب شریعت نبی آسکتا ہے، اس پختہ ایمان کے باوجود لکھتے یہ ہیں...... ایمان اپنی جگہ پختہ ہے۔ لکھتے یہ ہیں کہ: "اللہ تعالیٰ کی شان یہ ہے کہ ایک آن میں ایک حکم "کن" سے چاہے تو کروڑوں نبی اور ولی اور جن و فرشتہ جبرائیل اور محمد ﷺ کے برابر پیدا کر ڈالے۔"

"کروڑوں محمد ﷺ کے برابر پیدا کر ڈالے" اس یقین کے باوجود کہ ہو ہی نہیں سکتا عملاً تو یہ کہنا کہ چونکہ یہ آپ کا عقیدہ ہے، اس لئے امکان کی بحث نہیں کسی جگہ ہو سکتی۔ خاکسار کے نزدیک وہ Interpretation (مفہوم) درست نہیں۔

(مرزا خاتم النبیین؟)

جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! میں تو یہ عرض کر رہا تھا کہ اللہ تعالیٰ رب العالمین

١٢٦

صفحہ ١٢٧

713 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

ہے اور اس عالم کو، جس میں ہم انسان رہتے ہیں، بالکل ہی ختم کر سکتا ہے۔ یہ سوال ہی ختم کر سکتا ہے۔ کہ نبی آئیں نہ آئیں۔ انسان کو ہی ختم کر سکتا۔ مگر میں اس میں نہیں جاتا۔ ان کی طاقت سے، ان کی قدرت سے کسی کو انکار نہیں۔ سوال صرف یہ تھا کہ ختم الرسل والنبوت کا۔ ”خاتم النبیین“ کی جو تفسیر ہو رہی ہے۔ جو دو نقطہ ہائے نظر آ رہے ہیں۔ ان کے مطابق میرا خیال ہے کہ انہوں نے Interpretation (وضاحت) کی ہے۔ یہ تفسیر دی ہے کہ اور نبی آسکتے ہیں۔ اس کے بعد آپ نے کہا کہ ہمیں بشارت یہ ہے کہ صرف ایک ہی نبی آئیں گے۔ بات وہی رہ جاتی ہے۔ میں اس میں مزید نہیں جاتا۔ مگر اب دوسرا سوال ہوتا ہے کہ مرزا غلام احمد صاحب کے بعد اور کوئی نبی نہیں آسکتے تو خاتم النبیین پھر مرزا غلام احمد ہو گئے۔ جس 656 Sense (معنی) میں آخری نبی، آپ یہ نہ سمجھیں......

مرزا ناصر احمد: بالکل نہیں ہو سکتے۔

جناب یحییٰ بختیار: ...... آخری نبی وہی ہو گئے۔

مرزا ناصر احمد: وہ جس نے اپنے آپ کو ”غلام“ اور ”احقر الغلمان“ کہا ہے، وہ آخری کیسے ہو گیا؟

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں یہ سمجھوں کہ امتی نبی ان کے بعد کوئی آسکتا ہے؟ کوئی اور امتی نبی آسکتا ہے مرزا غلام احمد صاحب کے بعد؟

مرزا ناصر احمد: اسماعیل صاحب شہید کہتے ہیں کہ ” کروڑوں محمد آسکتے ہیں۔“

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں آپ سے پوچھتا ہوں، مرزا صاحب! پلیز (Please) میں...... قدرت کی بات نہیں ہے۔ جو آپ کا عقیدہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے یہ بشارت دی ہے کہ مسیح موعود آئیں گے اور کوئی نہیں آئے گا۔ آپ کی یہ Interpretation (وضاحت) تھی......

مرزا ناصر احمد: میرا عقیدہ یہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ کے بعد، آپ کو چھوڑ کے، آپ کے مقابل پر کھڑے ہو کر، آپ کی اتباع کا دم بھرتے ہوئے، اپنے نفس کو آپ ﷺ کی راہ میں فدا کئے بغیر، کوئی امتی نبی بھی نہیں آسکتا۔

جناب یحییٰ بختیار: یعنی یہ جی کہ امتی نبی آ گیا......

مرزا ناصر احمد: وہ بھی اپنی صفات کا حامل ہے اور آپ کی جوتیوں میں بیٹھنے کے قابل ہے۔

١٢٧

KISTAN 8th Aug, 1974 No:04

آسکتے ہیں۔ ”دیکھیں، یہ یہاں امکا

مرزا ناصر احمد: جس و

جناب یحییٰ بختیار: تو گے اور ضرور آئیں گے“ امکان کی با کرے کسی اور نبی کو۔ ہم تو کہتے ہیں یہ ہمارا عقیدہ ہے۔ یہ آپ کا عقیدہ ۔ کہ ”خاتم النبیین“ کے کیا معنی ہیں ا ہے کہ صرف ایک اور مسیح موعود آئیں آسکتے ہیں ”اور آئیں گے“ تو اس

مرزا ناصر احمد: جو میں ہے جس کا جواب مجھے دینا ہے۔

655 جناب یحییٰ بختیار:

مرزا ناصر احمد: میرا کہ علم کے باوجود بھی بعض دفعہ اما شہید، جن کا میں نے حوالہ ابھی پڑھ آسکتا۔ اس پختہ ایمان پر قائم ہو۔ لئے بھی یہ خیال نہ رکھتے ہوئے کہ ایمان کے باوجود لکھتے یہ ہیں۔ ہے کہ ایک آن میں ایک حکم ” کر اور محمد ﷺ کے برابر پیدا کر ڈالے ”کروڑوں محمد ﷺ عملاً تو یہ کہنا کہ چونکہ یہ آپ کا عقی کے نزدیک وہ erpratation

جناب یحییٰ بختیار:

صفحہ ٧١٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، اس طرح سے اور امتیوں میں بیٹھنے والا کوئی اور آسکتا ہے؟

657 مرزا ناصر احمد: اگر آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے، اور اگر خدا تعالیٰ اپنی قدرت کا جلوہ دکھانا چاہے، تو وہ حضرت اسماعیل شہید کے بقول، کروڑوں محمد ﷺ پیدا کرسکتا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، فی الحال جو ہمارا عقیدہ ہے، ہم نے ...... جو محمد ﷺ نے کہا ہے، جو انہوں نے کہا ہے۔ ان کی بشارت ہے۔ اس کے مطابق ہمارا عقیدہ ہے کہ اور کوئی نہیں آسکتا۔ آپ کا عقیدہ؟

مرزا ناصر احمد: حضرت اسماعیل صاحب شہید کی مثال دی تھی میں نے کہ ”میں یقین رکھتا ہوں“...... ان کا عقیدہ تھا...... کہ نبی اکرم ﷺ کے بعد کوئی خاتم النبیین نہیں آسکتا۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں۔ آپ کا عقیدہ یہ ہے کہ بشارت صرف ایک کی ہے Factually (حقیقتاً)...... اس امکان کی بات میں نہیں کر رہا۔

مرزا ناصر احمد: سب کا یہی ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: ...... اور کوئی نبی (نہیں) آسکتے تو پھر آخری نبی یہی ہو گئے ناں جی، خاتم الانبیاء کہیں، جو ......

مرزا ناصر احمد: سب کا یہی ہے، ہر فرقے کا یہی عقیدہ ہے، امت کے ہر فرقے کا یہ ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: ہر فرقے کا تو آپ ......

مرزا ناصر احمد: یہی عقیدہ ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: آخری نبی ......

مرزا ناصر احمد: امت محمدیہ کے ہر فرقے کا یہ عقیدہ ہے کہ امت کو مسیح کی آمد کی بشارت دی گئی، اور اس نے بعد میں آنا ہے۔

658 جناب یحییٰ بختیار: ...... نہیں، بعد میں آنا ہے۔ آخری نبی جو ہے وہ مسیح موعود ہیں؟

(مرزا ناصر کی قلابازیاں)

مرزا ناصر احمد: آخری نبی۔ موعود کو چھوڑیں۔ امت کے ہر فرقے کا یہ عقیدہ ہے کہ مسیح نازل ہوگا۔

١٢٨

صفحہ ٧١٥

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

جناب یحییٰ بختیار: اور وہ ہوچکے ہیں آپ کے عقیدے کے مطابق؟

مرزا ناصر احمد: ابھی یہ جو ہے ناں مسئلہ، یہ تو سمجھتا نہیں ، اور باقی حصہ چھوڑیں۔ ہر فرقہ یہ کہتا ہے کہ مسیح نے نازل ہونا ہے۔ جب مسیح نازل ہوں گے تو وہ آخری بن جائیں گے؟

جناب یحییٰ بختیار: نہیں۔ میں پھر آپ سے ایک اور سوال پوچھتا ہوں۔ روزِ قیامت سارے انبیاء اللہ کے دربار میں حاضر ہوں گے۔ آخری نبی کون شمار ہوگا؟ حضرت محمد ﷺ، یسوع مسیح یا حضرت عیسیٰ علیہ السلام؟

مرزا ناصر احمد: حضرت محمد ﷺ سب سے پہلے نبی بھی ہیں اور سب سے آخری نبی بھی ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: آخری نبی وہی سمجھے جائیں گے؟

مرزا ناصر احمد: بالکل۔

جناب یحییٰ بختیار: تو اب آپ نے یہ فرمایا کہ امتی نبی جو ہے......

مرزا ناصر احمد: ”امتی نبی“ اس کو کہتے ہیں جس کا وجود ہی نہ ہو۔

جناب یحییٰ بختیار: جو بھی آپ اس کو سمجھیں۔ آپ کہتے ہیں کہ جو حضرت غلام احمد صاحب کو نبی نہیں مانتا اور اتمامِ حجت کے بعد نہیں مانتا، وہ کافر ہے، بالکل کافر ہے۔ تو ایک نبی ہیں...... کیونکہ اسلام میں یہ آیا ہے کہ جو کسی نبی کا انکار کرتا ہے، وہ کافر ہوجاتا ہے659...... تو وہ ہیں نبی، آپ کے نقطہ نظر سے، میں پوچھتا ہوں کہ یہی آخری نبی ہیں یا کوئی اور بھی آئیں گے؟

مرزا ناصر احمد: اسلام میں یہ بھی آیا ہے کہ جو چار ارکانِ اسلام کا...... کلمہ کے باوجود...... انکار کرتا ہے، وہ بھی کافر ہوجاتا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں یہ پوچھتا ہوں کہ نبی اور کوئی آئیں گے؟ اور آخری نبی یہی ہیں کہ نہیں، آپ کے نقطہ نظر سے؟

مرزا ناصر احمد: کسی بتانے والے سے پوچھیں۔ میں کیا جواب دے سکتا ہوں؟ محمد ﷺ......

جناب یحییٰ بختیار: آپ کہتے ہیں ان کی بشارت یہ ہے......

(مرزا ناصر کے خلاف چیئرمین صاحب کی رولنگ)

Mr. Chairman: The question of the Attorney-

١٢٩

N 8th Aug, 1974 No:04

جناب یحییٰ بختیار

657 مرزا ناصر احمد

جلوہ دکھانا چاہے، تو وہ حضرت

جناب یحییٰ بختیار

کہا ہے، جو انہوں نے کہا ہے

آسکتا۔ آپ کا عقیدہ؟

مرزا ناصر احمد :

یقین رکھتا ہوں....... ان کا عقی

جناب یحییٰ بختیار

Factually (حقیقتاً)......

مرزا ناصر احمد :

جناب یحییٰ بختیار

جی، خاتم الانبیاء کہیں، جو.......

مرزا ناصر احمد :

یہ ہے۔

جناب یحییٰ بختیار

مرزا ناصر احمد :

جناب یحییٰ بختیار

مرزا ناصر احمد :

بشارت دی گئی ، اور اس نے با

658 جناب یحییٰ بختیار

مرزا ناصر احمد :

مسیح نازل ہوگا۔

صفحہ ٧١٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

General is unanswered and the opinion of the witness is sought.

(جناب چیئرمین: اٹارنی جنرل کے سوال کا جواب نہیں ملا۔ گواہ اس بارے میں اپنا نقطہ نظر بیان کرے)

جناب یحییٰ بختیار: حضرت محمد ﷺ کی جو بشارت ہے، ان کے جو احکام ہیں۔ میرے اپنے عقیدے کے مطابق، میں ان سے پوری طرح واقف ہوں کہ اور کوئی نبی نہیں آسکتا ان کے بعد۔ نہ کوئی غلام احمد صاحب نبی ہیں ان کے بعد۔ میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ آپ کی Interpretation (مفہوم) کیا ہے؟

Mr. Chairman: What is the interpretation of the witness: Because witness is in the witness box.

(جناب چیئرمین: گواہ کا نقطہ نظر کیا ہے۔ کیونکہ گواہ گواہی کے کٹہرے میں ہے)

مرزا ناصر احمد: جب آپ سوال ختم کریں گے تو میں بتا دوں گا۔

جناب یحییٰ بختیار: کہ کوئی اور آخری نبی، ان کے بعد امتی نبی کوئی اور آسکتا ہے؟

Is he the last of the Ummati Prophets, the first and the last, and the only one?

(کیا وہ آخری امتی نبی ہیں۔ پہلا اور آخری امتی نبی صرف وہی)

مرزا ناصر احمد: جب سوال ختم ہو جائے گا تو پھر میں.......

660 جناب یحییٰ بختیار: ختم ہوگیا۔ ختم ہوگیا ہے۔

مرزا ناصر احمد: ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ جس امتی نبی کی بشارت دی گئی تھی اس کا اپنا کوئی وجود ہی نہیں، اور اپنے نفس پر کامل موت وارد کرنے کے بعد اور محمد ﷺ کے Cause (مشن) کے لئے، اس مقصد کے لئے پوری Dedication (کوشش) کے ساتھ جو شخص آیا ہے، اس کو نہ آخری کہا جاسکتا ہے نہ پہلا۔ اور امت محمدیہ میں وہ بزرگ ہمارے جن کی بزرگی پر شک نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے امکان اس بات کا ظاہر کر دیا کہ اللہ کی قدرت سے یہ بعید نہیں کہ محمد ﷺ جیسے کروڑوں نبی پیدا کر دے تو وہ جو چیز ان کے لئے آپ خاموشی سے قبول کرلیتے ہیں۔ ہمارے لئے بحث کا موضوع کیسے بن جائے گی؟

١٣٠

717 NATIONAL AS

سے اپنے عقیدے کا پوچھتا ہوں، مرزا If you don't mind m کو محسوس نہ کریں) میں نے آپ کے امکان کی بات میں نہیں کر رہا۔ اللہ تعالیٰ آپ کا عقیدہ ہے کہ جو ”ختم نبوت“ کا نبی کہہ رہے ہیں....... ی نبی محمد ﷺ ہیں۔

لئے، میں امتی نبی کا ذکر کر رہا ہوں۔

کے بارے میں آپ کا عقیدہ پوچھ رہا

ہے۔

(شاہکار تلبیس)

پ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں....... .....

ہا ہے۔

تھے نبی نہیں تھے؟

تھے۔

صفحہ ٧١٧

717 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں آپ سے اپنے عقیدے کا پوچھتا ہوں، مرزا صاحب! آپ کے عقیدے کا میں پوچھ رہا تھا۔ If you don't mind my repeating this (اگر آپ میرے اس دہرانے کو محسوس نہ کریں) میں نے آپ کے عقیدے کا پوچھا کہ آپ کے عقیدے کے مطابق...... امکان کی بات میں نہیں کر رہا۔ اللہ تعالیٰ سب کچھ کر سکتا ہے...... فی الحال جو ہمارا عقیدہ ہے، جو آپ کا عقیدہ ہے کہ جو ”ختم نبوت“ کا مطلب ہے۔ اس کے مطابق آخری نبی، جن کو آپ امتی نبی کہہ رہے ہیں......

مرزا ناصر احمد: نہیں، اس کے مطابق آخری نبی محمد ﷺ ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: وہ تو شرعی نبی ہوگئے۔

مرزا ناصر احمد: آخری نبی محمد ﷺ ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، وہ شرعی نبی ہوگئے، میں امتی نبی کا ذکر کر رہا ہوں۔

مرزا ناصر احمد: میں اپنا عقیدہ بتا رہا ہوں۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں امتی نبی کے بارے میں آپ کا عقیدہ پوچھ رہا ہوں، مرزا صاحب!

661 مرزا ناصر احمد: جی، وہی میں بتا رہا ہوں۔

جناب یحییٰ بختیار: امتی نبی کے......

(مرزا ناصر احمد صاحب کی نئی شاہکار تلبیس)

مرزا ناصر احمد: آخری نبی محمد ﷺ ہیں۔ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں......

جناب یحییٰ بختیار: اور یہ جو مرزا غلام احمد......

مرزا ناصر احمد: ......نہ آپ کے پہلے کوئی نبی ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: ......یہ مرزا غلام احمد جو تھے نبی نہیں تھے؟

مرزا ناصر احمد: بعد نہیں تھے۔

جناب یحییٰ بختیار: ہیں جی؟

مرزا ناصر احمد: وہ محمد ﷺ کے بعد نبی نہیں تھے۔

جناب یحییٰ بختیار: پہلے تھے؟

١٤١

8th Aug, 1974 No:04

f the witness is

(جناب یحییٰ نقطۂ نظر بیان کرے)

جناب یحییٰ میرے اپنے عقیدے کے ان کے بعد۔ نہ کوئی غلا

Interpretation pretation of the

(جناب یحییٰ

مرزا ناصر ا

جناب یحییٰ

s, the first and

(کیا وہ آخ

مرزا ناصر

660 جناب

مرزا ناصر وجود ہی نہیں، اور اپنے کے لئے، اس مقصد کے نہ آخری کہا جاسکتا ہے جاسکتا۔ انہوں نے ام کروڑوں نبی پیدا کر لئے بحث کا موضوع ن

صفحہ ٧١٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

مرزا ناصر احمد : دیکھیں ناں : لا نبی بعدی ’’بعد‘‘ جو عربی کا لفظ ہے۔ اس کے معنی پہلے سمجھنا چاہئیں۔

جناب یحییٰ بختیار : نہ، وہ تو آپ کہتے ہیں ناں کہ شرعی نبی نہیں۔ میں کہتا ہوں کہ امتی نبی جو آپ کہتے ہیں......

مرزا ناصر احمد : نہیں، نہیں، میں یہ نہیں کہتا کہ شرعی نبی نہیں۔ میں یہ کہتا ہوں کہ محمد ﷺ کے نہ بعد کوئی نبی ہے، نہ پہلے کوئی نبی ہے......

جناب یحییٰ بختیار : ٹھیک ہے.......

مرزا ناصر احمد : اول بھی ہیں اور آخر بھی ہیں اور اگر حوالے چاہیں تو کل آپ کی خدمت میں پیش کردیں گے۔

جناب یحییٰ بختیار : نہیں جی، بڑی Plain (صاف) بات ہے، حوالے کی کیا ضرورت ہے؟ یہاں تو حوالے کی کوئی ضرورت ہی نہیں نہ کوئی پہلے آیا، نہ کوئی بعد میں آگیا......

662 مرزا ناصر احمد : ہاں، ہاں۔

جناب یحییٰ بختیار : ......مسئلہ ہی حل ہوگیا۔ سارا جھگڑا ہی یہ ہے کہ ایک اور نبی آگیا۔ آپ کہتے ہیں کہ آئے ہی نہیں۔

مرزا ناصر احمد : ’’انا اول والآخر‘‘ نہیں، یہ جھگڑا ختم کردیا خود محمد ﷺ نے۔

جناب یحییٰ بختیار : ہاں جی، یہ تو پھر ٹھیک ہے ناں جی۔

مرزا ناصر احمد : انا اول والآخر۔

جناب عبدالعزیز بھٹی : سر! اس سوال کا ویسے جواب نہیں آیا جی۔

This should be kept pending.

(اس کو مؤخر کر دیا جائے) یا یہ ہے کہ......

Mr. Chairman: This is for the Attorney- General to ask the Chair whether the answer has come or not. If the Attorney- General feels satisfied....

(جناب چیئرمین : یہ اٹارنی جنرل کا کام ہے۔ چیئرمین کو بتائیں کہ سوال کا جواب مل گیا ہے یا نہیں۔ کیا اٹارنی جنرل مطمئن ہیں......)

١٣٢

صفحہ ٧١٩

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

جناب یحییٰ بختیار: نہیں ، مرزا صاحب نے کل بھی کہا تھا کہ تھک گئے ہیں۔ I can continue, but if Mirza Sahib wants.... (میں تو کام کرسکتا ہوں لیکن اگر مرزا صاحب چاہیں) مرزا ناصر احمد: میں تھک گیا ہوں۔ جناب یحییٰ بختیار: تھک گئے ہیں۔ ٹھیک ہے کل سہی۔ مرزا ناصر احمد: کل جمعہ ہے، اس کے متعلق کوئی نہیں...... جناب چیئرمین: نہیں ، کل میں آپ کو...... جناب یحییٰ بختیار: کل میں نے وہاں ایک ڈیفنس کالج میں لیکچر دینا ہے۔ تو کل مولانا......

Mr. Chairman: Tomorrow, I will tell the (جناب چیئرمین: میں کل پروگرام کا اعلان کروں گا) programme. 663 مرزا ناصر احمد: نہیں کل جمعہ بھی ہے ناں۔ جناب چیئرمین: کل جمعہ ہے جی I will tell the programme (میں پروگرام کا اعلان کروں گا ۔) جناب یحییٰ بختیار: ہم تو کام کرتے ہیں ، اگر آپ جمعہ کے دن کام نہیں کرتے...... جناب چیئرمین: نہیں ، میں آپ کو عرض کر دوں ۔ Tomorrow,we will sit up to 12:30 because of Jumma, and not up to 1:30 or up to 2:00 (کل ہم ١٢:٣٠ تک بیٹھیں گے کیونکہ جمعہ ہے۔ ١:٣٠ یا ٢:٠٠ بجے تک نہیں بیٹھیں گے) Mr. Yahya Bakhtiar: 12:30 sir. (جناب یحییٰ بختیار: ساڑھے بارہ بجے سر!) جناب چیئرمین: 12:30 تک Meet کریں گے۔ There will be only one sitting. There won't be any break. We will start at 10:30..... (Interruption) All right 9:30 to 12:30; and in the evening, we will meet at 6:00. ١٣٣

صفحہ ٧٢٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

(صرف ایک نشست ہو گی بغیر کسی وقفہ کے ساڑھے دس پر ہم اجلاس شروع کریں گے۔ (مداخلت) ٹھیک ہے۔ ساڑھے نو بجے سے ساڑھے بارہ بجے تک اور شام کو چھ بجے اجلاس ہو گا)

Mr. Yahya Bakhtiar: At 6 'O' Clock in the evening? (جناب یحییٰ بختیار: شام کو چھ بجے؟)

Mr. Chairman: At 6 'O' Clock in the evening. (جناب چیئرمین: شام کو چھ بجے)

The Delegtion is permitted to leave. (وفد کو جانے کی اجازت ہے) وہ کرلیں گے۔ تاریخ کے متعلق۔

9:30 to 12:30, all right? (ساڑھے نو سے ساڑھے بارہ تک، ٹھیک ہے؟)

Nine- thirty is all right. ساڑھے نو بجے۔ پھر آپ نہیں آئیں گے۔ (ساڑھے نو ٹھیک ہے)

The delegation is permitted to leave 9:30; tomorrow at 9:30 am. (وفد کو صبح ساڑھے نو بجے تک جانے کی اجازت ہے)

ساڑھے نو بجے۔

The Honourable Members may keep sitting. (معزز ممبران تشریف رکھیں)

(Delegation left the Chamber) (وفد ہال سے چلا گیا)

Mr. Chairman: The honourable members may please keep sitting. (Interruption) Rao Mohammad Hashim Khan to return back to his seat, and Khawaja Mohammad Suleman also; Maulana Shah Ahmad Noorani also to be in his seat.

١٣٤

صفحہ ٧٢١

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

(جناب چیئرمین: معزز اراکین تشریف رکھیں۔ راؤ محمد ہاشم خان اپنی نشست پر واپس جائیں اور خواجہ محمد سلیمان بھی۔ مولانا شاہ احمد نورانی بھی اپنی نشست پر جائیں)

664 Just a minute.

ذرا ایک منٹ تو ٹھہر جائیں جی! (صرف ایک منٹ)

Yes, Hazarat Maulana Attaullah Sahib Lyallpuri.

(جی! حضرت مولانا عطاء اللہ صاحب لائل پوری)

-------------

PROCEDURE AND STRATEGY FOR FURTHER

CROSS- EXAMINATION

Mian Mohammad Ataullah: Sir, I have my hat off for the Attorney- General today.

(میاں محمد عطاء اللہ: جناب والا! میں آج اٹارنی جنرل صاحب کو سلام کرتا ہوں)

جناب چیئرمین: اس کو چھوڑیں پلیز۔ (Please)

Mian Mohammad Ataullah: Just a minute, Sir.

In my humble opinion, Sir, tomorrow when we start the cross- examination again my request is .....

(میاں محمد عطاء اللہ: صرف ایک منٹ، جناب والا! میری ناقص رائے میں ہے جب ہم دوبارہ کل اجلاس کریں تو جرح اسی مقام سے شروع کی جائے)

جناب چیئرمین: ان کی کتابیں ساری آپ نے اٹھوادی ہیں...... انصاری صاحب کی۔

Mian Mohammad Ataullah: .... The question which was being asked at this moment, I think we should start the cross- examination from this very question.

(میاں محمد عطاء اللہ: میرا خیال ہے جرح اسی مقام سے شروع کی جائے جہاں پر آج کا سوال ختم ہوا تھا)

Mr. Chairman: Leave it to the Attorney- General; we have decided not to discuss the strategy, leave it, the

١٣٥

AN 8th Aug, 1974 No:04

(صرف ایک نشس

گے۔ (مداخلت) ٹھیک ہے

اجلاس ہوگا)

O' Clock in the

(جناب یحییٰ

he evening.

(جناب چیئ

(وفد کو جانے

(ساڑھے نو

ساڑھے نو

9:30; tomorrow

(وفد کو صبح سا

ساڑھے نو

itting.

(معزز ممبر

members may

hmad Hashim

a Mohammad

also to be in

صفحہ ٧٢٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

strategy also. A lawyer knows his strategy best; and also, it also leads out. You decided yesterday that everything is being leaked out and then you want to discuss the strategy in the House!

Tomorrow, ..... (Interruption) Just a minute. آپ کی بات سنتا ہوں ذرا ٹھہر کے Tomorrow, I have told them to be here at 9:30; Attorney- General will not be here; Maulana Zafar Ahmad Ansari will start the cross- examination on the subject entrusted to him by the Steering Committee. But I will request the Law Minister also to be present tomorrow. In case that topic finishes and the Attorney- General does not return, it will be the duty of the Law 665 Minister to resume cross- examination on behalf of the Steering Committee. Yes, this is the consonsus of the House. I can't do anything; you have to.

(جناب چیئرمین: یہ آپ اٹارنی جنرل پر چھوڑ دیں۔ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ اس حکمت عملی پر ہم بحث نہیں کریں گے۔ وکیل اپنی حکمت عملی کو بہتر سمجھتا ہے۔ اس طرح حکمت عملی کا راز باہر جاسکتا ہے۔ یہ کہا جاتا ہے کہ ہر بات کا راز افشاں ہو رہا ہے۔ اس کے باوجود آپ حکمت عملی کو زیر بحث لانا چاہتے ہیں۔ جیسا کہ میں نے کہا ہے۔ کل اجلاس ساڑھے نو بجے شروع ہوگا۔ چونکہ اٹارنی جنرل موجود نہیں ہوں گے۔ اس لئے سٹیرنگ کمیٹی نے جو کام مولانا ظفر احمد انصاری کے سپرد کیا ہے۔ اس کے مطابق وہ گواہ پر جرح کریں گے۔ ہاں میں وزیر قانون سے درخواست کروں گا کہ وہ کل اجلاس میں موجود رہیں۔ اگر ضرورت پڑی تو وزیر قانون سٹیرنگ کمیٹی کی جگہ گواہ پر جرح کریں گے۔ اس بات پر سارا ایوان متفق ہے اور میں کچھ نہیں کر سکتا)

Mr. Abdul Hafeez Pirzada: I will most certainly try to be here, because I was not needed during the cross-examination...

١٣٦

صفحہ ١٤٧

723 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

(عبدالحفیظ پیرزادہ: میں یقیناً موجود رہنے کی کوشش کروں گا۔ جرح کے دوران میری ضرورت نہیں تھی)

Mr. Chairman: You are very much needed here. (جناب چیئرمین: آپ کی یہاں بہت ضرورت تھی)

Mr. Abdul Hafeez Pirzada: .... it was in competent hands, and I had a number of problems to look after. So, I have.... (عبدالحفیظ پیرزادہ: اور بہت سے قابل لوگ موجود ہیں۔ مجھے اور بھی کئی امور کو دیکھنا ہوتا ہے......)

Mr. Chairman: You will have looked after the Attorney- General if you had been here, yes.

Mr. Abdul Hafeez Pirzada: So, I have.

(Interruption)

جناب عبدالحفیظ پیرزادہ: تین سال جو نہیں آتے ہیں ہاؤس میں آ کے بیٹھتے نہیں تو اب وہ کسر نکل گئی ہے۔

Mr. Chairman: Yes, Maulana Maula Bakhsh Soomro. (جناب چیئرمین: جی! مولانا مولا بخش سومرو)

Sardar Maula Bakhsh Soomro: Appreciation to the Attorney- General, Sir, our congratulations and appreciation to the Attorney- General for today's debate. (سردار مولا بخش سومرو: جناب والا! اٹارنی جنرل صاحب آج کی کاروائی کے لئے ہم سب سے شکریہ اور تعریف کے مستحق ہیں)

Mr. Chairman: Then, yesterday, what we decided was that the strategy should be left to him. For one point, he may have drive for four hours. (جناب چیئرمین: کل ہم نے فیصلہ کیا تھا کہ حکمت عملی اٹارنی جنرل پر چھوڑ دی

صفحہ ٧٢٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

جائے۔ ایک نقطہ کے لئے ان کو چار گھنٹے محنت کرنا پڑی)

جی مولانا برکت اللہ !

Yes Maulana Barkatullah.

چوہدری برکت اللہ : جناب والا ! اس میں گزارش یہ ہے کہ جیسا کہ جناب نے فرمایا ہے ابھی کہ کل اٹارنی جنرل صاحب نہیں ہوں گے....... یہ تو ٹھیک ہے کہ مولانا ظفر احمد انصاری صاحب بڑی محنت کر رہے ہیں۔ بڑی Pains لے رہے ہیں، He is a competent man....... 666 لیکن، جناب اگر کل دوسرے آدمی یعنی انصاری صاحب آجائیں یا پیر زادہ صاحب، تو میرے خیال میں سرا جو ساری بات چل رہی ہے ناں شروع سے، جیسا کہ اٹارنی جنرل صاحب کر رہے ہیں، اس میں وہ بریک آجائے گا اور پوری طرح سے، سرا وہ نہیں ہو سکے گی۔

جناب چیئرمین: نہیں، نہیں، نہیں، انہوں نے تحریف قرآن، کلام پاک کے متعلق کہا ہے۔ عربی میں وہ سارا کراس ایگزامینیشن Cross-examinition ہوتا ہے اور کلام پاک کی آیتیں پڑھنی ہیں۔ اس واسطے وہ مولانا ظفر احمد انصاری کے ذمے سٹیئرنگ کمیٹی نے وہ کام لگایا تھا۔ باقی اٹارنی جنرل صاحب.......

جناب محمد افضل رندھاوا: چوہدری برکت اللہ صاحب اپنے الفاظ واپس لے لیتے ہیں۔

جناب چیئرمین: ...... باقی اٹارنی جنرل صاحب بہتر سمجھتے ہیں کہ کہاں سے چھوڑا ہے کہاں سے Pick-up کرنا ہے۔

چوہدری برکت اللہ : تو سر! اٹارنی جنرل صاحب کل جارہے ہیں کہیں؟

جناب چیئرمین: ہاں۔

Mr. Abdul Hafeez Pirzada: What the honourable member has said is correct. There is a considerable force in it. It is very difficult to break the trend of cross-examination. We all know the difficulty. Now there are a number of questions that the Attorney- General must have already formulated in his own mind....

(عبدالحفیظ پیرزادہ: معزز اراکین نے ٹھیک فرمایا ہے۔ ان کی بات میں بہت

١٣٨

صفحہ ٧٢٥

725 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

وزن ہے۔ جرح کا انداز بدلنا مشکل کام ہوتا ہے۔ ہم اس مشکل کو جانتے ہیں۔ اٹارنی جنرل نے کئی ایک سوالات اپنے ذہن میں تشکیل کئے ہوں گے )

(Interruption)

جناب چیئرمین: صاحبزادہ صفی اللہ صاحب! تشریف رکھیں۔

Mr. Abdul Hafeez Pirzada: .... Therefore, what we should do is that the Attorney- General has to address the Defence College at 8:00 'O' clock in the morning....

(Interruption)

667 Now, we know that it lasts about forty- five minutes of speech, and forty- five minutes of questions answers.... (Interruption)

Yes, Attorney- General will be free by about.... between 9:30 and 10:00. Let us meet at 10:30---- from 10:30 to 12:30; that is much better. I think it is unfair because....

(جناب عبدالحفیظ پیرزادہ: اٹارنی جنرل صاحب نے ڈیفنس کالج میں صبح آٹھ بجے خطاب کرنا ہے جو کہ ...... کا ہوگا۔ پھر سوال و جواب کے لئے پینتالیس منٹ درکار ہوں گے۔ اس طرح اٹارنی جنرل صاحب ساڑھے نو/ دس بجے تک فارغ ہو جائیں گے۔ اجلاس ساڑھے بارہ بجے تک چل سکتا ہے۔ اس پر میرا خیال ہے ......)

Mr. Chairman: Then I announce... (Interruption)

Just a minute. Maulana I announce 10 'O' clock and 10:00 means 10:30, because you always---- this is the convention, established practice--- meet half an hour late.

(جناب چیئرمین: اس صورت میں دس بجے۔ کیونکہ یہ روایت ہے کہ کورم پورا ہوتے ہوتے آدھ گھنٹہ لگ جاتا ہے)

Mr. Abdul Hafeez Pirzada: So, Sir, in that case, let us try to meet here in time tomorrow and we will be here

١٣٩

ISTAN 8th Aug, 1974 No:04

جائے۔ ایک نقطہ کے لئے ان کو چلا جی مولانا برکت اللہ !

چوہدری برکت اللہ فرمایا ہے ابھی کہ کل اٹارنی جنر احمد انصاری صاحب بڑی محنت ک 666 competent man....... لیکن پیرزادہ صاحب، تو میرے خیال اٹارنی جنرل صاحب کر رہے ہیں سکے گی۔

جناب چیئرمین: آ کہا ہے۔ عربی میں وہ سارا کر اس پاک کی آیتیں پڑھنی ہیں۔ اس وا لگایا تھا۔ باقی اٹارنی جنرل صاحب جناب محمد افضل رندھ جناب چیئرمین: د ہے کہاں سے Pick-up کر چوہدری برکت اللہ جناب چیئرمین: ہا zada: What the orrect. There is a lt to break the trend difficulty. Now there orney- General must d.... (عبدالحفیظ پیرزاد

صفحہ ٧٢٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 8th Aug, 1974 No:04

at 10:30.

(عبدالحفیظ پیرزادہ: ہمیں کل صبح دس بجے اجلاس کرنے کی کوشش کرنی چاہئے)

Mr. Chairman: Then they may be informed to come at 10:00, because we told them 9:30; they may be told that they are needed at 10:00; We will inform them.

(جناب چیئرمین: ان (وفد) کو مطلع کیا جائے کہ وہ دس بجے صبح آجائیں)

Mr. Abdul Hafeez Pirzada: I think that is much better because let us not....

(عبدالحفیظ پیرزادہ: میرا خیال یہ بہت مناسب ہے۔۔۔۔)

(Interruption)

Mr. Chairman: Sahibzada Safiullah has to say something about Maudoodi Sahib.

آپ کھڑے ہوئے تھے جی! ہاں فرمائیں، جی! ہاں، ہاں، فرمائیں۔

صاحبزادہ صفی اللہ: کوئی بات نہیں۔

جناب چیئرمین: تشریف رکھیں۔ کریں ناں جی۔ تقریروں کا وقت تو اب آیا ہے۔

صاحبزادہ صفی اللہ: یہ قادیانیوں نے چھاپا ہے جو سب کا سب فراڈ ہے۔

جناب چیئرمین: نہیں، نہیں، کوئی نہیں۔ یہ گپ شپ ہے۔ اچھا، مولانا عبدالحق!

668 مولانا عبدالحق: بسلسلہ......(مداخلت)

جناب چیئرمین: مسٹر عبدالمصطفیٰ الازہری صاحب! تشریف رکھیں ناں جی۔ ہاں، رپورٹر صاحب جائیں جی بیشک۔ This is not to be recorded

[The special committe of the whole house subsequently adjourned to meet at ten of the clock, in the morning, on Friday the 9th August, 1974]

(سپیشل کمیٹی کا اجلاس اس وقت ملتوی ہوا۔ کل ٩؍اگست جمعہ کو صبح دس بجے دوبارہ ہوگا)

----------

صفحہ ٧٢٧

AN 8th Aug, 1974 No:04

(عبدالحفیظ پیرزادہ)

ay be informed to

0; they may be told

orm them.

(جناب چیئرمین)

think that is much

(عبدالحفیظ پیرزادہ)

afiullah has to say

آپ کھڑے ہوئے

صاحبزادہ صفی اللہ

جناب چیئرمین

صاحبزادہ صفی اللہ

جناب چیئرمین

اچھا، مولانا عبدالکریم

668 مولانا عبدالکریم

جناب چیئرمین

جی ہاں، رپورٹر صاحب جا

e whole house

f the clock, in the

(سپیشل کمیٹی کا اجلاس)

727 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

No. 05

THE

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN

PROCEEDINGS

OF

THE SPECIAL COMMITTEE OF THE

WHOLE HOUSE HELD IN CAMERA

TO CONSIDER THE QADIANI ISSUE

OFFICIAL REPORT

Monday, the 9th August, 1974

(Contains Nos. 1—21)

CONTENTS

Pages

General .................................................. 674-675

PRINTED BY THE MANAGER, PRINTING CORPORATION OF PAKISTAN PRESS, ISLAMABAD

PUBLISHED BY THE NATIONAL BOOK FOUNDATION, ISLAMABAD

صفحہ ٧٢٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

No. 05

THE

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN

PROCEEDINGS OF THE SPECIAL COMMITTEE OF THE WHOLE HOUSE HELD IN CAMERA TO CONSIDER THE QADIANI ISSUE

OFFICIAL REPORT

Friday, the 9th August, 1974

(Contains No. 1—21)

٢

صفحہ ٧٢٩

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

671 THE NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN

----------

PROCEEDINGS

OF

THE SPECIAL COMMITTEE OF THE

WHOLE HOUSE HELD IN CAMERA

TO CONSIDER THE QADIANI ISSUE.

----------

OFFICIAL REPORT

(سرکاری رپورٹ)

----------

Friday, the 9th August, 1974.

(بروز جمعہ، 9 اگست 1974ء)

----------

The Special Committee of the Whole House of the National Assembly of Pakistan met in Camera in the Assembly Chamber, (State Bank Building), Islamabad, at ten of the clock, in the morning. Mr. Chairman (Sahibzada Farooq Ali) in the Chair as Chairman.

(پاکستان کی قومی اسمبلی کے مکمل ایوان کی خصوصی کمیٹی کا اجلاس اسمبلی ہال (اسٹیٹ بینک بلڈنگ) اسلام آباد میں صبح دس بجے منعقد ہوا۔ اسپیکر قومی اسمبلی (صاحبزادہ فاروق علی) نے بحیثیت چیئرمین صدارت کی)

----------

(Recition from the Holy Quran) (تلاوت قرآن شریف)

----------

٣

صفحہ ٧٣١

730 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

Mr. Chairman: Maulana Zafar Ahmad Ansari, Attorney- General has come. He is in my Chamber; coming in two minutes one minute rather. Yes, Maulana Sahib.

(جناب چیئرمین: مولانا ظفر احمد انصاری صاحب، اٹارنی جنرل صاحب آگئے ہیں۔ وہ میرے کمرے میں موجود ہیں اور دو منٹ بلکہ ایک منٹ میں آ رہے ہیں۔ جی! مولانا صاحب)

PRODUCTION AND VERIFICATION OF

QUOTATIONS

(ایک پارسی، دو قادیانی)

مولانا محمد ظفر احمد انصاری: میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ کل ہم نے ایک اخبار کا حوالہ ہم میں سے کسی صاحب نے دیا تھا۔ ١٣؍نومبر ١٩٤٦ء کا، اور وہ اخبار ہمارے پاس نہیں تھا۔ ’’الفضل‘‘۔ لیکن وہ لے آئے اور انہوں نے پڑھا اس کو......

672 جناب چیئرمین: Admit (اقرار) کیا۔

مولانا محمد ظفر احمد انصاری: ...... وہ حصہ پڑھا جس سے ان کا کام چلتا تھا۔ وہ اب Evidence (شہادت) میں شامل ہو گیا ہے، اسے ان سے لے کر آپ اپنے ریکارڈ میں رکھ لیں۔

جناب چیئرمین: وہ رکھ لیں گے۔ ویسے انہوں نے Portion (حصہ) جو تھا ناں جی کہ ’’میں ایک پارسی کے مقابلے میں دو احمدی پیش کر سکتا ہوں‘‘ وہ انہوں نے Admit (اقرار) کیا۔ انہوں نے کہا یہ ہے......

مولانا محمد ظفر احمد انصاری: وہ Evidence (شہادت) میں آ گیا ہے۔

جناب چیئرمین: انہوں نے کہا یہ Portion (حصہ) ہے، بعد میں ہے۔ پہلے اس میں یہ ہے۔ تو وہ جو "Impact" (اثرات) کا ریفرنس دیا تھا ناں اٹارنی جنرل صاحب نے......

مولانا محمد ظفر احمد انصاری: جی۔

جناب چیئرمین: جس میں وہ referred (حوالہ) تھا۔ وہ انہوں نے Admit (اقرار) کیا ہے۔

٤

731 NATIONAL

ردی پاکستان کے سلسلے میں اپنا موقف نے کا موقع ملے۔ کیا صورت ہو؟ ؟ (سوال) کر سکتے ہیں کہ پاکستان

Attorney- Gene the creation and about الات کرتے رہے ہیں)

Definite questi (واضح اور I don't want to express,

نا چاہئے) انہوں نے ایک Poin It was on (یہ صرف ٣؍مارچ ہا ہے۔

673 Mr. Chairn you were pleading for آپ اکھنڈ بھارت کے حامی تھے)

Mr. Chairm not one but twice or th مرتبہ یا تین مرتبہ کیا جا چکا ہے)

صفحہ ٧٣١

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

مولانا محمد ظفر احمد انصاری: ٹھیک ہے۔ جناب چیئرمین: وہ لے لیں گے ان سے...... مولانا محمد ظفر احمد انصاری: ہاں۔ دوسرے یہ کہ کل انہوں نے ایک ایسی بات چھیڑ دی پاکستان کے سلسلے میں اپنا مؤقف اور یہ سب...... تو اب یا تو اس کو Explain (واضح) کرنے کا موقع ملے۔ کیا صورت ہو؟ جناب چیئرمین: آپ Question put (سوال) کر سکتے ہیں کہ پاکستان کے متعلق ان کی کیا رہی، اور

Attorney- General has been putting question about the creation and about the......

(اٹارنی جنرل تخلیق پاکستان کے متعلق مخصوص سوالات کرتے رہے ہیں)

مولانا محمد ظفر احمد انصاری: جی ہاں۔

جناب چیئرمین: ...... بلکہ ان کا ایک Definite question (واضح اور مخصوص سوال) ہے جو کہ I don't want to express, because I shouldn't express my views, my comments.

(میں کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتا نہ ہی مجھے ایسا کرنا چاہئے) انہوں نے ایک Pin down کیا ہے...... It was only on the 3rd of March (یہ صرف ٣؍مارچ کی بات تھی۔

مولانا محمد ظفر احمد انصاری: جی ہاں، بالکل ٹھیک ہے۔

673 Mr. Chairman: ......3rd of June 1947, before that you were pleading for Akhand Bharat."

(جناب چیئرمین: ٣؍جون ١٩٤٧ء سے پہلے آپ اکھنڈ بھارت کے حامی تھے)

مولانا ظفر احمد انصاری: جی ہاں!

Mr. Chairman: So, a definite question has come, not one but twice or thrice.

(جناب چیئرمین: اس طرح یہ خصوصی سوال دو مرتبہ یا تین مرتبہ کیا جا چکا ہے)

٥

صفحہ ٧٣٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

مولانا ظفر احمد انصاری: ہاں! میرا مطلب یہ ہے کہ وہ بات پوری آ جائے۔ ایسا نہ ہو کہ صرف اس میں ہی ریکارڈ پر رہے۔

جناب چیئرمین: نہیں، نہیں۔ اس میں

The rest is for the House to know. As the Attorney- General remarked at the very outset that the answer can be evasive or you can't know, he may not answer. So, the House is perfectly justified in drawing any inference. Mr. Attorney- General, are you ready? Should we call them?

(باقی معلومات حاصل کرنا ایوان پر منحصر ہے۔ جیسا کہ اٹارنی جنرل صاحب شروع میں کہہ چکے ہیں۔ اگر جواب مبہم یا گول مول ہو یا (گواہ) جواب نہ دے تو ایوان از خود نتیجہ اخذ کرنے میں حق بجانب ہوگا۔ مسٹر اٹارنی جنرل کیا آپ تیار ہیں؟ کیا اب انہیں (وفد) کو بلا لیا جائے)

-----------

DELIBERATIONS OF THE SPECIAL

COMMITTEE IN THE ABSENCE OF THE

DELEGATION

(وفد کی عدم موجودگی میں خصوصی کمیٹی کی کارروائی)

Sahibzada Ahmad Raza Khan Qasuri: I think, Sir, these suggestions which come from the members.....

(صاحبزادہ احمد رضا قصوری: میرا خیال ہے جناب والا! جو تجاویز اراکین کی طرف سے پیش ہوں......)

(جناب چیئرمین: جی ہاں!) Mr. Chairman: Yes.

Sahibzada Ahmad Raza Khan Qasuri: .... These should not stand part of the record, because if tomorrow this record was to go into the hands of somebody, they will say that they were also sittijng as the judges and

٦

صفحہ ٧٣٣

733 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

prosecutors, they were suggesting certain things. So, if suppose this record comes into the hands of any....

(صاحبزادہ احمد رضا قصوری: انہیں کارروائی کا حصہ نہیں بننا چاہئے۔ کیونکہ کل اگر یہ کارروائی کسی کے ہاتھ لگ گئی تو یہ کہا جائے گا کہ اراکین جو کہ بحیثیت استغاثہ اور منصف کارروائی کر رہے تھے۔ خود ہی تجاویز بھی دیتے تھے۔ فرض کریں اگر یہ کارروائی ......)

Mr. Chairman: Just....

ابھی نہ بلائیں ان کو، ابھی نہ بلائیں۔ جی!

Sahibzada Ahmad Raza Khan Qasuri: If this record was to come into the hands of any judicious party or any people who are not concerned with the issue, they will say that when the witnesses used to be outside, the Chairman and the members, who were sitting as the judges, they used to discuss that this gap has remained here; we should plug in this gap; we should plugg in this gap.

(صاحبزادہ احمد رضا خان قصوری: کسی منصفانہ ادارے میں جاتی ہے یا کسی غیر متعلقہ عنصر کے ہاتھ لگتی ہے تو کہا جائے گا کہ جب گواہ (ایوان سے) باہر ہوتا تھا۔ اس وقت چیرمین اور اراکین جو کہ بطور منصف کارروائی کر رہے تھے۔ آپس میں بحث مباحثہ کیا کرتے تھے۔ اس لئے جب آپس میں مشورہ کریں تو اسے کارروائی کا حصہ نہ بنائیں)

674 Mr. Chairman: Mr. Ahmad Raza Qasuri, I may just only .....

(جناب چیئرمین: جناب احمد رضا قصوری صاحب، میں صرف ......)

Sahibzada Ahmad Raza Khan Qasuri: This is my suggestion, Sir.

(صاحبزادہ احمد رضا خان قصوری: جناب والا! یہ میری تجویز ہے)

٧

N 9th Aug, 1974 No:05

مولانا ظفر احمد

ہو کہ صرف اس میں ہی ریکار

جناب چیئرمین

As the Attorney- he answer can be answer. So, the y inference. Mr. we call them?

(باقی معلومات

کہہ چکے ہیں۔ اگر جواب

میں حق بجانب ہوگا۔ مسٹر ا

PECIAL E OF THE

(وفد

Qasuri: I think, members.....

(صاحبزادہ

طرف سے پیش ہوں ......

(جناب چیئ

Qasuri: ....

rd, because if s of somebody, he judges and

صفحہ ٧٣٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

(ہماری عدالتی کارروائی نہیں ہے بلکہ ایک کمیٹی کی کارروائی ہے)

Mr. Chairman: No, no.... only tell you this that strictly we are not a court; we are not acting as a court; we are acting as a Committee and Committee members can express themselves.

(جناب چیئرمین: نہیں، نہیں۔ آپ کو صرف یہ بتاتا ہوں کہ ہم بطور عدالت نہیں بلکہ بحیثیت خصوصی کمیٹی اجلاس کر رہے ہیں اور کمیٹی کے اراکین اظہار رائے کر سکتے ہیں)

Sahibzada Ahmad Raza Khan Qasuri: I don't know; I would like to be educated on this point.

(صاحبزادہ احمد رضا قصوری: میں نہیں جانتا لیکن میں اس بات سے آگاہ ہونا چاہوں گا)

Mr. Chairman: اچھا So far as the procedure is concerned, every day we review, and that procedure is not part of the record.... is not part of the record. Record is their statement, their examination and cross- examination. That is the record.

(جناب چیئرمین: جہاں تک ضابطے کا تعلق ہے۔ اس کو ہم ہر روز جانچتے ہیں اور یہ (جانچ پڑتال) کارروائی کا حصہ نہیں ہوتی۔ کارروائی گواہوں کے بیانات، جرح اور مکرر جرح پر مشتمل ہوتی ہے)

صاحبزادہ احمد رضا خان قصوری: اچھا!

---------

SUPPLY OF COPIES OF RECORD OF CROSS-

EXAMINATION TO MEMBERS AND

ATTORNEY- GENERAL

Sahibzada Ahmad Raza Khan Qasuri: And,

٨

صفحہ ٧٣٥

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

number two, Sir, we would like that, before the Committee goes for recess, we would like that all the members of the Committee should be provided with complete record....

(صاحبزادہ احمد رضا خان قصوری: جناب والا! دوسری میری تجویز یہ ہے کہ جب کمیٹی کے اجلاس میں تعطیل ہو۔ اس سے قبل تمام اراکین کو مکمل کاروائی کی نقل مہیا کی جائے)

Mr. Chairman: I am working on these lines.

(جناب چیئرمین: میں اسی کے مطابق کام کر رہا ہوں)

Sahibzada Ahmad Raza Khan Qasuri: .... So that when we go back home, we should have complete record with us.

(صاحبزادہ احمد رضا خان قصوری: تاکہ جب ہم گھروں کو جائیں۔ ہمارے پاس کارروائی کی نقول موجود ہوں)

Mr. Chairman: I am working on those lines. And the Attorney- General also, he needs this record more than anybody. And we will be having 200 copies of that record also, cyclostyled, so that, in the recess, you can prepare the case, so that you prepare your arguments.

(جناب چیئرمین: میں انہیں خطوط پر کام کر رہا ہوں۔ سب سے زیادہ ریکارڈ کی ضرورت اٹارنی جنرل صاحب کو ہے۔ ہم کاروائی کی دوسو نقول تیار کروائیں گے تاکہ تعطیل کے دوران آپ بحث کے لئے تیاری کر سکیں)

675 Sahibzada Ahmad Raza Khan Qasuri: (صاحبزادہ احمد رضا خان قصوری: جناب! یہ ٹھیک ہے) That's right, Sir.

Mr. Chairman: But the difficulty is, when we read in the newspapers, certain members say that there should be no recess. There lies the difficulty.

٩

TAN 9th Aug, 1974 No:05

(ہماری عدالتی کارروائی

ly tell you this that cting as a court; we ittee members can

(جناب چیئرمین بلکہ بحیثیت خصوصی کمیٹی اجلاس ک

n Qasuri: I don't point.

(صاحبزادہ احمد چاہوں گا)

s the procedure is ut procedure is not ord. Record is their examination. That

(جناب چیئرمین یہ (جانچ پڑتال) کاروائی کا حص مشتمل ہوتی ہے)

صاحبزادہ احمد

D OF CROSS- ERS AND AL

n Qasuri: And,

صفحہ ٧٣٦

736 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

(جناب چیئرمین: لیکن مشکل یہ ہے کہ اخبارات کے مطابق کچھ اراکین تعطیل کے حق میں نہیں۔ یہی بات مشکل پیدا کر رہی ہے)

Sahibzada Ahmad Raza Khan Qasuri: This is the difficulty. I am not for a recess. The choice is entirely that of the House and the Chairman.

(صاحبزادہ احمد رضا خان قصوری: یہ بات مشکل ہے میں بھی تعطیل کے حق میں نہیں ۔ اس کا انحصار چیئرمین اور ایوان پر ہے)

Mr. Chairman: No, no, the recess is needed for preparation of your case and arguments; and not only for Attorney- General but for the members also.

(جناب چیئرمین: نہیں، نہیں! بحث کی تیاری کے لئے تعطیل ضروری ہے۔ نہ صرف اٹارنی جنرل بلکہ اراکین کو بھی اس کی ضرورت ہے)

(بغیر تعصب کے ، بالکل کھلے ذہن سے کارروائی چل رہی ہے)

Mr. Muhammad Hanif Khan: Mr. Chairman, I want to put it on the record, because the point has been raised by the honourable member from Qasur, that the Committee, so far has been proceeding with this issue without any prejudice to the delegation or to one side or to the other side. We have left our minds open. If we are convinced by the arguments of the witness, who is just giving a statement, or we may not be convinced, but we have not formed opinion. And I think, when I speak I speak on behalf of the whole of the Committee, and they will agree with me that our mind is open to be convinced by the witness here or any other witnesses who will come later on.

١٠

737 NATIONAL ASSEM

چیئرمین! میں یہ بات ریکارڈ پر لانا چاہتا ہوں۔ ہے۔ اب تک کمیٹی بغیر کسی تعصب کے کام کر رہی بیان جاری ہے) ہمیں اپنے دلائل سے قائل کر یں۔ میں سمجھتا ہوں۔ یہ بات کرتے ہوئے میں ب مجھ سے متفق ہوں گے کہ اس گواہ کے بیان کے بیانات) سے قائل ہونے یا نہ ہونے کے

Mr. Chairman: Chaudhry Jahangir Ali.

بہت بہت شکریہ۔ چوہدری جہانگیر علی!) چاہتا ہوں کہ ...... ...... پہلے وہ کھڑے ہوئے ہیں۔

SECRECY OF THE P

SPECIAL C

زشن سر! میں یہ گزارش کرنا چاہتا ہوں کہ ولے کر اور بیگز لے کر اندر آتے ہیں۔ کہیں روائی کو ٹیپ ریکارڈ کر رہے ہوں۔ اس سے

علق عرض کردوں ...... ایک سیکنڈ ...... اگر ٹیپ

This we have dec proceedings in camera an convenient, we will release i the secrecy is responsible fo

صفحہ ٧٣٧

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

(جناب محمد حنیف خان: جناب چیئرمین! میں یہ بات ریکارڈ پر لانا چاہتا ہوں۔ کیونکہ قصور سے معزز رکن نے یہ نقطۂ نظر پیش کیا ہے۔ اب تک کمیٹی بغیر کسی تعصب کے کام کر رہی ہے۔ ہمارے ذہن بالکل کھلے ہیں۔ گواہ (جس کا بیان جاری ہے) ہمیں اپنے دلائل سے قائل کر سکے یا نہ کر سکے۔ ہم نے ابھی کوئی رائے قائم نہیں کی۔ میں سمجھتا ہوں۔ یہ بات کرتے ہوئے میں تمام ایوان کی ترجمانی کر رہا ہوں اور سب کے سب مجھ سے متفق ہوں گے کہ اس گواہ کے بیان سے یا دوسرے گواہان جو بعد میں آئیں گے۔ ان (کے بیانات) سے قائل ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں ہمارے ذہن بالکل صاف ہیں)

Mr. Chairman: Yes, Thank you very much. Chaudhry Jahangir Ali.

(جناب چیئرمین: جی ہاں! آپ کا بہت بہت شکریہ۔ چوہدری جہانگیر علی!)

مولانا غلام غوث ہزاروی: میں یہ چاہتا ہوں کہ.......

جناب چیئرمین: جی! میں آپ کی....... پہلے وہ کھڑے ہوئے ہیں۔

-------------------

SECRECY OF THE PROCEEDINGS OF THE

SPECIAL COMMITTEE

چوہدری جہانگیر علی: جناب چیئرمین سر! میں یہ گزارش کرنا چاہتا ہوں کہ Delegation (وفد) کے ممبر بڑے بریف کیسز لے کر اور بیگز لے کر اندر آتے ہیں۔ کہیں ایسا نہ ہو، جناب والا! کہ وہ اسمبلی کی، ہاؤس کی کارروائی کو ٹیپ ریکارڈ کر رہے ہوں۔ اس سے متعلق ذرا تسلی کر لیجئے۔

676 جناب چیئرمین: میں اس سے متعلق عرض کردوں....... ایک سیکنڈ....... اگر ٹیپ بھی کر رہے ہوں۔

This we have decided that we will hold these proceedings in camera and whenever we find it suitable, convenient, we will release it to the press. Whosever violates the secrecy is responsible for his own action. If the tape is

11

صفحہ ٧٣٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

declared or played after we release all the proceedings, it makes no difference. If it is released erlier, then everybody is responsible for his own consequences. If there has been no tape, any of the members of the delegation may disclose it to anyone; he too violates the secrecy.

(ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ یہ کاروائی بند کمرے میں (خفیہ) ہوگی اور جب ہم مناسب سمجھیں گے۔ پریس کو جاری کریں گے جو بھی راز فاش کرے گا یا خلاف ورزی کرے گا وہ خود ذمہ دار ہوگا۔ ہماری طرف سے کاروائی پریس کو دینے کے بعد کوئی ظاہر کرتا ہے تو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ اگر اس سے قبل ایسی بات ہوتی ہے تو جو بھی ( خفیہ کاروائی کو ) ظاہر کرے گا خود ذمہ دار ہوگا۔ اگر کاروائی ٹیپ نہ بھی ہو تو پھر بھی اگر وفد کا کوئی رکن کاروائی ظاہر کرے گا تو اخفاء راز کی خلاف ورزی کے نتائج کا خود ذمہ دار ہوگا)

چوہدری جہانگیر علی: وہ تو پریس سرکلز میں Disclose کریں گے۔ جناب! وہاں سے Leak out ہونا بڑا مشکل ہے۔

جناب چیئرمین: مولانا غلام غوث ہزاروی!

مولانا غلام غوث ہزاروی: مجھے یہ عرض کرنا ہے، جناب! کہ.......

جناب چیئرمین: ضابطے کی بات۔

-----------------

CONTINUITY OF THE CROSS- EXAMINATION

مولانا غلام غوث ہزاروی: سب سے پہلے ہمیں آج کی جو گفتگو ہے یا جو سوالات ہیں، ان پر تھوڑی سی بحث کر لینی چاہئے۔ جہاں تک میں نے سنا ہے، تحریف کا مسئلہ......

جناب چیئرمین: نہیں، ابھی نہیں تحریف۔ اس کے بعد یہ فیصلہ ہوا تھا کہ جہاں سے اٹارنی جنرل صاحب نے کل چھوڑا ہے.......

مولانا غلام غوث ہزاروی: اچھا۔

جناب چیئرمین: ......کل رات کو جب سوا نو ہوئے تھے......

مولانا غلام غوث ہزاروی: اچھا۔

١٢

صفحہ ٧٣٩

739 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

جناب چیئرمین: ......تو وہیں سے شروع کریں گے۔ اسی واسطے آج بجائے ساڑھے نو کے پھر ساڑھے دس رکھا گیا تھا تا کہ اٹارنی جنرل واپس آجائیں اور وہیں سے شروع کریں گے، تحریف کلام پاک جو ہے ابھی نہیں شروع ہوگی۔

677 مولانا غلام غوث ہزاروی: میرا مطلب یہ ہے کہ تحریف کا سوال اگر آ جائے تو ایسا سوال، نپا تلا ہو کہ وہ مضبوط ہو۔ میرے خیال سے لفظی تحریف کا سوال ہے کمزور‘۔

جناب چیئرمین: جی، وہ آپس میں فیصلہ کر لیں جی۔

مولانا غلام غوث ہزاروی: جی، وہ اسی لئے میں نے عرض کیا۔

جناب چیئرمین: آپس میں فیصلہ کر لیں۔ آپ اس کے لئے مولانا ظفر احمد ......

مولانا غلام غوث ہزاروی: مجھے یہ بات عرض کرنی ہے۔

جناب چیئرمین: ...... ظفر احمد انصاری، آپ اور تمام حضرات جو اس چیز میں ماہر ہیں یا وہ زیادہ جانتے ہیں، وہ آپس میں بیٹھ کے فیصلہ کر لیں۔

Now we are ready. They may be called. (اب ہم تیار ہیں۔ انہیں (وفد کو) بلالیں)

--------

REFERENCES FOR QUESTION IN THE

CROSS-EXAMINATION

چوہدری جہانگیر علی: مسٹر چیئرمین! میرے سوالوں کے لئے ایک کتاب ’’انوارِ خلافت‘‘ کے کچھ حوالہ جات دستیاب نہیں تھے۔ اٹارنی جنرل صاحب نے بھی اعتراض فرمایا تھا کہ وہ حوالہ جات دستیاب نہیں ہیں۔ وہ کتاب دستیاب ہو گئی ہے۔ میں نے وہ حوالہ جات فلیگ (نشان لگا) کر دیئے ہیں۔ اٹارنی جنرل صاحب اگر چاہیں تو ان کے اوپر سوال کریں۔

١؎ اس لئے کہ مرزا قادیانی کے زمانے میں جو لفظی تحریف ہوئی تھی۔ بعد کے ایڈیشنوں میں قادیانیوں نے درست کر دی۔ اب جب ہم قادیانیوں پر تحریف کا جرم عائد کرتے ہیں تو اس سے دو چیزیں سامنے ہوتی ہیں۔ (١) تحریف معنوی جس کے برابر وہ آج تک مرتکب ہورہے ہیں مثلاً محمد رسول اللہ، کہ اس کے مفہوم میں مرزا بھی شامل ہے۔ (٢) آیات قرآنی کو اپنے اوپر نازل شدہ کہہ کر خود اس کا اپنے کو مصداق بنانا۔

١٤٣

OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

ase all the proceedings, it sed erlier, then everybody is ences. If there has been no elegation may disclose it to y.

(ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ یہ کارو سمجھیں گے۔ پریس کو جاری کریں گے جو؟ دار ہوگا۔ ہماری طرف سے کاروائی پریس کو گا۔ اگر اس سے قبل ایسی بات ہوتی ہے تو ج اگر کاروائی ٹیپ نہ بھی ہو تو پھر بھی اگر وفد ک ورزی کے نتائج کا خود ذمہ دار ہوگا)

چوہدری جہانگیر علی: وہ تو ہے سے Leak out ہونا بڑا مشکل ہے۔

جناب چیئرمین: مولانا غلام

مولانا غلام غوث ہزاروی:

جناب چیئرمین: ضابطے کی

OSS- EXAMINITION

مولانا غلام غوث ہزاروی: ہیں، ان پر تھوڑی سی بحث کر لینی چاہئے۔ ب

جناب چیئرمین: نہیں، ایکم سے اٹارنی جنرل صاحب نے کل چھوڑا ہے

مولانا غلام غوث ہزاروی:

جناب چیئرمین: ...... کل را

مولانا غلام غوث ہزاروی:

صفحہ ١٤

740 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

Mr. Chairman: You can talk to the Attorney- General, you can talk to him. Yes, they may be called. (جناب چیئرمین: آپ اٹارنی جنرل صاحب سے بات کرلیں۔ جی ہاں! انہیں بلالیں) (The Delegation entered the Chamber) (وفد ہال میں داخل ہوا) Mr. Chairman: Yes, Mr. Attorney-General. (جناب چیئرمین: جی ہاں! جناب اٹارنی جنرل)

---------- CROSS-EXAMINATION OF THE QADIANI GROUP DELEGATION

جناب یحییٰ بختیار (اٹارنی جنرل پاکستان): مرزا صاحب! جہاں تک سوالات اور ان کے جواب میں جو آپ فرماتے رہے ہیں...... 678 مرزا ناصر احمد (گواہ، سربراہ جماعت احمدیہ، ربوہ): جی!

جناب یحییٰ بختیار (اٹارنی جنرل پاکستان): ......اس سے جو میں سمجھ سکا ہوں۔ وہ میں مختصراً بیان کرتا ہوں تاکہ اس کے بعد...... جہاں تک سوالات میں پوچھتا رہا ہوں آپ سے اور جو جوابات آپ دیتے رہے ہیں۔ اس سے جو میں سمجھ سکا ہوں وہ میں مختصراً عرض کروں گا۔

میں نے آپ سے ایک سٹیج پر پوچھا تھا کہ ”کیا مرزا غلام احمد صاحب آپ کے عقیدے کے مطابق نبی ہیں؟“ تو آپ نے فرمایا تھا ”ہاں’امتی نبی ہیں۔“

مرزا ناصر احمد: ویسے جہاں تک مجھے یاد ہے۔ اس وقت میں نے کہا تھا: ”نہیں۔ لیکن امتی نبی ہیں۔“

جناب یحییٰ بختیار: ہاں۔ یہ میں اس واسطے کہتا ہوں کہ میں Repeat (دہرا) رہا ہوں۔ آپ جہاں تک بھی Correction ہو: ”نہیں ، مگر وہ امتی نبی ہیں، شرعی نبی نہیں ہیں ۔“ اس کے بعد میں کل آپ سے یہ سوال پوچھ رہا تھا کہ ختم نبوت کے بارے میں دو نظریے پیش کئے جاتے ہیں۔ ایک نظریہ یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد اور دوسرا کوئی نبی ، کسی قسم کا شرعی ، غیر شرعی ، امتی یا غیر امتی نہیں آئے گا اور ایک نظریہ یہ ہے کہ ان کے بعد ان کی امت میں سے نبی آسکتے ہیں اور آئیں گے اور اس کی تائید میں یہ دلیل پیش کی جاتی ہے کہ یہ اللہ کا فیض ہے،

741 NATIO

ں ہوں گے۔ ایک نہیں ہزاروں سنائے۔ پھر میں نے آپ سے ”پھر میں نے آپ سے یہ بھی آسکتا ہے؟“ اس اسٹیج پر پھر کچھ ان دو سوالات کا اپنے عقیدے کوئی امت محمدیہ میں نبی آیا؟ اور

تابے ......عقیدے کے مطابق،

Elabor (وضاحت) کرتے قرآن ہے، جو حدیث ہے، اس ؟ عقیدے کو محدود ایک حصہ میں کر ی تعلق ...... ہے عقیدہ سے...... میں یہاں ں ”عقیدہ“ تو میرا مطلب ہے اعقیدہ ہے۔ اس میں کیا اور نبی ہے۔ وہ سب کچھ کر سکتا ہے۔ وہ

P (سیارہ) ہے یا ستارہ ہے۔ ر تاریخ میں، Scientists ر بتارہا ہے۔ اس سے تیرہ چودہ

صفحہ ٧٤١

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

یہ بند نہیں ہوگا، یہ جاری رہے گا۔ یہ اللہ کے خزانے ہیں، یہ ختم نہیں ہوں گے۔ ایک نہیں ہزاروں نبی آئیں گے۔ اس کے لئے بھی کچھ حوالے میں نے پڑھ کے سنائے۔ پھر میں نے آپ سے پوچھا کہ ”کیا مرزا غلام احمد صاحب سے پہلے کوئی امتی نبی آیا؟“ پھر میں نے آپ سے یہ بھی پوچھا کہ ”کیا مرزا غلام احمد صاحب کے بعد کوئی امتی نبی آئے گا؟ آسکتا ہے؟“ اس اسٹیج پر پھر کچھ سوالات جوابات ہوئے۔ میں آپ سے گزارش کروں گا کہ آپ ان دو سوالات کا اپنے عقیدے کے مطابق جواب فرمائیں کہ کیا مرزا غلام احمد صاحب سے پہلے کوئی امت محمدیہ میں نبی آیا؟ اور دوسرا...... تاکہ آپ اسے تفصیل سے کر سکیں ......

مرزا ناصر احمد : جی۔

679 جناب یحییٰ بختیار : ...... دوسرا کیا نبی کوئی آسکتا ہے ...... عقیدے کے مطابق، امکانی بات میں نہیں کررہا۔

مرزا ناصر احمد : جی۔

جناب یحییٰ بختیار : وہ پھر آپ کی ہے آپ Eleborate (وضاحت) کرتے ہیں۔ وہ آپ کی مرضی۔ مگر میں جہاں تک ہوں، جو عقیدہ ہے، جو قرآن ہے، جو حدیث ہے، اس کے مطابق کیا نبی آیا ہے؟ آسکتا ہے؟ ان سے پہلے؟ ان کے بعد؟

مرزا ناصر احمد : جی، یہ آخری حصہ میں آپ نے عقیدے کو محدود ایک حصہ میں کر دیا۔ حالانکہ یہ بھی عقیدہ ہی ہے کہ امکان ہے یا نہیں ہے۔ اس کا بھی تعلق ......

جناب یحییٰ بختیار : نہیں، میرا مطلب ہے عقیدہ سے...... میں یہاں Eleborate (وضاحت) کر دیتا ہوں ...... جب میں کہہ رہا ہوں ”عقیدہ“ تو میرا مطلب ہے قرآن شریف اور حدیث کی روشنی میں جو ہمارا عقیدہ ہے۔ جو آپکا عقیدہ ہے۔ اس میں کیا اور نبی آسکتے ہیں؟ یہ امکانی بات کل آپ نے فرمائی تھی۔ اللہ قادر مطلق ہے۔ وہ سب کچھ کر سکتا ہے۔ وہ تو میں نے Concede (مان لیا) کیا ہے۔ میں نے آپ کو......

مرزا ناصر احمد : جی۔

جناب یحییٰ بختیار : میں نے کہا کہ یہ ہمارا Planet (سیارہ) ہے یا ستارہ ہے۔ یہ تو، جہاں تک تاریخ کا تعلق ہے۔ کہتے ہیں ایک لاکھ سال اور تاریخ میں، Scientists (سائنس دانوں) کے مطابق بہت کم عرصہ ہے کہ اس دنیا پر انسان...... بتارہا ہے۔ اس سے تیرہ چودہ

١٥

صفحہ ٧٤٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

سو سال گزرے ہیں کہ ہمارے نبی نے یہ پیغام دیا ہے کہ Perfect (مکمل) ہو چکا ہے۔ اس سے پہلے جتنے بھی نبی آئے ہیں۔ ان کے جو پیغامات تھے۔ جو ان کو اللہ نے قانون بھیجا تھا۔ جسے وہ لوگ وقتاً فوقتاً خراب کرتے رہے یا کرپٹ Corrupt (گندہ) کرتے رہے۔ وہ بالکل ٹھیک ہو گیا ہے۔ Perfect (مکمل) ہو گیا ہے اور ہمارے نبی Perfect (مکمل، بے عیب) ہیں۔ یہ بات تو ہو چکی ہے۔ اب آئندہ بھی یہ زندگی جو ہے۔ ہزاروں سال تک، لاکھوں سال تک چل سکتی ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ قادر مطلق ہے۔ وہ Planet (سیارے) کو بالکل ہی ختم کر دے۔ تو یہ سوال ہی نہیں رہتا۔ وہ بات تو نہیں کہہ رہا کہ جب انسان ہی نہ رہیں تو پھر کیا نبی کا آنا اور کیا رہنا۔ واقعات کی دنیا میں اور جو Realities (حقائق) اور جو ان Realities (حقائق) کے لئے اللہ کا پیغام آیا ہوا ہے قرآن شریف میں، اور جو ہمارے نبی ﷺ کی حدیث ہے۔ اس کے مطابق کیا اور نبی آسکتے ہیں؟ اور کیا اور نبی مرزا غلام احمد صاحب سے پہلے، آپ کے عقیدے کے مطابق آئے یا آسکتے ہیں؟

مرزا ناصر احمد: نبی اکرم ﷺ نے مسیح کے آنے کی پیش گوئی فرمائی ہے اور مسلم کی حدیث میں چار دفعہ ”نبی اللہ“ کے لفظ سے ان کو یاد کیا ہے اور اسی طرح مہدی کے آنے کی پیش گوئی فرمائی ہے اور امت محمدیہ آج تک نبی مسیح اللہ کے آنے پر عقیدہ رکھتی رہی ہے اور مہدی کے آنے پر عقیدہ رکھتی رہی ہے اور اس عقیدہ کی روشنی میں ہمارے جو شیعہ بھائی ہیں۔ ان کا ایک حوالہ میں نے پڑھایا تھا کہ مہدی جو ہے وہ تمام انبیاء کے برابر اپنے آپ کو کہے گا۔ اعلان کرے گا اور ہمارا عقیدہ ہے کہ وہ صحیح کہتے ہیں۔ شیعہ حضرات جب یہ کہتے ہیں تو ہمارا عقیدہ ہے کہ وہ صحیح کہتے ہیں۔ تو مسیح کے آنے کا انتظار کرنے والے وہ نہیں جو ابھی پیدا ہی ہونے تھے۔ یعنی جماعت احمدیہ، بلکہ شروع سے سارے ہمارے بزرگ جو ہیں وہ یا وضاحت کے ساتھ اپنی کتب میں یا ان کتب کے خلاف کچھ نہ لکھ کر خاموشی کے ساتھ اس عقیدے کو تسلیم کرتے رہے ہیں کہ ایک نبی آنے والا ہے۔ اور ہم بھی، ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ تیرہ سو سال تک ہمارے سلف صالحین جو عقیدہ رکھتے ہیں وہ درست ہے، اور ان کے اس عقیدے کے مطابق جس آنے والے کی خبر دی گئی تھی۔ سارے فرقے اس سے اتفاق رکھتے ہیں، وہ آ گیا۔ تو یہ جماعت احمدیہ کا نیا عقیدہ نہیں۔ پہلے دن سے اس عقیدہ پر امت محمدیہ اور اس کے سارے فرقے جو ہیں، وہ متفق ہیں کہ اس امت میں ایک نبی پیدا ہوگا۔

١٦

صفحہ ٧٤٣

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

جناب یحییٰ بختیار: آپ نے جو فرمایا، مرزا صاحب! اس سے کیا نتیجہ اخذ کیا جاتا ہے کہ:

الف...... مرزا غلام احمد صاحب وہ مسیح تھے اور آچکے ہیں؟

مرزا ناصر احمد: ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ جس مہدی اور مسیح کا امت محمدیہ انتظار کرتی رہی ہے تیرہ سو سال، وہ آچکے ہیں مرزا غلام احمد قادیانی کے وجود میں۔

681 جناب یحییٰ بختیار: یہ تو جہاں تک مسیح کے آنے کی پیش گوئی کا تعلق ہے۔ آپ نے فرمایا کہ وہ مرزا غلام احمد صاحب تھے اور وہ آچکے اور وہی مسیح موعود تھے۔ آپ نے ابھی فرمایا کہ اللہ کا فیض جو ہے...... آپ نے نہیں فرمایا، میرا مطلب ہے آپ کے لٹریچر میں ہے......

مرزا ناصر احمد: جی، میں کہہ دیتا ہوں......

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، یہ پوائنٹ جو ہے ناں......

مرزا ناصر احمد: نہیں، یعنی...... میں اس کا اعلان کر دیتا ہوں کہ ہمارے نزدیک اب خدا تعالیٰ کے انعامات کے سب دروازے اتباع محمدؐ کے بغیر...... بند ہیں۔ تو اب میں نے چونکہ یہ اعلان کر دیا ہے اس واسطے براہِ راست آپ مجھ سے سوال کرلیں۔

جناب یحییٰ بختیار: تو اس واسطے جو آپ کہتے ہیں کہ ”باقی دروازے بند ہیں سوائے......“

مرزا ناصر احمد: ......سوائے اتباع محمدؐ کے۔

جناب یحییٰ بختیار: ......اسی کے Bases (بنیاد) پر، اسی کی بنیاد پر کیا اور نبی آ سکتے ہیں؟ یا اسی Bases (بنیاد) پر حضرت غلام احمد نبی تھے؟

مرزا ناصر احمد: نبوت...... مرزا غلام احمد صاحب کے امتی نبی ہونے کے متعلق تو میں نے ابھی اپنا عقیدہ بیان کر دیا ہے۔ اگر اس میں کوئی اشتباہ ہو تو میں وضاحت کر دیتا ہوں۔ آپ حکم فرمائیں۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں یہ...... چونکہ جو سوال یہ اٹھا تھا کل کہ ”کیا وہ نبی ہیں؟“ آپ نے آخر میں کہا کہ ”وہ نبی ہیں نہیں اس Sense (معنی) میں جو آپ کہہ رہے ہیں۔“

مرزا ناصر احمد: میں نے اس کی وضاحت کر دی ناں آج صبح، آپ نے ارشاد فرمایا اور میں نے وضاحت کر دی کہ ہمارا عقیدہ ہے کہ امت محمدیہ تیرہ سو سال تک مسیح نبی اللہ کا انتظار کر رہی تھی اور جس کا تیرہ سو سال امت محمدیہ نے، انتظار کیا وہ مسیح ہمارے عقیدہ کے مطابق آچکے۔

١٧

9th Aug, 1974 No:05

سو سال گزرے ہیں کہ ہما سے پہلے جتنے بھی نبی آئے وہ لوگ وقتاً فوقتاً خراب کر ٹھیک ہو گیا ہے۔ fect عیب) ہیں۔ یہ بات تو ہو سال تک چل سکتی ہے۔ مگ کر دے۔ تو یہ سوال ہی نہی کا آنا اور کیا رہنا۔ واقعات (حقائق) کے لئے اللہ کا ہے۔ اس کے مطابق کیا کے عقیدے کے مطابق آ

مرزا ناصر احم حدیث میں چار دفعہ ”نبی گوئی فرمائی ہے اور امت آنے پر عقیدہ رکھتی رہی حوالہ میں نے پڑھایا تھا ک اور ہمارا عقیدہ ہے کہ وہ کہتے ہیں۔ تو مسیح کے آ۔ احمدیہ، بلکہ شروع سے سا کتب کے خلاف کچھ نہی آنے والا ہے۔ اور ہم ک رکھتے ہیں وہ درست ہے سارے فرقے اس سے سے اس عقیدہ پر امت مح نبی پیدا ہوگا۔

صفحہ ٧٤٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

جناب یحییٰ بختیار: اور یہ جو آپ کا نقطہ نظر ہے کہ ’’امتی نبی‘‘...... میں نے آپ سے پہلے عرض کیا کہ ’’ختم نبوت‘‘ کی جو Interpretation (وضاحت) جو تفسیر کی جارہی ہے۔ ایک خاتم الانبیاء کی......

682 مرزا ناصر احمد: جہاں تک فیوض کا تعلق ہے......

جناب یحییٰ بختیار: ہاں؟

مرزا ناصر احمد: ...... وہ میں نے اعلان کردیا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں، میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ اس کی جو Interpretation (تصریحات) ہیں۔ فیوض کی کہ اس کا مطلب ”خاتم الانبیاء“ کا یہ ہے کہ نبیؐ، محمدؐ آخری نبی تھے۔ یہ تفسیر کی جاتی ہے کہ وہ آخری نبی تھے۔ ان کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا۔ دوسرے یہ کہتے ہیں کہ نہیں۔ وہ آخری شرعی نبی تھے ان کی مہر، ان کی Perfection (کمال) کے بعد نبی آسکتا ہے۔ جو ان کی امت کا ہوگا۔ اس کے بارے میں آپ کا کیا عقیدہ ہے۔ کیا View (تاثر) ہے؟

مرزا ناصر احمد: ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ نبی اکرمؐ خاتم النبیین ہیں۔ اس معنی میں بھی کہ آپ سے قبل جس قدر انبیاء گزرے۔ ان کی ساری روحانی تجلیات مجموعی طور پر محمدؐ کی روحانی تجلیات سے حصہ لینے والی اور ان سے کم تھیں۔ پہلے بھی، آئندہ بھی، کوئی شخص بزرگی، روحانی بزرگی اور روحانی عزت کے چھوٹے سے چھوٹے مقام کو بھی حاصل نہیں کرسکتا سوائے نبی اکرمؐ کے فیض سے حصہ لینے کے، یہ ہمارا عقیدہ ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! میں نے کل آپ کی توجہ...... یہ تو جہاں تک مسیح کے آنے کی پیش گوئی ہے اور جس کے متعلق آپ نے فرمایا کہ وہ پیش گوئی سب مسلمانوں کا یا اوروں کا بھی عقیدہ ہے کہ وہ آئیں گے۔ کس فارم (form) میں آئیں گے؟ اس پر کچھ اختلاف ہوسکتا ہے کہ آیا جسمانی طور پر آئیں گے یا نہیں۔ مگر یہ سب کہہ رہے ہیں کہ وہ آئیں گے اور آپ نے فرمایا کہ آپ کے عقیدے کے مطابق آچکے......

مرزا ناصر احمد: آچکے۔

جناب یحییٰ بختیار: ...... وہ تو Clear (واضح) ہے۔ اب ایک اور جو پرابلم ہے، جس کے لئے میں آپ کو تکلیف دے رہا ہوں اور جس طرف میں نے آپ کی توجہ دلوائی ہے

١٨

صفحہ ٧٤٥

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

”انوارِ خلافت“ صفحہ ٦٢ میں کل، وہ یہ ہے کہ انہوں نے بریکٹ میں لکھا ہے ”(مسلمانوں نے)“ یہ Original (اصل) میں نہیں ہوگا۔

مرزا ناصر احمد : ہوں ۔

683 جناب یحییٰ بختیار : ”انہوں نے (مسلمانوں نے) یہ سمجھ لیا ہے کہ خدا کے خزانے ختم ہو گئے۔ ان کا یہ سمجھنا خدائے تعالیٰ کی قدرت کو ہی نہ سمجھنے کے باعث ہے۔ ورنہ ایک نبی تو کیا، میں کہتا ہوں ہزاروں نبی ہوں گے۔“

میں نے آپ کی توجہ دلائی اس طرف اور ساتھ ہی ایک اور حوالہ تھا، وہ بھی ”انوارِ خلافت“ صفحہ ٦٥ پر کہ: ”اگر میری گردن کے دونوں طرف تلوار بھی رکھ دی جائے اور مجھے کہا جائے کہ تم یہ کہو کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا تو میں ضرور کہوں گا کہ تو جھوٹا ہے، کذاب ہے۔ آپ کے بعد نبی آسکتے ہیں اور ضرور آسکتے ہیں۔“

مرزا ناصر احمد : اب سوال آسکتے ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار : دو میں نے پڑھے جی! پہلے کہ ”ہزاروں نبی ہوں گے“ ایک یہ۔ دوسرے کہ ”آسکتے ہیں اور ضرور آسکتے ہیں۔“ اب میں جو آپ سے Clarification (وضاحت) کی درخواست کر رہا ہوں، وہ یہ ہے کہ یہاں جمع کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے: ”آسکتے ہیں یا آئیں گے،“ ان میں اگر صرف مسیح کی طرف اشارہ ہوتا تو صاف کہہ دیتے کہ ”وہ نبی ایک ہی آسکتا ہے، آگئے ہیں۔“ مگر یہاں یہ کہا گیا ہے کہ: ”(مسلمانوں نے) یہ سمجھ لیا ہے کہ خدا ......کہ انہوں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ خدا کے خزانے ختم ہو گئے۔ ان کا یہ سمجھنا خدا تعالیٰ کی قدرت کو ہی نہ سمجھنے کے باعث ہے ورنہ ایک نبی تو کیا، میں کہتا ہوں ہزاروں نبی ہوں گے۔“ تو اس لئے مہربانی کر کے آپ اس کو ذرا Elaborate (تفصیل کے ساتھ) کر کے Clarify (واضح) کریں پوزیشن کو کہ ان کا مطلب کیا تھا۔

مرزا ناصر احمد : جی، میں اس کا یہ مطلب سمجھتا ہوں کہ یہاں بھی امکان کے متعلق بات ہے، جیسا کہ کل میں نے یہ ایک حوالہ پہلا پڑھ کے بتایا تھا کہ ”تقویت الایمان“ میں حضرت مولانا محمد اسماعیل صاحب شہید فرماتے ہیں: ”اس شہنشاہ، اللہ تعالیٰ کی تو یہ شان ہے کہ ایک آن میں ایک حکم ”کن“ سے چاہیں تو کروڑوں نبی اور ولی اور جن و فرشتہ، جبرائیل اور محمد ﷺ کے برابر پیدا کر ڈالیں۔“

١٩

صفحہ ٧٤٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

684 تو ایک ہے امکانی۔ آپ نے مجھ سے تشریح مانگی۔ میں کہتا ہوں کہ میرے نزدیک ان دونوں حوالوں میں کوئی امکان کی بات ہے، حقیقت کی بحث نہیں ہے۔

(ہزاروں نبی ہوں گے، مرزا محمود!)

جناب یحییٰ بختیار: میں نے آپ کی جو توجہ دلائی، اسی لئے کہ ایک حوالے میں "امکان" آپ کہہ سکتے ہیں کہ اس کی طرف اشارہ ہے، "آپﷺ کے بعد نبی آسکتے ہیں اور ضرور آسکتے ہیں۔" دوسرے میں جو الفاظ استعمال کئے ہیں اور بڑے...... میں یہ نہیں سمجھ سکتا کہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کوئی لفظ بدل دیں گے۔ اگر ان کا مطلب نہ ہو بدلنے کا، Meaning (مطلب) مختلف نہ ہوں، اور یہاں کہتے ہیں: "میں کہتا ہوں ہزاروں نبی ہوں گے۔"

اور پھر......

مرزا ناصر احمد: اور اگر انہوں نے ہی اس کے کوئی معنی کئے ہوں تو وہ تو ہمیں قبول کر لینے چاہئیں ناں، خود لکھنے والے نے اگر معنی کئے ہوں کہ میری کیا مراد ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: وہ آپ بتلادیجئے۔ پھر Depend (انحصار) کرتا ہے کہ پہلے کون سی بات کہی۔ بعد میں کون سی بات کہی۔

مرزا ناصر احمد: بعد میں یہ بات کہی جو میں سنانے لگا ہوں۔ آپ نے...... سوال کیا گیا کہ: "کیا مرزا غلام احمد صاحب کے روحانی درجہ کا کوئی اور شخص آئندہ آسکتا ہے؟" جواب:۔ اس کا امکان ہے۔ لیکن یہ نہیں کہا جاسکتا کہ آیا اللہ تعالیٰ آئندہ ایسے شخص مبعوث کرے گا یا نہیں۔ ایک شخص کے ایک حوالے، ایک کتاب کے ایک فقرے کو لے کے یہ زور دینا کہ ساری...... تعلیم میں چھوڑ کے ان کے متعلق کوئی غلط بات کہہ دوں، یہ تو نہیں میں کروں گا۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، اب دراصل وہ امکانی بات آپ فرما رہے ہیں، میں کہتا ہوں کہ......

مرزا ناصر احمد: جی، آپ نے مجھ سے پوچھا تھا، میں نے کہا کہ میرے نزدیک یہ ایک امکانی بات ہے۔ میں تو اپنے نزدیک ہی بتا سکتا ہوں اور میں آپ کو کیا بتا سکتا ہوں؟

685 جناب یحییٰ بختیار: اچھا، مرزا صاحب! میں آپ کی توجہ آپ کے ایک بیان کی طرف دلانا چاہتا ہوں تا کہ آپ اس کی بھی وضاحت کرسکیں۔ یہ جو لاہور میں کورٹ آف انکوائری بیٹھی ہے، ان کے سامنے آپ کا بیان ہوا تھا؟

٢٠

صفحہ ٧٤٧

747 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

مرزا ناصر احمد : جی، ہوا تھا۔

جناب یحییٰ بختیار : اس میں آپ سے کچھ سوالات پوچھے گئے اور ان کے جوابات یہاں لکھے گئے ہیں۔ میں وہ Repeat (دوبارہ) کرتا ہوں۔ آپ جواب دیں کہ صحیح ہے یا نہیں۔

مرزا ناصر احمد : ہاں، ٹھیک ہے۔

Mr. Yahya Bakhtiar: Do you believe Mirza Ghulam Ahmad to be a NABI? ----- Question.

(جناب یحییٰ بختیار : کیا آپ مرزا غلام احمد کو نبی مانتے ہیں؟.......سوال)

Mirza Nasir Ahmad: No my answer.

(مرزا ناصر احمد : میرا جواب نہیں)

Mr. Yahya Bakhtiar: No, I am repeating the answer.

(جناب یحییٰ بختیار : نہیں میں جواب کو دہراتا ہوں)

آپ بعد میں پھر اگر کہیں غلط ہے۔......

مرزا ناصر احمد : جی! ٹھیک ہے۔

Mirza Nasir Ahmad: You said: "Yes...."

(مرزا ناصر احمد : آپ نے کہا، جی!)

Mr. Yahya Bakhtiar: No, no, I said: No.

(جناب یحییٰ بختیار : نہیں، نہیں، میں نے کہا نہیں)

Mirza Nasir Ahmad: "... But I believe him to be an UMMATI NABI."

(مرزا ناصر احمد : لیکن میں اسے (مرزا غلام احمد) کو امتی نبی مانتا ہوں)

Then the question.

(تب سوال ہوتا ہے)

How are you related to him?

(آپ کا اس (مرزا غلام احمد) سے کیا رشتہ ہے؟)

Answer: I am his grandson, son's son.

(جواب: میں اس کا پوتا ہوں، بیٹے کا بیٹا)

جج نے لکھا ہے یا Explain (واضح) کیا گیا ہے۔

صفحہ ٧٤٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

(مرزا قادیانی! امت محمدیہ میں پہلا امتی نبی ہے)

Question: 686 Was he the first UMMATI NABI after Hazrat Mohammad (Peace be upon him)?

(سوال: کیا وہ حضرت محمد ﷺ کے بعد پہلا امتی نبی ہے؟)

Answer: "To my belief, he was the first UMMATI NABI in Ummat -e- Mohammadih."

(جواب: میرے اعتقاد کے مطابق وہ امت محمدیہ میں پہلا امتی نبی تھا)

یہ آپ نے کہا: مرزا ناصر احمد : جی کہا۔

Mr. Yahya Bakhtiar: Can any more such Nabi follow? Question.

(جناب یحییٰ بختیار : کیا اس طرح کے اور نبی بھی آسکتے ہیں؟ سوال)

(مرزا قادیانی کے بعد اور آسکتے ، مگر شاید نہ آئیں ، مرزا ناصر)

Answer: They can but they may not.

(جواب: آسکتے ہیں مگر شاید نہ آئیں) یہ میں آپ کو بتا رہا ہوں۔ مرزا ناصر احمد : ہاں، ہاں! ٹھیک ہے۔

Mr. Yahya Bakhtiar: It is properly reported?

(جناب یحییٰ بختیار : یہ بالکل صحیح لکھا گیا ہے؟)

Mirza Nasir Ahmad: It is properly reported.

(مرزا ناصر احمد : یہ بالکل صحیح لکھا گیا ہے)

Mr. Yahya Bakhtiar: "Why not?" --- This is the question and your answer to that is: "Because, according to my faith, the Holy Mohammad of Islam did not predict. The coming of more than one UMMATI NABI, or any other UMMATI NABI theoretically there can be more than one

٢٢

صفحہ ٧٤٩

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

UMMATI NABI in UMMAT of Holy Prophet of Islam. But, because of his prophecy, I believe that there will not by any more." Is it correctly recorded?

(جناب یحییٰ بختیار: سوال یہ ہے کہ کیوں نہیں؟ اور آپ کا جواب یہ ہے کہ ”چونکہ میرے اعتقاد کے مطابق حضرت محمد ﷺ نے ایک سے زائد امتی نبی آنے کی پیش گوئی نہیں فرمائی یا کسی دوسرے امتی نبی کی پیش گوئی نہیں فرمائی۔ اس لئے میرا ایمان ہے کہ کوئی اور (امتی نبی) نہیں آئے گا۔ یہ صحیح طرح ریکارڈ ہے؟)

مرزا ناصر احمد: جی! یہ تو میں اب بھی یہی.......

جناب یحییٰ بختیار: کیونکہ ہم تو وہاں نہیں تھے نا۔

مرزا ناصر احمد: ہاں! ٹھیک ہے، ٹھیک ہے۔

637 Mr. Yahya Bakhtiar: So, Mirza Sahib, then you are asked: "Can you cite the 'basharat' (بشارت) or prophesy, because you have referred to that?"

And then you say: "I cannot give the reference of the relevent tradition (Hadith) of the Holy Prophet right now, but I will send it to the Tribunal later. One can find support for this belief even from the Qur'an. According to our faith, Mirza Ghulam Ahmad was also the promised Mashiah and promised Mehdi."

Now, Sir, I have read their statement, and you said: "This is correctly recorded."

(جناب یحییٰ بختیار: تو مرزا صاحب تب آپ بتا سکتے ہیں۔ کیا آپ اس پیش گوئی یا بشارت کا حوالہ دے سکتے ہیں جس کا آپ نے ذکر کیا ہے۔ پھر آپ نے کہا ہے کہ آپ اس وقت متعلقہ حدیث کا حوالہ دینے سے قاصر ہیں۔ تاہم بعد میں یہ حوالہ دے دیں گے۔ (آپ کے بیان کے مطابق) یہ عقیدہ قرآن میں بھی موجود ہے۔ ہمارے (یعنی مرزائیوں کے) عقیدے مطابق آپ کا (یعنی مسلمانوں کا) مہدی بھی مہدی موعود ہے، تو جناب (مرزا صاحب) میں نے

٢٣

صفحہ ٧٥٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

آپ کا بیان پڑھ کر سنایا ہے اور آپ یہ مانتے ہیں کہ یہ درست لکھا گیا ہے)

مرزا ناصر احمد: جی ہاں! Yes

Mr. Yahya Bakhtiar: Sir, here you say first that he was Ummati Nabi; you say, Sir, that he was the only Ummati Nabi; you say, Sir, that according to your faith, no other Ummati Nabi can come because of the prophecy of the Holy Prophet of Islam; And you say: "According to our faith, he was also---- I want to emphasise the word 'also'---- the promised Mashiah and the promised Mehdi."

So, there are two capacities which Mirza Ghulam Ahmad, according to you, had: One as an Ummati Nabi; the other as promised Mashiah and Mehdi: I was confirming myself yesterday, and again I respectfully repeat the question that: "Can there be another Ummati Prophet after him according to your faith?" You said: "No." So, does it not amount to saying that he is the last of the Prophets?

(جناب یحییٰ بختیار: تو جناب! آپ یہاں کہتے کہ وہ امتی نبی تھا۔ آپ یہ بھی کہتے ہیں کہ وہی صرف امتی نبی تھا اور آپ کے عقیدے کے مطابق کوئی اور امتی، نبی نہیں آ سکتا۔ کیونکہ حضرت محمد ﷺ نے صرف ایک امتی نبی کی پیش گوئی فرمائی تھی اور آپ یہ بھی کہتے ہیں کہ آپ کے عقیدے کے مطابق وہ (مرزا غلام احمد ) مہدی موعود بھی تھا۔ میں لفظ ”مسیح موعود“ بھی پر زور دینا چاہتا ہوں۔ اس طرح مرزا غلام احمد دو حیثیتوں کا مالک تھا۔ یعنی ایک امتی نبی کی حیثیت اور دوسرے مسیح موعود کی حیثیت۔ کل بھی میں نے اپنے (سوال کو ) محدود رکھا تھا اور نہایت احترام کے ساتھ آج بھی میں اپنے سوال کو دہراتا ہوں۔ کیا کوئی اور بھی امتی نبی ہو سکتا ہے اور اگر نہیں ہو سکتا تو کیا اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ (یعنی مرزا غلام احمد ) آخری نبی ہے؟)

Mirza Nasir Ahmad: He is not.

(مرزا ناصر احمد: وہ (مرزا غلام احمد ) آخری نبی نہیں)

٢٤

صفحہ ٧٥١

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

Mr. Yahya Bakhtiar: Why not? if this your....

(جناب یحییٰ بختیار: کیوں نہیں؟)

Mirza Nasir Ahmad: Because Mohammad Salallah- ho- Alah- e- wa- Sallam is last of the Prophets in every sense of word. "Khatam- un- Nabbiyen (خاتم النبیین)."

(مرزا ناصر احمد: وہ اس لئے کہ حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ حقیقتاً آخری نبی ہیں۔ سبھی ان کو آخری نبی مانتے ہیں)

688 Mr. Yahya Bakhtiar: Then what is your controversy with others who say that he is the last of the Prophets? Only on the question of Mehdi? Or you say that other Ummati Nabi can come?

مرزا ناصر احمد: میں نے ابھی عرض کی کہ امت محمدیہ شروع سے لے کر تیرہ سو سال تک حضرت نبی اکرم ﷺ کو خاتم النبیین مانتے ہوئے ایک ایسے مسیح کا انتظار کرتی رہی جسے مسلم کی حدیث میں خود آنحضرت ﷺ نے چار بار نبی اللہ کہا اور وہ ”خاتم النبیین“ پر بھی ایمان لاتے تھے۔

اس واسطے میرے نزدیک تو کوئی اس میں الجھن نہیں ہے۔ ساری امت تیرہ سو سال تک ”خاتم النبیین“ کے خلاف اس عقیدہ کو نہیں سمجھتی رہی کہ ایک مسیح آئے گا جو نبی اللہ ہوگا اور میں نے ابھی بتایا ہے کہ امت کے سلف صالحین کی سینکڑوں عبارتیں یہاں بتائی جاسکتی ہیں جو آنے والے کے مقام کو ظاہر کر رہی ہیں۔ ایک شیعہ حضرات، ہمارے بھائی جو ہیں۔ ان کا حوالہ میں نے کل پڑھا۔ ان کا ایک اور حوالہ ہے کہ وہ: ”تمام انبیاء سے مہدی افضل ہوگا کیونکہ نبی اکرم کا ظل کامل ہے۔“

اسی طرح سینکڑوں حوالے ہیں۔ اگر آپ کو ضرورت ہو تو میں آٹھ دس دن میں وہ سینکڑوں حوالے آپ کو دکھا سکتا ہوں۔ امت محمدیہ ...... یعنی اس وقت جو میں نے Clarification (وضاحت) کے لئے بات کی جو میرے ذہن میں پہلے تھی ...... کہ تیرہ سو سال تک امت محمدیہ ایک نبی کا انتظار بھی کرتی رہی اور تمام سلف صالحین اس بات پر متفق تھے کہ اس نبی کا انتظار ختم نبوت کو توڑنے والا نہیں ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! آپ معاف کریں گے۔ اگر پھر میں اپنا وہ

٢٥

صفحہ ٧٥٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

دہراؤں کہ آپ کے بیان کے مطابق مرزا غلام احمد صاحب مسیح موعود ہیں اور آپ کے بیان کے مطابق امتی نبی ہیں اور آپ نے کہا ہے کہ:

"According to my belief, he is also Mashieh-e- Mauood or the promised Mashih, and Mehdi also, and he is Ummati..."

There are two capacities, and I want clarification on that point. And I would respectfully, again, before you give the answer, draw your attention to your document which you have filed in support of your contention. This is Annexture 6, which is a book written by Maulana abul Ata, from which I read yesterday and... I am sorry 689 here to repeat... which is written in reply to Maulana Maudoodi's book 'Khatma-e-Nabuwwat (ختم نبوت)'. This deals with that....

(”میرے اعتقاد کے مطابق وہ موعود نبی بھی ہے اور امتی نبی بھی۔“ یہ دو حیثیتیں ہیں۔ جن کی میں وضاحت چاہتا ہوں اور میں پورے احترام کے ساتھ آپ کی توجہ اس دستاویز کی جانب دلوانا چاہتا ہوں۔ جو آپ نے اپنے موقف کے بارے میں پیش کی ہے۔ یہ دستاویز نمبر چھ ہے۔ جو ایک کتاب ہے جسے مولانا ابوالعطاء نے مولانا مودودی کی کتاب ”ختم نبوت“ کے جواب میں لکھا ہے)

مرزا ناصر احمد: اس کا صفحہ کیا ہے؟

جناب یحییٰ بختیار: صفحہ جی آٹھ۔ یہاں جی، یہ مولانا ابوالعطاء صاحب فرماتے ہیں......

مرزا ناصر احمد: جی، یہ تو وہی جو کل والا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں وہی میں کہہ رہا ہوں کہ I am sorry I have to repeat. (میں اس کے دہرانے پر معذرت خواہ ہوں۔)

مرزا ناصر احمد: ہاں، ٹھیک ہے۔

٢٦

صفحہ ٧٥٣

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

جناب یحییٰ بختیار: ”خاتمیت محمدیہ آنحضرت ﷺ کو خاتم النبیین ماننے والوں کے مختلف دو نظریے ہیں۔۔۔۔“

Now, Sir, we are not discussing the Mashiah or the promised Mehdi. This is the interpretation ......Tafseer.

(تو جناب ہم مسیح کو بحیثیت مسیح موعود زیر بحث۔۔۔۔۔نہیں لا رہے بلکہ یہ تو مفہوم کی بات ہو رہی ہے)

”۔۔۔۔۔کہ خاتم النبیین ماننے والوں کے دو مختلف نظریے ہیں“ کہ خاتم النبیین کا کیا مطلب ہے اور وہ مولانا ابوالعطاء صاحب فرماتے ہیں کہ : ”پہلا نظریہ یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی خاتمیت نے دیگر انبیاء کے فیوض کو بند کر کے فیضان محمدی کا وسیع دروازہ کھول دیا ہے۔ آپ ﷺ کی امت کے لئے آپ کی پیروی کے طفیل وہ تمام انعامات ممکن الحصول ہیں جو پہلے منعم علیہم لوگوں کو ملتے رہے ہیں۔“ یہ ایک نظریہ ہے۔ پھر آگے فرماتے ہیں: ”دوسرا نظریہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی خاتمیت فیضان محمدی کے بند ہونے کے مترادف ہے۔ آپ ﷺ کی امت ان تمام اعلیٰ انعامات سے محروم ہو گئی ہے جو بنی اسرائیل یا پہلی امتوں کو ملتے رہے ہیں۔“

تو میں یہ عرض کروں گا کہ یہاں مولانا جو فرما رہے ہیں اور جو وہ تفسیر کر رہے ہیں۔ دو نظریے دے رہے ہیں۔ کیا اس کا یہ مطلب نہیں کہ ایک نقطۂ نظر سے کوئی نبی نہیں آئیں گے۔۔۔۔۔ امتی ہو، شرعی ہو؟ دوسرے نقطۂ نظر سے محمد کی امت سے ایسے نبی آئیں گے جو بنی اسرائیل میں آتے رہے ہیں، یعنی غیر شرعی امتی ہیں؟ یہ نقطۂ نظر۔ کیا یہ نہیں لکھا: ”میں نہیں کہتا کہ ایسے لوگ آئیں گے جن سے نبیوں جیسا سلوک کیا جائے۔“

690 ان کا نہیں ذکر۔ صاف یہ مطلب تھا اور یہ مطلب میں اخذ کرتا ہوں اس سے کہ ایک نقطۂ نظر کے مطابق کوئی نبی نہیں آسکتا کسی قسم کا۔ آپ خواہ اسے کہیں کہ ”دروازہ بند ہو گیا، فیض کی کھڑکی بند ہو گئی“ دوسرے میں کہتے ہیں ”نہیں، وہ فیض کی کھڑکی کھلی ہے یا فیض کا دروازہ کھلا ہے اور نبی آسکتے ہیں۔“ کیا اس Passage (پہرے) کا یہ مطلب نہیں؟ یا کچھ اور مطلب ہے؟

مرزا ناصر احمد: یہ مطلب نہیں ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: آپ پھر بتائیں اس کا کیا مطلب ہے؟

٢٧

صفحہ ٧٥٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

مرزا ناصر احمد: یہ جو عبارت ہے، اس میں نبوت کا نام ہی نہیں ہے۔ عبارت یہ کہتی ہے: ”خاتمیت محمدیہ یا آنحضرت ﷺ کو خاتم النبیین ماننے والوں کے.....“

جناب یحییٰ بختیار: ”ماننے والوں کے۔“

مرزا ناصر احمد: ”......ماننے والوں کے دو نظریے ہیں“ جو آنحضرت ﷺ کو خاتم النبیین یقین کرتے ہیں۔ آگے دو نظریے ہیں ان کے: ”ایک نظریہ یہ ہے....... پہلا نظریہ کہ آنحضرت ﷺ کی خاتمیت نے دیگر انبیاء کے فیوض کو بند کر کے فیضان محمدی کا وسیع دروازہ کھول دیا ہے۔ آپ کی امت کے لئے آپ کی پیروی کے طفیل وہ تمام انعامات......“

ایک، دو، تین، چار نہیں، ”وہ تمام انعامات“ جس میں صالحیت کا انعام ہے، شہید بننے کا انعام ہے، صدیق بننے کا انعام ہے، قطب اور ابدال بننے کا انعام ہے، جس میں آئمہ بننے کا انعام ہے، جس میں نیک بندے بننے کا انعام ہے، جس میں یہ دی گئی ہے بشارت کہ تمہیں میری امت کے جو عام انسان ہے ان کو بھی اللہ تعالیٰ سچی خوابیں دکھائے گا، یہ انعام ہے، جس میں یہ انعام ہے کہ امت محمدیہ کے تمام افراد بحیثیت مجموعی ”انتم الاعلون ان کنتم مومنین“

اگر ایمان کی شرائط پر پورے اتر رہے ہوں گے تو غالب آئیں گے اور مغلوب نہیں ہوں گے۔ یہ ساری امت کے ہر قسم کے مسلمان کے لئے یہ انعامات ہیں۔ تو یہاں پر ایک وہ ہیں کہ وسیع دروازہ کھول دیا ہے آپ کی امت کے لئے، آپ کی پیروی کے طفیل، اور وہ تمام انعامات ممکن691 الحصول ہیں۔ یہاں آگے آگے کچھ قید لگائی ہے: ”جو پہلے منعم علیہم لوگوں کو ملتے رہے ہیں“

اور منعم علیہم گروہ جو ہے، مختلف گروہ، ایک نہیں چار ہیں وہ۔ ان کا ذکر قرآن کریم میں ایک دوسری جگہ آیا ہے، جس کی طرف سورۃ فاتحہ میں یہ ارشاد ہے: صراط الذین انعمت علیہم

(ان لوگوں کی راہ جن پر تو نے انعام کیا......منعم علیہ)

اور دوسری جگہ چار کیٹیگریز اس کی بتائی ہیں۔ تو یہاں نہ نبوت کا نام، نہ صرف نبوت کے مفہوم کے متعلق کچھ کہا گیا ہے: ”دوسرا نظریہ یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی خاتمیت فیضان محمدی کے بند ہونے کے مترادف ہے۔ آپ کی امت ان تمام اعلیٰ انعامات سے محروم ہو گئی جو بنی اسرائیل یا پہلی امتوں کو ملتے رہے ہیں۔“

یہ میں مثال دے کے اس کو واضح کرتا ہوں۔ انجیل میں ہے کہ بچے بھی نبوتیں کریں گے۔...... لغوی Sense (معنی) میں۔ تو یہ بھی ایک انعام تھا کہ ان کو سچی خوابیں آئیں گی۔ ان کو

٢٨

صفحہ ٧٥٥

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

بشارتیں ملیں گی۔ یہ ایک زبردست فرمان یعنی جو امت محمدیہ کو آج دوسرے مذہبوں سے علیحدہ کرتا ہے۔ یہ فرقان بھی ہے۔ تو یہاں تو یہ فیضان کے بند ہونے کا سوال ہے۔ نبوت کے بند ہونے کی بحث ہی نہیں ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: ٹھیک ہے جی، وہ آپ نے......

مرزا ناصر احمد: جو میں سمجھتا تھا، میں نے بتا دیا۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں یہ......چونکہ میرے لئے جو بات سمجھ میں نہیں آئی، وہ یہ تھی کہ میں نے یہ مولانا مودودی صاحب کا کتابچہ بھی پڑھا۔ انہوں نے کسی جگہ بھی اس بات کو نہیں کہا کہ اللہ کا فیض بند ہوگیا ہے......جس Sense (معنی) میں آپ کہہ رہے ہیں۔ انہوں نے صاف یہ کہا ہے کہ: ’’اور نبی نہیں آسکتا۔‘‘ اور اس کے جواب میں یہ کہا ہے کہ ’’نہیں آسکتا ہے۔‘‘ کہ ’’نہیں، آسکتا ہے۔‘‘ یہ فیض اس سے متعلق ہے۔ میں اس واسطے کہہ رہا ہوں کہ اگر جواب ہے تو......

مرزا ناصر احمد: جی، یہ ٹھیک ہے، میں نے تو جو مجھے سمجھ آئی بتا دیا۔

692 جناب یحییٰ بختیار: نہیں، دیکھیں ناں، آپ اس جواب کو پڑھیں گے، اس کتابچے کے ساتھ جس کے لئے اعتراض ہے، جس کے جواب میں لکھی گئی ہے یہ کتاب۔ وہاں صرف یہ ہی سوال اٹھایا گیا۔ آپ پھر اس کو Verify کریں۔

مرزا ناصر احمد: وہ تو کتاب اس وقت میرے سامنے نہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں؟ آپ پھر Verify کر لیجئے......

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں Verify کر لوں گا۔

جناب یحییٰ بختیار: ......کیونکہ اس میں تو کوئی Dispute ہی نہیں ہے......

مرزا ناصر احمد: ٹھیک ہے، وہ Verify کریں گے۔

جناب یحییٰ بختیار: ......کہ اگر مولانا مودودی صاحب نے یہی کہا ہے کہ اللہ کا فیض اس شکل میں بند ہوگیا ہے جیسے آپ نے کہا، تب تو بات ٹھیک ہوجائے گی۔ انہوں نے کہیں نہیں کہا......میری سمجھ کے مطابق۔

مرزا ناصر احمد: جی، وہ ٹھیک ہے۔ وہ چیک کر کے پھر میں بتا دوں گا۔

جناب یحییٰ بختیار: انہوں نے یہی کہا ہے کہ جہاں تک نبی کا تعلق ہے......(ایک رکن سے) ہے کتاب وہ؟ (مرزا ناصر احمد سے) میرے پاس اس وقت نہیں ہے۔

٧٩

صفحہ ٧٥٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

مرزا ناصر احمد: نہیں، اگر مل گئی تو انشاء اللہ، شام کی Sitting میں اگر مل گئی تو میں بتا دوں گا۔

جناب یحییٰ بختیار: تو اب اس لئے آپ اسے دیکھ لیں۔ اس کے بعد یعنی مولانا مودودی نے یہ نہیں کہا کہ جس قسم کا فیض آپ کہہ رہے ہیں، بند ہو گیا۔ انہوں نے یہی کہا ہے......

مرزا ناصر احمد: وہ بات میں سمجھ گیا ہوں۔ ہاں، وہ بات میں سمجھ گیا ہوں۔ لیکن بغیر اس ریفرنس کے، جو اس کا مطلب میں سمجھتا تھا وہ میں نے بیان کر دیا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی، وہ پھر آپ خود دیکھ لیں۔

مرزا ناصر احمد: جی، وہ دیکھ لوں گا۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، شام کی Sitting میں کرلیں گے۔

693 مرزا ناصر احمد: آج میں کوشش کروں گا کہ وہ مل جائے کتاب۔

جناب یحییٰ بختیار: اب میں آپ کی توجہ مرزا صاحب! کچھ اور حوالے ہیں، ان کی طرف دلانا چاہتا ہوں۔ آپ دیکھ لیں کہ یہ صحیح ہیں یا آپ Admit کرتے ہیں: ”دافع البلاء“ میں ص ١١ ( خزائن ج ١٨ ص ٢٣١) میں لکھا ہے کہ: ”سچا خدا وہی خدا ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔“

مرزا ناصر احمد: جی۔

جناب یحییٰ بختیار: یہ آپ دیکھ لیں اور آپ فرمائیں کہ یہاں مطلب ان کا ایک نبی کو بھیجنا ہے، امتی نبی یا ایک رسول کو بھیجنا ہے کہ مہدی کی طرف اشارہ ہے یہ؟ جیسا بھی آپ سمجھتے ہیں وہ ریفرنس دیں آپ۔ یہ جی یہاں جو ہے ناں۔ اس سے میں نے وہ لکھا یہاں جو Page 10-11 ہے اس کتاب میں۔ اچھا۔ ہاں، ٹھیک ہے۔

مرزا ناصر احمد: صفحہ کونسا ہے؟

جناب یحییٰ بختیار: ٢٣١ صفحہ خزائن کا ہے۔ اس کتاب کا جس میں ان سے حوالے دیئے ہیں ”دافع البلاء“ صفحہ ١٠، ١١۔

مرزا ناصر احمد: جی، جی، ٹھیک ہے ص ٢٢٩؟

جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی، ٢٣١۔

مرزا ناصر احمد: ٢٣١

٣٠

صفحہ ٧٥٧

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

جناب یحییٰ بختیار: اس میں جو Page گیارہ آ جاتا ہے ناں......

مرزا ناصر احمد: جی، جی۔

جناب یحییٰ بختیار: ......اس میں جو پیرا ختم ہو رہا ہے۔ پہلا پیرا۔ اس میں لکھا ہے: ”اگر ان لوگوں نے ایسا نہ کیا تو پھر یہی سمجھا جائے گا کہ سچا خداوند وہی خدا جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔“

مرزا ناصر احمد: یہ......سوال یہ ہے کہ یہاں ”رسول“ کا لفظ اپنے لئے استعمال کیا ہے؟ جی؟ آپ نے یہ سوال کیا؟

جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی۔ اب ایک دوسرا سوال میں عرض کروں گا۔ یہ 694 ”حقیقت الوحی“ ص ٣٩١، خزائن ج٢٢ ص ٤٠٧ پر مرزا صاحب فرماتے ہیں: ”نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیا گیا اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں۔“ یہ بھی آپ Verify کرلیں۔

مرزا ناصر احمد: جی، یہ ہوگا، غالباً۔ ابھی میں نے یہی بتایا ہے کہ امت محمدیہ تیرہ سو سال تک یہی سمجھتی رہی ہے۔

(امت نے کبھی نہیں سمجھا کہ قادیان میں غلام احمد......)

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، امت محمدیہ کبھی یہ نہیں سمجھتی رہی کہ قادیان میں مرزا غلام احمد......

مرزا ناصر احمد: نہیں، امت محمدیہ یہ سمجھتی رہی ہے کہ ایک کی بشارت دی گئی ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، وہ اور سوال ہے۔...... میں یہاں پوچھتا ہوں، یہاں اس سے مطلب ہے......

مرزا ناصر احمد: ہاں، یعنی بشارت کے جو مورد ہیں وہ......

جناب یحییٰ بختیار: ......”نبی کا نام پانے کے لئے“......

مرزا ناصر احمد: ہاں۔

جناب یحییٰ بختیار: ......یہ نہیں کہہ رہا کہ ”مسیح مجھے......“

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں۔ امتی نبی۔

٣١

PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

مرزا ناصر احمد: نہیں، اگر میں بتا دوں گا۔

جناب یحییٰ بختیار: تو اب مودودی نے یہ نہیں کہا کہ جس قسم کا فیض

مرزا ناصر احمد: وہ بات میں اس ریفرنس کے، جو اس کا مطلب میں سمجھا

جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی

مرزا ناصر احمد: جی، وہ دیکھا

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، م

693 مرزا ناصر احمد: آج میں

جناب یحییٰ بختیار: اب ی طرف دلانا چاہتا ہوں۔ آپ دیکھ لیں کہ میں ص ١١ (خزائن ج١٨ ص ٢٣١) میں لکھ رسول بھیجا۔“

مرزا ناصر احمد: جی۔

جناب یحییٰ بختیار: یہ آپ نبی کو بھیجنا ہے، امتی نبی یا ایک رسول کو ب سمجھتے ہیں وہ ریفرنس دیں آپ۔ یہ ج Page10-11 ہے اس کتاب میں۔ ا

مرزا ناصر احمد: صفحہ کونسا ب

جناب یحییٰ بختیار: ٢٣١ دیئے ہیں ”دافع البلاء“ صفحہ ١٠، ١١۔

مرزا ناصر احمد: جی، جی، ہ

جناب یحییٰ بختیار: نہیں

مرزا ناصر احمد: ٢٣١

صفحہ ٧٥٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

جناب یحییٰ بختیار: امتی نبی ہاں: ”نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیا گیا اور دوسرے تمام اس نام کے مستحق نہیں۔“ یہ اپنی طرف انہوں نے، اپنے بارے میں کہا؟ مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، اپنے بارے میں۔

(انبیاء سے میں کم نہیں ہوں، مرزا قادیانی کا اعلان)

695 جناب یحییٰ بختیار: اب ایک اور حوالہ۔ ان کے ایک دو شعر ہیں، مرزا صاحب کے ”درِثمین“ میں Page288 پر:

انبیاء گرچہ بودہ اند بسے من بہ عرفان نہ کمترم زکسے
آں چہ داد است ہر نبی را جام داد آں جام را مرا بتمام

(نزول المسیح ص٩٩، خزائن ج١٨ ص٤٧٧)

مرزا ناصر احمد: یہ شیعہ حضرات کی...... جناب یحییٰ بختیار: یہ مرزا صاحب کے شعر ہیں ناں جی؟ مرزا ناصر احمد: یہ مرزا صاحب کے شعر ہیں اور شیعہ حضرات کے اس اقتباس کا ترجمہ ہے قریباً، جو میں نے کل پڑھ کر سنایا تھا کہ: ”وہ کہیں گے کہ جس نے ابراہیم علیہ السلام کو دیکھنا ہو، وہ مجھے دیکھ لے۔“ وغیرہ وغیرہ۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، یہاں وہ یہ فرماتے ہیں کہ جو...... مرزا ناصر احمد: ”جو روحانی جام انبیاء کو دیئے گئے تھے، وہ مجھے نبی اکرمؐ کے طفیل بہتر رنگ میں دیئے گئے ہیں۔“

جناب یحییٰ بختیار: میں ترجمہ کرتا ہوں، اگر آپ سمجھیں کہ ٹھیک ہے...... مرزا ناصر احمد: جی، بہت اچھا۔ جناب یحییٰ بختیار: ”اگرچہ اس دنیا میں بہت سے نبی ہوئے ہیں، لیکن ان میں سے کسی سے بھی، عرفان میں کسی سے بھی کم نہیں ہوں......“

مرزا ناصر احمد: کسی چیز میں؟ جناب یحییٰ بختیار: ”ان میں سے کسی بھی عرفان میں میں کم نہیں ہوں......“ مرزا ناصر احمد: جی۔

٣٢

صفحہ ٧٥٩

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

جناب یحییٰ بختیار: ”جس نے ہر نبی کو جام دیا، اس نے مجھے بھی بھر کر جام دیا۔“

مرزا ناصر احمد : جی۔

(مرزا قادیانی، انبیاء میں کسی سے کم نہیں)

696 جناب یحییٰ بختیار: یعنی اپنے متعلق وہ نبی کا کہہ رہے ہیں کہ میں کسی سے کم نہیں ہوں۔“

مرزا ناصر احمد : ٹھیک ہے۔ اپنے متعلق کہا ہے۔

(حضور علیہ السلام کے بعد صرف ایک نبی ہونا لازم ہے)

جناب یحییٰ بختیار: اب ایک حوالہ ہے ”تشحیذ الاذہان“ قادیان، اگست 1917ء........

مرزا ناصر احمد : ہاں، یہ ایک رسالہ چھپا کرتا تھا۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، اس رسالے کا ہے۔ وہ.......

مرزا ناصر احمد : اس کے مضمون لکھنے والے کون ہیں؟

جناب یحییٰ بختیار: .......یہ میں نہیں جانتا جی۔ اس واسطے میں آپ سے Verification (تصدیق) چاہتا ہوں۔

مرزا ناصر احمد : جی۔

جناب یحییٰ بختیار: یہ کوئی اتھارٹی ہے نہیں۔ ان کا ایک مارچ 1913ء کا ہے اور حوالہ 2 اور ایک حوالہ ہے اگست 1917ء کا۔

1 (تشحیذ الاذہان قادیان ج 12 ش 8 ص 11، بابت ماہ اگست 1917ء) پر مرزا کے حوالہ سے مضمون نگار نے لکھا ہے: ”آنحضرت ﷺ کے بعد صرف ایک ہی نبی کا ہونا لازم ہے اور بہت سارے انبیاء کا ہونا خدا تعالیٰ کی بہت سی مصلحتوں اور حکمتوں میں رخنہ واقع کرتا ہے۔“

2 (تشحیذ الاذہان قادیان ج 9 ش 3 ص 30 تا 32، بابت مارچ 1913ء) میں ہے: ”پس اس لئے امت محمدیہ میں صرف ایک شخص نے نبوت کا درجہ پایا اور باقیوں کو یہ رتبہ نصیب نہیں ہوا۔ کیونکہ ہر ایک کا کام نہیں کہ اتنی ترقی کر سکے۔ بے شک اس امت میں بہت سارے ایسے لوگ پیدا ہوئے جو علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل کے حکم کے ماتحت انبیائے بنی اسرائیل کے ہم پلہ تھے۔ لیکن ان میں سوائے مسیح موعود کے کسی نے بھی نبی کریم ﷺ کی اتباع کا اتنا نمونہ نہیں دکھایا کہ نبی کریم ﷺ کا کامل ظل کہلا سکے۔ اس لئے نبی کہلانے کے لئے صرف مسیح موعود مخصوص کیا گیا۔“

33

PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

جناب یحییٰ بختیار: امتی نبی دوسرے تمام اس نام کے مستحق نہیں۔“ یہ اپنـ

مرزا ناصر احمد : ہاں، ہاں، ہـ

(انبیاء سے میں کم نہیں

695 جناب یحییٰ بختیار: اس کے ”درثمین“ میں Page 288 پر:

انبیاء گرچہ بودہ اند
آں چہ داد است ہر نبی را

مرزا ناصر احمد : یہ شیعہ حضر

جناب یحییٰ بختیار: یہ مرزا

مرزا ناصر احمد : یہ مرزا صا ترجمہ ہے قریباً، جو میں نے کل پڑھ کر سـ دیکھنا ہو، وہ مجھے دیکھ لے۔“ وغیرہ وغیرہ۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں،

مرزا ناصر احمد : ”جو روحانی بہتر رنگ میں دیئے گئے ہیں۔“

جناب یحییٰ بختیار: میں ترجـ

مرزا ناصر احمد : جی، بہت بـ

جناب یحییٰ بختیار: ”اگر سے کسی سے بھی، عرفان میں کسی سے بھی کـ

مرزا ناصر احمد : کسی چیز مـ

جناب یحییٰ بختیار: ”ان

مرزا ناصر احمد : جی۔

صفحہ ٧٦٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

مرزا ناصر احمد: دونوں ”تمہید الاذہان؟“

جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی۔ تو اس میں لکھا ہے...... یہ وہ خود مرزا صاحب نہیں کہہ رہے......

مرزا ناصر احمد: نہیں جی۔

جناب یحییٰ بختیار: ......کیونکہ ١٩١٧ء اور ١٩١٤ء کی بات ہے: ”آنحضرت کے بعد صرف ایک ہی نبی کا ہونا لازم ہے اور بہت انبیاء کا ہونا خدا تعالیٰ کی بہت سی مصلحتوں اور حکمتوں میں رخنہ پیدا کرتا ہے۔“ یہ آپ Verify کردیں۔

مرزا ناصر احمد: نہیں، یہ مضمون کے لحاظ سے میں تصدیق کرتا ہوں، الفاظ کے لحاظ سے میں تصدیق نہیں کرتا۔ یہ مضمون جو ہے وہ ہمارے عقیدے کے مطابق ہے۔

697 جناب یحییٰ بختیار: ہاں: ”آنحضرت کے بعد صرف ایک ہی نبی کا ہونا لازم ہے اور بہت انبیاء کا ہونا خدا تعالیٰ کی بہت سی مصلحتوں اور حکومت میں رخنہ پیدا کرتا ہے۔“

اب، مرزا صاحب! یہاں جو ہے آپ کے اور باقی مسلمانوں کے نقطۂ نظر میں کیا یہ فرق نہیں کہ وہ بھی اسی عقیدے کے ہیں، صرف یہ سمجھتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے بعد انبیاء کا آنا خدا تعالیٰ کی بہت سی مصلحتوں اور حکمتوں میں رخنہ پیدا کرتا ہے۔ ان کا یہ عقیدہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا کیونکہ اللہ کی مشیت یہی تھی کہ نہ آئے اور اگر آئے تو وہ حکومت میں رخنہ پیدا کرتا ہے۔ آپ کہتے ہیں کہ نہیں، ایک اور نبی آسکتا ہے۔ ایک تک رخنہ نہیں پیدا ہوتا۔ ایک سے زیادہ اگر آگئے تو رخنہ پیدا ہوگا۔

مرزا ناصر احمد: یہ اگر ...... سوال ختم ہوگیا ہے؟

جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی۔

مرزا ناصر احمد: میں نے ابھی عرض کیا تھا کہ امت محمدیہ تیرہ سو سال تک یہ عقیدہ رکھتی رہی ہے کہ ایک نبی اس امت میں آئے گا اور اس کے بعد کا مضمون فلسفیانہ ہے کہ یہ کیوں صرف ایک کی بشارت دی گئی، اور تیرہ سو سال تک امت محمدیہ صرف ایک مسیح ”نبی اللہ“ جس کو چار دفعہ حدیث مسلم میں کہا گیا ہے۔ صرف اس کے آنے کی انتظار کیوں کی گئی۔ یہ کیوں کا جواب فلسفیانہ ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: اب مرزا صاحب! سوال یہ ہے کہ ایک نبی آئے گا۔ آپ کہتے ہیں کہ امتی نبی آئے گا، اور ......

٣٤

صفحہ ٧٦١

761 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

مرزا ناصر احمد: نہیں، ہمارا فرق جو ہے، اگر چاہیں تو میں بتاؤں۔ تیرہ سو سال تک جو عقیدہ تھا، وہ یہ تھا کہ مسیح نبی اللہ آئے گا۔ یہ امت کا عقیدہ ہے۔ لیکن معین کوئی شخص انہوں نے اس واسطے نہیں بتائی کہ وہ آیا نہیں تھا۔ ہمارا اور باقی ہمارے بزرگوں کا صرف یہاں فرق نظر آتا ہے اور یہ ہونا بھی چاہئے کہ ہم یہ کہتے ہیں کہ جس کا انتظار تیرہ سو سال سے کیا جا رہا تھا، وہ آ گیا اور وہ ہمارے سلف صالحین کہہ رہے تھے کہ جس کا انتظار تیرہ سو سال سے کیا جا رہا تھا، وہ آنے والا ہے۔ ”آ گیا“ اور ”آنے والا“ کا فرق اور ہونا چاہئے۔ عقلاً کیوں کہ وہ پہلی صدیاں تھیں اور ہم اس صدی میں داخل ہو گئے۔

جناب یحییٰ بختیار: 698 دو باتیں ہیں، مرزا صاحب! ایک تو یہ کہ سب کا عقیدہ ہے کہ مسیح آئیں گے۔ اس پر تو Controversy نہیں تھی۔ ایک مہدی نے آنا، ان کو نبوت ملنی بھی نہیں، وہ (عیسیٰ علیہ السلام) تو پہلے سے نبی Appoint ہوئے تھے۔ پہلے سے نبی مقرر ہوئے تھے۔ یہ حقیقت ہے کہ نہیں؟

مرزا ناصر احمد: پہلے سے وہ نبی تھے جو شریعت موسویہ......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نبوت ان کو ملی تھی؟

مرزا ناصر احمد: نہیں۔ شریعت موسویہ کو جاری کرنے کے لئے حکم خداوندی کے ساتھ اس دنیا میں آئے تھے۔

جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! ان کی اتھارٹی Change ہو گئی۔ ان کو کہا کہ امت میں رہو گے تم۔ مگر نبی وہ پہلے تھے۔ ان کی اس میں سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

مرزا ناصر احمد: پھر اصل میں وہ ہی ٹھیک ہے۔ ایک نقطہ نگاہ سے ٹھیک ہے۔ بس صرف یہ اختلاف ہے ناں ہمارا۔

جناب یحییٰ بختیار: میں تو یہ عرض کر رہا تھا کہ یہاں یہ کہہ رہے ہیں کہ مسیح کا سوال نہیں ہے۔ یہاں تو صاف کہہ رہے ہیں کہ: ”آنحضرت ﷺ کے بعد صرف ایک نبی کا ہونا لازم ہے......“

مرزا ناصر احمد: وہی مراد ہے۔ دوسری جگہ اس کا Explanation ہے۔

(مسیح بن مریم علیہ السلام دمشق میں آئیں گے نا کہ......)

جناب یحییٰ بختیار: ...... بہت انبیاء کا ہونا خدا تعالیٰ کی بہت سی مصلحتوں اور حکمتوں میں رخنہ پیدا کرتا ہے۔“

٣٥

9th Aug, 1974 No:05

مرزا ناصر احم

جناب یحییٰ

کہہ رہے......

مرزا ناصر اح

جناب یحییٰ

صرف ایک ہی نبی کا ہو میں رخنہ پیدا کرتا ہے۔“

مرزا ناصر ا

سے میں تصدیق نہیں کر

697 جناب

اور بہت انبیاء کا ہونا خدا

اب، مرزا

فرق نہیں کہ وہ بھی اسی ا

خدا تعالیٰ کی بہت سی

آنحضرت ﷺ کے بع

وہ حکومت میں رخنہ پیدا نہیں پیدا ہوتا۔ ایک ہ

مرزا ناصر

جناب یح

مرزا ناصر

رکھتی رہی ہے کہ ایک صرف ایک کی بشار دفعہ حدیث مسلم میں آ فلسفیانہ ہے۔

جناب ی

ہیں کہ امتی نبی آئے گ

صفحہ ٧٦٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

بحث کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ سوال تو اگر مسیح کا ہوتا تب تو وہ یہاں پر آ گئے تھے اور باقی وہ جو حدیث میں تھا۔ وہ تو اور بات ہے کہ مریم کا بیٹا ہوگا اور دمشق میں آئے گا۔ اس کی تفصیل میں نہیں جاتا کیونکہ یہاں آپ نے جو فرمایا کہ ”ایک امتی نبی آئے گا، اور ہمارا یہ بھی عقیدہ ہے کہ مرزا غلام احمد صاحب وہ امتی نبی ہیں، اور ہمارا یہ بھی عقیدہ ہے کہ وہ مسیح......“

مرزا ناصر احمد: مسیح، وہی مسیح جس کا انتظار کیا جاتا رہا تھا۔

جناب یحییٰ بختیار: پھر آپ نے یہ نہیں کہا کہ ”ہمارا عقیدہ ہے کہ وہ مسیح ہیں۔ امتی نبی بھی ہیں And also......“

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں۔ اوہو! ایک آدمی جو ہے وہ امتی نبی بنا ہی مسیح ہونے کی حیثیت سے ہے۔ لیکن اگر خالی ”مسیح“ کہا جائے تو ہو سکتا تھا، یا سوال...... یہ سمجھا جاتا کہ ہم امتی نبوت کو چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس واسطے یہ اعلان کیا۔ اسی شخص کو کہنے والے محمدؐ نے مسیح بھی کہا اور ”مہدی“ بھی کہا اور ”مسیح ناصری“ آنے والے کے متعلق کہا کہ وہ نازل ہوگا اور پھر وہ جو بحث ہے ناں کہ وہ کون ہے، پرانا ہے یا نیا ہے۔ دراصل اسی نکتہ کے فیصلے کے اوپر یہ سارا مسئلہ اٹکتا ہے۔ اختلافات......

جناب یحییٰ بختیار: میں ایک حوالہ اور بھی، پڑھ دیتا ہوں۔ اس کے بعد پھر میں آپ سے مزید Clarification (وضاحت) کے لئے درخواست کروں گا۔

مرزا ناصر احمد: جی۔

(مرزا قادیانی کا کلام، دیگر انبیاء کے کلام کی طرح کلام الٰہی ہے)

جناب یحییٰ بختیار: یہ ہے جی ”ایک غلطی کا ازالہ“ اس سے:”اور میں بیت اللہ میں کھڑے ہو کر یہ قسم کھا سکتا ہوں کہ وہ پاک وحی جو میرے پر نازل ہوتی ہے، وہ اسی خدا کا کلام ہے جس نے حضرت موسیٰ، حضرت عیسیٰ اور حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر اپنا کلام نازل کیا تھا۔

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٦، خزائن ج ١٨ ص ٢١٠)

مرزا ناصر احمد: ہاں، یہ ٹھیک ہے، غالباً۔

جناب یحییٰ بختیار: اب، مرزا صاحب! آپ اس پر ذرا کچھ روشنی ڈالیں کہ جب مرزا صاحب فرماتے ہیں کہ: ”میں بیت اللہ میں کھڑے ہو کر قسم کھا سکتا ہوں کہ وہ پاک وحی جو میرے پر نازل ہوتی ہے......“ ایک نبی کی حیثیت سے بول رہے ہیں: ”مجھ پر وحی جو نازل ہوتی ہے۔“

٣٦

صفحہ ٧٦٣

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

”.......وہ اسی خدا کا کلام ہے جس نے حضرت موسیٰ، حضرت عیسیٰ، حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر اپنا کلام نازل کیا تھا۔“ یہ ان تینوں سے ایک علیحدہ نبی ہو کے اپنے کلام کا ذکر کر رہے ہیں۔

700 مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، بالکل نہیں۔ قسم یہ کھائی ہے....... مجھے جواب دینے کی اجازت ہے؟

جناب یحییٰ بختیار: .......حضرت عیسیٰ کا ذکر کر رہے ہیں.......

مرزا ناصر احمد: مجھے جواب دینے کی اجازت ہے؟

جناب یحییٰ بختیار: .......یہی کہہ رہے ہیں کہ ”میں وہی مسیح ہوں“.......

مرزا ناصر احمد: ہاں، آپ سوال پورا کر لیجئے۔

جناب یحییٰ بختیار: .......اور ساتھ کہہ رہے ہیں کہ ”وہ وحی جو مجھ پر آتی ہے۔ یہ میری وحی ویسی ہی پاک ہے۔ یہ میری وحی ویسی ہی پاک ہے جو عیسیٰ پر آئی، جو موسیٰ پر آئی۔“ تو تین نبیوں کا ذکر کر کے ”میں چوتھا نبی ہوں“ میرا یہ اندازہ ہے کہ یہ مطلب تھا ان کا۔ آپ مزید تفصیل سے اس کو اگر کرنا چاہیں تو.......

مرزا ناصر احمد: آپ نے یہاں صرف منبع وحی کی بات کی ہے۔ کیفیت وحی کی بات نہیں کی۔ آپ یہ کہتے ہیں کہ جس چشمہ سے قرآن عظیم جیسی عظیم ہدایت نکلی، جاری ہوئی، وہی مجھ سے بات کرنے والا ہے۔ یہ نہیں بتاتے کہ ”قرآن کریم کی ہدایت کے مطابق یہ اس کے برابر میری وحی ہے۔“ کہتے....... یہاں یہ بتا رہے ہیں دنیا کو کہ ”میں ہر قسم کی قسم کھانے کے لئے تیار ہوں کہ میری وحی شیطانی وحی نہیں، بلکہ الٰہی وحی ہے۔“ محمدؐ کی وحی کے مقابلے میں حضرت موسیٰ اور عیسیٰ کو کس طرح رکھا جا سکتا ہے؟ اگر جو آپ استدلال کر رہے ہیں وہ کریں تو ہم تو کافروں سے بھی بڑھ کر کافر بن جاتے ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں، مرزا صاحب! میرا یہ مطلب نہیں.......

مرزا ناصر احمد: صرف چشمہ وحی.......

جناب یحییٰ بختیار: .......میں نے یہ نہیں کہا کہ وہ یہ فرما رہے ہیں کہ ”میری وحی ان سے بہتر وحی ہے۔“ نہیں، میں نے یہ نہیں کہا۔ ”یہ بھی اللہ کی طرف سے آئی ہوئی وحی ہے۔“ وہ یہ کہہ رہے ہیں۔

PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

بحث کا تو سوال ہی پیدا نہیں اور باقی وہ جو حدیث میں تھا۔ وہ تو اور با تفصیل میں نہیں جاتا کیونکہ یہاں آپ عقیدہ ہے کہ مرزا غلام احمد صاحب وہ امتی

مرزا ناصر احمد: مسیح، وحی،

جناب یحییٰ بختیار: پھر آ نبی بھی ہیں And also .......“

699 مرزا ناصر احمد: نہیں، کی حیثیت سے ہے۔ لیکن اگر خالی ”مسیح امتی نبوت کو چھپانے کی کوشش کر رہے ہی مسیح بھی کہا اور ”مہدی“ بھی کہا اور ”مسیح پھر وہ جو بحث ہے ناں کہ وہ کون ہے، پرا مسئلہ اٹکتا ہے۔ اختلافات.......

جناب یحییٰ بختیار: میں ای سے مزید Clarification (وضاح

مرزا ناصر احمد: جی۔

(مرزا قادیانی کا کلام، دیگ

جناب یحییٰ بختیار: یہ ہے کھڑے ہو کر یہ قسم کھا سکتا ہوں کہ وہ پاک جس نے حضرت موسیٰ، حضرت عیسیٰ اور ح

مرزا ناصر احمد: ہاں، یہ ٹھیک

جناب یحییٰ بختیار: اب ، صاحب فرماتے ہیں کہ: ”میں بیت اللہ م نازل ہوتی ہے۔.......“ ایک نبی کی حیثیت س

صفحہ ٧٦٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

مرزا ناصر احمد: ”ویسی ہی سچی ہے۔“ جناب یحییٰ بختیار: ہاں، ’سچی وحی ہے اور ایسی پاک ہے جو اللہ نے محمدؐ پر بھیجی‘۔“ 701 مرزا ناصر احمد: جو وحی اللہ کی طرف...... جناب یحییٰ بختیار: میرا ایک پوائنٹ تھا...... مرزا ناصر احمد: اچھا جی! جناب یحییٰ بختیار: ......وہ یہ تھا کہ یہ ایک مختلف وحی ہے۔ یہ Emphasise کر رہے ہیں کہ یہ ایک مختلف وحی ہے جو ایک مختلف نبی پر آتی ہے۔ یہ مضمون ظاہر کر رہا ہے کہ نہیں؟

مرزا ناصر احمد: وحی جو ہے اللہ تعالیٰ کی، ہمارے عقیدے کے مطابق ان انبیاء پر بھی نازل ہوئی جو کوئی شریعت نہیں لائے تھے۔ ہمارے نزدیک، ہمارے عقیدہ کے مطابق خدائے پاک کے پاک الفاظ میں وحی امت محمدیہ کے صلحاء پر بھی نازل ہوئی۔ جہاں تک ان کی پاکیزگی کا سوال ہے۔ اللہ کا تعلق ہے۔ چشمہ وحی سے یعنی Source اس کا کیا تھا۔ اگر وہ اللہ کا کلام ہے تو اللہ کے کلام کے متعلق یہ کہنا کہ خدا کے کلاموں میں یہ فرق کرنا پڑے گا کہ بعض زیادہ پاک اور بعض کم پاک ہیں۔ ہماری عقل میں تو نہیں آتی یہ بات۔ جو خدا کی طرف سے آئی بات، وہ خدا کی طرف سے آنے والی تمام باتوں کے مطابق اپنے پاک چشمہ کی وجہ سے ایک جیسی ہے۔ لیکن اپنی کیفیت میں بڑا اختلاف رکھتی ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! معاف کیجئے، میں نے یہ نہیں کہا کہ وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ باقی وحی پاک نہیں ہے یا ان کی وحی، پاک نہیں ہے۔ اس میں تو کوئی Dispute نہیں ہے۔ جہاں تک...... مضمون بڑا صاف ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ ”میری وحی بھی ویسی ہی پاک ہے جیسی باقی انبیاء کو وحی ملی ہے“ جن کا وہ ذکر کرتے ہیں۔ میں تو یہ عرض کر رہا ہوں کہ یہ مضمون یہ ظاہر کر رہا ہے کہ ان پر مختلف وحی آئی، ایک مختلف نبی کی حیثیت سے۔

مرزا ناصر احمد: یہ نہیں ظاہر کر رہا ہے۔ جناب یحییٰ بختیار: ابھی میں پھر پڑھتا ہوں...... مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، میں...... ١؎

١؎ مرزا ناصر احمد کی قادیانی حضرات بے قراری ملاحظہ کریں کہ وہ کس طرح مرزا کی عبارت سے جان چھڑانے کے درپے ہیں۔ لیکن رینچھ کا کمبل ان کو نہیں چھوڑتا۔

٣٨

صفحہ ٧٦٥

765 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

Mr. Yahya Bakhtiar: ......

مرزا ناصر احمد: میرا جواب سن لیجئے۔ آپ نے اس جگہ حضرت موسیٰ اور عیسیٰ کا نام لیا 702 ہے۔ حالانکہ عیسیٰ علیہ السلام کی وحی، موسیٰ علیہ السلام کی شریعت کو منسوخ کرنے والی نہیں ہے اور یہ خود مثال بتا رہی ہے کہ کیا مطلب ہے۔ وہ مطلب نہیں جو اس کا لیا جاسکتا ہے، کوئی اور لے لے اس کا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر جو وحی نازل ہوئی اس نے شریعت موسویہ کو منسوخ نہیں کیا۔ بلکہ شریعت موسویہ کی تائید کرنے والی اور شریعت موسویہ کو بنی اسرائیل کے اندر مستحکم کرنے کے لئے اور جاری کرنے کے لئے اور ان کو ان کی زندگیوں میں، بنی اسرائیل کی زندگیوں میں موسوی شریعت کو قائم کرنے کے لئے حضرت عیسیٰ کی ساری وحی تھی، کوئی شریعت نہیں تھی۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، کوئی نئی شریعت نہیں تھی۔ میں یہ نہیں کہتا کہ نئی شریعت تھی۔ مگر عیسیٰ علیہ السلام ایک مختلف نبی تھے اور اپنی وحی ان پر مختلف آئی جو موسیٰ علیہ السلام پر آئی تھی۔ سوال یہ ہے۔ مختلف۔ سوال یہاں پیدا ہوتا ہے کہ یہ امت......

مرزا ناصر احمد: اختلاف معنوی......

جناب یحییٰ بختیار: ......محمدیہ کا نبی ہے۔ ”اسی طرح جیسے موسیٰ اور عیسیٰ مختلف تھے، میں یہ کہتا ہوں کہ میں اور محمد ﷺ مختلف تھے۔“ یہ مضمون ظاہر کر رہا ہے کہ نہیں؟ اور یہ کہہ رہا ہے کہ ”جو مجھ پر وحی نازل ہوئی ہے، وہ وحی نہیں ہے جو محمد ﷺ پر نازل ہوئی ہے۔ اسی طرح پاک ہے۔“

مرزا ناصر احمد: اختلاف معنوی اگر لیا جائے تو نہیں، لیکن اختلاف لفظی لیا جائے تو ٹھیک ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی، لفظی ہے۔

مرزا ناصر احمد: نہیں، لفظی اختلاف، یعنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام، جن کو ہم امتی نبی سمجھتے ہیں، ان کو وحی کے ذریعہ یہ کہا گیا کہ یقیم الدین...... ان کے متعلق یہ کہا گیا کہ دین اسلام کو قائم کرنا اور مسیحی...... ”یقیم الدین ویحی الدین ویقیم الشریعہ“ اور شریعت محمدیہ کا احیاء کرنا۔ اس...... یہ اس کے سپرد کام ہے، اور اسی منصب کے ماتحت اللہ تعالیٰ کی وحی نازل ہوگی جو لوگوں پر شریعت محمدیہ کے، جو روشن اس کی تعلیمات ہیں۔ ان کو کھول کر بیان کرے گی، اور نئے زمانے کے نئے مسائل کو شریعت محمدیہ، قرآن عظیم کی روشنی میں، اس وحی سے روشنی پاکر وہ دنیا پر ثابت کرے گا کہ دین اسلام سچا ہے۔

٣٩

صفحہ ٧٦٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

(دین کو قائم کرنے کے لئے نبی کی ضرورت نہیں)

703 جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! کیا یہ فرض نبی کا دعویٰ کئے بغیر کوئی شخص نہیں کر سکتا؟

مرزا ناصر احمد: کرسکتا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: کرسکتا ہے؟

مرزا ناصر احمد: بالکل کر سکتا ہے۔ یہ......

جناب یحییٰ بختیار: چونکہ آپ نے کل فرمایا کہ وحی تو اور بزرگ ہو، ولی ہو......

مرزا ناصر احمد: یہ کرسکتا ہے۔ لیکن چونکہ آپ نبی تھے۔ اس لئے آپ نے وہ مثالیں دے دیں۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں نے ویسے ہی......

مرزا ناصر احمد: جی، بالکل کر سکتا ہے۔ ہر......

جناب یحییٰ بختیار: اگر تو پھر شریعت وہی ہے......

مرزا ناصر احمد: جی۔

جناب یحییٰ بختیار: ......اور امت محمدیہ کے ہیں وہ، اور وہ کام کرنے کے لئے صرف آئے ہیں جو صرف ایک اور اولیاء کی حیثیت سے، محدث کی حیثیت سے، بزرگ کی حیثیت سے، اللہ کی وحی کے ذریعہ روشنی حاصل کرنے کے بعد کر سکتے تھے تو پھر اس نبوت کا فائدہ کیا ہے؟ اس کا اصل مطلب کیا تھا؟

مرزا ناصر احمد: دیکھیں نا، ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ اللہ نے آپ کو ”نبی“ کہا اس لئے اس عقیدے کے بعد میں یہ جرأت کیسے کر سکتا ہوں کہ اللہ نے کیوں ایسا کیا۔ یہ تو اللہ ہی بتا سکتا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، مرزا صاحب! میں اس پر ذرا تھوڑی دیر کے بعد کچھ اور سوال پوچھوں گا، کیونکہ کئی سوالات آتے ہیں اور اس سے ہم کسی اور ہی چیز میں چلے جاتے ہیں۔ میری کوشش ہے اور آپ کو بھی تکلیف دی، اتنے دنوں تک یہ چیز چل رہی ہے۔ پھر سوال اور آتے ہیں جن کی طرف میں بعد میں آؤں گا، کہ جو مہدی نے آنا تھا یا مسیح نے آنا تھا، اس کے بارے میں حدیث میں کیا ہے، حضرت مریم کے بیٹے ہوں گے، دمشق میں آئیں گے، یہ چیزیں جو ہیں۔ میں اس اسٹیج پر نہیں جاتا۔ کیونکہ اس میں مجھے معلوم ہے کہ آپ کے بھی اپنے جواب ہیں۔ مگر ہم

٤٠

صفحہ ٧٦٧

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

704 ریکارڈ کے لئے یہ چیزیں..... تاکہ کوئی غلطی نہ ہو۔ Clarification (وضاحت) کی ضرورت ہوگی۔ اس لئے بعد میں کچھ سوالات پوچھوں گا۔

(Interruption)

جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! ایک اور مضمون تھا جس کے متعلق میں نے آپ سے کچھ سوالات پوچھے تھے اور میں نے عرض کیا تھا کہ میری سمجھ کے مطابق جو میں نے آپ کا لٹریچر تھوڑا بہت پڑھا ہے یا جو مجھے سوالات دیئے ہیں اسمبلی کے ممبران صاحبان نے پوچھنے کے لئے، ان سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آپ ...... کہ آپ ......

(Interruption)

Mr. Yahya Bakhtiar: Mr. Chairman, I request that the members should pay attention because my question ....... I will wait till they have concluded the discussion, then I will proceed.

(جناب یحییٰ بختیار: جناب چیئرمین صاحب! میں اراکین سے درخواست کروں گا کہ وہ میرے سوال اور بحث کی طرف متوجہ ہوں۔ وہ آپس میں بحث و مباحثہ کریں۔ اس وقت تک میں کارروائی روک لوں گا اور اس کے بعد مزید کارروائی ہوگی)

(pause)

(قادیانیوں کا علیحدگی کا رجحان)

جناب یحییٰ بختیار: ....... کہ آپ کی جماعت نے ہمیشہ ایک Separatist tendency adopt (علیحدگی کا رجحان اپنائے رکھا) کی، ایک علیحدگی کا رجحان رہا ہے۔ آپ اپنے آپ کو مسلمانوں سے مختلف سمجھتے رہے ہیں۔ علیحدہ امت خیال کرتے رہے ہیں۔ اس پر آپ کچھ وضاحت کر چکے ہیں۔ میں چاہتا تھا کہ آپ کو بات واضح رہے کہ کس بارے میں سوالات پوچھ رہا ہوں آپ سے۔

مرزا ناصر احمد: جی، جی۔

جناب یحییٰ بختیار: اور آپ کی یہ کوشش رہی ہے کہ آپ کو Saparate treat (الگ سمجھا جائے) کیا جائے۔ آپ Saparate (علیحدہ) ہیں اور اس ضمن میں ایک

٤١

صفحہ ٧٦٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

دو حوالے ہیں جن کی طرف میں آپ کی توجہ دلانا چاہتا ہوں۔ ایک ہے جی ”الفضل“ ١٦؍ جولائی ١٩٤٩ء -16th July 1949

مرزا ناصر احمد: جی۔

جناب یحییٰ بختیار: اور میرے...... جو انفارمیشن مجھے دی گئی ہے...... وہ غلط ہوسکتی ہے۔...... اس کے مطابق یہ آپ کے خلیفہ الثانی مرزا بشیر الدین محمود صاحب سے منسوب کی گئی ہے۔ وہ اپنے کسی خطبے میں فرماتے ہیں جو ”الفضل“ میں شائع ہوا ہے، جس کی تاریخ ہے ١٦؍ جولائی: ”لوگ705 ......“ اور یہاں بریکٹ میں ”(احمدی)“ لکھا ہوا ہے۔ وہاں بریکٹ میں ہے یا نہیں، میں نہیں جانتا......

مرزا ناصر احمد: ہم دیکھ لیں گے۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں۔

(دشمن کے مذہب کو ہم کھا جائیں گے، قادیانی خلیفہ کا اعلان)

مرزا ناصر احمد: ہم دیکھ لیں گے۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں۔ ”لوگ گھبراتے ہیں کہ ان کی مخالفت کیوں کی جاتی ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ ان کی عداوت کیوں کی جاتی ہے کہ انہیں دکھ کیوں دیا جاتا ہے۔ لیکن اگر دکھ دینے کی یہی وجہ ہے کہ وہ ہمارا شکار ہیں تو پھر ہمیں گھبرانا نہیں چاہئے اور وہ کسی قسم کا فکر...... اور کسی قسم کا مکر کرنا...... اور نہ کسی قسم کا فکر کرنا چاہئے۔ بلکہ ہمیں خوش ہونا چاہئے کہ دشمن......“ یہاں بریکٹ میں ”(غیر احمدی مسلمان)“ لکھا ہوا ہے۔ جو میرے خیال میں وضاحت کے لئے لکھا ہے۔ ہوگا نہیں وہاں۔ یہ میں خود ہی کہہ رہا ہوں۔ وہاں ہوگا نہیں۔ یہ مجھے سمجھانے کے لئے ہے۔

مرزا ناصر احمد: جی، جی، ٹھیک ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: ”...... کہ دشمن......“ وہاں ”دشمن“ لکھا ہوا ہے: ”...... دشمن یہ محسوس کرتا ہے کہ اگر ہم میں کوئی نئی حرکت پیدا ہوگی تو ہم اس کے مذہب کو کھا جائیں گے۔“

تو مرزا صاحب! یہاں یہ ہے کہ ”دشمن“ سے ان کی کیا مراد تھی؟ میں نہیں کہتا کہ بریکٹ میں صحیح باتیں لکھی ہوئی تھیں......

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں۔

جناب یحییٰ بختیار: ...... اور یہ کس کا مذہب تھا؟......

٤٢

صفحہ ٧٦٩

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

مرزا ناصر احمد: مذہب سے کیا مراد ہے؟

706 جناب یحییٰ بختیار: ہاں، کیا مراد ہے؟ اور کیا کھا جائیں گے؟ اور پھر یہ ”میں اور وہ“ گھبراتے ہیں، اور ڈراتے ہیں، اور فکر کرتے ہیں، اور دکھ دیتے ہیں۔ دو سیکشن Separate (الگ) ظاہر کر رہا ہے ”دشمن“ دو Different camps (علیحدہ کیمپ) ظاہر کر رہا ہے۔

مرزا ناصر احمد: جی۔

جناب یحییٰ بختیار: اس پر آپ......

مرزا ناصر احمد: جی، یہ چیک کرکے......

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، چیک کرنے کے بعد......

مرزا ناصر احمد: ......Context میں دیکھ کے......

جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی۔

مرزا ناصر احمد: ......مجھے بھی پتہ لگے گا کہ اس طرح کیوں آگئی شکل۔ جس طرح وہابیوں کا اہل حدیث کے ساتھ کبھی جھگڑا رہا ہے۔ یا بریلویوں کا رہا مختلف فرقوں کا، تو یہ اس قسم کا جھگڑا یہاں کیسے پیدا ہو گیا۔

جناب یحییٰ بختیار: اور میرے دماغ میں جو اس سے اثر پڑا ہے۔ اس کے لئے Clarification (وضاحت) چاہتا ہوں آپ سے......

مرزا ناصر احمد: جی، ٹھیک ہے، میں دیکھ کے......

جناب یحییٰ بختیار: ......کہ یہ Tendency یہ ظاہر کر رہا ہے کہ آپ مسلمانوں سے مختلف ہیں اور ان کو دشمن سمجھتے ہیں......

مرزا ناصر احمد: جی، یہ عرض کر دوں گا۔

جناب یحییٰ بختیار: ......اور ان کو دشمن سمجھتے ہیں۔

مرزا ناصر احمد: تو یہ آج چھ بجے انشاء اللہ meet (ملاقات) کریں جب تو اس وقت یہ اس کے اوپر روشنی......

جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی۔ اور اسی کے ساتھ میں آپ کو ایک اور بھی......

مرزا ناصر احمد: جی، جی۔

٤٤

PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

دو حوالے ہیں جن کی طرف میں آپ کا

- 16th July 1949،١٩٤٩ء

مرزا ناصر احمد: جی۔

جناب یحییٰ بختیار: اور م ہے۔...... اس کے مطابق یہ آپ کے خلا ہے۔ وہ اپنے کسی خطبے میں فرماتے

705 ١٦؍ جولائی: ”لوگ......“ اور یہاں بریک یا نہیں، میں نہیں جانتا......

مرزا ناصر احمد: ہم دیکھ لی

جناب یحییٰ بختیار: ہاں

(دشمن کے مذہب کو ہم

مرزا ناصر احمد: ہم دیکھ

جناب یحییٰ بختیار: ہاں لوگ کہتے ہیں کہ ان کی عداوت کیوں آ کی یہی وجہ ہے کہ وہ ہمارا شکار ہیں تو پ کہہ کر نا...... اور نہ کسی قسم کا فکر کرنا چا میں ”(غیر احمدی مسلمان)“ لکھا ہوا ہوگا نہیں وہاں۔ یہ میں خود ہی کہہ رہا ہ

مرزا ناصر احمد: جی، جی

جناب یحییٰ بختیار: ” محسوس کرتا ہے کہ اگر ہم میں کوئی نئی ح

تو مرزا صاحب! یہاں ہا میں صحیح باتیں لکھی ہوئی تھیں......

مرزا ناصر احمد: ہاں، ا

جناب یحییٰ بختیار: ..

صفحہ ٧٧٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

707 جناب یحییٰ بختیار: ...... اس پر توجہ دیں تاکہ وہ بھی دیکھ سکیں ۔ یہ بھی مرزا صاحب سے منسوب کیا گیا ہے، اور یہ ہے ”الفضل“ ٣؍جولائی ١٩٥٢ء ۔

مرزا ناصر احمد: ٣؍جولائی یا ٣٠؍جولائی؟

جناب یحییٰ بختیار: یہاں میرے پاس ٣؍جولائی لکھا ہوا ہے جی ۔

مرزا ناصر احمد: اچھا۔

جناب یحییٰ بختیار: ممکن ہے غلط ہو، میں پھر چیک کرلیتا ہوں......

مرزا ناصر احمد: نہیں، مجھے نہیں پتہ۔

جناب یحییٰ بختیار: ...... کیونکہ ”الفضل“ کے کچھ ہمارے پاس پرچے ہیں اور کچھ آپ سے مانگے تھے وہ، مگر......

مرزا ناصر احمد: پہنچے نہیں ابھی۔

جناب یحییٰ بختیار: پہنچے نہیں ہیں یا وہ ویسے بہت زیادہ ریکارڈ تھا، آپ نہیں پہنچا سکتے تھے۔

مرزا ناصر احمد: نہیں، وہ میں سمجھ گیا۔ اگر اجازت دیں تو میں دو فقروں میں ویسے بتا دوں۔ بہت دوستوں کے ذہن میں بھی ہو سکتا ہے۔ ہماری لائبریری جو بڑی محنت سے اکٹھی کی گئی تھی۔ ١٩٤٧ء میں ہم اس کا شاید ١٠ فیصد بھی یہاں نہیں لا سکے۔ نہیں لانے دیا وہاں کی حکومت نے ظلم کر کے اور پرانے ریکارڈ میں سے بڑے قیمتی مواد، جو ویسے عیسائیوں وغیرہ کے خلاف بھی تھے۔ وہ ساری لائبریری وہاں چھوڑنا پڑی اور یہاں کوئی ١٠ فیصد حصہ آیا ہوگا۔ اس کے بعد ہم نے یہاں کوشش کی ہے۔ لیکن وہ پوری نہیں ہوسکی۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں ایک اور نقطہ نظر سے کہہ رہا تھا کہ مجھ سے جب یہاں کہا گیا کہ یہ ریکارڈ ہے، تو میں نے کہا دیکھیں! ایک اخبار ہے، اس کا تیس سال کا ریکارڈ جو ہے۔ جب تک کہ ہم کم از کم منہ سے نہ کہہ دیں، بڑا مشکل ہے لانا۔ پوری لاری لانی پڑتی ہے۔ تو یہ بھی Difficulty (مشکل) تھی۔ بعض چیزیں جو Definite تھیں......

مرزا ناصر احمد: ٹھیک، یہ چیک کرلیں گے۔

708 جناب یحییٰ بختیار: ہاں، وہ چیک کرلیں۔ میرے خیال میں آپ کے پاس ہے، اور......

٤٤

صفحہ ٧٧١

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

مرزا ناصر احمد: ٣ جولائی یا تیس جولائی؟ جناب یحییٰ بختیار: ٣ جولائی۔ مرزا ناصر احمد: ٣ جولائی، ٣ جولائی؟ جناب یحییٰ بختیار: .......١٩٥٢ء مرزا ناصر احمد: .......١٩٥٢ء جناب یحییٰ بختیار: اس میں وہ میرا خیال تھا ....... مرزا ناصر احمد: یہ بھی چیک کر کے تو اکٹھے ہی آ جائے گا۔ جناب یحییٰ بختیار: ہاں۔ وہ، وہ جو خاص حوالہ ہے۔ جس کی طرف میں آپ کی توجہ دلانا چاہتا ہوں، وہ میں سنا دیتا ہوں آپ کو:

(ہمارے دشمن کا حال ابوجہل جیسا ہوگا، قادیانی خلیفہ کا اعلان)

”ہم فتح یاب ہوں گے۔ ضرور تم مجرموں کی طرح ہمارے سامنے پیش ہوگے۔ اس وقت تمہارا حشر بھی وہی ہوگا جو فتح مکہ کے دن ابوجہل اور اس کی پارٹی کا ہوا ۔“

یہاں مرزا صاحب! آپ سے یہ گزارش ہے کہ ”فتح“ کا کیا مطلب ہے؟ ”مجرموں“ سے کیا مراد ہے؟ اشارہ کس، کن لوگوں کی طرف ہے کہ ”تمہارا وہی حشر ہوگا جو فتح مکہ کے دن ابوجہل اور اس کی پارٹی کا ہوا تھا ۔“ اس پر آپ ذرا .......

مرزا ناصر احمد: ہاں، یہ دیکھ لیں گے، چیک کرکے۔

(١٩٥٢ء گزرنے نہ پائے کہ دشمن احمدیت کی آغوش میں آ گرے)

جناب یحییٰ بختیار: پھر ایک اور اقتباس ہے جی ”الفضل“ لاہور ج ٦ / ٢٠ نمبر ١٤، مورخہ ١٦ جولائی ١٩٥٢ء ص ٣، جس میں وہ فرماتے ہیں: ”١٩٥٢ء کو گزرنے نہ دیجئے۔ جب تک کہ احمدیت کا رعب دشمن اس رنگ میں محسوس نہ کرے کہ اب احمدیت مٹائی نہیں جاسکتی اور وہ مجبور ہو کر احمدیت کی آغوش میں نہیں آ گرے ...... 709 ممکن ہے کچھ نہ کچھ غلطی ہو۔

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں۔ جناب یحییٰ بختیار: تو یہ جو ہے نا، اس پر کہ ”دشمن“ ...... اس پر احمدیت کا رعب، دشمن پر ......

٤٥

صفحہ ٧٧٢

772 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں اس پر رعب......

جناب یحییٰ بختیار: ......اور اس کا احمدیت کی آغوش میں آ جانا......

مرزا ناصر احمد: آغوش میں آ جانا......

جناب یحییٰ بختیار: ......یہ ”دشمن“ کون ہے؟ یہ رعب کیسا رعب ڈالنا ہے؟

مرزا ناصر احمد: یہ یہاں...... وہ Context سے پتہ لگ جائے گا۔

جناب یحییٰ بختیار: اب پھر وہ فرماتے ہیں ایک اور اقتباس میں...... وہی ہیں یا کسی اور کا، میں نہیں کہہ سکتا...... مگر یہ جو ہے نا، میں حوالہ دے دیتا ہوں......

مرزا ناصر احمد: جی۔

جناب یحییٰ بختیار: ...... ”الفضل“ ١٥؍جولائی ١٩٥٢ء......١؎

مرزا ناصر احمد: ١٥؍جولائی ١٩٥٢ء۔

جناب یحییٰ بختیار: ”ہاں اب آخری وقت آ پہنچا ہے۔ اب تمام علمائے حق کے خون کا بدلہ لینے کا جن کو شروع سے لے کر آج تک یہ خونی ملا......“ پھر ہے: ”(عطاء اللہ شاہ بخاری، مولانا مودودی، مولانا احتشام الحق)......“ یہ بریکٹ میں ہے۔ پتہ نہیں وہاں ہے کہ نہیں......

مرزا ناصر احمد: ہاں۔

جناب یحییٰ بختیار: ......لیکن یہ میں اس واسطے کہہ رہا ہوں......

مرزا ناصر احمد: ٹھیک ہے جی۔

جناب یحییٰ بختیار: ”(اور مفتی شفیع)......“

710 اس کو بریکٹ میں لکھا ہوا ہے: ”......قتل کراتے آئے ہیں، ان سب کے خون کا بدلہ لیا جائے گا۔“ بہرحال، اس پر آپ بھی توجہ دیں کہ یہ ”خونی ملا“ کون تھے اور......

مرزا ناصر احمد: ......اور ”خون کا بدلہ“ کا کیا مطلب ہے؟

١؎ (اخبار الفضل لاہور ج٦ / ٢٠ش١٦٦، مورخہ ١٥؍جولائی ١٩٥٢ء ص ٣،٤) پورا حوالہ یہ ہے: الفضل نے اداریہ لکھا جو ص٣ سے شروع ہوتا ہے۔ اس کی سرخی قائم کی ”خونی ملا کے آخری دن“ آگے ص٤ کالم دو پر لکھا ہے۔ ”ہاں آخری وقت آن پہنچا ہے۔ ان تمام علمائے حق (قادیانی رہنماؤں) کے خون کا بدلہ لینے کا جن کو شروع سے لے کر آج تک یہ خونی ملا قتل کرواتے آئے ہیں۔ ان سب کے خون کا بدلہ لیا جائے گا۔ (١) عطاء اللہ شاہ بخاری سے، (٢) ملا بدایونی سے، (٣) ملا احتشام الحق سے، (٤) ملا شفیع سے، (٥) ملا مودودی پانچویں سوار سے۔“

٤٦

صفحہ ٧٧٣

773 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

جناب یحییٰ بختیار: ...... اور کیا انہوں نے کیا؟ مرزا ناصر احمد: جی۔ جناب یحییٰ بختیار: تو یہ میں کہتا ہوں کہ آپ توجہ دے دیں اور شام کو پھر آپ، یہ جو مسئلہ سامنے ہے ...... مرزا ناصر احمد: ہاں، یہ تین حوالے جو آپ نے بتائے ہیں ...... جناب یحییٰ بختیار: چار حوالے میں نے دیئے۔ مرزا ناصر احمد: چار حوالے، ہاں۔ جناب یحییٰ بختیار: اسی وجہ سے اس دن بھی جو میں نے دیا اور اس کو میں پھر ذرا Repeat (دہرا) کر دیتا ہوں تا کہ آپ کی یاد میں رہے ...... مرزا ناصر احمد: نہیں، یہ لکھ لئے ہیں۔ جناب یحییٰ بختیار: نہیں، ایک اور تھا جی۔ اس دن میں نے ...... ١٣؍نومبر ١٩٤٦ء کا۔ مرزا ناصر احمد: (اپنے وفد کے ایک رکن سے ) لکھو جی، ١٣؍نومبر ...... جناب یحییٰ بختیار: ...... ١٩٤٦ء کا ...... مرزا ناصر احمد: ...... ١٩٤٦ء۔ جناب یحییٰ بختیار: ...... جس کا ذکر "Impact" میں بھی تھا۔ وہ جو میں نے آپ کو بتایا۔ مرزا ناصر احمد: وہ وہ حوالہ ...... جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں۔ 711 مرزا ناصر احمد: ...... الفضل کا ...... جناب یحییٰ بختیار: ہاں، نہیں، ”الفضل“ ١٣؍نومبر ١٩٤٦ء میں مرزا صاحب ...... مرزا ناصر احمد: ہاں، یہ بھی شام کو ہو جائے گا۔

(عیسائیوں اور پارسیوں کی طرح، قادیانی حقوق بھی)

جناب یحییٰ بختیار: ہاں۔ یہ جو ہے نا کہ: ”میں نے اپنے نمائندے کی معرفت ایک بڑے ذمہ دار انگریز افسر کو کہلوا بھیجا کہ پارسیوں اور عیسائیوں کی طرح ہمارے حقوق بھی تسلیم کئے جائیں ......“

٤٧

KISTAN 9th Aug, 1974 No:05

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں جناب یحییٰ بختیار: ... مرزا ناصر احمد: آغوش جناب یحییٰ بختیار: ... مرزا ناصر احمد: یہ یہاں جناب یحییٰ بختیار: اس اور کا، میں نہیں کہہ سکتا...... مگر یہ جو ہے مرزا ناصر احمد: جی۔ جناب یحییٰ بختیار: ... مرزا ناصر احمد: ١٥/ جو جناب یحییٰ بختیار: " کا بدلہ لینے کا جن کو شروع سے لے مولانا مودودی، مولانا احتشام الحق )، مرزا ناصر احمد: ہاں۔ جناب یحییٰ بختیار: ... مرزا ناصر احمد: ٹھیک جناب یحییٰ بختیار: " 710 اس کو بریکٹ میں آ کا بدلہ لیا جائے گا ۔" بہرحال ، اس پر مرزا ناصر احمد: ......ہا

١؎ (اخبار الفضل لاہور ج الفضل نے اداریہ لکھا جو ص ٣ سے ش آگے ص ٤ کالم دو پر لکھا ہے۔ ”ہاں رہنماؤں) کے خون کا بدلہ لینے کا ج ہیں۔ ان سب کے خون کا بدلہ لیا ج (٣) ملا احتشام الحق سے، (٤) ملا ش

صفحہ ٧٧٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

مرزا ناصر احمد : جی۔

جناب یحییٰ بختیار : ”...... جس پر اس افسر نے کہا کہ وہ تو اقلیت میں ہیں اور تم ایک مذہبی فرقہ ہو۔ اس پر میں نے کہا کہ پارسی، عیسائی بھی تو مذہبی فرقے ہیں۔ جس طرح ان کے حقوق علیحدہ تسلیم کئے گئے ہیں۔ اسی طرح ہمارے بھی کئے جائیں۔ تم ایک پارسی پیش کردو۔ اس کے مقابلہ میں میں دو دو احمدی پیش کرتا جاؤں گا۔“

مرزا ناصر احمد : جی۔

جناب یحییٰ بختیار : یہ ایک ہی Context ہیں۔ تاکہ آپ کو میرے ......

مرزا ناصر احمد : ہاں، ہاں، یہ شام کو انشاء اللہ ہو جائے گا۔ ویسے مختصراً تو میں نے، اس کا جواب میں نے دیا تھا۔ لیکن تفصیل مانگتے ہیں۔

(انگریز کی اطاعت اسلام کا حصہ، مرزا قادیانی کا فرمان)

جناب یحییٰ بختیار : مرزا صاحب! آپ کے عقیدے یا نقطہ نظر کے مطابق کیا انگریز کی اطاعت بھی اسلام کا حصہ ہے؟ انگریز، برٹش گورنمنٹ اس سے میری مراد ہے۔ کیونکہ اس پر مجھ سے کئی سوالات کئے گئے ہیں کہ اس کے بارے میں آپ ......

مرزا ناصر احمد : جی، ہم سے پہلوں نے اور ہم نے اسلام کی جو تعلیم سمجھی، وہ یہ ہے کہ اگر غیر مسلم حکومت مذہب میں دخل نہ دے اور عبادات کرنے کی اجازت ہو، اور جو انسانی حقوق ہیں، وہ ادا کر رہی ہو، تو ہم سے پہلوں نے بھی، ہم نے بھی یہ عقیدہ رکھا کہ ان کے خلاف بغاوت جو ہے، وہ درست نہیں ہے۔

جناب یحییٰ بختیار : یہ آپ جب کہتے ہیں کہ ”وہ مذہب میں دخل یا دین میں دخل نہ دے“ پہلے آپ نے یہ فرمایا ......712

مرزا ناصر احمد : جی۔

جناب یحییٰ بختیار : ......پھر آپ نے حقوق کی دوسری بات کی ......

مرزا ناصر احمد : ہاں، ہاں، وہ ٹھیک ہے۔

جناب یحییٰ بختیار : ......تو آپ یہ ذرا تفصیل سے فرمائیں کہ ”دخل نہ دینے“ سے آپ کا کیا مطلب ہے کہ نماز، روزہ پڑھنے کی اجازت آپ کو ہو، حج جانے کی اجازت

١؎ پہلے گزشتہ صفحات میں یہ مکمل حوالہ ہم حاشیہ میں نقل کرچکے ہیں۔

٤٨

صفحہ ٧٧٥

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

آپ کو ہو، اذان کی اجازت ہو؟

مرزا ناصر احمد : تمام وہ فرائض، احکام جو ہیں وہ میں پہلے..... ایک ضمناً آیا تھا۔ ایک ضمناً بعد میں میں نے بتایا تھا کہ بعض حکم اسلام کے ہیں کہ ایسا ضرور کرنا ہے۔ بعض احکام یہ ہیں کہ ایسا جائز ہے، یعنی جواز.......

Mr. Yahya Bakhtiar: Not obligatory?

Mirza Nasir Ahmad: Not obligatory.

تو وہ حکومت، جو اسلامی حکم ہے کہ ایسا ضرور کرنا ہے۔ ان احکام میں دخل اندازی نہیں دیتی۔ اس حکومت میں، اس حکومت کے خلاف بغاوت ہمارے عقیدے کے مطابق جائز نہیں، نہ ہم سے پہلوں میں سے بہت سے......

جناب یحییٰ بختیار: اچھا، خیر، میں آپ کا عقیدہ پوچھتا ہوں، کیونکہ اس طرح سے لمبی بحث ہے۔

مرزا ناصر احمد : جی، وہ اپنے تسلسل میں پتہ لگتا ہے نا۔

جناب یحییٰ بختیار: آپ کے عقیدہ کے مطابق ایک مسلمان کے غلام ہونے کا تصور موجود ہے کہ غلام بھی ہو اور مسلمان بھی ہو؟

مرزا ناصر احمد : ہمارے نزدیک ”غلام“ مختلف معانی میں استعمال ہوتا ہے۔ تو کس معنی کے متعلق آپ پوچھ رہے ہیں؟

جناب یحییٰ بختیار: کہ حکومت، اقتدار، وہاں کسی غیر مسلم کا ہو۔ میں سیاسی پہلے بات کر رہا ہوں۔

مرزا ناصر احمد : یعنی ”غلام“ کے معنی ”شہریت کا اختیار کرنا۔“

(غیر ملکی غاصبین سے آزادی کیا بغاوت ہوگی؟)

713 جناب یحییٰ بختیار: شہریت کا اختیار کرنا اور وہ..... اختیار کرنا نہیں۔ اگر آپ جس ملک میں رہتے ہیں۔ جہاں آپ پیدا ہوئے ہیں۔ وہاں سے باہر سے کوئی فاتح آئے یا کسی طریقے سے آپ کے ملک پر قبضہ کرے اور وہ غیر اسلامی لوگ ہوں، اور حکومت کرے اس پر......

مرزا ناصر احمد : جب حکومت کریں اور کر رہے ہوں ڈیڑھ سو سال سے یا سو سال سے......

٤٩

صفحہ ٧٧٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

جناب یحییٰ بختیار: ...... تو اس حکومت کے خلاف آزادی حاصل کرنے کے لئے اگر کوئی جدوجہد کرے، وہ بغاوت شمار ہوگی؟

مرزا ناصر احمد: اگر وہ ......

جناب یحییٰ بختیار: آپ کو اجازت ہے کہ نماز پڑھیں ......

مرزا ناصر احمد: نہیں، میں سمجھ گیا بات جی۔ میں سمجھ گیا۔ سوال سمجھ گیا۔ اگر وہ قانون کے اندر رہ کے جدوجہد کرے تو بغاوت نہیں ہوگی۔ لیکن اگر وہ فتنہ پیدا کرے اور خون خرابہ جس کے نتیجے میں پیدا ہو اور بہت سی معصوم جانیں خطرے میں آجائیں اور بہت سے حقوق جو ہیں وہ ناجائز غصب ہونے کا امکان پیدا ہو جائے تو وہ کام نہیں کرنے چاہئیں کیونکہ: ان الله لا يحب المفسدین

جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! ایک مشکل اس میں یہ آجاتی ہے کہ ایسے لوگ جو کہ قانون کے دائرے میں رہ کر جدوجہد کرتے ہیں۔ وہ بھی بعض موقع پر ایسے سٹیج پر پہنچ جاتے ہیں کہ حکومت ایسے قدم لیتی ہے کہ وہ مجبور ہو کر قانون کے دائرے سے کچھ تجاوز کرنا پڑتا ہے ان کو۔ میں آپ کی توجہ دلانا چاہتا ہوں تحریک پاکستان کے دنوں میں چھ سال تک مسلسل جدوجہد ہوتی رہی۔ بات چیت ہوتی رہی۔ Negotiation ہوتے رہے۔ Demonstrations لیگل فارم میں جو ہوتے ہیں وہ ہوتے رہے۔ مگر آخر میں انگریز نے یہ کہا اور یہ اشارہ دیا کہ وہ ساری کی ساری گورنمنٹ کانگرس کو یا ہندوؤں کے حوالے کرے گا۔ جو بھی ہمارے ساتھ یا مسلم لیگ کے ساتھ یا مسلمانوں کے ساتھ جو بھی انہوں نے وعدے کئے تھے۔ اس پر وہ مکر گئے۔ گورنمنٹ کیا Interim گورنمنٹ کے بارے میں، اس سے مکر گئے۔ اسکیم جو تھی اس سے مکر گئے۔ Interim سکیم جو تھی اسی سے مکر گئے۔ تو ایک ایسا سٹیج پہنچا کہ قائد اعظم نے بھی کہا کہ ”ڈائریکٹ ایکشن۔“

714 That means no longer the constitutional struggle.

(اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس کے بعد مزید آئینی کوشش نہ کی جائے)

Mirza Nasir Ahmad: I don't know whether 'direct action' means what you say.

(مرزا ناصر احمد: مجھے معلوم نہیں۔ راست اقدام کا وہی مطلب ہے جو آپ کہہ رہے ہیں)

٥٠

صفحہ ٧٧٧

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

Mr. Yahya Bakhtiar: No. I mean that--- what I say may be subject to correction---- may be that direct action was also a form of constitutional struggle. I don't say this. But supposing this is; now we can't....

(جناب یحییٰ بختیار: میں جو کہہ رہا ہوں وہی میرا مطلب ہے کہ راست سے مراد بھی آئینی کوشش ہی تھی۔ یہ میں نے نہیں کہا۔ لیکن فرض کریں وہ کہتے ہیں کہ ......)

مرزا ناصر احمد: ڈائریکٹ ایکشن۔ انہوں نے اعلان کر دیا۔ ڈائریکٹ ایکشن کا۔

جناب یحییٰ بختیار: جیسے مہاتما گاندھی نے کہا جی کہ آپ Quit India (ہندوستان چھوڑ دو) اور وہ حالانکہ ......

مرزا ناصر احمد: ڈائریکٹ ایکشن ہو گیا نا۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی۔

مرزا ناصر احمد: مسلم لیگ کا۔

جناب یحییٰ بختیار: مسلم لیگ کا۔ تو اسی طرح میں ......

مرزا ناصر احمد: اور اس کا میں جواب دوں؟

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں ذرا تھوڑا سا Explain (واضح) کردوں ......

مرزا ناصر احمد: اچھا، ہاں، ٹھیک ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: ...... تاکہ بعد میں ...... اسی طرح کانگریس جو تھی۔ ہندو جو تھے۔ ان کے لیڈر مہاتما گاندھی جو تھے۔ انہوں نے بھی اس اسٹیج پر یہ حکم دیا۔ حالانکہ وہ Non violance (عدم تشدد) پر یقین کرتے تھے۔ Constitutional struggle (آئینی جدوجہد) پر بھی Believe (یقین) کرتے تھے اور Non violance (عدم تشدد) پر بھی۔ انہوں نے، جو رپورٹ آئی اور آپ نے دیکھی ہوگی۔ جو برٹش گورنمنٹ نے پبلش کی تھی۔ ان کی تصویریں، ان کی Instructions (ہدایات) ان میں یہ چیز آئی تھی Quit India Movement (ہند چھوڑ تحریک) میں، Cut down telephone wirles, cut down small bridges (ٹیلی فون کی تاریں کاٹ دو پلوں کو تباہ کر دو) اس قسم کی ہدایات کانگریس نے ایشو کی تھیں تو لوگوں نے مذاق کیا کہ ,If you cut down a bridge

٥١

صفحہ ٧٧٨

778 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

(اگر آپ پلوں کو تباہ کر دیں خواہ وہ کتنے ہی چھوٹے کیوں however small it may be نہ ہوں) جو جانیں ضائع ہو جائیں گی715 وہ تو بہت بڑی ہو سکیں گی۔ جب ٹرین نے ہی گر جانا ہے، تو ایسی چیزیں جو تھیں کسی سٹیج پر لوگ جو آزادی کا جذبہ رکھتے ہیں۔ جو چاہتے ہیں کہ کوئی اور مجھ پر حکومت نہ کرے۔ میں اس وقت صرف سیاسی بات کر رہا ہوں تا کہ آپ ......

مرزا ناصر احمد : ہاں، ہاں، ٹھیک ہے۔ میں سمجھتا ہوں۔

جناب یحییٰ بختیار : ...... کیونکہ وہ جو مسئلہ ہے اس پر بعد میں آؤں گا جو آپ کہہ رہے ہیں کہ ”دین کی آزادی جو ہے“ اس پر علامہ کہتے ہیں:

ملا کو جو ہے ہند میں سجدے کی اجازت ناداں یہ سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد

وہ ایک اور پہلو ہے۔

مرزا ناصر احمد : جی۔

جناب یحییٰ بختیار : اس پر میں آپ کی توجہ دلاؤں گا کہ کیا مطلب ہے علامہ کا اور کیا چیز بنتی ہے۔ یہاں صرف سیاسی جو Struggle (کوشش) ہے ......

مرزا ناصر احمد : ہاں، ہاں، ہاں، ہم یہاں پہنچے ہیں ......

جناب یحییٰ بختیار : میری خودداری میں ...... دیکھیں ناں جی۔ میں پورا Explain (واضح کر دوں۔

مرزا ناصر احمد : نہیں، میں اپنے سمجھنے کے لئے ایک بات کر رہا ہوں۔ آپ کا سوال ہی سمجھنا چاہتا ہوں کیونکہ ہم پہنچے تھے قائد اعظم صاحب کے ڈائریکٹ ایکشن کے سلسلے میں۔ میں نے وہاں اپنی سوچ ختم کر دی تھی۔ کیونکہ وہیں ہم چلتے نا، ہمارا تعلق اسی سے ہے ...... قائد اعظم کے ڈائریکٹ ایکشن کا حکم۔

جناب یحییٰ بختیار : ہاں جی، میں نے اس کے بعد کہا کہ ایسا حکم کانگریس والوں نے بھی دیا، تین سال پہلے اس سے۔

مرزا ناصر احمد : ہاں، لیکن We have nothing to do with that

(ہمارا اس سے کوئی واسطہ نہیں)

جناب یحییٰ بختیار : میں مزید یہ عرض کر رہا تھا ......

مرزا ناصر احمد : جی۔

٥٢

صفحہ ٧٧٩

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

716 ”جناب یحییٰ بختیار: ......کہ کسی ملک کے لوگ، رہنے والے، جن کو حب الوطنی کا جذبہ ہو، پہلے وہ کوشش کرتے ہیں قانون کی حدود میں رہ کر، مہذب طریقے سے اپنی آزادی حاصل کریں۔ مگر وہ کہتے ہیں: تنگ آمد بہ جنگ آمد۔ ایک اسٹیج وہ بھی آجاتا ہے جب آزادی کے لئے ”تنگ آمد بہ جنگ آمد“ ہوتا ہے۔ آپ کہتے ہیں کہ یہ حرام ہے۔ یہ میں چاہتا ہوں صرف سیاسی نقطہ نظر سے، مذہب کو چھوڑ دیجئے فی الحال......

مرزا ناصر احمد: قائد اعظم نے ڈائریکٹ ایکشن کی تفصیلات کس حکم کے...... کیا حکم دیا کیا کرو؟

جناب یحییٰ بختیار: میں، مرزا صاحب! میں نے عرض کیا کہ ممکن ہے انہوں نے کہا کہ Constitution (آئین) کے دائرے میں رہو۔

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، میرا مطلب یہ ہے کہ میں نے اسی واسطے کہا تھا کہ میں نے...... جب آپ نے قائد اعظم کا حوالہ دیا، اللہ تعالیٰ ان کو جزا دے، انہوں نے بڑی خدمت کی ہے قوم کی...... تو میں نے بس وہاں اگلی جو باتیں ہیں وہ میں نے ......Disconnected (غیر متعلقہ) ہیں......

جناب یحییٰ بختیار: میں پھر Repeat......

مرزا ناصر احمد: قائد اعظم نے جب ڈائریکٹ ایکشن کا کہا......

جناب یحییٰ بختیار: میں پھر Repeat (دوبارہ) کر دیتا ہوں کہ میں نے کیا عرض کیا۔

مرزا ناصر احمد: ......جی۔

جناب یحییٰ بختیار: میں نے کہا کہ ممکن ہے کہ قائد اعظم نے جب یہ کہا کہ ”ڈائریکٹ ایکشن“ تو ان کا یہی نظریہ ہو۔ ممکن ہے یہی Instructions (ہدایات) ہوں کہ باوجود Constitutional (آئینی) کوشش ختم ہونے کے پھر بھی یہ بھی Constitutional (آئینی) ہی رہے۔ یہ میں کہتا ہوں ممکن ہے، کیونکہ ممکن ہے میں اسٹوڈنٹ تھا، مجھے یاد ہو......

مرزا ناصر احمد: جی۔

717 ”جناب یحییٰ بختیار: ......مگر قائد اعظم کا اپنا مطلب یہی تھا اور ہوگا کہ آپ جلسے

٥٣

KISTAN 9th Aug, 1974 No:05

owever small it may be

نہ ہوں) جو جانیں ضائع ہو جائیں گی ایسی چیزیں جو تھیں کسی سٹیج پر لوگ جا حکومت نہ کرے۔ میں اس وقت صر

مرزا ناصر احمد: ہاں،

جناب یحییٰ بختیار: ۔

رہے ہیں کہ دین کی آزادی جو ہے ملا کو جو ہے ہند میں سجدے کی وہ ایک اور پہلو ہے۔

مرزا ناصر احمد: جی۔

جناب یحییٰ بختیار: ا

چیز بنتی ہے۔ یہاں صرف سیاسی جو

مرزا ناصر احمد: ہاں

جناب یحییٰ بختیار

Explain (واضح کر دوں۔

مرزا ناصر احمد: نہیں

ہی سمجھنا چاہتا ہوں کیونکہ ہم پہنچے ۔ نے وہاں اپنی سوچ ختم کر دی تھی۔ کے ڈائریکٹ ایکشن کا حکم۔

جناب یحییٰ بختیار: ۔

بھی دیا، تین سال پہلے اس سے۔

مرزا ناصر احمد: ہاں (ہمارا اس سے کوئی واسطہ نہیں)

جناب یحییٰ بختیار: ۔

مرزا ناصر احمد: جی۔

صفحہ ٧٨٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

کریں۔ Demonstration (مظاہرہ) کریں۔ جلوس نکالیں۔ احتجاج کریں۔ مگر ان کا یہ مطلب نہیں تھا کہ لوگوں کو ماریں۔ گھروں کو جلائیں۔ آگ لگائیں۔ کسی کو نقصان پہنچائیں۔ نہیں، ہرگز نہیں۔ وہ اس اصول کے آدمی نہیں تھے۔ مگر جب ڈائریکٹ ایکشن ہوا۔ جس طرح لوگوں نے اس کو سمجھا اور جو کلکتہ میں جو تاریخ مقرر تھی...... میرے خیال میں ١٦؍ اگست ١٩٤٦ء کی، ١٦؍ اگست ١٩٤٦ء تو نتیجہ یہ ہوا کہ ایک ہی دن میں میرے خیال میں کلکتے میں دس ہزار جانیں ضائع ہوگئیں۔ مسلمانوں اور ہندوؤں کی ملا کے اور وہ ڈائریکٹ ایکشن کے بارے میں بہت سے لوگ لکھتے ہیں کہ اس کی وجہ سے پھر پاکستان بنا۔ ابھی آپ اس پر ذرا......

مرزا ناصر احمد: میں تو صرف اتنا کہہ سکتا ہوں کہ قائد اعظم کی ہر جدوجہد میں جماعت احمدیہ کے افراد کندھے سے کندھا ملا کے پاکستان کے لئے لڑتے رہے ہیں اور اس کی ایک....... (اپنے وفد کے ایک رکن سے) وہ کہاں ہے فوٹو اسٹیٹ کی کاپی؟ (اٹارنی جنرل سے) یہ ایک ریلیز ہے قائد اعظم کی، اخبار ”ڈان“ ٨؍ اکتوبر ١٩٤٤ء اس کا عکس ہے یہ، قائد اعظم محمد علی جناح کی طرف سے، جماعت احمدیہ قادیان کی مرکزی مراسلات پریس میں:

Ahmadiyya community to support Muslim League.

Qadian leader's guidance. Mr. M.A Jinnah has released the following correspondence to the Press. Letter from Nazim-e- Umoor-e- Aama of the... (یہ ہوگا مس ٹائپ) Umoor-e- Aama of the Ahmadiyya Movement, Qadian, addressed to Mr. Jinnah:

"Dear Sir:

I beg to enclose herewith a copy of the letter from Mohammad Sarwar Dani of village Marghazar Kurda district Rae-pur, addressed to Hazrat Amir-ul- Momineen, Khalifat-ul- Mashih 2nd, Head of the Ahmediyya community, and the reply thereto, for your kind perusal.

yours faithfully."

٥٤

صفحہ ٧٨١

781 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

(احمدیہ جماعت مسلم لیگ کی حمایت کرے گی۔ رہنمایان قادیان کی ہدایت، مسٹر محمد علی جناح مندرجہ ذیل خط و کتابت اخبارات کو جاری کی ہے۔ احمدیہ جماعت کے ناظم امور عامہ قادیان کی طرف سے مسٹر جناح کے نام خط:

جناب والا ! ...... میں ایک خط منجانب محمد سرور دانی ساکن موضع مرغزار، ریاست رائے پور کی نقل جو کہ حضرت امیرالمؤمنین خلیفۃ المسیح ثانی جماعت احمدیہ کے نام ہے۔ بھیج رہا ہوں اور اس خط کا جواب بھی آپ کے ملاحظہ کے لئے۔ آپ کا مخلص !)

"The text of the letter from Muhammad Sarwar referred to above: - وہ متن آگے ہے۔

(یہ محمد سرور کے اس خط کا متن ہے جس کا ذکر اوپر ہو چکا ہے)

718 "We have the honour to make a request and a query. We are a few Ahmadies here in this town and in the present election campaign we have been approached both by the League and the Congress for contributions and assistance to the respective parties and candidates. Kindly guide us whom we should support."

Reply from the head of Ahmadia community:

"You ought to support Muslim League in the present elections and offer them whatever means of cooperation and assistance you can possibly afford. Muslims do require a united front in the present crisis. There differences, if allowed to exist, will affect them adversely for hundreds of years to come."

(”ہم ایک درخواست کر رہے ہیں۔ جس کے متعلق آپ سے رہبری کے طالب ہیں۔ اس قصبہ میں ہم چند احمدی ہیں۔ الیکشن کی مہم کے دوران ہم سے (مسلم) لیگ اور کانگریس دونوں نے رابطہ کیا ہے اور دونوں ہی اپنے اپنے امیدواروں کے لئے امداد کے خواستگار ہیں۔ از راہ کرم ہماری رہنمائی فرمائیں کہ ہم کس کی حمایت کریں۔“

٥٥

KISTAN 9th Aug, 1974 No:05

Demonstration کریں۔ مطلب نہیں تھا کہ لوگوں کو ماریں، نہیں، ہرگز نہیں۔ وہ اس اصول کے لوگوں نے اس کو سمجھا اور جو کلکتہ میں ١٦ اگست ١٩٤٦ء تو نتیجہ یہ ہوا کہ ا ضائع ہوگئیں۔ مسلمانوں اور ہندوؤ لوگ لکھتے ہیں کہ اس کی وجہ سے پھر

مرزا ناصر احمد: میں جماعت احمدیہ کے افراد کندھے ب ایک..... (اپنے وفد کے ایک رکن یہ ایک ریلیز ہے قائد اعظم کی ، اخب جناح کی طرف سے، جماعت احم

port Muslim League. nah has released the Letter from Nazim-e- Umoor-e-Aama of addressed to Mr.

a copy of the letter e Marghazar Kurda Amir-ul-Momineen, f the Ahmediyya ur kind perusal.

صفحہ ٧٨٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

جماعت احمدیہ کی طرف سے جواب: ”موجودہ الیکشن میں آپ کو مسلم لیگ کی حمایت کرنی چاہئے اور ممکن حد تک جو بھی تعاون اور امداد آپ کر سکتے ہیں کریں۔ موجودہ بحران میں مسلمانوں کو متحدہ محاذ کی ضرورت ہے۔ اگر ان کے اختلافات کو رہنے دیا گیا تو اس کے اثرات سو سال تک رہیں گے۔“ ١

جناب یحییٰ بختیار: یہ تو آپ جو میں دوسرا عرض کر رہا تھا ناں...... Seperatists کے متعلق اس کے بارے میں یہ ہو سکتا ہے۔

(چیرمین کی رولنگ، مرزا ناصر نے سوال کا جواب نہیں دیا)

Mr. Chairman: The question of the Attorney- General is unanswered.

(جناب چیئرمین: اٹارنی جنرل کے سوال کا جواب نہیں دیا گیا)

Mr. Yahya Bakhtiar: Beg your pardon?

Mr. Chairman: Your question has not been answered.

(جناب چیئرمین: آپ کے سوال کا جواب نہیں دیا گیا)

Mr. Yahya Bakhtiar: That's why I said that relates to a different subject.

(جناب یحییٰ بختیار: میں نے کہا اس (سوال) کا تعلق دوسرے موضوع سے ہے)

Mr. Chairman: No, the question has not been answered as yet.

(جناب چیئرمین: نہیں، سوال کا جواب ابھی تک نہیں دیا گیا)

Mr. Yahya Bakhtiar: That's why I am repeating that. کہ constitutional struggle becomes impossible and Muslims particularly find that they cannot achieve their

١؎ سوال تھا کہ آزادی کی جدوجہد کے لئے کسی مرحلہ پر ڈائریکٹ ایکشن ہو سکتا ہے۔ مرزا ناصر نے جواب دیا کہ قادیانی جماعت نے لیگ کے امیدوار کو ووٹ دیئے۔ سوال گندم جواب چنا!

٥٦

صفحہ ٧٨٣

783 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

independence in thir own country and they adopt methods other than constitutional in order to obtain independence.

(جناب یحییٰ بختیار: میں اسے دوہرا رہا ہوں۔ اگر آئینی کوششیں ناممکن ہو جائیں اور مسلمان یہ سمجھیں کہ وہ آئینی ذرائع کے علاوہ دوسرے ذرائع اختیار کئے بغیر اپنے ملک میں آزادی حاصل نہیں کر سکتے)

مرزا ناصر احمد: یعنی قانون شکنی کرتے ہیں۔ جانیں لیتے ہیں۔ لوٹتے ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: جانیں لینے کا میں نے نہیں کہا۔

719 مرزا ناصر احمد: نہیں، میں ویسے وضاحت چاہ رہا ہوں۔ میں نے یہ نہیں کہا......

جناب یحییٰ بختیار: میں نے Unconstitutional (غیر آئینی) کہا۔ اس کی مثال میں یہی دیتا ہوں، چھوٹی سی۔

مرزا ناصر احمد: جی۔

جناب یحییٰ بختیار: ......کہ وہ کہتے ہیں کہ ”دفعہ ١٤٤ لگ گئی ہے۔ آپ جلوس نہ نکالیں“ وہ کہتے ہیں ”ہم نکالیں گے......“

مرزا ناصر احمد: جی۔

جناب یحییٰ بختیار: ”......ہم اس کو توڑیں گے۔“ چھوٹی سے مثال ہے۔ Struggle (کوشش) جو ہے کہ Constitutional (آئینی) انہوں نے توڑ دی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ گورنمنٹ نے زیادتی کی کہ ”نہیں، آپ نہیں جائیں گے۔“ یا گورنمنٹ نے قانون کو Enforce (نافذ) کیا، جو ان کی بھی ڈیوٹی سمجھی جاتی ہے۔ جب جلوس انہوں نے نکالا، لوگ زخمی ہو گئے۔ گولی چلی۔ لاٹھی چارج ہوا۔ اس طرح یہ چیز چلتے چلتے ایک ایسی پوزیشن پر پہنچ جاتی ہے جب گورنمنٹ کی مشینری بے حس ہو جاتی ہے......

مرزا ناصر احمد: گورنمنٹ مشینری......؟

جناب یحییٰ بختیار: بے حس۔

مرزا ناصر احمد: بے حس۔

جناب یحییٰ بختیار: بے حس، Paralysed (مفلوج) اور مجبور ہو کر جو فاتح ہے، حاکم ہے، اس کو ملک چھوڑنا پڑتا ہے۔ جیسے انگریز کو چھوڑنا پڑا Ultimately......

مرزا ناصر احمد: جی۔

٥٧

PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

جماعت احمدیہ کی طرف سے کرنی چاہئے اور ممکن حد تک جو بھی تعا مسلمانوں کو متحدہ محاذ کی ضرورت ہے جہ سال تک رہیں گے۔“)

جناب یحییٰ بختیار: Seperatists کے متعلق اس کے با

(چیئرمین کی رولنگ، مرزا

estion of the Attorney-

(جناب چیئرمین: اٹار

your pardon?

uestion has not been

(جناب چیئرمین: آپ

That's why I said that

(جناب یحییٰ بختیار: یہ

question has not been

(جناب چیئرمین: مجھ

t's why I am repeating comes impossible and nnot achieve their

ے سوال تھا کہ آزادی ہے۔ مرزا ناصر نے جواب دیا کہ قا گندم جواب چنا!

صفحہ ٧٨٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

جناب یحییٰ بختیار: Quit India Movement (ہند چھوڑ تحریک) اور مسلم لیگ موومنٹ ساری ایسی ہی ہیں۔ تو اس بارے میں میں پوچھتا ہوں کہ یہ ان کو حق ہے کہ نہیں کہ اس قسم کی جدوجہد کریں تاکہ اپنی آزادی حاصل کرسکیں؟ میں جہاد کے مسئلہ کی طرف نہیں جا رہا۔

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، میں سمجھ گیا۔ یہ جو ہے Constitutional struggle to regain one's independence constitutional struggle (آزادی حاصل کرنے کے لئے آئینی کوشش) مختلف معانی میں720 استعمال ہو سکتی ہے۔ جس وقت When the Govt. is paralysed, there is no law to obey لاء ہی نہیں رہتا۔

When anarchy takes the place of Legal Government, then the question of breaking the law does not arise; one must struggle for one's survival.

(جب حکومت مفلوج ہو جائے۔ ملک میں کوئی قانون نہ رہے اور قانونی حکومت کی بجائے افراتفری اور غدر کا سا عالم ہو تو ایسے حالات میں قانون شکنی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اپنے بچاؤ کے لئے ہر کوئی خود کوشش کرتا ہے)

Mr. Yahya Bakhtiar: I said deliberately a situation is created when the Government machinery gets paralized. I said, "delibrately."

(جناب یحییٰ بختیار: میں نے کہا کہ حکومتی مشینری جان بوجھ کر مفلوج کر دی جائے۔ میں نے کہا جان بوجھ کر)

مرزا ناصر احمد: نہیں، کون؟

Deliberation on whose part?

(جان بوجھ کر کس کی طرف سے)

Mr. Yahya Bakhtiar: On the part of those who struggle for independence; they deliberately create a situation that the Government machinery becomes paralized.

٥٨

صفحہ ٧٨٥

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

(جناب یحییٰ بختیار: ان کی طرف سے جو آزادی کی جدوجہد کر رہے ہیں۔ وہ جان بوجھ کر ایسے حالات پیدا کر دیتے ہیں کہ حکومت مفلوج ہو جائے)

مرزا ناصر احمد : اگر وہ ان کی یہ پہلی ابتدائی جو کوشش ہے، وہ Under the constitutional right in any sense? (کسی بھی طور آئینی حقوق کے تحت)

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، Constitution (آئینی).......

مرزا ناصر احمد : یعنی ان کے اپنے خیال میں؟

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، ........

مرزا ناصر احمد : اگر ان کے اپنے ذہنوں میں، ان کی Struggle (کوشش) پھر بھی Constitutional (آئینی) ہے، اور نتیجہ وہ نکلتا ہے، تو I do not want to blame them (میں انہیں قصور وار نہیں ٹھہرانا چاہتا)

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں یہ نہیں کہوں گا۔ میں یہی عرض کروں گا کہ ان کے ذہنوں میں یہ بات Clear (صاف) ہے کہ Constitutional (آئینی جدوجہد) نہیں ہو سکتی۔ اب ہم کو قانون شکنی کرنی پڑے گی۔ اپنے آپ کو ..... جیسا کہ وہ کہتے ہیں جی ...... گرفتاریوں کے لئے پیش کریں گے ..... میں اس کی بات کر رہا ہوں ..... جو قانون Deliberately (جان بوجھ کر) توڑیں گے۔ خواہ چھوٹا قانون ہو۔ وہ کہتے ہیں ”جلسہ مت کرو۔“ وہ کہتے ہیں ”کریں گے ۔“ دفعہ ١٤٤ لگے گی تو اچھا۔ اس کو توڑیں گے۔ میں ان کی کہہ رہا ہوں جو Deliberately (جان بوجھ کر) اس طریقے سے کوشش کر کے، لوگوں کی Attention draw (توجہ دلا کر) کر کے، لوگوں کی Unity (اتفاق) بڑھا کر، جسے کہتے ہیں قربانی کرنا، بعض لوگ جیلوں میں گئے، بعض سمجھتے ہیں کہ یہ ضروری نہیں کہ جیلوں میں جائیں ۔ بہر حال جو یہ سمجھتے ہیں کہ حکومت کو ہم پر ...... جو ہم پر حکومت ٹھونسی گئی ہے۔ وہ ہماری حکومت نہیں ہے۔ ہم نے آزادی حاصل کرنی ہے۔ اگر قانونی جدوجہد سے ہو تو بہتر، اگر نہ ہو سکے تو ہم غیر قانونی جدوجہد کریں گے اور اس گورنمنٹ کو Paralyse (مفلوج) کر کے، فیل کر کے مجبور کریں گے کہ یا تو ہمیں سارا اقتدار دے یا چلی جائے، جیسا بھی ہو۔ تو میں اس Situation (حالت) کا کہہ رہا ہوں کہ کیا کوئی جس کو آپ مسلمان کہتے ہیں یا جو بھی انسان ہو جو اپنی غیرت سمجھتا ہے کہ ” بھئی! میں آزاد ہوں، I do not want anybody to rule me politically, do not want anybody to give me orders."

٥٩

STAN 9th Aug, 1974 No:05

جناب یحییٰ بختیار: لیگ موومنٹ ساری ایسی ہی ہیں اس قسم کی جدوجہد کریں تاکہ اپنی

مرزا ناصر احمد : nce constitutional struggle (آزادی حاصل ہے۔ جس وقت law to obey لاگو ہی نہیں رہتا۔ Legal Government, does not arise; one

(جب حکومت مفلوج بجائے افراتفری اور عذر کا سام اپنے بچاؤ کے لئے ہر کوئی خود کو ش id deliberately a ent machinery gets

(جناب یحییٰ بختی جائے۔ میں نے کہا جان بوجھ ک

مرزا ناصر احمد :

(جان بوجھ کر کس part of those who berately create a hinery becomes

صفحہ ٧٨٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

(میں کسی کو سیاسی طور پر اپنے اوپر حکومت کرنے کی اجازت نہیں دیتا نہ ہی کسی کو میں اپنے اوپر حکم چلانے دوں گا)

اب آپ نے دیکھا کہ ایک چھوٹی سی بات تھی کہ مارشل ایوب خان آئے ۔ ہم میں سے ایک تھے ،مسلمان تھے، پاکستانی تھے۔ انہوں نے ایک آئین دیا جس میں انہوں نے کہا کہ:

"I, Field-Marshall Mohammad Ayub Khan do hereby give you this constitution."

(میں فیلڈ مارشل ایوب خان آپ (عوام) کو آئین دیتا ہوں ۔) اور سارا ملک چیخ پڑا کہ ”اس کا کوئی بزنس نہیں۔ We should give ourselves a Constitution (عوام نے کہا ہم اپنے آپ کو خود آئین دیں گے) ایک فرد نہیں دے سکتا۔ اب یہ تو اپنا فرد تھا۔ اب باہر سے، وائٹ ہاؤس سے آرڈر آتے رہے کہ آئندہ کا یہ Constitution (آئین) ہوگا، یہ ہوگا۔ یہ غیرت نہیں گوارہ کرتی تھی غیرت مند لوگوں کی، میں ان کا ذکر کر رہا ہوں ۔ میں ان کا ذکر کر رہا ہوں انہوں نے Struggle (کوشش) کی ۔ انہوں نے قربانیاں دیں ۔ اپنے نقطہ نظر سے، یہ سمجھ کر کہ اس گورنمنٹ کو ہم نے Paralyse (مفلوج) کرنا ہے۔ قانونی طریقے سے ہو گیا تو ٹھیک، قانونی طریقے سے نہ ہوا تو غیر قانونی طریقے سے بھی ہم کریں گے۔ کیا یہ Struggle (کوشش) جو اس طریقے سے ہو، جو غیر قانونی طریقے سے ہو، اس کو آپ جائز سمجھ سکتے ہیں یا اس کو بغاوت سمجھتے ہیں؟

مرزا ناصر احمد : یہ کچھ انسان کی اپنی جو Thinking (سوچ) ہے ناں، وہ جواب میں تو بہرحال آئے گی۔ میں نے جو اسٹڈی انگریزوں کی یہاں کی حکومت کے متعلق کی ہے۔ میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ جہاں بھی ہمیں، ان کی Vision (بیان) کے مطابق، قانون شکنی نظر آتی ہے۔ اس کی ابتداء خود قانون بنانے والے نے قانون توڑ کے کی تھی۔ تو جب حکومت خود اپنے قوانین توڑ دیتی ہے۔ تو جو 722 دوسرا جدوجہد کر رہا ہوتا ہے اپنی آزادی کے لئے ۔ اس کے اوپر یہ الزام نہیں رکھا جاسکتا کہ قانون تھا اور اس نے توڑا مثلاً میں مثال دیتا ہوں دفعہ ١٤٤۔ دفعہ ١٤٤ ایک مستقل سپریم پریولج Supreme privilege نہیں ہے ڈی۔سی کا۔ مثلاً ڈی۔ سی۔ جو ہے، وہ دفعہ ١٤٤ جائز بھی لگا سکتا ہے اور ناجائز طور پر بھی لگا سکتا ہے۔ وہ ناجائز طور پر، جانتے بوجھتے ہوئے کہ مجھے نہیں لگانی چاہئے، اوپر سے حکم آگیا، وہ لگا سکتا ہے۔ برٹش گورنمنٹ کا

٦٠

صفحہ ٧٨٧

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

حکم آگیا ہے یا یہ کہ وہ غلط فہمی میں ہے.......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، مرزا صاحب! یہ تو.......

(انگریز خود قانون شکن تھا، مرزا ناصر کا اعلان)

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، میں....... میری بات ابھی ختم نہیں ہوئی۔ جس وقت....... یعنی میں تو یہ بتا رہا ہوں کہ میری سمجھ کے مطابق اس ساری Struggle (کوشش) میں قانون شکنی کی پہلی ذمہ داری انگریز نے اپنے سر پر رکھی۔ اس واسطے ان کے مخالف جو جدوجہد ہو رہی تھی۔ خواہ وہ کانگریس کی تھی یا مسلم لیگ کی تھی یا مسلمانوں کے کسی اور گروہ کی تھی۔ میری یعنی جو میں نے سٹڈی کیا ہے۔ میں اپنی رائے بتا رہا ہوں آپ کو، میری رائے کے نزدیک انگریزوں کے خلاف جدوجہد کرنے والوں پر قانون شکنی کا الزام لگایا ہی نہیں جاسکتا۔ خواہ بظاہر یہ نظر آرہا ہو۔ کیونکہ قانون شکنی کرنے والے وہ خود تھے۔ جنہوں نے قانون بنایا تھا مثلاً جلیانوالہ باغ ہے۔ انگریز کی حکومت نے وہاں Slaughter (خون ریزی) کی ان کو اجازت نہیں دی تھی۔ خود ان کا قانون اس کی اجازت نہیں دیتا اور اگر کوئی کہے کہ گولیاں چلیں اور تمہیں آرام سے بیٹھے رہنا چاہئے کیونکہ قانون شکنی نہیں جائز، تو یہ تو غلط ہے میرے نزدیک۔ جب انگریز نے قانون شکنی کر دی تو ان کے خلاف جدوجہد جائز ہے اور Constitution (آئینی) ہے میرے نزدیک۔

جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! آپ نے میرے لئے ایک دوسرا مشکل مسئلہ کھڑا کر دیا ہے.......

مرزا ناصر احمد: جی۔

جناب یحییٰ بختیار: یہ....... وہ اس واسطے میں عرض کرتا ہوں.......

مرزا ناصر احمد: جی۔

723 جناب یحییٰ بختیار: .......کہ ہم جو قانون پڑھتے ہیں، جو تھوڑا بہت سمجھتے ہیں۔ اس کے مطابق آپ کہتے ہیں انگریز نے قانون شکنی کی۔ انگریز کہتا ہے کہ اگر میں نے قانون شکنی کی تو اس کا فیصلہ آپ نہیں کریں گے۔ وہ عدالت کرے گی۔ اگر آپ نے کی، اس کا بھی فیصلہ عدالت کرے گی۔ تو آپ کی سمجھ کے مطابق درست ہوگا یہ کہ دفعہ ١٤٤ غلط لگائی گئی۔ مگر اس کے لئے عدالت جانا پڑتا ہے۔ وہاں Revision (نگرانی) اور اپیل ہے اس کے لئے۔ تو میں کہتا ہوں کہ وہ طریقہ ہم نے نہیں اختیار کیا۔ ہم نے کہا ”نہیں، ہم نہیں مانتے۔“ تو یہ میں بات کر رہا ہوں.......

٦١

صفحہ ٧٨٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05 مرزا ناصر احمد : ہاں ،ہاں ۔ جناب یحییٰ بختیار : ......کہ انہوں نے غلطی کی۔ یہ غیر قانونی جدوجہد تھی کہ ١٤٤ کو Violate (توڑا) کیا ۔ آرڈر غلط تھا ۔ آپ کی بات سو فیصد درست ہے کہ ڈی سی نے ناجائز طور پر لگایا مگر ہائی کورٹ میں Revision (نگرانی) ہے اس کی ۔ مرزا ناصر احمد : جی ،تو یہ ......آپ کا سوال ختم ہو جائے تو پھر مجھے بتا دیں ۔ جناب یحییٰ بختیار : ہاں ، یہ میں کہہ رہا ہوں وہ تو اور فیلڈ میں چلا جاتا ہے۔ مرزا ناصر احمد : انگریز کہتا ہے ...... جناب یحییٰ بختیار : قانون کہتا ہے۔ مرزا ناصر احمد : نہیں ،انگریز ،یعنی انگریزی حکومت ۔ ہم نے وہ مثال لے لی ہے ناں ایک ۔ جناب یحییٰ بختیار : ہاں ۔ مرزا ناصر احمد : انگریزی حکومت کہتی ہے کہ ”ہم نے قانون شکنی نہیں کی“ ...... جناب یحییٰ بختیار : ہاں جی ۔ مرزا ناصر احمد : ......اور جو اس کے خلاف جدوجہد کرنے والے ہیں وہ کہتے ہیں کہ: ”تم نے پہل کی قانون شکنی میں ۔“ انگریزی حکومت کہتی ہے کہ ”تم ہمارا جو ہے کورٹ ،عدلیہ جو ہے ،اس کے پاس جاؤ ۔“ اور وہ جو،جس پر وہ الزام لگاتے ہیں ،غلط میرے نزدیک کہ تم قانون شکنی کر رہے ہو ۔ وہ کہتا ہے کہ ”تمہارا ڈی سی تو قانون شکنی کرنے والا ہے ،اس کے پاس ہم کیسے جائیں گے؟“ 724 جناب یحییٰ بختیار : نہیں ،ہائی کورٹ میں Revision ہو سکتی ہے۔ مرزا ناصر احمد : ساری ان کا وہ تو، ساری حکومت کا تانا بانا خراب ہو چکا تھا۔ جناب یحییٰ بختیار : نہیں ، وہ تو سب ٹھیک ہے۔ میں یہی، مرزا صاحب ! عرض کر رہا ہوں کہ ناجائز قانون ......روز قانون بنتے ہیں ، وہ بظاہر ٹھیک معلوم ہوتے ہیں ۔ مگر ان کا استعمال غلط ہوتا ہے۔ ورنہ یہ اختیار جو ہے اس پر بھی کسی زمانے میں بڑے فائدے تھے اور بڑے لوگوں کو فائدہ بھی پہنچا ۔ ابھی بھی بعض لوگ کہتے ہیں کہ بڑی جلدی ہمارے فیصلے ہو جاتے ہیں بشرطیکہ ڈی۔سی۔ایماندار ہو، بشرطیکہ جرگہ ممبر ایماندار ہو ۔ جب یہ شرطیں آ جاتی ہیں تو آپ کو پتہ ہے کہ معاملہ ذرا مشکل ہی ہو جاتا ہے۔

٦٢

صفحہ ٧٨٩

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

تو بہرحال انگریز نے ایک سسٹم رکھا تھا کہ اگر میرا قانون غلط استعمال ہوتا ہے اور آپ سمجھتے ہیں کہ غلط ہوا۔ کسی جگہ غلط آرڈر پاس کیا ہو۔ ناجائز آرڈر پاس کیا ہے۔ قانون کے مطابق نہیں پاس کیا۔ تو عدالت سے فیصلہ کراؤ گے۔ تو خود قانون کو اپنے ہاتھوں میں نہیں لو گے۔ میں کہتا ہوں کہ جب لوگ قانون اپنے ہاتھ میں لیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ انگریز نے تو بات ٹھیک کہی ہے۔ مگر آج دفعہ ١٤٤ کا آرڈر ہوتا ہے کہ کل جلسہ نہیں ہوگا۔ میں کہاں ہائی کورٹ پہنچوں۔ کیسے آرڈر لوں؟ یہ مشکلات آتی رہتی ہیں تو اس وجہ سے کہتے ہیں کہ ہم قانون شکنی اس طرح سے کرتے ہیں کہ قانون اپنے ہاتھ میں لیں گے۔ جلسہ ضرور کریں گے۔ جلوس ضرور نکالیں گے۔

Technically speaking, Sir, they do violate law. Mirza Nasir Ahmad: In the eyes of the foreign rulers. Mr. Yahya Bakhtiar: No, that is what I say any......

مرزا ناصر احمد: نہیں، اگر ہماری بھی آنکھوں میں یہی ہے...... جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی، یہی میں کہہ رہا ہوں کہ Foreign ruler جو ہے اس کے خلاف جدوجہد ہے۔ اس نے قانون بنایا ہوا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ”میرا قانون یہ ہے کہ اگر میں ایک غلط فیصلہ لیتا ہوں۔ آپ عدالت میں جاکر اس کو درست کرا دیجئے۔ اگر غلط ہے Set aside کرا دیجئے۔ مگر آپ اس کے خلاف قدم نہیں لیں گے ۔“ میں کہتا ہوں کہ 725 ”صاحب! آپ نے آرڈر دیا ہے کہ کل جو میرا جلسہ ہے وہ نہیں ہوگا کیونکہ دفعہ ١٤٤ آپ نے لگا دی ہے۔ یہ ناجائز ہے۔“ کہتا ہے ”Revision کرو۔“ میں کہتا ہوں: ”Revision کروں گا، جناب! تو مجھے دو تین دن کی ضرورت ہے۔ یا اگر ٧٢ گھنٹے کی ضرورت ہو۔ ہائی کورٹ میں ایک دن میں پہنچ بھی جاؤں گا تو مجھے یہ سب انتظامات کینسل کرنے پڑیں گے ۔“ تو وہ کہتا ہے ”جلسہ پھر دو دن کے بعد کر لو ۔“ وہاں سے بھی Reasonable بات معلوم ہوتی ہے۔ یہاں سے بھی Reasonable بات معلوم ہوتی ہے۔ تو وہ کہتا ہے کہ ”ہم تو ہائی کورٹ نہیں جا سکتے ، اس پر کافی دیر لگے گی۔ اس لئے ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ہم جلسہ ضرور کریں گے ۔“ میں اس Situation کا کہہ رہا ہوں کہ آپ کہتے ہیں کہ انگریز نے قانون شکنی کی۔ انگریز کے نقطہ نظر سے قانون کی نظر سے اس نے قانون شکنی نہیں کی۔ قانون شکنی وہ خود کہہ رہے ہیں کہ ”جی ہم کر

٦٣

F PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں۔ جناب یحییٰ بختیار: ......کہ Violate (توڑا) کیا۔ آرڈر غلط تھا۔ آ پر لگایا مگر ہائی کورٹ میں Revision ( مرزا ناصر احمد: جی، تو یہ...... جناب یحییٰ بختیار: ہاں، یہ مرزا ناصر احمد: انگریز کہتا ۔ جناب یحییٰ بختیار: قانون مرزا ناصر احمد: نہیں، انگر تاں ایک۔ جناب یحییٰ بختیار: ہاں۔ مرزا ناصر احمد: انگریز کی حکو جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی مرزا ناصر احمد: ...... اور جو ”تم نے پہل کی قانون شکنی میں ۔“ انگر ہے، اس کے پاس جاؤ۔“ اور وہ جو، جس شکنی کر رہے ہو۔ وہ کہتا ہے کہ ”تمہارا ذ جائیں گے؟“

724 جناب یحییٰ بختیار: نھی مرزا ناصر احمد: ساری ان جناب یحییٰ بختیار: نہیں رہا ہوں کہ ناجائز قانون ...... روز قانو استعمال غلط ہوتا ہے۔ ورنہ یہ اختیار جو لوگوں کو فائدہ بھی پہنچا۔ ابھی بھی بعض بشرطیکہ ڈی۔ سی۔ ایماندار ہو، بشرطیکہ جن ہے کہ معاملہ ذرا مشکل ہی ہو جاتا ہے۔ا

صفحہ ٧٩٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

رہے ہیں، ہم اپنے آپ کو جیل جانے کے لئے Volunteer کر رہے ہیں۔ ہم جلسہ کریں گے۔ قانون اپنے ہاتھ میں لیں گے۔ جہاں تک جلسہ جلوس کا تعلق ہے۔ میں ان کے فعل کے بارے میں کہہ رہا ہوں کہ ان کو آپ Justify کریں گے یا نہیں؟

مرزا ناصر احمد : یہاں اب دو سوال میرے ذہن میں اٹھتے ہیں۔ ایک میں نے یہ سوچا کہ کیا میرا اپنا دماغ مجبور ہو جائے گا کسی وقت کہ قانون شکنی، بظاہر قانون شکنی کے بغیر میں اپنے سیاسی حقوق کو حاصل کر سکوں؟ تو میرے دماغ نے جواب دیا، نہیں۔ میرے دماغ نے جواب دیا کہ تجھے اللہ تعالیٰ ...... میں اپنی بات کر رہا ہوں......

جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی۔

(انگریزوں کو سمندر میں دھکیلا جا سکتا ہے، مرزا ناصر)

مرزا ناصر احمد : ...... یا اپنی جماعت کی...... وہ فراست دی ہے کہ ظاہری طور پر قانون شکنی کے بغیر بھی، اس مثال میں، انگریزوں کو سمندر میں دھکیلا جا سکتا ہے۔ یہ ایک جواب ہے۔

دوسرا جواب ہے ان دوستوں کا جو یہ سمجھتے ہیں یقین، دیانت داری کے ساتھ، کہ انگریز نے قانون توڑ دیا اور وہ یقین رکھتے ہیں دیانت داری کے ساتھ کہ اس کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ جہاں سے اپنے حقوق کی حفاظت ہم حاصل کر سکیں۔ کیونکہ ان کی جو عدالت ہے۔ کورٹس ہیں، وہ بھی انہی کی ہیں اور اوپر کے حاکموں کے اشارے پر وہ چل رہے ہیں۔ جو حصہ ہمارے ملک کا 726...... اور اب ہم بات کر رہے ہیں مسلم لیگ کی ...... یہ سمجھتا تھا اور دیانت داری کے ساتھ یہ سمجھتا تھا کہ انگریز قانون توڑ چکا ہے۔ ان کے اوپر میرے نزدیک دیانت داری سے یہ الزام نہیں لگایا جا سکتا کہ انہوں نے بغاوت کی۔

جناب یحییٰ بختیار: اچھا جی۔ اس کے بعد پھر میں دوسرے صفحے پر جاؤں گا......

مرزا ناصر احمد : یہ اگر پانچ منٹ رہ گئے ہیں ......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، اس لئے کہہ رہا ہوں کہ پانچ منٹ میں چونکہ ابھی میں نے جانا تھا۔ اس تمہید کے ساتھ، ١٨٥٧ء کی جنگ آزادی کی طرف، جس کو بعض لوگ انگریز کی طرح سے غدر کہہ دیتے ہیں۔ تو اس لئے اس پر میرے خیال میں کچھ ٹائم لگے گا۔

مرزا ناصر احمد : ہاں، ٹائم لگے گا۔

٦٤

صفحہ ٧٩١

791 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

Mr. Chairman: The Delegation is permitted to withdraw; to report at 6:00 p.m. چھ بجے

(جناب چیئرمین: وفد کو شام چھ بجے تک جانے کی اجازت ہے)

The honourable members may keep sitting.

(معزز ممبران تشریف رکھیں)

(The Delegation left the Chamber)

(وفد چیمبر سے باہر چلا گیا)

(جناب چیئرمین: یہ کتابیں ان کی پہنچا دیں۔

Hazrat Maulana Attaullah, a lawyer definitely needs five minutes of recess after he has finished his cross- examination; this is my feeling as a lawyer. So, for five minutes, allow Mr. Attorney- General to have a rest.

(حضرت مولانا عطاء اللہ صاحب جرح ختم کرنے کے بعد یقینا وکیل کو پانچ منٹ کا وقفہ درکار ہوتا ہے۔ یہ میرا خیال بطور وکیل کے ہے۔ اس لئے اٹارنی جنرل صاحب کو پانچ منٹ آرام کے لئے دیئے جاتے ہیں)

Mr. Yahya Bakhtiar: I had to go to the Defence College from 8 o'clock.

(جناب یحییٰ بختیار: مجھے ایک تقریر کے سلسلے میں آٹھ بجے ڈیفنس کالج جانا تھا)

Mr. Chairman: Yes. So, this is my personal request to Hazrat Maulana Attaullah.

(جناب چیئرمین: جی ہاں! تو یہ میری ذاتی گزارش ہے۔ حضرت مولانا عطاء اللہ کو)

یہ کتابیں ان کو دے دیں ناں جی! یہ آپ کے لئے ہے۔ This is food for thought. Any other honourable members want to say anything. (یہ غور کرنے کا مقام ہے کیا کوئی معزز رکن کچھ کہنا چاہتے ہیں)

میاں محمد عطاء اللہ: ایک بات میں ضرور کہنا چاہتا ہوں......

727 جناب چیئرمین: ہاں جی، فرمائیے۔

٦٥

F PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

رہے ہیں، ہم اپنے آپ کو جیل جانے کے گے۔ قانون اپنے ہاتھ میں لیں گے۔ جہا بارے میں کہہ رہا ہوں کہ ان کو آپ

مرزا ناصر احمد: یہاں اب سوچا کہ کیا میرا اپنا دماغ مجبور ہو جائے گا اپنے سیاسی حقوق کو حاصل کر سکوں؟ تو جواب دیا کہ مجھے اللہ تعالیٰ ...... میں اپنی با

جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی

(انگریزوں کو سمندر می

مرزا ناصر احمد: ......یا اپنی جا شکنی کئے بغیر بھی، اس مثال میں، انگریزوں دوسرا جواب ہے ان دوستوں نے قانون توڑ دیا اور وہ یقین رکھتے ہیں و سے اپنے حقوق کی حفاظت ہم حاصل کر انہی کی ہیں اور اوپر کے حاکموں کے اشار اب ہم بات کر رہے ہیں مسلم لیگ کی ..... قانون توڑ چکا ہے۔ ان کے اوپر میرے انہوں نے بغاوت کی۔

جناب یحییٰ بختیار: اچھا جی

مرزا ناصر احمد: یہ اگر پانچ

جناب یحییٰ بختیار: نہیں

نے جانا تھا۔ اس تمہید کے ساتھ ، ١٨٥٧ طرح سے غدار کہہ دیتے ہیں۔ تو اس لئے

مرزا ناصر احمد: ہاں، ٹائم

صفحہ ٧٩٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

(میں مولانا نہیں، میاں عطاء اللہ)

میاں محمد عطاء اللہ: ...... چیئرمین صاحب! کہ میں مولانا نہیں ہوں۔ نہ ہی مولانا کہلانے کا حق دار ہوں اور آپ سے پہلے ہمارے سپیکر صاحب تھے، ہمارے موجودہ صدر، انہوں نے ایک مرتبہ فرمایا تھا۔ میں نے ان کی خدمت میں مؤدبانہ عرض کی تھی کہ میں گناہ گار آدمی ہوں۔ میں اس قابل نہیں ہوں کہ مولانا کہلاؤں کیونکہ مولانا کا درجہ بہت اونچا ہوتا ہے اور میں اپنے آپ کو ایک حقیر انسان سمجھتا ہوں۔ اس واسطے یہ مناسب نہیں ہے کہ آپ مہربانی سے مجھے مولانا نہ کہا کریں۔ ایک بات دوسری میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ اٹارنی جنرل صاحب کو ہم جاکے کچھ چیزیں وقتاً فوقتاً عرض کرتے رہتے ہیں......

Mr. Chairman: Nothing wrong with it.

میاں محمد عطاء اللہ: ...... تو اگر آپ سمجھتے ہیں کہ یہ ٹھیک نہیں ہے تو ہم نہیں بتائیں گے۔

جناب چیئرمین: نہیں نہیں، بالکل۔

میاں محمد عطاء اللہ: اور کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں جن کی فوری طور پر نشاندہی کرنی پڑتی ہے......

جناب چیئرمین: لازمی، لازمی۔

میاں محمد عطاء اللہ: ...... کیونکہ وہ اس وقت کے سوالات کے متعلق Relevant ہوتی ہیں۔

جناب چیئرمین: بالکل ٹھیک ہے۔ میں آپ سے Agree (اتفاق) کرتا ہوں۔ صرف یہ ہے کہ پانچ منٹ کے لئے ان کو کبھی کبھی rest (آرام)......

میاں محمد عطاء اللہ: اس میں کوئی بات نہیں۔

Mr. Chairman: جی! Should I adjourn the House?

(جناب چیئرمین: کیا ایوان کا اجلاس ملتوی کر دیا جائے)

728 The House Committee is adjourned to meet at 6:00 p.m. Thank you very much.

(خصوصی کمیٹی کا اجلاس چھ بجے شام تک ملتوی کیا جاتا ہے۔ آپ کا بہت بہت شکریہ)

٦٦

صفحہ ٧٩٣

OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

(میں مولانا کا

میاں محمد عطاء اللہ : ...... چیئرمین

کہلانے کا حق دار ہوں اور آپ سے پہلے جو نے ایک مرتبہ فرمایا تھا۔ میں نے ان کی خدمت میں اس قابل نہیں ہوں کہ مولانا کہلاؤں کیو کو ایک حقیر انسان سمجھتا ہوں۔ اس واسطے م کریں۔ ایک بات دوسری میں یہ عرض کر چیزیں وقتاً فوقتاً عرض کرتے رہتے ہیں......

g wrong with it.

میاں محمد عطاء اللہ : ...... تو اگر ا

جناب چیئرمین: نہیں، نہیں

میاں محمد عطاء اللہ : اور کچھ

پڑتی ہے۔......

جناب چیئرمین: لازمی، لا

میاں محمد عطاء اللہ : ...... کیو

ہوتی ہیں۔

جناب چیئرمین: بالکل ٹھیک صرف یہ ہے کہ پانچ منٹ کے لئے ان کو ب

میاں محمد عطاء اللہ : اس میں

ld I adjorn the House? (جناب چیئرمین: کیا ایوا

adjourned to meet at 6:00 (خصوصی کمیٹی کا اجلاس چھ ب

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

[The Special Committee adjourned for lunch break to meet a 6:00 p.m] (خصوصی کمیٹی کا اجلاس کھانے کے وقفے کے لئے ملتوی کیا جاتا ہے۔ شام چھ بجے تک)

[The Special Committee re-assembled after the lunch break, Mr. Chairman (Sahibzada Farooq Ali) in the Chair.] (خصوصی کمیٹی کا اجلاس کھانے کے وقفے کے بعد دوبارہ شروع ہوا۔ چیئرمین (صاحبزادہ فاروق علی) کی صدارت میں)

Mr. Chairman: Mr. Attorney- General, should we call them? And what about the Maulana? (جناب چیئرمین: جناب اٹارنی جنرل! کیا انہیں بلالیں اور مولانا کے متعلق کیا کہتے ہیں)

پہلے ان کو تو فیصلہ کر لینے دیں ناں جی!

Yes, Mian Attaullah, can we disengage you and call them?

Mian Mohammad Attaullah: Call them, Sir. (میاں محمد عطاء اللہ : جناب والا! انہیں بلالیں)

Mr. Chairman: Call them. (جناب چیئرمین: انہیں بلالیں)

(The Delegation entered the Chamber) (وفد ہال میں داخل ہوا)

Mr. Chairman: Mr. Attorney- General. (جناب چیئرمین: جناب اٹارنی جنرل)

جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! میں ایک سوال پوچھ سکتا ہوں؟

مرزا ناصر احمد : جی۔

٧٧

صفحہ ٧٩٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

جناب یحییٰ بختیار: کل مرزا صاحب! میں نے آپ کی توجہ چند حوالوں کی طرف دلائی تھی۔ ایک تو چند بزرگ تھے جن کے متعلق کچھ توہین آمیز جملے تھے۔۔۔۔۔

مرزا ناصر احمد: جی۔

729 جناب یحییٰ بختیار: ۔۔۔۔۔ تو آپ نے کہا Verify (تصدیق) کریں گے اور پھر یہ بتائیں گے کہ ان کا مطلب کیا تھا۔

مرزا ناصر احمد: جی۔

جناب یحییٰ بختیار: تو کیا آپ کچھ کہیں گے اب؟

مرزا ناصر احمد: جی۔ وہ جو حوالے جس میں سخت زبان استعمال کی گئی تھی۔ جس کی طرف آپ نے میری توجہ دلائی تھی۔ وہ تاریخ کا ایک ورق ہے جس پر قریباً ستر سال؟ ستر سال گزر چکے ہیں اور تاریخی واقعات کی صحت اور ۔۔۔۔۔ صحت سمجھنے کے لئے وہ تاریخ کا ماحول سامنے لانا ضروری ہے، ورنہ اس کی سمجھ نہیں آسکتی۔

جناب یحییٰ بختیار: یہ درست ہے۔ یہ جملے ہیں؟

مرزا ناصر احمد: یہ جملے ہیں، ہاں جی۔

جناب یحییٰ بختیار: اس کے بعد آپ بیشک ۔۔۔۔۔

مرزا ناصر احمد: ہاں جی، یہ جملے ہیں۔ میں ۔۔۔۔۔ وہ جملے ہیں ۔۔۔۔۔ اس کے آگے Explaination (وضاحت) دے رہا ہوں۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی۔

(مرزا قادیانی کی گالیوں کی وضاحت)

مرزا ناصر احمد: تاریخی حالات سامنے جب ہم لاتے ہیں۔ اس زمانہ کے جب یہ الفاظ دو چار کئے گئے تو جو تاریخ کا ہے انتخاب۔ جو اہم باتیں ہیں، وہ سامنے لائی جاتی ہیں۔ میں نے اس لئے دو تین باتیں، جو میرے نزدیک اہم تھیں۔ ان کا انتخاب کیا۔ اس زمانہ میں ہماری تاریخ کے اس زمانہ میں علماء جو تھے ان میں باہمی سخت کلامی کا ایک طوفان تھا۔ اور یہ باہمی سخت

١ چونکہ علماء میں سخت کلامی کا طوفان تھا۔ چنانچہ نبی، مسیح موعود، نے بھی اس گنگا میں نہانے کے لئے کپڑے اتار دیئے۔ کیا عمدہ دلیل دی جارہی ہے؟ قادیانی حضرات اپنے رہنماؤں کی اداؤں پر توجہ فرمائیں۔

٦٨

صفحہ ٧٩٥

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

کلامی جو ہے یہ میرے نزدیک ویسے تو کوئی سو سال، دوسو سال پہلے سے شروع ہے لیکن اپنی انتہا کو پہنچی ہوئی تھی اور اس میں سے میں نے دو ایک مثالیں لی ہیں۔ صرف اس اپنے نکتہ کو ثابت کرنے کے لئے باہمی سخت کلامی سے کام لیا جارہا تھا۔

(ایک دوسرے کے خلاف تین فتوؤں کا ذکر)

ایک حوالہ ہے ”ردالرافضہ“ یہ ١٩٠٢ء میں چھپا ہے اور اس میں : ” بالجملہ ان رافضیوں تبرائیوں کے باب میں حکم یقینی قطعی اجماعی یہ ہے کہ وہ علی العموم کفار مرتدین ہیں۔ ان کے ہاتھ کا ذبیحہ مردار ہے۔ ان کے ساتھ مناکحت نہ صرف حرام بلکہ خالص زنا 730 ہے۔ معاذ اللہ مرد رافضی اور عورت مسلمان ہو تو یہ سخت قہر الہی ہے۔ اگر مرد سنی اور عورت ان خبیثوں میں کی ہو جب بھی ہرگز نکاح نہ ہوگا۔ محض زنا ہوگا۔ اولاد ولد الزنا ہوگی۔ باپ کا ترکہ نہ پائے گی اگرچہ اولاد بھی سنی ہی ہو کہ شرعاً ولد الزنا کا باپ کوئی نہیں۔ عورت نہ ترکہ کی مستحق ہوگی نہ مہر کی، کہ زانیہ کے لئے مہر نہیں۔ رافضی اپنے کسی قریبی حتی کہ باپ بیٹے ، ماں، بیٹی کا بھی ترکہ نہیں پاسکتا۔ سنی تو سنی ، کسی مسلمان بلکہ کسی کافر کے بھی یہاں تک کہ خود اپنے ہم مذہب رافضی کے ترکہ میں اس کا اصلاً کچھ حق نہیں۔ ان کے مرد، عورت، عالم، جاہل کسی سے میل جول اسلام میں ایک کبیرہ اور اشد حرام گناہ ہے جو کہ ان کے ملعون عقیدوں پر آگاہ ہو کر بھی انہیں مسلمان جانیں یا ان کے کافر ہونے میں شک کریں۔ بہ اجماع تمام ائمہ دین کل کافر بے دین ہیں اور اس کے لئے بھی یہی سب احکام ہیں جو ان کے لئے مذکور ہوئے۔ مسلمانوں پر فرض ہے کہ اس کے فتویٰ کو بہ گوش ہوش سنیں اور اس پر عمل کر کے سچے پکے سنی بنیں۔“

دوسرا حوالہ ...... یہ تین ہی حوالے ہیں ...... یہ حوالہ ہے ”ردالرافضہ“ اور یہ کتاب چھپی ہے ١٩٠٢ء میں۔ اس کو چھپے ہوئے کوئی اکہتر سال ہو گئے اور کتب خانہ حاجی مشتاق احمد اینڈ سنز اندرون بوہڑ گیٹ ملتان ......

جناب یحییٰ بختیار: مضمون کس کا ہے جی یہ؟ مرزا ناصر احمد: یہ وہاں کے علماء کا، یہ علماء کا فتویٰ شائع کیا ہے۔ جناب یحییٰ بختیار: نہیں، ان میں نام ہیں کوئی؟ ایک دو پڑھ لیجئے، علماء کے جو نام ہیں۔ مرزا ناصر احمد: یہ بریلوی علماء کا ہے۔ یہ کتاب ہے ناں۔ اس میں سے یہ حوالہ لیا ہے۔ یہ بریلوی علماء نے شیعوں کے اوپر یہ فتویٰ دیا ہے۔

٦٩

F PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

جناب یحییٰ بختیار: کل م دلائی تھی۔ ایک تو چند بزرگ تھے جن کے ح مرزا ناصر احمد: جی۔ 729 جناب یحییٰ بختیار: ........ پھر یہ بتائیں گے کہ ان کا مطلب کیا تھا۔ مرزا ناصر احمد: جی۔ جناب یحییٰ بختیار: تو کیا آ مرزا ناصر احمد: جی۔ وہ جو طرف آپ نے میری توجہ دلائی تھی۔ وہ ج گزر چکے ہیں اور تاریخی واقعات کی صحت لانا ضروری ہے، ورنہ اس کی سمجھ نہیں آسکتی جناب یحییٰ بختیار: یہ درست مرزا ناصر احمد: یہ جملے ہیں جناب یحییٰ بختیار: اس کے مرزا ناصر احمد: ہاں جی ، Explaination (وضاحت) دے س جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی،

(مرزا قادیانی

مرزا ناصر احمد: تاریخی حالا الفاظ دوچار کہے گئے تو جو تاریخ کا ہے اہم نے اس لئے دو تین باتیں، جو میرے نزدی تاریخ کے اس زمانہ میں علماء جو تھے ان میں اے چونکہ علماء میں سخت کلامی کا نہانے کے لئے کپڑے اتار دیئے۔ کیا عم کی اداؤں پر توجہ فرمائیں۔

صفحہ ٧٩٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

جناب یحییٰ بختیار: یہ احمدیوں کے خلاف نہیں ہے یہ؟ مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، نہیں، شیعوں کے......

(مرزا کی بدزبانی اور فرقوں کے باہمی فتوؤں کا آپس میں کوئی جوڑ نہیں)

جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! دیکھیں، میرا سوال، آپ معاف کیجئے۔ ایک بالکل Simple (سادہ) ہے کہ مرزا صاحب نے...... میں نے تین بزرگوں کے نام لئے...... ان کے متعلق یہ الفاظ کہے اور آپ فتوؤں کا ذکر کر رہے ہیں کہ سنیوں نے شیعوں کے خلاف کیا دیئے۔ شیعوں نے سنیوں731 کے خلاف کیا کیا۔ اس میں ان کا کیا جواز ہے کہ جو مرزا صاحب نے ان کے متعلق کہا ”خبیث، بدکار عورت کا لڑکا“ ان کے متعلق آپ کچھ فرمائیں۔ اگر آپ یہ کہتے ہیں کہ اس زمانے میں تو آپ یہ کہہ چکے ہیں کافی، یہ کافی فتوے ایک دوسرے خلاف دیتے رہے ہیں اور کئی عرصے سے دیتے رہے ہیں۔ محضرنامے میں آپ کے آچکا ہے۔

مرزا ناصر احمد: آپ کا مطلب یہ ہے......

جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی، تاکہ مختصر ہو۔ میں نہیں آپ کو روکتا، نہ روک سکتا ہوں، نہ مجھے اختیار ہے۔ صرف یہ ہے کہ یہ Proceedings اتنی لمبی ہوگئی ہے۔ آپ یہ بھی Strain اسمبلی پر بھی Strain اور اس لئے میں مؤدبانہ عرض کروں گا کہ اگر آپ اس کو اس چیز کے لئے Confine کریں۔ اس کا بیک گراؤنڈ ہمیں مل گیا ہے۔ آپ نے پوری تفصیل سے بتایا ہے کہ کیا فتوے ہوئے اور کس نے کس کے خلاف دیئے اور کس قسم کے فتوے ہوئے اور بڑی سخت کلامی ہوئی ہے اس میں۔ آپ نے بڑی تفصیل سے بتایا ہے اور یہ میں کہتا ہوں کہ ان تین بزرگوں کے خلاف جو الفاظ مرزا صاحب نے استعمال کئے۔ یہ تو میں نہیں کہتا کہ اس زمانے میں سخت کلامی فیشن تھی، اس لئے یہ زبان......

مرزا ناصر احمد: میں، میں یہی کہہ رہا ہوں۔ لیکن اس سے آگے میں یہ کہوں گا کہ اس فیشن میں بانی سلسلہ ملوث نہیں ہوئے۔ اگر ساری میری باتیں سن لیں؟

(ڈائریکٹ اس پوائنٹ پر آئیں کہ مرزا نے سخت کلامی کیوں کی؟)

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، ہاں تو یہ میں عرض کر رہا تھا۔ میں یہ عرض کر رہا تھا کہ اگر آپ ڈائریکٹ اس پوائنٹ پر آجائیں کہ ان کے متعلق کیوں انہوں نے کہا؟ اگر انہوں نے مرزا صاحب کے متعلق باتیں کہی ہیں تب تو آپ پہلے وہ پڑھ کے سنا دیجئے۔ پھر یہ کہیں کہ مرزا صاحب

٧٠

صفحہ ٧٩٧

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

نے ان حالات میں یہ بات کہی یا نہیں کہی، یا یہ ان کا مطلب تھا جو......

مرزا ناصر احمد: جی، اگر میں یہ سمجھوں کہ اس پس منظر کو سامنے لائے ہوئے میں اس مختصر سوال کا مختصر جواب نہیں دے سکتا تو پھر میرے لئے کیا ہدایت ہے آپ کی؟

جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی، پھر آپ جیسے مرضی ہے کریں۔ میں نے عرض کیا تھا، Request (درخواست) کی تھی۔

(درخواست)

مرزا ناصر احمد: میں نے سینکڑوں فتاویٰ میں سے اسی لئے صرف دو تین لئے ہیں......

732 جناب یحییٰ بختیار: ٹھیک ہے، ٹھیک ہے۔

مرزا ناصر احمد: ......اور صرف یہ بتانا مقصود ہے کہ اس زمانہ میں ایک فرقہ دوسرے فرقے کے خلاف بڑی سخت گوئی سے کام لے رہا تھا۔ میرا مطلب یہ ہے کہ جس زمانہ کے متعلق سوال کیا گیا ہے اس زمانے کا پس منظر جب تک سامنے نہ ہو جواب کی میرے نزدیک سمجھ آسکتی۔ اس کی خاطر میں نے صرف تین لئے ہیں، ورنہ تو کتابیں بھری ہوئی ہیں ان سے۔

اب یہ خلاصہ فتویٰ علمائے دین شریفین، جو دوسرا حوالہ ہے، مندرجہ فتویٰ حرمین بردف ندوۃ العلماء...... (اپنے وفد کے ایک رکن سے) یہ کیا لکھا ہے؟ (اٹارنی جنرل سے) ندوۃ التبیین۔ ناشر مولوی امین عبدالرحیم احمد سلیمانی سیٹھ۔ مطبوعہ گلزار حسنی، واقع بمبئی۔ ١٣١٧ھ بمطابق ١٩٠٠ء۔ یہ حرمین شریف کا فتویٰ ہے، نمبر٢۔ میں نے تین سے زیادہ نہیں لئے اسی لئے: ”وہ علی العموم کفار مرتدین ہیں۔ ان کے ہاتھ کا ذبیحہ...... یہ تو میں پڑھ چکا ہوں...... یہ ہے: ”بد مذہب جتنے ہیں سب گمراہ ہیں، فتنہ پرداز ہیں، ظالم ہیں......“

(کیا دوسروں کی بدزبانی مرزا قادیانی کی بدزبانی کو جواز فراہم کرتی ہے؟)

مولانا غلام غوث ہزاروی: جناب صدر صاحب! ایک بات کہتا ہوں میں کہ یہ گواہ کو جناب ارشاد فرمائیں کہ نبی کی گالیاں...... مسیح موعود کی گالیوں کے مقابلے میں امتیوں کی اور دوسروں کی گالیاں کیوں پیش کرتے ہیں؟

Mr. Chairman: "This is a question. This can come only through the Attorney-General. Yes, the witness

1؎ جب تک لوگوں کی گالیاں نہ سنالوں مرزا صاحب کے گالیاں دینے کے فلسفہ پر کچھ کہنا ممکن نہیں۔ کیا عمدہ استدلال ہے؟ تف بر تو اے چرخ گرداں تف۔

٧١

صفحہ ٧٩٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

can reply, should continue what he was replying."

(مسٹر چیئرمین: یہ ایک سوال ہے جو کہ اٹارنی جنرل صاحب کے توسط سے پوچھا جا سکتا ہے۔ گواہ جواب دے سکتا ہے۔ وہ (گواہ) اپنا بیان جاری رکھے)

مرزا ناصر احمد: بدمذہب جتنے ہیں، سب گمراہ ہیں۔ فتنہ پرداز ہیں، ظالم ہیں، ہلاک ہیں۔ ان کی اہانت واجب، ان کی توقیر حرام، ان سے بغض رکھئے، انہیں اپنے سے دور رکھنے کا حکم ہے۔ وہ مفسد ہیں۔ انہوں نے دین کو پارہ پارہ کر دیا۔ ان سے میل جول حرام ہے۔ ان سے دوری واجب ہے۔ اہل سنت کے سوا سب کلمہ گو اہل قبلہ گمراہ، فاسق، بدعتی، ناری ہیں۔ صحابہ کرام سے آج تک تمام امت مرحومہ کا اس پر اجماع ہے۔ مسلمانوں پر ان کا ضرر کافروں 733 سے زائد ہے۔ ان کی بات لاعلاج مرض ہے۔ ان کی ٹکر سے پہاڑ ٹل جاتے ہیں۔ وہ گمراہ گر ہیں۔ شیطان نے جھوٹی طمع کاری کی دلیلیں انہیں سکھادی ہیں۔ ان کے پاس بیٹھنا جائز نہیں۔ احادیث کا ارشاد ہے ان سے دور بھاگو۔ انہیں اپنے سے دور کرو۔ کہیں وہ تمہیں بہکا نہ دیں۔ کہیں وہ تمہیں فتنہ میں نہ ڈالیں۔ وہ بیمار پڑیں تو عیادت کو نہ جاؤ مریں تو جنازے پر نہ جاؤ ملیں تو سلام نہ کرو۔ ان کے پاس نہ بیٹھو۔ ساتھ کھانا نہ کھاؤ۔ پانی نہ پیو۔ شادی بیاہ نہ کرو۔ ان کے جنازہ کی نماز نہ پڑھو۔ ان کے ساتھ نماز نہ پڑھو۔ نبی ان سے بیزار ہیں۔ وہ نبی سے بے تعلق ہیں۔ وہ سب جہنمی ہیں۔ انہوں نے اسلام کی رسی اپنی گردنوں سے نکال دی ہے۔ ان سے بچو۔ جو ان سے بغض رکھ کر ان سے منہ پھیرے اس کا دل چین اور اطمینان سے بھر جائے۔ جو ان کی اہانت کرے اللہ تعالیٰ اس کے سو درجے جنت میں بلند فرمائے۔ نیچری، زندیق ہیں۔ دشمنان دین ہیں۔ وہ سب خبیث کافر مرتد ہیں۔ ان کی کلمہ گوئی اور نماز رو قبلہ محض بے سود اور ان کی تاویلیں سراسر مردود۔ جو ان کے کفر میں شک کرے خود کافر۔ رافضی دین سے خارج ہیں۔ نرے ملحد۔ اسلام اور ملت سے باہر ہیں۔۔۔۔۔"

یہ آگے صفحہ ٧٤ میں چھوڑ دیتا ہوں۔ وہ اس کا اندازہ ہو گیا کہ کس نہج پر ہے۔

تیسرا فتویٰ ہے بریلویوں کے خلاف۔ یہ تو شیعوں کے خلاف تھا۔ میں نے بتایا نا صرف تین نمونے لئے ہیں: "ہم محمدیوں کے نزدیک۔۔۔۔" یہ بریلویوں کے خلاف فتویٰ ہے:

"ہم محمدیوں کے نزدیک تمام حنفی مذہب کے علماء اور درویش مثلاً خواجہ معین الدین اجمیری، خواجہ قطب الدین دہلوی، بابا فرید شکر گنج پاک پتن، نظام الدین بدایونی، مخدوم علی ہجویری صاحب "کشف المحجوب" خواجہ سلیمان تونسہ والا، غلام علی شاہ نقشبندی، بہاء الدین نقشبندی، ابوالحسن خراسانی اور تمہارے پیران پیر عبدالقادر جیلانی، حنبلی اور جو حنفی و شافعی و مالکی مذہب والے

٧٢

صفحہ ٧٩٩

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

درویش تمام جہان کے اور ”شرح وقائع“ والا اور امام اعظم ابو حنیفہ اور اس کے شاگرد اور اس کے تقلید کرنے والے، خواہ درویش ہوں، خواہ عالم ہوں 734 سب جہنمی ہیں (جن کا نام لکھا ہوا ہے ) اور مشرک ہیں اور مرتد ہیں اور چشتیہ اور قادریہ اور نقشبندیہ اور سہروردیہ و چہار پیر و چودہ خان....... یہ کیا ہے؟ خانوادہ.....؟

خانوادی، سب اسلام سے خارج ہیں اور واجب القتل ہیں۔ یہ لوگ کاہن ہیں اور احبار اور رھبان میں سے ہیں اور حضرت عمرؓ نے جب بیس تراویح نکالی ہیں...... اور حضرت عمرؓ نے جو بیس تراویح نکالی ہیں....... بڑی بدعت کا بلکہ جہنمی راستہ نکالا۔ بڑی خطاء انہوں نے کی۔ وہ معصوم نہ تھے۔ حالانکہ انبیاء بھی خطا سے خالی نہیں ہیں۔ مطلق معصوم نہ تھے۔ حضرت سے اجتہاد میں غلطی ہوئی اور روم اور شام کا بادشاہ بھی حنفی ہے۔ پس کافر ہے بموجب حدیث کے، کیونکہ تقلید درست نہیں ہے۔ کعبہ شریف میں...... کعبہ شریف میں....... اس قدر بدعت اور شرک ہے جس کا حد و حساب نہیں۔ اگر ہمارا بس چلے تو تمام روضہ اصحاب و انبیاء کو منہدم کردیں۔ کیونکہ حدیث شریف میں آیا ہے کہ ایک قبر پختہ نہ رکھو۔ اللہ تعالیٰ غریق رحمت کرے حضرت عبدالوہاب نجدی کو، ان کے فرزند حامی شریعت محمد کو، جس نے بہت شرک و بدعت و کفر مسلمانوں میں سے نکالا اور اس کو روم و شام کے بادشاہ جہنمی نے شہید کیا۔ لیکن بفضل خدا لاکھوں کروڑ موحد موجود ہیں اور آگے کفار میں غوث و قطب و ابدال وغیرہ موجود ہوتے تھے۔ بلکہ مجوسیوں اور نصرانیوں میں۔ اسی طرح تم نے غوث و قطب و ابدال اپنے بزرگوں مشرکوں کو چار خاندان میں چشتیہ، قادریہ، نقشبندیہ، سہروردیہ، حنفیہ، مالکیہ، حنبلیہ، شافعیہ کو بنا دیا۔ تمہارے امام اعظم نے سات سو احادیث جان کر چھوڑ دیں اور نہ لکھیں۔ پس وہ کافر ہے اور عبدالقادر جیلانی نے جھوٹے وہم سے حال بنایا۔ چنانچہ ابن جوزی نے ان کی تکفیر کی۔ ہمارے نزدیک بھی تکفیر ان کی اور مولوی رومی و جامی وسعدی و امیر خسرو و نظامی و بہاء الحق ملتانی کی جو حنفی المذاہب تھے، درست ہے و جناب سر دفتر محدثین اولین و آخرین، یگانہ جہاں، جناب حامی شریعت و قاطع بدعت، مولوی اسماعیل شہید محمدی و جناب مولوی سید نذیر حسین صاحب محمدی ومولوی جناب فاضل اجل محمد حسین محمدی و محدث وغیرہ تمہارے حنفی یعنی امام ابو حنیفہ، شافعی، حنبلی، مالکی، عبدالقادر جیلانی حنبلی و بہاء الدین حنفی نقشبندی و شہاب الدین شافعی و معین الدین حنفی، چشتی، اجمیری سے ایمان و اسلام، علم وعمل، شرافت میں کروڑوں درجہ افضل ہیں۔ بلکہ تمام چشتیہ و قادریہ و سہروردیہ و نقشبندیہ و حنفی و شافعی و مالکی و حنبلی علماء و فقراء کو اسلام و ایمان حاصل نہیں۔ تمہارے ربانی مجدد الف ثانی و رشید الدین چشتی دہلوی اور جو نقیب اس حنفی مذہب، چشتیہ

٧٣

OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05 he was replying."

(مسٹر چیئرمین: یہ ایک سوال سکتا ہے۔ گواہ جواب دے سکتا ہے۔ وہ (گواہ

مرزا ناصر احمد : بدمذہب جتنے ہیں۔ ان کی اہانت واجب، ان کی توقیر حرام ہے۔ وہ مفسد ہیں۔ انہوں نے دین کو پارہ پارہ واجب ہے۔ اہل سنت کے سوا سب کلمہ گو اہل آج تک تمام امت مرحومہ کا اس پر اجماع ان کی بات لا علاج مرض ہے۔ ان کی فکر جھوٹی طمع کاری کی دلیلیں انہیں سکھادی ہیں ان سے دور بھاگو۔ انہیں اپنے سے دور کرو ڈالیں۔ وہ بیمار پڑیں تو عیادت کو نہ جاؤ مریں نہ بیٹھو۔ ساتھ کھانا نہ کھاؤ۔ پانی نہ پیو۔ شادی ساتھ نماز نہ پڑھو۔ نبی ان سے بیزار ہیں۔ و نے اسلام کی رسی اپنی گردنوں سے نکال دی۔ پھیرے اس کا دل چین اور اطمینان سے بھر درجے جنت میں بلند فرمائے۔ نیچری، زندیہ ہیں۔ ان کی کلمہ گوئی اور نماز سے قبلہ محض بے شک کرے خود کافر۔ رافضی دین سے خارج

یہ آگے صفحہ ٧٤ میں چھوڑ دیتا ہوں

تیسرا فتویٰ ہے بریلویوں کے خ صرف تین نمونے لئے ہیں : ”ہم محمدیوں کے ”ہم محمدیوں کے نزدیک تمام خو اجمیری، خواجہ قطب الدین دہلوی، بابا فرید شک صاحب ”کشف المحجوب“ خواجہ سلیمان تونس ابوالحسن خراسانی اور تمہارے پیران پیر عبدالق

صفحہ ٨٠١

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

چشتیہ و قادریہ، سہروردیہ و نقشبندیہ کے ہیں، متقدم و متاخرین گزرے ہیں۔ لاجواب ہیں اور سلطان روم اور وہاں خانہ کعبہ مدینہ میں چار مصلیٰ ہیں۔ سب دوزخی اور بدعتی ہیں اور مرتد ہیں۔

مولوی اسماعیل شہید علم، عمل، ایمان و اسلام میں کروڑوں درجہ ابوحنیفہ، بایزید بسطامی، عبدالقادر جیلانی سے افضل ہیں۔ جناب مولوی سید نذیر حسین صاحب، حافظ الحدیث، محدث جہاں، شافعی، حنبلی، مالکی، سب درویشوں، عالموں سے ایمان و عمل میں کئی درجہ افضل ہیں۔ جس نے نماز جناب استاذی مولوی سید نذیر حسین کی دیکھی ہوگی بے شک وہ کہے گا کہ رسول اللہ و حضرت علی ایسے ہی پڑھتے تھے اور مولوی عبدالرحمن پانی پتی حنفی، مولوی احمد علی حنفی، مولوی یعقوب علی حنفی، مولوی قاسم، مولوی رشید احمد گنگوہی حنفی و شیخ عبدالحق، یہ سب بدعتی اور مشرک ہیں۔ اللہ تعالیٰ مشرکوں پر نفرین کرتا ہے۔

محمد شاہ ملعون حنفی، منصور علی ملعون حنفی ۔ لعن اللہ علی اکافرین ۔ یہ نیچے ہے: ”الراقم، سید شریف حسین ۔“ یہ سارا جس کا ...... ”ھوالہادی“ یہ کتاب ۔”کلام سلیم بہ دفع بہتان عظیم“ مطبع انصاری۔ یہ بھی ١٣٠٠ھ یعنی ٧٢ سال پہلے کی بات ہے۔ ..... نہیں جی، یعنی ٩٤ سال پہلے کی ہے۔

(مرزا قادیانی نے اپنے مخالفین کی تمام گالیوں کو جو اسے دی گئیں جمع کردیا)

میں ..... صرف یہ تین نمونے میں نے اس لئے کہ میں نے جواب اس سے شروع کیا کہ جس زمانے میں وہ تین فقرے کہے گئے تھے۔ اس کا پس منظر ایک یہ تھا۔ ”کتاب البریہ“ ان کا ..... اس زمانہ میں جو گالیاں بانی سلسلہ احمدیہ کو دی گئیں۔ اس کا ایک مختصر سا ایک نمونہ آپ نے خود اپنی کتاب میں لکھ دیا۔ یہ (کتاب البریہ ص١١٨، خزائن ج١٣ ص١٤٦ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی) ہے۔ ١٨٩٨ء۔ یہ اس زمانے کی بات ہے جس زمانے کے ارد گرد وہ فتاویٰ چکر لگا رہے ہیں جن کو میں نے ابھی پڑھا۔ نمونہ صرف تین کا۔ اس میں آپ نے خود، آپ کے خلاف جو کہا گیا وہ لکھ دیا۔ بے تکلف، بغیر کسی ڈر کے۔

736 ”وہ فتوٰی جو ہماری تکفیر میں رسالہ ”اشاعت السنہ نمبر ١١“ جلد ١٣ میں شائع ہوا۔ اس کے راقم اور افتاء کے مجیب یہی شیخ الکل ہیں۔ راقم فتویٰ یعنی میاں صاحب اس فتویٰ میں ذیل کے الفاظ میری نسبت استعمال کرتے ہیں: ”اہل سنت سے خارج، اس کا عملی طریق ملحدین باطنیہ وغیر اہل ضلال کا طریق ہے۔ اس کے دعوے و اشاعت اکاذیب اور اس ملحدانہ طریق سے اس کو تیس دجالوں میں سے، جن کی خبر حدیث میں وارد ہے، ایک دجال کہہ سکتے ہیں۔ اس کے پیرو ہم

٧٤

NATIONAL

تاویلات الحاد و تحریف کذب و تدلیس

.....“ یت ششم، جلد شانزدهم، ١٨٩٣ء میں لکھا: ”اسلام کا چھپا دشمن، مسیلمہ ثانی ی ہے؟) بھنگڑ، بھکڑ، اڑدپوپو، اس ر، جھوٹا، فریبی، ملعون، گستاخ، شوخ، ب، ذلیل وخوار، مردود، بے ایمان، ئیر، تمغات لعنت کا مستحق، مورد ہزار ں اللہ، جس کا الہام احتلام ہے۔ پکا ا، بے حیا، دھوکہ باز، حیلہ باز، ٹھگی، یادہ احمق، جس کا خدا معلم الملکوت ، ڈاکو، خونریز، بے شرم، بے ایمان، چوہڑوں، بہائم اور وحشیوں کی سیرت عت بد معاش، بدکردار، جھوٹ بولنے ں لاکر ان کا مال لوٹ کر کھانے والا۔ کے پیر دخران بے تمیز۔ ج ہوا: ”وہ ان امور کا مدعی، رسول ں اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ آخر زمان م کو گمراہ نہ کریں اور بہکانے نہ دیں۔ اس

حق میں میرا وہ قول ہے جو ابن تیمیہ ویسے تمام لوگوں سے بدتر وہ لوگ ہیں کریں۔ یہ بدترین خلائق ہیں۔ تمام

ئی کج راہ و پلید فاسد ہے اور راہ کھوٹی ئے اس شیطان سے زیادہ گمراہ ...... بلکہ

صفحہ ٨٠١

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

مشرب و ذریات دجال ۔ خدا پر افتراء باندھنے والا ۔ اس کی تاویلات الحاد و تحریف کذب و تدلیس سے کام لینے والا ۔ دجال ، بے علم ، نافہم ، اہل بدعت وضلالت ۔“

پھر شیخ محمد حسین بٹالوی ” اشاعت السنہ“ یکم لغایت ششم ، جلد شانزدہم ، ١٨٩٣ء میں مرزا قادیانی نے (کتاب البریہ ص ١١٩، خزائن ج ١٣ ص ١٤٧) پر لکھا : ”اسلام کا چھپا دشمن ، مسیلمہ ثانی دجال زمانی ، نجومی ، رملی ، جوتشی ، اٹکل باز ، جفری ..... (یہ جفری ہے؟ ) بھٹنگڑ، بھکڑ ، اڑ نڑ پوپو ، اس کا موت کو نشان ٹھہرانا حماقت و سفاہت شیطان ہے۔ مکار ، جھوٹا، فریبی، ملعون، گستاخ، شوخ، مثیل الدجال ، اعور دجال ، غدار ، پرفتنہ و مکار ، کاذب ، کذاب ، ذلیل و خوار ، مردود، بے ایمان ، روسیاہ ، مثیل مسیلمہ واسود ، رہبر ملاحدہ ، عبدالدرہم ، ولدالنار ، مرتد، غایت لعنت کا مستحق ، مورد ہزار لعنت، خدا و فرشتگان و مسلمانان ، کذاب ، غلام مفتری علی اللہ ، جس کا الہام احتلام ہے۔ پکا کاذب ، ملعون ، کافر ، فریبی، حیلہ ساز، اکذب، بے ایمان، بے حیا، دھوکہ باز، حیلہ باز، بھنگی، بازاری شہدوں کا سرگروہ، دہریہ، جہاں کے احمقوں سے زیادہ احمق ، جس کا خدا معلم الملکوت شیطان محرف ، یہودی ، عیسائیوں کا بھائی ، خسارت مآب ، ڈاکو، خونریز، بے شرم، بے ایمان، مکار، طرار، جس کا مرشد شیطان علیہ لعنۃ، بازاری شہدوں، چوہڑوں، بہائم اور وحشیوں کی سیرت اختیار کرنے والا، مکر، چال، فریب کی چال والا، جس کی جماعت بدمعاش ، بدکردار، جھوٹ بولنے والی ، زانی ، شرابی ، مال مردم خور، دغاباز، مسلمانوں کو دام میں لا کر ان کا مال لوٹ کر کھانے والا ۔ ایسے سوال و جواب میں یہ کہنا حرام زادگی کی نشانی ہے۔ اس کے پیر دخان بے تمیز ۔

737 یہ غزنویوں کی طرف سے فتویٰ جو شائع ہوا: ”وہ ان امور کا مدعی، رسول خدا کا مخالف ہے۔ ان لوگوں میں سے جن کے حق میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ آخر زمان میں دجال کذاب پیدا ہوں گے ان سے اپنے آپ کو بچاؤ، تم کو گمراہ نہ کریں اور بہکانہ دیں۔ اس قادیانی کے چوزے ہنود ونصاریٰ کے تخم سے ہیں۔“

احمد بن عبداللہ غزنوی، بہ صفحہ ٢٠١: ” قادیانی کے حق میں میرا وہ قول ہے جو ابن تیمیہ کا قول ہے۔ جیسے تمام لوگوں سے بہتر انبیاء علیہ السلام ہیں۔ ویسے تمام لوگوں سے بدتر وہ لوگ ہیں جو نبی نہ ہوں اور نبیوں سے مشابہ بن کر نبی ہونے کا دعویٰ کریں۔ یہ بدترین خلائق ہیں۔ تمام لوگوں سے ذلیل تر، آگ میں جھونکا جائے گا۔“

احمد بن عبداللہ غزنوی صفحہ ٢٠٢ : ”غلام احمد قادیانی کج راہ و پلید فاسد ہے اور راہ کھوٹی گمراہ ہے اور لوگوں کو گمراہ کرنے والا، چھپا مرتد، بلکہ وہ اپنے اس شیطان سے زیادہ گمراہ...... بلکہ

٧٥

Y OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

مشرب و قادریہ، سہروردیہ و نقشبندیہ کے ہیں سلطان روم اور جہاں خانہ کعبہ مدینہ میں چار مص مولوی اسماعیل شہید علم، عمل، ایما عبدالقادر جیلانی سے افضل ہیں۔ جناب موا جہاں، شافعی، حنبلی، مالکی، سب درویشوں، عال نے نماز جناب استادی مولوی سید نذیر حسین حضرت علی ایسے ہی پڑھتے تھے اور مولوی عبدا علی حنفی، مولوی قاسم، مولوی رشید احمد گنگوہی ح تعالیٰ مشرکوں پر نفرین کرتا ہے۔ محمد شاہ ملعون حنفی، منصور علی ملعون ح شریف حسین ۔'' یہ سارا جس کا...... '' حوالہ انصاری ۔ یہ بھی ١٣٠٠ھ یعنی ٧٢ سال پہلے کی

(مرزا قادیانی نے اپنے مخالفین کی گ میں ......صرف یہ تین نمونے میں کہ جس زمانہ میں وہ تین فقرے کہے گئے ، کا ...... اس زمانہ میں جو گالیاں بانی سلسلہ احمد خود اپنی کتاب میں لکھ دیا۔ یہ (کتاب ا قادیانی) ہے۔ ١٨٩٨ء ۔ یہ اس زمانے کی بات ہیں جن کو میں نے ابھی پڑھا۔ نمونہ صرف تین وہ لکھ دیا ۔ بے تکلف ، بغیر کسی ڈر کے۔

736 وہ فتویٰ جو ہماری تکفیر میں ب اس کے راقم اور افتاء کے مجیب یہی شیخ الکل م کے الفاظ میری نسبت استعمال کرتے ہیں: ” وغیر اہل ضلال کا طریق ہے۔ اس کے دھو تمہیں دجالوں میں سے، جن کی خبر حدیث میں

صفحہ ٨٠٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

وہ اپنے اس شیطان سے زیادہ گمراہ...... جو اس کے ساتھ کھیل رہا ہے۔ یہ شخص ایسا اعتقاد پر مر جائے تو اس کی نماز جنازہ نہ پڑھی جائے اور نہ یہ اسلامی قبرستان میں دفن ہو۔‘‘

١٣١٤ھ میں عبدالحق غزنوی نے یہ لکھا: ”دجال، ملحد، کاذب، روسیاہ، بدکار، شیطان، لعنتی، بے ایمان، ذلیل، خوار، خستہ، خراب، کافر، شقی مرتد ہے۔ لعنت کا طوق اس کے گلے کا ہار ہے۔ لعن وطعن کا جوت اس کے سر پر پڑا۔ بے جا تاویل کرنے والا۔ مارے شرمندگی کے زہر کھا کر مر جاوے گا۔ بکواس کرتا ہے۔ رسوا ذلیل شرمندہ ہوا۔ اللہ کی لعنت ہو۔ جھوٹے اشتہارات شائع کرنے والا۔ اس کی سب باتیں بکواس ہیں۔“

پھر ٢٣؍جولائی ١٨٩٢ء میں یہ فتویٰ صادر ہوئے بانی سلسلہ احمدیہ کے متعلق: ”مرزا صاحب دھوکہ باز اور گمراہ کرنے والا۔ مرزا صاحب تارک جمعہ و جماعت، وعدہ خلاف، سیرت محمدی سے کوسوں دور۔ مرزا عیار، جھوٹا دعوے دار۔ مرزا صاحب چالاک اور بچہ باز۔ مرزا صاحب فضول خرچ، مسرف، حیلہ ساز۔“

738 اس کے بعد ١٣١٣ھ کا فتویٰ ہے، صفحہ ایک سے آٹھ تک۔ یہ ہیں ”کتاب البریہ ص١٢٢، خزائن ج١٣ ص١٥٠ ) پر مرزا قادیانی لکھتے ہیں۔ اصل وہی حوالہ ہے: ”قادیانی، رافضی...... بے پیر، دجال، یزید، اس کے مرید یزیدی، خانہ خراب، فتنہ گر، ظالم، تباہ کار، روسیاہ، بے شرم، احمق، کاذب، خارجی، بھانڈ، یاوہ گو، غبی، بدمعاش، لالچی، جھوٹا، کافر۔ مفتری، ملحد، دجالی حمار، اخنث، بکواسی، بدتہذیب، مشرکانہ خیال کا آدمی۔ اس کا گاؤں منحوس ہے۔ اس کی دجالیاں اور مکاریاں اور رمالیاں اظہر من الشمس ہیں۔ اس کی کتابیں ایمان اور دین کا ازالہ کرنے والی ہیں۔“

پھر محمد رضا شیرازی کے حوالہ سے مرزا غلام احمد قادیانی نے (کتاب البریہ ص١٢٢، خزائن ج١٣، ص١٥٠) پر لکھا: ”مرزا کاذب ہے۔ مفتری، یاوہ گو، تباہ کار، مکار، غبی، غوی، غبی، گمراہ، نادان، فضول، ڈھکوسلی، بے ہودہ سرائے، کاذب، جھوٹا، دروغ گو، بے شرم، ننگ خلائق، کاذب، بانی ملت مبتدعہ، تلبیس کرنے والا، داعی ملت بدعیہ، سرکش طبع، راندہ درگاہ ازلی، گم کردہ صراط مستقیم، سوئے فہم، بادہ پیمائی کرنے والا، یاوہ ژاژ خایاں چاہ ضلالت میں ڈوبا ہوا، اور گمراہی کے تزویر میں پھنسا ہوا، عجب وتکبر میں گرفتار، مزخرفات موہومہ باطلہ کا کہنے والا۔ اس کی جماعت ضلالت و گمراہی میں ہے۔ اس کی مراسلت سراسر فضول ولچر ہے۔ اس کے دلائل سب وشتم وفحش

٧٦

صفحہ ٨٠٣

803 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

سے بھرے ہوئے ہیں۔ مرزا مقہور شکستہ بال ہے۔ اس کی باتیں ہفوات و ہزلیات ہیں۔ وہ گمراہ غبی ہے۔ اس کی تحریرات میں خرافات ہیں۔ اس کے ذہن کے ترشحات گندیدہ ہیں۔ اس کا مدعا زور و طوفان ہے۔ شتم و فحش و بہتان لانے والا۔ افتراء کذب کے دلائل پیش کرنے والا۔ شناعت و فضیحت کے سوا اس کے پاس کوئی دلیل نہیں۔ یہ کاذب، البوار میں جائے گا، ظلمت، کفر، طغیان، ان کی وجہ سے دنیا میں ہے۔"

یہ پس منظر تھا جس میں اب ہم نے دیکھا ہے ان تین فقروں کو جن کی طرف مجھے توجہ دلائی گئی۔ پہلے ہم لیتے ہیں...... میں لے رہا ہوں سعد اللہ لدھیانوی۔ آپ نے اس کے متعلق شعر لکھا:

اذیتنی خبثاً فلست بصادق ان لم تمت بالخزی یا ابن بغاء

(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٥، خزائن ج ٢٢ ص ٤٣٦)

739 اور ’انجام آتھم‘ میں اس کے متعلق ١٨٩٧ء میں الحکم میں ایک نوٹ ہے جس میں ابن بغاء کا ترجمہ بھی دیا گیا ہے اور وہ ہے ’اے سرکش انسان‘۔ ”یہ سرکش“ جو ”ابن بغاء“ کے معنی ہیں، ان کے متعلق میں آگے بھی کچھ کہوں گا لغت وغیرہ سے۔ اخبار ”اہل حدیث“ ٢٦؍جولائی ١٩١٢ء ...... وہ مولوی ثناء اللہ صاحب کا ...... یہ مولوی ثناء اللہ صاحب بڑے مشہور مناظر ہیں۔ انہوں نے اپنے اخبار ”اہلحدیث“ ٢٦؍جولائی ١٩١٢ء میں لکھا: ”بغی کے معنی ......“

”اہلحدیث“ میں انہوں نے لکھا ”بغی“ کے معنی اس کے نیچے کہ اس کے معنی کیا ہیں:

”حاکم وقت، بادشاہ وقت، سردار قبیلہ وغیرہ کی نافرمانی اور سرکشی۔“

”اہلحدیث“ میں یہی معنی ”سرکشی“ کے آئے۔ ’بغاء‘ کے۔

آپ نے سعد اللہ کے متعلق ”تتمہ حقیقت الوحی“ میں لکھا، بانی احمدیہ نے: ”میں نے اس (سعد اللہ لدھیانوی...... اسی کا ذکر ہے یہاں) کی بدزبانی پر بہت صبر کیا اور اپنے تئیں روکا کیا۔ لیکن جب وہ حد سے گزر گیا اور اس کے اندرونی گند کا پل ٹوٹ گیا تب میں نے نیک نیتی سے اس کے حق میں وہ الفاظ استعمال کئے جو محل پر چسپاں تھے۔ اگرچہ وہ الفاظ جیسا کہ مذکورہ بالا الفاظ میں مندرج ہیں۔ بظاہر کسی قدر سخت ہیں، مگر دشنام دہی کے قسم میں سے نہیں۔ مگر واقعات کے مطابق ہیں اور عین ضرورت کے وقت لکھے گئے ہیں اور ہر ایک نبی حلیم تھا۔ (یہ آگے پہلے انبیاء کی مثال دی ہے) مگر ان سب کو واقعات کے متعلق ...... (سارے انبیاء اور آنحضرتﷺ ہمارے لئے اسوۂ حسنہ ہیں یہ اسوۂ حسنہ کی طرف اشارہ ہے ۔) ان سب کو واقعات کے متعلق

٧٧

صفحہ ٨٠٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

اپنے الفاظ اپنے دشمنوں کی نسبت استعمال کرنے پڑتے ہیں۔‘‘

(تمہ حقیقت الوحی ص ٢٠، ٢١، خزائن ج ٢٢ ص ٤٥٢)

یہ جو واقعہ ہے سعد اللہ صاحب کا یہ علامہ اقبال صاحب کے کان میں بھی پڑا اور انہوں نے ایک نظم لکھی۔ اچھی خاصی لمبی ہے۔ یہ چار پانچ شعر میں نے اس میں سے لئے ہیں چار شعر اور یہ نظم چھپی ہے مطمح الحق، دہلی میں ستمبر ١٩١٢ء میں۔ اس وقت علامہ اقبال ایف۔اے میں پڑھ رہے تھے۔ ایف اے کی کلاس میں تھے۔ کانونٹ مشن سکول سیالکوٹ میں۔ انہوں نے یہ مولوی سعدؔی 740 کو مخاطب کر کے اسی واقعہ پر یہ لکھا ١؎:

”واہ سعدی دیکھ لی گندہ دہانی آپ کی خوب ہوگی مہتروں میں قدردانی آپ کی
بحث سعدی آپ کی بیت الخلاء سے کم نہیں ہے پسند خاک روباں شعر خوانی آپ کی
گوہر بے بہا جھڑے ہیں آپ کے منہ سے سبھی جان سے تنگ آگئی ہے مہترانی آپ کی
قوم عیسائی کے بھائی بن گئے پگڑی بدل واہ کیا اسلام پر ہے مہربانی آپ کی“

یہ علامہ اقبال کے شعر ١٩١٢ء میں یہ سعد اللہ لدھیانوی کے حق میں کہے گئے ہیں۔

دوسری مثال آپ نے دی تھی گولڑہ شریف والوں کی۔ وہ پس منظر میں نے بتا دیا ہے۔ وہ ہمارے اس وقت ذہن میں ہے۔ یہ گولڑہ والوں نے ...... گولڑہ شریف والوں نے ایک اور ...... بہر حال، ان کی طرف منسوب ایک نظم لکھی۔ ایک سیف چشتیائی میں ایک نظم لکھی ......

جناب یحییٰ بختیار: وہ تو ایک حوالہ ہے سیف چشتیائی کا، انہوں نے ایک نظم لکھی۔

مرزا ناصر احمد: انہوں نے ایک نظم لکھی جو سیف چشتیائی میں چھپتی ہے۔ خود شاعر ہی ہے۔ وہی ایک ہی بات ہے۔ سیف چشتیائی۔ ان کی ایک کتاب ہے۔ ایک نظم انہوں نے اپنی اس کتاب، سیف چشتیائی میں نے، اپنی کتاب میں شائع کرائی ہے۔ اس میں وہ لکھتے ہیں:

١؎ مرزا قادیانی ملعون کا اپنے گالیوں کے دفاع میں یہ کہنا کہ انبیاء علیہم السلام بھی درشت گوئی کے مرتکب ہوئے تھے۔ ملعون قادیانی نے اپنے دفاع میں دیگر انبیاء علیہم السلام کو گالیاں دینے والا ثابت کیا۔ (معاذ اللہ) ہے کوئی قادیانی شریف انسان جو مرزا قادیانی کے اس کفر پر تف کہہ کر شرافت کا ثبوت دے۔

٢؎ قادیانی ...... خدا تعالیٰ، آنحضرت ﷺ ، قرآن وسنت پر افتراء کرتے ہوئے نہیں شرماتے۔ اگر علامہ اقبالؔ کے خلاف جھوٹ منسوب کر دیا ہو تو کیا بعید ہے۔

٧٨

صفحہ ٨٠٥

805 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

”الا اے میرزا تا کیف تو حال این و آں بینی
دے چشم دلت وا کن کہ نور عین جاں بینی
بہ تکذیب امامت تو ندا از آسمان آمد“

741 شعر کی وجہ سے تو وہ نیچے زیر نہیں ہے۔

”بزودی پیش حق شاداں گروہ دشمنان بینی“

اب یہ اگلا شعر ہے۔ سننے والا۔ پہلے وہ میں نے اس لئے پڑھ دیا تھا کہ ”الا اے مرزا“ قید لگ جائے کہ حضرت مرزا صاحب کو انہوں نے مخاطب کیا ہے:

”زمین نفرت کند از تو فلک گرید بر احوالت“

زمین تجھ سے نفرت کرتی ہے اور غصہ میں فلک کی، آسمان کی آنکھوں سے آنسو بہتے ہیں۔

”ملک لعنت کناں نزد خدا بر آسماں بینی“

اللہ تعالیٰ کے نزدیک فرشتے جو ہیں وہ تجھ پر لعنت کر رہے ہیں، ملعون کیا جاتا ہے۔ تو اس کے مقابلے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے یہ لکھا:

اتانی کتاب من کذوب يزوّر کتاب خبيث كالعقارب يا بر فقلت ......

انہوں نے کہا: ”آسمان پر فرشتے تجھ پر لعنت کرتے ہیں۔“ جواب میں اتنا کہا: ”تم پر آسمانی لعنت ہو۔“ بس

انہوں نے ...... ان کے ایک شاگرد تھے مولوی عبدالاحد خان پوری، وہ گولڑہ شریف والوں کے، جنہوں نے یہ نظم لکھی۔ ان کے ایک شاگرد تھے مولوی عبدالاحد خان پوری اور انہوں نے ایک کتاب لکھی۔ یہ ان سے پھر گئے اور بے نقط گالیاں اپنے پہلے پیشوا اور ہادی کو دیں۔ میں ان میں سے کوئی نہیں پڑھوں گا اقتباس۔ میں صرف یہ حوالہ دینا چاہتا ہوں بہت سارے اقتباس لکھ دیئے تھے۔ لیکن میں ان کو پسند نہیں کرتا۔ وہ جانیں اور ان کے شاگرد جانیں۔

اور تیسرا حوالہ۔ یہ حوالہ ہے۔ ہاں، یہ ہاں، جناب رشید احمد صاحب گنگوہی کے متعلق بھی چند الفاظ تھے جن کا آپ نے ذکر کیا تھا۔ وہ نمبر ٣ ہیں۔ ان کے متعلق اس زمانے میں جو دوسروں نے فتوے دیئے وہ میں ابھی پہلے پڑھ چکا ہوں اور میں بتا رہا تھا کہ اس زمانے میں پس منظر یہ تھا۔ انہوں نے بانی سلسلہ پر ایک فتویٰ دیا جو ”اشاعت السنہ“ جلد ١٣ ص ١٥٦ پر شائع ہوا ہے۔

742 ”اشاعت السنہ“ جو مولوی محمد حسین بٹالوی کا پرچہ تھا ...... اس میں ان کا ایک فتویٰ شائع ہوا۔ جس شخص کے اعتقادات ایسے ہوں” جو سوال میں ہے کسی نے سوال پوچھا ”وہ اہل ہوا اور

٧٩

PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

اپنے الفاظ اپنے دشمنوں کی نسبت استعمال

یہ جو واقعہ ہے سعد اللہ صاحب نے ایک نظم لکھی۔ اچھی خاصی لمبی ہے۔ نظم چھپی ہے مطبع الحق، دہلی میں ستمبر ١٩١٢ تھے۔ ایف اے کی کلاس میں تھے ۔ کانوک کو مخاطب کر کے اس واقعہ پر یہ لکھا :

”واہ سعدی دیکھ لی گندہ دہانی آپ
بحث سعدی آپ کی بیت الخلاء سے کہ
گوہر بے راہ جھڑے ہیں آپ کے منہ
قوم عیسائی کے بھائی بن گئے پگڑی

یہ علامہ اقبال کے شعر ١٩١٢ء دوسری مثال آپ نے دی ہے۔ وہ ہمارے اس وقت ذہن میں ۔ اور ....... بہر حال ، ان کی طرف منسوب آ جناب یحییٰ بختیار: وہ تو ا مرزا ناصر احمد: انہوں ۔ ہے۔ وہی ایک ہی بات ہے۔ سیف چ اس کتاب، سیف چشتیائی میں نے، اپنی

١؎ مرزا قادیانی ملعون کا ا درشت گوئی کے مرتکب ہوئے تھے۔ م گالیاں دینے والا ثابت کیا۔ (معاذ اللہ کفر پر تف کہہ کر شرافت کا ثبوت دے۔ ٢؎ قادیانی ...... خدا تعالیٰ، شرماتے ۔ اگر علامہ اقبال کے خلاف جھ

صفحہ ٨٠٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

گمراہ ہے۔ ابن مریم سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ وہ تو مسیح دجال کا مثیل ونذیر ہے۔ ان کو ...... ان کے متعلق ”انجام آتھم“ میں جو آپ نے وہ آخری فقرہ پڑھا تھا: ”واخرهم شيطان الاعمیٰ“ ........................ملعونین۔

انہوں نے کہا یہ دجال ہیں۔ انہوں نے کہا اللہ تعالیٰ کی لعنت...... ایک میں یہاں واضح کردوں کہ ”ملعون“ اپنی طرف سے نہیں، ”ملعون“ کے اصل معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ لعنت کرے۔ یہ بدعا ہے اور جب اللہ تعالیٰ کے سپرد کوئی کام کر دیا جائے تو اللہ تعالیٰ تو ظالم نہیں ہے۔ وہ تو اگر غلط دعا ہے تو رد کر کے اس کے منہ پر مارتا ہے جو دعا کرنے والا ہے۔ تو ان کی بدعا کی ان کے لئے کہ اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو۔ اگر دعا یہ غلط ہے تو وہ منہ پر مار دی جائے گی ١؎۔ لیکن ان کا جو ہے۔

جناب رشید احمد گنگوہی، ان کے متعلق اس وقت کے لوگ جو سمجھتے تھے۔ وہ دیو بندی مذہب ہیں۔ ان کے خلاف جو فتوے ہیں۔ ایک میں پڑھ دیتا ہوں......

جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب کے اور نہیں پڑھ رہے آپ؟

مرزا ناصر احمد: ہاں نہیں، پڑھوں؟

جناب یحییٰ بختیار: نہیں نہیں، مرزا صاحب کے اور کوئی نہیں ہیں ان کے متعلق؟

مرزا ناصر احمد: ہاں، آپ نے تین ہی کی طرف توجہ دلائی ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، میں نے یہی پوچھنا ہے جی کہ فتوے آپ پڑھ چکے ہیں۔ میرے خیال میں۔

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں۔ اچھا۔ پھر ایک...... تو ٹھیک ہے۔

ایک چیز میں واضح کردوں۔ وہ نام آگیا تھا۔ ”ذریۃ البغایا“۔ ”ذریہ البغایہ“ جو ہے۔ اس کے معنی عربی کے لینے میں ہم نے۔ عربی کا لفظ ہے ”ذریۃ البغایا۔“ ”آئینہ کمالات اسلام“ میں ١٨٩٣ء میں، آئینہ کمالات اسلام جو ١٨٩٣ء میں شائع ہوئی۔ اس میں یہ لفظ ”ذریۃ البغایا“ استعمال ہوا۔ اس کے ساتھ کوئی ترجمہ نہیں: ”الا ذرية البغايا الذين ختم الله على قلوبهم فهم لا يقبلون“ اس میں صرف یہ ہے کہ ”ذریۃ البغایا“ وہ ہیں جن کے دل اللہ تعالیٰ نے ختم کر

١؎ مرزا قادیانی کا دفاع کرنا جھوٹ کو سچ، سیاہ کو سفید، اندھیرے کو روشنی، کفر کو اسلام ثابت کرنے سے بھی زیادہ مشکل ہے۔ دیکھئے! یہاں مرزا ناصر کو اپنے دادا مرزا قادیانی کے متعلق یہ کہنا پڑا: ”اگر دعا یہ غلط ہے تو وہ منہ پر مار دی جائے گی۔“ پیر مہر علی شاہ تو یقیناً لعنت کے مستحق نہیں۔ یقیناً مرزا کی لعنت، مرزا کے گلے کا ہار ہے۔

صفحہ ٨٠٧

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

دیئے، ان کے اوپر مہر لگادی۔ ”بغی“ کے معنی ”ذریۃ البغایا“ جو ہے...... ”بغی“ کے معنی ہر لغت میں ”نافرمانی“ اور ”سرکشی“ لکھے ہیں۔ اخبار ”الحدیث“ میں درج ہے کہ ”بغی“ کے معنی ”حاکم وقت......“ وہ پہلے میں عرض کر چکا ہوں۔ وہ یہاں آ گیا ہے...... اور ”سرکش انسان“ کے ہیں۔

”الفروع کافی موسومہ بہ کافی کلینی“ حصہ دوم، ”کتاب الروضہ“ مطبوعہ نول کشور پریس، لکھنؤ، میں امام محمد باقرؒ فرماتے ہیں۔ یہ امام باقر کا ہے قول وہاں: ”ثم قال یا ابا حمزة ان الناس كلهم اولاد البغايا ما خلا شيعتنا“ تو یہاں بھی ”سرکش“ کے معنی لئے گئے ہیں:

”کیونکہ ہمارے سوا سارے سرکش ہیں۔“

اخبار ”مجاہد“ .......................

جناب یحییٰ بختیار: یہ کس کا اخبار ہے؟

مرزا ناصر احمد: یہ مجلس احرار کا ایک اخبار تھا، مجلس احرار کا۔ اس کا نام ہے اخبار ”مجاہد“ ١٤؍مارچ ١٩٣٦ء میں اس کے اندر یہ ہے فقرہ: ”ولد البغایا، ابن الحرام اور ولد الحرام، ابن الحلال اور بنت الحلال وغیرہ“

سب عرب کا اور ساری دنیا کا محاورہ ہے۔ جو شخص نیکی کو ترک کر کے بدکاری کی طرف جاتا ہے، اس کو، باوجود یکہ اس کا حسب ونسب درست ہو، (یعنی حرامی نہیں اس کے معنی) باوجود اس کے کہ اس کا حسب ونسب درست ہو، صرف اعمال کی وجہ سے ابن الحرام، ولد الحرام کہتے ہیں۔ اس کے خلاف جو نیکو کار ہوتے ہیں ان کو ابن الحلال کہتے ہیں۔ اندریں حالات امام کا اپنے مخالفین کو ”اولاد بغایا“ کہنا بجا اور درست ہے۔ پس جو ترجمہ ”ذریۃ البغایا“ کا ”کنجریوں کی اولاد“ کیا گیا ہے۔ از روئے لغت، از روئے استعمال اور از روئے تشریح بانی جماعت احمدیہ غلط اور محض اشتعال دلانے کے لئے ہے۔“

علاوہ ازیں امام جعفر صادق رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”من احبنا كان نطفة العبد و من ابغضنا كان نطفة الشيطان“ یہ وہی محاورہ ہے کہ ”سرکشی کرتا ہے۔“ ہاں، حق کو قبول نہیں کر رہا۔ یہ ”الفروع کافی“ میں ہے۔ ”کتاب النکاح“ مطبوعہ نول کشور۔ یعنی جو شخص ہم سے محبت رکھتا ہے وہ بندے کا نطفہ ہے۔ مگر وہ جو مجھ سے بغض رکھتا ہے۔ وہ نطفہ شیطان ہے۔

یہ الفاظ مختلف فرقہ ہائے مسلمانوں کے بارے میں استعمال کئے گئے ہیں اور کسی جگہ بھی اس کے معنی ”ولد الحرام“ کے نہیں لئے گئے ہیں۔ یعنی ناجائز اولاد کے نہیں لئے گئے ہیں۔ بلکہ سرکش اور نیکی کو چھوڑنے والے کے لئے گئے ہیں۔ تو جو معنی لغت نہیں کرتی جو معنی ہمارے آئمہ

٨١

صفحہ ٨٠٨

808 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

نہیں کرتے۔ جو معنی ہمارا لٹریچر نہیں کرتا۔ وہ معنی خود بخود کر کے اعتراض کر دینا میرے نزدیک یہ درست نہیں۔

Mr. Chairman: Break for Maghrib.

(مسٹر چیئرمین : مغرب کے لئے وقفہ )

مرزا ناصر احمد : میں، وہ جو حوالے ہیں نا دوسرے......

Mr. Chairman: The Delegation is permitted to leave......(to Attorney-General)......

Mr. Yahya Bakhtiar: Conclude this.

جناب چیئرمین: اچھا۔ یہ کتنی دیر اور لگے گی؟ مغرب Prayer (نماز) کا ٹائم ہو گیا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: یہ، یہ Conclude ہو گیا نا جی؟

مرزا ناصر احمد : یہ تو...... ہاں، میں بس کرتا ہوں۔ میں نے بتایا کہ اور حوالے ہیں۔ میں ان کو چھوڑتا ہوں۔ واضح، میرے خیال میں واضح ہو گئی ہے بات۔

جناب یحییٰ بختیار: اچھا ٹھیک ہے۔ اس کے بعد پھر میں.......

745 Mr. Chairman: The Delegation to report back at 8:00 p.m. (جناب چیئرمین: اب آٹھ بجے شام دوبارہ)

Mr. Chairman: The honourable members may keep sitting. آٹھ بجے جی، آٹھ بجے پورے۔

مرزا ناصر احمد: اچھی بات جی۔

(The Delegation left the Chamber.)

Mr. Chairman: The Assembly is adjourned for Maghrib prayers to meet at 8:00 p.m.

(The special committe adjorned for Maghrib prayers to meet at 8:00 p.m.)

[The special Committe re-assembled after Maghrib Prayers, Mr. Chairman(Sahibzada Farooq Ali)in the Chair.]

٨٢

80) ATIONA

Mr. Chairma

Mr. Yahya Ba

Mr. Chairma

(The Delega

Mr. Chairma

علامہ اقبال کی نظم پڑھی.......

جھوٹ پکڑا گیا)

وں ۔ کون سا اخبار ہے؟

ہے میرے پاس۔

کایا کس کا؟ چھپی تھی؟

۔ پھر پڑھ دیتا ہوں۔

ے دیتا ہوں وہ آپ کو۔

پ نے یہاں نوٹ کیا ہے۔ اس پر یہ

ل، سیالکوٹ۔‘‘ یہ تو نام ہے نظم لکھنے

١٠٨، ١٠٧ : مطبع الحق ، دہلی ۔ مطبوعہ

ہوئی؟ کچھ آپ کو علم ہے اس کا؟

قیق نہیں کی۔

اس جی کہ اگر یہ شخص جس نے نظم لکھی

یانوی کے متعلق، اور آپ نے فرمایا

تو اس وقت ان کی عمر ٣٥ سال بن

ہے، اس کے مطابق جو Latest

سا بات لے کر دشنام دہی پر مبنی نظم کو

صفحہ ٨٣

80 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

Mr. Chairman: Should we call them? Mr. Yahya Bakhtiar: Yes. Mr. Chairman: They may be called. (The Delegation entered the Chamber.) Mr. Chairman: Mr. Attorney General.

جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! آپ نے جو علامہ اقبال کی نظم پڑھی...... مرزا ناصر احمد: جی۔

(مرزا ناصر کا علامہ اقبال کے متعلق جھوٹ پکڑا گیا)

جناب یحییٰ بختیار: ......وہ میں کہاں دیکھ سکتا ہوں۔ کون سا اخبار ہے؟ مرزا ناصر احمد: جی، نہیں۔ وہ...... اس کا تو حوالہ ہے میرے پاس۔ جناب یحییٰ بختیار: وہ حوالہ دکھا دیجئے پھر، اخبار کا یا کس کا؟ چھپی تھی؟ مرزا ناصر احمد: نہیں، وہ میں نے حوالہ پڑھا تھا۔ پھر پڑھ دیتا ہوں۔ 746 جناب یحییٰ بختیار: نہیں، مجھے یعنی...... مرزا ناصر احمد: ہاں جی، بس ٹھیک ہے۔ میں دے دیتا ہوں وہ آپ کو۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں۔ یہ مرزا صاحب؟ جو آپ نے یہاں نوٹ کیا ہے۔ اس پر یہ لکھا ہوا ہے کہ ”شیخ محمد اقبال، ایف۔اے کلا، سکاچ مشن اسکول، سیالکوٹ۔“ یہ تو نام ہے نظم لکھنے والے کا۔ ”آئینہ حق نما“ مصنف شیخ یعقوب علی عرفانی، صفحہ ١٠٧، ١٠٨، مطبع الحق، دہلی۔ مطبوعہ ستمبر ١٩١٢ء، یہ نظم ١٩١٢ء میں لکھی گئی تھی یا پہلی دفعہ ١٩١٢ء میں شائع ہوئی؟ کچھ آپ کو علم ہے اس کا؟

مرزا ناصر احمد: اس سے متعلق تو میں نے کوئی تحقیق نہیں کی۔

جناب یحییٰ بختیار: کیونکہ بات یہ ہو جاتی ہے ناں جی کہ اگر یہ شخص جس نے نظم لکھی ہے اور جیسے آپ نے کہا ہے، علامہ اقبال کی نظم سعد اللہ لدھیانوی کے متعلق، اور آپ نے فرمایا کہ ١٩١٢ء کی نظم ہے اور وہ ایف۔اے کلاس میں پڑھتے تھے۔ تو اس وقت ان کی عمر ٣٥ سال بن جاتی ہے جو ہمارے کیلنڈر اور علامہ کی جو Date of birth ہے، اس کے مطابق جو Latest

١؎ یعقوب عرفانی! خود قادیانی تھا۔ ایک قادیانی کی بات لے کر دشنام دہی پر مبنی نظم کو مرزا ناصر نے علامہ اقبال کی طرف منسوب کر دیا۔

KISTAN 9th Aug, 1974 No:05

نہیں کرتے۔ جو معنی ہمارا لٹریچر نہیں آ درست نہیں۔

Maghrib.

(مسٹر چیئرمین: مغر مرزا ناصر احمد: میں، و

gation is permitted to lude this.

جناب چیئرمین: اچھ ہو گیا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: یہ مرزا ناصر احمد: یہ تو میں ان کو چھوڑتا ہوں۔ واضح، میر جناب یحییٰ بختیار: اچھ

gation to report back

(جناب چیئرمین: اس urable members may آٹھ بجے جی، آٹھ بجے مرزا ناصر احمد: اچھی

Chamber.)

mbly is adjourned for d for Maghrib prayers mbled after Maghrib rooq Ali) in the Chair.]

صفحہ ٨١٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

view ہے وہ یہ ہے کہ ١٨٧٧ء میں ان کی پیدائش ہوئی تھی۔ پہلا View یہ تھا کہ ١٨٧٣ء میں ۔ تو ایک لحاظ سے ٣٥ سال عمر بن جاتی ہے، ایک لحاظ سے ۔ میں اس واسطے کہہ رہا ہوں ٣٨ سال عمر بن جاتی ہے۔

مرزا ناصر احمد: نہیں، یہ جو ہے، اسی واسطے غالباً لکھا گیا ہے کہ ١٩١٢ء میں شائع ہوئی اور یہ نوٹ لکھنے کی ضرورت اس لئے پڑی کہ ١٩١٢ء میں تو ان کی عمر زیادہ تھی۔ تو اسی واسطے کتاب لکھنے والے نے یہ نوٹ لکھ دیا کہ یہ نظم اس وقت لکھی گئی جس وقت اپنے ایف ۔اے میں پڑھ رہے تھے۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، تو یہ آپ نے کہا کہ یہ ١٩١٢ء میں جب وہ ایف ۔اے میں پڑھتے تھے۔ تو اسی واسطے مجھے impression ہوا کہ شاید کوئی اور شخص ہے۔

مرزا ناصر احمد: نہیں ، ١٩١٢ء میں وہ ایف اے میں نہیں پڑھتے تھے۔ کتاب چھپی ، جس میں یہ نظم چھپی ہے۔ وہ کتاب چھپی ہے ١٩١٢ء میں۔ اور کتاب میں یہ لکھا ہوا ہے کہ یہ نظم علامہ اقبال نے لکھی جس وقت وہ ایف ۔اے میں پڑھ رہے تھے۔

جناب یحییٰ بختیار: یعنی ١٩١٢ء میں ان کو علامہ کے نام سے خطاب کیا تھا انہوں نے؟

747 مرزا ناصر احمد: نہیں ، جو یہاں لکھا ہوا ہے ......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، وہ تو اوپر تو آپ نے لکھا ہوا ہے ناں، یہ پتہ نہیں چلتا۔

مرزا ناصر احمد: نہیں نہیں ، وہ تو میرا لکھا ہوا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: اس میں تو لکھا ہوا ہے ”شیخ محمد اقبال۔“

مرزا ناصر احمد: ہاں ”شیخ محمد اقبال“ یہی لکھا ہوا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی، تو ”شیخ محمد اقبال“ ایک اتنا Common نام ہے۔ میں اس واسطے سوچ رہا تھا.......

مرزا ناصر احمد: میں یہ کہتا ہوں کہ ہزارہا آدمی ”شیخ محمد اقبال“ کا نام رکھتے ہیں۔ لیکن جس وقت شیخ محمد اقبال، جو ایف ۔اے میں پڑھ رہے تھے اور اس تعلیمی ادارے میں علم حاصل کر رہے تھے۔ انہوں نے سعد اللہ کے متعلق.......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں ، اگر آپ Definite ہیں کہ یہ علامہ اقبال ہیں تو میں یہ نہیں پوچھتا سوال۔

مرزا ناصر احمد: نہیں ، میں Definite ہوں۔

٨٤

صفحہ ٨١١

811 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

جناب یحییٰ بختیار: ہاں میں یہی پوچھ رہا تھا۔ کیونکہ وہ ایف ۔اے آپ نے کہا ١٩١٢ء کا تو صحیح ہوا۔

مرزا ناصر احمد: ہاں جی، میں نے ”علامہ اقبال“ بعد میں کہا۔

(باہمی فتوؤں کی پوزیشن)

جناب یحییٰ بختیار: اب مرزا صاحب! میں کچھ عرض کروں گا۔ پیشتر اس کے کہ آپ ایک بات کا جواب دیں۔ آپ مہربانی کر کے میری عرض سن لیجئے۔ جو آپ نے ابھی ..... اس کے بعد پھر آپ جو فرمائیں گے۔

پہلا تو میں یہ عرض کرنا ہے کہ جو آپ نے فتاویٰ پڑھے۔ وہ ایک دوسرے کو مختلف طبقے، فرقے کہہ رہے ہیں کہ یہ کافر ہیں۔ وہ کافر ہیں۔ اب یہ ہمارے عقیدے کی بات ہے یا سمجھ کی بات ہے کہ اگر ہم کہیں کہ فلانا آدمی کافر ہے۔ وہ کافر جو ہم کہتے ہیں کہ ملت اسلامیہ سے باہر ہے، یا وہ کافر سمجھیں جیسے ہندو ہے۔ اگر ایک ہندو سے مسلمان شادی کرتا ہے، تو اس کی جو اولاد ہو گی۔ ہم کہتے ہیں کہ یہ حرام کی اولاد ہے۔ یہ شادی نہیں یہ زنا ہے۔ اس قسم کے فتوے انہوں نے ایک دوسرے کو کافر بنا کے دیئے ہیں۔ یہ ایک ان کا 748 Description ہے جو کہ Legal description ہم کہہ سکتے ہیں کہ اگر ایک ناجائز شادی ہو، جو شادی نہ ہو قانون کے مطابق، تو اولاد جو ہے وہ حرام ہوگی اور ان کی وراثت میں کوئی حق نہیں ملے گا۔ یہ ایک دوسرے کو کافر کہہ کے اس قسم کے فتوے دے رہے ہیں۔ یہ میں سمجھتا ہوں کہ گالیوں اور توہین کی بات نہیں ہوتی۔ Describe کرتے ہیں کہ

What are going to be the consequences, as a result of (اس قسم کی شادی کے کیا اثرات ہو سکتے ہیں) this sort of marriage.

اور یہ وہ اس لئے میں یہ سمجھوں گا کہ قطع نظر اس سے کہ بیک گراؤنڈ کیسا ہے۔ جو آپ بتا رہے ہیں کہ گالیاں دیا کرتے تھے۔ اس کی کوئی Relevancy نہیں ہے۔

مرزا ناصر احمد: جی۔

جناب یحییٰ بختیار: باقی میں نے یہ عرض کرنا تھا کہ غزنویوں کی طرف سے جو چیز ہوئی مرزا صاحب پر، اس کا بھی کوئی Relevence نہیں ہے کیونکہ کسی غزنوی کا میں نے آپ کو حوالہ نہیں پڑھ کے سنایا کہ انہوں کے متعلق مرزا صاحب نے کیوں یہ بات کہی یا کہی یا نہیں کہی۔

٨٥

صفحہ ٨١٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

صرف تین شخصیتیں جو تھیں، ان کا تھا۔ آپ نے جواب ضرور دیا اور Explain آپ نے کیا ہے۔ میں ذرا پھر آپ کی توجہ ان حوالوں کی طرف دلاؤں گا۔

آپ نے حضرت پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑہ کے متعلق کہا کہ انہوں نے مرزا صاحب کے متعلق کوئی بات کہی اور انہوں نے ان کو ’’ملعون‘‘ کہا اور ملعون کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ اللہ کے سپرد کر کے، اللہ ہی اس پر لعنت بھیجے گا۔ پھر آپ نے رشید احمد گنگوہی صاحب کے متعلق کہا کہ انہوں نے مرزا صاحب کی شان میں کچھ ایسے فقرے کہے کہ جس کے جواب میں ...... کہ انہوں نے ’’ابن مریم کا ان سے کوئی تعلق نہیں، دجال ہے۔‘‘ یہ ہے۔ اس کے جواب میں مرزا صاحب نے کہا کہ ’’اندھا، شیطان، دیو، گمراہ ۔‘‘ اب میں صرف آپ سے عرض ...... ’’ملعون، سفیہ، ملعون، من المفسدین‘‘ وغیرہ لکھا ان کے متعلق ......

مرزا ناصر احمد : یہ جو آپ نے کل دو شعر پڑھے تھے ...... اچھا جی، اچھا ...... رشید گنگوہی کے بارے میں ......

749 جناب یحییٰ بختیار : رشید ......

مرزا ناصر احمد : ہاں، ہاں ...... اچھا، ٹھیک ہے۔

جناب یحییٰ بختیار : تو میں نے کہا کہ اس کے متعلق یہ الفاظ ہیں تاکہ آپ کو پھر یاد آ جائیں۔ شاید آپ نے نوٹ نہ کئے ہوں۔

مرزا ناصر احمد : نہیں، وہ ٹھیک ہے۔ ابھی یہاں مل جاتا ہے۔ یہ میرے سامنے ہے۔

جناب یحییٰ بختیار : نہیں، ’’اندھا شیطان، دیو، گمراہ، سفیہ، ملعون، من المفسدین‘‘ تو یہ میں صرف اس واسطے آپ سے ...... ابھی تک تو میں اپنا سوال تو پورا نہیں کر سکا نا جی۔ میں صرف بیان کر رہا ہوں کہ ’’اندھا شیطان، دیو۔‘‘ یہ الفاظ ’’گمراہ‘‘ یہ جو ہیں۔ یہ سارے عربی کے معانی میں استعمال ہوتے ہیں یا اردو کے معنی میں؟ کیونکہ یہ سارے الفاظ جو میں دیکھ رہا ہوں، میرے سامنے اردو میں ہیں۔ بعض مرزا صاحب عربی میں باتیں کی ہیں جن کا ترجمہ ہوا ہے۔

مرزا ناصر احمد : ویسے یہ سارے جو ہیں وہ عربی میں ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار : ہاں۔ تو اسی واسطے میں کہتا ہوں ...... پھر آگے مولوی سعد اللہ کا نام لے کر مرزا صاحب نے کہا ہے ...... جن کے متعلق آپ نے نظم سنائی جو کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ علامہ اقبال کی ہے ...... ان کے بارے میں مرزا صاحب نے نام لے کر کہا ہے ’’مکار عورت کا بیٹا۔‘‘ ......

٨٦

صفحہ ٨١٣

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

مرزا ناصر احمد : نہیں کہا۔

جناب یحییٰ بختیار : یہ نہیں؟ میں اسی واسطے آپ سے وہ کر رہا ہوں۔

مرزا ناصر احمد : ہاں، نہیں کہا۔ میں......

جناب یحییٰ بختیار : یعنی یہ لفظ نہیں ہے وہاں؟

مرزا ناصر احمد : نہیں، بالکل نہیں۔

جناب یحییٰ بختیار : کیا لفظ استعمال کئے گئے ہیں؟

مرزا ناصر احمد : ”سرکش......“

جناب یحییٰ بختیار : نہیں،......

750 مرزا ناصر احمد : ”......ابن بغایا۔“

جناب یحییٰ بختیار : یا ”ابن بغی“ ”اگر تو اسے نسل بدکاران......“ (انجام آتھم ص٢٨٢، خزائن ج١١ ص٢٨٢) یہاں ایسا ترجمہ آپ کی کتاب میں ہے۔

مرزا ناصر احمد : ہاں، کتاب میں ہے۔ لیکن یہ بانی سلسلہ کا نہیں ہے ترجمہ۔

جناب یحییٰ بختیار : آپ کی جماعت سے جو کتاب پبلش ہوئی ہے......

مرزا ناصر احمد : معلوم ہوتا ہے ترجمہ کرنے والے کو اس وقت عربی کے معانی نہیں آتے تھے۔

جناب یحییٰ بختیار : نہیں، یعنی آپ کی یا ”انجام آتھم“ کی جو کتاب پبلش ہوئی، آپ کی ہی طرف سے شائع ہوئی ہے......

مرزا ناصر احمد : ہاں، ہاں۔

جناب یحییٰ بختیار : ......اور کئی سال سے چلتی آرہی ہے۔

مرزا ناصر احمد : نہیں، میں تو تسلیم کرتا ہوں۔

جناب یحییٰ بختیار : نہیں، میں اسی واسطے کہہ رہا ہوں کہ اگر یہ کتاب غلط ہے۔ آپ کی نہیں، تو اس واسطے۔.....

١؎ مرزا ناصر فرما رہے کہ ایک صدی سے مرزا کی کتاب جو قادیانی جماعت چھاپ رہی ہے، اس کا ترجمہ غلط ہے۔ ایک جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کے لئے کتنے مرزا ناصر جھوٹ بول رہا ہے؟

٨٧

AN 9th Aug, 1974 No:05

صرف تین شخصیتیں جو تھیں، ا ہے۔ میں ذرا پھر آپ کی توجہ ا آپ نے حضرت کے متعلق کوئی بات کہی اور انہ سپرد کر کے، اللہ ہی اس پر لعن انہوں نے مرزا صاحب کی ع نے ”ابن مریم کا ان سے کوئی نے کہا کہ ’اندھا، شیطان، د من المفسدین“ وغیرہ لکھا ان

مرزا ناصر احمد : گنگوہی کے بارے میں......

749 جناب یحییٰ ب

مرزا ناصر احمد :

جناب یحییٰ بخ جائیں ۔ شاید آپ نے نوٹ

مرزا ناصر احمد :

جناب یحییٰ بخ یہ میں صرف اس واسطے آپ بیان کر رہا ہوں کہ ’اندھا ش استعمال ہوتے ہیں یا اردو اردو میں ہیں۔ بعض مرزا صا

مرزا ناصر احمد :

جناب یحییٰ بخ کا نام لے کر مرزا صاحب ہیں کہ علامہ اقبال کی ہے عورت کا بیٹا۔“......

صفحہ ٨١٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

مرزا ناصر احمد : نہیں، نہیں، نہیں، میں تسلیم کرتا ہوں کہ ہماری کتاب ہے اور ترجمہ بھی ہمارا ہی ہے۔ لیکن وہ غلط ترجمہ ہے ”ابن بغی“ کا۔

جناب یحییٰ بختیار: ”بغی“ کا باقی جگہ بھی جو ترجمہ ہوا ہے۔ مرزا بشیر الدین محمود صاحب کا، یہ میں آپ کو بھیج رہا ہوں۔ ”تفسیر کبیر سورہ مریم آیت نمبر ٢٩ ج ٥ ص ١٩٢ (اپریل ١٩٨٦ء جدید ایڈیشن) اس میں بھی یہ ”بغیہ“ کا کہ ”اور ماں بھی بدکار نہیں تھی۔“ پھر آگے یہ ہے صفحہ ١٦٨۔ پھر ایک جگہ آتا ہے : ”اور تیری ماں بھی بدکار نہ تھی۔“ وہ ”بغی“ ”اور تیری ماں بھی بدکار نہیں تھی۔“ یہ بھی آپ دیکھ لیں۔ ١؎

مرزا ناصر احمد : نہیں، نہیں، وہ تو دیکھ لیا۔ اصل میں عربی کے ہیں یہ الفاظ اور اس میں کوئی دقت نہیں۔ یہاں جو زیر بحث ہے وہ ”بغیہ“ نہیں ہے ......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، مطلب ہے ......

مرزا ناصر احمد : میری بات سنیں ...... ”ابن بغی“ ہے اور ”ابن بغی“ کے معنی جو ہیں وہ ”سرکش“ کے ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! میں نے ابھی تک سوال پورا نہیں کیا۔ میں عرض کر رہا ہوں کہ ایک جگہ ”ابن بغی“ کے بھی یہ الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ ”بدکار عورت“ کے ”بدکار“ اور پھر دوسری جگہ صرف ”بغی“ کے، یہ ”بدکار“۔ میں اس واسطے آپ کو توجہ دلا رہا ہوں۔

مرزا ناصر احمد : ”بغی“ کے معنی ”بدکار“ عربی لفظ میں کوئی نہیں ہے۔ یہ آپ کسی سے یہاں پوچھ لیں۔ وہ آپ کو بتا دے گا کہ ”بغی“ جو ہے وہ فعل ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: یہ آپ دیکھ لیجئے۔ کہیں تو ”میں کبھی بدکاری میں مبتلا نہیں ہوئی۔“ ......

مرزا ناصر احمد : وہاں ”بغی“ ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: خیر، یہ آپ دیکھ لیں۔ اس پر پھر آپ بعد میں ......

مرزا ناصر احمد : نہیں، وہاں یہ لفظ ہی نہیں۔ وہاں لفظ ہی دوسرا ہے۔ (اپنے وفد کے ایک رکن سے) قرآن کریم نکالو جی۔ یہ لو۔ نکالو۔ ادھر لائیں جی میرے پاس۔

جناب یحییٰ بختیار: مفتی صاحب! آپ سے توجہ ایک منٹ کے لئے دلائیں گے کیونکہ ......

١؎ اسی طرح سورہ مریم کی آیت ہذا کا تفسیر صغیر ص ٣٨٣ پر ترجمہ مرزا محمود ”تیری ماں بدکار نہ تھی“ کیا ہے۔

٨٨

صفحہ ٨١٥

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

مولوی مفتی محمود: قرآن کریم میں ہے: ”ولا تکرھوا فتیاتکم علی البغاء“ (سورہ نور: ٣٣) یہاں ”بغی“ کے معنی کیا ہیں؟

(مرزا ناصر کا نیا پینترا)

مرزا ناصر احمد: عربی لغت اپنے الفاظ کو متعدد معانی میں استعمال کرتی ہے۔ مثلاً ”زکوٰۃ“ کے تیرہ، چودہ معانی ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، یہاں جو ہے وہ ......

جناب چیئرمین: ہاں، اس کے معنی کیا ہیں جو مفتی صاحب نے سوال کیا ہے؟

مرزا ناصر احمد: مجھے بات ختم کر لینے دیں۔ ہاں ”ابنِ بغی“ جب اس Context میں استعمال ہو تو اس کے معنی ”حرام زادہ“ کے ہیں ہی نہیں۔ اس کے معنی ہیں ”ہدایت سے دور“ اور ”سرکش“۔

جناب یحییٰ بختیار: اور اگر یہ لفظ ......

مولوی مفتی محمود: میں نے تو صرف قرآن کریم کی آیت کے بارے میں پوچھا ہے کہ قرآن کریم ......

752 Mr. Chairman: Ask the translation.

مولوی مفتی محمود: ...... کہ قرآن کریم میں جو ”بغی“ کا لفظ ہے، اس سے کیا مراد ہے؟

مرزا ناصر احمد: قرآن کریم نے ”ابنِ بغی“ کا لفظ ہی نہیں استعمال کیا، محاورہ ”ابنِ بغی“ کا ...... (مداخلت)

جناب چیئرمین: ایک منٹ ٹھہریں۔ جو آیت مفتی صاحب نے پڑھی ہے۔ اس کا ٹرانسلیشن کر دیں آپ۔ (مفتی محمود صاحب سے) ایک دفعہ پھر پڑھیں۔ ............ Let this

مولوی مفتی محمود: ”ولا تکرھوا فتیاتکم علی البغاء (نور: ٣٣)“ یہ قرآن کی آیت کا ترجمہ لفظی بتا دیں۔

جناب چیئرمین: اس کا لفظی ترجمہ کر دیں جی۔

Let it go on the record.

جناب یحییٰ بختیار: اچھا۔

٨٩

صفحہ ٨١٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No. 45

Mr. Chairman: No, Just a minute. Let this Ayat be translated by the witness.

(مرزا ناصر کا اور پینترا)

مرزا ناصر احمد: لغت عربی میں، لغت عربی میں جب یہ فتیات کے متعلق استعمال ہو تو اس کے معنی بدکاری کے ہیں۔

جناب چیئرمین: تفسیر بعد میں کریں۔ پہلے اس آیت کا ٹرانسلیشن کردیں۔

This is the question.

مرزا ناصر احمد: ”اپنی جو لونڈیاں ہیں تمہارے گھروں میں، ان کو بدکاری پر مجبور نہ کرو اگر وہ خود اسے پسند نہ کریں۔“ لفظی ترجمہ یہ ہوگا۔

Mr. Chairman: Now the witness can add the explanation.

مرزا ناصر احمد: یہ ٹھیک ہے، اس کا لفظی ترجمہ یہی ہے۔ لیکن ”ابن بغی“ کا عربی میں یہ معنی نہیں ہے۔

753 جناب یحییٰ بختیار: ٹھیک ہے جی۔ یہ تو ہے۔ اب اس کو یہاں ایک منٹ کے لئے چھوڑتا ہوں۔ ایک چیز ہے جس کے بعد.......

مرزا ناصر احمد: اگر آپ پسند کریں تو صبح بہت ساری روایات کے حوالے دے دوں؟

(مرزا قادیانی کی نئی گالیاں)

جناب یحییٰ بختیار: نہیں نہیں، ٹھیک ہے جی۔ یہ آپ کہہ رہے ہیں۔ میں ابھی اس سبجیکٹ پر نہیں آرہا۔ کیونکہ گالیوں کا ذکر آگیا ہے تو ایک اور Context میں جارہا ہوں کہ جو لوگ یہ محسوس کر رہے تھے کہ انگریزوں کے خلاف انہوں نے جنگ آزادی لڑی۔ ان کے متعلق مرزا صاحب سے منسوب....... شاید یہ غلط ہو، نہ ہو۔ میں ایسے کہہ رہا ہوں....... یہ ”ازالہ اوہام“ حصہ دوم سے لیا گیا ہے۔ انگریز کے مقابل سر اٹھانے کو ”مکر و بدکاری“ کہا اور لکھا کہ: ”ان لوگوں نے چوروں، قزاقوں اور حرامیوں کی طرح اپنی محسن گورنمنٹ پر حملہ کرنا شروع کیا ہے اور اس کا نام جہاد رکھا۔“

(ازالہ اوہام ص ٧٢٥، حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ٤٩٠)

٩٠

صفحہ ٨١٧

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

یہاں جو الفاظ ہیں انہی ”چوروں، قزاقوں، حرامیوں۔ تو یہ اگر آپ سمجھیں کہ عربی میں ”چوروں، قزاقوں، حرامیوں“ کو جہاں تک میں جانتا ہوں، عربی Slang میں ”حرامی“ چور کو ہی کہتے ہیں۔ یہاں ”چور“ بھی استعمال ہوتا ہے اور ”حرامی“ بھی استعمال ہوتا ہے۔ تو یہ آپ مائنڈ Mind میں رکھیں کہ آخر یہ گالیاں ہیں یا یہ کہ ایسے ہیں کہ صرف باغیوں کے بارے میں بات ہے؟

مرزا ناصر احمد: یہ Context دیکھ لیں۔ (اپنے وفد کے ایک رکن سے) نوٹ کرو جی۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، پھر وہ اس پر......

مرزا ناصر احمد: ویسے آپ نے صبح بھی چار پانچ باتیں پوچھی تھیں۔

جناب یحییٰ بختیار: وہ میں آ رہا ہوں جی اس پر۔ کیونکہ میں نے کہا ایک سبجیکٹ ہو جائے۔ اب مرزا صاحب! ایک چھوٹی سی گزارش یہ ہے کہ بعض لوگوں نے سخت الفاظ استعمال کئے..... جو آپ نے پڑھ کے سنائے..... مرزا صاحب کے متعلق، اور آپ نے فرمایا کہ اس زمانے میں یہ ایک قسم کا فیشن تھا کہ اس قسم کی زبان استعمال کر رہے تھے ایک دوسرے کے خلاف، اور یہ ان کا مطلب بھی نہیں ہوتا تھا......

مرزا ناصر احمد: یہ اگلا فقرہ نہیں کہا میں نے۔

754 جناب یحییٰ بختیار: ....... یہ، ان کا یہ مطلب نہیں تھا، جو ظاہری معلوم ہوتا ہے۔

مرزا ناصر احمد: نہیں، میں نے یہ نہیں کہا۔ میں نے کہا کہ یہ ان کی عادت پڑی ہوئی تھی اس قسم کے سخت الفاظ......

(عام آدمی اور مدعی نبوت دونوں کی بد زبانی میں کیا فرق ہے؟)

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، اس قسم کے الفاظ۔ تو اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک طرف ایک معمولی انسان، گناہ گار انسان، دوسری طرف ایک نبی اور ایسا نبی جس کے ابھی میں آپ کو تفصیل سے بتاؤں، جس کے بارے میں کیا کیا لکھا جا چکا ہے، وہ وہی زبان استعمال کر رہے ہیں۔ اس سے بھی سخت بعض جگہ زبان استعمال کر رہے ہیں...... مرزا صاحب! میں بڑی Responsibility سے بات کر رہا ہوں۔

مرزا ناصر احمد: ہاں، آپ بات کریں، ابھی نہیں میں بول رہا۔

٩١

صفحہ ٨١٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

جناب یحییٰ بختیار: ...... اگر غزنویوں نے بری گالیاں دیں، بدزبانی کی، ان کو جواب دے دیں، تو میں سمجھ سکتا ہوں۔ یہاں بعض الفاظ جو ہیں مولوی سعداللہ کے بارے میں کہ ”بدکار عورت کا بیٹا۔ بدگو۔ خبیث۔ منحوس۔ لعین۔ شیطان۔“ (انجام آتھم ص٢٨١، خزائن ج١١ ص٢٨١) میں نے ان کو دیکھا۔ ممکن ہے کہ انہوں نے بھی مرزا صاحب کے متعلق بہت سی جگہ ایسے الفاظ استعمال کئے ہوں۔ مگر جہاں آپ نے پڑھ کے سنائے انہوں کی طرف سے، تو ان سے مجھے یہ بات ظاہر نہیں ہوئی، بہرحال، سوال یہ ہے کہ یہ شخص......

مرزا ناصر احمد: یہ سعداللہ کی گالیوں کا حوالہ کہاں ہے؟ وہاں تو نہیں تھے یہ سارے۔

جناب یحییٰ بختیار: میں نے آپ کو سنائے تھے جی۔ ٢٨١،٢٨٢،٢٨٢،٢٨١ ہیں۔ جناب! آخر میں آپ نے کہا تھا، Admit کرلیا تھا۔

مرزا ناصر احمد: نہیں نہیں، ”ابن بغی“ کہا۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں مجھے، میں نے کہا کہ جو مرزا صاحب نے ان کے بارے......

مرزا ناصر احمد: ہاں، ”ابن بغی“ کہا۔

جناب یحییٰ بختیار: یہاں جو یہ لکھا ہوا ہے ”اور آپ نے Admit کیا ۔“ اگر آپ کہتے ہیں کہ نہیں......

مرزا ناصر احمد: نہیں ”انجام آتھم“ میں۔

755 جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی، صفحہ ٢٨١، ٢٨٢۔ آپ نے کہا کہ یہ لفظ جو ہیں ناں ”بدکار عورت کا بیٹا“ نہیں کہا۔ اس کا مطلب ہے ”ابن بغی“......

مرزا ناصر احمد: نہیں نہیں......

جناب یحییٰ بختیار: باقی باتوں کی طرف میں ابھی آرہا ہوں۔

مرزا ناصر احمد: ”ذریۃ البغایا“ اور ”ابن البغی“ کے متعلق......

جناب یحییٰ بختیار: ہاں نہیں، وہ میں تو......

مرزا ناصر احمد: ”لغت“ کے متعلق یہ تین باتیں ہوئی ہیں......

جناب یحییٰ بختیار: باقی، ”بدگو، خبیث، منحوس......“

مرزا ناصر احمد: اور یہ کہاں ہیں؟

جناب یحییٰ بختیار: یہ آپ دیکھ لیجئے۔ میں نے تو آپ کو حوالہ دیا ہے اور میرے خیال میں آپ نے Admit کرکے جواب دیا ہے۔

٩٢

صفحہ ٨١٩

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

مرزا ناصر احمد: نہ، نہ۔ جناب یحییٰ بختیار: پھر آپ دیکھ لیں ان کو۔ مرزا ناصر احمد: ہاں۔ جناب یحییٰ بختیار: ”بدگو، خبیث، مفسد، آزارندہ است، منحوس، و نام او جاہلاں سعد اللہ نہادہ اند“...... یہ آجاتا ہے جی...... مرزا ناصر احمد: کل آپ نے ”انجام آتھم“ ٢٨٢ کا...... جناب یحییٰ بختیار: ٢٨١، ٢٨٢، دوسرے پر آگے آجاتا ہے۔ مرزا ناصر احمد: ہاں، اس میں یہ ہے: ”اس“...... جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی، وہ ٹھیک ہے۔ اس سے پہلے میں نے ٢٨١، ٢٨٢ دونوں صفحے بتائے آپ کو۔ جو میں نے یہاں نوٹ کئے ہیں اور دوسرے جو ہیں ناں، آپ اسے دیکھ لیں۔ ٢٨١ پر ہیں۔ مل گیا آپ کو؟ جہاں لکھا ہوا ہے: ”وہ خبیث.......“ 756 مرزا ناصر احمد: جی، یہ ہیں الفاظ۔ جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی، میں یہ عرض کر رہا تھا...... مرزا ناصر احمد: جی......

(نبی کی سخت زبان، عام انسان کی طرح؟)

جناب یحییٰ بختیار: ......کہ بہت ہی سخت زبان استعمال کی گئی ہے اور سوال جو تھا وہ صرف یہ تھا کہ:

من بدکنم و تو بد مکافات دہی بس فرق میان من و تو چیست بگو

ایک آدمی کہتا ہے ”میں نبی ہوں ۔“ ایک عام انسان ہے اور نبی بھی وہی زبان استعمال کرتا ہے۔ اس سے زیادہ سخت وہ زبان استعمال کرے تو پھر اس پر ذرا سوال آتا ہے کہ کیا Status (مقام) نبی کا ہوتا ہے کہ ایسی زبان استعمال کرے؟ مرزا ناصر احمد: یہ تو پہلے انبیاء کی تاریخ ہمیں بتائے گی کہ ان کا Status (مقام) یہ ہوتا ہے کہ نہیں۔

١؎ ابھی تھوڑا پہلے اس حوالہ کا انکار، اب اقرار، مرزا قادیانی کا حوالہ مرزا ناصر احمد کے حلق میں مچھلی کے کانٹے کی طرح پھنس کر اس کو کٹنی کا ناچ نچا رہا ہے یا توے پر رقص کروا رہا ہے؟ قادیانی فیصلہ فرمائیں۔

٩٣

صفحہ ٨٢٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

جناب یحییٰ بختیار: نہیں خیر وہ تو آپ کے مطابق ......

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں۔ پہلے انبیاء کی، ان کی کتب سے١؎......

جناب یحییٰ بختیار: کہ یہ نبیوں کے لئے جائز ہے کہ ایسی زبان استعمال کریں آپ؟

مرزا ناصر احمد: نبیوں کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ گالی دیں۔ لیکن نبیوں کے لئے ایک سرجن کے نشتر کی طرح استعمال کرنے کی نہ صرف جائز ہے بلکہ ضروری ہے ان کے لئے لیکن ایک غنڈہ بازار میں چاقو استعمال کرتا ہے تو وہ قاتل اور مفسد بن جاتا ہے۔ لیکن اس کے مقابلے میں آدھا سینہ چیر دیتا ہے۔ Lungs سارا نکال کے باہر پھینک دیتا ہے سرجن۔ تو جو بات، جو کلمہ سچا ہو، جو جج، مثلاً مجسٹریٹ ہے، وہ چور کو چور کہتا ہے، گالی نہیں ہے٢؎۔ لیکن کوئی اور دوسرے کو چور کہے گالی بن جاتی ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: یعنی جو مرزا صاحب گالی دیں وہ صحیح ہے، وہ حقیقت ہے؟

مرزا ناصر احمد: نہیں، میں نے یہ نہیں کہا۔ میں نے یہ نہیں کہا۔ میں نے کہا کہ انبیاء کی تاریخ میں ہمیں یہ نظر آتا ہے کہ جن کے اذکار، جن کی باتیں قرآن کریم نے بھی بیان کی ہیں اور ان کی کتب جس شکل میں بھی ہیں، موجود ہیں کہ ان کو سخت الفاظ ...... جو سخت نظر آتے ہیں دوسروں کو ...... وہ استعمال کرنے پڑتے ہیں اور وہ گالی نہیں ہوتی، حقیقت حال ہوتی ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: 757 نہیں، یہ الفاظ جو استعمال ہوئے ”خبیث، منحوس، لعین، شیطان۔“ یہ گالیاں نہیں تھیں؟

مرزا ناصر احمد: ان کے صحیح معنوں میں یہ گالیاں نہیں تھیں٣؎۔

جناب یحییٰ بختیار: اچھا، ٹھیک ہے۔

١؎ مرزا ناصر کہنا چاہتا ہے کہ گویا سابقہ انبیاء علیہم السلام گالیاں دیتے تھے۔ قارئین! یہ ہے قادیانی کفر کہ مرزا قادیانی کو بچانے کے لئے تمام انبیاء علیہم السلام پر الزام دھر دیا۔ اس لئے کہتے ہیں کہ قادیانی معلم الملکوت کی اولاد ہیں؟

٢؎ تو کیا ہم مرزا قادیانی کو دجال و کذاب، ملعون کہیں تو قادیانیوں کو اس پر اعتراض نہ ہوگا۔ یا یہ تمام قادیانی ذریۃ البغایا ہیں یا یہ کہ مرزا محمود نسل بدکاران تھا۔ کیا قادیانی اسے گالی نہ سمجھیں گے؟

٣؎ منحوس! لعین، شیطان مرزا قادیانی تھا۔ ہمارے نزدیک یہ صحیح معنوں میں مرزا کے لئے یہ گالیاں نہیں۔ کیا قادیانی کرم فرما اسے تسلیم کر لیں گے؟

٩٤

صفحہ ٨٢١

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

مرزا ناصر احمد: صحیح معنوں میں۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں۔

مرزا ناصر احمد: اور اس کی مثالیں ہم دیں گے تب مقابلہ ہوگا۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، تو ٹھیک ہے۔ آپ یہ کہتے ہیں کہ ”خبیث، منحوس، لعین، شیطان“ کا مطلب ”خبیث، منحوس، لعین، شیطان“ نہیں ہوتا؟“

مرزا ناصر احمد: نہیں، میں نے یہ نہیں کہا۔ میں نے کہا عربی زبان میں ان الفاظ کے اس Context میں جو معانی ہو سکتے ہیں۔ وہ حق ہے، اس کو جائز ہے کہنے جو اللہ تعالیٰ سے علم پاکے۔ اس کے اندرون کو ایسا دیکھے۔ ورنہ نہیں جائز اور پہلے انبیاء کی یہی سنت ہے، یہ طریق ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: اچھا مرزا صاحب! وہ تو ......

مرزا ناصر احمد: میں آپ کو صبح پہلے یہ یاد دلا دوں گا ......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، آپ نے کہہ دیا، مرزا صاحب! میں اس پر ......

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، میں اس کو یہاں وہ ریکارڈ کروانا چاہتا ہوں۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، آپ اس کو ریکارڈ کروا لیجئے۔ مگر اب میرا دوسرا سوال ہے کہ میں نے کچھ سوالوں کا ذکر کیا تھا ......

مرزا ناصر احمد: جی۔

جناب یحییٰ بختیار: ...... اس میں ہے کہ: ”میرے مخالف جنگلوں کے، بیابانوں کے خنزیر ہو گئے اور ان کی عورتیں کتیاؤں سے بھی بڑھ گئیں۔“

مرزا ناصر احمد: ہاں، یہ وہ ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: ”نجم الہدیٰ صفحہ ٥٣، خزائن ج ١٤ ص ٥٣“

758 مرزا ناصر احمد: یہ اس کو چیک کیا ہے۔ ابھی ادھر دیتے ہیں۔ یہ ”نجم الہدیٰ“ کا صفحہ ٥٣ تھا؟

جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی۔

مرزا ناصر احمد: نجم الہدیٰ، صفحہ ٥٣؟

جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی، ہاں۔

مرزا ناصر احمد: اس میں یہ ایک مضمون ہے عربی کا۔ اسکے اندر یہ نظم آئی ہے:

٩٥

صفحہ ٨٢٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

ان العدا صارو اخنازیر الفلا ونساء هم من دونهن الاكلب

اس شعر میں ’’العداء‘‘ سے مراد وہ معاندین ہیں جو سید المعصومین حضرت محمد ﷺ کے خلاف نہایت گندہ دہانی سے کام لیتے تھے۔ آپ فرماتے ہیں:

سبوا ما ادرى لا یی جريمة سبو العصى الحب او نتحنب

انہوں نے گالیاں دیں اور میں نہیں جانتا کیوں دیں۔ کیا ہم اس دوست (محمدؐ) کی مخالفت کریں یا اس سے کنارہ کریں؟ اس نظم کے شروع میں آپ نے اسکے معنے کئے ہیں کہ ’’حب‘‘ سے مراد محمدؐ ہیں۔ آپ فرماتے ہیں۔ اس کے معنی ہیں، ان دو شعروں کے کہ:

’’ہمارا ایک دوست ہے اور ہم اس کی محبت سے پر ہیں اور مراتب اور منازل سے ہمیں بے رغبتی اور نفرت ہے۔.......ہم اپنے پیار کے دامن سے آویختہ ہیں ایسے کہ جو.......ہم اپنے پیارے کے دامن سے آویختہ ہیں ایسے کہ جو صاف اور شفاف نہیں ہو سکتا وہ بھی ہمارے لئے منور ہو گیا ہے۔‘‘ (اس کے طفیل)

اس کتاب میں....... یہ نظم کے معنی دیئے گئے تھے ناں....... بڑی وضاحت سے یہ بتایا گیا ہے کہ دشمن اسلام محمدؐ کے خلاف اس قدر ایذا رسانی سے کام لے رہے ہیں، دکھ دہ باتیں کر رہے ہیں، گالیاں دے رہے ہیں اور اس Text میں وہ جو آیا ہے ابھی اس میں ’’یُقَتِّلُوْا 759 خنزیر‘‘ اور پہلے بھی انہوں نے کہا ہے کہ ’’خنزیر‘‘ سے مراد ’’دشمنان اسلام‘‘ ہیں۔ وہ مراد ہے یہاں۔ ایک آگے......ابھی نہیں ختم ہوا......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں اس پر وہ دوسرا حوالہ جو ہے ناں...... مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، ابھی میری بات ختم نہیں ہوئی۔ جناب یحییٰ بختیار: اچھا، اسی پر آپ کہہ رہے ہیں؟

مرزا ناصر احمد: ہاں، اسی، اسی پر۔ اس کتاب میں، جیسا کہ میں نے بتایا، آپ نے فرمایا کہ بدزبان پادری اور ان کی وہ عورتیں ہیں جو گھروں میں جا کر مسلمانوں کو مرتد کرنے کے لئے ہر قسم کا جتن کر رہی ہیں۔ آپ فرماتے ہیں ’’نجم الہدیٰ‘‘ اسی کتاب میں : ’’تو آپ لوگوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ دین صلیبی اونچا ہو گیا اور پادریوں نے ہمارے دین کی نسبت کوئی دقیقہ طعن کا اٹھا نہیں رکھا اور ہمارے نبی کو گالیاں دیں اور بہتان لگائے اور دشمنی کی اور تم دیکھتے ہو کہ وہ اپنے عقیدے میں کیسے سخت ہو گئے ہیں اور کیسے تعصب سے افروختہ ہیں اور اپنی باطل باتوں پر

٩٦

صفحہ ٨٢٣

823 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

کیسے اتفاق کئے بیٹھے ہیں اور تھوڑی مدت سے ایک لاکھ کتاب انہوں نے ایسی تالیف کی ہے جس میں ہمارے دین اور رسول اللہ کی نسبت بجز گالیوں اور بہتان اور تہمت کے کچھ نہیں۔

یہ ”نجم الہدیٰ“ ٦٣ صفحہ کا یہ حوالہ ہے۔ پھر فرمایا: ”اور سیلاب کی طرح مسلمانوں کے کوچوں میں بہنے لگے اور طرح طرح کے افتراؤں سے اس شہر کے باشندوں کو دھوکے دینے لگے۔ پھر اپنی عورتیں اس غرض کے لئے شریفوں کے گھروں میں بھیجیں...... پس اسلام پر وہ مصیبتیں پڑیں جن کی نظیر پہلے زمانوں میں نہیں۔“

یہ نجم الہدیٰ، تو یہ سارا جو ہے، یہ کتاب جو ہے۔ یہ عیسائیوں کے متعلق ہے۔ ان کی گندہ دہانی کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔ ایک تڑپ ہے دل میں کہ یہ ایسے لوگ ہیں جنہوں نے آ کے یہاں ہمارے ملک میں اس اس قسم کی باتیں کرنی شروع کر دی ہیں۔ حضرت خاتم الانبیاء کے خلاف۔

جناب یحییٰ بختیار: میں کچھ عرض کر سکتا ہوں جی؟ 760 مرزا ناصر احمد: جی۔ جناب یحییٰ بختیار: یہ ”نجم الہدیٰ“ میں صفحہ ١٨، پھر صفحہ ٢٠...... مرزا ناصر احمد: (اپنے وفد کے ایک رکن سے) کہاں ہے ”نجم الہدیٰ؟“ جناب یحییٰ بختیار: آپ نے یہ فرمایا کہ یہ کتاب جو ہے، انہوں نے جو عیسائی ہیں، انہوں نے جو حملے کئے، ان کے جواب میں یہ باتیں کہیں۔ یہاں وہ لکھتے ہیں:

”اور میں نے اس رسالہ کو حجت کے پوری کرنے کے لئے تالیف کیا ہے اور اس امت کے غافلوں کی ہمدردی کے لئے میں نے جلدی سے یہ کام کیا اور میں خادموں کی طرح اس کام کے لئے اسلامی جماعت کے کمزوروں کے لئے کھڑا ہوا کیونکہ میری دعوت کے قبول کرنے میں ان کے زن و مرد کی بھلائی ہے اگر چہ اپنی عبادت اور زہد کے ساتھ رابعہ وقت ہوں۔“

(نجم الہدیٰ ص ١٨، خزائن ج ١٤ ص ایضاً)

پھر آگے وہ فرماتے ہیں: ”اور یہ میرا رسالہ میری قوم سے خاص ہے جنہوں نے میری دعوت سے انکار کیا اور یہ کہا کہ یہ ایک کذاب......“

(نجم الہدیٰ ص ٢٠، خزائن ج ١٤ ص ایضاً)

بے مبالغہ یا کذب بیانی کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔ عیسائیوں کی ایک لاکھ نہیں، پچاس ہزار کتابوں کے نام ہی بتا دیں۔ ہے کوئی ماں کا لال قادیانی جو اپنے گرو کے دامن سے اس سیاہ جھوٹ کے دھبے کو صاف کرے۔

٩٧

F PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

ان العدا صارو اخنازیر الفل اس شعر میں ”العداء“ سے مراد خلاف نہایت گندہ دہانی سے کام لیتے تھے۔ سبوا ما ادری لا بی جریر انہوں نے گالیاں دیں اور میں مخالفت کریں یا اس سے کنارہ کریں؟ ٢١ ”حب“ سے مراد محمدؐ ہیں۔ آپ فرماتے ہیں ”ہمارا ایک دوست ہے اور ہم بے رغبتی اور نفرت ہے۔۔۔۔۔ ہم اپنے پیار پیارے کے دامن سے آویختہ ہیں ایسے کہ ہو گیا ہے۔“ (اس کے طفیل) اس کتاب میں۔۔۔۔۔۔ یہ قلم کے گیا ہے کہ دشمن اسلام محمدؐ کے خلاف اس رہے ہیں، گالیاں دے رہے ہیں اور اس خنزیر“ اور پہلے بھی انہوں نے کہا ہ یہاں۔ ایک آگے۔۔۔۔۔۔ ابھی نہیں ختم ہوا۔۔۔۔ جناب یحییٰ بختیار: نہیں، مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں جناب یحییٰ بختیار: اچھا، ا مرزا ناصر احمد: ہاں، اسی من فرمایا کہ بدزبان پادری اور ان کی وہ عورتے لئے ہر قسم کا جتن کر رہی ہیں۔ آپ فرما اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ دین صلیبی او غ طعن کا اٹھا نہیں رکھا اور ہمارے نبی کو گالیا اپنے عقیدے میں کیسے سخت ہو گئے ہیں

صفحہ ٨٢٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

مرزا ناصر احمد: یہ ١٩ کا ہے؟ جناب یحییٰ بختیار: ١٩ نہیں، پہلے ١٨ پھر صفحہ ٢٠ سے۔ مرزا ناصر احمد: جی۔ جناب یحییٰ بختیار: میں نے ١٨ سے ایک Passage پڑھا، 18 page۔ Now i am reading from page 20. "اور یہ میرا رسالہ میری قوم سے خاص ہے......" صفحہ ٢٠، جو عربی ترجمہ ہے اس کا: "جنہوں نے میری دعوت سے انکار کیا اور کہا کہ یہ ایک کذاب کا جھوٹ ہے اور میری بات کو دروغ سمجھا اور گمان کیا کہ یہ ایک بہتان ہے اور بدظنی سے میری ہتک عزت کی۔ پس میرے غم و اندوہ نے جو کمال تک پہنچا ہوا ہے۔ نصیحت اور غم خواری کی طرف مجھے تحریک کی اور خدا تعالیٰ اپنے بندوں کی نیتوں کو جانتا ہے اور ان کے پوشیدہ بھیدوں پر 761 اطلاع رکھتا ہے اور وہ تمام دنیا کے حالات سے آگاہ ہے اور میں اس رسالہ میں اس بات کی طرف کچھ حاجت نہیں پاتا کہ مذہب اسلام کی حقیقت کے دلائل لکھوں یا......"

(نجم الھدیٰ ص ٢٠، خزائن ج ١٤ ص ایضاً)

وہ آگے پھر لکھتے ہیں اس پر...... تو اسے آپ نے جو کہا ہے ناں، "عیسائیوں کے لئے" اور میرا یہ خیال ہے کہ یہ خاص طور......" مرزا ناصر احمد: نہیں، بات سنیں، آپ نے...... جو سوال ہے وہ مجھے بتا دیں تاکہ میں سوال دے دوں...... جواب دے دوں اس کا۔ جناب یحییٰ بختیار: پہلا سوال یا ابھی جو...... مرزا ناصر احمد: نہیں ابھی جو، ابھی جو......

(مرزا قادیانی نے مخالفوں کو جنگلوں کے خنزیر، ان کی عورتوں کو کتیا کہا)

جناب یحییٰ بختیار: ابھی آپ نے فرمایا کہ اس رسالے میں جو "میرے مخالفوں" کا ذکر کر رہے ہیں کہ "جنگلوں کے، بیابانوں کے خنزیر ہوگئے اور ان کی عورتیں کتیوں سے بڑھ گئیں ۔" تو آپ نے فرمایا کہ اشارہ عیسائیوں کی طرف تھا جو کہ آنحضرت ﷺ پر ناجائز حملے کرتے تھے۔ اس کے جواب میں...... مرزا ناصر احمد: ہاں جی، ہاں جی۔ میں...... ٩٨

صفحہ ٨٢٥

825 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

جناب یحییٰ بختیار: یہاں یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کہتا ہے ”مجھ پر اتنا دکھ ہوا، مجھ پر یہ ظلم ہوا، کیا میری امت کے لوگوں نے ، میرے لوگوں نے ، میں ان کے متعلق یہ لکھ رہا ہوں۔“

مرزا ناصر احمد: میں، میں اب سمجھ گیا جی۔ میں اب سمجھ گیا ہوں اور اس کا جواب ویسے یہاں بڑا واضح ہے۔ اگر مجھے اجازت دیں، ایک وضاحت ضروری ہے۔ نصاریٰ کے خلاف بھی Whole-sale condemnation نہیں۔ بلکہ ان میں سے وہ لوگ جو بدزبانی کرتے ہیں نبی اکرمؐ کے خلاف، اور اسلام پر حملہ آور ہیں۔ یہاں آپ کی توجہ ایک طرف نہیں گئی۔ یہ بڑا واضح ہے۔ جب آپ پڑھ رہے تھے تو میں نے پڑھنا اس لئے چھوڑ دیا کہ وہ بالکل واضح تھا: ”اور یہ میرا رسالہ میری قوم سے خاص ہے۔“

”قوم میری مخاطب نہیں“ آپ نے یہ فرمایا کہ ”دین متین کی محبت میرے دل میں ہے اور میں اپنی قوم کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ نصاریٰ اس قسم کے حملے کر کے اور ہمارے خلاف یہ جال پھیلا رہے ہیں۔762“ آپ نے فرمایا اور یہ میرے ......

جناب یحییٰ بختیار: یہ، یہ، اس ......

مرزا ناصر احمد: میں ابھی بتاتا ہوں آپ کو۔

جناب یحییٰ بختیار: اس سے پہلے صفحہ ١٨ پڑھ لیجئے ، پھر ٢٠۔ کیونکہ دونوں میں نے پڑھے ہیں۔

مرزا ناصر احمد: نہیں، ١٨ میں نے پڑھ لیا۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، اس میں جو ہے ناں کہ: ”اور میں نے اس رسالہ کو حجت کے پورا کرنے کے لئے تالیف کیا ہے۔“

مرزا ناصر احمد: نصاریٰ پر حجت کے پورا کرنے کے لئے تالیف کیا ”اور اس امت کے ......“

جناب یحییٰ بختیار: ”اور اس امت کے غافلوں ......“

مرزا ناصر احمد: ”اور اس امت کے غافلوں کی ہمدردی کے لئے ......“

جناب یحییٰ بختیار: دیکھیں ، مرزا صاحب!

Please let me conclude. I will repeat it.

تا کہ اس میں وہ غلط فہمی ، جو میرے دماغ میں ہے، وہ نہ رہے۔ اس واسطے میں Repeat کر رہا ہوں۔

I would not have wasted your time or intervened.

٩٩

PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

مرزا ناصر احمد: یہ ١٩ کا ہے

جناب یحییٰ بختیار: ١٩ نہیں

مرزا ناصر احمد: جی۔ -

جناب یحییٰ بختیار: میں

20.

”اور یہ میرا رسالہ میری قو صفحہ ٢٠، جو عربی ترجمہ ہے ایک کذاب کا جھوٹ ہے اور میری با سے میری ہتک عزت کی ۔ پس میرے کی طرف مجھے تحریک کی اور خدا تعالیٰ پر اطلاع رکھتا ہے اور وہ تمام دنیا کے طرف کچھ حاجت نہیں پاتا کہ مذہب

وہ آگے پھر لکھتے ہیں اس اور میرا یہ خیال ہے کہ یہ خاص طور ....

مرزا ناصر احمد: نہیں

میں سوال دے دوں ...... جواب دے

جناب یحییٰ بختیار: ی

مرزا ناصر احمد: نہیں

(مرزا قادیانی نے مخالفو جناب یحییٰ بختیار: ف ذکر کر رہے ہیں کہ ”جنگلوں کے گئیں ۔“ تو آپ نے فرمایا کہ اش کرتے تھے۔ اس کے جواب میں

مرزا ناصر احمد: ہاں

صفحہ ٨٢٦

826 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

مرزا ناصر احمد: جی۔

جناب یحییٰ بختیار: ”اور میں نے اس رسالہ کو حجت کے پوری کرنے کے لئے تالیف کیا ہے اور اس امت کے غافلوں کی ہمدردی کے لئے میں نے جلدی سے یہ کام کیا اور میں خادموں کی طرح اس کام کے لئے اسلامی جماعت کے کمزوروں کے لئے کھڑا ہوا کیونکہ میری دعوت کے قبول کرنے میں ان کے زن و مرد کی بھلائی ہے۔“

(نجم الہدیٰ ص ١٨، خزائن ج ١٤ ص ایضاً)

763 یہ یہاں آ جاتا ہے۔ پھر اس کے بعد جو آپ پڑھ رہے ہیں کہ: ”یہ میرا رسالہ میری قوم کے لئے خاص ہے جنہوں نے میری دعوت سے انکار کیا ......“ ان لوگوں سے جنہوں نے ان کی دعوت سے انکار کیا۔

مرزا ناصر احمد: یہ، یہ میں اس کا، اگر اجازت دیں ......

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، ابھی آپ فرمائیے۔

مرزا ناصر احمد: میرے نزدیک پہلے بھی واضح تھا، اب بھی واضح ہے۔ آپ فرماتے ہیں: ”اور میں نے اس کو جمعرات کے دن شروع کر کے جمعہ کی صبح پورا کر دیا۔ (ایک دن میں میں نے تیار کیا) بغیر اس کے جو مجھ کو کوئی تکلیف پہنچی اور میں نے اس رسالہ کو حجت کے پوری کرنے کے لئے تالیف کیا ہے۔“

”حجت“ کے معنی ہم دے چکے ہیں: ”نصاریٰ کے خلاف اسلام کے حق میں دلائل قاطع سے مرصع کر کے میں نے یہ رسالہ لکھا ہے۔“ اور اس کے، اس کے مخاطب ...... وہ جو دلائل ہیں ...... اس کے مخاطب نصاریٰ ہیں، ہماری قوم نہیں۔ ”ہماری قوم غافل ہے اور میرے دل میں ان کی ہمدردی ہے۔“ اور حملہ عیسائیت کا جو ہے وہ لاکھوں مسلمان کہلانے والوں کو ...... جو دوسری جگہ آپ نے کہا ہے ...... عیسائی بنا چکا ہے اور اس امت کے غافلوں کی ہمدردی کے لئے اور ان کے علم میں اضافہ کے لئے اور ان کے سامنے یہ بات لانے کے لئے کہ عیسائی اس وقت اس طور پر حملہ آور ہیں ”میں نے جلدی سے یہ کام کیا ۔“ ایک دن میں یہ رسالہ کر دیا اور ”میں خادموں کی طرح اسلام ...... خادموں کی طرح ...... اسلام کے لئے، اس کام کے لئے اسلامی جماعت کے کمزوروں کے لئے کھڑا ہوا ہوں“ کہ جو حملہ آور اسلام پر ہوئے ہیں۔ ان میں سے جو کمزور ہیں۔ ان کی طرف سے، ان کی ہمدردی میں، عیسائیت کے مقابلے میں کھڑا ہوا ہوں۔ ”کیونکہ میری دعوت کے قبول کرنے میں ان کے زن و مرد کی بھلائی ہے“ ہمدردی ہے۔ یعنی کوئی اس سے تعلق رکھے، متفق ہو، اتفاق رکھے یا نہ، لیکن یہاں جو کہا گیا ہے وہ یہی ہے کہ ”میرے دل میں امت

١٠٠

صفحہ ٨٢٧

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

مسلمہ کی ہمدردی ہے۔ دجل سے کام لیا جا رہا ہے، سینکڑوں عیسائی بن رہے ہیں“ اس ہمدردی کے نتیجے میں عیسائیوں کے خلاف یہ رسالہ لکھا ہے اور اپنے بھائیوں کے لئے لکھا ہے تاکہ اس کو پڑھ کے عیسائیوں کے ساتھ مناظرہ کر سکیں۔ ان کو لاجواب کر سکیں، ان کے اثر کو قبول نہ کرسکیں۔

764 جناب یحییٰ بختیار: اور ٢٠ پر جو آپ ابھی...... میں نے...... آپ کچھ فرما رہے تھے۔

مرزا ناصر احمد: میں ٢٠ کے اوپر آرہا ہوں۔ اب لیتے ہیں صفحہ ٢٠: ”اور یہ میرا رسالہ میری قوم سے خاص ہے۔“

ان کے مخالف نہیں، ان سے تعلق رکھتا ہو، ان کی ہمدردی میں یہ لکھا گیا ہے جنہوں نے میری دعوت سے انکار کیا“ تاکہ ان......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، اس سے آپ کا......

مرزا ناصر احمد: ہاں، ”جنہوں نے میری دعوت سے انکار کیا“ تاکہ ان کو پتہ لگے کہ میری دعوت دراصل اسلام کے استحکام کے لئے ہے۔ اس کی مضبوطی کے لئے ہے کہ عیسائیوں کے خلاف جو میری دلیلیں وہ دیکھیں گے تو ان کو یہ سمجھ آئے گی کہ جو انہوں نے انکار کیا۔ وہ درست نہیں ہے اور میرا، میرا کلام......

جناب یحییٰ بختیار: انکار جو عیسائیوں نے کیا؟

مرزا ناصر احمد: نہ، نہ، نہ جو میرے دعویٰ کو نہیں مانتے۔ مسلمانوں میں سے، ان کو یہ سمجھ آ جائے کہ میں عیسائیوں کے مقابلے کے لئے ، اسلام کے دفاع کے لئے کھڑا ہوا ہوں اور جو لوگ مجھے اس وقت تک کذاب اور جھوٹا...... جھوٹ کا میری طرف منسوب کرتے ہیں کہ وہ جھوٹ گو“ اور میری بات کو دروغ سمجھا اور گمان کیا کہ یہ ایک بہتان ہے اور بدظنی سے میری ہتک عزت کی۔ پس میرے غم واندوہ نے جو کمال تک پہنچا ہوا ہے۔ نصیحت اور غمخواری کی طرف مجھے تحریک کی اور خدا تعالیٰ اپنے بندوں کی نیتوں کو جانتا اور ان کے پوشیدہ بھیدوں پر اطلاع رکھتا ہے۔ وہ تمام دنیا کے حالات سے آگاہ ہے اور میں اس رسالہ میں اس بات کی طرف کچھ حاجت نہیں پاتا کہ مذہب اسلام کی حقیقت کے دلائل لکھوں یا کچھ فضائل آنحضرتؐ کے بیان کروں“

کیونکہ وہ ایک بہت لمبا مضمون ہے۔ تو جو ان کا جو حملہ ہے صرف اس کو سامنے رکھ کر میں دفاع کر رہا ہوں۔ اسلام کی جو تعلیم ہے حسین، اس کے متعلق میں نے اور جگہ لکھا ہوا ہے۔ اس کے مخاطب جو ہیں نا، سخت الفاظ کے، یہ ہو ہی نہیں سکتے۔ میں تو حیران ہو گیا ہوں کہ یہ کہاں سے اعتراض آ گیا۔

101

PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

مرزا ناصر احمد: جی۔

جناب یحییٰ بختیار: ”اور تالیف کیا ہے اور اس امت کے غافلوں خادموں کی طرح اس کام کے لئے اسلا دعوت کے قبول کرنے میں ان کے زن و 763 یہ یہاں آجاتا ہے۔ پھر ا قوم کے لئے خاص ہے جنہوں نے میری کی دعوت سے انکار کیا۔

مرزا ناصر احمد: یہ، یہ میں ا

جناب یحییٰ بختیار: ہاں،

مرزا ناصر احمد: میرے زہ ہیں: ”اور میں نے اس کو جمعرات کے دی نے تیار کیا) بغیر اس کے جو مجھ کو کوئی تکلی کے لئے تالیف کیا ہے۔“

”حجت“ کے معنی ہم دے قاطع سے مرصع کرکے میں نے یہ رسال ہیں...... اس کے مخاطب نصاریٰ ہیں، جو ان کی ہمدردی ہے۔“ اور حملہ عیسائیت کا جگہ آپ نے کہا ہے......عیسائی بنا چکا کے علم میں اضافہ کے لئے اور ان کے س پر حملہ آور ہیں“ میں نے جلدی سے یہ ل طرح اسلام...... خادموں کی طرح...... کمزوروں کے لئے کھڑا ہوا ہوں“ کہ ج ان کی طرف سے، ان کی ہمدردی میں دعوت کے قبول کرنے میں ان کے زن رکھے، متفق ہو، اتفاق رکھے یا نہ، لیکن

صفحہ ٨٢٨

828 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

765 جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! آپ نے یہ Concede کیا، میرے خیال میں...... ممکن ہے میں غلط ہوں...... یہ بات آپ مان چکے ہیں کہ جب وہ یہ کہتے ہیں کہ:” یہ میرا رسالہ میری قوم سے خاص ہے۔“ آپ کہتے ہیں کہ یہ قوم کو مخالف نہیں سمجھتے وہ اس جگہ ”قوم“ کے بعد میں ”خاص ہے“ ”جنہوں نے میری دعوت سے انکار کیا۔“ یعنی وہ لوگوں کو مخاطب کر رہے ہیں، قوم میں سے، جنہوں نے ان کی دعوت سے انکار کیا۔ میں نہیں کہتا کہ یہ عیسائیوں کے خلاف نہیں ہے۔ میں یہ نہیں کہہ رہا اس اسٹیج پر۔ میں اس اسٹیج پر صرف یہ عرض کر رہا ہوں کہ اس فقرے میں عیسائیوں کے ساتھ ان لوگوں کو بھی شامل کیا گیا......

مرزا ناصر احمد: بالکل نہیں کیا۔ بالکل میں نے نہیں مانا۔ Concede کیا۔

جناب یحییٰ بختیار: پھر آپ اس کا مطلب مجھے مہربانی کر کے سمجھائیے کہ: یہ میرا رسالہ میری قوم سے خاص ہے...... میری قوم سے خاص ہے۔...... جنہوں نے میری دعوت سے انکار کیا اور کہا کہ یہ ایک کذاب کا جھوٹ ہے اور میری بات کو دروغ سمجھا۔“ کیا انہوں نے ان کو Ignore کر کے عیسائیوں پر حملے کئے؟ عیسائیوں کو کہا کہ ”خنزیر ہیں؟“

مرزا ناصر احمد: انہوں نے جو سخت الفاظ استعمال کئے وہ حدیث کے الفاظ ہیں۔ پہلے انبیاء کے طریق پر کئے۔ لیکن وہ الفاظ استعمال کئے گئے ہیں نصاریٰ کے خلاف۔ کسی...... میری پہلے بات ختم کر لینے دیں۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، وہ ٹھیک آپ فرما رہے ہیں۔ میں کہتا ہوں ان کے خلاف......

مرزا ناصر احمد: نہیں، میں، میں...... مجھے بات ہی ختم نہیں کر لینے دیتے۔ میں چپ کر کے بیٹھ جاتا ہوں۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، آپ کہیں جی، میں تو اب......

766 مرزا ناصر احمد: اور آپ یہ فرماتے ہیں کہ:”میرا یہ رسالہ میری قوم...... میری قوم کے اندر پیار پایا جاتا ہے۔...... میری قوم سے خاص ہے۔“ اور انہوں نے مجھے نہیں

١٠٢

صفحہ ٨٢٩

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

پہچانا۔ مجھے جھوٹا کہا اور مجھے کذاب کہا۔ لیکن اس رسالہ کے لکھنے سے میں ان پر یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ میں تو اسلام کے، دین اسلام کی حفاظت کے لئے بھیجا گیا ہوں اور اس امت کا ایک روحانی جو مقابلہ ہے۔ اس کے ایک جرنیل کی حیثیت میں نصاریٰ کے اس کی، اس زبردست یلغار جو اس وقت ہو رہی تھی۔ جس وقت لکھا گیا اس سے دین اسلام کی حفاظت دلائل کے زور سے اور نشانات اور براہین کے زور سے عیسائیوں سے کرنا چاہتا ہوں۔ جب میری قوم پر یہ بات واضح ہو گی کہ میں عیسائیوں سے مقابلہ کرنے کے لئے آیا ہوں تو شاید وہ یہ سمجھنے لگیں کہ میں کذاب اور جھوٹا نہیں۔ یعنی نصاریٰ سے جنگ ان کو یہ سمجھانے کے لئے ہے کہ میں، میں تمہارے خلاف نہیں کچھ کر رہا۔

جناب یحییٰ بختیار: وہ ٹھیک ہے، آپ نے کہہ دیا۔ میں صرف یہ کہنا چاہتا تھا کہ جب انہوں نے کہا: ”یہ میرا رسالہ میری قوم سے خاص ہے۔ جنہوں نے میری دعوت سے انکار کیا اور یہ کہا کہ یہ ایک کذاب کا جھوٹ ہے اور میری بات کو دروغ سمجھا اور گمان کیا کہ یہ ایک بہتان ہے۔ بدظنی سے میری ہتک عزت کی ۔“ تو اسے آپ نے یہ فرمایا کہ اس پر انہوں نے ان کو کچھ بھی نہیں کہا۔ جو مسلمانوں نے ان کو انکار کیا تو ان کے بارے میں یہ گالی والی کچھ بھی نہیں ہے۔

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں ہیں۔ بالکل نہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: یہ صرف عیسائیوں کے بارے میں ہے؟

مرزا ناصر احمد: یہ صرف عیسائیوں کے متعلق ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: باوجود اس کے.......

مرزا ناصر احمد: اگر مجھے اجازت دیں تو آگے بھی پڑھ دوں، واضح ہو جائے گا۔

جناب یحییٰ بختیار: جی، میں .....نہیں، آپ مجھے یہ مطلب سمجھائیں۔ میں صرف یہ کہتا ہوں کہ جو مسلمانوں نے مرزا صاحب کے بارے میں کہا کہ یہ کذاب ہے، جھوٹا ہے.......

767 مرزا ناصر احمد: اس کا کوئی جواب ہی نہیں دیا۔

جناب یحییٰ بختیار: ....... اور ان کا کوئی جواب نہیں دیا.......

مرزا ناصر احمد: صرف یہ کہ.......

جناب یحییٰ بختیار: ....... یہاں تک انہوں نے ان کی ہتک کی.......

مرزا ناصر احمد: ٹھیک ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: ....... ان کا کوئی جواب نہیں دیا؟

مرزا ناصر احمد: کوئی جواب نہیں، قطعاً قطعاً کوئی جواب نہیں دیا۔

١٠٣

صفحہ ٨٣٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

(ذریۃ البغایا کی گالی کی تفصیل)

جناب یحییٰ بختیار: بس ٹھیک ہے، اس کے آگے کوئی ضرورت ہی نہیں۔

اب تو آپ کی توجہ دلانا چاہتا ہوں، میں نے کل ”آئینہ کمالات صفحہ ٥٤٧، خزائن ج ٥ ص ایضاً“ میں مرزا صاحب کا ایک حوالہ کل پڑھ کر سنایا تھا جس میں وہ کہہ رہے ہیں کہ: ”کل مسلمانوں نے مجھے قبول کیا اور میری دعوت کی تصدیق کر لی۔ مگر کنجریوں اور بدکاروں کی اولاد نے مجھے نہیں مانا۔“

یہ دیکھیں کہ یہ ٹھیک ہے یا نہیں؟ یہاں تو صرف مسلمانوں کا ذکر آگیا۔

مرزا ناصر احمد: یہاں ”ذریۃ البغایا“ کا استعمال ہوا ہے، پانچ سو......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، مرزا صاحب! یہ درست ہے؟

مرزا ناصر احمد: یہ یہاں ہے اور میں اس کا جواب ابھی میں دے چکا ہوں پہلے اپنے...... ہاں جی، ”ذریۃ البغایا“ کا ترجمہ جو کیا گیا وہ غلط ہے۔ یہاں تو ترجمہ ہے ہی نہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: یہ ”بغایا“......

مرزا ناصر احمد: یہ تو ہے ہی نہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، آپ تو پہلے جو وہی...... یہاں جو ہے ناں ”بدکار۔“ ”مگر کنجریوں اور بدکار عورتوں کی اولاد نے مجھے نہیں مانا“......

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، یہاں کوئی ترجمہ یہاں نہیں ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، آپ کی کتابوں میں کسی جگہ ایسا ترجمہ نہیں ہے؟

768 مرزا ناصر احمد: نہیں، بالکل نہیں ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: اور دوسرے آپ یہ فرمائیے کہ کیا عربی میں ”بغایا“ کے سوائے ”بدکار“ کے کوئی اور معنی بھی ہیں؟ قرآن شریف میں کسی اور Sense میں استعمال ہوا ہے......

مرزا ناصر احمد: ”ذریۃ البغایا“ کسی اور Sense میں استعمال نہیں ہوا۔

جناب یحییٰ بختیار: ...... سوائے ”بدکار“ کے؟

مرزا ناصر احمد: ...... استعمال؟ میرے خیال میں استعمال ہی نہیں ہوا۔ قرآن کریم کا یہ محاورہ ہی نہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں ”بغایا“ کس Sence میں استعمال ہوا ہے؟

١٠٤

صفحہ ٨٣١

831 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

مرزا ناصر احمد : ”ذریۃ البغایا“ بھی نہیں قرآن کریم میں ”بغیہ“ ہے۔ ”ذریۃ البغایا“ کا محاورہ نہیں ہے۔

مولوی مفتی محمود : ”بغایا“ جمع ہے ”بغیہ“ مفرد ہے۔ وما کان اس کے معنی کیا ہیں؟

یا حدیث میں آتا ہے : ”البغایا“ ”بغایا“ حدیث میں بھی ہے۔ اس کے معنی کیا ہیں؟

جناب یحییٰ بختیار : آپ ......

مرزا ناصر احمد : مجھے اطلاع دی گئی تھی کہ میں صرف آپ کے سوالات کے جواب دوں گا۔

جناب یحییٰ بختیار : نہیں، بعض چیزوں سے جو میں واقف نہیں ہوں۔ اس پر کمیٹی نے فیصلہ کیا تھا کہ مولانا انصاری یا کوئی اور مجھے Assist کریں گے اور بعض چیزوں پر کل کسی وقت مولانا ہی آپ سے سوال پوچھیں گے۔ یہ کمیٹی کی اتھارٹی کے مطابق کہ اگر میں Assistance کے ......

مرزا ناصر احمد : یہ، اس کی ہمیں اطلاع کوئی نہیں ملی۔

جناب یحییٰ بختیار : یہ آپ کی اطلاع کے لئے ضروری بھی نہیں ہے ؎

769 مرزا ناصر احمد : پہلے کی اطلاع تو ہمیں مل گئی تھی۔

جناب یحییٰ بختیار : نہیں، یہ رول یہ بنایا تھا کہ اٹارنی جنرل۔

But he will be assisted by anybody he wants.

But اپنی طرف سے کوئی اٹھ کے سوال نہیں پوچھیں گے، میرے Through پوچھیں گے اور مجھے Assistance کی ضرورت ہے۔ فرض کرو میں تھک جاتا ہوں، میں کہتا ہوں کہ کوئی اور ایڈووکیٹ ہے، وہ یہ مزید سوال پوچھے تو یہ چیئرمین صاحب اور کمیٹی کی Approval سے یہ فیصلہ ہوا ہے۔ یہ نہیں کہ یہ کر رہے ہیں۔

مرزا ناصر احمد : ہاں، نہیں۔ میں تو اطلاع چاہتا ہوں۔

جناب یحییٰ بختیار : ہاں، اگر آپ کو اعتراض ہے کہ ......

١٠٥

Y OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

(ذریۃ البغایا کی

جناب یحییٰ بختیار : بس ٹھیک ہے۔

اب تو آپ کی توجہ دلانا چاہتا ہوں،

ص ایضاً ”میں مرزا صاحب کا ایک حوالہ کل پڑ...

مسلمانوں نے مجھے قبول کیا اور میری دعوت کی تص...

مجھے نہیں مانا۔“

یہ دیکھیں کہ یہ ٹھیک ہے یا نہیں؟ یہا...

مرزا ناصر احمد : یہاں ”ذریۃ البغایا...

جناب یحییٰ بختیار : نہیں، مرزا ص...

مرزا ناصر احمد : یہ یہاں ہے او...

اپنے ...... ہاں جی، ”ذریۃ البغایا“ کا ترجمہ جو کیا...

جناب یحییٰ بختیار : یہ ”بغایا“ ......

مرزا ناصر احمد : یہ تو ہے ہی نہیں۔

جناب یحییٰ بختیار : نہیں، آپ تو...

”مگر کنجریوں اور بدکار عورتوں کی او...

مرزا ناصر احمد : نہیں، نہیں، یہاں...

جناب یحییٰ بختیار : نہیں، آپ ک...

768 مرزا ناصر احمد : نہیں، بالکل نہ...

جناب یحییٰ بختیار : اور دوسرے...

”بدکار“ کے کوئی اور معنی بھی ہیں؟ قرآن شریف...

مرزا ناصر احمد : ”ذریۃ البغایا“ ...

جناب یحییٰ بختیار : ...... سوائے...

مرزا ناصر احمد : ...... استعمال ؟ می...

یہ محاورہ ہی نہیں۔

جناب یحییٰ بختیار : نہیں ”بغایا“...

صفحہ ٨٣٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

مرزا ناصر احمد: ہاں، میں تو صرف یہ پوچھ رہا ہوں کہ مجھے ابھی اطلاع کوئی نہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: تو اس لئے اگر آپ کچھ فرمانا چاہتے ہیں۔ مفتی صاحب نے جو کہا......

مرزا ناصر احمد: میں بڑے ادب سے مفتی صاحب سے یہ کہوں گا کہ ”ذریۃ البغایا“ کی بات چونکہ لغت عربی سے تعلق رکھتی ہے۔ اس لئے کل اٹارنی جنرل صاحب کی وساطت سے آپ کو لغت عربی کے حوالے سے دے دیئے جائیں گے۔

جناب یحییٰ بختیار: جی، اور ان آیات......

مرزا ناصر احمد: جی ہاں ”ذریۃ“ اور آیات کے بھی۔

جناب یحییٰ بختیار: اچھا جی۔

اب اسی سوال پر جب مرزا صاحب فرماتے ہیں کہ: ”کل مسلمانوں نے مجھے قبول کرلیا اور میری دعوت کی تصدیق کی مگر (جو بھی مطلب ہے) کنجریوں کی......“

مرزا ناصر احمد: نہیں، یہ غلط بات ہماری طرف منسوب نہ کریں۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں، میں یہ سمجھتا ہوں کہ جو لکھا گیا ہے......

مرزا ناصر احمد: ”ذریۃ البغایا“ کہا ہے؟

770 جناب یحییٰ بختیار: ہاں، جو بھی مطلب ہو وہ، ”ان کی اولاد نے......“

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، کسی کی اولاد نہیں جی۔

جناب یحییٰ بختیار: ”......کسی نے مجھے نہیں مانا“......

مرزا ناصر احمد: تو پھر عربی کا لفظ استعمال کرلیں۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، ہاں، وہ آگے...... میں کہتا ہوں کہ وہ تو آپ بیان کریں گے۔ میرا سوال جو ہے یہ ہے کہ یہاں مرزا صاحب جو کہتے ہیں کہ: ”کل مسلمانوں نے مجھے قبول کرلیا۔“ کل مسلمان کون تھے؟ اور کس، کب ان کو قبول کیا؟ جہاں تک میں نے...... ابھی میں ایک بات ذرا اور بھی واضح کردوں......

مرزا ناصر احمد: جی، جی۔

(قادیانیوں کی تعداد)

جناب یحییٰ بختیار: ......جہاں تک میں آپ سے سوالات پوچھتا رہا ہوں۔ اس سے یہ اندازہ ہوا کہ ١٩٠١ء میں ١٨٠٠ یا ١٩٠٠ احمدی تھے۔ ١٩٠٨ء میں جب مرزا صاحب کی وفات

١٠٦

صفحہ ٨٣٣

833 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

ہوئی تو ہمارے ریکارڈ میں، سرکاری ریکارڈ میں (١٩٠٠٠) کے قریب احمدی تھے۔ جنہوں نے ان کو قبول کیا۔ تو جب یہ کہتے ہیں ”کل مسلمان“ میں عرض کر رہا ہوں جی......

مرزا ناصر احمد : جی۔

جناب یحییٰ بختیار: ......کہ جو ہمیں Facts and figures ملے ہیں۔ جن کے مطابق میں نے کہا یہ ہیں۔ آپ نے کہا ہو سکتے ہیں۔ آپ کے اندازے کے مطابق چار لاکھ تھے۔ جب مرزا صاحب کی وفات ہوئی اور پھر میں نے پوچھا کہ اگر وہ لوگ چار لاکھ تھے تو آپ نے خود ہی رپورٹ دی باؤنڈری کمیشن کو کہ آپ کے دو لاکھ تھے اس وقت۔ تو یہ سوال کرنا Contradiction میں ہم نہیں جاتے۔ کوئی بھی تعداد ہو، اٹھارہ ہزار ہو، ......

مرزا ناصر احمد : باؤنڈری کمیشن میں دو لاکھ کی کوئی فگر نہیں آئی۔ پہلے میں نے ......

جناب یحییٰ بختیار: ڈھائی لاکھ؟

مرزا ناصر احمد : نہیں، ڈھائی لاکھ کی بھی نہیں آئی۔

جناب یحییٰ بختیار: خیر وہ میں، وہ پھر سوال آپ سے پوچھ لوں گا۔

771 Mirza Nasir Ahmad: Half a million does not mean two and fifth.

Mr. Yahya Bakhtiar: In the whole sub-continent,Sir.

مرزا ناصر احمد : وہ تھوڑے رہ گئے وہاں۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، تو پھر چار لاکھ ہی، مرزا صاحب! یعنی چار لاکھ ١٩٤٧ء میں اور چار لاکھ ١٩٠٨ء میں۔ یہ آپ کی Contradiction نہیں......

مرزا ناصر احمد : نہیں، میری کوئی Contradiction نہیں......

جناب یحییٰ بختیار: بعض اوقات......

مرزا ناصر احمد : ......بالکل Contradiction نہیں ہے۔ اس لئے کہ میں نے کہا کہ Census ،مردم شماری نہیں ہوئی، اور مختلف آدمیوں نے مختلف اوقات میں......

جناب یحییٰ بختیار: جی، بالکل، بالکل۔

مرزا ناصر احمد : ......مختلف اندازے کئے۔ Contradiction کہاں سے آگئی؟

جناب یحییٰ بختیار: بجا فرمایا، آپ نے بجا فرمایا۔ آپ نے یہ کہا۔ جب میں نے یہ

١٠٧

F PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

مرزا ناصر احمد: ہاں، میں تو

جناب یحییٰ بختیار: تو اس لئے

مرزا ناصر احمد: میں بڑے کی بات چونکہ لغت عربی سے تعلق رکھتی ہے آپ کو لغت عربی کے حوالے سے دے د

جناب یحییٰ بختیار: جی، اور ا

مرزا ناصر احمد: جی ہاں ”ذر

جناب یحییٰ بختیار: اچھا جی اب اسی سوال پر جب مرزا کرلیا اور میری دعوت کی تصدیق کی مگر (جو

مرزا ناصر احمد: نہیں، یہ غلط

جناب یحییٰ بختیار: نہیں ،

مرزا ناصر احمد: ”ذریۃ البغایا

770 جناب یحییٰ بختیار: ہاں

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں

جناب یحییٰ بختیار: ”......

مرزا ناصر احمد: تو پھر عربی ک

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، گے۔ میرا سوال جو ہے یہ ہے کہ یہاں مرز کرلیا۔“ کل مسلمان کون تھے؟ اور کس ایک بات ذرا اور بھی واضح کردوں......

مرزا ناصر احمد: جی، جی۔

(قاد

جناب یحییٰ بختیار: ...... سے یہ اندازہ ہوا کہ ١٩٠١ء میں ١٨٠٠ یا٠٠

صفحہ ٨٣٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

کہا کہ Census کے مطابق ١٩٠٨ء میں احمدیوں کی تعداد انیس ہزار ہے۔ آپ نے کہا کہ آپ کے اندازے کے مطابق اور آپ کی فگرز کے مطابق ٤ لاکھ کے قریب تھی۔ ایک بات پھر ابھی فرما رہے ہیں کہ ١٩٤٧ء میں جو آپ نے فگر دی ......

Half a million in the whole of the sub-continent.

اب بہت کم وہاں رہ گئے۔ تو پھر بھی چار لاکھ، قریب ساڑھے چار لاکھ کے بن جاتے ہیں۔

مرزا ناصر احمد: جو ہم نے فگر دی وہ مردم شماری کی نہیں دی۔

جناب یحییٰ بختیار: میں نہیں کہہ رہا ہوں۔ یہ آپ کی فگر کہہ رہا ہوں۔ ١٩٠٨ء میں اور ١٩٤٧ء میں آپ کے فگرز یہی ہیں۔

مرزا ناصر احمد: اندازے تھے۔

جناب یحییٰ بختیار: اندازے تھے؟

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، ایک آدمی کا اندازہ نہیں ......

جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! چالیس سال میں ......

772مرزا ناصر احمد: ....... ١٩٠٨ء میں اندازہ کرنے والا اور گروہ ہے اور ١٩٤٧ء میں اندازہ کرنے والے اور گروہ ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: ٹھیک ہے، آپ کی طرف سے ہیں، آپ کے مختلف گروہ ......

مرزا ناصر احمد: نہیں، میں نے اسی واسطے کہا تھا مردم شماری کوئی نہیں ہوئی۔

جناب یحییٰ بختیار: مردم شماری نہیں ہوئی، آپ نے خود فگرز دیئے؟

مرزا ناصر احمد: ...... اس واسطے کوئی Exact فگرز نہیں دی جاسکتی۔ مختلف اوقات میں مختلف انسانوں نے مختلف اندازے کئے اور جب دو مختلف آدمی اندازے مختلف کرتے ہیں تو ان کو کوئی زبان Contradiction نہیں کہتی۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، مرزا صاحب! میں اس بات پر جانا نہیں چاہتا تھا مگر چونکہ آپ یہ کہہ رہے ہیں۔ میں صرف جو ریکارڈ پر چیز آچکی ہے۔ اس کی طرف آپ کی توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ میں نے کہا کہ ١٩٠٨ء میں مرزا صاحب کی وفات کے وقت Census رپورٹ کے مطابق احمدیوں کی تعداد انیس ہزار کے لگ بھگ ہے۔

؎ قارئین توجہ کریں! قادیانی تعداد کتنی ہے؟ اسے مرزا ناصر احمد اس طرح چھپاتا ہے جس طرح گناہ گار اپنی معصیت کو چھپاتا ہے۔ آخر کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے۔

١٠٨

صفحہ ٨٣٥

835 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

"Less than nineteen thousand" the report says.

پھر اس کے بعد آپ نے فرمایا کہ ”نہیں، ہمارے اندازے کے مطابق چار لاکھ کے قریب تھی۔“ ایک۔ پھر ابھی میں نے کہا کہ ١٩٤٧ء میں آپ نے، خود جو فگر دیئے ہیں، اپنے اندازے کے مطابق، وہ Half a million ہے In whole of the sub-continent پانچ لاکھ، چار لاکھ، پانچ لاکھ۔ اس میں سے میں نے کہا، پاکستان میں آدھے ہوں گے، آپ کہتے ہیں نہیں، بہت زیادہ آگئے تھے، کم رہ گئے۔

But it remains more of less four Lakhs. But we leave that now.......

اس کو ہم چھوڑ دیتے ہیں فی الحال۔ میں اس لحاظ سے پوچھ رہا ہوں کہ چار (٤) لاکھ تھے یا دو (٢) لاکھ تھے۔ مرزا صاحب کے زمانے میں، کل مسلمان تو اتنے نہیں تھے۔.....

مرزا ناصر احمد: ہاں جی۔

جناب یحییٰ بختیار: ......کل مسلمان اس وقت مرزا صاحب کے زمانے میں......

”مسلمان“ اس نقطہ نظر سے میں کہہ رہا ہوں جو ہم، آپ Define 773 کررہے ہیں۔ جو محمد ﷺ اور خدا کو مانتے ہیں۔ ملت اسلامیہ کی Defination میں جو آتے ہیں...... اس وقت وہ صرف نہ انیس (١٩) ہزار تھے، نہ چار لاکھ تھے۔ مگر یہاں جو مرزا صاحب فرماتے ہیں کہ ”کل مسلمانوں نے مجھے قبول کرلیا“ تو ان سے کیا مراد تھی؟ احمدیوں کی تھی؟ باقیوں کو مسلمان نہیں سمجھتے تھے وہ؟ یہ میں آپ سے سوال پوچھنا چاہتا ہوں۔

مرزا ناصر احمد: ”کل مسلمان مجھے قبول کرلیں گے“......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، یہ نہیں ہے۔ ”کل مسلمانوں نے مجھے قبول کرلیا۔“

مرزا ناصر احمد: ”قبول کرلیا“ کہا ہے؟ (اپنے وفد کے ایک رکن سے) نکالو۔

جناب یحییٰ بختیار: یہ الفاظ یہ ہیں۔ جو میرے پاس ترجمہ ہوا ہے......

مرزا ناصر احمد: جو میرے پاس عربی کے الفاظ ہیں: ”الا الذی...... من...... الذین ختم اللہ علی قلوبہم فہم لا یقبلون“ یہ مضارع کا ہے۔ قبول ”وہ لوگ قبول نہیں کریں گے۔“ جن کے متعلق زیادہ تفصیل سے دوسری جگہ آتا ہے کہ اسلام ساری دنیا میں پھیل جائے گا اور ساری دنیا محمد ﷺ کے جھنڈے تلے جمع ہوجائے گی، سوائے ان چند کے جن کی حیثیت دنیا میں کوئی نہیں رہے گی۔

١٠٩

OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

کہا کہ Census کے مطابق ١٩٠٨ء میں آپ کے اندازے کے مطابق اور آپ کی ابھی فرمارہے ہیں کہ ١٩٤٧ء میں جو آپ نے of the sub-continent. اب بہت کم وہاں رہ گئے۔ تو پھر بھی

مرزا ناصر احمد: جو ہم نے فکر و

جناب یحییٰ بختیار: میں نہیں ک اور ١٩٤٧ء میں آپ کے فگرز یہی ہیں۔

مرزا ناصر احمد: اندازے تھے

جناب یحییٰ بختیار: اندازے

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، ا

جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاح

772 مرزا ناصر احمد: .....١٩٠٨ء اندازہ کرنے والے اور گروہ ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: ٹھیک ہے

مرزا ناصر احمد: نہیں، میں نے

جناب یحییٰ بختیار: مردم شماری

مرزا ناصر احمد: ......اس واسطے میں مختلف انسانوں نے مختلف اندازے کئے ان کو کوئی زبان Contradiction نہیں

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، م چونکہ آپ یہ کہہ رہے ہیں۔ میں صرف جو ری چاہتا ہوں کہ میں نے کہا کہ ١٩٠٨ء میں مرز کے مطابق احمدیوں کی تعداد انیس ہزار کے لگ

لے قارئین توجہ کریں! قادیانی تو جس طرح گناہ گار اپنی معصیت کو چھپاتا ہے

صفحہ ٨٣٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

جناب یحییٰ بختیار: یہ آپ کا مطلب ہے کہ جب ...... یہاں ۔ ”یہاں تو کل مسلمانوں نے مجھے قبول کرلیا اور میری دعوت کی تصدیق کرلی۔“ یہ جو میں ترجمہ سنا رہا ہوں ...... ممکن ہے غلط ہو...... اس کا یہ مطلب ہے کہ Future میں؟ مرزا ناصر احمد : ”کرلیا“ عربی میں ہے ہی نہیں ”کرلے گا“ ہے۔ جناب یحییٰ بختیار: ”تصدیق کرلی“ نہیں ہے؟ مرزا ناصر احمد : نہ، نہ، نہ، یہاں کوئی نہیں ہے۔ جناب یحییٰ بختیار: آپ پڑھ کر سنا دیجئے۔ مرزا ناصر احمد : ”تلك كتب ينظر اليها“ 774 ”’ینظر‘ کے معنی ہیں اس کو، اس کو دیکھتا ہے، یعنی تو ، وہ دیکھے گا ، وہ انہیں شکر کی نگاہ سے ، قبولیت کی نگاہ سے ...... ”ینظر“ مضارع کا صیغہ ہے ..... دیکھے گا اور ”ینتفع من معارفھا“ (اور وہ اس کے معارف سے فائدہ حاصل کرے گا اور مجھے قبول کر لے گا اور میری تصدیق کرے گا ۔ سوائے اس کے جن کے دلوں پر اللہ نے مہر لگائی ہے، وہ قبول نہیں کریں گے) سارے مضارع کے صیغے چلے آرہے ہیں۔ حال اور مضارع کے، اور مضارع سے مراد ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: یہ ٹرانسلیشن ہے اس میں لکھا ہوا؟ مرزا ناصر احمد : اس میں تو ٹرانسلیشن ہے ہی نہیں۔ جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں، اور کوئی ٹرانسلیشن نہیں ہے آپ کے پاس؟ مرزا ناصر احمد : نہیں، لیکن میں وہ آپ کو لغت عربی اور نحو جو ہے عربی کی، اس کے حوالے جتنے چاہیں نکال کے لادیتا ہوں۔ جناب یحییٰ بختیار: بس۔ ایک، ایک۔ ابھی دیر ہو گئی ۔ میں اسی سوال کے ساتھ ۔ مرزا ناصر احمد : (اپنے وفد کے ایک رکن سے) یہ نوٹ کرو جی، کل یہ مضارع کے متعلق ہمیں لانے ہیں۔

(جو مسلمان ہونے کے مدعی ، نہ کہ مسلمان) جناب یحییٰ بختیار: ہاں، ہاں ”کل مسلمانوں“ کا جو لفظ آگیا۔ تو اس کے ساتھ ہی میں نے آپ سے پرسوں عرض کی تھی اور آپ نے نوٹ فرمایا تھا کہ

١١٠

صفحہ ٨٣٧

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

آپ جواب دیں گے۔ وہ صاحبزادہ بشیر احمد صاحب کا ایک حوالہ دیا تھا جس میں انہوں نے کہا کہ: ”جب مرزا صاحب اپنی کتابوں میں مسلمانوں کا ذکر کرتے ہیں تو ان کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ لوگ جو اسلام اور مسلمانی کا دعویٰ کرتے ہیں، مسلمان نہیں“ اس قسم کا مضمون میں نے پڑھ کر سنایا ہے آپ کو۔ میں پڑھ کر پھر سنا دوں گا۔ آپ نے کہا Verify کر کے پھر جواب دیں گے۔

مرزا ناصر احمد: (اپنے وفد کے ایک رکن سے) نوٹ کیا؟ یہ دیکھتے ہیں (اٹارنی جنرل سے) شاید اس کا جواب بھی آچکا ہو۔ 775

جناب یحییٰ بختیار: آپ دیکھ لیجئے۔

مرزا ناصر احمد: اگر یہ ...... میری ایک بڑی ادب سے گزارش ہے۔ اگر کوئی صاحب، مثلاً ہمارے سیکریٹریان وغیرہ میں سے کوئی، جو کل کے متعلق ہو ناں، وہ بھی نوٹ کر لیں تاکہ صبح کو یہ کوئی شائبہ گنجائش نہ رہے شبہ کی، کہ ہم نے جواب دینے سے احتراز کیا۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی، میں نے سب اسی لئے نوٹ کئے۔

مرزا ناصر احمد: بس ٹھیک ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: میں نے اسی لئے سب نوٹ کئے۔ میں یہ سمجھا کہ آپ خود جیسے ہی جواب تیار ہوں گے، دیتے رہیں گے۔

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں ٹھیک ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: تو ابھی میں نے کہا کہ ٹائم کم ہوتا جارہا ہے اور جو بھی ابھی سوالات کے جواب آرہے ہیں۔ ایک ایسا Jig-saw puzzle بن گیا ہے۔ کیونکہ ایک چیز کو ہم اٹھاتے ہیں، مضمون کو، پھر حوالہ نہیں ملتا اور اس کو چھوڑ کر پھر میں کسی اور مضمون پر جاتا ہوں۔ تو اس لئے وہ خانہ پری جب تک نہ ہو۔ وہ Jig-saw puzzle کی شکل ٹھیک نہیں آتی کہ یہ کیا شکل بن گئی ہے۔ تو اس لئے بیچ میں میں نے نوٹ کئے اور میں نے جو نوٹ کئے ہیں وہ تو کوئی دس پندرہ ہیں۔ اس میں سے تین پر ہم پہنچے ہیں پھر تو سیشن ختم ......

مرزا ناصر احمد: ہاں جی۔

جناب یحییٰ بختیار: آج صرف تیسرے پر میں پہنچا ہوں۔

مرزا ناصر احمد: اچھا۔

جناب یحییٰ بختیار: یعنی جو نوٹ کئے ہیں۔ جن سے حوالے آپ کو میں لکھوائے تھے اور آپ نے جواب دینے تھے۔

F PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

جناب یحییٰ بختیار: یہ آپ ک ”یہاں تو کل مسلمانوں نے مج یہ جو میں ترجمہ سنا رہا ہوں ...... مگ

مرزا ناصر احمد: ”کرلیا“ عر

جناب یحییٰ بختیار: ”تعد

مرزا ناصر احمد: نہ، نہ، نہ، یہ

جناب یحییٰ بختیار: آپ پڑ

مرزا ناصر احمد: ”تلك كت

774 ”بنظر“ کے معنی ہیں اس سے، قبولیت کی نگاہ سے ...... ”بنظر“ مضار

(اور وہ اس کے معارف سے تصدیق کرے گا۔ سوائے اس کے جن کے سارے مضارع کے صیغے ہ مراد ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: یہ ٹرانسل

مرزا ناصر احمد: اس میں تو

جناب یحییٰ بختیار: نہیں،

مرزا ناصر احمد: نہیں، لیکن حوالے جتنے چاہیں نکال کے لا دیتا ہوں

جناب یحییٰ بختیار: بس ۔

مرزا ناصر احمد: (اپنے وف متعلق ہمیں لانے ہیں۔

(جو مسلمان ہو

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، تو اس کے ساتھ ہی میں نے

صفحہ ٨٣٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

مرزا ناصر احمد: پندرہ؟

جناب یحییٰ بختیار: ہاں۔ میں آپ کو بتاتا ہوں ناں جی ......

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، وہ تو پھر یعنی اگر تو ہماری طرف سے سہو ہوا ہے ......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، آپ نے نوٹ کئے ہوئے ہیں ......

776

مرزا ناصر احمد: ہاں۔

جناب یحییٰ بختیار: ...... مگر یہ کہ آپ بھی کام کرتے رہے ہیں۔ ہم بھی کام کرتے رہے ہیں تو یہ چیز رہ گئی ہے کہ ابھی تو ممکن ہے کہ آپ نے تیار کئے ہوں یا نوٹ کئے ہوں ......

مرزا ناصر احمد: ہاں، بعض ہیں، بعض ہیں میرے سامنے۔

جناب یحییٰ بختیار: تو یہ آپ فی الحال مجھے اس کا یہ بتا دیں صاحبزادہ صاحب! اگر آپ تیار ہیں ......

مرزا ناصر احمد: (اپنے وفد کے ایک رکن سے) یہ قول ”الفضل“ ہے

جناب یحییٰ بختیار: مجھے یاد نہیں۔

مرزا ناصر احمد: ہمارا خیال ہے ...... بعض ہمارے ڈیلی گیشن کے ایک دو ممبرز کا خیال ہے کہ کل اس کا جواب مل چکا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں، نہیں آیا۔

مرزا ناصر احمد: نہیں آیا؟ وہ کون سا تھا؟ ٹھیک ہے، یہ صفحہ کونسا ہے؟

جناب یحییٰ بختیار: آپ نے کہا کہ بشیر الدین محمود صاحب کا نہیں ہے۔ بشیر احمد صاحب کا ہے یہ۔

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں۔

جناب یحییٰ بختیار: ایک تو آپ نے وہ اتھارٹی جس کو آپ نے Reject کر دیا ہے۔

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، وہ تو بالکل Rejected ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں، یہ وہ نہیں ہے۔

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں ۔ یہ کیا ہے؟

جناب یحییٰ بختیار: وہ جو ہے ناں جی، وہ میں آپ کو پڑھ کر سناتا ہوں۔ یہ انہوں نے کہا تھا کہ بعض لوگوں کا یہ خیال ہے کہ جب مرزا صاحب اپنی تحریروں میں لکھتے ہیں ”مسلمان“ تو

١١٢

صفحہ ٨٣٩

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

ان کا مطلب مسلمان، کہتے ہیں نہیں۔ ان کا مطلب وہ لوگ جو مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔

مرزا ناصر احمد: نہیں، یہ نہیں۔ یہ تو میرے ذہن میں بھی نہیں۔ یہ حوالہ تو میرے ذہن میں بھی نہیں آ رہا۔

777

جناب یحییٰ بختیار: یہ ایک اور کتاب سے تھا۔ ابھی اور کتاب ہے۔ ”کلمتہ الفضل“، صفحہ ١٤۔ یہ لکھا ہے: ”معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود کو بھی بعض......“

مرزا ناصر احمد: یہ صفحہ کون سا ہے؟

جناب یحییٰ بختیار: صفحہ ١٤، جی، جلد...... صفحہ ١٢٦، جلد ١٤، ”ریویو آف ریلیجن۔“

مرزا ناصر احمد: جی، یہاں کیا ہے؟

جناب یحییٰ بختیار: یہ جی ١٢٦، صفحہ پہ۔ آخری آٹھ دس لائنیں جو ہیں......

مرزا ناصر احمد: جی۔

جناب یحییٰ بختیار: ...... وہاں آتا ہے کہ: ”حضرت مسیح موعود کو بھی بعض اوقات اس بات کا خیال آیا ہے کہ کہیں میری تحریروں میں غیر احمدیوں کے متعلق مسلمان کہنا، دیکھ کر مسلمان دھوکہ نہ کھائیں۔ اس لئے میں نے کہیں کہیں بطور ازالہ کے غیر احمدیوں کے متعلق ایسے الفاظ لکھ دیئے کہ وہ لوگ جو اسلام کا دعویٰ کرتے ہیں جہاں کہیں بھی مسلمان کا لفظ ہو، اس سے مدعی اسلام سمجھا جاوے، نہ کہ حقیقی مسلمان۔“

(کلمتہ الفضل ص ١٢٦، ریویو آف ریلیجن ج ١٤ نمبر ٣-٤، بابت مارچ، اپریل ١٩١٥ء)

مرزا ناصر احمد: یہ تو بڑی لمبی چوڑی بحث ہو گئی۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، یہ میں نے...... اگر اب نہیں تو کل کر لیجئے اس پر۔

مرزا ناصر احمد: یہ الفاظ جو آپ نے پڑھے ہیں وہ تو ہیں یہاں۔

جناب یحییٰ بختیار: میں یہ کہہ رہا ہوں......

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، یہ ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: ...... کہ یہاں مسلمان سے مطلب یہ ہے کہ مسلمان، جو مرزا صاحب کہتے ہیں کہ مسلمان......

مرزا ناصر احمد: نہیں میں نے یہ کہا ہے کہ جو الفاظ آپ نے پڑھے ہیں، وہ یہاں ہیں؟

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، وہ ہیں۔

١١٣

PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

مرزا ناصر احمد: پندرہ؟

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، ہاں

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں

جناب یحییٰ بختیار: نہیں

776

مرزا ناصر احمد: ہاں۔

جناب یحییٰ بختیار: ...... گـ رہے ہیں تو یہ چیز رہ گئی ہے کہ ابھی تو ممکن

مرزا ناصر احمد: ہاں، بعض

جناب یحییٰ بختیار: تو یہ آ آپ تیار ہیں......

مرزا ناصر احمد: (اپنے وفد

جناب یحییٰ بختیار: مجھے یا

مرزا ناصر احمد: ہمارا خیال ہے کہ کل اس کا جواب مل چکا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں

مرزا ناصر احمد: نہیں آیا؟

جناب یحییٰ بختیار: آپ صاحب کا ہے۔ یہ۔

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں،

جناب یحییٰ بختیار: ایک تو آ

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں،

جناب یحییٰ بختیار: نہیں

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں

جناب یحییٰ بختیار: وہ جو۔ کہا تھا کہ بعض لوگوں کا یہ خیال ہے کہ جـ

صفحہ ٨٤٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

778 مرزا ناصر احمد : ...... لیکن میں ان کی تصدیق نہیں کر رہا ہوں ١۔ معنوی لحاظ سے، لفظی تصدیق کر رہا ہوں۔ جناب یحییٰ بختیار : لفظی تصدیق آپ کر رہے ہیں؟ مرزا ناصر احمد : جی ہاں، لفظی تصدیق کر رہا ہوں۔ جناب یحییٰ بختیار : بس فی الحال وہ ...... پھر بعد میں جو ...... مرزا ناصر احمد : اپنے وفد کے ایک رکن سے نوٹ کرلو۔ یہاں نشان لگالو۔ جناب یحییٰ بختیار : اور پھر یہ میں نے ایک اور حوالہ ...... تاکہ ساتھ ہی اگر آپ کو یاد رہے۔ مرزا ناصر احمد : جی۔ جناب یحییٰ بختیار : ...... کیونکہ کل ...... مرزا ناصر احمد : ہاں جی۔ جناب یحییٰ بختیار : ...... پھر اس چیز کو Repeat کروں گا تو آپ کو شاید ممکن ہے جواب تیار ہو: ”تم ایک دوسرے فرقوں کو“ کیونکہ میں Connect کر رہا ہوں۔ پہلے میں نے آپ سے عرض کیا کہ مرزا صاحب کہتے ہیں کہ جنہوں نے میری دعوت سے انکار کیا‘ یہ مطلب مسلمان تھے۔ مگر آپ کہتے ہیں کہ مسلمان نہیں تھے۔ یہ جو باتیں کہی ہیں عیسائیوں کے بارے میں ۔ ”خنزیر“ وغیرہ جو آیا ہے ...... مرزا ناصر احمد : جی۔ جناب یحییٰ بختیار : ...... پھر میں نے عرض کیا، اچھا، اگر وہ ہے تو مسلمانوں کے بارے میں انہوں نے یہ کہا: ”کل مسلمانوں نے، میری دعوت قبول کر لی سوائے ......“ تو پھر آپ ...... مرزا ناصر احمد : نہیں، میں ...... ہاں، ہاں ...... جناب یحییٰ بختیار : ...... تاکہ میں ...... 779 مرزا ناصر احمد : میں بولتا نہیں ٢۔

١۔ بت کدہ میں کافر کی زناری بھی دیکھ۔ ٢۔ کیوں، بولتی بند ہوگئی صاحب؟

١١٤

صفحہ ٨٤١

KISTAN 9th Aug, 1974 No:05

778 مرزا ناصر احمد: ...... لفظی تصدیق کررہا ہوں۔

جناب یحییٰ بختیار: لفظی

مرزا ناصر احمد: جی ہاں۔

جناب یحییٰ بختیار: بس

مرزا ناصر احمد: اپنے فا

جناب یحییٰ بختیار: اور پ

مرزا ناصر احمد: جی۔

جناب یحییٰ بختیار: ......

مرزا ناصر احمد: ہاں جو

جناب یحییٰ بختیار: ...... جواب تیار ہو: ”تم ایک دوسرے فرقے آپ سے عرض کیا کہ مرزا صاحب مسلمان تھے۔ مگر آپ کہتے ہیں کہ میں ”خنزیر“ وغیرہ جو آیا ہے......

مرزا ناصر احمد: جی۔

جناب یحییٰ بختیار: بارے میں انہوں نے یہ کہا: ”کل مس تو پھر آپ......

مرزا ناصر احمد: نہیں

جناب یحییٰ بختیار:

779 مرزا ناصر احمد: ہ

اے بت کدہ میں کافر کی ب
٢؎ کیوں، بولتی بند ہوگ

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

Mr. Yahya Bakhtiar: I have got to be very fair, Mirza sahib, so that I am not misunderstood and you are not misunderstood.

(جناب یحییٰ بختیار: مجھے صاف بات کرنی ہے، مرزا صاحب تاکہ نہ مجھے غلط سمجھا جائے اور نہ آپ کو) پھر میں نے کہا ”کل مسلمانوں“ کا ڈائریکٹ نام آگیا، ڈائریکٹ ذکر آگیا کہ انہوں نے میری دعوت قبول کرلی اور میری تصدیق کرلی، سوائے ان کے...... جو ابھی آپ عربی میں ان کا ترجمہ کریں گے۔

مرزا ناصر احمد: ٹھیک ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: پھر اس کے بعد آپ نے یہ کہا کہ......

مرزا ناصر احمد: یہ میں نے یہ نہیں کہا کہ یہ ”کرلی“، میں نے کہا ”کرلیں گے“۔

جناب یحییٰ بختیار: میں نے یہ کہا۔

مرزا ناصر احمد: آپ نے یہ کہا اور میں نے اس کا یہ جواب دیا۔

جناب یحییٰ بختیار: اس کے بعد پھر میں نے آپ کی توجہ دلائی کہ اگر ”مسلمانوں“ سے آپ کا مطلب ”مسلمان“ ہے تو بشیر احمد صاحب، بشیر احمد صاحب جو کہہ رہے ہیں کہ مرزا صاحب جب ”مسلمان“ کا لفظ استعمال کرتے ہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں...... لفظی معنی، باقی معنی تو اور ہوں گے...... ”مسلمان“ کا مطلب مسلمان نہیں۔ ”مسلمان“ کا مطلب وہ لوگ ہیں جو مسلمان بننے کا دعویٰ کرتے ہیں، الفاظ میں۔ یہ آگیا۔ آپ نے کہا کہ لفظی ٹھیک ہے۔ مگر اصل معنی یہ نہیں ہیں۔ وہ تو آپ تفصیل بتادیں گے۔

اب میں یہاں آپ سے کہہ رہا ہوں کہ دعویٰ جب آگیا اسلام کا، اور پھر Next میرا یہ آتا ہے: ”تمہیں دوسرے فرقوں کو جو دعویٰ اسلام کا کرتے ہیں، یہ کلی ترک کرنا پڑے گا“۔ وہ کہتے ہیں کہ ”میں نے بعض دفعہ ”مسلمان“ لفظ استعمال کیا اور بعض دفعہ یہ استعمال کیا ”دعویٰ اسلام کا کرتے ہیں“...... یہ حاشیہ ”تحفہ گولڑویہ کے صفحہ ٢٧“ پر...... تو اس پر بھی آپ نے اگر جواب تیار نہیں ہے......

مرزا ناصر احمد: میں ابھی دیکھ لیتا ہوں۔ یہ وہی ١٢٦ کے اوپر ہے؟

780 جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی، یہ میرے...... یہ صفحہ ٢٧......

مرزا ناصر احمد: کس کتاب کا ہے یہ؟

١١٥

صفحہ ٨٤٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

جناب یحییٰ بختیار: حاشیہ ”تحفہ گولڑویہ“ صفحہ ٢٧۔ مرزا ناصر احمد : ہاں، یہ چیک کرلیں گے۔ جناب یحییٰ بختیار : ہاں ، چیک کر لیں آپ۔ مرزا ناصر احمد : ہاں۔ پھر (اپنے وفد کے ایک رکن سے ) لکھیں جی۔

(ولدالحرام بننے کا شوق، مرزا قادیانی کی گالی)

جناب یحییٰ بختیار : اور پھر میں نے، مرزا صاحب! میں نے یہ بھی عرض کیا تھا کہ ”انوار الاسلام“ صفحہ ٣٠، خزائن ج ٩ ص ٣١ پر: ”جو ہماری فتح کا قائل نہیں ہوگا تو صاف سمجھا جائے گا کہ اس کو ولد الحرام بننے کا شوق ہے۔“ یہ آپ نے نوٹ کیا تھا اس دن۔

مرزا ناصر احمد : جی، یہ میں دیکھ رہا ہوں ۔ (اپنے وفد کے ایک رکن سے ) ہاں، وہ کہاں ہے؟ (اٹارنی جنرل سے ) ہاں جی ، یہ ہے۔

جناب یحییٰ بختیار : جی ، اس کا جواب تیار ہے؟

مرزا ناصر احمد : میں دیکھتا ہوں ، شاید تیار اس میں ہو نوٹ ۔

جناب یحییٰ بختیار : پھر اکٹھے تینوں دیجئے ......

مرزا ناصر احمد : نہیں، دیکھ لیتے ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار : ......کیونکہ ایک اور میں پڑھ کے میں سنا دیتا ہوں تاکہ ......

مرزا ناصر احمد : نہیں، یہ ”ولد الحرام“ اور ”ذریۃ البغایا“ کا یہ نوٹ ہے۔ مل گیا۔ یہ فرماتے ہیں ”انوار الاسلام“ میں: ”اگر کسی کو ایسا ہی اسلام سے بغض اور عیسائیت کی طرف میل ہے اور بہر صورت عیسائیوں کو فتح یاب بنانا چاہتا ہے تو اس راہ کے سوا اور تمام راہیں بند ہیں۔ نہ ہم کسی کو ولد الحرام کہتے ، حرام زادہ نام رکھتے۔ بلکہ جو شخص ایسے سیدھے اور صاف فیصلے کو چھوڑ کر زبان درازی سے باز نہیں رہے گا وہ آپ یہ تمام نام اختیار کرے گا۔“

781”ہم نہیں کہتے ۔ اور ”ذریۃ البغایا“......

جناب یحییٰ بختیار : ”جو مجھے کہتا ہے وہ ہے یہ؟“

مرزا ناصر احمد : نہیں، نہیں......

جناب یحییٰ بختیار : یہ...... کا فتویٰ......

مرزا ناصر احمد : نہیں، نہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ مثلاً ذریۃ البغایا ہے۔ اس کے

١١٦

صفحہ ٨٤٣

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

معنی ہیں ”سرکش“ آپ نے لکھے ہیں خود سرکش، آپ نے خود لکھے ہیں، بانی سلسلہ نے۔ لیکن اگر کوئی شخص اب ہی کہے: ”نہیں جی، اس کے معنی ولد الحرام کے ہیں“ تو اس کا علاج بانی سلسلہ کے پاس نہیں، نہ میرے پاس اور نہ کسی اور کے پاس۔ تو جس معنی میں لکھنے والا کہتا ہے میں نے اس کو استعمال کیا ہے۔ اس معنی کو چھوڑنا نہیں چاہئے ......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، یہاں تو، مرزا صاحب! یہاں تو سوال یہ ہوتا ہے کہ ......

مرزا ناصر احمد: ...... اور ابھی میں نے آپ کو حوالہ پڑھ کر سنایا تھا ......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں تو کہتا ہوں ......

مرزا ناصر احمد: (اپنے وفد کے ایک رکن سے) وہ کہاں ہے؟

جناب یحییٰ بختیار: ”جو ہماری فتح کا قائل نہیں ہوگا تو صاف سمجھا جائے گا کہ اس کو ولد الحرام بننے کا شوق ہے“۔ یہ سارا اسی Context میں ہے۔

مرزا ناصر احمد: جو شخص یہ کہتا ہے ...... اصل میں اس میں یہ دقت پڑ گئی ہے کہ ”ہماری فتح“ سے مراد لی جاتی ہے بانی سلسلہ احمدیہ کی فتح اور ہم مراد لیتے ہیں اسلام کی فتح۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، مرزا صاحب! میں اس واسطے ...... اس کے لئے میں نے آپ کی توجہ ایک اور حوالے کی طرف اسی کے ساتھ پڑھ کے سنائی تھی۔ وہ ہے آپ کے خلیفہ ثانی کا کہ: ”ہم فتح یاب ہوں گے اور ضرور تم مجرموں کی طرح ہمارے سامنے پیش ہو گے اور اس وقت تمہارا حشر بھی وہی ہوگا جو فتح مکہ کے دن ابو جہل اور اس کی پارٹی کا ہوا“ میں نے ......

782

مرزا ناصر احمد: اس جواب ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی، میں نے ......

مرزا ناصر احمد: نہیں، اس کا جواب میرے پاس تیار ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: ٹھیک ہے، پڑھ کے سنائیے۔

مرزا ناصر احمد: یہ ہے ہی نہیں۔

اٹارنی جنرل ......

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، بنایا ہوا ہے۔ جس ...... جو حوالہ جس اخبار کا دیا ہے۔ اس میں ہے ہی کوئی نہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: یہ جو میں نے آپ کو پڑھ سنایا جی؟

مرزا ناصر احمد: یہ ”الفضل“ ١٣...... ٣؍جولائی ١٩٥٢ء کا آپ نے حوالہ دیا ہے؟

١١٧

OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

جناب یحییٰ بختیار: حاشیہ ”تحفہ

مرزا ناصر احمد: ہاں، یہ چیک ک

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، چیک

مرزا ناصر احمد: ہاں۔ پھر (اپ

(ولد الحرام بننے کا ش

جناب یحییٰ بختیار: اور پھر میں ”انوار الاسلام“ صفحہ ٣٠، خزائن ج ٩ ص ٣١ کہ اس کو ولد الحرام بننے کا شوق ہے“ یہ آپ

مرزا ناصر احمد: جی، یہ میں دی کہاں ہے؟ (اٹارنی جنرل سے) ہاں جی، یہ

جناب یحییٰ بختیار: جی، اس کا

مرزا ناصر احمد: میں دیکھتا ہوں

جناب یحییٰ بختیار: پھر اکٹھے خ

مرزا ناصر احمد: نہیں، دیکھ لیتا

جناب یحییٰ بختیار: ...... کیونکہ

مرزا ناصر احمد: نہیں، یہ ”ولد ا فرماتے ہیں ”انوار الاسلام“ میں: ”اگر کسی ک ہے اور بہر صورت عیسائیوں کو فتح یاب بنانا چا کسی کو ولد الحرام کہتے ، حرام زادہ نام رکھتے زبان درازی سے باز نہیں رہے گا وہ آپ یہ ق 781 ہم نہیں کہتے ۔ اور ”ذریۃ البغا

جناب یحییٰ بختیار: ”جو مجھے ک

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں ......

جناب یحییٰ بختیار: یہ ...... کا لغو

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں اس

صفحہ ٨٤٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی۔ مرزا ناصر احمد: ٹھیک ہے ناں؟ جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی۔ مرزا ناصر احمد: یہ ”الفضل“ ١٣.....٣ جولائی ١٩٥٢ء کا آپ نے حوالہ دیا ہے؟ جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی۔ مرزا ناصر احمد: ٹھیک ہے ناں؟ جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی۔ مرزا ناصر احمد: یہ ”الفضل“ ١٣.....٣ جولائی ١٩٥٢ء میں اس نوعیت کا کوئی حوالہ موجود ہی نہیں۔ جناب یحییٰ بختیار: کسی اور ”الفضل“ میں ہے یا نہیں؟ مرزا ناصر احمد: ہمارے علم میں نہیں١؂۔

(محمد پھر اتر آئے ہم میں، پر پھر بحث)

جناب یحییٰ بختیار: اچھا مرزا صاحب! اس پر ایک اور بات مجھے یاد آگئی۔ پیشتر اس کے کہ یہ مضمون ختم ہو۔ آپ نے اس دن فرمایا کہ جو قصیدہ مرزا صاحب کی تعریف میں اکمل

١؂ دنیائے انصاف میں مرزا ناصر احمد جیسا ضدی، مکار اور عیار شاید کوئی ہو؟ یہ حوالہ ٣/ جولائی ١٩٥٢ء کا نہیں۔ نقل در نقل میں ٣/ جنوری، ٣/ جولائی ہو گیا۔ اس پر مرزا ناصر چکر در چکر کاٹ کر لومڑی کی بھٹ میں گھسنے کے درپے ہے۔ مرزا ناصر احمد تو حساب کتاب چکا گیا۔ تاہم قادیانیوں سے درخواست ہے کہ ٣/ جنوری ١٩٥٢ء اخبار الفضل لاہور ص٣۔٤ پر ہے ”گو ہماری ہر جگہ مخالفت کی جاتی ہے لیکن ذرا غور کرو......... اور اپنی اکثریت کے زعم میں دوسروں سے بہ جبر اپنے مسلک کو منوانے کی کوشش کرتا ہے..... تم اس قسم کی باتیں انگریزوں اور ہندوؤں کے متعلق کیوں نہیں کہتے یہ محض اکثریت میں ہونے کا نتیجہ ہے کہ تم ایسی باتیں کر رہے ہو۔ لیکن غور کرو کیا ابو جہل کی بھی یہی دلیلیں نہیں تھیں..... آخر آج جو دلیل تم دیتے ہو کیا وہی دلائل ابو جہل نہیں دیا کرتا تھا..... جب محمد رسول اللہ ﷺ نے مکہ فتح کیا اور اکثریت کا گھمنڈ کرنے والے لوگ آپ ﷺ کے سامنے پیش ہوئے تو آپ ﷺ نے انہیں فرمایا بتاؤ اب تمہارے ساتھ کیا سلوک کیا جائے..... میں بھی کہتا ہوں کہ اس دن جب تمہارا اکثریت میں ہونے کا غرور ٹوٹ جائے گا..... تو خود اس وقت میں ہوں یا میرا قائمقام تم سے وہی سلوک کیا جائے گا۔

١١٨

صفحہ ٨٤٥

845 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

صاحب نے لکھا 783 میں نے کہا کہ یہ مرزا کی موجودگی میں...... جو مجھے Instructions ملی تھیں اور مجھے کہا گیا تھا...... کہ مرزا صاحب کی موجودگی میں سنایا گیا اور انہوں نے ”جزاک اللہ“ کہا۔ تو آپ نے کہا ”نہیں، یہ بات غلط ہے۔ یہ اس کے سامنے کبھی نہیں سنایا گیا اور اس بات کی تردید ہو چکی ہے۔“

مرزا ناصر احمد: جی، اور خود جو یہ لکھنے والے ہیں قاری اکمل صاحب......

جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی؟

مرزا ناصر احمد: ......ان کی طرف سے بھی تردید ہو جانے کے گواہ ہیں ہمارے پاس......

جناب یحییٰ بختیار: تو وہ انہوں نے تردید......

مرزا ناصر احمد: ......اور، اور......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، یعنی آپ نے کہا تردید ہو چکی ہے۔ میں......

مرزا ناصر احمد: ہاں۔

جناب یحییٰ بختیار: ......وہ مجھ سے پوچھ رہے ہیں کیا ہوئی تردید؟ تو آپ نے کوئی نوٹ کیا ہوگا؟

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں ٹھیک ہے۔ یہ، یہ مجھے یاد تھا کہ انہوں نے مجھے کہا تھا کہ وہ میرے پاس ہے حوالہ۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی، جو تو آپ نے کہا کہ...... تو ان کے پاس ہوگا وہ۔ یہ ”بدر“ اخبار ہے جس میں وہ نظم چھپی ہے۔ مگر یہ بات جو میں نے کہی......

مرزا ناصر احمد: ہاں، وہ تردید اور چیز ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، وہ میں نے کہا، آپ نے کہا کہ تردید کی تھی کہ مرزا صاحب کی موجودگی میں یہ ہوا اور مرزا صاحب......

مرزا ناصر احمد: ہاں، یہ تردید ہو چکی ہے۔ یہ (اپنے وفد کے ایک رکن سے) کچھ نروس سے ہیں۔ یہ لے کے آئے ہوئے تھے۔ مجھے انہوں نے بتایا تھا کہ میں لے کے جا رہا ہوں۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں نے تو...... اس کے بعد مجھے پھر پوچھا گیا۔

784 مرزا ناصر احمد: اس کی تردید ہوئی ”الفضل“ ١٩؍اگست ١٩٣٣ء میں۔

جناب یحییٰ بختیار: کس نے کی ہے؟

مرزا ناصر احمد: خلیفہ ثانی نے، جو اتھارٹی تھے اپنے وقت میں۔

١١٩

9th Aug, 1974 No:05

جناب یحییٰ بختیار:

مرزا ناصر احمد:

جناب یحییٰ بختیار:

مرزا ناصر احمد:

جناب یحییٰ بختیار:

مرزا ناصر احمد:

جناب یحییٰ بختیار:

مرزا ناصر احمد: موجود ہی نہیں۔

جناب یحییٰ بختیار:

مرزا ناصر احمد: )

جناب یحییٰ بختیار: اس کے کہ یہ مضمون ختم ہو۔

اے دنیائے انسان جولائی ١٩٥٢ء کا نہیں۔ نقل کاٹ کر لومڑی کی بھٹ میں قادیانیوں سے درخواست ہے جگہ مخالفت کی جاتی ہے لیکن اپنے مسلک کو منوانے کی کو کیوں نہیں کہتے یہ محض ایک ابوجہل کی بھی یہی دلیلیں تھیں کرتا تھا ...... جب محمد رسول آپ ﷺ کے سامنے پیش کیا جائے ...... میں بھی کہتا گا ...... تو خود اس وقت میں

صفحہ ٨٤٦

846 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

جناب یحییٰ بختیار: انہوں نے کہا کہ ان کی موجودگی میں نہیں ہوئی ہے؟

مرزا ناصر احمد: انہوں نے کہا کہ یہ ساری ہے ہی غلط۔ انہوں نے یہ کہا: ”اگر اس کا مطلب یہ ہے کہ درجہ میں بڑے ہیں تو یقیناً کفر ہے۔“ بڑی سخت تردید کی ہے۔ لیکن اگر مراد یہ ہے کہ اس زمانے میں اشاعت دین زیادہ ہوئی تو یہ قرآن کریم کے......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، مرزا صاحب! میرا سوال ہی مختلف تھا۔ اسی واسطے...... کیا یہ نظم مرزا صاحب کی موجودگی میں پڑھی گئی؟ آپ نے کہا ”نہیں“......

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، میں کہتا ہوں......

جناب یحییٰ بختیار: ......وہ تو دوسری بات ہو جاتی ہے کہ اس کا مطلب کیا ہے۔ نظم کا۔ دیکھئے ناں جی......

مرزا ناصر احمد: خلیفہ ثانی نے کہا کہ کفر ہے، جس معنی میں لیا جارہا ہے ناں۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں نہیں، میں وہ نہیں کہہ رہا۔ میرا سوال......

مرزا ناصر احمد: میں ویسے ہی بات کر رہا ہوں۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی، وہ تو ٹھیک ہے۔ تو آپ......

مرزا ناصر احمد: خلیفہ ثانی نے کہا یہ کفر ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: یہ مطلب جو ہے، کفر ہے؟

مرزا ناصر احمد: ہاں، وہی ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: اگر اس مطلب میں لفظی......

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، یہ کفر ہے......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میرا سوال یہ اور تھا۔

785 مرزا ناصر احمد: ......اور میں یہ کہتا ہوں کہ بانی سلسلہ احمدیہ کے سامنے یہ نظم پڑھی جاتی اور وہ اس کو سنتے تو اس شخص کو جماعت سے باہر نکال دیتے۔

١؎ فقیر راقم پہلے ٢٢؍اگست ١٩٢٤ء الفضل قادیان ج ١٢ نمبر ١٩ ص ٤ کے حوالہ سے پہلے حوالہ دے چکا ہے کہ ”یہ نظم مرزا کی موجودگی میں پڑھی گئی۔ مرزا خوشخط قطعہ گھر لے گیا۔ نظم سن کر ”جزاک اللہ“ کہا۔“ اب مرزا ناصر انکاری ہے تو سوائے قرآنی آیت ”لعنت اللہ علی الکاذبین“ پڑھنے کے اور ہم کیا کر سکتے ہیں؟ دنیا میں انصاف نام کی کوئی چیز ہے تو اسے میں دھائی دیتا ہوں کہ حوالہ پڑھ کر فیصلہ کریں مرزا ناصر کذاب ابن کذاب تھا۔

١٢٠

صفحہ ٨٤٧

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

جناب یحییٰ بختیار: تو پھر یہ انہی کی حیات میں ”البدر“ میں شائع ہوا اور ان کو جماعت سے نہیں نکالا گیا۔

مرزا ناصر احمد: ان کے علم میں نہیں آیا ہوگا۔ اب اس وقت ”الفضل“ پچھلے دس سال......

جناب یحییٰ بختیار: ١٩٠٣ء، ١٩٠٦ء میں شائع ہوا۔ مرزا صاحب کا دو سال بعد...... ”بدر“ ہے۔ یہ ٢٥؍اکتوبر کے ”البدر“ میں شائع ہوا ہے۔

مرزا ناصر احمد: ”بدر“ میں شامل...... شائع ہوا ہے۔ اور ہم نے...... اس کے بعد جو ”بدر“ کے سارے جو پرچے ہیں ناں، ان میں سے ہم نہیں گزرے۔ اُس تردید کی تلاش میں، اس کے لئے وقت چاہئے۔

جناب یحییٰ بختیار: تو میں پھر آپ کی توجہ کے لئے...... یہ مجھے دکھا دیجئے۔ میرا خیال ہے......

(To Maulana Muhammad Zafar Ahmed Ansari)

Ansari Sahib, if you don't mind, you read it, because I am tired.

(مرزا ناصر سے) یہ ایک لمبا مضمون ہے۔ اسی سلسلے میں ”الفضل“ میں، وہ آپ کو پڑھ کر سنا دیتے ہیں۔

مرزا ناصر احمد: یہ ”الفضل“ کا نمبر کیا ہے؟ پرچہ کون سا ہے؟

ایک رکن: ”الفضل“ مورخہ ٢٢؍اگست ١٩٣٤ء۔

جناب یحییٰ بختیار: ١٩٣٣ء کے بعد ١٩٣٤ء کی بات ہے اور میرے خیال میں اکمل صاحب کی طرف سے یہ کوئی......

مولانا محمد ظفر احمد انصاری: اس میں اس کی سرخی ہے: ”کیا مولوی محمد علی صاحب سراسر غلط اور بے بنیاد الزام واپس لیں گے؟ اخبار ”الفضل“ ١٣؍اگست ١٩٣٤ء میں یہ وضاحت سے بتایا گیا ہے کہ جس شعر کے مفہوم کو مولوی محمد علی صاحب نے بہ ایں الفاظ: ’اندر بیٹھ کر یہی سبق دیا جاتا تھا۔‘

786 اور اسی کو پڑھ کر شاعر نے کہا تھا کہ ایک حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ دنیا میں آئے ہیں تو پہلے سے بڑھ کر شان میں آئے ہیں۔ (پیغام صلح نمبر ٣٠، ٢؍اگست ١٩٣٤ء) بگاڑ کر خلافت ثانیہ کی تعلیم و تربیت کا نتیجہ قرار دیا ہے اور اس نظم کا ایک حصہ ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے

١٢١

ISTAN 9th Aug, 1974 No:05

جناب یحییٰ بختیار: اِ

مرزا ناصر احمد: انہوں کا مطلب یہ ہے کہ درجہ میں بڑے ہے کہ اس زمانے میں اشاعت دین

جناب یحییٰ بختیار: کیا یہ نظم مرزا صاحب کی موجودگی میں

مرزا ناصر احمد: ہاں،

جناب یحییٰ بختیار: کا۔ دیکھئے ناں جی......

مرزا ناصر احمد: خلیفہ

جناب یحییٰ بختیار: غ

مرزا ناصر احمد: میں و

جناب یحییٰ بختیار: ہا

مرزا ناصر احمد: خلیفہ

جناب یحییٰ بختیار: ی

مرزا ناصر احمد: ہاں،

جناب یحییٰ بختیار: آ

مرزا ناصر احمد: ہاں،

جناب یحییٰ بختیار: غ

785 مرزا ناصر احمد: پڑھی جاتی اور وہ اس کو سنتے تو اس شخص

١؎ فقیر راقم پہلے ٢٢؍اگس پہلے حوالہ دے چکا ہے کہ ”یہ نظم مرزا کر ”جزاک اللہ“ کہا۔ ”اب مرزا نا پڑھنے کے اور ہم کیا کر سکتے ہیں؟ دو کہ حوالہ پڑھ کر فیصلہ کریں مرزا ناصر

صفحہ ٨٤٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

حضور میں پڑھی گئی اور خوش خط لکھے ہوئے قطعہ کی صورت میں پیش کی گئی اور حضور اسے اپنے ساتھ اندر لے گئے ۔ اس وقت کسی نے اس شعر پر اعتراض نہیں کیا ......؟“

مرزا ناصر احمد : یہ جب پڑھ لیں گے تو کرلیں گے۔

مولانا ظفر احمد انصاری : ”......حالانکہ......“

مرزا ناصر احمد : اچھا سنا دیجئے۔

مولانا محمد ظفر احمد انصاری : ”......حالانکہ مولوی محمد علی صاحب اور اعوانہم موجود تھے اور جہاں تک حافظہ مدد کرتا ہے، بوثوق کہا جاسکتا ہے کہ سن رہے تھے۔ اگر وہ اس پر بوجہ مرور زمانہ انکار کریں تو یہ نظم ”بدر“ میں چھپی اور شائع ہوئی۔ اس وقت ”بدر“ کی پوزیشن وہی تھی، بلکہ اس سے کچھ بڑھ کر تھی جو اس عہد میں جو ”الفضل“ کی ہے۔ حضرت مفتی محمد صادق صاحب ایڈیٹر سے ان لوگوں کے محبانہ و بے تکلفانہ تعلقات تھے۔ وہ خدا کے فضل سے زندہ موجود ہیں۔ ان سے پوچھ لیں اور خود کہہ دیں کہ آیا آپ میں سے کسی نے بھی اس پر ناراضی یا ناپسندیدگی کا اظہار کیا؟ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا شرف سماعت حاصل کرنے اور ”جزاکم اللہ تعالیٰ“ کا صلہ پانے اور اس قطعہ کو اندر خود لے جانے کے بعد کسی کو حق ہی کیا پہنچتا تھا کہ اس پر اعتراض کر کے اپنی کمزوری ایمان و قلت عرفان کا ثبوت دیتا۔ اس واقعہ سے صاف ظاہر ہے کہ اس وقت اس شعر کے وہی معنی سمجھے گئے جو ”خطبہ الہامیہ“ کی عبارت کے ہیں اور جو ”الفضل“ میں مع ترجمہ شائع کئے جاچکے ہیں۔ اس کے بعد کسی غیر احمدی اخبار نے بھی کچھ نہیں لکھا اور شیخ رحمت اللہ صاحب، مرزا یعقوب بیگ صاحب، سید محمد حسین صاحب ......“

787 مرزا ناصر احمد : ”خطبہ الہامیہ“ کا اس میں کوئی حوالہ ہے؟ صفحہ؟

مولانا محمد ظفر احمد انصاری : ......”خواجہ کمال الدین صاحب، جب قادیان آتے تو حضرت مفتی صاحب کی ملاقات کے ساتھ ہی مجھ سے بھی ملتے رہتے۔ بلکہ میرے کمرے میں بوجہ ”بدر“ کے کاروبار کے آکر بیٹھ جاتے۔ خواجہ صاحب نے مجھے کہا کہ میں حضرت صاحب (مسیح موعود) کی نظم فارسی کو اردو کا لباس پہنانا چاہتا ہوں۔ آپ اس میں شریک ہوں۔ چنانچہ اسی وقت ہم نے

بندہ است چشم خرد آب درخشان محبت را

نظم کا ترجمہ اردو شعروں میں کیا۔ ابتدائی زمانہ تھا اور میری طبیعت بھی حاضر رہتی۔ کئی شعر فی البدیہہ ہوتے اور خواجہ صاحب احسنت ومرحبا کہہ کر لکھ لیتے۔ دیر جو ہوئی تو مولوی محمد علی صاحب بھی تشریف لے آئے اور خواجہ صاحب سے شکوہ کیا کہ کام ضروری تھا اور آپ یہاں بیٹھے

١٢٢

صفحہ ٨٤٩

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

ہیں ۔ پھر خود بھی تھوڑی دیر بیٹھ گئے؟ اس واقعہ کا ذکر یہ بتانے کے لئے کیا گیا کہ گو میری ابتداء عمر تھی ۔ مگر یہ معزز اصحاب میرے پاس بیٹھنے اور آنے جانے سے احتراز نہیں کرتے تھے اور کچھ تکلف درمیان میں نہ تھا۔ اگر کوئی امر ناپسندیدہ ہوتا تو مجھے کہہ سکتے تھے مفتی صاحب سے کہہ کہ اس کی تردید یا کم از کم تشریح یا مجھے تنبیہ کراسکتے تھے۔ خیر یہ تو ہوا میری نسبت، جہاں تک مجھ سے تعلق ہے۔ مگر یہ ثابت اور معلوم ہونے کے باوجود اس وقت برسرِ پیکار یہ لوگ تھے جو اب ”پیغامِ صلح“ سے متعلق ہیں اور حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ کی عمر ١٧ سال کی تھی۔ وہ ان پر ٣٨ سال کے بعد یہ الزام کیوں دیتے ہیں کہ آپ کی تعلیم کے نتیجے میں یہ شعر کہا گیا۔ حالانکہ یہ شعر ”خطبہ الہامیہ“ کو پڑھ کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانے میں کہا گیا اور ان کو سنا بھی دیا گیا اور چھاپا بھی گیا۔ پس کیا مولوی محمد علی صاحب تسلیم کریں گے کہ الزام لگانے میں وہ حق بجانب نہیں ہیں اور صفائی کے ساتھ اسے واپس لیں گے۔ جس کے نیچے دراصل وہ خود آتے ہیں۔

یہ ”بینوا و توجروا“ 788 معمہ کوئی حدیث الاحد حل نہیں کر سکتا اور نہ شیخ انعام الحق حل کر سکتے ہیں جو اسلام کے بارے میں اپنی عملی رائے دے کر اپنی حیثیت اور درائت فہم واضح کرچکے ہیں اور نہ شیخ عبدالرحمن صاحب مصری کا منصب ہے، کیونکہ وہ اس وقت طالب علم ہائی سکول کے تھے:

داستان اہل گل را بشنوید از عندلیب زاغ و بوم آشفتہ تر گویند ایں افسانہ را

اکمل عفی اللہ عنہ!

اور یہ نظم جو ہے، یہ نظم گویا یہ ہے ...... اب اکمل آپ بولے ...... کہ:

امام اپنا عزیزو! اس زماں میں غلام احمد ہوا دارالاماں میں
غلام احمد ہے عرش رب اکرم مکاں اس کا ہے گویا لامکاں میں
غلام احمد رسول اللہ ہے برحق شرف پایا ہے نوع انس و جاں میں
غلام احمد مسیحا سے ہے افضل بروز مصطفیٰ ہو کر جہاں میں
غلام احمد کا خادم ہے جو دل سے بلاشک جائے گا باغ جناں میں
تسلی دل کو ہو جاتی ہے حاصل یہ ہے اعجاز احمد کی زباں میں
بھلا اس معجزے سے بڑھ کے کیا ہو خدا اس قوم کا مارا جہاں میں
قلم سے جو کام کر کے دکھایا کہاں طاقت تھی یہ سیف و سناں میں
789 محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شان میں
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل غلام احمد کو دیکھے قادیاں میں

١٢٣

OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

حضور میں پڑھی گئی اور خوش خط لکھے ہوئے ساتھ اندر لے گئے۔ اس وقت کسی نے اس

مرزا ناصر احمد: یہ جب پڑھ لی

مولانا ظفر احمد انصاری: ”

مرزا ناصر احمد: اچھا سنا دیجئے

مولانا محمد ظفر احمد انصاری: تھے اور جہاں تک حافظہ مدد کرتا ہے، ہو تو مرور زمانہ انکار کریں تو یہ نظم ”بدر“ میں چھپی بلکہ اس سے کچھ بڑھ کر تھی جو اس عہد میں ایڈیٹر سے ان لوگوں کے محبانہ و بے تکلفان ان سے پوچھ لیں اور خود کہہ دیں کہ آیا آپ اظہار کیا؟ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام صلہ پانے اور اس قطعہ کو اندر خود لے جا۔ کے اپنی کمزوری ایمان وقلت عرفان کا ثبو شعر کے وہی معنی سمجھے گئے جو ”خطبہ الہام شائع کئے جاچکے ہیں۔ اس کے بعد کسی صاحب، مرزا یعقوب بیگ صاحب، سید

787 مرزا ناصر احمد: ”خطبہ ال

مولانا محمد ظفر احمد انصاری: حضرت مفتی صاحب کی ملاقات کے ساتھ کے کاروبار کے آ کر بیٹھ جاتے۔ خواجہ صاح فارسی کو اردو کا لباس پہنانا چاہتا ہوں۔ آپ

بده است چشم

نظم کا ترجمہ اردو شعروں میں شعر فی البدیہہ ہوتے اور خواجہ صاحب صاحب بھی تشریف لے آئے اور خواجہ

صفحہ ٨٥٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

غلام احمد مختار ہوکر یہ رتبہ تو نے پایا ہے جہاں میں
تیری مدحت سرائی مجھ سے کیا ہو کہ سب کچھ لکھ دیا راز نہاں میں
خدا ہے تو، خدا تجھ سے ہے واللہ تیرا رتبہ نہیں آتا بیاں میں

مرزا ناصر احمد: ہاں، پڑھ لیں اسے۔

Mr. Chairman: This file may be......This file of newspapers may be given to the witness, may be sent to him. The librarian may take this. If they can check up just now.

(جناب چیئرمین: اخبارات کی یہ فائل گواہ کو دینا لائبریرین (گواہ) کے پاس لے جائے ۔ اگر وہ اسی وقت چیک کر سکتے ہیں)

Mr. Yahya Bakhtiar: I have to refer to some other questions from it. Sir, but the dates have been noted down.

(جناب یحییٰ بختیار: مجھے کئی دوسرے سوال کرنا ہیں جن کے بارے ۔ تاریخیں نوٹ کر رکھی ہیں)

مرزا ناصر احمد: ہاں جی۔

جناب یحییٰ بختیار: Date آپ نے نوٹ کر لی ہے ناں جی اس کی؟

مرزا ناصر احمد: ہاں، یہ دوبارہ پڑھ دیجئے Dates۔

میاں محمد عطاء اللہ: یہ ”الفضل“ جو ہے جس میں وہ تردید نکلی ہے یہ صحیح ہے۔

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں۔

میاں محمد عطاء اللہ: وہ ٢٢؍اگست ١٩٢٤ء۔

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں ١٩٢٤ء۔

790میاں محمد عطاء اللہ: اور جو نظم چھپی ہے وہ ”البدر“ کے اندر اور اس کی تاریخ ہے

٢٥؍اکتوبر ١٩٠٦ء۔

مرزا ناصر احمد: ٢٥؍اکتوبر ١٩٠٦ء۔

میاں محمد عطاء اللہ: ہمارے پاس دونوں اصل موجود ہیں۔

صفحہ ٨٥١

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

مرزا ناصر احمد: جی۔ میاں محمد عطاء اللہ: آپ دیکھ لیں ان کو۔ مرزا ناصر احمد: ہاں جی۔ Mr. Chairman: It may be given to the witness. And if he can say that. (جناب چیئرمین: گواہ کو دے دیں۔ اگر وہ جواب دے سکے) Mr. Yahya Bakhtiar: No, they have got their own records. I have to refer to some other passages from this. (جناب یحییٰ بختیار: ان کے پاس اپنا ریکارڈ ہے۔ مجھے کئی اور حصوں کا حوالہ دینا ہے) Mr. Chairman: I see. (جناب چیئرمین: میں سمجھ گیا) Mr. Yahya Bakhtiar: But if they do not have it,and if they do not have the records,then,naturally...... (جناب یحییٰ بختیار: لیکن اگر ان کے پاس اپنا ریکارڈ نہ ہو تو پھر ......) جناب چیئرمین: ہاں! Mr. Yahya Bakhtiar: نہیں no,if they do not have it...... (جناب یحییٰ بختیار: (مرزا ناصر احمد سے) نہیں! اگر آپ کے پاس یہ نہ ہو......) مرزا ناصر احمد: نہیں، ہمارے پاس نہیں ہے یہ۔ جناب یحییٰ بختیار: آپ کے پاس ١٩٢٤ء کا ”الفضل“ نہیں ہوگا؟ مرزا ناصر احمد: نہیں اور یہ ”بدر“ بھی نہیں ہے۔ جناب یحییٰ بختیار: ”بدر“ میں تو صرف نظم چھپی ہے۔ وہ تو یہ آپ کو دکھا دیتے ہیں۔ مرزا ناصر احمد: ہاں۔ جناب یحییٰ بختیار: ہاں۔ Mr. Chairman: It may be shown to the witness, in original. It may be shown to the witness. Why not? Is it not shown? ١٢٥

OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

غلام احمد مختار ہو کر
تیری مدحت سرائی مجھ سے کیا ہو
خدا ہے تو، خدا تجھ سے ہے واللہ

مرزا ناصر احمد: ہاں، پڑھ لیں file may be......This file of witness, may be sent to him. ey can check up just now. (جناب چیئرمین: اخبارات جائے۔ اگر وہ اسی وقت چیک کر سکتے ہیں) : I have to refer to some the dates have been noted (جناب یحییٰ بختیار: مجھے کئی نوٹ کر رکھی ہیں) مرزا ناصر احمد: ہاں جی۔ جناب یحییٰ بختیار: Date آ مرزا ناصر احمد: ہاں، یہ دوبارہ میاں محمد عطاء اللہ: یہ ”الفضل مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں۔ میاں محمد عطاء اللہ: وہ ٢٢؍ اگست مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، ٢٤ 790 میاں محمد عطاء اللہ: اور جو ٢٥؍ اکتوبر ١٩٠٦ء۔ مرزا ناصر احمد: ٢٥؍ اکتوبر ١٩٠٦ میاں محمد عطاء اللہ: ہمارے پا

صفحہ ٨٥٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

(جناب چیئرمین: گواہ کو دکھا دیں۔ کیوں گواہ کو نہیں دکھا دیتے۔ ابھی (گواہ) کو دیں)

791 جناب یحییٰ بختیار: آپ دیکھ لیجئے۔

Mr. Chairman: Just it may be sent to the witness. The other may be also sent.

(جناب چیئرمین: ابھی صرف گواہ کو دے دیں)

میاں عطاء اللہ صاحب ان کو چھوڑ دیں ناں۔ حکم دین کو دے دیں تو یہ پہنچ جائے گی۔

مرزا ناصر احمد: یہ اخبار ”بدر“ میں جس میں یہ نظم چھپی ہے۔ اس میں یہ نوٹ نہیں ہے یہاں......

Mr. Chairman: No.

مرزا ناصر احمد: ......صرف نظم ہے یہاں۔

جناب یحییٰ بختیار: میں نے عرض کی......

مرزا ناصر احمد: جی۔

جناب یحییٰ بختیار: ......مرزا صاحب حیات تھے، ١٩٠٦ء میں، جب یہ چھپی۔

مرزا ناصر احمد: ہاں۔ ویسے اس میں نوٹ نہیں ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، کچھ بھی نہیں ہے۔

مرزا ناصر احمد: اس میں نوٹ یہ نہیں ہے......

جناب یحییٰ بختیار: مگر وہ Writer جو ہے......

مرزا ناصر احمد: ......وہ ١٩٣٤ء کا؟

جناب یحییٰ بختیار: ہاں۔

مرزا ناصر احمد: اس میں یہ ہے کہ وہ پڑھ کے سنے گئے۔

جناب یحییٰ بختیار: وہ، وہ مولوی محمد علی صاحب نے کچھ اعتراض کیا تھا......

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں۔

جناب یحییٰ بختیار: ......کچھ مرزا صاحب نے کچھ کہا تھا۔ کچھ مرزا صاحب بشیر الدین صاحب نے، تو پھر مولوی محمد علی صاحب نے......

Mr. Chairman: No, the first question would be

١٢٦

صفحہ ٨٥٣

Y OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

(جناب چیئرمین: گواہ کو دکھا دیں 791 جناب یحییٰ بختیار: آپ دیکھ it may be sent to the witness.

(جناب چیئرمین: ابھی صرف گـ میاں عطاء اللہ صاحب ان کو چھوڑ مرزا ناصر احمد: یہ اخبار ”بدر“ نہیں ہے یہاں.......

مرزا ناصر احمد: ......صرف نظم ۔ جناب یحییٰ بختیار: میں نے عرـ مرزا ناصر احمد: جی۔ جناب یحییٰ بختیار: ......مرزا صـ مرزا ناصر احمد: ہاں۔ ویسے اس جناب یحییٰ بختیار: نہیں، کچھ مرزا ناصر احمد: اس میں نوٹ ۔ جناب یحییٰ بختیار: مگر وہ er مرزا ناصر احمد: ......وہ ١٩٤٤ء جناب یحییٰ بختیار: ہاں۔ مرزا ناصر احمد: اس میں یہ ہے جناب یحییٰ بختیار: وہ، وہ مولو مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں۔ جناب یحییٰ بختیار: ......کچھ الدین صاحب نے، تو پھر مولوی محمد علی صاحب the first question would be

853 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

that the witness,after having seen"Badr"1906,will give his opinion whether it is correct or not.

(جناب چیئرمین: نہیں! پہلا سوال یہ ہے کہ گواہ ١٩٠٦ء کے ”البدر“ کو دیکھنے کے بعد بتائیں کہ کیا یہ صحیح ہے؟)

792 Mr. Yahya Bakhtiar: He has said that there is not note by the writer.

(جناب یحییٰ بختیار: اس (گواہ) نے کہا کہ اس میں کوئی نوٹ نہیں ہے)

Mr. Chairman: But it is correctly recorded? جناب یحییٰ بختیار: ہاں! Mr. Chairman: So, this note will come. And then that dated 1944 or 46. This the witness has replied that he will tell tomorrow.

(جناب چیئرمین: لیکن یہ اس طور پر لکھا ہوا ہے۔ چنانچہ یہ نوٹ ریکارڈ پر آئے گا اور پھر ١٩٤٤ء ، ١٩٤٦ء والا گواہ نے کہا کہ وہ کل جواب دے گا)

Mr. Yahya Bakhtiar: Then, he will....

Mr. Chairman: So far as 1906 is concerned, it is on the record that it was correctly recorded.

(جناب چیئرمین: جہاں تک ١٩٠٦ء کا حوالہ ہے۔ (البدر کی نظم کا) یہ صحیح ریکارڈ ہوا ہے) Mr. Chairman: No, no, explanation can come. (جناب چیئرمین: کسی وضاحت کی ضرورت نہیں) جناب یحییٰ بختیار: چیئرمین صاحب صحیح کہہ رہے ہیں۔ مرزا ناصر احمد: جی ہاں، وہ تو دیکھ لیا۔ جناب یحییٰ بختیار: ہاں، آپ نے دیکھ لیا، تسلی کر لی اور آپ نے یہ فرمایا کہ جہاں تک ”بدر“ کا تعلق ہے، اس میں کوئی اس قسم کا نوٹ نہیں....... مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں۔

١٢٧

صفحہ ٨٥٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

جناب یحییٰ بختیار: ...... جو یہ کہے۔ سوائے اس کے نظم چھپی ہے۔ مگر یہ نوٹ نہیں کہ یہ مرزا صاحب کی موجودگی میں پڑھی گئی یا انہوں نے ”جزاک اللہ“ کہا۔ کچھ ایسی بات نہیں ہے۔ باقی جو ہے۔ وہ آپ نے دیکھ لیا کہ وہ Controversy کو تفصیل سے بیان کر رہے ہیں ......

Mr. Chairman: Yes.

جناب یحییٰ بختیار: اس کا جواب آپ کل دیں گے۔

Mr. Chairman: No, there are two points: one is publication of the poem in the 'Al- Badr'....

(جناب چیئرمین: دو باتیں ہیں ۔ ایک نظم کی البدر میں شائع ہونے کے متعلق ......)

793 Mr. Yahya Bakhtiar: Those are not denied, Sir.

(جناب یحییٰ بختیار: اس سے انکار نہیں کیا گیا)

Mr. Chairman: That's not denied.

(جناب چیئرمین: ان سے انکار نہیں کیا گیا ہے۔ (مداخلت)

Mr. Yahya Bakhtiar: That's not denied.

(جناب یحییٰ بختیار: کیا ان کا اقرار نہیں کیا گیا؟)

Mr. Chairman: That is admitted.

(جناب چیئرمین: اس کا اقرار کیا گیا ہے)

Mr. Yahya Bakhtiar: They say that in the publication of Al- Badar....

(جناب یحییٰ بختیار: البدر کی اشاعت میں نظم بغیر کسی نوٹ کے شائع ہوئی ......)

Mr. Chairman: Yes. (جناب چیئرمین: جی ہاں!)

Mr. Yahya Bakhtiar: ... The poem, is given without any comments or note.

Mr. Chairman: Without any comments.

Mr. Yahya Bakhtiar: And so far as the other is concerned....

Mr. Chairman: Yes.

١٢٨

صفحہ ٨٥٥

855 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

Mr. Yahya Bakhtiar: .... They have seen it; they will give the reply tomorrow.

Mr. Chairman: Yes.

The Delegation is permitted to withdraw.

(جناب چیئرمین: وفد کو اجازت دے دی جائے)

جناب یحییٰ بختیار: وہ تو آگیا ناں جی، قاضی اکمل کا بیان ہے جو اس......

مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی: اٹارنی جنرل صاحب کے توسط سے ایک بات عرض کرنی تھی۔ وہ یہ کہ ڈیلیگیشن نے آج بعض فتاویٰ کا ذکر کیا ہے، Witness نے۔ تو وہ اوریجنل فتاویٰ ..... (مداخلت) دیکھئے ناں، ہم تمام اوریجنل بکس ان کو سپلائی کرتے ہیں تو وہ اوریجنل فتاویٰ......

Mr. Chairman: That we will discuss just afterwards.

794 مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی: ان سے اوریجنل فتاویٰ طلب کئے جائیں۔

Mr. Chairman: That we will discuss.

مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی: انہوں نے کہا کہ اہل حدیث نے جو فتاویٰ دیئے ہیں......

Mr. Chairman: Just afterwards.

مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی: ان سے اوریجنل مانگے جائیں تاکہ وہ داخل کریں۔

جناب یحییٰ بختیار: میں پوچھ لیتا ہوں، مولانا! میں پوچھ لیتا ہوں۔

مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی: بغیر اوریجنل کے ان کا بیان مکمل نہیں ہونا چاہئے۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، مولانا! میں پوچھ رہا ہوں۔ مجھے مولانا نے پہلے ہی کہا تھا۔

مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی: جب ہم اوریجنل داخل کرتے ہیں......

جناب چیئرمین: ٹھیک ہے، ٹھیک ہے۔

مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی: ...... وہ کیوں نہیں داخل کرتے ہیں؟

جناب چیئرمین: ٹھیک ہے، وہ پوچھ رہے ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: آپ نے مجھے کہا اور میں بھول گیا۔ وہ میں نے مرزا صاحب

١٢٩

صفحہ ٨٥٦

856 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

سے عرض کرنی تھی۔

(مرزا ناصر احمد سے) جو فتاویٰ کا ذکر کیا آپ نے صبح کی نشست میں......

مرزا ناصر احمد: جی، جی۔

جناب یحییٰ بختیار: ...... جب آج صبح کی نشست میں، یہ جو بریک سے پہلے کی نشست تھی۔ آپ نے جو ذکر کیا کہ یہ فتاویٰ بریلویوں، وہابیوں نے دیئے ہیں......

مرزا ناصر احمد: ہاں، اس زمانے میں دیئے ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: تو وہ جو کتابیں ہیں...... اور اوریجنل سے ان کا یہ مطلب نہیں کہ جو انہوں نے پہلے لکھا تھا...... جو کتابیں ہیں وہ آپ ذرا دکھادیں ان کو، جہاں سے آئی ہیں۔

مرزا ناصر احمد: ٹھیک ہے۔

795 جناب یحییٰ بختیار: ہاں۔

مرزا ناصر احمد: ٹھیک ہے۔ وہ کل پیش کردیں گے۔ یہاں رکھ دیں گے۔

جناب چیئرمین: کل آجائیں گی کتابیں۔

The witness has promised to bring the books tomorrow......the original books.

مرزا ناصر احمد: ہاں، اور اوریجنل بکس، وہ لائبریری میں دے دیں گے۔

Mr. Chairman: The Delegation is permitted to دس بجے صبح جی! withdraw, tomorrow at 10:00 a.m.

(The delegation left the Chamber)

(وفد چلا گیا)

Mr. Chairman: Honourable members may kindly (جناب چیئرمین: معزز اراکین! تشریف رکھیں براہ کرم) keep sitting.

نہیں، ہاں بند کردیں جی۔

مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی: ان کو تو چونکہ جانے سے پہلے بتانا تھا کہ وہ لے کے آئیں گے واپس۔

جناب چیئرمین: نہیں، نہیں۔

١٣٠

صفحہ ٨٥٧

857 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

PRODUCTION OF ORIGINAL FATWAHS

مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی: مطلب عرض کرنیکا یہ ہے نہیں، نہیں، میں دوسری بات عرض کر رہا ہوں۔ آپ کے توسط سے آنریبل عزت مآب اٹارنی جنرل صاحب سے عرض کروں گا کہ کتابیں جو ہیں مختلف، وہ انہوں نے بھی اپنے یہاں چھاپی ہیں۔ مسلمانوں میں Misunderstanding پیدا کرنے کے لئے، ان کو آپس میں لڑانے کے لئے، اوریجنل فتاویٰ ...... ''اوریجنل'' کا مطلب یہ ہے کہ وہ فتاویٰ جو علمائے ہندوستان نے، پاکستان نے، اہلحدیث نے، غیر مقلد نے، کسی نے بھی Issue کئے ہیں۔ اس پر مفتیوں کی مہر ہوتی ہے۔......

796 جناب چیئرمین: نہیں نہیں، اس میں عرض کروں......

مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی: ...... مثلاً دیوبند دارالعلوم، میں عرض کرتا ہوں......

جناب چیئرمین: میری بات سن لیں۔

مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی: ایک منٹ، میں عرض کرلوں۔

جناب چیئرمین: ایک منٹ میری......

مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی: مجھے عرض کرنے دیں آپ......

جناب چیئرمین: ایک منٹ......

مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی: میری بات پوری ہونے دیں آپ......

جناب چیئرمین: Controversy ختم ہو جائے گی۔ وہ کتاب اپنی پیش کریں گے جس میں ان فتاویٰ کا ذکر ہوگا۔ آپ ان سے صرف ایک سوال کر سکتے ہیں کہ یہ فتاویٰ، سوائے آپ کی کتابوں کے، اگر واقعی ان علماء نے دیئے تھے، تو کسی اور کتاب میں ان عالموں کی یا ان مدرسوں کی یا ان مکتبوں کی ہے یا نہیں ہے۔

مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی: بالکل، میں اس کی تائید کرتا ہوں کہ......

Mr. Chairman: This one question will solve the (جناب چیئرمین: یہ سوال مسئلہ کو حل کر دے گا) problem.

مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی: ”فتاویٰ“ کی شکل ...... میں ایک بات عرض کر دوں...... فتویٰ جو ہوتا ہے مثلاً دارالعلوم دیوبند سے ایک فتویٰ نکلا۔ اس پر مفتی کی اصل مہر لگی ہوئی ہوتی ہے اور دارالعلوم دیوبند سے وہ فتوے شائع ہوتے ہیں اور بریلی سے جو فتاویٰ نکلے ان پر مفتی کی مہر ہوتی ہے باقاعدہ......

١٣١

AKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

سے عرض کرنی تھی۔

(مرزا ناصر احمد سے) جو ت

مرزا ناصر احمد: جی، جی

جناب یحییٰ بختیار: ... نشست تھی۔ آپ نے جو ذکر کیا کہ یہ

مرزا ناصر احمد: ہاں، ا

جناب یحییٰ بختیار: تو انہوں نے پہلے لکھا تھا...... جو کتابیں ا

مرزا ناصر احمد: ٹھیک

795 جناب یحییٰ بختیار:

مرزا ناصر احمد: ٹھیک

جناب چیئرمین: کل to bring the books

مرزا ناصر احمد: ہاں، ا zation is permitted to

دس بجے صبح جی! Chamber) members may kindly

(جناب چیئرمین: م نہیں، ہاں بند کردیں ہ

مولانا شاہ احمد نورانی آئیں گے واپس۔

جناب چیئرمین: ن

صفحہ ٨٥٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

جناب چیئرمین: اور جو فتوے آپ جاری کرتے ہیں؟ مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی: ...... علمائے فرنگی محل سے جو فتاویٰ نکلتے ہیں، مثلاً ملتان سے، خیر المدارس سے، قاسم العلوم سے، انوار العلوم سے، فتاویٰ نکلتے ہیں...... جناب چیئرمین: اور جو فتاویٰ آپ جاری کرتے ہیں! 797مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی: ...... اور جو نقل ہوتی ہے وہ، اس پر، سب پر مہر ہوتی ہے مفتی کی۔ تو وہ اوریجنل فتاویٰ ان کو پروڈیوس کرنے چاہئیں۔ اگر وہ اوریجنل فتاویٰ پروڈیوس نہیں کرتے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ گواہی غلط دے رہے ہیں اور ہم کو تردید کرنی چاہئے۔ جناب یحییٰ بختیار: دیکھیں! میں...... Mr. Chairman: The question will come. ٹھیک ہے۔ (جناب چیئرمین: سوال کیا جائے)

Yes, Mr. Attorney-General. جناب یحییٰ بختیار: میں جناب مولانا صاحب سے...... مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی: ...... کا طریقہ معلوم ہوجائے۔ جناب یحییٰ بختیار: میں مولانا صاحب! میں مولانا صاحب......! Mr. Chairman: The reporters can go, They are free..... (جناب چیئرمین: پریس والے جاسکتے ہیں) جناب یحییٰ بختیار: ...... میں نے اتنا عرض کیا کہ جب آپ نے کہا...... Mr. Chairman: It is just our discussion. (جناب چیئرمین: یہ اپنی شوریٰ کی کارروائی ہے)

The special committee of the whole House subsequently adjourned to meet at ten of the clock, in the morning, on Saturday, the 10th August 1974. (پورے ایوان پر مشتمل خصوصی کمیٹی کا اجلاس ملتوی ہوا۔ ١٠؍اگست ١٩٧٤ء بروز ہفتہ کو صبح دس بجے منعقد ہوگا)

١٣٢

صفحہ ٨٥٩

859 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 10th Aug, 1974 No:06

No. 06 400

THE

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN

PROCEEDINGS

OF

THE SPECIAL COMMITTEE OF THE

WHOLE HOUSE HELD IN CAMERA

TO CONSIDER THE QADIANI ISSUE

OFFICIAL REPORT

Saturday, the 10th August, 1974

(Contains No. 1—21)

CONTENTS

Pages

PRINTED BY THE MANAGER, PRINTING CORPORATION OF PAKISTAN PRESS, ISLAMABAD PUBLISHED BY THE NATIONAL BOOK FOUNDATION, ISLAMABAD

MBLY OF PAKISTAN 9th Aug, 1974 No:05

جناب چیئرمین: اور جو فتوے آپ جا مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی: ...... ملتان سے، خیر المدارس سے، قاسم العلوم سے، انوار الع جناب چیئرمین: اور جو فتاویٰ آپ جا 797 مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی: ۔ ہوتی ہے مفتی کی۔ تو وہ اوریجنل فتاویٰ ان کو پروڈیوس ک نہیں کرتے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ گواہی غلط دے جناب یحییٰ بختیار: دیکھیں اِیں ...... The question will come. ٹھیک ہے (جناب چیئرمین: سوال کیا جائے)

eneral. جناب یحییٰ بختیار: میں جناب مولانا مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی: ...... جناب یحییٰ بختیار: میں مولانا صاحب The reporters can go, They are (جناب چیئرمین: پریس والے جاسکتے جناب یحییٰ بختیار: ...... میں نے اتفا is just our discussion. (جناب چیئرمین: یہ اپنی شوریٰ کی کام mmittee of the whole House meet at ten of the clock, in the y, the 10th August 1974. (پورے ایوان پر مشتمل خصوصی کمیٹی کا اجلا صبح دس بجے منعقد ہوگا)

١٣٢

صفحہ ٨٦٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 10th Aug, 1974 No:06

No. 06 400

THE NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN

PROCEEDINGS OF THE SPECIAL COMMITTEE OF THE WHOLE HOUSE HELD IN CAMERA TO CONSIDER THE QADIANI ISSUE

OFFICIAL REPORT

Saturday, the 10th August, 1974

(Contains No. 1-21)

٢

861 NATIONAL ASSEM

801 THE NATIONAL AS (ستان)

PROCE

THE SPECIAL CO WHOLE HOUSE TO CONSIDER TH

OFFICI

Saturday, the (کمرے کی کارروائی) (بروز ہفتہ)

The Special Comm Camera in the Assembly C Islamabad, at ten of th Chairman (Sahibzada Faro (لی چیمبر (سٹیٹ بینک بلڈنگ) اسلام آباد ا زیر صدارت منعقد ہوا)

(Recitation fro (ریف)

صفحہ ٨٦١

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 10th Aug, 1974 No:06

801 THE NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN

(قومی اسمبلی پاکستان)

----------

PROCEEDINGS

OF

THE SPECIAL COMMITTEE OF THE

WHOLE HOUSE HELD IN CAMERA

TO CONSIDER THE QADIANI ISSUE.

----------

OFFICIAL REPORT

Saturday, the 10th August. 1974. (مکمل ایوان کی خصوصی کمیٹی بند کمرے کی کارروائی) (١٠ اگست ١٩٧٤ء، بروز ہفتہ)

----------

The Special Committee of the Whole House met in Camera in the Assembly Chamber, (State Bank Building), Islamabad, at ten of the clock, in the morning. Mr. Chairman (Sahibzada Farooq Ali) in the Chair.

(مکمل ایوان کی خصوصی کمیٹی کا اجلاس اسمبلی چیمبر (سٹیٹ بینک بلڈنگ) اسلام آباد صبح دس بجے جناب چیئرمین (صاحبزادہ فاروق علی) کی زیر صدارت منعقد ہوا)

----------

(Recitation from the Holy Quran) (تلاوت قرآن شریف)

----------

٣

صفحہ ٨٦٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 10th Aug, 1974 No:06

Mr. Chairman: They may be called. (جناب چیئرمین: انہیں بلائیں)

(Pause)

Where is Maulana Atta Ullah? Then you can avail this opportunity full.

Ch. Jahangir Ali: Mr. Chairman.... (چوہدری جہانگیر علی: جناب چیئرمین......)

Mr. Chairman: Yes. Ch. Jahangir Ali. (جناب چیئرمین: جی، چوہدری جہانگیر علی صاحب)

چوہدری جہانگیر علی: ایک گزارش ہے جناب پانی پلانے کے لئے کوئی Servant (ملازم) ہوا کرتا تھا۔

جناب چیئرمین: جی۔

802 چوہدری جہانگیر علی: پانی پلانے کے لئے ایک Servant (ملازم) ہوا کرتا تھا۔ آج کل اس کی ڈیوٹی بھی نہیں ہے۔ وہاں میرا خیال ہے ایک دو آدمیوں کی ڈیوٹی وہاں لگا دی جائے، تو کوئی ایسی بات تو نہیں ہے۔

جناب چیئرمین: اچھا ٹھیک ہے۔ Thank you very much, I will see to it. (آپ کا بہت بہت شکریہ، میں اس کو دیکھوں گا) بھئی انہیں آج ہی کریں۔ I am sorry. (میں معذرت خواہ ہوں)

(Pause)

Mr. Chairman: Yes, the Attorney- General. (جناب چیئرمین: جی، اٹارنی جنرل)

CROSS- EXAMINATION OF THE QADIANI

GROUP DELEGATION

(قادیانی وفد پر جرح)

Mr. Yahya Bakhtiar: Before I proceed, Sir, I had

٤

صفحہ ٨٦٣

863 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 10th Aug, 1974 No:06

drawn Mirza Sahib's attention about three four days or five days ago to a resolution passed in Blackburn, England and Mirza Sahib said that they had not recieved any information or copy and this is a very branch of their community there and then I made enquiries from the Govt. to find out. I want to explain the position to Mirza Sahib and I have been informed now that under the instruction of Landon Mosque of Ahmadies, their resolutions, similar, terms, Similar language were passed all over England and they were distributed to the press, they were given to Embassy, they were sent to the Prime Minister. So this is a thing that not one small branch has passed this resolution. They were circulated to the press also, but they do not know whether the press took any note of it or published it. They are looking for that.

(برطانیہ کے ریزولیوشن کے بارہ میں استفسار)

(جناب یحییٰ بختیار: جناب والا! مزید کارروائی سے قبل (میں گزارش کروں گا کہ) تقریباً تین چار یا پانچ روز ہوئے میں نے مرزا صاحب کی توجہ اس ریزولیوشن کی جانب دلائی تھی جو کہ بلیک برن، انگلینڈ میں پاس کیا گیا تھا اور مرزا صاحب نے کہا تھا کہ وہاں پر ان کی جماعت کی ایک چھوٹی سی برانچ ہے اور یہ کہ انہیں اس ریزولیوشن کے بارے نہ کوئی اطلاع موصول ہوئی ہے اور نہ ہی ریزولیوشن کی نقل۔ چنانچہ حقیقت حال معلوم کرنے کے لئے میں نے حکومت سے رابطہ قائم کیا۔ اب میں مرزا صاحب کو ریزولیوشن واضح کرنا چاہتا ہوں۔ مسجد احمدیہ لندن کی ہدایات کے مطابق یہ ریزولیوشن یکساں الفاظ اور یکساں زبان میں پورے انگلستان میں پاس کئے گئے تھے اور پریس (اخبارات) کو بھجوائے گئے تھے۔ یہ (ریزولیوشن) سفارت خانہ اور وزیراعظم کو بھی بھجوائے گئے تھے۔ چنانچہ حقیقت یہ ہے کہ ریزولیوشن کسی چھوٹی سی برانچ نے پاس نہیں کئے تھے۔

٥

LY OF PAKIST 10th Aug, 1974 No:06

may be called. (جناب چیئرمین: انہیں بلالیں) se) a Ullah? Then you can avail

r. Chairman.... (چوہدری جہانگیر علی: جناب چیئر Ch. Jahangir Ali. جناب چیئرمین: جی، چوہدری چوہدری جہانگیر علی: ایک گ Servant (ملازم) ہوا کرتا تھا۔ جناب چیئرمین: جی۔ 802 چوہدری جہانگیر علی: پانی پلا تھا۔ آج کل اس کی ڈیوٹی بھی نہیں ہے۔ وہاں جائے، تو کوئی ایسی بات تو نہیں ہے۔ جناب چیئرمین: اچھا ٹھیک ہے see that it (آپ کا بہت بہت شکریہ، am sorry (میں معذرت خواہ ہوں) se) he Attorney- General. (جناب چیئرمین: جی، اٹارنی ج — N OF THE QADIANI EGATION (قادیانی - Before I proceed, Sir, Ihad

صفحہ ٨٦٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 10th Aug, 1974 No:06

بلکہ تشہیر کے لئے اخبارات کو بھجوائے گئے۔ تاہم یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ اخبارات نے انہیں شائع کیا یا نہیں۔ اس بارے میں پڑتال ہو رہی ہے)

مرزا ناصر احمد: جو میں نے عرض کی تھی۔ وہ آپ کی اس وقت کی بات کے متعلق تھی، وہ میں بھجوا چکا ہوں......

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، یہی میں کہہ رہا ہوں۔

مرزا ناصر احمد: وہ خط بھجوا چکا ہوں۔

جناب یحییٰ بختیار: میں اس لئے کہہ رہا ہوں کہ جو آپ وہاں سے Information (معلومات) لیں گے، تو تاکہ آپ کے دماغ میں یہ بات رہے کہ ابھی مجھے جو Information (معلومات) مجھے ملی ہیں، اطلاع ملی ہے۔ اس کے مطابق اس قسم کے Language Resolution (انہی عبارت میں قرارداد) میں ہر جگہ احمدیہ کمیونٹی نے پاس کئے ہیں اور پھر ان کو Distribute (تقسیم) بھی کیا ہے۔

مرزا ناصر احمد: اور اخباروں میں چھپ گئے؟

جناب یحییٰ بختیار: اخباروں میں نہیں چھپے ابھی تک وہ دیکھ رہے ہیں اس کو، مگر اخباروں کو دیئے گئے یہ Circulate (بھجوائے) کئے گئے۔

مرزا ناصر احمد: میں صرف اطلاع کے لئے......

جناب یحییٰ بختیار: اور اگر کوئی جو کل میں نے درخواست کی تھی اور کوئی حوالے سے کوئی تیاری ہے آپ کی تو پہلے آپ وہ......

مرزا ناصر احمد: جی، جی وہ پہلے کا ہے۔ ایک تو بڑی معذرت کے ساتھ میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ آپ نے کل فرمایا تھا کہ وہ پندرہ ایسی باتیں ہیں جن کے متعلق......

جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! چھوٹی چھوٹی ایسی باتیں جیسے میں نے Resolution کی بات کہہ دی بیچ میں، کوئی چیز رہ نہ جائے ناں جی، کہ بعد میں......

مرزا ناصر احمد: نہیں، میں یہی کہنے لگا تھا کہ ایسا نہ ہو کہ کوئی چیز رہ جائے اور سمجھا جائے کہ ہم نے جواب دینے سے گریز کیا۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں۔ اسی لئے میری ڈیوٹی ہے کہ یہ آپ کی توجہ دلاؤں اس چیز کے لئے کہ Otherwise it would be very unfair (بصورت دیگر

٦

صفحہ ٨٦٥

EMBLY OF PAKISTAN 10th Aug, 1974 No:06

بلکہ تشہیر کے لئے اخبارات کو بھجوائے گئے۔ تاہم یہ معلو یا نہیں۔ اس بارے میں پڑتال ہو رہی ہے )

مرزا ناصر احمد: جو میں نے عرض کی تھی، ہا وہ میں بھجوا چکا ہوں.......

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، یہی میں کہہ رہ

مرزا ناصر احمد: وہ خط بھجوا چکا ہوں۔

جناب یحییٰ بختیار: میں اس لئے Information (معلومات) لیں گے، تو تا کہ آ جو Information (معلومات) مجھے ملی ہیں، ا انہی عبارت میں( Language Resolution کئے ہیں اور پھر ان کو Distribute (تقسیم) بھی

مرزا ناصر احمد: اور اخباروں میں چھپ

جناب یحییٰ بختیار: اخباروں میں نہیں اخباروں کو دیئے گئے یہ Circulate (بھجوائے

مرزا ناصر احمد: میں صرف اطلاع کے

جناب یحییٰ بختیار: اور اگر کوئی جو کل کوئی تیاری ہے آپ کی تو پہلے آپ وہ.......

مرزا ناصر احمد: جی، جی وہ پہلے کا ہے چاہتا ہوں کہ آپ نے کل فرمایا تھا کہ وہ پندرہ ایسی با

جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! Resolution کی بات کہہ دی بیچ میں، کوئی چیز ر

مرزا ناصر احمد: نہیں، میں یہی کہنے ل جائے کہ ہم نے جواب دینے سے گریز کیا۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں۔ اسی اس چیز کے لئے کہ ld be very unfair

٦

865 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 10th Aug, 1974 No:06

میرے لئے یہ نامناسب ہوگا ) نہیں وہ نہیں ہوگا۔

مرزا ناصر احمد: بس یہی میں کہنا چاہتا تھا، کہاں ہے؟

(Pause)

یہ کام جو ہے وہ چلتا رہنا چاہئے ، آپ کی بھی یہی خواہش ہے اور میری بھی کہ جلدی ختم ہو۔ یہ کل میں نے ایک وعدہ یہ کیا تھا کہ جو عربی کے الفاظ ہیں ان کے متعلق لغت سے دیکھ کر میں یہاں پیش کردوں گا۔ یہاں سے جب ہم گئے ہیں۔ کچھ دس بج گئے تھے اور آج صبح بھی وقت نہیں ہوتا اس لئے پورا وعدہ کو تو انشاء اللہ چھ بجے کے اجلاس میں ہم کردیں گے۔ لیکن ایک لفظ کے معنے دیکھنے ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! میں ایک عرض کروں کہ اگر چھ بجے بھی نہ ہو سکے تو.......

مرزا ناصر احمد: نہیں میں چھ بجے......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں میں یہ بتا رہا ہوں کہ اس میں یہ ایسی چیز ہے کہ یہ Clarification (وضاحت) نہایت ہی ضروری ہے۔ Misunderstanding (غلط فہمی) کا دور ہونا ضروری ہے اور اسی لئے آپ کو تکلیف دی ہے اور ہم اتنا اس پر وقت لگا رہے ہیں۔ آپ بے شک اپنا Time (وقت) ضرور لے لیجئے تاکہ چیز یہ نہ ہو کہ بیچ میں ادھوری رہ جائے ،تو اس کے لئے میں جہاں تک ہوں، میرا تعلق ہے۔ میری یہی کوشش ہے اور مجھے امید ہے کہ کمیٹی بھی یہی اتفاق کرے گی.......

مرزا ناصر احمد: ہاں، کمیٹی بھی یقیناً.......

جناب یحییٰ بختیار: ......کہ اس پر پورا Clarification (وضاحت) ہونی چاہئے ،تو آپ بیشک کل کر لیجئے اس میں کوئی.......

مرزا ناصر احمد: ہاں، تو پھر میں ایک بات بتانا چاہتا تھا محترم مفتی صاحب کے لئے۔ ممکن ہے انہوں نے بھی کچھ سوچا ہو کہ ”ذریت البغایا“ ہے۔ ”بغایا“ کا جو مفرد ہے اگر یہ ”بغی“ ہو تو اس کے ایک معانی ہیں، اور یہی ”بغایا“ کی جمع اور مفرد کی بھی ہے تو ہو سکتا ہے۔ جو میں بتاؤں گا وہ اور ہو، تو میں پہلے اس لئے بتا رہا ہوں کہ اگر انہوں نے بھی کچھ دیکھنا ہو، دیکھ لیں۔

(Pause)

٧

صفحہ ٨٦٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 10th Aug, 1974 No:06

یہ ایک یہ حکم دیا گیا تھا کہ بانی سلسلہ کی بڑی ہی مختصر سوانح برائے ریکارڈ یہاں میں پیش کردوں۔ وہ تیار ہے اور وہ دیر اسی لئے لگی کہ پہلے پندرہ بیس صفحے کی تھی۔ آپ نے کہا زیادہ لمبی ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں! یہی میں نے نوٹ کیا تھا میں نے کہا اگر زیادہ آپ نے فائل کرنا ہے تو وہ فائل کر دیجئے اور اگر مختصر ہے تو پڑھ دیجئے۔

805 مرزا ناصر احمد: بالکل! دو صفحے ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: ٹھیک ہے جی۔

مرزا ناصر احمد: میں پڑھ دیتا ہوں۔

ہاں جی۔ Mr. Yahya Bakhtiar: Sir, I will make a request that when a record is prepared, this part should come in the beginning when I asked this question because it is relevant there, but it is not relevant....

(جناب یحییٰ بختیار: جناب! میں گزارش کروں گا کہ جب ریکارڈ مرتب کیا جائے تو یہ (سوانح عمری) ابتداء میں رکھی جائے)

Mr. Chairman: I will make a note of it.

(جناب چیئرمین: میں نے اسے نوٹ کرلیا ہے)

Mr. Yahya Bakhtiar: The founder of Ahmadiyya Movement and his life____ Sketch should come in the beginning, then other questions. Otherwise it will not be....

(جناب یحییٰ بختیار: چونکہ جماعت احمدیہ کے بانی کی سوانح عمری سے متعلقہ ہے۔ اس لئے اسے ریکارڈ کے اوائل میں رکھا جائے)

Mr. Chairman: I will make a note of it.

(جناب چیئرمین: میں نے اسے نوٹ کرلیا ہے)

Mr. Yahya Bakhtiar: Thank you.

(جناب یحییٰ بختیار: آپ کی مہربانی)

مرزا ناصر احمد:

٨

صفحہ ٨٦٧

MBLY OF PAKISTAN 10th Aug, 1974 No:06

یہ ایک یہ حکم دیا گیا تھا کہ بانی سلسلہ کی پیش کردوں۔ وہ تیار ہے اور وہ دیراسی لئے لگی کہ پا لمبی ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں! یہی میں س فائل کرنا ہے تو وہ فائل کر دیجئے اور اگر مختصر ہے تو پڑھ

٨٠٥ مرزا ناصر احمد: بالکل! دو صفحے ہیں

جناب یحییٰ بختیار: ٹھیک ہے جی۔

مرزا ناصر احمد: میں پڑھ دیتا ہوں۔

جناب یحییٰ بختیار: Sir, I will make a l is prepared, this part should I asked this question because it relevant....

(جناب یحییٰ بختیار: جناب! میں گزار یہ (سوانح عمری) ابتداء میں رکھی جائے)

will make a note of it.

(جناب چیئرمین: میں نے اسے نوٹ

ar: The founder of Ahmadiyya Sketch should come in the ons. Otherwise it will not be....

(جناب یحییٰ بختیار: چونکہ جماعت ا اس لئے اسے ریکارڈ کے اوائل میں رکھا جائے)

will make a note of it.

(جناب چیئرمین: میں نے اسے نوٹ

ar: Thank you.

(جناب یحییٰ بختیار: آپ کی مہربانی

مرزا ناصر احمد:

٨

867 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 10th Aug, 1974 No:06

(مختصر سوانح بانی سلسلہ احمدیہ)

آپ ١٣؍فروری ١٨٣٥ء کو قادیان میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد صاحب کا نام مرزا غلام مرتضیٰ صاحب تھا۔ آپ کی ابتدائی تعلیم چند اساتذہ کے ذریعہ سے گھر پر ہی ہوئی۔

١؎ مرزا ناصر احمد کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی کی پیدائش ١٨٣٥ء میں ہوئی۔ حالانکہ یہ سفید جھوٹ ہے۔ عمر مرزا پر مستقل رسالہ ہے مولانا حبیب اللہ امرتسری کا، وہ دیکھا جائے۔ جو احتساب قادیانیت کی جلد نمبر ٣ ص ١٤٨ سے ١٦٨ پر موجود ہے۔ مرزا قادیانی نے خود لکھا ہے: ١…… ’’میری پیدائش ١٨٣٩ء یا ١٨٤٠ء میں سکھوں کے آخری وقت میں ہوئی ۔‘‘ (کتاب البریہ ص١٤٨، خزائن ج١٣ ص١٧٧ حاشیہ) ٢…… ’’میری عمر چونتیس پینتیس برس کی تھی جب حضرت والد صاحب کا انتقال ہوا۔‘‘ (کتاب البریہ ص١٥٩ حاشیہ، خزائن ج١٣ ص١٩٢ حاشیہ) ٣…… ’’مرزا کے والد کا انتقال ١٨٧٦ء میں ہوا۔‘‘ (نزول المسیح ص١٦، خزائن ج١٨ ص٣٩٤، ٣٩٥) پس ١٨٧٦ء میں مرزا کی عمر چونتیس پینتیس سال تھی تو ان کی پیدائش وہی ١٨٣٩ء، ١٨٤٠ء بنتی ہے۔ اس پر مرزا اور مرزائیوں کے پچاس سے زائد حوالے موجود ہیں۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی کی پیدائش ١٨٣٩ء، ١٨٤٠ء میں ہوئی۔ مرزا کے مرنے تک ہر قادیانی یہی کہتا اور لکھتا رہا کہ مرزا قادیانی کی پیدائش ١٨٣٩ء، ١٨٤٠ء میں ہوئی۔ ایک بھی پوری قادیانیت کی تاریخ میں مرزا کی زندگی کا حوالہ نہیں جس سے ثابت ہو کہ مرزا کی پیدائش ١٨٣٥ء میں ہوئی۔ لیکن جونہی مرزا آنجہانی ہوا قادیانیوں نے جھوٹ پر ایکا کر کے جھوٹ کی دیوار تعمیر کر کے کہنا شروع کیا کہ ١٨٣٥ء میں مرزا کی پیدائش ہوئی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے پیشگوئی کی تھی کہ: ’’میری عمر ٧٤ سے ٨٠ کے درمیان ہوگی۔‘‘ لیکن پیدائش ١٨٣٩ء میں ہوئی اور مرزا کی وفات ١٩٠٨ء میں تو مرزا کی عمر ٦٩ سال بنتی ہے۔ مرزا کے مرنے کے بعد مرزا کی پیش گوئی کے جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کے لئے پوری قادیانیت نے جھوٹ پر اجماع کر لیا کہ مرزا ١٨٣٥ء میں پیدا ہوا تا کہ کسی طرح اس کی اصل عمر ٧٤ سال ہو جائے۔ فلعنة اللّٰه على الكاذبین! مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ میں ١٨٣٩ء میں پیدا ہوا۔ آج پوتا مرزا ناصر کہتا ہے کہ نہیں آپ ١٨٣٥ء میں پیدا ہوئے تھے۔ یہ ایک نیا عجوبہ ہے کہ نہ؟۔ پھر ہم نے بارہا مناظروں میں چیلنج کیا کہ مرزا کی زندگی کے پورے قادیانی لٹریچر سے ایک حوالہ دکھا دو کہ مرزا یا کسی مرزائی نے لکھا ہو کہ مرزا ١٨٣٥ء میں پیدا ہوا۔ آج تک تمام قادیانی مل کر بھی نہیں دکھا سکے نہ قیامت تک دکھا سکتے ہیں۔ مرزا کے مرنے کے بعد اس ١٨٣٩ء کو ١٨٣٥ء بنانا پوری قادیانیت کے چہرہ پر جھوٹ کی سیاہی کی پالش کے لئے کافی ہے۔

٩

صفحہ ٨٦٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 10th Aug, 1974 No:06

آپ کے اساتذہ کے نام فضل الٰہی، فضل احمد اور گل محمد تھے۔ جن سے آپ نے فارسی، عربی اور دینیات، فقہ وغیرہ کی ابتدائی تعلیم حاصل کی اور علم طب اپنے والد صاحب سے پڑھا۔ آپ شروع سے ہی اسلام کا درد رکھتے تھے اور دنیا سے کنارہ کش تھے۔ آپ کا ایک شعر ہے:

دگر استاد را نامے ندانم کہ خواندم در دبستانِ محمّد

آپ نے عیسائیوں اور آریوں کے ساتھ ١٨٧٦ء کے قریب اسلام کی طرف سے مناظرے اور مباحثے بھی کئے اور ١٨٨٤ء میں اپنی شہرہ آفاق کتاب براہین احمدیہ کی اشاعت کی۔ جو قرآن806 کریم کی آنحضرت ﷺ اور اسلام کی تائید میں ایک بے نظیر کتاب پائی گئی ہے۔ ١٨٨٩ء میں آپ نے باذن الٰہی سلسلہ بیعت کا آغاز کیا۔ ١٨٨٩ء اور ١٨٩١ء میں خدا تعالیٰ سے الہام پا کر مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا۔ آپ کی تمام عمر اسلام کی خدمت میں گزری اور آپ نے ٨٠ کے قریب کتابیں تصنیف فرمائیں جو عربی، فارسی اور اردو تینوں زبانوں میں ہیں اور ان تینوں زبانوں میں آپ کا منظوم کلام بھی ملتا ہے۔ آپ کا اور آپ کی جماعت کا واحد مقصد دنیا میں اسلام کی اشاعت و تبلیغ تھا اور ہے ٢٦ مئی ١٩٠٨ء کو آپ کی وفات ہوئی اور ملک کے اخباروں اور رسالوں نے آپ کی اسلامی خدمات کا پرزور الفاظ میں اعتراف کیا۔ آپ کی وفات کے وقت آپ کے چار بیٹے اور دو بیٹیاں تھیں اور اس وقت آپ کے خاندان کے افراد کی تعداد دو سو کے قریب ہے۔ یہ مختصر سا بتایا ہے۔ اس کو تو ریکارڈ کرانا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، یہ ریکارڈ پر آ جائے گا۔

(Pause)

مرزا ناصر احمد: ایک کل یا پرسوں شام غالباً کل ہی تھا جب ابوالعطاء صاحب کی کتاب کے حوالے پر بات ہو رہی تھی کہ خاتم النبیین کے دو ہی معنی ہو سکتے ہیں۔ اس وقت آپ نے فرمایا تھا کہ یہ کتاب جو لکھی گئی ہے وہ مکرم سید ابوالاعلیٰ مودودی صاحب کے قادیانی مسئلہ کا جواب ہے اور یہ کہ اس میں کوئی ایسا مضمون نہیں جس کا جواب یہ سمجھا جائے تو ......

جناب یحییٰ بختیار: میں ایک غلط فہمی دور کر دوں یہ قادیانی مسئلے کا جواب نہیں۔ ختم نبوت کتابچے کا جواب ہے۔ دو علیحدہ علیحدہ کتابیں ہیں۔

(مرزا ناصر کا اعتراف غلطی)

مرزا ناصر احمد: ہاں! "ختم نبوت" کہاں ہے وہ؟ میری غلطی ہے، نہیں وہ یہاں انہوں نے دوسری کتاب رکھ دی تھی۔ وہ پھر دوسرے وقت میں لے آؤں گا۔

١٠

صفحہ ٨٦٩

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 10th Aug, 1974 No:06

(Pause) میں نے ایک یہ وعدہ بھی کیا تھا کہ پہلی کتب میں اور انبیاء کی جو سوانح ہیں ان میں ہمیں یہ نظر آتا ہے کہ بعض اوقات انہیں بظاہر سخت الفاظ استعمال کرنے پڑے تو اس کے ...... اور قرآن کریم میں بھی بظاہر ...... میں بظاہر کا لفظ جان کے کہہ رہا ہوں ...... بظاہر سخت الفاظ استعمال کرنے پڑے807 ......

جناب یحییٰ بختیار: میرے خیال میں مرزا صاحب اگر اس میں نہ جائیں تو ...... مرزا ناصر احمد: چھوڑ دیں؟ نہیں میں تو صرف یہ پوچھ رہا ہوں کہ میں نے بات کی تھی اگر آپ ...... جناب یحییٰ بختیار: جب آپ نے کہہ دی ہے تو پھر اس میں نہ جائیں تو ...... مرزا ناصر احمد: ٹھیک ہے اور اسی طرح اس کو بھی پھر چھوڑ دیتے ہیں کہ علمائے ربانی نے امت محمدیہ کے تیرہ سو سال کے عرصہ میں حسب ضرورت اللہ تعالیٰ کی ایماء سے سخت الفاظ استعمال کئے ہیں۔ جناب یحییٰ بختیار: آپ نے جب کہہ دیا تو ...... مرزا ناصر احمد: اس کی تفصیل بھی چھوڑ دیتے ہیں۔ جناب یحییٰ بختیار: ہاں! Detail (تفصیل) میں جانے کی ضرورت نہیں۔ مرزا ناصر احمد: پہلے ختم نبوت، یہ ہے مل گئی یہاں کاغذوں کے اندر ہی، اس میں صرف ختم نبوت کا بیان نہیں بلکہ نزول مسیح کا بھی بیان ہے کہ مسیح آئیں گے اور وہ اس سے تعلق رکھتا ہے جو ابوالعطاء صاحب کا جواب ہے اس واسطے یعنی سوال یہ تھا کہ جو جواب دیا جا رہا ہے کتاب میں اس میں ایسا Topic (موضوع) ایسا مضمون کیسے آسکتا ہے جس کا ذکر اس کتاب میں نہیں۔ جس کا جواب دیا جا رہا ہے۔ اوپر کے ختم نبوت کی جو یہ کتاب جب ہم نے دیکھی تو اس میں صرف نبی اکرم ﷺ کی خاتمیت نبوت آپ کا خاتم الانبیاء خاتم المرسلین ہونا ہی زیر بحث نہیں۔ بلکہ ایک آنے والے مسیح نبی اللہ کا بھی ذکر ہے۔ یعنی اس نام کے ساتھ اس وجہ سے وہ جواب دیا گیا۔ بس اتنا ہی ......!

؎ بت کدہ میں کفر کی زناری بھی دیکھ، کہ مرزا ناصر، مرزا قادیانی کی گالیوں کو جائز ثابت کرنے کے لئے انبیاء علیہم السلام اور قرآن مجید کے متعلق کہہ رہا کہ ان میں بھی بظاہر سخت الفاظ ...... اور یحییٰ بختیار کی دیانت و دین داری دیکھیں کہ وہ مرزا ناصر احمد کو اس اشتعال انگیزی سے روک رہا ہے۔ 11

صفحہ ٨٧٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 10th Aug, 1974 No:06

(مودودی صاحب نے مسیح علیہ السلام کا ذکر نہیں کیا)

808 جناب یحییٰ بختیار: سوال جو تھا ناں جی! میں آپ کو پھر Repeat (دہرا) کر دوں میں نے ایسا نہیں کہا کہ مولانا مودودی صاحب نے مسیح کا ذکر نہیں کیا یا عیسیٰ علیہ السلام آئیں گے اس کا ذکر نہیں کیا۔ انہوں نے دو Chapter (باب) یہاں لکھے ہیں۔ پہلا Chapter (باب) ہے کہ ختم نبوت کا کیا مطلب ہے اور اس سے ان کی کیا مراد ہے اور مسلمان کیا سمجھتے ہیں یا ان کے نقطہ نظر سے کیا ہے اور آپ کے نقطہ نظر سے کیا ہے ان کے Point of view (نقطہ نظر) سے....... دوسرا آجاتا ہے وہ نزول مسیح یہاں جو میں نے آپ سے سوال پوچھا تھا کہ انہوں نے کہا تھا کہ مودودی صاحب کے نقطہ نظر سے فیض کا دروازہ بند ہو گیا۔ یہ اس Chapter (باب) میں آتا ہے جہاں ختم نبوت کا ذکر ہے اور میں کہتا ہوں کہ نہیں، اگر فیض سے یہ مراد ہے کہ کوئی نیک ہستی اس کے بعد نہیں آئے گی تو یہ مودودی صاحب نے جہاں تک میں نے پڑھا ہے کہیں نہیں لکھا، باقی یہ انہوں نے ضرور لکھا ہے کہ کوئی اور نبی نہیں آسکتا اور انہوں نے یہی جواب دیا ہے کہ فیض کے دروازے سے صاف مجھے بھی یہی سمجھ آرہی ہے کہ اور نبی آسکتے ہیں۔ (بقول ابوالعطاء قادیانی) یہ ان کو جواب دے رہے ہیں تو پھر آپ اس کو پھر دیکھ لیجئے۔

(Pause)

(قادیانیت کے مخالف ہماری آغوش میں)

مرزا ناصر احمد: جی یہ یاد رہا مضمون۔ ایک سوال تھا ”الفضل“ ١٦؍جنوری ١٩٥٢ء سے متعلق اور وہ مجبور ہوکر احمدیت کی آغوش میں آگرے اس میں سوال یہ تھا کہ دشمن اور آغوش ان کا کیا مطلب ہے؟ جو میں اس وقت Recollect (یاد) کرتا ہوں تو یہ زمانہ ہے۔ ٥٣-١٩٥٢ء کا اور اس کے مخاطب سارے مسلمان نہیں بلکہ وہ جو فساد کی خاطر نمایاں ہو کر سامنے آگئے تھے اور آغوش میں گر.......

جناب یحییٰ بختیار: Anti-Ahmediyya Agitation (جماعت احمدیہ کے خلاف تحریک) چل رہی تھی۔ میں نے وہ نوٹ کیا ہوا ہے۔

مرزا ناصر احمد: جی، جی!

جناب یحییٰ بختیار: میں صرف آپ کو وہ.......

809 مرزا ناصر احمد: تو صرف وہ مراد تھے اور آغوش میں آگرنے کا مطلب یہ ہے کہ

١٢

صفحہ ٨٧١

871 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 10th Aug, 1974 No:06

وہ معاملہ سمجھ جائیں اور پھر دوست دوست بن جائیں اور یہ جماعت کی جو ایک بالکل بچوں کی، نوجوانوں کی ہے تنظیم یہ اس کا حوالہ ہے جماعت کا، اس جماعت کی طرف سے نہیں ہے۔ یہ جو اخبار میں شائع ہوا نوجوانوں کی تنظیم کی طرف سے تبلیغ کی طرف توجہ دلانے کے لئے ایک نوٹ ہے اور یہ اس تنظیم کی طرف سے بھی نہیں بلکہ اس تنظیم کے اس شعبے کی طرف سے ہے جس کا نام ہے مہتمم تبلیغ یعنی تبادلہ خیال کرنے کے ساتھ جس تنظیم کا تعلق ہے نوجوانوں کی تنظیم کے اندر پھر چھوٹی تنظیم اس کا نام ہے۔ مہتمم تبلیغ اور مہتمم تبلیغ کی طرف سے یہ عبارت شائع ہوئی۔ الفضل میں اور ١٩٥٢ء، ١٩٥٣ء کے فسادات شروع ہو چکے تھے۔ دشمن سے مراد وہی نہیں جو باہر نکل رہے تھے۔ مکانوں کو آگ لگانے کے لئے اور قتل و غارت کرنے کے لئے اور اس کو یہ کہا ہے کہ ان کو اس طرح سمجھاؤ کہ پھر وہ سمجھ جائیں۔ یہ نہیں کہا کہ ان کا مقابلہ کرو اسی طرح۔

(”تبادلہ خیال کرو“ کا کیا مطلب اور کس کی طرف سے ہے؟)

جناب یحییٰ بختیار: پیشتر اس کے کہ آپ دوسرے سوال کا جواب دیں یہ تو آپ کہتے ہیں کہ آپ کی جماعت کی طرف سے یہ ہے مگر یہ کہ Authoritative (اتھارٹی) نہیں ہے یا Authoritative (اتھارٹی) ہے؟

(مرزا ناصر کا انکار)

مرزا ناصر احمد: یہ ہماری جماعت کی طرف سے نہیں ہے۔ جماعت کی وہ تنظیم جو نوجوانوں کی تنظیم ہے اس کے اس شعبے کی طرف سے جس کا نام اہتمام تبلیغ ہے اور ان کی طرف سے ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، مرزا صاحب میرا جماعت سے مطلب یہ نہیں تھا کہ آپ کی طرف سے یا Top Organization (سربراہ تنظیم) یا جماعت ......

مرزا ناصر احمد: نہ جماعت کی اتھارٹی نہیں سمجھی جائے گی۔

جناب یحییٰ بختیار: یا جماعت کے کسی شعبہ کی طرف سے۔

مرزا ناصر احمد: جماعت کے اس شعبہ کی طرف سے ہے جو نوجوانوں کا ہے اور مضمون یہ ہے کہ تبادلہ خیال کرو۔

810 جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں۔ مضمون کے متعلق نہیں، میں صرف کہتا ہوں

١٣

SEMBLY OF PAKISTAN 10th Aug, 1974 No:06

(مودودی صاحب نے مسیح علیہ ا

808 جناب یحییٰ بختیار: سوال جو تھا ناں جو کر دوں میں نے ایسا نہیں کہا کہ مولانا مودودی صاحب آئیں گے اس کا ذکر نہیں کیا۔ انہوں نے دو pter Chapter (باب) ہے کہ ختم نبوت کا کیا مطلب ہے کیا سمجھتے ہیں یا ان کے نقطہ نظر سے کیا ہے اور آپ کے ن view (نقطہ نظر) سے ...... دوسرا آجاتا ہے وہ نزول ق تھا کہ انہوں نے کہا تھا کہ مودودی صاحب کے نقطہ ن Chapter (باب) میں آتا ہے جہاں ختم نبوت کا ذ سے یہ مراد ہے کہ کوئی نیک ہستی اس کے بعد نہیں آئے گی نے پڑھا ہے کہیں نہیں لکھا، باقی یہ انہوں نے ضرور لکھا۔ یہی جواب دیا ہے کہ فیض کے دروازے سے صاف مج ہیں۔ (بقول ابوالعطا قادیانی) یہ ان کو جواب دے رہے (Pause)

(قادیانیت کے مخالف ہمار

مرزا ناصر احمد: جی یہ یاد رکھو مضمون۔ ایک سے متعلق اور وہ مجبور ہو کر احمدیت کی آغوش میں آ گر ان کا کیا مطلب ہے؟ جو میں اس وقت collect ١٩٥٢-٥٣ء کا اور اس کے مخاطب سارے مسلمان نہیں آگئے تھے اور آغوش میں گر ......

جناب یحییٰ بختیار: ya Agitation کے خلاف تحریک) چل رہی تھی۔ میں نے وہ نوٹ کیا ہو

مرزا ناصر احمد: جی، جی!

جناب یحییٰ بختیار: میں صرف آپ کو وہ

809 مرزا ناصر احمد: تو صرف وہ مراد تھے اور

١٢

صفحہ ٨٧٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 10th Aug, 1974 No:06

تاکہ یہ ریکارڈ یہ Clear (صاف) ہو جائے کہ جماعت کے شعبے کی طرف سے ہے مگر وہ نوجوانوں کا شعبہ ہے۔

مرزا ناصر احمد: نوجوانوں کے شعبہ در شعبہ کی طرف سے ہے اور تبلیغ کا جو شعبہ ہے اس کی طرف سے ہے اور کہا یہ گیا ہے کہ تبلیغ یعنی تبادلہ خیال کرو۔

جناب یحییٰ بختیار: ٹھیک ہے۔

مرزا ناصر احمد: وہ بروز کا بیان تو داخل کرایا جاچکا ہے ایک تھا ”الفضل“ مورخہ ١٥؍جولائی ١٩٥٢ء۔

(خونی ملا کے متعلق سوال اور مرزا ناصر کی معذرت)

جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی وہ کچھ خونی ملا کے متعلق تھا۔

مرزا ناصر احمد: ہاں، خونی ملا کے متعلق وہ کہاں ہے؟ یہ ایڈیٹر کا Editorial Note (اداریہ) ہے۔ یہ کوئی جماعت کی طرف سے مضمون نہیں۔ الفضل جو صدر انجمن احمدیہ کا اخبار ہے ان کے ایڈیٹر نے یہ مضمون لکھا تھا۔ فسادات سے پہلے اور منیر انکوائری کمیٹی میں اس کے متعلق انکوائری بھی ہو چکی ہوئی ہے اور اس کا نام انہوں نے رکھا تھا خونی ملا۔ اس کا جو خلاصہ ہے وہ یہ ہے کہ وہ تمام لوگ ...... اس طرح اٹھان ہے۔ اس کی ...... وہ تمام لوگ جو اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں اور جن کو اغیار یعنی اسلام کے دشمن بھی مسلمان سمجھ کر ان سے یکساں سلوک کرتے ہیں وہ ان سب کو ایک محاذ پر جمع ہو جانا چاہئے۔ یہ اٹھان ہے اس مضمون کی، اور اس کی دلیل انہوں نے یہ دی ہے کہ وہ اصول جس کی بناء پر پاکستان کو حاصل کیا گیا تھا وہ یہی تھا کہ فرقہ واری پر نظر نہیں رکھی جائے گی بلکہ ہر وہ شخص یعنی یہ مضمون یہ کہتا ہے کہ ...... ہر وہ شخص جس کو اسلام کا دشمن اسلام سمجھتا ہے اور ایک ہی Category سمجھ کر اس پر حملہ آور ہورہا ہے ...... مئی ١٩٤٧ء میں آخری Convoy سے آیا تھا، اس کا مفہوم بڑی اچھی طرح سمجھتا ہوں، اس کی تفصیلات میں جانے کی ضرورت نہیں۔ بہرحال یہ اصول ہے اور آگے اس میں یہ لکھا ہے کہ اس اصول کی بناء پر آگے یہ لکھا ہے۔ جب یہ اصول تمام اسلامی دنیا میں پھیل جائے گا کہ فرقہ وارانہ باتوں کو چھوڑ کر متحد ہو جانا چاہئے۔ جب یہ اصول تمام دنیا میں پھیل جائے گا اور اچھی طرح جڑ پکڑ جائے گا تو خونی ملا آپ اپنی موت مر جائے گا۔ یعنی جب سارے متحد ہو جائیں گے تو وہ حصہ چھوٹا سا جو قتل وغارت اور لوٹ مار کی طرف آرہا ہے۔ وہ آپ اپنی اس کوشش جو ہے وہ ختم ہو جائے گی، اس میں میرے نزدیک بھی خونی ملا کا لفظ جو ہے وہ استعمال نہیں ہونا چاہئے تھا۔ کیونکہ اس سے غلط فہمی پیدا ہوگی۔

١٤

صفحہ ٨٧٣

ASSEMBLY OF PAKISTAN 10th Aug, 1974 No:06

تاکہ یہ ریکارڈ یہ Clear (صاف) ہو جائے کہ جماعت نوجوانوں کا شعبہ ہے۔ مرزا ناصر احمد: نوجوانوں کے شعبہ در شعبہ کی اس کی طرف سے ہے اور کہا یہ گیا ہے کہ تبلیغ یعنی تبادلہ خیال آ جناب یحییٰ بختیار: ٹھیک ہے۔ مرزا ناصر احمد: وہ بروز کا بیان تو داخل کرا ١٥؍ جولائی ١٩٥٢ء۔

(خونی ملا کے متعلق سوال اور مرزا

جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی وہ کچھ خونی ملا کے مرزا ناصر احمد: ہاں، خونی ملا کے متعلق وہ Note (اداریہ) ہے۔ یہ کوئی جماعت کی طرف سے مضمو اخبار ہے ان کے ایڈیٹر نے یہ مضمون لکھا تھا۔ فسادات سے متعلق انکوائری بھی ہو چکی ہوئی ہے اور اس کا نام انہوں نے وہ یہ ہے کہ وہ تمام لوگ...... اس طرح اٹھان ہے۔ اس کی کہتے ہیں اور جن کو اغیار یعنی اسلام کے دشمن بھی مسلمان کہ ان سب کو ایک محاذ پر جمع ہو جانا چاہئے۔ یہ اٹھان ہے اس دی ہے کہ وہ اصول جس کی بناء پر پاکستان کو حاصل کیا گیا جائے گی بلکہ ہر وہ شخص یعنی یہ مضمون یہ کہتا ہے کہ...... ہ ہے اور ایک ہی Category سمجھ کر اس پر حملہ آور Convey سے آیا تھا، اس کا مفہوم بڑی اچھی طرح سم ضرورت نہیں۔ بہر حال یہ اصول ہے اور آگے اس میں یہ ہے۔ جب یہ اصول تمام اسلامی دنیا میں پھیل جائے گا چاہئے۔ جب یہ اصول تمام دنیا میں پھیل جائے گا اور اجم 811 اپنی موت مر جائے گا۔ یعنی جب سارے متحد ہو جائیں لوٹ مار کی طرف آ رہا ہے۔ وہ آپ اپنی اس کوشش جو نزدیک بھی خونی ملا کا لفظ جو ہے وہ استعمال نہیں ہونا چاہ ١٤

873 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 10th Aug, 1974 No:06

اس کو ہم Condemn (مذمت) کرتے ہیں اور کرنا چاہئے۔ جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں۔ جب ہو چکا تو یہ تو اتنی بات نہیں ہے۔ مرزا ناصر احمد: نہیں جی۔ جناب یحییٰ بختیار: جب لفظ ”جہنمی“ استعمال ہو چکا ہے تو یہ تو اتنی بات نہیں ہے۔ یہ تو کوئی چھوٹی ڈگری کا ہی کافر ہوگا، یہاں۔ مرزا ناصر احمد: نہیں، ”جہنمی“ جو ہے وہ تو نبی کریم ﷺ نے استعمال کیا ہے اور محمد بن عبدالوہاب علیہ الرحمۃ نے بڑی تاکید کی اس پر عملاً اس کے مطابق اپنی زندگیاں ڈھالی ہیں۔ جس کا میں نے وہ حوالہ دیا ہوا ہے اور غالباً کتاب بھی دی ہے۔ محمد بن عبدالوہاب کی اپنی کتاب باہر کی چھپی ہوئی اور وہ سیرت النبی مختصر سیرت رسول اس کتاب کا یہ حوالہ ہے اور وہ ہماری طرف سے یہاں دے دی گئی تھی۔ ویسے تمام علماء کے پاس ہوگی۔

(الفضل رسالہ آپ کی پارٹی کا ہے؟)

جناب یحییٰ بختیار: باقی یہ جو ہے، یہ آپ کی پارٹی کا Official Orgian ہے یہ ”الفضل“؟ مرزا ناصر احمد: یہ صدر انجمن احمدیہ کا سلسلہ...... جناب یحییٰ بختیار: ہاں، جی ہاں۔ مرزا ناصر احمد: اس کے متعلق منیر انکوائری کے وقت بھی سوال کیا گیا۔ جناب یحییٰ بختیار: اس میں کچھ علماء کے نام بھی دیئے گئے ہیں۔ ان میں؟ ہاں وہ بھی سنا دیں۔ مرزا ناصر احمد: ہاں، علماء کے نام دیئے گئے ہیں۔ جناب یحییٰ بختیار: وہ سنا دیجئے۔ 812 مرزا ناصر احمد: یہاں آ جاتا ہے۔ وہ منیر انکوائری...... جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں جو ایڈیٹوریل ہے ناں جی اس سے...... مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، اسی کا یہ حوالہ ہے ناں۔

لے اس کو ایک آسان تعبیر میں ناک رگڑنا بھی کہتے ہیں۔ قادیانی دوست اس منظر کو نہ بھولیں۔ ١٥

صفحہ ٨٧٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 10th Aug, 1974 No:06

جناب یحییٰ بختیار: نہیں اگر Original (اصل) سے آپ پڑھ دیں۔ تو پھر یہ نہ ہو کہ بعد میں کسی اور Document (دستاویزات) سے پڑھا گیا۔

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں میں پڑھ دیتا ہوں۔ وہی میں پڑھنے لگا ہوں۔

جناب یحییٰ بختیار: وہ نام دیئے ہوئے ہیں اس میں؟

مرزا ناصر احمد: جی ہاں! اس میں ہیں۔ یہی میں کہہ رہا ہوں۔

”وکیل نے سوال کیا، حضرت خلیفہ ثانی سے کہا آپ نے الفضل کے ١٥ جولائی ١٩٥٢ء کے شمارہ میں ایک مقالہ افتتاحیہ جو خونی ملا کے آخری دن کے عنوان سے شائع ہوا، دیکھا ہے۔ جس میں مندرجہ ذیل الفاظ آئے ہیں۔ یہ وہی الفاظ ہیں، آپ جو فرما رہے تھے۔ ”ہاں آخری وقت آن پہنچا ہے ان تمام علمائے حق کے خون کا بدلہ لینے کا، ١٣٠٠ سال میں جو گزرے ہیں۔ جن کو شروع سے یہ خونی ملا قتل کرواتے آئے ہیں۔ ان سب کے خون کا بدلہ لیا جائے۔ عطاء اللہ شاہ بخاری سے، ملا بدایونی سے، ملا احتشام الحق سے، ملا محمد شفیع سے ملا مودودی سے۔“

جواب: ”ہاں اس تحریر کے متعلق منٹگمری کے ایک آدمی کی طرف سے ایک شکایت میرے پاس پہنچی تھی اور میں نے اس کے متعلقہ ناظر سے جواب طلبی کی تھی۔ اس نے مجھے بتلایا تھا، کہ اس نے ایڈیٹر کو ہدایت کر دی ہے کہ وہ اس کی تردید کرے۔“

(کیا تردید آپ کے علم میں آئی؟)

سوال: کیا وہ تردید آپ کے علم میں آئی؟

جواب: ”نہیں (نہیں کہنے کے بعد) لیکن ابھی ابھی مجھے ٧ اگست ١٩٥٢ء کے ”الفضل“ کا ایک آرٹیکل جس کا عنوان ایک غلطی کا ازالہ ہے، دکھایا گیا ہے۔ جس میں مذکورہ بالا تحریر کی تشریح 813 کر دی گئی تھی اور وہ تردید یعنی جو معنے پہنائے جا رہے تھے اس کی تردید کر دی گئی۔“

عدالت کا سوال: ادارتی مقالہ میں جن مولویوں کو ملا کہا گیا ہے...... سب کو نہیں ملا کہا گیا...... جن مولویوں کو ملا کہا گیا ہے۔ کیا انہوں نے یہ رائے ظاہر کی تھی کہ احمدی مرتد اور واجب القتل ہیں؟

جواب: میں صرف یہ جانتا ہوں کہ مولانا ابوالاعلیٰ مودودی نے یہ رائے ظاہر کی تھی۔“

اس کے متعلق یہ سارا بیان ہے...... نیز...... (Pause) اور جو رہ گئے ہیں۔ اگر وہ...... میں بڑا شرمندہ ہوں، ہم نے نوٹ تو کئے ہوئے ہیں۔“

١٦

صفحہ ٨٧٥

875 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 10th Aug, 1974 No:06

جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! یہ Strain ہم سب محسوس کر رہے ہیں، مجھے بھی بہت زیادہ کام کرنا پڑتا ہے اور آپ جانتے ہیں۔ مجھے ان چیزوں کا بہت کم علم ہے تو یہ چیزیں تو ہوتی رہتی ہیں اور اسپیکر صاحب سے بھی ہم Request (درخواست) کرتے ہیں کہ آدھا گھنٹہ اور ٹائم دے دیجئے۔ ایک گھنٹہ اور ٹائم دیجئے وہ بھی بڑے Cooperate (تعاون) کرتے ہیں تو اس میں یہ ایک ”الفضل“ ١٦؍ جولائی کا رہ گیا ہے۔ ١٩٤٩ء کا۔

مرزا ناصر احمد: ١٦؍ جولائی ١٩٤٩ء۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی۔

مرزا ناصر احمد: ہاں، ١٦؍ جولائی ١٩٤٩ء کا جواب ہے ہمارے پاس۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، تو پھر یہ دے دیں تا کہ میرا یہ Page (صفحہ) پورا ہو جائے۔

مرزا ناصر احمد: ١٦؍ جولائی ١٩٤٩ء کے ایک ایسے خطبہ پر سوال کوئی کیا گیا تھا جس کا تعلق حضرت خلیفہ ثانی سے تھا، ٹھیک ہے ناں۔

(دشمن محسوس کرتا ہے کہ ہم اس کے مذہب کو کھا جائیں گے)

814 جناب یحییٰ بختیار: ہاں۔

مرزا ناصر احمد: جس میں یہ لکھا ہے کہ دشمن محسوس کرتا ہے کہ اس کے مذہب کو کھا جائیں گے۔ ١٦؍ جولائی ١٩٤٩ء میں حضرت خلیفہ ثانی کا کوئی خطبہ یا مضمون چھپا ہی نہیں، کوئی ایسا خطبہ نہیں چھپا جس میں یہ لکھا ہو۔

جناب یحییٰ بختیار: یعنی کہیں نہیں چھپا؟ کہ تاریخ میں کوئی فرق ہو گیا ہے؟ کیونکہ یہ نہ ہو کہ پھر وہ بیچ میں تاریخ کسی اور کا آ جائے۔ بعض دفعہ پرنٹنگ میں غلطی ہو جاتی ہے۔

مرزا ناصر احمد: ہاں ویسے ہم......

جناب یحییٰ بختیار: ان (اپنے والد مرزا محمود) کے خطبات سے تو آپ اچھی طرح واقف ہوں گے؟ آپ دیکھ لیجئے اسے، تسلی کر لیجئے......

مرزا ناصر احمد: اور تسلی کر لیں گے۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی۔

مرزا ناصر احمد: لیکن جو تھوڑی بہت تسلی کی ہے وہ نہیں! ہمیں ملا۔ لیکن آپ کے کہنے پر مزید......

١؎ آگے چل کر تسلیم کر لیا کہ یہ بیان ٢٥؍ جولائی ١٩٤٩ء میں چھپا ہے۔

١٧

MBLY OF PAKISTAN 10th Aug, 1974 No:06

جناب یحییٰ بختیار: نہیں اگر Final یہ نہ ہو کہ بعد میں کسی اور Document (دستاوی

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں میں پڑھ دیت

جناب یحییٰ بختیار: وہ نام دیئے ہوئے ہ

مرزا ناصر احمد: جی ہاں! اس میں ہیں

”وکیل نے سوال کیا، حضرت خلیفہ ثانی ١٩٥٢ء کے شمارہ میں ایک مقالہ افتتاحیہ جو خونی ملا ہے۔ جس میں مندرجہ ذیل الفاظ آئے ہیں۔ یہ و آخری وقت آن پہنچا ہے ان تمام علمائے حق کے ہیں۔ جن کو شروع سے یہ خونی ملا قتل کرواتے آ عطاء اللہ شاہ بخاری سے، ملا بدایونی سے، ملا احتشام

جواب: ”ہاں اس تحریر کے متعلق سیکرٹری کی ایک پہنچی تھی اور میں نے اس کے متعلقہ ناظر سے جواب ایڈیٹر کو ہدایت کر دی ہے کہ وہ اس کی تردید کرے۔“

(کیا تردید آپ کے

سوال: کیا وہ تردید آپ کے علم میں آئی؟

جواب: ”نہیں (نہیں کہنے کے بعد) لیکن ابھی ایک آرٹیکل جس کا عنوان ایک غلطی کا ازالہ ہے، د کر دی گئی تھی اور وہ تردید یعنی جو معنے پہنائے جا

عدالت کا سوال: ادارتی مقالہ میں جن مولو گیا...... جن مولویوں کو ملا کہا گیا ہے۔ کیا انہوں القتل ہیں؟

جواب: میں صرف یہ جانتا ہوں کہ مولانا ابوالا اس کے متعلق یہ سارا بیان ہے......نیز اور جو رہ گئے ہیں۔ اگر وہ...... میں بڑا

١٦

صفحہ ٨٧٦

876 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 10th Aug, 1974 No:06

جناب یحییٰ بختیار: ہاں میں یہ کہتا ہوں کیونکہ......

مرزا ناصر احمد: اسی طرح اسی قسم کا ایک اور بھی ہے۔ ایک تھا ٣ جولائی ١٩٥٢ء میں سوال یہ تھا کہ اس قسم کی وہاں تحریر ہے کہ ”تم مجرموں کی طرح پیش ہو گے۔“ تو ہمیں ٣ جولائی ١٩٥٢ء میں اس قسم کی ...... خالی یہ یعنی یہ لفظی میں تردید نہیں کر رہا۔ اس مضمون کی کوئی عبارت نہیں ملی کہ تم مجرموں کی طرح پیش ہو گے اور اگر آپ فرمائیں تو اس کے علاوہ اور زیادہ ......

جناب یحییٰ بختیار: آپ تسلی کرلیں تا کہ کیونکہ یہاں بھی بعض منگوا رہے ہیں وہ دیکھ رہے ہیں۔

مرزا ناصر احمد: مزید تسلی کر لیں گے۔ (Pause)

815 جناب یحییٰ بختیار: یہاں جو ابوجہل کی طرح ذکر آتا ہے یہ وہی ہے ناں جی؟

مرزا ناصر احمد: ہاں، ”مجرموں کی طرح پیش ہو گے۔“ وہ ابوجہل والی ہے بہر حال......

جناب یحییٰ بختیار: ”فتح مکہ کے بعد۔“

مرزا ناصر احمد: ہاں جی یہی ہے۔ ”مجرموں کی طرح پیش ہو گے۔“ اسی کے ساتھ تعلق رکھتا ہے لیکن اس اخبار میں اس قسم کا کوئی......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں نہیں میں کہتا ہوں آپ Verify (تصدیق) کرلیں۔

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں۔ Verify (تصدیق) اور کر لیتے ہیں کہیں آگے پیچھے کسی اور تاریخ میں نہ ہو۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، کیونکہ جہاں تک خطبوں کا تعلق ہے یہ تو ایسی چیز نہیں ہے کہ صرف اخبار میں ہی ہو آپ کا اپنا ریکارڈ ہو گا ان کا۔

مرزا ناصر احمد: نہیں جو بعد میں اتنی دیر کے ہیں تو صرف اخبار ہی ریکارڈ ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی۔ ١٩٥٣ء اور ١٩٥٢ء کی ایسی چیزیں ہیں کہ......

مرزا ناصر احمد: صرف، صرف میں بتا رہا ہوں ناں کہ ہمارے ہاں یہ طریق رہا ہے کہ جب ٹیپ بھی آگیا تو چونکہ بڑا خرچ ہوتا تھا اور اس کے غریب لوگ ہیں ہم تو یہ اصول بنا لیا کہ جب لکھا جائے اور چھپ جائے خطبہ تو اس کے کچھ عرصے بعد ٹیپ جو ہے اس کے اوپر دوسرا خطبہ آجائے۔

١؎ ٣ جولائی نہیں ٣ جنوری ہے۔ مرزا ناصر جاننے کے باوجود اسے گول کر رہا ہے۔ اس پر نوٹ پہلے گزر چکا ہے۔

١٨

صفحہ ٨٧٧

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 10th Aug, 1974 No:06

جناب یحییٰ بختیار: وہاں تو ایک جگہ میں نے پڑھا۔ میں اس میں جانا نہیں چاہتا کہ یہ سارا حکومت نے شروع کیا ہے کہ To deprive you of billions of rupees (اربوں روپے ہتھیانے کی خاطر) اور ابھی آپ کہتے ہیں کہ غریب ہیں۔ مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں۔ جناب یحییٰ بختیار: خیر میں اس میں جانا نہیں چاہتا۔ مرزا ناصر احمد: میں بھی جواب میں نہیں جانا چاہتا مگر ہے غریب جماعت۔ جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی تو میں مزید سوال پوچھ سکتا ہوں آپ سے۔ 816 مرزا ناصر احمد: ہاں جی، ہاں جی۔ جناب چیئرمین: ایک اور حوالہ تھا کل الفضل کا۔ (میرا مخالف عیسائی، یہودی، مشرک اور جہنمی ہے) جناب یحییٰ بختیار: وہ میں نے حوالہ دیا تھا جی کہ جو شخص میرا مخالف ہے وہ عیسائی، یہودی، مشرک اور جہنمی ہے۔ یہ مرزا غلام احمد صاحب کا ہے۔ مرزا ناصر احمد: کس کتاب کا حوالہ ہے۔ (Pause) ہاں یہ تو کل آیا تھا ایک تو کل آیا تھا ناں، جس میں میں نے کہا کہ عربی کی عبارت ہے اور اس کے متعلق میں نے کہا ہے کہ سارے....... جناب یحییٰ بختیار: نہیں ایک اور ہے یہ اس میں میرا سوال یہ تھا کہ اگر یہ صحیح ہے تو مرزا صاحب کا مطلب کیا ہے کہ: ”جو شخص میرا مخالف ہے وہ عیسائی، یہودی، مشرک اور جہنمی ہے“ تو آپ میرا سوال پہلے سن لیجئے کہ میں پوچھنا کیا چاہتا ہے یہ ہے ان کی تحریر۔ مرزا ناصر احمد: پتہ نہیں یہ کون سا ہے حوالہ۔ جناب یحییٰ بختیار: میں نے دو دفعہ لکھوایا ہے۔ مرزا ناصر احمد: ابھی دیکھ لیتے ہیں شاید ابھی ہو اس کو ٹالتے نہیں۔ جناب یحییٰ بختیار: یہ ہے نزولِ مسیح ص٤، اور تذکرہ ص ٢٢٧۔١؎

١؎ مرزا قادیانی نے (نزول المسیح ص٤، خزائن ج١٨ ص٣٨٢) پر لکھا ہے: ”اور جو میرے مخالف تھے ان کا عیسائی، یہودی اور مشرک نام رکھا گیا۔“ مرزا کا الہام (تذکرہ ص٢٢٧، ٣٣٦، طبع ٣) پر ہے جس میں اپنے مخالف کو جہنمی کہا ہے۔“

١٩

SEMBLY OF PAKISTAN 10th Aug, 1974 No:06

جناب یحییٰ بختیار: ہاں میں یہ کہتا ہوں کیا مرزا ناصر احمد: اسی طرح اسی قسم کا ایک اور سوال یہ تھا کہ اس قسم کی وہاں تحریر ہے کہ ”تم مجرموں کو ١٩٥٢ء میں اس قسم کی ...... خالی یہ یعنی یہ لفظی میں تردید تـ ملی کہ تم مجرموں کی طرح پیش ہو گے اور اگر آپ فرمائیں جناب یحییٰ بختیار: آپ تسلی کرلیں تا کـ دیکھ رہے ہیں۔ مرزا ناصر احمد: مزید تسلی کر لیں گے۔ 815 جناب یحییٰ بختیار: یہاں جواباً وہ جہل کی مرزا ناصر احمد: ہاں، ”مجرموں کی طرح پیش جناب یحییٰ بختیار: ”فتح مکہ کے بعد۔“ مرزا ناصر احمد: ہاں جی یہی ہے۔ ”مجرمـ تعلق رکھتا ہے لیکن اس اخبار میں اس قسم کا کوئی ....... جناب یحییٰ بختیار: نہیں نہیں میں کہتا ہـ مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں۔ Verify کسی اور تاریخ میں نہ ہو۔ جناب یحییٰ بختیار: ہاں، کیونکہ جہاں بحـ کہ صرف اخبار میں ہی ہو آپ کا اپنا ریکارڈ ہوگا ان کا۔ مرزا ناصر احمد: نہیں جو بعد میں اتنی دیر جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی۔ ١٩٥٤ء مـ مرزا ناصر احمد: صرف، صرف میں بتار کہ جب ٹیپ بھی آ گیا تو چونکہ بڑا خرچ ہوتا تھا اور اس کہ جب لکھا جائے اور چھپ جائے خطبہ تو اس کے مـ خطبہ آ جائے۔

١؎ ٣؍جولائی نہیں ٣؍جنوری ہے۔ مرزا ناصـ اس پر نوٹ پہلے گزر چکا ہے۔

١٨

صفحہ ٨٧٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 10th Aug, 1974 No:06

مرزا ناصر احمد: یہ رہ گیا ہے چیک کرنا۔

(مرزا ناصر کی بدحواسی)

جناب یحییٰ بختیار: خیر یہ بعد میں کرلیں۔ آپ دیکھ لیں اگر ایک دو صفحے آگے پیچھے ہوں تو ......

مرزا ناصر احمد: ہاں نہیں نہیں بالکل۔

جناب یحییٰ بختیار: بعض دفعہ ٢٢٧ کا ٢٤٧ ہوتا ہے۔

مرزا ناصر احمد: یہ ہم خود دیکھ لیتے ہیں۔ یعنی آگے اور پیچھے پانچ دس صفحے دیکھ کے۔

817 جناب یحییٰ بختیار: ہاں پانچ دس نہیں۔ میں نے دیکھا ہے کہ ٢٢٧ کا ٢٤٧ ہوتا ہے وہ اردو میں جس طرح ......

مرزا ناصر احمد: لیکن اگر آپ کو دیا ہو ’٢٢٧‘ اور اصل میں ہو ’٢٠٦‘ تو وہ نہیں ہوگا۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں نہیں، وہ نہیں۔ جو عام سی غلطی پرنٹنگ میں ہو سکتی ہے۔

مرزا ناصر احمد: ٹھیک ہے۔ (Pause)

جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب ایک اور چیز بھی مہربانی کر کے آپ چیک کرلیں یہ کل ایک حوالہ دیا گیا تھا۔ ٥؍اپریل ١٩٤٧ء کا کہ پاکستان کے متعلق کچھ اس میں کہا گیا ہے اگر آپ پہلے......

مرزا ناصر احمد: وہ جو ہے اپنا پارسیوں وغیرہ کا؟ وہ ہے؟

(اکھنڈ ہندوستان)

جناب یحییٰ بختیار: وہ نہیں نہیں۔

مرزا ناصر احمد: اچھا اچھا، اکھنڈ ہندوستان کے متعلق؟

جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی تو اسی قسم کا ایک اور چیز آپ چیک کرلیں۔ ١٦ یا ١٧؍مئی ١٩٤٧ء کا۔

مرزا ناصر احمد: مئی ١٩٤٧ء مئی کر دیتے ہیں سارے اخبار دیکھ لیں گے۔

جناب یحییٰ بختیار: اس میں پاکستان کے متعلق کچھ رائے کا اظہار کیا گیا ہے۔

مرزا ناصر احمد: میرا خیال ہے کہ یہ تقریباً تیار ہے جواب اکھنڈ ہندوستان کا۔

جناب یحییٰ بختیار: وہ بھی ساتھ ہی دیکھ لیں۔

٢٠

صفحہ ٨٧٩

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 10th Aug, 1974 No:06

مرزا ناصر احمد: ساتھ ہی یہی میرا مطلب ہے کہ شام کو جب آئیں تو ہم کر دیں اس کو بھی۔ جناب یحییٰ بختیار: ٹھیک ہے جی۔ (Pause) وہ ایک حوالہ تھا صاحبزادہ بشیر احمد صاحب کا۔ 818مرزا ناصر احمد: کلمۃ الفصل؟ جناب یحییٰ بختیار: جی ہاں وہ تیار ہے۔ مرزا ناصر احمد: کلمۃ الفصل کا کون سا ہے یہ صفحہ؟

(مرزا صاحب کی تحریر میں مسلمان سے کیا مطلب ہے؟)

جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب کی جو تحریر میں مسلمان کا لفظ ہے اس کی تفسیر کی ہے کہ، مطلب کیا ہے اس کا۔ مرزا ناصر احمد: یہ سارا ١٢٦ اور ١٢٧ دونوں صفحے پورے؟ جناب یحییٰ بختیار: کل میں نے ...... مرزا صاحب یہ وہی کتاب ہے یا دوسری ہے؟ مرزا ناصر احمد: یہ کون سی ہے؟ جناب یحییٰ بختیار: یہ آپ کی ہے وہ میں پھر منگوا لیتا ہوں۔ مرزا ناصر احمد: یہ ہماری ہے۔ جناب یحییٰ بختیار: وہ وہاں ہے وہ میں آپ کو ...... میں نے Passage (پیرا) پڑھ کر۔ (Pause) سنایا تھا۔ ص ١٢٦ پر مرزا صاحب یہ پہلے حرف کا ذکر آتا ہے۔ پھر وہ فرماتے ہیں کہ متن دیکھیں: ”اگر ایک شخص سراج الدین نامی مسلمان سے عیسائی ہو جائے تو اسے پھر بھی سراج الدین ہی کہیں گے۔ حالانکہ عیسائی ہو جانے کی وجہ سے وہ اب سراج الدین نہیں رہا۔ بلکہ کچھ اور بن گیا کہیں عرفِ عام کی وجہ سے اس نام سے پکارا جائے گا۔ معلوم ہوتا ہے ......819“ یہ میں نے یہاں سے پڑھا ہے۔ ”معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود کو بھی بعض وقت اس بات کا خیال آیا کہ کہیں میری تحریروں میں غیر احمدیوں کے متعلق مسلمان کا لفظ دیکھ کر لوگ دھوکہ نہ کھائیں اس لئے کہیں کہیں بطور ازالہ کے غیر احمدیوں کے متعلق ایسے الفاظ بھی لکھ دیئے گئے ہیں کہ وہ لوگ جو اسلام کا دعویٰ کرتے ہیں تا جہاں کہیں بھی مسلمان کا لفظ ہو اس سے مدعی اسلام سمجھا جائے نہ کہ حقیقی مسلمان۔“

(کلمۃ الفصل ص ١٢٦)

٢١

صفحہ ٨٨٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 10th Aug, 1974 No:06

مرزا ناصر احمد : حقیقی مسلمان۔ جناب یحییٰ بختیار : مدعی مسلمان۔ مرزا ناصر احمد : یہاں اگر آپ کو میں ......

(مدعی مسلمان، حقیقی مسلمان؟)

جناب یحییٰ بختیار : ایک تو جہاں وہ مرزا صاحب کہتے ہیں کہ مسلمان...... جیسے میں نے کل کہا اور ایک دو حوالے دیئے ...... جہاں وہ مسلمان کہتے ہیں تو اس سے مطلب کیا ہے؟ اور پھر یہاں ”کہیں کہیں بطور ازالہ کے غیر احمدی کے متعلق ایسے الفاظ بھی لکھ دیئے ہیں کہ وہ لوگ جو اسلام کا دعویٰ کرتے ہیں تا جہاں کہیں بھی مسلمان کا لفظ ہو اس سے مدعی اسلام سمجھا جاوے نہ کہ حقیقی مسلمان۔“

تو میں سوال یہ پوچھنا چاہتا تھا کہ جب مرزا صاحب یا آپ کی جماعت کے رہنما جو مسلمانوں کا ذکر کرتے ہیں اور اس سوال پر چونکہ اس مضمون پر کافی سوال میرے پاس آچکے ہیں۔ اس لئے میں چاہتا تھا کہ اس کی پوری وضاحت ہو جائے جیسے ابھی لندن کا ریزولیوشن ہے۔ انگلینڈ میں جو مسلمان ہیں ان کو کہا Non- Ahmadi Pakistanies (غیر احمدی پاکستانی) اور اپنے کو کہا احمدی مسلمان، میں ریزولیوشن کی بات کر رہا ہوں۔ ریزولیوشن غلط ہو اور بات ہے جو آیا ہے اس سے یہ معلوم ہوتا ہے جو Impression (تاثر) پڑتا ہے وہ یہ ہے کہ جب آپ کہتے ہیں : ”مسلمان ایسے کر رہے ہیں۔“ تو جب اپنی طرف آپ کا مطلب ہوتا ہے احمدیوں کی طرف تو حقیقی مسلمان مطلب ہوتا ہے باقیوں کے متعلق آپ کا مطلب ہوتا ہے جو مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ Pretenders (حیلہ ساز) یہ وہ کفر والی بات نہیں آتی یہاں اس میں کہ کتنی ڈگری کا کافر ہے یا اس دائرے میں ہے یہ بالکل یعنی یہ Impression (تاثر) ہے کہ جو غیر احمدی ہیں وہ مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں مگر اصل میں مسلمان نہیں تو یہ آپ ذرا Clarify (واضح) کردیں۔

مرزا ناصر احمد : جو میں سمجھتا 820 ہوں سوال وہ یہ ہے کہ یہاں بانی سلسلہ احمدیہ نے ایک گروہ کو حقیقی مسلمان کہا اور دوسرے گروہ کے متعلق کہا کہ میرے نزدیک وہ مسلمان تو ہیں لیکن حقیقی مسلمان نہیں تو یہ کیا فرق ہے؟ اس کا جواب محضر نامے میں آچکا ہے۔ لیکن چونکہ سوال دوہرایا گیا ہے اس لئے میں اس کا جواب دوہرانا چاہتا ہوں اور یہ بتانا چاہتا ہوں کہ حضرت بانی سلسلہ

٢٢

صفحہ ٨٨١

881 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 10th Aug, 1974 No:06

احمدیہ نے حقیقی مسلمان جو کہا اس کی تعریف کیا ہے؟ یہ محضرنامے کے ص٢٣ پر یہ تحریر ہے: ”ہمارے نزدیک یہ فتاویٰ سارے جو اس کے خلاف تھے ظاہر پر مبنی ہیں اور فی ذاتہا ان کو جنت کا پروانہ یا جہنم کا وارنٹ قرار نہیں دیا جاسکتا جہاں تک......“

جناب یحییٰ بختیار: یہ صفحہ ٢٦٢ کہا آپ نے؟

مرزا ناصر احمد: یہ صفحہ ٢٣ محضرنامے کا اس میں ایک اقتباس بانی سلسلہ کا جس سے پتہ لگتا ہے آپ کے نزدیک حقیقی مسلمان سے کیا مراد ہے۔ جہاں تک حقیقت اسلام کا تعلق حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے الفاظ میں ہم حقیقی مسلمان...... جو یہاں لفظ استعمال ہوا ہے..... حقیقی مسلمان کی تعریف درج کرتے ہیں۔ آپ کے نزدیک حقیقی مسلمان کی تعریف یہ ہے۔

”اصلاحی معنی اسلام کے وہ ہیں جو اس آیت کریمہ میں اس کی طرف اشارہ ہے۔ یعنی یہ کہ ’بلیٰ من اسلم وجهه لله وهو محسن فله اجره عند ربه ولا خوف عليهم ولاهم يحزنون ‘ یعنی مسلمان وہ ہے جو خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنے تمام وجود کو سونپ دیوے، یعنی اپنے وجود کو اللہ تعالیٰ کے لئے اور اس کے ارادوں کی پیروی کے لئے اور اس کی خوشنودی کے حاصل کرنے کے لئے وقف کر دیوے اور پھر نیک کاموں پر خدا تعالیٰ کے لئے قائم ہو جائے اور اپنے وجود کو تمام عملی طاقتیں اس کی راہ میں لگا دیوے۔ مطلب یہ ہے کہ اعتقادی اور عملی طور پر محض خدا تعالیٰ کا 820 ہو جاوے اعتقادی طور پر اس طرح سے اپنے تمام وجود کو درحقیقت ایک ایسی چیز سمجھ لے جو خدا تعالیٰ کی شناخت اور اس کی اطاعت اور اس کے عشق اور محبت اور اس کی رضامندی حاصل کرنے کے لئے بنائی گئی ہے اور عملی طور پر اس طرح سے کہ خالصتاً للہ حقیقی نیکیاں جو ہر ایک قوت سے متعلق اور ہر ایک خداداد توفیق سے وابستہ ہیں بجالاوے۔ مگر ایسے ذوق و شوق و حضور سے کہ گویا وہ اپنی فرمانبرداری کے آئینہ میں اپنے معبود حقیقی کے چہرہ کو دیکھ رہا ہے اب آیات ممدوحہ بالا پر ایک نظر غور ڈالنے سے ہر ایک سلیم العقل سمجھ سکتا ہے کہ اسلام کی حقیقت تب کسی میں متحقق ہوسکتی ہے کہ جب اس کا وجود مع اپنے تمام باطنی وظاہری قویٰ کے محض خدا تعالیٰ کے لئے اور اس کی راہ میں وقف ہو جاوے اور جو امانتیں اس کو خدا تعالیٰ کی طرف سے ملی ہیں پھر اس معطی

١؎ ایک اخبار کے متعلق کہا کہ وہ جوانوں کا اعلان تھا۔ ٭...... دوسرے اخبار کے متعلق کہا کہ وہ ایڈیٹر کی بات تھی۔ ٭...... اب مرزا قادیانی کے الہام کے بارہ میں کہتے کہ وہ ظاہر پر مبنی تھا۔ ٭...... گویا حقیقت پر مبنی نہ تھا۔ قادیانی حضرات مرزا ناصر احمد کی اس وقت کی قلبی کیفیت کا اندازہ فرمائیں کہ کیا درگت بن رہی ہوگی۔ مجھے تو اب اس کو پڑھ کر ترس آرہا ہے۔

٢٣

MBLY OF PAKISTAN 10th Aug, 1974 No:06

مرزا ناصر احمد: حقیقی مسلمان۔

جناب یحییٰ بختیار: مدعی مسلمان۔

مرزا ناصر احمد: یہاں اگر آپ کو میں...

(مدعی مسلمان، حقیقی

جناب یحییٰ بختیار: ایک تو جہاں وہ مرزا نے کل کہا اور ایک دو حوالے دیئے...... جہاں وہ مسلم پھر یہاں ”کہیں کہیں بطور ازالہ کے غیر احمدی کے متعل اسلام کا دعویٰ کرتے ہیں تا جہاں کہیں بھی مسلمان کا ل حقیقی مسلمان۔“

تو میں سوال یہ پوچھنا چاہتا تھا کہ جب م مسلمانوں کا ذکر کرتے ہیں اور اس سوال پر چونکہ اِ ہیں ۔ اس لئے میں چاہتا تھا کہ اس کی پوری وضاحت انگلینڈ میں جو مسلمان ہیں ان کو کہا istanies پاکستانی ) اور اپنے کو کہا احمدی مسلمان، میں ریزولیوش بات ہے جو آیا ہے اس سے یہ معلوم ہوتا ہے جو on جب آپ کہتے ہیں: ”مسلمان ایسے کر رہے ہیں ۔ احمدیوں کی طرف تو حقیقی مسلمان مطلب ہوتا ہے و مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ etenders یہاں اس میں کہ کتنی ڈگری کا کافر ہے یا اس دائرے (تاثر) ہے کہ جو غیر احمدی ہیں وہ مسلمان ہونے کا د آپ ذرا Clarify (واضح) کردیں۔

820 مرزا ناصر احمد: جو میں سمجھتا ہوں م ایک گروہ کو حقیقی مسلمان کہا اور دوسرے گروہ کے متع حقیقی مسلمان نہیں تو یہ کیا فرق ہے؟ اس کا جواب محضر گیا ہے اس لئے میں اس کا جواب دوہرانا چاہتا ہوں

٢٢

صفحہ ٨٨٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 10th Aug, 1974 No:06

حقیقت کو واپس دی جائیں اور نہ صرف اعتقادی طور پر بلکہ عمل کے آئینہ میں بھی اپنے اسلام اور اس کی حقیقت کاملہ کی ساری شکل دکھائی جاوے۔ یعنی شخص مدعی اسلام یہ بات ثابت کر دیوے کہ اس کے ہاتھ اور پیر اور دل اور دماغ اور اس کی عقل اور اس کا فہم اور اس کا غضب اور اس کا رحم اور اس کا حلم اور اس کا علم اور اس کی تمام روحانی اور جسمانی قوتیں اور اس کی عزت اور اس کا مال اور اس کا آرام اور اس کا سرور اور جو کچھ اس کے سر کے بالوں سے پیروں کے ناخنوں تک بااعتبار ظاہر و باطن کے ہے یہاں تک کہ اس کی نیات اور اس کے دل سے خطرات اور اس کے نفس کے جذبات سب خدا تعالیٰ کے ایسے تابع ہو گئے ہیں جیسے ایک شخص کے اعضاء اس شخص کے تابع ہوتے ہیں۔ غرض یہ ثابت ہو جائے کہ صدق قدم اس درجہ تک پہنچ گیا ہے کہ جو کچھ اس کا ہے وہ اس کا نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کا ہو گیا ہے اور تمام اعضاء اور قویٰ الٰہی خدمت میں ایسے لگ گئے ہیں کہ گویا جوارح الحق ہیں اور ان آیات پر غور کرنے سے 822 یہ بات بھی صاف اور بدیہی طور پر ظاہر ہو رہی ہے کہ خدا تعالیٰ کی راہ میں زندگی کا وقف کرنا جو حقیقت اسلام ہے دو قسم پر ہے ایک یہ کہ خدا تعالیٰ کو ہی اپنا معبود اور مقصود اور محبوب ٹھہرایا جائے اور اس عبادت اور محبت اور خوف و رجا میں کوئی شریک باقی نہ رہے اور اس کی تقدیس اور تسبیح اور عبادت اور تمام عبودیت کے اداب احکام اور اوامر اور حدود اور آسمان قضا و قدر کے امور بہ دل و جان قبول کئے جائیں اور نہایت نیستی اور تذلل سے ان سب حکموں اور حدوں اور قانونوں اور تقدیروں کو بارادتِ تام سر پر اٹھا لیا جاوے اور نیز وہ تمام پاک صداقتیں اور پاک معارف جو اس کی وسیع قدرتوں کی معرفت کا ذریعہ اس کی ملکوت اور سلطنت کے علوئے مرتبہ کو معلوم کرنے کے لئے ایک واسطہ اور اس کے آلاء اور نعماء کو پہچاننے کے لئے ایک قوی رہبر ہیں بخوبی معلوم کر لی جائیں۔ دوسری قسم اللہ تعالیٰ کی راہ میں......“

مولانا غلام غوث ہزاروی: جناب صدر صاحب یہ محضر نامے میں تین صفحے ہم پڑھ چکے ہیں۔ یہ تین صفحے سنانا تو بہت وقت لگے گا یہ محضر نامہ میں ہم پڑھ چکے ہیں۔ اسلام کی تعریف مرزا صاحب نے اپنا تقدس ظاہر کرنے کے لئے......

جناب چیئرمین: یہ محضر نامے میں ہے۔ اراکین: جی ہاں۔

Mr. Chairman: Then it need not be repeated. It can be referred page so and so of Mahzar- Nama yes, it need not be repeated.

٢٤

صفحہ ٨٨٣

883 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 10th Aug, 1974 No:06

(جناب چیئرمین: دہرائیے مت۔ صرف محضرنامہ کا حوالہ کافی ہوگا)

(Interruptions)

جناب یحییٰ بختیار: اگر آپ Emphasize کرنا چاہتے ہیں۔

823 مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں میں نہیں کرنا چاہتا۔ میں صرف ایک بات کی وضاحت چاہتا ہوں۔ ممکن ہے میں نے غلط سمجھا ہو میں اپنے آپ کی تصحیح کروانا چاہتا ہوں۔ پہلے دن یہ تسلیم کیا گیا تھا کہ اگر سوال دہرایا جائے گا تو جواب بھی دہرایا جائے گا۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں......

مرزا ناصر احمد: تو چونکہ سوال دہرایا گیا ہے حقیقی مسلمان کے متعلق......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں سوال تو ابھی تک نہیں دہرایا گیا یہ تو ایک Reference (حوالہ) ہے مرزا بشیر احمد صاحب کا......

مرزا ناصر احمد: اور اس سے پوچھا گیا کہ حقیقی......

جناب یحییٰ بختیار: اور اس میں ایک لفظ حقیقی آ گیا تھا۔

مرزا ناصر احمد: ہاں، حقیقی مسلمان کون ہے اور دوسرا کون ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: وہ محضرنامے میں آپ تفصیل سے بیان کر چکے ہیں۔

مرزا ناصر احمد: تو حقیقی اسلام کے متعلق میں نے یہ سنائی ہے بات، ویسے میں آگے چھوڑ دیتا ہوں۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں اگر آپ سمجھتے ہیں کہ بہت ضروری ہے۔ ریکارڈ پر آ چکا ہے اس واسطے۔.....

مرزا ناصر احمد: الیٰ آخر یعنی اس کو آخر تک پڑھ لیا جائے تو بتا میں یہ رہا تھا...... جو کچھ سن لیا اس سے بات واضح ہو جاتی ہے۔ (Pause)

جہاں سے یہ سوال جس پر مبنی ہے وہ یہ ہے کہ مدعی اسلام اور حقیقی مسلمان میں کیا فرق ہے؟ یہی سوال بنا تھا تو میں نے بتایا کہ آپ کے نزدیک حقیقی شخص...... جس اقتباس کے دو ایک صفحے میں نے پڑھے ہیں اور کچھ رہ گئے ہیں۔ لیکن جو مطلب ہے وہ واضح ہو جاتا ہے اس لئے میں824 نے وقت بچانے کے لئے چھوڑ دیا تو حقیقی مسلمان سے وہ مراد ہے اور جو ویسا نہیں وہ مدعی اسلام ہے اور یہاں سے وہ مفہوم نہیں نکلتا ایک جو قابلِ اعتراض ہو۔ یہ فیصلہ ہم پہلے کافی تبادلہ خیال کے بعد کر چکے ہیں کہ وہ گروہ ہے مسلمانوں کا جو انتہائی طور پر مخلص اور خدا کے مقرب ہیں اور

٢٥

PAKISTAN 10th Aug, 1974 No:06

حقیقی کو واپس دی جائیں اور نہ صرف ا کی حقیقت کاملہ کی ساری شکل دکھائی جا کے ہاتھ اور پیر اور دل اور دماغ اور اس ک علم اور اس کا علم اور اس کی تمام روحانی آرام اور اس کا سرور اور جو کچھ اس کے و باطن کے ہے یہاں تک کہ اس کی نیا جذبات سب خدا تعالیٰ کے ایسے تابع ہ ہوتے ہیں۔ غرض یہ ثابت ہو جائے کہ اس کا نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کا ہو گیا ہے اور گویا جوارح الحق ہیں اور ان آیات پر ہو رہی ہے کہ خدا تعالیٰ کی راہ میں زندگی خدا تعالیٰ کو ہی اپنا معبود اور مقصود اور محبو کوئی شریک باقی نہ رہے اور اس کی تقدی اوامر اور حدود اور آسمانِ قضا و قدر کے ام سے ان سب حکموں اور حدوں اور قانونو تمام پاک صداقتیں اور پاک معارف ج سلطنت کے علوئے مرتبہ کو معلوم کرنے لئے ایک قوی رہبر ہیں بخوبی معلوم کر لی

مولانا غلام غوث ہزاروی

چکے ہیں۔ یہ تین صفحے سنانا تو بہت وقت مرزا صاحب نے اپنا تقدس ظاہر کرنے

جناب چیئرمین: یہ محضرنا

اراکین: جی ہاں۔

need not be repeated. It Mahzar- Nama yes, it need

صفحہ ٨٨٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 10th Aug, 1974 No:06

ایک وہ ہے جو ان کے حدود سے نکلنے کے بعد جو وہ حد اسلام سے ہی خارج کر دیتی ہے اس کے درمیان ہزاروں قسم کے نیم مخلص ، درمیانے درجے کے اور ادنیٰ درجے کے ہیں وہ بات واضح ہو چکی ہے وہی یہاں.......

جناب یحییٰ بختیار: میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ ایک بیچارہ سادہ پٹھان تھا میری طرح میں بھی پٹھان ہوں ایک مولوی سے اس نے پوچھا کہ مولوی صاحب جنت میں جانے کا طریقہ کیا ہے؟ اس نے پہلے تو کہا کہ بھئی نماز پڑھو، روزے رکھو، حج جاؤ۔ یہ سب باتیں ہیں اللہ اور رسول پر ایمان لاؤ تو اس نے کہا اگر یہ سب کچھ ہو گیا تو میں جنت میں پہنچ جاؤں گا؟ کہتے ہیں نہیں پل صراط ہوگا ، تلوار سے تیز، بال سے باریک تو اس نے کہا کہ پھر صاف بات کیوں نہیں کہتے کہ کوئی راستہ ہی نہیں جانے کا، تو آپ سے یہ عرض کروں گا.......

مرزا ناصر احمد: نہ میں یہ نہیں کہتا۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں۔ میں ملا اور پٹھان کی بات کرتا ہوں آپ نے حقیقی مسلمان کی Definition (تعریف) کی ہے۔ اس کے مطابق آپ کو کتنے مسلمان اس دنیا میں نظر آئے ہیں؟

مرزا ناصر احمد: میں نے جو حقیقی مسلمان کی تعریف بتائی ہے اس سے یہ نتیجہ نہیں نکالا.......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں میں یہ نہیں کہتا.......

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں میرا جواب سن لیں اس سے میں نے یہ نتیجہ نہیں نکالا کہ جو اس قسم کے مسلمان نہیں وہ جنت میں نہیں جائیں گے۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں میں اس کی بات نہیں کر رہا.......

مرزا ناصر احمد: میں سمجھا نہیں۔

(حقیقی مسلمان کم ہیں، یا ہیں نہیں؟)

825 جناب یحییٰ بختیار: میرا سوال یہ ہے کہ بہت ہی کم ہیں ایسے مسلمان یا بالکل ہی نہیں ہیں؟

مرزا ناصر احمد: امت محمدیہ میں لاکھوں کروڑوں ایسے گزرے۔

جناب یحییٰ بختیار: اس Definition (تعریف) کے مطابق.......

٢٦

صفحہ ٨٨٥

ASSEMBLY OF PAKISTAN 10th Aug, 1974 No:06

ایک وہ ہے جو ان کے حدود سے نکلنے کے بعد جو وہ حد اسلام درمیان ہزاروں قسم کے نیم مخلص، درمیانے درجے کے اور چکی ہے وہی یہاں......

جناب یحییٰ بختیار: میں یہ عرض کرنا چاہتا ہو طرح میں بھی پٹھان ہوں ایک مولوی سے اس نے پوچھا طریقہ کیا ہے؟ اس نے پہلے تو کہا کہ بھئی نماز پڑھو، روزے اور رسول پر ایمان لاؤ تو اس نے کہا اگر یہ سب کچھ ہو گیا تو نہیں پل صراط ہوگا، تلوار سے تیز، بال سے باریک تو اس کہ کوئی راستہ ہی نہیں جانے کا، تو آپ سے یہ عرض کروں گا

مرزا ناصر احمد: نہ میں یہ نہیں کہتا۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں۔ میں ملا اور مسلمان کی Definition (تعریف) کی ہے۔ اس میں نظر آئے ہیں؟

مرزا ناصر احمد: میں نے جو حقیقی مسلمان کی نکالا......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں میں یہ نہیں کہتا

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں میرا جواب سن لیں اس قسم کے مسلمان نہیں وہ جنت میں نہیں جائیں گے۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں میں اس کی با

مرزا ناصر احمد: میں سمجھا نہیں۔

(حقیقی مسلمان کم ہیں، یا

825 جناب یحییٰ بختیار: میرا سوال یہ ہے ک ہی نہیں ہیں؟

مرزا ناصر احمد: امت محمدیہ میں لاکھوں کروڑ

جناب یحییٰ بختیار: اس Definition

٢٦

885 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 10th Aug, 1974 No:06

مرزا ناصر احمد: ہاں جی اس Definition (تعریف) کے مطابق۔

جناب یحییٰ بختیار: اور آج کل بھی کوئی لاکھوں کروڑوں ایسے نہیں آپ کے خیال میں؟

مرزا ناصر احمد: اس وقت مجھے سمجھا جائے گا کہ میں متعصب ہوں۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں اتھارٹی جو ہے جس نے Study (مطالعہ) کی ہے جس نے لوگوں کو دیکھا ہے......

مرزا ناصر احمد: اس وقت بھی میرے نزدیک میرے علم میں، نزدیک نہیں، میرے علم میں ہزاروں ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: ہزاروں ہیں؟

مرزا ناصر احمد: میرے علم میں نہیں ہیں اور میرا علم بہرحال حاوی نہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں میں وہی پوچھ رہا ہوں۔

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں۔ میرے علم میں ہزاروں ہیں جو اس تعریف کے ماتحت آجاتے ہیں۔ حقیقی مسلمان والی۔

(سب قادیانی حقیقی مسلمان نہیں؟)

جناب یحییٰ بختیار: یعنی آپ کے علم میں ہیں جو اس تعریف کے اندر آتے ہیں۔ پھر دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا آپ کے علم میں اور آپ کے نقطہ نظر سے سب احمدی اس میں نہیں آسکتے۔

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں نہیں آسکتے۔ میں نے صاف کہہ دیا، نہیں آسکتے۔

جناب یحییٰ بختیار: ان میں کچھ تعداد ہوگی جو مدعی اسلام ہوں گے، کچھ حقیقی ہوں گے، ان میں بھی اب یہاں جو انہوں نے کہا ہے مرزا صاحب نے میں اس کی طرف پھر توجہ دلا دینا چاہتا ہوں۔ 826 آپ کا اور وقت ضائع کر رہا ہوں، وہاں جو ہے یہ سوال نہیں ہے کہ مدعی اسلام کون ہے اور حقیقی اسلام میں کون، وہاں یہ ہے کہ...... غیر احمدیوں کے متعلق مسلمان کا لفظ دیکھ کر لوگ دھوکہ نہ کھائیں۔ مرزا صاحب!

مرزا ناصر احمد: جی بالکل ٹھیک ہے۔

١؎ قادیانی حضرات توجہ فرمائیں۔ حقیقی مسلمان کی تعریف میں تمام قادیانی شامل نہیں۔ گویا مرزا قادیانی کو مان کر قادیانی، کافر کے کافر رہے۔ مبارک ہو موجودہ قادیانیوں کو، کہ: ”نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم“

٢٧

صفحہ ٨٨٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 10th Aug, 1974 No:06

Mr. Yahya Bakhtiar: This is غیر Ahmadi a nd only غیر احمدی to whom he is referring کہ ان کو حقیقی نہ سمجھیں۔ (جناب یحییٰ بختیار: یہ صرف اور صرف غیر احمدیوں کے بارے میں کہا جا رہا ہے)

مرزا ناصر احمد: جب آپ ختم کر لیں تو مجھے بتا دیں۔ میں جواب دوں یہاں کوئی اس سے اتفاق کرے یا نہ، یہی کہا گیا ہے کہ ہمارے نزدیک تمام وہ جو احمدی نہیں مدعیان اسلام ہیں۔ یہاں یہ نہیں کہا گیا کہ تمام وہ جو احمدی نہیں وہ حقیقی مسلمان ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: آپ پھر دیکھ لیں۔

مرزا ناصر احمد: پھر میں نے دیکھا یہاں یہ کہا گیا ہے کہ تمام وہ جو احمدی نہیں مدعیان اسلام ہیں اور احمدیوں میں سے بھی بہت سارے مدعیان اسلام ہیں اور حقیقی مسلمان نہیں ہیں اس سے انکار ہی نہیں کیا گیا اس میں۔

جناب یحییٰ بختیار: میں ایک دفعہ پھر پڑھ کے پھر اس سوال کو چھوڑ دیتا ہوں اور پھر آگے آپ کو تکلیف دوں گا۔ ”معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود کو بھی بعض وقت اس بات کا خیال آیا ہے کہ کہیں میری تحریروں میں غیر احمدیوں کے متعلق مسلمان کا لفظ دیکھ کر......“ کبھی عیسائی تو مدعی اسلام ہو ہی نہیں سکتا۔ یہودی ہو نہیں سکتا۔ مشرک ہو ہی نہیں سکتا۔ یہ تو صرف غیر احمدی مسلمان جو ہیں وہی ہو سکتے ہیں۔ ”غیر احمدیوں کے متعلق مسلمان کا لفظ دیکھ کر لوگ دھوکہ نہ کھائیں اس لئے آپ نے کہیں کہیں بطور ازالہ کے غیر احمدیوں کے متعلق ایسے الفاظ بھی لکھ دیئے کہ وہ لوگ جو اسلام کا دعویٰ کرتے ہیں تاجہاں کہیں بھی مسلمان کا لفظ ہو اس سے مدعی اسلام سمجھا جاوے نہ کہ حقیقی مسلمان۔“

827 مرزا ناصر احمد: نہ کہ حقیقی مسلمان اس کی تعریف بھی آ گئی۔

Mr. Yahya Bakhtiar: Clearly outside the pale of Ahmadi Musalman. If I mean, if I write Musalman I mean people who claim to be Musalman or pretend to be Musalman. This is the impression from the plain, simple reading of the passage. After that if you want to add something more, Sir, That will come on the record.

(جناب یحییٰ بختیار: صریحاً احمدی مسلمان کے دائرے سے خارج، اگر میں کہوں

٢٨

صفحہ ٨٨٧

L ASSEMBLY OF PAKISTAN 10th Aug, 1974 No:06

akhtiar: This is غیر Ahmadi a m he is referring کہ ان کو حقیقی نہ سمجھیں۔

(جناب یحییٰ بختیار: یہ صرف اور صرف غیر احمد

مرزا ناصر احمد: جب آپ ختم کرلیں تو مجھے ب اس سے اتفاق کرے یا نہ، یہی کہا گیا ہے کہ ہمارے نزدیک ہیں۔ یہاں یہ نہیں کہا گیا کہ تمام وہ جو احمدی نہیں وہ حقیقی مسل

جناب یحییٰ بختیار: آپ پھر دیکھ لیں۔

مرزا ناصر احمد: پھر میں نے دیکھا یہاں یہ کہا گ اسلام ہیں اور احمدیوں میں سے بھی بہت سارے مدعیان اسلا سے انکار ہی نہیں کیا گیا اس میں۔

جناب یحییٰ بختیار: میں ایک دفعہ پھر پڑھ کے آگے آپ کو تکلیف دوں گا۔ ”معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح مو آیا ہے کہ کہیں میری تحریروں میں غیر احمدیوں کے متعلق مسلم مدعی اسلام ہو ہی نہیں سکتا۔ یہودی ہو نہیں سکتا۔ مشرک ہو مسلمان جو ہیں وہی ہو سکتے ہیں۔“ غیر احمدیوں کے متعلق لکھا ہے اس لئے آپ نے کہیں کہیں بطور ازالہ کے غیر احمدیو کہ وہ لوگ جو اسلام کا دعویٰ کرتے ہیں تا جہاں کہیں بھی مسل جاوے نہ کہ حقیقی مسلمان۔“

827 مرزا ناصر احمد: نہ کہ حقیقی مسلمان اس کی تعری

akhtiar: Clearly outside the pale of I mean, if I write Musalman I mean be Musalman or pretend to be t impression from the plain, simple ge. After that if you want to add hat will come on the record.

(جناب یحییٰ بختیار: صریحاً احمدی مسلمان ب

٢٨

887 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 10th Aug, 1974 No:06

اگر میں لکھوں ”مسلمان“ تو میرا مطلب ان سے ہے جو اپنے آپ کو مسلمان سمجھتے ہیں۔ یا خود کو مسلمان ظاہر کرتے ہیں۔ یہ اس پیرا کا صاف اور سادہ مطلب ہے۔ اس کے باوجود آپ کچھ اضافہ کرنا چاہتے ہیں تو وہ ریکارڈ پر آ جائے گا)

مرزا ناصر احمد: میں کچھ اور کہنا چاہتا ہوں جو عبارت ابھی پڑھی گئی ہے وہ بانی سلسلہ احمدیہ کی نہیں۔ معلوم ہوتا ہے ”حضرت مسیح موعود کو بھی بعض وقت اس بات کا خیال آیا ہے...... یہ آرٹیکل لکھنے والے کا اپنا استدلال ہے۔ جس کے متعلق انہوں نے یہ اظہار کیا ہے کہ مجھے بھی اپنے استدلال پر پختہ یقین نہیں اس لئے لفظ استعمال کیا معلوم ہوتا ہے ۔ ”معلوم ہوتا ہے“ ایک پختہ بات کے لئے نہیں استعمال کیا گیا بلکہ پختہ بات ہو تو یہ کہا جاتا ہے کہ یہ بات ہے، یہاں یہ ہے کہ معلوم ہوتا ہے اور یہ آپ کا استدلال ہے اور آگے جو کہا کہ وہ لوگ جو اسلام کا دعویٰ کرتے ہیں کہیں مدعی اسلام سمجھا جاوے، حقیقی مسلمان جو اس تعریف کے اندر آتا ہے جس میں سارے احمدی بھی نہیں وہ نہ سمجھا جائے۔ یہ سارا ایک استدلال ہے۔ اس مضمون کے لکھنے والے کا......“

جناب یحییٰ بختیار: وہ کہتے ہیں غیر احمدی کے بارے میں جب میں مسلمان کہتا ہوں......

مرزا ناصر احمد: یہ استدلال ہے مضمون لکھنے والے کا، اور میں نے بتایا کہ یہ کہنا میرے نزدیک تمام غیر احمدی اس تعریف کے مطابق حقیقی مسلمان نہیں، اس کا اس سے یہ نہیں منطقی نتیجہ نکلتا۔ منطق اس کے خلاف کہتی ہے۔ نہیں The logical conclusion is not that (اس کا منطقی نتیجہ یہ نہیں) کہ جو احمدی ہیں وہ سارے حقیقی مسلمان ہیں۔ فقرہ یہ ہے کہ جو احمدی نہیں۔

Mr. Yahya Bakhtiar: Sorry Sir, one minute

(جناب یحییٰ بختیار: جناب والا ! معاف کیجئے گا۔ ایک منٹ......) آپ کے نقطہ نظر سے عقیدے سے کوئی غیر احمدی بھی حقیقی مسلمان ہے؟

(آپ کے نقطہ نظر سے کوئی غیر احمدی، مسلمان نہیں؟)

مرزا ناصر احمد: میرے عقیدے کے مطابق ہاں یہ بڑا واضح ہے سوال، میرے عقیدے کے مطابق اس تعریف کے لحاظ سے میرے علم میں کوئی غیر احمدی حقیقی مسلمان نہیں۔ غیر احمدی مسلمان ملت اسلامیہ سے تعلق رکھنے والا اس معیار کا کوئی نہیں۔

828 جناب یحییٰ بختیار: حقیقی کوئی نہیں؟

٢٩

صفحہ ٨٨٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 10th Aug, 1974 No:06

مرزا ناصر احمد: اس معیار کا حقیقی مسلمان ١؎۔ جناب یحییٰ بختیار: ہاں وہ حقیقی جو آپ نے Define (تعریف) کیا ہے۔ مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں جو اس حوالے سے لکھا ہے۔

Mr. Yahya Bakhtiar: Sir, the next subject will take some time shall we have to berak now. (جناب یحییٰ بختیار: جناب اگلی بات کچھ وقت لے گی، کیا اب ہمیں وقفہ کرنا چاہئے)

Mr. Chairman: The delegation is permitted to withdraw for 12:15. سوا بارہ بجے۔ (جناب چیئرمین: وفد کو سوا بارہ بجے تک جانے کی اجازت ہے)

(The Delegation left the Hall) (وفد ہال سے چلا گیا)

Mr. Chairman: I would like to know if any honourable member wants to say something. (جناب چیئرمین: میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ کیا کوئی معزز رکن کچھ کہنا چاہتے ہیں)

Mr. Yahya Bakhtiar: No, Sir. (جناب یحییٰ بختیار: نہیں، جناب)

Mr. Chairman: Then we meet at 12:15. Thank you very much. (جناب چیئرمین: پھر ہم سوا بارہ بجے ملیں گے۔ آپ کا بہت بہت شکریہ)

----------

(The Special committee adjourned for tea break to meet again at 12:15 pm.) (خصوصی کمیٹی کا اجلاس چائے کے وقفہ کے لئے سوا بارہ بجے تک کے لئے ملتوی ہوتا ہے)

__________________________________________________

١؎ پوری دنیا کے مسلمان جو مرزا کو نہ مانیں؟ ٣٠

صفحہ ٨٨٩

SEMBLY OF PAKISTAN 10th Aug, 1974 No:06

مرزا ناصر احمد: اس معیار کا حقیقی مسلمان ١؎

جناب یحییٰ بختیار: ہاں وہ حقیقی جو آپ س

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں جو اس حوالے س

htiar: Sir, the next subject will ave to break now.

(جناب یحییٰ بختیار: جناب اگلی بات کچھ

The delegation is permitted to

(جناب چیئرمین: وفد کو سوا بارہ بجے تک

ation left the Hall)

(وفد ہال سے چلا

I would like to know if any to say something.

(جناب چیئرمین: میں یہ جاننا چاہتا ہو

tiar: No, Sir.

(جناب یحییٰ بختیار: نہیں، جناب)

Then we meet at 12:15. Thank

(جناب چیئرمین: پھر ہم سوا بارہ بجے ملتے

----------

ittee adjourned for tea break to

(خصوصی کمیٹی کا اجلاس چائے کے وقفہ کے

----------

١؎ پوری دنیا کے مسلمان جو مرزا کو نہ مانیں

٣٠

889 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 10th Aug, 1974 No:06

(The Special Committee re-assembled after tea break, Mr. Chairman (Sahibzada Farooq Ali) in the Chair.)

(خصوصی کمیٹی کا اجلاس چائے کے وقفہ کے بعد شروع ہوا۔ چیئرمین صاحبزادہ فاروق علی نے صدارت کی)

----------

جناب چیئرمین: ابھی نہ بلائیں۔ دو منٹ ہاں نیچے آ جائیں، باہر بٹھا دیں، آپ تشریف رکھیں ناں جی۔

Just to tell something about the programme to the honourable members... I draw the attention of honourable members___ Sardar Abdul Aleem. I will just draw the attention of Honourable member.... Sadar Abdul Aleem.

(پروگرام کے بارے میں میں معزز اراکین کو کچھ بتانا چاہتا ہوں۔ میں معزز اراکین کی توجہ دلانا چاہتا ہوں۔ سردار عبد العلیم)

----------

829 PROGRAMME FOR FURTHER SITTING OF THE COMMITTEE / ASSEMBLY

(اسمبلی/ کمیٹی کے اگلے اجلاسات کا پروگرام)

I will just draw the attention of honourable members that we have decided certain things about the programme. I want to tell to the honourable members the Attorney General needs a week to prepare what has been done in six days, it takes at least a week for preparation. We also need a weak for the preparation of our record. Only then we can supply to honourable members the copies of record without which we cannot proceeed further. So many things are left out so many things are to be asked. So to-day will be the last

٣١

صفحہ ٨٩٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 10th Aug, 1974 No:06

day, rather this meeting will be the last for the cross- examination, but the cross- examination will continue. The date will be fixed and will be told. The House committee will adjourn from to-day and the date will be round about 19, 20, 21st. It will be told to the honourable members. Tomorrow will be no session. For 12th and 13th, we will meet as National Assembly, one session daily on the 12th and 13th morning.

(میں معزز اراکین کی توجہ اس بات کی طرف دلانا چاہتا ہوں کہ پروگرام کے بارے میں ہم نے کچھ فیصلے کئے ہیں جو کہ میں معزز اراکین کو بتانا چاہتا ہوں۔ پچھلے چھ روز میں جو کاروائی ہوئی اس کے مدنظر اٹارنی جنرل کو مزید کاروائی کی تیاری کے لئے ایک ہفتہ مہلت درکار ہے۔ ہمیں بھی ریکارڈ کی تیاری کے لئے ایک ہفتہ چاہئے۔ تاکہ نقول معزز اراکین کو مہیا کی جاسکیں۔ اس کے بغیر مزید کاروائی ممکن نہیں۔ کئی باتیں رہ جاتی ہیں۔ کئی باتیں پوچھنا ہوتی ہیں۔ چنانچہ آج جرح کا آخری دن ہوگا۔ گو گواہ پر مزید جرح جاری رہے گی۔ (آئندہ کاروائی کے لئے) تاریخ مقرر کی جائے گی اور اس کا اعلان کر دیا جائے گا۔ کمیٹی کا اجلاس ملتوی کر دیا جائے گا اور آئندہ تاریخ ١٩، ٢٠ یا ٢١ ہوگی۔ اس کا اعلان معزز اراکین کے سامنے کر دیا جائے گا۔ کل کوئی اجلاس نہیں ہوگا۔ ١٢ یا ١٣ تاریخ کو ہم بطور قومی اسمبلی اجلاس کریں گے جس کا روزانہ ایک اجلاس صبح کے وقت ہوگا)

Mr. Abdul Hafeez Pirzada (Minister for Law and Paliamentary Affairs): I would request that we shall have after noon session.

(جناب عبدالحفیظ پیرزادہ (وزیر قانون): میری گزارش ہے کہ اجلاس شام کو منعقد کیا جائے)

Mr. Chairman: Now, Mr. Law Minister, you have also to accept our request.

(جناب چیئرمین: وزیر قانون صاحب! آپ کو میری گزارش ماننا ہوگی)

Mr. Abdul Hafeez Pirzada: Because the Senate

٣٢

صفحہ ٨٩١

L. ASSEMBLY OF PAKISTAN 10th Aug, 1974 No:06

ting will be the last far the cross- cross- examination will continue. The will be told. The House committee will nd the date will be round about 19, 20, the honourable members. Tomorrow For 12th and 13th, we will meet as he session daily on the 12th and 13th

(میں معزز اراکین کی توجہ اس بات کی طرف دلا میں ہم نے کچھ فیصلے کئے ہیں جو کہ میں معزز اراکین کو بتانا چا ہوئی اس کے مدنظر اٹارنی جنرل کو مزید کاروائی کی تیاری کے ۔ بھی ریکارڈ کی تیاری کے لئے ایک ہفتہ چاہیے۔ تاکہ نقول معزز بغیر مزید کاروائی ممکن نہیں۔ کئی باتیں رہ جاتی ہیں۔ کئی باتیں آخری دن ہوگا۔ کو گواہ پر مزید جرح جاری رہے گی۔ (آئندہ جائے گی اور اس کا اعلان کر دیا جائے گا۔ کمیٹی کا اجلاس ملتوی ٢١ ہوگی۔ اس کا اعلان معزز اراکین کے سامنے کر دیا جا۔ ١٣ تاریخ کو ہم بطور قومی اسمبلی اجلاس کریں گے جس کا روزانہ

afeez Pirzada (Minister for Law Affairs): I would request that we ession.

(جناب عبدالحفیظ پیرزادہ (وزیر قانون): منعقد کیا جائے)

n: Now, Mr. Law Minister, you have est.

(جناب چیئرمین: وزیر قانون صاحب! آپ

afeez Pirzada: Because the Senate

٣٢

891 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 10th Aug, 1974 No:06

is....

(جناب عبدالحفیظ پیرزادہ: چونکہ سینیٹ ......)

Mr. Chairman: You were absent for six days.

(جناب چیئرمین: آپ چھ روز تک غیر حاضر رہے)

Mr. Abdul Hafeez Pirzada: Sir, the Senate is meeting in the morning.

(جناب عبدالحفیظ پیرزادہ: جناب والا سینیٹ کا اجلاس صبح کو ہو رہا ہے)

Mr. Chairman: You have to compensate, now we can meeting simultaneously, we have made arrangements, we can....

(جناب چیئرمین: اس کا ازالہ اب آپ کو کرنا ہوگا۔ یہ اجلاس ایک ہی وقت ہو سکتے ہیں۔ ہم نے انتظامات کر رکھے ہیں۔ ہم ......)

(Interruption)

All right.

(ٹھیک ہے)

Mr. Abdul Hafeez Pirzada: We have a lot of burden in the morning and other work suffers a lot.

(جناب عبدالحفیظ پیرزادہ: صبح کے وقت کافی زیادہ کام ہوتا ہے اور دوسرے کاموں کا حرج ہوتا ہے)

830 Mr. Chairman: Yes.

(جناب چیئرمین: جی ہاں)

Mr. Abdul Hafeez Pirzada: In the evening.

(جناب عبدالحفیظ پیرزادہ: شام کے وقت)

Mr. Chairman: Six of the Clock in the in the morning. Now we are in a position that the Senate and National Assembly can meet simultaneously, that will be for the convenience of the Ministers.

(جناب چیئرمین: شام چھ بجے۔ چنانچہ سینیٹ اور قومی اسمبلی کے اجلاس ساتھ ساتھ ہو سکتے ہیں۔ اس طرح وزراء صاحبان کو سہولت رہے گی)

Mr. Abdul Hafeez Pirzada: Yes.

٣٣

صفحہ ٨٩٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 10th Aug, 1974 No:06

(جناب عبدالحفیظ پیرزادہ: جی ہاں)

Ch. Mohammad Hanif Khan (Minister for Labour and Works): There are Bills pending now before the National Assembly at the same time simultaneously, we will have to appear before the Senate, because the Bills are pending there as well.

(چوہدری محمد حنیف خان (وزیر محنت): قومی اسمبلی کے پاس قانونی مسودہ بل ہیں۔ سینیٹ کے پاس بھی ایسے ہی بل ہیں۔ لہٰذا ہمیں ایک ہی وقت میں سینیٹ کے سامنے بھی پیش ہونا ہے)

Mr. Chairman: I see. So, on the 12th and 13th we will be....

(جناب چیئرمین: اس لئے میں کہتا ہوں کہ ١٢ اور ١٣ کو ہم ہوں گے......)

چوہدری محمد حنیف خان: دونوں ایک ہی وقت نہیں مل سکیں گے۔ بہت Bills ہیں وہاں پر......

جناب چیئرمین: ٹھیک ہے۔ In the evening (شام کے وقت)

جناب عبدالحفیظ پیرزادہ: رپورٹرز کے دو حصے کر دیئے ہیں۔ وزراء کے بھی دو حصے کر دیجئے کہ آدھے......

Mr. Chairman: So, should we call them? The delegation may be called.

(جناب چیئرمین: تو کیا ہم انہیں بلالیں؟ وفد کو بلا لیا جائے)

Mr. Yahya Bakhtiar: Sir, I may explain you know that....

(جناب یحییٰ بختیار: جناب والا! میں وضاحت کردوں۔ آپ کو معلوم ہے......)

Mr. Chairman: Just a minute, yes.

(جناب چیئرمین: ذرا ٹھہریئے ۔ جی)

Mr. Yahya Bakhtiar: Since it have been agreed

٣٤

صفحہ ٨٩٣

ONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 10th Aug, 1974 No:06

(جناب عبدالحفیظ پیرزادہ: جی ہاں)

mmad Hanif Khan (Minister for s): There are Bills pending now before bly at the same time simultaneously, we before the Senate, because the Bills are ll.

(چوہدری محمد حنیف خان (وزیر محنت): قومی ا ہیں۔ سینیٹ کے پاس بھی ایسے ہی بل ہیں۔ لہٰذا ہمیں ایک ہی پیش ہونا ہے)

man: I see. So, on the 12th and 13th we

(جناب چیئرمین: اس لئے میں کہتا ہوں کہ ١٢ اور چوہدری محمد حنیف خان: دونوں ایک ہی وقت ہ ہیں وہاں پر......

he evening. جناب چیئرمین: ٹھیک ہے۔

جناب عبدالحفیظ پیرزادہ: رپورٹرز کے دو حصے کر دیجئے کہ آدھے......

man: So, should we call them? The lled.

(جناب چیئرمین: تو کیا ہم انہیں بلالیں؟ وفد کو

Bakhtiar: Sir, I may explain you

(جناب یحییٰ بختیار: جناب والا ! میں وضاحت کر

an: Just a minute, yes.

(جناب چیئرمین: ذرا ٹھہریئے ۔ جی)

Bakhtiar: Since it have been agreed

٣٤

893 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 10th Aug, 1974 No:06

that after this sitting will be adjourned, so I don not want to start a subject like Jahad or what they said about the British.

(جناب یحییٰ بختیار: چونکہ اس بات پر اتفاق رائے ہو گیا ہے کہ اس کے بعد اجلاس ملتوی کر دیا جائے گا۔ لہٰذا میں کوئی موضوع شروع نہیں کرنا چاہتا۔ جہاد یا برطانیہ کے بارے میں انہوں نے کیا کہا)

Mr. Chairman: Yes, (جناب چیئرمین: جی ہاں)

Mr. Yahya Bakhtiar: So even if I finish within 15,20 minutes.

(جناب یحییٰ بختیار: اگر میں پندرہ بیس منٹ میں اپنے سوالات ختم کر دوں تو پھر ......)

831 Mr. Chairman: Yes, it is all right.

(جناب چیئرمین: جی ہاں! یہ ٹھیک ہے)

Mr. Yahya Bakhtiar: We should finish today. I would not go to the (new subject)....

(جناب یحییٰ بختیار: ہم کاروائی آج ختم کر لیں گے میں کوئی نیا موضوع شروع نہیں کروں گا)

Mr. Chairman: It is all (up) to the convenience of the Attorney- General.....

(جناب چیئرمین: یہ سب اٹارنی جنرل صاحب کی اپنی سہولت پر ہے......)

Mr. Yahya Bakhtiar: ..... New subject all together. (جناب یحییٰ بختیار: بالکل نیا موضوع......)

Mr. Chairman: It is Attorney- General like or the Law Minister propose, perhaps we can hold a meetings of the steering Committee also just one day before, that is on 19th or 20th.

(جناب چیئرمین: اٹارنی جنرل صاحب یا وزیر قانون صاحب پسند کریں تو ہم سٹیئرنگ کمیٹی کا اجلاس ایک روز قبل یعنی ١٩ یا ٢٠ کو بلا سکتے ہیں)

٣٥

صفحہ ٨٩٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 10th Aug, 1974 No:06

Mr. Abdul Hafeez Pirzada: We see that sir.

(جناب عبدالحفیظ پیرزادہ: جناب والا! یہ دیکھ لیں گے)

مولانا محمد ظفر احمد انصاری: وہ دیکھ لیجئے گا۔

جناب چیئرمین: وہ دیکھ لیں گے۔ They may be called. (انہیں بلالیں)

(The Delegation entered the Hall)

(وفد ہال میں داخل ہوا)

The Attorney- General is ready? Yes, Mr. Attorney- General. (اٹارنی جنرل تیار ہے؟ جی ہاں، جناب اٹارنی جنرل)

CROSS- EXAMINATION OF THE QADIANI

GROUP DELEGATION

(قادیانی وفد پر جرح)

جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب میں نے چند سوالات آپ سے پوچھے تھے جس سے کہ یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آپ اپنے کو مسلمانوں سے ایک علیحدہ فرقہ یا امت یا گروہ یا پارٹی سمجھتے ہیں تو اسی Separatism اور Separatist Tendency (علیحدگی کے رجحان) کو مدنظر رکھتے ہوئے تا کہ آپ کو معلوم ہو سکے کہ سوال کس پر میں پوچھ رہا ہوں، آپ سے ایک دو سوال اور میں پوچھوں گا۔ جی۔

مرزا ناصر احمد: ویسے میں یہ تمہید.......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں آپ Deny (انکار) کیا ہے ناں۔

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں میں تمہید بھی نہیں سمجھا میں تو یہ کہنے لگا ہوں اب آپ نے تمہید باندھی ہے۔

832 جناب یحییٰ بختیار: میں پھر کہہ دیتا ہوں۔

مرزا ناصر احمد: وہ میں اس لئے نہیں سمجھا کہ آپ نے فرمایا ہے کہ میں نے سوال پوچھے تھے جس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے۔

٣٦

صفحہ ٨٩٥

895 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 10th Aug, 1974 No:06

(قادیانیوں نے کہا کہ ہمیں مسلمانوں سے الگ شمار کیا جائے)

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، یہ اثر پڑتا تھا۔ یہ Impression (تاثر) میں نے ایک سوال آپ سے پوچھا تھا کہ مرزا صاحب نے ایک جگہ کہا تھا کہ Census (مردم شماری) میں ہمیں علیحدہ ریکارڈ کیا جائے پھر میں نے آپ کی توجہ دلائی تھی کہ مرزا بشیر الدین محمود صاحب نے ایک نمائندہ بھیجا تھا کہ جہاں پارسی، عیسائی علیحدہ Treat (شمار) ہو رہے ہیں۔ ہمیں بھی علیحدہ Treat (شمار) کیا جائے۔

مرزا ناصر احمد: اس کا ابھی جواب نہیں دیا میں نے۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں میں نے کہا جی کہ وہ مدنظر رکھیں آپ کہ میں اس Subject (موضوع) پر بول رہا ہوں تاکہ آپ بعد میں یہ نہ سمجھیں کہ کس Context (ضمن) میں یہ بات ہوئی تھی۔

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں ٹھیک ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! یہ تو آپ کو علم ہے اور سب کو علم ہے عیسائیوں، ہندوؤں، پارسیوں کے اور مسلمانوں کے علیحدہ علیحدہ کیلنڈر ہیں۔

مرزا ناصر احمد: علیحدہ علیحدہ؟

جناب یحییٰ بختیار: کیلنڈر۔

مرزا ناصر احمد: اچھا۔

جناب یحییٰ بختیار: یہ درست ہے ناں جی کہ یہ عیسوی ہے عیسائیوں کی، مسلمانوں کا اپنا کیلنڈر ہے جو ہجری سے شروع ہوتا ہے۔

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہجرت سے شروع ہوتا ہے۔

(احمدیوں کا بھی کوئی علیحدہ کیلنڈر ہے؟)

جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی، پھر پارسیوں کا ایسا ہی ہے جو اپنے نوروز سے شروع کرتے ہیں۔ اسی طرح ہندوؤں کا کیلنڈر ہے۔ ابھی ہمارا ١٣٩٤ھ سال ہے۔ یہ تو کیا آپ کا احمدیوں کا بھی کوئی کیلنڈر ہے؟

مرزا ناصر احمد: نہیں۔

833 جناب یحییٰ بختیار: کیا آپ کے اخبارات میں ہجری سن کے ساتھ آپ کے کسی سال کا ذکر آتا ہے۔ کیلنڈر کا جو اخبارات یا رسالے چھپتے ہیں جیسے ہمارے اخبارات میں عیسوی کے

٣٧

F PAKISTAN 10th Aug, 1974 No:06

ada: We see that sir.

(جناب عبدالحفیظ پیرزادہ:

مولانا محمد ظفر احمد انصاری:

جناب چیئرمین: وہ دیکھ لیں

red the Hall)

(وفد

ready? Yes, Mr. Attorney-

(اٹارنی جنرل تیار ہے؟ جی ہاں

OF THE QADIANI GATION

(قاد

جناب یحییٰ بختیار: مرزا ص سے کہ یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آپ اپنے کو مسل ہیں تو اسی Separatism اور acy مدنظر رکھتے ہوئے تاکہ آپ کو معلوم ہو ئ سوال اور میں پوچھوں گا۔ جی۔

مرزا ناصر احمد: ویسے میں ی

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، ن

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں تمہید باندھی ہے۔

832 جناب یحییٰ بختیار: میں

مرزا ناصر احمد: وہ میں اس پوچھے تھے جس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے۔

صفحہ ٨٩٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 10th Aug, 1974 No:06

ساتھ ہجری لکھتے ہیں۔ آپ آج کا اخبار ”جنگ“ اٹھا لیجئے۔ آپ ”نوائے وقت“ اٹھا لیجئے یا کوئی اخبار دیکھ لیجئے۔ ہجری اور عیسوی دونوں کا ذکر ہوتا ہے۔ آپ کے بعض اخباروں میں اور رسالوں میں ہجری یا عیسوی کے ساتھ آپ کے کیلنڈر کا، سال کا، مہینے کا کوئی ذکر ہوتا ہے یا نہیں؟

مرزا ناصر احمد: نہیں ہمارے کیلنڈر کا ذکر نہیں ہوتا۔

جناب یحییٰ بختیار: آپ کے کیلنڈر ......

مرزا ناصر احمد: ہمارا کیلنڈر ہے ہی نہیں ذکر کہاں سے ہوگا۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، جی، میں یہی پوچھ رہا تھا پہلے میں نے .......

مرزا ناصر احمد: نہیں میں وضاحت کردوں کیونکہ پھر آجائے گا کہ شاید میں نے ......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی، میں نے پہلے پوچھا کہ کیلنڈر ہے؟ آپ نے کہا نہیں ہے۔

مرزا ناصر احمد: بالکل نہیں ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: پھر بعض اخباروں میں ایسے ......

مرزا ناصر احمد: اگر آپ کا سوال ختم ہو جائے تو پھر میں جواب دوں۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں میں نے یہ سوال پوچھا ہے کہ آپ کی جو Publications (مطبوعات) ہیں ......

مرزا ناصر احمد: جو ہجرت ہے وہ ہمارے ساتھ تو نہیں تعلق رکھتی۔ اسلام کے ہر فرقے سے تعلق رکھتی ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں میں یہی پوچھ رہا تھا۔

مرزا ناصر احمد: تو جس کیلنڈر کو بھی کسی شکل میں ہجرت سے شروع کیا جائے گا وہ سوائے اسلام کے کسی اور کی طرف منسوب ہی نہیں ہو سکتا۔

834 جناب یحییٰ بختیار: نہیں میں نے صرف یہ گزارش کی کہ آپ کا اپنا کوئی ایسا کیلنڈر ہے؟

مرزا ناصر احمد: نہیں ہمارے ساتھ تعلق رکھنے والا کوئی کیلنڈر نہیں ہجرت سے تعلق رکھنے والا ایک کیلنڈر ہے۔

1 مرزا ناصر احمد کے اس جواب کو قادیانی ملاحظہ فرمائیں۔ پھر آگے جو وہ مؤقف اختیار کریں اس پر توجہ کریں کہ دونوں باتوں میں کتنا فرق ہے؟ جو ایک دینی راہنما کہلانے والے کے بالکل شایان شان نہیں۔ ایسے حربے تو عیار دنیا دار بھی نہیں کرتے جو مرزا ناصر احمد کر رہا ہے۔

٣٨

صفحہ ٨٩٧

897 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 10th Aug, 1974 No:06

جناب یحییٰ بختیار: وہ تو مسلمانوں کا جو کیلنڈر ہے؟ مرزا ناصر احمد: ہاں ہاں مسلمانوں کا کیلنڈر ہی ہے جو ہجرت سے تعلق رکھتا ہے وہ مسلمانوں کا کیلنڈر ہے۔ (Pause)

(”ماہ، وفا“ کون سے مہینے کو کہتے ہیں؟)

جناب یحییٰ بختیار: یہ ”ماہ وفا“ کون سے مہینے کو کہتے ہیں آپ۔ مرزا ناصر احمد: ابھی کیلنڈر کی بات ہو رہی تھی، پھر مہینے کی، میں نے اسی واسطے کہا تھا کہ ہجرت سے تعلق رکھنے والے کسی کیلنڈر کو جماعت احمدیہ سے تعلق رکھنے والا کیلنڈر کہنا یہ درست نہیں ہے۔ یعنی کوئی بھی نہیں اس کو درست سمجھے گا۔ صرف فرق اتنا ہے کہ ہجرت سے تعلق رکھنے والے دو کیلنڈر ہیں، ایک کو قمری کہا جاتا ہے جس کا چاند سے تعلق ہے، وہی ابتداء اس کی وہی ہے ہجرت، اور ایک کو شمسی کہا جاتا ہے جس کا سورج سے تعلق ہے۔ جیسے کہ عیسائیوں کا کیلنڈر ہے جو ہجرت کا قمر کے ساتھ تعلق رکھ کر آگے چلے ناں سال وہ تمام دنیا میں رائج ہے۔ لیکن دنیا کے ایک حصے میں مسلمانوں نے ہجرت سے بھی ایک دوسرا کیلنڈر جس کا سورج سے تعلق ہے لیکن وہ مسلمانوں کا کیلنڈر ہے۔ کیونکہ ہجرت سے چلتا ہے وہ بنایا ...... افغانستان میں وہ رائج ہے۔ ایران میں وہ رائج ہے۔ ”ہجری، شمسی“ اور اس کو ہمارا بھی دل کیا اور اب بھی کرتا ہے کہ اس کو رائج کریں پوری طرح ہم کامیاب نہیں ہو سکے۔ جس کیلنڈر کا تعلق ہجرت نبی اکرم ﷺ کے ساتھ ہے جو افغانستان میں رائج ہے جو ایران میں رائج ہے اگر جماعت احمدیہ ایک تھوڑی سی حقیر کوشش کرے تو اس کو اس کا اپنا کیلنڈر کیسے کہا جائے گا؟ 835 جناب یحییٰ بختیار: نہیں میں نے یہ کبھی نہیں کہا میں نے ...... مرزا ناصر احمد: میں وضاحت کر رہا ہوں۔ جناب یحییٰ بختیار: میں نے پوچھا آپ سے۔ مرزا ناصر احمد: بس یہی میرا جواب ہے۔ جناب یحییٰ بختیار: یہ ”ماہ وفا“ جو ہے یہ شمسی کے ساتھ تعلق رکھتا ہے؟ مرزا ناصر احمد: یہ شمسی کے ساتھ شمسی ہجری کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔

(افغانستان میں یہی مہینے ہیں؟)

جناب یحییٰ بختیار: افغانستان میں بھی یہی مہینے ہیں؟ ٣٩

SSEMBLY OF PAKISTAN 10th Aug, 1974 No:06

ساتھ ہجری لکھتے ہیں۔ آپ آج کا اخبار ”جنگ“ اٹھا لیجے اخبار دیکھ لیجئے۔ ہجری اور عیسوی دونوں کا ذکر ہوتا ہے۔ آ میں ہجری یا عیسوی کے ساتھ آپ کے کیلنڈر کا ، سال کا ، مہینے مرزا ناصر احمد: نہیں ہمارے کیلنڈر کا ذکر نہیں جناب یحییٰ بختیار: آپ کے کیلنڈر ...... مرزا ناصر احمد: ہمارا کیلنڈر ہے ہی نہیں ذکر ک جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی، میں یہی پوچھ مرزا ناصر احمد: نہیں میں وضاحت کردوں جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی، میں نے پہلے پ مرزا ناصر احمد: بالکل نہیں ہے۔ جناب یحییٰ بختیار: پھر بعض اخباروں میں مرزا ناصر احمد: اگر آپ کا سوال ختم ہو جا جناب یحییٰ بختیار: نہیں میں نے Publications (مطبوعات) ہیں ...... مرزا ناصر احمد: جو ہجرت ہے وہ ہمار فرقے سے تعلق رکھتی ہے۔ جناب یحییٰ بختیار: ہاں میں یہی پوچھ رہ مرزا ناصر احمد: تو جس کیلنڈر کو کوئی کسی سوائے اسلام کے کسی اور کی طرف منسوب ہی نہیں ہو سکتا 834 جناب یحییٰ بختیار: نہیں میں نے کیلنڈر ہے؟ مرزا ناصر احمد: نہیں ہمارے ساتھ تعلق رکھنے والا ایک کیلنڈر ہے۔

___________ ١؎ مرزا ناصر احمد کے اس جواب کو قادیا اختیار کریں اس پر توجہ کریں کہ دونوں باتوں میں کتنا ت کے بالکل شایان شان نہیں۔ ایسے حربے تو عیار دنیا دا ٣٨

صفحہ ٨٩٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 10th Aug, 1974 No:06

مرزا ناصر احمد: نہ مہینوں کے نام یہ نہیں ہیں۔ مہینوں کے نام ہم نے نبی اکرم ﷺ کی زندگی کے مختلف واقعات جو تھے ان کے اوپر Base کر کے یہ نام رکھے ہیں بارہ مثلاً ”فتح مکہ“ پر ”فتح“، اس کا تعلق فتح مکہ سے ہے۔

١؎ مرزا ناصر احمد نے یہاں صریح دھوکہ دہی سے کام لیا ہے۔ ایران، افغانستان کے شمسی کیلنڈر علیحدہ ہیں۔ ان کے مہینوں کے نام علیحدہ، قادیانیوں کے بالکل علیحدہ، پھر قادیانیوں نے علیحدہ مہینوں کے نام اپنی وجہ سے رکھے۔ مثلاً نومبر کے مہینہ کو قادیانی نبوت کہتے ہیں۔ اس لئے کہ نومبر ١٩٠١ء میں مرزا نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ دیگر مثالیں سمجھانے سے پہلے ان کے مہینوں کی ترتیب اور نام ملاحظہ کریں۔ جنوری کے مہینہ کو قادیانی ”صلح“ کہتے ہیں۔ فروری کو تبلیغ، مارچ کو امان، اپریل کو شہادت، مئی کو ہجرت، جون کو احسان، جولائی کو وفا، اگست کو ظہور، ستمبر کو تبوک، اکتوبر کو اخاء، نومبر کو نبوت، دسمبر کو فتح۔ غرض ہر مہینہ کے نام کے پیچھے قادیانیوں نے اپنی جماعتی زندگی کے کسی اہم واقع پر بنیاد رکھی۔ جیسے نومبر کو نبوت، اس لئے کہ نومبر میں مرزا نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ ٢٦ مئی ١٩٠٨ء میں مرزا کی وفات ہوئی۔ تو مئی کو یہ ہجرت کہتے ہیں۔ ١٤ جولائی ١٩٠٣ء میں عبداللطیف قادیانی افغانستان میں پھانسی لگا تو یہ جولائی کو وفا کہتے ہیں۔ مسلمانوں میں ہجری سن آنحضرت ﷺ کی ہجرت کی مناسبت سے ہجری کہلایا۔ یا عیسائی حضرات میں سن عیسوی چلتا ہے۔ بہت سارے سنہ چلتے ہیں۔ مسلمانوں سے علیحدہ شناخت کے لئے سن ہجری سے قادیانیوں نے علیحدہ سن بنایا۔ نام دیا اس سن کو ہش، یعنی ہجری، شمسی۔ لیکن اس میں دجل سے کام لیا۔ ہجری سے مراد آنحضرت ﷺ کی ہجرت مراد نہیں لیتے۔ بلکہ ان کی مراد ہجرت سے مرزا کی وفات ہے۔ اب اس کو مثال سے سمجھیں۔ اس وقت میرے ہاتھ میں قادیانیوں کی شائع کردہ ڈائری ١٩٤٢ء ہے۔ یکم جنوری ١٩٤٢ء کو ذی الحجہ کی ١٤ تاریخ اور سن ہجری ١٣٦٠ ہے۔ قادیانیوں نے یکم جنوری ١٩٤٢ء ١٤ ذی الحجہ ١٣٦٠ھ کو یکم صلح اور سن ١٣٢١ ہجری، شمسی درج کیا ہے۔ ١٣٢١ ہجری، شمسی جس کو وہ مختصراً ہش کہتے ہیں۔ یہ خالصتاً دجل کا شاہکار ہے۔ مثلاً ١٣٢١ ہجری سے شمس سے مراد ہجری سن، شمسی لحاظ سے بالکل نہیں بلکہ ہجری سے مراد مرزا کا سن وفات ہے۔ مثلاً ١٣٢١ کی ترتیب یہ قائم کی۔ ١٣ جمع ٢١ = ٣٤۔ مرزا قادیانی ١٩٠٨ء میں مرا تو ١٩٤٢ء میں مرے ہوئے اسے ٣٤ سال ہوگئے۔ ١٩٠٨ء میں ٣٤ جمع کریں تو ١٩٤٢ بنتا ہے۔ اب مہینوں کے ناموں میں دجل، سن کے انتخاب میں دجل، غرض ہر اعتبار سے مسلمانوں سے علیحدہ اپنی شناخت کرائی۔ مگر یہاں اسمبلی میں وہ کیسے انکار کر رہا ہے؟ لیجئے قادیانیوں نے انگریزی مہینوں کے مقابل کے اپنے مہینوں کے ناموں پر مشتمل نظم بھی بنائی جو یہ ہے۔ (بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر)

٤٠

صفحہ ٨٩٩

MBLY OF PAKISTAN 10th Aug, 1974 No:06

مرزا ناصر احمد: نہ مہینوں کے نام یہ نہیں کی زندگی کے مختلف واقعات جو تھے ان کے اوپر ہیں مکہ ”پر فتح“ اس کا تعلق فتح مکہ سے ہے۔

١؎ مرزا ناصر احمد نے یہاں صریح دھوکہ دیا کیلنڈر علیحدہ ہیں۔ ان کے مہینوں کے نام علیحدہ، قادیانی مہینوں کے نام اپنی وجہ سے رکھے۔ مثلاً نومبر کے مہینہ کو قـ میں مرزا نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ دیگر مثالیں سمجھانے کے کریں۔ جنوری کے مہینہ کو قادیانی ”صلح“ کہتے ہیں۔ فر کو ہجرت، جون کو احسان، جولائی کو وفا، اگست کو ظہور، ا فتح ۔ غرض ہر مہینہ کے نام کے پیچھے قادیانیوں نے اپنی جو نومبر کو نبوت، اس لئے کہ نومبر میں مرزا نے نبوت کا د ہوئی۔ تو مئی کو یہ ہجرت کہتے ہیں۔ ١٤ جولائی ١٩٠٣ء میں یہ جولائی کو وفا کہتے ہیں۔ مسلمانوں میں ہجری سن آغـ کہلایا۔ یا عیسائی حضرات میں سن عیسوی چلتا ہے۔ بہر شناخت کے لئے سن ہجری سے قادیانیوں نے علیحدہ سن اس میں دجل سے کام لیا۔ ہجری سے مراد آنحضرت صـ ہجرت سے مرزا کی وفات ہے۔ اب اس کو مثال سے آ شائع کردہ ڈائری ١٩٤٢ء ہے۔ یکم جنوری ١٩٤٢ء کو قـ قادیانیوں نے یکم جنوری ١٩٤٢ء ١٣/ ذی الحجہ ١٣٦٠ھ ١٣٢١ ہجری، شمسی جس کو وہ مختصر اہش کہتے ہیں۔ یہ خالصتہً سے مراد ہجری سن، شمسی لحاظ سے بالکل نہیں بلکہ ہجری ترتیب یہ قائم کی۔ ١٣٢١ ہش میں ٣٤ ۔ مرزا قادیانی ٨٠ ٣٤ سال ہو گئے۔ ١٩٠٨ء میں ٣٤ جمع کریں تو ١٩٤٢ء کے انتخاب میں دجل، غرض ہر اعتبار سے مسلمانوں سے کیسے انکار کر رہا ہے؟ لیجئے قادیانیوں نے انگریزی مہینـ مشتمل نظم بھی بنائی جو یہ ہے۔ (بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر)

٤٠

899 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 10th Aug, 1974 No:06

(کس مہینے کا نام کس وجہ سے رکھا، تفصیل دے دیں)

جناب یحییٰ بختیار: پھر اس کی تفصیل دے دیں کہ کس مہینے کا کس وجہ سے آپ نے نام رکھا؟

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں یہ ٹھیک ہے۔

(”ضیاء الاسلام پریس“ قادیان میں تھا؟)

جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! اب آپ یہ فرمائیے کہ کیا ایک ”ضیاء الاسلام پریس“ قادیان میں تھا؟

مرزا ناصر احمد: جی ایک پریس تھا قادیان میں جس کا نام ضیاء الاسلام تھا۔

(بقیہ حاشیہ گزشتہ صفحہ)

ہجری، شمسی اور عیسوی مہینے

جنوری صلح فروری تبلیغ ماہ مارچ امان کو لایا
اور اپریل کا مہینہ جب آیا تو شہادت کا نام ہے پایا
مئی ہجرت ہے جون ہے احسان اور جولائی میں وفا آیا
ہیں اگست و ظہور ہم معنی اور ستمبر تبوک کہلایا
اور اکتوبر اخاء میں ہم جیسے بھائی بندوں کا راز سمجھایا
پھر نبوت مہ نومبر ہے اور دسمبر کو فتح فرمایا

(از اکمل ...... احمدی جنتری ١٩٤٢ء میں ص ١٩)

اسی طرح احمدی جنتری ١٩٤٣ء کے ص ٦ پر ہے کہ حضور ﷺ کی ہجرت مدینہ ١٤ اکتوبر ٦٢٣ء کو ہوئی۔ اب قادیانی اگر ہجرت مدینہ مراد لیتے تو اکتوبر کو ہجرت کا مہینہ قرار دیتے۔ لیکن انہوں نے مئی کو ہجرت کا مہینہ قرار دیا کہ اس میں مرزا کا انتقال ہوا۔ اسی طرح اسی ص ٦ پر درج ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اعلان نبوت ٢٣ فروری ٦١٠ء کو فرمایا۔ اگر آنحضرت ﷺ سے منسوب یہ مہینے ہوتے تو فروری کو قادیانی نبوت کا ماہ قرار دیتے۔ انہوں نے نومبر کو نبوت کا مہینہ قرار دیا۔ اس لئے کہ مرزا نے نومبر ١٩٠١ء میں نبوت کا دعویٰ کیا۔ مارچ کو قادیانی امان کہتے ہیں کہ اس ماہ میں مرزا نے بیعت لی۔ جو مرزا کی بیعت میں آیا امان پا گیا۔ دسمبر کو یہ ماہ فتح کا نام اس لئے دیتے ہیں کہ دسمبر میں ان کا سالانہ جلسہ ہوتا تھا جسے یہ اپنی فتح سے تعبیر کرتے تھے۔

٤١

صفحہ ٩٠٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 10th Aug, 1974 No:06

جناب یحییٰ بختیار: اور اس میں ایک کتابچہ وہاں شائع ہوا ہے درود شریف کے بارے میں آپ نے دیکھا ہے وہ؟

مرزا ناصر احمد: میں نے وہ پڑھا نہیں۔ لیکن میں نے دیکھا ہے۔

(مرزائیوں کا درود شریف)

جناب یحییٰ بختیار: اس میں درود شریف جو نماز میں پڑھتے ہیں ۔”اللہم صلی علی محمد وعلی آل محمد“ 836 میں تھوڑی سی تبدیلی ہے کہ محمد ﷺ کے بعد ”احمد“ آ جاتا ہے۔ ”آل محمد“ کے بعد ”آل احمد“ آ جاتا ہے کیا یہ درست ہے؟

مرزا ناصر احمد: ہماری جماعت کا تو ایسا کوئی درود نہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں میں اسی واسطے آپ سے پوچھ رہا ہوں......

مرزا ناصر احمد: نہیں ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: میں ابھی آپ کو فوٹوسٹیٹ دیتا ہوں آپ اسے ایک نظر دیکھ لیجئے۔

مرزا ناصر احمد: نہیں یہ مجھے علم ہے کہ اس کتاب میں یہ ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: یہ ہے ناں کتاب میں؟

مرزا ناصر احمد: ہاں، لیکن وہ جماعت کا نہیں ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: یہ ضیاء الاسلام پریس جو ہے قادیان میں اس کا آپ کی جماعت سے کوئی تعلق نہیں؟

مرزا ناصر احمد: ضیاء الاسلام پریس ہے وہ ہر آدمی کی کتاب جو وہاں سے چھپوانا چاہئے......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، آپ کی Publications (مطبوعات شائع) کرتا رہا ہے یہ؟

مرزا ناصر احمد: ہماری Publications (مطبوعات شائع) کرتا رہا ہے۔ لیکن ہماری Publications (مطبوعات شائع) ”م ش“ کا اخبار بھی لاہور میں کرتا ہے اور بہت

٤٢

صفحہ ٩٠١

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 10th Aug, 1974 No:06

سے اخبار اور پریس کرتے ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں وہ تو ٹھیک ہے لیکن میں یہ کہہ رہا ہوں کہ اس پریس سے آپ کا کیا تعلق ہے یا کوئی تعلق نہیں؟

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں یہ احمدی کی ملکیت ......

جناب یحییٰ بختیار: جماعت احمدیہ کی ملکیت؟

مرزا ناصر احمد: نہ نہ فرد احمدیہ کی ملکیت۔

837 جناب یحییٰ بختیار: مالک اس کا احمدی ہے اور دوسرا یہ کہ آپ کی Publications (مطبوعات شائع) یہ کرتا رہا ہے؟

مرزا ناصر احمد: ہماری Publications (مطبوعات)

جناب یحییٰ بختیار: اور یہ جو ہے درود شریف یہ آپ کی Publications (مطبوعات)......

مرزا ناصر احمد: یہ ہماری Publications (مطبوعات) نہیں جماعت کی Publications (مطبوعات) نہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: یہ کسی احمدی کی، اور کی ہے؟

مرزا ناصر احمد: ہاں، کسی اور کی ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: مگر ہے احمدی کی یہ؟

مرزا ناصر احمد: ہاں، احمدی کی ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: انصاری صاحب! آپ پڑھ دیں۔

مولانا محمد ظفر احمد انصاری: یہ ”ضمیمہ ص ١٤٤ رسالہ درود شریف“ ”اور وہ صبح کی نماز میں التزام کے ساتھ دوسری رکعت کے رکوع کے بعد دعائے قنوت بالجہر پڑھا کرتے تھے اور اس میں روزانہ درود شریف ان الفاظ میں پڑھا کرتے تھے: ”اللهم صلی علی محمد واحمد وعلی آل محمد واحمد کما صلیت علی ابراہیم وعلی آل ابراہیم انك حمید مجید . اللهم بارك علی محمد واحمد وعلی آل محمد واحمد کما بارکت علی

٤٤

BLY OF PAKISTAN 10th Aug, 1974 No:06

جناب یحییٰ بختیار: اور اس میں آپ بارے میں آپ نے دیکھا ہے وہ؟

مرزا ناصر احمد: میں نے وہ پڑھا نہیں

(مرزائیوں کا درود)

جناب یحییٰ بختیار: اس میں درود شری علی محمد وعلیٰ آل محمد“ 836 میں تھوڑی سی تبدیلی ہے کہ محمد ﷺ ”آل احمد“ آجاتا ہے کیا یہ درست ہے؟

مرزا ناصر احمد: ہماری جماعت کا تو ا

جناب یحییٰ بختیار: نہیں میں اسی وا

مرزا ناصر احمد: نہیں ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: میں ابھی آپ کو ا

مرزا ناصر احمد: نہیں یہ مجھے علم ہے ت

جناب یحییٰ بختیار: یہ ہے ناں کتاب

مرزا ناصر احمد: ہاں، لیکن وہ جماعت

جناب یحییٰ بختیار: یہ ضیاء الاسلام سے کوئی تعلق نہیں؟

مرزا ناصر احمد: ضیاء الاسلام پریس چاہئے......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، آپ کو رہا ہے یہ؟

مرزا ناصر احمد: ہماری zations ہماری Publications (مطبوعات شائع)

صفحہ ٩٠٢

902 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 10th Aug, 1974 No:06

ابراہیم وعلیٰ آل ابراہیم انك حمید مجید “ یہ واقعہ قریباً ١٣١٦ھ یعنی ١٨٩٨ء کا یا اس کے قریب کا ہے انہوں نے کوئی تین چار ماہ تک متواتر نماز پڑھائی تھی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام (مرزا قادیانی) بھی جماعت میں شامل ہوتے تھے اور کبھی حضور نے حافظ محمد صاحب کے اس طرح پر درود شریف پڑھنے کے متعلق کچھ نہیں فرمایا تھا ایک دفعہ قاضی سید امیر حسین صاحب حافظ رحمت اللہ خاں صاحب اور چوہدری المعروف بھائی عبدالرحیم صاحب سابق جگت سنگھ صاحب نے ان سے کہا کہ یہ درود اس طرح پر نہیں پڑھنا چاہئے۔ بلکہ جس طرح حدیث میں آتا ہے اور نماز میں تشہد کے بعد پڑھا جاتا ہے اسی طرح پڑھنا چاہئے۔ حافظ محمد صاحب کچھ تیز طبیعت کے تھے۔ انہوں نے اس بات کا یہ جواب دیا کہ آپ لوگوں کا مجھے اس سے روکنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ اگر منع کرنا ہوگا تو حضرت صاحب اس سے مجھے خود منع فرما دیں گے۔ مگر حضور نے انہیں کبھی منع نہیں فرمایا تھا اور نہ ہی ان بزرگوں نے اس معاملے کو حضور کی خدمت میں پیش کیا اور حافظ صاحب بدستور اسی طرح نماز صبح میں دعائے قنوت اور درود شریف بالالفاظ مذکورہ بالا پڑھتے رہے اس زمانے میں ابھی حضرت مولوی عبد الکریم صاحب سیالکوٹی ہجرت کر کے قادیان نہیں آئے تھے۔“

”اللهم صلى على محمد وعلىٰ آل محمد وبارك وسلم انك حمید مجید “ اس میں یہ ہے کہ بالجہر پڑھا کرتے تھے۔ یعنی زور سے دعائے قنوت کے ساتھ یہ درود بھی پڑھتے تھے اور مسیح موعود مرزا غلام احمد صاحب کبھی اس کو روکا نہیں۔

مرزا ناصر احمد: بات سنیں جو اس کی کتابیں یہ ”رسالہ درود شریف“ جو کہا جاتا ہے ہمارے پاس ہیں ان میں یہ ہے ہی نہیں ١؎

جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! یہ Clarification (وضاحت) اس

١؎ مرزا ناصر احمد دجل کر رہے ہیں۔ ”رسالہ درود شریف“ نہیں بلکہ ”ضمیمہ رسالہ درود شریف“ ہے۔ اس میں محمد واحمد والا درود اور یہ عبارت موجود ہے اس کا ہمارے پاس فوٹو موجود ہے۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ معروف صحافی جناب شفیق مرزا صاحب جو اخبار جنگ میں کام کرتے تھے انہوں نے اس زمانہ میں مرزا ناصر احمد کو چیلنج کیا کہ تم میرے سامنے انکار کرو میں کتاب پیش کرتا ہوں۔ مرزا ناصر کو سانپ سونگھ گیا۔

٤٤٤

صفحہ ٩٠٣

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 10th Aug, 1974 No:06

لئے میں ضروری سمجھتا ہوں کہ آپ اس کو Approve (تسلیم) نہیں کرتے؟ آپ کہتے ہیں یہ غلط ہے؟

839 مرزا ناصر احمد: میں یہ کہتا ہوں کہ جس کتاب کے متعلق کہا جا رہا ہے کہ یہ اس میں ہے۔ یہ اس میں نہیں ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں میں نے دوسرا سوال کیا آپ نے پہلے فرما دیا یہ کہ جو یہ درود ہے بالکل غلط ہے اور آپ اس کو Approve (تسلیم) نہیں کرتے بس یہ میں آپ سے پوچھ رہا ہوں۔

مرزا ناصر احمد: بالکل غلط ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: اور آپ کو یہ کوئی ہدایت نہیں کہ یہ اس قسم کا درود پڑھیں۔

مرزا ناصر احمد: میں آج پہلی دفعہ سن رہا ہوں۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی میں اسی واسطے پوچھ رہا ہوں......

مرزا ناصر احمد: نہیں ہے، نہیں ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: دیکھیں ناں، مرزا صاحب! میں الزام نہیں لگا رہا آپ سے Clarification (وضاحت) چاہتا ہوں۔

مرزا ناصر احمد: ہاں میں نے Clarification (وضاحت) دے دی کہ نہیں ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: میرے پاس سوالات آتے ہیں اور میری ڈیوٹی ہے کہ یہ نہ سمجھیں کہ بعد میں اس کی Basis (بنیاد) پر کوئی فیصلہ دیا جائے۔ جب تک کہ آپ کی توجہ اس پر مبذول نہ ہو اور آپ Clarification (وضاحت) نہ کریں تو اس ضمن میں میری ڈیوٹی ہے آپ کی توجہ دلا رہا ہوں۔ آپ یہ نہ سمجھیں کہ میں کھڑے آپ پر Allegation (الزام) لگا رہا ہوں۔

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں میں بالکل نہیں سمجھ رہا۔

جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب ویسے میں نے پہلے بھی عرض کیا تھا اور اس پر کچھ میرے نوٹس میں جواب نہیں پتہ چلتا اور ریکارڈ بن نہیں گیا ابھی تک اس لئے Difficulty

٤٥

EMBLY OF PAKISTAN 10th Aug, 1974 No:06

ابراہیم وعلى آل ابراهيم انك حميد مجيد" قریب کا ہے انہوں نے کوئی تین چار ماہ تک متواتر نماز (مرزا قادیانی) بھی 838 جماعت میں شامل ہوتے تھے اور پر درود شریف پڑھنے کے متعلق کچھ نہیں فرمایا تھا ایک دفـ اللہ خاں صاحب اور چوہدری المعروف بھائی عبدالرحمٰن سے کہا کہ یہ درود اس طرح پر نہیں پڑھنا چاہئے۔ بلکہ ا تشہد کے بعد پڑھا جاتا ہے اسی طرح پڑھنا چاہئے ۔

انہوں نے اس بات کا یہ جواب دیا کہ آپ لوگوں کا مجھے منع کرنا ہوگا تو حضرت صاحب اس سے مجھے خود منع فرمـ فرمایا تھا اور نہ ہی ان بزرگوں نے اس معاملے کو حضو بدستور اسی طرح نماز صبح میں دعائے قنوت اور درود زمانے میں ابھی حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سیالکو

"اللهم صلى على محمد وعلى مجید “ اس میں یہ ہے کہ بالجہر پڑھا کرتے تھے ۔ یـ بھی پڑھتے تھے اور مسیح موعود مرزا غلام احمد صاحب کبھی ا

مرزا ناصر احمد: بات سنیں جو اس کی کتا ہمارے پاس ہیں ان میں یہ ہے ہی نہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب ! یہ

١؎ مرزا ناصر احمد دجل کر رہے ہیں ۔ ”رسالـ شریف“ ہے۔ اس میں محمد واحمد والا درود اور یہ عبارت ہے۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ معروف صحافی جناب شفیق مرزا انہوں نے اس زمانہ میں مرزا ناصر احمد کو چیلنج کیا کہ تم ہوں۔ مرزا ناصر کو سانپ سونگھ گیا۔

٤٤

صفحہ ٩٠٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 10th Aug. 1974 No:06

(مسلسل) الفضل جلد نمبر ٥ شمارہ ٦٩، ٧٠ یہ ایک حوالے کا میں نے ذکر کیا تھا۔

840 مرزا ناصر احمد: ٦٩، ٧٠؟ یہ شمارہ اس کی تاریخ کیا ہے؟

جناب یحییٰ بختیار: تاریخ نہیں میرے پاس لکھی ہوئی جی جلد ہے جی جلد نمبر ٥ شمارہ......

مرزا ناصر احمد: یہ ویسے ہمارے سامنے پہلی دفعہ آ رہا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی میں پڑھ کر سنا چکا ہوں میں نے Mark (نشان) کیا ہوا ہے میں سنا چکا ہوں میں پھر پڑھ کر سنا دیتا ہوں آپ کو، پھر آپ کو تو یاد آ جائے گا کہ میں پڑھ چکا ہوں وہ یہاں لائے تھے۔ وہ ہمارے میاں عطاء اللہ صاحب وہ آج ہیں نہیں تو میں نے کہا شاید آپ کے پاس یہ Reference (حوالہ) ہو۔

مرزا ناصر احمد: نہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: ”کیا مسیح ناصری نے اپنے پیروؤں کو یہودیوں سے الگ نہیں کیا؟ کیا وہ انبیاء جن کے سوانح کا علم ہم تک پہنچا ہے۔ ہمیں ان کے ساتھ جماعتیں بھی نظر آتی ہیں۔ انہوں نے اپنی جماعتوں کو غیروں سے الگ نہیں کیا؟ ہر شخص کو ماننا پڑے گا کہ بیشک کیا ہے۔ پس اگر حضرت مرزا صاحب نے جو کہ نبی اور رسول ہیں اپنی جماعت کو منہاج نبوت کے مطابق غیروں سے علیحدہ کر دیا تو نئی اور انوکھی بات کون سی ہے؟“ اس کا میں نے پڑھ کر سنایا تھا آپ نے Verify نہیں کیا؟ میں یہی پوچھنا چاہتا ہوں۔

مرزا ناصر احمد: میرے ذہن میں نہیں ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں تو آپ ذرا مہربانی کر کے نوٹ کر لیں۔ کیونکہ یہ وہی......

مرزا ناصر احمد: اس کا وہ ہے ناں تاریخ کوئی نہیں الفضل کی۔

جناب یحییٰ بختیار: وہ لائے گئے تھے جی کل مجھے بھی خیال نہیں رہا کہ آپ کو پھر توجہ دلاؤں۔

مرزا ناصر احمد: بغیر تاریخ کے تو میں......

(احمدیوں کو چھوڑ کر غیر احمدیوں میں کیوں قوم تلاش کرتے ہو؟)

جناب یحییٰ بختیار: شمارہ اور جلد دونوں موجود ہیں۔

٤٦

صفحہ ٩٠٥

IONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 10th Aug, 1974 No:06

(مشکل) الفضل جلد نمبر ٥ شمارہ ٦٩، ٧٠ یہ ایک حوالے کا میں نے ذکـ

840 مرزا ناصر احمد: ٦٩، ٧٠؟ یہ شمارہ اس کی تاریخ کیا

جناب یحییٰ بختیار: تاریخ نہیں میرے پاس لکھی ہوئی جو

مرزا ناصر احمد: یہ ویسے ہمارے سامنے پہلی دفعہ آ رہا

جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی میں پڑھ کر سنا چکا ہوں کیا ہوا ہے میں سنا چکا ہوں میں پھر پڑھ کر سنا دیتا ہوں آپ کو، چھـ پڑھ چکا ہوں وہ یہاں لائے تھے۔ وہ ہمارے میاں عطاء اللہ صاحب شاید آپ کے پاس یہ Reference (حوالہ) ہو۔

مرزا ناصر احمد: نہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: ”کیا مسیح ناصری نے اپنے حـ کیا گیا؟ کیا وہ انبیاء جن کے سوانح کا علم ہم تک پہنچا ہے۔ ہمیں الا ہیں۔ انہوں نے اپنی جماعتوں کو غیروں سے الگ نہیں کیا؟ ہر شخص پس اگر حضرت مرزا صاحب نے جو کہ نبی اور رسول ہیں اپنی جما غیروں سے علیحدہ کر دیا تو نئی اور انوکھی بات کون سی ہے؟“ اس کا مـ Verify نہیں کیا؟ میں یہی پوچھنا چاہتا ہوں۔

مرزا ناصر احمد: میرے ذہن میں نہیں ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں تو آپ ذرا مہربانی کر کے فـ

مرزا ناصر احمد: اس کا وہ ہے ناں تاریخ کوئی نہیں ان

جناب یحییٰ بختیار: وہ لائے گئے تھے جی کل مجھے توجہ دلاؤں۔

مرزا ناصر احمد: بغیر تاریخ کے تو میں......

(احمدیوں کو چھوڑ کر غیر احمدیوں میں کیوں قو

جناب یحییٰ بختیار: شمارہ اور جلد دونوں موجود ہیں

٤٦

905 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 10th Aug, 1974 No:06

مرزا ناصر احمد: جلد ٥ اور شمارہ ٦٩، ٧٠ ٹھیک ہے۔ اسی Reference (حوالہ) سے آ جائے گا۔

841 جناب یحییٰ بختیار: پھر میں صبح جب آپ کی توجہ دلا رہا تھا کئی چیزیں رہ گئی ہیں۔ اس کی طرف پھر ایک تھا ملائکۃ اللہ ص ٤٧ اور ٤٨...... مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کی کتاب جس میں ہے کہ ”مگر جس دن سے کہ تم احمدی ہوئے تمہاری قوم تو احمدیت ہو گئی۔ شناخت اور امتیاز کے لئے اگر کوئی پوچھے تو اپنی ذات یا قوم بتا سکتے ہو ورنہ اب تو تمہاری گوت، تمہاری ذات، احمدی ہی ہے۔ پھر احمدیوں کو چھوڑ کر غیر احمدیوں میں کیوں قوم تلاش کرتے ہو؟“ آپ نے نوٹ بھی کیا میرے خیال میں اس پر آپ نے کچھ اس وقت بھی کچھ فرمایا تھا مگر تفصیل سے یا کچھ اور مزید ہے Verification (تصدیق) کہ یہ چیز Clear (واضح) رہے اس میں۔

مرزا ناصر احمد: جتنا یہ میرے سامنے ہے وہیں ختم کر دینا چاہئے۔ میرے نزدیک یہاں جو کہ بدعت تھی ناں کہ جو ہے مغل وہ سید میں شادی نہیں کرے گا اور سید وغیرہ قومیں وہ دوسری قوموں میں شادی نہیں کریں گے اور بعض قومیں اپنے آپ کو اونچی قومیں سمجھتی تھیں اور بعض کو وہ نیچ سمجھتی تھیں اور اونچی قوم سے تعلق رکھنے والے نیچ قوم سے شادی نہیں کیا کرتے تھے۔ میرا خیال ہے یہ ان کو یہ کہا ہے کہ اس وقت ساری چیزیں چھوڑ دو اسلام اور احمدیت نے تمہیں ایک بنا دیا ہے اس واسطے اس تفریق کو بھول جاؤ۔

جناب یحییٰ بختیار: آپ پھر اس پر توجہ کرلیں۔ کیونکہ آپ......

مرزا ناصر احمد: میں نے سن لیا۔

جناب یحییٰ بختیار: مگر جس دن سے کہ تم احمدی ہوئے تمہاری قوم تو احمدیت ہو گئی۔

مرزا ناصر احمد: تمہاری ایک قوم۔

جناب یحییٰ بختیار: علیحدہ باقیوں سے۔

مرزا ناصر احمد: تو یہ جو فرق ہے......

جناب یحییٰ بختیار: یعنی ”شناخت اور امتیاز کے لئے اگر کوئی پوچھے تو اپنی ذات یا قوم بتا سکتے ہو“ وہ تو Tribal System جو چلتا ہے ذات پات وغیرہ۔

842 مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں۔ لیکن معاشرے میں نہیں۔

٤٧

صفحہ ٩٠٦

906 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 10th Aug, 1974 No:06

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، نہیں ہاں، ’’وہ اب تو تمہاری گوت، تمہاری ذات احمدی ہی ہے۔ پھر احمدیوں کو چھوڑ کر......‘‘ یعنی احمدیوں میں بھی تو ذات پات ہے راجپوت ہیں آرائیں ہیں۔ جاٹ ہیں پٹھان ہوں گے۔ بلوچ ہوں گے۔ کیونکہ یہ تو وہ سوال ہی نہیں پیدا ہوتا تو کہتے ہیں ان سب کو ملا کر کہتے ہیں پھر کیوں احمدیوں کو چھوڑ کر...... تو یہ تو وہ ذات پات نہیں آتی۔

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں ٹھیک ہے۔ یہ میں ابھی واضح کر دیتا ہوں احمدیوں کو چھوڑ کر، باہر قوم کیوں ڈھونڈتے ہو؟ یعنی جب تم سید ہو اور تمہیں ایک احمدی لڑکی کا رشتہ ملتا ہے تو تم کہتے ہو نہیں ہم نے سید میں ہی کرنی ہے چاہے کہیں باہر سے کرنی پڑے۔ وہ تو عظیم جدوجہد ہے معاشرے میں اتحاد پیدا کرنے کی اور ایک Level پر لانے کی۔

جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! وہ نماز کا، شادی کا علیحدہ میں حوالہ دے چکا ہوں۔

مرزا ناصر احمد: اسے چیک کرلیں گے۔ آگے پیچھے ہوگا۔ یہیں واضح ہوجائے گا۔

(احمدی اپنے آپ کو علیحدہ امت کہتے ہیں)

جناب یحییٰ بختیار: کیونکہ میں یہ توجہ آپ کی اس طرف دلانا چاہتا ہوں جو میرے پاس سوال ہے۔ لٹریچر آیا ہوا ہے۔ اس کے مطابق احمدی اپنے آپ کو علیحدہ امت، علیحدہ قوم علیحدہ Entity سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جیسے باقی انبیاء نے اپنی امت کے علاوہ ان سے باقیوں سے سلوک کیا اور اپنی امت کو علیحدہ کیا۔ ہمارے نبی احمدی سمجھتے ہیں کہ حضرت غلام احمد صاحب کی جو امت ہے وہ ان سے علیحدہ ہے اور ان کو کرنے کا حق ہے۔ یہ Impression (تاثر) پڑتا ہے اس لٹریچر سے جب ہی میں آپ کو عرض کر رہا ہوں......

مرزا ناصر احمد: جی ٹھیک ہے۔

(مسلمانوں کے پیچھے نماز نہ پڑھو)

جناب یحییٰ بختیار: اس قسم کے جو آگے سوال آتے ہیں شادیاں مت کرو۔ ان کے پیچھے نماز مت پڑھو۔ یہ چیزیں جو میں پوچھتا ہوں۔ یہ اس Separatist Tendency (علیحدگی کا رجحان) کی Support (تائید) میں آرہی ہیں اور ان کے لئے وضاحت آپ دے سکیں تو یہ بات......

٤٨

صفحہ ٩٠٧

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 10th Aug, 1974 No:06

843مرزا ناصر احمد: ہاں جی ٹھیک ہے نوٹ کر لیں۔ (Pause)

جناب یحییٰ بختیار: ایک کتاب تھی جو میرے خیال میں قادیان، مدراس، لندن، شکاگو میں شائع ہوئی تھی۔ پچاس صفحے کی ہے۔ پہلے مرزا بشیر الدین محمود صاحب کی انگریزی میں ہے یہ۔

"Some basic facts regarding religious beliefs and views of Kadianis as revealed by Mirza Bashir-ud-Din Mahmood Ahmad, son and second successor of Ghulam Ahmad Kadiani."

(قادیانیوں کے مذہبی اعتقادات کے بارے میں کچھ بنیادی حقائق جن کا ذکر مرزا بشیر الدین محمود خلف اور خلیفہ ثانی مرزا غلام احمد قادیانی نے کیا)

In his book "Ahmad the messenger of the later Days."

یہ آپ کے علم میں ہوگی۔ یہ کتاب Published in 1924 میرے خیال میں مرزا بشیر الدین محمود صاحب گئے تھے لندن......

مرزا ناصر احمد: وہاں Address (خطاب) کیا تھا۔

جناب یحییٰ بختیار: وہاں انہوں نے Address (خطاب) کیا تھا، تو وہاں انہوں نے مشن کو Explain (واضح) کیا ہے۔ مرزا غلام احمد صاحب کا اس میں جو میرے پاس ایڈیشن ہے۔ اس کے Page: 58 (صفحہ ٥٨) پر

The Heading Sir, is "Ahmadis to form a Separate community from the outside Musalman."

(جناب والا! عنوان یہ ہے احمدیوں کو باقی مسلمانوں سے علیحدہ قوم جماعت بنانا ہے)

Mirza Nasir Ahmad: From the outside Musalmans?

(مرزا ناصر احمد: باقی مسلمانوں سے)

جناب یحییٰ بختیار: یہ غلط انگریزی ہوگی، مگر جو Print میرے پاس ہے Publication اس میں ہی ہے۔

٤٩

LY OF PAKISTAN 10th Aug, 1974 No:06

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، نہیں ہاں ہے۔ پھر احمدیوں کو چھوڑ کر...... ”یعنی احمدیوں ہیں۔ جاٹ ہیں پٹھان ہوں گے۔ بلوچ ہوں ہیں ان سب کو ملا کر کہتے ہیں پھر کیوں احمدیوں کو

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں ٹھیک کہ، باہر قوم کیوں ڈھونڈتے ہو؟ یعنی جب تم کہتے ہو نہیں ہم نے سید میں ہی کرنی ہے چاہ معاشرے میں اتحاد پیدا کرنے کی اور ایک pel

جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب

مرزا ناصر احمد: اسے چیک کرلیں

(احمدی اپنے آپ کو

جناب یحییٰ بختیار: کیونکہ میں پاس سوال ہے۔ لٹریچر آیا ہوا ہے۔ اس کے علیحدہ Entity سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ باقیوں سے سلوک کیا اور اپنی امت کو علیحدہ کی صاحب کی جماعت ہے وہ ان سے علیحدہ ہے (تاثر) پڑتا ہے اس لٹریچر سے جب ہی لیکن آ

مرزا ناصر احمد: جی ٹھیک ہے۔

(مسلمانوں

جناب یحییٰ بختیار: اس قسم کے پیچھے نماز مت پڑھو۔ یہ چیزیں جو میں پوچھ (علیحدگی کا رجحان) کی Support (تائ دے سکیں تو یہ بات.......

صفحہ ٩٠٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 10th Aug, 1974 No:06

مرزا ناصر احمد : ہاں، انگریزی تو نہیں۔

Mr. Yahya Bakhtiar: Ahmadis is to form a separate community from the outside Musalmans.

(جناب یحییٰ بختیار: احمدیوں کو باقی مسلمانوں سے علیحدہ قوم/ جماعت بنانا ہے)

دائرہ اسلام سے جو خارج مسلمان ہیں، ان سے......

مرزا ناصر احمد : یہ تو پتہ نہیں کیا لکھا ہوا ہے۔

844 جناب یحییٰ بختیار : یہ اردو ہو گی کسی نے Translation (ترجمہ) کر دیا ہوگا، تو "From outside Musalmans." (باقی مسلمانوں سے)

مرزا ناصر احمد : یہ آپ کے پاس فوٹوسٹیٹ کاپی ہے؟

جناب یحییٰ بختیار: فوٹوسٹیٹ ہے یہ میں آپ کو بھیج دیتا ہوں۔ دیکھ لیں آپ۔

"The Year 1901 was the year of the census. The Promised Masiah issued a notice to his followers asking them to get themselves recorded in the census papers under the name of 'Ahmadi Musalman'. This was, therefore, the year when, for the first time, he differentiated his followers from the other Musalmans by the name of 'Ahmadi'."

("١٩٠١ء کا سال تھا۔ احمدیوں کو چاہئے کہ اپنے پیروکاروں سے کہیں کہ وہ اپنے آپ کو بطور "احمدی مسلمان" درج کرائیں۔ چنانچہ یہ وہ سال تھا جس میں اس نے پہلی مرتبہ اپنے ماننے والوں "احمدی" کا نام دے کر دوسرے مسلمان سے مختلف گردانا")

تو آپ کی توجہ اس طرف دلا رہا ہوں تا کہ آپ اس کو......

مرزا ناصر احمد : یہ جو آپ نے فقرہ پڑھا یہ عنوان کو Contradict (تردید) کر رہا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! Contradict (تردید) کر رہا ہے یا Support (تائید) کر رہا ہے۔ اس پر تو پھر Opinion کی بات آ جاتی ہے۔ میرے خیال

٥٠

صفحہ ٩٠٩

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 10th Aug, 1974 No:06

میں یہ تو پورا اس کو Support (تائید) کر رہا ہے۔ آپ کہتے ہیں کہ Contradict (تردید) کر رہا ہے۔ اس لئے میں آپ سے Clarification (وضاحت) کے لئے درخواست کر رہا ہوں۔ بہر حال دیکھ لیں آپ اس کو، پھر بعد میں آپ اس کو ......

مرزا ناصر احمد: ہاں۔ (Pause)

یہ تو بڑا ہی Interesting (دلچسپ) میرے لئے۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں۔

مرزا ناصر احمد: ١٩٢٣ء میں ایک لیکچر دیا، اور اس کا وہ لیکچر غالباً ...... یقیناً گرمیوں میں تھا کسی وقت، گرمیوں کے موسم میں ...... اور وہ لیکچر چھپا اور اس کی Re-print (دوبارہ چھپوائی) پھر ١٩٢٤ء میں ہو گئی۔ یہ چیک کرنے والی بات ہے کہ ابھی سال، چند مہینے ختم نہیں ہوئے اور Re-print (دوبارہ چھپوائی) کی ضرورت پڑ گئی۔

845 جناب یحییٰ بختیار: تو زیادہ Publication (اشاعت) ہو گئی ہوگی۔ زیادہ Demand (مانگ) ہو گئی ہوگی اس کی ......

مرزا ناصر احمد: نہیں، میں نے کہا یہ چیک کرنے والی بات ہے۔ دوسرے یہ کہ اس کے اوپر جو لگا ہوا ہے ناں یہ صفحہ یہ بڑا Interesting (دلچسپ) ہے۔

"Published by courtesy of Mr. G. Ahmad, LLB, B.A. (Alig), Ex-Incom Tax Officer, up in Calcutta, Proprietor of Messrs G. Ahmad & Co., Incom- tax Adviser and Advocates, 17, writers' Chambers, Karachi."

(مسٹر جی، احمد، ایل ایل. بی، بی. اے علیگ سابقہ انکم ٹیکس افسر یوپی، کلکتہ، پروپرائٹر میسرز جی، احمد اینڈ کمپنی انکم ٹیکس افسران مشیران و ایڈوکیٹ ١٧ رائٹرز چیمبر کراچی کے توسط سے شائع ہوا) اور یہ جو کراچی کا بھی Reference (حوالہ) آ گیا، اور یوپی، کلکتہ کا بھی آ گیا اور یہاں یہ اس کی تاریخ کوئی نہیں دی اس کے اوپر کہ کراچی ......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں یہ تو میرے خیال میں ان کے پاس Front Page (پہلا صفحہ) رہا نہیں ہے یا کوئی ایسی بات ہے۔ مگر میرے ایک احمدی دوست نے مجھے یہ کتاب دی

٥١

صفحہ ٩١٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 10th Aug, 1974 No:06

تھی۔ ایک زمانے میں میرے خیال میں میری لائبریری میں بھی یہ موجود ہے۔

مرزا ناصر احمد: فوٹوسٹیٹ؟

جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی اصل کتاب۔

مرزا ناصر احمد: اصل ہاں، تو وہی دیکھ کے پتہ لگے گا۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں تو آپ کی بھی لائبریری میں ہوگی یہ تو؟

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں یہ تو کتاب ایسی نہیں ہے کہ جو چھپی ہو اور نہ ہو، تو یہ جو ہے ناں Front Page (پہلا صفحہ).......

جناب یحییٰ بختیار: اس کو تو آپ چھوڑ دیجئے، ممکن ہے یہ غلط ہو مجھے بھی یاد نہیں کہ کیا Reading اس کا ہے۔ مگر جو فوٹوسٹیٹ Page (صفحہ) ہے......

مرزا ناصر احمد: یہ تو دیکھ لیں گے۔

جناب یحییٰ بختیار: دیکھ لیں۔

846 مرزا ناصر احمد: کیونکہ اس میں یہ بھی لکھا ہوا ہے اوپر کہ ”پیغمبر آخرالزمان“ یہ نام ہمارے ذہن میں نہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: میں نے تو صرف ایک Page: 58, passage سے دیا ہوا ہے۔ میں نے صرف اس سے متعلق رکھا ہے کہ وہ آپ Compare (موازنہ) کرلیجئے۔ باقی یہ اوپر سے میں نے توجہ ہی نہیں دلائی آپ کو.......

مرزا ناصر احمد: ٹھیک ہے کیونکہ یہ ہے تو چیک کرنے والی۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، یہ چیک کرلیں۔

مرزا ناصر احمد: یہ چیز ایسی ہے جو چیک ہونی چاہئے۔

جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب میں نے چار پانچ دن پہلے۔ ابھی کچھ معلوم نہیں پڑتا کتنے دن سے چل رہا ہے یہ سلسلہ آپ سے ایک سوال پوچھا تھا کیونکہ محضرنامے کو جو میں سمجھ سکتا ہوں اس میں آپ نے ابھی یہ وہی Separatist Tendency چل رہی ہے جی میں اس میں جا رہا ہوں تا کہ آپ یہ نہ سمجھیں کہ Subject (موضوع) میں نے Change (تبدیل) کرلیا۔

٥٢

صفحہ ٩١١

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 10th Aug, 1974 No:06

مرزا ناصر احمد: نہیں نہیں۔

(مسلمانوں کا چھوٹا بچہ مرجائے تو قادیانی اس کا جنازہ نہیں پڑھتے)

جناب یحییٰ بختیار: اس Reference (حوالہ) میں جو میں آپ سے سوال پوچھ رہا ہوں اس میں آپ نے فرمایا کہ کیونکہ سب فرقوں نے آپ کے خلاف تقریباً سب....... میں نے کہا سب تو نہیں ہوسکتا۔ آپ کہتے ہیں سب نے آپ کے خلاف فتوے دیئے اور اگر چھوٹا بچہ بھی مرجاتا ہے تو ہم جنازہ نہیں پڑھتے کیونکہ باپ کا مذہب سمجھا جاتا ہے آپ نے کہا اس وجہ سے ان فتوؤں کی وجہ سے کیونکہ انہوں نے ہمیں کافر قرار دیا ہم مجبوراً ان کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے یہ وجہ دی آپ نے محضرنامے میں یہی ہے تو میں نے آپ سے عرض کیا تھا کوئی اور وجہ بھی ہے عقیدے کی؟ کہ محض یہی وجہ ہے کہ انہوں نے آپ کے خلاف فتوے دیئے؟

مرزا ناصر احمد: یہ آپ نے اس وقت پوچھا تھا۔

847 جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی، تو میں اس Reference (حوالہ) میں کیونکہ آپ اپنے آپ کو Separate (علیحدہ) سمجھتے ہیں ان کے ساتھ نہیں سمجھتے کہ وہ ایک نہیں، اس لئے نماز علیحدہ پڑھتے ہیں تاکہ میں پوزیشن بالکل Clear (واضح) کروں یہ نہ ہو کہ Mis-understanding (غلط فہمی) رہ جائے۔ آپ سے کوئی سوال پوچھا۔

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، نہیں۔ میں تو Separate (علیحدہ) سمجھنے کے Idea کے ہی خلاف ہوں ناں۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں مرزا صاحب! میری ڈیوٹی ہے کہ.......

مرزا ناصر احمد: نہیں وہ ٹھیک ہے میرا مطلب ہے کہ میں اکٹھا جواب دے دوں گا۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں نہیں تاکہ میں پوزیشن Clear (واضح) کردوں کہ Impression (تاثر) یہ ہے جو مجھ سے سوال پوچھنے والے کا کہ میں آپ کے سامنے یہ سوال پیش کروں کہ آپ اپنے آپ کو بالکل علیحدہ سمجھتے ہیں آپ کا عقیدہ یہ ہے کہ بالکل مسلمان نہیں ہیں۔ ان کے پیچھے نماز نہیں پڑھنی، ان کے ساتھ نماز نہیں پڑھنی، ان کا جنازہ نہیں پڑھنا، چھوٹا بچہ ہو جو بھی ہو، یہ کافر ہیں اور سوفیصدی یہ Impression (تاثر) دے کر میں یہ کہہ رہا

٥٣

MBLY OF PAKISTAN 10th Aug, 1974 No:06

تھی۔ ایک زمانے میں میرے خیال میں میری لائبریری

مرزا ناصر احمد: فوٹوسٹیٹ؟

جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی اصل کتاب

مرزا ناصر احمد: اصل ہاں، تو وہی دیکھیں

جناب یحییٰ بختیار: ہاں تو آپ کی بھی

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں یہ تو کتاب ناں Front Page (پہلا صفحہ).......

جناب یحییٰ بختیار: اس کو تو آپ چھوڑ Reading اس کا ہے۔ مگر جو فوٹوسٹیٹ Page

مرزا ناصر احمد: یہ تو دیکھ لیں گے۔

جناب یحییٰ بختیار: دیکھ لیں۔

846 مرزا ناصر احمد: کیونکہ اس میں یہ ہمارے ذہن میں نہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: میں نے تو صرف ہے۔ میں نے صرف اس سے متعلق رکھا ہے کہ وہ آ یہ اوپر سے میں نے توجہ ہی نہیں دلائی آپ کو.......

مرزا ناصر احمد: ٹھیک ہے کیونکہ یہ

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، یہ چیک کر

مرزا ناصر احمد: یہ چیز ایسی ہے جو چیک

جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب ! پڑتا کتنے دن سے چل رہا ہے یہ سلسلہ آپ سے ا سکتا ہوں اس میں آپ نے ابھی یہ وہی dency اس میں جا رہا ہوں تاکہ آپ یہ نہ سمجھیں کہ A (تبدیل) کرلیا۔

٥٢

صفحہ ٩١٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 10th Aug, 1974 No:06

ہوں ...... میں نے کوئی فتویٰ نہیں دینا اور نہ ہی میں فیصلہ کرنے کا حق رکھتا ہوں ...... تا کہ آپ پوری اس کی وضاحت کرسکیں ۔

مرزا ناصر احمد : نہیں یہ تو بڑی وضاحت ہو گئی تھی ناں ، جس وقت آپ نے فرمایا کہ یہ چار Categories (قسمیں) بنتی ہیں اس میں آ گیا تھا کہ سو فیصدی نہیں۔

جناب یحییٰ بختیار : وہ سب آپ نے بڑی تفصیل سے فرمایا جو Explain (واضح) کیا ...... مگر میں نے کہا محضر نامے سے جو آپ نے دیکھا ہے۔

مرزا ناصر احمد : محضر نامے کو میں نے Explain (واضح) کر دیا۔

جناب یحییٰ بختیار : محضر نامے میں سوائے اس کے اور کوئی وجہ نہیں کہ انہوں نے فتوے دیئے۔ آپ کے خلاف اس واسطے ہم نماز نہیں پڑھتے۔ یہ درست ہے یا نہیں؟

مرزا ناصر احمد : یہ محضر نامہ دیکھ کے ...... مجھے تو اپنا محضر نامہ بھی نہیں یاد۔ کہاں ہے؟ اس وقت نہیں مجھے ...... کس صفحہ پر میں نے کہا؟

848 جناب یحییٰ بختیار : مجھے بھی یاد نہیں، مگر اس میں آپ نے بڑی تفصیل سے ......

مرزا ناصر احمد : پھر تو مشکل پڑ گئی۔

جناب یحییٰ بختیار : آپ پھر دیکھ لیجئے۔

مرزا ناصر احمد : نہ آپ کو یاد نہ مجھے۔

جناب یحییٰ بختیار : نہیں، جواب تو موجود ہے اس کا ریکارڈ کہاں ہے؟

مرزا ناصر احمد : ہاں، ہاں، ریکارڈ میں ہے۔

جناب یحییٰ بختیار : یہ ریکارڈ جب بنے گا۔

مرزا ناصر احمد : ہاں، ہاں وہ بڑا مشکل ہے، وہ میں سمجھتا ہوں۔

جناب یحییٰ بختیار : تو یہ جو ہے یہ تو ابھی آپ کا محضر نامہ موجود ہے۔ ممکن ہے میں غلط سمجھا ہوں اور مجھے جو Impression (تاثر) ہے۔ ویسے میں نے پڑھا بھی ایک مرتبہ

اے ہائے یہ درماندگی اپنا لکھا بھی یاد نہیں ۔ پہلے باپ ، دادا کے حوالوں سے لاعلمی کا اظہار کرتے رہے ۔ اب اپنے حوالہ پر ہراساں ہو گئے ۔ پتہ تھا کہ اس پر سوال کتنا بھاری وارد ہو گا ؟

٥٤

صفحہ ٩١٣

913 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 10th Aug, 1974 No:06 تین چار دن ہوئے تو اس میں یہ لکھا ہے کہ چونکہ انہوں نے فتوے دیئے، پھر میں نے آپ سے پوچھا بچہ اگر دو مہینے کا ہو، چھ مہینے کا ہو، آپ یہ کہتے ہیں اس کا باپ کسی نہ کسی فرقے کا تھا اس فرقے نے فتویٰ دیا ہے۔ اس لئے اس میں آجاتا ہے۔ Emphasis (زور) ہی چلتا رہا۔ میں نے کہا اگر فتویٰ نہ ہو جو آپ نے کہا Hypothetical discussion does not arise یہ معاملہ ہے اس میں میں نہیں جاتا۔ مرزا ناصر احمد: جنازے کے متعلق آپ کو یاد ہوگا کہ میں نے ایک اپنا فتویٰ یہاں آپ کو دیا یعنی بتایا۔۔۔۔۔۔ جناب یحییٰ بختیار: وہ تو ڈنمارک کا آپ نے کہا۔۔۔۔۔۔ مرزا ناصر احمد: ہاں ڈنمارک کا۔ جناب یحییٰ بختیار: ۔۔۔۔۔۔کہ کوئی لاوارث مرجائے۔۔۔۔۔۔ مرزا ناصر احمد: کوئی شخص نہیں میں نے یہ فتویٰ دیا کہ کوئی شخص جو خود کو نبی اکرم ﷺ کی طرف منسوب کرتا ہے۔ وہ دنیا کی نگاہ میں لاوارث نہیں چھوڑا جائے گا۔ ہمارے مخالف ہیں عیسائی وغیرہ اسلام کے۔ جناب یحییٰ بختیار: آپ نے تو اتنی مہربانی کی اتنا Concession (رعایت) دیا کہ ایک مسلمان مر گیا اور کوئی وارث نہیں ہے تو اس کا جنازہ پڑھ لو۔ اگر کوئی اس کا وارث ہو تو پھر مت پڑھو۔ مرزا ناصر احمد: اور میں نے یہ کہا کہ جب کچھ آدمی نماز پڑھ لیں تو فقہائے امت کا متفقہ فیصلہ ہے کہ یہ فرض کفایہ ہے اور نماز نہ پڑھنے والے گنہگار نہیں ہوتے۔ آخر میں اعتراض یہ بنتا ہے کہ آپ گنہگار کیوں نہیں ہیں۔ جناب یحییٰ بختیار: نہیں میرے سوال کا مطلب یہ تھا کہ وہ گنہگار ہیں یا نہیں ہیں، میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ انسان فوت ہو جاتا ہے، مر جاتا ہے، انتقال کر جاتا ہے تو اس کے لئے ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت کرے، اس کی عزت کرتے ہیں۔ اس لئے پڑھتے ہیں۔ اپنے لئے تو علیحدہ بات ہے کہ ہمارا فرض ہے یا نہیں ہے۔ تو اس کو کوئی Respect pay (بطور احترام) کرنے کے لئے۔۔۔۔۔۔یہ بھی میں کہتا ہوں، آپ نے کہا کہ بچے کا بھی ہم نہیں کریں گے، تو ٥٥

ASSEMBLY OF PAKISTAN 10th Aug, 1974 No:06 ہوں...... میں نے کوئی فتویٰ نہیں دینا اور نہ ہی میں فیصل پوری اس کی وضاحت کرسکیں۔ مرزا ناصر احمد: نہیں یہ تو بڑی وضاحت ہو گ یہ چار Categories (قسمیں) بنتی ہیں اس میں آگیا جناب یحییٰ بختیار: وہ سب آپ نے بڑ (واضح) کیا...... مگر میں نے کہا محضر نامے سے جو آپ نے مرزا ناصر احمد: محضر نامے کو میں نے lain جناب یحییٰ بختیار: محضر نامے میں سوائے فتوے دیئے۔ آپ کے خلاف اس واسطے ہم نماز نہیں پڑھ مرزا ناصر احمد: یہ محضر نامہ دیکھ کے...... مجھ اس وقت نہیں مجھے...... کس صفحہ پہ میں نے کہا؟ 848 جناب یحییٰ بختیار: مجھے بھی یاد نہیں، مگر ا مرزا ناصر احمد: پھر تو مشکل پڑ گئی۔ جناب یحییٰ بختیار: آپ پھر دیکھ لیجئے۔ مرزا ناصر احمد: نہ آپ کو یاد نہ مجھے۔ جناب یحییٰ بختیار: نہیں، جواب تو موجود مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، ریکارڈ میں ہے جناب یحییٰ بختیار: یہ ریکارڈ جب بنے گا ب مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں وہ بڑا مشکل ہے جناب یحییٰ بختیار: تو یہ جو ہے یہ تو ابھی آ غلط سمجھا ہوں اور مجھے جو Impression (تاثر) ہے

لے ہائے یہ درماندگی اپنا لکھا بھی یاد نہیں۔ پہلے کرتے رہے۔ اب اپنے حوالہ پر ہراساں ہو گئے۔ پتہ تو ٥٤

صفحہ ٩١٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 10th Aug, 1974 No:06

آپ نے کہا کہ نہیں مطلب یہ ہوتا ہے کہ انہوں نے ہمارے خلاف فتوے دیئے ہیں۔ اس لئے....... تو اگر اس کی مزید کوئی وجہ ہے فتوؤں کی وہ میں پھر ....... تا کہ بالکل پوزیشن Clear (واضح) ہو جائے ، کہ اگر فتوے نہ بھی ناں ہوتے ......

مرزا ناصر احمد : میں سمجھتا ہوں جو میں کہہ چکا ہوں ۔ وہ کافی ہے۔

جناب یحییٰ بختیار : یعنی جو محضر نامے میں ہے؟

مرزا ناصر احمد : جو محضر نامے میں ، اور اس سلسلے میں سوال و جواب میں جو کچھ میں اس وقت تک کہہ چکا ہوں وہ کافی ہے۔

(مرزا غلام احمد کا کوئی بیٹا تھا جو قادیانی نہیں ہوا؟)

جناب یحییٰ بختیار : اچھا جی! وہ میرا ہی وہم تھا کہ میں اس کو یہ سمجھا ہوں ، اب آپ یہ فرمائیے کہ مرزا غلام احمد صاحب کے کوئی صاحبزادے تھے جو احمدی نہیں ہوئے تھے؟

مرزا ناصر احمد : ہمارے بانی سلسلہ احمدیہ کے ایک صاحبزادے تھے جو آپ کی زندگی میں فوت ہو گئے تھے۔

850 جناب یحییٰ بختیار : اور احمدی نہیں ہوئے؟

مرزا ناصر احمد : اور بیعت نہیں کی تھی۔

جناب یحییٰ بختیار : ہاں، یہی میں نے کہا ہے تو ان کی وفات پر مرزا صاحب نے ان کا جنازہ نہیں پڑھا؟

مرزا ناصر احمد : مجھے یاد نہیں (اپنے ایک ساتھی سے) کیوں؟

مرزا ناصر احمد کا ایک ساتھی: نہیں پڑھا۔

مرزا ناصر احمد : نہیں پڑھا۔

جناب یحییٰ بختیار : اور اس واسطے کہا کہ میرا بڑا فرمانبردار بیٹا تھا، بڑا اچھا بیٹا تھا۔ پر احمدی نہیں ہوا میں نے جنازہ نہیں پڑھا تو کیا اس نے بھی مرزا صاحب کے خلاف کوئی فتویٰ دیا تھا؟

مرزا ناصر احمد : نہیں!۔

١؎ کوئی جواب؟ بالکل لاجواب ، ایسی درگت ، اف اللہ جی!

٥٦

صفحہ ٩١٥

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 10th Aug, 1974 No:06

Mr. Yahya Bakhtiar: Thank you, Sir, now, Sir. (جناب یحییٰ بختیار: جناب والا! شکریہ، جناب والا!)

---------

PROGRAMME FOR FURTHER SITTINGS OF

THE COMMITTEE

(کمیٹی کے اگلے اجلاسات کا پروگرام)

Mr. Yahya Bakhtiar: (Addressing the Chair) Now Sir, the next subject is a heavy one, and if later it could be taken, because I do not want to start..... (جناب یحییٰ بختیار: جناب والا! اگلا موضوع نہایت ہی اہم ہے۔ اسے بعد میں لیں ۔ (تو بہتر ہے) کیونکہ (اس میں موضوع کو) میں شروع نہیں کرنا چاہتا)

Mr. Chairman: I see. So, I think.... (جناب چیئرمین: میں سمجھ گیا، میرا خیال ہے ......)

مرزا ناصر احمد: شام کو ہو جائے۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی انہوں نے یہ کہا ہے کہ وہ Speaker صاحب ابھی Explain (واضح) کریں گے کہ کل شروع کریں یا Monday (سوموار) کو کریں تو اس پر وہ کچھ کہیں گے۔

مرزا ناصر احمد: ہاں، جی، وہ تو ان کا ...... حکم دیں، جو حکم کریں گے وہ ہو جائے گا۔

851 Mr. Chairman: I think now....

Mr. Abdul Hafeez Pirzada: Sir, I think that number of questions which have been asked in the cross- examination____ I was not here all along, I have been going through the record also____ notice has been claimed

٥٧

LY OF PAKISTAN 10th Aug, 1974 No:06

آپ نے کہا کہ نہیں مطلب یہ ہوتا ہے کہ انہو لئے ...... تو اگر اس کی مزید کوئی وجہ ہے فتوؤں ک (واضح) ہو جائے، کہ اگر فتوے نہ بھی ناں ہوتے

مرزا ناصر احمد: میں سمجھتا ہوں جو پ

جناب یحییٰ بختیار: یعنی جو محضر نام

مرزا ناصر احمد: جو محضر نامے میں اس وقت تک کہہ چکا ہوں وہ کافی ہے۔

(مرزا غلام احمد کا کوئی بیٹا

جناب یحییٰ بختیار: اچھا جی! وہ م فرمائیے کہ مرزا غلام احمد صاحب کے کوئی صاحبزا

مرزا ناصر احمد: ہمارے بانی سلس زندگی میں فوت ہوگئے تھے۔

850 جناب یحییٰ بختیار: اور احمدی ن

مرزا ناصر احمد: اور بیعت نہیں کی؟

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، یہی میں ان کا جنازہ نہیں پڑھا؟

مرزا ناصر احمد: مجھے یاد نہیں (اپنے

مرزا ناصر احمد کا ایک ساتھی: نہیں

مرزا ناصر احمد: نہیں پڑھا۔

جناب یحییٰ بختیار: اور اس واسطے احمدی نہیں ہوا میں نے جنازہ نہیں پڑھا تو کیا اس

مرزا ناصر احمد: نہیں۔

لے کوئی جواب؟ بالکل لاجواب، ایک

صفحہ ٩١٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 10th Aug, 1974 No:06

or time has been claimed, because back references have to be made, and, therefore, we could break the cross- examination for a few days and then meet again so that it could be completed.

(جناب عبدالحفیظ پیرزادہ: جناب والا! جرح میں موجودہ سوالات پوچھے گئے۔ ان تمام کے دوران میں موجود نہ تھا میں ریکارڈ کا مطالعہ کرتا رہا ہوں۔ چونکہ گزشتہ حوالہ جات کے تعلق سے بات ہوگی۔ اس لئے مہلت اور وقت بھی مانگا جارہا ہے۔ اس لئے جرح کے دوران چند دنوں کا وقفہ کیا جاسکتا ہے اور اس کے بعد اجلاس منعقد کر کے ہم جرح مکمل کر سکتے ہیں)

Mr. Chairman: I think now we have to break the examination of the witness, because for six days we have been sitting. It has been strenuous on the Attorney- General, it has been strenuous on the members of the Delegation, and also....

(جناب چیئرمین: میرا خیال ہے کہ اب گواہ پر جرح میں وقفہ کرنا ہوگا۔ چھ روز سے اجلاس ہو رہا ہے۔ جس کی وجہ سے اٹارنی جنرل اور وفد کے ممبران زیر بار رہے ہیں اور علاوہ ازیں)

Mr. Yahya Bakhtiar: Sir, you informed me that the National Assembly is meeting on Monday the Tuesday, and then comes the Pakistan Day. Se we would not sit here for three days and then start. So, I would request, sir....

(جناب یحییٰ بختیار: جناب والا! آپ نے فرمایا تھا کہ قومی اسمبلی کا اجلاس سوموار اور منگل کو ہوگا۔ اس کے بعد یوم پاکستان آ جاتا ہے۔ اس طرح تین دنوں تک اجلاس نہیں ہوگا اور اس کے بعد ہم کام شروع کریں گے)

Mr. Chairman: There is no likelihood of the examination being finished today?

٥٨

صفحہ ٩١٧

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 10th Aug, 1974 No:06

(جناب چیئرمین: گواہ کے بیان کے ختم ہونے کا آج امکان نہیں ہے)

Mr. Yahya Bakhtiar: No, that is not possible, not even tomorrow, because the subject is so vast.

(جناب یحییٰ بختیار: نہیں جناب والا! یہ کل بھی ممکن نہیں ہوگا۔ کیونکہ موضوع بہت وسیع ہے)

Mr. Chairman: And then so many things have to come.

(جناب چیئرمین: اور تب تو کئی انواع کی باتیں ہوں گی)

Mr. Yahya Bakhtiar: Yes, and they also need time, because I have given some references, they have to look them up. So, instead of three or four days, we will have to after a week or ten days, if to Mirza Sahib it is convenient.

(جناب یحییٰ بختیار: چونکہ میں نے کچھ حوالے دیئے ہیں جو کہ (وفد) کو تلاش کرنے ہیں۔ اس لئے انہیں بھی وقت درکار ہوگا۔ اگر مرزا صاحب کو قبول ہو تو ہم ہفتہ عشرہ کے بعد دوبارہ کام کر سکتے ہیں)

Mr. Chairman: So the delegation is permitted to leave without fixing any date. The delegation will be informed two days earlier, It will around....

(جناب چیئرمین: بغیر آئندہ تاریخ مقرر کئے۔ وفد کو جانے کی اجازت دی جاتی ہے۔ (آئندہ تاریخ سے) دو روز قبل وفد کو اطلاع کر دی جائے گی۔ یہ قریب قریب ......)

Mr. Abdul Hafeez Pirzada: .... Two days before the actual date.

(جناب عبدالحفیظ پیرزادہ: پکی تاریخ سے دو روز قبل)

852 Mr. Chairman: Yes, the next date shall be decided by the steering committee or by the House or by the chairman and the law Minister and the Attorney- General,

٥٩

صفحہ ٩١٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 10th Aug, 1974 No:06

as decided; and they will be informed two or three days earlier, Anyhow, it will be within ten days. But it will be after 14th.

(جناب چیئرمین: ٹھیک ہے۔ پکی تاریخ یا تو سٹیئرنگ کمیٹی یا ایوان یا چیئرمین اور وزیر قانون اور اٹارنی جنرل مقرر کریں گے۔ جیسا کہ فیصلہ ہو چکا ہے۔ وفد کو دو یا تین روز پہلے اطلاع کر دی جائے گی۔ تاہم یہ دس دن کے اندر اندر ہوگی۔ مگر ١٤/تاریخ کے بعد)

Mr. Abdul Hafeez Pirzada: In fairness we could say that there will be no possibility of meeting until 15th or 16th.

(جناب عبدالحفیظ پیرزادہ: صاف صاف بات یہ ہے کہ ١٥ یا ١٦ تاریخ تک اجلاس ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے)

Mr. Chairman: 15th or 16th, yes.

(جناب چیئرمین: ٹھیک۔ ١٥، ١٦ تاریخ)

Mr. Yahya Bakhtiar: And a day after that.

(جناب یحییٰ بختیار: اور اس کے ایک دن بعد بھی ہو سکتی ہے)

Mr. Chairman: Yes, a day after.... because there are so many engagements.

(جناب چیئرمین: جی ہاں! ایک دن بعد...... کیونکہ بہت سی مصروفیات ہیں)

مرزا ناصر احمد: آٹھ دس دن کے بعد...... دو دن پہلے اطلاع کر دیں گے؟

جناب یحییٰ بختیار: یہی میں کہہ رہا ہوں۔

جناب چیئرمین: تقریباً اٹھارہ انیس، بیس، اکیس Whatever is decided. (جو بھی فیصلہ ہو)

جناب یحییٰ بختیار: اگر آپ شام کو بھی Meet (اجلاس) کرتے ہیں تو Sunday (اتوار) کو پھر نہیں۔ پھر اس کے بعد Monday (سوموار) کو نیشنل اسمبلی Fi

٦٠

صفحہ ٩١٩

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 10th Aug, 1974 No:06

ہو چکی ہے۔ Thursday (جمعرات) کو بھی ہو چکی ہے۔ پھر Independence Day (آزادی کا دن) ہے۔

مرزا ناصر احمد: نہیں مجھے تو کوئی اعتراض نہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: چار دن اگر ہم ایسے بیٹھے رہیں یہاں تو اس سے بہتر ہے کہ ہفتہ ہو یا دس دن ہوں تا کہ آپ بھی جاکے دیکھ سکیں۔ میں بھی جاکے کچھ آرام کرسکوں۔

Mr. Chairman: No, no. It is too much on the nerves of the honourable members of committee....

(جناب چیئرمین: نہیں، نہیں۔ معزز اراکین کمیٹی کے اعصاب پر شدید دباؤ ہوگا)

Mr. Yahya Bakhtiar: Sir, it is a strain on me it is a strain on.....

(جناب یحییٰ بختیار: جناب والا! یہ میرے لئے بھی شدید اعصابی دباؤ کا باعث ہے)

853 Mr. Chairman: I know, on the Attorney- General, and on the witness also.

(جناب چیئرمین: مجھے معلوم ہے۔ گواہ اور اٹارنی جنرل دونوں کے لئے ہی)

جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی، وہ Physical Strain تو ہوتا ہے۔

You are well- acquainted with the facts, with the Islamic law, I am not.

(آپ اسلامی قانون سے پوری پوری واقفیت رکھتے ہیں۔ جب کہ میں نہیں)

مرزا ناصر احمد: بہرحال، اب یہ ہوا کہ آٹھ دس دن کے بعد ہوگا، اور جو آخری Final تاریخ مقرر کی جائے گی......

جناب یحییٰ بختیار: کم از کم ایک ہفتہ تک نہیں ہوگا جی۔

مرزا ناصر احمد: ہاں وہ اس سے کوئی تین دن پہلے......

جناب چیئرمین: تین دن پہلے آپ کو اطلاع دے دی جائے گی۔

Three days earlier the members of the delegation

٦١

LY OF PAKISTAN 10th Aug, 1974 No:06

informed two or three days thin ten days. But it will be

(جناب چیئرمین: ٹھیک ہے۔

وزیر قانون اور اٹارنی جنرل مقرر کریں گے۔ ج اطلاع کر دی جائے گی۔ تاہم یہ دس دن کے اندر

z Pirzada: In fairness we o possibility of meeting until

(جناب عبدالحفیظ پیرزادہ: صاف ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے)

or 16th, yes.

(جناب چیئرمین: ٹھیک۔ ١٥، ١٦

: And a day after that.

(جناب یحییٰ بختیار: اور اس کے

, a day after.... because there

(جناب چیئرمین: جی ہاں! ایک

مرزا ناصر احمد: آٹھ دس دن کے

جناب یحییٰ بختیار: یہی میں کہہ رہ

جناب چیئرمین: تقریباً اٹھارہ

(جو بھی فیصلہ ہو) decided.

جناب یحییٰ بختیار: اگر آپ

Sunday (اتوار) کو پھر نہیں۔ پھر اس کے بع

صفحہ ٩٢٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 10th Aug, 1974 No:06

will be informed. Thank you very much. And no proceedings have to be disclosed. The honourable members may keep sitting.

(تین روز قبل وفد کے اراکین کو مطلع کر دیا جائے گا۔ آپ کا بہت بہت شکریہ! اجلاس کی کارروائی قطعاً افشاء نہیں کی جائے گی۔ معزز اراکین تشریف رکھیں)

(The delegation left the Chamber)

(وفد ہال سے باہر چلا گیا)

Mr. Chairman: Yes, any honourable member who would like to say?

(جناب چیئرمین: جی کوئی معزز رکن کچھ کہنا چاہتے ہیں۔۔۔) یہاں ایک ہمارا Procedure ہے کہ آدھا گھنٹہ پھر تقریریں ہوتی ہیں بعد میں۔

The reporters are free, they can go, they can have recess.

(رپورٹرز (پریس والے) فارغ ہیں وہ جاسکتے ہیں)

Now we will meet as National Assembly on Monday at 6:00 pm.

(اب ہم قومی اسمبلی کا اجلاس سوموار کو شام چھ بجے کریں گے)

(The Special Committee adjourned sine die)

٦٢

صفحہ ٩٢١

COME

pping

nks For

r Visit

CO. LTD.

426278

شركة الصناعات البلاستيكية والورقية المحدودة هاتف: ٤٢٦٣٧٨ - ٤٢٦٣٧٩ تلکس: ٢٠١٠٣٩ ص.ب: ٣٢٠٠ جدة ٢١٤٧١ المملكة العربية السعودية National Plastic & Paper Industries Co. Ltd. C.R. 29334

BLY OF PAKISTAN 10th Aug, 1974 No:06

ery much. And no proceedings

nourable members may keep

(تین روز قبل وفد کے اراکین کو مطلع کی کارروائی قطعا افشاء نہیں کی جائے گی۔ معزز ار

eft the Chamber)

(وفد ہال سے

, any honourable member who

(جناب چیئرمین : جی کوئی معزز ر یہاں ایک ہمارا Procedure -

, they can go, they can have

(رپورٹرز (پریس والے) فارغ ہیں

ational Assembly on Monday

(اب ہم قومی اسمبلی کا اجلاس سوموار

e adjourned sine die)

921 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

No. 07

THE

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN

PROCEEDING

OF

THE SPECIAL COMMITTEE OF THE

WHOLE HOUSE HELD IN CAMERA

TO CONSIDER THE QADIANI ISSUE

OFFICIAL REPORT

Tuesday, the 20th August, 1974

(Contains Nos. 1 — 21)

CONTENTS

Pages

PRINTED BY THE MANAGER, PRINTING CORPORATION OF PAKISTAN PRESS, ISLAMABAD PUBLISHED BY THE NATIONAL BOOK FOUNDATION ISLAMABAD.

1

صفحہ ٩٢٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

No . 07

THE NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN

PROCEEDING

OF

THE SPECIAL COMMITTEE OF THE

WHOLE HOUSE HELD IN CAMERA

TO CONSIDER THE QADIANI ISSUE

OFFICIAL REPORT

Tuesday, the 20th August, 1974

(Contains No. 1 — 21)

٢

صفحہ ٩٢٣

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

857

THE NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN

(قومی اسمبلی پاکستان)

PROCEEDINGS

OF

THE SPECIAL COMMITTEE OF THE

WHOLE HOUSE HELD IN CAMERA

TO CONSIDER THE QADIANI ISSUE.

OFFICIAL REPORT

Tuesday, the 20th August. 1974.

(کل ایوانی خصوصی کمیٹی بند کمرے کی کارروائی)

(٢٠ اگست ١٩٧٤ء، بروز منگل)

The Special Committee of the Whole House met in Camera in the Assembly Chamber, (State Bank Building), Islamabad, at ten of the clock, in the morning. Mr. Chairman (Sahibzada Farooq Ali) in the Chair.

(مکمل ایوان کی خصوصی کمیٹی کا اجلاس اسمبلی چیمبر (سٹیٹ بینک بلڈنگ) اسلام آباد صبح دس بجے جناب چیئرمین (صاحبزادہ فاروق علی) کی زیر صدارت منعقد ہوا)

(Recition from the Holy Quran)

(تلاوت قرآن شریف)

٣

صفحہ ٩٢٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

Mr. Chairman: Are you prepared?

(جناب چیئرمین: آپ تیار ہیں)

Mr. Yahya Bakhtiar (Attorney General of Pakistan): Yes.

(جناب یحییٰ بختیار (اٹارنی جنرل آف پاکستان): جی ہاں)

Mr. Chairman: They may be called.

(جناب چیئرمین: انہیں بلالیں)

(The Delegation entered the Chamber)

(وفد ہال میں داخل ہوا)

Mr. Chairman: Yes, Mr. Attorney- General.

(جناب چیئرمین: جی، جناب اٹارنی جنرل صاحب)

CROSS- EXAMINATION OF THE QADIANI

GROUP DELEGATION

جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! کچھ جوابات آپ نے دینے تھے۔

مرزا ناصر احمد (گواہ، سربراہ جماعت احمدیہ، ربوہ): جی ہیں وہ میرے پاس۔

(ہم فتح یاب ہوں گے، تم ابو جہل کی پیش ہو گے؟)

جناب یحییٰ بختیار: یا وہی آپ پہلے وہ پڑھ کر سنادیں گے؟

858 مرزا ناصر احمد: ہاں جی۔

ایک یہ سوال تھا کہ ”الفضل“ ٣؍جولائی ١٩٥٢ء میں ہے: ”ہم فتح یاب ہوں گے، تم ابوجہل کی طرح پیش ہوگئے۔“ اس کا جواب یہ ہے کہ اس پرچہ میں ہمیں کوئی فقرہ نہ لفظاً نہ معناً ہمیں ملا۔

جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! آپ نے غور سے دیکھا ہے؟ کسی اور پرچہ میں......

مرزا ناصر احمد: ہاں میں نے یہ اُس دن یہ کہا تھا کہ پانچ دس (١٠) دن کے آگے یا پیچھے کے بھی ہم دیکھ لیں گے۔

٤

صفحہ ٩٢٥

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، بعض دفعہ سال کی غلطی ہو جاتی ہے، اس تاریخ کا یا قریب سال کا......

مرزا ناصر احمد: سارا ”الفضل“ کا فائل میں اس حوالے کے لئے تلاش کرتا، یہ تو انسان نہیں کر سکتا۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں، میں ...... یہ دیکھیں جی کہ جہاں ہو جاتا ہے کہ: ”١٩٥٤ء، ١٩٥١ء یا ١٩٥٣ء ہو سکتا ہے۔“ بعض دفعہ ”١٣“ کی جگہ ”٢٣“ ہو جاتا ہے۔ تو یہ تو میں نہیں کہتا کہ سارے کے سارے ایک ایک پرچہ دیکھیں۔ تو آپ کے پاس یہ نہیں ملا؟

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، ہمیں نہیں مل رہا۔

جناب یحییٰ بختیار: اس کے متعلق آپ نے فرمایا تھا کہ یہ کوئی یوتھ آرگنائزیشن کی طرف سے بات آئی تھی۔

مرزا ناصر احمد: نہیں، اس کے متعلق نہیں، وہ دوسرا تھا۔

(تمہیں دوسرے فرقوں کو بکلی ترک کرنا پڑے گا)

جناب یحییٰ بختیار: اچھا، وہ دوسرا حوالہ۔

مرزا ناصر احمد: ہاں، اس کے متعلق نہیں۔ ضمیمہ ”تحفہ گولڑویہ“ صفحہ:٢٧۔ سوال یہ تھا کہ وہاں یہ ہے کہ: ”تمہیں دوسرے فرقوں کو بکلی ترک کرنا پڑے گا۔“

859 اس سے یہ پتہ لگتا ہے کہ علیحدہ آپ نے بالکل ملت اسلامیہ سے بالکل ممتاز چیز بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ تو اگر ہم (ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص٢٧) کو دیکھیں تو خود اس جگہ اس کا جواب موجود ہے۔ وہاں کی عبارت یہ ہے: ”جیسا خدا نے مجھے اطلاع دی ہے، تمہارے پر حرام ہے اور قطعی حرام ہے کہ کسی مکفر اور مکذب یا متردد کے پیچھے نماز پڑھو، بلکہ چاہئے کہ تمہارا وہی امام ہو جو تم میں سے ہو۔ اسی کی طرف حدیث بخاری کے ایک پہلو میں اشارہ ہے کہ ”امامکم منکم“ یعنی

١؎ اس پر پہلے فقیر نوٹ لکھ چکا ہے، یہ ٣؍جولائی ١٩٥٢ء کا پرچہ نہیں، یہ ٣؍جنوری ١٩٥٢ء کا پرچہ ہے اس کی مکمل عبارت فقیر نے پہلے نقل کر دی ہے، مرزا ناصر کو معلوم تھا کہ یہ ٣؍ جولائی کا پرچہ نہیں، ٣؍جنوری ١٩٥٢ء کا ہے، لیکن جان بوجھ کر غلط بیانی کی کہ ”ہمیں نہیں معلوم کہ کونسا پرچہ ہے، ہمیں تو نہیں ملا۔“ حالانکہ یہی وہ پرچہ ہے جس کے متعلق مرزا محمود سے ١٩٥٣ء میں بھی پوچھا گیا تھا۔

٥

صفحہ ٩٢٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

جب مسیح نازل ہوگا تو تہتر فرقوں کو، جو دعویٰ اسلام کرتے ہیں، کلی ترک کرنا پڑے گا۔“

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ١٨ حاشیہ ، خزائن ج ١٧ ص ٦٤)

نماز کی امامت کے سلسلے میں صرف۔ ایک ہے (انوار الاسلام ص ٣٠، خزائن ج ٩ ص ٣١) جو فقرہ یہاں سوال میں پیش کیا گیا تھا، جہاں تک ہمیں یاد ہے۔ کیونکہ ہمارے پاس کوئی ٹیپ تو ہے ہی نہیں۔ انہوں نے جو نوٹ کیا ہے اس کے مطابق ”ولد الحرام بننے کا شوق ہے“ اس قسم کا فقرہ کہ مسلمانوں کو یہ کہا گیا ہے ”انوار الاسلام“ میں۔ یہ عبارت خود اپنے معانی کو ظاہر کر رہی ہے۔ یہاں یہ لکھا ہوا ہے: ”اب اس سے زیادہ صاف اور کون فیصلہ ہوگا......“ ”کونسا“ غالباً ہے، لفظ چھوٹا ہوا ہے۔ بہرحال:

”اس سے زیادہ صاف اور کون فیصلہ ہوگا۔ کہ ہم دو (٢) کلموں کے مول میں خود امرتسر میں جا کر دو (٢) ہزار روپیہ دیتے ہیں آتھم کو۔ مسٹر عبداللہ آتھم اگر درحقیقت مجھے کاذب سمجھتا ہے (عبداللہ آتھم کی بات ہورہی ہے) مسٹر عبداللہ آتھم اگر درحقیقت مجھے کاذب سمجھتا ہے اور جانتا ہے کہ ایک ذرہ بھی اس نے اسلامی عظمت کی طرف رجوع نہیں کیا 860 تو وہ ضرور بلا توقف عبارت مذکورہ کے موافق اقرار کردے گا، کیونکہ اب تو وہ اپنے تجربہ سے جان چکا کہ میں جھوٹا ہوں۔ (اپنے متعلق ”میں جھوٹا ہوں“) اور مسیح کی حفاظت کو اس نے (یعنی عیسائی عبداللہ آتھم نے) مشاہدہ کر لیا، پھر اس مقابلہ سے اس کو کیا خوف ہے؟ کیا پہلے پندرہ ١٥ مہینوں میں مسیح زندہ تھا اور مسٹر عبداللہ آتھم کی حفاظت کر سکتا تھا، اور اب مر گیا ہے، اس لئے نہیں کر سکتا، جبکہ عیسائیوں نے اپنے اشتہار میں یہ کہہ کے اعلان دیا ہے۔ کہ خداوند مسیح نے مسٹر عبداللہ آتھم کی جان بچائی۔ پھر اب بھی خداوند مسیح جان بچائے گا۔ کوئی وجہ معلوم نہیں ہوتی کہ اب مسیح کے خداوند قادر ہونے کی نسبت مسٹر عبداللہ آتھم کو کچھ شک اور تردد پیدا ہو جائے اور پہلے وہ شک نہ ہو، بلکہ اب تو بہت یقین چاہئے، کیونکہ اس کی خداوندی اور قدرت کا تجربہ ہو چکا اور نیز ہمارے جھوٹ کا تجربہ لیکن یاد رکھو کہ مسٹر عبداللہ آتھم اپنے دل میں خوب جانتا ہے کہ یہ سب باتیں جھوٹ ہیں کہ اس کو مسیح نے بچایا۔ جو خود مر چکا وہ کس کو بچا سکتا ہے؟ اور جو مر گیا وہ قادر کیونکر اور خداوند کیسا؟ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ سچے اور کامل خدا کے خوف نے اس کو بچایا۔ اگر ایک نادان عیسائیوں کی تحریک سے بے باک ہو جائے گا تو پھر اس کامل خدا کی طرف سے بے باکی کا مزا چکھے گا۔ غرض اب ہم نے فیصلے کی صاف صاف راہ بتا دی اور جھوٹے سچے کے لئے ایک معیار پیش کر دیا۔ اب جو شخص اس صاف فیصلے کے برخلاف شرارت اور عناد کی راہ سے بکواس کرے گا اور اپنی شرارت سے بار بار کہے گا کہ

٦

صفحہ ٩٢٧

927 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

عیسائیوں کی فتح ہوگی اور کچھ شرم اور حیا کو کام میں نہیں لائے گا اور بغیر اس کے جو ہمارے اس فیصلے کا انصاف کی رو سے جواب دے سکے، انکار اور زبان درازی سے باز نہیں آئے گا اور ہماری فتح کا861 قائل نہیں ہوگا۔ (اسلام کی فتح کا) تو صاف سمجھا جائے گا کہ اس کو ولد الحرام بننے کا شوق ہے اور حلال زادہ نہیں، پس حلال زادہ بننے کے لئے واجب یہ تھا کہ اگر وہ مجھے جھوٹا جانتا ہے (عبداللہ آتھم) اور عیسائیوں کو غالب اور فتح یاب قرار دیتا ہے تو میری حجت کو واقعی طور پر رفع کرے جو میں نے پیش کی ہے۔“

تو میرے نزدیک تو یہ عبارت بڑی واضح ہے کہ اس کا مخاطب عبداللہ آتھم اور اس کے ساتھی عیسائی ہیں اور اس سے اور بھی آگے اگر پڑھ لیا جائے تو زیادہ واضح ہو جاتا ہے، لیکن میرا خیال ہے کہ یہ واضح ہے اور زیادہ وقت نہیں کرنا چاہئے ضائع۔ لیکن اگر...... اس میں پھر آگے تشریح ہے کہ ”حرام زادہ“ کس وجہ سے اور کس کو کہا گیا۔ اگر کہیں تو میں پڑھ دیتا ہوں۔ ہاں جی؟

(مرزا کی بیعت نہ کرنے والے جہنمی)

جناب یحییٰ بختیار: ضرورت نہیں۔

مرزا ناصر احمد: ہوں، اچھا جی! یہ ٣؍ جولائی کا میں نے کر دیا۔

میرے پاس کوئی ہیں بیس (٢٠) پچیس (٢٥) لکھے ہوئے۔ تو سب اس میں...... اگر کہیں آپ تو تین جو آپ نے...... میں...... اس میں جو دیئے ہوئے...... یہ ہے ”تشحیذ الاذہان“ مارچ ١٩١٣ء ”بیعت نہ کرنے والے جہنمی۔“ یہ سوال کیا گیا تھا، یہ لکھا ہے۔ ”تشحیذ الاذہان“ میں جو موضوع زیر بحث ہے، وہ یہ نہیں کہ کون فی النار ہے، کون نہیں۔ بلکہ موضوع زیر بحث یہ ہے کہ یہ ممکن نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دو (٢) کلام ہوں، واقعہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اور ان میں تضاد پایا جائے۔ تو موضوع ہی دوسرا ہے۔ وہاں یہ لکھا ہے کہ:

”الہامات کا باہمی تناقض اور اختلافات اسلام کو سخت ضرر پہنچاتا ہے۔“ یعنی اگر یہ سمجھا جائے کہ اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے دو (٢) الہام ہیں، واقعہ میں اور ان کے اندر تضاد پایا جاتا ہے تو یہ تو اسلام کو بڑا نقصان پہنچانے والا ہے، کیونکہ قرآن کریم کی واضح ہدایت862 کے خلاف ہے یہ بات سورۂ ملک میں، تفصیل میں نہیں جاتا--- اس میں بڑی وضاحت سے یہ بات ہے کہ خدا تعالیٰ کی صفات اور ان کے جو ظہور ہیں ان کے اندر کبھی کوئی اختلاف تمہیں نظر نہیں آئے گا۔ بہرحال، یہاں یہ موضوع ہے زیر بحث:

٧

BLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

جب مسیح نازل ہوگا تو تمام فرقوں کو، جو دعویٰ اسلام

نماز کی امامت کے سلسلے میں صرف۔ آ فقرہ یہاں سوال میں پیش کیا گیا تھا، جہاں تک ہم ہی نہیں۔ انہوں نے جو نوٹ کیا ہے اس کے مطابق مسلمانوں کو یہ کہا گیا ہے ”انوار الاسلام“ میں۔

یہاں یہ لکھا ہوا ہے: ”اب اس سے زیادہ صاف چھوڑا ہوا ہے۔ بہرحال:

”اس سے زیادہ صاف اور کون فیصلہ امرتسر میں جا کر دو (٢) ہزار روپیہ دیتے ہیں آتھم سمجھتا ہے (عبداللہ آتھم کی بات ہو رہی ہے) مسل اور جانتا ہے کہ ایک ذرہ بھی اس نے اسلامی عظم عبارت مذکورہ کے موافق اقرار کر دے گا، کیونکہ ہوں۔ (اپنے متعلق ”میں جھوٹا ہوں“) اور مسیح آ نے) مشاہدہ کر لیا، پھر اس مقابلہ سے اس کو کیا خو اور مسٹر عبداللہ آتھم کی حفاظت کر سکتا تھا، اور اب اپنے اشتہار میں یہ کہہ کے اعلان دیا ہے۔ کہ خد اب بھی خداوند مسیح جان بچائے گا۔ کوئی وجہ معلو نسبت مسٹر عبداللہ آتھم کو کچھ شک اور تردد پیدا یقین چاہئے، کیونکہ اس کی خداوندی اور قدرت ک رکھو کہ مسٹر عبداللہ آتھم اپنے دل میں خوب جانتا بچایا۔ جو خود مر چکا وہ کس کو بچا سکتا ہے؟ اور جو م کہ سچے اور کامل خدا کے خوف نے اس کو بچایا۔ ہو جائے گا تو پھر اس کامل خدا کی طرف سے۔ صاف صاف راہ بتا دی اور جھوٹے سچے کے ل فیصلے کے برخلاف شرارت اور عناد کی راہ سے بکو

صفحہ ٩٢٩

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

الہامات کا باہمی تناقض اور اختلافات اسلام کو سخت ضرر پہنچاتا ہے اور اسلام کے مخالفوں کو ہنسی اور اعتراض کا موقع ملتا ہے اور اس طرح پر دین کا استخفاف ہوتا ہے، حالانکہ یہ کیونکر ہو سکے کہ ایک شخص کو خدا تعالیٰ یہ الہام کرے کہ تو خدا تعالیٰ کا برگزیدہ اور اس زمانہ کے تمام مؤمنوں سے بہتر اور افضل اور مسیح الانبیاء اور مسیح موعود اور مجدد چودھویں صدی اور خدا کا پیارا اور اپنے مرتبہ میں نبیوں کے مانند اور خدا کا مرسل اور اس کی درگاہ میں وجیہ اور مقرب اور مسیح ابن مریم کے مانند ہے اور ادھر دوسرے کو یہ الہام کرے کہ یہ شخص فرعون اور کذاب اور مسرف اور فاسق اور کافر ہے اور ایسا اور ایسا ہے، اس شخص کو تو یہ الہام کرے کہ جو شخص تیری پیروی نہیں کرے گا اور تیری بیعت میں داخل نہیں ہوگا اور تیرا مخالف رہے گا، وہ خدا اور رسول کی نافرمانی کرنے والا اور اس وجہ سے جہنمی ہے اور پھر دوسرے کو الہام کرے کہ جو اس کی پیروی کرتے ہیں وہ شقاوت کا طریق اختیار کرتے ہیں١؎“

تو یہاں بات ہو رہی ہے الہاموں کی، اپنی طرف سے کسی اعلان کی بات نہیں اور اصل جو سوال ہے زیر بحث وہ یہ ہے کہ جو دو (٢) الہامات اللہ تعالیٰ کی طرف سے آسمان سے نازل ہوں، ان کے اندر تضاد جو ہے وہ نہیں ہو سکتا۔

(ضمیمہ الاذہان اگست، ١٩١٧ء ص ٥٨، ٥٧)

اس میں، سوال میں ۔۔۔جہاں تک ہم نے نوٹ کیا۔۔۔یہ تھا کہ یہاں یہ لکھا ہے کہ: ”صرف ایک ہی نبی ہوگا ۔“ تو جہاں تک اس فقرے کا ۔۔۔ اگر نوٹ صحیح کیا گیا ہو۔۔۔تعلق ہے تو یہ فقرہ کہیں نہیں لکھا ہوا۔ جو لکھا ہوا ہے، وہ ایک دوسری بات ہے۔ وہ یہ ہے، میں پڑھ دیتا ہوں: ”وہ لوگ جو بار بار کہتے ہیں کہ اسلام میں ایک ہی نبی کیوں ہوا؟ بہت سے نبی ہونے چاہئیں ، ان کو چاہئے کہ ختم نبوت کے اس امتیازی نشان کو ذہن میں لاویں کہ آنحضرت ﷺ خدا کی مہر ہیں۔ خدا نے اپنی مہر کے ذریعہ جس کسی کے نبی ہونے کی تصدیق کی وہی نبی ثابت ہو سکتا ہے۔ باقی رہا یہ اعتراض کہ کیوں خدا کی مہر نے صرف ایک ہی کو نبی قرار دیا۔ سو یہ اعتراض ہم پر نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کی مصلحت اور حکمت پر ہے۔ اگر ہماری حکومت خدا پر ہوتی یا اس کی مہر پر ہوتی تو بلاشبہ یہ سوال ہم پر پڑ سکتا تھا۔ خدا اپنی مہر کے ذریعہ بہت سے انبیاء ہونے کی پیش گوئی فرماتا۔۔۔تو ہمیں اس کو ماننے سے بھی کوئی چارہ نہ تھا۔ اب جب کہ خدا کی مہر صرف

١؎ مرزا ناصر احمد صاحب نے خود تسلیم کیا کہ قادیانی عقیدہ کے مطابق مرزا پر الہام نازل ہوا کہ ”تیرا مخالف جہنمی ہے“ تمام مسلمان مرزا کو نہیں مانتے، لہٰذا تمام مسلمان، قادیانی عقیدہ کے مطابق جہنمی ہیں۔ ٨

NATIONAI

ہی نبی کیوں ہوا؟۔ یہی جواب دیا ہے۔“ کہ ”آپ نبی ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں کہ اس امت مرحومہ کے درمیان مبعوث الیہ۔۔۔اس معنی سے) ہم نبی یعنی امتی کا پہلو بھاری ہے) ہم تو یہ کسی کو پہنچ سکتا ہے۔۔۔وہ صرف اور کوئی ذریعہ نہیں۔ ایک اصطلاح شریف میں بھی آیا ہے کہ آنے والا آنحضرت ﷺ سے فیض حاصل کر کے کر کے تمام کمال حاصل کرے۔۔۔ سے بن سکتا ہے۔ وہ تو پہلے ہی سے

سے پہلے کون نبی ہوا ہے ۔“ حضرت انہوں نے صرف ایک کا نام نبی رکھا خواب دینے کا اس واسطے میں ذمہ دار

ہی نبی ہوگا‘ یہ بحث ہی نہیں ہے۔ بیوں کی طرح۔۔۔“ (اپنے وفد کے

’’ بلفضل‘‘؟ مطالبہ کر لیا ۔“

بننا تھا اور وہ مرزا قادیانی ہے۔مرزا کے ہوئی۔مرزا قادیانی خاتم النبیین ہیں۔ نتیجہ برآمد ہوا۔

صفحہ ٩٢٩

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

ایک ہی کو نبی قرار دیتی ہے تو ہم کون ہیں جو کہیں کہ صرف ایک ہی نبی کیوں ہوا؟۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی اس سوال کا یہی جواب دیا ہے۔‘‘

آگے وہ اقتباس ہے: ’’ایک شخص نے سوال کیا کہ ’آپ نبی ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں؟‘ فرمایا ’ہاں، کہ تمام اکابر اس بات کو مانتے چلے آئے ہیں کہ اس امت مرحومہ کے درمیان سلسلہ مکالمات الہیہ کا ہمیشہ جاری ہے۔ اس معنیٰ سے (مکالماتِ الہیہ۔۔۔ اس معنیٰ سے) ہم نبی ہیں۔ ورنہ ہم اپنے آپ کو امتی کیوں کہتے؟ (یعنی امتی نبی، یعنی امتی کا پہلو بھاری ہے) ہم تو یہ کہتے ہیں کہ جو فیضان کسی کو پہنچ سکتا ہے۔۔۔ جو فیضان کسی کو پہنچ سکتا ہے۔۔۔ وہ صرف آنحضرت ﷺ کی پیروی سے پہنچ سکتا ہے۔ اس کے سوائے اور کوئی ذریعہ نہیں۔ ایک اصطلاح کے جدید معنی اپنے پاس سے بنالینا درست نہیں۔ حدیث شریف میں بھی آیا ہے کہ آنے والا مسیح نبی بھی ہوگا اور امتی بھی ہوگا۔ امتی تو وہ ہے کہ جو آنحضرت ﷺ سے فیض حاصل کر کے تمام کمال حاصل کرے۔۔۔ آنحضرت ﷺ سے فیض حاصل کر کے تمام کمال حاصل کرے۔۔۔ لیکن جو شخص پہلے ہی نبوت کا درجہ پاچکا ہے، وہ امتی کسی طرح سے بن سکتا ہے۔ وہ تو پہلے ہی سے نبی ہے۔‘ سائل نے سوال کیا: ’’اگر اسلام میں اس قسم کا نبی ہوسکتا ہے تو آپ سے پہلے کون نبی ہوا ہے۔‘‘ حضرت نے فرمایا: ’’یہ سوال مجھ پر نہیں، بلکہ آنحضرت ﷺ پر ہے۔ انہوں نے صرف ایک کا نام نبی رکھا ہے۔ اس سے پہلے کسی آدمی کا نام نبی نہیں رکھا۔ اس سوال کا جواب دینے کا اس واسطے میں ذمہ دار نہیں ہوں۔‘‘

تو اس سے یہ بات ساری ہوگئی ہے۔ ’’صرف ایک ہی نبی ہوگا‘‘ یہ بحث ہی نہیں ہے۔ بحث دوسری ہے وہاں۔ ’’الفضل‘‘ ١٣؍نومبر ١٩٣٢ء کہ: ’’پارسیوں کی طرح۔۔۔‘‘ (اپنے وفد کے ایک رکن سے) نکالیں ’’الفضل‘‘

جناب یحییٰ بختیار: (سیکرٹری سے) کہاں ہے ’’الفضل‘‘؟

مرزا ناصر احمد: ’’پارسیوں کی طرح علیحدہ اپنا مطالبہ کرلیا۔‘‘

1 ؎ گویا تسلیم کرلیا کہ آنحضرت ﷺ کے بعد ایک نبی بننا تھا اور وہ مرزا قادیانی ہے۔ مرزا کے بعد کوئی نبی نہیں۔ گویا نبوت آنحضرت ﷺ پر ختم نہ ہوئی، مرزا پر ختم ہوئی۔ مرزا قادیانی خاتم النبیین ہیں۔ یہ ہیں قادیانی کفریات جس کے باعث امت نے ان کو اپنے سے علیحدہ قرار دیا۔

٩

LY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

الہامات کا باہمی تناقض اور اختلاف

مخالفوں کو ہنسی اور اعتراض کا موقع ملتا ہے اور اس ہوسکے کہ ایک شخص کو خدا تعالیٰ یہ الہام کرے کہ مؤمنوں سے بہتر اور افضل اور سید الاخیار اور مسیح اپنے مرتبہ میں نبیوں کے مانند اور خدا کا مرسل اور کے مانند ہے اور ادھر دوسرے کو یہ الہام کرے کہ کافر ہے اور ایسا اور ایسا ہے، اس شخص کو تو یہ الہام تیری بیعت میں داخل نہیں ہوگا اور تیرا مخالف رہ اس وجہ سے جہنمی ہے اور پھر دوسرے کو الہام کر طریق اختیار کرتے ہیں۔‘‘

تو یہاں بات ہورہی ہے الہاموں کی جو سوال ہے زیرِ بحث وہ یہ ہے کہ جو دو (٢) الہ ہوں، ان کے اندر تضاد جو ہے وہ نہیں ہوسکتا۔

اس میں، سوال میں۔۔۔ جہاں تک ’’صرف ایک ہی نبی ہوگا۔‘‘ تو جہاں تک اس فقر یہ فقرہ کہیں نہیں لکھا ہوا۔ جو لکھا ہوا ہے، وہ ایک دو

863 ’’وہ لوگ جو بار بار کہتے ہیں کہ ہونے چاہئیں، ان کو چاہئے کہ ختمِ نبوت پ آنحضرت ﷺ خدا کی مہر ہیں۔ خدا نے اپنی مہ وہی نبی ثابت ہوسکتا ہے۔ باقی رہا یہ اعتراض کہ سو یہ اعتراض ہم پر نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کی مصلحت پ اس کی مہر پر ہوتی تو بلاشبہ یہ سوال ہم پر پڑسکتا تھ پیش کوئی فرماتا۔۔۔ تو ہمیں اس کو ماننے سے ا

1 ؎ مرزا ناصر احمد صاحب نے خود تسلیم نازل ہوا کہ ’’تیرا مخالف جہنمی ہے‘‘ تمام مسلما عقیدہ کے مطابق جہنمی ہیں۔

صفحہ ٩٣٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

جناب یحییٰ بختیار: ١٣؍نومبر، ١٩٤٦ء۔

مرزا ناصر احمد: ١٩٤٦ء یہ ہے، ١٣؍نومبر ١٩٤٦ء یہ جو ہے، اگر یہ خطبہ سارا پڑھ لیا جاتا تو سوال آنا ہی نہ تھا سامنے۔ میں پہلے مختصر بتا دیتا ہوں۔

865 اس خطبے میں یہ ہے کہ جس وقت یہ بحث چلی کہ کون کون سے علاقے جو ہیں وہ پاکستان میں آئیں گے اور کون سے دوسری طرف جائیں گے تو اس وقت ایک فتنہ یہ کھڑا ہوا کہ احمدی چونکہ اپنے آپ کو علیحدہ سمجھتے ہیں اس لئے ملت اسلامیہ کے دائرہ میں ان کو نہ سمجھا جائے اور تعداد کے لحاظ سے مسلمان کم ہو جاتے ہیں۔ پھر خصوصاً گورداسپور کا علاقہ جو ہے اس میں ٥١ اور ٤٩ کی نسبت سے مسلم اور غیر مسلم تھے اور یہ ٥١ کی نسبت، اس میں جماعت احمدیہ، جو گورداسپور میں بہت بڑی تعداد میں تھی، وہ بھی شامل تھا۔ تو یہ ہندوؤں نے ایک چال چلی تھی۔

اس وقت مسلم لیگ کے ہاتھ مضبوط کرنے کے لئے اس وقت کے خلیفہ جماعت احمدیہ جن کو ہم خلیفہ ثانی کہتے ہیں، انہوں نے مسلم لیگ سے سر جوڑا اور مسلم لیگ کے مؤقف کو مضبوط بنانے کے لئے ایک پلان تیار کیا اور یہ سارا اس خطبے کے اندر ہے سارا، اور مسلم لیگ کے مشورے کے ساتھ یہ سوال اٹھایا کہ ”تم پارسیوں کو علیحدہ حقوق دیتے ہو تو ہمیں کیوں نہیں دیتے؟“ یعنی مسلم لیگ نے کہا کہ: ”ہمیں فائدہ پہنچے گا کہ تم یہ کرو۔“ تو In collusion with Muslim League, he did what he did. (اس نے جو کچھ کیا مسلم لیگ سے ساز باز کر کے کیا) اور میں کہیں تو سارا ”الفضل“ پڑھ دیتا ہوں اور کہیں تو اس کو یہ ریکارڈ کے لئے شامل کر دیتا ہوں۔

جناب یحییٰ بختیار: اس کو فائل کر دیں۔

جناب چیئرمین: شامل کر دیں اس کو۔

مرزا ناصر احمد: ہاں! اس میں یہ شروع ہوتا ہے ”دہلی کا سفر اور اس کی غرض۔“ ”دہلی کا سفر اور اس کی غرض۔“ اس کے اوپر وہ سرخ نشان لگے ہوئے ہیں جہاں سے یہ اصل مضمون شروع ہوا ہے اور مسلم لیگ کی خدمت کے لئے یہ سارا کچھ کیا گیا تھا۔ صرف ایک فقرے سے تو کچھ نہیں ہوتا، لیکن اب میں سمجھتا ہوں کہ اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

866 ویسے ہماری تاریخ نے ٢٣؍جنوری ١٩٤٦ء میں اس چیز کو ریکارڈ کیا ہے۔ تاریخ Sub-continent (چھوٹا براعظم) کہ اہل حدیث کی طرف سے یہ مطالبہ کیا گیا تھا کہ ان کو جداگانہ حق ملنا چاہئے۔ یہ میں بیچ میں ہی رہنے دیتا ہوں۔

١٠

صفحہ ٩٣١

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

(ہم اس کے مذہب کو کھا جائیں گے)

ایک سوال تھا ”الفضل“ ١٦؍ جولائی ١٩٤٩ء: ”یہ گھبراتے ہیں...... یہ ہے، اس طرح آگے چلتا ہے اور پھر آخر میں ہے: ”ہم اس کے مذہب کو کھا جائیں گے۔“

یہ سوال تھا کہ گویا کہ مسلمان فرقوں کو یہ کہا گیا ہے۔ ١٦؍ جولائی ١٩٤٩ء میں ایسا کوئی مضمون نہیں۔ لیکن جیسا کہ میں نے وعدہ کیا تھا کہ آگے پیچھے دیکھیں گے، جہاں تک ممکن ہوا، ٢٥؍ جولائی ١٩٤٩ء۔ میں ایک مضمون ہے۔ ممکن ہے اس کی وجہ سے۔۔۔ یعنی ”١٦“ کی بجائے ٢٥؍ جولائی، ١٩٤٩ء۔ اگر اجازت ہو تو اس سوال کرنے پر میں شکریہ بھی ادا کردوں، کیونکہ بڑی اچھی چیز سامنے آئے گی، سب کے۔ یہ اس کے اقتباس ہیں، ٢٥ جولائی والے کے:

”اللہ کی طرف سے جب بھی دنیا میں کوئی آواز بلند کی جاتی ہے دنیا کے لوگ اس کی ضرور مخالفت کرتے ہیں۔ بغیر مخالفت کے خدائی تحریکیں دنیا میں کبھی جاری نہیں ہوتیں۔ خدائی تحریک جب بھی دنیا میں جاری کی جاتی ہے، اس کے متعلق بلاوجہ اور بلاسبب لوگوں میں بغض اور کینہ پیدا ہو جاتا ہے۔ اتنا بغض اور کینہ کہ اسے دیکھ کر حیرت آ جاتی ہے ایک مسلمان کو......“

اب وہ جو ہے سوال: ”ایک مسلمان کو محمد رسول اللہ ﷺ سے جو محبت ہے اس کو الگ کرکے، اسے آپ ﷺ سے جو عقیدت ہے اسے بھلا کر، اگر صرف آپ ﷺ کی ذات بابرکات کو دیکھا جائے تو آپ ﷺ کی ذات انتہائی بے شر، انتہائی بے نقص اور دنیا کے لئے نہایت ایثار اور قربانی کرنے والی معلوم ہوتی ہے۔ آپ ﷺ 867 اپنی ساری زندگی میں کسی ایک شخص کا بھی حق مارتے ہوئے نظر نہیں آتے۔ آپ ﷺ کسی جگہ دنگا اور فساد میں مشغول نظر نہیں آتے۔ لیکن قریباً پونے چودہ سو سال کا عرصہ ہو چکا، دشمن آپ کی مخالفت کرنے اور آپ کے متعلق بغض اور کینہ رکھنے سے باز نہیں آتا۔ جو شخص بھی اٹھتا ہے اور مذہب پر کچھ لکھنا چاہتا ہے، وہ فوراً آپ ﷺ کی ذات پر حملہ کرنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے۔ آخر اس کا سبب کیا ہے؟ ہر چیز کا کوئی نہ کوئی سبب ہوتا ہے۔ اس کا بھی یا تو کوئی جسمانی سبب ہوگا یا روحانی سبب ہوگا۔ رسول کریم ﷺ کی مخالفت کا کوئی جسمانی سبب تو نظر نہیں آتا......“

آگے جسمانی سبب کے اوپر کچھ نوٹ دیا ہوا ہے، اور وہ میں نے چھوڑ دیا ہے۔ آگے لکھتے ہیں کہ: ”اس کی کوئی روحانی وجہ ہونی چاہئے، اس کی کوئی روحانی وجہ ہے اور وہ صرف یہی ہے کہ رسول کریم ﷺ کے مخالفین کے دل محسوس کرتے ہیں کہ اسلام ایک صداقت ہے، اگر اسے روکا

11

OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

جناب یحییٰ بختیار: ١٣؍نومبر

مرزا ناصر احمد: ١٩٢٦ء یہ جاتا تو سوال آنا ہی نہ تھا۔ سامنے۔ میں پہلے

865 اس خطبے میں یہ ہے کہ جس پاکستان میں آئیں گے اور کون سے دوسرے احمدی چونکہ اپنے آپ کو علیحدہ سمجھتے ہیں اس تعداد کے لحاظ سے مسلمان کم ہو جاتے ہیں ٤٩ کی نسبت سے مسلم اور غیر مسلم تھے اور میں بہت بڑی تعداد میں تھی، وہ بھی شامل تھ

اس وقت مسلم لیگ کے ہاتھ مض

جن کو ہم خلیفہ ثانی کہتے ہیں، انہوں نے م بنانے کے لئے ایک پلان تیار کیا اور یہ سارا کے ساتھ یہ سوال اٹھایا کہ ”تم پارسیوں کو مسلم لیگ نے کہا کہ ”ہمیں فائدہ پہنچے گا کہ

League, he did what he did.

اور آپ کہیں تو سارا ”الفضل“ پڑھ دیتا ہوں

جناب یحییٰ بختیار: اس کو فائ

جناب چیئرمین: شامل کرو

مرزا ناصر احمد: ہاں! اس ”دہلی کا سفر اور اس کی غرض۔“ اس کے مضمون شروع ہوا ہے اور مسلم لیگ کی خدم سے تو کچھ نہیں ہوتا، لیکن اب میں سمجھتا ہوں

866 ”ویسے ہماری تاریخ نے ٢٣ Sub-continent (چھوٹا براعظم) جداگانہ حق ملنا چاہئے۔ یہ میں بیچ میں ہی ب

صفحہ ٩٣٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

نہ گیا تو یہ صداقت پھیل جائے گی اور انہیں مغلوب کر لے گی۔ یہی ایک چیز ہے۔ جس کی وجہ سے لوگوں کو محمد رسول اللہ ﷺ کی ذات سے سخت دشمنی ہے۔ اس مخالفت کے باقی جتنے بھی وجوہ بیان کئے جاتے ہیں وہ آپ سے زیادہ شان کے ساتھ دوسرے نبیوں میں موجود ہیں۔ اس لئے یہ بات یقینی ہے کہ اس دشمنی کی وجہ لڑائی اور جھگڑا نہیں بلکہ ایک روحانی چیز ہے جس کی وجہ سے یہ دشمنی پیدا ہوگئی ہے اور وہ یہی ہے کہ اسلام ایک حقیقت رکھنے والا مذہب ہے، اسلام غالب آ جانے والا مذہب ہے، اسلام دوسرے مذاہب کو کھا جانے والا مذہب ہے۔ اسے دیکھ کر مخالفین کے کان فوراً کھڑے ہو جاتے ہیں اور وہ مقابلہ کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔‘‘

868 ’’وہ تو کھا جانے والا‘‘ اپنا نہیں کہا، بلکہ اسلام کے متعلق ساری بات ہورہی ہے اور فرما رہے ہیں کہ ’’اسلام دوسرے مذاہب کو کھا جانے والا مذہب ہے۔‘‘ اور سوال یہ پوچھا گیا کہ گویا کہ جماعت احمدیہ کی طرف سے یہ کہا ہے کہ ’’ہم تمہیں کھا جائیں گے۔‘‘ آگے اور ایک اقتباس جو اس کو Complete (مکمل) کرتا ہے: ’’یہ لوگ چونکہ محمد رسول اللہ ﷺ کا شکار ہیں۔ یہ لوگ چونکہ محمد رسول اللہ ﷺ کا شکار ہیں، اس لئے وہ آپ ﷺ کے مخالف ہوگئے ہیں اور یہی ایک وجہ ہے جس کی وجہ سے لوگ آپ ﷺ کے دشمن ہیں اور اگر یہی وجہ ہے تو یہ بات ہمارے لئے غم کا موجب نہیں ہونی چاہئے، بلکہ خوشی کا موجب ہونی چاہئے۔ لوگ گھبراتے ہیں کہ مخالفت کیوں کی جاتی ہے۔ لوگ جھنجھلا اٹھتے ہیں کہ ان کی عداوت کیوں کی جاتی ہے۔ لوگ چڑتے ہیں کہ انہیں دکھ کیوں دیا جاتا ہے۔ لیکن اگر گالیاں دینے اور دکھ دینے کی وجہ بھی یہی ہے کہ وہ ہمارا (یعنی اسلام کا) شکار ہیں تو پھر ہمیں گھبرانا نہیں چاہئے اور نہ کسی قسم کا فکر کرنا چاہئے، بلکہ ہمیں خوش ہونا چاہئے کہ دشمن یہ محسوس کرتا ہے (دشمن اسلام) کہ اگر ہمیں کوئی نئی حرکت پیدا ہوئی تو اس کے مذہب کو کھا جائیں گے۔‘‘

تو سارا یہ بیان جو ہے نبی ﷺ کے متعلق ہے۔

(١٩٣٩ء میں یہ بات کیوں؟)

جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! ١٩٣٩ء میں کیوں؟ کوئی عیسائی مشنریوں نے کوئی انکوائری شروع کی تھی، اسلام کے خلاف جب انہوں نے یہ بات کہی؟

مرزا ناصر احمد: ١٩٣٩ء میں؟

جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی۔

١٢

صفحہ ٩٣٣

TIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

نہ گیا تو یہ صداقت پھیل جائے گی اور انہیں مغلوب کرلے گی۔ یہی ایک لوگوں کو محمد رسول اللہ ﷺ کی ذات سے سخت دشمنی ہے۔ اس مخالفت کئے جاتے ہیں وہ آپ سے زیادہ شان کے ساتھ دوسرے نبیوں میں یقینی ہے کہ اس دشمنی کی وجہ لڑائی اور جھگڑا نہیں بلکہ ایک روحانی چیز ہوگئی ہے اور وہ یہی ہے کہ اسلام ایک حقیقت رکھنے والا مذہب ہے مذہب ہے، اسلام دوسرے مذاہب کو کھا جانے والا مذہب ہے۔ اس کھڑے ہوجاتے ہیں اور وہ مقابلہ کے لئے تیار ہوجاتے ہیں۔“

868 ”تو کھا جانے والا“ اپنا نہیں کہا، بلکہ اسلام کے متعلق یہ رہے ہیں کہ ’اسلام دوسرے مذاہب کو کھا جانے والا مذہب ہے کہ جماعت احمدیہ کی طرف سے یہ کہا ہے کہ ’ہم تمہیں کھا جائیں گے‘ اس کو Complete (مکمل) کرتا ہے: ”یہ لوگ چونکہ محمد رسول ا چونکہ محمد رسول اللہ ﷺ کا شکار ہیں، اس لئے وہ آپ ﷺ کے مخالف ہے جس کی وجہ سے لوگ آپ ﷺ کے دشمن ہیں اور اگر یہی وجہ موجب نہیں ہونی چاہئے، بلکہ خوشی کا موجب ہونی چاہئے۔ لوگ سمجھ جاتی ہے۔ لوگ جھنجھلا اٹھتے ہیں کہ ان کی عداوت کیوں کی جاتی ہے کیوں دیا جاتا ہے۔ لیکن اگر گالیاں دینے اور دکھ دینے کی وجہ بھی کا) شکار ہیں تو پھر ہمیں گھبرانا نہیں چاہئے اور نہ کسی قسم کا فکر کرنا چا کہ دشمن یہ محسوس کرتا ہے (دشمنِ اسلام) کہ اگر ہمیں کوئی نئی حرکت کھا جائیں گے۔“

تو سارا یہ بیان جو ہے نبی ﷺ کے متعلق ہے۔

(١٩٣٩ء میں یہ بات کیوں؟)

جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! ١٩٣٩ء میں کیو کوئی انکوائری شروع کی تھی، اسلام کے خلاف جب انہوں نے یہ با

مرزا ناصر احمد: ١٩٣٩ء میں؟

جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی۔

١٢

933 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

مرزا ناصر احمد: چودہ سو سال سے آج کے دن تک۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں......

869 مرزا ناصر احمد: اس وقت تک وہ تو تحریک جاری ہے۔

(دشمن کون تھے؟)

جناب یحییٰ بختیار: اس مضمون کا، جو وہ کہہ رہے ہیں ”دشمن“ کہہ رہے ہیں، میں یہ آپ سے پوچھ رہا ہوں کہ ١٩٣٩ء میں کون سا حادثہ تھا جو انہوں نے کہا؟ ”دشمن“ کون تھے؟

مرزا ناصر احمد: نبی اکرم ﷺ کے دشمن۔ اتنی وضاحت سے یہ اس میں الفاظ آئے ہوئے ہیں۔ اس میں تو کوئی ابہام باقی نہیں رہا۔

جناب یحییٰ بختیار: وہ کچھ Confusion (ابہام) ہے، کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ: ”میں فنا فی الرسول ہوں۔ میں محمد ہوں۔“

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، وہ تو بالکل......

جناب یحییٰ بختیار: ”تو ہم دشمن سے یہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ......“ اپنی طرف سے ”محمد“ کہہ رہے ہیں۔

مرزا ناصر احمد: میں یہ کہتا ہوں کہ اپنی طرف سے نہیں کہہ رہے اور نہ کہنے والے اپنی طرف سے کہہ سکتے ہیں کہ وہ تو خلیفہ ثانی ہیں۔

(کون اسلام کے دشمن تھے؟)

جناب یحییٰ بختیار: کون اسلام کے دشمن تھے؟ کون آنحضرت ﷺ پر حملہ کر رہے تھے، جن کی طرف یہ اشارہ ہے؟ آپ کچھ کہہ سکتے ہیں؟

مرزا ناصر احمد: عیسائی۔

جناب یحییٰ بختیار: عیسائی کہاں کر رہے تھے؟

مرزا ناصر احمد: ہاں۔

جناب یحییٰ بختیار: کوئی Instance (مثال) بتا دیجئے آپ کہ کسی عیسائی نے کوئی مضمون لکھا، کوئی تقریر کی، پاکستان میں، دنیا میں، جس کی طرف اشارہ ہو؟

مرزا ناصر احمد: آپ مجھے دو گھنٹہ پڑھنے کی اجازت دیں تو میں ساری گالیاں

١٣

صفحہ ٩٣٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

سنا دوں گا۔ جو عیسائیوں نے نبی اکرم ﷺ کو دی ہیں۔

870 جناب یحییٰ بختیار: میرا سوال ہے ناں، مرزا صاحب! کہ ١٩٣٩ء میں مرزا صاحب نے یہ خطبہ دیا اور کہتا ہے کہ ”دشمن گھبراتے ہیں۔ دشمن ہمارا شکار ہے۔“ وہ ”دشمن“ کون تھے؟ کیا ضرورت تھی اس کی کہ انہوں نے خطبے میں ذکر کیا؟ کیونکہ مرزا صاحب سوچ کر بات کرتے تھے۔ تو خاص پرابلم ہوگا، کوئی ایشو ہوگا۔ میں وہ پوچھنا چاہتا ہوں۔

مرزا ناصر احمد: حضرت خلیفہ ثانی نے عیسائیوں کے خلاف ساری دنیا میں ایک مہم جاری کی ہوئی تھی اور جس وقت حضرت خلیفہ ثانی یا کوئی اور خلیفہ جماعت احمدیہ کا۔۔۔ ہم ویسے ہی امام جماعت احمدیہ کہہ دیتے ہیں، لیکن آپ کہتے ہیں ”نہیں، آپ اپنا ہی وہ لیا کریں Designation (لقب)“

جناب یحییٰ بختیار: نہیں نہیں، میں نے صرف ایک سوال پوچھا ہے آپ سے......

مرزا ناصر احمد: نہیں نہیں، میں بتاتا ہوں......

جناب یحییٰ بختیار: کہ کوئی خاص Incident (واقعہ) بتا سکتے ہیں، کوئی Statement (بیان) عیسائیوں کا، کوئی تقریر، کوئی تحریر، اس زمانے میں، جس کے جواب میں کہہ رہے ہیں کہ......

مرزا ناصر احمد: ہر وقت وہ ہے۔ یعنی یہ کہ یہ ٢٥؍ جولائی کو کوئی واقعہ ہوا؟

جناب یحییٰ بختیار: نہیں نہیں، دو مہینے پہلے، دو دن پہلے، دو ہفتے پہلے۔

مرزا ناصر احمد: ساری صدی میں ہوتا رہا۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، صدی کی بات نہیں

مرزا ناصر احمد: وہ جو پہلی صدی میں باتیں ہوئی ہیں، جواب نہیں دینا چاہئے۔

لے حد ہو گئی۔ کیا کہا؟ قادیانی توجہ فرمائیں؟ مرزا قادیانی یا کسی قادیانی کو کوئی گالی دے تو وہ گالی خوشی سے کوئی قادیانی نقل نہیں کرے گا، لیکن قادیانیوں کو دیکھیں کہ بلا تکلف ان کا سربراہ کہہ رہا ہے کہ ”عیسائیوں نے جو آنحضرت ﷺ کو گالیاں دیں وہ ساری گالیاں سنا دوں گا۔“ مرزا ناصر کو یہ سبق اپنے دادا ملعون قادیان مرزا قادیانی سے ملا ہے۔ مرزا قادیانی نے (کتاب البریہ ص٩٣ تا ١١٨، خزائن ج١٣ ص١٢٠ تا ١٤٦) ٢٦ صفحات پر مسلسل آنحضرت ﷺ کے بارہ میں صریح بیہودہ اور کمینہ گالیاں جو عیسائیوں نے دیں وہ مرزا نے جمع کر دی ہیں۔ (معاذ اللہ ثم معاذ اللہ) یہ ہے قادیانی کفر کی اندرونی کیفیت۔

٤١

صفحہ ٩٣٥

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

جناب یحییٰ بختیار: صدی کی بات نہیں ہے۔

Mr. Chairman: The question of Attorney- General is.

(جناب چیئرمین: اٹارنی جنرل صاحب کا سوال ہے)

جناب یحییٰ بختیار: میں یہ کہتا ہوں، کہ کوئی Incident (واقعہ) بتا سکتے ہیں؟

871 Mr. Chairman: The questin of the Attorney- General is.

(جناب چیئرمین: اٹارنی جنرل صاحب کا سوال ہے)

جناب یحییٰ بختیار: یہ جنرل وہ ہو رہی ہے......

Mr. Chairman: Just a minute. The question of the Attorney- General is: the immediate cause for this, for delivery of this. The witness is requested to confine himself...

(جناب چیئرمین: صرف ایک منٹ۔ اٹارنی جنرل کا سوال ہے کہ یہ خطبہ دینے کی فوری وجہ یا سبب کیا تھا۔ گواہ سے گزارش ہے کہ وہ اپنے (جواب کو) محدود رکھے......)

جناب یحییٰ بختیار: آپ کوئی Incident (واقعہ) بتا سکتے ہیں......

Mr. Chairman: .... to this question only.

(جناب چیئرمین: صرف اس سوال تک)

جناب یحییٰ بختیار: جس کی وجہ سے انہوں نے یہ کہا؟

Mr. Chairman: ہاں Not a general reply but regarding this specific question.

(جناب چیئرمین: جواب عام قسم کا نہ ہو، بلکہ خاص طور پر اس سوال کا جواب ہو)

مرزا ناصر احمد: وہ جو ہے ناں اس کا، وہ اسی میں وہ بھی موجود ہے، لیکن قریباً پونے چودہ سو سال کا عرصہ ہو چکا دشمن آپ ﷺ کی مخالفت کرنے اور آپ کے متعلق بغض اور کینہ رکھنے سے باز نہیں آتا، یہاں جو آپ کا سوال ہے، اس کا جواب یہ فقرہ ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: اس جگہ کوئی نہیں!

مرزا ناصر احمد: ہزاروں ہیں۔ لیکن میں اس وقت نہیں بتا سکتا۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، اس، اس واقعہ کے؟

١٥

SSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

سنادوں گا۔ جو عیسائیوں نے نبی اکرم ﷺ کو دی ہیں۔

870 جناب یحییٰ بختیار: میرا سوال ہے ناں... صاحب نے یہ خطبہ دیا اور کہتا ہے کہ ”دشمن گھبراتے ہیں... تھے؟ کیا ضرورت تھی اس کی کہ انہوں نے خطبے میں ذکر ک... کرتے تھے۔ تو خاص پرابلم ہوگا، کوئی ایشو ہوگا۔ میں وہ پوچ...

مرزا ناصر احمد: حضرت خلیفہ ثانی نے عیسا... جاری کی ہوئی تھی اور جس وقت حضرت خلیفہ ثانی یا کوئی اور... امام جماعت احمدیہ کہہ دیتے ہیں، لیکن آپ کہتے ہ... Designation (لقب)“

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں، میں نے ص...

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، میں بتاتا ہوں...

جناب یحییٰ بختیار: کہ کوئی خاص ہو... Statement (بیان) عیسائیوں کا، کوئی تقریر، کوئی تحر... کہہ رہے ہیں کہ......

مرزا ناصر احمد: ہر وقت وہ ہے۔ یعنی یہ کہ یہ...

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں، دو مہینے پہل...

مرزا ناصر احمد: ساری صدی میں ہوتا رہا...

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، صدی کی بات نہی...

مرزا ناصر احمد: وہ جو پہلی صدی میں باتیں...

بے حد ہوگئی۔ کیا کہا؟ قادیانی توجہ فرمائیں؟ م... تو وہ گالی خوشی سے کوئی قادیانی نقل نہیں کرے گا، لیکن قاد... کہہ رہا ہے کہ ”عیسائیوں نے جو آنحضرت ﷺ کو گا... مرزا ناصر کو یہ سبق اپنے دادا ملعون قادیان مرزا قادیانی ... ص٩٤ تا ١١٨، خزائن ج١٣ ص ١٤٠ تا ١٤٦) ٢٦ صفحات پر ... بیہودہ اور کمینہ گالیاں جو عیسائیوں نے دیں وہ مرزا نے ف... ہے قادیانی کفر کی اندرونی کیفیت۔

١٤

صفحہ ٩٣٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

مرزا ناصر احمد : میں اس وقت نہیں بتا سکتا۔

جناب یحییٰ بختیار : ٹھیک ہے۔

مرزا ناصر احمد : میں کل صبح بتاؤں گا آپ کو، اگر یہی کرنا ہے۔ یعنی ایک مضمون بالکل صاف ہے......

872 جناب یحییٰ بختیار : مرزا صاحب! مضمون بالکل صاف آپ کو معلوم ہو رہا ہے۔ مگر میری یہ ڈیوٹی ہے کہ...... مجھے صاف نہیں معلوم ہو رہا ہے......

مرزا ناصر احمد : جی، ٹھیک ہے۔

(آپ دشمن کس کو سمجھتے ہیں؟)

جناب یحییٰ بختیار : کیونکہ ابھی جو ہماری Arguments (دلائل) ہو رہی ہیں، یا جو سوالات پوچھ کے جواب پوچھ رہا ہوں، اس کے مطابق جو میرا Conception (تصور) ہے اسلام کا، وہ مختلف ہو گیا۔ جو میرا Conception (تصور) تھا نبی کا، وہ مختلف ہو گیا۔ تو اس لئے میں پوچھ رہا ہوں آپ ”دشمن“ کس کو سمجھتے ہیں؟......

مرزا ناصر احمد : اس Context (سیاق و سباق) میں......

جناب یحییٰ بختیار : آپ نے کہا ”عیسائی“ تو میں نے کہا ”کوئی عیسائیوں......“

مرزا ناصر احمد : غیر مسلم، اصل میں حملہ آور یہ تھا ہندو اور آریہ خصوصاً ان میں سے اور عیسائی اور اس وقت دہریہ بھی بیچ میں اس حملے میں شامل ہو گئے۔

جناب یحییٰ بختیار : نہیں، وہ آپ درست فرما رہے ہیں، مرزا صاحب! ١٩٧٤ء میں پاکستان بن چکا تھا، نہ کسی ہندو کی ہمت تھی، نہ کسی عیسائی کی کہ آنحضرت ﷺ کی، پاکستان میں آپ ﷺ کی شان میں کسی قسم کی گستاخی کرتا......

مرزا ناصر احمد : یہ یہ پرابلم ہے آپ کا؟

جناب یحییٰ بختیار : تو اس واسطے میں......

مرزا ناصر احمد : ہاں، ہاں، ہاں، نہیں، اس کا جواب یہ ہے کہ پاکستان بن چکنے کے بعد بھی جو غیر مسلموں کے ساتھ ہمارا جہاد تھا، وہ اسی طرح جاری تھا جس طرح پاکستان بننے سے پہلے۔

١؎ چاروں شانے چت۔

١٦

صفحہ ٩٣٧

937 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

(دشمنوں کو کھا جائیں گے؟)

جناب یحییٰ بختیار: کہ دشمنوں کو کھا جائیں گے؟

مرزا ناصر احمد: اسلام کھا جائے گا۔

جناب یحییٰ بختیار: یعنی ہم ہندوؤں کو کھا جائیں گے؟

873 مرزا ناصر احمد: اسلام...... اسلام اپنی روحانی برتری سے کھا جائے گا۔ یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ جو فقیروں کا ایک گروہ ہے۔ جو انسان کا گوشت کھاتا ہے، اس طرح کھا جائیں گے۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں، وہ میں نہیں کہہ رہا۔

مرزا ناصر احمد: جی۔

جناب یحییٰ بختیار: اچھا جی۔ اب اور کوئی جوابات ہیں؟

(١٨٥٧ء غدر کے متعلق)

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، جوابات بہت ہیں۔ (Pause)

جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! یہ جو ١٩٣٩ء کا خطبہ ہے اس کی ایک کاپی یہاں فائل کرا دیں گے جی؟

مرزا ناصر احمد: میں دیکھتا ہوں، اگر Spare (فالتو) ہوگی تو ضرور۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، ہاں، بعد میں کرا دیں جی۔

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں۔ ایک سوال تھا ١٨٥٧ء کے غدر کے متعلق۔ تو وہ اس میں جو نوٹ ہم نے کہا ہے...... اس میں یہ تو صرف لفظ نوٹ ہو سکتے ہیں: ”چوروں اور قزاقوں کی طرح غدر کرنے والوں نے غدر کیا۔“

تو اگر آپ پھر آپ...... سوال ہو یہاں تو دہرا دیں۔ میرے پاس جواب ویسے ہے۔ یہ میں پوچھ اس لئے رہا ہوں کہ جو حوالہ دیا گیا تھا اس میں ”چوروں اور قزاقوں کی طرح“ کے الفاظ نہیں ہیں۔ تو ویسے، ویسے میں جواب دے دیتا ہوں۔ (اپنے وفد کے ایک رکن سے) مجھے دے دو۔

جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! آپ کے پاس کیا ہے؟

874 مرزا ناصر احمد: یہاں انہوں نے جو لکھا ہے ”چوروں اور قزاقوں......“

جناب یحییٰ بختیار: ”...... اور حرامیوں......“

مرزا ناصر احمد: ”...... قزاقوں کی طرح حرامیوں کی طرح۔“ (Pause)

LY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

مرزا ناصر احمد: میں اس وقت نہیں

جناب یحییٰ بختیار: ٹھیک ہے۔

مرزا ناصر احمد: میں کل صبح بتاؤں گا صاف ہے۔۔۔۔۔۔

872 جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب مگر میری یہ ڈیوٹی ہے کہ۔۔۔۔۔۔ مجھے صاف نہیں معلوم

مرزا ناصر احمد: جی، ٹھیک ہے۔

(آپ دشمن کس

جناب یحییٰ بختیار: کیونکہ ابھی ہیں، یا جو سوالات پوچھ کے جواب پوچھ رہا ہوں (تصور) ہے اسلام کا، وہ مختلف ہو گیا۔ جو میرا ہو گیا۔ تو اس لئے میں پوچھ رہا ہوں آپ ”دشمن“

مرزا ناصر احمد: اس Context

جناب یحییٰ بختیار: آپ نے کہا

مرزا ناصر احمد: غیر مسلم، اصل میں اور عیسائی اور اس وقت دہریہ بھی بیچ میں اس حصے

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، وہ آ میں پاکستان بن چکا تھا؛ نہ کسی ہندو کی ہمت تھی میں آپ ﷺ کی شان میں کسی قسم کی گستاخی کر

مرزا ناصر احمد: یہ یہ پرابلم ہے آ

جناب یحییٰ بختیار: تو اس واسطے

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، ہاں، ٹھ بھی جو غیر مسلموں کے ساتھ ہمارا جہاد تھا، وہ اسی لے چاروں شانے چت۔

صفحہ ٩٣٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

غدر یا later on (بعد ازاں) تحریک آزادی کے نام سے ایک واقعہ ١٨٥٨ء میں ہوا، ١٨٥٧ء میں ہوا۔ یہ واقعہ اس سال سے کہیں پہلے کا ہے جس سال جماعت احمدیہ کی بنیاد رکھی گئی، اس کے متعلق اس زمانہ کے لوگوں نے جو کچھ لکھا ہے، وہ ہمارے سامنے ہو تب ہم صحیح نتیجے پر پہنچ سکتے ہیں۔ چنانچہ سنئے: سید نذیر حسین صاحب محدث دہلوی فرماتے ہیں رسالہ ”اشاعت السنۃ“ جلد:٦، نمبر:٧، ٢٨٨ صفحے پر اہل حدیث عالم مولوی محمد حسین بٹالوی نے اپنے اس میں لکھا ہے۔۔۔کہ: ”مولانا سید نذیر حسین صاحب محدث دہلوی نے اصل معنی جہاد کے لحاظ سے۔۔۔ اصل معنی جہاد کے لحاظ سے بغاوت ١٨٥٧ء کو شرعی جہاد نہیں سمجھا ( بلکہ اس کو کیا سمجھا ) بلکہ اس کو بے ایمانی، عہد شکنی، فساد، عناد خیال کر کے اس میں شمولیت اور اس کی معاونت کو معصیت ۔۔۔گناہ قرار دیا۔“

یہ مولانا سید نذیر حسین محدث دہلوی۔

خواجہ حسن نظامی صاحب معروف ایک ہستی ہیں، وہ فرماتے ہیں: ”یہ اقرار کرنا قرین انصاف ہے کہ ہندوستانی فوج والوں اور دیسی باشندوں نے بھی غدر کے شروع میں سفاکی اور بے رحمی کو حد سے بڑھا دیا تھا اور ان کے ستم ایسے ہولناک تھے کہ ہر قسم کی سزا ان کے لئے جائز کہی جاسکتی ہے۔ انہوں نے بے کس عورتوں کو قتل کیا۔ انہوں نے حاملہ عورتوں کو ذبح کرنے سے دریغ نہ کیا۔ انہوں نے دودھ پیتے بچوں کو اچھالا اور سنگینوں کی نوکوں پر روک کر بے زبان معصوموں کو875 چھید ڈالا۔ وہ حاملہ عورتوں کے پیٹ میں تلواریں گھونپ دیتے تھے۔ غرض کوئی ظلم و ستم ایسا نہ تھا جو ان کے ہاتھ سے انگریزوں اور ان کے بیوی بچوں پر نہ ٹوٹا ہو۔ ان کے شرمناک افعال نے تمام ہندوستان کو ہمیشہ کے لئے رحم و انصاف کی نظروں میں ذلیل کر دیا۔ میرا سر شرم و ندامت سے (یہ حسن نظامی صاحب ہیں) میرا سر شرم و ندامت سے اونچا نہیں ہوتا جب میں اپنی قوم کی اس درد ناک سفاکی کا حال پڑھتا ہوں جو اس نے دہلی شہر کے اندر ١١؍ مئی ١٨٥٧ء اور اس کے بعد کے زمانہ میں روا رکھی۔“

(دہلی کی جان کنی ص٢٣، از خواجہ حسن نظامی)

انہوں نے خود لکھا ہے یہ۔

بہادر شاہ ظفر۔ بہادر شاہ ظفر نے ٩؍ مارچ ١٨٥٨ء کو دیوان خاص قلعہ دہلی میں عدالت کے سامنے جو تحریری بیان دیا اس میں لکھا کہ: ”میں نے دو پالکیاں روانہ کیں اور حکم دے دیا کہ توپیں بھی بھیج دی جائیں۔ اس کے بعد میں نے سنا پالکیاں پہنچنے بھی نہ پائی تھیں کہ مسٹر

١٨

صفحہ ٩٣٩

939 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

فریزر، قلعہ دار اور لیڈیاں سب کے سب قتل کر دیئے گئے۔ (اس سے) زیادہ دیر نہیں ہوئی تھی کہ باغی سپاہ دیوان خاص میں گھس آئی، عبادت خانہ میں بھی ہر طرف پھیل گئی اور مجھے چاروں طرف سے گھیر کر پہرہ متعین کر دیا۔ یہ نمک حرام۔ یہ نمک حرام۔ کئی انگریز مرد اور عورت کو گرفتار کر کے لائے۔ ان کو انہوں نے میگزین میں پکڑا تھا اور ان کے قتل کا قصد کرنے لگے۔ آخری وقت اگرچہ میں مفسد بلوائیوں کو حتی المقدور باز رکھنے کی کوشش کرتا رہا، مگر انہوں نے میری طرف مطلق التفات نہیں کیا اور ان بے چاروں کو قتل کرنے باہر لے گئے۔ احکام کی نسبت معاملہ کی اصل حالت یہ ہے کہ جس روز سپاہ آئی، انگریزی افسروں کو قتل کیا اور مجھے قید کر لیا، میں ان کے اختیار میں رہا، میرا اپنا کوئی اختیار نہیں تھا۔“

876 یہ لکھنے والے ہیں ”بہادر شاہ کا مقدمہ“ از خواجہ حسن نظامی اور اس کے اوپر خواجہ حسن نظامی صاحب فرماتے ہیں کہ بہادر شاہ بادشاہ کے اپنے دستخط ہیں۔

سر سید احمد خاں: ”غور کرنا چاہئے کہ اس زمانہ میں جن لوگوں نے جہاد کا جھنڈا بلند کیا، ایسے خراب اور بد رویہ اور بد اطوار آدمی تھے کہ بجز شراب خوری کے اور تماش بینی اور ناچ اور رنگ دیکھنے کے کچھ وظیفہ ان کا نہ تھا۔ بھلا یہ کیوں کر پیشوا اور مقتدا جہاد ...... کے گنے جا سکتے تھے؟ اس ہنگامے میں کوئی بات بھی مذہب کے مطابق نہیں ہوئی ...... سب جانتے ہیں کہ سرکاری خزانہ اور اسباب، جو امانت تھا، اس میں خیانت کرنا، ملازمین کو نمک حرامی کرنا مذہب کی رو سے درست نہ تھی۔ صریح ظاہر ہے کہ بے گناہوں کا قتل، علی الخصوص عورتوں اور بچوں اور بوڑھوں کا، مذہب کے بموجب گناہ عظیم تھا۔ پھر کیوں کر یہ ہنگامہ غدر جہاد ہو سکتا تھا؟ ہاں، البتہ چند بدذاتوں نے دنیا کی طمع، اپنی منفعت اور اپنے خیالات کو پورا کرنے اور جاہلوں کے بہکانے کو، اپنے زعم جمعیت کو جمع کرنے کو جہاد کا نام دے لیا۔ پھر یہ بات بھی مفسدوں کی حرام زدگیوں میں سے ایک حرام زدگی تھی، نہ واقعہ میں جہاد۔ مگر جب بریلی کی فوج دہلی پہنچی اور دوبارہ فتویٰ ہوا، جو مشہور ہوا اور جس میں جہاد کرنا واجب لکھا ہے، بلاشبہ اصلی نہیں۔ چھاپنے والے اس فتویٰ نے جو ایک مفسد اور نہایت قدیمی بدذات آدمی تھا ...... جاہلوں کے بہکانے اور ورغلانے کو لوگوں کے نام لکھ کر اور چھاپ کر اس کو رونق دی تھی، بلکہ ایک آدھ مہر ایسے شخص کی چھاپ دی تھی، جو قبل غدر مر چکا تھا۔“ یہ ”اسباب بغاوت ہند“ صفحہ ایک ہی ہے۔

877 مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی لکھتے ہیں: ”عہد و پیمان والوں سے لڑنا ہرگز شرعی

١٩

LY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

غدر یا later on (بعد ازاں) تو ہوا، ١٨٥٧ء میں ہوا۔ یہ واقعہ اس سال سے کہیں گئی، اس کے متعلق اس زمانہ کے لوگوں نے جو پہنچ سکتے ہیں۔ چنانچہ سنئے: سید نذیر حسین صا السنۃ“ جلد: ٦، نمبر: ٧، ٢٨٨ صفحے پر اہل حدی ہے۔۔۔کہ: ”مولانا سید نذیر حسین صاحب مو اصل معنی جہاد کے لحاظ سے بغاوت ١٨٥٧ء کو بے ایمانی، عہد شکنی، فساد، عناد خیال کر کے ا ۔۔۔ گناہ قرار دیا۔“

یہ مولانا سید نذیر حسین محدث دہلو خواجہ حسن نظامی صاحب معروف آ انصاف ہے کہ ہندوستانی فوج والوں اور دیسی رحمی کو حد سے بڑھا دیا تھا اور ان کے ستم ایسے جاسکتی ہے۔ انہوں نے بے کس عورتوں کو قتل کیا نہ کیا۔ انہوں نے دودھ پیتے بچوں کو اچھالا او چھید ڈالا۔ وہ حاملہ عورتوں کے پیٹ میں تلوار ان کے ہاتھ سے انگریزوں اور ان کے بیوی ب ہندوستان کو ہمیشہ کے لئے رحم وانصاف کی نظر حسن نظامی صاحب ہیں) میرا سر شرم و ندام دردناک سفاکی کا حال پڑھتا ہوں جو اس نے زمانہ میں روا رکھی۔“

انہوں نے خود لکھا ہے یہ۔

بہادر شاہ ظفر ۔ بہادر شاہ ظفر ۔

عدالت کے سامنے جو تحریری بیان دیا اس میں دیا کہ توپیں بھی بھیج دی جائیں۔ اس کے بع

صفحہ ٩٤٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

جہاد ..... ملکی ہو خواہ مذہبی ..... نہیں ہو سکتا ..... عہد و پیمان والوں سے لڑنا ہرگز شرعی جہاد نہیں ہو سکتا، بلکہ عناد و فساد کہلاتا ہے۔ مفسدہ ١٨٥٧ء میں جو مسلمان شریک ہوئے تھے وہ سخت گنہگار اور بحکم قرآن و حدیث وہ مفسد و باغی کردار تھے ..... بد کردار تھے ..... اکثر ان میں عوام کالانعام تھے۔ بعض جو خواص و علماء کہلاتے تھے ..... وہ بھی اصل علوم دین قرآن و حدیث سے بے بہرہ تھے یا نا فہم و بے سمجھ۔“

(رسالہ اشاعۃ السنۃ ج ٩، نمبر ١٠ ص ٣٠٩-٣١٠، ١٨٨٦ء)

پھر نواب صدیق حسن خاں صاحب جو فرماتے ہیں وہ بھی سنئے۔ نواب صدیق حسن خاں صاحب نے کتاب ”ہدایت السائل“ اور دوسری متعدد کتابوں میں یہ لکھا ہے: ”ہندوستان کے بلاد دارالسلام ہیں، نہ دارالحرب۔ برٹش گورنمنٹ سے ہندوستان کے تمام رؤساء، رعایا کا ہمیشہ کے لئے معاہدہ دوستی ہو چکا ہے۔ لہٰذا ہندوستان کے کسی شخص کا برٹش گورنمنٹ سے جہاد کرنا اور اس معاہدہ کو توڑنا جائز نہیں ہے۔ جو غدر ١٨٥٧ء میں برٹش گورنمنٹ سے مفسدوں نے سلوک کیا وہ فساد تھا، نہ جہاد۔“

پھر شمس العلماء مولانا ذکاء اللہ خان صاحب فرماتے ہیں: ”جب تک دہلی میں بخت خان نہیں آیا جہاد کے فتویٰ کا چرچہ شہر میں بہت کم تھا۔ یہ کام لچے شہدے مسلمانوں کا تھا کہ وہ ”جہاد جہاد“ پکارتے پھرتے تھے۔ مگر جب بخت خان، جس کا نام اہل شہر نے کم بخت خان رکھا ..... دہلی میں آیا تو اُس نے یہ فتویٰ لکھایا۔ اس نے جامعہ مسجد میں مولویوں کو جمع کر کے جہاد کے فتویٰ پر دستخط و مہریں ان کی کرالیں اور مفتی صدرالدین نے بھی ان کے جبر سے ..... اپنی جعلی مہر کر دی۔ لیکن مولوی محبوب علی و خواجہ ضیاء الدین نے فتویٰ پر مہریں نہیں دیں اور بے باکانہ کہہ دیا کہ شرائط جہاد موافق مذاہب اسلام موجود نہیں۔ جن مولویوں نے فتویٰ پر مہریں کی تھیں وہ کبھی پہاڑی پر انگریزوں سے لڑنے نہیں گئے ۔ مولوی نذیر حسین، جو وہابیوں کے مقتدا اور پیشوا تھے، ان کے گھر میں تو ایک میم چھپی بیٹھی تھی۔“

یہ ”تاریخ عروج عہد سلطنت انگلشیہ در ہند“ حصہ سوئم ٦٧٥ اور ٦٧٦ ۔ یہ مولانا خان بہادر شمس العلماء محمد ذکاء اللہ صاحب کی تحریر ہے۔ اس ..... پس ..... ہاں، ایک اور رہ گیا۔

شیخ عبدالقادر صاحب، بڑی معروف ہستی ہیں، شیخ عبدالقادر صاحب، بی۔اے بیرسٹر ایٹ لاء، سیکرٹری شرافت کمیٹی، سیالکوٹ، اپنے رسالہ ”ترکوں کے ارمنوں پر فرضی مظالم“ میں تسلیم کرتے ہیں کہ: ”١٨٥٧ء میں ہندوستان میں غدر مچا۔ اس غدر کو فرو کرنے کے لئے انگریزوں کی افواج کو مصر سے گزر کر ہندوستان پہنچنے کی اجازت۔ حضور خلیفۃ المسلمین سلطان المعظم نے ہی

٢٠

صفحہ ٩٤١

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

دی تھی۔ جنوبی افریقہ میں جنگ بوئرز ہوئی۔ ترکوں نے انگلستان کا ساتھ دیا۔ ہزار ہا ترکوں نے انگریزی جھنڈے کے نیچے لڑنے مرنے کے لئے اپنی خدمات پیش کردیں۔ مساجد میں انگریزوں کی فتح اور نصرت کے لئے دعائیں کی گئیں۔“

879 اس پس منظر میں اس تحریر پر اعتراض کوئی وزن نہیں رکھتا، جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا: ”١٨٥٧ء میں مسلمانوں کی حالت یہ ہوگئی تھی کہ بجز بدچلنی اور فسق و فجور اسلام کے رئیسوں کو اور کچھ یاد نہ تھا، جس کا اثر عوام پر بھی بہت پڑ گیا تھا۔ انہی ایام میں انہوں نے ایک ناجائز اور ناگوار طریقہ سے سرکار انگریزی سے باوجود نمک خوار اور رعیت ہونے کے مقابلہ کیا، حالانکہ ایسا مقابلہ اور ایسا جہاد ان کے لئے شرعاً جائز نہیں تھا۔“

جو میں نے پہلے حوالے پڑھے ہیں، اس کے مقابلہ میں یہ بہت ہی نرم حوالہ ہے، اور کوئی اس کے اوپر اعتراض نہیں (اپنے وفد کے ایک رکن سے) اور بھی ہیں؟

جناب یحییٰ بختیار: آپ کے پاس اور ہیں ابھی؟

مرزا ناصر احمد: جی، جی۔

جناب یحییٰ بختیار: میں بعد میں سوال کروں گا آپ سے۔

مرزا ناصر احمد: جی، جی۔

جناب یحییٰ بختیار: آپ صرف وہ پڑھ لیجئے۔

مرزا ناصر احمد: جی۔

ایک یہ ایک سوال تھا ”تبلیغ رسالت“ جلد نہم۔ وہ، وہ ”جہنمیوں“ کے متعلق۔ وہ صرف ایک ہی سوال ہے، ایک ہی عبارت کے متعلق۔ وہ دوبارہ آگیا تھا۔ پہلے میں اس کا جواب دے چکا ہوں، اس کی ضرورت نہیں ہے۔

ایک سوال ہے ”سیرت الابدال“ ایک کتاب ہے، اس کے صفحہ:١٥٣ پر......٩٣ پر......Hundred and ninty three (١٩٣) پر......اس صفحے پر کوئی عبارت کے متعلق ایک اعتراض ہے۔ تو اگر وہ عبارت......وہ نوٹ نہیں ہم کرسکے......وہ عبارت اگر پڑھ دی جائے، صفحہ:١٩٣ کی، تو زیادہ اچھا ہے۔ ورنہ میں اس کے بغیر جواب دے دیتا ہوں۔

880 جناب یحییٰ بختیار: یہ کونسی کتاب ہے؟

مرزا ناصر احمد: (سیرت الابدال ص١٩٣) پر کوئی عبارت ہے، جس کے متعلق سوال کیا گیا تھا۔

٢١

EMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

جہاد...... ملکی ہو خواہ مذہبی...... نہیں ہو سکتا......عہد و پیمان بلکہ عناد و فساد کہلاتا ہے۔ مفسدہ ١٨٥٧ء میں جو مسلما قرآن وحدیث سے وہ مفسد و باغی کردار تھے...... بد کردار بعض جو خواص و علماء کہلاتے تھے...... وہ بھی اصل علو نا فہم و بے سمجھ۔“ (رسالہ اشا

پھر نواب صدیق حسن خاں صاحب مرحو اپنی کتاب ”ہدایت السائل“ اور دوسری کے بلاد دارالسلام ہیں، نہ دارالحرب۔ برٹش گورنمنٹ ہمیشہ کے لئے معاہدہ دوستی ہوچکا ہے۔ لہٰذا ہندوستان اور اس معاہدہ کو توڑنا جائز نہیں ہے۔ جو غدر ١٨٥٧ء م کیا وہ فساد تھا، نہ جہاد۔“

پھر شمس العلماء مولانا ذکاء اللہ خان صاح بیان کرتے ہیں کہ جہاد کے فتویٰ کا چرچہ شہر میں بہت کم تھ ”جہاد جہاد“ پکارتے پھرتے تھے۔ مگر جب بخت خا رکھا...... دہلی میں آیا تو اُس نے یہ فتویٰ لکھایا۔ اس پ زبردستی فتوٰی پر دستخط و مہریں ان کی کرالیں اور مفتی صدر ا مہر کردی۔ لیکن مولوی محبوب علی و خواجہ ضیاء الدین نے صاف کہہ دیا کہ شرائط جہاد موافقت مذاہب اسلام موجود نہیں۔ ج پہاڑی پر انگریزوں سے لڑنے نہیں گئے۔ مولوی نذیرا کے گھر میں تو ایک میم چھپی بیٹھی تھی۔“

یہ ”تاریخ عروج عہد سلطنت انگلشیہ در ہ مؤلفہ شمس العلماء محمد ذکاء اللہ صاحب کی تحریر ہے۔ اس

شیخ عبدالقادر صاحب، بڑی معروف ہ بیرسٹر ایٹ لاء، سیکرٹری شرافت کمیٹی، سیالکوٹ، اپن تسلیم کرتے ہیں کہ: ”١٨٥٧ء میں ہندوستان میں غد کی افواج کو مصر سے گزر کر ہندوستان پہنچنے کی اجاز

٢٠

صفحہ ٩٤٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

جناب یحییٰ بختیار: آپ اگلے سوال کا جواب دے دیں۔

مرزا ناصر احمد: نہیں، میں اسی کا جواب دے دیتا ہوں۔ پھر اور کوئی ضرورت پڑے تو آپ سپلیمنٹری میں کردیں۔

اس کا جواب یہ ہے کہ ”سیرت الابدال“ جو کتاب ہے اس کے صرف سولہ صفحے ہیں تو ان سولہ صفحوں میں سے وہ کون سا ص١٩٣ تلاش کیا گیا ہے جس پر اعتراض کیا گیا ہے؟ کتاب کے سارے صفحے ہی سولہ ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، وہ کسی دوسرے Volume (جلد) کا ہوگا۔

[At this stage Mr. Chairman vacated the Chair which was occupied by Madam Deputy Speaker (Dr. Mrs. Ashraf Khatoon Abbasi)]

(اس موقع پر جناب چیئرمین نے کرسی صدارت چھوڑ دی جسے مسز اشرف خاتون عباسی نے سنبھال لیا)

مرزا ناصر احمد: کسی Volume (جلد) میں بھی...... ہم نے وہ چیک کیا۔ جو اکٹھے چھپی ہیں کئی کتابیں اکٹھی، اس Volume (جلد) میں بھی ١٤٨ پر ختم ہو جاتی ہے، ایک سو چوالیس کے اوپر یہ ختم ہوجاتی ہے یہ کتاب۔

جناب یحییٰ بختیار: یہ حوالہ ہے ہی نہیں؟

مرزا ناصر احمد: یہ صفحہ ہی کوئی نہیں۔ میں اب آتا ہوں، میں جواب دیتا ہوں اسے۔

١٩٣ صفحہ ہی موجود نہیں کسی ایڈیشن میں بھی۔ یعنی جہاں اکٹھی کتابیں چھپی ہیں، یہ ہے۔ اکٹھی جو چھپی ہیں۔ ہمارے ”روحانی خزائن“ کے نام سے، اس میں ١٢٩ سے یہ شروع ہوئی ہے کتاب، اور 881 یہ یہاں ختم ہوگئی ١٤٤ پر۔ یہ وہ میں نے...... یہ جلد ٢٠، اس میں بھی نہیں ہے۔ اچھا! رہے وہ ١٦ صفحے جو کتاب میں ہیں تو اس میں وہ حوالہ نہیں ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں ہے بالکل؟

٢٢

صفحہ ٩٤٣

943 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

مرزا ناصر احمد: نہیں ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: ٹھیک ہے، ہم دیکھ لیں گے۔

مرزا ناصر احمد: ہاں، وہ دیکھ لیں۔ (Pause)

ایک سوال تھا قاضی محمد اکمل صاحب کی ایک نظم کے ایک شعر پر......

جناب یحییٰ بختیار: یہ سوال ختم ہو گیا ہے۔

مرزا ناصر احمد: وہ پہلا جو ہے ”دافع البلاء“ والا، وہ ختم ہو گیا؟

جناب یحییٰ بختیار: کونسا؟ نہیں جی، یہ اس پر آپ نے کہا کہ ”نہیں، یہ بات کہی تھی کہ وہ ...... ان کو جماعت سے نکال دیتے۔“ پھر آپ کے سامنے پڑھ کر سنایا گیا، یہ تو ختم ہو گیا تھا، اس کے بعد تو کوئی سوال ہی نہیں تھا۔

مرزا ناصر احمد: ہاں، اس میں کچھ حوالے اور طے ہیں۔

(محمد پھر آئے ہیں ہم میں، معاذ اللہ)

جناب یحییٰ بختیار: اچھا، آپ اس کو آگے Elaborate (واضح) کرتے ہیں؟

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، ہاں نہیں، Elaborate (واضح)

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، کر لیجئے۔

مرزا ناصر احمد: Elaborate (واضح) یہ کر رہے ہیں کہ جس وقت ...... یہ ایک تو جو نظم ہے، اس میں یہ شعر بھی موجود ہے:

”غلام احمد مختار ہو کر یہ رتبہ تو نے پایا ہے جہاں میں“

882 نبی اکرم ﷺ کا غلام ہو کے، جو بھی آپ کا مقام ہے وہ ہے۔

اسی نظم میں وہ ہے یہ شعر:

”محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شان میں“

١ ؎ چونکہ پوری بحث میں مرزا ناصر نے عبارت نہیں پڑھی کہ یہ پوچھے جانے والی عبارت اس کتاب میں نہیں۔ تو ہمیں بھی کیسے معلوم ہو کہ کون سا حوالہ تھا جسے مرزا ناصر کتاب کے چکر میں چھپا رہے ہیں۔ حوالہ کی عبارت ہوتی تو ہم اس عبارت کو مرزا کی جس کتاب میں ہوتی نکال لاتے۔ مطلق حوالہ کا انکار نہیں کیا۔ اس کتاب کے صفحات میں وہ عبارت نہیں یہ کہہ کر گول کر گئے۔

٢٣

صفحہ ٩٤٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

”آگے سے بھی بڑھ کر“ کا مفہوم غلط فہمی پیدا کر سکتا ہے۔ انہوں نے ١٣ راگست ”الفضل“ میں یہ مضمون لکھا کہ: ”میرا ہرگز مطلب نہیں تھا جو میری طرف منسوب کیا جا رہا ہے۔ میں نے تو یہ کہا تھا کہ حدیث کی رو سے امت محمدیہ میں ہر صدی کے سر پر مجدد آتے ہیں اور ان مجددین کا اپنا کچھ نہیں ہوتا اور نبی اکرم ﷺ کا ہی نور جو ہے وہ ان کے وجودوں میں چمکتا ہے اور آپ ﷺ ہی کا ظہور ہے۔ تو میرا مطلب یہ کہنے کا تھا کہ جو اس سے قبل مجددین میں نبی اکرم ﷺ کا ظہور ہوا تھا، مسیح موعود میں اس سے زیادہ ظہور ہوا۔“

یہ اُنہوں نے اپنا بیان دیا۔ میں آگے ابھی ان کا ...... جواب ابھی نہیں ختم ہوا ......

انہوں نے پھر یہ لکھا ہے کہ: ”لیکن اس سے بعض لوگوں کو غلط فہمی پیدا ہوئی اور مجھے بڑی سخت تنبیہ ہوئی اور میں نے جب اپنا کلام کتاب کی شکل میں ١٩١١ء میں شائع کیا تو اس وقت لوگوں کی اس ...... جو میرے پیچھے پڑے ہوئے تھے کہ تم نے کیا حرکت کی ہے ......“

یہ ہے ان کا دیوان ١٩١١ء کا، پہلی دفعہ یعنی پانچ سال کے بعد چھپا ہے: ”...... اس میں یہ شعر میں نے لوگوں کے، جو میرے پیچھے پڑے ہوئے تھے، اس کی وجہ سے نکال دیا۔ میں ان کو کہتا رہا، میں قسمیں کھاتا رہا، (اسی میں ملحق ہے) کہ یہ میرا مطلب نہیں ہے۔ خدا کی قسمیں کھا کے کہتا ہوں کہ میرا مطلب یہ ہے کہ 883 پہلے مجددین کے مقابلہ میں زیادہ بلند شان والا ظہور ہوا ہے۔ تم میری قسمیں ...... میں اوروں کو تو چھوڑتا ہوں، خود جماعت کے لوگ میری قسموں پر اعتبار نہیں کر رہے اور میں قسمیں کھا کھا کے تھک گیا ہوں۔“

اس کا تو جو شخص شاعر ہے، کہتا ہے کہ ”میرا یہ مطلب ہے۔“ اس مطلب پر اعتراض نہیں ہوتا، کیونکہ وہ یہ کہتا ہے کہ پچھلے مجددین کی نسبت نبی اکرم ﷺ کا اس صدی میں ظہور زیادہ شان والا ہے۔ مقابلہ مجددین سے ہے، آنحضرت ﷺ سے نہیں۔ دوسرے یہ وہ کہتا ہے کہ مانتا ہے کہ بعض لوگوں کو یہ خیال پیدا ہوا کہ اس سے ...... وہی جو اس وقت سوال ہوا ہے ...... یہ غلط فہمی پیدا ہو جائے گی، اور ”انہوں نے مجھے شروع سے ہی تنگ کرنا شروع کر دیا، اور ١٩١١ء میں میں نے اپنی نظم سے یہ نکال دیا، اور ١٩٠٦ء کے بعد کسی رسالے یا کسی اخبار یا کسی کتاب میں اپنے اس شعر کو میں نے شائع نہیں کروایا۔“ اور پھر ٣٨ سال کے بعد ...... سمجھے ناں ...... ١٩٤٤ء میں ١٣ راگست کے اخبار میں لکھتے ہیں کہ: ”میں قسمیں کھا کھا کے تھک گیا ہوں اور تو نہیں، جماعت والے بھی میرے پر اعتبار نہیں کرتے۔ میرا یہ مطلب نہیں۔“

٢٤

صفحہ ٩٤٥

945 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

تو یہ نئے حوالے جو آئے تھے، یہ اس میں Add (اضافہ) ہوجاتے ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: اس پر ایک دوسوال ہیں آپ سے......

مرزا ناصر احمد: جی۔

جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! ایک اصول یہ ہوتا ہے کہ جو کچھ آپ یہاں کہتے ہیں، یا جو میں کہتا ہوں، یا جو اسمبلی کہتی ہے، جو قانون یہ پاس کرتی ہے، پھر ان کو یہ اختیار نہیں ہوتا...... بعد میں...... کہ ”میرا مطلب کیا تھا ۔“ یہ پھر عدالت کا یا پھر کوئی اور ہی ادارہ ہوتا ہے۔ اکمل صاحب کے الفاظ جو انہوں نے کہے ہیں، وہ خواہ لاکھ کہیں کہ ”میرا مطلب یہ نہیں تھا، وہ نہیں تھا“ وہ جو ہے، وہ پھر پبلک جج کرتی ہے کہ مطلب کیا تھا۔ ایک اصولاً میں کہہ رہا ہوں کہ Interpretation (صراحت) کا جو Right (حق) ہوتا ہے، وہ Author 884 (مصنف) کو نہیں ہوتا۔

Mirza Nasir Ahmad: That is a legal question....

(مرزا ناصر احمد: وہ ایک قانونی سوال ہے)

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، میں وہی بتا رہا ہوں۔

مرزا ناصر احمد: ...... ادب میں، شعروں میں نہیں۔ میری بات سن لیں پوری۔ شعر میں یہ نہیں چلتا۔ شعر میں ہمارا محاورہ ہے: ”صاحب البیت ادری بما فیہ“ جو کہنے والا ہے وہی مطلب بتائے گا۔

جناب یحییٰ بختیار: وہ ٹھیک ہے۔ میں دوسری بات یہ کر رہا تھا کہ جب سوال آپ کے سامنے آیا تھا، اس وقت یہ تھا کہ ”قصیدہ مرزا غلام احمد صاحب کی موجودگی میں پڑھا گیا؟“ آپ نے کہا: ”نہیں“

مرزا ناصر احمد: میں، میں اب بھی کہتا ہوں: ”نہیں“

جناب یحییٰ بختیار: پھر اس کے بعد سوال یہ آیا کہ ”ان کی موجودگی میں یہ ’البدر‘ میں چھپا؟“......

مرزا ناصر احمد: ہم نے کہا: ”ہاں“

جناب یحییٰ بختیار: آپ نے...... سبھی نے کہا: ایک نے نہیں کہا۔

مرزا ناصر احمد: اب میں کہتا ہوں ”ہاں“

٢٥

MBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

”آگے سے بھی بڑھ کر“ کا مفہوم غلط

”الفضل“ میں یہ مضمون لکھا کہ: ”میرا ہرگز مطلب نہی میں نے تو یہ کہا تھا کہ حدیث کی رو سے امت محمدیہ ک مجددین کا اپنا کچھ نہیں ہوتا اور نبی اکرم ﷺ کا ہی نو آپ ﷺ ہی کا ظہور ہے۔ تو میرا مطلب یہ کہنے کا تھ کا ظہور ہوا تھا، مسیح موعود میں اس سے زیادہ ظہور ہوا ہ یہ انہوں نے اپنا بیان دیا۔ میں آگے انہوں نے پھر یہ لکھا ہے کہ: ”لیکن اس سے بعض لوگو ہوئی اور میں نے جب اپنا کلام کتاب کی شکل میں ......جو میرے پیچھے پڑے ہوئے تھے کہ تم نے کیا حر یہ ہے ان کا دیوان ١٩١١ء کا، پہلی دفعہ چھپ یہ شعر میں نے لوگوں کے، جو میرے پیچھے پڑے ہو کہتا رہا، میں قسمیں کھاتا رہا، (اسی میں ملحق ہے) ک کھا کے کہتا ہوں کہ میرا مطلب یہ ہے کہ 883 پہلے مجددو ہے۔ تم میری قسمیں...... میں اوروں کو تو چھوڑتا ہو نہیں کر رہے اور میں قسمیں کھا کھا کے تھک گیا ہوں اس کا تو جو شخص شاعر ہے، کہتا ہے کہ ”م نہیں ہوتا، کیونکہ وہ یہ کہتا ہے کہ پچھلے مجددین کی نسب شان والا ہے۔ مقابلہ مجددین سے ہے، آنحضر ہے کہ بعض لوگوں کو یہ خیال پیدا ہوا کہ اس سے...... پیدا ہو جائے گی، اور ”انہوں نے مجھے شروع سے ق اپنی نظم سے یہ نکال دیا، اور ١٩٠٦ء کے بعد کسی رسا کو میں نے شائع نہیں کروایا۔“ اور پھر ٣٨ سال کے کے اخبار میں لکھتے ہیں کہ: ”میں قسمیں کھا کھا کے میرے پر اعتبار نہیں کرتے۔ میرا یہ مطلب نہیں۔“ ت ٤٢

صفحہ ٩٤٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

جناب یحییٰ بختیار: اب کہتے ہیں!

مرزا ناصر احمد: ١٩٠٦ء میں چھپا، لیکن......

جناب یحییٰ بختیار: میں نے...... آپ نے کہا کہ: 885 ”اگر اُن کو معلوم ہوتا اور ان کے سامنے ہوتا تو اس کو جماعت سے باہر نکال دیتے“......

مرزا ناصر احمد: بالکل۔

جناب یحییٰ بختیار: چونکہ اگر...... میرا سوال پورا ہونے دیں۔

مرزا ناصر احمد: ہاں، ٹھیک ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: آپ کا بھی یہ Impression (تاثر) تھا کہ بڑی غلط بات کی ہے، آپ کے خیال کے مطابق، مرزا صاحب کا بھی یہ Impression (تاثر) تھا کہ بڑی غلط بات ہے، ان کو جماعت سے نکال دیتے۔ پھر اس نے خود کہا کہ ”نہیں جی، انہوں نے تو ”جزاک اللہ“ کہا“ اور یہ ثابت ہوا۔ ان کی موجودگی میں چھپا۔ اتنا ہی سوال تھا کہ وہ بڑے خوش ہو گئے اس قصیدے کو سن کے، کہ جس میں ان کو کہا کہ ان کی شان محمد ﷺ سے بھی زیادہ ہے۔ یہ ہم بتانا چاہتے ہیں۔

مرزا ناصر احمد: جی، بات یہ ہے، یہ باتیں جو آپ کر رہے ہیں ناں اب، یہ ”البدر“ میں بالکل نہیں چھپیں۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں نہیں کہتا کہ یہ ”البدر“ میں چھپیں۔ میں نے اتنا ہی کہا کہ ”البدر“ میں یہ چھپا جب مرزا صاحب زندہ تھے، حیات تھے اور انہوں نے کوئی اس پر ایکشن نہیں لیا، کوئی ہمارے پاس ریکارڈ نہیں کہ انہوں نے اس کو Disapprove (ناپسند) کیا ہو۔ اس کے دوسری طرف ہمارے پاس یہ ریکارڈ پر موجود ہے۔ اکمل صاحب کا قول ہے...... کہ انہوں نے اس کو سراہا ”جزاک اللہ“ کہا اور خوش ہوئے۔

مرزا ناصر احمد: اور نتیجتاً ١٩١١ء میں اپنی نظم میں سے نکال دیا!

جناب یحییٰ بختیار: وہ ٹھیک ہے۔ مرزا صاحب کی حیات کے بعد انہوں نے کر دیا، پبلک کو بڑا غصہ آیا اس پر۔ مگر یہ Fact (حقیقت) ہے کہ مرزا صاحب نے اس کو Approve (پسند) کیا اور خوش ہوئے۔

مرزا ناصر احمد: ہماری، ہماری تاریخ میں، ہماری تاریخ نے یہ ریکارڈ ہی نہیں کیا کہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے اس نظم کو پڑھا۔

٢٦

صفحہ ٩٤٧

SSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

جناب یحییٰ بختیار: اب کہتے ہیں!

مرزا ناصر احمد: ١٩٠٦ء میں چھپا، لیکن......

جناب یحییٰ بختیار: میں نے...... آپ نے سامنے ہوتا تو اس کو جماعت سے باہر نکال دیتے“......

مرزا ناصر احمد: بالکل۔

جناب یحییٰ بختیار: چونکہ اگر...... میرا سوال

مرزا ناصر احمد: ہاں، ٹھیک ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: آپ کا بھی یہ sion بات کی ہے، آپ کے خیال کے مطابق، مرزا صاحب کا بھی بڑی غلط بات ہے، ان کو جماعت سے نکال دیتے۔ پھر اس ”جزاک اللہ“ کہا اور یہ ثابت ہوا۔ ان کی موجودگی میں ہو گئے اس قصیدے کو سن کے، کہ جس میں ان کو کہا کہ ان کی بتانا چاہتے ہیں۔

مرزا ناصر احمد: جی، بات یہ ہے، یہ باتیں جو میں بالکل نہیں چھپیں۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں نہیں کہتا کہ یہ کہ ”البدر“ میں یہ چھپا جب مرزا صاحب زندہ تھے، حیات نہیں لیا، کوئی ہمارے پاس ریکارڈ نہیں کہ انہوں نے اس کو اس کے دوسری طرف ہمارے پاس یہ ریکارڈ پر موجود ہے نے اس کو سراہا ”جزاک اللہ“ کہا اور خوش ہوئے۔

مرزا ناصر احمد: اور نتیجتاً ١٩١١ء میں اپنی نظم میں

جناب یحییٰ بختیار: وہ ٹھیک ہے۔ مرزا صاحب پبلک کو بڑا غصہ آیا اس پر۔ مگر یہ Fact (حقیقت) ہے کہ (پسند) کیا اور خوش ہوئے۔

مرزا ناصر احمد: ہماری، ہماری تاریخ میں، جو حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے اس نظم کو پڑھا۔

٢٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

886 جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں یہ نہیں کہہ رہا۔

مرزا ناصر احمد: یہ جو ہے ناں جی......

جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! ابھی میں اور کچھ نہیں پوچھنا چاہتا۔ ”الفضل“ آپ کا اخبار ہے۔ اس میں اکمل یہ کہتا ہے کہ ان کی موجودگی میں پڑھا اور انہوں نے اس کو پسند کیا۔ That is enough from my point of view. (میرے نقطہ نظر سے یہ کافی ہے) اگر ”الفضل“ میرا اخبار ہے یا جماعت اسلامی کا اخبار ہے، تب تو میں کہہ سکتا کہ ٹھیک ہے، غلط بات ہے۔

مرزا ناصر احمد: تو آپ کے اپنے اصول کے مطابق، جو آپ نے ابھی کہا ”الفضل“ میرا اخبار نہیں، ”الفضل“ خلیفہ...... جماعت احمدیہ کے کسی خلیفہ کا اخبار نہیں۔

(الفضل جماعت احمدیہ کا اخبار ہے؟)

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، ”آپ“ سے مطلب ”جماعت احمدیہ کا اخبار“ ہے ان کا۔

مرزا ناصر احمد: جماعت احمدیہ کا بھی اخبار نہیں، جماعت احمدیہ کی ایک تنظیم کا اخبار ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، ان کی آواز ہے یہ......

مرزا ناصر احمد: جی......

جناب یحییٰ بختیار: ان کی رائے دیتا ہے، ان کی طرف سے......

مرزا ناصر احمد: ان کی آواز بالکل نہیں ہے، یہ تو بالکل، بالکل نہیں ہے، جماعت کی آواز نہیں ہے ”الفضل“

جناب یحییٰ بختیار: یہ بڑا اچھا ہے! آپ اگر یہ کہہ دیں تو بڑی اچھی بات ہے! ہم تو سارے جھگڑے ”الفضل“ سے کر رہے ہیں یہاں۔

مرزا ناصر احمد: بالکل نہیں جماعت کا۔

جناب یحییٰ بختیار: ٹھیک ہے۔

887 مرزا ناصر احمد: یہ تو پھر سارے جھگڑے ختم ہو گئے ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: کس جماعت کا ہے یہ؟

١؎ الفضل اخبار قادیانی جماعت کا اخبار نہیں اتنا بڑا سچ قادیانی جماعت کو خلیفہ قادیانی مرزا ناصر کی طرف سے مبارک ہو؟

٢٧

صفحہ ٩٤٩

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

مرزا ناصر احمد: ہیں؟ جناب یحییٰ بختیار: کس جماعت کا ہے یہ؟ مرزا ناصر احمد: کسی جماعت کا نہیں۔ جناب یحییٰ بختیار: دیکھیں، مرزا صاحب...... مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں!...... جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں آپ کو ایک بات بتاتا ہوں۔ مرزا ناصر احمد: ہاں۔ جناب یحییٰ بختیار: ”ڈان“ اخبار تھا، ١٩٤١ء میں شروع ہوا دہلی میں، ساری دنیا کہتی تھی کہ مسلم لیگ کی آواز ہے۔ وہ کبھی آفیشل آرگن تو نہیں تھا کوئی مسلم لیگ کا۔ آج ”مساوات“ ہے۔ سب کہتے ہیں جی کہ پیپلز پارٹی کا ہے۔ پیپلز پارٹی کا آفیشل اخبار تو نہیں ہے۔ مرزا ناصر احمد: اور سارے کہتے ہیں کہ ”ٹرسٹ“ کے اخبار آج کی گورنمنٹ کے ہیں...... جناب یحییٰ بختیار: ہاں۔ مرزا ناصر احمد: اور ان پر اعتراض کرتے ہیں۔ آپ کے نزدیک حکومت پر وہ اعتراض درست ہے؟ جناب یحییٰ بختیار: میں، میں یہ پوچھ رہا ہوں کہ Officially (سرکاری ترجمان) جو ہے ناں ”ٹرسٹ“ اور بات ہے۔۔۔ ”مساوات“ اخبار کہتے ہیں کہ ٹھیک ہے، پیپلز پارٹی کا ہے۔ ”جسارت“ کہتے ہیں کہ جماعت اسلامی کا ہے، حالانکہ جماعت اسلامی کا کوئی نہیں ہے، ان سے ہمدردی رکھنے والوں کا ہوگا، ان کی آواز بلند کرتا ہوگا۔ 888 ”الفضل“ جو ہے، اس کو آپ، فنانس آپ کرتے ہیں، آپ کی جماعت کرتی ہے۔ اس کو نکالتے ہی آپ ہیں۔ آپ کی رائے اور آپ کے خطبے سب اس میں آتے ہیں، سب اس میں آئے ہیں، اور آپ کہتے ہیں کہ ”نہیں ہے، آپ کا اخبار بالکل نہیں“ تو بالکل ٹھیک بات ہے! مرزا ناصر احمد: میرا نہیں ہے۔١؎ جناب یحییٰ بختیار: خلیفہ کا ذاتی میں نہیں کہہ رہا۔ مرزا ناصر احمد: نہ جماعت احمدیہ کا ہے٢؎ ۔

١؎ دنیا والو! دیکھو قادیانی سربراہ کیسے کیسے جھوٹ بول رہا ہے؟ ٢؎ جھوٹ پے جھوٹ، نبی جھوٹا، خلیفہ جھوٹا، خود جھوٹا، باپ جھوٹا، دادا جھوٹا، پہلے تین تھیں، اب چوتھی نسل جھوٹ پر چل نہیں رہی، جھوٹ پر پل بھی رہی ہے۔ ٢٨

NATIONAL A

پ کی جماعت کی آواز۔ واز کے کچھ کو اس کا نقل کر دینا...... وہ

ہی نقل کر رہا ہے وہ۔ نقل کرتا ہے۔

میری طرف منسوب نہیں ہوسکتا۔ وہ، موڑ توڑ تو اخبار کرتا ہے۔ ب صاحب کر جاتے ہیں کہ آپ حیران

ر بات ہوتی ہے، موڑ توڑ کرنا اور بات

ہاتا ہے اس کے بعد۔ ہے؟ (Pause) صاحب کا یہ کہنا کہ حضرت مسیح موعود ٢ سال کے بعد، ہماری تاریخ میں یہ وں۔

ا۔ نے جھوٹ رپورٹ کیا، بس ٹھیک ہے۔ ٹ کہا، جھوٹ اس معنی میں کہ ہماری ں کے بعد ایک شخص ایک چیز ٣٨ سال لو، جو آخری نہیں، اور لکھ رہا ہے کہ یہ پنے ہی شعر یاد نہیں، ان کے، جو انہوں ئی؟

صفحہ ٩٤٩

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

مرزا ناصر احمد: ہیں؟

جناب یحییٰ بختیار: کس جماعت کا ہے یہ؟

مرزا ناصر احمد: کسی جماعت کا نہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: دیکھیں، مرزا صاحب......

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں!......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں آپ کو ایک بات بتاتا ہوں

مرزا ناصر احمد: ہاں۔

جناب یحییٰ بختیار: ”ڈان“ اخبار تھا، ١٩٤١ء میں شروع کہتی تھی کہ مسلم لیگ کی آواز ہے۔ وہ بھی آفیشل آرگن تو نہیں تھا ”مساوات“ ہے۔ سب کہتے ہیں جی کہ پیپلز پارٹی کا ہے۔ پیپلز پارٹی کا آ

مرزا ناصر احمد: اور سارے کہتے ہیں کہ ”ٹرسٹ“ کے اخبار آج ا

جناب یحییٰ بختیار: ہاں۔

مرزا ناصر احمد: اور ان پر اعتراض کرتے ہیں۔ آپ م اعتراض درست ہے؟

جناب یحییٰ بختیار: میں، میں یہ پوچھ رہا ہوں کہ م ترجمان) جو ہے ناں ”ٹرسٹ“ اور بات ہے۔۔۔ ”مساوات“ اخبار پیپلز پارٹی کا ہے۔ ”جسارت“ کہتے ہیں کہ جماعت اسلامی کا ہے، حالا نہیں ہے، ان سے ہمدردی رکھنے والوں کا ہوگا، ان کی آواز بلند کرتا ہوگا

888

”الفضل“ جو ہے، اس کو آپ، فنانس آپ کرتے ہیں، آپ اس کو نکالتے ہی آپ ہیں۔ آپ کی رائے اور آپ کے خطبے سب اس میں آئے ہیں، اور آپ کہتے ہیں کہ ”نہیں ہے، آپ کا اخبار بالکل نہیں“ تو با

مرزا ناصر احمد: میرا نہیں ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: خلیفہ کا ذاتی میں نہیں کہہ رہا۔

مرزا ناصر احمد: نہ جماعت احمدیہ کا ہے۔

1؎ دنیا والو! دیکھو قادیانی سربراہ کیسے کیسے جھوٹ بول رہا ہے

2؎ جھوٹ پے جھوٹ، نبی جھوٹا، خلیفہ جھوٹا، خود جھوٹا، باپ تھیں، اب چوتھی نسل جھوٹ پر چل نہیں رہی، جھوٹ پر پل بھی رہی ہے

٢٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

جناب یحییٰ بختیار: آپ کی آواز ہے، وہ آپ کی جماعت کی آواز۔

مرزا ناصر احمد: نہ میری آواز ہے، میری آواز کے کچھ کو اس کا نقل کر دینا...... وہ اخبار میری آواز نہیں بنتا۔

جناب یحییٰ بختیار: ٹھیک ہے، آپ کے حصے ہی نقل کر رہا ہے وہ۔

مرزا ناصر احمد: میری آواز کے کچھ حصوں کو وہ نقل کرتا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں۔

مرزا ناصر احمد: اور سارا کچھ جو وہ کہتا ہے، وہ میری طرف منسوب نہیں ہوسکتا۔

جناب یحییٰ بختیار: موڑ توڑ کر تو نہیں نقل کرتا وہ، موڑ توڑ تو اخبار کرتا ہے۔

مرزا ناصر احمد: نہیں نہیں، اتنی غلطیاں کاتب صاحب کر جاتے ہیں کہ آپ حیران ہو جائیں، اگر آپ کو دکھاؤں۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں نہیں، کاتب کی اور بات ہوتی ہے، موڑ توڑ کرنا اور بات ہوتی ہے۔

مرزا ناصر احمد: وہ موڑ توڑ معنوی موڑ توڑ بن جاتا ہے اس کے بعد۔

جناب یحییٰ بختیار: اچھا جی اب اور کوئی حوالہ ہے؟

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، سب حوالے ہیں۔ (Pause)

889

یہ میں نے یہاں ریکارڈ کروایا کہ قاضی اکمل صاحب کا یہ کہنا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس کو سنا اور ”جزاک اللہ“ کہا، ٣٨ سال کے بعد، ہماری تاریخ میں یہ واقعہ کہیں ریکارڈ نہیں۔ اس طرح میں اس کو بالکل غلط سمجھتا ہوں۔

جناب یحییٰ بختیار: جھوٹ کہا انہوں نے؟

مرزا ناصر احمد: جھوٹ کہا، جو آپ مرضی کہہ لیں۔

جناب یحییٰ بختیار: اکمل نے جھوٹ کہا، ”الفضل“ نے جھوٹ رپورٹ کیا، بس ٹھیک ہے۔

مرزا ناصر احمد: قاضی اکمل صاحب نے جھوٹ کہا، جھوٹ اس معنی میں کہ ہماری تاریخ نے اس واقعہ کو ریکارڈ ہی نہیں کیا کہیں بھی اور ٣٨ سال کے بعد ایک شخص ایک چیز ٣٨ سال پہلے کی کہہ رہا ہے، اور حافظے کا یہ حال ہے کہ اپنے اس شعر کو، جو آخری نہیں، اور لکھ رہا ہے کہ یہ آخری شعر ہے میرا۔ اپنی عمر کے اس حصے میں پہنچ کر جب اپنے ہی شعر یاد نہیں، ان کے، جو انہوں نے کسی اور کے متعلق بات کی ہو، وہ کیسے قابل قبول ہو جائے گی؟

٢٩

صفحہ ٩٥٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

جناب یحییٰ بختیار: بس جی، ٹھیک ہے۔ مرزا صاحب! ایک شعر ایک آدمی کو یاد نہیں رہتا۔ اتنا بڑا واقعہ کہ مرزا صاحب وہاں موجود ہوں، وہ ان کی تعریف کرے، کوئی احمدی بھولتا نہیں۔

مرزا ناصر احمد: کسی احمدی نے کسی جگہ کسی تحریر میں، کسی لیکچر میں، کسی کتاب میں، کسی مضمون میں اس واقعہ کی طرف کبھی اشارہ نہیں کیا، میں تو یہ کہہ رہا ہوں۔ (Pause) اور یہ اس کے برعکس یہ روایت ہے ہماری ریکارڈ کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے سامنے اپنے شعر تو سناتا رہتا تھا اور آپ کہتے تھے کہ ”میں اپنے کام میں مشغول تھا، سوچ میں لگا ہوا تھا، میں نے کوئی نہیں سنا۔“ یہ روایت ریکارڈ ہے اور وہ روایت کہ ”سنا اور یہ کیا“ یہ ٣٨ سال تک کسی شخص نے اس کی طرف اشارہ ہی نہیں کیا۔ اس کو میں کیسے own کرلوں؟

(البدر آپ کا اخبار تھا؟)

890 جناب یحییٰ بختیار: ”البدر“ آپ کا اخبار تھا، جماعت کا، کہ نہیں تھا وہ بھی؟

مرزا ناصر احمد: نہیں، وہ بھی نہیں تھا، وہ بھی نہیں تھا۔ یہ، یہ بھی میں یہ ”الحکم“ ٧؍فروری ١٩٣٤ء میں، جب کہ یہ کوئی جھگڑا قاضی اکمل صاحب وغیرہ کے شعر کا نہیں تھا، یہ ایک یہ، یہ چھپا ہے، حضور کے انہماک کے متعلق روایت: ”حافظ معین الدین صاحب کی یہ شعر خوانی کا سلسلہ جاری تھا۔۔۔۔۔۔۔۔“

ایک منشی ظفر احمد صاحب، بڑے بزرگ ہمارے، صحابی ہیں، ان کی یہ روایت ہے: ”منشی ظفر احمد صاحب بلوائے ہوئے قادیان میں موجود تھے اور حضرت صاحب کے قریب ہی رہتے تھے۔ چند روز تک تو یہ سلسلہ رہا۔ ایک دن منشی جی نے عرض کیا کہ ”حضور کیا سنتے رہتے ہیں، حافظ صاحب سونے ہی نہیں دیتے، (حافظ صاحب شعر سنایا کرتے تھے) نہ یہ کوئی خوش آواز ہیں، سب کو تکلیف ہوتی ہے۔ آپ کس طرح سنتے رہتے ہیں“ (یہ مفہوم منشی صاحب کے کلام کا تھا) آپ نے ہنس کر فرمایا: ”مجھے تو کچھ معلوم نہیں کہ یہ کیا سناتے ہیں اور نہ میں اس خیال سے سنتا ہوں کہ یہ کوئی خوش آواز ہیں۔ بلکہ اصل بات یہ ہے کہ میرے دماغ میں اسلام کی حالت اور عیسائیوں کے حملوں کو دیکھ کر جوش اٹھتا ہے، اور بعض وقت مجھے خطرہ ہوتا ہے کہ دماغ پھٹ جائے گا اس جوش میں ۔۔۔۔۔۔ کیونکہ حافظ صاحب بڑے اخلاص سے کڑھانے کے لئے آجاتے ہیں، میں نے دینی توجہ کو دوسری طرف بدلنے کے لئے ان کو کہہ دیا کہ کوئی شعر یاد ہو تو سناؤ، اب یہ بے چارہ نہایت اخلاص

٣٠

PDF 376

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

سے سناتا ہے، اور میں ہر چند کوشش کرتا ہوں کہ میرا خیال ادھر متوجہ ہو اور ہجوم افکار جو دماغ میں موجودہ حالت کو دیکھ دیکھ کر ہوتا ہے، تھوڑی دیر کے لئے کم ہو جائے، مگر وہ کم ہونے میں نہیں آتا، اور مجھے پتہ بھی نہیں لگتا کہ کیا کہتے ہیں۔ اگر آپ کو ناپسند ہو تو ان کو منع کر دیا جائے۔“

891 جس شخص کی یہ حالت تھی کہ اسلام کے غم اور فکر میں ہر وقت اپنی توجہ کو اس خاص مضمون کی طرف مرکوز رکھتا تھا، Concentrate his mind was concentrated on that one subject. (صرف ایک ہی موضوع پر توجہ مرکوز رکھتے) اس کے سامنے شعر سنانے والے شعر سناتے تھے، بچے اپنی کہانیاں سناتے تھے، وہ ان کی طرف مشغول ہوتا ہے؟ اس کی طرف ایک ایسی بات منسوب کرنا، جو ٣٨ سال کے بعد منسوب کی گئی ہو، جس کا ذکر ٣٨ سال تک کسی ایک حوالے میں موجود نہ ہو، میرے نزدیک بڑا ظلم ہے۔ باقی جو دنیا مرضی کہے اور ”جزاک اللہ“ کے بعد گیارہ کو نکال دیا۔

اچھا، یہ ایک ......

(”الفضل“ آپ کی جماعت کے کس شعبے کا ہے؟)

جناب یحییٰ بختیار: ”الفضل“ جو ہے، جس شعبے کا ہے، آپ کی جماعت میں اس کا نام کیا ہے؟ ریکارڈ پر آ جائے۔

مرزا ناصر احمد: جی؟

جناب یحییٰ بختیار: آپ نے کہا یہ آپ کی جماعت کے کسی شعبے کے نیچے ہے۔ وہ شعبہ کونسا ہے؟

مرزا ناصر احمد: اس کی جنرل نگرانی یہ صدر انجمن احمدیہ کرتی ہے۔ لیکن جس طرح یہ Independent (خودمختار) ہوتے ہیں ناں آپ کے لوکل اتھارٹی، وغیرہ، وغیرہ، اس طرح یہ Independent (خودمختار) ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: نگرانی صدر انجمن احمدیہ؟

مرزا ناصر احمد: عام، عام نگرانی، اور جو اس کے منیجر اور ایڈیٹر ہیں وہ بالکل آزاد ہیں۔

یہ صدر انجمن احمدیہ اس کی نگرانی کرتی ہے، مگر وہ جماعت کا اخبار نہیں، خوب استدلال ہے۔ گویا جماعت احمدیہ اس اخبار کی نگرانی کرتی ہے جو اس کا اپنا اخبار ہی نہیں۔

٣١

BLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

جناب یحییٰ بختیار: بس جی، ٹھیک ہے۔

رہتا۔ اتنا بڑا واقعہ کہ مرزا صاحب وہاں موجود ہوں

مرزا ناصر احمد: کسی احمدی نے کسی کسی مضمون میں اس واقعہ کی طرف کبھی اشارہ نہیں اور یہ اس کے برعکس یہ روایت ہے والسلام کے سامنے اپنے شعر شور سناتا رہتا تھا اور ا سوچ میں لگا ہوا تھا، میں نے کوئی نہیں سنا۔“ یہ روا ٣٨ سال تک کسی شخص نے اس کی طرف اشارہ ہی

(البدر آپ ک

890 جناب یحییٰ بختیار: ”البدر“ آ

مرزا ناصر احمد: نہیں، وہ بھی نہیں ٧؍ فروری ١٩٢٣ء میں، جب کہ یہ کوئی جھگڑا قاد یہ، یہ چھپا ہے، حضور کے انہماک کے متعلق روای سلسلہ جاری تھا ........“

ایک منشی ظفر احمد صاحب، بڑے بز ”منشی ظفر احمد صاحب بلوائے ہوئے قادیان م رہتے تھے۔ چند روز تک تو یہ سلسلہ رہا۔ ایک دن حافظ صاحب سونے ہی نہیں دیتے، (حافظ صاح سب کو تکلیف ہوتی ہے۔ آپ کس طرح سنتے ہ آپ نے ہنس کر فرمایا: ”مجھے تو کچھ معلوم نہیں کہ کہ یہ کوئی خوش آواز ہیں۔ بلکہ اصل بات یہ ہے ک کے حملوں کو دیکھ کر جوش اٹھتا ہے، اور بعض وقت میں...... کیونکہ حافظ صاحب بڑے اخلاص سے ک کو دوسری طرف بدلنے کے لئے ان کو کہہ دیا کہ کوئی

٢٠

صفحہ ٩٥٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

جناب یحییٰ بختیار: یعنی ان کو Financially (مالی طور پر) کون Support (مدد) کرتا ہے؟

مرزا ناصر احمد: اپنے پاؤں پہ کھڑا ہے، قریباً۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، یعنی شروع کوئی بھی تو اس کا ہوگا ناں۔

892 مرزا ناصر احمد: ہیں جی؟

جناب یحییٰ بختیار: کوئی بھی Financially Support (مالی مدد) کرنے والے ہیں؟ کمپنی ہے؟

مرزا ناصر احمد: نہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: فرم ہے؟

مرزا ناصر احمد: وہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: وہ پاؤں پر تو کھڑا ہو گیا تھا جی......

مرزا ناصر احمد: ہاں۔

جناب یحییٰ بختیار: وہ کون مگر Invest (لگایا) کس نے کیا ہے پیسہ؟

مرزا ناصر احمد: ہیں جی؟

جناب یحییٰ بختیار: پیسہ کس نے Invest (لگایا) کیا؟

مرزا ناصر احمد: وہ جتنا اس کی آمدن ہے اتنا ہی اس کا خرچ ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، کون ہے......

مرزا ناصر احمد: نہیں؟

جناب یحییٰ بختیار: کون، کس نے Invest (لگایا) کیا؟

Mirza Nasir Ahmad: Those who contribute and purchase the paper.

١؎ اب تک یہ تو رونا تھا کہ الفضل خسارے میں چل رہا ہے، ہر قادیانی کو اس کا پتہ ہے کہ اسی نام سے چندے مانگے جاتے ہیں، آج یہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہو گیا۔ سچ ہے کہ ایک جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کے لئے کئی جھوٹ بولنے پڑتے ہیں۔

٣٢

صفحہ ٣٤

953 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

(مرزا ناصر احمد: جو لوگ اخبار خریدتے ہیں وہی سرمایہ مہیا کرتے ہیں)

Mr. Yahya Bakhtiar: Who are those people?

(جناب یحییٰ بختیار: اٹارنی جنرل: وہ کون لوگ ہیں؟)

Mirza Nasir Ahmad: Those who purchase the paper.

(مرزا ناصر احمد: جو لوگ اخبار خریدتے ہیں)

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، کون ہیں؟

مرزا ناصر احمد: احمدی بھی ہیں اور دوسرے بھی ہیں۔

893 Mr. Yahya Bakhtiar: Mirza Sahib, you don't answer my question.. نہیں۔

(جناب یحییٰ بختیار: آپ میرے سوال کا جواب نہیں دے رہے)

مرزا ناصر احمد: نہیں نہیں، میں سمجھا نہیں آپ کی بات۔

جناب یحییٰ بختیار: میرا سوال یہ ہے کہ کوئی کمپنی ہے، کوئی اخبار ہے ”پاکستان ٹائمز“ ہے۔......

مرزا ناصر احمد: کوئی کمپنی نہیں ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: کاروبار کمپنی کے بغیر چل نہیں سکتا، جی، کوئی اس کا مالک ہوگا۔ جب ڈیکلریشن فائل کریں گے۔ کس نے ڈیکلریشن فائل کیا اس کا؟

مرزا ناصر احمد: اپنے وفد کے ایک رکن سے کیوں جی؟

جناب یحییٰ بختیار: اس کے ڈائریکٹرز کون ہیں؟ اس کا مینجنگ بورڈ کون ہے؟

مرزا ناصر احمد: جی! (اپنے وفد کے ایک رکن سے) نہیں نہیں، ڈیکلریشن کس کے نام ہے؟ (اٹارنی جنرل سے) گیانی عبیداللہ اس کے منیجر ہیں، گیانی عبیداللہ صاحب ہیں جو، ہر ایک ان سے واقف ہوں گے، یہ جو ”پنجابی دربار“ میں قریباً روزانہ آتے رہے ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: سر! نہیں، اس سے.......

مرزا ناصر احمد: ہاں!

١؎ قارئین! آپ فیصلہ کریں کہ مرزا ناصر سمجھا نہیں یا جان بوجھ کر دجل کر رہا ہے، چکر دے رہا ہے؟

BLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

جناب یحییٰ بختیار: یعنی ان کو Support (مدد) کرتا ہے؟

مرزا ناصر احمد: اپنے پاؤں پہ کھڑا ہے

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، یعنی شرو

892 مرزا ناصر احمد: ہیں جی؟

جناب یحییٰ بختیار: کوئی بھی port والے ہیں؟ کمپنی ہے؟

مرزا ناصر احمد: نہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: فرم ہے؟

مرزا ناصر احمد: وہ اپنے پاؤں پر کھڑ

جناب یحییٰ بختیار: وہ پاؤں پر تو کھڑ

مرزا ناصر احمد: ہاں۔

جناب یحییٰ بختیار: وہ کون مگر st

مرزا ناصر احمد: ہیں جی؟

جناب یحییٰ بختیار: پیسہ کس نے د

مرزا ناصر احمد: وہ جتنا اس کی آمد

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، کون س

مرزا ناصر احمد: نہیں؟

جناب یحییٰ بختیار: کون، کس ب

: Those who contribute and

٢؎ اب تک یہ تو رونا تھا کہ الفضل غ کہ اسی نام سے چندے مانگے جاتے ہیں، آخ کو سچ ثابت کرنے کے لئے کئی جھوٹ بولنے پڑ

صفحہ ٩٥٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

جناب یحییٰ بختیار: یعنی وہ تو انہوں نے ڈیکلریشن فائل کیا۔ مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں! جناب یحییٰ بختیار: پھر Financially Invest پیسہ کس نے کیا؟ جماعت کی طرف سے ہوا ہے کوئی پیسہ اس میں۔ مرزا ناصر احمد: جی، یہ، یہ پرانی ہسٹری ہے۔ میں بتا دیتا ہوں۔ اب میں بات سمجھ گیا ہوں آپ کی۔ اس کو شروع میں دو تین سال بڑی دیر کی بات ہے۔ یہ سمجھیں کوئی ...... ہاں! 894 ٥٥، ٥٧ سال پہلے کی بات ہے، حضرت خلیفہ ثانی نے اس کو شروع کیا اور اس وقت ...... یعنی حضرت خلیفہ ثانی جو بنے۔ انہوں نے اسے شروع کیا۔ یہ حضرت خلیفہ اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ، کے زمانے کی بات ہے۔ نوجوان تھے۔ یہ انہوں نے ایک یہ پرچہ شروع کیا اور اس میں ابتدائی اخراجات اپنے ذاتی لگائے، اور اس کے بعد یہ آپ نے صدر انجمن احمدیہ کے حوالے کر دیا۔ اس وقت "صدر انجمن احمدیہ" قریباً "جماعت احمدیہ" کے ہم معنی تھی۔ لیکن آج کی جب ہم بات کر رہے ہیں تو جماعت احمدیہ وہ جماعت ہے جو دنیا کے قریباً ہر خطے میں پھیلی ہوئی ہے اور اس واسطے اس اخبار کو جماعت احمدیہ کی طرف منسوب کرنا درست نہیں ہے، بلکہ جماعت احمدیہ کی طرف یہ منسوب نہیں ہوتا۔ ایک احمدی ہے، جنرل نگرانی کرتے ہیں، صدر انجمن احمدیہ اس کی جنرل نگرانی کرتی ہے...... جناب یحییٰ بختیار: کیوں...... مرزا ناصر احمد: ایک فرد کا وہ ڈیکلریشن ہے۔ جناب یحییٰ بختیار: کیوں کرتا ہے؟ Investment (سرمایہ کاری) کی ہے، انہوں نے یا......؟ مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، نہیں، Investment (سرمایہ کاری) کوئی نہیں کی...... جناب یحییٰ بختیار: تو کس واسطے کر رہا ہے وہ؟ مرزا ناصر احمد: جنرل نگرانی اس واسطے کر رہا ہے کہ مبادا جو اس قسم کی چیز آ جائے جو جماعت کے مفاد کے حق میں نہ ہو تو وہ اسے دیکھ لے۔ یہ دیکھیں، مثلاً، مثلاً...... جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب!...... مرزا ناصر احمد: میں ایک مثال دیتا ہوں۔

٣٤

صفحہ ٩٥٥

955 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

جناب یحییٰ بختیار: میرا سوال Simple (سادہ) ہے کہ نگرانی وہی کر سکتا ہے جسے کوئی حق ہو۔ ان کا حق کہاں سے آگیا نگرانی کا؟ ابھی میں ”پاکستان ٹائمز“ کی نگرانی نہیں کر سکتا، چاہتا ہوں کروں۔

Mirza Nasir Ahmd: Very unfortunate (مرزا ناصر احمد: بڑی بدقسمتی کی بات ہے)

895Mr. Yahya Bakhtiar: I know how have they got this power to supervise when they have nothing to do with it financially and other wise?

مرزا ناصر احمد: وہ ایک تو وہ کافی اخبار خریدتے ہیں اور اس کے پیسے دیتے ہیں۔ دوسرے جن کا اخبار ہے، پہلے اس کی ابتدا مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب ...... جو اس وقت خلیفہ نہیں تھے ...... ان سے ہوئی اور ہم ...... سارے اخبار کی عام ایک نگرانی کرتی ہے ...... جماعت پوری نہیں کر سکتی، انسان ہیں، غلطی کر جاتے ہیں، مثلاً ہمارا ایک اخبار ہے......

جناب یحییٰ بختیار: ”نگرانی“ سے مطلب سپرویژن اور کنٹرول دونوں ہیں۔

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں ”عام نگرانی“ کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس کے اوپر کوئی آدمی بیٹھا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں نہیں، سپرویژن ہے، یا کنٹرول ہے؟

مرزا ناصر احمد: نہیں، کوئی کنٹرول نہیں، اور سپرویژن بھی......

جناب یحییٰ بختیار: آپ کہتے ہیں کہ آپ کی پارٹی کے خلاف کچھ ہو تو پھر اس پر آپ......

مرزا ناصر احمد: ہاں، اس کے اوپر ان کو کہتے ہیں کہ یہ تم نے کیا کیا۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، تو......

مرزا ناصر احمد: جماعت کو بدنامی......

جناب یحییٰ بختیار: وہ پھر کنٹرول ہو گیا۔

مرزا ناصر احمد: ہیں؟ ١؎

١؎ اتنے بھولے بھی تو نہ بنو۔

٣٥

SSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

جناب یحییٰ بختیار: یعنی وہ تو انہوں نے ڈیمانڈ

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں!

جناب یحییٰ بختیار: پھر ially Invest کی طرف سے ہوا ہے کوئی پیسہ اس میں۔

مرزا ناصر احمد: جی، یہ، یہ پرانی ہسٹری ہے گیا ہوں آپ کی۔ اس کو شروع میں دو تین سال بڑی ہاں! ٥٥ء، ٥٧ء سال پہلے کی بات ہے، حضرت خلیفہ ثانی یعنی حضرت خلیفہ ثانی جو بنے۔ انہوں نے اسے شروع کی عنہ، کے زمانے کی بات ہے۔ نوجوان تھے۔ یہ انہوں نے ابتدائی اخراجات اپنے ذاتی لگائے، اور اس کے بعد یہ آ کر دیا۔ اس وقت ”صدر انجمن احمدیہ“ قریباً ”جماعت احمد ہم بات کر رہے ہیں تو جماعت احمدیہ وہ جماعت ہے جو دین اس واسطے اس اخبار کو جماعت احمدیہ کی طرف منسوب کر طرف یہ منسوب نہیں ہوتا۔ ایک احمدی ہے، جنرل نگرانی جنرل نگرانی کرتی ہے......

جناب یحییٰ بختیار: کیوں......

مرزا ناصر احمد: ایک فرد کا وہ ڈیکلریشن ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: کیوں کرتا ہے؟ ent انہوں نے یا......؟

مرزا ناصر احمد: نہیں نہیں نہیں، tment

جناب یحییٰ بختیار: تو کس واسطے کر رہا ہے

مرزا ناصر احمد: جنرل نگرانی اس واسطے کر رہ جو جماعت کے مفاد کے حق میں نہ ہو تو وہ اپنے یہ دیکھ لے

جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب!......

مرزا ناصر احمد: میں ایک مثال دیتا ہوں۔

٣٤

صفحہ ٩٥٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug. 1974 No:07

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، پھر وہ کنٹرول ہو جاتا ہے۔

Mirza Nasir Ahmad: If that is the technical term, i am not familiar with it.

(مرزا ناصر احمد : چونکہ یہ ایک تکنیکی اصطلاح ہے اس لئے میں کچھ نہیں کہہ سکتا)

Mr. Yahya Bakhtiar: Supervision is more or less passive interest.

(جناب یحییٰ بختیار : نگرانی سے قریب قریب مراد خاموش دلچسپی ہوتا ہے)

مرزا ناصر احمد: ہیں جی؟

896 جناب یحییٰ بختیار: ”سپرویژن“ جو ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔ آپ اس میں نوٹ کرلیں کہ یہ چیز اس میں آ گئی ہے۔ But you cannot give directions but control means that you give directions. (جس میں آپ ہدایات نہیں دے سکتے، جبکہ اختیار کا مطلب یہ ہے کہ آپ ہدایات بھی دے سکتے ہیں) بھئی یہ ٹھیک کریں آپ ۔۔۔۔۔۔ کہ یہ جماعت کے مفاد کے خلاف کر رہے ہیں۔

مرزا ناصر احمد: یا ٹھیک کریں یا جماعت لینا چھوڑ دے گی۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں! یہ Injunction ہوا ناں۔

مرزا ناصر احمد: اور ۔۔۔۔۔۔ یعنی Moral Pressure (اخلاقی دباؤ) ہے، میرا مطلب یہ ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: Financial (فنانشل) کوئی نہیں؟

مرزا ناصر احمد: نہیں، Financial (فنانشل) نہیں ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: بس ٹھیک ہے جی۔

مرزا ناصر احمد: Financial (فنانشل) بالکل نہیں ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: آپ نہیں بتا سکتے کہ کونسی فرم ہے؟

مرزا ناصر احمد: فرم ہے ہی نہیں جی۔

جناب یحییٰ بختیار: کمپنی بھی کوئی نہیں ہے؟

مرزا ناصر احمد: کوئی کمپنی نہیں، No limited company, no private (نہیں، لمیٹڈ کمپنی نہ کہ پرائیویٹ کمپنی) limited company.

٣٨١

صفحہ ٩٥٧

ONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug. 1974 No:07

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، پھر وہ کنٹرول ہو جاتا ہے۔ sir Ahmad: If that is the technical term, ith it. (مرزا ناصر احمد: چونکہ یہ ایک تکنیکی اصطلاح ہے اس لئے......) a Bakhtiar: Supervision is more or less (جناب یحییٰ بختیار: نگرانی سے قریب قریب مراد......) مرزا ناصر احمد: ہیں جی؟ 896 جناب یحییٰ بختیار: ”سپرویژن“ جو ہوتا ہے...... یہ چیز اس میں آ گئی ہے۔ e directions but control (جس میں آپ ...... means that you give directions. اختیار کا مطلب یہ ہے کہ آپ ہدایات بھی دے سکتے ہیں) بھی یہ ٹھیک کریں آپ ...... کہ یہ جماعت کے مفاد کے...... مرزا ناصر احمد: یا ٹھیک کریں یا جماعت لینا چھوڑ دے۔ جناب یحییٰ بختیار: ہاں! یہ Injunction ہوتا ہے۔ مرزا ناصر احمد: اور ...... یعنی ral Pressure مطلب یہ ہے۔ جناب یحییٰ بختیار: Financial (فنانشل) کوئی...... مرزا ناصر احمد: نہیں، Financial (فنانشل) کوئی نہیں۔ جناب یحییٰ بختیار: بس ٹھیک ہے جی۔ مرزا ناصر احمد: Financial (فنانشل) بالکل نہیں۔ جناب یحییٰ بختیار: آپ نہیں بتا سکتے کہ کونسی فرم ہے؟ مرزا ناصر احمد: فرم ہے ہی نہیں جی۔ جناب یحییٰ بختیار: کمپنی بھی کوئی نہیں ہے؟ مرزا ناصر احمد: کوئی کمپنی نہیں، no private (نہیں، لمیٹڈ کمپنی نہ کہ پرائیویٹ کمپنی) limited company.

٣٦

957 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

Mr. Yahya Bakhtiar: Is it a trust ? (جناب یحییٰ بختیار: کیا یہ ٹرسٹ ہے؟ ویسے، ویسے دے دیا) Mirza Nasir Ahmad: No trust. (مرزا ناصر احمد : کوئی ٹرسٹ نہیں)

[At this stage Mr. Chairman (Sahibzada Farooq Ali) occupied the chair.] (اس مرحلہ پر چیئرمین (صاحبزادہ فاروق علی) نے کرسی صدارت سنبھالی)

897 مرزا ناصر احمد: یعنی یہ کہہ سکتے ہیں کہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے جماعت کو دے دیا، لیکن جماعت نے جس رنگ میں لیا ہے ناں، میں اس کی بات کر رہا ہوں۔ جناب یحییٰ بختیار: یہ، یہ کافی ہے جی، جماعت کو انہوں نے...... انہوں نے پیسے Investment (سرمایہ کاری) کی ہوئی...... جماعت کو...... مرزا ناصر احمد: جماعت کو دے دیا، لیکن جماعت نے جو طریقہ اس کا اختیار کیا، وہ یہ ہے جو میں بتا رہا ہوں، کہ ایک شخص ہے، وہ اس کا مینجنگ ڈائریکٹر ہے، ایک وہ ہے۔ جماعت کی جنرل نگرانی ہے۔ وہ جو ان کی جو ان کی جو Pays ہیں مثلاً...... جناب یحییٰ بختیار: نہیں، وہ ٹھیک ہے، جماعت کو دے دیا...... مرزا ناصر احمد: وہ، وہ خود اپنا کرتے ہیں۔ جناب یحییٰ بختیار: ...... جماعت نے ان کو ایک گفٹ دے دیا کہ یہ آپ کا ہو گیا، ہمارا ابھی کوئی تعلق نہیں ہو گا، ہم تو صرف Supervision (نگرانی) کریں گے، مطلب یہ ہوا۔ مرزا ناصر احمد: اصل میں جو ہمارے احمدیوں کا آپس میں جو ہے ناں تعلق، وہ کچھ نرالا سا ہے۔ جناب یحییٰ بختیار: یہی تو مرزا صاحب! رونا ہے جی۔ مرزا ناصر احمد: اس میں قانون جو ہے وہ سمجھنا مشکل ہے۔ اس میں قانونی کیفیت مشکل ہے۔ جناب یحییٰ بختیار: سارا رونا یہی ہے جی۔ اور کوئی سوال ہے جی؟

٣٧

صفحہ ٩٥٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

(له خسف القمر المنير وان لى......)

مرزا ناصر احمد: ہاں جی، اور ہیں۔

ایک سوال یہ کیا گیا تھا کہ: ”لہ خسف القمر المنير وان لي خسف القمران المبهران أتنکرو“ اس کے ..... یعنی چاند اور سورج کے گرہن ہونے کے دو (٢) نشانوں کا ذکر ہے، لیکن اس میں Confusion (ابہام) پیدا کرنے والی بات ہے۔898 وہ صرف عدد کی ہے۔ لیکن ایک ہے معجزہ اور ایک ہے نبی اکرم ﷺ کی پیشین گوئی۔ وہ بھی آنحضرت ﷺ کی ہے۔ لیکن معجزہ اور چیز ہے، اپنی اہمیت کے لحاظ سے اور آنحضرت ﷺ کی پیشین گوئی، آئندہ کے متعلق، یہ بالکل اور چیز ہے۔ یہ جو ہے چاند اور سورج کا گرہن ہونا، یہ آنحضرت ﷺ کی ایک زبردست پیشین گوئی کا پورا ہونا ہے۔ لیکن چاند شق قمر کا جو معجزہ ہے، وہ تو اتنا زبردست ہے کہ اس کی کوئی مثال دنیا میں نہیں لاسکتا۔ لیکن مسلمانوں میں سے بعض نے اس کا انکار کر دیا۔ آج کل کے جو مفسرین ہیں کہ نہیں، اس معنی میں نہیں تھا، تو یہاں ......

جناب یحییٰ بختیار: یہ تو شعر نہیں ہے، مرزا صاحب! جو کہ خود ہی آکر کہے کہ اس کا مطلب کیا ہے، یہ تو شعر نہیں ہے۔

مرزا ناصر احمد: یہ، یہ حدیث ہے، جس کا ذکر اپنے، آپ کے شعر میں ہے۔ یہ جو میں نے پڑھا ہے، وہ شعر ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: میں اس واسطے Clarify (واضح) کر رہا تھا۔

مرزا ناصر احمد: جی! (اپنے وفد کے ایک رکن سے) وہ کہاں ہے؟ إن لمھدینا آیتین (اثناء تلاش میں) یہ دارقطنی کی حدیث ہے: ”إن لمھدینا آیتین لم تکونا منذ خلق السموات والأرض“

اس شعر میں ایک پیشین گوئی کا ذکر ہے، وہ شعر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ہے، اور ایک معجزے کا ذکر ہے، اور وہ دونوں حضور نبی اکرم ﷺ سے تعلق رکھتے ہیں۔ ایک معجزہ آپ نے شق القمر کا دکھایا اور ایک پیشین گوئی چاند اور سورج گرہن ہونے کی کی، تو اپنا تو یہاں کچھ بھی نہیں۔ آپ یہاں فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے شق قمر کا ایک عظیم معجزہ دکھایا اور آپ نے ایک پیش گوئی میرے متعلق کی جن میں چاند اور سورج کے گرہن ہونے کا ذکر ہے۔ اب شق قمر899

١۔ یہ حدیث نہیں، جھوٹ پر جھوٹ بول رہا ہے مرزا ناصر، یہ حدیث نہیں بلکہ امام باقر کی طرف منسوب ایک قول ہے جس کی سند بھی صحیح نہیں۔ لیکن اسے مرزا ناصر نے حدیث بنادیا ہے۔

٣٨

صفحہ ٩٥٩

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07 جب دنیا کو ۔ اس کی تفصیل میں نہیں جاتا، اس پر بڑی بحثیں ہوچکی ہیں، بڑی بڑی کتابیں لکھی گئی ہیں ۔ جب دنیا نے چاند کو دو ٹکڑوں میں دیکھا ۔ دنیا نے چاند کو آنحضرت ﷺ کے اس معجزہ کے نتیجہ میں دو ٹکڑوں میں دیکھا ۔ اتنا زبردست یہ معجزہ ہے اور اس شعر میں دوسری چیز آپ نے یہ فرمائی کہ آنحضرت ﷺ نے اپنے آخر الغلمان کے لئے ، اپنے ماضی کے لئے یہ ایک نشان بتایا کہ اس کے زمانہ میں فلاں فلاں دن جو ہیں اس میں چاند اور سورج گرہن ہو گا ۔ تو چاند کا اور سورج کا گرہن ہونا خود معجزہ نہیں ، نہ پیشین گوئی ہے ۔ لیکن معینہ دنوں اور خاص زمانہ میں پیشین گوئی کے مطابق گرہن ہونا ، وہ پیشین گوئی کا پورا ہونا ہے اور شق قمر اس کے مقابلہ میں معجزہ ہے، زبردست معجزہ ہے۔ اس سے ہمیں تو سمجھ نہیں آئی کہ کیا چیز سمجھ میں نہیں آئی سوال کرنے والوں کو؟

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، اس سے صرف یہ بتانا چاہتے تھے مرزا صاحب! کیونکہ ایک چیز جو ہوتی ہے ناں، مرزا صاحب ایک حوالہ بذات خود ہیں، بعض دفعہ Misunderstanding (غلط فہمی) بھی تو پیدا کر دیتا ہے، مگر کئی حوالے جب اکٹھے پڑھ لیتے ہیں، جیسے کسی آدمی کو آپ ایک زخم پہنچا دیں تو Minor Injury (معمولی چوٹ) ہو جائے گی، اسی طرح کے سو زخم لگا دیں آپ تو مر جاتا ہے آدمی۔ اب بذات خود چھوٹی چھوٹی Injuries (چوٹیں) ہیں۔ تو جب مرزا صاحب ہم دیکھتے ہیں کہ: ”پہلے سے بھی بڑھ کر اپنی شان میں“ اور پھر کہتے ہیں: ”ان کے لئے ایک اور میرے لئے چودہویں کا چاند۔“

(رسول کریم کے معجزات تین ہزار تھے اور میرے تیس لاکھ)

پھر ایک اور ایسے ہے کہ: ”رسول کریم کے معجزات تین ہزار تھے، میرے لئے تیس لاکھ۔“ ایسی باتیں جب سب پڑھتے ہیں تو یہ معلوم ہوتا ہے اور علامہ اقبال۔ یہ میں آپ کو صاف بتادوں تاکہ آپ کے دماغ میں چیز clear (واضح) ہو کہ میں سوال کیوں پوچھ رہا ہوں ...... علامہ کہتے ہیں کہ: ”جب 900 مجھے معلوم ہوا کہ یہ آنحضرت ﷺ سے بھی اپنے آپ کو Superior (بہتر) سمجھتے ہیں ......“

تو آخر یہی چیزیں تھیں جو عام مسلمانوں کو دے رہی ہیں کہ مرزا غلام احمد صاحب نے نہ صرف نبوت کا دعویٰ کیا پہلے امتی نبی Inferior Type (کمتر قسم کا) نبی پھر اس کے بعد ایک مقابلے میں کھڑے ہو گئے کہ مجھے ساتھ کھڑا کیا، پھر کہتے ہیں کہ ”میں ان سے Superior (بہتر) ہو گیا۔“ یہ Impression (تاثر) ہے جس کی میں Clarification

٣٩

PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07 (لہ خسف مرزا ناصر احمد: ہاں جی ، ایک سوال یہ کیا گیا تھا کہ :" المشرکان آننکرو“ اس کے ....... ذکر ہے، لیکن اس میں 898 Confusion ہے۔ لیکن ایک ہے معجزہ اور ایک ہے ہے۔ لیکن معجزہ اور چیز ہے، اپنی اہمیت متعلق، یہ بالکل اور چیز ہے۔ یہ جو ہے زبردست پیشین گوئی کا پورا ہونا ہے۔ لیک کی کوئی مثال دنیا میں نہیں لاسکتا۔ لیکن کے جو مفسرین ہیں کہ نہیں، اس معنی میں جناب یحییٰ بختیار: یہ تو مطلب کیا ہے، یہ تو شعر نہیں ہے۔ مرزا ناصر احمد: یہ، یہ حد میں نے پڑھا ہے، وہ شعر ہے۔ جناب یحییٰ بختیار: میں مرزا ناصر احمد: جی! (ا إن لسماء الدنيا آيتين ( ”إن لسماء الدنيا آيتين اس شعر میں ایک پیشین گو ہے، اور ایک معجزے کا ذکر ہے، اور دو آپ نے شق القمر کا دکھایا اور ایک پیشی بھی نہیں ۔ آپ یہاں فرماتے ہیں کہ ایک پیش گوئی میرے متعلق کی جن میں

لے یہ حدیث نہیں، جھوٹ ہ طرف منسوب ایک قول ہے جس کی سند

صفحہ ٩٦٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

(وضاحت) چاہتا ہوں۔

مرزا ناصر احمد : جی! جس وقت میری باری آئے گی تو میں جواب دیتا ہوں۔

جناب یحییٰ بختیار : ہاں! آپ کی باری ہی چل رہی ہے، That is way میں نے یہ بتایا ہے کہ .There should be no misunderstanding

مرزا ناصر احمد : جی، وہ میں سمجھ گیا۔ بات یہ ہے کہ یہ آپ کا جو ہے استدلال ......

جناب یحییٰ بختیار : ہاں، وہ ......

مرزا ناصر احمد : وزنی ہے۔ لیکن اس کے اندر جو ضعف ہے، وہ یہ ہے کہ سوال کرتے ہوئے دس، پندرہ، بیس، پچیس، تیس، پچاس ایسے سوال ہو گئے اور یہ سمجھا گیا کہ صرف ان چالیس یا پچاس سوالات کے نتیجہ میں جو عام ایک Impression (تاثر) پڑتا ہے وہ پڑ جانا چاہئے۔ اس کا اصل جواب یہ ہے کہ اگر ان پچاس کے مقابلہ میں پچاس ہزار ایسی عبارتیں اور حوالے ہوں - پچاس کے مقابلہ میں پچاس ہزار۔ جو اپنے آپ کو نبی اکرم ﷺ کا ایک ادنیٰ خادم اور جو کچھ حاصل کیا وہ آنحضرت ﷺ سے حاصل کرنے والا ہو تو جب پچاس کے مقابلہ میں پچاس ہزار آئیں گی تو ہر شخص جس نے پچاس پہلے سن کے ایک Impression (تاثر) لیا ہوگا تو اس کا Impression (تاثر) بدل جائے گا۔ تو اب پچاس کا تو آپ نے سوال کر دیا، تو پچاس ہزار پیش کرنے کی مجھے اجازت دیں ......

جناب یحییٰ بختیار : تو مرزا صاحب ......

مرزا ناصر احمد : ...... تو میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ آپ کا Impression (تاثر) بھی بدل جائے گا۔

901 جناب یحییٰ بختیار : مرزا صاحب ! گستاخی معاف، گستاخی معاف، آپ Mind (محسوس) نہ کریں ......

مرزا ناصر احمد : نہیں، بالکل نہیں۔

جناب یحییٰ بختیار : ...... یہ پچاس ہزار کا اور ایک کا سوال نہیں ہوتا۔ پچاس ہزار سجدے کے بعد بھی۔ گیا شیطان مارا، ایک سجدے کے نہ کرنے سے۔ اس نے اگر ہزاروں سال سجدے میں سر مارا تو کیا مارا؟۔ سو سال آدمی عبادت کرتا رہے، اللہ کو مانتا رہے، رسول ﷺ کو مانتا رہے، پھر کہے کہ: "نہیں، میں نہیں مانتا۔" تو کافر ہو جاتا ہے، ایک دفعہ بھی اگر کہہ دے۔

٤٠

صفحہ ٩٦١

COME pping nks For r Visit

شركة الثمار للتجارة والطاقة المحدودة AL-THIMAR FOR TRADE & ENERGY CO. LTD. رأس المال المدفوع ٣,٠٠٠,٠٠٠ ريال سعودي س . ت : ١٠١٠٢٢٠٩٩٢ غ . ت : ٤٣١٨٢ الرياض - المملكة العربية السعودية

SSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

(وضاحت) چاہتا ہوں۔

مرزا ناصر احمد: جی! جس وقت میری باری آ

جناب یحییٰ بختیار: ہاں! آپ کی باری آ

نے یہ بتایا ہے کہ .be no misunderstanding

مرزا ناصر احمد: جی، وہ میں سمجھ گیا۔ بات یہ

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، وہ.......

مرزا ناصر احمد: وزنی ہے۔ لیکن اس کے اند ہوئے دس، پندرہ، بیس، پچیس، تیس، پچاس ایسے سوال ہ یا پچاس سوالات کے نتیجہ میں جو عام ایک mpression اس کا اصل جواب یہ ہے کہ اگر ان پچاس کے مقابلہ میں ۔ پچاس کے مقابلہ میں پچاس ہزار۔ جو اپنے آپ کو نبی حاصل کیا وہ آنحضرت ﷺ سے حاصل کرنے والا ہو توا آئیں گی تو ہر شخص جس نے پچاس پہلے سن کے ایک on Impression (تاثر) بدل جائے گا۔ تو اب پچاس ا پیش کرنے کی مجھے اجازت دیں.......

جناب یحییٰ بختیار: تو مرزا صاحب.......

مرزا ناصر احمد: ....... تو میں آپ کو یقین د (تاثر) بھی بدل جائے گا۔

901 جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! Mind (محسوس) نہ کریں۔

مرزا ناصر احمد: نہیں، بالکل نہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: ....... یہ پچاس ہزار کا سجدے کے بعد بھی۔ کیا شیطان مارا، ایک سجدے کے ب سجدے میں سر مارا تو کیا مارا؟۔ سو سال آدمی عبادت کر مانتا رہے، پھر کہے کہ: ”نہیں، میں نہیں مانتا۔“ تو کافر ہو

٤٠

961 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

مرزا ناصر احمد: جی، بالکل، اور اگر ایک سجدے کے بعد پچاس ہزار نیکی کے سجدے ہوں؟

جناب یحییٰ بختیار: وہ بات اور ہے۔ ہاں ٹھیک ہے، ٹھیک ہے، Clarification (وضاحت) اسی واسطے ہم چاہ رہے ہیں۔

مرزا ناصر احمد: تو یہی میں کہتا ہوں کہ مجھے اجازت دیں، میں پچاس ہزار تاریخیں دے کے تو ان کے مقابلے میں وہ کر دیتا ہوں۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، مرزا صاحب! ہم تو چاہتے ہیں کہ جتنا مختصر ہو۔

مرزا ناصر احمد: Clear (واضح)، ہاں۔

جناب یحییٰ بختیار: میں تو صرف آپ کی توجہ Clarification (وضاحت) کے لئے.......

مرزا ناصر احمد: مختصر اور حقیقت کی وضاحت کرنے والے۔

جناب یحییٰ بختیار: دیکھیں ناں، مرزا صاحب! اسمبلی خود بھی ان حوالوں کو پڑھ کے کسی نتیجہ پر پہنچ سکتی ہے۔ مگر آپ کو جو تکلیف دے رہے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ Clarification (وضاحت) ہو۔

902مرزا ناصر احمد: میں بڑا ممنون ہوں۔ (Pause)

جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! ”چاند“ اور آپ نے ذکر جو کیا.......

مرزا ناصر احمد: اس کے آگے جو شعر ہے، اس کے آگے.......

(چاند اور سورج کا گرہن)

جناب یحییٰ بختیار: ”چاند اور سورج“۔ یہ آپ کا جو جھنڈا ہے، اس کے بھی یہی نشان ہیں۔ دو چاند۔ پہلی کا اور چودہویں کا؟ ایک سوال تھا، مجھ سے پوچھا گیا۔ میں نے کہا میں اس وجہ سے پوچھ لیتا ہوں۔

مرزا ناصر احمد: جھنڈے سے ہمارے.......

جناب یحییٰ بختیار: پہلی کا اور چودہویں کا.......

مرزا ناصر احمد: ہاں، چودہویں کا.......

جناب یحییٰ بختیار: یہی، یہی ہے، یہ آنحضرت ﷺ کے لئے پہلی کا گرہن ہوا.......

مرزا ناصر احمد: نہ، نہ، نہ، إنا لله وإنا إليه راجعون.......

٤١

صفحہ ٩٦٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

جناب یحییٰ بختیار: اور ان کے لئے چودہویں کا گرہن؟ ......نہیں، نہیں، یہی اس وقت ......

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، نہیں، ٹھیک ہے، یہ بات نہیں، بلکہ ......

(آنحضرت کے لئے پہلی کا گرہن میرے لئے چودہویں کا)

جناب یحییٰ بختیار: انہوں نے کہا ہے کہ اس کو Clarify (واضح) کریں کہ: ”آنحضرت کے لئے پہلی کا گرہن ہوا تھا، میرے لئے چودہویں کا۔“ پہلی اور چودہویں کا ......

مرزا ناصر احمد: آنحضرت ﷺ کے متعلق ”گرہن ہونے“ کا لفظ ہی استعمال نہیں کیا۔

جناب یحییٰ بختیار: جو بھی کہا گیا ہو جی ......

903 مرزا ناصر احمد: نہیں نہیں ......

جناب یحییٰ بختیار: پہلی کا ......

مرزا ناصر احمد: شق القمر اور ”شق القمر“ پہلی کے اوپر اس کا کوئی اطلاق ہی نہیں ہو سکتا، صرف چودہویں کے چاند یا تیرہویں، چودہویں، پندرہویں، جب وہ پورا اس کا دائرہ جو ہو، وہ مکمل ہو، صرف اسی کے متعلق شق القمر کا معجزہ ہے۔

(آپ کے جھنڈے پر یہی نشان ہے)

جناب یحییٰ بختیار: پھر آپ اسے چاند پہ آپ کے ...... جھنڈے کے اوپر یہی نشان ہے؟

مرزا ناصر احمد: ہاں، جھنڈے پر ہمارا نشان ہے۔ جھنڈے پر دراصل نشان۔ اگر آپ مجھے اجازت دیں۔ تو ہمارے دماغ میں یہ تھا کہ اس وقت دنیا میں اسلام پر سخت حملہ ہو رہا

1؎ یہ جو مرزا قادیانی نے کہا جو اٹارنی جنرل فرما رہے ہیں، مثلاً مرزا قادیانی (اعجاز احمدی ص ٧١، خزائن ج ١٩ ص ١٨٢) پر کہا خود مرزا نے جو ترجمہ کیا یہ ہے: ”آنحضرت ﷺ کے لئے چاند کے خسوف کا نشان ظاہر ہوا اور میرے لئے چاند اور سورج دونوں کا۔ کیا تو اب انکار کرے گا۔“ مقصد یہ کہ میں آنحضرت ﷺ سے افضل ہوں (معاذ اللہ) اسی طرح (خطبہ الہامیہ ص ٢٧٥، خزائن ج ١٦ ص ایضاً) پر لکھا کہ: ”اسلام ہلال (پہلی رات کے چاند) کی طرح شروع ہوا (آنحضرت ﷺ کا زمانہ مراد لے رہا ہے) اور اب اس صدی (مرزا کے زمانہ میں) بدر کامل ہو گیا“ یعنی اسلام کو حضور علیہ السلام کے زمانہ میں چاند کی پہلی رات کی مانند قرار دیا اور اپنے زمانہ میں اس کو چودہویں رات کا چاند قرار دیا، اس سے آنحضرت ﷺ پر اپنی افضلیت ثابت کی۔ (معاذ اللہ)

٤٢

صفحہ ٩٦٣

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

ہے اور دنیاوی لحاظ سے دیکھیں، حکومتیں آزادی بھی نہیں رہیں، دوسروں کا پریشر اوپر ہے، وغیرہ، وغیرہ۔ تو اس وقت ایک ایسی مہم، ہمارے ایمان کے نزدیک، ہمارے ایمان میں، اللہ تعالیٰ نے جاری کی ہے جو اس وقت حالت اسلام کی...... اس وقت کی، چودہ سو سال پہلے کی نہیں...... اس وقت کی جو ہلال کی حالت ہے، اللہ تعالیٰ نے یہ وعدہ دیا ہے اُمت مسلمہ کو کہ یہ پھر اپنے پورے عروج، چودہویں کے چاند تک پہنچے گا۔ ہمارے دماغ میں یہ ہے۔ دیکھنے والا جو مرضی سمجھ لے۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی، اس کو......

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، یہ جو وعدہ ہے شق قمر معجزہ اور گرہن، دونوں کا اس کے ساتھ کے شعر جو ہیں اسی نظم میں۔ (عربی)

(میں نبی اکرم ﷺ کے مال کا وارث ہوں ) (عربی)
(میں نبی اکرم ﷺ کی برگزیدہ اولاد میں سے ایک ہوں ) (عربی)

904 کہ کوئی کہہ سکتا ہے کہ ”کس طرح وارث بن گیا؟ آپ تو انبیاء میں سے نہیں ہیں؟“ لیکن روحانی طور کے اوپر اس شعر میں آپ نے کہا ہے کہ ”میں آپ کا وارث ہوں“ اور وارث ہو کے: (عربی)

(کہ ہم نے روحانی اولاد بن کر آپ کے فیوض کا ورثہ حاصل کیا) (Pause)

ایک میں......

جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! اسی جگہ پر جو کہ یہ سوال تھا، آپ جواب دے رہے ہیں......

مرزا ناصر احمد: جی۔

جناب یحییٰ بختیار: ......تو اس لئے Interrupt (بات کاٹ رہا ہوں) کر رہا ہوں، کیونکہ جو سوال میرا تھا وہ یہ کہ: ”آنحضرت ﷺ کے وقت دین کی حالت پہلی شب کے چاند کی طرح تھی ، مگر مرزا صاحب کے وقت چودہویں رات کے بدر کامل جیسی ہوگی...... بدر کامل جیسی ہو گئی۔“

(خطبہ الہامیہ ص ٢٥، خزائن ج ١٦ ص ایضاً)

مرزا ناصر احمد: یہ کہاں کا حوالہ ہے؟

جناب یحییٰ بختیار: یہ جی ابھی دکھا رہا ہوں۔ یہ ”خطبہ الہامیہ“...... (Pause)

905 مرزا ناصر احمد: ہوں، یہ ”خطبہ الہامیہ“ (اپنے وفد کے ایک رکن سے) دکھائیے جی ذرا۔

٤٤

LY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

جناب یحییٰ بختیار: اور ان کے لیے وقت......

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، نہیں، مجھے

(آنحضرت کے لئے پہلی کا گر

جناب یحییٰ بختیار: انہوں نے کہا ”آنحضرت کے لئے پہلی کا گرہن ہوا تھا، میرے

مرزا ناصر احمد: آنحضرت ﷺ کے

جناب یحییٰ بختیار: جو بھی کہا گیا ہو

906 مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں......

جناب یحییٰ بختیار: پہلی کا......

مرزا ناصر احمد: شق القمر اور ”شق ہو سکتا، صرف چودہویں کے چاند یا تیرہویں، چ ہو، وہ مکمل ہو، صرف اسی کے متعلق شق القمر کا معجز

(آپ کے جھنڈے

جناب یحییٰ بختیار: پھر آپ اسے چا

مرزا ناصر احمد: ہاں، جھنڈے پر آپ مجھے اجازت دیں۔ تو ہمارے دماغ میں ہ

١۔ یہی مرزا قادیانی نے کہا جو انوار خل ص ٧٠، خزائن ج ١٩ ص ١٨٣) پر کہا خود مرزا نے جو کے خسوف کا نشان ظاہر ہوا اور میرے لئے چاند مقصد یہ کہ میں آنحضرت ﷺ سے افضل ہوں ج ١٦ ص ایضاً) پر لکھا کہ: ”اسلام ہلال (پہلی رات کا زمانہ مراد لے رہا ہے) اور اب اس صدی ( حضور علیہ السلام کے زمانہ میں چاند کی پہلی رات رات کا چاند قرار دیا، اس سے آنحضرت ﷺ پر ا

صفحہ ٩٦٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

جناب یحییٰ بختیار: ...... ص ٧٨ اور ٢٠١۔ دو (٢) Pages (صفحات) دیئے ہوئے ہیں، پتہ نہیں کس کا Page (صفحہ) پر ہے یہ ...... اب نکال ......

مرزا ناصر احمد: یہاں ......

جناب یحییٰ بختیار: تو اسی کے ......

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، یہاں آنحضرت ﷺ کا اپنے ساتھ مقابلہ نہیں کیا ہوا، بلکہ اسلام کی اس وقت کی حالت کا آخری غلبہ کے ساتھ مقابلہ کیا گیا ہے۔ یہ تو ہر ایک کو پتہ ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، بس میں یہی کہتا ہوں کہ انہوں نے یہ کہا ہے ......

مرزا ناصر احمد: اپنے متعلق نہیں ......

جناب یحییٰ بختیار: ’’ان کے وقت میں پہلی کا چاند تھا اور ......‘‘

مرزا ناصر احمد: اسلام ......

جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب کے وقت ......

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، نہیں، ......

جناب یحییٰ بختیار: ’’...... مکمل ......‘‘

مرزا ناصر احمد: یہ بات اسلام کی ہورہی ہے ......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں کہتا ہوں ......

مرزا ناصر احمد: نبی اکرم ﷺ ......

(مرزا قادیانی کے وقت میں اسلام کا چاند مکمل ہو گیا؟)

جناب یحییٰ بختیار: اسلام کا چاند مکمل ہو گیا مرزا صاحب کے وقت؟

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، نہیں، نبی اکرم ﷺ کے ذریعہ اسلام کی بنیاد رکھی گئی اور خدا تعالیٰ کا یہ وعدہ تھا کہ تمام مخلوق خدا اسلام کے جھنڈے تلے جمع ہو جائے۔ اچھا۔ وہ حرکت اُس906 وقت شروع ہوئی اور اگر آپ تاریخ میں، اختصار کے ساتھ تفصیل میں تھوڑا سا جائیں تو اس وقت کی Known دنیا کے اکثر حصے میں اسلام غالب آیا۔ امریکہ اس وقت Known, Unpopulated (غیر آباد معلوم) بھی تھا Unknown, Semi- Populated (تھوڑی بہت آباد نامعلوم) آسٹریلیا ہے، یا دوسرے ہیں۔ تو وعدہ یہ دیا گیا نبی اکرم ﷺ کو کہ ساری دنیا کا انسان اسلام کے جھنڈے تلے جمع ہو جائے۔ اس کی ابتداء کمزوری کے ساتھ ...... خود

٤٤

صفحہ ٩٦٥

COME ping nks For r Visit شركة الخيام المحدودة للتجارة والمقاولات Al-Khayam Co. Ltd. For Trading & Contracting ص.ب: ٥٧٧٢ - الرمز البريدي: ١٣٠٥٨ الكويت تلفون: ٢٤٣٣٣١٤ - ٢٤٢٢٣١٤ فاكس: ٢٤٢٢٣١٤

965 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

آنحضرت ﷺ کی زندگی میں عرب سے باہر بہت کم اسلام نکلا ہے۔ جب ہم یہ کہتے ہیں کہ خلافت راشدہ کے زمانہ میں اسلام افریقہ میں پھیل گیا، چین میں پھیل گیا، اور اس کے بعد اس وقت تو خیر نہیں پھیلا تھا۔ خیر، اسے میں چھوڑ دیتا ہوں۔ ادھر کسریٰ اور قیصر کی جو مملکتیں تھیں، وہ خلافتِ راشدہ کے ماتحت آئیں۔ ہم اس کی جب بات کریں تو اس کا یہ مطلب ہوگا کہ نبی اکرم ﷺ کے اوپر، نعوذ باللہ ...... جناب یحییٰ بختیار: میں یہ پوچھ رہا تھا کہ مکمل جو ہے ناں، بدرِ کامل بن گیا ہے ...... مرزا ناصر احمد: اسلام۔ جناب یحییٰ بختیار: ...... اسلام بن گیا ہے مرزا صاحب کی موجودگی میں؟ مرزا ناصر احمد: ”بن جائے گا۔“ جناب یحییٰ بختیار: موجودگی تو ختم ہو گئی ناں ابھی تو ...... مرزا ناصر احمد: ہیں؟ جناب یحییٰ بختیار: اب تو مرزا صاحب نہیں ہیں ناں جی۔ مرزا ناصر احمد: نہیں، یہ، یہ آخری زمانے کی پیشین گوئی ہے کہ آخری زمانہ میں تمام نوع انسانی امتِ واحدہ بن کر نبی اکرم ﷺ کے جھنڈے تلے جمع ہو جائیں گی۔ جناب یحییٰ بختیار: نہیں، یہاں جو کہتے ہیں: 907 ”میرے ذمہ ہو جائے گا۔“ وہ مکمل ہو گیا مسئلہ؟ چاند پورا ہو گیا؟ اسلام پھیل گیا ان کی موجودگی میں، ان کی زندگی میں؟ مرزا ناصر احمد: نہیں ”میرے زمانہ میں“ ...... جناب یحییٰ بختیار: زمانہ تو آنحضرت ﷺ کا چلا آ رہا ہے جی۔ پھر تو وہ جی ...... مرزا ناصر احمد: وہی ناں۔ جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! ...... مرزا ناصر احمد: اوہ خو! پھر وہی بات ...... جناب یحییٰ بختیار: ...... پیغام تو وہی چل رہا ہے، قرآن تو وہی ہے جو ...... مرزا ناصر احمد: زمانہ تو آنحضرت ﷺ کا ہے، لیکن آپ کہتے ہیں ”حضرت ابوبکر کے زمانہ میں“ ...... جناب یحییٰ بختیار: ہاں، تو میں کہتا ہوں ...... ٤٥

AL ASSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

جناب یحییٰ بختیار: ...... ص ١٧٨ اور ٢٠١۔ دو ( ہوئے ہیں، پتہ نہیں کس کا Page (صفحہ) پر ہے یہ ...... اب مرزا ناصر احمد: یہاں جناب یحییٰ بختیار: تو اسی کے مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، یہاں آنحضرت ﷺ بلکہ اسلام کی اس وقت کی حالت کا آخری غلبہ کے ساتھ مقابلہ کیا جناب یحییٰ بختیار: نہیں، بس میں یہی کہتا ہوں مرزا ناصر احمد: اپنے متعلق نہیں جناب یحییٰ بختیار: ”ان کے وقت میں پہلی کا چاند مرزا ناصر احمد: اسلام جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب کے وقت مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، نہیں، جناب یحییٰ بختیار: ”...... مکمل مرزا ناصر احمد: یہ بات اسلام کی ہو رہی ہے۔ جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں کہتا ہوں مرزا ناصر احمد: نبی اکرم ﷺ

(مرزا قادیانی کے وقت میں اسلام کا)

جناب یحییٰ بختیار: اسلام کا چاند مکمل ہو گیا مرزا مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، نہیں، نبی اکرم ﷺ خدا تعالیٰ کا یہ وعدہ تھا کہ تمام مخلوقِ خدا اسلام کے جھنڈے تلے وقت شروع ہوئی اور اگر آپ تاریخ میں، اختصار کے ساتھ کہوں کی Known دنیا کے اکثر حصے میں اسلام غالب Unpopulated (غیر آباد معلوم) بھی تھا، Populated (تھوڑی بہت آباد نامعلوم) آسٹریلیا ہے، یا دوسرے ہیں ساری دنیا کا انسان اسلام کے جھنڈے تلے جمع ہو جائے۔ ٤٤

صفحہ ٩٦٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

مرزا ناصر احمد : تو آپ کفر کہتے ہیں؟

جناب یحییٰ بختیار : ہاں، یعنی ان کی زندگی میں، مرزا صاحب کی زندگی میں ......

مرزا ناصر احمد : نہیں، زندگی نہیں ......

جناب یحییٰ بختیار : ...... مرزا صاحب کی زندگی میں مکمل چاند ہو گیا چاند؟

مرزا ناصر احمد : آپ، آپ کی تحریک ہے ایک۔

جناب یحییٰ بختیار : تحریک تو آنحضرت ﷺ کی ہے۔

مرزا ناصر احمد : اُوہ خُدا ! آنحضرت ﷺ کی تحریک کے دائرہ کے اندر خلافت راشدہ کی ایک تحریک تھی، مجددین کی تحریکیں تھیں، اور جو اولیاء تھے ان کی تحریکیں تھیں، ہمارے بڑے بزرگ جو گئے ہیں افریقہ میں، صحرا کو عبور کر کے، وہ ہر چیز محمد ﷺ کی طرف عود کرتی ہے اور رجوع کرتی ہے۔

908 جناب یحییٰ بختیار : مطلب یہ ہے کہ ان کی زندگی کے بعد بھی چلے گا؟ یہ سلسلہ جو ہے ناں، یہ جو ہے یہ مطلب ہے کہ ہو جائے گا، یہ زمانہ چلتا رہے گا؟

مرزا ناصر احمد : امام مہدی اور مسیح کے جو ہیں ناں مقام، وہ نبی اکرم ﷺ کے ایک روحانی وہ جو ہے روحانی کمانڈر، جس طرح سپریم کمانڈر کے نیچے بہت سارے ہوتے ہیں ناں کمانڈر، ڈویژن وغیرہ کو کور کر رہے ہیں، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام (مرزا قادیانی) کی پوزیشن، زمانی لحاظ سے، آنحضرت ﷺ کے جو بہت سے روحانی فرزند آئے اور انہوں نے آپ کی خدمت کی، ان میں سے ایک کی ہے۔ لیکن پہلے سلف صالحین کو خدا تعالیٰ نے یہ بتایا، قرآن کریم سے انہوں نے استدلال کیا کہ مہدی کے سپرد جو کام ہے، وہ تین صدیوں پر پھیلا ہوا ہے، صرف اس کی ذات سے تعلق نہیں رکھتا۔

جناب یحییٰ بختیار : مرزا صاحب! جہاں تک آنحضرت ﷺ کی ذات کا تعلق تھا وہ ......

مرزا ناصر احمد : قیامت تک ......

جناب یحییٰ بختیار : ہیں۔ جی۔ آپ نے کہا کہ ”ان کے زمانے میں عرب سے باہر اسلام نہیں پھیلا“ ......

١؎ خبر لیجئے ۔ لہن بگڑا، زبان بگڑی، دہن بگڑا۔

٤٦

صفحہ ٩٦٧

SEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07 مرزا ناصر احمد : تو آپ کفر بکتے ہیں؟ جناب یحییٰ بختیار: ہاں، یعنی ان کی زندگی ...... مرزا ناصر احمد : نہیں ، زندگی نہیں ...... جناب یحییٰ بختیار: ...... مرزا صاحب کی ...... مرزا ناصر احمد : آپ، آپ کی تحریک ہے ...... جناب یحییٰ بختیار: تحریک تو آنحضرت ﷺ ...... مرزا ناصر احمد : اوہو! آنحضرت ﷺ ...... کی ایک تحریک تھی، مجددین کی تحریکیں تھیں، اور جو اولیائے بزرگ ہو گئے ہیں افریقہ میں ، صحرا کو عبور کر کے، وہ ہر ایک ...... کرتی ہے۔ 908 جناب یحییٰ بختیار: مطلب یہ ہے کہ ...... ہے ناں، یہ جو ہے یہ مطلب ہے کہ ہو جائے گا، یہ زمانہ ...... مرزا ناصر احمد : امام مہدی اور مسیح کے ...... روحانی وہ جو ہے روحانی کمانڈر، جس طرح سپریم کمانڈر ...... کمانڈر، ڈیوٹی وغیرہ کو کر رہے ہیں، حضرت مسیح موعود ...... پوزیشن، زمانی لحاظ سے، آنحضرت ﷺ کے جو بہت ...... کی خدمت کی، ان میں سے ایک کی ہے۔ لیکن پہلے ...... کریم سے انہوں نے استدلال کیا کہ مہدی کے سپرد ...... صرف اس کی ذات سے تعلق نہیں رکھتا۔ جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! ...... تھا وہ ...... مرزا ناصر احمد : قیامت تک ...... جناب یحییٰ بختیار: ہیں۔ جی۔ آپ ...... اسلام نہیں پھیلا...... لے خبر لیجئے ۔ لحن بگڑا، زبان بگڑی، دہن ...... ٤٦

967 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07 مرزا ناصر احمد : نہیں ، نہیں ...... Mr. Yahya Bakhtiar: I ask a straight question please give me a straight answer. (جناب یحییٰ بختیار: جناب میں آپ سے سیدھا سوال کرتا ہوں آپ سیدھا جواب دیں) اب ان کا جو کام ہے، ان کی حیات تک قائم رکھتے ہیں ...... مرزا ناصر احمد : میں نہیں کہتا وہ ۔ جناب یحییٰ بختیار: ......عرب سے باہر نہیں نکلا۔“ مرزا ناصر احمد : استغفر اللہ۔ میں نے جو بات کی ہے ...... جناب یحییٰ بختیار: میں وہ نہیں کہتا ...... 909 مرزا ناصر احمد : ......جس کا نتیجہ میں نے پیدا کر دیا، میں گنہگار ...... جناب یحییٰ بختیار: نہیں، گناہ گار ...... میں Clarification (وضاحت) چاہتا ہوں۔ آپ نے خود ہی کہا کہ ”ان کے زمانہ میں، ان کی زندگی میں۔“ مرزا ناصر احمد : میں یہ کہہ رہا ہوں کہ آنحضرت ﷺ کے مشن کا آپ کی اس دنیاوی زندگی سے تعلق ہی کوئی نہیں، میں یہ بتا رہا ہوں ...... جناب یحییٰ بختیار: تو پھر یہاں ...... مرزا ناصر احمد : اور قیامت تک ...... جناب یحییٰ بختیار: نہیں، مرزا صاحب! پھر اس کے بعد ...... آپ نے بجا فرمایا ...... اس کی پھر کیا Explanation (وضاحت) بنتی ہے کہ : ”آنحضرت ﷺ کے وقت دین کی حالت پہلی شب کے چاند کی طرح تھی۔ مگر (Very Big) مرزا صاحب کے وقت چودھویں رات کے بدر کامل جیسی ہوگی۔“ There are two personalities, two distinct personalities. (یہ دو ہستیاں ہیں ۔ دو مختلف ہستیاں) مرزا ناصر احمد : وہ ”خطبہ الہامیہ“ میں نے پڑھا تھا۔ ”خطبہ الہامیہ“ نہیں یاد مجھے۔ جناب یحییٰ بختیار: ...... آپ اس لئے Clarify (واضح) کریں (مولانا محمد ظفر احمد انصاری سے) پڑھیں۔ ٤٧

صفحہ ٩٦٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

مولانا محمد ظفر احمد انصاری: لیجئے ”خطبہ الہامیہ“ کی عبارت یہ ہے...... اردو ترجمہ پڑھ دوں یا عربی؟

مرزا ناصر احمد: عربی۔

مولانا ظفر احمد انصاری: (عربی)

910 مرزا ناصر احمد: جی.......

مولانا ظفر احمد انصاری: اردو ترجمہ.......

مرزا ناصر احمد: دو(٢) بدر ہیں.......

جناب یحییٰ بختیار: ہمیں نہیں سمجھ آئی۔

مرزا ناصر احمد: اچھا، اچھا، اس میں یہ بھی لکھا ہوا ہے کہ دو(٢) بدر نہیں، پہلی رات کا چاند نہیں۔ یہ کتاب اگر دے دیں۔ یہ سنادیں۔

مولانا محمد ظفر احمد انصاری: ابھی بھیج دیتا ہوں۔

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں۔ تو پھر Explanation (وضاحت) میں دے دوں گا۔

(دو بدر سے مراد؟)

مولانا محمد ظفر احمد انصاری: ”بلکہ حق یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی روحانیت، چھٹے ہزار کے آخر میں (یعنی ان دنوں میں) بہ نسبت ان سالوں کے (جس کا پہلے ذکر ہے، یعنی پانچویں) اکمل اور اشد ہے، بلکہ چودہویں رات کے چاند کی طرح ہے اور اس لئے ہم اس تلوار اور لڑنے والے گروہ کے محتاج نہیں اور اسی لئے خدا تعالیٰ نے مسیح موعود کی بعثت کے لئے صدیوں کے شمار کو رسول کریم ﷺ کی ہجرت کے بدر کی راتوں کے شمار کے مانند اختیار فرمایا، تاکہ وہ شمار اس مرتبے پر، جو ترقیات کے تمام مرتبوں سے کمالِ تام رکھتا ہے، دلالت کرے، اور وہ ١٤٠٠ چار سو کا شمار...... (اور وہ ١٤٠٠ کا...... کچھ ترجمہ بھول گئے ہیں...... ١٤٠٠ ایک ہزار چار سو کا شمار) خاتم النبیین ﷺ کی ہجرت کے بعد ہے۔“

فارسی میں ترجمہ ٹھیک ہے: (فارسی)

911 ”صاحب! دین کے غلبے کا وعدہ جو کتاب مبین میں پہلے ہو چکا تھا، پورا ہو جائے۔ یعنی خدا تعالیٰ کا یہ قول کہ: ”لقد نصرکم اللہ ببدر وأنتم أذلّۃ“ پس بیناؤں کی طرح اس آیت میں نگاہ کر۔ کیونکہ یہ آیت یقیناً دو بدر پر دلالت کرتی ہے۔ اول وہ بدر جو پہلوں کی نصرت کے لئے

٤٨

صفحہ ٩٦٩

969 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07 گزرا۔ دوسرا وہ بدر جو پچھلوں کے لئے ایک نشانی ہے“...... مرزا ناصر احمد : یہاں پر تو پہلی ہلال کا کوئی ذکر ہی نہیں۔ جناب یحییٰ بختیار : نہیں...... مولانا محمد ظفر احمد انصاری : ...... اب یہ ”روح انسانیت کی حقیقت ہے“ ”Review of Religions“ (ریویو آف ریلیجنز) میں...... مرزا ناصر احمد : یہ اس کے متعلق اگر آپ ہمیں یہ لکھادیں تو دوسری سٹنگ میں شام کو آپ کو بتا کے...... نکال کے دے دیں گے!۔ Mr. Chairman: Yes. (جناب چیئرمین: جی ہاں) مولانا محمد ظفر احمد انصاری : یہ ذرا...... جناب یحییٰ بختیار : میں نے لکھا دیا ہے جی۔ Mr. Chairman: The answer the answer. (جناب چیئرمین: جواب۔ جواب) جناب یحییٰ بختیار : یہ حوالہ تھا، میں نے پہلے بھی لکھوا دیا تھا، یہ میں نے نوٹ کیا ہے۔ Mr. Chairman: yes. (جناب چیئرمین: جی ہاں) جناب یحییٰ بختیار : یہ میں نے نوٹ کیا، یہ میں نے لکھایا تھا۔ مرزا ناصر احمد : پہلے اگر آپ نے لکھایا تھا...... جناب یحییٰ بختیار : تو پھر آپ verify (تصدیق) کریں گے؟ 912 Mr. Chairman: The reference should be given to the witness. (جناب چیئرمین: گواہ کو حوالہ دیا جائے) جناب یحییٰ بختیار : آپ نے کہا کہ verify (تصدیق) کریں گے؟ مرزا ناصر احمد : ہاں، ہاں۔ جناب یحییٰ بختیار : اور میں نے یہاں نوٹ کیا ”to verify“ (تصدیق) Mr. Chairman: The reference. (جناب چیئرمین: حوالہ)

١؎ مرزا قادیانی کی کفریات جب سامنے آئیں، جواب نہ بن سکا تو پیشی لے لی۔

ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا۔

٤٩

SEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07 مولانا محمد ظفر احمد انصاری : لیجئے ”خطبہ الـ پڑھ دوں یا عربی؟ مرزا ناصر احمد : عربی۔ مولانا ظفر احمد انصاری : (عربی) 910 مرزا ناصر احمد : جی...... مولانا ظفر احمد انصاری : اردو ترجمہ...... مرزا ناصر احمد : دو (٢) بدر ہیں...... جناب یحییٰ بختیار : ہمیں نہیں سمجھ آئی...... مرزا ناصر احمد : اچھا، اچھا، اس میں یہ بھی چاند نہیں۔ یہ کتاب اگر دے دیں۔ یہ سنادیں۔ مولانا محمد ظفر احمد انصاری : ابھی بھیج دیـ مرزا ناصر احمد : ہاں، ہاں، تو پھر lation (دو بدر سے مرـ مولانا محمد ظفر احمد انصاری : ”بلکہ حق یـ ہزار کے آخر میں (یعنی ان دنوں میں) بہ نسبت الـ پانچویں) اکمل اور اشد ہے، بلکہ چودہویں رات کے بـ لڑنے والے گروہ کے محتاج نہیں اور اسی لئے خدا تعالـ کے شمار کو رسول کریم ﷺ کی ہجرت کے بدر کی راتوں مرتبے پر، جو ترقیات کے تمام مرتبوں سے کمالِ تام شمار...... (اور وہ ٣٠٠ کا ...... کچھ ترجمہ بھول گئے ہیـ النبیین ﷺ کی ہجرت کے بعد ہے۔“ فارسی میں ترجمہ ٹھیک ہے: (فارسی) 911 ”صاحب! دین کے غلبے کا وعدہ جو کـ یعنی خدا تعالیٰ کا یہ قول کہ: ’لقد نصرکم اللہ ببدر میں نگاہ کر۔ کیونکہ یہ آیت یقیناً وہ بدر پر دلالت کرتی ٤٨

صفحہ ٩٧٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

مرزا ناصر احمد: تو وہ جو شعر تھا، اس کے متعلق آپ نے حوالہ لکھوایا تھا ”اعجاز المسیح“ کا......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، مرزا صاحب......

مرزا ناصر احمد: ”خطبہ الہامیہ“ کا نہیں۔

(آپ ﷺ کے وقت دین کی حالت پہلی کے چاند کی طرح تھی، معاذاللہ)

جناب یحییٰ بختیار: ”آنحضرت ﷺ کے وقت دین کی حالت پہلی شب کے چاند کی طرح تھی......“ یہ جو میرے پاس ہے، اس پر لکھا ہوا ہے کہ ”To be verified“ (تصدیق ہونا باقی ہے) آپ...... نشان لگا ہوا ہے۔

مرزا ناصر احمد: ہاں، پھر یہ ہماری غلطی ہے، ہم نے نوٹ کیا تھا کہ ”اعجاز المسیح“ کا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں نہیں، وہ بھی تھا، یہ بھی تھا۔

Mr. Chairman: It may be replied in the evening session.

(جناب چیئرمین: اس کا جواب شام کو دیا جائے)

مرزا ناصر احمد: ”اعجاز المسیح“ جو ہے، اس کے متعلق......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، دو علیحدہ ہیں۔

مرزا ناصر احمد: ہاں، وہ، وہ جو ہے دوسرا۔ ٹھیک ہے۔

Mr. Chairman: The references may be given to the witness.

(جناب چیئرمین: گواہ کو حوالہ دیا جائے)

مرزا ناصر احمد: وہ، پھر وہ......

913 Mr. Chairman: In the evening session.

(جناب چیئرمین: شام کے اجلاس میں)

The delegation is permitted to leave after maghrib prayers that is at 7.30 pm.

(وفد کو جانے کی اجازت ہے، مغرب کی نماز کے بعد ساڑھے سات بجے واپس آئے)

١؎ غلطی پہ غلطی۔ مجموعۂ اغلاط کا نام ہی قادیانیت ہے۔

٥٠

صفحہ ٩٧١

EMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

مرزا ناصر احمد: تو وہ جو شعر تھا، اس ب المسیح" کا ......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، مرزا صاحب

مرزا ناصر احمد: "خطبہ الہامیہ" کا میں ل (آپ ﷺ کے وقت دین کی حالت پہلی

جناب یحییٰ بختیار: "آنحضرت ﷺ کی طرح تھی......" یہ جو میرے پاس ہے، اس پر لکھا ہوا ہوتا باقی ہے) آپ ...... نشان لگا ہوا ہے۔

مرزا ناصر احمد: ہاں، پھر یہ ہماری غلطی ہے

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، نہیں، وہ بھی تھا

It may be replied in the evening (جناب چیئرمین: اس کا جواب شام کو د

مرزا ناصر احمد: "اعجاز المسیح" جو ہے، اس

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، دو علیحدہ ہیں

مرزا ناصر احمد: ہاں، وہ، وہ جو ہے دوسرا

The references may be given to the (جناب چیئرمین: گواہ کو حوالہ دیا جائے

مرزا ناصر احمد: وہ، پھر وہ ......

In the evening session. (جناب چیئرمین: شام کے اجلاس میں

permitted to leave after maghrib (وفد کو جانے کی اجازت ہے، مغرب کی نما

١؎ غلطی پے غلطی ۔ مجموعہ اغلاط کا نام ہی تو

٥٠

971 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

ہاں، پانچ بجے سینٹ کا سیشن ہے۔ وہ انہوں نے پہلے رکھا ہوا تھا۔ At 7:30 pm (The delegation is permitted to leave) (وفد کو جانے کی اجازت ہے)

ہاں جی، At 7:30

مرزا ناصر احمد: اور حوالے لکھوا دیجئے۔

جناب چیئرمین: حوالے بھجوادیں گے، ابھی The librarian will hand over the books. (لائبریرین کتابیں (وفد کے) سپرد کرے گا) ابھی آپ کو بھجوا دیتے ہیں۔

(The delegation left the chamber) (وفد ہال سے باہر چلا گیا)

Mr. Chairman: The Committee of the whole house is adjourned to meet at 7:30 p.m. But the members - at 7:15 p.m. (جناب چیئرمین: پورے ایوان پر مشتمل کمیٹی کا اجلاس ملتوی کیا جاتا ہے، ساڑھے سات بجے تک، لیکن اراکین سوا سات بجے تک) مغرب کا وقت سات بجے ہو جاتا ہے۔ سوا سات آئیں۔

ایک رکن: سات ہی ہوتا ہے۔

جناب چیئرمین: سات بجے ”سواسات، سواسات“ کر رہے ہیں۔ نہیں جی! اور ساڑھے سات تک، ان کو ساڑھے سات کا ٹائم دیا، آپ کو سوا سات دیا ہے، کیونکہ It took us (ہمیں اکٹھا ہونے میں دو گھنٹے صرف ہوئے) two hours to collect together ہاں، ہاں I am sorry. It is all right. (مجھے افسوس ہے، یہ بہت اچھا ہے) کوئی بات نہیں ہے۔ شام کو کورم کا خیال کریں جی۔ اب بھی نہیں رہا کورم۔ (آپ کا بہت بہت شکریہ) Thank you very much.

914 [The Special Committee adjourned for maghrib prayers to re- assemble at 7:30 p.m.]

٥١

صفحہ ٩٧٢

972 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

(خصوصی کمیٹی کا اجلاس مغرب کی نماز کے لئے ملتوی ہوا، ساڑھے سات بجے دوبارہ ہوگا)

[The special committee re-assembled after maghrib prayers Mr. Chairman (Sahibzada Farooq Ali) in the chair.]

(خصوصی کمیٹی کا اجلاس مغرب کی نماز کے بعد دوبارہ شروع ہوا۔ جناب چیئرمین (صاحبزادہ فاروق علی) نے صدارت کی)

Mr. Chairman: They may be called.

(جناب چیئرمین: انہیں بلائیں)

(The delegation entered the chamber)

(وفد ہال میں داخل ہوا)

------------------

Mr. Chairman: Yes, the Attorney- General.

(جناب چیئرمین: جی! اٹارنی جنرل صاحب)

جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! کچھ جوابات رہ گئے ہیں؟

مرزا ناصر احمد: جی۔ ایک تو آپ نے فرمایا تھا کہ ہجری شمسی جو اسلامی کیلنڈر ہے، اس کے مہینوں کے ناموں...... نام کیوں وہ رکھے گئے ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: وہ تو آپ نے Explain (واضح) کر دیا تھا۔

مرزا ناصر احمد: ہاں، یہ میں نے کہا تھا کہ میں لکھ کے دے دوں گا۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، رکھ دیجئے فائل۔

مرزا ناصر احمد: ”خطبہ الہامیہ“...... (Pause) ”خطبہ الہامیہ“ کے متعلق کہا گیا تھا کہ نبی اکرم ﷺ کو ’ہلال‘ اور خود کو ’بدر‘ کہا ہے۔ تو وہ دو (٢) تین (٣) صفحے آگے پیچھے جی دیکھے ہیں، کہیں ایسا فقرہ نہیں ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: مل گیا، ہمیں مل گیا ہے۔

مرزا ناصر احمد: ایسا نہیں ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: ہمیں مل گیا۔ (مولانا ظفر احمد انصاری سے) نہیں، وہ مولانا سنادیجئے آپ، ریفرنس ہمارا تھا۔ (مرزا ناصر احمد سے) ممکن ہے، وہ اور چیز ہو۔ وہ آپ کو سنا دیں گے۔

٥٢

973 NATIONAL

ین محمود صاحب نے بھی ذکر کیا ہے،

رہی تھی۔

ل اور خود کو بدر کہا)

یعنی انہوں نے بھی اس کو کہا ہے کہ: کے ساتھ ہر کس و ناکس کے اچھی طرح چاند رات کے وقت تھا، یعنی رسول اعتراض کیوں کر ہوسکتا ہے۔“

ں دیکھی، اس کے متعلق تو میں کچھ

نے وہ نوٹ کرا دیا۔ ں ایک وقت میں انتظام ہی کوئی نہیں ”خطبہ الہامیہ“ کتاب ہے۔ اس

Maulana M

Yes, page 275.

(

------------------

معلوم نہیں، کچھ نہیں کہہ سکتا۔

ں دکھاؤ، باپ سے داد کے پاس چلا

OME

mg

nks For

ur Visit

شركة الديار الاستهلاكية للمواد الغذائية المحدودة تلفون: ٤٧٧٦٦٠٠ - ٤٧٧٦٦٠٢ - ٤٧٧٦٦٠٣ فاكس: ٤٧٧٦٦٠١ ص.ب ٢٣٤٠٠ الصفاة ١٣٠٩٥ الكويت - الشويخ - شارع البنوك P.O. BOX: 23400 Safat 13095 Kuwait - Shuwaikh - Banks Street

صفحہ ٩٧٣

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

915 مرزا ناصر احمد: جی۔

مولانا محمد ظفر احمد انصاری: اس کا مرزا بشیر الدین محمود صاحب نے بھی ذکر کیا ہے، (الفضل قادیان، ج٣ نمبر ٧٦، مورخہ یکم جنوری ١٩١٦ء) میں ہے۔......

مرزا ناصر احمد: یہ تو ”خطبہ الہامیہ“ کی بات ہو رہی تھی۔

(مرزا قادیانی نے نبی کریم ﷺ کو ہلال اور خود کو بدر کہا)

مولانا محمد ظفر احمد انصاری: اس کے متعلق، یعنی انہوں نے بھی اس کو کہا ہے کہ: ”آپ نے ہلال و بدر کی مثال سے یہ دقیق مسئلہ کمال خوبی کے ساتھ ہر کس و ناکس کے اچھی طرح ذہن نشین کر دیا کہ چودہویں کا چاند مسیح موعود ہی تو ہے۔ جو چاند رات کے وقت تھا، یعنی رسول کریم، پس اس کا پہلی حالت سے بڑھ چڑھ کر شاندار ہونا محلِ اعتراض کیوں کر ہو سکتا ہے۔“ باقی جو......

مرزا ناصر احمد: یہ تو چونکہ ہم نے کتاب نہیں دیکھی، اس کے متعلق تو میں کچھ نہیں کہہ سکتا ١؎۔

مولانا محمد ظفر احمد انصاری: جی ہاں، یہ میں نے وہ نوٹ کرا دیا۔

مرزا ناصر احمد: ہاں، بالکل۔ نہیں، ”الفضل“ میں ایک وقت میں انتظام ہی کوئی نہیں تھا کہ سارے وہ الفاظ صحیح لکھے جائیں...... ہاں، نہیں، یہ اصل ”خطبہ الہامیہ“ کتاب ہے۔ اس میں سے نہیں...... ہاں، وہ سنا دیں، بس ٢؎۔

(Pause)

Maulana Muhammad Zafar Ahmad Ansari: Yes, page 275.

(مولانا محمد ظفر احمد انصاری: جی صفحہ: ٢٧٥ ہے)

مرزا ناصر احمد: صفحہ: ٢٧٣ کہہ رہے تھے ٣؎

١؎ یہاں اس حوالہ پر عذر کر دیا کہ کتاب نہیں دیکھی، معلوم نہیں، کچھ نہیں کہہ سکتا۔

٢؎ اگلے سانس میں کہ الفضل نہیں، خطبہ الہامیہ میں دکھاؤ، باپ سے داد کے پاس چلا گیا، یہ چکر پہ چکر اس کو چکری کی چال کہتے ہیں۔

٣؎ اُف، توبہ، چکر پہ چکر چکری چوک ہو گیا؟

٥٣

صفحہ ٩٧٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

مولانا محمد ظفر احمد انصاری: ٢٧٥ دوسو پچھتر۔

916 مرزا ناصر احمد: ہاں۔

مولانا محمد ظفر احمد انصاری: (عربی)

وہ آگے بہت لمبا ہے یہ۔ لیکن......

جناب یحییٰ بختیار: ترجمہ سنا دیں۔

مولانا محمد ظفر احمد انصاری: ہاں۔ ”اور اسلام ہلال کی طرح شروع ہوا اور مقدر تھا کہ انجام کار آخر زمانہ میں بدر ہو جائے، خدا تعالیٰ کے حکم سے۔ پس خدا تعالیٰ کی حکمت نے چاہا کہ اسلام اس صدی میں بدر کی شکل اختیار کرے جو ثمار کی رو سے بدر کی طرح مشابہ ہو۔ پس ان ہی معنوں کی طرف اشارہ ہے خدا تعالیٰ کے اس قول میں: ’لقد نصرکم اللہ ببدر وأنتم أذلّة “ پس اس امر میں باریک نظر سے غور کر اور غافلوں سے نہ ہو۔

مرزا ناصر احمد: یہ جو ابھی حوالہ سنایا گیا ہے، اس میں اسلام کا ذکر ہے، نبی اکرم ﷺ یا بانی سلسلہ کا ذکر نہیں، اور جیسا کہ آپ کو معلوم ہے، نبی اکرم ﷺ کی مکی زندگی پہلے دن کے ہلال سے مشابہ تھی، جو بعض لوگوں کو نظر بھی نہیں آتا اور پھر تدریجاً اسلام ترقی کرتے ہوئے بدر کی شکل میں دنیا پر ظاہر ہوا اور اس کی ابتدا: (عربی)

قرآن کریم کی آیت ہے، اس میں ہے۔ لیکن یہاں ان دو فقروں کی بجائے میں پوری عبارت پڑھتا ہوں، اس سے پتہ لگے گا کہ یہاں کیا مضمون بیان ہوا ہے۔ ہم ٢٧٥ کی بجائے 917 ٢٧١ صفحہ پر آتے ہیں: (عربی)

حق یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی روحانیت: (عربی)

کہ دو (٢) بدر کی پیش گوئی اس کے اندر کی گئی ہے: (عربی)

ایک نبی اکرم ﷺ کی وہ بدری...... آپ ﷺ کا وہ بدری ظہور تھا، جو پہلے زمانہ سے تعلق رکھتا ہے: (عربی)

اور ایک آپ ﷺ کا وہ بدری ظہور ہے، جس کا تعلق آخری زمانہ کے ساتھ ہے۔ یہ روحانیت نبی اکرم ﷺ کی بات ہو رہی ہے: (عربی)

918 پھر آپ فرماتے ہیں: (عربی)

کہ اس آیت کے دو بطون ہیں: (عربی)

اور جس، اس میں: (عربی)

٥٤ عربی) (عربی)

Wait, I will just output the content directly and ensure no extra characters are left behind by my thought process. I will just provide the transcription as asked.

صفحہ ٩٧٥

975 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

جس نصرت کا ذکر ہے، وہ دو نصرتیں ہیں : (عربی) اور نبی اکرم ﷺ کے بدری ظہور کے متعلق جو کہا گیا ہے، وہ دو ظہور ہیں۔ آنحضرت ﷺ کے متعلق ہے، سارا یہ : (عربی) 919 جو انہوں نے پڑھا ہے، ایک وہ بدر ہے جس کا تعلق آج دیکھ رہے ہیں اس زمانہ میں ۔ وہ اس زمانہ کے ساتھ تھا جو گزر چکا اور ایک وہ بدر ہے جس کا تعلق آخری زمانہ کے ساتھ ہے اور وہ جو پہلا زمانہ تھا، اس میں یہ جو پورا بدر کا ایک ظہور ہے، وہ جنگ بدر کے ساتھ شروع ہوا ہے، اور پھر وہ آپ ﷺ کی زندگی میں، اور آپ کے بعد صحابہ کی زندگی میں وہ اپنے کمال کو پہنچا، اور اس وقت کی Known معروف دنیا میں اسلام طاقتور ہو گیا، سب سے بڑی طاقت بن گیا۔ کسریٰ اور قیصر کی دو طاقتیں، جو اس وقت مانی ہوئی تھیں، ان کو اس بدر کی روشنی نے چندھیا دیا : (عربی)

اسلام کی حالت ہلال کی تھی، جیسا کہ میں نے بتایا، مکی زندگی میں اسلام کی حالت ہلال کی تھی : (عربی)

اور یہ مقدر تھا کہ اسلام کی یہ جو ...... ہلال سے مشابہ تھی، وہ ترقی کرتے کرتے آخر ایک زمانہ میں پہنچے جس میں اسلام ساری دنیا پر غالب آئے اور وہ، جس طرح وہ چودہویں کا چاند جو ہے، پوری شان سے چمکتا ہے، اسی طرح حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کا بدری ظہور جو ہے، وہ اس زمانہ میں تمام دنیا کو منور کرنے والا ہو تو یہاں دو چیزیں ہیں۔ ایک ہے اسلام اور ایک ہے نبی اکرم ﷺ کی ذات پاک ۔ نبی پاک ﷺ کی ذات پاک کے متعلق یہاں یہ بتایا گیا ہے...... 920 [At this stage Mr. Chairman vacted the chair which was occupied by madam deputy speaker (Dr.Mrs. Ashraf Khatoon Abbasi)]

(اس موقعہ پر چیئرمین صاحب نے کرسی صدارت چھوڑ دی۔ ڈپٹی اسپیکر ڈاکٹر مسز اشرف عباسی نے کرسی صدارت سنبھال لی) کہ دو بدر، دو بدر بن کر آپ دنیا پر ظاہر ہوں گے، دو بدری ظہور ہوں گے، ایک کا تعلق پہلے زمانہ سے ہے اور ایک کا تعلق آخری زمانہ سے اور اسلام کے متعلق یہ بتایا کہ اسلام ہلال کی ہیئت میں پہلے شروع میں ہوگا۔ پھر ترقی کرتا چلا جائے گا، یہاں تک کہ آخری زمانہ میں وہ ساری دنیا پر غالب آئے گا، اور بدر کی حالت اسلام کی ہوگی۔ یہ دوسری مثال ہے، یعنی ایک آنحضرت ﷺ کی مثال ...... دو بدر ...... اور ایک اسلام کی مثال جس کی

٥٥

F PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

مولانا محمد ظفر احمد انصاری: 916 مرزا ناصر احمد : ہاں۔ مولانا محمد ظفر احمد انصاری: وہ آگے بہت لمبا ہے یہ۔ لیکن جناب یحییٰ بختیار : ترجمہ سنا مولانا محمد ظفر احمد انصاری: تھا کہ انجام کار آخری زمانہ میں بدر ہو جائے کہ اسلام اس صدی میں بدر کی شکل اختیار ہی معنوں کی طرف اشارہ ہے خدا تعالیٰ کے پس اس امر میں باریک نظر سے غور کر اور غا مرزا ناصر احمد : یہ جو ابھی حو یا بانی سلسلہ کا ذکر نہیں، اور جیسا کہ آپ کو م سے مشابہ تھی، جو بعض لوگوں کو نظر بھی نہیں میں دنیا پر ظاہر ہوا اور اس کی ابتدا : (عربی)

قرآن کریم کی آیت ہے، ا پوری عبارت پڑھتا ہوں، اس سے پتہ بجائے اُلٹے ٤ صفحہ پر آتے ہیں : (عربی) حق یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کہ دو (٢) بدر کی پیش گوئی اس ایک نبی اکرم ﷺ کی وہ بدر تعلق رکھتا ہے: (عربی)

اور ایک آپ ﷺ کا وہ بدر روحانیت نبی اکرم ﷺ کی بات ہو رہی۔ 918 پھر آپ فرماتے ہیں: (عر کہ اس آیت کے دو بطون ہیں اور جس، اس میں : (عربی)

صفحہ ٩٧٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

ابتدائی ہیئت ہلال کی، اور ترقی کرتے کرتے آخری زمانہ میں یہ مقدر ہے کہ وہ بدر بن جائے۔

جناب یحییٰ بختیار: آپ نے فرمایا، مرزا صاحب! کہ اس میں مرزا غلام احمد صاحب کی طرف کوئی اشارہ نہیں؟

مرزا ناصر احمد: نہیں، اس میں یہ میں نے نہیں کہا۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، تو وہ آپ Clarify (واضح) کردیں۔

مرزا ناصر احمد: ہاں، اس میں میں نے یہ کہا ہے کہ یہ بدر...... جو یہ دو بدروں کا ذکر ہے، آپ نے فرمایا: ”بدر...... بدر...... بدران“ دو بدر نہیں اور دونوں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ نہیں۔ پہلے بدر کا ظہور آپ ﷺ کی زندگی میں نہیں ہوا۔ جو بدر بن کر آپ ﷺ چمکے ہیں ناں، تو صحابہ کرام کی زندگیوں میں یہ بدرِ کامل بنا۔ آپ ﷺ کا بدری ظہور آپ کی زندگی میں نہیں بنا۔ آپ ﷺ کی زندگی کے وصال کے بعد...... جو ایک انتہائی صدمے والی بات تھی، اس وقت بھی، اب بھی ہم ہمارے لئے ہے...... کسریٰ اور قیصر، جو اس وقت سب سے بڑی طاقتیں تھیں، ان کو شکست دے کر، اور ان کی زیادہ اچھی تلواروں کو غیر مرئی تلواروں سے خدا تعالیٰ کے معجزہ نے تڑوا کے، وہاں یہ جو سختی کے ساتھ اسلام کے پھیلانے میں روک بن رہی تھیں، اس کو مٹا کر، نبی اکرم ﷺ اپنی روحانیت کے وجود میں، روحانی وجود میں...... اسی واسطے میں نے: (عربی) 921 سے شروع کیا تھا۔ نبی اکرم ﷺ اپنے روحانی وجود میں دنیا میں بدر کی شکل میں، صحابہ کی زندگیوں میں جو آپ ﷺ کے روحانی اثرات تھے، اس کے ذریعے سے وہ ظاہر ہوا ہے اور اسی طرح آپ ﷺ کی روحانیت جس طرح پہلے صحابہ کے دور میں، صحابہ کی زندگیوں میں، بدر بن کر چمکے، آپ نبی اکرم ﷺ، اس طرح آخری زمانہ میں نبی اکرم ﷺ بدر بن کے، مہدی اور اس کی جماعت...... یعنی یہ پیشین گوئی ہے۔ اختلاف ہیں ہزار لیکن ہم یہ ہمارا یہ عقیدہ ہے۔ کہ اسی طرح نبی اکرم ﷺ مہدی موعود اور ان کی جماعت کی زندگیوں اور ان کی Efforts (کاوشوں) اور قربانیوں میں بدر بن کر چمکیں گے، آنحضرت ﷺ چمکیں گے۔ اور اسی واسطے یہاں یہ ہے ذکر کہ نبی اکرم ﷺ بروزی طور پر مہدی کے ساتھ ہوں گے۔ تو اصل میں وہی دو (٢) بدر ہیں۔

١؎ گویا مرزا قادیانی کا آنا آنحضرت ﷺ کا آنا ہے، کیا کفر بک رہا ہے؟ وہی جو ساری زندگی مرزا قادیانی سکھلاتا رہا کہ میں محمد ہوں، آپ ﷺ سے افضل ہوں، وہی کفر آج مرزا ناصر اگلنے پر مجبور ہوگیا۔

٥٦

صفحہ ٩٧٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

ابتدائی ہیئت ہلال کی، اور ترقی کرتے کرتے آخری زمانہ میں یہ مقدر ہے کہ وہ بدر بن جائے۔

جناب یحییٰ بختیار: آپ نے فرمایا، مرزا صاحب! کہ اس میں مرزا غلام احمد صاحب کی طرف کوئی اشارہ نہیں؟

مرزا ناصر احمد: نہیں، اس میں یہ میں نے نہیں کہا۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، تو وہ آپ Clarify (واضح) کردیں۔

مرزا ناصر احمد: ہاں، اس میں میں نے یہ کہا ہے کہ یہ بدر...... جو یہ دو بدروں کا ذکر ہے، آپ نے فرمایا: ”بدر...... بدر...... بدران“ دو بدر ہیں اور دونوں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ نہیں۔ پہلے بدر کا ظہور آپ ﷺ کی زندگی میں نہیں ہوا۔ جو بدر بن کر آپ ﷺ چمکے ہیں ناں، تو صحابہ کرام کی زندگیوں میں یہ بدر کامل بنا۔ آپ ﷺ کے وصال کے بعد...... جو ایک انتہائی صدمے والی بات تھی، اس وقت بھی، اب بھی غم ہمارے لئے ہے...... کسریٰ اور قیصر، جو اس وقت سب سے بڑی طاقتیں تھیں، ان کو شکست دے کر، اور ان کی زیادہ اچھی تلواروں کو غیر مرئی تلواروں سے خدا تعالیٰ کے معجزہ نے تڑوا کے، وہاں یہ جو سختی کے ساتھ اسلام کے پھیلانے میں روک بن رہی تھیں، اس کو مٹا کر، نبی اکرم ﷺ اپنی روحانیت کے وجود میں، روحانی وجود میں...... اسی واسطے میں نے: (عربی) 921 سے شروع کیا تھا۔ نبی اکرم ﷺ اپنے روحانی وجود میں دنیا میں بدر کی شکل میں، صحابہؓ کی زندگیوں میں جو آپ ﷺ کے روحانی اثرات تھے، اس کے ذریعے سے وہ ظاہر ہوا ہے اور اسی طرح آپ ﷺ کی روحانیت جس طرح پہلے صحابہؓ کے دور میں، صحابہؓ کی زندگیوں میں، بدر بن کر چمکے، آپ نبی اکرم ﷺ، اس طرح آخری زمانہ میں نبی اکرم ﷺ بدر بن کے، مہدی اور اس کی جماعت...... یعنی یہ پیشین گوئی ہے۔ اختلاف ہیں ہزار لیکن ہم یہ ہمارا یہ عقیدہ ہے۔ کہ اسی طرح نبی اکرم ﷺ مہدی موعود اور ان کی جماعت کی زندگیوں اور ان کی Efforts (کاوشوں) اور قربانیوں میں بدر بن کر چمکیں گے، آنحضرت ﷺ چمکیں گے؎ اور اسی واسطے یہاں یہ ہے ذکر کہ نبی اکرم ﷺ بروزی طور پر مہدی کے ساتھ ہوں گے۔ تو اصل میں وہی دو (٢) بدر ہیں۔

؎1 گویا مرزا قادیانی کا آنا آنحضرت ﷺ کا آنا ہے، کیا کفر بک رہا ہے؟ وہی جو ساری زندگی مرزا قادیانی سکھلاتا رہا کہ میں محمد ہوں، آپ ﷺ سے افضل ہوں، وہی کفر آج مرزا ناصر اگلنے پر مجبور ہو گیا۔

٥٦

صفحہ ٩٧٧

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07 جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں اس واسطے کہتا ہوں کہ آپ کی تفسیر ہے۔ مرزا ناصر احمد : جی۔ جناب یحییٰ بختیار: وہ بجا۔ مگر مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کی جو تفسیر ہے، اسی بات پہ ہے، وہ آپ نوٹ کرلیں....... شاید یہ غلط حوالہ ہو یا نہ ہو مگر جو میرے پاس ہے یہاں...... مرزا ناصر احمد : جی، اس کا صفحہ لکھوا دیجئے، کیونکہ آگے پیچھے دیکھ کر پتہ لگتا ہے، جی۔ جناب یحییٰ بختیار: ”الفضل“ سے یہ ہے۔ مرزا ناصر احمد : ہاں ”الفضل“ کون سا؟ جناب یحییٰ بختیار: یکم جنوری ١٩١٦ء، ج٣، نمبر ٧٦۔ 922 مرزا ناصر احمد : یکم جنوری ١٩١٦ء، بس یہ کافی ہے۔ جناب یحییٰ بختیار: ”آپ نے ہلال و بدر کی مثال دی......“ مرزا ناصر احمد : ہاں، یہ میں نے وہ سن لیا، وہ نوٹ کرلیا۔ جناب یحییٰ بختیار: ”...... یہ دقیق مسئلہ تمام خوبی کے ساتھ ہر کس و ناکس نے اچھی طرح ذہن نشین کر لیا کہ چودہویں کا چاند مسیح موعود ہی تو ہے۔ جو چاند رات کے وقت تھا، یعنی رسول کریم ﷺ، پس آپ کی پہلی حالت سے بڑھ چڑھ کر شاندار ہونا محل اعتراض کیوں کر ہو سکتا ہے۔......محل اعتراض کیوں کر ہو سکتا ہے۔“ مرزا ناصر احمد : ہاں، یہ چیک کرنے والا ہے۔ جناب یحییٰ بختیار: یہ آپ چیک کرلیجئے۔ مرزا ناصر احمد : ہاں۔ جناب یحییٰ بختیار: یہ بالکل مختلف Interpretation (تصریح) ہے جو آپ کر رہے ہیں اس سے۔ مرزا ناصر احمد : ہاں، یہ چیک کرنے والا ہے۔ جناب یحییٰ بختیار: یہ آپ چیک کرلیجئے۔ مرزا ناصر احمد : ہاں۔ جناب یحییٰ بختیار: یہ بالکل مختلف Interpretation (تصریح) ہے جو آپ کر رہے ہیں اس سے۔ ٥٧

BLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07 ابتدائی ہیئت ہلال کی، اور ترقی کرتے کرتے آخری جناب یحییٰ بختیار: آپ نے فرما صاحب کی طرف کوئی اشارہ نہیں؟ مرزا ناصر احمد : نہیں، اس میں یہ میں جناب یحییٰ بختیار: نہیں، تو وہ آپ مرزا ناصر احمد : ہاں، اس میں میں ہے، آپ نے فرمایا: ”بدر......بدر......بدران“ نہیں۔ پہلے بدر کا ظہور آپ ﷺ کی زندگی میں تھا صحابہ کرامؓ کی زندگیوں میں یہ بدرِ کامل بنا۔ آپ آپ ﷺ کی زندگی کے وصال کے بعد......جو ا اب بھی ہم ہمارے لئے ہے......کسریٰ اور قیصر شکست دے کر، اور ان کی زیادہ اچھی تلواروں کو کے، وہاں یہ جو سختی کے ساتھ اسلام کے پھیلا اکرم ﷺ اپنی روحانیت کے وجود میں، روحانی وج 921 سے شروع کیا تھا۔ نبی اکرم ﷺ صحابہؓ کی زندگیوں میں جو آپ ﷺ کے روحانی اور اسی طرح آپ ﷺ کی روحانیت جس طرح بن کر چمکے، آپ نبی اکرم ﷺ، اس طرح آخری اس کی جماعت......یعنی یہ پیشین گوئی ہے۔ اختلا طرح نبی اکرم ﷺ مہدی موعود اور ان کی (کاوشوں) اور قربانیوں میں بدر بن کر چمکیں یہاں یہ ہے ذکر کہ نبی اکرم ﷺ بروزی طور پر مہد بدر ہیں۔

١؎ گویا مرزا قادیانی کا آنا آنحضرت ساری زندگی مرزا قادیانی سکھلاتا رہا کہ میں محم مرزا ناصر اگلنے پر مجبور ہو گیا۔ M

صفحہ ٩٧٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں،۔ نہیں، میں ، میں نے Interpretation (تصریح) کی نسبت قریباً ترجمہ میں نے کیا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، یعنی اس کے ساتھ ہمیں کچھ تفصیل لکھ دی کہ اس کا مطلب یہ ہے۔

مرزا ناصر احمد: ہاں، اور میں نے جو ابھی اس کا ترجمہ کیا۔

جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! میں ...... اسی سلسلہ میں آپ مزید وضاحت کریں گے......

مرزا ناصر احمد: جی۔

(چودھویں کا چاند، کیا مرزا صاحب کا زمانہ آخری زمانہ تھا؟)

جناب یحییٰ 923 بختیار: کہ ”یہ ایک چودہویں کا چاند آخری زمانہ میں ہوا“ کیا یہ مرزا صاحب کا زمانہ آخری زمانہ تھا یا اس کے بعد کوئی اور زمانہ بھی آ رہا ہے؟ تو اس پر آپ کچھ Clarify (واضح) کریں۔

مرزا ناصر احمد: جی۔

(مرزا صاحب کے زمانہ میں کتنا اسلام پھیلا؟)

جناب یحییٰ بختیار: دوسری یہ کہ آپ کہتے ہیں کہ ”چودہویں کا چاند بنا۔“ ہندوستان میں مسلمانوں کی حکومت ختم ہو گئی، انگریز آ کے بیٹھ گیا، مڈل ایسٹ میں مسلمانوں کی حکومتیں ختم ہو گئیں، آپ کہتے ہیں کہ ”یہ پورا بدر بن گئے“ اس کو بھی ذرا آپ Explain (واضح) کر دیں کہ کتنا اسلام مرزا صاحب کے زمانہ میں پھیلا۔

مرزا ناصر احمد: یہ جو پہلا ہی بدر بنا ناں، پہلا بدر، اس کی وسعت بھی تین صدیوں پر ہے، جیسا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ ”سب سے اچھی صدی میری پہلی صدی، اس کے بعد دوسری صدی، اس کے بعد تیسری صدی، اور اس کے بعد بادشاہت ہو جائے گی اور اسلام کی جو شان و شوکت روحانی ہے، اس میں فرق پڑ جائے گا۔“ تو جس طرح وہاں تین (٣) صدیوں میں، محمد ﷺ کا پہلا بدری ظہور تین (٣) صدیوں میں پھیل کر ہوا، اسی طرح تین صدیوں میں پھیل کر اس زمانے میں، جس کو پہلوں نے بھی آخری زمانہ کہا ہے، یہ ظہور ہوگا۔ ابتدائی جو اس کے دور ہیں؛ اس کی وجہ سے ہمیں کسی غلط فہمی میں مبتلا نہیں ہونا چاہئے۔

٥٨

صفحہ ٩٧٩

979 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، تین (٣) سو سال اگر آخری زمانہ ہے تو ٹھیک ہے۔

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں۔

جناب یحییٰ بختیار: ٹھیک۔

مرزا ناصر احمد: اور اس میں جو بنیادی......

جناب یحییٰ بختیار: یہ مجدد یہاں وہ ایک صدی کے لئے آتے ہیں؟ آپ نے یہ بھی کہا کہ ”چودہویں صدی میں یہ آئے“۔

(مرزا قادیانی صرف مجدد نہیں)

924 مرزا ناصر احمد: نہیں، ہم، ہم مجدد نہیں صرف مانتے۔

جناب یحییٰ بختیار: میں کہہ رہا ہوں کہ آپ نے کہا تھا کہ ”ہر ایک صدی میں......“

مرزا ناصر احمد: ہر ایک صدی میں پہلے آتے رہے ہیں۔ اس سلسلہ کے آخری مجدد مہدی موعود ہیں، جیسا کہ ہماری کتب میں ہے......

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، تو یہ ان کا جو ہے، ان کا اثر......

مرزا ناصر احمد: ان کا زمانہ صدی نہیں ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: صدی تک نہیں ہے؟

مرزا ناصر احمد: نہیں......

جناب یحییٰ بختیار: یہ ہمیں شک یہ ہے......

مرزا ناصر احمد: بلکہ جیسا کہ میں نے ...... وہ اگر کہیں تو میں حوالے آپ کو دے دوں یہاں۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں صرف......

مرزا ناصر احمد: پہلے تو نہیں...... پہلے سلف صالحین نے یہ کہا ہے کہ ”مہدی کا نور قیامت تک ممتد ہوگا“۔

جناب یحییٰ بختیار: مطلب یہ......

مرزا ناصر احمد: یہ پہلوں نے کہا ہے۔

٥٩

BLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں۔، نہیں، (تصریح) کی نسبت قریباً ترجمہ میں نے کیا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، یعنی اس مطلب یہ ہے۔

مرزا ناصر احمد: ہاں، اور میں نے جا

جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! کریں گے۔......

مرزا ناصر احمد: جی۔

(چودھویں کا چاند، کیا مرزا صا

923 جناب یحییٰ بختیار: کہ ”یہ ایک مرزا صاحب کا زمانہ آخری زمانہ تھا یا اس کے بعد Clarify (واضح) کریں۔

مرزا ناصر احمد: جی۔

(مرزا صاحب کے زمانہ

جناب یحییٰ بختیار: دوسری یہ کہ آپ میں مسلمانوں کی حکومت ختم ہو گئی، انگریز آ ہوگئیں، آپ کہتے ہیں کہ ”یہ پورا بدر بن گئے“ کر دیں کہ کتنا اسلام مرزا صاحب کے زمانہ میں پھ

مرزا ناصر احمد: یہ جو پہلا ہی بدر بناتا ہے، جیسا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ ”سب س دوسری صدی، اس کے بعد تیسری صدی، اور اس شان وشوکت روحانی ہے، اس میں فرق پڑ جائے گ محمد ﷺ کا پہلا بدری ظہور تین (٣) صدیوں میں ہ اس زمانے میں، جس کو پہلوں نے بھی آخری زما ہیں، اس کی وجہ سے ہمیں کسی غلط فہمی میں مبتلا نہیں ہ

٥٨

صفحہ ٩٨٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

جناب یحییٰ بختیار: پھر تو تین (٣) سال ١؎ (سو) کی بھی بندش نہیں جی۔

مرزا ناصر احمد: نہیں، تین (٣) سال (سو) کی بندش ہے...... الہامی...... خدا تعالیٰ نے یہ بشارت دی ہے کہ اس ...... ان تین صدیوں کے مقابلہ میں ان تین صدیوں میں اسلام ساری دنیا میں غالب آجائے گا اور یہ بشارت میں پورے وثوق کے ساتھ یہاں بیان کر رہا ہوں اور زمین و آسمان اپنی جگہ سے ٹل سکتے ہیں، مگر یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ تین صدیوں کے اندر اندر اسلام ساری دنیا پر غالب نہ آجائے، اشتراکی، روس سمیت اور سوشلسٹ چائنا سمیت، اور کیپٹلسٹ اور دھریہ امریکہ سمیت، ساری دنیا پر اسلام کا غلبہ مقدر ہے، ہمارے ایمان کے مطابق۔

جناب یحییٰ بختیار: ایمان کے مطابق۔

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہمارے ایمان کے مطابق۔ بنیادی طور اس قسم کے جو اقتباسات ہیں، ان کے سمجھنے کے لئے یہ بانی سلسلہ کا یہ حوالہ، ایک حوالہ ہے کیونکہ میں نے صبح، مجھے بڑا افسوس ہے کہ میں واضح نہیں کر سکا ...... نبی اکرم ﷺ کی بعثت سے لے کر قیامت تک اصل زمانہ ہمارے خاتم الانبیاء محمد مصطفیٰ ﷺ کا ہے۔ یہ بنیادی حقیقت ہے امت محمدیہ کی، لیکن جو ہمارا یہ محاورہ ہے، اور ہماری ساری کتابیں، تاریخ کی بھی اور احادیث کی بھی، بھری ہوئی ہیں اس محاورہ سے کہ ہم کہتے ہیں کہ ”خلافت راشدہ کا زمانہ۔“ ہم کہتے ہیں: ”حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا زمانہ“ وغیرہ، وغیرہ، ہم کہتے ہیں کہ ”بنو امیہ کا زمانہ۔“ ہم لکھتے ہیں اپنی کتابوں میں ”بنو عباس کا زمانہ“۔ ہم یہاں ہندوستان کے متعلق، مختلف جو خاندان حکومت کرتے رہے ہیں، ان کا زمانہ، مسلمان ہم لکھتے ہیں، تیمور، جو اپنے وقت کے مجدد کہلاتے تھے، ان کا زمانہ ......

جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! ......

مرزا ناصر احمد: تو اصل زمانہ محمد ﷺ ......

جناب یحییٰ بختیار: معاف کیجئے، یہی تین جو صبح سے آپ سے پوچھ رہا تھا کہ آپ نے کہا: ”آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں اسلام پہلی کا چاند، اور مرزا صاحب کے زمانے میں اسلام چودہویں کا چاند“ ......

١؎ دوسرے قول میں تین سو سال۔ صرف مرزا ناصر نہیں، جو بھی جھوٹ کو سچ ثابت کرنا چاہے گا اس کا یہی حال ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ہر شخص کو جھوٹ کی لعنت سے بچائے۔ آمین!

٦٠

صفحہ ٩٨١

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

(مرزا ناصر نے معافی مانگ لی)

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں۔......

جناب یحییٰ بختیار: یہی میں پوچھ رہا تھا۔ آپ کہتے ہیں ”اس زمانے سے مطلب نہیں“......

926 مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں......

جناب یحییٰ بختیار: ویسے تو یزید کے زمانے میں بھی اسلام پھیلتا رہا، ہمیں اس سے کوئی تعلق نہیں۔

مرزا ناصر احمد: ہاں، نہیں، اصل زمانہ محمد ﷺ کا ہے۔ صحیح اگر میں نے اپنی...... وضاحت نہیں کر سکا تو میں معافی مانگتا ہوں۔ تو اصل زمانہ بعثت نبوی ﷺ سے قیامت تک محمد ﷺ کا زمانہ ہے۔ لیکن جو بیچ میں مختلف آپ کے روحانی فرزند، مجدد دین وغیرہ آئے۔ ہمارا وہ محاورہ ہے۔ کوئی چیز ان کی طرف نہیں جاتی۔ جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ہے: ”میری تمام تر خوشی اسی میں ہے اور میری بعثت کی اصل غرض یہی ہے کہ خدا تعالیٰ کی توحید اور رسول کریم ﷺ کی عزت دنیا میں قائم ہو۔ میں یقیناً جانتا ہوں کہ میری نسبت جس قدر تعریفی کلمات پہلی پیشین گوئیوں میں اور تمجیدی باتیں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائی ہیں، یہ بھی درحقیقت آنحضرت ﷺ ہی کی طرف راجع ہیں، اس لئے کہ میں آپ ہی کا غلام ہوں اور آپ ہی کے مشکوٰۃِ نبوت سے نور حاصل کرنے والا ہوں اور مستقل طور پر ہمارا کچھ نہیں۔“

اصلی وہی ہے جو چل رہا ہے اور غلبۂ دین کے متعلق مہدی اور مسیح موعود کے وقت کے متعلق سارے پہلوں نے یہ لکھا ہے، تفسیر میں بھی اور دوسری ہماری جو مذہبی کتب ہیں ان میں، جو قرآن کریم میں آیا ہے: (عربی)

927 تو اس کے معنی ہیں: (عربی)

کہ مسیح اور مہدی کے آنے کا زمانہ ہے: (عربی)

سارے ادیان جو ہیں، اسلام کے ہو جائیں گے تابع...... یہ جو ”تفسیر ابن جریر“ ہے، اور ص ٧٢، تفسیر سورۂ صف، یہ ہے ”تفسیر حسینی“......

جناب یحییٰ بختیار: اس کی مرزا صاحب! ضرورت ہے اس پوائنٹ کی!

مرزا ناصر احمد: اگر آپ کہتے ہیں تو ٹھیک ہے۔

٦١

BLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

جناب یحییٰ بختیار: پھر تو تین (٣)...

مرزا ناصر احمد: نہیں، تین (٣) سال... نے یہ بشارت دی ہے کہ اس...... ان تین صدیوں... دنیا میں غالب آ جائے گا اور یہ بشارت میں پورے... و آسمان اپنی جگہ سے ٹل سکتے ہیں، مگر یہ ہو ہی نہیں س... پر غالب نہ آ جائے، اشتراکی، روس سمیت اور سوش... سمیت، ساری دنیا پر اسلام کا غلبہ مقدر ہے، ہمارے...

جناب یحییٰ بختیار: ایمان کے مطا...

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہمارے ای... اقتباسات ہیں، ان کے سمجھنے کے لئے یہ بانی سل... مجھے بڑا افسوس ہے کہ میں واضح نہیں کر سکا...... ا... اصل زمانہ ہمارے خاتم الانبیاء محمد مصطفیٰ ﷺ کا ہ... ہمارا یہ محاورہ ہے، اور ہماری ساری کتابیں، تار... محاورہ سے کہ ہم کہتے ہیں کہ ”خلافت راشدہ کا زم... عنہ کا زمانہ“ وغیرہ، وغیرہ، ہم کہتے ہیں کہ ”بن... ”بنو عباس کا زمانہ“۔ ہم یہاں ہندوستان کے مت... ان کا زمانہ، مسلمان ہم لکھتے ہیں، تیمور، جو اپنے ط...

جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب...

مرزا ناصر احمد: تو اصل زمانہ محمد ﷺ...

جناب یحییٰ بختیار: معاف کیجئے... نے کہا: ”آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں اسلام ک... چودہویں کا چاند“......

١؎ دوسرے قول میں تین سو سال۔... چاہے گا اس کا یہی حال ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ہر شخص کو ا...

صفحہ ٩٨٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، نہیں، نہیں، اگر آپ ضروری سمجھتے ہیں تو بے شک آپ پڑھ لیجئے، مگر میں کہتا ہوں کہ فائل کر لیجئے آپ۔

مرزا ناصر احمد: ہاں، میں...... اس میں صرف یہ پوائنٹ ہے...... میں ایک فقرے میں کہہ دیتا ہوں کہ سلف صالحین نے بھی مہدی کے زمانہ کو آخری زمانہ قرار دیا، اور قرآن کریم کی اس آیت کو: (عربی)

928 جناب یحییٰ بختیار: نہیں، جی، وہ تو سب کا ایمان ہے کہ مہدی صاحب کا زمانہ آخری ہوگا......

مرزا ناصر احمد: ہاں۔

جناب یحییٰ بختیار: لیکن فرق صرف یہ ہے......

مرزا ناصر احمد: لیکن فرق صرف یہ ہے کہ آیا......

جناب یحییٰ بختیار: کہ آنحضرت ﷺ کا زمانہ آخر میں ہوا۔

مرزا ناصر احمد: ہاں، لیکن وہ زمانے سارے آنحضرت ﷺ کے ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں۔

مرزا ناصر احمد: ہاں۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، وہ تو Dispute (متنازعہ) نہیں ہے۔

مرزا ناصر احمد: پھر میں داخل کرادوں کہ صاف ہے؟ (اپنے وفد کے ایک رکن سے) اس کو صاف کرادو، کیونکہ میں نے دیکھا ہے کہ صاف نہیں ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، بعد میں کروادیں۔

مرزا ناصر احمد: اس میں ایک یہ ذیلی بات ہے، کل آپ نے فرمایا تھا کہ ١٩٣٩ء میں کوئی دعویٰ ہوا تھا یا نہیں، حملہ ہو رہا تھا یا نہیں، تو میں نے یہ بتایا تھا کہ یہ وہاں خود اس مضمون میں لکھا ہوا ہے کہ چودہ سو سال سے غیر مسلم اسلام پر حملہ کر رہے ہیں۔ اچھا جی، ١٨٥٠ء کے بعد کی، یعنی انیسویں صدی نصف آخر کی بعض کتابوں کے حوالے میں فوٹوسٹیٹ لے آیا ہوں۔ یہ حضرت علامہ ہمارے بڑے بزرگ سمجھے جاتے تھے، عیسائی ہونے سے پہلے، عمادالدین صاحب، یہ آگرہ کے تھے، نہیں، نہیں (اپنے وفد کے ایک رکن سے) کس مسجد کے؟ جامع مسجد کے؟ (اٹارنی جنرل سے) جامع مسجد آگرہ کے خطیب تھے اور وہ بعد میں عیسائی ہوگیا۔ انہوں نے اپنے اس بیان میں سو سے زیادہ ان علماء کے نام لکھے ہیں جنہوں نے عیسائیت کو قبول کیا اور مرتد بنے۔

٦٢

صفحہ ٩٨٣

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07 929 جناب یحییٰ بختیار: ١٩٣٩ء کی میں بات کر رہا ہوں۔ میں نے کہا ایسا کوئی Incident (واقعہ) ہو جو جہاں تک میرا خیال ہے- I may be wrong Mirza Sahib (ہو سکتا ہے میں غلطی پر ہوں) میں پوزیشن کو Clarify (واضح) کرنا چاہتا ہوں کہ زمانہ میں جب یہ مرزا صاحب نے خطبہ دیا ہے، ممکن ہے کسی مولویوں کی جماعت نے ، علماء کی جماعت نے، جماعت اسلامی نے، کسی نے کوئی بات کی ہو۔ اس کے جواب میں یہ کہہ رہے ہوں...... مرزا ناصر احمد: نہیں، یہ نہیں بات۔ جناب یحییٰ بختیار: کیونکہ یہ، یہ Clarify کرانا چاہتا ہوں...... مرزا ناصر احمد: ہاں۔ یہ بات اس لئے نہیں...... جناب یحییٰ بختیار: ......کیونکہ میرے خیال میں پاکستان میں عیسائی نہیں تھے، آریہ سماجی نہیں تھے۔ مرزا ناصر احمد: عیسائی تو اب بھی ہو رہے ہیں۔ جناب یحییٰ بختیار: نہیں، یعنی وہ حملے کرنے کے لئے۔ مرزا ناصر احمد: نہیں، میں تو ویسے بات کرتا ہوں۔ جماعت احمدیہ کا خلیفہ صرف پاکستان کی جماعت سے تعلق نہیں رکھتا...... جناب یحییٰ بختیار: نہیں نہیں، وہ ٹھیک ہے۔ مرزا ناصر احمد: اور اگر دنیا میں کسی جگہ، مثلاً امریکہ میں، مثلاً نائیجیریا میں، مثلاً گھانا گیمبیا وغیرہ میں، کسی جگہ حملہ ہو تو وہ اپنے خطبوں میں ان کے متعلق کہے گا اور ساری جماعت کو بتائے گا۔ جناب یحییٰ بختیار: نہیں، تو اس خطبے سے پتہ چل جائے کہ عیسائی ان کا شکار ہو رہے ہیں اور عیسائی ان سے ناراض ہیں......ٹھیک ہے؟ 930 مرزا ناصر احمد: عیسائیوں سے بڑی سخت جنگ آج بھی ہو رہی ہے ہماری، ویسٹ افریقہ میں۔ جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی، عیسائیوں سے تو آپ ہمیشہ جنگ کرتے رہے ہیں، میں اس کی بات نہیں کرتا۔ میں کہہ رہا ہوں کہ ١٩٣٩ء میں جو ہے...... ٦٣

L ASSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07 جناب یحییٰ بختیار: ہاں، نہیں، نہیں، اگر آپ پڑھ لیجئے ۔مگر میں کہتا ہوں کہ فائل کر لیجئے آپ۔ مرزا ناصر احمد: ہاں، میں...... اس میں صرف میں کہہ دیتا ہوں کہ سلف صالحین نے بھی مہدی کے زمانہ کو آخ اس آیت کو : (عربی) 928 جناب یحییٰ بختیار: نہیں، جی، وہ تو سب کا آخری ہوگا...... مرزا ناصر احمد: ہاں۔ جناب یحییٰ بختیار: لیکن فرق صرف یہ ہے...... مرزا ناصر احمد: لیکن فرق صرف یہ ہے کہ آیا... جناب یحییٰ بختیار: کہ آنحضرت ﷺ کا زمانہ مرزا ناصر احمد: ہاں، لیکن وہ زمانے سارے آ جناب یحییٰ بختیار: ہاں۔ مرزا ناصر احمد: ہاں۔ جناب یحییٰ بختیار: ہاں، وہ تو Dispute ( مرزا ناصر احمد: پھر میں داخل کرا دوں کہ صاف سے) اس کو صاف کرا دو، کیونکہ میں نے دیکھا ہے کہ صاف نہی جناب یحییٰ بختیار: ہاں، بعد میں کروا دیں۔ مرزا ناصر احمد: اس میں ایک یہ ذیلی بات ہے ک کوئی ہوا تھا یا نہیں، حملہ ہو رہا تھا یا نہیں، تو میں نے یہ بتایا تھا ہے کہ چودہ سو سال سے غیر مسلم اسلام پر حملہ کر رہے ہیں انیسویں صدی نصف آخر کی بعض کتابوں کے حوالے میں علامہ ہمارے بڑے بزرگ سمجھتے جاتے تھے، عیسائی ہونے کے تھے۔ نہیں، نہیں (اپنے وفد کے ایک رکن سے) جامع مسجد آگرہ کے خطیب تھے اور وہ بعد میں عیسائی ہو گئے۔ سو سے زیادہ ان علماء کے نام لکھے ہیں جنہوں نے عیسائیت کو ٦٢

صفحہ ٩٨٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

مرزا ناصر احمد : ١٩٤٩ء میں بھی جنگ تھی ، ابھی ختم تو نہیں ہوئی۔

جناب یحییٰ بختیار : میں، میں پاکستان میں پوچھ رہا تھا، آپ کہتے ہیں باہر ہے۔

مرزا ناصر احمد : ہاں، ہاں، میں ...... یہ خطبہ تو ساری دنیا سے تعلق رکھتا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار : ٹھیک ہے، ٹھیک ہے جی اور کوئی جواب ہے، مرزا صاحب؟

مرزا ناصر احمد : ہاں، اور ہے، ابھی تو بہت سے رہتے ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار : یہاں ایک کمیٹی کے ممبر کہہ رہے ہیں مجھے کہ ابھی آپ جلدی ختم کریں، ایک دن میں۔ تو میرے لئے مشکل یہ ہے۔ پھر انہوں نے ساتھ Debate (بحث) بھی کرنی ہوگی اس پر۔ پھر لاہوری گروپ آنا ہے۔ تو اس لئے میں آپ سے بار بار کہہ رہا ہوں کہ آپ ذرا مختصر کر سکیں اس پر ......

مرزا ناصر احمد : نہیں، یعنی اگر آپ آج ختم کرنا چاہتے ہیں تو میری طرف سے ......

جناب یحییٰ بختیار : میرے بس کی بات نہیں ہے ......

مرزا ناصر احمد : جی۔

جناب یحییٰ بختیار : میرے بس کی بات نہیں ہے ......

مرزا ناصر احمد : جی۔

جناب یحییٰ بختیار : نہ میں چاہتا ہوں کہ میرے جو سوالات ہیں، مجھ سے پوچھے گئے ہیں ......

مرزا ناصر احمد : جی، جی۔

931 جناب یحییٰ بختیار : تاکہ میں آپ سے پوچھوں ...... میں آپ سے Request (درخواست) کر رہا ہوں۔

مرزا ناصر احمد : جو، جو پہلے پوچھے جاچکے ہیں ......

جناب یحییٰ بختیار : ہاں جی۔

مرزا ناصر احمد : میرا خیال تھا کہ وہ پہلے ختم ہو جائیں۔

جناب یحییٰ بختیار : ہاں جی، جتنے Brief کرسکیں آپ ......

مرزا ناصر احمد : ہاں، ہاں، میں انشاء اللہ ......

جناب یحییٰ بختیار : ہاں، یہ ...... تاکہ کوئی چیز رہ نہ جائے بیچ میں ایسی وہ ......

٦٤

صفحہ ٩٨٥

985 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

مرزا ناصر احمد: جی، جی۔ (Pause) یہ ایک سوال کی بنیاد رکھی گئی تھی ”نہج المصلی“ حضرت خلیفہ ثانی کی کتاب کے اوپر: کہ ”فرق آپ کرتے ہیں دوسرے کے ساتھ“ یعنی اپنی علیحدگی پسند طبیعت ہے، تو وہاں فقرہ یہ ہے: ”دنیا کے معاملات میں ہم دوسروں کے ساتھ ایک ہیں۔ لیکن دین کے معاملہ میں فرق ہے۔“ تو وہ تو فرقے فرقے کا فرق ہے۔ یہ ہے حوالہ۔ تو اس پر کوئی اعتراض والی بات مجھے نظر نہیں آئی۔ اس کے بعد ایک ہے ”الفضل“ ١٣؍جنوری ١٩٤٤ء اس میں ہمیں کوئی قابل اعتراض بات نہیں ملی۔

(دین کے معاملہ میں باقی مسلمانوں سے مختلف ہیں)

جناب یحییٰ بختیار: یہ ایک آپ کو جو اس میں کوئی نظر نہیں آیا: ”دین کے معاملے میں تو آپ باقی مسلمانوں سے مختلف ہیں“ آپ کہتے ہیں۔ ”دنیا کے معاملے میں ہندو، پارسی جیسے ہیں، ویسے مسلمان ہوئے؟ مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، دین کے معاملہ میں، اسلام کے اندر رہتے ہوئے، جو بہتر (٧٢) تہتر (٧٣) فرقے ہیں، ان کا جو آپس کا اختلاف ہے، اسی طرح کا اختلاف ہمارا دوسروں کے ساتھ ہے۔ اسلام کے اندر رہتے ہوئے۔ یہ ایک سوال تھا ”مکتوبات احمدیہ“ صفحہ: ٢٤ کا جو کہا گیا تھا کہ وہاں ایسی ہی کوئی 932 عبارت ہے۔ ہمیں ایسا کوئی حوالہ نہیں ملا۔ جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! ”البدر“ تو آپ نے سارے ١٩٠٦ء سے دیکھے اور بڑے ذوق سے کہا کہ کسی جگہ اس کی Interpretation (تشریح) نہیں مل رہی۔ اس واسطے میں آپ سے گزارش کروں گا، جب آپ انکار کر دیتے ہیں تو اس سے اگر بعد میں کوئی چیز مل گئی تو بڑا بُرا Inference (قیاس) ہوتا ہے...... مرزا ناصر احمد: میں یہ یہاں...... جناب یحییٰ بختیار: چونکہ یہ تو ہم آپ سے Witness (گواہ) والی بات نہیں کر رہے......

١؎ (مکتوبات احمدیہ ج ٣، نمبر ٢ ص ٢٤، ٢٣) ”مسیح کا چال چلن کیا تھا، ایک کھاؤ پیو، شرابی، نہ عابد، نہ زاہد، نہ حق کا پرستار، متکبر، خود بیں، خدائی کا دعویٰ کرنے والا۔“

٦٥

MBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

مرزا ناصر احمد: ١٩٤٩ء میں بھی جنگ جناب یحییٰ بختیار: میں، میں پاکستان مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، میں...... جناب یحییٰ بختیار: ٹھیک ہے، ٹھیک مرزا ناصر احمد: ہاں، اور ہے۔ ابھی تو جناب یحییٰ بختیار: یہاں ایک کمیٹی ب کریں، ایک دن میں۔ تو میرے لئے مشکل یہ ہے بھی کرنی ہو گی اس پر۔ پھر لاہوری گروپ آنا ہے۔ آپ ذرا مختصر کر سکیں اس پر...... مرزا ناصر احمد: نہیں، یعنی اگر آپ آ جناب یحییٰ بختیار: میرے بس کی با مرزا ناصر احمد: جی۔ جناب یحییٰ بختیار: میرے بس کی با مرزا ناصر احمد: جی۔ جناب یحییٰ بختیار: نہ میں چا پوچھے گئے ہیں...... مرزا ناصر احمد: جی، جی۔ 931 جناب یحییٰ بختیار: تاکہ میں آ (درخواست) کر رہا ہوں۔ مرزا ناصر احمد: جو، جو پہلے پوچھے جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی۔ مرزا ناصر احمد: میرا خیال تھا کہ وہ جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی، جتنے مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، میں اغا جناب یحییٰ بختیار: ہاں، یہ......

صفحہ ٩٨٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

مرزا ناصر احمد : جی۔

Mr. Yahya Bakhtiar: You are holding very important position.

(جناب یحییٰ بختیار: آپ ایک نہایت ہی اہم منصب پر فائز ہیں)

مرزا ناصر احمد : تو میں اس کا جواب دوں؟

جناب یحییٰ بختیار : ہاں جی، تو میں اس واسطے کہہ رہا ہوں......

مرزا ناصر احمد : جی۔

جناب یحییٰ بختیار : ...... آپ، آپ کہہ رہے ہیں جی کہ ”ہمیں اس صفحہ پر نہیں مل رہا، فلاں جگہ پر نہیں ملا۔“ اگر آپ کے علم میں نہیں ہے تو بالکل ٹھیک ہے، ہاں، ہم Accept (قبول) کررہے ہیں آپ کا لفظ ۔

مرزا ناصر احمد : نہیں، میں جب یہ کہتا ہوں...... ایک جگہ میں نے خود کہا تھا کہ اس جگہ نہیں ہے، فلاں جگہ ہے......

جناب یحییٰ بختیار : نہ، یہی...... ہماری توقع یہ ہے کہ جو آپ کہیں گے ”نہیں ہے“ تو نہیں ہے......

مرزا ناصر احمد : ہاں، جو ہمیں ملے گا۔

٩٣٣ جناب یحییٰ بختیار : مگر اس کا جو Inference (قیاس) ہوگا کہ اگر تھا...... یہ Presume (فرض) کیا جاتا ہے کہ احمدیت کے بارے میں جتنی بھی Important (اہم) چیزیں ہیں وہ آپ کے علم میں ضرور ہوں گی۔

مرزا ناصر احمد : یہ Inference (قیاس) جو ہے، میرے نزدیک درست نہیں، اس لئے کہ میرا یہ دعویٰ نہیں کہ وہ لاکھوں صفحوں کی کتب جو...... جس کا...... جس کی اشاعت قریباً ٩٠ سال پر پھیلی ہوئی ہے، میں اس کا حافظ ہوں، اور ہر حوالہ مجھے یاد ہے......

جناب یحییٰ بختیار : نہیں، میں آپ کو چھوٹی سی مثال دیتا ہوں......

مرزا ناصر احمد : لیکن میں...... میری ابھی بات ختم نہیں ہوئی...... لیکن جب میں کہتا ہوں کہ ”میرے علم میں نہیں ہے“ تو آپ کو یقین رکھنا چاہئے کہ میرے علم میں نہیں ہے۔

٦٦

صفحہ ٩٨٧

987 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

(مرزا ناصر حوالہ دینے میں دیانت......)

جناب یحییٰ بختیار: مجھے یقین ہے۔ مگر ایک دو دفعہ ایسی باتیں ہوئی ہیں جس سے اسمبلی کے ممبران کو یہ شک ہوتا ہے کہ جو جواب آپ کے حق میں ہوتا ہے، اس کے حوالے آپ ضرور لے آتے ہیں، پورا جواب دیتے ہیں۔ جو جواب آپ کے حق میں نہیں ہوتا، آپ ان کو ٹالتے ہیں۔ معاف کیجئے، میں اس واسطے کہہ رہا ہوں کہ میں نے آپ سے ایک سوال پوچھا کہ ”کیا، یہ مرزا بشیر الدین محمود صاحب نے یہ بات کہی یا مرزا غلام احمد صاحب نے یہ بات کہی؟“ آپ نے کہا: ”نہ میں تردید کرتا ہوں اور نہ میں تائید کرتا ہوں“......

مرزا ناصر احمد: جی۔

جناب یحییٰ بختیار: ...... پھر میں نے آپ کو حوالہ پڑھ کے......

مرزا ناصر احمد: میں نے کہا: ”جب تک میں نہ دیکھ لوں۔“

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں، ہاں، میں......

مرزا ناصر احمد: ٹھیک۔

934 جناب یحییٰ بختیار: پھر میں نے کہا: ”مرزا صاحب! یہ ہے حوالہ“ آپ نے کہا: ”ہاں، یہ جواب ہم سے پوچھا گیا تھا، سٹیر کمیٹی میں بھی، ہم نے یہی جواب دیا۔“ You have (آپ نے جواب پہلے سے تیار کر رکھا prepared answer, but still you say ہے، مگر پھر بھی آپ کہتے ہیں) ”میں تردید بھی نہیں کرتا، میں تائید بھی نہیں کرتا۔“

(مرزا ناصر احمد: نہیں) Mirza Nasir Ahmad: No.

Mr. Yahya Bakhtiar: This is on the record.

(جناب یحییٰ بختیار: یہ تو ریکارڈ پر موجود ہے)

Mirza Nasir Ahmad: This is on record. but the inference is not on the record, and this is not true.

(مرزا ناصر احمد: یہ تو ریکارڈ پر موجود ہے، مگر نتیجہ ریکارڈ پر موجود نہیں ہے اور یہ درست بھی نہیں ہے)

Mr. Yahya Bakhtiar: No, but this is the only

٦٧

F PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

مرزا ناصر احمد: جی۔

: You are holding very

(جناب یحییٰ بختیار: آپ

مرزا ناصر احمد: تو میں اس کا

جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی

مرزا ناصر احمد: جی۔

جناب یحییٰ بختیار: ......آ

رہا، فلاں جگہ پر نہیں ملا۔“ اگر آپ کے عل

(قبول) کر رہے ہیں آپ کا لفظ۔

مرزا ناصر احمد: نہیں، میں

جگہ نہیں ہے، فلاں جگہ ہے......

جناب یحییٰ بختیار: نہ، یہ

تو نہیں ہے......

مرزا ناصر احمد: ہاں، جو میں

933 جناب یحییٰ بختیار: مگر

یہ Presume (فرض) کیا جاتا ہے

(اہم) چیزیں ہیں وہ آپ کے علم میں ضرو

مرزا ناصر احمد: یہ rence

اس لئے کہ میرا یہ دعویٰ نہیں کہ وہ لاکھوں

سال پر پھیلی ہوئی ہے، میں اس کا حافظ ہو

جناب یحییٰ بختیار: نہیں۔

مرزا ناصر احمد: لیکن میں

ہوں کہ ”میرے علم میں نہیں ہے“ تو آپ

صفحہ ٩٨٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

inference that could be drawn from it that you had the answer prepared.

(جناب یحییٰ بختیار: نہیں، لیکن اس سے صرف یہی نتیجہ نکالا جاسکتا ہے کہ آپ نے جواب تیار کررکھا تھا)

مرزا ناصر احمد: بالکل نہیں۔

Mr. Yahya Bakhtiar: You said you cannot verify snd you cannot deny.

(جناب یحییٰ بختیار: آپ کہتے ہیں آپ تصدیق نہیں کر سکتے اور نہ آپ تردید کر سکتے ہیں)

مرزا ناصر احمد: بات یہ ہے...... میں واضح کردیتا ہوں، ماننا یا نہ ماننا آپ کی بات ہے۔..... بات یہ ہے کہ میں نے کہا: ”میرے علم میں نہیں“......

جناب یحییٰ بختیار: اور آپ کے پاس جواب تیار تھا!

مرزا ناصر احمد: اور میرے پاس جواب تیار نہیں تھا۔ (وفد کے ایک رکن کی طرف اشارہ کرکے) ان کے پاس جواب تیار تھا، انہوں نے کہا: ”یہ ہے اور یہ اس کا جواب ہے۔“

جناب یحییٰ بختیار: آپ نے یہ کہا: ”منیر کمیٹی کے سامنے بھی پوچھا گیا تھا۔ منیر کمیٹی کی رپورٹ......“

مرزا ناصر احمد: منیر کمیٹی کی کتاب یہاں تھی (وفد کے ایک رکن کی طرف اشارہ کرکے) ان کے پاس تھی۔ انہوں نے منیر کمیٹی کی کتاب مجھے دی اور پھر میں نے اسی وقت...... اگر میں نے غلط بات.......

935 جناب یحییٰ بختیار: ٹھیک ہے، آپ نے Clarify (واضح) کردیا۔ مرزا صاحب! میں یہ کہہ رہا ہوں کہ ایسی چیز جو ہو تو اس کے Inference (نتیجہ) کی وجہ سے، میری ڈیوٹی ہے......

مرزا ناصر احمد: اور جو یہاں غلط حوالے پیش ہوگئے ہیں، اور کتاب ہی کوئی نہ تھی!

جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی ہم تو جب ہی آپ سے Clarify (واضح) کرارہے ہیں آج کل۔ اگر یہ ضرورت نہ ہوتی تو میں نے صبح عرض کیا، جہاں تک اسپیشل کمیٹی کا

٦٨

صفحہ ٩٨٩

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

تعلق ہے، ان کے لئے کوئی پابندی نہیں کہ کسی کو بلائیں، کسی سے بات کریں، اور پھر بعد میں کوئی قانون بنائیں۔ نیشنل اسمبلی ہو، کوئی لیجسلیچر دنیا میں نہیں...... عدالتوں میں بلایا جاتا ہے۔ نہ آپ ملزم ہیں اور نہ کوئی اور ملزم ہے جو بلانے کا......

مرزا ناصر احمد: یہ تو بڑی مہربانی ہے آپ کی!

جناب یحییٰ بختیار: مگر یہ چاہتے تھے کہ جو بھی حوالے ہوں، اگر وہ انحصار کریں تو وہ Verify (تصدیق) کریں۔ اس پر Clarification (وضاحت) ہونی چاہئے۔ جب ہی آپ نے آنے کی خواہش ظاہر کی۔ انہوں نے کہا: ”ٹھیک ہے، ہونا چاہئے“ اس وجہ سے ہم Clarify (واضح) کر رہے ہیں۔ کئی حوالے غلط ہو سکتے ہیں۔ میں خود دیکھتا ہوں، چیک کرتا ہوں، باوجود اس کے پھر بھی ہم سمجھتے ہیں کہ ممکن ہے غلط ہو۔ آپ سے اتنی گزارش کرتا ہوں کہ اگر آپ کے علم میں ہو......

مرزا ناصر احمد: اس وقت میں نے بتایا کہ اگر میرے علم میں ہو......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، مرزا صاحب! علم کے علاوہ آپ کے پاس جو ڈاکومنٹس Documents (دستاویزات) ہیں وہ اور کہیں نہیں ہیں۔ بعض......

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، بات سنیں ناں، آپ شام کو کہتے ہیں کہ یہ پانچ چیزوں کو Verify کرو......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، یہ میں ٹھیک کہتا ہوں......

936 مرزا ناصر احمد: اور میں صبح نہیں کرتا......

جناب یحییٰ بختیار: بعض دفعہ ٹائم نہیں ہوتا وہ اور بات ہے۔ ابھی اس دفعہ تو دس دن کا ٹائم بھی تھا بیچ میں۔ کئی حوالے آپ نے ڈھونڈ لئے......

مرزا ناصر احمد: بہت سارے۔

جناب یحییٰ بختیار: اگر میں نے...... یہی عرض کر رہا ہوں، اگر بیچ میں کوئی چیز ایسی ہوئی اور آپ کہتے ہیں کہ: ”نہیں، نہیں ہے بالکل۔“

مرزا ناصر احمد: میں یہ کبھی نہیں کہتا کہ ”یہ نہیں ہے“ میں پھر کہتا ہوں کہ ”میرے علم میں نہیں ہے“ اور جو چیز میرے علم میں نہیں ہے، اس کے متعلق میں یہ کیسے کہوں کہ میرے علم میں ہے؟ وہ آپ مجھے مشورہ دے دیں۔

٦٩

BLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

drawn from it that you had the

(جناب یحییٰ بختیار: نہیں، لیکن اس نے جواب تیار کر رکھا تھا)

مرزا ناصر احمد: بالکل نہیں۔

ar: You said you cannot verify

(جناب یحییٰ بختیار: آپ کہتے ہ کر سکتے ہیں)

مرزا ناصر احمد: بات یہ ہے...... میـ ہے...... بات یہ ہے کہ میں نے کہا: ”میرے علم میں

جناب یحییٰ بختیار: اور آپ کے پا

مرزا ناصر احمد: اور میرے پاس جـ اشارہ کر کے) ان کے پاس جواب تیار تھا، انہوں

جناب یحییٰ بختیار: آپ نے یہ کہـ کی رپورٹ......“

مرزا ناصر احمد: منیر کمیٹی کی کتابـ کر کے) ان کے پاس تھی۔ انہوں نے منیر کمیٹی اگر میں نے غلط بات......

935 جناب یحییٰ بختیار: ٹھیک ہـ صاحب! میں یہ کہہ رہا ہوں کہ ایسی چیز جو ہوتـ میری ڈیوٹی ہے......

مرزا ناصر احمد: اور جو یہاں غلط حـ

جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی ! کرا رہے ہیں آج کل۔ اگر یہ ضرورت نہ ہوتـ

صفحہ ٩٩٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

جناب یحییٰ بختیار: ٹھیک ہے، ٹھیک ہے، ٹھیک ہے،

مرزا ناصر احمد: ہاں، میرے علم میں نہیں ہے۔ وہ میرے علم میں نہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں میں نے پوزیشن Clarify (واضح) اس لئے کرانی چاہی......

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں تو پوزیشن یہ میری ہوئی یہاں کہ جو میرے علم میں نہیں ہے، میں اتنا ذمہ دار ہوں کہ میرے علم میں نہیں ہے، اور ...... اس کے لئے میں نے اس دن بات کی اور آپ نے اس وقت یہ اتفاق کیا کہ پانچ دس دن پہلے پانچ دس دن بعد کے جو ہیں اخبار، وہ بھی دیکھ لئے جائیں اور میں نے کہا یہ درست ہے اور ان سب کو میں نے تاکید کی کہ اس طرح دیکھیں اور ایک حوالہ مل گیا۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، مرزا صاحب! میں پھر عرض کروں، میں Interrupt (دخل اندازی) نہیں کرنا چاہتا، کیونکہ میں بھی چاہتا ہوں کہ جلدی کام ہو، اور آپ پورا Explain (واضح) کریں۔ آج صبح آپ نے فرمایا کہ: ”١٩٠٦ء سے لے کر ٢٢ء تک، ٢٣ سے لے کر ٤٤ تک ان سارے میں کسی جگہ ہمارے لٹریچر میں اس چیز کا سوال ہی نہیں اٹھا“ تو اس غرض سے آپ نے کہا کہ پورا سٹڈی کیا آپ نے سب ......

٩٣٧ مرزا ناصر احمد: پورا سٹڈی نہیں، پورا مشورہ کیا۔

جناب یحییٰ بختیار: پوائنٹ پر سٹڈی نہیں کر سکتے ......

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں ......

جناب یحییٰ بختیار: یا نہیں کرتے؟

مرزا ناصر احمد: دیکھیں ناں، جو چیز میں صاف کہتا ہوں، اس کو بھی آپ محل اعتراض بنالیں ......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، کوئی Imputation نہیں ہے، مرزا صاحب! Imputation نہیں ہے، آپ کی Integrity نہ کریکٹر پر: میں ...... صرف یہ Clarification (وضاحت) ضرور ہونی چاہئے تاکہ آپ کے دماغ میں یہ خیال نہ ہو ......

مرزا ناصر احمد: جس کا مجھے ...... ہاں، بالکل صحیح ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: کہ اٹارنی جنرل نے مجھے دھوکہ دے کے سوال دلوایا۔

٧٠

صفحہ ٩٩١

MBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

جناب یحییٰ بختیار : ٹھیک ہے، ٹھیک ہے

مرزا ناصر احمد : ہاں، میرے علم میں نہیں

جناب یحییٰ بختیار : نہیں میں نے پوچ... چاہی ......

مرزا ناصر احمد : ہاں، ہاں تو پوزیشن یہ ہے، میں اتنا ذمہ دار ہوں کہ میرے علم میں نہیں ہے، ا... کی اور آپ نے اس وقت یہ اتفاق کیا کہ پانچ دس دن بھی دیکھ لئے جائیں اور میں نے کہا یہ درست ہے ا... دیکھیں اور ایک حوالہ مل گیا۔

جناب یحییٰ بختیار : نہیں، مرزا صاحب (دخل اندازی) نہیں کرنا چاہتا، کیونکہ میں بھی چا... Explain (واضح) کریں۔ آج صبح آپ نے فرما... لے کر ٢٤ تک ان سارے میں کسی جگہ ہمارے لٹریچر می... سے آپ نے کہا کہ پورا سٹڈی کیا آپ نے سب ......

937 مرزا ناصر احمد : پورا سٹڈی نہیں، پور...

جناب یحییٰ بختیار : پوائنٹ پر سٹڈی نہیں

مرزا ناصر احمد : نہیں، نہیں ......

جناب یحییٰ بختیار : یا نہیں کرتے؟

مرزا ناصر احمد : دیکھیں ناں، جو چیز اعتراض بنالیں .....

جناب یحییٰ بختیار : نہیں، کوئی on Imputation نہیں ہے، آپ کی rity Clarification (وضاحت) ضرور ہونی چاہئے

مرزا ناصر احمد : جس کا مجھے ...... ہاں، با...

جناب یحییٰ بختیار : کہ اٹارنی جنرل ۔

٧٠

991 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

مرزا ناصر احمد : نہیں، یہ ٹھیک ہے۔

جناب یحییٰ بختیار : نہیں، یہ ......

مرزا ناصر احمد : ١٩٠٦ء کا وہ جو تھا مسئلہ، وہ یہ تھا کہ ١٩٠٦ء میں ایک نظم چھپی۔ ١٩١١ء میں دیوان چھپا، جس میں وہ شعر نہیں تھا اور ١٩٣٧ء ...... ہیں؟ ...... ١٩٣٢ء میں اس کا ایک ...... اس کے متعلق چھپا۔ پھر ١٩٣٤ء ...... پھر ١٩٣٥ء ...... پھر ١٩٣٦ء میں چھپا۔ پھر وہ ...... ہاں، ہاں، وہ سارا چھپا۔ میں نے یہ کہا، پہلے دن، اگر ہم نے صحیح سمجھا ہے ...... میں بھی انسان ہوں، یہ نہ سمجھیں کہ میں اپنے آپ کو کوئی سپر مین سمجھتا ہوں ...... جو میں نے ، ہم نے سمجھ لیا تھا پہلے دن، وہ یہ تھا ”بدر“ ١٩٠٦ء میں یہ چھپا کہ ”یہ سنایا گیا اور جزاک اللہ، کہی گئی ۔“ لیکن ”بدر“ میں یہ ہے ہی نہیں کوئی، صرف نظم ہے۔

جناب یحییٰ بختیار : یعنی نظم ہے، بالکل، وہ میں نے آپ کو پہلے ہی بتایا تھا۔

مرزا ناصر احمد : ہاں، ہاں، وہ تو اس دن ہو گیا معاملہ۔

938 جناب یحییٰ بختیار : یعنی میں نے تو یہ کہا، مرزا صاحب! ہماری Presumption (گمان) یہ ہے ...... اور یہ Presumption (گمان) بالکل صحیح ہوگی، Unless you rebut it (تاوقتیکہ آپ اس کو رد نہ کریں) کہ مرزا صاحب نے ”بدر“ ضرور پڑھا ہوگا اور اس میں یہ نظم انہوں نے ضرور پڑھی ہوگی۔ اگر ان کی موجودگی میں نہیں ہوا تو پھر یہ ہوا تھا کہ کیا مرزا صاحب نے کسی اور ”بدر“ کے پرچہ میں اس کو Contradict (تردید) کرایا اور اس کے خلاف کوئی ایکشن لیا؟ یہ Inferences (نتائج) کمیٹی ......

مرزا ناصر احمد : ہاں، ہاں، وہ ٹھیک ہے تو میں نے اس پر یہ جو وثوق کے ساتھ کہا، اور اب بھی کہتا ہوں، کہ اس معاملہ کے متعلق ایک اور چیز ہے، جس کو میں یہاں ذکر نہیں کروں گا۔ وہ میری کچھ ہو جائے گی ذاتی سی ، سمجھ لیں کچھ۔ علیحدہ میں اگر کہیں تو میں کچھ بتادوں گا۔ ہم نے ..... یہ وقت، ہمیں تو لوگوں سے پوچھا ..... ہمارے علماء جو ہیں ناں ، وہ مناظرے کرتے رہے ہیں .....

جناب یحییٰ بختیار : ہاں، ہاں۔

؎ 1 علیحدگی میں ذوق کی تسکین کیا معنی؟ یحییٰ بختیار صاحب اللہ رب العزت کے حضور اب چل دیئے، ورنہ ان سے پوچھ لیتے۔ اب تو وہ چانس بھی نہیں رہا۔ اف! علیحدگی میں ناک رگڑنا، یہ ہر اس شخص کا مقدر ہوگا جو جھوٹ کی وکالت کرے گا۔

٧١

صفحہ ٩٩٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

مرزا ناصر احمد: ان سے دریافت کیا، تلاش کیا، پوچھ گچھ کے، ہم نے وہ بھی نکالے ہیں حوالے، اور اس وقت تک تو پوری دیانت دارانہ تحقیق کے بعد میں اس نتیجہ پہ پہنچا ہوں...... اور اس کو پھر دھراتا ہوں...... کہ یہ ہمارے کسی لٹریچر میں...... ان مشوروں اور علماء سے، جو اس میں پچاس سال سے مناظرہ کر رہے ہیں، اور اس کے اوپر بڑے اعتراض ہوئے ہیں پہلے، یہ کوئی نیا اعتراض نہیں، فرسودہ اعتراض ہے۔ تو اس کے متعلق وہ کہتے ہیں کہ ”ہم نے اپنے اپنے وقتوں میں جب بھی کی، کسی جگہ بھی یہ نہیں آتا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو یہ سنائی گئی اور آپ نے جزاک اللہ کہا۔“ ٣٨ سال کے بعد وہ نظم لکھنے والا کہتا ہے...... یہ میں نے آج صبح یہاں بیان دیا تھا اور اس پر قائم ہوں۔

(آپ کی جماعت کے کسی راہنما نے اس نظم کی مذمت کی؟)

جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی، وہ تو ٹھیک ہے، آپ نے صبح کہہ دیا تھا کہ وہ جھوٹ بولتا ہے، ہم نے Accept (قبول) کرلیا کہ ان کی موجودگی میں نہیں پڑھا گیا۔ مگر ابھی کیونکہ آپ نے تذکرہ کر دیا، میں نے بعد میں یہ سوال پوچھنا تھا، کیا اس ٤٤ سال کے زمانے میں...... ١٩٠٦ء سے لے کر ١٩٣٤ء تک...... آج تک ”الفضل“ میں کسی آپ کی جماعت کے رہنما نے اس نظم کو Condemn (مذمت) کیا، اس کے خلاف کوئی لفظ لکھا؟

مرزا ناصر احمد: جی کیا۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، وہ بھی آپ بتا دیجئے۔

مرزا ناصر احمد: ١٩٣٤ء میں۔

جناب یحییٰ بختیار: ١٩٣٤ء میں یہ نہیں ہوا کہ پڑھا گیا ان کے سامنے۔ یہ Controversy (تنازعہ) آئی، یہ، یہ مولانا محمد علی صاحب لاہوری پارٹی نے، میرا خیال ہے، اعتراض کیا تھا۔ آپ کی جماعت کا میں پوچھ رہا ہوں، کسی نے نظم کو Condemn (مذمت) کیا؟ ١٩٣٤ء میں تو آپ ان کو Support (مدد) کر رہے ہیں۔

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، ١٩٣٤ء میں Condemn (مذمت) کیا، اس میں ......١٩٣٤ء میں، پھر انہوں نے کہا کہ ”یہ میرا مطلب نہیں تھا اور باوجود اس کے کہ یہ میرا مطلب نہیں تھا، لوگوں کے تنگ کرنے پر میں نے اپنے دیوان میں سے اس کو نکال دیا شعر کو، اور قسمیں کھا کر میں کہہ رہا ہوں اور پھر بھی جماعت میرا کہنا نہیں مانتی۔“

٧٢

صفحہ ٩٩٣

993 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

جناب یحییٰ بختیار: سر! وہ جو ١٩٤٤ء میں ہے، وہ تو آپ نے پڑھ کر سنا دیا۔

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، ١٩٤٤ء میں دو ہیں.......

جناب یحییٰ بختیار: یہ جو ہمارے سامنے ہے......

مرزا ناصر احمد: ١٣؍ اگست، ١٩٤٤ء اور ٢٣؍ اگست (اپنے وفد کے ایک رکن سے) کہاں ہے؟ نکالو۔ (اٹارنی جنرل سے) تو وہ علیحدہ علیحدہ حوالے ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: وہ فائل کر دیجئے، کیونکہ یہ تو آ گیا۔

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، Verify (تصدیق) کرنے کے بعد میں بتا رہا ہوں۔

940 جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں، فائل کر دیجئے وہ بھی، تاکہ اس کے ساتھ......

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، وہ فائل کردیں گے......

جناب یحییٰ بختیار: یہ سنا دیا گیا ہے، اور آ گیا ہے ریکارڈ پر......

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، وہ ٹھیک ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: کیوں کہ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے......

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں۔ وہ ٹھیک ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: ...... کیوں کہ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے......

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں!

جناب یحییٰ بختیار: کہ ان کی موجودگی میں پڑھا گیا اور انہوں نے......

مرزا ناصر احمد: ہاں، نہیں، وہ، وہ کردیں گے، ١٩٤٤ء اور ١٩٤٤ء کا پہلا جو ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: یعنی وہ بعد کا ہے جو آپ کے پاس ہے؟

مرزا ناصر احمد: ١٩٤٤ء -------- دیکھیں ناں -------- ١٩٤٤ء اور یہ ١٩٤٤ء، ١٣؍ اگست، اور پھر ٢٤؍ اگست کا، یہ آخر میں، اور پھر ١٩٦٢ء میں......

جناب یحییٰ بختیار: آخری تو یہ معلوم ہوتا ہے پھر۔

مرزا ناصر احمد: کون سا؟

جناب یحییٰ بختیار: ٢٣؍ اگست۔

مرزا ناصر احمد: ہیں جی؟

جناب یحییٰ بختیار: ٢٣؍ اگست۔

٧٣

OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

مرزا ناصر احمد: ان سے دریا نکالے ہیں حوالے، اور اس وقت تک تو پورا ہوں...... اور اس کو پھر دھراتا ہوں...... کہ یہ جو اس میں پچاس سال سے مناظرہ کر رہے ہ یہ کوئی نیا اعتراض نہیں، فرسودہ اعتراض ہے، وقتوں میں جب بھی کی، کسی جگہ بھی یہ نہیں آ اور آپ نے جزاک اللہ کہا۔’’٣٨ سال ک یہاں بیان دیا تھا اور اس پر قائم ہوں۔

(آپ کی جماعت کے کسی

جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی، بولتا ہے، ہم نے Accept (قبول) کرلیا آپ نے تذکرہ کر دیا، میں نے بعد میں یہ 939 ١٩٠٦ء سے لے کر ١٩٤٤ء تک...... آج تک نظم کو Condemn (مذمت) کیا، اس

مرزا ناصر احمد: جی کیا۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، وہ؟

مرزا ناصر احمد: ١٩٣٤ء میں

جناب یحییٰ بختیار: ١٩٤٤ء Controversy (تنازعہ) آئی، یہ، یہ اعتراض کیا تھا۔ آپ کی جماعت کا می (مذمت) کیا؟ ١٩٤٤ء میں تو آپ ان کو

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں ......١٩٤٤ء میں، پھر انہوں نے کہا کہ ’’نیا نہیں تھا، لوگوں کے تنگ کرنے پر میں ن کہا کہ میں کہہ رہا ہوں اور پھر بھی جماعت

صفحہ ٩٩٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

مرزا ناصر احمد: ہاں، ٢٣ اگست۔ بات سنیں ناں، ایک موٹی بات ہے، اس میں کوئی وہ نہیں ہے شبہ۔ ایک شخص دس دن پہلے ایک مضمون لکھتا ہے اور اخبار میں چھپ جاتا ہے۔ دس دن کے بعد وہ اس سے متضاد نہیں لکھ سکتا۔ اس لئے جو ٢٣ کا مضمون چھپا ہے......دس دن کے بعد...... اس کو اس ١٣ اگست والے کی روشنی میں ہم نے پڑھنا ہوگا۔

941 جناب یحییٰ بختیار: وہ تو ٹھیک ہے، مرزا صاحب! وہ تو ہم دیکھ لیں گے۔ یہ جو ہے ناں، یہ آخری ہے یا وہ؟ دیکھیں گے اس میں، کیونکہ ہمارا......

مرزا ناصر احمد: پھر ٦٢ء میں آیا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، ہمارا یہ ہے کہ ایک دفعہ جو قانون آتا ہے تو بعد کا جو قانون آیا تو...... اس سے متضاد کرے تو پہلا کینسل That holds the field (وہی نافذ العمل ہوگا)

Mirza Nasir Ahmad: This is not a legal clause. (مرزا ناصر احمد: یہ کوئی قانونی شق نہیں)

Mr. Yahya Bakhtiar: This may not be. (جناب یحییٰ بختیار: نہیں)

Mirza Nasir Ahmad: We are talking of a fact. (مرزا ناصر احمد: ہم حقائق کی بات کر رہے ہیں)

Mr. Yahya Bakhtiar: He may have clarified the position finally. (جناب یحییٰ بختیار: اس سے بات حتمی طور پر واضح ہو جاتی ہے)

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، ١٩٦٢ء میں پھر وہ آیا، ٦٣ء میں، تو یہ سارے فائل کرا دیں گے۔

(ان کو جماعت سے کبھی خارج کیا؟)

جناب یحییٰ بختیار: ان کو جماعت سے تو کبھی Expell (خارج) نہیں کیا؟

مرزا ناصر احمد: نہیں، جماعت سے Expell (خارج) اس لئے نہیں کیا کہ انہوں نے قسمیں کھائیں کہ ”وہ میرا مطلب ہی نہیں ہے جو میری طرف منسوب کیا جاتا ہے“

٧٤

صفحہ ٩٩٥

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

جناب یحییٰ بختیار: ”مطلب نہیں“ اور موجودگی میں پڑھا ہے! مرزا ناصر احمد: نہیں، ”موجودگی میں پڑھا گیا“ وہ ایک شخص کہتا ہے کہ ”میں نے صرف پہلے مجددین کے مقابلے میں یہ شعر کہا تھا ۔“ جناب یحییٰ بختیار: یعنی ان کی موجودگی میں؟ مرزا ناصر احمد: وہ یہ کہہ رہا ہے ...... جناب یحییٰ بختیار: ہاں ، میں یہ کہہ رہا ہوں جی ...... 942 مرزا ناصر احمد: کہ ان کی موجودگی میں ...... جناب یحییٰ بختیار: آپ کہتے ہیں کہ وہ جھوٹا ہے۔ مرزا ناصر احمد: میں یہ کہہ رہا ہوں کہ اگر اس نے مجددوں کے ساتھ مقابلہ نہیں کیا اور نبی اکرم ﷺ کے ساتھ کیا ہے تو وہ جھوٹا ہے اور کافر ہے ...... جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں ...... مرزا ناصر احمد: ...... لیکن وہ قسمیں کھا کے یہ کہہ رہا ہے ...... جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! ...... مرزا ناصر احمد: میری بات تو ختم ہونے دیں۔ جناب یحییٰ بختیار: نہیں، Interrupt نہیں، نہیں، میں آپ سے ...... میری تو صرف ایک گزارش تھی کہ ”ان کی موجودگی میں“ وہ کہتا ہے کہ ”میں نے پڑھا ۔“ آپ نے کہا کہ ”جھوٹا ہے ۔“ اگر یہ، اس بات سے جھوٹا نہیں کہتے اس کو، بلکہ Interpretation (تعبیر) پر کہہ رہے ہیں تو اور بات ہے۔ مرزا ناصر احمد: میں Interpretation (تعبیر) پر کہہ رہا ہوں۔ جناب یحییٰ بختیار: ہاں، یہ Clarify (واضح) ہو جائے ناں جی۔ میں تو یہ سمجھا کہ آپ کہتے ہیں کہ وہ جھوٹا ہے، ان کی موجودگی میں نہیں پڑھا گیا۔

ہے؟ اور مرزا ناصر کے نزدیک مفہوم اس کا اور لیتا ہے اور جماعت سے خارج بھی نہیں کیا۔ اگر رہے تو کافر۔ کیا سمجھیں کہ قادیانیوں کا کیا موقف ہے؟ اس گورکھ دھندے کا نام قادیانیت ہے۔ ٧٥

صفحہ ٩٩٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

مرزا ناصر احمد: اس معنی میں بھی جھوٹا ہے بالکل کہ پڑھا گیا، اس لئے کہ ہمارے ہاں کہیں یہ ریکارڈ نہیں ہے...... جناب یحییٰ بختیار: تو وہ بھی جھوٹا ہو گیا۔ اس زمانے میں؟ مرزا ناصر احمد: اور...... لیکن اگر وہ مجددین پہلے جو ہیں...... جناب یحییٰ بختیار: نہیں، خیر وہ تو اور بات ہے، آپ نے Explain (واضح) کر دیا۔ 943 مرزا ناصر احمد: اس کی Interpretaion (تعبیر) جناب یحییٰ بختیار: ہاں، وہ تو اور بات ہے۔ مرزا ناصر احمد: تو وہ ٹھیک ہے۔ (Pause) یہ آخری جو ہے، آخری کے لحاظ سے وہ ١٨٩٣ء کا ہے اور اس میں انہوں نے پھر اسی کو کہا ہے کہ ظہور ہر صدی...... آنحضرت ﷺ کا ظہور ہر صدی کے سر پر مجددین کے رنگ میں ہوتا رہا ہے۔ جناب یحییٰ بختیار: لیکن...... ٹھیک ہے، یہ بھی آپ فائل کردیں، چونکہ پھر تینوں اکٹھے رہیں۔ مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، وہ سارے کر رہے ہیں۔ جناب یحییٰ بختیار: اچھا۔ مرزا ناصر احمد: اور پھر یہ ہے کہ خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی جو تحریریں، میں نے کہا تھا، پچاس ہزار دوں گا بتیس چالیس کے مقابلے میں، تو پچاس ہزار کے لئے تو میں مناسب نہیں سمجھتا کہ وقت لوں۔

(پچاس الماریاں صرف انگریزوں کی تعریف میں)

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں نے تو ایک جگہ پڑھا کہ پچاس الماریاں تو صرف انگریزوں کی تعریف میں انہوں نے لکھیں، تو وہ آپ کے پاس ضرور ہوں گی یہ؟ مرزا ناصر احمد: بالکل، وہ میں جہاد کے متعلق کہہ چکا ہوں۔ جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی، وہ...... مرزا ناصر احمد: اگر آپ نے پہلوں کے حوالے پھر سننے ہیں تو میں دوہرا دیتا ہوں۔ جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی، وہ میں پھر اس پر آؤں گا۔

٧٦

PDF 423

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

مرزا ناصر احمد: اگر آپ سوال کرتے ہیں تو میں دہرا دیتا ہوں جواب کو۔

944 جناب یحییٰ بختیار: کون سا جی؟

مرزا ناصر احمد: یہی انگریزوں کے متعلق۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، یہ تو میں بعد میں سوال پوچھوں گا آپ سے۔ یہ سوال میں پوچھوں گا کیونکہ ہر ایک پوائنٹ پر Clarification (وضاحت) ضروری ہے۔

مرزا ناصر احمد: جی۔

جناب یحییٰ بختیار: میرے پاس سوال آیا تھا ”پچاس الماریوں“ کا تو اس واسطے ذکر کیا اس میں۔

(پچاس الماریوں کا سائز؟)

مرزا ناصر احمد: جی۔ الماریوں کا سائز بھی آیا ہوا ہے۔ اس سوال میں؟

جناب یحییٰ بختیار: مجھے نہیں پتہ جی اس کا۔

مرزا ناصر احمد: نہیں، سوال میں، میں پوچھ رہا ہوں۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، وہ تو آپ بتائیں گے ناں جی، آپ کے پاس......

مرزا ناصر احمد: نہیں، میں کیوں بتاؤں گا؟

جناب یحییٰ بختیار: یعنی آپ کو علم ہو گا کیونکہ گھر میں آپ کے پڑی ہوں گی۔

مرزا ناصر احمد: اچھا جی !۔ یہ چند نمونے......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، ابھی اس کی کیا ضرورت ہے، مرزا صاحب؟

مرزا ناصر احمد: حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا جو یہ دعویٰ ہے کہ ”میں نے سب کچھ نبی اکرم ﷺ......“

(لاہوری محضر نامہ کے متعلق سوال)

جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! میں یہ عرض کر رہا ہوں کہ میں چیئر مین صاحب سے Request (درخواست) کروں گا کہ...... پتہ نہیں یہ رول کے مطابق ہے یا نہیں۔ کہ لاہور سے جو پارٹی آئی ہے، انہوں نے اپنا ایک Statement (بیان) فائل کیا ہے۔ اس

١ لے دے کے بدھو گھر کو لوٹ آئے۔ نہ تیزی دکھاتے تو نہ یہاں نوبت پہنچتی۔ نہ کھلتے راز سربستہ نہ یہ رسوائیاں ہوتیں۔

٧٧

SEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

مرزا ناصر احمد: اس معنی میں بھی جھوٹا ہے ہاں کہیں یہ ریکارڈ نہیں ہے......

جناب یحییٰ بختیار: تو وہ بھی جھوٹا ہو گیا۔ الـ

مرزا ناصر احمد: اور...... لیکن اگر وہ مجددین

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، خیر وہ تو ا (واضح) کر دیا۔

945 مرزا ناصر احمد: اس کی pretaion

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، وہ تو اور بات ہے

مرزا ناصر احمد: تو وہ ٹھیک ہے۔ (ause وہ ١٩٢٣ء کا ہے اور اس میں انہوں نے پھر اسی کو کہا ہے ظہور ہر صدی کے سر پر مجددین کے رنگ میں ہوتا رہا ہے

جناب یحییٰ بختیار: لیکن...... ٹھیک ہے اکٹھے رہیں۔

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، وہ سارے کری

جناب یحییٰ بختیار: اچھا۔

مرزا ناصر احمد: اور پھر یہ ہے کہ خود ح تحریریں، میں نے کہا تھا، پچاس ہزار دوں گا، تیس چالی تو میں مناسب نہیں سمجھتا کہ وقت لوں۔

(پچاس الماریاں صرف انگریز

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں نے تو آ انگریزوں کی تعریف میں انہوں نے لکھیں، تو وہ آپ کے

مرزا ناصر احمد: بالکل، وہ میں جہاد کے ح

جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی، وہ......

مرزا ناصر احمد: اگر آپ نے پہلوں کے

جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی، وہ میں پھر

٧٨

صفحہ ٩٩٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

میں بعض چیزیں ایسی ہیں، جن کی میں آپ سے Clarification (وضاحت) چاہتا ہوں۔ وہ کہتے ہیں 945 کہ: ”مرزا صاحب نے کبھی بھی نبوت کا دعویٰ نہیں کیا۔“ اب یہ کتنی Important (اہم) چیز ہے۔ آپ کہتے ہیں کہ ”امتی نبی تھے“ وہ کہتے ہیں کہ ”نہیں تھے، انہوں نے دعویٰ نہیں کیا تھا“ تو اس لئے ان سے Request (درخواست) کروں گا کہ آپ کو ایک کاپی دے دی جائے، اس کے بعد پھر یہ سارے سوال آسکتے ہیں۔

مرزا ناصر احمد: جو ان کا ”محضر نامہ“ ہے اس کی Clarification (وضاحت) سوائے ان کے اور کسی کا حق نہیں ہے کہ کرے۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں، ان کی...... انہوں نے مرزا صاحب کے کچھ حوالے دیئے۔ مرزا صاحب کے کچھ اقوال کے حوالے دیئے ہیں جن کے لئے میں کہہ رہا ہوں، وہ تو وہی کریں گے۔

مرزا ناصر احمد: Clarification تو وہی کریں گے۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، نہیں، وہ حوالے جو ہیں، اس لئے، میں ان کا ذکر نہیں کرنا چاہتا تھا۔

مرزا ناصر احمد: نہیں، ہاں، ٹھیک ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: اس لئے میں نے کہا آپ دیکھ لیجئے، اسے، پھر میں ان میں سے آپ سے سوال کروں گا۔

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، جو میں سمجھا ہوں آپ سے، میں اس کی وضاحت کروا لوں، شاید میں غلط سمجھا ہوں۔ یہ خواہش ہے آپ کی کہ اگر ہمارے محترم چیئرمین صاحب اجازت دیں تو وہ ”محضر نامہ“ ہمیں دے دیئے جائیں، تو ہم جواب ”محضر نامہ“ تیار کر کے وہ آپ کو دے دیں۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں نہیں، نہیں، میرا وہ بالکل مطلب نہیں،......

مرزا ناصر احمد: ہاں، نہیں، میں اسی واسطے یہ کہہ......

جناب یحییٰ بختیار: میرا وہ مطلب نہیں۔ میں نے کہا اس میں کچھ حوالے ایسے ہیں جو کہ...... کیونکہ یہ اس میں بھی ذکر آچکا ہے، آپ بھی ذکر کر چکے ہیں، اس لئے انہوں نے جو دیئے ہوئے ہیں، Certain Points (چند نکات) ہیں، کمیٹی کو Clarify (واضح) کرنے کی ضرورت ہے اس کی۔

٧٨

صفحہ ٩٩٩

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

946 مرزا ناصر احمد: اس کمیٹی کو لاہوری جماعت احمدیہ اور ہمارے درمیان جو اختلاف ہے، عقیدے کے متعلق یا مسئلے کے متعلق، اس کو Clarification (وضاحت) کرنے سے کیا فائدہ ہوگا؟

جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی، یہ ہے کہ ایک ریزولیوشن ہے، ایک موشن ہے، ایک ریزولیوشن میں دونوں کو ...... آپ اور ان کو ...... بریکٹ کیا گیا ہے۔ آپ نے وہ نوٹ کیا ہوا ہے۔

مرزا ناصر احمد: یعنی جو ایک تو ہے ناں گورنمنٹ کا ریزولیوشن ......

جناب یحییٰ بختیار: موشن میں کسی کا ذکر نہیں۔

مرزا ناصر احمد: ہاں، اس میں ذکر نہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: دوسرا جو ریزولیوشن ہے اس میں دونوں کے متعلق ذکر ہے۔

مرزا ناصر احمد: جو ان کا ذکر ہے، وہ خود کریں گے۔

محترمہ ڈپٹی اسپیکر: وہ ہم دے دیتے ہیں، اٹارنی جنرل!

جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب نے کچھ حوالے دیئے ہیں۔ اگر آپ نہیں چاہتے تو میں نہیں کروں گا۔ میں تو صرف چاہتا ہوں کہ Clarification (وضاحت) ضروری ہے۔ اگر آپ نہیں چاہتے تو ہم کہیں گے کہ نہ دیں۔

مرزا ناصر احمد: نہیں، میں، میں یہ چاہتا ہوں! میں یہ صرف واضح کر رہا ہوں کہ اگر آپ ہم سے پوچھیں گے تو مجھے۔

[At this stage Dr. Mrs. Ashraf Khatoon Abbasi vacted the chair which was occupied by Mr. Chairman (Sahibzada Farooq Ali).]

(اس مرحلہ پر ڈپٹی چیئر مین ڈاکٹر مسز اشرف خاتون عباسی کی جگہ چیئر مین صاحبزادہ فاروق علی نے کرسی صدارت سنبھالی)

Mirza Nasir Ahmad: It will be fair to me to explain in detail and that might be 200 pages and something.

اے لڑے کیوں تھے، کیوں دو گروپ بنائے، اب شرماتے کیوں ہو؟

٧٩

صفحہ ١٠٠٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

(مرزا ناصر احمد: یہ بالکل مناسب ہوگا کہ میں تفصیل سے وضاحت کروں، جو کم و بیش دو سو صفحات پر محیط ہو سکتی ہے)

Mr. Yahya Bakhtiar: Mirza Sahib. I don't want to file a rejoinder to what they have said.

(جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! میرا یہ مطلب نہیں ہے کہ جو کچھ انہوں نے (لاہوری پارٹی) نے کہا ہے، اس کا جوابی بیان داخل کیا جائے)

947 Mirza Nasir Ahmad: No? What do you want then?

(مرزا ناصر احمد: نہیں، تو پھر آپ کا کیا مطلب ہے؟)

Mr. Yahya Bakhtiar: I want certain points that they have raised that Mirza Sahib never claimed to be a nabi.

(مرزا صاحب نے کبھی نبوت کا دعویٰ نہیں کیا؟)

(جناب یحییٰ بختیار: میں چند ایک نکات چاہتا ہوں، جو کہ انہوں نے اٹھائے ہیں، مثلاً یہ کہ مرزا صاحب نے کبھی نبوت کا دعویٰ نہیں کیا) ”مسیح موعود“ وہ بھی مانتے ہیں، آپ بھی مانتے ہیں۔

مرزا ناصر احمد: ٹھیک ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: ...... مگر وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے نبوت کا کبھی دعویٰ نہیں کیا، اور یہ جو احمدی ہیں، قادیان کے یا ربوہ کے، یہ بالکل غلط بات کر رہے ہیں۔ انہوں نے ایک سٹینڈ لیا ہے، اس کی Support (تائید) میں انہوں نے مرزا صاحب کے کچھ حوالے دیئے ہیں۔ میں آپ کی توجہ ان کی طرف مبذول کرانا چاہتا تھا کہ وہ صحیح ہیں، غلط ہیں، کیا Interpretation (تشریح) ہے، کیا Text (سیاق و سباق) ہے ان کا؟ اگر آپ نہیں چاہتے تو میں نہیں کروں گا۔

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، میں نے کب کہا کہ میں نہیں چاہتا؟

١؎ ابھی تو آپ نے فرمایا: ”جو ان کا ذکر ہے وہ خود کریں گے۔“ اب کہتے ہیں کہ میں نے نہیں کہا؟ اس کو کہتے ہیں: ”کہہ مکرنی“

٨٠

صفحہ ١٠٠١

1001 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07 جناب یحییٰ بختیار: نہیں، آپ نے کہا: جواب دینا چاہیں...... مگر نہیں، نہ ہم ...... آپ ان کو کہتے ہیں آپ جواب دیں۔ مرزا ناصر احمد: نہیں، ٹھیک ہے، یعنی چاہتے آپ یہ نہیں کہ جہاں تک ان حوالوں کا تعلق ہے، نبوت کے متعلق، جو انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی طرف منسوب کر کے دیئے ...... جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی۔ مرزا ناصر احمد: ہم اپنا جواب صرف وہاں تک رکھیں۔ جناب یحییٰ بختیار: ہاں۔ باقی جو ہے ...... مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں۔ جناب یحییٰ بختیار: کیونکہ باقی اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ مگر صرف انہوں نے Affidavit (بیان حلفی) فائل کیا ہے۔ ٧٠ آدمیوں کا ...... (مرزا ناصر احمد: جی سے ہوں، ہوں تک) 948 مرزا ناصر احمد: جی۔ جناب یحییٰ بختیار: ١٩٠١ء میں، مرزا صاحب نے ایسا دعویٰ نہیں کیا۔ مرزا بشیر الدین محمود صاحب نے کچھ کہا ہے، اس کا ...... وہ انکارِ نبوت کے حوالہ جات ١٩٠١ء سے وہ شروع کرتے ہیں، ضمیمہ ”ج“ ہے۔ مرزا ناصر احمد: ہوں، ہوں۔ جناب یحییٰ بختیار: صرف آپ کی توجہ اس طرف دلانا چاہتا ہوں ...... مرزا ناصر احمد: ہوں، ہوں۔ جناب یحییٰ بختیار: ...... کہ یہ حوالے جو ہیں، ١٩٠١ء کے بعد، پھر ١٩٠٧ء، ١٩٠٨ء تک، وہ یہی کہتے ہیں کہ یہ انہوں نے دعویٰ نہیں کیا۔ تو اس پر میں چاہتا ہوں شاید آپ سے کچھ ان میں سے پوچھ لوں۔ تو اگر میں ابھی پوچھتا ہوں آپ سے تو پھر آپ کو بھی وہاں ضرورت ہوگی۔ تو میرا خیال ہے ایڈوانس کاپی آپ کو دے دیں۔ مرزا ناصر احمد: ہاں ١؎ ١؎ کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے۔ ٨١

MBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07 (مرزا ناصر احمد: یہ بالکل مناسب ہو وبیش دوسو صفحات پر محیط ہوسکتی ہے) tiar: Mirza Sahib. I don't want to have said. (جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! (لاہوری پارٹی) نے کہا ہے، اس کا جوابی بیان داخل hmad: No? What do you want (مرزا ناصر احمد: نہیں، تو پھر آپ کا ک tiar: I want certain points that a Sahib never claimed to be a

(مرزا صاحب نے کبھی نبو (جناب یحییٰ بختیار: میں چند ایک ہیں، مثلاً یہ کہ مرزا صاحب نے کبھی نبوت کا دعویٰ نہی بھی مانتے ہیں۔ مرزا ناصر احمد: ٹھیک ہے۔ جناب یحییٰ بختیار: ...... مگر وہ کہتے ہیں یہ جو احمدی ہیں، قادیان کے یا ربوہ کے، یہ بالکل غل ہے، اس کی Support (تائید) میں انہوں نے آپ کی توجہ ان کی طرف مبذول کرانا چاہتا تھا کہ و (تصریح) ہے، کیا Text (سیاق و سباق) ہے ان مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، میں نے ١؎ ابھی تو آپ نے فرمایا: ”جوان کا ذک نے نہیں کہا؟ اس کو کہتے ہیں: ”کہہ مکرنی“ ٨٠

صفحہ ١٠٠٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

جناب یحییٰ بختیار: پھر ابھی کل کسی وقت ہو سکا تو ...... مرزا ناصر احمد : ہاں ٹھیک ہے۔ جناب یحییٰ بختیار: تو صرف یہ جو ہے ناں، ضمیمہ ”ج“ جو ہے ...... مرزا ناصر احمد : اس کا جو ایک فقرے کا جواب ہے، وہ یہ ہے کہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے بڑی وضاحت سے یہ بیان کیا کہ: ”اگر نبی کے معنی شرعی نبی کے ہوں تو میں بالکل نبی نہیں ۔“ آپ نے بڑی وضاحت سے بیان کیا وہ ہمارے ”محضر نامہ“ میں ہے۔ جناب یحییٰ بختیار: آپ نے Explain (واضح) کر دیا ہے ...... مرزا ناصر احمد : ہاں۔ جناب یحییٰ بختیار: 949 مگر اس کے باوجود وہ ”امتی نبی“ تک بھی نہیں کہتے تو اس لئے یہاں ان کے جو حوالے ہیں، مرزا صاحب کے جو دیئے ہوئے ہیں، انہوں نے یہاں تک کہ ١٩٠٧ء کا حوالہ بھی دیا انہوں نے، تو آپ ان کو دیکھ لیجئے۔ مرزا ناصر احمد : ہاں، ہاں۔ جناب یحییٰ بختیار: اسی واسطے میں کہتا ہوں آپ جو جواب دیں گے تو کہیں گے ”ضمیمہ ج جب تک ہم یہاں نہیں دیکھیں کہ کیا ریفرنس ہے، ہم پورا اس کو نہیں سمجھ سکتے ۔“ تو اس لئے میں Request (درخواست) کی تھی، چیئرمین صاحب کو کہ ایک کاپی دے دیجئے۔ مرزا ناصر احمد : تو اب تک جو میں سمجھا ہوں وہ یہ ہے کہ اگر محترم چیئرمین صاحب اس کی اجازت دیں تو یہ ہمیں مل جائے تو جو حوالے نبوت کے متعلق ہیں ...... جناب یحییٰ بختیار: ہاں، ہاں، وہ انہیں ...... مرزا ناصر احمد : صرف وہاں تک ...... جناب یحییٰ بختیار: وہاں تک ...... مرزا ناصر احمد : باقی کوئی بحث نہ کرے، یہی، میں صحیح سمجھا ہوں ناں۔ جناب یحییٰ بختیار: ہاں، بالکل ٹھیک ہے۔ جناب چیئرمین: ٹھیک ہے۔ It is allowed the copy may be given and... جناب یحییٰ بختیار: وہ آپ دے دیجئے، ضمیمہ ”ج“ ہے۔ ٨٢

صفحہ ١٠٠٣

SEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

جناب یحییٰ بختیار: پھر! بھی کل کسی وقت

مرزا ناصر احمد: ہاں ٹھیک ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: تو صرف یہ جو ہے ناال

مرزا ناصر احمد: اس کا جو ایک فقرے کا ج احمدیہ نے بڑی وضاحت سے یہ بیان کیا کہ: ”اگر نبی نہیں“ آپ نے بڑی وضاحت سے بیان کیا وہ ہمارے

جناب یحییٰ بختیار: آپ نے Explain

مرزا ناصر احمد: ہاں۔

949 جناب یحییٰ بختیار: مگر اس کے باوج لئے یہاں ان کے جو حوالے ہیں، مرزا صاحب کے جو د ١٩٠٧ء کا حوالہ بھی دیا انہوں نے، تو آپ ان کو دیکھ لیجئے

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں۔

جناب یحییٰ بختیار: اسی واسطے میں کہتا ہ ”ضمیمہ ج جب تک ہم یہاں نہیں دیکھیں گے کیا ریفرنس لئے میں Request (درخواست) کی تھی، چیئرمین

مرزا ناصر احمد: تو اب تک جو میں سمجھا ہ اس کی اجازت دیں تو یہ ہمیں مل جائے تو جو حوالے نبوت

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، ہاں، وہ انہیں ۔

مرزا ناصر احمد: صرف وہاں تک .......

جناب یحییٰ بختیار: وہاں تک.......

مرزا ناصر احمد: باقی کوئی بحث نہ کرے، ب

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، بالکل ٹھیک ہے

جناب چیئرمین: ٹھیک ہے۔ be given and...

جناب یحییٰ بختیار: وہ آپ دے دیجئے

٨٢

1003 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

Mr. Chairman: It is up to the witness.

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، ٹھیک ہے، Affidavit دیا ہوا ہے انہوں نے۔

جناب چیئرمین: ٹھیک ہے، بعد میں دے دیں گے۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، Because they have to refer to the main point.

950 جناب چیئرمین: ہاں، تو اس کے ساتھ ضمیمہ جات جو ہیں وہ بھی دینے ہیں یا نہیں؟ نہیں، This is reference of the book (یہ کتاب کا حوالہ ہے)

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، ایک ضمیمہ تھا، میں نے کہا جو Main body میں دیکھیں گے کہ کیا اشارہ ہے.......

جناب چیئرمین: ہاں۔

جناب یحییٰ بختیار: وہ اس Clause کو Clarify (واضح) کرنے کے لئے.......

جناب چیئرمین: یہ تو کتابوں کی ہیں لسٹیں۔

جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! آپ نے سب حوالے پورے کر لئے جی، کہ، ہیں کچھ؟

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں جی۔ انہوں نے نوٹ کئے ہوئے تھے، لیکن جب جاکے دیکھا تو کافی تھے، دو سو کے قریب۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، میں بتا رہا ہوں، پندرہ بیس ہوں گے۔

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں۔ ”مکتوبات احمدیہ“ کے ایک اقتباس پر بنیاد رکھی گئی تھی ایک سوال کی ہمیں ”مکتوبات احمدیہ“ میں ایسا کوئی حوالہ نہیں مل سکا۔

جناب یحییٰ بختیار: یہ کون سا سوال تھا جی؟

مرزا ناصر احمد: یہ ”مکتوبات احمدیہ“....... مسیح محمدی، مسیح موسوی....... اس قسم کی کوئی عبارت تھی (اپنے وفد کے ایک رکن کی طرف اشارہ کر کے) انہوں نے بڑا مختصر نوٹ کیا ہے، تو یہاں اگر آپ.......

جناب یحییٰ بختیار: وہ نوٹ آپ کو یاد ہے؟ تاکہ میں اس سے سوال نکال سکوں۔

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں۔ مسیح محمدی اور مسیح ناصری کا مقابلہ ایسے رنگ میں جس کی وجہ سے کوئی اعتراض وہاں پیدا ہوا۔

٨٣

صفحہ ١٠٠٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

951 جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں پھر پڑھ کے سناتا ہوں، تو......

مرزا ناصر احمد: ”مکتوبات احمدیہ“ کا ہے یہ؟

جناب یحییٰ بختیار: میں دیکھتا ہوں۔ ایک ”الفضل“ کا ہے۔

مرزا ناصر احمد: نہیں، یہ ”مکتوبات احمدیہ“ تو رسالہ نہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: دو ہیں ناں جی، وہ میں دیکھتا ہوں کہ دونوں...... دوسرا بھی آپ کو ملا ہے یا نہیں۔ (Pause) ایک مرزا صاحب! یہ تھا ”الفضل“ ج ٥، ش ٧٩، ٧٠۔

مرزا ناصر احمد: جی۔

(کیا مسیح ناصری نے اپنے پیروں کو یہودیوں سے الگ نہیں کیا؟)

جناب یحییٰ بختیار: اس میں وہ کہتے ہیں کہ: ”کیا مسیح ناصری نے اپنے پیرؤوں کو یہودیوں سے الگ نہیں کیا......“

مرزا ناصر احمد: ہاں، یہ اس سے مختلف ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، یہ ہے آپ کے پاس؟

مرزا ناصر احمد: یہ وہ ہے؟

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، دوسرا جو ہے۔

مرزا ناصر احمد: وہ ہم نے بعد میں لکھا ہوا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں۔ دوسرا ہے ”ملائکۃ اللہ......“

مرزا ناصر احمد: وہ تو ”ملائکۃ اللہ“ والی، میں جواب دے چکا ہوں، یہاں ہم نے نوٹ کیا ہوا ہے۔ تو اس کا جواب مل گیا؟

جناب یحییٰ بختیار: اچھا، اس کا جواب دے چکے ہیں؟

مرزا ناصر احمد: ہاں۔

952 جناب یحییٰ بختیار: تو یہ مجھے نہیں پتہ کہ کون سا تھا۔ اگر آپ مجھے اس کا تھوڑا سا مضمون بتا دیں...... نہیں، وہ تو ہو چکا۔

مرزا ناصر احمد: ”مکتوبات احمدیہ“ میں۔

جناب یحییٰ بختیار: فقرہ کیا تھا؟

مرزا ناصر احمد: یہ، ان کو خود یاد نہیں رہا جی۔

٨٤

صفحہ ١٠٠٥

EMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07 ٩٥١ جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں پھر پڑھ مرزا ناصر احمد: ”مکتوبات احمدیہ“ کا... جناب یحییٰ بختیار: میں دیکھتا ہوں۔ ایک مرزا ناصر احمد: نہیں، یہ ”مکتوبات احمد جناب یحییٰ بختیار: دو ہیں ناں جی، وہ کو ملا ہے یا نہیں۔ (Pause) ایک مرزا صاحب ایا مرزا ناصر احمد: جی۔ (کیا مسیح ناصری نے اپنے پیروں کو جناب یحییٰ بختیار: اس میں وہ کہتے ہ یہودیوں سے الگ نہیں کیا......“ مرزا ناصر احمد: ہاں، یہ اس سے مختلف جناب یحییٰ بختیار: ہاں، یہ ہے آپ مرزا ناصر احمد: یہ وہ ہے؟ جناب یحییٰ بختیار: ہاں، دوسرا جو ہے مرزا ناصر احمد: وہ ہم نے بعد میں لکھوا جناب یحییٰ بختیار: ہاں۔ دوسرا ہے ” مرزا ناصر احمد: وہ تو ”ملائکۃ اللہ“ والا نوٹ کیا ہوا ہے۔ تو اس کا جواب مل گیا؟ جناب یحییٰ بختیار: اچھا، اس کا جواب مرزا ناصر احمد: ہاں۔ ٩٥٢ جناب یحییٰ بختیار: تو یہ مجھے نہیں مضمون بتا دیں۔ ......نہیں، وہ تو ہو چکا۔ مرزا ناصر احمد: ”مکتوبات احمدیہ“ میں جناب یحییٰ بختیار: فقرہ کیا تھا؟ مرزا ناصر احمد: یہ، ان کو خود یاد نہیں ر ٨٤

1005 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07 جناب یحییٰ بختیار: یہ بیچ میں دس دن گزر گئے ناں۔ جی، اس لئے تو...... مرزا ناصر احمد: ہاں۔ جناب یحییٰ بختیار: ....... مجھے بھی ....... میں نے نوٹ کیا ہے کہیں۔ مرزا ناصر احمد: ہاں، یہ پھر آپ دیکھ لیں، بیچ میں سے۔ جناب یحییٰ بختیار: ہاں، ہاں۔ آپ کا Referance (حوالہ) کیا تھا؟ یہ دیا ہم نے آپ کو؟ مرزا ناصر احمد: ”مکتوبات احمدیہ“ ص٢٤۔ (Pause) جناب یحییٰ بختیار: یہ ہے جی: ”مسیح علیہ السلام کا چال چلن کیا تھا کہ کھاؤ پیو، نہ عابد، نہ زاہد، نہ حق پرست، متکبر، خود بین، خدائی کا دعویٰ کرنے والا۔“

(مکتوبات احمدیہ ج٣ نمبر٢، ص٢٣،٢٤)

مرزا ناصر احمد: یہ تو ہو چکا ہے۔ (Pause) جناب یحییٰ بختیار: مکتوبات احمدیہ کے صفحہ ٢١ اور ٢٤ پر یہی تو ہے اور اس کے علاوہ کون سا ہے؟ مرزا ناصر احمد: یہ تو ہو چکا ہے۔

Mr. Chairman: Mr. Attorney- General, can we get the reply to hawalajat filed? (جناب چیئرمین: مسٹر اٹارنی جنرل صاحب! کیا ہم ان حوالہ جات کا جواب لے سکتے ہیں؟)

953 Mr. yahya Bakhtiar: Sir? (جناب یحییٰ بختیار: جناب!)

Mr. Chairman: Can we get the reply to Hawalajat filed with the evidence? (جناب چیئرمین: کیا ہم ان حوالہ جات کا جواب لے سکتے ہیں جن کو شہادت کے ہمراہ لف کیا گیا ہے؟)

Mr. Yahya Bakhtiar: With....?

١؎ دو دن سے مرزا ناصر کہتا ہے کہ حوالہ نہیں ہے اب کہتا ہے ہو گیا ہے؟ ٨٥

صفحہ ١٠٠٦

1006 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

(جناب یحییٰ بختیار: ساتھ......؟)

Mr. Chairman: With the evidence? These may not be read in order to save the time.

(جناب چیئرمین: شہادت کے ساتھ؟ پوری شہادت نہ پڑھی جائے، تاکہ وقت بچ سکے)

Mr. Yahya Bakhtiar: No, I requested Mirza Sahib that wherever he feels it necessary....

(جناب یحییٰ بختیار: میں نے مرزا صاحب سے گزارش کی ہے جہاں وہ ضروری سمجھیں)

جناب چیئرمین: ہاں۔

Mr. Yahya Bakhtiar: He will explain it briefly and then file it that.... otherwise he will read it out....

(جناب یحییٰ بختیار: اختصار کے ساتھ وضاحت کر دیں اور لف کر دیں۔ بصورت دیگر وہ (شہادت) کو پڑھ کر سنادیں......)

Mr. Chairman: If, if the reply....

(جناب چیئرمین: اگر، اگر جواب......)

Mr. Yahya Bakhtiar: .... read the Hawalajat.

(جناب یحییٰ بختیار: حوالہ جات پڑھیں)

Mr. Chairman: .... of the Hawalajat is prepared in a written from, it can be filed. It may be read as part of the evidence.

(جناب چیئرمین: حوالہ جات کا جواب تحریری طور پر تیار کیا گیا ہے تو پھر اسے پیش کیا جاسکتا ہے۔ یہ تحریری جواب شہادت کا حصہ شمار ہوگا)

Mr. Yahya Bakhtiar: Sir, when you were out of the Hall for a little while.....

(جناب یحییٰ بختیار: جناب والا! جب آپ تھوڑی دیر کے لئے ہال سے باہر تھے......)

جناب چیئرمین: جی۔

Mr. Yahya Bakhtiar: No, I requested Mirza Sahib.....

٨٦

1007 NATIONAL ASS

حب سے گزارش کی تھی......)

Mr. Yahya Bak sitting very anxious....

Mr. Chairman:

Mr. Yahya Bakh file the main....

کہا تھا کہ وہ......)

954 Mr. Chairma the House and of the witn

اور گواہ دونوں کا کافی وقت بچ جائے گا)

Mr. Yahya Ba

قیمتی وقت کا احساس ہے)

Mr. Chairman: the witness and the.....

کے مابین کوئی سمجھوتہ طے پا جائے)

Mr. Yahya Bah wherever he considered otherwise he will just bri it.

زا صاحب سے گزارش کی ہے کہ جہاں مگر وہ مختصراً جو کہنا چاہیں کہیں اور تحریری

Mr. Chairman examination. rest of the

صفحہ ١٠٠٧

1007 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

(جناب یحییٰ بختیار: تو میں نے مرزا صاحب سے گزارش کی تھی......)

جناب چیئرمین: جی۔

Mr. Yahya Bakhtiar: .... That the Committee is sitting very anxious....

Mr. Chairman: It will ....

(جناب چیئرمین: یہ بہتر ہے)

Mr. Yahya Bakhtiar: .... therefore, he said he will file the main....

(جناب یحییٰ بختیار: اس وقت انہوں نے کہا تھا کہ وہ......)

954 Mr. Chairman: Yes, it will save a lot of time of the House and of the witness also.

(جناب چیئرمین: جی ہاں۔ اس طرح ایوان اور گواہ دونوں کا کافی وقت بچ جائے گا)

Mr. Yahya Baktiar: Yes, I know, his valubale time. (جناب یحییٰ بختیار: جی ہاں۔ مجھے ان کے قیمتی وقت کا احساس ہے)

Mr. Chairman: Then, if it can be agreed between the witness and the.....

(جناب چیئرمین: تو پھر اگر گواہ اور...... کے مابین کوئی سمجھوتہ طے پا جائے)

Mr. Yahya Baktiar: No, I requested Mirza Sahib wherever he considered neccessary, he will speak in detail; otherwise he will just briefly say something about it and file it.

(جناب یحییٰ بختیار: جی نہیں۔ میں نے مرزا صاحب سے گزارش کی ہے کہ جہاں ضروری خیال کریں وہ پوری وضاحت کر دیں، بصورت دیگر وہ مختصراً جو کہنا چاہیں کہیں اور تحریری جواب پیش کر دیں)

Mr. Chairman: And then we can cross over to the examination. rest of the examination.

٨٧

Y OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

(جناب یحییٰ بختیار: ساتھ......

the evidence? These may not e.

(جناب چیئرمین: شہادت کے سا

ar: No, I requested Mirza necessary....

(جناب یحییٰ بختیار: میں نے مرزا

جناب چیئرمین: ہاں۔

: He will explain it briefly e he will read it out....

(جناب یحییٰ بختیار: اختصار کے دیگر وہ (شہادت) کو پڑھ کر سنا دیں......)

the reply....

(جناب چیئرمین: اگر، اگر جوا

.... read the Hawalajat.

(جناب یحییٰ بختیار: حوالہ جات

the Hawalajat is prepared in It may be read as part of the

(جناب چیئرمین: حوالہ جات کیا جا سکتا ہے۔ یہ تحریری جواب شہادت کا حصہ

: Sir, when you were out of

(جناب یحییٰ بختیار: جناب والا!

جناب چیئرمین: جی۔

r: No, I requested Mirza

صفحہ ١٠٠٨

es For

Visit

shopping

WELCOME

1008 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

(جناب چیئرمین: اور پھر ہم گواہ کے بیان اور جرح کی جانب بڑھ سکتے ہیں)

Mr. Yahya Baktiar: No, I know the difficulty, but I want Mriza Sahib....

(جناب یحییٰ بختیار: جی نہیں۔ مجھے مشکل کا احساس ہے، لیکن میں مرزا صاحب سے کہوں گا......)

Mr. Chairman: Yes, it is upto the witness.

(جناب چیئرمین: ہاں اس بات کا انحصار گواہ پر ہے......)

Mr. Yahya Baktiar: ....if he thinks necessary,...

(جناب یحییٰ بختیار: اگر وہ ضروری سمجھیں......)

جناب چیئرمین: ہاں۔

Mr. Yahya Baktiar: .... then he will give in detail, otherwise he will briefly mention it.

(تو تفصیل میں جائیں گے، ورنہ اختصار کے ساتھ ذکر کر دیں)

Mr. Chairman: Yes. I may ask the witness, if he likes, he can file all the, all the written.....

(جناب چیئرمین: ٹھیک ہے، میں گواہ سے کہوں گا کہ اگر وہ چاہیں تو وہ تمام تحریری ...... پیش کر دیں)

Mr. Yahya Baktiar: No, but the thing is, Sir, the Committee members.....

(جناب یحییٰ بختیار: جی نہیں! جناب والا بات یہ ہے کہ کمیٹی کے اراکین......)

(جناب چیئرمین: جی ہاں) Mr. Chairman: Yes.

Mr. Yahya Baktiar: ..... will not be able to read every document because the debate time is short. That is why I said that Mirza Sahib should breifly expalin....

(جناب یحییٰ بختیار: ہر ایک دستاویز کا مطالعہ نہ کر سکیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ میں نے مرزا صاحب سے گزارش کی ہے کہ وہ اختصار کے ساتھ وضاحت کرتے جائیں)

٨٨

1009 NATIONAL ASSE

955 Mr. Yahya Bakt

ب) پیش کر دیں)

Mr. Chairman: B

(

Mr. Yahya Bakt

know, that it.....

ری خیال کریں، آپ اس کو جانتے ہیں......)

Mr. Chairman: E

the time is consumed in rea

زا صاحب! اگر سارا وقت حوالہ جات کے

Mr. Yahya Baktia

Mr. Chairman:

reading the Hawalajat then

بات کے پڑھنے میں ہی صرف ہو گیا تو پھر؟)

Mr. Yahya Bakti

ask certain questions....

ہم نے کچھ سوالات پوچھنے ہیں......)

Mr. Chairman: ...

Mr. Yahya Bakt

after verification, he is givi

over now. I think, one or tw

ضروری تصدیق کے بعد (گواہ) دے رہا

PDF 435

1009 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

مرزا ناصر احمد : ہاں جی۔

955 Mr. Yahya Baktiar: .... and then file. (جناب یحییٰ بختیار: اور (تحریری جواب) پیش کردیں)

Mr. Chairman: But if all the..... (جناب چیئرمین: لیکن اگر سارا......)

Mr. Yahya Baktiar: Wherever he thinks, you know, that it..... (جناب یحییٰ بختیار: البتہ جہاں وہ ضروری خیال کریں، آپ اس کو جانتے ہیں......)

Mr. Chairman: But, Mr. Attorney-General, if all the time is consumed in reading the Hawalajat then.... (جناب چیئرمین: لیکن مسٹر اٹارنی جنرل صاحب! اگر سارا وقت حوالہ جات کے پڑھنے میں ہی صرف ہو گیا تو پھر؟)

Mr. Yahya Baktiar: Thank you. (جناب یحییٰ بختیار: مہربانی؟)

Mr. Chairman: If all the time is consumed in reading the Hawalajat then.... (جناب چیئرمین: اگر سارا وقت حوالہ جات کے پڑھنے میں ہی صرف ہو گیا تو پھر؟)

Mr. Yahya Baktiar: No, Sir, the thing is that we ask certain questions.... (جناب یحییٰ بختیار: نہیں جناب والا! ہم نے کچھ سوالات پوچھے ہیں......)

Mr. Chairman: .... then then.... (جناب چیئرمین: پھر، پھر)

Mr. Yahya Baktiar: ... and to those questions, after verification, he is giving reply. Most of them have been over now. I think, one or two are left. (جناب یحییٰ بختیار: جن کے جوابات ضروری تصدیق کے بعد (گواہ) دے رہا

٨٩

Y OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

(جناب چیئرمین: اور پھر ہم گواہ

No, I know the difficulty, but (جناب یحییٰ بختیار: جی نہیں! سے کہوں گا......)

is upto the witness. (جناب چیئرمین: ہاں اس بات

..if he thinks necessary,... (جناب یحییٰ بختیار: اگر وہ ضرو جناب چیئرمین: ہاں۔

... then he will give in detail, it. (تو تفصیل میں جائیں گے، ورنہ!

I may ask the witness, if he written..... (جناب چیئرمین: ٹھیک ہے ......پیش کردیں)

No, but the thing is, Sir, the (جناب یحییٰ بختیار: جی نہیں! (جناب چیئرمین: جی ہاں)

... will not be able to read ebate time is short. That is ld briefly explain.... (جناب یحییٰ بختیار: ہر ایک نے مرزا صاحب سے گزارش کی ہے کہ وہ اختص

صفحہ ١٠١٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

ہے، زیادہ تر سوالات، جوابات ختم ہو چکے ہیں، میرے خیال میں ایک یا دو سوال باقی ہیں) مرزا ناصر احمد : ہاں، تو If you جناب یحییٰ بختیار : ہاں، نہیں، نہیں، certainly......

Mr. Chairman: Because, for all Hawalajat, there were two questions: one, that the particular statement, which was made, is admitted? If not admitted, then no second questions. If made, then explanation by the witness that it was given in such and such context.

(جناب چیئرمین: تمام حوالہ جات کے بارے میں دو سوالات ہیں، پہلا یہ کہ کیا وہ اس بیان کو تسلیم کرتے ہیں۔ اگر تسلیم نہیں کرتے تو پھر دوسرا سوال نہیں، اگر ایسا بیان تھا تو پھر گواہ کی طرف سے وضاحت کہ کس سیاق و سباق میں دیا گیا تھا)

Mr. Yahya Baktiar: Sir, I pointed out to Mirza Sahib before that if I am charged with an offence and I am taken to court and the Mjistrate asked me, I say: "Others have also committed the some offence". Now, if Mirza Sahib goes on giving Sir. Syed's Hawalajat and other Hawalajat because Mirza Sahib said the same thing956..... I mean that may be relevant from his point of view.... but it will not justify this, nor will it expalin it, because Mirza Sahib, accroding to them, held a very different positon.

(مرزا قادیانی نے انگریز کی مدح کی)

(جناب یحییٰ بختیار: جناب والا! میں نے مرزا صاحب کے گوش گزار کیا تھا، فرض کریں کہ مجھ پر کوئی الزام عائد ہوتا ہے، اور میں عدالت میں جوابدہ ہوں، میں (عدالت میں) یہ کہتا ہوں کہ اوروں نے بھی ویسا ہی جرم کیا ہے، اب مرزا صاحب سرسید کے حوالہ جات اور دیگر حوالہ جات دے رہے ہیں، اور اسی قسم کا موقف لے رہے ہیں، یہ بات مرزا صاحب کے نقطہ نظر

٩٠

صفحہ ١٠١١

SSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

ہے، زیادہ تر سوالات، جوابات ختم ہو چکے ہیں، میرے خیا مرزا ناصر احمد : ہاں، تو If you جناب یحییٰ بختیار : ہاں، نہیں، نہیں، inly... Because, for all Hawalajat, there e, that the particular statement, mitted? If not admitted, then no le, then explanation by the witness and such context.

(جناب چیئرمین: تمام حوالہ جات کے با اس بیان کو تسلیم کرتے ہیں۔ اگر تسلیم نہیں کرتے تو پھر دوس طرف سے وضاحت کہ کس سیاق و سباق میں و

ktiar: Sir, I pointed out to Mirza charged with an offence and I am gistrate asked me, I say: "Others ome offence". Now, if Mirza Sahib 's Hawalajat and other Hawalajat d the same 956 thing..... I mean that is point of view.... but it will not xpalin it, because Mirza Sahib, very different positon.

(مرزا قادیانی نے انگریز (جناب یحییٰ بختیار: جناب والا! میں ی کریں کہ مجھ پر کوئی الزام عائد ہوتا ہے، اور میں عدالت کہتا ہوں کہ اوروں نے بھی ویسا ہی جرم کیا ہے، اب م حوالہ جات دے رہے ہیں، اور اسی قسم کا موقف لے رہ ٩٠

1011 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

سے درست ہو سکتی ہے، مگر میرے نزدیک یہ موقف مناسب نہیں، نہ ہی اس سے کوئی بات واضح ہو گی، کیونکہ مرزا صاحب کی حیثیت بہت ہی مختلف ہے)

مرزا ناصر احمد : یہ Criminal Offence کے متعلق تو درست ہے...... جناب یحییٰ بختیار : نہیں ، وہ نہیں......

Mirza Nasir Ahmad: ....But, I think, I have not committed any criminal offence.

(مرزا ناصر احمد : لیکن تو فوجداری جرم کے بارے میں کہا جارہا ہے، میں نے کوئی فوجداری جرم نہیں کیا)

جناب یحییٰ بختیار : نہیں، نہیں،

Mr. Yahya Bakhtiar: No, no, no, insinuation. I have just given an example, and I brought mysilf in, I don't want to insinuate and hurt your feeling. I was giving an example that, for anything, you cannot say that "because others have done" That will not justify, that will not explain it.

(جناب یحییٰ بختیار : نہیں، کوئی الزام تراشی کی بات نہیں، میں نے تو اپنا مدعا سمجھانے کے لئے ایک مثال دی ہے۔ میں آپ (مرزا صاحب!) کے احساسات کو قطعاً مجروح کرنا نہیں چاہتا۔ میں نے تو صرف مثال دی ہے کہ آپ محض اس لئے کوئی کام نہیں کر سکتے کہ وہی کام اوروں نے کیا ہے، یہ کوئی جواز نہیں اور نہ ہی اس سے کوئی بات واضح ہو گی)

Mr. Chairman: That is a question of argument. (جناب چیئرمین : یہ تو دلائل کا سوال ہے)

Mr. Yahya Bakhtiar: I say I have pointed out onething.... (جناب یحییٰ بختیار: میں نے تو ایک نقطہ بیان کیا ہے......)

Mr. Chairman: .... we are talking of the procedure. (جناب چیئرمین: ...... ہم ضابطے کی بات کر رہے ہیں)

Mr. Yahya Bakhtiar: Mirza Sahib says, no that ٩١

صفحہ ١٠١٢

1012 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

was the background, this was the history, from his point of view....

(جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب کہتے ہیں کہ اس کا پس منظر یہ تھا، ان کے نقطہ نظر سے یہ تاریخی حقیقت تھی......)

مرزا ناصر احمد: ہاں، ایک ماحول جو ہے......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، ٹھیک ہے جی، میں نے کہا......

مرزا ناصر احمد: زمانے کا ایک ماحول جو ہے، پچاس،......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں،......

مرزا ناصر احمد: ......ایک، سوا صدی پہلے کی اگر بات کریں......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی، ٹھیک ہے۔

مرزا ناصر احمد: ......تو اس صدی کے ماحول کے بغیر......

957جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں نے کہا آپ اس کی ہسٹاریکل بیک گراؤنڈ ضروری سمجھتے تھے۔

مرزا ناصر احمد: ہاں۔

جناب یحییٰ بختیار: تو میں نے کہا، ٹھیک ہے، پڑھ لیں۔

Mr. Chairman: No, my only idea was to save the time of the House....

(جناب چیئرمین: نہیں میرا خیال تو صرف ایوان کا وقت بچانے کا تھا)

Mr. Yahya Bakhtiar: I know.

(جناب یحییٰ بختیار: میں جانتا ہوں)

Mr. Chairman: .... we do not want to tax the patience of the honourable members, the witness and everybody concerned.

(جناب چیئرمین: ہم معزز اراکین، گواہ یا اور لوگوں کے صبر کو آزمانا نہیں چاہتے)

Mr. Yahya Bakhtiar: I am aware of the valuable time of the House valuable time of Mirza Sahib, and I am

٩٢

صفحہ ١٠١٣

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

also getting tired, but this is a very important thing....

(جناب یحییٰ بختیار: مجھے ایوان اور گواہ کے قیمتی وقت کا پورا احساس ہے، میں خود بھی تھکا ہوا ہوں، مگر یہ بات بھی بہت اہم ہے)

Mr. Chairman: If, if we can minimise....

(جناب چیئرمین: اگر اس کو کم سے کم کر سکیں)

Mr. Yahya Bakhtiar: I want every clarification so that the committee should come to a very fair decision.

(جناب یحییٰ بختیار: میں ہر قسم کی وضاحت چاہتا ہوں، تاکہ کمیٹی کسی صحیح نتیجہ پر پہنچ سکے)

Mr. Chairman: My only, my only point was that if the written reply to Hawalajat can be filed, it will be read in evidence, and the copies will be cyclostyled and given to all the members. That is my point.

(جناب چیئرمین: میں صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اگر حوالہ جات کا تحریری جواب ہو تو اسے بطور شہادت شمار کیا جائے اور اس کی نقول تمام اراکین کو مہیا کی جائیں، بس صرف اسی قدر میرا مقصد ہے)

Mr. Yahya Bakhtiar: No, that we doing, Sir, But if, alongwith the reply, he can give a brief clarification, I think that is better, because this is not evidence, and it is not interrogatory.

(جناب یحییٰ بختیار: نہیں، جناب والا! یہ تو ہم کر رہے ہیں، لیکن میرا خیال کہ تحریری جواب کے ساتھ اگر کچھ وضاحت بھی ہو جائے تو یہ بہتر ہوگا، یہ نہ تو شہادت ہوگی نہ سوال نامہ )

Mr. Chairman: No, But if the witness says that this reply...

(جناب چیئرمین: نہیں، لیکن اگر گواہ کہے کہ یہ ایک جواب ہے......)

Mr. Yahya Bakhtiar: No, if it is a written reply...

(جناب یحییٰ بختیار: نہیں، اگر یہ تحریری جواب ہوا......)

٩٣

صفحہ ١٠١٥

1014 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

Mr. Chairman: Yes, it is a written reply.

(جناب چیئرمین: جی ہاں یہ تحریری جواب ہے)

Mr. Yahya Bakhtiar: It will be pointed out. That it will be explained.

(جناب یحییٰ بختیار: تو پھر گواہ سے وضاحت طلب کی جائے گی)

958 Mr. Chairman: That will be a part of evidence.

(جناب چیئرمین: یہ شہادت کا حصہ ہوگا)

Mr. Yahya Bakhtiar: The time was consumed mostly because of the Hawalajat.... what other Muslims have said about....

(جناب یحییٰ بختیار: زیادہ وقت ان حوالہ جات میں صرف ہوا جو کہ ”غدر“ کے بارے میں دوسرے مسلمانوں سے متعلقہ تھے)

مرزا ناصر احمد: ...... غدر۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں۔

Mr. Chairman: Yes if now we are able to cut it short....

(جناب چیئرمین: اگر ہم اس بحث کو سمیٹ سکیں)

Mr. Yahya Bakhtiar: Yes, I, I, I....

(جناب یحییٰ بختیار: جی ہاں، میں......)

Mr. Chairman: .... it may be beneficial to all of us... to the honourable members, to the witness to everyone of us.

(جناب چیئرمین: تو یہ بات معزز اراکین، گواہ اور ہم سب کے حق میں بہتر ہوگی)

Dr. Mohammad Shafi: Sir, may I say a word?

(ڈاکٹر محمد شفیع: جناب والا! کیا مجھے کچھ گزارش کرنے کی اجازت ہے؟)

Mr. Chairman: No. After this.

(جناب چیئرمین: جی نہیں، اس کے بعد) (Pause)

٩٤

1015 NATIONAL ASSEMBL

پڑھ لیجئے۔ (Pause)

ال تھا: ”اکھنڈ ہندوستان کی ہم تائید کرتے رہے

مجھے یاد نہیں۔ اس پر میں نے بعد میں تین سوال

سے شاید میں نے کوئی اور پوچھا ہو۔ لیکن چار سوال

....

Mr. Yahya Bakhtia importance with it. Just becau is no reason to condemn anybo

کو زیادہ اہمیت نہیں دیتے کہ آپ نے پاکستان ت کرنے کا کوئی جواز نہیں۔ کئی لوگوں نے......)

But we a... (لیکن ہم نے (مخالفت) نہیں کی)

Mr. Yahya Bakhtia you did... that was not the wanted to point out.... that y from the rest of Muslims.... se

ں سے علیحدہ شمار کرتے تھے؟) کریں کہ آپ نے مخالفت کی، یہ کوئی وجہ نہیں، کہ آپ اپنے آپ کو دوسرے مسلمانوں سے علیحدہ

Mr. Yahya Bakhtia

صفحہ ١٠١٥

1015 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

جناب یحییٰ بختیار: next جواب پڑھ لیجئے۔ (Pause)

مرزا ناصر احمد: یہ ایک سیاسی سوال تھا: ”اکھنڈ ہندوستان کی ہم تائید کرتے رہے ہیں ۔“ یہ ہے آپ کے ...... یا ہو گیا؟

جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! مجھے یاد نہیں۔ اس پر میں نے بعد میں تین سوال اور پوچھنے تھے، میں نے لکھے ہوئے ہیں......

مرزا ناصر احمد: جی۔

جناب یحییٰ بختیار: ...... ان میں سے شاید میں نے کوئی اور پوچھا ہو۔ لیکن چار سوال مجھے لکھ کے آئے تھے۔ یہ جو پولیٹیکل سائیڈ تھی ......

959 مرزا ناصر احمد: ہاں۔

Mr. Yahya Bakhtiar: .... we don't attach much importance with it. Just because you opposed pakistan, that is no reason to condemd anybody.

(جناب یحییٰ بختیار: ہم اس بات کو زیادہ اہمیت نہیں دیتے کہ آپ نے پاکستان (بننے کی) مخالفت کی، (اس وجہ سے) کسی کو ملامت کرنے کا کوئی جواز نہیں۔ کئی لوگوں نے ......)

مرزا ناصر احمد: کیا؟ ......But we did not (لیکن ہم نے (مخالفت) نہیں کی)

Mr. Yahya Bakhtiar: No, but I say... supposing you did... that was not the reason. The reason was.... I wanted to point out.... that you treated yourself different from the rest of Muslims.... separate. In that context....

(قادیانی اپنے آپ کو مسلمانوں سے علیحدہ شمار کرتے تھے؟)

(جناب یحییٰ بختیار: نہیں، فرض کریں کہ آپ نے مخالفت کی، یہ کوئی وجہ نہیں، اصل سبب یہ ہے کہ میں نے آپ پر یہ واضح کیا کہ آپ اپنے آپ کو دوسرے مسلمانوں سے علیحدہ شمار کرتے تھے، اس حوالہ سے ......)

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں۔

Mr. Yahya Bakhtiar: ... I asked the question.

٩٥

BLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

s, it is a written reply.

(جناب چیئرمین: جی ہاں یہ تحریری

ar: It will be pointed out. That

(جناب یحییٰ بختیار: تو پھر گواہ سے

That will be a part of evidence.

(جناب چیئرمین: یہ شہادت کا حصہ

ar: The time was consumed alajat.... what other Muslims

(جناب یحییٰ بختیار: زیادہ وقت بارے میں دوسرے مسلمانوں سے متعلقہ تھے)

مرزا ناصر احمد: ...... عذر۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں۔

s if now we are able to cut it

(جناب چیئرمین: اگر ہم اس بحث

r: Yes, I, I, I.....

(جناب یحییٰ بختیار: جی ہاں، میں

it may be beneficial to all of ers, to the witness to everyone

(جناب چیئرمین: تو یہ بات معزز

afi: Sir, may I say a word?

(ڈاکٹر محمد شفیع: جناب والا! کیا مجھے

After this.

(جناب چیئرمین: جی نہیں، اس

صفحہ ١٠١٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

(جناب یحییٰ بختیار: میں نے سوال پوچھا تھا)

مرزا ناصر احمد: تو وہ، وہ میں پھر اس کا جواب دے دوں؟

جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! میں جب آپ سے دوسرے سوال پوچھ لوں.......

مرزا ناصر احمد: ہاں، وہ تفصیلی ذرا جواب ہے، ممکن ہے آدھ پون گھنٹہ لگ جائے۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، تاکہ دوسرے بھی آپ کے سامنے ہوں گے.......

مرزا ناصر احمد: ہاں۔

جناب یحییٰ بختیار: ...... تو پھر آپ دے دیجئے اس کا......

مرزا ناصر احمد: ہاں، ٹھیک ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: ...... کیونکہ اس میں دو تین حوالے ہیں......

مرزا ناصر احمد: ہاں۔

جناب یحییٰ بختیار: ان کے ساتھ یہ آ جائے گا۔

960 مرزا ناصر احمد: ان کے ساتھ ملا کے آپ کا مطلب ہے، ان کو بھی ساتھ ملا لیا جائے؟

جناب یحییٰ بختیار: ہاں۔

مرزا ناصر احمد: آپ کا مطلب ہے کہ ان کو بھی ساتھ ملا لیا جائے، تا کہ وہ چھوٹے چھوٹے ٹکڑے علیحدہ علیحدہ وقت ضائع نہ کریں۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، پھر اس کے لئے تفصیلی جواب دینا پڑے گا۔

مرزا ناصر احمد: جی، جی، پوچھ لیجئے۔

جناب یحییٰ بختیار: اب ختم ہو گیا جی؟

مرزا ناصر احمد: نہیں،.......

جناب چیئرمین: آپ Question put (سوال پوچھیں)، آپ Question (سوال) سٹارٹ کریں۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، ایک اور جواب رہ گیا جی، جو پہلے پوچھے گئے ہیں۔

Mr. Chairman: And, for my enquiry, the member of the delegation can consult each other and can adopt whatever course they choose.

(جناب چیئرمین: اور میری انکوائری کے لئے، وفد کے اراکین ایک دوسرے سے

٩٦

صفحہ ١٠١٧

SEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07 (جناب یحییٰ بختیار: میں نے سوال پوچھا مرزا ناصر احمد: تو وہ، وہ میں پھر اس کا جواب جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! میں جس مرزا ناصر احمد: ہاں، وہ تفصیل ذرا جواب دے جناب یحییٰ بختیار: ہاں، تاکہ دوسرے بھی مرزا ناصر احمد: ہاں۔ جناب یحییٰ بختیار: ...... تو پھر آپ دے دی مرزا ناصر احمد: ہاں، ٹھیک ہے۔ جناب یحییٰ بختیار: ...... کیونکہ اس میں دو تی مرزا ناصر احمد: ہاں۔ جناب یحییٰ بختیار: ان کے ساتھ یہ آ جائے 960 مرزا ناصر احمد: ان کے ساتھ ملا کے آپ جناب یحییٰ بختیار: ہاں۔ مرزا ناصر احمد: آپ کا مطلب ہے کہ الـ چھوٹے ٹکڑے علیحدہ علیحدہ وقت ضائع نہ کریں۔ جناب یحییٰ بختیار: ہاں، پھر اس کے لئے تـ مرزا ناصر احمد: جی، جی، پوچھ لیجئے۔ جناب یحییٰ بختیار: اب ختم ہو گیا جی؟ مرزا ناصر احمد: نہیں، ...... جناب چیئرمین: آپ put on Question (سوال) سٹارٹ کریں۔ جناب یحییٰ بختیار: نہیں، ایک اور جواب And, for my enquiry, the member consult each other and can adopt se. (جناب چیئرمین: اور میری انکوائری کے ٩٦

1017 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07 مشورہ کر سکتے ہیں اور جو بھی طریقہ وہ پسند کریں)

(درود شریف کے متعلق سوال)

مرزا ناصر احمد: یہ وہ ایک فوٹوسٹیٹ کی کاپی رسالہ ”درود شریف“ کے متعلق یہاں دی گئی تھی، میرا خیال ہے فوٹوسٹیٹ کاپی تھی۔ جناب یحییٰ بختیار: دو فوٹوسٹیٹ۔ ایک یہ تھی ...... مرزا ناصر احمد: ہاں، ایک یہ تھا، ایک اور تھا، ایک وہ تھا۔ وہ دونوں ایسے ہیں جن کا ہے یہ نہیں ...... یہ جو چھپا ہے، وہ بھی غلط۔ یعنی ہے ہی نہیں وہ صفحہ اور جو مضمون ہے وہ بھی غلط، ہماری ...... ہمارے پاس کئی ایڈیشن ہیں اس رسالے کے، اور سارے ہم نے دیکھے ہیں، اور اس میں کہیں یہ عبارت نہیں جو اس دن یہاں اس دن پڑھ کے سنائی گئی۔ فوٹوسٹیٹ کاپی، اس ...... جو 961 پڑھ کے سنایا گیا ...... اس میں تھا کہ ...... یہ ایک اندرونی شہادت ہوتی ہے جو اس کے خلاف ہے ...... اس میں یہ ہے کہ حافظ محمد صاحب کے پیچھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے نماز پڑھنے کا کوئی ثبوت ...... انہوں نے کہا ہے کہ پڑھی ...... اور کوئی ثبوت سلسلہ احمدیہ کے مطبوعہ لٹریچر سے نہیں ملتا۔ حافظ محمد صاحب ایک نامعلوم شخصیت ہے جس کا تحریک احمدیت میں کوئی ذکر تک نہیں ملتا۔ جن احباب کے پیچھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے نماز پڑھی ہے اور جن کا ذکر سلسلہ کے لٹریچر میں موجود ہے، وہ حسب ذیل ہے: حضرت مولوی نورالدین صاحب ...... جناب یحییٰ بختیار: یہ سوال آپ سے نہیں پوچھا۔ مرزا ناصر احمد: ہیں جی؟ جناب یحییٰ بختیار: یہ سوال نہیں پوچھا۔ مرزا ناصر احمد: نہیں، یہ پوچھا۔ وہ جو پڑھا تھا ناں پورا، یعنی درود کے متعلق، لیکن ...... جناب یحییٰ بختیار: ہاں۔ مرزا ناصر احمد: اس ساری عبارت میں یہ بھی ذکر تھا۔ جناب یحییٰ بختیار: نہیں، وہ جو صرف درود کا پارٹ تھا ...... مرزا ناصر احمد: ہاں، لیکن یہ ذکر تھا کہ حافظ محمد صاحب نے یہ روایت کی ہے۔ اب جماعت اس نام کو ہی نہیں جانتی۔ جناب یحییٰ بختیار: نہیں، تو آپ کے پاس ایسا کوئی درود ہے ہی نہیں، چھپا ہی ٩٧

صفحہ ١٠١٨

1018 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974. No:07

نہیں؟ جو کتاب چھپی ہوئی ہے وہ دکھا دیں گے۔

مرزا ناصر احمد: ہاں، وہ اگر دکھا دیں۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، وہ لے آئیں گے۔

962مرزا ناصر احمد: اور میرا خیال ہے کہ وہ مشکل سے ملے گی کیونکہ ہے ہی کوئی نہیں۔

Mr. Chairman: When, I think, the denial comes, there is no need of explanation.

(جناب چیئرمین: میرے خیال میں جب انکار کر دیا جائے تو کسی وضاحت کی ضرورت نہیں رہتی)

جناب یحییٰ بختیار: ہاں...... If (اگر)

Mr. Chairman: When, when a fact is denied that it never existed....

(جناب چیئرمین: جب کسی واقعہ کا سرے سے انکار کر دیا جائے......)

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، میں یہ......

Mr. Chairman: There is no need of explanation.

(جناب چیئرمین: تو پھر وضاحت کی ضرورت نہیں رہتی)

مرزا ناصر احمد: جی، میں یہ Deny کرتا ہوں کہ ہمارے پاس جتنے ایڈیشن ہیں، ان میں کہیں بھی اس کا ذکر نہیں، اس درود کا۔ نمبر ایک۔ میں یہ Deny کرتا ہوں کہ...... میں احمدیت کی گود میں پلا ہوں...... میں نے ساری عمر میں کبھی ایک دفعہ بھی اس درود کے الفاظ، درود کے نہیں سنے، یہ میں Deny کر رہا ہوں۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، آپ نے پہلے بھی کہا You dont believe of it (آپ اس پر یقین نہیں رکھتے) تو آ چکا۔

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں۔ پس پھر اس کو چھوڑتے ہیں۔

Mr. Chairman: This is sufficient. Now we go on to the next.

(جناب چیئرمین: یہ کافی ہے، اگلی بات کریں)

(Pause)

مرزا ناصر احمد: اچھا، رسالہ ”ختم نبوت“ از مودودی صاحب اور اس کے جواب پر

٩٨

صفحہ ١٠١٩

1019 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

دوبارہ غور کرنے کا آپ نے کہا تھا وہ کر لیں...... (اپنے وفد کے ایک رکن سے) ہیں؟ اچھا، وہ بھی۔ ”یہ بھی جواب ہو گیا“ تو یہاں لکھ نہیں رہا۔ اچھا، یہ ہے۔ 963 (اٹارنی جنرل سے) ”جماعت الگ بنانا“ "Ahmad, a Messenger" .... "of later days" (احمد، بعد میں آنے والا رسول)

جناب یحییٰ بختیار: وہ Page (صفحہ) پر کیا کچھ تھا؟

مرزا ناصر احمد: وہ بھی یہاں فوٹوسٹیٹ ایک کاپی یہاں پیش کی گئی۔

جناب یحییٰ بختیار: آپ کا خطاب نہیں ہوا؟

مرزا ناصر احمد: میں بتاتا ہوں۔ (اپنے وفد کے ایک رکن سے) اس کتاب کا کیا نام ہے؟ (اٹارنی جنرل سے) ”سیرت مسیح موعود“ کے نام سے ایک کتاب چھپی ہے......

جناب یحییٰ بختیار: اس کا ترجمہ ہوا ہے اردو میں۔

مرزا ناصر احمد: اردو میں وہ الفاظ یہ نہیں جو وہ انگریزی ترجمہ جو محمد ہاشم صاحب بنگالی نے کیا، ابوالہاشم صاحب بنگالی......١٩٢٤ء کی یہ کتاب نہیں، یہ ١٩١٦ء، ١٩١٧ء کی کتاب ہے، یہ اس وقت کی کتاب نہیں آپ کے ذہن میں تھا، یعنی......

جناب یحییٰ بختیار: وہ اور ہے۔

مرزا ناصر احمد: وہ ١٩٢٤ء والی...... Ahmadiyyat or the true Islam (احمدیت یا سچا اسلام)

جناب یحییٰ بختیار: وہ لیکچر اور تھا۔

مرزا ناصر احمد: ہاں، وہ لیکچر اور ہے۔ یہ وہ نہیں ہے۔ اس کا جو اردو کے الفاظ ہیں....... (Pause)

(مرزا قادیانی نے اپنے مریدوں سے کہا اپنے کو احمدی مسلمان لکھواؤ)

دیکھیں ناں، کتنا فرق ہے۔ یہ جو اردو کے الفاظ ہیں یہ Self-Explanatory (خود اپنی وضاحت کرنے والا) ہیں۔ اس میں ہے: ”١٩٠١ء میں مردم شماری ہونے والی تھی۔ اس لئے ١٩٠١ء کے اواخر میں آپ نے اپنی جماعت کے نام ایک اعلان شائع کیا کہ ہماری جماعت کے لوگ کاغذاتِ مردم شماری میں اپنے آپ کو ”احمدی مسلمان“ لکھوائیں...... ”احمدی مسلمان“ لکھوائیں۔...... گویا اس سال آپ نے اپنی جماعت کو ”احمدی“ کے نام سے مخصوص کر کے

٩٩

BLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

نہیں؟ جو کتاب چھپی ہوئی ہے وہ دکھا دیں گے ۔

مرزا ناصر احمد: ہاں، وہ اگر دکھا دیں

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، وہ لے آئیں

962 مرزا ناصر احمد: اور میرا خیال ہے hen, I think, the denial comes, n.

(جناب چیئرمین: میرے خیال میں ضرورت نہیں رہتی)

جناب یحییٰ بختیار: ہاں...... If en, when a fact is denied that

(جناب چیئرمین: جب کسی واقعہ کا

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، میں یہ.... re is no need of explanation.

(جناب چیئرمین: تو پھر وضاحت کی

مرزا ناصر احمد: جی، میں یہ eny ان میں کہیں بھی اس کا ذکر نہیں، اس درود کا۔ نہی احمدیت کی گود میں پلا ہوں...... میں نے ساری ع کے نہیں سنے، یہ میں Deny کر رہا ہوں۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، آپ...... (آپ اس پر یقین نہیں رکھتے) تو آچکا۔

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں۔ بس پھ s is sufficient. Now we go on

(جناب چیئرمین: یہ کافی ہے، اگ se)

مرزا ناصر احمد: اچھا، رسالہ ”تشح

صفحہ ١٠٢٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

دوسرے مسلمانوں سے ...... دوسرے مسلمانوں سے ...... ممتاز کر دیا ۔‘‘ ایک امتیاز ان میں پیدا کیا کہ ”احمدی مسلمان“ لکھواؤ تم ۔ اب اس کا اگر غلط ترجمہ کہیں ہوا ہے ......

جناب یحییٰ بختیار: ترجمہ نہیں جی ، وہ بھی مطلب ہی ہے اس کا کہ "As "Separate Entity (بطور ایک الگ حقیقت)

مرزا ناصر احمد: ”ممتاز کر دیا ۔‘‘

جناب یحییٰ بختیار: ”ممتاز“ مطلب ہے، اوپر ہو یا نیچے ہو، ......

مرزا ناصر احمد: نہ، نہ، نہ، نہ، اوہو! اوہو! .......

جناب یحییٰ بختیار: مختلف ہو گیا ناں جی۔

مرزا ناصر احمد: امتیاز پیدا کیا، جس طرح یہ اپنے بریلوی اور اہل حدیث ......

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، ہاں۔

مرزا ناصر احمد: اور یہ ہیں ......

جناب یحییٰ بختیار: ایک اور فرقہ بن گیا۔

مرزا ناصر احمد: مسلمانوں میں ایک اور فرقہ۔

جناب یحییٰ بختیار: باقی کی Census (مردم شماری) میں تو یہ ہم نے دیکھا ہے کہ شیعہ سنی کا آتا رہا ہے، مگر بریلوی دیوبندی کا ابھی تک نہیں آیا۔

مرزا ناصر احمد: اگلی Census (مردم شماری) میں شاید آجائے۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، وہ میں نہیں کہہ سکتا۔ پہلے یہ ہوتا تھا کہ General Way میں، اتنے شیعہ، اتنے سنی۔ باقی یہ جو ہیں ......

965 مرزا ناصر احمد: تو شیعہ سنی کا بھی آخر ...... میں، میں ...... ویسے اعتراض نہیں ...... میں ویسے میں اپنی ......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں بات کر رہا ہوں ......

مرزا ناصر احمد: ہاں۔

جناب یحییٰ بختیار: ...... کہ وہ جو اپنی رپورٹ لکھتے ہیں Censuse (مردم شماری) میں علیحدہ لکھواتے تھے ......

مرزا ناصر احمد: جی۔

١٠٠

صفحہ ١٠٢١

L ASSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07 دوسرے مسلمانوں سے...... دوسرے مسلمانوں سے...... ممتاز ایک امتیاز ان میں پیدا کیا کہ ”احمدی مسلمان“ لکھا ہوا ہے...... جناب یحییٰ بختیار: ترجمہ نہیں جی، وہ بھی "Separate Entity" (بطور ایک الگ حقیقت) مرزا ناصر احمد: ”ممتاز کر دیا“ جناب یحییٰ بختیار: ”ممتاز“ مطلب ہے، او پر ا مرزا ناصر احمد: نہ، نہ، نہ، نہ، اوہو! اوہو!...... جناب یحییٰ بختیار: مختلف ہو گیا ناں جی۔ مرزا ناصر احمد: امتیاز پیدا کیا، جس طرح یہ اپنے جناب یحییٰ بختیار: ہاں، ہاں۔ مرزا ناصر احمد: اور یہ ہیں...... جناب یحییٰ بختیار: ایک اور فرقہ بن گیا۔ مرزا ناصر احمد: مسلمانوں میں ایک اور فرقہ۔ جناب یحییٰ بختیار: باقی کی Census (مردم کہ شیعہ سنی کا آتا رہا ہے، مگر بریلویوں کا کبھی الگ نہیں آیا مرزا ناصر احمد: اگلی Census (مردم شماری جناب یحییٰ بختیار: ہاں، وہ میں نہیں کہہ سکتا Way میں، اتنے شیعہ، اتنے سنی۔ باقی یہ جو ہیں...... مرزا ناصر احمد: تو شیعہ سنی 965 کا بھی آخر...... میں میں ویسے میں اپنی...... جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں بات کر رہا ہوں مرزا ناصر احمد: ہاں۔ جناب یحییٰ بختیار: ......کہ وہ جو اپنی رپو شماری) میں علیحدہ لکھواتے تھے...... مرزا ناصر احمد: جی۔ ١٠٠

1021 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07 جناب یحییٰ بختیار: کہ یہ شیعہ مسلمان اتنے ہیں...... مرزا ناصر احمد: ہاں۔ جناب یحییٰ بختیار: وہ اپنی رپورٹ میں لکھتے تھے کہ شیعہ اتنے ہیں، اندازاً اور سنی اتنے ہیں۔ مگر یہ کہ شیعہ نے کبھی اپنے آپ کو علیحدہ نہیں لکھوایا کہ ”میں شیعہ ہوں“ نہ کوئی Instructions دی ہیں، نہ سنیوں نے، نہ بریلویوں نے، نہ دیوبندیوں نے، یہ، یہ پوائنٹ جو تھا، میں اس کی Clarification (وضاحت) چاہتا ہوں۔ مرزا ناصر احمد: نہیں، اگر انہوں نے لکھوایا نہیں تو Census (مردم شماری) کے نتائج میں ”شیعہ اتنے ہیں“ کیسے آگیا؟ جناب یحییٰ بختیار: نہیں، وہ اپنا...... رپورٹ میں دے رہے ہیں۔ مرزا ناصر احمد: ہیں جی؟ جناب یحییٰ بختیار: رپورٹ میں دے رہے ہیں کہ The shias are estimated to be so many out of them. (ان میں سے شیعوں کی تعداد کا اندازہ کر لیا گیا) Mirza Nasir Ahmad: In the census report ? (مرزا ناصر احمد: مردم شماری کی رپورٹ سے؟) 966 جناب یحییٰ بختیار: ہاں، پرانی جو تھی ناں، اس میں۔ مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، میرا مطلب یہ ہے کہ آخر انہوں نے ”شیعہ“ لکھوایا ہوگا تو Census (مردم شماری) کی رپورٹ میں آیا ہوگا۔ جناب یحییٰ بختیار: نہیں، Estimated (اندازہ) مرزا ناصر احمد: ہاں۔ جناب یحییٰ بختیار: وہ ایسے علیحدہ لکھے نہیں گئے۔ Mirza Nasir Ahmad: I wonder. How do you, how can you estimate without there being any satatistics to base your estimation? (مرزا ناصر احمد: میں حیران ہوں کہ شماریات کے مواد کے بغیر آپ نے ان کی تعداد کا کیسے اندازہ کر لیا؟) ١٠١

صفحہ ١٠٢٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

Mr. Yahya Bakhtiar: You have estimated, Sir, that the Ahmadis are four million; they can estimate.

(جناب یحییٰ بختیار: جس طرح آپ نے احمدیوں کے بارے میں اندازہ کر لیا کہ چالیس لاکھ (اسی طرح) وہ بھی اندازہ کر سکتے ہیں!)

مرزا ناصر احمد: اچھا، اس Sense (معنی) میں! وہاں کوئی شیعہ موجود ہوں گے!

Mr. Yahya Bakhtiar: .... I don't remember- I may be wrong. (جناب یحییٰ بختیار: مجھے یاد نہیں، ہو سکتا ہے کہ میں غلطی پر ہوں۔)

…… میرا امپریشن یہ ہے کہ پہلی دفعہ ……

مرزا ناصر احمد: جی۔

جناب یحییٰ بختیار: …… ١٩٢١ء میں …… لکھتے ہیں کہ ……

مرزا ناصر احمد: بہر حال اس کا مطلب یہ ہے کہ ”احمدی مسلمان“ اور فرقے کا جماعت کا امتیاز، ممتاز ان کو کرنے کے لئے۔

جناب یحییٰ بختیار: وہ انگریزی کتاب جو ہے، وہ آپ کے ……

مرزا ناصر احمد: یہ ہماری جماعت کی طرف سے شائع نہیں ہوئی، ایک Individual (فرد) نے کیا ہے اسے۔

967 جناب یحییٰ بختیار: قادیان سے۔ آپ دیکھ لیجئے۔ آپ کتاب مجھے دکھا دیجئے۔

مرزا ناصر احمد: ہاں، دیکھ لیں اور یہ سمجھ نہیں آیا ہمیں کہ یہ کتاب موجود تھی تو فوٹو سٹیٹ کاپی یہاں پیش کی گئی! ……؟

جناب یحییٰ بختیار: نہیں نہیں، وہ ان کے پاس نہیں تھی کتاب اس وقت۔

مرزا ناصر احمد: ہیں جی؟

جناب یحییٰ بختیار: ان کے پاس نہیں تھی۔ وہ آپ دیکھ لیں۔

مرزا ناصر احمد: اچھا اس میں عنوان ہے ”…… Outside“ ……

جناب یحییٰ بختیار: ہاں۔

مرزا ناصر احمد: جو آپ نے یہ کہا، ……

١؎ استاد ہاتھ ملا، کیسے کہی جناب اٹارنی جنرل نے کہ مرزا ناصر کی گھگی بند ہو گئی؟

٢؎ کتنا اہم سوال ہے مرزا ناصر کا؟ اس کو کہتے ہیں: خوئے بد را بہانہ بسیار!

١٠٢

صفحہ ١٠٢٣

MBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

liar: You have estimated, Sir, illion; they can estimate.

(جناب یحییٰ بختیار: جس طرح آپ چالیس لاکھ (اسی طرح) وہ بھی اندازہ کر سکتے ہیں؟)

مرزا ناصر احمد: اچھا، اس Sense

ar: .... I don't remember- I may

(جناب یحییٰ بختیار: مجھے یاد نہیں، ہو ....... میرا امپریشن یہ ہے کہ پہلی دفعہ.......

مرزا ناصر احمد: جی۔

جناب یحییٰ بختیار: ....... ١٩٢١ء میں..

مرزا ناصر احمد: بہر حال اس کا مط.. جماعت کا امتیاز، ممتاز ان کو کرنے کے لئے۔

جناب یحییٰ بختیار: وہ انگریزی کتاب

مرزا ناصر احمد: یہ ہماری جماع.. Individual (فرد) نے کیا ہے اسے۔

967 جناب یحییٰ بختیار: قادیان سے

مرزا ناصر احمد: ہاں، دیکھ لیں اور .. سٹیٹ کاپی یہاں پیش کی گئی!......؟

جناب یحییٰ بختیار: نہیں نہیں، وہ ا..

مرزا ناصر احمد: ہیں جی؟

جناب یحییٰ بختیار: ان کے پاس نہیں

مرزا ناصر احمد: اچھا اس میں عنوان

جناب یحییٰ بختیار: ہاں۔

مرزا ناصر احمد: جو آپ نے یہ کہا،...

لے استاذ ہاتھ ملا، کیسے کہی جناب اٹارنی یہ کتنا اہم سوال ہے مرزا ناصر کا؟ اس

١٠٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

جناب یحییٰ بختیار: ہاں۔

مرزا ناصر احمد: یہاں یہ عنوان ہی کوئی نہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: دکھایئے مجھے۔

مرزا ناصر احمد: یہ، یہ عنوان اس میں جو ہے ناں، ترجمے میں، اصل میں جو اردو کا ہے، یہ ہے ہی نہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: اردو میں نہیں؟ اس میں، انگلش میں تو ہے۔

مرزا ناصر احمد: ہاں، انگلش میں ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں۔

مرزا ناصر احمد: کافی عنوان لگائے ہیں اس شخص نے۔ یعنی یہ دیکھیں ناں......

جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی، وہ ٹھیک ہے۔ وہ پبلش آپ کے......

مرزا ناصر احمد: آپ سمجھ جائیں گے آپ، یہ ہیں......

968 جناب یحییٰ بختیار: قادیان کی طرف سے Officially پبلش ہوا ہے۔

مرزا ناصر احمد: اس میں کوئی Heading نہیں ہے۔ Heading (عنوان) ترجمہ کرنے والے نے اپنے لگا دئیے...... ابو الہاشم بنگالی نے۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، وہ......

مرزا ناصر احمد: ان کو Heading لگانے کا شاید شوق ہوگا، شوق ہوگا۔

(Pause)

جناب یحییٰ بختیار: یہ اس کا وہ جو ہے، ١٩٢٤ء کا ایڈیشن تھا، میرے خیال میں۔

مرزا ناصر احمد: اردو میں تو کہیں بھی نہیں...... وہ تو ایک ہی چل رہا ہے ناں...... نہ عنوان ہیں۔ عنوان بھی مترجم نے لگائے ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! یہ ہے

"Ahmad, Messenger of the Later Days Part I, by Mirza Bashir-ud-din Mahmud Ahmad, reproduced from the "Review of Religions" volume...."

اس کے دیئے ہوئے ہیں:

١٠٣

صفحہ ١٠٢٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

".... Published by Sadar Anjuman-i-Ahmadiyya, Qadian, Punjab, India."

(یہ مرزا بشیر الدین محمود کی کتاب ریویو آف ریلیجنز کا حصہ اول ہے جسے انجمن احمدیہ قادیان (پنجاب،انڈیا) نے شائع کیا)

I don't consider to be more authoritative document.

They never said this is wrong.

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، میں یہ کہہ رہا ہوں کہ اس کے جو عنوان لگے ہیں وہ اصل کتاب میں نہیں ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: وہ ان کو، غلط ہیں اگر تو ان کو ٹھیک کرنا چاہئے تھا کہ یہ ہم مسلمانوں سے باہر نہیں ہیں۔

969 مرزا ناصر احمد: اس سے پہلے آپ نے یاددہانی......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں...............

مرزا ناصر احمد: اب کردیں گے۔

Mr. Yahya Bakhtiar: "Ahmadis to form...."

(جناب یحییٰ بختیار: احمدی......)

مرزا ناصر احمد: ہاں، وہ میں سمجھ گیا، وہ تو میں نے دیکھا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، "Separate Community from the outside Musalmans." (دوسرے مسلمانوں سے الگ ایک جماعت (قوم) ہے) میں سمجھا وہ جو دو دائرے آپ نے بنائے ہوئے ہیں، وہ Outside" "Musalmans (مسلمانوں سے باہر) ہیں۔

مرزا ناصر احمد: نہیں، ہاں، وہ تو جو کتاب ہے اصل ہمارے سامنے، اس سے مختلف یہ ترجمہ کیسے ہوتا.......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں، وہ تو ٹھیک ہے، آپ جو کہہ رہے ہیں وہ ٹھیک کہ یہ جو کتاب ایسے غلط طریقے سے، آپ کہتے ہیں......

مرزا ناصر احمد: ہاں۔

جناب یحییٰ بختیار: ...... کہ پبلش ہوئی ہے، اور آپ کی اتھارٹی کے نیچے۔

١٠٤

1025 NATIONAL ASS...

ن یہ ترجمہ کرنے والے ابوالہاشم صاحب ہی نہیں عنوان۔ ا ترجمہ ٹھیک ہے؟

Mr. Chairman: translation has no value.

(تو ترجمہ کی کوئی اہمیت نہیں)

Mr. Yahya B... translation is published un...

ترجمہ بھی ان ہی کے حکم سے شائع ہوا ہے)

970 Mr. Chairman

ی کہ نہیں؟ ...... تعلق ں آپ سے پوچھ لوں گا۔ ت الگ بنانا“ یہ ایک Tendency From main body of Mill... ... عظیم عنصر)

This is Impo... (یہ بہت اہم ہے)

ت سے جان خلاصی کے لئے کیا کیا پاپڑ حقیقت آگئی کہ اصل میں بھی حوالہ موجود ت کا ہے۔ اصل مشکل مرزا ناصر کے لئے اں چھوڑنا۔

صفحہ ١٠٢٥

EMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07 Sadar Anjuman-i-Ahmadiyya,

(یہ مرزا بشیر الدین محمود کی کتاب ریویو آف قادیان (پنجاب ، انڈیا) نے شائع کیا) be more authoritative document. ng. مرزا ناصر احمد : نہیں نہیں ، میں یہ کہہ رہ کتاب میں نہیں ہیں۔ جناب یحییٰ بختیار : وہ ان کو ، غلط ہیں مسلمانوں سے باہر نہیں ہیں۔ ⁹⁶⁹مرزا ناصر احمد : اس سے پہلے آپ بے جناب یحییٰ بختیار : نہیں .............. مرزا ناصر احمد : اب کر دیں گے۔ tiar: "Ahmadis to from ...." (جناب یحییٰ بختیار : احمدی ......) مرزا ناصر احمد : ہاں ، وہ میں سمجھ گیا ، وہ تو جناب یحییٰ بختیار : ہاں ، m the "outside Musalmans (دوسرے مسلمانو میں سمجھا وہ جو دو دائرے آپ نے بن "Musalmans (مسلمانوں سے باہر) ہیں۔ مرزا ناصر احمد : نہیں ، ہاں ، وہ تو جو کتاب یہ ترجمہ کیسے ہوتا ...... جناب یحییٰ بختیار : نہیں نہیں ، وہ تو مجھ جو کتاب ایسے غلط طریقے سے ، آپ کہتے ہیں ...... مرزا ناصر احمد : ہاں ۔ جناب یحییٰ بختیار : ...... کہ پبلش ہوئی ١٠٤

1025 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07 مرزا ناصر احمد : ہاں ، یہ ٹھیک ہے۔ لیکن یہ ترجمہ کرنے والے ابوالہاشم صاحب بنگالی ہیں ، اور اصل کتاب میں کوئی عنوان نہیں ہے ، ہے ہی نہیں عنوان ۔ جناب یحییٰ بختیار : باقی نیچے کے مضمون کا ترجمہ ٹھیک ہے ؟ مرزا ناصر احمد : ممتاز کرنے والا ؟ Mr. Chairman: When the original is available, translation has no value. (جناب چیئرمین : جب اصل موجود ہے تو ترجمہ کی کوئی اہمیت نہیں) Mr. Yahya Bakhtiar: No, Sir, even the translation is published under their authority. (جناب یحییٰ بختیار : جی نہیں ، جناب والا! ترجمہ بھی ان ہی کے حکم سے شائع ہوا ہے) ⁹⁷⁰Mr. Chairman: Yes. (جناب چیئرمین : جی ہاں) (Pause) ١؎ جناب یحییٰ بختیار : اور کوئی حوالہ رہ گیا ہے جی کہ نہیں ؟ مرزا ناصر احمد : وہ ”اکھنڈ ہندوستان“ کے متعلق ...... جناب یحییٰ بختیار : وہ تو میں نے کہا : وہ میں آپ سے پوچھ لوں گا۔ مرزا ناصر احمد : اور ایک ہے یہ ”جماعت الگ بنانا“ یہ ایک Tendency (رجحان) کہ یہ ایک علیحدہ ہو جائے From main body of Millat-i-Islamia اس کا میں تفصیلی جواب دینا چاہتا ہوں کیونکہ یہ بڑا سخت ...... (ملت اسلامیہ کا ایک عظیم عنصر) جناب یحییٰ بختیار : نہیں ، نہیں ، This is Important (یہ بہت اہم ہے) کیونکہ مجھے ...... بہت سے سوال تھے ......

١؎ اپنے باپ مرزا محمود کی ایک کتاب کی عبارت سے جان خلاصی کے لئے کیا کیا پاپڑ بیلنے پڑے مرزا ناصر کو۔ لیکن چیئرمین صاحب کے سامنے حقیقت آگئی کہ اصل میں بھی حوالہ موجود ہے۔ ترجمہ میں بھی موجود ہے۔ وہ ترجمہ بھی ان کی جماعت کا ہے۔ اصل مشکل مرزا ناصر کے لئے یہ تھی کہ وہ کمبل سے جان چھڑانا چاہتا ہے۔ مگر کمبل جان نہیں چھوڑتا۔ ١٠٥

صفحہ ١٠٢٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں۔

جناب یحییٰ بختیار: ...... اور میں نے آپ کو شروع سے Clear (واضح) کیا کہ ......

مرزا ناصر احمد: یہ میں نے اپنی ساری تاریخ پر طائرانہ نظر ڈالی ہے اور اس پر لگیں گے گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ۔ تو اگر اس وقت ہو سکتا ہے تو ......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، وہ ٹھیک ہے، مرزا صاحب! اس وقت جو ہے ناں اس پر ......

مرزا ناصر احمد: لیکن میں یہ کوشش کروں گا کہ یہ سارا پڑھنے کی بجائے ہر عنوان کے نیچے مثلاً ایک حوالہ پڑھ دوں۔

جناب یحییٰ بختیار: آپ حوالہ ایک پڑھ لیجئے، باقی خود Explain (واضح) کر دیجئے اس پر ......

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، وہ ......

جناب یحییٰ بختیار: مگر اس ”Separatism“ (علیحدگی) پر ......

971 مرزا ناصر احمد: ہاں۔

جناب یحییٰ بختیار: ...... کئی سوال اور بھی میں نے پوچھنے ہیں آپ سے ......

مرزا ناصر احمد: جی۔

جناب یحییٰ بختیار: ...... تو اس کے بعد اگر آپ اس پر آجائیں تو بہتر ہوگا ......

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، ٹھیک ہے، جیسا آپ چاہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: ...... کیونکہ ایک دو حوالے تھے۔ ابھی، آپ نے کہا، کہ وہ ان کے جواب نہیں ہیں آپ کے پاس ......

مرزا ناصر احمد: ہوں۔

جناب یحییٰ بختیار: جو کہ آپ کو ملے ہی نہیں۔ اس لئے ہمیں پھر Verify (تصدیق) کرنے پڑیں گے۔

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، ٹھیک ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: اور تو کوئی نہیں رہ گیا آپ کے پاس؟

مرزا ناصر احمد: نہیں، اور نہیں کوئی۔

جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! ایک دو حوالے اور تھے ......

مرزا ناصر احمد: جی فرمائیے۔

١٠٦

صفحہ ١٠٢٧

ASSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07 مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں۔ جناب یحییٰ بختیار: ......اور میں نے آپ کو شروع مرزا ناصر احمد: یہ میں نے اپنی ساری تاریخ گے گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ۔ تو اگر اس وقت ہو سکتا ہے تو...... جناب یحییٰ بختیار: نہیں، وہ ٹھیک ہے، مرزا صاحب مرزا ناصر احمد: لیکن میں یہ کوشش کروں گا کے نیچے مثلاً ایک حوالہ پڑھ دوں۔ جناب یحییٰ بختیار: آپ حوالہ ایک پڑھ کر دیجئے اس پر...... مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، وہ...... جناب یحییٰ بختیار: مگر اس "Separatism" 971 مرزا ناصر احمد: ہاں۔ جناب یحییٰ بختیار: ......کئی سوال اور بھی ہیں...... مرزا ناصر احمد: جی۔ جناب یحییٰ بختیار: ......تو اس کے بعد اگر آپ مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، ٹھیک ہے، جیسا آپ جناب یحییٰ بختیار: ......کیونکہ ایک دو حوالے کے جواب نہیں ہیں آپ کے پاس...... مرزا ناصر احمد: ہوں۔ جناب یحییٰ بختیار: جو کہ آپ کو طے ہی نہیں (تصدیق) کرنے پڑیں گے۔ مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، ٹھیک ہے۔ جناب یحییٰ بختیار: اور تو کوئی نہیں رہ گیا آپ مرزا ناصر احمد: نہیں، اور نہیں کوئی۔ جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! ایک دو حوالے مرزا ناصر احمد: جی فرمائیے۔ ١٠٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07 جناب یحییٰ بختیار: ......یا تو آپ جواب دے چکے ہیں مگر میں نے نوٹ نہیں کیا۔ میرے نوٹ میں تو یہ ہے کہ ان کا جواب آپ نے نہیں دیا۔ کیونکہ آج...... (Pause) اس میں سے کئی حوالے میں نے آپ کو لکھوائے تھے۔ کچھ آپ نے اس دن جواب دیا۔ پھر آپ نے آج جواب دیئے۔

(میرا مخالف عیسائی، یہودی، مشرک اور جہنمی ہے)

972 آپ نے وہ جو ”جہنمی“ کا تھا وہ آج آپ نے جواب دیا ”وہ جہنمی ہے“ اسی کے ساتھ ایک حوالہ تھا: ”جو شخص میرا مخالف ہے وہ عیسائی، یہودی، مشرک اور جہنمی ہے۔“ ”نزول مسیح“ میں سے ص٤ ”تذکرہ“...... مرزا ناصر احمد : یہ اس کا حوالہ...... وہ دے دیا تھا...... جناب یحییٰ بختیار: جواب دے دیا تھا؟ مرزا ناصر احمد: ہاں جی، جواب دیا جا چکا ہے۔

(کنجریوں اور بدکاروں کی اولاد نے مجھے نہیں مانا)

جناب یحییٰ بختیار: اچھا اور پھر ایک تھا جی کہ: ”کل مسلمانوں نے مجھے قبول کر لیا اور میری دعوت کی تصدیق کی مگر کنجریوں اور بدکاروں کی اولاد نے مجھے نہیں مانا۔“ (آئینہ کمالات اسلام ص ٥٤٨،٥٤٧) آپ نے کہا کہ یہ اس کا مطلب اور ہے، عربی میں ”کنجریوں اور بدکاروں“ کا...... مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں۔ جناب یحییٰ بختیار: ......اور آپ اس کو Explain (واضح) کریں گے۔ مرزا ناصر احمد: جی۔ جناب یحییٰ بختیار: تو ایک تو یہ چیز ہے کہ حوالہ ہے اس قسم کا...... مرزا ناصر احمد: اس معنوں میں نہیں ہے۔......”نہیں مانیں گے“...... نہیں مستقبل کے متعلق نہیں...... جناب یحییٰ بختیار: نہیں، مرزا صاحب! پہلی بات یہ ہے کہ یہ حوالہ ہے یا نہیں؟ مرزا ناصر احمد: ان الفاظ میں نہیں ہے۔ ١٠٧

صفحہ ١٠٢٨

1028 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

جناب یحییٰ بختیار: اگر...... جن الفاظ میں ہے پہلے آپ وہ سنا دیجئے، پھر اس کے بعد......

973 مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں۔

جناب یحییٰ بختیار: ...... پوزیشن Clear (واضح) ہو جائے گی۔

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، وہ ٹھیک ہے۔ (Pause)

جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! یہ جو آپ ”علیحدہ جماعت“ کا کہہ رہے تھے، وہ ”مسیح ناصری“ والا حوالہ کہہ رہے ہیں آپ؟

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، میں علیحدہ...... آپ نے فرمایا تھا کہ Impression (تاثر) ہے ایک دنیا میں۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں میں...... ایک حوالہ تھا جو ان کا (ایک رکن کی طرف اشارہ کرکے) آپ بتائیں گے؟ (مرزا ناصر احمد سے) میں نے کہا: وہ اسی Context میں آ رہا ہے: ”کیا مسیح ناصری نے اپنی امت پر ایسا نہیں کیا“...... مرزا بشیر الدین محمود نے......

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، وہ اسی میں......

جناب یحییٰ بختیار: وہ اسی میں اکٹھا آپ سنائیں گے؟

مرزا ناصر احمد: ہاں، اکٹھا ہی۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں۔ میں سمجھا کہ Separate (علیحدہ) ہے تو وہ......

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، نہیں۔ (Pause)

یہ حوالہ ہے جو میں پڑھ دیتا ہوں، اس کی میں تصدیق کرتا ہوں: (عربی)

974 یہ ”آئینہ کمالاتِ اسلام“ ١٨٩٣ء میں ہے۔ اس میں آپ نے بہت سی کتب کا حوالہ دیا اور اس کے بعد یہ فرمایا ہے کہ: ”اللہ تعالیٰ نے ان کتب میں حسنِ اسلام کے بیان کی مجھے توفیق عطا کی اور ہر مسلمان محبت و مودّت کی آنکھ سے ان کتب کی طرف دیکھے گا اور ان سے فائدہ اٹھائے گا اور مجھے قبول کرے گا اور میری دعوت کی تصدیق کرے گا، سوائے ان لوگوں کے جو ہدایت سے دور ہیں، جن کے دلوں پر اللہ تعالیٰ نے مہر لگا دی وہ اسے قبول نہیں کریں گے۔“

اسی مضمون کو دوسری جگہ آپ نے اس طرح بیان کیا ہے کہ: ”مجھے اللہ تعالیٰ نے دین اسلام کو دنیا میں غالب کرنے کے لئے بھیجا ہے اور مجھے بشارت دی گئی ہے کہ تمام نوع انسانی اسلام کو قبول کر لے گی اور صرف وہی باقی رہ جائیں گے جن کی حالت چوہڑوں چماروں کی

١٠٨

صفحہ ١٠٢٩

1029 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

طرح ہوگی۔“

اور بھی بعض جگہ آیا ہے تو ایک مؤلف کے حوالوں کو سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ اس قسم کے جو اس نے مضمون بیان کئے ہوں ان سب کو اپنے سامنے رکھا جائے۔

یہ جو عربی کا صیغہ ہے، یہ حال اور مستقبل ہر دو کے لئے استعمال ہوتا ہے ...... حال اور مستقبل ہر دو کے لئے اور دوسرا، حوالے ہمیں یہ بتا رہے ہیں کہ یہاں مستقبل کے لئے ہے، حال کے لئے نہیں۔ معنی یہ نہیں کہ ”قبول کرتے ہیں ۔“ جب یہ لکھا گیا تھا اس کے بعد لاکھوں آدمیوں نے قبول کرلیا۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ ”ساری دنیا اسلام کو قبول کرلے گی۔“ اور جب میں نے کہا ”قبول کر لیا لاکھوں نے“ تو میری مراد غیر مسلموں کا اسلام قبول کرنا ہے۔ ہماری تبلیغ جو ہو رہی ہے 975 اس وقت افریقہ میں اور یورپ میں اور امریکہ میں، اس کے بعد لاکھوں نے قبول کیا اسلام کو اور بت پرستوں نے اپنے بت جلائے۔ ہمیں تصویریں آتی رہتی ہیں، وقفے وقفے کے بعد، ان لوگوں کی جو بت جلاتے ہیں۔ تو یہاں یہ مضمون بیان ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس آخری زمانہ میں یہ مقدر کر رکھا ہے کہ تمام نوع انسانی اسلام کو قبول کر لے گی اور صرف وہ باقی رہ جائیں گے جن کی حالت چوہڑوں چماروں کی طرح ہوگی اور ”ذریۃ البغایا“ ...... ایسے گمراہ...... آگے اس کی تشریح کی ہے: ”ایسے گمراہ جن کے دلوں پر اللہ تعالیٰ نے مہر لگا دی“ ......

صرف وہ اسلام کو قبول کرنے سے پیچھے رہ جائیں گے، باقی سارے قبول کر لیں گے۔

مستقبل کی بات ہے، حال کو کیوں لگائی جاتی ہے؟ (Pause)

(بغایا کا مطلب ”گمراہ“)

جناب یحییٰ بختیار: ”بغایا“ کا مطلب ”گمراہ“ آپ نے کہا؟

مرزا ناصر احمد: ہاں جی، ”سرکش“ خود حضرت مسیح موعود نے اس کے معنی ”سرکش“ کئے ہیں۔ (Pause)

جناب یحییٰ بختیار: یہاں یہ ......

مرزا ناصر احمد: یہ ”الحکم“ میں اس کے معنی ...... جو آپ نے دیکھنا شروع کر دیا ......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، مجھے بتایا گیا ہے جی کہ یہاں جو بھی، جہاں بھی ”بغایا“ کا وہ آیا ہے مطلب ...... ”زنان فاحشہ، زنانِ بازاری، ...... یآ سکدر زنانِ فاحشہ، زنانِ فاحشہ۔“

مرزا ناصر احمد: کس کے معنی ہیں؟ ”ذریۃ البغایا“ کے؟

١٠٩

SSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

جناب یحییٰ بختیار: اگر ...... جن الفاظ میں کے بعد ......

973 مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں۔

جناب یحییٰ بختیار: ...... پوزیشن Clear

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، وہ ٹھیک ہے۔ (

جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! یہ جو آپ ”مسیح ناصری“ والا حوالہ کہہ رہے ہیں آپ؟

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، میں آ Impression (تاثر) ہے ایک دنیا میں۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں میں...... ایک حوال کر کے) آپ بتائیں گے؟ (مرزا ناصر احمد سے) میں ہے: ”کیا مسیح ناصری نے اپنی امت پر ایسا نہیں کیا“ ...... م

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، وہ اسی میں ......

جناب یحییٰ بختیار: وہ اسی میں اکٹھا آپ س

مرزا ناصر احمد: ہاں، اکٹھا ہی۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں۔ میں سمجھا کہ te

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، نہیں۔ (Pause)

یہ حوالہ ہے جو میں پڑھ دیتا ہوں، اس کی میں ق

974 یہ ”آئینہ کمالات اسلام“ ١٨٩٣ء میں س حوالہ دیا اور اس کے بعد یہ فرمایا ہے کہ: ”اللہ تعالیٰ نے الہ توفیق عطا کی اور ہر مسلمان محبت ومودت کی آنکھ سے ان اٹھائے گا اور مجھے قبول کرے گا اور میری دعوت کی تصد ہدایت سے دور ہیں، جن کے دلوں پر اللہ تعالیٰ نے مہر لگا د اس مضمون کو دوسری جگہ آپ نے اس طرح اسلام کو دنیا میں غالب کرنے کے لئے بھیجا ہے اور مجھے اسلام کو قبول کر لے گی اور صرف وہی باقی رہ جائیں گے

١٠٨

صفحہ ١٠٣٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

جناب یحییٰ بختیار: "بغایہ" کے جی۔ مرزا ناصر احمد: یہ کہاں سے آپ پڑھے جارہے ہیں؟ 976 جناب یحییٰ بختیار: "بحنۃ النور" میں۔ مرزا ناصر احمد: جی؟ جناب یحییٰ بختیار: "بحنۃ النور" میں۔ مرزا ناصر احمد: "بحنۃ النور" میں اور یہاں یہ ترجمہ ہے۔ "سرکش انسان۔" اور لغت میں بھی "سرکش انسان" مراد ہیں اور میں نے اس دن عرض کی تھی کہ "بغایہ" ...... جناب یحییٰ بختیار: اسی لفظ پر ہی میں کہہ رہا ہوں ...... مرزا ناصر احمد: یہ آئندہ کے متعلق ہے۔ ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ ساری دنیا کے انسان محمد رسول اللہ ﷺ کی شریعت کو قبول کر لیں گے، اور تھوڑے سے رہ جائیں گے جن کی حالت چوہڑوں چماروں کی طرح ہوگی۔ (Pause) اور "بغایہ" جو ہے "بغیہ" کی جمع ہے اور "بغیۃ" کی بھی جمع ہے اور "بغیہ" کے معنی ہیں "زانیہ"، "بغیۃ" کے معنی ہیں "ہراول دستے فوج کے۔" اور اس کے یہ معنی کیوں نہیں لئے جاتے؟

(بغایا کا یہ ترجمہ کہاں پرنٹ ہے؟)

جناب یحییٰ بختیار: یہ کسی جگہ بھی آپ نے "بغایہ" کا یہ ترجمہ پرنٹ کیا ہوا ہے جو آپ نے بتایا ہے؟ مرزا ناصر احمد: یہ لغت میں پرنٹ ہے ...... جناب یحییٰ بختیار: نہیں، آپ ...... مرزا ناصر احمد: لغت عربی میں۔ جناب یحییٰ بختیار: آپ نے اسی کا جو ...... مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، یہ جو "سرکش" ہے یہ پرنٹ ہے۔ جناب یحییٰ بختیار: نہیں نہیں، یہ ہاں وہ آپ ...... 977 مرزا ناصر احمد: وہ پرنٹ ہے، (اپنے وفد کے ایک رکن سے) کہیں اور بھی ہے؟ (اٹارنی جنرل سے) دو تین جگہ تھا "سرکش۔" جناب یحییٰ بختیار: یہاں تو سب "بدکار عورت" ہی چل رہا ہے۔

١١٠

صفحہ ١٠٣١

WELCOME

opping

es For

Visit

شركة الحرمين للصناعة والتجارة

SEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

جناب یحییٰ بختیار: ”بغایہ“ کے جی۔

مرزا ناصر احمد: یہ کہاں سے آپ پڑھ

976 جناب یحییٰ بختیار: ”لجۃ النور“ می

مرزا ناصر احمد: جی؟

جناب یحییٰ بختیار: ”لجۃ النور“ میں

مرزا ناصر احمد: ”لجۃ النور“ میں اور لغت میں بھی ”سرکش انسان“ مراد ہیں اور میں نے اس

جناب یحییٰ بختیار: اسی لفظ پر ہی میں کہہ

مرزا ناصر احمد: یہ آئندہ کے متعلق ہے ک انسان محمد رسول اللہ ﷺ کی شریعت کو قبول کر لیں گے س حالت چوہڑوں چماروں کی طرح ہوگی۔ (Pause) ”بغیۃ“ کی بھی جمع ہے اور ”بغیہ“ کے معنی ہیں ”زانیہ کے“۔ اور اس کے یہ معنی کیوں نہیں لئے جاتے؟

(بغایا کا یہ ترجمہ کہاں پ

جناب یحییٰ بختیار: یہ کسی جگہ بھی آپ ن آپ نے بتایا ہے؟

مرزا ناصر احمد: یہ لغت میں پرنٹ ہے۔...

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، آپ......

مرزا ناصر احمد: لغت عربی میں۔

جناب یحییٰ بختیار: آپ نے اسی کا جو......

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، یہ جو ”سرکش“......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں، یہ ہاں و

977 مرزا ناصر احمد: وہ پرنٹ ہے، (اپنے (اٹارنی جنرل سے ) دو تین جگہ تھا ”سرکش“۔

جناب یحییٰ بختیار: یہاں تو سب ”بدکار“......

١١٠

1031 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، ٹھیک ہے۔ میں پرنٹ ہی بتا رہا ہوں آپ کو۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، تو اس طرح وہ ، وہ......

مرزا ناصر احمد: ہاں، ٹھیک ہے۔ (Pause) ”الحکم“ جلد گیارہ، نمبر سات۔

جناب یحییٰ بختیار: یہ مرزا صاحب! یہ جو آپ نے کہا ہے کہ : ”کل مسلمانوں نے قبول کر لیا“......

مرزا ناصر احمد: نہ،......

جناب یحییٰ بختیار: ...... یہ ہے مطلب، کہ نہیں ہے؟

مرزا ناصر احمد: نہیں ”کل دنیا قبول کر لے گی“۔

جناب یحییٰ بختیار: Future (مستقبل) کی بات کر رہے ہیں؟

مرزا ناصر احمد: ہاں، Future (مستقبل) کی بات کر رہے ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: اچھا۔

مرزا ناصر احمد: ”ساری دنیا“ ...... دوسری جگہ بڑی وضاحت سے اردو کے بھی حوالے ہیں، دوسرے بھی ہیں، ان ساروں کو سامنے رکھ کے پھر ترجمہ اس عربی کا ہو سکتا ہے اور جو عربی کا یہاں صیغہ ہے وہ مستقبل کو بھی ...... کے معنی کو جائز قرار دیتا ہے، اور ہمارے نزدیک یہی معنی ہیں اس کے......

جناب یحییٰ بختیار: تو ...... ہمارا دیجئے پھر۔

978 مرزا ناصر احمد: کہ ”ساری دنیا قبول کر لے گی ، سوائے تھوڑے سے انسانوں کے جن کی حالت جو ہے وہ چوہڑوں چماروں کی طرح ہوگی“ اور یہاں ”سرکشوں کے طرح ہوگی ۔“

جناب یحییٰ بختیار: ”آئینہ کمالات“ دیجئے۔ یہ نہیں ہے ”آئینہ کمالات“ کہہ رہا ہوں۔ (Pause) یہ آپ نے کس صفحہ سے پڑھا ، مرزا صاحب؟

مرزا ناصر احمد: کونسا؟

جناب یحییٰ بختیار: یہ جو ٹرانسلیشن ہے کس Page (صفحہ) سے پڑھا آپ نے؟

مرزا ناصر احمد: ”آئینہ کمالات اسلام“ کا یہ عربی جو ہے، وہ؟

1؎ قادیانی حضرات خدا کے لئے توجہ فرمائیں کہ مرزا قادیانی کی عبارت ”کل مسلم“ ہر مسلمان مجھے مانتا ہے مگر ذریۃ البغایا نہیں مانتے۔ کل مسلم ہر مسلمان سے پھر کر مرزا ناصر کہتا ہے ”کل دنیا“ اتنا جھوٹ الامان۔ توبہ کیا قادیانیوں میں رجل رشید نہیں جو اس پر غور کرے؟

١١١

صفحہ ١١٢

1032 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی۔ مرزا ناصر احمد: ہاں، وہ جو ہے، وہ ...... نمبر ...... جناب یحییٰ بختیار: یہ، ہیں جی؟ مرزا ناصر احمد: یہ ”آئینہ کمالات اسلام“ مشمولہ ”روحانی خزائن“ ...... جناب یحییٰ بختیار: ہاں۔ مرزا ناصر احمد: جلد پنجم، ٥٤٧ تا ٥٤٨، طبع ١٩٧٢ء۔ جناب یحییٰ بختیار: ٹھیک ہے، یہی ہے۔ (Pause) مرزا ناصر احمد: اس میں تو بڑا واضح ہے: (عربی) جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! اس کے ساتھ ایک حوالہ تھا ...... مرزا ناصر احمد: جی۔

(جو شخص تیری پیروی نہیں کرے گا ......)

979 جناب یحییٰ بختیار: ”تبلیغ رسالت“: ”جو شخص تیری پیروی نہیں کرے گا، تیری بیعت میں داخل نہیں ہوگا اور تیرا مخالف رہے گا وہ خدا اور رسول کی مخالفت کرنے والا جہنمی ہے“ مرزا ناصر احمد: اس کا جواب تو دیا جا چکا تھا۔ جناب یحییٰ بختیار: جی؟ مرزا ناصر احمد: کہیں تو دوبارہ دے دیتے ہیں۔ جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں، میں نے اپنے اس میں مارک نہیں کیا۔ مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، ٹھیک ہے۔ (Pause)

(مسلمانوں سے رشتہ ناتہ حرام اور ناجائز ہے)

جناب یحییٰ بختیار: ایک یہ تھا جی کہ: ”مسلمانوں سے رشتہ ناتہ حرام اور ناجائز ہے۔“ مرزا ناصر احمد: جی۔ جناب یحییٰ بختیار: ...... ”انوار خلافت“ صفحہ : ...... مرزا ناصر احمد: اس کا میں نے جواب نہیں دیا پہلے؟ جواب دے دیا۔ اگر چاہتے ہیں میں ابھی بھجوا دیتا ہوں۔

١؎ بعینہ یہی حوالہ مرزا قادیانی کی مجموعہ وحی کی کتاب (تذکرہ ص ٣٣٦، طبع ٣) میں بھی ہے۔

صفحہ ١٠٣٣

1033 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، دے چکے ہیں جواب؟

مرزا ناصر احمد: ہاں جی۔ (اپنے وفد کے ایک رکن سے) کیوں جی؟ (اٹارنی جنرل سے) یاد ہے مجھے۔

جناب یحییٰ بختیار: ٹھیک ہے جی، ویسے میرے وہ پورا ہو جائے ناں، یہاں میں نے......

مرزا ناصر احمد: اصل میں تو میرے تو بھی اتنے...... اوپر نیچے آپ نے سوالوں کی بھر مار کر دی ہے، میں معافی مانگ رہا ہوں ١؎۔

980 جناب یحییٰ بختیار: میں تو مرزا صاحب!......

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، میں...... میری بات تو سن لیجئے، تو اس واسطے ہو سکتا ہے کہ میرے ذہن میں نہ حاضر نہ رہا ہو۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، مجھے......

مرزا ناصر احمد: میں صرف یہ بات کر رہا ہوں۔

جناب یحییٰ بختیار: کمیٹی کے ممبروں نے سوال بھیجے ہیں۔

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں۔ کیونکہ میں ڈھونڈ نہیں سکتا ہوں، اس لئے ان کی تائید کروا لیتا ہوں، یہ نہ ہو میرا حافظہ جو ہے وہ کام نہ دے اور مجھ پر کل اعتراض آجائے۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، یہ نہیں، یہ نہیں، یہ ان شاء اللہ نہیں ہوگا۔ ایسی بات کہ......

مرزا ناصر احمد: نہیں، یہ تسلی میں اپنی کرنا چاہتا ہوں۔ (Pause)

Mirza Nasir Ahmad: Mr. Chairman, Sir, I am feeling tired. (مرزا ناصر احمد: جناب صدر میں تھک چکا ہوں ٢؎)

Mr. Chairman: Can the witness come after 10 minutes of recess, or 15 minutes of recess?

(جناب چیئرمین: کیا گواہ دس یا پندرہ منٹ کے وقفہ کے بعد آ سکتے ہیں؟)

جناب یحییٰ بختیار: میری یہ Request (گزارش) تھی کہ...... کمیٹی والے کہتے ہیں کہ جلدی ختم کریں کہ دیر ہو رہی ہے۔

١؎ ”فبهت الذی کفر (القرآن)“

٢؎ عاجزی و درماندگی کو تھکاوٹ کے پردوں میں چھپا کر ہاتھ دکھایا، تیرے کیا کہنے؟

١١٣٣

MBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی۔

مرزا ناصر احمد: ہاں، وہ جو ہے، وہ......

جناب یحییٰ بختیار: یہ، ہیں جی؟

مرزا ناصر احمد: یہ ”آئینہ کمالاتِ اسلام“......

جناب یحییٰ بختیار: ہاں۔

مرزا ناصر احمد: جلد پنجم، ٥٤٧ تا ٥٤٨......

جناب یحییٰ بختیار: ٹھیک ہے، یہی......

مرزا ناصر احمد: اس میں تو بڑا واضح ہے کہ......

جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! اس......

مرزا ناصر احمد: جی۔

(جو شخص تیری پیروی نہیں......)

979 جناب یحییٰ بختیار: ”تبلیغ رسالت“...... اس کا مطلب یہ کہ جو آپ کی بیعت میں داخل نہیں ہوگا اور تیرا مخالف رہے گا وہ خدا......

مرزا ناصر احمد: اس کا جواب تو دیا جا چکا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: جی؟

مرزا ناصر احمد: کہیں تو دوبارہ دے دوں۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں، میں......

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، ٹھیک ہے۔

(مسلمانوں سے رشتہ ناطہ......)

جناب یحییٰ بختیار: ایک یہ تھا جی کہ: ”مسلمانوں سے......“

مرزا ناصر احمد: جی۔

جناب یحییٰ بختیار: ......”انوار خلافت“، ”یہاں تک......“

مرزا ناصر احمد: اس کا میں نے جواب تیار کیا ہوا ہے، اگر...... یہاں بھیج دوں، میں ابھی بھجوا دیتا ہوں۔

١؎ بعینہ یہی حوالہ مرزا قادیانی کی مجموعہ تفاسیر......

١١٢

صفحہ ١٠٣٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

Mr. Chairman: We want to. This is....

(جناب چیئرمین: ہم یہ چاہتے ہیں......)

Mirza Nasir Ahmad: We meet tomorrow at 10:00 am?

(مرزا ناصر احمد: ہم کل دس بجے اجلاس کر لیں؟)

Mr. Yahya Bakhtiar: Tomorrow, there is a meeting, Speaker is going.... Cabinet.

(جناب یحییٰ بختیار: کل صبح ایک میٹنگ بھی ہے، سپیکر صاحب جا رہے ہیں)

Mr. Chairman: If, if we... either we.... if.... no, we have to give allowance to the witness....

(جناب چیئرمین: نہیں، ہمیں گواہ کا خیال کرنا ہے......)

981 Mr. Yahya Bakhtiar: No, because he is tired, we can't....

(جناب یحییٰ بختیار: جی نہیں، چونکہ وہ تھک گئے ہیں، ہم نہیں کر سکتے......)

Mr. Chairman: No, no question of continuing, though.... there are two proposals: Either we sit up to 10:00 or we give recess, after 15 minutes to start, and sit up to 10:30 or, if....

(جناب چیئرمین: تو پھر کارروائی جاری رکھنے کا سوال ہی نہیں۔ دو تجاویز ہیں یا تو ہم دس بجے تک بیٹھیں یا پندرہ منٹ کا وقفہ کر لیں اور پھر ١٠:٣٠ بجے تک بیٹھیں......)

Mr. Yahya Bakhtiar: If, if Mirza Sahib....

(جناب یحییٰ بختیار: اگر مرزا صاحب......)

Mr. Chairman: .... if the witness feels that he....

(جناب چیئرمین: ......اگر گواہ خیال کرتے ہیں......)

جناب یحییٰ بختیار: تھوڑا بریک کر کے......

Mr. Chairman: .... he will be unable to, then we can break. (جناب چیئرمین: کہ وہ اس قابل نہیں تو پھر ہم وقفہ کر سکتے ہیں)

١١٤

1035 NATIONAL A

کام نہیں ہوا، مرزا صاحب! آج صرف

Mr. Chairman

witness has the....

کیونکہ گواہ......)

ں مجھے بڑا افسوس ہے کہ ہم دو گھنٹے انتظار ١) سے ممبروں نے آنا تھا...... گیا۔ پھر شام کو اس طرح کورم کی وجہ

Mr. Chairman

-ہے (On Duty

Mr. Chairman

982 Mr. Chair blamed.

بھی نہیں ہوتا کہ کورم پورا نہیں آیا......

Mr. Chairma (

Mr. Chairma in Pindi which is respo ے ہے)

صفحہ ١٠٣٥

1035 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، ہاں، آج کچھ کام نہیں ہوا، مرزا صاحب! آج صرف پرانے حوالہ جات کے جوابات آئے ہیں۔

Mr. Chairman: It is up to the witness, because witness has the....

(جناب چیئرمین: یہ سب گواہ پر منحصر ہے، کیونکہ گواہ ......)

مرزا ناصر احمد: یہ صحیح ہے آپ کی بات۔ لیکن مجھے بڑا افسوس ہے کہ ہم دو گھنٹے انتظار میں بیٹھے رہے اور یہاں نہیں آئے۔

جناب یحییٰ بختیار: آج صبح پلین (Plane) سے ممبروں نے آنا تھا......

مرزا ناصر احمد: جی۔

جناب یحییٰ بختیار: ....... وہ Delay ہوگیا۔ پھر شام کو اس طرح کورم کی وجہ سے ۔ورنہ.......

Mr. Chairman: It was.....

(جناب چیئرمین: وہ ......)

مرزا ناصر احمد: مطلب یہ ہے کہ آن ڈیوٹی (On Duty) رہے۔

Mr. Chairman: No, no....

(جناب چیئرمین: نہیں، نہیں ......)

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، کوئی آپ کو، Nobody

982 Mr. Chairman: Nobody, nobody is to be blamed.

(جناب چیئرمین: کسی کا کوئی قصور نہیں)

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، ایک منٹ کے لئے بھی نہیں ہوتا کہ کورم پورا نہیں ہوا......

Mr. Chairman: Mr. Attorney-General....

(جناب چیئرمین: اٹارنی جنرل صاحب ......)

مرزا ناصر احمد: نہیں، وہ ٹھیک ہے۔

Mr. Chairman: It was the weather in the morning in Pindi which is responsible.

(جناب چیئرمین: یہ سب صبح کے موسم کی وجہ سے ہے)

١١٥

MBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

We want to. This is....

(جناب چیئرمین: ہم یہ چاہتے ہیں......

ad: We meet tomorrow at 10:00

(مرزا ناصر احمد: ہم کل دس بجے اجلا......

htiar: Tomorrow, there is a Cabinet.

(جناب یحییٰ بختیار: کل صبح ایک میٹ......

s if we... either we.... if.... no, we witness....

(جناب چیئرمین: نہیں، ہمیں گواہ ک......

htiar: No, because he is tired,

(جناب یحییٰ بختیار: جی نہیں، چونکہ ......

No, no question of continuing, osals: Either we sit up to 10:00 minutes to start, and sit up to

(جناب چیئرمین: تو پھر کارروائی...... ہم دس بجے تک بیٹھیں یا پندرہ منٹ کا وقفہ کر لیں او......

r: If, if Mirza Sahib....

(جناب یحییٰ بختیار: اگر مرزا صاحب......

if the witness feels that he....

(جناب چیئرمین: ...... اگر گواہ خیا......

جناب یحییٰ بختیار: تھوڑا بریک کر......

he will be unable to, then we

(جناب چیئرمین: کہ وہ اس قابل......

صفحہ ١٠٣٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07 جناب یحییٰ بختیار: ہاں، ہاں، Weather was responsible this (صبح کے موسم کی وجہ سے ہے) morning and.... Mr. Chairman: It is up to the witness. If the witness likes, he can sit up.... (جناب چیئرمین: گواہ کی مرضی ہے، اگر وہ چاہیں تو وہ بیٹھ سکتے ہیں۔۔۔۔۔) جناب یحییٰ بختیار: ٹھیک ہے، Tomorrow (کل) Mr. Chairman: ... he can, he can be asked; we can, we can adjourn just now, if he likes. (جناب چیئرمین: اگر وہ چاہیں تو ہم اجلاس ملتوی کر سکتے ہیں، اگر وہ چاہیں) Mr. Yahya Bakhtiar: He is tired, Sir, so..... (جناب یحییٰ بختیار: جناب والا! وہ تھکا ہوا ہے۔۔۔۔۔) Mr. Chairman: Then tomorrow.... (جناب چیئرمین: پھر کل......) Mr. Yahya Bakhtiar: Tomorrow evening. (جناب یحییٰ بختیار: کل شام......) Mr. Chairman: .... at 5:30. (جناب چیئرمین: ...... ساڑھے پانچ بجے) Mr. Yahya Bakhtiar: 5:30. (جناب یحییٰ بختیار: ساڑھے پانچ بجے) Mr. Chairman: At 5:30, because then we will be having from 5:30 to 7:00 break for Maghrib from 7:30 to 8:30, and from 9:00 to 10:00, because morning.... these are three shifts because we have been doing four.... two in the morning, two in the evening. Tomorrow, we will be having three. (جناب چیئرمین: کل ٥:٣٠ بجے سے ٧:٠٠ بجے تک، مغرب کی نماز کے وقفہ ١١٦

صفحہ ١٠٣٧

1037 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

کے بعد اجلاس ٨:٣٠ بجے تا ١:٣٠ بجے اور اس کے بعد ٩:٠٠ بجے تا ١٠:٠٠ تک ہوگا، کل ہم تین اجلاس کریں گے )

983 مرزا ناصر احمد: یہ کیا پھر فیصلہ ہوا؟

Mr. Chairman: The witness is allowed to....

(جناب چیئرمین: گواہ کو واپس جانے کی اجازت ہے)

جناب یحییٰ بختیار: شام کو جی، ساڑھے پانچ بجے۔

جناب چیئرمین: ساڑھے پانچ بجے۔

مرزا ناصر احمد: کل شام ساڑھے پانچ بجے؟

جناب چیئرمین: ہاں جی۔

مرزا ناصر احمد: بس ٹھیک ہے پھر۔

جناب یحییٰ بختیار: سر! دو بریک کر کے وہ کریں گے۔

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، ٹھیک ہے۔

Mr. Chairman: The Delegation is allowed to withdraw. The honourable members may keep sitting.

(جناب چیئرمین: وفد کو واپس جانے کی اجازت ہے، معزز اراکین بدستور تشریف رکھیں)

جناب یحییٰ بختیار: میں چاہتا ہوں یہ سوال جتنے پورے ہوسکیں جی، ورنہ......

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، ٹھیک ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: ہم آپ کو تکلیف نہ دیتے۔

Mr. Chairman: And the witness can consider that proposal also about the Hawalajat... the members of the Delegation can discuss it.... that it will be read in evidence. That is up to the witness.

(جناب چیئرمین: گواہ بھی حوالہ جات والی تجویز پر غور کرسکتا ہے، وفد کے اراکین مشورہ کر سکتے ہیں، کہ یہ شہادت کے طور پر پڑھی جائے گی۔ یہ گواہ پر منحصر ہے)

EMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، ہاں، his

(صبح کے موسم کی وجہ سے ہے morning and....

It is up to the witness. If the

(جناب چیئرمین: گواہ کی مرضی ہے، اگـ ...

جناب یحییٰ بختیار: ٹھیک ہے، rrow

... he can, he can be asked; we

(جناب چیئرمین: اگر وہ چاہیں تو ہم انـ w, if he likes.

iar: He is tired, Sir, so.....

(جناب یحییٰ بختیار: جناب والا! وہ تـ

(جناب چیئرمین: پھر کل ......) hen tomorrow....

(جناب یحییٰ بختیار: کل شام......) ar: Tomorrow evening.

. at 5:30.

(جناب چیئرمین: ......ساڑھے پانچ

(جناب یحییٰ بختیار: ساڑھے پانچ بـ ar: 5:30.

At 5:30, because then we will be

reak for Maghrib from 7:30 to

0, because morning.... these are

e been doing four.... two in the

(جناب چیئرمین: کل ٥:٣٠ بجے g. Tomorrow, we will be having

صفحہ ١٠٣٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، وہ ٹھیک ہے، میں نے کہا جو ضروری ہو گا وہ......

جناب چیئرمین: ٹھیک ہے، جو ضروری ہو وہ پڑھیں، جو ضروری نہ ہو وہ فائل کردیں۔

مرزا ناصر احمد: وہ باقی فائل کروادیں۔

984 Mr. Chairman: The honourable members may keep sitting. (جناب چیئرمین: معزز اراکین تشریف رکھیں)

(Pause)

مرزا ناصر احمد: السلام علیکم!

جناب یحییٰ بختیار: وعلیکم!

(The delegation left the chamber)

(وفد چیمبر سے چلا گیا)

Mr. Chairman: The Reporters can leave also, they are free. No tape.

(جناب چیئرمین: رپورٹروں کو بھی چھٹی ہے، وہ آزاد ہیں)

Tomorrow, at 5:30 pm. (کل ساڑھے پانچ بجے)

Thank you very much. (آپ کا بہت بہت شکریہ)

[The Special Committee of the whole house subsequently adjourned to meet at half past five of the clock, in the afternoon, on Wednesday, the 21st August, 1974.]

(کل ایوانی خصوصی کمیٹی کا اجلاس ٢١؍ اگست ١٩٧٤ء بروز بدھ شام ساڑھے پانچ بجے تک کے لئے ملتوی ہوتا ہے)

----------

[The Special Committee adjourned to meet at half past five of the clock in the afternoon, on Friday, the 21st August, 1974.]

----------

١١٨

صفحہ ١٠٣٩

MBLY OF PAKISTAN 20th Aug, 1974 No:07

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، وہ ٹھیک ہے۔

جناب چیئرمین: ٹھیک ہے، جو ضروری

مرزا ناصر احمد: وہ باقی فائل کروادیں۔

The honourable members may

(جناب چیئرمین: معزز اراکین تشریف

Pause)

مرزا ناصر احمد: السلام علیکم!

جناب یحییٰ بختیار: وعلیکم!

n left the chamber)

(وفد چیمبر سے

he Reporters can leave also, they

(جناب چیئرمین: رپورٹروں کو بھی چا

(کل ساڑھے پانچ بجے)

(آپ کا بہت بہت شکریہ)

mittee of the whole house

eet at half past five of the clock,

lay, the 21st August, 1974.]

(کل ایوانی خصوصی کمیٹی کا اجلاس ٢١ اگست تک کے لئے ملتوی ہوتا ہے)

tee adjourned to meet at half

afternoon, on Friday, the 21st

٨

1039 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

No. 8

THE

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN

PROCEEDINGS

OF

THE SPECIAL COMMITTEE OF THE

WHOLE HOUSE HELD IN CAMERA

TO CONSIDER THE QADIANI ISSUE

OFFICIAL REPORT

Wednesday, the 21st August, 1974

(Contain Nos. 1—21)

CONTENTS

Pages

Question in Cross-examination ..... 988-990

PRINTED BY THE MANAGER, PRINTING CORPORATION OF PAKISTAN PRESS, ISLAMABAD

PUBLISHED BY THE NATIONAL BOOK FOUNDATION, ISLAMABAD

صفحہ ١٠٤٠

1040 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

No. 8

THE NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN

PROCEEDINGS

OF

THE SPECIAL COMMITTEE OF THE

WHOLE HOUSE HELD IN CAMERA

TO CONSIDER THE QADIANI ISSUE

OFFICIAL REPORT

Wednesday, the 21st August, 1974

(Contain Nos. 1—21)

٢

1041 NA

987 THE NATI

THE SPEC

WHOLE H

TO CONSI

Wed (

The Spec Camera in the A Islamabad, at ha Mr. Chairman (S

بینک بلڈنگ) اسلام آباد صدارت منعقد ہوا)

(R

صفحہ ١٠٤١

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

987 THE NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN

(قومی اسمبلی پاکستان)

PROCEEDINGS

OF

THE SPECIAL COMMITTEE OF THE

WHOLE HOUSE HELD IN CAMERA

TO CONSIDER THE QADIANI ISSUE.

OFFICIAL REPORT

Wednesday, the 21th August. 1974. (کل ایوانی خصوصی کمیٹی بند کمرے کی کارروائی) (٢١؍اگست ١٩٧٤ء، بروز بدھ)

The Special Committee of the Whole House met in Camera in the Assembly Chamber, (State Bank Building), Islamabad, at half past five of the clock in the after noon.

Mr. Chairman (Sahibzada Farooq Ali) in the Chair.

(مکمل ایوان کی خصوصی کمیٹی کا اجلاس اسمبلی چیمبر (سٹیٹ بینک بلڈنگ) اسلام آباد شام ساڑھے پانچ بجے جناب چیئرمین (صاحبزادہ فاروق علی) کی زیرصدارت منعقد ہوا)

(Recition from the Holy Quran) (تلاوت قرآن شریف)

٣

صفحہ ١٠٤٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

988 LETTERS FROM QADIANI GROUPS RE:

SUPPLY OF TAPES AND ADVANCE NOTICES

OF QUESTIONS IN CROSS EXAMINATION

(قادیانی گروہوں کے خطوط، ٹیپس کی فراہمی اور جرح کے سوالات کا پیشگی نوٹس)

Mr. Chairman: Before they are called, two letters have been addressed to the secratary, National Assembly, by Mirza Mansur Ahmed, Nazir-e-Aala, Sadar Anjumane, Ahmadiyys Pakistan, Rabwah. One for the supply of the tape, and the other. I will read it.

Of the tape, that. I have refused in any Chamber. At present it cannot be granted to any person beacause our proceedings are confidential.The House agree with me?

(جناب چیئرمین: ان (وفد) کے بلانے سے قبل میں بتانا چاہتا ہوں کہ سیکرٹری نیشنل اسمبلی کو مرزا منصور احمد ناظم اعلیٰ جماعت احمدیہ کی طرف سے دو خطوط موصول ہوئے ہیں جن میں سے ایک اجلاس کی کارروائی کی نقل حاصل کرنے کے متعلق تھا جسے میں نے اپنے چیمبر میں نامنظور کر دیا ہے۔ اس اجلاس کی کارروائی خفیہ ہے، اس لئے فی الحال اس کی نقل نہیں دی جا سکتی۔ کیا ایوان مجھ سے اتفاق کر رہا ہے؟)

Members: Yes. (اراکین: جی ہاں!)

Mr. Mohammad Haneef Khan: Sir, you used the words "at present". I think, not at present, the tape of the Assembly cannot be granted at any time.

(جناب محمد حنیف خان: آپ نے لفظ فی الحال استعمال کیا ہے، میں سمجھتا ہوں کہ اسمبلی کی کارروائی کا ٹیپ کسی مرحلہ پر نہیں دیا جا سکتا ہے)

Mr. Chairman: At any time. The order is that this time this request cannot be conceded.

(چیئرمین صاحب: کسی وقت بھی۔ فیصلہ یہ ہے کہ جو درخواست اب کی گئی ہے

٤

صفحہ ١٠٤٣

Y OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

ADIANI GROUPS RE:

D ADVANCE NOTICES

ROSS EXAMINATION

(قادیانی گروہوں کے خطوط، ٹیپس کی فر

re they are called, two letters ratary, National Assembly, by r-e-Aala, Sadar Anjumane, k. One for the supply of the it.

e refused in any Chamber. At to any person beacause our he House agree with me?

(جناب چیئرمین: ان(وفد) ک نیشنل اسمبلی کو مرزا منصور احمد ناظم اعلیٰ جماعت احم میں سے ایک اجلاس کی کارروائی کی نقل حاصل کر نامنظور کر دیا ہے۔ اس اجلاس کی کارروائی خفیہ ر کیا ایوان مجھ سے اتفاق کر رہا ہے؟)

(اراکین: جی ہاں!)

aneef Khan: Sir, you used k, not at present, the tape of d at any time.

(جناب محمد حنیف خان: آپ نے اسمبلی کی کارروائی کا ٹیپ کسی مرحلہ پر نہیں دیا جاسکت

ny time. The order is that this ceded.

(چیئرمین صاحب: کسی وقت بھ

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

منظور نہیں کی جاسکتی)

Prof Ghafoor Ahmed: Even proceedings should not be given. Not only the tapes.

(پروفیسر غفور احمد: نہ صرف ٹیپ بلکہ کارروائی (کی نقل) بھی نہیں دینا چاہئے)

Mr. Chairman: The proceedings shall be given only to the honourable members, which are ready, which yesterday, I said that they can collect the proceedings.

The Second letter, the operation portion. I read in the House:

"in any opinion, to facilitate the matter and to assist the Committee in reaching a just conclusion, which the Committee so earnestly desires and also in order to be fair to the parties concerned, it would be advisable if the written questions are given in advance and their answers submitted in writing. As a result of our experience in the first session in the Committee, we sincerely believe that had this procedure been adopted earlier, 989 it would have saved a lot of valuable time of the House. After all, it is not a criminal proceedings or an ordinary legal cross examination of an accused, an individual or a praty. The Committee is studying a very serious matter involving religious beliefs of millions of people in a grave moment and not only in the history of Pakistan but also in the history of Islam. I would, therefore, be grateful if you please convey our request to the Steering Committee. I am sure, the Committee, realizing the gravity and the seriousness of the issue, would grant our request.

٥

صفحہ ١٠٤٤

1044 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

I would love to hear the Attorney- General.

(جناب چیئرمین: کارروائی کی نقول صرف معزز اراکین کو دی جائیں گی۔ یہ نقول تیار ہیں، کل میں نے کہا تھا کہ نقول لے سکتے ہیں، دوسرا خط میں پڑھ دیتا ہوں۔ ”میری رائے میں کمیٹی کی سہولت کی خاطر اور مسئلہ زیر بحث میں کسی مناسب نتیجہ پر پہنچنے کے لئے جس پر کمیٹی دل و جان سے خواہش مند ہے، یہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ سوالات پیشگی طور پر تحریراً دیئے جائیں اور ان کے جواب بھی تحریری پیش ہوں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اگر یہ ضابطہ پہلے اپنا لیا جاتا تو ایوان کا بہت سا قیمتی وقت بچایا جا سکتا تھا۔ یہ کسی فوجداری مقدمہ کی کارروائی تو نہیں نہ ہی کسی ملزم یا فرد یا فریق پر قانونی جرح ہو رہی ہے بلکہ کمیٹی لاکھوں انسانوں کے مذہبی اعتقادات جیسے اہم معاملہ پر غور کر رہی ہے۔ یہ ایک نہ صرف تاریخ پاکستان بلکہ تاریخ اسلام میں بہت ہی نازک مرحلہ ہے اس لئے میں شکر گزار ہوں گا اگر آپ ہماری درخواست سٹیئرنگ کمیٹی کو پہنچا دیں۔ مجھے یقین ہے کہ معاملہ کی اہمیت اور نزاکت کے پیش نظر کمیٹی ہماری گزارش کو منظور کرے گی۔ اب میں اٹارنی جنرل کے خیالات معلوم کرنا چاہتا ہوں)

Mr. Yahya Bakhtiar (Attorney Genral of Pakistan): Sir, the Delegation has come to the Assembly at their own request. They wanted to be heard. If they wanted to be heard, then they will have be present and we will question to elaborate certain points. Now, it is impossible to send questions in advance because, whenever we ask a question there are five, six, ten supplementaries for clarification. That would mean that whatever supplementary question I ask, that have to be given to them in writing. You will give time after that and they will sbmit written reply. If the written replies were to be taken from then, them they would not have come at all. We could have sent a number of questions as interrogatory which they could have answered from Rabwah. But the point was than that thay should

٦

1045 NATIONAL ASSEM

clarify the position. And it impossible. Point as far as t am the first person to giv wanted.

Now we are at the Whenever they wanted mor have been given the time b was a break of Days. About and answered those yester reasonable question nor is it

خود اپنی درخواست پر اسمبلی میں آیا ہے۔ وہ اپنا ایسا کریں گے یا کرتے ہیں تو پھر ہم ضروری اہم سوالات پیشگی دینا ممکن نہیں، کیونکہ جب منی سوالات کرنے پڑتے ہیں۔ اس کا مطلب ران کو تحریری جواب کے لئے وقت دیں گے۔ ر کو یہاں آنے کی ضرورت نہ تھی۔ ہم انہیں سے جواب ارسال کر دیتے۔ اہم بات یہ ہے جواب کی صورت میں ناممکن ہے۔ جہاں تک ) کو جتنا وقت درکار ہو دینے کو تیار ہوں۔ اب بھی انہوں نے کسی جواب کے لئے مہلت کی کو زیادہ سے زیادہ وقت دیا ہے۔ ابھی دس یوم ب تیار کر کے کل پیش کئے تھے، چنانچہ میرے ائل عمل نہیں)

Mr. Chairman: questions are over and the s بہت سے سوال ہو چکے ہیں......)

صفحہ ١٠٤٥

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

clarify the position. And it is not possible, it is physically impossible. Point as far as the hearing is concerned, Sir, I am the first person to give them as much time as they wanted.

Now we are at the fag end of this examination. Whenever they wanted more to answer any question, they have been given the time by you and by the house. There was a break of Days. About fifteen questions they prepared, and answered those yesterday. So I think, this is not a reasonable question nor is it praciticable.

(جناب یحییٰ بختیار: جناب والا، وفد خود اپنی درخواست پر اسمبلی میں آیا ہے۔ وہ اپنا موقف (اسمبلی میں) پیش کرنا چاہتے ہیں، جب وہ ایسا کریں گے یا کرتے ہیں تو پھر ہم ضروری نکات کی وضاحت کے لئے سوالات کریں گے۔ تاہم سوالات پیشگی دینا ممکن نہیں، کیونکہ جب ایک سوال ہوتا ہے تو اس کی وضاحت میں ٥، ٦ یا ١٠ ضمنی سوالات کرنے پڑتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ضمنی سوال بھی مجھے لکھ کر دینا ہوں گے۔ تو پھر ان کو تحریری جواب کے لئے وقت دیں گے۔ اگر صرف تحریری جوابات ہی لینا مقصود تھا تو پھر وفد کو یہاں آنے کی ضرورت نہ تھی۔ ہم انہیں سوال، سوالنامہ کی شکل میں بھیج دیتے ہیں اور وہ ربوہ سے جواب ارسال کر دیتے۔ اہم بات یہ ہے کہ وہ معاملہ کی وضاحت کریں اور یہ تحریری سوال و جواب کی صورت میں ناممکن ہے۔ جہاں تک سماعت کا تعلق ہے، میں پہلا شخص ہوں جو ان (وفد) کو جتنا وقت درکار ہو دینے کو تیار ہوں۔ اب ہم بیان لینے والے اختتام کے قریب ہیں۔ جب بھی انہوں نے کسی جواب کے لئے مہلت کی خواہش کا اظہار کیا ہے تو آپ نے اور ایوان نے ان کو زیادہ سے زیادہ وقت دیا ہے۔ ابھی دس یوم کی تعطیل تھی، انہوں نے قریباً پندرہ سوالوں کے جواب تیار کر کے کل پیش کئے تھے، چنانچہ میرے خیال میں (تحریری سوال و جواب والی) درخواست قابل عمل نہیں)

Mr. Chairman: Now, I think, most of the questions are over and the supplementaries are going on.

(جناب چیئرمین: میرے خیال میں بہت سے سوال ہوچکے ہیں......)

٧

صفحہ ١٠٤٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

Mr. Yahya Bakhtiar: Only on three subjects. And, about every subject, I tell them in advance. That about Akhand Bharat, I am going to ask a few questions; about "their Separatism" I am going to ask a few questions; 990 About "Jehad" I am going to ask a few questions; about "Khatme-Nabooat" I am going to ask a few questions and they know the subject.

(جناب یحییٰ بختیار: صرف تین عنوانات کے متعلق اور ہر عنوان کے متعلق میں نے انہیں قبل از وقت آگاہ کر دیا تھا۔ یہ (عنوان) اکھنڈ بھارت، علیحدگی پسندی، جہاد اور ختم نبوت ہیں۔ ان عنوانات کے سلسلہ میں کچھ سوالات کرنا چاہتا ہوں، ان کو عنوانات کا علم ہے)

Mr. Chairman: So, is the House of the opinion that request also cannot be granted?

(جناب چیئرمین: کیا ایوان اس درخواست کو منظور کرنے کے حق میں ہے؟)

Members: Yes.

(ممبران: جی ہاں)

Mr. Chairman: Unanimous. Any thing else? They may be called. Yes, they may be called. Just a minute.

(جناب چیئرمین: یہ متفقہ طور پر منظور۔ کیا اور بات، اچھا انہیں (وفد کو) بلائیں) مولانا ظفر احمد انصاری: جناب والا! ایک چیز میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں...... جناب چیئرمین: اوپر باہر بٹھا دیں۔ جی۔ مولانا ظفر احمد انصاری!

PROCEDURE RE: VERIFICATION OF

QUOTATIONS

(اقتباسات کی تصدیق کا طریقہ کار)

جناب محمد ظفر احمد انصاری: بہت سے ممبر صاحبان بار بار یہ کہتے ہیں کہ بہت دیر ہو

A

صفحہ ١٠٤٧

ONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

a Bakhtiar: Only on three subjects. And, ct, I tell them in advance. That about am going to ask a few questions; about 990 " I am going to ask a few questions; am going to ask a few questions; about " I am going to ask a few questions and ect.

(جناب یحییٰ بختیار: صرف تین عنوانات کے متعلق انہیں قبل از وقت آگاہ کر دیا تھا۔ یہ (عنوان) اکھنڈ بھارت، علیہ ہیں۔ ان عنوانات کے سلسلہ میں کچھ سوالات کرنا چاہتا ہوں، ان کا

man: So, is the House of the opinion nnot be granted?

(جناب چیئرمین: کیا ایوان اس درخواست کو منظور (ممبران: جی ہاں) Yes.

man: Unanimous. Any thing else? They they may be called. e.

(جناب چیئرمین: یہ متفقہ طور پر منظور۔ کیا اور بات

مولانا ظفر احمد انصاری: جناب والا! ایک چیز میں

جناب چیئرمین: اوپر باہر بٹھا دیں۔

جی۔ مولانا ظفر احمد انصاری!

-------------

RE RE: VERIFICATION OF

QUOTATIONS

(اقتباسات کی تصدیق کا طریقہ

جناب محمد ظفر احمد انصاری: بہت سے ممبر صاحبان

٨

1047 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

رہی ہے، دیر یقیناً ہو رہی ہے۔ لیکن یہ کہ جب ہم نے ایک دفعہ یہ کام شروع کر دیا ہے تو پھر اس کو کسی ایسے مرحلے پر چھوڑنا بہت غلط ہوگا اور ہمارے مقصد کے لئے مضر ہوگا۔ ایک تجویز یہ میرے ذہن میں ہے کہ ہم کسی موضوع پر چار، پانچ، چھ "Quotations" (اقتباسات) ان کے ایک دفعہ پڑھ دیں اور ان سے یہ کہیں کہ وہ اس کو "Admit" (تسلیم) کرتے ہیں یا نہیں کرتے؟ اس وقت کوئی "Explanation" (وضاحت) وغیرہ نہ لیں۔ اگر وہ "Admit" (اقرار) نہیں کرتے تو ہم کوشش کریں کہ ہم اوریجنل پروڈیوس کریں بہرحال، ہماری کوشش......

991 جناب چیئرمین: اگر آپ اوریجنل پروڈیوس کریں تو بڑا Easy (آسان) ہوتا ہے۔ جب آپ حوالہ دیتے ہیں، وہ کہتے ہیں: ”ہم دیکھیں گے، چیک کریں گے، Verify (تصدیق) کریں گے۔“ .Because this is good

مولانا محمد ظفر احمد انصاری: ٹھیک ہے۔ لیکن جو چیزیں ہمارے پاس یہیں موجود ہیں ان کو تو، پہلے تو ہم یہ سوال انہی سے کریں کہ: ”آپ اس کو Admit کرتے ہیں یا نہیں؟ یعنی مطلب یہ کہ جیسے ”جہاد“ کے موضوع پر اگر سات آٹھ تحریریں ان کو پڑھ کر کے بتا دیں کہ ”یہ ہے، آیا انہوں نے لکھا ہے یا نہیں لکھا؟“ اور اگر وہ Admit کرلیں۔ پھر Explanation کے لئے اور سپلیمنٹری کے لئے وہ وقت لے سکتے ہیں۔“

Mr. Chairman: Yesterday, I observed in the (جناب چیئرمین: کل میں نے ایوان کے اندر معلوم کیا تھا) House. مولانا صاحب! آپ سن لیں ذرا۔ یہ بھی میں نے آبزرویشن کی تھی Not on this بلکہ I consulted the Attorney- General, Now almost the اب جو حوالہ جات ہیں، ان کا جواب اگر وہ فائل کر دیں گے تو .hawalajat are over (وہ شہادت کا حصہ تصور ہوں That will be read as part of the evidence گے) اگر Explanation (وضاحت) ہے، مختصر دے دیں۔ And now very few (اور اب تو بہت ہی کم حوالہ جات باقی رہ گئے ہیں) .hawalajat have remained

مولانا محمد ظفر احمد انصاری: جناب والا! ابھی کئی موضوع ایسے ہیں، جیسا کہ اٹارنی جنرل نے فرمایا ہے کہ ”اکھنڈ بھارت“ کے متعلق کچھ پوچھنا ہے، مسلم ممالک کے متعلق ان کا جو Attitude ہے، جہاد کے متعلق جو کچھ ہے، اور مسلمانوں سے ہر چیز میں جو مختلف ہیں، اس کے سارے میں......

٩

صفحہ ١٠٤٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

جناب چیئرمین: نہیں، آپ سوال پوچھتے جائیں، ہم یہ کوشش کریں گے کہ اس کو یہ جتنی جلدی ختم ہوسکے۔ Definitely, now the object is- we are meeting 992 in the morning, the object is to expedite the matter and finish it as early as we can. (صبح و شام اجلاس کر کے اس کارروائی کو جلد مکمل کر لیں) اچھا جی !

SUGGESTION RE: MEETING OF THE

STEERING COMMITTEE

(سٹیئرنگ کمیٹی کا اجلاس)

پروفیسر غفور احمد: جناب والا ! میرا ایک "Suggestion" (مشورہ) یہ ہے کہ ہم سٹیئرنگ کمیٹی کی ایک میٹنگ بھی اب بلالیں تاکہ پروگرام "Finalize" (حتمی شکل) کردیں۔

Mr. Chairman: That is very necessary. I think let the law Minister come. He promised to come at 7:30 after Maghrib prayers. Then we can fix a time.

میں چاہتا ہوں کہ کل "Full day utilize" (سارا دن استعمال) ہو۔ مارننگ، ایوننگ......This is my کل شام کو جب نو بجے ختم کریں ، ساڑھے نو ،

"Then Steering Committee should go into sesson and review the progress and give a decision. and...."

(جناب چیئرمین: یہ بہت ضروری ہے کہ وزیر قانون کو آلینے دیں۔ انہوں نے ساڑھے سات بجے شام آنے کا وعدہ کیا۔ پھر ہم مقرر کر لیں گے۔ سٹیئرنگ کمیٹی پورا جائزہ لے کر فیصلہ کرے)

(Interruption)

جناب چیئرمین: جی، بیٹھیں گے جی۔ لاء منسٹر صاحب آجائیں تو پروفیسر صاحب ! آپ ان کے ساتھ بیٹھ جائیں ۔ ۔"and decide the matter and tell me" (اور اس معاملے میں فیصلہ کریں اور مجھے بتائیں)

(ایک منٹ ٹھہر جائیں) They may be called.

صفحہ ١٠٤٩

WELCOME

opping

es For

Visit

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

ڈاکٹر محمد شفیع !

---------

SECRECY OF THE PROCEEDING

(کارروائی کا خفیہ ہونا)

ڈاکٹر محمد شفیع: یہ Proceedings جو ہیں یہ Secret ہیں ہاں جی؟

993جناب چیئرمین: جی، Secret ہیں۔

ڈاکٹر محمد شفیع: وہ دروازہ کھلا رہتا ہے، اور وہاں کوئی سنتا رہتا ہے، Constantly

جناب چیئرمین: سیکرٹری سے یہ چیک کر کے بتائیں Who is the ?Messenger Clerksperson ہیں۔ He is either یہ غلط طریقہ ہے۔

Malik Mohammad Akhtar: Wanted to say something. اچھا

Yes, they may be called.

ملک محمد اختر: لگے آں، دیکھو کتھے پہنچاندے نیں۔

جناب چیئرمین: ملک صاحب دیر سے آئے ہیں آج، کافی دیر سے۔ بلائیں، بلائیں۔ سارجنٹ ایٹ آرمز کو کہیں کہ یہاں، وہاں، ان دروازوں پر، کسی دروازے پر بھی نہیں ہونا چاہئے۔

---------

(The Delegation entered the Chember)

(وفد ہال میں داخل ہوتا ہے)

---------

Mr. Chairman: Yes, Mr. Attorney General.

(جناب چیئرمین: جی اٹارنی جنرل صاحب)

---------

CROSS- EXAMINATION OF THE QADIANI

GROUP DELEGATION

11

SEMBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

جناب چیئرمین: نہیں، آپ سوال پوچھ یہ جتنی جلدی ختم ہوسکے۔ s- we are meeting- s to expedite the matter and finish (صبح و شام اجلاس کر it as early as we can. اچھا جی!

RE: MEETING OF THE

G COMMITTEE

(سٹیئرنگ کمیٹی کا ا

پروفیسر غفور احمد: جناب والا! میرا ایک " سٹیئرنگ کمیٹی کی ایک میٹنگ بھی اب بلالیں تاکہ پروگرا

That is very necessary. I think let e promised to come at 7:30 after can fix a time.

میں چاہتا ہوں کہ کل "l day utilize ایوننگ .....This is my کل شام کو جب نو بجے ختم

Committee should go into sesson d give a decision. and...."

(جناب چیئرمین: یہ بہت ضروری ہے ساڑھے سات بجے شام آنے کا وعدہ کیا۔ پھر ہم مقرر ک فیصلہ کرے)

erruption)

جناب چیئرمین: جی، بیٹھیں گے جی۔ آپ ان کے ساتھ بیٹھ جائیں۔ ."and tell me اس معاملے میں فیصلہ کریں اور مجھے بتائیں) (ایک منٹ ٹھہر جائیں)

صفحہ ١٠٥٠

valueOf:default_api:view_file

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

(قادیانی وفد پر جرح)

جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! آپ کچھ فرمانا چاہتے ہیں؟ کوئی بات رہ گئی ہو؟ مرزا ناصر احمد (گواہ سربراہ جماعت احمدیہ ربوہ): ایک تو کل آپ نے فرمایا تھا وہ کون سا اخبار ہے...... یہ ”الفضل“ کے متعلق کچھ چیک کرنا تھا......

جناب یحییٰ بختیار: جی ہاں۔

مرزا ناصر احمد: ...... 994 1916ء کا ہے۔ وہ اگر...... میں اس واسطے صرف تکلیف دے رہا ہوں کہ پوری طرح یاد نہیں ناں رہتا۔ جو مجھے یاد ہے وہ یہ ہے کہ 1916ء میں حضرت خلیفہ ثانی نے جو تفسیر کی ہے یا جو مطلب بیان کیا ہے ”خطبہ الہامیہ“ کی اس عبارت کا، وہ اس سے مختلف ہے یا اس کے مطابق ہے جو میں نے کل بیان کیا تھا؟ تو اس اخبار میں حضرت خلیفہ ثانی کا کوئی بیان نہیں، کوئی خطبہ یا تحریر نہیں ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: وہ کسی کتاب میں بھی نہیں ہے، وہ پھر میں آپ کو لا دوں گا، بعد میں اور تو کوئی نہیں۔

(حوالوں کو چھپانے کا حربہ)

مرزا ناصر احمد: اس کے علاوہ؟

جناب یحییٰ بختیار: کسی اور پرچے میں نہیں ہے کسی اور تاریخ میں؟ کوئی ایسا آئیڈیا نہیں ہے آپ کا؟

مرزا ناصر احمد: یہ بڑے ادب کے ساتھ میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ کل جو مجھ پر الزام لگایا گیا......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، مرزا صاحب! میں نے کوئی الزام نہیں لگایا۔

مرزا ناصر احمد: نہیں، میری بات تو سن لیں۔ اس لئے جو سوالوں کے متعلق حوالے چاہئیں اسے معزز اراکین، جو چاہیں، خود تلاش کریں اور ہمیں آپ صرف یہ پوچھیں ”یہ حوالہ ہے، اس کا مطلب کیا ہے؟ ہماری طرف سے...... ہم پر یہ بوجھ نہ ڈالیں کہ آپ کے لئے ہم حوالے تلاش کریں۔“ لے

لے خوبصورت فرار کا جواز، ارے مرزا ناصر احمد ۔ آپ کی کتابیں آپ کے اخبارات اگر ان میں صداقت ہے تو چھپاتے کیوں ہیں؟ لائیں تاکہ آپ کو تبلیغ کا موقع ملے۔ پھر آپ خود تو درخواست کر کے یہاں آئے تھے جتنے شوق سے آئے اتنے زور سے اب راہ فرار؟

١٢

صفحہ ١٠٥١

IONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

(قادیانی وفد پر جرح)

جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! آپ کچھ فرمانا چاہ......

مرزا ناصر احمد (گواہ سربراہ جماعت احمدیہ ربوہ) وہ کون سا اخبار ہے...... یہ ”الفضل“ کے متعلق کچھ چیک کرنا تھا......

جناب یحییٰ بختیار: جی ہاں۔

994 مرزا ناصر احمد: ......1916ء کا ہے۔ وہ اگر...... دے رہا ہوں کہ پوری طرح یاد نہیں ناں رہتا۔ جو مجھے یاد ہے وہ یہ... ثانی نے جو تفسیر کی ہے یا جو مطلب بیان کیا ہے ”خطبہ الہامیہ“ ک... مختلف ہے یا اس کے مطابق ہے جو میں نے کل بیان کیا تھا؟ تو اس کوئی بیان نہیں، کوئی خطبہ یا تحریر نہیں ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: وہ کسی کتاب میں بھی نہیں ہے، و... میں اور تو کوئی نہیں۔

(حوالوں کو چھپانے کا حربہ)

مرزا ناصر احمد: اس کے علاوہ؟

جناب یحییٰ بختیار: کسی اور پرچے میں نہیں ہے کسی نہیں ہے آپ کا؟

مرزا ناصر احمد: یہ بڑے ادب کے ساتھ میں یہ کہتا... لگایا گیا......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، مرزا صاحب! میں نے کوئی

مرزا ناصر احمد: نہیں، میری بات تو سن لیں۔ اس... چاہئیں اسے معزز اراکین، جو چاہیں، خود تلاش کریں اور ہمیں آپ مر... مطلب کیا ہے؟ ہماری طرف سے...... ہم پر یہ بوجھ نہ ڈالیں کہ آپ...

١؎ خوبصورت فرار کا جواز، ارے مرزا ناصر احمد۔ آپ کی... ان میں صداقت ہے تو چھپاتے کیوں ہیں؟ لائیں تاکہ آپ کو تب... درخواست کر کے یہاں آئے تھے جتنے شوق سے آئے اتنے زور سے

١٢

1051 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، وہ ٹھیک ہے۔ میں ابھی یہی کروں گا کہ اگر آپ کہیں کہ اس حوالے کا آپ کو علم نہیں ہے تو کافی ہے۔

995 مرزا ناصر احمد: صرف جو حوالہ آپ کہیں کہ ”فلاں کتاب میں ہے“ اسی تاریخ کے متعلق میں بات کروں گا، ایک دن پہلے اور ایک دن بعد کی بھی بات نہیں کروں گا۔ آپ......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، وہ ٹھیک ہے۔ مرزا صاحب! بات یہ ہے، یہ جو حوالہ جات ہیں، کچھ اخباروں میں، کچھ رسالوں میں، کچھ کتابوں میں Re-produce کر کے کتابت کی غلطی ہو جاتی ہے، اور ممبر صاحب کہیں سے اٹھا کے مجھ سے سوال پوچھتے ہیں، تو وہ میں آپ سے پوچھتا ہوں۔ بعض دفعہ کی تاریخ میں فرق دس دن کا۔ ”21“ کی جگہ ”31“ ہو جاتا ہے۔ بعض اوقات سال کا فرق ہو جاتا ہے ”51“ کی جگہ...... تو ایسا ہو جاتا ہے۔

مرزا ناصر احمد: تو جو پوچھنے والے ہیں، وہ ذرا محنت کر لیا کریں گے۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی، پھر وہ ان کے پاس نہیں ”الفضل“ آپ کے پاس ہے، ساری فائل، اور باقی ممبروں کے پاس ایسی فائل ہے ہی نہیں اور زیادہ حوالہ جات ”الفضل“ کے ہیں۔ تو یہ ہمیں مشکل ہوتی ہے۔ باقی یہ ٹھیک ہے، اگر آپ کو نہیں مل رہا تو......

مرزا ناصر احمد: نہیں، میں نے تو صرف یہ عرض کی ہے کہ میں نے اپنی طرف سے نہایت دیانت داری کے ساتھ خود ہی اس بات کو تسلیم کر لیا تھا کہ ہم تلاش کریں گے۔ لیکن اس کا بدلہ مجھے یہ دیا گیا کہ بڑا نامناسب ایک اعتراض مجھ پر کر دیا گیا......

جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! مرزا صاحب!......

مرزا ناصر احمد: تو اس واسطے میں یہ عرض کر رہا ہوں کہ جو بوجھ آپ کا ہے وہ آپ اٹھائیں، جو ہمارا ہے وہ ہم اٹھانے کی کوشش کریں گے۔

996 جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! میں نے عرض کیا تھا کہ میں آپ کی دیانت پر شک نہیں کرتا ہوں۔ میرا خیال ہے، آپ نے وہ الفاظ سنے تھے۔ میں نے دو دفعہ یہ کہا کہ ”مرزا صاحب“ میں آپ کی دیانت پر شک نہیں کرتا۔“ سوال یہ تھا کہ میں نے ایک سوال پوچھا اور آپ نے کہا کہ: ”آپ اس کی تائید کرتے ہیں، نہ تردید کرتے ہیں ۔“ اس کے بعد جب میں نے حوالہ

١؎ تا کہ دجل کامل اور تلبیس ابلیس میں کوئی کسر نہ رہ جائے۔ ٢؎ مرزا ناصر احمد! بس کرو، لوگ کیا کہیں گے۔ جان چھڑانے کے لئے اتنے ہاتھ پاؤں مارنے مستحسن نہیں۔

١٣

صفحہ ١٠٥٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

دکھایا تو آپ نے کہا کہ ”ہاں، ہم سے یہ سٹیر کمیٹی میں بھی پوچھا گیا تھا، ہم نے یہی جواب دیا“ تو میں نے اتنا عرض کیا کہ ”آپ کو یہ جواب معلوم تھا، حوالہ بھی معلوم ہونا چاہئے“ پھر آپ کیوں Avoid کر رہے تھے؟

مرزا ناصر احمد: نہیں، مجھے...... میں نے یہ بتایا تھا کہ مجھے میرے ساتھی نے کہا......

جناب یحییٰ بختیار: ٹھیک ہے، وہ Clarify ہوگیا، تو وہ بات تو ٹھیک ہوگئی کہ بات ریکارڈ میں اس قسم کی آئی تھی، آپ نے Clarify کردیا کہ ان کو معلوم تھا، آپ کو معلوم نہیں تھا۔

مرزا ناصر احمد: یہ ایک وہ لمبا ایک جواب ہے۔ وہ بھی ایک گزارش ہے ایک یہ جب ہم چھ دن کے بعد...... جب یہاں ہورہی تھی...... التوا ہو رہا تھا، Recess جب ہو رہی تھی، تو اس دن شام کو آپ نے فرمایا تھا کہ میں کچھ سوال کروں گا کہ Tendency ہے......

جناب یحییٰ بختیار: ہاں Separatist......

مرزا ناصر احمد: ......Separatist اس سلسلے میں ایک طائرانہ نظر گزشتہ 90 سال پر ڈالنا چاہتا ہوں اور وہ بڑی ایک مضبوط بیک گراؤنڈ ایک پس منظر ہو جائے گا۔ تو وہ ایک...... صرف سنگ میل جہاں ہیں، موٹی موٹی اہم باتیں۔...... تو اس کے بعد جو آدھا فقرہ، ایک فقرہ لے کے ایک سوال ہوتا ہے، اس کے سمجھنے میں آسانی ہو جائے گی۔

جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! آپ درست فرما رہے ہیں۔ ایک مشکل یہ ہے کہ اگر آپ Written Reply پڑھ کے سنائیں گے اور آپ نے......

مرزا ناصر احمد: میں Written، میں Written Reply پڑھ کے نہیں سناؤں گا، آپ نے مجھے منع فرما دیا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں نے کہا کہ وہ طریقہ نہیں ہے۔ کوئی حوالہ ایسا ہے تو ٹھیک ہے۔

مرزا ناصر احمد: حوالہ ہی پڑھوں گا، باقی میں زبانی کہوں گا۔

جناب یحییٰ بختیار: بات یہ ہے کہ میں نے کچھ حوالہ جات کی طرف آپ کی توجہ دلائی تھی، ان کی Basis پر میں یہ کہہ رہا تھا کہ یہ Impression ہے کہ آپ کے ہاں Separatism یا Separatist Tendency موجود ہے اور آپ نے کہا تھا کہ اس کا جواب دیں گے۔ تو میں نے کہا کہ ایک دو باتیں اور بھی پوچھ لیتا ہوں آپ سے......

مرزا ناصر احمد: جی، ٹھیک ہے۔

١٤

صفحہ ١٠٥٣

L ASSEMBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

دکھایا تو آپ نے کہا کہ ”ہاں، ہم سے یہ منیر کمیٹی میں بھی پوچھا میں نے اتنا عرض کیا کہ ”آپ کو یہ جواب معلوم تھا، حوالہ بھی Avoid کر رہے تھے؟

مرزا ناصر احمد: نہیں، مجھے...... میں نے یہ بتایا

جناب یحییٰ بختیار: ٹھیک ہے، وہ Clarify ریکارڈ میں اس قسم کی آئی تھی، آپ نے Clarify کر دیا کہ ان

مرزا ناصر احمد: یہ ایک ذرا لمبا ایک جواب ہے۔ ہم چھ دن کے بعد...... جب یہاں ہو رہی تھی...... التوا ہو رہا اس دن شام کو آپ نے فرمایا تھا کہ میں کچھ سوال کروں گا کہ

جناب یحییٰ بختیار: ہاں Separatist......

مرزا ناصر احمد: ......Separatist اس سلسلے پر ڈالنا چاہتا ہوں اور وہ بڑی ایک مضبوط بیک گراؤنڈ ایک صرف سنگ میل جہاں ہیں، موٹی موٹی اہم باتیں...... تو اس کے ایک سوال ہوتا ہے، اس کے سمجھنے میں آسانی ہو جائے گی۔

997 جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! آپ و ہے کہ اگر آپ Written Reply پڑھ کے سنائیں گے

مرزا ناصر احمد: میں Written، میں W سناؤں گا، آپ نے مجھے منع فرما دیا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں نے کہا کہ وہ ٹھیک ہے۔

مرزا ناصر احمد: حوالہ ہی پڑھوں گا، باقی میں زب

جناب یحییٰ بختیار: بات یہ ہے کہ میں نے دلائی تھی، ان کی Basis پر میں یہ کہہ رہا تھا کہ یہ on Separatist Tendency یا Separaitism جواب دیں گے۔ تو میں نے کہا کہ ایک دو باتیں اور بھی پوچھ

مرزا ناصر احمد: جی، ٹھیک ہے۔

١٤

1053 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

جناب یحییٰ بختیار: ...... کیونکہ اگر اسی پوائنٹ پر اب آنا ہے، تو پیشتر کہ آپ جواب دیں، آپ نے فرمایا کہ نماز کیوں نہیں پڑھتے۔ اس کی اپنی وجوہات ہیں۔...... باقی مسلمانوں سے۔...... تاکہ آپ کے ذہن میں رہے کہ کیوں ہم کہتے ہیں کہ آپ Separatist ہیں۔ وہ ہو چکا ہے، اس لئے اگر آپ اس کو چھوڑ دیں۔......

مرزا ناصر احمد: نہیں، وہ نہیں۔......

(غیر احمدیوں سے شادی؟)

جناب یحییٰ بختیار: ......Repeat نہیں کروں گا۔ پھر آپ نے فرمایا کہ کیوں احمدی لڑکی کی شادی ایک مسلمان لڑکے کے ساتھ نہیں کی جاتی۔ آپ نے کہا: ”یہ پالیسی ہے، عقیدہ نہیں، کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ وہ خوش نہیں رہتے۔“

998 مرزا ناصر احمد: یہ فقرہ میں نے پورا سنا نہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: میں پھر Repeat کرتا ہوں۔

مرزا ناصر احمد: یعنی احمدی کسی احمدی لڑکی کی......

جناب یحییٰ بختیار: ......شادی کسی مسلمان سے یا غیر احمدی سے......؟

مرزا ناصر احمد: ہاں، کسی احمدی لڑکی کی شادی کسی دوسرے فرقے سے تعلق رکھنے والے سے نہیں کی جاتی۔

جناب یحییٰ بختیار: ”ہم اجازت نہیں دیتے۔“......

مرزا ناصر احمد: لفظی چیز ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: آپ نے وجہ اس کی یہ بتائی۔ میں نے پھر کہا کہ ”آپ کا عقیدہ ہے، کیا آپ نے اس پر کوئی آرڈر پاس کیا ہوا ہے؟ جو کہ عقیدہ کہیں، رول کہیں۔“ تو آپ نے کہا کہ ”نہیں، ہمارا تجربہ ایسا ہے کہ جس کی بنا پر وہ خوش نہیں رہتے۔“ اور پھر آپ نے مزید فرمایا کہ آپ کسی مسلمان پر یہ توقع نہیں رکھتے کہ شرع کے مطابق وہ اپنی بیوی کے حقوق پورے کرے گا جو ایک احمدی کر سکتا ہے۔ میں آپ کو یہ Repeat کرارہا ہوں تاکہ غلط فہمی نہ رہے تو اس پر بھی زیادہ مزید بحث کی ضرورت نہیں، سوائے اس کے کہ ایک حوالہ دکھاؤں گا جس کے مطابق، میری رائے میں، یہ کوئی پالیسی نہیں ہے، یہ کوئی آپ اس وجہ سے نہیں کر رہے کہ کیونکہ آپ کا تجربہ تلخ ہے، بلکہ آپ کا آرڈر ہے، ایک قسم کا عقیدہ ہے، رول ہے، اس کی طرف توجہ دلاؤں گا اور یہ بہت عرصے سے ہے یہ۔ اس پر بھی۔ تاکہ جب Deal کریں اس سے۔ اس Aspect پر ضرور کچھ کہیں۔

١٥

صفحہ ١٠٥٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

مرزا ناصر احمد: ہاں جی، میں پھر اس سے بھی زیادہ عرصے سے جو وہی چیز کا جواب میں بتا دوں گا، ٹھیک ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: تو یہ میں کہہ رہا ہوں کہ ......

999 مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں۔

جناب یحییٰ بختیار: سو باقی جو ہیں وہ تو میں نے بتا دیئے آپ کو، جس Sense میں آپ نے اپنے کو علیحدہ کرنے کی کوشش کی ......

مرزا ناصر احمد: نہیں، بالکل نہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی، وہ جو چیزیں ......

مرزا ناصر احمد: ہاں ہاں، یعنی آگیا، جواب آگیا۔

جناب یحییٰ بختیار: جواب آگیا ہے، میں اس بات کی طرف آپ کی توجہ دلانا چاہتا ہوں، آپ کی Separatist Tendency کس وجہ سے تھی، اتنے حوالے ہیں کہ ”وہ اور قوم ہے، تم اور قوم ہو، کیوں اس میں گھسنا چاہتے ہو؟“ وہ میں پھر نہیں Repeat کروں گا جو ریکارڈ پر آچکا ہے۔ آپ پھر بے شک تفصیل سے جواب دے دیں اس کا۔

مرزا ناصر احمد: نہیں، میں نے تو جواب دے دیا تھا۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں ہاں، ٹھیک ہے، اس میں جانے کی ضرورت نہیں۔

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں۔

(ہمیں پارسیوں اور عیسائیوں کی طرح علیحدہ نمائندگی دی جائے)

جناب یحییٰ بختیار: اب مرزا صاحب! پیشتر اس کے کہ میں اس مسئلہ پر کچھ اور سوالات آپ سے پوچھوں، ایک چھوٹا پوائنٹ تھا۔ کل آپ نے ”الفضل ١٩٣٦ء“ ایک پرچہ ١٣؍نومبر کا یہاں فائل کیا۔ اگر میں غلط نہیں سمجھا، تو آپ نے فرمایا تھا۔ کیونکہ سوال یہ تھا کہ: ”کیا مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے اپنے ایک نمائندے کو ایک بہت بڑے انگریز آفیسر کے پاس بھیجا تھا اور ان کو کہا تھا کہ پارسیوں کی طرح اور عیسائیوں کی طرح ہمیں بھی علیحدہ نمائندگی دی جائے۔“ اس کے جواب میں آپ نے فرمایا کل کہ: ”یہ اخبار موجود ہے، خطبہ موجود ہے، اس میں۔“ آپ نے کہا کہ ”ان دونوں میں ......“

مرزا ناصر احمد: میں نے بعد میں وضاحت کی تھی کہ ”دہلی کا سفر جہاں لکھا ہوا ہے ......“

1000 جناب یحییٰ بختیار: ہاں وہی میں کہہ رہا ہوں، آپ نے فرمایا کہ: ”ان دنوں

١٦

صفحہ ١٠٥٥

ASSEMBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

مرزا ناصر احمد: ہاں جی، میں پھر اس سے سمجھ... میں بتادوں گا، ٹھیک ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: تو یہ میں کہہ رہا ہوں کہ...

999 مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں۔

جناب یحییٰ بختیار: سو باقی جو ہیں وہ تو میں... آپ نے اپنے کو علیحدہ کرنے کی کوشش کی......

مرزا ناصر احمد: نہیں، بالکل نہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی، وہ جو چیزیں...

مرزا ناصر احمد: ہاں ہاں، یعنی آگیا، جواب آ...

جناب یحییٰ بختیار: جواب آگیا ہے، میں اب... ہوں، آپ کی Separatist Tendency کس وجہ سے... ہے، تم اور قوم ہو، کیوں اس میں گھسنا چاہتے ہو؟" وہ میں ... پڑھ چکا ہوں۔ آپ پھر بے شک تفصیل سے جواب دے دیں ...

مرزا ناصر احمد: نہیں، میں نے تو جواب دے...

جناب یحییٰ بختیار: ہاں ہاں، ٹھیک ہے، اس...

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں۔

(ہمیں پارسیوں اور عیسائیوں کی طرح ...

جناب یحییٰ بختیار: اب مرزا صاحب! ... سوالات آپ سے پوچھوں، ایک چھوٹا پوائنٹ تھا۔ کل آپ ... ١٣؍نومبر کا یہاں فائل کیا۔ اگر میں غلط نہیں سمجھا، تو آپ ... مرزا بشیرالدین محمود احمد صاحب نے اپنے ایک نمائندے کو ... بھیجا تھا اور ان کو کہا تھا کہ پارسیوں کی طرح اور عیسائیوں ... جائے۔" اس کے جواب میں آپ نے فرمایا کل کہ: "یہ ... میں۔" آپ نے کہا کہ "ان دونوں میں......"

مرزا ناصر احمد: میں نے بعد میں وضاحت کی...

1000 جناب یحییٰ بختیار: ہاں وہی میں کہہ ر...

١٦

1055 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

پارٹیشن کی باتیں ہورہی تھیں کہ کون سا ڈسٹرکٹ آئے گا، کون سا ڈسٹرکٹ جائے گا۔ گورداسپور میں ٥١ فیصد پاپولیشن مسلمانوں کی، جس میں بہت زیادہ تعداد احمدیوں کی تھی اور سوال یہ تھا کہ یہ یہاں جائے گا یا وہاں جائے احمدی کیا رول Play کریں گے۔ ان حالات میں یہ خطبہ دیا گیا۔ پھر دہلی کا سفر ہوا اور وہ مسلم لیگ کی تائید سے وہ مطالبہ پیش کیا گیا۔ "ایک تو مرزا صاحب! اس چیز کا کوئی ذکر نہیں کہ پارٹیشن کی بات ہورہی تھی، ڈسٹرکٹ کی بات ہورہی تھی کہ پاپولیشن ٥١ فیصد ہے یا ٤٩ فیصد تھی، جس سے پتہ لگے کہ یہ بیک گراؤنڈ تھا۔ میں آپ کو ......

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، Interim گورنمنٹ، وہ اسی کا تو ذکر ہورہا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میرا خیال تھا کہ آپ اس میں کہتے ہیں کہ مضمون میں یہ چیز موجود ہے۔

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، مضمون نہیں جی، میں پس منظر بتارہا تھا۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں وہ ٹھیک ہے، پس منظر ہوگا۔ میرا اپنا یہ خیال ہے کہ پس منظر نہیں تھا، یہ بعد کی بات تھی، نومبر ١٩٤٦ء میں، مسلم لیگ اسی وقت شامل ہوئی تھی Interim گورنمنٹ میں، مگر گورنمنٹ کا ارادہ......

مرزا ناصر احمد: نومبر ١٩٤٦ء نہیں......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں نہیں، ١٩٤٦ء۔

مرزا ناصر احمد: ہاں۔

جناب یحییٰ بختیار: مگر گورنمنٹ کا اس وقت کا ارادہ، صاف معلوم نہیں تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مرزا بشیرالدین محمود صاحب نے اس وقت یہی کوشش کی کہ اگر انگریز کوئی فیصلہ مسلمانوں کے خلاف، مسلم لیگ کے خلاف دے گا تو وہ اسے اپنے خلاف سمجھیں 1001 گے، قوم کے خلاف سمجھیں گے، بڑی واضح چیز ہے سامنے۔ جو چیز واضح ہے اس سے انکار نہیں کرسکتے اور اس غرض کے لئے وہ وہاں سے چلے کہ وہ مسلمان جو مسلم لیگ میں نہیں۔ احمدی۔ جن کے بارے میں یہاں لکھا گیا کہ مسلم لیگ ان کو اپنے میں شامل نہیں کرتی تعصب کی وجہ سے، یا کسی وجہ سے، اور کانگریس میں یہ شامل نہیں ہونا چاہتے۔ باقی بھی کچھ مسلمان تھے جو کہ مسلم لیگ میں نہیں تھے، بڑی بڑی پوزیشن کے لوگ تھے، آغا خان جیسے تھے۔ باقی آپ نے ذکر کیا اس میں، ان کو Contact کیا تا کہ وہ برٹش گورنمنٹ پر واضح کریں کہ ان کا سب کا تعاون لیگ کے ساتھ ہے۔ یہ میں ٹھیک کہہ رہا ہوں پوزیشن؟

مرزا ناصر احمد: جی، جی۔

١٧

صفحہ ١٠٥٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

(مسلم لیگ پر احسان نہ دھریں، آپ کے اپنے مفادات تھے)

جناب یحییٰ بختیار: اس بارے میں آپ نے مشورہ کیا مسلم لیگ سے، اس بارے میں، مسلم لیگ نے کہا کہ ٹھیک کر رہے ہیں۔ اس کے بعد دوسرا سوال آیا تھا۔ مرزا صاحب سے کسی نے پوچھا۔ یہ تو ٹھیک ہے آپ سفر پر گئے تھے۔ پھر وہ آگے کہتے ہیں: ”دوستوں نے لکھا ہے کہ وائسرائے پنڈت جواہر لال نہرو مسٹر جناح کے مشوروں کا ذکر تو اخباروں میں آتا ہے، آپ کا کیوں نہیں آتا؟ انہوں نے یہ نہیں سمجھا کہ وہ تو سیاسی جماعتوں کے نمائندے ہیں۔ وہ تو ان سیاسی جماعتوں کے نمائندے ہیں جنہوں نے باہمی فیصلہ کرنا تھا اور ہم کسی سیاسی جماعت کے نمائندے نہیں بلکہ ہم اپنا اثر ڈال کر انہیں نیک راہ بتانے کے لئے گئے تھے۔ سیاسی جماعتوں کی نمائندگی نہ ہمارا کام ہے نہ گورنمنٹ یا کوئی اور یا کسی رنگ میں ہمیں بلا سکتا ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ گورنمنٹ کا فرض ہے کہ وہ ہم سے بھی مشورہ لے.....“

1002 I think this is different subject Muslim League had nothing to do with this part.

(میرا خیال ہے یہ ایک الگ موضوع ہے مسلم لیگ سے اس کا کوئی تعلق نہیں)

”..... ہم سے بھی مشورہ لے، ہمارے حقوق کا بھی خیال رکھے۔ ہماری جماعت ہندوستان میں سات آٹھ لاکھ کے قریب ہے۔ مگر ہماری جماعت کے افراد اس طرح پھیلے ہوئے ہیں کہ ان کی آواز کی کوئی قیمت نہیں سمجھی جاتی۔ لیگ ہمیں اپنے اندر شامل نہیں کرتی، کانگریس میں ہم شامل نہیں ہونا چاہتے۔ اس کے مقابلے میں پارسی ہندوستان میں تین لاکھ کے قریب ہیں، لیکن حکومت کی طرف سے ایک پارسی وزیر سینٹر میں مقرر کر دیا گیا ہے اور ان کی جماعت کو قانونی جماعت تسلیم کر لیا گیا ہے، حالانکہ ہماری جماعت ان سے دگنی بلکہ اس سے بھی زیادہ ہے۔“

Sir, what I wanted to show you was that a separate demand is agitated here. And then after this, away from Muslims ......

(جناب میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ ایک الگ جماعت کا وجود موجود ہے کیا یہ جماعت مسلمانوں سے جدا ہے؟)

(علیحدہ نہیں، جدا؟)

Mirza Nasir Ahmad: No. Not away from the

١٨

صفحہ ١٠٥٧

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

Muslims, apart from the Muslims.

(مرزا ناصر احمد: نہیں، مسلمانوں سے جدا نہیں، بلکہ مسلمانوں سے علیحدہ)

Mr. Yahya Bakhtiar: Apart from the Muslims. Apart from the Muslims.

ممتاز کر لیں آپ ان کو، جیسے ......

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، اگر ...... جب آپ مجھے اجازت دیں گے تو میں اس کو Explain کر دوں گا۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، اس واسطے میں کہتا ہوں کہ آپ نے جو بات کی وہ مجھے نظر نہیں آئی۔ پھر وہ کہتے ہیں، اس کے بعد وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے نمائندہ بھیجا اور ان سے یہ Request کی، گاندھی جی سے بات کرتے ہیں۔ تو اس پس منظر میں یہ چیز آئی تھی کہ جماعت احمدیہ کا یہ خیال تھا کیونکہ ان کے نمائندے اسمبلی میں اس لئے نہیں آسکتے کہ وہ پھیلے ہوتے ہیں، گورنمنٹ کو خود توجہ دینی چاہئے 1003 اور ”ہمارا حق ہے کہ جیسے پارسی لے سکتے ہیں، اگر وہ ایک پارسی کو لیتے ہیں تو ہم دو احمدیوں کو پیش کر سکتے ہیں ۔“ تو کیونکہ اس زمانے میں آپ لیگ کی تائید کر رہے تھے۔ اس میں کوئی شک نہیں مرزا صاحب! سب وہ ظاہر ہے۔ مگر کوشش یہ بھی تھی کہ ساتھ اگر آپ کو علیحدہ نمائندگی مل جائے As a separate body جیسے پارسیوں کو، وہ اس سے زیادہ بہتر ہے۔

مرزا ناصر احمد: اجازت ہے مجھے؟

جناب یحییٰ بختیار: میں ایک اور حوالہ بھی کر دوں تاکہ پھر آپ دونوں ......

مرزا ناصر احمد: اگر دونوں اکٹھے ہیں تو ٹھیک ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: اس کے بعد مرزا صاحب! آپ کے ”الفضل“ ۔ یا پتہ نہیں ”الفضل“ آپ کا اخبار ہے یا کس کا اخبار ہے۔ بہرحال ......

مرزا ناصر احمد: یہ ”الفضل“ جو ہے ہاں، یہ میں بتا دیتا ہوں کس کا اخبار ہے۔ دنیا نے بڑے لمبے تجربے کے بعد اور بڑی سوچ بچار کے بعد ہر ملک نے یہ قانون بنایا کہ اخبار کے اندر جو باتیں لکھی جاتی ہیں، ان کی قانونی ذمہ داری کس پر ڈالی جائے گی ......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، وہ تو ٹھیک ہے۔

مرزا ناصر احمد: اور انہوں نے ”مدیر مسئول“ کا ایک محاورہ ایجاد کیا اور ۔ یا پھر اس کے متعلق میں Clear نہیں، اگر آپ میری مدد کریں تو میرا علم بڑھ جائے گا میرا یہ حال ہے کہ جو

١٩

صفحہ ١٠٥٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

پریس کی ذمہ داری ہے یہ Colonial Necessity (نوآبادیاتی نظام کی ضرورت) ہے اور یہ آزاد ملکوں میں نہیں بہرحال، ہم اس کو لے لیتے ہیں۔ قانون یہ ہے ......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں، مرزا صاحب! بات یہ نہیں ......

(الفضل کی ذمہ داری سے انکار؟)

1004 مرزا ناصر احمد: ...... قانون یہ ہے کہ مندرجات اخبار کا مسئول سوائے ایڈیٹر کے یا اگر وہ گروپ ہو تو ان کے اگر لکھا ہوا ہو اور پرنٹنگ پریس کے، اور کوئی نہیں۔ اس واسطے اخبار میں جو کچھ لکھا جائے، اس کے متعلق آپ صرف اتنا پوچھ سکتے ہیں مجھ سے کہ میں اس کی ذمہ داری لینے کو تیار ہوں کہ نہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: تو مرزا صاحب! بات یہ ہے کہ آپ Repudiate کرسکتے ہیں میں یہ نہیں کہہ رہا۔ مگر یہ ہے کہ اخبار ایسا ہے جو کہ آپ کے نقطہ نظر کو پیش کرتا ہے، جیسا، میں نے کہا کہ ”ڈان“ تھا لوگ سمجھتے ہیں کہ لیگ کا نقطہ نظر ہے، مگر League was not bound by it. اس طرح آپ Bound نہیں ہیں جب تک کہ آپ خود نہ لکھیں اخبار پر کہ ”یہ ساری جماعت کی آواز ہے۔“ "This is our organ, official organ" بعض لکھتے ہیں۔

مرزا ناصر احمد: ہاں بعض لکھ دیتے ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: آپ نے نہیں لکھا ہوا تو ٹھیک ہے وہ، میں سمجھتا ہوں اس کو۔ مگر یہ کہ بہر حال یہ آپ کی پارٹی کا اخبار سمجھا جاتا ہے۔

مرزا ناصر احمد: نہیں اگر کوئی حوالہ ہے تو وہ پڑھ دیں، میں آپ کو بتا دوں گا کہ میں اس کو Own کرتا ہوں یا نہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: یہ جی کچھ حوالے ہیں جن پر منیر کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں لکھا تھا کہ: ”پاکستان سے کچھ پہلے احمدی جماعت کی طرف سے ایسی تحریریں و بیانات شائع ہوئے ......“

مرزا ناصر احمد: اس کا Page (صفحہ) کیا جی ہے؟

(اگر پاکستان بن بھی گیا تو ہم یہ کوشش کریں گے کہ یہ تقسیم ختم ہو؟)

1005 جناب یحییٰ بختیار: وہ میں بتا دیتا ہوں کہ: ”حاصل ان کا یہ تھا کہ اگر پاکستان بن بھی گیا تو ہم یہ کوشش کریں گے کہ یہ تقسیم ختم ہو، تقسیم ہند ختم ہو۔“ Page10 آپ دیکھ لیجئے۔ ”یہ تقسیم ختم ہو۔“ ”پھر اکٹھے بھارت ہو جائے۔“ اس مضمون کی تحریریں وغیرہ، تو اس میں کچھ

٢٠

صفحہ ١٠٥٩

SEMBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

پریس کی ذمہ داری ہے یہ Colonial Necessity یہ آزاد ملکوں میں نہیں بہر حال، ہم اس کو لے لیتے ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار : نہیں نہیں، مرزا صاحب

(الفضل کی ذمہ داری)

1004 مرزا ناصر احمد : ....... قانون یہ ہے کہ کے یا اگر وہ گروپ ہو تو ان کے اگر لکھا ہوا ہو اور پرنٹنگ میں جو کچھ لکھا جائے، اس کے متعلق آپ صرف اتنا پوچھ لینے کو تیار ہوں کہ نہیں۔

جناب یحییٰ بختیار : تو مرزا صاحب! بات ہیں میں یہ نہیں کہہ رہا۔ مگر یہ ہے کہ اخبار ایسا ہے جو کہ آ نے کہا کہ ”ڈان“ تھا لوگ سمجھتے ہیں کہ لیگ کا نقطہ نظر ہے اس طرح آپ Bound نہیں ہیں جب تک by it. gan, official organ جماعت کی آواز ہے۔“

مرزا ناصر احمد : ہاں بعض لکھ دیتے ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار : آپ نے نہیں لکھا ہوا یہ کہ بہر حال یہ آپ کی پارٹی کا اخبار سمجھا جاتا ہے۔

مرزا ناصر احمد : نہیں اگر کوئی حوالہ ہے تو اس کو Own کرتا ہوں یا نہیں۔

جناب یحییٰ بختیار : یہ جی کچھ حوالے ہیں کہ : ”پاکستان سے کچھ پہلے احمدی جماعت کی طرف سے

مرزا ناصر احمد : اس کا Page (صفحہ) کیا ہے

(اگر پاکستان بن بھی گیا تو ہم یہ کوشش)

1005 جناب یحییٰ بختیار : وہ میں بتا دیتا ہوں بن بھی گیا تو ہم یہ کوشش کریں گے کہ یہ تقسیم ختم ہو، تقسیم ”یہ تقسیم ختم ہو ۔“ ”پھر اکٹھے بھارت ہوجائے۔“ اس کا

٢٠

1059 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

”الفضل“ کے میں آپ کو حوالے دے دیتا ہوں جن کا وہ ذکر کر رہے ہیں.......

مرزا ناصر احمد : ”یہ اکھنڈ ہندوستان“ والا سوال تو ایک مشکل میں ہو چکا ہے اور اس کا جواب ہمارے پاس ہے.......

جناب یحییٰ بختیار : نہیں، میں نے کل بھی عرض کیا تھا، میں نے کچھ سوال کرنے تھے اس واسطے تاکہ آپ وہ کر لیں.......

مرزا ناصر احمد : ہاں، ہاں، یہ ٹھیک ہے۔ یہ نوٹ کرلیں، یہ تو پہلے آچکا ہے، جو کہ آپ اب فرما چکے ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار : ہاں، جی، یہ منیر کمیٹی کا تھا۔ انہوں نے کہا تھا: ”یہ اندازہ ہوتا ہے۔“ یہ ”الفضل“ ہے جی، ٥؍اپریل ١٩٤٧ء، ١٦؍مئی ١٩٤٧ء، ١٢؍اپریل ١٩٤٧ء، ٧؍ ارجون ١٩٤٧ء۔

ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ یہ جلد دور ہو جائے۔“ اسی اخبار کے صفحہ ٢ کالم ٤ پر ہے: ”ہمیں ہندؤں اور عیسائیوں سے مشارکت رکھنی چاہئے۔“

چکا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت ہندوستان کو اکٹھا رکھنا چاہتی ہے....... اگر عارضی طور پر الگ بھی کرنا پڑے تو یہ اور بات ہے۔ بسا اوقات عضو ماؤف کو ڈاکٹر کاٹ دینے کا بھی مشورہ دیتے ہیں لیکن یہ خوشی سے نہیں ہوتا۔ بلکہ مجبوری اور معذوری کے عالم میں اور صرف اسی وقت جب اس کے بغیر چارہ نہ ہو اور اگر یہ معلوم ہو جائے کہ ماؤف عضو کی جگہ نیا لگ سکتا ہے تو کون جاہل انسان اس کے لئے کوشش نہیں کرے گا۔ اسی طرح ہندوستان کی تقسیم پر اگر ہم رضا مند ہوئے تو خوشی سے نہیں بلکہ مجبوری سے اور پھر ہم کوشش کریں گے کہ یہ کسی نہ کسی طرح جلد متحد ہو جائے۔“

اخباری نمائندہ کے سوال کے جواب میں کہا: ”سوال! کیا پاکستان عملاً ممکن ہے، جواب! سیاسی اور اقتصادی لحاظ سے دیکھا جائے تو پاکستان ممکن ہے لیکن میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ ملک کے حصے بخرے کرنے کی ضرورت نہیں (یعنی تقسیم نہ ہو، تاکہ پاکستان نہ بنے)....... (دنیا متحد ہورہی ہے) کیا وجہ ہے کہ اس موقع پر ہندوستان دو علیحدہ علیحدہ حصوں میں بٹ جائے اور دو بڑی قومیں ایک دوسرے سے جدا ہوجائیں۔“

٢١

صفحہ ١٠٦٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

مرزا ناصر احمد : جی لکھ لیا ہے انہوں نے (وفد کے ایک رکن کی طرف اشارہ کر کے)

جناب یحییٰ بختیار : ایک ١٨؍اگست کا ہے۔ یہ ابھی دیکھیں، یہ چھوٹی سی بات ہے، جو کہ ١٧؍جون کا ہے، مرزا محمود احمد امام جماعت احمدیہ......

مرزا ناصر احمد : ١٧؍جون ١٩٤٧ء

1006 جناب یحییٰ بختیار : ہاں جی۔ ”آخر میں دعا کرتا ہوں کہ اے میرے رب! میرے اہل ملک کو تو سمجھ دے اور اول تو یہ ملک بنے نہیں اور اگر بنے تو اس طرح بنے کہ پھر مل جانے کے راستے کھلے رہیں۔“

Now, Sir, I.....

مرزا ناصر احمد : جب تک میں یہ دیکھوں نہ، میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔

Mr. Yahya Bakhtiar: This is an address After 3rd june when Pakistan was accepted. Muslim Leagus had achieved a victory, you are not sharing that victory; you are not sharing that hope. You say:

So, you have to clarify this that you "اللہ کرے پھر مل جائے" Are not keeping yourself as a part of the Muslim Nation.

(جناب یحییٰ بختیار: یہ تین جون کے بعد کا بیان ہے جبکہ پاکستان کا مطالبہ تسلیم کیا جا چکا تھا۔ مسلم لیگ فتح سے ہمکنار ہو چکی تھی مگر آپ اس فتح میں شریک نہ تھے اس لئے آپ کو واضح کرنا ہو گا کہ آپ قصوروار نہیں تھے یا کہ آپ مسلم لیگ کے ہمنوا تھے)

مرزا ناصر احمد : نہیں، یہ آپ کا جو استدلال ہے، میرے نزدیک غلط ہے۔

جناب یحییٰ بختیار : ہاں۔ یہ Impression میرا ہے۔

مرزا ناصر احمد : ہاں، یہ میرے نزدیک غلط ہے۔

جناب یحییٰ بختیار : اس واسطے میں Clarify کر رہا ہوں۔ تو مرزا صاحب! آپ یہ حوالے دیکھ کر میرے خیال میں پھر اس کا جواب دے دیں۔ اس واسطے میں نے آپ کو یہ پیش کر دیئے ہیں۔ میں پڑھ......

مرزا ناصر احمد : یہ ایک جواب تو ویسے تیار ہے......

٢٢

صفحہ ١٠٦١

L ASSEMBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

مرزا ناصر احمد: جی لکھ لیا ہے انہوں نے (وفد ک جناب یحییٰ بختیار: ایک ١٨؍اگست کا ہے۔ ی جو کہ ١٧؍جون کا ہے، مرزا محمود احمد امام جماعت احمدیہ...... مرزا ناصر احمد: ١٧؍جون ١٩٤٧ء 1006 جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی۔ ”آخر میں میرے اہل ملک کو تو سمجھ دے اور اول تو یہ ملک بنے نہیں او جانے کے راستے کھلے رہیں“ مرزا ناصر احمد: جب تک میں یہ دیکھوں نہ، میں

akhtiar: This is an address After 3rd was accepted. Muslim Leagus had are not sharing that victory; you are You say: ”اللہ کرے پھر مل جائے“ clarify this that you g yourself as a part of the Muslim

(جناب یحییٰ بختیار: یہ تین جون کے بعد کا بیا جا چکا تھا۔ مسلم لیگ فتح سے ہمکنار ہو چکی تھی مگر آپ اس فتح میں کرنا ہوگا کہ آپ قصوروار نہیں تھے یا کہ آپ مسلم لیگ کے ہم مرزا ناصر احمد: نہیں، یہ آپ کا جو استدلال ہے جناب یحییٰ بختیار: ہاں۔ یہ mpression مرزا ناصر احمد: ہاں، یہ میرے نزدیک غلط ہے جناب یحییٰ بختیار: اس واسطے میں arify آپ یہ حوالے دیکھ کر میرے خیال میں پھر اس کا جواب دے پیش کردیئے ہیں۔ میں پڑھ...... مرزا ناصر احمد: یہ ایک جواب تو ویسے تیار ہے۔ ٢٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

جناب یحییٰ بختیار: تو پھر وہ پارٹ...... مرزا ناصر احمد: اصولی...... جناب یحییٰ بختیار: تو پھر وہ پارٹ ہوجائے گا۔ 1007 مرزا ناصر احمد: آخر میں اس کو شامل کرلیں، آپ کا مطلب ہے؟ جناب یحییٰ بختیار: ہاں، ہاں...... مرزا ناصر احمد: (اپنے وفد کے ایک رکن سے): ان کو بھی شامل کرلیں، چلیں جی، یہ لکھ لیں۔ جناب یحییٰ بختیار: چونکہ Subject Divide (مضمون تقسیم) ہوجاتا ہے۔ مرزا ناصر احمد: ہاں، ٹھیک ہے۔

(قادیانیوں کا ایک مشن اسرائیل میں ہے، کیا یہ درست ہے؟)

جناب یحییٰ بختیار: اب ایک دو ایسے چھوٹے چھوٹے سوال ہیں۔ مرزا صاحب! آپ کا ایک مشن اسرائیل میں ہے، یہ درست ہے ناں جی؟ مرزا ناصر احمد: اسرائیل میں کئی لاکھ مسلمان بستے ہیں...... جناب یحییٰ بختیار: میں پہلے آپ سے...... دیکھیں ناں، میرے سوال کا پہلے یہ جواب دیں کہ ”ہاں“ یا ”نہیں“ میں پھر آگے چلتا ہی نہیں۔ پھر آپ Explain (واضح) کریں۔ Mirza Nasir Ahmad: Now, now we come to this! Let us grapple with this problem..... (مرزا ناصر احمد: اب ہمیں اس مسئلہ سے نمٹنا ہوگا......) Mr. Yahya Bakhtiar: is there any Mission of............ Mirza Nasir Ahmad: ...... what does English Language mean by this "Mission" (مرزا ناصر احمد: دیکھنا ہوگا کہ انگلش میں مشن کا معنی کیا ہے؟) Mr. Yahya Bakhtiar: What you have got in your conflation of foreign Missions. That contains....... ٢٣

صفحہ ١٠٦٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

(جناب یحییٰ بختیار: آپ کے جو بہت سارے فارن مشنز ہیں، وہ......)

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں۔ مشن

Mr. Yahya Bakhtiar: That means ......

Mirza Nasir Ahmad: Mission; in the English language, means "Field of missionary activity".

(مرزا ناصر احمد: انگریزی زبان میں ”مشن“ کا مطلب مشنری سرگرمیوں کا مرکز یا جگہ ہی ہوتا ہے)

1008 Mr. Yahya Bakhtiar: Yes, that, is what I mean; I don't mean political activity; I never suggested that.

(جناب یحییٰ بختیار: ٹھیک ہے۔ میرا بھی یہی مطلب ہے۔ میرا مدعا سیاسی کارگزاری نہیں تھا)

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، نہیں۔ "Field of missionary activity" (فیلڈ آف مشنری Activity) کے لئے وہاں جماعت احمدیہ کے افراد کا ہونا کافی ہے۔

(آپ کا مشن ہے کہ نہیں؟)

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، آپ کا مشن ہے کہ نہیں؟ ”احمدیہ جماعت“ میں نہیں کہہ رہا ہوں۔

مرزا ناصر احمد: جماعت احمدیہ ہے وہاں۔

جناب یحییٰ بختیار: بس ٹھیک ہے۔

مرزا ناصر احمد: جماعت احمدیہ ہے......

جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی۔

مرزا ناصر احمد: ...... اور وہ میرے خیال میں پانچ فیصد ہوں گے کل۔ ٹوٹل مسلم آبادی کا ٥ فیصد احمدی ہے۔ احمدی ہیں وہاں۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، ٹھیک ہے، میں یہ کہہ رہا ہوں کہ آپ کا مشن وہاں ہے؟

مرزا ناصر احمد: ہاں، احمدی جماعت ہے۔

٢٤

صفحہ ١٠٦٣

es For Visit opping WELCOME

SSEMBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

(جناب یحییٰ بختیار: آپ کے جو بہت سا...

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں۔ مشن

htiar: That means ......

Ahmad: Mission; in the English of missionary activity".

(مرزا ناصر احمد: انگریزی زبان میں ”مش... جگہ ہی ہوتا ہے)

akhtiar: Yes, that, is what I mean; ivity; I never suggested that.

(جناب یحییٰ بختیار: ٹھیک ہے۔ میرا ... کارگزاری نہیں تھا)

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، نہیں۔ "vity...

(فیلڈ آف مشنری Activity) کے لئے وہاں جماعت...

(آپ کا مشن ہے کہ ...

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، آپ کا مشن ہے... رہا ہوں۔

مرزا ناصر احمد: جماعت احمدیہ ہے وہاں۔

جناب یحییٰ بختیار: بس ٹھیک ہے۔

مرزا ناصر احمد: جماعت احمدیہ ہے......

جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی۔

مرزا ناصر احمد: ......اور وہ میرے خیال ... آبادی کا ٥ فیصد احمدی ہے۔ احمدی ہیں وہاں۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، ٹھیک ہے، میں ...

مرزا ناصر احمد: ہاں، احمدی جماعت ہے...

٢٤

1063 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

(اسرائیل میں احمدیہ جماعت ہے؟)

جناب یحییٰ بختیار: ”احمدیہ جماعت ہے“ کیونکہ آپ کہتے ہیں ناں کہ Our" "foreign mission اس میں آپ ان کا ذکر کر دیں ......

مرزا ناصر احمد: ہاں، وہ اس واسطے میں نے ”مشن“ کا ترجمہ کیا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: ٹھیک ہے۔

Mirza Nasie Ahmad: This is from the concise Oxford Dicitionary: The field of missionary activity".

(مرزا ناصر احمد: یہ آکسفورڈ کنسائز ڈکشنری سے ہے۔ جماعت کی کارگزاریوں کی جگہ......)

جناب یحییٰ بختیار: تو آپ، آپ کی کتاب میں جو ”فارن مشن“ ہیں، اس کے 79 Page میں آپ یہ بھی نوٹ کر لیجئے کہ جو میں پڑھتا ہوں یہ مضمون وہاں ہے یا نہیں؟ میں سارا نہیں پڑھوں گا۔ جہاں تک:

1009"Ahmadiyya Mission in Israel" because I said: "The mission in Israel because you said this......"

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، ہاں، جماعت احمدیہ ہے وہاں۔

Mr. Yahya Bakhtiar: Ahmadiyya Mission in Israel is situated in Haifa at Mount Karmal we have a mosque there, a Mission House, a library, a Book Depot, a School. The Mission also brings out a Monthly entitled Al-Bushra, which is sent out to thirteen different countries accessable through the medium of Arabic many works of promised Messiah have been translated into Arabic through this Mission".

پھر اس میں آگے کہتے ہیں:

Some time ago, our missionary had an interview with the mayor of Haifa, when, during the discussion on

٢٥

صفحہ ١٠٦٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

many points he offered to build us a school at Kababeer a village neae Haifa, where we have a strong and well established Ahmadiyy Community of Palestinian Arabs. He also promised that he would come to see our Mission at Ka babeer, which he did later, accompanied by our notables from Haifa, He was duly received by the members of the community and by the students of our. Before his return, he entered his impressions in the Visitors' Book.

Another small incident, which would give readers some idea of the position the Mission in Israel occupies, is that in 1956 when our missionary, Chaudhry Mohammad Sharif, Returned to Headquarters ......

(جناب یحییٰ بختیار: یہ میں نہیں کہتا بلکہ آپ کہتے ہیں کہ آپ کا اسرائیل میں مشن ہے۔ جو کہ مونٹ کارمل حیفہ میں واقع ہے۔ وہاں آپ کی ایک مسجد ایک مشن خانہ ایک لائبریری، کتب خانہ اور ایک سکول ہے۔ مشن ایک ماہنامہ بنام ”البشریٰ“ شائع کرتا ہے۔ جو کہ عربی زبان میں تیرہ ممالک کو بھجوایا جاتا ہے۔ اسی مشن نے احمدیہ جماعت کی بہت سی کتابوں کے عربی تراجم کئے ہیں۔ کچھ عرصہ ہوا ہمارے مشن کے سربراہ کی حیفہ کے میئر سے ملاقات ہوئی تھی۔ جس کے دوران میئر نے ہمارے لئے کبابیر میں ایک سکول تعمیر کرنے کی پیشکش کی۔ کبابیر میں فلسطینی عربوں پر مشتمل احمدیہ جماعت کی ایک مضبوط تنظیم موجود ہے۔ میئر نے یہ بھی وعدہ کیا کہ وہ کبابیر میں ہمارا مشن دیکھنے آئے گا اور اس نے یہ وعدہ بعد میں پورا کیا۔ اس موقع پر حیفہ میں احمدی معززین میئر کے ہمراہ تھے۔ احمدیہ جماعت کے افراد اور سکول کے طلباء نے میئر کا استقبال کیا۔ میئر کے لئے ایک استقبالیہ دیا گیا۔ واپس جاتے ہوئے میئر نے وزیٹر بک میں اپنے تاثرات تحریر کئے ایک اور چھوٹی سی مثال جس سے پڑھنے والوں کو ہمارے اسرائیلی مشن کی اہمیت کا اندازہ ہوگا۔ ١٩٥٦ء میں جب ہمارے مشن کے سربراہ چوہدری محمد شریف واپس آئے ......)

مرزا ناصر احمد: یہ سن کون سا ہے؟ جناب یحییٰ بختیار: یہ پبلی کیشن ہے ١٩٦٥ء کی۔

٢٦

صفحہ ١٠٦٥

LY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08 ild us a school at Kababeer a we have a strong and well unity of Palestinian Arabs. He come to see our Mission at Ka accompanied by our notables ceived by the members of the ts of our. Before his return, he Visitors' Book. nt, which would give readers Mission in Israel occupies, is onary, Chaudhry Mohammad ters ......

(جناب یحییٰ بختیار: یہ میں نہیں ک ہے ۔ جو کہ مونٹ کارمل حیفہ میں واقع ہے۔ وہاں کتب خانہ اور ایک سکول ہے۔ مشن ایک ماہنامہ میں تیرہ ممالک کو بھجوایا جاتا ہے۔ اسی مشن نے ا کئے ہیں۔ کچھ عرصہ ہوا ہمارے مشن کے سربراہ دوران میئر نے ہمارے لئے کبابیر میں ایک س عربوں پر مشتمل احمدیہ جماعت کی ایک مضبوط تھی میں ہمارا مشن دیکھنے آئے گا اور اس نے یہ وع معززین میئر کے ہمراہ تھے۔ احمدیہ جماعت کے میئر کے لئے ایک استقبالیہ دیا گیا۔ واپس جاتے کئے ایک اور چھوٹی سی مثال جس سے پڑھنے وا ہوگا۔ ١٩٥٦ء میں جب ہمارے مشن کے سربراہ مرزا ناصر احمد: یہ سن کون سا ہے؟ جناب یحییٰ بختیار: یہ پہلی کٹیشن ہے 1

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، نہیں۔ یہ آپ نے جو ابھی پڑھا۔ 1010 Mr. Yahya Bahhtiar: 1956. Mirza Nasir Ahmad: 1956. Mr. Yahya Bakhtiar: "That, in 1956 when our missionary, Chaudhry Mohammad Sharif returned to the Headquarters of the movement in Pakistan, the President of Israel sent word that he (our missionary) should see him before embarking on the journey back. Ch. Mohammad Sharif utilized the opportunity to present a copy of the German translation of Holy Quran to the President, which he gladly accepted. This interview and what transpired at it was widely reported in the Israel press and a brief account was also broadcast on the Radio".

ایک تو میں آپ سے simple سوال یہ پوچھتا ہوں کہ جب آپ کے مشنری وہاں جاتے ہیں اور وہاں سے پاکستان آتے ہیں تو کس پاسپورٹ پر جاتے ہیں؟ مرزا ناصر احمد: غیر ملکی۔ جناب یحییٰ بختیار: ہیں جی؟ مرزا ناصر احمد: غیر ملکی احمدی وہاں جاتے ہیں، پاکستان ......

Mr. Yahya Bakhtiar: No, Sir, I very carefully read it Chaudhry Mohammad Sharif is a Pakistani: "When he returned to the Headquarters of the Movement in Pakistan". Mirza Nasir Ahmad: He is not Pakistani. (مرزا ناصر احمد: وہ پاکستانی نہیں) Mr. Yahya Bakhtiar: He is not a Pakistani? (جناب یحییٰ بختیار: وہ پاکستانی نہیں ہے؟) ٢٧

صفحہ ١٠٦٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

مرزا ناصر احمد: ہاں ان کے پاس غیر ملکی نیشنلٹی ہے، وہ باہر رہتے ہیں، یہاں بھی آتے ہیں۔ 1011 جناب یحییٰ بختیار: پاکستانی نیشنلٹی بھی ہے؟ وہ بھی ہے یا پاکستان کی نہیں ہے ان کے پاس؟ مرزا ناصر احمد: یہ مجھے علم نہیں ہے۔ جناب یحییٰ بختیار: یہ آپ کے علم میں نہیں ہے۔ مرزا ناصر احمد: لیکن غیر ملکی نیشنلٹی ہے، ان کے پاس ہے۔ پاکستان کے معاہدے کے مطابق بعض ملکوں کے ساتھ...... Dual Nationality جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں تو...... مرزا ناصر احمد: نہیں، میں، آپ کو اصل....... Dual Natinality بعد میں...... نہیں آئی۔

I don't know about him. Mr. Yahya Bakhtiar: I just wanted to know, because when he returned, you know. (مرزا ناصر احمد: نہیں، وہ تو ہمارے پاس امریکن نیشنل آتے ہیں، سارے آتے ہیں) They come to the Headquarters. (وہ ہیڈ کوارٹر واپس آتے ہیں) Mr. Yahya Bakhtiar: I am a lawyer, I use every word in the legal sense. You return home. You did not say: "When he comes here" "home". He returned to Pakistan. I wanted to know......

١؎ میرا انصاف پسند قادیانیوں سے سوال ہے، کیا چوہدری شریف پاکستانی نیشنلٹی کے حامل نہیں؟ کیا مرزا ناصر احمد جھوٹ اور سفید جھوٹ کے مرتکب نہیں ہوئے؟ اب بھی مرزا ناصر احمد کے جھوٹ بولنے کا آپ اعتراف نہ کریں تو یہ اس بات کی دلیل ہو گئی کہ پوری قادیانی جماعت جھوٹ بولنے، جھوٹ پر بنیاد رکھنے، جھوٹ پر تعمیر کرنے، غرض جھوٹ ہی جھوٹ کا گھروندہ ہے۔

٢٨

صفحہ ١٠٦٧

1067 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

(جناب یحییٰ بختیار: میں ایک وکیل ہوں۔ میں نے ہر لفظ کو قانونی معنوں میں استعمال کیا ہے۔ آپ واپس گھر آئے، آپ نے یہ نہیں کہا۔ جب وہ یہاں واپس گھر آتا ہے وہ پاکستان واپس آیا)

Mirz Nasir Ahmad: One who writes articles or these reports ......

(مرزا ناصر احمد: یہ کوئی بھی مضمون یا رپورٹ لکھتا ہے......)

Mr. Yahya Bakhtiar: May be ......

Mirza Nasir Ahmad: ...... Doesn't use the English words in the legal terms.

(مرزا ناصر احمد: وہ انگریزی کے الفاظ قانونی اصطلاح میں استعمال نہیں کرتا)

Mr. Yahya Bakhtiar: Sir, either he could say that "he returned to the Headquarters", or he could have said that: "he came to the Headquarters". But he says: "When he returned". 1012 Chaudhry Mohammad Sharif is obviously a Pakistani person. He may have got a Nationality, as you say; that is possible.

(جناب یحییٰ بختیار: وہ یہ کہہ سکتا ہے کہ وہ ہیڈ کوارٹر واپس آیا یا ہیڈ کوارٹر واپس آئے، بلکہ وہ کہتا ہے کہ جب وہ واپس آیا۔ چوہدری محمد شریف ایک پاکستانی شخص ہے اس کے پاس کوئی اور شہریت بھی ہوگی، جیسا کہ آپ کہتے ہیں، یہ ممکن ہے)

مرزا ناصر احمد: ہمارے پاس جو اس علاقہ کے، ہندوستان کے رہنے والے، ہزاروں غیر ملکوں میں آباد ہیں......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی، وہ ہو سکتا ہے......

مرزا ناصر احمد: ......یہ غیر ملکی نیشنل کی حیثیت سے وہاں جاتے ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، تو ٹھیک ہے ان کی برٹش نیشنلٹی ہو سکتی ہے، کسی اور کی ہو سکتی ہے۔ یہ تو میں نہیں کہہ رہا مگر میں یہ پوچھتا ہوں کہ کس نیشنلٹی کے پاسپورٹ پر گئے ہیں یہ؟ آپ نے کہا کہ غیر ملکی ہے۔

٢٩

صفحہ ١٠٦٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

مرزا ناصر احمد : ہاں، ہاں، غیر ملکی۔ پاکستان کا تو وہ جا ہی نہیں سکتا کوئی۔ جناب یحییٰ بختیار : آپ کی تو نیشنیلٹی پاکستانی ہے ناں جی؟ مرزا ناصر احمد : الحمد للہ۔

(اس نے آپ کو رپورٹ کیا کہ اسرائیل کے پریذیڈنٹ نے یہ باتیں کیں)

جناب یحییٰ بختیار : تو جب اس نے آپ کو رپورٹ کیا کہ اسرائیل کے پریذیڈنٹ نے یہ یہ باتیں کیں، وہ آپ نے بھی...... مرزا ناصر احمد : نہیں، مجھے یہ رپورٹ نہیں کی۔ جناب یحییٰ بختیار : نہیں، آپ کی جماعت کے...... مرزا ناصر احمد : ہاں، یہاں جو دفتر ہے، اس میں آکر اس نے رپورٹ دی تھی......

(آپ نے گورنمنٹ کو بتلایا کہ اسرائیلی کیا سوچتے ہیں؟)

جناب یحییٰ بختیار : ......کہ یہ جو اسرائیل نے جو کچھ باتیں کی ہیں، جو وہاں ریڈیو پر بھی آیا اتنا زیادہ، اپنی گورنمنٹ کو بھی کچھ بتا دیجئے کہ اسرائیلی کیا سوچتے ہیں آپ نے کوئی انفارمیشن دی، یا ضروری نہیں سمجھا؟ 1013 مرزا ناصر احمد : نہیں میرے سامنے تو......ہاں، ہاں، میں بتا رہا ہوں۔ ویسے یہ ہے کہ جو چیزیں اس وقت آپ نے سامنے رکھی ہیں، وہ سارے، مختلف مسلمانوں کی تنظیموں کے ساتھ ان کی حکومت کا یہی سلوک ہے۔

جناب یحییٰ بختیار : مرزا صاحب! آپ یہ نہ سمجھیں کہ میں Insinuate کر رہا ہوں۔ اس سے لوگوں پر Impression پڑتا ہے کہ کتنا Strongly لوگ Feel کر رہے ہیں، اس لئے تو میں کہہ رہا ہوں۔ مرزا ناصر احمد : نہیں، وہ Impression دور کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ جناب یحییٰ بختیار : نہیں، اگر میں چلا جاؤں اسرائیل...... مرزا ناصر احمد : میں سمجھتا ہوں...... جناب یحییٰ بختیار : اگر میں چلا جاؤں کسی طرح اسرائیل ......صاف بات کرتا ہوں......دشمن کی حیثیت سے، دوست کی حیثیت سے، کسی حیثیت سے اور مجھے وہاں کا کوئی بڑا آدمی بلائے بات کرے، میں پہلا فرض سمجھوں گا کہ حکومت میں جو بھی مجھے بڑا افسر مل سکے اس کو

٣٠

صفحہ ١٠٦٩

L ASSEMBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، غیر ملکی۔ پاکستان کا

جناب یحییٰ بختیار: آپ کی تو نیشنیلٹی پاکستانی

مرزا ناصر احمد: الحمد للہ۔

(اس نے آپ کو رپورٹ کیا کہ اسرائیل کے پر

جناب یحییٰ بختیار: تو جب اس نے آپ کو رپ نے یہ یہ باتیں کیں، وہ آپ نے بھی......

مرزا ناصر احمد: نہیں، مجھے یہ رپورٹ نہیں کی۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، آپ کی جماعت کے

مرزا ناصر احمد: ہاں، یہاں جو دفتر ہے، اس میں

(آپ نے گورنمنٹ کو بتلایا کہ اسرائیلی

جناب یحییٰ بختیار: ...... کہ یہ جو اسرائیل نے ہ بھی آیا اتنا زیادہ، اپنی گورنمنٹ کو بھی کچھ بتا دیجئے کہ اس انفارمیشن دی، یا ضروری نہیں سمجھا؟

1013 مرزا ناصر احمد: نہیں میرے سامنے تو..... یہ ہے کہ جو چیزیں اس وقت آپ نے سامنے رکھی ہیں، وہ سا ساتھ ان کی حکومت کا یہی سلوک ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! آپ یہ نہ ک ہوں۔ اس سے لوگوں پر Impression پڑتا ہے ک کر رہے ہیں، اس لئے تو میں کہہ رہا ہوں۔

مرزا ناصر احمد: نہیں، وہ Impression

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، اگر میں چلا جاؤں ا

مرزا ناصر احمد: میں سمجھتا ہوں......

جناب یحییٰ بختیار: اگر میں چلا جاؤں کسی د ہوں...... دشمن کی حیثیت سے، دوست کی حیثیت سے، کسی آدمی بلائے بات کرے، میں پہلا فرض سمجھوں گا کہ حکومت

٣٠

1069 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

بتاؤں ”بھئی! وہ ہمارے دشمن ہیں، وہ اس لائن پر سوچ رہے ہیں، ان سے یہ یہ باتیں ہوئیں۔“ میں سمجھتا ہوں کہ یہ ضروری نہیں ہے Obligation نہیں ہے، لاء نہیں ہے یہ......

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، میں بتاؤں آپ کو، ذرا آگے ذرا تھوڑا سا Digression میں ١٩٧٠ء میں ویسٹ افریقہ کے دورے پر گیا، خود اور دو ملکوں میں مجھے پیغام ملا، اسرائیلی سفیر کا، کہ ”میں ملنا چاہتا ہوں۔“ میں نے کہا کہ ”میں نہیں ملنا چاہتا تم سے۔“

1014 جناب یحییٰ بختیار: نہیں، وہ تو آپ نے سمجھ لی بات کی ہاں جی، اپنی اس کے مطابق۔ نہیں، مگر فرض کریں، آپ کو اسرائیل والے مل جاتے......

مرزا ناصر احمد: بالکل میں ملنے کے لئے تیار ہی نہ تھا۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، اگر کسی جگہ Reception تھا آپ کی آڑ میں اور اس ذیل کا کوئی سفیر بیٹھ جاتا وہاں، آپ سے باتیں کرتا تو آپ سمجھ لیتے کہ یہ سیاسی لوگ ہیں، تو آپ ضرور مجھے یقین ہے بتا دیتے گورنمنٹ کو کہ ”بھئی! یہ ایسی بات اس نے مجھ سے کی ہے“۔

مرزا ناصر احمد: Reception وہ جہاں ہوتی تھی تو ہمارے سفیر صاحب موجود ہوتے تھے۔

جناب یحییٰ بختیار: کیوں نہ ہو؟

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، وہ تو تھا، یعنی وہ تو کوئی ایسی بات نہیں تھی۔

جناب یحییٰ بختیار: بس یہ صرف میں نے اس لئے آپ سے پوچھنا تھا۔

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں۔ بس ایک یہ سوال؟

جناب یحییٰ بختیار: یہ ایک اس کا...... اس پر......

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، اس بات پر؟

جناب یحییٰ بختیار: کیسے چھوٹے چھوٹے سوال آ جاتے ہیں!

مرزا ناصر احمد: ہاں، ٹھیک ہے۔

(اکھنڈ بھارت؟)

جناب یحییٰ بختیار: ”تو اکھنڈ بھارت“......

1015 مرزا ناصر احمد: یہ ایک وضاحت اور ہے۔ یہ ہمارا وہاں ...... ہماری جماعت، اس علاقہ میں، جواب اسرائیل کہلاتا ہے، اسرائیل کے وجود میں آنے سے کہیں پہلے کی بنی ہوئی ہے......

٣١

صفحہ ١٠٧٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

جناب یحییٰ بختیار: وہ تو ٹھیک ہے، وہ میں نہیں کہہ رہا۔

مرزا ناصر احمد: اور ١٩٢٣ء، ١٩٢٨ء میں جماعت وہاں بنی۔ ١٩٢٨ء میں...... کہا پیر...... جو ہے جس کا نام یہاں آیا ہے۔ وہاں ایک سینٹر بنا جماعت کا۔ ١٩٢٨ء سے وہاں کے تمام دوسرے فرقوں سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کے ساتھ نہایت برادرانہ تعلقات ہیں، اب بھی برادرانہ تعلقات ہیں۔ پوچھنا تو یہ چاہئے کہ جو وہاں دوسرے مسلمان ہیں، ٩٥ فیصد، ان کے حقوق کے لئے اگر کچھ کیا جاسکے، کسی باعث بھی ہمارے تو ان کے ساتھ تعلقات نہیں ہیں ڈپلومیٹک۔ ان کی خبر گیری کرنی چاہئے۔ تو اس طرف ہم توجہ نہ دیں اور وہ جو پیار کے آپس میں تعلقات ہیں، ان کو جائے اعتراض بنالیں تو وہ کچھ اچھا نہیں لگتا اگر ان کو پتہ لگے، جو ہمارے احمدی نہیں، ٩٥ فیصد، وہ بھی اس کو پسند نہیں کریں گے، یہ میں آپ کو بتا دیتا ہوں، کیونکہ بہت اچھے تعلقات ہیں ان لوگوں کے ساتھ۔

جناب یحییٰ بختیار: اچھے تعلقات تو ہیں جی، مگر میں تو کہتا ہوں اگر Clarification ہو جائے تو ٹھیک ہے ناں جی، وہ......

مرزا ناصر احمد: نہیں جی، میں تو بڑا ممنون ہوں آپ کا، خواہ کوئی غلط سمجھے۔

جناب یحییٰ بختیار: ......شک رہتا ہے۔ میں تو اس واسطے پوچھتا ہوں

مرزا ناصر احمد: ہاں، میں ممنون ہوں آپ کا۔ ہر چیز جو ہے وہ سامنے آجانی چاہئے۔

(دیکھ لیجئے کہ آپ کی پبلیکیشن ہے؟)

1016 جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! وہ جو کتاب تھی آپ کی، کل جو آپ پڑھ رہے تھے، وہ کاپی میرے پاس بھی ہے۔ یہ دیکھ لیجئے کہ آپ کی یہ پبلیکیشن ہے؟ کیونکہ مجھے غلط نہ مل گئی ہو۔ مرزا صاحب! یہ وہی ہے۔ "Outside, Outside Musalmans" "Musalmans والی جو ہے ناں......

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، دکھا دیجئے۔

جناب یحییٰ بختیار: یہ دیکھ لیجئے ذرا آپ اس سے وہ فوٹوسٹیٹ آیا تھا۔ یہ ہے وہ۔ آپ کا جو ہے ناں، ١٩١٦ء کا ایڈیشن ہے، یہ ١٩٢٤ء کا یا ١٩٢١ء کا ہے، ویسے یہ بھی قادیان سے پبلش ہوا ہے۔

مرزا ناصر احمد: ہاں، یہ ١٩٢٣ء کا ہے۔

٣٢

صفحہ ١٠٧١

MBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

جناب یحییٰ بختیار: وہ تو ٹھیک ہے، وہ

مرزا ناصر احمد: اور ١٩٢٤ء، ١٩٢٨ء کباہیر...... جو ہے جس کا نام یہاں آیا ہے۔ وہاں آ تمام دوسرے فرقوں سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں بھی برادرانہ تعلقات ہیں۔ پوچھنا تو یہ چاہئے کہ جو حقوق کے لئے اگر کچھ کیا جاسکے، کسی باعث بھی ڈپلومیٹک۔ ان کی خبر گیری کرنی چاہئے۔ تو اس طرف تعلقات ہیں، ان کو جائے اعتراض بنالیں تو وہ کچھ احمدی نہیں، ٩٥ فیصد، وہ بھی اس کو پسند نہیں کریں گے تعلقات ہیں ان لوگوں کے ساتھ۔

جناب یحییٰ بختیار: اچھے تعلقات Clarification ہو جائے تو ٹھیک ہے ناں جی، وہ

مرزا ناصر احمد: نہیں جی، میں تو برا نما

جناب یحییٰ بختیار: ......شک رہتا ہے

مرزا ناصر احمد: ہاں، میں ممنون ہوں آپ

(دیکھ لیجئے کہ آپ کی

1016 جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب رہے تھے، وہ کاپی میرے پاس بھی ہے۔ یہ دیکھ لیجئے مل گئی ہو۔ مرزا صاحب ! یہ وہی ہے۔ ”اس "Musalmans والی جو ہے ناں

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، دکھا دیجئے۔

جناب یحییٰ بختیار: یہ دیکھ لیجئے ذرا آ آپ کا جو ہے ناں، ١٩١٦ء کا ایڈیشن ہے، یہ ١٩٢٣ء پبلش ہوا ہے۔

مرزا ناصر احمد: ہاں، یہ ١٩٢٣ء کا ہے۔

٣٢

1071 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

جناب یحییٰ بختیار: ہاں۔

مرزا ناصر احمد: اور یہ بھی دوسرا ایڈیشن ہے اردو کا، ”سیرت مسیح موعود“ جس میں: ”......احمدی اپنے آپ کو مسلمان لکھوائیں ۔ گویا اس سال آپ نے اپنی جماعت کو احمدی، کے نام سے مخصوص کر کے دوسرے مسلمانوں سے ممتاز کر دیا۔“ ایک ممتاز فرقہ ، اسلام کے اندر۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، اس سے میں نے ایک دو سوال پوچھنے تھے، اس لئے میں نے کہا کہ آپ......

مرزا ناصر احمد: ہاں جی۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی، یہ وہی ہے۔

مرزا ناصر احمد: اس میں میں نے صرف یہ عرض کی تھی کہ انہوں نے جو عنوان باندھ دیئے ہیں، وہ اصل کتاب کے نہیں ہیں۔

1017 جناب یحییٰ بختیار: نہیں وہ میں سمجھ گیا، ٹھیک ہے جب آپ اور پینل سے دیکھیں گے، اردو میں......

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں (اپنے وفد کے ایک رکن سے ) رکھو سامنے۔

جناب یحییٰ بختیار: پیشتر اس کے کہ مرزا صاحب ! میں پھر بات بھول جاتا ہوں۔ یہاں ایک اور چیز بھی میری نظر میں تھی کہ میں نے کہا کہ وہ عام طور پر لکھ دیتے ہیں کہ ”ہمارا آفیشل آرگن ہے“ یہ یہاں ایک ہے: ”خاکسار منیجر ”الفضل“ قادیان، ضلع گورداسپور، سلسلہ عالیہ احمدیہ کا آرگن“

”اخبار الفضل ہی ، بفضل خدا ایک ایسا پرچہ ہے جس کو جماعت احمدیہ کا مسلمہ آرگن کہا جاسکتا ہے۔“ یہ بھی آپ دیکھ لیجئے۔

مرزا ناصر احمد: ”کہا جاسکتا ہے۔“ ”کہا جاتا ہے“ نہیں۔

Mr. Yahya Bakhtiar: Whatever it means, that the committee will judge.

(جناب یحییٰ بختیار: نہیں، اس کا جو بھی مطلب ہے، وہ کمیٹی دیکھ لے گی )

مرزا ناصر احمد: اگر یہ ہوتا ناں کہ ”کہا جاتا ہے“ بڑا وزن ہو جاتا آپ کی بات میں۔ لیکن یہاں ”کہا جاسکتا ہے۔“

٣٣

صفحہ ١٠٧٢

WELCOME

Shopping

es For

Visit

شركة الخيام الماسية للتجارة خيم اوروبية ومحلية تفصيل وتأجير

1072 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

جناب یحییٰ بختیار: وہ میں تو توجہ دلا رہا ہوں، باقی وہ تو کمیٹی دیکھے گی کہ کیا مطلب ہے اس کا؟

مرزا ناصر احمد: نہیں، ٹھیک ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: 58 Page، جو میرا پرچہ ہے۔ آپ کا کچھ اور ہو۔

مرزا ناصر احمد: ہاں جی، دیکھ لیتے ہیں۔ ہاں۔

1018 جناب یحییٰ بختیار: اس میں تو میں نے آپ کو ایک "Separatist tendency" کی طرف توجہ دلائی تھی کہ:

"Ahmadis form a separate community from the outside Musalamans".

آپ نے کہا ہے Heading ٹھیک نہیں ہے، اوریجنل میں نہیں ہے۔

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہے ہی نہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: اس کے بعد یہ تھا کہ:

"The year 1901 was the year of census. The Promised Messiah issued a notice to his followers asking them to get themselves recorded in the census pages, under the name of "Ahmadia Musalman". This was, therefore, the year when, for the first time, he differentiated his followers from the other Muslims by the name of Ahmadiya".

(”سیرت مسیح موعود ص ٥٣، طباعت دسمبر ١٩٢٦ء) کی عبارت یہ ہے: ١٩٠١ء میں مردم شماری ہونے والی تھی، اس لئے ١٩٠١ء کے اواخر میں آپ نے اپنی جماعت کے نام ایک اعلان شائع کیا کہ ہماری جماعت کے لوگ کاغذات میں اپنے آپ کو احمدی مسلمان لکھوائیں۔ گویا اس سال آپ نے اپنی جماعت کو احمدی کے نام سے مخصوص کر کے دوسرے مسلمانوں سے ممتاز کر دیا۔“)

مرزا ناصر احمد: یہ تو وہی ہے جس کی کل بات......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، آپ اس سے دو Pages پہلے آپ......

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، اس سے دو Pages پہلے۔

٣٤

1073 NATIONAL ASSE

58 اس میں ہے جی۔ چونکہ Heading

"Injunctions to Ahm

شاید ہیڈنگ نہ ہو اس کا۔

کوئی نہیں۔ لیکن نکال لیتے ہیں۔

آپ دیکھ لیں گے تو آپ کو پتہ چل جائے

اس سال آپ نے اپنی جماعت کے شیرازہ کو

رہا ہوں، آپ دیکھیں پھر ٹرانسلیشن اس کا۔

"The same year ......"

جو مضمون چل رہا ہے......

Mr. Yahya Bakht to strengthen the bonds of t distinctive features, he marriage and social relatio give their duaghters in marr

جی یہ کوئی خوش، ناخوش کی بات نہیں تھی کہ وہ

کوئی نہیں۔

Mr. Yayaa Bakhti

Mirza Nasir Ahm

احمدیوں کو نہ دیں)

میں پڑھیں وہ سنا دیجئے۔

آپ نے اپنی جماعت کے شیرازہ کو مضبوط

صفحہ ١٠٧٣

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

جناب یحییٰ بختیار: یہ وہ ہے، 54 ، 58 اس میں ہے جی۔ چونکہ Heading یہاں ہے: "Injunctions to Ahmadis regarding Marriage". تو یہ ہیڈنگ انگلش میں ہوگا، اردو میں تو شاید ہیڈنگ نہ ہو اس کا۔ مرزا ناصر احمد : نہیں، ہیڈنگ ہے یہ کوئی نہیں۔ لیکن نکال لیتے ہیں۔ جناب یحییٰ بختیار : ہاں، انگلش میں آپ دیکھ لیں گے تو آپ کو پتہ چل جائے گا۔ پہلے ....... 1019 مرزا ناصر احمد : ہاں، یہ ہے: ”اس سال آپ نے اپنی جماعت کے شیرازہ کو مضبوط کرنے.......“ جناب یحییٰ بختیار: ہاں یہ میں پڑھ دیتا ہوں، آپ دیکھیں پھر ٹرانسلیشن اس کا۔ "The same year ......" کیونکہ اس سے پہلے جو مضمون چل رہا ہے....... That is, 1898 مرزا ناصر احمد : ہاں جی۔ Mr. Yahya Bakhtiar: "The same year, with a view to strengthen the bonds of the community and to preserve its distinctive features, he promulgated rules regarding marriage and social relations and forbade the Ahmadis to give their duaghters in marriage to Non-Ahmadis". ابھی اردو ترجمہ کیا ہے، وہ آپ دیکھ لیں جی یہ کوئی خوش، ناخوش کی بات نہیں تھی کہ وہ تجربے کی بات ہو۔ وہ آرڈر۔ مرزا ناصر احمد : ہاں، ناں رول ہے ہی کوئی نہیں۔ Mr. Yayaa Bakhtiar: Injunctions. Mirza Nasir Ahmad: No, no. ”تحریک کی“ (احمدی اپنی لڑکیاں غیر احمدیوں کو نہ دیں) جناب یحییٰ بختیار: وہ بھی جو آپ اردو میں پڑھیں وہ سنا دیجئے۔ مرزا ناصر احمد : ہاں۔ ”اس سال آپ نے اپنی جماعت کے شیرازہ کو مضبوط

٣٥

Y OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

جناب یحییٰ بختیار: وہ میں تو توجہ ہے اس کا؟ مرزا ناصر احمد : نہیں، ٹھیک ہے جناب یحییٰ بختیار: Page 58 مرزا ناصر احمد : ہاں جی، دیکھ لیتے 1018 جناب یحییٰ بختیار: اس tendency" کی طرف توجہ دلائی تھی کہ: arate community from the

آپ نے کہا ہے Heading مرزا ناصر احمد : ہاں، ہے ہی نہیں جناب یحییٰ بختیار: اس کے بعد the year of census. The otice to his followers asking d in the census pages, under man". This was, therefore, the e differentiated his followers name of Ahmadiya". (”سیرت مسیح موعود ص ٥٣، طباعت شماری ہونے والی تھی، اس لئے ١٩٠١ء کے اوا شائع کیا کہ ہماری جماعت کے لوگ کاغذات سال آپ نے اپنی جماعت کو احمدی کے نام کردیا۔“) مرزا ناصر احمد : یہ تو وہی ہے جس جناب یحییٰ بختیار: نہیں، آپ ا مرزا ناصر احمد : ہاں، ہاں، اس ۔

WELCOME shopping es For Visit شہر میں جدید ترین بوتیک

صفحہ ١٠٧٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

کرنے اور خصوصیات کو قائم رکھنے کے لئے جماعت کے تعلقات ازدواج اور نظام معاشرت کی تحریک کی اور جماعت کو ہدایت فرمائی کہ احمدی اپنی لڑکیاں غیر احمدی لوگوں کو نہ دیا کریں۔“

(سیرۃ مسیح موعود ص ٥٢)

1020 ”اپنی جماعت کے شیرازہ کو مضبوط کرنے“ کا فقرہ یہ بتاتا ہے کہ یہ شرعی حکم نہیں ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں یہ نہیں کہہ رہا ہوں کہ ”انہوں نے ہدایت کی“ ڈائریکشن بھیجی۔

مرزا ناصر احمد: ڈائریکشن دی؟ لیکن آپ ذرا..... نہیں، میں وضاحت کردوں۔ دوسرے فرقوں نے بھی اس قسم کی بات کی لیکن ایک فرق کے ساتھ انہوں نے کہا: ”محروم الارث“ یعنی جو بچے ہیں وہ وارث نہیں ہوں گے اور جماعت احمدیہ کی کوئی ہدایت ایسی نہیں ہے، بلکہ جو بچی باہر بیاہی جاتی ہے کسی جگہ بھی اور ان کی اولاد جو ہوتی ہے وہ اپنے احمدی بزرگوں کی وارث ہوتی ہے۔ تو یہ شرعی حکم نہیں ہے۔ یعنی ورثہ اس طرح..... یعنی ورثہ..... حقوق ورثہ قائم رہنا یہ بتاتا ہے کہ یہ حکم شرعی نہیں ہے......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں مرزا صاحب! یہ بتانا چاہتا تھا......

مرزا ناصر احمد: ......جیسا کہ دوسرے فرقوں کا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، مرزا صاحب! میں جو عرض کرنا چاہتا تھا وہ یہ ہے کہ ایک ہدایت آئی، مرزا صاحب کی طرف سے، ڈائریکشن آئی، اس کی وجہ سے یہ ہوا۔ یہ نہیں کہ آپ کا تجربہ تھا کہ مسلمان جو ہیں وہ لڑکیوں سے اچھا سلوک نہیں کرتے، ناخوش رکھتے ہیں...... وہ میں Distinction لانا چاہتا تھا۔

مرزا ناصر احمد: نہیں، وہ تو ہے اس میں، جو میں نے بات کی تھی وہ...... ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: یہ کہتے ہیں کہ ”اپنی Distinction رکھنے کے لئے، اپنی کمیونٹی کو مضبوط کرنے کے لئے۔“

مرزا ناصر احمد: نہ، نہ جماعت کے شیرازہ کو مضبوط کرنے......

جناب یحییٰ بختیار: ہاں۔ اس لئے نہیں کہ وہ وہاں خوش نہیں رہتیں۔

1021 مرزا ناصر احمد: نہیں، جماعت کے شیرازہ کو مضبوط کرنے...... شیرازہ تبھی مضبوط ہوتا ہے جب خوش رہے جہاں...... فساد ہوگا گھر میں شیرازہ کیسے مضبوط رہے گا؟

جناب یحییٰ بختیار: ٹھیک ہے جی، وہ پھر آپ کی Interpretation ہے۔

٣٦

صفحہ ١٠٧٥

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

"ملائکۃ اللہ" میں بھی یہ آ جاتا ہے جی ، Page46 پر......

مرزا ناصر احمد: یہ تو "ملائکۃ اللہ" کا جواب دیا جا چکا ہے پہلے۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، اس کا نہیں دیا۔

مرزا ناصر احمد: اچھا؟ وہ، شاید پھر وہ کوئی اور حوالہ ہوگا۔

جناب یحییٰ بختیار: میں پھر پڑھ دیتا ہوں۔ مجھے یاد نہیں شاید دے دیا ہو۔

مرزا ناصر احمد: ہم نے جو نوٹ کئے تھے ناں، اس میں "ملائکۃ اللہ" کے ایک سوال کے متعلق نوٹ دیا ہوا ہے کہ اس کا جواب دے دیا گیا ہے۔ تو اگر نہیں، یہ کوئی دوسرا سوال ہے، تو پھر بتا دیں۔

جناب یحییٰ بختیار: میں پڑھ دیتا ہوں۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ دے چکے ہیں تو پھر ضرورت نہیں ہے، میرے خیال میں: ”پانچویں بات جو اس زمانے میں ہماری جماعت کے لئے نہایت ضروری ہے وہ غیر احمدی کو رشتہ نہ دینا ہے۔ جو شخص غیر احمدی کو رشتہ دیتا ہے، وہ یقیناً مسیح موعود کو نہیں سمجھتا اور نہ یہ جانتا ہے کہ احمدیت کیا چیز ہے؟ کیا ہے کوئی غیر احمدیوں میں ایسا بے دین جو ہندو یا کسی عیسائی کو اپنی لڑکی دے دے؟ ان لوگوں کو تم کافر کہتے ہو۔ مگر اس معاملے میں وہ تم سے اچھے رہے کہ کافر ہو کر بھی کسی کافر کو لڑکی نہیں دیتے۔ مگر تم احمدی کہلا کر کافر کو لڑکی دیتے ہو۔ کیا اس لئے دیتے ہو کہ تمہاری قوم کا ہوتا ہے؟ مگر جس دن سے کہ تم احمدی ہوئے تمہاری قوم احمدیت ہو گئی......“

مرزا ناصر احمد: اس کا تو جواب دے چکے ہم۔

جناب یحییٰ بختیار: بس ٹھیک ہے جی۔

مرزا صاحب! بعض دفعہ...... آج میں کچھ...... پہلے Main subject پر نہیں آ رہا، جو چھوٹی چھوٹی چیزیں رہ گئی ہیں...... آپ فرماتے ہیں کہ...... میں نے کئی حوالے پڑھے کہ ”دشمن یہ کہتا ہے“، ”مخالف یہ کہتا ہے“۔ تو پوزیشن Clear نہیں ہوتی۔ Impression یہ ہوتا ہے کہ ”دشمن“ سے نہ صرف عیسائی کی طرف اشارہ ہے، بلکہ ان مسلمانوں کی طرف بھی اشارہ ہے کہ جو مرزا صاحب کے خلاف تھے یا جو ان کو نبی نہیں مانتے۔ آپ نے کہا کہ ”نہیں، یہاں جو ہے عیسائیوں کی طرف ہے“ یہاں جو بھی حوالے میں نے پڑھے آپ نے یہی کہا۔ تو میں صرف یہ کچھ آپ کی توجہ اس کتاب کی طرف دلانا چاہتا ہوں۔ اس کی کچھ Clarification آپ کی طرف سے ہو جائے کہ آپ نے جتنے حوالے پڑھے، ان کے مخاطب غیر مسلم عیسائی وغیرہ تھے۔ میں نے

٣٧

Y OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

کرنے اور خصوصیات کو قائم رکھنے کے لئے جو تحریک کی اور جماعت کو ہدایت فرمائی کہ احمدی ا

1020 ”اپنی جماعت کے شیرازہ کو مضبوط

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں ڈائریکشن بھیجی۔

مرزا ناصر احمد: ڈائریکشن دی؟

دوسرے فرقوں نے بھی اس قسم کی بات کی لیکن اہ یعنی جو بچے ہیں وہ وارث نہیں ہوں گے اور جماع باہر بیاہی جاتی ہے کسی جگہ بھی اور ان کی اولاد جو ہے۔ تو یہ شرعی حکم نہیں ہے۔ یعنی ورثہ اس طرح کہ یہ حکم شرعی نہیں ہے......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں مرز

مرزا ناصر احمد: ......جیسا کہ دوسر

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، مرزا صا ہدایت آئی، مرزا صاحب کی طرف سے، ڈائریکٹ تجربہ تھا کہ مسلمان جو ہیں وہ لڑکیوں سے اچھا س Distinction لانا چاہتا تھا۔

مرزا ناصر احمد: نہیں، وہ تو ہے اس

جناب یحییٰ بختیار: یہ کہتے ہیں کہ کمیونٹی کو مضبوط کرنے کے لئے۔“

مرزا ناصر احمد: نہ نہ، جماعت کے ش

جناب یحییٰ بختیار: ہاں۔ اس لئے

1021 ”مرزا ناصر احمد: نہیں، جماع مضبوط ہوتا ہے جب خوش رہے جہاں...... فساد ہو

جناب یحییٰ بختیار: ٹھیک ہے ج

٤٦

صفحہ ١٠٧٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

یہی کہنا تھا لیکن یہ جو ہے ناں ”دشمن“ یا ”مخالف“ یہ دونوں کو مخاطب کر کے کہا جا سکتا ہے۔

مرزا ناصر احمد: ہاں، غیر مسلم جو ہیں، ان کی دشمنی جہاں ہوگی، وہ مخاطب ہوں گے۔ ساری دنیا کے عیسائی جو ہیں، وہ مسلم نہیں، لیکن اسلام کے اوپر حملہ آور بھی نہیں۔ تو جب عیسائیوں کے متعلق کہا جائے گا کہ ”دشمن“ تو عیسائی مذہب کے صرف وہ افراد مراد ہوں گے جو اسلام پر حملہ آور ہوئے اور جب مسلمانوں کے متعلق کہا جائے گا 1023 ”مخالف“ تو ہر مسلمان جو ہے، جو احمدی نہیں، وہ مخالف نہیں ہوگا، بلکہ صرف وہ چند ہوں گے شاید ایک فیصد بھی نہ ہوں، جو احمدیوں سے برسر پیکار ہیں ......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، وہ تو درست ہے، میں یہ کہتا ہوں ......

مرزا ناصر احمد: اور یہ حوالہ بتائے گا کہ مخالف کون ہے؟

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، وہ دیکھئے ناں، بعض حوالے میں نے آپ کو سنائے۔ ایک تھا جو ”انجام آتھم“ کا تھا۔ اس میں آپ نے Clearly بتا دیا کہ یہ خاص وہ آتھم یا آثم، جو بھی اس کا نام تھا ......

مرزا ناصر احمد: ہاں، عبداللہ آتھم۔

(جو میرا مخالف ہوگا وہ یہودی، مشرک، جہنمی ہے)

جناب یحییٰ بختیار: عبداللہ آتھم۔ اس کی طرف اشارہ ہے کیونکہ مضمون سے ظاہر تھا۔ بعض میں کوئی اس چیز کا ذکر نہیں تھا کہ کسی خاص عیسائی کا ذکر ہو رہا ہے۔ میں آپ کو عرض کر رہا ہوں: ”جو میرا مخالف ہوگا وہ یہودی مشرک جہنمی ہے۔“ ایسی چیز آ گئی تو اس پر......

مرزا ناصر احمد: وہ جو مجھے یاد ہے، وہ یہ تھا، وہ کل میں نے بتایا تھا کہ یہ عربی کی عبارت مستقبل کے متعلق ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، یعنی میں ایسے کہہ رہا ہوں۔

مرزا ناصر احمد: ہاں۔

(آپ کے مخالفین میں مسلمان بھی تھے؟)

جناب یحییٰ بختیار: آپ کے مخالفوں میں مسلمان بھی تو شامل تھے۔ مسلمان علماء، مولوی تھے یا نہیں تھے؟

مرزا ناصر احمد: ہمارے مخالفوں میں مسلمانوں کے علما کا ایک حصہ تھا۔

٣٨

صفحہ ١٠٧٧

1077 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

1024 جناب یحییٰ بختیار: ہاں بعض علماء، میں یہ کہہ رہا ہوں۔

مرزا ناصر احمد: ہاں، بعض علماء تھے۔

جناب یحییٰ بختیار: بعض علماء۔ بعض علماء......

مرزا ناصر احمد: اور اس طرح جو دوسرے مذاہب ہیں، ان میں سے بھی شاید ان کا دو فیصد تین فیصد حملہ آور ہو اسلام کے اوپر لیکن جو اصل حوالہ ہے، جو مضمون ہے کسی کتاب میں آیا، وہ خود بتاتا ہے کہ ”مخالف“ جو کہا جاتا ہے، وہ کس کو کہا جاتا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، بعض دفعہ بعض دفعہ تو Clear ہوتا ہے، مرزا صاحب! اور بعض دفعہ نہیں ہوتا۔ جیسے کل آپ نے......

مرزا ناصر احمد: جو Clear نہ ہو، وہ مجھ سے پوچھ لیں۔

(دشمن یہ سمجھتا ہے کہ ہم اس کے مذہب کو کھا جائیں گے)

جناب یحییٰ بختیار: اس واسطے کل میں نے آپ سے عرض کیا کہ: ”دشمن یہ سمجھتا ہے۔ دشمن یہ سمجھتا ہے۔ کہ ہم اس کے مذہب کو کھا جائیں گے۔“

مرزا ناصر احمد: وہ میں نے بڑا کھول کے بتایا۔

جناب یحییٰ بختیار: آپ نے بتا دیا، میری تسلی نہیں ہوئی، اس واسطے کمیٹی کے ممبروں کی اللہ جانے تسلی ہوئی یا نہیں۔ مگر میری ڈیوٹی تھی کہ میں آپ کو ان کی...... جو ”دشمن“ ”مخالف“ کہتے ہیں، اس کا ضروری مطلب نہیں کہ عیسائی ہو۔ مسلمان بھی ہو سکتا ہے۔

مرزا ناصر احمد: وہاں تو بڑا واضح تھا۔

جناب یحییٰ بختیار: وہاں نہ سہی، مرزا صاحب! میں Generally (عمومی طور پر) کہہ رہا ہوں کہ آپ کی مخالفت کی انہوں نے، کرتے رہے ہیں۔ اس لئے ”مخالف“ سے مطلب صرف عیسائی نہیں ہوتا۔

1025 مرزا ناصر احمد: میں نے خود کہا......

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، تو یہ کہ جب وہ......

مرزا ناصر احمد: کہ ہر فرقہ...... مسلمانوں میں سے ہر فرقے کے ایک دو فیصد ایسے ہیں کہ جو بڑی سخت معاندانہ مخالفت کرتے ہیں۔ تو باقی اس کے مخاطب نہیں ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: ابھی دیکھیں ناں جی، اس کتاب میں میں نے سرسری نظر ڈالی اس پر، اور میں آپ کی توجہ دلاتا ہوں کہ جب وہ مخالفوں کا ذکر کرتے ہیں کہ کون ان کی مخالفت

٣٩

صفحہ ١٠٧٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

کر رہا ہے۔ اب یہ مرزا صاحب گئے ہیں جی بعض جگہ لیکچر دینے، یا کسی جگہ جاتے ہیں تو وہاں لوگ آجاتے تھے:

"People advised the Promised Messiah not to go to the mosque as there was a likelihood of serious riots".

(”حضرت مسیح موعود کو لوگوں نے بہت روکا کہ آپ نہ جائیں مسجد میں سخت بلوہ

(سیرۃ مسیح موعود ص ٣٢)

ہو جائے گا“)

یہ دہلی کا ذکر ہے، میرے خیال میں ......

مرزا ناصر احمد: اور کس سن کا؟

جناب یحییٰ بختیار: یہ اس کتاب کا ص٣٤، دہلی میں جب پہلی دفعہ وہ گئے تھے۔ دہلی میں دو دفعہ گئے، مگر پہلی دفعہ جو گئے ......

مرزا ناصر احمد: ہاں، پہلی دفعہ وہ گئے اور آپ کے ساتھ صرف بارہ تھے احمدی۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی، وہ میں نہیں کہہ رہا، کہ انہوں نے پولیس کی کیوں Protection مانگی۔ Every body has a right (وہ تو ہر ایک کا حق ہے) وہ میں نہیں کہہ رہا۔

مرزا ناصر احمد: اور ہماری کتابوں میں ہے کہ پولیس سے Protection نہیں مانگی، آپ ہی انہوں نے انتظام کیا تھا۔

جناب یحییٰ بختیار: پولیس نے خود ہی کیا تھا، Police protection میں تقریر کرتے تھے وہ:

1026"The special edifice of Jamia mosque was full of men both inside and outside and even stairs were crowded with the sea of men who were mad with rage and looked at him with bloody eyes. The promised Mess iah and his little band made their way to the mehrab......"

(”جامع مسجد دہلی کی وسیع عمارت اندر اور باہر آدمیوں سے پر تھی۔ بلکہ سیڑھیوں پر بھی لوگ کھڑے تھے، ہزاروں آدمیوں کے مجمع میں سے گزر کر جبکہ سب لوگ دیوانہ وار خون آلود

٤٠

صفحہ ١٠٧٩

MBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

کر رہا ہے۔ اب یہ مرزا صاحب گئے ہیں جی بعض لوگ آ جاتے تھے:

e Promised Messiah not to go to likelihood of serious riots".

("حضرت مسیح موعود کو لوگوں نے بہت ہو جائے گا")

یہ دہلی کا ذکر ہے، میرے خیال میں...... مرزا ناصر احمد: اور کس سن کا؟ جناب یحییٰ بختیار: یہ اس کتاب کا ص دہلی میں دو دفعہ گئے، مگر پہلی دفعہ جو گئے....... مرزا ناصر احمد: ہاں، پہلی دفعہ وہ گئے او جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی، وہ میں ry body has a right-Protection مانگی۔ کہہ رہا۔

مرزا ناصر احمد: اور ہماری کتابوں میں مانگی، آپ ہی انہوں نے انتظام کیا تھا۔ جناب یحییٰ بختیار: پولیس نے خود ہی کرتے تھے وہ:

fice of Jamia mosque was full of de and even stairs were crowded ere mad with rage and looked at promised Mess iah and his little mehrab......"

("جامع مسجد دہلی کی وسیع عمارت اندر او لوگ کھڑے تھے، ہزاروں آدمیوں کے مجمع میں سے

٤٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

نگاہوں سے آپ کی طرف دیکھ رہے تھے آپ اس مختصر جماعت کے ساتھ محراب میں جاکر بیٹھ گئے")

(سیرۃ مسیح موعود، اردو ایڈیشن ص ٣٢، ٣٣)

مرزا ناصر احمد: یہ کون سا صفحہ ہے؟ جناب یحییٰ بختیار: ص ٣٤:

...... There was a sea of men or Musalmans in the Mosque.

یہ کن کو "Bloody eyes" کا کہہ رہے ہیں وہ؟ پھر میں آپ....... مرزا ناصر احمد: "Bloody" گالی کے معنی ہیں...... جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں، "bloody" I know غصے میں، In rage مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں۔ جناب یحییٰ بختیار: غصے میں تھے۔ مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں۔

Mr. Chairman: We break for Maghrib. (جناب چیئرمین: مغرب کے لئے وقفہ)

مرزا ناصر احمد: یہ وہی حوالہ ہے جہاں سے: ”احمدی مسلمان لکھوائیں“؟ جناب یحییٰ بختیار: یہ مرزا صاحب! جو میرا ہے، انگلش ایڈیشن...... مرزا ناصر احمد: وہ ایک تھا ناں، پہلے: ”احمدی مسلمان لکھوائیں“ وہ ایک نکتہ بن گیا ہے ڈھونڈنے کے لئے حوالہ۔ جناب یحییٰ بختیار: یہ جو اس سے پہلے آتا ہے....... مرزا ناصر احمد: ہاں، اس سے پہلے آتا ہے۔

1027 Mr. Yahya Bakhtiar: The announcement is followed by the storm of opposition.

(اعلان کے بعد مخالفت کا طوفان برپا ہو گیا)

یہ Heading دی گئی ہے یہاں۔ پھر کہتے ہیں ص ٣١ میں:

Those very theologians who had formerly commanded him now stood up to denounce him.

٤١

صفحہ ١٠٨٠

1080 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

(وہی علماء جو پہلے اس کی تعریف کیا کرتے اس کی مذمت میں اٹھ کھڑے ہوئے)

پھر مولوی محمد حسین بٹالوی کا ذکر ہے۔ پھر Next page پر آتا ہے ان کا......

مرزا ناصر احمد: ”آپ ٢٨ ستمبر ١٨٩١ء کی صبح کو پہنچے......“

جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی، آپ یہ اردو کا دیکھ رہے ہیں؟ اگر آپ، اگر آپ انگلش کا دیکھیں......

مرزا ناصر احمد: نہیں، میرا مطلب ہے کہ یہاں بھی سن دیا ہوا ہے، وہاں بھی سن دیا ہوا ہوگا۔ ٢٨ ستمبر ١٨٩١ء اور ایک ہے......

Mr. Chairman: We ar breaking for Maghrib, and then, after Maghrib we will resume the question.

The Delegation is permitted to leave.

(جناب چیئرمین: ہم مغرب کے لئے وقفہ کرتے ہیں، نماز کے بعد اسی سوال کو لیں گے۔ وفد کو جانے کی اجازت ہے)

جناب یحییٰ بختیار: یہاں مولوی محمد حسین بٹالوی ...... یہ جو ہے، ہاں، یہ جو ہے ناں، اس کے بعد پھر Next page پر ......

Mr. Chairman: Mr. Attorney General, we are breaking for Mahgrib, and then at 7:30......

(جناب چیئرمین: اٹارنی جنرل صاحب جو ہم مغرب کے لئے وقفہ کر رہے ہیں۔ اب ساڑھے سات بجے پھر)

Mr. Yahya Bakhtiar: After break?

(جناب یحییٰ بختیار: وقفہ کے بعد؟)

Mr. Chairman: After break, this question will 1028 continue. The Honourable members may keep sitting.

(جناب چیئرمین: اس سوال کو جاری رکھا جائے گا۔ معزز اراکین تشریف رکھیں۔ اجلاس ساڑھے سات بجے تک برخاست)

(The delegation left the Chamber)

Mr. Chairman: The House is adjourned to meet at

٤٢

صفحہ ١٠٨١

SSEMBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

(وہی علماء جو پہلے اس کی تعریف کیا کرتے ا پھر مولوی محمد حسین بٹالوی کا ذکر ہے۔ پھر e مرزا ناصر احمد: ”آپ ٢٨ ستمبر ١٨٩١ء کی جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی، آپ یہ اردو کا کا دیکھیں...... مرزا ناصر احمد: نہیں، میرا مطلب ہے کہ ہوا ہو گا۔ ٢٨ ستمبر ١٨٩١ء اور ایک ہے......

We ar breaking for Maghrib, and ll resume the question. n is permitted to leave.

(جناب چیئرمین: ہم مغرب کے لئے لیں گے۔ وفد کو جانے کی اجازت ہے)

جناب یحییٰ بختیار: یہاں مولوی محمد حسین اس کے بعد پھر Next page پر......

Mr. Attorney General, we are l then at 7:30......

(جناب چیئرمین: اٹارنی جنرل صاحب اب ساڑھے سات بجے پھر)

tiar: After break?

(جناب یحییٰ بختیار: وقفہ کے بعد؟)

After break, this question will members may keep sitting.

(جناب چیئرمین: اس سوال کو جاری را اجلاس ساڑھے سات بجے تک برخاست)

on left the Chamber)

The House is adjourned to meet at

٤٢

1081 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

7:30 thank you very much.

(جناب چیئرمین: ساڑھے سات بجے تک کے لئے اجلاس ملتوی کیا جاتا ہے۔ آپ کا بہت شکریہ)

The Special Committee, adjourned for Maghrib Prayers to meet at 7:30 pm.

The Special Commitee, re-assembled after Mahrib Prayers, Mr. Chairman (Sahibzada Farooq Ali) tin the Chair.

ساڑھے سات بجے بعد از مغرب خصوصی کمیٹی کا پھر اجلاس شروع ہوا۔

-------

TIME FOR CROSS-EXAMINATION

(جرح کے لئے وقت)

سید عباس حسین گردیزی: ایک چھوٹی سی گزارش ہے، جناب! عرض یہ ہے کہ چند ممبران کی طرف سے سن رہے ہیں کہ وہ چاہتے ہیں کہ بحث جلدی ختم ہو، عرض یہ ہے کہ بہت اہم ریکارڈ بن رہا ہے......

جناب چیئرمین: (سیکرٹری سے) ان کو بلوا لیں، باہر بٹھا دیں۔

سید عباس حسین گردیزی: یہ ایک قومی ریکارڈ ہے اور بین الاقوامی ریکارڈ ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ اس میں پوری وضاحت ہو کہ آئندہ لوگوں نے اس کو پڑھنا ہے۔ اس لئے اس میں ہمیں جلدی نہیں کرنی چاہئے۔

---------

ATTENDANCE IN THE COMMITTE

سید عباس حسین گردیزی: دوسرے ممبر صاحبان کی خدمت میں عرض کروں گا کہ ان کو ہر وقت یہاں آنا چاہئے۔ ساری قوم ہمیں دیکھ رہی ہے کہ ہم کیا کچھ کر رہے ہیں۔ آج 1029 بھی باہر مجھے کسی نے کہا کہ آپ لوگ کیفے ٹیریا میں بیٹھے رہتے ہیں اور اس میں دلچسپی نہیں لے رہے۔ یہ ایک قومی کام ہے اور نہایت اہم کام ہے۔ یہ جو وقت ضائع ہوتا ہے، ہمارا وقت ضائع ہوتا ہے، ان کا وقت ضائع نہیں ہوتا۔ میں یہ آپ کی وساطت سے ممبر صاحبان کی خدمت میں عرض کروں

٤٣

صفحہ ١٠٨٢

1082 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

گا کہ برائے مہربانی وہ وقت ضائع نہ کریں۔ جس وقت بھی، جو وقت مقرر ہو، اسی وقت پر آئیں اور اس وقت پر جائیں تا کہ یہ ریکارڈ پوری طرح سے Thrash ہو کر، باوضاحت بنے۔

Mr. Chairman: So far as the first...... Saiyid Abbas Hussain Gardezi: Kept standing.

جناب چیئرمین: آپ تشریف رکھیں۔ جناب محمد افضل رندھاوا: جناب والا! ایک چٹھی غیر حاضر ممبران کو بھی لکھنی چاہئے۔ جناب چیئرمین: اچھا۔ شاہ صاحب! تشریف رکھیں، میں دونوں باتوں کا جواب دیتا ہوں۔

So far as the first point is concerned, we cannot sit for a definite period only on this ground that we are preparing record for the generations we cannot sit for one year or three mohths or two months......

(جہاں تک پہلے نقطہ کا تعلق ہے۔ ہم صرف اس بنا پر غیر معینہ مدت کے لئے نہیں بیٹھ سکتے ہم سال بھر یا تین سال اس لئے بیٹھ سکتے ہیں کہ ہم آنے والی نسلوں کیلئے ریکارڈ مرتب کر رہے ہیں)

سید عباس حسین گردیزی: یہ میں نہیں کہتا جو وقت جناب کی طرف سے یا قاعدے کے مطابق ہے وہ وقت تو ضائع نہ ہو۔ یہ وقت جو ضائع ہوتا ہے، ان کا ضائع نہیں ہوتا، ہمارا ضائع ہوتا ہے۔

جناب چیئرمین: یہ دوسرا کام ہے تبلیغ کا میں تو ایک سال سے اس کرسی پر بیٹھ کر یہی تبلیغ کر رہا ہوں کہ خدا کے لئے یہاں آیا کریں، وقت پر آیا کریں، میرے کہنے کا تو کوئی اثر نہیں ہوتا، آپ قسمت آزمائی کر لیں، میرے کہنے کا کوئی اثر نہیں ہوا۔

سید عباس حسین گردیزی: جناب کی وساطت سے میں ممبر صاحبان کی 1030 خدمت میں باادب گزارش......

جناب محمد افضل رندھاوا: جناب والا! جو حاضر ہیں ان کو سنانے سے؟ جو غیر حاضر ہیں، ان کو چٹھیاں لکھیں۔

جناب چیئرمین: شاہ صاحب! ٩ بجے کے بعد ایک ایک کر کے کھسکنا شروع

٤٤

صفحہ ١٠٨٣

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

ہوجاتے ہیں۔ بستہ ہاتھ میں لیا اور وہاں سے کھسک گئے اور یہاں بیٹھے رہتے ہی پندرہ۔

In Budget one day we started with six members.

(بجٹ کے دوران ایک دن ہم نے چھ ارکان سے اجلاس شروع کیا)

یہ تو کوئی بات نہیں ہے ناں جی۔

پروفیسر غفور صاحب! لاء منسٹر صاحب آگئے ہیں، میرے چیمبر میں ہیں، یہاں بھی آجائیں گے۔ آپ ان کے ساتھ پھر ڈسکشن کرلیں۔ میں نے کہا وہ ابھی آجاتے ہیں۔ چوہدری صاحب بیٹھے تھے، وہ کچھ باتیں کررہے تھے اس کے متعلق سارا۔ جیسے بھی ہو ہاں تو:

Now I am going to call them.

They may be called.

(The delegation entered Chamber)

(بس انہیں بلانے لگا ہوں، انہیں بلالیں۔ وفد ہال میں داخل ہوا)

--------------------------------------

CROSS- EXAMINATION OF THE QADIANI

GROUP DELEGATION

(قادیانی وفد پر جرح)

Mirza Nasir Ahmad: With the permission of the Chair.

(مرزا ناصر احمد: جناب چیئرمین صاحب کی اجازت سے)

ایک تھوڑی سی وضاحت ہوجائے تو اچھا ہے۔ جو پیچھے فلسطین کے متعلق آپ نے فرمایا تھا کہ جب ٥٦ء میں چوہدری محمد شریف واپس آئے تو اس وقت کوئی رپورٹ کی گئی۔ تو میں صرف یہ ریکارڈ کرانا چاہتا ہوں کہ میرا انتخاب ١٩٦٥ء میں ہوا تھا اور اس وقت، مجھے یہ بھی یاد نہیں...... ہم نے سوچا......

1031 جناب یحییٰ بختیار: وہ تو میں نے آپ کو کہہ دیا کہ ہم آپ سے نہیں اس پر کرتے۔ آپ کو یاد ہوگا، آپ نے کہا کہ آپ انچارج نہیں تھے۔ ممکن ہے آپ خود ہی یورپ میں ہوں، آپ اس جگہ نہ ہوں۔

مرزا ناصر احمد: نہیں، میں یورپ میں تو نہیں تھا لیکن میرا تعلق کوئی نہیں تھا اس سے۔

٤٥

BLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

گا کہ برائے مہربانی وہ وقت ضائع نہ کریں۔ جس اور اس وقت پڑجائیں تاکہ یہ ریکارڈ پوری طرح بـ

far as the first......

ain Gardezi: Kept standing.

جناب چیئرمین: آپ تشریف رکھیں

جناب محمد افضل رندھاوا: جناب والا

جناب چیئرمین: اچھا۔

شاہ صاحب! تشریف رکھیں، میں دونو

int is concerned, we cannot sit on this ground that we are erations we cannot sit for one months......

(جہاں تک پہلے نقطہ کا تعلق ہے۔ ہم سکتے ہم سال بھر یا تین سال اس لئے بیٹھ سکتے کر رہے ہیں)

سید عباس حسین گردیزی: یہ میں کے مطابق ہے وہ وقت تو ضائع نہ ہو۔ یہ وقت جو ہوتا ہے۔

جناب چیئرمین: یہ دوسرا کام ہے تـ تبلیغ کر رہا ہوں کہ خدا کے لئے یہاں آیا کریں۔ ہوتا، آپ قسمت آزمائی کرلیں، میرے کہنے کا کوئ

1030 سید عباس حسین گردیزی: خدمت میں باادب گزارش......

جناب محمد افضل رندھاوا: جناب ہیں، ان کو چھٹیاں لکھیں۔

جناب چیئرمین: شاہ صاحب!

صفحہ ١٠٨٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، وہ میں نے کہا، کیونکہ......

مرزا ناصر احمد : ہاں ٹھیک ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: ......کیونکہ کتاب ١٩٦٥ء کی وہ آئے ہیں ١٩٥٦ء میں، وہ تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔

مرزا ناصر احمد : وہ فلسطین کے متعلق میرا نوٹ ہے، وہ ہم نے بڑا کام کیا ہے، فلسطینی مسلمانوں کے ساتھ مل کے، اسرائیل کے وجود کے قیام کے خلاف۔ وہ میں اپنے وقت کے اوپر بتاؤں گا۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، وہ تو ہمیں کوئی Dispute (جھگڑا) نہیں ہے اس پر۔ میں تو صرف وہ چیز، جو لوگوں کے سوال پوچھے جاتے ہیں، وہ آپ سے پوچھ رہا ہوں۔ میں آپ سے عرض کر رہا تھا کہ ”مخالف“ جب بار بار لفظ آتا ہے تو اس پر یہ کہ مسلمان بھی اس میں شامل ہیں اور اس کے بارے میں بتایا تھا کہ ہر جگہ جہاں مرزا صاحب جاتے رہے ہیں، دہلی میں، امرتسر میں، لاہور میں، سیالکوٹ میں، تو بار بار ذکر آتا ہے کہ مسلمانوں نے مخالفت کی۔ باقی بھی کرتے ہوں گے اور علماء بھی تھے ان میں سے کچھ اور تھے......

مرزا ناصر احمد : یہ کہیں نہیں آتا کہ سارے مسلمانوں نے کی......

1032 جناب یحییٰ بختیار: نہیں......

مرزا ناصر احمد : میں نے اسی واسطے کہا تھا کہ دو، ایک فیصد تھے جنہوں نے...... جو مخالفت کرتے رہے ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: میں نے یہی کہا ناں جی کہ اس میں مسلمان بھی شامل ہوتے ہیں، جب وہ ”مخالفت“ کہتے ہیں، ضروری نہیں کہ وہ صرف عیسائی ہوں۔

مرزا ناصر احمد : نہیں، یہ تو میں نے کہہ دیا تھا۔

(دہلی میں ہزاروں کی تعداد میں تھے وہ سب غصے میں تھے)

جناب یحییٰ بختیار: میں اس لئے آپ کو توجہ دلا رہا تھا کہ دہلی میں ہزاروں کی تعداد میں، وہ کہتے ہیں، وہ سب غصے میں تھے۔

مرزا ناصر احمد : ہاں، ہاں، Out of crores (کروڑوں میں سے)

Mr. Yahya Bakhtiar: Naturally.

مرزا ناصر احمد : ”جامع مسجد دہلی کی وسیع عمارت اندر اور باہر سے آدمیوں سے پُر

٤٦

صفحہ ١٠٨٥

1085 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

تھی بلکہ سیڑھیوں پر بھی لوگ کھڑے تھے ہزاروں آدمیوں کے مجمع سے گزر کر جبکہ سب لوگ دیوانہ وار خون آلود نگاہوں سے آپ کی طرف دیکھ رہے تھے، میں تو یہ کہوں گا کہ بڑے تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کیا۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے آمین بالجہر کہنے یا نہ کہنے پر سزا دلا دیئے تھے۔“

جناب یحییٰ بختیار: اب ایک جگہ وہ آگے ..... یہاں لکھا ہے جی کتاب میں:

"His cousin, Sir Ahsan, in Nineteen one hundred (1901?), and some of his relatives, who were opposed to him, put up a wall in front of...."

((اس مرزا قادیانی) کے چچا زاد بھائیوں اور چند دیگر رشتہ داروں نے جو کہ اس کے مخالف تھے سامنے دیوار سی کھڑی کر دی)

1033 ”مخالف“ میں کہہ رہا ہوں کہ ہر قسم کے لوگ آسکتے ہیں، صرف یہ نہیں کہ عیسائی ہی تھے۔

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں یہ تو میں نے کہہ دیا، مان لی بات ہر مذہب اور اسلام کے ہر فرقے کا دو تین فیصدی ایسا ہے جو آیا ہے مخالفت میں۔

(امرتسر میں بھی مسلمان مخالفت کر رہے تھے)

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں صرف یہ بتانا چاہتا ہوں کہ وہ جب امرتسر بھی جاتے ہیں تو اس کا بھی ذکر ہے کہ وہاں کے جو مولوی تھے وہ بہت آئے تھے وہاں۔ میں نہیں کہتا کہ سارے مولوی تھے، مگر جو ہال میں وہاں تھے وہ مخالفت کر رہے تھے، ان کو بھی "Opponent" بتایا گیا ہے

مرزا ناصر احمد: یوں تو ساری تاریخ شیعہ سنی فسادات اور ان فسادات سے بھری پڑی ہے، ہماری تاریخ۔

جناب یحییٰ بختیار: وہ مرزا صاحب! لاہور وغیرہ کی جو میٹنگ تھی ناں، اس پر......

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، ٹھیک ہے، اس میں تو کوئی انکار نہیں ہے ساری تاریخ بھری پڑی ہے ہماری، ان فسادات سے۔

(Interruption)

Mr. Chairman: I will request Sardar Aleem to resume his seat.

(جناب چیئرمین: میں سردار علیم سے درخواست کروں گا کہ وہ اپنی سیٹ پر تشریف رکھیں)

٤٨١

LY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، وہ میں

مرزا ناصر احمد: ہاں ٹھیک ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: ...... کیونکہ کہ سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔

مرزا ناصر احمد: وہ فلسطین کے متعلق مسلمانوں کے ساتھ مل کے، اسرائیل کے وجود بتاؤں گا۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، وہ تو ہم میں تو صرف وہ چیز، جولوگوں کے سوال پوچھے ج سے عرض کر رہا تھا کہ ”مخالف“ جب بار بار لفظ آ اور اس کے بارے میں بتایا تھا کہ ہر جگہ جہاں میں، لاہور میں، سیالکوٹ میں، تو بار بار ذکر آتا ہوں گے اور علماء بھی تھے ان میں سے کچھ اور تھے

مرزا ناصر احمد: یہ کہیں نہیں آتا کہ

1032 جناب یحییٰ بختیار: نہیں ......

مرزا ناصر احمد: میں نے اسی واسطے مخالفت کرتے رہے ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: میں نے بک ہیں، جب وہ ”مخالفت“ کہتے ہیں، ضروری نہیں

مرزا ناصر احمد: نہیں، یہ تو میں نے (دہلی میں ہزاروں کی تعداد م

جناب یحییٰ بختیار: میں اس لئے میں، وہ کہتے ہیں، وہ سب غصے میں تھے۔

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، yes

s: Naturally.

مرزا ناصر احمد: ”جامع مسجد دہلی

صفحہ ١٠٨٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

(کیا قرآن کریم اور مرزا کے الہامات دونوں کا درجہ برابر ہے؟)

جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! یہ آپ کی جماعت کی رائے ہے کہ قرآن کریم اور الہامات مسیح موعود دونوں خدائے تعالیٰ کے کلام ہیں، دونوں میں اختلاف ہو ہی نہیں سکتا، اس لئے مقدم رکھنے کا سوال پیدا نہیں ہوتا، دونوں کا Status ایک جیسا ہے؟

1034 مرزا ناصر احمد: یہ جو فقرہ ہے، اس میں دو سوال ہیں، اگر آپ مجھے اجازت دیں تو میں تجزیہ کردوں؟ اصولی حقیقت عالمین کی، ساری خلق کی، اس ساری Universe کی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات سے جو دو چیزیں صادر ہوتی ہیں، نکلتی ہیں، ان میں تضاد ہو ہی نہیں سکتا۔ ایک یہ دوسری یہاں یہ ہے کہ آیا کس قسم کا الہام؟ تو ہمارا یہ عقیدہ ہے میں اپنا بتاؤں گا......

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، میں وہی پوچھ رہا ہوں۔

مرزا ناصر احمد: ......ہمارا یہ عقیدہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ہر الہام تابع ہے نبی اکرم کے الہامات کے، اور تفسیری ہے، زیادتی نہیں کرتا کچھ بھی، شریعت محمدیہ ﷺ اور اسلامی جو ہدایت دی گئی ہے، اس پر ایک لفظ کی زیادتی نہیں، بلکہ تفسیر ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، مگر وہ جو ان کا Status (درجہ) ہے، ایک ہی جیسا ہے؟ کیونکہ دونوں آپ سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے پیغام ہیں۔

مرزا ناصر احمد: ہم یہ سمجھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام صادق تھے، اور اس واسطے ہم نے آپ کو مانا اور آپ نے جب یہ کہا کہ: "یہ الہام مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوا" تو ہم سمجھتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوا......

(مرزا کا الہام ایسے ہی ہے، جیسے قرآن؟)

جناب یحییٰ بختیار: تو وہ ایسے ہی ہوا جیسے قرآن کا ہوا؟

مرزا ناصر احمد: ......اور...... دیکھیں ناں، وہ آپ، جو میں فقرہ کہوں، اس کا انتظار کرلیں، میرے جواب کا انتظار کرلیں۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں اس پر غلطی نہیں کر رہا، چونکہ آپ نے پہلے کہا تھا کہ وہ امتی نبی ہیں، وہ میں نہیں کہہ رہا......

1035 مرزا ناصر احمد: نہیں، میں تو صرف یہ عرض کررہا تھا کہ ایک فقرہ میرا جواب کا رہتا تھا، وہ آپ سن لیں۔

٤٨

صفحہ ١٠٨٧

OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

(کیا قرآن کریم اور مرزا کے

جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاح اور الہامات مسیح موعود دونوں خدائے تعالیٰ کے لئے مقدم رکھنے کا سوال پیدا نہیں ہوتا، دونوں

1034 مرزا ناصر احمد: یہ جو فقرہ تو میں تجزیہ کردوں؟ اصولی حقیقت عالمین ک ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات سے جو دو چیزیں صا ایک یہ دوسری یہاں یہ ہے کہ آیا کس قسم کا الہام

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، میں و

مرزا ناصر احمد: ...... ہمارا یہ ع تابع ہے نبی اکرم کے الہامات کے، اور تفسیر اور اسلامی جو ہدایت دی گئی ہے، اس پر ایک ل

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، مگر ہے؟ کیونکہ دونوں آپ سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ

مرزا ناصر احمد: ہم یہ سمجھتے ہیں اور اس واسطے ہم نے آپ کو مانا اور آپ نے ہوا۔‘‘ تو ہم سمجھتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف

(مرزا کا الہام ایسے

جناب یحییٰ بختیار: تو وہ ایسے ہ

مرزا ناصر احمد: ...... اور ...... د کرلیں، میرے جواب کا انتظار کرلیں۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں وہ امتی نبی ہیں، وہ میں نہیں کہہ رہا ......

1035 مرزا ناصر احمد: نہیں، میں رہتا تھا، وہ آپ سن لیں۔

1087 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

جناب یحییٰ بختیار: Sorry آپ کہہ لیجئے، پھر میں پوچھتا ہوں۔

مرزا ناصر احمد: میں یہ کہتا ہوں کہ ہمارا یہ ایمان ہے کہ جو واقع میں اللہ تعالیٰ کا کلام ہو، ان کے اندر آپس میں نہ تضاد ہے، اور ان کا مقام بوجہ اپنے Source کے، منبع کے، سرچشمہ کے، مختلف ہے ہی نہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: ایک جیسا ہو گیا؟

مرزا ناصر احمد: وہ جو آگے تفسیر ...... جو میں نے تفسیر کا بتایا، وہ تفسیر ہے اس کی، یہ ہمارا ایمان ہے۔

(دونوں کو ایک لیول میں رکھتے ہیں کہ دونوں صحیح کلام ہیں؟)

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں، میں، صرف یہ پوچھتا ہوں کہ آپ دونوں کو ایک ہی لیول پر رکھتے ہیں؟ یہ دونوں اللہ کے کلام ہیں، آپ کے نزدیک، اور دونوں صحیح کلام ہیں؟

مرزا ناصر احمد: دونوں کو اس لحاظ سے ایک لیول پر رکھتے ہیں کہ دونوں اللہ کے کلام ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: یہی میں کہہ رہا ہوں۔

مرزا ناصر احمد: ...... اس لیول سے۔ لیکن بعض اور چیزیں ......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں اس پر نہیں کہہ رہا، اس پر میں آ رہا ہوں، ابھی۔

مرزا ناصر احمد: ہاں، وہ، وہ ٹھیک ہے۔ چونکہ ہر دو خدا کا کلام ہے۔ اس لئے ہر دو خدا کے کلام کی عظمت اپنے اندر رکھتا ہے۔

(مرزا کا الہام احادیث سے بلند ہے؟)

جناب یحییٰ بختیار: اور جتنی بھی احادیث ہیں، وہ تو Naturally قرآن کے لیول پہ ہو نہیں سکتیں، جو مرزا صاحب کی وحی ہیں، جو ان کے الہام ہیں، حدیثوں سے آپ ان کو بلند سمجھتے ہیں؟

1036 مرزا ناصر احمد: وما ینطق عن الھوی، قرآن کریم کہتا ہے: ان ھوالا وحی یوحیٰ ۔ جو واقع میں نبی اکرم ﷺ کا ارشاد ہے، وہ جو ارشاد ہے، وہ اپنے نطق کا نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کی تائید کے مطابق آپ ﷺ کا وہ ارشاد ہے۔

١؎ محمد عربی ﷺ کی وحی یعنی قرآن مجید اور مرزا قادیانی کا الہام دونوں کا لیول ایک، یعنی درجہ برابر ہے؟ (معاذ اللہ )

٤٩

صفحہ ١٠٨٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

جناب یحییٰ بختیار: اور جو خدا تعالیٰ کا ارشاد مرزا صاحب کو ہوا، وہ حدیث سے بلند مرتبہ ہے اس کا یا نہیں؟

مرزا ناصر احمد: ہر......

جناب یحییٰ بختیار: آپ دیکھیں ناں......

مرزا ناصر احمد: نہیں، میں سمجھ گیا، جواب دینے لگا ہوں۔ ہر حدیث صحیح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہام سے اس لئے بالا ہے کہ اس کا تعلق محمد رسول اللہ ﷺ سے ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: حدیث آپ سمجھتے ہیں کہ بالا ہے؟

مرزا ناصر احمد: ہر حدیث صحیحہ، جو بھی صحیح حدیث ہے، اس کو ہم بہر حال حضرت مسیح موعود کی تفسیر سے، خواہ وہ الہامی ہو یا غیر الہامی، اس سے بالا سمجھتے ہیں۔

(الفضل کا حوالہ)

جناب یحییٰ بختیار: یہاں میں آپ کو ایک حوالہ پڑھ کر سناتا ہوں، آپ چیک کرلیں، یہ مرزا بشیر الدین محمود صاحب کا ہے۔ ”الفضل“ ٢٥؍اپریل ١٩١٥ء ہے: ”حدیث تو بیسیوں راویوں کے پھیر سے ہمیں ملی ہے اور الہام براہِ راست ہے۔ اس لئے الہام مقدم ہے۔“

یہاں تو یہ Clear ہے۔ آگے فرماتے ہیں:

”1037 وہ مسیح موعود سے جو باتیں ہم نے سنی ہیں، وہ حدیث کی روایات سے معتبر ہیں۔ حدیث ہم نے آنحضرت کے منہ سے نہیں سنی۔“

(الہام) Not, only Ilham بلکہ باتیں جو ہیں......

مرزا ناصر احمد: نہیں، وہ...... آپ جب بات ختم کرلیں گے، میں وضاحت کر دیتا ہوں، ابھی وضاحت کر دیتا ہوں۔ امام بخاری، اللہ تعالیٰ ان پر رحمتیں نازل کرے، چھ لاکھ احادیث ان کے پاس مختلف روایتوں سے پہنچیں، اور ان میں سے انہوں نے پانچ لاکھ چورانوے ہزار کے قریب رد کر دیں اور صرف چھ ہزار روایات لے لیں۔ تو یہاں جو اصل گھنڈی ہے، وہ راویوں کا ہے، حدیث صحیحہ کا نہیں سوال۔ مختلف راویوں سے حضرت امام بخاری کے پاس کم و بیش چھ لاکھ پہنچیں احادیث اور انہوں نے پانچ لاکھ چورانوے ہزار احادیث کے متعلق یہ فتویٰ دیا کہ یہ قابل قبول نہیں تو یہ اس لئے نہیں، انہوں نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ: ”یہ کلام آنحضرت ﷺ کا ہے اور میں قبول نہیں کرتا۔“ بلکہ اس واسطے کہ انہوں نے کہا کہ: ”جن مختلف راویوں کے ذریعے سے مجھ تک پہنچیں ان میں سے بعض ایسے کمزور ہیں کہ میں ان کی یہ بات ماننے کے لئے نہیں تیار اپنے

٥٠

1089 NATIONA

آپ کا مطلب سمجھ گیا، میں یہی...... رہے اور مرزا صاحب کی باتیں کیوں ہے؟ تو یہ آپ Clear کریں۔ لکل نہیں یہ عقیدہ اس واسطے میں نے

م ہے ) ہتا ہوں...... لہا ہے، اس شرط کے ساتھ تو میں کہہ

سیوں راویوں کے پھیر سے ہمیں ملی

ہاں۔ اس کے بعد میں نے عرض کیا ہ حدیث کی روایات سے معتبر ہیں۔

یا روایات سے...... Clarifica کر رہے ہیں۔ میں تو وہ کہہ رہا ہوں کہ آپ اس پر

م نے سنی ہیں وہ حدیث کی روایات

سے نہیں۔

ت سے معتبر ہیں۔ حدیث ہم نے

صفحہ ١٠٨٩

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

آپ کو پتا تھا کہ آنحضرت ﷺ نے ہی یہ بات کہی ہو گی۔"

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، مرزا صاحب! میں آپ کا مطلب سمجھ گیا، میں یہی...... آپ اس کی وجہ بتا رہے ہیں، کمزوری کی، کہ حدیث کیونکہ کمزور ہے اور مرزا صاحب کی باتیں کیوں ان سے قوی ہیں، آپ نے وجہ بتائی۔ میں نے کہا یہ عقیدہ آپ کا ہے؟ تو یہ آپ Clear کریں۔

مرزا ناصر احمد: نہیں، میں...... اوہو...... اوہ! بالکل نہیں یہ عقیدہ اس واسطے میں نے شروع میں "حدیث صحیحہ" کہا......

(مرزا کا الہام حدیث پر مقدم ہے)

1038 جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں اس واسطے کہتا ہوں......

مرزا ناصر احمد: نہیں، "صحیح حدیث" میں نے کہا ہے، اس شرط کے ساتھ تو میں کہہ نہیں سکتا......

جناب یحییٰ بختیار: دیکھیں جی: "حدیث تو بیسیوں راویوں کے پھیر سے ہمیں ملی ہے اور الہام براہ راست ہے۔ اس لئے الہام مقدم ہے۔"

مرزا ناصر احمد: ہاں جی ہر وہ حدیث......

جناب یحییٰ بختیار: ...... یہ تو جنرل بات ہوگئی ناں۔ اس کے بعد میں نے عرض کیا کہ وہ فرماتے ہیں: "مسیح موعود سے جو باتیں ہم نے سنی ہیں وہ حدیث کی روایات سے معتبر ہیں۔ حدیث......"

مرزا ناصر احمد: حدیث سے معتبر نہیں، حدیث کی روایات سے......

جناب یحییٰ بختیار: دیکھیں ناں، آپ تو Clarification کر رہے ہیں۔

مرزا ناصر احمد: نہیں، یہاں جو کچھ لکھا ہوا ہے، میں تو وہ کہہ رہا ہوں کہ آپ اس پر توجہ کریں۔

جناب یحییٰ بختیار: "مسیح موعود سے جو باتیں ہم نے سنی ہیں وہ حدیث کی روایات سے معتبر ہیں۔"

مرزا ناصر احمد: حدیث کی روایات سے، حدیث سے نہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: ٹھیک ہے، ہاں......

1039 مرزا ناصر احمد: حدیث سے نہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: "...... حدیث کی روایات سے معتبر ہیں۔ حدیث ہم نے

٥١

Y OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

جناب یحییٰ بختیار: اور جو خدا تعا مرتبہ ہے اس کا یا نہیں؟

مرزا ناصر احمد: ہر......

جناب یحییٰ بختیار: آپ دیکھیں

مرزا ناصر احمد: نہیں، میں سمجھ گی موعود علیہ السلام کے الہام سے اس لئے بالا ہے

جناب یحییٰ بختیار: حدیث آپ

مرزا ناصر احمد: ہر حدیث صحیحہ، موعود کی تفسیر سے، خواہ وہ الہامی ہو یا غیر الہامی

(الفضل

جناب یحییٰ بختیار: یہاں میں کرلیں، یہ مرزا بشیر الدین محمود صاحب کا ۔ بیسیوں راویوں کے پھیر سے ہمیں ملی ہے اور الہ یہاں تو یہ Clear ہے۔ آگے فرما

1037 "مسیح موعود سے جو باتیں ہم حدیث ہم نے آنحضرت کے منہ سے نہیں سنی۔

(الہام) ot, only Ilham

مرزا ناصر احمد: نہیں، وہ...... آ ہوں، ابھی وضاحت کر دیتا ہوں۔ امام بخار احادیث ان کے پاس مختلف روایتوں سے پہنچی ہزار کے قریب رد کر دیں اور صرف چھ ہزار د راویوں کا ہے، حدیث صحیحہ کا نہیں سوال۔ مختلف چھ لاکھ پہنچیں احادیث اور انہوں نے پانچ لاکھ قابل قبول نہیں تو یہ اس لئے نہیں، انہوں نے اور میں قبول نہیں کرتا۔" بلکہ اس واسطے کہ انہو مجھ تک پہنچیں ان میں سے بعض ایسے کمزور ہیں

صفحہ ١٠٩٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

آنحضرت ﷺ کے منہ سے نہیں سنی۔‘‘ میرا پوائنٹ یہ ہے، مرزا صاحب! کہ حدیث، خواہ وہ سو گنا بھی آپ کہیں کہ صحیح ہے، وہ مرزا صاحب کے کلام سے اوپر نہیں کیونکہ کسی نے وہ نہیں سنی، خواہ سو (١٠٠) امام بخاری کہیں۔ اس لئے مرزا صاحب کا کلام جو ہے، ان کی باتیں جو ہیں، وہ ان پر مقدم ہیں۔ یہ کہہ رہے ہیں۔ اس کو آپ Clarify کریں۔

مرزا ناصر احمد: اس عبارت سے، اس عبارت سے ایسا مطلب آپ لے رہے ہیں جو ہمارا آٹھویں کا بچہ بھی نہیں لے سکتا۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں تو بے وقوف ہوں جی، موٹے دماغ کا آدمی ہوں، یسوع کی طرح پر، مگر میں آپ سے عرض کر رہا ہوں کہ یہاں جو ہے......

مرزا ناصر احمد: نہیں، جب ہمارے، ہمارے مذہب کا ہو سوال، تو میں ہی بتاؤں گا ناں آپ کو۔

جناب یحییٰ بختیار: وہ ٹھیک ہے، جبھی تو آپ سے پوچھ رہا ہوں، مرزا صاحب!

مرزا ناصر احمد: جب میں بتاتا ہوں تو آپ قبول نہیں کرتے۔ بس وہ ختم ہو گیا میرا۔

جناب یحییٰ بختیار: دیکھیں ناں، میں قبول نہیں کرتا ہوں، میں اسی واسطے Clarification لے رہا ہوں، ورنہ کمیٹی تو اس کو پڑھ کے اپنے نتیجے پر پہنچ سکتی تھی۔

مرزا ناصر احمد: ہاں وہ ٹھیک ہے، بڑی مہربانی۔

1040 جناب یحییٰ بختیار: تو میں اس واسطے عرض کر رہا ہوں کہ میں بڑی مشکل ڈیوٹی Perform کر رہا ہوں کہ Clarification ہونی چاہئے، یہ چیزیں سامنے آنی چاہئیں۔

Mirza Nasir Ahmad: I quite understand.

جناب یحییٰ بختیار: ابھی سارے یہاں میرے پاس پرچے آ رہے ہیں، میں آپ سے سوال پوچھتا ہوں، دس پرچے آ جاتے ہیں: ”یہ پوچھئے یہ پوچھئے۔“ تو اس میں عرض...... کہتا ہوں کہ جو مطلب یہاں سے نظر آتا ہے، Reasoning, ground, rationale وہ اتنا صاف ہے کہ: ”مسیح موعود سے جو باتیں ہم نے سنیں وہ حدیث کی روایات سے معتبر ہیں......“

مرزا ناصر احمد: حدیث کی روایات سے۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی، حدیث کی روایات سے۔

مرزا ناصر احمد: مثلاً، میں بتاتا ہوں، اس کو اور واضح کر دوں......

١؎ مرزا ناصر احمد یحییٰ بختیار کی اہانت پر اتر آئے؟

٥٢

صفحہ ١٠٩١

EMBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

آنحضرت ﷺ کے منہ سے نہیں سنی۔“ میرا پوائنٹ یہ بھی آپ کہیں کہ صحیح ہے، وہ مرزا صاحب کے کلام سے سو (١٠٠) امام بخاری کہیں۔ اس لئے مرزا صاحب کا کلام مقدم ہیں۔ یہ کہہ رہے ہیں۔ اس کو آپ Clarify کریں

مرزا ناصر احمد: اس عبارت سے، اس عبارت جو ہمارا آٹھویں کا بچہ بھی نہیں لے سکتا۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں تو بے وقوف بچوں کی طرح پر، مگر میں آپ سے عرض کررہا ہوں کہ یہ

مرزا ناصر احمد: نہیں، جب ہمارے، ہمارے ناں آپ کو۔

جناب یحییٰ بختیار: وہ ٹھیک ہے، جبی تو میں

مرزا ناصر احمد: جب میں بتاتا ہوں تو آپ

جناب یحییٰ بختیار: دیکھیں ناں، میں Clarification لے رہا ہوں، ورنہ کمیٹی تو اس کو پڑھ

مرزا ناصر احمد: ہاں وہ ٹھیک ہے، بڑی عمدہ

جناب یحییٰ بختیار: تو میں اس واسطے 1040 Perform کررہا ہوں کہ Clarification ہونی

mad: I quite understand.

جناب یحییٰ بختیار: ابھی سارے یہاں، ان سے سوال پوچھتا ہوں، دس پر چلے جاتے ہیں: ”یہ پتا ہوں کہ جو مطلب یہاں سے نظر آتا ہے، tionale صاف ہے کہ : ”مسیح موعود سے جو باتیں ہم نے سنیں وہ

مرزا ناصر احمد: حدیث کی روایات سے۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی، حدیث کی رِوایات

مرزا ناصر احمد: مثلاً، میں بتاتا ہوں، اس

لے مرزا ناصر احمد یحییٰ بختیار کی اہانت پر اتر آئے

٥٢

1091 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

جناب یحییٰ بختیار: مجھے یہ سوال ذرا اگر......

مرزا ناصر احمد: ہاں جی، ہاں

جناب یحییٰ بختیار: ”......معتبر ہیں حدیث ہم نے آنحضرت کے منہ سے نہیں سنی۔“ اب اس سے جو مطلب میں اخذ کرتا ہوں وہ یہ ہے کہ جو حدیث آپ صحیح سمجھتے ہیں، جس پر آپ کو پورا یقین ہے کہ یہ صحیح ہے، اس کے بارہ میں بھی کوئی نہیں کہہ سکتا کہ : ”ہم نے آنحضرت ﷺ کے منہ سے سنی“ اور کیونکہ ہم نے ان کے منہ سے نہیں سنی، اس لئے مرزا صاحب نے جو باتیں کیں، اور ”ہم نے ان کے منہ سے سنیں، وہ ان سے مقدم ہیں، معتبر ہیں“......

مرزا ناصر احمد: ہمارا مذہب یہ نہیں ہے؎1041

جناب یحییٰ بختیار: یہ مطلب نہیں تو آپ Clarify کردیں۔

مرزا ناصر احمد: ہمارا یہ مذہب نہیں ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: ٹھیک ہے۔

مرزا ناصر احمد: ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ مثلاً حدیث ہے کہ وہ بعض دفعہ سات راویوں کے بیچ میں سے گزر کر پہنچتی ہے امام بخاری کے پاس...... جو اصح الکتب ہے احادیث کی کتب میں سے اور اس میں بعض دفعہ ......تقریباً ڈیڑھ، دو سو سال کے بعد انہوں نے یہ کتاب لکھی اور بہت سے راویوں میں سے ایک سے دوسرے نے روایت کی۔ اس طرح یہ سلسلہ گیا تو روایت جو ہے، روایت کے لحاظ سے کئی راوی ایسے ہیں جن کو مسلم نے قبول کرلیا اور امام بخاری نے قبول نہیں کیا۔ کئی ایک راوی ایسے ہیں جو امام بخاری نے قبول کرلئے اور بعد میں آنے والے اولیاء اللہ نے قبول نہیں کئے۔ کئی راوی ایسے ہیں جو امام بخاری نے رد کردیئے اور بعد میں آنے والے ہمارے اولیاء نے ان کو قبول کرلیا۔ تو یہ ہے حقیقت احادیث کی اور روایت کی وجہ سے جو ش...... جس حدیث کو ہم، ہمارے بزرگ ہم ...... اس وقت میں تو کہوں گا کہ جس کو ہمارے مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اور خلفاء نے بعد کے، اور میں نے، یہ قبول کرلیا کہ اس کی روایت درست ہے، اس کا مقابلہ ہی کوئی نہیں، نبی اکرم ﷺ کے کلام کا، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے کلام کے ساتھ۔ یعنی یہ میرا مذہب ہے۔

لے قادیانی کرم فرما توجہ کریں۔ مرزا ناصر احمد صاحب اپنے ابا حضور کے کلام سے بھی انکاری ہوگئے۔

٥٣

صفحہ ١٠٩٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، یہ تو ٹھیک آپ فرما رہے ہیں، میں صرف یہ کہہ رہا ہوں کہ یہاں انہوں نے Distinction کی ہے ......

مرزا ناصر احمد: وہ ”روایت“ کے اوپر زور دے کر کی ہے۔

1042 جناب یحییٰ بختیار: ......روایت کی وجہ سے...... کیونکہ روایت ہے۔ ......روایت کی وجہ سے وہ اتنی مستند نہیں ہوسکتی کہ جو کوئی آدمی ڈائریکٹ بات سنے۔ اگر ہم میں سے کوئی کہے کہ ”تم نے ڈائریکٹ سنی“ تو Naturally وہ ......

مرزا ناصر احمد: یہ کون سا؟ اس کے اندر ہی جواب ہوگا۔

جناب یحییٰ بختیار: میں نے بتا دیا ہے ......٢٥؍اپریل کا ......جو مجھے لکھ کر دیا گیا ہے۔

مرزا ناصر احمد: یہ اسی کتاب کا ہے؟

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں نے ”الفضل“ کا حوالہ دیا ہے۔

مرزا ناصر احمد: اچھا ”الفضل“ کا۔ تو شاید اس کے آگے پیچھے کوئی جواب ہو۔

جناب یحییٰ بختیار: اسی واسطے، مرزا صاحب! آپ دیکھ لیں۔ میں تو ایسی ڈیوٹی کر رہا ہوں۔ آپ ناراض ہو رہے ہیں۔

مرزا ناصر احمد: نہیں، میں بالکل نہیں ناراض، میں تو آپ کا خادم ہوں۔

جناب یحییٰ بختیار: خادم تو میں ہوں جی، اسمبلی کا، جیسے وہ حکم دیتے ہیں، میں اس کی تعمیل کرتا ہوں۔

مرزا صاحب! آپ نے اپنے خطبے میں، جو ٢١؍جون کا میرے خیال میں ”محضر نامہ“ میں بھی ہے اس میں اور فرمایا ہے ......میں یہ آپ کا ص ١٢ پڑھ رہا ہوں:

"This constitution gives him ......"

یہ آرٹیکل جو ہے ناں، ٢٠ (اے)، کو Interpret کر رہے ہیں۔ اس میں آپ فرماتے ہیں:

"This constitution gives him the right to announce

"......whether he is a Muslim

١؎ دجل کی حد ہوگئی، اخبار کو کتاب بنا دیا۔ بدحواسی یا دجل؟ قادیانی فیصلہ کریں۔

٢؎ اب شاید کہہ کر تشکیک پیدا کر کے ڈوبتے کو تنکے کا سہارا پر عمل پیرا ہیں۔

٥٤

صفحہ ١٠٩٣

1093 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

میں اوپر سے پڑھ رہا ہوں تا کہ آپ کو یاد رہے۔ After quoting 1043 "Every citizen shall have the right to profess. practice and propagate his religion".

(جناب یحییٰ بختیار: ہر شہری کو اپنے مذہب کے اعلان، تشہیر اور تبلیغ کا حق ہوگا)

اس سے آگے آپ تفسیر کر رہے ہیں اس کی کہ:

"In other words, this constitution which is......"

اس سے آگے ہے جو کہ:

"Every religions denomination and every sect thereof shall have the right to establish maintain and manage his religious institutions"......

(یہ ہر مذہبی گروہ اور اس کے ذیلی فرقوں کو اپنے مذہبی ادارے قائم کرنے اور چلانے کا حق ہے)

Mirza Nasir Ahmad: Ok, this is clause in the Constitution.

مرزا ناصر احمد: یہ آرٹیکل کے اندر ایک شق ہے۔

(آرٹیکل نمبر ٢٠)

جناب یحییٰ بختیار: جو آرٹیکل ٢٠ ہے Constitution کا اس میں، آپ فرماتے ہیں کہ:

"In other words, this constitution, which is a source of pride for us, guarantees to every citizen of Pakistan his religion, that is to say, the religion which he, and not Mr. Bhutto or Mufti Mahmood or Mr. Moudoodi, chooses for himself. Whatever religion a citizen chooses, that is his religion and he can announce it. This constitution gives him the right to announce that he is a Muslim or not, and if he

EMBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، یہ تو ٹھیک آ... کہ یہاں انہوں نے Distinction کی ہے......

مرزا ناصر احمد: وہ ”روایت“ کے اوپر زو...

1042 جناب یحییٰ بختیار: ......روایت کی... کی وجہ سے وہ اتنی مستند نہیں ہو سکتی کہ جو کوئی آدمی ڈائریک... ”تم نے ڈائریکٹ سنی“ تو Naturally وہ...... ١

مرزا ناصر احمد: یہ کون سا؟ اس کے اندر ا...

جناب یحییٰ بختیار: میں نے بتا دیا ہے......

مرزا ناصر احمد: یہ اسی کتاب کا ہے؟

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں نے ”الفی...

مرزا ناصر احمد: اچھا ”الفضل“ کا۔ تو شہ...

جناب یحییٰ بختیار: اسی واسطے، مرزا ... کر رہا ہوں۔ آپ ناراض ہو رہے ہیں۔

مرزا ناصر احمد: نہیں، میں بالکل نہیں نا...

جناب یحییٰ بختیار: خادم تو میں ہوں جو... تعمیل کرتا ہوں۔

مرزا صاحب! آپ نے اپنے خطبے میں... میں بھی ہے اس میں اور فرمایا ہے...... میں یہ آپ کا م... ves him......"

یہ آرٹیکل جو ہے ناں، ٢٠ (اے)، کو ؟ فرماتے ہیں:

e the right to announce "......whether he is a Muslim

١؎ دجل کی حد ہو گئی، اخبار کو کتاب بنا دیا۔ بہ...

٢؎ اب شاید کہہ کر تشکیک پیدا کر کے ذو...

٥٤

صفحہ ٥٦

1094 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

announces, that he is a Muslim, then this constitution of which the People's Party is proud, and of which we are also proud because of this article, guarntees to every citizen to announce that, being a Muslim, he is Wahabi or an Ahle-Hadith or an Ahle Quran or Barailve or Ahmadi".

("ہر شہری کا مذہب، نہ کہ مسٹر بھٹو کا یا مولانا مفتی صاحب کا یا مولانا مودودی کا مذہب جو کہ وہ اپنے لئے منتخب کرے۔ جو مذہب بھی کوئی شہری اپنے لئے منتخب کرے وہ اس کا اعلان کر سکتا ہے۔ آئین ہر شہری کو حق دیتا ہے کہ وہ اس بات کا اعلان کرے کہ وہ مسلمان ہے یا نہیں اور اگر وہ اپنے مسلمان ہونے کا اعلان کرتا ہے تو پھر یہ آئین جس پر پیپلز پارٹی فخر کرتی ہے اور جس پر ہم سب بھی فخر کرتے ہیں کیونکہ یہ ایسی شق ہے جو کہ ہر ایک شہری کو اپنے مسلمان کہلانے کا حق دیتی ہے خواہ وہ وہابی ہو، اہلحدیث ہو، اہل قرآن ہو، بریلوی ہو یا احمدی")

(آپ ایک فرقہ ہیں یا آپ ہی اصلی اسلام ہیں؟)

تو اس سے یہ Impression پڑتا ہے، جو میں سمجھتا ہوں، کہ آپ بھی اپنے آپ کو باقی مسلمانوں کا ایک فرقہ تصور کرتے ہیں۔ کیا یہ ہمیشہ آپ کا یہی Attitude تھا کہ آپ ایک فرقہ ہیں، یا آپ کا خیال تھا کہ آپ ہی اسلام ہیں اور آپ ہی اصلی اسلام ہیں اور باقی کوئی نہیں، فرقہ ورقہ نہیں آپ؟

مرزا ناصر احمد : وہ جو ایک پرانا حوالہ دیا تھا ناں کہ Census میں یہ لکھوائیں 1044 اس میں بھی جو ہدایت تھی، مشورہ تھا، وہ یہ تھا کہ ”احمدیہ فرقہ کے مسلمان۔“

جناب یحییٰ بختیار: ”فرقہ“ تو نہیں، اس میں لکھا ہے: Entered as" "Ahmadi Muslim".

مرزا ناصر احمد: ”احمدی مسلمان“ ”فرقہ“ بھی ہے ایک جگہ، ہاں، ”فرقہ احمدیہ کے مسلمان“ یعنی دونوں ہدایتوں میں دونوں فقرے موجود ہیں۔ تو احمدی، ہم ...... یہ جو آپ نے بات کہی، یہ درست ہے کہ ہم ایک حصہ، جس طرح اور بہتر تہتر ہیں، اسی طرح ایک فرقہ اپنا سمجھتے ہیں، اور ہمیشہ سے سمجھتے آتے ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: یہ وہ جو مرزا صاحب نے لندن میں لیکچر دیا تھا، لیکچر تو یہ نہ ہوا،

1095 NATIONAL ASS

مرزا بشیر الدین صاحب نے لکھی تھی ......

Mirza Nasir Ahm

"Ahmadaiyyat or the Tr

ہوا ہے، اس کا صفحہ 34 ہے، اس پر مرزا

"He distilled the subterranean channel, an and opened wide the doo discovery, thus providing mankind, without, in the of the Holy Quran and i which was established by blessing of God be upon preserve till the end of da easy to comprehend a Movement believes firm Movement of Muslims, it the truth of Islam......"

I go further pleas

"...... One the c represents to the world th 1300 years ago, and th mankind with the unlimi the Holy Quran.

صفحہ ١٠٩٥

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

اپنوں کو تو انہوں نے بریف کر دیا تھا مگر یہ کتاب اس وقت مرزا بشیر الدین صاحب نے لکھی تھی.......

Mirza Nasir Ahmad: Ahmadiyyat or True Islam.

(مرزا ناصر احمد: احمدیت یا سچا اسلام)

جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی، یہ "Ahmadiyyat or the True Islam" یہ ١٩٣٧ء ایڈیشن ہے، قادیان سے پبلش ہوا ہے، اس کا صفحہ 34 ہے، اس پر مرزا صاحب فرماتے ہیں:

"He distilled the impure water and discovered the subterranean channel, and removed the veil from our eyes, and opened wide the door to a vast field of research and discovery, thus providing for the ever increasing needs of mankind, with out, in the least, going outside the teaching of the Holy Quran and interfering with the form of Islam, which was established by the Holy Prophet (Peace and the blessing of God be upon him and which is the will of God to preserve till the end of days. Once this is realized, it will be easy to comprehend that 1045 although the Ahmadyyia Movement believes firmly in the Holy Quran and is a Movement of Muslims, it can not be ranked merely as one of the sects of Islam......."

I go further please:

"....... On the contrary, it claims that it alone represents to the world the real Islam that was revealed over 1300 years ago, and that its special mission is to enrich mankind with the unlimited spiritual treasures contained in the Holy Quran.

٥٧

LY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

lim, then this constitution of pud, and of which we are also guarntees to every citizen to uslim, he is Wahabi or an n or Barailve or Ahmadi".

(”ہر شہری کا مذہب، نہ کہ مسٹر بھٹو کا جو کہ وہ اپنے لئے منتخب کرے۔ جو مذہب بھی کی کر سکتا ہے۔ آئین ہر شہری کو حق دیتا ہے کہ وہ خو اگر وہ اپنے مسلمان ہونے کا اعلان کرتا ہے تو پھر ہم سب بھی فخر کرتے ہیں کیونکہ یہ ایسی شق ہے جو ہے خواہ وہ وہابی ہو اہلحدیث ہو، اہل قرآن ہو، ب

(آپ ایک فرقہ ہیں یا آ

تو اس سے یہ Impression پڑ باقی مسلمانوں کا ایک فرقہ تصور کرتے ہیں۔ کیا فرقہ ہیں، یا آپ کا خیال تھا کہ آپ ہی اسلام ہ فرقہ ورقہ نہیں آپ؟

1044 مرزا ناصر احمد: وہ جو ایک پر اس میں بھی جو ہدایت تھی، مشورہ تھا، وہ یہ تھا کہ ”

جناب یحییٰ بختیار: ”فرقہ“

Ahmadi Muslim".

مرزا ناصر احمد: ”احمدی مسلمان مسلمان“ یعنی دونوں ہدایتوں میں دونوں فقرے کہی، یہ درست ہے کہ ہم ایک حصہ، جس طرح اور ہمیشہ سے سمجھتے آتے ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: یہ وہ جو مرزا

PDF 522

1096 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08 (جناب یحییٰ بختیار: کہ اس نے ناپاک پانی کو مصفّٰی کیا اور پوشیدہ نہروں کو دریافت کیا اور ہماری آنکھوں پر پڑے ہوئے پردوں کو اتارا اور تحقیق اور معلومات کے وسیع میدان کے دروازے کھول دیئے اس طرح انسانیت کی روز بروز بڑھنے والی ضروریات کو قرآنی تعلیمات اور نبی کریم ﷺ کے قائم کردہ اسلامی خدوخال کے دائرہ کے اندر رہتے ہوئے مہیا کیا۔ اگر اس بات کو ذہن نشین کرلیا جائے تو پھر یہ سمجھنا آسان ہوجائے گا کہ اگرچہ احمدیہ جماعت قرآن کریم پر محکم ایمان رکھتی ہے اور یہ مسلمانوں کی ایک جماعت ہے مگر اس (جماعت احمدیہ) کو اسلام کا ایک فرقہ نہیں کہہ سکتا۔ (میں مزید آگے پڑھتا ہوں) بلکہ اس کے برعکس احمدیہ جماعت کا موقف ہے کہ صرف یہی دنیا میں حقیقی سچا اسلام پیش کرتی ہے جو کہ تیرہ سو سال پہلے آیا تھا اور اس (جماعت احمدیہ) کا نصب العین بنی نوع انسان کو قرآن مجید میں دی ہوئی لامحدود روحانی دولت سے مالا مال کرنا ہے“) یہ میں اس واسطے کہہ رہا ہوں کہ جو آپ کہہ رہے ہیں...... مرزا ناصر احمد: نہیں، اس میں...... Mr. Yahya Bakhtiar: You dont consider yourself as merely sect of Islam. مرزا ناصر احمد: یہ آپ نے پڑھ دیا، اس پر جو سوال ہے وہ کیا ہے؟ جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں نے آپ سے عرض کی کہ آپ کہتے ہیں کہ Your are a sect of Islam and you should be treated as Wahabis and others. (آپ سے بھی وہابی یا دوسرے فرقوں جیسا سلوک ہونا چاہئے) میں نے کہا جی کہ یہ آپ کا سٹینڈ نہیں رہا ہے پہلے۔ پہلے آپ کا یہ سٹینڈ رہا ہے کہ: "We are not a sect of Islam. We should not be ranked as one of the sects of Islam; we are the real Islam". (جناب یحییٰ بختیار: ہم اسلام کا ایک فرقہ نہیں ہیں۔ ہمیں اسلام کا ایک فرقہ نہ سمجھا جائے بلکہ صرف ہم ہی حقیقی اسلام ہیں“) مرزا ناصر احمد: ہر فرقے کا یہی مذہب ہے۔ (حضرت مسیح علیہ السلام کو آپ تشریعی نبی سمجھتے ہیں یا امتی نبی؟) جناب یحییٰ بختیار: وہ میں آپ سے یہ پوچھ رہا ہوں کہ میں...... اب مرزا صاحب! ٥٨

1097 NATIONAL ASSEMBLY OF نا (وقفہ) آپ نے فرمایا تھا جی کہ ”مسیح موعود نبی بھی کچھ Question تھے۔ میں بعد میں پوچھ لوں گا۔ ہیں؟ مگر مجھے ایک چیز Clear نہیں ہے کہ حضرت سمجھتے ہیں یا امتی نبی؟ صری؟ لے سے قبل کوئی امتی نبی نہیں آسکتا تھا نہ آیا، اس لئے کہ...... رت موسیٰ علیہ السلام کی امت سے۔ میرا مطلب وہ ہے۔ ی وہی کہہ رہا ہوں وہی کہہ رہا ہوں، آنحضرت ﷺ کی کی نسبت سے، یا دوسرے نبی جو تھے، جن، جن علاقوں

سے پہلے نہ کوئی امتی نبی ہوا نہ آسکتا تھا، اس لئے اس تبعین اور کامل اتباع کے نتیجے میں اور فنا فی الرسول کے ۔ ہمارا ایمان یہ ہے۔ تو امتی نبی صرف نبی اکرم ﷺ کا ب سے اونچے چلے گئے اور ایک کامل، مکمل ہدایت اور نا کو آپ نے دے دی۔ اس سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ ے (واضح) کردوں؟ کا Status Clarify (مقام واضح) کردیں۔

شرعی نبی تھے۔ ان کے بعد بنی اسرائیل میں جو انبیاء وسیٰ علیہ السلام کی شریعت کے تابع تھے، لیکن کچھ تھوڑا ں، ان کے اندر نظر آتی۔ حضرت محمد ﷺ کے بعد، ہمارا ا منسوخ نہیں ہوسکتا۔ لیکن حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے کہتی تھی کہ آنکھ کے بدلے آنکھ۔ یہ شریعت کا حکم ہے، یا کہ اگر ایک گال پر کوئی تھپڑ لگاتا ہے تو دوسری بھی آگے ٥٩

صفحہ ١٠٩٧

1097 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

میں ...... مرزا صاحب آپ نے، اس دن (وقفہ) آپ نے فرمایا تھا جی کہ ”مسیح موعود نبی بھی تھے۔“ اسی Capacity میں، اس پر کچھ Question تھے۔ میں بعد میں پوچھ لوں گا۔ لاہور پارٹی کے۔ آپ اگر کچھ کہنا چاہتے ہیں؟ مگر مجھے ایک چیز Clear نہیں ہے کہ حضرت مسیح عیسیٰ علیہ السلام کو، ان کو آپ شرعی نبی سمجھتے ہیں یا امتی نبی؟

مرزا ناصر احمد: 1046 مسیح ناصری؟

جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی۔

مرزا ناصر احمد: نبی اکرم ﷺ سے قبل کوئی امتی نبی نہیں آسکتا تھا نہ آیا، اس لئے کہ ......

جناب یحییٰ بختیار: یعنی حضرت موسیٰ علیہ السلام کی امت سے۔ میرا مطلب وہ ہے۔

مرزا ناصر احمد: نہیں میں بھی وہی کہہ رہا ہوں وہی کہہ رہا ہوں، آنحضرت ﷺ کی نسبت سے نہیں، حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نسبت سے، یا دوسرے نبی جو تھے، جن، جن علاقوں کے تھے، ان کی نسبت سے۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں۔

مرزا ناصر احمد: نبی اکرم ﷺ سے پہلے نہ کوئی امتی نبی ہوا نہ آسکتا تھا، اس لئے اس وقت جو شرائع لے کر آئے تھے وہ کامل نہیں تھیں اور کامل اتباع کے نتیجے میں اور فنا فی الرسول کے نتیجے میں یہ نعمت نہیں (ناقابل فہم) مل سکتی۔ ہمارا ایمان یہ ہے۔ تو امتی نبی صرف نبی اکرم ﷺ کا ہوسکتا ہے، جو اپنی عظمت اور شان میں سب سے اونچے چلے گئے اور ایک کامل، مکمل ہدایت اور شریعت قرآن پاک کی شکل میں نوع انسانی کو آپ نے دے دی۔ اس سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام ...... اگر آپ کہیں تو ذرا Explain (واضح) کردوں؟

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، اس کا Status Clarify (مقام واضح) کردیں۔

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام ایک شرعی نبی تھے۔ ان کے بعد بنی اسرائیل میں جو انبیاء آئے ہیں، باوجود اس کے کہ وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شریعت کے تابع تھے، لیکن کچھ تھوڑا تھوڑا فرق کر رہے تھے ساتھ، کامل اتباع نہیں، ان کے اندر نظر آتی۔ حضرت محمد ﷺ کے بعد، ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ ایک شوشہ بھی قرآن پاک کا منسوخ نہیں ہوسکتا۔ لیکن حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے یہ کہا: حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شریعت یہ کہتی تھی کہ آنکھ کے بدلے آنکھ۔ یہ شریعت کا حکم ہے، توریت کا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ اگر ایک گال پر کوئی تھپڑ لگاتا ہے تو دوسری بھی آگے

٥٩

AL ASSEMBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

(جناب یحییٰ بختیار: کہ اس نے ناپاک پائی دریافت کیا اور ہماری آنکھوں پر پڑے ہوئے پردوں کو اتارا میدان کے دروازے کھول دیئے اس طرح انسانیت کی روز تعلیمات اور نبی کریم ﷺ کے قائم کردہ اسلامی خدوخال کے اگر اس بات کو ذہن نشین کر لیا جائے تو پھر یہ سمجھنا آسان ہو جا کریم پر محکم ایمان رکھتی ہے اور یہ مسلمانوں کی ایک جماعت اسلام کا ایک فرقہ نہیں کہہ سکتا۔ (میں مزید آگے بڑھتا ہوں) موقف ہے کہ صرف یہی دنیا میں حقیقی سچا اسلام پیش کرتی ہے (جماعت احمدیہ) کا نصب العین بنی نوع انسان کو قرآن مجید سے مالا مال کرنا ہے“) یہ میں اس واسطے کہہ رہا ہوں کہ جو آپ

مرزا ناصر احمد: نہیں، اس میں .......

akhtiar: You dont consider yourself

مرزا ناصر احمد: یہ آپ نے پڑھ دیا، اس پر جو م

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں نے آپ سے d you should be treated as Wahabis .and others (آپ سے بھی وہابی یا دوسرے فرقوں جیسے کہ یہ آپ کا سٹینڈ نہیں رہا ہے پہلے۔ پہلے آپ کا یہ سٹینڈ رہا ہ sect of Islam. We should not be ts of Islam; we are the real Islam".

(جناب یحییٰ بختیار: ہم اسلام کا ایک فرقہ نہیں جائے بلکہ صرف ہم ہی حقیقی اسلام ہیں“)

مرزا ناصر احمد: ہر فرقے کا یہی مذہب ہے۔

(حضرت مسیح علیہ السلام کو آپ تشریعی نبی

جناب یحییٰ بختیار: وہ میں آپ سے یہ پوچھ

٥٨

صفحہ ١٠٩٨

1098 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

کر دو، یعنی انہوں نے انتقام پر زور دیا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے معافی پر زور دیا۔ لیکن On the whole (مجموعی طور پر) شریعت موسوی کی پابندی کرنے والے تھے اور امتی نبی کے لئے ضروری ہے کہ ایک ایک لفظ، ایک ایک شوشے میں اپنے متبوع نبی، صاحب شریعت نبی کی کامل اتباع کرنے والا ہو۔

(حضرت عیسیٰ علیہ السلام تشریعی نبی نہیں تھے؟)

جناب یحییٰ بختیار: یعنی حضرت عیسیٰ بھی شرعی نبی نہیں تھے؟ مرزا ناصر احمد: نہیں۔ جناب یحییٰ بختیار: یہ میں پوچھ رہا تھا۔ مرزا ناصر احمد: ہاں، نہیں، شرعی نبی نہیں تھے ہمارے نزدیک١؎۔ جناب یحییٰ بختیار: ”امتی“ تو میں اس Sense میں کہہ رہا تھا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی امت سے تھے وہ، یہودی تھے وہ بھی۔ مرزا ناصر احمد: ہاں۔ جناب یحییٰ بختیار: ہاں۔ مرزا ناصر احمد: لیکن جو ہماری اصطلاح ہے ”امتی نبی“ وہ اس کے مطابق نہیں تھے۔ جناب یحییٰ بختیار: آپ ان کو ”غیر شرعی“ کہیں گے؟ مرزا ناصر احمد: ”غیر شرعی تابع نبی“ لیکن آپ کی نبوت امتی نبوت نہیں ہے، کامل اتباع کے نتیجہ میں نہیں۔ 1048 جناب یحییٰ بختیار: اور تابع وہ تھے حضرت موسیٰ کے؟ مرزا ناصر احمد: حضرت موسیٰ کی شریعت کے تابع تھے۔ جناب یحییٰ بختیار: اور اسی کے قانون کو انہوں نے Establish کرنا تھا؟ Mirza Nasir Ahmad: On the whole. (مرزا ناصر احمد: مجموعی طور پر) Mr. Yahya Bakhtiar: On the whole.

١؎ صاحب کتاب یعنی ان پر انجیل اتری پھر بھی شرعی نبی نہ تھے۔ کیا کہنا چاہتے ہیں مرزا ناصر احمد۔

٦٠

صفحہ ١٠٩٩

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

(جناب یحییٰ بختیار: مجموعی طور پر) اور مرزا صاحب کی پوزیشن یہ ہے کہ وہ بھی غیر شرعی ہیں اور وہ بھی محمد ﷺ کا جو قانون ہے......

مرزا ناصر احمد: لیکن On the whole (مجموعی طور پر) نہیں، Absolutely (مکمل طور پر)

Mr. Yahya Bakhtiar: Absolutely, that I say. But دونوں شرعی ہیں؟

مرزا ناصر احمد: دونوں شرعی نہیں ہیں۔ قرآن کریم میں آتا ہے کہ توریت کے بعد: کہ حضرت موسیٰؑ کے بعد...... یہ قرآن کریم فرماتا ہے کہ ایسے انبیاء آئے، بنی اسرائیل میں، کہ جو شریعت موسوی کے مطابق پیروی کرواتے تھے، اتباع کرواتے تھے، لوگوں کی ہدایت کا سامان پیدا کرتے تھے۔ لیکن تھوڑا سا اختلاف سارا اگر...... بہت بڑا مضمون ہے۔ وہ میں نے صاف کر دیا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، وہ شرعی اور غیر شرعی کا جو تھا، ناں......

مرزا ناصر احمد: غیر شرعی نبی؟

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، تو اس کے بعد پوزیشن یہ ہو جاتی ہے، جہاں تک میں سمجھتا ہوں کہ مرزا غلام احمد کی پوزیشن مسلمانوں کے فرقوں، جو باقی فرقے ہیں، میں سے وہی تھی جو حضرت عیسیٰؑ کی یہودیوں کے فرقوں میں سے تھی؟

1049 مرزا ناصر احمد: نہیں، اس واسطے کہ حضرت عیسیٰؑ اور حضرت مسیح موعود جن کو ہم کہتے ہیں، ان کے Status (مقام) میں فرق ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا مقام ہے کامل، Absolute (مکمل طور پر) اتباع کا۔ لیکن حضرت مسیح کا مقام نہیں۔ اس واسطے دونوں کا فرق پڑ گیا ناں۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں اس واسطے عرض کر رہا تھا کہ اس واسطے نہیں فرق کہ وہ بھی غیر شرعی تھے، یہ بھی غیر شرعی ہیں......

مرزا ناصر احمد: غیر شرعی ہونے کے لحاظ سے وہ ہزاروں انبیاء جو بنی اسرائیل میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد آئے، بشمول حضرت عیسیٰؑ، وہ غیر شرعی تھے اور حضرت مسیح موعود بھی غیر شرعی ہیں۔

٦١

OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

کر دو یعنی انہوں نے انتقام پر زور دیا اور حضر the whole (مجموعی طور پر) شریعت موس ضروری ہے کہ ایک ایک لفظ، ایک ایک شوش اتباع کرنے والا ہو۔

(حضرت عیسیٰ علیہ ال

جناب یحییٰ بختیار: یعنی حضرت

مرزا ناصر احمد: نہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: یہ میں پوچھ

مرزا ناصر احمد: ہاں، نہیں، شری

جناب یحییٰ بختیار: ”امتی“ ت علیہ السلام کی امت سے تھے وہ، یہودی تھے،

مرزا ناصر احمد: ہاں۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں۔

مرزا ناصر احمد: لیکن جو ہماری

جناب یحییٰ بختیار: آپ ان ک

مرزا ناصر احمد: ”غیر شرعی نا اتباع کے نتیجہ میں نہیں۔

1048 جناب یحییٰ بختیار: اور تا

مرزا ناصر احمد: حضرت موسیٰ

جناب یحییٰ بختیار: اور اسی کے On the whole.

(مرزا ناصر احمد: مجموعی طور پ

tiar: On the whole.

١؎ صاحب کتاب یعنی ان پر انجی مرزا ناصر صاحب۔

صفحہ ١١٠٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

جناب یحییٰ بختیار: ان کا Relationship ان کا تعلق......

Mirza Nasir Ahmad: Only to that point.

(مرزا ناصر احمد: صرف اسی لحاظ سے)

جناب یحییٰ بختیار: ہاں! یہ۔

Mirza Nasir Ahmad: Only to that extent.

(مرزا ناصر احمد: صرف اسی حد تک)

جناب یحییٰ بختیار: کیونکہ یہ پوائنٹ جو ہے کہ اگر......

مرزا ناصر احمد: نہیں، وہ، ہاں......

جناب یحییٰ بختیار: ...... ابھی یہاں جو ہے، ایسا ہی حوالہ مجھے نظر آیا ہے۔ اس لئے

میں آپ سے وہ In short, Prophets are of two kinds ......." (مختصراً یہ کہ

نبی دو طرح کے ہیں)

جیسے میں نے کہا ناں، غیر شرعی طور پر 28 Page سے پڑھ رہا ہوں جی:

"......Those who are law-bearers like moses......"

وہ جو صاحب شریعت موسیٰ علیہ السلام......

Mirza Nasir Ahmad: Page 28?

(مرزا ناصر احمد: صفحہ 28؟)

1050 Mr. Yahya Bakhtiar: 28

"...... (On whom be peace), and those who only

restore and re-establish the law after mankind have

forsaken it; as, for instance, Elyah, Isaiah, Ezekiel, Daniel

and Jesus (On all of whom be peace). The prophet Messiah

(On whom be peace) also claimed to be prophet like the

latter. and asserted that as Jesus was the last khalifa

(Successor) of the Messiah dispensation, he was the last

khalifa of the Islamic dispensation".

Please mark the words: "He asserted".

٦٢

صفحہ ١١٠١

1101 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

(جناب یحییٰ بختیار: صفحہ ٢٨......! وہ جو اس وقت شریعت کی تجدید کرتے ہیں جب بنی نوع انسان احکامِ خداوندی پر عمل نہیں کرتے جیسا کہ حضرت عزیرؑ ، دانیال، حضرت مسیح علیہ السلام نے بھی دوسروں کی طرح نبوت کا دعویٰ کیا اور تاکیداً کہا کہ جس طرح عیسیٰ علیہ السلام حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شریعت کے خلیفہ تھے اسی طرح وہ اسلامی شریعت کا آخری خلیفہ تھا۔ جناب والا۔ الفاظ ”تاکیداً“ کہا پر خصوصی توجہ دیں)

Mirza Nasir Ahmad: He was the Khalifa.

(مرزا ناصر احمد: وہ خلیفہ تھا)

Mr. Yahya Bakhtiar: "...... and assented that just as Jesus was the last khalifa (Successor) of the Mosaic dispensation, he was the last khalifa of the Islamic dispensation".

(جناب یحییٰ بختیار: اور تاکیداً کہا کہ جیسے حضرت عیسیٰ علیہ السلام موسوی شریعت کے آخری خلیفہ تھے۔ اُسی طرح وہ اسلامی شریعت کا آخری خلیفہ تھا)

ایک ہی Footing پر وہ Compare (موازنہ) کر رہے ہیں......

مرزا ناصر احمد: نہ، Footing نہیں......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں یہ جو......

مرزا ناصر احمد: نہیں، میں ذرا وضاحت کردوں......

جناب یحییٰ بختیار: مجھے پورا پڑھ لینے دیں۔

مرزا ناصر احمد: نہیں، آپ سمجھ جائیں گے کہ: بحمد اللہ! قرآنی آیت کی طرف اشارہ ہے۔ میں صرف یہ بتانا چاہتا ہوں۔ جس میں خاموش.......

1051 Mr. Yahya Bakhtiar: "...... Just as he was the last khalifa of the Mosaic dispensation he was the last khalifa of the Islamic despensation. The Ahmadiyya Movement, therefore, occupied with respect to the other sects of Islam, the same position which Christianity

٦٣

LY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

جناب یحییٰ بختیار: ان کا ship

: Only to that point.

(مرزا ناصر احمد: صرف اسی لحاظ سے)

جناب یحییٰ بختیار: ہاں! یہ ۔

: Only to that extent.

(مرزا ناصر احمد: صرف اسی حد تک)

جناب یحییٰ بختیار: کیونکہ یہ پوائنٹ

مرزا ناصر احمد: نہیں، وہ، ہاں...

جناب یحییٰ بختیار: ...... ابھی میں

میں آپ سے وہ s are of two kinds

نبی دو طرح کے ہیں)

جیسے میں نے کہا ناں، غیر شرعی طور پر

bearers like moses ......"

وہ جو صاحب شریعت موسیٰ علیہ السلام

Page 28?

(مرزا ناصر احمد: صفحہ ٢٨؟)

r: 28

ce), and those who only

law after mankind have

jah, Isaiah, Ezekiel Daniel

ce). The prophet Messiah

ed to be prophet like the

sus was the last khalifa

pensation, he was the last

".

e asserted".

صفحہ ١١٠٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

occupied with respect to the other sects of Judaism".

Does it not conclusively show that as Christianity is a different religion compared to Judaism, Ahmadiyyat is a different religion compared to ohter sects?

(جناب یحییٰ بختیار: جس طرح وہ (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) موسوی شریعت کے آخری خلیفہ تھے اسی طرح وہ (مرزا غلام احمد) اسلامی شریعت کا آخری خلیفہ تھا، اس لئے اسلامی فرقوں کے مقابلے میں احمدیہ تحریک کا وہی مقام ہے جو عیسائیت کا یہودیت کے دوسرے فرقوں کے مقابلے میں ہے۔ کیا اس سے یہ بات حتمی طور پر ظاہر نہیں ہوتی کہ عیسائی مذہب، یہودی مذہب سے بالکل مختلف ہے اور احمدیت اسلام کے دوسرے فرقوں کے مقابلے میں مختلف ہے)

Mirza Nasir Ahmad: No.

(مرزا ناصر احمد: نہیں)

Mr. Yahya Bakhtiar: This I want you to clarify.

(جناب یحییٰ بختیار: میں آپ سے اس کی وضاحت کرانا چاہتا ہوں) مرزا ناصر احمد: نہیں، اس سے یہ نہیں نکلتا۔ جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں اس واسطے کہہ رہا ہوں کہ وہ جو Comparison کر رہے ہیں...... مرزا ناصر احمد: Comparison قرآن کریم کی ایک آیت کی روشنی میں کر رہے ہیں۔ جناب یحییٰ بختیار: وہ ٹھیک ہے، میں...... اس واسطے میں نے پڑھ کر سنا دیا ہے۔ مرزا ناصر احمد: (عربی) جناب یحییٰ بختیار: آگے جی میں اس پوائنٹ کو زیادہ Elaborate (واضح) کرتا ہوں۔ On page 29 وہ فرماتے ہیں:

"Mohammad (on whom be peace and blessings of God) being thus the like of Moses (on whom be peace), it was necessary that the Messiah of Islamic dispensation should not only be from among his followers but should come to

٧٣

صفحہ ١١٠٣

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

re-establish and propagate the Quranic law just as Jesus came with no new law, but only confirmed the Torah ......"

(حضرت محمد ﷺ اور حضرت موسیٰ علیہ السلام پر اللہ کریم کی رحمتیں اور برکتیں ہوں یہ لازمی تھا کہ اسلامی شریعت کا مسیح ان (حضرت محمد ﷺ) کے ماننے والوں میں سے ہو اور وہ قرآن کے قانون کو مستحکم کرے اور اس کی تبلیغ کرے۔ جیسا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نئی شریعت (انجیل) کے ساتھ آئے جو کہ تورات کی تصدیق کرتی ہے)

پھر وہ آگے Explain (وضاحت) کرتے ہیں، جو بات آپ نے کہی:

1052 " ...... I have already indicated that one of the functions of a Prophet, who is not the bearer of a new law, is to sift all errors and misinterpretations which may have crept into an existing religious system owing to lapse of time, and this in itself is a great task. To discover and restore that which had been lost is almost as great a task as to supply that wich is new. But we believe that the promised Messiah (on whom be peace) had a much higher mission to perform. in order, however, to understand what that mission was it is necessary first to understand clearly our position with regard to the Holy Quran ......"

(میں پہلے ہی اس بات کی نشاندہی کر چکا ہوں کہ جو نبی نئی شریعت لے کر نہ آئے اس کا ایک فریضہ یہ ہوتا ہے کہ وہ ان کی غلطیوں کی اصلاح کرے جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دینی امور میں پیدا ہو جاتی ہیں اور یہ ایک بہت بڑا کام ہے۔ گمشدہ صراط مستقیم کو تلاش کر کے بحال کرنا اتنا ہی بڑا کارنامہ ہے جتنا کہ نئی شریعت کو قائم کرنا۔ ہمارا ایمان ہے کہ مسیح موعود نے اس سے بھی بڑا کام اپنے ذمہ لیا تھا۔ یہ سمجھنے کے لئے کہ اس کام کی کیوں ضرورت تھی۔ یہ ضروری ہے کہ پہلے قرآن کے متعلق ہماری پوزیشن سمجھ لی جائے)

پھر وہ آگے Describe کرتے ہیں، اس پر،

What I wanted to show you, Sir,

٦٥

صفحہ ١١٠٤

1104 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

Is that Mriza Bashiruddin Shaib, in his book or lecture draws the parallel that Mirza Shahib has got the same position with regard to Islam or Prophet Mohammad which Jesus Christ had with regard to Moses or Judaism.

Then it is also stated ...... and you may have read it and you may understand it better than I do ...... that Jesus Christ had made some changes as you just ......

(...... جناب والا! میں آپ پر یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ مرزا بشیر الدین صاحب نے مسیح موعود کا موازنہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کیا ہے اور پھر یہ کہا گیا ہے۔ آپ نے پڑھا بھی ہوگا اور اس بات کو آپ مجھ سے بہتر سمجھتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے کچھ تبدیلیاں بھی کی تھیں جن کا ذکر آپ نے ابھی کیا تھا)

آپ نے جو ابھی کہا، مگر Basis وہی ہیں جو Moses کے Law کے تھے۔

A Prophet without (غیر شرعی نبی) But being a Ghair Sharai Nabi.

his own Law, he founded a new Ummat ...... Is it a fact or not? He founded a new religion ...... is it a fact or not? And if you draw the parallel, does it not amount to the fact that Ahamadiyyat is a new religion?

(...... لیکن ایک غیر شرعی نبی کی حیثیت سے اس نے نئی امت کی بنیاد رکھی۔ کیا یہ ایک حقیقت ہے یا نہیں۔ اگر آپ موازنہ کریں تو یہ ایک حقیقت معلوم نہیں ہوتی کہ ”احمدیت“ ایک نیا مذہب ہے)

Mirza Nasir Ahmad: The author of this book drew no parallel, he referred to the Quranic Verses.

(مرزا ناصر احمد : اس کتاب کے مصنف نے کوئی نیا موازنہ نہیں کیا۔ اس نے قرآنی آیات کا حوالہ دیا ہے) اور اس واسطے میں خاموش ہوں کل آپ کو قرآن کریم کی آیات لکھ کر ترجمے کے ساتھ بتا دوں گا۔

٦٦

صفحہ ١١٠٥

1105 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! میں اسمبلی کو پڑھ کر سنا رہا ہوں اور اس واسطے آپ کی Attention draw (توجہ مبذول) کر رہا ہوں، آپ مجھ سے پھر ناراض ہو جاتے ہیں۔

(اس وقت جواب نہیں دے سکتا، مرزا ناصر )

1053 مرزا ناصر احمد: میں ناراض نہیں ہوا۔ میرا مطلب ہے کہ اس وقت جواب نہیں دے سکتا۔

جناب یحییٰ بختیار: میں یہی کہتا ہوں جو چیز مجھے نظر آتی ہے اس سے یہ مطلب اخذ ہوسکتا ہے۔

مرزا ناصر احمد: قرآن کریم کی آیات پڑھنے کے بعد آپ یہ اخذ کریں گے۔

جناب یحییٰ بختیار: وہ بھی غیر شرعی، یہ بھی غیر شرعی ۔ انہوں نے بھی پرانا قانون Establish (قائم) کیا، یہ بھی کر رہے ہیں مگر نتیجہ یہ اخذ کیا کہ ان کی پوزیشن وہی ہے جو یہودیوں کے مقابلے میں حضرت عیسیٰ کی تھی، مسلمانوں کے مقابلے میں ہماری یہ پوزیشن اور پھر وہ Separation (علیحدگی پسندی) میں یہ سب چیزیں کہ آپ کے Rules of Conduct اور آجاتے ہیں، آپ نے بھی نیا قانون بنایا ہے، ہدایات دی ہیں، ڈائریکشنز دی ہیں......

مرزا ناصر احمد: Separatism (علیحدگی پسندی) کے متعلق تو اتنا بڑا مسئلہ ہے میرے پاس......

جناب یحییٰ بختیار: تو اس لئے یہ بھی مسئلہ اس میں آجاتا ہے۔

مرزا ناصر احمد: ہاں، نہیں یہ جو ہے ناں، میں اسی واسطے خاموشی سے بالکل سنتا رہا ہوں کیونکہ اس عبارت کا تعلق قرآن کریم کی دو آیات سے ہے اور جب تک وہ انسان کے ذہن میں نہ ہوں، اس Passage (اس حصہ) کو سمجھنا اتنا آسان نہیں۔ کیونکہ One has......in that case, one has to theorise. حالانکہ یہاں جو Facts ہیں قرآن کریم کی آیات کے، ان کی روشنی میں ایک بات کی گئی ہے۔ تو میں انشاء اللہ کل صبح اس کا جواب دے دوں گا، قرآن کریم کی آیات سامنے رکھ دوں گا۔

1054 جناب یحییٰ بختیار: پھر، مرزا صاحب! آگے وہ فرماتے ہیں، 32 Page پر .......یہ اس سے الگ Subject ہے، یہ Directly connected نہیں ہے......

مرزا ناصر احمد: ہاں، ٹھیک ہے، ٹھیک ہے۔

٦٧

LY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

uddin Shaib, in his book or at Mirza Shahib has got the Islam or Prophet Mohammad gard to Moses or Judaism. ...... and you may have read it etter than I do ...... that Jesus as you just ......

(...... جناب والا! میں آپ پر یہ وا مسیح موعود کا موازنہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ح ہے۔ آپ نے پڑھا بھی ہوگا اور اس بات کو آ نے کچھ تبدیلیاں بھی کی تھیں جن کا ذکر آپ نے آپ نے جو ابھی کہا، مگر Basis (غیر شرعی But being a Ghair

ed a new Ummat ...... to it a religion ...... is it a fact or not? es it not amount to the fact on?

(......لیکن ایک غیر شرعی نبی کی ح حقیقت ہے یا نہیں۔ اگر آپ موازنہ کریں تو مذہب ہے )

: The author of this book he Quranic Verses.

(مرزا ناصر احمد: اس کتاب ۔ آیات کا حوالہ دیا ہے) اور اس واسطے میں خا کے ساتھ بتا دوں گا۔

صفحہ ١١٠٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

Mr. Yahya Bakhtiar: "The Holy Quran contains a full and complete refutation of every doubt which is suggested by each succeeding age under the ever-changing conditions of the world and reply to every criticism which may be based on new knowledge and new discoveries".

پھر Last para میں فرماتے ہیں:

By pointing out this miracle of the Holy Quran, the promised Messiah, (on whom be peace) has effected a revolution in spiritual matters. The Muslims certainly believe that the Holy Quran was perfect but, during the last 1300 years, nobody had imagined that not only was it perfect but that it was an inexhaustible store house in which the needs of all future ages had been provided for, and that on investigation and research it would yield far richer treasures of spiritual knowledge, than material treasures which nature is capable of yielding".

Now, Sir, first of all, this gives me an impression that Mirza Shaib discovered something which was not discovered for 1300 years, by the Muslims, in the Holy Quran. This hidden treasure, which he discovered and pointed out, was a revolution. Now I will respectfully ask you, Mirza Sahib, that, as far as interpretation of the Holy Quran is concerned, I am not aware or acquainted, as you are now. Aprat from those provisions of the Holy Quran, those Ayat, which directly or indirectly deal with the status of a Nabi or Mehdi or Isa coming back, which indirectly or

٦٨

صفحہ ١١٠٧

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

directly prove or try to prove that Mirza sahib was a Nabi or Mehdi or Isa, what other provisions of the Holy Quran has he interpreted which nobody had interpreted before ...... and Jehad ...... these, apart from these? Because these are the subject of...... 1055 Jehad ...... his interpretations ...... and on the question of Khatm-e-Nabuwat, what it means, death of Jesus.

(جناب یحییٰ بختیار: قرآن مجید بدلتے ہوئے حالات کے تحت مستقبل کے تمام ادوار کے شکوک وشبہات کی پوری اور مکمل تردید کرتا ہے اور نئے نئے علوم اور نئی نئی معلومات/ ایجادات کی بنیاد پر تنقید کا جواب دے سکتا ہے۔

قرآن مقدس کا یہ عظیم معجزہ بتاتے ہوئے مسیح موعود نے روحانی انقلاب برپا کر دیا۔

یقیناً مسلمانوں کا یہ ایمان ہے کہ قرآن مکمل ضابطہ حیات ہے۔ مگر گذشتہ تیرہ سو سال میں کسی نے یہ نہیں سوچا کہ قرآن نہ صرف مکمل (ضابطہ حیات) ہے۔ بلکہ یہ تمام آنے والے ادوار کے لئے ایک کبھی نہ ختم ہونے والا خزینہ ہے اور محنت اور تحقیق سے روحانی علم وفضل کے انمول خزانے حاصل کئے جاسکتے ہیں۔ جو قدرت کے فراہم کردہ مادی خزائن سے کہیں زیادہ قیمتی ہیں۔

جناب والا! سب سے پہلی بات جو میرے ذہن میں آتی ہے۔ وہ یہ ہے کہ قرآن کے اندر مرزا صاحب نے کوئی ایسی چیز تلاش کر لی تھی جسے تیرہ سو سال میں مسلمان تلاش کرنے سے قاصر رہے۔ یہ چھپا ہوا خزانہ جسے مرزا صاحب نے تلاش کیا۔ ایک انقلاب تھا۔ اب میں مؤدبانہ گزارش کروں گا کہ مرزا صاحب کی قرآنی بصیرت کو میں اتنا نہیں سمجھتا جتنا آپ سمجھتے ہیں۔ قرآن کی ان آیات کے علاوہ جن کا تعلق بالواسطہ یا بلاواسطہ نبی کے مقام، مہدی یا عیسیٰ کی واپسی سے ہے اور کون سی آیات ایسی ہیں جن کی تفسیر مرزا صاحب نے کی اور جن کی تفسیر پہلے کوئی بھی نہیں کر سکا۔ پھر مرزا صاحب کی جہاد کی تفسیر ختم نبوت کی تفسیر عیسیٰ علیہ السلام کا انتقال ......)

جن چیزوں سے ان کی اپنی نبوت کا ثبوت ملتا ہے یا وہ یسوع ہونے کا ثبوت ملتا ہے، قرآن میں، ان کے بارے میں، اور جہاد کے بارے میں، ان کے علاوہ وہ کون سا خزانہ تھا جو 1300 سال میں مسلمانوں کو نہیں مل سکا اور مرزا صاحب نے سامنے لا کر رکھ دیا ہے؟

This is something very important, because I got so

٦٩

صفحہ ١١٠٨

1108 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

many questions. I want to put it very briefly.

تو اس پر آپ ابھی کچھ کہنا چاہتے ہیں؟

مرزا ناصر احمد : اگر آپ تشریف رکھیں ...... تھک جائیں گے۔

مرزا ناصر احمد : قرآن کریم نے یہ دعویٰ کیا، قرآن کریم نے: یہ آیات قرآنی ہیں جو میں نے بھی پڑھیں۔ ایک دوسری جگہ یہ فرمایا کہ قرآن کریم کتاب مبین ہے، یعنی ایک کھلی ، کھلی، کھلی ہوئی کتاب ہے، ہر آدمی اس کو پڑھ سکتا ہے، اس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرسکتا ہے، اپنی اپنی استطاعت کے مطابق اور یہاں یہ فرمایا کہ یہ کتاب مکنون ہے اور ہر شخص امت مسلمہ کا اس کو پڑھ نہیں سکتا بلکہ اس کے لئے یہ قید لگائی: صرف مطہرین کا گروہ ، امت مسلمہ میں سے ، ان معنی کو اخذ کر سکتا ہے جو قرآن کریم میں موجود ہیں : تنزیل من رب العالمین!

1056 ہم نے جو یہ اعلان کیا تھا کہ قیامت تک کے لئے یہ کامل اور مکمل شریعت اور ہدایت ہے ، قرآن کریم کی شکل میں، ہمارا یہ دعویٰ صحیح نہیں ہوسکتا تھا جب تک کہ قرآن کریم کے بعض اسرار روحانی اور معارف دقیقہ ایسے نہ ہوں جو زمانہ زمانہ کی ضرورتوں کے مطابق خدا تعالیٰ کے محبوب بندے خدا تعالیٰ سے قرآن کریم کے ...... امت محمدیہ کے اندر ...... خدا تعالیٰ سے قرآن کریم کے معانی اور تفسیر سیکھ کر اس وقت کے لوگوں کو ، اس جگہ کے، اس علاقے کے لوگوں کو بتائیں۔

جب تک قرآن کریم کتاب مکنون نہ ہو، اس وقت تک یہ دعویٰ غلط ہوگا کہ یہ اس خدا کی طرف سے یہ جو تمام عالمین کا The whole Universe for all times to come قیامت تک کے لئے ہے۔ اس کا یہ تو بڑا وسیع مضمون ہے، وہ تو سارا میں بیان نہیں کر سکتا، کچھ تھوڑے سے اشارے کر دیتا ہوں۔

اگر آپ ہمارے ”محضر نامہ“ کے ...... ہمارے ”محضر نامہ ...... میں ایک رسالہ ہے، اس کا نام ہے: ”مقربانِ الٰہی کی سرگزشت ...... روح کافر گری کے ابتلا میں“ اس میں، بطور مثال کے، صدیوں میں سے انتخاب کر کے، مختلف ٥٥ مشہور بزرگانِ امت کے کچھ واقعات مختصر لکھے ہیں۔ جب ان کی سیرت پر ہم نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں یہ نظر آتا ہے کہ مثلاً جب سید عبدالقادر جیلانیؒ صاحب نے تطہیر اور تجدید کا کام شروع کیا تو اس وقت کے علماء نے ان پر یہ کہہ کر کفر کا فتویٰ لگایا کہ: ”آپ وہ باتیں کرتے ہیں جو آپ سے پہلے سلف صالحین نے نہیں کیں۔“

1؎ خیر خواہی میں طنز کے نشتر ، جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے۔

٧٠

صفحہ ١١٠٩

قیمت فی شمارہ-/10 روپے

مجلس شوریٰ

(پارلیمنٹ)

قومی اسمبلی کی بحث

1109 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08 کیونکہ ان کو اللہ تعالیٰ نے اس چھپی ہوئی کتاب، چھپا ہوا خزانہ، جس کا وہاں ذکر ہے، اس کتاب مکنون کے کچھ حصے اس زمانے کے مطابق سکھائے۔ لیکن علماءِ ظاہر نے پہلی کتب کو دیکھا اور ان پر الزام لگا دیا اور 1057 سو سال کے بعد جو نئے بزرگ ہماری امت میں پیدا ہوئے، سید عبدالقادر جیلانیؒ صاحب کے بعد، ان کے اوپر یہ کہہ کر کفر کا فتویٰ دے دیا کہ:” آپ وہ باتیں کرتے ہیں کہ جو سید عبدالقادر جیلانیؒ صاحب نہیں کیا کرتے تھے۔“ یہ مفہوم ان کی زندگیوں کا بتا رہا ہوں، یعنی کوئی صفحے کا حوالہ یا اقتباس نہیں پڑھ رہا، ان کی زندگی کے یہ حالات ہیں ...... یہ تو مانی گئی بات ہے یہ تو ظاہر بات ہے، یہ تو ایسی بات ہے جس کا کوئی انسان انکار نہیں کر سکتا کہ زمانہ ہر آن بدل رہا ہے اور کچھ عرصے بعد، اس زمانے کے بدلنے کے نتیجے میں، نئے مسائل انسان کی زندگی میں پیدا ہوتے ہیں۔ ان مسائل کے حل کرنے کے لئے قرآن کریم آئے گا یا نہیں؟ ہم کہتے ہیں ہمیشہ آتا ہے۔ مثلاً میں نئی مثال دے دیتا ہوں۔ انیسویں صدی میں Agrarian Revolution بھی ہوا اور انیسویں صدی میں Industrial Revolution بھی ہوا۔ اگرچہ وہ ابتدا تھی لیکن بہر حال Agrarian Revolution انگلستان کی تاریخ میرے سامنے ہے اور Industrial Revolution بھی اس Revolution کے نتیجے میں مزدور اکٹھا ہو یا، اس Revolution کے نتیجے میں آقا اور مزدور کا آپس میں جو تعلق تھا وہ پرانے زمانے کی نسبت بدل گیا، اس Revolution کا نتیجہ یہ نکلا آخر کار کہ چونکہ شریعت کی ہدایت کے مطابق ...... میں اس وقت جان کے ”شریعت“ کہہ رہا ہوں ”شریعت محمدیہ“ نہیں کہہ رہا ہوں کہ کچھ اور لوگ بھی تھے مثلاً عیسائی، وہ اپنی شریعت کا کہہ رہے تھے۔ تو میں نے اس واسطے جان کے کہا۔ ورنہ اصل تو اس زمانہ کے لئے ہے ہی شریعت محمدیہ۔ چونکہ خدا تعالیٰ کے نازل کردہ قانون کے مطابق ان مسائل کو حل نہیں کیا گیا، اس لئے اتنا فساد دنیا میں پڑا کہ اس وقت کچھ لوگ یہ خیال کرنے لگ گئے ہیں کہ ہم اپنے گناہوں کے نتیجے میں کہیں بالکل دنیا میں نابود نہ ہو جائیں۔

1058 اب آپ کہتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس کتاب مکنون سے وہ کون سے خفیہ، پوشیدہ خزانے نکالے۔ میں آپ سے یہ کہتا ہوں کہ اس ایگریکلچر ...... ایگریرین ایوولیوشن جو کہلاتا ہے، اور انڈسٹریل ایوولیوشن کے نتیجے میں جو سوشلزم اور کمیونزم کی شکل میں کسی جگہ کوئی، یعنی انسان کا ایک طبقہ مانتا ہے کہ ان کو Blessing (برکات) انسان کا دوسرا طبقہ اس سے Agree (اتفاق) نہیں کرتا ...... اس جھگڑے میں ہم نہیں پڑتے ...... ان مسائل کو حل کرنے کے لئے قرآن کریم سے علوم نکالے، اور اس میں خود ذاتی گواہ ہوں ...... گو میں ٧١

EMBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08 put it very briefly. تو اس پر آپ ابھی کچھ کہنا چاہتے ہیں؟ مرزا ناصر احمد: اگر آپ تشریف رکھیں ... مرزا ناصر احمد: قرآن کریم نے یہ دعویٰ میں نے بھی پڑھیں۔ ایک دوسری جگہ یہ فرمایا کہ قرآن کھلی ہوئی کتاب ہے، ہر آدمی اس کو پڑھ سکتا ہے، اس اپنی استطاعت کے مطابق اور یہاں یہ فرمایا کہ یہ کتاب پڑھ نہیں سکتا بلکہ اس کے لئے یہ قید لگائی: صرف مطہرین کا گروہ ، امت مسلمہ میں سے میں موجود ہیں: تنزیل من رب العالمین!

1056 ہم نے جو یہ اعلان کیا تھا کہ قیامت ہدایت ہے، قرآن کریم کی شکل میں، ہمارا یہ دعویٰ صحیح نہیں اسرار روحانی اور معارف دقیقہ ایسے نہ ہوں جو زمانہ زمانہ بندے خدا تعالیٰ سے قرآن کریم کے ...... امت محمدیہ ۔ معانی اور تفسیر سیکھ کر اس وقت کے لوگوں کو، اس جگہ کے ، جب تک قرآن کریم کتاب مکنون نہ ہو، اس طرف سے یہ جو تمام عالمین کا times to come قیامت تک کے لئے ہے۔ اس کا یہ تو بڑا وسیع مضمون تھوڑے سے اشارے کر دیتا ہوں۔

اگر آپ ہمارے ”محضر نامہ“ کے ...... ہمار کا نام ہے: ”مقربان الٰہی کی سرفروشی...... روح کا فرگر صدیوں میں سے انتخاب کرکے، مختلف ٥٥ مشہور بزرگو جب ان کی سیرت پر ہم نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں یہ نظر صاحب نے تطہیر اور تجدید کا کام شروع کیا تو اس وقت کہ : ” آپ وہ باتیں کرتے ہیں جو آپ سے پہلے سلف

١؎ خیر خواہی میں طنز کے نشتر ، جو چاہے آپ ٧٠

صفحہ ٥٣٦

یہ فیصلہ قادیانیوں کی طرف سے ہائیکورٹ میں چیلنج کیا گیا لیکن ہائیکورٹ میں بھی ان کی اپیل مسترد ہو گئی اور ماتحت عدالت کا فیصلہ بحال رکھا گیا۔

(پی۔ ایل۔ ڈی ١٩٨٨ء۔ لاہور ص ٤٩)

امتناع قادیانیت آرڈیننس ١٩٨٤ء

٢٦ اپریل ١٩٨٤ء کو حکومت پاکستان نے امتناع قادیانیت آرڈیننس مجریہ ١٩٨٤ء کے ذریعے قادیانیوں کی تمام سرگرمیوں پر پابندی عائد کر دی۔ قادیانیوں کی طرف سے اس آرڈیننس کو وفاقی شرعی عدالت میں چیلنج کیا گیا اور عدالت سے استدعا کی گئی کہ اس آرڈیننس کو خلافِ اسلام اور خلافِ آئین قرار دے کر کالعدم کیا جائے۔ وفاقی شرعی عدالت کے پانچ رکنی بنچ نے اس اپیل پر مسلسل کئی دن سماعت کی۔ قادیانیوں کی طرف سے مسٹر مجیب الرحمان ایڈووکیٹ جبکہ حکومت اور مسلمانوں کی طرف سے درج ذیل وکلاء پیش ہوئے اور دلائل دیئے:

وفاقی شرعی عدالت کے پانچ رکنی بنچ نے قادیانیوں کی یہ اپیل مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ امتناع قادیانیت آرڈیننس ١٩٨٤ء بالکل درست، آئین و قانون کے مطابق اور عین اسلام ہے۔ اور قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا جانا اور ان کی سرگرمیوں پر پابندی لگایا جانا بجا ہے۔ وفاقی شرعی عدالت کے اس پانچ رکنی بنچ میں درج ذیل جج صاحبان شامل تھے:

صفحہ ١١١١

قیمت فی شمارہ -/10 روپے

قومی اسمبلی

مباحث

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

مرزا ناصر احمد: اوہ ہو ہو! یہ مرزا صاحب کا ہے، میں نے ان کی کتابوں سے لیا ہے، یعنی وہ بھی جو اس کتاب میں ہے، اس کا پھیلاؤ جو ہے وہ میں نے کیا آگے ۔

جناب یحییٰ بختیار: اور بھی ہے ایسی کوئی؟

مرزا ناصر احمد: بے شمار۔

جناب یحییٰ بختیار: تو آپ یہ بتادیں گے ایک آدھ؟

مرزا ناصر احمد: کل سارا دن بتاؤں گا۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، ایک اور بتا دیجئے جو مرزا صاحب نے کیا، جو کسی نے پہلے نہیں کیا، یہ بات کی کہ یہ خزانہ انہوں کو.......

1060

مرزا ناصر احمد: مرزا صاحب نے...... میں ایک بہت موٹا، ایک لمبا مضمون بتا دیتا ہوں.......سورۃ فاتحہ کی ایک تفسیر کی، ایک سے زائد تفاسیر کیں، اور اس میں میرا اندازہ یہ ہے کہ ٧٠ فیصد وہ تفسیر ایسی ہے جو پہلے نہیں۔ ہم نے...... جو خود آپ نے کی، اور جو اس میں اصل شان ہے، قرآن کریم کی، وہ یہ ہے کہ آپ، ان کو، ایک دفعہ ایک پادری نے یہ اعتراض کیا کہ جب مسلمانوں کے نزدیک توریت خدا کا کلام اور خدا کی کتاب ہے، اتنی موٹی ایک کتاب یہ توریت اس کے بعد آپ کو یا دنیا کو قرآن کریم کی، جو اس سے چھوٹی ہے کیا ضرورت ہے؟ یہ اعتراض کیا۔ اس کے جواب میں بانی سلسلہ احمدیہ نے یہ ان کو لکھا....... یہ ایک تحریر میں آیا ہوا ہے جواب....... کہ: ”آپ لوگ بات کر رہے ہیں یہ کہ توریت کے بعد قرآن کریم کی کیا ضرورت تھی، اور میں تمہیں یہ کہتا ہوں کہ قرآن کریم کی پہلی سورۃ ، سورۃ فاتحہ جو سات آیات پر مشتمل اور ایک چھوٹی سی سورۃ ہے، اس کے اندر جو روحانی خزائن پائے جاتے ہیں، اگر تمہاری ستر کے قریب کتابوں میں، اتنی موٹی توریت میں، اتنے بھی نکل آئیں، سورۃ فاتحہ جتنے، تو ہم یہ سمجھیں گے کہ آپ کے پاس بھی کچھ ہے۔“ اور یہ ایک چیلنج دیا اور یہ چیلنج ١٨٩٧ء میں میں نے ڈنمارک میں دہرا یا اور لکھ کے ان کو دیا، اور میں نے کہا کہ ”بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ وفات پاگئے اور میں ان کا نائب ہوں۔ اب یہ میری ذمہ داری ہے جسے میں قبول کرتا ہوں۔“ ستر (٧٠) ، اسی (٨٠) سال صحیح مجھے یاد نہیں ہے تاریخ کا، جب یہ چیلنج دیا گیا...... بہر حال ایک لمبا زمانہ گزرا اس کو دہرایا گیا اور دہرایا جاتا رہا اور عیسائی لوگ جو تھے وہ اس کی طرف نہیں آئے۔ وہ ساری تفسیر جو ہے، میں نے آپ کو بتایا کہ وہ میں کل اگر اجازت دیں تو آپ کے سامنے پیش کر دیتا ہوں ان میں سے ایک۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، صرف میں یہ کہتا ہوں کہ پہلے جو تیرہ سو سال مسلمانوں نے......

٧٣

SEMBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

اپنی ذات کے متعلق بات کرنا پسند نہیں کرتا مگر اس وقت میں یورپ میں گیا، اور میں نے Continent (براعظم) اور وہاں میں نے اس مسئلہ پر ان کو بتایا کہ کمیونزم جو حل ہے، اس سے کہیں زیادہ بہتر، اس سے کہیں زیادہ اچھا ا (مطمئن) کرنے والا حل قرآن کریم میں موجود ہے، تو ا جو اس Age (زمانہ) میں جماعت احمدیہ کے ذریعے میرا یہ دعویٰ نہیں کہ پہلی کتب ساری پہ میرا عبور ہے...... مسائل کا حل کرنے کے لئے پہلی کتب میں سے مواد نکا خزانہ پہلے آگیا، نئے کی ضرورت نہیں ہے۔ تو ایک ہی معنی ہوں، اور ایک ہی وقت میں اسی سانس میں، یہ ہوں، اس آیت کی جو تفسیر ہے:

یہ تفسیر جو ابھی میں نے آپ کو بتائی ہے، اس میرا نہیں خیال کہ پہلے آتی ہے۔ لیکن یہ علم تھا ان کو کہ زمانے کے نئے مسائل کو حل کرنے کی قرآن کریم میں ایسے اولیاء امت کا پیدا ہونے جو ان نئے مسائل کو ح کرتے تھے اور استدلال کرتے تھے، ساری امت کا ا دی گئی اور سختی کی گئی، یہ اس کا نتیجہ تھا کہ: (عربی) کو عام آدمی نہیں سمجھ سکتے، تو مخفی خزانے ت منٹ بات کی ہے، اگر مجھے اجازت دیں تو میں دو چار

(مرزا نے کیا علوم قرآنی دی

جناب یحییٰ بختیار: وقت بہت کم ہے

آیات جن کا انہوں نے خود Interpretation دیجئے۔ آپ نہیں بتا رہے، تو پھر......

مرزا ناصر احمد: ابھی میں نے بتادی ا

جناب یحییٰ بختیار: آپ نے اپنا بتا یا

٧٤

صفحہ ١١١٢

1112 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

1061 مرزا ناصر احمد : ہاں، اس میں ایسے مضامین ہیں جو پہلی کتب میں نہیں ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار : کسی نے آج تک نہیں دیئے؟

مرزا ناصر احمد : ہاں، بہت سارا مواد۔ کچھ تھوڑا سا ہے ایسا جو پہلے آچکا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار : پھر آپ نے ابھی فرمایا کہ ...... یہ سوال ایک دفعہ میں پہلے بھی پوچھ چکا ہوں مگر دوسرے حصے میں تھا ...... کہ زمانہ بدل رہا ہے، نئے مسائل حل کرنے کے لئے نئی تشریح وغیرہ کی Interpretation (تفسیر) کی ضرورت ہوتی ہے۔ مرزا صاحب نے یہ Interpretation (تفسیر) کی۔ کیا یہ Interpretation (تفسیر) سوائے ایک نبی کے اور انسان بھی کر سکتے ہیں؟

مرزا ناصر احمد : اللہ تعالیٰ کے تمام نیک بندے اپنی اپنی ضرورت کے مطابق ...... اور ”اپنی“ سے مراد ہے امت محمدیہ کے اندر، اس زمانہ اور اس مقام کی ضرورت کے مطابق ...... بے حد جو ہے یعنی ایسا سمندر خزانے کا جس کے کنارے کوئی نہیں، قرآن کریم، خدا تعالیٰ کا کلام، خدا تعالیٰ کے فعل کی طرح اپنے اندر وسعت رکھتا ہے۔ ...... وہ اپنا اپنا حصہ اپنی استعداد کے مطابق، اپنی ضرورت کے مطابق لیتے رہے ......

جناب یحییٰ بختیار : باقی بھی کر سکتے ہیں؟ یہ ضروری نہیں ......

مرزا ناصر احمد : ...... کرتے رہے۔

جناب یحییٰ بختیار : نہیں، یعنی ضروری نہیں کہ نبی ہی Interpretation (تفسیر) کر سکتا ہے، باقی مسلمان، نیک، اولیاء ......

مرزا ناصر احمد : اولیاء اللہ تعالیٰ سے سیکھ کر، سیکڑوں، ہزاروں شاید لاکھوں کی تعداد میں، اس وقت اس قابل رہ چکے ہیں، ہماری تاریخ میں، جنہوں نے کہ نئی Interpretation (تفسیر) کی۔

1062 جناب یحییٰ بختیار : اور آئندہ بھی کر سکتے ہیں نا جی؟

مرزا ناصر احمد : اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔

جناب یحییٰ بختیار : آئندہ بھی کر سکتے ہیں ......

مرزا ناصر احمد : ہاں، آئندہ بھی کر سکتے ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار : تو اس کے لئے نبی کے آنے کی ضرورت تو نہیں کہ بات نبی کرے گا یہ؟

٧٤

صفحہ ١١١٣

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

مرزا ناصر احمد : اس کے لئے اس شخص کے آنے کی ضرورت تھی جس کے آنے پر محمد ﷺ نے مہر لگائی۔

جناب یحییٰ بختیار : وہ تو، مرزا صاحب: میں پوچھ چکا ہوں۔ آپ نے کہا کہ بس، ان کے بعد اور کوئی نبی نہیں آئے گا، مرزا صاحب......

مرزا ناصر احمد : میں نے یہ نہیں کہا۔

جناب یحییٰ بختیار : نہیں، یعنی امکانی دنیا کی بات نہیں کر رہا، جو ہماری ہدایت ہے، قرآن شریف کی، اس کی Interpretation (تفسیر) کے مطابق۔

مرزا ناصر احمد : ہاں، میں نے یہ کہا تھا یہ ٹھیک ہے، اب آپ نے میری طرف سے صحیح بات کی، میں نے یہ کہا تھا کہ امکانی بات کو چھوڑ دیں۔

جناب یحییٰ بختیار : ہاں نہیں، وہ چھوڑ دیتے ہیں۔

مرزا ناصر احمد : وہ چھوڑ دی۔ میں نے یہ کہا تھا کہ امت محمدیہ میں صرف وہ نبی بن سکتا ہے جس کی نبی اکرم ﷺ نے بشارت دی ہو اور ہمارے علم میں صرف ایک کی بشارت ہے۔

جناب یحییٰ بختیار : ان سے پہلے کوئی نہیں آیا۔ مرزا صاحب سے، اور بعد میں کوئی آجائے گا۔

1063 مرزا ناصر احمد : ہمارے علم میں صرف ایک کی بشارت ہے۔

جناب یحییٰ بختیار : ہاں، بشارت...... یہ کہ اور بھی نہیں آسکے گا۔

مرزا ناصر احمد : ہمارے علم میں کسی اور کی بشارت نہیں۔

(وہ مہر صرف ایک مرتبہ استعمال ہوئی)

جناب یحییٰ بختیار : اور وہ مہر صرف ایک دفعہ استعمال ہوئی، بس؟

مرزا ناصر احمد : اس معاملہ میں۔ لیکن میں نے بتایا کروڑوں آدمی ایسے پیدا ہوئے جو فیض محمدی سے فیضیاب ہو کر دنیا کی اصلاح کا، دنیا کی بہبود کا، فلاح کا کام کرتے رہے۔

جناب یحییٰ بختیار : نہیں، وہ ”ختم نبوت“ کی جو Interpretation (تفسیر) ہے آپ کی، اس کے مطابق کہہ رہا ہوں۔

١؎ جو تفسیر کرے وہ مفسر تو ہو سکتا ہے نبی کیسے ہو گیا؟ کیا خلط ملط کر کے دین کو بگاڑ رہے ہیں آپ؟

٧٥

LY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

1061 مرزا ناصر احمد : ہاں، اس میں ال

جناب یحییٰ بختیار : کسی نے آج ت

مرزا ناصر احمد : ہاں، بہت سارا موا

جناب یحییٰ بختیار : پھر آپ نے ا پوچھ چکا ہوں مگر دوسرے حصے میں تھا...... کہ زمانہ تشریح وغیرہ کی Interpretation (تفسیر Interpretation (تفسیر) کی۔ کیا یہ n کے اور انسان بھی کر سکتے ہیں؟

مرزا ناصر احمد : اللہ تعالیٰ نے تمام اور ”اپنی“ سے مراد ہے امت محمدیہ کے اندر، اس بے حد جو ہے یعنی ایسا سمندر خزانے کا جس کے ک خدا تعالیٰ کے فعل کی طرح اپنے اندر وسعت رکھتا اپنی ضرورت کے مطابق لیتے رہے......

جناب یحییٰ بختیار : باقی بھی کر سکتے

مرزا ناصر احمد : ......کرتے رہے۔

جناب یحییٰ بختیار : نہیں، یعنی خ (تفسیر) کر سکتا ہے، باقی مسلمان، نیک، اولیاء...

مرزا ناصر احمد : اولیاء اللہ تعالیٰ سے میں، اس وقت اس قابل رہ چکے ہیں، ہماری تاری (تفسیر) کی۔

1062 جناب یحییٰ بختیار : اور آئندہ بھ

مرزا ناصر احمد : اور آئندہ بھی کرتے

جناب یحییٰ بختیار : آئندہ بھی کرتے

مرزا ناصر احمد : ہاں، آئندہ بھی کرت

جناب یحییٰ بختیار : تو اس کے ل کرے گا یہ؟

٤

عالمی مجلس تحفظ

مکمل سیٹ

4 جلدیں

قیمت فی شمارہ-/10 روپے

صفحہ ١١١٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

مرزا ناصر احمد: ”ختم نبوت“ کی Interpretation (تفسیر) کے مطابق ہی وہ لاکھوں پیدا ہوتے ہیں۔ جناب یحییٰ بختیار: نبی اور بھی؟ مرزا ناصر احمد: نبی، نہیں...... جناب یحییٰ بختیار: نبی کی میں بات کر رہا ہوں۔ مرزا ناصر احمد: ...... نبی اکرم ﷺ کے فیض سے حصہ پانے والے۔ جناب یحییٰ بختیار: نہیں، وہ تو ٹھیک ہے، اولیاء بھی آسکتے ہیں، مگر نبی جو ہیں ناں، میں نے آپ...... تاکہ پھر نہ Confusion ہو جائے، ایک مسئلہ بڑی مشکل سے Clear (واضح) ہو گیا تھا۔ مرزا ناصر احمد: نہیں اب یہ Clear (واضح) ہے۔ صرف یہ ہے کہ میں یہ کہتا ہوں کہ آنحضرت ﷺ نے صرف ایک کے آنے کی خبر دی، ہمارے علم میں۔ یہ میرا جواب ہے، یہ نوٹ کرلیں ١؂

(مرزا قادیانی کے علاوہ اور کوئی نبی نہیں؟ مرزا ناصر احمد کا جواب گریز)

1064 جناب یحییٰ بختیار: ہاں، اس واسطے میں نے عرض کیا کہ مرزا صاحب کے علاوہ اور کوئی نہیں...... مرزا ناصر احمد: جو میں کہہ چکا ہوں وہ کافی ہے۔ جناب یحییٰ بختیار: اور کوئی نہیں آئیں گے۔ مرزا ناصر احمد: میں جو کہہ چکا ہوں وہ کافی ہے۔ جو میں نے جواب دیئے، میرے نزدیک وہ کافی ہے۔ جناب یحییٰ بختیار: نہیں، تو میں وہی جواب پوچھ رہا ہوں، مرزا صاحب! مرزا ناصر احمد: میں یہ جواب دے چکا ہوں کہ ہمارے علم میں نبی اکرم ﷺ کے کسی اور کے آنے کی خبر نہیں دی۔ یہ میرا جواب ہے، بس ختم ہوئی بات۔ جناب یحییٰ بختیار: مرزا غلام احمد صاحب کے علاوہ۔ یہاں یہ مرزا بشیر الدین محمود صاحب کہتے ہیں: At page 10

١؂ حضور سرور کائنات ﷺ کے بعد صرف ایک نبی اور وہ مرزا قادیانی؟ چہ خوب۔ ٧٦

صفحہ ١١١٥

SEMBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08 مرزا ناصر احمد: ”ختم نبوت“ کی tion وہ لاکھوں پیدا ہوتے ہیں۔ جناب یحییٰ بختیار: نبی اور بھی؟ مرزا ناصر احمد: نبی، نہیں...... جناب یحییٰ بختیار: نبی کی میں بات کر رہا مرزا ناصر احمد: ......نبی اکرم ﷺ کے فیض جناب یحییٰ بختیار: نہیں، وہ تو ٹھیک ہے میں نے آپ...... تاکہ پھر نہ Confusion ہو جا (واضح) ہو گیا تھا۔ مرزا ناصر احمد: نہیں اب یہ Clear ہوں کہ آنحضرت ﷺ نے صرف ایک کے آنے کی خبر نوٹ کر لیں!۔ (مرزا قادیانی کے علاوہ اور کوئی نبی نہیں 1064 جناب یحییٰ بختیار: ہاں، اس واسطے اور کوئی نہیں...... مرزا ناصر احمد: جو میں کہہ چکا ہوں وہ کا جناب یحییٰ بختیار: اور کوئی نہیں آئیں مرزا ناصر احمد: میں جو کہہ چکا ہوں وہ نزدیک وہ کافی ہے۔ جناب یحییٰ بختیار: نہیں، تو میں وہی ب مرزا ناصر احمد: میں یہ جواب دے چکا اور کے آنے کی خبر نہیں دی۔ یہ میرا جواب ہے، بس خت جناب یحییٰ بختیار: مرزا غلام احمد صاح یہاں یہ مرزا بشیر الدین محمود صاحب کہتے

١؎ حضور سرور کائنات ﷺ کے بعد صرف ٧٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08 "We hold the belief that this succession of Prophets will continue in the future as it has done in the past for reason repudiates any permanent cessation of it......" (جناب یحییٰ بختیار: چلیں ص ١٠ ملاحظہ کریں! ”احمدیت اور سچا اسلام“ ہمارا ایمان ہے کہ جیسا کہ ماضی میں ہوتا رہا ہے کہ مستقبل میں بھی نبیوں کی جانشینی جاری رہے گی۔ کیونکہ سلسلہ نبوت کے مستقل اختتام کو عقل رد کرتی ہے یعنی تسلیم نہیں کرتی۔“) مرزا ناصر احمد: امکانی بحث ہے یہ۔ جناب یحییٰ بختیار: بس، وہ پھر آپ....... مرزا ناصر احمد: میں نے، ہاں، میں نے، اس کی Interpretation (تفسیر) کرنی ہے۔ Mr. Yahya Bakhtiar: "...... If mankind is to continue to pass through ages of spiritual darkness, age in which men will wander away from their Maker............" (جناب یحییٰ بختیار: اگر اس دنیا نے روحانی طور پر تیرگی میں ہی رہنا ہے، جس میں لوگ اپنے خالق سے غافل اور گمراہ ہی سرگردان رہیں، تو......) 1065 مرزا ناصر احمد: یہ بہت لمبی بحث پہلے ہوچکی ہے۔ وہ اگر کوئی اور سوال ہوں تو ان کا زیادہ اچھا ہے۔

(ہزاروں نبی آئیں گے؟)

جناب یحییٰ بختیار: آپ نے کہا تھا، مرزا صاحب! کہ ہزاروں نبی آئیں گے اور...... مرزا ناصر احمد: امکانی۔ جناب یحییٰ بختیار: آپ نے کہا ”امکانی“ یہاں تو کہتے ہیں: (ہمارا ایمان ہے......) "We hold the belief......" مرزا ناصر احمد: امکانی۔ Mr. Yahya Bakhtiar: This is a question of faith, belief. امکانی اور بات ہے، جو قرآن کے مطابق، روشنی میں، میں تو یہ سمجھتا ہوں وہ یہ نہیں ٧٧

قیمت فی فارم 10/- روپے مکمل بحث ٧ جلدوں قادیانی محاسبہ

صفحہ ١١١٦

عالمی مجلس تحف مجلس

قیمت فی شمارہ-/10 روپے

1116 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

کہتے کہ ...... اللہ میاں ساری دنیا کو ختم کر سکتا ہے، تو اس کے بعد تو Interpretation (تفسیر) کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ یہ امکان ہو سکتا ہے کہ یہ زمین ہی ختم، اس کے بعد قرآن کی Interpretation (تفسیر) بھی ختم وہ رب العالمین ہے۔ کئی دنیا ئیں اور ہیں۔ وہ بات، امکانی بات میں نہیں کر سکتا۔ اللہ میاں کے بس کی بات ہے کہ قرآن کو منسوخ کر کے نیا شرعی نبی لے آئے، وہ امکانی بات ہے۔ مگر جو اللہ میاں کا جو موجودہ قانون ہے، اس کی Interpretation (تشریح) کے مطابق یہ بات ہو رہی ہے۔ آپ نے کہا ”وہی ایک کی بشارت ہے“ اور یہاں یہ کہہ رہے ہیں کہ ”اور بھی آئیں گے“ میں اس واسطے کہہ رہا ہوں کہ اگر آپ ...... یہ مطلب کچھ اور ہے ان کا :

"We hold the belief that this succession of Prophets will continue in the future as it has done in the past for reason repudiates any permanent cessation of it. If mankind is to continue to pass through ages of spiritual darkness, ages in 1066 wich men will wander away from their Maker if from time to time, men are to be liable to go astray from the right path and to grope in the thick darkness of doubt and despair in their efforts to regain it; if they are to continue their search for light in all such ages and times, it is impossible to believe that divine torch-bearers and guides, should cease to appear; for it is inconsistent with Rahmaniyat, the mercy of God, that he should permit the ill but should not provide the remedy, that He should create the yearning but should withdraw the means of satisfying it". Then he says how this Prophet came ......

(”...... ہمارا ایمان ہے کہ جیسا کہ ماضی میں ہوتا رہا ہے۔ مستقبل میں بھی نبیوں کی جانشینی کا سلسلہ نبوت کے مستقل اختتام کو عقل رد کرتی ہے (یعنی تسلیم نہیں کرتی) اگر اس دنیا نے روحانی طور پر اندھیروں ہی میں رہنا ہے جس میں لوگ اپنے خالق سے غافل اور گمراہ ہی رہیں اور

٧٨

1117 NATIONAL ASS

ہیں گے اور پھر اس کی تلاش میں امیدوں تلاش کرتے پھریں گے تو پھر یہ مان لینا سلہ بند ہو جائے۔ کیونکہ یہ خداوند تعالیٰ کی اوند تعالیٰ شر کی اجازت تو دے رہا ہے مگر کہ اللہ تعالیٰ ہدایت حاصل کرنے کا جذبہ تو

تاؤں گا، کیونکہ اس وقت تو پھر بحث شروع

ف پڑھ کر سنایا ہے ......

بڑی اچھی انگریزی ہے کیونکہ چوہدری پر وہ دوسری بات ......

انسلیشن کی جو ہے ...... یا دہ ملے۔ Mr. Yahya Bak اور English تھا کہیں۔ (عقیدہ ہے؟) وقت پوچھنا نہیں چاہتا، مگر وہ میرے خیال 1067 یہ سوال آئے ہیں میرے پاس ...... میں ، جہاد کے متعلق آپ کا کیا عقیدہ ہے؟ وہ میں آپ سے سوال پوچھوں کہ جی، جہاد

صفحہ ١١١٧

قیمت فی شمارہ 10/- روپے

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

1117 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

اگر اس بات کا امکان ہے کہ لوگ صراط مستقیم سے ہٹتے رہیں گے اور پھر اس کی تلاش میں امیدوں کے اندھرا میں سر مارتے رہیں گے (ایمان) کی روشنی تلاش کرتے پھریں گے تو پھر یہ مان لینا ناممکن ہے کہ قدرت کے فرستادہ رہبروں کی آمد کا سلسلہ بند ہوجائے۔ کیونکہ یہ خداوند تعالیٰ کی صفت رحمانیت کی ضد ہوگا۔ اس کا یہ مطلب ہوگا کہ خداوند تعالیٰ شرک کی اجازت تو دے رہا ہے مگر اس شرک کا علاج پیدا نہیں کر رہا اس کا یہ بھی مطلب ہوگا کہ اللہ تعالیٰ ہدایت حاصل کرنے کا جذبہ تو پیدا کر رہا ہے مگر ہدایت کے ذرائع کو ختم کر رہا ہے۔“

مرزا ناصر احمد: یہ تو پھر میں دیکھ کے کل بتاؤں گا، کیونکہ اس وقت تو پھر بحث شروع ہوجاتی ہے١؎

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، جی میں نے صرف پڑھ کر سنایا ہے......

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں۔

جناب یحییٰ بختیار: انگریزی ہے، اور بڑی اچھی انگریزی ہے کیونکہ چوہدری ظفراللہ خان صاحب نے ٹرانسلیٹ کیا ہے اس کو۔ اس پر وہ دوسری بات......

مرزا ناصر احمد: اس کی اردو بھی موجود ہے......

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، نہیں، نہیں، یعنی ٹرانسلیشن کی جو ہے......

مرزا ناصر احمد: ......ممکن ہے وہاں روشنی زیادہ ملے۔

Mr. Yahya Bakhtiar: Turned it into a very good English اور

چوہدری صاحب نے کیا ہے، میں نے پڑھا تھا کہیں۔

(جہاد کے متعلق آپ کا کیا عقیدہ ہے؟)

مرزا صاحب! ایک سوال تھا، جو کہ میں اس وقت پوچھنا نہیں چاہتا، مگر وہ میرے خیال میں چونکہ وہ بہت ایک لمبا چوڑا سوال ہے...... بہت پیچیدہ سوال آئے ہیں میرے پاس...... میں 1067 چاہتا ہوں کہ اس پر بہت ہی کم وقت لگے تو بہتر ہوگا۔ وہ جہاد کے متعلق آپ کا کیا عقیدہ ہے؟ وہ آپ Briefly (مختصراً) بتا دیں، بجائے اس کے کہ میں آپ سے سوال پوچھوں کہ جی، جہاد بالسیف منسوخ ہوگیا؟

١؎ کل کی پیشی ڈال دی۔ ابو کے حوالہ کو؟

٧٩

Y OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

کہتے کہ ...... اللہ میاں ساری دنیا کو ختم کر سکتا (تفسیر) کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ یہ امکان Interpretation (تفسیر) بھی ختم وہ رسا امکانی بات میں نہیں کر سکتا۔ اللہ میاں کے بس لے آئے، وہ امکانی بات ہے۔ مگر جو ا Interpretation (تصریح) کے مطابق ا بشارت ہے“ اور یہاں یہ کہہ رہے ہیں کہ ”اور آپ...... یہ مطلب کچھ اور ہے ان کا:

ut this succession of Prophets it has done in the past for nt cessation of it. If mankind s ages of spiritual darkness. r away from their Maker it e liable to go astray from the thick darkness of doubt and in it; if they are to continue such ages and times, it is he torch-bearers and guides, or it is inconsistent with. , that he should permit the ill edy, that He should create the he means of satisfying it". Prophet came ......

(”...... ہمارا ایمان ہے کہ جیسا کہ جانشینی کا سلسلہ نبوت کے مستقل اختتام کو عقل روحانی طور پر اندھیروں ہی میں رہنا ہے جس م

صفحہ ١١١٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

مرزا ناصر احمد : نہیں میں ایک فقرے میں بتا دیتا ہوں۔

جناب یحییٰ بختیار : نہیں، اس واسطے کہ وہاں وہ کہتے ہیں کہ جہاں تلوار کا منسوخ ہو گیا ہے، یہ ہوا، آپ کا جو ویو پوائنٹ ہے ......

مرزا ناصر احمد : ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ جہاد جو ہے اپنی شرائط کے ساتھ واجب ہو جاتا ہے۔ جو شرائط جہاد ہمارے لٹریچر میں پہلے آئی ہوئی ہیں، علماء نے بحث کی ہے، اگر وہ شرائط موجود ہوں تو جہاد فرض ہے اور اگر وہ شرائط موجود نہ ہوں تو جہاد جائز ہی نہیں اور یہ فقرہ میرے بتانے کے لئے کافی ہے ہم جہاد کو، جو قرآن کریم نے اپنے رنگ میں ...... عظیم کتاب ہے ...... اور نبی اکرم ﷺ کے جو ارشادات ہیں ...... کوئی دنیا کا شخص اسے منسوخ نہیں کر سکتا، التوا کر سکتا ہے، یہ کہہ کے کہ آج کے دن یا آج کے زمانے میں جہاد کی شرائط نہیں پائی جاتیں، اس لئے جہاد نہیں ہوگا اور اس وجہ سے علمائے امت نے نبی اکرم ﷺ کی حدیث جو جہاد کے متعلق آتی ہے؛ اس کے یہی معنی ہیں کہ مہدی کے زمانہ میں جہاد کی شرائط جو ہیں، وہ نہیں پوری ہوں گی۔

جناب یحییٰ بختیار : مرزا صاحب! یہ جو انگریز کا زمانہ تھا، اس میں آپ سمجھتے تھے کہ یہ ملتوی ہو گیا ، منسوخ نہیں ہوا ......

مرزا ناصر احمد : ہاں

1068 جناب یحییٰ بختیار : یہ مطلب ہوا ناں جی؟

مرزا ناصر احمد : ہاں، بالکل یہ مطلب ہوا، اور ”محضر نامہ“ میں اس کا جواب ......

جناب یحییٰ بختیار : نہیں، میں اس کے متعلق ......

مرزا ناصر احمد : جواب موجود ہے۔ اگر سوال دہرائیں گے تو آپ نے خود مجھے اجازت دی تھی کہ میں جواب بھی دہرا دوں۔

جناب یحییٰ بختیار : نہیں، وہ تو جو چیز ریکارڈ پر آ چکی ہے، As a statement ایک تو ہوتی ہے ناں Evidence ......

مرزا ناصر احمد : جو چیز ریکارڈ پر آچکی ہے، As a question ......

جناب یحییٰ بختیار : میں نے کون سوال دہرایا ہے، مرزا صاحب؟

مرزا ناصر احمد : یہی جہاد کا۔

جناب یحییٰ بختیار : جہاد کا سوال تو پہلی دفعہ پوچھ رہا ہوں آپ سے۔

٨٠

صفحہ ١١١٩

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

مرزا ناصر احمد: ہاں، یہ سارا آیا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں، میں نے تو یہ سوال پہلی دفعہ پوچھا ہے اب۔ میں نے کہا کہ میں تو اس پر بعد میں آرہا تھا۔ اس کا سوال میں نے پہلی دفعہ پوچھا ہے۔ آپ بے شک توجہ دلا دیجئے کہ فلانے فلانے Pages پر جواب دے چکے ہیں آپ۔

مرزا ناصر احمد: ہاں ”محضر نامہ“ میں!۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، وہ آپ بے شک کہہ دیں کہ ”Page فلانے فلانے پر ہم جواب دے چکے ہیں۔“ That will cover it, I will read it again (یہ اس پر حاوی ہے میں اسے پھر پڑھ دیتا ہوں ) اور کوئی سپلیمنٹری کی ضرورت نہیں ہے۔

1069 مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، یہ جو ہے ”انکار جہاد کے الزام کی حقیقت“ یہ ”محضر نامہ“ کا عنوان ہے۔ یہ عنوان تو شروع ہو گیا ١١٥ صفحے پر اور یہ مضمون شروع ہوا ہے ١١٧ صفحے پر اور یہ ختم ہوا ہے ١٤٦ صفحے پر اور اس بحث میں اس زمانہ میں جہاد کے التوا یعنی لازم نہ ہونے، شرائط کے پورے نہ ہونے کے متعلق جو حوالے ہم نے ان بزرگوں کے پڑھے تھے جو احمدی نہیں، وہ یہ ہیں .......میں نام بتا دیتا ہوں: مولانا سید حبیب صاحب مدیر ”سیاست“، چوہدری افضل حق، مفکر احرار، ”صادق الاخبار“ ریواڑی میں ہے، مرزا حیرت دہلوی کا حوالہ ہے اور اخبار ”وکیل“ امرتسر، ابوالکلام آزاد صاحب کا حوالہ ہے اور حضرت خواجہ غلام فرید کا سجادہ نشین چاچڑاں شریف کا حوالہ ہے۔.....

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، وہ تو ٹھیک ہے، مرزا صاحب.....!

مرزا ناصر احمد: اور انہوں نے اس زمانے کے متعلق اس رائے کا اظہار کیا ہے جس رائے کا اظہار بانی سلسلہ احمدیہ نے کیا ہے اور ہمارے جو پچھلی صدی کے مجدد تھے ناں، ان پر اعتراض کیا کہ آپ وہاں جاکے سکھوں سے لڑ رہے ہیں اور ایک غیر مسلم عیسائی حکومت یہاں ہے موجود، اس کو چھوڑ کے جا رہے ہیں۔ تو انہوں نے جواب دیا کہ اس حکومت سے جہاد جائز ہی نہیں ہے۔

١؎ قادیانی کرم فرما مرزا ناصر کی قلابازیاں ملاحظہ کریں۔ پہلے کیا اس سوال کا جواب ہو چکا ہے۔ اب کہتا ہے کہ محضر نامہ میں ہے۔ ارے صاحب! محضر نامہ سے ہی تو سوال پیدا ہوئے۔ بہر حال پہلے ایک موقف اختیار پھر مؤقف بدل لیا۔ قادیانی حضرات توجہ فرمائیں کہ مرزا ناصر کی انہی پھرتیوں نے اس کو رسوا کیا تھا۔

٨١

KISTAN 21th Aug, 1974 No:08

مرزا ناصر احمد: نہیں میں

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، گیا ہے، یہ ہوا۔ آپ کا جو ویو پوائنٹ ہے...

مرزا ناصر احمد: ہمارا یہ عقید ہے۔ جو شرائط جہاد ہمارے لٹریچر میں پہلے ہوں تو جہاد فرض ہے اور اگر وہ شرائط موجود لئے کافی ہے ہم جہاد کو، جو قرآن کریم اکرم ﷺ کے جو ارشادات ہیں ..... کوئی کہہ کے کہ آج کے دن یا آج کے زمانے ہوگا اور اس وجہ سے علمائے امت نے نبی کے یہی معنی ہیں کہ مہدی کے زمانہ میں جہا

جناب یحییٰ بختیار: مرزا ص یہ ملتوی ہو گیا، منسوخ نہیں ہوا .....

مرزا ناصر احمد: ہاں

1068 جناب یحییٰ بختیار: یہ

مرزا ناصر احمد: ہاں، بالکل

جناب یحییٰ بختیار: نہیں م

مرزا ناصر احمد: جواب م اجازت دی تھی کہ میں جواب بھی دہرا دوں

جناب یحییٰ بختیار: نہیں ایک تو ہوتی ہے ناں Evidence.....

مرزا ناصر احمد: جو چیز ریکا

جناب یحییٰ بختیار: میں ۔

مرزا ناصر احمد: یہی جہاد کا

جناب یحییٰ بختیار: جہاد کا

صفحہ ١١٢٠

1120 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، وہ میں سمجھتا ہوں جی، وہ میں سوال یہ پوچھنا چاہتا تھا کہ ایک خاص حالات، ایک لڑائی ہے، جیسا کہ ١٨٥٧ء کی تھی۔ اس پر انہوں نے کہا کہ یہ جہاد نہیں ہے، یہ غلط ہے۔ یہ ایک Incedent کے بارے میں ہے ایک یہ ہے کہ انگریز کے دور میں......

مرزا ناصر احمد: ہاں، انگریز کے دور کا ہی میں ذکر کر رہا ہوں۔

1070 جناب یحییٰ بختیار: ......کر رہا ہوں۔ جہاد جو ہے، ملتوی ہے......

مرزا ناصر احمد: میں اس کی بات کر رہا ہوں۔

(انگریز کے دور میں جہاد ملتوی)

جناب یحییٰ بختیار: یعنی مرزا صاحب کہہ رہے ہیں کہ سارے انگریز کے دور میں جہاد ملتوی ہے، Past, Present and Future (ماضی، حال اور مستقبل) میں

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، Future (مستقبل) کا جب تک اللہ تعالیٰ انہیں نہ کہتا، وہ نہ کہہ سکتے۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں یہی Clarify (وضاحت) کر رہا ہوں کہ جب تک وہ کہہ رہے ہیں......

مرزا ناصر احمد: جب تک وہ حالات رہیں۔ ”دیکھیں، یہ سن لیں، حضرت سید احمد صاحب بریلوی کیا کہتے ہیں: ”سرکار انگریزی گو منکر اسلام ہے.....“ یہ سرکار انگریزی کی بات ہو رہی ہے ناں: ”......مسلمانوں پر کچھ ظلم اور تعدی نہیں کرتی، نہ ان کو فرض مذہبی اور عبادت لازمی سے روکتی ہے۔ ہم ان کے ملک میں اعلانیہ وعظ کہتے اور ترویج کرتے ہیں اور وہ کبھی مانع اور مزاحم نہیں ہوتی، بلکہ اگر ہم پر کوئی زیادتی کرتا ہے تو اس کو سزا دینے کو تیار ہے۔ ہمارا اصل کام اشاعت توحید الٰہی اور احیائے سنن سید المرسلین ہے جو ہم بلا روک ٹوک اس ملک میں کرتے ہیں۔ پھر ہم سرکار انگریزی پر کس سبب سے جہاد کریں۔“

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، یہ میں نے پڑھا ہے جی......

مرزا ناصر احمد: تو یہ تو اور ہے ناں۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، وہ سب صرف اس لئے کہ آپ پڑھ لیں......

1071 مرزا ناصر احمد: ہاں، یہ عام ہے اور اصل جو مسئلہ ہے وہ یہ ہے...... یہ تو اس مسئلہ کا اطلاق ہر زمانے میں ہے ناں...... مسئلہ یہ ہے، متفق علیہ...... شرائط میں ممکن ہے کوئی تھوڑا

٨٢

صفحہ ١١٢١

MBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، وہ میں سمجھتا ایک خاص حالات، ایک لڑائی ہے، جیسا کہ ١٨٥٧ء ہے، یہ غلط ہے۔ یہ ایک Incedent کے بارے میں

مرزا ناصر احمد: ہاں، انگریز کے دور کا ہی

1070 جناب یحییٰ بختیار: ...... کر رہا ہوں

مرزا ناصر احمد: میں اس کی بات کر رہا ہو (انگریز کے دور میں

جناب یحییٰ بختیار: یعنی مرزا صاحب کے جہاد ملتوی ہے، st, Present and Future

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، uture نہ کہتا ، وہ نہ کہہ سکتے۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں یہی ق تک وہ کہہ رہے ہیں ......

مرزا ناصر احمد: جب تک وہ حالات ر صاحب بریلوی کیا کہتے ہیں: ”سرکار انگریزی کو منکر ہو رہی ہے ناں:”...... مسلمانوں پر کچھ ظلم اور تعدی نہیں سے روکتی ہے۔ ہم ان کے ملک میں اعلانیہ وعظ کہتے ا نہیں ہوتی ، بلکہ اگر ہم پر کوئی زیادتی کرتا ہے تو اس کو س توحید الٰہی اور احیائے سنن سید المرسلین ہے جو ہم بلا ر سرکار انگریزی پر کس سبب سے جہاد کریں۔“

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، یہ میں نے پڑ

مرزا ناصر احمد: تو یہ تو اور ہے ناں۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، وہ سب صرف

1071 مرزا ناصر احمد: ہاں، یہ عام ہے ا مسئلہ کا اطلاق ہر زمانے میں ہے ناں ...... مسئلہ یہ ہے

٨٢

1121 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

بہت فرق ہو..... کہ جب تک شرائط جہاد پوری نہ ہوں جہاد فرض نہیں اور جب جہاد کی شرائط ہوں گو اس وقت جہاد سے پیچھے رہنا گناہ ہے۔ یہی ہمارا مسئلہ ہے۔

[At this stage Mr. Chairman vacated the Chair which was occupied by Madam Deputy Speaker (Dr. Mrs. Ashraf Khatoon Abbasi)]

جناب یحییٰ بختیار: ٹھیک ہے، یہ ایک آپ نے Clarify کر دیا۔ اس میں ایک اور پوائنٹ ہے۔ ایک تو شرائط موجود نہیں ، اس لئے جہاد جائز نہیں۔ دوسرا شرائط موجود ہیں، جہاد جائز ہے، مگر Method تلوار کا نہیں قلم کا ہو، یہ بھی آپ کا ہے کوئی ؟ اس پر ......

مرزا ناصر احمد: ہاں، یہ سوال یہ ہے کہ اسلامی لٹریچر میں اور نبی اکرم ﷺ کے ارشادات میں تین جہادوں کا ذکر ہے۔ ایک کو ہمارا لٹریچر کہتا ہے ”جہاد اکبر“ اور اس کا مفہوم یہ لیا جاتا ہے: ”اپنے نفس کے خلاف جہاد، محاسبہ نفس Self Criticism (محاسبہ خود) اصلاح نفس کی خاطر“ اس کو اسلامی اصطلاح میں ”جہاد اکبر“ کہتے ہیں۔ اور ایک اسلامی اور قرآن کریم کی اصطلاح میں آتا ہے ”جہاد کبیر“ اور وہ قرآن عظیم اور اسلام کی تبلیغ اور اشاعت کا نام اور قرآن کریم میں آیا ہے: قرآن کریم کو لے کر دنیا میں اس کی اشاعت کا جو کام ہے وہ قرآنی اصطلاح میں ”جہاد کبیر“1072 کہلاتا ہے۔ اور ایک ”جہاد صغیر“ اور وہ تلوار کی جنگ یا اب جنگ کے حالات بدل گئے، اب بندوق اور ایٹم بم سے ہونے لگ گئی، بہر حال، مادی ذرائع سے انسانی جان کی حفاظت کے لئے یا لینے کے لئے تیار ہو جانا، یہ ہے ”جہاد صغیر“

تو جو آپ نے اب بات کی، دوسری، وہ جہاد کبیر سے تعلق رکھتی ہے، جہاد صغیر سے نہیں: قرآن کریم کی آیت ہے کہ اس قرآن کریم کو لے کے دنیا میں پھیلو اور اس ہدایت اور شریعت کو پھیلانے کا جہاد کرو، تبلیغ کا جہاد کرو۔

جناب یحییٰ بختیار: یہ تلوار کی جو ......

مرزا ناصر احمد: نہ، نہ، قرآن کریم ......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی، میں تلوار کے جہاد کی Clarification چاہتا ہوں۔

مرزا ناصر احمد: وہ جہاد صغیر کہلاتا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: یعنی وہ جو تھا، مرزا صاحب نے کہا انگریز کے دور میں وہ بھی

٨٣

صفحہ ١١٢٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

منسوخ ہے۔......

مرزا ناصر احمد: حضرت مرزا صاحب نے، حضرت مرزا صاحب سے پہلے مجدد نے، اور اس وقت کے علمائے وقت نے یہ کہا......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں مرزا صاحب کا...... کیونکہ......

مرزا ناصر احمد: میں بتا چکا ہوں کہ ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ اگر شرائط جہاد نہ ہوں، نہ پائی جائیں، تو جہاد نہیں ہوگا......

جناب یحییٰ بختیار: یہ تو ایک بات ہو گئی......

1073 مرزا ناصر احمد: اور حضرت مرزا صاحب نے یہ کہا...... باقیوں کی طرح...... کہ اس وقت شرائط جہاد نہیں پائی جاتیں، ہمیں مذہبی آزادی ہے، اور......

جناب یحییٰ بختیار: ہاں یہ تو Clear (واضح) ہو گئی، آپ نے جو بات کی۔ دوسری بات۔ اس کی اگر شرائط موجود ہوں تو پھر وہ Method (طریقہ) جو ہے۔ وہ تلوار کا نہیں قلم کا؟

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں......

جناب یحییٰ بختیار: یہ کہاں آتا ہے؟

مرزا ناصر احمد: اوہو! میں نے اس کو تو Explain (واضح) کیا۔ جب جہاد کی شرائط موجود ہوں، جہاد صغیر کی، تو جہاد صغیر کیا جائے گا، یعنی تلوار کا جہاد اور جس وقت جہاد صغیر کی شرائط موجود نہ ہوں تو جہاد صغیر نہیں کیا جائے گا۔ یہ تو یہاں ختم ہو گیا......

جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی۔

مرزا ناصر احمد: ...... باب بند۔ دوسرا باب شروع ہوا ہے جہاد کبیر کا، اور وہ ہے قلم کا جہاد، وہ قرآن کریم کے معانی اور اشاعت کا جہاد۔ اس کا تعلق جہاد صغیر سے نہیں ہے۔ اس کو "جہاد کبیر" کہتا ہے قرآن کریم، اور جب جہاد صغیر...... مسئلہ یہ ہے کہ اگر جہاد صغیر...... تلوار کا جہاد...... ملتوی ہو، بوجہ شرائط کے پوری نہ ہونے کے، تب بھی جو جہاد کبیر ہے، اس سے بڑا جہاد ہے، قلم کا جہاد، قرآن کریم کو لے کے دنیا میں اس کی اشاعت کرنے کا جہاد یہ نہیں کہ ایک آدمی کھڑے ہو کے کہہ دے کہ "تلوار کا جہاد نہیں ہے، اس لئے ہم تبلیغ کا جہاد بھی نہیں کریں گے" یہ غلط ہوگا...... شرائط جہاد صغیر نہ ہوں موجود، تب بھی جہاد کبیر، قلم کا جہاد جو ہے، وہ ضروری ہے۔

٨٤

PDF 549

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت مکمل سیٹ قیمت فی شمارہ 10/- روپے

1123 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

جناب یحییٰ بختیار: انگریز کے زمانے میں جہاد کبیر کے حالات موجود تھے مگر جہاد صغیر کے نہیں تھے؟

1074

مرزا ناصر احمد: انگریز کے زمانہ میں اس وقت کے تمام کی رائے کے مطابق جہاد صغیر کے حالات نہیں تھے، مگر ہر زمانے میں جہاد کبیر کے حالات رہتے ہیں۔ جناب یحییٰ بختیار: یعنی اگر مسلمانوں کا ملک ہو، مسلمانوں کی حکومت ہو...... یہ تو انگریز کی حکومت تھی...... ادھر بھی جہاد کبیر چلتا رہتا ہے؟ مرزا ناصر احمد: قرآن کریم کو، سنت کو قائم کرنا، اور اصلاح امت، جو اس ملک میں رہ رہی ہو، اس کی کوشش کرتے رہنا اور بیدار رہنا، کوئی وسوسہ، کوئی بدعت بیچ میں نہ آجائے، یہ جہاد کبیر ہے، یہ چلتا رہتا ہے۔ جناب یحییٰ بختیار: نہیں، وہ تو میں سمجھ گیا ہوں۔ یہ میرا Impression (تاثر) ہے کہ مرزا صاحب نے تلوار کو قلم سے Substitute (تبدیل) کیا۔ Mirza Nasir Ahmad: No, no ...... (مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں۔......) جناب یحییٰ بختیار: یہ جو ناں...... مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں یہ نہیں ہے۔ یہ کیا کہ قلم کے جہاد کی نہیں ہیں وہ شرائط یہاں موجود، لیکن جہاد کبیر کی اس زمانہ میں خاص کر ضرورت ہے، کیونکہ غیر مذاہب حملہ آور ہو رہے تھے...... جناب یحییٰ بختیار: ہاں، نہیں، وہ تو میں سمجھ گیا ہوں...... مرزا ناصر احمد: یعنی یہ بڑی وضاحت سے ہے کہ اگر شرائط پوری ہوں گی تو احمدی لڑیں گے جا کر، باقی مسلمانوں کے ساتھ مل کے۔ جناب یحییٰ بختیار: اس پر بہت سارے سوال ہیں جی، میرے پاس۔ پھر میں ان میں سے ایک دو ذرا دیکھ کے، تاکہ ٹائم ضائع نہ ہو...... مرزا ناصر احمد: ہاں جی، مجھے تو آپ ریسٹ دے دیتے ہیں، شکریہ۔

1075

جناب یحییٰ بختیار: ہیں جی؟ مرزا ناصر احمد: میں نے کہا مجھے آپ ذرا آرام پہنچا دیتے ہیں، شکریہ ؎ اے طنز کے نشتر، شکریہ کی آڑ میں، چبھن میں چھپی طوائف کا کردار سامنے آرہا ہے۔ ٨٥

MBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

منسوخ ہے۔...... مرزا ناصر احمد: حضرت مرزا صاحب نے، اور اس وقت کے علمائے وقت نے یہ کہا...... جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں مرزا صا مرزا ناصر احمد: میں بتا چکا ہوں کہ ہما جائیں، تو جہاد نہیں ہوگا...... جناب یحییٰ بختیار: یہ تو ایک بات ہوگئی

1073

مرزا ناصر احمد: اور حضرت مرزا م اس وقت شرائط جہاد نہیں پائی جاتیں، ہمیں مذہبی آزا جناب یحییٰ بختیار: ہاں یہ تو Clear دوسری بات۔ اس کی اگر شرائط موجود ہو وہ تلوار کا نہیں قلم کا؟ مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں...... جناب یحییٰ بختیار: یہ کہاں آتا ہے؟ مرزا ناصر احمد: اوہو! میں نے کب کہا شرائط موجود ہوں، جہاد صغیر کی، تو جہاد صغیر کیا جائے شرائط موجود نہ ہوں تو جہاد صغیر نہیں کیا جائے گا۔ یہ تو جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی۔ مرزا ناصر احمد: ...... پابند۔ دوسرا جہاد، وہ قرآن کریم کے معانی اور اشاعت کا جہاد ”جہاد کبیر“ کہتا ہے قرآن کریم، اور جب جہاد صغیر جہاد...... ملتوی ہو، بوجہ شرائط کے پوری نہ ہونے کے ہے، قلم کا جہاد، قرآن کریم کو لے کے دنیا میں اس کا کھڑے ہو کے کہہ دے کہ ”تلوار کا جہاد نہیں ہے، اس ہوگا...... شرائط جہاد صغیر نہ ہوں موجود، تب بھی جہاد ک ٨٤

صفحہ ١١٢٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

جناب یحییٰ بختیار: تو ہم پانچ دس منٹ کی بریک کر لیتے ہیں؟ مرزا ناصر احمد: نہیں، میرا مطلب تھا کہ یہ بھی ایک ہو جاتا ہے ناں۔ جناب یحییٰ بختیار: پھر پانچ دس منٹ کی بریک کر دیتے ہیں۔ مرزا ناصر احمد: ایک ہونی تو ہے کسی وقت۔ جناب یحییٰ بختیار: ہاں، ہاں، انہوں نے کہا کہ ابھی کر دیتے ہیں، تا کہ اس کے بعد آدھا گھنٹہ اور بیٹھ لیتے ہیں۔ مرزا ناصر احمد: ہاں، ٹھیک ہے۔

Mr. Yahya Bakhtiar: Mr. Chairman Shall we have a break for five or ten minutes)

(جناب یحییٰ بختیار: جناب چیئرمین! کیا ہمیں پانچ یا دس منٹ کے وقفہ کی اجازت ہے؟)

(Interruption)

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، انہوں نے کل کہا ہے اور مجھ پر بہت پریشر ہے کہ یہ سوال آپ پوچھیں پہلے۔ ایک طرف ممبر صاحب کہہ رہے ہیں کہ ہمارے سوال سب پوچھیں، دوسری طرف سے وہ کہہ رہے ہیں کہ جلدی فیصلہ ہو۔

محترمہ قائمقام چیئرمین (ڈاکٹر مسز اشرف خاتون عباسی): نہیں، آج تو دس بجے تک چلیں گے۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، تو ابھی بریک کر لیتے ہیں ناں جی، ابھی بریک کر لیتے ہیں۔ مرزا ناصر احمد: دس ساڑھے دس بجے تک چلائیں بیشک۔ 1076 جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی، بیشک اب صرف پھر دس پندرہ منٹ...... مرزا ناصر احمد: ہاں، پندرہ منٹ کی بریک کر لیتے ہیں۔ جناب یحییٰ بختیار: ...... ایک پیالی چائے کی پی لیں گے، ذرا پھر اس کے بعد ...... مرزا ناصر احمد: کیوں جی، اجازت ہے، چیئرمین سر؟ جناب یحییٰ بختیار: اجازت ہے؟ Break for five or fifteen minutes

٨٦

صفحہ ٨٧

1125 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

محترمہ قائمقام چیئرمین: دس منٹ کے لئے۔

Mr. Yahya Bakhtiar: Fifteen minutes. Then we will come back at 9:30

(جناب یحییٰ بختیار: پندرہ منٹ، اس کے بعد ہم واپس آجائیں گے ساڑھے نو بجے)

Mirza Nasir Ahmad: 9:30?

(مرزا ناصر احمد: ساڑھے نو بجے؟)

Mr. Yahya Bakhtiar: 9:30

(جناب یحییٰ بختیار: ساڑھے نو بجے)

محترمہ قائمقام چیئرمین: اچھا۔

The Delegation is allowed to leave, and come back at 9:30

(وفد کو جانے کی اجازت ہے۔ وفد 9:30 بجے واپس آجائے)

(The Delegation left the Chamber)

(وفد ہال سے باہر چلا گیا)

Madam Chairman: I think the members may keep sitting. Otherwise, if you leave the Hall, we will not be able to come back and form the quorum.

(محترمہ چیئرمین: اراکین تشریف رکھیں۔ اگر آپ (اراکین) ہال سے باہر چلے گئے تو پھر کورم پورا رکھنا بہت مشکل ہو جائے گا)

The Special Committee adjourned for tea break to meet at 9:30 p.m.

(کمیٹی کا اجلاس چائے کے وقفہ کے لئے 9:30 تک ملتوی ہوا)

IBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

جناب یحییٰ بختیار: تو ہم پانچ دس منٹ

مرزا ناصر احمد: نہیں، میرا مطلب تھا

جناب یحییٰ بختیار: پھر پانچ دس منٹ

مرزا ناصر احمد: ایک ہوئی تو ہے کسی

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، ہاں، انہوں آدھا گھنٹہ اور بیٹھ لیتے ہیں۔

مرزا ناصر احمد: ہاں، ٹھیک ہے۔

iar: Mr. Chairman Shall we inutes)

(جناب یحییٰ بختیار: جناب چیئرم اجازت ہے؟)

ruption)

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، انہوں ۔ آپ پوچھیں پہلے۔ ایک طرف ممبر صاحب کہہ ر طرف سے وہ کہہ رہے ہیں کہ جلدی فیصلہ ہو۔

محترمہ قائمقام چیئرمین (ڈاکٹر مس بجے تک چلیں گے۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، تو ابھی بریک

مرزا ناصر احمد: دس ساڑھے دس بہ

1076 جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی، یہ

مرزا ناصر احمد: ہاں، پندرہ منٹ کی بر

جناب یحییٰ بختیار: ...... ایک پیالی

مرزا ناصر احمد: کیوں جی، اجازت

جناب یحییٰ بختیار: اجازت ہے

minutes

٦

قومی اسمبلی مباحث قیمت فی شمارہ-/10 روپے

صفحہ ١١٢٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

(The Special committee re-assembled after tea break, Mr. Chairmnan (Sahibzada Farooq Ali) in the Chair)

(چائے کے وقفہ کے بعد خصوصی کمیٹی کا اجلاس دوبارہ شروع ہوا۔ جناب چیئرمین (صاحبزادہ فاروق علی) اپنی سیٹ پر)

Mr. Chairman: The Delegation may be called. Up to 10:15. We will sit up to 10:15

(جناب چیئرمین: وفد کو بلالیں، ہم 10:15 تک کارروائی کریں گے)

1077 (The Delegation entered the Chamber)

(وفد ہال میں داخل ہوا)

Mr. Chairman: Yes, Mr. Attorney General.

(جناب چیئرمین: جی اٹارنی جنرل صاحب)

جناب یحییٰ بختیار: یہ، مرزا صاحب! یہ جہاد کے متعلق مجھے کچھ خیال ہے کہ مجھے کچھ Pages معلوم نہیں تھے۔ میں نے کتاب نکلوائی ہے۔ یہ ”تبلیغ رسالت“ سے، حصہ دوم، یہاں لکھا ہوا ہے Page (صفحہ) جلد ہفتم..... Page17 پر ہے۔

”میرے اصولوں، اعتقادوں اور ہدایتوں میں کوئی عمل جنگجوئی و فساد کا نہیں.....“

یہاں تک تو بالکل Clear ہے، کہ جنگجوئی، فساد تو ٹھیک بات نہیں:”.....اور میں یقین رکھتا ہوں کہ جیسے جیسے میرے مرید بڑھیں گے ویسے ویسے ہی مسئلہ جہاد کے معتقد کم ہوتے جائیں گے۔ کیونکہ مجھے مسیح اور مہدی زمان مان لینا ہی مسئلہ جہاد سے انکار کرنا ہے۔“

(مجموعہ اشتہارات ج٣ ص ١٩)

اس کی Clarification کی ضرورت ہوگی کیونکہ ایک طرف تو وہ فرماتے ہیں کہ ”جنگجوئی“ وہ تو ٹھیک ہے اور بعد میں وہ فرماتے ہیں کہ: ”میں یقین رکھتا ہوں کہ جیسے جیسے میرے مرید بڑھتے جائیں گے ویسے ویسے ہی مسئلہ جہاد کے معتقد کم ہوتے جائیں گے۔ کیونکہ مجھے مسیح اور مہدی زمان مان لینا ہی مسئلہ جہاد سے انکار کرنا ہے۔“

تو ایک طرف تو آپ نے کہا کہ چونکہ حالات ایسے ہیں کہ وہ ملتوی ہے اور یہاں سے

٨٨

صفحہ ١١٢٧

OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

e-assembled after tea break, ooq Ali) in the Chair) (چائے کے وقفہ کے بعد خصو (صاحبزادہ فاروق علی) اپنی سیٹ پر) elegation may be called. Up

(جناب چیئرمین: وفد کو بلا لیا red the Chamber) (وفد

Attorney General. (جناب چیئرمین: جی اٹارنی

جناب یحییٰ بختیار: یہ مرزا Pages معلوم نہیں تھے۔ میں نے کتاب ہوا ہے Page (صفحہ) جلد ہفتم ..... 17 ”میرے اصولوں، اعتقادوں یہاں تک تو بالکل Clear ہے رکھتا ہوں کہ جیسے جیسے میرے مرید بڑھیں گے۔ کیونکہ مجھے مسیح اور مہدی زمان مان لی اس کی Clarification ”جنگجوئی“ وہ تو ٹھیک ہے اور بعد میں وہ مرید بڑھتے جائیں گے ویسے ویسے ہی اور مہدی زمان مان لینا ہی مسئلہ جہاد سے تو ایک طرف تو آپ نے کہا

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ مسیح آ گیا ہے اور مہدی زمان آ گیا ہے، اس لئے جہاد کی ضرورت نہیں، اگر میں اس کو صحیح سمجھا ہوں۔

مرزا ناصر احمد: نہیں، ٹھیک ہے، یہ میں نے جو صرف ایک حوالہ، اس سے تو مسئلہ حل نہیں ناں ہوتا اور حوالے بھی دیکھنے پڑیں گے۔

1078 جناب یحییٰ بختیار: نہیں، وہ تو ٹھیک ہے۔ میں کہنا چاہتا ہوں کہ ایک آپ، یہ جو ہے ناں، اس کا آپ اگر تھوڑا سا Explain (واضح) کردیں۔

مرزا ناصر احمد: جی اس کے Explanation (وضاحت) کئی ہو سکتے ہیں۔ ایک تو یہاں ”جہاد“ سے شرعی اسلامی جہاد مراد نہیں، بلکہ جہاد کی وہ غلط Conception (تصور) ہے جو اس زمانہ میں پائی جاتی تھی اور یہاں یہ فرمایا ہے کہ: ”جوں جوں میں اس مسئلے کو واضح کرتا چلا جاؤں گا کہ اسلام کے نزدیک یہ جہاد ہے اور تمہارا موجودہ تصور جہاد درست نہیں ہے، تو جو موجودہ غلط تصور ہے اس کے معتقدین کی تعداد بڑھنے سے وہ دوسروں کی تعداد کم ہوتی چلی جائے گی۔“ اور دوسرے وہ جو ہے شرائط کے متعلق، وہ بھی اس کے ساتھ آئے گا کہ اگر یقین لوگوں کے نزدیک شرائط جہاد ہیں....... یہ کوئی ایسا بھی ہو سکتا ہے...... حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام نے بڑی وضاحت سے یہ تحریر فرمایا ہے کہ جب بھی جہاد کی شرائط موجود ہوں، لڑنا پڑے گا۔ یہ فرض ہے مسلمان احمدی کا۔ سارے فرقوں کا یہ Common (مشترکہ) مسئلہ ہے، کوئی علیحدہ تو نہیں۔

مثلاً ایک میں چھوٹا سا حوالہ میں پڑھ دیتا ہوں اس کے مقابلے میں، ان دونوں کو ملا کر ....... یہ ”نور الحق“ حصہ دوم میں ہے: ”....... بلکہ صرف ان لوگوں کے ساتھ لڑنے کا حکم فرماتا ہے جو خدا تعالیٰ کے بندوں کو ایمان لانے سے روکیں اور اس بات سے روکیں کہ وہ خدا تعالیٰ کے حکموں پر کار بند ہوں اور اس کی عبادت کریں، اور ان لوگوں کے ساتھ لڑنے کے لئے حکم فرماتا ہے جو مسلمانوں سے بے وجہ لڑتے ہیں اور مؤمنوں کو ان کے گھروں اور وطنوں سے نکالتے ہیں اور خلق اللہ کو جبرًا اپنے دین میں داخل کرتے ہیں اور دین اسلام کو نابود کرنا چاہتے ہیں اور لوگوں کو مسلمان ہونے سے روکتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن پر خدا تعالیٰ کا غضب ہے اور مومنوں پر واجب ہے جو ان سے لڑیں اگر وہ باز نہ آئیں۔ 1079

٨٩

صفحہ ١١٢٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

تو یہاں جہاد کی ان شرائط کے پورا ہونے کے ساتھ جہاد کے وجوب کا فتویٰ دے دیا۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، مرزا صاحب! میں جو پوزیشن Clarify (واضح) کرانا چاہتا تھا، ایک تو آپ نے فرمایا کہ جہاد کی بعض شرائط ہوتی ہیں، اگر وہ شرائط موجود ہوں تو جہاد فرض ہو جاتا ہے، ورنہ جائز نہیں۔ پھر دوسرا ساتھ یہ سوال آ جاتا ہے کہ چونکہ وہ مسیح موجود ہیں، مہدی آخرالزمان ہیں، ان کے آنے کی وجہ سے جہاد بالکل ہی ختم ہے۔ اب یہ کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ حالات ہوں یا نہ ہوں یہ میں اس وقت پوزیشن ......

مرزا ناصر احمد: ہاں نہیں، یہ کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: یہ پوزیشن نہیں ہے؟

مرزا ناصر احمد: نہیں، یہ پوزیشن نہیں ہے، بالکل نہیں ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: "...... جیسا کہ حدیثوں میں پہلے لکھا گیا تھا کہ جب مسیح آئے گا تو دین کے لئے لڑنا حرام کیا جائے گا......"

(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٤٨٤)

مرزا ناصر احمد: کوئی شرائط پوری نہیں ہوں گی اور......

جناب یحییٰ بختیار: "...... سو آج سے دین کے لئے لڑنا حرام کیا گیا۔" (ایضاً) تو یہ تو ملتوی نہیں ہوا۔

مرزا ناصر احمد: وہ دوسری جگہ ملتوی کرنے کا لکھا ہوا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، یہ میں کہہ رہا ہوں کہ دونوں کے لئے......

1080 مرزا ناصر احمد: دین کے لئے وہ کر دیا گیا التواء۔ وہ اردو کے شعروں میں ہے کہ وہ دینی جنگوں کا التواء کردے گا، میرا مطلب صرف ایک ہے، اصولی، کہ تمام اقتباسات سامنے رکھ کر پھر ہم صحیح نتیجے پر پہنچ سکتے ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! میں اسی لئے تو آپ سے درخواست کر رہا ہوں کہ آپ کا اپنا جو Concept (تصور) ہے......

مرزا ناصر احمد: میرا تصور یہ ہے کہ شرائط پوری ہوں تو ہر مومن کے لئے جہاد کرنا تلوار کے ساتھ......

جناب یحییٰ بختیار: وہ میں سمجھ گیا۔ کیونکہ میرے پاس حوالے تھے لیکن کتاب نہیں تھی، اس لئے میں نے ان سے کہا کہ مجھے دے دیجئے......

٩٠

1129 NATIO

Interp (تعبیر) ہوگی۔

Cle (واضح) الفاظ میں وہ کہتے

تا، یہ تو یعنی Clear (واضح)

گا۔" دوسری جگہ یہ ہے۔

ہیں جو دین کے لئے لڑے۔

ج سے دین کے لئے لڑنا حرام

جگہ یہ التواء میں کر دیا۔

ں حالات اور شرائط کی موجودگی

مجھے اجازت دیں، جب آپ کا

۔ پورا پیرا یہاں سے شروع ہوتا

رہ کے کسی حصہ دیوار میں نصب

ت کو پہچان لیں، یعنی سمجھ لیں کہ

د بند ہو گیا اور لڑائیوں کا خاتمہ

دین کے لئے لڑنا حرام کیا جائے

جو دین کے لئے تلوار اٹھاتا ہے،

نافرمان ہے۔ صحیح بخاری کو کھولو

قیمت فی شمارہ -/10 روپے

مکتبہ قومی اسمبلی

صفحہ ١١٢٩

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08 مرزا ناصر احمد: اس روشنی میں اس کی Interpretation (تعبیر) ہوگی۔ جناب یحییٰ بختیار: ”......کیونکہ یہاں اتنے Clear (واضح) الفاظ میں وہ کہتے ہیں کہ کیونکہ مسیح موعود آگئے ہیں، جہاد تو وہی ہے دین کے لئے لڑنا، یہ تو یعنی Clear (واضح) ہے، جہاد اور جنگ ونگ تو اور بات ہوتی ہے۔ مرزا ناصر احمد: نہیں، ”دین کی جنگوں کا التوا کر دے گا“ دوسری جگہ یہ ہے۔ جناب یحییٰ بختیار: ہاں، ہاں، جہاد تو ہم اس کو کہتے ہیں جو دین کے لئے لڑے۔ مرزا ناصر احمد: ہاں، دین کی لڑائی۔ جناب یحییٰ بختیار: وہ تو یہ کہہ رہے ہیں کہ: ”آج سے دین کے لئے لڑنا حرام کیا گیا ہے۔“ مرزا ناصر احمد: شرائط پوری نہیں۔ جناب یحییٰ بختیار: نہیں، وہ یہ...... 1081 مرزا ناصر احمد: نہیں، وہ دوسری جگہ لکھا ہے۔ جناب یحییٰ بختیار: نہیں، یہاں کا میں کہہ رہا ہوں۔ مرزا ناصر احمد: نہیں، میرا مطلب یہ ہے کہ دوسری جگہ یہ التواء میں کر دیا۔ جناب یحییٰ بختیار: یہاں Reasons ہیں، وہاں حالات اور شرائط کی موجودگی میں نہ ہوگا۔ مرزا ناصر احمد: یہاں Reasons ......اچھا، اگر مجھے اجازت دیں، جب آپ کا سوال ختم ہوجائے تو میں بتادوں گا۔ جناب یحییٰ بختیار: یہ میں پڑھ لیتا ہوں پورا اس کو۔ پورا پیرا یہاں سے شروع ہوتا ہے، جس کی مجھے ٹھیک سمجھ نہیں آئی:”......تیسرے وہ گھنٹہ جو مینارہ کے کسی حصہ دیوار میں نصب کرایا جائے گا۔ اس کے نیچے یہ حقیقت مخفی ہے تاکہ لوگ اپنے وقت کو پہچان لیں، یعنی سمجھ لیں کہ آسمان کے دروازوں کے کھلنے کا وقت آگیا۔ اب سے زمینی جہاد بند ہوگیا اور لڑائیوں کا خاتمہ ہوگیا، جیسا کہ حدیثوں میں پہلے لکھا گیا تھا کہ جب مسیح آئے گا تو دین کے لئے لڑنا حرام کیا جائے گا۔ تو آج سے دین کے لئے لڑنا حرام کیا گیا ہے۔ اس کے بعد جو دین کے لئے تلوار اٹھاتا ہے، غازی نام رکھا کر کافروں کو قتل کرتا ہے، وہ خدا اور اس کے رسول کا نافرمان ہے۔ صحیح بخاری کو کھولو ٩١

SEMBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08 تو یہاں جہاد کی ان شرائط کے پورا ہونے کے جناب یحییٰ بختیار: نہیں، مرزا صاحب! چاہتا تھا، ایک تو آپ نے فرمایا کہ جہاد کی بعض شرائط فرض ہوجاتا ہے، ورنہ جائز نہیں۔ پھر دوسرا ساتھ یہ س مہدی آخرالزمان ہیں، ان کے آنے کی وجہ سے جہاد ب نہیں ہوتا کہ حالات ہوں یا نہ ہوں یہ میں اس وقت پوز مرزا ناصر احمد: ہاں نہیں، یہ کوئی مسئلہ نہیں جناب یحییٰ بختیار: یہ پوزیشن نہیں ہے؟ مرزا ناصر احمد: نہیں، یہ پوزیشن نہیں ہے۔ جناب یحییٰ بختیار: ”......جیسا کہ حدیث تو دین کے لئے لڑنا حرام کیا جائے گا......“ مرزا ناصر احمد: کوئی شرائط پوری نہیں ہ جناب یحییٰ بختیار: ”......سو آج سے د تو ملتوی نہیں ہوا۔ مرزا ناصر احمد: وہ دوسری جگہ ملتوی کر جناب یحییٰ بختیار: نہیں، یہ میں کہہ رہ 1080 مرزا ناصر احمد: دین کے لئے وہ کہ وہ دینی جنگوں کا التوا کر دے گا، میرا مطلب صرف ایک پھر ہم صحیح نتیجے پر پہنچ سکتے ہیں۔ جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! میں کہ آپ کا اپنا جو Concept (تصور) ہے...... مرزا ناصر احمد: میرا تصور یہ ہے کہ ش تلوار کے ساتھ...... جناب یحییٰ بختیار: وہ میں سمجھ گیا۔ آ تھی، اس لئے میں نے ان سے کہا کہ مجھے دے دیج ٩٠

صفحہ ١١٣٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

اور اس حدیث کو پڑھو جو مسیح موعود کے حق میں ہے۔

(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٨٢، ٢٨٥)

تو یہاں مرزا صاحب جو فرما رہے ہیں، جہاں تک میں سمجھ سکا ہوں، کیونکہ وہ مسیح ہیں، مسیح موعود ہیں، وہ آچکے ہیں، اس لئے یہ کتابوں میں، حدیثوں کی یہی اتھارٹی ہے کہ جب وہ آئیں گے تو دین کے لئے لڑنا حرام ہو جائے گا۔ تو یہ حالات کے لئے Postpone (ملتوی) نہیں ہوتا۔ اس کے لئے آپ کہیں۔

1082 مرزا ناصر احمد: ہاں، آپ کا سوال ختم ہو گیا؟ میری باری؟ پھر تشریف رکھیں، شاید لمبا کر دوں۔ اس میں یہ جو عبارت آپ نے ابھی پڑھی، اس سے، آخری جو اس کے فقرے تھے، سے عیاں ہے کہ جو بھی مضمون بیان ہوا ہے وہ احادیث کی شرح ہے۔ تو احادیث کو سامنے رکھیں، پھر پتہ لگے گا کہ شرح درست ہوئی ہے یا نہیں۔ تو آپ اجازت دیں تو کل میں حدیثیں آپ کے سامنے یہاں بیان کر کے......

جناب یحییٰ بختیار: وہ تو جی میں کہہ رہا ہوں کہ حدیثوں میں تو یہی ہے کہ مسیح آئے گا تو اس کے بعد جہاد حرام ہو جائے گا۔

مرزا ناصر احمد: نہیں، وہ نہیں ناں۔ اچھا، میں پھر ابھی بیان کر دیتا ہوں۔ ہاں، میں ابھی بیان کر دیتا ہوں۔ حدیث میں یہ ہے کہ مہدی اور مسیح کے آنے کے وقت شرائط جہاد نہیں ہوں گی اور اس وقت اسلام کی جنگیں جو ہیں وہ جہاد کبیر کی شکل میں لڑی جائیں گی۔ جہاد صغیر کی شکل میں نہیں لڑی جائیں گی، امن کا زمانہ ہوگا، وہ تمام شرائط کہ دینی لحاظ سے جبر کیا جاتا ہے، روکا جاتا ہے ان کو، وہ زمانہ نہیں ہوگا اور اس کا جو پہلا اطلاق ہے وہ صرف مہدی موعود کی زندگی کے ساتھ ہے اور آپ کی زندگی میں اور کبھی یہاں ہندوستان کسی نے جہاد کی شرائط کے پورا ہونے کا اعلان نہیں کیا۔ وہ حدیثوں میں آتا ہے اس کی جو شرح ہم کرتے ہیں، میرا خیال ہے اور میرے ذہن میں نہیں، پہلے بزرگ بھی یہی کرتے ہیں کہ وہ احادیث جن میں یہ ذکر ہے کہ مہدی اور مسیح کے آنے کے وقت : صاف ہیں الفاظ کہ : ”وہ حرب کو رکھ دے گا، منسوخ کر دے گا ۔“ نہیں ہے۔ یعنی ” ملتوی کر دے گا ۔“ یہ عربی کا محاورہ ہے۔ ایک تو مہدی کی زندگی میں جہاد کی شرائط پوری نہیں، 1083 اس لئے ...... یعنی ہمارے اپنے ایمان کے مطابق، میں اپنی بات کر رہا ہوں...... اور مہدی کی زندگی میں، یہ Clash (تصادم) ہی نہیں ہوا کہ فتویٰ دیا ہو، ملت نے، کہ جہاد کی شرائط پوری ہو گئیں، اور بزرگان دین جہاد کے لئے میدان میں چلے گئے، اور جماعت احمدیہ پیچھے رہ گئی۔ اب

٩٢

صفحہ ١١٣١

مکمل سیٹ مجلس عالمی مجلس تحف قیمت فی شمارہ 10/- روپے

1131 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08 یہ تو تاریخ بن گئی ناں۔ ١٩٠٨ء میں بانی سلسلہ احمدیہ کا وصال ہو گیا۔ آپ کے دعویٰ سے لے کر آپ کے وصال تک احادیث کے مطابق امن کا زمانہ تھا، نہ کہ جنگ کا، اور جہاد کبیر کا زمانہ تھا، نہ کہ جہاد صغیر کا اور اس کی طرف میں نے ابھی ایک حوالہ پڑھا۔ دس پندرہ حوالے ہوں گے جو روشنی ڈالتے ہیں اور اس عرصے میں...... ایک پوائنٹ ہے میرا۔ محدود کر دیا ناں میں نے زمانہ...... دعویٰ سے لے کر آپ کے وصال تک ہندوستان کے علماء نے یہ فتویٰ دیا ہی نہیں کہ جہاد کا زمانہ ہے، اور نہ ہندوستان میں علماء کے گروہ دوسروں کے ساتھ مل کر جہاد کے میدان میں نکلے، بلکہ سب نے امن کا زمانہ کہا، امن کا زمانہ کہا۔ اور جہاں تک انگلستان کی سلطنت کا سوال ہے، آپ کو الہام بتایا گیا کہ ٨ سال کے بعد...... ٨ سال تک ان کا رعب ہے اس کے بعد یہ سلطنت برطانیہ پر زوال آجائے گا، زوال شروع ہو جائے گا اور اس زوال کی ابتدا ملکہ وکٹوریا کے مرنے کے ساتھ ہوئی ہے۔ یعنی وہ آٹھ سال پورے ہو گئے ہیں، الہام کے مطابق اور اس کے بعد سے آج تک وہ کہاں ہے، وہ برٹش ایمپائر جس کے اوپر سورج کبھی غروب نہیں ہوتا تھا؟ آج وہ برٹش ایمپائر ہے جو سورج کی کرنوں کو ڈھونڈنے کے لئے دنیا میں پھر رہے ہیں۔

تو میرا مطلب یہ ہے کہ دعویٰ سے لے کر آپ کی وفات تک علماء نے کہا بھی ہندوستان میں جہاد کا فتویٰ نہیں دیا، نہ علماء صاحبان...... جس طرح ہمارے پرانے بزرگ میدان جہاد میں جایا کرتے تھے...... لڑنے کے لئے اکٹھے ہو کر لڑائی کے لئے گئے۔ اس 1084 کے بعد کا زمانہ ایک آتا ہے...... میں آگے چلتا ہوں...... کیونکہ وہ بھی شاید ممکن ہے، پرانے سوال ہیں ہمارے اوپر ہوئے ہوئے کوئی پچاس سال سے چلا آ رہا ہے، کوئی تیس سال سے۔ بہرحال جنگ ہوئی۔ اس جنگ کو، ہمارے نزدیک، یہ جو جنگ لڑی گئی، یہ دنیا کی جنگ تھی، مسلمانوں کی حکومتوں کی جنگ نہیں تھی، لیکن مسلمان کروڑوں کی تعداد میں اس سے متاثر ہو گئے۔ اس وقت ایک چیز ہمارے سامنے آئی اور وہ یہ تھی کہ ہمارے خلیفۃ المسلمین...... یعنی یہ درست ہے، آج میں مانتا ہوں کہ چونکہ، ہمارے نزدیک، مہدی آگئے تھے، اس واسطے ”خلیفۃ المسلمین“ ہم ان کو نہیں سمجھتے لیکن جماعت احمدیہ، جس کی تعداد اس وقت بڑی تھوڑی تھی، اس کے علاوہ تمام دنیا کے مسلمان خلافت عثمانیہ ترکیہ کو ”خلیفۃ المسلمین“ ان کو کہتے تھے، اور وہ خلافت کے تھے...... اور ہمارے خود ہندوستان میں خلافت موومنٹ چلی اس جنگ میں وہ ملوث ہو گئے۔ اس لئے انہوں نے Allies (اتحادیوں) کے خلاف جو محاذ تھا، اس کا ساتھ دیا۔

٩٣

BLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08 اور اس حدیث کو پڑھو جو مسیح موعود کے حق میں ہے تو یہاں مرزا صاحب جو فرما رہے ہیں مسیح موعود ہیں، وہ آچکے ہیں، اس لئے یہ کتابوں آئیں گے تو دین کے لئے لڑنا حرام ہو جائے گا۔ نہیں ہوتا۔ اس کے لئے آپ کہیں۔

مرزا ناصر احمد: ہاں، آپ کا سو 1082 شاید لمبا کر دوں۔ اس میں یہ جو عبارت آپ نے تھے، سے عیاں ہے کہ جو بھی مضمون بیان ہوا ہے رکھیں، پھر پتہ لگے گا کہ شرح درست ہوئی ہے یا آپ کے سامنے یہاں بیان کر کے......

جناب یحییٰ بختیار: وہ تو جی میں کہہ تو اس کے بعد جہاد حرام ہو جائے گا۔

مرزا ناصر احمد: نہیں، وہ نہیں ناں، ابھی بیان کر دیتا ہوں۔ حدیث میں یہ ہے کہ مہدی گی اور اس وقت اسلام کی جنگیں جو ہیں وہ جہاد ک میں نہیں لڑی جائیں گی، امن کا زمانہ ہوگا، وہ تمام ہے ان کو، وہ زمانہ نہیں ہوگا اور اس کا جو پہلا اطلا ہے اور آپ کی زندگی میں اور بھی یہاں ہندوستاں نہیں کیا۔ وہ حدیثوں میں آتا ہے اس کی جو شری میں نہیں، پہلے بزرگ بھی یہی کرتے ہیں کہ وہ ا آنے کے وقت: صاف ہیں الفاظ کہ: ”وہ حرب ک ”ملتوی کردے گا“ یہ عربی کا محاورہ ہے۔ ایک اُس لئے...... یعنی ہمارے اپنے ایمان کے مطا 1083 زندگی میں، یہ Clash (تصادم) ہی نہیں ہو ہو گئیں، اور بزرگان دین جہاد کے لئے میدان م

صفحہ ١١٣٢

1132 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

اس وقت ساری دنیا کا پریشر شریف مکہ پر پڑا کہ خلیفۃ المسلمین انگریزوں سے برسرِ پیکار ہے اور اس کو تم جہاد ”Holy War“ (مقدس جنگ) اس کا ترجمہ یہ کیا جاتا ہے، پتہ نہیں درست یا غلط ...... بہر حال مجھے جہاد سے تعلق ہے۔ تو انہوں نے کہا کہ اس کو جہاد قرار دو، Holy War (مقدس جنگ) قرار دو۔ شریف مکہ ...... اس وقت First World War (پہلی عالمی جنگ) کی میں بات کرتا ہوں ...... وہ ان کے لئے Dilemma (معمہ) تھا۔ اگر وہ اسے جہاد قرار دے، Holy war (مقدس جنگ) قرار دے، تو انگریز جس سے وہ پیسے بھی لے رہے تھے اور بندوقیں اور ایمونیشن بھی لے رہے تھے اپنی حکومت کو قائم کرنے کے لئے، وہ ناراض ہوتا تھا اور ان کے پیسے بھی بند ہوتے تھے اور وظیفہ بھی بند ہوتا تھا اور بندوقوں کی سپلائی بھی بند ہوتی تھی 1085 اور اگر وہ اسے جہاد قرار نہ دیں تو سارے دنیا کے مسلمان ناراض ہوتے تھے۔ بڑا پریشر پڑا ہوا تھا۔ میں نے بتایا کہ یہاں بھی ایک خلافت موومنٹ چلی، چنانچہ انہوں نے اس وقت یہ Dilemma (معمہ) دیکھ کے ابن سعود کے پاس اپنا ایک معتمد بھیجا ...... یہ تاریخ کا ایک ورق ہے، ثبوت کتابیں ہیں ہمارے پاس ...... اور ابن سعود، جو بھی ان کے خاندان کے تھے اس وقت نجد کے حاکم ...... یہ تو نجد کے ہیں، وہ نجد کے تھے ...... ان کو، معتمد کو کہا: ”صاف بات کرو جاکے۔ اگر میں اسے جہاد قرار دیتا ہوں خلیفۃ المسلمین کی جنگ ہے، درست ہے ...... تو میرے جیسے بھی مارے جاتے ہیں اور میری سپلائی آرمز کی جو ہے وہ بھی بند ہوتی ہے اور اگر میں جہاد قرار نہیں دیتا تو مسلمان میرے پیچھے پڑ جائیں گے، حج کے اوپر میرے ٹکڑے بوٹی کریں گے، وغیرہ وغیرہ میں بڑی پریشانی میں ہوں۔ تم بتاؤ کیا مشورہ ہے؟“

ابن سعود کا خاندان اس وقت انگریز کے پیسے بھی لے رہا تھا اور بندوق بھی لے رہا تھا۔ جس Dilemma (معمہ) اور مصیبت میں یہ تھے اسی Dilemma (معمہ) اور مصیبت میں ابن سعود کا خاندان نجد میں تھا۔ چنانچہ انہوں نے اس معتمد سے مشورہ کر کے شریف مکہ کو پیغام بھیجا کہ: ”تم اسے جہاد بالکل قرار نہ دینا اور میں تمہارے ساتھ ہوں۔“ اور اس وقت انہوں نے یہ فتویٰ جہاد کے خلاف اس جنگ میں اس وجہ سے دیا کہ ...... تاریخ یہ ریکارڈ کرتی ہے ...... کہ نجد کی، ابن سعود کے خاندان کی ٹوٹل انکم، کل آمدن حکومت کی ایک لاکھ پونڈ سٹرلنگ تھا، اور انگریز نے ان کو ماہانہ دیا، پانچ ہزار اور ساٹھ ہزار پونڈ سٹرلنگ، In Gold coin یہ ان کو دیا، جس کا مطلب ہے کہ ان کی ٹوٹل آمدن کا ساٹھ فیصد، اور تین برین گنیں ...... چھوٹی سی ان کی فوج تھی ...... اور تین

٩٤

صفحہ ١١٣٣

قیمت فی شمارہ-/10 روپے

عالیجناب...

مکمل سیٹ مجلد

MBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

اس وقت ساری دنیا کا پریشر شریف آ برسر پیکار ہے اور اس کو تم جہاد "(Holy War" نہیں درست یا غلط...... بہر حال مجھے جہاد سے تعلق Holy War (مقدس جنگ) قرار دو۔ شریف مکہ (پہلی عالمی جنگ) کی میں بات کرتا ہوں...... وہ ان وہ اسے جہاد قرار دے، Holy war (مقدس جن لے رہے تھے اور بندوقیں اور ایمونیشن بھی لے رہ ناراض ہوتا تھا اور ان کے پیسے بھی بند ہوتے تھے اور بند ہوتی تھی1085 اور اگر وہ اسے جہاد قرار نہ دیں تو سار پریشر پڑا ہوا تھا۔ میں نے بتایا کہ یہاں بھی ایک ذ وقت یہ Dilemma (معمہ) دیکھ کے ابن سعو ایک ورق ہے، ثبوت کتابیں ہیں ہمارے پاس......

اس وقت نجد کے حاکم...... یہ تو جہاد کے ہیں، وہ نجد۔ جاکے۔ اگر میں اسے جہاد قرار دیتا ہوں خلیفۃ المسلم جیسے بھی مارے جاتے ہیں اور میری سپلائی آرمز کی جو نہیں دیتا تو مسلمان میرے پیچھے پڑ جائیں گے، رشیا وغیرہ میں بڑی پریشانی میں ہوں۔ تم بتاؤ کیا مشورہ......

ابن سعود کا خاندان اس وقت انگریز کے جس Dilemma (معمہ) اور مصیبت میں یہ...... میں ابن سعود کا خاندان نجد میں تھا۔ چنانچہ انہوں نے بھیجا کہ: ”تم اسے جہاد بالکل قرار نہ دینا اور میں تمہا یہ فتویٰ جہاد کے خلاف اس جنگ میں اس وجہ سے دیا

ابن سعود کے خاندان کی ٹوٹل انکم بکل آمدن حکومت کی کو ماہانہ دیا، پانچ ہزار اور ساٹھ ہزار پونڈ سٹرلنگ، ہا ہے کہ ان کی ٹوٹل آمدن کا ساٹھ فیصد، اور تین برین

٩٤

1133 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

ہزار بندوقیں۔ ایک وقت1086 وہ کتابوں میں اس کا ذکر آیا ہے۔ تو یہ جنگ چونکہ تھی نہیں، میرا مطلب ہے کہ دنیا کی جنگ تھی، کئی ہم پر یہ اعتراض کر دیتے ہیں کہ اسے جہاد کیوں نہیں قرار دیا؟ حالانکہ بعض مسلمان مکے سے انگریز کے خلاف لڑ رہے تھے۔

وہ تو صاف ظاہر ہے کہ وہ دنیا کی ایک جنگ تھی، مسلمانوں کا ایک طبقہ، ایک گروہ، ایک حصہ انگریز کے ساتھ مل کر دوسروں کے ساتھ لڑ رہا تھا، اور ایک حصہ دوسروں کے ساتھ مل کر انگریزوں کے ساتھ لڑ رہا تھا۔ یہ ہمارے ہندوستان سے ہزاروں کی تعداد میں تو باہر نہیں ہوں، شاید لاکھوں کی تعداد میں فوج گئی ہو وہاں اور اس کے اوپر یہ ایک چھوٹا سا...... یہ جو میں نے باتیں کی ہیں، ان کے حوالے میرے پاس ہیں اور جو ان کا ایک افسر...... نجد کا تعلق تھا، وائسرائے انڈیا کے ساتھ اس وقت...... ایس اے ہاکٹن، یہ ان کا ایک خط ہے، اس کی فوٹوسٹیٹ کاپی ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! بات یہ ہے کہ میں نہیں سمجھتا کہ آپ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ جہاد نہیں تھا وہ لڑائی تھی، یا وہ جہاد تھا اور انہوں نے رشوت لی اور کہہ دیا کہ جہاد نہیں ہے؟

مرزا ناصر احمد: ہمارے نزدیک تو جہاد نہیں تھا۔

جناب یحییٰ بختیار: آپ کے نزدیک نہیں تھا تو پھر سوال ہی نہیں آتا ان چیزوں کا۔

مرزا ناصر احمد: اچھا جی، ٹھیک ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: دیکھیں نا جی، کیونکہ دو پوائنٹس آف ویو ہیں۔ ایک کہتا ہے کہ جہاد نہیں......

مرزا ناصر احمد: ہم پر یہ اعتراض کر دیتے ہیں، اس لئے میں سمجھتا تھا کہ شاید ہے۔ لیکن اگر نہیں تو ٹھیک پھر میں معافی مانگ لیتا ہوں۔ میں نے وقت ضائع کیا ہے ہاؤس کا۔

جناب یحییٰ بختیار1087: نہیں وہ آپ...... میں تو صرف یہ سوال جو میرے سامنے ہیں کہ جہاد۔ آپ نے فرمایا ہے کہ آپ کا عقیدہ یہ ہے کہ جب وہ شرائط موجود ہوں تو فرض، ورنہ وہ جائز نہیں تو دوسرا یہ مسئلہ سامنے آ جاتا ہے کہ مسیح موعود کے زمانے میں، جب وہ واپس آئیں گے تو یہ: ”حدیثوں میں لکھا گیا ہے کہ جب مسیح آئے گا تو دین کی وجہ سے لڑنا حرام کیا جائے گا......“

لے اس طرح معافی مانگ رہے ہیں جس طرح ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ گورداسپور سے مرزا قادیانی نے معافی مانگی تھی کہ آئندہ میں کوئی موت کا الہام شائع نہیں کروں گا۔ یہ نبوت کا گھرانہ ہے یا معافی خواستگاروں کا ٹولہ؟

٩٥

صفحہ ١١٣٤

1134 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

مرزا ناصر احمد: (عربی)

(آج سے دین کے لئے لڑنا حرام کیا گیا؟)

جناب یحییٰ بختیار: ”......آج سے دین کے لئے لڑنا حرام کیا گیا۔“ اس کا شرائط سے کوئی تعلق نہیں ہے، آپ سمجھتے ہیں کیونکہ مسیح آچکا ہے......!

مرزا ناصر احمد: دیکھیں ناں، حدیث چونکہ نبی اکرم ﷺ کا قول ہے......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی، وہی میں کہہ رہا ہوں ناں جی۔

مرزا ناصر احمد: نہیں، میرا مطلب یہ ہے کہ اس حدیث کے سوائے یہ معنی، کے اور کوئی معنی ہو ہی نہیں سکتے کہ مسیح کے زمانے میں ایک عرصے تک جہاد کی شرائط پوری نہیں ہوں گی۔

جناب یحییٰ بختیار: یعنی وہ حرام ہو گیا، اس وجہ سے......

مرزا ناصر احمد: ہاں۔

جناب یحییٰ بختیار: ......کہ مسیح آگئے۔

مرزا ناصر احمد: نہیں، حدیث میں ہے کہ مسیح کے آنے پر، یعنی اس زمانے میں، 1088 شرائط جہاد پوری نہیں ہوں گی اور جو شرائط جہاد پوری نہ ہونے باوجود ”جہاد“ کہہ کے لڑنا وہ غلط ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: دیکھیں ناں جی، یہاں مرزا صاحب جو مہدی اپنے آپ کو کہتے تھے، وہ کہتے ہیں کہ وہ آگیا ہے۔ اسی زمانے میں، اسی وقت ایک مہدی سوڈان میں بھی آیا اور اس نے کہا کہ جہاد ہے۔ آپ کہتے ہیں کہ اس زمانے میں کسی نے نہیں کیا۔ ہندوستان میں نہیں کیا ہوگا......

مرزا ناصر احمد: کیا چیز؟

جناب یحییٰ بختیار: ہندوستان میں بھی، آپ کہتے ہیں......

مرزا ناصر احمد: کہاں آئے مہدی؟ سوڈان میں؟

جناب یحییٰ بختیار: سوڈان میں۔

مرزا ناصر احمد: سوڈان میں۔ مہدی سوڈانی کا زمانہ اور مسیح موعود کا زمانہ بالکل مختلف ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: وہ ان کی جو Actual (حقیقی) لڑائی تھی وہ کچھ بعد ہوتی ہے، مگر جو زمانہ ہے وہ Contemporary (ہم عصر) ہے۔

مرزا ناصر احمد: کچھ حصہ، بالکل اوپر کا۔

٩٦

صفحہ ١١٣٥

قیمت فی شمارہ -/10 روپے

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

1135 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

جناب یحییٰ بختیار: یعنی تھوڑا سا سہی۔

مرزا ناصر احمد: نہیں، بات یہ ہے کہ یہاں بات بانی سلسلہ کی یا مہدی سوڈانی کی نہیں۔......

1089 جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں یہ نہیں کہہ رہا......

مرزا ناصر احمد: یہاں بات ہے حدیث شریف کی......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، حدیث شریف میں تو یہ ہے کہ مہدی آئیں گے، مسیح موعود آئیں گے، تو اس کے بعد حرام ہے۔ کوئی Conditions (شرائط) کا سوال پیدا نہیں ہوتا کہ شرائط ہیں کہ نہیں۔ اس سے میں یہ مطلب سمجھا ہوں۔

مرزا ناصر احمد: نہیں، حدیث میں یہ ہے کہ شریعت محمدیہ کا ایک حکم اس وقت سے قیامت تک منسوخ رہے گا؟ میں نہیں سمجھتا۔

جناب یحییٰ بختیار: یہاں جو میں سمجھا ہوں اس سے کہ...... اگر آپ یہ کہتے ہیں کہ مرزا صاحب کی جب تک زندگی تھی، اس عرصے کے لئے حرام ہو گیا، تب تو میں اس پر سمجھ سکتا ہوں کہ وہ آ گئے ہیں، وفات پا چکے ہیں، اس واسطے پھر جاری ہو گیا۔ یا یہ کہ جب وہ آگئے، اس کے بعد ہمیشہ کے لئے......

مرزا ناصر احمد: ......ہاں، ”ہمیشہ کے لئے“ نہیں کہتے بالکل۔ حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ کے حوالے ہیں۔ ابھی میں نے ایک حوالہ پڑھا ہے۔ میں نے تو Explain (واضح) کر دیا پورا۔ میں نے اپنی طرف سے جواب دے دیا ہے، بس۔

جناب یحییٰ بختیار: یہ میں آپ سے کہہ رہا ہوں کہ: ”جب مسیح آئے گا تو جہادی لڑائیوں کا خاتمہ ہو جائے گا۔ تو مسیح آ چکا اور یہ ہے جو تم سے بول رہا ہے“ ایک سوال مجھ سے یہاں پوچھا گیا کہ: کیا مرزا صاحب کے آتے ہی شرائط جہاد ختم ہو گئی ہیں؟

مرزا ناصر احمد: Dead Line (حتمی زمانہ) تو میں نہیں بتا سکتا، لیکن آپ کے زمانے میں شرائط نہیں تھیں۔

1090 جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں یہ کہتا ہوں، تھیں۔

مرزا ناصر احمد: ویسے، یہ دیکھیں ناں ایک اور حوالہ بھی ہے کہ جب تک یہ شرائط

L ASSEMBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

مرزا ناصر احمد: (عربی) (آج سے دین کے لئے لڑنا حرا

جناب یحییٰ بختیار: ”...... آج سے دین کے سے کوئی تعلق نہیں ہے، آپ سمجھتے ہیں کیونکہ مسیح آچکا ہے......

مرزا ناصر احمد: دیکھیں ناں، حدیث چونکہ نبی ا

جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی، وہی میں کہہ رہا ہ

مرزا ناصر احمد: نہیں، میرا مطلب یہ ہے کہ ا کوئی معنی ہو ہی نہیں سکتے کہ مسیح کے زمانے میں ایک عرصے تک

جناب یحییٰ بختیار: یعنی وہ حرام ہو گیا، اس وجہ

مرزا ناصر احمد: ہاں۔

جناب یحییٰ بختیار: ......کہ مسیح آگئے۔

1088 مرزا ناصر احمد: نہیں، حدیث میں ہے کہ ا شرائط جہاد پوری نہیں ہوں گی اور جو شرائط جہاد پوری نہ ہونے

جناب یحییٰ بختیار: دیکھیں ناں جی، یہاں مرز تھے، وہ کہتے ہیں کہ وہ آ گیا ہے، اسی زمانے میں، اسی وقت ایک کہا کہ جہاد ہے۔ آپ کہتے ہیں کہ اس زمانے میں کسی نے نہیں

مرزا ناصر احمد: کیا چیز؟

جناب یحییٰ بختیار: ہندوستان میں بھی، آپ

مرزا ناصر احمد: کہاں آئے مہدی؟ سوڈان م

جناب یحییٰ بختیار: سوڈان میں۔

مرزا ناصر احمد: سوڈان میں۔ مہدی سوڈانی مختلف ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: وہ ان کی جو Actual ہے، مگر جو زمانہ ہے وہ Contemporary (ہم عصر)

مرزا ناصر احمد: کچھ حصہ، بالکل اوپر کا۔

٩٦

صفحہ ١١٣٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

رہیں اس وقت تک بند رہے گا، اور جب تک خدا تعالیٰ کوئی دوسری صورت دنیا میں ظاہر کر دے اور پھر جہاد جو ہے وہ ہو جائے گا۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، وہ آپ نے فرمایا میں نے وہ، وہ ”محضر نامہ“ میں ہے۔۔۔۔۔

مرزا ناصر احمد: جی۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، نہیں، میں کہتا ہوں، وہ ”محضر نامہ“ میں یہ نہیں ہے جو میں آپ کو پڑھ کر سنا رہا تھا، اس لئے کیونکہ اس کی Clarification (وضاحت) ضروری ہو جاتی ہے۔

مرزا ناصر احمد: اس لئے کہ وہ سارے ہم نے حوالے دیئے تو ۔۔۔۔۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، یہ جو ہے، مجھے بتایا گیا ہے کہ یہ پوچھوں آپ سے۔

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، وہ ٹھیک ہے، پوچھیں آپ۔

(کیا شاہ عبدالعزیز دہلویؒ نے ہندوستان کو دارالحرب نہیں قرار دیا تھا؟)

جناب یحییٰ بختیار: پھر مجھ سے جی، دو سوال اور پوچھے گئے ہیں کہ: کیا شاہ عبدالعزیز دہلوی نے ہندوستان کو دارالحرب نہیں قرار دیا تھا؟

ایک اور سوال ہے، ساتھ ہی: جس جہاد کو انگریزوں نے Wahabi Revolt (وہابی بغاوت) کہا ہے، اس میں علماء شریک تھے یا نہیں؟

مرزا ناصر احمد: یہ کیا ہے؟ یہ تاریخی ہے؟ بڑا دلچسپ سوال: جس جہاد کو ۔۔۔۔۔

جناب یحییٰ بختیار: انگریزوں نے Wahabi Revolt (وہابی بغاوت) ۔۔۔۔۔

مرزا ناصر احمد: کس زمانے کے متعلق بات ہے یہ؟

1091 Wahabis were fighting against Turks all the time with money and ......

(وہابی ہمیشہ ترکوں سے برسرپیکار رہے، مال سے اور ۔۔۔۔۔)

جناب یحییٰ بختیار: کہتے ہیں کہ ١٨٦٤ء

مرزا ناصر احمد: ہیں؟

جناب یحییٰ بختیار: ١٨٦٤ء کہتے ہیں کہ اس زمانے کی بات ہے یہ، آخر تک چلتا رہا ہے یہ ۔۔۔۔۔

٩٨

PDF 563

عالمی مجلس تحفّ ختم نبوت قیمت فی شمارہ -/10 روپے

1137 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

مرزا ناصر احمد: یعنی اس کے بعد سے لے کر؟

جناب یحییٰ بختیار: وہی جو آپ کہتے ہیں ناں کہ انہوں نے رشوت لی تھی۔

مرزا ناصر احمد: وہ یہ پڑے ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، وہ تو آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ جہاد نہیں تھا، وہ رشوت لے لی تھی۔

مرزا ناصر احمد: نہیں، میں یہ کہہ رہا ہوں کہ اس زمانے کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بعد بعض دفعہ ہم پہ بھی اعتراض کر دیتے ہیں۔ لیکن ہمارے، یہ سعودی خاندان جو ہے، وہ ان کی جو سیاست تھی، وہ مختلف ادوار میں سے گزر رہی تھی۔ ان پر میں اعتراض نہیں کر رہا۔ ہمارے نزدیک تو وہ جہاد ہی نہیں تھا۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، یہ کہتے ہیں کہ انڈیا کی جنگ کو انگریزوں نے Wahabi Revolt (وہابی بغاوت) کہا تھا۔ وہ میں ان سے Clarify (واضح) کر کے پھر آپ سے پوچھوں گا۔ جب تک پوزیشن Clear نہ ہو......

مرزا ناصر احمد: No, no انڈیا کی جنگ میں تو ابن سعود ان کا ساتھ دے رہا تھا، یعنی یہ آخری جو فرسٹ ورلڈ وار میں......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، اس سے پہلے کی بات کریں جی، فرسٹ ورلڈ وار کی بات نہیں کر رہے۔

1092 مرزا ناصر احمد: اچھا! فرسٹ ورلڈ وار سے پہلے کی بات ہے۔ کس زمانے کی بات ہے؟ میں نے یہی کہا تھا کہ پیریڈ......

جناب یحییٰ بختیار: وہ میں Verify (تصدیق) کروں گا ڈیٹس وغیرہ، تاکہ اس میں پھر بعد میں ذرا شک پیدا نہ ہو۔

Mr. Chairman: There were two questions: one has been answered, the other has been deferred. And first reply has come. The Attorney General put two supplementaries what was the other?

(جناب چیئرمین: دو سوال تھے۔ ایک پر بحث ہو چکی ہے، پہلا جواب ابھی نہیں ہے یہ......

٩٩

SEMBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

رہیں اس وقت تک بند رہے گا، اور جب تک خدا تعالیٰ ک پھر جہاد جو ہے وہ ہو جائے گا۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، وہ آپ نے فر

مرزا ناصر احمد: جی۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، نہیں، میں کہتا آپ کو پڑھ کر سنا رہا تھا، اس لئے کیونکہ اس کی م ہو جاتی ہے۔

مرزا ناصر احمد: اس لئے کہ وہ سارے ہ

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، یہ جو ہے، مجھ

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، وہ ٹھیک ہے ب

(کیا شاہ عبدالعزیز دہلویؒ نے ہندوستان

جناب یحییٰ بختیار: پھر مجھ سے جی، عبدالعزیز دہلوی نے ہندوستان کو دارالحرب نہیں قرار د ایک اور سوال ہے، ساتھ ہی: جس جہاد (وہابی بغاوت) کہا ہے، اس میں علماء شریک تھے یا نہی

مرزا ناصر احمد: یہ کیا ہے؟ یہ تاریخی ہے

جناب یحییٰ بختیار: انگریزوں نے olt

مرزا ناصر احمد: کس زمانے کے متعلق

ghting against Turks all the time

(وہابی ہمیشہ ترکوں سے برسرپیکار رہے،

جناب یحییٰ بختیار: کہتے ہیں کہ ١٨٦٢

مرزا ناصر احمد: ہیں؟

جناب یحییٰ بختیار: ١٨٦٢ء کہتے ہیں

٩٨

صفحہ ١١٣٨

قیمت فی شمارہ -/10 روپے

مکمل مباحث

قومی اسمبلی

1138 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

ملا۔ اٹارنی جنرل سے دو ضمنی سوال کئے تھے دوسرا کیا سوال تھا؟)

Mr. Yahya Bakhtiar: The other question was:

(جناب یحییٰ بختیار: دیگر سوال کئے تھے)

شاہ عبدالعزیز دہلوی صاحب نے ہندوستان کو دارالحرب نہیں قرار دیا تھا؟

مرزا ناصر احمد: نہیں یہ تو کوئی حوالہ ہو تب ہے ناں۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، اگر آپ کہتے ہیں کہ نہیں کہا تھا یا آپ کو نہیں معلوم ......

مرزا ناصر احمد: تو پھر وہ مبہم رہ جائے گا۔ ہمیں بتایا جائے کہ شاہ عبدالعزیز صاحب نے اس کو قرار دیا تھا یا نہیں دیا تھا، تو تب پھر میں جواب دے سکتا ہوں۔ لیکن یہ کہ: ”کیا فلاں شخص نے یہ کہا تھا یا نہیں کہا تھا؟“ یہ سوال تو نہیں ناں۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں ایسے سمجھ لیجئے کہ: ”شاہ عبدالعزیز صاحب نے ہندوستان کو دارالحرب قرار دیا تھا یا نہیں؟“

مرزا ناصر احمد: اس کا حوالہ کیا ہے؟

جناب یحییٰ بختیار: کوئی بھی نہیں۔ میں اس واسطے کہہ رہا ہوں کہ میں نے ان کے حوالے بند کرا دیئے ہیں۔

مرزا ناصر احمد: بس ٹھیک ہے۔ .....

جناب یحییٰ بختیار: ..... آپ سے سوال پوچھتے ہیں، آپ کہیں کہ ”مجھے علم نہیں ہے اس کا“ یا ”کہا تھا“ یا ”نہیں تھا کہا“

1093 مرزا ناصر احمد: میں کہتا ہوں کہ یہ اس قسم کا سوال ہے جس کا جواب دینے کی ضرورت نہیں ہے۔

یہ کس وقت، جناب چیئرمین صاحب ختم ہوگا؟

جناب چیئرمین: سوا دس کر دیں گے۔

مرزا ناصر احمد: سوا دس بجے؟

Mr. Chairman: Only about 7 minutes.

مرزا ناصر احمد: ہاں، اچھا۔

١٠٠

1139 NAT

د کے سنا دیتا ہوں میں آپ تا گیا ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ نہیں سکتا تھا اور شیر خوار بچے بوڑھوں اور عورتوں کا قتل کرنا وے کے مواخذہ سے نجات دیا گیا۔“

(حاشیہ، خزائن ج ١٧ ص ٣٣٤)

، جیسا کہ دوسرے حوالوں ”قطعا موقوف“ کا مطلب ں سمجھا تھا ”منسوخ“ ہے۔ پیچھے ڈال دیا گیا۔ کے معنی ہی التواء کے ہیں، کا جہاد جو تلوار سے کیا جاتا موقوف“ نہیں، لفظ ”بند“ ہے۔

صفحہ ١١٣٩

1139 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

(جہاد کا حکم موقوف کر دیا گیا؟)

جناب یحییٰ بختیار: ایک اور سوال ہے جی، حوالہ میں پڑھ کے سنا دیتا ہوں میں آپ کو، کہ: ’’جہاد یعنی دینی لڑائیوں کی شدت کو خدا تعالیٰ آہستہ آہستہ کم کرتا گیا ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وقت میں اس قدر شدت تھی کہ ایمان لانا بھی قتل سے بچا نہیں سکتا تھا اور شیر خوار بچے بھی قتل کئے جاتے تھے۔ پھر ہمارے نبی ﷺ کے وقت میں بچوں اور بوڑھوں اور عورتوں کا قتل کرنا حرام کیا گیا۔ پھر بعض قوموں کے لئے بجائے ایمان کے صرف جزیہ دے کے مواخذہ سے نجات پانا قبول کیا گیا اور پھر مسیح موعود کے وقت میں قطعاً جہاد کا حکم موقوف کر دیا گیا۔‘‘

(اربعین نمبر ٤ ص ١٤ حاشیہ، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٣)

مرزا ناصر احمد: یعنی اس کا جواب میں دے دوں ابھی؟

جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی۔

مرزا ناصر احمد: یہاں ’’منسوخ‘‘، معنی ’’التوا‘‘ کے ہے، جیسا کہ دوسرے حوالوں سے ثابت ہے۔

1094 جناب یحییٰ بختیار: ٹھیک ہے، بس وہ کافی ہے۔ ...... ’’قطعاً موقوف‘‘ کا مطلب ہے ’’ملتوی‘‘

مرزا ناصر احمد: ’’موقوف‘‘ کا مطلب ہی ’’ملتوی‘‘ ہے۔ میں سمجھا تھا ’’منسوخ‘‘ ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں ......

مرزا ناصر احمد: ’’موقوف‘‘ ...... ایک وقفے تک کے لئے پیچھے ڈال دیا گیا۔

مرزا ناصر احمد: جی، میں پڑھتا ہوں، تاکہ پھر نہ ہو وہ: ’’مسیح موعود کے وقت قطعاً جہاد کا حکم موقوف کر دیا گیا۔‘‘

مرزا ناصر احمد: ہاں، ’’موقوف کر دیا گیا‘‘ ...... ’’موقوف کے معنی ہی التوا کے ہیں، وقفہ ڈالنے کے۔

جناب یحییٰ بختیار: ابھی آگے ہے جی: ’’آج سے انسانی جہاد جو تلوار سے کیا جاتا ہے خدا کے حکم کے ساتھ بند کیا گیا۔‘‘ (مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٩٥) ’’موقوف‘‘ نہیں، لفظ ’’بند‘‘ ہے۔ ...... ’’بند کیا گیا‘‘ ہے۔

مرزا ناصر احمد: شاید شرائط نہ ہونے کی وجہ سے بند ہو گیا ہے۔

١٠١

کامل سیٹ مجلد عالی مجلد قیمت فی شمارہ 10/- روپے

SEMBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

ملا۔ اٹارنی جنرل سے دو ضمنی سوال کئے تھے دوسرا کیا سوال

tiar: The other question was:

(جناب یحییٰ بختیار: دیگر سوال کئے تھے شاہ عبدالعزیز دہلوی صاحب نے ہندوستا

مرزا ناصر احمد: نہیں یہ تو کوئی حوالہ ہو تب

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، اگر آپ کہتے

مرزا ناصر احمد: تو پھر وہ مبہم رہ جائے گا، نے اس کو قرار دیا تھا یا نہیں دیا تھا، تو تب پھر میں جواب نے یہ کہا تھا یا نہیں کہا تھا؟‘‘ یہ سوال تو نہیں ناں۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں ایسے سمجھ لیجئے کو دارالحرب قرار دیا تھا یا نہیں؟‘‘

مرزا ناصر احمد: اس کا حوالہ کیا ہے؟

جناب یحییٰ بختیار: کوئی بھی نہیں۔ میر حوالے بند کرا دیئے ہیں۔

مرزا ناصر احمد: بس ٹھیک ہے......

جناب یحییٰ بختیار: ...... آپ سے سوال اس کا ’’یا‘‘ کہا تھا ’’یا‘‘ نہیں تھا کہا‘‘

1093 مرزا ناصر احمد: میں کہتا ہوں کہ یہ ضرورت نہیں ہے۔

یہ کس وقت، جناب چیئرمین صاحب ختم

جناب چیئرمین: سوا دس کر دیں گے۔

مرزا ناصر احمد: سوا دس بجے؟

Only about 7 minutes.

مرزا ناصر احمد: ہاں، اچھا۔

١٠٠

صفحہ ١٠٢

قیمت فی شمارہ -/10 روپے عالی جناب مجلہ کمیٹی

1140 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08 جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں پڑھ کے سنادیتا ہوں۔ مرزا ناصر احمد: ہاں، سنا دیجئے، سنا دیجئے۔ جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! یہ تو آپ ...... میں جانتا ہوں جو وہ کہیں گے جواب میں (ہنسی) ”آج سے انسانی جہاد جو تلوار سے کیا جاتا ہے خدا کے حکم سے بند کیا گیا ۔“ مرزا ناصر احمد: یہ فقرہ میں نے سنا نہیں ”آج سے انسانی جہاد“؟ جناب یحییٰ بختیار: انسانی جہاد۔ 1095 مرزا ناصر احمد: ”انسانی“؟ جناب یحییٰ بختیار: ممکن ہے کوئی غلطی ہو پرنٹ کی۔ مرزا ناصر احمد: ہاں، وہ دیکھ لیں گے۔ جناب یحییٰ بختیار: ”آج سے انسانی جہاد جو تلوار سے کیا جاتا ہے ......“

(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٩٥)

وہ پرنٹ آپ دیکھ لیں جی، شاید یہ ٹھیک نہ ہو۔ مرزا ناصر احمد: ہاں، وہ دیکھ لیں گے، شاید یہی ہوگا۔ ویسے ”بند کیا گیا“ اصل لفظ ہے ناں؟ جناب یحییٰ بختیار: ”...... خدا کے حکم کے ساتھ بند کیا گیا۔ اب اس کے بعد جو شخص کافر پر تلوار اٹھاتا اور اپنا نام غازی رکھتا ہے وہ خدا اور رسول ﷺ کی نافرمانی کرتا ہے۔ جس نے آج سے تیرہ سو برس پہلے فرمایا ہے کہ مسیح موعود کے آنے پر تمام تلوار کے جہاد ختم ہو جائیں گے۔ تو اب میرے ظہور کے بعد تلوار کا کوئی جہاد نہیں ہے۔ ہماری طرف سے امن اور صلح کاری کا سفید جھنڈا بلند کیا گیا ہے۔“

(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٩٥)

مرزا ناصر احمد: ”میرا حکم نہیں، میری نافرمانی نہیں، آنحضرت صلعم کی ہے“ ...... یہ وہی ملتوی کا ہے جی۔ جناب یحییٰ بختیار: نہیں، یہ نہیں، یہاں ”بند کیا گیا“ ہے، اس واسطے میں کہہ رہا ہوں ...... مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، اس کو، میرا مطلب یہی ہے، کہ نبی اکرم ﷺ کے قول کے مطابق ......

لے یہ جناب من مرزا قادیانی کا ارشاد عالی ہے۔ خدا کرے نہ سمجھے کوئی۔ جیسے آپ نہیں سمجھے۔

1141 NATIONAL ... گے تو بالکل ختم ہو جائے گا جہاد؟ شرائط نہیں ہوں گی موجود اور جب شرائط یں، جہاد کرو، ہر مومن کا فرض ہے۔ میں بھی یہی صفحہ ......٣٠ کہ: ”بس آج مبر تحفہ گولڑویہ ص ٢٦، خزائن ج ١٧ ص ٧٧)

قطعا موقوف ہوگیا“ پھر ”بند ہوگیا“ پھر ہے۔...... ہاد کی شرائط نہ ہوں ...... ے ہیں ! ئط کے فقدان کے وقت جہاد حرام ہے، کے وقت جہاد حرام ہے ہمیشہ کے لئے۔ ہ تو ایسی Established (تسلیم

کے زمانے میں بھی اگر شرائط نہ ہوں تو

ث نے یہ کہا ...... ے تو کچھ اور Change (تبدل)

ں ابھی میں وضاحت کر دیتا ہوں ...... ول تو جہاد کیا جائے اور آنحضرت ﷺ کے زمانے میں بھی وہی حکم ہے کہ جہاد

صفحہ ١١٤١

1141 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

1096 جناب یحییٰ بختیار: یہ جب مسیح آئیں گے تو بالکل ختم ہو جائے گا جہاد؟

مرزا ناصر احمد: جب مسیح آئیں گے تو جہاد کی شرائط نہیں ہوں گی موجود اور جب شرائط ہو جائیں گے تو وہی مہدی کہے گا کہ جب شرائط پوری ہو جائیں، جہاد کرو، ہر مومن کا فرض ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: پھر وہاں ”تحفہ گولڑویہ“ میں بھی یہی صفحہ......٣٠ کہ : ”بس آج سے دین کے لئے لڑنا مسلمانوں کے لئے حرام ہے۔“ (ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٢٦، خزائن ج ١٧ ص ٧٧)

مرزا ناصر احمد: ”آج سے۔“

جناب یحییٰ بختیار: میں اس واسطے درجہ بدرجہ......

مرزا ناصر احمد: ہاں، ٹھیک ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: یہ ”ملتوی ہو گیا“ پھر ”قطعاً موقوف ہو گیا“ پھر ”بند ہو گیا“ پھر ”حرام ہو گیا“ اور آپ کہتے ہیں کہ سب کا مطلب ”ملتوی“ ہے۔......

مرزا ناصر احمد: جو جہاد کی شرائط...... جب جہاد کی شرائط نہ ہوں......

جناب یحییٰ بختیار: یہاں ”آج سے“ کہہ رہے ہیں!

مرزا ناصر احمد: نہیں، ہاں، ہاں، جہاد کی شرائط کے فقدان کے وقت جہاد حرام ہے، ہمیشہ کے لئے نہیں ہمیشہ کے لئے جہاد کی شرائط کے فقدان کے وقت جہاد حرام ہے ہمیشہ کے لئے۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، مرزا صاحب! وہ تو ایسی Established (تسلیم شدہ) پوزیشن ہے......

مرزا ناصر احمد: وہی ہے ہماری پوزیشن۔

جناب یحییٰ بختیار: ......کہ آنحضرت ﷺ کے زمانے میں بھی اگر شرائط نہ ہوں تو نہیں......

1097 مرزا ناصر احمد: بالکل، اس واسطے کہ حدیث نے یہ کہا......

جناب یحییٰ بختیار: ......مگر مسیح موعود کی وجہ سے تو کچھ اور Change (تبدل) بھی آ گیا ہے ناں، کہ وہ آ گیا تو جیسے وہ ہو گیا، یہ......

مرزا ناصر احمد: نبی اکرم ﷺ کے زمانے میں ابھی میں وضاحت کر دیتا ہوں...... نبی اکرم ﷺ کے زمانے میں حکم یہی تھا کہ جہاد کی شرائط ہوں تو جہاد کیا جائے اور آنحضرت ﷺ کے زمانے میں جہاد کی شرائط تھیں اور جہاد کیا گیا اور مہدی کے زمانے میں بھی وہی حکم ہے کہ جہاد

١٠٣

قیمت فی شمارہ-/10 روپے

MBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں پڑھ ۔

مرزا ناصر احمد: ہاں، سنا دیجئے، سنا دیجئے

جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! ا

جواب میں (ہنسی) ”آج سے انسانی جہاد جو تلوار سے

مرزا ناصر احمد: یہ فقرہ میں نے سنا نہیں

جناب یحییٰ بختیار: انسانی جہاد۔

1095 مرزا ناصر احمد: ”انسانی“؟

جناب یحییٰ بختیار: ممکن ہے کوئی غلطی

مرزا ناصر احمد: ہاں، وہ دیکھ لیں گے۔

جناب یحییٰ بختیار: ”آج سے انسانی وہ پرنٹ آپ دیکھ لیں جی، شاید یہ ٹھیک

مرزا ناصر احمد: ہاں، وہ دیکھ لیں گے ہے ناں؟

جناب یحییٰ بختیار: ”......خدا کے حکم کافر پر تلوار اٹھاتا اور اپنا نام غازی رکھتا ہے وہ خدا ا آج سے تیرہ سو برس پہلے فرمایا ہے کہ مسیح موعود کے آ اب میرے ظہور کے بعد تلوار کا کوئی جہاد نہیں ہے۔ جھنڈا بلند کیا گیا ہے۔“

مرزا ناصر احمد: ”میرا حکم نہیں، میری وہی ملتوی کا ہے جی۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، یہ نہیں، یہاں

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، اس کو، ا کے مطابق......

١؎ یہ جناب من مرزا قادیانی کا ارشاد عال سمجھے۔

١٠٢

صفحہ ١١٤٢

1142 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

کی شرائط ہوں تو جہاد کیا جائے۔ جہاد کی شرائط نہیں تھیں اس لئے جہاد جو تھا وہ اس وقت تک کہ جہاد کی شرائط پوری ہوں، حرام ہے۔

نبی اکرم ﷺ کی مکی زندگی میں، جو مدنی زندگی سے زیادہ لمبی ہے، جہاد کی شرائط نہیں تھیں اور جہاد نہیں کیا گیا...... ١٣ سال تک۔

جناب یحییٰ بختیار: پھر تو پوائنٹ بڑا Clear (واضح) ہو جاتا ہے ناں جی......

مرزا ناصر احمد: ہاں۔

جناب یحییٰ بختیار: ......کہ جہاد شرائط سے ہے، مسیح کے آنے سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔

مرزا ناصر احمد: مسیح کے آنے سے صرف اتنا تعلق ہے کہ پیش گوئی کی گئی تھی، احادیث میں، کہ اس کے زمانے میں شرائط جہاد نہیں ہوں گی۔ صرف اتنا تعلق ہے، اور نہیں جہاں تک کہ فی ذاتہ جہاد کا مسئلہ ہے، اس کا مسیح کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: یعنی جب ان کی زندگی ختم ہو جائے گی اس کے بعد پھر شروع ہو جائے گا سلسلہ؟

1098 مرزا ناصر احمد: نہیں، فوراً نہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں؟

مرزا ناصر احمد: ......یہ کہا گیا تھا...... نہیں، ابھی سمجھ جائیں گے آپ...... یہ کہا گیا تھا کہ مسیح کی زندگی میں، مہدی کی زندگی میں جہاد کی شرائط پوری نہیں ہوں گی اور یہ نہیں کہا گیا کہ مسیح کی وفات کے ساتھ ہی جہاد کی شرائط پوری ہو جائیں گی۔ ایک معین وقت کے لئے ایک معین خبر دی گئی ہے۔ اس کے بعد یہ ہے کہ دس سال کے بعد یا پچاس سال کے بعد، جب بھی جہاد کی شرائط پوری ہوں، ہر مومن کے لئے جہاد فرض ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: مسیح کے آنے کے بعد تو مرزا صاحب! اس کے بعد تو پھر یہ جہاد کی شرائط نہیں ہوں گی، یا جہاد ختم ہو جائے گا۔ کیونکہ اس کے بعد تو پھر جھگڑوں کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا، پھر تو قیامت اور جو بھی ہوگا، کہ زندگی پھر جاری رہے گی؟

مرزا ناصر احمد: مسیح کی زندگی کے ساتھ قیامت نہیں آئی، مسیح کی زندگی ختم ہونے پر قیامت نہیں آئی، بلکہ اس پر اس وقت گزر چکے ہیں ٦٦ سال۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں میں یہ پوچھ رہا ہوں کہ مسیح موعود کا آنا ہے، مہدی

١٠٤٢

صفحہ ١١٤٣

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

آخرالزمان جس کو کہتے ہیں، مطلب تو آخری زمانہ ہے؟

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، آخری زمانہ۔

جناب یحییٰ بختیار: تو آخری زمانے میں سے ہم گزر رہے ہیں؟

مرزا ناصر احمد: ہاں جی۔

جناب یحییٰ بختیار: اس کے بعد تو پھر جنگ کا کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ نہ جھگڑا ہوگا۔.......

1099 مرزا ناصر احمد: کیوں؟

جناب یحییٰ بختیار: امن آگیا، شرط ہی کوئی نہیں ہوگی جہاد کی۔

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، اس کے بعد ہوسکتا ہے کہ شرائط پوری ہو جائیں۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، ان کی وفات کے بعد پھر ہوسکتا ہے؟

مرزا ناصر احمد: وفات کے بعد ہوسکتا ہے شرائط پوری ہو جائیں۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں میں یہی پوچھنا چاہتا ہوں۔

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، پھر یہ ابھی حوالہ میں نے پڑھا ہے آپ نے فرمایا ہے کہ ہر مومن کا فرض ہوگا کہ جہاد کرے۔

Mr. Chairman: Now we take it to tomorrow or now.

(جناب چیئرمین: یہ ہم اب کل جاری رکھیں گے)

Mr. Yahya Bakhtiar: Alright, Sir. There are three, four more questions.

(جناب یحییٰ بختیار: ٹھیک ہے! جناب والا۔ ابھی تین چار سوال اور ہیں)

Mr. Chairman: Yes, tomorrow.

(جناب چیئرمین: جی، کل)

The Delegation is permitted to leave; tomorrow at 10:00 am.

(وفد کو کل دس بجے تک جانے کی اجازت ہے)

١٠٥

Y OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

کی شرائط ہوں تو جہاد کیا جائے۔ جہاد کی شرائط جہاد کی شرائط پوری ہوں، حرام ہے۔ نبی اکرم ﷺ کی مکی زندگی میں، جو تھیں اور جہاد نہیں کیا گیا.......١٣ سال تک۔

جناب یحییٰ بختیار: پھر تو پوائنٹ

مرزا ناصر احمد: ہاں۔

جناب یحییٰ بختیار: ......کہ جہاد شرا

مرزا ناصر احمد: مسیح کے آنے احادیث میں، کہ اس کے زمانے میں شرائط جہا تک کہ فی ذاتہ جہاد کا مسئلہ ہے، اس کا مسیح کے سا

جناب یحییٰ بختیار: یعنی جب ا ہو جائے گا سلسلہ؟

1098 مرزا ناصر احمد: نہیں، فوراً خت

جناب یحییٰ بختیار: ہاں؟

مرزا ناصر احمد: ......یہ کہا گیا تھا، کہ مسیح کی زندگی میں، مہدی کی زندگی میں جہاد کی وفات کے ساتھ ہی جہاد کی شرائط پوری ہو دی گئی ہے۔ اس کے بعد یہ ہے کہ دس سال کے پوری ہوں، ہر مومن کے لئے جہاد فرض ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: مسیح کے آ کی شرائط نہیں ہوں گی، یا جہاد ختم ہو جائے گا۔ ک ہوتا، پھر تو قیامت اور جو بھی ہوگا، کہ زندگی پھر چ

مرزا ناصر احمد: مسیح کی زندگی ک قیامت نہیں آئی، بلکہ اس پر اس وقت گزر چکے ہ

جناب یحییٰ بختیار: نہیں میں

قیمت فی شمارہ-/10 روپے

مکمل سیٹ

عالمی مجلس تحفظ

صفحہ ١٠٦

1144 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 21th Aug, 1974 No:08

The Honourable Members may please keep sitting. (معزز اراکین تشریف رکھیں)

(The Delegation left the Chamber.) (وفد ہال سے باہر چلا گیا)

Mr. Chairman: Any member who would like to say some thing?

(جناب چیئرمین: کیا کوئی معزز رکن کچھ کہنا چاہتے ہیں؟)

مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی: Yes، ''التوا'' ہو جائے۔

جناب چیئرمین: جی؟

1100 مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی: اب ''التوا'' ہو جائے۔

جناب چیئرمین: ''التوا''؟ ....... On one condition only (صرف ایک شرط پر ......)

پروفیسر غفور احمد: صاحب! دس کا مطلب کیا ہوا؟

Mr. Chairman: ...... On one condition ......

(جی، کل صبح ساڑھے نو بجے Bell شروع ہو جائے گی اور دس بجے آپ تشریف لے آئیں)

آدھا گھنٹہ تقریر کر لیں تو ...... On one condition, otherwise Tomorrow, sharp at 10:00 am. Thank you very much. (آپ کا بہت بہت شکریہ)

[The Specil Committee adjourned to meet at ten of the clock, in the morning on Thursday, the 22nd August, 1974.]

(خصوصی کمیٹی کا اجلاس کل بروز جمعرات صبح دس بجے۔ ٢٢؍ اگست ١٩٧٤ء تک ملتوی کیا گیا)

١٠٦