ردّ قادیانیت
رسائل
مبلغ اسلام جناب ابو عبیدہ نظام الدین بی اے
احتساب قادیانیت
چہار دہم
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
حضوری باغ روڈ، ملتان - فون: 4514122
ردّ قادیانیت
رسائل
مبلغ اسلام جناب ابو عبیدہ نظام الدین بی اے
احتساب قادیانیت
چہار دہم
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
حضوری باغ روڈ، ملتان ۔ فون: 4514122
بسم اللہ الرحمن الرحیم!
عرض مرتب
نحمده ونصلى على رسوله الكريم . اما بعد!
محض اللہ رب العزت کے فضل وکرم، احسان وتوفیق وعنایت سے ”احتساب قادیانیت“ کی چودھویں جلد پیش خدمت ہے۔ یہ جلد حضرت علامہ ابو عبیدہ نظام الدین بی اے سائنس ماسٹر گورنمنٹ ہائی سکول کوہاٹ کے مجموعہ کتب پر مشتمل ہے۔
حضرت موصوف فاضل اجل عالم دین اور دنیاوی تعلیم کے ماہر تھے۔ فن مناظرہ پر آپ کو یدطولیٰ حاصل تھا۔ رد قادیانیت میں عظیم ماہرین کے طور پر اپنے زمانہ میں جانے پہچانے جاتے تھے۔ قدرت نے آپ سے خدمت ختم نبوت کا عظیم کام لیا۔ ان کے یہ رسائل ١٩٣٤ء کے لگ بھگ کے ہیں۔ اس زمانہ میں وہ تمام مناظرین اسلام جو رد قادیانیت کے لئے گرانقدر خدمات انجام دے رہے تھے ان سے آپ کے مثالی برادرانہ تعلقات تھے۔ حضرت امیر شریعت حضرت سید عطاء اللہ شاہ بخاری بانی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پر دل وجان سے فدا تھے۔ حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ حضرت مولانا لال حسین اخترؒ، فاتح قادیان حضرت مولانا محمد حیاتؒ حضرت مولانا حبیب اللہ امرتسریؒ ایسے مناظرین کے گروہ کے سرخیل تھے۔ آپ کا امتیازی وصف اور خوبی یہ ہے کہ آپ قادیانیوں کو قادیانیوں کی کتابوں سے جواب دیتے ہیں۔ قادیانیوں کے ہر اعتراض کے سامنے قادیانی کتابوں کے حوالہ جات کی سد سکندری کھڑی کر دیتے ہیں۔ یاجوج ماجوج کی طرح قادیانی ان حوالہ جات کی دیوار کو چاٹ چاٹ کر نیم جان ہوکر اول فول بکنے لگ جاتے ہیں۔ موصوف کی یہ امتیازی شان ان کی کتابوں میں واضح طور پر پائی جاتی ہے۔ تقریباً سو سال گزرنے کے باوجود ان کی کتابوں کی ضرورت اور آب و تاب جوں کی توں باقی ہے۔ کوئی مناظر ان کی کتب سے بے نیازی نہیں برت سکتا۔ آج بھی قادیانیوں کے خلاف مناظرہ کا ہر صاحب ذوق مناظر ان کی کتب کا زیر دست وممنون نظر آتا ہے۔ ان کی عظیم خدمات کو جتنا خراج تحسین پیش کیا جائے کم ہے۔
ان کی چار کتب ہمیں میسر آئی ہیں۔ نمبر ١....... توضیح الکلام فی حیات عیسیٰ علیہ السلام۔
نمبر٢...... کذبات مرزا۔ نمبر٣....... برق آسمانی بر فرق قادیانی۔ نمبر٤...... منکوحہ آسمانی۔ جو اس جلد کی زینت بنی ہیں۔ مزید ان کے رشحات قلم شائع نہ ہوسکے۔ ان کی کتب و مسودہ جات بیس سال کا عرصہ ہوا ان کے ایک عزیز جو فوجی آفیسر تھے اور لاہور میں مقیم تھے۔ انہوں نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی لائبریری کو وقف کئے تھے۔ ان کی نوٹ بکوں کو آج کوئی اللہ کا بندہ ترتیب دے۔ حوالہ جات پر محنت کرے تو رد قادیانیت کا خوبصورت انڈکس تیار ہو سکتا ہے۔ لیکن اس کام کے لئے صلاحیت وتوفیق اور فرصت درکار ہے۔ کسے اللہ تعالیٰ توفیق دیتے ہیں یہ ایک سوالیہ ہے؟ ۔ فقیر حقیر راقم الحروف سے جو ہو سکا وہ عنایت الٰہی ہے اور آپ کے سامنے پیش خدمت ہے۔ اپنی ڈائریوں میں وہ اپنے صاحبزادہ جناب عبدالقیوم کا ذکر کرتے ہیں۔ وہ عزیز کہاں ہیں؟ نہیں معلوم ہو سکا۔ خدا کرے وہ زندہ ہوں۔ ان تک اپنے والد مرحوم کی کتب کا یہ مجموعہ پہنچ پائے۔ وہ رابطہ کریں تو مرحوم کے مزید حالات جمع ہو سکتے ہیں۔ قارئین! قدرت کے کرم کو دیکھیں کس طرح ہر دور میں اللہ تعالیٰ نے ایسے افراد کار امت کو نصیب کئے۔ جنہوں نے قادیانیت کے خلاف اپنی صلاحیتوں کو وقف کئے رکھا۔ آج ان حضرات کی محنت کو حق تعالیٰ کس طرح اجاگر فرما رہے ہیں۔ یہ ان کے مخلصانہ کام اور جدوجہد کی عنداللہ مقبولیت کی دلیل ہے۔ ہم ان کے صحیح وارث ہیں؟ ۔ یہ ہمارے پر منحصر ہے کہ ہم اپنے آپ کو اس کا اہل ثابت کر سکتے ہیں یا نہیں۔ یہی قارئین، مبلغین اور رفقاء سے میری درخواست ہے۔ حق تعالیٰ ان کو کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائیں۔ عالم آخرت میں ان مرحوم مصنفین سے ملاقات یقیناً تمام تھکاوٹوں کو دور کر دے گی۔ اے مولائے کریم! تو ایسے ہی فرما۔ ان کے علوم کا صحیح وارث بنادے اور قیامت کے دن تمام رسوائیوں سے محفوظ فرما کر ان حضرات کی صحبتوں کے مزے لوٹنے کی توفیق عنایت کر دے۔ ہماری مشکلات کو آسان اور پریشانیوں کو دور فرما اور زیادہ سے زیادہ جگر سوزی کے ساتھ کام کرنے کی توفیق عنایت فرما۔ آمین ! ثم آمین ! بحرمة النبی الکریم وخاتم النبیین !
والسلام ! (مولانا) اللہ وسایا یکے از خدام عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان پاکستان ١٧؍ شوال المکرم ١٤٢٥ھ ٣٠؍ نومبر ٢٠٠٤ء
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں
توضیح الکلام
فی اثبات حیات عیسیٰ علیہ السلام
مبلغ اسلام ابو عبیدہ نظام الدین .. بی ۔ اے
بسم اللہ الرحمن الرحیم
فہرست کتب مشمولہ جلد ہذا
- نمبر ١...... توضیح الکلام فی حیات عیسیٰ علیہ السلام صفحہ ٥ تا ٢٧٤
- نمبر ٢...... کذبات مرزا صفحہ ٢٧٥ تا ٢٩٤
- نمبر ٣...... برق آسمانی بر فرق قادیانی صفحہ ٢٩٥ تا ٣٦٢
- نمبر ٤...... منکوحہ آسمانی صفحہ ٣٦٣ تا ٣٩٢
بسم الله الرحمن الرحيم!
فہرست مضامین
توضیح الکلام فی حیات عیسیٰ علیہ السلام
- ١... پہلے مجھے پڑھئے ٢١
- ٢... وجہ تصنیف رسالہ ٢١
- ٣... اعلان انعام ٢١
- ٤... رسالہ کے متعلق پیشگوئی ٢٢
- ٥... اسلامی دلائل کی فولادی طاقت کا راز ٢٢
- ٦... قادیانی اصول و عقائد ٢٣
- ٧... مجددین مسلمہ قادیانی ٢٥
- ٨... چودہویں صدی کے مجددین میں سے بعض کے نام ٢٥
حیات عیسیٰ علیہ السلام!
باب اوّل!
- ٩... انجیل سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زندہ آسمان پر اٹھائے جانیکا ثبوت ٢٨
باب دوم!
- ١٠... قرآنی دلیل نمبر ١: مکروا و مکر الله والله خیر الماکرین! ٣٤
- ١١... ' مکروا و مکر الله کی اسلامی تفسیر ٣٥
- ١٢... ' مکروا و مکر الله کی قادیانی تفسیر اور اس کا تجزیہ ٣٨
- ١٣... قرآنی دلیل نمبر ٢: واذقال یاعیسٰی انی متوفیک ورافعک الیَّ ٤٠
١٤... توفی کی پرلطف بحث۔ سوال و جواب کی صورت میں ٤٤
١٥... توفی کا استعمال کلام اللہ میں ٤٤
١٦... توفی کے حقیقی معنی از آئمہ لغت ٤٧
١٧... عیسیٰ علیہ السلام کی توفی کی بحث ٥٠
١٨... توفی عیسیٰ کے معنی مارنا نہیں ہو سکتے (١٤ دلائل) ٥١
١٩... قرآنی دلیل نمبر ٣: وما قتلوہ وما صلبوہ! ٦٢
٢٠... قتل وصلب کی بحث ٦٣
٢١... مصلوب۔ مقتول کا مترادف نہیں ٦٥
٢٢... بل کی بحث ٦٩
٢٣... کلام اللہ میں الی یا الی اللہ سے کیا مراد ہوتی ہے ٧٢
٢٤... آیت کی تفسیر کے متعلق ایک چیلنج ٧٤
٢٥... قرآنی دلیل نمبر ٤: وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ! ٧٤
٢٦... اس آیت کی اسلامی تفسیر پر قادیانی اعتراضات کا تجزیہ ٨٢
٢٧... قبل موتہ میں ضمیرہ کا مرجع حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں ٨٨
٢٨... لیؤمنن کی بحث ٨٩
٢٩... اس آیت کے متعلق ایک چیلنج ٩١
٣٠... قرآنی دلیل نمبر ٥: وانہ لعلم للساعۃ فلاتمترن بہا! ٩١
٣١... اسلامی تفسیر پر قادیانی اعتراضات کا تجزیہ ٩٦
٣٢... آیت کریمہ کی قادیانی تفسیر کی حقیقت ١٠٠
٣٣... قرآنی دلیل نمبر ٦: اذ قال اللہ یاعیسی ابن مریم اذکر نعمتی علیک
...... تکلم الناس فی المہد وکہلا! ١٠٤
٣٤... قرآنی دلیل نمبر ٧: واذ کففت بنی اسرائیل عنک ! ١١١
- ٣٥... قادیانی اعتراضات کا تجزیہ ١١٧
- ٣٦... قرآنی دلیل نمبر ٨: اذ قالت الملائکۃ یا مریم ان اللہ یبشرک بکلمۃ
منہ اسمہ المسیح عیسیٰ ابن مریم وجیھا فی الدنیا والاخرۃ! ١٢٠
- ٣٧... اسلامی تفسیر کی تائید از مرزا قادیانی ١٢٤
- ٣٨... قرآنی دلیل نمبر ٩: واذ قال اللہ یا عیسیٰ ابن مریم أنت قلت للناس
اتخذونی وامی الھین...... فلما توفیتنی کنت انت الرقیب علیھم! ١٢٥
- ٣٩... اذ قال اللہ! میں قال کی ماضویت اور استقبال پر بحث ١٢٥
- ٤٠... اسلامی تفسیر پر قادیانی کا پہلا اعتراض مع جواب ١٣٣
- ٤١... دوسرا اعتراض مع جواب ١٣٣
- ٤٢... قادیانی اپنے دلائل کے چکر میں ١٣٦
- ٤٣... قادیانی اعتراض نمبر ٣ اور اس کا جواب ١٣٩
- ٤٤... قادیانی اعتراض نمبر ٤ اور اس کا جواب ١٤١
- ٤٥... قرآنی دلیل نمبر ١٠: ما المسیح ابن مریم الا رسول قد خلت
من قبلہ الرسل! ١٤٦
باب سوم!
- ٤٦... حیات عیسیٰ علیہ السلام کا ثبوت از احادیث نبوی علیٰ صاحبھا الصلوٰۃ والسلام ١٤٩
- ٤٧... احادیث نبوی کی عظمت شان اور اہمیت از کلام اللہ واقوال مرزا ١٤٩
- ٤٨... حدیث نمبر ١: والذی نفسی بیدہ لیوشکن ان ینزل فیکم
ابن مریم حکما عدلا . الحدیث. رواہ البخاری! ١٥٠
- ٤٩... حدیث نمبر ١ کی صحت وعظمت ١٥٠
٥٠... حدیث نمبر ٢: قال رسول الله ﷺ الانبیاء اخوة لعلات ولانی اولی الناس بعیسیٰ ابن مریم لانه لم یکن بینی وبینه نبی وانه نازل، الحدیث....... رواه ابوداؤد واحمد! ١٥١ ٥١... عظمت شان وصحت حدیث بالا.............! ١٥١ ٥٢... حدیث نمبر ٣: قال علیه السلام ینزل عیسٰی ابن مریم الی الارض فیتزوج ویولد له ویمکث خمساً واربعین سنة ثم یموت فیدفن معی فی قبری الحدیث....... رواه ابن جوزی! ١٥٣ ٥٣... عظمت وصحت حدیث از مرزا قادیانی ١٥٥ ٥٤... حدیث نمبر ٤: قال علیه السلام ان روح الله عیسیٰ نازل فیکم الی آخره، الحدیث ....... رواه الحاکم! ١٥٧ ٥٥... عظمت وصحت حدیث ١٥٨ ٥٦... حدیث نمبر ٥: کیف انتم اذا نزل ابن مریم من السماء فیکم وامامکم منکم، رواه البیهقی! ١٥٨ ٥٧... حدیث نمبر ٦: ینزل اخی عیسٰی ابن مریم من السماء علی جبل افیق....... الی آخر الحدیث! ١٥٩ ٥٨... حدیث نمبر ٧: قال علیه السلام عرض علی الانبیاء ٠ الحدیث! ١٦٠ ٥٩... حدیث نمبر ٨: قال علیه السلام فیبعث الله عیسٰی ابن مریم! ١٦٠ ٦٠... حدیث نمبر ٩: عن عائشہؓ قالت قلت یارسول الله انی اریٰ انی اعیش بعدک فتأذنی ان ادفن الی جنبک! ١٦٠ ٦١... حدیث نمبر ١٠: عن جابرؓ قال ان عمرؓ قال أذن لی یارسول الله
فاقتله فقال رسول الله ان یکن هوفلست صاحبه انما صاحبه عیسیٰ ابن مریم ، رواه احمد! ١٦٢
٦٢... حدیث نمبر ١١: قال (عیسیٰ) قد عهدالی فیما دون وجبتها..... ...... فانزل فاقتله ، رواه ابن ماجه! ١٦٣
٦٣... حدیث نمبر ١٢: کیف انتم اذا نزل ابن مریم فیکم وامامکم منکم! ١٦٤
٦٤... حدیث نمبر ١٣: فینزل عیسیٰ ابن مریم فیقول امیرهم تعال صل لنا ، الحدیث! ١٦٦
٦٥... حدیث نمبر ١٤: عن نواس بن سمعانؓ..... فبینما هوذالک اذابعث الله المسیح ابن مریم فینزل عندالمنارة البیضاء شرقی دمشق ، الحدیث! ١٧٠
٦٦... حدیث نمبر ١٥: قال علیه السلام للیهود ان عیسیٰ لم یمت وانه راجع الیکم قبل یوم القیامة ، درمنثور! ١٧٥
٦٧... حدیث نمبر ١٦: قال علیه السلام الستم تعلمون ان ربنا حی لایموت وان عیسیٰ یأتی علیه الفناء قالو بلیٰ! ١٧٩
٦٨... حدیث نمبر ١٧: والذی نفسی بیده لیهلن ابن مریم بفج الروحاء حاجاً اومعتمراً اولیثنینهما ، رواه مسلم! ١٨١
٦٩... حدیث نمبر ١٨: ینزل عیسیٰ ابن مریم عندصلوٰة الفجر فیقول انه امیرهم یاروح الله تقدم صل فیقول هذه الامة امراء بعضهم علی بعض ، الحدیث! ١٨٢
٧٠... حدیث نمبر ١٩: امامهم رجل صالح قدتقدم بهم الصبح اذا نزل عیسیٰ ابن مریم ، الحدیث! ١٨٣
٧١... حدیث نمبر ٢٠: حدیث علیؓ بصورت خطبہ! ١٨٣
٧٢...حدیث نمبر ٢١: (ترجمہ) فرمایا رسول اللہ ﷺ نے اول دجال ہوگا پھر عیسٰی ابن مریم ١٨٣
٧٣...حدیث نمبر ٢٢: كيف يهلك امة انا اولها واثنا عشر خليفة من بعدی والمسيح ابن مریم آخرها! ١٨٥
٧٤...حدیث نمبر ٢٣: لن تهلك امة انا اولها وعيسى ابن مریم آخرها والمهدى اوسطها، رواه احمد! ١٨٥
٧٥...حدیث نمبر ٢٤: ليهبطن ابن مريم حكما عدلا واماماً مقسطاً وليأتين قبرى حتى يسلم علّى ولاردّن عليه! ١٨٦
٧٦...حدیث نمبر ٢٥: ينزل عيسى عليه السلام فيقتله (الدجال) ثم يمكث عيسى فى الارض اربعين سنة اماما عدلا وحكما مقسطا! ١٨٦
٧٧...حدیث نمبر ٢٦: لاتقوم الساعة حتى تروا عشر آيات طلوع الشمس من مغربها....... ياجوج وماجوج ونزول عيسى ابن مريم، الحديث! ١٨٧
٧٨...حدیث نمبر ٢٧: دربارہ برتلا وصی حضرت عیسیٰ علیہ السلام جن کو حضرت سعد بن وقاصؓ کی ماتحت اسلامی فوج کے ہزار ہا صحابہ کرامؓ نے عراق کے پہاڑوں میں دیکھا ١٨٨
باب چہارم!
٧٩...حیات عیسیٰ علیہ السلام از اقوال صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین ١٩١
٨٠...صحابہ کرامؓ کے اقوال کی عظمت از اقوال مرزا قادیانی ١٩١
٨١...اجماع صحابہ کرامؓ کی شرعی حجت ہے ١٩١
٨٢...سکوتی اجماع ١٩٢
- ٨٣... اجماع کے ثبوت کے عجیب وغریب قادیانی معیار ١٩٣
- ٨٤... حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات جسمانی اور رفع جسمانی پر اجماع صحابہ کرامؓ
کے ثبوت میں اسلامی دلائل ١٩٣
- ٨٥... چیلنج از مولف ١٩٧
اقوال صحابہ کرامؓ
- ٨٦... حضرت عمرؓ کا عقیدہ دربارہ حیات عیسیٰ علیہ السلام ١٩٨
- ٨٧... حضرت عبداللہ بن عمرؓ کا عقیدہ ١٩٨
- ٨٨... حضرت ابو عبیدہ بن الجراحؓ امین الامت ١٩٨
- ٨٩... حضرت ابن عباسؓ حبر الامتہ استاذ المفسرین ١٩٩
- ٩٠... آپ کی عظمت شان از اقوال مرزا قادیانی ١٩٩
- ٩١... حضرت ابو ہریرہؓ کا عقیدہ حیات مسیح علیہ السلام ٢٠١
- ٩٢... حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کا عقیدہ ٢٠١
- ٩٣... حضرت علی اسد اللہ الغالبؓ کا عقیدہ ٢٠٢
- ٩٤... حضرت ابو العالیہؓ کا عقیدہ ٢٠٢
- ٩٥... حضرت ابو مالکؓ کا عقیدہ ٢٠٢
- ٩٦... حضرت عکرمہؓ سپہ سالار اسلامی کا عقیدہ ٢٠٢
- ٩٧... حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاصؓ کا عقیدہ ٢٠٢
- ٩٨... حضرت عمرو بن العاصؓ فاتح مصر کا عقیدہ ٢٠٣
- ٩٩... حضرت عثمان بن العاصؓ کا عقیدہ ٢٠٣
- ١٠٠... حضرت ابو امامہ الباہلیؓ کا عقیدہ دربارہ حیات مسیح علیہ السلام ٢٠٣
- ١٠١... ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ کا عقیدہ ٢٠٤
- ١٠٢... ام المومنین حضرت صفیہؓ کا عقیدہ ٢٠٤
- ١٠٣... حضرت حذیفہ بن اسیدؓ کا عقیدہ ٢٠٤
- ١٠٤... حضرت ام شریک صحابیہؓ کا عقیدہ ٢٠٥
- ١٠٥... حضرت انسؓ کا عقیدہ ٢٠٥
- ١٠٦... حضرت عبداللہ بن سلامؓ کا عقیدہ ٢٠٥
- ١٠٧... حضرت مغیرہ ابن شعبہؓ کا عقیدہ ٢٠٥
- ١٠٨... حضرت سعد بن وقاص سپہ سالار اسلامی ٢٠٥
- ١٠٩... حضرت نضلہ انصاریؓ کا عقیدہ ٢٠٦
- ١١٠... اجماع صحابہؓ کی آخری ضرب ٢٠٦
باب پنجم!
- ١١١... حیات عیسیٰ علیہ السلام از اقوال مجددین امت و مفسرین اسلام مسلمہ قادیانی ٢٠٧
- ١١٢... مجددین کی عظمت اور ان کی بعثت کا راز از اقوال مرزا مجددین کی فہرست ٢٠٧
- ١١٣... امام احمد بن حنبلؒ مجدد و امام الزمان صدی دوم کا عقیدہ ٢٠٩
- ١١٤... امام اعظم ابو حنیفہؒ کوفی کا عقیدہ دربارہ حیات مسیح علیہ السلام ٢١٠
- ١١٥... امام اعظمؒ کی عظمت شان بالفاظ قادیانی ٢١٠
- ١١٦... امام مالکؒ کا عقیدہ ٢١١
- ١١٧... آپ کی عظمت شان ٢١٢
- ١١٨... مات اور اماتت کی بحث ٢١٣
- ١١٩... امام محمد بن ادریس شافعیؒ کا عقیدہ دربارہ حیات مسیح علیہ السلام ٢١٤
- ١٢٠... رئیس المجددین و سرتاج الاولیاء حضرت امام حسن بصریؒ کا عقیدہ ٢١٥
- ١٢١... امام نسائیؒ مجدد صدی سوم مسلم قادیانی کا عقیدہ حیات مسیح علیہ السلام ٢١٦
- ١٢٢... امام محمد بن اسماعیل بخاریؒ کا عقیدہ دربارہ حیات عیسیٰ علیہ السلام ٢١٦
- ١٢٣... آپ کی عظمت شان از اقوال مرزا قادیانی ٢١٦
- ١٢٤...چیلنج از مولف ٢١٧
- ١٢٥...امام مسلم کا عقیدہ حیات مسیح علیہ السلام ٢١٨
- ١٢٦...آپ کی عظمت ٢١٨
- ١٢٧...حافظ ابو نعیمؒ مجدد صدی چہارم کا عقیدہ حیات مسیح علیہ السلام ٢١٩
- ١٢٨...امام بیہقیؒ مجدد صدی چہارم کا عقیدہ ٢١٩
- ١٢٩...امام حاکم نیشاپوری مجدد صدی چہارم کا عقیدہ ٢٢٠
- ١٣٠...امام غزالیؒ مجدد صدی پنجم کا عقیدہ ٢٢١
- ١٣١...امام فخر الدین رازیؒ مجدد صدی ششم کا عقیدہ ٢٢١
- ١٣٢...امام ابن کثیرؒ کا عقیدہ ٢٢٢
- ١٣٣...امام ابن جوزیؒ کا عقیدہ ٢٢٤
- ١٣٤...پیراں پیر حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کا عقیدہ حیات مسیح علیہ السلام ٢٢٥
- ١٣٥...عظمت شان بالفاظ قادیانی ٢٢٥
- ١٣٦...امام ابن جریرؒ کا عقیدہ ٢٢٦
- ١٣٧...امام ابن تیمیہ حنبلیؒ مجدد صدی ہفتم کا عقیدہ دربارہ حیات عیسیٰ علیہ السلام ٢٢٨
- ١٣٨...آپ کی عظمت شان بالفاظ قادیانی ٢٢٨
- ١٣٩...جھوٹ بولنے والے پر مرزا قادیانی کا فتویٰ ٢٣٤
- ١٤٠...امام ابن قیمؒ مجدد صدی ہفتم کا عقیدہ ٢٣٥
- ١٤١...آپ کی عظمت شان بالفاظ قادیانی ٢٣٥
- ١٤٢...مدارج السالکین کی عبارت لو کان موسیٰ و عیسیٰ حیین ، الیٰ
آخرہ! سے قادیانیوں کا استدلال وفات مسیح اور اس کا عجیب و غریب رد ٢٣٧
- ١٤٣...امام ابن حزمؒ (فنا فی الرسول) کا عقیدہ ٢٣٩
- ١٤٤...امام ابن حزمؒ کی عظمت شان بحوالہ قادیانی ٢٣٩
١٤٥... امام عبدالوہاب شعرانیؒ کا عقیدہ ٢٤١ ١٤٦... امام موصوف کی عظمت شان بالفاظ قادیانی ٢٤١ ١٤٧... رئیس المتصوفین حضرت شیخ محی الدین ابن عربیؒ کا عقیدہ حیات مسیح ٢٤٣ ١٤٨... آپ کی عظمت شان بحوالہ قادیانی ٢٤٣ ١٤٩... حافظ ابن حجر عسقلانیؒ مجدد صدی ہشتم کا عقیدہ ٢٤٥ ١٥٠... امام جلال الدین سیوطیؒ مجدد صدی نہم کا عقیدہ ٢٤٦ ١٥١... آپ کی عظمت شان ٢٤٦ ١٥٢... امام الزمان مجدد صدی دہم الملقب بہ ملا علی قاریؒ کا عقیدہ ٢٤٨ ١٥٣... حضرت مجدد صدی دہم شیخ محمد طاہر محی السنۃ گجراتیؒ کا عقیدہ حیات مسیح ٢٤٨ ١٥٤... مجدد اعظم مجدد الف ثانیؒ کا عقیدہ ٢٤٩ ١٥٥... آپ کی عظمت شان بالفاظ مرزا قادیانی ٢٤٩ ١٥٦... مجدد وقت امام الزمان حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلویؒ کا عقیدہ ٢٥٠ ١٥٧... آپ کی عظمت شان بالفاظ قادیانی ٢٥٠ ١٥٨... امام شوکانیؒ مجدد صدی دواز دہم کا عقیدہ ٢٥٢ ١٥٩... مجدد وقت حضرت شاہ عبدالعزیز صاحب محدث دہلویؒ کا عقیدہ ٢٥٢ ١٦٠... مجدد وقت حضرت شاہ رفیع الدین صاحب محدث دہلویؒ کا عقیدہ ٢٥٢ ١٦١... مجدد وقت حضرت شاہ عبدالقادر صاحب محدث دہلویؒ کا عقیدہ ٢٥٣ ١٦٢... حضرت شیخ محمد اکرم صاحب صابریؒ کا عقیدہ ٢٥٤ ١٦٣... آپ کی عظمت شان ٢٥٤ ١٦٤... قادیانیوں کے اکابر صوفیاء کی فہرست ٢٥٥ ١٦٥... تمام بزرگان دین کے اقوال نقل نہ کر سکنے پر مؤلف کی عذر خواہی ٢٥٦
باب ششم !
- ١٦٦...حیات عیسیٰ علیہ السلام کا ثبوت از اقوال مرزا قادیانی واکابر جماعت قادیانیہ ٢٥٧
- ١٦٧...مرزا قادیانی کے اقوال کی عظمت ٢٥٧
- ١٦٨...قول مرزا قادیانی ١ ٢٥٨
- ١٦٩...قول مرزا قادیانی ٢ ٢٥٨
- ١٧٠...قول مرزا قادیانی ٣ ٢٥٩
- ١٧١...ان تینوں اقوال کی عظمت شان ٢٥٩
- ١٧٢...مرزا قادیانی کا عذر لنگ اور اس کا تجزیہ ٢٦٠
- ١٧٣...قول مرزا قادیانی ٤ ٢٦٣
- ١٧٤...قول مرزا قادیانی ٥ ٢٦٤
- ١٧٥...قول مرزا قادیانی ٦ ٢٦٤
- ١٧٦...قول مرزا قادیانی ٧ ٢٦٥
- ١٧٧...قول مرزا قادیانی ٨ ٢٦٦
- ١٧٨...قول مرزا قادیانی ٩ ٢٦٦
- ١٧٩...قول مرزا قادیانی ١٠ ٢٦٦
- ١٨٠...قول مرزا قادیانی ١١ ٢٦٧
- ١٨١...قول مرزا قادیانی ١٢ ٢٦٧
- ١٨٢...قول مرزا قادیانی ١٣ ٢٦٧
- ١٨٣...قول مرزا قادیانی ١٤ ٢٦٧
- ١٨٤...قول مرزا قادیانی ١٥ ٢٦٨
- ١٨٥...قول مرزا قادیانی ١٦ ٢٦٨
- ١٨٦...قول مرزا قادیانی ١٧ ٢٦٨
١٨٧... قول مرزا قادیانی ١٨ ٢٦٨ ١٨٨... قول مرزا قادیانی ١٩ ٢٦٨ ١٨٩... قول مرزا قادیانی ٢٠ ٢٦٨ ١٩٠... قول مرزا قادیانی ٢١ ٢٦٩ ١٩١... قول مرزا قادیانی ٢٢ ٢٦٩ ١٩٢... قول مرزا قادیانی ٢٣ ٢٦٩ ١٩٣... قول مرزا قادیانی ٢٤ ٢٦٩ ١٩٤... قول مرزا قادیانی ٢٥ ٢٧٠ ١٩٥... قول مرزا قادیانی ٢٦ ٢٧٠ ١٩٦... قول مرزا قادیانی ٢٧ ٢٧١ ١٩٧... قول مرزا قادیانی ٢٨ ٢٧١ ١٩٨... قول مرزا قادیانی ٢٩ ٢٧١ ١٩٩... قول مرزا قادیانی ٣٠ ٢٧١ ٢٠٠... مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفہ قادیانی کے اقوال ٢٧٢ ٢٠١... نور الدین خلیفہ قادیانی کا قول ٢٧٢ ٢٠٢... سید سرور شاہ قادیانی کا قول ٢٧٢ ٢٠٣... سید محمد احسن امروہی قادیانی کی شہادت ٢٧٣ ٢٠٤... اظہار تشکر و امتنان ٢٧٣ ٢٠٥... معذرت ٢٧٤
﷽
توضیح الکلام
فی اثبات
حیات عیسیٰ علیہ السلام
عقیدہ حیات عیسیٰ علیہ السلام کی اہمیت
قادیانیوں کے ساتھ مناظرہ کرتے وقت علماء اسلام کے لیے صدق و کذب مرزا کی بحث سے زیادہ عام فہم اور فیصلہ کن اور کوئی بحث نہیں۔ باوجود اس کے میں نے حیات عیسیٰ علیہ السلام کے ثبوت میں کیوں قلم اٹھایا؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ عقیدہ کلام اللہ میں مفصل بیان کیا گیا ہے۔ رسول کریم ﷺ کی سینکڑوں احادیث صحیحہ سے ثابت ہے۔ ہزارہا صحابہ کرامؓ اس عقیدہ پر فوت ہوئے۔ بے شمار اولیاء و صلحا بالخصوص مجددین امتؒ اسی عقیدہ پر قائم رہے۔ پس اگر اب اس کی صداقت سے انکار کیا جائے تو اس سے ایک فساد عظیم برپا ہوتا ہے۔ جس کی تفصیل درج ذیل ہے۔
- ١...... حیات عیسیٰ علیہ السلام کے انکار کے بعد ماننا پڑے گا کہ قرآن شریف کا مطلب
ساڑھے تیرہ سو سال تک نہ تو رسول کریم ﷺ کو سمجھ میں آیا۔ نہ صحابہ کرام نے ہی سمجھا اور نہ کسی مجدد امت یا مفسر قرآن کو اس کی حقیقت معلوم ہوئی اور یہ امر محال عقلی ہے۔
- ٢...... قادیانیوں نے جس قدر تاویلات رکیکہ کر کے حیات مسیح علیہ السلام کے عقیدہ کو غلط
ٹھہرایا ہے۔ اس کے تسلیم کر لینے سے ہر ایک ملحد اور محرف کو کلام اللہ کا مطلب بگاڑنے کا موقعہ مل جاتا ہے۔ مثلاً گندم بمعنی گڑ، پانی بمعنی دودھ و بالعکس کرنے والا ایسا ہی سچا ہو سکتا ہے جیسا کہ مرزا قادیانی۔
- ٣...... جب قرآن شریف کی تفسیر رسول ﷺ ۔ تفسیر صحابہؓ ۔ تفسیر مجددین قابل اعتبار نہ سمجھی
جائے تو اسلام کی تکذیب لازم آتی ہے۔ جس مذہب میں بقول مرزا ایک مشرکانہ عقیدہ
سینکڑوں سال تک اجتماعی صورت میں قائم چلا آیا ہے۔ اس سے اور کون سی امید صداقت کی ہو سکتی ہے؟
٤...... اگر کوئی شخص کسی نبی مثلاً یونس علیہ السلام کی نبوت سے انکار کرے۔ یا جنگ بدر یا جنگ احد کی واقعیت سے انکار کرے۔ یا حضرت نوح علیہ السلام کی طوالت عمری کا انکار کرے یا مثلاً یوں کہے کہ ہارون علیہ السلام حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بھائی نہ تھے۔ یا حضرت اسمعیل علیہ السلام حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بیٹے نہ تھے۔ یا مثلاً حضرت یوسف علیہ السلام کے ساتھ ان کے بھائیوں نے کوئی بدسلوکی نہیں کی تھی تو بظاہر یہ سارے اقوال ایسے ہیں کہ ایک ظاہر بین انسان ان کی تردید کرنے کو ایک لایعنی فعل اور فضول کام قرار دے گا لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان اقوال کی رو سے تکذیب کلام اللہ لازم آتی ہے۔ مثلاً کلام اللہ میں حضرت یونس علیہ السلام کی نبوت کا اقرار ہے اور قائل اس سے انکار کرتا ہے۔ پس اس سے تکذیب باری تعالیٰ لازم آتی ہے۔ اسی طرح حیات مسیح علیہ السلام کے انکار سے تکذیب باری تعالیٰ، تکذیب رسول ﷺ، تکذیب صحابہؓ، تکذیب مجددین امت بلکہ تکذیب جمیع اولیاء امت کا اقرار کرنا پڑتا ہے۔ اس کے قبول کر لینے کے بعد اسلام میں پھر کوئی عقیدہ کوئی بات بھی قابل اعتبار نہیں رہتی۔ اس واسطے میں نے عوام الناس بالخصوص سائنس زدہ انگریزی تعلیم یافتہ حضرات کے سامنے مسئلہ کی حقیقت الم نشرح کرنی ضروری سمجھی۔
العارض بندہ ابو عبیدہ۔ بی۔ اے
پہلے مجھے پڑھیے
محترم ناظرین! قادیانی جماعت کی ہر دو صنف اہل السنت والجماعت کے علماء کرام سے مناظرہ کی شرائط طے کرتے ہوئے ہمیشہ حیات و ممات مسیح علیہ السلام کو مبحث قرار دینے پر سب سے زیادہ زور دیا کرتے ہیں اور دلیل یہ دیا کرتے ہیں کہ مرزائی جماعت اور مسلمانوں کے درمیان صرف یہی ایک فیصلہ کن مبحث ہو سکتا ہے کیونکہ اگر ثابت ہو جائے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ بجسد عنصری آسمان پر موجود ہیں تو مرزائیت کی عمارت خود بخود دھڑام سے گر پڑے گی۔ ہمارے علماء قصداً اس مورچہ (مبحث) پر لڑنا پسند نہیں کرتے اس کی یہ وجہ نہیں کہ علماء اسلام کے پاس حیات عیسیٰ علیہ السلام کے ثبوت میں نصوص اور دلائل نہیں بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ
- ١....... حیات و وفات عیسیٰ علیہ السلام کی بحث میں مرزا غلام احمد قادیانی کی شخصیت کے پرکھنے
کا موقعہ نہیں ملتا۔
- ٢....... عام طور پر مناظروں میں عوام الناس کا مجمع ہوتا ہے۔ وہ علوم عربیہ سے ناواقف
ہوتے ہیں۔ اس مبحث میں قادیانی مناظر آیات قرآنی اور احادیث نبوی پڑھ کر ان کے غلط سلط معنی کرتے ہیں۔ علماء اسلام ان کو دقیق علمی گرفت میں گھیر لیتے ہیں۔ عوام الناس ایسی علمی الجھنوں کو سمجھتے نہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ مجلس سے اٹھتے ہوئے یہ کہتے ہوئے سنے جاتے ہیں کہ ”بھائی قرآن اور حدیث تو قادیانی بھی خوب پڑھتے ہیں ۔“ حالانکہ وہ بالکل بے محل پڑھتے ہیں اور محض افتراء اور تلبیس سے حق کو چھپاتے ہیں۔ غرضیکہ علماء اسلام اس مسئلہ کو صرف انھیں دو وجہوں سے مبحث بنانا نہیں چاہتے۔ ورنہ حیات مسیح علیہ السلام کا مسئلہ اس قدر صاف ہے کہ اس سے زیادہ صاف شاید ہی کوئی اور مسئلہ ہو۔ میں اس مختصر رسالے میں اسلامی دلائل کو مختصر طور پر بیان کروں گا لیکن انشاء اللہ ایسے عام فہم طریقے سے کہ اردو دان طبقہ بھی سمجھنے میں دقت محسوس نہیں کرے گا۔ وما توفیقی الا باللہ۔
اعلان انعام اگر کوئی قادیانی میرے دلائل حیات عیسیٰ علیہ السلام کو غلط ثابت کر دے تو
بشرائط ذیل ایک ہزار روپیہ نقد لینے کا مستحق ہوگا اور قانونی طور پر مجھ سے اس رقم کا مطالبہ کر سکتا ہے۔ اگر میں انکار کروں تو میری یہ تحریر بطور دلیل کے عدالت میں پیش کر کے ایک ہزار روپیہ مجھ سے وصول کر سکتا ہے۔
- شرائط...... ١ قادیانی میرے اس رسالہ کا جواب لکھ کر ایک کاپی مجھے دے دیں۔
- ٢...... پھر میں جواب الجواب لکھوں گا۔
- ٣...... تینوں مضامین تین مسلمہ غیر جانب دار ثالثوں کو دے دیے جائیں گے۔
- ٤...... تینوں ثالثوں کا متفقہ فیصلہ فریقین کو قبول ہوگا۔
- ٥...... اگر ثالثوں کا فیصلہ میرے خلاف ہو تو میں فوراً ایک ہزار روپیہ بطور انعام قادیانی
مناظر کو ادا کر دوں گا۔ بشرطیکہ
- ٦...... اگر ثالثوں کا فیصلہ میرے دلائل کی حقانیت پر مہر تصدیق ثبت کر دے تو اوّل تو
ساری جماعت قادیانی ورنہ کم از کم ایک ہزار قادیانی یا صرف مرزا بشیر الدین محمود احمد آف قادیان یا صرف محمد علی امیر جماعت احمدیہ لاہور مرزائیت سے توبہ کر کے جمہور اہل اسلام کے ہم عقیدہ ہونے کا اعلان کرنے کو تیار ہوں۔
ناظرین! خوب جانتے ہیں کہ ان میں کوئی شرط غیر مناسب نہیں۔ اب کوئی وجہ نہیں آتی جس کی بنا پر قادیانیت کے علمبردار اپنے مایہ ناز مبحث پر میرے گراں قدر انعام کو لینے کی سعی نہ کریں۔ صرف ایک ہی ممکن وجہ ہے اور وہ یہ کہ وہ اپنے دلائل کی بودہ پنی اور بوسیدگی کو خوب سمجھتے ہیں۔
پیش گوئی میں توکلاً علی اللہ اپنے فولادی دلائل قرآنی و حدیثی کے بل بوتے پر اعلان کرتا ہوں کہ قادیانی اور لاہوری دونوں صنفوں میں سے کوئی بھی میرے اس چیلنج کو قبول نہیں کرے گا۔ کیونکہ ان کا جواب ان کے پاس سوائے دجل و فریب کے اور تو کچھ ہے ہی نہیں اور ثالثوں کے سامنے دجل و فریب کی حقیقت الم نشرح کر دی جائے گی۔
ہمارے دلائل کی فولادی طاقت کا راز
میں اس رسالے میں بحمد اللہ دلائل وہی دوں گا جو علماء اسلام کا معمول بہا ہیں کیونکہ میں فخریہ عرض کرتا ہوں کہ میں انھیں علمبرداران اسلام کا ریزہ چین ہوں مگر میرے دلائل کا لباس اور مزہ رنگ اور کشش بالکل مختلف ہوگا۔ یعنی تمام کے تمام دلائل قادیانیوں کے مسلمہ عقائد و اصولوں پر مبنی ہوں گے۔
قادیانی اصول و عقائد
- ١...... ”قرآن شریف کے وہ معانی و مطالب سب سے زیادہ قابل قبول ہوں گے۔ جن
کی تائید قرآن شریف ہی میں دوسری آیات سے ہوتی ہو۔ یعنی شواہد قرآنی۔“
(برکات الدعاء ص ١٨ خزائن ج ٦ ص ١٨)
- ٢...... جہاں کلام اللہ کے معانی و مطالب میں اختلاف ہو جائے وہاں رسول کریم ﷺ کی
تفسیر قابل قبول ہوگی۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ حَتّٰى يُحَكِّمُوْكَ فِیْ مَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوْا فِیْ اَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوْا تَسْلِيْمًا (نساء ٦٥) یعنی اے محمد ﷺ مجھے اپنی ذات کی قسم ہے کہ (یہ لوگ) مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ وہ اپنے اختلافات اور جھگڑوں میں آپ ﷺ کو اپنا ثالث نہ بنائیں۔ پھر آپ ﷺ کے فیصلے کے بعد وہ اپنے دلوں میں کوئی بوجھ یا کدورت محسوس نہ کریں اور آپ ﷺ کے سامنے سرتسلیم خوشی کے ساتھ خم کر دیں۔“
چنانچہ مرزا قادیانی لکھتے ہیں ”دوسرا معیار تفسیر رسول کریم ﷺ ہے۔ اس میں شک نہیں کہ سب سے زیادہ قرآن کریم کے سمجھنے والے ہمارے پیارے اور بزرگ حضرت رسول اللہ ﷺ تھے۔ پس اگر آنحضرت ﷺ سے تفسیر ثابت ہو جائے تو مسلمان کا فرض ہے کہ بلا توقف اور بلا دغدغہ قبول کر لے۔ نہیں تو اس میں الحاد اور فلسفیت کی رگ ہے۔“
(برکات الدعاء ص ١٨ خزائن ج ٦ ص ایضاً)
- ٣...... اگر قرآن اور حدیث کے سمجھنے میں اختلاف ہو جائے تو پھر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم
کی طرف رجوع ہونا چاہیے۔
چنانچہ مرزا قادیانی کا ارشاد ملاحظہ ہو۔ ”تیسرا معیار صحابہ کی تفسیر ہے۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ صحابہ رضی اللہ عنہم آنحضرت ﷺ کے نوروں کے حاصل کرنے والے اور علم نبوت کے پہلے وارث تھے اور خدا تعالیٰ کا ان پر بڑا فضل تھا اور نصرت الٰہی ان کی قوت مدرکہ کے ساتھ تھی کیونکہ ان کا نہ صرف قال بلکہ حال تھا۔“
(برکات الدعاء ص ١٨ خزائن ج ٦ ص ایضاً)
- ٤...... پھر اگر کسی وقت کلام اللہ۔ حدیث رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام کے کلام سمجھنے میں
اختلاف رونما ہو جائے اور خلقت گمراہ ہونے لگے تو اللہ تعالیٰ ہر صدی میں ایسے علمائے ربانیین پیدا کرتا رہتا ہے۔ جو اختلافی مسائل کو خدا اور اس کے رسول ﷺ کے حکم اور منشاء کے مطابق حل کر دیتے ہیں۔ چنانچہ رسول کریم ﷺ کا ارشاد ہے۔ اِنَّ اللّٰهَ يَبْعَثُ
لِهٰذِهِ الْاُمَّةِ عَلٰى رَأْسِ كُلِّ مِائَةِ سَنَةٍ مَنْ يُجَدِّدُ لَهَا دِيْنَهَا.
(ابو داؤد ج ٢ ص ١٣٢ باب ما یذکر فی قدر المائۃ)
”یعنی اللہ تعالیٰ ہر صدی کے سر پر اس امت کے لیے ایسے علماء مفسرین پیدا کرتا رہے گا۔ جو اس کے دین کی تجدید کرتے رہیں گے۔“ اس کی تائید مرزا قادیانی اس طرح کرتے ہیں۔ ”جو لوگ خدا تعالیٰ کی طرف سے مجددیت کی قوت پاتے ہیں وہ نرے استخواں فروش نہیں ہوتے بلکہ وہ واقعی طور پر نائب رسول اللہ ﷺ اور روحانی طور پر آنجناب کے خلیفہ ہوتے ہیں۔ خدا تعالیٰ انھیں تمام نعمتوں کا وارث بناتا ہے۔ جو نبیوں اور رسولوں کو دی جاتی ہیں۔“ (فتح اسلام ص ٩ خزائن ج ٣ ص ٧) پھر دوسری جگہ لکھتے ہیں۔ ”مجدد کا علوم لدنیہ و آیات سماویہ کے ساتھ آنا ضروری ہے۔“ (ازالہ اوہام ص ١٥٤ خزائن ج ٣ ص ١٧٩) تیسری جگہ لکھتے ہیں۔ ”یہ یاد رہے کہ مجدد لوگ دین میں کوئی کمی بیشی نہیں کرتے۔ گم شدہ دین کو پھر دلوں میں قائم کرتے ہیں اور یہ کہنا کہ مجددوں پر ایمان لانا کچھ فرض نہیں۔ خدا تعالیٰ کے حکم سے انحراف ہے۔ وہ فرماتا ہے۔ مَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ فَاُوْلٰئِكَ هُمُ الْفَاسِقُوْنَ (شہادۃ القرآن ص ٤٨ خزائن ج ٦ ص ٣٤٤) چوتھی جگہ مرزا قادیانی لکھتے ہیں۔ ”مجددوں کو فہم قرآن عطا ہوتا ہے۔“ (ایام الصلح ص ٥٥ خزائن ج ١٤ ص ٢٨٨) پانچویں جگہ ارشاد ملاحظہ کریں۔ ”مجدد مجملات کی تفصیل کرتا اور کتاب اللہ کے معارف بیان کرتا ہے۔“ (حمامۃ البشریٰ ص ٧١ خزائن ج ٧ ص ٢٩٠) چھٹی جگہ لکھا ہے۔ ”مجدد خدا کی تجلیات کا مظہر ہوتے ہیں۔“ (سراج الدین عیسائی ص ١٥ خزائن ج ١٢ ص ٣٣١) اس سارے مضمون کا نتیجہ یہ ہے کہ کلام اللہ اور حدیث رسول اللہ ﷺ کا جو مفہوم مجددین امت بیان کریں وہی قابلِ قبول ہے۔ اس کی مخالفت کرنے والا فاسق ہوتا ہے۔“
- ٥....... ا۔ ”نصوص کو ظاہر پر حمل کرنے پر اجماع ہے۔“
(ازالہ خورد ص ٤٠٩ خزائن ج ٣ ص ٣١٢ و ص ٥٤٩ خزائن ج ٣ ص ٣٩٠)
- ب....... حدیث بالقسم میں تاویل اور استثناء ناجائز ہے۔ چنانچہ مرزا قادیانی لکھتے ہیں۔
”وَالْقَسَمُ يَدُلُّ عَلٰى أَنَّ الْخَبَرَ مَحْمُوْلٌ عَلَى الظَّاهِرِ لَاتَأْوِيْلَ فِيْهِ وَ لَا اِسْتِثْنَاءَ وَاِلَّا اَىُّ فَائِدَةٍ فِى الْقَسَمِ.“ (حمامۃ البشریٰ ص ١٤ خزائن ج ٧ ص ١٩٢ حاشیہ) ”کسی حدیث میں قسم کا ہونا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اس حدیث کے ظاہری معنی ہی قابل قبول ہوں۔ اس میں تاویل کرنا یا استثناء جائز نہیں ورنہ قسم میں فائدہ کیا رہا۔“
- ٦....... ”جو شخص کسی اجماعی عقیدہ کا انکار کرے تو اس پر خدا۔ اس کے فرشتوں اور تمام
لوگوں کی لعنت ہے۔ یہی میرا اعتقاد ہے اور یہی میرا مقصود ہے اور یہی میرا مدعا ہے۔ مجھے اپنی قوم سے اصول اجماعی میں کوئی اختلاف نہیں۔"
(انجام آتھم ص ١٤٤ خزائن ج ١١ ص ایضاً)
- ٧...... حدیث نبوی دربارہ تفسیر بالرائے (١) مَنْ تَكَلَّمَ فِی الْقُرْآنِ بِرَأْيِهِ فَأَصَابَ فَقَدْ
أَخْطَأَ (رواہ النسائی اتقان ج ٢ ص ٣٠٥ فی شروط المفسر و آدابہ) (٢) مَنْ قَالَ فِی الْقُرْآنِ بِغَيْرِ عِلْمٍ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ. (ترمذی ج ٢ ص ١٢٣ باب ماجاء فی الذی یفسر القرآن برأیہ۔ اتقان ج ٢ ص ٣٠٥ فی شروط المفسر و آدابہ) اس کی تائید میں مرزا قادیانی کا قول پیش کرتا ہوں۔ ”مومن کا کام نہیں کہ تفسیر بالرائے کرے۔“
(ازالہ اوہام ص ٣٢٨ خزائن ج ٣ ص ٢٦٧)
- ٨...... عسل مصفی مصنفہ مرزا خدا بخش قادیانی، قادیانی مذہب کی مسلمہ کتاب ہے۔ مرزا
قادیانی نے اپنی زندگی میں اس کا ایک ایک لفظ سنا تھا اور مصنف کی داد دی تھی۔ قادیانی اور لاہوریوں کے سرکردہ ممبروں نے اس پر زبردست تقریظات لکھی ہوئی ہیں۔ بالخصوص محمد علی لاہوری اور مرزا بشیرالدین محمود احمد خلیفہ قادیانی نے۔ اس کے جلد اوّل ص ١٦٥-١٦٢ پر گذشتہ تیرہ صدیوں کے مجددین کی فہرست درج ہے۔ ہم یہاں مشہور مجددین مفسرین و محدثین کے اسمائے گرامی ذیل میں آئندہ حوالوں کے لیے درج کرتے ہیں۔
- ١...... امام شافعی مجدد صدی دوم ٢...... امام احمد بن محمد بن حنبل مجدد صدی دوم
- ٣...... ابو جعفر طحاوی مجدد صدی سوم ٤...... ابو عبدالرحمان نسائی مجدد صدی سوم
- ٥...... حافظ ابو نعیم مجدد صدی چہارم ٦...... امام حاکم نیشاپوری مجدد صدی چہارم
- ٧...... امام بیہقی " " " " ٨...... امام غزالی " " " " پنجم
- ٩...... امام فخرالدین رازی صاحب مجدد " ششم ١٠...... امام مفسر ابن کثیر " " " " ششم
- ١١...... حضرت شہاب الدین سہروردی " " ١٢...... امام ابن جوزی " " " "
- ١٣...... حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی " " " ١٤...... امام ابن تیمیہ حنبلی " " " " ہفتم
- ١٥...... حضرت خواجہ معین الدین چشتی " ہفتم ١٦...... حافظ ابن قیم جوزی " " " "
- ١٧...... حافظ ابن حجر عسقلانی " " " ہشتم ١٨...... امام جلال الدین سیوطی " " " نہم
- ١٩...... ملا علی قاری " " " " دہم ٢٠...... محمد طاہر گجراتی " " " " دہم
- ٢١...... عالمگیر اورنگ زیب " " " یازدہم ٢٢...... شیخ احمد فاروقی مجدد الف ثانی " یازدہم
٢٣...... مرزا مظہر جان جانان دہلوی " " ٢٤....... حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی " " " دوازدہم ٢٥...... امام شوکانی " " " " ٢٦....... سید احمد بریلوی مجدد صدی سیزدہم ٢٧...... شاہ عبدالعزیز صاحب دہلوی " " ٢٨....... مولانا محمد اسماعیل صاحب شہید " ٢٩...... شاہ رفیع الدین صاحب محدث دہلوی ٣٠....... شاہ عبدالقادر صاحب مجدد صدی سیزدہم
یہاں تک ہم نے تیرہ صدیوں کے مشہور مشہور مجددین کے اسمائے گرامی درج کر دیے ہیں۔ مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے کہ وہ چودھویں صدی کے مجدد بھی ہیں۔ اس کے بالمقابل جمہور علماء اسلام کے نزدیک چودھویں صدی کے مجددین میں سے بزرگانِ ذیل خاص طور پر مشہور ہیں۔
- ١...... شیخ العرب والعجم حضرت حاجی امداد اللہ صاحب مہاجر مکیؒ۔
- ٢...... حضرت مولانا رحمتہ اللہ صاحب مہاجر مکیؒ۔
- ٣...... شیخ العرب والعجم المحدث الفقیہ حضرت مولانا رشید احمد صاحب گنگوہیؒ۔
- ٤...... قاسم العلوم حضرت مولانا مولوی محمد قاسم صاحبؒ بانی دارالعلوم دیوبند۔
- ٥...... حضرت مولانا مولوی محمد علی صاحب مونگیریؒ۔
- ٦...... حضرت حکیم الامت مولانا شاہ اشرف علی صاحب تھانوی مدظلہمؒ۔
جنھوں نے کم و بیش ١٥٠٠ کتابیں تصنیف فرمائی ہیں جن میں موجودہ صدی کے پیدا کردہ الحاد کی تردید کر کے دین محمدی کو دوبارہ اصلی شکل میں دکھایا ہے آپ کی تفسیر اور ترجمہ قرآن روئے زمین کے مسلمانوں میں مقبول ہو چکے ہیں۔ اپنی کتابوں سے مرزا قادیانی کی طرح کوئی دنیوی نفع نہیں اٹھایا۔ ١٥٠٠ کتابوں میں کسی جگہ بھی اپنی تعریف میں کچھ نہیں لکھا۔
- ٩...... انجیل کو بطور دلیل کے پیش کرنا قادیانیوں کے لیے حجت ہے۔ چنانچہ مرزا قادیانی
لکھتے ہیں۔ ”فَاسْئَلُوْا اَهْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ“ ”یعنی اگر تمھیں ان بعض امور کا علم نہ ہو جو تم میں پیدا ہوں تو اہل کتاب کی طرف رجوع کرو اور ان کی کتابوں کے واقعات پر نظر ڈالو تا اصل حقیقت تم پر منکشف ہو جائے۔“
(ازالہ اوہام ص ٦١٦ خزائن ج ٣ ص ٤٣٣)
دوسری جگہ فرماتے ہیں۔ ”زبردستی سے یہ نہیں کہنا چاہیے کہ یہ ساری کتابیں (انجیل اور توریت) محرف و مبدل ہیں۔ بلاشبہ ان مقامات (رفع جسمانی اور پیشگوئیوں)
سے تحریف کا کچھ علاقہ نہیں..... پھر ہمارے امام المحدثین حضرت اسماعیل صاحب اپنی صحیح بخاری میں یہ بھی لکھتے ہیں کہ ان کتابوں میں کوئی لفظی تحریف نہیں۔“
(ازالہ خورد ص ٢٧٣ خزائن ج ٣ ص ٢٣٨۔٢٣٩)
”انجیل برنباس نہایت معتبر انجیل ہے۔“
(سرمہ چشم آریہ ص ٢٨٧ تا ٢٩٢ حاشیہ ملخص خزائن ج ٢ ص ٢٣٩ تا ٢٤١ ملخص)
- ١٠.......مرزا قادیانی نے ١٨٨٠ء یا ١٣٠٠ھ میں مجدد اور مامور من اللہ اور ملہم من اللہ ہونے
کا دعویٰ کیا تھا۔ چنانچہ لکھتے ہیں۔ ”کتاب براہین احمدیہ جس کو خدا تعالیٰ کی طرف سے مؤلف نے ملہم و مامور ہو کر بغرض اصلاح و تجدید دین تالیف کیا ہے....... اور مصنف کو اس بات کا بھی علم دیا گیا ہے کہ وہ مجدد وقت ہے۔“
(تبلیغ رسالت جلد اول ص ١٤۔١٥ مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٣۔٢٤)
(دیکھو ازالہ اوہام خورد ص ١٨٦۔١٨٥ خزائن ج ٣ ص ١٩٠۔١٨٩)
اب ذرا ملہم کی شان بھی ملاحظہ کر لیں فرماتے ہیں۔ ”جو لوگ خدا تعالیٰ سے الہام پاتے ہیں وہ بغیر بلائے نہیں بولتے اور بغیر سمجھائے نہیں سمجھتے اور بغیر فرمائے کوئی دعویٰ نہیں کرتے اور اپنی طرف سے کسی قسم کی دلیری نہیں کر سکتے۔“
(ازالہ اوہام ص ١٩٨ خزائن ج ٣ ص ١٩٧)
باب اوّل
حیات عیسیٰ علیہ السلام
میں اپنے دلائل مندرجہ ذیل ٦ ابواب میں بیان کروں گا۔
باب ......١ دلائل از انجیل باب ......٢ دلائل از قرآن شریف باب ......٣ دلائل از حدیث باب ......٤ دلائل از اقوال صحابہ رضی اللہ عنہم باب ......٥ دلائل از ائمہ اسلام بالخصوص مجددین امت جن کو قادیانی بھی مجدد اور ائمہ اسلام تسلیم کر چکے ہیں۔ باب ......٦ دلائل از اقوال مرزا غلام احمد قادیانی
باب اوّل
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات جسمانی و رفع جسمانی کا ثبوت از انجیل
- ١...... انجیل متی باب ٢٤۔ ’’اور جب وہ زیتون کے پہاڑ پر بیٹھا تھا۔ تو اس کے شاگرد
الگ اس کے پاس آ کر بولے ہمیں بتا کہ یہ سب باتیں کب ہوں گی اور تیرے آنے اور دنیا کے آخر ہونے کا نشان کیا ہوگا۔ یسوع نے جواب میں ان سے کہا کہ خبردار! کوئی تمھیں گمراہ نہ کر دے کیونکہ بہتیرے میرے نام سے آئیں گے اور کہیں گے کہ میں مسیح ہوں اور بہت سے لوگوں کو گمراہ کریں گے...... اس وقت اگر کوئی تم سے کہے کہ دیکھو مسیح یہاں ہے یا وہاں ہے تو یقین نہ کرنا۔ کیونکہ جھوٹے مسیح اور جھوٹے نبی اٹھ کھڑے ہوں گے اور ایسے بڑے نشان اور عجیب کام دکھائیں گے کہ اگر ممکن ہو تو برگزیدوں کو بھی گمراہ کر لیں۔ دیکھو میں نے پہلے ہی تم سے کہہ دیا ہے...... کیونکہ جیسے بجلی پورب سے کوند کر پچھم تک دکھائی دیتی ہے ویسے ہی ابنِ آدم کا آنا ہوگا...... ابنِ آدم کو بڑی قدرت اور جلال کے ساتھ آسمان کے بادلوں پر آتے دیکھیں گے ۔‘‘
(آیت ٣ تا ٣٠ تک ص ٢٥)
- ٢...... انجیل مرقس باب ١٣ آیت ٣ تا ٢٧ ص ٤٨ میں یہی مضمون دیکھیں۔
- ٣...... انجیل لوقا باب ٢٤ آیت ٣٦ تا ٥٢ ص ٨٧ ’’وہ یہ باتیں کر ہی رہے تھے کہ یسوع
آپ ان کے بیچ میں آ کھڑا ہوا اور ان سے کہا تمہاری سلامتی ہو مگر انھوں نے گھبرا کر اور خوف کھا کر یہ سمجھا کہ کسی روح کو دیکھتے ہیں۔ اس نے (یسوع نے) ان سے کہا کہ
تم کیوں گھبراتے ہو اور کس واسطے تمھارے دل میں شک پیدا ہوتے ہیں۔ میرے ہاتھ اور میرے پاؤں دیکھو کہ میں ہی ہوں۔ مجھے چھو کر دیکھو کیونکہ روح کے گوشت اور ہڈی نہیں ہوتی جیسا کہ مجھ میں دیکھتے ہو اور یہ کہہ کر اس نے انھیں اپنے ہاتھ اور پاؤں دکھائے۔ جب مارے خوشی کے ان کو یقین نہ آیا اور تعجب کرتے تھے تو اس نے ان سے کہا کیا تمھارے پاس کچھ کھانے کو ہے۔ انھوں نے اسے بھنی ہوئی مچھلی کا قتلہ دیا۔ اس نے لے کر ان کے روبرو کھایا..... پھر وہ انھیں بیت عنیاہ کے سامنے تک باہر لے گیا اور اپنے ہاتھ اٹھا کر انھیں برکت دی۔ جب وہ انھیں برکت دے رہا تھا تو ایسا ہوا کہ ان سے جدا ہو گیا اور آسمان پر اٹھایا گیا۔"
- ٤....... مرقس باب ١٦ آیت ١٩ ص ٥٣ ”غرض خداوند یسوع ان سے کلام کرنے کے بعد
آسمان پر اٹھایا گیا۔“
- ٥....... رسولوں کے اعمال باب اوّل آیت ٩ تا ١١ ص ١١٧ ”یہ کہہ کر وہ ان کے دیکھتے
دیکھتے اوپر اٹھا لیا گیا اور بدلی نے اسے ان کی نظروں سے چھپا لیا اور اس کے جاتے وقت جب وہ آسمان کی طرف غور سے دیکھ رہے تھے تو دیکھو دو مرد سفید پوشاک پہنے ان کے پاس آ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے۔ اے گلیلی مردو! تم کیوں کھڑے آسمان کی طرف دیکھتے ہو۔ یہی یسوع جو تمھارے پاس سے آسمان پر اٹھایا گیا ہے۔ اسی طرح پھر آئے گا۔ جس طرح تم نے اسے آسمان پر جاتے دیکھا ہے۔“
- ٦....... انجیل برنباس فصل ٢١٤ آیت ١ تا ٤ ص ٤٥٧ ”اور یسوع گھر سے نکل
کر باغ کی طرف مڑا تاکہ نماز ادا کرے....... اور چونکہ یہودہ اس جگہ کو جانتا تھا جس میں یسوع اپنے شاگردوں کے ساتھ تھا۔ لہٰذا وہ کاہنوں کے سردار کے پاس گیا اور کہا اگر تو مجھے وہ دے جس کا تو نے مجھ سے وعدہ کیا ہے تو میں آج کی رات یسوع کو تیرے سپرد کر دوں گا۔ جس کو تم لوگ ڈھونڈھ رہے ہو۔ اس لیے کہ وہ گیاراں رفیقوں کے ساتھ اکیلا ہے“..... فصل نمبر ٢١٥ آیت ١ تا ٦ ص ایضاً ”اور جبکہ سپاہی یہودا کے ساتھ اس جگہ کے نزدیک پہنچے جس میں یسوع تھا۔ یسوع نے ایک بھاری جماعت کا نزدیک آنا سنا۔ تب اسی لیے وہ ڈر کر گھر میں چلا گیا اور گیارہوں شاگرد سو رہے تھے۔ پس جبکہ اللہ نے اپنے بندے کو خطرے میں دیکھا۔ اپنے سفیروں جبرائیل، میکائیل، رفائیل اور اوریل کو حکم دیا کہ یسوع کو دنیا سے لے لیں۔ تب پاک فرشتے آئے اور یسوع کو دکھن کی طرف دکھائی دینے والی کھڑکی سے لے لیا۔ پس وہ اس کو اٹھا لے گئے اور اسے تیسرے آسمان
میں ان فرشتوں کی صحبت میں رکھ دیا جو کہ ابد تک اللہ کی تسبیح کرتے رہیں گے۔‘‘ فصل نمبر ٢١٦ آیت ١ تا ١٠ ص ٣٥٨ ”اور یہودا زور کے ساتھ اس کمرہ میں داخل ہوا۔ جس میں سے یسوع اٹھا لیا گیا تھا اور شاگرد سب کے سب سو رہے تھے۔ تب عجیب اللہ نے ایک عجیب کام کیا۔ پس یہودا بولی اور چہرے میں بدل کر یسوع کے مشابہ ہو گیا۔ یہاں تک کہ ہم لوگوں نے اعتقاد کیا وہی یسوع ہے۔ لیکن اس نے ہم کو جگانے کے بعد تلاش کرنا شروع کیا تھا تاکہ دیکھے کہ معلم (یسوع) کہاں ہے۔ اس لیے ہم نے تعجب کیا اور جواب میں کہا۔ اے سید تو ہی تو ہمارا معلم ہے۔ پس تو اب ہم کو بھول گیا مگر اس نے مسکراتے ہوئے کہا کیا تم احمق ہو کہ یہودا اسخریوطی کو نہیں پہچانتے اور اسی اثناء میں کہ وہ یہ بات کہہ رہا تھا۔ سپاہی داخل ہوئے اور انھوں نے اپنے ہاتھ یہودا پر ڈال دیے۔ اس لیے کہ وہ ہر ایک وجہ سے یسوع کے مشابہ تھا لیکن ہم لوگوں نے جب یہودا کی بات سنی اور سپاہیوں کا گروہ دیکھا تب ہم دیوانوں کی طرح بھاگ نکلے۔‘‘ (شاگردوں کا یسوع کو اکیلا چھوڑ کر بھاگ جانا دیکھو مرقس باب ١٤ آیت ٥٠) فصل نمبر ٢١٧ آیت ١ تا ٨٠ ص ٣٦٣ تا ٣٨٥ ”پس سپاہیوں نے یہودا کو پکڑا اور اس کو اسے مذاق کرتے ہوئے باندھ لیا۔ اس لیے کہ یہودا نے ان سے اپنے یسوع ہونے کا انکار کیا بحالیکہ وہ سچا تھا....... یہودا نے جواب میں کہا شاید تم دیوانے ہو گئے ہو۔ تم تو ہتھیاروں اور چراغوں کو لے کر یسوع ناصری کو پکڑنے آئے ہو۔ گویا کہ وہ چور ہے تو کیا تم مجھی کو باندھ لوگے جس نے کہ تمھیں راہ دکھائی ہے تا کہ مجھے بادشاہ بناؤ۔“...... ”یہودا نے بہت سی دیوانگی کی باتیں کیں۔ یہاں تک کہ ہر ایک آدمی نے تمسخر میں انوکھا پن پیدا کیا۔ یہ خیال کرتے ہوئے کہ وہ (یہودا) درحقیقت یسوع ہی ہے اور یہ کہ وہ موت کے ڈر سے بناوٹی جنون کا اظہار کر رہا ہے..... اور میں یہ کیوں کہوں کہ کاہنوں کے سرداروں ہی نے یہ جانا کہ یہودا یسوع ہے بلکہ تمام شاگردوں نے بھی معہ اس لکھنے والے (حواری برنباس) کے یہی اعتقاد کیا بلکہ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ یسوع کی بیچاری ماں کنواری نے معہ اس کے قریبی رشتہ داروں اور دوستوں کے یہی اعتقاد کیا یہاں تک کہ ہر ایک کا رنج تصدیق سے بالاتر تھا۔ قسم ہے اللہ کی جان کی کہ یہ لکھنے والا (میں برنباس حواری) اس سب کو بھول گیا جو کہ یسوع نے اس سے (مجھ سے) کہا تھا۔ ازیں قبیل کہ وہ دنیا سے اٹھا لیا جائے گا اور یہ کہ ایک دوسرا شخص اس کے نام سے عذاب دیا جائے گا اور یہ کہ وہ دنیا کا خاتمہ ہونے کے قریب تک نہ مرے گا۔ اسی لیے یہ لکھنے والا یسوع کی ماں اور یوحنا
کے ساتھ صلیب کے پاس گیا۔ تب کاہنوں کے سردار نے حکم دیا کہ یسوع کو مشکیں بندھا ہوا اس کے رو برو لایا جائے اور اس سے اس کے شاگردوں اور اس کی تعلیم کی نسبت سوال کیا۔ پس یہودا نے اس بارہ میں کچھ جواب بھی نہ دیا۔ گویا کہ وہ دیوانہ ہو گیا۔ اس وقت کاہنوں کے سردار نے اس کو اسرائیل کے جیتے جاگتے خدا کے نام کا حلف دیا کہ وہ اسے سچ کہے۔ یہودا نے جواب دیا۔ میں تم سے کہہ چکا کہ میں وہی یہودا اسخریوطی ہوں جس نے یہ وعدہ کیا تھا کہ یسوع ناصری کو تمھارے ہاتھوں میں سپرد کر دے گا۔ مگر میں نہیں جانتا کہ تم کس تدبیر سے پاگل ہو گئے ہو۔ اس لیے کہ تم ہر ایک وسیلہ سے یہی چاہتے ہو کہ میں ہی یسوع ہو جاؤں...... کاہنوں کے سردار نے جواب میں کہا (یہودا کو یسوع سمجھتے ہوئے)...... کیا اب تم کو یہ خیال سوجھتا ہے کہ اس سزا سے جس کا تو مستحق ہے اور تو اسی لائق ہے پاگل بن کر نجات پا جائے گا۔ قسم ہے اللہ کی جان کی کہ تو ہرگز اس سے نجات نہ پائے گا...... یہودا نے (حاکم سے) جواب میں کہا اے آقا! تو مجھے سچا مان کہ اگر تو میرے قتل کا حکم دے گا۔ تو بہت بڑے ظلم کا مرتکب ہو گا۔ اس لیے کہ تو ایک بے گناہ کو قتل کرے گا کیونکہ میں خود یہودا اسخریوطی ہوں نہ کہ وہ یسوع جو کہ جادوگر ہے۔ پس اس نے اس طرح اپنے جادو سے مجھ کو بدل دیا ہے...... مگر اللہ نے جس نے انجاموں کی تقدیر کی ہے۔ یہودا کو صلیب کے واسطے باقی رکھا تا کہ وہ اس ڈراؤنی موت کی تکلیف کو بھگتے جس کے لیے اس نے دوسرے کو سپرد کیا تھا...... انھوں نے اس کے ساتھ ہی دو چوروں پر صلیب دیے جانے کا حکم لگایا...... یہودا کو ننگا کر کے صلیب پر لٹکایا...... اور یہودا نے کچھ نہیں کیا۔ سوا اس چیخ کے کہ اے اللہ! تو نے مجھ کو کیوں چھوڑ دیا اس لیے کہ مجرم تو بچ گیا اور میں ظلم سے مر رہا ہوں۔ میں سچ کہتا ہوں کہ یہودا کی آواز اور اس کا چہرہ اور اس کی صورت یسوع سے مشابہ ہونے میں اس حد تک پہنچ گئی تھی کہ یسوع کے سب ہی شاگردوں اور اس پر ایمان لانے والوں نے اس کو یسوع ہی سمجھا‘‘، فصل نمبر ٢٢٢ آیت ١ تا ٤ ص ٤٦٩ ”یسوع کے چلے جانے کے بعد شاگرد اسرائیل اور دنیا کے مختلف گوشوں میں پراگندہ ہو گئے۔ رہ گیا حق جو شیطان کو پسند نہ آیا۔ اس کو باطل نے دبا لیا جیسا کہ یہ ہمیشہ کا حال ہے پس تحقیق شریروں کے ایک فرقہ نے جو دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ یسوع کے شاگرد ہیں یہ بشارت دی کہ یسوع مر گیا اور وہ جی نہیں اٹھا اور دوسروں نے یہ تعلیم پھیلائی کہ وہ درحقیقت مر گیا۔ پھر جی اٹھا اور اوروں نے منادی کی اور برابر منادی کر رہے ہیں کہ یسوع ہی اللہ کا بیٹا ہے اور انھیں لوگوں کے
شمار میں لوگوں نے بھی دھوکا کھایا۔ اب رہے ہم تو ہم محض اس کی منادی کرتے ہیں جو کہ میں نے ان لوگوں کے لیے لکھا ہے کہ وہ اللہ سے ڈرتے ہیں تاکہ اخیر دن میں جو اللہ کی عدالت کا دن ہوگا چھٹکارا پائیں۔ آمین۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دعا
(انجیل برنباس فصل نمبر ٢١٢ آیت ١٣ ص ٣٥٤)
”اے رب بخشش والے اور رحمت میں غنی تو اپنے خادم کو قیامت کے دن اپنے رسول کی امت میں ہونا نصیب فرما۔“
التماس مؤلف
ناظرین میں نے طوالت کے خوف سے انجیل برنباس کی ساری کی ساری عبارت نقل نہیں کی۔ تاہم جتنی عبارت آپ کے سامنے ہے اس سے مندرجہ ذیل نتائج نکلتے ہیں۔
- ١....... یہودیوں اور یہودا حواری نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے گرفتار اور قتل کرنے کا منصوبہ کیا۔
- ٢....... خدا نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھا لیا۔
- ٣....... یہودا حواری کو اپنی خباثت اور منافقت کی سزا کے طور پر وہی سزا خدا نے دلوائی جو
وہ حضرت مسیح کے لیے چاہتا تھا۔
- ٤....... یہودا شکل وصورت اور آواز سب چیزوں میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے مشابہ ہو گیا۔
- ٥....... یہودا منافق حواری نے بہتیرا کہا کہ وہ یہودا اسخریوطی ہے مگر یہودیوں نے اس کو
بالکل حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی سمجھ کر اس کی ایک نہ سنی اور اسے پھانسی پر لٹکا دیا۔
- ٦....... یہودا اسخریوطی جس پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شبیہ مبارک ڈال دی گئی تھی کو بہت
ذلت، تضحیک اور بے عزتی کے ساتھ پھانسی دی گئی۔
- ٧....... حواری اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ حضرت مریم سب کے سب یہودا کی لاش کو
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی لاش سمجھتے رہے۔ تا آنکہ خود حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے دوبارہ نازل ہو کر برنباس حواری کو اطلاع دی۔
(دیکھو انجیل برنباس فصل ٢١٩، ٢٢٠، ٢٢١)
- ٨....... یہودی سب کے سب یہودا کے قتل کو قتل مسیح علیہ السلام سمجھتے رہے۔ ایسا ہی عیسائی
بھی۔ صرف تھوڑے سے آدمی حقیقت حال سے واقف ہوئے مگر باطل نے حق کو دبا لیا اور عیسائیوں میں سے بعض نے کہا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام قتل ہو گئے اور باقی کہنے لگے کہ
قتل کے تیسرے دن بعد زندہ ہو کر آسمان پر اٹھا لیا گیا۔ وغیرہ وغیرہ۔
- ٩...... یہودا کی گرفتاری اور حضرت مسیح ؑ کے رفع جسمانی کے وقت سب حواری بھاگ
گئے تھے۔ اس واسطے وہ اصل حقیقت سے بے خبر تھے۔ لہٰذا وہ بھی یہودیوں سے متفق ہو گئے۔
- ١٠...... حضرت مسیح ؑ نے امت محمدی میں شامل ہونے کی دعا کی تھی۔ تلک عشرۃ کاملہ۔
نوٹ اگر اس بیان کو کوئی قادیانی غلط کہنے کی جرأت کرے تو رسالہ ہذا میں قادیانی اصول و عقاید نمبر ٧ پڑھ کر سنا دیں۔ اگر شرافت اور انصاف کا نام بھی ہو گا تو تسلیم کر لے گا ورنہ خَتَمَ اللّٰهُ عَلٰی قُلُوْبِهِمْ کا مظاہرہ تو ضرور ہی ہوگا۔
باب دوم
قرآن شریف سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام
کے حیات و رفع جسمانی کا ثبوت
آیت ١ ...... فَلَمَّا اَحَسَّ عِيسٰی مِنْهُمُ الْكُفْرَ ...... وَمَكَرُوْا وَمَكَرَ اللّٰهُ وَاللّٰهُ خَيْرُ الْمَاكِرِينَہ
(آل عمران ٥٢ تا ٥٤)
اس کی تفسیر میں ہم خود کچھ بیان کرنا نہیں چاہتے بلکہ ہم قادیانیوں کے مسلمہ مجددین امت کی تفسیر بیان کرتے ہیں تاکہ ان کو ہماری دلیل کے رد کرنے کی جرات نہ ہو سکے کیونکہ اپنے تسلیم کیے ہوئے مجددین کی تفسیر کے انکار سے حسب قول مرزا انھیں فاسق بننا پڑے گا۔
(دیکھو اصول مرزا نمبر ٤)
تفسیر نمبر١: امام فخر الدین رازی قادیانیوں کے مجدد صدی ششم اپنی تفسیر کبیر میں فرماتے ہیں۔ وَاَمَّا مَكْرُهُمْ بِعِيسٰی عَلَيْهِ السَّلَامُ فَهُوَ اَنَّهُمْ هَمُّوْا لِقَتْلِهِ وَاَمَّا مَكْرُ اللّٰهِ بِهِمْ فَفِيْهِ وُجُوهٌ ...... مَكْرُ اللّٰهِ تَعَالٰی بِهِمْ اَنَّهُ رَفَعَ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ اِلَى السَّمَاءِ وَذٰالِكَ اَنَّ يَهُوداً مَلِكَ الْيَهُودِ اَرَادَ قَتْلَ عِيسٰی وَكَانَ جِبْرَائِيْلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ لَا يُفَارِقُهُ سَاعَةً وَهُوَ مَعْنٰی قَوْلِهِ تَعَالٰی وَاَيَّدْنَاهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ فَلَمَّا اَرَادُوْا ذٰالِكَ اَمَرَهُ جِبْرَائِيْلُ اَنْ يَدْخُلَ بَيْتًا فِيْهِ رَوْزَنَةٌ فَلَمَّا دَخَلُوْا الْبَيْتَ اَخْرَجَهُ جِبْرَائِيْلُ مِنْ تِلْكَ الرَّوْزَنَةِ وَكَانَ قَدْ اَلْقٰی شِبْهَهُ عَلٰی غَيْرِهِ فَاُخِذَ وَصُلِبَ ...... وَفِي الْجُمْلَةِ فَالْمُرَادُ مِنْ مَكْرِ اللّٰهِ تَعَالٰی بِهِمْ اَنَّ رَفَعَهُ اِلَى السَّمَاءِ وَمَا مَكَّنَهُمْ مِنْ اِيْصَالِ الشَّرِّ اِلَيْهِ. (تفسیر کبیر جز ٨ ص ٦٩-٧٠) ”اور یہود کا مکر حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے یہ تھا کہ انھوں نے ان کے قتل کا ارادہ کیا اور اللہ تعالیٰ کا مکر یہود سے۔ سو اس کی کئی صورتیں ہوئیں ......
ایک صورت یہ کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھا لیا اور یہ اس طرح ہوا کہ یہود کے ایک بادشاہ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قتل کا ارادہ کیا اور جبرائیل علیہ السلام ایک گھڑی بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے جدا نہ ہوتا تھا اور یہی مطلب ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اس قول کا وَاَيَّدْنَاهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ (بقرہ ٨٧) یعنی ہم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو جبرائیل سے
مدد دی۔ پس جب یہود نے قتل کا ارادہ کیا تو جبرائیل نے حضرت عیسیٰ ؑ کو ایک مکان میں داخل ہو جانے کے لیے فرمایا۔ اس مکان میں کھڑکی تھی۔ پس جب یہود اس مکان میں داخل ہوئے تو جبرائیل ؑ نے حضرت عیسیٰ ؑ کو اس کھڑکی سے نکال لیا اور حضرت عیسیٰ ؑ کی شباہت ایک اور آدمی کے اوپر ڈال دی۔ پس وہی پکڑا گیا اور پھانسی پر لٹکایا گیا...... غرضیکہ یہود کے ساتھ اللہ کے مکر کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ ؑ کو آسمان پر اٹھا لیا اور یہود کو حضرت مسیح ؑ کے ساتھ شرارت کرنے سے روک لیا۔“
تفسیر.....٢: اب ہم امام جلال الدین سیوطیؒ کی تفسیر نقل کرتے ہیں۔ امام موصوف قادیانی عقیدہ کے مطابق نویں صدی ہجری میں مجدد مبعوث ہو کر آئے تھے اور ان کا مرتبہ ایسا بلند تھا کہ جب انھیں ضرورت پڑتی تھی۔ حضرت رسول کریم ﷺ کی بالمشافہ زیارت کر کے دریافت کر لیا کرتے تھے۔
(دیکھو ازالہ اوہام ص ١٥١۔١٥٢ خزائن ج ٣ ص ١٧٧)
فَلَمَّا اَحَسَّ (عَلِمَ) عِيْسٰى مِنْهُمُ الْكُفْرَ وَ (اَرَادُوْا قَتْلَهُ)..... وَمَكَرُوْا (اَىْ كُفَّارُ بَنِىْ اِسْرَائِيْلَ بِعِيْسٰى اِذَا وَكَّلُوْا بِهِ مَنْ يَّقْتُلُهُ غِيْلَةً) وَمَكَرَ اللّٰهُ (بِهِمْ بِاَنْ اَلْقٰى شِبْهَ عِيْسٰى عَلٰى مَنْ قَصَدَ قَتْلَهُ فَقَتَلُوْهُ وَرُفِعَ عِيْسٰى) وَاللّٰهُ خَيْرُ الْمَاكِرِيْنَ O (اَعْلَمُهُمْ بِهِ)
(تفسیر جلالین ص ٥٢)
”پس جب عیسیٰ ؑ نے یہود کا کفر معلوم کر لیا اور یہود نے حضرت عیسیٰ ؑ کے قتل کا ارادہ کر لیا..... اور یہود نے حضرت عیسیٰ ؑ کے ساتھ مکر کیا۔ جب انھوں نے مقرر کیا ایک آدمی کو کہ وہ قتل کرے حضرت عیسیٰ ؑ کو دھوکا سے اور اللہ تعالیٰ نے یہود کے ساتھ مکر کیا اس طرح کہ ڈال دی شبیہ حضرت عیسیٰ ؑ کی اس شخص پر جس نے ارادہ کیا تھا ان کے قتل کا۔ پس یہود نے قتل کیا اس شبیہ کو اور اٹھا لیے گئے حضرت عیسیٰ ؑ اور اللہ تعالیٰ تمام تدبیریں کرنے والوں میں سے بہترین تدبیر کرنے والا ہے۔“
تفسیر.....٣: اب ہم اس بزرگ کی تفسیر بیان کرتے ہیں جن کو قادیانی و لاہوری مجدد صدی دوازدہم مانتے ہیں اور مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ شاہ ولی اللہ صاحب کامل ولی اور صاحب خوارق و کرامات بزرگ تھے۔ وہ اپنے زمانہ کے مجدد تھے اور عالم ربانی تھے۔ (حمامتہ البشریٰ ص ٦٧ خزائن ج ٧ ص ٢٩١) شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی اپنی کتاب تاویل الاحادیث میں فرماتے ہیں۔
كَانَ عِيْسٰى عَلَيْهِ السَّلَامُ كَاَنَّهُ مَلَكٌ يَّمْشِىْ عَلٰى وَجْهِ الْاَرْضِ فَاَتْهَمَهُ
الْيَهُوْدُ بِالزَّنْدَقَةِ وَاَجْمَعُوْا عَلَى قَتْلِهِ فَمَكَرُوْا وَمَكَرَ اللّٰهُ وَاللّٰهُ خَيْرُ الْمَاكِرِيْنَ. فَجَعَلَ لَهُ هَيْئَةً مِثَالِيَّةً وَرَفَعَهُ إِلَى السَّمَاءِ وَاَلْقَى شِبْهَهُ عَلَى رَجُلٍ مِّنْ شِيْعَتِهِ أَوْ عَدُوِّهِ فَقُتِلَ عَلَى اَنَّهُ عِيْسَى ؑ ثُمَّ نَصَرَ اللّٰهُ شِيْعَتَهُ عَلَى عَدُوِّهِمْ فَاَصْبَحُوْا ظَاهِرِيْنَ. ”اور حضرت عیسیٰ ؑ تو گویا ایک فرشتے تھے کہ زمین پر چلتے تھے پھر یہودیوں نے ان پر زندیق ہونے کی تہمت لگائی اور قتل پر جمع ہو گئے۔ پس انھوں نے تدبیر کی اور خدا نے بھی تدبیر کی اور اللہ بہترین تدبیر کرنے والا ہے۔ اللہ نے ان کے واسطے ایک صورت مثالیہ بنا دی اور حضرت عیسیٰ ؑ کو آسمان پر اٹھا لیا اور ان کے گروہ میں سے یا ان کے دشمن کے ایک آدمی کو ان کی صورت کا بنا دیا پس وہ قتل کیا گیا اور یہودی اسی کو عیسیٰ ؑ سمجھتے تھے۔“ الخ
(تاویل الاحادیث ص ٦٠)
تفسیر..... ٤: امام وقت شیخ الاسلام حافظ ابن کثیر کی تفسیر (قادیانی اور لاہوری بہ یک زبان) چھٹی صدی کے سر پر تجدید دین کے لیے ان کا مبعوث ہونا مانتے ہیں۔
(دیکھو عسل مصفیٰ حصہ اوّل ص ١٦٤۔١٦٥)
فَلَمَّا اَحَاطُوْا بِمَنْزِلِهِ وَظَنُّوْا اَنَّهُمْ ظَفَرُوْا بِهِ نَجَّاهُ اللّٰهُ تَعَالٰى مِنْ بَيْنِهِمْ وَرَفَعَهُ مِنْ رَوْزَنَةِ ذٰلِكَ الْبَيْتِ إِلَى السَّمَاءِ وَاَلْقَى شِبْهَهُ عَلَى رَجُلٍ مِمَّنْ كَانَ عِنْدَهُ فِى الْمَنْزِلِ فَلَمَّا دَخَلُوْا اُوْلٰئِكَ اِعْتَقَدُوْهُ فِى ظُلْمَةِ اللَّيْلِ عِيْسَى فَاَخَذُوْهُ وَ صَلَبُوْهُ وَوَضَعُوْا عَلَى رَأْسِهِ الشَّوْكَ وَكَانَ هٰذَا مِنْ مَكْرِ اللّٰهِ بِهِمْ فَإِنَّهُ نَجَّى نَبِيَّهُ وَرَفَعَهُ مِنْ بَيْنِ اَظْهُرِهِمْ وَتَرَكَهُمْ فِى ضَلَالِهِمْ يَعْمَهُوْنَ.
(ابن کثیر جلد ١ ص ٣٦٥)
”جب یہود نے آپ کے مکان کو گھیر لیا اور گمان کیا کہ آپ پر غالب ہو گئے ہیں تو خدا تعالیٰ نے ان کے درمیان سے آپ کو نکال لیا اور اس مکان کی کھڑکی سے آسمان پر اٹھا لیا اور آپ کی شباہت اس پر ڈال دی جو اس مکان میں آپ کے پاس تھا۔ سو جب وہ اندر گئے تو اس کو رات کے اندھیرے میں عیسیٰ ؑ خیال کیا۔ پس اسے پکڑا اور سولی دیا اور سر پر کانٹے رکھے اور ان کے ساتھ خدا کا یہی مکر تھا کہ اپنے نبی کو بچا لیا اور اسے ان کے درمیان سے اوپر اٹھا لیا اور ان کو ان کی گمراہی میں حیران چھوڑ دیا۔“
ناظرین: جس قدر مجددین امت محمدیہ میں گزرے ہیں۔ اس آیت کی اسی تفسیر پر فوت ہوئے ہیں۔ انجیل برنباس کا بیان بھی اسی تفسیر کا مؤید ہے۔ پس مجددین کی تفسیر ہی قابل قبول ہے اور ان کا منکر فاسق ہے۔ (دیکھو عقیدہ نمبر ٤) اب ناظرین کی تفریح طبع کے لیے ہم مرزا قادیانی کی پرلطف اور پرمذاق تفسیر درج کرتے ہیں۔
یہود کا مکر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ
ا...... ”یہود کے علماء نے ان کے (عیسیٰ علیہ السلام کے) لیے ایک کفر کا فتویٰ تیار کیا۔ اور ملک کے تمام علماء کرام و صوفیائے عظام نے اس فتویٰ پر اتفاق کر لیا اور مہریں لگا دیں مگر پھر بھی بعض عوام الناس میں سے تھوڑے ہی آدمی تھے جو حضرت مسیح علیہ السلام کے ساتھ رہ گئے۔ ان میں سے بھی یہودیوں نے ایک کو رشوت دے کر اپنی طرف پھیر لیا اور دن رات یہ مشورے ہونے لگے کہ توریت کی نصوص صریحہ سے اس شخص کو کافر ٹھہرانا چاہیے۔ تا عوام بھی یک دفعہ بیزار ہو جائیں اور اس کے بعض نشانوں کو دیکھ کر دھوکہ نہ کھائیں۔ چنانچہ یہ بات قرار پائی کہ کسی طرح اس کو صلیب دی جائے پھر کام بن جائے گا کیونکہ توریت میں لکھا ہے جو لکڑی پر لٹکایا جائے وہ لعنتی ہوتا ہے۔..... سو یہودی لوگ اس تدبیر میں لگے رہے۔“
(تحفہ گولڑویہ ص ١٢ خزائن ج ١٧ ص ١٠٥۔١٠٦)
ب...... ”یہودیوں نے نعوذ باللہ حضرت مسیح علیہ السلام کو رفع سے بے نصیب ٹھہرانے کے لیے صلیب کا حیلہ سوچا تھا تا اس سے دلیل پکڑیں کہ عیسیٰ ابن مریم ان صادقوں میں سے نہیں ہے۔ جن کا رفع الی اللہ ہوتا ہے مگر خدا نے مسیح سے وعدہ دیا کہ میں تجھے صلیب سے بچاؤں گا۔“
(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٥ خزائن ج ١٧ ص ٤٤)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا یہود کے مکر سے گھبرانا اور دعا مانگنا
ا...... ”چونکہ مسیح علیہ السلام ایک انسان تھا اس نے دیکھا کہ تمام سامان میرے مرنے کے موجود ہو گئے ہیں۔ لہٰذا اس نے برعایت اسباب گمان کیا کہ شاید آج ہی میں مر جاؤں گا سو بباعث ہیبت تجلی جلالی حالت موجودہ کو دیکھ کر ضعف بشریت اس پر غالب ہو گیا تھا۔ تب ہی اس نے دل برداشتہ ہو کر کہا۔ ”ایلی ایلی لما سبقتنی“ یعنی اے میرے خدا اے میرے خدا تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا اور کیوں اس وعدہ کا ایفا نہ کیا جو تو نے پہلے سے کر رکھا تھا کہ تو مرے گا نہیں۔“
(ازالہ اوہام ص ٣٩٢ خزائن ج ٣ ص ٣٠٣۔٣٠٤)
ب...... ”حضرت مسیح علیہ السلام نے تمام رات رو کر اپنے بچنے کے لیے دعا مانگی تھی اور یہ بالکل بعید از قیاس ہے کہ ایسا مقبول درگاہ الٰہی میں تمام رات رو رو کر دعا مانگے اور وہ دعا قبول نہ ہو۔“
(ایام الصلح ص ١١٤ خزائن ج ١٤ ص ٣٥١)
ج...... ”یہ قاعدہ مسلم الثبوت ہے کہ سچے نبیوں کی سخت اضطرار کی ضرور دعا قبول ہو جاتی ہے۔“
(تبلیغ رسالت جلد ٣ ص ٨٣ مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ١٠ حاشیہ)
حضرت مسیح ؑ کی دعا کی قبولیت کا مظاہرہ
یعنی یہود کے مکر بہ عیسیٰ ؑ اور خدا کے مکر بہ یہود کا عجیب و غریب نقشہ
- ا...... ”پھر بعد اس کے مسیح ؑ ان کے (یہود کے) حوالہ کیا گیا اور اس کو تازیانے
لگائے گئے اور جس قدر گالیاں سننا اور فقیہوں اور مولویوں کے اشارہ سے طمانچہ کھانا اور ہنسی اور ٹھٹھے سے اڑائے جانا اس کے حق میں مقدر تھا اس نے دیکھا۔ آخر صلیب دیے جانے کے لیے تیار ہوئے۔ یہ جمعہ کا دن تھا اور عصر کا وقت...... تب یہودیوں نے جلدی سے مسیح ؑ کو دو چوروں کے ساتھ صلیب پر چڑھا دیا۔ تا شام سے پہلے ہی لاشیں اتاری جائیں۔ مگر اتفاق سے اسی وقت ایک آندھی آئی۔ جس سے سخت اندھیرا ہو گیا۔ یہودیوں کو یہ فکر پڑ گئی کہ اب اگر اندھیری میں ہی شام ہو گئی تو ہم اس جرم کے مرتکب ہو جائیں گے۔ جس کا ابھی ذکر کیا گیا ہے۔ سو انھوں نے اسی فکر کی وجہ سے تینوں مصلوبوں کو صلیب پر سے اتار لیا۔...... جب (سپاہی) چوروں کی ہڈیاں توڑ چکے اور مسیح کی نوبت آئی تو ایک سپاہی نے یوں ہی ہاتھ رکھ کر کہہ دیا کہ یہ تو مر چکا ہے۔ کچھ ضرور نہیں اس کی ہڈیاں توڑی جائیں...... پس اس طور سے مسیح زندہ بچ گیا۔“
(ازالہ اوہام ص ٣٨٠ تا ص ٣٨٢ خزائن ج ٣ ص ٢٩٥۔٢٩٧)
- ب...... ”مسیح پر جو مصیبت آئی کہ وہ صلیب پر چڑھایا گیا اور کیلیں اس کے اعضاء میں
ٹھونکی گئیں۔ جن سے وہ غشی کی حالت میں ہو گیا ۔ یہ مصیبت درحقیقت کچھ موت سے کم نہیں تھی۔“
(ازالہ اوہام ص ٣٩٢ خزائن ج ٣ ص ٣٠٢)
- ج...... ”مسیح نے تو سولی پر چڑھ کر یہی کہا۔ ایلی ایلی لما سبقتنی اے میرے خدا اے
میرے خدا تو نے کیوں مجھے چھوڑ دیا۔“ (تبلیغ رسالت جلد ٣ ص ٨٤ مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ١١ حاشیہ)
- د...... ”حضرت مسیح ؑ صلیب سے نجات پا کر نصیبین کی طرف آئے اور پھر
افغانستان کے ملک میں ہوتے ہوئے کوہ نعمان میں پہنچے...... وہ ایک مدت کوہ نعمان میں رہے۔ پھر اس کے بعد پنجاب کی طرف آئے آخر کشمیر میں گئے...... آخر سری نگر میں ١٢٥ برس کی عمر میں وفات پائی اور خانیار کے محلہ کے قریب آپ کا مقدس مزار ہے۔“
(تبلیغ رسالت جلد ٨ ص ٦٠ مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ١٤٩
نیز دیکھو تحفہ گولڑویہ ص ١٠٢ خزائن ج ١٧ ص ٢٦٤ حاشیہ)
- ہ...... ”توریت میں لکھا ہے کہ جو شخص صلیب دیا جائے۔ اس کو رفع روحانی نہیں ہوتا......
الله تعالیٰ کو یہ منظور تھا کہ یہودیوں کے اس اعتراض کو دور کرے اور حضرت مسیح ؑ کے رفع روحانی پر گواہی دے۔ سو اسی گواہی کی غرض سے الله تعالیٰ نے فرمایا۔ یا عیسیٰ اِنِّیْ مُتَوَفِّيْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ وَمُطَهِّرُکَ مِنَ الَّذِيْنَ کَفَرُوْا یعنی اے عیسیٰ! میں تجھے وفات دوں گا اور وفات کے بعد تجھے اپنی طرف اٹھاؤں گا اور تجھے ان الزاموں سے پاک کروں گا۔ جو تیرے پر ان لوگوں نے لگائے۔
(ایام الصلح ص ١١٦ خزائن ج ١٤ ص ٣٥٣)
نتیجہ...... ١ ”یہود بوجہ صلیب مسیح کے ملعون ہونے کے قائل ہو گئے اور نصاریٰ نے بھی لعنت کو مان لیا۔“
(تحفہ گولڑویہ ص ١٤ خزائن ج ١٧ ص ١٠٩)
سوال از روح مرزا
- ١...... مرزا! آپ کی ساری تحریر کا مطلب تو یہ ہے کہ یہود حضرت عیسیٰ ؑ کو پھانسی
دے کر لعنتی ثابت کرنا چاہتے تھے اور یہی ان کا مکر تھا۔ اس کے مقابلہ پر خدا نے پھانسی پر جان نہ نکلنے دی اور کسی کو حضرت عیسیٰ ؑ کے زندہ بچ جانے کا سوائے آپ کے پتہ بھی نہ لگ سکا اس بناء پر تو یہودی اپنی تدبیر میں خوب کامیاب ہو گئے۔ یعنی نہ صرف حضرت عیسیٰ ؑ کو ملعون ہی ثابت کر دیا بلکہ کروڑہا نصاریٰ سے عیسیٰ ؑ کے ملعون ہونے کے عقیدہ کا اقرار بھی لے لیا۔ پس بتلائیے! کون اپنی تدبیر میں غالب رہا۔ یہود یا خدا احکم الحاکمین؟ آپ کے بیان کے مطابق تو یہود کا مکر ہی غالب رہا۔
سبحان الله! یہ بھی کوئی کمال ہے کہ یہودیوں نے جو کچھ چاہا حضرت مسیح ؑ سے کرا لیا خدا منع نہ کر سکا۔ اگر کیا تو یہ کہ عزرائیل کو حکم دے دیا کہ دیکھنا اس کی روح مت نکالنا پھر ساتھ ہی دعویٰ کرتا ہے کہ میں تمام تدبیریں کرنے والوں سے بہتر تدبیر کرنے والا ہوں۔
- ٢...... مرزا قادیانی! آپ نے لکھا ہے کہ توریت میں لکھا ہے۔ جو کاٹھ پر لٹکایا جائے۔ وہ
لعنتی ہوتا ہے۔ ایمان سے کہیے! کیا وہاں یہ لکھا ہے کہ ہر مصلوب لعنتی ہوتا ہے۔ کیوں توریت پر افتراء باندھتے ہو؟ بلکہ واجب القتل مصلوب لعنتی ہوتا ہے۔ دیکھو توریت باب ٢١۔
- ٣...... پھر آپ کے خیال میں خدا کے ہاں بھی یہی قانون مروج ہے کہ ہر مصلوب
اگرچہ وہ بے گناہ ہی کیوں نہ ہو۔ لعنتی ہوتا ہے کیونکہ آپ کے عقیدہ کے مطابق خدا نے اسی وجہ سے حضرت عیسیٰ ؑ کی روح صلیب پر نہ نکلنے دی۔ یہ آپ کا محض افتراء ہے۔ کیا بے گناہ مقتول شہید نہیں ہوتا کیا جس قدر انبیاء علیہم السلام قتل کیے گئے۔ وہ سب کے
سب نعوذ باللہ ملعون تھے۔ اللہ تعالیٰ یہود کا حال بیان فرماتے ہیں۔ وَيَقْتُلُونَ الْاَنْبِيَاءَ بِغَيْرِ حَقٍّ (سورة آل عمران ١١٢) وَيَقْتُلُونَ النَّبِيّٖنَ۔
(سورة بقرہ ٦١ و آل عمران ٢١)
مومن کے قتل کرنے والے کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ مَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُهٗ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيْهَا. (سورة نساء ٩٣) یعنی جو مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے۔ اس کے لیے دائمی جہنم ہے یعنی خود قاتل ملعون ہو جاتا ہے۔ مومن مقتول کے متعلق ارشاد ہے۔ لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ قُتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتًاط بَلْ اَحْیَآءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ یُرْزَقُوْنَ الخ (سورة آل عمران ١٦٩) ”اے مخاطب تو نہ سمجھ مردہ ان لوگوں کو جو خدا کے راستہ میں قتل کیے گئے بلکہ وہ اپنے خدا کے ہاں زندہ ہیں۔ رزق دیے جاتے ہیں۔“ پس بتلائیے کہ اگر حضرت عیسیٰ ؑ صلیب دیے جاتے اور قتل ہو جاتے تو وہ خدا کے ہاں ملعون کس طرح ہو جاتے؟ بلکہ وہ بھی دیگر مقتول انبیاء کی طرح شہید ہو گئے ہوتے۔“
نوٹ: ”صلیب پر مرا ہوا بھی مقتول ہی ہوتا ہے۔“
(دیکھو ایام الصلح ص ١١٣۔١١٤ خزائن ج ١٤ ص ٣٥٠۔٣٥١)
قرآنی دلیل......٢
ا...... وَاِذْ قَالَ اللّٰهُ یَا عِیْسٰی اِنِّیْ مُتَوَفِّیْكَ وَرَافِعُكَ اِلَیَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَجَاعِلُ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْكَ فَوْقَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَةِ الخ (آل عمران ٥٥)
ہم اس آیت کریمہ کا ترجمہ اس مفسر اعظم کی زبان سے بیان کرتے ہیں جن کو قادیانی اور لاہوری، صدی ششم کا مجدد اعظم قرار دے چکے ہیں اور دنیائے اسلام میں وہ امام فخر الدین رازی کے نام سے مشہور ہیں۔ آپ تفسیر کبیر میں بذیل آیت کریمہ فرماتے ہیں اور قریباً سات سو (٧٠٠) سال پیشتر قادیانیوں کے الحاد اور تحریف کا جواب دیتے ہیں۔
فرماتے ہیں وَوَجَدَ ھٰذَا الْمَكْرُ اِذْ قَالَ اللّٰهُ ھٰذَا الْقَوْلَ (انی متوفیک) وَمَعْنٰی قَوْلِهِ تَعَالٰی اِنِّیْ مُتَوَفِّیْ اَیْ مُتَمِّمُ عُمْرَكَ فَحِیْنَئِذٍ اَتَوَفَّاكَ فَلَا اَتْرُكُهُمْ حَتّٰی یَقْتُلُوْكَ بَلْ اَنَا رَافِعُكَ اِلٰی سَمَائِیْ وَمُقَرِّ مَلَائِكَتِیْ وَاَصُوْنُكَ اَنْ یَّتَمَكَّنُوْا مِنْ قَتْلِكَ وَھٰذَا تَاْوِیْلٌ حَسَنٌ...... اَنَّ التَّوَفِّیْ اَخْذُ الشَّیْءِ وَافِیًا وَلَمَّا عَلِمَ اللّٰهُ اَنَّ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّخْطُرُ بِبَالِهِ اَنَّ الَّذِیْ رَفَعَهُ ھُوَ رُوْحُهٗ لَا جَسَدُهٗ ذَكَرَ ھٰذَا الْکَلَامَ لِیَدُلَّ عَلٰی اَنَّهٗ عَلَيْهِ الصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ رُفِعَ بِتَمَامِهِ اِلَى السَّمَاءِ بِرُوْحِهِ وَبِجَسَدِهِ...... وَكَانَ اِخْرَاجُهٗ مِنَ الْاَرْضِ وَاِصْعَادُهٗ اِلَى السَّمَاءِ تَوَفِّيًا لَّهٗ فَاِنْ قِيْلَ فَعَلٰى هٰذَا الْوَجْهِ كَانَ
التَّوَفِّی عَيْنَ الرَّفْعِ إِلَيْهِ فَيَصِيْرُ قَوْلُهُ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ تَكْرَاراً قُلْنَا قَوْلُهُ إِنِّي مُتَوَفِّيْكَ يَدُلُّ عَلٰی حُصُوْلِ التَّوَفِّی وَهُوَ جِنْسٌ تَحْتَهُ اَنْوَاعٌ بَعْضُهَا بِالْمَوْتِ وَبَعْضُهَا بِالْاِصْعَادِ إِلَی السَّمَاءِ فَلَمَّا قَالَ بَعْدَهُ وَرَافِعُكَ إِلَی كَانَ هٰذَا تَعْيِيْنًا لِّلنَّوْعِ وَلَمْ يَكُنْ تَكْرَارًا........ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا والمعنى مُخْرِجُكَ مِنْ بَيْنِهِمْ وَمُفَرِّقٌ بَيْنَكَ وَبَيْنَهُمْ.
(تفسیر کبیر جز ٨ ص ٧١-٧٢)
امام رازی مجدد صدی ششم فرماتے ہیں ”اور یہ مکر الہی اس وقت پایا گیا جبکہ کہا خدا نے انی متوفیک اور انی متوفیک کے معنی ہیں (اے عیسیٰ) میں تیری عمر پوری کروں گا اور پھر تجھے وفات دوں گا۔ پس میں ان یہود کو تیرے قتل کے لیے نہیں چھوڑوں گا بلکہ میں تجھے اپنے آسمان اور ملائکہ کے مقر کی طرف اٹھا لوں گا اور تجھ کو ان کے قابو میں آنے سے بچا لوں گا اور یہ تفسیر نہایت ہی اچھی ہے۔۔۔۔۔ تحقیق توفی کے معنی ہیں کسی چیز کو ہر لحاظ سے اپنے قابو میں کر لینا اور کیونکہ اللہ تعالیٰ کو معلوم تھا کہ بعض آدمی (سرسید علی گڑھی اور مرزا غلام احمد قادیانی وغیرہُم) خیال کریں گے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا جسم نہیں بلکہ روح اٹھائی گئی تھی اس واسطے اِنِّیْ مُتَوَفِّيْكَ کا فقرہ استعمال کیا تا کہ یہ کلام دلالت کرے اس بات پر کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جسم بمعہ روح آسمان کی طرف اٹھا لیے گئے ان کی توفی کے معنی زمین سے نکل کر آسمان کی طرف اٹھایا جانا ہے اور اگر کہا جائے کہ اس صورت میں تو توفی اور رفع میں کوئی فرق نہ ہوا بلکہ دونوں ہم معنی ہوئے اور اگر ہم معنی ہوئے تو پھر رافعک الی کا فقرہ بلا ضرورت تکرار کلام میں ثابت ہوا (جس سے کلام اللہ پاک ہے) جواب اس کا ہم یہ دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے قول انی متوفیک سے صرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توفی کا اعلان کرنا ہے اور توفی ایک عام لفظ ہے جس کے ماتحت بہت قسمیں ہیں ان میں سے ایک توفی موت کے ساتھ ہوتی ہے اور ایک توفی آسمان کی طرف بمعہ جسم اٹھا لینا ہے۔ پس جب انی متوفیک کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا ورافعک الی تو اس فقرہ سے توفی کی ایک قسم مقرر و معین ہو گئی (یعنی رفع جسمانی) پس کلام میں تکرار نہ رہا اور مطھرک من الذین کفروا کے معنی یہ ہیں کہ میں تجھے ان یہود کی صحبت سے جدا کرنے والا ہوں اور تیرے اور ان کے درمیان علیحدگی کرنے والا ہوں ۔“ ختم ہوا ترجمہ تفسیر کبیر کا۔
- ٢...... تفسیر از امام جلال الدین سیوطیؒ جن کو قادیانی اور لاہوری دونوں مجدد صدی نہم ماننے
کے علاوہ اس مرتبہ کا آدمی سمجھتے ہیں کہ وہ آنحضرت ﷺ سے بالمشافہ مسائل متنازع فیہ
پوچھ لیا کرتے تھے۔
(ازالۃ اوہام ص ١٥١ خزائن ج ٣ ص ١٧٧)
اِذْ قَالَ اللّٰہُ یَا عِیْسٰی اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ (قَابِضُکَ) وَرَافِعُکَ اِلَیَّ (مِنَ الدُّنْیَا مِنْ غَیْرِ مَوْتٍ) وَمُطَہِّرُکَ (مُبَعِّدُکَ) مِنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَجَاعِلُ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْکَ (صَدَّقُوْا نُبُوَّتَکَ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ وَالنَّصَارٰی) فَوْقَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِکَ وَہُمُ الْیَہُوْدُ یَعْلُوْنَہُمْ بِالْحُجَّةِ وَالسَّیْفِ
(تفسیر جلالین ص ٥٢)
”جب کہا اللہ تعالیٰ نے اے عیسیٰ ؑ! میں تجھ کو اپنے قبضہ میں کرنے والا ہوں اور دنیا سے بغیر موت کے آسمان کی طرف اٹھانے والا ہوں اور تجھے الگ کرنے والا ہوں کافروں کی صحبت سے اور تیرے تابعداروں کو تیرے مخالفوں پر قیامت تک دلائل اور تلوار سے غالب رکھنے والا ہوں۔“
دیگر مجددین امت نے بھی اس آیت سے حضرت عیسیٰ ؑ کے رفع جسمانی ہی کو ثابت کیا ہے۔ ایک مجدد یا محدث بھی ایسا پیش نہیں کیا جا سکتا جس نے اس آیت میں رفع کے معنی رفع روحانی کیے ہوں۔ ہاں بعض بزرگوں نے اس آیت میں توفی کے مجازی معنی یعنی موت دینا اختیار کرنے کی اجازت دی ہے مگر ساتھ ہی تقدیم و تاخیر کی شرط لگا کر پھر بھی رفع جسمانی کے قائل رہنے پر مجبور کر رہے ہیں۔ لیجئے! اس کے متعلق بھی ہم صرف تین مجددین کے اقوال پیش کرتے ہیں جن کا ردّ کرنے والا مرزا قادیانی کے فتویٰ کی رُو سے فاسق ہو جائے گا۔
- ١...... امام فخر الدین رازی مجدد صدی ششم کا ارشاد ملاحظہ ہو۔
وقولہ رافعک الی یقتضی انہ رفعہ حیا والواو لا تقتضی الترتیب فلم یبق الا ان یقول فیہا تقدیم و تاخیر و المعنی انی رافعک الی و مطہرک من الذین کفروا و متوفیک بعد انزالی ایاک فی الدنیا و مثلہ من التقدیم والتاخیر کثیر فی القرآن۔ (تفسیر کبیر ج ٨ ص ٧٢) ”قول الٰہی رافعک الی تقاضا کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو زندہ اٹھا لیا اور واؤ ترتیب کا تقاضا نہیں کرتی۔ پس سوائے اس کے کچھ نہ رہا کہ کہا جائے کہ اس میں تقدیم و تاخیر ہے اور معنی یہ ہیں کہ میں تجھے اپنی طرف اٹھانے والا ہوں اور کفار سے بالکل پاک و صاف رکھنے والا ہوں اور تجھے دنیا میں نازل کرنے کے بعد فوت کرنے والا ہوں۔ اور اس قسم کی تقدیم و تاخیر قرآن شریف میں بکثرت ہے۔“
اس سے ذرا پہلے فرماتے ہیں۔ اَنَّ الْوَاوْ فِیْ قَوْلِهٖ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ
لَا تُفِيدُ التَّرْتِيبَ فَالْآيَةُ تَدُلُّ عَلَى أَنَّهُ تَعَالَى يَفْعَلُ بِهِ هٰذِهِ الْاَفْعَالَ فَاَمَّا كَيْفَ يَفْعَلُ وَمَتَى يَفْعَلُ فَالْأَمْرُ فِيهِ مَوْقُوفٌ عَلَى الدَّلِيلِ وَقَدْ ثَبَتَ الدَّلِيلُ اَنَّهُ حَيٌّ وَوَرَدَ الْخَبَرُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ سَيَنْزِلُ وَيَقْتُل الدَّجَّالَ ثُمَّ اِنَّهُ تَعَالَى يَتَوَفَّاهُ بَعْدَ ذٰالِکَ.
(تفسیر کبیر جز ٨ ص ٧١۔٧٢)
”واؤ عاطفہ جو اس آیت میں ہے وہ مفید ترتیب نہیں۔ یعنی وہ ترتیب کے لیے نہیں پس یہ آیت صرف اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے یہ سب معاملات کرے گا لیکن کس طرح کرے گا اور کب کرے گا۔ پس یہ سب کچھ کسی اور دلیل پر موقوف ہے اور اس کی دلیل ثابت ہو چکی ہے کہ آپ زندہ ہیں اور نبی ﷺ سے حدیث وارد ہے کہ آپ ضرور اتریں گے اور دجال کو قتل کریں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ آپ کو اس کے بعد فوت کرے گا۔“
- ٢....... امام سیوطیؒ مجدد صدی نہم فرماتے ہیں۔ عن الضحاک عن ابن عباسؓ فی قولہ
انی متوفیک و رافعک الی یعنی رافعک ثم متوفیک فی آخر الزمان۔ (درمنثور ج ٢ ص ٣٦) ”حضرت ضحاکؒ تابعی حضرت ابن عباسؓ سے قول الٰہی انی متوفیک ورافعک الی کے متعلق روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا۔ مراد اس جگہ یہ ہے کہ تجھے اٹھالوں گا۔ پھر آخری زمانہ میں فوت کروں گا۔“
- ٣....... تفسیر از علامہ محمد طاہر گجراتی مصنف مجمع البحار جن کو قادیانی مجدد صدی دہم تسلیم
کرتے ہیں۔ ”انی متوفیک و رافعک الی علی التقدیم و التاخیر....... و یجیء آخر الزمان لتواتر خبر النزول“ ”انی متوفیک و رافعک الی میں تقدیم و تاخیر ہے یعنی معنی یہ ہیں کہ میں تجھے اوپر اٹھانے والا ہوں اور پھر فوت کرنے والا ہوں....... حضرت عیسیٰ علیہ السلام آخر زمانہ میں آ جائیں گے کیونکہ احادیث نبوی نزول کے بارہ میں تواتر تک پہنچی ہوئی ہیں“۔ غرضیکہ تمام علماء اسلام سلف و خلف کا یہی مذہب ہے کہ یہ آیت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع جسمانی کا اعلان کر رہی ہے۔ اگر قادیانی امت ١٣ صدیوں کے علماء مجددین میں سے ایک مجدد بھی ایسا پیش کر سکے۔ جس نے اس آیت میں رفع سے مراد رفع روحانی لیا ہو۔ تو ہم انعام مقررہ کے علاوہ اعلان کرتے ہیں کہ ایک سال تک تردید مرزائیت کا کام چھوڑ دیں گے۔ جب یہ طے ہو گیا کہ تیرہ صدیوں کے مجددین امت (جن کی فہرست قادیانیوں کی مایہ ناز کتاب ”عسل مصفیٰ ج اول ص ١٦٥۔١٦٢‘ پر لکھی ہے) میں سے ایک بھی اس رفع کے معنی رفع روحانی نہیں کرتا بلکہ تمام
کے تمام اس کے معنی رفع جسمانی پر ایمان رکھتے ہیں۔ تو جو آدمی ان کے فیصلہ کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کرے گا وہ قادیانی فتویٰ کی رو سے فاسق ہو جائے گا۔
(دیکھو قادیانی اصول نمبر ٤)
توفی کی پُر لطف بحث
میرے معزز ناظرین! توفی کی تفسیر میں نے ایسے مفسرین کی زبان سے بیان کر دی ہے کہ جس آدمی میں ذرا بھی انصاف اور حق پرستی کا مادہ ہو۔ وہ قبول کیے بغیر نہیں رہ سکتا کیونکہ یہ سارے حضرات قادیانی اور لاہوری مرزائیوں کے مسلمہ مجددین گزرے ہیں اور مجدد علوم لدنیہ اور آیات سماویہ کے ساتھ علوم قرآنیہ کی صحیح تعلیم کے لیے مبعوث ہوتے ہیں۔ وہ دین میں نہ کمی کرتے ہیں نہ زیادتی۔ (دیکھو قادیانی اصول ٤) مگر تاہم چونکہ قادیانی مناظر ہر جگہ توفی کے متعلق بڑی تحدی اور زور سے چیلنج دیا کرتے ہیں۔ لہٰذا مناسب سمجھتا ہوں کہ بقدر ضرورت میں بھی اس پر روشنی ڈال کر اپنے ناظرین کو حقیقت حال سے مطلع کر دوں۔ پہلے میں مرزا قادیانی کے خیالات کو ان کی کتابوں کے حوالہ سے ”توفی کی بحث“ آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔ اس کے بعد خود اپنا مافی الضمیر عرض کروں گا۔
سوال......١ توفی کے حقیقی معنی کیا ہیں؟
جواب......١ از مرزا ”توفی کے حقیقی معنی وفات دینے اور روح قبض کرنے کے ہیں۔ ٢...... ”توفی کے معنی حقیقت میں وفات دینے کے ہیں۔“
(ازالہ اوہام ص ٦٠١ خزائن ج ٣ ص ٤٢٥)
سوال......٢ توفی کے مجازی معنی کیا ہیں؟
جواب ”(قرآن شریف میں) دونوں مقامات میں نیند پر توفی کے لفظ کا اطلاق کرنا ایک استعارہ ہے جو بہ نصب قرینہ نوم استعمال کیا گیا ہے۔ یعنی صاف لفظوں میں نیند کا ذکر کیا گیا ہے تا ہر ایک شخص سمجھ لے کہ اس جگہ توفی سے مراد حقیقی موت نہیں؟ بلکہ مجازی موت مراد ہے جو نیند ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ٣٣٢ خزائن ج ٣ ص ٢٦٩)
سوال......٣ قرآن کریم میں یہ لفظ کن معنوں میں استعمال ہوا ہے؟
جواب......١ از مرزا قادیانی ”قرآن شریف میں اوّل سے آخر تک جس جس جگہ
توفی کا لفظ آیا ہے ان تمام مقامات میں توفی کے معنی موت ہی لیے گئے ہیں۔“
(حاشیہ ازالہ اوہام ص ٣٤٦ خزائن ج ٣ ص ٢٢٤ حاشیہ)
- ٢....... ”توفی کے سیدھے اور صاف معنی جو موت ہیں وہی اس جگہ (قرآن کریم میں)
چسپاں ہیں۔“
(ازالہ اوہام ص ٢٤٦ خزائن ج ٣ ص ٢٢٣)
- ٣....... ”ہم ابھی ظاہر کر چکے ہیں کہ قرآن کریم اوّل سے آخر تک صرف یہی معنی ہر ایک جگہ
مُراد لیتا ہے کہ روح کو قبض کر لینا اور جسم سے کچھ تعلق نہ رکھنا بلکہ اس کو بیکار چھوڑ دینا۔“
(ازالہ ص ٥٣٤ خزائن ج ٣ ص ٣٩١)
سوال...... ٤ از ابو عبیدہ ”مرزا قادیانی! یہ کیسے معلوم ہو کہ کوئی لفظ کس جگہ اپنے حقیقی معنوں میں مستعمل ہوا اور کس جگہ مجازی معنوں میں؟“
جواب از مرزا قادیانی: ”اس بات کے دریافت کے لیے کہ متکلم نے ایک لفظ بطور حقیقت مسلّمہ استعمال کیا ہے یا بطور مجاز اور استعارہ نادرہ کے بھی کھلی کھلی علامت ہوتی ہے کہ وہ حقیقت مسلّمہ کو ایک متبادر اور شائع و متعارف لفظ سمجھ کر بغیر احتیاج قرائن کے یونہی مختصر بیان کر دیتا ہے مگر مجاز یا استعارہ نادرہ کے وقت ایسا اختصار پسند نہیں کرتا بلکہ اس کا فرض ہوتا ہے کہ کسی ایسی علامت سے جس کو ایک دانشمند سمجھ سکے اپنے اس مدعا کو ظاہر کر جائے کہ یہ لفظ اپنے اصلی معنوں پر مستعمل نہیں ہوا۔“
(ازالہ اوہام ص ٣٣٣ خزائن ج ٣ ص ٢٦٩)
سوال...... ٥ از ابوعبیدہ ”مرزا قادیانی! سچ سچ فرمائیے کہ موت یا حیات دینے کا اختیار خدا کے سوا کسی اور ہستی کو بھی ہو سکتا ہے؟“
جواب از مرزا قادیانی: ”خدا تعالیٰ اپنے اذن اور ارادہ سے کسی شخص کو موت اور حیات ضرر اور نفع کا مالک نہیں بناتا۔“
(ازالہ اوہام ص ٣١٤ خزائن ج ٣ ص ٢٥٩ حاشیہ)
سوال...... ٦ از ابوعبیدہ: ”قرآن شریف میں توفی کا لفظ کتنی جگہ آیا ہے ذرا مکمل فقرات کی صورت میں پیش کیجئے؟“
جواب از مرزا جی
- ١ ....... وَالَّذِيْنَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ
(بقرہ پ٢)
- ٢ ....... وَالَّذِيْنَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ
(بقرہ پ٢)
- ٣ ...... حَتّٰى يَتَوَفّٰهُنَّ الْمَوْتُ.
(نساء پ٤)
- ٤ ...... تَوَفّٰهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ ظَالِمِىْ اَنْفُسِهِمْ.
(نساء پ٥)
- ٥ ...... تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا.
(انعام پ٧)
- ٦ ...... رُسُلُنَا يَتَوَفَّوْنَهُمْ.
(اعراف پ٨)
- ٧ ...... اِذْ يَتَوَفَّى الَّذِيْنَ كَفَرُوْا الْمَلٰٓئِكَةُ.
(انفال پ١٠)
- ٨ ...... فَكَيْفَ اِذَا تَوَفَّتْهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ يَضْرِبُوْنَ وُجُوْهَهُمْ.
(محمد پ٢٦)
- ٩ ...... اَلَّذِيْنَ تَتَوَفّٰهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ ظَالِمِىْ اَنْفُسِهِمْ.
(نحل پ١٤)
- ١٠ ...... اَلَّذِيْنَ تَتَوَفّٰهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ طَيِّبِيْنَ.
(نحل پ١٤)
- ١١ ...... قُلْ يَتَوَفّٰكُمْ مَّلَكُ الْمَوْتِ الَّذِىْ وُكِّلَ بِكُمْ.
(الم سجدہ پ٢١)
- ١٢ ...... وَاِمَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِىْ نَعِدُهُمْ (اَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ)
(یونس پ١١)
- ١٣ ...... " " " "
(سورۃ رعد پ١٣)
- ١٤ ...... " " " "
(سورۃ مومن پ٢٤)
- ١٥ ...... ثُمَّ يَتَوَفّٰكُمْ.
(نحل پ١٤)
- ١٦ ...... وَمِنْكُمْ مَّنْ يُّتَوَفّٰى.
(سورۃ حج پ١٧)
- ١٧ ...... وَمِنْكُمْ مَّنْ يُّتَوَفّٰى.
(سورۃ مومن پ٢٤)
- ١٨ ...... وَتَوَفَّنَا مَعَ الْاَبْرَارِ.
(آل عمران پ٤)
- ١٩ ...... تَوَفَّنَا مُسْلِمِيْنَ.
(اعراف پ٩)
- ٢٠ ...... تَوَفَّنِىْ مُسْلِمًا وَّ اَلْحِقْنِىْ بِالصّٰلِحِيْنَ.
(یوسف پارہ ١٣)
- ٢١ ...... هُوَ الَّذِىْ يَتَوَفّٰكُمْ بِالَّيْلِ وَيَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بِالنَّهَارِ ثُمَّ يَبْعَثُكُمْ فِيْهِ لِيُقْضٰٓى
اَجَلٌ مُّسَمًّى.
(انعام پ٧)
- ٢٢ ...... اَللّٰهُ يَتَوَفَّى الْاَنْفُسَ حِيْنَ مَوْتِهَا وَالَّتِىْ لَمْ تَمُتْ فِىْ مَنَامِهَا فَيُمْسِكُ الَّتِىْ
قَضٰى عَلَيْهَا الْمَوْتَ وَيُرْسِلُ الْاُخْرٰٓى اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى.
(زمر پ٢٣)
(ازالہ اوہام ص ٣٣٠۔٣٣٣ خزائن ج ٣ ص ٢٦٨)
سوال ...... از ابو عبیدہ : "مرزا قادیانی! آپ نے آیات نقل کرنے میں دیانت سے کام نہیں لیا۔ صرف آخری دو آیتیں کماحقہ نقل کی ہیں۔ میں ہر ایک آیت کے متعلق ابھی مفصل عرض کروں گا۔ مگر اتنا تو آپ کے اصول سے سمجھ میں آ گیا کہ اگر میں ثابت کر
دوں کہ توفی کے حقیقی معنی موت دینا نہیں بلکہ جس طرح آپ توفی کے مجازی معنی نیند دینا مانتے ہیں۔ بعینہ اسی طرح ہم توفی کے مجازی معنی موت دینا بھی مانتے ہیں۔ دلائل ذیل میں ملاحظہ کیجئے اور پھر ایمان سے فرمائیے کہ آپ کے جھوٹا ہونے میں کوئی شک ہے؟ توفی کے حقیقی معنی کسی چیز کو اپنے تمام لوازمات کے ساتھ قبضہ میں کر لینا ہے
وجہ ملاحظہ کریں۔
- ١......توفی کا لفظ وفا سے نکلا ہوا ہے اور باب تفعل کا صیغہ ہے۔ اسی طرح ایفاء توفیہ اور
استیفاء بھی اسی مادہ وفاء سے بالترتیب باب افعال، تفعیل اور استفعال کے صیغے ہیں۔ اب یہ بات تو ادنیٰ طالب علم بھی جانتا ہے کہ کسی صیغہ کے حقیقی معنوں میں مادے (اصلی روٹ) کے معنی ضرور موجود رہتے ہیں۔ پس ان سب صیغوں میں وفا کے معنی پائے جانے ضروری ہیں۔ وفاء کے معنی ہیں پورا کرنا۔ معمولی طالب علم بھی جانتے ہیں کہ باب تفعل اور استفعال میں اخذ یعنی لینے کے معنی زائد ہو جاتے ہیں۔ پس توفی اور استیفا کے معنی ہوئے اخذ الشی وافیاً یعنی کسی چیز کو پورا پورا لے لینا۔ یعنی تمام جزئیات سمیت قابو کر لینا۔ چنانچہ ہم اپنی تصدیق و تائید میں ماہرین زبان عرب کے اقوال پیش کرتے ہیں۔
- ا......”اساس البلاغہ“ میں لکھا ہے۔ ”استوفاہ و توفاہ استکملہ. یعنی استیفاء اور توفی
دونوں کے معنی پورا پورا لے لینا ہے۔“
- ب......”لسان العرب ج ١٥ ص ٤٥٩“ میں بھی یہی لکھا ہے۔
- ج......تفسیر کبیر میں علامہ فخرالدین رازی مجدد صدی ششم نے بھی دونوں کو ہم معنی قرار دیا ہے۔
- ٢......مرزا قادیانی! آیات نمبر ٥،٤، ٧،٨،٩،١٠،١١ میں توفی کرنے والے فرشتے قرار
دیے گئے ہیں اور آپ کے جواب نمبر ٥ میں آپ نے فرمایا ہے کہ موت و حیات بغیر خدا کے کوئی دے نہیں سکتا۔ پس ماننا پڑے گا کہ اگر توفی کے حقیقی معنی موت دینے کے ہیں تو پھر فرشتے آپ کے نزدیک خدا ٹھہریں گے اور اگر فرشتے خدا نہیں اور یقیناً نہیں تو پھر توفی کے حقیقی معنی موت دینا نہیں ہو سکتے اور یقیناً نہیں ہو سکتے؟
- ٣......آیات نمبر ١ و نمبر ٢ میں یُتَوَفَّوْنَ وَ یَتَوَفَّوْنَ دونوں طرح پڑھنا جائز ہے۔
پہلی صورت میں فعل مجہول ہے اور دوسری صورت میں معروف ہے۔ دوسری صورت میں توفی بمعنی موت کرنے، ناممکن ہیں کیونکہ والذین اس کا فاعل ضمیر ہے مرزا
قادیانی! آپ کے معنی قبول کر لیں تو یوں معنی کرنے پڑیں گے۔ ”وہ لوگ جو اپنے آپ کو موت دیتے ہیں“۔ یہ بالکل بے معنی ہوا۔ اس سے بھی ثابت ہوا کہ توفی کے حقیقی موت دینا نہیں۔
٤....... آیت نمبر ٣ میں یتوفی کا فاعل الموت ہے۔ اگر توفی بمعنی موت دینا ہو تو آیت کے معنی یوں کریں گے۔ یہاں تک کہ موت ان کو موت دے دے۔
مرزا قادیانی! کچھ تو انصاف کیجئے کیا موت ہم کو موت دیا کرتی ہے۔ یا خدا؟ موت تو خدا دیتا ہے۔ پس اس سے بھی ثابت ہوا کہ توفی کے حقیقی معنی موت دینا نہیں۔
٥....... قرآن شریف میں توفی کے معنی بطور مجاز جہاں موت دینا کیے گئے ہیں۔ وہاں اسی فعل کا فاعل یا تو خدا ہے یا فرشتے۔ یا موت یا خود آدمی۔ حالانکہ اس کے برعکس اماتت جس کے حقیقی معنی موت دینا ہے اس کا فاعل قرآن کریم۔ یا حدیث نبوی۔ یا اقوال صحابہؓ یا اقوال اہل لسان میں کسی جگہ بھی سوائے خدا کے اور کسی کو قرار نہیں دیا۔ اگر توفی کے حقیقی معنی موت ہیں تو قرآن کریم میں اس کا فاعل بھی سوائے خدا کے اور کوئی نہ ہوتا۔ پس اللہ تعالیٰ کا دونوں فعلوں کے فاعل مقرر کرنے میں اس قدر اہتمام کرنا ثابت کرتا ہے کہ اگر اماتت کے حقیقی معنی موت دینا ہے تو یقیناً توفی کے حقیقی معنی موت دینا نہیں ہو سکتے۔ ورنہ وجہ بتائی جائے کہ کیوں سارے قرآن کریم میں احیاء اور اماتت کے استعمال میں نسبت فاعلی خدا نے اپنی طرف کی ہے اور توفی میں سب طرح جائز رکھا ہے؟
٦....... آپ نے جس قدر آیات نقل کی ہیں۔ اگر مکمل پڑھی جائیں تو ہر ایک میں قرینہ موت موجود ہے مثلاً
نمبر ١....... میں آپ نے صرف اتنا نقل کیا ہے۔ والذین یتوفون منکم اور اس کے آگے و یذرون ازواجاً وصیۃ لا زواجھم متاعاً الی الحول غیر اخراج الخ (معنی) تم میں سے جو لوگ اپنی عمر پوری کر لیتے ہیں۔ (یعنی فوت ہو جاتے ہیں) اور چھوڑ جاتے ہیں اپنی عورتیں۔ وہ وصیت کر جایا کریں اپنی بیویوں کے واسطے۔“
آیت نمبر ٢ میں بھی و یَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا يَّتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِهِنَّ اَرْبَعَةَ اَشْهُرٍ وَّ عَشْرًا الخ یہاں بھی بیویوں کا پیچھے چھوڑ جانا اور ان کی عدت کا حکم صاف صاف قرینہ صارفہ موجود ہے۔ یعنی یتوفون کے معنی ہوں گے اپنی عمر پوری کر لینا۔
اسی طرح آیات نمبر ٤ سے ١١ تک موت کے فرشتوں کا فاعل ہونا قرینہ ہے۔ بعض میں حیات کا ذکر کرنے کے بعد توفی کا استعمال ہوا ہے۔ جو قرینہ کا کام دیتا ہے۔
بعض آیات میں خاتمہ بالخیر کی دعا قرینہ موت موجود ہے۔ آیت نمبر ٢١ میں باللیل وغیرہ ، قرینہ نیند کا موجود ہے۔ اس واسطے یہاں توفی کے معنی نیند دینا ہے۔ ورنہ اگر توفی کے حقیقی معنی موت کے ہوں تو مرزا قادیانی کو ماننا پڑے گا کہ تمام دنیا رات کو حقیقی موت مر جاتی ہے۔ صبح پھر دوبارہ زندہ ہو جاتی ہے۔ (اور یہ بات مرزائیوں کے نزدیک بھی صحیح نہیں)
آیت نمبر ٢٢ تو توفی کے معنوں کا فیصلہ ہی کر دیتی ہے۔ توفی کا مفعول انفس ہے یعنی روح۔ اگر آپ کے معنی قبول کر لیے جائیں تو ماننا پڑے گا کہ اللہ روح کو موت دے دیتا ہے۔ حالانکہ یہ امر بالکل غلط ہے۔ ہاں۔ پھر وَ الَّتِی لَمْ تَمُتْ فِی مَنَامِهَا (اور اللہ ان روحوں کی بھی توفی کرتا ہے جن پر موت وارد نہیں ہوئی) کا اعلان کر کے مرزا قادیانی! آپ کے سارے تانے بانے کو توڑ پھوڑ دیا ہے کیونکہ یہاں توفی کا حکم بھی جاری ہے اور لم تمت (نہیں مریں یعنی زندہ ہیں) کا اعلان بھی ہو رہا ہے۔ یعنی توفی کا عمل ہو جانے کے بعد بھی آدمی کا زندہ رہنا ممکن ہی نہیں بلکہ ہر روز کروڑہا انسانوں پر اس کا عمل ہو رہا ہے۔ غرضیکہ اس آیت میں ایک ہی لفظ توفی مستعمل ہوا ہے۔ اس کے معنی مجازی طور پر مارنے کے بھی ہیں اور مجازی طور سلانے کے بھی۔
نتیجہ ، آپ نے سوال جواب نمبر ٤ میں فرمایا تھا کہ اگر کوئی لفظ اپنے حقیقی معنوں میں استعمال ہو تو اس کے ساتھ قرائن نہیں ہوتے اور جن کے ساتھ قرینہ موجود ہو۔ وہ ضرور مجازی معنوں میں استعمال ہوتا ہے چونکہ ان تمام آیات میں موت اور نیند کے معنی کرنے کے لیے زبردست قرائن موجود ہیں۔ اس واسطے ثابت ہوا کہ توفی کے حقیقی معنی صرف اخذ الشی وافیاً یعنی کسی چیز کو پوری طرح اپنے قبضہ میں کر لینا ہے اور اس کے معنی کرتے وقت قرینہ کا ضرور خیال رکھنا ہوگا۔ بغیر قرینہ کے اس کو اپنے حقیقی معنوں سے پھیرنا جائز نہ ہوگا۔
- ٧...... قرآن شریف میں حیوٰۃ اور اس کے مشتقات کے مقابلہ پر صرف موت اور اس
کے مشتقات ہی مستعمل ہیں۔ تمام کلام اللہ میں کہیں بھی حیات کے مقابلہ پر توفی کا استعمال نہیں ہوا۔ میں چیلنج کرتا ہوں کہ آپ بمعہ اپنی جماعت کے قرآن کریم ہزارہا احادیث رسول کریم ﷺ اقوال صحابہ اقوال بزرگان دین اور سینکڑوں کتب لسان عرب سے کہیں ایک ہی ایسا مقام دکھا دو۔ جہاں احیاء (زندہ کرنا) اور توفی (پوری پوری گرفت کرنا) بالمقابل استعمال ہوئے ہوں۔ انشاء اللہ تا قیامت نہ دکھا سکو گے۔
٨...... امام ابن تیمیہ کو مرزا قادیانی! آپ ساتویں صدی کا مجدد تسلیم کر چکے ہیں اور مجدد کے فیصلہ سے انحراف کرنے والا فاسق ہوتا ہے۔ دیکھئے وہ فرماتے ہیں۔
”لَفْظُ التَّوَفِّی فِىْ لُغَةِ الْعَرَبِ مَعْنَاهُ الْاِسْتِيْفَاءُ وَالْقَبْضُ وَذَالِکَ ثَلٰثَةُ اَنْوَاعٍ اَحَدُهَا تَوَفِّی النَّوْمِ وَالثَّانِیْ تَوَفِّی الْمَوْتِ. وَالثَّالِثُ تَوَفِّی الرُّوْحِ وَالْبَدَنِ جَمِيْعًا فَاِنَّهُ بِذَالِکَ خَرَجَ عَنْ حَالِ اَهْلِ الْاَرْضِ“
(الجواب الصحیح لمن بدل دین المسیح ج٢ ص٢٨٠)
”لفظ توفی کے معنی ہیں کسی چیز کو پورا پورا لے لینا اور اس کو اپنے قابو میں کر لینا اور اس کی پھر تین قسمیں ہوتی ہیں۔ ان میں سے ایک نیند کی توفی ہے۔ دوسری موت کی توفی اور تیسری روح اور جسم دونوں کی توفی ہے اور عیسیٰ علیہ السلام اس تیسری توفی کے ساتھ اہل زمین سے جدا ہوگئے۔“
٩...... توفی کے یہی معنی امام فخر الدین رازی آپ کے مجدد صدی ششم اور ١٠...... امام جلال الدین سیوطی آپ کے مجدد صدی نہم بھی تسلیم کر رہے ہیں۔
دیکھئے تفسیر کبیر اور تفسیر جلالین وغیرہ۔ تلک عشرة کامله
توفی عیسیٰ علیہ السلام کی بحث
ناظرین با تمکین! جب یہ امر ثابت ہو چکا کہ توفی کے حقیقی معنی اخذ الشی وافیاً کے ہیں اور یہ کہ مارنا اور سلانا اس کے مجازی معنی ہیں۔ یہ بھی دلائل سے ثابت ہو چکا ہے کہ کلام اللہ میں جہاں کہیں توفی بمعنی مارنا استعمال ہوا ہے۔ وہاں موت کا قرینہ موجود ہے اور جہاں بمعنی سلانا مستعمل ہوا ہے وہاں نیند کا کوئی نہ کوئی قرینہ موجود ہے۔ پس جب یہ لفظ بغیر قرینہ موت اور نیند پایا جائے گا۔ تو کوئی شخص اس کے معنی موت دینا یا سلانا کرنے کا مجاز نہیں ہو سکتا۔ کلام اللہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لیے توفی دو جگہ آیا ہے۔ ایک تو آیت انی متوفیک و رافعک الی میں دوسرا فلما توفیتنی میں۔
اب میں دلائل سے ثابت کرتا ہوں کہ اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ کی توفی کے معنی کیا ہیں۔
حضرات! یہ کلام اللہ کا معجزہ ہے اور علام الغیوب کے علم غیب پر زبردست دلیل ہے کہ اس آیت کے الفاظ کی بندش اور لفظ توفی کا استعمال ہی اس طریقہ سے کیا گیا ہے کہ توفی کے سارے معنی حقیقی یا مجازی چسپاں کر کے دیکھیں سب ٹھیک بیٹھتے ہیں۔ اسی واسطے جس کسی مفسر نے جو معنی اس کو مرغوب لگے وہی لگائیے۔ مگر یہ تفسیر
اجماع امت کا حکم رکھتی ہے کہ اس آیت کی رو سے تمام امت حضرت عیسیٰ ؑ کے رفع جسمانی کی قائل ہے۔
١....... بعض نے فرمایا اس کے معنی سلانا یہاں خوب چسپاں ہوتے ہیں۔ یعنی ”اے عیسیٰ ؑ! میں تجھ کو نیند دینے والا ہوں اور اپنی طرف اٹھانے والا ہوں۔“ چونکہ جاگتے ہوئے ہزارہا بلکہ لاکھوں میل کا پرواز اوپر کی طرف کرنا طبعاً توحش کا باعث ہوتا ہے۔ اس واسطے خدا نے نیند کی حالت میں رفع کا وعدہ کیا۔
٢....... بعض علماء نے فرمایا کہ اس کے معنی عمر پوری کرنے کے ہیں۔ پس مطلب یہ ہے کہ ”اے عیسیٰ ؑ! میں تیری عمر پوری کرنے والا ہوں۔ (یہ یہود تم پر قبضہ کر کے تمھیں قتل نہیں کر سکتے) اور میں تجھے اپنی طرف اٹھانے والا ہوں۔“ اور اس کا مطلب انھیں علماء اسلام نے جن میں سے حبر الامت و ترجمان القرآن حضرت ابن عباسؓ بھی ہیں یہی بیان کیا ہے کہ رفع جسمانی کا زمانہ عمر پوری کرنے کے وعدہ کا جز ہے یعنی رفع جسمانی پھر نزول جسمانی کے بعد آپ کی عمر پوری کی جائے گی اور پھر موت آئے گی۔
٣....... مرزا غلام احمد قادیانی نے مجدد و محدث وملہم من اللہ ہونے کے بعد اپنی الہامی کتاب ”براہین احمدیہ“ میں اس کے معنی پورا پورا اجر دینے اور پوری نعمت دینے کے معنی کیے ہیں وہ بھی یہاں خوب چسپاں ہوتے ہیں۔ ”یعنی اے عیسیٰ ؑ! میں تم پر اپنی نعمت پوری کرنے والا ہوں اور تجھے اپنی طرف اٹھانے والا ہوں۔“
(براہین احمدیہ ص ٥٢٠ حاشیہ خزائن ج ١ ص ٦٢٠)
٤....... جمہور علماء اسلام نے توفی کے حقیقی معنی ہی یہاں مراد لیے ہیں۔ یعنی اے عیسیٰ ؑ! میں تیرے جسم و روح دونوں پر قبضہ کرنے والا ہوں اور اپنی طرف اٹھانے والا ہوں۔“ اور یہی معنی موزوں ہیں۔ جس کے دلائل ہم ابھی عرض کرتے ہیں مگر یقیناً یہ معجزہ کلام اللہ ہے کہ اس آیت کی بندش الفاظ توفی کو اپنے تمام معنوں میں چسپاں کرنے کے بعد بھی حیات عیسیٰ ؑ کا ببانگ دہل اعلان کرتے ہیں۔ خدائے علام الغیوب نے مرزا قادیانی کی پیدائش سے تیرہ سو سال پہلے ہی ان کے دھوکا کا انتظام کر دیا تھا۔ فالحمدللہ رب العالمین
توفی عیسیٰ کے معنی ”مارنا“ کرنے کے خلاف
جسم و روح پر قبضہ کرنے کی تائید میں دلائل اسلامی
ناظرین! انجیل کے بیان اور وَمَکَرُوْا وَمَکَرَ اللّٰهُ کی بحث سے میں قادیانی
مسلمات کی رو سے ثابت کر آیا ہوں کہ یہود نے مکر و فریب کے ذریعہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر قبضہ کر کے انھیں قتل کرنے کا اہتمام کر لیا تھا اور مرزا قادیانی کے اپنے الفاظ سے ثابت کر آیا ہوں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو موت سامنے نظر آنے لگ گئی اور یہ بھی ثابت کر آیا ہوں اور وہ بھی مرزا قادیانی کی زبانی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اس مصیبت سے بچنے کی دعا تمام رات کی۔ وہ قبول بھی ہو گئی۔ قبولیت کی آواز بذریعہ وحی ان الفاظ قرآنی میں آئی ”يٰعِيْسٰى اِنِّیْ مُتَوَفِّیْكَ وَرَافِعُكَ اِلَیَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَجَاعِلُ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْكَ فَوْقَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَةِ۔“ (آل عمران ٥٥)
حسب اصول مرزا قادیانی اِنِّیْ مُتَوَفِّیْكَ وَرَافِعُكَ اِلَیَّ میں توفی بمعنی مجازی لینے کے لیے کوئی قرینہ یا علامت ضروری چاہیے تھی مگر کوئی قرینہ موت کا اس کے ساتھ موجود نہیں بلکہ باوجود توفی اپنے حقیقی معنوں میں یعنی روح بمعہ جسم کو قبضہ میں لے لینا یہاں مستعمل ہے۔ پھر یہی مرزا قادیانی جیسے محرفین کلام اللہ اور مدعیان مجددیت و مسیحیت کا ناطقہ بند کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے یہاں بہت سے ایسے قرائن بیان فرما دیے ہیں جو قبض روح معہ الجسم پر ڈنکے کی چوٹ اعلان کر رہے ہیں اور وہ قرائن یہ ہیں۔
قرینہ......١ توفی کے بعد جب رفع کا لفظ استعمال ہوگا اور رفع کا صدور بھی توفی کے بعد ہو تو اس وقت توفی کے معنی یقیناً غیر موت ہوں گے۔ اگر کوئی قادیانی لغت عرب سے اس کے خلاف کوئی مثال دکھا سکے تو ہم یک صد روپیہ خاص انعام دینے کا اعلان کرتے ہیں۔
قرینہ......٢ آیت وَمَكَرُوْا وَمَكَرَ اللّٰهُ وَاللّٰهُ خَیْرُ الْمَاكِرِیْنَ کے بعد اِنِّیْ مُتَوَفِّیْكَ وارد ہوئی ہے اور یہ اللہ کے مکر کی گویا تفسیر ہے۔ یہود کے مکر اور اللہ تعالیٰ کے مکر میں تضاد اور مخالفت ضروری ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ یہودیوں نے مکر کیا اور اللہ نے بھی مکر کیا اور اللہ سب مکر کرنے والوں سے اچھے ہیں۔ اللہ کا مکر (تدبیر لطیف) سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم یہودیوں کی تدبیر معلوم کریں۔ سنیئے! اور بالفاظ مرزا سنیئے!
”چنانچہ یہ بات قرار پائی کہ کسی طرح اس کو صلیب دی جائے پھر کام بن جائے گا۔“
(تحفہ گولڑویہ ص ١٢ خزائن ج ١٧ ص ١٠٦)
جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے یہ حالت دیکھی تو ان کے ظلم و جور سے بچنے کے لیے دعا مانگی۔ چنانچہ مرزا قادیانی اس کے متعلق لکھتا ہے۔ ”حضرت مسیح نے خود اپنے
بچنے کے لیے تمام رات دعا مانگی تھی اور یہ بالکل بعید از قیاس ہے کہ ایسا مقبول الٰہی تمام رات رو رو کر دعا مانگے اور وہ دعا قبول نہ ہو۔ (ایام الصلح ص ١١٤ خزائن ج ١٤ ص ٣٥١)
اس دعا عیسوی کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے بذریعہ وحی حضرت عیسیٰ ؑ کو فرمایا۔ ”اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ وَمُطَہِّرُکَ مِنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا“ اگر توفی کے معنی موت دینا یہاں تسلیم کیے جائیں تو مطلب یوں ہوگا۔ اے عیسیٰ ؑ یہودیوں نے جو تمھارے قتل اور صلیب کی سازش کی ہے۔ ان کے مقابلہ پر میں نے یہ تدبیر لطیف کی ہے کہ میں ضرور تمھیں موت دوں گا۔ یہودی بھی حضرت عیسیٰ ؑ کو مارنا چاہتے تھے اور خدا تعالیٰ ان کے جواب میں فرماتے ہیں کہ ہاں تم مرو گے اور ضرور مرو گے۔ سبحان اللہ! یہ یہودیوں کی تجویز اور تدبیر کی تائید ہے یا اس کا رد ہے۔ اگر کہو کہ اس سے مراد طبعی موت دینا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ طبعی موت کی تخصیص کس طرح قبول کی جا سکتی ہے۔ اگر یہودی قتل کرنے اور صلیب دینے میں کامیاب ہو جاتے تو اس صورت میں موت دینے والے کیا یہودی ہوتے۔ کیا اس حالت کی توفی خدا کی طرف منسوب نہ ہوتی؟ پس اگر اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ کے معنی یہ کیے جائیں کہ میں تمھیں موت دینے والا ہوں۔ تو یہ یہودیوں کی تائید اور ان کے مکر کو کامیاب کرنے کا اعلان تھا۔ حضرت عیسیٰ ؑ کے لیے اس میں کون سی تسلی تھی۔ اس واسطے توفی عیسیٰ کے معنی روح و جسم پر قبضہ کرنا ہی صحیح ہے۔
قرینہ...... ٣ مرزا قادیانی کو بھی خدائے مرزا نے الہام کیا تھا۔ اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ (براہین احمدیہ ص ٥٥٦ و ٥١٩ خزائن ج ١ ص ٦٦٠ ، ٦٦٤) وہاں مرزا قادیانی اپنے لیے توفی بمعنی موت سے گھبراتے ہیں۔ وہاں یہ معنی کرتے ہیں۔ ”اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ یعنی میں تجھے پوری نعمت دوں گا یا پورا اجر دوں گا“ پھر یہی مرزا کس قدر دیدہ دلیری سے لکھتا ہے۔
”وثبت ان التوفی ھو الاماتۃ والافناء لا الرفع والاستیفاء یعنی ثابت ہوگیا کہ توفی کے معنی موت دینا اور فنا کرنا ہے نہ کہ رفع اور پورا پورا لینا یا دینا۔“ (انجام آتھم ص ١٣٠ خزائن ج ١١ ص ایضاً) پس جیسا اپنے لیے موت کا وعدہ مرزا قادیانی کو مرغوب نہیں ہے حضرت عیسیٰ ؑ کے لیے موت دینے کا وعدہ خداوندی کیونکر قبول کر سکتا ہے۔ بالخصوص جبکہ موت حضرت عیسیٰ ؑ کو حسب قول مرزا نظر آ ہی رہی تھی۔ جیسا کہ مرزا قادیانی لکھتے ہیں۔
”مسیح ایک انسان تھا اس نے دیکھا کہ تمام سامان میرے مرنے کے موجود ہیں“ (ازالہ اوہام ص ٣٩٢ خزائن ج ٣ ص ٣٠٣) معزز ناظرین اس حالت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے جو دعا کی تھی اس کا ذکر بھی مرزا قادیانی کے الفاظ میں ملاحظہ کیجئے۔
”حضرت مسیح علیہ السلام نے تمام رات اپنے بچنے کے لیے دعا مانگی تھی۔“
(ایام الصلح ص ١٤ خزائن ج ١٤ ص ٣٥١)
”یہ بالکل بعید از قیاس ہے کہ ایسا مقبول الٰہی تمام رات رو رو کر دعا مانگے اور وہ دعا قبول نہ ہو۔ (حوالہ بالا)
یہ قاعدہ مسلم الثبوت ہے کہ سچے نبیوں کی سخت اضطرار کی ضرور دعا قبول ہو جاتی ہے۔“
(تبلیغ رسالت ج ٣ ص ٨٣ مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ١٠)
ان حالات میں بقول مرزا اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بشارت دیتے ہیں کہ اے عیسیٰ علیہ السلام میں واقعی تجھے موت دینے والا ہوں۔ خوب مرزا قادیانی کو تو اللہ تعالیٰ بغیر کسی خطرہ کی حالت کے وعدہ اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ کا دیں اور مرزا قادیانی بقول خود بمطابق لغت عرب اس کے معنی اپنے لیے موت تجویز نہیں کرتے بلکہ لغت کے خلاف اس کے معنی کرتے ہیں۔ ”میں تمھیں پورا پورا اجر دوں گا۔“ لیکن حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ان ناگفتہ بہ حالات کے درمیان اللہ تعالیٰ بشارت دیتے ہیں۔ اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ اور مرزا قادیانی اس کے معنی کرتے ہیں۔ ”میں تمھیں موت دینے والا ہوں۔“
تِلْکَ اِذًا قِسْمَۃٌ ضِیْزٰی (سورۃ النجم) (یہ تو بہت ہی بے ڈھنگی تقسیم ہے)
قرینہ ..... ٢ اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ کے معنی رسول پاک ﷺ سے لے کر آج تک جس قدر علماء مفسرین و مجددین مسلمہ قادیانی گزرے ہیں انھوں نے تو یہ کیے ہیں۔ ”اے عیسیٰ علیہ السلام میں تجھ کو بمعہ جسم آسمان کی طرف اٹھانے والا ہوں۔“ قادیانی اس کے معنی یوں کرتے ہیں ”اے عیسیٰ علیہ السلام میں تمہارا رفع روحانی کروں گا۔“ تجھے صلیب پر مرنے نہیں دوں گا بیشک یہودی تمھیں ذلیل کریں گے۔ تمھارے منہ پر تھوکیں گے۔ تمھارے جسم میں کیل ٹھوکیں گے۔ تمھیں مردہ سمجھ کر چھوڑ جائیں گے مگر تمہاری میں روح نہیں نکلنے دوں گا۔ روح تمہاری کسی اور موقع پر طبعی موت سے نکالوں گا کیونکہ اگر اس وقت نکال لوں تو تم لعنتی موت مرو گے۔“ (مفصل دیکھیں بحث وَمَکَرُوْا وَمَکَرَ اللّٰہُ) سبحان اللہ یہ ہیں قادیانی کے نکات قرآنی۔ بھلے مانس کو یہ سمجھ نہیں کہ رفع روحانی کا تو ہر ایک
مومن کو خدا وعدہ دے چکا ہے۔ بالخصوص حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو تو پہلے سے پتہ تھا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔
- ١...... يَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَالَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ (سورۃ مجادلہ ١١) ”اللہ
تعالیٰ مومنوں اور علم والوں کے درجات کو بلند کرتا ہے۔“ یعنی رفع روحانی ہے۔ (دیکھیے رفع کے ساتھ درجات کا لفظ مذکور ہے۔ اس واسطے یہاں اس کے معنی درجات کا بلند کرنا ہے)
- ٢...... حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے خود بچپن میں کہہ دیا تھا۔ ا...... وَالسَّلَامُ عَلَیَّ يَوْمَ وُلِدْتُّ وَ
يَوْمَ اَمُوْتُ وَيَوْمَ اُبْعَثُ حَيًّا (سورۃ مریم ٣٣) ”اور سلام ہے اللہ کا مجھ پر جس دن میں پیدا ہوا اور جس دن مروں گا اور جس دن دوبارہ زندہ کیا جاؤں گا ۔“ ٢...... وَجَعَلَنِيْ مُبَارَكاً اَيْنَمَا كُنْتُ (مریم ٣١) ”اور اللہ نے بنایا مجھ کو برکت والا جہاں کہیں رہوں ۔“
- ٣...... اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حق میں فرمایا تھا۔ وَجِيْهاً فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ
وَمِنَ الْمُقَرَّبِينَ (آل عمران ٤٥) ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام دنیا اور آخرت دونوں میں صاحب عزت وجاہت ہیں اور خدا کے مقرب بندوں میں سے ہیں ۔“ ٤...... كَلِمَةُ اللّٰهِ اَلْقَاهَا اِلٰی مَرْيَمَ (سورۃ نساء ١٧١) ”وہ اللہ کے کلمہ تھے جو القا کیا گیا تھا۔ طرف مریم کے ۔“
- ٥...... خود مرزا قادیانی لکھتے ہیں ۔ ”ہر مومن کا رفع روحانی خود بخود ہوتا ہے۔ تمام انبیاء کا
رفع روحانی ہوا ہے ۔“
(ازالہ اوہام ص ٢٦٥ خزائن ج ٣ ص ٢٣٣ ملخصاً)
پس ہمارا سوال یہاں یہ ہے کہ یہ آیت چونکہ بطور بشارت ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوئی تھی ۔ رفع روحانی کا وعدہ آپ کے لیے کیا بشارت ہو سکتی تھی؟ کیا اس وعدہ سے پہلے ان کو علم نہ تھا کیا انھیں وجیہہ۔ کلمۃ اللہ ۔ روح اللہ نبی اولوالعزم ہونے کا یقین نہ تھا۔ کیا انھیں اپنی نجات کے متعلق کوئی شک پیدا ہو گیا تھا؟ جس کا دفعیہ یہاں کیا گیا تھا۔ ہرگز نہیں ۔ انھیں اپنی نجات، معصومیت، روح اللہ، کلمۃ اللہ اور نبی ہونے کا یقین تھا۔ ہاں سارے سامان قتل اور صلیب اور ذلت کے دیکھ کر بتقاضائے بشریت فکر پیدا ہوا تھا، جس پر اللہ تعالیٰ نے بطور بشارت ارشاد فرمایا۔ اِنِّيْ مُتَوَفِّيْكَ اے عیسیٰ علیہ السلام میں خود تم پر قبضہ کرنے والا ہوں۔ (پس گھبراؤ نہیں یہودی تم پر قبضہ نہیں کر سکتے) پھر بتقاضائے بشریت خیال آیا کہ خداوند کریم کس طرح قبضہ کریں گے۔ اس کی صُورت کیا ہوگی ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ وَرَافِعُكَ اِلَيَّ اور قبضہ کر کے (تم کو اپنی طرف یعنی آسمان کی طرف) اٹھانے والا ہوں۔ پس ثابت ہوا۔ یہاں توفی اور رفع
دونوں کے معنی موت دینا اور رفع روحانی نہیں ہو سکتے بلکہ قبض جسمانی اور رفع جسمانی کے بغیر اور معنی سیاق و سباق اور قوانین لغت عرب کے مخالف ہیں۔
- قرینہ...... ٥ اگر توفی بمعنی طبعی موت اور رفع الی اللہ سے مراد رفع روحانی ہوتا تو اللہ
ان افعال کو حضرت عیسیٰ ؑ کے لیے مخصوص نہ کرتے اور نہ ہی یہود کے مکر و فریب کے مقابلہ پر اس فعل کو تدبیر لطیف بیان کر کے سب مکر کرنے والوں پر اپنا غلبہ ظاہر کرتے کیونکہ یہ سلوک تو اللہ تعالیٰ ہر مومن مسلمان سے کرتے ہیں۔
- قرینہ...... ٦ اگر توفی بمعنی موت طبعی دینا ہوتا اور رفع الی اللہ سے مراد رفع روحانی
ہوتا تو دونوں کے بیان کرنے کی ضرورت نہ تھی۔ حسب قول مرزا طبعی موت دینے کا وعدہ صلیبی موت سے بچانا تھا۔ یعنی لعنتی موت سے بچا کر رفع روحانی کی غرض سے اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ کہا گیا۔ پھر رفع الی اللہ کی کیا ضرورت تھی؟ اللہ تعالیٰ اپنے فصیح و بلیغ کلام میں مرزا قادیانی کی طرح اندھا دھند الفاظ کو موقعہ بے موقعہ استعمال نہیں فرمایا کرتے۔
- قرینہ...... ٧ یہ آیت وفد نجران کی آمد پر نازل ہوئی تھی۔ یعنی عیسائیوں کا ایک گروہ
رسول پاک ﷺ کے پاس آیا تھا۔ ان کے سوالات کے جوابات میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیات آل عمران اتاری تھیں۔ اب ہر ایک آدمی پڑھا لکھا جانتا ہے کہ عیسائی حضرت عیسیٰ ؑ کے رفع جسمانی کے قائل ہیں۔ اگر فی الواقع حضرت عیسیٰ ؑ کا رفع جسمانی نہ ہوا ہوتا تو ضرور اللہ تعالیٰ اس کی بھی تردید فرماتے جیسا کہ آپ کی الوہیت کی تردید فرمائی تھی۔ مگر اللہ تعالیٰ نے رَافِعُكَ اِلَيَّ کا فقرہ بول کر ان کی تصدیق فرمائی۔ جس میں وفد نصاریٰ نے اپنی تصدیق سمجھی اور اس پر بحث ہی نہ کی۔ پھر اگر مان لیا جائے کہ کبھی کبھی رفع کے معنی رفع روحانی بھی ہوتے ہیں تو خدا نے کیوں نصاریٰ کے مقابلہ پر ایسے الفاظ استعمال کیے۔ جس سے ان کو بھی دھوکا لگا۔ وہ اپنی تصدیق سمجھ کر خاموش ہو گئے اور صحابہ کرامؓ اور علمائے اسلام مفسرین قرآن اور مجددین امت محمدیہ مسلمہ قادیانی بھی اسی دھوکا میں پڑے رہے۔ کسی نے رفع عیسوی کے معنی بغیر رفع جسمانی نہ لیے۔ لیجئے! ایسے مواقع کے لیے ہم مرزا قادیانی کا قول نقل کرتے ہیں۔
”یہ بالکل غیر ممکن اور بعید از قیاس ہے کہ خدا تعالیٰ اپنے بلیغ اور فصیح کلام میں ایسے تنازع کی جگہ جو اس کے علم میں ایک معرکہ کی جگہ ہے۔ ایسے شاذ اور مجہول الفاظ استعمال کرے۔ جو اس کے تمام کلام میں ہرگز استعمال نہیں ہوتے۔
(اتمام الحجۃ ص ٢٨)
میں کہیں بھی صرف رفع الی اللہ کے معنی رفع روحانی نہیں آئے۔ (مؤلف) اگر ایسا کرے تو گویا وہ خلق اللہ کو آپ ورطہ شبہات میں ڈالنے کا ارادہ رکھتا ہے اور ظاہر ہے کہ اس نے ہرگز ایسا نہیں کیا ہوگا۔
(ازالہ ص ٣٢٩ خزائن ج ٣ ص ٢٦٧)
اس سے بھی معلوم ہوا کہ چونکہ صرف رفع الی اللہ سے مراد تمام قرآن میں کہیں بھی رفع روحانی نہیں لیا گیا۔ اس واسطے عیسیٰ علیہ السلام کی رفع الی اللہ سے رفع جسمانی مراد ہوگا۔
قرینہ......٨ آیت کریمہ وَاِنْ مِّنْ اَھْلِ الْکِتَابِ اِلَّا لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے وفات پانے سے پہلے اس وقت کے تمام اہل کتاب ان پر ایمان لے آئیں گے چونکہ دنیا میں ابھی تک اہل کتاب کفار موجود ہیں۔ پس معلوم ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی ابھی تک فوت نہیں ہوئے۔ اس لیے رَافِعُکَ اِلَیَّ سے پہلے اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ کے معنی سوائے قبض جسمانی و روحانی اور نہیں ہو سکتے۔
نوٹ: اس آیت کی مفصل بحث تو آگے آئے گی۔ مگر مناظرین کے کام کی چند باتیں یہاں بھی نقل کرتا ہوں۔
- ١...... اگر قَبْلَ مَوْتِہٖ میں ہِ کی ضمیر کتابی کی طرف راجع ہوتی تو لَیُؤْمِنَنَّ بصیغہ مستقبل مؤکد
بہ نون ثقیلہ وارد نہ ہوتا۔ اس کے معنی ”ایمان لاتے ہیں“ کرنا لغت عرب کے قوانین پر چھری پھیرنے کے مترادف ہے۔ اگر ضمیر کتابی کی طرف پھرتی تو ہر ایک کتابی ایمان لاتا ہوگا اس صورت میں لَیُؤْمِنُ چاہیے تھا نہ کہ لَیُؤْمِنَنَّ۔
- ٢...... اگر ضمیر موتہ کی کتابی کی طرف پھیری جائے تو اس کے معنی یہ ہوں گے ”کہ اپنی
موت سے پہلے تمام اہل کتاب حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لے آئیں گے۔ جس قدر یہ معنی بے معنی ہیں اور محالات عقلی و نقلی سے بھرے ہوئے ہیں ان کی تشریح محتاج بیان نہیں۔ واقعات ان معنوں کی تصدیق نہیں کرتے۔ یعنی ہم مشاہدے میں کسی اہل کتاب کو اس حالت میں مرتے ہوئے نہیں دیکھتے۔ اگر حالت نزع میں ایمان لانے کا جواب دیا جائے تو یہ بھی صحیح نہیں اس وقت کے اقرار کو ایمان نہیں کہتے۔ اگر وہ ایمان کہلا سکتا ہے تو ایسا ایمان تو ہر ایک کافر کو میسر ہوتا ہوگا۔ پھر یہود کے ایمان کی تخصیص کیوں کی گئی؟
- ٣...... موت سے پہلے تو ہر کتابی کا ایمان مشاہدے کے خلاف ہے۔ اگر اس سے مراد
عین موت کے وقت کا ایمان لیا جائے تو وہ ”قبل“ کے خلاف ہوگا۔ اس صورت میں
”عند موتہ“ موزوں تھا۔ معلوم ہوتا ہے۔ قادیانیوں کے نزدیک جس طرح کہ خود مرزا غلام احمد قادیانی لغت عرب اور اس کے محاورات بلکہ واحد اور جمع، مذکر اور مونث کے فرق سے نابلد محض تھا۔ شاید خدا بھی (نعوذ باللہ) قبل اور عند کے درمیان فرق نہیں جانتا تھا۔
قرینہ......٩ آیت کریمہ۔ وَمَا قَتَلُوْهُ يَقِيْنًا بَلْ رَّفَعَهُ اللّٰهُ اِلَيْهِ میں رَفَعَهُ اللّٰهُ اِلَيْهِ کے معنی تمام امت نے متفقہ طور پر رفع جسمانی کے کیے ہیں۔ چونکہ رَفَعَهُ اللّٰهُ کے معنوں میں تمام امت کا اجماع ہے۔ اس واسطے امت قادیانی کو اجماع امت ماننا پڑے گا۔ یہ میں نہیں کہتا بلکہ بالفاظ مرزا آنجہانی پیش کرتا ہوں۔
”جو شخص کسی اجماعی عقیدہ کا انکار کرے تو اس پر خدا اور اس کے فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔ یہی میرا اعتقاد ہے اور یہی میرا مقصود ہے اور یہی میری مراد مجھے اپنی قوم سے اصول اجماعی میں کوئی اختلاف نہیں۔“
(انجام آتھم ص ١٤٤ خزائن ج ١١ ص ایضا)
کیا کوئی قادیانی ایسا ہے جو قرآن، حدیث یا لغت عرب میں سے کسی میں یہ دکھائے کہ وَمَا قَتَلُوْهُ يَقِيْنًا بَلْ رَّفَعَهُ اللّٰهُ اِلَيْهِ میں قتل اور رفع جس ترکیب کے ماتحت استعمال ہوئے ہیں۔ یعنی قتل کی نفی کر کے اس کے بعد رفع کا اعلان کیا گیا ہو تو وہاں رفع کے معنی قبض روح بھی ممکن ہے۔ ہم اعلان کرتے ہیں کہ کوئی قادیانی قیامت تک ایسے موقع پر رفع کا معنی قبض روح نہیں دکھا سکے گا۔
قرینہ......١٠ یہ تمام امتوں کا مسلمہ اور متفقہ مسئلہ ہے کہ انبیاء کے لیے ہجرت کرنا مسنون ہے۔ چنانچہ مرزا قادیانی نے لکھا ہے۔
ہر ایک نبی کے لیے ہجرت مسنون ہے اور مسیح نے بھی اپنی ہجرت کی طرف انجیل میں اشارہ فرمایا ہے اور کہا کہ نبی بے عزت نہیں مگر اپنے وطن میں۔
(تحفہ گولڑویہ ص ١٣ خزائن ج ١٧ ص ١٠٦ حاشیہ)
”ہجرت انبیاء علیہم السلام میں سنت الہی یہی ہے کہ وہ جب تک نکالے نہ جائیں ہرگز نہیں نکلتے اور بالاتفاق مانا گیا ہے کہ نکالنے یا قتل کرنے کا وقت صرف فتنہ صلیب کا وقت تھا۔“
(تحفہ گولڑویہ ص ١٣ خزائن ج ١٧ ص ١٠٨)
اس اصول سے ثابت ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر دوسرے نبیوں کے طریقے پر ہجرت کرنا ضروری تھا یہ بھی معلوم ہوا کہ فتنہ صلیب سے پہلے انھوں نے ہجرت نہیں کی تھی۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ ہجرت سے مراد بے عزتی سے نکل کر عزت حاصل کرنا ہے۔
مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ یہ ہجرت صلیب پر چڑھنے، بے عزت ہونے اور وجود میں میخیں ٹھوکے جانے، منہ پر تھوکے جانے اور یہودیوں کی طرف سے طمانچے کھانے اور قبر میں تین دن تک مردوں کی طرح پڑا رہنے کے بعد اس طرح ہوئی کہ ان کے زخموں کا علاج کیا گیا۔ وہ اچھے ہوئے حواریوں کو چھوڑ کر چپکے چپکے بھاگے بھاگے افغانستان کی راہ لی۔ درۂ خیبر میں سے ہوتے ہوئے پنجاب، یوپی، نیپال، جموں کے راستہ کشمیر میں جا کر سانس لیا۔ وہاں ٨٧ سال زندہ رہ کر خاموشی میں مرگئے۔
سبحان اللہ! قادیانی نے اپنے اس بیان کے ثبوت میں کوئی ثبوت کلام اللہ سے، حدیث سے، انجیل سے یا تاریخ سے پیش نہیں کیا۔ لہٰذا یہ سارا واقعہ ایجاد مرزا سمجھ کر مردود قرار دیا جائے گا۔ ہم سے سنیئے حضرت مسیح ؑ کی ہجرت کا حال۔
وقت ہجرت تو وہی تھا جو قادیانی نے بیان کیا یعنی فتنہ صلیب کا وقت۔ ہجرت مسیح میں اللہ تعالیٰ نے کئی باتوں کا خیال رکھا ہے۔ حضرت مسیح ؑ میں ملکوتیت کا غلبہ تھا۔ کلمۃ اللہ تھے۔ بغیر باپ کے پیدا ہوئے تھے۔ یہود ان کی پیدائش کو ناجائز قرار دیتے تھے۔ اس واسطے اللہ تعالیٰ نے ان کی ہجرت کو بھی آسمان کی طرف رفع کو قرار دیا۔ وہاں وہ قربِ الٰہی صحبت ملائکہ اور آرام کی زندگی بسر کر رہے ہیں اور قرب قیامت میں آ کر پھر اپنی گمراہ امت اور اپنے منکر یہودیوں کو دائرہ اسلام میں داخل کریں گے۔ یہ ہے ہجرت عیسوی کی حقیقت۔
کوئی قادیانی کبھی یہ نہیں دکھا سکتا کہ نبی بعد ہجرت کے مصائب و آلام برداشت کر کے گمنامی کی زندگی بسر کرنے کے بعد مر گیا ہو۔ بلکہ نبی بعد ہجرت کے ضرور کامیاب اور عزت حاصل کر کے رہتا ہے۔ قادیانی کی مزعومہ بے سر و پا ہجرت مسیحی میں کون سی بات لائقِ ہجرت انبیاء ہے؟ چونکہ حسب قول مرزا حضرت مسیح ؑ نے صلیب سے پہلے تو ہجرت نہیں کی تھی اور واقعہ صلیب کے بعد قرآن اور حدیث اور تاریخ سے ان کی ارضی زندگی کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ لہٰذا معلوم ہوا کہ واقعہ صلیب کے زمانہ ہی میں وہ کہیں ہجرت کر گئے تھے اور وہ جگہ قرآن و حدیث اور اجماع امت کی رو سے آسمان ہے پس ثابت ہوا کہ اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ کے معنی ”میں تجھ کو مارنے والا ہوں“ غلط ہیں۔
قرینہ ......١١ یہود نے بہت سے سچے رسولوں کو جھوٹا سمجھ کر قتل کرا دیا تھا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ سورۂ بقرہ ٦١ و سورۂ آل عمران ٢١ میں وَیَقْتُلُوْنَ النَّبِیّٖنَ پھر سورۂ آل
عمران ١١٢ میں دوسری جگہ ارشاد ہے۔ وَيَقْتُلُوْنَ الْأَنْبِيَاءَ بِغَيْرِ حَقٍّ یعنی یہود ناحق اللہ تعالیٰ کے نبیوں کو قتل کر دیتے تھے اور یاد رہے کہ صلیب دینا بھی قتل ہے۔ جیسا کہ خود مرزا جی (تحفہ گولڑویہ ص ٢٢ و ص ٢٠ خزائن ج ١٧ ص ١٠٨ و ص ١٠٦) پر تسلیم کرتے ہیں۔ نیز (ایام الصلح ص ١٤٤ و ١١٣ خزائن ج ١٤ ص ٣٥١۔٣٥٠) پر صلیبی موت کو قتل ہی تسلیم کیا ہے اور اپنے زعم باطل میں یہودی ان تمام نبیوں کو جھوٹے نبی سمجھ کر قتل کرتے تھے۔ لہٰذا ان سب کو وہ ملعون ہی قرار دیتے تھے۔ ایسا ہی انھوں نے حضرت مسیح ؑ کو سمجھا۔ (معاذ اللہ)
اب سوال یہ ہے کیا وجہ ہے کہ صرف حضرت مسیح ؑ کے حق میں رفع کا لفظ استعمال کیا ہے اور کسی نبی کے حق میں استعمال نہیں فرمایا؟ اگر اس کے معنی قبض روح یا رفع روحانی لیے جائیں تو کیوں دوسرے نبیوں کی خاطر یہ لفظ استعمال نہیں کیا گیا۔ کیا ان کی طہارت بیان کرنے کی ضرورت نہ تھی؟ معلوم ہوا کہ رَافِعُکَ کے معنی رفع جسمانی کے بغیر اس آیت میں ممکن ہی نہیں۔ پس جب یہ ثابت ہوا تو ساتھ ہی یہ بھی ثابت ہو گیا کہ اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ کے معنی سوائے قبض جسمانی اور لینے ممکن ہی نہیں کیونکہ رفع جسمانی سے پہلے مارنے کی کیا ضرورت تھی؟ بلکہ موت سے بچانے کے لیے رفع جسمانی عمل میں آیا۔
قرینہ.......١٢ توفی کے معنی قادیانی کے زعم باطل میں سوائے موت دینے کے اور ہوتے ہی نہیں اور مراد اس سے وہ طبعی موت لیتا ہے۔ حالانکہ قرآن کریم میں جہاں توفی سے مراد موت لی گئی ہے۔ وہاں ہر قسم کی موت ہے نہ کہ طبعی موت، کوئی ایک جگہ بھی تمام کلام اللہ سے پیش نہیں کی جاسکتی جہاں توفی کے معنی صرف طبعی موت ہی لیے گئے ہوں۔ پھر یہاں کیوں طبعی موت سے مارنا معنی لیے جائیں؟ اگر صرف موت کے معنی لیے جائیں تو اس میں یہود کے دعویٰ کی تائید ہے نہ کہ تردید اور اس میں بجائے حضرت مسیح ؑ کو یہودیوں کی سازشوں کے خلاف تسلی دینے کے یہودیوں کی کامیابی کا یقین دلایا گیا ہے۔ صلیب بھی قتل کی ایک صورت ہے جیسا کہ میں قادیانی کے اپنے الفاظ سے ثابت کر چکا ہوں اور قتل موت کا ایک ذریعہ ہے۔ یعنی مقتول کے لیے بھی ہم کہہ سکتے ہیں۔ تَوَفَّاهُ اللّٰهُ یا اَمَاتَهُ اللّٰهُ جیسا کہ کلام اللہ میں توفی کا لفظ سب قسم کی موتوں کے لیے خود قادیانی تسلیم کرتا ہے۔ حضرت یحییٰ ؑ کا قتل کیا جانا ہر ایک کو معلوم ہے۔ یعنی وہ قتل کی موت مرے تھے مگر پھر بھی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ سَلَامٌ عَلَيْهِ يَوْمَ وُلِدَ وَيَوْمَ
يَمُوْتُ (مریم ١٥) یعنی سلام ہے ان پر جس دن وہ پیدا ہوئے اور جس دن وہ فوت ہوئے۔ ثابت ہوا کہ اس آیت میں توفی کے معنی طبعی موت کرنا تمام کلام اللہ کے خلاف ہے اور صرف مارنا کے معنی لینا اس میں یہود کی کامیابی کا اعلان ہے۔ حضرت مسیح علیہ السلام کی کوئی تسلی نہیں۔ اس واسطے ثابت ہوا کہ اِنِّیْ مُتَوَفِّيْكَ میں توفی کے معنی یقیناً جسم و روح دونوں پر قبضہ کر کے یہود نامسعود کے ہاتھوں سے حضرت مسیح علیہ السلام کو محفوظ کر لینے کا اعلان ہے۔
قرینہ......١٣ وَمَا قَتَلُوهُ يَقِينًا بَلْ رَفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ اس آیت میں قتل اور رفع کے درمیان تضاد ظاہر کیا گیا ہے۔ قادیانی رَفَعَهُ اللّٰهُ کے معنی کرتے ہیں کہ خدا نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو طبعی موت سے مار لیا۔ صلیبی موت سے بچا کر طبعی موت دینا لعنت کے خلاف ہے۔ ادھر یہ بھی کہتے ہیں کہ ”اِنِّیْ مُتَوَفِّيْكَ میں بھی یہی اعلان ہے کہ اے عیسیٰ علیہ السلام تو لعنتی موت یعنی صلیبی موت پر نہیں مرے گا۔“ ہمارا سوال یہ ہے کہ پھر یہاں توفی کا لفظ کیوں استعمال نہیں کیا گیا۔ قتل اور رفع روحانی میں تو کوئی ضد اور مخالفت نہیں۔ کیا حضرت یحییٰ علیہ السلام کو یہود نے قتل نہیں کیا تھا؟ اللہ تعالیٰ نے ان کے حق میں ایسا اعلان کہیں نہیں کیا حالانکہ یہود انہیں بھی نعوذ باللہ ایسا ہی ملعون سمجھتے تھے۔ جیسا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو، علاوہ ازیں بل کا لفظ بتا رہا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مزعومہ قتل اور رفع کا وقت ایک ہی ہے۔ مثلاً جب یوں کہا جائے کہ زید نے روٹی نہیں کھائی بلکہ دودھ پیا ہے۔ اس فقرہ میں روٹی کھانے کا انکار اور دودھ پینے کا اقرار ایک ہی وقت سے متعلق ہیں۔ یہ نہیں کہ روٹی تو نہیں کھائی تھی ایک سال پہلے اور دودھ پیا تھا کل، بلکہ روٹی نہ کھانے اور دودھ پینے کے فعل ایک ہی وقت سے تعلق رکھتے ہیں۔ بعینہٖ اسی طرح نفی قتل یعنی قتل نہ کیا جانا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا اور ان کا رفع عمل میں آنا ایک ہی وقت میں وقوع پذیر ہوئے تھے۔ مگر قادیانیوں کے نزدیک آپ کا رفع روحانی واقعہ صلیب کے ٨٧ سال بعد کشمیر میں ہوا۔ اس سے بھی ثابت ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں۔ پس توفی عیسیٰ علیہ السلام کے معنی موت کرنے ناممکن ہیں۔
قرینہ ......١٤ یہود کے مکر کا نتیجہ تھا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو موت کا سامنے نظر آنا۔ اس کے بالمقابل خدا کے مکر کا ظہورِ حیاتِ جسمانی کی صورت میں ہونا چاہیے۔ اس ظہورِ مکر کا وعدہ اِنِّیْ مُتَوَفِّيْكَ وَرَافِعُكَ کے الفاظ سے پورا کیا گیا۔ پس ثابت ہوا کہ یہاں توفی
موت کے مقابل پر استعمال کیا گیا ہے لہٰذا اس کے معنی موت دینا مضحکہ خیز ٹھہرتا ہے۔ ان تمام دلائل سے ثابت ہوا کہ اگر اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ میں ہم مرزا قادیانی کی ضد مان کر واو کو خلاف علوم عربیہ ترتیب وقوعی کے لیے قبول بھی کر لیں تو پھر بھی حضرت عیسیٰ ؑ کی موت ثابت نہیں ہوسکتی بلکہ اس صورت میں بھی یقیناً ان کی حیات ہی ثابت ہوتی ہے۔
حیات عیسیٰ ؑ پر قرآنی دلیل......٣
وَقَوْلِهِمْ اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيْحَ عِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُوْلَ اللّٰهِ وَمَا قَتَلُوْهُ وَمَا صَلَبُوْهُ وَلٰكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ وَاِنَّ الَّذِيْنَ اخْتَلَفُوْا فِيْهِ لَفِيْ شَكٍّ مِّنْهُ مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ اِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ وَمَا قَتَلُوْهُ يَقِيْنًا بَلْ رَّفَعَهُ اللّٰهُ اِلَيْهِ وَكَانَ اللّٰهُ عَزِيْزًا حَكِيْمًا
(نساء ١٥٨۔١٥٧)
اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ ببانگ دہل اعلان فرما رہے ہیں کہ حضرت عیسیٰ ؑ اس جسم عنصری کے ساتھ آسمان پر اٹھا لیے گئے تھے۔ ترجمہ ہم اس آیت مبارکہ کا اس ہستی کے الفاظ میں پیش کرتے ہیں کہ جس کے انکار پر قادیانی عقیدہ کے مطابق آدمی کافر و فاسق ہو جاتا ہے۔ یعنی مجدد صدی نہم جو امام جلال الدین سیوطی کے اسم گرامی سے دنیائے اسلام میں مشہور ہیں۔
’’اور لعنت کی ہم نے یہود پر اس وجہ سے بھی کہ وہ فخر کے ساتھ کہتے تھے کہ یقیناً ہم نے عیسیٰ بن مریم کو قتل کر دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کے دعویٰ قتل کی تردید کرتے ہوئے فرماتے ہیں اور نہ قتل کر سکے یہود حضرت عیسیٰ ؑ کو اور نہ پھانسی پر ہی لٹکا سکے ان کو۔ بلکہ بات یوں ہوئی کہ یہود کے لیے حضرت مسیح ؑ کی شبیہہ بنا دی گئی اور وہی قتل کیا گیا اور سولی دیا گیا اور وہ یہود کا آدمی تھا حضرت عیسیٰ ؑ کے ہمراہ۔ یعنی تفصیل اس کی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ ؑ کی صورت وشبیہہ یہود کے آدمی پر ڈال دی اور یہود نے اس شبیہہ عیسیٰ ؑ کو عین عیسیٰ ؑ سمجھ لیا اور تحقیق جن لوگوں نے حضرت عیسیٰ ؑ کے بارے میں اختلاف کیا وہ ان کے قتل کے متعلق شک میں مبتلا تھے کیونکہ ان میں سے بعض نے جب مقتول کو دیکھا تو کہنے لگے کہ اس کا منہ تو بالکل عیسیٰ ؑ کا ہے اور باقی جسم اس کا معلوم نہیں ہوتا اور باقی کہنے لگے کہ نہیں بالکل وہی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ان کو حضرت عیسیٰ ؑ کے قتل کے بارہ کوئی یقینی علم نہیں ہے بلکہ صرف اس ظن کی پیروی کرنے لگے۔ جو خود انھوں نے گھڑ لیا اور یقینی بات ہے
کہ انھوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قتل نہیں کیا بلکہ اٹھا لیا اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی طرف اور اللہ تعالیٰ اپنی بادشاہی میں بڑا زبردست اور اپنے کاموں میں بڑا ہی حکمت والا ہے۔“
(دیکھو تفسیر جلالین ص ٩١ زیر آیت کریمہ)
ناظرین اس تفسیر کے بعد حقیقت تو یہ ہے کہ کوئی قادیانی دم نہیں مار سکتا کیونکہ ہم نے ان کے اپنے مسلم امام اور مجدد کے الفاظ کا اردو میں ترجمہ کر دیا ہے۔ اگر انکار کریں تو رسالہ ہذا کے ابتداء میں درج شدہ قادیانی عقائد و اصول سامنے رکھ دیں۔ اب ہم کچھ نکات اس آیت کریمہ کی فصاحت و بلاغت اور اس کے الفاظ کی بندش کے متعلق عرض کرتے ہیں۔
- ١…… اس آیت میں لعنت یہود کا سبب صرف ان کا دعویٰ قتل قرار دیا گیا ہے۔ یعنی یہود
نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ کوئی ایسا فعل نہیں کیا جس کی وجہ سے وہ قابل لعنت ٹھہرائے جاتے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے علم کے مطابق یہود نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نہ صلیب پر چڑھایا اور نہ ان کے ہاتھوں میں میخیں لگائیں۔ نہ ان کے منہ پر تھوکا گیا۔ اگر فی الواقع ایسا ہوا ہوتا تو اللہ تعالیٰ ضرور لعنت کا سبب ان کے فعل کو ٹھہراتے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ذات گرامی تک یہود کو پہنچنے تک نہیں دیا۔
- ٢…… اِنَّا قَتَلْنَا یعنی ہم نے یقیناً قتل کر دیا۔ ان الفاظ میں اللہ تعالیٰ یہود کا دعویٰ بیان
فرماتے ہیں۔ یعنی یہود کو یقین تھا کہ انھوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ضرور قتل کر دیا تھا۔
- ٣…… قَتَلْنَا یعنی ”قتل کر دیا ہم نے“ ان الفاظ میں قتل کا اعلان ہے اور قتل صلیبی موت
کے لیے بھی بولا جاتا ہے۔ چنانچہ یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ یہودی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی صلیبی موت ہی کے قائل تھے۔ خود مرزا قادیانی لکھتے ہیں۔ ”یہود بوجہ صلیب مسیح کے ملعون ہونے کے قائل ہو گئے۔
(تحفہ گولڑویہ ص ١٢ خزائن ج ١٧ ص ١٠٩)
. پھر تحریر کرتے ہیں۔ ”نالائق یہودیوں نے حضرت مسیح علیہ السلام کو قتل کرنے کے لیے صلیب پر چڑھا دیا تھا۔“ ”یہودی صرف اسے صلیب دینا چاہتے تھے کسی اور طریق سے قتل کرنا نہیں چاہتے تھے کیونکہ یہودیوں کے مذہب کی رو سے جس شخص کو صلیب کے ذریعہ سے قتل کیا جائے خدا کی لعنت اس پر پڑ جاتی ہے۔“
(ایام الصلح ص ١١١ خزائن ج ١٤ ص ٤٢٩۔٤٢٨)
پس ثابت ہوا کہ قتل عیسیٰ علیہ السلام کے دعویٰ میں یہود کا مقصد قتل بالصلیب ہی تھا یعنی صلیبی موت کے لیے قتل کا لفظ خود یہود نے استعمال کیا۔
٤...... وَمَا قَتَلُوْهُ میں اللہ تعالیٰ یہود کے دعوٰی قتل عیسٰی بالصلیب کی تردید کر رہے ہیں۔ یہود کا دعوٰی تھا جیسا کہ ہم اقوال مرزا سے ثابت کر آئے ہیں کہ ہم (یہود) نے عیسٰی ؑ کو صلیب کے ذریعہ قتل کر دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسی فعل کی نفی کا اعلان کر دیا یعنی یہود حضرت مسیح ؑ کو صلیب کے ذریعہ بھی قتل کرنے پر قادر نہ ہو سکے۔
٥...... وَمَا صَلَبُوْهُ اس فقرہ میں اللہ تعالیٰ یہود کے دعوٰی قتل المسیح بالصلیب کی تردید کے بعد سولی پر چڑھا سکنے کی بھی نفی فرماتے ہیں۔ یعنی یہود تو حضرت مسیح ؑ کو سولی پر بھی نہیں چڑھا سکے۔ قربان جاؤں کلام اللہ کی فصاحت و بلاغت پر اگر مَا قَتَلُوْهُ کے بعد وَمَا صَلَبُوْهُ نہ ہوتا تو مرزا قادیانی بڑی آسانی سے تحریف قرآنی کر سکتا تھا کیونکہ وہ کہہ سکتا تھا جیسا کہ وہ اب کہتا ہے کہ قتل نہ کر سکے مگر سولی پر ضرور لٹکایا گیا تھا اور واقعی اس وقت مرزا قادیانی کو تحریف کے لیے کچھ گنجائش مل سکتی تھی۔ مگر اب تو باری تعالیٰ نے وَمَا صَلَبُوْهُ کا فقرہ بڑھا کر مرزا قادیانی کی تحریف کا مکمل سد باب کر دیا ہے لیکن مرزا قادیانی نے پھر ایک اور چال چلی۔ صلب کے معنی قرآن، حدیث اور لسان عرب کے خلاف سولی پر مرنا یا مارنا مشہور کر دیے مگر قیامت تک علماء اسلام کا لاجواب چیلنج قائم رہے گا کہ صلب کے معنی صرف سولی پر کھینچنا ہیں۔ موت صلب کے ساتھ ضروری نہیں۔ یعنی صلب کے معنی سولی پر مارنا نہیں۔ دلائل اسلامی ملاحظہ کیجئے۔
ا...... اگر صلب کے معنی پھانسی پر مارنا ہوتے تو یہود بجائے قَتَلْنَا کے صَلَبْنَا کہتے کیونکہ یہود حضرت مسیح ؑ کے سولی پر چڑھانے کا عقیدہ رکھتے ہیں۔
ب...... اگر مَا صَلَبُوْهُ کے معنی ”یہود حضرت مسیح ؑ کو سولی پر نہ مار سکے۔“ صحیح ہوتے تو صرف مَا قَتَلُوْهُ یا مَا صَلَبُوْهُ ہی کافی تھا۔ دوبارہ صَلَبُوْهُ لانے کی کیا ضرورت تھی۔
ج...... کسی مجدد مسلمہ قادیانی نے تیرہ سو ترپن سال تک مَا صَلَبُوْهُ کے معنی ”صلیب پر مارنے“ کے نہیں کیے۔
د...... حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی قادیانی جماعت کے مسلم مجدد صدی دوازدہم ”وَمَا صَلَبُوْهُ“ کے معنی کرتے ہیں۔ ”و بردار نکردند او را“ اور شاہ عبدالقادر صاحب مجدد صدی سیزدہم فرماتے ہیں ”اور نہ سولی پر چڑھایا اس کو“
ھ...... غیاث اللغات وصراح میں ہے۔ صلب۔ بردار کردن (سولی پر چڑھانا)
و...... اگر صلب کے معنی ”پھانسی پر مارنے“ کے قبول کر لیے جائیں تو قادیانی ہمیں بتلائیں کہ صرف سولی پر چڑھانے کے لیے عربی زبان میں کون سا لفظ ہے۔ سوائے صلب
کے اور کوئی لفظ ہے ہی نہیں۔ ز...... خود مرزا قادیانی کی زبان اور قلم سے باری تعالیٰ نے ہماری تائید کرا دی ہے۔ اقوال مرزا ”خدا نے مسیح سے وعدہ دیا کہ میں تجھے صلیب سے بچاؤں گا۔
(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ خزائن ج ١٧ ص ٤٤١)
دیکھئے یہاں بقول مرزا قادیانی خدا ”صلیب“ سے بچانے کا وعدہ کر رہے ہیں۔ صرف ”صلیبی موت“ سے بچانے کا وعدہ نہیں۔
پھر لکھتے ہیں۔ ”انھوں نے اسی فکر کی وجہ سے تینوں مصلوبوں کو صلیب پر سے اتار لیا۔ (ازالہ اوہام ص ٣٨١ خزائن ج ٣ ص ٣٩٦) دیکھئے یہ تینوں مصلوب اتار لیے جانے کے وقت زندہ تھے جیسا کہ مرزا قادیانی اسی صفحہ پر اقرار کرتے ہیں۔ جائے عبرت ہے کہ مرزا قادیانی کے قلم سے اللہ تعالیٰ نے صلب کا اسم مفعول ”مصلوب“ صرف ”سولی پر چڑھائے گئے“ کے معنوں میں استعمال کر کے ابو عبیدہ کی آہنی گرفت کا سامان مہیا کر دیا کیونکہ اگر صلب کے معنی سولی پر مارنا صحیح ہوتے تو مصلوب کے معنی سولی پر مارا ہوا ہونا چاہیے لیکن مرزا قادیانی خود مصلوب کو ”سولی دیا گیا“ مانتے ہوئے اس کا زندہ ہونا بھی تسلیم کرتے ہیں۔
ح...... صلیب کی حقیقت بھی ہم بالفاظ مرزا قادیانی عرض کرتے ہیں۔ جس سے معزز ناظرین کو یقین ہو جائے گا کہ صلب یعنی صلیب پر چڑھانے کا نتیجہ لازمی طور پر موت نہیں ہوتا تھا۔ لکھتے ہیں۔ ”بالاتفاق مان لیا گیا ہے کہ وہ صلیب اس قسم کی نہ تھی جیسی کہ آج کل پھانسی ہوتی ہے اور گلے میں رسہ ڈال کر ایک گھنٹہ میں کام تمام کیا جاتا ہے بلکہ اس قسم کا کوئی رسہ گلے میں نہیں ڈالا جاتا تھا۔ صرف بعض اعضاء میں کیلیں ٹھونکتے تھے اور پھر احتیاط کی غرض سے تین تین دن مصلوب بھوکے پیاسے صلیب پر چڑھائے رہتے تھے۔ پھر بعد میں اس کے ہڈیاں توڑی جاتی تھیں اور پھر یقین کیا جاتا تھا کہ اب مصلوب مر گیا۔“
(ازالہ اوہام ص ٣٨١ خزائن ج ٣ ص ٣٩٦)
محترم ناظرین غور کیجئے! کہ اگر مصلوب جو صلب کا اسم مفعول ہے کے معنی ”سولی پر مرا ہوا یا مارا ہوا“ ٹھیک ہوں تو وہ مرا ہوا آدمی بھی کبھی بھوکا پیاسا ہو سکتا ہے؟ جیسا کہ مرزا قادیانی مصلوب کا بھوکا پیاسا ہونا تسلیم کر رہے ہیں۔ نیز اگر مصلوب کے معنی پھانسی پر مارا ہوا صحیح ہوں تو پھر مرزا قادیانی کے فقرہ مصلوب مر گیا“ کے معنی کیا ہوں گے یہی نہ کہ ”پھانسی پر مارا ہوا مر گیا“ جو بالکل واہیات ہے۔ ”مصلوب مر گیا“ کا
فقرہ جبھی بامعنی فقرہ قرار دیا جا سکتا ہے جبکہ مصلوب کے معنی صرف سولی پر لٹکایا گیا یعنی صلب کے معنی صرف سولی پر لٹکانا بغیر موت کے لیے جائیں۔
ط....... اگر وَمَا صَلَبُوْهُ کے معنی حسب قول مرزا قادیانی ہم قبول کر لیں یعنی یہ کہ ”یہود حضرت مسیح ؑ کو سولی پر چڑھانے میں کامیاب ہو گئے۔ انھیں تازیانے لگاتے رہے ان کے منہ پر تھوکتے رہے اور ان کے اعضاء میں کیلیں ٹھونکنے میں بدرجہ اتم کامیاب رہے لیکن خدا نے صلیب پر حضرت عیسیٰ ؑ کی جان نہ نکلنے دی تو یہ سارا مضمون وَمَكَرُوْا وَمَكَرَ اللّٰهُ وَاللّٰهُ خَيْرُ الْمَاكِرِيْنَ کے خلاف جاتا ہے کیونکہ قادیانی معنوں کی صورت میں یہود کا مکر خدا کے مکر پر غالب رہتا ہے حالانکہ خدا خَيْرُ الْمَاكِرِيْنَ ہے۔ یعنی بہترین تدبیر کنندہ ہے۔ پس ان نو دلائل سے نتیجہ یہ نکلا کہ صلب کے معنی صرف سولی پر چڑھانا ہی ہیں۔ موت اس کے ساتھ لازم نہیں اور اس آیت میں خدا تعالیٰ حضرت مسیح ؑ کے صلب پر چڑھائے جانے ہی کی نفی کر رہے ہیں۔
اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيْحَ کے جملہ سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ یہود قتل مسیح کا دعویٰ بڑے جزم کے ساتھ کرتے تھے۔ محض اس کہنے سے کہ ہم (یہود) نے مسیح ؑ کو قتل کر دیا۔ کوئی وجہ لعنت کی نظر نہیں آتی۔ اگر قتل و صلب فی الواقع کسی شخص پر بھی واقع نہ ہوئے ہوتے تو اللہ تعالیٰ اپنی کلام بلاغت نظام میں بقولہم کی بجائے بکذبہم یعنی ان کے جھوٹ بولنے کے سبب ان کے ملعون ہونے کا اعلان کرتے مگر چونکہ قتل و صلب کے افعال ضرور کسی نہ کسی شخص پر واقع ہوئے تھے اس واسطے اللہ تعالیٰ نے یہ جواب نہیں دیا کہ وَمَا قَتَلُوْا اَحَدًا وَلَا صَلَبُوْا یا وَمَا قُتِلَ اَحَدٌ وَلَا صُلِبَ یعنی یہود نے تو نہ کسی کو قتل کیا اور نہ پھانسی دیا یا نہ کوئی قتل کیا گیا نہ پھانسی دیا گیا۔ وَمَا قَتَلُوْهُ وَمَا صَلَبُوْهُ میں ضمیر ”ہ“ کو استعمال کر کے بتا دیا کہ قتل کا فعل اور پھانسی چڑھانے کا عمل حضرت عیسیٰ ؑ پر وارد نہیں ہوا۔ کسی اور پر وارد ہوا تھا۔ ملخص مضمون بالا۔
- ١....... یہود پر خدا نے لعنت کی اور اس لعنت کا سبب حضرت عیسیٰ ؑ کے قتل و صلب کے
دعویٰ کو بطور فخر کے بیان کرنا قرار دیا۔
- ٢....... اللہ تعالیٰ نے یہود کو قتل اور صلب محض کے دعویٰ میں جھوٹا قرار نہیں دیا بلکہ قتل و
صلب مسیح ؑ کے دعویٰ کو جھوٹ قرار دیا۔ مطلب جس کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بھی اس بات کو سچا فرما رہے ہیں کہ کوئی نہ کوئی شخص حضرت عیسیٰ ؑ کے نام پر ضرور قتل کیا گیا اور صلیب دیا گیا اور یہ بات تواتر قوی سے ثابت ہے کہ ایک شخص ضرور پھانسی پر لٹکایا
گیا اور قتل کیا گیا تھا۔ چنانچہ دنیا کے کروڑہا یہودی اور عیسائی کسی ایک شخص کے قتل و صلیب دیے جانے کا عقیدہ رکھنا اپنے ایمان کا جزو قرار دیتے ہیں۔ اس شخص کو یہودی و عیسائی دونوں نے مسیح علیہ السلام سمجھا۔ اللہ تعالیٰ اس مقتول و مصلوب کے متعلق اعلان فرماتے ہیں کہ وہ مقتول و مصلوب حضرت عیسیٰ ابن مریم نہ تھا۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر وہ شخص کون تھا جس کو یہودیوں نے عیسیٰ علیہ السلام سمجھتے ہوئے پھانسی پر لٹکا دیا اور قتل کر دیا اور ان کے اتباع میں کروڑہا عیسائی بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قتل بالصلیب کے قائل ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ اس وہم کا ازالہ اپنی عجیب کلام میں عجیب فصیح و بلیغ طریقہ سے بیان فرماتے ہیں۔ ارشاد ہوتا ہے وَلٰكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ جس کی پوری ترکیب (علم نحو کے جاننے والے پر مخفی نہیں) اس طرح ہوگی۔ وَلٰكِنْ فَعَلُوْا وَصَلَبُوْا مَنْ شُبِّهَ لَهُمْ لیکن انھوں نے اس شخص کو قتل کیا اور صلیب پر چڑھایا جو ان کے لیے مسیح علیہ السلام کے مشابہ بنایا گیا تھا۔ مرزا قادیانی بیچارے علوم عربیہ سے محض کورے تھے ہاں جس طرح بعض آدمی گورہ شاہی انگریزی بول لکھ سکتے ہیں۔ اسی طرح مرزا قادیانی بھی عربی کی ٹانگ توڑ سکتے تھے۔ ہم ان کی عربی کا نام ”پنجابی عربی“ تجویز کرتے ہیں۔
وَلٰكِنْ شُبِّهَ جیسی ترکیبیں قرآن، حدیث اور عربی علم ادب کے ماہرین پر مخفی نہیں۔ ہم یہاں علم نحو کے مسلم امام ابن ہشام کا قول کتاب مغنی سے نقل کرتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں۔ ”اِنَّهُ لٰكِنْ غَيْرُ عَاطِفَةٍ وَّ الْوَاوُ عَاطِفَةٌ بِجُمْلَةٍ حُذِفَ بَعْضُهَا عَلٰی جُمْلَةٍ صُرِّحَ بِجَمِيْعِهَا قَالَ فَالتَّقْدِيْرُ فِیْ نَحْوِ مَا قَامَ زَيْدٌ وَلٰكِنْ عَمْرٌ وَّلٰكِنْ قَامَ عَمْرٌ.“ ”ولاکن میں لاکن عطف کے لیے نہیں ہے اور واؤ عطف کرنے والی ہے اس جملہ کو جو پوری طرح بیان کر دیا گیا ہو۔ مثلاً مَاقَامَ زَيْدٌ وَّلٰكِنْ عَمْرٌ والی مثال کو پورا پورا اس طرح لکھیں گے۔ مَاقَامَ زَيْدٌ وَّلٰكِنْ قَامَ عَمْرٌ ”نہیں کھڑا ہوا زید بلکہ کھڑا ہوا عمر۔“ پس معلوم ہوا کہ ولاکن سے پہلے جس فعل کی نفی مذکور ہے۔ اسی کا اثبات ولاکن کے بعد والے فقرہ میں مطلوب ہے۔ صرف فعل کی نسبت فاعلی یا مفعولی میں تبدیلی ہو جاتی ہے۔ یعنی جس فعل کے وقوع کی نفی کی جا رہی ہے۔ صرف ایک خاص فاعل یا مفعول کے لحاظ سے کی جا رہی ہے۔ ورنہ فی الواقع فعل واقع ضرور ہوا ہے۔ مثلاً مثال مَاقَامَ زَيْدٌ وَّلٰكِنْ عَمْرٌ میں کھڑے ہونے کا عمل یا فعل واقع تو ضرور ہوا ہے۔ اس کی نفی اگر کی گئی ہے تو صرف زید کے لیے یعنی زید کھڑا نہیں ہوا۔ ولاکن کے بعد عمر مذکور ہے۔ پس اسی فعل کا وقوع عمر کے لیے ضروری ہو جاتا ہے۔ یعنی کوئی نہ کوئی کھڑا ضرور ہوا
تھا۔ بعینہ اسی طرح وَمَا قَتَلُوْهُ وَمَا صَلَبُوْهُ وَلٰكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ میں ہے۔ یہاں باری تعالیٰ ولاکن سے پہلے حضرت عیسیٰ ؑ کے قتل بالصلیب اور صلیب پر چڑھائے جانے کی نفی کا اعلان فرماتے ہیں پھر اس کے بعد ولاکن کا استعمال فرما کر صاف صاف اعلان فرما رہے ہیں کہ قتل و صلب کے افعال ضرور وقوع پذیر ہوئے تھے لیکن کس پر ہوئے تھے۔ (جواب) اس پر جس پر ڈالی گئی شبیہ حضرت عیسیٰ ؑ کی۔ یہی تفسیر آئمہ مجددین مسلمہ قادیانی سے مروی ہے۔ اگر قادیانی اس کی تصدیق سے انکار کریں تو مرزا قادیانی کے فتویٰ کی رو سے کافر اور فاسق بننے کے لیے تیار ہو جائیں۔
(دیکھو قادیانی اصول نمبر ٤)
آگے ارشاد باری ہے۔ وَاِنَّ الَّذِيْنَ اخْتَلَفُوْا فِيْهِ لَفِيْ شَكٍّ مِّنْهُ مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ اِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ ۔ ’’اور تحقیق وہ لوگ (عیسائی) جنھوں نے اس بارہ میں اختلاف کیا وہ تو بالکل شک میں ہیں۔ ان کو کوئی یقینی علم حضرت عیسیٰ ؑ کے بارہ میں ہے ہی نہیں۔ صرف ظنی ڈھکوسلوں کا اتباع کرتے ہیں۔‘‘
نوٹ: اِنَّ الَّذِيْنَ اخْتَلَفُوْا فِيْهِ کے الذین میں یہود شامل نہیں ہو سکتے کیونکہ ان کے متعلق تو پہلے ہی اعلان ہو چکا ہے۔ وَقَوْلِهِمْ اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيْحَ یعنی ہم نے یقیناً مسیح ؑ کو قتل کر دیا ہے۔ قتل مسیح ؑ کے بارہ میں یہود میں نہ کبھی اختلاف ہوا اور نہ اب ہے۔ ہاں عیسائیوں نے اس بارہ میں بہت اختلاف کیا ہے۔ جیسا کہ ہم پہلے باب میں ذکر کر آئے ہیں۔ عیسائیوں میں بہت سے فرقے ہیں کوئی کچھ کہتا ہے اور کوئی کچھ۔ چنانچہ انجیلوں کے پڑھنے والے پر مخفی نہیں۔ ان کے اختلاف کے متعلق باری تعالیٰ کا یہ فیصلہ ہے۔ مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ اِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ یعنی ان کو تو واقعات کا علم ہی نہیں وہ تو صرف ظن کی پیروی کر رہے ہیں۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ عیسائی امت کے افراد موقعہ صلب و قتل کے وقت تو حاضر ہی نہ تھے۔ ان کو یقینی علم کہاں سے ملتا۔ چنانچہ حواریوں کا موقعہ سے بھاگ جانا خود مرزا قادیانی نے بھی تسلیم کیا ہے۔ جیسا کہ ہم پہلے باب میں ذکر کر آئے ہیں۔
یہاں تک اللہ تعالیٰ نے یہود کے فخریہ دعویٰ قتل و صلب مسیح ؑ کا رد کیا آگے ان کے قتل مسیح ؑ کے پختہ عقیدہ کا رد کرتے ہیں۔ یہود نے کہا۔ ہم نے یقیناً قتل کیا مسیح ؑ کو۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں وَمَا قَتَلُوْهُ يَقِيْنًا ”یقیناً یہود نے قتل نہیں کیا عیسیٰ ؑ کو۔“ ایک وہم تو پہلے پیدا ہوا تھا یعنی یہ کہ اگر یہود نے مسیح ؑ کو قتل نہیں کیا اور صلیب پر نہیں چڑھایا تو پھر کس کو چڑھایا۔ اس کا جواب وَلٰكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ سے دیا۔ ”یعنی حضرت مسیح ؑ کی شبیہہ جس پر ڈالی گئی تھی اس کو قتل کیا اور سولی چڑھایا۔“ یہاں ایک
نیا وہم پیدا ہوتا ہے جو پہلے یہودیوں کو بھی لاحق ہوا اور قادیانی جماعت کو بھی آرام نہیں کرنے دیتا۔ وہ یہ کہ پھر حضرت مسیح علیہ السلام کہاں گئے وہ کیا ہوئے۔ اس کا ازالہ اس طرح بیان فرماتے ہیں۔ بَلْ رَّفَعَهُ اللّٰهُ اِلَيْهِ ”بلکہ اٹھا لیا اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی طرف یعنی آسمان کی طرف۔“ آگے اس رفع جسمانی کی حکمت بیان فرماتے ہیں۔ وَكَانَ اللّٰهُ عَزِيْزًا حَكِيْمًا اور اللہ تعالیٰ بہت ہی زبردست اور بے حد حکمتوں والا ہے۔
یہاں مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ہم چند علمی نکات سے ناظرین رسالہ کی توضیح کریں۔
- ١....... بَلْ ایک عربی لفظ ہے۔ جس کے استعمال سے باری تعالیٰ نے قیامت تک کے لیے
قادیانی ایسے محرفین کلام اللہ کا ناطقہ بند کر دیا ہے۔ کتب نحو کے جاننے والوں سے پوشیدہ نہیں کہ بَلْ کے بعد والے مضمون اور مضمون ماقبل کے درمیان تضاد کا ہونا ضروری ہے۔ مثلاً اگر کوئی یوں کہے کہ ”زید آدمی نہیں بلکہ قادیانی ہے۔“ تو یہ فقرہ ہر ذی عقل کے نزدیک غلط ہے کیونکہ بَلْ کے پہلے زید کے آدمی ہونے سے انکار ہے اور اس کے بعد اس کے قادیانی ہونے کا اقرار ہے مگر ان دونوں باتوں میں کوئی مخالفت نہیں کیونکہ آخر قادیانی بھی آدمی تو ضرور ہیں۔ پس صحیح فقرہ تو یوں چاہیے۔ ”زید مسلمان نہیں بلکہ قادیانی ہے۔“ کیونکہ کہنے والے کا مطلب اور عقیدہ یہ ہے کہ قادیانی کافر ہیں جو مسلمان کی ضد ہیں یا یہ فقرہ صحیح ہے۔ ”زید آدمی نہیں بلکہ جن ہے۔“ کیونکہ زید کے آدمی ہونے کی نفی کر کے اس کے جن ہونے کا اقرار ہے۔ پس معلوم ہوا کہ بَلْ کے پہلے اور مابعد والے مضمون میں ضد اور مخالفت ضروری ہے۔ قتل اور سولی پر چڑھانے اور زندہ اٹھائے جانے میں تو مخالفت ہے مگر قتل اور روح کے اٹھانے میں کوئی مخالفت نہیں بلکہ بے گناہ مقتول کا رفع روحانی تو تمام مذاہب کا ایک مسلمہ اصول ہے۔
- ٢....... بَلْ ابطالیہ میں جو یہاں باری تعالیٰ نے استعمال فرمایا ہے۔ ضروری ہے کہ بَلْ کے
مابعد والے مضمون کا فعل فعل ماقبل سے پہلے وقوع میں آ چکا ہو۔ اس کی مثال یوں سمجھیے۔ مشرک کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو اپنی اولاد بنا لیا ہے۔ نہیں یہ غلط ہے بلکہ فرشتے تو اس کے نیک بندے ہیں۔ دیکھئے یہاں بلکہ (جس کو عربی میں بَلْ کہتے ہیں) سے پہلے مشرکین کا قول فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی اولاد بتلانا مذکور ہے اور بَلْ کے بعد فرشتوں کے اللہ تعالیٰ کے نیک بندے ہونے کا اعلان ہے۔ فرشتے خدا کے نیک بندے پہلے سے ہیں۔ مشرکین نے ان کے نیک ہونے کے بعد کہا کہ وہ اللہ کی اولاد ہیں۔ دوسری مثال ”وہ کہتے ہیں زید لاہور گیا تھا نہیں بلکہ وہ تو سیالکوٹ گیا تھا۔“
دیکھئے! زید کا سیالکوٹ جانا پہلے وقوع میں آیا تھا۔ اس کے بعد لوگوں نے کہا تھا کہ وہ لاہور گیا تھا۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ ؑ کے رفع کو بَلْ کے بعد استعمال کیا گیا ہے۔ اس لیے ضروری ہوا کہ آپ کا رفع پہلے کیا گیا تھا اور اس کے بعد یہود نے کہا کہ ہم نے عیسیٰ ؑ کو قتل کر دیا ہے۔ اگر رَفَعَهُ اللهُ میں رفع سے رفع روحانی مراد لیا جائے جو حسب قول و عقیدہ قادیانی جماعت واقعہ صلیبی کے ٨٧ برس بعد طبعی موت سے کشمیر میں وقوع پذیر ہوا تھا تو پھر یہ کلام مرزا قادیانی کی کلام کی طرح ”پنجابی عربی“ بن کر رہ جائے گا کیونکہ بَلْ کا استعمال ہمیں اس بات کے ماننے پر مجبور کر رہا ہے کہ جب حضرت عیسیٰ ؑ کا رفع ہو چکا تھا اس کے بعد یہود نے اعلان قتل کیا۔ قادیانی مذہب قیامت تک اس بَلْ کے بل (لپیٹ) سے نہیں نکل سکتا۔ ہاں رفع جسمانی کی صورت میں قانون ٹھیک بیٹھتا ہے۔
- ٣.......بَلْ سے پہلے جس چیز کے قتل اور سولی کا انکار کیا جا رہا ہے۔ اسی کے رفع یعنی اٹھا
لینے کا اقرار اور اعلان ہو رہا ہے۔ بَلْ سے پہلے حضرت عیسیٰ ؑ کے زندہ جسم (مجموعہ جسم و روح) کے قتل و سولی سے انکار کیا گیا ہے۔ پس بَلْ کے بعد رفع بھی جسم و روح دونوں کا ہی ہونا چاہیے۔ اگر قتل و سولی سے انکار تو حضرت عیسیٰ ؑ کے جسم و روح کے متعلق ہوا اور اٹھانا صرف روح کا مذکور ہو تو یہ بالکل فضول کلام ہے کیونکہ قتل کیا جانا اور سولی دیا جانا روح کے اٹھائے جانے کے مخالف نہیں بلکہ ان دونوں سے بے گناہ مظلوم کا رفع روحانی یقینی ہو جاتا ہے۔
- ٤.......بَلْ سے پہلے اور بَلْ کے بعد والے افعال میں جو مفعولی ضمیریں ہیں وہ ساری ایک
ہی شخص کے لیے ہونی چاہئیں۔ پہلی ضمیریں وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ میں سارے کی ساری حضرت عیسیٰ ؑ کے جسم و روح دونوں کی طرف پھرتی ہیں اس کے بعد رَفَعَهُ اللهُ میں ”هُ“ کی ضمیر بھی حضرت عیسیٰ ؑ کے جسم و روح دونوں کے لیے ہے نہ کہ صرف حضرت عیسیٰ ؑ کی روح کے لیے۔
- ٥.......یہود کا عقیدہ تھا کہ انھوں نے عیسیٰ ابن مریم ؑ کو قتل کر دیا تھا۔ اکثر عیسائی ان
کے اس عقیدہ سے متفق ہو کر کہنے لگ گئے کہ قتل تو کیے گئے۔ مگر پھر وہ بمعہ جسم آسمان پر اٹھا لیے گئے۔ دونوں قوموں کا یہ عقیدہ حضرت رسول کریم ﷺ کے وقت میں اسی طرح موجود تھا۔ اگر رفع جسمانی کا عقیدہ غلط ہوتا اور جیسا کہ قادیانی کہتے ہیں شرک ہوتا تو ضروری تھا کہ خدا اس موقعہ پر رفع کے ساتھ روح کا بھی ذکر کر دیتا کیونکہ صرف رفع
کے معنی بغیر قرینہ صارفہ کے جسم کا اوپر اٹھانا ہی ہے۔ اگر مان لیا جائے کہ رفع کے معنی رفع جسمانی اور رفع روحانی دونوں طرح مستعمل ہیں تو بھی ایسے موقعہ پر خصوصیت کے ساتھ رفع روحانی کا اعلان کرنا چاہیے تھا تاکہ عیسائی عقیدہ رفع جسمانی کا انکار اور رد ہو جاتا بلکہ یہاں ایسا لفظ استعمال کیا کہ جس کے معنی تیرہ سو سال کے مجددین امت محمدیہ ﷺ اور صحابہ کرامؓ نے بھی وہی سمجھے جو عیسائی سمجھتے ہیں۔
٦...... رفع جسمانی سے دونوں مذاہب باطلہ یہودیت اور عیسائیت کی تردید ہوتی ہے۔ وہ اس طرح کہ جب یہود نے کہا ہم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کر دیا تھا اور پھانسی بھی دے دیا تھا اور اس وجہ سے انھوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے (نعوذ باللہ) لعنتی ہونے کا اعلان کر دیا تو عیسائیوں نے ان سے ہمنوا ہو کر آپ کا ملعون ہونا تسلیم کر لیا۔ اس کے بعد کفارہ اور تثلیث کا باطل عقیدہ گھڑ لیا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یہود کے ہاتھوں قتل اور سولی سے بچانے اور زندہ آسمان پر اٹھا لینے کا اعلان کر کے دونوں مذاہب کا باطل ہونا اظہر من الشمس کر دیا۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت کے وقوع پذیر ہونے کا تو عیسائیوں کا پہلے سے عقیدہ ہے۔ مرزا قادیانی یا ان کی جماعت نے اس کو ثابت کر کے عیسائیت کے عقائد کی ایک گونہ تائید کی ہے۔ نہ کہ تردید۔
٧...... رفع کے متعلق ہم ببانگ دہل یہ اعلان کرتے ہیں کہ جب رفع یا اس کے مشتقات میں سے کوئی سا لفظ بولا جائے اور اللہ تعالیٰ فاعل ہو اور مفعول جوہر ہو (عرض نہ ہو) اور اس کا صلہ الیٰ مذکور ہو۔ مجرور اس کا ضمیر ہو۔ اسم ظاہر نہ ہو اور وہ ضمیر فاعل کی طرف راجع ہو۔ وہاں سوائے آسمان پر اٹھا لینے کے دوسرے معنی ہوتے ہی نہیں۔ اس کے خلاف اگر کوئی قادیانی قرآن، حدیث یا کلام عربی سے کوئی مثال پیش کر سکے تو منہ مانگا انعام لے لیکن یاد رکھیں قیامت تک ایسا کرنے سے قاصر رہیں گے اور آخر ذلیل ہوں گے۔
٨...... قادیانی عقیدہ یہ ہے کہ یہودی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قتل کرنے میں ناکام رہے اور صورت اس کی یہ ہوئی کہ عیسیٰ علیہ السلام کو انھوں نے پکڑ لیا۔ ان کو طمانچے مارے، ذلیل و خوار کیا، منہ پر تھوکا، سولی پر چڑھایا ان کے جسم میں کیلیں ٹھونکی گئیں۔ اس درد و کرب سے وہ بیہوش ہو گئے۔ یہود انھیں مردہ سمجھ کر چھوڑ گئے۔ مگر فی الواقع اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی روح کو ’’کمال قدرت اور حکمت‘‘ سے ان کے جسم سے جدا نہ ہونے دیا۔ یہی اللہ تعالیٰ کا مکر یعنی تدبیر لطیف تھی۔ ہمارا یہاں یہ سوال ہے کہ اس سے
ذرا پہلے یہود نامسعود کا فعل مذکور ہے۔ وَقَتْلِهِمُ الْأَنْبِيَاءَ بِغَيْرِ حَقٍّ ۔ یعنی یہود انبیاء علیہم السلام کو ناحق قتل کرنے کے سبب ملعون قرار دیے گئے۔ اب ظاہر ہے کہ یہود کے نزدیک وہ تمام انبیاء جھوٹے تھے اور یہود انھیں قتل کر کے ملعون ہی خیال کرتے تھے کیونکہ وہ ہر مجرم واجب القتل کو لعنتی قرار دیتے تھے اور ذریعہ قتل ان کے پہلے صلیب پر لٹکانا اور بعد اس کے اس کی ہڈیاں توڑ توڑ کر مار ڈالنا ہوتا تھا۔ جیسا کہ ہم اسی باب میں پہلے بیان کر آئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہود کے دعوٰیٰ قتل انبیاء کا رد نہیں کیا بلکہ اس قتل کو یہود کی لعنت کا باعث قرار دیا۔ اسی طرح اگر یہود حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ذلیل و خوار کرنے اور صلیب پر چڑھانے میں کامیاب ہو جاتے تو اللہ تعالیٰ وقولہم کی بجائے وصلبہم فرماتے۔ اگر یہود قتل مسیح علیہ السلام میں کامیاب ہو جاتے تو وقولہم کی بجائے وقتلہم ارشاد ہوتا لیکن ہر صورت میں ملعون یہود ہی ہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع روحانی کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ رفع روحانی کے لیے آدمی کے اپنے اعمال ذمہ دار ہیں۔ دنیا میں کوئی مذہب اس بات کا قائل نہیں کہ بے گناہ مصلوب و مقتول لعنتی ہو جاتا ہے۔ ہاں قادیانی مذہب کا اصول ہو تو ممکن ہے کیونکہ اس کی ہر بات اجنبی اور اچھوتی ہے۔
مطلب اس ساری بحث کا یہ ہے کہ جس طرح دیگر انبیاء علیہم السلام کا باوجود مقتول و مصلوب ہو جانے کے خدا کے نزدیک رفع روحانی ہو چکا تھا اور ان کی صفائی کی ضرورت ہی درپیش نہیں ہوئی۔ اسی طرح اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی مقتول یا مصلوب ہو جاتے تو اس کی صفائی کی ضرورت ہی نہیں تھی کیونکہ وہ تو مظلوم تھے۔ پس ثابت ہوا کہ یہاں رفع سے مراد رفع روحانی نہیں بلکہ رفع جسمانی ہی ہے۔
- ٩...... قادیانی نبی اور اس کی جماعت نے بَلْ رَّفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ میں رفع سے مراد عزت کی
موت قرار دیا ہے۔ ہم چیلنج کرتے ہیں کہ تمام جہاں کے قادیانی قرآن یا حدیث یا کلام عرب سے رفع بمعنی عزت کی موت نہیں دکھا سکتے۔ اگر ایک ہی مثال ایسی دکھا دیں تو علاوہ مقررہ انعام کے ہم دس روپے اور انعام دینے کا اعلان کرتے ہیں۔
اور اگر ایسی ایک بھی مثال پیش نہ کر سکیں اور یقیناً قیامت تک بھی پیش نہ کر سکیں گے۔ پس کیوں وہ قیامت سے بے خوف ہو کر محض نفسانی اغراض کے لیے مخلوق خدا کو فریب اور دھوکا کا شکار کر رہے ہیں۔
- ١٠...... اِلیہ کے متعلق قادیانی اعتراض کیا کرتے ہیں کہ خدا کی طرف رفع سے مراد جسمانی
رفع اس واسطے صحیح نہیں کہ خدا کچھ آسمان پر تھوڑا ہی بیٹھا ہوا ہے۔ وہ تو ہر جگہ موجود
ہے۔ کیا خدا زمین پر موجود نہیں ہے۔ اس کا جواب ملاحظہ ہو۔
آسمان پر اٹھانا
”خدا بے شک ہر جگہ موجود ہے لیکن چونکہ اوپر کی طرف میں ایک خاص عظمت و رعب پایا جاتا ہے۔ اس لیے کتب سماوی میں اِلَی اللّٰہ (خدا کی طرف) سے ہمیشہ آسمان کی طرف ہی مراد لی گئی ہے۔“ دلائل ذیل ملاحظہ ہوں۔
ا...... قرآن کریم میں ارشاد باری ہے۔ اَاَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآءِ ”کیا تم بے خوف ہو گئے اس سے جو آسمانوں میں ہے۔“ دیکھئے یہاں خدا کی طرف سے آسمان مراد لیا گیا ہے۔
ب...... اِلٰی رَبِّکَ قرآن شریف میں وارد ہوا ہے۔ جس کے معنی ”خدا کی طرف“ ہیں۔ خود مرزا قادیانی نے اس کی تفسیر میں اِلَی السَّمَاءِ یعنی آسمان کی طرف لکھا ہے۔
(دیکھو تحفہ گولڑویہ ص ١٣ خزائن ج ١٧ ص ١٠٨)
ج...... قول مرزا خدا کی طرف۔ وہ اونچی ہے جس کا مقام انتہائی عرش ہے۔
(تحفہ گولڑویہ ص ١٣ خزائن ایضاً)
د...... مسیح کی روح آسمان کی طرف اٹھائی گئی۔ (ازالہ اوہام ص ٢٦٤ خزائن ج ٣ ص ٢٣٣)
ھ...... الہام مرزا۔ ینصرک رجال نوحی الیہم من السماء یعنی ایسے لوگ تیری مدد کریں گے جن پر ہم آسمان سے وحی نازل کریں گے۔
(تبلیغ رسالت جلد دوم ص ١٠٨ مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٣٢٨)
پس ثابت ہوا کہ رفع الی اللہ سے مراد رفع الی السماء ہی ہوتی ہے۔
و...... وَ کَانَ اللّٰہُ عَزِیْزًا حَکِیْمًا کے الفاظ نے تو اسلامی تفسیر کی صحت پر مہر تصدیق ایسی ثبت کر دی ہے کہ قادیانی قیامت تک اس مہر کو توڑ نہیں سکتے۔ اس کی تفسیر ہم قادیانیوں کے مسلمہ امام اور مجدد صدی ششم امام فخر الدین رازیؒ کے الفاظ میں بیان کرتے ہیں۔
والمراد من العزة کمال القدرة ومن الحکمة کمال العلم فنبہ بھذا علی ان رفع عیسٰی من الدنیا الی السمٰوات وان کان کالمتعذر علی البشر لکنہ لا تعذر فیہ بالنسبة الی قدرتی والی حکمتی. (تفسیر کبیر جز ١١ ص ١٠٣) ”اور مطلب عزیز کا قدرت میں کامل مطلب حکیم کا علم میں کامل ہے۔ پس ان الفاظ میں خدا تعالیٰ نے بتلا دیا کہ حضرت عیسیٰ ؑ کا دنیا سے آسمان کی طرف اٹھانا۔ اگرچہ انسان کے لیے مشکل سا ہے مگر میری قدرت اور حکمت کے لحاظ سے اس میں کوئی وجہ باعث اشکال نہیں اور کسی قسم کا اس میں تعذر نہیں ہو سکتا۔
نوٹ: ہماری اس تفسیر سے جو قادیانی انکار کرے اس کو مرزا قادیانی کا اصول نمبر ٤ پڑھ کر سنا دیں۔ پھر بھی اصرار کرے تو اسے کہیں کہ جواب لکھ کر ہم سے انعام طلب کرے۔
چیلنج اس آیت کی تفسیر کا ملخص یہ ہے کہ یہ آیت بانگ دہل اعلان کر رہی ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ کو خدا نے زندہ اسی جسم عنصری کے ساتھ آسمان پر اٹھا لیا تھا اور یہی تفسیر رسول کریم ﷺ۔ آپ ﷺ کے صحابہ کرامؓ نے سمجھی اور آئمہ مجددین مسلمہ قادیانی بھی انھیں معنوں پر جمے رہے۔ (کوئی قادیانی اس کے خلاف ثابت نہیں کر سکتا) پھر قادیانی علوم عربیہ سے نابلد محض ہونے کے باوجود کیوں اپنی تفسیر مخترعہ پر ضد کر کے اپنی آخرت خراب کر رہے ہیں۔ انھیں خدا کے قہر سے بے خوف نہیں ہونا چاہیے۔ اِنَّ بَطْشَ رَبِّكَ لَشَدِيْدٌ کا ورد ہر وقت ان کے لیے ضروری ہے۔
حیات عیسیٰ ؑ پر قرآنی دلیل...... ٤
وَإِنْ مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكُوْنُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا. (نساء ١٥٩) یہ آیت بھی ڈنکے کی چوٹ اعلان کر رہی ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ ابھی تک زندہ ہیں فوت نہیں ہوئے۔ اس آیت کا ترجمہ ہم ایسے بزرگوں کی کتابوں سے نقل کرتے ہیں کہ اگر کسی قادیانی نے اپنی حماقت کے سبب اس کی صحت پر اعتراض کیا تو بحکم مرزا غلام احمد قادیانی کافر و فاسق ہو جائے گا۔ دیکھو قادیانی اصول و عقاید نمبر ٤۔
ترجمہ از شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی مجدد (مسلمہ قادیانی) صدی دوازدہم عسل مصفّیٰ جلد اوّل ص ١٦٥۔١٦٣۔
’’و نباشد ہیچ کس از اہل کتاب الا البتہ ایمان آورد بہ عیسیٰ ؑ پیش از مردن عیسیٰ ؑ و روز قیامت باشد عیسیٰ ؑ گواہ بر ایشان۔‘‘
ترجمہ اردو: ’’اور اہل کتاب میں سے کوئی نہ ہوگا مگر یہ کہ وہ یقیناً ایمان لائے گا حضرت عیسیٰ ؑ پر حضرت عیسیٰ ؑ کی موت سے پہلے اور حضرت عیسیٰ ؑ قیامت کے دن ان اہل کتاب پر اس کی گواہی دیں گے۔‘‘
ناظرین باتمکین! یہ وہ ترجمہ ہے جس پر جمہور علماء مفسرین اور مجددین امت مسلمہ قادیانی تیرہ صد سال سے متفق چلے آ رہے ہیں اور سب اس آیت سے حیات عیسیٰ ؑ پر دلیل پکڑتے چلے آئے ہیں۔ اس سے پہلے جو آیت قرآن کریم میں مذکور ہے۔ وہ وہی ہے جو ہم نے دلیل نمبر ٣ میں بیان کی ہے۔ اس کے پڑھنے یا سننے والے
پر یہ خیال پیدا ہو جاتا ہے کہ اس قدر اولوالعزم رسول کا دنیا میں آنا اور رَسُوْلاً اِلٰی بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ کا لقب لینا کیا بے معنی ہی تھا؟ یعنی جس قوم کی طرف وہ مبعوث ہو کر آئے تھے۔ ان میں سے ایک بھی ان پر ایمان نہ لایا اور خدا نے ان کو آسمان پر اٹھا لیا۔ اب آسمان پر وہ کیا کریں گے؟ کیا یہود کے ساتھ ان کا تعلق ختم ہو چکا ہے؟ عملی طور پر اس بات کا کیا ثبوت ہے؟ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ بجسد عنصری موجود ہیں اور مکر اللہ کا پورا پورا مظاہرہ تو اس طرح مکمل نہیں ہو سکتا کہ یہود دنیا میں موجود رہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو سولی پر چڑھانے اور قتل کرنے کا عملی ثبوت دیتے رہیں یہاں تک کہ دھوکا میں آ کر عیسائی بھی ان کے ہمنوا ہو جائیں۔ اللہ تعالیٰ صرف بذریعہ وحی ہی ان کے دعویٰ قتل کی تردید کرتے ہیں۔ غیر جانبدار شخص ضرور اس تردید کے لیے کوئی عملی ثبوت طلب کرنے گا۔ وہ کہہ سکتا ہے کہ یہ وحی من جانب اللہ نہیں ہے۔ چنانچہ مرزا قادیانی بھی اس تفسیر میں میرے ساتھ کلی اتفاق ظاہر کر رہے ہیں۔
”جس حالت میں شیطانی الہام بھی ہوتے ہیں اور حدیث النفس بھی تو پھر کسی قول کو کیونکر خدا کی طرف منسوب کر سکتے ہیں۔ جب تک کہ اس کے ساتھ خدا کی فعلی شہادت زبردست نہ ہو۔ ایک خدا کا قول ہے اور ایک خدا کا فعل ہے۔ اور جب تک خدا کے قول پر خدا کا فعل شہادت نہ دے ایسا الہام شیطانی کہلائے گا اور شہادت سے مراد ایسے آسمانی نشان ہے کہ جو انسانوں کی معمولی حالتوں سے بہت بڑھ کر ہیں۔
(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٣٩، ١٤٠ خزائن ج ٢٢ ص ٥٧٧، ٥٧٨)
اب غور کیجئے! کہ یہاں خداوند کریم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات جسمانی کا اعلان بذریعہ وحی کر دیا۔ مگر مرزا قادیانی اس پر فعلی شہادت کا تقاضا کرتے ہیں۔ ہم اس کے جواب میں فعلی شہادت پیش کرتے ہیں اور شہادت بھی کیسی؟ ایسی کہ خود وہ ساری مخالف قوم (بنی اسرائیل) بجائے انکار کے خود بخود اقرار اور اقبال کرنے لگ جائے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جب تک سارے کے سارے اہل کتاب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نبی برحق اور زندہ بجسدہ العنصری تسلیم نہ کر لیں گے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر موت نہیں آئے گی اور ان کے اس طرح ایمان لانے پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام قیامت کے دن گواہی بھی دیں گے۔
علاوہ ازیں دنیا سے کسی نبی کا جو صاحب کتاب اور صاحب امت ہو ناکام جانا سنت اللہ کے مخالف ہے۔ چنانچہ مرزا قادیانی بھی ہماری تائید میں لکھتے ہیں۔
”إِنَّ الْأَنْبِيَاءَ لَا يَنْقَلِبُوْنَ مِنْ هٰذِهِ الدُّنْيَا إِلَى دَارِ الْأٰخِرَةِ إِلَّا بَعْدَ تَكْمِيْلِ رِسَالَاتِ“ (حمامۃ البشریٰ ص ٤٩ خزائن ج ٧ ص ٢٤٣) یعنی انبیاء اس دنیا سے آخرت کی طرف انتقال نہیں فرماتے مگر اپنے کام کی تکمیل کے بعد۔ چنانچہ لکھتے ہیں۔
”سچے نبیوں اور مامورین کے لیے سب سے پہلی یہی دلیل ہے کہ وہ اپنے کام کی تکمیل کر کے مرتے ہیں۔“
(اربعین نمبر ٤ ص ٥ خزائن ج ١٧ ص ٤٣٤)
اب قدرتی طور پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر حضرت عیسیٰ ؑ اپنے مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچا گئے ہیں تو خواہ وہ آسمان پر زندہ بجسد عنصری ہیں۔ اب ان کے آنے کی ضرورت نہیں اور اگر وہ اپنا مشن اشاعت توحید و رسالت پورا کرنے سے پہلے ہی تشریف لے گئے ہیں تو یہ دو حال سے خالی نہیں۔ اگر مر گئے ہیں اور دوبارہ نہیں آئیں گے تو سنت اللہ کے مطابق حسب قول مرزا وہ سچے نبی نہ تھے لیکن مرزا قادیانی بھی انھیں سچا نبی اور مامور من اللہ ضرور مانتے ہیں۔ ان کی تبلیغی کامیابی کے متعلق میں صرف مرزا قادیانی کے اقوال ہی نقل کر دینا کافی سمجھتا ہوں۔
- ١...... ”یہ کہنا کہ جس طرح موسیٰ ؑ نے بنی اسرائیل کو فرعون کے ہاتھ سے نجات دی
تھی۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ ؑ نے اپنے تابعین کو شیطان کے ہاتھ سے نجات دی۔ یہ ایسا بیہودہ خیال ہے کہ کوئی شخص گو کیسا ہی اغماض کرنے والا ہو اس خیال پر اطلاع پا کر اپنے تئیں ہنسنے سے روک نہیں سکے گا۔“ (تحفہ گولڑویہ ص ٢٢١ خزائن ج ١٧ ص ٣٠٠)
- ٢...... ”ہدایت اور توحید اور دینی استقامتوں کے کامل طور پر دلوں میں قائم کرنے کے
بارہ میں ان کی کارروائیوں کا نمبر ایسا کم رہا ہے کہ قریب قریب ناکام کے رہے۔“
(ازالہ اوہام ص ٣١١ حاشیہ خزائن ج ٣ ص ٢٥٨)
- ٣...... ”حضرت مسیح ؑ تو انجیل کو ناقص کی ناقص چھوڑ کر آسمانوں پر جا بیٹھے۔“
(براہین احمدیہ ص ٣٦١ خزائن ج ١ ص ٤٣١)
پس سنت اللہ کے مطابق حضرت عیسیٰ ؑ بھی فوت نہیں ہو سکتے۔ جب تک کہ وہ اپنے کام میں کامیاب نہ ہولیں۔ سیاق و سباق کلام بھی یہی تقاضا کرتا ہے۔ یہودی حضرت عیسیٰ ؑ اور ان کی مختصر سی امت کو فنا کرنا چاہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ ؑ کو بھی ان کے ضرر سے بچا لیا۔ ان کی امت کو بھی یہودیوں پر غالب کر دیا مگر مکمل غلبہ اس طرح ہوگا کہ ظاہری غلامی کے بعد جو آج کل یہودیوں پر لعنت دائمی ثابت ہو رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ آخری زمانہ میں ہم عیسیٰ ؑ کو نازل کر کے
ان کے منکر یہودیوں کو حضرت عیسیٰ ؑ کا روحانی غلام بھی بنا دیں گے۔ ذیل میں ہم چند مجددین و اولیاء ملہمین مسلمہ قادیانی کی تفسیر نقل کرتے ہیں۔ اس کے بعد قادیانی اعتراضات کی حقیقت الم نشرح کریں گے۔ امام شعرانی، جو مرزا غلام احمد قادیانی کے نزدیک ”ایسے محدث اور صوفی تھے جو معرفت کامل اور تفقہ تام کے رنگ سے رنگین تھے۔“
(ازالہ اوہام ص ١٤٩ خزائن ج ٣ ص ١٧٦)
فرماتے ہیں۔ ”الدَّلِيْلُ عَلَى نُزُوْلِهِ قَوْلُهُ تَعَالَى وَاِنْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتَابِ اِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ اَىْ حِيْنَ يَنْزِلُ وَيَجْتَمِعُوْنَ عَلَيْهِ وَاَنْكَرَتِ الْمُعْتَزِلَةُ وَالْفَلَاسِفَةُ وَالْيَهُوْدُ وَالنَّصَارَى عُرُوْجَهُ بِجَسَدِهِ اِلَى السَّمَاءِ وَقَالَ تَعَالَى فِىْ عِيْسَى ؑ وَاِنَّهُ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ ....... وَالضَّمِيْرُ فِىْ اِنَّهُ رَاجِعٌ اِلَى عِيْسَى ....... وَالْحَقُّ اَنَّهُ رُفِعَ بِجَسَدِهِ اِلَى السَّمَاءِ وَالْاِيْمَانُ بِذٰلِكَ وَاجِبٌ قَالَ اللّٰهُ تَعَالَى بَلْ رَّفَعَهُ اللّٰهُ اِلَيْهِ“
(الیواقیت والجواہر ج ٢ ص ١٤٦) ”حضرت عیسیٰ ؑ کے نازل ہونے پر دلیل یہ آیت ہے۔ وان من اہل الکتاب الخ جس کے معنی یہ ہیں کہ حضرت عیسیٰ ؑ کے نزول کے وقت کے یہودی حضرت عیسیٰ ؑ کی موت سے پہلے ضرور ان پر ایمان لے آئیں گے۔ معتزلہ، فلسفیوں، یہودیوں اور عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ ؑ کے آسمان پر بمعہ جسم اٹھائے جانے سے انکار کیا ہے۔ حالانکہ فرمایا اللہ تعالیٰ نے دربارہ رفع جسمانی حضرت مسیح کے وانہ لعلم للساعة اور ضمیر انہ کی حضرت عیسیٰ ؑ کی طرف پھرتی ہے ....... اور سچ یہ ہے کہ وہ بمعہ جسم کے آسمان پر اٹھائے گئے ہیں اور ان کے رفع جسمی پر ایمان لانا واجب ہے کیونکہ فرمایا ان کے متعلق اللہ تعالیٰ نے ”بَلْ رَّفَعَهُ اللّٰهُ اِلَيْهِ“ (بلکہ اٹھا لیا اللہ نے ان کو اپنی طرف)“
حضرات! یہ وہی امام عبدالوہاب شعرانی ہیں جن کی کلام سے مرزائی مناظرین تحریف لفظی اور معنوی کر کے وفات عیسیٰ ؑ پر استدلال کیا کرتے ہیں۔
معزز ناظرین! اب ہم اس شخص کی تفسیر درج کرتے ہیں۔ جو قادیانی جماعت کے مسلمہ مجدد صدی ہفتم تھے اور آپ ساتویں صدی میں کلام اللہ کے حقیقی مطالب بیان کرنے کے لیے مبعوث ہوئے تھے۔ اس بزرگ ہستی کا اسم گرامی احمد بن عبدالحلیم تقی الدین ابن تیمیہؒ تھا۔ خود مرزا قادیانی اس امام ہمام کا ذکر خیر ان الفاظ میں فرماتے ہیں۔
”فاضل و محدث و مفسر ابن تیمیہ و ابن قیم جو اپنے اپنے وقت کے امام ہیں۔ حضرت عیسیٰ ؑ کی وفات کے قائل ہیں۔“ (کتاب البریہ ص ٢٠٣ حاشیہ خزائن ج ١٣ ص ٢٤١ حاشیہ)
امام موصوف اپنی بے مثل کتاب ”اَلْجَوَابُ الصَّحِيْح لِمَنْ بَدَّلَ دِيْنَ الْمَسِيْح“ میں فرماتے ہیں۔
ترجمہ اردو: ”وَإِنْ مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ“ اس آیت کی تفسیر اکثر علماء نے یہی کی ہے کہ مراد قبل موتہ سے ”حضرت مسیح علیہ السلام کی وفات سے پہلے“ ہے اور یہودی کی موت کے معنی بھی کسی نے کیے ہیں اور یہ ضعیف ہے کیونکہ اگر موت سے پہلے ایمان لایا جائے تو نفع دے سکتا ہے۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ توبہ قبول کرتا ہے جب غرغرہ تک نہ پہنچے اور اگر یہ کہا جائے کہ ایمان سے مراد غرغرہ کے بعد کا ایمان ہے تو اس میں کوئی فائدہ نہیں۔ اس لیے کہ غرغرہ کے بعد ہر ایک امر جس کا وہ منکر ہے اس پر ایمان لاتا ہے۔ پس مسیح علیہ السلام کی کوئی خصوصیت نہیں اور یہاں ایمان سے مراد ایمان نافع ہے۔ اس لیے کہ خدا تعالیٰ نے اپنی پاک کلام میں اس ایمان کے متعلق قبل موتہ فرمایا ہے..... اس آیت میں لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ مقسم علیہ ہے یعنی قسمیہ خبر دی گئی ہے اور یہ مستقبل میں ہی ہو سکتا ہے۔ پس ثابت ہوا کہ یہ ایمان لانا اس خبر (نزول آیت) کے بعد ہوگا اور اگر موت سے مراد یہودی کی موت ہوتی تو پاک اللہ اپنی پاک کتاب میں یوں فرماتے وَإِنْ مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا مَنْ يُؤْمِنُ بِهِ اور لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ ہرگز نہ فرماتے اور نیز وَإِنْ مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ یہ لفظ عام ہے۔ ہر ایک یہودی و نصرانی کو شامل ہے۔ پس ثابت ہوا کہ تمام اہل کتاب یہود و نصاریٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے وقت ان کی موت سے پہلے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لے آئیں گے۔ تمام یہودی و نصاریٰ ایمان لائیں گے کہ مسیح ابن مریم اللہ کا رسول کذاب نہیں۔ جیسے یہودی کہتے ہیں اور نہ وہ خدا ہیں جیسے کہ نصاریٰ کہتے ہیں۔ اس عموم کا لحاظ زیادہ مناسب ہے اس دعویٰ سے کہ موت سے مراد کتابی کی موت ہے کیونکہ اس سے ہر ایک یہودی و نصرانی کا ایمان لانا ثابت ہوتا ہے اور یہ واقع کے خلاف ہے۔ اس لیے کہ جب خدا تعالیٰ نے یہ خبر دی کہ تمام اہل کتاب ایمان لائیں گے تو ثابت ہوا کہ اس عموم سے مراد عموم ان لوگوں کا ہے۔ جو نزول المسیح کے وقت موجود ہوں گے۔ کوئی بھی ایمان لانے سے اختلاف نہیں کرے گا۔ جو اہل کتاب فوت ہو چکے ہوں گے وہ اس عموم میں شامل نہیں ہو سکتے۔ یہ عموم ایسا ہے۔ جیسے یہ کہا جاتا ہے ۔ لايبقى بلد الا دخله الدجال الا مكة والمدينة پس یہاں مدائن (شہروں) سے مراد وہی مدائن ہو سکتے ہیں جو اس وقت موجود ہوں گے اور اس سے ہر ایک یہودی و نصرانی کے ایمان کا سبب ظاہر ہے وہ یہ کہ ہر ایک کو معلوم ہو جائے گا کہ
مسیح علیہ السلام رسول اللہ ہے۔ جس کو اللہ تعالیٰ کی تائید حاصل ہے۔ نہ وہ کذاب ہیں نہ وہ خدا ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس ایمان کا ذکر فرمایا ہے جو حضرت مسیح علیہ السلام کے تشریف لانے کے وقت ہوگا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا رفع اس آیت میں ذکر فرمایا (اِنِّیْ مُتَوَفِّیْكَ وَرَافِعُكَ اِلَیَّ) اور مسیح علیہ السلام قیامت سے پیشتر زمین پر اتریں گے اور فوت ہوں گے اور اس وقت کی خبر دی کہ سب اہل کتاب مسیح کی موت سے پیشتر ایمان لائیں گے۔“
(الجواب الصحیح لمن بدل دین المسیح ج٢ ص٢٨١ وص٢٨٣)
رسول کریم ﷺ کی تفسیر
ناظرین! مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ہم یہاں چند احادیث اپنی پیش کردہ تفسیر کی تصدیق میں بیان کردیں۔ ان احادیث کی صحت اور تفسیر پر جو قادیانی اعتراض کرے وہ کافر اور مرتد ہو جائے گا۔
(دیکھو قادیانی اصول وعقائد نمبر٤)
- حدیث......١ عن ابی ھریرۃؓ قال قال رسول اللہ ﷺ والذی نفسی بیدہ
لیوشکن ان ینزل فیکم ابن مریم حكماً عدلاً فیکسر الصلیب ویقتل الخنزیر و یضع الجزیۃ و یفیض المال حتی لا یقبلہ احد حتی تکون السجدۃ الواحدہ خیراً من الدنیا وما فیها ثم یقول ابوہریرۃؓ فاقرؤا ان شئتم وان من اهل الکتاب الا لیؤمنن به قبل موته.
(رواہ البخاری ج١ ص٤٩٠ باب نزول عیسیٰ بن مریم علیہ السلام و مسلم ج١ ص٨٧ باب نزول عیسیٰ علیہ السلام)
”حضرت ابوہریرہؓ آنحضرت ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا۔ مجھے اس ذات واحد کی قسم ہے جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے۔ تحقیق ضرور اتریں گے تم میں ابن مریم حاکم و عادل ہو کر۔ پس صلیب کو توڑیں گے اور خنزیر کو قتل کرائیں گے اور جزیہ اٹھا دیں گے ان کے زمانہ میں مال اس قدر ہوگا کہ کوئی قبول نہ کرے گا۔ یہاں تک کہ ایک سجدہ عبادت الٰہی دنیا وما فیھا سے بہتر ہوگا۔ اگر تم چاہو تو (اس حدیث کی تائید میں) پڑھو قرآن شریف کی یہ آیت وَاِنْ مِّنْ اَہْلِ الْكِتَابِ اِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ۔“
سوال کیا یہ حدیث صحیح ہے؟
جواب ہاں صاحب! یہ حدیث بالکل صحیح ہے دلائل ملاحظہ کریں۔
- ١...... یہ حدیث بخاری و مسلم دونوں میں موجود ہے جن کی صحت پر مرزا قادیانی نے مہر
تصدیق ثبت کرا دی ہے۔
(دیکھو ازالہ اوہام ص ٨٨٣ خزائن ج ٣ ص ٥٨٢)
(تبلیغ رسالت حصہ دوم ص ٢٥ مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٣٥)
- ٢....... اس حدیث کی صحت کو مرزا قادیانی نے اپنی مندرجہ ذیل کتب میں صحیح تسلیم کر لیا
ہے۔ (ایام الصلح ص ٥٢، ٥٣، ٧٥، ٩١، ١٦٠، ١٧٦ خزائن ج ١٤ ص ٢٨٥ و ٣٢٨ ۔ ٤٠٨ ۔ ٤٢٤)
(تحفہ گولڑویہ ص ٢٥ خزائن ج ١٧ ص ١٢٨) (شہادۃ القرآن ص ١١ خزائن ج ٦ ص ٣٠٧)
سوال اس حدیث کا ترجمہ لفظی تو واقعی حضرت مسیح ؑ کی حیات ثابت کرتا ہے لیکن آپ کے پاس کیا دلیل ہے کہ اس حدیث سے مراد بھی وہی ہے جو لفظی ترجمہ سے ظاہر ہے اور یہ کہ ابن مریم سے مراد عیسیٰ ابن مریم ؑ ہی ہے؟ وغیرہ وغیرہ۔
- جواب ......١ جناب عالی! اس حدیث کا مطلب اور معنی وہی ہے جو اس کے الفاظ
سے ظاہر ہیں کیونکہ حقیقی معنوں سے پھیر کر مجازی معنی لینے کے لیے کوئی قرینہ ہونا ضروری ہے۔ ورنہ زبان کا مطلب سمجھنے میں بڑی گڑبڑ ہو جائے گی۔ میز سے مراد میز ہی لی جائے گی نہ کہ بینچ۔ مرزا غلام احمد قادیانی سے مراد ہمیشہ غلام احمد بن چراغ بی بی قادیانی ہی لی جائے گی نہ اس کا بیٹا مرزا بشیر الدین محمود۔ اسی طرح حدیث میں ابن مریم سے مراد ابن مریم (مریم کا بیٹا) حضرت عیسیٰ ؑ ہی ہوں گے نہ کہ مرزا غلام احمد قادیانی ابن چراغ بی بی۔
- ٢...... صحابہ کرامؓ۔ مجددین امتؒ محمدیہ نے اس حدیث کے معنی وہی سمجھے جو اس کے الفاظ
بتاتے ہیں۔ یعنی حضرت ابن مریم سے مراد حضرت عیسیٰ ؑ ہی سمجھتے رہے۔
- ٣...... خود مرزا قادیانی نے کسی عبارت کے مفہوم کو سمجھنے کے متعلق ایک عجیب اصول
باندھا ہے۔ فرماتے ہیں۔
”والقسم يدل على ان الخبر محمول على الظاهر لا تاويل فيه ولا استثناء والا اى فائدة كانت فى ذكر القسم“
(حمامتہ البشریٰ ص ١٤ خزائن ج ٧ ص ١٩٢ حاشیہ)
”اور قسم (حدیث میں) دلالت کرتی ہے کہ حدیث کے وہی معنی مراد ہوں گے۔ جو اس کے ظاہری الفاظ سے نکلتے ہیں۔ ایسی حدیث میں نہ کوئی تاویل جائز ہے اور نہ کوئی استثناء ورنہ قسم میں فائدہ کیا رہا۔
سوال کیا حدیث ہمارے لیے حجت ہے اور کیا حدیثی تفسیر کا قبول کرنا ہمارے واسطے ضروری ہے۔
جواب حدیث کے فیصلہ کا حجت اور ضروری ہونا تو اسی سے ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں فرماتے ہیں۔ فلا و ربک لا یؤمنون حتیٰ یحکموک فیما شجر بینہم ثم لا یجدوا فی انفسہم حرجاً مما قضیت ویسلموا تسلیما. (نساء:٦٥) ”(اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اے محمد ﷺ) قسم ہے مجھے آپ کے رب کی (یعنی اپنی ذات کی) کہ کوئی انسان مومن نہیں ہو سکتا۔ جب تک وہ اپنے اختلاف اور جھگڑوں میں آپ کو ثالث نہ مان لیں اور پھر آپ کے فیصلہ کے خلاف ان کے دلوں میں کوئی انقباض بھی پیدا نہ ہو اور آپ کے فیصلہ کے سامنے سر تسلیم خم کر دیں۔“
خود مرزا قادیانی اصول تفسیر کے ذیل میں لکھتے ہیں۔ ”دوسرا معیار رسول اللہ ﷺ کی تفسیر ہے۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ سب سے زیادہ قرآن کریم کے معنی سمجھنے والے ہمارے پیارے اور بزرگ نبی حضرت رسول کریم ﷺ ہی تھے۔ پس اگر آنحضرت ﷺ سے کوئی تفسیر ثابت ہو جائے تو مسلمان کا فرض ہے کہ بلا توقف اور بلا دغدغہ قبول کرے۔ نہیں تو اس میں الحاد اور فلسفیت کی رگ ہوگی۔“
(برکات الدعاء ص ١٨ خزائن ج ٦ ص ایضاً) پس معلوم ہوا کہ اس تفسیر نبوی پر اعتراض کرنے والا بحکم مرزا قادیانی ملحد اور فلسفی محض ہے۔ اسلام سے اس کو دور کا بھی واسطہ نہیں۔ پھر یہ تفسیر نبوی مروی ہے ایک جلیل القدر صحابی رسول اللہ ﷺ سے جنھوں نے اس حدیث کو وَ اِنْ مِّنْ اَہْلِ الْکِتَابِ اِلَّا لَیُؤْمِنَنَّ کی تفسیر کے طور پر بیان فرمایا ہے۔ گویا حضرت ابو ہریرہؓ نے تمام صحابہ کے سامنے اس آیت کی تفسیر بیان کی اور کسی دوسرے بزرگ نے اس کی تردید نہ فرمائی۔ پس اس تفسیر کے صحیح ہونے پر صحابہ کا اجماع بھی ہو گیا۔ صحابی کی تفسیر کے متعلق مرزا قادیانی کا قول ملاحظہ ہو۔
”تیسرا معیار صحابہ کی تفسیر ہے۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ صحابہؓ آنحضرت ﷺ کے نوروں کو حاصل کرنے والے اور علم نبوت کے پہلے وارث تھے اور خدا تعالیٰ کا ان پر بڑا فضل تھا اور نصرتِ الٰہی ان کی قوتِ مدرکہ کے ساتھ تھی کیونکہ ان کا نہ صرف قال بلکہ حال تھا۔“
(برکات الدعاء ص ١٨ خزائن ج ٦ ص ایضاً)
ناظرین! میں نے قرآن، حدیث، اقوال صحابہ اور مجددین امت کے بیانات اس آیت کی تفسیر میں بیان کر دیے ہیں۔ بیانات بھی وہ کہ قادیانی ان کی صحت پر اعتراض کریں تو اپنے ہی فتویٰ کی رو سے ملحد، کافر اور فاسق ہو جائیں۔ اگر تمام اقوال
مجددین اور احادیث نبوی و روایات صحابہ کرام درج کروں تو ایک مستقل کتاب اسی آیت کی تفسیر کے لیے چاہیے۔
اب ہم اسلامی تفسیر پر قادیانی اعتراضات درج کرتے ہیں اور پھر ان کے جوابات عرض کریں گے۔
قادیانی اعتراض......١ ’’اگر ہم فرض کے طور پر تسلیم کر لیں کہ آیت موصوفہ بالا کے یہی معنی ہیں۔ جیسا کہ سائل (اہل اسلام) نے سمجھا ہے تو اس سے لازم آتا ہے کہ زمانہ صعود مسیح سے اس زمانہ تک کہ مسیح نازل ہو۔ جس قدر اہل کتاب دنیا میں گزرے ہیں یا اب موجود ہیں یا آئندہ ہوں گے وہ سب مسیح پر ایمان لانے والے ہوں۔ حالانکہ یہ خیال بالبداہت باطل ہے ہر شخص خوب جانتا ہے کہ بے شمار اہل کتاب مسیح کی نبوت سے کافر رہ کر اب تک واصل جہنم ہو چکے ہیں۔‘‘
(ازالہ اوہام ص ٣٦٧ خزائن ج ٣ ص ٢٨٨)
قادیانی اعتراض......٢ ’’بعض لوگ کچھ شرمندے سے ہو کر دبی زبان سے یہ تاویل پیش کرتے ہیں کہ اہل کتاب سے مراد وہ لوگ ہیں جو مسیح کے دوبارہ آنے کے وقت دنیا میں موجود ہوں گے اور وہ سب مسیح کو دیکھتے ہی ایمان لے آئیں گے اور قبل اس کے جو مسیح فوت ہو وہ سب مومنوں کی فوج میں داخل ہو جائیں گے لیکن یہ خیال بھی ایسا باطل ہے کہ زیادہ لکھنے کی حاجت نہیں۔ اوّل تو آیت موصوفہ بالا صاف طور پر تعمیم کا فائدہ دے رہی ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل کتاب کے لفظ سے تمام وہ اہل کتاب مراد ہیں جو مسیح کے وقت میں یا مسیح کے بعد برابر ہوتے رہیں گے اور آیت میں ایک بھی ایسا لفظ نہیں جو آیت کو کسی خاص محدود زمانہ سے متعلق اور وابستہ کرتا ہو۔‘‘
(ازالہ اوہام ص ٣٦٨ خزائن ج ٣ ص ٢٨٩)
قادیانی اعتراض......٣ ’’علاوہ اس کے یہ معنی بھی جو پیش کیے گئے ہیں۔ ببداہت فاسد ہیں کیونکہ احادیث صحیحہ بآواز بلند بتلا رہی ہیں کہ مسیح کے دم سے اس کے منکر خواہ وہ اہل کتاب ہیں۔ یا غیر اہل کتاب کفر کی حالت میں مریں گے۔‘‘
(ازالہ ص ٣٦٩ خزائن ج ٣ ص ایضاً)
قادیانی اعتراض......٤ ’’مگر افسوس کہ وہ (اہل اسلام) اپنے خود تراشیدہ معنوں سے قرآن میں اختلاف ڈالنا چاہتے ہیں۔ جس حالت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ والقینا بینہم العداوۃ والبغضا الی یوم القیامۃ جس کے یہ معنی ہیں کہ یہود اور نصاریٰ میں
قیامت تک بغض اور دشمنی رہے گی تو اب بتلاؤ کہ جب تمام یہودی قیامت سے پہلے ہی حضرت مسیح ؑ پر ایمان لے آئیں گے تو پھر بغض اور دشمنی قیامت تک کون لوگ کریں گے۔"
(تحفہ گولڑویہ ص ١٢٦ خزائن ج ١٧ ص ٣٠٩)
نوٹ: ایسا ہی مرزا قادیانی نے دو تین اور آیات سے استدلال کیا ہے۔ جس کا مطلب وہی ہے جو نمبر ٤ میں ہے۔
- قادیانی اعتراض......٥....... دوسری قرأت اس آیت میں بجائے قبل موتہ قبل
موتھم موجود ہے۔"
(حقیقۃ الوحی ص ٣٢ خزائن ج ٢٢ ص ٣٦)
- ٢....... ”ابی بن کعب کی قرأت سے ثابت ہوا کہ مَوْتِہٖ کی ضمیر حضرت عیسیٰ ؑ کی طرف
نہیں پھرتی بلکہ اہل الکتاب کی طرف راجع ہے۔“
(حمامتہ البشریٰ ص ٤٧ خزائن ج ٧ ص ٢٤١)
- قادیانی اعتراض......٦ بعض روایتوں میں آیا ہے کہ مَوْتِہٖ کی ضمیر حضرت
عیسیٰ ؑ کی طرف راجع ہے اور یہ قول بالکل ضعیف ہے۔ محققین میں سے ایک نے بھی اس کو تسلیم نہیں کیا۔"
(حمامتہ البشریٰ ص ٤٨ خزائن ایضاً)
- قادیانی اعتراض......٧ ”چونکہ علماء اسلام اس آیت کی تفسیر میں ایک دوسرے
کے ساتھ بہت اختلاف کرتے ہیں۔ اس واسطے ثابت ہوا کہ سب اصل حقیقت سے بے خبر ہیں۔“
(ملخص از عسل مصفیٰ ج ١ ص ٤١٩، ٤٢٠)
ناظرین! اسی قدر اعتراضات قادیانی میری نظر سے گزرے ہیں۔ ذیل میں بالترتیب جوابات عرض کرتا ہوں۔
- جواب......١ معترض کا پہلا اعتراض جہالت محضہ پر مبنی ہے۔ تمام اہل کتاب مراد
نہیں ہو سکتے۔ اس آیت کا مضمون بالکل ایسا ہی ہے۔ جیسا کہ اس فقرہ کا کہ ١٩٥٠ء سے پہلے تمام مرزائی حضرت عیسیٰ ؑ کی حیات اور رفع جسمانی پر ایمان لے آئیں گے۔ مطلب بالکل صاف ہے کہ ١٩٥٠ء کے بعد کوئی مرزائی حیات عیسیٰ ؑ کا منکر نہیں پایا جائے گا۔ اس سے پہلے کے مرزائی بعض کفر کی حالت پر مریں گے اور بعض اسلام لے آئیں گے لیکن ١٩٥٠ء کے بعد مرزائی کا نام و نشان نہیں رہے گا۔
دوسری مثال: ”لارڈ ولنگڈن ١٥ جون ١٩٣٦ء کو لاہور تشریف لائیں گے۔ آپ کی تشریف آوری سے پیشتر تمام اہل لاہور اسٹیشن پر ان کے استقبال کے لیے حاضر
ہو جائیں گے‘‘ کون بے وقوف ہے۔ جو اس کا مطلب یہ لے گا ”کہ تمام اہل لاہور سے مراد آج (٢٩ جون ١٩٣٥ء ہے) کے اہل لاہور ہیں۔ ممکن ہے۔ بعض مر جائیں۔ بعض باہر سفر کو چلے جائیں۔ بعض باہر سے لاہور میں آ جائیں۔ بعض ابھی پیدا ہوں گے۔ پس ثابت ہوا کہ کلام ہمیں خود مجبور کر رہی ہے کہ اہل الکتاب سے وہ لوگ مراد ہیں جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے وقت موجود ہوں گے اور وہ بھی تمام کے تمام نہیں بلکہ جو موت اور قتل سے بچ جائیں گے وہ ضرور حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لے آئیں گے۔ ہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت کے بعد کوئی اہل الکتاب نہیں رہے گا۔ سوائے اہل اسلام کے۔
جواب......٢ دوسرے اعتراض میں مرزا قادیانی نے (گستاخی معاف) بہت دجل و فریب سے کام لیا ہے۔ لکھتے ہیں۔ ”بعض لوگ دبی زبان سے کہتے ہیں کہ اہل کتاب سے وہ لوگ مراد ہیں جو مسیح کے دوبارہ آنے کے وقت دنیا میں موجود ہوں گے۔“
(ازالہ اوہام ص ٣٦٨ خزائن ج ٣ ص ٢٨٩)
اجی کیوں جھوٹ بولتے ہو۔ جن کے پاس قرآن کی گواہی، حدیث رسول اللہ ﷺ کی شہادت، صحابہؓ کی تائید اور مجددین امتؒ کا متفقہ فیصلہ ہو۔ وہ بھلا دبی زبان سے کہے گا؟ یہ محض آپ کی چالاکی ہے۔ جس کے متعلق رسول پاک ﷺ نے پہلے سے پیشگوئی فرمائی ہوئی ہے۔ دجالون، کذابون یعنی بہت سے فریب بنانے والے اور بہت جھوٹ بولنے والے ہوں گے۔ پھر مرزا قادیانی لکھتے ہیں۔ ”کہ آیت تعمیم کا فائدہ دے رہی ہے یعنی اہل کتاب کے لفظ سے مراد تمام وہ لوگ مراد ہیں جو حضرت مسیح علیہ السلام کے وقت میں یا ان کے بعد برابر ہوتے رہے ہیں۔“
کیوں مرزا قادیانی! جناب نے تعمیم کا لفظ استعمال کر کے پھر اہل کتاب کو ”حضرت مسیح علیہ السلام کے وقت میں اور بعد میں“ کے ساتھ کیوں مقید و محدود کر دیا۔ اگر آپ کے قول کے مطابق آیت تعمیم کا فائدہ دے رہی ہے۔ یعنی سارے اہل کتاب اس سے مراد ہیں تو پھر حضرت مسیح علیہ السلام سے پہلے کے اہل کتاب کیوں شمار نہیں ہوں گے؟ جس دلیل سے آپ حضرت مسیح علیہ السلام کی پیدائش سے پہلے کے اہل کتاب کو اس سے الگ کریں گے۔ اسی دلیل سے ہم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے پہلے کے یہودی و نصرانی کو الگ کر دیں گے۔
علاوہ ازیں بمطابق ”دروغ گو را حافظہ نباشد۔“ خود مرزا قادیانی اگلے ہی فقرہ میں لکھتے ہیں۔ ”آیت میں ایک بھی ایسا لفظ نہیں جو آیت کو کسی خاص زمانہ سے متعلق اور وابستہ کرتا ہو۔“ باوجود اس کے خود آیت کو ”حضرت مسیح ؑ کے وقت اور ان کے بعد“ سے وابستہ کر رہے ہیں۔ شائد مرزا قادیانی کے نزدیک زمانے صرف دو ہی ہوتے ہوں۔ زمانہ ماضی، مضیٰ مامضیٰ کا شکار ہو کر رہ گیا ہو۔ جب آیت کی زد میں تمام اہل کتاب آتے ہیں تو حضرت مسیح ؑ سے پہلے کے یہودی کیوں اس میں شامل نہ کیے جائیں۔ مرزا قادیانی ان اہل کتاب کو اس کا مخاطب نہیں سمجھتے۔ جو جواب قادیانی اس سوال کا دیں گے۔ وہی جواب اہل اسلام ان کے اس اعتراض کا دیں گے۔ ناظرین حقیقت یہ ہے کہ قادیانی اعتراضات کلہم جہالت پر مبنی ہیں۔ اگر ان کو علم عربی اور اس کے اصولوں سے ذرا بھی واقفیت ہوتی تو واللہ ان اعتراضات کا نام بھی نہ لیتے۔
جواب....... ٣ جواب نمبر اوّل کی ذیل میں ملاحظہ کریں۔
جواب...... ٤ مرزا قادیانی کو نہ علم ظاہری نصیب ہوا اور نہ باطنی آنکھیں ہی نصیب ہوئیں۔ موافقت کا نام وہ اختلاف رکھتے ہیں۔ کہتے ہیں اہل اسلام کی تفسیر ماننے سے قرآن میں اختلاف ہو جاتا ہے۔ سبحان اللہ! مرزا قادیانی جیسے بے استاد اور بے پیر سمجھنے والے ہوں تو اختلاف اور تضاد ہی نظر آنا چاہیے۔ باقی رہا ان کا یہ اعتراض کہ یہود اور نصاریٰ کے درمیان بغض اور عناد کا قیامت تک رہنا اس بات کی دلیل ہے کہ یہود اور نصاریٰ دونوں مذاہب قیامت تک زندہ رہیں گے تو اس کا جواب بھی آنکھیں کھول کر پڑھیے۔
اوّل تو یہ سمجھنا چاہیے کہ یہود و نصاریٰ سے مراد دو قومیں ہیں۔ اگر وہ مسلمان بھی ہو جائیں تو بھی ان کے درمیان بغض و عناد کا رہنا کون سا محال ہے؟ کیا اس وقت روئے زمین کے مسلمانوں میں بغض و عناد معدوم ہے؟ کیا تمام مرزائی بالخصوص لاہوری و قادیانی جماعتوں میں بغض و عناد نہیں ہے؟ ہے اور ضرور ہے۔ کیا اس صورت میں وہ اپنے آپ کو مسلمان نہیں سمجھتے۔ دوسرے اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَةِ سے مراد یقیناً طوالت زمانہ ہے اور یہ محاورہ تمام اہل زبان استعمال کرتے ہیں۔ دیکھئے جب ہم یوں کہیں کہ قادیانی میرے دلائل کا جواب قیامت تک نہیں دے سکیں گے تو مراد اس سے ہمیشہ ہمیشہ ہے۔ یعنی جب تک مرزائی دنیا میں رہیں۔ اگرچہ وہ قیامت تک ہی کیوں نہ رہیں۔ میرے دلائل کا جواب نہیں دے سکیں گے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ مرزائی لوگوں کے قیامت
تک رہنے کی میں پیش گوئی کر رہا ہوں۔ یا جب یوں کہا جاتا ہے کہ زید تو قیامت تک اس سوال کا جواب نہیں دے سکتا۔ کون بیوقوف ہے جو اس کا مطلب یہ سمجھے گا کہ کہنے والے کا مطلب یہ ہے کہ زید قیامت تک زندہ رہے گا؟ مطلب صاف ہے کہ جب تک زید زندہ رہے گا وہ اس کا جواب نہیں دے سکتا۔ اسی طرح آیات پیش کردہ کا مطلب ہے۔ آیت اوّل ہے۔ وَاَلْقَيْنَا بَيْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ اِلٰی يَوْمِ الْقِيَامَةِ اور مطلب اس کا بمطابق محاورہ یہی ہے کہ جب تک بھی یہود و نصاریٰ رہیں گے۔ ان کے درمیان باہمی عداوت اور دشمنی رہے گی۔
آیت ثانی یہ ہے۔ وَجَاعِلُ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْکَ فَوْقَ الَّذِيْنَ کَفَرُوْا اِلٰی يَوْمِ الْقِيَامَةِ اس کا مطلب بھی یہی ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ کے تابعدار قیامت تک ہمیشہ یہود پر غالب رہیں گے۔
اب غلبہ کئی قسم کا ہے۔ اس کی دو صورتیں بہت ہی اہم ہیں۔
اوّل...... یہود کا نصاریٰ و مسلمانوں کا غلام ہو کر رہنا۔ مگر اپنے مذہب پر برابر قائم رہنا۔ یہ صورت اب موجود ہے۔
دوم...... یہود کا نہ صرف مسلمانوں اور نصاریٰ کے ماتحت ہی رہنا بلکہ حضرت عیسیٰ ؑ کی مخالفت چھوڑ کر ان کا روحانی غلام بھی ہو جانا اور یہی حقیقی ماتحتی اور غلامی ہے۔ اس کا ظہور نزول المسیح کے وقت ہوگا۔ یہی مطلب ہے۔ تمام آیات کلام اللہ کا جس کو مرزا قادیانی اور ان کی قلیل الانفار جماعت بڑے طمطراق سے سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے کے لیے پیش کیا کرتے ہیں۔ ہم اپنے اس دعویٰ کے ثبوت میں احادیث نبوی اور خود اقوال مرزا قادیانی سے شہادت پیش کرتے ہیں۔
حدیث نبوی: یھلک اللہ فی زمانہ (اے عیسی) الملل کلھا الا الاسلام. (رواہ ابوداؤد ج ٢ ص ١٣٥ باب خروج الدجال مسند احمد ج ٢ ص ٤٠٦ درمنثور ج ٢ ص ٢٤٢ ابن جریر ج ٦ ص ٢٢-٢٣) ”ہلاک کر دے گا اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ ؑ کے زمانہ میں تمام مذاہب کو سوائے اسلام کے۔ روایت کیا اس حدیث کو ابو داؤد، احمد، ابن جریر اور صاحب درمنثور نے“ جن کا منکر مرزا قادیانی کے نزدیک کافر و فاسق ہو جاتا ہے۔
(دیکھو قادیانی اصول و عقاید نمبر ٤)
اقوال مرزا...... ١ ”اس پر اتفاق ہو گیا ہے کہ مسیح کے نزول کے وقت اسلام دنیا پر
کثرت سے پھیل جائے گا اور ملل باطلہ ہلاک ہو جائیں گے اور راستبازی ترقی کرے گی۔“
(ایام الصلح ص ١٤٦ خزائن ج ١٤ ص ٣٨١)
- ٢...... ”میرے آنے کے دو مقصد ہیں۔ مسلمانوں کے لیے یہ کہ اصل تقویٰ اور طہارت
پر قائم ہو جائیں...... جیسا کہ آج کل قادیان میں اس کا ظہور ہو رہا ہے۔
(دیکھو فیصلہ سیشن جج گورداسپور دربارہ امیر شریعت مولانا سید عطاء اللہ شاہ صاحب ابو عبیدہ)
اور عیسائیوں کے لیے کسر صلیب ہو اور ان کا مصنوعی خدا نظر نہ آئے دنیا اس کو بالکل بھول جائے خدائے واحد کی عبادت ہو۔“
(ملفوظات ج ٨ ص ١٤٨)
- ٣...... ”اور پھر اسی ضمن میں (رسول اللہ ﷺ نے) مسیح موعود کے آنے کی خبر دی اور فرمایا
کہ اس کے ہاتھ سے عیسائی دین کا خاتمہ ہوگا۔“
(شہادۃ القرآن ص ١١ خزائن ج ٦ ص ٣٠٧)
- ٤...... ”ونفخ فی الصور فجمعناھم جمعاً خدا تعالیٰ کی طرف سے صور پھونکا جائے گا۔
تب ہم تمام مذاہب کو ایک ہی مذہب پر جمع کر دیں گے۔“
(شہادۃ القرآن ص ١١ خزائن ص ٣١١)
- ٥...... ونفخ فی الصور فجمعنا ھم جمعاً یعنی یاجوج ماجوج کے زمانہ میں بڑا تفرقہ
اور پھوٹ لوگوں میں پڑ جائے گی اور ایک مذہب دوسرے مذہب پر اور ایک قوم دوسری قوم پر حملہ کرے گی۔ تب ان دنوں خدا تعالیٰ اس پھوٹ کے دور کرنے کے لیے آسمان سے بغیر انسانی ہاتھوں کے اور محض آسمانی نشانوں سے اپنے کسی مرسل کے ذریعہ جو صور یا قرنا کا حکم رکھتا ہوگا۔ اپنی پر ہیبت آواز لوگوں کے کانوں تک پہنچائے گا۔ جس میں ایک بڑی کشش ہوگی اور اس طرح پر خدا تعالیٰ تمام متفرق لوگوں کو ایک مذہب پر جمع کر دے گا۔“
(چشمہ معرفت ص ٨٠ خزائن ج ٢٣ ص ٨٨)
- ٦...... ”خدا نے تکمیل اس فعل کی جو تمام قومیں ایک قوم کی طرح بن جائیں اور ایک ہی
مذہب پر ہو جائیں زمانہ محمدی کے آخری حصہ میں ڈال دی جو قریب قیامت کا زمانہ ہے۔“
(چشمہ معرفت ص ٨٢، ٨٣ خزائن ج ٢٣ ص ٩٠، ٩١)
- ٧...... ”خدا تعالیٰ نے ہمارے نبی ﷺ کو دنیا میں بھیجا۔ تا بذریعہ اس تعلیم قرآنی کے جو
تمام عالم کی طبائع کے لیے مشترک ہے۔ دنیا کی تمام متفرق قوموں کو ایک قوم کی طرح بنا دے اور جیسا کہ وہ وحدہ لاشریک ہے۔ ان میں بھی ایک وحدت پیدا کرے اور تا وہ سب مل کر ایک وجود کی طرح خدا کو یاد کریں اور اس کی وحدانیت کی گواہی دیں اور تا پہلی وحدت قومی جو ابتدائے آفرینش میں ہوئی اور آخری وحدت اقوامی...... یہ دونوں قسم کی وحدتیں خدائے وحدہ لاشریک کے وجود اور اس کی وحدانیت پر دوہری شہادت ہو
کیونکہ وہ واحد ہے۔“
(چشمہ معرفت ص ٨٢ خزائن ج ٢٣ ص ٩٠)
- ٨...... ”وحدت اقوام کی خدمت اسی نائب النبوۃ (مسیح موعود) کے عہد سے وابستہ کی گئی
ہے اور اسی کی طرف یہ آیت اشارہ کرتی ہے اور وہ یہ ہے۔ ”ھوالذی ارسل رسولہ بالھدیٰ و دین الحق لیظہرہ علی الدین کلّٰہ۔“
(چشمہ معرفت ص ٨٣ خزائن ص ٩١)
ناظرین! ہم نے احادیث نبوی علی صاحبھا الصلوات والسلام اور اقوالِ مرزا سے ثابت کر دیا ہے کہ مسیح علیہ السلام کے وقت میں تمام مذاہب سوائے اسلام کے مٹ جائیں گے۔ اب اگر مرزائی وہی مرغی کی ایک ٹانگ کی رٹ ہی لگائے جائیں تو پھر مذکورہ بالا اقوال مرزا کو تو کم از کم فضول اور لایعنی کہنا پڑے گا۔ ایسا وہ کہہ نہیں سکتا کیونکہ مرزا قادیانی ان کے نزدیک حکم ہے اور جری اللہ فی حلل الانبیاء ہے۔ پس ثابت ہوا کہ ان کا یہ اعتراض بالکل جہالت پر مبنی ہے۔
جواب ...... ٥ مرزا قادیانی کا پانچواں اعتراض یہ ہے کہ قرأۃ ابی بن کعب میں قَبْلَ مَوْتِہٖ کی بجائے قَبْلَ مَوْتِهِمْ آیا ہے۔ جس سے مراد ”اہل کتاب کی موت سے پہلے“ ہے۔ نہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے۔ مرزا قادیانی کے دجل وفریب کی قلعی ذیل میں یوں کھولی جاتی ہے۔
- ١...... یہ روایت ضعیف ہے اور اس کے ضعیف ٹھہرانے والا وہ بزرگ ہے جو مرزا قادیانی
کے نزدیک نہایت معتبر اور آئمہ حدیث میں سے ہے (یعنی مفسر و محدث ابن جریر) (چشمہ معرفت ص ٢٥٠ کا حاشیہ خزائن ج ٢٣ ص ٢٦١) نیز اسی مفسر ابن جریر کے متعلق مرزا قادیانی کے مسلمہ مجدد صدی نہم امام جلال الدین سیوطیؒ کا فتویٰ ہے۔ ”اجمع العلماء المعتبرون علی انہ لم یؤلف فی التفسیر مثلہ.“
(اتقان ج ٢ ص ٣٢٥)
”معتبر علماء امت کا اجماع ہے۔ اس بات پر کہ امام ابن جریر کی تفسیر کی مثل کوئی تفسیر نہیں لکھی گئی۔“
اس روایت کو ضعیف ٹھہرا کر مفسر ابن جریر نے صحیح سند سے روایت کیا ہے کہ ابن عباسؓ کا مذہب بھی یہی ہے کہ قَبْلَ مَوْتِہٖ سے مراد ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے“ ہے۔ نہ کہ کتابی کی موت۔
(دیکھو تفسیر ابن جریر)
- ٢...... خود مرزا قادیانی نے موتہ کی ضمیر کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع ہونا تسلیم کیا
ہے۔ (ازالہ اوہام ص ٣٧٢-٣٨٦ خزائن ج ٣ ص ٢٩١-٢٩٩) ہاں کلام اللہ کے الفاظ کو نعوذ باللہ
ناکافی بتلا کر ایسے ایسے محذوفات نکالے ہیں کہ تحریف میں یہودیوں سے بھی گوئے سبقت لے گیا ہے۔ بہرحال ہمارا دعویٰ سچا رہا کہ ہ کی ضمیر کا مرجع حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہے۔
- ٣...... نور الدین خلیفہ اول مرزا قادیانی اپنی کتاب فصل الخطاب حصہ دوم ص ٧٢ میں اسی
آیت کا ترجمہ یوں کرتے ہیں۔ ”اور نہیں کوئی اہل کتاب سے مگر البتہ ایمان لائے گا ساتھ اس کے (حضرت مسیح علیہ السلام کے) پہلے موت اس کی (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) کے اور دن قیامت کے ہوگا اوپر ان کے گواہ“ اس سے بھی ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی کا دعویٰ بے ثبوت ہے کیونکہ ہم نے اس کے خلاف اس کے اپنے مسلمات اور معتبر آئمہ تفسیر کے اقوال پیش کیے ہیں۔
- ٤...... جمہور علماء اسلام ہمیشہ قبل موتہ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات پر استدلال
کرتے رہے ہیں۔ جیسا کہ سابق میں ہم بیان کر آئے ہیں:
- ٥...... بخاری شریف کی صحیح حدیث اس روایت کی تردید کر رہی ہے۔ جیسا کہ پہلے ہم
بیان کر آئے ہیں۔
- ٦...... اگر قَبْلَ مَوْتِہٖ کی ضمیر کتابی کی طرف پھیری جائے تو پھر معنی آیت کے یہ ہوں گے
”تمام اہل کتاب اپنی موت سے پہلے ایمان لے آئیں گے۔“ حالانکہ ہم دیکھتے ہیں کروڑ ہا اہل کتاب کفر پر مر رہے ہیں۔ چنانچہ خود مرزا قادیانی لکھتے ہیں۔
”ہر ایک شخص خوب جانتا ہے کہ بے شمار اہل کتاب مسیح کی نبوت سے کافر رہ کر واصل جہنم ہو چکے ہیں“ (ازالہ ص ٣٦٧ خزائن ج ٣ ص ٢٨٨) پس مجبوراً ماننا پڑتا ہے کہ قبل موتہ سے مراد ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے“ ہے۔
- ٧...... لَيُؤْمِنَنَّ میں لام قسم اور نون ثقیلہ موجود ہے جو ہمیشہ فعل کو آئندہ زمانہ سے خاص کر
دیتے ہیں۔ پس معنی اس کے یہ ہوں گے۔ ”البتہ ضرور ایمان لے آئے گا۔“ اگر ہر کتابی کا اپنی موت سے پہلے ایمان مقصود ہوتا تو پھر عبارت یوں چاہیے تھی۔
مَنْ يُّؤْمِنُ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ جس کے معنی قادیانیوں کے حسب منشاء ٹھیک بیٹھتے ہیں۔ یعنی ہر ایک اہل کتاب ایمان لے آتا ہے اپنی موت سے پہلے۔ اگر قادیانی ہمیں اس قانون کا غلط ہونا ثابت کر دیں تو ہم علاوہ مقررہ انعام کے مبلغ دس روپے اور انعام دیں گے۔ انشاء اللہ قیامت تک کسی معتبر کتاب سے اس کے خلاف نہ دکھا سکیں گے۔
- ٨...... آیت کا آخری حصہ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكُوْنُ عَلَيْهِمْ شَهِيْدًا ”اور قیامت کے دن
حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان پر شہادت دیں گے۔“ قادیانی بھی اس حصہ آیت کے معنی کرنے
میں ہم سے متفق ہیں۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام یہود و نصاریٰ کے کس حال کی گواہی دیں گے۔ اگر آیت کے معنی قادیانی تفسیر کے مطابق کریں۔ یعنی یہ کہ ”تمام اہل کتاب اپنی موت سے پہلے ایمان لے آتے ہیں۔“ تو وہ ہمیں بتلائیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کیسے شہادت دیں گے اور کیا دیں گے؟ ہاں اگر اسلامی تفسیر کے مطابق مطلب بیان کیا جائے یعنی ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے زمانہ میں تمام یہود ایمان لے آئیں گے اور کوئی منکر ان کی موت کے بعد باقی نہ رہے گا۔“ تو پھر واقعی قیامت کے دن حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان کے ایمان لانے کی شہادت دے سکیں گے۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام قیامت کے دن عرض کریں گے۔ كُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَّا دُمْتُ فِيهِمْ. جب تک میں ان میں موجود رہا میں ان پر نگہبان تھا۔
- ٩....... قَبْلَ مَوْتِهِ میں قَبْلَ کا لفظ بڑا ہی قابل غور ہے۔ یہ تو ظاہر ہے کہ اہل کتاب اپنی
موت سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان نہیں لاتے۔ بعض علماء کا خیال ہے اور انھیں میں مرزا غلام احمد قادیانی بھی ہے کہ اس ایمان سے مراد ایمان اضطراری ہے جو غرغرہ (نزع) کے وقت ہر ایک کتابی کو حاصل ہوتا ہے۔ یہ دو وجہوں سے باطل ہے۔ اگر ایمان اضطراری مراد ہوتا تو اللہ تعالیٰ اپنی فصیح و بلیغ کلام میں قَبْلَ کی بجائے عِنْدَ مَوْتِهِ فرماتے۔ یعنی موت کے وقت ایمان لاتے ہیں اور وہ ایمان واقعی قابل قبول نہیں ہوتا لیکن جس ایمان کا اللہ تعالیٰ بیان فرما رہے ہیں۔ وہ ایمان اہل کتاب کو اپنی موت سے پہلے حاصل ہونا ضروری ہے۔ مگر وہ واقعات کے خلاف ہے۔ لہٰذا یہی معنی صحیح ہوں گے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے وقت تمام اہل کتاب ان پر ایمان لے آئیں گے۔
- ١٠....... مرزا غلام احمد قادیانی کی مضحکہ خیز تفسیر سے بھی ہم اپنے ناظرین کو محظوظ کرنا چاہتے
ہیں۔ مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ ”کوئی اہل کتاب میں سے ایسا نہیں جو ہمارے اس بیان مذکورہ بالا پر جو ہم نے (خدا نے) اہل کتاب کے خیالات کی نسبت ظاہر کیے ہیں ایمان نہ رکھتا ہو۔ قبل اس کے جو وہ اس حقیقت پر ایمان لائے جو مسیح اپنی طبعی موت سے مر گیا۔“ یعنی تمام یہودی اور عیسائی اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ فی الحقیقت انھوں نے مسیح کو صلیب نہیں دیا یہ ہمارا ایک اعجازی بیان ہے۔
(ازالہ طبع اوّل ص ٣٧٢۔٣٧٦ خزائن ج ٣ ص ٢٩١۔٢٩٣)
مجھے یقین ہے کہ ناظرین اوّل تو مرزا قادیانی کی پیچیدہ عبارت کا مطلب ہی نا سمجھ سکیں اور اگر سمجھ جائیں تو سوچیں کہ یہ عبارت کلام اللہ کے کون سے الفاظ کا ترجمہ ہے۔
چیلنج مرزا قادیانی اپنی کتاب شہادۃ القرآن ص ٥٣ و ٥٥ پر صاف اقرار کرتے ہیں کہ ”کلام اللہ کا صحیح مفہوم ہمیشہ دنیا میں موجود رہا اور رہے گا۔“ نیز مرزا قادیانی لکھتے ہیں۔ ”اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَ اِنَّا لَهٗ لَحَافِظُوْنَ....... خدا تعالیٰ نے اپنے کلام کی حفاظت ایسے آئمہ و اکابر کے ذریعہ سے کی ہے جن کو ہر ایک صدی میں فہم القرآن عطا ہوتا ہے۔“
(ایام الصلح ص ٥٥ خزائن ج ١٤ ص ٢٨٨)
ہمارا چیلنج یہ ہے کہ اگر مرزا قادیانی میں کچھ بھی صداقت کا شائبہ ہے تو وہ یا ان کی جماعت اس آیت کی یہ تفسیر حدیث سے یا ١٣٥٣ء سال کے مجددین امت و علماء مفسرین کے اقوال سے پیش کریں۔ ورنہ بمطابق ”من قال فی القرآن بغیر علم فلیتبوّأ مقعدہ من النار (ترمذی ج ٢ ص ١٢٣ باب ماجآ فی الذی یفسر القرآن) یعنی فرمایا رسول کریم ﷺ نے کہ جس کسی نے اپنی رائے سے تفسیر کی۔ اس نے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لیا۔“ خود مرزا قادیانی تفسیر بالرائے کے متعلق لکھتے ہیں۔ ”مومن کا کام نہیں کہ تفسیر بالرائے کرے۔“
(ازالہ اوہام ص ٣٢٩ خزائن ج ٣ ص ٢٦٧)
پھر فرماتے ہیں۔ ”ایک نئے معنی اپنی طرف سے گھڑ لینا بھی تو الحاد اور تحریف ہے خدا مسلمانوں کو اس سے بچائے۔“
(ازالہ اوہام ص ٤٢٥ خزائن ج ٣ ص ٥٠١)
پس یا تو مرزائی جماعت مرزا قادیانی کے بیان کردہ معنی کسی سابق مجدد یا مفسر امت کی کتاب سے ثابت کرے یا مرزا قادیانی کا اور اپنا ملحد اور محرف ہونا تسلیم کرے۔
قرآنی دلیل....... ٥ وَاِنَّهٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا (الزخرف ٦١) معزز ناظرین!
مذکورہ بالا آیت بھی دیگر آیات کی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع جسمانی پر بانگ دہل اعلان کر رہی ہے۔ ہم اپنی طرف سے کچھ کہنا نہیں چاہتے بلکہ جیسا کہ ہمارا اصول ہے۔ اس آیت کی تفسیر بھی ہم مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کی جماعت کے مسلمات ہی سے پیش کریں گے تاکہ ان کے لیے کوئی جگہ بھاگنے کی نہ رہے۔
١.......تفسیر بالقرآن
١.......ہم پہلی آیات سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا رفع جسمانی اور نزولِ جسمانی قرب قیامت میں ثابت کر آئے ہیں۔ پس ان آیات کی روشنی میں ہم کہہ سکتے ہیں اور بالیقین کہہ سکتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام (قرب) قیامت کے لیے ایک نشانی ہے۔ انّہ میں ہٰ کی ضمیر کو بعض نے قرآن کریم کی طرف پھیرا ہے مگر یہ بہت ہی بڑی بے انصافی ہے۔ (اس کی
تائید میں ملاحظہ ہو قول ابن کثیر مجدد صدی ششم فھو یأتی) آخر ضمیر کا مرجع معلوم کرنے کا بھی کوئی قانون ہے یا نہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر ہو رہا ہے اور ان کی خوبیاں بیان ہو رہی ہیں۔ انھیں میں سے ایک یہ خوبی ہے کہ ان کی ذات شریف ہر لحاظ سے قیامت کے پہچاننے کی نشانی ہے۔ تفصیل اس کی یوں ہے۔
ان کی پیدائش بے باپ محض کلمہ ”کن“ سے اور ان کے معجزات احیاء موتی او خلق طیر و غیرھا. خدا کی قدرت احیاء موتی کا عملی ثبوت ہو کر وقوع قیامت پر دلالت قطعیہ پیش کرتا ہے اور ان کا اس وقت تک زندہ رہ کر دوبارہ آنا خدا کی طرف سے لوگوں کی رہنمائی کے لیے قرب قیامت کی علامت ہے۔
٢...... تفسیر آیت از حدیث
”حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے سنن ابن ماجہ میں موقوفا اور مسند امام احمد میں مرفوعاً مروی ہے کہ جس رات رسول کریم ﷺ کو معراج ہوئی اس رات آپ حضرت ابراہیم علیہ السلام، موسیٰ علیہ السلام، عیسیٰ علیہ السلام سے ملے تو قیامت کے متعلق تذکرہ ہوا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام سے سوال شروع ہوا تو ان کو قیامت کا کوئی علم نہ تھا۔ (کہ کب ہو گی) پھر موسیٰ علیہ السلام سے سوال ہوا تو ان کو بھی اس کا کوئی علم نہ تھا۔ پس حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نوبت آئی۔ تو آپ نے کہا کہ قیامت کے وقوع کا علم تو سوائے خدا کے کسی کو نہیں لیکن خدا تعالیٰ نے مجھے قیامت کے نزدیک کا عہد کیا ہوا ہے۔ پس آپ نے دجال کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ میں نازل ہوں گا تو اس کو قتل کروں گا۔“
دیکھو مسند احمد ج ١ ص ٣٧٥، ابن ماجہ ص ٢٩٩ باب فتنۃ الدجال وخروج عیسیٰ بن مریم، ابن جریر، حاکم و بیہقی، بحوالہ در منثور اور بھی بہت سی احادیث اس کی تائید میں وارد ہیں جن میں سے کچھ پہلے بیان ہو چکی ہیں اور بقیہ ”حیات عیسیٰ از احادیث“ کے ذیل میں بیان کی جائیں گی۔
٣...... تفسیر از صحابہ کرام و تابعین عظام
حضرت ابن عباسؓ کی تفسیر عن ابن عباسؓ فی قولہ ”وانہ لعلم للساعة قال خروج عیسیٰ علیہ السلام قبل یوم القیامة (در منثور ج ٦ ص ٢٠) ”حضرت ابن عباسؓ وانہ لعلم للساعة کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اس سے مراد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا قیامت سے پہلے تشریف لانا ہے۔
ب ...... حضرت ابوہریرہؓ کی تفسیر عن ابی ھریرۃ وانہ لعلم للساعۃ قال خروج عیسیٰ ؑ یمکث فی الارض اربعین سنۃ ...... یحج و یعتمر۔ (درمنثور ایضاً) ”حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ وانہ لعلم للساعۃ سے مراد حضرت عیسیٰ ؑ کا نزول ہے۔ وہ زمین میں ٤٠ سال رہیں گے ...... حج کریں گے اور عمرہ بھی کریں گے۔“
ج ...... عن مجاھد وانہ لعلم للساعۃ قال آیۃ للساعۃ خروج عیسیٰ ؑ ابن مریم قبل یوم القیامۃ۔ (درمنثور ج ٦ ص ٢٠) حضرت مجاہدؒ جو شاگرد ہیں حضرت ابن عباسؓ کے وہ بھی اس آیت میں فرماتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ کا آنا قیامت سے پہلے قیامت کے لیے ایک نشان ہے۔“
د ...... عن الحسن وانہ لعلم للساعۃ قال نزول عیسیٰ ؑ (ایضاً) ”حضرت امام حسنؒ مجددین امت و اولیاء امت کے سرتاج فرماتے ہیں کہ مراد اس آیت سے حضرت عیسیٰ ؑ کا نزول ہے۔
٤۔ تفسیر از مجددین امت محمدیہ رضی اللہ عنہم اجمعین
ا ...... امام حافظ ابن کثیرؒ اپنی تفسیر میں بذیل آیت کریمہ فرماتے ہیں۔ وقولہ سبحانہ و تعالٰی و انہ لعلم للساعۃ تقدم تفسیر ابن اسحاق ان المراد من ذالک ما یبعث بہ عیسیٰ ؑ من احیاء الموتٰی و ابراء الاکمہ والابرص و غیر ذالک من الاسقام وفى ھذا نظر وابعد منہ ماحکاہ قتادہ عن الحسن البصری و سعید ابن جبیر ان الضمیر فی انہ عائد الی القرآن بل الصحیح انہ عائد الی عیسیٰ ؑ فان السیاق فی ذکرہ ثم المراد بذالک نزولہ قبل یوم القیامہ کما قال تبارک و تعالٰی و ان من اھل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ ای قبل موت عیسیٰ ؑ ثم یوم القیامۃ یکون علیھم شھیدا۔ و یؤید ھذا المعنٰی القرأۃ الاخریٰ و انہُ لَعَلَمٌ للساعۃ ای امارۃ و دلیل علٰی وقوع الساعۃ۔ قال مجاھد وانہ لعلم للساعۃ ای آیۃ للساعۃ خروج عیسیٰ ابن مریم ؑ قبل یوم القیامۃ وھکذا روى عن ابی ھریرہ وابن عباس و ابی العالیہ و ابی مالک و عکرمہ والحسن و قتادہ والضحاک و غیرھم وقد تواترت الاحادیث عن رسول اللّٰہ ﷺ انہ اخبر بنزول عیسیٰ ؑ قبل یوم القیامۃ امامًا عادلاً و حَکَمًا مقسطاً۔ ”اللہ تعالیٰ کے قول وانہ لعلم للساعۃ کے متعلق ابن اسحاق
کی تفسیر گزر چکی ہے کہ مراد اُس سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات مثل مردوں کا زندہ کرنا، کوڑھوں اور برص والوں کو تندرست کرنا اور علاوہ اس کے دیگر امراض سے شفا دینا ہے۔ اس میں اعتراض اور اس سے زیادہ ناقابل قبول وہ ہے جو قتادہ نے حسن بصری، سعید ابن جبیر سے بیان کیا ہے کہ انه کی ضمیر قرآن کریم کی طرف راجع ہے بلکہ صحیح یہ ہے کہ انه کی ضمیر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع ہے کیونکہ سیاق و سباق انھیں کے ذکر میں ہے۔ پس مراد اس سے ان کا قیامت سے پہلے نازل ہونا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے وان من اهل الکتاب الا لیؤمنن به قبل موته فرمایا ہے یعنی عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے ...... اور ان معنوں کی دوسری قرأت تائید کرتی ہے جو یہ ہے۔ وَإِنَّهُ لَعَلَمٌ لِّلسَّاعَةِ یعنی عیسیٰ علیہ السلام نشانی ہے اور دلیل ہے قیامت کے واقع ہونے پر۔ مجاہد کہتے ہیں کہ اس کے معنی ہیں ”قیامت سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آنا قیامت کی نشانی ہیں“ اسی طرح ابو ہریرہؓ، ابن عباسؓ، ابو عالیہؒ، ابو مالکؒ، عکرمہؒ، حسنؒ، قتادہؒ، ضحاک وغیرہم بزرگانِ دین سے روایت ہے۔ حدیثیں رسول کریم ﷺ سے حد تواتر تک پہنچ چکی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے قیامت سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے امام عادل، حاکم اور منصف کی حالت میں نازل ہونے کی خبر دی ہے۔“
٥۔ تفسیر آیت از امام فخر الدین رازیؒ مجدد صدی ششم
- ١...... وان عیسیٰ علیہ السلام (لعلم للساعة) شرط من اشراطها تعلم به فسمی الشرط
الدال على الشئ علما لحصول العلم به و قرأ ابن عباس لعلم وهو العلامة...... وفی الحديث ان عيسى علیہ السلام ينزل على ثنية فی الارض المقدسة يقال لها افيق و بيده حربة وبها يقتل الدجال فيأتی بيت المقدس فی الصلوة الصبح والامام يوم بهم فيتأخر الامام فيقدمه عيسى علیہ السلام ويصلى خلفه على شريعة محمد ﷺ.
(تفسیر کبیر جز ٢٧ ص ٢٢٢ بذیل آیت کریمہ)
”عیسیٰ علیہ السلام قیامت معلوم کرنے کی شرطوں میں سے ایک شرط ہے ...... ابن عباسؓ نے اس کو لَعَلَمٌ لِّلسَّاعَةِ پڑھا ہے جس کے معنی نشانی کے ہیں ...... اور حدیث میں ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ارضِ مقدس میں افیق کے مقام پر نازل ہوں گے۔ ان کے ہاتھ میں ایک حربہ ہوگا اور اس سے دجال کو قتل کریں گے۔ پس وہ بیت المقدس میں آئیں گے۔ درآنحالیکہ لوگ صبح کی نماز میں ہوں گے اور امام ان کو نماز پڑھا رہا ہوگا۔
پس وہ پیچھے ہٹیں گے۔ پس عیسیٰ ؑ ان کو آگے کر دیں گے اور ان کے پیچھے نماز ادا کریں گے اسلامی طریقہ سے۔
تفسیر از امام لغت صاحب لسان العرب
وفي التنزيل في صفة عيسى صلوات الله على نبينا و عليه (وانه لعلم للساعة) وهى قرأة اكثر القراء وقرأ بعضهم (انه لعلم للساعة) والمعنى ان ظهور عيسى ؑ و نزوله الى الارض علامة تدل على اقتراب الساعة. (لسان العرب ج ٩ ص ٣٧٢ (بحرف علم))
”قرآن شریف میں حضرت عیسیٰ ؑ کی صفت میں آیا ہے انہ لعلم للساعة اور یہ اکثر قاریوں کی قرأت ہے اور ان میں سے بعض نے اس کو لعلم للساعة بھی پڑھا ہے جس کے معنی ہیں عیسیٰ ؑ کا ظہور اور ان کا نازل ہونا زمین کی طرف ایسا نشان ہے جو قیامت کے نزدیک ہونے پر دلالت کرے گا۔“
لسان العرب کی عظمت و اہمیت معلوم کرنا ہو تو مرزا محمود احمد قادیانی کا بیان ذیل ملاحظہ کریں۔ ”پس ان لغات (لغت کی چھوٹی چھوٹی کتب) کا اس معاملہ میں کوئی اعتبار نہیں بلکہ اعتبار انھیں لغات کا ہوگا جو بڑی ہیں اور جن میں تفصیل سے معنی بتائے جاتے ہیں اور عربی کی سب سے بڑی لغت تاج العروس ہے اور دوسرے نمبر پر لسان العرب ہے۔“
(حقیقة النبوة ص ١١٥، ١١٦ حاشیہ)
معزز ناظرین! ہم نے اپنی تائید میں مندرجہ ذیل بزرگ ہستیوں کے بیانات پیش کیے ہیں۔
- ١...... اللہ تبارک و تعالیٰ۔
- ٢...... حضرت سید المرسلین محمد مصطفیٰ ﷺ۔
- ٣...... حضرات صحابہ کرام بالخصوص حضرت ابن عباسؓ۔
- ٤...... امام احمد مجدد صدی دوم۔
- ٥...... امام ابن جریرؒ۔
- ٦...... امام حاکم نیشاپوری مجدد صدی چہارم۔
- ٧...... امام بیہقی مجدد صدی چہارم۔
- ٨...... صاحب در منثور امام جلال الدین سیوطی مجدد صدی نہم۔
- ٩...... امام ابن کثیر مجدد صدی ہشتم۔
- ١٠...... امام فخرالدین رازی مجدد صدی ششم۔ تلک عشرۃ کاملہ۔
یہ وہ اصحاب ہیں کہ حسب فتویٰ مرزا قادیانی افراد ان کے فیصلہ سے انحراف کرنے پر فوراً دائرہ اسلام سے خارج ہو کر مرتد، ملحد اور فاسق ہو جائیں گے۔ دیکھو قادیانی اصول و عقاید مندرجہ تمہید۔
قادیانی جماعت ذرا ہوش سے ہمارے دلائل پر غور کرے۔ اگر خلوص سے کام لیں گے تو انشاء اللہ حق کا قبول کرنا آسان ہو جائے گا۔
اب ہم قادیانی اعتراضات پیش کرتے ہیں جو فی الواقع ہم پر نہیں بلکہ مذکورۃ الصدر بزرگ ہستیوں پر وارد کر کے اس بات کا اعلان کرنا ہے کہ قادیانی خدا کو مانتے ہیں نہ رسول کو۔ صحابہ کرام کو مانتے ہیں نہ مجددین امت کو۔ یوں ہی ٹٹی کی آڑ میں شکار کھیلنے کے لیے کہہ دیتے ہیں کہ ہم ان سب کا ماننا اور مطیع رہنا اپنے ایمان کا جزو قرار دیتے ہیں۔
اعتراض ......١ از مرزا غلام احمد قادیانی ”حق بات یہ ہے کہ انہ کی ضمیر قرآن شریف کی طرف پھرتی ہے اور آیت کے یہ معنی ہیں کہ قرآن شریف مردوں کے جی اٹھنے کے لیے نشان ہے کیونکہ اس سے مردہ دل زندہ ہوتے ہیں۔
(ازالہ اوہام ص ٤٢٤ خزائن ج ٣ ص ٣٢٢)
مرزا قادیانی نے کوئی دلیل انہ کی ضمیر کو قرآن شریف کے لیے متعین کرنے کے حق میں بیان نہیں کی۔ سوائے اس کے کہ ہ کی ضمیر عیسیٰ علیہ السلام کے لیے ماننے سے مرزا قادیانی کی مسیحیت معرضِ ہلاکت میں آ جاتی ہے۔ اگر ہم ثابت کر دیں کہ انہ کی ضمیر قرآن کریم کی طرف راجع نہیں بلکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف پھرتی ہے تو مرزا قادیانی کی یہ ”حق بات ہے“ کی حقیقت الم نشرح ہو کر رہ جائے گی۔ سنیے۔
جواب ......١ سیاق و سباق میں بحث صرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ہستی سے ہے نہ قرآن کریم سے۔ پس جس کا ذکر ہی نہیں۔ اس کی طرف خواہ مخواہ ضمیر کو پھیرنا اگر سکھا شاہی نہیں تو اور کیا ہے۔
- ٢...... ہم نے قادیانی مسلمات کی رو سے ثابت کر دیا ہے کہ انہ سے مراد حضرت مسیح علیہ السلام
کا نزول ہے اگر مرزا قادیانی اس کا انکار کریں گے تو حسب فتویٰ خود کافر و فاسق ہو جائیں گے۔
- ٣...... حضرت ابن عباسؓ انہ کی ضمیر کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف پھیرتے ہیں جن کے
متعلق مرزا قادیانی کا ارشاد ہے۔ ”ناظرین پر واضح ہوگا کہ حضرت ابن عباسؓ قرآن
کریم کے سمجھنے میں اوّل نمبر والوں میں سے ہیں اور اس بارہ میں ان کے حق میں آنحضرت ﷺ کی ایک دعا بھی ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ٢٤٧ خزائن ج ٣ ص ٢٢٥)
اب کس کا منہ ہے جو حضرت ابن عباسؓ جیسی عظیم الشان ہستی کا فیصلہ رد کرے۔
- ٤...... مرزا قادیانی یا ان کی جماعت اپنی تائید میں اور ہماری مخالفت میں ٨٦ گذشتہ
مجددین مسلمہ قادیانی میں سے کسی ایک کو بھی پیش نہیں کر سکتے۔
- ٥...... خود مرزا قادیانی نے اِنہ کی ضمیر کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع ہونا قبول کیا ہے۔
(دیکھو حمامۃ البشریٰ ص ٩٠ خزائن ج ٧ ص ٣١٦)
- ٦...... خود مرزا قادیانی کے مرید اِنہ کی ضمیر کے قرآن کی طرف پھیرنے سے منکر ہیں۔
چنانچہ سرور شاہ قادیانی ضمیمہ اخبار بدر قادیان ٦ اپریل ١٩١١ء میں لکھتے ہیں۔ ”ہمارے نزدیک تو اس کے آسان معنی یہ ہیں کہ وہ (مثیل مسیح) ساعت کا علم ہے۔“
نوٹ: قادیانی سرور شاہ کا مبلغ علم اسی بات سے اظہر من الشمس ہوا جاتا ہے کہ مسیح کے ساتھ مثیل کی دم اپنی طرف سے بڑھا دی ہے۔ اگر ایسا کرنا جائز قرار دیا جائے تو قرآن شریف کی تفسیر ہر ایک آدمی اپنے حسب منشاء کر سکتا ہے مثلاً جہاں رسول کریم ﷺ کا اسم مبارک ہے وہاں بھی کہہ دیا جائے کہ اس سے مثیل محمد مراد ہیں جو قادیانیوں کے نزدیک (نعوذ باللہ) مرزا قادیانی ہیں۔
- ٧...... مرزا قادیانی کے بڑے فرشتہ احسن امروہی مرزا قادیانی کی تردید میں یوں فرماتے ہیں۔
- ا...... ”دوستو! یہ آیت وانّہ لعلم للساعة سورة زخرف میں ہے اور بالاتفاق تمام مفسرین
کے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ آنے کے واسطے ہے۔ اس میں کسی کو اختلاف نہیں۔“
(اخبار الحکم ٢٨ فروری ١٩٠٩ء)
- ب...... ”آیت دوم میں تسلیم کیا کہ ضمیر اِنہ کی طرف قرآن شریف یا آنحضرت ﷺ کے
راجع نہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی کی طرف راجع ہے۔“
(اعلام الناس حصہ دوم ص ٥)
اعتراض ٢......
از مرزا قادیانی ”ظاہر کہ خدا تعالیٰ اس آیت کو پیش کر کے قیامت کے منکرین کو ملزم کرنا چاہتا ہے کہ تم اس نشان کو دیکھ کر پھر مردوں کے جی اٹھنے سے کیوں شک میں پڑے ہو...... اگر خدا تعالیٰ کا اس آیت میں یہ مطلب ہے کہ جب حضرت مسیح علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے تب ان کا آسمان سے نازل ہونا مردوں کے جی اٹھنے کے لیے بطور دلیل یا علامت کے ہوگا تو پھر اس دلیل کے ظہور سے پہلے خدا تعالیٰ لوگوں کو ملزم کیوں کر سکتا ہے۔ کیا اس طرح اتمام حجت ہو سکتا ہے۔ دلیل تو
ابھی ظاہر نہیں ہوئی اور کوئی نام و نشان اس کا پیدا نہیں ہوا اور پہلے ہی سے منکرین کو کہا جاتا ہے کہ اب بھی تم یقین نہیں کرتے۔ کیا ان کی طرف سے یہ عذر صحیح طور پر نہیں ہو سکتا کہ یا الٰہی ابھی دلیل یا نشان قیامت کا کہاں ظہور میں آیا جس کی وجہ سے فلا تمترن بھا کی دھمکی ہمیں دی جاتی ہے۔‘‘
(ازالہ ص ٤٢٢، ٧٧)
جواب مرزا قادیانی کا یہ اعتراض ناشی از جہالت ہے۔ اپنی کم علمی سے وانہ لعلم للساعة کو فلا تمترن بھا کے لیے دلیل ٹھہرا لیا اور پھر اس دلیل کے غلط ہونے پر منطقی بحث شروع کر دی۔
کاش! مرزا قادیانی نے تفسیر اتقان اپنے مسلمہ مجدد صدی نہم امام جلال الدین سیوطیؒ کی کتاب ہی میں کلمہ ”ف“ کی بحث پڑھ لی ہوتی۔ پھر یقیناً ایسا مجہول اعتراض نہ کرتے۔ اس کا جواب ہم کئی طرز سے دیں گے۔
اس آیت کا شان نزول جو مرزا قادیانی نے خط کشیدہ الفاظ میں ظاہر کیا ہے۔ وہ محض ایجاد مرزا ہے۔ ورنہ اصلی شان نزول ملاحظہ ہو اور کلام اللہ کے اپنے الفاظ میں ملاحظہ ہو۔
لما ضرب ابن مریم مثلاً اذا قومک منہ یصدون وقالوا ءالهتنا خیر ام هو ما ضربوہ لک الا جدلا بل هم قوم خصمون ان هو الا عبد انعمنا علیہ و جعلناہ مثلاً لبنی اسرائیل. و لونشاء لجعلنا منکم ملئکة فی الارض یخلفون. وانہ لعلم للساعة فلا تمترن بھا واتبعون. ھذا صراط مستقیم.
(الزخرف ٥٧ تا ٦١)
”اور جب عیسیٰ ؑ ابن مریم کے متعلق (معترض کی طرف سے) ایک عجیب مضمون بیان کیا گیا۔ تو یکا یک آپ کی قوم کے لوگ (مارے خوشی کے) چلانے لگے اور کہنے لگے کہ ہمارے معبود زیادہ بہتر ہیں یا عیسیٰ ؑ۔ ان لوگوں نے جو یہ مضمون بیان کیا ہے تو محض جھگڑنے کی غرض سے بلکہ یہ لوگ (اپنی عادت سے) ہیں ہی جھگڑالو۔ عیسیٰ ؑ تو محض ایک ایسے بندے ہیں جن پر ہم نے (کمالات نبوت سے اپنا) فضل کیا تھا اور ان کو بنی اسرائیل کے لیے ہم نے (اپنی قدرت کا) ایک نمونہ بنایا تھا اور اگر ہم چاہتے تو ہم تم میں سے فرشتوں کو پیدا کر دیتے کہ وہ زمین پر یکے بعد دیگرے رہا کرتے اور حضرت عیسیٰ ؑ تو قیامت (کے قرب) کا نشان ہیں۔ پس تم لوگ اس میں شک مت کرو اور تم لوگ میرا اتباع کرو۔ یہی سیدھا راستہ ہے۔‘‘
معزز ناظرین! مرزا قادیانی کی چالاکی ملاحظہ ہو کہ بمطابق مثل ”چہ دلاور است دزدے کہ بکف چراغ دارد“ خود شان نزول اس آیت کی کلام اللہ کی انھیں آیات میں موجود ہے اور وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور مشرکین کے بتوں کے متعلق ایک مثال ہے۔ باوجود اس کے مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ یہاں بحث قیامت سے ہے۔ قیامت کی بحث تو یہاں ہے ہی نہیں۔ وہ تو یونہی جملہ معترضہ کے طور پر مذکور ہے چنانچہ ہم مرزا قادیانی کے اپنے مانے ہوئے مجدد صدی نہم امام جلال الدین سیوطیؒ کی روایت سے مرزا قادیانی کے تسلیم کردہ حبر الامت امام المفسرین ابن عباسؓ کا بیان کردہ شان نزول پیش کرتے ہیں۔
”آنحضرت ﷺ نے ایک روز سورۂ انبیاء کی آیت اِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ (انبیاء ٩٨) کے موافق یہ فرمایا کہ مشرک جن چیزوں کو پوجتے ہیں۔ وہ اور مشرک دونوں قیامت کے دن دوزخ میں جھونکے جائیں گے۔ اس پر عبداللہ بن زبعری نامی ایک شخص نے کہا کہ نصاریٰ لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو پوجتے ہیں اور تم عیسیٰ علیہ السلام کو نبی اور ہمارے بتوں سے اچھا سمجھتے ہو۔ اس لیے جو حال ہمارے بتوں کا ہوگا وہی حال حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ہوگا۔ عبداللہ بن زبعری کے اس جواب کو مشرک لوگوں نے بڑا شافی جواب جانا اور سب خوش ہوئے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں۔ باوجود اس قدر تصریح کے اگر پھر بھی قادیانی اپنی اس نامعقول دلیل پر جمے رہیں۔ تو ہمارا جواب بھی الزامی رنگ میں سن لیں اور کان کھول کر سنیں۔
- ١...... مرزا قادیانی لکھتے ہیں۔
”قرآن شریف میں ہے۔ اِنَّهُ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ یعنی اے یہودیو! عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ تمھیں قیامت کا پتہ لگ جائے گا۔“
(اعجاز احمدی ص ٢١ خزائن ج ١٩ ص ١٣٠)
- ٢...... اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ علیہ السلام جیسے مصدق رسول کو بھی بطور ہدایت فرماتا ہے۔ اِنَّ السَّاعَةَ آتِيَةٌ فَلَا يَصُدَّنَّكَ عَنْهَا مَنْ لَّا يُؤْمِنُ بِهَا (طہ ١٦) ”اے موسیٰ علیہ السلام! قیامت بے شک و شبہ آنے والی ہے۔ خبردار کوئی بے ایمان تجھے اس کے ماننے سے روک نہ دے۔ یہاں اگر قادیانی طرز کلام کا اتباع کیا جائے تو سوال پیدا ہوگا موسیٰ علیہ السلام کے سامنے قیامت کے آنے کی دلیل یا نشانی تو بیان نہیں کی گئی۔ صرف اس کے آنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ پھر یہ اعلان اگلے حصہ آیت کے لیے دلیل ہو سکتا ہے۔ قادیانی جو جواب اس سوال کا دیں گے وہی جواب ہمارا بھی سمجھ لیں۔“
- ٣...... ”مرزا قادیانی نے ١٨٨٦ء میں پیش گوئی کی کہ محمدی بیگم دختر احمد بیگ ہوشیار پوری
ضرور بضرور میرے نکاح میں آئے گی۔ پھر اس کے متعلق الہامات بھی شائع کیے۔ جن میں سے ایک یہ بھی تھا ۔”انا زوجنکھا (انجام آتھم ص ٦٠ خزائن ج ١١ ص ایضاً) یعنی اے مرزا ہم نے تیرا نکاح محمدی بیگم سے کر دیا ہے۔“ انتظار کرتے کرتے مرزا قادیانی تھک گئے۔ آخر ١٨٩١ء میں مرزا قادیانی سخت بیمار ہوئے موت کے خیال پر جب محمدی بیگم والی پیشگوئی میں جھوٹا ہونے کا خیال گزرا تو الہام ہوا۔ ”الحق من ربک فلا تکونن من الممترین (ایضاً) یعنی یہ بات تیرے رب کی طرف سے سچ ہے تو کیوں شک کرتا ہے۔“
دیکھئے! یہاں مرزا قادیانی کے خدا نے مرزا قادیانی کو یقین دلانے کو صرف اتنا ہی کہا۔ ”الحق من ربک“ حالانکہ ابھی نکاح نہیں ہوا۔ پہلے ہی سے اس کے ہونے کا اعلان کر کے محض اعلان ہی کو دلیل قرار دیا جا رہا ہے۔ جس دلیل سے مرزا قادیانی کے لیے ایک پیشگوئی کا اعلان دلیل ہو گیا۔ آئندہ حکم کے حق ہونے کا۔ اسی دلیل سے یہاں بھی انہ لعلم للساعة دلیل سمجھ لیں۔ فلا تمترن بھا کی (ذرا غور سے سمجھیے) مگر یہ سب بیان ہمارا الزامی رنگ میں ہے۔ ورنہ مرزا قادیانی کا یہ اعتراض مبنی ہے۔ علوم عربیہ سے جہالت مطلقہ پر۔
مضحکہ خیز تفسیر قادیانی: تفسیر از مرزا غلام احمد قادیانی
- ١...... ”یہ کیسی بدبو دار نادانی ہے جو اس جگہ لفظ ساعة سے مراد قیامت سمجھتے ہیں۔ اب
مجھ سے سمجھو کہ ساعة سے مراد اس جگہ وہ عذاب ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعد طیطوس رومی کے ہاتھ سے یہودیوں پر نازل ہوا تھا۔“ (اعجاز احمدی ص ٢١ خزائن ج ١٩ ص ١٢٩)
- ٢...... ”حق بات یہ ہے کہ انہ کی ضمیر قرآن شریف کی طرف پھرتی ہے اور آیت کے
معنی یہ ہیں کہ قرآن شریف مردوں کے جی اٹھنے کے لیے نشان ہے کیونکہ اس سے مردہ دل زندہ ہوتے ہیں۔“
(ازالہ ص ٤٢٣ خزائن ج ٣ ص ٣٢٢)
- ٣...... ان فرقة من اليهود اعنى الصدوقين كانوا كافرين بوجود القيامة فاخبرهم
الله على لسان بعض انبياء ہ ان ابنا من قومهم يولد من غير اب وهذا يكون آية لهم على وجود القيامة فالى هذا اشار فى آية وانه لعلم للساعة ”یہود کا ایک فرقہ صدوقین نامی قیامت کے وجود سے منکر تھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے بعض نبیوں کے واسطے سے انھیں خبر دی کہ اُن کی قوم میں سے ایک لڑکا بغیر باپ کے پیدا ہوگا اور وہ قیامت کے وجود پر دلیل ہو گا۔ پس اسی طرف اشارہ کیا ہے اللہ تعالیٰ نے اس آیت وانہ لعلم
للساعة میں۔“
(حمامة البشریٰ ص ٩٠ خزائن ج ٧ ص ٣١٦)
نوٹ: مرزا قادیانی نے اسلامی تفسیر کی تردید میں جو دلیل بیان کی ہے۔ (دیکھو اعتراض نمبر ٢ از مرزا قادیانی) اگر وہ صحیح قرار دی جائے تو ناظرین وہی عبارت تھوڑے سے تغیر کے ساتھ مرزا قادیانی کی اس تفسیر کے رد میں پڑھ لیں۔ اجمالاً ہم لکھ دیتے ہیں۔ صدوقین منکر قیامت تھے۔ قیامت کی دلیل یہ دی جاتی ہے کہ آئندہ زمانہ میں ایک لڑکا بغیر باپ کے پیدا ہوگا۔ جب تک دلیل موجود نہ ہو۔ دعویٰ کے تسلیم کر لینے کا مطالبہ کرنا کس طرح جائز ہو سکتا ہے؟
- ٤...... ان المراد من العلم تولده من غير اب على طريق المعجزة كما تقدم
ذكره في الصحف السابقة. (ضمیمہ حقیقۃ الوحی ص ٣٩ خزائن ج ٢٢ ص ٦٧٤) ”العلم سے مراد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا بغیر باپ کے پیدا ہونا ہے بطور معجزہ کے جیسا کہ پہلی کتابوں میں اس کا ذکر ہو چکا ہے۔
نوٹ: مرزا قادیانی معلوم ہوتا ہے فن مناظرہ اور اس کے اصولوں سے جاہل مطلق تھے۔ دلیل تو وہ قابل قبول ہوتی ہے جو مخالف کے ہاں قابل قبول ہو بلکہ جس کا رد کرنا مخالف سے آسان نہ ہو۔ ایسی دلیل کو پیش کرنا جس کو مخالف صحیح تسلیم نہیں کرتا۔ یہ مرزا قادیانی جیسے پنجابی نبی ہی کی شان ہو سکتی ہے۔ ورنہ دلیل تو ایسی ہو کہ مخالف کے نزدیک بھی وہ قابل قبول اور حجت ہو سکے۔ جیسا کہ ہم حیات عیسیٰ علیہ السلام کے ثبوت میں قادیانی مسلمات پیش کر کے قادیانی افراد سے قبول حق کی اپیل کر رہے ہیں۔
تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ بقول مرزا قادیانی یہودی (صدوقین) قیامت کے وجود سے منکر تھے۔ ان کے سامنے بقول مرزا قادیانی قیامت کے وجود پر دلیل یہ پیش کی جاتی ہے۔ دیکھو ہم نے ایک لڑکا (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) بغیر باپ کے پیدا کیا ہے۔ یہودی تو اس دلیل ہی کے ٹھیک اور حجت ہونے سے منکر تھے۔ وہ تو کہتے تھے اور عقیدہ رکھتے تھے اور اب بھی رکھتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام (نعوذ باللہ نقل کفر کفر نباشد) ولد الزنا تھے جو دلیل خود محتاج دلیل ہو۔ وہ دلیل کیا ہوئی۔ پس مرزا قادیانی کی تفسیر بھی قرآن کریم کے ساتھ تلعب ثابت ہوئی۔
- ٥...... تفسیر سرور شاہ قادیانی (نام نہاد) صحابی مرزا۔
مرزا قادیانی کا ایک بہت بڑا نام نہاد صحابی سرور شاہ قادیانی اپنے نبی مرزا قادیانی کی تردید عجیب طرز سے کرتا ہے۔ لکھتا ہے۔
”مسیح کے بے باپ ولادت دلیل کس طرح بن سکتی ہے۔ ہمارے نزدیک تو اس کے آسان معنی یہ ہیں کہ وہ مثیل مسیح صاعۃ (قیامت) کا علم ہے۔“
(ضمیمہ اخبار بدر قادیانی ١٩١١ء ص ٦)
- ٦....... تفسیر از احسن امروہی جو مرزا قادیانی کا (نام نہاد) صحابی تھا اور مرزا قادیانی کا
فرشتہ کہلاتا تھا۔
(دیکھو نمبر ٧ جواب اعتراض نمبر ١ کی ذیل میں)
محترم ناظرین! میں نے قادیانی جماعت کی چھ تفسیریں جن میں سے چار مرزا قادیانی کی اپنی ہیں۔ آپ کے سامنے پیش کی ہیں۔ ان کا باہمی تضاد اور مخالفت اظہر من الشمس ہے۔ میں اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتا۔ کلام اللہ سے دو آیتیں اور مرزا قادیانی اور ان کے حواری کے اقوال اور انجیل کی تصدیق پیش کر کے اس بحث کو ختم کرتا ہوں۔
- ١....... پہلی آیت سورۂ حجر ٧٢ کی ہے۔
”اِنَّهُمْ لَفِیْ سَكْرَتِهِمْ يَعْمَهُوْنَ. وہ اپنی بیہوشی میں گمراہ پھر رہے ہیں۔“
- ٢....... دوسری آیت سورۂ نساء ٨٢ میں ہے۔
”وَلَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللّٰهِ لَوَجَدُوْا فِيْهِ اخْتِلَافًا كَثِيْرًا. اگر یہ کلام اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو اسمیں بہت اختلاف پاتے۔“
مرزا قادیانی اور ان کی جماعت اپنی خود غرضی کے لیے اسلامی تفسیر کو چھوڑ کر گمراہی میں سرگرداں ہیں۔ کبھی کچھ کہتے ہیں اور کبھی کچھ۔ مرزا قادیانی کہتے ہیں۔
- ١....... ”ظاہر ہے کہ ایک دل سے دو متناقض باتیں نہیں نکل سکتیں کیونکہ ایسے طریق سے یا
تو انسان پاگل کہلاتا ہے یا منافق۔“
(ست بچن ص ٣١ خزائن ج ١٠ ص ١٤٣)
- ٢....... ”جھوٹے کے کلام میں تناقض ضرور ہوتا ہے۔“
(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ ٥ ص ١١١ خزائن ج ٢١ ص ٢٧٥)
- ٣....... ”اس شخص کی حالت ایک مخبوط الحواس کی حالت ہے کہ ایک کھلا کھلا تناقض اپنے
کلام میں رکھتا ہے۔“
(حقیقۃ الوحی ص ١٨٢ خزائن ج ٢٢ ص ١٩١)
نوٹ: مرزا قادیانی نے اس آیت کی جس قدر تفسیریں کی ہیں۔ ان میں سے ہم نے صرف چار پیش کی ہیں اور دو ان کے حواریوں کی درج کی ہیں۔ سب کی سب کا آپس میں تضاد و تناقض ظاہر ہے۔ پس مرزا قادیانی معہ اپنے جانشینوں کے اپنے ہی فتویٰ کی رو سے پاگل، منافق، جھوٹے اور مخبوط الحواس ثابت ہوئے۔ مرزا قادیانی کے حواری مرزا خدا بخش مصنف ”عسل مصفیٰ“ میں لکھتے ہیں اور علماء اسلام کی تفسیر میں اختلاف ائمہ کے
باره میں لکھتے ہیں۔
”یہ چھ قسم کے معانی علماء متقدمین ومتاخرین نے کیے ہیں اور یہی معانی میری نظر سے گزرے ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر علماء ومفسرین کو یقینی معنی معلوم ہوتے تو وہ کیوں اس قدر چکر کھاتے اور کیوں دور از قیاس آرائیں ظاہر کرتے۔ جب ہم غور سے ان معانی پر نظر کرتے ہیں تو سیاق کلام اور نیز مشاہدہ کے خلاف پاتے ہیں۔“
(عسل مصفیٰ حصہ اوّل ص ٤١٩)
ناظرین! قادیانی تفسیر کے متعلق یہی عبارت پڑھ دیں صرف ”علماء متقدمین و متاخرین کی بجائے“ مرزا اور ان کے حواری ”سمجھ لیں۔“
تصدیق از انجیل
حضرات! یہ تو آپ بخوبی سمجھتے ہیں کہ کلام اللہ، انجیل یا توریت کی نقل نہیں ہے بلکہ ایک بالکل الگ اور براہ راست سلسلہ وحی ہے۔ پس جہاں کہیں قرآن کریم اور انجیل کے مضمون میں مطابقت لفظی یا معنوی عرصہ ظہور میں آ جائے وہاں وہی معنی قابل قبول ہوں گے جو متفق علیہ ہیں۔ خود مرزا قادیانی ہماری تصدیق میں لکھ گئے ہیں۔
”فاسئلو اهل الذکر ان کنتم لا تعلمون یعنی اگر تمھیں ان بعض امور کا علم نہ ہو جو تم میں پیدا ہوں تو اہل کتاب کی طرف رجوع کرو اور ان کی کتابوں کے واقعات پر نظر ڈالو۔ تا اصل حقیقت تم پر منکشف ہو جائے۔“ (ازالہ اوہام ص ٦١٦ خزائن ج ٣ ص ٤٣٣)
سو ہم نے جب موافق اس حکم کے نصاریٰ کی کتابوں کی طرف رجوع کیا تو مندرجہ ذیل عبارت پر نظر پڑی۔ انجیل متی باب ٢٤ آیت ٣١ تا ٣٣
”جب وہ زیتون کے پہاڑ پر بیٹھا تھا تو اس کے شاگرد الگ اس کے پاس آ کر بولے۔ ہمیں بتا کہ یہ باتیں کب ہوں گی اور تیرے آنے اور دنیا کے آخر ہونے کا نشان۔ (انه لعلم للساعۃ قرآن کریم) یسوع نے جواب میں ان سے کہا خبردار کوئی تمھیں گمراہ نہ کر دے کیونکہ بہتیرے میرے نام سے آئیں گے اور کہیں گے کہ میں مسیح ہوں اور بہت سے لوگوں کو گمراہ کریں گے...... اس وقت اگر کوئی تم سے کہے کہ دیکھو مسیح یہاں ہے یا وہاں ہے تو یقین نہ کرنا کیونکہ جھوٹے مسیح اور جھوٹے نبی اٹھ کھڑے ہوں گے۔...... میں نے پہلے ہی تم سے کہہ دیا ہے۔...... پس اگر وہ تم سے کہیں کہ دیکھو وہ بیابان میں ہے تو باہر نہ جانا۔ دیکھو وہ کوٹھڑیوں میں ہے۔ تو یقین نہ کرنا کیونکہ جیسے بجلی پورب
سے کوندھ کر پچھم تک دکھائی دیتی ہے۔ ویسے ہی ابن مریم کا آنا ہوگا...... ابن مریم کو بڑی قدرت اور جلال کے ساتھ آسمان کے بادلوں پر آتے دیکھیں گے ۔" یہی مضمون انجیل مرقس باب ١٣ اور انجیل لوقا باب ٢١ میں مرقوم ہے۔ انجیل کے اس مضمون سے مندرجہ ذیل نتائج نکلتے ہیں۔
- ١...... حضرت عیسیٰ ابن مریم ؑ خود دوبارہ نازل ہوں گے کیونکہ اپنے تمام مثیلوں سے
بچنے کی ہدایت کر رہے ہیں۔
- ٢...... حضرت عیسیٰ ؑ کا دوبارہ آنا قیامت کی نشانی ہے۔
- ٣...... جھوٹے مسیح اور جھوٹے نبی اٹھ کھڑے ہوں گے۔
- ٤...... حضرت مسیح ؑ آسمان سے اچانک نازل ہوں گے۔
- ٥...... حضرت عیسیٰ ؑ نازل ہونے کے بعد بڑی قدرت اور جلال کے ساتھ آئیں
گے۔ یہی مضمون کلام اللہ میں موجود ہے۔ جیسا کہ ہم تصریح کر چکے ہیں۔ پس قادیانی جماعت پر لازم ہے کہ مرزا قادیانی کے بیان کردہ معیار کے مطابق حق کو قبول کر کے مرزائیت سے اپنی بیزاری کا اعلان کر دیں۔
نتیجہ مرزا قادیانی اپنی کتاب ازالہ اوہام میں لکھتے ہیں۔ ”اس جگہ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ مسیح کا جسم کے ساتھ آسمان سے اترنا اس کے جسم کے ساتھ چڑھنے کی فرع ہے۔ لہٰذا یہ بحث بھی (کہ مسیح اسی جسم کے ساتھ آسمان سے اترے گا۔ جو دنیا میں اسے حاصل تھا) اس دوسری بحث کی فرع ہوگی جو مسیح جسم کے ساتھ آسمان پر اٹھایا گیا تھا ۔“
(ازالہ اوہام ص ٢٢٩ خزائن ج ٣ ص ٢٣٦) ہم نے حضرت عیسیٰ ؑ کا جسم کے ساتھ آسمان سے اترنا ثابت کر دیا ہے۔ پس حسب قول مرزا قادیانی ثابت ہو گیا کہ حضرت مسیح ؑ اسی جسم کے ساتھ آسمان پر اٹھائے گئے کیونکہ حضرت مسیح ؑ کا دوبارہ نازل ہونا جبھی مانا جاسکتا ہے جبکہ ان کا آسمان پر اسی جسم کے ساتھ جانا تسلیم کر لیا جائے ۔ فالحمد للہ علی ذالک۔
قرآنی دلیل....... ٦ اِذْ قَالَ اللّٰهُ يٰعِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ اذْكُرْ نِعْمَتِىْ عَلَيْكَ وَعَلٰى وَالِدَتِكَ اِذْ اَيَّدْتُّكَ بِرُوْحِ الْقُدُسِ تُكَلِّمُ النَّاسَ فِى الْمَهْدِ وَكَهْلاً. (المائدۃ ١١٠) ”جب کہے گا اللہ تعالیٰ اے عیسیٰ ؑ بیٹے مریم کے یاد کر ان نعمتوں کو جو کیں میں نے تجھ پر اور تیری ماں پر۔ جبکہ میں نے مدد دی تجھ کو جبرائیل ؑ کے ساتھ باتیں کرتا تھا تو لوگوں سے پنگھوڑے میں اور بڑی عمر میں۔“
محترم بزرگو! میں نے لفظی ترجمہ کر دیا ہے۔ اب میں قادیانیوں کے مسلمہ مجددین امت امام فخر الدین رازیؒ مجدد صدی ششم اور امام جلال الدین سیوطیؒ مجدد صدی نہم کی تفسیر سے اس آیت کی تفسیر پیش کرتا ہوں۔ اگر قادیانی کوئی اعتراض کریں تو رسالہ ہذا کی تمہید میں قادیانی اصول و عقائد نمبر ٤ سامنے رکھ دیں تاکہ شاید اپنے ہی منہ سے کافر و فاسق بننے سے شرما کر اسلامی تفسیر کی تائید میں رطب اللسان ہو جائیں۔
اس آیت کی تفسیر میں امام جلال الدین مجدد صدی نہمؒ فرماتے ہیں۔ اِذَا اَیدْتک (قَوَّیْتُک) بِرُوْحِ الْقُدُسِ (جبرائیل) تُکَلِّمُ النَّاسَ حَالَ مِنَ الکاف فی ایدتک فى المهد اى طفلا وَکَهْلاً یفید نزوله قبل الساعة لانه رُفِعَ قبل الکهولة کما سبق فی آل عمران (جلالین ص ١١٠ زیر آیت کریمہ) ”یاد کر اے عیسیٰ ؑ! وہ وقت جبکہ ہم نے قوت دی تم کو ساتھ جبرائیل ؑ کے درآنحالیکہ تو باتیں کرتا تھا بچپن میں اور کہولت کی حالت میں جس سے حضرت عیسیٰ ؑ کا قیامت سے پہلے آسمان سے نازل ہونا ثابت ہوتا ہے کیونکہ وہ کہولت (ادھیڑ عمر) سے پہلے اٹھائے گئے تھے۔ جیسا کہ آل عمران میں گزر چکا ہے۔“
حضرات! حضرت عیسیٰ ؑ کے متعلق اللہ تعالیٰ سورۂ بقرہ ٨٧-٢٥٣ میں دو جگہ فرماتے ہیں وَاَیَّدْنَاهُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ امام موصوف اس کی تفسیر میں فرماتے ہیں۔ وَاَیَّدْنَاهُ قویناهُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ من اضافة الموصوف الى الصفة اى الروح المقدسة جبرائیل لطهارته یسیر معه حیث سار ”ہم نے قوت دی حضرت عیسیٰ ؑ کو جبرائیل ؑ کے ساتھ جو جاتا تھا جہاں وہ جاتے تھے۔“
(دیکھو جلالین ص ١٣ زیر آیت کریمہ)
اس آیت کی تفسیر امام فخر الدین رازی مجدد صدی ششمؒ فرماتے ہیں۔ نُقِلَ ان عمر عیسیٰ ؑ الى ان رفع کان ثلاثا و ثلاثین سنة و ستة اشهر و على ہٰذا التقدیر فهو ما بلغ الکهولة والجواب من و جهین...... والثانی هو قول الحسین بن الفضل البجلی ان المراد بقوله وَکَهْلاً ان یکون کَهْلاً بعد ان ینزل من السماء فی آخر الزمان ویکلم الناس و یقتل الدجال قال الحسین بن الفضل وفى هذه الایة نص فى انه ؑ سینزل الى الارض (تفسیر کبیر جز ٨ ص ٥٥) ”نقل کیا گیا ہے کہ عیسیٰ ؑ کی عمر جب وہ آسمان پر اٹھائے گئے۔ ٣٣-١/٢ برس تھی اور اس صورت میں نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ دنیا میں کہولت (ادھیڑ عمر) تک نہیں پہنچے تھے۔
(پس کہولت میں کلام کرنے کا مطلب کیا ہوا) اس کا جواب دو طریقوں سے ہے۔...... دوسرا جواب امام حسین بن الفضل البجلی کا قول ہے کہ مراد کہلاً سے یہ ہے کہ وہ کہل (ادھیڑ عمر کا) ہوگا جبکہ وہ نازل ہوگا۔ آسمان سے آخری زمانہ میں اور باتیں کرے گا لوگوں سے اور قتل کرے گا دجال کو۔ امام حسین بن الفضل کہتے ہیں کہ یہ آیت نص ہے اس بات پر کہ عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ زمین پر نازل ہوں گے۔“
(تشریحی نوٹ از خاکسار ابو عبیدہ مؤلف رسالہ ہذا)
اللہ تعالیٰ اس آیت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اپنے غیر معمولی انعامات یاد کرا رہے ہیں۔ غیر معمولی انعامات سے مراد میری وہ انعامات ہیں جو عام انسانوں کو حاصل نہیں ورنہ ہیں وہ بھی انعام ہی۔ مثلاً آنکھیں ناک، منہ، دانت، دماغ، لباس والدین، اولاد، خوراک، پھل وغیرہ۔
ناظرین! قرآن کریم کی سورہ مائدہ کا آخری رکوع کھول کر ان انعامات کا تذکرہ پڑھیں ۔ سب کی سب غیر معمولی نعمتیں ہیں۔ میں ساری نعمتوں کو یہاں گن دیتا ہوں۔
- ١....... روح القدس یعنی جبرائیل علیہ السلام کی تائید کا ہر وقت ساتھ رہنا۔
- ٢....... بچپن (پنگھوڑے) میں کلام بلاغت نظام کرنا۔
- ٣....... ادھیڑ عمر میں کلام بلاغت نظام کرنا۔
- ٤....... کتاب، حکمت اور توریت و انجیل کا پڑھنا۔
- ٥....... معجزہ خلق طیر (پرندوں کا بنانا)
- ٦....... معجزہ احیاء موتیٰ (مردوں کا زندہ کرنا) و ابراء اکمہ و ابرص۔
- ٧....... بنی اسرائیل کے شر سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو محفوظ رکھنا۔
ناظرین! ان نعمتوں میں سے نمبر ٣ و نمبر ٧ تو ابھی زیر بحث ہیں۔ ان کے علاوہ بقیہ نعمتوں کا خیال کیجئے۔ سب کی سب ایسی نعمتیں ہیں۔ جن سے عام انسان محروم ہوتے ہیں۔ نبوت و کتاب کا ملنا۔ معجزات کا غیر معمولی ہونا تو سبھی کو مسلم ہے۔ بچپن میں باتیں کرنے سے مراد بعض لوگوں کے نزدیک قابل قبول نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ مراد اس سے ناتجربہ کار نوجوان آدمی کا کلام ہے۔ یہ معنی کئی وجوہات سے مردود ہیں۔
- ١....... سورۂ مریم میں اللہ تعالیٰ نے جب مریم کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش بے پدر کی
بشارت دی اور پھر حمل ہو کر آخر وضع حمل کی نوبت آئی تو حضرت مریم ایک الگ جگہ
میں جا کر درد زہ اور خوف طعن و تشنیع کے مارے عرض کرنے لگیں کہ اے کاش میں اس موقعہ سے پہلے مر کر بھولی جا چکی ہوتی تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے جبرائیل ؑ نے جواب دیا کہ اے مریم غم نہ کر ...... اگر تو کسی آدمی کو دیکھے (جو تجھ پر طعن کرے اور اس کے بارہ میں سوال کرے) تو کہہ دینا کہ آج میں نے اللہ کی خاطر (چپ رہنے کا) روزہ رکھا ہوا ہے۔ آج تو ہرگز بات نہ کروں گی۔ پس وہ حضرت عیسیٰ ؑ کو اٹھا کر قوم کے پاس لے آئی۔ قوم نے جب دیکھا تو کہنے لگی کہ اے مریم تو یہ طوفان (بے باپ کا لڑکا) کہاں سے لے آئی ہے۔ اے ہارون کی بہن، تیرا باپ زانی نہیں تھا اور تیری ماں بھی زانیہ نہ تھی۔ پس تو یہ لڑکا کہاں سے لے آئی ہے۔ پس حضرت مریم ؑ نے حضرت عیسیٰ ؑ کی طرف اشارہ کیا کہ اس سے بات کرو۔ انھوں نے کہا۔ ہم اس بچے سے کیسے کلام کریں جو ابھی پنگھوڑے میں پڑا ہے۔ اس کے بعد حضرت عیسیٰ ؑ نے کلام کر کے اپنی اور اپنی ماں کی زنا کے الزام سے بریت کا اعلان کیا۔
(ملخص از تفسیر جلالین ص ٢٥٥ زیر آیت کریمہ)
- ٢...... ذیل کی حدیث نبوی ہماری تائید کا ڈنکے کی چوٹ اعلان کر رہی ہے۔ عن ابی
هریره عن النبی ﷺ قال لم يتكلم في المهد الا ثلاثة عیسیٰ و ...... الی آخر الحديث (بخاری شریف ج ١ ص ٤٨٩ باب واذکر فی الکتاب مریم) ”حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ حضرت نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ تین بچوں کے سوا کسی نے ماں کی گود میں شیر خوارگی کی حالت میں کلام نہیں کیا۔ ایک تو حضرت عیسیٰ ؑ نے اور ...... آخری حدیث تک۔ بخاری شریف مرزا قادیانی کے نزدیک اصح الکتب بعد کتاب اللہ ہے۔ اس میں یہ حدیث موجود ہے۔
- ٣...... حضرت ابن عباسؓ جو مرزا قادیانی کے نزدیک قرآن شریف کے جاننے والوں میں
سے اوّل نمبر پر تھے۔ وہ فرماتے ہیں۔ عن ابن جریج قال قال ابن عباسؓ (ویکلم الناس فی المہد) قال مضجع الصبی فی رضاعہ۔
(تفسیر ابن جریر ج ٣ ص ٢٧١ در منثور ج ٢ ص ٢٥)
یعنی حضرت ابن عباسؓ نے فرمایا کہ مراد اس آیت میں دودھ پینے کی حالت میں بچے کا پنگھوڑے میں کلام کرنا ہے۔
دیکھئے! یہ قول و تفسیر حضرت ابن عباسؓ کی ہے اور روایت کیا ہے اس کو اول ابن جریر نے جو مرزا قادیانی کے نزدیک ایک زبردست محدث اور مفسر تھے اور دوسرے
امام جلال الدین سیوطیؒ نے جو مجدد صدی نہم تھے۔ پس جو آدمی اس روایت کے قبول کرنے سے انکار کرے وہ حسب فتویٰ مرزا قادیانی کافر و فاسق ہو جائے گا۔
- ٤......خود مرزا قادیانی نے اس تفسیر کو قبول کر لیا ہے۔ ”اور یہ عجیب بات ہے کہ حضرت
مسیح ؑ نے تو صرف مہد (پنگھوڑے) میں ہی باتیں کیں۔ مگر اس لڑکے (پسر مرزا) نے پیٹ میں دو مرتبہ باتیں کیں۔“
(تریاق القلوب ص ٤١ خزائن ج ١٥ ص ٢١٧)
- ٥......پنگھوڑے میں باتیں کرنا تین وجہوں سے عقلاً بھی صحیح معلوم ہوتا ہے۔
- ١......حضرت عیسیٰ ؑ کی پیدائش بطور معجزہ بغیر باپ کے ہوئی تھی اور حضرت
جبرائیل ؑ کے نفخہ سے واقع ہوئی تھی۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ سورۃ مریم میں حضرت جبرائیل ؑ کا قول نقل فرماتے ہیں۔ ”لاھب لک غلاماً زکیاً یعنی اے مریم میں تجھے ایک پاکیزہ لڑکا دینے آیا ہوں۔“ خود مرزا قادیانی نے حضرت عیسیٰ ؑ کی معجزانہ پیدائش کو بہت جگہ قبول کر لیا ہے۔ (دیکھو ضمیمہ حقیقۃ الوحی ص ٤٩ خزائن ج ٢٢ ص ٦٧٢)
اب ایک منٹ کے لیے ہم ناظرین کو سورۂ طہٰ کی سیر کراتے ہیں۔ اس کے رکوع ٥ کا مطالعہ کریں۔ وہاں سامری اور اس کے گوسالہ کے متعلق حضرت موسیٰ ؑ سامری سے گفتگو فرماتے ہیں۔
قال فما خطبک یسامری قال بصرت بما لم یبصروا بہ فقبضت قبضۃً من اثر الرسول فنبذتھا وکذالک سولت لی نفسی ”موسیٰ ؑ نے کہا اے سامری تیرا کیا معاملہ ہے۔ اس نے کہا کہ مجھ کو ایسی چیز نظر آئی جو اوروں کو نظر نہ آئی۔ پھر میں نے اس فرستادہ خداوندی (حضرت جبرائیل ؑ) کے نقش قدم سے ایک مٹھی بھر خاک اٹھا لی تھی۔ سو میں نے وہ مٹھی خاک اس قالب کے اندر ڈال دی اور میرے جی کو یہی بات پسند آئی“ (اس مٹی کے ڈالنے سے اس میں ایک آواز پیدا ہو گئی)
(ملخص تفسیر ابن عباس مندرجہ در منثور ج ٤ ص ٣٠٧)
نکتہ عجیبہ حضرات! حضرت جبرائیل ؑ کے نقش قدم سے مٹی میں خدا نے یہ تاثیر رکھی ہوئی ہے کہ وہ ایک بے جان دھات کے ڈھانچے میں آواز پیدا کر سکتی ہے۔ پس قابل غور یہ امر ہے۔ وہی جبرائیل اپنی پھونک سے حضرت مریم کو باذن الہٰی حمل ٹھہراتا ہے اس نفخہ جبرائیلی سے حضرت عیسیٰ ؑ پیدا ہوتے ہیں۔ کیا حضرت عیسیٰ ؑ سے گود میں باتیں کرنا اس گوسالہ بے جان کے بولنے سے زیادہ مشکل ہے؟ نہیں ہرگز نہیں۔
بلکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا پنگھوڑے میں باتیں کرنا زیادہ قرین قیاس ہے کیونکہ گوسالہ ایک تو بے جان تھا۔ اس میں جان پڑ گئی پھر گوسالہ بولنے بھی لگا۔ یہاں تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے انسان ہونے کی حیثیت سے آخر بولنا ہی تھا۔ نفخ جبرائیلی سے پنگھوڑے میں باتیں کرنے کی اہلیت پیدا ہو گئی اور یہی نفخ جبرائیلی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع الی السماء میں مناسبت پیدا کرنے کا باعث ہو گیا۔
- ب...... اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش بے پدر کو لوگوں کے لیے ایک نشان
(آیۃ) بنانا چاہتے تھے۔ چنانچہ سورۂ مریم میں مذکور ہے۔ ولنجعلہ آیۃ ہم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بغیر باپ کے اس واسطے پیدا کیا ہے تاکہ ہم ان لوگوں کے لیے اپنا ایک نشان بنائیں۔ چنانچہ مرزا قادیانی نے بھی ہماری اس تفسیر کو صحیح تسلیم کیا ہے۔
(دیکھو ضمیمہ حقیقۃ الوحی ص ٤٩ خزائن ج ٢٢ ص ٦٧٢)
پس اللہ تعالیٰ نے گود میں باتیں کرا کر پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زبان فیض ترجمان سے ان کی پیدائش کا معجزانہ ہونا ثابت کیا۔ اگر گود میں ان کا کلام کرنا تسلیم نہ کیا جائے تو ان کی پیدائش بے پدر کو الٰہی نشان ثابت کرنا مشکل ہو جائے گا کیونکہ اس کے بغیر خود پیدائش بے باپ بغیر ثبوت کے رہ کر ناقابل قبول ہو جائے گی۔ جو دلیل خود دلیل کی محتاج ہو وہ دلیل ہونے کی اہلیت نہیں رکھتی۔ چنانچہ خود مرزا قادیانی دلیل کی تعریف میں اپنی کتابوں میں لکھتے ہیں۔
- ج...... مرزا قادیانی نے تریاق القلوب میں لکھا ہے۔
”کہ میرے اس لڑکے (پسر مرزا) نے ماں کے پیٹ میں دو مرتبہ باتیں کیں ہیں۔“
(تریاق القلوب ص ١٥٧ خزائن ج ١٥ ص ٤٧١)
غور کیجئے! ماں کے پیٹ میں باتیں کرنا زیادہ مشکل ہے یا گود میں دودھ پیتے بچے کا باتیں کرنا۔ یقیناً اوّل الذکر صورت تو ناممکن محض ہے کیونکہ کلام کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہوا موجود ہو۔ منہ، ہونٹ، زبان وغیرہم حرکت کر سکتے ہوں۔ پھیپھڑے کام کر رہے ہوں۔ باوجود اس کے جب مرزا مبارک پسر مرزا نے اپنی ماں کے پیٹ کے اندر دو مرتبہ باتیں کیں تھیں اور لاہوری و قادیانی مرزائیوں نے مرزا قادیانی کے قول کو تسلیم کر لیا ہے۔ تو انھیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے گود میں باتیں کرنا کیوں ناممکن اور مستبعد نظر آتا ہے۔ اب کہول (یعنی ادھیڑ عمر میں باتیں کرنا) کے متعلق چند نکات بیان کر کے نتیجہ ناظرین کی فہم رسا پر چھوڑتے ہیں۔
ادھیڑ عمر میں باتیں کرنا کروڑہا انسانوں سے ہم روزمرہ مشاہدہ کر رہے ہیں۔ پس فرشتے کا حضرت مریم علیہا السلام کو یوں کہنا کہ ”ہم تمھیں بشارت دیتے ہیں کہ تیرا لڑکا ادھیڑ عمر میں باتیں کرے گا۔“ ایک ایسی بات کی بشارت دینا ہے جو بے شمار لوگوں کو حاصل ہے۔ بشارت کسی غیر معمولی امر میں ہوا کرتی ہے۔ یا اس وقت جبکہ کوئی آدمی معمولی نعمت سے محروم ہوا جا رہا ہو۔ مثلاً کوئی آدمی نابینا ہو جائے تو ایسے وقت میں آنکھ کا مل جانا بے شک بشارت ہو سکتا ہے۔ مگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ماں کو کیا عیسیٰ علیہ السلام کی کہولت کے زمانہ میں کوئی لُکنت کا اندیشہ تھا کہ خدا نے لکنت کے دور ہونے کی بشارت دی؟ ہرگز نہیں بلکہ اس کہولت میں ایک خصوصیت تھی۔ جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے کہولت کے زمانہ میں باتیں کرنا بھی خاص نعمتوں میں شمار کیا وہ یہ کہ باوجود ہزارہا سال تک آسمان پر رہنے کے جب وہ دوبارہ دنیا میں نازل ہوں گے تو اس وقت بھی کہولت کا زمانہ ہوگا چونکہ ان کی عمر اور جسم پر زمانہ کا اثر نہیں ہوا ہوگا۔ اس لحاظ سے اس نعمت کا تذکرہ کر کے شکریہ کا حکم دے رہے ہیں۔ ورنہ اگر دوسرے انسانوں کی طرح ہی انھوں نے بھی کہولت میں باتیں کرنی ہوتیں تو پھر دوسری عام انسانی نعمتوں کو بھی پیش کیا ہوتا مثلاً یوں کہا ہوتا۔ ”اے عیسیٰ علیہ السلام ہماری نعمتوں کو یاد کر۔ ہم نے تمھیں دو آنکھیں دی تھیں۔ دو کان عطا کیے تھے۔ کھانے کو رنگا رنگ پھل دیے تھے۔ تم جوانی میں بولتے تھے۔ ہم نے تمھیں لباس دیا تھا۔ سوچنے کو دماغ مرحمت فرمایا۔ وغیرہ ذالک۔“ مگر نہیں ایسا نہیں فرمایا کیونکہ عام نعمت کو ذکر کرنا بھی عام رنگ ہی میں موزوں ہوتا ہے۔
تصدیق از مرزا قادیانی
”اس پیشگوئی (نکاح آسمانی) کی تصدیق کے لیے جناب رسول اللہ ﷺ نے بھی پہلے سے ایک پیشگوئی فرمائی ہے کہ یتزوج ویولد لہ یعنی وہ مسیح موعود بیوی کرے گا اور نیز وہ صاحب اولاد بھی ہوگا۔ اب ظاہر ہے کہ تزوج اور اولاد کا ذکر کرنا عام طور پر مقصود نہیں کیونکہ عام طور پر ہر ایک شادی کرتا ہے اور اولاد بھی ہوتی ہے بلکہ تزوج سے مراد وہ خاص تزوج ہے جو بطور نشان ہوگا۔ الخ“ (ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٣ خزائن ج ١١ ص ٣٣٧ حاشیہ)
حضرات! غور فرمائیے کہ محض تزوج و اولاد کا عام طور پر ذکر ہے۔ مرزا قادیانی نے کھینچ تان کر تزوج اور اولاد کے لیے ایک خصوصیت ثابت کر دی کیونکہ یہ دونوں باتیں مسیح موعود کے متعلق ہیں۔ ویکلم الناس فی المہد وکہلا میں تو خدا تعالیٰ خصوصیت
کے ساتھ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر اپنی خاص خاص نعمتوں کو پیش کر رہے ہیں۔ پس کہل کے معنی عام کہل لینے سے وہ اعتراض بدرجہ اولیٰ عود کر آئے گا جو مرزا قادیانی کی مذکورہ بالا عبارت میں مذکور ہے۔ یعنی کہولت (ادھیڑ عمر) میں باتیں کرنا عام طور پر مقصود نہیں کیونکہ عام طور پر ہر ایک کہولت میں باتیں کرتا ہے۔ کہولت میں باتیں کرنے سے مراد وہ خاص کہولت ہے جو باوجود ہزار ہا سال گزر جانے کے قائم رہی ہو اور مرزا قادیانی کی پادر ہوا دلائل وفات مسیح علیہ السلام کو خس و خاشاک میں ملانے والی ہو۔
نوٹ: ہماری پیش کردہ اسلامی تفسیر پر قادیانیوں کے دجل و فریب کا کوئی وار نہیں چلتا کیونکہ ہم نے کہولت کی تعریف کو مبحث بننے ہی نہیں دیا۔ کہولت کے جو کچھ بھی معنی ہوں وہ ہمیں منظور ہیں۔ ہماری پیش کردہ تفسیر ماشاء اللہ ہر حال میں لاجواب ہے۔ فالحمد لله على ذالک۔
قرآنی دلیل.......٧
واذ کففت بنی اسرائیل عنک اذ جئتہم بالبینات فقال الذین کفروا منہم ان ہذا الا سحر مبین۔ (مائدہ ١١٠) ”(اے عیسیٰ علیہ السلام) یاد کر اس وقت کو جبکہ میں نے بنی اسرائیل کو تم سے (یعنی تمھارے قتل و ہلاک کرنے سے) باز رکھا جب تم ان کے پاس نبوت کی دلیلیں لے کر آئے تھے پھر ان میں سے جو کافر تھے انھوں نے کہا کہ یہ معجزات بجز کھلے جادو کے اور کچھ بھی نہیں۔“
ہم پہلے اپنی پیش کردہ اسلامی تفسیر کی تائید میں قادیانیوں کے مسلمہ مجدد صدی ششم امام ابن کثیر و امام فخر الدین رازی اور مجدد صدی نہم امام جلال الدین سیوطی رحمہم اللہ تعالیٰ کی تفسیریں پیش کرتے ہیں تا کہ قادیانی زبان میں حسب قول مرزا مہر سکوت لگ جائے۔
- ١....... تفسیر امام فخر الدین رازیؒ۔ روى انه عليه الصلوٰة والسلام لما اظهر هذه
المعجزات العجيبة قصد اليهود قتله فخلصه الله تعالى منهم حيث رفعه الى السماء (تفسیر کبیر جز ١٢ ص ١٢٧ زیر آیت کریمہ) ”روایت ہے کہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے یہ عجیب و غریب معجزات دکھائے تو یہود نے ان کے قتل کا ارادہ کیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو یہود سے خلاصی دی۔ اس طرح کہ ان کو آسمان پر اٹھا لیا۔“
- ٢....... تفسیر امام جلال الدین سیوطیؒ۔ واذ کففت بنی اسرائیل عنک. حین ھموا بقتلک.
(تفسیر جلالین ص ١١٠ زیر آیت واذ کففت بنی اسرائیل)
”(یاد کر ہماری اس نعمت کو جبکہ) ہم نے روک لیا بنی اسرائیل کو تجھ سے جس
وقت ارادہ کیا یہودیوں نے تیرے قتل کا۔"
مطلب اس کا صاف ہے۔ کف کا فعل اسی وقت واقع ہو گیا جبکہ یہود نے حضرت عیسیٰ ؑ کے قتل کا ابھی صرف ارادہ ہی کیا تھا۔ کوئی عملی کارروائی نہیں کرنے پائے تھے۔
- ٣...... تفسیر ابن کثیر۔ ای واذکر نعمتی علیک فی کفّی ایاہم عنک حین جئتہم
بالبراہین و الحجج القاطعة علی نبوتک و رسالتک من الله الیہم فکذبوک و اتھموک بانّک ساحر و سعوا فی قتلک و صلبک فنجیتک منہم و رفعتک الیّ وطہّرتک من دنسہم و کفیتک شرہم.
(ابن کثیر ج ٢ ص ١١٥ زیر آیت کریمہ)
’’یعنی اے مسیح ؑ! تو وہ نعمت یاد کر جو ہم نے یہود کو تم سے دور ہٹائے رکھنے سے کی۔ جب تو ان کے پاس اپنی نبوت و رسالت کے ثبوت میں۔ یقینی دلائل اور قطعی ثبوت لے کر آیا۔ تو انھوں نے تیری تکذیب کی اور تجھ پر تہمت لگائی کہ تو جادوگر ہے اور تیرے قتل و سولی دینے میں سعی کرنے لگے تو ہم نے تجھ کو ان میں سے نکال لیا اور اپنی طرف اٹھا لیا اور تجھے ان کی میل سے پاک رکھا اور ان کی شرارت سے بچا لیا۔‘‘
محترم ناظرین! ان تین اکابر مفسرین مسلمہ مجددین قادیانی کی تفسیر کے بعد مزید بیان کی ضرورت نہیں مگر مناظرین کے کام کی چند باتیں یہاں درج کرنا مناسب سمجھتا ہوں۔
- ١....... کف کے لفظی معنی ہیں باز گردانیدن یعنی روکے رکھنا۔
- ٢....... قرآن شریف میں یہ لفظ مندرجہ ذیل جگہوں میں استعمال ہوا ہے۔
- ا....... ویکفوا ایدیہم.
(سورۂ نساء ٩١)
- ب....... فکف ایدیہم عنکم.
(سورۂ مائدہ ١١)
- ج....... کُفُّوا ایدیہم.
(سورۂ نساء ٧٧)
- د....... و کف ایدی الناس عنکم.
(سورۂ فتح ٢٠)
- ہ....... ھو الذی کف ایدیہم عنکم و ایدیکم عنہم.
(فتح ٢٤)
ان تمام آیات کو مکمل طور پر پڑھ کر دیکھ لیا جائے۔ سیاق و سباق پر غور کر لیا جائے۔ کَفَّ کے مفعول کو عَنْ کے مجرور سے بکلی روکا گیا ہے۔ مثال کے طور پر سورۂ فتح کی آیۃ وَهُوَ الَّذِیْ کَفَّ اَیْدِیَهُمْ عَنْکُمْ وَاَیْدِیَکُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَکَّةَ مِنْ بَعْدِ اَنْ
اَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ ہی کو لے لیجئے۔ ”اور وہ (اللہ) وہی ہے جس نے روک رکھے ان کے ہاتھ تم سے اور تمھارے ہاتھ ان سے مکہ کے قریب میں بعد اس کے کہ اللہ تعالیٰ نے قابو دیا تم کو ان پر۔“ اس آیت میں صلح حدیبیہ کی طرف اشارہ ہے اور قادیانی بھی بلا نکیر اس امر کو صحیح مانتے ہیں کہ صلح حدیبیہ میں مطلق کوئی لڑائی بھڑائی مسلمانوں اور کفار کے درمیان نہیں ہوئی۔ تفصیل کے لیے دیکھیے جلالین، ابن کثیر اور تفسیر کبیر یہاں قادیانیوں کے مسلمہ مجددین ہماری تائید میں رطب اللسان ہیں۔ دوسری آیت سورۂ مائدہ کی ملاحظہ ہو۔
یایھا الذین آمنوا اذکروا نعمۃ اللہ علیکم اذ ھم قوم ان یبسطوا الیکم ایدیھم فکف ایدیھم عنکم۔ ”اے مسلمانو! تم اللہ تعالیٰ کی وہ نعمت یاد کرو جو اس نے تم پر کی۔ جب کفار نے تم پر دست درازی کرنی چاہی تو ہم نے ان کے ہاتھ تم سے روکے رکھے۔“
ناظرین! جس طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حق میں کفار یہود نے ہلاک کرنے کی تدبیر کی اور قتل کے ارادے سے سارا انتظام کر لیا تھا۔ ٹھیک اسی طرح یہود بنی نضیر نے رسول کریم ﷺ کو ہلاک کرنے کا ارادہ کیا۔ یہود بنی نضیر کو اللہ تعالیٰ نے اپنے ناپاک ارادوں میں بکلی ناکام رکھا۔ (دیکھو قادیانیوں کے مسلمہ امام ومجدد ابن کثیر کی تفسیر ابن کثیر بذیل آیت ہذا) اللہ تعالیٰ نے حضرت رسول کریم ﷺ کی حفاظت کے فعل کو كَفَّ کے لفظ سے ظاہر فرمایا۔ وہی لفظ اللہ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یہود کے شر سے بچانے کے لیے استعمال فرمایا۔ فرمایا واذ کففت بنی اسرائیل عنک۔
رسول کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام کو یہود کے شر سے بکلی محفوظ رکھنے پر اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو شکریہ کا حکم دے رہے ہیں۔ ٹھیک اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو حکم ہو رہا ہے کہ ہم نے بنی اسرائیل کو تم تک پہنچنے سے روک لیا۔ پس اس پر ہمارا شکریہ ادا کرو، اندریں حالت کوئی وجہ نہیں کہ كَفَّ کے معنی ہر قسم کے شر اور تکلیف سے بچانے کے نہ کریں۔
ایک عجیب نکتہ ان تمام مقامات میں جہاں فعل كَفَّ استعمال ہوا ہے۔ اس کا مفعول ایدی (ہاتھ) اور عن کا مجرور ضمیریں ہیں۔ مطلب جس کا یہ ہے کہ آپس میں دونوں فریقوں کا اجتماع ہو جانا تو اس صورت میں صحیح ہے۔ صرف باہمی جنگ و جدل اور قتل ولڑائی نہیں ہوتی۔ یعنی ایک فریق کے ہاتھ دوسرے تک نہیں پہنچتے۔ مگر اس مقام زیر بحث میں اس علام الغیوب نے قادیانیوں کا ناطقہ اپنی فصیح و بلیغ کلام میں اس طریقہ سے بند کیا ہے کہ اب ان کے لیے ”نہ پائے رفتن و نہ جائے ماندن“ کا معاملہ ہے۔ یہاں
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ اذ کففت بنی اسرائیل عنک (یعنی جب میں نے روک لیا بنی اسرائیل کو تجھ سے) اور یوں نہیں فرمایا اذ کففت ایدی بنی اسرائیل عنک (یعنی جب میں نے روک لیے ہاتھ بنی اسرائیل کے تجھ سے)
ناظرین با تمکین! آپ اپنی ذہانت و فطانت کو ذرا کام میں لائیے اور کلام اللہ کی فصاحت کی داد دیجئے۔ بقیہ تمام صورتوں میں دونوں مخالف پارٹیوں کا آپس میں ملنا اور اکٹھا ہونا مسلم ہے۔ وہاں ایک پارٹی سے اپنی مخالف پارٹی کے صرف ہاتھوں کو روکا گیا۔ اس واسطے تمام جگہوں میں ایدی کو ضرور استعمال کیا گیا ہے۔ مگر یہاں چونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر اٹھا لینے کے سبب خدا تعالیٰ نے یہود کو اپنی تمام تدبیروں کے باوجود حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک پہنچنے سے روک لیا۔ اس واسطے کف کا مفعول بنی اسرائیل کو قرار دیا۔ ان کے ہاتھوں کا روکنا مذکور نہیں ہوا۔
دوسرا نکتہ آیت اِنِّی مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ میں ہم دلائل عقلی و نقلی سے ثابت کر چکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے یہود کے مکر کے بالمقابل حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے چار وعدے فرمائے تھے اور یہ آیت بطور بشارت تھی۔ اللہ تعالیٰ اسی وعدے کے پورا کرنے کا بیان فرما رہے ہیں۔ جس کو دوسری جگہ ان الفاظ میں ارشاد فرمایا۔ وَإِذْ اَیَّدْتُکَ بِرُوْحِ الْقُدُسِ. (یعنی جب ہم نے تمھیں مدد دی روح القدس کے ساتھ) ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اٹھا کر آسمان پر لے گئے۔
مرزا غلام احمد قادیانی کی مضحکہ خیز اور توہین آمیز تفسیر اور اس کا رد ناظرین کی تفریح طبعی اور نکتہ فہمی کے لیے پیش کرتا ہوں۔
’’اسی طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو فرمایا تھا۔ اِذْ کَفَفْتُ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ عَنْکَ ”یعنی یاد کر وہ زمانہ جب کہ بنی اسرائیل کو جو قتل کا ارادہ رکھتے تھے میں نے تجھ سے روک دیا ۔“ حالانکہ تواتر قومی سے ثابت ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو یہودیوں نے گرفتار کر لیا تھا اور صلیب پر کھینچ دیا تھا لیکن خدا نے آخر جان بچا دی۔ پس یہی معنی اِذْ کَفَفْتُ کے ہیں۔‘‘
(نزول المسیح ص ١٥١ خزائن ج ١٨ ص ٥٢٩)
اسی مضمون کو مرزا قادیانی دوسری جگہ اس طرح لکھتے ہیں۔
’’پھر بعد اس کے مسیح علیہ السلام ان کے حوالہ کیا گیا اور اس کو تازیانے لگائے گئے اور جس قدر گالیاں سننا اور فقیہوں اور مولویوں کے اشارہ سے طمانچے کھانا اور ہنسی اور
ٹھٹھے اڑائے جانا اس کے حق میں مقدر تھا سب نے دیکھا۔ آخر صلیب دینے کے لیے تیار ہوئے...... تب یہودیوں نے جلدی سے مسیح ؑ کو دو چوروں کے ساتھ صلیب پر چڑھا دیا۔ تا شام سے پہلے ہی لاشیں اتاری جائیں مگر اتفاق سے اسی وقت ایک سخت آندھی آ گئی...... انھوں نے تینوں مصلوبوں کو صلیب پر سے اتار لیا...... سو پہلے انھوں نے چوروں کی ہڈیاں توڑائیں...... جب چوروں کی ہڈیاں توڑ چکے اور مسیح ؑ کی نوبت آئی تو ایک سپاہی نے یوں ہی ہاتھ رکھ کر کہہ دیا کہ یہ تو مر چکا ہے کچھ ضرور نہیں کہ اس کی ہڈیاں توڑی جائیں اور ایک نے کہا میں ہی اس لاش کو دفن کروں گا...... پس اس طور سے مسیح زندہ بچ گیا ۔“
(ازالہ اوہام ص ٣٨٠ تا ٣٨٢ خزائن ج ٣ ص ٤٠٥ تا ٤٠٧)
اسی کتاب میں مزید تشریح یوں کی ہے۔ ”مسیح ؑ پر جو مصیبت آئی کہ وہ صلیب پر چڑھایا گیا اور کیلیں اس کے اعضاء میں ٹھونکی گئیں۔ جن سے وہ غشی کی حالت میں ہو گیا۔ یہ مصیبت درحقیقت موت سے کچھ کم نہ تھی۔“
(ازالہ اوہام ص ٣٩٢ خزائن ج ٣ ص ٤٠٢)
تحفہ گولڑویہ میں لکھتے ہیں۔ ”اب تک خدا تعالیٰ کا وہ غصہ نہیں اترا جو اس وقت بھڑکا تھا جبکہ اس ”وجیہہ“ نبی کو گرفتار کرا کر مصلوب کرنے کے لیے کھوپری کے مقام پر لے گئے تھے اور جہاں تک بس چلا تھا ہر ایک قسم کی ذلت پہنچائی تھی۔“
(تحفہ گولڑویہ ص ٦٧ خزائن ج ١٧ ص ١٩٩۔٢٠٠)
میں اس قادیانی تفسیر پر مزید حاشیہ آرائی کی ضرورت نہیں سمجھتا صرف اتنا کہہ دینا چاہتا ہوں کہ جب ہر ممکن ذلت و خواری میں مسیح ؑ کو خدا نے مبتلا کرایا۔ یہاں تک کہ وہ ایسے بے ہوش ہو گئے کہ دیکھنے والے انھیں مردہ تصور کر کے چھوڑ گئے۔ کیا اس کے بعد بھی خدا کو یہ حق پہنچتا ہے کہ یوں کہے اور بالفاظ مرزا کہے۔ ”یاد کر وہ زمانہ جب بنی اسرائیل کو جو قتل کا ارادہ رکھتے تھے میں نے تجھ سے روک لیا۔“
(نزول المسیح ص ١٥١ خزائن ج ١٨ ص ٥٢٩)
اس آیت کی ابتداء میں باری تعالیٰ حضرت عیسیٰ ؑ کو فرماتے ہیں۔ ”اِذْکُرْ نِعْمَتِیْ یعنی یاد کر میری نعمتیں۔“ انھیں نعمتوں میں سے ایک نعمت بنی اسرائیل سے حضرت مسیح ؑ کو بچانا بھی ہے۔
میں پھر عرض کرتا ہوں کہ دنیا جہاں میں ایسے موقعوں پر سینکڑوں دفعہ ایک انسان دوسروں کے نرغہ سے بال بال بچ جاتا ہے۔ پس اگر حضرت عیسیٰ ؑ بال بال
بھی بچ گئے ہوتے جب بھی اس بچانے کو مخصوص طور سے بیان کرنا باری تعالیٰ کی شان عالی کے لائق نہ تھا۔ ایسا بچ جانا عام بات ہے۔ حضرت عیسیٰ ؑ کا معجزانہ رنگ اور عجیب طریقہ سے یہود کے درمیان سے بچ کر آسمان پر چلا جانا ایک خاص نعمت ہے۔ جس کو باری تعالیٰ حضرت عیسیٰ ؑ کے سامنے بیان کر کے شکریہ کا مطالبہ کر سکتے ہیں۔ ورنہ اگر مرزا قادیانی کا بیان اور تفسیر صحیح تسلیم کر لی جائے تو کیا اس نعمت کے شکریہ کے مطالبہ پر حضرت عیسیٰ ؑ یوں کہنے میں حق بجانب نہ ہوں گے، یا اللہ یہ بھی آپ کا کوئی مجھ پر احسان تھا کہ تمام جہان کی ذلتیں اور مصائب مجھے پہنچائی گئیں۔ میرے جسم میں میخیں ٹھونکی گئیں۔ میں نے ”ایلی ایلی لما سبقتنی“ کے نعرے لگائے۔ یعنی اے میرے خدا اے میرے خدا تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا ہے۔ پھر بھی تیری غیرت جوش میں نہ آئی۔ اندھیری رات میں وہ مجھے مردہ سمجھ کر پھینک گئے۔ میرے حواریوں نے چوری چوری میری مرہم پٹی کی۔ میں یہود کے ڈر سے بھاگا بھاگا ایران اور افغانستان کے دشوار گزار پہاڑوں میں ہزار مشکلات کے بعد درۂ خیبر کے راستہ پنجاب، یو، پی، نیپال پہنچا اور وہاں کی گرمی کی شدت برداشت نہ کر سکنے کے سبب کوہ ہمالیہ کے دشوار گزار دروں میں سے گرتا پڑتا سری نگر پہنچا۔ وہاں ٨٧ برس گمنامی کی زندگی بسر کر کے مر گیا اور وہیں دفن کر دیا گیا۔ اس میں آپ نے کون سا کمال کیا کہ مجھے نعمت کے شکریہ کا حکم دیتے ہیں۔ کیا یہ کہ میری جان جسم سے نہ نکلنے دی اور اُس حالت کا شکریہ مطلوب ہے۔ سبحان اللہ واہ رے آپ کی خدائی۔ ہاں ایسی ذلت سے پہلے اگر میری جان نکال لیتا تو بھی میں آپ کا احسان سمجھتا۔ اب کوئی سا احسان ہے۔ اگر تو کہے کہ میں نے تیری جان بچا کر صلیب پر مرنے اور اس طرح ملعون ہونے سے بچا لیا تو اس کا جواب بھی سن لیں۔
- ١...... کیا تیرا معصوم نبی اگر صلیب پر مر جائے تو واقعی تیرا یہی قانون ہے کہ وہ لعنتی ہو جاتا
ہے۔ اگر نہیں اور یقیناً نہیں تو پھر جان بچانے کے کیا معنی۔
- ٢...... باوجود اپنی اس تدبیر کے جس پر آپ مجھ سے شکریہ کا مطالبہ چاہتے ہیں۔ یہودی
اور عیسائی مجھے ملعون ہی سمجھتے ہیں۔ آپ کی کس بات کا شکریہ ادا کروں۔
- ٣...... اگر آپ کے ہاں نعوذ باللہ ایسا ہی عجیب قانون ہے کہ ہر معصوم مظلوم پھانسی پر
چڑھائے جانے اور پھر مر جانے پر ملعون ہو جاتا ہے اور آپ نے مجھے لعنتی موت سے بچانا چاہا تو معاف کریں اگر میں یوں کہوں کہ آپ کا اختیار کردہ طریق کار صحیح نہ تھا جیسا کہ نتائج نے ثابت کر دیا۔ جس کی تفصیل نمبر ٢ میں میں عرض کر چکا ہوں۔ اگر مجھے اپنی
مزعومہ لعنتی موت سے بچانا تھا تو کم از کم یوں کرتے کہ ان کی گرفتاری سے پہلے مجھے موت دے دیتے تاکہ میری اپنی امت تو ایک طرف یقیناً یہودی بھی میری لعنتی موت کے قائل نہ ہو سکتے۔ پس مجھے بتایا جائے کہ میں کس بات کا شکریہ ادا کروں۔
یہ ہے وہ قدرتی جواب جو قیامت کے دن حضرت عیسیٰ ؑ کے ذہن میں آنا چاہیے۔ بشرطیکہ قادیانی اقوالِ واہیہ کو ٹھیک تسلیم کر لیا جائے۔ ہاں اسلامی تفسیر کو صحیح تسلیم کر لیں تو وہ حالت یقیناً قابل ہزار شکر ہے۔ ہزارہا یہود قتل کے لیے تیار ہو کر آتے ہیں۔ مکان کو گھیر لیتے ہیں۔ مکر و فریب کے ذریعہ گرفتاری کا مکمل سامان کر چکے ہیں۔ موت حضرت مسیح ؑ کو سامنے نظر آتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ یعنی ”(اے عیسیٰ ؑ) میں تجھ پر قبضہ کرنے والا ہوں اور آسمان پر اٹھانے والا ہوں ۔“ پھر اس وعدہ کو اللہ تعالیٰ پورا کرتے ہیں اور یوں اعلان کرتے ہیں۔ وَاَیَّدْنٰہُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ یعنی ہم نے مسیح ؑ کو جبرائیل فرشتہ کے ساتھ مدد دی (جو انھیں اٹھا کر دشمنوں کے نرغہ سے بچا کر آسمان پر لے گئے) دوسری جگہ اس وعدہ کا ایفا یوں مذکور ہے۔ مَاقَتَلُوْہُ یَقِیْنًا بَلْ رَّفَعَہُ اللّٰہُ اِلَیْہِ (یہود نے یقینی بات ہے کہ حضرت مسیح ؑ کو قتل نہیں کیا بلکہ اٹھا لیا اللہ تعالیٰ نے ان کو آسمان پر) اسی ایفاء وعدہ اور معجزانہ حفاظت کو بیان کر کے شکریہ کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اس آیت میں وَاِذْ کَفَفْتُ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ عَنْکَ یعنی اے عیسیٰ ؑ یاد کر ہماری نعمت کو جب ہم نے تم سے بنی اسرائیل کو روک لیا اور حضرت عیسیٰ ؑ پر واجب ہے کہ گردن مارے احسان کے جھکا دیں اور یوں عرض کریں۔ رَبِّ اَوْزِعْنِیْ اَنْ اَشْکُرَ نِعْمَتَکَ الَّتِیْ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ یا اللہ مجھے توفیق دے کہ میں واقعی تیری معجزانہ نعمتوں کا شکریہ ادا کروں۔
قادیانی اعتراض اور اس کا جواب
اعتراض از مرزا قادیانی: ”دیکھو آنحضرت ﷺ سے بھی عصمت کا وعدہ کیا گیا تھا حالانکہ احد کی لڑائی میں آنحضرت ﷺ کو سخت زخم پہنچے تھے اور یہ حادثہ وعدہ عصمت کے بعد ظہور میں آیا تھا اسی طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ ؑ کو فرمایا تھا۔ وَاِذْ کَفَفْتُ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ عَنْکَ یعنی یاد کر وہ زمانہ کہ جب بنی اسرائیل کو جو قتل کا ارادہ رکھتے تھے۔ میں نے تجھ سے روک دیا۔ حضرت مسیح ؑ کو یہودیوں نے گرفتار کر لیا تھا اور صلیب پر کھینچ دیا تھا لیکن خدا نے آخر جان بچا دی۔ پس یہی معنی اِذْ کَفَفْتُ کے ہیں۔
جیسا کہ وَاللّٰہُ یَعْصِمُکَ مِنَ النَّاسِ کے ہیں۔‘‘ (نزول المسیح ص ١٥١ خزائن ج ١٨ ص ٥٢٩)
جواب از ابوعبیدہ......١ مضمون ماسبق میں اس کا حقیقی اور الزامی رنگ میں جواب موجود ہے۔
جواب......٢ عَصْم کے معنی ہیں ’’بچا لینا‘‘ یعنی دشمن کا طرح طرح کے حملے کرنا اور ان حملوں کے باوجود جان کا محفوظ رکھنا۔ لیکن کف کے معنی ہیں روک لینا۔ یعنی ایک چیز کو دوسری تک پہنچنے کا موقعہ ہی نہ دینا۔ پس دونوں آپس میں ایک جیسے کس طرح ہو سکتے ہیں؟ ہم اس پر بھی مفصل بحث کر کے ثابت کر آئے ہیں کہ کف کے استعمال کے موقعہ پر ضروری ہے کہ ایک فریق کو دوسرے فریق سے مطلق کسی قسم کا گزند نہ پہنچے۔ جب ہم شواہد قرآنی سے ثابت کر چکے ہیں کہ تمام قرآن کریم میں جہاں جہاں کَفَّ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ مکمل حفاظت کے معنوں میں استعمال ہوا ہے تو ان معنوں کے خلاف اس آیت کے معنی کرنا کس طرح جائز ہو سکتا ہے؟ لیجئے! ہم خود مرزا قادیانی کا اپنا اصول ایسے موقعہ پر صحیح معنوں کی شناخت کا پیش کر کے قادیانی جماعت سے درخواست کرتے ہیں کہ اگر ایمان کی ضرورت ہے تو اسلامی تفسیر کے خلاف اپنی تفسیر بالرائے کو ترک کر دو۔
’’اگر قرآن شریف اوّل سے آخر تک اپنے کل مقامات میں ایک ہی معنوں کو استعمال کرتا ہے۔ تو محل مبحوث میں بھی یہی قطعی فیصلہ ہوگا جو معنی...... سارے قرآن شریف میں لیے گئے ہیں وہی معنی اس جگہ بھی مراد ہوں۔‘‘
(ازالہ اوہام ص ٣٢٩ خزائن ج ٣ ص ٢٦٧)
ہم چیلنج کرتے ہیں کہ تمام قرآن شریف میں جہاں جہاں کَفَّ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ انھیں مذکورہ بالا معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ پس محل نزاع میں اس کے خلاف معنی کرنا حسب قول مرزا الحاد اور فسق ہوگا۔
جواب......٣ ایک لمحہ کے لیے ہم مان لیتے ہیں۔ نہیں بلکہ قادیانی تحریف کی حقیقت الم نشرح کرنے کے لیے ہم فرض کر لیتے ہیں کہ عَصَم اور کف ہم معنی ہیں۔ پھر بھی قادیانی ہی جھوٹے ثابت ہوں گے کیونکہ رسول کریم ﷺ کے ساتھ وعدۂ ’’عصمت‘‘ جو خدا نے کیا۔ وہ مکمل حفاظت کے رنگ میں ظاہر کیا۔ یقیناً قادیانی دجل و فریب کا ناطقہ بند کرنے کو ایسا کیا گیا۔ ہمارا دعویٰ ہے کہ وَاللّٰہُ یَعْصِمُکَ مِنَ النَّاسِ کی بشارت کے بعد رسول کریم ﷺ کو کفار کوئی جسمانی گزند بھی نہیں پہنچا سکے۔
قادیانی کا یہ کہنا کہ جنگ احد میں رسول کریم ﷺ کا زخمی ہونا اور دانت مبارک کا ٹوٹ جانا اس بشارت کے بعد ہوا ہے۔ یہ ”دو دو نے چار روٹیاں“ والی مثال ہے اور قادیانی کے تاریخ اسلام اور علوم قرآنی سے کامل اور مرکب جہالت کا ثبوت ہے۔
جنگ احد ہوا تھا شوال ٣ھ میں اور رسول کریم ﷺ کو زخم اور دیگر جسمانی تکلیف بھی اسی ماہ میں لاحق ہوئی تھی جیسا کہ قادیانی خود تسلیم کر رہا ہے۔ مگر یہ آیت سورۂ مائدہ کی ہے۔ جو نازل ہوئی تھی ٥ھ اور ٧ھ کے درمیان زمانہ میں۔ دیکھو خود مولوی محمد علی امیر جماعت لاہوری اپنی تفسیر میں یوں رقمطراز ہے۔ ”ان مضامین پر جن کا ذکر اس سورۂ مائدہ میں ہے۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے اور یہ رائے اکثر محققین کی بھی ہے کہ اس سورت کے اکثر حصہ کا نزول پانچویں اور ساتویں سال ہجری کے درمیان ہے۔“ (بیان القرآن ص ٤٠٣ مطبوعہ ١٤٠١ھ) اب رہا سوال خاص اس آیت وَاللّٰہُ یَعْصِمُکَ مِنَ النَّاس کے نزول کا سو اس بارہ میں ہم قادیانی نبی اور اس کی امت کے مسلم مجدد صدی نہم علامہ جلال الدین سیوطی کا قول پیش کرتے ہیں۔ ”وَاللّٰہُ یَعْصِمُکَ مِنَ النَّاسِ فی صحیح ابن حبان عن ابی ھریرۃ انھا نزلت فی السفر و اخرج ابن ابی حاتم وابن مَرْدُوْیَہ عن جابر انھا نزلت فی ذات الرقاع باعلی نخل فی غزوۃ بنی انمار“ (تفسیر اتقان جزو اوّل ص ٣٢) مطلب جس کا یہ ہے کہ غزوہ بنی انمار کے زمانہ میں یہ آیت سفر میں نازل ہوئی تھی۔ جب اس آیت کا وقت نزول غزوہ بنی انمار کا زمانہ ثابت ہو گیا تو اس کی تاریخ نزول کا قطعی فیصلہ ہو گیا کیونکہ یہ بات تاریخ اسلامی کے ادنیٰ طالب علم سے بھی معلوم ہو سکتی ہے کہ غزوہ بنی انمار ٥ھ میں واقع ہوا تھا۔ مفصل دیکھو کتب تاریخ اسلام ابن ہشام وغیرہ۔
لیجیے ہم اپنی تصدیق میں مرزا قادیانی کا اپنا قول ہی پیش کرتے ہیں تاکہ مخالفین کے لیے کوئی جگہ بھاگنے کی نہ رہے۔ مرزا قادیانی لکھتے ہیں۔ ”لکھا ہے کہ اوّل مرتبہ میں جناب پیغمبر خدا ﷺ چند صحابی کو برعایت ظاہر اپنی جان کی حفاظت کے لیے رکھا کرتے تھے۔ پھر جب یہ آیت وَاللّٰہُ یَعْصِمُکَ مِنَ النَّاسِ نازل ہوئی تو آنحضرت ﷺ نے ان سب کو رخصت کر دیا اور فرمایا کہ اب مجھ کو تمہاری حفاظت کی ضرورت نہیں۔“
(الحکم ص ٢ مورخہ ٢٤ اگست ١٨٩٩ء بحوالہ تفسیر القرآن موسومہ بہ خزینۃ العرفان قادیانی ص ٥٩٢)
مرزا غلام احمد قادیانی کا سیاہ جھوٹ
پس مرزا قادیانی کا یہ لکھنا ”کہ جنگ احد کا حادثہ وعدہ عصمت کے بعد ظہور میں آیا تھا۔“ بہت ہی گندہ اور سیاہ جھوٹ ہے۔ اللہ تعالیٰ جھوٹوں کے متعلق فرماتے ہیں۔ لَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الْكٰذِبِیْنَ اور خود مرزا قادیانی جھوٹ بولنے والے کے بارہ میں لکھتے ہیں۔
- ١...... ”جھوٹ بولنا اور گوہ کھانا ایک برابر ہے۔“
(حقیقۃ الوحی ص ٢٠٦ خزائن ج ٢٢ ص ٢١٥)
- ٢...... ”جھوٹ بولنا مرتد ہونے سے کم نہیں۔“
(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٣ خزائن ج ١٧ ص ٥٦ حاشیہ)
- ٣...... ”جھوٹ بولنے سے بدتر دنیا میں کوئی کام نہیں۔“
(تتمہ حقیقۃ الوحی ص ٢٦ خزائن ج ٢٢ ص ٤٥٩)
- ٤...... ”جھوٹے پر خدا کی لعنت۔“
(ضمیمہ براہین احمدیہ پنجم ص ١١١ خزائن ج ٢١ ص ٢٧٥)
- ٥...... ”جھوٹ بولنے سے خدا بھی ہاتھ سے جاتا ہے۔“
(ریویو جلد اوّل نمبر ٤ بابت ماہ اپریل ١٩٠٢ء ص ١٤٨)
- ٦...... ”جھوٹ بولنے سے مرنا بہتر ہے۔“
(تبلیغ رسالت ج ٧ ص ٣٠ مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٤٣)
- ٧...... ”جھوٹ ام الخبائث ہے۔“
(تبلیغ رسالت ج ٧ ص ٢٨ اشتہارات ایضاً ص ٤١)
حضرات! فرمائیے اور اپنے مطہر اور پاکیزہ ضمیروں سے مشورہ کر کے جواب دیجئے کہ مرزا قادیانی کی حیثیت اپنے ہی فتویٰ کی رو سے کیا رہ جاتی ہے؟ نبی، محدث، مسیح موعود اور مجدد تو درکنار، کیا وہ شریف انسان بھی ثابت ہو سکتے ہیں؟
قرآنی دلیل...... ٨ اِذْ قَالَتِ الْمَلٰٓئِكَةُ يٰمَرْيَمُ اِنَّ اللّٰهَ يُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ مِّنْهُ
اسْمُهُ الْمَسِيْحُ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ وَجِيْهًا فِی الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ۔ لآیۃ (سورہ آل عمران ٤٥)
”جب کہا فرشتوں نے اے مریم اللہ تعالیٰ تمھیں بشارت دیتے ہیں اپنی طرف سے ایک کلمہ کی۔ جس کا نام ہوگا مسیح عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام وہ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی باعزت ہوگا۔“
اس آیت سے حیات عیسیٰ علیہ السلام پر استدلال کا سارا راز اللہ تبارک و تعالیٰ نے وَجِيْهًا فِی الدُّنْيَا میں پنہاں رکھا ہوا ہے۔ ہمارا مسلک چونکہ قادیانی مسلمات سے حیاتِ عیسیٰ علیہ السلام پر دلائل قائم کرنا ہے۔ اس واسطے ہم سب سے پہلے وَجِيْهًا فِی الدُّنْيَا کی قادیانی تشریح پیش کرتے ہیں۔ اس کے بعد قادیانی اقوال سے ثابت کریں گے کہ حضرت مسیح علیہ السلام صلیب پر نہیں چڑھائے گئے بلکہ آسمان پر اٹھائے گئے ہیں۔
- ١...... مرزا قادیانی نے وَجِيْهًا فِی الدُّنْيَا کے معنی لکھے ہیں۔ ”دنیا میں راستبازوں کے
نزدیک باوجاہت یا باعزت ہوتا۔"
(ایام الصلح ص ١٦٤ خزائن ج ١٤ ص ٤١٢)
- ٢....... مرزا قادیانی کے نزدیک ”تمام نبی دنیا میں وجیہہ ہی تھے۔“ (ایام الصلح ص ١٦٦
خزائن ج ١٤ ص ٤١٤)
- ٣....... (الف) مرزا قادیانی کے لاہوری خلیفہ اپنی تفسیر بیان القرآن میں لکھتے ہیں
”وجیہ کے معنی ہیں ذوجاہ یا ذو وجاہت یعنی مرتبہ والا یا وجاہت والا۔“
- (ب)....... ”اللہ تعالیٰ کے انبیاء سب ہی وجاہت والے ہوتے ہیں۔“
(تفسیر بیان القرآن ص ٢١١ مطبوعہ ١٣٠١ھ)
ناظرین باتمکین! اس آیت مبارکہ میں حضرت مریم علیہا السلام کو بطور بشارت کہا گیا ہے کہ وہ لڑکا (عیسیٰ علیہ السلام) دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی باعزت، بآبرو اور باوجاہت ہوگا۔ قابل توجہ الفاظ یہاں وَجِيْهًا فِي الدُّنْيَا کے ہیں۔ ان الفاظ سے صاف عیاں ہے کہ اس سے مراد صرف دنیوی وجاہت ہی ہے۔ جیسا کہ خود الفاظ ڈنکے کی چوٹ اعلان کر رہے ہیں۔ پھر دنیوی وجاہت سے بھی وہ معمولی وجاہت مراد نہیں ہو سکتی جو دنیا میں کروڑوں انسانوں کو حاصل ہے۔ اس سے کوئی خاص وجاہت (عزت) مراد ہے۔ ورنہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دنیوی وجاہت سے خاص کرنا اور اس کی بشارت کو خصوصیت کے ساتھ بطور پیشگوئی بیان کرنا شان باری تعالیٰ کے لائق نہیں۔ حضرت مریم علیہا السلام کو معمولی دنیوی وجاہت سے قبل از وقت اطلاع دینا قرین قیاس نہیں۔ روحانی وجاہت کا یقین تو حضرت مریم علیہا السلام کو كَلِمَةٍ مِّنْهُ اور وَجِيْهًا فِي الْآخِرَةِ اور غُلامًا زَكِيًّا وغیرہ خطابات ہی سے حاصل ہو گیا تھا۔ ہاں وَجِيْهًا فِي الدُّنْيَا کے الفاظ کے اضافہ سے یقیناً باری تعالیٰ کا یہ مقصود تھا کہ اے مریم علیہا السلام اس دنیا میں اپنی قوم سے چند روز بدسلوکی کے بعد ہم انھیں تمام جہاں کی نظروں میں باعزت بھی کر کے چھوڑیں گے۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کو واقعہ صلیب تک دنیوی وجاہت حاصل تھی یا نہ۔ اس کا جواب قادیانی کے اپنے الفاظ میں پیش کرتا ہوں۔
”وَجِيْهًا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ دنیا میں بھی مسیح علیہ السلام کو اس کی زندگی میں وجاہت یعنی عزت، مرتبہ، عظمت، بزرگی ملے گی اور آخرت میں بھی۔ اب ظاہر ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے ہیرو دیس کے علاقہ میں کوئی عزت نہیں پائی بلکہ غایت درجہ کی تحقیر کی گئی۔“ (رسالہ ”مسیح ہندوستان میں“ ص ٥٣ خزائن ج ١٥ ص ٥٣) واقعی مرزا قادیانی سچ کہہ رہے ہیں۔ اسکی تصدیق دیکھنی ہو تو مرزا قادیانی کے بیانات بذیل آیت کریمہ
وَ اِذْ كَفَفْتُ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ عَنْكَ گزر چکے وہاں ملاحظہ فرمالیں۔
تصدیق از محمد علی خلیفہ لاہوری قادیانی
”یہاں اشارہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ لوگ سمجھیں گے کہ یہ شخص ذلیل ہو گیا مگر ایسا نہ ہوگا بلکہ اسے دنیا میں بھی ضرور وجاہت ہوگی اور آخرت میں بھی۔ جس قدر تاریخ حضرت مسیح علیہ السلام کی عیسائیوں کے ہاتھ میں ہے۔ وہ بظاہر انھیں ایک ذلت کی حالت میں چھوڑتی ہے کیونکہ ان کا خاتمہ چوروں کے ساتھ صلیب پر ہوتا ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ کا یہ قانون ہے کہ وہ انبیاء کو کچھ نہ کچھ کامیابی دے کر اٹھاتا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق وَجِیْھًا فِی الدُّنْیَا فرمانا بھی یہی معنی رکھتا ہے کہ لوگ انھیں ناکام سمجھیں گے۔ مگر فی الحقیقت وہ کامیابی کے بعد اٹھائے جائیں گے۔ یہ کامیابی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یہود بیت المقدس میں حاصل نہیں ہوئی۔“
(تفسیر بیان القرآن ص ٢١١ مطبوعہ ١٣٠١ھ)
معزز حضرات! جب یہ طے ہو گیا کہ واقعہ صلیب تک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دنیوی وجاہت و عزت حاصل نہ تھی۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ واقعہ صلیب اور اس کے بعد کے زمانہ میں کیا انھیں یہ وجاہت دنیوی اس وقت تک نصیب ہوئی ہے یا نہ۔ اس کا جواب بھی قادیانی کے اپنے اقوال اور مسلمات سے پیش کرتا ہوں۔ یعنی ابھی تک دنیوی وجاہت اور عزت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو حاصل نہیں ہوئی۔
- ١...... واقعہ صلیبی کو آیت وَ اِذْ كَفَفْتُ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ عَنْكَ کے ذیل میں مذکور مرزا قادیانی
کے الفاظ میں پڑھ لیا جائے۔ اگر مرزا قادیانی کا بیان صحیح تسلیم کر لیا جائے تو اس سے بڑھ کر دنیوی بے وجاہتی اور بے عزتی کا تصور انسانی دماغ کے تخیل سے محال ہے۔ یہی حال انجیل کے بیانات کو صحیح ماننے کا ہے۔ ہاں اسلامی حقائق کو قبول کر لینے سے واقعہ صلیبی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دنیوی وجاہت کی ابتداء معلوم ہوتی ہے۔ وہ اس طرح کہ یہود کے مکر و فریب کے خلاف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا معجزانہ رنگ میں آسمان پر اٹھایا جانا اور یہودا مسعود کا اپنی تمام فریب کاریوں میں بدرجہ اتم فیل ہو جانا گویا وجاہت کی ابتداء ہے۔
اب ہم واقعہ صلیب کے زمانہ مابعد کو لیتے ہیں۔ اس زمانہ میں یہود اور عیسائی بالعموم یہی عقیدہ رکھتے چلے آئے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام صلیب پر چڑھائے گئے اور بالآخر قتل کیے گئے اور اس وجہ سے دونوں مذاہب کے ماننے والے یعنی یہودی اور عیسائی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو (نعوذ باللہ) لعنتی قرار دیتے ہیں۔ اگر قادیانی تصدیقات کی ضرورت
ہو تو دیکھو وَمَكَرُوا وَمَكَرَ اللّٰهُ وَاللّٰهُ خَيْرُ الْمَاكِرِينَ کی ذیل میں مذکور ہیں۔ پس کیا کروڑہا انسانوں کا آپ کو لعنتی قرار دینا موجب وجاہت ہے یا بے عزتی؟ پہلے تو صرف مخالف یہودیوں کی نظر ہی میں بے عزت تھے مگر واقعہ صلیب سے لے کر اس وقت تک عیسائی بھی لعنت میں یہود کے ہمنوا ہو گئے۔
قادیانی نظریہ وجاہت عیسیٰ ؑ اور اس کی حقیقت
"سچی بات یہ ہے جب مسیح ؑ نے ملک پنجاب کو اپنی تشریف آوری سے شرف بخشا تو اس ملک میں خدا نے ان کو بہت عزت دی۔ حال ہی میں ایک سکہ ملا ہے۔ اس پر حضرت عیسیٰ ؑ کا نام درج ہے۔ اس سے یقین ہوتا ہے کہ حضرت مسیح ؑ نے اس ملک میں آ کر شاہانہ عزت پائی۔" (مسیح ہندوستان میں ص ٥٣ خزائن ج ١٥ ص ایضاً)
ناظرین! مرزا قادیانی کے اس بیان کو ایجاد مرزا کہنا ہی زیادہ زیبا ہے کیونکہ یہ سب کچھ مرزا قادیانی کا اپنا تخیل اور اپنے عجیب و غریب دماغ کی پیداوار ہے۔ قرآن حدیث، تفاسیر مجددین، انجیل اور کتب تواریخ یکسر اس بیان کی تصدیق اور تائید سے خالی ہیں۔ ہاں اتنا معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی بھی وَجِيْهًا فِی الدُّنْيَا کی تفسیر دنیوی جاہ و جلال اور بادشاہت سے کرتے ہیں۔ کوئی قادیانی حضرات سے دریافت کرے کہ علاقہ ہیرودیس میں مسیح ؑ ٣٢۔٣٣ برس تک رہے اور بغیر وجاہت و دنیوی عزت کے رہے۔ دنیوی جاہ و جلال سے بھی عاری رہے۔ باوجود اس کے اس زمانہ میں جو انجیل نازل ہوئی۔ اس کے نام پر انجیل موجود ہے اور ٣٢۔٣٣ سال کے حالات سے ساری انجیلیں بھری پڑی ہیں۔ اگر آپ کے بیان میں ذرہ بھر بھی صداقت کا نام ہو تو پنجاب میں جو حضرت مسیح ؑ نے شاہانہ عزت پائی۔ اس زمانہ کے حالات کہاں درج ہیں؟ آپ کے خیال میں واقعہ صلیب کے ٨٧ برس بعد تک حضرت عیسیٰ ؑ زندہ رہے۔ اس علاقہ میں آپ نے جس انجیل کی تعلیم دی وہ کہاں ہے اور اس کا کیا ثبوت ہے؟ بلکہ آپ کا بیان اگر صحیح مان لیا جائے۔ یعنی صلیب کے واقعہ کے ٨٧ برس بعد تک حضرت مسیح گمنامی کی زندگی بسر کر کے کشمیر میں فوت ہو گئے تو کیا یہ بھی کوئی دنیوی وجاہت اور عزت ہے کہ جلاوطنی اور مسافری کے مصائب و آلام برداشت کر کے آخر ٨٧ برس کے بعد بے نام و نشان فوت ہو گئے؟ سبحان اللہ کہ اتنی بڑی وجاہت کے باوجود اوراقِ تاریخ ان کے تذکرہ سے خالی ہیں۔ طرفہ تر یہ کہ تواریخ کشمیر پر یہ الہامی ضمیمہ کسی طرح چسپاں
نہیں ہو سکتا۔ بینوا توجروا۔
لیجئے! ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ وَجِيْهًا فِي الدُّنْيَا کا مطلب کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ ”وَإِنْ مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ“ یعنی تمام اہل کتاب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے ان پر ایمان لے آئیں گے۔ مفصل دیکھو اسی آیت کی ذیل میں۔
رسول کریم ﷺ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد ثانی کا حال ان الفاظ میں بیان فرماتے ہیں۔ ”عن ابی ھریرۃ قال قال رسول اللہ ﷺ والذی نفسی بیدہ لیوشکن ان ینزل فیکم ابن مریم حَكَمًا عَدلاً فیکسَر الصلیب و یقتل الخنزیر و یضع الحرب و یفیض المال حتیٰ لا یقبله احد و تکون السجدة الواحدة خیر من الدنیا وما فیها ثم یقول ابوھریرۃ فاقرؤا ان شئتم و ان من اهل الکتاب الا لیؤمنن به قبل موتہ۔“ (بخاری ج ١ ص ٤٩٠ باب نزول عیسیٰ علیہ السلام ) ”ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا خدا کی قسم عنقریب ابن مریمؑ تم میں اتریں گے۔ حاکم عادل ہو کر۔ پھر وہ صلیب (عیسائیوں کے نشان مذہب) کو توڑیں گے اور خنزیر کو قتل کرا دیں گے اور بوجہ غلبہ اسلام جہاد کو موقوف کر دیں گے (یعنی جب کفار ہی نہ رہیں گے تو جہاد کس سے کریں گے البتہ شروع میں جہاد ضرور کریں گے) اور مال اتنا فراوان ہو جائے گا کہ کوئی شخص اسے قبول نہ کرے گا۔ یہاں تک کہ ایک سجدہ ساری دنیا کی نعمتوں سے اچھا ہو گا۔ پھر ابوہریرہؓ نے کہا کہ اگر تم (اس کی تصدیق کلام اللہ سے) چاہو۔ تو پڑھو آیت ”وَإِنْ مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ.“
دیکھیئے ناظرین! یہ ہے وہ وجاہت جس کی بشارت حضرت مریم علیہا السلام کو دی جا رہی ہے اور جو اہل اسلام کا عقیدہ ہے۔ بہرحال قادیانی مسلمات کی رو سے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام دنیوی وجاہت سے بالکل محروم رہے۔ حالانکہ قادرِ مطلق خدا کا سچا وعدہ ہے وہ پورا ہو کر رہے گا۔
تصدیق از مرزا قادیانی
حضرات! مرزا قادیانی کو جس زمانہ میں ابھی مسیح عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام بننے کا شوق نہیں چرایا تھا تو اس زمانہ میں ان کا بھی وہی عقیدہ تھا جو ستر کروڑ مسلمانان عالم کا ساڑھے تیرہ سو سال سے چلا آ رہا ہے۔ براہین احمدیہ اپنی الہامی کتاب میں مجدد و محدث
کا دعویٰ کرنے کے بعد یوں لکھتے ہیں۔
"هو الذی ارسل رسوله بالهدیٰ و دین الحق لیظهره علی الدین کله یہ آیت جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر حضرت مسیح ؑ کے حق میں پیشگوئی ہے اور جس غلبہ کاملہ دین اسلام کا وعدہ دیا گیا ہے وہ غلبہ مسیح کے ذریعہ سے ظہور میں آئے گا اور جب حضرت مسیح ؑ دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق اور اقطار میں پھیل جائے گا۔" (براہین احمدیہ ص ٤٩٨ خزائن ج ١ ص ٥٩٣ حاشیہ)
"حضرت مسیح ؑ نہایت جلالیت کے ساتھ دنیا پر اتریں گے اور تمام راہوں سڑکوں کو خس و خاشاک سے صاف کر دیں گے اور کج اور ناراست کا نام و نشان نہ رہے گا اور جلال الہی گمراہی کے تخم کو اپنی تجلی قہری سے نیست و نابود کر دے گا۔"
(براہین احمدیہ ص ٥٠٥ خزائن ج ١ ص ٦٠١ حاشیہ)
ناظرین! یہ ہے وہ وجاہت جس کی طرف اللہ تعالیٰ حضرت مریم ؑ کو توجہ دلا رہے ہیں چونکہ ابھی تک یہ وجاہت حضرت مسیح ؑ کو حاصل نہیں ہوئی۔ پس معلوم ہوا کہ وہ ابھی تک دنیا پر نازل بھی نہیں ہوئے اور بقول مرزا قادیانی نزول جسمانی رفع جسمانی کی فرع ہے۔" (ازالہ اوہام ص ٢٦٩ خزائن ج ٣ ص ٢٣٦) اس واسطے حضرت عیسیٰ ؑ کا رفع جسمانی بھی ثابت ہو گیا۔ فالحمد لله علی ذالک۔
قرآنی دلیل ...... ٩ وَاِذْ قَالَ اللّٰهُ یٰعِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ ءَاَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُوْنِیْ وَاُمِّیَ اِلٰهَیْنِ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ ط قَالَ سُبْحٰنَکَ مَا یَکُوْنُ لِیْٓ اَنْ اَقُوْلَ مَا لَیْسَ لِیْ بِحَقٍّ ط اِنْ کُنْتُ قُلْتُهٗ فَقَدْ عَلِمْتَهٗ ط تَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِیْ وَلَآ اَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِکَ ط اِنَّکَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ o مَا قُلْتُ لَهُمْ اِلَّا مَآ اَمَرْتَنِیْ بِهٖٓ اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ رَبِّیْ وَرَبَّکُمْ وَکُنْتُ عَلَیْهِمْ شَهِیْدًا مَّا دُمْتُ فِیْهِمْ فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ کُنْتَ اَنْتَ الرَّقِیْبَ عَلَیْهِمْ ط وَاَنْتَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ o (المائدہ ١١٦۔ ١١٧) "اور وہ وقت بھی قابل ذکر ہے جب کہے گا اللہ تعالیٰ (نصاریٰ کو جھٹلانے کے لیے) کہ اے عیسیٰ ؑ ابن مریم (ان نصاریٰ میں جو تثلیث کا عقیدہ تھا۔ اس کا کیا سبب ہوا) کیا تو نے ہی کہا تھا کہ مجھ کو اور میری ماں کو بھی علاوہ خدا کے معبود قرار دے لو۔ عیسیٰ ؑ عرض کریں گے (توبہ توبہ) میں تو آپ کو (شریک سے) منزہ سمجھتا ہوں۔ (جیسا کہ آپ واقع میں بھی اس سے پاک اور منزہ ہیں، تو ایسی حالت میں) مجھ کو کسی طرح زیبا نہ تھا کہ میں ایسی بات
کہتا کہ جس کے کہنے کا مجھے کوئی حق نہ تھا۔ اگر میں نے کہا ہوگا تو آپ کو اس کا علم ہوگا۔ (مگر جب آپ کے علم میں بھی یہی ہے کہ میں نے ایسا نہیں کہا تو پھر میں اس بات سے بری ہوں) آپ تو میرے دل کے اندر کی بات کو بھی جانتے ہیں اور میں آپ کے علم میں جو کچھ ہے اس کو نہیں جانتا۔ تمام غیبوں کے جاننے والے آپ ہی ہیں۔ (سو جب اپنا اس قدر عاجز ہونا اور آپ کا اس قدر کامل ہونا مجھ کو معلوم ہے تو شرکت خدائی کا میں کیونکر دعویٰ کر سکتا ہوں) میں نے تو ان سے اور کچھ نہیں کہا۔ مگر صرف وہی جو آپ نے مجھے ان سے کہنے کو فرمایا تھا۔ (یعنی) یہ کہ تم اللہ کی بندگی اختیار کرو جو میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے۔ (یا اللہ) میں ان پر گواہ تھا۔ جب تک ان میں موجود رہا۔ پھر جب آپ نے مجھے اٹھا لیا۔ تو صرف آپ ہی ان کے احوال پر نگہبان رہے۔ (اس وقت کی مجھ کو کچھ خبر نہیں کہ ان کی گمراہی کا سبب کیا ہوا اور کیوں کر ہوا) اور آپ ہر چیز کی خبر رکھتے ہیں۔“
معزز ناظرین! یہ وہ ترجمہ ہے جو کلام اللہ، احادیث نبویہ، اقوال صحابہ، تفسیر مجددین امت محمدیہ سے مؤید ہے۔
اب ہم ان آیات کی تفصیل یوں عرض کرتے ہیں اور سوال و جواب کے رنگ میں بیان کرتے ہیں تاکہ ناظرین بلا تکلف سمجھ سکیں۔
- سوال.....١ اللہ تعالیٰ یہ سوال حضرت عیسیٰ ؑ سے ان آیات کے نزول سے پہلے
کر چکے تھے یا بعد میں کرنے کا اعلان ہے۔ اگر بعد میں کریں گے تو کب کریں گے؟
- جواب.....١ یہ سوال و جواب آیت کے نزول کے بعد قیامت کے دن ہوں گے۔ جیسا
کہ اس کے بعد ساتھ ہی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ ”هٰذَا يَوْمُ يَنْفَعُ الصَّادِقِيْنَ صِدْقُهُمْ“ (مائدہ ١١٩) یعنی یہی ہے وہ دن جبکہ سچ بولنے والوں کو ان کا سچ بولنا نفع پہنچائے گا۔“
- ٢..... اس آیت سے پہلے یہ آیت ہے۔ ”يَوْمَ يَجْمَعُ اللّٰهُ الرُّسُلَ فَيَقُوْلُ مَاذَا اُجِبْتُمْ“
(مائدہ ١٠٩) ”یعنی جس دن جمع کرے گا اللہ تعالیٰ تمام رسولوں کو۔ پھر کہے گا تمھیں کیا جواب دیا گیا۔“ یہاں یوم سے مراد یقیناً قیامت کا دن ہے۔
- ٣..... صحیح بخاری باب التفسیر میں بھی اس سوال و جواب کا آئندہ ہی ہونا لکھا ہے۔
- ٤..... تفسیر کبیر میں امام فخر الدین رازیؒ نے بھی یہی لکھا ہے (مجدد صدی ششم کا فیصلہ)
- ٥..... تفسیر جلالین میں امام جلال الدین سیوطیؒ مجدد صدی نہم بھی اس سوال و جواب کو
قیامت کے دن سے وابستہ کر رہے ہیں۔
- ٦...... امام ابن کثیرؒ مفسر و مجدد صدی ششم بھی یہی ارشاد فرماتے ہیں۔
- ٧...... غرضیکہ قریباً تمام مفسرین متفق الرائے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اور حضرت عیسیٰ ؑ کے
درمیان یہ سوال و جواب قیامت کے دن ہوں گے۔
تصدیق از مرزا قادیانی
- ٨...... مرزا قادیانی نے اپنی کتاب (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٦ خزائن ج ٢١ ص ١٥٩) پر
خود تسلیم کیا ہے کہ ”یہ سوال و جواب آئندہ قیامت کو ہوں گے۔“
سوال.....٢ اللہ تعالیٰ کا سوال کیا ہے؟ اور اسے باوجود علام الغیوب ہونے کے اس سوال کی ضرورت کیا تھی؟
جواب.....٢ سوال اَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُوْنِیْ وَاُمِّیَ اِلٰهَیْنِ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ سے ظاہر ہے۔ یعنی یہ کہ اے عیسیٰ ؑ عیسائیوں نے تمھیں اور تمہاری ماں کو میرے سوا کیوں خدا بنا لیا۔ کیا انھیں ایسا کرنے کا حکم تم نے دیا تھا۔ بے شک اللہ تعالیٰ علام الغیوب ہے۔ اسے سب کچھ معلوم ہے مگر یہ سوال صرف نصاریٰ کو الوہیت مسیح کے عقیدہ میں مسیح ؑ (نصاریٰ کے مزعومہ خدا) کی اپنی زبانی مجرم ثابت کرنے کے لیے ہوگا۔ چنانچہ تفسیر کبیر میں ایسا ہی درج ہے۔ تفسیر جلالین میں قادیانیوں کے مسلم امام و مجدد صدی نہم اس آیت کی تفسیر اس طرح ارشاد فرماتے ہیں۔
”واذکر اذ قال ای یقول اللہ بعیسٰی فی القیمۃ توبیخاً لقومہ یعنی یاد کرو وہ وقت جب فرمائے گا اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ ؑ سے قیامت کے دن ان کی قوم کو توبیخ (مجرم کو ڈانٹنے) کے لیے۔“ ایسا ہی تمام مفسرین مسلمہ قادیانی لکھتے چلے آئے ہیں۔
سوال.....٣ کیا حضرت عیسیٰ ؑ کو اللہ تعالیٰ کے اس سوال سے پہلے عیسائیوں کے عقائد کی خرابی کا علم ہوگا؟
جواب.....٣ ہاں جب تک آپ کو عیسائی عقیدہ کی خرابی کا علم نہ ہو۔ ان سے یہ سوال کرنا باری تعالیٰ کے علم پر نعوذ باللہ حرف آتا ہے۔ ہمارے دلائل ذیل ملاحظہ ہوں۔
- ١...... خود سوال کی عبارت ایسا بتا رہی ہے۔ یعنی استفہام توبیخی، بالخصوص جبکہ مجرم عیسائی
سامنے کھڑے ہوں گے اور اللہ تعالیٰ ان کا حساب لے رہے ہوں گے۔ اس سوال سے
پہلے یقیناً عیسائیوں سے اللہ تعالیٰ نے ان کے باطل عقائد کی وجہ دریافت کی ہوگی اور انھوں نے یقیناً یہی جواب دیا ہوگا کہ ہمارے عقائد ہمیں یسوع مسیح نے خود تعلیم کیے تھے اور واقعی موجودہ اناجیل میں ایسا ہی لکھا ہے۔ پس ضرور ہے کہ دعویٰ اور جواب دعویٰ کے بعد اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ان کی امت کے خلاف شہادت دینے کے لیے سوال کریں گے۔ اندریں حالات کون بیوقوف یہ کہہ سکتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اپنی قوم کے باطل عقائد کا علم نہ ہوگا؟
- ٢...... اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتے ہیں۔ ”يَوْمَ نَدْعُوْا كُلَّ اُنَاسٍ بِاِمَامِهِمْ
(بنی اسرائیل ٧١) یعنی قیامت کے دن ہم تمام لوگوں کو اپنے اپنے نبیوں اور رہنماؤں سمیت بلائیں گے۔“
”يَوْمَ يَحْشُرُهُمْ وَمَا يَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَيَقُوْلُ ءَاَنْتُمْ اَضْلَلْتُمْ عِبَادِيْ هٰؤُلَاءِ اَمْ هُمْ ضَلُّوا السَّبِيْلَ (فرقان ١٧) قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان مشرکین کو اور جن کی وہ اللہ تعالیٰ کے سوا عبادت کرتے ہیں۔ ان سب کو جمع کرے گا تو ان سے کہے گا کہ کیا تم نے میرے ان بندوں کو گمراہ کیا تھا۔ یا وہ خود گمراہ ہو گئے تھے۔“
ان آیات سے صاف ظاہر ہے کہ تمام نبی اپنی اپنی امتوں کو ساتھ لے کر باری تعالیٰ کے حضور میں پیش ہوں گے۔ کیا پیشی سے پہلے امتوں کے حالات سے ان کے نبی واقف نہ ہوں گے؟ ضرور ہوں گے ورنہ ان کے ساتھ ہونے کا فائدہ کیا ہے۔ خود مرزا قادیانی بھی تسلیم کرتے ہیں کہ ”حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی امت کی نیکی و بدی پر شاہد تھے۔“
(شہادۃ القرآن ص ٢٧ خزائن ج ٦ ص ٣٢٣)
- ٣...... احادیث صحیحہ میں آیا ہے کہ امت محمدی کے افراد کے اعمال باقاعدہ بارگاہ
محمدی ﷺ میں پیش ہوتے ہیں۔ اسی طرح ظاہر ہے کہ ہر ایک صاحب امت رسول کو اللہ تعالیٰ ان کی امت کے حالات سے مطلع رکھتا ہو۔ ورنہ بتایا جائے کہ رسول کریم ﷺ نے کس جگہ اپنی امت کے حالات سے اطلاع یابی کو اپنے ساتھ خصوصیت دی ہے اور دوسرے رسولوں کے محروم ہونے کی خبر دی ہے؟ جیسا کہ آپ نے اپنی فضیلتیں دوسرے انبیاء پر صاف صاف الفاظ میں بیان فرماتے وقت یہی مسلک اختیار فرمایا ہے۔
- ٤...... اللہ تعالیٰ نے قادیانی معترضین کو لاجواب کرنے کے لیے پہلے ہی سے اعلان کر دیا
ہے۔ ”وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكُوْنُ عَلَيْهِمْ شَهِيْداً. (نساء ١٥٩) یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام اہل کتاب پر دن قیامت کے بطور شاہد پیش ہوں گے۔“ اسی پیشگوئی کی تصدیق میں حضرت
عیسیٰ علیہ السلام فرماویں گے۔ وَكُنتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَّا دُمْتُ فِيهِمْ (مائدہ ١١٧) ”یعنی میں ان پر شاہد رہا۔ جب تک میں ان میں موجود رہا“ چونکہ حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں حسب وعدہ باری تعالیٰ تشریف لائیں گے اور اپنی امت کا حال دیکھ چکے ہوں گے۔ اس واسطے اپنی شہادت کے وقت ان کے باطل عقائد سے ضرور مطلع ہوں گے۔
- ٥...... اسی آیت کے آگے اللہ تعالیٰ حضرت مسیح علیہ السلام کا قول نقل فرماتے ہیں۔ ”إِنْ
تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ یعنی اے باری تعالیٰ اگر آپ ان مشرکین نصاریٰ کو عذاب دیں تو وہ آپ کے بندے ہیں۔“
کیا یہ اقرار اس بات پر دلالت نہیں کرتا کہ وہ وقت سوال قوم کے باطل عقائد سے اچھی طرح واقف ہوں گے۔ ورنہ اس سوال سے انھیں کیسے پتہ لگ سکتا ہے کہ نصاریٰ نے شرک کیا تھا؟
- ٦...... اگر حضرت مسیح علیہ السلام کو اپنی امت کے باطل عقائد کا پتہ نہ ہوتا تو باری تعالیٰ کے
سوال کے جواب میں موجودہ جواب نہ دیتے بلکہ یوں عرض کرتے۔ ”یا اللہ اپنی الوہیت کی طرف ان کو دعوت دینا تو درکنار مجھے تو یہ بھی معلوم نہیں کہ ان لوگوں نے مجھے اور میری ماں کو خدا بنایا ہے یا نہ۔ مجھے تو آج ہی آپ کے ارشاد سے پتہ چلا ہے کہ ایسا ہوا ہے۔“ مگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا سوال کے جواب میں اپنی بریت ثابت کرنا اس بات کی بین دلیل ہے کہ آپ کو اپنی امت کا حال خوب معلوم تھا۔
- ٧...... حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اپنی امت کے بگڑ جانے کا پتہ ہے اور اب یہ پتہ انھیں نزول
کے بعد نہیں بلکہ قبل رفع لگ چکا تھا۔ ثبوت میں ہم قادیانیوں کی کتاب عسل مصفیٰ سے رسول کریم ﷺ کی حدیث کا ترجمہ نقل کرتے ہیں۔ ”دیلمی اور ابن النجار نے حضرت جابرؓ سے روایت کی ہے۔..... کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سفر کرتے کرتے ایک وادی میں پہنچے۔ جہاں ایک اندھا آدمی دیکھا جو ہل جل نہیں سکتا تھا اور وہ ایک مجذوم ہی تھا اور جذام نے اس کے جسم کو پھاڑ دیا ہوا تھا۔ اس کے لیے کوئی سایہ کی جگہ نہیں تھی...... وہ اپنے رب العالمین کا شکریہ ادا کرتا تھا۔ عیسیٰ علیہ السلام نے اس سے پوچھا کہ اے خدا کے بندے تو کس چیز پر خدا کا شکر ادا کرتا ہے...... اس شخص نے جواب دیا کہ اے عیسیٰ علیہ السلام میں اللہ تعالیٰ کی حمد اس لیے کرتا ہوں کہ میں اس زمانہ اور وقت میں نہیں ہوا جبکہ لوگ تیری نسبت کہیں گے کہ تو خدا کا بیٹا اور اقنوم ثالث ہے۔“
(کنزالعمال ج ٦ ص ٣٤٢ حدیث نمبر ٦٨٥٤ بحوالہ عسل مصفیٰ جلد اوّل ص ١٩٢۔ ١٩١)
ناظرین! کیسا صاف فیصلہ ہے اور قادیانیوں کی مسلمہ حدیث بانگ دہل اعلان کر رہی ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ کو اپنے رفع سے پہلے عیسائیوں کے فسادِ عقائد کا پتہ تھا۔ اب جو الزام قادیانی ہم پر لگاتے تھے کہ اسلامی عقیدہ کے مطابق حضرت عیسیٰ ؑ کو جھوٹ کا مرتکب ماننا پڑتا ہے وہی الٹا ان پر عائد ہوتا ہے کیونکہ بفرض محال وہ فوت ہو چکے ہوں۔ جب بھی وہ عیسائیوں کے فسادِ عقائد سے لاعلمی نہیں ظاہر کر سکتے کیونکہ اس حدیث کی رو سے انھیں (قادیانیوں کے قول کے مطابق) وفات سے پہلے پتہ لگ چکا تھا کہ دنیا میں ان کی پرستش ہوگی۔
تصدیق از مرزا غلام احمد قادیانی
- ٨...... ”میرے پر یہ کشفاً ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ زہر ناک ہوا جو عیسائی قوم میں پھیل گئی
ہے۔ حضرت عیسیٰ ؑ کو اس کی خبر دی گئی“
(آئینہ کمالاتِ اسلام ص ٢٥٤ خزائن ج ٥ ص ایضاً)
”خدا تعالیٰ نے اس عیسائی فتنہ کے وقت میں یہ فتنہ حضرت مسیح ؑ کو دکھایا گیا یعنی اس کو آسمان پر اس فتنہ کی خبر دی گئی۔“
(آئینہ کمالات ص ٢٦٨ خزائن ج ٥ ص ایضاً)
- ٩...... مرزا قادیانی نے اس بھی زیادہ صفائی کے ساتھ عیسیٰ ؑ کا اپنی امت کے بگاڑ
سے مطلع ہونا تسلیم کیا ہے۔“
(آئینہ کمالات ص ٤٣٩-٤٤٠ خزائن ج ٥ ص ایضاً)
- ١٠...... ”خدا تعالیٰ نے اس عیسائی فتنہ کے وقت میں یہ فتنہ حضرت مسیح ؑ کو دکھایا۔ یعنی
ان کو آسمان پر اس فتنہ کی اطلاع دے دی کہ تیری امت اور تیری قوم نے اس طوفان کو برپا کیا ہے...... تب وہ نزول کے لیے بے قرار ہوا ۔“
(آئینہ کمالات ص ٢٦٨ خزائن ج ٥ ص ایضاً)
الحمد للہ یہ امر پایہ ثبوت کو پہنچ گیا ہے کہ قیامت کے دن سوال کرنے سے پہلے ہی حضرت مسیح ؑ کو اپنی امت کی خرابی عقائد کا علم ہو چکا ہوگا۔
- سوال...... ٥: کیا حضرت عیسیٰ ؑ کو معلوم ہوگا کہ کس طرح اور کیوں کر ان کی
امت کے لوگوں نے حضرت عیسیٰ ؑ اور ان کی ماں کو خدا ٹھہرا لیا؟
جواب نہیں اس بات کا انھیں علم نہ ہوگا۔ ہاں اتنا پتہ ضرور ہوگا کہ ان عقائد باطلہ کی ایجاد ان کی موجودگی میں نہیں ہوئی بلکہ اس زمانہ میں ہوئی جب وہ آسمان پر تشریف فرما تھے۔ دلائل ذیل ملاحظہ کریں۔
- ١...... حضرت عیسیٰ ؑ عرض کریں گے۔ وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيْداً مَّا دُمْتُ فِيْهِمْ فَلَمَّا
تَوَفَّيْتَنِيْ كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِيْبَ عَلَيْهِمْ. یعنی اے اللہ تعالیٰ میں تیرے حکم (مَا اَمَرْتَنِيْ
بہ) کی شہادت دیتا رہا۔ جب تک میں ان کے درمیان مقیم رہا۔ جب تو نے مجھے اٹھا لیا۔ پس پھر تو ہی ان کا نگہبان تھا چونکہ اپنی نگہبانی کے زمانہ میں ان کے عقائد باطلہ کے جاری ہونے سے وہ اپنی بریت ظاہر کر رہے ہیں۔ لہٰذا ثابت ہوا کہ وہ ان کے عقائد کے بگڑنے کا زمانہ اپنے آسمان پر رہنے کے زمانہ کو قرار دے رہے ہیں۔ پس ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو عیسائیوں کے عقائد باطلہ اختیار کر لینے کا علم تو ضرور تھا یعنی یہ تو معلوم تھا کہ انھوں نے یہ عقائد ان کی عدم موجودگی یعنی رفع الی السماء کے زمانہ میں اختیار کیے تھے۔ مگر یہ معلوم نہ تھا کہ کیونکر اور کس طرح یہ عقائد ان میں مروج ہو گئے۔
کلام اللہ کی عجیب فصاحت
- ١...... اس عبارت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے توفیتنی کا لفظ استعمال کیا ہے اور اس سے
باری تعالیٰ کے اس وعدہ کے ایفا کا زمانہ بتایا ہے جو باری تعالیٰ نے اِنِّی مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ میں کیا تھا اور بَلْ رَّفَعَهُ اللهُ اِلَیْهِ میں پورا کر دیا تھا۔ یعنی اس توفّی کے وہی معنی ہیں جو اِنِّی مُتَوَفِّیْکَ والی توفی کے ہیں جس کے معنی ہم دلائل سے ثابت کر چکے ہیں کہ موت کے نہیں بلکہ زندہ اٹھا لینے کے ہیں۔
(دیکھو بحث توفی)
- ٢...... باری تعالیٰ نے یہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زبان سے توفی کے مقابلہ پر مادمت
فیھم استعمال کرایا ہے۔
ناظرین! ذرا غور کریں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے دو زمانوں کا ذکر کیا ہے۔
- ١...... مادمت فیھم کا اور دوسرا توفی کا۔ الفاظ کی اس بندش نے قادیانی مسیحیت کا ہمیشہ
کے لیے خاتمہ کر دیا ہے۔ تفصیل اس اجمال کی یوں ہے کہ
- ١...... اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی جسمانی زندگی دو جگہوں میں نہ گزاری ہوتی تو
مادمت فیھم (جب تک میں ان میں مقیم رہا) کا استعمال بالکل غلط ہے بلکہ فرمانا چاہیے تھا ”جب تک میں زندہ رہا۔“ جیسا کہ دوسری جگہ ایسے موقعہ پر فرمایا۔ ”واوصانی بالصلوۃ والزکوۃ مادمت حیا۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے مجھے نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیا ہے جب تک کہ میں زندہ رہوں۔“ اگر صرف ایک ہی دفعہ دنیا میں رہنا تھا تو آپ مادمت فیھم کیوں فرماویں گے؟ فیھم (ان کے درمیان) کے لفظ کا اضافہ بتا رہا ہے کہ کوئی ایسا زمانہ بھی ان کی زندگی میں آیا ہوگا جبکہ وہ ماکان فیھم (ان میں موجود نہ تھے) کے مصداق بھی ہوں گے اور وہ زمانہ ان کے آسمان پر رہنے کا زمانہ ہوگا۔ جس عرصہ میں
عیسائیوں نے اپنے عقائد باطلہ گھڑ لیے ہیں۔
- ٢....... چونکہ جب تک دَامَ کے بعد حَیًّا کا لفظ نہ آئے اس کے معنی زندہ رہنے کے نہیں
ہو سکتے بلکہ اس کے معنی صرف موجود رہنے کے ہوتے ہیں۔ اس واسطے اس کے بالعکس کے معنی صرف موت سے کرنا تحکم محض ہے کیونکہ موجود رہنے کے خلاف موجود نہ رہنا ہے۔ جو بغیر موت کے زندگی میں بھی ہو سکتا ہے۔ واللہ اعلم قادیانی لوگوں کی عقل کو کیا ہو گیا ہے کہ موجود رہنے کے خلاف وہ مرنا کے سوا اور کچھ تسلیم کرنے کو تیار ہی نہیں ہوتے۔
- مثال ١....... وہ لاہور میں موجود نہیں ہے۔ قادیانی اس کے معنی کرتے ہیں۔ وہ مر گیا
ہے۔ حالانکہ اس کے معنی ہیں وہ کہیں باہر گیا ہوا ہے۔
- ٢....... جب رسول کریم ﷺ معراج شریف پر تشریف لے گئے تھے تو آپ ﷺ اس زمانہ
میں زمین پر موجود نہ تھے پس کیا آپ اس وقت فوت ہو چکے تھے؟ ہرگز نہیں۔
- ٣....... جب جبرائیل ؑ رسول کریم ﷺ کے پاس تشریف لاتے تھے۔ تو اس وقت
آپ (جبرائیل ؑ) آسمان پر موجود نہ ہوتے تھے کیا اس وقت جبرائیل وفات یافتہ ہوتے تھے؟
- ٤....... ایک ہوا باز سات دن تک محو پرواز رہا زمین میں موجود نہ رہا تو کیا وہ مرا ہوا تصور
ہوگا؟ ہرگز نہیں۔
- ٥....... سائنس دان کوشش کر رہے ہیں کہ زمین کے باہر چاند وغیرہ دیگر سیاروں اور
ستاروں میں جا کر وہاں کے حالات کی تفتیش کریں۔ اگر وہ وہاں چلے جائیں تو یقیناً زمین میں موجود نہ رہیں گے۔ پس کیا وہ مرے ہوئے متصور ہوں گے؟ ہرگز نہیں۔ (اب خلائی تسخیر ہو گئی ہے خلا باز ہفتوں وہاں رہتے ہیں اس وقت وہ زمین پر نہیں ہوتے کیا وہ فوت ہو جاتے ہیں؟ مرتب)
بعینہ اسی طرح حضرت عیسیٰ ؑ کچھ زمانہ اس دنیا میں مقیم رہے باقی زمانہ اس سے باہر آسمان پر۔ اس سے یہ کہاں لازم آیا کہ اس دنیا سے باہر ضرور وہ موت ہی کا شکار رہے ہوں گے؟ ہاں اگر قادیانی مطلب صحیح ہوتا تو ضرور حضرت عیسیٰ ؑ یوں عرض کرتے مادمت حیا اس وقت بقرینہ لفظ حیا توفی کے معنی ہم موت لینے پر مجبور ہو جاتے چونکہ انھوں نے لفظ فیہم استعمال فرمایا ہے۔ اس واسطے توفی کے معنی موت مراد کرنے سے فصاحت کلام مانع ہے۔ لاہوری مرزائی محمد علی قادیانی اپنی تفسیر جلد ١ ص ٤٥٣ پر مادام فیہم کے ہی معنی کرتے ہیں۔ فالحمدللہ رب العلمین۔
قادیانی اعتراضات اور ان کا تجزیہ
اعتراض......١ از مرزا قادیانی۔ ”پھر یہ دوسری تاویل پیش کرتے ہیں کہ آیت فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِيْ میں جس توفی کا ذکر ہے وہ حضرت عیسیٰ ؑ کے نزول کے بعد واقع ہوگی۔ لیکن تعجب کہ وہ اس قدر تاویلاتِ رکیکہ کرنے سے ذرا بھی شرم نہیں کرتے۔ وہ نہیں سوچتے کہ آیت فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِيْ سے پہلے یہ آیت ہے۔ وَاِذْ قَالَ اللّٰهُ یَا عِیْسَی اَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اور ظاہر ہے کہ قَالَ ماضی کا صیغہ ہے اور اس کے اوّل اِذْ موجود ہے جو خاص واسطے ماضی کے آتا ہے۔ جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ قصہ وقت نزول آیت زمانہ ماضی کا ایک قصہ تھا۔ نہ زمانہ استقبال کا۔“ (ازالہ اوہام ص ٦٠٢ خزائن ج ٣ ص ٤٢٥)
جواب اعتراض......١ مرزا قادیانی! یہ اعتراض آپ کا نیم ملاں خطرہ ایمان نیم حکیم خطرہ جان کا مصداق ہے۔ آپ تو فرمایا کرتے تھے کہ میں نے نحو ایک نہایت کامل استاد سے پڑھی تھی۔ سبحان اللہ اِذ اور اِذَا کے استعمال کا تو پتہ نہیں اور دعویٰ ہے مجددیت، محدثیت، مسیحیت اور نبوت کا۔ اِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّا اِلَیْهِ رَاجِعُوْنَ۔ حضرت اِذ بعض اوقات ماضی پر داخل ہو کر اس کو مستقبل کے معنوں میں تبدیل کر دیا کرتا ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھئے شرح ملا جامیؒ شرح کافیہ وغیرہ۔ کتب نحو۔
جادو وہ جو سر پر چڑھ کر بولے۔ مرزا قادیانی! ہم آپ کی توجہ آپ کی شہرہ آفاق کتاب (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ ٥ ص ٦ خزائن ج ٢١ ص ١٥٩) کی طرف منعطف کراتے ہیں۔ جہاں آپ نے اِذْ قَالَ اللّٰهُ یَا عِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ ءَاَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ الْآيَةِ میں قَالَ بمعنی یَقُوْلُ کا اقرار کر لیا ہے۔ پس آپ کی کون سی بات سچ سمجھیں۔ ہم دلائل سے ثابت کر آئے ہیں کہ یہ سوال و جواب قیامت کے دن ہوں گے لیکن اگر ان کا وقوع عالم برزخ میں تسلیم کر بھی لیں تو اسے آپ کو کیا فائدہ۔ ہمیں تو کوئی نقصان نہیں۔ نقصان آپ ہی کا ہوگا۔ مثلاً اگر یہ سوال و جواب حضرت عیسیٰ ؑ کی وفات کے بعد فوراً ہی تسلیم کر لیا جائے تو اس وقت تو ابھی عیسائی آپ کے قول کے مطابق بگڑے ہی نہ تھے۔ پھر یہ سوال و جواب کیسے؟ مرزا قادیانی ذرا تو غور کیجئے۔ اس قدر خود غرضی بھی تو اچھی نہیں ہے۔ ”من حفر البیر لاخیہ وقع فیہ جو اپنے بھائی کے لیے کنواں کھودتا ہے وہ خود اس میں گرتا ہے۔“ آپ ہی پر صادق آتا ہے۔ عالم برزخ میں سوال کرنے کا مطلب سوائے اس کے اور کیا ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ نے بطور مجرم دربارِ خداوندی میں
کھڑے ہو کر جواب دیا ہوگا۔ جو کئی وجوہ سے باطل ہے۔
- ١....... حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب مجرم ہی نہیں تو ان سے سوال کیوں ہوا ہوگا؟ مثلاً اگر زید کو
بکر نے قتل کیا ہے تو عمرو سے کون سوال کر سکتا ہے کہ تو نے زید کو کیوں قتل کیا ہے؟
- ٢....... جب ثابت ہو گیا کہ حضرت مسیح علیہ السلام مجرم نہیں تو ان کی پیشی بحیثیت مجرم خیال
فاسد ہے۔ مجرم تو عیسائی ہیں ان کا ابھی حساب و کتاب شروع ہی نہیں ہوا۔ کروڑ ہا عیسائی ابھی زندہ موجود ہیں۔ کروڑ ہا ابھی پیدا ہونے والے ہیں۔ ان کے پیدا ہونے اور مرنے سے پہلے ہی ان کا حساب کتاب کیسے شروع ہو گیا تھا؟ کیونکہ یقیناً مجرموں کا جرم ثابت کرنے یا ان کے راہنما سے سوال کر کے انھیں لاجواب کرنے کو یہ سوال ہونا چاہیے۔ مجرم ابھی موجود ہی نہیں۔ پھر گواہ کی کیا ضرورت ہے؟
- ٣....... حساب و کتاب کا دن (یوم الدین) (یوم الحساب) تو یوم القیامۃ ہی ہے۔ تمام
قرآن کریم اس کے ذکر سے بھرا ہوا ہے۔ قیامت سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے سوال و جواب کے کیا معنی؟ ”ہائے خود غرضی تیرا ستیاناس“ تو حق کے دیکھنے سے انسان کو کس طرح معذور کر دیتی ہے۔
- ٤....... پھر اگر تسلیم کر لیا جائے کہ حسب قول مرزا قادیانی یہ سوال و جواب عالم برزخ میں
ہو چکا ہے تو ہم مرزا قادیانی اور اس کی پارٹی سے یہ سوال پوچھنے کا حق رکھتے ہیں کہ عالم برزخ میں سوال و جواب موت کے بعد فوراً ہی شروع ہو جاتے ہیں یا کچھ زمانہ بعد۔ یقیناً موت کے ساتھ ہی شروع ہو جانا چاہیے کیونکہ وقفہ دینے میں کوئی حکمت اور راز منقول نہیں۔ پس اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے یہ سوال ان کی موت کے بعد فوراً ہی شروع ہو گیا تھا تو یہ سوال ہی سرے سے فضول ٹھہرتا ہے کیونکہ اس وقت تک تو ابھی عقیدہ الوہیت مسیح جاری ہی نہیں ہوا تھا۔ جیسا کہ آپ نے جا بجا اس عقیدہ کا اظہار کیا ہے۔ پس جرم ہی ابھی عرصہ ظہور میں نہیں آیا۔ باز پرس پہلے ہی سے کیسے شروع ہو گئی؟ مرزا قادیانی دیکھئے اپنی مسیحیت کے لیے راستہ صاف کرنے کی غرض سے آپ کو کس قدر بھول بھلیوں میں پھنسنا پڑا ہے اور یہ سوال و جواب مرنے کے کچھ زمانہ بعد ہوئے تھے تو وہ کون سا زمانہ تھا؟ اس وقت خدا کو کون سی ضرورت پیش آ گئی تھی؟ اِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّا اِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ بریں عقل و دانش بباید گریست۔
- ٥....... دندان شکن جواب۔ چہ دلاور است دزدے کہ بکف چراغ دارد۔ دروغ گورا حافظہ
نباشد۔ دیکھئے خود مرزا قادیانی مندرجہ ذیل مقامات پر اقرار کرتے ہیں کہ یہ سوال و جواب
خدا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے درمیان قیامت کے دن ہوں گے۔
- ا...... ”اور یاد رکھو کہ اب عیسیٰ علیہ السلام تو ہرگز نازل نہیں ہوگا کیونکہ جو اقرار اس نے آیت
فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِیْ کی رو سے قیامت کے دن کرنا ہے“ (کشتی نوح ص ٦٩ خزائن ج ١٥ ص ٧٦)
- ب...... فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِیْ كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِيْبَ عَلَيْهِمْ۔ اس جگہ اگر توفی کے معنی معہ جسم
عنصری آسمان پر اٹھانا تجویز کیا جائے تو یہ معنی تو بدیہی البطلان ہیں کیونکہ قرآن شریف کی انھیں آیات سے ظاہر ہے کہ یہ سوال حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے قیامت کے دن ہوگا۔...... علاوہ ازیں قیامت کے دن یہ جواب ان کا۔“ (حمامة البشریٰ ص ٣١ خزائن ج ٧ ص ٣٣)
- ج...... ”لانه انما يجيب بهذا الجواب يوم الحساب يعنى يقول فلما توفيتنى
فى يوم يبعث الخلق و يحضرون كما تقرون فى القرآن ايها العاقلون“ (ضمیمہ حقیقۃ الوحی ص ٤٤ خزائن ج ٢٢ ص ٦٦٥) ”پس تحقیق عیسیٰ علیہ السلام یہ جواب دے گا۔ قیامت کے دن یعنی کہے گا فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِیْ کا جملہ دن قیامت کے جس طرح کہ اے عقل مندو تم قرآن کریم میں پڑھتے ہو۔“
ناظرین! اس سے بڑھ کر ثبوت میں کیا پیش کر سکتا ہوں کہ خود مرزا قادیانی کے اپنے اقوال ان کی تردید میں پیش کر رہا ہوں۔ اس سے آپ مرزا قادیانی کی مجددانہ، دیانت کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ علماء اسلام کو جھوٹا ثابت کرنے کے لیے تو بڑے زور سے ازالہ اوہام میں لکھ مارا کہ یہ سوال و جواب قیامت کو نہیں بلکہ رسول پاک ﷺ سے پہلے عالم برزخ میں ہو چکے تھے اور دلائل قرآنی اور نحوی سے ثابت کر مارا۔ پھر وہی مرزا قادیانی حقیقۃ الوحی اور کشتی نوح اور براہین احمدیہ حصہ ٥ میں قرآنی دلائل اور نحوی اصولوں سے اس سوال و جواب کا ہونا قیامت کے دن سے وابستہ کر رہے ہیں۔ سبحان اللہ وبحمدہ۔
قادیانی اعتراض...... ٢ ”فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِیْ نے صاف اس بات کا فیصلہ کر دیا ہے کہ عیسائی عقیدہ میں جس قدر بگاڑ اور فساد ہوا ہے۔ وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کے بعد ہوا ہے۔ اب اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ مان لیں اور کہیں کہ اب تک وہ فوت نہیں ہوئے تو ساتھ ہی یہ بھی ماننا پڑتا ہے کہ نصاریٰ نے بھی اب تک اپنے عقائد کو نہیں بگاڑا۔“
(ایام الصلح ص ٣٨، ٣٩ خزائن ج ١٤ ص ٢٦٩)
”اور اور آیت فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِیْ سے ثابت ہو چکا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توفی عیسائیوں کے بگڑنے سے پہلے ہو چکی ہے۔ یعنی وہ خدا بنائے جانے سے پہلے فوت ہو چکے ہیں۔ تو پھر اب تک ان کی وفات کو قبول نہ کرنا یہ طریق بحث نہیں بلکہ بے حیائی کی
قسم ہے۔“ (ایام الصلح ص ١٤٩ خزائن ج ١٤ ص ٣٨٤)
جواب از ابو عبیدہ مرزا قادیانی! کیا اخلاق اسلامی کو ہاتھ سے دے دینا بھی آپ کی مجددیت، مسیحیت اور نبوت کے لیے ضروری ہے؟ آپ نے فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِی کی رو سے حضرت عیسیٰ ؑ کی وفات کو نہ ماننے والوں کو بے حیا کا خطاب دیا ہے۔ اب اس کا نتیجہ دیکھئے۔
- ١....... صحابہ کرامؓ حیات مسیح ؑ کے قائل تھے۔
- ٢....... تمام مجددین امت مسلمہ قادیانی اس آیت کی موجودگی میں حضرت عیسیٰ ؑ کو زندہ
مانتے رہے۔
- ٣....... خود آنجناب ٥٢ برس کی عمر تک اور اپنی مجددیت و محدثیت کے ١٢ برس بعد تک
حضرت مسیح ؑ کو باوجود اس آیت کی موجودگی کے زندہ بجسدہ العنصری مانتے رہے۔
- ٤....... رسول کریم ﷺ نے صاف صاف الفاظ میں حضرت عیسیٰ ؑ کی حیات جسمانی کا
اقرار کیا ہے۔ جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے اور ابھی آتا ہے۔
پس آپ کی بدزبانی سے تو تمام مجدد، تمام صحابہ اور رسول کریم ﷺ اور آپ خود بھی نہ بچ سکے۔ اگر ہمیں آپ بے حیا کہہ لیں تو مضائقہ نہیں۔ آپ کو یہ اخلاق مبارک ہوں۔ باقی اصلی جواب سنیئے۔
- ١....... ساری مشکل آپ کو لفظ توفی کی ہے۔ آپ غالباً اپنی علمی ”وسعت“ کی بنا پر توفی کو
فوت سے مشتق سمجھتے ہیں۔ حالانکہ عربی پڑھنے والے بچے بھی جانتے ہیں کہ اس کا مادہ وفاء ہے اور اس کے حقیقی معنی ہیں کسی چیز کو پورا پورا اپنے قبضہ میں کر لینا۔ توفی کی مفصل بحث دلیل قرآنی نمبر ١ کی ذیل میں ملاحظہ کی جائے۔ وہاں ہم نے نقلی اور خود اقوالِ مرزا سے ثابت کر دیا ہے کہ توفی کے معنی روح پر قبضہ کرنا مجازی ہیں۔ حقیقی معنی اس کے جسم و روح دونوں پر قبضہ کرنا ہے۔ پس بغیر قرینہ اسکے معنی متعین کرنا عین جہالت کا ثبوت ہے۔ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِی کی آیت اِنِّی مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ کے وعدہ کا ایفا ہونا ظاہر کر رہی ہے۔ جس میں رفع جسمانی مذکور ہے اور اس موجودہ آیت میں مادمت فیہم کے مقابلہ میں مستعمل ہے۔ لہٰذا تمام مفسرین رحمہم اللہ نے تَوَفَّيْتَنِی کے معنی رَفَعْتَنِی (یعنی اٹھا لیا آپ نے مجھے) ہی کیے ہیں اور یہ صحیح ہے کہ رفع جسمانی کے بعد ہی عیسائی بگڑے تھے۔ پس اشکال نہ رہا۔ ہاں اگر کوئی حماقت سے اس جگہ توفی کے معنی صرف ”موت دینا“ کرے تو اس پر البتہ یہ سوال وارد ہوتا ہے نہ کہ اسلامی تفسیر پر۔
چیلنج اگر کوئی قادیانی ١٣٠٠ سال کے مجددین امت کے اقوال سے ثابت کر دے کہ انھوں نے تَوَفَّيْتَنِی کے معنی صرف اَمَتَّنِی (یعنی مار لیا تو نے مجھے) کیے ہوں تو ہم علاوہ مقررہ انعام کے ١٥٠ روپے اور انعام دیں گے۔
- ٢......قادیانی نبی اپنے دلائل کے چکر میں۔
مرزا قادیانی آپ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِی کی رو سے یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ توفی بمعنی مارنا ٹھیک تسلیم کرتے ہوئے ماننا پڑتا ہے کہ عیسائیوں کے عقائد باطلہ کا رواج حضرت مسیح ؑ کی وفات کے بعد ہوا ہے، آپ کی زندگی میں عیسائیوں نے اپنے عقائد نہیں بگاڑے تھے کیونکہ ایسا سمجھنا اس آیت کی خلاف ورزی ہے۔ مرزا قادیانی آپ کے دماغ کو کیا ہو گیا ہے؟ آپ تو نبی اور مجدد و مسیح موعود ہونے کے مدعی ہیں کیا نبی اور مسیح موعود بننے کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ اس کا عقل اور حافظہ مطلق اس کا ساتھ چھوڑ دیں؟ دیکھیں آپ نے حضرت مسیح ؑ کی کل عمر از روئے حدیث ١٢٥ سال لکھی ہے۔ (مسیح ہندوستان میں ص ٥٥ خزائن ج ١٥ ص ایضاً) اور واقعہ صلیب حضرت مسیح ؑ کو پیش آیا تھا۔ ٣٣ ١/٢ برس کی عمر میں آپ نے خود تسلیم کیا ہے۔ (تحفہ گولڑویہ ص ١٢٧ خزائن ج ١٧ ص ٣١١) واقعہ صلیب کے بعد بھاگ کر بقیہ زندگی افغانستان پنجاب، یو، پی، نیپال میں سے ہوتے ہوئے کشمیر کے شہر سری نگر میں گزارنا آپ کے معتقدات میں سے ہے۔ جیسا کہ ہم وَإِذْ كَفَفْتُ بَنِیْ إِسْرَائِیْلَ عَنْکَ کی بحث میں آپ کے اقوال سے ثابت کر آئے ہیں۔
پس ثابت ہوا کہ واقعہ صلیب کے بعد مسیح ؑ ١٢٥ - ٣٣ ١/٢ = ٩١ ١/٢ سال زندہ رہے۔ عیسائیوں کے عقائد میں فساد اور بگاڑ کے متعلق آپ لکھتے ہیں۔
”انجیل پر ابھی تیس برس بھی نہیں گزرے تھے کہ بجائے خدا کی پرستش کے ایک عاجز انسان کی پرستش نے جگہ لے لی۔ یعنی حضرت عیسیٰ ؑ خدا بنائے گئے اور تمام نیک اعمال چھوڑ کر ذریعہ معافی گناہ یہ ٹھہرا دیا کہ ان کے مصلوب ہونے اور خدا کا بیٹا ہونے پر ایمان لایا جائے۔“
(چشمہ معرفت ص ٢٥٤ خزائن ج ٢٣ ص ٢٦٦)
یہ تو یقینی امر ہے کہ انجیل واقعہ صلیب سے پہلے نازل ہو چکی تھی۔ پس معلوم ہوا کہ عیسائیوں کے عقائد بگڑنے کی تاریخ کم از کم ١٢١ ١/٢ - ٣٠ = ٩١ ١/٢ سال حضرت عیسیٰ ؑ کی وفات سے پہلے خود آپ اپنی زبان سے قرار دے رہے ہو۔ پس جو اعتراض مرزا قادیانی آپ نے ہم پر کیا ہے۔ ہم تو اس سے بال بال بچ گئے البتہ آپ
خود اس کا شکار ہو گئے۔ اسی موقعہ پر کسی نے کہا تھا۔
لو آپ اپنے جال میں صیاد آ گیا
مرزا قادیانی نے بڑے زور سے لکھا ہے۔ ”اس آیت (فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي) کا مطلب یہ ہے کہ عیسائی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کے بعد بگڑیں گے نہ کہ ان کی زندگی میں ۔ پس اگر فرض کر لیں کہ اب تک حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت نہیں ہوئے تو ماننا پڑے گا کہ عیسائی بھی اب تک نہیں بگڑے اور یہ صریح باطل ہے بلکہ آیت تو بتلاتی ہے کہ عیسائی صرف مسیح علیہ السلام کی زندگی تک حق پر رہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حواریوں کے عہد میں ہی خرابی شروع ہو گئی تھی۔ اگر حواریوں کا زمانہ بھی ایسا ہوتا کہ اس زمانہ میں بھی عیسائی حق پر ہوتے ۔ تو خدائے تعالیٰ اس آیت میں صرف مسیح علیہ السلام کی زندگی کی قید نہ لگاتا بلکہ حواریوں کی زندگی کی بھی قید لگا دیتا۔ پس اس جگہ ایک نہایت عمدہ نکتہ عیسائیت کے زمانہ کے فساد کا معلوم ہوتا ہے اور وہ یہ کہ درحقیقت حواریوں کے زمانہ میں ہی عیسائی مذہب میں شرک کی تخم ریزی ہو گئی تھی۔ ایک شریر یہودی پولوس نام ....... اس شخص نے عیسائی مذہب میں بہت فساد ڈالا۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٣٧ خزائن ج ١١ ص ٣٢١)
یہ سارے کی ساری عبارت دجل و فریب کا مجموعہ ہے مگر ہمیں الزامی جواب دینا ہے۔ لہٰذا ہمیں اس وقت اس سے سروکار نہیں۔ ہمارا مطلب قادیانی مسلمات سے ثابت کرنا ہے کہ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي کے غلط معنی کرنے سے خود قادیانی اسی اعتراض کا شکار ہوتا ہے۔ جو وہ اہل اسلام پر کرتا ہے۔ مذکورۃ الصدر عبارت سے ظاہر ہوا کہ پولوس کے زمانہ میں عیسائی بگڑ چکے تھے۔
پولوس کی تاریخ وفات = ٦٧ء (دیکھو انڈکس ٹودی ہولی بائبل شائع کردہ جارج ای آئر اینڈ ولیم سپائس وڈ لندن)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تاریخ وفات قادیانی عقیدہ کی رو سے ١٢٥ سال جیسا کہ قادیانی کے اپنے اقوال سے ثابت کر چکے ہیں۔
پس معلوم ہوا کہ قادیانی کے اپنے ہی اقوال کی رو سے حضرت مسیح علیہ السلام اپنی امت کے مشرک ہونے کے ٦٣ سال بعد فوت ہوئے۔ پس جو اعتراض قادیانی ہم پر کرتا ہے۔ وہ بدرجہ اولیٰ خود اس کا شکار ہو رہا ہے۔
مرزا قادیانی ! اب آپ کے بچاؤ کی صرف دو ہی صورتیں ہیں۔ یا تو اعلان کر
دو کہ اسلامی نکتہ نگاہ بالکل صحیح ہے یا یوں سمجھ لو کہ انجیل کشمیر میں حضرت عیسیٰ ؑ کے وفات سے ذرا پہلے نازل ہوئی تھی۔ مرزا قادیانی! اس بھنور سے نکلنا بڑی بہادری ہے اگر اس کا جواب دے دو تو ہم بھی آپ کی چالاکی کے قائل ہو جائیں گے۔ فان لم تفعلوا ولن تفعلوا فاتقوا النار التی وقودہا الناس والحجارة اعدت للكافرين.
قادیانی اعتراض.......٣
از مرزا قادیانی ”اگر وہ (عیسیٰ ؑ) قیامت سے پہلے دنیا میں آنے والا تھا اور ہمارے ٤٠ برس رہنے والا۔ تب تو اس نے خدا تعالیٰ کے سامنے جھوٹ بولا کہ مجھے عیسائیوں کے حالات کی خبر نہیں“۔
(کشتی نوح ص ٦٩ خزائن ج ١٩ ص ٧٦)
”اس کو تو کہنا چاہیے تھا کہ آمد ثانی کے وقت میں چالیس کروڑ کے قریب دنیا میں عیسائیوں کو پایا اور ان سب کو دیکھا اور مجھے ان کے بگڑنے کی خوب خبر ہے اور میں تو انعام کے لائق ہوں“۔
(کشتی نوح ص ٦٩ خزائن ایضاً)
جواب از ابو عبیدہ
مرزا قادیانی! آپ سمجھ رہے ہوں گے کہ دنیا میں سب لوگ آپ کے مریدوں کی طرح ذہانت اور فطانت سے خالی ہیں۔ آپ کی چالاکی کوئی نہیں سمجھے گا۔ علماء اسلام تو آپ کے ان واہیات دلائل کو پڑھنے کے بعد آپ جیسے آدمی سے مخاطب کرنا اپنی شان ہی کے خلاف سمجھتے رہے۔ لیجیے میں آپ کی چالاکی کا پردہ چاک کرتا ہوں۔ انشاء اللہ پھر کبھی آپ یہ اعتراض علماء اسلام کے سامنے پیش کرنے کی ہمت نہ کریں گے۔
- ١....... حضرت عیسیٰ ؑ کے جھوٹ بولنے کی بھی ایک ہی کہی۔ مرزا قادیانی کا سوال
عیسائیوں کو مجرم گرداننے کا ہے اور وہ اس طرح کہ خود انھیں کے مزعومہ خدا حضرت مسیح ؑ سے سوال کر کے کہ ”اے عیسیٰ ؑ کیا تو نے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو خدا ٹھہرا لو۔“ اس کا جواب انھوں نے اپنی عبودیت اور مخلوقیت کا اعلیٰ درجہ کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایسے الفاظ میں دیا کہ اس سے بہتر ممکن ہی نہیں۔ یعنی اے خدایا اگر میں نے ایسا کہا ہوتا تو آپ کو علم ہوتا کیونکہ آپ علام الغیوب ہیں۔ آپ میرے دل کے بھیدوں کو جاننے والے ہیں۔ میں نے تو صرف آپ کے احکام توحید بوجہ احسن پہنچا دیے تھے۔ جب تک میں ان میں موجود رہا۔ ان کی اصلاح کا میں ذمہ دار تھا۔ اپنی عدم موجودگی کا میں کیسے ذمہ دار ہو سکتا ہوں۔ وغیرہ وغیرہ۔ مرزا قادیانی کہتے ہیں حضرت عیسیٰ ؑ نے جھوٹ بولا اجی اس میں کون سا جھوٹ ہے؟ جو کچھ انھوں نے فرمایا وہ
حق محض ہے۔
- ٢...... باقی رہا آپ کا یہ سوال کہ حضرت عیسیٰ ؑ انعام کا دعویٰ کیوں نہیں کریں گے تو
اس کا جواب یہ ہے کہ ان کے تعلقات خدا کے ساتھ آپ کی طرح نہ تھے۔ آپ کو تو خدا تعالیٰ سے نعوذ باللہ بہت بے تکلفی ہے۔ آپ کے باپ کی ماتم پرسی بھی خدا نے باقاعدہ کی تھی۔ (دیکھو نزول المسیح ص ٤٧ خزائن ج ١٨ ص ٥٨٥) بیٹا ہونے کا خطاب بھی دے دیا۔ (البشریٰ ج ١ ص ٤٩) آپ کو ابن مریم بنا کر حیض کا مرض بھی لگا دیا تھا۔ (حقیقتہ الوحی و کشتی نوح) آپ کو عورت بنا کر خود مرد کی صورت اختیار کر کے آپ کے ساتھ نعوذ باللہ مجامعت بھی کی۔ (اسلامی قربانی ص ١٢) پھر آپ کو مریم سے ابن مریم بنا کر مسیح موعود بھی بنا دیا۔ (حقیقتہ الوحی) وغیرہ وغیرہ۔
ہمارے انبیاء علیہم السلام بارگاہ رب العزت میں باوجود وعدہ مکمل امان و نجات کے طبعی طور پر مارے ڈر کے کانپ رہے ہوں گے۔ انعام کا مطالبہ کرنا گستاخی میں شمار کرتے ہیں۔ ہاں وہ علام الغیوب خود انعام دے دے گا۔ چنانچہ حضرت عیسیٰ ؑ کے متعلق ہی ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ ھذا یوم ینفع الصادقین صدقھم۔ ”یہی ہے وہ دن جب کہ سچ بولنے والوں کو (مثلاً حضرت مسیح ؑ ) کو ان کا سچ بولنا نفع دے گا“۔ یعنی باری تعالیٰ کی طرف سے انعام و اکرام کا باعث ہوگا۔
- ٣...... میں شروع مضمون میں ثابت کر آیا ہوں کہ حضرت عیسیٰ ؑ کو اپنی امت کی خرابی
کا علم ضرور ہوگا۔
- ٤...... خدا کے سامنے اگر اس کا بندہ اپنی علمی قلت کو محسوس کر کے لا علم کہہ بھی دے۔ تو
مرزا قادیانی کیا یہ جھوٹ ہے؟ صحابہ کرامؓ سے کئی دفعہ رسول کریم ﷺ معمولی سی باتوں کے متعلق سوال کرتے تھے۔ صحابہ کرامؓ عرض کر دیا کرتے تھے۔ اللہ و رسولہ اعلم۔ یعنی اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں کیا اس کے یہ معنی ہیں۔ صحابہ کرامؓ کو اس خبر کا مطلق علم نہ تھا؟ ہم روزانہ دیکھتے ہیں۔ تھوڑے علم والا بڑے علم والے کے سامنے اپنی بے علمی کا اقرار کرتا ہے۔ اس کا نام جھوٹ نہیں۔ مرزا قادیانی! اسے کہتے ہیں۔ ادب اور عبودیت اگر حضرت عیسیٰ ؑ سے خدا نے پوچھا ہوتا کہ اے عیسیٰ ؑ تم کو اپنی امت کے بگڑنے کا علم ہے اور بالفرض انھوں نے کہہ دیا ہوتا۔ انت اعلم۔ تو یہ جھوٹ نہ ہوتا بلکہ ادب اور عبودیت کا کامل مظاہرہ ہوتا۔ دیکھئے اس عبودیت اور ادب کا مظاہرہ تمام انبیاء علیہم السلام جن میں عیسیٰ ؑ بھی شامل ہیں۔ قیامت کے دن اس طرح کریں
گے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ يَوْمَ يَجْمَعُ اللّٰهُ الرُّسُلَ فَيَقُوْلُ مَاذَا أُجِبْتُمْ قَالُوْا لَا عِلْمَ لَنَا (مائدہ ١٠٩) ”قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمام رسولوں کو اکٹھا کر کے پوچھیں گے تمہاری امتوں کی طرف سے کیا جواب دیا گیا۔ تو وہ کہیں گے ہمیں تو کچھ معلوم نہیں آپ کے قول کے مطابق تو تمام انبیاء نے جھوٹ کہہ دیا۔ غور کیجئے! کیا رسولوں کو بالکل پتہ نہیں ہوگا؟ ضرور ہوگا۔ مگر مقام عبودیت میں یہی کہہ دینا مناسب اور زیبا ہوگا۔ فالحمد للہ علی ذالک۔
مرزا قادیانی اپنے ہی دلائل کی بھول بھلیوں میں
- ٥...... مرزا قادیانی! ہم آپ کے اعتراض نمبر ٢ کے جواب میں مفصل ثابت کر آئے ہیں
کہ آپ کے عقیدہ کے مطابق حضرت عیسیٰ ؑ کی موت سے قریباً ٩١ برس پہلے عیسائی انھیں خدا بنا چکے تھے۔ پس آپ کے قول کے مطابق تو حضرت عیسیٰ ؑ کا جھوٹ بولنا ضرور لازم آتا ہے۔ آپ ہماری فکر نہ کیجئے اپنے غیر معقول دلائل کی دلدل سے نکلنے کا فکر بیان کیجئے۔ آپ کے قول کے مطابق حضرت عیسیٰ ؑ عیسائیوں کے بگڑنے کے ٩١ سال بعد تک زندہ رہے۔ حالانکہ عیسیٰ ؑ فرماتے ہیں۔ وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَا دُمْتُ فِيهِمْ ”میں جب تک ان میں رہا میں ان پر شاہد رہا“ حالانکہ آپ کے قول کے مطابق حضرت مسیح ؑ ٩١ برس تک اپنی خدائی کا مظاہرہ بھی دیکھتے رہے۔ بتلائیے! حضرت عیسیٰ ؑ کا جھوٹ بولنا آپ کے عقیدہ کے مطابق ثابت ہوا یا اسلامی عقیدہ کی رو سے؟ ذرا سمجھ کر اعتراض کیا کیجئے۔
شاید کہ پلنگ خفتہ باشد
قادیانی اعتراض .....٤ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِى میں توفی کے معنی سوائے مارنے یا موت دینے کے اور صحیح نہیں ہو سکتے۔ وجہ یہ ہے کہ بخاری شریف میں ایک حدیث ہے۔ جس میں رسول پاک ﷺ نے اپنی نسبت بھی فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِى کے الفاظ استعمال کیے ہیں اور آنحضرت ﷺ کی توفی یقیناً موت سے واقع ہوئی تھی۔ پس حضرت عیسیٰ ؑ کی توفی بھی موت کے ذریعہ سے ہونی چاہیے۔
(ملخص ازالہ اوہام ص ٨٩١ - ٨٩٠ خزائن ج ٣ ص ٥٨٥ - ٥٨٦)
جواب از ابوعبیدہ مرزا قادیانی! بے علمی بالخصوص نیم ملائی آپ کی گمراہی کی بہت حد تک ضامن ہے۔ اس حدیث سے آپ کو کس قدر دھوکہ لگا ہے۔ مگر منشاء اس سے
آپ کا علوم عربیہ سے ناواقفی ہے۔ اس میں رحمۃ اللعالمین ﷺ نے کمال فصاحت سے کام لیتے ہوئے فرمایا ہے۔ فَأَقُوْلُ كَمَا قَالَ الْعَبْدُ الصَّالِحُ وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَادُمْتُ فِيهِمْ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِى كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ. (بخاری ص ٦٩٣ بحوالہ ازالہ اوہام ص ٨٩٠ خزائن ج ٣ ص ٥٨٥) ”پس میں کہوں گا اسی کی مثل جو کہا تھا بندہ صالح نے ان الفاظ میں وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مرزا قادیانی! یہاں رسول کریم ﷺ نے یہ نہیں فرمایا کہ میں وہی کہوں گا جو کہا تھا عیسیٰ ؑ نے بلکہ فرمایا ”میں کہوں گا اسی کی مثل“ کیا دونوں میں فرق نہیں ہے۔ آپ کی تحریف کا راستہ بند کرنے کو آنحضرت ﷺ نے كَمَا فرمایا اور اگر آنحضرت ﷺ فرما جاتے ”فاقول ما قال العبد الصالح “ یعنی میں کہوں گا وہی جو کہا تھا عیسیٰ ؑ نے“ اس وقت البتہ آپ کو تحریف کے لیے گنجائش تھی۔ وہ بھی بے علموں کے سامنے ورنہ علماء اسلام اس وقت بھی آپ کی کج فہمی کا علاج کر سکتے تھے۔ تفصیل اس کی ذیل میں عرض کرتا ہوں۔
١۔ ..... اگر آنحضرت ﷺ فرماتے فاقول ما قال العبد الصالح تو اس کا مطلب یہ تھا کہ میں بھی وہی لفظ جواب میں عرض کروں گا جو عرض کر چکے ہوں گے عیسیٰ ؑ یعنی اس حالت میں رسول پاک ﷺ بھی فرماتے فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِیْ اس سے یہ کہاں لازم آیا کہ توفی کے معنی جو یہاں ہیں وہی وہاں بھی مراد ہیں۔ اسکا مطلب تو صرف اس قدر ہے کہ میں بھی توفی کا لفظ استعمال کروں گا اس کے معنی دلائل سے معلوم ہوں گے۔ رسول کریم ﷺ کی صورت میں واقعات کی شہادت کی رو سے توفی کا وقوع بذریعہ موت ہوا اور حضرت عیسیٰ ؑ کی صورت میں واقعات و شواہد قرآنی کی رو سے رفع جسمانی سے ہوا۔ اس کی تشریح مثالوں سے زیادہ واضح ہوگی۔
سر اقبال بھی ڈاکٹر ہیں اور مرزا یعقوب بیگ قادیانی بھی ڈاکٹر ہیں۔ پس اگر زید یوں کہے کہ میں مرزا یعقوب بیگ کے متعلق بھی وہی لفظ استعمال کروں گا جو میں نے سر اقبال کے متعلق کیا ہے یعنی ڈاکٹر۔ اس صورت میں صرف ایک عامی جاہل ہی مرزا یعقوب بیگ کو P.H.D سمجھنے لگ جائے گا۔ ورنہ سمجھدار آدمی فوراً ڈاکٹر کے مختلف مفہوم کا خیال کرے گا۔ اسی طرح ماسٹر کا لفظ اگر زید اور بکر دونوں کے لیے استعمال کیا جائے تو کون بیوقوف ہے جو دونوں کو ایک ہی فن کا ماسٹر سمجھنے لگ جائے گا؟ (نوجوان شریف لڑکے کو بھی انگریزی میں ماسٹر کہتے ہیں دیکھو کوئی انگریزی لغات) یا ممکن ہے زید اگر کسی غلام کا مالک ہے تو بکر درزی ہو۔ اسی طرح بے شمار الفاظ (افعال اور اسماء)
موجود ہیں اور ہر زبان میں موجود ہیں جو مختلف موقعوں پر مختلف معنی دیتے ہیں۔ پس اگر ”کما“ کا لفظ بھی آنحضرت ﷺ استعمال فرماتے۔ تب بھی ہم مرزا قادیانی کا ناطقہ بند کر سکتے تھے۔ وہ اس طرح کہ رسول پاک ﷺ کے الفاظ وہی کہنے کا اعلان کر رہے ہیں جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کہیں گے۔ مگر مفہوم یقیناً محل استعمال کے مختلف ہونے سے مختلف ہوگا۔ بہر حال اس صورت میں مرزا قادیانی جہالت میں کچھ چالاکی کر سکتے تھے۔
- ٢.......لیکن مرزا قادیانی! حدیث میں تو آنحضرت ﷺ نے آپ کی چالاکی کا سدباب
کرنے کے لیے ”کما“ کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔ یہ نہیں فرمایا کہ میں کیا کہوں گا۔ حدیث میں فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِى الخ کے الفاظ تو بطور مقولہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام منقول ہیں۔ اگر آپ کہیں رسول پاک ﷺ بھی یہی الفاظ قیامت کے دن بارگاہ خداوندی میں عرض کریں گے تو پھر ”کما“ کی فلاسفی اور فصاحت کلام کی اہمیت کیا رہی؟ ”کما“ تشبیہ کے لیے ہے تشبیہ بیان کی جا رہی ہے۔ دونوں حضرات کے اقوال میں، اگر دونوں کے اقوال ایک ہی ہوں گے تو مشابہت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا پھر تو عینیت آ جاتی ہے۔ جو کما کے منشاء کے بالکل مخالف ہے۔ اردو میں اس مضمون کو یوں بیان کیا جا سکتا ہے۔
- ١.......وہ میرا بھائی ہے۔٢.......وہ میرے بھائی کی طرح ہے۔
پہلے فقرہ میں کوئی مشابہت مذکور نہیں۔ اس واسطے وہ اور میرا بھائی ایک ہی شخص کے لیے استعمال ہوئے ہیں۔ لیکن دوسرے فقرہ میں دونوں کے درمیان مشابہت کا تعلق ہے۔ اس واسطے وہ اور میرا بھائی ایک نہیں ہو سکتے۔ بلکہ کسی امر مشترک کا بیان کرنا مقصود ہے مثلاً علم میں، اخلاق میں، چال میں، طرز گفتگو میں یا کسی اور امر میں، پس وہ بے وقوف ہے جو مشابہت کے وقت دونوں چیزوں کو ایک کہے کیونکہ مشابہت دو مختلف چیزوں کے کسی امر خاص وصف میں اتحاد کی بنا پر ہوتی ہے۔ یعنی مشابہت کا ہونا۔ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ دو چیزیں ایک نہیں بلکہ مختلف ہیں۔ حدیث زیر بحث میں مشابہت بیان کی جا رہی ہے۔ حضرت مسیح علیہ السلام اور رسول کریمؐ کے اقوال کے درمیان۔ پس معلوم ہوا کہ دونوں کے اقوال ایک ہی الفاظ کا مجموعہ نہیں ہو سکتے اور نہ ہی دونوں اقوال آپس میں ہم معنی ہو سکتے ہیں۔ ہاں کسی خاص وصف میں مشابہت ہونی لازمی ہے۔ دیکھئے مرزا قادیانی نے خود تشبیہات کی حقیقت یوں درج کی ہے۔
”تشبیہات میں پوری پوری تطبیق کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ بسا اوقات ایک ادنیٰ مماثلت کی وجہ سے بلکہ ایک جزو میں مشارکت کے باعث سے ایک چیز کا نام
دوسری چیز پر اطلاق کر دیتے ہیں۔“
(ازالہ اوہام ص ٧٢ خزائن ج ٣ ص ١٣٨)
مرزا قادیانی! ہم آپ کی اس تحریر سے زیادہ کچھ نہیں کہتے۔ اسی اصول کے ماتحت اگر آپ ہم سے فیصلہ کرنا چاہیں تو ساری مشکل آپ کی حل ہو جاتی ہے۔ دونوں حضرات کے اقوال میں مشارکت و مماثلت ہم بیان کرتے ہیں آپ انصاف سے غور کریں۔
دونوں حضرات اپنی اپنی امت کی گمراہی کی ذمہ داری سے بریت کا اعلان کر رہے ہیں۔ یعنی لوگوں کی گمراہی میں ان کا کوئی ہاتھ نہیں اور نہ ان کی گمراہی ان کے زمانہ میں واقع ہوئی ہے۔ لوگوں کے گمراہ ہونے کے زمانہ میں دونوں حضرات موجود نہ تھے۔ یہ الگ بات ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ بسبب رفع جسمانی اور حضرت رسول کریمؐ بسبب ظاہری موت اپنے اپنے لوگوں سے جدا ہوئے تھے۔ مقصود اپنی عدم موجودگی کا بیان کرنا ہے اور یہی وجہ مشابہت ہے۔ جس کی بنا پر رسول کریمؐ نے فرمایا۔ فاقول کما قال العبد الصالح الخ
ایک اور طرز سے
مرزا قادیانی! اگر دونوں اولوالعزم حضرات کے اقوال کے درمیان کما تشبیہی کے باوجود آپ دونوں کے کلام اور اس کے مفہوم کو ایک ہی لینے پر اصرار کرتے ہیں تو کیا فرماتے ہیں جناب مندرجہ ذیل صورتوں میں۔
- ١...... اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ کَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِيْدُهُ (سورہ انبیاء ١٠٤) ”جس طرح
پہلی بار مخلوق کو پیدا کیا پھر اسی طرح پیدا کریں گے۔“
کیا قیامت کے دن تمام مخلوق ماں باپ کے توسل سے ہی پیدا ہو گی کیونکہ پہلی بار تو اسی طرح پیدا ہو رہی ہے۔ دیکھا دونوں دفعہ پیدا کرنے میں کس قدر فرق ہے؟ مگر دونوں کو ایک طرح کا قرار دیا ہے اگر آپ کا اصول فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِيْ والا یہاں بھی چلایا جائے تو آپ کو ماننا پڑے گا کہ آپ دوبارہ ماں کے پیٹ سے قیامت کے دن نکلیں گے۔ جیسے آپ پہلے نکلے تھے۔
(تریاق القلوب ص ١٥٧ خزائن ج ١٥ ص ٤٧٩)
- ٢...... مرزا قادیانی خود آپ کا اپنا الہام ہے۔ ”الارض والسماء معک کما ھو
معی“ ”اے مرزا زمین اور آسمان تیرے ساتھ اسی طرح ہیں۔ جس طرح میرے (خدا کے) ساتھ۔“
(انجام آتھم ص ٥٢ خزائن ج ١١ ص ایضاً)
کیا آپ کا مطلب اس سے یہ ہے کہ جیسے خدا ان کا خالق ہے آپ بھی ان
کے خالق ہیں۔ جیسے ان میں خدا کی بادشاہی ہے ویسے ہی آپ کی بھی ہے۔
- ٣...... اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ كَذِكْرِكُمْ اٰبَاءَ كُمْ (سورہ بقر ٢٠٠) ”یعنی تم
اللہ تعالیٰ کو اسی طرح یاد کرو جس طرح تم اپنے باپ داداؤں کو یاد کرتے ہو۔ اب باپ داداؤں کو یاد کرنے کا طریقہ سب دنیا جانتی ہے۔ مرزا قادیانی آپ نے اپنے باپ داداؤں کو یاد کرتے ہوئے ان کی سرکاری خدمات کا ذکر ضروری سمجھا ہے۔ یعنی کہ ”میرے والد نے سرکار انگریزی کی فلاں فلاں موقعہ پر یہ یہ خدمات سرانجام دیں۔ میرے باپ نے غدر کے موقعہ پر سرکار کو اتنے جوان اور اتنے گھوڑے دیے۔“ وغیرہ وغیرہ! مرزا قادیانی کیا آپ خدا کو بھی اس طرح یاد کرتے تھے۔ یعنی خدا نے فلاں فلاں جگہ سرکار انگریزی کی فلاں فلاں طریقہ سے مدد کی۔ اگر اس جگہ ”ک“ تشبیہی ہے اور اس سے عینیت لازم نہیں آتی۔ تو یقیناً فاقول کما قال العبد الصالح (میں کہوں گا اسی طرح جس طرح کہا ہوگا بندہ صالح نے) میں بھی دونوں حضرات کی کلام کا حرف بحرف ایک ہونا لازم نہیں آتا۔
- ٤...... دوسری جگہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ ”انا ارسلنا الیکم رسولاً کما ارسلنا الی
فرعون رسوله (مزمل ١٥) یعنی ہم نے اے لوگو تمہاری طرف ایسا ہی رسول بھیجا ہے جیسا رسول مکہ (موسیٰ) فرعون کی طرف بھیجا تھا۔“
اب یہاں سوچنے کا مقام ہے کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ موسیٰ علیہ السلام ہی دوبارہ آ گئے تھے؟ اگر ایسا نہیں اور یقیناً نہیں تو آیت زیر بحث میں بھی دونوں حضرات کی کلام لفظاً ایک نہیں ہو سکتی۔
- ٥...... ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ ”کما بدأکم تَعُوْدُوْن (سورہ اعراف ٢٩) ”یعنی
جس طرح تمھیں بنایا۔ اسی طرح واپس لوٹو گے۔“ کیا یہاں بھی آپ کے اصول کے مطابق یہی مراد ہے کہ جیسے پہلے انسان کا ظہور ہوا تھا۔ بعینہ اسی طرح پھر ہوگا۔“ اگر نہیں تو دونوں حضرات کی کلام بھی ایک نہیں ہو سکتی۔
- ٦...... ایک اور جگہ ارشاد باری تعالیٰ ملاحظہ ہو۔ ”كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى
الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ (البقرہ ١٨٣) ”یعنی اے مسلمانو تم پر بھی روزے اسی طرح فرض کیے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلوں پر۔“ کیا مرزا قادیانی آپ کے نزدیک پہلی امتوں پر بھی ماہ رمضان کے روزے فرض کیے گئے تھے اور اپنی تمام جزئیات میں اسی طرح فرض تھے۔ جس طرح مسلمانوں پر؟ یقیناً نہیں۔ پس دونوں حضرات کی کلام میں بھی لفظی اور معنوی وحدت کا قائل ہونا تحکم محض ہے۔
- ٧...... اس قسم کی مثالوں سے کلام اللہ بھرا پڑا ہے کہ دو اشیاء کے درمیان تشبیہ بیان کی گئی
ہے اور خود تشبیہ کا بیان ہی اس بات کا ضامن ہوتا ہے کہ وہ دونوں چیزیں مختلف ہیں۔
- ٨...... خود اسی آیت زیر بحث میں اللہ تعالیٰ نے فیصلہ کر دیا ہے۔ حضرت عیسیٰ ؑ کے
منہ سے یہ الفاظ نکلوا دیے ہیں۔ ”تَعْلَمُ مَا فِيْ نَفْسِيْ وَلَا اَعْلَمُ مَا فِيْ نَفْسِكَ یعنی اے اللہ تو میرے دل کی باتوں کو جانتا ہے اور میں تیرے دل کی باتوں کو نہیں جانتا۔“ اب کون عقل کا اندھا اور علم سے کورا یہ خیال کر سکتا ہے کہ دونوں جگہ نفس سے بالکل ایک جیسے ہیں؟ مرزا قادیانی کاش آپ اس وقت (١٩٣٥ء) میں زندہ ہوتے تو ہم آپ سے بالمشافہ گفتگو کرتے اور دیکھتے کہ آپ ہمارے دلائل کا کیا معقول جواب دے سکتے ہیں۔ اچھا اب آپ کے بیٹے ”فخرِ رُسل“ اور ”قمر الانبیاء“ اور کان اللہ نزل من السماء کی شان رکھنے والے مرزا بشیر الدین محمود کے دلائل کا انتظار کریں گے کیونکہ اَلْوَلَدُ سِرٌّ لِاَبِيْهِ بھی تو آخر ٹھیک ہی ہے۔ (اور اب ہم مرزا مسرور سے یہی توقع رکھتے ہیں مرتب) وہ ضرور جواب میں آپ کی نقل کریں گے۔
قرآنی دلیل......١٠ مَا الْمَسِيْحُ ابْنُ مَرْيَمَ اِلَّا رَسُوْلٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ
(مائدہ ٧٥) حضرات! اس آیت کو مرزا قادیانی نے وفات مسیح ؑ کی دلیل کے طور پر بیان کیا ہے۔ نہ صرف اسی آیت کو بلکہ جس قدر آیات سے حیاتِ عیسیٰ ؑ ثابت ہے ان سب میں تحریف کر کے مرزا قادیانی نے وفاتِ مسیح ؑ ثابت کرنے کی سعی لاحاصل کی ہے۔ اسی کو کہتے ہیں ”چہ دلاور است دزدے کہ بکف چراغ دارد۔“
اس آیت کی تفسیر میں ہم بہت طوالت اختیار نہیں کریں گے۔ صرف اجمالی بحث پر اکتفا کریں گے۔
- ١...... قادیانیوں کے مسلم مجدد صدی نہم امام جلال الدین سیوطیؒ اپنی تفسیر جلالین ص ١٠٤ میں
زیر آیت فرماتے ہیں۔
”مَا الْمَسِيْحُ ابْنُ مَرْيَمَ اِلَّا رَسُوْلٌ قَدْ خَلَتْ مضت مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُل فهو یمضی مثلہم ولیس بالہ کما زعموا ولا لما مضی“ ”نہیں ہے مسیح ؑ ابن مریم مگر ایک رسول اس سے پہلے بھی بہت سے رسول گزر چکے ہیں۔ پس وہ بھی ان کی طرح گزر جائے گا اور وہ اللہ نہیں ہے جیسا کہ نصاریٰ خیال کرتے ہیں اور اگر وہ خدا ہوتا تو نہ گزر جاتا (چونکہ وہ بھی دوسرے نبیوں کی طرح گزر جائے گا۔ اس لیے خدا نہ ہوا)
- ٢...... قادیانیوں کے مسلم مجدد صدی ششم امام فخر الدین رازیؒ اپنی شہرہ آفاق تفسیر میں
ارقام فرماتے ہیں۔
”ای ما ھو الا رسول من جنس الرسل الذين خلوا من قبله جاء بايات من اللہ کما أتوا بامثالھا فان کان اللہ ابرأ الاکمہ والابرص واحیا الموتیٰ علی یدہ فقد احیا العصا وجعلھا حیۃ تسعی و فلق البحر علی ید موسیٰ و ان کان خلق من غیر ذکر فقد خلق آدم من غیر ذکر ولا انثیٰ.“
(تفسیر کبیر ج ٦ جز ١١ ص ٦١)
”یعنی نہیں عیسیٰ علیہ السلام مگر ایک رسول ایسے ہی جیسے کہ ان سے پہلے گزر چکے ہیں۔ عیسیٰ علیہ السلام اللہ کی طرف سے ایسے ہی معجزات لے کر آئے تھے کہ جن کی مثل وہ پہلے رسول بھی لائے تھے۔ پس اگر اللہ تعالیٰ نے مادر زاد اندھوں اور برص والوں کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ پر اچھا کیا اور مردوں کو ان کے ہاتھ پر زندہ کر دیا تو موسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ پر عصا کو زندہ کر کے اژدہا بنا دیا اور سمندر کو پھاڑ دیا تھا اور اگر وہ بغیر باپ کے پیدا کیے گئے تو آدم علیہ السلام ماں باپ دونوں کے بغیر پیدا کیے گئے تھے۔“
اس عبارت سے صاف عیاں ہے کہ اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی الوہیت (خدائی) کے خلاف ان کے صرف رسول ہونے کا اعلان کر رہے ہیں۔ اگر قادیانی عقیدہ درست تسلیم کر لیا جائے تو پھر اللہ تعالیٰ ضرور عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کو پیش کر کے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی الوہیت کے خلاف دلیل پکڑتے۔ کسی شخص کے مر جانے کا ثبوت اس کے مخلوق ہونے کا بہترین ثبوت ہے۔ مگر ظاہر ہے کہ یہاں اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ مانتے ہوئے ان کی رسالت اور معجزات کو گذشتہ نبیوں اور ان کے معجزات کا نمونہ قرار دے رہے ہیں۔ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو چکے ہوتے تو اللہ تعالیٰ ضرور یوں استدلال کرتے کہ ”تم جانتے ہو کہ عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں اور ظاہر ہے کہ خدا فوت نہیں ہو سکتا۔ پس حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی خدا نہیں بن سکتے۔“
مگر اللہ تعالیٰ یوں دلیل بیان کرتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے پہلے بھی ان کی طرح رسول گزر چکے ہیں۔ یہ کوئی انوکھے رسول نہیں ہیں۔
ذیل میں ہم اپنے بیان کی تصدیق مرزا قادیانی کی زبان سے کراتے ہیں۔ مرزا قادیانی کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں۔
”یعنی مسیح صرف ایک رسول ہے اس سے پہلے نبی فوت ہو چکے ہیں۔“
(ازالہ اوہام ص ٦٠٣ خزائن ج ٣ ص ٤٢٥)
اس ترجمہ میں مرزا قادیانی کی زبان سے خود اللہ تعالیٰ نے معجزانہ طور پر ایسے
الفاظ نکلوا دیے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات جسمانی کا بانگ دہل اعلان کر رہے ہیں۔ ایک رسول ہے کہ بندش الفاظ کا خیال فرمائیے ۔ پھر مرزا قادیانی دوسرے رسولوں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام میں فرق یہ بیان کر رہے ہیں کہ دوسرے رسول تو فوت ہو چکے ہیں۔ جس سے لازمی نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ مسیح فوت نہیں ہوئے۔ ہاں دوسرے نبیوں کی طرح فوت ہو جانا ان کے لیے بھی مقدر ہے جو اپنے وقت پر پورا ہو کر رہے گا۔
اب قرآنی تفسیر ملاحظہ ہو۔ سورۃ آل عمران ١٤٤ میں اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو مخاطب کر کے فرماتے ہیں۔ مَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ ۚ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ۔ اس کے معنی مرزا قادیانی یوں کرتے ہیں۔ ”محمد ﷺ صرف ایک نبی ہیں۔ ان سے پہلے سب نبی فوت ہو گئے ہیں۔“
(ازالہ اوہام ص ٦٠٦ خزائن ج ٣ ص ٤٢٧)
اب غور طلب بات یہ ہے کہ دونوں آیتیں حضرت رسول کریم ﷺ پر نازل ہوئی تھیں۔ دونوں کا طرز بیان ایک ہے۔ دونوں کا مقصد ایک ہے۔ دونوں کے الفاظ ایک ہیں۔ فرق اگر ہے تو یہ کہ ایک آیت میں المسیح ابن مریم مذکور ہے۔ تو دوسری میں محمد ﷺ مرقوم ہیں۔ اندریں حالات جو معنی اور تفسیر دوسری آیت میں رسول کریم ﷺ کے متعلق کریں گے۔ وہی پہلی آیت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق سمجھیں گے۔ چنانچہ مرزا قادیانی بھی ازالہ اوہام ص ٤٢٩ خزائن ج ٣ ص ٢٧٧ پر ہمارے اصول کو صحیح تسلیم کر چکے ہیں۔ ناظرین مفصل وہاں دیکھ سکتے ہیں۔ پس اگر کلام اللہ کی آیت ما محمد الا رسول کے نازل ہونے کے وقت رسول کریم ﷺ فوت ہو چکے تھے تو ما المسیح ابن مریم الا رسول کے نزول کے وقت ہمیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات تسلیم کرنے سے ہرگز ہرگز انکار نہیں۔ لیکن اگر مَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْل کے نزول کے وقت رسول کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام زندہ بجسدہ العنصری موجود تھے تو بعینہ اسی دلیل سے مَا الْمَسِيْحُ ابْنُ مَرْيَمَ اِلَّا رَسُوْل کی آیت سے حضرت مسیح علیہ السلام کی حیات جسمانی ثابت ہو جائے گی۔ کون نہیں جانتا کہ رسول کریم ﷺ نزول آیت کے وقت زندہ تھے۔ پس جس دلیل سے رسول کریم ﷺ کی زندگی کا ثبوت ملتا ہے اسی دلیل سے حضرت مسیح علیہ السلام کا زندہ ہونا بھی تسلیم کرنا پڑے گا۔ ناظرین! میں نے دس آیات قرآنیہ سے روز روشن کی طرح حیات عیسیٰ علیہ السلام کا ثبوت بہم پہنچا دیا ہے۔ کوئی دلیل نقلی قادیانی مسلمات کے خلاف بیان نہیں کی۔ اگر پھر بھی قبول نہ کریں تو سوائے ختم اللہ علی قلوبہم کی تلاوت کے اور کیا کیا جائے۔ تلک عشرۃ کاملۃ۔
باب سوم
حیات عیسیٰ علیہ السلام کا ثبوت احادیث سے
احادیث کی عظمت از کلام اللہ شریف
- ١۔ ...... فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتّٰى يُحَكِّمُوكَ (نساء ٦٥) مطلب جس کا یہ ہے کہ
مسلمانوں کے ایمان کی کسوٹی یہ ہے کہ باہمی اختلاف کے وقت وہ رسول کریم ﷺ کو اپنا ثالث بنایا کریں۔ اگر وہ آنحضرت ﷺ کے فیصلہ کو بسر و چشم خوشی سے قبول نہ کریں گے تو وہ کبھی مومن نہیں ہو سکتے۔ اسی طرح اختلاف کے وقت حدیث کی طرف رجوع کرنے کے احکام سے تمام قرآن کریم بھرا پڑا ہے۔ جس کا جی چاہے دیکھ لے۔ مرزا قادیانی نے بھی مجبوراً اس حکم کے سامنے سر تسلیم خم کر دیا ہے۔ مگر امتحان کے وقت تاویلات رکیکہ سے جان بچا لیتے ہیں۔ چنانچہ ذیل میں حدیث کی عظمت ہم اقوال مرزا سے ثابت کرتے ہیں۔
(دیکھو قادیانی اصول نمبر ٢ مندرجہ کتاب ہذا)
- ب ...... قول مرزا: ”جو حدیث قرآن شریف کے مخالف نہیں بلکہ اس کے بیان کو اور بھی
بسط سے بیان کرتی ہے وہ بشرطیکہ جرح سے خالی ہو قبول کرنے کے لائق ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ٥٥٧ خزائن ج ٣ ص ٤٠٠)
- ج ...... قول مرزا: ”ہمیں اپنے دین کی تفصیلات احادیث نبویہ کے ذریعہ سے ملی ہیں۔“
(شہادۃ القرآن ص ٣ خزائن ج ٦ ص ٢٩٩)
- ٢ ...... ہم اپنی تائید میں صرف وہی حدیثیں بیان کریں گے جن کو قادیانی نبی اور اس کی
جماعت نے صحیح تسلیم کر لیا ہے۔ یا قادیانیوں کے تسلیم کیے ہوئے اصحاب کشف و الہام اور مجددین کے اقوال سے ان کی صحت پایہ ثبوت تک پہنچ چکی ہے۔ حدیثوں کی صحت پر ہم ساتھ ساتھ قادیانیوں اور ان کے مسلمہ مجددین کی تصدیقات بھی ثبت کراتے جائیں گے تا کہ کوئی قادیانی اگر حدیث کے صحیح ہونے سے انکار کرے تو اس طریقہ سے بھی مرزا قادیانی ہی جھوٹے ثابت ہوں۔ غرضیکہ ہماری پانچوں ہر حالت میں گھی میں ہوں گی۔ اگر قبول کر لیں تو ”چشم ما روشن دل ما شاد“ اور اگر قبول نہ کریں تو اس صورت میں مرزا قادیانی کو پہلے جھوٹا تسلیم کرنا پڑے گا۔
حدیث.......ا۔ عن ابی ھریرۃؓ قال قال رسول اللہ ﷺ والذی نفسی بیدہ لیوشکن ان ینزل فیکم ابن مریم حکما عدلاً
(مشکوٰۃ ص ٤٧٩ باب نزول عیسیٰ ؑ)
یہاں ہم اس حدیث کی تشریح قادیانیوں کے مسلم امام و مجدد صدی ہشتم حضرت حافظ ابن حجر عسقلانیؒ کے الفاظ میں پیش کرتے ہیں۔
- ١....... ”وھذا مصیر من ابی ھریرۃ الی ان الضمیر فی قولہ لیؤمنن بہ وکذالک
فی قولہ قبل موتہ یعود علی عیسیٰ اے لیؤمنن بعیسیٰ قبل موت عیسیٰ و بھذا جزم ابن عباس فیما رواہ ابن جریر من طریق سعید بن جبیر عنہ باسناد صحیح ومن طریق ابی رجاء عن الحسن قال قبل موت عیسیٰ و اللہ انہ الان لحی ولکن اذا نزل آمنوا بہ اجمعون۔“
(فتح الباری ج ٦ ص ٤٥٧ مطبوعہ بیروت)
”(اس سے ظاہر ہے کہ) حضرت ابوہریرہؓ کا مذہب یہ ہے کہ قول الٰہی قبل موتہٖ میں ضمیر (ہ) حضرت عیسیٰ ؑ کی طرف پھرتی ہے۔ پس معنی اس آیت کے یہ ہوئے کہ (اہل کتاب) حضرت عیسیٰ ؑ پر حضرت عیسیٰ ؑ کی موت سے پہلے ایمان لے آئیں گے اور اسی بات پر حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے جزم کیا ہے۔ مطابق اس کے جو امام ابن جریر نے آپ سے بطریق سعید بن جبیر باسناد صحیح روایت کیا ہے اور نیز بطریق ابی رجاء حضرت امام حسن بصری سے روایت کیا کہ انھوں نے (اس آیت کے متعلق) کہا کہ حضرت عیسیٰ ؑ کی موت سے پہلے (ایمان لے آئیں گے) خدا کی قسم آپ یقیناً اس وقت زندہ ہیں جب آپ نازل ہوں گے تو سب (اہل کتاب) آپ پر ایمان لے آئیں گے۔“
- ١....... حضرات غور کیجئے۔ ہم نے اسلامی عقیدہ کی تصدیق میں رسول کریم ﷺ کی حدیث
صحیح پیش کی ہے۔ حدیث بھی بخاری شریف کی جس کی صحت پر مرزا قادیانی کا ایمان ہے اور اس کی روایت کو سب پر ترجیح دیتے ہیں۔
(دیکھو ازالہ اوہام ص ٨٨٢ خزائن ج ٣ ص ٥٨٢ و تبلیغ رسالت ج ٢ ص ٢٥ مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٣٥)
- ٢....... پھر حدیثوں میں سے ہم نے وہ حدیث لی ہے جس کی صحت پر خود رسول کریم ﷺ
نے قسم اٹھائی ہے۔ قسم والی حدیث میں تاویل حرام ہے۔
(قول مرزا)
- ٣....... پھر یہ حدیث مروی ہے۔ حضرت ابوہریرہؓ سے جو حافظ حدیث رسول ﷺ تھے اور
وہی صاحب اس حدیث کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ حسب قرآنی وعدہ و پیشگوئی وَاِنْ مِّنْ اَھْلِ الْکِتَابِ اِلَّا لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ حضرت عیسیٰ ؑ آسمانوں سے
نازل ہوں گے اور ان کے فوت ہونے سے پہلے سب اہل کتاب کا ایمان لانا ضروری ہے۔
- ٤......صحابی کی مذکورہ بالا تفسیر پر حضرت حافظ ابن حجر عسقلانی مجدد و امام صدی ہشتم نے
مہر توثیق ثبت کر دی ہے اور دلیل میں امام ابن جریر قادیانیوں کے مسلم محدث و مفسر کی روایت سے قادیانیوں کے مسلم مفسر اعظم حضرت ابن عباسؓ سے تصدیق کرا دی ہے۔ علاوہ ازیں سرتاج اولیاء و مجددین امت محمدیہ حضرت امام حسن بصریؒ کا قول پیش کر دیا ہے اور قول بھی حلفیہ کہ حضرت مسیح علیہ السلام زندہ ہیں۔ چونکہ قول حلفیہ ہے لہٰذا مطابق اصول قادیانی اس میں کوئی تاویل نہیں چل سکتی۔
- ٥.......سب سے بڑھ کر یہ کہ حضرت ابوہریرہؓ اس آیت کا چیلنج تمام صحابہؓ کو دیتے ہوئے
حیات عیسیٰ علیہ السلام کے ثبوت میں وَإِنْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتَابِ پڑھنے کی تلقین کرتے ہیں اور ایک لاکھ سے زیادہ صحابہؓ جو قادیانیوں کے نزدیک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت پر اجماع کر چکے ہیں۔ (تحفہ گولڑویہ ص ١٤ خزائن ج ١٧ ص ٩١) حضرت ابوہریرہؓ کا چیلنج سن کر چپ ہو جاتے ہیں کیونکہ تمام کتب حدیث کو پڑھ جایئے کہیں کوئی ایسی روایت نہ ملے گی۔ جہاں صحابہ کرامؓ میں سے کسی ایک نے بھی حضرت ابوہریرہؓ کے اس قول کی تردید کی ہو حضرات! اس کا نام ہے استدلال صحیح اور برہان اسلامی۔ ذرا قادیانی سے بھی وفات عیسیٰ علیہ السلام کے ثبوت میں ہماری طرح بیسیوں نہیں صرف ایک ہی ایسی دلیل طلب کر کے اسلامی دلائل کے ساتھ مقابلہ کیجئے اور حق اور باطل کے درمیان ایک فیصلہ کن فرق ملاحظہ کیجئے۔
- حدیث.......٢ عن ابی ھریرۃ عن النبی ﷺ قال الانبیاء اخوۃ لِعَلَّاتٍ اُمَّهَاتُهُمْ
شَتّٰى وَدِيْنُهُمْ وَاحِدٌ وَّاَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِعِيْسَى ابْنِ مَرْيَمَ لِاَنَّهُ لَمْ يَكُنْ بَيْنِيْ وَبَيْنَهُ نَبِيٌّ وَّاِنَّهُ نَازِلٌ فَاِذَا رَاَيْتُمُوْهُ فَاعْرِفُوْهُ رَجُلٌ مَّرْبُوْعٌ اِلَى الْحُمْرَةِ وَالْبَيَاضِ عَلَيْهِ ثَوْبَانِ مُمَصَّرَانِ رَأْسُهُ يَقْطُرُ وَاِنْ لَّمْ يُصِبْهُ بَلَلٌ فَيَدُقُّ الصَّلِيْبَ وَيَقْتُلُ الْخِنْزِيْرَ وَيَضَعُ الْجِزْيَةَ وَيَدْعُوا النَّاسَ اِلَى الْاِسْلَامِ فَتُهْلَكُ فِیْ زَمَانِهَا الْمِلَلُ كُلُّهَا اِلَّا الْاِسْلَامَ وَتَرْتَعُ الْاُسُوْدُ مَعَ الْاِبِلِ وَالنِّمَارُ مَعَ الْبَقَرِ وَالذِّيَابُ مَعَ الْغَنَمِ وَ تَلْعَبُ الصِّبْيَانُ بِالْحَيَّاتِ فَلَا تَضُرُّهُمْ فَيَمْكُثُ اَرْبَعِيْنَ سَنَةً ثُمَّ يُتَوَفّٰى وَيُصَلِّی عَلَيْهِ الْمُسْلِمُوْنَ۔
(رواہ ابو داؤد جلد دوم ص ١٣٥ باب خروج الدجال ومسند احمد ج ٢ ص ٤٠٦)
حدیث بالا کی عظمت و صداقت کا ثبوت: تصدیق از مرزا غلام احمد قادیانی
- ١.......مرزا قادیانی نے اس حدیث سے اپنی صداقت میں مندرجہ ذیل کتابوں میں استدلال
کیا ہے۔ (حقیقۃ الوحی ص ٣٠٧ خزائن ج ٢٢ ص ٣٢٠ و ازالہ اوہام ص ٦٩٩ خزائن ج ٣ ص ٤٧٧)
- ٢...... مرزا قادیانی کے قول کے مطابق یہ حدیث بخاری شریف میں بھی موجود ہے۔
چنانچہ مرزا قادیانی کی ساری عبارت ناظرین کے مطالعہ کے لیے لکھ دیتا ہوں۔ ”پھر امام بخاری نے ..... ظاہر کیا ہے کہ اس قصہ کی وجہ سے آنحضرت ﷺ کو مسیح ابن مریم سے ایک مشابہت ہے۔ چنانچہ ص ٤٨٩ میں یہ حدیث بھی بروایت ابوہریرہؓ لکھ دی ہے۔ انا اولی الناس بابن مریم والانبیاء اولاد علات“
(ازالہ اوہام ص ٨٩٣ خزائن ج ٣ ص ٥٨٧۔٥٨٨)
اس سے معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی اس حدیث کی صحت کے نہ صرف قائل تھے بلکہ مدعی تھے۔
تصدیق از مرزا محمود احمد قادیانی خلیفۂ قادیان
جھوٹے مرزا محمود قادیانی نے یہ حدیث سارے کی ساری اپنی کتاب میں درج کر کے اسی کے بل بوتے پر مرزا قادیانی کی نبوت ثابت کی ہے اور بہت لمبی چوڑی بحث کی ہے۔ بہرحال حدیث مذکورہ بالا کو بالکل صحیح تسلیم کیا ہے۔ ہم نے یہ حدیث حقیقۃ النبوۃ ہی سے نقل کی ہے۔ اب ترجمہ حدیث کا بھی ہم خلیفہ قادیانی مرزا محمود کے الفاظ میں آپ کے سامنے پیش کرتے ہیں۔
”یعنی انبیاء علاتی بھائیوں کی طرح ہوتے ہیں۔ ان کی مائیں تو مختلف ہوتی ہیں اور دین ایک ہوتا ہے اور میں عیسیٰ ابن مریم سے سب سے زیادہ تعلق رکھنے والا ہوں کیونکہ اس کے اور میرے درمیان کوئی نبی نہیں (ہوا کا لفظ کھا گئے ہیں۔ ابوعبیدہ) اور وہ نازل ہونے والا ہے۔ پس جب اسے دیکھو تو اسے پہچان لو کہ وہ درمیانہ قامت، سرخی سفیدی ملا ہوا رنگ، زرد کپڑے پہنے ہوئے اس کے سر سے پانی ٹپک رہا ہوگا گو سر پر پانی نہ ہی ڈالا ہو اور صلیب کو توڑے گا اور خنزیر کو قتل کرے گا اور جزیہ کو ترک کر دے گا اور لوگوں کو اسلام کی دعوت دے گا۔ اس کے زمانہ میں سب مذاہب ہلاک ہو جائیں گے اور صرف اسلام ہی رہ جائے گا۔“
(حقیقۃ النبوۃ ص ١٩٢)
قادیانی خیانت کی عجیب مثال
مرزا بشیر الدین محمود نے ساری حدیث کو نقل کر دیا ہے۔ مگر درمیان سے وہ تمام الفاظ اور فقرے جن میں قادیانی تاویل کی دال نہیں گل سکتی ہضم کر گئے ہیں۔ مثلاً فیقاتل
الناس على الاسلام...... و يهلك المسيح الدجال۔ مطلب جن کا یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ نازل ہونے کے بعد کفار سے جہاد کریں گے اور دجال کو ہلاک کر دیں گے۔
- ١...... تصدیق از امام احمد مجدد وقت (دیکھو عسل مصفیٰ جلد اوّل ص ١٦٤، ١٦٣) یہ حدیث مسند امام
احمد میں بھی موجود ہے۔
- ٢...... تصدیق از حافظ ابن حجر مجدد وقت (دیکھو عسل مصفیٰ جلد اوّل ص ١٦٤، ١٦٣) انھوں نے
اس حدیث کی اسناد کو صحیح لکھا ہے۔
(دیکھو فتح الباری ج ٦ ص ٣٥٧)
ابو عبیدہ اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے حضرت مسیح ؑ کا نام عیسیٰ ابن مریم لے کر فرمایا ہے کہ وہ مجھ سے پہلے ہوئے ہیں۔ (جیسا کہ لَمْ يَكُنْ کے الفاظ اعلان کر رہے ہیں) پھر ارشاد فرمایا کہ تحقیق وہی ابن مریم نازل ہونے والا ہے۔ نزول کا لفظ رفع یا صعود کا مقابل ہے۔ چنانچہ خود مرزا قادیانی نے بھی اس بات کو تسلیم کر لیا ہے۔ لکھتے ہیں۔ ”وتعلمون ان النزول فرع للصعود میدانید کہ نزول برائے صعود فرع است۔“
(انجام آتھم ص ١٦٨ خزائن ج ١١ ص ایضاً)
یعنی اترنا چڑھنے کا نتیجہ ہے۔ پس معلوم ہوا کہ دونوں میں سے ایک کا یقینی علم حاصل ہو جائے تو دوسرا خود بخود ثابت ہو جائے گا۔ مثال اس کی یوں سمجھیں۔ ”جاگنا سونے کی فرع ہے۔ اگر کوئی آدمی جاگ اٹھا ہو تو وہ ضرور سویا ہوگا۔“ اسی طرح اگر عیسیٰ ؑ کا آسمان سے اترنا ثابت ہو جائے تو لازمی طور پر ان کا آسمان پر جانا بھی ثابت شدہ متصور ہوگا۔ اگر یوں کہا جائے کہ مرزا قادیانی لاہور سے آئے ہیں تو مرزا قادیانی کا لاہور جانا بھی ثابت ہو جائے گا۔ اگر یوں کہا جائے کہ مرزا محمود ہوائی جہاز سے اترے ہیں تو ان کا ہوائی جہاز میں اڑنا بھی ثابت ہو جائے گا۔
پس جب ہم نے اس حدیث سے ثابت کر دیا ہے کہ وہی حضرت عیسیٰ ؑ جو حضرت مریم صدیقہ کے بیٹے تھے نازل ہوں گے تو معلوم ہوا کہ وہ آسمان پر زندہ موجود ہیں۔ خود غرضی کا ستیاناس ہو کہ عیسیٰ ؑ کے معنی غلام احمد اور مریم سے مراد چراغ بی بی لیا جا رہا ہے۔ اور آسمان سے مراد ماں کا پیٹ باپ سے مراد بیٹا اور بیٹے سے مراد بھائی اور باپ سے مراد بھائی یا بیٹا غرضیکہ جو کچھ دل چاہے معنی کر لیتے ہیں۔ اگر کسی زبان میں یہ طریقہ عام مروج ہو جائے تو امن عالم خطرہ میں پڑ جائے۔ میں کہتا ہوں مجھے کھانڈ دو۔ آپ مجھے مٹی دے دیں۔ اس پر میں قبول کرنے سے انکار کر دوں۔
آپ کہیں کھانڈ سے مراد آپ کی مٹی ہی تھی۔ لطف یہ کہ اس کجروی پر بھی آپ کو کچھ دوست ایسے مل جائیں جو آپ کا استدلال مان لیں۔ تو بتائیے کہ سکھا شاہی کے سر پر کیا سینگ ہوتے ہیں؟
بعض مرزائی کہتے ہیں کہ ”آسمان سے“ کے لفظ حدیث میں نہیں ہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ رسول کریم ﷺ یا اللہ تعالیٰ مرزا قادیانی کی طرح کلام کرنے والے نہیں ہیں کہ کلام میں غیر ضروری الفاظ بھی خواہ مخواہ داخل کرتے جائیں۔ قادیانیوں کی جانے بلا کہ فصاحت و بلاغت اور علم کلام کس جانور کا نام ہے؟ دیکھئے پچھلے دنوں مسٹر خالد لطیف گابا ولایت تشریف لے گئے تھے۔ اس میں ولایت کے لفظ سے پہلے ”ہندوستان سے“ کے الفاظ بڑھانے کا مطالبہ کرنا کس قدر حماقت ہے؟ اسی طرح ان کے ولایت جانے کے بعد یونہی کہا جائے گا کہ مسٹر خالد لطیف گابا فلاں تاریخ ہندوستان آ جائیں گے۔ اس پر کہنے والے کا منشاء یقیناً ولایت سے آنے کا ہے۔
اس صورت میں ”ولایت سے“ کے لفظ بڑھانا کوئی ضروری نہیں ہے اسی طرح جبکہ تمام صحابہ کرامؓ جن سے خطاب تھا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر زندہ بجسدہ العنصری مانتے تھے۔ اندریں صورت ”نازل مِنَ السَّمَاءِ“ کی بجائے صرف ”نازل“ کا لفظ کہنا ہی رسول کریم ﷺ کو زیب دیتا تھا۔ مگر باوجود اس کے کہ من السماء کے الفاظ کا اضافہ غیر ضروری تھا۔ رحمۃ اللعالمین نے قادیانیوں کا ناطقہ بند کرنے کے لیے اپنی مبارک زبان سے من السماء کے الفاظ بھی بڑھا دیے۔ جیسا کہ آگے آتا ہے۔
حدیث....... ٣ ”عن عبدالله بن عمرو بن العاص قال قال رسول الله ﷺ ینزل عیسی ابن مریم الی الارض فیتزوج ویولد له و یمکث خمسا و اربعین سنة ثم یموت فیدفن معی فی قبری فاقوم انا و عیسی ابن مریم فی قبر واحد بین ابی بکر و عمر رواه ابن جوزی فی کتاب الوفاء.“
(مشکوٰۃ ص ٤٨٠ باب نزول عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام)
”عمرو بن العاص فاتح مصر کے بیٹے حضرت عبداللہ صحابی رسول کریم ﷺ نے روایت کرتے ہیں۔ فرمایا رسول کریم ﷺ نے کہ عیسیٰ علیہ السلام بیٹے مریم کے زمین کی طرف نازل ہوں گے۔ پس نکاح کریں گے اور ان کی اولاد ہوگی اور پینتالیس برس تک رہیں گے۔ پھر فوت ہوں گے اور میرے پاس میرے مقبرہ میں دفن ہوں گے۔ پھر میں اور
عیسیٰ بیٹا مریم کا ایک ہی مقبرہ سے اٹھیں گے۔ ابوبکرؓ و عمرؓ کے درمیان۔‘‘
تصدیق صحت حدیث
- ١....... یہ حدیث بیان کی ہے امام ابن جوزی نے جو قادیانیوں کے نزدیک چھٹی صدی میں
تجدید دین کے لیے مبعوث ہوئے تھے اور ان کے منکر کا کافر اور فاسق ہونا قادیانیوں کے نزدیک مسلم ہے۔
(دیکھو شہادۃ القرآن ص ٤٠٨ خزائن ج ٦ ص ٣٤٤)
- ٢....... پھر اس حدیث کی صحت کو خود مرزا قادیانی اور اس کی جماعت نے اپنی مندرجہ ذیل
کتابوں میں بڑے زور سے صحیح تسلیم کر لیا ہے۔ (ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٣ خزائن ج ١١ ص ٣٣٧۔ کشتی نوح ص ١٥ خزائن ج ١٩ ص ١٦۔ نزول المسیح ص ٣ خزائن ج ١٨ ص ٣٨١۔ حقیقۃ الوحی ص ٣٠٧ خزائن ج ٢٢ ص ٣٢٠۔ ضمیمہ حقیقۃ الوحی حاشیہ ص ٥١ خزائن ج ٢٢ ص ٦٧٤۔ عسل مصفیٰ ج ٢ ص ٤٤١۔ ٤٤٠)
- ٣....... مرزا قادیانی کے علاوہ خود مرزا محمود احمد نے بھی اس کی صحت کو اپنی کتاب انوار
خلافت کے ص ٥٠ پر قبول کر لیا ہے۔
ناظرین! قادیانی مسلمات سے جب ثابت ہو چکا کہ یہ حدیث رسول کریم ﷺ کے مبارک الفاظ ہیں تو اب جو شخص حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیاتِ جسمانی کا انکار کرے کیا وہ مسلمان ہو سکتا ہے؟ ذرا نتائج پر غور کیجئے۔
- ١....... آپ نے صرف حضرت مسیح علیہ السلام کا نام عیسیٰ نہیں فرمایا بلکہ ساتھ ہی فرمایا مریم کا بیٹا۔
- ٢....... پھر یہ نہیں فرمایا کہ وہ پیدا ہو گا بلکہ فرمایا کہ وہ زمین کی طرف نازل ہو گا معلوم ہوا
کہ وہ اس ارشاد کے وقت زمین سے باہر تھے۔
- ٣....... اس کے بعد فرمایا کہ نزول کے بعد آپ نکاح کریں گے اور آپ کے ہاں اولاد
بھی ہوگی۔ سب جانتے ہیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے رفع سے پہلے نکاح نہیں کیا تھا۔ پھر یہ نکاح نزول کے بعد ہی ہوگا۔
نوٹ: مرزا قادیانی یہاں نزول سے مراد ماں کے پیٹ سے باہر نکلنا لیتے ہیں۔ اگر خلاف قرآن و حدیث یہ بات صحیح بھی تسلیم کر لی جائے تو مرزا قادیانی کو ثابت کرنا پڑے گا کہ وہ پیدا ہوتے ہی عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم تھے۔ مگر مرزا قادیانی نے اپنے آپ کو عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم کا خطاب خود دیا اور وہ بھی ١٨٩٠ء کے بعد اگر نزول کی تاریخ یہی سال مانی جائے تو پھر قادیانیوں کو ثابت کرنا پڑے گا کہ مرزا قادیانی کی شادی ١٨٨٠ء کے بعد ہوئی تھی کیونکہ رسول کریم ﷺ کے الفاظ مبارک سے یہی ظاہر ہوتا ہے۔ چنانچہ مرزا قادیانی نے ہمارے استدلال کو ضمیمہ انجام آتھم کے ص ٥٣ خزائن ج ١١ ص ٣٣٧ پر
صحیح تسلیم کیا ہے اور اس پیشگوئی کو محمدی بیگم پر چسپاں کیا ہے۔ مگر وہ بھی ہاتھ نہ آئی۔ پس قادیانیوں کے لیے مقام عبرت ہے۔
- ٤...... پھر آپ نے فرمایا۔ ثم یموت یعنی پھر ان تمام واقعات کے بعد فوت ہوگا۔ اس
سے روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ رسول کریم ﷺ حضرت عیسیٰ ؑ کو اس حدیث کے ارشاد فرمانے کے وقت زندہ تسلیم کر رہے تھے۔
- ٥...... ویدفن معی فی قبری یعنی میرے روضہ میں دفن ہوگا۔ اس حصہ حدیث سے بھی
ثابت ہوتا ہے کہ ابھی تک آپ فوت نہیں ہوئے کیونکہ حضرت عیسیٰ ابن مریم ؑ اگر فوت ہو چکے ہوتے تو وہ ضرور حسب تصریح نبوی رسول پاک ﷺ کے روضہ پاک میں دفن ہو گئے ہوتے۔ چونکہ روضہ اقدس میں ابھی تک حضرت عیسیٰ ؑ کی قبر کی جگہ باقی ہے۔ معلوم ہوا کہ ابھی تک حضرت عیسیٰ ؑ زندہ ہیں۔ ہوں بھی کیوں نہ، روضہ مبارکہ میں ابھی چوتھی قبر کی جگہ خالی پڑی ہے۔ لیجیے ہم آپ کو قادیانیوں کے مسلم امام و مجدد صدی ہشتم حافظ ابن حجر عسقلانی کی زبانی بتاتے ہیں۔ آپ فرماتے ہیں۔
- ١...... ”قولها عند وفاتها لا تدفنی عندهم یشعر بانہ بقی من البیت موضع
المدفن。“ (فتح الباری پارہ ٦) ”حضرت عائشہؓ کا وفات کے وقت یہ کہنا کہ مجھے ان کے پاس یعنی روضہ مبارکہ میں دفن نہ کرنا صاف صاف بتا رہا ہے کہ روضہ مبارک میں ایک قبر کی جگہ باقی ہے۔
- ٢...... ”ان الحسن ابن علی اوصی اخاہ ان یدفنہ عندهم ...... فدفن بالبقیع“
(فتح الباری پ ٣) ”امام حسن ابن علیؓ نے اپنے بھائی کو وصیت کی کہ مجھے روضہ مبارکہ میں دفن کرنا ...... وہ دفن کیے گئے جنت البقیع میں。“
اس سے بھی ثابت ہوا کہ روضہ مبارکہ میں چوتھی قبر کی جگہ ہے۔ ہر ایک نے وہاں دفن ہونے کی سعی کی مگر وہ امت نے حضرت عیسیٰ ؑ کے لیے محفوظ رکھی ہوئی ہے۔
قادیانی اعتراض رسول کریم ﷺ کی قبر کو نعوذ باللہ کھود کر اس میں حضرت عیسیٰ ؑ کا دفن کرنا کس قدر گستاخی اور بے ادبی ہے رسول کریم ﷺ کی۔
(ازالہ اوہام خورد ص ٤٠١ خزائن ج ٣ ص ٤٧٨)
جواب: اجی آپ کو بھی رسول کریم ﷺ کے ادب کے خواب آنے لگے؟ مرزا قادیانی نے قرآن، حدیث اور عربی علم ادب نہ تو خود کسی سے پڑھا اور نہ کسی کی تقلید کی۔ ان کی
جانے بلا کہ قبر کے مفہوم میں کون کون سی صورتیں شامل ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ قبر سے مراد صرف وہ تھوڑی سی جگہ ہی ہوتی ہے۔ جہاں جسم انسانی رکھا جاتا ہے۔ سنیئے! ہم آپ کو فی قبری کے مفہوم دکھاتے ہیں اور وہ بھی دسویں صدی کے مجدد اعظم ملا علی قاری کی زبانی بتاتے ہیں تا کہ قادیانیوں کو جائے فرار نہ رہے جناب مجدد صدی دہم اپنی کتاب مرقاۃ شرح مشکوٰۃ میں فرماتے ہیں۔
"فيدفن معى فى قبرى (اى فى مقبرتى) و عبر عنها بالقبر لقرب قبره بقبره فكانما فى قبر واحد." (مرقات شرح مشکوٰۃ ج ١٠ ص ٤٣٣ باب نزول عیسیٰ علیہ السلام)
"میری قبر میں دفن ہوگا۔ یعنی میرے روضہ مبارک میں اور مقبرہ کی بجائے قبر کا لفظ دونوں قبروں کے ساتھ ساتھ ہونے کی وجہ سے استعمال فرمایا۔ گویا قرب کی وجہ سے دونوں ایک ہی قبر میں ہیں۔" امید ہے کہ اب قادیانی اپنے ہی مسلم مجدد کی تفسیر کو قبول کر کے خلوص کا ثبوت دیں گے۔ اگر پھر بھی ہٹ پر قائم رہیں تو ہم مجبوراً مرزا قادیانی سے اس مضمون کی عبارت درج کرتے ہیں۔
١......"ابو بکر وعمر...... ان کو یہ مرتبہ ملا کہ آنحضرت ﷺ سے ایسے ملحق ہو کر دفن کیے گئے کہ گویا ایک ہی قبر ہے۔" (نزول المسیح ص ٤٧ خزائن ج ١٨ ص ٤٢٥) اور واضح رہے کہ آنحضرت ﷺ کی قبر میں ان کا آخری زمانہ میں دفن ہونا...... ممکن ہے۔ کوئی مثیل ایسا بھی ہو جو آنحضرت ﷺ کے روضہ کے پاس مدفون ہو۔" (ازالہ اوہام ص ٤٧٠ خزائن ج ٣ ص ٣٥٢)
مصنف احمدیہ پاکٹ بک لکھتا ہے۔ "مسیح حجرہ نبویہ میں دفن ہوگا۔"
(مکمل تبلیغی پاکٹ بک مؤلفہ عبدالرحمن قادیانی ص ٦٩٨)
پس خود قادیانی کے اپنے الفاظ سے ثابت ہو گیا کہ فی قبری سے مراد قرب قبر ہے نہ کہ عین قبر۔ لہٰذا قادیانی اعتراض محض "ڈوبتے کو تنکے کا سہارا" والی بات ہے۔ ورنہ یہ بھی کوئی اعتراض ہے جس سے الٹا لینے کے دینے پڑ جائیں۔
حدیث......٤ ان روح الله عيسى نازل فيكم فاذا رأيتموه فاعرفوه فانه رجل مربوع الى الحمره والبياض...... ثم يتوفى و يصلى عليه المسلمون."
(رواہ الحاکم ج ٣ ص ٤٩٠ عن ابی ھریرۃ۔ بحوالہ قادیانی کتاب عسل مصفیٰ ج ٢ ص ١٥١)
تصدیق......١ یہ حدیث اپنے مضمون میں حدیث نمبر ٣ سے ملتی جلتی ہے۔ اس واسطے اس کی تصدیق اسی کی تصدیق ہے۔
- ٢...... اس حدیث کو صحیح قرار دے کر مرزا خدا بخش مرزائی مصنف عسل مصفیٰ نے استدلال
کیا ہے۔
(دیکھو عسل مصفیٰ ج ٢ ص ١٥١)
- ٣...... اس کی تخریج حضرت مجدد وقت قادیانیوں کے مسلمہ امام، امام حاکم نے کی ہے۔
ترجمہ۔ اس کا بھی وہی سمجھ لیں جو حدیث نمبر ٣ کے ذیل میں ہے۔ بہت تھوڑا اختلاف ہے۔ یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کا ناطقہ بند کرنے کو حضرت مسیح ؑ کا نہ صرف نام ہی لیا گیا ہے بلکہ رسول کریم ﷺ نے عیسیٰ ؑ ابن مریم کے ساتھ قرآنی خطاب روح اللہ بھی بیان کر دیا تاکہ کسی مصنوعی عیسیٰ (مرزا قادیانی) کی دال نہ گل سکے۔
حدیث ٥...... ”عن ابی ھریرۃ قال قال رسول اللہ ﷺ کیف انتم اذ انزل ابن مریم من السماء فیکم و امامکم منکم (کتاب الاسماء والصفات ص ٤٢٤ باب قول اللہ عزوجل انی متوفیک و رافعک الی لامام البیہقی۔“)
(بحوالہ عسل مصفیٰ جلد ٢ ص ١٥٦ قادیانی کتاب)
- تصدیق......١ اس حدیث کے راوی قادیانیوں کے مسلم امام و مجدد صدی چہارم امام
بیہقی ہیں۔ پس یہ حدیث یقیناً صحیح ہے۔
- ٢...... اس حدیث کو مرزا خدا بخش قادیانی نے اپنی کتاب عسل مصفیٰ ج نمبر ٢ ص ١٥٦ پر صحیح
تسلیم کیا ہے۔ مگر من السماء کے الفاظ ہضم کر گیا ہے۔ یہ قادیانی دیانت کا ثبوت ہے۔ ”(امام) بیہقی نے ابو ہریرۃؓ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ (مارے خوشی کے) تمہاری کیسی حالت ہو گی اس وقت جبکہ ابن مریم آسمان سے تم میں نازل ہوگا۔ درآنحالیکہ تمہارا امام تمھیں میں سے ایک شخص ہوگا۔“
ناظرین! امام بیہقی نے خود اپنی اسناد سے اس حدیث کو روایت کیا ہے اور من السماء کے الفاظ کا اضافہ کر کے قادیانی نبی کے سینکڑوں برس بعد آنے والے اعتراضات کا جواب شارع ؑ کی اپنی زبان مبارک سے اپنی صحیح میں درج کر دیا۔ مرزا قادیانی اپنے منصب کا ثبوت یوں دیتے ہیں۔
- ١...... ”صحیح حدیثوں میں تو آسمان کا لفظ بھی نہیں۔“ (ازالہ خورد ص ٦٠ خزائن ج ٣ ص ١٣٢)
- ٢...... ”اور یہ بھی سوچ لو کہ صحیح حدیثوں میں آسمان سے اترنے کا بھی کہیں ذکر نہیں۔“
(ازالہ خورد ص ٢٨٣ خزائن ج ٣ ص ٢٤٤)
- ٣......’’تمام حدیثیں پڑھ کر دیکھ لو کسی صحیح حدیث میں آسمان کا لفظ نہیں پاؤ گے۔‘‘
(چشمہ معرفت ص ٢٢٠ خزائن ج ٢٣ ص ٢٢٩)
ناظرین! مرزا قادیانی دین سے ناواقف مسلمانوں کو اپنے دجل وفریب میں اسی طرح کے چیلنج دے کر لے آتے تھے۔ اس حدیث کی صحت میں حسب قانون مرزا کوئی عذر نہیں کیونکہ اس کو امام وقت و مجدد امام بیہقیؒ نے قبول کر کے اپنی صحیح میں درج فرمایا ہے۔ دوسرے اسی ازالہ میں مرزا قادیانی لکھتے ہیں۔ ’’صحیح مسلم کی حدیث میں جو یہ لفظ موجود ہے کہ حضرت مسیح ؑ جب آسمان سے اتریں گے تو ان کا لباس زرد رنگ کا ہوگا۔‘‘ (ازالہ اوہام ص ٨١ خزائن ج ٣ ص ١٤٢) تعجب ہے کہ مرزا قادیانی اس کتاب میں صحیح حدیث میں ’’آسمان سے‘‘ کے الفاظ کے ہونے سے انکار بھی کرتے ہیں حالانکہ خود ہی اسی کتاب میں اس چیلنج سے پہلے ان الفاظ کا صحیح حدیث میں ہونا قبول بھی کر رہے ہیں۔ فیالعجب، غالباً مراق کا نتیجہ ہے۔
نوٹ: آسمان سے نازل ہونے کی بحث مزید آگے لائیں گے۔
حدیث......٦ ’’عن ابن عباس فی حدیث طویل قال رسول اللہ ﷺ فعند ذالک ینزل اخی عیسیٰ ابن مریم من السماء علی جبل افیق اماما ھادیا و حکما عادلا.
(کنزالعمال ج ١٤ ص ٢١٩ حدیث نمبر ٣٩٧٢٦) (رواہ ابن عساکر)
تصدیق مرزا قادیانی نے اس حدیث کو صحیح تسلیم کر لیا ہے۔ چنانچہ اس حدیث کو حمامۃ البشریٰ ص ١٤ خزائن ج ٧ ص ١٩٢ حاشیہ میں درج کر کے اس سے استدلال کیا ہے۔ مگر ’’مجددانہ‘‘ دیانت سے کام لیتے ہوئے من السماء کے الفاظ کو ہضم کر گئے ہیں۔
’’حضرت ابن عباس مفسر اعظم مسلم قادیانی نبی۔
(ازالہ اوہام ص ٢٧٣ خزائن ج ٣ ص ٢٢٥ و عسل مصفیٰ جلد اوّل ص ٢٢٤)
فرماتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ جب یہ باتیں ہوں گی اس وقت مسیح ابن مریم آسمان سے جبل افیق پر نازل ہوگا۔‘‘
- ناظرین! ١...... اس حدیث میں بھی رسول کریم ﷺ نے من السماء کے
الفاظ ارشاد فرما کر قادیانی اعتراض کا جواب دے دیا ہے۔
- ٢...... اس حدیث میں عیسیٰ ابن مریم ؑ کی مزید تخصیص کرنے کے لیے آپ نے
’’اخی‘‘ میرا بھائی کے لفظ بڑھا کر بتلا دیا کہ عیسیٰ ابن مریم ؑ وہی انجیل والا نبی ہوگا
کیونکہ وہی عیسیٰ ؑ رسول کریم ﷺ کے بھائی ہو سکتے ہیں۔ اگر کوئی مصنوعی عیسیٰ بننے کی سعی کرے اور چراغ بی بی کا بیٹا ہو کر مریم کا بیٹا کہلائے اور اپنے آپ کو رسول پاک ﷺ کا بیٹا بھی ظاہر کرے وہ کسی طرح اس حدیث کا مصداق نہیں ہو سکتا۔ ”اور ہم نے اولاد کی طرح اس کی (رسول کریم ﷺ) وراثت پائی۔“
(ضمیمہ نزول اعجاز احمدی ص ٧٠ خزائن ج ١٩ ص ١٨٣)
حدیث......٧ ”عن جابرؓ ان رسول اللہ ﷺ قال عرض علی الانبیاء فاذا موسیٰ ضرب من الرجال کانہ من رجال شنوءۃ و رأیت عیسیٰ ابن مریم فاذا اقرب من رأیت بہ شبھا عروۃ ابن مسعود۔“ (رواہ مسلم بحوالہ مشکوٰۃ ص ٥٠٨ باب بدء الخلق) ”حضرت جابرؓ رسول کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ فرمایا آنحضرت ﷺ نے کہ معراج کی رات انبیاء علیہم السلام میرے سامنے پیش کیے گئے۔ موسیٰ ؑ تو دبلے پتلے تھے۔ گویا قبیلہ شنوءۃ کے مردوں سے ملتے ہیں اور عیسیٰ ؑ مشابہ تھے ساتھ عروہ بن مسعودؓ کے۔“
حدیث......٨ ”عن عبداللہ بن عمرؓ فی حدیث طویل قال قال رسول اللہ ﷺ فیبعث اللہ عیسیٰ ابن مریم کانہ عروۃ بن مسعودؓ فیطلبہ فیھلکہ۔“ (مشکوٰۃ ص ٤٨١ باب لاتقوم الساعۃ الا علٰی شرار الناس) ”پس (دجال کے نکلنے کے بعد) بھیجے گا۔ اللہ تعالیٰ عیسیٰ ؑ ابن مریم کو گویا وہ عروۃ بن مسعود ہے۔ پس وہ ڈھونڈیں گے دجال کو پس ہلاک کر دیں گے اس کو۔“ معزز ناظرین غور کیجئے کہ رسول کریم ﷺ نے جس عیسیٰ ابن مریم (ہم شکل عروۃ بن مسعود) کو معراج کی رات آسمان پر دیکھا تھا۔ اسی عیسیٰ ابن مریم ؑ (ہم شکل عروۃ بن مسعود) کے آنے کی پیشگوئی فرما رہے ہیں۔ خیال فرمائیے آنحضرت ﷺ نے پہلے نام بیان فرمایا پھر نسب بھی بتا دیا تاکہ امت دھوکہ نہ کھائے۔ اس کے بعد مصنوعی عیسیٰ ابن مریم بننے والوں کو دو الگ الگ حدیثوں میں آسمان والے عیسیٰ اور نازل ہونے والے عیسیٰ کے ساتھ ابن مریم اور عروۃ بن مسعود کا ہم شکل ہونا لگا کر خردماغ انسانوں کو بھی سمجھانے کی کوشش کر گئے کہ عیسیٰ ؑ ہی دوبارہ آئیں گے۔ اب بھی اگر کوئی قادیانی لا نسلم کی رٹ لگائے ہوئے تو اس کا علاج ہمارے پاس نہیں۔
حدیث......٩ ”عن عائشۃؓ قالت قلت یارسول اللہ ﷺ انی اری انی اعیش
بعدک فتاذن لی ان ادفن الی جنبک فقال انی بذالک الموضع مافیہ الا موضع قبری و قبر ابی بکر و عمر و عیسیٰ ابن مریم۔‘‘ (مسند احمد ج ٦ ص ٥٧
حاشیہ) ”حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا۔ یارسول اللہ ﷺ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ میں آپ کے بعد زندہ رہوں گی۔ پس مجھے اجازت دیں کہ میں بھی آپ کے پہلو میں دفن کی جاؤں۔ پس آپ نے فرمایا۔ کس طرح ممکن ہے اس میں تو صرف چار قبروں کی جگہ ہے۔ میری قبر اور ابوبکر وعمر وعیسیٰ بن مریم کی قبر کی ۔‘‘
- تصدیق.......١ یہ حدیث امام احمد قادیانیوں کے مسلم امام و مجدد صدی دوم نے اپنی مسند
میں بروایات صحیحہ درج کی ہے۔ اب کس قادیانی کی جرات ہے کہ اپنے ہی امام اور مجدد کی روایت کردہ حدیث سے انکار کرے اور حسب الحکم مرزا قادیانی فاسق اور کافر ہو جائے۔
- ٢....... حدیث کو حدیث نمبر ٣ کی روشنی میں دیکھنے سے اس کی توثیق کا یقین ہو جاتا ہے۔
- ٣....... تصدیق از حضرت عبداللہ بن سلامؓ و امام بخاریؒ ”قال عبدالله بن سلام يدفن
عيسى ابن مريم مع رسول الله ﷺ وصاحبيه فيكون قبره رابعاً۔‘‘ ”امام بخاری نے حضرت عبداللہ بن سلام صحابی کا قول نقل کیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دفن ہوں گے رسول کریم ﷺ اور آپ کے دونوں ساتھیوں کے ساتھ پس ان کی قبر چوتھی ہوگی۔ ”اخرج البخاری فی تاریخہ“
- ٤....... ترمذی میں ہے۔ وقد بقی فی البیت موضع قبر یعنی حجرہ نبوی میں ایک قبر کی
جگہ باقی ہے۔
محترم ناظرین! جس طرح ابھی تک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بیوی اور اولاد کا نہ ہونا ثابت ہو چکا ہے۔ اسی طرح کرۂ ارضی پر ان کی قبر بھی نہیں ہے۔ بلکہ حسب الحکم رسول کریم ﷺ آپ کے حجرہ مبارکہ میں حضرت مسیح کے لیے قبر کی جگہ خالی پڑی ہے۔ اگر وہ فوت ہو گئے ہوتے تو رسول کریم ﷺ اپنے پہلو میں ان کے دفن کے لیے جگہ نہ چھڑوا جاتے۔ پس ثابت ہوا کہ ابھی تک حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں۔
نوٹ: مرزا قادیانی اور ان کی امت نے مل ملا کر سری نگر کشمیر میں ایک قبر کا نام قبر عیسیٰ علیہ السلام رکھ لیا ہے۔ مگر ابھی تک اس کا تاریخی ثبوت نہیں پہنچا سکے۔ اگر ان کے اس مضحکہ خیز دعوٰی میں ذرا بھر بھی صداقت ہوتی تو کروڑہا عیسائی سری نگر میں اپنے نبی بلکہ اپنے ابن اللہ کی قبر کی زیارت کے لیے ہر سال ضرور جایا کرتے۔ قادیانیوں کا یہ
دعویٰ محض بلادلیل ہے۔ اس کی صحت کا اندازہ آپ اسی امر سے لگا لیں کہ رسول پاک ﷺ اور صحابہ کرام تو فرماتے ہیں کہ ان کے دفن کرنے کے لیے جگہ حجرہ مبارکہ نبویہ میں موجود ہے اور قیامت کے دن دونوں اولوالعزم رسول ایک ہی مقبرہ سے اٹھیں گے۔ مگر مرزا قادیانی اس کی تردید کر کے ان کو دفن شدہ ثابت کرتے ہیں۔
حدیث..... ١٠ آنحضرت رسول کریم ﷺ بمعہ صحابہ ابن صیاد کو دیکھنے گئے کیونکہ ابن صیاد کے بارہ میں صحابہ کو شبہ تھا کہ یہی دجال نہ ہو۔ عن جابر قال ان عمر قال ائذن لی یا رسول اللہ فاقتلہ فقال رسول اللہ ﷺ ان یکن ھو فلست صاحبہ انما صاحبہ عیسیٰ ابن مریم و ان لم یکن ھو فلیس لک ان تقتل رجلاً من اھل العھد. (رواہ احمد ج ٣ ص ٣٦٨ بحوالہ عسل مصفیٰ جلد دوم ص ٢٩٢) ”حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ حضرت عمرؓ نے کہا یا رسول اللہ ﷺ اجازت دیں مجھے کہ میں ابھی ابن صیاد کو قتل کر دوں۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اگر ابن صیاد دجال معہود ہے تو پھر تو اسے قتل نہ کر سکے گا کیونکہ اس کے قاتل عیسیٰ ابن مریم ہیں۔
- تصدیق...... ١ مرزا قادیانی نے بھی اس حدیث کی تصدیق کی ہے۔ چنانچہ لکھتے ہیں
”آنحضرت ﷺ نے حضرت عمرؓ کو ابن صیاد کے قتل کرنے سے منع فرمایا اور نیز فرمایا کہ ہمیں اس کے حال میں ابھی تک اشتباہ ہے۔ اگر یہی دجال معہود ہے تو اس کا صاحب عیسیٰ ابن مریم ہے جو اسے قتل کرے گا۔ ہم اس کو قتل نہیں کر سکتے۔“
(ازالہ اوہام ص ٢٢٥ خزائن ج ٣ ص ٢١٢)
- ٢....... عسل مصفیٰ جلد ٢ ص ٢٩٢ پر بھی اسی حدیث کو صحیح مانا گیا ہے۔
حضرات! غور کیجئے یہاں سے مندرجہ ذیل باتیں اظہر من الشمس ہیں۔
- ١....... دجال معہود کوئی قوم نہیں بلکہ صحابہؓ اور رسول کریم ﷺ کے نزدیک دجال معہود ایک
شخص واحد ہے۔
- ٢....... واقعی ابن صیاد کو دجال معہود بعض صحابہؓ نے سمجھ لیا تھا کیونکہ جس قدر علامات اس
وقت تک صحابہؓ کو رسول اللہ ﷺ نے بتلائی تھیں وہ اس میں پائی جاتی تھیں۔ مگر جب رسول کریم ﷺ نے صحابہؓ کی غلط فہمی کو معلوم کیا۔ تو مفصل علامات دجال معہود بیان فرما دیں۔ پھر کسی صحابیؓ کو کبھی تردد نہ ہوا۔
- ٣....... دجال معہود ایک شخص ہوگا اور اس کو قتل کرنے والے حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہوں گے
جو بیٹے ہیں حضرت مریم کے۔
- ٤...... تمام صحابہ حضرت رسول کریم ﷺ سے دجال کا حضرت عیسیٰ ؑ کے ہاتھوں قتل
ہونا سن کر خاموش ہو گئے۔ پس رسول کریم ﷺ اور تمام صحابہؓ کا حیات عیسیٰ ابن مریم پر اجماع ثابت ہو گیا کیونکہ مردہ قتل نہیں کر سکتا۔ یقیناً وہ زندہ ہیں۔ دجال کے ظہور کے وقت آسمان سے نزول فرما کر دجال کا مقابلہ کر کے اسے قتل کر دیں گے۔
نوٹ...... مرزا قادیانی نے یہ جو لکھا ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ ابھی تک ہمیں اس کے حال میں اشتباہ ہے۔ یہ محض افتراء علی الرسول ہے۔ رسول پاک ﷺ نے کہیں ایسا نہیں فرمایا۔
- حدیث.......١١ حضرت عبداللہ بن مسعود سے ابن ماجہ میں موقوفاً اور مسند احمد میں
مرفوعاً مروی ہے۔ عن عبداللہ بن مسعود قال لما کان لیلۃ اسری برسول اللّٰہ ﷺ لقی ابراھیم و موسٰی و عیسٰی فتذاکروا الساعۃ فبدؤا بابراھیم فسالوہ عنھا فلم یکن عندہ منھا علم ثم سالوا موسٰی فلم یکن عندہ علم فردوا الحدیث الی عیسٰی ابن مریم فقال قد عھد الی فیما دون وجبتھا فاما وجبتھا فلا یعلمھا الا اللّٰہ فذکر خروج الدجال قال فانزل فاقتلہ.
(مسند احمد ج ١ ص ٣٧٥ ابن ماجہ ص ٢٩٩ باب فتنہ الدجال و خروج عیسیٰ ابن مریم)
یعنی حضرت عبداللہ بن مسعودؓ صحابی فرماتے ہیں کہ معراج کی رات رسول کریم ﷺ نے ملاقات کی حضرت ابراہیم ؑ ، حضرت موسیٰ ؑ اور حضرت عیسیٰ ؑ سے۔ پس انھوں نے قیامت کا ذکر چھیڑ دیا اور حضرت ابراہیم ؑ سے اس کے متعلق سوال کیا۔ انھوں نے لاعلمی ظاہر کی۔ اسی طرح حضرت موسیٰ ؑ نے بھی یہی جواب دیا۔ آخر الامر حضرت عیسیٰ ؑ نے جواب دیا کہ میرے ساتھ قرب قیامت کا ایک وعدہ کیا گیا تھا۔ اس کا ٹھیک وقت سوائے خدا عزوجل کے کسی کو معلوم نہیں۔ پس انھوں نے دجال کا ذکر کیا اور فرمایا کہ پھر میں اتروں گا اور دجال کو قتل کروں گا ۔‘‘ یہ حدیث مسند احمد میں مرفوعاً مذکور ہے۔ اس میں یہ الفاظ رسول کریم ﷺ کی اپنی زبان مبارک سے نکلے ہوئے درج ہیں۔ حضرت عیسیٰ ؑ نے قرب قیامت کا ذکر کر کے فرمایا۔ ’’ان الدجال خارج و معی قضیبان فاذا رانی ذاب کما یذوب الرصاص قال فیھلک اللّٰہ اذا رانی۔‘‘ یعنی دجال نکلے گا اور میرے ساتھ تیز تلوار ہو گی ۔ پس جب وہ مجھے دیکھے گا تو اسی
طرح پگھلے گا جس طرح سکہ (آگ سے پگھلتا ہے) حضرت عیسیٰ ؑ نے فرمایا کہ پس اللہ تعالیٰ اسے ہلاک کر دیں گے جب وہ مجھے دیکھے گا۔‘‘
- تصدیق حدیث ......١ اس حدیث کو مرفوعاً بیان کرنے والے حضرت امام احمد
قادیانیوں کے مسلم مجدد صدی دوم ہیں۔ پس یہ حدیث بالکل صحیح ہے۔
- ٢...... اس حدیث کو قادیانیوں کے دو اور مجددین نے صحیح سمجھ کر اپنی اپنی کتابوں میں درج
کیا ہے۔
(دیکھو درمنثور اور بیہقی)
- ٣...... مولوی محمد احسن امروہی قادیانی نے اپنی کتاب شمس بازغہ ص ٩٨ پر اس حدیث کو
صحیح تسلیم کیا ہے۔
- نتائج ......١ حضرت عیسیٰ ؑ نے قرب قیامت کے لیے اپنے نزول کو ایک علامت
ٹھہرایا ہے۔ گویا کلام اللہ کی آیت انہ لعلم للساعة کی تفسیر بیان فرما رہے ہیں۔
- ٢...... حضرت عیسیٰ ؑ آسمان پر ہیں اور وہی آسمان والے عیسیٰ ابن مریم نازل ہونے کا
وعدہ فرما رہے ہیں۔
- ٣...... حضرت عیسیٰ ؑ نازل ہونے کے بعد دجال کے ساتھ جنگ کرنے کا اعلان کر
رہے ہیں۔
- ٤...... قتل کا لفظ استعمال کر کے قادیانیوں کے تمام تانے بانے کو درہم برہم کر رہے ہیں۔
دجال کا قتل تحریروں اور چندوں سے نہیں ہوگا بلکہ تلوار کے ذریعہ ہوگا۔
یہ ساری باتیں مرزا قادیانی میں کہاں ہیں۔ کیا معراج کی رات مرزا قادیانی نے ہی رسول کریم ﷺ سے اپنے نزول کا ذکر کیا تھا اور کیا مرزا قادیانی نے دجال کو قتل کر دیا ہے؟ ان کی حالت عجیب ہے۔ کبھی انگریزوں کو دجال بتاتے ہیں اور کبھی اولی الامر۔ پھر عیسائیوں کے ساتھ مباحثوں میں جو مرزا قادیانی کی گت بنا کرتی تھی۔ اس کا کچھ اندازہ لگانا ہو۔ تو مرزا قادیانی کی اپنی مرتب کردہ روئداد جلسہ مباحثہ با عیسائیاں بنام ”جنگ مقدس“ سے لگ سکتا ہے۔
- حدیث ......١٢ ”عن ابی ھریرةؓ قال قال رسول اللہ ﷺ کیف انتم اذا نزل ابن
مریم فیکم و امامکم منکم. (رواہ البخاری ج ١ ص ٤٩ باب نزول عیسیٰ ؑ) ”حضرت ابو ہریرہؓ راوی ہیں کہ فرمایا رسول کریم ﷺ (اے مسلمانو) اس وقت (مارے خوشی کے) تمہارا کیا حال ہوگا جبکہ حضرت عیسیٰ ؑ ابن مریم تمھارے درمیان نازل ہوں گے اور
حال یہ ہوگا کہ تمہارا امام (نماز میں) تمھیں میں سے ہوگا۔"
- تصدیق الحدیث....... ١ اس حدیث کو روایت کیا ہے۔ امام بخاری نے جن کی صحیح کو
مرزا قادیانی اصح الکتب بعد کتاب اللہ سمجھتے ہیں۔ یعنی کلام اللہ کے بعد دوسرا درجہ صحیح بخاری کا ہے۔ (ازالہ اوہام ص ٨٨٤ خزائن ج ٣ ص ٥٨٢ و تبلیغ رسالت ج ٢ ص ٢٥ مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٣٥ و ایام الصلح ص ٤٧ خزائن ج ١٤ ص ٢٧٩)
- ٢....... اس حدیث کو خود مرزا قادیانی نے اپنی اکثر کتابوں میں صحیح تسلیم کیا ہے گو معنی غلط
سلط کر کے اپنے آپ پر چسپاں کر لیے ہیں مگر معنوں کا چسپاں کرنا ہم ناظرین کی سخن فہمی پر چھوڑتے ہیں۔ (ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ١٨ حاشیہ خزائن ج ١٧ ص ٦٤ ۔ چشمہ معرفت تمہید خزائن ج ٢٣ ص ٢۔ ایام الصلح ص ٤٨ خزائن ج ١٤ ص ٢٧٩ و ص ١٥٢، ١٥٣، ٣٩٩ و ص ١٣٦، ٣٩٣) پر اس حدیث کا صحیح ہونا مان رہے ہیں۔
- تشریح....... ١ اس حدیث میں رسول کریم ﷺ مسلمانوں کو ان کی وجدانی مسرت و
کیفیت کی خوشخبری سنا رہے ہیں۔ ایک طرف دجال بمعہ اپنی تمام افواج جنگ کے لیے تیار ہوگا۔ بالمقابل حضرت امام مہدی اسلامی صفوں کو مرتب کر رہے ہوں گے۔ ایک دم حضرت عیسیٰ ؑ کا نزول ہوگا اور مسلمان قرآن کریم اور احادیث نبوی کے مطابق پیشگوئی کو پورا ہوتے دیکھیں گے اور ان کی مسرت و بہجت کی کوئی حد نہ رہے گی۔
- ٢....... میں تمام قادیانی امت کو چیلنج کرتا ہوں کہ اگر مذکورہ بالا معنی اور تشریح صحیح نہیں ہے
تو وہ محاورہ عرب سے کیف انتم یا کیف بکم کا مطلب اور اس کی فلاسفی اس حدیث میں سمجھا کر ممنون فرمائیں۔ مرزا قادیانی کا نزول کب مانیں۔
آیا ١٨٣٠ء = ماں کے پیٹ سے باہر نکلنے کو (تریاق القلوب) یا ١٨٨٠ء = تاریخ دعوٰی مجددیت کو یا ١٨٩٢ء = تاریخ دعوٰی مسیحیت کو یا ١٩٠١ء = تاریخ دعوٰی نبوت حقیقی کو
مسلمانوں کو کیا خوشی ہوئی تھی۔ مرزا قادیانی تو کفر کی مشین گن لے کر آئے تھے اور اس کو مسلمانوں کے خلاف ہی چلانا شروع کر دیا۔ کیا نعوذ باللہ مسلمانوں کو اس نا گفتہ بہ حالت کی بشارت رسول کریم ﷺ دے رہے ہیں؟ ہرگز نہیں۔
- ٣....... مجددین امت محمدیہ مسلمہ قادیانی میں سے اگر قادیانی جماعت کسی ایک مجدد کا قول
بھی اس حدیث کی تفسیر کے متعلق اپنی تائید میں پیش کر دیں تو علاوہ مقررہ انعام کے مبلغ دس روپے اور انعام دوں گا۔
- ٤...... اس حدیث کے مرزا یوں معنی کرتا ہے۔ ”تمہارا کیا حال ہوگا جبکہ ابن مریم تم میں
نازل ہوگا اور وہی تمہارا امام ہوگا۔“
اس کے باطل ہونے کی دو وجوہات تو نمبر ٢ و نمبر ٣ میں بیان کر چکا ہوں۔
بقیہ ملاحظہ ہوں۔
- ا...... مرزائی تفسیر علوم عربیہ کے مخالف ہے کیونکہ مرزائی معنی صحیح ہونے کی صرف ایک ہی
صورت ہے۔ یعنی فقرہ ”امامکم منکم“ کو ابن مریم کی تفسیر کہا جائے یعنی ”عطف تفسیری“ کہا جائے۔ مگر عطف بیان کے لیے عربی میں واؤ استعمال نہیں کرتے۔ لہٰذا اس کو عطف بیان قرار دے کر ابن مریم کی تفسیر قرار دینا علوم عربیہ اور لسان عربی کے محاورات کو کند چھری سے ذبح کرنے کے مترادف ہے۔
- ب...... خود مرزا قادیانی کی قلم سے اللہ تعالیٰ نے ہماری تائید میں کئی جگہ شہادت دلا دی
ہے۔ مرزا قادیانی اپنی امت کو مسلمانوں کے پیچھے نماز میں اقتدا کرنے سے روکنے کی دلیل بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔ ”چاہیے کہ تمہارا امام وہی ہو جو تم میں سے ہو۔ اسی کی طرف حدیث بخاری کے ایک پہلو میں اشارہ ہے کہ امامکم منکم یعنی جب مسیح نازل ہوگا ...... اور تمہارا امام تم میں سے ہوگا۔“ (ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ١٨ حاشیہ خزائن ج ١٧ ص ٦٤)
نوٹ: اس عبارت سے صاف عیاں ہے کہ مسیح نازل ہونے والا کوئی اور ہے اور مسلمانوں کی نماز کا امام کوئی اور۔ اور یہی حدیث میں مقصود ہے۔ یعنی حضرت عیسیٰ ؑ کے نزول کے وقت مسلمانوں کے اپنے امام حضرت امام مہدی ہوں گے اور وہی نماز پڑھیں گے۔
دوسری جگہ اسی حدیث سے استنباط کرتے ہوئے مرزا قادیانی لکھتے ہیں۔
”حدیث میں آیا ہے کہ مسیح جو آنے والا ہے وہ دوسروں کے پیچھے نماز پڑھے گا۔“
(فتاویٰ احمدیہ ج اوّل ص ٨٢)
- ج...... ہم اسلامی تفسیر کی تائید میں رسول کریم ﷺ کی اور احادیث پیش کرتے ہیں۔ امید
ہے کہ اس کے بعد قادیانی بحکم ”تصنیف را منصف نکو کند بیان“ رسول کریم ﷺ کی تفسیر کو مرزا قادیانی کے بیان پر ترجیح دینے میں کوئی عار نہ سمجھیں گے۔ وہ حدیث درج ذیل ہے۔
حدیث...... ١٣ مسلم کی طویل حدیث میں ہے۔ عن جابر قال قال رسول
الله ﷺ ...... فينزل عيسى ابن مريم فيقول اميرهم تعال صلی لنا. فيقول لا ان بعضكم على بعض امراء تكرمة الله هذه الامة. (مشکوٰۃ ص ٤٨٠ باب نزول عیسٰیؑ)
تصدیق روایت کیا اس حدیث کو امام مسلم نے اپنی صحیح میں جس کی عظمت و صحت کو مرزا قادیانی نے قبول کر لیا ہے۔ (ازالہ اوہام ص ٨٨٣ خزائن ج ٣ ص ٥٨٢) کہ ”حضرت جابرؓ روایت کرتے ہیں ...... پس نازل ہوں گے عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام۔ مسلمانوں کا امیر انہیں کہے گا۔ آئیے ہمیں نماز پڑھائیے۔ وہ فرمائیں گے نہیں۔ یہ شرف صرف امت محمدی ہی کو ہے کہ وہ ایک دوسرے کے امیر و امام ہوں۔“
- ١....... اس حدیث نے فیصلہ کر دیا ہے کہ حدیث نمبر ١٢ میں وامامکم منکم کے قادیانی
معنی سراسر افتراء اور دجل و فریب ہے۔
- ٢....... حضرت عیسیٰ علیہ السلام نماز میں مسلمانوں کی امامت سے انکار کر کے اور امامت نماز کا
حق صرف امت محمدی میں سے بعض کے حوالہ کر کے اپنا انجیلی نبی اور عیسیٰ بنی اسرائیلی ہونے کا اعلان کر رہے ہیں۔ صاف فرما رہے ہیں کہ میں تمہاری امامت نہیں کروں گا۔
کیا مرزا قادیانی بھی مسلمانوں کی امامت سے انکار کرتے تھے؟ سبحان اللہ اس دماغ کے آدمی کھڑے ہو کر انا المسیح الموعود کا نعرہ لگاتے ہیں اور لطف یہ کہ بعض علوم عربیہ سے بے بہرہ ۔ عوام الناس بالخصوص انگریزی تعلیم یافتہ اس آواز پر لبیک کہنے لگ جاتے ہیں۔ کاش وہ علوم عربیہ اور قرآن و احادیث سے واقف ہوتے۔ تو یقیناً مرزائی دجل و فریب کا شکار نہ بنتے۔
- ٣....... یہی مضمون سنن ابن ماجہ میں موجود ہے۔ یہ وہی سنن ابن ماجہ حدیث کی کتاب
ہے جس کو مرزا قادیانی نے اپنی کتابوں میں بہت عظمت کے ساتھ ذکر کیا ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں۔
”عن ابی الامامة الباهلی قال قال رسول الله ﷺ امامهم رجل صالح تقدم یصلی لهم الصبح اذ نزل عیسیٰ ابن مريم علیہ السلام فرجع ذالک الامام یمشی القهقری لیتقدم عیسیٰ علیہ السلام فيضع يده بين كتفيه ثم يقول تقدم فصل فانها لك اقيمت فیصلی بهم امامهم فاذا انصرف قال عیسیٰ افتحوا الباب فیفتح و ورأه الدجال معه سبعون الف يهودی ...... فیدرکه عند باب لدّ الشرقی فیقتلہ۔“ (سنن ابن ماجہ ص ٢٩٨ باب فتنۃ الدجال و خروج عیسیٰ بن مریم علیہ السلام الخ) ”ابو امامۃ
الباہلی صحابی رسول اللہﷺ آنحضرت سے روایت کرتے ہیں کہ دجال کے خروج کے زمانہ میں بیت المقدس کے لوگوں کا امام ایک نیک شخص ہوگا۔ ایک روز ان کا امام آگے بڑھ کر صبح کی نماز پڑھانا چاہے گا کہ اچانک حضرت عیسیٰ ؑ صبح کے وقت آن اتریں گے۔ یہ امام ان کو دیکھ کر الٹے پاؤں پیچھے ہٹے گا تاکہ حضرت عیسیٰ ؑ آگے ہو کر نماز پڑھائیں لیکن حضرت عیسیٰ ؑ اپنا داہنا ہاتھ اس کے دونوں کاندھوں کے درمیان رکھ دیں گے اور امام المسلمین سے فرمائیں گے آپ ہی آگے بڑھیے کہ یہ نماز آپ ہی کے لیے قائم ہوئی تھی۔ پھر وہ امام لوگوں کو نماز پڑھائے گا۔ جب نماز سے فارغ ہوگا تو حضرت عیسیٰ ؑ فرمائیں گے کہ دروازہ کھول دو۔ دروازہ کھول دیا جائے گا۔ وہاں پر دجال ہوگا۔ ستر ہزار یہودیوں کے ساتھ جن میں سے ہر ایک کے پاس تلوار ہوگی...... پس حضرت عیسیٰ ؑ دجال کو باب لد شرقی کے پاس جا کر قتل کر دیں گے۔“
اس حدیث نے اسلامی تفسیر کی صحت پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے اب بھی اگر مرزائی یہی رٹ لگائے جائیں کہ امامکم منکم کے معنی یہ ہیں کہ عیسیٰ ؑ امت محمدی کے ایک بشر ہوں گے۔“ تو گویا اس بیان کا لغو ہونا اظہر من الشمس ہو چکا ہے تاہم ان معنوں کو قبول کر لیتے ہیں اور ان معنوں کو درست تسلیم کر کے مرزائی دجل کی حقیقت طشت از بام کرتے ہیں۔ اس صورت میں پھر مطلب یہ ہوگا کہ عیسیٰ ؑ جو پہلے مستقل نبی و رسول تھے اور خود ایک امت کے رسول تھے۔ اب اسی امت کے ایک فرد کی حیثیت رکھتے ہوں گے۔ گویا وہ بجائے لوگوں کو اپنی نبوت کی طرف دعوت دینے کے خود رسول کریمﷺ کی امت میں شامل ہو جائیں گے اور ایسا کرنا ان پر واجب ہوگا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے عالم ارواح میں تمام انبیاء علیہم السلام سے عہد لیا ہوا ہے کہ اگر ان کی موجودگی میں حضرت محمد مصطفیٰﷺ تشریف لے آئیں تو ان کی نبوت پر ایمان لے آئیں اور انھیں کی تائید میں لگ جائیں۔ چنانچہ وہ آیت حسب ذیل ہے۔
وَاِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِيْثَاقَ النَّبِيّٖنَ لَمَآ اٰتَيْتُكُمْ مِّنْ كِتٰبٍ وَّحِكْمَةٍ ثُمَّ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهٖ وَلَتَنْصُرُنَّهٗ قَالَ ءَاَقْرَرْتُمْ وَاَخَذْتُمْ عَلٰى ذٰلِكُمْ اِصْرِيْ ؕ قَالُوْٓا اَقْرَرْنَا قَالَ فَاشْهَدُوْا وَاَنَا مَعَكُمْ مِّنَ الشّٰهِدِيْنَ
(آل عمران ٨١)
مطلب اس آیت کا اگر ہم بیان کریں گے تو قادیانی صاحبان فوراً انکار کر دیں گے۔ ہم اس کا مطلب مرزا قادیانی کے اپنے الفاظ میں بیان کرتے ہیں تاکہ قادیانیوں کے لیے کوئی جائے فرار نہ رہے اور سوائے قبول کر لینے کے چارہ نہ رہے۔ مرزا قادیانی اس
آیت کو ریویو آف ریلیجنز جلد اوّل نمبر ٥ کے ص ١٩٦ پر درج کر کے لکھتے ہیں۔ ”اس آیت میں بنص صریح ثابت ہوا کہ تمام انبیاء جن میں حضرت مسیح ؑ بھی شامل ہیں ۔ مامور تھے کہ آنحضرت ﷺ پر ایمان لائیں اور انھوں نے اقرار کیا کہ ہم ایمان لائے ...... حضرت عیسیٰ ؑ بھی اس آیت کی رو سے ان مومنین میں داخل ہیں جو آنحضرت ﷺ پر ایمان لائے۔“
پھر اسی آیت کو درج کر کے یوں ترجمہ کیا ہے۔
”اور یاد کر جب خدا نے تمام رسولوں سے عہد لیا کہ جب تمھیں کتاب اور حکمت دوں گا اور پھر تمھارے پاس آخری زمانہ میں میرا رسول آئے گا جو تمہاری کتابوں کی تصدیق کرے گا۔ تمھیں اس پر ایمان لانا ہوگا۔ اور اس کی مدد کرنی ہوگی اور کہا کیا تم نے اقرار کر لیا اور اس عہد پر استوار ہو گئے۔ انھوں نے کہا ہم نے اقرار کر لیا۔ تب خدا نے فرمایا کہ اب اپنے اقرار کے گواہ رہو اور میں بھی تمھارے ساتھ اس بات کا گواہ ہوں۔“
(حقیقۃ الوحی ص ١٣٠ خزائن ج ٢٢ ص ١٣٣)
علاوہ ازیں اسی آیت کے متعلق مرزا قادیانی نے لکھا ہے قرآن شریف سے ثابت ہے کہ ہر ایک نبی آنحضرت ﷺ کی امت میں داخل ہے جیسے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ لِتُؤْمِنُنَّ بِهِ وَ لَتَنْصُرُنَّهُ ۔“
(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٣٣ خزائن ج ٢١ ص ٣٠٠)
حضرت عیسیٰ ؑ کی دعا امت محمدی میں شامل ہونے کے لیے
انجیل برنباس میں جس کے معتبر ہونے پر مرزا قادیانی نے سرمہ چشمہ آریہ کے ٢٣٩-٢٤٣ خزائن ج ٢ ص ٢٨٧-٢٩٣ پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے۔ حضرت عیسیٰ ؑ کی یہ دعا درج ہے۔
”یارب بخشش والے اے رحمت میں غنی تو اپنے خادم کو قیامت کے دن اپنے رسول کی امت میں ہونا نصیب فرما۔“
(انجیل برنباس فصل ٢١٢ آیت ١٤)
پس اگر بفرض محال ہم قادیانی معنی اور تفسیر درست تسلیم کر لیں تو بھی مرزا قادیانی کے مسیح موعود بننے کی گنجائش کا امکان نہیں۔ پھر اس کا مطلب صاف ہے کہ اے لوگو گھبراؤ نہیں تمھارے لیے خوشی اور مسرت کا مقام ہوگا کہ حضرت عیسیٰ ؑ جیسا اولوالعزم رسول بھی تمہاری طرح میرا امتی بن کر رہے گا۔ اس سے امت محمدی کو اس کے عالی مرتبہ ہونے کی بشارت کا اعلان ہے اور واقعی ہمارا ایمان ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ
ہم میں سے ایک ہوں گے۔ یعنی امت محمدی میں شامل ہو کر رسولِ کریم ﷺ کے دین کی خدمت کریں گے۔
پس حدیث کے خواہ اسلامی معنی قبول کریں خواہ مرزائی بہر حال مرزا قادیانی مسیحیت سے ہاتھ دھو لیں۔
حدیث...... ١٢ عن نواس بن سمعان قال قال رسول الله ﷺ ....... فبينهما هو کذالک اذ بعث الله المسيح ابن مريم فينزل عند المنارة البيضاء شرقي دمشق بين مهروذتين واضعا كفيه على اجنحة ملكين اذ طاطأ رأسه قطر و اذا رفعه تحدر منه مثل جمان كا للؤلؤ فلا يحل لكافر يجد من ريح نفسه الا مات و نفسه ينتهى حيث ينتهى طرفه فيطلبه حتى يدركه بباب لد فيقتله.
(صحیح مسلم ج ٢ ص ٤٠١ باب ذکر الدجال)
”قادیانیوں کی عادت ہے کہ وہ ”لا نُسَلِّمُ“ کا بہانہ ڈھونڈھتے ہیں۔ ہم بھی ان کا ناطقہ بند کرنے میں ماشاء اللہ ماہر واقع ہوئے ہیں۔ ہم ترجمہ حدیث کا مرزا قادیانی کے اپنے الفاظ میں بیان کرتے ہیں۔
”دجال اسی قسم کی گمراہ کرنے کی کوششوں میں لگا ہوا ہوگا کہ ناگہان مسیح ابن مریم ظاہر ہو جائے گا اور وہ ایک منارہ سفید کے پاس دمشق کے شرقی طرف اترے گا...... اور جس وقت وہ اترے گا اس وقت اس کی زرد پوشاک ہوگی۔ یعنی زرد رنگ کے دو کپڑے اس نے پہنے ہوئے ہوں گے اور دونوں ہتھیلی اس کی دو فرشتوں کے بازوؤں پر ہوں گی...... جس وقت مسیح اپنا سر جھکائے گا تو اس کے پسینہ کے قطرات مترشح ہوں گے اور جب اوپر کو اٹھائے گا تو بالوں سے قطرے پسینہ کے چاندی کے دانوں کی طرح گریں گے۔ جیسے موتی ہوتے ہیں اور کسی کافر کے لیے ممکن نہیں ہوگا کہ ان کے دم کی ہوا پا کر جیتا رہے بلکہ فی الفور مر جائے گا اور دم ان کا ان کی حد نظر تک نہ ہوگا پھر حضرت ابن مریم دجال کی تلاش میں لگیں گے اور لد کے دروازے پر جو بیت المقدس کے دیہات میں سے ایک گاؤں ہے۔ اس کو جا پکڑیں گے اور اس کو قتل کر ڈالیں گے۔“
(ازالہ اوہام ص ٤١٧ و ص ٤٢٠ خزائن ج ٣ ص ٢٠٩)
تصدیق صحت حدیث از مرزا قادیانی: ١...... اس حدیث کو مرزا قادیانی نے ازالہ اوہام ص ٢٠٢ و ص ٢٠٦ خزائن ج ٣ ص ١٩٩ تا ٢٠١ پر درج کیا ہے اور اس سے اپنی
صداقت میں استدلال بھی کیا ہے۔ لیکن حدیث کے الفاظ کی طاقت مرزا قادیانی کو آرام نہیں کرنے دیتی۔ کبھی کہتے ہیں یہ کشف تھا۔ کبھی کہتے ہیں۔ امام بخاری نے اس حدیث کو ضعیف سمجھ کر چھوڑ دیا ہے۔ (لعنۃ اللہ علی الکاذبین)
خیال فرمائیے! حدیث کو ضعیف بھی سمجھتے ہیں۔ ساتھ ہی اس کو اپنی صداقت میں بطور دلیل بھی پیش کرتے ہیں۔ (ازالہ اوہام ص ٢٠٢ سے ص ٢٢٠ خزائن ج ٣ ص ١٩٩ تا ٢٠٩) تک مرزا قادیانی کی دماغی پریشانی کا عجیب مظاہرہ ہو رہا ہے۔ جو شخص ساری حدیث کو پڑھے گا وہ تو اس حدیث کو کشف نبوی کہنا پرلے درجہ کا کذب و افتراء تصور کرے گا باقی رہا حدیث کا ضعیف ہونا اور اس کی دلیل یہ بیان کرنا کہ ”یہ وہ حدیث ہے۔ جو صحیح مسلم میں امام مسلم صاحب نے لکھی ہے۔ جس کو ضعیف سمجھ کر رئیس المحدثین امام محمد اسماعیل بخاری نے چھوڑ دیا ہے۔“ (ازالہ اوہام ص ٢٢٠ خزائن ج ٣ ص ٢٠٩) اگر کوئی قادیانی امام بخاری کا قول ان کی کتاب سے دکھا دے کہ انھوں نے اس حدیث کو ضعیف سمجھ کر چھوڑ دیا ہے تو ہم مبلغ یکصد روپیہ مزید انعام کا اعلان کرتے ہیں۔
پس اگر قادیانیوں کو حق کے ساتھ ذرا بھی انس ہے۔ تو مرزا قادیانی کا دعویٰ سچا ثابت کریں۔ ورنہ ایسے مفتری سے برأت کا اعلان کردیں۔ اگر قادیانی یوں کہیں کہ امام بخاری کا اس حدیث کو نقل نہ کرنا خود اس دعویٰ کی صداقت کا ثبوت ہے تو پھر قادیانی مجیب کیا فرمائیں گے۔ ان احادیث کے بارہ میں جن کے سہارے مرزا قادیانی کی مسیحیت و مجددیت کا ڈھانچہ کھڑا کیا گیا ہے حالانکہ ان احادیث کا بخاری شریف میں نام و نشان بھی نہیں۔ مثال کے طور پر ہم صرف چند مثالیں عرض کرتے ہیں۔
- ا...... حديث مجدد ان الله يبعث لهذه الامة الحديث۔
- ٢...... حدیث کسوف و خسوف ان لمهدينا ايتين لم تكونا منذ الحديث۔
- ٣...... حدیث ابن ماجہ لا مهدي الا عیسٰی کہ عیسٰی کے سوائے کوئی مہدی نہیں۔
تصدیق از مرزا قادیانی......٢ مرزا قادیانی نے اس حدیث کو صحیح تسلیم کر کے اپنی صداقت میں مندرجہ ذیل کتابوں میں پیش کیا ہے۔ (حقیقتہ الوحی ص ٣٠٧ خزائن ج ٢٢ ص ٣٢٠ و ازالہ خورد ص ٦٩٩۔٦٩٧ خزائن ج ٣ ص ٤٧٦۔٤٧٧۔ شہادۃ القرآن ص ٢ خزائن ج ٢ ص ٢٩٨۔ انجام آتھم ص ١٢٩ خزائن ج ١١ ص ایضاً)
تصدیق صحت حدیث از مرزا قادیانی: ٣...... مرزا قادیانی نے اس حدیث کی
صحت کو اس حد تک تسلیم کر لیا ہے کہ آخر تنگ آ کر خود بدولت کو اس حدیث کا مصداق ثابت کرنے کے لیے قادیان کو دمشق ثابت کرنا پڑا اور قادیان میں ایک منارہ بنام منارۃ المسیح تعمیر کر کے اس پر چڑھ کر اترنے کا فیصلہ کر لیا۔ چنانچہ آپ نے منارۃ المسیح کی تعمیر کے اخراجات کے لیے اپنی امت سے چندہ کی اپیل کی۔ اشتہار کا نام ہی اشتہار چندہ منارۃ المسیح ہے اور پورا اشتہار تبلیغ رسالت ج ٩ ص ٢٩۔ ٣٣ مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٨٢ پر درج ہے۔ مرزا قادیانی نے حدیث کو صحیح تسلیم کر لیا ہے۔ صرف تاویلات رکیکہ کو کام میں لا رہے ہیں اور پریشانی کا یہ عالم ہے کہ مغرب اور مشرق میں فرق کرنا بھول گئے ۔ جنوب کو شمال سے تمیز نہیں کر سکتے ۔ چنانچہ ۔
مرزا قادیانی کی حواس باختگی
ملاحظہ ہو۔ اپنے گھر کی سمت اور پتہ تک یاد نہیں رہا اور قوت متخیلہ مدرکہ نے مل ملا کر عجیب کھچڑ پکایا ہے۔ لکھتے ہیں ۔”یہ بات صحیح بھی ہے کیونکہ قادیان جو ضلع گورداسپور پنجاب میں ہے۔ جو لاہور سے گوشہ مغرب جنوب میں واقع ہے۔ وہ دمشق سے ٹھیک شرقی جانب پڑی ہے ۔“
(تبلیغ رسالت ج ٩ ص ٤٠ مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٨٨)
حضرات غور کیجئے! جناب مرزا قادیانی کو عیسیٰ ابن مریم کی مسند چھیننے کا کس قدر شوق ہے؟ مگر عقل اور تمیز کا یہ حال ہے کہ شمال کی بجائے جنوب اور مشرق کی بجائے مغرب کہہ رہے ہیں۔ قادیانی لوگوں سے تعجب در تعجب ہے کہ وہ ایسے حواس باختہ انسان کو کس نفع اور غرض سے نبی ۔ مسیح موعود اور مجدد مان رہے ہیں۔ کیا مرزا قادیانی سے زیادہ عقل و خرد سے عاری اور کوئی نہیں مل سکتا تھا ؟
تصدیق صحت حدیث از مرزا قادیانی ...... ٤
”شاید ہمارے بعض مخلصوں کو معلوم نہیں ہوگا کہ یہ منارۃ المسیح کیا چیز ہے اور اس کی کیا ضرورت ہے۔ سو واضح ہو کہ ہمارے سید و مولیٰ خیر الاصفیاء خاتم الانبیاء سیدنا محمد مصطفیٰ ﷺ کی یہ پیش گوئی ہے کہ مسیح موعود جو خدا کیطرف سے اسلام کے ضعف اور عیسائیت کے غلبہ کے وقت میں نازل ہوگا۔ اس کا نزول ایک سفید منارہ کے قریب ہوگا۔ جو دمشق سے شرقی طرف واقع ہے ۔“
(تبلیغ رسالت ج ٩ ص ٤١ مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٣١٥)
تصدیق از مرزا قادیانی ...... ٥
مفصل دیکھیں تحفہ گولڑویہ ص ٤٤۔ ٤٥ ۔ خزائن ج ١٧ ص
(١٦١ تا ١٦٣)
تصدیق از مرزا قادیانی .......٦ تبلیغ رسالت ج ٦ ص ٩٨ مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٤٠١۔ تصدیق از مرزا قادیانی .......٧ ازالہ اوہام ص ٨١ خزائن ج ٣ ص ١٤٢ و ص ٧٧۔٦٦۔ تصدیق از مرزا قادیانی .......٨ فتح اسلام ص ١٥ حاشیہ خزائن ج ٣ ص ١٠۔
تصدیق حدیث از مرزا محمود احمد خلیفہ مرزا قادیانی
چھوٹے مرزا نے بڑے مرزا کی نبوت ثابت کرنے کو یہ حدیث بڑے زور شور سے پیش کی ہے۔
(دیکھو حقیقۃ النبوۃ ص ١٩٢)
تصدیق از شیخ محی الدین ابن عربیؒ
یہ وہ شخص ہیں جن کے متعلق مرزا قادیانی کا عقیدہ ہے کہ شیخ قدس سرہٗ صحیح اور ضعیف حدیث کے متعلق خود رسول کریم ﷺ سے بالمشافہ ملاقات کر کے پوچھ لیا کرتے تھے۔ (ازالہ اوہام ص ١٥٢ خزائن ج ٣ ص ١٧٧) یہ بزرگ ہستی اس حدیث کو فتوحات مکیہ باب ٣٦٠ میں ذکر کر کے اس کو صحیح قرار دے کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول جسمانی تسلیم کرتے ہیں۔ چنانچہ مفصل ہم آگے بیان کریں گے۔
ناظرین اس قدر بحث ہم نے اس حدیث کے صحیح ثابت کرنے میں اس واسطے کی ہے کہ مرزا قادیانی نے سب سے زیادہ اسی حدیث کو ضعیف کہا ہے اور لطف یہ کہ اسی حدیث کو سب سے زیادہ اپنی تصدیق میں پیش بھی کرتا ہے۔ اب ہم اس کی تشریح کرتے ہیں۔
- ١...... اس کا ترجمہ تو وہی ہے جو مرزا قادیانی نے کیا ہے۔
- ٢...... اس ترجمہ کو تمام مجددین امت محمدیہ نے جن کو مرزائی جماعت سچے مجدد تسلیم کر چکی
ہے۔ بلا تاویل حقیقی معنوں میں تسلیم کرتے ہیں۔ پس گویا اس حدیث کے حقیقی معنوں پر تمام امت کا اجماع ہو چکا ہے اگر قادیانی اپنی تاویلات رکیکہ کا ثبوت تیرہ سو سال کے قریباً ٨٦ مجددین میں سے کسی ایک سے بھی تصدیق کرا دیں تو ہم ان کو منہ مانگا انعام دیں گے۔
- ٣...... مرزا قادیانی اس کو صحیح تسلیم کر کے کہتے ہیں کہ یہ رسول کریم ﷺ کا کشف تھا۔
اس کی تردید خود نواس بن سمعان صحابیؓ ان الفاظ سے کرتے ہیں۔ ”ذکر رسول اللّٰہ ﷺ الدجال فقال ان یخرج وانا فیکم“ ”یعنی ذکر کیا (صحابہ سے) رسول کریم ﷺ نے دجال کا اور فرمایا اگر وہ نکلے درآنحالیکہ میں تم میں موجود ہوں الخ۔“ اس کو کون عقل کا اندھا کشفی بیان کہہ سکتا ہے؟ ہاں صاحب الغرض مجنون کا مصداق کہہ سکتا ۔
ہے کیونکہ ایسے ہی لوگ کہا کرتے ہیں ۔ دو دونے ۔ چار روٹیاں۔
- ٤...... خود مرزا قادیانی نے حدیث کو حقیقی معنوں کے لحاظ سے بھی صحیح تسلیم کر لیا ہے۔
”میرے نزدیک ممکن ہے کہ کسی آئندہ زمانہ میں خاص کر دمشق میں بھی کوئی مثیل مسیح پیدا ہو جائے۔“
(ازالہ اوہام ص ٧٢ خزائن ج ٣ ص ١٤٨ حاشیہ)
- ٥...... مرزا قادیانی نے حدیث نواس بن سمعان میں نزول کے معنی آسمان سے اترنا بھی
خود ہی مان لیے ہیں۔ چنانچہ لکھتے ہیں۔ ”صحیح مسلم کی حدیث میں جو یہ لفظ موجود ہے کہ حضرت مسیح ؑ جب آسمان سے اتریں گے تو ان کا لباس زرد رنگ کا ہوگا۔“
(ازالہ اوہام ص ٨١ خزائن ج ٣ ص ١٤٢)
اور ایسا ماننے سے وہ انکار بھی کیوں کر سکتے ہیں کیونکہ حدیث معراج سے ثابت ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ نے فرمایا کہ میں قرب قیامت میں نازل ہوں گا اور دجال کو قتل کروں گا اور اس حدیث میں حضرت عیسیٰ ؑ کے ہاتھ سے دجال کا قتل کیا جانا ثابت ہے اور نزول کا لفظ بھی وہی مستعمل ہے جو حضرت عیسیٰ ؑ نے رسول مقبول ﷺ کے سامنے ارشاد فرمایا تھا وہ ہی الفاظ رسول پاک ﷺ نے اس حدیث میں اپنی امت کو فرما کر اعلان کر دیا کہ نازل ہونے والا وہی ابن مریم ہے۔
- ٦...... ایک اور جگہ مرزا قادیانی حضرت عیسیٰ ؑ کے اس نزول کو ”نزول من السماء“
قرار دیتے ہیں۔ لکھتے ہیں۔ ”والنزول ايضًا حق نظرًا على تواتر الآثار وقد ثبت من طرق فی الاخبار۔“ ”حضرت عیسیٰ ؑ کا نزول تواتر احادیث سے مختلف طریقوں سے ثابت ہے۔“ (انجام آتھم ص ١٥٨ خزائن ج ١١ ص ایضاً) اب جبکہ حضرت عیسیٰ ؑ کا نزول ثابت ہو گیا تو آپ کا صعود یعنی رفع جسمانی خود بخود ثابت ہو گیا کیونکہ مرزا قادیانی لکھتے ہیں۔ ”تعلمون ان النزول فرع للصعود تم جانتے ہو کہ نزول رفع کا نتیجہ ہے۔“
(انجام آتھم ص ١٦٨ خزائن ج ١١ ص ایضاً)
پھر لکھتے ہیں۔ ”اس جگہ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ مسیح کا جسم کے ساتھ آسمان سے اترنا اس کے جسم کے ساتھ چڑھنے کی فرع ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ٢٦٩ خزائن ج ٣ ص ٢٣٦)
پھر لکھتے ہیں۔ نزول عیسیٰ کو ”نزول من السماء“ یعنی آسمان سے اترنا تسلیم کرتے ہیں۔ چنانچہ لکھتے ہیں: ”وانی انا المسیح النازل من السماء۔“
(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٣١ خزائن ج ١٧ ص ٨٣)
”اور تحقیق میں ہی وہ مسیح ہوں جو آسمان سے نازل ہونے والا ہے۔“
حضرات غور کیجئے! آخر شرم و حیا بھی کوئی چیز ہے۔ خود ہی تسلیم کرتے ہیں کہ نزول سے مراد جسمانی نزول ہے۔ خود ہی مانتے ہیں کہ مسیح نے آسمان سے نازل ہونا ہے۔ پھر کس قدر دیدہ دلیری سے مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ آسمان سے میں ہی نازل ہوا ہوں۔ مرزا قادیانی! آپ نے اس دنیا میں اپنا آنا ان الفاظ میں لکھ چکے ہیں۔
”میرے ساتھ ایک لڑکی پیدا ہوئی تھی۔ جس کا نام جنت تھا۔ پہلے وہ لڑکی پیٹ میں سے نکلی تھی۔ بعد میں میں نکلا تھا۔“
(تریاق القلوب ص ١٥٧ خزائن ج ١٥ ص ٤٧٩)
فرمائیے جناب آپ کے خیال میں آسمان کے معنی ماں کا پیٹ بھی ہے۔ نزول کے معنی پیٹ میں سے نکلنا بھی ہے۔ اگر آپ یا آپ کی جماعت آسمان کے معنی ماں کا پیٹ یا نزول کے معنی ماں کے پیٹ سے باہر نکلنا دکھائیں تو یکصد روپیہ نقد قادیانی خزانہ عامرہ میں جمع کرانے کے لیے تیار ہوں۔
حدیث......١٥ عن الحسن قال قال رسول اللہ ﷺ لیھود ان عیسیٰ لم یمت وانہ راجع الیکم قبل یوم القیامۃ.
(درمنثور جلد دوم ص ٣٦ زیر آیت یا عیسیٰ انی متوفک)
”امام حسن بصریؒ روایت کرتے ہیں کہ فرمایا رسول کریم ﷺ نے یہود کو مخاطب کر کے کہ تحقیق عیسیٰ ؑ فوت نہیں ہوئے اور بیشک وہ تمہاری طرف واپس آئیں گے قیامت سے پہلے۔“
- تصدیق حدیث......١ یہ حدیث بیان کی ہے امام حسن بصریؒ نے جو ہزارہا اولیاء
کرام اور بیسیوں مجددین امت کے روحانی پیشوا ہیں۔
- ٢....... اس حدیث کو روایت کیا امام جلال الدین سیوطیؒ نے اپنی تفسیر درمنثور میں اور امام
جلال الدین تھے نویں صدی کے مجدد اعظم۔ نیز قادیانی نے ان کی شان میں لکھا ہے کہ وہ صحیح اور ضعیف حدیث میں فرق رسول کریم ﷺ سے براہ راست ملاقات کر کے معلوم کر لیا کرتے تھے۔
(دیکھو ازالہ خورد ص ١٥١ خزائن ج ٣ ص ١٧٧)
- ٣....... پھر یہی حدیث قادیانیوں کے مسلم مجدد و امام صدی ششم امام ابن کثیر نے بھی
باسناد صحیح اپنی تفسیر میں درج کی ہے۔ اس کا انکار قادیانیوں کے نزدیک فسق اور کفر ہے۔
- ٤....... پھر اس حدیث کو ابن جریر نے بھی صحیح قبول کر لیا ہے۔ جو صحیح معنوں میں مفسر اور
محدث تھے۔
(دیکھو چشمہ معرفت ص ٢٥٠ حاشیہ خزائن ج ٢٣ ص ٢٦١)
ہاں ہاں یہ وہی ابن جریر مفسر قرآن ہے۔ جس کی تفسیر کے بے مثل ہونے پر
اجماع امت ہے۔ دیکھئے قادیانیوں کے مسلم مجدد صدی نہم امام جلال الدین سیوطیؒ تفسیر اتقان میں امام ابن جریر کے متعلق یوں فرماتے ہیں۔
"اجمع العلماء المعتبرون علی انہ لم یؤلف فی التفسیر مثلہ۔"
(اتقان ج ٢ ص ٣٢٥)
"معتبر علماء امت کا اجماع ہے کہ ایسی تفسیر کسی نے نہیں لکھی" اس مرتبہ کے بزرگ نے اس حدیث کو اپنی تفسیر میں صحیح سمجھ کر درج کیا ہے۔
- ٥...... قادیانیوں کے بہت بڑے عالم مولوی محمد احسن امروہی نے بھی اپنی کتاب شمس
بازغہ ص ٧٠ پر اس حدیث کو صحیح تسلیم کیا ہے۔
قادیانی اعتراض یہ حدیث مرسل ہے۔ اس واسطے قابل قبول نہیں یعنی حدیث مرفوع نہیں۔
جواب اس کی صحت اور عظمت کے دلائل جو اوپر بیان کیے گئے ہیں۔ اوّل تو وہی کافی ہیں۔ مگر مناظرین کے کام کی چند باتیں اور عرض کرتا ہوں۔
- ١...... اجی حضرات آپ یہ میٹھا میٹھا ہڑپ اور کڑوا کڑوا تھو ہمارے سامنے نہیں کر سکتے۔
آپ ہر مجلس میں کسوف و خسوف والی حدیث کو پیش کیا کرتے ہو۔ حالانکہ وہ حدیث رسول نہیں ہے۔ یعنی یہ قول انّ لمھدینا آیتین الخ راوی اس عبارت کو حدیث رسول نہیں کہتا۔ مگر باوجود اس کے اپنی خود غرضی کے لیے اسے حدیث رسول مانتے ہو یا نہ؟ بالعکس اس کے ہماری پیش کردہ حدیث تو حدیث رسول ہے۔ جیسا کہ راوی زبدۃ العارفین رئیس المکاشفین حضرت امام حسن بصریؒ فرماتے ہیں۔
"قال رسول اللہ ﷺ" جب حسن بصریؒ جیسا راوی اس حدیث کو حدیث رسول کہتا ہے تو اس مذکورہ بالا قول کے ساتھ ذرا مقابلہ تو کرو۔
پھر لطف یہ ہے کہ قادیانیوں کا یہ اعتراض ناشئ از جہالت ہے۔ خود مرزا قادیانی نیز اپنی تعلیمی حالت ان الفاظ میں پیش کرتے ہیں۔
"بخدا یہ سچ اور بالکل سچ ہے اور قسم ہے مجھے اس ذات کی جس کے ہاتھ میری جان ہے، کہ درحقیقت مجھ میں کوئی علمی اور عملی خوبی یا ذہانت اور دانشمندی کی لیاقت نہیں اور میں کچھ بھی نہیں۔"
(ازالہ اوہام ایک خط کا جواب ص ١٦ خزائن ج ٣ ص ١١٥)
پھر دوسری جگہ لکھتے ہیں۔ "میں حلفاً کہہ سکتا ہوں کہ میرا حال یہی (اصل اسی
طرح ہے۔ (یہ میرا) حال ہے۔ کوئی ثابت نہیں کر سکتا کہ میں نے کسی انسان سے قرآن یا حدیث یا تفسیر کا ایک سبق بھی پڑھا ہے یا کسی مفسر یا محدث کی شاگردی اختیار کی ہے۔“
(ایام الصلح ص ١٤٧ خزائن ج ١٤ ص ٣٩٤)
باقی رہا مرزائی علماء کا حال سو وہ فنا فی القادیان ہیں اور ہز ماسٹرس وائس کا مصداق ہیں ہر کہ در کان نمک رفت نمک شد۔
حدیث دراصل مرسل نہیں بلکہ مرفوع ہی ہے۔ بات اصل میں یہ ہے کہ امام حسن بصری نے جو احادیث حضرت علیؓ سے روایت کی ہیں۔ ان میں وہ حضرت علیؓ کا نام قصداً حذف کر دیتے ہیں۔ تہذیب الکمال للمزی میں ان کا قول یوں درج ہے۔
”کل شئی سمعتنی اقول فیہ قال رسول اللہ ﷺ فھو عن علیؓ ابن ابی طالب غیر انی فی زمان لا استطیع ان اذکر علیا۔“ ”میں جتنی احادیث میں قال رسول اللہ ﷺ کہوں اور صحابی کا نام نہ لوں سمجھ لو کہ وہ علیؓ ابن طالب کی روایت ہے۔ میں ایسے (سفاک دشمن آل رسول حجاج کے) زمانے میں ہوں کہ حضرت علیؓ کا نام نہیں لے سکتا۔“
لیجئے دوسری شہادت ملاحظہ کیجئے اور شہادت بھی اس شخص کی جس کو قادیانی جماعت مجدد و امام صدی دہم تسلیم کر چکی ہے۔ یعنی ملا علی قاری شرح نخبہ میں فرماتے ہیں۔
”وکان قد یحذف اسم علیؓ ایضاً بالخصوص لخوف الفتنۃ یعنی امام حسن بصری فتنہ کے خوف سے حضرت علیؓ کا نام مبارک روایت میں خاص طور سے حذف کر جاتے تھے۔“
حضرات! اب کس قادیانی کا منہ ہے کہ اپنے ہی ایک مجدد کی شہادت کے برخلاف اس حدیث کو مرسل کہہ کر جان چھڑا سکے۔ پھر لطف یہ ہے کہ اگر اس حدیث کو مرسل بھی مان لیں تو بھی اس کی عظمت حجیت میں فرق نہیں پڑتا۔ وہ بھی اہل اسلام کے لیے حجت اور دلیل ہے۔ چنانچہ وہی ملا علی قاریؒ قادیانیوں کے مسلم مجدد فرماتے ہیں۔
”قال جمہور العلماء المرسل حجة مطلقا“ شرح نخبہ ”یعنی جمہور علماء اسلام کے نزدیک مرسل حدیث بھی قطعی حجت ہے۔“
نتائج حضرات! جب اس حدیث کی عظمت ایسے پیرایہ سے ثابت ہو چکی کہ قادیانیوں کو سوائے سر تسلیم خم کرنے کے اور کوئی جائے فرار باقی نہیں رہی۔ تو ہم اس حدیث سے
ایسے نتائج بیان کرتے ہیں جو ہر ذکی اور فہیم آدمی کو خود بخود نظر آتے ہیں۔
- ١...... چونکہ یہ قول رسول کریم ﷺ کا یہود کے خطاب میں ہے۔ اس واسطے یہودیوں کے
عقیدہ باطلہ قتل مسیح کا رد فرما رہے ہیں اور ایسے الفاظ سے فرماتے ہیں کہ وہ سب قسم کی موت پر حاوی ہیں۔ فرماتے ہیں۔
”اِنَّ عِیْسٰی لَمْ یَمُتْ“ ”تحقیق عیسیٰ نہیں مرے۔“ اس میں موت بالصلیب اور موت طبعی سب قسم کی موت سے انکار کر رہے ہیں۔
- ٢...... قادیانی جماعت کی پیش کردہ تاویل یا تفسیر کہ عیسیٰ ؑ واقعہ صلیبی سے ٨٧ برس
بعد طبعی موت سے کشمیر میں فوت ہو گئے تھے۔ اس کا رد بھی فرما رہے ہیں۔
- ٣...... ”وانہ راجع الیکم اور بالتحقیق عیسیٰ ؑ تمہاری طرف واپس آئیں گے۔“ اس
سے معلوم ہوا کہ اس دنیا میں وہ موجود نہیں کہیں باہر گئے ہوئے ہیں۔ وہ کہاں ہیں؟ ہم قرآنی دلائل و حدیثی شواہد سے ثابت کر چکے ہیں کہ وہ آسمان پر ہیں۔
نکتہ عظیمہ اللہ علام الغیوب نے رحمۃ للعالمین ﷺ کی زبان مبارک سے ایسے الفاظ حضرت مسیح ؑ کے متعلق جاری فرما دیے کہ قادیانی جدھر بھاگتا ہے۔ آگے سے پھانس لیتے ہیں۔ اس حدیث میں آنحضرت ﷺ نے ”نازل“ کے لفظ کو ترک کر کے اور ”راجع“ کا لفظ استعمال کر کے تیرہ سو سال بعد آنے والے ایک مدعی نبوت و مسیحیت کا ناطقہ بند کر کے امت مرحومہ پر وہ احسان فرمایا ہے کہ واللہ میں تو صرف اسی ایک احسان کے بوجھ سے پسا جا رہا ہوں۔ قادیانی ”نبی“ مرزا غلام احمد قادیانی لکھتا ہے۔
”اگر اس جگہ (حدیث میں) نزول کے لفظ سے یہ مقصود تھا کہ حضرت عیسیٰ ؑ دوبارہ آسمان سے آئیں گے۔ تو بجائے نزول کے رجوع کہنا چاہیے تھا کیونکہ جو شخص واپس آتا ہے۔ اس کو عرب زبان میں راجع کہا جاتا ہے۔ نہ نازل۔“
(ایام الصلح ص ١٤٦ خزائن ج ١٤ ص ٣٩٢)
دوسری جگہ لکھتا ہے۔ ”اگر کوئی شخص آسمان سے واپس آنے والا ہوتا تو اس موقعہ پر رجوع کا لفظ ہونا چاہیے تھا نہ کہ نزول کا لفظ۔“
(چشمہ معرفت ص ٢٢٠ خزائن ج ٢٣ ص ٢٢٩)
قادیانی ناظرین سے ایک مودبانہ درخواست
مرزا قادیانی کا چیلنج دربارہ رجوع و راجع آپ نے ملاحظہ فرما لیا اور حدیث بھی آپ نے پڑھ لی۔ حدیث کی عظمت پر بھی آپ ہی کے مسلمہ مجددین اور آئمہ کرام کی شہادت ثبت کرا دی گئی ہے۔ مرزا قادیانی بیچارے تو علم حدیث سے محض کورے اور خالی تھے۔ انھیں یہ صحیح در صحیح مرسل نہ بلکہ مرفوع حدیث (جیسا کہ ہم ثابت کر چکے ہیں) معلوم نہ تھی۔ مگر آپ کے سمجھانے کے لیے ایک اصول ضرور لکھ گئے۔ یعنی اگر حدیث میں رجوع کا لفظ موجود ہو تو پھر بالیقین عیسیٰ ؑ کی حیات و رفع جسمانی خود بخود ثابت ہو جائے گا۔
پس اگر اسلام کی خاطر نہیں تو کم از کم مرزا قادیانی کی خوشنودی کی خاطر ہی آپ رجوع کے لفظ کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے اپنے عقیدہ باطلہ سے رجوع کر لیں۔
- ٤...... قبل یوم القیامۃ کے الفاظ اسلامی تفسیر کی صداقت پر مہر تصدیق ثبت کر رہے
ہیں۔ انہ لعلم للساعۃ کی مکمل شرح ہے۔ وَإِنْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتَابِ اِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ پر پوری روشنی ڈال رہے ہیں۔
- ٥...... آنحضرت ﷺ فرما رہے ہیں کہ آنے والا عیسیٰ ؑ (غلام احمد ابن چراغ بی بی نہ
ہوگا) بلکہ وہی ابن مریم ہوگا جو نہیں مرا۔
حدیث......١٦ "اخرج ابن جریر و ابن ابی حاتم عن الربیع قال ان النصاریٰ اتوا رسول اللہ ﷺ فخاصموہ فی عیسیٰ ابن مریم وقالوا لہ من ابوہ وقالوا علی اللہ الکذب والبہتان فقال لہم النبی ﷺ الستم تعلمون انہ لایکون ولد الا وهو یشبہ اباہ قالوا بلیٰ۔ قال الستم تعلمون ان ربنا حی لایموت وان عیسیٰ یأتی علیہ الفنا فقالوا بلیٰ۔"
(بحوالہ حقیقۃ الاسلام و درمنثور جلد ٢ ص ٣ زیر آیت هو الحی القیوم)
عظمت و صحت حدیث اس حدیث کی عظمت کا اندازہ آپ اسی امر سے لگا سکتے ہیں کہ امام ابن جریرؒ جیسے مفسر اعظم و محدث معتبر مسلم قادیانی (دیکھو حدیث نمبر ١٥ کی ذیل میں) نے اپنی تفسیر میں اس کو درج کیا ہے اور امام جلال الدین سیوطیؒ نویں صدی کے مجدد و امام مسلم قادیانی نے بھی اپنی شہرہ آفاق تفسیر درمنثور میں اس کو صحیح لکھا ہے۔
”ربیع کہتے ہیں کہ نجران کے عیسائی رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ ﷺ سے حضرت عیسیٰ ؑ کے بارہ میں (یعنی توحید و تثلیث پر بحث شروع کر
دی) اور کہنے لگے کہ (اگر عیسیٰ علیہ السلام خدا کا بیٹا نہیں ہے تو بتاؤ) اس کا باپ پھر کون ہے لگے اللہ پر جھوٹ اور بہتان جڑنے (حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ولد اللہ کہنے سے) رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ کیا تم نہیں جانتے کہ بیٹا باپ سے مشابہ ہوتا ہے۔ انھوں نے کہا۔ کیوں نہیں؟ پھر رسول کریم ﷺ نے فرمایا کیا تم نہیں جانتے ہو کہ اللہ تعالیٰ زندہ ہے اور کبھی نہیں مرے گا حالانکہ یقیناً عیسیٰ علیہ السلام پر موت طاری ہوگی۔ تو انھوں نے کہا۔ کیوں نہیں۔“
ناظرین اس حدیث سے روز روشن کی طرح چند نتائج مندرجہ ذیل ہویدا ہیں۔
- ١....... اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام فی الواقعہ فوت ہو چکے ہوتے تو رسول پاک ﷺ ”وان عیسیٰ
یاتی علیہ الفنا یعنی عیسیٰ علیہ السلام پر موت طاری ہوگی۔“ نہ فرماتے بلکہ آپ فرماتے کہ ”وان عیسیٰ قد اتی علیہ الفنا کہ عیسیٰ علیہ السلام پر موت طاری ہو چکی ہے۔ مگر آپ ﷺ نے ایسا نہیں فرمایا بلکہ فرمایا کہ عیسیٰ علیہ السلام پر موت آئے گی۔ جس کے صاف معنی یہ ہیں کہ رسول کریم ﷺ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ بجسدہ العنصری مانتے تھے۔
- ٢....... الزامی جواب دینا مناظرہ و مباحثہ میں مسلّم ہے اور ایسا جواب ہوتا بھی بالکل فیصلہ
کن ہے۔ جیسا کہ ہم نے اس کتاب میں اپنے طرز استدلال کو بہت حد تک قادیانی مسلّمات تک ہی محدود رکھا ہے۔ اسی طرح رسول کریم ﷺ کو پتہ تھا کہ اگر عیسائی اور کل یہودی عیسیٰ علیہ السلام کے صلیب پر مر جانے کے قائل ہیں۔ گویا عیسیٰ علیہ السلام کا فوت شدہ ہونا یہودی مسلّمات اور عیسائی مظنونات میں سے ہے اور موت الوہیت کی (خدائی کی) شان کے منافی (خلاف) ہے۔ اس واسطے رسول کریم ﷺ ان کے مسلّمات کی رو سے کہہ سکتے تھے کہ عیسیٰ علیہ السلام تو تمھارے عقیدہ کے مطابق فوت ہو چکے ہیں۔ وہ خدا کیسے ہو سکتے ہیں؟ اور یہ الزامی جواب آپ کا بالکل درست تھا۔
مگر قربان جائیں اس رحمۃ للعالمین کی دور اندیشی اور ہمدردی کے جو آپ ﷺ نے اپنے ہر ہر فعل اور ہر ایک قول میں مدنظر رکھی ہے۔ آنحضرت ﷺ نے مناظرانہ رنگ میں مسکت اور لاجواب الزام کی بجائے تحقیقی جواب سے کام لیا جو برکت نبوت واقعی ہی لاجواب ثابت ہوا۔ امت مرحومہ کے ساتھ ہمدردی اور شفقت اس بات میں مضمر تھی کہ اگر آپ ﷺ کی زبان مبارک سے یہ لفظ نکل جاتے (یعنی عیسیٰ علیہ السلام تو تمھارے خیال میں مر چکے ہیں) تو قادیانی ضرور اسے قول نبوی ثابت کر کے وفاتِ عیسیٰ علیہ السلام پر دلیل کے طور پیش کرتے۔ پس اس طرزِ استدلال سے رسول کریم ﷺ نے قادیانیوں کا ناطقہ بند کر دیا اور امت مرحومہ کے ہاتھ میں زبردست دلیل حیات
عیسیٰ علیہ السلام پر چھوڑ گئے۔
حدیث......١٧ يحدث ابوهريرة قال رسول الله ﷺ والذي نفسي بيده ليهلن ابن مريم بفج الروحاء حاجا او معتمرا او ليثنينهما۔
(رواہ مسلم ج ١ ص ٤٠٨ باب جواز التمتع فی الحج والقرآن)
عظمت و اہمیت حدیث......١ یہ حدیث امام مسلم نے صحیح مسلم میں روایت کی ہے ۔ صحیح مسلم کا صحیح ہونا قادیانی مسلمات سے ہے۔ مرزا قادیانی لکھتے ہیں ۔
- ا...... ”اگر میں بخاری اور مسلم کی صحت کا قائل نہ ہوتا تو میں کیوں بار بار ان کو اپنی تائید
میں پیش کرتا ۔“
(ازالہ اوہام خورد ص ٨٨٣ خزائن ج ٣ ص ٥٨٢)
- ب...... ”صحیحین کو تمام کتب حدیث پر مقدم رکھا جائے ۔“
(تبلیغ رسالت ج دوم ص ٢٥ مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٣٥)
- ٢...... کسی مجدد و محدث نے اس حدیث پر نکتہ چینی نہیں کی ۔ گویا تمام امت کا اس کی صحت
پر اجماع ہے ۔
- ٣...... اس حدیث کو امام احمد نے اپنی مسند ج ٢ ص ٢٤٠ و ٢٧٢ و ٥١٣ و ٥٤٠ میں غالباً
چار جگہ روایت کیا ہے ۔ امام احمد قادیانیوں کے نزدیک مجدد صدی دوم تھے ۔
- ٤...... تفسیر درمنثور جلد دوم ص ٢٤٣ میں امام جلال الدین سیوطی مجدد صدی نہم نے بھی اس
حدیث کو درج فرمایا ہے ۔ امام موصوف کی عظمت دیکھنی ہو تو ملاحظہ کریں ۔
(ازالہ اوہام ص ١٥١ خزائن ج ٣ ص ١٧٧)
- ٥...... پھر اس حدیث کو قادیانیوں کے مسلم امام و مجدد صدی ششم امام ابن کثیر نے بھی
اپنی تفسیر میں درج کیا ہے ۔ دیکھو تفسیر ابن کثیر جلد سوم جب عظمت و اہمیت حدیث بالا کی آپ پر ظاہر ہو چکی تو اب ہم اس کا ترجمہ بیان کرتے ہیں ۔
”حضرت ابو ہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ فرمایا رسول کریم ﷺ نے کہ مجھے اس پاک ذات کی قسم ہے ۔ جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ ضرور ابن مریم روحا کی گھاٹی میں لبیک پکاریں گے ۔ حج کی یا عمرہ کی یا قرآن کریں گے اور دونوں کی لبیک پکاریں گے ایک ہی ساتھ ۔“
نتائج......١ یہ مضمون رسول کریم ﷺ نے چونکہ قسم اٹھا کر بیان فرمایا ہے۔ اس واسطے اس کا تمام مضمون اپنے ظاہری معنوں کے لحاظ سے پورا ہونا ضروری ہے ۔ مرزا قادیانی ہماری
تائید میں پہلے ہی فرما گئے ہیں۔ ترجمہ قول مرزا ”نبی کا کسی مضمون کو قسم کھا کر بیان کرنا اس بات پر گواہ ہے کہ اس میں کوئی تاویل نہ کی جائے اور نہ استثناء بلکہ اس کو ظاہر ہی پر محمول کیا جائے ورنہ قسم اٹھانے کا فائدہ کیا ہوا ۔“
(حمامة البشریٰ ص١٤ خزائن ج ٧ ص ١٩٢ حاشیہ)
- ٢...... حضرت عیسیٰ علیہ السلام دنیا میں آ کر حج بیت اللہ کریں گے اور خود حج کریں گے دوسرا
آدمی ان کی بجائے حج نہیں کرے گا۔
- ٣...... پس ضروری ہوا کہ حضرت مسیح علیہ السلام نزول کے بعد اس قدر امن قائم کر لیں گے
کہ کوئی امر حج کرنے سے روک نہ سکے گا۔
- ٤...... حضرت عیسیٰ علیہ السلام تمام ایسی بیماریوں سے محفوظ ہوں گے جو حج کرنے سے مانع ہو
سکتی ہیں۔
- ٥...... حضرت ابن مریم سے مراد حضرت عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم ہی ہوں گے کیونکہ ابن مریم
سے مراد ابن چراغ بی بی (غلام احمد قادیانی) لینا ظاہر کے خلاف ہے اور بدترین تاویل کی مثال ہے۔
- ٦...... فج الروحا سے مراد وہی روحا کی گھاٹی لینا پڑے گی نہ کہ قادیان ۔
- ٧...... حج سے مراد وہی حج اہل اسلام مراد ہوگا۔ اس سے مراد مرزا قادیانی کا لاہور یا
دہلی جانا یا محمدی بیگم کے ساتھ نکاح کرنا یا مقدمات کی وجہ سے جہلم جانا نہیں لے سکتے۔
- ٨...... نزول سے مراد اوپر سے نیچے اترنا ہی لیا جائے گا کیونکہ یہی اس کے ظاہری معنی
ہیں۔ اس کے خلاف معنی کرنا مرزا قادیانی کے مذکورہ بالا اصول کے خلاف ہوگا۔
ناظرین! غور کیجئے کبھی آپ نے کسی قادیانی کو وفات مسیح پر بھی اسی طرح کے بولتے ہوئے دلائل بیان کرتے سنا ہے۔ ان کے دلائل کا تجزیہ انشاء اللہ ہم دوسرے حصہ میں کریں گے۔
حدیث......١٨ رواہ احمد عن عثمان بن ابی العاصؓ وھو فی المسجد مع جماعۃ قال سمعت رسول اللہ ﷺ یقول فیخرج الدجال...... ومع الدجال سبعون الفا...... وینزل عیسیٰ ابن مریم عند الصلوۃ الفجر فیقول لھم امیرھم یا روح اللہ تقدم صل لنا فیقول ھذہ الامۃ امراء بعضھم علی بعض فیتقدم امیرھم فیصل حتی اذا قضی صلوتہ اخذ عیسیٰ حربتہ فیذھب نحو الدجال...... فیقتلہ
(رواہ احمد فی المسند احمد ج ٤ ص ٢١٦۔٢١٧ والحاکم فی المستدرک ج ٥ ص ٦٧٤ حدیث نمبر ٨٥٢٠)
تصدیق.......١ امام احمد قادیانیوں کے مسلم امام و مجدد صدی دوم تھے۔ وہ بھلا کوئی غلط حدیث روایت کر سکتے ہیں؟
٢....... اس حدیث کو قادیانیوں کے مسلم امام و مجدد صدی چہارم امام حاکم نے بھی روایت کیا ہے۔
"حضرت عثمان بن ابی العاصؓ نے ایک جماعت کثیر کے سامنے مسجد میں بیان کیا کہ سنا میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے....... دجال نکلے گا....... اور اس کے ساتھ ستر ہزار یہودی ہوں گے....... اس وقت نازل ہوگا عیسیٰ ؑ بیٹا مریم کا صبح کی نماز کے وقت۔ پس مسلمانوں کا امیر حضرت عیسیٰ ؑ سے کہے گا آگے آئیے نماز پڑھائیے۔ پس حضرت کہیں گے کہ یہ شرف امت محمدی ہی کو حاصل ہے کہ اس میں سے بعض اس کے بعض پر امیر ہوتے ہیں۔ پس آگے بڑھے گا امیر مسلمانوں کا اور نماز پڑھائے گا۔ یہاں تک کہ جب نماز پڑھا چکے گا تو حضرت عیسیٰ ؑ اپنا خنجر پکڑیں گے۔ پھر دجال کی طرف جائیں گے....... پس اسے قتل کریں گے۔"
(رواہ احمد)
نتائج وہی ہیں جو حدیث نمبر دو کے ذیل میں دکھائے گئے ہیں۔
حدیث.......١٩ ”عن ابی امامۃ الباہلی قال خطبنا رسول اللہ ﷺ فقالت ام شریک بنت ابی الفکر یا رسول اللہ فاین العرب یومئذ قال ھم قلیل....... وامامہم رجل صالح قد تقدم بھم الصبح اذ نزل عیسیٰ ابن مریم....... (ابن ماجہ ص ٢٩٨ باب فتنۃ الدجال و خروج عیسیٰ ابن مریم ؑ) حضرت ابو امامۃ الباہلیؓ نے بیان کیا کہ رسول کریم ﷺ نے ہم صحابہ کو مخاطب کر کے (دجال اور قیامت کا حال بیان فرمایا)....... ام شریک بنت ابی الفکر صحابیہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ اس دن عرب کہاں ہوں گے۔ آپ ﷺ نے فرمایا وہ تھوڑے ہوں گے اور امام ان کا ایک صالح مرد ہوگا۔ وہ آگے ہو کر انھیں صبح کی نماز پڑھائے گا کہ اچانک عیسیٰ ؑ نازل ہو جائیں گے۔“
حدیث.......٢٠ ”عن علیؓ انہ خطب الناس“ الحدیث.
(کنز العمال ج ١٤ ص ٦١٢ حدیث نمبر ٣٩٧٠٩ بحوالہ عسل مصفیٰ جلد کا ص ٢٧٨۔٢٧٦)
تصدیق مرزا خدا بخش قادیانی نے اس حدیث کو مرزا غلام احمد کی تصدیق میں پیش کیا ہے ۔ لہٰذا اس کے صحیح ہونے پر قادیانی کوئی اعتراض نہیں کر سکتے ترجمہ بھی ہم عسل مصفیٰ
سے ہی نقل کرتے ہیں۔
”حضرت علیؓ نے لوگوں کے سامنے خطبہ پڑھا...... پھر تین دفعہ کہا اے لوگو پیشتر اس کے کہ میں تم سے رخصت ہو جاؤں مجھ سے کچھ پوچھ لو...... (دجال کے متعلق سوال شروع ہوئے) ...... دجال کے بہت سے گروہ ہوں گے اس کے تابعدار یہودی اور ولدالزنا ہوں گے اللہ تعالیٰ اس کو شام میں ایک ٹیلے پر جس کو افیق کہتے ہیں۔ دن کے تین ساعت میں عیسیٰ ابن مریم کے ہاتھ سے قتل کرائے گا۔“
نوٹ: آخری حصہ کا ترجمہ مرزا خدا بخش قادیانی نے نہیں کیا۔ جس سے اس حدیث کا مرفوع ہونا اظہر من الشمس ہے۔
آخری الفاظ حضرت علیؓ کے یہ ہیں۔
”لاتسئلونی عما بعد ذالك فان رسول اللہ ﷺ عهد إلَیَّ ان اكتمه“
یعنی اے لوگو! اس سے زائد مجھ سے نہ پوچھو کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے عہد لیا ہوا ہے کہ اسے چھپاؤں گا۔ (رواہ ابن المنادی) اس سے صاف معلوم ہوا کہ حضرت علیؓ کا بیان کردہ تمام مضمون ارشاد نبوی تھا پس یہ سارا مضمون مرفوع حدیث کا حکم رکھتا ہے۔
حدیث.......٢١ نوٹ: ہم اس حدیث کا ترجمہ عسل مصفٰی قادیانی کتاب جلد دوم ص ٢٨٣ سے نقل کرتے ہیں۔ ”نعیم بن حماد نے حذیفہ بن الیمانؓ سے روایت کی ہے کہ میں نے رسول خدا ﷺ سے پوچھا۔ دجال پہلے ہوگا یا عیسیٰ ابن مریم۔ فرمایا اوّل دجال ہوگا۔ پھر عیسیٰ ابن مریم۔
(کنز العمال جلد ١٤ ص ٥٩٩ حدیث نمبر ٣٩٦٨٦ بحوالہ عسل مصفٰی جلد دوم ص ٢٨٣)
تصدیق صحت حدیث قادیانی مولوی خدا بخش نے اس حدیث کی صحت کو ببانگ دہل صحیح تسلیم کیا ہے۔ (دیکھو حوالہ بالا)
نتائج......١ حذیفہ بن الیمانؓ صحابی حضرت عیسیٰ ؑ کا نہ صرف نام ہی لے رہا ہے بلکہ ساتھ ہی ابن مریم (مریم کا بیٹا) کہہ کر اس کی تخصیص کر رہا ہے اور رسول خدا ﷺ بھی اسی طرح مسیح موعود عیسیٰ ابن مریم میں ہی محصور کر رہے ہیں۔
٢...... صحابی اور رسول اللہ ﷺ کے مکالمہ سے معلوم ہوتا ہے کہ دجال اور عیسیٰ ابن مریم دو اشخاص ہوں گے۔ دجال اگر شخص واحد نہ قرار دیا جائے تو رسول اللہ ﷺ کی تکذیب لازم آتی ہے کیونکہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ دجال پہلے ہوگا عیسیٰ ؑ سے۔ اگر مرزائیوں کا
عقیدہ مان کر انگریزوں کو یا صرف پادریوں کو دجال کہا جائے تو وہ تو اب بھی ہیں۔ قادیانیوں کے نزدیک عیسیٰ علیہ السلام (مرزا قادیانی) آئے اور مر بھی گئے۔ مگر دجال اسی طرح دندناتا پھرتا ہے۔ پس معلوم ہوا کہ نازل ہونے والا موعود نبی حضرت عیسیٰ علیہ السلام بیٹے مریم کے ہیں۔ نہ کہ غلام احمد بیٹے چراغ بی بی کے۔
حدیث....... ٢٢ "عن علیؓ قال قال رسول اللہ ﷺ ابشروا ثم ابشروا....... کیف تھلک امة انا اولھا و اثنا عشر خلیفة من بعدی والمسیح عیسیٰ ابن مریم آخرھا۔"
تصدیق یہ حدیث قادیانی مذہب کی شہرہ آفاق کتاب عسل مصفیٰ جلد دوم ص ٥١٢ پر درج ہو کر مرزا قادیانی سے سند صحت حاصل کر چکی ہے۔
ترجمہ منقول از عسل مصفیٰ جلد دوم ص ٥١٢۔
"رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کو مخاطب کر کے فرمایا کہ خوش ہو۔ خوش ہو..... وہ امت کیونکر ہلاک ہو سکتی ہے کہ جس کی ابتداء میں میں ہوں اور درمیان میں میرے بعد بارہ خلیفے ہوں گے اور سب سے آخری مسیح عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم ہے۔
نتائج رسول کریم ﷺ نے "والمسیح" کے بعد اس کی شخصیت کو واضح کرنے کے لیے عیسیٰ کا لفظ بڑھایا۔ پھر قادیانیوں کا ناطقہ بند کرنے کو ابن مریم یعنی مریم کا بیٹا عیسیٰ علیہ السلام فرمایا۔ مگر پھر بھی قادیانی ہیں۔ اس کے بمصداق "مان نہ مان میں تیرا مہمان" کی ایک ہی ہانکے جاتے ہیں۔
حدیث....... ٢٣ "عن ابن عباسؓ (مرفوعا) قال رسول اللہ ﷺ لن تھلک امة انا فی اولھا و عیسیٰ ابن مریم فی آخرھا والمھدی فی اوسطھا۔"
(کنزالعمال ج ١٤ ص ٢٦٦ حدیث نمبر ٣٨٦٧١)
"حضرت ابن عباسؓ راوی ہیں کہ فرمایا رسول کریم ﷺ نے کہ وہ امت کیسے ہلاک ہو سکتی ہے۔ جس کے شروع میں تو میں ہوں آخر میں عیسیٰ بیٹا مریم کا اور درمیان میں امام مہدی۔"
تصدیق اس حدیث کے صحیح ہونے پر تو ڈبل مہر ثبت ہے۔ قادیانیوں کے دو مسلم مجددوں نے اس کو روایت کیا ہے۔ یعنی امام احمد اور حافظ ابو نعیم نے دیکھو فہرست مجددین۔
نتیجہ ظاہر ہے کہ عیسیٰ ابن مریم اس امت کے خادم کی حیثیت سے آئیں گے اور امت کی فلاح و بہبود کا کام کریں گے نہ کہ کفر کی مشین گن سے بڑے بڑے علماء اسلام اور صوفیائے عظام کو کافر بنا دیں گے۔ رسول کریم ﷺ تو فرما رہے ہیں۔ ان کی وجہ سے امت ہلاکت سے بچی رہے گی۔ یہاں بھی المسیح کا لفظ نہیں فرمایا بلکہ عیسیٰ اور وہ بھی بیٹا مریم کا بتایا جو عیسیٰ ؑ ہی کا نام ہے اور وہی عیسیٰ رسول الی بنی اسرائیل ہے۔
حدیث......٢٤ ”عن ابی ھریرۃؓ قال قال رسول اللہ ﷺ لیھبطن بن مریم حکماً عدلاً واماماً مقسطاً و یسلکن فجا حاجاً و معتمرا ولیأتین قبری حتی یسلم علیّ وَلأَرُدَّنَّ علیہ۔“ (اخرج الحاکم وصححہ ج٢ ص٥٩٠ حدیث نمبر ٤٢١٨)
”حضرت ابو ہریرہؓ نے فرمایا کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ البتہ ضرور اترے گا عیسیٰ بیٹا مریم کا۔ حاکم عادل ہوگا اور امام انصاف کرنے والا۔ البتہ ضرور گزرے گا۔ ایک راہ سے حج یا عمرہ کرتا ہوا۔ اور البتہ ضرور میری قبر پر تشریف لائے گا اور مجھے سلام کرے گا اور میں اسے جواب دوں گا۔“
تصدیق حدیث......١ قادیانیوں کے مسلّم امام و مجدد صدی نہم امام جلال الدین سیوطیؒ نے بھی اپنی کتاب انتباہ الاذکیا فی حیات انبیاء میں اس حدیث کو درج کیا ہے۔ نیز درمنثور جلد دوم میں بھی ذکر کیا ہے۔
- ٢...... پھر راوی اس حدیث کے امام حاکم قادیانیوں کے مسلّم مجدد و امام صدی چہارم ہیں۔
نتیجہ اس حدیث میں رسول کریم ﷺ نے قادیانی کا ناطقہ کئی طریقوں سے بند کیا ہے۔
- ١...... لیھبطن کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔ جس کے معنی ہیں نیچے اترے گا قادیانی اس کے
معنی ماں کے پیٹ سے پیدا ہونا دکھائیں تو منہ مانگا انعام لیں۔
- ٢...... پھر صرف ابن مریم کا نزول فرمایا۔ ابن چراغ بی بی نہیں۔
- ٣...... تیسرے۔ منصف حاکم۔
- ٤...... چوتھے۔ عیسیٰ ؑ کا حاجی ہونا۔
- ٥...... پانچویں۔ عیسیٰ ؑ کا رسول اللہ کی قبر پر حاضر ہو کر سلام کہنا اور جواب لینا۔
نوٹ...... یہ باتیں مرزا قادیانی میں کہاں ہیں؟ اگر کوئی بھی ہے تو پیش کرو۔
حدیث......٢٥ ”عن عائشۃؓ قالت قال رسول اللہ ﷺ فینزل عیسیٰ ؑ
فیقتلہ ثم یمکث عیسیٰ علیہ السلام فی الارض اربعین سنة اماما عدلاً و حکما مقسطاً. (مسند احمد ج ٦ ص ٧٥) ”حضرت عائشہؓ صدیقہ رسول کریم ﷺ سے روایت کرتی ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا (کہ دجال کے خروج کے بعد) حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے۔ پس قتل کریں گے دجال کو۔ پھر بعد اس کے زمین میں رہیں گے چالیس برس امام عادل اور منصف مزاج حاکم کی حیثیت سے۔“
تصدیق الحدیث اس حدیث کی صحت کے لیے یہی دلیل کافی ہے کہ اس کے راوی امام احمد بن حنبل قادیانیوں کے مسلّمہ امام و مجدد صدی دوم ہیں۔ وہ غلط حدیث کو روایت نہیں کرسکتے۔
- نتیجہ.......١ ظاہر کہ عیسیٰ علیہ السلام نازل ہو کر دجال کو قتل کریں گے اور قتل کے بعد زمین
میں ٤٠ سال رہیں گے۔ زمین میں رہنے کی تخصیص بتلا رہی ہے کہ اس سے پہلے وہ زمین سے کہیں باہر رہتے ہوں گے۔ ورنہ اگر مرزا قادیانی کی طرح ہی کسی آدمی نے عیسیٰ بن جانا تھا تو زمین میں رہنے کا ذکر فضول ہے۔ (زمین کا مقابل آسمان ہے۔ اس تقابل سے بھی اور لفظ نزول سے بھی ان کا آسمانوں پر رہنا ثابت ہوا)
- ٢....... پھر عیسیٰ علیہ السلام نازل ہونے کے بعد بادشاہ ہوں گے۔ ورنہ جس آدمی کے پاس
طاقت نہیں وہ عادل اور مقسط کا عہدہ کیا مرزا قادیانی کی طرح زبانی جمع خرچ سے حاصل کر لے گا؟
- حدیث.......٢٦ ”عن حذیفۃ بن اسیدؓ اشرف علینا رسول اللہ ﷺ ونحن
نتذاکر الساعۃ قال لا تقوم الساعۃ حتیٰ ترو عشر آیات طلوع الشمس من مغربھا۔ الدخان الدابۃ یاجوج وماجوج. نزول عیسیٰ ابن مریم. دجال۔“
(رواہ مسلم ج ٢ ص ٣٩٣ باب اشراط الساعۃ) ”حذیفہ بن اسیدؓ صحابی روایت کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ ہمارے پاس تشریف لے آئے۔ درآنحالیکہ ہم صحابہ قیامت کا ذکر کر رہے تھے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ دس علامتوں سے پہلے قیامت نہیں آ سکتی۔ سورج کا مغرب سے نکلنا۔ الدخان، دابۃ الارض، یاجوج ماجوج، عیسیٰ علیہ السلام کا نازل ہونا اور دجال کا خروج کرنا۔“ الی آخر الحدیث۔
تصدیق یہ حدیث امام مسلم نے روایت کی ہے۔ اس سے بڑھ کر اور کون مصدق
چاہیے۔ امام مسلم کی احادیث کی صحت کا خود مرزا قادیانی اقرار کر چکے ہیں۔
(دیکھو ازالہ خورد ص ٨٨٢ خزائن ج ٣ ص ٥٨٢)
نزول عیسیٰ ابن مریم کی تشریح مطلوب ہو تو ہم ایسے شخص کے الفاظ میں بیان کرتے ہیں کہ جس کے متعلق مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ چاروں اماموں میں سے ہر لحاظ سے افضل تر تھے اور قرآن اور حدیث کے سمجھنے میں ان کا مرتبہ سب سے بلند تھا۔ یہ بزرگ ہستی امام ابو حنیفہؒ ہیں۔ آپ اپنی کتاب میں فرماتے ہیں۔
”نزول عیسیٰ علیہ السلام من السماء...... حق (کتاب الفقہ الاکبر ص ٨-٩) ”یعنی عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے نازل ہونا یقیناً حق ہے۔“
حدیث.......٢٧ : ناظرین! سینکڑوں حدیثیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات کے ثبوت میں پیش کی جاسکتی ہیں۔ مگر ساری احادیث کو لکھ کر ہر ایک کے متعلق بحث درج کرنے سے ایک بہت ہی ضخیم کتاب بن جائے گی۔ لہٰذا صرف اسی قدر پر اکتفا کرتا ہوں۔ ہاں سب احادیث مذکورۃ الصدر کی صحت اور اسلامی تفسیر کے معتبر ہونے پر ایسے شخص کی مہر توثیق ثبت کراتا ہوں کہ قادیانیوں کے لیے ”نہ پائے رفتن نہ جائے ماندن“ کا نقشہ کھنچ جائے۔ یہ بزرگ ہستی رئیس المکاشفین حضرت شیخ محی الدین ابن عربی ہیں۔ جن کے متعلق مرزا قادیانی کا ارشاد ہے۔ ”کہ وہ احادیث کے غلط اور صحیح ہونے کا فیصلہ رسول پاک ﷺ سے بالمشافہ گفتگو کر کے پوچھ لیا کرتے تھے۔“ (ازالہ ص ١٥٢ خزائن ج ٣ ص ١٧٧)
شیخ ابن عربی قدس سرہ نے اپنی شہرہ آفاق کتاب فتوحات مکیہ ج ١ ص ٢٢٣-٢٢٤ کے باب میں ایک حدیث درج کی ہے چونکہ حدیث بہت طویل ہے۔ لہٰذا عربی عبارت کا ترجمہ شمس الہدایہ مصنفہ حضرت مولانا پیر سید مہر علی شاہ صاحبؒ مسند آرائے گولڑہ شریف سے نقل کرتے ہیں۔
”فرمایا حضرت ابن عمرؓ نے کہ میرے والد عمر بن الخطاب نے سعد بن وقاصؓ کی طرف لکھا کہ نضلہ انصاری کو حلوان عراق کی طرف روانہ کرو۔ تاکہ مال غنیمت حاصل کریں۔ پس روانہ کیا سعد نے نضلہ انصاری کو جماعت مجاہدین کے ساتھ۔ ان لوگوں نے وہاں پہنچ کر بہت سا مال غنیمت حاصل کیا اور ان سب کو لے کر واپس ہوئے تو آفتاب غروب ہونے کے قریب تھا۔ پس نضلہ انصاری نے گھبرا کر ان سب کو پہاڑ کے کنارے ٹھہرایا اور خود کھڑے ہو کر اذان دینی شروع کی جب اللہ اکبر، اللہ اکبر کہا تو پہاڑ
کے اندر سے ایک مجیب نے جواب دیا کہ اے نضلہ تو نے خدا کی بہت بڑائی کی اسی طرح تمام اذان کا جواب پہاڑ سے اسی مجیب نے دیا۔ جب نضلہ اذان سے فارغ ہوئے تو صحابہ کرامؓ نے کھڑے ہو کر دریافت کرنا شروع کیا کہ اے صاحب آپ کون ہیں؟ فرشتہ یا جن یا انسان جیسے آپ نے اپنی آواز ہم کو سنائی ہے۔ اسی طرح اپنا آپ ہمیں دکھایئے۔ اس واسطے کہ ہم خدا اور اس کے رسولﷺ اور نائب رسول عمر بن الخطابؓ کی جماعت ہیں۔ پس پہاڑ پھٹا اور ایک شخص باہر نکل آیا...... اور السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہٗ کہا۔ ہم نے جواب دیا اور دریافت کیا کہ آپ کون ہیں۔ فرمایا زریب بن برتملا وصی عیسیٰ ابن مریم ہوں۔ مجھ کو عیسیٰ علیہ السلام نے اس پہاڑ میں ٹھہرایا ہے اور اپنے نزول من السماء تک میری درازی عمر کے لیے دعا فرمائی۔ جب وہ اتریں گے تو خنزیر کو قتل کریں گے اور صلیب کو توڑیں گے اور بیزار ہوں گے نصاریٰ کے اختراع سے۔ پھر دریافت فرمایا کہ وہ نبی صادق بالفعل کس حال میں ہیں...... پھر ہم سے غائب ہو گئے۔ پس نضلہ نے یہ مضمون سعدؓ کی طرف لکھا اور سعد نے حضرت عمرؓ کی طرف۔ پھر حضرت عمرؓ نے سعدؓ کی طرف لکھا کہ تم اپنے ہمراہیوں کو لے کر اس پہاڑ کے پاس اترو۔ جس وقت ان سے ملو تو میرا سلام ان کو پہنچائیو۔ اس واسطے کہ رسول کریمﷺ نے فرمایا کہ عیسیٰ علیہ السلام کے بعض وصی عراق کے پہاڑوں میں اترے ہوئے ہیں۔ پس سعدؓ چار ہزار مہاجرین اور انصار کے ہمراہ اس پہاڑوں کے قریب اترے...... مگر ملاقات نہ ہوئی۔
(شمس الہدایہ ص ٦٠۔٦٢)
تصدیق حدیث......١ یہ حدیث بیان کر کے حضرت شیخ قدس سرہ نے فرمایا کہ اگرچہ ابن ازہر کی وجہ سے اسناد حدیث میں محدثین کے نزدیک کلام ہے۔ مگر اہل کشف کے نزدیک یہ صحیح حدیث ہے۔
- ٢...... مجدد اعظم صدی یازدہم حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی نے بھی اس
حدیث کو اپنی کتاب (ازالۃ الخفا مترجم ج ٤ ص ٩١ تا ٩٣ مقصد دوم ص ١٦٧۔١٦٨ الفصل الرابع) میں درج فرمایا ہے۔
نتائج...... ١ حدیث کی صحت کے متعلق حضرت شیخ قدس سرہ کا فیصلہ ہو چکا ہے۔ اس کے خلاف زبان کھولنا مرزا قادیانی کے قول کے رو سے فسق اور کفر ہے۔
- ٢...... زریب بن برتملا وصی حضرت مسیح علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دعا
سے اس قدر طویل عمر عطا کی کہ وہ اب تک زندہ ہیں۔ گویا زریب بن برتملا بھی دو ہزار سال سے زندہ ہیں۔
- ٣...... زریب بن برتملا وصی عیسیٰ علیہ السلام نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق یہ الفاظ فرمائے۔
ودعالی بطول البقاء الی نزولہ من السماء یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے نازل ہونے تک میرے زندہ رہنے کی دعا کی۔
- ٤...... قریباً چار ہزار صحابہ کرام نے زریب بن برتملا وصی عیسیٰ علیہ السلام کا جواب سنا اور گویا
اس کی تصدیق کی۔
- ٥...... چار ہزار صحابہ کی طرف سے حضرت سعد بن وقاص نے حضرت عمرؓ کو سارا حال لکھ
بھیجا اور حضرت عمرؓ نے اس واقعہ کی حدیث نبوی سے تصدیق کر دی اور مزید انکشاف کے لیے حضرت سعدؓ کو خط لکھا۔
- ٦...... کسی صحابیؓ سے انکار کسی کتاب میں مروی نہیں۔
باب چہارم
حیات عیسیٰ علیہ السلام از اقوال صحابہؓ
ناظرین! صحابہ کرام کے اقوال کی عظمت کا پتہ لگانا ہو تو مندرجہ ذیل اقوال سے ملاحظہ کیجئے۔
- ١...... قول مرزا اصول نمبر ٣۔
- ٢...... قول خلیفہ نور الدین قادیانی۔ ”صحابہ کے روزانہ برتاؤ اور زندگی ظاہر و باطن میں
انوار نبوت ایسے رچ گئے تھے کہ گویا وہ سب آنحضرت ﷺ کی عکسی تصویریں تھیں۔ پس اس سے بڑھ کر کوئی معجزہ کیا ہوگا۔“
(اخبار بدر قادیان ص ٤۔ ١٧ جنوری ١٩٠٤ء)
- ٣...... قول مرزا: ”صحابہ کا اجماع وہ چیز ہے جس سے انکار نہیں ہو سکتا۔“
(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ ٥ ص ٢٠٣ حاشیہ خزائن ج ٢١ ص ٣٧٦ بحوالہ خزینۃ العرفان ص ٤١٩)
- ٤...... قول مرزا: ”شرعی حجت صرف صحابہ کا اجماع ہے۔“
(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ ٥ ص ٢٣٤ خزائن ج ٢١ ص ٤١٠)
- ٥...... ”اجماع کے خلاف عقیدہ رکھنے والے پر خدا کی لعنت اور اس کے فرشتوں کی لعنت۔“
(انجام آتھم ص ١٤٤ خزائن ج ١١ ص ایضاً)
- ٦...... قول مرزا: ”اور صحابہ کا اجماع حجت ہے جو کبھی ضلالت پر نہیں ہوتا۔“
(تریاق القلوب ص ١٤٧ خزائن ج ١٥ ص ٤٦١ حاشیہ)
اجماع کی حقیقت
اجماع کی حقیقت تو یہ ہے کہ علماء محققین کا کسی مسئلہ پر اتفاق ہو۔ لیکن اگر ایک بزرگ نے کوئی مسئلہ بیان کیا ہے۔ اس کے خلاف امت کے کسی محقق کا خلاف منقول نہ ہو تو یہ بھی اجماع ہی کہلاتا ہے۔ اس کو اجماع سکوتی کہتے ہیں۔ جیسا کہ مرزا قادیانی بھی ہماری تائید میں فرماتے ہیں۔ ”اصول فقہ کی رو سے اجماع کی قسموں میں سے ایک سکوتی اجماع بھی ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ٧٨٤ خزائن ج ٣ ص ٥٧٦)
ناظرین! صبر کر کے دیکھتے جائیں کہ ہم کس طرح مرزا قادیانی کا ناطقہ بند کرتے ہیں۔ اب اجماع کس طرح ثابت کیا جائے۔ اس کی دو صورتیں ہیں۔ چنانچہ مرزا
قادیانی کا ارشاد ملاحظہ ہو۔
- ا...... ”یہ بات کہ مسیح جسم خاکی کے ساتھ آسمان پر چڑھ گیا اور اسی جسم کے ساتھ اترے
گا۔ نہایت لغو اور بے اصل بات ہے۔ صحابہ کا ہرگز اس پر اجماع نہیں۔ بھلا اگر ہے تو کم از کم تین سو چار سو صحابہ کا نام لیجئے جو اس بارہ میں اپنی شہادت دے گئے ہوں۔ ورنہ ایک یا دو آدمی کے بیان کا نام اجماع رکھنا سخت بددیانتی ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ٣٠٣ خزائن ج ٣ ص ٢٥٤)
- ٢....... ”ابن صیاد کے دجال ہونے پر صحابہ کا اجماع تھا۔ خدا تعالیٰ آپ کے حال پر رحم
کرے۔ کیا جو ابن صیاد کے بیان سے....... ثابت نہیں ہوتا کہ صحابہ اس کو دجال معہود کہتے تھے۔ کیا اس حدیث میں کوئی صحابی باہر بھی رہا ہے۔ جو اس کو دجال معہود نہیں سمجھتا تھا۔ اس کا ذرا نام تو لو۔ کیا آپ کو خبر نہیں کہ اصول فقہ کی رو سے اجماع کی قسموں میں سے ایک سکوتی اجماع بھی ہے۔ کیا آپ کو معلوم نہیں کہ ابن صیاد کے دجال معہود ہونے پر حضرت عمرؓ نے آنحضرت ﷺ کے حضور میں قسم کھائی جس پر نہ خود آنجناب نے انکار کیا اور نہ صحابہ حاضرین میں سے کوئی منکر ہوا۔“
(ازالہ اوہام ص ٤٧٨ خزائن ج ٣ ص ٥٧٦)
- ٣...... تمام امت کا اجماع کس طرح ثابت ہو سکتا ہے۔ بالفاظ مرزا سنیئے۔
”امام ابن حزم اور امام مالکؒ بھی موت عیسیٰ علیہ السلام کے قائل ہیں اور ان کا قائل ہونا گویا تمام اکابر کا قائل ہونا ہے کیونکہ اس زمانہ کے اکابر علماء سے مخالفت منقول نہیں اور اگر مخالفت کرتے تو البتہ کسی کتاب میں اس کا ذکر ہوتا۔“
(ایام الصلح ص ٣٩ خزائن ج ١٤ ص ٢٦٩)
ناظرین! مندرجہ بالا تینوں نمبروں کی عبارت کے لفظ لفظ میں جھوٹ اور دجل و فریب کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔ میرا کام اس وقت اس کی تردید نہیں بلکہ اس کو اپنی تصدیق میں پیش کرنا مقصود ہے۔ مگر تاہم چند ایک فقروں میں کچھ دلچسپ ریمارکس دینا ضروری سمجھتا ہوں۔
- ١....... مرزا قادیانی جب ہم سے اجماع کا مطالبہ کرتے ہیں تو تین چار صد صحابہؓ کے نام
پوچھتے ہیں۔ ایک آدھ کا نام لے کر اجماع کہنا سخت بددیانتی سمجھتے ہیں۔ مگر دوسرے اور تیسرے دونوں نمبروں میں اسی ”سخت بددیانتی“ کا خود ارتکاب کر رہے ہیں۔
- ٢....... نمبر ٢ میں اپنی ضرورت کے وقت ”سکوتی اجماع“ کی قسم بھی بنالی ہے لیکن ہمیں اس
کا فائدہ اٹھانا ممنوع قرار دیتے ہیں۔
- ٣....... حضرت عمرؓ کے قسم اٹھانے کا واقعہ لکھ کر رسول اللہ ﷺ کی خاموشی ظاہر کرنا مرزا
قادیانی کی بددیانتی کا ایک معمولی نمونہ ہے۔ دیکھئے اپنی تردید خود ہی کس عجیب پیرائے میں کرتے ہیں۔ لکھتے ہیں۔
”آنحضرت ﷺ نے حضرت عمرؓ کو ابن صیاد کے قتل کرنے سے منع فرمایا اور نیز فرمایا کہ ہمیں اس کے حال میں ابھی اشتباہ ہے۔ اگر یہی دجال معہود ہے تو اس کا صاحب عیسیٰ ابن مریم ہے جو اسے قتل کرے گا۔ ہم اس کو قتل نہیں کر سکتے۔“
(ازالہ اوہام ص ٢٢٥ خزائن ج ٣ ص ٢١٢)
باوجود اس کے مرزا قادیانی کا یہ کہنا کہ کسی نے انکار نہیں کیا۔ کس قدر دلاوری اور دیدہ دلیری ہے۔ مزید تحقیق ملاحظہ کریں۔ جو پہلے گزر چکی ہے۔
- ٤....... مرزا قادیانی نے امام مالک اور امام ابن حزم رحمہما اللہ کو موتِ عیسیٰ ؑ کا قائل بتا
کر دیدہ دلیری اور افتراء پردازی میں کمال کر دیا ہے۔ ہم ان دونوں حضرات کے اقوال آئندہ ذکر کریں گے۔
اب ہم مرزا قادیانی کے مقرر کردہ اصول و شرائط کے مطابق حیاتِ عیسیٰ ؑ پر اجماع صحابہؓ و امت محمدیہ ﷺ ثابت کرتے ہیں۔
- دلیل اجماع.....١ ہم حدیث نمبر ٧ کی ذیل میں تین چار ہزار صحابہ مہاجرین و
انصار کا اجماع ثابت کر چکے ہیں۔ اس کا دوبارہ مطالعہ کرنا دلچسپی سے خالی نہ ہوگا۔
- دلیل اجماع.....٢ ابن حجر عسقلانی قادیانیوں کے مسلم امام و مجدد صدی ہشتم فرماتے
ہیں۔ ”فاتفق اصحاب الاخبار و التفسیر علی انه رفع ببدنه حیا و انما اختلفوا فی هل مات قبل ان یرفع او نام فرفع“
(تلخیص الحبیر ج ٣ ص ٤٦٢ کتاب الطلاق مصنفہ حافظ ابن حجرؒ)
”تمام محدثین و مفسرین کا عیسیٰ ؑ کے جسم سمیت زندہ اٹھائے جانے پر اجماع ہے۔ اختلاف صرف اس بات میں ہے کہ آیا رفع جسمانی سے پہلے آپ نے وفات پائی (اور پھر زندہ کیے گئے) یا صرف سو گئے۔“
- دلیل اجماع.....٣ امام شوکانی ؒ قادیانیوں کے مسلم مجدد صدی دوازدہم فرماتے
ہیں۔ ”الاحادیث الواردة فی نزوله متواترة.“
(کتاب الاذاعة للشوکانی و نیز کتاب التوضیح بحوالہ حاوی ج ١ ص ٢٨٥)
”حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے متعلق احادیث نبوی متواتر ہیں۔
دلیل اجماع...... ٤ ”قادیانیوں کے مسلم امام و مجدد صدی ششم ابن کثیرؒ اپنی مشہور تفسیر ابن کثیر میں فرماتے ہیں۔“ ”قال مجاهد وانه لعلم للساعة اى اية للساعة خروج عيسى ابن مريم قبل يوم القيامة وهكذا روى عن ابى هريرة و ابن عباس و ابى العاليه و ابى مالك و عكرمه والحسن و قتاده والضحاك و غيرهم و قد تواترت الاحاديث عن رسول اللہ ﷺ انه اخبر بنزول عيسى قبل يوم القيامة اماماً عادلاً و حكما مقسطاً“ (ابن کثیر مع البغوی ج ٧ ص ٤٠٩ بحوالہ عقیدۃ الاسلام ص ٤) ”امام مجاہد شاگرد حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ انہ لعلم للساعة کے معنی ہیں کہ عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کا نزول قیامت کی نشانی ہے اور اسی طرح حضرت ابو ہریرہؓ، ابن عباسؓ، ابی العالیہ، ابی مالک، عکرمہ اور امام حسن، و قتادہ و الضحاک وغیرہم سے بھی مروی ہے اور رسول کریم ﷺ کی حدیثیں اس بارہ میں حد تواتر تک پہنچی ہوئی ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام قیامت سے پہلے امام عادل اور منصف حاکم کی حیثیت سے نازل ہوں گے۔“
دلیل اجماع...... ٥ حضرت شیخ محی الدین ابن عربی قادیانیوں کے مسلم رئیس المکاشفین فرماتے ہیں۔ ”وانه لا خلاف انه ينزل فى آخر الزمان حكما مقسطاً“ (فتوحات مکیہ ج ٢ ص ٣ بحث ٧٣) ”یعنی اس بارہ میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام قرب قیامت میں نازل ہوں گے۔ منصف حاکم کی حیثیت سے۔“
دلیل اجماع...... ٦ شیخ محمد طاہرؒ قادیانیوں کے مسلم امام و مجدد صدی دہم مجمع البحار میں فرماتے ہیں۔ ”ویجئ آخر الزمان لتواتر خبر النزول“ (مجمع البحار ج ١ ص ٥٤٣ بلفظ حکم) ”یعنی نزول کی حدیثوں کے تواتر سے آپ کا آخر زمانہ میں آنا ثابت ہو چکا ہے۔“
دلیل اجماع...... ٧ قادیانیوں کے مسلم امام و مجدد صدی نہم امام جلال الدین سیوطیؒ نزول عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔ ”انه يحكم بشرع نبينا و وردت به الاحادیث و انعقد علیه الاجماع“ (الحاوی للفتاویٰ ج ٢ ص ١٥٥) ”عیسیٰ علیہ السلام نازل ہو کر ہمارے ہی نبی کی شریعت کے مطابق حکم دیں گے اس بارہ میں بے شمار حدیثیں وارد ہوئی ہیں اور اسی پر سب امت کا اجماع ہے۔“
دلیل اجماع......٨ اب ہم مرزا غلام احمد قادیانی کے اپنے الفاظ میں دکھاتے ہیں کہ عیسیٰ ؑ کے زندہ ہونے اور نازل ہونے کا عقیدہ اجماع پر مبنی تھا۔
قول مرزا......١ ’’تیرہویں صدی کے اختتام پر مسیح موعود کا آنا ایک اجماعی عقیدہ معلوم ہوتا ہے۔‘‘
(ازالہ اوہام ص ١٨٥ خزائن ج ٣ ص ١٨٩)
قول مرزا......٢ ’’یہ بات پوشیدہ نہیں کہ مسیح ابن مریم کی پیش گوئی ایک اول درجہ کی پیشگوئی ہے۔ جس کو سب نے بالاتفاق قبول کر لیا ہے اور جس قدر صحاح میں پیشگوئیاں ہیں۔ کوئی پیشگوئی اس کے ہم پہلو اور ہم وزن ثابت نہیں۔ تواتر کا اوّل درجہ اس کو حاصل ہے۔ انجیل بھی اس کی مصدق ہے۔ اب اس قدر ثبوت پر پانی پھیرنا اور یہ کہنا کہ یہ تمام حدیثیں موضوع ہیں۔ درحقیقت ان لوگوں کا کام ہے جن کو خدا تعالیٰ نے بصیرت دینی اور حق شناسی سے کچھ بھی بہرہ اور حصہ نہیں دیا۔‘‘
(ازالہ اوہام ص ٥٥٧ خزائن ج ٣ ص ٤٠٠)
قول مرزا......٣ ’’اب اس تحقیق سے ثابت ہے کہ مسیح ابن مریم کی آخری زمانہ میں آنے کی قرآن شریف میں پیشگوئی موجود ہے۔‘‘
(ازالۃ ص ٦٧٥ خزائن ج ٣ ص ٤٦٤)
قول مرزا......٤ ’’اور یہ آیت کہ ھوالذی ارسل رسولہ بالھدیٰ درحقیقت اسی مسیح ابن مریم کے زمانہ سے متعلق ہے۔‘‘
(ازالۃ ص ٦٧٥ ایضاً)
قول مرزا......٥ ’’ولنزول ایضًا حق نظراً علی تواتر الآثار وقد ثبت من طرق فی الاخبار ونزول از روئے تواتر آثار ہم راست است چرا کہ از طرق متعددہ ثابت است۔‘‘ (انجام آتھم ص ١٥٨ خزائن ج ١١ ص ایضاً) ’’اور عیسیٰ ؑ کا نازل ہونا بھی حق ہے کیونکہ احادیث اس بارہ میں متواتر ہیں اور یہ امر مختلف طریقوں سے ثابت ہے۔‘‘
قول مرزا......٦ ’’واضح ہو کہ اس امر سے دنیا میں کسی کو بھی انکار نہیں کہ احادیث میں مسیح موعود کی کھلی کھلی پیشگوئی موجود ہے بلکہ قریباً تمام مسلمانوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ احادیث کی رو سے ضرور ایک شخص آنے والا ہے۔ جس کا نام عیسیٰ ؑ ابن مریم ہوگا اور یہ پیشگوئی بخاری اور مسلم اور ترمذی وغیرہ کتب حدیث میں اس کثرت سے پائی جاتی ہے جو ایک منصف مزاج کی تسلی کے لیے کافی ہے۔‘‘
(شھادۃ القرآن ص ٢ خزائن ج ٦ ص ٢٩٨)
قول مرزا......٧ ''مسیح موعود کے بارہ میں جو احادیث میں پیشگوئی ہے وہ ایسی نہیں ہے کہ جس کو صرف آئمہ حدیث نے چند روایتوں کی بنا پر لکھا ہو بلکہ یہ ثابت ہو گیا ہے کہ یہ پیشگوئی عقیدہ کے طور پر ابتداء سے مسلمانوں کے رگ و ریشہ میں داخل چلی آئی ہے۔ گویا جس قدر اس وقت روئے زمین پر مسلمان تھے اسی قدر اس پیشگوئی کی صحت پر شہادتیں موجود تھیں کیونکہ عقیدہ کے طور پر وہ اس کو ابتداء سے یاد کرتے چلے آتے تھے اگر نعوذ باللہ یہ افتراء ہے تو اس افتراء کی مسلمانوں کو کیا ضرورت تھی اور کیوں انھوں نے اس پر اتفاق کر لیا ہے اور کس مجبوری نے ان کو اس افتراء پر آمادہ کیا تھا۔''
(شہادۃ القرآن ص ٨ خزائن ج ٦ ص ٣٠٤)
قول مرزا.......٨ ''اس پر اتفاق ہو گیا ہے کہ مسیح کے نزول کے وقت اسلام دنیا پر کثرت سے پھیل جائے گا اور ملل باطلہ ہلاک ہو جائیں گی اور راستبازی ترقی کرے گی۔''
(ایام الصلح ص ١٤٦ خزائن ج ١٤ ص ٣٨١)
ناظرین ! ہم نے مرزا قادیانی کے آٹھ اقوال سے ثابت کر دیا ہے کہ مسیح ابن مریم یا عیسیٰ ابن مریم کے نزول کا عقیدہ قرآن میں موجود ہے۔ احادیث نبویہ اس سے بھری پڑی ہیں۔ صحابہ کرام کلہم اسی عقیدہ پر فوت ہوئے۔ دنیا کے کروڑہا مسلمانوں میں یہ عقیدہ نزول مسیح کا ابتداء اسلام سے چلا آیا ہے اور یہ کہ نزول مسیح ابن مریم کا مسئلہ حق ہے۔ گویا عیسیٰ ابن مریم کے نزول کے عقیدہ پر نہ صرف صحابہ کا اجماع ہے بلکہ خدا۔ اس کے رسول ﷺ اور دنیا کے کروڑہا مسلمانوں کا اجماع ہے۔
اس بات کے ثابت کرنے کے لیے کہ عیسیٰ ابن مریم ؑ کے نزول سے مراد اسی عیسیٰ رسول بنی اسرائیل ہی کا نزول ہے۔ جس کا ذکر قرآن کریم میں ہے دلائل کی ضرورت نہیں ہے۔ مندرجہ ذیل مثالوں سے اصل حقیقت واضح ہو جائے گی۔
- ١...... جب کوئی آدمی کہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی ٢٦ مئی ١٩٠٨ء کو مرض ہیضہ میں مبتلا ہو
کر مر گیا تو اس سے مراد یقیناً وہی مرزا غلام احمد قادیانی مدعی نبوت سمجھا جائے گا نہ کہ کوئی مثیل مرزا۔
- ٢...... اور جب یوں کہا جائے ۔ مرزا غلام احمد قادیانی ولد حکیم غلام مرتضیٰ مدعی نبوت و
مسیحیت ٢٦ مئی ١٩٠٨ء کو مر گیا تھا۔ اس پر کوئی منچلہ قادیانی یوں کہہ دے کہ نہیں ۔ اس سے مراد مثیل مرزا قادیانی ہے نہ کہ خود مرزا قادیانی تو اس کا علاج کیا ہے؟
٣...... اگر کوئی کہے مرزا محمود قادیانی سیسل ہوٹل لاہور سے مس روفو اطالوی دوشیزہ کو اپنے ہمراہ بٹھا کر قادیان لے گئے۔ اس کے جواب میں کوئی قادیانی مرید یوں کہہ دے کہ مرزا محمود سے مراد مرزا محمود نہیں بلکہ ان کا کوئی مثیل مراد ہے تو اس کا علاج کیا؟
٤...... اس کے جواب میں اگر یوں کہا جائے کہ مس روفو کو بھگا لے جانے والا مرزا محمود قادیانی وہ شخص ہے جو مرزا غلام احمد قادیانی مدعی نبوت کا بیٹا اور خلیفہ ہے تو اس کے جواب میں کوئی لاہوری یوں کہہ دے کہ بھیا تم علم سے بے بہرہ ہو۔ اس جگہ بھی مراد مثیل بشیر ہے اور وہ مولانا محمد علی صاحب امیر جماعت احمدیہ لاہور ہے اور دلیل یہ ہے کہ وہ مرزا قادیانی کا روحانی بیٹا ہے اور قادیان سے مراد اس کا مثیل ہے جو لاہور ہے۔ فرمائیے اس کا جواب آپ کے پاس سوائے اس کے کیا ہو گا کہ ”جواب جاہلان باشد خموشی“
حضرات! اگر ہر ایک آدمی دوسرے کے الفاظ کا اسی طرح مطلب نکالنا شروع کر دے تو فرمائیے دنیا میں امن قائم رہ سکتا ہے اور ایک دوسرے کے کلام کا مفہوم صحیح معلوم ہو سکتا ہے؟ قرآن کریم میں عیسیٰ ابن مریم مذکور ہے۔ احادیث میں بلا استثناء مسیح ابن مریم، عیسیٰ ابن مریم، ابن مریم کے الفاظ موجود ہیں۔ اگر مراد ان سے مثیل ہوتی تو یوں کہنے میں کون سی چیز مانع تھی۔ مثیل مسیح ابن مریم، مثیل ابن مریم، مثیل عیسیٰ۔
چیلنج میں قادیانیوں کو مبلغ یکصد روپیہ نقد انعام دوں گا۔ اگر قرآن یا حدیث یا اقوالِ صحابہ یا اقوالِ مجددین امت سے ثابت کر دیں کہ آنے والے مسیح ابن مریم کے متعلق قرآن، حدیث، اقوالِ صحابہ یا اقوالِ مجددین امت میں کسی ایک جگہ بھی مثیل ابن مریم یا مثیل عیسیٰ لکھا ہوا ہے۔
دلیل اجماع...... ٩ مرزا بشیر الدین محمود قادیانی کی شہادۃ۔ ”پچھلی صدیوں میں قریباً تمام مسلمانوں میں مسیح کے زندہ ہونے پر ایمان رکھا جاتا تھا اور بڑے بڑے بزرگ اسی عقیدہ پر فوت ہوئے ہیں۔“
(حقیقۃ النبوۃ ص ١٣٢)
مرزا قادیانی کی شہادۃ کہ نازل ہونے والا عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام آسمان پر ہے۔
١...... ”صحیح مسلم کی حدیث میں جو یہ لفظ موجود ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام جب آسمان سے اتریں گے تو ان کا لباس زرد رنگ کا ہوگا۔“
(ازالہ اوہام ص ٨١ خزائن ج ٣ ص ١٤٢)
٢...... ”آنحضرت ﷺ نے فرمایا تھا کہ مسیح آسمان پر سے جب اترے گا تو زرد چادریں اس نے پہنی ہوئی ہوں گی۔“
(قادیانی رسالہ ”تشحیذ الاذہان“ جون ١٩٠٦ء ص ٥ و قادیانی اخبار ”بدر“ قادیان ٧ جون ١٩٠٦ء ص ٥)
فرمائیے حضرات! اجماع کے ثبوت میں اب کوئی کسر باقی ہے۔ مرزا قادیانی کے اپنے الفاظ سے نزول سے مراد نزول من السماء ہی ہے۔
ناظرین! اجماع صحابہ کی اہمیت آپ پڑھ چکے ہیں۔ اب ہم مرزا قادیانی کے بیان کردہ طریق ثبوت اجماع میں سے نمبر ٢ کی طرز سے اجماع امت ثابت کرتے ہیں۔ یعنی فرداً فرداً صحابہ کرامؓ کی روایات بیان کرتے ہیں چونکہ صحابہؓ کی روایات ہزارہا لوگوں نے سنیں اور کوئی مخالفت منقول نہیں۔ لہٰذا ہر روایت سے اجماع صحابہ ثابت ہوتا جائے گا۔
١۔ حضرت عمرؓ خلیفہ رسول کریم ﷺ کا عقیدہ
- ١...... ہم پہلے ثابت کر آئے ہیں کہ حضرت عمرؓ نے حضرت سعد بن وقاصؓ اور ان کے
ساتھ تین چار ہزار صحابہ مہاجرین و انصار کے بیان کردہ مضمون حیات عیسیٰ ؑ و وفات برملا حیات عیسیٰ ؑ کی تصدیق کی تھی۔
- ٢...... پہلے ہم ایک حدیث بیان کر آئے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے حضرت عمرؓ کو ابن
صیاد کے قتل سے اس بناء پر منع فرمایا تھا کہ دجال کا قاتل حضرت عیسیٰ ابن مریم ؑ ہے اور حضرت عمرؓ نے اس کے جواب میں سکوت کیا۔ گویا رسول کریم ﷺ کا عقیدہ حیات مسیح ؑ قبول کر لیا۔
- ٣...... ہم ایک حدیث بیان کر آئے ہیں۔ وہ ساری حدیث درمنثور اور ابن جریر میں
ملاحظہ کیجئے۔ اس ارشاد نبوی کے وقت حضرت عمرؓ موجود تھے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ”ان عیسیٰ یاتی علیہ الفنا یعنی عیسیٰ ؑ فوت ہوں گے“ اگر حضرت عمرؓ حضرت عیسیٰ ؑ کو زندہ نہیں مانتے تھے تو کیوں نہ عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ انہ قد اتی علیہ الفناء کہ حضرت عیسیٰ ؑ پر تو موت وارد ہو چکی ہے۔ ایسا عرض نہ کرنا اس بات کا بین ثبوت ہے کہ حضرت عمرؓ بھی حیات عیسیٰ ؑ کا عقیدہ رکھتے تھے۔
٢۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ کا عقیدہ
پہلے بیان کردہ حدیث جس کے راوی حضرت عبداللہ بن عمرؓ ہی ہیں۔ آپ کا یہ حدیث بیان کرنا اور ہزارہا صحابہ کا سن کر اس کو قبول کر لینا اجماع سکوتی کا ثبوت ہے۔
٣۔ حضرت ابو عبیدہ بن الجراحؓ کا عقیدہ
دلیل ملاحظہ ہو۔ بذیل عقیدہ حضرت عمر نمبر ٣۔ اس حدیث کے بیان کے وقت
حضرت ابو عبیدہ بن الجراح بھی موجود تھے اور انھیں کو وفد نجران کے ساتھ آنحضرت ﷺ نے ان کا حکم بنا کر بھیجا تھا۔
٤۔ حضرت ابن عباسؓ کا عقیدہ
ناظرین! مناسب معلوم ہوتا ہے کہ میں آپ کے سامنے حضرت عبداللہ بن عباس صحابی کی عظمت شان بیان کروں اور وہ بھی مرزا قادیانی کے اپنے الفاظ میں۔
- ١...... ”حضرت ابن عباسؓ قرآن کریم کے سمجھنے میں اوّل نمبر والوں میں سے ہیں اور اس
بارہ میں ان کے حق میں آنحضرت ﷺ کی ایک دعا بھی ہے۔“
(ازالہ ص ٢٤٧ خزائن ج ٣ ص ٢٢٥)
- ٢...... ”خود ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ان کو اپنے سینے سے لگایا اور
دعا کی کہ یا الٰہی اس کو حکمت بخش۔ اس کو علم قرآن بخش چونکہ دعا نبی کریم ﷺ کی مستجاب ہے۔...... ابن عباسؓ کے حق میں علم قرآن کی دعا مستجاب ہو چکی ہے۔“
(ازالہ طبع اوّل ص ٨٩٣ خزائن ج ٣ ص ٥٨٧)
احادیث و اقوال حضرت ابن عباسؓ
- ١...... پہلے ہم قادیانی مسلّمات کی رو سے ثابت کر آئے ہیں کہ انہ لعلم للساعۃ کے معنی
ابن عباسؓ کے نزدیک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے قربِ قیامت میں نازل ہونا ہے۔
- ٢...... ہم قادیانی مسلّمات کی رو سے ثابت کر چکے ہیں۔ حضرت ابن عباسؓ قبل موتہ
سے حیاتِ عیسیٰ علیہ السلام پر استدلال فرمایا کرتے تھے۔
- ٣...... قادیانی مسلّمات کی رو سے ایک صحیح حدیث مرفوع حضرت ابن عباسؓ کی روایت
کردہ درج کر کے حیاتِ عیسیٰ علیہ السلام ثابت کر چکے ہیں۔
- ٤...... قادیانی مسلّمات کی رو سے حضرت عبداللہ بن عباسؓ کی مرفوع حدیث سے حیات
عیسیٰ علیہ السلام ثابت کر آئے ہیں۔
- ٥...... درمنثور میں امام جلال الدین سیوطی مجدد صدی نہم نے قول حضرت ابن عباسؓ کا
روایت کیا ہے جو درج ذیل ہے۔
”انی متوفیک و رافعک الی ای رافعک الی ثم متوفیک فی آخر الزمان۔“ (درمنثور ج ٢ ص ٣٦) ”آیت کا معنی یہ ہے کہ اے عیسیٰ میں پہلے تجھے اپنی طرف اٹھالوں گا اور پھر آخری زمانہ میں موت دوں گا۔“
٦...... اس میں حضرت ابن عباسؓ نے توفی کو اماتت کے معنوں میں بھی لے کر حیاتِ عیسیٰ علیہ السلام ہی ثابت کی ہے۔ پس قادیانی جماعت کے لیے یہ ضرب موت سے کم نہیں ہے اب وہ تقدیم و تاخیر کا نام تحریف اگر رکھیں گے تو کس منہ سے ابن عباسؓ کی قرآن دانی پر بڑے مرزا قادیانی نے مہر توثیق ثبت کر دی ہے۔
٧...... ”عن ابن عباس ان رهطاً من اليهود سبوه...... فدعا عليهم فمسخهم قردة و خنازير فاجتمعت اليهود على قتله فاخبره الله بانه يرفعه الى السماء و يطهره من صحبة اليهود.“ (رواہ النسائی) ”حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ یہودیوں کے ایک گروہ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو گالیاں دیں...... پس آپ نے ان پر بددعا کی۔ پس وہ بندر اور سور بن گئے۔ پس یہود حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قتل کے لیے جمع ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خبر دی کہ میں تمھیں آسمان پر اٹھاتا ہوں اور یہودیوں کی صحبت سے پاک کرتا ہوں۔“ اس اثر کے روایت کرنے والے امام نسائی قادیانیوں کے مسلم امام و مجدد صدی سوئم ہیں۔ اس کی صداقت پر اعتراض کرنا صدی کے مجدد و امام کے فیصلہ سے انحراف کرنا ہے۔ جو قادیانیوں کے نزدیک کفر ہے۔
٨...... حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں ”کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہو کر شادی کریں گے اور صاحب اولاد ہوں گے۔ آپ کی شادی قوم شعیب میں ہوگی جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے سسرال ہیں۔ ان کو بنی جذام کہتے ہیں۔“
(رواہ ابونعیم فی کتاب الفتن)
عظمت روایت اس روایت کو قادیانیوں کے مسلم امام و مجدد صدی چہارم محدث ابونعیم نے درج کیا ہے۔ جس کا انکار قادیانیوں کو کفر تک لے جاتا ہے۔ لہٰذا وہ اس کی صحت سے انکار کرنے کی جرأت نہیں کر سکتے۔
٩...... ”عن ابن عباس...... و مد فى عمره (ای عمر عیسیٰ) حتّى اهبط من السماء الى الارض و يقتل الدجال.“ (درمنثور ج ٢ ص ٣٥٠ تحت آیت ان تعذبهم فانهم عبادک) ”حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں...... اور لمبی کی گئی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی عمر یہاں تک کہ وہ اتارے جائیں گے آسمان سے زمین کی طرف اور قتل کریں گے دجال کو۔“
عظمت روایت اس اثر کو امام جلال الدین سیوطیؒ نے اپنی تفسیر درمنثور میں بیان کیا ہے امام جلال الدین کی عظمت شان کا انکار قادیانیوں کے نزدیک کفر کا اقرار ہے کیونکہ وہ امام و مجدد صدی نہم ہیں۔
١٠....... حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں ”کہ جب وہ شخص جو مسیح ؑ کو پکڑنے کے لیے گیا تھا مکان کے اندر پہنچا تو خدا نے جبرائیل ؑ کو بھیج کر مسیح ؑ کو آسمان پر اٹھا لیا اور اس یہودی بدبخت کو مسیح کی شکل پر بنا دیا۔ پس یہود نے اسی کو قتل کیا اور صلیب پر چڑھایا۔“ یہ روایت تفسیر معالم ج ١ ص ١٦٢ زیر آیت مکروا و مکر اللہ میں بھی ہے۔ جو قادیانیوں کے نزدیک معتبر ہے اور اس کو امام جلال الدین سیوطیؒ مجدد صدی نہم اور امام نسائیؒ مجدد صدی سوئم اور ابن جریر قادیانیوں کے مسلم محدث و مفسر نے بھی روایت کیا ہے۔ پس اس کی صحت سے کسی قادیانی کو مجال انکار نہیں ہو سکتی۔ تلک عشرہ کاملہ۔ نوٹ: مزید تفصیل آگے آئے گی۔
٥۔ حضرت ابوہریرہؓ کا عقیدہ
ناظرین! حضرت ابوہریرہؓ کی روایت کردہ احادیث نبوی اور تفسیر اس قدر مؤثر اور فیصلہ کن ہیں کہ قادیانی اصحاب حضرت ابوہریرہؓ کا نام سنتے ہی حواس باختہ ہو جاتے ہیں۔ میں ان احادیث کو صفحات سابقہ پر ذکر کر آیا ہوں۔ مکرر ملاحظہ فرمایا جائے۔ حضرت ابوہریرہؓ سے چودہ روایات سیدنا مسیح کے نزول کی موجود ہیں۔
اس قدر احادیث کے بعد بھی اب اگر کوئی آدمی خود غرضی سے انکار کرتا جائے تو اس کا علاج ہمارے پاس نہیں ہے۔ حضرت ابوہریرہؓ للکار کر کہتے ہیں کہ رسول پاک ﷺ نے حضرت عیسیٰ ؑ کو زندہ بجسدہ العنصری مانا ہے اور قرآن کی فلاں فلاں آیت ان کی زندگی کا اعلان کر رہی ہے۔ ہزارہا صحابہ کے سامنے احادیث اور آیات کلام اللہ سے حضرت عیسیٰ ؑ کی حیات کا اعلان کرتے ہیں اور کسی صحابی سے ان کی روایات اور تفسیر کی مخالفت مروی نہیں۔ پس مرزا قادیانی کے مقرر کردہ طریق ثبوت اجماع کے مطابق صحابہ کا اجماع حیات عیسیٰ ؑ پر ثابت ہو گیا۔
٦۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کا عقیدہ
حضرت عبداللہ بن مسعود صحابیؓ نے تو حیات عیسیٰ ؑ کے ثبوت میں کمال ہی کر دیا ہے۔ خود حضرت عیسیٰ ؑ کی اپنی زبانی انھیں کا دوبارہ آنا ثابت کیا ہے اور وہ بھی حدیث صحیح مرفوع ہے۔ جیسا کہ روایت پہلے بیان ہو چکی ہے۔
حضرت عیسیٰ ؑ اپنے نزول جسمانی کا رسول کریم ﷺ کے سامنے اقرار کر رہے ہیں۔ پھر لطف یہ کہ سب ثبوت ہم قادیانی مسلّمات سے دے رہے ہیں۔
٧۔ حضرت علیؓ کا عقیدہ
- ١...... حضرت علیؓ کی روایت کردہ سابقہ صفحات پر حدیث سے ان کا عقیدہ اظہر من الشمس
ہے۔ ہزارہا لوگوں کے سامنے حضرت عیسیٰ ؑ کی حیات جسمانی کا اعلان کر رہے ہیں۔ گویا ہزارہا صحابہ و تابعین ان کے ہمزبان ہو کر حیات عیسیٰ ؑ کے عقیدہ پر جزم کے ساتھ قائم ہو چکے تھے۔
- ٢...... حضرت امام حسن بصری کی تمام حدیثیں جو قال رسول اللہ ﷺ سے شروع ہوتی
ہیں۔ وہ حضرت علیؓ سے مروی ہوتی ہیں۔ دیکھو چھ روایات پہلے درج ہو چکی ہیں۔ حضرت امام حسن بصری کی روایت کردہ حدیثوں سے حضرت علیؓ کا عقیدہ ظاہر ہے۔
- ٣...... قادیانی مذہب کی شہرہ آفاق کتاب عسل مصفی میں حضرت علیؓ کا خطبہ درج ہے۔
”حضرت علیؓ نے لوگوں کے سامنے خطبہ پڑھا...... لوگوں سے آپ نے کہا کہ پیشتر اس کے کہ میں تم سے وداع ہوں۔ مجھ سے کچھ پوچھ لو...... (دجال کے متعلق سوالات کے جواب میں فرمایا)...... اللہ تعالیٰ نے شام میں اس کو ایک ٹیلے پر جس کو افیق کہتے ہیں دن کی تین ساعت میں عیسیٰ ابن مریم کے ہاتھ سے قتل کرائے گا۔“
(کنزالعمال ج ١٤ ص ٦١٢ حدیث نمبر ٣٩٧٠٩ بحوالہ عسل مصفی ج ٢ ص ٢٧٣۔٢٧٤)
یہ حدیث مرفوع کا حکم رکھتی ہے۔
٨۔ حضرت ابو العالیہؒ کا عقیدہ
حضرت ابوالعالیہؒ کا عقیدہ بھی یہی تھا کہ قرب قیامت میں حضرت عیسیٰ ؑ نازل ہوں گے۔ حوالہ بیان ہو چکا ہے۔
٩۔ حضرت ابو مالکؓ کا عقیدہ
ان کا عقیدہ بھی حیات عیسیٰ ؑ میں مثل دیگر صحابہ کے تھا۔ حوالہ بیان ہو چکا ہے۔
١٠۔ حضرت عکرمہؓ کا عقیدہ
یہ بزرگ صحابی بھی یہی عقیدہ رکھتے تھے کہ حضرت عیسیٰ ابن مریم کا دوبارہ نازل ہونا قیامت کے علامات میں سے ایک بڑی علامت ہے۔ روایت پہلے بیان کر دی۔
١١۔ حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاصؓ کا عقیدہ
حدیث نمبر ٣ انہی سے مروی ہے۔ یہ صحابی پُرزور اعلان فرما رہے ہیں کہ حضرت عیسیٰ ؑ آسمان سے زمین کی طرف نزول فرمائیں گے اور پھر شادی کریں گے۔
پھر ان کے ہاں اولاد بھی ہوگی اور آخر فوت ہو کر مدینہ شریف میں حجرہ نبوی علیٰ صاحبہا الصلوات میں دفن ہوں گے۔ مفصل دیکھئے سابقہ صفحات۔ صحابہ کرامؓ میں سے ہزار ہا نے یہ حدیث سنی مگر سوائے تسلیم کے کسی کا انکار مروی نہیں بلکہ خود مرزا قادیانی اس حدیث کو صحیح تسلیم کرتے ہیں۔ مفصل دیکھئے صفحات بالا میں۔
١٢۔ حضرت عمرو بن العاصؓ کا عقیدہ
صحابہ کرامؓ میں سے بہت سے ایسے تھے کہ باپ بیٹا دونوں صحابی تھے۔ ایسے ہی لوگوں میں سے حضرت عمرو بن العاص اور ان کے صاحبزادے حضرت عبداللہ بن عمرو تھے۔ حضرت عبداللہ بن عمرو کا عقیدہ اوپر مذکور ہوا۔ باپ کے عقیدہ کے خلاف وہ کس طرح ”شرکیہ“ عقیدہ کی جرأت کر سکتے ہیں۔ پس معلوم ہوا کہ حضرت عمرو بن العاصؓ کا عقیدہ بھی یہی تھا کہ حضرت عیسیٰ ؑ زندہ ہیں۔ وہی اتریں گے۔ شادی کریں گے اولاد ہوگی اور رسول کریم ﷺ کے حجرہ مبارکہ میں دفن ہوں گے۔
١٣۔ حضرت عثمان بن ابی العاصؓ کا عقیدہ
قادیانی مسلمات کی رو سے صحیح حدیث ان کی روایت سے ہم بیان کر آئے ہیں۔ دوبارہ پڑھ کر لطف اٹھایئے اور سوچیے کہ کن کن طریقوں سے صحابہ کرامؓ نے حیات عیسیٰ ؑ کے اسلامی عقیدہ کی حفاظت کا انتظام کیا مگر پھر بھی مسیحیت کے شیدائی تاویلات رکیکہ سے ان کا رد کرنے بیٹھ جاتے ہیں۔ یہ صحابی مسجد کا واقعہ سنا رہے ہیں۔ گویا سینکڑوں صحابہ اور بھی شاہد تھے۔
١٤۔ حضرت ابو امامہ الباہلیؓ کا عقیدہ
آپ رسول کریم ﷺ کا خطبہ بیان فرماتے ہیں۔ یقیناً ہزار ہا صحابہ حاضر خدمت ہوں گے۔ ان سب کو آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ صبح کی نماز کی امامت ہو رہی ہوگی کہ اچانک عیسیٰ ؑ نازل ہو جائیں گے۔ تفصیل ........ ابن مریم سے مراد (مرزا قادیانی) لینے کی سعی کریں اور نزول سے مراد پیدائش لیں تو کیا اندریں صورت قادیانی ثابت کر سکیں گے کہ مرزا قادیانی عین تکبیر اقامت کے وقت ماں کے پیٹ سے باہر نکلے تھے؟ اور نکلتے ہی مسلمانوں کے امام نے انھیں اپنا امام بنانا چاہا؟ مگر مرزا قادیانی نے امامت سے انکار کر دیا؟ حدیث کی صحت اور عظمت ملاحظہ کریں۔ صفحات سابقہ پر بیان ہو چکی ہے۔
١٥۔ حضرت ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا عقیدہ
- ١...... ہم قادیانی مسلمات کی رو سے ایک مرفوع حدیث حضرت عائشہ صدیقہؓ کی زبانی ذکر
کر آئے ہیں۔ اس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نازل ہو کر ٤٠ سال تک زمین میں زندہ رہنے کا اعلان ہے اور دجال کے قتل کا بھی ذکر ہے۔ پھر ان کی بادشاہت کا بھی ذکر ہے۔ مفصل۔
- ٢...... نیز ہم حضرت عائشہ صدیقہؓ سے ایک مرفوع حدیث مسلمہ قادیانی درج کر چکے
ہیں۔ جس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی پر ڈنکے کی چوٹ اعلان کیا جا رہا ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہؓ کا کسی حدیث کو بیان کرنا گویا تمام صحابہ کا عقیدہ بیان کرنا ہے۔ حضرت عائشہؓ کا باوجود حجرہ مبارکہ میں چوتھی قبر کی جگہ موجود ہونے کے اس میں اپنے دفن کیے جانے کے احکام نہ دینا اس بات کا بین ثبوت ہے کہ حسب الحکم رسول کریم ﷺ وہ جگہ حضرت عائشہ صدیقہؓ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لیے چھوڑ دی تھی۔ جو نازل ہو کر فوت ہوں گے۔ اس خالی جگہ میں دفن ہو کر رسول کریم ﷺ کی پیشگوئی پوری کریں گے۔
١٦۔ ام المومنین حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کا عقیدہ
حضرت شاہ عبدالعزیز صاحب محدث دہلوی قادیانیوں کے مسلم امام و مجدد صدی سیزدہم تفسیر عزیزی زیر تفسیر زیتون مندرجہ ذیل روایت لکھتے ہیں۔
”ام المومنین حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا بیت المقدس کو تشریف لے گئیں اور مسجد اقصیٰ میں نماز پڑھ کر فارغ ہوئیں تو مسجد سے نکل کر طور زیتا پر تشریف لے گئیں اور وہاں بھی نماز پڑھی۔ پھر اس پہاڑ کے کنارے کھڑے ہو کر ارشاد فرمایا کہ یہ وہی پہاڑ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام یہاں سے آسمان پر تشریف لے گئے تھے۔“
(تفسیر عزیزی پارہ ٣٠)
اس روایت میں حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا صاف صاف اعلان فرما رہی ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بجسدہ العنصری آسمان پر اٹھائے گئے تھے۔ اب خیال کیجئے آپ ام المومنین تھیں واللہ اعلم کتنے سو صحابہ کرام ساتھ ہوں گے۔ جن کے سامنے آپ نے یہ اعلان فرمایا تھا گویا جس قدر صحابہ وہاں موجود تھے یہ عقیدہ ان سب کا جزو ایمان تھا۔
١٧۔ حضرت حذیفہ بن اسیدؓ کا عقیدہ
حضرت حذیفہؓ نے رسول کریم ﷺ کی زبانی کئی علامات قیامت بیان فرمائی ہیں۔ ہم اس حدیث کو بیان کر آئے ہیں۔ وہاں ملاحظہ کر لیا جائے۔
١٨۔ حضرت ام شریک بنت ابی العکر صحابیہ رضی اللہ عنہا کا عقیدہ
ہم نے ایک حدیث مرفوع ابو امامۃ الباہلیؓ سے نقل کی ہے۔ اس ساری حدیث کو پڑھیں تو اس میں حضرت ام شریکؓ صحابیہ کا موجود ہونا مذکور ہے بلکہ حدیث رسول ﷺ انھیں صحابیہ کے سوال کے جواب میں بیان کی گئی تھی۔ پس اس سے حضرت ام شریکؓ صحابیہ کا عقیدہ بھی معلوم ہو گیا۔
١٩۔ حضرت انسؓ کا عقیدہ
ملاحظہ ہو جہاں انھوں نے ایک حدیث رسول کریم ﷺ سے روایت کی ہے۔ جس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے نازل ہونا صاف صاف مذکور ہے۔ بیان ہو چکی۔
٢٠۔ حضرت عبداللہ بن سلامؓ کا عقیدہ
ان کا عقیدہ ایسے الفاظ میں بیان کیا ہے کہ اس سے بڑھ کر حیات عیسیٰ علیہ السلام کا ثبوت اور مشکل ہے۔ آپ فرماتے ہیں۔ عیسیٰ ابن مریم حضرت رسول کریم ﷺ اور شیخین کے درمیان مدفون ہوں گے اور ان کی قبر چوتھی ہوگی۔
٢١۔ حضرت مغیرہ ابن شعبہؓ کا عقیدہ
قال مغيرة ابن شعبة انا كنا نحدث ان عيسى علیہ السلام خارج فان هو خرج فقد كان قبله و بعده. (در منثور ج ٥ ص ٢٠٢۔ بحوالہ اخبار ”الفضل“ ج ١٠ نمبر ٤٠ ص ٩ مورخہ ٢٠ نومبر ١٩٢٢ء) ”یعنی ہم صحابہ آپس میں باتیں کیا کرتے تھے کہ عیسیٰ علیہ السلام تشریف لانے والے ہیں۔“
ثبوت اجماع حضرت مغیرہؓ تمام صحابہ کا عقیدہ بیان کر رہے ہیں اور اس وقت کے موجودہ صحابہ میں سے کسی نے مخالفت بھی نہیں کی۔ پس اجماع ثابت ہے۔
٢٢۔ حضرت سعد بن وقاص سپہ سالار اسلامؒ کا عقیدہ
ہم رئیس المکاشفین ابن عربیؒ کے حوالہ سے ایک طویل واقعہ نقل کر آئے ہیں۔ جس میں حضرت نضلہ انصاری اور ان کے ساتھ ایک بڑی جماعت صحابہ نے زریب بن برتملا وصی عیسیٰ کی زیارت اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول من السماء کا حال حضرت سعدؓ کو لکھا۔ انھوں نے اسے صحیح سمجھا۔ اگر ان کا عقیدہ حیات عیسیٰ علیہ السلام کا نہ ہوتا تو ضرور کہتے ”ارے نضلہ حیات عیسیٰ کا عقیدہ رکھنا تو شرک ہے کیونکہ وہ مر چکے ہیں۔“
مگر انھوں نے اسے قبول کر کے اور صحیح تسلیم کر کے سارا واقعہ حضرت عمرؓ کو لکھ بھیجا۔ ایسے عجیب واقعات کا چرچا بھی بہت ہوتا ہے۔ مدینہ شریف میں ہزارہا صحابہ نے اس کو سن کر اس کی تصدیق کی۔ کیا قادیانیوں کے لیے صرف حضرت عمرؓ کی تصدیق کافی نہیں۔ حضرت عمرؓ نے یہ واقعہ پڑھا تو انکار نہیں کیا بلکہ تصدیق کی۔ اب ہم حضرت عمرؓ کی عظمت بیان کر کے فیصلہ ناظرین کی طبع رسا پر چھوڑتے ہیں۔
قول مرزا: ”حضرت عمرؓ خلیفہ رسول اللہ ﷺ اور رئیس الثقات ہیں۔“
(ازالہ اوہام ص ٥٣٠ خزائن ج ٣ ص ٣٨٥)
قول مرزا: ”حضرت عمرؓ آنحضرت ﷺ کے بروز اور ظل ہیں۔ گویا کہ حضرت عمر بعینہ حضرت محمد ﷺ ہیں۔“ (ایام الصلح ص ٣٥ خزائن ج ١٤ ص ٢٦٥) ایسی بزرگ ہستی کی تصدیق کے بعد جو شخص صحابہ کے عقیدہ حیات عیسیٰ علیہ السلام کو قبول نہ کرے۔ اس سے پھر خدا سمجھے۔
٢٣۔ حضرت نضلہ انصاریؓ کا عقیدہ
مذکورہ بالا واقعہ جو تفصیل کے ساتھ پہلے درج ہے۔ حضرت نضلہ انصاری اور ایک کثیر جماعت صحابہ کا چشم دید واقعہ ہے اور مشاہدہ ہے۔ انھوں نے حضرت سعد بن وقاص اسلامی سپہ سالار کو لکھا انھوں نے حضرت عمرؓ کو۔ انھوں نے تصدیق کی۔
اجماع صحابہ کی آخری ضرب
ہم ٢٢ صحابہ کرامؓ اور ان کی وساطت سے دیگر ہزارہا صحابہ کرامؓ کا عقیدہ بیان کر چکے ہیں۔ اس موقعہ پر ہم ناظرین کی توجہ قادیانی کے طرز استدلال کی طرف منعطف کراتے ہیں اور اسلامی استدلال سے اس کا مقابلہ کرنا چاہتے ہیں۔
پہلے ہم مرزا قادیانی کا ایک قول نقل کر آئے ہیں۔ محض ایک روایت سے جو صحابی نے اپنے اجتہاد سے بیان کی۔ مرزا قادیانی نے صحابہ کا اجماع ثابت کر لیا۔ ہم ہزارہا صحابہ نہ سہی۔ تو کم از کم ٢٣ صحابہ کی شہادت پیش کر کے اجماع کا دعویٰ کریں تو قادیانی قبول نہ کریں۔ اسی کو کہتے ہیں۔ ”میٹھا میٹھا ہڑپ اور کڑوا کڑوا تھو“
پھر جو شخص امام ابن حزم پر افتراء کر کے محض ان کے نام سے اکابر امت کا اجماع ثابت کر سکتا ہے۔ اس کو کس طرح جرأت ہو سکتی ہے کہ ہزارہا صحابہ کے عقیدہ حیات عیسیٰ علیہ السلام رکھنے کے بعد بھی دو اور دو پانچ ہی کی رٹ لگاتا جائے اور محض افتراء کے طور پر وفات عیسیٰ علیہ السلام پر اجماع صحابہ کا دعویٰ کر کے کم علم عوام الناس کو دھوکا دیتا رہے۔
باب پنجم
حیات عیسیٰ علیہ السلام کا ثبوت
از اقوال
مجددین امت و مفسرین اسلام مسلمہ قادیانی جماعت
قارئین کرام! ضروری معلوم ہوتا ہے۔ مجددین امت محمدیہ اور مفسرین اسلام کی اہمیت و عظمت مرزا قادیانی کے اپنے الفاظ میں پیش کر کے ان بزرگان دین کے اقوال کا حجت ہونا الزامی طور پر ثابت کر دوں۔
- ١...... تیرہ صد سال کے مجددین امت کی مکمل فہرست تو عسل مصفیٰ جلد اول صفحہ ١٦٣ و
١٦٥ پر درج ہے۔ یہ کتاب قادیانی جماعت کی مایہ ناز کتاب ہے۔ مرزا قادیانی، مرزا محمود احمد قادیانی اور مولوی محمد علی قادیانی لاہوری اور دیگر اکابر مرزائی اصحاب کی مصدقہ ہے مختصر سی فہرست مجددین ہم نے کتاب ہٰذا کے ابتدائی صفحات پر درج کر دی ہے۔
- ٢...... ان مجددین امت محمدیہ کی عظمت اور علو مرتبت کا حال مرزا قادیانی کے اپنے الفاظ
میں کتاب ہٰذا کے ابتداء میں ضرور ملاحظہ فرمائیں۔
- ٣...... ”خدا تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے کہ ہر ایک صدی کے سر پر وہ ایسے شخص کو مبعوث
کرے گا جو دین کو تازہ کرے گا اور اس کی کمزوریوں کو دور کر کے پھر اپنی اصلی طاقت پر اسے لے آئے گا۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص ٣٤٠ خزائن ج ٥ ص ایضاً)
- ٤...... ”ہر صدی کے سر پر جب کبھی کوئی بندہ خدا اصلاح کے لیے کھڑا ہوا۔ جاہل لوگ
اس کا مقابل کرتے رہے۔“
(لیکچر سیالکوٹ ص ١ خزائن ج ٢٠ ص ٢٠٣)
- ٥...... ”بعض جاہل کہا کرتے ہیں کہ کیا ہم پر اولیاء کا ماننا فرض ہے۔ سو اللہ تعالیٰ
فرماتا ہے بے شک فرض ہے اور ان سے مخالفت کرنے والے فاسق ہیں۔ اگر مخالفت پر ہی مریں۔“
(شہادۃ القرآن ص ٤٣ خزائن ج ٦ ص ٣٣٩)
- ٦...... ”ہم کب کہتے ہیں کہ مجدد اور محدث دنیا میں آ کر دین میں سے کچھ کم کرتے
ہیں۔ یا زیادہ کرتے ہیں بلکہ ہمارا تو یہ قول ہے کہ ایک زمانہ گزرنے کے بعد جب پاک
تعلیم پر خیالات فاسدہ کا ایک غبار پڑ جاتا ہے اور حق خالص کا چہرہ چھپ جاتا ہے۔ تب اس خوبصورت چہرہ کو دکھلانے کے لیے مجدد اور محدث اور روحانی خلیفے آتے ہیں۔..... مجدد لوگ دین کی چمک اور روشنی دکھانے کو آتے ہیں۔..... مجددوں اور روحانی خلیفوں کی اس امت میں ایسے ہی طور سے ضرورت ہے۔ جیسا کہ قدیم سے انبیاء کی ضرورت پیش آتی رہی ہے۔“
(شہادۃ القرآن ص ٤٤ خزائن ج ٦ ص ٣٤٠)
- ٧...... ”امام الزمان بذریعہ الہامات کے خدا تعالیٰ سے علوم و حقائق و معارف پاتا ہے اور
اس کے الہامات دوسروں پر قیاس نہیں ہو سکتے .... خدا تعالیٰ ان سے نہایت صفائی کے ساتھ مکالمہ کرتا ہے اور ان کی دعا کا جواب دیتا ہے اور بسا اوقات سوال و جواب کا ایک سلسلہ منعقد ہو کر ایک ہی وقت میں سوال کے بعد جواب اور پھر سوال کے بعد جواب ایسے صفا اور لذیذ اور فصیح الہام کے پیرایہ میں شروع ہوتا ہے کہ صاحب الہام خیال کرتا ہے کہ گویا وہ خدا تعالیٰ کو دیکھ رہا ہے۔...... امام الزمان غیب کو ہر ایک پہلو سے اپنے قبضہ میں کر لیتے ہیں۔ جیسا کہ چابک سوار گھوڑے کو قبضہ میں کر لیتا ہے۔ یہ قوت و انکشاف اس لیے ان کے الہام کو دیا جاتا ہے کہ تا ان کے پاک الہام شیطانی الہامات سے مشتبہ نہ ہوں اور تا دوسروں پر حجت ہو سکیں۔“
(ضرورت الامام ص ١٣،١٢ خزائن ج ١٣ ص ٤٨٣)
- ٨...... ”امام الزمان حامی بیضہ اسلام کہلاتا ہے اور اس باغ کا خدا تعالیٰ کی طرف سے
باغبان ٹھہرایا جاتا ہے اور اس پر فرض ہوتا ہے کہ ہر ایک اعتراض کو دور کرے اور ہر ایک معترض کا منہ بند کرائے اور صرف یہ ہی نہیں بلکہ یہ بھی اس کا فرض ہے کہ نہ صرف اعتراضات دور کرے بلکہ اسلام کی خوبی اور خوبصورتی بھی دنیا پر ظاہر کرے۔ ایسا شخص نہایت قابل تعظیم اور کبریت احمر کا حکم رکھتا ہے کیونکہ اس کے وجود سے اسلام کی زندگی ظاہر ہوتی ہے اور وہ اسلام کا فخر اور تمام بندوں پر خدا تعالیٰ کی حجت ہوتا ہے اور کسی کے لیے جائز نہیں ہوتا کہ اس سے جدائی اختیار کرے کیونکہ وہ خدا تعالیٰ کے ارادہ اور اذن سے اسلام کی عزت کا مربی اور تمام مسلمانوں کا ہمدرد اور کمالات دینیہ پر دائرہ کی طرح محیط ہوتا ہے۔ ہر ایک اسلام اور کفر کی کشتی گاہ میں وہی کام آتا ہے اور اسی کے انفاس طیبہ کفر کش ہوتے ہیں۔ وہ بطور کل کے اور باقی سب اس کے جزو ہوتے ہیں۔
تو ہلاک استی اگر ازوے گسلی“
(ضرورت الامام ص ١٠ خزائن ج ١٣ ص ٤٨١)
نوٹ: امام الزماں۔ مجدد وقت چنانچہ مرزا قادیانی فرماتے ہیں۔ ”یاد رہے کہ امام الزماں کے لفظ میں نبی، رسول، مجدد، محدث، سب داخل ہیں۔“
(ضرورت الامام ص ٢٤ خزائن ج ١٣ ص ٤٩٥)
٩..... ”جو بزرگ خدا تعالیٰ سے الہام پاتے ہیں۔ وہ بغیر بلائے نہیں بولتے اور بغیر فرمائے کوئی دعویٰ نہیں کرتے اور اپنی طرف سے کسی قسم کی دلیری نہیں کر سکتے۔“
(ازالہ اوہام ص ١٩٨ خزائن ج ٣ ص ١٩٧)
١٠..... ”ہمارے نبی ﷺ نے امام الزماں کی ضرورت ہر ایک صدی کے لیے قائم کی ہے اور صاف فرما دیا ہے کہ جو شخص اس حالت میں خدا تعالیٰ کی طرف آئے گا کہ اس نے اپنے زمانہ کے امام کو شناخت نہ کیا۔ وہ اندھا آئے گا اور جاہلیت کی موت مرے گا۔“ تلک عشرة كاملة.
(ضرورت الامام ص ٤ خزائن ج ١٣ ص ٤٧٢)
قارئین عظام! آپ امام الزمان یعنی مجدد وقت کی عظمت و اہمیت مرزا قادیانی کے اپنے اقوال سے ملاحظہ کر چکے ہیں۔ اب ہم آپ کی خدمت میں ہر صدی کے آئمہ (اماموں) کے اقوال درج کرتے ہیں تا کہ قادیانی کے دعویٰ کی حقیقت الم نشرح ہو جائے۔
نوٹ: میں صرف انھیں امامان زمان کے اقوال درج کروں گا جن کو قادیانی سچے امام تسلیم کر چکے ہیں۔ ثبوت ساتھ ساتھ ملاحظہ کرتے جائیں۔
امام احمد بن حنبلؒ مجدد و امام الزمان صدی دوم کا عقیدہ
١..... ہم نے امام احمدؒ کی روایت سے ایک حدیث بیان کی ہے۔ جس میں انبیاء علیہم السلام کے سامنے حضرت عیسیٰ ؑ نے آسمان پر معراج کی رات صاف صاف اعلان کیا کہ وہ قریب قیامت میں نازل ہو کر دجال کو قتل کریں گے۔
٢..... ہم امام احمد بن حنبل کی روایت سے ایک مرفوع حدیث نقل کر آئے ہیں۔ جس میں حضرت عیسیٰ ؑ کے نزول کی کیفیت مفصل درج ہے۔
٣..... امام احمد مجدد صدی دوم کی روایت سے حضرت عائشہ صدیقہؓ کی مرفوع حدیث بیان کر آئے ہیں۔ جس میں حضرت عائشہ صدیقہؓ رسول کریم ﷺ کے پہلو میں دفن کیے جانے کی اجازت طلب کرتی ہیں۔ مگر آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ حجرہ مبارک میں صرف حضرت صدیق اکبرؓ و حضرت عمرؓ اور حضرت عیسیٰ ؑ ابن مریم کے لیے ہی جگہ ہے۔ اگر حضرت عیسیٰ ابن مریم زندہ نہیں تو قبر کے لیے جگہ رکھنے کے کیا معنی ہو سکتے ہیں؟
٤..... ایک حدیث کو امام موصوف نے روایت کیا ہے۔ جس میں حضرت عمرؓ نے ابن صیاد
کو دجال معہود سمجھ کر آنحضرت ﷺ سے اس کے قتل کی اجازت چاہی مگر آپ نے اجازت نہیں دی اور عدم اجازت کی وجہ یہ بیان فرمائی کہ دجال معہود کا قاتل حضرت عیسیٰ ابن مریم ہے۔ تم اسے قتل نہیں کر سکتے اور اگر تم ابن صیاد کو قتل کر دو تو وہ دجال معہود نہیں ہوگا۔
- ٥...... امام احمدؒ کی ایک روایت کردہ حدیث درج ہے جو انھوں نے اپنی مسند میں کئی بار
درج کی ہے۔ اس میں حضرت عیسیٰ ابن مریم کا نزول جسمانی صاف صاف مذکور ہے۔
- ٦...... امام ممدوح نے ایک حدیث روایت کی ہے۔ جس میں حضرت عیسیٰ ؑ کے نزول
من السماء کا اقرار خود حضرت رسول کریم ﷺ کی زبانی مذکور ہے۔
- ٧...... اسی طرح اس میں حضرت عیسیٰ ابن مریم ؑ کی جسمانی زندگی کا اقرار موجود ہے۔
- ٨...... ان کی روایت سے ایک حدیث میں حضرت عیسیٰ ؑ کا نزول جسمانی مروی ہے۔
- ٩...... امام احمدؒ اپنی مسند میں حضرت ابن عباسؓ سے روایت فرماتے ہیں۔ ”قال ابن
عباسؓ لقد علمت آیة من القرآن...... و انہ لعلم للساعة قال ھو خروج عیسیٰ ابن مریم ؑ قبل یوم القیامة۔“ (مسند احمد ج ١ ص ٣١٨) ”یعنی فرمایا حضرت ابن عباسؓ نے...... انہ لعلم للساعة کے معنی ہیں کہ حضرت عیسیٰ ؑ کا نزول قیامت کے قرب کا نشان ہوگا۔“
- ١٠...... امام احمدؒ نے اور بھی بیسیوں حدیثوں سے حضرت عیسیٰ ؑ کی حیات ثابت کی
ہے۔ جسے دیکھنا ہو۔ مسند امام احمد اٹھا کر ملاحظہ کر لیں۔ تلک عشرة کاملة۔
ناظرین! قادیانی کی بیان کردہ عظمت و اہمیت مجدد زمان کو سامنے رکھ کر دوسری صدی کے مجدد اعظم کا فیصلہ کس قدر اہم ہے؟ ظاہر ہے کہ جج کی عظمت شان کے ساتھ اس کے فیصلہ کی عظمت شان بڑھ جاتی ہے۔
٢۔ امام اعظم ابو حنیفہ نعمان بن ثابتؒ کا عقیدہ
- عظمت شان......١ مسلمانانِ عالم حضرت امام کے مرتبہ کے قائل ہیں۔ کیوں نہ
ہوں جبکہ آپ کے شاگردوں کے شاگرد یعنی امام محمد ادریس الشافعی ؒ اور آپ کے مقلدین میں سے بیسیوں حضرات مجدد اور امام الزمان کے درجہ پر پہنچ گئے تو ان کے امام اور استاد کا درجہ کس قدر بلند ہوگا۔
- ٢...... لیجئے! ہم مرزا قادیانی کے اپنے الفاظ میں حضرت امام الائمہؒ کی عظمت شان کا پتہ
دیتے ہیں۔ مرزا قادیانی فرماتے ہیں۔
”اصل حقیقت یہ ہے کہ امام صاحب موصوف اپنی قوت اجتہادی اور اپنے علم اور درایت اور فہم و فراست میں آئمہ ثلاثہ بقیہ سے افضل واعلیٰ تھے اور ان کی قوت فیصلہ ایسی بڑھی ہوئی تھی کہ وہ ثبوت و عدم ثبوت میں بخوبی فرق کرنا جانتے تھے اور ان کی قوت مدرکہ کو قرآن شریف سمجھنے میں ایک خاص دست گاہ تھی اور ان کی فطرت کو کلام الٰہی سے ایک نسبت تھی اور عرفان کے اعلیٰ درجہ تک پہنچ چکے تھے۔ اسی وجہ سے اجتہاد اور استنباط میں ان کے لیے وہ درجہ علیا مسلم تھا۔ جس تک پہنچنے سے سب لوگ قاصر تھے۔ امام موصوف بہت زیرک اور ربانی امام تھے ۔“
(ازالہ اوہام ص ٥٣٠ و ٥٣١ خزائن ج ٣ ص ٣٨٥)
دیکھا حضرات! مرزا قادیانی ہمارے دعویٰ کی تصدیق کن پر زور الفاظ میں کر رہے ہیں۔ صاف صاف لکھ رہے ہیں کہ امام موصوف ربانی امام تھے اور باقی سب آئمہ سے افضل تھے۔ باقی آئمہ میں سے امام شافعی اور امام احمد رحمہما اللہ کو تو قادیانیوں نے امام الزمان اور مجدد تسلیم کر لیا ہے۔ امام اعظمؒ کی عظمت شان کو دل میں جگہ دے کر اب ان کا فیصلہ بھی سنیے۔ اپنی شہرہ آفاق تصنیف فقہ اکبر میں فرماتے ہیں۔
”خروج الدجال و ياجوج وماجوج و طلوع الشمس من مغربها و نزول عيسىٰ ؑ من السماء و سائر علامات يوم القيامة على ماوردت به الاخبار الصحيحة حق كائن“ (الفقہ الاکبر ص ٨۔٩) ”دجال اور یاجوج ماجوج کا نکلنا، سورج کا اپنے مغرب سے نکلنا اور عیسیٰ ؑ کا آسمان سے اترنا اور دیگر علامات قیامت جیسا کہ احادیث صحیحہ و آثار صحابہ میں آ چکی ہیں۔ وہ سب کی سب حق ہیں اور واقع ہونے والی ہیں۔“
خیال کیجئے کن الفاظ میں حضرت امام الائمہؒ نے حضرت عیسیٰ ؑ کے آسمان سے اترنے کا فیصلہ کر دیا ہے۔
٣۔ امام مالکؒ کا عقیدہ دربارہ حیات عیسیٰ ؑ
- ا....... وفي العتبية قال مالك بينما الناس قيام يصطفون لاقامة الصلوة فتغشاهم
غمامة فاذا عيسى قد نزل (مکمل اکمال الاکمال شرح مسلم ج ١ ص ٤٤٦ باب نزول عیسیٰ بن مریم ؑ ) ”امام مالکؒ فرماتے ہیں کہ لوگ نماز کی اقامت کو سن رہے ہوں گے۔ بس ان پر ایک بادل سایہ کر لے گا اور اچانک عیسیٰ ؑ نازل ہو جائیں گے۔“ اس عبارت میں کس صفائی کے ساتھ حضرت امام مالکؒ حضرت عیسیٰ ؑ کا نزول جسمانی ثابت کر رہے ہیں۔ اگر مراد اس نزول سے بروزی نزول لی جائے تو معنی اس کے یہ ہوں گے کہ کوئی
شخص مثیل حضرت عیسیٰ ؑ کا (موافق دعویٰ قادیانی) ماں کے پیٹ سے اس وقت نازل ہوں گے جبکہ لوگ نماز کے لیے تیاری کر رہے ہوں گے اور بادل نے سایہ کیا ہوگا۔ حضرات کیا مضحکہ خیز تاویل ہے۔ ایسی واہیات تاویلات سے خدا کی پناہ۔
- ٢....... مشہور ہے کہ اَلْوَلَدُ سِرٌّ لِاَبِیْہِ یعنی اولاد باپ کے لیے بھید ہوتا ہے نیز یہ ایک مسلم
اصول ہے۔
”درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے“
امام مالکؒ کا عقیدہ یقیناً وہی ہوگا جو علماء مالکیہ رحمہم اللہ نے اپنی کتابوں میں درج کیا ہے۔ ٹھیک اسی طرح جس طرح مرزا بشیر الدین محمود اپنے باپ کا قائمقام ہے۔ اسی طرح شاگرد اپنے استاد ہی سے نقل کرتا ہے۔ ہم یہاں علماء مالکیہ کے اقوال نقل کر کے امام مالکؒ کے عقیدہ حیات مسیح ؑ پر مہر تصدیق ثبت کرتے ہیں۔
قول علامہ زرقانی مالکیؒ
شرح مواہب قسطلانی میں بڑے بسط سے لکھتے ہیں۔ ”فاذا نزل عیسیٰ ؑ فانه يحكم بشريعة نبينا ﷺ بالهام او اطلاع على الروح المحمدی او بماشاء الله من استنباط له من الكتاب والسنة....... فهو ؑ و ان كان خليفة فى الامة المحمدية فهو رسول و نبی کریم على حاله لا كما يظن بعض الناس انه یاتی واحد من هذه الامة بدون نبوة و رسالة انهما لا يزولان بالموت كما تقدم فكيف بمن هو حی نعم هو واحد من هذه الامة مع بقائه على نبوة و رسالة.“
(شرح مواہب اللدنیہ ج ٥ ص ٣٤٧) ”جب عیسیٰ ؑ نازل ہوں گے تو وہ رسول کریم ﷺ کی شریعت کے مطابق حکم دیں گے۔ الہام کی مدد سے یا روح محمدی کی وساطت سے یا اور جس طرح اللہ چاہے گا مثلاً کتاب اور سنت سے اجتہاد کر کے...... پس اگرچہ حضرت عیسیٰ ؑ امت محمدی کے خلیفہ ہوں گے مگر وہ اپنی نبوت و رسالت پر بھی قائم رہیں گے اور اس طرح نہیں ہوگا جیسا کہ بعضے کہتے ہیں کہ وہ نبوت اور رسالت سے الگ ہو کر محض ایک امتی کی حیثیت سے ہوں گے کیونکہ نبوت و رسالت تو موت کے بعد بھی نبی و رسول سے الگ نہیں ہوتیں۔ پس اس شخص (حضرت عیسیٰ ؑ) سے کیسے الگ ہو سکتی ہیں جو ابھی تک زندہ ہے۔ ہاں وہ امتی ہوگا مگر اس کی نبوت و رسالت بھی اس کے ساتھ ہی رہے گی۔“ یہ عبارت امام مالک کے مذہب کو کس بلند اور صریح آواز سے بیان کر رہی ہے۔ بروز و بروز کے پرخچے اڑا رہی ہے۔ حضرت عیسیٰ ؑ کے لیے حی کا لفظ
استعمال کر کے قادیانیوں کی زبان بندی کا اعلان کر رہی ہے۔ مزید حاشیہ کی ضرورت نہیں ہے اور عاقل کے لیے تو اشارہ بھی کافی ہوتا ہے یہاں تو صریح اعلان ہے۔ حیات و نزول عیسیٰ علیہ السلام کا۔
قادیانی دھوکہ اور اس کا علاج
مرزا قادیانی لکھتے ہیں۔
- ١....... ”امام مالکؒ نے کھلے کھلے طور پر بیان کر دیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو گئے۔“
(ایام الصلح ص ١٤٦ و ص ١٤٧ خزائن ج ١٤ ص ٣٨١)
- ٢....... ”امام ابن حزم اور امام مالکؒ بھی موت عیسیٰ علیہ السلام کے قائل ہیں اور ان کا قائل ہونا
گویا امت کے تمام اکابر کا قائل ہونا ہے کیونکہ اس زمانہ کے اکابر علماء سے مخالفت منقول نہیں اور اگر مخالفت کرتے تو البتہ کسی کتاب میں اس کا ذکر ہوتا۔“
(ایام الصلح ص ٣٩ خزائن ج ١٤ ص ٢٦٩)
- ٣....... یہی مضمون مرزا قادیانی نے اپنی کتاب عربی مکتوب ص ١٤٢ اور کتاب البریہ ص
٢٠٣ خزائن ج ١٣ ص ٢٢١ میں لکھا ہے۔ اس کا جواب اور اس دھوکہ دہی کا تجزیہ درج ذیل ہے۔
- ١....... امام مالکؒ کا عقیدہ اوپر مذکور ہوا اور باقاعدہ ان کے مذہب کی کتابوں کے حوالوں
سے ہوا۔ مرزا قادیانی کا یہ بیان بغیر حوالہ کے کس طرح منظور کر لیا جائے۔
- ٢....... ہم مرزا قادیانی کی خاطر خود وہ حوالہ نقل کرتے ہیں۔ مرزا قادیانی نے حوالہ یقیناً
اس واسطے نقل نہیں کیا کہ شاید کوئی خدا کا بندہ کتاب کو حوالہ کے مطابق کھول کر پڑھے تو راز طشت از بام ہو کر الٹا ذلت کا باعث نہ بنے۔ مگر ہم تو اسی راز کے طشت از بام کرنے کے لیے میدان میں نکلے ہیں۔ یہ حوالہ مرزا نے مجمع البحار سے نقل کیا ہے۔ وہاں امام محمد طاہر مجدد صدی دہم نے یہ قول نقل کیا ہے۔ مگر مرزا قادیانی نے اپنی خود غرضی اور دجل و فریب سے اگلی عبارت نقل نہیں کی۔ امام موصوف فرماتے ہیں۔ ”قال مالک مات لعلہ اراد رفعہ علی السماء....... ویجئی آخر الزمان لتواتر خبر النزول.“
(دیکھو مجمع البحار ج ١ ص ٥٣٤ بلفظ حکم مصنفہ امام محمد طاہر گجراتی مجدد صدی دہم)
”یعنی مالکؒ کا قول ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سو گئے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھانے کا ارادہ کر لیا۔ (جاگتے ہوئے اوپر کی طرف پرواز کرنا اور کروڑہا میل کا پرواز کرنا طبعاً وحشت کا باعث ہوتا ہے)....... اور حضرت
عیسیٰ ؑ آخری زمانہ میں نازل ہوں گے کیونکہ ان کے نزول کی خبر احادیث متواترہ سے ثابت ہے۔“
نوٹ.......١ ”مات“ کے معنی ”مر گئے“ کرنا اور انہی معنوں میں حصر کرنا قادیانی کی کمال چالاکی ہے۔ اس کے معنی ”نوم“ یعنی سو گیا بھی ہیں۔ چنانچہ خود مرزا قادیانی لکھتے ہیں۔
- ١.......”مات“ کے معنی لغت میں نوم کے بھی ہیں۔ دیکھو قاموس۔“
(ازالہ ص ٦٤٠ خزائن ج ٣ ص ٤٤٥)
- ٢....... ”ہواء ہوس سے مرنا بھی ایک قسم کی موت ہے۔“ (ازالہ اوہام ص ٦٤٠ خزائن ج ٣ ص ٤٤٥)
- ٣....... ”اماتت کے حقیقی معنی صرف مارنا اور موت دینا نہیں بلکہ سلانا اور بیہوش کرنا بھی
اس میں داخل ہے۔“ (ازالہ ص ٩٤٤ خزائن ج ٣ ص ٦٢١)
- ٤....... ”لغت کی رو سے موت کے معنی نیند اور ہر قسم کی بے ہوشی بھی ہے۔“
(ازالہ ص ٩٤٢ خزائن ج ٣ ص ٦٢٠)
- ٥....... ”لغت میں موت بمعنی نوم اور غشی بھی آتا ہے۔ دیکھو قاموس۔“
(ازالہ اوہام ص ٦٦٥ خزائن ج ٣ ص ٤٥٩)
اندریں صورت مرزا قادیانی کا کیا حق ہے کہ جہاں کہیں موت یا مات یا امات کا لفظ آجائے تو اس کے معنوں کو صرف مارنا یا مرنا ہی میں حصر کر دے پھر ممکن ہے کہ بعض نے اس نیند ہی کو موت کی حالت سمجھ کر عارضی موت کا اقرار کر لیا ہو۔ ہماری بحث تو صرف یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ زندہ بجسدہ العنصری آسمان پر موجود ہیں اور وہی عیسیٰ ؑ دوبارہ آسمان سے نزول فرما کر امت محمدی میں رسول کریم ﷺ کے خلیفہ کی حیثیت سے کام کریں گے اور اسی پر امت کا اجماع ہے۔
٤۔ امام محمد بن ادریس شافعیؒ
- ١....... امام شافعیؒ۔ امام مالک اور امام محمد کے شاگرد تھے اور امام محمد امام ابوحنیفہ کے شاگرد
تھے۔ اگر امام شافعی کو حیات مسیح ؑ میں آئمہ ثلاثہ سے اختلاف ہوتا تو ضرور اس کا اظہار کرتے۔ پس انھوں نے اس بارہ میں اپنی خموشی سے ”سکوتی اجماع“ پر مہر تصدیق ثبت کر دی۔
نوٹ: ”سکوتی اجماع“ کی حقیقت بیان ہو چکی۔ دیکھئے۔
- ٢....... نیز امام شافعی کے مذہب کے تمام مجددین مثل امام جلال الدین سیوطی وغیرہ حیات
عیسیٰ علیہ السلام کی تصریح کر رہے ہیں۔ جیسا کہ آگے آتا ہے۔
٥۔ امام حسن بصری رئیس المجددین وسرتاج الاولیاء
امام حسن بصریؒ کا رتبہ۔
- ١....... دنیائے اسلام میں صوفیائے کرام کے سلسلہ کے سرتاج مسلم ہیں۔
- ٢....... بیسیوں مجددین امت کو ان کی غلامی کا فخر حاصل ہے۔
- ٣....... امام موصوف ابن عباس کے ارشد تلامذہ میں سے تھے۔
(دیکھو مرزائی کتاب عسل مصفیٰ ج ١ ص ٩٢ و ٩١)
اب امام موصوف کا عقیدہ ملاحظہ کیجئے۔
- ١....... ”قال ابن جریر....... عن الحسن و ان من اهل الکتاب الا لیؤمنن به قبل
موت عیسیٰ والله انه لحی الان عند الله ولکن اذا نزل امنوا به اجمعون۔“ (تفسیر ابن کثیر ج ١ ص ٥٧٦) ”امام ابن جریر (قادیانیوں کے مسلم امام ومحدث ومفسر فرماتے ہیں کہ) امام حسن بصری نے فرمایا کہ سب اہل کتاب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے پہلے ایمان لے آئیں گے۔ خدا کی قسم وہ آسمان پر اب تک زندہ موجود ہیں اور جب وہ نازل ہوں گے تو سب اہل کتاب ان پر ایمان لے آئیں گے۔“ غور کیجئے! چھٹی صدی کے مجدد وامام مسلم قادیانی قادیانیوں کے مسلم مفسر وامام کی روایت سے امام المکاشفین کا قول قسمیہ پیش کرتے ہیں۔ جس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات کا صاف صاف اعلان ہے۔ قسمیہ اعلان میں تاویل جائز نہیں۔
لطف پر لطف یہ کہ امام موصوف کی اس قسمیہ تصریح کو حافظ ابن حجر عسقلانیؒ ”امام ومجدد صدی ہشتم مسلم قادیانی نے بھی فتح الباری میں بڑے زور کے ساتھ بیان کیا ہے۔
- ٢....... امام موصوف نے ایک صحیح حدیث رسول پاکﷺ کی روایت کی ہے جس میں
رسول پاکﷺ کا ارشاد ہے۔ ”ان عیسیٰ لم یمت“ یعنی عیسیٰ علیہ السلام فوت نہیں ہوئے۔ ”وانه راجع الیکم قبل یوم القیامة“ (تفسیر ابن کثیر ج ١ ص ٣٦٦) اور وہی تمہاری طرف دوبارہ واپس آئیں گے قیامت سے پہلے۔“ مفصل بحث اس حدیث کی پہلے مذکور ہے۔ وہاں ملاحظہ کر لی جائے۔
- ٣....... ”اخرج ابن جریر عن الحسن وانه لعلم للساعة قال نزول عیسیٰ، امام
ابن جریر نے امام حسن بصری سے روایت کی ہے کہ وانه لعلم للساعة سے مراد حضرت
عیسیٰ ؑ کا نازل ہونا ہے۔“ (درمنثور ج ٦ ص ٢٠) ناظرین! یہاں بھی خیال فرمائیے۔ امام جلال الدین سیوطی جیسے مجدد مسلم قادیانی اُنھیں کے مسلم محدث ومفسر کی روایت سے امام حسن بصری کا عقیدہ نزول عیسیٰ ابن مریم بیان فرما رہے ہیں۔ اگر اب بھی قادیانی اپنی ضد پر ڈٹے رہیں تو سوائے انا للہ کے اور کیا کہا جائے۔
٦۔ قادیانیوں کے مسلم امام و مجدد صدی سوئم امام نسائیؒ کا عقیدہ
- ١...... پہلے ہم نے امام نسائی کی روایت درج ہے۔ ملاحظہ کی جائے۔
- ٢...... پہلے ہم نے امام نسائی کی دوسری روایت ابن عباسؓ سے مروی ہے۔ جو حضرت
عیسیٰ ؑ کے رفع جسمانی علی السماء پر بڑے زور سے اعلان کر رہی ہے۔
٧۔ امام محمد بن اسماعیل بخاریؒ کا عقیدہ
امام بخاریؒ کی عظمت شان از اقوال مرزا۔
- ١...... ”امام بخاری کی کتاب ”بخاری شریف“ اصح الکتاب بعد کتاب اللہ ہے۔ یعنی قرآن
شریف کے بعد اس کا درجہ ہے۔“
(ازالہ ص ٦٢٧ خزائن ج ٣ ص ٥١١)
- ٢...... ”اگر میں بخاری اور مسلم کی صحت کا قائل نہ ہوتا تو میں کیوں بار بار ان کو اپنی تائید
میں پیش کرتا۔“
(ازالہ ص ٨٨٢ خزائن ج ٣ ص ٥٨٢)
- ٣...... ”صحیحین (بخاری اور مسلم) کو تمام کتب پر مقدم رکھا جائے اور بخاری اصح الکتاب
بعد کتاب اللہ ہے۔ لہٰذا اس کو مسلم پر مقدم رکھا جائے۔“
(تبلیغ رسالت جلد دوم ص ٢٥ مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٣٥)
- ٤...... ”امام بخاری حدیث کے فن میں ایک ناقد بصیر ہے...... بخاری امام فن نے اس
حدیث کو نہیں لیا۔“
(ازالہ ص ١٤٤ خزائن ج ٣ ص ١٧٣)
مرزا قادیانی کے ان اقوال سے قارئین پر واضح ہو گیا ہے کہ امام محمد بن اسماعیل بخاریؒ کا مرتبہ کس قدر بلند ہے۔
اب ہم امام بخاریؒ کی تصریحات در بارہ حیات عیسیٰ ؑ پیش کرتے ہیں۔
- ١...... ”عن عبداللہ بن سلام قال یدفن عیسیٰ بن مریم مع رسول اللہ ﷺ
وصاحبیہ فیکون قبرہ رابعاً۔“
(اخرجہ البخاری فی تاریخہ درمنثور ج ٢ ص ٢٤٥ الاشاعۃ لاشراط الساعۃ البرزنجی ص ٣٠٥)
”امام بخاریؒ نے اپنی کتاب تاریخ میں حضرت عبداللہ بن سلام صحابی سے ایک
روایت درج کی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پہلوئے رسول کریم ﷺ اور آپ ﷺ کے دونوں صحابی (حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ) کے ہمراہ دفن کیے جائیں گے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر (حجرہ مبارکہ میں) چوتھی قبر ہوگی۔‘‘
کس قدر صاف فیصلہ ہے اگر امام بخاری حیاتِ عیسیٰ علیہ السلام کے قائل نہ ہوتے۔ تو وہ نعوذ باللہ ایسی ”مشرکانہ“ روایت کو اپنی تاریخ میں درج کر سکتے تھے؟ مفصل بحث اس روایت کی آئندہ ملاحظہ کریں۔
- ٢...... امام بخاریؒ نے حضرت ابوہریرہؓ سے یہ مرفوع حدیث روایت کی ہے۔
”قال رسول اللہ ﷺ والذی نفسی بیدہ لیوشکن ان ینزل فیکم ابن مریم“...... (الحدیث بخاری ج ١ ص ٤٩٠ باب نزول عیسیٰ علیہ السلام) مفصل بحث حدیث نمبر ١ پر بیان ہو چکی اس حدیث میں صاف صاف الفاظ میں حضرت ابن مریم علیہ السلام کے نازل ہونے کا اعلان ہے۔
- ٣...... امام بخاریؒ نے ایک مرفوع حدیث روایت کی ہے جو یہ ہے۔ ”کیف انتم اذا
نزل ابن مریم فیکم و امامکم منکم.“
اس میں حضرت مسیح ابن مریم کے نازل ہونے کا اعلان کیا جا رہا ہے۔ یہ دونوں حدیثیں امام بخاریؒ نے اس طریقہ سے ذکر کی ہیں کہ قادیانی جیسے محرفین کا ناطقہ بند کرنے میں کمال کر دیا ہے۔ امام موصوف نے بخاری شریف میں کتاب الانبیاء کی ذیل میں بہت سے انبیاء علیہم السلام کا ذکر کیا ہے۔ اسی ذیل میں انھوں نے حضرت عیسیٰ ابن مریم کے حالات بھی لکھے ہیں۔ انھیں کے حالات لکھتے لکھتے امام بخاریؒ نے یہ دونوں مرفوع حدیثیں روایت کی ہیں۔ جن میں حضرت عیسیٰ ابن مریم کے نازل ہونے کا ذکر ہے۔ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام امام بخاری کے نزدیک فوت شدہ ہوتے تو وہ ان کے نزول کی حدیثوں کو کس طرح اپنی صحیح میں درج کرتے اور پھر لطف یہ کہ تمام حالات اسی ابن مریم کے لکھے ہیں جو قرآن کریم میں مذکور ہے۔ پھر کس طرح ان دونوں حدیثوں میں بیان کردہ ابن مریم سے مراد غلام احمد ابن چراغ بی بی قادیانی لیا جا سکتا ہے؟
چیلنج مرزا قادیانی نے امام بخاری پر کئی جگہ افتراء اور اتہامات لگائے ہیں کہ وہ بھی وفاتِ مسیح کے قائل تھے۔ ہم بانگ دہل اعلان کرتے ہیں کہ یہ محض دجل وفریب اور افتراء ہے۔ اس میں ذرہ بھر بھی صداقت نہیں ہے۔ اگر قادیانیوں کو اس کے خلاف شرح صدر
حاصل ہو تو کسی غیر جانب دار جج کے سامنے اپنے دعوٰی کو ثابت کر کے انعام حاصل کریں۔
٨۔ امام مسلمؒ کا عقیدہ
مرزا غلام احمد قادیانی، قرآن کریم اور بخاری شریف کے بعد مسلم شریف کو تیسرے درجے پر تسلیم کرتے ہیں۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں۔
- ١...... ”بحث میں صحیحین (بخاری و مسلم) کو تمام کتب حدیث پر مقدم رکھا جائے اور بخاری
کو مسلم پر۔ کیونکہ وہ اصح الکتب بعد کتاب اللہ ہے۔“
(تبلیغ رسالت ج ٢ ص ٢٥ مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٣٥)
- ٢...... ”میرے پر یہ بہتان ہے کہ گویا میں صحیحین کا منکر ہوں...... اگر میں بخاری اور مسلم
کی صحت کا قائل نہ ہوتا۔ تو میں اپنے تائید دعوٰی میں کیوں بار بار ان کو پیش کرتا۔“
(ازالہ اوہام ص ٨٨٣ خزائن ج ٣ ص ٥٨٢)
امام مسلم اس مرتبے کا امام ہے کہ ان کی کتاب صحیح مسلم کو مرزا قادیانی اپنے ہی تسلیم کردہ مجددین امت کی کتابوں مثلاً مسند احمد، سنن بیہقی، سنن نسائی، مستدرک حاکم، طبقات ابن سعد اور مسند شافعی پر فضیلت اور ترجیح دے رہے ہیں۔ اب ہم امام مسلم جیسی بزرگ ہستی سے حیات عیسٰیؑ کا ثبوت پیش کرتے ہیں۔ چار روایات صحیح مسلم سے حیات و نزول مسیح کی پہلے درج ہو چکی ہیں۔
نوٹ: ہم امام مسلم کی پیش کردہ احادیث کا مطلب خود مرزا قادیانی کے اپنے الفاظ میں پیش کرنے کا فخر حاصل کرتے ہیں۔
- ١...... ”صحیح مسلم کی حدیث میں جو یہ لفظ موجود ہے کہ حضرت مسیحؑ جب آسمان سے
اتریں گے تو ان کا لباس زرد رنگ کا ہوگا۔“
(ازالہ اوہام ص ٨١ خزائن ج ٣ ص ١٤٢)
- ٢...... ”آنحضرت ﷺ نے فرمایا تھا کہ مسیح آسمان پر سے جب اترے گا تو زرد چادریں
اس نے پہنی ہوں گی۔“
(قادیانی رسالہ تشحیذ الاذہان جون ١٩٠٦ء ص ٥۔ قادیانی اخبار بدر قادیان ٧ جون ١٩٠٦ء ص ٥)
قارئین لطف پر لطف یہ ہے کہ لوگوں کو دھوکا دینے کے لیے مسلم شریف کی عظمت کا گیت بھی گائے جاتے ہیں اور ان کی پیش کردہ احادیث کو ضعیف اور مشرکانہ بھی بتلائے جاتے ہیں۔ فاعتبروا یا اولی الابصار۔
٩۔ حافظ ابو نعیمؒ کا عقیدہ
عظمت شان حافظ ابو نعیم صاحبؒ چوتھی صدی کے مجدد و امام الزمان تھے۔“
(دیکھو قادیانی کتاب عسل مصفیٰ جلد اوّل ص ١٦٣)
مجدد و امام الزمان کی شان آپ قادیانی کے الفاظ میں پڑھ چکے ہیں۔ اب ہم حافظ ابو نعیمؒ کی تحریر سے حیات عیسیٰ علیہ السلام کا ثبوت پیش کرتے ہیں۔
- ١....... قال رسول اللہ ﷺ ینزل عیسیٰ ابن مریم فیقول امیرہم المہدی تعال
صلی بنا فیقول الا ان بعضکم علی بعض امراء تکرمۃ اللہ لہذہ الامۃ.“
(رواہ ابو نعیم الحاوی للفتاویٰ ج ٢ ص ٦٢ الفتاویٰ الحدیثیہ ص ٣٢ باب فی ظہور المہدی) (ترجمہ)
”فرمایا رسول اللہ ﷺ نے حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام اتریں گے۔ پس مسلمانوں کے امیر یعنی امام مہدی کہیں گے آئیے نماز پڑھائیے پس حضرت عیسیٰ کہیں گے نہ۔ تحقیق تم میں سے بعض بعض پر امیر ہیں اور یہ اس امت کی بزرگی ہے۔“
- ٢....... ”قال رسول اللہ ﷺ ولن تھلک امۃ انا فی اولھا و عیسیٰ فی آخرھا
والمھدی فی اوسطھا.“
(کنز العمال ج ١٤ ص ٢٦٦ حدیث نمبر ٣٨٦٧١)
(رواہ ابو نعیم فی اخبار المہدی (بحوالہ عسل مصفیٰ ج ٢ ص ٩٤)
”اور فرمایا رسول اللہ ﷺ نے وہ امت ہرگز ہلاک نہیں ہوگی۔ جس کے شروع میں میں ہوں اور اس کے آخر میں عیسیٰ ابن مریم ہے اور ہم دونوں کے درمیان امام مہدی ہے۔“
- ٣....... حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں ”کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہو کر شادی کریں گے
اور صاحب اولاد ہوں گے۔ آپ کی شادی قوم شعیب میں ہوگی جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے سسرال ہیں۔ ان کو بنی جزام کہتے ہیں۔“
(رواہ ابو نعیم فی کتاب الفتن)
ناظرین غور کیجئے! کہ چوتھی صدی کے مجدد و امام کیسے صاف صاف الفاظ میں حیات عیسیٰ علیہ السلام کا ثبوت دے رہے ہیں۔
١٠۔ امام بیہقیؒ کا عقیدہ
عظمت شان قادیانیوں کے نزدیک امام بیہقی بھی چوتھی صدی کے مجدد زمان تھے۔
(دیکھو عسل مصفیٰ جلد اوّل ص ١٦٣۔١٦٥)
امام موصوف فرماتے ہیں۔
- ١...... قال رسول اللہ ﷺ یلبث فیکم ماشاء اللہ ثم ینزل عیسیٰ ابن مریم مصدقاً
بمحمد علی ملته فیقتل الدجال، رواہ البیہقی فی شعب الایمان۔
(کنزالعمال ج ١٤ص ٣٢١ حدیث نمبر ٣٨٨٠٨)
”فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ رہے گا دجال تمھارے درمیان جس قدر چاہے گا اللہ تعالیٰ پھر اترے گا عیسیٰ ابن مریم تصدیق کرتا ہوا محمد ﷺ کی اور اس کے دین کی۔
- ٢...... امام موصوف نے رسول کریم ﷺ کی ایک حدیث روایت کی ہے جس میں حضرت
عیسیٰ ؑ کا حیات جسمانی صاف صاف الفاظ میں مذکور ہے پہلے بیان ہوچکی ہیں دیکھئے۔
- ٣...... ایک اور حدیث میں امام موصوف نے حضرت عیسیٰ ؑ کے آسمان سے نازل
ہونے کا اعلان کر کے قادیانیوں کی تمام تاویلات کو بیکار کر دیا ہے۔ مفصل بیان ہوچکی ہے۔
١١۔ امام حاکم نیشاپوریؒ کا عقیدہ
عظمت شان قادیانیوں نے امام حاکم کو بھی چوتھی صدی کا مجدد زمان تسلیم کر لیا ہے۔
(دیکھو عسل مصفیٰ جلد اوّل ص ١٦٣۔ ١٦٥)
امام حاکم کی روایات دربارۂ حیات عیسیٰ ؑ
- ١...... دیکھو حاکم کی تین روایات جو پہلے بیان ہوچکی ہیں۔
- ٢...... حافظ نعیم کی دوسری روایت۔ یہ روایت حاکم میں بھی موجود ہے۔
- ٣...... دیکھو امام موصوف کی بیان کردہ ایک حدیث پہلے درج ہے۔ اس میں حضرت
عیسیٰ ؑ کی حیات جسمانی روز روشن کی طرح بیان کی جارہی ہے۔
- ٤...... امام موصوف کی روایت کردہ ایک حدیث درج ہے۔ جو حیات عیسیٰ ؑ کا اعلان
کر رہی ہے۔
- ٥...... عن ابن عباس قال قال رسول اللہ ﷺ وان من اھل الکتاب الا لیؤمنن به
قبل موتہ قال خروج عیسیٰ ؑ ۔“
(رواہ الحاکم فی المستدرک ج ٢ ص ٣٣ حدیث نمبر ٣٢٦٠)
”ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول کریم ﷺ نے اور نہیں ہوگا کوئی اہلِ کتاب میں سے مگر ضرور ایمان لائے گا۔ حضرت عیسیٰ ؑ پر ان کی موت سے پہلے فرمایا ابن عباس نے کہ مراد اس سے عیسیٰ ؑ کا آنا ہے۔“
- ٦...... ”عن انس قال قال رسول اللہ ﷺ من ادرک منکم عیسیٰ ابن مریم
فلیقراء منی السلام۔“
(رواہ الحاکم ج ٥ ص ٥٥٥ حدیث نمبر ٨٦٧٩ و صححہ)
”حضرت انسؓ
روایت کرتے ہیں کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے جو شخص تم میں سے پائے حضرت ابن مریم ؑ کو پس ضرور انھیں میرا سلام پہنچائے۔“ پس ان روایات سے ثابت ہوا کہ حضرت عیسیٰ ؑ فوت نہیں ہوئے۔
١٢۔ امام غزالیؒ کا عقیدہ
عظمت شان قادیانیوں کے نزدیک یہ بزرگ امام صدی پنجم کے مجدد و امام الزمان تھے۔
(دیکھو عسل مصفیٰ ج اول ص ١٦٤)
ناظرین! میں کوہاٹ جیسے دور افتادہ شہر میں پڑا ہوا ہوں۔ جس قدر کتابیں ان کی میرے پاس ہیں۔ ان میں امام موصوف نے وفاتِ مسیح ؑ کا کہیں ذکر نہیں کیا۔ علماء اسلام کے دعویٰ حیاتِ عیسیٰ ؑ کے سامنے ان کا اس طرح خاموش ہو جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ بھی حیات عیسیٰ ؑ کے قائل تھے۔ اگر قادیانی امام موصوف کی کسی کتاب سے حیات عیسیٰ ؑ کے خلاف ایک فقرہ بھی دکھائیں تو منہ مانگا انعام لیں۔
١٣۔ امام فخر الدین رازیؒ کا عقیدہ
عظمت شان امام موصوف قادیانیوں کے نزدیک چھٹی صدی کے مجدد تھے۔
(دیکھو عسل مصفیٰ ج اول ص ١٦٤)
امام موصوف کے اقوال دربارہ ثبوت حیات عیسیٰ ؑ
ناظرین! مجددین امت مسلمہ قادیانی جماعت میں سے امام موصوف وہ بزرگ ہیں۔ جنھوں نے حیات عیسیٰ ؑ پر غالباً سب سے زیادہ زور دیا ہے۔ مفصل دیکھنا ہو تو وہ ملاحظہ کریں جو تفسیری حوالہ تفسیر کبیر سے پہلے نقل ہو چکے ہیں۔
- ٢....... امام موصوف نے انی متوفیک الآیہ کی تفسیر کرتے ہوئے توفی کے معنی اور تفسیر
کر کے آٹھ سو سال بعد آنے والے قادیانی فتنہ کا ناطقہ بند کر دیا ہے۔ فجزاہ اللہ احسن الجزا وہ مضمون قابل دید ہے۔
- ٣....... امام موصوف کی ایک عبارت پہلے درج ہے۔ جس میں انھوں نے توفی کے معنی
”موت دینے“ کے سمجھ کر بھی عجیب پیرایہ سے حیات عیسیٰ ؑ پر استدلال کیا ہے۔
- ٤....... امام موصوف اپنی تفسیر کبیر ج ١١ ص ١٠٣ میں زیر آیت ”بل رفعہ اللہ الیہ“ فرماتے
ہیں۔ ”رفع عیسیٰ الی السماء ثابت بھذہ الآیۃ“ یعنی عیسیٰ ؑ کا آسمان پر اٹھایا جانا
اس آیت سے بھی ثابت ہے۔“
- ٥...... امام موصوف کا پہلے قول درج ہے۔ جس میں آپ ”وکان اللہ عزیزاً حکیماً“
کی فصاحت و بلاغت بیان کرتے ہوئے حیاتِ عیسیٰ علیہ السلام علی السماء کا ثبوت دے رہے ہیں۔ (ایضاً)
- ٦...... پہلے ہم نے امام موصوف کی تفسیر سے ایک قول نقل کیا ہے۔ جہاں وہ عجیب پیرایہ
سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات ثابت کرنے میں فرماتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام قیامت سے پہلے نازل ہوں گے۔ گویا ان کا نازل ہونا قیامت کے قرب کی نشانی ہوگی۔
- ٧...... ایک دوسری عبارت اسی مضمون کی ملاحظہ فرمائیں۔
- ٨...... حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع جسمانی کا ثبوت پیش کر رہے ہیں۔
- ٩...... پر بھی ان کا ایک مضمون قابل دید ہے۔
- ١٠...... روی انه عليه الصلوة والسلام لما اظهر هذه المعجزات العجيبة قصد
اليهود قتله فخلصه الله منهم حيث رفعه الى السماء (تفسیر کبیر) ”روایت ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے جب عجیب وغریب معجزات دکھائے تو یہود نے ان کے قتل کا ارادہ کیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو یہود سے خلاصی دی اس طرح کہ انھیں آسمان پر اٹھا لیا۔“
- ١١...... امام صاحب ولا کن شبہ کی بحث کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔
أَنْ يُسْنَدَ إِلَى ضَمِيْرِ الْمَقْتُوْلِ لِأَنَّهُ قَوْلُهُ وَمَا قَتَلُوْهُ وَمَا صَلَبُوْهُ يَدُلُّ عَلَى أَنَّهُ وَقَعَ الْقَتْلُ عَلَى غَيْرِهِ فَصَارَ ذَالِكَ الْغَيْرُ مَذْكُوْرًا بِهَذَا الْطَّرِيْقِ فَحَسُنَ إِسْنَادُ شُبِّهَ إِلَيْهِ. (تفسیر کبیر ج ١١ ص ٩٩) ”یعنی یہ فعل شُبِّہَ مسند ہے طرف ضمیر کی جو مقتول کی طرف پھرتی ہے کیونکہ قول وَمَا قَتَلُوْهُ وَمَا صَلَبُوْهُ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ کسی اور شخص پر قتل واقع ہوا۔ پس اس طریق سے وہ مقتول مذکور ہوا اور شُبِّہَ کی اسناد اس کی طرف صحیح ہوگئی۔“
- ١٢...... ”کان (جبرائیل) يسير معه حيث سار وكان معه حين صعد الى السماء“
(تفسیر کبیر زیر آیت و ایدناہ) ”اور جبرائیل علیہ السلام جاتا تھا جہاں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جاتے تھے اور جبرائیل ان کے ہمراہ تھا جبکہ وہ آسمان پر چڑھ گئے۔“
١٤۔ امام حافظ ابن کثیرؒ کا عقیدہ
عظمت شان......١ قادیانی جماعت کے نزدیک حافظ موصوف بھی چھٹی صدی میں
اصلاح خلق کے لیے مجدد و امام الزمان کی حیثیت سے مبعوث ہوئے تھے۔
(دیکھو عسل مصفیٰ جلد اول ص ١٦٤)
- ٢...... ”حافظ ابن کثیر ان اکابر محققین میں سے ہیں۔ جن کی آنکھوں کو خدا تعالیٰ نے نور
معرفت عطا کیا تھا۔“
(آئینہ کمالات اسلام طبع لاہور ص ١٥٨)
- ١...... ہم نے تفسیر ابن کثیر جلد ٣ کی عبارت نقل کی ہے جو حیات عیسیٰ علیہ السلام کے ثبوت میں
فیصلہ کن ہے۔
- ٢...... ہم نے ایک عبارت امام موصوف کی تفسیر سے نقل کی ہے۔ جس میں دلائل سے
حیات عیسیٰ علیہ السلام ثابت کرنے کے بعد آپ نے حیات عیسیٰ علیہ السلام پر صحابہ کرامؓ اور باقی امت کا اجماع ثابت کیا ہے۔ ذرا اس مضمون کو دوبارہ مطالعہ کر کے مجدد صدی ششم کے دلائل حیات عیسیٰ علیہ السلام کا لطف اٹھائیے۔
- ٣...... ہم نے ایک اور عبارت حافظ ابن کثیر کی نقل کی ہے۔ جس میں آپ آیت کریمہ
وَ اِذْ كَفَفْتُ بَنِىْ اِسْرَآئِيْلَ عَنْكَ الآیة کی تفسیر کرتے ہوئے حیات عیسیٰ علیہ السلام و رفع جسمانی کا بڑے زور دار الفاظ میں اعلان کر رہے ہیں۔
- ٤...... انه لعلم للساعة کا امام موصوف کا اعلان قابل دید ہے۔
- ٥...... امام ابن کثیرؒ نے اپنی تفسیر میں ایک صحیح حدیث روایت کی ہے۔ جس سے بڑھ کر
کوئی دلیل زیادہ وزنی متصور نہیں۔ حدیث یہ ہے۔
عن الحسن البصرى قال قال رسول الله ﷺ لليهود ان عيسى لم يمت وانه راجع اليكم قبل يوم القيامة (ابن کثیر ج ١ ص ٣٦٦) ”امام حسن بصری فرماتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا یہود کو کہ تحقیق عیسیٰ علیہ السلام ہرگز نہیں مرے اور یقیناً وہ قیامت سے پہلے تمہاری طرف واپس آئیں گے۔“
نوٹ....... اس حدیث کی مفصل بحث پہلے گزر چکی ملاحظہ کریں۔
- ٦....... اس قسم کی ایک اور حدیث جو حیات عیسیٰ علیہ السلام کا اعلان کر رہی ہے اور جس کو امام
ابن کثیرؒ نے روایت کیا ہے احادیث کی بحث میں ملاحظہ کریں۔
- ٧....... امام ابن کثیر مجدد صدی ششم قادیانیوں کے محدث و مفسر اعظم ابن جریر
(آئینہ کمالات طبع لاہور ص ١٥٨ و چشمہ معرفت ص ٢٥٠ خزائن ج ٢٣ ص ٢٦١ حاشیہ) کا قول نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔
ثم قال ابن جریر و اولی هذه الاقوال بالصحة القول الاول وهو انه لا
يبقى احد من اهل الكتاب بعد نزول عيسى عليه السلام الا امن به قبل موته اى قبل موت عيسى عليه السلام ولاشک ان هذا الذى قاله ابن جرير هو الصحيح لانه المقصود من سياق الآية في تقرير بطلان ما ادعت اليهود من قتل عيسى او صلبه و تسليم من سلم اليهم من النصارى الجهلة ذالک فاخبر الله انه لم يكن الامر كذالک و انما شبه لهم فقتلوا الشبه وهم لا يتبينون ذالک ثم انه رفعه اليه وانه باق حى و انه سينزل قبل يوم القيامة كما دلت عليه الاحاديث المتواترة التي سنوردها ان شاء الله قريبا فيقتل مسيح الضلالة...... ولهذا قال و ان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته اى قبل موت عيسى الذى زعم اليهود ومن وافقهم من النصارى انه قتل و صلب و يوم القيامة يكون عليهم شهيدا اى باعمالهم التي شاهدها منهم قبل رفعه الى السماء و بعد نزوله الى الارض. (تفسیر ابن کثیر ج ١ ص ٥٧٧) ”ابن جریر کہتا ہے کہ صحت کے لحاظ سے ان سب اقوال سے اوّل درجہ یہ قول ہے کہ اہل کتاب میں سے عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے بعد کوئی ایسا نہیں ہوگا جو کہ عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان نہ لے آئے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ابن جریر کا یہ قول بالکل صحیح ہے...... تحقیق ان کے لیے عیسیٰ علیہ السلام کی شبیہ بنا دی گئی اور انھوں نے (٣) اس شبیہ کو قتل کیا...... پھر اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھا لیا اور بیشک وہ ابھی تک زندہ ہے اور قیامت سے پہلے نازل ہوگا جیسا کہ احادیث متواترہ اس پر دلالت کرتی ہیں...... اور قیامت کے دن وہ شہادت دیں گے ان کے ان اعمال کی جن کو عیسیٰ علیہ السلام نے آسمان پر چڑھ جانے سے پہلے اور زمین پر اترنے کے بعد دیکھا۔“
١٥۔ امام عبدالرحمن ابن جوزیؒ کا عقیدہ
عظمتِ شان قادیانیوں کے نزدیک امام ابن جوزی بھی چھٹی صدی ہجری میں اصلاحِ عقائد و تجدید دین کے لیے مبعوث ہوئے تھے۔ (دیکھو عسل مصفیٰ جلد اول ص ١٦٤) امام ابن جوزی نے قادیانیوں کے عقیدہ کا ستیاناس کر دیا ہے۔ آپ نے ایک حدیث نبوی بیان کی ہے جو درج ذیل ہے۔
”عن عبدالله بن عمرؓ قال قال رسول الله ﷺ ينزل عيسى ابن مريم الى الارض فيتزوج و يولد له ويملک خمساً و اربعين سنة ثم يموت فيدفن
معی فی قبری فاقوم انا و عیسیٰ ابن مریم فی قبر واحد بین ابوبکر و عمر۔“
(رواہ ابن جوزی فی کتاب الوفا مشکوٰۃ ص ٤٨٠ باب نزول عیسیٰ ؑ)
- عظمت حدیث......١ مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی مندرجہ ذیل کتب میں اس
حدیث کو صحیح تسلیم کیا ہے۔ (ضمیمہ آتھم ص ٥٣ خزائن ج ١١ ص ٣٢٧۔ کشتی نوح ص ١٥ خزائن ج ١٩ ص ١٦۔ نزول المسیح ص ٤٧ خزائن ج ١٨ ص ٤٢٥۔ حقیقۃ الوحی ص ٢٧٠ خزائن ج ٢٢ ص ٤٢٠۔ ضمیمہ حقیقۃ الوحی حاشیہ ص ٥١ خزائن ج ٢٢ ص ٦٧٤۔ نزول المسیح ص ٤ خزائن ج ١٨ ص ٣٨١)
- ٢...... مرزا محمود خلیفہ قادیانی نے بھی اس کی صحت کو تسلیم کر لیا ہے۔ (دیکھو انوار خلافت ص ٥٠)
- ٣...... مرزا خدا بخش مرزائی نے قادیانیوں کی شہرہ آفاق کتاب عسل مصفیٰ میں نہ صرف
اس کی صحت کو ہی تسلیم کیا ہے بلکہ عسل بمعنی شہد لے کر اس حدیث کو مرزا قادیانی پر چسپاں کرنے کی سعی کی ہے۔ یعنی محمدی بیگم کے نکاح پر لگایا ہے لیکن خدا نے انھیں اس میں بھی ناکام رکھا۔ محمدی بیگم نکاح میں نہ آئی۔ ہم اس حدیث کا ترجمہ قادیانی کے اپنے الفاظ میں بیان کرتے ہیں۔
ترجمہ حدیث ”یعنی ابن جوزی نے عبداللہ بن عمرؓ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ عیسیٰ ابن مریم ایک خاص زمین میں نازل ہوں گے۔ پھر وہ نکاح بھی کریں گے اور ان کے لڑکے بالے بھی ہوں گے اور ٤٥ برس تک ٹھہریں گے (یملک کا یہ ترجمہ قادیانی ایجاد ہے۔ یملک کے معنی ہیں بادشاہی کریں گے) پھر فوت ہوں گے اور پھر میری قبر میں دفن ہوں گے۔ پھر میں اور عیسیٰ ابن مریم ایک ہی قبر سے جو ابوبکرؓ اور عمرؓ کے درمیان ہے کھڑے ہوں گے۔“
(عسل مصفیٰ ج دوم ص ٤٤٠ و ص ٤٤١)
میں نے چھٹی صدی ہجری کے مجدد و امام کی روایت سے قادیانیوں کے اپنے الفاظ میں حدیث نبوی پیش کر دی ہے۔ اگر نجات مطلوب ہو تو ضرور تسلیم کر لیں گے۔ نوٹ......تفصیل اس حدیث کی گزر چکی ملاحظہ فرمائیں۔
١٦۔ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کا عقیدہ
عظمت شان قادیانیوں نے آپ کو بھی چھٹی صدی ہجری کا مجدد تسلیم کر لیا ہے۔
- ١...... دیکھو عسل مصفیٰ جلد اوّل ص ١٦٤۔
- ٢...... دیکھو براہین احمدیہ حاشیہ نمبر ٢ ص ٥٤٦ خزائن ج ١ ص ٦٥٢۔
- ٣...... دیکھو کتاب البریہ ص ٧٤ خزائن ج ١٣ ص ٩١۔
- ٤....... دیکھو حجیۃ النبوۃ ص ٢٠١۔
حضرت شیخ قدس سرہ العزیز اپنی مشہور کتاب غنیۃ الطالبین ج ٢ ص ٥٥ میں فرماتے ہیں۔ ”والتاسع رفعه الله عزوجل عیسیٰ ابن مریم الی السماء“
(بحوالہ استدلال الحق فی حیات المسیح ص ٧٢)
”اور نویں بات یہ کہ اٹھا لیا اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ ابن مریم کو آسمان کی طرف۔“ ناظرین! کروڑ ہا مسلمانانِ عالم کے پیر و مرشد اور قادیانیوں کے تسلیم کردہ امام الزمان حیاتِ عیسیٰ ؑ کا عقیدہ کیسے صاف صاف الفاظ میں بیان فرما رہے ہیں۔ اب بھی کوئی نہ سمجھے تو ان سے خدا سمجھے۔
١٧۔ امام ابن جریرؒ کا عقیدہ
- عظمت شان.......١ ”ابن جریر رئیس المفسرین ہیں۔“
(قول مرزا، آئینہ کمالات ص ١٦٨ خزائن ج ٥ ص ایضاً)
- ٢....... ”ابن جریر نہایت معتبر اور آئمہ حدیث میں سے ہے۔“
(قول مرزا، چشمہ معرفت ص ٢٥٠ خزائن ج ٢٣ ص ٢٦١ حاشیہ)
- ٣....... امام جلال الدین سیوطیؒ قادیانی جماعت کے مسلم امام ومجدد امام جریرؒ کی شان میں
فرماتے ہیں۔ ”اجمع العلماء المعتبرون علی انه لم یؤلف فی التفسیر مثله.“
(اتقان ج ٢ ص ٣٢٥ مؤلفہ سیوطیؒ)
قارئین! ہم آپ کے سامنے اس شان کے امام و محدث و مفسر کی کلام پیش کرتے ہیں۔
- ١....... ہم امام ابنِ جریر کی روایت سے حدیث معراج درج کر آئے ہیں۔ جس میں
حضرت عیسیٰ ؑ آسمان سے زمین پر اتر کر دجال کو قتل کرنے کا اعلان کر رہے ہیں۔
- ٢....... ہم قادیانیوں کے امام و مجدد صدی ہشتم حافظ ابن حجر عسقلانی کے حوالہ سے ابن
جریر کی روایت درج کر آئے ہیں۔ جس میں انھوں نے حضرت عبداللہ بن عباس کا عقیدہ حیاتِ عیسیٰ ؑ بیان کیا ہے۔
- ٣....... ہم امام جریر کی ایک روایت سے ایک حدیث درج کر آئے ہیں۔ جس میں رسول
کریم ﷺ یہود کو فرماتے ہیں۔ ان عیسیٰ لم یمت یعنی عیسیٰ ؑ ”بے شک فوت نہیں ہوئے۔“ وانه راجع الیکم قبل یوم القيامة ”اور تحقیق وہ ضرور تمہاری طرف قیامت سے پہلے پہلے واپس آئیں گے۔“ مفصل بحث اس حدیث کی بحث میں دیکھیں۔
- ٤...... ہم بحوالہ درمنثور مصنفہ امام جلال الدین سیوطی امام ابن جریر کی روایت سے ایک
حدیث درج کر آئے ہیں۔ جس میں رسول کریم ﷺ نصاریٰ کو فرماتے ہیں۔ ”الستم تعلمون ان ربنا حى لايموت یعنی کیا تم نہیں جانتے کہ ہمارا رب زندہ ہے وہ نہیں مرے گا ۔“ وان عيسىٰ يأتی عليه الفناء اور تحقیق عیسیٰ علیہ السلام ضرور فوت ہوں گے ۔“ نصاریٰ نے تصدیق کی اور کہا بلیٰ یعنی کیوں نہیں۔
- ٥...... وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن الخ کی بحث میں امام موصوف فرماتے ہیں۔
اما الذى قال ليؤمنن بمحمد قبل موت الكتابى مما لا وجه له لانه اشد فسادا مما قيل ليؤمنن قبل موت الكتابى لانه خلاف السياق والحديث فلا يقوم حجة بمحض الخيال فالمعنى ليؤمنن بعيسىٰ قبل موت عيسىٰ۔“
(ابن جریر ج ٦ ص ٢٣ ملخص)
”اور جو کہتا کہ لیؤمنن بہ قبل موتہ کے معنی ہیں اہل الکتاب اپنی موت سے پہلے محمد ﷺ پر ایمان لے آتا ہے یہ بالکل بلا دلیل ہے کیونکہ ”کتابی کی موت سے پہلے“ معنی کرنے سے سخت فساد لازم آتا ہے۔ کیونکہ یہ معنی کلام اللہ اور حدیث نبوی کے خلاف ہیں۔ پس محض خیالی باتوں سے دلیل قائم نہیں ہوا کرتی۔ معنی لیؤمنن بہ قبل موتہ کے یہ ہیں کہ اہل کتاب حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے پہلے ضرور ان کی رسالت کو قبول کر لیں گے۔“
ناظرین فرمائیے! اس سے بڑھ کر دلیل آپ کے سامنے اور کیا بیان کروں کہ قادیانیوں کی تصدیق در تصدیق ثم در تصدیق سے حیاتِ عیسیٰ علیہ السلام کا ثبوت دیتا جا رہا ہوں۔ فالحمد للّٰه رب العالمین۔
- ٦...... امام ابن کثیرؒ مجدد صدی ششم کی تفسیر سے امام ابن جریر کا ایک قول نقل کر آئے
ہیں۔ جس میں دونوں امام پر زور الفاظ اور دلائل سے حیاتِ عیسیٰ علیہ السلام کا ثبوت دے رہے ہیں۔ قابل دید ہے۔
- ٧...... امام ابن جریر اپنی تفسیر میں فرماتے ہیں۔
”واولى هذا الا قوال بالصحة عندنا قول من قال معنى ذالك انی قابضك من الارض و رافعك الیٰ لتواتر الاخبار عن رسول اللّٰه ﷺ الخ
(تفسیر طبری ج ٣ ص ٢٩١) ”(انی متوفیک الخ کے متعلق) اقوال مفسرین میں سے ہمارے نزدیک یہ سب سے اچھا ہے کہ اس (متوفیک) کے معنی یہ ہیں“ میں (اے
عیسیٰ ؑ تجھے زمین سے اپنے قبضہ میں لینے والا ہوں اور تجھے اپنی طرف اٹھانے والا ہوں۔ کیونکہ اس بارہ میں رسول کریم ﷺ کی احادیث تواتر تک پہنچی ہوئی ہیں‘ کہ حضرت عیسیٰ ؑ آسمان سے نازل ہو کر دجال کو قتل کریں گے۔ ٤٠۔٤٥ سال تک دنیا میں رہ کر فوت ہوں گے۔
٨....... امام ابن جریر اپنی تفسیر میں انی متوفیک کی بحث میں حضرت ابن جریج رومیؒ کا قول اپنی تصدیق میں اس طرح پیش کرتے ہیں۔ ”عن ابن جریج قولہ انی متوفیک و رافعک الی و مطھرک من الذین کفروا قال فرفعہ ایاہ الیہ توفیہ ایاہ و تطھیرہ من الذین کفروا.“ (تفسیر طبری ج ٣ ص ٢٩٠) ”حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ ؑ کی توفی سے مراد ان کا رفع جسمانی اور کفار سے علیحدگی ہے۔
٩....... پھر امام موصوف اپنی تفسیر میں فرماتے ہیں اور حضرت ابن عباسؓ کا عقیدہ حیات مسیح دلائل سے ثابت کرتے ہوئے ایک روایت درج کرتے ہیں۔ وہ روایت ذیل میں درج ہے۔ ”عن سعید ابن جبیر عن ابن عباس و ان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ قال قبل موت عیسیٰ.“ (تفسیر طبری ج ٦ ص ١٨) ”حضرت سعید بن جبیر تابعی حضرت ابن عباسؓ سے روایت کرتے ہیں کہ فرمایا آپ نے وان من اہل الکتاب الخ کے معنی ہیں ”کہ حضرت عیسیٰ ؑ کی موت سے پہلے اہل کتاب ان پر ایمان لے آئیں گے۔“
١٠....... حضرت امام ابن جریرؒ نے حضرت کعب سے یہ روایت نقل کی ہے۔ ”عن کعب قال لما رای عیسیٰ قلة من اتبعہ و کثرة من کذبہ شکی الی اللہ فاوحی اللہ الیہ انی متوفیک ورافعک الی وانی سابعثک علی الاعور الدجال فتقتلہ“ (رواہ ابن جریر تفسیر طبری ج ٣ ص ٢٩٠) ”حضرت کعب فرماتے ہیں کہ جب حضرت عیسیٰ ؑ نے اپنی امت کی قلت اور منکرین کی کثرت کو دیکھا تو اللہ تعالیٰ کے دربار میں شکایت کی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف یہ وحی کی کہ اے عیسیٰ ؑ میں تجھے اپنے قبضہ میں لینے والا ہوں اور اپنی طرف اٹھانے والا ہوں اور یقیناً تجھے دجال کانے کے خلاف بھیجوں گا اور تو اسے قتل کرے گا۔“ تلک عشرة کاملة.
حضرات ہم بخوف طوالت امام موصوف کی صرف دس روایات پر ہی اکتفا کرتے ہیں۔ ورنہ آپ کی تفسیر میں بے شمار اقوال حیاتِ عیسیٰ ؑ کے ثبوت میں درج ہیں۔
١٨۔ حضرت امام ابن تیمیہ حنبلیؒ کا عقیدہ
عظمت شان.......! حضرت امام ابن تیمیہؒ کو قادیانی جماعت نے ساتویں صدی
ہجری کا مجدد و امام تسلیم کر لیا ہے۔
(دیکھو عسل مصفی ج اوّل ص ١٦٤)
- ٢...... مرزا غلام احمد قادیانی خود حضرت امام ابن تیمیہؒ کے علو مرتبت کے قائل تھے۔ چنانچہ
مرزا قادیانی لکھتے ہیں۔ ”فاضل و محدث و مفسر ابن تیمیہ ...... جو اپنے وقت کے امام ہیں۔“
(کتاب البریہ حاشیہ ص ٢٠٣ خزائن ج ١٣ ص ٢٢١)
حضرات! مرزا قادیانی کی تحریرات سب کی سب کذب و افتراء سے بھری پڑی ہیں۔ چنانچہ میں نے ”کذبات مرزا“ کے نام سے ایک الگ رسالہ انعامی تین ہزار روپیہ تالیف کیا ہے۔ جس کا پہلا حصہ شائع ہو چکا ہے۔ اس میں مرزا قادیانی کی دو سو صریح کذب بیانیاں جمع کی گئی ہیں۔ آج حیات عیسیٰؑ کے سلسلہ میں مرزا قادیانی کا ایک ایسا جھوٹ درج کرتا ہوں کہ صرف یہی جھوٹ مرزا قادیانی کا غیر متعصب قادیانی کی توبہ کے لیے کافی محرک ثابت ہو گا۔ مرزا قادیانی اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ ”امام ابن تیمیہ حضرت عیسیٰؑ کی وفات کے قائل ہیں۔“ (کتاب البریہ ص ٢٠٣ حاشیہ خزائن ج ١٣ ص ٢٢١) اب میں ناظرین کے سامنے امام موصوف کی کلام پیش کرتا ہوں تاکہ مرزا قادیانی کے کذب و دجل کی قلعی خود بخود کھل جائے۔
- ١...... ”وكان الروم واليونان و غيرهم مشركين يعبدون هياكل العلوية
والاصنام الارضية فبعث المسيح رسله يدعونهم الى دين الله تعالى فذهب بعضهم فى حياته فى الارض و بعضهم بعد رفعه الى السماء فدعوهم الى دين الله۔“ (الجواب الصحیح جلد اوّل ص ١١٥۔١١٦) ”روم اور یونان وغیرہ میں اشکال علویہ و بتان ارضیہ کو پوجتے تھے۔ پس مسیحؑ نے اپنے نائب بھیجے جو ان کو دین الٰہی کی طرف دعوت دیتے تھے۔ پس بعض تو حضرت عیسیٰؑ کی زمینی زندگی میں گئے اور بعض حضرت عیسیٰؑ کے آسمان پر اٹھائے جانے کے بعد گئے۔ پس انھوں نے لوگوں کو خدا کے دین کی طرف دعوت دی۔“
- ٢...... وثبت ايضاً فى الصحیح عن النبی ﷺ انه قال ينزل عیسیٰ ابن مریم من
السماء على المنارة البيضاء شرقى دمشق (الجواب الصحیح جلد اوّل ص ١٧٧) ”اور صحیح میں یہ بھی ثابت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ حضرت عیسیٰ ابن مریمؑ آسمان سے دمشق کی جامع مسجد کے شرقی سفید منارہ پر اتریں گے۔“
- ٣...... والمسلمون واهل الكتاب متفقون على اثبات مسيحين مسيح هدى من
ولد داؤد و مسيح ضلال يقول اهل الكتاب انه من ولد يوسف و متفقون على ان مسيح الهدى سوف يأتى كما يأتى مسيح الضلالة لكن المسلمون و النصارى يقولون مسيح الهدى هو عيسى ابن مريم و ان الله ارسله ثم يأتى مرة ثانية لكن المسلمون يقولون انه ينزل قبل يوم القيامة فيقتل مسيح الضلالة و يكسر الصليب و يقتل الخنزير ولا يبقى دينا الا دين الاسلام و يؤمن به اهل الكتاب اليهود والنصارى كما قال تعالى (وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته والقول الصحيح الذى عليه الجمهور قبل موت المسيح وقال تعالى انه لعلم للساعة.“ (جواب الصحیح جلد اول ص ٤٢٩) ”مسلمان اور اہل کتاب یہود و نصاریٰ دو مسیحوں کے وجود پر متفق ہیں۔ مسیح ہدایت داؤد کی اولاد میں سے ہے اور اہل کتاب کے نزدیک مسیح الضلالت یوسف کی اولاد میں سے ہے اور اس بات پر بھی متفق ہیں کہ مسیح ہدایت عنقریب آئے گا جبکہ آئے گا مسیح الدجال، لیکن مسلمان اور نصاریٰ کہتے ہیں کہ مسیح ہدایت حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام ہیں کہ خدا نے ان کو رسول بنایا اور پھر دوبارہ وہی آئیں گے لیکن مسلمان یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ قیامت سے پہلے اتریں گے اور مسیح الدجال کو قتل کریں گے اور صلیب کو توڑیں گے اور خنزیر کو قتل کریں گے اور کوئی دین باقی نہ رہے گا۔ مگر دین اسلام، یہود اور نصاریٰ ان کی رسالت پر ایمان لائیں گے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موتہ یعنی تمام اہل کتاب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے ان پر ایمان لے آئیں گے اور قول صحیح جس پر جمہور امت کا اتفاق ہے وہ یہ ہے کہ ”موتہ“ کی ضمیر عیسیٰ علیہ السلام کی طرف پھرتی ہے۔ اس کی تائید اس آیت سے بھی ہوتی ہے۔ و انه لعلم للساعۃ یعنی عیسیٰ علیہ السلام قیامت کی نشانی ہے۔“
- ٤...... ”اذا نزل المسيح ابن مريم فى امته لم يحكم فيهم الا بشرع محمد ﷺ“
(الجواب الصحیح ج اول ص ٤٢٩) ”جب مسیح ابن مریم علیہ السلام آنحضرت ﷺ کی امت میں نازل ہوں گے تو شرع محمدی کے مطابق حکم کریں گے۔“
- ٥...... ”وان الله اظهر على يديه الايات و انه صعد الى السماء كما اخبر الله
بذالك فى كتابه كما تقدم ذكره“ (کتاب ہذا ج ٢ ص ١٨٦) اور اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ پر معجزات ظاہر کیے اور تحقیق وہ آسمان کی طرف چڑھ گئے۔ جیسے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب مقدس میں خبر دی ہے جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے۔
- ٦...... ”وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته وهذا عند اكثر العلماء معناه
قبل موت عیسیٰ وقد قیل قبل موت الیہودی وھو ضعیف کما قیل انہ قبل موت محمد ﷺ وھو اضعف فانہ لو امن بہ قبل الموت لنفع ایمانہ بہ فان اللّٰہ یقبل توبۃ العبد مالم یغرغر لم یکن فی ھذا فائدۃ فان کل احد بعد موتہ یومن بالغیب الذی کان یجحدہ فلا اختصاص للمسیح بہ ولانہ قال قبل موتہ ولم یقل بعد موتہ ولانہ لا فرق بین ایمانہ بالمسیح و بمحمد صلوات اللّٰہ علیہما و سلامہ والیہود الذی یموت علی الیہودیۃ فیموت کافرا بمحمد والمسیح علیہما الصلوٰۃ والسلام ولانہ قال وان من اھل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ و قولہ لیؤمنن بہ فعل مقسم علیہ وھذا انما یکون فی المستقبل فدل ذالک علی ان ھذا الایمان بعد اخبار اللّٰہ بھذا ولوا رید قبل موت الکتابی لقال وان من اھل الکتاب الا من یؤمن بہ لم یقل لیؤمنن بہ وایضًا فانہ قال وان من اھل الکتاب وھذا یعم الیہود والنصاریٰ فدل ذالک علی ان جمیع اھل الکتاب الیہود والنصاریٰ یؤمنون بالمسیح قبل موت المسیح وذالک اذا نزل امنت الیہود والنصاریٰ بانہ رسول اللّٰہ لیس کاذبًا کما یقول الیہودی ولا ھو اللّٰہ کما تقولہ النصاریٰ۔“ (الجواب الصحیح جلد٢ ص٢٨٣ وص٢٨٤) ”وان من اھل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ اس کی تفسیر اکثر علماء نے یہ کی ہے کہ مراد قبل موتہ سے حضرت عیسیٰ ؑ کی موت سے پہلے اور یہودی کی موت سے پہلے بھی کسی نے معنی کیے ہیں اور یہ ضعیف ہے جیسا کہ کسی نے محمد ﷺ کی موت سے پہلے بھی معنی کیے ہیں اور یہ اس سے بھی زیادہ ضعیف ہے کیونکہ اگر ایمان موت سے پہلے لایا جائے تو نفع دے سکتا ہے۔ اس لیے کہ اللّٰہ تعالیٰ توبہ قبول کرتا ہے جب تک کہ بندہ غرغرہ تک نہ پہنچا ہو اور اگر یہ کہا جائے کہ ایمان سے مراد ایمان بعد الغرغرہ ہے تو اس میں کوئی فائدہ نہیں۔ اس لیے کہ غرغرہ کے وقت وہ ہر ایک امر پر جس کا کہ وہ منکر ہے ایمان لاتا ہے۔ پس مسیح ؑ کی کوئی خصوصیت نہ رہی اور ایمان سے مراد ایمان نافع ہے (کیونکہ تمام قرآن شریف میں ایمان انھیں معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ کہیں ایمان سے مراد ایمان غیر نافع نہیں لیا گیا۔ پس مطابق اصول قادیانی کے امر متنازعہ فیہ میں کسی لفظ کے معنی وہی صحیح ہوں گے جو معنی تمام قرآن میں لیے گئے ہوں گے۔ ایمان سے مراد ایمان نافع ماننا ضروری ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ بے شمار یہودی وعیسائی کفر پر مر رہے ہیں۔ ابوعبیدہ) اس لیے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے قبل موتہ فرمایا ہے۔ نہ بعد موتہ اگر ایمان بعد غرغرہ مراد ہوتا تو بعد موتہ فرماتا
کیونکہ بعد موت کے ایمان بالمسیح یا محمد ﷺ میں کوئی فرق نہیں ہے اور یہودی یہودیت پر مرتا ہے۔ اس لیے وہ کافر مرتا ہے۔ مسیح ؑ اور محمد ﷺ سے منکر ہوتا ہے اور اس آیت میں لیؤمنن بہ مقسم علیہ ہے۔ یعنی قسمیہ خبر دی گئی ہے اور یہ مستقبل ہی میں ہو سکتا ہے۔ (نیز جس خبر پر قسم کھائی جائے۔ وہ مضمون بلا تاویل قابل قبول ہوتا ہے۔ اس میں تاویل کرنا حرام ہوتا ہے۔ جیسا کہ خود قادیانی اپنی کتاب حمامۃ البشریٰ ص ١٤ خزائن ج ٧ ص ١٩٢ حاشیہ پر لکھتا ہے۔ ابو عبیدہ) پس ثابت ہوا۔ یہ ایمان اس خبر کے بعد ہوگا اور اگر موت کتابی کی مراد ہوتی تو اللہ تعالیٰ یوں فرماتے۔ وان من اہل الکتاب الا من یؤمن بہ اور لیؤمنن بہ نہ فرماتے اور نیز و ان من اہل الکتاب یہ لفظ عام ہے ہر ایک یہودی و نصرانی کو شامل ہے۔ پس ثابت ہوا کہ تمام اہل کتاب یہود و نصاریٰ مسیح ؑ کی موت سے پہلے مسیح ؑ پر ایمان لائیں گے اور یہ اس وقت ہوگا جب مسیح ؑ اتریں گے تمام یہود و نصاریٰ ایمان لائیں گے کہ مسیح ابن مریم اللہ کا رسول کذاب نہیں۔ جیسے یہودی کہتے ہیں اور وہ خدا نہیں جیسا کہ نصاریٰ کہتے ہیں۔‘‘
عبارت بالا کے آگے یہ عبارت ہے۔
والمحافظۃ علی ھذا العموم اولی من ان یدعی ان کل کتابی لیؤمنن بہ قبل ان یموت الکتابی فان ھذا یستلزم ایمان کل یہودی و نصرانی و ھذا خلاف الواقع وہو لما قال وان منہم الا لیؤمنن بہ قبل موتہ ودل علی ان المراد بایمانہم قبل ان یموت ہو علم انہ ارید بالعموم عمومہ من کان موجوداً حین نزولہ ای لا یختلف منہم احد عن الایمان بہ لا ایمان من کان منہم میتا وہذا کما یقال انہ لا یبقی بلدا الا دخلہ الدجال الا مکۃ والمدینۃ ای فی المدائن الموجودۃ حینئذٍ و سبب ایمان اہل الکتاب بہ حینئذٍ ظاہر فانہ یظہر لکل احد انہ رسول یؤید لیس بکذاب ولا ہو رب العالمین فاللہ تعالیٰ ذکر ایمانہم بہ اذا نزل الی الارض فانہ تعالیٰ لما ذکر رفعہ الی اللہ بقولہ تعالیٰ انی متوفیک و رافعک الی وہو ینزل الی الارض قبل یوم القیامۃ و یموت حینئذٍ اخبر بایمانہم بہ قبل موتہ۔‘‘ (ایضاً ص ٢٨٤) ”اس عموم کا لحاظ زیادہ مناسب ہے۔ اس دعویٰ سے کہ موتہ سے مراد موت کتابی ہے کیونکہ یہ دعویٰ ہر ایک کتابی، یہودی و نصرانی کے ایمان کو مستلزم ہے اور یہ خلافِ واقع ہے۔ اس لیے کہ جب اللہ تعالیٰ نے یہ خبر دی کہ تمام اہل کتاب ایمان لائیں گے تو ثابت ہوا کہ اس عموم سے مراد عموم ان لوگوں کا ہے
جو حضرت مسیح ؑ کے نزول کے وقت موجود ہوں گے۔ کوئی بھی ایمان لانے سے اختلاف نہ کرے گا۔ اس عموم سے مراد وہ اہل کتاب جو فوت ہو چکے ہیں نہیں ہو سکتے۔ یہ عموم ایسا ہے جیسا یہ کہا جاتا ہے کہ کوئی شہر ایسا نہیں ہو گا مگر یہ کہ دجال اس میں ضرور داخل ہو گا۔ سوائے مکہ اور مدینہ شریف کے۔ پس شہروں سے مراد یہاں صرف وہی شہر ہیں جو دجال کے وقت موجود ہوں گے۔ (جو اس سے پہلے صفحہ ہستی سے مٹ چکے ہوں گے وہ مراد نہیں ہو سکتے۔) اور اس وقت ہر ایک یہودی و نصرانی کے ایمان کا سبب ظاہر ہے۔ وہ یہ کہ ہر ایک کو معلوم ہو جائے گا کہ مسیح ؑ رسول اللہ ﷺ مؤید بتائید اللہ ہے۔ نہ وہ کذاب ہے نہ وہ خدا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس ایمان کا ذکر فرمایا ہے جو حضرت مسیح ؑ کے نازل ہونے کے وقت ہو گا۔ سب اہل کتاب مسیح ؑ کی موت سے پہلے ان پر ایمان لائیں گے۔“
٨...... ناظرین! عربی عبارتیں کہاں تک نقل کرتا جاؤں۔ اب میں صرف اردو ترجمہ پر ہی اکتفا کرتا ہوں۔ جس کو عربی عبارتوں کا شوق ہو۔ وہ ”الجواب الصحیح لمن بدل دین المسیح“ منگوا کر ملاحظہ فرما لیں۔
عبارت بالا کے بعد یہ عبارت ہے۔
”صحیحین میں وارد ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ قریب ہے کہ ابن مریم اتریں گے حاکم، عادل، پیشوا، انصاف کرنے والا، صلیب کو توڑیں گے، خنزیر کو قتل کریں گے، جزیہ موقوف کریں گے (اور آیت قرآنی وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ وَإِنَّ الَّذِينَ اخْتَلَفُوا فِيهِ لَفِي شَكٍّ مِنْهُ مَا لَهُمْ بِهِ مِنْ عِلْمٍ إِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ وَمَا قَتَلُوهُ يَقِينًا بَلْ رَفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ وَكَانَ اللَّهُ عَزِيزًا حَكِيمًا) اس آیت میں بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مسیح ؑ کو زندہ آسمان پر اٹھا لیا اور قتل سے بچا لیا اور بیان فرمایا کہ مسیح ؑ کی موت سے پہلے پہلے اہل کتاب ان پر ایمان لائیں گے...... اور لفظ توفی لغت عرب میں اس کے معنی ”پورا لینا“ اور ”قبضہ میں لینا“ ہے اور یہ تین طرح ہو سکتا ہے۔ ١...... قبض فی النوم (سلانا)۔ ٢...... قبض فی الموت (مارنا) اور ٣...... قبض الروح معہ البدن (بمعہ جسم اوپر اٹھا لینا) پس مسیح ؑ کی توفی تیسری قسم کی ہے۔ یعنی روح اور جسم دونوں کے ساتھ اٹھائے گئے۔ ان کا حال اہل زمین کی طرح نہیں۔ زمین کے بسنے والے کھانے، پینے، پیشاب پاخانہ کی طرف محتاج ہیں اور مسیح ؑ کو اللہ تعالیٰ نے قبضہ میں لے لیا اور وہ دوسرے آسمان پر رہیں گے۔ اس وقت تک کہ نازل ہوں گے زمین کی طرف۔ ان کا حال
کھانے پینے، پہنے اور سونے اور بول و براز میں زمین پر بسنے والوں کی طرح نہیں ہے۔“
٩.......قلت وصعود الآدمى ببدنه الى السماء قد ثبت فى امر المسيح عيسى ابن مريم عليه السلام، فانه صعد الى السماء و سوف ينزل الى الارض وهذا مما يوافق النصارى عليه المسلمين فانهم يقولون ان المسيح صعد الى السماء ببدنه و روحه كما يقول المسلمون و يقولون انه سوف ينزل الى الارض ايضاً كما يقول المسلمون وكما اخبر به النبى ﷺ فى الاحاديث الصحيحة....... وان نزوله من اشراط الساعة كمادل على ذالك الكتاب والسنة.“
(الجواب الصحیح ج ٤ ص ١٧٠۔١٦٩)
”میں (امام ابن تیمیہؒ) کہتا ہوں کہ آدمی کا جسم عنصری کے ساتھ آسمان پر چڑھ جانا یقیناً مسیح کے بارہ میں پایۂ ثبوت کو پہنچ چکا ہے۔ پس وہ آسمان پر چڑھ گئے اور عنقریب زمین پر اتریں گے اور نصاریٰ بھی اس بیان میں مسلمانوں سے موافق ہیں۔ وہ بھی مسلمانوں کی طرح یہی کہتے ہیں کہ مسیح علیہ السلام جسم کے ساتھ آسمان پر چڑھ گئے اور عنقریب زمین پر اتریں گے۔الخ“
١٠.......”وعيسى ابن مريم عليه السلام اذا نزل من السماء انما يحكم فيهم بكتاب ربهم و سنة نبيهم“ (زیارت القبور ص ٧٥) ”اور عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام جب آسمان پر سے نازل ہوں گے تو وہ قرآن کریم اور سنت نبوی ﷺ کے مطابق حکم دیں گے۔“
١١.......”والنبى ﷺ قد اخبرهم بنزول عيسى من السماء“ (زیارت القبور ص ٧٥) ”اور نبی ﷺ نے مسلمانوں کو خبر دی ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے اتریں گے“ (نہ کہ ماں کے پیٹ سے نکلیں گے) یہ مرزا قادیانی کے اپنے الفاظ ہیں۔ (ابوعبیدہ)
حضرات! میرے اقتباسات کے مطالعہ سے شاید آپ تھک گئے ہوں گے مرزا قادیانی کے دجل وفریب کی وسعت اور گہرائیوں کا بھی اندازہ لگائیں کہ باوجود ابن تیمیہ کی ان تصریحات کے بھی ہانکے جاتا ہے کہ ”ایسا ہی فاضل و محدث و مفسر امام ابن تیمیہؒ و ابن قیم جو اپنے اپنے وقت کے امام ہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کے قائل ہیں۔“
(کتاب البریہ حاشیہ ص ٢٠٣ خزائن ج ١٣ ص ٢٢١)
کیا اب مجھے اجازت ہے کہ مرزا قادیانی کا صریح جھوٹ و افتراء ثابت ہو جانے کے بعد مرزا قادیانی کا اپنا فتویٰ ان کی شان میں لکھ دوں۔
١.......”دروغ گوئی کی زندگی جیسی کوئی لعنتی زندگی نہیں۔“ (نزول المسیح ص ٢ خزائن ج ١٨ ص ٣٨٠)
- ٢......”ظاہر ہے کہ جو ایک بات میں جھوٹا ثابت ہو جائے تو پھر دوسری باتوں میں بھی
اس پر اعتبار نہیں رہتا۔“
(چشمہ معرفت ص ٢٢٢ خزائن ج ٢٣ ص ٢٣١)
- ٣......”جھوٹ ام الخبائث ہے۔“
(تبلیغ رسالت ج ٧ ص ٢٨ مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٤١)
- ٤......”جھوٹ بولنے سے مرنا بہتر ہے۔“
(تبلیغ رسالت ج ٧ ص ٣٠ مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٤٤)
- ٥......”جھوٹے پر خدا کی لعنت“
(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ ٥ ص ١١١ خزائن ج ٢١ ص ٢٧٥)
- ٦......”جھوٹ بولنا مرتد ہونے سے کم نہیں۔“
(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ١٣ حاشیہ خزائن ج ١٧ ص ٥٦)
- ٧......”اے بیباک لوگو جھوٹ بولنا اور گوہ کھانا ایک برابر ہے۔“
(حقیقتہ الوحی ص ٢٠٦ خزائن ج ٢٢ ص ٢١٥)
- ٨......”جھوٹ بولنے سے بدتر دنیا میں اور کوئی کام نہیں۔“
(تتمہ حقیقتہ الوحی ص ٢٦ خزائن ج ٢٢ ص ٤٥٩)
١٩۔ امام ابن قیمؒ کا عقیدہ
عظمت شان.......! امام ابن قیم ساتویں صدی کے مجدد تھے۔
(دیکھو قادیانی کتاب عسل مصفیٰ جلد اوّل ص ١٤٢)
- ٢.......قول مرزا: ”فاضل و محدث ومفسر ابن قیم جو اپنے وقت کے امام تھے۔“
(کتاب البریہ حاشیہ ص ٢٠٣ خزائن ج ١٣ ص ٢٢١)
ناظرین! امام ابن قیمؒ امام ابن تیمیہؒ کے شاگرد تھے۔ استاد کا عقیدہ آپ نے ملاحظہ فرما لیا۔ قدرتی بات ہے کہ امام ابن قیمؒ اس قدر ضروری عقیدہ میں یقیناً اپنے استاد کے مخالف نہیں ہو سکتے۔ مگر ہم ذیل میں ان کی اپنی تصنیفات سے چند حوالے درج کرتے ہیں تاکہ قادیانی جماعت کی صداقت کی حقیقت معلوم ہو سکے۔
- ١....... ”وہذا المسیح ابن مریم حی لم یمت و غذاؤہ من جنس غذاء الملئکۃ“ مسیح
ابن مریمؑ زندہ ہیں فوت نہیں ہوئے اور ان کی غذا وہی ہے جو فرشتوں کی ہے۔“
(کتاب التبیان مصنفہ ابن قیمؒ)
- ٢....... ”ومسیح المسلمین الذی ینتظرونہ ھو عبداللہ ورسولہ و روحہ و کلمتہ
القاھا الی مریم العذراء البتول عیسیٰ ابن مریم اخو عبداللہ ورسولہ محمد بن عبداللہ فیظہر دین اللہ و توحیدہ و یقتل اعداءہ الذین اتخذوہ وامہ الٰہین من دون اللہ واعداءہ الیہود الذین رموہ وامہ بالعظائم فھذا ھو الذی ینتظرہ المسلمون وھو نازل علی المنارۃ الشرقیہ بدمشق واضعاً یدیہ علی منکبی
ملکین یراہ الناس عیاناً بابصارهم نازلاً من السماء فیحکم بکتاب الله و سنة رسوله.“ (ہدایۃ الحیاریٰ مصنفہ امام ابن قیم) ”وہ مسیح جس کی انتظار مسلمان کر رہے ہیں۔ وہ عبداللہ ہے۔ اللہ کا رسول ہے۔ روح الٰہی ہے اور اس کا وہ کلمہ ہے جو اس نے حضرت مریم علیہا بتول کی طرف نازل کیا۔ یعنی عیسیٰ ابن مریم اللہ کے بندے اور اس کے رسول محمدﷺ ابن عبداللہ کا بھائی ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے دین اور اس کی توحید کو غالب بنائے گا اور اپنے ان دشمنوں کو قتل کرے گا۔ جنھوں نے اللہ کو چھوڑ کر خود اس کو اور اس کی ماں کو معبود بنا لیا اور اپنے ان یہودی دشمنوں کو قتل کرے گا۔ جنھوں نے اس پر اور اس کی ماں پر اتہام باندھے بس یہی وہ مسیح ہے۔ جس کی انتظار مسلمان کر رہے ہیں اور دمشق میں مشرقی منارہ پر اس حالت میں نازل ہونے والے ہیں کہ اپنے دونوں ہاتھ دو فرشتوں کے کندھوں پر رکھے ہوں گے۔ لوگ آپ کو اپنی آنکھوں سے آسمان سے اترتے ہوئے دیکھیں گے۔ آپ اللہ کی کتاب (قرآن شریف) اور اس کے رسول کی سنت کے مطابق حکم چلائیں گے۔“
- ٣...... ومحمدﷺ مبعوث الى جميع الثقلين فرسالة عامة لجميع الجن والانس
فى كل زمان ولو كان موسیٰ و عیسیٰ حيين لكانا من اتباعه و اذا نزل عيسى ابن مریم فانما يحكم بشريعة محمدﷺ“ (مدارج السالکین ج ٢ ص ٢٣٣ و ٣١٣) ”آنحضرتﷺ کی نبوت تمام جنوں اور انسانوں کے لیے اور ہر زمانے کے لیے ہے۔ بالفرض اگر موسیٰ و عیسیٰ علیہما السلام (آج زمین پر) زندہ ہوں۔ تو ضرور آنحضرتﷺ کا اتباع کریں اور جب عیسیٰ ابن مریمؑ نازل ہوں گے تو وہ شریعت محمدیﷺ پر ہی عمل کریں گے۔“ اس کے آگے فرماتے ہیں۔
فمن ادعیٰ انه مع محمد كالخضر مع موسیٰ او جوّز ذالك لا حد من الامة فليجدّ اسلامه و يشهد انه مفارق لدين الاسلام بالكلية فضلاً ان يكون من خاصة اولياء الله وانما هو من اولياء الشيطان۔ ”تو جو کوئی اس بات کا دعویٰ کرے کہ عیسیٰ ابن مریمؑ حضرت محمدﷺ کے ساتھ اس طرح ہوں گے جس طرح کہ موسیٰؑ کے ساتھ خضر یا اگر کوئی شخص امت محمدی میں سے کسی شخص کے لیے ایسا تعلق جائز قرار دے (نوٹ مرزائی مرزا قادیانی کو ایسا ہی سمجھتے ہیں ابو عبیدہ) تو ضرور ہے کہ ایسا شخص اپنے اسلام کی تجدید کرے اور اسے اپنے ہی خلاف اس امر کی شہادت دینی پڑے گی۔ (مرزائی جماعت مجدد وقت امام ابن قیم کی تنبیہ کا خیال کرے) کہ وہ دین
اسلام سے بالکلیہ علیحدہ ہونے والا ہے۔ چہ جائیکہ وہ خاص اولیاء اللہ میں سے ہو سکے۔ نہیں بلکہ ایسا شخص شیطانی ولی ہے۔“
ناظرین! غور کریں کہ کس طرح امام ابن قیم آج سے چھ سات سو سال پہلے مرزا غلام احمد قادیانی کا ناطقہ بند کر رہے ہیں۔ کیسے صاف الفاظ میں اعلان فرما رہے ہیں۔ اگر کوئی شخص یہ خیال کرے کہ امت محمدی میں سے کوئی شخص ترقی کر کے مسیح ابن مریم والی پیشگوئی کا مصداق ہو سکتا ہے تو ایسا خیال کرنے والا بھی اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔ چہ جائیکہ خود مدعی کا اسلام قبول کیا جا سکے۔
قادیانی اعتراض اور اس کی حقیقت
مدارج السالکین میں ابن قیم نے لکھا ہے۔
”لو کان موسیٰ و عیسیٰ حیین لکانا من اتباعہ“ یعنی اگر موسیٰ و عیسیٰ زندہ ہوتے تو ضرور آنحضرت ﷺ کے متبعین میں سے ہوتے۔“
الجواب......١ ہم نے ترجمہ کرتے وقت ”آج زمین پر“ کے الفاظ کا اضافہ کر دیا ہے اور یہ ہم نے اپنے پاس سے نہیں کیا بلکہ صحیح مراد ہے امام کی۔ صرف کند ذہن آدمی کے لیے اس کی ضرورت ہے۔ ورنہ خود کلام امام سے یہ بات ظاہر و باہر ہے۔ اگر اس کے معنی مطلق زندہ کے لیے جائیں تو پھر آسمان پر حضرت موسیٰ ؑ کی موت بھی قادیانیوں کو ماننی پڑے گی۔ حالانکہ مرزا قادیانی حضرت موسیٰ ؑ کی زندگی کے قائل ہیں۔ پس یقیناً مراد اس حیی سے ارضی حیات ہے۔
٢....... اتباع شریعت محمدی کے مکلف صرف اہل زمین ہیں۔ اہل سموات اس کے مکلف نہیں۔ ورنہ اتباع شریعت محمدی کی شرط نزول من السماء کے ساتھ وابستہ نہ ہوتی۔ پس چونکہ حضرت عیسیٰ ؑ آسمان پر ہونے کے سبب اتباع شریعت محمدی ﷺ سے دیگر اہل سموات کی طرح مستثنیٰ ہیں۔ اس واسطے یقیناً یہاں حیی سے مراد ارضی حیات ہی ہو سکتے ہیں۔ کیا فرماتے ہیں۔ قادیانی حضرات اس بارہ میں اگر عیسیٰ ؑ آسمان پر ان کے عقیدہ میں بھی زندہ بجسدہ العنصری موجود ہوتے تو کیا پھر وہ ضرور آنحضرت ﷺ کی شریعت کا اتباع کرتے۔ کیا اب وہ رسول کریم ﷺ کی اطاعت سے اس لیے مستثنیٰ ہیں کہ ان کا جسم عنصری نہیں بلکہ نورانی ہے۔ کیا اطاعت کے لیے صرف جسم عنصری ہی کو حکم ہے۔ نورانی جسم والے انسان آنحضرت ﷺ کا حکم ماننے پر مجبور و
مکلف نہیں ہیں۔ نہیں ایسا نہیں بلکہ صرف اہل زمین ہی پر اتباع نبوی ﷺ واجب ہے۔ حج، زکوٰۃ، نماز، روزہ صرف اہل زمین ہی کے لیے فرض ہوتے ہیں۔ پس اتباع محمدی کے لیے زمینی زندگی کی ضرورت ہے۔ اس سے حضرت موسیٰ علیہ السلام و عیسیٰ علیہ السلام دونوں محروم ہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام تو بوجہ وفات اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام بوجہ رفع جسمانی الی السماء۔ لہٰذا حیّین کے معنی یقیناً زمینی زندگی لینے پڑیں گے۔ ورنہ امام کی کلام بالکل بے معنی ٹھہرے گی۔ جیسا کہ ناظرین پر ظاہر کیا جا چکا ہے کیونکہ امام ابن قیم نے حضرت عیسیٰ ابن مریم کو اتباع محمدی کا مکلف نزول کے بعد ٹھہرایا ہے۔
- ٣....... چونکہ امام نے اتباع کو حی کے ساتھ مشروط ٹھہرایا ہے اور پھر خود ہی فرماتے ہیں
کہ نازل ہو کر اتباع محمدی کریں گے تو ماننا پڑے گا کہ نزول سے پہلے وہ مردہ تھے۔ نزول کے وقت وہ زندہ ہو جائیں گے۔ ہم تو اس کو بھی قدرت باری کا ایک ادنیٰ کرشمہ سمجھتے ہیں۔ لیکن یہ بات قادیانی خود قبول نہیں کریں گے۔ دوسرے خود امام کی اپنی مراد کے خلاف ہے کیونکہ خود اسی عبارت میں اور دیگر جگہوں میں وہ حیات عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ فرض قرار دے رہے ہیں۔ جیسا کہ ہم نقل کر چکے ہیں۔ پس کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ ہم امام کی کلام کا مفہوم خود ان کے اپنے بیان کردہ عقیدہ کے خلاف لے لیں۔
- ٤....... اگر مرزائی حضرات حی کے معنی زندہ لینے میں اس بات پر اصرار کریں گے کہ اس
سے مراد ہر جگہ کی زندگی ہے تو اس سے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور تمام انبیاء علیہم السلام کا آسمانوں پر مردہ ہونا ماننا پڑے گا کیونکہ جس دلیل سے مرزائی حضرات عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی کا انکار کریں گے۔ اسی سے دیگر حضرات کی آسمانی زندگی کا انکار لازم آئے گا۔
- ٥....... مرزا قادیانی اپنی کتاب میں لکھتے ہیں۔ ”معراج کی رات میں آنحضرت ﷺ نے
تمام نبیوں کو برابر زندہ پایا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو حضرت یحییٰ علیہ السلام کے ساتھ بیٹھا ہوا دیکھا۔“
(آئینہ کمالات اسلام (قیامت کی نشانی) ص ٢١١ خزائن ج ٥ ص ٢١١)
کیا ہم قادیانی طرزِ استدلال کو اختیار کر کے تمام انبیاء علیہم السلام کے حی (زندہ) ہونے پر اس عبارت کو بطور دلیل پیش نہیں کر سکتے۔ جب اس عبارت سے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات ثابت ہو چکی تو اب امام ابن قیمؒ کے قول کو پڑھیے۔ لو کان موسیٰ و عیسیٰ حیین اگر موسیٰ علیہ السلام و عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہوتے لکانا من اتباعہ تو وہ ضرور آپ کے تابعداروں میں سے ہوتے۔ پس ہم کہتے ہیں کہ چونکہ امام موصوف نے اتباع شرع محمدی کی جو شرط حضرت موسیٰ علیہ السلام و عیسیٰ علیہ السلام کے
لیے لگائی ہے۔ وہ ان میں بدرجہ اتم پائی گئی ہے۔ لہٰذا وہ ضرور آسمان پر حضرت رسول کریم ﷺ کا ممکن اتباع کر رہے ہیں۔
- ٦...... مرزا قادیانی نے جو قول نقل کیا ہے۔ اس کے معنی تو زیادہ سے زیادہ یہی ہیں کہ
”اگر موسیٰ ؑ و عیسیٰ ؑ دونوں زندہ ہوتے تو آج رسول کریم ﷺ کا اتباع کرتے۔“
اس سے مرزائی صاحبان نتیجہ نکالتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ ؑ مر چکے ہیں۔ حالانکہ یہ نتیجہ ضروری نہیں ہے بلکہ اس میں رسول کریم ﷺ کے اتباع کو حضرت موسیٰ ؑ و عیسیٰ ؑ کے لیے واجب قرار دیا جا رہا ہے۔ ہاں اس وجوب کو ان دونوں کی حیات کے ساتھ مشروط کر دیا گیا ہے چونکہ قادیانیوں کے نزدیک حضرت موسیٰ ؑ آسمان پر زندہ موجود ہیں اور ہمارے نزدیک حضرت عیسیٰ ؑ آسمان پر زندہ موجود ہیں۔ پس اگر اس قول سے حضرت عیسیٰ ؑ کی موت کا ثبوت ملتا ہے تو یقیناً حضرت موسیٰ ؑ کی موت بھی ماننی پڑے گی اور اس کے بعد مرزا قادیانی ان کی حیات کو اپنا ضروری عقیدہ قرار نہیں دے سکتے جیسا کہ لکھتے ہیں۔
”یہ وہی مرد خدا ہے جس کی نسبت قرآن شریف میں اشارہ ہے کہ وہ زندہ ہے اور ہم پر فرض ہو گیا کہ ہم اس بات پر ایمان لائیں کہ وہ آسمان میں زندہ موجود ہے۔ ولم یمت ولیس من المیتین وہ مردوں میں سے نہیں۔“
(نور الحق حصہ اول ص ٥٠ خزائن ج ٨ ص ٦٩)
جو جواب قادیانی حضرت موسیٰ ؑ کی موت کے خلاف دیں گے وہی ہماری طرف سے سمجھ لیں۔
٢٠۔ امام ابن حزمؒ کا عقیدہ
عظمت شان......! مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی کتاب میں رئیس المکاشفین حضرت محی الدین ابن عربیؒ کی ایک عبارت نقل کی ہے اور خود ہی اس کا ترجمہ بھی کیا ہے۔ بنظر اختصار ہم مرزا قادیانی کا کیا ہوا ترجمہ یہاں لفظ بلفظ نقل کرتے ہیں۔
”نہایت درجہ کا اتصال یہ ہے کہ ایک چیز بعینہٖ وہ چیز ہو جائے جس میں وہ ظاہر ہو اور خود نظر نہ آئے۔ جیسا کہ میں نے خواب میں آنحضرت ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے ابو محمد ابن حزمؒ محدث سے معانقہ کیا۔ پس ایک دوسرے میں غائب ہو گیا۔ بجز رسول اللہ ﷺ کے نظر نہ آیا۔“
(فتوحات مکیہ باب ١٢٣ بحوالہ ازالہ اوہام ص ٢٦٢ خزائن ج ٣ ص ٢٣٢)
٢......مرزا قادیانی ایک دوسری جگہ لکھتے ہیں۔
”امام ابن حزمؒ اور امام مالکؒ بھی موت عیسیٰ علیہ السلام کے قائل ہیں اور ان کا قائل ہونا گویا امت کے تمام اکابر کا قائل ہونا ہے کیونکہ اس زمانہ کے اکابر امت سے مخالفت منقول نہیں۔“
(ایام الصلح ص ٣٩ خزائن ج ١٤ ص ٢٦٩)
معزز ناظرین! امام مالکؒ کے متعلق تو میں پیچھے ثابت کر آیا ہوں کہ وہ بھی حیاتِ عیسیٰ علیہ السلام کے قائل ہیں اور اسی عیسیٰ ابن مریم بنی اسرائیل نبی کے دوبارہ آنے کا عقیدہ رکھتے ہیں۔ امام ابن حزمؒ کے متعلق مرزا قادیانی نے جو جھوٹ سے کام لیا ہے۔ اس کی حقیقت ابھی آپ کے سامنے آ جاتی ہے۔ مگر بہرحال مرزا قادیانی کے بیانات سے اتنا تو ثابت ہو گیا کہ امام ابن حزمؒ کا مرتبہ اس قدر بلند ہے کہ رسول کریم ﷺ کے ساتھ اتحادِ کلی کے سبب ان کی اپنی علیحدہ ہستی نہ رہی تھی اور ہر مسئلہ میں ان کا قول قولِ فیصل کا حکم رکھتا ہے۔ اب حیات مسیح علیہ السلام کے متعلق ان کے اقوال ملاحظہ کیجئے۔
امام ابن حزمؒ کے اقوال
١......”وقولہ تعالیٰ وَمَا قَتَلُوْہُ وَمَا صَلَبُوْہُ وَلٰکِنْ شُبِّہَ لَھُمْ اِنّما ھو اخبار عن الذین یقولون تقلیداً لاسلافھم من النصاریٰ والیہود انہ علیہ السلام قتل و صلب فھؤلا شبہ لھم القول ای اُدْخِلُوا فی شبھۃ منہ وکان المشبھون لھم شیوخ السوء فی ذالک الوقت و شرطھم المدعون انھم قتلوہ وما صلبوہ وھم یعلمون انہ لم یکن ذالک وانما اخذوا من امکنھم و قتلوہ و صلبوہ فی استتار و منع من حضور الناس ثم انزلوہ و دفنوہ تمویھا علی العامۃ التی شبہ الخبر لھا.“
ترجمہ کا ملخص یہ کہ کوئی دوسرا شخص حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جگہ قتل کیا گیا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام قتل اور صلیب سے بالکل بچا لیے گئے۔
(الملل والنحل لابن حزم ج ١ ص ٧٧)
٢......”انہ (ای نبی ﷺ) اخبر انہ لا نبی بعدہ الا ماجاء ت الاخبار الصحاح من نزول عیسیٰ علیہ السلام الذی بعث الی بنی اسرائیل و ادعی الیھود قتلہ و صلبہ فوجب الاقرار بھذا الجملۃ.“ (کتاب الفصل فی الملل والنحل ج اوّل ص ٩٥)
”آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میرے بعد کوئی نبی بھی نہیں ہوگا۔ بجز اس ہستی کے جس کا آنا صحیح احادیث سے ثابت ہے۔ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام جو بنی اسرائیل کی طرف
مبعوث ہوئے اور یہود نے ان کے قتل اور سولی پر چڑھانے کا دعویٰ کیا۔ پس اس حدیث کا اعتراف بھی ضروری ہے۔“
٣...... واما من قال ان الله عزوجل هو فلان انسان بعينه او ان الله تعالى يحل في جسم من اجسام خلقه او ان بعد محمد ﷺ نبينا غير عيسى ابن مريم فانه لا يختلف اثنان في تكفيره لصحة قيام الحجة.
(الملل والنحل لابن حزم ج ٢ ص ٢٦٩)
”اور جس شخص نے کہا کہ اللہ تعالیٰ فلاں انسان ہے یا یہ کہا کہ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کے جسم میں حلول کر جاتا ہے یا یہ کہا آنحضرت ﷺ کے بعد عیسیٰ ابن مریم کے سوا اور نبی ہوگا۔ تو اس کے کافر ہونے میں کسی کو اختلاف نہیں۔“
ناظرین! امام ابن حزم کے مرتبہ عظمت کا خیال کریں اور پھر ان اقوال سے حیات عیسیٰ ابن مریم کا ثبوت ملاحظہ کریں۔ اس کے بعد مرزا قادیانی نے جو امام موصوف پر افتراء باندھا۔ اس کی حقیقت کا خود اندازہ لگائیں۔ کیا اس کے بعد مرزا قادیانی پر ہم ایک معمولی انسان جیسا بھی اعتماد کر سکتے ہیں۔
٢١۔ امام عبدالوہاب شعرانیؒ کا عقیدہ
عظمت شان...... ١ ”مرزا قادیانی نے امام عبدالوہاب شعرانیؒ کو ان لوگوں میں شمار کیا ہے جو محدث اور صوفی ہونے کے علاوہ معرفت کامل اور تفقہ تام کے رنگ سے رنگین تھے۔“
(ازالہ اوہام ص ١٤٩ خزائن ج ٣ ص ١٧٦)
٢...... مرزا قادیانی امام شعرانیؒ کے مرتبہ کے اس قدر قائل تھے کہ انھیں صرف ”امام صاحب کے نام سے یاد فرماتے تھے۔“
(ازالہ اوہام ص ١٥٠ و ١٥١ خزائن ج ٣ ص ١٧٦)
اب ہم اس مرتبہ کے بزرگ کی کلام حیات عیسیٰ ؑ کے ثبوت میں پیش کرتے ہیں۔ عبارت چونکہ بہت طویل ہے ہم صرف اس کے اردو ترجمہ پر اکتفا کرتے ہیں۔ شائقین حضرات عربی عبارت کے لیے اصل کی طرف رجوع کریں۔ امام موصوف فرماتے ہیں۔
”اگر تو سوال کرے کہ جب عیسیٰ ؑ آئے گا تو وہ کب مرے گا؟ تو جواب اس کا یہ ہے کہ جب دجال کو قتل کر چکیں گے تب فوت ہوں گے۔ اسی طرح شیخ اکبر نے فتوحات کے باب ٣٦٩ میں لکھا ہے۔ اگر تو سوال کرے کہ حضرت عیسیٰ ؑ کے نزول پر کیا دلیل ہے۔ تو جواب یہ ہے کہ ان کے نزول پر دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے۔ ”وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته“ یعنی جس وقت نازل ہوگا اور لوگ اس پر
اکٹھے ہوں گے اور معتزلہ اور فلاسفر اور یہود اور نصاریٰ جو عیسیٰ ؑ کے جسم کے ساتھ آسمان پر جانے کے منکر ہیں۔ اس وقت یہ سب لوگ ایمان لائیں گے اور اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ ؑ کے بارے میں فرمایا: وَاِنَّهٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ (اور عیسیٰ ؑ البتہ قیامت کی نشانی ہے) اور قرآن کے لفظ علم کو عین اور لام کی زبر کے ساتھ پڑھا گیا ہے اور انہ میں جو ضمیر ہے وہ حضرت عیسیٰ ؑ کی طرف پھرتی ہے چونکہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے ولما ضرب ابن مریم مثلاً اور اس کے معنی یہ ہیں کہ تحقیق مسیح ؑ کا نازل ہونا قیامت کی نشانی ہے اور حدیث میں آیا ہے کہ لوگ نماز میں ہوں گے کہ ناگہاں اللہ تعالیٰ بھیجے گا حضرت مسیح ابن مریم کو وہ اتریں گے دمشق کی مشرقی طرف سفید منارہ کے پاس حضرت مسیح ؑ نے زرد رنگ کی دو چادریں پہنی ہوں گی۔ دو فرشتوں کے بازوؤں پر اپنے ہاتھ رکھے ہوں گے۔ پس حضرت عیسیٰ ؑ کا نازل ہونا کتاب و سنت کے ساتھ ثابت ہو گیا۔ حق یہ ہے کہ عیسیٰ ؑ اپنے جسم کے ساتھ آسمان کی طرف اٹھائے گئے ہیں اور اس کے ساتھ ایمان لانا واجب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ بل رفعه الله الیه (بلکہ اللہ نے اس کو اپنی طرف اٹھا لیا) حضرت ابوطاہر قزوینیؒ نے کہا جان کہ عیسیٰ ؑ کے آسمان میں جانے کی کیفیت اور اس کے اترنے اور آسمان میں ٹھہرنے کی کیفیت اور کھانے پینے کے سوا اس قدر عرصہ تک ٹھہرنا، یہ اس قبیل سے ہے کہ عقل اس کے جاننے سے قاصر ہے اور ہمارے لیے اس میں بجز اس کے کوئی راستہ نہیں کہ ہم اس کے ساتھ ایمان لائیں اور اللہ کی اس قدرت کو تسلیم کریں۔ پس اگر کوئی سوال کرے کہ اس قدر عرصہ تک کھانے پینے سے بے پرواہ ہو کر رہنا یہ کس طرح ہو سکتا ہے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ وما جعلنا ہم جسدا لا یاکلون الطعام یعنی ہم نے نبیوں کا ایسا جسم نہیں بنایا جو کھانے پینے سے مستغنی ہو۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ طعام کھانا اس شخص کے لیے ضروری ہے جو زمین میں ہے کیونکہ اس پر گرم و سرد ہوا غالب ہے۔ اس لیے اس کا کھانا پینا تحلیل ہو جاتا ہے۔ جب پہلی غذا ہضم ہو جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو اور غذا اس کے بدلے میں عنایت کرتا ہے کیونکہ اس دنیا غبار آلود میں اللہ کی یہی عادت ہے لیکن جس شخص کو اللہ آسمان کی طرف اٹھا لے۔ اللہ اس کے جسم کو اپنی قدرت سے لطیف اور نازک کر دیتا ہے اور اس کو کھانے اور پینے سے ایسا بے پرواہ کر دیتا ہے۔ جیسا کہ اس نے فرشتوں کو ان سے بے پرواہ کر دیا ہے۔ پس اس وقت اس کا کھانا تسبیح ہوگا اور اس کا پینا تہلیل ہوگا جیسا کہ آنحضرت ﷺ نے اس سوال کے جواب میں فرمایا جبکہ آپ سے
پوچھا گیا کہ کیوں یا رسول اللہ ﷺ آپ کھانے پینے کے بغیر پے در پے روزے رکھتے ہیں اور ہم لوگوں کو اجازت نہیں دیتے تو آپ نے فرمایا کہ میں اپنے رب کے پاس رات گزارتا ہوں۔ میرا رب مجھ کو کھانا دیتا ہے اور پانی پلاتا ہے اور مرفوع حدیث میں ہے کہ دجال کے پہلے تین سال قحط کے ہوں گے۔ پہلے سال میں آسمان تیسرا حصہ بارش کم کر دے گا اور زمین تیسرا حصہ زراعت کا کم کر دے گی اور دوسرے سال میں دو حصے بارش کے کم ہو جائیں گے اور دو حصے زراعت کے کم ہو جائیں گے اور تیسرے سال میں بارش بالکل بند ہو جائے گی۔ پس اسماء بنت زیدؓ نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ اب تو ہم آٹا گوندھنے سے پکنے تک صبر نہیں کر سکتے۔ اس دن کیا کریں گے۔ فرمایا جو چیز اہل آسمان کو کفایت کرتی ہے یعنی اللہ کی تسبیح اور تقدیس کرنا، وہی چیز اہل ایمان کو کافی ہوگی۔ شیخ ابوطاہرؒ نے فرمایا ہے ایک شخص نامی خلیفہ فراط کو ہم نے دیکھا ہے کہ وہ شہر الیمہ میں (جو مشرقی بلاد سے ہے) مقیم تھا نہ اس نے ٢٣ سال تک کچھ نہیں کھایا اور دن رات اللہ کی عبادت میں مشغول رہا تھا اور اس سے اس میں کچھ ضعف نہیں آیا تھا۔ پس جب یہ بات ممکن ہے تو عیسیٰ علیہ السلام کے لیے آسمانوں میں تسبیح و تہلیل کی غذا ہو تو کیا بعید ہے اور ان باتوں کا اللہ ہی اعلم ہے۔‘‘
مندرجہ بالا عبارت سے یہ امر روز روشن کی طرح ثابت ہوتا ہے کہ حضرت امام عبدالوہاب شعرانیؒ ”وفات مسیح کے قائل نہ تھے بلکہ برعکس حیات مسیح کے قائل تھے چنانچہ ان کے یہ الفاظ قابل غور ہیں۔
”حق یہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام اپنے جسم کے ساتھ آسمان کی طرف اٹھائے گئے ہیں اور اس پر ایمان لانا واجب ہے۔‘‘
(الیواقیت والجواہر مصنفہ امام شعرانی ج دوم ص ١٤٦ بحث ٦٥)
معزز قارئین! غور فرمائیں کس طرح مرزائیوں کے مسلم امام فقیہ، محدث اور صوفی مرزائی جماعت کے دلائل وفات مسیح کا تجزیہ کر رہے ہیں۔ مرزائیوں کے تمام دلائل وفات مسیح علیہ السلام اور حیات مسیح علیہ السلام پر ان کے اعتراضات ایک طرف رکھے جائیں تو بھی امام شعرانی کی کلام ان سب کی تردید کے لیے کافی ہے۔
٢٢۔ حضرت شیخ محی الدین ابن عربی قدس سرہٗ العزیز کا عقیدہ
عظمت شان مرزا قادیانی نے شیخ ابن عربی کی اپنی عبارت کا ترجمہ ازالہ اوہام میں
درج کیا ہے۔
- ١...... ”جب اہل ولایت کو کسی واقعہ میں حدیث کی حاجت پڑتی ہے تو وہ آنحضرت ﷺ
کی زیارت سے مشرف ہو جاتا ہے۔ پھر جبرائیل ؑ نازل ہوتے ہیں اور آنحضرت جبرائیل ؑ سے وہ مسئلہ جس کی دل کو حاجت ہوتی ہے پوچھ کر اس ولی کو بتا دیتے ہیں۔ یعنی ظلی طور پر وہ مسئلہ نزول جبرائیلی ؑ منکشف ہو جاتا ہے۔ پھر شیخ ابن عربی نے فرمایا ہے کہ ہم اس طریق سے آنحضرت ﷺ سے احادیث کی تصحیح کرالیتے ہیں۔“
(ازالہ اوہام ص ١٥٢۔١٥١ خزائن ج ٣ ص ١٧٧)
- ٢...... ”شیخ ابن عربی صاحب فتوحات مکیہ بڑے محقق اور فاضل ہونے کے علاوہ اہل
زبان بھی تھے۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص ١٦٧ خزائن ج ٥ ص ایضا)
اس مرتبہ والے شیخ قدس سرہ کے اقوال ہم ناظرین کی خدمت میں پیش کرتے ہیں۔
- ١...... ”فاستفتح جبرائیل السماء الثانية كما فعل فى الاولى فلما دخل اذا
بعیسٰی ؑ بجسده عینه فانه لم يمت الى الآن بل رفعه الله الى هذه السماء و اسکنه بها.“ (فتوحات مکیہ ج ٣ ص ٣٤١ باب ٣٦٧) ”پس کھولا جبرائیل ؑ نے دوسرا آسمان جس طرح کھولا تھا پہلا۔ پس جب رسول کریم ﷺ (دوسرے آسمان میں) داخل ہوئے تو اچانک حضرت عیسیٰ ابن مریم کو پایا کہ اپنے جسم عنصری کے ساتھ موجود تھے۔ عیسیٰ ؑ ابھی تک فوت نہیں ہوئے بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس آسمان پر اٹھا لیا اور ان کو وہیں رکھا ہوا ہے۔“
- ٢...... ”انه لا خلاف انه ينزل فى آخرالزمان“ (فتوحات مکیہ ج ٢ ص ٣ باب ٧٢) ”اس
بارہ میں کسی کا اختلاف نہیں کہ حضرت عیسیٰ ؑ قرب قیامت میں نازل ہوں گے۔“
نوٹ...... اس عبارت سے پہلے شیخ قدس سرہ حضرت عیسیٰ ؑ کی حیات ہی کا ذکر کر رہے ہیں۔ (ابوعبیدہ)
- ٣...... ”ثم ان عیسیٰ اذا نزل الى الارض فى آخر الزمان.“
(فتوحات مکیہ ج ٣ ص ٥١٤ باب ٣٨٢)
”پھر آخری زمانہ میں عیسیٰ ؑ زمین پر نزول فرمائیں گے۔“
- ٤...... لابدّ ان ينزل فى هذه الامة فى آخر الزمان و يحكم بسنة محمد ﷺ مثل
ما حكم الخلفاء المهديون الراشدون فيكسر الصليب ويقتل الخنزير ويدخل بدخوله من اهل الكتاب فى الاسلام خلقا كثير (فتوحات مکیہ ج ٢ ص ١٢٥
باب ٧٣ سوال ١٤٥) ”پکی بات ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام آخر زمانہ میں امت محمدیہ ﷺ میں نازل ہوں گے۔ حضور ﷺ کی شریعت کے مطابق حکم کریں گے۔ جیسے ہدایت یافتہ راشدین خلفاء کرتے رہے۔ عیسیٰ علیہ السلام صلیب کو توڑنے خنزیر کو قتل کرنے کا حکم فرمائیں گے اور اہل کتاب کی خلق کثیر اسلام میں داخل ہو جائے گی۔“
- ٥....... ناظرین کتاب ہٰذا کے گذشتہ صفحات کا دوبارہ مطالعہ کریں اور شیخ قدس سرہ کی
روایت کردہ صحیح حدیث سے حیات عیسیٰ علیہ السلام پر صحابہ کرام کے اجماع کا فیصلہ کن ثبوت ملاحظہ کریں۔
٢٣۔ حافظ ابن حجر عسقلانیؒ کا عقیدہ
عظمت شان حافظ ابن حجر عسقلانی آٹھویں صدی ہجری کے مجدد اعظم تھے۔ قادیانیوں نے ان کے مجدد ہونے پر اپنی کتاب عسل مصفیٰ ج اول ص ١٦٣ پر مہر تصدیق ثبت کی۔
حیات عیسیٰ علیہ السلام کے ثبوت میں ابن حجر عسقلانی کے اقوال
- ١....... ہم حافظ ابن حجر عسقلانی کے الفاظ میں بخاری شریف کی ایک حدیث کی شرح درج
کر آئے ہیں۔ جس میں حیات عیسیٰ علیہ السلام کا ثبوت ابن حجر عسقلانی نے حبر الامت حضرت ابن عباسؓ اور دیگر صحابہ کرام سے دے کر اہلسنت والجماعت کے عقیدہ پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے۔
- ٢....... ہم ایک اور حدیث درج کر آئے ہیں جو حیات عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ ضروری قرار
دیتی ہے اور جس کی صحت پر ابن حجر نے فتح الباری میں مہر تصدیق ثبت کر دی ہے۔
- ٣....... ”واما رفع عیسیٰ علیہ السلام فاتفق اصحاب الاخبار والتفسیر علی انہ رفع
ببدنہ حیا وانما اختلفوا ہل مات قبل ان یرفع او نام فرفع.“
(تلخیص الحبیر ج ٣ ص ٤٦٢ کتاب الطلاق)
”عیسیٰ علیہ السلام کے اٹھائے جانے کے بارہ میں محدثین اور مفسرین امت کا اجماع ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ جسم عنصری کے ساتھ اٹھائے گئے تھے۔ اگر کسی نے اختلاف کیا ہے تو اس بارہ میں کہ آیا وہ رفع جسمانی سے پہلے فوت ہوئے تھے یا سو گئے تھے۔“
- ٤....... ”ان عیسیٰ ایضاً قد رفع وہو حی علی الصحیح.“
(فتح الباری ج ٦ ص ٢٦٧ باب ذکر ادریس علیہ السلام)
”بے شک عیسیٰ علیہ السلام بھی حضرت ادریس علیہ السلام کی طرح اٹھائے گئے اور صحیح
یہی ہے کہ وہ زندہ ہیں۔“
- ٥...... ”کیف انتم اذ نزل ابن مریم و امامکم منکم...... وعند مسلم فیقال لھم
(ای للعیسیٰ) صل لنا فیقول لا ان بعضکم علیٰ بعض امراء تکرمۃ لھذہ الامۃ (فتح الباری ج ٦ ص ٣٥٨) نیز اسی صفحہ پر ہے کہ بان المھدی بھذہ الامۃ و ان عیسیٰ یصلی خلفہ (ایضاً) حدیث بخاری شریف کیف انتم اذا نزل ابن مریم و امامکم منکم کی اسلامی تشریح پر مہر تصدیق ثبت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ امام مہدی حضرت عیسیٰ ؑ سے کہیں گے کہ ہمیں نماز پڑھائیے اور وہ عذر کریں گے...... مسیح ؑ مہدی کے پیچھے اقتداء کریں گے۔“
- ٦...... ”ینزل عیسیٰ ابن مریم مصدقاً بمحمد ﷺ علیٰ ملتہ.“
(فتح الباری ج ٦ ص ٣٥٦)
”عیسیٰ ؑ ابن مریم نازل ہوں گے درآنحالیکہ وہ تصدیق کرنے والے ہوں گے ۔ رسول کریم ﷺ کی اور آنحضرت ﷺ کی ملت پر ہوں گے۔“
٢٤۔ امام جلال الدین سیوطیؒ کا عقیدہ
عظمتِ شان...... ١ قادیانی امت نے امام موصوف کو نویں صدی ہجری کا امام الزمان اور مجدد تسلیم کرلیا ہے۔ ملاحظہ کیجئے عسل مصفیٰ ج اول ص ١٦٤۔
- ٢...... امام جلال الدین سیوطیؒ کے متعلق ہم مرزا قادیانی کا عقیدہ ازالہ اوہام سے درج
کرتے ہیں۔ ”پھر امام شعرانی صاحب نے ان لوگوں کے نام لیے ہیں جن میں سے ایک امام محدث جلال الدین سیوطیؒ بھی ہیں...... (امام جلال الدین صاحب فرماتے ہیں) کہ میں آنحضرت ﷺ کی خدمت میں تصحیح احادیث کے لیے جن کو محدثین ضعیف کہتے ہیں ۔ حاضر ہوا کرتا ہوں چنانچہ اس وقت تک ٧٥ دفعہ حالت بیداری میں حاضر خدمت ہو چکا ہوں۔“ (ازالہ اوہام ص ١٥١ خزائن ج ٣ ص ١٧٧) اس قدر بلند مرتبہ رکھنے والے مجدد کے اقوال کا اعتماد و اعتبار تو یقیناً قادیانی جماعت کے نزدیک مسلم ہے۔ پس ہم ان کی کتابوں سے حیات مسیح ؑ پر مہر تصدیق ثبت کراتے ہیں۔
- ١...... ہم امام موصوف کی تفسیر دربارہ آیت وَمَکَرُوا وَمَکَرَ اللّٰہُ درج کر آئے ہیں۔ جس
میں امام موصوف فرماتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ ؑ کے ایک دشمن کو حضرت عیسیٰ ؑ کی شبیہ دی گئی اور وہی قتل ہوا۔
- ٢....... ہم امام صاحب کی تفسیر دربارہ اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ درج کر آئے ہیں۔
جس میں امام صاحب مُتَوَفِّیْکَ کے معنی ”میں تجھ پر قبضہ کرنے والا ہوں“ کرتے ہیں اور رَافِعُکَ اِلَیَّ کے معنی کرتے ہیں ”دنیا سے بغیر موت کے اٹھانے والا ہوں ۔“ اور مُطَہِّرُکَ کے معنی کرتے ہیں ”الگ کرنے والا ہوں کفار و یہود سے ۔“
- ٣....... ہم آیت کریمہ وَمَاقَتَلُوْهُ وَمَاصَلَبُوْهُ الْآیَه کی تفسیر از امام جلال الدین درج کر
آئے ہیں۔ جس میں امام صاحب فرماتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ ؑ کی شبیہ اس کافر یہودی پر ڈال دی گئی جو انھیں گرفتار کرانے گیا تھا۔ یہودیوں نے اسی کو عیسیٰ ؑ سمجھ کر قتل کر دیا اور پھانسی پر لٹکا دیا۔ عیسیٰ ؑ کو خدا نے آسمان پر اٹھا لیا۔
- ٤....... حدیث معراج مذکور ہے۔ اس کی صحت ماننے والوں میں سے امام صاحب بھی
ہیں۔ اس حدیث میں حضرت عیسیٰ ؑ دوبارہ دنیا میں نازل ہو کر دجال کے قتل کا وعدہ کر رہے ہیں۔
- ٥....... ہم نے آیت اذ....... تکلم الناس فی المہد و کھلاً درج کی ہے۔ اس کی تفسیر
میں کھلاً کے متعلق امام صاحب فرماتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ قرب قیامت میں نازل ہو کر پھر کہل ہوں گے اور ہزارہا سال کے بعد کہولت کی حالت میں کلام کریں گے۔
امام موصوف کے اقوال دربارہ حیات مسیح ؑ بے شمار ہیں۔ جس قدر مجھے مل سکے ہیں کچھ اوپر بیان کر چکا ہوں اور بقیہ آپ مندرجہ ذیل ملاحظہ فرمائیں۔
امام جلال الدین سیوطیؒ اپنی تفسیر میں حضرت امام محمد بن علیؒ بن ابی طالب کا قول نقل کرتے ہیں ۔
”ان عیسیٰ لم یمت وانہ رفع الی السماء وہو نازل قبل ان تقوم الساعۃ ۔“ (تفسیر درمنثور ج ٢ ص ٣٦) ”بالتحقیق عیسیٰ ؑ فوت نہیں ہوئے اور تحقیق وہ اٹھائے گئے طرف آسمان کی اور نازل ہوں گے قیامت سے پہلے۔“
امام صاحب اپنی کتاب کتاب الاعلام میں فرماتے ہیں۔ ”انہ یحکم بشرع نبینا لا بشرعہ کما نص علی ذالک العلماء و وردت بہ الاحادیث وانعقد علیہ الاجماع.“ (الحاوی للفتاویٰ ج ٢ ص ١٥٥) ”عیسیٰ ؑ ہمارے نبی ﷺ کی شرع کے مطابق حکم کریں گے نہ کہ اپنی شرع سے جیسا کہ نص کیا اس پر علماء امت نے اور اس کی تاکید میں حدیثیں وارد ہوئی ہیں اور اس پر امت محمدی کا اجماع بھی قائم ہو چکا ہے۔“
٢٤۔ حضرت ملا علی قاریؒ حنفی کا عقیدہ
عظمت شان قادیانیوں کے نزدیک ملا علی قاری دسویں صدی ہجری میں مجدد کی حیثیت سے مبعوث ہوئے تھے۔
(دیکھو عسل مصفیٰ ج اول ص ١٦٥)
اقوال ملا علی قاریؒ درباره حیاتِ عیسیٰ علیہ السلام
- ١...... ”انه يذوب كالملح في الماء عند نزول عيسى من السماء“
(شرح فقہ اکبر ص ١٣٦)
”حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب آسمان سے نازل ہوں گے تو اس وقت (ان کو دیکھ کر) دجال اس طرح پگھلے گا جس طرح پانی میں نمک پگھلتا ہے۔“
- ٢...... ”ان عيسى نبي قبله و ينزل بعده و يحكم بشريعته“ (شرح شفاء استنبول ج ٢ ص ٥١٩)
”حضرت عیسیٰ علیہ السلام آنحضرت ﷺ سے پہلے کے نبی ہیں اور آپ کے بعد نازل ہوں گے اور شریعت محمدی پر عمل کریں گے۔“
- ٣...... نزول عيسى من السماء (شرح فقہ اکبر ص ١٣٦) ”پس نازل ہوں گے حضرت
عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے۔“
- ٤...... ”ان عيسى يدفن بجنب نبينا ﷺ بينه و بين الشيخين.“
(جمع الوسائل مصری ص ٥٦٣)
”بالتحقیق حضرت عیسیٰ علیہ السلام آنحضرتؐ کے پہلو میں آپ کے اور ابوبکرؓ و عمرؓ کے درمیان دفن ہوں گے۔“
٢٦۔ شیخ محمد طاہر محی السنۃ گجراتیؒ کا عقیدہ
عظمت شان قادیانی جماعت نے شیخ محمد طاہر گجراتی محی السنۃ کو مجدد صدی دہم تسلیم کر لیا ہے۔
(دیکھو عسل مصفیٰ ج اول ص ١٦٥)
- ١...... ”وقال مالک مات لعله اراد رفعه على السماء...... يجيء آخر الزمان
لتواتر خبر النزول“ (مجمع البحار ج ١ ص ٥٤٣ بلفظ رفع) ”اور امام مالک نے فرمایا کہ سو گئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس واسطے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو آسمان پر اٹھانے کا ارادہ فرمایا...... اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام آخری زمانہ میں آئیں گے کیونکہ احادیث ان کے نزول کے بارہ میں متواتر ہیں۔“
نوٹ ...... مات بمعنی نام (یعنی سو گیا) بھی ہے۔
(دیکھو قاموس بحوالہ ازالۃ اوہام ص ٦٤٠ خزائن ج ٣ ص ٤٤٤)
٢٧۔ امام ربانی مجدد الف ثانیؒ کا عقیدہ
- عظمت شان.......١ از مرزا قادیانی: ”مجدد الف ثانی کامل ولی اور صاحب خوارق و
کرامات بزرگ تھے۔“
(کتاب البریہ ص ٧٤ خزائن ج ١٣ ص ٩٢)
- ٢....... از مرزا قادیانی: ”حضرت مجدد الف ثانی اولیاء کبار میں سے ہیں۔“
(آئینہ کمالات اسلام (قیامت کی نشانی) ص ج خزائن ج ٥ ص ٦٠٧)
- ٣....... امام ربانی گیارہویں صدی کے مجدد تھے۔ دیکھو نمبر ٢ میں مرزا قادیانی کا قول جس
میں امام ربانی شیخ احمد سرہندی کو اصلی نام سے ذکر کرنے کی بجائے مرزا قادیانی نے صرف مجدد الف ثانی یعنی گیارہویں صدی کا مجدد ہی لکھنا مناسب سمجھا۔
(نیز دیکھو عسل مصفٰی ج ١ ص ١٦٥)
- ٤....... قادیانی مذہب کی کتاب عسل مصفٰی جلد اوّل ص ١٧٢ سے ہم مجدد الف ثانی کا مرتبہ
بیان کرتے ہیں۔
”اور معلوم رہے کہ ہر صدی کے سر پر ایک مجدد ہوتا رہا ہے۔ لیکن صدی کا مجدد اور ہے اور الف (ہزار) کا اور۔ یعنی جس طرح سو اور ہزار میں فرق ہے اسی طرح ان کے مجددوں میں فرق ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ۔“
اب ہم ایسے بلند مرتبہ امام و مجدد کے اقوال کی ناظرین کو سیر کراتے ہیں۔
- ١....... ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام نزول فرما کر آنحضرت ﷺ کی شریعت پر عمل پیرا ہوں گے اور
آپ کے امتی ہو کر رہیں گے۔“
(مکتوبات مترجم دفتر ٢ مکتوب ٦٧)
- ٢....... ”قیامت کی علامتیں جن کی نسبت مخبر صادق نے خبر دی ہے۔ سب حق ہیں۔ ان میں
کسی قسم کا خلاف نہیں۔ یعنی آفتاب عادت کے خلاف مغرب کی طرف سے طلوع کرے گا۔ حضرت مہدی علیہ الرضوان ظاہر ہوں گے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام نزول فرمائیں گے۔“
(مکتوبات مترجم دفتر ٢ مکتوب ٦٧)
- ٣....... ”حدیث میں آیا ہے کہ اصحاب کہف حضرت امام مہدی کے مددگار ہوں گے اور
حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان کے زمانہ میں نزول فرمائیں گے اور دجال کو قتل کرنے میں ان کے ساتھ موافقت کریں گے۔“
(حوالہ بالا)
- ٤....... ”انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کا کلمہ متفق ہے کہ ان کے دین کے اصول واحد ہیں۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب آسمان سے نزول فرمائیں گے تو حضرت خاتم الرسل ﷺ کی شریعت کی متابعت کریں گے۔"
(ایضاً)
٢٨۔ حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلویؒ کا عقیدہ
- عظمت شان...... ١...... از مرزا قادیانی: ”رئیس المحدثین تھے۔“
(ازالہ اوہام ص ١٥٣)
- ٢...... از مرزا قادیانی: ”شاہ ولی اللہ رئیس المحدثین تھے۔“
(ازالہ اوہام ص ١٥٥ خزائن ج ٣ ص ١٧٩)
- ٣...... از مرزا قادیانی: ”شاہ ولی اللہ کامل ولی صاحب خوارق و کرامات بزرگ تھے۔“
(کتاب البریہ ص ٧٤ خزائن ج ١٣ ص ٧٢)
- ٤...... از مولوی نور الدین صاحب قادیانی خلیفہ اول: ”میرے پیارے ولی اللہ محدث
دہلویؒ۔“
(ازالہ اوہام خزائن ج ٣ ص ٦٢٧)
- ٥...... ”حضرت احمد شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ بارہویں صدی میں مجدد و امام الزمان
گزرے ہیں۔“
(عسل مصفیٰ ج ١ ص ١٦٥)
اب ہم قادیانیوں کے نزدیک رئیس المحدثین، کامل ولی، صاحب خوارق و کرامات بزرگ اور قادیانیوں کے پیارے ولی اللہ محدث دہلوی کے اقوال دربارہ حیاتِ عیسیٰ علیہ السلام پیش کرتے ہیں۔
- ١...... ”ونیز از ضلالت ایشاں یکے آنست کہ جزم مے کنند کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مقتول شدہ
است، وفى الواقع درحق عیسیٰ علیہ السلام اشتبا ہے واقع شدہ بود رفع بر آسمان را قتل گمان کردند۔“ (فوز الکبیر ص ١٠ مصنفہ شاہ ولی اللہ صاحب) ”ان کی گمراہی ایک یہ تھی کہ انھوں نے یقین کر لیا کہ عیسیٰ علیہ السلام قتل کیے گئے ہیں۔ حالانکہ فی الواقع حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معاملہ میں انھیں اشتباہ واقع ہوا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر اٹھائے جانے کو انھوں نے قتل خیال کر لیا۔“
نوٹ...... دیکھئے یہاں شاہ صاحب قتل کے مقابلہ پر رفع آسمانی کا استعمال کر کے اعلان کر رہے ہیں کہ جیسا قتل کا فعل یہود اور نصاریٰ کے نزدیک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے جسمِ عنصری پر ہوا تھا۔ فی الواقع اسی جسم عنصری پر رفع کا فعل وارد ہوا۔ ورنہ دونوں میں ضد کیسے ہو سکتی ہے؟ (ابوعبیدہ)
- ٢...... تین ہزار سے زائد صحابہ کا اجماع حیاتِ عیسیٰ علیہ السلام پر ہم ایک صحیح حدیث سے بیان
کر آئے ہیں۔ اس حدیث کو رئیس المحدثین شاہ ولی اللہ صاحب نے صحیح تسلیم کیا ہے۔
(دیکھو ازالۃ الخفاء باب ذکر حضرت عمرؓ)
- ٣....... ہم حضرت شاہ ولی اللہ صاحب رحمۃ اللہ کی کتاب تاویل الاحادیث سے نقل کر
آئے ہیں۔ اس کا ملاحظہ کیا جائے۔ وہ عبارت اس بحث میں فیصلہ کن ہے۔
- ٤....... ہم شاہ صاحب کی ایک عبارت درج کر آئے ہیں۔ جو انھوں نے وان من اھل
الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ کی تفسیر میں فرمائی ہے۔ وہ بھی قابل دید ہے۔ ناظرین کے استفادہ کے لیے دوبارہ درج کرتے ہیں۔ ”و نباشد ہیچ کس از اہل کتاب البتہ ایمان آورد بہ عیسیٰ ؑ پیش از مردن عیسیٰ ؑ و روز قیامت باشد عیسیٰ ؑ گواہ بر ایشان۔“
(فتح الرحمٰن مصنفہ شاہ صاحب)
- ٥....... شاہ صاحب قدس سرہ کا مرتبہ آپ ملاحظہ کر ہی چکے ہیں۔ آپ صریح الفاظ میں
حیات عیسیٰ ؑ کا اعلان فرما رہے ہیں، فرماتے ہیں۔ تمام اہل کتاب (یہودی و نصاریٰ) حضرت عیسیٰ ؑ کی موت سے پہلے پہلے ایمان لے آئیں گے۔ پس جب تک ایک یہودی یا عیسائی بھی دنیا میں اپنے مذہب پر قائم رہے گا۔ حضرت عیسیٰ ؑ کی موت نہیں آئے گی کیونکہ اس سے پہلے موت عیسیٰ ؑ کا واقع ہونا باری تعالیٰ کے وعدہ کی خلاف ورزی ہے۔
- ٦....... قادیانی جماعت کے مسلم مجدد و رئیس المحدثین اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ الآیہ
کی تفسیر میں فرماتے ہیں۔ ”من برگیرندہ توام یعنی ازین جہاں و بردارندۂ توام بسوئے خود و پاک سازندہ توام از صحبت کسانیکہ کافر شدند۔“ (تفسیر فتح الرحمٰن مؤلفہ شاہ صاحب قدس سرہ العزیز) ” (اے عیسیٰ ؑ) میں تجھے اپنے قبضہ میں لینے والا ہوں اور تجھے اپنی طرف اٹھانے والا ہوں اور تجھے ان کافروں کی صحبت سے پاک کرنے والا ہوں۔“
- ٧....... حضرت شاہ صاحب اپنی تفسیر فتح الرحمٰن میں بزیر آیت وَمَا قَتَلُوْہُ وَمَا صَلَبُوْہُ
فرماتے ہیں: ”و نہ کشتہ اند اورا و بردار نہ کردہ اند اورا...... و بیقین نکشتہ اند اورا بلکہ برداشت اورا خدا تعالیٰ بسوئے خود۔“ ”یہودیوں نے نہ تو قتل کیا عیسیٰ ؑ کو اور نہ سولی پر ہی چڑھایا ان کو...... یقینی بات ہے کہ نہیں قتل کر سکے یہود ان کو بلکہ اٹھا لیا ان کو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف۔“
حاشیہ پر شاہ صاحب قدس سرہ فرماتے ہیں: ”مترجم گوید یہودی کہ حاضر شوند
نزول عیسیٰ علیہ السلام البتہ ایمان آرند۔“ میں (حضرت شاہ صاحب) کہتا ہوں۔ اہل کتاب سے مراد وہ یہودی ہیں جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے زمانہ میں ہوں گے۔“
- ٨ حضرت رئیس المحدثین آیت وَإِنَّهُ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ کے متعلق فرماتے ہیں: ”و ہر آئینہ
عیسیٰ علیہ السلام نشان ہست قیامت را۔“ ”بے شک عیسیٰ علیہ السلام قیامت کی نشانی ہے۔“
٢٩۔ امام شوکانیؒ کا عقیدہ
عظمت شان قادیانی جماعت نے امام شوکانی صاحب کو بارہویں صدی کا امام اور مجدد تسلیم کر لیا ہے۔
(دیکھو عسل مصفیٰ ج ١ ص ١٦٥)
مجدد کی شان اور عظمت ہم قادیانی اصول سے اس باب کے شروع میں ظاہر کر چکے ہیں۔
اقوال امام شوکانیؒ
- ١....... ”تواترت الاحادیث بنزول عیسیٰ حیا جسماً“ (بحوالہ تفسیر فتح البیان ج ١ جز اول)
”حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زندہ جسم عنصری کے ساتھ نازل ہونے کے بارہ میں حدیثیں متواتر ہیں۔“
- ٢....... ”الاحادیث الواردة فی نزولہ متواترة“ (کتاب الاذاعة للشوکانی) ”یعنی وہ
احادیث نبوی جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے بارہ میں آئی ہیں وہ متواتر ہیں۔“
٣٠۔ شاہ عبدالعزیز صاحب محدث دہلویؒ کا عقیدہ
عظمت شان آپ کو قادیانیوں نے مجدد صدی سیزدہم تسلیم کر لیا ہے۔
(دیکھو عسل مصفیٰ جلد اوّل ص ١٦٥)
حضرت شاہ صاحبؒ کی روایات دربارہ حیاتِ عیسیٰ علیہ السلام آپ ملاحظہ فرمائیں۔ جہاں ام المؤمنین حضرت صفیہؓ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع جسمانی کا نہ صرف اعلان کر رہی ہیں بلکہ وہ جگہ بھی بتا رہی ہیں جہاں سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر اٹھائے گئے۔
٣١۔ حضرت شاہ رفیع الدین محدث دہلویؒ کا عقیدہ
عظمت شان....... قادیانی جماعت شاہ صاحبؒ کو تیرہویں صدی کا مجدد تسلیم کرتی ہے۔
(دیکھو عسل مصفیٰ جلد اوّل ص ١٦٥)
شاہ رفیع الدین صاحب مجدد صدی سیزدہم اپنے ترجمہ قرآن شریف میں فرماتے ہیں۔
- ١...... اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ الْاٰیَۃ‘ اے عیسیٰ علیہ السلام تحقیق میں لینے والا ہوں تجھ کو اور
اٹھانے والا ہوں۔ تجھ کو اپنی طرف اور پاک کرنے والا ہوں تجھ کو ان لوگوں سے جو کافر ہوئے۔‘‘
(دیکھو ترجمہ شاہ صاحب زیر آیت کریمہ)
- ٢...... وَ اِنْ مِّنْ اَھْلِ الْکِتَابِ اِلَّا لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ ’’نہیں کوئی اہل کتاب میں سے مگر
ایمان لاوے گا ساتھ اس کے پہلے موت اس کی کے۔‘‘
(دیکھو ترجمہ شاہ صاحب بزیر آیت کریمہ)
- ٣...... ’’وَاِنَّہٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَۃِ‘‘ اور تحقیق وہ البتہ علامت قیامت کی ہے۔
(ترجمہ شاہ صاحب بزیر آیت کریمہ)
ناظرین! غور کیجئے حضرت شاہ رفیع الدین صاحب محدث دہلوی کن صاف الفاظ میں حیات عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ ظاہر کر رہے ہیں۔
٣٢۔ حضرت شاہ عبدالقادر صاحب محدث دہلویؒ کا عقیدہ
عظمت شان قادیانیوں نے حضرت شاہ صاحب کو بھی مجدد صدی دوازدہم مان لیا ہے۔
(دیکھو عسل مصفیٰ ج اوّل ص ١٦٥)
قارئین عظام! ذیل میں ہم حضرت شاہ عبدالقادر صاحبؒ کے اقوال پیش کرتے ہیں۔
- ١...... ’’اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ الْاٰیَۃ‘‘ ’’ اے عیسیٰ علیہ السلام میں تجھ کو بھر لوں گا
(اپنے قبضہ میں لے لوں گا) اور اٹھا لوں گا اپنی طرف اور پاک کروں گا تجھ کو کافروں سے۔‘‘
(زیر آیت کریمہ)
- ٢...... ’’وَمَا قَتَلُوْہُ وَمَا صَلَبُوْہُ وَلٰکِنْ شُبِّہَ الْاٰیَۃ اور نہ (یہود نے) اس کو مارا ہے اور نہ
سولی پر چڑھایا ہے ولیکن وہی صورت بن گئی ان کے آگے...... اور اس کو مارا نہیں بے شک بلکہ اس کو اٹھا لیا اللہ نے اپنی طرف‘‘ (ف) یہود کہتے ہیں ہم نے مارا عیسیٰ علیہ السلام کو اور مسیح اور رسول خدا نہیں کہتے یہ اللہ نے ان کی خطا ذکر فرمائی اور فرمایا کہ اس کو ہرگز نہیں مارا۔ حق تعالیٰ نے ایک صورت ان کو بنا دی اس کو (یہودیوں نے) سولی چڑھایا۔‘‘
(بزیر آیت کریمہ)
٣....... وَ اِنْ مِّنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ اِلَّا لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ کے متعلق حضرت شاہ صاحب اپنی مشہور تفسیر موضح القرآن میں لگی لپٹی بغیر فرماتے ہیں۔ ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام ابھی زندہ ہیں ۔ جب یہود میں دجال پیدا ہو گا ۔ تب (حضرت عیسیٰ علیہ السلام ) اس جہاں میں آ کر اس کو ماریں گے اور یہود و نصاریٰ (مرزائی بھی ۔ ابوعبیدہ) ان پر ایمان لائیں گے کہ یہ (عیسیٰ علیہ السلام) نہ مرے تھے۔“
(موضح القرآن زیر آیت کریمہ)
٤....... ”وَاِنَّہٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ. اور وہ نشان ہے اس گھڑی کا ۔ (ف) حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آنا نشانِ قیامت ہے۔“
(موضح القرآن زیر آیت کریمہ)
٣٣۔ شیخ محمد اکرم صابریؒ کا عقیدہ
عظمتِ شان مرزا قادیانی نے شیخ موصوف کو اکابر صوفیہ میں سے شمار کیا ہے۔ (دیکھو ایام الصلح ص ٣٨ خزائن ج ١٤ ص ٣٨٢) اور صرف ان کی بلند شخصیت سے بذریعہ افتراء محض پبلک کو دھوکہ دینے کی ناکام کوشش کی ہے۔ ذیل میں ہم اس افتراء کا پردہ چاک کرتے ہیں۔ شیخ محمد اکرم صابریؒ فرماتے ہیں۔
”بعضے برانند کہ روحِ عیسیٰ در مہدی بروز کند و نزول عبارت ازیں بروز است مطابق ایں حدیث لا مہدی الا عیسیٰ ابن مریم.“
(اقتباس الانوار ص ٥٢ بحوالہ ایام الصلح ص ١٣٨ خزائن ج ١٤ ص ٣٨٣)
”یعنی بعضے کہتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام کی روح مہدی میں بروز کرے گی اور ان کے نازل ہونے کا مطلب یہی بروز عیسوی ہے۔ مطابق حدیث لا مہدی الا عیسیٰ ابن مریم.“
مرزا قادیانی نے یا تو غلطی سے یا محض دجل اور فریب کی غرض سے ”بعضے برانند“ سے ایک گروہ اکابر صوفیہ کا مراد لے لیا ہے۔ ذرا مرزا قادیانی یا ان کے حواری ان اکابر صوفیہ کا نام تو بتائیں؟ جو اس عقیدہ کے حامل تھے۔
لیجئے! ہم بتاتے ہیں کہ مرزا قادیانی کے اکابر صوفیہ اور شیخ محمد اکرمؒ کے بیان کردہ ”بعضے“ سے مراد کون سے صوفیہ ہیں۔ یہ وہی ”اکابر صوفیہ“ ہیں۔ جنھوں نے مرزا قادیانی کی طرح عیسیٰ ابن مریم بننے کی سعی لاحاصل کی اور مرزا قادیانی کی طرح بامرِ مجبوری بروزِ عیسوی کے قائل ہوئے۔ ایسے ہی کذابین، دجالین کے متعلق خود حضرت عیسیٰ علیہ السلام فرما گئے تھے۔
”خبردار کوئی تمھیں گمراہ نہ کر دے کیونکہ بہتیرے میرے نام سے آئیں گے
اور کہیں گے کہ میں مسیح ہوں اور بہت سے لوگوں کو گمراہ کریں گے۔“
(انجیل متی باب ٢٤)
ہم اس مضمون کو باب اوّل میں بیان کر آئے ہیں۔ ”پس مرزا قادیانی کے گروہ اکابر صوفیہ کی فہرست دیکھنی ہو تو وہ عسل مصفیٰ ج دوم ص ٢١٢ وص ٢١٨ پر ملاحظہ کریں۔ ایسے صوفیاء کے نام یہ ہیں۔
- ١...... ”صوفی“ مسٹر وارڈ (لنڈن)
- ٢...... ”صوفی“ ایک حبشی (جزیرہ جمیکا)
- ٣...... ”صوفی“ ایک فرنگی (ملک روس)
- ٤...... ”صوفی“ بھیک صدی دہم
- ٥...... ”صوفی“ ابراہیم بذلہ
- ٦...... ”صوفی“ شیخ محمد خراسانی
- ٧...... ”صوفی“ محمد بن تومرث
- ٨...... ”صوفی“ صوفی پکٹ (لنڈن)
- ٩...... ”صوفی“ چراغدین ساکن جموں مرزائی
- ١٠...... ”صوفی“ ڈوئی صاحب (امریکہ)
- ١١...... ”صوفی“ عبداللہ تیماپوری مرزائی علاقہ دکن۔
- ١٢...... ”صوفی“ انوسینٹ صاحب سکنہ روس۔
- ١٣...... ”صوفی“ نامعلوم الاسم ساکن پیرس۔
ناظرین! یہ ہیں مرزا قادیانی کے اکابر صوفیہ جنھوں نے اپنی مسیحیت کے ثبوت کے لیے بروز کا جامہ پہننا ضروری سمجھا۔ غالباً انھیں کے متعلق شیخ محمد اکرم صاحب نے اقتباس الانوار ص ٥٢ پر ”و بعضے برانند“ کہ روح عیسیٰ ؑ در مہدی بروز کند و نزول عبارت ازیں بروز است الخ لکھ کر آگے خود ہی ان مرزائی صوفیاء کا بھانڈا یوں پھوڑا ہے۔ فرماتے ہیں۔ ”و ایں مقدمہ بغایت ضعیف است۔“ (اقتباس الانوار ص ٥٢) یعنی یہ دعویٰ بے حد ضعیف ہے۔“
پھر اسی اقتباس الانوار کے ص ٧٢ پر فرماتے ہیں ”یک فرقہ براں رفتہ اند کہ مہدی آخرالزمان عیسیٰ ابن مریم است و این روایت بغایت ضعیف است زیرا کہ اکثر احادیث صحیحہ و متواترہ از حضرت رسالت پناہ ﷺ ورود یافتہ کہ مہدی از بنی فاطمہ خواہد بود و عیسیٰ ؑ باو اقتداء کردہ نماز خواہد گزارد و جمیع عارفان صاحب تمکین براین متفق اند۔“ یعنی ایک فرقہ ایسے ہی گمراہ صوفیوں کا اس طرف گیا ہے کہ عیسیٰ ؑ ابن مریم ہی مہدی بھی ہوں گے۔ مگر یہ روایت بھی بے حد ضعیف ہے کیونکہ رسول کریم ﷺ کی اکثر متواتر صحیح حدیثیں اس بارہ میں موجود ہیں کہ مہدی ؑ حضرت فاطمہؓ کی اولاد سے ہوگا اور حضرت عیسیٰ ؑ ان کے پیچھے نماز پڑھیں گے اور تمام عارفان صاحب تمکین اس پر متفق ہیں۔“
ناظرین! دیکھئے کن صاف الفاظ میں شیخ محمد اکرم صابری جو خود بھی مرزا قادیانی کے نزدیک اکابر صوفیہ میں سے ہیں۔ سچے اور خدا رسیدہ صوفیائے عظام کا عقیدہ حیات و نزول عیسیٰ ؑ بیان فرما رہے ہیں۔ عقیدہ بروز رکھنے والوں کا رد کر رہے ہیں۔ مگر مرزا قادیانی ہیں کہ بھوکے کی طرح دو اور دو چار روٹیاں ہی کا نعرہ لگائے جاتے ہیں۔
مرزا قادیانی کا طرز استدلال بعینہ ایسا ہے۔ جیسا کوئی منکر نماز قرآن کریم سے نماز پڑھنے کے خلاف بطور دلیل یہ آیت پڑھ دے۔ لا تقربوا الصلوۃ یعنی نماز کے قریب بھی مت جاؤ اور اس سے اگلی عبارت (وانتم سکریٰ یعنی نشے کی حالت میں) اس کی آنکھوں کو خیرہ کر دے۔
حضرات! دنیا اسلام میں بے شمار محدثین، مجددین، آئمہ مفسرین و آئمہ مجتہدین گزرے ہیں۔ بلا استثنا تمام کے تمام حیات عیسیٰ ؑ اور قرب قیامت میں ان کے نزول کا عقیدہ رکھنا جزو ایمان قرار دیتے چلے گئے ہیں۔ سب کے اقوال بیان کرنے سے میں بوجوہ ذیل معذور ہوں۔
- ١۔ ..... چونکہ پہلے زمانہ میں تمام مسلمان اس عقیدہ پر ایسا ہی ایمان رکھتے تھے۔ جیسا کہ خدا
اور اس کے رسول کی رسالت پر اس واسطے بعض علماء اسلام نے اس پر گفتگو کرنا غیر ضروری سمجھا۔ مثلاً ہر ایک آدمی جانتا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیان کا رہنے والا تھا۔ اب اس پر دلیل قائم کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ پس بعض علماء سلف نے اس پر مزید بحث کرنا ضروری ہی نہیں سمجھا۔ ”آفتاب آمد دلیل آفتاب“ کا مصداق سمجھ کر دیگر ضروریات دین کے حل کرنے میں لگ رہے۔
- ٢۔ ..... اکثر نے اس پر خوب بحث کی ہے۔ مگر چونکہ میرا اصول اس کتاب میں یہ رہا ہے کہ
صرف اسی بزرگ کے اقوال نقل کیے ہیں جو قادیانیوں کے نزدیک مسلم امام تھے اور ان کے متعلق مجھے قادیانی تصدیقات نہیں مل سکیں لہٰذا ان بزرگوں کے اقوال نقل نہیں کیے۔
- ٣۔ ..... بہت سے ایسے ہیں کہ قادیانیوں کے نزدیک ان کی عظمت مقبول ہے۔ مگر بخوف
طوالت ان کے اقوال کو چھوڑ دیا ہے۔
- ٤۔ ..... بہت سے مشہور آئمہ دین و مفسرین کلام اللہ ایسے ہیں۔ جن کی عظمت کا دنیا اسلام
کا بچہ بچہ قائل ہے اور خود قادیانیوں کے نزدیک وہ اپنے اپنے وقت کے امام مفسر اور مجدد تھے۔ میں نے صرف ایسے ہی بزرگان دین کے اقوال نقل کیے ہیں۔
باب ششم
حیات عیسیٰ علیہ السلام کا ثبوت
از اقوال مرزا غلام احمد قادیانی
حضرات! ہم نے گذشتہ پانچ ابواب میں انجیل، کلام اللہ، احادیث نبوی، اقوال صحابہ اور اقوال مجددین سے حیات عیسیٰ علیہ السلام کے ثبوت میں سیر حاصل بحث کی ہے۔ مزید بحث کی ضرورت نہ تھی مگر جادو وہ جو سر پر چڑھ کر بولے۔ اب ذیل میں ہم خود مرزا قادیانی اور اس کی امت کے اقوال سے حیات عیسیٰ علیہ السلام کا ثبوت دیتے ہیں۔ آپ حیران ہوں گے کہ یہ کیا بات ہے۔ وفات مسیح علیہ السلام کے مدعی کے اقوال سے یہ کیسے ممکن ہے؟ لیکن مشاہدہ کی تکذیب کرنا محال ہے۔ پیشتر اس کے کہ ہم ایسے اقوال بیان کریں ہم یہ بتلا دینا چاہتے ہیں کہ یہ اقوال بھی ایسے ہی ہوں گے کہ ان کا رد قادیانیوں سے ممکن نہ ہوگا۔ دلائل ذیل ذہن نشین کر لیں۔
- ١...... ہم مرزا قادیانی کے اقوال اس زمانہ کے بیان کریں گے جبکہ مرزا قادیانی اپنے زعم
میں مجدد و محدث و مامور من اللہ ہو چکے تھے۔
- ٢...... ان کتابوں سے اقوال نقل کریں گے جن کے الہامی ہونے کا مرزا قادیانی کو خود
دعویٰ تھا۔
- ٣...... مرزا قادیانی چونکہ اپنے آپ کو تحصیل علم میں ظاہری اساتذہ سے مستغنی کہتے تھے
اور ماشاء اللہ ”امی نبی“ ہونے کے قائل تھے۔ لہٰذا ان کی ہر بات الہامی متصور ہوگی۔
- ٤...... مجدد کی شان ہے کہ وہ خود اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتا بلکہ جو کچھ کہتا ہے۔ وہ
الہام اور وحی کی بنا پر کہتا ہے۔ لہٰذا مرزا قادیانی کا ہر فعل اور ہر قول الہامی متصور ہوگا۔
- ٥...... مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ ان پر یہ وحی نازل ہوئی تھی۔ ”وما ینطق عن الہویٰ
ان ھو الا وحی یوحٰی“ (تذکرہ ص ٣٩٤۔٣٧٨) یعنی مرزا قادیانی اپنی طرف سے کوئی بات نہیں کرتے تھے بلکہ بذریعہ وحی جلی و خفی بات کرتے تھے۔ پس مرزا قادیانی کے
اقوال کی اطاعت تو قادیانی جماعت پر واجب بلکہ فرض ہے۔ اقوال مرزا قادیانی کی انفرادی توثیق ہم ساتھ ساتھ کراتے جائیں گے۔ (انشاء اللہ)
اقوال و دلائل مرزا قادیانی در اثبات حیات عیسیٰ علیہ السلام
١...... ”ھو الذی ارسل رسولہ بالھدٰی و دین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ یہ آیت جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر حضرت مسیح علیہ السلام کے حق میں پیشگوئی ہے اور جس غلبہ کاملہ دین اسلام کا وعدہ دیا گیا ہے۔ وہ غلبہ مسیح کے ذریعہ سے ظہور میں آئے گا اور جب حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق اور اقطار میں پھیل جائے گا لیکن اس عاجز پر ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ خاکسار اپنی غربت اور انکسار اور توکل اور ایثار اور آیات اور انوار کی رو سے مسیح کی پہلی زندگی کا نمونہ ہے اور اس عاجز کی فطرت اور مسیح کی فطرت باہم نہایت ہی مشابہ واقع ہوئی ہے...... چونکہ اس عاجز کو حضرت مسیح علیہ السلام سے مشابہت تامہ ہے۔ اس لیے خداوند کریم نے مسیح علیہ السلام کی پیش گوئی میں ابتداء سے اس عاجز کو بھی شریک کر رکھا ہے۔ یعنی حضرت مسیح علیہ السلام پیشگوئی متذکرہ بالا کا ظاہری اور جسمانی طور پر مصداق ہے اور یہ عاجز روحانی اور معقولی طور پر اس کا محل اور مورد ہے۔“
(براہین احمدیہ ص ٤٩٨۔٤٩٩ خزائن ج ١ ص ٥٩٣۔٥٩٤ حاشیہ)
٢...... (الہام مرزا) ”عسٰی ربکم ان یرحم علیکم و ان عدتم عدنا و جعلنا جھنم للکافرین حصیرا۔ خدا تعالیٰ کا ارادہ اس بات کی طرف متوجہ ہے تم پر رحم کرے اور اگر تم نے گناہ اور سرکشی کی طرف رجوع کیا تو ہم بھی سزا اور عقوبت کی طرف رجوع کریں گے اور ہم نے جہنم کو کافروں کے لیے قید خانہ بنا رکھا ہے۔ یہ آیت اس مقام میں حضرت مسیح علیہ السلام کے جلالی طور پر ظاہر ہونے کا اشارہ ہے۔ یعنی اگر طریق رفق اور نرمی اور لطف احسان کو قبول نہیں کریں گے اور حق محض جو دلائل واضح اور آیات بینہ سے کھل گیا ہے۔ اس سے سرکش رہیں گے۔ تو وہ زمانہ بھی آنے والا ہے کہ جب خدا تعالیٰ مجرمین کے لیے شدت اور عنف اور قہر اور سختی کو استعمال میں لائے گا اور حضرت مسیح علیہ السلام نہایت جلالیت کے ساتھ دنیا پر اتریں گے اور تمام راہوں اور سڑکوں کو خس و خاشاک سے صاف کر دیں گے اور کج اور ناراست کا نام و نشان نہ رہے گا۔ جلال الٰہی گمراہی کے تخم کو اپنی تجلی قہری سے نیست و نابود کر دے گا اور یہ زمانہ اس زمانہ کے لیے بطور ارہاص کے واقع
ہوا ہے۔ یعنی اس وقت جلالی طور پر خدا تعالیٰ اتمام حجت کرے گا۔‘‘
(براہین احمدیہ ص ٥٠٥ حاشیہ خزائن ج ١ ص ٦٠١)
- ٣...... ’’حضرت مسیح ؑ تو انجیل کو ناقص کی ناقص ہی چھوڑ کر آسمانوں پر جا بیٹھے۔‘‘
(کتاب بالا ص ٣٦١ خزائن ج ١ ص ٤٣١)
ان کے اقوال کی عظمت
- ا...... یہ اقوال اس کتاب (براہین احمدیہ) سے لیے گئے ہیں۔ جس کی شان مرزا قادیانی
کے الفاظ میں یہ ہے۔
- ا...... ’’کتاب براہین احمدیہ جس کو خدا تعالیٰ کی طرف سے مؤلف (مرزا جی) نے ملہم و
مامور ہو کر بغرض اصلاح و تجدید دین تالیف کیا ہے۔‘‘
(قول مرزا مندرجہ تبلیغ رسالت ج ١ اول ص ١٤ مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٣ و اشتہار مشمولہ سرمہ چشم آریہ ص ٣)
- ب...... ’’ہم نے صدہا طرح کا فتور اور فساد دیکھ کر کتاب براہین احمدیہ کو تالیف کیا تھا اور
کتاب موصوف میں تین سو مضبوط اور محکم عقلی دلیل سے صداقت اسلام کو فی الحقیقت آفتاب سے بھی زیادہ تر روشن دکھلایا گیا۔‘‘
(تبلیغ رسالت ج ١ اول ص ٢٩ مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٣٨)
- ج...... ’’اب اس کتاب کا متولی اور مہتمم ظاہراً و باطناً حضرت رب العالمین ہے اور کچھ
معلوم نہیں کہ کس اندازہ تک اس کو پہنچانے کا ارادہ ہے اور سچ تو یہ ہے کہ جس قدر جلد چہارم تک انوار حقیقت اسلام کے ظاہر کیے ہیں۔ یہ بھی اتمام حجت کے لیے کافی ہیں۔‘‘
(تبلیغ رسالت ج ١ اول ص ٤٨ مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٥٦)
- د...... براہین احمدیہ وہ کتاب ہے جو بقول مرزا قادیانی آنحضرت ﷺ کے دربار میں
رجسٹری ہو چکی ہے۔ آپ نے اس کا نام قطبی رکھا۔ یعنی قطب ستارہ کی طرح غیر متزلزل و مستحکم ہے۔ جس کے کامل استحکام کو پیش کر کے دس ہزار روپیہ کا اشتہار دیا گیا ہے۔‘‘
(براہین احمدیہ ص ٢٤٨ خزائن ج ١ ص ٢٧٥)
- ھ...... ’’اس کتاب میں یہ فائدہ ہے کہ یہ کتاب مہمات دینیہ کے بیان کرنے میں ناقص
البیان نہیں بلکہ وہ تمام صداقتیں جن پر اصول علم دین مشتمل ہیں اور وہ تمام حقائق عالیہ کہ جن کی ہیئت اجماعی کا نام اسلام ہے۔ وہ اس میں مکتوب اور مرقوم ہیں اور یہ ایسا فائدہ ہے کہ جس کے پڑھنے والوں کو ضروریاتِ دین پر احاطہ ہو جائے گا اور کسی مغوی اور بہکانے والے کے بیچ میں نہیں آئیں گے بلکہ دوسروں کو وعظ اور نصیحت اور ہدایت کرنے
کے لیے ایک کامل استاد اور ایک عیار رہبر بن جائیں گے۔“ (براہین احمدیہ ص ١٣٦ خزائن ج ١ ص ١٢٩)
- و...... ”پانچواں اس کتاب میں یہ فائدہ ہے کہ اس کے پڑھنے سے حقائق اور معارف کلام
ربانی کے معلوم ہو جائیں گے...... تمام وہ دلائل اور براہین جو اس میں لکھی گئی ہیں اور وہ تمام کامل صداقتیں جو اس میں دکھائی گئی ہیں۔ وہ سب آیاتِ بینات قرآن شریف ہی سے لی گئی ہیں...... یہ کتاب قرآن شریف کے دقائق اور حقائق اور اس کے اسرار عالیہ اور اس کے علوم حکمیہ اور اس کے اعلیٰ فلسفہ ظاہر کرنے کے لیے ایک عالی بیان تفسیر ہے۔“
(کتاب براہین احمدیہ ص ١٣٧ خزائن ج ١ ص ١٣٠)
- ز...... ”اللہ تعالیٰ براہین احمدیہ میں فرماتا ہے۔“ (تتمہ حقیقۃ الوحی ص ٥١ خزائن ج ٢٢ ص ٤٨٥)
اس قسم کے فقرے مرزا قادیانی نے اپنی تالیفات میں بہت جگہ لکھے ہیں۔ مسلمان کہا کرتے ہیں اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتے ہیں جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ قرآن شریف کلام اللہ ہے۔ اسی طرح اللہ براہین احمدیہ میں فرماتا ہے گویا براہین احمدیہ کلام اللہ ہے۔
٢۔ تالیف براہین احمدیہ کے زمانہ میں مرزا قادیانی کی شان
- ا...... ”مؤلف (براہین احمدیہ) کو علم دیا گیا ہے کہ وہ مجدد وقت ہے۔“
(تبلیغ رسالت ج ١ ص ١٣ مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٣)
- ب...... ”مؤلف نے براہین احمدیہ کو خدا تعالیٰ کی طرف سے ملہم اور مامور ہو کر بغرض
اصلاح و تجدید دین تالیف کیا ہے۔“ (تبلیغ رسالت ج ١ ص ١٣ مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٣)
- ج...... ”کشف کی حالت میں جناب پیغمبر خدا ﷺ اور حضرت علیؓ و حسنین و فاطمہ زہرا رضی
اللہ عنہم اجمعین تشریف لائے اور ایک نے ان میں سے اور ایسا یاد پڑتا ہے کہ حضرت فاطمہؓ نے...... ایک کتاب مجھ کو دی کہ جس کی نسبت یہ بتایا گیا یہ تفسیر قرآن ہے۔ جس کو علیؓ نے تالیف کیا ہے اور اب علیؓ وہ تفسیر مجھ کو دیتا ہے۔ فالحمد للہ علی ذالک۔“
(براہین احمدیہ ص ٥٠٣ خزائن ج ١ ص ٥٩٩)
نوٹ از ابوعبیدہ۔ گویا اس زمانہ میں مرزا قادیانی پورے مفسر بنا دیے گئے تھے۔
- د...... ”اللہ تعالیٰ دوسری جگہ براہین احمدیہ میں فرماتا ہے۔ الرحمٰن علم القرآن...... یعنی وہ
خدا ہے جس نے تجھے قرآن سکھلایا اور صحیح معنوں پر مطلع کیا۔“
(تتمہ حقیقۃ الوحی ص ٥١ خزائن ج ٢٢ ص ٤٨٥)
نوٹ از ابوعبیدہ: اس سے بھی معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی کو خدا نے براہین
احمدیہ کی تالیف کے زمانہ میں مفسر قرآن بنا دیا تھا۔
٣۔ مجدد اور ملہم من اللہ کی شان مرزا قادیانی کے الفاظ میں
- ا...... ”جو لوگ خدا تعالیٰ سے الہام پاتے ہیں۔ وہ بغیر بلائے نہیں بولتے اور بغیر
سمجھائے نہیں سمجھتے اور بغیر فرمائے کوئی دعویٰ نہیں کرتے اور اپنی طرف سے کسی قسم کی دلیری نہیں کرتے۔“
(ازالہ اوہام ص ١٩٨ خزائن ج ٣ ص ١٩٧)
- ب...... ”مجدد کا علوم لدنیہ و آیات سماویہ کے ساتھ آنا ضروری ہے۔“
(ازالہ ص ١٥٣ خزائن ج ٣ ص ١٧٩)
ناظرین با تمکین! کیا میں آپ کی انصاف پسند طبعوں کو اپیل کرتے ہوئے دریافت کر سکتا ہوں کہ براہین احمدیہ واقعی اگر ایسی باعظمت کتاب تھی۔ جیسی کہ مرزا قادیانی نے ظاہر کی ہے اور مرزا قادیانی اگر واقعی اپنے دعویٰ مجددیت اور الہام میں صادق تھے اور مجدد وملہم من اللہ کی وہی شان ہوتی ہے۔ جو انھوں نے لکھی ہے تو اندریں حالات جو مضمون انھوں نے حیات عیسیٰ ؑ کے بارہ میں لکھا ہے۔ کیا مرزا قادیانی اس کی تاویل۔ ان الفاظ میں کر سکتے ہیں اور کسی معقول طریقہ سے کسی صاحب انصاف کو اپنا ہمنوا بنا سکتے ہیں؟
عذر مرزا ”پھر میں قریباً بارہ برس تک جو ایک زمانہ دراز ہے۔ بالکل اس سے بے خبر اور غافل رہا کہ خدا نے مجھے بڑی شد و مد سے براہین احمدیہ میں مسیح موعود قرار دیا ہے اور میں حضرت عیسیٰ ؑ کی آمد ثانی کے رسمی عقیدہ پر جما رہا۔“
(اعجاز احمدی ص ٧ خزائن ج ١٩ ص ١١٣)
قول مرزا ”میں نے مسلمانوں کا رسمی عقیدہ براہین احمدیہ میں لکھ دیا۔ تا میری سادگی اور عدم بناوٹ پر وہ گواہ ہو۔ وہ میرا لکھنا جو الہامی نہ تھا۔ محض رسمی تھا۔ مخالفوں کے لیے قابل استناد نہیں۔ کیونکہ مجھے خود بخود غیب کا دعویٰ نہیں۔ جب تک کہ خدا تعالیٰ مجھے نہ سمجھا دے۔“
(کشتی نوح ص ٤٧ خزائن ج ١٩ ص ٥٠)
ناظرین کیا مرزا قادیانی کی یہ تاویل ان حقائق کے سامنے جو اوپر مذکور ہوئے ہیں۔ ایک لمحہ کے لیے بھی ٹھہر سکتی ہے؟ خود غرض کا ستیاناس ہو۔ کس سادگی سے کہتے ہیں کہ میں نے مسلمانوں کا رسمی عقیدہ لکھ دیا تھا۔ اجی پھر آپ نے جو کچھ براہین احمدیہ کی عظمت کے متعلق لکھا ہے۔ کیا وہ (معاف فرمائیں) بکواس محض نہ تھا۔ کیا مجدد کی یہی
شان ہوتی ہے کہ وہ لوگوں کے رسمی عقیدوں پر قائم رہتا ہے اور پھر ایسے عقائد والی کتاب کو الہامی قرار دیتا ہے اور اس پر ہزار روپیہ انعام کا بھی اعلان کرتا ہے۔ ذرا مامور من اللہ اور ملہم کی شان دوبارہ اپنے ہی الفاظ میں سن کر کچھ تو ایسی تاویل کو دنیا کے سامنے پیش کرتے ہوئے شرمائے آخر ساری دنیا آپ کی اندھی تقلید تو کرنے کو تیار نہیں ہے۔ دیکھئے ملہم من اللہ کی شان آپ کے نزدیک یہ ہے۔
”جو خدا تعالیٰ سے الہام پاتے ہیں وہ بغیر بلائے نہیں بولتے اور بغیر سمجھائے نہیں سمجھتے اور بغیر فرمائے کوئی دعویٰ نہیں کرتے اور اپنی طرف سے کسی قسم کی دلیری نہیں کرتے۔“
(ازالہ اوہام ص ١٩٨ خزائن ج ٣ ص ١٩٧)
اب فرمائیے مسلمانوں کا رسمی عقیدہ لکھنے میں بغیر خدا کے بلائے آپ کیوں بول پڑے اور بغیر سمجھائے کیوں آپ نے عیسیٰ ؑ کو زندہ سمجھ لیا۔ اور بغیر حکم الٰہی کیوں آپ نے ان کی آمد ثانی کا اعلان کر دیا اور اپنی طرف سے کیوں عیسیٰ ؑ کی زندگی اور آمد ثانی کا عقیدہ رکھنے کی دلیری کر لی۔ کیا ایسا بیباک انسان کسی ذمہ دار عہدہ پر مامور کیے جانے کا مستحق ہو سکتا ہے۔ ہرگز نہیں۔
”حیات عیسیٰ ؑ کے عقیدہ کے الہامی ہونے پر
مضمون حیات عیسیٰ ؑ کی اندرونی شہادت
- ١...... قول مرزا نمبر ١ میں ہم نے مرزا قادیانی کے الفاظ نقل کیے ہیں۔
”لیکن ہم پر ظاہر کیا گیا ہے۔“
اب فرمائیے اس فقرہ میں ظاہر کرنے والا کون ہے یا تو اللہ تعالیٰ ہو سکتا ہے یا شیطان؟ تیسرا تو ممکن ہی نہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ ہیں تو پھر الہام رحمانی ہے۔ اگر شیطان نے مرزا قادیانی پر ظاہر کیا تھا تو یہ الہام شیطانی ہے۔ بہرحال ہے ضرور الہام ہی ہے۔ رسمی عقیدہ نہیں ہو سکتا۔
- ٢...... مرزا قادیانی نے اپنے اقوال نمبر ١ و نمبر ٢ میں حیات عیسیٰ ؑ اور ان کی آمد ثانی کو
اپنی تصدیق میں پیش کیا ہے۔ کیا کسی رسمی عقیدہ کو اپنی تائید میں پیش کرنا جائز ہے؟ پس ان تصریحات سے ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی نے جو کچھ لکھا۔ وہ شرح صدر سے لکھا اور الہام سے سمجھ کر لکھا تھا۔ اب عذر کرنا عذر لنگ کا حکم رکھتا ہے۔ سیدھا کیوں نہیں کہہ دیتے۔ بس بھائی اس وقت ابھی ابتدائی زمانہ تھا۔ اتنی جرأت پیدا نہ ہوئی تھی کہ میں اس
عقیدہ کا اظہار کرتا۔ آہستہ آہستہ زمین تیار کرتا رہا۔ حتیٰ کہ ١٨٩٢ء میں میرے جاں نثاروں کی تعداد کافی ہو گئی اور میں نے وفات مسیح ؑ کا اعلان کر دیا۔
ایک عجیب انکشاف
مرزا قادیانی اس عقیدہ کو براہین احمدیہ میں لکھنے کی وجہ بیان کرتے ہیں ”تا میری سادگی اور عدم بناوٹ پر گواہ ہو۔“
(کشتی نوح ص ٤٧ خزائن ج ١٩ ص ٥٠)
دیکھا ناظرین! صاف معلوم ہوتا ہے کہ براہین احمدیہ کی تالیف کے زمانہ میں ہی مرزا قادیانی دعویٰ مسیحیت کا ارادہ کر چکے تھے۔ اس دعویٰ کی تکمیل کے لیے ضروری تھا کہ حیات عیسیٰ ؑ کا عقیدہ پہلے ترک کیا جاتا لیکن ایسا کرنے سے دنیائے اسلام میں تہلکہ مچ جاتا۔ پس اس وقت لکھ دیا کہ عیسیٰ ؑ زندہ ہیں تا کہ بعد میں اپنی سادگی کا اظہار کیا جائے۔ کس قدر زبردست دجل اور فریب ہے۔ جب زمین تیار کر لی۔ مریدوں کی تعداد ہزاروں تک پہنچ گئی فوراً کہہ دیا۔ میں نے سادگی سے ایسا لکھ دیا تھا۔ لطف یہ کہ فرماتے ہیں۔ میں نے اپنا عقیدہ حیات عیسیٰ ؑ کا براہین میں ظاہر ہی اسی واسطے کیا تھا کہ آئندہ اپنی سادگی کے ثبوت میں پیش کر کے جان چھڑا لوں گا۔
اسی واسطے رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں۔
”سیکون فی امتی ثلاثون دجالون کذابون یعنی میری امت میں تیس بڑے بڑے فریبی اور زبردست جھوٹ بولنے والے ہوں گے۔ کلہم یزعم انہ نبی اللہ ان میں سے ہر ایک خیال کرے گا کہ وہ اللہ کا نبی ہے۔ انا خاتم النبیین لا نبی بعدی اور میں نبیوں کا ختم کرنے والا ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی مبعوث نہ ہوگا۔“
قول مرزا......٤ : ”واضح ہو کہ اس امر سے دنیا میں کسی کو بھی انکار نہیں کہ احادیث میں مسیح موعود کی کھلی کھلی پیش گوئی موجود ہے بلکہ قریباً تمام مسلمانوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ احادیث کی رو سے ضرور ایک شخص آنے والا ہے۔ جس کا نام عیسیٰ ابن مریم ہوگا اور یہ پیشگوئی بخاری اور مسلم اور ترمذی وغیرہ کتب، حدیث میں اس کثرت سے پائی جاتی ہے جو ایک منصف مزاج کی تسلی کے لیے کافی ہے۔“
(شہادۃ القرآن ص ٢ خزائن ج ٦ ص ٢٩٨)
نوٹ از ابو عبیدہ۔ احادیث میں مسیح موعود کا نام عیسیٰ ابن مریم۔ مسیح ابن مریم مذکور ہے اور تمام امت نے عیسیٰ ابن مریم سے مراد وہی عیسیٰ ابن مریم رسول الی بنی اسرائیل ہی لیا ہے۔ پس وہی نازل ہوں گے اور یہی ثابت کرنا ہمارا مقصود و مطلوب
ہے۔ فالحمد للّٰہ علیٰ ذالک۔
قول مرزا.......٥ ’’مسیح موعود (عیسیٰ ابن مریم) کے بارہ میں جو احادیث میں پیشگوئی ہے۔ وہ ایسی نہیں ہے کہ جس کو صرف آئمہ حدیث نے چند روایتوں کی بنا پر لکھا ہو و بس۔ بلکہ یہ ثابت ہو گیا ہے کہ یہ پیشگوئی عقیدہ کے طور پر ابتداء سے مسلمانوں کے رگ و ریشہ میں داخل چلی آئی ہے۔ گویا جس قدر اس وقت روئے زمین پر مسلمان تھے۔ اسی قدر اس پیشگوئی کی صحت پر شہادتیں موجود تھیں کیونکہ عقیدہ کے طور پر وہ اس کو ابتداء سے یاد کرتے چلے آتے تھے۔ اگر نعوذ باللہ یہ افتراء ہے تو اس افتراء کی مسلمانوں کو کیا ضرورت تھی اور کیوں انھوں نے اس پر اتفاق کر لیا ہے اور کس مجبوری نے انھیں اس افتراء پر آمادہ کر لیا۔‘‘
(شہادۃ القرآن ص ٨ خزائن ج ٦ ص ٣٠٤)
نوٹ از ابو عبیدہ: ناظرین کس قدر صفائی سے مرزا قادیانی اعلان کر رہے ہیں کہ تمام مسلمان اس پیشگوئی کو بطور عقیدہ تیرہ سو سال سے یاد کرتے آ رہے ہیں۔ پیش گوئی کیا ہے؟ پیشگوئی وہی ہے۔ جسے ہم پچھلے پانچ بابوں میں بیان کر چکے ہیں۔ مرزا قادیانی اور تیرہ صد سال کے کروڑہا مسلمانوں کے عقیدہ میں فرق یہ ہے کہ مسلمان بلا استثناء عیسیٰ ابن مریم رسولا الیٰ بنی اسرائیل کی آمد کے قائل ہیں اور مرزا قادیانی کہتے ہیں اور تمام جہان کے مسلمانوں کی آنکھوں میں مٹی جھونک کر کہتے ہیں کہ ’’وہ میں ہوں۔‘‘
قول مرزا.......٦ ’’یہ بات پوشیدہ نہیں کہ مسیح ابن مریم کے آنے کی پیشگوئی ایک اوّل درجہ کی پیشگوئی ہے۔ جس کو سب نے باتفاق قبول کر لیا ہے اور جس قدر صحاح میں پیشگوئیاں رکھی گئی ہیں۔ کوئی پیشگوئی اس کے ہم پہلو اور ہموزن ثابت نہیں ہوتی۔ تواتر کا اوّل درجہ اس کو حاصل ہے۔ انجیل بھی اسکی مصدق ہے۔ اب اس قدر ثبوت پر پانی پھیرنا اور یہ کہنا کہ یہ تمام حدیثیں موضوع ہیں۔ درحقیقت ان لوگوں کا کام ہے جن کو خدا تعالیٰ نے بصیرت دینی اور حق شناسی سے کچھ بھی بہرہ اور حصہ نہیں دیا اور بباعث اس کے کہ ان کے دلوں میں قال اللہ (قرآن شریف) وقال الرسول (حدیث) کی عظمت باقی نہیں رہی۔ اس لیے جو بات ان کی اپنی سمجھ سے بالاتر ہو۔ اس کو محالات اور ممتنعات میں داخل کر لیتے ہیں۔ قانون قدرت بے شک حق اور باطل کے آزمانے کے لیے ایک آلہ ہے۔ مگر ہر قسم کی آزمائش کا اسی پر مدار نہیں....... بلکہ اگر سچ پوچھو تو قانون قدرت مصطلحہ حکماء کے ذریعہ جو جو صداقتیں معلوم ہوئی ہیں وہ ادنیٰ درجہ کی صداقتیں ہیں۔ لیکن
اس فلسفی قانون قدرت سے ذرہ اوپر چڑھ کر ایک اور قانون قدرت بھی ہے جو نہایت دقیق اور غامض اور باعث دقت و غموض موٹی نظروں سے چھپا ہوا ہے۔ جو عارفوں پر ہی کھلتا ہے اور فانیوں پر ہی ظاہر ہوتا ہے۔ اس دنیا کی عقل اور اس دنیا کے قوانین شناس اس کو شناخت نہیں کر سکتے اور اس سے منکر رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جو امور اس کے ذریعہ سے ثابت ہو چکے ہیں اور جو سچائیاں اس کی طفیل سے بپایہ ثبوت پہنچ چکی ہیں۔ وہ ان سفلی فلاسفروں کی نظر میں اباطیل میں داخل ہیں۔...... مسلمانوں کی بدقسمتی سے یہ فرقہ (مرزائی و چکڑالوی) بھی اسلام میں پیدا ہو گیا۔ جس کا قدم الحاد کے میدانوں میں آگے ہی آگے چل رہا ہے۔"
(ازالہ اوہام ص ٥٥٧۔ ٥٥٨ خزائن ج ٣ ص ٤٠٠۔ ٤٠١)
ناظرین! خدارا خیال فرمائیے کہ مرزا قادیانی حیات مسیح کے بارہ میں کس قدر صاف صاف مضمون بیان فرما رہے ہیں۔ مسیح ابن مریم کے آنے کو دنیوی فلاسفروں نے قبول نہ کیا تو مرزا قادیانی انھیں لتاڑ رہے ہیں۔ اگر کسی مثیل نے آنا تھا تو یہ کون سی ایسی مشکل ہے جو سفلی فلاسفروں کی سمجھ سے بالاتر ہے؟ ہاں عیسیٰ ؑ کا آسمان پر چڑھ جانا ان کی ”سفلی نظروں“ میں ”محالات و ممتنعات“ سے ہے۔ آسمان پر بغیر کھانے پینے کے رہنا ان کی دہریہ نظروں میں ناممکن ہے۔ بغیر ہوا کے زندگی ان کی زمینی عقول کی سمجھ میں نہیں آتی۔ پھر عیسیٰ ؑ کا زمانہ کے اثر سے بچایا جانا ان کے نزدیک محالات عقلی سے ہے۔ دوبارہ ان کا نزول وہ سمجھنے سے قاصر ہیں۔ ان کی آمد ثانی باوجود اپنی تمام حکمتوں اور ضرورتوں کے جن کا مفصل بیان انجیل، قرآن اور احادیث اور دیگر کتب دین میں مذکور ہے۔ ان کی ملحدانہ عقول سمجھنے سے یکسر عاری ہیں۔ واذ اخذ الله ميثاق النبيين...... لتؤمنن به ولتنصرنه کے مطابق کسی رسول کا رسول کریم ﷺ سے پہلے مبعوث ہو کر آپ کے بعد بھی کچھ مدت تک زندہ رہنا ان کی فلسفی نگاہوں میں عقل کے خلاف ہے اور بالخصوص ختم نبوت کو توڑتا ہے۔ ختم نبوت کی حقیقت وہ سمجھ ہی نہیں سکتے۔ وغیر ذالک فرمائیے۔ ناظرین کیا مرزا قادیانی یہاں ایسے ہی لوگوں کو نہیں لتاڑ رہے ہیں۔ لطف یہ کہ خود ہی ایسے لوگوں کے امام بھی ہیں۔ کیونکہ حیات عیسیٰ ؑ کے عقیدہ کے خلاف جس قدر ”عقلی محالات اور حجتیں“ مرزا قادیانی نے اور ان کی جماعت نے پیدا کی ہیں۔ کسی اور ملحد نے آج تک ایسے اشکالات پیش نہیں کیے۔
قول مرزا...... ٧ "تعلمون ان النزول فرع للصعود."
(انجام آتھم ص ١٦٨ خزائن ج ١١ ص ایضاً)
”تم جانتے ہو کہ نازل ہونا عیسیٰ ؑ کا ان کے آسمان پر چڑھنے کی فرع ہے۔“ پس اگر نزول ثابت ہو جائے تو آسمان پر جانا خود بخود ثابت ہو جائے گا۔
قول مرزا.......٨ ”اس جگہ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ مسیح کا جسم کے ساتھ آسمان سے اترنا اس کے جسم کے ساتھ چڑھنے کی فرع ہے۔“ (ازالہ اوہام ص ٢٦٩ خزائن ج ٣ ص ٢٣٦)
قول مرزا.......٩ ”والنزول ايضا حق نظرا على تواتر الاثار وقد ثبت من طرق فى الاخبار.“ (انجام آتھم ص ١٥٨ خزائن ج ١١ ص ایضاً) ”اور نازل ہونا عیسیٰ ابن مریم کا بسبب متواتر احادیث صحیحہ کے بالکل حق ہے اور یہ امر احادیث میں مختلف طریقوں سے ثابت ہو چکا ہے۔“
قول مرزا.......١٠ ”وانى انا المسيح النازل من السماء.“
(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٣١ خزائن ج ١٧ ص ٨٣)
”اور آسمان سے نازل ہونے والا مسیح ابن مریم میں ہی ہوں۔“
نوٹ از ابو عبیدہ: ناظرین مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ آسمان سے نازل ہونا آسمان پر چڑھنے کی فرع ہے۔ یعنی اگر کسی شخص کا آسمان پر جانا ثابت ہو جائے تو اس کا آنا بھی ممکن ہے اور اگر کسی شخص کا آسمان سے نازل ہونا ثابت ہو جائے تو اس کا آسمان پر جانا بالیقین ثابت ہو جائے گا کیونکہ اگر وہ آسمان پر گیا نہیں تو آ کیسے سکتا ہے چونکہ ہم بیسیوں دلائل سے ثابت کر چکے ہیں کہ عیسیٰ ؑ آسمان پر اٹھائے گئے۔ پھر بیسیوں دلائل سے عیسیٰ ؑ کا آسمان سے نازل ہونا ثابت کر چکے ہیں۔ علاوہ ازیں خود اقوال مرزا سے عیسیٰ ابن مریم کا دوبارہ آنا ثابت ہو چکا ہے۔ ”مرزا قادیانی خود فرماتے ہیں۔ ”کہ آسمان سے نازل ہونے والا مسیح ابن مریم میں ہی ہوں۔“
پس ثابت ہوا کہ یا تو غلام احمد ابن چراغ بی بی حضرت عیسیٰ ابن مریم ہی کا دوسرا نام ہے۔ یا مرزا قادیانی کو مراق ہے۔ ”١٨٣٩ء میں پہلے مرزا قادیانی کی بہن جنت ماں کے پیٹ سے نکلی تھی۔ اس کے بعد مرزا قادیانی باہر نکلے تھے۔“
(تریاق القلوب ص ١٥٧ خزائن ج ١٥ ص ٤٧٩ حاشیہ)
باوجود اس کے دعوٰی کرتے ہیں کہ آسمان سے نازل ہونے والا مسیح ابن مریم میں ہوں۔ (معاف فرمائیے) کیا مرزا قادیانی کی ماں کا پیٹ آسمان تھا۔ اگر نہیں اور یقیناً نہیں تو پھر آسمان سے نازل ہونے والے عیسیٰ ابن مریم مرزا قادیانی کیسے ہو گئے؟
ہاں آریہ سماج کے عقیدہ تناسخ کے مطابق کوئی صورت ہو گئی ہو تو آریہ جانیں یا مرزائی۔ اہل اسلام تو تناسخ کے قائل نہیں۔
قول مرزا......١١ ”خدا نے ان کے منصوبوں سے حضرت عیسیٰ ؑ کو بچا لیا۔“
(چشمہ معرفت ص ١٦٢ خزائن ج ٢٣ ص ١٧٤)
ناظرین! اب صرف یہ معلوم کرنا ہے کہ منصوبوں سے بچانے کا مطلب کیا ہے۔ یہودیوں کے منصوبے خود مرزا قادیانی نے اپنی کتابوں میں بسط کے ساتھ بیان کیے ہیں۔ آپ اسی کتاب کے گذشتہ صفحات پر مرزا قادیانی کے اقوال ملاحظہ کریں۔ ”ان کا منصوبہ یہ تھا کہ حضرت عیسیٰ ؑ کو سولی دی جائے۔“ اس کے متعلق مرزا قادیانی فرماتے ہیں۔ ”خدا نے مسیح سے وعدہ فرمایا تھا کہ میں تجھے صلیب سے بچاؤں گا۔“
قول مرزا......١٢ ”خدا نے مسیح کو وفات دے کر مردوں میں نہیں رکھا بلکہ زندہ کر کے اور نبیوں کے پاس آسمان پر بلا لیا۔“
(آئینہ کمالات ص ٤٢٧ خزائن ج ٥ ص ایضاً)
قول مرزا......١٣ ”معراج کی رات میں آنحضرت ﷺ نے حضرت عیسیٰ ؑ کو جو اصل عیسیٰ ہے دیکھا اور اس کا سرخ رنگ پایا۔“
(ازالہ ص ٩٠٠ خزائن ج ٣ ص ٥٩٢)
قول مرزا......١٤ ”انجیل کے بعض اشارات سے پایا جاتا ہے کہ حضرت مسیح بھی جورو کرنے کی فکر میں تھے۔ مگر تھوڑی سی عمر میں اٹھائے گئے۔ ورنہ یقین تھا کہ اپنے باپ داؤد کے نقش قدم پر چلتے۔“
(آئینہ کمالات ص ٢٨٣ خزائن ج ٥ ص ایضاً حاشیہ)
ناظرین! غور کیجئے قول نمبر ١٢ میں مرزا قادیانی حضرت عیسیٰ ؑ کی حیات جسمانی بعد الممات کے قائل ہیں۔ قول نمبر ١٣ میں حضرت عیسیٰ ؑ کا جسم عنصری کے ساتھ آسمان پر چڑھ جانا تسلیم کر رہے ہیں کیونکہ ”سرخ رنگ“ اور ”اصل عیسیٰ ؑ“ کے الفاظ جسم عنصری کا بانگ دہل اعلان کر رہے ہیں۔ قول نمبر ١٤ میں مرزا قادیانی اپنا یقین ظاہر کر رہے ہیں کہ اگر حضرت عیسیٰ ؑ اٹھائے نہ جاتے تو اپنے باپ داؤد کے نقش قدم پر چلتے۔
پس مرزا قادیانی کے قول کے مطابق اگر حضرت عیسیٰ ؑ اٹھائے نہ جاتے تو حضرت داؤد کی طرح بیسیوں بیویاں کرتے۔ مرزا قادیانی کا عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ نے ١٥٣ سال کی عمر پائی اور یہ محض جھوٹ ہے کیونکہ مرزا قادیانی کا ”یقین“ باطل ثابت ہو رہا ہے۔ باوجود ١٥٣ سال کی عمر کے حضرت عیسیٰ ؑ کا شادی نہ کرنا مرزا
قادیانی کو جھٹلا رہا ہے۔ مرزا قادیانی کے یقین کو درست ثابت کرنے کے لیے ماننا پڑے گا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر اٹھا لیے گئے ۔ ورنہ ضرور شادی کرتے۔
قول مرزا......١٥ ’’سلف خلف کے لیے بطور وکیل کے ہوتے ہیں اور ان کی شہادتیں آنے والی ذریت کو ماننی پڑتی ہیں۔‘‘
(ازالہ ص ٣٧٤ خزائن ج ٣ ص ٢٩٣)
ہم نے رسول کریم ﷺ صحابہ کرام، تابعین، مجتہدین، مجددین، مفسرین اور صوفیائے کرام کے اقوال سے حیات عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی آمد ثانی صاف صاف الفاظ میں ثابت کر دی ہے۔ مرزا قادیانی اگر زندہ ہوتے تو امید تھی کہ ہمارے دلائل سے متاثر ہو کر وفات مسیح کے عقیدہ سے تائب ہو جاتے۔
قول مرزا......١٦ ’’ایک نئے معنی اپنی طرف سے گھڑ لینا بھی تو الحاد اور تحریف ہے۔ خدا تعالیٰ مسلمانوں کو اس سے بچائے۔‘‘
(ازالہ ص ٤٢٥ خزائن ج ٣ ص ٥٠١)
حضرات! مرزا قادیانی نے کلام اللہ کے معنی کرتے وقت خود کلام اللہ، رسول کریم ﷺ، صحابہ کرامؓ، تابعینؒ اور مجددین امت و صوفیاء و مفسرین سب کے خلاف علم بغاوت کھڑا کر دیا ہے۔ پس یا تو اس عقیدہ سے رجوع کیا ہوتا یا اپنے ہی قول سے ملحد اور محرف کلام اللہ ثابت ہوں گے۔
قول مرزا......١٧ ’’صحابہ کا اجماع وہ چیز ہے جس سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔‘‘
(براہین احمدیہ حصہ ٥ ص ٢٠٣ خزائن ج ٢١ ص ٣٧٦ حاشیہ بحوالہ خزینۃ العرفان ص ٤٩)
قول مرزا......١٨ ’’شرعی حجت صرف اجماع صحابہ ہے۔‘‘
(خزینۃ العرفان ص ٥٥٢۔ براہین احمدیہ حصہ ٥ ص ٢٣٤ خزائن ج ٢١ ص ٤١٠)
قول مرزا......١٩ ’’اجماع کے خلاف عقیدہ رکھنے والے پر خدا کی لعنت اس کے فرشتوں کی لعنت۔‘‘
(انجام آتھم ص ١٤٤ خزائن ج ١١ ص ایضاً)
قول مرزا......٢٠ ’’صحابہ کا اجماع حجت ہے جو کبھی ضلالت پر نہیں ہوتا۔‘‘
(تریاق القلوب ص ١٤٧ خزائن ج ١٥ ص ٤٦١)
ہم نے قادیانی مسلمات کی رو سے ثابت کر دیا ہے کہ حیات جسمانی و نزول جسمانی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ ابتداء اسلام سے مسلمانوں کے قلوب میں محکم طور پر چلا آ رہا ہے۔ صحابہ کا اجماع بھی روز روشن کی طرح ثابت ہو چکا ہے۔ اب تو امید ہے
کہ قادیانی جماعت اپنے ہی نبی کی لعنت سے بچنے کے لیے اجماع صحابہ اور اجماع امت کے سامنے سر تسلیم خم کر دیں گے۔
قول مرزا......٢١ ’’اگر کوئی شخص آسمان سے آنے والا ہوتا تو اس موقعہ پر رجوع کا لفظ ہوتا نہ نزول کا لفظ۔‘‘
(چشمہ معرفت ص ٢٢٠ خزائن ج ٢٣ ص ٢٢٩)
قول مرزا......٢٢ ’’اگر اس جگہ (حدیث میں) نزول کے لفظ سے مقصود تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ آسمان سے آئیں گے۔ تو بجائے نزول کے رجوع کہنا چاہیے تھا۔ کیونکہ جو شخص واپس آتا ہے اس کو زبان عرب میں ’’راجع‘‘ کہا جاتا ہے نہ کہ نازل۔‘‘
(ایام الصلح ص ١٤٦ خزائن ج ١٤ ص ٣٩٢)
ناظرین! مرزا قادیانی بیچارے علم حدیث سے کلیتہً بے بہرہ تھے۔ اگر احادیث کی کتابوں پر عبور ہوتا تو ضرور انھیں اپنے ہی معیار کے مطابق حیات عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ رکھنا ضروریات دین سے معلوم ہو جاتا۔ ہم نے ایسی حدیث جن میں رجوع کا لفظ ہے۔ درج کر کے مفصل بحث کی ہے۔ اسے دوبارہ ملاحظہ کر لیا جائے۔
قول مرزا......٢٣ ’’اب اگر مسیح کو سچا نبی ماننا ہے تو اس کے فیصلہ کو بھی مان لینا چاہیے۔ زبردستی سے یہ نہیں کہنا چاہیے کہ یہ ساری کتابیں توریت و انجیل محرف و مبدل ہیں۔ بلاشبہ ان مقامات سے تحریف کا کوئی علاقہ نہیں اور دونوں فریق یہود و نصاریٰ ان عبارتوں کی صحت کے قائل ہیں۔ پھر امام المحدثین حضرت اسمعیل صاحب اپنی صحیح بخاری میں یہ بھی لکھتے ہیں کہ ان کتابوں میں کوئی لفظی تحریف نہیں۔‘‘
(ازالہ ص ٢٧٣ خزائن ج ٣ ص ٢٣٨)
قول مرزا......٢٤ ’’فاسئلوا اہل الذکر ان کنتم لا تعلمون. یعنی اگر تمھیں ان بعض امور کا علم نہ ہو جو تم میں پیدا ہوں تو اہل کتاب کی طرف رجوع کرو اور ان کی کتابوں کے واقعات پر نظر ڈالو تا اصل حقیقت تم پر منکشف ہو جائے۔‘‘
(ازالہ اوہام ص ٦١٦ خزائن ج ٣ ص ٤٣٣)
ناظرین! ہم انجیلوں کی شہادت حیات عیسیٰ علیہ السلام کے ثبوت میں پہلے باب میں درج کر آئے ہیں۔ وہاں ملاحظہ کر لیا جائے۔ یہاں مجمل طور سے اس کا ثبوت آپ کی خدمت میں پیش کرتے ہیں۔ مرزا قادیانی لکھتے ہیں۔
’’تمام فرقے نصاریٰ کے اسی قول پر متفق نظر آتے ہیں کہ تین دن تک حضرت عیسیٰ علیہ السلام مرے رہے اور پھر قبر میں سے آسمان کی طرف اٹھائے گئے اور چاروں
انجیلوں سے یہی ثابت ہوتا ہے اور خود حضرت عیسیٰ ؑ انجیلوں میں اپنی تین دن کی موت کا اقرار بھی کرتے ہیں۔“
(ازالہ اوہام ص ٤٢٨ خزائن ج ٣ ص ٢٢٥)
پس حسب الحکم مرزا قادیانی چونکہ حضرت عیسیٰ ؑ کو سچا نبی مانتے ہیں۔ حضرت کے فیصلہ کو بھی مانیں۔ یعنی
”خود حضرت عیسیٰ ؑ اپنی موت کا اقرار کر رہے ہیں۔“ کی عبارت سے ظاہر ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ زندہ ہو گئے تھے کیونکہ مردہ اپنی تین دن کی موت کی شہادت کس طرح دے سکتا ہے۔ پھر مرزا قادیانی تو تواتر قومی کا ماننا بھی ضروری سمجھتے ہیں۔“
(دیکھو ازالہ ص ٥٥٦ خزائن ج ٣ ص ٣٩٩)
پس مرزا قادیانی اور ان کی جماعت کے لیے اس فیصلہ کے سامنے سر تسلیم خم کرنا اپنے ہی عقیدہ کی رو سے ضروری ہے۔
قول مرزا...... ٢٥ ”یہودیوں نے حضرت مسیح ؑ کے لیے قتل وصلیب کا حیلہ سوچا تھا۔ خدا نے مسیح کو وعدہ دیا کہ میں تجھے بچاؤں گا اور تیرا رفع کروں گا۔“
(اربعین نمبر ٣ ص ٨ خزائن ج ١٧ ص ٣٩٤)
قول مرزا...... ٢٦ ”ماسوا اس کے یہ بھی تو سوچنے کے لائق ہے کہ خدا تعالیٰ کا وعدہ کہ میں ایسا کرنے کو ہوں (اِنِّی مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ، ابو عبیدہ) خود یہ الفاظ دلالت کرتے ہیں کہ وہ وعدہ جلد پورا ہونے والا ہے اور اس میں کچھ توقف نہیں۔“
(آئینہ کمالات ص ٢٦ خزائن ج ٥ ص ایضاً)
اگر یہ بات صحیح ہے تو پھر مرزا قادیانی آپ کیوں واقعہ صلیب سے ٨٧ سال بعد اِنِّی مُتَوَفِّیْکَ کے وعدے کو ملتوی کرتے ہو۔ لیجئے ہم آپ کے حکم کے مطابق ہی اس کے معنی کرتے ہیں۔ خدائی وعدہ میں توقف نہیں ہونے دیتے۔ آپ کو ہم وعدہ کرنے کے بعد ٨٧ سال تک کشمیر میں انتظار کی زحمت سے بھی بچاتے ہیں۔ لیجئے اسلامی معنی سنیے۔ ”یعیسیٰ اِنِّی مُتَوَفِّیْکَ اے عیسیٰ میں تجھے اپنے قبضہ میں لینے والا ہوں۔ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ اور تجھے اپنی طرف اٹھانے والا ہوں۔ وَمُطَہِّرُکَ مِنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا اور تجھے ان کافروں کی صحبت سے علیحدہ کرنے والا ہوں۔“
مرزا قادیانی! یہ وعدہ اللہ تعالیٰ نے یہود کی یورش کے وقت حضرت عیسیٰ ؑ سے کیا تھا اور اسی وقت پورا کر دیا۔ یعنی انھیں آسمان پر اٹھا لیا اب آپ کو اس پر کون سا
اشکال ہے۔ شاید إِنِّیْ مُتَوَفِّيْكَ کے معنی ”میں تجھے اپنے قبضہ میں لینے والا ہوں“ آپ کے نازک دل کو چھو رہے ہوں گے۔ ہم نے یہ معنی اپنے پاس سے نہیں کیے بلکہ (چشمہ معرفت ص ١٥٤ خزائن ج ٢٣ ص ١٦٢) پر آپ نے خود توفی کے معنی ”قبضہ میں لینا“ کیے ہیں۔ فرمائیے اب آپ کو ہمارے اسلامی معنی اور تفسیر ماننے سے کونسا امر مانع ہے۔ کیا اپنی مسیحیت کے سوا کوئی معقول مانع ہو سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔
قول مرزا.......٢٧ ”تیرہویں صدی کے اختتام پر مسیح موعود کا آنا ایک اجماعی عقیدہ معلوم ہوتا ہے۔“
(ازالہ ص ١٨٥ خزائن ج ٣ ص ١٨٩)
ابوعبیدہ: ناظرین مسیح موعود کے آنے پر امت محمدی کے اجماع کو مرزا قادیانی تسلیم کر کے بطور حجت مخالفین کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔ میری عرض ہے کہ جن مجددین امت، مفسرین اسلام اور بزرگان دین سے یہ اجماع منقول ہے اگر مرزا قادیانی یا ان کی جماعت ان میں سے کسی ایک ہی کا یہ قول پیش کر سکیں کہ مسیح موعود عیسیٰ ابن مریم نہیں ہوگا بلکہ وہ اس کا مثیل ہوگا تو ہم انعام پیش کرنے کو تیار ہیں۔ سب کے سب بزرگان دین کا اجماع اس بات پر ہے کہ مسیح موعود عیسیٰ ؑ ہی ہیں اور وہ ہی آئیں گے۔ ان کے اس اجماع کو کیوں تسلیم نہیں کرتے کیا اسی کو ”میٹھا میٹھا ہڑپ اور کڑوا کڑوا تھو“ نہیں کہتے۔
قول مرزا.......٢٨ ”یہ آیت کہ هُوَ الَّذِیْ اَرْسَلَ رَسُوْلَهُ بِالْهُدٰى وَدِيْنِ الْحَقِّ...... الآیہ درحقیقت اسی مسیح ابن مریم کے زمانہ سے متعلق ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ٦٧٥ خزائن ج ٣ ص ٤٦٤)
ابوعبیدہ: دیکھئے حضرات! کیسے صاف صاف الفاظ میں مسیح ابن مریم کا آنا از روئے کلام اللہ تسلیم کر رہے ہیں۔ مگر خود غرضی کا ستیاناس کہ پھر مسیح ابن مریم خود بن بیٹھتے ہیں۔ مسیح ابن مریم کے معنی ہیں۔ وہ مسیح جو بیٹا ہے مریم کا۔ مرزا قادیانی اس کے معنی یہ منوانے کی سعی لاحاصل کرتے ہیں کہ اس کے معنی غلام احمد ابن چراغ بی بی ہیں۔ اب کون عقل کا اندھا ان معنوں کو قبول کرے۔
قول مرزا.......٢٩ ”اس پر اتفاق ہو گیا ہے کہ مسیح کے نزول کے وقت اسلام دنیا پر کثرت سے پھیل جائے گا اور ملل باطلہ ہلاک ہو جائیں گی اور راستبازی ترقی کرے گی۔“
(ایام الصلح ص ١٣٦ خزائن ج ١٤ ص ٣٨١)
قول مرزا.......٣٠ (الف) ”صحیح مسلم کی حدیث میں جو یہ لفظ موجود ہے کہ حضرت
مسیح ؑ آسمان سے اتریں گے تو ان کا لباس زرد رنگ کا ہوگا۔‘‘
(ازالہ اوہام ص ٨١ خزائن ج ٣ ص ١٤٢)
- (ب) ’’آنحضرت نے فرمایا تھا کہ مسیح آسمان پر سے جب اترے گا تو زرد
چادریں اس نے پہنی ہوں گی۔‘‘
(قادیانی رسالہ تشحیذ الاذہان ص ٥ جون ١٩٠٦ء و اخبار بدر جون ١٩٠٦ء ازالہ ص ٣٢ خزائن ج ٣ ص ١٤٢)
حضرات غور فرمائیے! مرزا قادیانی کیسے صریح الفاظ میں مسیح ؑ کا آسمان سے نازل ہونا تسلیم کر رہے ہیں اور رسول کریم ﷺ کی صحیح حدیث کو بطور دلیل پیش کر رہے ہیں۔ باوجود اس کے پھر کہتے ہیں کہ وہ عیسیٰ میں ہوں۔ فرمائیے! اس قدر تحکم اور بے انصافی کی وجہ سوائے مراق کے کوئی اور بھی ہو سکتی ہے۔ مرزا قادیانی کو ہم آسمان سے اترنے والا مسیح کیسے مان لیں۔ وہ تو ماں کے پیٹ سے نازل ہوئے تھے۔
مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفہ قادیانی کے اقوال
- ١...... ’’پچھلی صدیوں میں قریباً تمام مسلمانوں میں مسیح کے زندہ ہونے پر ایمان رکھا جاتا
تھا اور بڑے بڑے بزرگ اسی عقیدہ پر فوت ہوئے ہیں۔‘‘
(حقیقۃ النبوۃ ص ١٣٢)
ابو عبیدہ: حضرات جس عقیدہ (حیات مسیح ؑ) پر امت محمدی کے ساڑھے تیرہ صد سال کے بزرگان دین اور مجددین امت ایمان لانا ضروری سمجھتے تھے۔ کیا ہم مرزا قادیانی کو مسیح موعود ثابت کرنے کے لیے اس عقیدہ کو خیر باد کہہ دیں گے؟ ہرگز نہیں۔
- ٢...... دوسرا قول مرزا بشیر الدین محمود کا جو پہلے صفحات میں گزر چکا ملاحظہ کریں اور اس پر
ہماری تنقید کا لطف اٹھائیں۔
مولوی نور الدین خلیفہ قادیانی کا قول
مولوی نور الدین قادیانی نے اپنی کتاب فصل الخطاب حصہ دوم ص ٧٣ میں بشارت پر آیت وَاِنْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتَابِ اِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهٖ قَبْلَ مَوْتِهٖ کا ترجمہ ان الفاظ میں کیا ہے۔ ’’اور نہیں کوئی اہل کتاب سے البتہ ایمان لائے گا ساتھ اس کے (حضرت عیسیٰ ؑ کے) پہلے موت اس کی (عیسیٰ ؑ کے)۔‘‘
یہ اس شخص کا ترجمہ ہے جو مسیحیت مرزا کا سب سے بڑا حامی بلکہ بانی تھا۔
مولوی سید سرور شاہ قادیانی کا قول
سید سرور شاہ قادیانی اِنَّهُ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ کی تفسیر میں پھنسا ہوا ہے اور مجبور ہو
کر لکھتا ہے۔ ”ہمارے نزدیک تو اس کے آسان معنی یہ ہیں کہ وہ مثیل مسیح ساعۃ (قیامت) کا علم ہے۔“
(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ٦ اپریل ١٩١١ء)
ابوعبیدہ: قارئین عظام خود غرضی کی بھی کوئی حد ہونی چاہیے۔ اِنَّہٗ میں ضمیرہ کو مثیل مسیح کی طرف پھیرتا ہے جو اس کیا سارے کلام اللہ میں مذکور نہیں۔ صرف مرزا قادیانی کی مسیحیت کی خاطر عیسیٰ ابن مریم سے مسیح اور پھر اس کے مثیل کی دم اپنی طرف سے لگا دی ہے۔ العیاذ باللہ۔
مولوی سید محمد احسن امروہی کی شہادت
مولوی سید محمد احسن امروہی کو مرزا قادیانی ان دو فرشتوں میں سے ایک سمجھا کرتے تھے۔ جن کے کندھوں پر حضرت مسیح علیہ السلام کے نازل ہونے کا ذکر احادیث نبوی میں موجود ہے۔ وہ اِنَّهُ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ کی تفسیر میں فرماتے ہیں۔ ”دوستو یہ آیت سورۂ زخرف میں ہے اور بالاتفاق تمام مفسرین کے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ آنے کے واسطے ہے۔ اس میں کسی کو اختلاف نہیں۔“ (اخبار الحکم ٢٨ فروری ١٩٠٩ء) ایک اور جگہ لکھتے ہیں ”آیت دوم میں تسلیم کیا کہ ضمیر اِنہُ کی طرف قرآن شریف یا آنحضرت ﷺ کے راجع نہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی کی طرف راجع ہے۔“
(اعلام الناس حصہ دوم ص ٥)
ان دونوں عبارتوں سے ظاہر ہے کہ سید محمد احسن امروہی بھی دل میں حیات عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ رکھتے تھے۔ صرف مسیحیت قادیانی کے گرویدہ اور محتاج ہونے کے سبب مرزا قادیانی کو عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم سمجھ لیا ناظرین! کہاں تک لکھتا جاؤں۔ انصاف پسند طبائع کے لیے اسی قدر دلائل حیات مسیح علیہ السلام کافی ہیں اور اندھا دھند تقلید کرنے والے کے لیے ہزار دفتر بھی ناکافی ہے۔
انشاء اللہ العزیز زندگی نے ساتھ دیا اور حالات نے موافقت کی تو حیات عیسیٰ علیہ السلام کا دوسرا حصہ بھی شائع ہو رہے گا۔ اس حصہ میں قادیانی دلائل وفات مسیح علیہ السلام کا تجزیہ اور تردید کرنے کے علاوہ حیات مسیح علیہ السلام اور آپ کے رفع جسمانی میں خالق کون و مکان احکم الحاکمین نے جو جو حکمتیں مضمر رکھی ہوئی ہیں ان میں سے بہت سی پبلک کے سامنے پیش کی جائیں گی۔ وَمَا توفیقی الا باللہ۔
اظہار تشکر و امتنان
ناظرین! میں ضروری خیال کرتا ہوں کہ اس کتاب کے تالیف کرنے میں جن
حضرات کی تصنیفات سے میں نے مدد حاصل کی ہے۔ ان کا تہ دل سے شکریہ ادا کروں۔
- ١۔...... اللہ تعالیٰ اپنی بے پایاں رحمت سے ان محدثین اور مجددین امت کو پورا پورا حصہ
دے جو مرزا قادیانی کی ولادت سے بھی صدیوں پہلے اس مسئلہ پر فیصلہ کن روشنی ڈال چکے ہیں اور کلام اللہ کے سمجھنے میں ہمارے سچے راہ نما ہیں۔
- ٢....... میں نے مندرجہ ذیل حضرات کی تصنیفات سے بھی بہت سا استفادہ کیا ہے۔
- ١۔...... شیخ الاسلام رئیس المحدثین حضرت مولانا سید محمد انور شاہ صاحبؒ ۔ ٢....... حضرت مولانا
پیر مہر علی شاہ صاحب مدظلہم۔ ٣....... مولانا محمد ابراہیم میر سیالکوٹی۔ ٤....... مولانا پیر بخش صاحب لاہور مرحوم۔ ٥....... مولانا حبیب اللہ صاحب امرتسری۔ ٦....... مولانا محمد عالم صاحب مولوی فاضل امرتسری مصنف کادیہ۔
شیخ الاسلام حضرت مولانا سید محمد انور شاہ صاحبؒ کی کتاب ”عقیدۃ الاسلام فی حیات عیسیٰ ؑ“ ایسی کتاب ہے کہ اس سے پہلے اس کی مثل یقیناً نہیں لکھی گئی۔ مگر چونکہ کتاب عربی میں ہے۔ اس واسطے اردو دان طبقہ اس سے استفادہ نہیں کر سکتا۔
- ٣....... تیسرے درجہ پر میں جناب مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کی ذریت کا شکریہ ادا کرنا
ضروری سمجھتا ہوں کہ ان کی تصنیفات مجھے مداری کی پٹاری کا کام دیتی رہی ہیں۔ میں جو کچھ ثابت کرنا چاہتا تھا۔ اس کی تائید میں ہر ایک قسم کا مواد ان کی کتابوں میں موجود پایا۔
معذرت میں ایک بہت ہی قلیل الفرصت انسان ہوں۔ زمانہ تالیف میں کبھی بھی پورے اطمینان کے ساتھ تعلیمی فرائض سے فرصت نہ مل سکی۔ لہٰذا صرف ممکن ہی نہیں بلکہ فی الواقع کتاب میں لفظی و معنوی فروگذاشتیں ہوں گی۔ جو صاحب مجھے ان سے مطلع فرمائیں گے۔ اگرچہ وہ قادیانی ہی کیوں نہ ہوں۔ شکریہ کے ساتھ قبول کر کے طبع ثانی میں درست کر دی جائیں گی۔ ممکن ہے صفحات کے حوالوں میں کوئی غلطی رہ گئی ہو۔ اس کے متعلق عرض ہے کہ نفس مضمون کے صحیح ہونے کا میں ذمہ دار ہوں۔ بعض جگہ کتابت کی غلطیاں رہ گئی ہیں۔ سو اپنی قلت فرصت کا عذر پیش کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ قارئین عظام قبول کر کے ممنون فرمائیں گے اور دعا فرمائیں گے کہ اللہ تعالیٰ مجھے اعمال صالحہ بالخصوص استیصال فتنہ ارتداد کی زیادہ سے زیادہ توفیق ارزانی فرمائے۔
اہل اسلام کی دعاؤں کا محتاج، خاکپائے علماء اسلام ابو عبیدہ نظام الدین۔ بی۔اے۔
سائنس ماسٹر اسلامیہ ہائی سکول کوہاٹ۔ ٢٥ مارچ ١٩٣٦ء
اَنَا خَاتَمُ النَّبِيّٖنَ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ
میں آخری نبی ہوں ۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں ۔
[مرزا قادیانی اور اس کی کذب بیانی]
کذبات مرزا
مبلغ اسلام ابو عبیدہ نظام الدینؒ بی .. اے
بسم اللہ الرحمن الرحیم
تعارف
ہمارے محترم بزرگ جناب ابو عبیدہ نظام الدین بی۔ اے، مبلغ اسلام نے مرزا قادیانی کے جھوٹوں کو جمع کرنے کا کام شروع کیا اس رسالہ میں آپ نے چون جھوٹ جمع کیے۔ دوسری کتاب برق آسمانی میں دو سو دو جھوٹ جمع کیے۔ یہ کل دو چھپن جھوٹ ہوئے۔ مصنف مرحوم، مرزا ملعون کے چھ صد جھوٹ جمع کر چکے تھے۔ باقی نہ مل سکے۔ (مرتب)
کذبات مرزا: تمہید
حضرات میں نے کئی ماہ ہوئے ایک ٹریکٹ میں اعلان کیا تھا کہ عنقریب مرزا غلام احمد قادیانی کی صریح کذب بیانیوں (سفید جھوٹوں) کی ایک طویل فہرست شائع کروں گا۔ مگر کثرت مشاغل کے باعث آج تک اس کی اشاعت سے قاصر رہا۔ اب بھی ایک سکول ماسٹر کے لیے فرصت کہاں ہو سکتی ہے کیونکہ سالانہ امتحان قریب ہے مگر احباب کے تقاضائے اور بے شمار متلاشیان حق کے پیہم اصرار کی وجہ سے عدیم الفرصتی کے باوجود اکاذیب مرزا قادیانی بہت جلدی شائع کرنے پڑے۔ میرا روئے سخن اس ٹریکٹ میں احمدی حضرات (لاہوری + قادیانی) سے زیادہ ہوگا کیونکہ تجربہ کی بنا پر معلوم ہوا ہے کہ ان میں کی اکثر سعید روحیں صحیح استدلال کو دیکھ سن کر دوبارہ دائرہ اسلام میں داخل ہونے میں عار نہیں سمجھتیں۔ چنانچہ اخباری دنیا سے واقفیت رکھنے والے حضرات پر خوب عیاں ہے۔ نیز مولانا لال حسین اختر مصنف ”ترک مرزائیت“ اس پر ایک زبردست دلیل ہیں۔ بہر حال اس مضمون کی اشاعت سے امید قوی ہے کہ اگر کوئی صاحب خالی الذہن ہو کر خلوص نیت سے مطالعہ کرے گا تو ضرور مرزا قادیانی سے قطع تعلق کر کے دوبارہ سرکار مدینہ ﷺ کے جھنڈے تلے پناہ لے گا۔ مرزا قادیانی کے دعاوی بہت سے ہیں ان میں سے مشہور ترین نبی، مسیح موعود، مجدد، مہدی ہونے کے ہیں۔ میرا اور تمام اہل اسلام کا عقیدہ ہے وہ نبی وغیرہ تو کیا ہوتے وہ ایک سیدھے سادھے مسلمان بلکہ سچ کہوں تو ایک
٢
سچے انسان بھی نہ تھے۔ آخر عیسائیوں، یہودیوں، پارسیوں اور ہندوؤں وغیرہ میں بھی باوجود ان کے کفر کے بہت سے ایسے انسان آپ کو ملیں گے جنھوں نے عمر بھر کبھی جھوٹ نہیں بولا ہوگا۔ خاص کر وہ جھوٹ جو دوسرے انسانوں کو دھوکہ دینے والا ہو۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ قطع نظر شرعی مذمت کے جھوٹ بولنا ایک اخلاقی گناہ ہے۔ لعنۃ اللہ علی الکاذبین (جھوٹوں پر خدا کی لعنت) فیصلہ خدائی ہے۔ لیکن اتمام حجت کے طور پر جھوٹ اور جھوٹے کے متعلق خود مرزا قادیانی کے اقوال ملاحظہ کیجئے۔ شائد جبھی جھوٹ کی مذمت سمجھ میں آسکے۔
قول مرزا نمبر ١...... ”جب ایک بات میں کوئی جھوٹا ثابت ہو جائے تو پھر دوسری باتوں میں بھی اس پر کوئی اعتبار نہیں رہتا۔“ (چشمہ معرفت ص ٢٢٢ خزائن ج ٢٣ ص ٢٣١) قول مرزا نمبر ٢...... ”ظاہر ہے کہ ایک دل سے دو متناقض باتیں نہیں نکل سکتیں کیونکہ ایسے طریق سے یا تو انسان پاگل کہلاتا ہے یا منافق۔“ (ست بچن ص ٣١ خزائن ج ١٠ ص ١٤٣) قول مرزا نمبر ٣...... ”جیسا کہ بت پوجنا شرک ہے جھوٹ بولنا بھی شرک ہے۔ ان دونوں باتوں میں کچھ فرق نہیں۔“ (ملخص الحکم ١١ صفر ١٣٢٣ھ ج ٩ نمبر ١٣ ص ٥، مورخہ ١٧ اپریل ١٩٠٥ء) قول مرزا نمبر ٤...... ”جھوٹ بولنے سے بدتر دنیا میں کوئی کام نہیں۔“
(تتمہ حقیقۃ الوحی ص ٢٦ خزائن ج ٢٢ ص ٢٥٩)
قول مرزا نمبر ٥...... ”غلط بیانی اور بہتان طرازی نہایت ہی شریر اور بدذات آدمیوں کا کام ہے۔“ (آریہ دھرم ص ٥٤ خزائن ج ١٠ ص ٤٣) اب ذیل میں مرزا قادیانی کے صریح جھوٹوں کی ایک طویل فہرست درج کرتا ہوں تاکہ مرزا قادیانی کو ان کے اسلام اور مجددیت و نبوت کی بحث سے پہلے انسانیت اور اخلاق کی کسوٹی پر پرکھ کر دیکھا جائے کہ آیا وہ اس قابل انسان تھے کہ ان کی بات یا دعویٰ کو سنا بھی جائے۔
جھوٹ....... ١ ”میرے وقت میں فرشتوں اور شیاطین کا آخری جنگ ہے اور خدا اس وقت وہ نشان دکھائے گا جو اس نے کبھی دکھائے نہیں گویا خدا زمین پر اتر آیا۔ جیسا کہ فرماتا ہے۔ یوم یاتی ربک فی ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَامِ یعنی اس دن بادلوں میں تیرا خدا آئے گا۔“
(حقیقۃ الوحی ص ١٥٤ خزائن ج ٢٢ ص ١٥٨)
ابو عبیدہ: یہ محض خدا پر افتراء ہے۔ بہتان ہے۔ قرآن شریف میں یہ کوئی آیت نہیں ہے بلکہ خود مرزائی الہامات میں کہیں موجود نہیں۔
٣
- جھوٹ.....٢ ”اور یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ خدا بعض جگہ انسانی گریمر یعنی صرف و نحو
کے ماتحت نہیں چلتا اس کی نظیریں قرآن شریف میں بہت پائی جاتی ہیں۔ چنانچہ اِنْ هٰذَا نِ لَّسٰحِرٰنِ انسانی نحو کی رو سے ان هذین چاہیے۔“
(حقیقۃ الوحی ص ٣٠٤ کا حاشیہ خزائن ج ٢٢ ص ٣١٧)
ابوعبیدہ: جناب عالی صریح جھوٹ ہے۔ قرآن شریف میں کوئی ایسی غلطی نہیں۔ آپ کو نحو آتی نہیں ورنہ یہ بہتان نہ باندھتے۔
- جھوٹ.....٣ ”قرآن شریف خدا کی کلام اور میرے منہ کی باتیں ہیں۔“
(حقیقۃ الوحی ص ٨٤ خزائن ج ٢٢ ص ٨٧)
ابوعبیدہ: جھوٹ ظاہر ہے خدا کی کلام مرزا قادیانی کے منہ کی باتیں کیسے ہوسکتی ہیں؟ ہاں جو قادیانی مرزا قادیانی کے الہام یا کشف ورایتنی فی المنام عین اللہ یعنی میں (مرزا) نے خواب میں اپنے کو خدا دیکھا۔ وَتَیَقَّنْتُ اِنَّنِیْ هُوَ اور میں نے یقین کیا میں وہی ہوں۔“ (آئینہ کمالات اسلام ص ٥٦٣ خزائن ج ٥ ص ایضاً) کو صحیح مانتے ہوں ان کے نزدیک یہ جھوٹ نہ ہو تو ممکن ہے۔
- جھوٹ.....٤ ”قرآن شریف میں اوّل سے آخر تک جس جس جگہ توفی کا لفظ آیا
ہے۔ ان تمام مقامات میں توفی کے معنی موت ہی لیے گئے ہیں۔“
(ازالہ اوہام ص ٢٤٤ خزائن ج ٣ ص ٢٢٤ حاشیہ)
ابوعبیدہ: مرزا قادیانی! یہ آپ کا صریح جھوٹ اور دھوکہ ہے۔ کیا آپ نے قرآن شریف میں وَهُوَ الَّذِيْ یَتَوَفّٰى کُمْ بِاللَّیْلِ نہیں پڑھا۔ اس کے معنی موت کے کون عقلمند کرسکتا ہے؟ اسی قسم کی اور کئی آیات ہیں جہاں موت کے معنی کرنے ناممکن ہیں۔
- جھوٹ.....٥ ”اس علیم و حکیم کا قرآن شریف میں بیان فرمانا کہ ١٢٧٤ھ میں میرا
کلام آسمان پر اٹھا لیا جائے گا۔ یہی معنی رکھتا ہے کہ مسلمان اس پر عمل نہیں کریں گے۔“
(ازالہ اوہام ص ٧٢٨ خزائن ج ٣ ص ٤٩٠ حاشیہ)
ابوعبیدہ: اے قادیانی دوستو! مرزا قادیانی تو فوت ہوچکے۔ آپ میں سے کوئی صاحب ان کی نمائندگی کر کے اس مضمون کی آیت قرآن شریف سے نکال کر مرزا قادیانی کو سچا ثابت کرے ورنہ توبہ کرو ایسے شخص کی بیعت سے جو خدا پر افتراء باندھنا شیر مادر سے بھی زیادہ حلال سمجھتا ہے۔
٤
جُھوٹ.......٦ ”ایک اور حدیث ابن مریم کے فوت ہونے پر دلالت کرتی ہے اور وہ یہ کہ آنحضرت ﷺ سے پوچھا گیا کہ قیامت کب آئے گی تو آپ نے فرمایا کہ آج کی تاریخ سے ١٠٠ برس تک تمام بنی آدم پر قیامت آ جائے گی۔“
(ازالہ ص ٢٥٢ خزائن ج ٣ ص ٢٢٧)
ابوعبیدہ: یہ صریح بہتان ہے۔ تحریف ہے۔ کوئی ایسی صحیح حدیث نہیں جس کے معنی ان الفاظ سے عربی کا ایک ادنیٰ طالب علم بھی کر سکے۔
جُھوٹ.......٧ ”وہ خلیفہ جس کی نسبت بخاری میں لکھا ہے کہ آسمان سے اس کی نسبت آواز آئے گی کہ ھٰذا خلیفۃ اللہ المھدی، اب سوچو کہ یہ حدیث کس پایہ اور مرتبہ کی ہے جو ایسی کتاب میں درج ہے جو اصح الکتاب بعد کتاب اللہ ہے۔“
(شہادۃ القرآن ص ٤١ خزائن ج ٦ ص ٣٣٧)
ابوعبیدہ: قادیانی حضرات سے میری مودبانہ درخواست ہے کہ اس مضمون کو غور سے پڑھو اور خیال فرماؤ کہ کس قدر زور دار الفاظ میں پبلک کو بخاری کا واسطہ دے کر اس حدیث کی صحت کا یقین دلا رہے ہیں۔ اگر یہ جھوٹ اور دھوکہ نہیں تو پھر بتاؤ دھوکہ اور کس جانور کا نام ہے؟ کیونکہ یہ حدیث دنیا کی کسی بخاری شریف میں نہیں۔
جُھوٹ.......٨ ”اے عزیزو تم نے وہ وقت پایا ہے جس کی بشارت تمام نبیوں نے دی ہے اور اس شخص (مرزا قادیانی) کو تم نے دیکھ لیا ہے جس کے دیکھنے لیے بہت سے پیغمبروں نے بھی خواہش کی تھی۔“
(اربعین نمبر ٤ ص ١٣ خزائن ج ١٧ ص ٤٤٢)
ابوعبیدہ: ہمالیہ سے بڑھ کر جھوٹ ہے۔ اگر ثبوت ہو تو پیش کرو۔ چلو ایک ہی نبی کی خواہش کا ثبوت قرآن اور حدیث سے پیش کرو۔
جُھوٹ.......٩ ”پہلے نبیوں کی کتابوں اور احادیث نبویہ میں لکھا ہے کہ مسیح موعود کے ظہور کے وقت یہ انتشار نورانیت اس حد تک ہوگا کہ عورتوں کو بھی الہام شروع ہو جائے گا اور نابالغ بچے نبوت کریں گے اور عوام الناس روح القدس سے بولیں گے۔“
(ضرورۃ الامام ص ٥ خزائن ج ١٣ ص ٤٧٥)
ابوعبیدہ: کوئی قادیانی یہ حدیث دکھا دے تو علاوہ عام انعام مقررہ کے مبلغ دس روپے نقد انعام کا مستحق سمجھا جائے گا اور اگر نہ دکھا سکے تو اس سے صرف دوبارہ اسلام قبول کر لینا ہی مطلوب ہے۔
٥
جھوٹ.....١٠ ’’بات یہ ہے کہ مجدد صاحب سرہندی نے اپنے مکتوبات میں لکھا ہے کہ اگرچہ اس امت کے بعض افراد مکالمہ و مخاطبہ الٰہیہ سے مخصوص ہیں اور قیامت تک مخصوص رہیں گے لیکن جس شخص کو بکثرت اس مکالمہ و مخاطبہ الٰہیہ سے مشرف کیا جائے اور بکثرت امور غیبیہ اس پر ظاہر کیے جائیں وہ شخص نبی کہلاتا ہے۔‘‘
(حقیقۃ الوحی ص ٣٩٠ خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٦)
ابوعبیدہ: مرزائی دوستو مکتوبات کو میں نے خود پڑھا۔ وہاں محدث لکھا ہے۔ یقیناً اپنی نبوت کے ثبوت میں مجدد صاحب کی پناہ لینے کے لیے افتراء محض سے کام لیا ہے کیونکہ جب محدث ہونے کا دعویٰ تھا اس وقت یہ حوالہ نقل کرتے وقت محدث لکھا کرتے تھے۔ (دیکھو ازالہ اوہام ص ٩١٥ خزائن ج ٣ ص ٦٠١ ، تحفہ بغداد ص ٢٠۔٢١ خزائن ج ٧ ص ٢٨ حاشیہ) کیا اب بھی مرزا قادیانی کی کذب بیانی کا یقین نہیں آئے گا؟
جھوٹ.....١١ ’’تفسیر ثنائی میں لکھا ہے کہ ابوہریرہ فہم قرآن میں ناقص تھا۔‘‘
(ضمیمہ براہین احمدیہ جلد ٥ ص ٢٣٤ خزائن ج ٢١ ص ٤١٠)
ابوعبیدہ: جھوٹ بلکہ ڈبل جھوٹ ہے چونکہ حضرت ابوہریرہؓ جلیل القدر صحابی رسول کریم ﷺ نے بہت سی ایسی احادیث بیان فرمائی ہیں جو مرزائی قصر نبوت و مسیحیت میں زلزلہ ڈال دیتی ہیں۔ اس واسطے پبلک کو دھوکہ دینے کے لیے تفسیر ثنائی پر جھوٹ باندھ دیا۔ یا اللہ! قادیانی جماعت کے لوگوں کو دماغ دے اور دماغ میں سمجھ دے تا کہ وہ ایسے صریح اور سفید جھوٹ بولنے والے انسان کو تیرے بھیجے ہوئے انبیاء علیہم السلام بالخصوص حضرت فخر موجودات ﷺ کا بروز کہنا ترک کر دیں۔
جھوٹ.....١٢ ’’اور یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ حضرت مسیح ؑ کے پرندوں کا پرواز کرنا قرآن شریف سے ہرگز ثابت نہیں۔‘‘ (ازالہ اوہام ص ٤٠٧ کا حاشیہ خزائن ج ٣ ص ٢٥٦)
ابوعبیدہ: صریح مخالفت کلام اللہ ہے۔ فیکون طیراً باذن اللہ کے معنی کسی پہلی جماعت کے عربی متعلم ہی سے پوچھ لیے ہوتے تو یہ بہتان خدا پر باندھنے کی نوبت نہ آتی۔ خود مرزا قادیانی فرماتے ہیں۔ ’’حضرت مسیح ؑ کی چڑیاں باوجودیکہ معجزہ کے طور پر ان کا پرواز کرنا قرآن کریم سے ثابت ہے۔ مگر پھر بھی مٹی کی مٹی ہی تھیں۔‘‘ (آئینہ کمالات ص ٦٨ خزائن ج ٥ ص ایضاً) اے قادیانی جماعت کے تعلیم یافتہ حضرات کچھ تو خدا کا خوف کرو اور اپنے گریبان میں منہ ڈال کر سوچو کہ تناقض اور تضاد کا بھی کوئی
٦
جواب ہے۔ اگر نہیں ہے اور یقیناً نہیں ہے تو پھر قول مرزا نمبر ٢ مندرجہ تمہید ٹریکٹ ہذا کے مطابق مرزا قادیانی کو وہی سمجھو جس کی وہ ہدایت کر رہے ہیں۔
جھوٹ...... ١٣ ”واذ قال الله يا عيسى ابن مريم أانت قلت للناس یہ قصہ وقت نزول آیت زمانہ ماضی کا ایک قصہ تھا نہ کہ زمانہ استقبال کا (یعنی یہ باتیں خدا اور عیسیٰ ؑ کے درمیان رسول پاک ﷺ سے پہلے ہو چکی تھیں) کیونکہ اذ خاص واسطے ماضی کے آتا ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ٦٠٢ خزائن ج ٣ ص ٤٢٥)
ابوعبیدہ: صریح جھوٹ اور اس کا جھوٹ ہونا خود اس طرح بیان فرماتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ عیسیٰ ؑ سے یہ باتیں قیامت کے دن کریں گے۔“
(ملخصاً براہین احمدیہ پنجم ص ٤٠ خزائن ج ٢١ ص ٥١)
اور لکھا ہے ”جس شخص نے کافیہ یا ہدایت النحو بھی پڑھی ہوگی وہ خوب جانتا ہے کہ ماضی مضارع کے معنوں پر بھی آ جاتی ہے۔“
(ضمیمہ براہین حصہ ٥ ص ٦ خزائن ج ٢١ ص ١٥٩)
اب دونوں کا تناقض دور کرنا کسی قادیانی عالم ہی کا کام ہے۔ عقل عامہ تو اس کے سمجھنے سے قاصر ہے۔
جھوٹ...... ١٤ ”مسلمانوں کو واضح رہے کہ خدا تعالیٰ نے یسوع کی قرآن شریف میں کوئی خبر نہیں دی کہ وہ کون تھا۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٩ خزائن ج ١١ ص ٢٩٣ حاشیہ)
ابوعبیدہ: حضرات غور کیجئے عیسیٰ ؑ کیا وہی شخصیت نہیں جسے عیسائی یسوع کہتے ہیں۔ کیا نام بدل دینے سے شخصیت بھی بدل جاتی ہے۔ سبحان اللہ۔ یہ عقیدہ بھی جھوٹ محض کا اظہار ہے اور اس کا جھوٹ ہونا بھی خود ہی تسلیم کرتے ہیں گو ان کی امت نہ کرے۔ (چشمہ معرفت ص ٢١٨ خزائن ج ٢٣ ص ٢٢٧) پر ہے۔ ”اسی وجہ سے خدا تعالیٰ نے یسوع کی پیدائش کی مثال بیان کرنے کے وقت آدم ہی کو پیش کیا ہے۔ جیسا کہ فرماتا ہے ان مثل عيسىٰ عند الله كمثل آدم الى آخره.
جھوٹ...... ١٥ ”اور ان کی پرانی تاریخوں میں لکھا ہے کہ یہ ایک نبی شاہزادہ ہے جو بلاد شام کی طرف سے آیا تھا جس کو قریباً ١٩٠٠ء برس آئے ہوئے گزر گئے ہیں۔“
(تحفہ گولڑویہ ص ٩ خزائن ج ١٧ ص ١٠٠)
ابوعبیدہ: اے دنیا کے پڑھے لکھے لوگو! خدا کی قسم مرزا قادیانی کا سیاہ جھوٹ ہے۔ اگر کشمیر کی کسی کتاب میں ایسا لکھا ہوا کوئی قادیانی دوست دکھا دے تو علاوہ انعام
٧
عام مجمع میں وعدہ کرتا ہوں کہ مبلغ دس روپے نقد انعام دوں گا۔
جھوٹ....... ١٦ ”کتاب سوانح یوز آصف جس کی تالیف کو ہزار سال سے زیادہ ہوگیا ہے ۔ اس میں صاف لکھا ہے کہ ایک نبی یوز آصف کے نام سے مشہور تھا اور اس کی کتاب کا نام انجیل تھا۔“
(تحفہ گولڑویہ ص ٩٠ خزائن ج ١٧ ص ١٠٠)
ابوعبیدہ: ریمارک وہی ہے جو جھوٹ نمبر ١٥ میں ہے۔
جھوٹ....... ١٧ ”حضرت مریم صدیقہ کی قبر زمین شام میں کسی کو معلوم نہیں۔“
(حقیقۃ الوحی ص ١٠١ حاشیہ خزائن ج ٢٢ ص ١٠٤)
پھر ایک شامی دوست کا خط نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔ ”حضرت مریم صدیقہ کی قبر بلدہ قدس کے گرجا میں ہے۔“
(اتمام الحجۃ ص ٢١ کا حاشیہ خزائن ج ٨ ص ٢٩٩)
ابوعبیدہ: دونوں باتیں مرزا بشیر احمد ایم ۔ اے کے نزدیک صریح جھوٹ ہیں۔ وہ فرماتے ہیں۔ ”شہر سری نگر محلہ خانیار میں جو دوسری قبر، قبر یوز آصف کے پاس ہے وہ حضرت مریم علیہا السلام کی ہے۔“ (ریویو آف ریلیجنز ج ١٦ نمبر ٧ ص ٢٥٦ حاشیہ) دیکھا حضرات یا باپ جھوٹا یا بیٹا۔ ہم تو دونوں کو جھوٹا سمجھتے ہیں آپ جسے چاہیں سمجھ لیں۔
جھوٹ....... ١٨ ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام شراب پیا کرتے تھے۔“
(کشتی نوح ص ٦٥ خزائن ج ١٩ ص ٧١ حاشیہ)
ابوعبیدہ: شراب نجس العین ہے۔ کوئی آدمی شراب پینے والا نبی نہیں ہو سکتا۔ قرآن اور حدیث سے ثبوت دو گے تو مبلغ پانچ روپے انعام ملے گا۔ یہ بھی جھوٹ ہے کہ انجیل کی رو سے شراب حلال تھی جو آدمی مقابلہ پر اس نجس العین کا حلال ہونا ثابت کر دے پانچ روپے مزید انعام لے۔
جھوٹ....... ١٩ ”سچا خدا وہی ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔“
(دافع البلاء ص ١١ خزائن ج ١٨ ص ٢٣١)
”نبی کا نام پانے کے لیے میں ہی مخصوص کیا گیا ہوں۔“
(حقیقۃ الوحی ص ٣٩١ خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٦)
”ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم نبی اور رسول ہیں۔“
(اخبار بدر ٥ مارچ ١٩٠٨ء ، ملفوظات ج ١٠ ص ١٢٧)
٨
ابو عبیدہ: نبوت کا دعویٰ بالکل جھوٹا ہے۔ چنانچہ خود مرزا قادیانی نے مدعی نبوت کے جھوٹ پر اپنے زمانہ اسلام میں مہر تصدیق اس طرح لگا دی تھی۔ ’’میں سیدنا و مولانا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ ختم المرسلین کے بعد کسی دوسرے مدعی نبوت اور رسالت کو کاذب اور کافر جانتا ہوں۔ میرا یقین ہے کہ وحی رسالت حضرت آدم صفی اللہ سے شروع ہوئی اور جناب رسول اللہ محمد مصطفیٰ ﷺ پر ختم ہو گئی۔‘‘
(تبلیغ رسالت حصہ دوم ص ٢٠۔٢١ مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٣٠)
جھوٹ ...... ٢٠ ’’کوئی شخص اہل لغت اور اہل زبان سے پہلی رات کے چاند پر قمر کا لفظ اطلاق نہیں کرتا بلکہ وہ تین رات تک ہلال کے نام سے موسوم ہوتا ہے۔‘‘
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٧ خزائن ج ١١ ص ٣٣١)
ابو عبیدہ: حضرات! مرزا قادیانی یا تو صریح اپنی مطلب برابری کے لیے جھوٹ بول رہے ہیں یا عاجز کو معلوم نہیں کہ لغت کس جانور کا نام ہے۔ چھوٹے چھوٹے طالب علم بھی جانتے ہیں کہ قمر چاند کا ذاتی نام ہے اور ہلال اور بدر اس کے وصفی نام ہیں۔ چنانچہ تاج العروس لغت کی مشہور کتاب میں لکھا ہے۔ الھلال غرة القمر وهی اوّل لیلة (یعنی ہلال قمر کی پہلی رات ہے) قرآن شریف میں بھی ہلال کو قمر لکھا گیا ہے۔ خود مرزا قادیانی کے صاحبزادے اور خلیفے مرزا محمود قادیانی اخبار الفضل ١٧ جولائی ١٩٢٨ء میں لکھتے ہیں۔ ’’قمر ہلال نہیں ہوتا مگر ہلال ضرور قمر ہوتا ہے۔ کیونکہ (قمر) چاند کا عام نام ہے خواہ چاند پہلے دن کا ہو یا دوسرے دن کا یا تیسرے دن کا۔‘‘ دیکھا حضرات! مرزا قادیانی کس شان اور رعب سے جھوٹ بول کر مطلب نکالا کرتے تھے۔
جھوٹ ...... ٢١ ’’اور حدیثوں سے ثابت ہے کہ اس مسیح موعود کی تیرہویں صدی میں پیدائش ہوگی اور چودھویں صدی میں اس کا ظہور ہوگا۔‘‘
(ریویو جلد ٢ نمبر ١١۔١٢ بابت ماہ نومبر و دسمبر ١٩٠٣ء ص ٢٣٧)
ابو عبیدہ: صریح بہتان ہے۔ افتراء ہے۔ تمام قادیانی علماء مل کر زور لگائیں کہیں کوئی صحیح حدیث اس مضمون کی نہیں دکھا سکیں گے۔
جھوٹ ...... ٢٢ ’’کرمہائے تو کرد مارا گستاخ۔ تیری بخششوں نے ہم کو گستاخ کر دیا۔‘‘
(براہین احمدیہ ص ٥٥٦ خزائن ج ١ ص ٦٦٢ حاشیہ در حاشیہ)
ابو عبیدہ: یہ الہام بالکل جھوٹا ہے۔ چنانچہ میں اپنی تائید میں موجودہ خلیفہ کا اس
٩
الہام پر تبصرہ عرض کرتا ہوں۔ دیکھو الفضل ٢٠۔٢٣ جنوری ١٩١٧ء فرماتے ہیں۔ ”نادان ہے وہ شخص جس نے کہا ”کرمہائے تو کرد مارا گستاخ“ کیونکہ خدا کے فضل انسان کو گستاخ نہیں بنایا کرتے اور سرکش نہیں کر دیا کرتے۔“
(ج ٤ ص ١٣ نمبر ٥٨۔٥٧)
ایہاالناظرین! اب جبکہ آپ کے خلیفہ بھی مرزا قادیانی کو نادان کہہ رہے، تم کیوں نہیں ایسا سمجھنے سے عار کرتے ہو۔
جھوٹ....... ٢٣ ”خدا تعالیٰ کا قانون قدرت ہرگز بدل نہیں سکتا۔“
(کرامات الصادقین ص ١٤ خزائن ج ٧ ص ١٦٢)
پھر دوسری جگہ ملاحظہ کریں۔ ”خدا اپنے خاص بندوں کے لیے اپنا قانون بھی بدل دیتا ہے۔“
(چشمہ معرفت ص ٩٦ خزائن ج ٢٣ ص ١٠٤)
ابوعبیدہ: حضرات! اس پر حاشیہ لکھنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ جھوٹ اظہر من الشمس ہے۔
جھوٹ....... ٢٤ و ٢٥ ”بائبل میں یہ بھی لکھا ہے کہ ایک مرتبہ بنی اسرائیل کے چار سو نبی نے ایک بادشاہ کی فتح کی نسبت خبر دی تھی اور وہ غلط نکلی۔ مگر اس عاجز کی کسی پیشگوئی میں کوئی الہامی غلطی نہیں۔“
(اشتہار حقانی تقریر بر وفات بشیر تبلیغ رسالت حصہ اوّل ص ١٢٧ مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٦٩)
ابوعبیدہ: بائبل کا حوالہ دیکھیں وہاں اگر لکھا ہو کہ وہ چار سو نبی انبیاء بنی اسرائیل تھے تو مرزا قادیانی کا یہ جھوٹ غلط اور اگر وہاں لکھا ہو کہ وہ بعل بت کے پجاری تھے جنھیں لوگ (بت پرست) نبی کہتے تھے اور ان بت پرستوں کی پیشگوئی غلط نکلی اور خدا کے رسول میکایا کی پیشگوئی کے مطابق بادشاہ کو شکست ہوئی تو پھر صرف اتنا تو کرو کہ اس قدر جھوٹوں کا طومار باندھنے والے سے برأت کا اظہار کر دو اور بس۔ دیکھا حضرات اپنی پیشگوئی غلط نکلنے پر اپنا جھوٹ ہونا تسلیم نہیں کرتے بلکہ تورات پر افتراء کیا۔ پھر فرماتے ہیں کہ اس عاجز کی کسی پیشگوئی میں کوئی الہام غلطی نہیں۔ مرزا قادیانی خدا کا خوف کرو اور بتاؤ کہ مندرجہ ذیل پیشگوئیاں جو الہامی تھیں پوری ہوئیں۔ ١....... کیا مولوی محمد حسین بٹالوی نے مطابق پیشگوئی آپ کی بیعت کی؟ ہرگز نہیں۔ ٢....... کیا ڈاکٹر عبدالحکیم پٹیالوی مطابق پیشگوئی کیا آپ کے سامنے ہلاک ہوا؟ ٣....... کیا محمدی بیگم منکوحہ آسمانی آپ کے نکاح میں آئی؟ ہرگز نہیں۔ ٤....... کیا اسی طرح کی تمام پیشگوئیاں غلط نہیں؟
١٠
جھوٹ.......٢٦ ”اور یہ بھی یاد رہے کہ قرآن شریف میں بلکہ توریت کے بعض صحیفوں میں بھی یہ خبر موجود ہے کہ مسیح موعود کے وقت طاعون پڑے گی۔“
(کشتی نوح ص ٥ خزائن ج ١٩ ص ٥)
ابوعبیدہ: اے قادیانی دوستو! اگر قرآن شریف میں ایسا لکھا ہوا دکھا دو تو میں تردید مرزائیت چھوڑ دوں گا اور اگر صریح جھوٹ ہو یا کسی لفظ کے معنی (مثل گندم بمعنی گڑ) خواہ مخواہ تاویل کر لو۔ تو پھر اتنا تو کرو کہ اس جھوٹ کے عوض صرف دس مرزائی مسلمان ہو جاؤ۔
جھوٹ.......٢٧ ”اگر قرآن نے میرا نام ابن مریم نہیں رکھا تو میں جھوٹا ہوں۔“
(تحفۃ الندوہ ص ٥ خزائن ج ١٩ ص ٩٨)
ابوعبیدہ: آئیے حضرات! مرزا قادیانی کا نام قرآن شریف میں ابن مریم دکھاؤ ورنہ ایسے صریح جھوٹ کے بولنے والے کو نبی کہنا تو چھوڑ دو۔ جھوٹا آدمی تو پکا مسلمان بھی نہیں ہو سکتا۔
جھوٹ.......٢٨ ”عنقریب وہ زمانہ آنے والا ہے کہ تم نظر اٹھا کر دیکھو گے کہ کوئی ہندو دکھائی دے۔ مگر ان پڑھے لکھوں میں سے ایک ہندو بھی تمھیں دکھائی نہ دے گا۔“
(ازالہ اوہام ص ٣٢ خزائن ج ٣ ص ١١٩)
ابوعبیدہ: اے قادیانی دوستو اس کی اور اس میں کی عنقریب کی تاویل کیا کرو گے۔ کیا اب ہندوستان میں کوئی کافر نہیں۔ ہندو مسلمان کیا ہوتے بلکہ کئی مسلمان اچھے بھلے خدا اور اس کے رسول کے ماننے والے مرزا قادیانی کی نبوت کی بھینٹ چڑھ گئے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔
جھوٹ.......٢٩ ”آنحضرت ﷺ کو معراج اس جسم کثیف کے ساتھ نہیں تھا بلکہ وہ نہایت اعلیٰ درجہ کا کشف تھا۔......اس قسم کے کشفوں میں خود مؤلف (جناب مرزا قادیانی) بھی صاحب تجربہ ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ٤٧ کا حاشیہ خزائن ج ٣ ص ١٢٦)
ابوعبیدہ: صریح جھوٹ ہے۔ خلاف قرآن حدیث اور خلاف اجماع امت اور اس کا جھوٹ ہونا خود اس طرح تسلیم کرتے ہیں۔ ازالہ ”آنحضرت کے رفع جسمی کے بارہ میں یعنی اس بارہ میں کہ وہ جسم کے ساتھ شب معراج آسمان کی طرف اٹھا لیے گئے تھے۔ تقریباً تمام صحابہ کا یہی اعتقاد تھا۔“ (ازالہ اوہام ص ٢٨٩ خزائن ج ٣ ص ٢٤٧) کیوں
١١
احمدی دوستو تمام صحابہ کو جھوٹا کہو گے یا ایک مرزا قادیانی کو؟
جھوٹ......٣٠ ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر بلدۂ قدس کے گرجا میں ہے اور اب تک موجود ہے اور اس پر ایک گرجا بنا ہوا ہے اور وہ گرجا تمام گرجاؤں سے بڑا ہے اس کے اندر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر ہے۔“
(اتمام الحجۃ ص ٢١ خزائن ج ٨ ص ٢٩٩)
ابوعبیدہ: اے قادیانی کہلانے والے سمجھ دار طبقہ کے لوگو! اس کے جھوٹا ہونے میں تمہیں شک ہو تو لو جس کی خاطر تم اس پر شک کرتے ہو اس سے کم از کم اس بیان کے جھوٹا ہونے پر مہر تصدیق میں لگوا دیتا ہوں۔
(دیکھو ایام الصلح ص ١١٨ خزائن ج ١٤ ص ٣٥٦)
”مسیح کی قبر محلہ خانیار شہر سری نگر میں ہے۔“
اب بتلائیے کیا جھوٹا آدمی (نہیں بلکہ جھوٹوں کی کان) بھی انسانیت اور مسلمانی کا دعویٰ کر سکتا ہے۔ اب بھی اگر تمہاری عقیدت میں فرق نہ آئے تو شاباش تمہاری مستقل مزاجی کے۔
جھوٹ......٣١ ”حضرت مریم صدیقہ کا اپنے منسوب (جس سے ناطہ یا نسبت ہو) یوسف کے ساتھ پھرنا اس اسرائیلی رسم پر پختہ شہادت ہے۔“
(ایام الصلح ص ٦٦ خزائن ج ١٤ ص ٣٠٠ حاشیہ)
ابوعبیدہ: دیکھئے حضرات! یہاں کس زور سے منسوب اور ناطہ ہونے کا اقرار ہے۔ پھر خود ہی ریویو آف ریلیجنز جلد اول ص ١٧٥ نمبر ٤ بابت اپریل ١٩٠٢ء پر لکھتے ہیں۔ ”یہ جو انجیلوں میں لکھا ہے کہ گویا مریم صدیقہ کا معمولی طور پر جیسا کہ دنیا جہاں میں دستور ہے۔ یوسف نجار سے ناطہ ہوا تھا یہ بالکل دروغ اور بناوٹ ہے۔“
بتلائیے صاحبان! اب بھی تم لوگ مرزا قادیانی کا دامن چھوڑ کر سرکار دو عالم ﷺ سے تعلق نہ جوڑو گے؟ خدا توفیق دے۔
جھوٹ......٣٢ ”میں اپنے مخالفوں کو یقیناً کہتا ہوں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام امتی ہرگز نہیں۔“
(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ ٥ ص ١٩٢ خزائن ج ٢١ ص ٣٦٢)
ابوعبیدہ: یہاں اعلان کرتے ہیں کہ وہ امتی نہیں۔ ازالہ ص ٢٦٥ خزائن ج ٣ ص ٢٣٦ پر فرماتے ہیں۔ ”یہ ظاہر ہے کہ حضرت مسیح ابن مریم اسی امت کے شمار میں آ گئے ہیں۔“ ہے کوئی قادیانی یا لاہوری جو اس معمہ کو حل کرے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام امتی بھی ہیں اور امتی نہیں بھی ہیں۔
١٢
جھوٹ ......٣٣ ”کوئی نبی دنیا میں ایسا نہیں گزرا جس نے اپنی پیشگوئی کے معنی کرنے میں کبھی غلطی نہ کھائی ہو۔“ (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ ٥ ص ٨٦ خزائن ج ٢١ ص ٢٤٧) ابوعبیدہ: اے مرزا قادیانی کے جان نثارو کچھ تو خوف کرو کیا نبی تمھارے خیال میں ملہم غیبی ہی ہوتے ہیں کہ اپنے الہام کو ہی نہیں سمجھتے۔ انسان دوسروں کو بھی اپنے اوپر قیاس کرتا ہے۔ نبی خطا سے پاک ہوتا ہے۔ کیا قرآن یا حدیث سے مرزا قادیانی کے اس دعویٰ کو صحیح ثابت کر سکتے ہو؟
جھوٹ ......٣٤ ”بعض پیشگوئیوں کی نسبت آنحضرت ﷺ نے خود اقرار کیا ہے کہ میں نے ان کی اصلیت سمجھنے میں غلطی کھائی۔“ (ازالہ ص ٢٠٠ خزائن ج ٣ ص ٤٠٧) ابوعبیدہ: اے قادیانی جماعت کے بزرگو! پڑھو انا للہ وانا الیہ راجعون جس کی شان خود خدا نے یہ بیان فرمائی ہو۔ وما ینطق عن الھوی ان ھو الا وحی یوحی وہ پیشگوئیوں کو نہ سمجھ سکیں۔ یہ صریح بہتان ہے۔ افتراء ہے۔ نہیں تو اس مضمون کی کوئی صحیح حدیث دکھاؤ۔
جھوٹ ......٣٥ ”تمام نبیوں نے ابتداء سے آج تک میرے لیے خبریں دی ہیں۔“
(تذکرۃ الشہادتین ص ٦٢ خزائن ج ٢٠ ص ٦٤)
ابوعبیدہ: چلیے حضرات کسی نبی کی کتاب سے مرزا قادیانی کے آنے کی خبر نکال دو تو مبلغ دس روپے نقد انعام دوں گا۔
جھوٹ ......٣٦ ”علم نحو میں صریح یہ قاعدہ مانا گیا ہے کہ توفی کے لفظ ہیں۔ جہاں خدا فاعل اور انسان مفعول بہ ہو ہمیشہ اس جگہ توفی کے معنی مارنے اور روح قبض کرنے کے آتے ہیں۔“ (تحفہ گولڑویہ ص ٤٥ خزائن ج ١٧ ص ١٦٢) ابوعبیدہ: افسوس کوئی صاحب علم قادیانی یا لاہوری نہیں پوچھتا کہ حضرت جی یہ قاعدہ کہاں لکھا ہے؟ مرزا قادیانی کا یہ سفید نہیں بلکہ سیاہ جھوٹ ہے۔
جھوٹ ......٣٧ ”یہ کتاب (براہین احمدیہ) تین سو محکم اور قوی دلائل حقانیت اسلام اور اصول اسلام پر مشتمل ہے۔“ (براہین احمدیہ جلد ٢ ص ١٣٦ خزائن ج ١ ص ١٢٩) ”ہم نے صد ہا طرح کا فتور اور فساد دیکھ کر کتاب براہین احمدیہ کو تالیف کیا تھا اور کتاب موصوف میں تین سو مضبوط اور محکم عقلی دلیل سے صداقت اسلام کو فی الحقیقت آفتاب سے بھی
١٣
زیادہ تر روشن دکھلایا گیا ۔“
(براہین احمدیہ ج ٢ ص ب خزائن ج ١ ص ٦٢)
ابوعبیدہ: حضرات براہین احمدیہ شائع ہو چکی ہے اس میں تین سو کی بجائے صرف ١٠ دلیلیں بھی اگر دکھا دو تو تین صد روپیہ انعام پاؤ ورنہ توبہ کرو۔ مرزا قادیانی کے پیچھے لگنے سے تمہارا مطلب اگر کوئی دنیوی نہ تھا تو پھر ایسے جھوٹ بولنے والے سے کنارہ پکڑو۔
جھوٹ....... ٣٨ ”واعطيت صفۃ الاحیاء والافناء.“
(خطبہ الہامیہ ص ٥٦ خزائن ج ١٦ ص ایضاً)
”یعنی مجھے مردوں کو زندہ کرنے اور زندوں کو مارنے کی طاقت دی گئی ہے۔“
ابوعبیدہ: حضرات! کون بیوقوف ہے جو اس دعویٰ کو مراق کا نتیجہ نہ سمجھے گا۔ مرزا قادیانی نے کس مردے کو زندہ کیا اور کس زندہ کو مردہ کیا؟ ایک سلطان محمد کو فنا کر کے اپنی منکوحہ آسمانی بھی واپس نہ لا سکے؟ فافہموا ایہا الناظرون.
جھوٹ....... ٣٩ ”بنی اسرائیل میں اگرچہ بہت سے نبی آئے مگر ان کی نبوت موسیٰ کی پیروی کا نتیجہ نہ تھا۔ حضرت موسیٰ ؑ کی پیروی کا اس میں ذرہ بھی دخل نہ تھا۔“
(حقیقۃ الوحی ص ٩٧ کا حاشیہ خزائن ج ٢٢ ص ١٠٠)
ابوعبیدہ: دیکھئے حضرات! کس زور سے ثابت کر رہے ہیں کہ اگلے نبیوں کی نبوت موسیٰ ؑ کی پیروی کا نتیجہ نہ تھا۔ حالانکہ یہ بالکل جھوٹ ہے۔ دروغ گو را حافظہ نباشد۔ خود الحکم ٢٤ نومبر ١٩٠٢ء ص ٥ پر لکھتے ہیں۔ ”حضرت موسیٰ ؑ کے اتباع سے ان کی امت میں ہزاروں نبی آئے۔“
جھوٹ....... ٤٠ ”صاحب نبوت تامہ ہرگز امتی نہیں ہو سکتا اور جو شخص کامل طور پر رسول اللہ کہلاتا ہے اس کا کامل طور پر دوسرے نبی کا مطیع اور امتی ہو جانا نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ کی رو سے بالکل ممتنع ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ وما ارسلنا من رسول الا لیطاع باذن اللہ.
(ازالہ حصہ ٢ ص ٥٦٩ خزائن ج ٣ ص ٤٠٧)
ابوعبیدہ: مرزا قادیانی کا جھوٹا محض ہونا ان کے اپنے فرزند کی زبان سے سنو۔
”بعض نادان کہہ دیا کرتے ہیں کہ ایک نبی دوسرے نبی کا متبع نہیں ہو سکتا اور اس کی دلیل یہ دیتے وما ارسلنا من رسول الی آخرہ لیکن یہ سب قلت تدبر ہے۔“
(حقیقت النبوت ص ١٥٥)
جھوٹ....... ٤١ ”خدا نے فرمایا کہ میں اس عورت (محمدی بیگم) کو اس کے نکاح کے
١٤
بعد واپس لاؤں گا اور تجھے دوں گا اور میری تقدیر کبھی نہیں بدلے گی اور میرے آگے کوئی بات انہونی نہیں اور میں سب روکوں کو اٹھا دوں گا جو اس حکم کے نفاذ سے مانع ہوں۔ اب اس پیشگوئی سے ظاہر ہے کہ وہ کیا کیا کرے گا اور کون کون سی قہری قدرت دکھلائے گا اور کس کس شخص کو روک کی طرح سمجھ کر اس دنیا سے اٹھا لے گا۔‘‘
(تبلیغ رسالت حصہ ٣ ص ١١٥ مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٤٣)
ابوعبیدہ: حضرات! مسلمان تو کہتے ہی ہیں کہ یہ تمام الہامات خدا کی طرف سے نہ تھے بلکہ ایجاد مرزا تھے۔ اس کے متعلق مرزا قادیانی کے فرزند و خلیفہ میاں محمود کا فیصلہ سنیے۔ ’’اللہ تعالیٰ کا کوئی وعدہ نہیں تھا کہ وہ لڑکی (محمدی بیگم) آپ کے (مرزا قادیانی کے) نکاح میں آئے گی۔ پھر ہرگز یہ نہیں بتایا گیا کہ کوئی روک ڈالے گا تو وہ دور کیا جائے گا۔‘‘
(الفضل ٢ اگست ١٩٢٤ء ص ٥ ج ١٢ نمبر ١٠١)
احمدی دوستو! اس پر میں کچھ اضافہ نہیں کرنا چاہتا۔ نبی اور نبی زادہ خلیفہ کے الفاظ پڑھو اور اپنا سر پیٹو۔
جھوٹ......٤٢ ’’سلف صالحین میں سے بہت سے صاحب مکاشفات مسیح کے آنے کا وقت چودھویں صدی کا شروع سال بتلا گئے ہیں۔ چنانچہ شاہ ولی اللہ صاحب کی بھی یہی رائے ہے۔‘‘
(ازالہ ص ١٨٤ خزائن ج ٣ ص ١٨٨)
ابوعبیدہ: بالکل جھوٹ شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلویؒ نے کہیں کسی کتاب میں ایسا نہیں لکھا۔ اگر لکھا ہے تو کوئی صاحب دکھا کر انعام مقررہ وصول کرے۔ ورنہ توبہ کرے مرزا قادیانی کی مریدی سے۔
جھوٹ......٤٣ ’’قرآن شریف میں عیسیٰ ؑ کے لیے حصور کا لفظ نہیں بولا گیا کیونکہ وہ شراب پیا کرتے تھے اور فاحشہ عورتیں اور رنڈیاں اس کے سر پر عطر ملا کرتی تھیں اور اس کے بدن کو چھوا کرتی تھیں۔‘‘
(دافع البلاء ملخص خزائن ج ١٨ ص ٢٢٠)
ابوعبیدہ: دیکھا قادیانی دوستو! آپ کے مرزا قادیانی کے نزدیک خدا کا ایک اولوالعزم نبی بننا اور ساتھ ہی شرابی اور فاحشہ عورتوں کے ساتھ خلط ملط کرنا بھی ممکن ہے۔ مرزا قادیانی کا دعویٰ مثیل مسیح ہونے کا بھی ہے۔ کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ مرزا قادیانی بھی اسی رنگ میں ان کے مثیل تھے جبکہ قرآن نے مرزا قادیانی کی تفسیر کے مطابق عیسیٰ ؑ کا شرابی ہونا بتلا دیا ہے تو مرزا قادیانی مثیل مسیح کا شرابی اور رنڈی باز ہونا تو
١٥
فخر کی بات ہوگی۔
جھوٹ......٤٤ "طاعون زدہ علاقہ سے باہر نکلنا ممنوع ہے۔"
(اشتہار لنگر خانہ مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٤٦٧)
"طاعون زدہ علاقہ میں رہنا ممنوع ہے۔" (دیکھو ریویو ج ٦ نمبر ٩ ص ٣٦٥ ماہ ستمبر ١٩٠٧ء) ابوعبیدہ: اے قادیانیت کے علمبردارو کیا کذب اور اختلاف بیانی کوئی اور چیز ہے۔
جھوٹ......٤٥ "قادیان طاعون سے اس لیے محفوظ رکھی گئی کہ خدا کا رسول اور فرستادہ قادیاں میں تھا بلکہ آج تک جو شخص طاعون زدہ باہر سے قادیان میں آیا وہ بھی اچھا ہوگیا۔"
(دافع البلاء ص ٥ خزائن ج ١٨ ص ٢٢٦)
ابوعبیدہ: بتلائیے حضرات! اس عبارت سے صاف ظاہر نہیں کہ قادیان میں نہ طاعون آئی اور نہ آئے گی لیکن ہوا کیا سنئے اور بالفاظ مرزا قادیانی سنیے۔ "ایک دفعہ کسی قدرے شدت سے طاعون قادیان میں ہوئی تھی۔" (حقیقۃ الوحی ص ٢٣٢ خزائن ج ٢٢ ص ٢٤٤) طاعون کے دنوں میں جبکہ قادیان میں طاعون زور پر تھا میرا لڑکا شریف احمد بیمار ہوا۔" (حقیقۃ الوحی ص ٨٤ خزائن ج ٢٢ ص ٨٧) بتلائیے جھوٹ میں کسی تاویل کی گنجائش ہے؟
جھوٹ......٤٦ "ہم مکہ میں مریں گے یا مدینہ میں۔"
(تذکرہ ص ٥٩١)
ابوعبیدہ: دیکھا حضرات! مریدوں کی تسلیاں کس طرح کرتے رہے؟ اور مرے کہاں؟ لاہور میں اور دفن ہوئے قادیان میں۔
جھوٹ......٤٧ "عیسائیوں نے بہت سے معجزات یسوع علیہ السلام کے لکھے ہیں مگر حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا۔" (ضمیمہ انجام آتھم ص ٦ کا حاشیہ خزائن ج ١١ ص ٢٩٠) "اور سچ صرف اس قدر ہے کہ یسوع (عیسیٰ علیہ السلام) نے بھی معجزات دکھائے جیسا کہ نبی دکھاتے ہیں۔"
(ریویو ماہ ستمبر ١٩٠٢ء ص ٣٤٢ ج ١ نمبر ٩)
ابوعبیدہ: نوٹ لکھنے کی ضرورت نہیں۔ جھوٹ ظاہر ہے۔
جھوٹ......٤٨ "طاعون دنیا میں اس لیے آئی کہ خدا کے مسیح موعود سے نہ صرف انکار کیا گیا بلکہ اس کو دکھ دیا گیا۔"
(ریویو جلد ١ ص ٢٥٨ نمبر ٦ بابت جون ١٩٠٢ء)
ابوعبیدہ: سچ فرمائیے قادیانی حضرات! کیا طاعون صرف مرزا قادیانی کے انکار پر آئی ہے کیا مرزا قادیانی سے پہلے طاعون دنیا میں نہ تھی؟
١٦
مرزا قادیانی سے انکار کرنے والے اشد ترین دشمن مولانا ثناء اللہ صاحب، مولانا ابراہیم صاحب، جناب پیر جماعت علی شاہ صاحب، جناب پیر مہر علی شاہ صاحب وغیرہم تو اسی طرح زندہ رہے ہیں۔
جھوٹ...... ٤٩ ”طاعون اس حالت میں فرو ہوگی جبکہ لوگ خدا کے فرستادہ کو قبول کر لیں گے اور کم سے کم یہ کہ شرارت اور ایذاء اور بد زبانی سے باز آ جائیں گے ۔“
(ریویو جلد ١ نمبر ٦ بابت جون ١٩٠٢ء ص ٢٥٨)
ابوعبیدہ: کیوں میرے قادیانی دوستو! کیا اب مرزا قادیانی کے مخالف سب مر گئے یا طاعون ملک سے چلی گئی؟ یا یہ صرف وقتی وبا سے مرزا قادیانی نے فائدہ اٹھا کر اپنی طرف سے جھوٹ بولا۔
جھوٹ...... ٥٠ ”تیسری بات جو اس وحی سے ثابت ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ بہر حال جب تک کہ طاعون دنیا میں رہے گو ستر برس تک رہے قادیان کو اس کی خوفناک تباہی سے محفوظ رکھے گا کیونکہ یہ اس کے رسول کا تخت گاہ ہے اور یہ تمام امتوں کے لیے نشان ہے۔“
(ریویو جلد ١ نمبر ٦ بابت جون ١٩٠٢ء ص ٢٥٩)
ابوعبیدہ: حضرات! آپ مجھ سے بہتر جانتے ہیں کہ قادیان میں طاعون اس قدر زور سے پڑی کہ جناب مرزا قادیانی کو بھی اقرار کرنا پڑا جیسا کہ جھوٹ نمبر ٤٥ سے ظاہر ہے۔ صرف مارچ اور اپریل ١٩٠٤ء کے دو ماہ میں کل ٢٨٠٠ نفوس میں سے ٣١٣ طاعون کا شکار ہو گئے۔ باقی آبادی گاؤں چھوڑ کر باہر بھاگ گئی۔ مرزا قادیانی نے بمعہ اہل و عیال اپنے باغ میں ڈیرہ لگا لیا۔ قادیانی سکول بند کر دیا گیا۔ کرسمس کے دنوں کا جلسہ بند کر دیا گیا، ہے کوئی قادیانی جو ان کی صداقت سے انکار کر سکے۔
نوٹ: مرزا قادیانی کے جھوٹ اس قدر ہیں کہ وَاللّٰہ ثُمَّ تاللّٰہ میں ان کو اچھی طرح نہ تو جمع کر چکا ہوں اور نہ مجھے اس قدر فرصت ہے۔ ورنہ کوئی عالم مرزا قادیانی کی کوئی سی کتاب لے کر بیٹھ جائے۔ کوئی صفحہ جھوٹوں سے خالی نہ پائے گا۔ لگے ہاتھوں مرزا قادیانی کے خدائے قادیان کے جھوٹ بھی مشتے نمونہ از خروارے سنتے جائیے۔
جھوٹ...... ٥١ خدائے مرزا ”انه اوى القرية“ (ریویو ج ١ ص ٢٥٦ نمبر ٦ بابت جون ١٩٠٢ء) خدائے مرزا قادیانی کا ارشاد ملاحظہ ہو۔ قادیان کو طاعون کی تباہی سے بچانے کا وعدہ کر رہے ہیں۔ مگر پورا نہیں کیا۔ خود بھی جھوٹے ٹھہرے اور مرزا قادیانی کو بھی جھوٹا بنایا۔“
١٧
جھوٹ...... ٥٢ خدائے مرزا "ویردھا الیک امرمن لدنا انا کنا فاعلین. زوجنکها. الحق من ربک فلاتکونن من الممترین. لاتبديل لكلمات الله ان ربک فعال لما یرید. انا رادوها الیک" "میں محمدی بیگم کو تیری طرف واپس لاؤں گا۔ یہ ہماری طرف سے ہے اور ہم ہی کرنے والے ہیں۔ بعد واپسی کے ہم نے نکاح کر دیا۔ تیرے رب کی طرف سے سچ ہے۔ پس تو شک کرنے والوں میں سے نہ ہو۔ خدا کے کلمے بدلا نہیں کرتے اور رب جس بات کو چاہتا ہے وہ بالضرور اس کو کر دیتا ہے۔ کوئی نہیں جو اس کو روک سکے۔ ہم اس کو واپس لانے والے ہیں۔"
(انجام آتھم ص ٦٠۔٦١ خزائن ج ١١ ص ٦٠)
ابوعبیدہ: حضرات حاشیہ کی ضرورت مطلق نہیں۔ خدائے مرزا کی زبردست بارعب وعدے کے باوجود محمدی بیگم کے ساتھ سلطان محمد آف پٹی نے نکاح کر لیا اور مرزا قادیانی مر گئے مگر سلطان محمد ایسا سخت جان کہ خدائے مرزا بھی اسے نہ مار سکا۔
جھوٹ...... ٥٣ خدائے مرزا "میں دشمن (ڈاکٹر عبدالحکیم پٹیالوی) جو کہتا ہے کہ جولائی ١٩٠٧ء سے چودہ ماہ تک تیری عمر کے دن رہ گئے ہیں۔ میں ان سب کو جھوٹا کروں گا اور تیری عمر کو بڑھا دوں گا تا معلوم ہو کہ میں خدا ہوں اور ہر ایک امر میرے اختیار میں ہے۔"
(اشتہار تبصرہ مجموعہ اشتہارات ص ٥٩١)
ابوعبیدہ: فرمائیے اے قادیانی کے علم بردارو۔ خدائے مرزا نے اپنے وعدے کے مطابق ڈاکٹر عبدالحکیم خان پٹیالوی کو جھوٹا کیا۔ مرزا قادیانی کو عمر لمبی عطا کی؟ ہرگز نہیں بلکہ مرزا قادیانی ٢٦ مئی ١٩٠٨ء کو بمرض ہیضہ لاہور چل بسے اور ڈاکٹر عبدالحکیم ١٩٢٢ء کو فوت ہوئے۔
جھوٹ...... ٥٤ خدائے مرزا "خدا تعالیٰ نے مجھے صریح لفظوں میں اطلاع دی کہ تیری عمر اسی برس کی ہوگی یا پانچ چھ سال کم یا پانچ چھ سال زیادہ۔"
(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ ٥ ص ٩٧ خزائن ج ٢١ ص ٢٥٨)
ابوعبیدہ: دیکھا حضرات! خدائے مرزا کی غیب دانی کی کہ عمر مرزا کے متعلق کیسے عجیب تخمینہ سے پیشگوئی کی ہے اور وہ بھی غلط کیونکہ مرزا قادیانی کی پیدائش ١٨٤٠ء اور وفات ١٩٠٨ء پس عمر مرزا ١٩٠٨ء ۔ ١٨٤٠ء ۔ ٦٨ سال ہوئی۔
"میری عمر اس وقت ١٩٠٧ء میں قریباً ٦٨ سال ہے۔"
(حقیقۃ الوحی ص ٢٠٠ خزائن ج ٢٢ ص ٢٠٩ حاشیہ)
٨١
پس عمر مرزا ١٩٠٨ء میں ٦٩ سال۔
”میری پیدائش ١٨٣٩ء، ١٨٤٠ء میں سکھوں کے آخری وقت میں ہوئی۔“
(کتاب البریہ ص ١٥٩ خزائن ج ١٣ ص ١٧٧ حاشیہ)
اس حساب سے عمر مرزا ١٩٠٨ء، ١٨٤٠ء ۔ ٦٨ سال قادیانی دوستو! یا مرزا قادیانی جھوٹے یا ان کا خدا جھوٹا یا دونوں جھوٹے؟
اظہار حقیقت
حضرات! قرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے ھل انبئکم علی من تنزل الشیاطین (الشعراء ٢٢١) یعنی اے لوگو ہم تم کو بتائیں کہ شیطان کن لوگوں پر نازل ہوتے ہیں۔ یعنی شیطانی وحی کن لوگوں کو ہوتی ہے۔ تنزل علی کل افاک اثیم (الشعراء ٢٢٢) شیطان اترتے ہیں سخت گنہگار جھوٹے پر یعنی جھوٹے گنہگار لوگوں کو شیطانی وحی ہوتی ہے۔ اب میں فیصلہ آپ کی ضمیر پر چھوڑتا ہوں کہ جس شخص کے پچاس جھوٹ آپ نے ملاحظہ فرمائے اور جس کے خدا کے جھوٹ آپ نے پڑھے ایسے شخص پر شیطانی وحی کس قدر لازم ہے۔ جو شخص دنیا میں کسی آدمی کے پچاس اس قدر جھوٹ دکھا دے وہ بھی دس روپے انعام کا مستحق سمجھا جائے گا۔ میں کہتا ہوں کہ صاحب بصیرت کے لیے خود خدا نے مرزا قادیانی کا جھوٹا ہونا صاف صاف بیان فرما دیا ہے۔ تنزل علی کل افاک اثیم کے اعداد بحساب ابجد ٹھیک ١٣٠٠ بنتے ہیں۔ غلام احمد قادیانی کے اعداد بھی پورے ١٣٠٠۔
(ازالہ اوہام ص ١٨٥ خزائن ج ٣ ص ١٩٠)
اور مرزا قادیانی نے دعویٰ مجددیت بھی پورے ١٣٠٠ میں کیا۔ اب بتلائیے اس سے بڑھ کر مرزا قادیانی کے کذاب اور دجال ہونے کا ثبوت آپ کو کیا چاہیے۔ رسول پاک ﷺ نے ایسے مدعیان نبوت کے حق میں فرمایا تھا۔ سیکون فی امتی کذابون ثلاثون کلھم یزعم انہ نبی اللہ وانا خاتم النبین لا نبی بعدی (مشکوٰۃ ص ٤٦٥ باب الفتن) میری امت میں تیس زبردست دھوکہ دینے والے زبردست جھوٹ بولنے والے ہوں گے ان میں سے ہر ایک یہی خیال کرے گا کہ وہ اللہ کا نبی ہے۔ حالانکہ میں نبیوں کو ختم کرنے والا ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی پیدا نہیں ہوگا۔ خود مرزا قادیانی لکھتے ہیں۔
”شیطانی الہامات ہونا حق ہے اور بعض ناتمام سالک لوگوں کو ہوا کرتے ہیں اور جو شخص اس سے انکار کرے وہ قرآن شریف کی مخالفت کرتا ہے کیونکہ قرآن شریف کے بیان سے شیطانی الہامات ثابت ہیں۔“
(ضرورت الامام ص ١٣ خزائن ج ١٣ ص ٤٨٣)
١٩
اعلان انعام
باوجود اس قدر اتمام حجت کے اگر پھر بھی کوئی شخص مرزا قادیانی کو سچا سمجھنے پر مصر ہو تو اس پر اپنے نبی کی صداقت کے ثبوت کے لیے تیار ہو جانا چاہیے۔ اس طرح نہ صرف وہ اپنے خیال میں دینی کام کرے گا بلکہ میں اعلان کرتا ہوں کہ فی جھوٹ غلط ثابت کرنے پر مبلغ دس روپے انعام دوں گا بشرطیکہ فی جھوٹ فی الواقع جھوٹ ثابت ہونے پر ایک ایک قادیانی توبہ کرتا جائے۔
طریق فیصلہ
کوئی قادیانی یا لاہوری اس کا جواب شائع کرے۔ ایک کاپی مجھے دے دے۔ میں اس کا جواب لکھوں۔ پھر تینوں مضمون کسی مسلمہ منصف کو دیے جائیں مگر میں ببانگ دہل اعلان کرتا ہوں کہ کوئی قادیانی مرزا قادیانی کے جھوٹوں کے سچا ثابت کرنے کا نام بھی نہ لے گا جو شخص کسی قادیانی کو مقابلے پر لانے میں کامیاب ہو جائے اس کو ایک کلاہ اور لنگی پشاوری انعام پیش کیا جائے گا۔ وما توفیقی الا باللہ.
داعی الی الخیر
ابو عبیدہ نظام الدین عفی عنہ سائنس ماسٹر اسلامیہ ہائی سکول کوہاٹ
٦٠
انا خاتم النبيين لا نبي بعدي
میں خاتم النبیین ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
برق آسمانی بر فرق قادیانی
(کذبات مرزا)
مبلغ اسلام ابوعبیدہ نظام الدین۔۔ بی۔۔اے
بسم اللہ الرحمن الرحیم
تعارف
برق آسمانی بر فرق قادیانی
ہمارے قابل احترام بزرگ جناب ابو عبیدہ نظام الدین مبلغ اسلام نے یہ کتاب مرتب فرمائی۔ اس کی خصوصیت یہ ہے کہ انھوں نے مرزا قادیانی ملعون کی ایک کتاب لی۔ اس میں جتنے جھوٹ تھے ان کو جمع کر دیا۔ پھر دوسری کتاب سے، اسی طرح وہ اس کے تین حصے شائع کرنا چاہتے تھے۔ ایک حصہ جو زیر نظر ہے۔ شائع کر دیا۔ غالباً باقی دو حصے شائع نہ ہو سکے۔ کوشش بسیار کے باوجود باقی دو حصوں کے مسودے بھی دستیاب نہ ہو سکے۔ فعل الحکیم لا یخلوا عن الحکمۃ سے سہارا لیے بغیر چارہ نہیں۔ اس حصہ میں مرزا ملعون کے دو سو جھوٹ جمع کیے ہیں۔ احتساب قادیانیت کی اس جلد میں شامل کرنے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں۔ فالحمد للہ اوّلاً و آخرا۔
(مرتب)
اعلان انعام
مبلغ تین ہزار روپیہ
قادیانی جماعت اگر مجھے جھوٹا ثابت کر دے تو بحساب پانچ روپیہ فی جھوٹ کل تین ہزار روپیہ انعام دینے کا اعلان کرتا ہوں۔ بشرطیکہ اگر مرزا قادیانی کے جھوٹ واقعی جھوٹ ثابت ہو جائیں تو فی جھوٹ ایک ایک قادیانی مرزائیت کا جواء اپنی گردن سے اتار کر پھینکتا جائے۔
المؤلف والمشتہر خاکسار مبلغ اسلام ابو عبیدہ نظام الدین بی۔ اے سائنس ماسٹر اسلامیہ ہائی سکول کوہاٹ ٢٠ مارچ ١٩٣٤ء ٢
پہلے مجھے پڑھیے
حضرات ناظرین! اللہ تعالیٰ گواہ ہے کہ مجھے جناب مرزا غلام احمد رئیس قادیان آنجہانی سے کوئی ذاتی عناد نہیں بلکہ ان کی جماعت کو دھوکہ خوردہ سمجھ کر ان سے مجھے دلی ہمدردی ہے اور دل سے چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ مقلب القلوب ان سادہ لوح لوگوں کو دوبارہ قبول حق کی توفیق عطا فرمائے۔ میری علمی جدوجہد کا مقصد وحید صرف تبلیغ حق ہے اور بس۔
مرزا قادیانی نے ٨٢۔١٨٨٠ء میں براہین احمدیہ کی تصنیف کے زمانہ میں مجددیت کا دعویٰ کیا۔ ١٨٩٢ء میں دعویٰ مسیح موعود اور مہدی معہود کا بھی اعلان کر دیا۔ ١٩٠١ء میں مستقل نبوت کا دعویٰ بھی مشتہر کر دیا اور بہت سے دعاوی آپ کی تصنیفات میں موجود ہیں۔ جن سب کا منشاء قریباً ایک ہی ہے اور وہ یہ کہ آپ مامور من اللہ سچے ملہم تھے۔ آپ کی وحی کا مرتبہ وہی ہے جو توریت، زبور، انجیل اور قرآن شریف کا ہے۔
اس کے برخلاف ہم مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ مرزا قادیانی اپنے تمام دعاوی میں جھوٹے تھے۔ آپ کی وحی بھی رحمانی نہ تھی بلکہ وہ شیطانی تھی۔ ہر ایک آدمی کا حق ہے کہ وہ حق کی تبلیغ کرے۔ لہٰذا میں نے بھی ضروری سمجھا کہ جناب مرزا قادیانی کی الہامی حیثیت کو جانچوں۔ چنانچہ میرا معیار وہ ہے جو اوّل خدا نے تعلیم کیا ہے۔ دوم رسول پاک ﷺ نے مقرر فرمایا ہے۔ تیسرے خود مرزا قادیانی نے اس کا اعلان کیا ہے۔
معیار از قرآن شریف: هل انبئکم علی من تنزل الشیطین تنزل علی کل افاک اثیم (الشعراء ٢٢١،٢٢٢) ”کیا ہم تم کو بتائیں کہ شیطانی وحی کن لوگوں کو ہوتی ہے۔ (سنو اور یاد رکھو) شیطانی وحی ان لوگوں کو ہوتی ہے۔ جو بہت جھوٹ بولنے والے۔ افتراء باندھنے والے گنہگار ہوتے ہیں۔“
معیار از حدیث: سیکون فی امتی کذابون ثلاثون کلهم یزعم انه نبی و انا خاتم النبیین لانبی بعدی.
(ابو داؤد ج ٢ ص ١٢٧ باب ذکر الفتن و دلائلها۔ ترمذی ج ٢ ص ٤٥ باب لا تقوم الساعة حتى يخرج كذابون)
٣
"یعنی میری امت میں سے تیس ایسے آدمی ہوں گے جو نبوت کا دعویٰ کرنے والے اور زبردست فریب دینے والے ہوں گے۔ ان میں سے ہر ایک اپنے آپ کو نبی سمجھے گا۔ حالانکہ میں نبیوں کے ختم کرنے والا ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی مبعوث نہیں ہوگا۔"
ان دونوں معیاروں سے ثابت ہوا کہ جہاں سچے نبی اور ملہم ہوتے رہے ہیں۔ وہاں جھوٹوں کا سلسلہ بھی جاری رہا ہے بلکہ جھوٹے ملہمین اور نبیوں کا سلسلہ قائم ہے۔ جھوٹے نبیوں کی پہچان قرآن اور حدیث میں یہ بتلائی گئی ہے کہ وہ زبردست جھوٹ بولنے والے اور سخت فریب دینے والے ہوں گے۔
خدا اور اس کے رسول کے اس زبردست انتباہ کے بعد ہمارا فرض ہے کہ جب کبھی کوئی شخص دعویٰ الہام یا وحی کا کرے۔ ان دونوں معیاروں پر اس کو پرکھیں۔ میں نے اسی معیار کے مطابق مرزا قادیانی کی جانچ پڑتال شروع کی اور آج ان کی اپنی تصنیفات سے ان کے جھوٹوں کی پہلی قسط پیش کرتا ہوں۔ جن کی تعداد دو صد (٢٠٠) ہے۔ مگر مناسب معلوم ہوتا ہے کہ پہلے جھوٹے آدمی کے متعلق مرزا قادیانی کا فتویٰ بھی درج کر دیا جائے۔
قول مرزا نمبر ١ "جب ایک بات میں کوئی جھوٹا ثابت ہو جائے تو پھر دوسری باتوں میں بھی اس پر کوئی اعتبار نہیں (چشمہ معرفت ص ٢٢٢ خزائن ج ٢٣ ص ٢٣١) قول نمبر ٢...... ظاہر ہے کہ ایک دل سے دو متناقض باتیں نہیں نکل سکتیں کیونکہ ایسے طریق سے یا تو انسان پاگل کہلاتا ہے یا منافق۔" (ست بچن ص ٣١ خزائن ج ١٠ ص ١٤٣) نمبر ٣...... (دنیا دار) وہ اپنا معبود اور مشکل کشا جھوٹ کی نجاست کو سمجھتے ہیں۔ اس لیے خدا تعالیٰ نے جھوٹ کو بتوں کی نجاست کے ساتھ وابستہ کر کے قرآن کریم میں بیان کیا ہے۔
(الحکم ج ١ ش ١٣ ص ٥ مورخہ ١٧ اپریل ١٩٠٥ء)
نمبر ٤...... "جھوٹ بولنے سے بدتر دنیا میں کوئی کام نہیں۔"
(تتمہ حقیقۃ الوحی ص ٢٦ خزائن ج ٢٢ ص ٤٥٩)
قول مرزا نمبر ٥...... "جھوٹے ہیں کتوں کی طرح جھوٹ کا مردار کھا رہے ہیں۔ (انجام آتھم ضمیمہ ص ٢٥ خزائن ج ١١ ص ٣٠٩) مرزا قادیانی کے جھوٹ کئی قسم کے ہیں۔ اوّل...... خدا پر افتراء باندھا ہے۔ دوم...... رسول کریم ﷺ پر جھوٹ باندھا ہے۔ سوم...... بزرگان دین پر جھوٹ باندھا ہے۔ چہارم...... واقعات کے بیان کرنے میں دیانت سے کام نہیں لیا۔ پنجم...... ایک ہی مضمون کے متعلق سخت تناقض کا ارتکاب کیا ہے۔
٤
مرزا قادیانی کے جھوٹ میں نے اس دفعہ کتاب وار درج کیے ہیں تاکہ دیکھنے والوں کو ایک ہی وقت میں بہت سی کتابیں منگوانے کی ضرورت نہ پڑے۔ دوسرے ناظرین باتمکین اندازہ لگا سکیں کہ ہر ایک کتاب میں مرزا قادیانی نے کس قدر جھوٹوں کا ارتکاب کیا ہے؟
- معذرت ١....... میں اپنے محدود معلومات کی بنا پر مرزا قادیانی کے سارے کذبات پر
احاطہ نہیں کر سکا۔ اگر کوئی عالم اس کام کو اپنے ہاتھ میں لیتا تو واللہ اعلم ہزارہا جھوٹ ثابت کر دیتا۔
- ٢....... طبع اوّل میں بہت جلدی سے کام لیا گیا ہے۔ بہت سی اغلاط لفظی و معنوی کا اندیشہ
ہے۔ لہٰذا عرض ہے کہ جس صاحب کو کوئی غلطی معلوم ہو وہ ازراہ تلطف خاکسار مؤلف کو مطلع کر کے مشکور فرما دیں۔ شکریہ کے ساتھ اصلاح قبول کر لی جائے گی۔ وما توفیقی الا باللہ۔
نوٹ....... سب سے پہلے ”ازالہ اوہام“ کے جھوٹ ترتیب وار نقل کرتا ہوں۔
کذبات مرزا ازالہ اوہام
- ١....... ”مسیح کے معجزات اور پیشگوئیوں پر جس قدر اعتراض اور شکوک پیدا ہوتے ہیں۔ میں نہیں
سمجھ سکتا کہ کسی اور نبی کے خوارق یا پیش خبریوں میں کبھی ایسے شبہات پیدا ہوئے ہوں۔“
(ازالہ اوہام ص ٤٧ خزائن ج ٣ ص ١٠٦)
ابوعبیدہ: صریح جھوٹ۔ حضرت مسیح علیہ السلام کے معجزات میں کوئی شکوک اور اعتراض پیدا نہیں ہوتے۔ ہاں شیطان طبع لوگوں کو ایسا معلوم ہوتا ہو۔ ورنہ اللہ تعالیٰ تو فرماتے ہیں۔ واذ کففت بنی اسرائیل عنک اذ جئتہم بالبینت فقال الذین کفروا منہم ان ہذا الا سحر مبین (مائدہ ١١٠) ’اور یاد کر اے عیسیٰ علیہ السلام جبکہ میں نے بنی اسرائیل کو تم سے (یعنی تمھارے قتل و ہلاک سے) باز رکھا۔ جب تم ان کے پاس نبوت کی دلیلیں (معجزات) لے کر آئے تھے۔ پھر ان میں جو کافر تھے۔ انھوں نے کہا تھا کہ یہ معجزات بجز کھلے جادو کے اور کچھ بھی نہیں۔“
اب خدا کے بیان کے بالمقابل مرزا قادیانی کے بیان کو سوائے مریدان بااخلاص کے اور کون تسلیم کر سکتا ہے؟
- ٢....... ”اس مقام میں زیادہ تر تعجب یہ ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام معجزہ نمائی سے صاف انکار
کر کے کہتے ہیں کہ میں ہرگز کوئی معجزہ دکھا نہیں سکتا۔ مگر پھر بھی عوام ایک انبار معجزات کا
٥
ان کی طرف منسوب کر رہے ہیں۔“ (ازالہ ص ٨ خزائن ج ٣ ص ١٠٦)
ابوعبیدہ: قرآن شریف میں خود حضرت مسیح ؑ کا قول اللہ تعالیٰ نقل فرماتے ہیں۔ انی قد جئتکم بآیة من ربکم انی اخلق لکم من الطین کهیئة الطیر فانفخ فیہ فیکون طیرًا باذن اللّٰہ و ابرئ الاکمہ والابرص واحیی الموتٰی باذن اللّٰہ وانبئکم بما تأکلون وما تدخرون فی بیوتکم ان فی ذلک لآیة ان کنتم مومنین ہ (آل عمران ٤٩) ”فرمایا حضرت مسیح ؑ نے اے لوگو میں تمھارے رب کی طرف سے اپنی سچائی پر نشانیاں لے کر آیا ہوں اور وہ یہ ہیں۔ ١...... میں تمھارے واسطے مٹی سے پرندہ کی شکل بناتا ہوں۔ پھر اس میں پھونک مارتا ہوں۔ پس وہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے جاندار پرندہ بن جاتا ہے۔ ٢...... اور مادر زاد اندھوں اور برص والوں کو اچھا کرتا ہوں۔ ٣...... اور مردوں کو خدا کے حکم کے ساتھ زندہ کرتا ہوں۔ ٤...... اور میں تمھیں بتاتا ہوں جو کچھ کہ تم کھاتے ہو اور جمع کرتے ہو اپنے گھروں میں۔“ پس مرزا قادیانی کا دعویٰ دروغ محض ثابت ہوا۔
- ٣...... ”عنقریب وہ زمانہ آنے والا ہے کہ تم نظر اٹھا کر دیکھو گے کہ کوئی ہندو دکھائی
دے۔ مگر ان پڑھوں لکھوں میں سے ایک ہندو بھی تمھیں دکھائی نہ دے گا۔“
(ازالہ ص ٣٢ خزائن ج ٣ ص ١١٩)
ابوعبیدہ: اے قادیانی دوستو اس عبارت کی اور اس میں کے ”عنقریب“ کی کیا تاویل کرو گے۔ کیا اب ہندوستان میں کوئی کافر نہیں؟ ہندو مسلمان کیا ہوتے بلکہ کئی مسلمان اچھے بھلے خدا اور اس کے رسول کے ماننے والے مرزا قادیانی کی بھینٹ چڑھ گئے۔ انا للّٰہ و انا الیہ راجعون۔
- ٤...... (١) ”اب جو امر خدا تعالیٰ نے میرے پر منکشف کیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ وہ مسیح
موعود میں ہی ہوں۔“ (ازالہ ص ٣٩ خزائن ج ٣ ص ١٢٢) پھر ”میرے پر خاص اپنے الہام سے ظاہر کیا کہ مسیح ابن مریم فوت ہو چکا ہے۔“ (ازالہ ص ٥٦١ خزائن ج ٣ ص ٤٠٢)
- ب...... الہام مرزا قادیانی ”هُوَ الَّذِیْ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْہُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہٗ
عَلٰی دِیْنِ کُلِّہٖ“ یہ آیت جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر حضرت مسیح ؑ کے حق میں پیش گوئی ہے اور جس غلبہ کاملہ دین اسلام کا وعدہ دیا گیا ہے۔ وہ غلبہ مسیح ؑ کے ذریعہ سے ظہور میں آئے گا اور جب حضرت مسیح ؑ دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق اور اقطار میں پھیل جائے گا۔ لیکن اس عاجز پر
٦
ظاہر کیا گیا ہے۔ (کس کی طرف سے؟ ابو عبیدہ) کہ یہ خاکسار...... مسیح ؑ کی پہلی زندگی کا نمونہ ہے۔
(براہین احمدیہ ص ٤٩٨، ٤٩٩ خزائن ج ١ ص ٥٩٣)
ابوعبیدہ: دونوں الہاموں میں سے ایک ضرور جھوٹ ہے کیونکہ ایک کہتا ہے مسیح موعود مرزا قادیانی ہیں۔ دوسرا کہتا ہے مسیح موعود حضرت عیسیٰ ؑ ہیں۔
٥...... ”قرآن شریف کے کسی مقام سے ثابت نہیں کہ حضرت مسیح ؑ اسی خاکی جسم کے ساتھ آسمان پر اٹھائے گئے۔“
(ازالہ اوہام ص ٤٦ خزائن ص ١٢٥)
ابوعبیدہ: صریح جھوٹ: قرآن شریف میں صریح اعلان ہے کہ خدا نے حضرت مسیح ؑ کو زندہ بجسد عنصری آسمان پر اٹھا لیا۔
مثلاً....... اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ (آل عمران ٥٥) ”یعنی اے عیسیٰ ؑ میں تمہاری عمر پوری کر کے تمھیں طبعی موت دوں گا۔ (اور سردست یہودیوں کے ہاتھ سے بچانے کے لیے) تمھیں آسمان پر اٹھانے والا ہوں۔“
نوٹ: جب توفی کے بعد رفع کا لفظ آئے تو اس وقت رفع کے معنی یقیناً رفع جسمانی کے آتے ہیں۔ اگر کوئی قادیانی اس کے خلاف کوئی مثال قرآن، حدیث یا اشعار عرب سے دکھائے تو اس کو یک صد روپیہ انعام خاص دیا جائے گا۔
٢...... وَمَا قَتَلُوْهُ یَقِیْنًا بَلْ رَّفَعَهُ اللهُ اِلَیْهِ (نساء ١٥٧، ١٥٨) یہاں بھی ان کے رفع جسمانی ہی کا ذکر ہے۔
چیلنج ہر صدی کے سر پر ایک مجدد کا آنا قادیانی ہمیشہ ذکر کیا کرتے ہیں۔ ہمارا دعویٰ ہے کہ ان تمام مجددین نے جن کو قادیانیوں نے اپنی کتاب ”عسل مصفیٰ“ ص ١٦٣ میں سچے مجدد تسلیم کیا ہے۔ ان ہر دو جگہوں میں رفع کے معنی جسم سمیت اٹھانا ہی کیے ہیں۔ پس مرزا قادیانی کا جھوٹ ظاہر ہے۔
٦...... ”اگر فرض کیا جائے کہ حضرت مسیح ؑ جسم خاکی کے ساتھ آسمان پر گئے ہیں تو ظاہر ہے کہ وہ ہر وقت اوپر کی سمت میں ہی نہیں رہ سکتے بلکہ کبھی اوپر کی طرف ہوں گے۔ کبھی زمین کے نیچے آ جائیں گے...... پس ایسی مصیبت ان کے لیے روا رکھنا کس درجہ کی بے ادبی میں داخل ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ٤٨۔٤٩ خزائن ص ١٢٧)
ابوعبیدہ: یہ مرزا قادیانی کا صریح جھوٹ اور دھوکہ ہے۔ زمین کے چاروں طرف اوپر ہی اوپر ہے۔ اس واسطے حضرت عیسیٰ ؑ ہمیشہ زمین کی اوپر کی سمت ہی میں
٧
رہیں گے۔ مرزا قادیانی جب جغرافیہ سے آپ کو مس نہیں تو پھر کیوں خواہ مخواہ دخل در معقولات دیتے ہو؟
٧...... ”صحیح حدیثوں میں (حضرت عیسیٰ ؑ کے نزول کے بارے میں) تو آسمان کا لفظ بھی نہیں ہے۔“
(ازالہ ص ٦٠ خزائن ج ٣ ص ١٤٢)
ابوعبیدہ: صریح جھوٹ: امام بیہقی جن کو قادیانیوں نے اپنی کتاب عسل مصفی ص ١٦٣ پر صدی چہارم کا مجدد تسلیم کیا ہے۔ ایک مرفوع حدیث روایت کرتے ہیں۔ جس کے الفاظ یہ ہیں۔ کیف أنتم اذا نزل ابن مریم من السماء فیکم وامامکم منکم. (کتاب الاسماء والصفات ص ٤٢٤ باب قولہ یعیسیٰ ان متوفیک) دوسری حدیث ملاحظہ ہو۔ فعند ذالك ینزل اخی عیسیٰ ابن مریم من السماء.
(کنز ج ١٤ ص ٦١٩ حدیث ٣٩٧٢٦ ابن اسحاق وابن عساکر ج ٢٠ ص ١٤٩ عن ابن عباسؓ)
دونوں حدیثوں میں آسمان کا لفظ بھی موجود ہے۔
٨...... ”دراصل حضرت اسمعیل بخاری صاحب کا یہی مذہب تھا کہ وہ ہرگز اس بات کے قائل نہ تھے کہ سچ مچ مسیح ابن مریم آسمان سے اترے گا۔“
(ازالہ ص ٩٦ خزائن ج ٣ ص ١٥٣)
ابوعبیدہ: صریح جھوٹ ہے۔ کوئی قادیانی امام بخاری کا یہ عقیدہ ثابت نہیں کر سکتا۔ قیامت تک چیلنج ہے۔
٩...... ”یہ عام محاورہ قرآن شریف کا ہے کہ زمین کے لفظ سے انسانوں کے دل اور ان کے باطنی قویٰ مراد ہوتی ہیں۔“
(ازالہ ص ١٣٤، ١٣٥ خزائن ج ٣ ص ١٦٨)
ابوعبیدہ: صریح جھوٹ ہے۔ قرآن کریم میں ٢٥٠ سے زیادہ دفعہ ارض کا لفظ آیا ہے۔ جہاں ارض سے مراد زمین ہی ہے۔ یہ مرزا قادیانی کا افتراء محض ہے۔
١٠...... یہ سورۃ (سورہ زلزال) مسیح موعود کے زمانہ سے تعلق رکھتی ہے۔
(ازالہ ص ١١٤ خزائن ج ٣ ص ١٦٢ ملخصاً)
ابوعبیدہ: افتراء علی اللہ اور جھوٹ ہے۔ جس کو عربی سے ذرا بھی مس ہوگی۔ وہ مرزا قادیانی کا یہ جھوٹ بھی تسلیم کر لے گا کیونکہ یہ ساری سورت قیامت کے دن کا نقشہ کھینچ رہی ہے۔ رسول پاک ﷺ نے بھی اس سورت سے وقوع قیامت ہی مراد لیا ہے۔ مگر مرزا قادیانی اپنی ہی ہانکے جاتے ہیں۔
١١...... ”اوّل تو جاننا چاہیے کہ مسیح کے نزول کا عقیدہ کوئی ایسا عقیدہ نہیں جو ہمارے
٨
ایمانیات کی کوئی جزو یا ہمارے دین کے رکنوں میں سے کوئی رکن ہو۔“
(ازالہ ص ١٤٠ خزائن ج ٣ ص ١٧١)
ابوعبیدہ: مسیح کے نزول کا عقیدہ قرآن، حدیث، صحابہ کرام اور جمیع علمائے امت سے ثابت ہے۔ پھر ایسے عقیدہ کو ایمان کی جزو یا دین کا رکن قرار نہ دینا جھوٹ محض اور افتراء نہیں تو اور کیا ہے؟
خود مرزا حقیقۃ الوحی پر مسیح موعود کا ماننا فرض قرار دے رہے ہیں لکھتے ہیں۔ ”دوسرے یہ کفر کہ مثلاً وہ مسیح موعود کو نہیں مانتا اور اس کو باوجود اتمام حجت کے جھوٹا جانتا ہے۔ جس کے ماننے اور سچا جاننے کے بارہ میں خدا اور اس کے رسول نے تاکید کی ہے۔“ (حقیقۃ الوحی ص ١٧٩ خزائن ج ٢٢ ص ١٨٥) حضرات اس عبارت کا نمبر ١١ کی عبارت سے مقابلہ کر کے تناقض کا لطف اٹھائیے۔ نیز نمبر ١٢ کے جواب میں ازالہ اوہام ص ٥٥٧ خزائن ص ٤٠٠ کی عبارت قابل ملاحظہ ہے۔
١٢...... ”(مسیح کے نزول کی پیشگوئی) صدہا پیشگوئیوں میں سے یہ ایک پیش گوئی ہے جس کو حقیقت اسلام سے کچھ بھی تعلق نہیں۔“
(ازالہ اوہام ص ١٤٠ خزائن ص ١٧١)
ابوعبیدہ: یہ مرزا قادیانی کا سفید جھوٹ ہے کیونکہ اگر یہ بات صحیح ہے تو پھر اس کے منکر کو کافر کیوں کہتے ہیں؟ جیسا کہ اسی کتاب میں لکھا ہے ”یہ بات پوشیدہ نہیں کہ مسیح ابن مریم کے آنے کی پیشگوئی ایک اوّل درجہ کی پیشگوئی ہے۔ جس کو سب نے باتفاق قبول کر لیا ہے اور جس قدر صحاح میں پیشگوئیاں لکھی گئی ہیں۔ کوئی پیشگوئی اس کے ہم پہلو اور ہم وزن ثابت نہیں۔ تواتر کا اوّل درجہ اس کو حاصل ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ٥٥٧ خزائن ج ٣ ص ٤٠٠)
(اسے کہتے ہیں دروغ گو را حافظہ نباشد) نیز دیکھو نمبر ١١ بذیل ابوعبیدہ۔
١٣...... ہمارے سید و مولیٰ آپ اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ بعض پیشگوئیوں کو میں نے کسی اور صورت پر سمجھا اور ظہور ان کا کسی اور صورت پر ہوا۔“
(ازالہ اوہام ص ١٤١۔١٤٠ خزائن ج ٣ ص ١٧١)
ابوعبیدہ: صریح جھوٹ: رسول پاک ﷺ پر بہتان ہے۔ کسی حدیث میں آپ نے ایسا اقرار نہیں کیا۔
١٤...... ”من نیستم رسول و نیاوردہ ام کتاب۔ یعنی میں رسول نہیں ہوں اور نہ میں کتاب لایا ہوں۔“
(ازالہ اوہام ص ١٧٨ خزائن ج ٣ ص ١٨٥)
٩
ابوعبیدہ: بالکل کذب ہے۔ تمام قادیانی مرزا قادیانی کو نبی مانتے ہیں۔ نیز مرزا قادیانی کا الہام ہے۔ یا یحییٰ خذ الکتاب بقوۃ۔ (تذکرہ ص ١٢٢) یعنی اے یحییٰ (مرزا) کتاب کو قوت سے پکڑو، پھر مرزا قادیانی کو وحی ہوئی تھی۔ إِنَّا أَرْسَلْنَا إِلَيْكُمْ رَسُولاً كَمَا أَرْسَلْنَا إِلَى فِرْعَوْنَ رَسُولاً (حقیقت الوحی ص ١٠١ خزائن ج ٢٢ ص ١٠٥) ”یعنی ہم نے موسیٰ ؑ کی طرح مرزا قادیانی کو نبی بنا کر بھیجا ہے۔“ حضرت موسیٰ ؑ رسول بھی تھے۔ صاحب کتاب بھی تھے۔ پس مرزا قادیانی اس الہام کی رو سے رسول صاحب کتاب ٹھہرتے ہیں۔
- ١٥...... ”تیرھویں صدی کے اختتام پر مسیح موعود کا آنا ایک اجماعی عقیدہ معلوم ہوتا ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ١٨٥ خزائن ج ٣ ص ١٨٩)
ابوعبیدہ: صریح جھوٹ ہے۔ اجماع تو ایک طرف کوئی ضعیف حدیث بھی قادیانی ہمارے سامنے پیش نہیں کر سکتے۔ جس میں تیرھویں صدی کا ذکر ہو۔
- ١٦...... ”میرے دل میں ڈالا گیا ہے کہ اس وقت بجز اس عاجز کے تمام دنیا میں غلام احمد
قادیانی کسی کا بھی نام نہیں۔“
(ازالہ اوہام ص ١٨٦ خزائن ج ٣ ص ١٩٠)
ابوعبیدہ: حضرات! مرزا قادیانی نے غلام احمد اپنے اصلی نام کے ساتھ قادیانی کی دُم لگا کر اپنے الہام کو سچا کرنے کی بڑی کوشش کی ہے کیونکہ ان کے خیال میں جتنے غلام احمد بھی ہوں گے چونکہ قادیان کے رہنے والے نہیں ہوں گے۔ اس واسطے ان کا دعویٰ سچا رہے گا۔ مگر مولیٰ کریم نے بھی عہد کر رکھا ہے کہ غلام احمد قادیانی کی کوئی بات بھی صحیح نہیں ہونے دیں گے۔ چنانچہ مرزا قادیانی کے زمانہ میں دو شخص اور بھی غلام احمد قادیانی نام کے موجود تھے۔ واللہ اعلم مرزا قادیانی نے دنیا کی آنکھوں میں مٹی جھونکنے کی اتنی جرأت کیوں کی ہے؟
- ١٧...... مرزا قادیانی کا الہام ہے ”یا احمدی۔“
(ازالہ اوہام ص ١٩٦ خزائن ج ٣ ص ١٩٥)
ابوعبیدہ: چونکہ عربی زبان کی رو سے یہ ترکیب غلط ہے (کسی عربی خواندہ طالب علم سے پوچھ لو) اور غلط عبارت خدا کی طرف منسوب نہیں ہو سکتی۔ اس واسطے یہ الہام خدا پر افتراء اور جھوٹ ہے۔
- ١٨...... (نواس بن سمعانؓ نے ایک حدیث بیان فرمائی ہے جو مرزا کی مسیحیت کو بیخ و بن
سے اکھاڑتی ہے۔ اس کے متعلق مرزا کہتا ہے۔) ”یہ وہ حدیث ہے جو صحیح مسلم میں امام مسلم صاحب نے لکھی ہے جس کو ضعیف سمجھ کر رئیس المحدثین امام محمد بن اسمعیل بخاری
١٠
نے چھوڑ دیا ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ٢٢٠ خزائن ج ٣ ص ٢٠٩)
ابوعبیدہ: امام بخاری پر افتراء ہے۔ اگر انھوں نے کہیں ایسا لکھا ہو تو دکھا کر انعام حاصل کرو۔
- ١٩......”یہ بیان کہ صحابہ کرام کا دجال معہود اور مسیح ابن مریم کے آخری زمانے میں ظہور
فرمانے کا ایک اجماعی عقیدہ تھا۔ کس قدر ان بزرگوں پر تہمت ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ٢٣٩ خزائن ج ٣ ص ٢٢١)
ابوعبیدہ: اس جھوٹ کے ثبوت میں نمبر ١١ و نمبر ١٢ مکرر مطالعہ کیا جائے۔ جس پیشگوئی کو تواتر کا درجہ حاصل ہو۔ جس کے ماننے کے لیے خدا اور رسول کا حکم ہو اور جس عقیدہ پر تمام مجددین مسلمہ قادیانی فوت ہوئے ہوں وہ تہمت کیسے ہو سکتا ہے؟
- ٢٠......”احادیث صحیحہ مسلم و بخاری باتفاق ظاہر کر رہی ہیں کہ دراصل ابن صیاد ہی دجال
معہود تھا۔“
(ازالہ اوہام ص ٢٤٢ خزائن ج ٣ ص ٢٢٢)
ابوعبیدہ: صریح بہتان اور جھوٹ ہے۔ قادیانی، مرزا قادیانی کا دعویٰ ثابت کر کے انعام لینے کی سعی کریں۔
- ٢١......”قرآن شریف میں اوّل سے آخر تک جس جس جگہ توفی کا لفظ آیا ہے۔ ان تمام
مقامات میں توفی کے معنی موت ہی لیے گئے ہیں۔“
(ازالہ اوہام ص ٢٤٧ حاشیہ خزائن ج ٣ ص ٢٢٤)
ابوعبیدہ: مرزا قادیانی! یہ آپ کا صریح جھوٹ اور دھوکہ ہے کیا آپ نے قرآن شریف میں وهو الذی یتوفکم باللیل نہیں پڑھا۔ اس کے معنی موت کے کون عقلمند کر سکتا ہے؟ اسی قسم کی کئی آیات ہیں جہاں موت کے معنی کرنے ناممکن ہیں۔
- ٢٢......”ایک اور حدیث بھی مسیح ابن مریم کے فوت ہونے پر دلالت کرتی ہے۔ اور وہ یہ
ہے کہ آنحضرت ﷺ سے پوچھا گیا کہ قیامت کب آئے گی تو آپ نے فرمایا کہ آج کی تاریخ سے سو برس تک تمام بنی آدم پر قیامت آ جائے گی۔“
(ازالہ ص ٢٥٢ خزائن ج ٣ ص ٢٢٧)
ابوعبیدہ: یہ آنحضرت ﷺ پر مرزا قادیانی کا افتراء ہے۔ کوئی ایسی حدیث نہیں۔ جس کے یہ معنی ہوں کہ بنی آدم پر ١٠٠ برس بعد قیامت آ جائے گی۔
- ٢٣......”یہ عقیدہ کہ مسیح جسم کے ساتھ آسمان پر چلا گیا تھا۔ قرآن شریف اور احادیث
صحیحہ سے ہرگز ثابت نہیں ہوتا۔ صرف بیہودہ اور بے اصل اور متناقض روایات پر ان کی
١١
بنیاد معلوم ہوتی ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ٢٦٨ خزائن ص ٢٣٥)
ابوعبیدہ: صریح جھوٹ: قادیانی ہماری پیش کردہ آیات اور احادیث کو (نعوذ باللہ) بے ہودہ، بے اصل اور متناقض ثابت کریں۔ ورنہ مرزا قادیانی کا جھوٹ تسلیم کر لیں (دوسری بات آسان ہے) نیز اگر یہ عقیدہ ایسا ہی تھا تو مرزا قادیانی مجدد ہونے کے ١٢ سال بعد تک بھی اس عقیدہ پر کیوں قائم رہے؟
- ٢٤...... ”گدھوں اور بیلوں کا آسمان سے اترنا قرآن کریم آپ فرما رہا ہے۔“ (سورہ
زمر پارہ ٢٣) اَنْزَلْنَا لَكُمْ مِّنَ الْاَنْعَامِ.
(ازالہ اوہام ص ٢٨٦ خزائن ص ٢٤٦)
ابوعبیدہ: آسمان کا لفظ کہاں ہے۔ ہم سے آپ نے آسمان کا لفظ طلب کیا تھا۔ ہم نے حاضر کر دیا۔ دیکھو کذب نمبر ٧۔ اب ہم آپ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ کون سی آیات میں لکھا ہے کہ آسمان سے گدھے اور بیل اتارے گئے ہیں۔ اگر نہیں لکھا ہے تو پھر جھوٹ کیوں بولا؟
- ٢٥...... خود آنحضرت ﷺ بھی اس کی تصدیق کر رہے ہیں ”کہ درحقیقت ابن صیاد ہی
دجال معہود ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ٢٤٢ خزائن ص ٢٢٣)
ابوعبیدہ: بالکل غلط اور جھوٹ ہے۔ ١...... آنحضرت ﷺ نے حضرت عمرؓ کے قول کی تصدیق نہیں فرمائی بلکہ نہایت لطیف پیرایہ میں حضرت عمرؓ کے خیال کو درست کر دیا۔ خود مرزا قادیانی اس کی تردید اس طرح کرتے ہیں۔ ”اگر یہی دجال معہود ہے تو اس کا صاحب عیسیٰ ابن مریم ہے جو اسے قتل کرے گا۔ ہم اس کو قتل نہیں کر سکتے۔“
(ازالہ اوہام ص ٢٢٥ خزائن ص ٢١٣)
- ٢...... مزید لکھتے ہیں ”کہ ہم پہلے بھی تحریر کر آئے ہیں کہ عیسائی واعظوں کا گروہ بلاشبہ
دجال معہود ہے۔“ (ازالہ ص ٢٢٧ خزائن ص ٤٨٨) حضرات دیکھا۔ کیا مرزا کے جھوٹوں کی بھول بھلیوں کا کوئی پتہ لگ سکتا ہے؟
- ٢٦...... ”میں نے کوئی ایسے اجنبی معنی (قرآن کریم کے) نہیں کیے جو مخالف ان معنوں
کے ہوں۔ جن پر صحابہ کرامؓ تابعینؒ اور تبع تابعینؒ کا اجماع ہو۔“
(ازالہ اوہام ص ٣٠١ خزائن ص ٢٥٤)
ابوعبیدہ: بالکل جھوٹ ہے بلکہ جس قدر آیات میں ہیرا پھیری کر کے اپنے دعویٰ کو مضبوط کر سکتے تھے۔ ان سب کے معنی ١٣ صد سال کے مسلمہ اسلامی معانی کے خلاف کیے ہیں۔ معراج شریف، علامات قیامت، معجزات انبیا علیہم السلام، ختم نبوت، حیات ١٢
مسیحؑ، حشر و نشر، قیام قیامت وغیرہم تمام ضروریاتِ دین کے متعلق آیات کے معنی ایسے ایسے کیے ہیں کہ تمام امت محمدی ایک طرف ہے اور آپ اکیلے دوسری طرف دو اینٹ کی مسجد جدا بنا رہے ہیں۔
- ٢٧...... ’’اکثر صحابہ مسیح کا فوت ہو جانا مانتے رہے۔‘‘
(ازالہ اوہام ص ٣٠٢ خزائن ص ٢٥٤)
ابوعبیدہ: کم از کم ایک صحابیؓ ہی سے تو کوئی ایسی روایت دکھا دو۔ جس میں وفاتِ مسیحؑ اس طرح منقول ہو۔ جیسے ہم بیسوں بلکہ سینکڑوں روایات صحیحہ پیش کرتے ہیں۔ جن میں حیاتِ مسیحؑ کا بانگ دہل اعلان ہے۔ ایسے صریح جھوٹ بول کر مطلب براری کر کے قیامت کے دن خدا کو کیا جواب دو گے؟
- ٢٨...... ’’غرض یہ بات کہ مسیح جسم خاکی کے ساتھ آسمان پر چڑھ گیا اور اُسی جسم کے ساتھ
اترے گا۔ نہایت لغو اور بے اصل بات ہے۔ صحابہ کا ہرگز اس پر اجماع نہیں۔‘‘
(ازالہ اوہام ص ٣٠٢،٣٠٣ خزائن ص ٢٥٤)
ابوعبیدہ: اگر اجماع نہیں تو آپ کم از کم ایک ہی صحابیؓ سے کوئی ایسی روایت خواہ وہ ضعیف ہی کیوں نہ ہو۔ دکھا دو کہ جس میں انھوں نے اعلان کیا ہو کہ حضرت مسیحؑ آسمان پر بجسد عنصری نہیں اٹھائے گئے اور یہ کہ وہی مسیح ابن مریم نہیں اترے گا بلکہ قادیان سے مسیح ابن غلام مرتضیٰ خروج کرے گا۔
- ٢٩...... ’’اور یہ بھی یاد رہے کہ ان پرندوں کا پرواز کرنا قرآن شریف سے ہرگز ثابت نہیں
بلکہ ان کا ہلنا اور جنبش کرنا بھی بپایہ ثبوت نہیں پہنچتا اور نہ درحقیقت ان کا زندہ ہو جانا ثابت ہوتا ہے۔‘‘
(ازالہ ص ٣٠٧ حاشیہ خزائن ص ٢٥٦)
ابوعبیدہ: مرزا قادیانی آیت کریمہ اَنِّیْ اَخْلُقُ لَکُم مِّنَ الطِّیْنِ کَھَیْئَةِ الطَّیْرِ فَاَنْفُخُ فِیْہِ فَیَکُوْنُ طَیْراً بِاِذْنِ اللّٰہِ (آل عمران ٤٩) کے معنی تو ذرا کیجئے۔ خود اگر معلوم نہ ہوں تو کسی ادنیٰ طالب علم ہی سے پوچھ لیجئے بلکہ خود یوں لکھا ہے۔ ’’حضرت مسیحؑ کی چڑیا ں باوجودیکہ معجزہ کے طور پر ان کا پرواز کرنا قرآن کریم سے ثابت ہے۔‘‘ (آئینہ کمالات اسلام ص ٦٨ خزائن ج ٥ ص ایضاً) کون سی بات سچ ہے اور کون سی جھوٹ؟
- ٣٠...... ’’اور محی الدین ابن عربی صاحب کو بھی اس میں (مسمریزم میں) خاص درجہ کی
مشق تھی۔‘‘
(ازالہ اوہام ص ٣٠٨ خزائن ص ٢٥٧)
ابوعبیدہ: یہ حضرت محی الدین ابن عربیؒ پر مرزا قادیانی کا صریح بہتان ہے۔ وہ ماشاء اللہ صاحب کرامات تھے۔ مرزا قادیانی کے پاس اس بہتان کا کوئی ثبوت نہیں۔ اگر
١٣
ہے تو پیش کر کے انعام حاصل کرو۔ لطف یہ کہ اپنے مسمریزم کو پھر ازالہ اوہام ص ١٥٢ خزائن ص ١٧٧ پر کامل صوفی اور محدث بھی مانتے ہیں۔
٣١...... ”اور اب یہ بات قطعی اور یقینی ثابت ہو چکی ہے کہ حضرت مسیح ابن مریم باذن و حکم الٰہی الیسع نبی کی طرح اس عمل الترب (مسمریزم) میں کمال رکھتے تھے۔“
(ازالہ اوہام ص ٩۔٣٠٨ خزائن ص ٢٥٧)
ابوعبیدہ: خدا کے دو سچے نبیوں پر بہتان باندھا ہے۔ خداوند کریم قرآن پاک میں تو انھیں آیات بینات کہتا ہے۔ آپ کا کیا منہ ہے کہ انھیں مسمریزم کہیں؟
(دیکھو کذب نمبر ٢١)
٣٢...... ”یہی وجہ ہے کہ گو حضرت مسیح ؑ جسمانی بیماروں کو اس عمل (مسمریزم) کے ذریعہ سے اچھا کرتے رہے۔ مگر ہدایت اور توحید اور دینی استقامتوں کے کامل طور پر دلوں میں قائم کرنے کے بارے میں ان کی کاروائیوں کا نمبر ایسا کم درجہ کا رہا کہ قریب قریب ناکام کے رہے۔“
(ازالہ اوہام ص ٣١٠ حاشیہ خزائن ص ٢٥٨)
ابوعبیدہ: صریح جھوٹ ہے۔ دیکھئے خود اسی کتاب ازالہ کے ص ١٢٨۔١٢٧ پر فرماتے ہیں۔ ”ان آیات (متعلقہ معجزات عیسیٰ ؑ) کے روحانی طور پر یہ معنی بھی کر سکتے ہیں کہ مٹی کی چڑیوں سے مراد وہ امی اور نادان لوگ ہیں جن کو حضرت عیسیٰ ؑ نے اپنا رفیق بنایا۔ گویا اپنی صحبت میں لے کر پرندوں کی صورت کا خاکہ کھینچا۔ پھر ہدایت کی روح ان میں پھونک دی۔ جس سے وہ پرواز کرنے لگے۔“ اس میں صاف اعلان کر رہے ہیں کہ ان کی ہدایت لوگوں نے کثرت سے قبول کی۔ دروغ گو را حافظہ نباشد کے سوا اور کیا کہیں؟
٣٣...... ”حضرت مسیح ابن مریم اپنے باپ یوسف کے ساتھ بائیس برس کی مدت تک نجاری کا کام بھی کرتے رہے ہیں۔“
(ازالہ اوہام ص ٣٠٣ حاشیہ خزائن ص ٢٥٢)
ابوعبیدہ: قرآن اور حدیث بانگ دہل اعلان کر رہے ہیں کہ حضرت مسیح ؑ بغیر باپ کے پیدا ہوئے تھے۔ چنانچہ مرزا قادیانی نے کئی جگہ انھیں بے باپ بھی مانا ہے۔ دیکھو فرماتے ہیں۔ ”من عجب تر از مسیح بے پدر۔ یعنی میں اس مسیح سے افضل ہوں۔ جو بے باپ تھے۔“
(ازالہ اوہام ص ٢٧٧ خزائن ص ٢٩٣)
٣٤...... ”یہ بات یاد رکھنے کے لائق ہے کہ توفی کا لفظ جو قرآن شریف میں استعمال کیا گیا
١٤
ہے۔ خواہ وہ اپنے حقیقی معنوں پر مستعمل ہے۔ یعنی موت یا غیر حقیقی معنوں پر یعنی نیند۔“
(ازالہ اوہام ص ٣٣٧، ٣٣٨ خزائن ص ٢٧٢)
ابوعبیدہ: مرزا توفی کی یہ تقسیم آپ نے کس کتاب سے نقل کی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ یہ محض آپ کے بے استاد اور بے پیر ہونے کی وجہ سے آپ کا جھوٹ محض ہے بے استادی اور بے پیر ہونے کا ثبوت دیکھو تردید جھوٹ نمبر ٨٣ میں۔
٣٥...... ”مسیح کو زندہ خیال کرنا اور یہ اعتقاد رکھنا کہ وہ جسم خاکی کے ساتھ دوسرے آسمان میں بغیر حاجت طعام کے یونہی فرشتوں کی طرح زندہ ہے۔ درحقیقت خدا تعالیٰ کے کلام پاک سے روگردانی ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ٣٤٨ خزائن ص ٢٧٧)
ابوعبیدہ: اگر یہ سچ ہے تو مرزا قادیانی خود بھی ٥٢ برس تک قرآن سے روگردان رہے پھر جو شخص قرآن سے روگردان ہو۔ وہ مجدد کیسے ہو سکتا ہے اور نبی کیسے بن سکتا ہے؟ (دیکھو براہین احمدیہ خزائن ج ١ ص ٥٩٣) پر صاف اقرار کیا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام زندہ آسمان پر موجود ہیں اور وہی نازل ہوں گے۔“
٣٦...... ”حق یہ ہے کہ اس دن (قیامت کے دن) بھی بہشتی بہشت میں ہوں گے اور دوزخی دوزخ میں۔“
(ازالہ اوہام ص ٣٥١ خزائن ص ٢٧٩)
ابوعبیدہ: کس صفائی سے قیام قیامت کا انکار کر رہے ہیں۔ پھر قیامت کس جانور کا نام ہے۔ بعث بعدالموت حساب کتاب، میزان، شفاعت انبیاء وغیرہ کا کس صفائی کے ساتھ انکار ہے۔ دوسرے الفاظ میں تمام کلام اللہ کو جھٹلا رہے ہیں۔
٣٧...... ”توریت بلند آواز سے پکار رہی ہے کہ مصلوب لعنتی ہے۔“
(ازالہ ص ٣٧١ خزائن ص ٢٩١)
ابوعبیدہ: کذب صریح ہے۔ توریت میں صرف وہ مجرم لعنتی لکھا ہے۔ جو موت کی سزا کا مستحق ہو اور پھر وہ صلیب دیا جائے۔
(دیکھو توریت استثناء باب ٢١ آیات ٢٢۔٢٣ نیز دیکھو نمبر ١٢٠)
٣٨...... ”سنت جماعت کا یہ مذہب ہے کہ امام محمد مہدی فوت ہو گئے ہیں اور آخری زمانہ میں انہیں کے نام پر ایک اور امام پیدا ہوگا۔“
(ازالہ اوہام ص ٤٥٧ خزائن ص ٣٤٤)
ابوعبیدہ: اس کا نام ہے چہ دلاور است دزدے کہ بکف چراغ دارد۔ کیا قادیانی اپنے نبی کو سچا ثابت کرنے کے لیے دو چار نام اہل سنت جماعت کے محققین کے پیش کر سکتے ہیں۔ جن کا یہ عقیدہ ہے؟ سنیے قیامت تک پیش نہیں کر سکو گے۔
١٥
٣٩...... ”ابن عباس سے یہ حدیث نکلتی ہے کہ حضرت مسیح ؑ فوت ہو چکے ہیں۔“
(ازالہ اوہام ص ٤٦٥ خزائن ص ٣٤٩)
ابوعبیدہ: مرزا قادیانی افتراء کرنے میں کس قدر بیباک واقع ہوئے ہیں؟ حضرت ابن عباسؓ سے کوئی ایسی حدیث مروی نہیں جس کے یہ معنی ہوں کہ حضرت مسیح ؑ فوت ہو چکے ہیں بلکہ وہ تو فرماتے ہیں کہ اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ کے معنی ہیں۔ اے عیسیٰ ؑ میں تجھے قیامت سے پہلے آسمان سے اتار کر ماروں گا۔ نیز دیکھو جھوٹ نمبر ٧ میں حدیث ابن عباسؓ۔
٤٠...... ”کتب لغت میں اندھیری رات کا نام بھی کافر ہے۔ مگر تمام قرآن شریف میں کافر کا لفظ صرف کافر دین یا کافر نعمت پر بولا گیا ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ٤٦٦ خزائن ص ٣٤٩)
ابوعبیدہ: مرزا قادیانی صاحب الغرض مجنون کا مصداق ہیں۔ ومن یکفر بالطاغوت میں کفر کے معنی کیا ہیں؟ کیا یہاں بھی کافر نعمت یا کافر دین ہی مراد لیں گے۔ افسوس آپ کی قرآن دانی پر۔
٤١...... ”یہ تو سچ ہے کہ مسیح اپنے وطن گلیل میں جا کر فوت ہو گیا۔“
(ازالہ اوہام ص ٤٧٣ خزائن ص ٣٥٣)
ابوعبیدہ: اس کا جھوٹ ہونا اس طرح تسلیم کرتے ہیں۔ ”اور یہی سچ ہے کہ مسیح فوت ہو چکا اور سری نگر محلہ خانیار میں اس کی قبر ہے۔“ (کشتی نوح ص ٦٩ خزائن ج ١٩ ص ٧٦) قرآن اور حدیث کی رو سے دونوں جھوٹ ہیں۔ جب قرآن اور حدیث ان کی حیات کا اعلان کر رہے ہیں تو مرنے سے پہلے قبر کیسے؟
٤٢...... ”دابۃ الارض اس جگہ لفظ دابۃ الارض سے ایک ایسا طائفہ انسانوں کا مراد ہے جو آسمانی روح اپنے اندر نہیں رکھتے لیکن زمینی علوم و فنون کے ذریعہ سے منکرین اسلام کو لاجواب کرتے ہیں اور اپنا علم کلام اور طریق مناظرہ تائید دین کی راہ میں خرچ کر کے بجان و دل خدمت شریعت غرّا بجا لاتے ہیں۔ سو وہ چونکہ درحقیقت زمینی ہیں اور آسمانی نہیں اور آسمانی روح کامل طور پر اپنے اندر نہیں رکھتے اس لیے دابۃ الارض کہلاتے ہیں۔“
(ازالہ اوہام ص ٥٠٢ خزائن ص ٣٦٩)
ابوعبیدہ: سبحان اللہ۔ رسول کریم ﷺ تو فرماتے ہیں۔ ثلث اذا خرجن لا ینفع نفسا ایمانھا لم تکن امنت من قبل او کسبت فی ایمانھا خیراً طلوع الشمس من مغربھا والدجال و دابۃ الارض (مشکوٰۃ ص ٤٧٢ باب العلامات بین یدی الساعۃ وذکر الدجال)
١٦
”یعنی جب تین چیزیں ظاہر ہو جائیں گی اس کے بعد ایمان لانا بھی نفع نہ دے گا۔ اوّل سورج کا مغرب سے نکلنا۔ دوسرے دجال کا نکلنا۔ تیسرے دابۃ الارض کا نکلنا“ تو کیا اب جس قدر مرزائی ہیں۔ یہ سب کافر ہیں کیونکہ دابۃ الارض کے بعد مرزائی بنے ہیں۔
٤٣...... ”مجدد الف ثانی صاحب اپنے مکتوبات کی جلد ثانی مکتوب ٥٥ میں لکھتے ہیں کہ مسیح موعود جب دنیا میں آئے گا تو علماء وقت کے بمقابلہ اس کے آمادہ مخالفت کے ہو جائیں گے۔“ (ازالہ اوہام ص ٥٤٥ خزائن ص ٣٩٣) پھر ص ٢٣٠ پر لکھتے ہیں کہ ”مجدد ثانی نے ٹھیک لکھا ہے کہ جب مسیح آئے گا تو تمام مولوی ان کی مخالفت پر آمادہ ہو جائیں گے اور خیال کریں گے کہ اہل الرای ہے اور اجماع کو ترک کرتا ہے اور کتاب اللہ کے معنی الٹاتا ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ٥٨٠ خزائن ص ٤١٣)
ابوعبیدہ: ہذا بہتان عظیم جو قادیانی یہ لفظ یا مضمون مجدد صاحب کی کتاب سے دکھا سکے۔ ہم سے انعام حاصل کرے۔ ان کی عبارت میں لکھا ہے۔ ”عجب نہیں کہ علمائے ظاہر“ ان الفاظ کو مرزا قادیانی ہضم ہی کر گئے ہیں۔ جن کی موجودگی میں معنوں میں زمین اور آسمان کا فرق ہو جاتا ہے۔
٤٤...... ”صاحب نبوت تامہ ہرگز امتی نہیں ہو سکتا اور جو شخص کامل طور پر رسول اللہ کہلاتا ہے۔ وہ کامل طور پر دوسرے نبی کا مطیع اور امتی ہو جانا نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ کی رو سے بکلی ممتنع ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ٥٦٩ خزائن ص ٤٠٧)
ابوعبیدہ: مرزا قادیانی آپ کو قرآن اور حدیث کا صحیح مفہوم نصیب نہیں ہوا۔ کیا آپ کو آیت میثاق النبیین یاد نہیں۔ ہر ایک نبی سے اس میں عہد لیا گیا ہے کہ اگر محمد ﷺ کو پاؤ تو اس پر ایمان لے آؤ۔ پھر رسول پاک کی حدیث بھول گئی۔ ”لوکان موسیٰ حیاً ماوسعہ الا اتباعی رواہ احمد و بیہقی“ (مشکوٰۃ ص ٣٠ باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ) ”یعنی فرمایا رسول پاک ﷺ نے اگر موسیٰ علیہ السلام بھی زندہ ہوتے تو میری اطاعت کے بغیر انھیں چارہ نہ ہوتا۔“
پھر مرزا نے خود اسی ازالہ ص ٢٥٥ پر لکھا ہے۔ ”یہ ظاہر ہے کہ مسیح ابن مریم اس امت (محمدی) کے شمار میں ہی آ گئے ہیں۔“ (ازالہ اوہام ص ٦٢٣ خزائن ٤٣٦) پھر ص ٢٦٤ پر لکھا ہے ”کہ مسیح درحقیقت آخری خلیفہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا تھا۔“
(ازالہ اوہام ص ٦٤٨ خزائن ص ٤٥٠)
پھر باوجود اس کے کہ حضرت مسیح کامل طور پر رسول اللہ تھے۔ مگر حضرت موسیٰ کے
١٧
خلیفہ تھے۔ علاوہ ازیں آپ نے ریویو آف ریلیجنز جلد اوّل نمبر ٥ ص ١٩٦ پر اسی آیت مذکورہ بالا کے تحت میں ”حضرت مسیح ؑ کو حضرت رسول کریم ﷺ کا امتی تسلیم کیا ہے۔“ ٤٥...... ”لیکن افسوس کہ بعض علماء نے محض الحاد اور تحریف کی رو سے اس جگہ توفیتنی سے مراد رفعتنی لیا ہے اور اس طرف ذرا خیال نہیں کیا کہ یہ معنی نہ صرف لغت کے مخالف بلکہ سارے قرآن کے مخالف ہیں۔ پس یہی تو الحاد ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ٦٠٠ خزائن ص ٤٣٤)
ابوعبیدہ: مرزا قادیانی کی سمجھ اور فہم کا قصور ہے۔ چمگادڑ کو دوپہر کے وقت اندھیرا نظر آتا ہے۔ علماء نے الحاد اور تحریف نہیں کی بلکہ آپ نے کی ہے۔ ثبوت سنیے توفیتنی کے معنی رفعتنی حضرات صحابہ کرام نے کیے۔ تمام مجددین امت نے جن کو فہم قرآن آپ کے نزدیک بھی دیا گیا تھا۔ (دیکھو عسل مصفیٰ جلد نمبر ١ ص ١٦٣) یہی معنی کیے ہیں۔ آپ تو عربی میں بے استادے اور علوم عربیہ میں محض کورے ہیں۔ (پڑھیے جھوٹ نمبر ٨٣) تمام مفسرین نے جو عربی اور علوم عربیہ میں بحر ذخار تھے۔ یہی معنی کیے ہیں۔ پھر آپ کس منہ سے کہتے ہیں کہ توفیتنی کے معنی رفعتنی کرنا الحاد اور تحریف ہے۔ تف ہے آپ کی نبوت، مہدویت، مجددیت اور مسیحیت پر کہ جھوٹ بولتے ہوئے ذرا حجاب نہیں آتا۔
٤٦...... ”توفی کے معنی حقیقت میں وفات دینے کے ہیں۔“
(ازالہ اوہام ص ٦٠١ خزائن ص ٤٢٥)
پھر ص ٣٨٧ ”توفی کے حقیقی معنی وفات دینے اور روح قبض کرنے کے ہیں۔“
ابوعبیدہ: مرزا قادیانی آپ کو حقیقت اور مجاز کے معنی بھی معلوم ہیں؟ ذرا دونوں کی تعریف کیجئے۔ پھر توفی کے حقیقی معنی وفات دینے کے ثابت کیجئے۔ تو مزہ بھی آئے۔
٤٧...... ”اِذْ قَالَ اللّٰهُ يَاعِيْسٰى اَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ...... الیٰ آخر، اور ظاہر ہے کہ قال کا صیغہ ماضی کا ہے اور اس کے اوّل اذ موجود ہے جو خاص واسطے ماضی کے آتا ہے۔ جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ قصہ وقت نزول آیت زمانہ ماضی کا ایک قصہ تھا۔ نہ زمانہ استقبال کا۔“ نیز ص ٣٠٤ پر لکھتے ہیں کہ ”یہ سوال و جواب حضرت مسیح ؑ سے عالم برزخ میں کیا گیا تھا۔“
(ازالہ اوہام ص ٦٠٢ خزائن ص ٤٢٥)
ابوعبیدہ: اس میں دو جھوٹ ہیں۔ نمبر ٤٧ مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ اس آیت کے نازل ہونے کے وقت یہ سوال و جواب حضرت عیسیٰ ؑ اور خدائے تعالیٰ کے درمیان ہو چکے تھے۔ پھر خود ہی اس کا جھوٹ ہونا ”کشتی نوح“ ص ٦٩ پر اس طرح تسلیم
٨١
کیا ہے۔ ”جو اقرار اس (عیسیٰ علیہ السلام) نے آیت فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ کی رو سے قیامت کے دن کرنا ہے۔“ (کشتی نوح ص ٦٩ خزائن ج ١٩ ص ٧٦) نیز اللہ تعالیٰ عیسیٰ علیہ السلام سے یہ باتیں قیامت کے دن کریں گے۔“ (ملخصاً براہین احمدیہ حصہ ٥ ص ٤٠ خزائن ج ٢١ ص ٥١)
- ٤٨...... قرآن میں بیسوں جگہ ماضی کے پہلے اِذْ آ جانے سے معنی استقبال کے مراد
ہوتے ہیں۔ خود مرزا قادیانی براہین احمدیہ حصہ ٥ ص ٦ پر لکھتے ہیں۔ ”جس شخص نے کافیہ یا ہدایت النحو بھی پڑھی ہوگی۔ وہ خوب جانتا ہے کہ ماضی مضارع کے معنوں پر بھی آ جاتی ہے۔“ پھر یہ آیت بطور مثال پیش کی ہے۔
- ٤٩...... تیسویں آیت یہ ہے۔ او ترقی فی السماء قل سبحان ربی ھل کنت الا
بشراً رسولاً۔ ترجمہ یعنی کفار کہتے ہیں تو (اے محمد ﷺ) آسمان پر چڑھ کر ہمیں دکھلا تب ہم ایمان لے آئیں گے ان کو کہہ دے کہ میرا خدا اس سے پاک تر ہے کہ اس دار ابتلاء میں ایسے کھلے کھلے نشان دکھا دے اور میں بجز اس کے اور کوئی نہیں ہوں کہ ایک آدمی۔ اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ کفار نے آنحضرت ﷺ سے آسمان پر چڑھنے کا نشان مانگا تھا اور انھیں صاف جواب ملا کہ یہ عادت اللہ نہیں کہ کسی جسم خاکی کو آسمان پر لے جائے۔“
(ازالہ اوہام ص ٦٢٦ خزائن ص ٢٤٨، ٢٤٧)
ابوعبیدہ: یہاں مرزا قادیانی نے ایک تو خدا پر افتراء کیا ہے۔ ساری آیت نقل نہیں کی اور جتنی نقل کی ہے وہ بھی غلط۔ درمیان سے آیت کا ضروری حصہ ہضم ہی کر گئے ہیں۔ یہاں دھوکہ دینا مطلوب تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس آیت کے بعد دوسری آیت کی طرح حوالہ نہیں لکھا۔ حوالہ ہم سے سنیے (سورہ اسرائیل پارہ ١٥) جواب خط کشیدہ جملہ نہیں ملا تھا۔ بلکہ جواب یہ تھا ”کہ میں بشر ہوں۔ رسول ہوں۔ میں خود تمھارے لیے معجزہ تجویز نہیں کر سکتا۔“ اور باقی کا ترجمہ تو بالکل تحریف مجسم ہے۔
- ٥٠...... دوسرا جھوٹ اس میں یہ ہے۔ مرزا قادیانی کہتا ہے ”کہ یہ عادت اللہ نہیں کہ کسی
جسم خاکی کو آسمان پر لے جائے۔“ قرآن اور توریت سے حضرت ایلیا علیہ السلام کا رفع جسمانی ثابت ہے۔ انجیل اور قرآن سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا رفع جسمانی ساری پڑھی لکھی دنیا کو معلوم ہے۔ معراج کی رات حضرت رسول ﷺ کا رفع جسمانی قرآن اور حدیث سے ایسے طریقہ سے ثابت ہے کہ جس کا انکار ایک شریف آدمی سے ممکن نہیں۔ خود مرزا قادیانی ازالہ ص ٢٨٩ خزائن ج ٣ ص ٢٤٧ پر لکھتے ہیں۔ ”آنحضرت ﷺ کے رفع جسمانی کے بارہ میں یعنی اس بارہ میں کہ وہ جسم کے ساتھ شب معراج آسمان کی طرف
١٩
اٹھا لیے گئے تھے۔ تقریباً تمام صحابہ کا یہی اعتقاد تھا۔‘‘ حضرت ایلیا کا رفع جسمی ملاحظہ ہو۔ سلاطین ٢ باب ٢ آیت ١ اور مسیح کا رفع جسمی لوقا باب ٢٤، آیت ٥٠، اعمال باب ١۔ ٥١...... ”اکثر احادیث اگر صحیح بھی ہوں تو مفیدِ ظن ہیں۔ والظن لا یغنی من الحق شیئاً“
(ازالہ اوہام ص ٦٥٤ خزائن ص ٤٥٣)
ابوعبیدہ: مرزا قادیانی کا صریح کذب و بہتان ہے۔ اگر حدیث کا یہی مرتبہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ اپنے کلام پاک میں یوں نہ فرماتے۔
١...... اطیعوا الله واطیعو الرسول. (نساء ٥٩) ٢...... قل ان کنتم تحبون الله فاتبعونی یحببکم الله (آل عمران ٣١) ٣...... فلا و ربک لا یؤمنون حتی یحکموک فیما شجر بینهم ثم لا یجدوا فی انفسهم حرج مما قضیت و یسلموا تسلیما. (نساء ٦٥) وما کان لمومن ولا مومنة اذا قضى الله ورسوله امراً ان یکون لهم الخیره من امرهم ومن یعص الله ورسوله فقد ضل ضلالا مبینا (الاحزاب ٣٦) پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے کلام اللہ اور صحیح حدیث نبوی کی اطاعت کا ایک جیسا حکم دیا ہے۔ دوسری آیت میں رسول کریم ﷺ کی حدیث کی اطاعت کو اپنا محبوب بننے کا ذریعہ قرار دیا ہے۔ تیسری آیت حدیث رسول ﷺ کی اطاعت کو معیار ایمان قرار دیا ہے۔ چوتھی آیت میں اللہ جس طرح کلام اللہ کے مخالف اور منکر کو گمراہ قرار دے رہے ہیں۔ اسی طرح مخالف حدیث رسول کو بھی مردود ٹھہرا رہے ہیں۔ اس طرح کی آیات سے قرآن پاک بھرا پڑا ہے۔ جس کا جی چاہے۔ مطالعہ کرے یا اگر مزید ایسی آیات کی ضرورت ہو تو مجھ سے حوالے طلب کر سکتا ہے۔
تصدیق از مرزا قادیانی
شہادت القرآن ص ٣ ’’ہمیں اپنے دین کی تفصیلات احادیث نبویہ کے ذریعہ سے ملی ہیں۔ نماز، زکوٰۃ کے احکام کی تفاصیل معلوم کرنے کے لیے ہم بالکل احادیث کے محتاج ہیں...... اسلامی تاریخ کا مبدا اور منبع یہی احادیث ہیں۔ اگر احادیث کے بیان پر بھروسہ نہ کیا جائے تو پھر ہمیں اس بات کو بھی یقینی طور پر نہیں ماننا چاہیے کہ درحقیقت حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ اور حضرت عثمانؓ اور حضرت علیؓ آنحضرت ﷺ کے اصحاب تھے‘‘...... ص ٤ ’’اگر یہ صحیح ہے کہ احادیث کچھ چیز نہیں تو پھر مسلمانوں کے لیے ممکن نہ ہوگا کہ آنحضرت ﷺ کی پاک سوانح میں سے کچھ بھی بیان کر سکیں‘‘...... ص ٥ ’’اگر
٢٠
احادیث کی نسبت ایسی ہی رائیں قبول کی جائیں تو سب سے پہلے نماز ہی ہاتھ سے جاتی ہے کیونکہ قرآن نے تو نماز پڑھنے کا نقشہ کھینچ کر نہیں دکھلایا۔ صرف یہ نمازیں احادیث بھروسہ پر پڑھی جاتی ہیں۔‘‘
(ملخص خزائن ج ٦ ص ٢٩٩ تا ٣٠١)
اب فرمائیے حضرات نمبر ٥١ کس قدر زبردست جھوٹ ہے۔ جہاں حدیث صحیحہ کے حکم کو بھی حق کے خلاف قرار دے رہے ہیں۔
- ٥٢-٥٣....... ’’قرآن شریف نے جو مسیح کے نکلنے کی ١٤٠٠ برس تک مدت ٹھہرائی ہے۔
بہت سے اولیاء بھی اپنے مکاشفات کی رو سے اس مدت کو مانتے ہیں۔‘‘
(ازالۃ اوہام ص ٦٧٥ خزائن ص ٤٦٤)
ابوعبیدہ: یہاں بھی مرزا قادیانی نے دو جھوٹ بلکہ زبردست افتراء کر کے اپنا الو سیدھا کرنے کی کوشش کی ہے۔
- (اوّل)...... قرآن شریف پر افتراء: قرآن شریف میں کوئی ایسی آیت نہیں
جس میں ١٤٠٠ برس کے بعد مسیح کے نکلنے کی اطلاع ہو۔ یہ مرزا قادیانی کا دجل و فریب ہے۔ (دوم)...... یہی دعویٰ بہت سے اولیاء اللہ کی طرف بھی منسوب کیا ہے۔ اگر اس دعویٰ میں سچے ہو تو کم از کم دو چار سو اولیاء اللہ کا نام تو لو۔ جنھوں نے ایسا لکھا ہے یا جن چند ہستیوں نے ایسا لکھا ہے۔ اگر آپ انھیں اولیاء اللہ مانتے ہیں تو چلو ہمارے تمھارے اختلافات کا جو وہ فیصلہ کریں اس کو سچ مان لو۔ اگر ذرا بھر بھی ایمانی جرأت ہو تو اعلان کر دو۔
- ٥٤....... ’’اس وقت جو ظہور مسیح موعود کا وقت ہے۔ کسی نے بجز اس عاجز کے دعویٰ نہیں
کیا کہ میں مسیح موعود ہوں بلکہ اس مدت تیرہ سو برس میں کبھی کسی مسلمان کی طرف سے ایسا دعویٰ نہیں ہوا کہ میں مسیح موعود ہوں۔‘‘
(ازالۃ اوہام ص ٦٨٣ خزائن ص ٤٦٩)
ابوعبیدہ: دروغ بے فروغ ہے۔ سنیے اور بالفاظ مرزا سنیے۔ ١....... حقیقۃ الوحی ص ٣٤٠: ’’شیخ محمد طاہر صاحب مصنف مجمع البحار کے زمانہ میں بعض ناپاک طبع لوگوں نے محض افتراء کے طور پر مسیح اور مہدی ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔‘‘
(حقیقۃ الوحی ص ٣٤٠ خزائن ج ٢٢ ص ٣٥٣)
- ٢....... لیکچر مرزا در لاہور ص ٦٣ پر خود مرزا قادیانی نے ’’ایک مدعی مسیحیت کا ذکر کیا ہے۔‘‘
الحکم ٢٤ اکتوبر ١٩٠٣ء میں لکھا ہے۔ ’’بہاء اللہ نے ١٢٦٩ھ میں مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا تھا اور ١٣٠٩ء تک زندہ رہا۔‘‘ پندرہ بیس اور کذّابین نے بھی مختلف زمانوں میں دعویٰ
٢١
مسیحیت کیا تھا۔ جن کا ذکر یہاں طوالت کا باعث ہے۔ پھر مرزا کس دیدہ دلیری سے انکار بھی کرتے ہیں اور اقرار بھی۔
٥٦-٥٥…… ”احادیث صحیحہ کا اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ وہ گدھا دجال کا اپنا ہی بنایا ہوا ہوگا۔ پھر اگر وہ ریل نہیں اور کیا ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ٦٨٥ خزائن ص ٤٧٠)
ابوعبیدہ: یہاں بھی مرزا قادیانی کے دو جھوٹ موجود ہیں۔ ایک تو افتراء علی الرسول۔ کسی صحیح حدیث میں خر دجال کا انسانی ساخت ہونا مذکور نہیں ہے۔ باقی اشارہ کے کیا کہنے ہیں جو شخص دمشق سے مراد قادیان اور ابن مریم سے مراد ابن غلام مرتضیٰ لے سکتا ہے۔ اس کے آگے خر دجال کا انسانی ساخت ہونا احادیث سے ثابت کرنا بالکل آسان بات ہے۔ (دوسرا) مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ انگریز پادری ہی صرف دجال ہیں۔ دروغ گو را حافظہ نہ باشد۔ اسی ازالہ ص ٤٩٤ ”عیسائی پادریوں کا گروہ بلاشبہ دجال معہود ہے“ (ازالہ اوہام ص ٧٢٢ خزائن ص ٤٨٨) پھر ریل کیا پادریوں کی بنائی ہوئی ہے۔ یہ تو تمام دنیا جہاں کے ملکوں میں بنتی ہے۔ جاپان کے پاس بھی ہے جو بدھ مذہب ہے۔ روس کے پاس بھی ہے جو دہریہ ہے۔ ترکوں اور عربوں کے پاس بھی ہے جو مسلمان ہیں۔ کیا یہ سب دجال ہیں۔ جاپان، روس، ترکی اور یورپ کے تمام لوگ جو ریل گاڑیاں بنا رہے ہیں کیا یہ کلہم پادری ہیں۔ سبحان اللہ، کیا کہنے ہیں قادیانی مسیح اور اس کے مریدین کے۔
٥٧…… (انجیل کی پیشگوئی) ”بہتیرے میرے (حضرت مسیح ؑ کے) نام پر آئیں گے اور کہیں گے کہ میں مسیح ہوں۔ پر سچا مسیح ان سب کے آخر میں آئے گا اور مسیح نے اپنے حواریوں کو نصیحت کی تھی کہ تم آخر کا منتظر رہنا۔ میرے آنے کا یعنی میرے نام پر جو آئے گا اس کا نشان یہ ہے کہ اس وقت سورج اور چاند تاریک ہو جائے گا۔“
(ازالہ اوہام ص ٦٨٣ خزائن ص ٤٦٩)
ابوعبیدہ: یہاں مرزا قادیانی نے انجیل پر صریح افتراء کیا ہے۔ انجیل میں صاف لکھا ہے کہ خود حضرت مسیح ؑ ہی دوبارہ آئیں گے اور جھوٹے مدعیان مسیحیت کی یہی نشانی ہوگی کہ وہ مسیح ؑ کے نام پر آنے کا دعویٰ کریں گے۔ (متی باب ٢٤ آیت ٤-٥)
٥٩-٥٨…… ”اسی بنا پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ اگر آنحضرت ﷺ پر ابن مریم اور دجال کی حقیقت کاملہ بوجہ نہ موجود ہونے کسی نمونہ کے موبمو منکشف نہ ہوئی ہو اور نہ دجال کے ستر باع کے گدھے کی اصل کیفیت کھلی ہو اور نہ یاجوج ماجوج کی عمیق تہہ تک وحی الٰہی
٢٢
نے اطلاع دی ہو اور نہ دابتہ الارض کی ماہیت کما ہی ظاہر فرمائی گئی ہو اور صرف امثلہ قریبہ اور صور متشابہ اور امور مشاکلہ کے طرز بیان میں جہاں تک غیب محض کی تفہیم بذریعہ انسانی قویٰ کے ممکن ہے۔ اجمالی طور پر سمجھایا گیا ہو تو کچھ تعجب کی بات نہیں ہے۔
(ازالہ اوہام ص ٦٩١ خزائن ص ٤٧٣)
ابوعبیدہ: یہاں مرزا قادیانی نے جھوٹوں کا انبار لگا دیا ہے۔
- ١....... رسول پاک ﷺ کے قویٰ کو ایسا کمزور تصور کیا ہے کہ جو باتیں مرزا قادیانی نے سمجھ
لیں۔ وہ رسول پاک ﷺ نہیں سمجھ سکتے تھے۔
- ٢....... ابن مریم اور دجال کی حقیقت کاملہ کسی نمونہ کے موجود نہ ہونے کے سبب نہ سمجھ
سکے کہو مرزا قادیانی! اس وقت عیسائی پادری اور یہودی دجل و فریب کرنے والے موجود نہ تھے۔ جب موجود تھے تو آپ نے کس طرح کہہ دیا۔ ”بوجہ نہ موجود ہونے کسی نمونہ کے۔“ اور پھر مرزے نے تو ازالہ اوہام ص ٢٧٠ خزائن ص ٢٣٧ پر لکھا ہے کہ ”توریت میں پیشگوئی تھی کہ مسیح سے پہلے ایلیا آئے گا اور مراد اس سے حضرت یحییٰ ؑ تھے۔“ کیا یہ نمونہ رسول پاک ﷺ کو معلوم نہ تھا۔ سخت افسوس ہے آپ کی اِس مسیحانہ دیانت اور تقویٰ پر کہ خدا، اس کے رسولوں، اس کی کتابوں اور بزرگان دین پر افتراء کرتے ہوئے ذرا بھی نہیں جھجکتے۔ جھوٹ تو اس عبارت میں ١٠ کے قریب تھے۔ مگر رعایت کر کے صرف دو پر ہی اکتفا کیا ہے۔ خود ہی جھوٹ نمبر ٦١ میں ان دونوں کی تردید کر رہے ہیں۔
- ٦١....... ”قرآن اور حدیث پر غور کرنے سے یہ بخوبی ثابت ہو گیا ہے کہ ہمارے سید و
مولیٰ ﷺ نے یہ تو یقینی اور قطعی طور پر سمجھ لیا تھا کہ وہ ابن مریم جو رسول اللہ ﷺ نبی ناصری صاحب انجیل تھے۔ وہ ہرگز دوبارہ دنیا میں نہیں آئے گا بلکہ اس کا کوئی سمی آئے گا جو بوجہ مماثلت روحانی اس کے نام کو خدائے تعالیٰ کی طرف سے پائے گا۔“
(ازالہ اوہام ص ٦٩٢ خزائن ص ٤٧٤)
ابوعبیدہ: سفید جھوٹ۔ تمام قادیانی بمعہ اپنے نبی کے مل کر کوئی ایک ضعیف حدیث بھی نہیں دکھا سکتے۔ جس میں آپ ﷺ نے ایسا فرمایا ہو بلکہ رسول پاک ﷺ کی بیسوں حدیثیں صاف صاف اعلان کر رہی ہیں کہ خود حضرت عیسیٰ ؑ ہی تشریف لائیں گے۔
- ٦٢....... ”بہت سی حدیثوں سے ثابت ہو گیا ہے کہ بنی آدم کی عمر سات ہزار برس ہے اور
آخر آدم پہلے آدم کی طرز ظہور پر الف ششم کے آخر میں جو روز ششم کے حکم میں ہے۔
٢٣
پیدا ہونے والا ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ٦٩٦ خزائن ص ٤٧٥)
ابوعبیدہ: اس ذرا سی عبارت میں بھی مرزا نے دو افتراء حضرت خیر البشر ﷺ پر چسپاں کیے ہیں۔
- (اول)...... کسی حدیث صحیحہ میں بنی آدم کی عمر سات ہزار برس درج نہیں ہے۔
- (دوم)...... کسی حدیث میں آخری آدم کا نام تک بھی نہیں۔ یہ محض ایجاد مرزا ہے۔
- ٦٤...... ”بلکہ سچ تو یہ ہے کہ کسی نبی کی وفات ایسی صراحت سے قرآن کریم میں نہیں لکھی۔ جیسی مسیح ابن مریم کی۔“
(ازالہ اوہام ص ٧٠٠ خزائن ص ٤٧٧)
ابوعبیدہ: صریح جھوٹ، اگر قرآن کریم میں وفات مسیح کا واقعہ ہو جانا مذکور ہوتا اور پھر حسب دعویٰ مرزا قادیانی صراحت سے بھی مذکور ہوتا تو خود بدولت ٥٢ برس تک کیوں اس صریح خبر کے خلاف حیات عیسیٰ کے عقیدہ پر قائم رہے پھر لطف یہ کہ جناب مرزا قادیانی کو قرآن کریم کی مدد سے وفات مسیح کا پتہ نہیں لگا بلکہ الہام کے ذریعہ سے جیسا کہ فرماتے ہیں۔ ”میرے پر خاص اپنے الہام سے ظاہر کیا کہ مسیح ابن مریم فوت ہو چکا ہے۔ چنانچہ اس کا الہام یہ ہے۔ مسیح ابن مریم رسول اللہ فوت ہو چکا ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ٥٦١ خزائن ص ٤٠٢)
- ٦٥...... ”ہم پہلے بھی تحریر کر آئے ہیں کہ عیسائی واعظوں کا گروہ بلاشبہ دجال معہود ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ٢٢٧ خزائن ص ٤٨٩)
ابوعبیدہ: مطلب براری کے لیے جھوٹ کا ارتکاب کر رہے ہو۔ کیا خود اسی ازالہ کے ص ١٠٣ پر ابن صیاد کو آپ نے دجال معہود تسلیم نہیں کیا۔ اگر وہ دجال معہود تھا تو پھر یہ جھوٹ ضرور ہے۔ ہمارے نزدیک تو وہ بھی جھوٹ یہ بھی جھوٹ۔ دونوں آپ کو مبارک ہوں۔
- ٦٦...... ”اس حکیم وعلیم کا قرآن کریم میں یہ بیان فرمانا کہ ١٨٥٧ء میں میرا کلام آسمان پر اٹھایا جائے گا یہی معنی رکھتا ہے کہ مسلمان اس پر عمل نہیں کریں گے۔“
(ازالہ اوہام ص ٢٨٧ حاشیہ خزائن ص ٤٩٠)
ابوعبیدہ: صریح جھوٹ اور افتراء علیٰ اللہ ہے۔ شائد قادیانی الہامات میں ہو تو ہو مگر جہاں تک میرا مطالعہ ہے۔ قادیانی الہامات میں بھی نہیں۔ جو آیت قادیانی نے پیش کی ہے۔ وہ ہاتھی کا وعدہ کر کے لومڑی دکھانے کا مصداق ہے۔ اگر کسی قادیانی نے وہ آیت پیش کی تو منہ کی کھائے گا۔ پس تمام قادیانی اس چیلنج کا خیال رکھیں۔
٢٤
٦٧......”اس پیشگوئی (کہ رسول پاک ﷺ کے بعد سب سے پہلے لمبے ہاتھوں والی بیوی فوت ہوگی) کی اصل حقیقت آنحضرت ﷺ کو بھی معلوم نہ تھی۔“
(ازالہ اوہام ص ٧٣٤۔٣٥ خزائن ص ٤٩٥۔٩٦)
ابوعبیدہ: سبحان اللہ! اگر حضرت خیرالرسل ﷺ کو پتہ نہ لگ سکا تو پھر پتہ کس کو سکتا ہے۔ یہ افتراء محض ہے۔ رسول پاک ﷺ کو تمام پیش گوئیوں کی حقیقت معلوم تھی۔ اس کے خلاف عقیدہ رکھنا کفر محض ہے۔
٦٨......”خدا تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ کوئی شخص فوت شدہ جماعت میں بغیر فوت ہونے کے داخل نہیں ہو سکتا۔“
(ازالہ اوہام ص ٧٣٤ خزائن ص ٥٠٠)
ابوعبیدہ: صریح جھوٹ اور دھوکہ ہے کیا بیت المقدس میں رسول پاک ﷺ نے تمام انبیاء علیہم السلام کو نماز نہیں پڑھائی تھی۔ کیا معراج کی رات تمام انبیاء سے آنحضرت ﷺ کی ملاقات نہیں ہوئی تھی حالانکہ آپ وفات یافتہ نہ تھے۔“
”آنحضرت ﷺ نے معراج کی رات میں فوت شدہ جماعت میں اس کو (عیسیٰ ؑ) پایا۔“ (ازالہ ص ٩٧ خزائن ص ١٥٣) کیا اس وقت آنحضرت ﷺ زندہ نہ تھے۔ اگر زندہ تھے تو آپ کے جھوٹا ہونے پر مہر لگا گئے۔
٦٩......”اور خدا تعالیٰ یہ بھی فرماتا ہے کہ کوئی شخص سوائے مرنے کے میری طرف آ نہیں سکتا۔“
(ازالہ اوہام ص ٧٣٤ خزائن ص ٥٠١)
ابوعبیدہ: کہاں فرماتا ہے۔ اگر سچے ہو تو وہ آیت کلام اللہ کی پڑھ کر ہمیں بھی تو سناؤ۔ کیا رسول پاک ﷺ زندہ حالت میں اللہ تعالیٰ کی طرف نہیں گئے تھے۔
٧٠......”خدا تعالیٰ تو ہر جگہ موجود اور حاضر ناظر ہے اور جسم اور جسمانی نہیں اور کوئی جہت نہیں رکھتا۔ پھر کیوں کر کہا جائے کہ جو شخص خدائے تعالیٰ کی طرف اٹھایا گیا۔ ضرور اس کا جسم آسمان میں پہنچ گیا ہوگا۔ یہ بات کس قدر صداقت سے بعید ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ٢٨٧ خزائن ص ٢٤٧)
ابوعبیدہ: مرزا کیوں خود دھوکہ خوردہ ہو کر دوسروں کو دھوکہ دیتے ہو۔ یہ بات صداقت سے بعید نہیں ہے۔ ازالہ اوہام پر آپ نے ”یایتھا النفس المطمئنة ارجعی الی ربک میں الی ربک اپنے رب کی طرف کے معنی آسمان کی طرف کیے ہیں۔“
(ازالہ اوہام ص ٢٦٤ خزائن ص ٢٣٣)
پھر لکھتے ہیں۔ ”رافعک الی کے یہی معنی ہیں۔ کہ جب حضرت عیسیٰ ؑ
٢٥
فوت ہو چکے تو ان کی روح آسمان کی طرف اٹھائی گئی ۔“
(ازالہ اوہام ص ٢٦٦ خزائن ص ٢٣٤)
پھر مرزا تو خود خدا کو آسمان پر مانتے ہیں۔ دیکھو الہامات مرزا قادیانی۔
- ا۔...... ”ینصرونک رجال نوحی الیہم من السماء ۔“ ”تیری مدد وہ لوگ کریں گے جن کے دلوں
میں ہم اپنی طرف سے الہام کریں گے ۔“
(حقیقۃ الوحی ص ٧٤ خزائن ج ٢٢ ص ٧٧)
- ٢....... ”کان اللہ نزل من السماء. گویا آسمان سے خدا اترے گا ۔“
(حقیقۃ الوحی ص ٩٥ خزائن ج ٢٢ ص ٩٩)
ایسے ہی اور بہت سے الہامات مرزا ہیں۔ جہاں من السماء سے مراد من اللہ اور الی اللہ سے مراد الی السماء ہے۔ پس یاد رکھیے مرزا قادیانی۔ شیشے کے محل میں بیٹھ کر دوسروں پر پتھر پھینکنا آسان کام نہیں ہے۔ آپ کے واسطے تو خدا کے لیے جہت آسمان کی طرف بن جاتی ہے اور ہمارے لیے ناممکن ۔ تلک اذا قسمۃ ضیزی .
- ٧١....... ”واذ قتلتم نفسا فادرا تم فیھا واللہ مخرج ما کنتم تکتمون ایسے قصوں
میں قرآن شریف کی کسی عبارت سے نہیں نکلتا کہ فی الحقیقت کوئی مردہ زندہ ہو گیا تھا اور واقعی طور پر کسی قالب میں جان پڑ گئی تھی ....... اصل حقیقت یہ ہے کہ یہ طریق علم عمل الترب یعنی مسمریزم کا ایک شعبہ تھا ۔“
(ازالہ اوہام ص ٧٤٩۔٧٥٠ خزائن ص ٥٠٢)
ابوعبیدہ: مرزا قادیانی، اس آیت کریمہ سے اگلی آیت اگر آپ نے پڑھی ہوتی تو شاید آپ کو سمجھ آ جاتی۔ سنیے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ فقلنا اضربوہ ببعضھا کذلک یحیی الموتی و یریکم آیتہ لعلکم تعقلون. ”پھر ہم نے کہا کہ مارو اس کو (یعنی اس مردہ انسان کو) اس (گائے کے گوشت) کا ٹکڑا (دیکھو) اس طرح اللہ زندہ کرتا ہے مردوں کو اور دکھاتا ہے تم کو اپنی نشانیاں تاکہ تم لوگ سمجھو۔“ اس آیت کے معنی تمام امت کے علماء مفسرین اور مجددین (مسلّمہ قادیانی) نے یہی کیے ہیں کہ وہ مردہ فی الواقعہ زندہ ہو گیا تھا اور یہ معجزہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا تھا آپ اسے مسمریزم قرار دے رہے ہیں۔ کیا جھوٹ کے سر سینگ ہوتے ہیں؟
- ٧٢....... ”اور یاد رکھنا چاہیے کہ قرآن شریف میں چار پرندوں کا ذکر لکھا ہے کہ ان کو
اجزائے متفرقہ یعنی جدا جدا کر کے چار پہاڑوں پر چھوڑا گیا تھا اور پھر بلانے سے وہ آ گئے تھے ۔ یہ بھی عمل الترب کی طرف اشارہ ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ٥٢٧ خزائن ص ٥٠٦)
ابوعبیدہ: شاباش مرزا قادیانی معجزات انبیاء علیہم السلام پر خوب ایمان ہے۔ تمام معجزات کو مسمریزم کا نتیجہ بناتے ہو حالانکہ خود بدولت اس عمل سے متنفر ہو ۔ ”اگر یہ
٢٦
عاجز (مرزا قادیانی) اس عمل (مسمریزم) کو مکروہ اور قابل نفرت نہ سمجھتا تو خدا تعالیٰ کے فضل و توفیق سے امید قوی رکھتا ہے کہ ان عجوبہ نمائیوں میں حضرت مسیح ابن مریم سے کم نہ رہتا۔“ (ازالہ اوہام ص ٤١٠ خزائن ص ٢٥٨ حاشیہ) مرزا قادیانی حضرت ابراہیم علیہ السلام کا سوال تھا۔ رب ارنی کیف تحیی الموتی۔ یعنی اے میرے رب مجھے دکھا کہ تو کس طرح مردوں کو زندہ کرتا ہے۔ اس کے جواب میں اگر آپ کا بیان کردہ طریقہ احیاء موتی بتایا گیا تھا یعنی مسمریزم، تو کیا اس سے حضرت ابراہیم علیہ السلام پہلے واقف نہ تھے۔
- ٧٣...... ”صحیح بخاری جو بعد کتاب اللہ اصح الکتب سمجھی گئی ہے۔ اس میں فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ
کے معنی وفات ہی لکھے ہیں۔“
(ازالہ اوہام ص ٦١٧ خزائن ص ٥١١)
ابوعبیدہ: صریح کذب اور بہتان ہے امام بخاریؒ پر۔ بخاری شریف میں یہ معنی کہیں درج نہیں۔ باقی مرزا قادیانی کو آزادی ہے۔ اپنے اجتہاد سے جو معنی بھی ثابت کرنا چاہیں کر لیں۔
- ٧٤...... ”ہمارا یہی اصول ہے کہ مردوں کو زندہ کرنا خدا تعالیٰ کی عادت نہیں۔“
(ازالہ اوہام ص ٧٨٠ خزائن ج ٣ ص ٥٢٢)
ابوعبیدہ: مرزا قادیانی نے سفید جھوٹ لکھا ہے۔ صریح افتراء علی اللہ کیا ہے۔ کبھی قرآن مجید پڑھا بھی ہے۔ اگر نہیں پڑھا تو ہم سے سنیے۔
- ١...... نمبر ٧١، ٧٢ کا مکرر ملاحظہ ہو۔
- ٢...... فاماتہ اللہ مائۃ عام ثم بعثہ۔ (البقرۃ ٢٥٩) یعنی عزیر علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے سو سال
مارے رکھا۔ پھر زندہ کر دیا۔
- ٣...... اللہ تعالیٰ کی طاقت اور عادت بیان کرتے ہوئے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا۔
یحیی و یمیت یعنی اللہ تعالیٰ مردوں کو زندہ کرتے ہیں اور زندوں کو مردہ۔
- ٧٥...... ”یاد رہے کہ من قبل الرسل میں لام استغراق کا ہے جو رسولوں کی جمع افراد
گذشتہ پر محیط ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ٨٩٥ خزائن ص ٥٨٨)
ابوعبیدہ: سبحان اللہ۔ مرزا قادیانی تو صرف، نحو، منطق و معانی سبھی کچھ پڑھے ہوئے تھے۔ ایسے عالم سے مذکورہ بالا بیان کا شائع ہونا یقیناً جھوٹ ہی سمجھا جائے گا کیونکہ بچے بھی جانتے ہیں کہ یہاں لام استغراق کا نہیں ہو سکتا۔ قواعد لسان عربیہ ایسا ماننے کی اجازت نہیں دیتے۔
- ٧٦...... ”لغت عرب اور محاورہ اہل عرب میں خلا یا خلت ایسے لوگوں کے گزرنے کو کہتے
٢٧
ہیں جو پھر آنے والے نہ ہوں...... اور یہ لفظ موت کے لفظ سے اخصّ ہے۔ کیونکہ اس کے مفہوم میں یہ شرط ہے کہ اس عالم سے گزر کر پھر اس عالم میں نہ آئے۔“
(ازالہ اوہام ص ٨٩٥۔٩٦ خزائن ص ٥٨٨۔٨٩)
ابوعبیدہ: مرزا کچھ تو خدا کا خوف کیا ہوتا۔ خود قرآن شریف میں خلا، خلو یا خلت کئی جگہ آیا ہے۔ جہاں اس کے معنی صرف گزرنے کے ہیں۔ مثلاً
- ١...... واذا خلا بعضهم الى بعض. (البقرة ٧٦)
- ٢...... واذا خلوا الى شيطينهم. (البقرة ١٤)
- ٣...... واذا خلو عضوا عليكم الانامل (آل عمران ١١٩) یہاں کوئی دیوانہ ہی خلا کے معنی
موت کر سکتا ہے۔
- ٧٧...... ”ہمارے مخالفوں کے لیے ہرگز ممکن نہیں کہ ایک ذرہ بھر بھی اپنے خیالات کی
تائید میں کوئی حدیث صحیح بخاری کی پیش کر سکیں۔ سو درحقیقت صحیح بخاری سے وہ منکر ہیں نہ ہم۔“
(ازالہ اوہام ص ٩٠٥ خزائن ص ٥٩٣)
ابوعبیدہ: تمام صحیح بخاری جناب کی نبوت، مجددیت اور مسیحیت کے پرخچے اڑا رہی ہیں۔ صرف ایک وعدہ ہمیں دے دو کہ گندم کے معنی مصری نہیں کریں گے پھر ہم سینکڑوں احادیث بخاری کی جناب کے رد میں پیش کر کے آپ کی تسلی کر دیں گے۔
- ٧٨...... ”ترتیب طبعی کا التزام تمام قرآن کریم میں پایا جاتا ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ٩٢٢ خزائن ج ٣ ص ٦٠٧)
ابوعبیدہ: بالکل افتراء ہے۔ صرف تین مثالیں آپ کو جھوٹا ثابت کرنے کے لیے پیش کرتا ہوں۔ ١...... پہلی آیت: واوحينا الى ابراهيم و اسمعيل و اسحق و يعقوب والاسباط و عیسیٰ و ايوب و يونس وهارون و سليمان و اتينا داؤد زبورا. (نساء ١٦٣) مرزا قادیانی! کیا ایوب، یونس، ہارون، سلیمان اور داؤد علیہم السلام عیسیٰ علیہ السلام کے بعد ہوئے تھے؟
دوسری آیت۔ کذبت قبلهم قوم نوح و عاد و فرعون ذوالاوتاد وثمود و قوم لوط و اصحب الایکه. (ص ١٢) یہاں فرعون کے بعد ثمود اور قوم لوط وغیرہ ہے۔ حالانکہ قوم لوط فرعون سے پہلے تھی۔ دوسرے یہاں عاد کے بعد ثمود کا ذکر ہے۔ حالانکہ سورۃ حاقہ میں كذبت ثمود و عاد بالقارعة میں ثمود پہلے ہے اور عاد بعد میں۔ اسی طرح سورہ توبہ میں ”قوم نوح و عاد و ثمود“ آیا ہے۔ یہاں مرزا قادیانی کی
٢٨
ترتیب طبعی کہاں گئی؟
تیسری آیت: وَلَقَدْ خَلَقْنَا السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضَ.
(ق ٣٨)
چوتھی آیت: خَلَقَ الْاَرْضَ فِيْ يَوْمَيْنِ....... ثُمَّ اسْتَوٰى اِلَى السَّمَاءِ.
(حم السجدة ٩۔١١)
پانچویں آیت: هُوَ الَّذِيْ خَلَقَ لَكُمْ مَّا فِى الْاَرْضِ جَمِيْعًا ثُمَّ اسْتَوٰى اِلَى السَّمَاءِ (بقرہ ٢٩) یہاں بھی زمین پہلے اور آسمان بعد میں۔ مؤلف۔
یہاں پہلی آیت میں آسمان پہلے ہے اور زمین بعد میں۔ حالانکہ طبعی ترتیب چوتھی آیت میں مذکور ہے۔ یعنی پہلے زمین بنائی پھر آسمان۔ پس بتائیے مرزا قادیانی کیوں جھوٹ بول کر اپنا اُلّو سیدھا کر رہے ہو؟
٧٩....... ”اور چوتھا فقرہ وجاعل الذین اتبعوک جیسا کہ ترتیبًا چوتھی جگہ قرآن کریم میں واقع ہوا ہے۔ ایسا ہی طبعاً بھی چوتھی جگہ ہے کیونکہ حضرت عیسیٰ ؑ کے متبعین کا غلبہ ان سب امور کے بعد ہوا ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ٩٢٣ خزائن ص ٦٠٧)
ابوعبیدہ: مرزا قادیانی نے اپنی کتاب ”مسیح ہندوستان“ میں تسلیم کیا ہے کہ عیسیٰ ؑ کی تطہیر رسول پاک ﷺ نے کی تھی۔ نیز اسی صفحہ پر لکھا ہے ”کہ مطہرک کی پیشگوئی میں اشارہ ہے کہ ایک زمانہ آتا ہے کہ خداوند تعالیٰ ان الزاموں سے مسیح کو پاک کرے گا اور وہ یہی زمانہ ہے۔“ (مسیح ہندوستان ص ٥٤ خزائن ج ١٥ ص ایضاً) اب بتلائیے۔ کیا یہود پر عیسائیوں کو غلبہ رسول پاک ﷺ کے بعد یا آپ کے بعد ہوا ہے۔ یا پہلے ہی سے تھا۔ آپ نے خود ڈریپر صاحب کے حوالہ سے تسلیم کیا ہے کہ عیسائیوں کے غلبہ کا وعدہ مسیح کے بعد ٢٠٥ء میں پورا ہو گیا تھا۔ پھر آپ نے بھی ترتیب طبعی کو چھوڑ دیا اور بقول خود ”مُحرف کلام اللہ ہو گئے یا اللہ تعالیٰ کے استاذ بن گئے۔“ سبحان اللہ۔ اچھی مجددیت و مسیحیت کھل رہی ہے۔ تف ہے ایسی مسیحیت پر۔
٨٠....... ”اِنِّيْ مُتَوَفِّيْكَ وَرَافِعُكَ میں تقدیم و تاخیر کے قائل لوگ یہودی خصلت ہیں۔“ اور ”ان کو یہودیوں کی طرز پر يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ عَنْ مَوَاضِعِهٖ کی عادت ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ٩٢٢ خزائن ص ٦٠٧)
ابوعبیدہ: تقدیم و تاخیر کے سب سے پہلے بیان کرنے والے حضرت ابن عباسؓ ہیں۔ آپ کے آرام کے لیے صرف دو ہی حوالے دیتا ہوں جن کو آپ بار بار متوفیک یعنی ممیتک کے ثبوت میں پیش کرتے ہیں۔ جہاں بخاری میں ابن عباسؓ کا قول اِنِّيْ مُتَوَفِّيْكَ ممیتک آپ کی آنکھوں کو نظر آتا ہے۔ اس کے آگے بھی آنکھیں کھول کر
٢٩
دیکھئے وہیں تقدیم و تاخیر آپ کو مل جائے گی۔ اسی طرح جہاں کشاف جیسی مبسوط تفسیر کی ورق گردانی کی۔ آپ نے تکلیف اٹھائی۔ وہاں دوچار لفظ خف انقک سے آگے بھی دیکھے ہوتے تو تقدیم و تاخیر آپ کو مل جاتی۔ پھر امید تھی کہ آپ ہمارے علماء کو محرف قرار دے کر ایک افتراء عظیم کا ارتکاب نہ کرتے کیونکہ حضرت ابن عباسؓ کو آپ نے امت محمدی کا سب سے بڑا مفسر قرآن قبول کر لیا ہے۔ (دیکھو یہی ازالہ اوہام ص ٨٩٢ خزائن ص ٥٨٧) پھر ایسے بزرگ کی تفسیر کو تحریف کہنے والا شخص جھوٹا نہیں تو اور کیا ہے؟ فلعنة الله علی الکاذبین.
- ٨١....... ”اگر فرض محال کے طور پر مسیح ابن مریم قبر میں سے اٹھے تو پھر نزول غلط ٹھہرے گا۔“
(ازالہ اوہام ص ٩٣٥ حاشیہ ص ٧ خزائن ص ٦٤٣)
البصیرہ: مرزا قادیانی پر تو نزول کا لفظ صحیح ٹھہرتا ہے نا۔ معلوم ہوا جو ماں کے پیٹ سے پیدا ہو جیسے کہ آپ ”اس پر تو نزول کا لفظ آپ کے نزدیک جائز ہے اور جو زمین کے پیٹ سے نکلے اس پر نہیں۔ واہ رے ”حکم عادل“ بننے کے شوقین۔ تیری انصاف پروری کی بھی حد ہو گئی۔
- ٨٢....... ”وہ حدیثیں جو نزول مسیح کے بارہ میں آئی ہیں۔ اگر ان کے یہی معنی کیے جائیں
کہ مسیح ابن مریم زندہ ہے اور درحقیقت وہی آسمان سے آئے گا تو اس صورت میں ان حدیثوں کا قرآن کریم اور ان دوسری حدیثوں سے تعارض واقع ہوگا جن کی رو سے مسیح ابن مریم کا فوت ہو جانا یقینی طور پر ثابت ہو چکا ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ٩٣٥ حاشیہ در حاشیہ خزائن ص ٩٢٥)
البصیرہ: اپنے دماغ کا علاج کیجئے۔ مراق کو دور کیجئے۔ (جس کا اقرار آپ نے خود اخبار ”بدر قادیان“ ٧ جون ١٩٠٦ء میں کیا ہے۔) پھر غور کی آنکھوں سے اگر دیکھیں گے تو کوئی تعارض نظر نہ آئے گا۔ اس تعارض کی حقیقت اعور (بھینگے) کی رویت سے زیادہ نہیں جو ایک چیز کو ٢ شکلوں میں دیکھتا ہے۔
- ٨٣....... ”میری اس کتاب کے دونوں حصوں کو غور سے پڑھو۔ ان میں نور اور ہدایت ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ٧ خزائن ج ٣ ص ١٠٢)
البصیرہ: مرزا قادیانی سو جھوٹوں کا ایک مجموعہ ہے۔ اسمیں سوائے خدا پر۔ اس کے رسولوں پر۔ صحابہ کرام پر۔ علماء امت پر افتراء اور جھوٹ کے اور کچھ بھی نہیں۔ جیسا کہ میں نے آپ کے موٹے موٹے جھوٹ گن کر ثابت کر دیا ہے۔ پتہ بھی ہے۔ اس
٣٠
قدر جھوٹوں کے ارتکاب کا سبب کیا۔ لیجئے! آپ کو سناتے ہیں اور آپ کے حلفیہ دعویٰ کی رو سے دکھاتے ہیں۔
’’مولوی صاحب (غالباً مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی) نے اس فقرہ اور نیز ایک عربی کے فقرہ سے یہ ظاہر کرنا چاہا ہے کہ یہ شخص محض نالائق اور علمی اور عملی لیاقتوں سے بالکل بے بہرہ ہے اور کچھ بھی چیز نہیں اگر دیکھو تو اس سے (مرزا قادیانی سے) نفرت کرو۔ مگر بہ خدا یہ سچ ہے اور بالکل سچ ہے اور قسم ہے مجھے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ درحقیقت مجھ میں کوئی علمی اور عملی خوبی یا ذہانت اور دانشمندی کی لیاقت نہیں اور میں کچھ بھی نہیں۔‘‘ (ازالہ اوہام ص آخری خزائن ص ٦٣٥) اور پھر ایام الصلح میں فرماتے ہیں۔ ’’میں حلفاً کہہ سکتا ہوں کہ میرا حال یہی ہے۔ کوئی ثابت نہیں کر سکتا کہ میں نے کسی انسان سے قرآن یا حدیث یا تفسیر کا ایک سبق بھی پڑھا ہے یا کسی مفسر یا محدث کی شاگردی اختیار کی ہے۔‘‘ (ایام الصلح ص ١٤٧ خزائن ج ١٤ ص ٣٩٤) پس مرزا کا یہ حال ہے تو پھر آپ سے خدا اور اس کے رسول اور اسلام کے خلاف جو کچھ بھی سرزد ہو۔ تھوڑا ہے۔ اس واسطے حضرت سلطان باہوؒ فرماتے ہیں۔
- ٨٤...... ’’آنحضرت ﷺ معراج اس جسم کثیف کے ساتھ نہیں ہوا تھا بلکہ وہ اعلیٰ درجہ کا
کشف تھا۔ اس قسم کے کشفوں میں خود مؤلف (جناب مرزا قادیانی) بھی صاحب تجربہ ہے۔‘‘
(ازالہ اوہام ص ٤٧ حاشیہ خزائن ص ١٢٦)
ابوعبیدہ: مرزا قادیانی خدا کے لیے شرم کیجئے۔ جناب خود تسلیم کرتے ہیں۔ ’’آنحضرت ﷺ کے رفع جسمی کے بارہ میں۔ یعنی اس بارہ میں کہ وہ جسم کے ساتھ شب معراج آسمان کی طرف اٹھا لیے گئے تھے۔ تقریباً تمام صحابہ کا یہی اعتقاد تھا۔‘‘
(ازالہ اوہام ص ٢٨٩ خزائن ص ٢٤٧)
اب کون سچا ہوا۔ آپ یا تمام صحابہ۔ یقیناً آپ جھوٹے ہیں۔ صحابہ رسول جو رسول کریم ﷺ کے علوم کے وارث تھے۔ وہی سچے تھے۔
یہاں تک جس قدر جھوٹ درج ہیں ۔ سب ازالہ اوہام طبع پنجم سے منقول ہیں۔ آگے ایام الصلح طبع دوم کے جھوٹ درج کرتا ہوں۔
وما توفیقی الا باللہ
٣١
ایام الصلح طبع دوم
٨٥...... ”ہمارے علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ مہدی کے ہاشمی یا سید ہونے کے بارہ میں جس قدر حدیثیں ہیں۔ سب مجروح ہیں۔“
(ایام الصلح ص ٢٩ حاشیہ خزائن ج ١٤ ص ٢٥٨)
ابوعبیدہ: مرزا قادیانی یا مرزا قادیانی کے مرید اگر سچے ہو تو ہمارے علماء کا اتفاق مذکور بالا ثابت کرو۔ ورنہ مرزا قادیانی کا افتراء تسلیم کرو۔
٨٦...... ”پہلی کتابوں میں (لکھا ہے) کہ اس (مسیح ابن مریم) سے پہلے ایلیا نبی دوبارہ آئے گا اور جب تک ایلیا نبی دوبارہ نہ آئے۔ وہ نہیں آئے گا۔“
(ایام الصلح ص ٣٢ خزائن ج ١٤ ص ٢٦٢)
ابوعبیدہ: مرزا قادیانی۔ مجھے یقین ہے کہ یہاں بھی آپ استادی کرنے سے نہیں ٹلے۔ اگر آپ پہلی کتابوں سے یہ حوالہ نکال کر دکھا جاتے تو آج مجھے آپ کا یہ بیان جھوٹوں کی فہرست میں درج نہ کرنا پڑتا۔ جہاں تک میں نے پہلی کتب کا مطالعہ کیا ہے وہ تو صرف اتنا ہی ہے کہ ہولناک دن سے پہلے ایلیا (یعنی محمد رسول اللہ ﷺ) مبعوث ہوں گے۔ کوئی ایسی آیت مجھے نظر نہیں پڑی۔ جہاں لکھا ہو کہ ایلیا نبی جو آسمان پر اٹھایا گیا تھا۔ وہی آسمان سے نازل ہوگا۔ یا دوبارہ آئے گا اور اس سے پہلے مسیح ؑ مبعوث ہوں گے۔ اگر قادیانی ہمت کر کے ایسی کوئی آیت دکھا دیں تو میں شکریہ کے ساتھ مرزا قادیانی کے سینکڑوں سفید جھوٹوں کی فہرست سے یہ جھوٹ خارج کر دینے کا وعدہ کرتا ہوں۔
٨٧...... ”کوئی منکر کسی تاریخ کے حوالہ سے ایک نظیر بھی پیش نہیں کر سکتا اور نہیں دکھلا سکتا کہ کوئی جھوٹا الہام کا دعویٰ کرنے والا ٢٥ برس تک یا ١٨ برس تک جھوٹے الہام دنیا میں پھیلاتا رہا اور جھوٹے طور پر خدا کا مقرب اور خدا کا مامور اور خدا کا فرستادہ اپنا نام رکھا اور اس کی تائید میں سالہائے دراز تک اپنی طرف سے الہامات تراش کر مشہور کرتا رہا اور پھر باوجود ان مجرمانہ حرکات کے پکڑا نہ گیا۔ کیا کوئی ہمارا مخالف اس کا جواب دے سکتا ہے؟“
(ایام الصلح ص ٣٧ خزائن ج ١٤ ص ٢٦٨)
ابوعبیدہ: ہاں بندہ حاضر ہے۔ دور کیوں جاتے ہو خود جناب کے مریدین مدعیان نبوت موجود ہیں جن کو اس سے بھی زیادہ مہلت مل گئی ہے اور ابھی تک ہلاک نہیں ہوئے۔ آپ کی جماعت اور آپ کے خلیفہ انھیں پاگل یا دیوانہ قرار دے رہے
٣٢
ہیں ۔ مثلاً عبداللہ تیماپوری، محمد فضل چنگا بنگیال، قاضی یار محمد، قمر الانبیاء وغیرہم، سابقہ کذابین کا تو ذکر ہی کیا ہے وہ تو سینکڑوں کی تعداد میں گزرے ہیں ۔ جس کو شک ہو ۔ تاریخ کا مطالعہ کرے ۔
- ٨٨....... ”آیت فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ نے صاف اس بات کا فیصلہ کر دیا ہے کہ عیسائی عقیدہ میں
جس قدر بگاڑ اور فساد ہوا ہے وہ حضرت عیسیٰ ؑ کی وفات کے بعد ہوا ۔“
(ایام الصلح ص ٣٨ خزائن ج ١٤ ص ٢٦٩)
ابو عبیدہ: مرزا قادیانی کی ضرورت ہے کہ آپ نے کلام اللہ، حدیث نبوی، اقوالِ آئمہ کے خلاف ”فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ“ کے معنی موت کر لیے ۔ ورنہ جب ابن عباسؓ جیسے آپ کے مسلمہ مفسر اس کے معنی رَفَعْتَنِیْ (یعنی جب تو نے مجھے آسمان پر زندہ اٹھا لیا) کرتے ہیں تو آپ کس منہ سے اس سے موت مراد لیتے ہیں ۔ پس یہ آپ کا افتراء علی اللہ ہے ۔ اگر سچے ہو تو اپنے تسلیم کیے ہوئے مجددین امت میں سے کسی ایک مجدد ہی سے اپنی تصدیق کرا دو ۔ ورنہ جھوٹ بولنے سے توبہ کرو ۔
- ٨٩....... ”توفی نیند کو ہرگز نہیں کہتے اور کبھی یہ لفظ نیند پر اطلاق نہیں کیا گیا اور نہ قرآن
میں نہ کسی لغت کی کتاب میں ۔ نہ حدیث کی کتابوں میں نیند کے معنی لیے گئے ۔“
(ایام الصلح ص ٤٠ خزائن ج ١٤ ص ٢٧١)
ابو عبیدہ: واہ مرزا قادیانی خود ہی تو آپ نے اس کے خلاف لکھا ہے ۔ ”نیند کے محل پر توفی کا لفظ صرف دو جگہ قرآن شریف میں آیا ہے...... توفی کا لفظ جو قرآن شریف میں استعمال کیا گیا ہے ۔ خواہ وہ اپنے حقیقی معنوں پر مستعمل ہے ۔ یعنی موت پر یا غیر حقیقی معنوں پر یعنی نیند پر ۔“
(ازالہ اوہام ص ٨ ۔ ٣٤٧ خزائن ج ٣ ص ٢٧٢)
پھر (ایام الصلح ص ٤٠ خزائن ج ١٤ ص ٢٧١) پر مذکور بالا عبارت سے ذرا آگے توفی بمعنی نیند بھی آپ نے تسلیم کیا ہے ۔ میں حیران ہوں کہ آپ نے کس قدر جرات سے تمام دنیا کو اندھا بنا رکھا ہے کیا سب لوگ اندھے بن جائیں گے؟ ایں خیال است و محال است و جنون۔
- ٩٠....... ”اس جگہ یہ بھی یاد رہے کہ یہ انسان کا کام نہیں کہ بارہ برس پہلے ایک دعویٰ سے
الہامی عبارت لکھ کر اس دعویٰ کی تمہید قائم کرے اور پھر سالہا سال کے بعد ایسا دعویٰ کرے ۔ جس کی بنیاد ایک مدت دراز پہلے قائم کی گئی ہے ۔ ایسا باریک مکر نہ انسان کر سکتا ہے ۔ نہ خدا اس کو ایسے افتراؤں میں اس قدر مہلت دے سکتا ہے ۔“
(ایام الصلح ص ٤٢ خزائن ج ١٤ ص ٢٧٢)
٣٣
ابوعبیدہ: مرزا قادیانی اس جگہ جناب نے دو جھوٹوں کا ارتکاب علی رؤس الاشہاد کیا ہے۔ (اول)...... آپ جیسے سینکڑوں نہیں تو بیسیوں ایسے شوقین مہدویت و مسیحیت ونبوت پیدا ہوئے جو آپ کی طرح کئی تدبیریں کر کے چند روز کے لیے آپ سے بڑھ کر کامیاب ہوئے مگر آخر زمانے نے خود انھیں مٹا دیا۔
(دوم)...... خدا پر بھی ساتھ ہی افتراء باندھا کہ وہ جھوٹوں کو مہلت نہیں دیتا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ انما نملی لھم لیزدا دوا اثما ولھم عذاب مھین (آل عمران ١٧٨) ”ہم تو فرصت دیتے ہیں۔ ان کو تا بڑھتے جائیں گناہ میں اور ان کے لیے ذلت کا عذاب ہے۔“ دوسری جگہ میں فرماتے ہیں۔ والذین کذبوا بایتنا سنستدرجھم من حیث لایعلمون واملی لھم ان کیدی متین (اعراف ١٨٢۔١٨٣) ”جنھوں نے جھٹلائیں ہماری آیتیں ان کو ہم سچ مچ پکڑیں گے۔ جہاں سے وہ نہ جانیں گے اور ان کو فرصت دوں گا۔ بے شک میرا داؤ پکا ہے۔“
(نیز دیکھو جھوٹ نمبر ٨٧)
٩٢...... ”ایک حدیث میں آنحضرت ﷺ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ اگر موسیٰ ؑ و عیسیٰ ؑ زندہ ہوتے تو میری پیروی کرتے۔“
(ایام الصلح ص ٤٤ خزائن ج ١٤ ص ٢٧٣)
ابوعبیدہ: مرزا قادیانی! کیوں دنیا جہان کے لوگوں کی آنکھوں میں مٹی جھونک کر مطلب براری کرتے ہو۔ کیا آپ نے ساری دنیا کو اپنے مریدین کی طرح ہی سادہ لوح سمجھ رکھا کہ کوئی تحقیق سے کام نہ لے گا اور کہہ دے گا کہ سر تسلیم خم ہے جو مزاج یار میں آئے۔ نہیں بلکہ دنیا میں بال کی کھال اتارنے والے بھی موجود ہیں۔ اگر آپ یہ حدیث کسی حدیث کی کتاب سے دکھا دیں تو ہم آپ کی تردید کرنی چھوڑ دیں گے۔ صحیح حدیث میں صرف موسیٰ ؑ کا ذکر ہے اور کسی کا بھی نہیں۔
٩٣...... ”نہ اب تک کسی زمانہ میں یہ عادۃ اللہ ثابت ہوئی کہ کوئی شخص دنیا سے جا کر پھر واپس آیا ہو اور جب سے کہ دنیا پیدا ہوئی۔ آج تک ایک بھی نظیر اس قسم کی واپسی کی پائی نہیں گئی۔“
(ایام الصلح ص ٤٦ خزائن ج ١٤ ص ٢٧٨)
ابوعبیدہ: ازالہ ص ١٢١ پر خود آپ نے تسلیم کیا ہے ”کہ رسول کریم ﷺ کے معراج کے متعلق قریباً تمام صحابہ کا یہی عقیدہ تھا کہ رسول کریم ﷺ کا رفع الی السماء جسمانی تھا۔“ تو کیا رسول کریم ﷺ واپس نہیں آئے تھے؟
٩٤...... ”ایسا ہی حدیثوں میں بھی مندرج تھا کہ ان دنوں میں (مسیح موعود کے زمانہ میں) طاعون بھی پھوٹے گی۔“
(ایام الصلح ص ٤٩ خزائن ج ١٤ ص ٢٨٠)
٣٤
ابوعبیدہ: مرزا قادیانی! آپ ایک ہی ایسی حدیث بتائیں تو انعام لیں لیکن شرط یہ ہے کہ گندم بمعنی گز نہ کریں۔ مسیح ﷺ کے متعلق جس قدر احادیث ہیں۔ کسی ایک میں بھی طاعون پھوٹنے کا ذکر نہیں ہے۔
٩٥...... ”بباعث ریل اکثر اونٹ بیکار ہو گئے ہیں۔“
(ایام الصلح ص ٧٨ خزائن ج ١٤ ص ٣١٣)
ابوعبیدہ: تمام دنیا جانتی ہے کہ ابھی تک اونٹ بیکار نہیں ہوئے بلکہ ایک معمولی اونٹ یک صد روپیہ سے زیادہ قیمت میں ملتا ہے۔ کیا بیکار چیز کی بھی قیمت ہوا کرتی ہے۔ کیا مرزا قادیانی آپ کو معلوم نہیں کہ خود آپ کے بیان کردہ دجالی گروہ کے پاس با قاعدہ اونٹوں کے گلے ہیں۔ جو ”کیمل کور“ کے نام سے مشہور ہیں۔ پھر اونٹ بیکار کیسے ہو گئے ہیں؟
٩٦...... ”دریاؤں میں سے بہت سی نہریں نکالی گئیں۔ یہ قرآن شریف میں تھا کہ آخری زمانہ میں کئی نہریں نکالی جائیں گی۔“
(ایام الصلح ص ٧٨ خزائن ج ١٤ ص ٣١٣)
ابوعبیدہ: مرزا قادیانی! کوئی آیت تو پڑھ کر سنائی ہوتی۔ مگر یاد رکھیے ہم تمہارے اپنے ایجاد کردہ معنی تسلیم نہیں کریں گے بلکہ معنی وہ مانیں گے جو خود رسول پاک ﷺ سے یا آپ کے صحابہ سے مروی ہوں یا کسی مجدد نے بیان کیے ہوں۔ آپ کے معنی خود غرضی پر مبنی ہوتے ہیں۔ جب آپ عالم ہی نہیں ہیں۔ جیسا کہ آپ نے خود تسلیم کیا ہے۔ (دیکھو ازالہ ص ٣٩٦۔ ایام الصلح ص ١٤٧ خزائن ج ١٤ ص ٣٩٤) پھر آپ کے معنوں کا کیا اعتبار رہا؟
٩٧...... ”مجدد الف ثانی اپنے مکتوبات میں لکھتے ہیں کہ ضرور مسیح موعود کا بعض مسائل میں علماء وقت سے اختلاف ہوگا اور سخت نزاع واقع ہوگی اور قریب ہوگا کہ علماء ان پر حملہ کریں۔“
(ایام الصلح ص ٨٥ خزائن ج ١٤ ص ٣٢١)
ابوعبیدہ: صریح جھوٹ ہے۔ مجدد صاحب نے ایسا مضمون کہیں نہیں لکھا۔ مرزا قادیانی نے ان کے مضمون میں بہت بڑی تحریف کی ہے۔ وہاں امکان ظاہر کیا ہے۔ یہاں مرزا قادیانی نے ضرور بڑھا دیا ہے وہاں علماء ظاہر لکھا ہے۔ مرزا قادیانی نے عام علماء وقت جڑ دیا ہے۔ سخت نزاع اور حملہ تک کی نوبت تو ایجاد مرزا ہے۔ غرضیکہ تمام کی تمام عبارت حضرت مجدد صاحبؒ پر افتراء ہے۔
٩٨...... ”یاد رہے کہ ہم میں اور ان لوگوں میں بجز اس ایک مسئلہ کے (حیات و وفاتِ مسیح) اور کوئی مخالفت نہیں۔“
(ایام الصلح ص ٨٧ خزائن ج ١٤ ص ٣٢٤)
٣٥
ابوعبیدہ: مرزا قادیانی: ١...... معراج نبوی کو آپ روحانی مانتے ہیں اور علماء امت جسمانی۔ ٢...... علماء امت رسول پاک ﷺ پر نبوت کو ختم سمجھیں اور آپ اور آپ کی جماعت نبوت کا اجرا بیان کریں۔ ٣...... جمہور مسلمان حشر ونشر جسمانی کے قائل ہیں اور آپ منکر۔ ٤...... پھر قرآن کی تفسیر آپ کی ١٣٥٠ سال کی اسلامی تفسیر کے خلاف ہے۔ باوجود اس کے کس منہ سے کہتے ہو کہ اور کوئی مخالفت نہیں؟ کیا محض دھوکہ دینے کی غرض سے جھوٹ بولنا جائز ہے۔ سبحان اللہ؟
٩٩...... ”یہ لوگ (مسلمان) نصوص صریحہ قرآن اور حدیث کو چھوڑ کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات کے قائل ہیں۔“
(ایام الصلح ص ٨٧ خزائن ج ١٤ ص ٣٢٣)
ابوعبیدہ: مرزا قادیانی خود اور اس کی جماعت صدی کے سرے پر مجدد کی بعثت ضروری قرار دیا کرتے ہیں۔ گذشتہ تیرہ صدیوں کے مجددین کی فہرست جو عسل مصفیٰ حصہ اوّل ص ١٦٥۔١٦٤ پر آپ کے حواری نے درج کی ہے۔ وہ سب کے سب حیاتِ عیسیٰ علیہ السلام کے قائل ہیں۔ پھر حضرت ابن عباسؓ جن کو آپ اوّل درجہ کا مفسر مانتے ہیں۔ وہ بھی حیات عیسیٰ علیہ السلام کے قائل ہیں۔
(کنز۔ درمنثور۔ ابن کثیر۔ ابن جریر)
١٠٠۔١٠١۔١٠٢...... ”ہم (مرزا قادیانی) بموجب نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ متذکرہ بالا کے اور اجماع آئمہ اہل بصارت کے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کے قائل ہیں۔“
(ایام الصلح ص ٨٧ خزائن ج ١٤ ص ٣٢٣)
ابوعبیدہ: یہاں مرزا قادیانی نے تین جھوٹوں کا ارتکاب کیا ہے اور ذرا نہیں شرمائے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات پر نہ کوئی آیت، نہ حدیث اور نہ کوئی قول کسی مجدد امت کا پیش کر سکتے ہیں۔ کسی نے مرزا قادیانی سے نہ پوچھا کہ اجی حضرت اگر آپ کا یہ بیان صحیح ہے تو ٥٢ سال تک آپ نصوص قرآنیہ و حدیثیہ و اجماع آئمہ اہل بصارت کے خلاف کیوں حیات مسیح اور نزول جسمانی کے قائل رہے؟ معلوم ہوا۔ سب کچھ صاحب الغرض مجنون کا نتیجہ ہے۔
١٠٣...... ”فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِىْ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات پر نصِ صریح ہے۔“
(ایام الصلح ص ٨٨ خزائن ج ١٤ ص ٣٢٣)
ابوعبیدہ: کذب صریح ہے۔ نمبر ١٠١، ١٠٢ کا جواب ملاحظہ ہو۔ نیز مرزا قادیانی اگر یہ آیت وفاتِ مسیح پر نصِ صریح ہے تو ہمیں بتاؤ کہ نص صریح کے منکر کے حق میں جناب کا کیا فتویٰ ہے؟ آپ ٥٢ سال تک نصِ صریح کے منکر رہے۔ پھر لطف یہ کہ منکر
قرآن ہو کر ١٢ سال تک مجدد بھی بنے رہے۔ مستزاد یہ کہ اگر یہ نص صریح ہے تو پھر جناب کو نص صریح پر کیوں یقین نہ آیا کیونکہ آپ نے اپنا عقیدہ حیات مسیح کا الہام کی بنا پر تبدیل کیا تھا۔
(دیکھو ازالہ ص ٥٦١ خزائن ص ٤٠٤ نیز نمبر ٦٤)
١٠٤...... ”وہ (یہود) بھی اس بات کے قائل ہو گئے ہیں کہ یہ نسخہ (مرہم عیسیٰ) حضرت عیسیٰؑ کی چوٹوں کے لیے بنایا گیا تھا۔“
(ایام الصلح ص ١١٠ خزائن ج ١٤ ص ٣٤٨)
ابوعبیدہ: جھوٹ۔ اگر سچے ہو تو کسی معتبر یہودی کی شہادت پیش کرو۔
١٠٥-١٠٤...... ”نصرانی طبیبوں کی کتابوں اور مجوسیوں اور مسلمان طبیبوں اور دوسرے تمام طبیبوں نے جو مختلف قوموں میں گزرے ہیں۔ اس بات کو بالاتفاق تسلیم کر لیا ہے کہ یہ نسخہ حضرت عیسیٰؑ کے لیے بنایا گیا تھا۔“
(ایام الصلح ص ١١٠ خزائن ج ١٤ ص ٣٤٨)
ابوعبیدہ: جس قدر طبیب دنیا میں گزرے ہیں۔ اتنے ہی جھوٹوں کا ارتکاب مرزا قادیانی نے کیا ہے۔ میں نے صرف ٥ کے بیان پر ہی اکتفا کیا ہے۔ کسی مستند کتاب سے مرزا کے اس بیان کی تصدیق ممکن نہیں۔ سب افتراء ہے۔ مرزا کو مطلب براری سے کام تھا جو کچھ دل میں آیا۔ لکھ دیا۔ اس خیال سے کہ کون تحقیق کرے گا مگر یہ توقع مرزا اپنے مریدین یا احمقوں ہی سے رکھ سکتے ہیں۔
١١٠...... ”چنانچہ ان مختلف فرقوں کی کتابوں میں سے ہزار کتاب ایسی پائی گئی ہے۔ جن میں یہ نسخہ معہ وجہ تسمیہ درج ہے۔“
(ایام الصلح ص ١١١ خزائن ج ١٤ ص ٣٤٨)
ابوعبیدہ: ہزار نہیں۔ صرف دس کتابیں ہی ایسی دکھاؤ۔ جن میں اس کی وجہ تسمیہ یہ لکھی ہو کہ یہ مرہم حضرت عیسیٰؑ کے زخموں کے لیے بنائی گئی تھی۔ اگر اتنا بھی نہ کر سکو اور یقیناً نہیں کر سکو گے تو کیوں نہیں ڈرتے جھوٹ بولنے سے۔
١١١...... ”اور خدا تعالیٰ کے فضل سے اکثر وہ کتابیں ہمارے کتب خانہ میں ہیں۔“
(ایام الصلح ص ١١١ خزائن ج ١٤ ص ٣٤٨)
ابوعبیدہ: یہ بھی جھوٹ ہے۔ اگر واقعی آپ کے کتب خانہ میں اکثر وہ کتابیں موجود ہیں تو ہمارا مطالبہ مندرجہ بالا نمبر ١١٠ پورا کر دو جو صرف ١٠ کتابوں پر مبنی ہے۔ حالانکہ (١٠٠٠) ہزار کا ”اکثر“ تو سینکڑوں تک جاتا ہے۔
١١٢...... ”اللہ تعالیٰ بھی قرآن شریف میں فرماتا ہے۔ وَمَا قَتَلُوْهُ يَقِيْنًا (النساء ١٥٧) یعنی یہود قتل مسیح کے بارہ میں ظن میں رہے اور یقینی طور انھوں نے نہیں سمجھا کہ درحقیقت ہم نے قتل کر دیا۔“
(ایام الصلح ص ١١٤ خزائن ج ١٤ ص ٣٥٢)
٣٧
ابوعبیدہ: اللہ تعالیٰ تو قتل مسیح کے اعتقاد کی وجہ سے یہود کو ملعون قرار دے رہے ہیں۔ (پڑھو ساری آیت) اور آپ اس کا رد کر رہے...... ہیں۔ سبحان اللہ ۔
١١٣...... ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع کا خصوصیت کے ساتھ اس لیے ذکر کیا گیا کہ یہودی لوگ آپ کے رفع روحانی سے سخت منکر تھے۔“ (ایام الصلح ص ١١٦ خزائن ج ١٤ ص ٣٥٣)
ابوعبیدہ: نہیں صاحب لوگوں کو دھوکہ نہ دیجئے ۔ اس کی وجہ قرآن کریم میں تو یہ لکھی ہے۔ وقولهم انا قتلنا المسيح عيسى ابن مریم یعنی ان کے (یہود کے) اس کہنے کے سبب (وہ مورد لعنت ہوئے) کہ باتحقیق ہم نے عیسیٰ ابن مریم کو قتل کر دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جواب دیا کہ نہیں ایسا نہیں بلکہ ہم نے ان کو اپنی (آسمان کی) طرف اٹھا لیا تھا۔ یہاں قتل اور رفع آپس میں مقابلہ پر مذکور ہیں۔ اگر روحانی مراد ہوتا تو کلام فضول ٹھہرتا ہے کیونکہ قتل اور رفع روحانی میں کوئی منافات نہیں۔
١١٤...... ”توریت میں لکھا ہے کہ جو شخص صلیب دیا جائے ۔ اس کا رفع روحانی نہیں ہوتا ۔“
(ایام الصلح ص ١١٦ خزائن ج ١٤ ص ٣٥٣)
ابوعبیدہ: جھوٹ ہے۔ نہ تو توریت کا یہ منشاء، جو آپ نے سمجھا ہے۔ نہ عقل اس کو مانتی ہے۔ کیا اگر کسی آدمی کو بیگناہ صلیب دیا جائے تو وہ شہید نہیں ہوگا اور قتل کرنے والا ملعون ہوگا نہ کہ مقتول ۔ مرزا قادیانی! آپ نے بھی سکھا شاہی مچا رکھی ہے۔ پھر لطف یہ کہ آپ کے خیال میں خدا بھی یہودیوں کے اس اصول کو مانتا ہے کہ جو آدمی بھی اگرچہ نبی ہی کیوں نہ ہو۔ صلیب دیا جائے گا۔ وہ ملعون ہوتا ہوگا۔ جناب! یہ آپ کا محض افتراء ہے توریت کی رو سے وہ مصلوب لعنتی ہوتا ہے۔ جس نے ارتکاب قتل کیا ہو۔ جناب عالی خود آپ نے اپنی کتاب ”کتاب البریہ“ میں لکھا ہے۔ ”بنی اسرائیل میں قدیم سے یہ رسم تھی کہ جرائم پیشہ اور قتل کے مجرموں کو بذریعہ صلیب ہی ہلاک کیا کرتے تھے۔“
(کتاب البریہ ص ٨١ خزائن ج ١٣ ص ٢٣٢)
١١٥...... ”اور اللہ تعالیٰ کو یہ منظور تھا کہ یہودیوں کے اس اعتراض (مصلوب لعنتی ہوتا ہے) کو دور کرے اور حضرت مسیح علیہ السلام کے رفع روحانی پر گواہی دے۔“
(ایام الصلح ص ١١٦ خزائن ج ١٤ ص ٣٥٣)
ابوعبیدہ: مرزا قادیانی! میں تو جھوٹ کا لفظ لکھ لکھ کر تھک گیا ہوں۔ مگر حیران ہوں کہ آپ اتنی لمبی لمبی عبارتیں جھوٹی بنا بنا کر نہیں تھکتے۔ کیا آپ مجددین امت میں سے کسی ایک کی بھی تصدیق پیش کر سکتے ہیں؟ ہرگز نہیں۔
٣٨
١١٦...... ”سو اس گواہی کی غرض سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا يَاعِيْسَی إِنِّيْ مُتَوَفِّيْكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا.“
(ایام الصلح ص ١١٦ خزائن ص ٣)
ابوعبیدہ: مرزا قادیانی! آپ کو خدا کی وکالت کا حق کیسے حاصل ہوا جبکہ وہ خود فرماتے ہیں۔ وَمَكَرُوْا وَمَكَرَ اللّٰهُ وَاللّٰهُ خَيْرُ الْمَاكِرِيْنَ. اِذْ قَالَ اللّٰهُ يَاعِيْسَی الخ یعنی یہود نے ایک تدبیر کی تھی (قتل مسیح کی) اور اللہ تعالیٰ نے تدبیر کی (ان کے بچاؤ کی) اور اللہ تعالیٰ سب سے زیادہ تدبیر کرنے والا ہے۔ (اور یہ تدبیر اس وقت کی) (جبکہ بطور تسلی و تشفی) فرمایا اللہ تعالیٰ نے ”اے عیسیٰ (گھبراؤ نہیں) میں تمہاری طبعی عمر پوری کر کے تمھیں طبعی وفات دوں گا اور سردست تمھیں آسمان پر اٹھانے والا ہوں اور کافروں کی صحبت سے پاک (علیحدہ) کرنے والا ہوں،“ اب بتلائیے مرزا قادیانی! یہ خدا کی گواہی آپ نے کیسے بنائی۔ اس میں مخاطب تو اللہ تعالیٰ کر رہے ہیں۔ حضرت مسیح ؑ کو اور کافروں کے مکر سے بچانے کی خوشخبری دے رہے ہیں۔ آپ اس کو گواہی کیسے بنا رہے ہیں۔ کہیں اس وقت مراق کا دورہ تو نہیں تھا؟
١١٧...... ”اس جگہ (نمبر ١١٥ کے مضمون میں) رفع جسمانی کی کوئی بحث نہ تھی۔“
(ایام الصلح ص ١١٦ خزائن ج ١٤ ص ٣٥٤)
ابوعبیدہ: سبحان اللہ مرزا قادیانی! اس سے بڑھ کر اور کونسا محل ہوگا۔ یہود کہتے ہیں کہ ہم نے مسیح ؑ کو قتل کر دیا تھا۔ اللہ تعالیٰ ان کے اس قول کو کفر اور باعث لعنت قرار دے کر اس کی تردید کر رہے ہیں۔ کیا رفع روحانی بیان کر دینے سے یہود کے بیان (یعنی انھوں نے مسیح کو قتل کر دیا تھا) کی تردید ہو سکتی ہے۔ ہرگز نہیں کیونکہ رفع روحانی قتل کے منافی نہیں۔
١١٨...... ”اور یہودیوں کے عقیدہ میں یہ ہرگز داخل نہیں کہ جس کا رفع جسمانی نہ ہو۔ وہ نبی یا مومن نہیں ہوتا۔ پس اس بیہودہ فیصلے کے چھیڑنے کی کیا حاجت تھی۔“
(ایام الصلح ص ١١٦ خزائن ج ١٤ ص ٣٥٤)
ابوعبیدہ: حضرات! مرزا قادیانی حیات مسیح کے بیان کو بیہودہ قرار دے رہے ہیں۔ ایک مسلمہ اسلامی عقیدہ کو بیہودہ قرار دینا مرزا قادیانی ہی کی شان ہے۔ مگر میں مرزا قادیانی اور ان کی جماعت سے پوچھتا ہوں کہ جب یہود کے نزدیک جس کا رفع روحانی ہو جائے۔ وہ ضرور مومن ہوتا ہے۔ پھر یہ رفع جسمانی و روحانی دونوں ہو جائیں۔ کیا اس کو مومن نہیں مانیں گے۔ کیوں نہیں۔ بلکہ وہ تو ضرور بضرور اور بدرجہ اولیٰ مومن ہوگا۔
٣٩
پس مسیح کا رفع جسمانی ماننے سے مرزا قادیانی کا بیان کردہ یہودیوں کا اعتراض اور اللہ تعالیٰ کا بیان کردہ افتراء یہود (انا قتلنا المسیح) بھی دور ہو گیا۔ فتدبروا یااولی الابصار مرزا قادیانی! اب سمجھ آئی کہ یہ قصد بیہودہ نہیں تھا اور اس کے چھیڑنے کی کیا حاجت تھی۔
١١٩...... ”دنیا کے قریب تمام طبیب مرہم عیسیٰ کا نسخہ اپنی کتابوں میں لکھتے آئے ہیں اور یہ بھی تحریر کرتے آئے ہیں کہ یہ مرہم جو چوٹوں اور زخموں کے لیے نہایت درجہ فائدہ مند ہے۔ یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لیے بنائی گئی تھی۔“
(ایام الصلح ص ١١٨ خزائن ص ٣٥٦)
ابوعبیدہ: صریح جھوٹ ہے۔ ایک بھی مستند طبیب نے ایسا نہیں لکھا ہے۔ مفصل دیکھو جھوٹ نمبر ١٠٥۔
١٢٠...... ”شہر سری نگر محلہ خانیار میں ان کا (عیسیٰ علیہ السلام کا) مزار ہے۔“
(ایام الصلح ص ١١٨ خزائن ج ١٤ ص ٣٥٦)
ابوعبیدہ: مرزا قادیانی! میرا دل چاہتا ہے کہ کوئی بیان تو آپ کا صحیح نکلتا مگر افسوس کہ ایک بیان بھی ایسا نظر نہ آیا۔ ہر ایک میں جھوٹ اور دھوکہ سے کام لیا گیا ہے۔ دیکھئے ”اتمام الحجۃ“ ص ٢٠ خزائن ج ٨ ص ٢٩٩ حاشیہ پر آپ ہی لکھتے ہو۔ ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر بلدۂ قدس کے گرجا میں ہے اور اب تک موجود ہے اور اس پر ایک گرجا بنا ہوا ہے اور وہ گرجا تمام گرجاؤں سے بڑا ہے۔ اس کے اندر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر ہے۔“
١٢١...... ”اور وہ لوگ کہتے ہیں کہ انیس سو برس اس نبی کے فوت ہونے پر گزرے ہیں۔“
(ایام الصلح ص ١١٨ خزائن ج ١٤ ص ٣٥٦)
ابوعبیدہ: جھوٹ محض ہے۔ مرزا قادیانی کے مریدین یا نمک خور کہتے ہوں گے۔ کوئی تاریخی ثبوت نہیں۔ مرزا قادیانی آپ تو احادیث صحیحہ کو بھی ان بعض الظن اثم کا مصداق قرار دیتے ہیں۔ یہاں کسی شاطر مرید کے کہنے پر یقین کر رہے ہو۔ واہ رے آپ کی مسیحیت، یہی حکم عادل کی شان ہوا کرتی ہے؟ خدا پناہ میں رکھے۔ ایسے مسیح و مہدی سے۔
١٢٢...... ”(الہام مرزا قادیانی) انہ اوی القریۃ اب تک اس کے معنی میرے پر نہیں کھلے۔“
(ایام الصلح ص ١٢١ حاشیہ خزائن ج ١٤ ص ٣٦١)
ابوعبیدہ: مرزا قادیانی! اس کے معنی پھر یہ ہیں کہ یہ الہام شیطانی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ تو نعوذ باللہ ایسے بے وقوف نہیں ہو سکتے کہ اپنے ملہم کو ایسا الہام کرے جس کو وہ سمجھ
٤٠
ہی نہ سکے کیونکہ خود بدولت اپنی کتاب چشمہ معرفت میں لکھتے ہیں۔ ”اور یہ بالکل غیر معقول اور بے ہودہ امر ہے کہ انسان کی اصل زبان تو کوئی ہو اور الہام اس کو کسی اور زبان میں ہو۔ جس کو وہ سمجھ بھی نہیں سکتا کیونکہ اس میں تکلیف مالایطاق ہے اور ایسے الہام سے فائدہ کیا ہوا جو انسانی سمجھ سے بالاتر ہے۔“ (چشمہ معرفت ص ٢٠٩ خزائن ج ٢٣ ص ٢١٨) مرزا قادیانی! آپ کا الہام عام انسانی سمجھ تو ایک طرف آپ جیسے زبردست ملہم کی سمجھ سے بھی بالاتر ہے۔ بتلائیے اب افتراء علی اللہ ثابت ہوا کہ نہ؟
١٢٣...... ”یقیناً اس وقت عیسائیوں نے مسیح کی الوہیت کے لیے یہ حجت بھی پیش کی ہوگی کہ وہ زندہ آسمان پر موجود ہے۔ لہٰذا اس کے رد میں خدا تعالیٰ کو خود مسیح کے اقرار کے حوالہ سے یہ کہنا پڑا۔ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِى كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِيْبَ عَلَيْهِمْ۔“
(ایام الصلح ص ١٣٨ حاشیہ خزائن ج ١٤ ص ٣٨٢)
ابوعبیدہ: دو جھوٹ ارشاد ہوئے ہیں۔ مگر میں سختی نہیں کرتا۔ چلیے دونوں کو ایک ہی شمار کر لیتا ہوں۔ قرآن موجود ہے۔ احادیث موجود ہیں۔ کتب تواریخ موجود ہیں۔ آپ کے یقین کو مجذوب کی بڑ ثابت کرنے کے لیے اتنا ہی کہنا کافی ہے کہ کسی طریقہ سے ثابت نہیں ہوتا کہ عیسائیوں نے مسیح کی الوہیت پر ایسی لچر دلیل پیش کی ہو۔ عیسائیوں کا دماغ آپ کی طرح مراق کا شکار نہیں کہ ایسی بودی بودی دلائل کو محمد رسول اللہ ﷺ کے سامنے پیش کرتے۔ پھر میں جناب قادیانی سے پوچھتا ہوں کہ کیا کہیں مسیح کا اقرار فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِى کتب تواریخ یا کتب مقدسہ انجیل وغیرہ میں موجود ہے کہ اس کو بطور حجت کے پیش کر رہا ہے۔ جب عیسائی سرے سے رسول کریم ﷺ کو ملہم من اللہ ہی نہیں مانتے تھے تو اس دلیل کو آپ ﷺ کس طرح بطور وحی پیش کر سکتے تھے۔ مستزاد برآں کہ تمام مفسرین اسلام رسول پاک ﷺ سے لے کر آج تک اس کے معنی یہی کرتے آئے ہیں۔ ”جب تو نے مجھے اپنی طرف اٹھا لیا۔“
تو وفات کا اقرار کہاں ہوا۔ یہ تو حیات کا اقرار ہے۔ لطف یہ کہ بقول مرزا قادیانی یہ ......
١٢٤...... ”پھر آیت وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُل سے موت (عیسیٰ علیہ السلام) ثابت ہوئی۔“ (ایام الصلح ص ١٣٩ خزائن ج ١٤ ص ٣٨٢)
ابوعبیدہ: مرزا قادیانی! ١٨٩٢ء سے پہلے ٥٢ سال تک بھی یہ آیت کبھی آپ نے پڑھی تھی؟ اگر پڑھی تھی اور ضرور پڑھی تھی تو پھر اس وقت اس کے خلاف کیوں
٤١
حضرت مسیح ؑ کو زندہ مانتے رہے۔ افسوس آپ کی مجددیت پر۔
آپ جیسے دھوکہ بازوں کا سدباب کرنے کے لیے خدا نے اس آیت میں مَاتَ (مرگئے) کا لفظ استعمال نہیں کیا۔ صرف خَلَتْ کا لفظ بیان فرمایا ہے تاکہ تمام ان لوگوں پر حاوی ہو سکے جو اس دنیا سے گزر گئے ہیں۔ خواہ بذریعہ موت یا بذریعہ رفع جسمانی۔ یقیناً یہاں خَلَتْ کا لفظ بجائے مَاتَ کے اس واسطے استعمال کیا گیا ہے کہ عیسیٰ ؑ موت سے اس وقت تک ہمکنار نہیں ہوئے ہیں۔
- ١٢٥....... ”ما المسيح ابن مريم الا رسول قد خلت من قبله الرسل سے موت (عیسیٰ ؑ) ثابت ہوئی۔“
(ایام الصلح ص ١٣٩ خزائن ج ١٤ ص ٣٨٤)
ابوعبیدہ: مرزا قادیانی! عقل و علم آپ کا کہاں ہے کہ اب بے تکی ہانکنے پر اتر آئے ہیں۔ اس آیت سے تو عیسیٰ ؑ بوقت نزول آیت (بزمانہ رسول کریم ﷺ) زندہ ثابت ہوتے ہیں۔ جیسا کہ ”ما محمد الا رسول قد خلت من قبله الرسل“ کے نزول کے وقت رسول پاک ﷺ زندہ تھے۔ صرف نام کا فرق ہے۔ باقی الفاظ وہی ہیں۔ عجیب انصاف ہے آپ کا۔ ایک میں موت اور دوسری میں حیات ثابت کر رہے ہیں۔
- ١٢٦....... ”پھر قرآن شریف کی آیت فِيهَا تَحْيَوْنَ سے موت ثابت ہوئی۔“
(ایام الصلح ص ١٣٩ خزائن ج ١٤ ص ٣٨٥)
ابوعبیدہ: کسی بھوکے سے کسی نے پوچھا تھا۔ دو دونی؟ اس نے کہا چار چار روٹیاں۔ سو مرزا قادیانی کو اپنی مسیحیت ثابت کرنے کے لیے ہر ایک آیت میں وفات مسیح ہی نظر آتی ہے۔ حالانکہ اس آیت کا وفات مسیح سے کچھ بھی تعلق نہیں۔
- ١٢٧....... ”پھر قرآن شریف کی آیت وَلَكُمْ فِى الْأَرْضِ مُسْتَقَرّ سے موت ثابت ہوئی۔“
(ایام الصلح ص ١٣٩ خزائن ج ١٤ ص ٣٨٥)
ابوعبیدہ: جواب جھوٹ نمبر ١٢٦ ملاحظہ ہو۔
- ١٢٨....... ”پھر آیت رَفَعَهُ اللّٰهُ اِلَيْهِ سے موت ثابت ہوئی۔“
(ایام الصلح ص ١٣٩ خزائن ج ١٤ ص ٣٨٥)
ابوعبیدہ: مرزا قادیانی! آپ کی جماعت تو میدان میں آپ کے جھوٹوں کا جواب نہیں دیتی مگر انشاء اللہ روزِ محشر دربار رب العالمین کے سامنے ان جھوٹوں کی صحت کا آپ سے مطالبہ کروں گا۔ اس آیت سے تمام صحابہ، تمام آئمہ مجتہدین، علماء مفسرین اور مجددین مسلمہ قادیانی تو حیات مسیح کا عقیدہ رکھیں۔ آپ ہیں کہ غالباً مراق کی وجہ
٤٢
سے حیات کو موت کے معنوں میں لے رہے ہیں۔
١٢٩......”تم ایک بھی ایسی آیت نہ پیش کرسکو گے۔ جس میں کسی انسانی گروہ کو خَلَتْ کا مصداق قرآن نے ٹھہرایا ہو اور پھر اس آیت کے معنی موت نہ ہوں بلکہ کچھ اور ہوں۔“
(ایام الصلح ص ١٣٩ حاشیہ خزائن ج ١٤ ص ٣٨٤)
ابوعبیدہ: مرزا قادیانی! دو آیتیں تو مجھے بھی یاد ہیں۔
- ١...... واذا خلا بعضهم الی بعض. (سوره بقره ٧٦)
- ٢...... واذا خلو الیٰ شیطینھم. (بقرۃ ١٤)
مزہ جب ہے کہ یہاں مرزا قادیانی! یا اس کی جماعت خلا کے معنی موت کر کے دکھائے۔ حالانکہ خلا یہاں مرزا قادیانی کی شرط کے ماتحت انسانی گروہ کے واسطے آیا ہے۔
١٣٠......”پھر کانا یاکلان الطعام سے موت ثابت ہوئی۔“
(ایام الصلح ص ١٤٠ خزائن ج ١٤ ص ٣٨٥)
ابوعبیدہ: مرزا قادیانی! کب معلوم ہوئی ہے۔ ١٨٩٢ء کے بعد نا۔ پہلے کیوں معلوم نہ ہوئی۔ شاید پہلے آپ کو ان کی موت کی ضرورت نہ تھی۔ ہائے خودغرضی تیرا ستیاناس
١٣١......”پھر آیت وَ اَوْصَانِیْ بِالصَّلٰوۃِ وَ الزَّکٰوۃِ مَادُمْتُ حَيًّا سے موت ثابت ہوئی۔“
(ایام الصلح ص ١٤٠ خزائن ج ١٤ ص ٣٨٥)
ابوعبیدہ: مرزا قادیانی اور نہیں تو علم ہی کا شرم کیجئے۔ مراق کا غلبہ ہے۔ ورنہ اس آیت کا وفاتِ مسیح سے کوئی تعلق نہیں۔ آپ کے اپنے ایجاد کردہ معنی قابل قبول نہیں۔ کسی مجدد مسلمہ کے معنی اپنی تصدیق میں پیش کیجئے۔
١٣٢......”اور ایسا ہی آیت وَمِنْ کُمْ مَنْ یُّتَوَفّٰی وَمِنْکُمْ مَنْ یُّرَدُّ اِلٰی اَرْذَلِ الْعُمُرِ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت ثابت ہوتی ہے۔“
(ایام الصلح ص ١٤٠ خزائن ج ١٤ ص ٣٨٥)
ابوعبیدہ: جھوٹ محض ہے۔ اس آیت کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے کوئی تعلق نہیں سکھا شاہی اچھی نہیں۔ ابھی تک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی عمر حضرت خضر علیہ السلام سے زیادہ تو نہیں۔ حالانکہ خضر علیہ السلام کو حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کی زندگی تک آپ بھی زندہ مانتے ہیں۔ (دیکھو ازالہ اوہام ص ٥ خزائن ج ٣ ص ٤٢٩) پر آپ نے اپنے خلیفہ اول کا مضمون نقل کیا ہے۔ اس میں حضرت خضر علیہ السلام زندہ تسلیم کیے گئے ہیں۔ جو دو ہزار سال سے بھی اوپر بنتے ہیں۔
٤٣
١٤٣....... ”ایسا ہی مَن نعمرہ ننکسہ فی الخلق سے حضرت عیسیٰ ؑ کی موت ثابت ہوتی ہے کیونکہ جب کہ بموجب تصریح اس آیت کے ایک شخص جو نوے یا سو برس تک پہنچ گیا ہو۔ اس کی پیدائش اس قدر اُلٹ دی جاتی ہے کہ تمام حواس ظاہریہ و باطنیہ قریب الفقدان یا مفقود ہو جاتے ہیں۔“
(ایام الصلح ص ١٤١ خزائن ج ١٤ ص ٣٨٦)
ابوعبیدہ : اوپر والے جھوٹ کا جواب مکرر پڑھ لیا جائے۔ باوجود اس کے کہ حضرت خضر ؑ دو ہزار سال سے بھی زیادہ عمر کے ہو چکے ہیں۔ ان کو مرزا قادیانی اور ان کے خلیفہ صاحب کیوں زندہ تسلیم کرتے ہیں؟
١٤٤....... ”اگر سچی گواہی دی جائے تو حضرت عیسیٰ ؑ کا وفات پانا تمام نبیوں کی وفات سے زیادہ تر ثابت ہے۔“
(ایام الصلح ص ١٤١ خزائن ج ١٤ ص ٣٨٧)
ابوعبیدہ : پھر آپ اس قدر تصریح کے بعد کیوں ٥٢ سال تک بزمانہ مجددیت اُنھیں زندہ آسمان پر مانتے رہے۔
(براہین احمدیہ ص ٤٩٨، ٥٠٥ خزائن ج ١ ص ٥٩٣-٦٠٢ )
١٤٥....... ”بہت سے نبیوں کی وفات کا خدا تعالیٰ نے ذکر بھی نہیں کیا۔“
(ایام الصلح ص ١٤١ خزائن ج ١٤ ص ٣٨٧)
ابوعبیدہ : مرزا قادیانی آپ کی زبان ہے یا کیا؟
(ازالہ اوہام ص ٣٤٧ خزائن ج ٣ ص ٢٧٧)
پر تو آپ لکھتے ہیں۔ ”اس بات کو تو پہلے قرآن شریف ہی بتصریح ذکر کر چکا ہے جبکہ اس نے صاف لفظوں میں فرما دیا کہ کوئی نبی نہیں آیا جو فوت نہ ہوا ہو۔“ اب بتلائیے کون سا بیان سچا ہے۔
١٤٦....... ”اس آیت میں بھی حضرت مسیح ؑ کی وفات کی طرف ہی اشارہ ہے اور وہ یہ ہے۔ والذین یدعون من دون اللّٰہ لا یخلقون شیئاً وہم یخلقون اموات غیر احیا وما یشعرون ایان یبعثون...... ظاہر ہے کہ قرآن شریف کا یہ فرمانا کہ تمام معبود غیر اللہ امواتٍ غیر احیاء ہیں۔ اس کا اوّل مصداق حضرت عیسیٰ ؑ ہی ہیں کیونکہ زمین پر سب انسانوں سے زیادہ وہی پوجے گئے ہیں۔“
(ایام الصلح ص ١٤٠-١٤١ خزائن ج ١٤ ص ٣٨٧)
ابوعبیدہ : حضرات! اس آیت کا حضرت مسیح ؑ کی حیات و ممات سے کوئی تعلق نہیں۔ ذرا نمبر ١٤٣ کا جواب پھر پڑھ لیں۔ دوسرے اگر اس آیت کا مصداق سب معبود ہیں تو کیا فرشتے بھی مردہ ہیں کیونکہ دنیا انھیں بھی پوجتی ہے۔ نیز جب فرعون کی پرستش کی جاتی تھی تو آیا وہ مردہ تھا۔ آج کل لاماؤں کی پرستش چین میں ہو رہی ہے۔ کیا وہ سب مردہ ہیں۔ پھر دیکھئے (سورۃ انبیاء ٨٩) میں اللہ تعالیٰ فرماتے
٤٤
ہیں ۔ مشرکین کو مخاطب کر کے ”انکم وما تعبدون من دون الله حصب جهنم الخ“ ”تم اور وہ معبودان غیر اللہ جن کی تم پوجا کرتے تھے دوزخ کا ایندھن ہو۔ تم اس میں داخل ہوؤ گے اور اگر یہ معبود تمھارے واقعی خدا ہوتے تو نہ پہنچتے اس میں اور وہ سب دوزخ میں ہی رہیں گے۔“
بولئے مرزا قادیانی! ذرا یہاں بھی وہی قانون چلائیے۔ آپ کے اصول کے مطابق تو نعوذ باللہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی دوزخ میں جائیں گے۔ جس دلیل سے آپ انھیں دوزخ سے الگ رکھیں گے۔ اسی دلیل سے وہ اموات سے باہر ہیں۔ فتدبر یا مرزا
- ١٣٧....... ”پھر ایک جگہ قرآن شریف میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو داخل بہشت ذکر فرمایا ہے۔
جیسا کہ فرماتا ہے۔ ”ان الذين سبقت لهم منا الحسنى اولئك عنها مبعدون لا يسمعون حسيسها وهم فی ما اشتهت انفسهم خالدون. یعنی جو لوگ ہمارے وعدے کے موافق بہشت کے لائق ٹھہر چکے ہیں۔ وہ دوزخ سے دور کیے گئے ہیں اور وہ بہشت کی دائمی لذات میں ہیں۔ تمام مفسرین لکھتے ہیں کہ یہ آیت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حق میں ہے۔“
(ایام الصلح ص ١٤٢ خزائن ج ١٤ ص ٣٨٨)
ابو عبیدہ : مرزا قادیانی! آیت کے الفاظ سے صاف ظاہر ہے کہ تمام وہ لوگ جو مومن ہیں بہشت میں داخل کیے جائیں گے۔ اس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تخصیص کہاں ہے؟
دوسرے آپ کو یہ بھی معلوم ہے کہ مبعدون، يسمعون اور خالدون استقبال کا فائدہ دیتے ہیں۔ آپ نے ماضی کے معنی کس اصول پر کیے ہیں۔ تیسرے آپ نے تمام مفسرین پر افتراء کیا ہے۔ میرا دعویٰ ہے کہ آپ کسی ایک مفسر کا بالخصوص مجدد مفسر کا قول اپنی تائید میں پیش نہیں کر سکتے۔ یہ آیت عام ہے۔ اس کا حکم عام ہے۔ اس آیت کی رو سے تو کروڑہا وہ انسان بھی بہشتی ہیں۔ جو ابھی پیدا بھی نہیں ہوئے۔ مگر خدا کے علم میں وہ بہشت کے لائق ٹھہر چکے ہیں۔ مگر آپ کے معنوں کی رو سے وہ بہشت میں چلے بھی گئے ہیں۔ گویا پیدا ہونے سے پہلے بھی بعض آدمی بہشت میں ہوتے ہیں اور بعض دوزخ میں۔ اس کا بیہودہ ہونا اظہر من الشمس ہے کیونکہ کسی کو پیدا ہونے سے پہلے بہشت یا دوزخ میں ڈالنا فضول ہے۔ پس آپ کے معنی بھی فضول ٹھہرے۔
- ١٣٨....... ”مردوں کے پاس وہی رہتا ہے جو مردہ ہوتا ہے۔“
(ایام الصلح ص ١٤٣ خزائن ج ١٤ ص ٣٨٨)
٤٥
وہ خود ہو مردہ تب وہ راہ پاوے
ابوعبیدہ: مرزا قادیانی! آپ کا سفید جھوٹ ہے۔ اس عبارت سے صرف ایک سطر اوپر آپ نے لکھا ہے۔ ”بخاری کی معراج کی حدیثوں میں حضرت عیسیٰ ؑ کو (آنحضرت ﷺ نے) معراج کی رات بزمرہ اموات دیکھا اور دوسرے عالم میں پایا۔“ کیا آنحضرت ﷺ بھی اس وقت نعوذ باللہ مردہ ہو گئے تھے۔ حالانکہ آپ نے خود تسلیم کیا ہے کہ ”قریباً تمام صحابہ آنحضرت ﷺ کے معراج جسمانی کے قائل تھے۔“
(ازالہ اوہام ص ٢٨٩ خزائن ج ٣ ص ٤٤٧)
کچھ بھی ہو۔ رسول کریم ﷺ اس وقت زندہ تھے۔ پھر جب زندہ تھے تو آپ کا اصول جھوٹ محض ہے۔
١٤٩....... ”اللہ تعالیٰ ہمیں صاف فرماتا ہے۔ فاسئلوا اھل الذکر ان کنتم لا تعلمون. یعنی ہر ایک نئی بات جو تمھیں بتلائی جائے۔ تم اہل کتاب سے پوچھ لو وہ تمھیں اس کی نظیر بتلائیں گے۔“
(ایام الصلح ص ١٤٤ خزائن ج ١٤ ص ٣٨٩)
ابوعبیدہ: مرزا قادیانی! کچھ تو حجاب چاہیے۔ ساری آیت یوں ہے۔ وما ارسلنا قبلک الا رجالاً نوحی الیھم فاسئلوا اھل الذکر ان کنتم لا تعلمون. (انبیاء ٧) جس کے معنی یہ ہیں۔ اے محمد ﷺ ہم تم سے پہلے بھی بنی آدم ہی کو رسول بنا کر بھیجتے رہے ہیں۔ (اے لوگو اگر تمھیں اس بارہ میں شک ہو) تو اہل کتاب سے اس بات کی تصدیق کر سکتے ہو کہ آیا گذشتہ رسول بنی آدم تھے یا نہ۔ آپ خواہ مخواہ جھوٹ اور غلط معنوں سے مطلب برآری کر رہے ہیں۔ تمام مسائل اہل کتاب سے پوچھنے کی ممانعت حدیث صحیح میں موجود ہے۔ حضرت عمرؓ نے ایک دفعہ توریت اور انجیل پڑھنے کی اجازت چاہی تھی تو دربار نبوت سے یہ جواب ملا تھا۔ ”لو کان موسٰی حیّاً لما وسعہ الا اتباعی“ (مشکوٰۃ ص ٣٠ باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ) ”یعنی اگر موسیٰ ؑ بھی اس وقت زندہ ہوتے تو وہ بھی میری ہی اطاعت کرتے۔“
پس مرزا قادیانی! آپ خواہ مخواہ اس آیت کا مطلب غلط بیان کر رہے ہیں۔
١٥٠....... ”لیکن اگر اس جگہ (حدیثوں میں) نزول کے لفظ سے یہ مقصود تھا کہ حضرت عیسیٰ ؑ آسمان سے دوبارہ آئیں گے تو بجائے نزول کے رجوع کہنا چاہیے تھا کیونکہ جو شخص واپس آتا ہے اس کو زبان عرب میں راجع کہا جاتا ہے۔“
(ایام الصلح ص ١٤٦ خزائن ج ١٤ ص ٣٩٢)
٤٦
ابوعبیدہ: یہاں مرزا قادیانی کا مطلب صاف ہے کہ رجوع کا لفظ کسی حدیث میں نہیں آیا۔ اگر آیا ہو تو پھر مرزا قادیانی ضرور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا دوبارہ جسمانی نزول مان لیں گے اور اپنا جھوٹ بھی تسلیم کر لیں گے۔ لیجئے صاحب سنئیے! (تفسیر ابن کثیر جز ٢ ص ١٥١) میں امام حسن بصریؒ سے ایک مرفوع حدیث روایت کی گئی ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں۔ قال رسول اللہ ﷺ لليهود ان عيسى لم يمت وانه راجع اليكم قبل يوم القيامة ”فرمایا رسول اللہ ﷺ نے یہود سے کہ تحقیق ابھی تک عیسیٰ علیہ السلام فوت نہیں ہوئے اور وہ تمہاری طرف قیامت سے پہلے واپس آئیں گے۔“ دیکھ لیا مرزا قادیانی! آپ نے اپنے جھوٹ کا ثبوت۔ ابن کثیر کو آپ کی جماعت مجدد صدی ششم مانتی ہے۔ عسل مصفیٰ حصہ اوّل ص ١٦٤-١٦٣ اور امام حسن بصریؒ بیسوں مجددین کے پیر تھے۔ لہذا ایسی حدیث کو آپ ضعیف بھی نہیں کہہ سکتے۔
١٤١...... ”ہمارے نبی ﷺ کا خاتم الانبیاء ہونا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت کو ہی چاہتا ہے۔“
(ایام الصلح ص ١٤٦ خزائن ج ١٤ ص ٣٩٢)
ابوعبیدہ: مرزا! آپ نے اپنی کتاب (براہین احمدیہ حصہ ٥ ص ٨٦ خزائن ج ٢١ ص ١١٣) پر لکھا ہے ”کہ میں اپنے ماں باپ کے لیے خاتم الولد ہوں۔“ تو کیا اس سے آپ کا یہ مطلب تھا کہ جناب کی پیدائش سے آپ کے بہن بھائی سب مر گئے۔ یا یہ کہ آپ کے بعد کوئی اور لڑکا یا لڑکی آپ کے والدین کے ہاں پیدا نہ ہوا۔ یقیناً پچھلے معنی مراد ہیں۔ جیسا کہ خود آپ نے اس کے بعد اس کے معنی یہی لکھے ہیں تو پھر اسی طرح خاتم الانبیاء کے تشریف لانے سے ”پہلے نبیوں“ میں سے اگر کوئی موجود ہو تو اس کا مرنا لازم نہیں آتا۔
ہمارا تو عقیدہ یہ ہے کہ سابقہ نبیوں میں سے ایک کیا اگر سب کے سب بھی زندہ ہوں تو بھی ختم نبوت میں فرق نہیں آتا کیونکہ آپ ﷺ سب سے آخر نبی بنے۔ ہاں کسی اور آدمی کا رسول پاک ﷺ کے بعد ماں کے پیٹ سے پیدا ہو کر نبی بننا یہ ختم نبوت کے منافی ہے۔ جیسا کہ آپ کے بعد آپ کی (مرزا قادیانی کی) والدہ کے پیٹ سے کسی اور بچہ کا پیدا ہونا آپ کے خاتم الاولاد ہونے کے منافی ہے۔ تریاق القلوب میں آپ نے یوں لکھا ہے۔ ”میں ابھی لکھ چکا ہوں کہ میرے ساتھ ایک لڑکی پیدا ہوئی تھی جس کا نام جنت تھا اور پہلے وہ لڑکی پیٹ میں سے نکلی تھی اور بعد اس کے میں نکلا تھا اور میرے بعد میرے والدین کے گھر اور کوئی لڑکا یا لڑکی نہیں ہوا اور میں ان کے لیے خاتم الاولاد تھا۔“
(تریاق القلوب ص ١٥٧ خزائن ج ١٥ ص ٤٧٩)
اب ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی کے خاتم الاولاد ہونے سے ان کے سابقہ بہن بھائیوں کی موت لازم نہیں آتی بلکہ ان کی ماں کے پیٹ سے اولاد پیدا ہونے کا سلسلہ منقطع ہو گیا۔ اسی طرح خاتم النبیین کے معنی یہ ہیں کہ رسول پاک ﷺ کی بعثت کے ساتھ ہی نئے نبیوں کی پیدائش کا سلسلہ بند ہو گیا نہ کہ پہلے زندہ نبیوں کی موت کا باعث ہو گیا۔ آیت میثاق النبیین تو تمام نبیوں کی موجودگی میں حضرت رسول کریم ﷺ کی بعثت کو بھی ختم نبوت کے منافی نہیں بتلاتی بلکہ ان میں سے بعض کی زندگی کا ثبوت بہم پہنچاتی ہے۔ خود رسول پاک ﷺ نے فرمایا ہے کہ اگر ”موسیٰؑ زندہ ہوتے تو یقیناً میری اطاعت کرتے۔“ یہ نہیں فرمایا کہ اگر وہ زندہ ہوتے تو میرے آنے سے مر جاتے۔
فتدبر یا مرزا۔
- ١٤٢...... ”میں اس وقت اس شان (مرزا قادیانی کا آدھا حصہ عیسوی شان کا ہے اور آدھا
حصہ محمدی شان کا) کو کسی فخر کے لیے پیش نہیں کرتا۔ کیونکہ فخر کرنا میرا کام نہیں ہے۔“
(ایام الصلح ص ١٦٠ خزائن ج ١٤ ص ٤٠٨)
ابوعبیدہ: مرزا قادیانی آپ فخر کی تعریف تو کریں۔ پھر میں ثابت کرتا ہوں کہ فخر کیا۔ آپ تو فخار ہیں۔ کیا مندرجہ ذیل دعویٰ آپ نے نہیں کیے؟
- ١...... ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو۔ اس سے بہتر غلام احمد ہے۔
(دافع البلاء ص ٢٠ خزائن ج ١٨ ص ٢٤٠)
- ٢...... ”آج تم میں ایک ہے جو اس حسینؓ سے بڑھ کر ہے۔“ (دافع البلاء ص ١٣ خزائن ص ٢٣٣)
- ٣...... ”وہ پیالہ جو ہر ایک نبی کو خدا نے دیا ہے۔ وہ سب کا سب مجھ اکیلے کو دے دیا
اگرچہ دنیا میں نبی بہت گزرے ہیں مگر میں بھی معرفت میں کسی سے کم نہیں ہوں جو کوئی مجھے انبیاء سابقین کے ساتھ برابری کے دعویٰ میں جھوٹا سمجھے وہ لعنتی ہے۔“
(نزول المسیح ص ٩٩ خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)
- ٤...... ”اس کے (رسول پاک ﷺ) لیے چاند کے خسوف کا نشان ظاہر ہوا اور میرے
لیے چاند اور سورج دونوں کا۔ ان کے معجزات میں سے معجزانہ کلام بھی تھا۔ اسی طرح مجھے وہ کلام دیا گیا۔ جو سب پر غالب ہے۔“
(اعجاز احمدی ص ٧١ خزائن ج ١٨ ص ١٨٣)
- ٥...... ”مجھ میں اور تمھارے حسین (مرزا قادیانی کے کچھ نہیں لگتے) میں بہت فرق ہے
کیونکہ مجھے تو ہر ایک وقت خدا کی تائید اور مدد مل رہی ہے مگر حسین پس تم دشت کربلا کو
یاد کرلو۔ اب تک روتے ہو۔ پس تم سوچ لو۔‘‘
(اعجاز احمدی ص ٦٩ خزائن ج ١٨ ص ١٨١)
٦...... ’’اور انھوں نے (لوگوں نے) کہا کہ اس شخص (مرزا قادیانی) نے امام حسن و حسینؓ سے اپنے تئیں اچھا سمجھا۔ میں (مرزا قادیانی) کہتا ہوں کہ ہاں اور میرا خدا عنقریب ظاہر کر دے گا۔‘‘
(اعجاز احمدی ص ٥٢ خزائن ج ١٨ ص ١٦٤)
٧...... ’’اینک منم کہ حسب بشارات آمدم۔ عیسیٰ کجا است تا بنہد پا بمنبرم۔‘‘
(ازالہ اوہام ص ١٥٨ خزائن ج ٣ ص ١٨٠)
دیکھئے مرزا قادیانی۔ فخر کے سر کیا سینگ ہوتے ہیں؟ امام حسن و حسینؓ سے افضل ہونے کا دعویٰ۔ تمام انبیاء علیہم السلام سے برابری کی رٹ۔ رسول پاک ﷺ کے ساتھ مساوات کا جن سوار ہے اور پھر کہتے ہیں۔ فخر کرنا میرا کام نہیں ہے۔ سبحان اللہ۔ برعکس نہند نام زنگی کافور۔
١٤٣...... ’’دنیا داروں اور دنیا کے کتوں کی نظر میں تو کوئی نبی بھی اپنے زمانہ میں وجیہہ نہیں ہوا۔‘‘
(ایام الصلح ص ١٦٤ خزائن ج ١٤ ص ٤١٢)
ابوعبیدہ: حضرت سلیمان ؑ جو تمام روئے زمین کے بادشاہ تھے۔ مرزا قادیانی! خود ہی تو حضرت مسیح ؑ کے متعلق بھی لکھتے ہو ’’بلکہ انجیل سے ثابت ہے کہ اکثر کفار کے دلوں میں بھی حضرت عیسیٰ ؑ کی وجاہت تھی۔‘‘
(ایام الصلح ص ١٦٦ خزائن ج ١٤ ص ٤١٤)
١٤٤...... ’’آپ لوگوں کے عقیدہ کے موافق (حضرت عیسیٰ ؑ) اپنی حالت اور مرتبہ سے متنزل ہو کر آئیں گے۔ امتی بن کے امام مہدی کی بیعت کریں گے۔ مقتدی بن کر ان کے پیچھے نماز پڑھیں گے۔ پس یہ کیا وجاہت ہوئی بلکہ یہ تو قضیہ معکوسہ اور نبی اولوالعزم (عیسیٰ ؑ) کی ایک ہتک ہے۔‘‘
(ایام الصلح ص ١٦٥ خزائن ص ٤١٢)
ابوعبیدہ: مرزا قادیانی! کیوں جھوٹ فرماتے ہو؟ آپ امتی ہو کر حضرت عیسیٰ ؑ سے افضل بن گئے۔ (دیکھو نمبر ١٤٢) تو اس میں حضرت عیسیٰ ؑ کی کوئی ہتک نہ ہو لیکن اگر رسولِ پاک ﷺ کی غلامی انھیں نصیب ہو اور وہ بھی ان کی اپنی درخواست پر تو آپ اس میں حضرت عیسیٰ ؑ کی ہتک ظاہر کریں۔ پھر خود آپ ریویو آف ریلیجنز ج ١٢ نمبر ٥ ص ١٩٦ پر لکھتے ہیں۔ ’’حضرت عیسیٰ ؑ بھی اس آیت (آیت میثاق) کی رو سے ان مومنین میں داخل ہیں جو آنحضرت ﷺ پر ایمان لائے۔‘‘
٤٩
نیز پھر آیت میثاق تو تمام نبیوں کو حضرت رسول پاک ﷺ کا امتی ہونا قرار دے رہی ہے۔ اس واسطے رسول پاک ﷺ تو پہلے ہی سے نبی الانبیاء ہیں۔ خاص کر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے متعلق تو رسول کریم ﷺ کا ارشاد ہے۔ اگر موسیٰ علیہ السلام زندہ ہوتے تو وہ بھی میری ہی اطاعت کرتے تو کیا یہ ان کی ہتک ہوتی؟ مرزا قادیانی خدا آپ کے دھوکہ سے بچائے۔ پھر آپ (مرزا قادیانی) اپنے خیال میں نبی ہو کر اپنے امتی کے پیچھے پڑھتے رہے یا نہ۔
کیا پھر اس میں کبھی آپ نے اپنی ہتک سمجھی؟ افسوس، نیز کیا خود رسول پاک ﷺ نے حضرات صحابہؓ کے پیچھے نماز نہ پڑھی تھی۔ پھر کیا اس سے رسول پاک ﷺ کی ہتک ہوئی تھی۔ خدا آپ کے دھوکہ سے بچائے۔
١٤٥....... ”اس پیش گوئی (آتھم ١٥ ماہ کے اندر مر جائے گا۔ بشرطیکہ وہ حق کی طرف رجوع نہ کرے) کی نسبت تو رسول اللہ ﷺ نے بھی خبر دی تھی اور مکذبین پر نفرین کی تھی۔“
(ایام الصلح ص ١٦٩ خزائن ج ١٤ ص ٤١٨)
ابوعبیدہ: ھذا بھتان عظیم۔ کوئی حدیث دنیا کی کسی کتاب میں موجود نہیں کہ آتھم مرزا قادیانی کے ساتھ مناظرہ کرے گا اور پھر مشروط طور ١٥ ماہ میں ہلاک ہو جائے گا۔ اگر کوئی قادیانی ایسی حدیث دکھائے تو ہم ایک ماہ کے لیے تردید مرزائیت ترک کر دیں گے۔
١٤٦....... ”وہ وقت آتا ہے بلکہ آچکا کہ جو لوگ آسمانی نشانوں سے جو خدا تعالیٰ۔ ١٤٧....... اپنے بندے کی معرفت ظاہر کر رہا ہے منکر ہیں۔ بہت شرمندہ ہوں گے اور تمام ١٤٨....... تاویلیں ان کی ختم ہو جائیں گی۔ ان کو کوئی گریز کی جگہ نہیں رہے گی۔ تب وہ جو سعادت سے کوئی حصہ رکھتے ہیں۔ وہ حصہ جوش میں آئے گا۔ وہ سوچیں گے کہ یہ کیا سبب ١٤٩-١٥٠....... ہے۔ کہ ہر ایک بات میں ہم مغلوب ہیں۔ نصوص کے ساتھ ہم مقابلہ نہیں کر سکے۔ عقل ١٥١-١٥٢....... ہماری کچھ مدد نہیں کرتی۔ آسمانی تائید ہمارے شامل حال نہیں۔ تب وہ پوشیدہ طور پر دعا کریں گے اور خدا تعالیٰ کی رحمت ان کو ضائع ہونے سے بچائے گی۔ خدا تعالیٰ نے مجھے خبر دے دی ہے کہ بہت سے اس جماعت میں سے ہیں۔ جو ابھی اس جماعت ١٥٣....... سے باہر اور خدا کے علم میں اس جماعت میں داخل ہیں۔“
(ایام الصلح ص ١٧٧ خزائن ج ١٤ ص ٢٦-٤٢٥)
٥٠
ابوعبیدہ: مرزا قادیانی کے یہاں ایک نہیں دو نہیں اکٹھے آٹھ نو جھوٹ ارشاد فرمائے ہیں۔ جن میں سے ہم صرف سات کی طرف توجہ کرتے ہیں۔
- ١٤٦...... مرزا قادیانی کی ”معرفت“ ایک بھی آسمانی نشان خدا تعالیٰ نے ان کی تائید میں
ظاہر نہ فرمایا۔ اگر ہمت ہو تو کوئی قادیانی انعام لینے کی سعی کرے۔
- ١٤٧...... ”منکر بہت شرمندہ ہوں گے“ الحمد للہ مرزا قادیانی کے منکروں کو خدا تعالیٰ نے
شرمندہ نہ کیا اور نہ کرے گا۔ دیکھئے ١...... حضرت مولانا مولوی رشید احمد صاحب گنگوہیؒ کی جماعت علمائے دیوبند کے نام سے تمام روئے زمین پر کام کر رہی ہے۔ ٢...... مولانا محمد علی مونگیریؒ ابھی کل فوت ہوئے ہیں اور آخر دم تک مرزا قادیانی کی تردید کرتے رہے۔ مولانا مولوی ثناء اللہ صاحب تو فاتح قادیاں کا لقب خود قادیانیوں کے مسلمہ ثالث سے لے چکے ہیں۔ مولانا مولوی محمد ابراہیم صاحب میر سیالکوٹی ابھی تک تردید مرزائیت میں منہمک ہیں۔ حضرت پیر جماعت علی شاہ صاحب علی پوری اور حضرت پیر مہر علی شاہ، صاحب گولڑہ شریف تاحال زندہ ہیں اور ہر لحاظ سے کامیاب ہیں۔ مولانا مولوی کرم دین رئیس بھین ضلع جہلم اور قاضی فضل احمد صاحب لدھیانوی برابر پورے زور سے تردید مرزائیت کر رہے ہیں۔ اسی طرح مولانا مولوی محمد اسماعیل علی گڑھی مولانا عبدالرحمٰن صاحب لکھوکی۔ مولانا پیر بخش صاحب لاہوری و منشی الٰہی بخش صاحب اکونٹنٹ لاہوری۔ جعفر زٹلی اور مولانا مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی، برابر مرزا قادیانی کی اس الہامی پیش گوئی کے خلاف دعاوی مرزا کا باطل ہونا ثابت کرتے رہے اور یہ یقینی بات ہے کہ اگر یہ حضرات اس چودھویں صدی کے احد من الثلاثین کے دعاوی کی حقیقت عالم میں آشکارا نہ کرتے تو ایک عالم کا عالم قادیانی دجل و فریب کا شکار ہو گیا ہوتا۔ انھیں کا اثر تھا کہ ڈاکٹر عبدالحکیم خاں آف پٹیالہ، مولوی کرم الدین بھین، منشی الٰہی بخش صاحب وغیرہم بیسیوں بڑے بڑے آدمی جو مرزا قادیانی کے دجل و فریب کا شکار ہو گئے تھے۔ پھر دائرہ اسلام میں داخل ہو گئے۔ عوام کالانعام اور آج کل کے سطحی عقل والے انگریزی خوانوں کے قبول مرزائیت کا اس جھوٹ کی صداقت سے کوئی تعلق نہیں۔
- ١٤٨...... نہ ہمارے علماء نے تاویل کی اور نہ ختم ہوئی۔ اسی کو کہتے ہیں برعکس نہند نام زنگی
کافور۔ مرزا قادیانی کی کسی کتاب کا کوئی صفحہ ایسا نہیں۔ جس میں تاویلات رکیکہ کا بحر بیکراں جوش نہ مار رہا ہو۔ اس پر لطف یہ کہ الٹا ہمارے علماء کو مؤول بتلاتے ہیں۔
- ١٤٩...... ہمارے علماء مبلغین میں سے کسی سے یہ ثابت نہیں ہو سکتا کہ انھوں نے اپنی
٥١
مغلوبیت کا کہیں اقرار کیا ہو بلکہ جہاں مناظرہ یا مباہلہ ہوا۔ مرزا قادیانی اور ان کی جماعت ہی کو فرار نصیب ہوا۔
- ١٥٠...... نصوص قرآنیہ ہمیشہ ہماری ہی مؤید رہی ہیں۔ کسی ربانی عالم مخالف مرزا نے آج
تک مرزا قادیانی کی پیشگوئی کا اقرار نہیں کیا۔
- ١٥١...... عقل بلکہ نقل دونوں ہمارے ساتھ ہیں۔ کسی نے اس کی تردید نہیں کی بلکہ زبان
حال اور واقعات یومیہ کہہ رہے ہیں کہ مرزائیت دجل و فریب کا ایک اڈہ ہے بلکہ عقل و خرد اور مرزائیت کا آپس میں تضاد اور مقابلہ ہے۔
- ١٥٢...... مرزا قادیانی کے سخت مخالف علماء اسلام کا ذکر نمبر ١٤٧ میں ہو چکا ہے۔ ان میں
سے کون کون سے حضرات نے مرزا قادیانی کی بیعت کی ہے۔
- ١٥٣...... اور اپنی توبہ کا اعلان کیا ہے۔ کہاں کہاں انھوں نے اپنے جرم (تردید
مرزائیت) سے توبہ کی ہے۔
دیکھا ناظرین! جھوٹ افتراء اور فریب کی بھی کوئی حد ہے۔ اسے کہتے ہیں۔
مرزا قادیانی باوجود خود شکست خوردہ ذلیل و خوار ہونے کے علماء اسلام کو ایسا ایسا ثابت کر رہے ہیں۔
کتاب ”شہادۃ القرآن“ کے جھوٹ
- ١٥٤...... ”اگر فرض کے طور پر حدیثوں کے اسنادی سلسلہ کا وجود بھی نہ ہوتا تاہم اس
سلسلۂ تعامل سے قطعی اور یقینی طور پر ثابت تھا کہ نماز کے بارے میں اسلام کی مسلسل تعلیم وقتاً بعد وقت اور قرناً بعد قرن یہی چلی آئی ہے۔“
(شہادۃ القرآن ص ٦ خزائن ج ٦ ص ٣٠٢)
ابوعبیدہ: یہاں مرزا قادیانی نماز اور حدیث کی باہمی بے تعلقی کا جو اعلان کر رہے ہیں وہ مخفی نہیں۔ اب ذرا تکلیف گوارا کر کے نمبر ٥١ کے جواب کو پھر پڑھ جائیے۔ حقیقت الم نشرح ہو جائے گی۔ وہاں اعلان کر رہے ہیں کہ ہم نماز کے احکام کے ثبوت کے لیے احادیث کے محتاج ہیں۔ سبحان اللہ و بحمدہ۔
- ١٥٥...... ”ونفخ فی الصور۔ صور پھونکنے سے اس جگہ یہ اشارہ ہے کہ اس وقت عادۃ
اللہ کے موافق خدا تعالیٰ کی طرف سے آسمانی تائیدوں کے ساتھ کوئی مصلح پیدا ہوگا۔“
(شہادۃ القرآن ص ١٥ خزائن ج ٦ ص ٣١١)
٥٢
ابو عبیدہ: بالکل صریح کذب اور افتراء علی اللہ ہے۔ نفخ صور کے یہ معنی اور مطلب نہ شارع ﷺ نے بیان کیا۔ نہ کسی صحابی نے نہ کسی امام نے اور نہ ہی کسی مجدد امت نے، یہ تفسیر محض ایجاد مرزا ہے اور بس۔
١٥٦...... ”سورۃ القدر کی تفسیر: اب دیکھنا چاہیے کہ خدا تعالیٰ نے اس سورۃ مبارکہ میں صاف اور صریح لفظوں میں فرمایا کہ جب کوئی مصلح خدا تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے تو ضرور دلوں کو حرکت دینے والے ملائکہ زمین پر نازل ہوتے ہیں۔ تب ان کے نزول سے ایک حرکت اور تموج دلوں میں نیکی اور راہِ حق کی طرف پیدا ہو جاتا ہے۔“
(شہادۃ القرآن ص ١٨ خزائن ج ٦ ص ٣١٤)
ابو عبیدہ: حضرات! یہ مرزا قادیانی کا جھوٹ اور تحریف کلام اللہ ہے۔ اس کا جواب بھی وہی ہے جو نمبر ١٥٥ میں مذکور ہے۔
١٥٧...... ”سورۃ زلزال کی تفسیر (اس سے مراد) نفس اور دنیا پرستی کی طرف لوگ جھک جائیں گے...... زمینی علوم اور زمینی مکر اور زمینی چالاکیاں...... سب کی سب ظہور میں آ جائیں گے...... زمین میں کانیں نمودار ہوں گی۔ کاشتکاری کی کثرت ہوگی۔ غرض زمین زرخیز ہو جائے گی۔ انواع و اقسام کی کلیں ایجاد ہوں گی۔“
(شہادۃ القرآن ص ١٩۔ ١٨ خزائن ج ٦ ص ٣١٤۔ ١٥)
ابو عبیدہ: اس تفسیر کا ایک ایک لفظ جھوٹ و مکر اور دجل و فریب کا مجسمہ ہے کیونکہ رسول پاک ﷺ سے لے کر اس وقت تک مجددین امت کے بیان کردہ معنی اور تفسیر ان معانی کے بالکل خلاف ہیں۔ یہ سورۃ نقشہ قیامت کھینچ رہی ہے۔ نہ کہ سائنس کے اکتشافات کو بیان کر رہی ہے۔ اس سورۃ کو مسیح موعود کے زمانہ سے متعلق کرنا ”دو دونے چار روٹیاں“ والی بات ہے۔
١٥٨...... ”اور جیسا کہ لکھا ہے کہ دجال نبوۃ کا دعویٰ کرے گا اور نیز خدائی کا دعویٰ بھی اس سے ظہور میں آئے گا۔ وہ دونوں باتیں اس قوم (نصاریٰ) سے ظہور میں آ گئیں۔“
(شہادۃ القرآن ص ٢٠ خزائن ج ٦ ص ٣١٦)
ابو عبیدہ: صریح جھوٹ ہے۔ ساری دنیا اس جھوٹ کی گواہ ہے۔ نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرنا تو مرزا قادیانی اور ان کی امت ہی کے لیے مقدر ہے یا ان کے ہم جنسوں کے لیے۔ اسی طرح خدائی کا دعویٰ بھی مرزا قادیانی ہی نے کیا۔ جیسا کہ فرماتے ہیں۔ ”انی رأیت فی المنام عین اللہ و تیقنت اننی ھو یعنی میں نے خواب میں دیکھا کہ میں خود خدا
٥٣
ہوں اور میں نے یقین کر لیا کہ میں وہی ہوں۔ آگے لکھا ہے۔ ”پھر ہم نے زمین و آسمان کو بنایا اور آدمؑ کو مٹی سے پیدا کیا۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٦٢ خزائن ج ٥ ص ایضاً)
- ١٥٩...... ”وَاِذَا العِشَارُ عُطِّلَتْ. اس میں ریل نکلنے کی طرف اشارہ ہے۔“
(شہادۃ القرآن ص ٢٢ خزائن ج ٦ ص ٣١٨)
- ١٦٠...... ”وَاِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتْ یعنی اشاعت کتب کے وسائل پیدا ہو جائیں گے۔ یہ
چھاپہ خانوں اور ڈاک خانوں کی طرف اشارہ ہے کہ آخری زمانوں میں ان کی کثرت ہو جائے گی۔“
(شہادۃ القرآن ص ٢٢ خزائن ج ٦ ص ٣١٨)
- ١٦١...... ”وَاِذَا النُّفُوسُ زُوِّجَتْ یہ تعلقات اقوام اور بلاد کی طرف اشارہ ہے۔ مطلب یہ
کہ آخری زمانہ میں بعض راستوں کے کھلنے اور انتظام ڈاک اور تار برقی کے تعلقات بنی آدم کے بڑھ جائیں گے۔ تجارت بڑھ جائے گی۔ دوستانہ تعلقات بڑھ جائیں گے۔“
(شہادۃ القرآن ص ٢٢ خزائن ج ٦ ص ٣١٨)
- ١٦٢...... ”وَاِذَا الْوُحُوشُ حُشِرَتْ. مطلب یہ کہ وحشی قومیں تہذیب کی طرف رجوع
کریں گی اور ان میں انسانیت اور تمیز آئے گی۔“
(شہادۃ القرآن ص ٢٢ خزائن ج ٦ ص ٣١٨)
- ١٦٣...... ”وَاِذَا الْبِحَارُ فُجِّرَتْ. یعنی زمین پر نہریں پھیل جائیں گی اور کاشتکاری کثرت
سے ہوگی۔“
(شہادۃ القرآن ص ٢٢ خزائن ج ٦ ص ٣١٨)
- ١٦٤...... ”وَاِذَا الْجِبَالُ نُسِفَتْ یعنی جس وقت پہاڑ اڑائے جائیں گے اور ان میں
سڑکیں پیادوں اور سواروں کے چلنے کی یا ریل کے چلنے کے لیے بنائی جائیں گی۔“
(شہادۃ القرآن ص ٢٢ خزائن ج ٦ ص ٣١٨)
- ١٦٥...... ”اِذَا الشَّمْسُ کُوِّرَتْ. یعنی سخت ظلمت جہالت اور معصیت کی دنیا پر طاری ہو
جائے گی۔“
(شہادۃ القرآن ص ٢٢ خزائن ج ٦ ص ٣١٨ ۔ ١٩)
- ١٦٦...... ”وَاِذَا النُّجُوْمُ انْکَدَرَتْ یعنی علماء کا نور اخلاص جاتا رہے گا۔“
(شہادۃ القرآن ص ٢٣ خزائن ج ٦ ص ٣١٨)
- ١٦٧...... ”وَاِذَا الْکَوَاکِبُ انْتَثَرَتْ یعنی ربانی علماء فوت ہو جائیں گے۔“
(شہادۃ القرآن ص ٢٣ خزائن ج ٦ ص ٣١٨)
- ١٦٨...... ”اِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ. اِذَا السَّمَاءُ انْفَطَرَتْ.
(شہادۃ القرآن ص ٢٣ خزائن ج ٦ ص ٣١٨)
ان آیات سے یہ مراد نہیں ہے کہ درحقیقت اس وقت آسمان پھٹ جائے
گا...... بلکہ مدعا یہ ہے...... کہ آسمان سے فیوض نازل نہیں ہوں گے اور دنیا ظلمت اور تاریکی سے بھر جائے گی۔“
١٦٩...... ”وَإِذَا الرُّسُلُ اُقِّتَتْ یہ اشارہ درحقیقت مسیح موعود کے آنے کی طرف ہے۔“
(شہادۃ القرآن ص ٢٣ خزائن ج ٦ ص ٣١٩)
ابوعبیدہ: نمبر ١٥٩ سے ١٦٨ تک کا جواب۔ رسول کریم ﷺ کی تفسیر صحابہؓ کی تفسیر، آئمہ اربعہ کی تفسیر، مجددین امت جن کو مرزا قادیانی اور ان کی جماعت بھی مجدد مانتے ہیں بلکہ ان کے مخالف کو فاسق اور فاجر کہتے ہیں ان کی تفسیر تو یہ ہے کہ یہ سب کچھ قیامت کے دن ہوگا۔ اگر مرزا قادیانی اپنی تفسیر میں سچے ہیں تو کوئی ایک ہی حدیث اس تفسیر کی تصدیق میں پیش تو کریں۔ وہ تو چل بسے۔ ان کی جماعت ہی کا کوئی آدمی ان آیات کی یہ تفسیر حدیث سے دکھا دے تو مرزا قادیانی سچے اور ہم جھوٹے۔ یہ تمام آیات یوم قیامت سے تعلق رکھتی ہیں۔ جیسا کہ علم عربی سے ادنیٰ واقفیت رکھنے والا بھی ان آیات کو قرآن کریم سے پڑھنے پر سمجھ سکتا ہے۔
١٧٠...... ”اور یاد رہے کہ کلام اللہ میں ”رسل“ کا لفظ واحد پر بھی اطلاق پاتا ہے۔“
(شہادۃ القرآن ص ٢٣ خزائن ج ٦ ص ٣١٨)
ابوعبیدہ: مرزا قادیانی کلام اللہ پر جھوٹ باندھ کر کہاں بھاگ سکتے ہو؟ اگر سچے ہوتے تو دو چار مثالیں ایسی پیش کر کے اپنے دعویٰ کو ثابت کیا ہوتا۔ جہاں تک میں نے تحقیق کی ہے۔ رسل کا لفظ کم و بیش ٩٥ دفعہ قرآن شریف میں وارد ہوا ہے۔ ہر جگہ جمع پر اطلاق پاتا ہے۔ آپ نے خواہ مخواہ جھوٹ سے کام نکالنے کی سعی کی ہے۔
١٧١...... ”دابۃ الارض کا ظہور میں آنا۔ یعنی ایسے واعظوں کا بکثرت ہو جانا جن میں آسمانی نور ایک ذرہ بھی نہیں اور صرف وہ زمین کے کیڑے ہیں۔ اعمال ان کے دجال کے ساتھ ہیں اور زبانیں ان کی اسلام کے ساتھ۔“
(شہادۃ القرآن ص ٢٥ خزائن ج ٦ ص ٣٢١)
(مرزا قادیانی یہ تو آپ نے اپنی اور اپنی جماعت کی واقعی تعریف کی ہے۔)
ابوعبیدہ: اس کا ثبوت بھی وہی ہے جو نمبر ١٦٨ کے بعد درج ہے۔
١٧٢...... ”انا ارسلنا الیکم رسولا شاهداً عليكم كما ارسلنا الی فرعون رسولا اب ظاہر ہے کہ کما کے لفظ سے یہ اشارہ ہے کہ ہمارے نبی ﷺ مثیل موسیٰ ؑ ہیں۔...... ظاہر ہے کہ مماثلت سے مراد مماثلت تامہ ہے نہ کہ مماثلت ناقصہ۔“
(شہادۃ القرآن ص ٢٦ خزائن ج ٦ ص ٣٢٢)
٥٥
ابو عبیدہ: مرزا قادیانی! ہر کسے را بہرے کارے ساختہ۔ دینی امور میں دخل دینا آپ کے بس کا کام نہ تھا۔ اگر کما سے مماثلت اور مماثلت بھی تامہ مراد ہوتی ہے تو پھر آپ بھی مثیل خدا ٹھہریں گے۔ جیسا کہ آپ کا الہام ہے الارض والسما معک کما ہو معی (ازالہ اوہام ص ٤٢٧ خزائن ج ٣ ص ٣٢٦) یعنی زمین و آسماں سے اے مرزا قادیانی! آپ کے ساتھ بھی ایسے ہیں۔ جیسے کہ میرے ساتھ۔‘‘ دوسرے اللہ تعالیٰ کلام اللہ میں فرماتے ہیں۔ وعد اللہ الذین امنوا منکم و عملوا الصلحت لیستخلفنہم فی الارض کما استخلف الذین من قبلہم۔ یہاں بھی اللہ تعالیٰ نے محمدی خلفاء کے لیے کما کا لفظ استعمال کیا ہے اور خلفائے موسیٰ علیہم السلام سے مماثلت ظاہر کی ہے۔ پھر آپ کے عقیدہ کے مطابق یہاں بھی مماثلت تامہ مراد ہے۔ پس اگر یہ صحیح ہے۔ تو خلفائے سلسلہ محمدیہ ﷺ بھی سب کے سب نبی ہونے چاہئیں کیونکہ خلفائے سلسلہ موسویہ کلہم نبی تھے۔ حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ تیسرے رسول پاک ﷺ نبی الانبیاء تھے۔ جیسا کہ خود آپ بھی (ریویو آف ریلیجنز جلد اوّل نمبر ٥ ص ١٩٦) پر تسلیم کرتے ہیں۔ پھر آپ خاتم النبیین تھے۔ علاوہ ازیں آپ تمام دنیا کی طرف مبعوث تھے۔ پھر تمام زمین آپ کے لیے مسجد قرار دی گئی۔ پھر آپ کی شان لولاک لما خلقت الافلاک تھی۔ پھر معراج محمدی تمام نبیوں پر حضور ﷺ کی ایک فضیلت تھی غرضیکہ آپ خیرالرسل بلکہ بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر کا مصداق تھے۔ اب بتائیے کہ حضور کو کسی دوسرے نبی کا مثیل اور مثیل تامہ کہنا یہ رسول کریم ﷺ کی ہتک نہیں تو اور کیا ہے؟
کما کی حقیقت تو اسی قدر ہے جو آپ کے الفاظ ہی میں یوں بیان کی جاسکتی ہے۔ (ازالہ اوہام ص ٧١ خزائن ج ٣ ص ١٣٨ کا حاشیہ) ’’ظاہر ہے کہ تشبیہات میں پوری پوری تطبیق کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ بسا اوقات ادنیٰ مماثلت کی وجہ سے بلکہ صرف ایک جزو میں مشارکت کے باعث سے ایک چیز کا نام دوسری چیز پر اطلاق کر دیتے ہیں۔‘‘ فرمائیے اب بھی اپنا جھوٹ ہونا تسلیم کرو گے۔ یا ابھی چون و چرا کی گنجائش ہے؟
- ١٧٤...... ’’صحیح بخاری کی وہ حدیثیں جن میں آخری زمانہ میں بعض خلیفوں کے نسبت خبر
دی گئی ہے۔ خاص کردہ خلیفہ جس کی نسبت بخاری میں لکھا ہے کہ آسمان سے اس کے لیے آواز آئے گی کہ ھذا خلیفۃ اللّٰہ المھدی اب سوچو کہ یہ حدیث کسی پایہ اور مرتبہ کی ہے جو ایسی کتاب میں درج ہے۔ جو اصح الکتب بعد کتاب اللہ ہے۔‘‘
(شہادۃ القرآن ص ٤١ خزائن ج ٦ ص ٣٣٧)
٥٦
ابوعبیدہ: مرزا قادیانی نے اس حدیث کو بخاری میں درج شدہ ظاہر کر کے کس قدر زور سے اس کی صحت کا یقین دلایا ہے۔ مگر یہ بھی مرزا قادیانی کے دجل و فریب کا ایک نمونہ ہے۔ بخاری شریف میں یہ حدیث اگر موجود ہو تو ہم مرزا قادیانی کی مسیحیت کے قائل ہونے کو تیار ہیں۔ ورنہ اے قادیانیت کے علم بردارو آؤ رسول عربی ﷺ کے جھنڈے کو مضبوطی سے پکڑ لو اور کسی ایرے غیرے گامے نتھو خیرے کی نبوت کو قبول نہ کرو۔
١٧٤...... ”چنانچہ توریت کی تائید کے لیے ایک ایک وقت میں چار چار سو نبی بھی آیا جن کے آنے پر اب تک بائبل شہادت دے رہی ہے۔“
(شہادۃ القرآن ص ٢٥ خزائن ج ٦ ص ٣٤١)
ابوعبیدہ: جھوٹ محض ہے۔ مرزا قادیانی کی ذہانت کے کیا کہنے ہیں۔ بائبل میں ایک جگہ ٤٠٠ جھوٹے نبیوں کا ذکر ہے۔ جن کے مقابلہ پر خدا کے سچے نبی مکایا علیہ السلام کو فتح نصیب ہوئی تھی۔ یہ ٤٠٠ نبی بعل بت کے پجاری تھے۔ مشرک لوگ ان پجاریوں کو خداوند کے نبیوں کے مقابلہ پر نبی کہا کرتے تھے۔ مرزا قادیانی اپنی ”نورِ نبوت“ سے ان مشرکوں کو نبی سمجھ بیٹھے ہیں۔
١٧٥...... ”اوّل نہایت تصریح اور توضیح سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کی خبر دی جیسا کہ آیت فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِى كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ سے ظاہر ہے۔“
(شہادۃ القرآن ص ٦٥ خزائن ج ٦ ص ٣٦١)
ابوعبیدہ: مرزا قادیانی کا جھوٹ محض اور صریح دھوکہ ہے۔ اگر نہایت تصریح و توضیح سے وفات عیسیٰ علیہ السلام کی خبر قرآن مجید میں موجود ہے تو پھر آپ نے براہین احمدیہ ص ٤٩٨ و ٥٠٥ خزائن ج ١ ص ٥٩٣۔٦٠٢ ملخص پر کیوں لکھا تھا کہ ”جب حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو باطل کو خس و خاشاک کی طرح مٹا دیں گے۔“ آپ پیدا ہوئے تھے۔ ١٨٤٠ء میں (دیکھو کتاب البریہ ص ١٥٩ خزائن ج ١٣ ص ١٧٧ حاشیہ) مجدد بنے ١٨٨٠ء میں اور آپ وفات مسیح کے قائل ہوئے ١٨٩٣ء میں۔ یعنی ٥٢ سال کی عمر میں یا مجدد بننے کے ١٢ سال بعد اور وہ بھی قرآنی دلیل سے نہیں بلکہ الہام کے زور سے عقیدہ میں تبدیلی کی گئی۔
کیا اس سے پہلے ٥٢ سال کی عمر میں اپنی مجددیت و محدثیت کے زمانہ میں آپ نے کبھی یہ آیت نہیں پڑھی تھی؟ اگر پڑھی تھی اور یقیناً پڑھی تھی تو کیوں آپ نے اپنے ”رسمی عقیدہ“ کو خدا کے حکم کے سامنے ترک نہ کیا؟ افسوس آپ کی مسیحیت پر۔
٥٧
١٧٦...... ”ایسا ہی پہلی کتابوں میں لکھا تھا کہ وہ نہیں آئے گا۔ جب تک ایلیا نبی دوبارہ دنیا میں نہ آئے۔“
(شہادۃ القرآن ص ٧١ خزائن ج ٦ ص ٣٦٧)
ابوعبیدہ: جھوٹ ہے۔ کسی کتاب میں ایسا لکھا ہوا نہیں ہے۔ کوئی قادیانی ایسا لکھا ہوا دکھا کر انعام لے۔ ورنہ مسلمان ہو جائے۔
١٧٧...... ”ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ عادۃً انسان میں اتنی پیش بندیوں کی طاقت نہیں کہ جو کام یا دعویٰ ابھی بارہ برس کے بعد ظہور میں آتا ہے پہلے ہی سے اس کی بنیاد قائم کی جائے۔“
(شہادۃ القرآن ص ٧٥ خزائن ج ٦ ص ٣٧١)
ابوعبیدہ: آپ کے پہلے بھائی (جھوٹے مدعیان نبوت) ہمیشہ ایسا کرتے رہے ہیں۔ تاریخ اسلام کے مطالعہ کرنے والے اس سے بخوبی آگاہ ہیں۔
١٧٨...... ”پھر تعجب پر تعجب یہ کہ خدا تعالیٰ نے ایسے ظالم مفتری کو اتنی لمبی مہلت بھی دے دے۔ جسے آج تک بارہ برس گزر چکے ہوں۔“
(شہادۃ القرآن ص ٧٥ خزائن ج ٦ ص ٣٧١)
ابوعبیدہ: کوئی تعجب کی بات نہیں۔ اللہ نے سب سے بڑے اور سب سے پہلے مفتری (شیطان) کو ہزارہا برس سے مہلت دے رکھی ہے۔ فرعون، نمرود، شدّاد جیسے مفتریوں کو وہ مہلت دی کہ مرزا قادیانی کو اس کی ہوا بھی نہیں لگی۔ خود مرزا قادیانی کے مریدوں میں سے کئی اس وقت مدعیانِ نبوت موجود ہیں۔ جن کو قادیانی جماعت مفتری سمجھتی ہے۔ مگر انھیں ٢٥ سال سے بھی زیادہ مہلت ملی ہوئی ہے۔ مثلاً عبداللہ تیماپوری، قمر الانبیاء، محمد فضل چنگا بنگیال وغیرہم۔
١٧٩...... ”(حضرت عیسیٰ ؑ کے معجزہ خلقِ طیر کے متعلق) جس طرح مٹی کے کھلونے انسانی کلوں سے چلتے پھرتے ہیں۔ وہ ایک نبی کی روح کی سرایت سے پرواز کرتے تھے۔“
(شہادۃ القرآن ص ٧٧ حاشیہ خزائن ج ٦ ص ٣٧٣)
ابوعبیدہ: مرزا قادیانی! تو معجزۂ خلقِ طیر کو روح عیسوی کی سرایت سے مٹی کے کھلونوں کا پرواز کرنا سمجھتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔
واتینا عیسیٰ ابن مریم البینات. (البقرۃ ٨٧) ”اور دیے ہم نے عیسیٰ ابن مریم کو صاف صاف معجزات۔“ پھر فرماتے ہیں۔ ویکون طيراً باذن اللہ. (آل عمران ٤٩) ”کہ وہ مٹی سے بنائی ہوئی عیسوی شکلیں خدا کے حکم کے ساتھ زندہ پرندے بن جاتے تھے۔“ اب کس کو سچا سمجھیں۔ آپ کو یا خدا کو۔ ”یقیناً آپ ہی جھوٹے ہیں۔ خدا تو
٥٨
جھوٹ سے منزہ ہے۔
١٨٠...... ”بے جان کا باوجود بے جان ہونے کے پرواز یہ بڑا معجزہ ہے“
(شہادۃ القرآن ص ٧٨ حاشیہ خزائن ج ٦ ص ٣٧٤)
ابوعبیدہ: پھر تو موجودہ سائنس کے تمام کرشمے معجزات انبیاء سے بڑھ گئے کیونکہ نہ صرف بے جان چیزیں (ہوائی جہاز، ریلوے انجن) خود پرواز اور حرکت کرتی ہیں بلکہ جانداروں کو بھی اڑائے پھرتی ہیں۔ مرزا قادیانی اپنی ہوش کی فکر کرو۔ بے جان کا جان دار بنانا یہ معجزہ ہے۔ جس سے انسان قاصر ہیں۔ ہاں نبی کے ہاتھ پر ان کی نبوت کی تصدیق میں یہ خدائی فعل سرزد ہوتے ہیں۔ مگر فاعل ان افعال کا خدا ہی ہوتا ہے۔ فتدبر یا مرزا۔
١٨١...... ”اور یہ کہنا کہ خدا تعالیٰ نے آپ ان کو خالق ہونے کا اذن دے رکھا تھا۔ یہ خدا تعالیٰ پر افتراء ہے۔“
(شہادۃ القرآن ص ٧٨ حاشیہ خزائن ج ٦ ص ٣٧٤)
ابوعبیدہ: خدا تعالیٰ پر افتراء نہیں بلکہ مرزا کی عقل کا رونا ہے۔ جب خود اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ باذن اللہ، باذن اللہ یعنی اللہ کے اذن سے وہ ایسا کرتے تھے تو آپ کا کیا منہ ہے کہ اس کو افتراء کہیں؟ ذرا مراق کا علاج کرائیے اور پھر بات کیجئے۔
١٨٢...... ”کتاب براہین احمدیہ جس کو خدا تعالیٰ کی طرف سے مؤلف نے ملہم و مامور ہو کر بغرض اصلاح و تجدید دین تالیف کیا ہے۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٣)
ابوعبیدہ: جھوٹ اور افتراء علی اللہ ہے۔ دیکھئے حیات عیسیٰ علیہ السلام کو آپ مشرکانہ عقیدہ قرار دیتے ہیں۔ (دافع البلاء ص ١٥ خزائن ج ١٨ ص ٢٣٥۔ الاستفتاء ص ٣٩ خزائن ج ٢٢ ص ٦٦٠ لیکن براہین احمدیہ ص ٩٩۔ ٤٩٨ اور ص ٥٠٥ خزائن ج ١ ص ٥٩٣۔٦٠٢) پر آپ نے نہایت شد و مد سے اپنا الہامی عقیدہ یہ ظاہر کیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ موجود ہیں اور دوبارہ نازل ہو کر کفار کو فنا کریں گے۔ اگر آپ کا موجودہ عقیدہ (وفات مسیح) درست ہے تو براہین والا عقیدہ شیطانی ہوا۔ پھر اس کو آپ خدا کی طرف سے ملہم و مامور ہو کر بغرض اصلاح و تجدید دین کیسے کہہ سکتے ہیں؟
١٨٣...... (براہین احمدیہ اپنی کتاب کے متعلق لکھتے ہیں) ”اس کتاب میں دین اسلام کی سچائی کو دو طرح پر ثابت کیا گیا ہے۔ اوّل...... تین سو مضبوط اور قوی دلائل عقلیہ سے جن کی شان و شوکت و قدر و منزلت اس سے ظاہر ہے کہ اگر کوئی مخالف اسلام ان دلائل کو توڑ دے تو اس کو دس ہزار روپیہ دینے کا اشتہار دیا ہوا ہے۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٣)
٥٩
ابوعبیدہ: کوئی قادیانی مضبوط اور قوی دلائل تین صد کی تعداد میں اگر براہین احمدیہ میں دکھا دے تو دس روپے مقررہ انعام کے علاوہ ایک روپیہ اور انعام خاص دیا جائے گا۔ تین صد تو ایک طرف، قادیانی تیس دلائل بھی نہیں دکھا سکتے۔
١٨٤....... ”اور مصنف کو اس بات کا بھی علم دیا گیا ہے کہ وہ (مرزا قادیانی) مجدد وقت ہے۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٤)
ابوعبیدہ: مرزا قادیانی! مجدد کے فیصلہ سے جو انکار کرتا ہے۔ وہ آپ کے عقیدہ قرآن کی رو سے فاسق بلکہ کافر ہوتا ہے۔ دیکھو اپنی کتاب شہادۃ القرآن ص ٢٨ خزائن ج ٦ ص ٣٤٢۔ نیز مجدد لوگ دین میں کمی بیشی نہیں کرتے۔ (دیکھو حوالہ سابقہ) ”مجددوں کو فہم قرآن عطا ہوتا ہے۔“ (ایام الصلح ص ٥٥ خزائن ج ١٤ ص ٢٨٨) مجددیت کا دعویٰ آپ نے ١٨٨٠ء میں کیا۔ ١٨٩٣ء تک آپ عیسیٰ ؑ کو زندہ بجسد عنصری آسمان پر مانتے رہے۔ بعد میں ١٨٩٢ء میں آپ نے اعلان کر دیا کہ حضرت مسیح ؑ فوت ہو چکے ہیں۔ حیات عیسیٰ ؑ کے عقیدہ کو شرک قرار دیا۔ پھر ١٩٠١ء تک آپ ختم نبوت کا عقیدہ رکھتے تھے۔ بعد میں آپ نے عقیدہ بدل کر خود دعویٰ نبوت کا کر دیا۔
(دیکھو حقیقۃ النبوۃ ص ١٢١، ١٢٠)
کیا جو شخص شرک اور نبوت جیسے اہم مسائل کو بھی نہ سمجھ سکے۔ وہ نبی یا مجدد ہو سکتا ہے۔ محض فریب ہے۔
١٨٥....... ”یہ سب ثبوت (مرزا قادیانی کے مجدد ہونے کے) کتاب براہین احمدیہ کے پڑھنے سے کہ جو مجملہ ٣٠٠ جزو کے قریب ٣٧ جزو چھپ چکی ہے۔ ظاہر ہوتے ہیں۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٤)
ابوعبیدہ: مرزا قادیانی! تین سو جزو تو محض پیسے بٹورنے کو لکھ دیا۔ ورنہ بتاؤ وہ تین صد جزو کہاں ہیں؟ یہ اعلان غالباً ١٨٨٢ء میں آپ نے کیا تھا۔ اس کے بعد دیگر کتابیں اور رسالے کثرت سے آپ نے شائع کیے تھے۔ وہ ٣٠٠-٣٧=٢٦٣ جزو براہین احمدیہ کے کہاں گئے۔ کیوں شائع نہ کیے؟ اگر شائع نہ کر سکے تو پرواہ نہیں۔ قادیانی حضرات ہمیں ٢٦٣ جزو کا مسودہ ہی دکھا دیں۔ ہم دس روپے دے دیں گے۔
”ضرورت الامام“ طبع دسمبر ١٩٢٢ء
١٨٦....... ”پہلے نبیوں کی کتابوں اور احادیث نبویہ میں لکھا ہے کہ مسیح موعود کے ظہور کے وقت یہ انتشار نورانیت اس حد تک ہوگا کہ عورتوں کو بھی الہام شروع ہو جائے گا اور نابالغ
٦٠
بچے نبوت کریں گے اور عوام الناس روح القدس سے بولیں گے اور یہ سب کچھ مسیح موعود کی روحانیت کا پرتو ہوگا۔“
(ضرورت الامام ص ٤ خزائن ج ١٣ ص ٤٧٥)
ابوعبیدہ: یہاں مرزا قادیانی نے بہت سے جھوٹ بولے ہیں۔ ”کتابوں“ تو ایک طرف کسی ایک ہی کتاب میں ایسا لکھا ہوا دکھا دیں تو ہم انعام دے دیں گے۔
١٨٧...... ”اویس قرنی کو بھی الہام ہوتا تھا۔ اس نے ایسی مسکینی اختیار کی کہ آفتاب نبوت و امامت کے سامنے آنا ہی سوء ادب خیال کیا۔“
(ضرورت الامام ص ٣ خزائن ج ١٣ ص ٤٧٤)
ابوعبیدہ: مرزا قادیانی! کیوں بے تکی ہانکے جاتے ہو۔ کہاں لکھا ہے کہ رسول پاک ﷺ کے ادب کے واسطے حاضر خدمت نہ ہوتے تھے۔ کیا رسول پاک ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونا بے ادبی ہے؟ بریں عقل و دانش بباید گریست۔ پھر تو سب صحابہ نعوذ باللہ بے ادب تھے۔ جو ہر وقت آپ کی خدمت میں حاضر رہنے کی کوشش کرتے تھے۔
١٨٨...... ”جبکہ ہمارے نبی ﷺ نے امام الزمان کی ضرورت ہر ایک صدی کے لیے قائم کی ہے اور صاف فرمایا ہے کہ جو شخص کہ اس حالت میں خدا تعالیٰ کی طرف آئے گا کہ اس نے اپنے زمانہ کے امام کو شناخت نہ کیا۔ وہ اندھا آئے گا اور جاہلیت کی موت مرے گا۔“
(ضرورت الامام ص ٤ خزائن ج ١٣ ص ٤٧٤)
ابوعبیدہ: حضرات! یہ حدیث ضرورۃ الامام کے ص ٢ پر لکھی ہے۔ دیکھو تو اس میں کہیں کوئی ایسا لفظ ہے۔ جس کے یہ معنی ہیں کہ ”وہ اندھا آئے گا“ ہرگز نہیں۔ یہ مرزا قادیانی کی تحریف ہے۔ جھوٹ ہے۔ افتراء ہے۔ دربارہ حدیث عرض ہے کہ آپ کا دماغ رسول پاک ﷺ کے مضامین سمجھنے سے قاصر ہے کیونکہ مراق مانع تفہیم ہے۔ مرزا قادیانی اپنا مراقی ہونا خود تسلیم کرتے ہیں۔ (دیکھو قادیانی اخبار ”البدر“ ٧ جون ١٩٠٦ء)
١٨٩...... ”جیسا کہ آنحضرت ﷺ کے ظہور کے وقت ہزاروں راہب ملہم اور اہل کشف تھے اور نبی آخر الزمان کے قرب ظہور کی بشارت سنایا کرتے تھے لیکن جب انھوں نے امام الزمان کو جو خاتم الانبیاء تھے قبول نہ کیا۔ تو خدا کے غضب کی صاعقہ نے ان کو ہلاک کر دیا اور ان کے تعلقات خدا تعالیٰ سے بکلی ٹوٹ گئے اور جو کچھ ان کے بارہ میں قرآن شریف میں لکھا گیا۔ اس کے بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہ وہی ہیں جن کے حق میں قرآن شریف میں فرمایا گیا۔
١٩٠...... وکانوا لیستفتحون من قبل اس آیت کے یہ ہی معنی ہیں کہ یہ لوگ خدا تعالیٰ
٦١
سے نصرت دین کے لیے مدد مانگا کرتے تھے اور ان کو الہام اور کشف ہوتا تھا۔‘‘
(ضرورت الامام ص ٥ خزائن ج ١٣ ص ٤٧٦۔٤٧٥)
ابوعبیدہ: اس عبارت میں مرزا قادیانی نے دو جگہ کذب بیانی بلکہ تحریف قرآن کا ارتکاب کیا ہے۔ وکانوا لیستفتحون من قبل کو ہزاروں راہبوں کے متعلق لکھا ہے۔ حالانکہ چھوٹے چھوٹے طالب علم بھی جانتے ہیں کہ راہب عیسائی تھے اور لیستفتحون کے فاعل یہود تھے۔ حضرات! یہ ہے مرزا قادیانی کی تفسیر دانی، علم و زہد و تقویٰ کہ آیت یہود کے متعلق ہے۔ مگر چسپاں اس کو کر رہے ہیں۔ عیسائی راہبوں پر۔ پھر اس آیت کے معنی کرنے میں جھوٹ بولا ہے۔ آیت کے کسی لفظ کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ان کو الہام اور کشف بھی ہوتا تھا حالانکہ مرزا قادیانی نے اس دعویٰ کو بطور ترجمہ آیت درج کیا ہے۔
نوٹ ...... پھر مرزا قادیانی نے آیت بھی غلط لکھی ہے۔ بمطابق یحرفون الکلم عن مواضعہ یعنی الفاظ کو اپنی جگہ سے ادھر اُدھر کر دیتے ہیں۔ اصل الفاظ قرآن شریف کے یوں ہیں۔ وکانوا من قبل یستفتحون اور مرزا قادیانی کی ایک ہی جنبش قلم سے یستفتحون من قبل ہو گیا۔
خدا کی کلام میں اصلاح کرنا مرزا قادیانی ہی کا کام ہے۔ سبحان اللہ و بحمدہ۔
١٩١....... ’’اگرچہ وہ یہودی جنھوں نے حضرت عیسیٰ ؑ کی نافرمانی کی تھی۔ خدا تعالیٰ کی نظر سے گر گئے تھے لیکن جب عیسائی مذہب بوجہ مخلوق پرستی کے مر گیا اور اس میں حقیقت و نورانیت نہ رہی تو اس وقت کے یہود اس گناہ سے بری ہو گئے کہ وہ عیسائی کیوں نہیں ہوتے۔ تب ان میں دوبارہ نورانیت پیدا ہوئی اور اکثر ان میں سے صاحب الہام اور صاحب کشف پیدا ہونے لگے اور ان کے راہبوں میں اچھے اچھے لوگ تھے۔‘‘
(ضرورت الامام ص ٥ ، ٦ خزائن ج ١٣ ص ٤٧٦)
ابوعبیدہ: تمام قرآن کریم بے شمار احادیث نبوی اور کتب تواریخ اس بات کی گواہ ہیں اور اس وقت کے موجودہ یہودی زندہ شاہد ہیں۔ اس بات پر کہ یہودیوں کا ہمیشہ سے یہ عقیدہ برابر چلا آ رہا ہے کہ (معاذ اللہ) حضرت عیسیٰ ؑ کی پیدائش حرام طریقے سے ہوئی اور یہ کہ عیسیٰ ؑ ایک کذاب تھے اور یہ کہ یہودیوں نے حضرت عیسیٰ ؑ کو قتل کر دیا تھا۔ یہود پر دائمی لعنت کی وجہ قرآن میں یہی مذکور ہے۔ پھر ایسے لوگ ملہم من اللہ اور صاحب کشف رحمانی کیسے ہو سکتے ہیں؟ ھذا بہتان عظیم۔
٦٢
اللہ تعالیٰ تو یہود کو حضرت مریم علیہا السلام پر بہتان باندھنے کی وجہ سے ملعون قرار دے رہے ہیں۔ حضرت عیسیٰ ؑ کے ساتھ کفر کرنے کے سبب لعنت کر رہے ہیں۔ نیز اس وجہ سے کہ یہود کہتے ہیں کہ عیسیٰ ؑ قتل کیے گئے تھے۔ ان کو خدا ملعون فرما رہے ہیں۔ (سورہ نساء) مگر آپ ہیں اے مرزا قادیانی کہ انھیں ملہم من اللہ قرار دے رہے ہیں۔ شاباش مجدد ایسے ہی ہونے چاہئیں۔
١٩٢...... ”تم سمجھتے ہو کہ لیلۃ القدر کیا چیز ہے۔ لیلۃ القدر اس ظلماتی زمانہ کا نام ہے۔ جس کی ظلمت کمال کی حد تک پہنچ جاتی ہے۔ درحقیقت یہ رات نہیں ہے۔ یہ زمانہ ہے جو بوجہ ظلمت رات کا ہم رنگ ہے۔“
(فتح اسلام ص ٧ خزائن ج ٣ ص ٣٢)
ابوعبیدہ: مرزا قادیانی کی بڑی دیدہ دلیری ہے۔ ”دروغ گویم بر روئے تو“ کا معاملہ ہے۔ اللہ تعالیٰ تو ”لیلۃ القدر کیا چیز ہے“ کے جواب میں فرما دیں کہ لیلۃ القدر خیر من الف شہر یعنی لیلۃ القدر ١٠٠٠ ماہ سے بھی افضل ہے اور رسول پاک ﷺ فرمائیں کہ تحروا لیلۃ القدر فی الوتر من العشر الاواخر من رمضان ”یعنی تلاش کرو لیلۃ القدر کو رمضان شریف کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں“ اور اس رات میں پڑھنے کے لیے ایک خاص دعا بھی امت کو تعلیم کریں اور مرزا قادیانی حضرت شارع ؑ تفسیر کو یہ وقعت دیں کہ ”درحقیقت یہ رات نہیں، یہ ظلماتی زمانہ ہے۔“ پھر کہتے ہیں اور شرماتے نہیں۔ ”مصطفیٰ مارا امام و پیشوا“
١٩٣...... ”بائبل میں لکھا ہے کہ ایک مرتبہ چار سو نبی کو شیطانی الہام ہوا تھا اور انھوں نے الہام کے ذریعہ سے جو ایک سفید جن کا کرتب تھا۔ ایک بادشاہ کی فتح کی پیش گوئی کی۔ آخر وہ بادشاہ بڑی ذلت سے اسی لڑائی میں مارا گیا اور بڑی شکست ہوئی۔ اور ایک پیغمبر جس کو حضرت جبرائیل ؑ سے الہام ملا تھا۔ اس نے بھی خبر دی تھی کہ بادشاہ مارا جائے گا اور کتے اس کا گوشت کھائیں گے اور بڑی شکست ہوگی۔ سو یہ خبر سچی نکلی۔ مگر اس چار سو نبی کی پیشگوئی جھوٹی ظاہر ہوئی۔“
(ضرورت الامام ص ١٧ خزائن ج ١٣ ص ٤٨٨)
ابوعبیدہ: مرزا قادیانی! کیوں دھوکہ دے کر مطلب نکالتے ہو۔ وہ چار سو نبی آپ ہی جیسے نبی تھے۔ یعنی بعل بت کے پجاری تھے اور آپ سومنات کے بت کے پجاری ہیں۔ جیسا کہ آپ خود (براہین احمدیہ ص ٥٥٥ خزائن ج ١ ص ٦٦٢ حاشیہ) پر لکھتے ہیں۔ ”ربنا عاج ہمارا رب عاجی ہے۔“ اور سعدیؒ مرحوم آج سے کئی سو سال پہلے ہی آپ کے خدا کے بارہ میں فرما گئے ہیں۔ ”بتے دیدم از عاج در سومنات“۔ اگر کوئی قادیانی ان
٦٣
چار سو نبیوں کو توریت سے سچا ثابت کر دے تو انعام حاصل کرنے کا مستحق ہو جائے گا۔
- ١٩٤...... اشتہار ٢٨ مئی ١٩٠٠ء: ”سبحان الذی اسریٰ میں مسجد اقصیٰ سے۔ مسجد اقصیٰ،
قادیان مراد ہے۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٨٩ حاشیہ)
ابوعبیدہ: ناظرین! اس جھوٹ کے متعلق میں کچھ لکھنا نہیں چاہتا۔ اس کا فیصلہ آپ پر ہی چھوڑتا ہوں۔ صرف اتنا عرض کرتا ہوں کہ بعض آدمی تو صرف جھوٹے ہی ہوتے ہیں اور بعض جھوٹوں کے باپ۔ مگر مرزا قادیانی جھوٹ مجسم ہیں۔
- ١٩٥...... ”ان لوگوں کے منصوبوں کے خلاف خدا نے مجھے وعدہ دیا کہ میں اسی برس یا دو تین
برس کم یا زیادہ تیری عمر کروں گا۔ تا لوگ کمی عمر سے کاذب ہونے کا نتیجہ نہ نکال سکیں۔“
(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٥ خزائن ج ١٧ ص ٤٤)
ابوعبیدہ: یہ ’خدائی وعدہ‘ مرزا قادیانی نے مندرجہ ذیل کتابوں میں درج فرمایا ہے۔
١...... ازالہ خورد ص ٦٣٥۔ ٢...... سراج منیر ص ٩٩۔ ٣...... تریاق القلوب ص ١٣ خزائن ج ١٥ ص ١٥٢ حاشیہ۔ ٤...... حقیقۃ الوحی ص ٩٦ خزائن ج ٢٢ ص ١٠٠۔ ٥...... اربعین نمبر ٣ ص ٣٢ خزائن ج ١٧ ص ٤٢٢۔ ٦...... ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٥ خزائن ١٧ ص ٤٤۔ ٧...... تحفہ ندوہ ص ٢ خزائن ج ١٩ ص ٩٣۔
آیئے اب دیکھتے ہیں کہ مرزا قادیانی کی کل عمر کتنی ہوئی؟ اس کے لیے بھی ہم مرزا قادیانی کے اپنے الفاظ پیش کرتے ہیں تاکہ اتمام حجت ہو جائے اور مرزائی دوسرے لوگوں کے قول پیش کر کے اپنے نبی کو جھوٹا نہ کریں۔ تاریخ پیدائش۔
کتاب البریہ ص ١٥٩ خزائن ج ١٣ ص ١٧٧ حاشیہ: اخبار البدر قادیان ٨ اگست ١٩٠٤ء۔ ”میری پیدائش ٤٠۔١٨٣٩ء میں سکھوں کے آخر وقت میں ہوئی ہے۔“
تاریخ وفات: ہر ایک کو معلوم ہے کہ ١٣٢٦ھ بمطابق ١٩٠٨ء ہے۔ پس عمر مرزا = ١٩٠٨۔١٨٤٠ = ٦٨ سال۔ پس مرزا قادیانی جھوٹے ثابت ہوئے۔
- ١٩٦...... ”اور خدا نے مجھے وعدہ دیا کہ میں تمام خبیث مرضوں سے بھی تجھے بچاؤں گا۔
جیسا کہ اندھا ہونا۔“
(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٥ خزائن ج ١٧ ص ٤٤)
ابوعبیدہ: یہاں مرزا قادیانی نے دو صریح جھوٹ ارشاد فرمائے ہیں۔ اوّل...... تمام خبیث مرضوں سے بچانے کا خدائی وعدہ۔ مرزا قادیانی خود تسلیم کرتے ہیں کہ ”میں مراق (مالیخولیا) اور ذیابیطس کی بیماریوں میں مبتلا ہوں۔“ دیکھو اخبار بدر قادیان ٧ جون ١٩٠٦ء ان سے بڑھ کر اور کون سی خبیث امراض ہوتی ہیں؟ مراق جس نے دماغ کو جادۂ
م٧
اعتدال سے الگ کر دیا تھا اور ذیابیطس جس کے باعث جناب مرزا قادیانی کو دو دو صد بار روزانہ پیشاب آتا تھا۔ کیا ایسے آدمی سے دینی امور میں پاکیزگی کا تصور بھی ہو سکتا ہے جو شخص ہر آٹھ منٹ بعد پیشاب کی حاجت محسوس کرے؟ کیا اس کے کپڑے، بدن، خیالات اور دماغی توازن قائم رہ سکتا ہے؟ پھر مرض بھی ذیابیطس کی ہو۔ سبحان اللہ خدا نے اچھا وعدہ پورا کیا دوسرا جھوٹ یہ کہ اندھا ہونے کو خبیث مرض قرار دیا۔
١٩٧...... ”اور یہ بھی حدیثوں میں تھا کہ مسیح موعود کے وقت میں طاعون پڑے گی۔“
(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٨ خزائن ج ١٧ ص ٤٩)
ابوعبیدہ: صریح جھوٹ ہے۔ اگر سچے ہو تو کم از کم ایک ہی حدیث دکھا دو ہم انعام دے دیں گے۔ کیوں رسول پاک ﷺ پر افتراء کر رہے ہو؟
١٩٨...... ”خدا تعالیٰ نے ایک بڑا اصول جو قرآن شریف میں قائم کیا تھا اور اسی کے ساتھ نصاریٰ اور یہودیوں پر حجت قائم کی تھی۔ یہ تھا کہ خدا تعالیٰ اس کاذب کو جو نبوت یا رسالت اور مامور من اللہ ہونے کا جھوٹا دعویٰ کرے مہلت نہیں دیتا۔“
(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ١٢ خزائن ج ١٧ ص ٥٤)
ابوعبیدہ: روزِ روشن میں جھوٹ بولتے ہو اور شرم نہیں آتی۔ تمھارے اپنے عقیدہ کے مطابق ٢٣ سال سے کم تک تو جھوٹے نبی کو مہلت مل سکتی ہے۔ دیکھو اگلا جھوٹ۔
١٩٩...... ”اگر کوئی ایسا دعویٰ کرے کہ میں خدا کا نبی یا رسول یا مامور من اللہ ہوں اور اس دعویٰ پر تئیس یا پچیس برس گزر جائیں...... اور وہ شخص فوت نہ ہو اور نہ قتل کیا جائے۔ ایسے شخص کو سچا نبی اور مامور نہ ماننا کفر ہے کیونکہ اس سے خدا کے کلام کی تکذیب وتوہین لازم آتی ہے۔ ہر ایک عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں آنحضرت ﷺ کی رسالت حقہ ثابت کرنے کے لیے اسی استدلال کو پکڑا ہے۔ اگر یہ شخص خدا تعالیٰ پر افتراء کرتا تو میں اس کو ہلاک کر دیتا۔“
(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ١٣ خزائن ج ١٧ ص ٥٥۔٥٤)
ابوعبیدہ: سبحان اللہ! کیا یہی وہ تفسیر دانی ہے۔ جس پر مرزا قادیانی ناز کیا کرتے تھے۔ مرزا قادیانی کلام اللہ میں تحریف کر رہے ہیں۔ آیت ولو تقول علینا الی آخرہ کا ہرگز ہرگز یہ مطلب نہیں کہ خدا جھوٹے مدعیان الہام کو تئیس ٢٣ یا پچیس برس تک مہلت نہیں دیتا۔ آیت کا ترجمہ خود مرزا قادیانی نے لکھا ہے۔ اس میں مجرد مہلت کا ذکر ہے۔ ٢٣ یا ٢٥ برس کی قید کہیں نہیں لگائی گئی بلکہ جس وقت یہ آیت نازل ہوئی ہے۔
٦٥
اس وقت رسول پاک ﷺ کی بعثت کو بارہ تیرہ برس سے زیادہ عرصہ نہیں ہوا تھا۔ پھر یہ ٢٣ یا ٢٥ برس کی مہلت مرزا قادیانی کا سفید جھوٹ نہیں تو اور کیا ہے؟
٢٠٠...... ”الہام مرزا: ترجمہ از مرزا قادیانی تو مجھ سے ایسا ہے جیسا کہ میری توحید اور تفرید۔“
(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ١٥ خزائن ج ١٧ ص ٥٩)
ابو عبیدہ: کلام اللہ میں جب یہ درجہ رسول کریم ﷺ کے واسطے بھی مذکور نہیں۔ جن کی شان میں ہے۔ لولاک لما خلقت الافلاک، پھر غلام احمد کے لیے یہ کیسے تجویز ہو سکتا ہے۔ کیا! غلام آقا سے بھی بڑھ گیا؟ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ پس یہ الہام نہیں۔ یہ خدا پر صریح افتراء ہے۔
٢٠١...... الہام مرزا: ”وما ارسلنک الا رحمۃ للعالمین۔ (ضمیمہ گولڑویہ ص ١٥ خزائن ج ١٧ ص ٥٩) ”اے مرزا ہم نے تجھے تمام جہاں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔“
(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ١٥ خزائن ج ١٧ ص ٥٩)
ابو عبیدہ: یہ بھی خدا تعالیٰ پر افترا ہے۔ یہ آیت صرف رسول پاک ﷺ کی شان میں ہی وارد ہو سکتی ہے۔ غلام احمد ہو کر احمد کے برابر کیسے ہو سکتا ہے؟
٢٠٢...... الہام مرزا: ”تحمدک اللہ من عرشہ“ ”وہ عرش پر سے تیری تعریف کرتا ہے۔“
(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ١٥ خزائن ج ١٧ ص ٦٠)
ابو عبیدہ: ناظرین غور تو کرو۔ تمام دنیا و مافیہا تو حمد کرے اللہ تبارک و تعالیٰ کی اور اللہ تعالیٰ حمد کریں مرزا قادیانی کی۔ اس سے بڑھ کر تو جھوٹ ممکن ہی نہیں۔ پس یہ بھی افتراء علی اللہ ہے۔
نوٹ....... جناب کاتب صاحب نے دو جھوٹ زائد از اعلان درج کر دیے ہیں۔ مرزا قادیانی کے ہاں جھوٹوں کی کوئی کمی ہے۔
اشتہار انعامی (٣٠٠٠) تین ہزار
برق آسمانی بر فرق قادیانی الموسومہ بہ کذبات مرزا
حضرات! میں نے سالہائے سال کی تحقیق و تدقیق کے بعد مرزا قادیانی کی کتابوں سے سینکڑوں ایسے جھوٹ جمع کیے ہیں جن سے مرزائیت کی عمارت کے لیے اینٹوں کا کام۔ میں نے مرزا قادیانی کی ٦٠٠ صریح کذب بیانیاں پبلک کے سامنے پیش کرنے کا مصمم ارادہ کر لیا ہے۔ سردست برق آسمانی کا پہلا حصہ ناظرین کے استفادہ کے لیے تیار ہے۔ اس حصہ میں ٢٠٠ صریح جھوٹ مرزا قادیانی کے مندرج ہیں۔ ٢٠٠ جھوٹ
٦٦
دوسرے حصہ میں درج ہوں گے اور ٢٠٠ ہی تیسرے حصہ میں انشاء العزیز۔
اعلان انعام قادیانی جماعت اگر مجھے جھوٹا ثابت کر دے تو بحساب (٥) پانچ روپے فی جھوٹ کل تین ہزار روپیہ انعام دینے کا اعلان کرتا ہوں۔ بشرطیکہ اگر مرزا قادیانی کے جھوٹ واقعی جھوٹ ثابت ہو جائیں۔ تو فی جھوٹ ایک ایک قادیانی مرزائیت کا جوّا اپنی گردن سے اتار کر پھینکتا جائے۔
خاکسار مؤلف برق آسمانی بر فرق قادیانی مبلغ اسلام ابو عبیدہ نظام الدین بی۔ اے۔ سائنس ماسٹر اسلامیہ ہائی سکول کوہاٹ
حکیم العصر مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ کے ارشادات
☆……☆…… اگر آپ قیامت کے دن محمد عربی ﷺ کی شفاعت چاہتے ہیں اور آپ ﷺ کے جھنڈے کے نیچے جگہ چاہتے ہیں تو آپ کو ختم نبوت کا کام کرنا پڑے گا۔ اور مرزا غلام احمد قادیانی کی امت اور جماعت کے مقابلے میں آنا پڑے گا۔ کیا آپ اس کے لئے تیار ہیں؟۔
☆……☆…… امت مسلمہ پر یہ فرض ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے لئے سینہ سپر ہو اور جھوٹے مدعیان نبوت کے طلسم سامری کو پاش پاش کر ڈالے۔ اس فریضہ کا نام تحفظ ختم نبوت ہے اور تاریخ شہادت دے گی کہ امت مسلمہ نے کسی بھی دور میں اس فرض سے کوتاہی نہیں کی۔
☆……☆……☆
٦٧
ہفت روزہ ختم نبوت
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی سے شائع ہونے والا
ہفت روزہ ختم نبوت
گزشتہ بیس سالوں سے تسلسل کے ساتھ شائع ہورہا ہے۔ اندرون و بیرون ملک تمام دینی رسائل میں ایک امتیازی شان کا حامل جریدہ ہے۔ جو شیخ المشائخ خواجہ خواجگان حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم العالیہ و پیر طریقت حضرت مولانا سید نفیس الحسینی دامت برکاتہم کی زیر سرپرستی اور مولانا مفتی محمد جمیل خان کی زیر نگرانی شائع ہوتا ہے۔
زر سالانہ صرف 350/= روپے
رابطہ کیلئے:
منیجر ہفت روزہ ختم نبوت کراچی
دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت جامع مسجد باب الرحمت پرانی نمائش ایم اے جناح روڈ کراچی نمبر 3 فون کراچی: 7780337 فیکس: 7780340
خاتم النبیین لا نبی بعدی
مسجد آخری نبی طوبیٰ ، مسجد عمر کوٹلہ شیرو لاہور
منکوحہ آسمانی
مبلغ اسلام ابو عبیدہ نظام الدین .. بی .. اے
﷽
تعارف و تمہید
ناظرین! اس سے پہلے بندہ نے تردید مرزائیت میں علاوہ اشتہارات کے دو کتابیں تالیف کی ہیں۔
- ١...... ایک کا نام ”برق آسمانی بر فرق قادیانی“ ہے اس میں مرزا غلام احمد قادیانی کی چھ
صد کذب بیانیوں میں سے ٢٠٠ کی پہلی قسط شائع کی گئی ہے۔ فی جھوٹ سچا ثابت کرنے پر پانچ روپے نقد انعام کا اعلان بھی کیا گیا تھا۔
- ٢...... دوسری کتاب کا نام ”توضیح الکلام فی اثبات حیات عیسیٰ ؑ“ ہے۔ اس کتاب میں
عجیب طرز سے حیات مسیح ؑ کا ثبوت دیا گیا ہے۔ کتاب کا حجم ٣٥٨ صفحات کا ہے۔ اس کے جواب پر بھی ایک ہزار روپیہ کا انعام مقرر ہے۔ مگر قادیانی اور لاہوری مرزائیوں کی طرف سے صدائے برنخاست کا سا معاملہ ہے، اب احباب کے اصرار پر مرزا قادیانی کے اپنے مقرر کردہ معیار یعنی ”پیشگوئی محمدی بیگم“ پر مکالمہ کی صورت میں یہ رسالہ تالیف کیا ہے۔ امید ہے کہ آپ نے اس سے پہلے اس طرز سے قادیانی پیشگوئی کا تجزیہ ہوتے کبھی نہ دیکھا ہوگا۔ ماشاء اللہ اس پیش گوئی کا کوئی پہلو بھی بحث کے بغیر نہیں چھوڑا گیا۔
ابوعبیدہ۔ بی۔ اے
نوٹ...... اس کتاب کو آسمانی دلہا کے نام سے دوبارہ کراچی سے فرزند توحید نے شائع کیا تھا۔ دراصل آسمانی منکوحہ اور آسمانی دلہا ایک ہی کتاب ہے۔ جو یہی ہے۔ (مرتب)
٢
قادیانی پیشگوئی متعلقہ منکوحہ آسمانی
بصورت مکالمہ
ابوعبیدہ: مرزا قادیانی میں نے سنا ہے کہ آپ نے مجدد مسیح موعود اور نبی وغیرہ ہونے کے دعویٰ کیے ہیں۔ کیا یہ صحیح ہے؟ مرزا غلام احمد قادیانی: ہاں صاحب! میں چند ایک دعاوی مشتے نمونہ از خروارے آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں۔ آپ ان پر غور فرمائیے!
قول مرزا......١ "ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم نبی اور رسول ہیں۔"
(اخبار بدر قادیان بابت ماہ مارچ ١٩٠٨ء ملفوظات ج ١٠ ص ١٢٧)
قول مرزا......٢ "میں اسی خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اسی نے مجھے بھیجا ہے اور اسی نے میرا نام نبی رکھا ہے۔"
(تتمہ حقیقۃ الوحی ص ٦٨ خزائن ج ٢٢ ص ٥٠٣)
قول مرزا......٣ "یہ کلام جو میں سنتا ہوں۔ یہ قطعی اور یقینی طور پر خدا کا کلام ہے۔ جیسا کہ قرآن اور توریت خدا کا کلام ہے۔"
(تحفہ الندوہ ص ٣ خزائن ج ١٩ ص ٩٥)
قول مرزا......٤ "منم مسیح زمان و منم کلیم خدا۔ منم محمد و احمد کہ مجتبیٰ باشد۔"
(تریاق القلوب ص ٣ خزائن ج ١٥ ص ١٣٢)
ابوعبیدہ: جناب کیا آپ اپنے دعویٰ کے ثبوت میں کچھ دلائل بھی پیش کر سکتے ہیں؟ قول مرزا......٥ "خدا نے اس بات کے ثابت کرنے کے لیے کہ میں اس کی طرف سے ہوں۔ اس قدر نشان دکھائے ہیں کہ اگر وہ ہزار نبی پر بھی تقسیم کیے جائیں تو ان کی بھی ان سے نبوت ثابت ہو سکتی ہے۔" (چشمہ معرفت ص ٣١٧ خزائن ج ٢٣ ص ٣٣٢)
ابوعبیدہ: جناب عالی۔ خدا اپنے مامور من اللہ کی صداقت ثابت کرنے کے لیے کس قسم کی دلیل دیا کرتا ہے؟ قرآن اور توریت سے دلیل بیان فرمائیے۔ قول مرزا......٦ "قرآن کریم اور توریت نے سچے نبی کی شناخت کے لیے یہ......
٣
علامت قرار دی ہے کہ اس کی پیشگوئیاں وقوع میں آ جائیں یا اس کی تصدیق کے لیے پیشگوئی ہو۔“
(نشان آسمانی ص ٤٤ خزائن ج ٤ ص ٣٩٤)
دلیل قرآنی: فَلَا تَحْسَبَنَّ اللّٰہَ مُخْلِفَ وَعْدِہٖ رُسُلَہٗ (سورہ ابراہیم ٤٧) یعنی ایسا ہرگز گمان نہ کر کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں سے وعدہ خلافی کرتا ہے۔
دلیل توریت: دیکھو کتاب استثناء باب ١٨۔
ابوعبیدہ: جناب کی سچائی ہم کس طریق سے معلوم کریں؟ ممکن ہے کہ ایک مدعی اپنے دعاوی میں جھوٹا اور شیطانی ملہم ہو۔
قول مرزا.......٧ ”بدخیال لوگوں کو واضح ہو کہ ہمارا صدق یا کذب جانچنے کے لیے ہماری پیشگوئی سے بڑھ کر اور کوئی محک (کسوٹی) امتحان نہیں ہو سکتا۔“
(تبلیغ رسالت ص ١١٨ ج اوّل مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٥٩)
ابوعبیدہ: اگر جناب کی پیشگوئیاں پوری نہ ہوئی ہوں تو پھر جناب کے متعلق ہم کیا رائے قائم کریں؟
قول مرزا.......٨ ”کسی انسان کا اپنی پیشگوئی میں جھوٹا نکلنا خود تمام رسوائیوں سے بڑھ کر رسوائی ہے۔“
(تبلیغ رسالت ج ٣ ص ٥ مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٣٧٢)
ابوعبیدہ: جناب کی کون سی پیشگوئی ایسی ہے۔ جس پر جناب کو بہت فخر ہے اور جس کو جناب نے ڈنکے کی چوٹ اپنی صداقت ثابت کرنے کا معیار قرار دیا ہو۔
قول مرزا.......٩ ”میں اس خبر (محمدی بیگم کے ساتھ اپنے نکاح والی پیشگوئی۔ ناقل) کو اپنے سچ یا جھوٹ کا معیار بناتا ہوں اور میں نے جو کہا ہے۔ یہ خدا سے خبر پا کر کہا ہے۔“
(انجام آتھم ص ٢٢٣ خزائن ج ١١ ص ایضاً)
قول مرزا.......١٠ ”میں بالآخر دعا کرتا ہوں کہ اے خدائے قادر وعلیم! اگر...... احمد بیگ کی دختر کلاں (محمدی بیگم۔ ناقل) کا آخر اس عاجز کے نکاح میں آنا یہ پیشگوئیاں تیری طرف سے ہیں تو ان کو ایسے طور سے ظاہر فرما جو خلق اللہ پر حجت ہو اور کور باطن حاسدوں کا منہ بند ہو جائے اور اگر اے خداوند یہ پیشگوئیاں تیری طرف سے نہیں ہیں تو مجھے نامرادی اور ذلت کے ساتھ ہلاک کر۔ اگر میں تیری نظر میں مردود اور ملعون اور دجال ہی ہوں۔ جیسا کہ مخالفوں نے سمجھا ہے۔“
(تبلیغ رسالت جلد سوم ص ١٨٦، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ١١٦۔١١٥)
٤
ابوعبیدہ: جناب عالی! کیا میں آپ سے دریافت کر سکتا ہوں کہ محمدی بیگم کون تھی؟
مرزا قادیانی! تمام دنیا جانتی ہے کہ محمدی بیگم میرے ماموں گاماں بیگ ہوشیار پوری کی پوتی یعنی مرزا احمد بیگ میرے ماموں زاد بھائی کی بیٹی تھی۔ میں اس کا غیر حقیقی ماموں اور چچا لگتا ہوں۔
(دیکھو قول نمبر ٣٥)
ابوعبیدہ: محمدی بیگم کے متعلق جناب نے کیا پیشگوئی کی تھی۔ ذرا الہامی زبان میں مفصل جواب سے سرفراز فرمائیے۔
قول مرزا......١١ ”خدا تعالیٰ نے پیشگوئی کے طور پر اس عاجز (مرزا غلام احمد قادیانی۔ ناقل) پر ظاہر فرمایا کہ مرزا احمد بیگ ولد مرزا گاماں بیگ ہوشیار پوری کی دختر کلاں (محمدی بیگم) انجام کار تمہارے (مرزا قادیانی کے) نکاح میں آئے گی اور وہ لوگ بہت عداوت کریں گے۔ اور بہت مانع آئیں گے اور کوشش کریں گے کہ ایسا نہ ہو لیکن آخر کار ایسا ہی ہوگا اور فرمایا کہ خدا تعالیٰ ہر طرح سے اس کو تمہاری طرف لائے گا۔ باکرہ (کنواری) ہونے کی حالت میں یا بیوہ کر کے اور ہر ایک روک کو درمیان سے اٹھا دے گا اور اس کام کو ضرور پورا کرے گا۔ کوئی نہیں جو اس کو روک سکے۔“ (ازالہ اوہام ص ٣٩٦ خزائن ج ٣ ص ٣٠٥)
ابوعبیدہ: جناب کیا یہ بالکل صحیح ہے کہ محمدی بیگم کا آپ کے نکاح میں آنا ضروری تھا۔
قول مرزا......١٢ ماسٹر صاحب! ”ان دنوں جو زیادہ تصریح اور تفصیل کے لیے بار بار توجہ کی گئی تو معلوم ہوا کہ خدا تعالیٰ نے مقرر کر رکھا ہے کہ وہ مکتوب الیہ (مرزا احمد بیگ) کی دختر کلاں (محمدی بیگم) کو جس کی نسبت درخواست کی گئی تھی۔ ہر ایک روک دور کرنے کے بعد انجام کار اس عاجز (غلام احمد) کے نکاح میں لائے گا۔“
(تبلیغ رسالت قادیانی ج اوّل ص ١١٥۔١١٦ مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٥٨)
ابوعبیدہ: مرزا قادیانی! اگر کسی اور شخص نے محمدی بیگم سے نکاح کر لیا تو پھر آپ کی پیشگوئی کا حشر کیا ہوگا؟
قول مرزا......١٣ ”اگر (احمد بیگ نے) نکاح سے انحراف کیا تو اس لڑکی کا انجام نہایت ہی برا ہوگا اور جس کسی دوسرے شخص سے بیاہی جائے گی وہ روزِ نکاح سے اڑھائی سال تک اور ایسا ہی والد اس دختر کا تین سال تک فوت ہو جائے گا۔“
(تبلیغ رسالت ج ١ ص ١١٦، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٥٨)
ابوعبیدہ: مرزا قادیانی! میں نے جناب سے یہ دریافت کیا ہے کہ اگر محمدی بیگم
٥
کا نکاح احمد بیگ کسی اور جگہ کر دے تو آپ کے حق میں اس کا کیا اثر پڑے گا۔ کسی ذلت یا خواری کا ڈر تو نہیں؟
قول مرزا......١٤ ملخصا۔ محمدی بیگم کا بغیر میرے کسی دوسرے کے نکاح میں آنا دوسرے الفاظ میں مجھ پر ”عیسائیوں کو ہنسانا ہے۔“ مجھے ذلیل و خوار کرنا ہے۔ ”مجھے روسیاہ“ کرنا ہے۔ ”اپنی طرف سے مجھ پر تلوار چلانا“ ہے۔ محمدی بیگم کا کسی دوسرے کے نکاح میں چلا جانا گویا ”مجھے آگ میں ڈالنا ہے۔ میری ”پیشگوئی کو جھوٹا کرنا“ ہے۔ ”عیسائیوں کا پلہ بھاری کرنا“ ہے۔“
(خط مرزا غلام احمد از لدھیانہ بنام علی شیر بیگ مورخہ ٢ مئی ١٨٩١ء کلمہ فضل رحمانی ص ١٢٥)
نوٹ...... مرزا علی شیر بیگ محمدی بیگم کا پھوپھا تھا۔ اس کی لڑکی عزت بی بی مرزا قادیانی کے بیٹے فضل احمد صاحب کے نکاح میں تھی۔ (ابو عبیدہ) ابو عبیدہ: مرزا قادیانی آپ کی الہامی عمر ثمانین۔
(ازالہ اوہام ص ٦٣٥ خزائن ج ٣ ص ٤٣٣)
حولاً او قریباً من ذالک یعنی کم و بیش ٨٠۔٨٥ سال ہوگی۔ وفات جناب کی ہوئی تھی ١٩٠٨ء میں۔ اس لحاظ سے جناب کی عمر اس پیشگوئی کے وقت یعنی قریباً ١٨٩٠ء میں غالباً ٦٠ یا ٧٠ کے درمیان ہوگی۔ میں جناب سے دریافت کرتا ہوں کہ جب آپ کی عمر ٦٠ سے اوپر تھی تو محمدی بیگم کی عمر اس وقت کتنی تھی؟
قول مرزا......١٥ ”یہ لڑکی آٹھ یا نو برس کی تھی۔“
(تبلیغ رسالت ج ١ ص ١١٨ مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٦٠)
ابو عبیدہ: میرا سوال اب جناب سے یہ ہے کہ کیا واقع میں یہ پیشگوئی پوری ہونے کا آپ کو یقین تھا۔ اب جناب یا آپ کے بعد آپ کے مرید اس میں کوئی تاویل تو نہ کر سکیں گے؟ مرزا قادیانی! ماسٹر صاحب! میں اپنے قول نمبر ٩ و نمبر ١٠ میں اس پیشگوئی کو اپنی صداقت کا معیار قرار دے چکا ہوں۔ ایسی پیشگوئیوں کے بارہ میں میرا عقیدہ سنیے!
قول مرزا......١٦ ”جن پیشگوئیوں کو مخالف کے سامنے دعویٰ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ وہ ایک خاص قسم کی روشنی اور ہدایت اپنے اندر رکھتی ہیں اور ملہم لوگ حضرت احدیت سے خاص طور پر توجہ کر کے ان کا زیادہ تر انکشاف کرا لیتے ہیں۔“
(ازالہ اوہام ص ٤٣ خزائن ج ٣ ص ٣٠٩)
٦
ابوعبیدہ: مرزا قادیانی! محض اپنی تسلی کی خاطر پوچھتا ہوں کہ اس میں آپ کو کوئی غلطی کا امکان تو نہیں تھا؟
مرزا قادیانی! اس پیشگوئی کو میں اپنی نبوت ومسیحیت کے ثبوت میں پیش کر چکا ہوں ایسی پیشگوئی کے سمجھنے میں غلطی کا امکان نہیں کیونکہ
قول مرزا...... ١٧ ”غلطی کا احتمال صرف ایسی پیشگوئیوں میں ہوتا ہے جن کو اللہ تعالیٰ خود اپنی کسی مصلحت کی وجہ سے مبہم اور مجمل رکھنا چاہتا ہے اور مسائل دینیہ سے ان کا کچھ علاقہ نہیں ہوتا۔“
(ازالہ اوہام ص ٦٩١ خزائن ج ٣ ص ٤٧٤)
ابوعبیدہ: مرزا قادیانی! کون سی پیشگوئیوں میں تخلف ہو سکتا ہے یعنی کون سی ایسی پیشگوئیاں ہیں جو بظاہر پوری نہیں ہوتیں۔
قول مرزا....... ١٨ ماسٹر صاحب! ”ہم کئی بار لکھ چکے ہیں کہ تخویف اور انذار کی پیشگوئیاں جس قدر ہوتی ہیں جن کے ذریعہ سے ایک بیباک قوم کو سزا دینا منظور ہوتا ہے۔ ان کی تاریخیں اور میعادیں تقدیر مبرم کی طرح نہیں ہوتیں بلکہ تقدیر معلق کی طرح ہوتی ہیں اور اگر وہ لوگ نزول عذاب سے پہلے توبہ و استغفار اور رجوع سے کسی قدر اپنی شوخیوں اور چالاکیوں اور تکبروں کی اصلاح کر لیں تو وہ عذاب کسی ایسے وقت پر جا پڑتا ہے کہ جب وہ لوگ اپنی پہلی عادات کی طرف پھر رجوع کر لیں۔ یہی سنت اللہ ہے۔“
(تبلیغ رسالت ج ٣ ص ١١٢ مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٤٠)
ابوعبیدہ: جناب یہ پیشگوئی کہ محمدی بیگم آپ کے نکاح میں ضرور آئے گی۔ عذاب کی پیشگوئی تو معلوم نہیں ہوتی کیونکہ ایک نبی کے نکاح میں آ کر وہ ام المومنین بن جاتی۔ آپ کا کیا خیال ہے کیا یہ پیش گوئی انذاری ہو سکتی ہے؟
مرزا قادیانی۔ ماسٹر صاحب! یہ تو رحمت کا ایک نشان ہے جیسا کہ میرے ذیل کے قول سے ظاہر ہے۔
قول مرزا....... ١٩ ”یہ نکاح تمھارے (محمدی بیگم کے خاندان کے) لیے موجب برکت اور ایک رحمت کا نشان ہوگا اور تم ان برکتوں اور رحمتوں سے حصہ پاؤ گے جو اشتہار ٢٠ فروری ١٨٨٦ء میں درج ہے۔“
(تبلیغ رسالت جلد اول ص ١١٥، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٥٨)
قول مرزا...... ٢٠ ”میں اب بھی عاجزی اور ادب سے آپ (احمد بیگ والد محمدی بیگم) کی خدمت میں ملتمس ہوں کہ اس رشتہ سے آپ انحراف نہ فرمائیں کہ یہ آپ کی
لڑکی کے لیے نہایت درجہ موجب برکت ہوگا اور خدا تعالیٰ ان برکتوں کا دروازہ کھولے گا جو آپ کے خیال میں نہیں۔ کوئی غم اور فکر کی بات نہیں ہوگی۔“
(خط مرزا قادیانی بنام احمد بیگ والد محمدی بیگم محررہ ١٧ جولائی ١٨٩٢ء کلمہ فضل رحمانی ص ١٢٣)
ابوعبیدہ: محمدی بیگم کے ساتھ نکاح کے لیے یہ خدائی الہام آپ کو کب ہوا؟ اور کیوں ہوا یعنی اس نکاح کے ہو جانے پر کون سا شرعی فائدہ مرتب ہونا تھا؟
مرزا قادیانی! اس نکاح کی اصلی غرض جو خدا کو اس کے مقدر کرنے میں مدنظر تھی وہ مندرجہ ذیل ہے۔
قول مرزا......٢١ ”یہ رشتہ محض بطور نشان کے ہے۔ تا خدا تعالیٰ اس کنبہ کے منکرین کو اعجوبہ قدرت دکھلائے اگر وہ قبول کریں تو برکت اور رحمت کے نشان ان پر نازل کرے۔“
(تبلیغ رسالت ج اوّل ص ١٣٠، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٦٢)
قول مرزا......٢٢ ”وہ (محمدی بیگم کے رشتہ دار) اپنی لڑکی کا اس کے کسی غیرحقیقی ماموں سے نکاح کرنا حرام قطعی سمجھتے ہیں...... سو خدا تعالیٰ نے نشان بھی انھیں ایسا دیا۔ جس سے ان کے دین کے ساتھ ہی اصلاح ہو اور بدعت اور خلاف شرع رسم کی بیخ کنی ہو جائے تا آئندہ اس قوم کے لیے ایسے رشتوں کے بارہ میں کچھ تنگی اور حرج نہ رہے۔“
(تبلیغ رسالت جلد اوّل ص ١١٩، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٦١ حاشیہ)
قول مرزا......٢٣ ”مدت سے یہ لوگ (محمدی بیگم کے رشتہ دار) مجھ سے (میرے سچا ہونے کے ثبوت میں) کوئی نشانِ آسمانی مانگتے تھے تو اس وجہ سے کئی دفعہ ان کے لیے دعا بھی کی گئی۔ سو وہ دعا قبول ہوئی۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٥٧)
قول مرزا......٢٤ ”ایک عرصہ سے یہ لوگ جو میرے کنبے سے اور میرے اقارب ہیں۔ کیا مرد اور کیا عورت مجھے میرے الہامی دعاوی میں مکار اور دوکاندار خیال کرتے ہیں...... پس خدا تعالیٰ نے انھیں کی بھلائی کے لیے انھیں کے تقاضے سے انھیں کی درخواست سے اس الہامی پیشگوئی کو جو اشتہار میں درج ہے ظاہر فرمایا ہے۔“
(تبلیغ رسالت ج اوّل ص ١١٩، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٦١)
ابوعبیدہ: جناب عالی! کیا آپ مہربانی کر کے فرمائیں گے کہ آپ کے طلب رشتہ کے جواب میں محمدی بیگم کے رشتہ داروں نے آپ کو کیا کہا۔
مرزا قادیانی! کیا پوچھتے ہو۔ قصہ بڑا لمبا ہے۔ خیر سنیے! نکاح کی درخواست پر
٨
مرزا احمد بیگ۔
قول مرزا......٢٥ ”تیوری چڑھا کر چلا گیا۔“ (آئینہ کمالات اسلام ص ٥٧٣ خزائن ج ٥ ص ایضاً)
ابوعبیدہ: جناب عالی! اس واقعہ کی تفصیل سے مطلع فرمائیے تاکہ میں کسی صحیح نتیجہ پر پہنچ سکوں۔
قول مرزا......٢٦ ”نام بردہ (مرزا احمد بیگ والد محمدی بیگم) کی ایک ہمشیرہ ہمارے چچا زاد بھائی غلام حسین نامی سے بیاہی گئی۔ غلام حسین عرصہ ٢٥ سال سے...... مفقود الخبر ہے۔ اس کی زمین جس کا حق ہمیں پہنچتا ہے۔ مرزا احمد بیگ کی ہمشیرہ کے نام سرکاری کاغذات میں درج کروائی گئی تھی...... اب مرزا احمد بیگ نے اپنی ہمشیرہ کی اجازت سے چاہا کہ وہ زمین جو چار پانچ ہزار روپے کی ہے۔ اپنے بیٹے محمد بیگ کے نام بطور ہبہ منتقل کرا دیں۔ چنانچہ وہ ہبہ نامہ ان کی ہمشیرہ کی طرف سے لکھا گیا چونکہ وہ ہبہ نامہ بغیر میری رضا مندی کے بے کار تھا۔ اس لیے مکتوب الیہ نے بہ تمام تر عجز و انکسار ہماری طرف رجوع کیا تاکہ ہم راضی ہو کر ہبہ نامہ پر دستخط کر دیں۔“
(تبلیغ رسالت ج اول ص ١١٥، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٥٧)
ابوعبیدہ: جناب تو ایک درویش آدمی ہیں۔ جناب نے بلا حیل و حجت دستخط کر دیے ہوں گے۔
قول مرزا......٢٧ ”قریب تھا کہ ہم دستخط کر دیتے لیکن یہ خیال آیا کہ...... جناب الٰہی میں استخارہ کر لینا چاہیے...... استخارہ کیا گیا...... اس قادر مطلق نے مجھے فرمایا کہ اس شخص (مرزا احمد بیگ) کی دختر کلاں (محمدی بیگم) کے نکاح کے لیے سلسلہ جنبانی کرو اور ان کو کہہ دے کہ تمام سلوک و مروت تم سے اسی شرط پر کیا جائے گا“ (یعنی اپنی بیٹی محمدی بیگم جس کی عمر ٩ سال ہے میرے نکاح میں دو گے تو میں ہبہ نامہ پر دستخط کروں گا۔ ناقل)
(تبلیغ رسالت ج اول ص ١١٥، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٥٧)
ابوعبیدہ: خوب! جناب نے بڑا غضب کیا۔ مجھے اب سمجھ آئی ہے کہ آپ کے پاس سے وہ تیوری چڑھا کر کیوں چلا گیا؟ آخر وہ بھی تو مغل تھا۔ بیل کو کنوئیں میں خصی کرنے کا مصداق کیوں بنتا۔ واقعی کوئی غیرت مند انسان اپنی گوشہ جگر کو کسی قیمت پر بھی فروخت کرنے کو تیار نہیں ہو سکتا۔
اچھا تو فرمائیے مرزا احمد بیگ اور ان کے خاندان کی دینداری کے متعلق ؟
جناب کی کیا رائے ہے؟ مرزا قادیانی! ماسٹر صاحب! آپ جانتے ہیں ہم روزانہ نماز میں خدا سے عہد کرتے ہیں۔ ونخلع و نترک من یفجرک. ہم بے دینوں سے دوستی اور مودت کا مظاہرہ کیسے کر سکتے ہیں۔ مرزا احمد بیگ اور ان کے خاندان کے ساتھ ہمارے تعلقات اور عقیدت میرے مندرجہ ذیل مکتوبات سے ظاہر و باہر ہے۔
قول مرزا....... ٢٨ (١) ”مشفقی مکرمی اخویم مرزا احمد بیگ سلمہ اللہ تعالیٰ۔ السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ ...... میں نہیں جانتا کہ میں کس طریق اور کن لفظوں میں بیان کرو۔ تا میرے دل کی محبت اور خلوص ہمدردی جو آپ کی نسبت میرے دل میں ہے۔ آپ پر ظاہر ہو جائے ...... میں اب بھی عاجزی اور ادب سے آپ کی خدمت میں ملتمس ہوں کہ اس رشتہ (محمدی بیگم کا میرے ساتھ نکاح کر دینے) سے انحراف نہ فرمائیں ...... آپ کے سب غم دور ہوں ...... اگر میرے اس خط میں کوئی ناملائم لفظ ہو تو معاف فرمائیں۔ والسلام۔
(خاکسار احقر عباد اللہ غلام احمد عفی عنہ ١٧ جولائی ١٨٩٢ء کلمہ فضل رحمانی ص ١٢٣۔ ١٢٥)
٢....... خط مرزا قادیانی بنام مرزا علی شیر بیگ جو محمدی بیگم کے پھوپھا تھے۔
”مشفقی مرزا علی شیر بیگ سلمہ اللہ تعالیٰ۔ السلام علیکم و رحمتہ اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ مجھ کو آپ سے کسی طرح کا فرق نہ تھا اور میں آپ کو ایک غریب طبع اور نیک خیال آدمی اور اسلام پر قائم سمجھتا ہوں۔“
(راقم خاکسار غلام احمد از لدھیانہ اقبال گنج ٢ مئی ١٨٩١ء کلمہ فضل رحمانی ص ١٢٥)
ابوعبیدہ: مرزا قادیانی! محمدی بیگم کے بزرگ تو بہت ہی پکے مسلمان نظر آتے ہیں۔ ضروری تھا کہ وہ آپ جیسے بزرگ بلکہ نبی کو محمدی بیگم کا رشتہ بڑی خوشی سے دے دیتے کیونکہ آپ سے بڑھ کر انھیں اور کون خدمت گزار مل سکتا تھا۔ کچھ آپ نے اور بھی لالچ وغیرہ دیا یا صرف ٤۔٥ ہزار روپے کی زمین ہی دے کر محمدی بیگم کا رشتہ لیتے تھے؟
قول مرزا....... ٢٩ بصورت الہام۔ ”اللہ تعالیٰ نے مجھ پر وحی نازل کی..... کہ احمد بیگ کو کہہ دے کہ پہلے وہ تمھیں دامادی میں قبول کرے..... (تو ان کو) کہہ دے کہ مجھے اس زمین کے ہبہ کرنے کا حکم مل گیا ہے۔ جس کے تم خواہشمند ہو بلکہ اس کے ساتھ اور زمین بھی دی جائے گی اور دیگر مزید احسانات تم پر کیے جائیں گے۔ بشرطیکہ تم اپنی بڑی لڑکی (محمدی بیگم) کا مجھ سے نکاح کر دو۔ میرے اور تمھارے درمیان یہی عہد ہے اگر تم
١٠
مان لو گے تو میں بھی تسلیم کر لوں گا۔“ (آئینہ کمالات اسلام ص ٥٧٢ خزائن ج ٥ ص ٥٧٢-٥٧٣)
قول مرزا...... ٣٠ ”اے عزیز (احمد بیگ) سنیے! آپ کو کیا ہو گیا ہے کہ آپ میری سنجیدہ بات کو لغو سمجھتے ہیں اور میرے کھرے کو کھوٹا خیال کرتے ہیں۔ بخدا...... آپ انشاء اللہ مجھے احسان کرنے والوں میں سے پائیں گے اور میں یہ عہد استوار کے ساتھ لکھ رہا ہوں کہ اگر آپ نے میرے خاندان کے خلاف مرضی میری بات کو مان لیا۔ (یعنی محمدی بیگم مجھے دے دی) تو میں اپنی زمین اور باغ میں آپ کو حصہ دوں گا...... اگر آپ نے میرا قول اور میرا بیان مان لیا تو مجھ پر مہربانی اور احسان اور میرے ساتھ نیکی ہوگی۔ میں آپ کا شکر گزار ہوں گا...... آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ آپ کی لڑکی (محمدی بیگم) کو اپنی زمین اور مملوکات کا ایک تہائی حصہ دوں گا اور میں سچ کہتا ہوں کہ اس میں جو کچھ مانگیں گے آپ کو دوں گا...... آپ میرے اس خط کو اپنے صندوق میں محفوظ رکھیے۔ یہ خط بڑے سچے اور امین کی طرف سے ہے۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٧٤-٥٧٣ خزائن ج ٥ ص ٥٧٤-٥٧٥ مصنفہ مرزا قادیانی)
ابوعبیدہ: جناب یہ سلوک تو صرف آپ کی طرف سے محمدی بیگم کے باپ کے ساتھ تھا جسے آپ کا خسر بننا تھا یا محمدی بیگم کے ساتھ تھا۔ جو آپ کی بیوی بننی تھی رشتہ لینے کے لیے تو دیگر متعلقین کی بھی چاپلوسی اور خدمت کرنی پڑتی ہے۔ مثلاً محمدی بیگم کے پھوپھا یا اس کی پھوپھی زاد ہمشیرہ عزت بی بی کے ساتھ کسی اچھے سلوک کا وعدہ کیا ہوتا۔ شاید اس طرح سے یہ لوگ مرزا احمد بیگ کو سمجھا لیتے۔
مرزا قادیانی! ماسٹر صاحب! کیا پوچھتے ہو۔ میرا قول ٢٨ دیکھو۔ محمدی بیگم کی خاطر اس کے پھوپھا کی کتنی چاپلوسی کی ہے۔ پھر میں نے اس شخص کو مندرجہ ذیل عہد استوار بھی لکھا۔
قول مرزا...... ٣١ ”اگر آپ میرے لیے احمد بیگ سے مقابلہ کرو گے اور یہ ارادہ اس کا بند کرا دو گے (یعنی محمدی بیگم کا نکاح صوبیدار میجر سلطان محمد آف پٹی سے رکوا کر میرے ساتھ کرا دو گے۔ ناقل) تو میں بدل و جان حاضر ہوں اور فضل احمد (جو مکتوب الیہ کا داماد تھا۔ ناقل) کو جو اب میرے قبضہ میں ہے ہر طرح سے درست کر کے آپ کی لڑکی (عزت بی بی جو محمدی بیگم کی پھوپھی زاد بہن تھی) کی آبادی کے لیے کوشش کروں گا اور میرا مال ان کا مال ہوگا۔“
(خط مرزا قادیانی بنام مرزا علی شیر بیگ از لدھیانہ اقبال گنج مورخہ ٢ مئی ١٨٩١ء از کلمہ فضل رحمانی ص ١٢٦)
١١
ابوعبیدہ: ایسے موقعہ پر آپ کو مناسب تھا کہ محمدی بیگم کی پھوپھی کو خود بھی ایک عاجزانہ خط لکھتے اور عزت بی بی سے بھی خط لکھواتے۔ اس سے اور بھی اچھا اثر پڑتا۔ کچھ قدرے دھمکی بھی دی ہوتی۔ مثلاً کسی کی موت کی پیشگوئی فرما دیتے۔ عزت بی بی کو طلاق اور تباہی کا ڈراوا دیتے۔ یہ باتیں ضعیف الاعتقاد لوگوں کو جلد قابو میں لے آتی ہیں۔
مرزا قادیانی! ماسٹر صاحب! یہ سب کچھ کیا۔ جیسا کہ میرے مندرجہ ذیل مکتوبات سے ظاہر ہے۔ مگر وہ بہت ہی پکے عقیدہ کے آدمی نکلے اور مجھے میرے الہامی دعوٰی میں ہمیشہ جھوٹا ہی سمجھتے رہے۔ سنیے میری دھمکیاں۔
قول مرزا..... ٣٢ ”محمدی بیگم کو دھمکی“ اگر (احمد بیگ نے) اس نکاح (محمدی بیگم کو مرزا قادیانی کے ساتھ بیاہ دینے) سے انحراف کیا تو اس لڑکی کا انجام نہایت ہی برا ہوگا۔“
- ٢......محمدی بیگم کے والد کو دھمکی ”والد اس دختر کا تین سال کے اندر فوت ہو جائے گا۔“
- ٣......محمدی بیگم کے خاوند بننے والے کو دھمکی۔ ”جس کسی دوسرے شخص سے بیاہی جائے
گی وہ روز نکاح سے اڑھائی سال تک فوت ہو جائے گا۔“ (تبلیغ رسالت جلد اوّل ص ١١٨،
مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٥٨ و آئینہ کمالات اسلام ص ٥٧٢ خزائن ج ٥ ص ایضاً)
ابوعبیدہ: جناب! اتنا کافی نہ تھا۔ مناسب تھا کہ جناب اشتہارات اور پرائیویٹ خطوط کے ذریعہ محمدی بیگم کے ہونے والے خاوند صوبیدار میجر سلطان محمد آف پٹی کو خط لکھ کر ڈراتے اور دوسرے لوگوں سے بھی لکھواتے۔
مرزا قادیانی! صاحب کیا پوچھتے ہو۔ اس کو بھی اشتہار بھیجے تھے۔ خط پر خط بھی لکھے تھے مگر
قول مرزا..... ٣٣ ”اس نے تخویف (دھمکی۔ ناقل) کا اشتہار دیکھ کر اس کی پرواہ نہ کی۔ خط پر خط بھیجے گئے۔ ان سے کچھ نہ ڈرا۔ پیغام بھیج کر سمجھایا گیا۔ کسی نے اس طرف ذرا التفاتاً نہ کی...... بلکہ وہ سب گستاخی اور استہزا میں شریک ہوئے۔‘
(تبلیغ رسالت ج سوم ص ١٦٦ حاشیہ دوم، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٩٥ حاشیہ)
ابوعبیدہ: حضرت ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے طمع اور لالچ دینے کی انھوں نے اس واسطے پرواہ نہ کی کہ آپ نے ساری مروت کو محمدی بیگم کے بیاہ سے مشروط قرار دیا اور وہ کنوئیں میں خصی ہونے والے بیل بننے سے نفرت کرتے تھے۔ آپ نے غلطی کی۔ آپ ان سے غیر مشروط نیکی کرتے تو آخر وہ آپ کے عزیز تھے۔ ضرور بعد میں
١٢
محمدی بیگم آپ کو دے دیتے۔ آخر اسے کہیں نہ کہیں تو دینا ہی تھا۔ آپ کو دینے میں کون سی قباحت تھی۔ باقی رہا دھمکی اور تخویف والی بات کہ اس سے بھی وہ متاثر نہ ہوئے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اسلام پر بڑے پکے قائم تھے۔ تقدیر پر ان کا ایمان تھا۔ موت کا اپنے وقت پر آنا ان کے نزدیک ناگزیر تھا۔ وہ آگے پیچھے نہیں ہو سکتی۔ خیر فرمائیے کہ خدائی الہام کی رو سے تو آپ کے ساتھ رشتہ ہونا ضروری تھا۔ مگر وہ باوجود آپ کے بلند بانگ دعوٰی کے سلطان محمد سے بیاہی گئی۔ اب پیشگوئی کیسے پوری ہوگی؟ آپ نے فرمایا تھا کہ آخر کار خدا ہر ایک روک کو دور کر کے محمدی بیگم کو میری طرف واپس لائے گا۔ مرزا قادیانی! ماسٹر صاحب! ذرا وسعت نظر سے کام لیجئے۔ میرا صاف صاف اعلان ہے کہ
قول مرزا......٣٤ ”وہ جو (محمدی سے) نکاح کرے گا۔ روز نکاح سے ٢ ١/٢ سال کے عرصہ میں فوت ہو جائے گا اور آخر وہ عورت اس عاجز کی بیویوں میں داخل ہوگی۔“
(تبلیغ رسالت ج اول ص ٦١ مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٠٣ حاشیہ)
صاحب! اس صورت میں تو جن لوگوں نے اس کے نکاح اوّل کی سعی کی۔ مثلاً احمد بیگ اور اس کے اقارب آپ کی بیوی۔ آپ کے بیٹے (سلطان احمد، فضل احمد) مستحق شکریہ تھے الٹا آپ نے ان کو عذاب کا مستحق قرار دیا۔ بیوی کو طلاق دے دی۔ (ابوعبیدہ)
قول مرزا......٣٥ ”وحی الٰہی میں یہ نہیں تھا کہ دوسری جگہ (محمدی بیگم) بیاہی نہیں جائے گی بلکہ یہ تھا کہ ضرور ہی اوّل دوسری جگہ بیاہی جائے گی۔ سو یہ ایک پیشگوئی کا حصہ تھا کہ دوسری جگہ بیاہی جانے سے پورا ہوا۔ الہام الٰہی کے یہ لفظ ہیں...... یعنی خدا تیرے ان مخالفوں کا مقابلہ کرے گا اور وہ جو دوسری جگہ بیاہی جائے گی خدا اس کو پھر تیری طرف لائے گا۔ جاننا چاہیے کہ ردّ کے معنی عربی زبان میں یہ ہیں کہ ایک چیز ایک جگہ ہے اور وہاں سے چلی جائے اور پھر واپس لائی جائے۔ پس چونکہ محمدی بیگم ہمارے اقارب میں سے بلکہ قریب خاندان میں سے تھی۔ یعنی میری چچا زاد ہمشیرہ کی لڑکی تھی اور دوسری طرف قریب رشتہ میں ماموں زاد بھائی کی لڑکی تھی۔ یعنی احمد بیگ کی۔ پس اس صورت میں رد کے معنی اس پر مطابق آئے کہ پہلے وہ ہمارے پاس تھی پھر وہ چلی گئی اور قصبہ پٹی میں بیاہی گئی اور وعدہ یہ ہے کہ پھر وہ نکاح کے تعلق سے واپس آئے گی۔ سو ایسا ہی ہوگا۔“
(الحکم قادیانی اخبار ٣٠ جون ١٩٠٥ء)
١٣
ابوعبیدہ: مرزا قادیانی! یہ باتیں میری سمجھ میں تو آتی نہیں۔ کیا واقعی اس کا بیوہ ہونا پھر آپ کے نکاح میں آنا مقدر تھا؟
مرزا قادیانی: آپ پہلے بھی میرے بہت سے اقوال اس کے متعلق ملاحظہ کر چکے ہیں۔ اگر مزید اطمینان چاہیے تو اور لیجئے!
قول مرزا......٣٦ ”خدا تعالیٰ نے یہ مقرر کر رکھا ہے کہ وہ احمد بیگ کی دختر کلاں (محمدی) کو ہر ایک روک دور کرنے کے بعد انجام کار اسی عاجز کے نکاح میں لائے گا۔“
(تبلیغ رسالت ج اول ص ١١٦، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٥٨)
قول مرزا......٣٧ ”خدا تعالیٰ ان سب تدارک کے لیے جو اس کام (محمدی کے نکاح با مرزا) کو روک رہے ہیں۔ تمہارا مددگار ہوگا اور انجام کار اس لڑکی کو تمہاری طرف واپس لائے گا۔ کوئی نہیں جو خدا کی باتوں کو ٹال سکے تیرا رب وہ قادر ہے کہ جو کچھ چاہے وہی ہو جاتا ہے تو میرے ساتھ ہے اور میں تیرے ساتھ ہوں۔“
(تبلیغ رسالت جلد اول ص ١١٦، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٥٨)
قول مرزا بصورت الہام......٣٨ (اے مرزا تو ان پوچھنے والوں کو) ”کہہ دے کہ مجھے اپنے رب کی قسم ہے کہ یہ (محمدی کے ساتھ میرے نکاح ہونے کی پیشگوئی) سچ ہے اور تم اس بات کو وقوع میں آنے سے روک نہیں سکتے۔“
(تبلیغ رسالت جلد دوم ص ٨٥)
قول مرزا بصورت الہام......٣٩ اے مرزا ”ہم نے خود اس (محمدی بیگم) سے تیرا عقد نکاح باندھ دیا ہے۔ میری باتوں کو کوئی بدلا نہیں سکتا۔“
(تبلیغ رسالت جلد دوم ص ٨٥، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٣٠١)
ابوعبیدہ: جناب من! میرا تو خیال ہے کہ یہ پیشگوئی انذاری پیشگوئیوں کی طرح غالباً تقدیر معلق ہوگی۔
مرزا قادیانی: نہیں صاحب! مذکورہ بالا الہامات سے صاف معلوم ہو رہا ہے کہ یہ انذاری پیشگوئی نہیں ہے۔ الہام کی رو سے تو میرا دعویٰ ہے کہ
قول مرزا......٤٠ ”کہ نفس پیشگوئی یعنی اس عورت (محمدی بیگم) کا اس عاجز کے نکاح میں آنا یہ تقدیر مبرم ہے جو کسی طرح ٹل نہیں سکتی کیونکہ اس کے لیے الہام الٰہی میں یہ فقرہ موجود ہے کہ لَا تَبْدِيْلَ لِکَلِمَاتِ اللّٰہِ یعنی میری یہ بات ہرگز نہ ٹلے گی۔ پس اگر ٹل جائے تو خدا تعالیٰ کا کلام باطل ہوتا ہے۔۔۔۔۔ خدا نے فرمایا ہے کہ میں اس عورت
١٤
(محمدی بیگم) کو اس کے نکاح کے بعد واپس لاؤں گا اور تجھے دوں گا اور میری تقدیر کبھی نہیں بدلے گی اور میرے آگے کوئی بات انہونی نہیں اور میں سب روکوں کو اٹھا دوں گا جو اس حکم کے نفاذ سے مانع ہوں۔“
(تبلیغ رسالت ج٣ ص ١١٥، مجموعہ اشتہارات ج٢ ص ٤٣)
ابوعبیدہ: صاحب یہ تو بڑے پکے وعدے وعید ہیں۔ مگر بہت مدت گزر گئی ہے کہ محمدی بیگم سلطان محمد آف پٹی بیاہ لے گیا۔ اڑھائی سال تو ایک طرف کئی ١٢، ١٢ سال گزر گئے وہ مرنے میں نہیں آتا۔ شائد آپ کی پیشگوئی سمجھنے میں اجتہادی غلطی لگ رہی ہو۔ اس محمدی بیگم سے مراد اس کی کوئی لڑکی یا لڑکی در لڑکی ہو اور آپ کی ذات شریفہ سے آپ کا کوئی لڑکا یا لڑکا در لڑکا مراد ہو۔
مرزا قادیانی: واہ ماسٹر صاحب! میرے مذکورہ بالا ٤٠ اقوال کے ہر ہر لفظ سے ثابت ہوتا ہے کہ محمدی بیگم آخر کار میرے نکاح میں آنا ہے۔ یہ بات آپ کو کیا سوجھی کیونکہ قول مرزا .....٤١ ’’اس پیشگوئی کی تصدیق کے لیے جناب رسول کریم ﷺ نے بھی پہلے سے ایک پیش گوئی فرمائی ہوئی ہے کہ يَتَزَوَّجُ وَيُوْلَدُ لَهُ یعنی وہ مسیح موعود بیوی کرے گا اور نیز وہ صاحب اولاد ہوگا اب ظاہر ہے کہ تزوج اور اولاد کا ذکر کرنا عام طور پر مقصود نہیں کیونکہ عام طور پر ہر ایک شادی کرتا ہے اور اولاد بھی ہوتی ہے۔ اس میں کچھ خوبی نہیں بلکہ تزوج سے مراد وہ خاص تزوج ہے جو بطور نشان ہوگا اور اولاد سے مراد وہ خاص اولاد ہے جس کی نسبت اس عاجز کی پیشگوئی موجود ہے۔ گویا اس جگہ رسول کریم ﷺ ان سیاہ دل منکروں کو ان کے شبہات کا جواب دے رہے ہیں کہ یہ باتیں ضرور پوری ہوں گی۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٣ حاشیہ خزائن ج ١١ ص ٣٣٧)
ابوعبیدہ: جناب! رسول پاک ﷺ کی اس پیش گوئی سے تو واقعی آپ کی تصریح کے مطابق معلوم ہوتا ہے کہ مرزا محمود احمد جو اس خاص اولاد کا مصداق بن رہا ہے۔ اس دعویٰ میں وہ معہ آپ کی جماعت کے جھوٹے ہیں۔ مگر میں حیران ہوں کہ آخر یہ نکاح ہوگا کب؟ سلطان محمد آف پٹی تو مرنے میں نہیں آتا اور محمدی بیگم کے بطن سے غالباً ١٢ عدد فرزند نرینہ بھی پیدا ہو چکے ہیں۔ آپ کی عمر بھی غالباً اب ستر سے اوپر ہو چکی ہوگی۔ غالباً مَنْ نُّعَمِّرْهُ نُنَکِّسْهُ فِی الْخَلْقِ کا مصداق بن چکے ہوں گے۔ آخر یہ امید کب تک؟
مرزا قادیانی: ماسٹر صاحب واقعی انتظار کرتے کرتے تو میں بھی بوڑھا ہو گیا ہوں اور واقعی جب ایک دفعہ
١٥
قول مرزا...... ٤٢ ”اس عاجز کو ایک سخت بیماری آئی یہاں تک کہ قریب موت کے نوبت پہنچ گئی بلکہ موت کو سامنے دیکھ کر وصیت بھی کر دی گئی۔ اس وقت گویا یہ پیشگوئی آنکھوں کے سامنے آ گئی اور یہ معلوم ہو رہا تھا کہ اب آخری دم ہے اور کل جنازہ نکلنے والا ہے۔ تب میں نے اس پیشگوئی کی نسبت خیال کیا کہ شائد اس کے اور معنی ہوں گے جو میں سمجھ نہیں سکا۔ تب اسی حالت میں قریب الموت مجھے الہام ہوا...... یعنی یہ بات تیرے رب کی طرف سے ہے تو کیوں شک کرتا ہے...... تو نومید مت ہو۔“
(ازالہ اوہام ص ٣٩٨ خزائن ج ٣ ص ٣٠٦)
ابوعبیدہ: پھر اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ محمدی بیگم نے ضرور آپ کے نکاح میں آنا تھا مگر ادھر جب تک سلطان محمد اس کا خاوند اس کو طلاق نہ دے یا خود فوت نہ ہو جائے محمدی بیگم آپ کے نکاح میں نہیں آ سکتی۔ اب کیا سوچ رہے ہیں؟
مرزا قادیانی: ماسٹر صاحب مجھے الہام ہوا تھا کہ خدا نے فرمایا۔
قول مرزا بصورت الہام...... ٤٣ ”زَوَّجْنَاکَھَا یعنی ہم نے خود (خدا نے) خود اس (محمدی) سے تیرا عقد نکاح باندھ دیا ہے۔“
(تبلیغ رسالت ج ٢ ص ٨٥، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٣٠١)
ابوعبیدہ: اچھا صاحب! نکاح کے بارہ میں پھر بحث کریں گے۔ آئیے دیکھیں اس نکاح کی پیشگوئی کی لپیٹ میں کون کون معصوم آدمی مارے گئے۔ کہتے ہیں کہ مطابق مثل ”ماروں گھٹنا پھوٹے آنکھ“ یا موافق مثل ”کرے ڈاڑھی والا اور پکڑا جائے مونچھوں والا۔“ اور بہت سے بیگناہ اس سلسلہ میں تباہ و برباد ہو گئے۔ مثلاً سنا ہے کہ آپ نے اسی پیشگوئی کے سلسلہ میں اپنی ایک پاکباز بیوی کو طلاق دے دی اور دو لائق و شریف لڑکوں کو عاق کر دیا اور عزت بی بی (محمدی بیگم کی پھوپھی زادہ بہن) کو طلاق دلوا دی۔ کیا یہ سب باتیں صحیح ہیں؟
مرزا قادیانی: ماسٹر صاحب سنیے! اس سلسلہ میں جو کچھ میں نے کیا وہ مندرجہ ذیل ہے۔ باقی سب غلط۔
قول مرزا...... ٤٤ ”میرا بیٹا سلطان احمد نام جو لاہور میں نائب تحصیلدار ہے...... وہی اس مخالفت پر آمادہ ہو گئے ہیں اور یہ سارا کام اپنے ہاتھ میں لے کر اس تجویز میں ہیں کہ عید کے دن یا اس کے بعد اس لڑکی (محمدی بیگم) کا کسی سے نکاح کر دیا
١٦
جائے......“ میں نے سلطان احمد کو سمجھایا اور بہت تاکیدی خط لکھے کہ تو اور تیری والدہ اس کام سے الگ ہو جاؤ مگر انھوں نے میرے خط کا جواب تک نہ دیا...... لہٰذا میں آج کی تاریخ کہ دوسری مئی ١٨٩١ء ہے عوام اور خواص پر بذریعہ اشتہار ہٰذا ظاہر کرتا ہوں کہ اگر یہ لوگ اس ارادہ سے باز نہ آئے...... اور جس شخص کو انھوں نے نکاح کے لیے تجویز کیا ہے۔ اس کو رد نہ کر دیا (اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ خود پیشگوئی کے پورا ہونے کی مخالفت کر رہے تھے۔ پیشگوئی میں تو محمدی کا بیوہ ہونا ضروری تھا اور بیوہ ہو کر آپ کے نکاح میں آنے کے واسطے نکاح اوّل ضروری تھا۔ (دیکھو قول مرزا نمبر ٤٦) مجھے اس معمّہ کی سمجھ نہیں آئی۔ ابوعبیدہ) بلکہ اس شخص کے ساتھ نکاح ہو گیا تو اسی نکاح کے دن سے سلطان احمد (میرا بیٹا) عاق اور محروم الارث ہوگا اور اسی روز سے اس کی والدہ پر میری طرف سے طلاق ہے اور اگر اس کا بھائی فضل احمد جس کے گھر میں محمدی بیگم کے والد مرزا احمد بیگ کی بھانجی ہے۔ اپنی اس بیوی کو اسی دن جب اس کو (محمدی بیگم کے) نکاح کی خبر ہو طلاق نہ دے تو پھر وہ بھی عاق اور محروم الارث ہوگا اور آئندہ ان سب کا کوئی حق میرے پر نہیں ہوگا...... اب ان سے کچھ تعلق رکھنا قطعاً حرام...... اور ایک دیوثی کام ہے۔ مومن دیوث نہیں ہوتا۔“
(تبلیغ رسالت ج ٢ ص ١١۔١٢ مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢١٩ تا ٢٢١)
ابوعبیدہ: جناب والا محمدی بیگم کے نکاح سے پہلے آپ کے نکاح میں کتنی بیویاں تھیں؟
قول مرزا......٢٥ ”میری کل تین بیویاں بیاہ ہوئی تھی۔ جن کے متعلق میرے الہاماتِ ذیل شاہدِ عدل ہیں۔ ”یا آدم اسکن انت و زوجک الجنۃ یا مریم اسکن انت و زوجک الجنۃ. یا احمد اسکن انت و زوجک الجنۃ اس جگہ تین جگہ زوج کا لفظ آیا ہے اور تین نام اس عاجز کے رکھے گئے ہیں۔ پہلا نام آدم۔ یہ وہ ابتدائی نام ہے جبکہ خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے اس عاجز کو روحانی وجود بخشا۔ اس وقت پہلی زوجہ کا ذکر فرمایا۔ (اس بیوی کو باوجود مبشرہ بالجنۃ ہونے کے مرزا قادیانی نے بعد میں محمدی بیگم کے نکاح کی زد میں لا کر طلاق دے دی تھی۔ ناقل) پھر دوسری زوجہ کے وقت میں (خدا نے میرا نام) مریم رکھا...... اور تیسری زوجہ (محمدی بیگم ہے۔ ناقل) جس کا انتظار ہے۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٤ خزائن ج ١١ ص ٣٣٨)
ابوعبیدہ: مرزا قادیانی آپ کے اس الہام کی رو سے تو پہلی بیوی قطعاً دین دار
١٧
اور جنتی معلوم ہوتی ہے۔ مگر آپ نے اس الہام الٰہی کے خلاف اس کو دشمن دین سمجھ کر طلاق دے دی۔ میں اس معمہ کو حل نہیں کر سکا۔ جمع بین النقیضین معلوم ہوتی ہے۔ آمد بر سر مطلب۔ میرا خیال ہے کہ شاید آپ کو محمدی بیگم کی پیشگوئی میں غلطی لگ رہی ہے۔ جب خدا نے اس کا نکاح سلطان محمد کے ساتھ کر دیا تو اب آپ کیا امید رکھتے ہیں؟
مرزا قادیانی: صاحب! مجھے بھی الہام در الہام کے ذریعہ خدا نے بتایا ہے کہ وہ بیوہ ہو کر میرے نکاح میں ضرور آئے گی۔ دیکھو میرا الہام ذیل اور اس کی بحث۔
قول مرزا...... ٤٦ ”(الہام) بِکْرٌ وَثَيِّبٌ یعنی مقدر یوں ہے کہ ایک بکر (کنواری) سے شادی ہوگی اور پھر بعدۂ ایک بیوہ سے۔ میں اس الہام کو یاد رکھتا ہوں۔“ (اس بیوہ سے مراد محمدی بیگم کے سوا اور کون ہو سکتی ہے۔ ناقل)
(ضمیمہ انجام آتھم ص ١٤ خزائن ج ١١ ص ٢٩٨)
ابوعبیدہ: جناب! کہتے ہیں کہ ایسے مشکل کاموں میں متعلقین کو انعام و اکرام دینے سے بہت دفعہ کام نکل جاتا ہے۔ آپ نے اگر محمدی بیگم کے ماموں مرزا امام الدین صاحب کو کچھ انعام دیا ہوتا تو وہ ضرور آپ کا کام کرا دیتا کیونکہ وہ بہت با رسوخ آدمی تھا۔ (مرزا امام دین۔ مرزا قادیانی کا چچا زاد بھائی تھا)
مرزا قادیانی: ماسٹر صاحب! اس کا جواب میرے مرید میاں عبداللہ سنوری اور میرے صاحب زادے مرزا بشیر احمد کی زبانی سنئے!
قول میاں عبداللہ سنوری ”ایک دفعہ حضرت صاحب جالندھر جا کر قریباً ایک ماہ ٹھہرے تھے اور ان دنوں میں محمدی بیگم کے ایک حقیقی ماموں نے محمدی بیگم کا حضرت صاحب سے رشتہ کرا دینے کی کوشش کی تھی۔ مگر کامیاب نہ ہوا۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب محمدی بیگم کا والد مرزا احمد بیگ ابھی زندہ تھا اور ابھی محمدی بیگم کا سلطان محمد سے رشتہ نہیں ہوا تھا۔ محمدی بیگم کا یہ ماموں...... حضرت صاحب سے کچھ انعام کا خواہاں بھی تھا اور چونکہ محمدی بیگم کے نکاح کا عقدہ زیادہ تر اسی شخص کے ہاتھ میں تھا۔ اس لیے حضرت صاحب نے اس سے کچھ انعام کا وعدہ بھی کر لیا تھا۔“
(سیرۃ المہدی حصہ اول ص ١٩٣۔١٩٢ روایت نمبر ١٧٩)
قول مرزا بشیر احمد ولد مرزا قادیانی ”یہ شخص (مرزا امام الدین ماموں محمدی بیگم) اس معاملہ میں بد نیت تھا اور حضرت صاحب سے صرف کچھ روپیہ اڑانا چاہتا تھا کیونکہ بعد میں یہی شخص اور اس کے دوسرے ساتھی اس لڑکی کے دوسری جگہ بیاہے جانے
١٨
کا موجب ہوئے۔ (صاحب! اس طرح تو وہ پیشگوئی کو پورا کر رہا تھا۔ یعنی اس کی بیوگی کا سامان مہیا کر رہا تھا۔ محمدی کا پہلے کہیں نکاح ہوتا تو وہ بیوہ ہو کر آپ کے والد کے نکاح میں آتی نا۔ پس وہ تو اچھا کر رہا تھا۔ نہ کہ بد نیت کہلانے کا مستحق تھا۔ ابو عبیدہ) مگر مجھے والدہ صاحبہ سے معلوم ہوا کہ حضرت صاحب نے بھی اس شخص کو روپیہ دینے کے متعلق بعض حکیمانہ احتیاطیں (باوجود کوشش کے ہمیں وہ احتیاطیں معلوم نہیں ہو سکیں۔ افسوس۔ ابوعبیدہ) ملحوظ رکھی ہوئی تھیں۔“ (سیرۃ المہدی حصہ اول ص ١٩٣، ١٩٢ روایت نمبر ١٧٩)
ابوعبیدہ: مرزا قادیانی! آپ نے غلطی کی۔ ایسے موقعہ پر جب کہ عزت اور بےعزتی بلکہ صداقت اور بطالت کا سوال درپیش ہو۔ آپ نے بے جا کنجوسی کی۔ روپے کو ایسے موقعہ پر پانی کی طرح بہا دینا چاہیے تھا۔ غالباً آپ کی بے جا کفایت شعاری نے کام خراب کر دیا تھا۔ چونکہ آپ نے ابھی تک دامن امید کو ہاتھ سے نہیں چھوڑا کیا آپ نے ١٩٠١ء میں اس عورت کے متعلق عدالت میں کوئی حلفی بیان دیا تھا؟
مرزا قادیانی: ہاں صاحب! مندرجہ ذیل بیان میں نے عدالت میں حلفی دیا تھا اور ہمارے اخبار الحکم قادیان ١٠؍ اگست ١٩٠١ء میں شائع بھی ہو گیا تھا۔
قول مرزا...... ٤٧ ”یہ سچ ہے کہ محمدی بیگم میرے ساتھ بیاہی نہیں گئی۔ مگر میرے ساتھ اس کا بیاہ ضرور ہوگا جیسا کہ پیشگوئی میں درج ہے اور وہ سلطان محمد سے بیاہی گئی۔ جیسا کہ پیشگوئی میں تھا۔ (پھر آپ نے پیشگوئی کے اس جزو کی مخالفت کیوں کی یعنی سلطان محمد کے ساتھ نکاح کرانے والوں کو عذاب کا مستحق قرار دیا۔ بیوی کو چھوڑ دیا۔ بیٹا عاق کر دیا۔ ابو عبیدہ)...... عورت اب تک زندہ ہے۔ میرے نکاح میں وہ عورت ضرور آئے گی۔ امید کیسی یقین کامل ہے۔ یہ خدا کی باتیں ہیں۔ ٹلتی نہیں ہو کر رہیں گی۔“ (یہ تو ٹل گئیں۔ آپ کے نکاح کو خدا نے فسخ کر دیا۔ دیکھو قول نمبر ٥٥ ابو عبیدہ) (منظور الٰہی ص ٣٣٥)
ابوعبیدہ: مرزا قادیانی اس پیشگوئی کی عظمت تو اسی سے ظاہر ہے کہ یہ تقدیر مبرم ہے تاہم اس کے متعلق آپ نے کوئی دعا کی ہو تو وہ بھی فرما دیجئے!
مرزا قادیانی: ماسٹر صاحب! یہ دعا ضرور کرتا رہا ہوں۔
قول مرزا...... ٤٨ ”میں دعا کرتا ہوں کہ اے خدائے قادر وعلیم! اگر ...... احمد بیگ کی دختر کلاں (محمدی بیگم) کا آخر اس عاجز کے نکاح میں آنا تیری طرف سے ہے تو اُن کو ایسے طور سے ظاہر فرما جو خلق اللہ پر حجت ہو اور کور باطن حاسدوں کا منہ بند ہو جائے
١٩
اور اگر اے خداوند! یہی پیش گوئی تیری طرف سے نہیں ہے تو مجھے نامرادی اور ذلت کے ساتھ ہلاک کر۔ اگر میں تیری نظر میں مردود اور ملعون اور دجال ہی ہوں۔ جیسا کہ مخالفوں نے سمجھا ہے۔“
(تبلیغ رسالت ج ٣ ص ١٨٦، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ١١٦)
ابوعبیدہ: مرزا قادیانی! آپ تو بڑے مخلص معلوم ہوتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مرزا سلطان محمد آف پٹی نے آپ کی موجودگی میں ضرور ہلاک ہو جانا تھا اور اس طرح آپ کے نکاح کے لیے محمدی بیگم کو بیوہ کر دینا تھا مگر میرا خیال ہے کہ آپ بوڑھے ہو چکے ہیں اور وہ ابھی تک دندناتا پھرتا ہے۔ اس کا آپ سے پہلے مرنا طبعاً قرین قیاس نہیں۔ آپ کا کیا خیال ہے اور اگر وہ آپ سے پہلے نہ مرا تو پھر تو کوئی جواب اور تاویل نہ چل سکے گی۔
مرزا قادیانی! واقعی ٹھیک ہے۔ سنیے!
قول مرزا......٤٩ ”میں بار بار کہتا ہوں کہ نفس پیشگوئی داماد احمد بیگ کی (موت کی) تقدیر مبرم ہے۔ اس کی انتظار کرو۔ اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ پیشگوئی پوری نہیں ہوگی۔ (یعنی سلطان محمد میری زندگی میں فوت نہیں ہوگا اور محمدی بیگم میرے نکاح میں نہیں آئے گی۔ ناقل) اور میری موت آ جائے گی۔“
(انجام آتھم ص ٣١ حاشیہ خزائن ج ١١ ص ٣١ حاشیہ)
قول مرزا......٥٠ ”یاد رکھو کہ اس پیشگوئی کی دوسری جزو پوری نہ ہوئی (یعنی مرزا سلطان محمد آف پٹی نہ مرا اور میرے لیے محمدی کو بیوہ نہ کر گیا۔ ناقل) تو میں ہر ایک بد سے بدتر ٹھہروں گا۔ اے احمقو! یہ انسان کا افتراء نہیں۔ یہ کسی خبیث مفتری کا کاروبار نہیں۔ یقیناً سمجھو کہ یہ خدا کا سچا وعدہ ہے، وہی خدا جس کی باتیں نہیں ٹلتیں۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٤ خزائن ج ١١ ص ٣٣٨)
ابوعبیدہ: جناب عالی! آپ کی پیشگوئی کے مطابق احمد بیگ کے داماد صوبیدار میجر سلطان محمد آف پٹی نے ١٨٩٥ء میں فوت ہو جانا تھا مگر وقت مقررہ پر کیوں نہیں مرا؟
مرزا قادیانی: ماسٹر صاحب! مرزا سلطان محمد آف پٹی کی پیشگوئی تو انذاری تھی۔
قول مرزا......٥١ ”وہ اپنے خسر کی موت کے بعد بہت ڈر گیا کہ قریب تھا کہ وہ اس حادثہ کے معلوم ہونے پر مر جاتا اور اس کو اپنی جان کا فکر لگ گیا اور محمدی بیگم کے ساتھ نکاح ہو جانے کو وہ ایک آسمانی آفت (اس آفت کے دور کرنے کا آسان علاج تھا۔ محمدی بیگم کو طلاق دے کر آپ کے حوالے کر دیتا اور عیش کرتا رہتا۔ ٹھیک ہے نا
٢٠
صاحب! ابوعبیدہ) سمجھنے لگ گیا۔"
(انجام آتھم ص ٢٢١۔٢٢٠ خزائن ج ١١ ص ایضاً)
اس واسطے اس کی موت میں تاخیر واقع ہو گئی۔
ابوعبیدہ: جناب کی پیشگوئی بابت موت سلطان محمد خاوند محمدی بیگم واقعی انذاری تھی۔ جس کا ملخص یہ ہے کہ جو شخص محمدی بیگم کے ساتھ نکاح کرے گا۔ وہ اڑھائی سال کے اندر اندر مر جائے گا۔ ٹھیک ہے نا مرزا قادیانی! کیونکہ آپ نے اپنے قول نمبر ٣٢ میں یہی فرمایا ہے۔ پس معلوم ہوا کہ محمدی بیگم کا خاوند پیشگوئی کی زد میں صرف محمدی بیگم کے ساتھ نکاح کر لینے کی وجہ سے آیا تھا ورنہ نکاح سے پہلے تو آپ کو سلطان محمد آف پٹی سے غالباً کوئی جان پہچان بھی نہ تھی۔ سلطان محمد کا جرم صرف یہی تھا کہ اس نے ایک ایسی لڑکی سے نکاح کر لیا۔ جس کے ساتھ خدا نے آپ کا نکاح آسمان پر باندھا ہوا تھا اور آپ کے قول کے مطابق چونکہ محمدی بیگم کا آپ کے نکاح میں آنا تقدیر مبرم تھا۔ اس واسطے اس کے خاوند کا مرنا بھی تقدیر مبرم ہونا چاہیے۔ آپ کا کیا خیال ہے؟
مرزا قادیانی! ہاں صاحب بالکل ٹھیک ہے۔ میرے مذکورہ بالا اقوال اس پر شاہد عادل کا حکم رکھتے ہیں۔
ابوعبیدہ: صاحب! میری عرض یہ ہے کہ سلطان محمد کی موت میں تاخیر از روئے پیشگوئی ہو نہیں سکتی تھی۔ اس کا جرم تھا۔ آپ کی آسمانی بیوی کے ساتھ نکاح کر لینا۔ اس کی سزا موت کی صورت میں مقدر ہو چکی تھی۔ سلیس اردو میں یوں سمجھیں کہ اگر سلطان محمد سے محمدی کے ساتھ نکاح کرنے کا جرم سرزد ہوا۔ تو وہ ٢ ١/٢ سال کے اندر اندر مر جائے گا۔ اس نے موت کی پرواہ نہ کی اور نکاح کر لیا۔ اب پیشگوئی کے مطابق اسے ضرور ٢ ١/٢ سال کے اندر مرنا چاہیے تھا۔
مرزا قادیانی! (خاموش ہو گئے)
ابوعبیدہ: مرزا قادیانی مدت کے سوال کو جانے دیجئے اور سلطان محمد کا اپنی موت سے بے پرواہ ہو کر محمدی کے ساتھ نکاح کر لینا بھی تسلیم سہی۔ ہم آپ کا یہ عذر بھی تسلیم کر لیتے ہیں کہ سلطان محمد بعد میں موت سے ڈر گیا۔ لہٰذا نہ مرا۔ اب اگر وہ ساری عمر موت سے ڈرتا رہا۔ تو پھر تو آپ کے اصول سے ہمیشہ موت کا شکار ہونے سے بچتا رہے گا اور اس طرح انذاری پیشگوئی کی اس خاصیت سے وہ فائدہ اٹھاتا رہا۔ تا آنکہ جناب اس دنیا سے تشریف لے جائیں۔ اس صورت میں محمدی بیگم کا نکاح جناب سے کیسے ہو سکے گا؟ میرے خیال میں آپ میری اس دلیل کو اچھی طرح سمجھ رہے ہیں۔
٢١
مرزا قادیانی: ماسٹر صاحب! میرا یہ مطلب نہیں ہے کہ اب سلطان محمد آف پٹی میری زندگی میں نہیں مرے گا۔ ذرا میرے الہامات سابقہ کا پھر مطالعہ کیجئے۔ بالخصوص فَسَيَكْفِيْكَهُمُ اللّٰهُ وَيَرُدُّهَا إِلَيْكَ لَا تَبْدِيْلَ لِكَلِمَاتِ اللّٰهِ۔ اگر سلطان محمد میری زندگی میں نہ مرے تو الہام میں يَرُدُّھَا کے الفاظ بالکل بے معنی ٹھہرتے ہیں۔ باقی رہا سلطان محمد کا ہمیشہ ڈر ڈر کر جان بچاتے رہنا۔ سو یہ ناممکن ہے۔ سنیے!
قول مرزا..... ٥٢ "تحقیق میرے رشتہ دار بالخصوص سلطان محمد وغیرہ۔ دوبارہ فساد کریں گے اور خبث و عناد میں ترقی کریں گے۔ پس اس وقت خدا تعالیٰ اس مقدر امر کو نازل کرے گا۔ کوئی آدمی اس کی قضا کو رد نہیں کر سکتا...... اور میں دیکھتا ہوں کہ وہ پھر پہلی عادتوں کی طرف مائل ہو رہے ہیں اور ان کے دل سخت ہو گئے ہیں....... اور خوف کے دنوں کو پھر بھلا دیا ہے اور ظلم اور تکذیب کی طرف پھر عود کر رہے ہیں۔ پس عنقریب خدا کا امر ان پر نازل ہو کر رہے گا۔"
(انجام آتھم ص ٢٢٣، ٢٢٤ خزائن ج ١١ ص ایضاً)
قول مرزا..... ٥٣ "میں نے تمھیں یہ نہیں کہا کہ بس اسی جگہ سارا معاملہ ختم ہو جائے گا۔ (یعنی سلطان محمد کے ڈرنے اور پھر موت سے بچ جانے پر ہی معاملہ ختم نہیں ہو جاتا۔ ناقل) اور بس یہی نتیجہ تھا جو ظاہر ہو گیا اور محمدی بیگم اور اس کے خاوند کی پیشگوئی بس اس پر ختم ہو گئی بلکہ اصلی پیشگوئی اپنے حال پر قائم ہے اور کوئی آدمی کسی حیلہ یا مکر سے اسے روک نہیں سکتا اور یہ پیشگوئی خدائے بزرگ کی طرف سے تقدیر مبرم ہے اور عنقریب وہ وقت آئے گا۔ مجھے قسم ہے خدا کی کہ محمدی بیگم کے خاوند کے مرنے اور اس کے بعد محمدی بیگم کے میرے نکاح میں آنے کی پیشگوئی سچی ہے۔ پس عنقریب تم دیکھ لو گے۔ میں اس پیشگوئی کو اپنے سچا یا جھوٹا ہونے کے لیے معیار قرار دیتا ہوں اور میں نے جو کچھ کہا الہام اور وحی سے معلوم کر کے کہا ہے۔"
(انجام آتھم ص ٢٢٣ خزائن ج ١١ ص ایضاً)
ابوعبیدہ: مرزا قادیانی! ماشاء اللہ آپ کو تو اپنے الہام اور وحی پر پورا پورا اعتماد بلکہ ایمان ہے۔ مگر مشکل یہ ہے کہ واقعات کی رو سے معلوم ہوتا ہے کہ پیشگوئی پوری نہ ہوگی کیسا اچھا ہوتا۔ اگر محمدی بیگم کی پیشگوئی اس بیچاری کو بیوہ کر کے آپ کے نکاح میں لانے کی بجائے کنواری حالت میں ہی آپ کے ساتھ نکاح ہو جانے تک محدود رہتی۔ نہ سلطان محمد درمیان میں آتا نہ اس کی موت کا سوال پیدا ہوتا۔
٢٢
مرزا قادیانی: ماسٹر صاحب! میرا خدا بڑا قادر مطلق اور حکیم ہے۔ سنیے اصل حقیقت۔
قول مرزا..... ٥٤ ”خدا تعالیٰ نے لفظ فَسَیَکْفِیْکَهُمُ اللّٰهُ سے اس طرف اشارہ کیا ہے کہ میں احمد بیگ کی بیٹی کو تمام رکاوٹیں دور کر کے واپس لاؤں گا اصل مقصود ہی پیشگوئی کا محمدی بیگم کے خاوند کو ہلاک کرنا ہے اور باقی رہا محمدی بیگم کا اس قدر زبردست رکاوٹ کو دور کر کے میرے نکاح میں لانا۔ یہ پیشگوئی کی عظمت کو بڑھانے کے واسطے ہے۔“
(انجام آتھم ص ٢١٦۔٢١٧ خزائن ج ١١ ص ایضاً)
ابوعبیدہ: جناب والا۔ اب ١٩٠٧ء میں تو جناب کی عمر حسب الہام ثمانین حولا ً اور قریباً من ذالک کم و بیش ٨٠۔٨٥ سال ہونے والی ہوگی۔ سنا ہے کہ وہ لڑکی (محمدی بیگم) اس وقت تک ایک درجن تک اولاد نرینہ بھی پیدا کر چکی ہے۔ اس کے خاوند کا یہ حال ہے کہ اس کی صحت ابھی تک بہت ہی عمدہ ہے۔ بظاہر تو مرتا نظر نہیں آتا۔ ابھی پورے زور پر ہے اور ادھر آپ کا یہ حال ہے کہ عمر ٨٠۔٨٥ کے لگ بھگ بیان کی جاتی ہے۔ ذیابیطس، دوران سر، بدہضمی اور مراق وغیرہ امراض نے جسم کو ویسے بے حد کمزور کر دیا ہے۔ اب یہ پیشگوئی کیسے پوری ہوگی۔ آپ کی پیشگوئی کی رو سے تو وہ عظیم الشان لڑکا جس کی شان آپ نے ازالہ اوہام میں یہ لکھی ہے۔ ”کَانَّ اللّٰهَ نَزَلَ مِنَ السَّمَاءِ“ یعنی گویا کہ خود خدا ہی آسمان سے نازل ہو گیا۔ نیز جو آپ کی مسیحیت کی نشانی بننے والا تھا۔ آپ کے قول کے مطابق محمدی کے بطن سے پیدا ہونا تھا پیشگوئی کے اس حصہ کا کیا جواب ہوگا؟ اب تو حالت یاس تک پہنچ چکی ہے۔ قصہ ختم کرنا چاہیے۔ شائد آسمان پر محمدی کے ساتھ آپ کا نکاح پڑھا جانا قوت متخیلہ کا نتیجہ ہو۔ آپ نے اجتہاد سے تخیل کا نام الہام رکھ لیا ہو۔ اس میں آپ معذور بھی ہو سکتے ہیں کیونکہ اجتہادی غلطی تو آپ سے ہو سکتی ہے۔
قول مرزا..... ٥٥ ”یہ امر کہ الہام میں یہ بھی تھا کہ اس عورت کا نکاح آسمان پر میرے ساتھ پڑھا گیا ہے۔ یہ درست ہے مگر جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں۔ اس نکاح کے ظہور کے لیے ایک شرط بھی تھی جو اسی وقت شائع کی گئی تھی اور وہ یہ کہ اَیَّتُھَا الْمَرْأَةُ تُوْبِيْ تُوْبِيْ اِنَّ الْبَلَاءَ عَلٰی عَقِبِکِ پس جب ان لوگوں نے اس شرط کو پورا کر دیا تو نکاح فسخ ہو گیا۔ یا تاخیر میں پڑ گیا۔“
(تتمہ حقیقۃ الوحی ص ١٣٢ خزائن ج ٢٢ ص ٥٧٠)
ابوعبیدہ: خوب! آپ کے ان چند فقرات نے تو آپ کے دعویٰ کی حقیقت الم
٢٣
تشریح کر دی۔ ١٨٨٦ء سے شروع کر کے ١٩٠٧ء تک برابر ٢٠ سال آپ نہ صرف محمدی بیگم کے نکاح کی امید ہی میں بیٹھے رہے بلکہ اسے تقدیر مبرم قرار دیتے رہے۔ آپ کے بیسیوں اقوال سے ثابت ہوتا ہے کہ محمدی بیگم کے خاوند کا نہ مرنا گویا آپ کے جھوٹا ہونے پر مہر ہو گی۔ پھر محمدی کا آپ کے نکاح میں آنا تقدیر مبرم تھا۔ جو ٹل نہیں سکتی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے سب دعاوی معہ اس پیشگوئی کے غلط ہیں۔
مرزا قادیانی۔ (سر جھکائے ہوئے) ”ماسٹر صاحب! ہماری جماعت میں سب سے بڑے فلسفی و منطقی حکیم نور الدین صاحب ہی ہیں۔ شائد وہ کچھ اس معمّہ کے حل کرنے میں ہماری مدد کر سکیں۔“ کیوں مولوی جی!
حکیم نور الدین قادیانی: ”ماسٹر صاحب! ہمارے حضرت صاحب کا ایک نکتہ کی طرف خیال نہیں گیا۔ ورنہ آپ کے تمام اعتراضات کا جواب صرف ایک فقرہ میں ہو جاتا ہے اور وہ یہ ہے۔
قول حکیم نور الدین قادیانی ”جب مخاطبت میں مخاطب کی اولاد مخاطب کے جانشین اور اس کے مماثل داخل ہو سکتے ہیں تو احمد بیگ کی لڑکی یا اس لڑکی کی لڑکی کیا داخل نہیں ہو سکتی..... اور کیا مرزا کی اولاد مرزا کی عصبہ نہیں۔ میں نے بار بار عزیز میاں محمود کو کہا کہ اگر حضرت کی وفات ہو جائے اور یہ لڑکی (محمدی بیگم) نکاح میں نہ آئے تو میری عقیدت میں تزلزل نہیں آ سکتا۔ پس اگر محمدی حضرت کے نکاح میں نہ آئی تو پرواہ نہیں۔ اس کی لڑکی یا لڑکی در لڑکی اگر حضرت کے لڑکے یا لڑکے در لڑکے کے نکاح میں آ گئی تو بھی پیشگوئی پوری ہو جائے گی۔“ (ریویو آف ریلیجنز ج ٧ ش ٧ ص ٢٧٩ جولائی ١٩٠٨ء)
ابو عبیدہ: مرزا قادیانی! واقعی آپ کے صحابی حضرت مولوی نور الدین قادیانی ایسے منطقی عالم ہیں کہ اپنے علم اور منطق کے زور سے آدمی کو گدھا اور گدھے کو آدمی ثابت کر سکتے ہیں۔ مگر ان کی منطق ہمارے سامنے نہیں چل سکتی۔ خیال کریں کہ آپ کے کم و بیش ٥٠ اقوال سے ثابت ہو رہا ہے کہ محمدی بیگم ہی آنجناب کی بیوی بنیں گی اور پھر آپ کے ہاں وہ لڑکا پیدا ہو گا۔ جس کے متعلق آپ کی پیشگوئی موجود ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ مولوی نور الدین قادیانی آپ کی پیشگوئی کا مذاق اڑا رہے ہیں۔
مرزا قادیانی! اچھا۔ دیکھیں مولانا محمد علی صاحب ایم۔ اے ایل ایل بی وکیل ہیں۔ شائد کوئی حیلہ اور تاویل کر کے آپ کی تشفی کر سکیں ۔“ کیوں مولانا ؟
مولوی محمد علی مرزائی لاہوری ماسٹر صاحب! ”یہ سچ ہے کہ مرزا قادیانی نے کہا تھا کہ نکاح ہوگا اور یہ بھی سچ ہے کہ نکاح نہیں ہوا...... مگر میں کہتا ہوں کہ ایک بات کو لیکر سب باتوں کو چھوڑ دینا ٹھیک نہیں۔ کسی امر کا فیصلہ مجموعی طور پر کرنا چاہیے۔ جب تک سب کو نہ لیا جائے ہم نتیجہ پر نہیں پہنچ سکتے۔ صرف ایک پیشگوئی لے کر بیٹھ جانا اور باقی پیشگوئیوں کو چھوڑ دینا...... یہ طریق انصاف نہیں ۔“ (اخبار پیغام صلح لاہور ١٦ جنوری ١٩٢١ء)
ابوعبیدہ: مرزا قادیانی! میں تو مولانا محمد علی قادیانی کے جواب پر کچھ کہنا نہیں چاہتا کیا آپ کچھ فرمائیں گے؟
مرزا قادیانی: ماسٹر صاحب! میں تو کہہ چکا ہوں۔ ”میں اس پیشگوئی کو اپنے صدق یا کذب کا معیار بناتا ہوں۔“ پس مولانا محمد علی صاحب جو کچھ کہہ رہے ہیں۔ بامر مجبوری کہہ رہے ہیں۔ اور غلبہ محبت میں کہہ رہے ہیں۔ میں اس سے زیادہ کچھ نہیں کہہ سکتا۔
ابوعبیدہ: اچھا جناب عالی! چند اور معروضات بیان کر کے رخصت ہوتا ہوں۔ چند ایک سوالات میرے دل میں پیدا ہو رہے ہیں۔ میں بیان کرتا ہوں۔ آپ غور کیجئے اور اگر کوئی جواب معقول ہو تو بیان کر کے ممنون فرمائیے۔
سوال...... ١ آپ نے قول نمبر ٥٥ میں فرمایا ہے کہ اس پیشگوئی کے ساتھ ایک شرط بھی تھی جو اسی وقت شائع کر دی گئی تھی۔ جہاں تک میں نے آپ کی کتابوں کا مطالعہ کیا ہے۔ آپ نے پیشگوئی کے اشتہارات میں کہیں اس فقرہ کو محمدی بیگم کے ساتھ نکاح والی پیشگوئی کے لیے شرط قرار نہیں دیا۔ اگر ایسا ہے تو براہ کرم پیشگوئی کے ساتھ اس کا بطور شرط شائع ہونا ثابت کریں ہم آپ کے بہت ہی ممنون ہوں گے کیونکہ آپ ہمارے علم میں اضافہ کا باعث ہوں گے۔
سوال...... ٢ ”تُوبِیْ تُوبِیْ توبہ کر اے عورت! توبہ کر اے عورت! اِنَّ البَلَاءَ عَلٰی عَقِبِکِ بے شک بلا تیرے پیچھے لگی ہوئی ہے:۔ اَی عَلٰی بِنْتِکِ وَبِنْتِ بِنْتِکِ یعنی بلا تیری بیٹی (احمد بیگ کی بیوی) اور تیری بیٹی کی بیٹی (محمدی بیگم) کے پیچھے لگی ہوئی ہے۔“ (انجام آتھم ص ٢١٢) آپ فرماتے ہیں کہ یہ شرط تھی جو اسی وقت شائع کر دی گئی تھی۔ اگر یہ شرط موجود تھی تو پیشگوئی مشروط ہوئی۔ اگر پیشگوئی مشروط تھی تو آپ نے اپنے مذکورہ بالا بیسیوں اقوال میں کیوں اس پیشگوئی کو تقدیر مبرم قرار دیا۔ کیا یہ محض دھوکا اور جھوٹ ثابت نہیں ہوتا؟
٢٥
سوال...... ٣ اگر مان لیا جائے کہ انھوں نے توبہ کی اور عذاب میں تاخیر ہو گئی مگر خود آپ قول نمبر ٥٢ میں اعلان کر رہے ہیں کہ وہ پھر توبہ توڑ چکے ہیں اور عنقریب عذاب کا شکار ہوں گے۔ پس جب وہ توبہ توڑ چکے ہیں تو پیش گوئی کا پورا ہونا ضروری تھا۔ اب تو یہ عذر بھی نہ رہا کہ وہ توبہ کر رہے ہیں۔
سوال...... ٤ ان کا گناہ تو محمدی بیگم کا آپ سے چھین لینا تھا۔ جب انھوں نے محمدی بیگم کو آپ کے نکاح میں نہ دیا تو توبہ کہاں ہوئی۔ پس جب توبہ ہی ثابت نہیں تو عذاب کیوں نہ آیا؟
سوال...... ٥ شرط تُوْبِيْ تُوْبِيْ سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر وہ توبہ نہ کرتے تو پھر محمدی بیگم ضرور آپ کے نکاح میں آ جاتی۔ چونکہ انھوں نے توبہ کر لی۔ اس واسطے ان کی توبہ کی وجہ سے محمدی بیگم آپ کے نکاح میں آنے سے بچ گئی۔ پس صاف ثابت ہوا کہ توبہ نہ کرنے کی صورت میں ان پر بلا نازل ہو جاتی۔ گویا محمدی بیگم کا آپ کے نکاح میں آنا محمدی بیگم کے لیے ایک ذلت والا عذاب تھا جو ان کی توبہ سے ٹل گیا۔ مگر یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ ایک ”نبی“ کے نکاح میں آنا تو رحمت ہوتا ہے۔ عذاب کیوں کر ہو گیا۔ ہمارا خیال تو یہ ہے کہ ان کی توبہ اس طرح تھی کہ وہ محمدی آپ کو دے دیتے۔ پھر وہ عذاب سے بچ جاتے۔ مگر آپ اس کے خلاف نادانستہ طور پر خود اپنی توہین کر رہے ہیں کہ ان کی توبہ سے محمدی آپ سے بچ گئی۔ اگر یہ صحیح ہے تو واقعی پھر محمدی اور اس کے اقارب قابل تبریک ہیں کہ وہ آپ کے نکاح میں آنے کے عذاب سے بچ گئی۔
سوال...... ٦ آپ اپنے قول نمبر ٢٠ میں فرما رہے ہیں کہ یہ نکاح محمدی بیگم اور اس کے اقارب کے لیے ایک رحمت کا نشان ہو گا مگر قول نمبر ٥٥ میں محمدی بیگم کا آپ سے بچ نکلنا باعث رحمت قرار دیا جا رہا ہے جس کی وجہ ان کی توبہ تھی۔ پس آپ کا کون سا قول سچا سمجھا جائے۔
سوال...... ٧ آپ نے تسلیم کیا ہے کہ خود خدا نے آپ کا نکاح آسمان پر محمدی بیگم کے ساتھ باندھ دیا تھا۔ یہ بھی آپ تسلیم کرتے ہیں کہ پھر سلطان محمد نے اس کو اپنے نکاح میں لے لیا۔ اب سوال یہ ہے کہ آیا سلطان محمد کا نکاح محمدی بیگم کے ساتھ جائز تھا یا ناجائز؟ ہمارے خیال میں آسمانی نکاح زمینی نکاح سے زیادہ مضبوط اور پکا ہونا چاہیے۔
٢٦
پس سوال یہ ہے کہ باوجود محمدی بیگم کے سلطان محمد کے ساتھ آباد ہونے کے وہ آپ کی منکوحہ بھی تھی یا نہ۔ اگر منکوحہ تھی تو آپ نے اس کا بازو لینے کی کوئی قانونی چارہ جوئی کیوں نہ کی؟
سوال...... ٨ نکاح فسخ ہو گیا یا تاخیر میں پڑ گیا۔” فسخ ہونا اور تاخیر میں پڑ جانا دو متضاد چیزیں ایک واقعہ پر کس طرح منطبق ہو سکتی ہیں؟ کیونکہ نکاح فسخ اس وقت ہو سکتا ہے کہ جب پہلے نکاح ہو بھی چکا ہو پر اس سے تو معلوم ہوتا ہے کہ آپ کا نکاح ہو چکا تھا۔ تاخیر میں پڑ گیا سے ظاہر ہوتا ہے کہ نکاح ابھی ہونا تھا ملتوی ہو گیا یعنی نکاح ابھی ہوا ہی نہیں تھا۔ پس یہ تو بتلائیے کہ کون سا پہلو سچا ہے؟
سوال...... ٩ جب آپ کا نکاح محمدی بیگم کے ساتھ ہو چکا تھا۔ اس کے بعد سلطان محمد نے جبراً نکاح پڑھا لیا۔ باوجود اپنی منکوحہ ہونے کے آپ محمدی بیگم کی بیوگی کا انتظار کیوں کرتے رہے؟ وہ تو آپ کی بیوی بن چکی تھی۔ دیکھئے۔ رسول کریم ﷺ کا نکاح بھی حضرت زینبؓ کے ساتھ خدا نے انھیں الفاظ سے پڑھایا تھا۔ جن الفاظ کو آپ خدا کی طرف منسوب کر رہے ہیں۔ یعنی زَوَّجْنٰكَهَا وہ تو فوراً زمین پر وقوع پذیر ہو گیا۔ مگر محمدی کے ساتھ اسی قسم کا نکاح آپ کے ساتھ بیس سال تک رہا اور آپ اس سے استفادہ نہ کر سکے۔ اس کی وجہ کیا ہے؟
سوال...... ١٠ اگر فرض کر لیا جائے کہ نکاح فسخ ہو گیا تو اس کی وجہ جو آپ نے بیان فرمائی ہے وہ تو جیسا کہ ہم اوپر بیان کر آئے ہیں۔ بالکل عقل ونقل کے خلاف ہے۔ ہاں فسخ نکاح کی اور بھی کئی صورتیں ہیں۔ غور کیجئے! شائد ان میں سے کوئی وجہ واقع ہو گئی ہو اور جناب کو اس کے سمجھنے میں اجتہادی غلطی لگ گئی ہو۔ وجہ اوّل...... نان و نفقہ نہ دینے سے نکاح فسخ کرایا جا سکتا ہے۔ وجہ دوم...... مرد کو کوئی متعدی خبیث بیماری لگی ہو تو عورت نکاح فسخ کرا سکتی ہے۔ وجہ سوم...... اگر خاوند نامرد ہو جائے تو عورت غالباً نکاح فسخ کرا سکتی ہے۔ وجہ چہارم...... مرد اگر مرتد ہو جائے تو نکاح فسخ ہو جاتا ہے۔ کیا آپ مہربانی کر کے فرمائیں گے کہ ان وجوہات میں سے تو کوئی وجہ نہیں ہے؟ تلک عشرة كاملة.
٢٠
ضروری اعلان
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی دفتر ملتان سے شائع ہونے والا ٭ماہنامہ لولاک٭ جو قادیانیت کے خلاف گرانقدر جدید معلومات پر مکمل دستاویزی ثبوت ہر ماہ مہیا کرتا ہے۔ صفحات 64‘ کمپیوٹر کتابت‘ عمدہ کاغذ و طباعت اور رنگین ٹائیٹل‘ ان تمام تر خوبیوں کے باوجود زر سالانہ فقط یک صد روپیہ منی آرڈر بھیج کر گھر بیٹھے مطالعہ فرمائیے۔
رابطہ کے لئے
ناظم دفتر ماہنامہ لولاک ملتان
دفتر مرکزیہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
حضوری باغ روڈ ملتان