ہم نے
جلد اول
قادیان
میں کیا دیکھا ؟
تحقیق و تدوین
محمد طاہر عبدالرزاق
گورکن آفس
کیشیئر آفس
ایڈوانس بکنگ جاری ہے
بہشتی مقبرہ
دوزخ کے مزے
ہم نے
قادیان میں
کیا دیکھا؟
جلد اوّل
تحقیق و تدوین
محمد طاہر عبدالرزاق
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، حضوری باغ روڈ، ملتان
تحفظ
ل
تحفظ
بسم اللہ الرحمن الرحیم خ کر سکتا ہے لیکن اگر مصنف کو اس سے باخبر ئے تو یہ ان کی مہربانی ہوگی۔ ❁ ہم نے قادیان میں کیا دیکھا؟ محمد طاہر عبدالرزاق گیارہ سو فراز کمپوزنگ سنٹر، اُردو بازار لاہور عنایت اللہ رشیدی اگست 2007ء عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ، ملتان شرکت پرنٹنگ پریس نسبت روڈ، لاہور -/100 روپے
ملنے کا پتہ لیفات ختم نبوت اُردو بازار لاہور فون: 7232926-042 رقان پبلشرز ور فون: 7232336-042 مکتبۃ الحسن ار، لاہور فون: 7241355-042
اِنتسَاب
ان عظیم ماؤں کے نام! جنہوں نے
- ☆ فیاض اختر ملک
- ☆ علامہ غلام حسین کلیالوی
- ☆ محمد متین خالد
- ☆ احمد علی ظفر
- ☆ محمد امجد
- ☆ عرفان محمود برق
جیسے مجاہدین ختم نبوت کو جنم دیا
یہ پارسا مائیں اب مرحومہ ہو چکی ہیں۔ لیکن ان کے بہادر سپوتوں نے تحفظ ختم نبوت کے میدان میں جو معرکے سر انجام دیے ہیں۔ وہ ان کے لیے صدقہ جاریہ اور جنت کی ابدی بہاریں ہیں۔ میں ان فیروز بخت ماؤں کو اپنے قلم سے سلامِ عقیدت پیش کرتا ہوں۔
فہرست
مرتدوں کی بستی قادیان کیا ہے؟ محمد طاہر عبدالرزاق 8 مسلمان کا مقصد حیات طارق اسماعیل ساگر 17 قادیانیت کا سیاسی تجزیہ سیف اللہ خالد 18 میں اور قادیان سید عبدالحمید امجد بخاری بٹالوی 22 میں قادیان کیسے پہنچا؟ مولانا عنایت اللہ چشتی 49 بہشتی مقبرے میں چند لمحے مولانا عبدالکریم 53 قادیان دارالشیطان کا سفر مولانا محبوب الرحمن 59 قادیان میں میرے بیتے دن ماسٹر تاج الدین انصاری 65 قادیان میں ہمارے مددگار مسلمان مولانا عنایت اللہ چشتی 75 قادیان میں قادیانیوں کی دہشت گردیاں خواجہ عبدالمجید بٹ 83 واقعات وحقائق کے آئینے میں آف قادیان قادیان کے مقامی لوگ مولانا عنایت اللہ چشتی 95 جب قادیانیوں نے مجھے قتل کرنے کا فیصلہ کیا ماسٹر تاج الدین انصاری 98 ہنستا بستا قادیان ایک ویران سی بستی نظر آتی تھی پروفیسر محمد اسلم 101 جب قادیان میں مرزا قادیانی کے بیٹے مرزا شریف کی ایک مسلمان نوجوان نے ٹھکائی کی ماسٹر تاج الدین انصاری 110 قادیان میں تحریک ختم نبوت چوہدری افضل حق 117 قادیان میں میرے شب و روز مولانا عنایت اللہ چشتی 133 ہم ضرور قادیان جائیں گے؟ محمد طاہر عبدالرزاق 135
- 18- قادیان جانے کے بارے م
مرزا بشیر الدین کے بکواسات
- 19- مرزا قادیانی کی بیٹی مبارکہ
جانے کے متعلق ہفوات
- 20- میرے عہد کا قادیان
- 21- میں بھی قادیان پہنچا
- 22- قادیان کانفرنس
- 23- جب قادیان کا جعلی خاندان نبو
- 25- امیر شریعت کی کانفرنس میں
- 26- قادیان کے حالات
- 27- قادیان سے آٹھ میل دور ش
اور قادیان میں شاہ جی کی ا
- 28- ہائے قادیان ...... ہچکیاں او
- 29- قادیان کے زہر یلے شاعر
- 18- قادیان جانے کے بارے میں قادیانی خلیفہ
مرزا بشیر الدین کے بکواسات 136
- 19- مرزا قادیانی کی بیٹی مبارکہ بیگم کے قادیان
جانے کے متعلق ہفوات 143
- 20- میرے عہد کا قادیان مولانا عنایت اللہ چشتی 144
- 21- میں بھی قادیان پہنچا عبداللہ ملک 150
- 22- قادیان کانفرنس جہان بین 155
- 23- جب قادیان کا جعلی خاندان نبوت ذلیل و رسوا ہو گیا مولانا عنایت اللہ چشتی 159
- 25- امیر شریعت کی کانفرنس میں آمد اور تقریر 157
- 26- قادیان کے حالات حبیب الرحمان لدھیانوی 161
- 27- قادیان سے آٹھ میل دور شاہ صاحب کی تقریر
اور قادیان میں شاہ جی کی اچانک آمد ماسٹر تاج الدین انصاری 164
- 28- ہائے قادیان...... ہچکیاں اور سسکیاں محمد حنیف ندیم 170
- 29- قادیان کے زہریلے شاعر محمد طاہر عبدالرزاق 176
مرتدوں کی بستی قادیان کیا ہے؟
جھوٹی نبوت کے موجد انگریز نے مرزا قادیانی کو بلایا۔ مرزا قادیانی حاضر خدمت ہوا۔ فرشی سلام کیا اور ہاتھ باندھ کر نظریں جھکا کر دیوار کے ساتھ ساکت کھڑا ہو گیا۔ جیسے مجسمہ کھڑا ہو۔ انگریز نے کہا ”آنکھیں اُٹھاؤ اور بوتھا اُونچا کرو“ مرزے نے فوراً اپنی ڈیڑھ آنکھ اُٹھائی اور بوتھا بلند کیا اور کہا ”جی سر!“ انگریز نے تحکمانہ انداز میں کہا۔
”یہ مسلمان مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ سے والہانہ محبت کرتے ہیں۔ کہیں ان دونوں شہروں کا ذکر آ جائے تو فرط عقیدت سے جھوم جاتے ہیں۔ کوئی نعت پڑھے تو گنبد خضریٰ کے ذکر پر ان کی آنکھوں سے شبنم برسنے لگتی ہے۔ گنبد خضریٰ کو یوں ڈوب کر دیکھتے ہیں جیسے اپنے آقا ﷺ کی زیارت کر رہے ہوں۔ سنہری جالیوں کو دیکھتے ہوئے ان کے چہروں پر جو بشاشت اور نورانیت ہوتی ہے وہ ان کے ایمان کا عروج ہوتا ہے۔ اُس وقت یہ دنیا و مافیہا سے بے خبر ہوتے ہیں۔ یہ مدینہ منورہ کی خاک کو اپنی آنکھوں کا سرمہ کہتے ہیں۔ مدینہ منورہ کی موت مانگتے ہیں اور ساتھ یہ استدعا بھی کرتے ہیں الہی! ہمیں اپنے حبیب ﷺ کے شہر میں دفن کے لیے دو گز زمین بھی عطا فرما دے۔ ان میں سے ہر کوئی اپنے نبی کے شہر پر جان نثار کرنے کے لیے سر بکف نظر آتا ہے۔ طیبہ کے مسافر کے ہاتھ لوگ روضہ رسول ﷺ پر اپنے سلام بھیجتے ہیں اور وہاں حاضر ہونے والا ایک ایک کا نام لے کر آقا ﷺ کے حضور سلام پہنچاتا ہے۔ جب طیبہ کا زائر واپس آتا ہے تو لوگ اُس کی زیارت کو جاتے ہیں اور اُس سے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے تبرکات حاصل کر کے سکون جاں کا سامان کرتے ہیں۔ دیار حبیب ﷺ پر جانے والا زائر جب روتی آنکھوں کے ساتھ گنبد خضریٰ سے جدا ہوتا ہے تو وہ اس وقت دل کی اتھاہ گہرائیوں سے دوبارہ حاضری کے شرف کی دعا مانگ رہا ہوتا ہے۔ وطن واپس آ کر بھی وہ مدتوں تک اس نورانی سفر کے حصار میں رہتا ہے۔ جہاں بیٹھتا ہے، اپنے اس ایمانی سفر کی
یادوں کی خوشبو پھیلاتا ہے۔ وہ حجر اسود کے ایک ایک بوسے پر فدا ہوتا ہے، وہ طواف کعبہ کے ایک ایک قدم پر نثار ہوتا ہے۔ وہ آب زم زم کے ایک گھونٹ کو آب حیات سمجھتا ہے۔ وہ کعبۃ اللہ کی ایک دید کو اپنے لیے باعث نجات سمجھتا ہے۔ وہ غلاف کعبہ کی ایک تار پر جان چھڑکتا ہے۔‘‘
فرنگی پوری شیطنت سے گرجا ’’ان سے بیت اللہ کی محبت چھین لے۔ ان سے ایک لاکھ رکعت کی فوقیت والی مسجد الحرام کی اُلفت چھین لے۔ ان سے پچاس ہزار رکعت کی فوقیت والی مسجد نبوی کی چاہت چھین لے۔ ان سے مسجد الحرام اور مسجد نبوی کی فضاؤں میں بلند ہونے والی اذانوں کی عقیدت چھین لے۔ ان سے روضہ رسول ﷺ کا عشق چھین لے۔ ان سے مدینہ منورہ کی گلیوں اور مدینہ کے تبرکات کی لگن چھین لے اور ان کے دلوں میں قادیان کی محبت ڈال دے۔ آج تمھیں اس لیے بلایا ہے کہ تم مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے مقابل اپنے شہر قادیان کو لاؤ اور لوگوں سے کہو کہ قادیان میں بھی وہی برکات نازل ہوتی ہیں۔ یہ اللہ کے رسول کی تخت گاہ ہے۔ یہاں پر اللہ کے رسول کا مولد و مسکن ہے۔ یہاں پر صحابہ کرام کے مزارات ہیں۔ قادیان کا ذکر قرآن میں آیا ہے۔ قادیان دنیا کا مرکز ہے۔ قادیان دنیا کا قبلہ و کعبہ ہے۔ یہاں ہر جگہ شعائر اللہ بکھرے پڑے ہیں۔ اب مکہ و مدینہ کی چھاتیوں کا دودھ خشک ہو گیا ہے۔ اب جو کچھ بھی حاصل کرنا ہے وہ قادیان سے ملے گا۔ اب قادیان ہی انسانیت کا نجات دہندہ ہے۔‘‘
انگریز نے مرزا قادیانی کو پاس بلایا۔ مرزا قادیانی بھاگ کر قریب آیا تو انگریز نے اُس کے لمبوترے سر اور لومڑی جیسی پشت پر ہاتھ پھیرا اور پھر اُس کے چوتڑوں پر ہلکی سی کِک لگا کر اُسے کہا کہ جاؤ اب فوراً یہاں سے دفع ہو جاؤ خود اور اپنے شیطانی کارندوں سمیت اس مشن میں جُٹ جاؤ۔ مرزا قادیانی اور اُس کے شیطانی چیلے اس غلیظ مشن کو پھیلانے میں غرق ہو گئے اُنھوں نے اس سلسلہ میں کیا کیا ہفوات و بکواسات اور مغلظات و کفریات کے ڈھیر لگائے۔ اس کے چند نمونے آپ کو دکھائے جاتے ہیں۔ پڑھیے اور سوچیے کہ ہمارے ساتھ کیا ہو رہا ہے اور اس کے جواب میں ہم نے کیا کرنا ہے۔
قادیان: قادیان کیا ہے؟ وہ خدا کے جلال اور اس کی قدرت کا چمکتا ہوا نشان ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے فرمودہ کے مطابق خدا کے رسول کا تخت گاہ ہے۔۔۔۔۔۔ قادیان
خدا کے مسیح کا مولد و مسکن اور مدفن ہے۔ اس بستی میں وہ مکان ہے جس میں دنیا کا نجات دہندہ، دجال کا قاتل، صلیب کو پاش پاش کرنے والا اور اسلام کو تمام ادیان پر غالب کرنے والا پیدا ہوا۔ اس میں اس نے نشو و نما پائی اور اسی جگہ اس کی زندگی گزری۔ (اخبار الفضل
قادیان جلد 17 نمبر 48 مورخہ 13 دسمبر 1929ء)
یہاں ابلیس کا بھائی اور نمرود کا سالا دفن ہے۔ (مؤلف)
حرم میں شعائر اللہ: ہمارے جلسہ سالانہ کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے پہلے ہی سے بتا دیا تھا کہ دینی اغراض کے لیے قادیان میں اس موقعہ پر اس کثرت سے لوگ آیا کریں گے کہ ان کے اس ہجوم سے جو صرف دین کی خاطر ہوگا۔ قادیان کی زمین حرم کا نام پائے گی......
پس ہمارا جلسہ شعائر اللہ ہے بلکہ ہر آنے والا شعائر اللہ ہے اور من یعظم شعائر الله فانها من تقوى القلوب کے مطابق جو اللہ تعالیٰ کے نشانوں کی عظمت کرتا ہے وہ اپنے تقویٰ کا ثبوت دیتا ہے۔
(خطبہ جمعہ میاں محمود احمد خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد 13 نمبر 72
مورخہ 25 دسمبر 1925ء)
منڈی مویشیاں! (مؤلف)
قادیان کا مقام: قادیان کی بستی خدا کے انوار کے نازل ہونے کی جگہ ہوئی۔ اس کی گلیوں میں برکت رکھی گئی، اس کے مکانوں میں برکت رکھی گئی ایک ایک اینٹ آیت اللہ بنائی گئی۔ اس کی مساجد پر نور، موذن کی اذان پر نور، اسلام کے غلبہ کی تصویر بشکل منارہ اسی جگہ بنائی گئی۔ جہاں خدا کا مسیح نازل ہوا۔ اس منارہ سے وہی لا الہ الا اللہ کی آواز پھر بلند کی گئی جو آج سے تیرہ صدیاں قبل عرب میں بلند کی گئی تھی۔ (اخبار الفضل قادیان جلد 16 نمبر 52-53 ص
4 مورخہ یکم جنوری 1929ء)
بکواس کرتے ہوئے کبھی شرم بھی کر لیا کرو (مؤلف)
دنیا کی ناف: یہ مقام (قادیان) وہ مقام ہے جس کو خدا تعالیٰ نے تمام دنیا کے لیے ناف کے طور پر بنایا ہے اور اس کو تمام جہاں کے لیے ام قرار دیا ہے اور ہر ایک فیض دنیا کو اسی مقدس مقام سے حاصل ہو سکتا ہے۔ اس لیے یہ مقام خاص اہمیت رکھنے والا مقام ہے۔
(خطبہ جمعہ میاں محمود احمد خلیفہ قادیان مند
مورخہ 3 جنوری 1925ء)
میں تمھیں سچ سچ کہتا ہوں ک بابرکت ہے۔ یہاں مکہ مکرمہ اور مدینہ منور
(میاں محمود احمد خلیفہ قادیان
مورخہ 11 دسمبر 1932ء)
یہ دنیا کی ناف نہیں بلکہ مرزا ق قادیان کے مقدس مقامات: قادیان قادیان کے بعض مقامات ویسے ہی مقد ماننے والوں کے نزدیک ان انبیاء کے مق
(تقریر میاں محمود احمد خلیفہ ق
مورخہ 11-14 اپریل 1921ء)
منحوس کو مقدس کہہ رہے ہو؟
چلو قادیان کو
عرب نازاں تو ارض
(اخبار الفضل قا
اے قا تیری دیتی جو دید میں قبل یا اے
(خطبہ جمعہ میاں محمود احمد خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد 12 نمبر 71 ص 10
مورخہ 3 جنوری 1925ء)
میں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بتا دیا ہے کہ قادیان کی زمین بابرکت ہے۔ یہاں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ والی برکت نازل ہوتی ہیں۔
(میاں محمود احمد خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد 20 نمبر 78 ص 1
مورخہ 11 دسمبر 1932ء)
یہ دنیا کی ناف نہیں بلکہ مرزا قادیانی کی ناف ہے۔ (مؤلف)
قادیان کے مقدس مقامات: قادیان میں ہمارے مقدس مقامات ہیں اور ہمارے لیے قادیان کے بعض مقامات ویسے ہی مقدس ہیں جیسا کہ ہمارے نزدیک اور دوسرے انبیاء کے ماننے والوں کے نزدیک ان انبیاء کے مقامات مقدس ہیں۔
(تقریر میاں محمود احمد خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد 8 نمبر 76-77
مورخہ 11-14 اپریل 1921ء)
منحوس کو مقدس کہہ رہے ہو؟ کیا کہہ رہے ہو؟ اول جلول؟ (مؤلف)
چلو قادیان کو
تو ارض قادیان فخر عجم ہے
(اخبار الفضل قادیان جلد 20 نمبر 76 ص 9 مورخہ 25 دسمبر 1932ء)
تیری فضائے نور کو
دیتی ہے ہر دم روشنی
جو دیدہ ہائے حور کو
میں قبلہ و کعبہ کہوں
یا سجدہ گاہ قدسیاں
اے تخت گاہ مرسلان
(اخبار ’الفضل‘ قادیان جلد 20 نمبر 21 ص 2 مورخہ 18 اگست 1932ء)
تساہل کو چھوڑو چلو قادیان کو
بہت سوئے اٹھو چلو قادیان کو
نبی آ گیا لو چلو قادیان کو
چلو قادیان کو چلو قادیان کو
(اخبار الفضل قادیان جلد 18 نمبر 144 مورخہ 13 جون 1931ء)
نہیں ...... ارض قادیان ننگ عجم ہے۔ (مؤلف)
شعائر اللہ: پھر شعائر اللہ کی زیارت بھی ضروری ہے یہاں (قادیان میں) کئی ایک شعائر اللہ ہیں مثلاً یہی علاقہ ہے جہاں جلسہ ہو رہا ہے ...... اسی طرح شعائر اللہ میں مسجد مبارک، مسجد اقصیٰ، منارۃ المسیح شامل ہیں۔ ان مقامات میں سیر کے طور پر نہیں بلکہ ان کو شعائر اللہ سمجھ کر جانا چاہیے تاکہ خدا تعالیٰ ان کے برکات سے مستفیض کرے۔ (تقریر جلسہ سالانہ میاں محمود احمد خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد 20 نمبر 81 ص 3 مورخہ 8 جنوری 1933ء)
اسی طرح ایک زندہ نشان حضرت ام المومنین ہیں (مرزا غلام احمد قادیانی کی بیوی)۔ صحابہ کا یہ طریق تھا کہ جب آتے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور باقی امہات المومنین کی خدمت میں حاضر ہو کر سلام کرتے اور ان کی دعاؤں کے مستحق بنتے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام (مرزا) کے زمانہ میں اور پھر بعد میں بھی کئی لوگ حضرت ام المومنین (مرزا کی اہلیہ) کی خدمت میں حاضر ہوتے اور دعا کی درخواست کرتے نئے آنے والے لوگوں کو چونکہ اس قسم کی باتیں معلوم نہیں ہوتیں۔ پھر اتنے ہجوم میں یہ بھی خیال ہو سکتا ہے کہ شائد حاضر ہونے کا موقعہ نہ مل سکے اس لیے میں نے یہ بات یاد دلا دی ہے۔
(تقریر جلسہ سالانہ میاں محمود احمد خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد 20
نمبر 81 ص 3 مورخہ 8 جنوری 1933ء)
جیب کترے۔ خوب دوکان سجائی ہے۔ (مؤلف)
قادیان کی مسجد: دوسرا کھلا نشان خانہ کعبہ کے متعلق یہ ہے کہ من دخلہ کان امنا
(القرآن) یعنی یہ ایک امن کا مقام ہے یہ بھی خصوصیت ساری دنیا میں صرف خانہ کعبہ کو ہی حاصل ہے کہ وہ امن کا مقام ہے۔
(نکات القرآن حصہ سوم ص 267 مرتبہ مولوی محمد علی قادیانی لاہوری)
مرزا الہام کی بنا پر یہی صفت اپنی قادیانی عبادت گاہ (جسے قادیانی مسجد کہتے ہیں) کی قرار دیتا ہے ملاحظہ ہو۔
بیت الفکر سے مراد اس جگہ وہ چوبارہ ہے جس میں یہ عاجز کتاب کی تالیف کے لیے مشغول رہتا ہے اور بیت الذکر سے مراد وہ مسجد ہے جو اس چوبارہ کے پہلو میں بنائی گئی ہے اور آخری فقرہ مذکورہ بالا و من دخلہ کان امنا اسی مسجد کی صفت میں بیان فرمایا ہے۔
(براہین احمدیہ ص 558 روحانی خزائن ص 667 ج 1 حاشیہ در حاشیہ مصنفہ مرزا
غلام احمد قادیانی)
چھوٹا جب لگا کر جھوٹ بولا کرو۔ (مؤلف)
قادیان میں مسجد اقصیٰ: سبحان الذی اسرٰی بعبده لیلاً من المسجد الحرام الی
المسجد الاقصیٰ الذی بارکنا حولہ کی آیت کریمہ میں مسجد اقصیٰ سے مراد قادیان کی مسجد ہے۔ جیسے فرمایا، اس معراج میں آنحضرت ﷺ مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک سیر فرما ہوئے اور مسجد اقصیٰ یہی ہے جو قادیان میں بجانب مشرق واقع ہے۔ جو مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی برکات اور کمالات کی تصویر ہے جو آنحضرت ﷺ کی طرف سے بطور موہبت ہے۔
(اخبار ”الفضل“ قادیان جلد 20، نمبر 22، مورخہ 21 اگست 1933ء)
(قادیان کے مندروں کو کن مقدس مقامات سے ملا رہے ہو؟ کذاب ابن کذاب۔
مؤلف)
قادیان اور مسجد اقصیٰ: ”مسجد اقصیٰ کے بارے میں حضرت مسیح موعود تحریر فرماتے ہیں:
”پس اس پہلو کی رو سے جو اسلام کے انتہاء زمانہ تک آنحضرت ﷺ کا سیر کشفی ہے، مسجد اقصیٰ سے مراد مسیح موعود کی مسجد ہے جو قادیان میں واقع ہے جس کی نسبت براہین احمدیہ میں خدا کا کلام یہ ہے: (مبارک مبارک یجعل فیہ) اور یہ مبارک کا لفظ جو بصیغہ مفعول اور فاعل واقع ہوا، قرآن شریف کی آیت ”بارکنا حولہ“ کے مطابق ہے۔ پس کچھ
شک نہیں جو قرآن شریف میں قادیان کا ذکر ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ”سبحان الذی اسریٰ بعبده لیلاً من المسجد الحرام الی المسجد الاقصیٰ الذی بارکنا حولہ“ اخبار الفضل کا خلافت جوبلی نمبر ج 27 نمبر 268 مورخہ 28 دسمبر 1939ء مجموعہ اشتہارات ج 3 ص 289)
”اسی سال میاں صاحب (محمود احمد خلیفہ قادیان) کا ایک خطبہ شائع ہوا ہے جس میں آپ نے اعلان کیا ہے کہ قادیانی مسجد اقصیٰ قرآن کریم والی مسجد اقصیٰ ہی ہے جس کا ذکر قرآن مجید میں آیا ہے اور مسجد دنیا کے تیسرے درجہ کی مسجد ہے۔ یعنی کعبۃ اللہ اور مسجد نبوی کے بعد (معاذ اللہ ) اور آپ دیکھیں گے کہ تھوڑے عرصہ تک یہ اعلان بھی ہو جائے گا کہ یہ ظلی اور بروزی کعبۃ اللہ بھی ہے (نعوذ باللہ )“
(قادیانی جماعت لاہور کا اخبار پیغام صلح لاہور ج 27 نمبر 5 مورخہ 21 جنوری
1939ء)
جس جگہ مفعول بھی مبارک ہو اور فاعل بھی مبارک ہو۔ وہ جگہ قادیان ہی ہو سکتی ہے۔ (مؤلف)
مکہ مکرمہ مدینہ منورہ: حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا جو یہ الہام ہے کہ ہم مکہ میں مریں گے یا مدینہ میں اس کے متعلق ہم تو یہ کہتے ہیں کہ یہ دونوں نام قادیان کے ہیں، مگر غیر مبائعین (لاہوری جماعت) مدینہ لاہور کو اور مکہ قادیان کو قرار دیتے ہیں۔
(تقریر جلسہ سالانہ میاں محمود احمد خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد 20
نمبر 80 ص 4 مورخہ 5 جنوری 1933ء)
شرم مگر تم کو نہیں آتی۔ (مؤلف)
قادیان اور حج: ”1935ء میں جلسہ سالانہ کے معاً بعد عیدالفطر آئی تھی، اور اب جلسہ سالانہ کے ساتھ عیدالاضحیٰ آ رہی ہے جس کا پہلا دن یوم الحج ہوتا ہے۔ حضرت مسیح موعود نے ایک طرف قادیان کو ارض حرم قرار دیا ہے، چنانچہ فرماتے ہیں ؎
ہجوم خلق سے ارضِ حرم ہے
اور دوسری طرف قادیان میں آنے کو نفلی حج سے زیادہ ثواب کا مستحق ٹھہرایا ہے،
جیسا کہ حضور نے فرمایا ہے۔ لوگ معمولی اور نفلی طور پر حج کرنے کو بھی جاتے ہیں، مگر اس جگہ (یعنی قادیان میں) نفلی حج سے زیادہ ثواب ہے کیونکہ سلسلہ آسمانی ہے اور حکم ربانی۔"
(آئینہ کمالات اسلام ص 352 روحانی خزائن ج 5 ص 352)
کیونکہ سلسلہ شیطانی ہے اور حکم مرزا قادیانی ہے۔ (مؤلف)
مبارک مبارک: ہاں ہاں مجھے وہاں جانا ہے جہاں وہ مسجد مبارک مسجد ہے جس کے بارے میں خداوند عالم نے مبارک مبارک کل امر یجعل فیھا مبارک فرمایا پھر وہ مسجد ہے جو منارۃ المسیح کی حامل اور اپنی عظمت و برکت کے لحاظ سے بیت المقدس و بیت العتیق کی مساجد میں شامل ہے۔ جہاں وہ مقبرہ بہشتی ہے جس کے بارے میں ارشاد ربانی ہے کہ انزل فیھا کل رحمتہ، مر کے تو خدا جانے کہاں دفن ہوگا، مجھے جیتے جی اس بہشت بریں سے ہو آنے دو جو خدا کے مسیح کا شہر، خدا کے مسیح کا مرکز، خدا کی آرام گاہ ہے۔ میں جاؤں گا اور ضرور جاؤں گا۔ کیونکہ خدا۔ ابراہیم کے خدا، یعقوب کے خدا، موسیٰ کے خدا، عیسیٰ کے خدا، محمد کے خدا، میرے مرزا کے خدا نے اس مقام کو برکت دی۔ برکت ہی نہیں دی بلکہ ہمیشہ کے لیے اسے دارالامان ٹھہرایا۔ اسے بیت المقدس کا قائم مقام بنایا۔
(اخبار الفضل قادیان جلد 2 نمبر 82 مورخہ 24 دسمبر 1914ء)
بہشتی مقبرہ ۔ دنیا میں دوزخ کی ایڈوانس بکنگ۔ (مؤلف)
قادیان کی قیمت
”پس قادیان اور باہر کی اینٹوں میں فرق ہے۔ اس مقام کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ میں اسے عزت دیتا ہوں جس طرح بیت الحرام، بیت المقدس یا مدینہ و مکہ کو برکت دی ہے اور اب اگر ہماری غفلت کی وجہ سے اس کی تقدیس میں فرق آئے تو یہ امانت میں خیانت ہوگی۔ اس لیے یہاں کی اینٹیں بھی انسانی جانوں سے زیادہ قیمتی ہیں اور یہاں کے مقدس مقامات کی حفاظت کے لیے اگر ہزاروں احمدیوں (قادیانیوں) کی جانیں بھی چلی جائیں تو پھر ان کی اتنی حیثیت بھی نہ ہوگی جتنی ایک کروڑ پتی کے لیے ایک پیسہ کی ہوتی ہے۔ پس قادیان اور قادیان کے وقار کی حفاظت زیادہ سے زیادہ ذرائع سے کرنا ہمارا فرض ہے۔
(میاں محمود احمد۔ خلیفہ قادیان کا خطبہ مندرجہ اخبار الفضل ج 22 نمبر 72 ص 8)
(13 دسمبر 1934ء)
بندہ زر مثال بھی پیسہ اور کوڑی کی دے رہا ہے۔ (مؤلف)
قادیانیو! ہم تمہاری اس جعل سازی کو نہیں چلنے دیں گے۔ ہم تمہاری اس سازش کے پرخچے اڑا دیں گے۔ ابھی مدینہ منورہ کے عشاق زندہ ہیں۔ ابھی روضہ رسول کے فدائی حیات ہیں۔ کعبہ کے پاسبان حق پاسبانی ادا کرنا جانتے ہیں۔ حرمین شریفین کی حفاظت کرنا ہمیں آتی ہے۔ تحفظ ناموس رسالت کے لیے ہر مسلمان سر کٹانا اپنے لیے کائنات کا سب سے بڑا اعزاز سمجھتا ہے۔
قادیانیو! تمھارے قادیان پر لعنت ...... تمھارے مرزا قادیانی پر لعنت ...... تمھارے شیطانی مشن پر لعنت ..... تمھارے عقائد پر لعنت ...... تمھارے آقا فرنگی پر لعنت ......
نبیؐ کی آبرو پہ سر کٹانا ہم کو آتا ہے
دہل جائیں زمین و آسمان بھی جس کی ہیبت سے
اس بار امانت کو اُٹھانا ہم کو آتا ہے
ہماری داستاں پڑھ لو تمھیں معلوم ہو جائے
کفن باندھے ہوئے مقتل میں جانا ہم کو آتا ہے
ڈرا سکتی نہیں شورش ہمیں افرنگ وقادیان کی
کہ ہر باطل سے پنجہ آزمانا ہم کو آتا ہے
ہمیں ماحول کی تاریکیوں سے کیا ڈراتے ہو
نبیؐ کے عشق سے جب جگمگانا ہم کو آتا ہے
خدا کے باغیو! سن لو، نبیؐ کے دشمنو! سن لو
تمھیں صفحۂ ہستی سے مٹانا ہم کو آتا ہے
خاکپائے شہدائے تحریک تحفظ ختم نبوت 1953ء محمد طاہر عبدالرزاق بی ایس سی ۔ ایم اے (تاریخ)
دہائی دے رہا ہے۔ (مؤلف) جعل سازی کو نہیں چلنے دیں گے۔ ہم تمہاری اس سازش مدینہ منورہ کے عشاق زندہ ہیں۔ ابھی روضہ رسول کے فدائی پاسبانی ادا کرنا جانتے ہیں۔ حرمین شریفین کی حفاظت کرنا کے لیے ہر مسلمان سر کٹانا اپنے لیے کائنات کا سب سے
کتا پر لعنت ...... تمہارے مرزا قادیانی پر لعنت ..... تمہارے قائد پر لعنت ...... تمہارے آقا فرنگی پر لعنت .....
پہ سر کٹانا ہم کو آتا ہے
و آسمان بھی جس کی ہیبت سے
کو اٹھانا ہم کو آتا ہے
پڑھ لو تمھیں معلوم ہو جائے
ے مقتل میں جانا ہم کو آتا ہے
شورش میں افرنگ وقادیان کی
سے پنجہ آزمانا ہم کو آتا ہے
تاریکیوں سے کیا ڈراتے ہو
سے جب جگمگانا ہم کو آتا ہے
سن لو، نبی کے دشمنو! سن لو
سے مٹانا ہم کو آتا ہے
خاکپائے شہدائے تحریک تحفظ ختم نبوت 1953ء محمد طاہر عبدالرزاق بی ایس سی۔ ایم اے (تاریخ)
مسلمان کا مقصد حیات
قادیانیت اسلام کا ناسور ہے اور جب تک اسے جسد ملی سے الگ نہیں کیا جائے گا یہ گھن کی طرح ہماری سلامتی کو چاٹتا رہے گا۔ اس قحط الرجال میں جب ہر طرف نفسانفسی کا عالم ہے اور لوگ ایمان کے بجائے پیٹ کے چکر میں باؤلے ہوئے جا رہے ہیں محمد طاہر عبدالرزاق جس عظیم مشن پر گامزن ہیں دراصل وہی کسی مسلمان کا مقصد حیات ہونا چاہیے۔ قادیانیوں نے اسلام پر جو نقب لگائی اور ہماری متاع حیات کو ہم سے چھیننے کے لیے جو اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں اس سازش کا پردہ محمد طاہر عبدالرزاق ایک بہترین صلاحیتوں کے ساتھ چاک کر رہے ہیں۔ ان کی کاوشوں سے یقیناً کئی بھٹکے ہوئے مسلمان راہ راست پر آ چکے ہیں۔
اس مرتبہ انھوں نے ”ہم نے قادیان میں کیا دیکھا“ کے عنوان سے جو نئی کاوش کی ہے وہ قادیانیت کا بھیانک چہرہ بے نقاب کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ کذاب مرزا کی اصلیت عوام الناس کو دکھانے کی یہ جہد مسلسل محمد طاہر عبدالرزاق کا مقصد حیات ہے اور وہ جس جذبہ ایمان سے اس راہ پر گامزن ہیں ہماری دعا ہے اللہ ان کو دین و دنیا کی سرفرازیوں سے نوازے اور ہر مسلمان کو توفیق عطا فرمائے کہ پیارے نبی کریم ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کے مرتکب لوگوں کا محاسبہ اسی جذبہ ایمان سے کرے جس سے محمد طاہر عبدالرزاق کر رہے ہیں۔
طارق اسماعیل ساگر میگزین ایڈیٹر روزنامہ نوائے وقت، لاہور
قادیانیت کا سیاسی تجزیہ
ختم نبوت کا اعجاز ہے کہ جب بھی کسی لٹیرے نے اپنے خبث باطن سے مجبور ہو کر قصر نبوت میں نقب لگانا چاہی تو اس کا منہ توڑنے اور اس کے عزائم کو خاک میں ملا دینے والوں کی کمی نہ رہی۔ رب نے ایسے کارکن میدان میں اتارے کہ جو اپنے اپنے میدان کے ہیرے قرار پائے۔ آخرت کا انعام تو جو ہوگا سو ہوگا رب ذوالجلال نے ان کارکنان ختم نبوت کو دنیا میں بھی معتبر، معزز اور محترم مقام سے نوازا، ان کی زبان، ان کے قلم ، سوچ، فہم ، ادراک اور قوت بازو کو نئی جولانیاں بخشیں۔ تاکہ گندی سرشت کے حامل بدخصلتوں کو نہ صرف میدان عمل میں روکا اور پسپا کیا جاسکے بلکہ ان کی تمام تر فکری، معاشرتی اور معاشی بدکرداریوں کو نمایاں کر کے مسلمانوں کو ان کے چنگل میں پھنسنے اور پھسل جانے والے کم نصیبوں کو واپسی کی راہ دکھائی جاسکے۔
محترم طاہر عبدالرزاق بھی ختم نبوت کے سپاہیوں میں سے ایک ہیں۔ جن کا قلم اور وقت ملعون و مردود مرزا ”غلام قادیان“ کے بخیے ادھیڑنے اور تاج و تخت ختم نبوت کے تحفظ و دفاع کے لیے وقف ہے۔ اللہ رب العزت نے ان کو ذہن رسا کے ساتھ ساتھ جذبہ عمل سے بھی نوازا ہے۔ وہ خوئے دلنوازی کے سبب دوسروں سے بھی کام لینے کا ہنر جانتے ہیں۔ جناب طاہر عبدالرزاق کی زیر نظر تالیف ”ہم نے قادیاں میں کیا دیکھا“ اس سلسلہ کی کڑی ہے۔ انھوں نے انتہائی عرق ریزی سے قادیاں کے متعلق مختلف ثقہ راویوں کی شہادتیں مجتمع کیں اور پھر ان ٹکڑوں کو جوڑ کر مکمل تصویر کی شکل دے دی۔ ایک ایسی تصویر جس میں صرف رنگ ہی نہیں۔ خوشبو بھی ہے، بلکہ گفتگو بھی۔ یہ تصویر ایک طرف قادیان کی سرزمین سے اگلنے والی اس آکاس بیل کے تمام خدوخال واضح کرتی ہے جس کی آبیاری استعمار نے اسلام کے شجر سایہ دار کی شادابیاں چھیننے کی خاطر کی تھی۔ یہ تصویر مرزے مردود کی جعلی نبوت کی تمام تر بد بو کو ظاہر کرتی ہے اور دوسری طرف اس مکروہ معاشرہ کی تمام بدخصلتیں ایک ایک کر کے بلا کم و کاست واضح کر دیتی ہے۔ مصنف کا حسن انتخاب ہے کہ صرف ”کانی نبوت“ ہی آشکار نہیں ہوتی بلکہ قادیان کے ارتداد زدہ ماحول میں جہاں کہیں ایمان کی روشنی ہے اسے بھی بالکل الگ سے
شناخت کرنا ممکن ہے بلکہ اس کی خوشبو اور حلاوت بھی محسوس کی جا سکتی ہے۔ جہاں ایک طرف قادیانیت کی شب دیجور میں مکروہ سازشی کردار باہم دست و گریباں دیکھے جاسکتے ہیں وہیں اہل ایمان بھی اس سازشی ٹولے سے کہیں جذبات اور کہیں جنون کے ساتھ نبرد آزما دکھائی دیتے ہیں۔ مختصراً کہا جائے تو ”ہم نے قادیاں میں کیا دیکھا“ جھوٹی نبوت کے مرکز کا ایک مکمل اور مستند عکس ہے۔ یہ ایک ایسی دستاویز ہے جو عدالت کے کٹہرے میں پیش کی گئی شہادت سے کسی طور کم نہیں۔
برادرم طاہر عبدالرزاق نے اپنی تالیف و تحقیق کو صرف قادیان کی منظر کشی تک محدود نہیں رکھا بلکہ اہل دل کی اس جدوجہد کو رقم کیا ہے جو انھوں نے قادیان کے ”قصر غلاظت“ کو نیچا دکھانے اور آقا مدنی کی ختم نبوت کا پھریرا لہرانے کی خاطر کی۔ وہ جب امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کی قادیاں آمد اور قادیانی محلات کے عین سامنے سے گزر کر مسجد احرار جانے کا ذکر کرتے ہیں گویا مرزا مردود کی ذریت کی شکست پر ان کا قلم جھوم جھوم جاتا ہے اور آج کے مسلمان کو راہ دکھاتا ہے کہ ”دیکھو کام ایسے کیا جاتا ہے، حکمت عملی اس شے کا نام ہے“ بلکہ یوں دکھائی دیتا ہے کہ وہ آج کی تیرہ بخت مرزائی قیادت کو للکارتے ہیں کہ ”کل تمھارے گرو گھنٹال قادیان کی گلیوں میں بلکہ عین اپنے ”رذالت کدہ“ کے سامنے سپاہ ختم نبوت کے جرنیل کو نہ روک سکے، آج تم ہمارے قدم کیسے روک سکتے ہو。“ دوسری طرف وہ کارکنان ختم نبوت کو یہ دعوت دیتے نظر آتے ہیں کہ ”یہ ہے بزرگوں کا راستہ، جو سچے سپاہی تھے اور ختم نبوت کے دشمنوں کے تعاقب میں ان کے گھر تک جا پہنچے، ہم کیوں تھک کر بیٹھنے کی سوچتے ہیں۔“ جہاں جہاں ایماں کے لٹیروں کا یہ جتھا پہنچے وہیں وہیں ان کا تعاقب کیا جانا چاہیے۔
آج کے اس ماحول میں کہ جب روشن خیالی سے لے کر یہود و نصاریٰ کی جبری نقالی تک کے کٹھن مسائل جنم لے رہے ہیں، کیا قادیان کے ماحول کا تذکرہ ضروری تھا؟ بہتر نہ ہوتا کہ دور جدید کے فتنوں پر کام کیا جاتا؟ اس کا جواب محترم طاہر عبدالرزاق تو نامعلوم کیا دیں۔ البتہ میرے خیال میں اس ماحول کا سب سے بڑا تقاضہ یہی ہے کہ آج قادیاں اور قادیاں کے ”غلام مردود“ کا بے رحمی کے ساتھ تجزیہ کیا جائے، اس کی ہفوات و بکواسات پر وقت ضائع کرنے کی ضرورت نہیں اس زمین کا تجزیہ کیا جائے جہاں یہ گندا پودا کاشت کیا گیا۔ اس آب و ہوا کا جائزہ لیا جائے۔ جہاں یہ جراثیم پروان چڑھا، کیونکہ آج کی جدیدیت ہو، روشن خیالی کی تاریکیاں ہوں یا مسجد و مدرسہ کے خلاف امریکی آپریشن اس سب کی حقیقت جاننے کی خاطر مرزائیت کا پوسٹ مارٹم ضروری ہے کیونکہ مرزائیت سے لے کر روشن خیالی تک
کا مقصد ایک ہے، ہدف ایک ہے۔
پہلی بات تو یہ واضح رہنی چاہیے کہ قادیانیت یعنی شیطانیت ایک مجہول، مردود کا دماغی خلل نہیں تھا۔ جو احباب اسے اس رنگ میں پیش کرتے ہیں انھیں مزید مطالعہ کی ضرورت ہے۔ آج یہ بات پایہ ثبوت تک پہنچ چکی ہے کہ قادیانیت ایک استعماری سیاسی چال تھی۔ جس کے کچھ اہداف تھے اور کچھ مخصوص مقاصد کے پیش نظر اسے منظر عام پر نہ صرف لایا گیا بلکہ اس کی آبیاری بھی کی گئی۔ تفصیل کا یہ موقع نہیں مختصراً یہ کہ اگر قادیانیت ایک سیاسی سازش نہ تھی تو برطانوی وزارت خارجہ، امریکی دفتر خارجہ کی رپورٹس میں اس کا مستقلاً تذکرہ کیوں ہے۔ ہر امریکی حکومت ہر پاکستانی حکومت کو اس ”سرطان“ کے بارے میں ہدایات کیوں جاری کرتی ہے۔ اور مزید یہ کہ جب یہودیت کے سوا کسی بھی مذہبی تحریک کو اسرائیل میں اپنا دفتر قائم کرنے کی اجازت نہیں تو اسرائیل میں قادیانیت کو اپنا غلاظت کدہ کھولنے کی اجازت کیوں دی گئی اور پھر اس کے اخراجات اسرائیلی وزارت داخلہ کیوں برداشت کرتی ہے؟ مزید یہ کہ جب مسیحی افراد کو بھی اتنا قابل اعتبار نہیں سمجھا جاتا کہ وہ اسرائیلی فورسز میں کام کریں تو قادیانیوں کو یہ سہولت کیوں فراہم کی گئی ہے؟
رپورٹ تسلیم کرتی ہے کہ ”٦٠٠ قادیانی اسرائیلی فوج کا حصہ ہیں“ صرف اس پر اکتفا نہیں۔ دلائل و براہین کا اک کوہ گراں ہے جو ثابت کرتا ہے کہ یہ پنجاب کے گرہ کٹ ”غلام قادیان“ کا خلل دماغ نہیں بلکہ برطانوی استعمار کے تھنک ٹینکس کے مباحث کا نچوڑ تھا۔
برطانوی حکام نے قادیانیت یعنی شیطانیت کا یہ فتنہ کیوں کھڑا کیا؟ اس کا جواب خود مرزا ملعون کی یاوہ گوئیوں میں موجود ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ برطانیہ کے مسیحی وڈیرے یہ سمجھتے تھے کہ جغرافیائی تسلط کے باوجود مسلمانوں کا جذبہ حریت انھیں چین نہیں لینے دے رہا تو اس کی واحد وجہ مسلمانوں کا فلسفہ جہاد و شہادت ہے، اور اس فلسفہ کا خاتمہ صرف اس صورت ممکن ہے کہ جب مسلمانوں کا اپنے نبی حضرت محمد ﷺ سے تعلق ختم ہو جائے۔ اس مقصد کی خاطر مرزا ملعون کو اٹھایا گیا۔ اس کی تمام تر ”یاوہ گوئیوں“ کو چھان ماریئے، ہفوات بازی کے سوا کچھ دستیاب نہ ہوگا البتہ ”آقائے دو عالم ﷺ کے بجائے اپنی منحوس شخصیت کو مقدس و محترم قرار دینے کی مہم اور پھر تقدس کے اس منصب پر بیٹھ کر تنسیخ جہاد کا حکم، اس کے سوا مرزا نے کوئی پروگرام، کوئی مقصد پیش ہی نہیں کیا۔ اس سے بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے کہ اس کا مقصد کیا تھا۔
اللہ کے فضل و کرم حضرات علماء کی محنت و مشقت اور ارباب علم و دانش کے تعاقب، سیاسی
مفکرین کی بیداری اور عامۃ المسلمین کے عشق مصطفےٰ اور سب سے بڑھ کر ختم نبوت کا اعجاز ہے کہ امت کے اجتماعی ضمیر نے اس گندگی کو قبول نہ کیا اور استعمار کی سازش بری طرح سے پٹ کر رہ گئی۔
تجزیہ کے اصول کے تحت جب ہم دور جدید کے فتنوں کو دیکھتے ہیں تو ان کا ہدف بھی وہی پاتے ہیں جو قادیانیت یعنی شیطانیت کا ہدف اور مقصد تھا۔ ہالینڈ کی رکن پارلیمنٹ Ayyan hivsi ali (ایان ہوس علی) جو مرتد خاتون ہے اس کے بقول ”مسلمانوں اور ان کے نبی ﷺ کے تعلقات پر طنز ضروری ہے، ورنہ ہم مسلمانوں کو اس سطح پر نہیں لاسکیں گے جس سطح پر لا کر ان سے مذاکرات کرنا چاہتے ہیں۔“ یعنی مسلمان کو رسول اللہ ﷺ کی چوکھٹ سے بھٹکایا جائے تاکہ اسے اپنے ڈھب پر لا کر یہودیت کے غلبہ کی راہ ہموار کی جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ امریکی دفتر خارجہ اور پینٹا گون کی طرف سے مسلمان ممالک میں روشن خیالی کے نام پر نظام تعلیم سے جہادی تعلیمات کا خاتمہ اور جہاد کی ہر صورت کو دہشت گردی قرار دینا یہ ثابت کرتا ہے کہ آج کے فتنے بھی قادیانیت کا ماڈرن ایڈیشن ہیں۔ ہم یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ مغرب نے جب یہ دیکھ لیا کہ قادیانیت اپنا کام نہیں کرسکی تو انھوں نے حکومتوں کے ذریعے سے اپنا مقصد نکالنے کی حکمت عملی اختیار کی۔ اہداف کی یکسانیت کو اگر محض اتفاق قرار دے دیا جائے تو بھی یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ عالمی سطح پر جدید فتنوں کا استقبال کرنے والوں میں اسی پنجابی ٹھگ کی ذریت پیش پیش ہے۔ اس سلسلہ میں بش کے خاص ایلچی منصور اعجاز کا نام لیا جاسکتا ہے اور دیگر بے شمار نام بھی کسی تعارف کے محتاج نہیں۔
ان حالات میں کہ جب شواہد یہ ثابت کر رہے ہیں کہ اس وقت عالم اسلام کو مٹانے کی خاطر امڈنے والی تمام تر آندھیاں قادیانیت کا تسلسل ہی ہیں۔ یہ بات زیادہ ضروری ہو جاتی ہے کہ قادیانیت کو پیدا کرنے والی نجس مٹی کا پوری طرح سے جائزہ لیا جائے تاکہ آج کے فتنوں کو سمجھنے میں مدد مل سکے۔ اور اکابر کی حکمت عملی سے ہمیں راستہ سجھائی دے سکے کہ کل جو کفر اور ظلم کی تاریکی قادیاں پر چھائی تھی آج وہ امریکی قوت، اسرائیلی دماغوں اور عالم اسلام کے غداروں کے سبب پوری دنیا میں چھانے کو ہے۔
لہٰذا یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ جناب طاہر عبدالرزاق کی یہ تحقیق ایک اہم ترین فرض کی تکمیل ہے۔ اللہ رب العزت اسے قبول فرمائے۔ آمین!
سیف اللہ خالد سینئر ایڈیٹر روز نامہ انصاف، لاہور
میں اور قادیان
از سید عبدالمجید شاہ امجد بخاری بٹالوی
ابھی میری عمر قریباً چھ برس تھی کہ مجھے پہلی دفعہ اپنے تایا صاحب سید نظام الدین رحمۃ اللہ کے ہمراہ قادیان جانے کا اتفاق ہوا۔ میرے تایا صاحب اور مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کے درمیان بہت گہرے تعلقات تھے۔ اور اس موقعہ پر مرزا صاحب نے میرے تایا صاحب کو اپنے فرزند ارجمند کے عقیقہ کی تقریب پر مدعو کیا تھا، جو غالباً مرزا بشیر الدین کے بڑے بھائی تھے۔ میرے تایا صاحب اپنی اہلیہ کو اور مجھے ساتھ لے گئے مرزا صاحب کی اہلیہ بحالت زچگی زنانہ کمرے میں آرام فرما تھیں اور میرے تایا صاحب اور مرزا غلام احمد صاحب دیوان خانہ میں مصروف گفتگو رہے۔ گھر میں میری عمر کا ایک لڑکا تھا جو شاید ڈاکٹر اسماعیل تھا۔ ہم دونوں آپس میں اکٹھے کھیلا کرتے تھے۔ چنانچہ چند روز قادیان میں گزار کر ہم واپس بٹالہ آگئے۔ تایا صاحب مرحوم نے دہلی میں دینی تعلیم حاصل کی اور وہاں علمائے کرام اور بزرگان دین سے فیوض ظاہری اور باطنی حاصل کیے تھے۔
مرزا صاحب کو جب کبھی قادیان سے باہر جانا ہوتا تو وہ عام طور پر بٹالہ میں تایا صاحب سے مل کر جاتے۔ کیونکہ ان دنوں بٹالہ ہی سے گاڑی پر سوار ہونا پڑتا تھا۔ یہ ملاقاتیں اسی وقت تک تھیں جب تک کہ مرزا صاحب نے ابھی کسی قسم کا کوئی دعویٰ نبوت وغیرہ نہ کیا تھا۔ دعویٰ مسیحیت کے بعد جب وہ تایا صاحب کی ملاقات کے لیے آئے تو تایا صاحب نے فرمایا کہ مرزا صاحب کل تک آپ مبلغ اسلام یا مناظر اسلام تھے، مجھے آپ سے اتفاق تھا مگر اب چونکہ آپ حدود شریعت سے تجاوز کر رہے ہیں، اب آپ کی اور میری نبھتی معلوم نہیں ہوتی۔ مرزا صاحب نے فرمایا کہ میں نے مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور اس سے میری مراد یہ ہے کہ جس طرح مسیح مردوں کو
زندہ کیا کرتے تھے، اسی طر رہے ہیں، اپنی وعظ و نصیحت اس تاویل سے الحاد کی بو آ ر نے تایا صاحب نے مرزا صاح اس کے بعد میرا طالب انٹرنس میں داخل ہوا، تو میر بٹالہ تشریف لائے اور میرے ہاں ہی تھی۔ دو چار دفعہ ر ہوا۔ اس کے بعد میری ابت سے شروع ہوئی اور ملازم
مرزا صاحب کی وفات
جس روز مرزا صاح بٹالہ آیا ہوا تھا۔ اسی روز اور فرمایا کہ میں تمہیں ا وقت تایا کی عمر ایک سو پا بتاویں۔ فرمایا کہ مجھے ر قادیاں واپس نہیں جائے لگے، وہی بات ہوئی نہ ۔ ابھی بچہ ہے ۔ اسے کیا معل ہے ۔ چنانچہ ابھی دن کے پڑوسی اور مرزا صاحب ۔ کا لاہور میں دن کے نوب ہے، اسے قادیان لے جا
زندہ کیا کرتے تھے، اسی طرح میں ان مردہ دلوں کو زندہ کرتا ہوں جو اسلام سے دور جا رہے ہیں، اپنی وعظ و نصیحت سے زندہ کرتا ہوں۔ تایا صاحب نے فرمایا کہ مجھے آپ کی اس تاویل سے الحاد کی بو آ رہی ہے۔ اور شاید یہ فتنہ قیامت بن کے رہے۔ اس روز سے تایا صاحب نے مرزا صاحب سے ملنا جلنا ترک کر دیا۔
اس کے بعد میرا طالب علمی کا زمانہ شروع ہوا۔ مڈل پاس کرنے کے بعد جب میں انٹرنس میں داخل ہوا، تو میرے رشتے کے بھائی محترم سید شاہ چراغ صاحب قادیانی بھی بٹالہ تشریف لائے اور میرے ساتھ انٹرنس میں داخل ہوئے۔ ان کی رہائش بھی ہمارے ہاں ہی تھی۔ دو چار دفعہ رخصتوں کے موقعہ پر ان کے ساتھ بھی وہاں جانے کا اتفاق ہوا۔ اس کے بعد میری ابتدائی ملازمت سپرنٹنڈنٹ ڈاک خانہ امرتسر ڈویژن کے دفتر سے شروع ہوئی اور ملازمت کا کچھ عرصہ سپرنٹنڈنٹ کے دفتر میں ہی گزارا۔
مرزا صاحب کی وفات
جس روز مرزا صاحب لاہور میں فوت ہوئے اس دن میں اتفاق سے رخصت پر بٹالہ آیا ہوا تھا۔ اسی روز صبح چھ بجے کے قریب تایا صاحب غریب خانہ پر تشریف لائے اور فرمایا کہ میں تمہیں ایک بات بتاتا ہوں مگر تم کہو گے کہ تایا سترا پچہترا گیا ہے۔ اس وقت تایا کی عمر ایک سو پانچ (١٠٥) برس کی تھی۔ میں نے کہا کہ آپ وہ بات ضرور بتاویں۔ فرمایا کہ مجھے رات ایسا معلوم ہوا ہے کہ مرزا غلام احمد لاہور سے بخیریت قادیاں واپس نہیں جائے گا۔ میرے چہرے پر کچھ مسکراہٹ کے آثار دیکھ کر فرمانے لگے، وہی بات ہوئی نہ۔ میرے ایک اور بزرگ پاس بیٹھے تھے۔ انہوں نے فرمایا کہ یہ ابھی بچہ ہے۔ اسے کیا معلوم کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ایسے اسرار سے مطلع کر دیتا ہے۔ چنانچہ ابھی دن کے ساڑھے دس بجے تھے کہ شیخ عبدالرشید صاحب کو جو ہمارے پڑوسی اور مرزا صاحب سے عقیدت رکھنے والے تھے لاہور سے تار آیا کہ مرزا صاحب کا لاہور میں دن کے نو بجے انتقال ہو گیا ہے۔ ان کی نعش کو رات کی گاڑی بٹالہ لایا جا رہا ہے، اسے قادیان لے جانے کے لیے انتظام کر چھوڑیں۔
قادیان میں ملازمت
١٩١٠ء میں محکمہ کی طرف سے مجھے قادیان کے سب پوسٹ ماسٹر کا حکم ملا۔ میں نے سپرنٹنڈنٹ سے گزارش کی کہ قادیان کی فضا میری طبیعت اور حالات کے موافق نہیں، میرا وہاں کا تبادلہ منسوخ کیا جاوے۔ کیوں کہ پہلے تو امرتسر میں صبح کو استاذی حضرت حاجی الحرمین الشریفین مولانا مولوی نور احمد صاحب نور اللہ مرقدہ کے درس میں شامل ہوا کرتا تھا اور شام کو جب وہ طالب علموں کو حدیث و فقہ کی تعلیم دیا کرتے تھے، اس میں بھی شامل ہو جایا کرتا تھا۔ اس کے بعد حضرت مولانا مولوی غلام محی الدین صاحب نے مسجد خیر الدین میں صبح کے وقت درس قرآن کے علاوہ حدیث و فقہ کی تعلیم بھی شروع کر دی تھی، اور مولانا مولوی محمد حسن صاحب اس درس گاہ میں نائب مدرس تھے۔ ایسے حالات میں مجھے امرتسر چھوڑنا گوارہ نہ تھا۔ مگر حکم حاکم مرگ مفاجات سے کم نہیں ہوتا۔ مجھے دسمبر ١٩١٠ء کو امرتسر چھوڑنا پڑا۔
امرتسر سے فارغ ہو کر میں نے دو چار روز بٹالہ میں گزارے اور پھر بال بچوں کو ہمراہ لیے قادیان پہنچا۔ وہاں عبد الغنی شاہ صاحب سب پوسٹ ماسٹر تھے، ان کو فارغ کیا۔ ان دنوں مولوی نور الدین صاحب گھوڑی سے گر کر صاحب فراش تھے۔ ان کو چوٹوں کی وجہ سے بہت تکلیف تھی۔ ڈاکٹر محمد حسین، ڈاکٹر یعقوب بیگ، اور مرزا کمال الدین وغیرہ ان کی تیمارداری کرتے تھے۔ ایک روز میں بھی فرصت نکال کر بیمار پرسی کرنے کے لیے گیا، کہ بیمار پرسی کا ثواب حاصل کر سکوں۔ مگر ڈاکٹر صاحبان نے مولوی صاحب کو اطلاع کرنے سے معذوری کا اظہار کیا۔ چنانچہ میں واپس لوٹ آیا۔
مولوی نور الدین صاحب سے پہلی ملاقات
جناب مولوی صاحب کی حالت روز بروز بہتر ہونے لگی۔ چنانچہ ایک روز انہوں نے اپنے مریدین سے دریافت کیا کہ ہم نے عرصہ سے سب پوسٹ ماسٹر کو نہیں دیکھا، کیا بات ہے۔ چونکہ سید عبد الغنی شاہ سب پوسٹ ماسٹر ہر روز بلا ناغہ مولوی صاحب کی خدمت میں جایا کرتے تھے اور وہ چونکہ ان کے بال بچے وہاں نہ تھے اس لیے روٹی بھی
انہیں لنگر سے جایا کرتی تھی۔ مریدین نے عرض کیا کہ پہلا پوسٹ ماسٹر یہاں سے تبدیل ہو گیا ہے اور اس کی جگہ ایک نیا شخص آیا ہے۔ چنانچہ مولوی صاحب نے ایک خاص آدمی میری طرف بھیجا، کہ حضرت صاحب آپ کو یاد کرتے ہیں۔ مجھے چونکہ سرکاری کام کی زیادتی تھی۔ میں نے کہلا بھیجا کہ اس وقت تو معذور ہوں۔ کل شام چھ بجے حاضر ہونے کی کوشش کروں گا۔
دوسرے روز حسب وعدہ مولوی صاحب کی خدمت میں پہنچا۔ اس وقت مولوی صاحب صحن میں چارپائی پر بیٹھے تھے۔ مرزا محمود صاحب ان کے پاس تشریف فرما تھے۔ علیک سلیک کے بعد مولوی صاحب کمال مہربانی سے کھڑے ہو گئے۔ مصافحہ کیا، مرزا صاحب چارپائی کی پائینتی کی طرف ہو گئے اور مولوی صاحب نے مجھے اپنے پاس بٹھا لیا۔ باقی اکابرین و حاضرین نیچے فرش پر بیٹھے تھے۔ مزاج پرسی کے بعد مولوی صاحب نے فرمایا، آپ کو قادیان میں آئے کتنا عرصہ ہو گیا ہے اور یہاں کسی قسم کی کوئی تکلیف تو نہیں، اگر کوئی تکلیف ہو تو بلا تامل بتا دو کہ اسے رفع کیا جا سکے۔ میں نے بعد از شکریہ عرض کی کہ میرے دو عزیز یہاں ہی رہتے ہیں ایک تو برادر محترم سید شاہ چراغ صاحب اور دوسرے میرے بزرگ محمد علی شاہ صاحب۔ چونکہ یہ دو گھر میرے اپنے ہی ہیں اس لیے میں اپنے آپ کو اپنے گھر میں ہی سمجھتا ہوں۔ مولوی صاحب کو محمد علی شاہ صاحب کا سن کر مسرت ہوئی، کیونکہ وہ ان کے خاص مریدین سے تھے۔
مولوی نور الدین صاحب کا درس
مکمل صحت ہونے پر مولوی صاحب نے حسب دستور درس قرآن حکیم شروع کیا۔ میرے مہربان دوست مجھے ہر روز مجبور کرتے کہ کسی روز مولوی کا درس سنوں۔ میں نے انہیں ہر چند ٹالا کہ میں بڑے بڑے علماء کا درس سن چکا ہوں اور دوسرے مجھے فرصت بھی کم ہے۔ مگر ان کے زیادہ اصرار پر ایک روز میں ان کے ہمراہ درس میں شامل ہوا۔ اس وقت مولوی صاحب حضرت زکریا کا بیان فرما رہے تھے، کہ جب حضرت زکریا بوڑھے ہو گئے تو دعا کی کہ یا الہی میں بوڑھا ہو گیا ہوں، قوئی کمزور ہو چکے ہیں،
ہڈیاں ست پڑ گئی ہیں، سر کے بال بھی سفید ہو چکے ہیں، تو اپنے رحم و کرم سے مجھے فرزند عطا فرما۔ جو میرا اور یعقوب کی اولاد کا وارث ہو۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا 'کہ تم دن رات تسبیح و تہلیل کرو، میں تم کو فرزند عطا کروں گا اور اس کا نام یحییٰ رکھنا اور اس نام کا پہلے کوئی پیغمبر نہیں گزرا۔
چنانچہ مولوی صاحب نے یہ تمام قصہ بیان کر کے فرمایا 'کہ میری طرف دیکھو کہ جب میں جوان تھا تو مجھے اولاد نرینہ نصیب نہ ہوئی، مگر اب بڑھاپے میں مرزا صاحب پر ایمان لا کر، تسبیح و تہلیل کی برکت سے، اللہ تعالیٰ نے مجھے دو فرزند عطا فرمائے۔ مولوی صاحب نے اسے مرزا صاحب کا معجزہ ثابت کیا۔ جس سے تمام حاضرین کے ایمان میں ایک تازگی محسوس ہونے لگی، اور سب جھومنے لگے۔ میں نے اپنے ہمراہی سے کہا 'کہ قرآن حکیم میں صاف الفاظ ہیں کہ کانت امراتی عاقر (میری بیوی بانجھ ہے) مگر مولوی صاحب کی اہلیہ تو ماشاء اللہ ابھی نو عمر ہیں اگر اس کا بانجھ ہونا تم ثابت کر دو تو میں آج ہی تمہارا ہم خیال ہونے کو تیار ہوں۔ مگر ایسا ثابت کون کرتا۔ اس کا مجھے اتنا فائدہ ضرور ہوا کہ پھر انہوں نے درس میں جانے کے متعلق کبھی گفتگو نہ کی اور مجھے معلوم ہو گیا کہ مولوی صاحب کس قدر غلط بیانیوں سے کام لیتے ہیں، اور کہ ان کو اپنے معتقدین کی کم علمی اور خوش فہمی کا خوب اندازہ ہے۔
قادیان میں پہلی نماز جمعہ
جمعہ کے روز جب میں مسلمانوں کی مسجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے گیا۔ تو میری حیرت کی انتہا نہ رہی کہ جمعہ مسجد میں صرف پانچ نمازی ہیں اور قاضی عنایت اللہ صاحب جو اس مسجد کے امام ہیں۔ مولوی عبد الکریم سیالکوٹی (قادیانی) کے مطبوعہ خطبے کے اشعار پڑھ رہے ہیں۔ نماز ختم ہونے پر ایک بڑے میاں کھڑے ہوئے اور فرمایا، بھائیو! جب تک دس نمازی نہ ہوں نماز جمعہ جائز نہیں۔ میں دو تین جمعہ سے یہی حالت دیکھ رہا تھا۔ بہتر ہے کہ آئندہ سے نماز جمعہ ملتوی کر دو۔ (یہ بڑے میاں مرزا سلطان احمد افسر مال کے منشی تھے) جو مرزا صاحب کی پہلی بیوی سے تھے۔ اور مرزا صاحب پر عقیدہ
نہ رکھتے تھے۔ ان کے مرنے کے بعد یہ مشہور کیا گیا کہ آخر وقت وہ مرزا پر ایمان لے آئے تھے۔ (واللہ اعلم)
میں نے بڑے میاں سے عرض کیا کہ ہم سے تو حقہ نوش بھنگی اور شرابی ہی اچھے ہیں کہ چند روز میں کئی اپنے ہم خیال پیدا کر لیتے ہیں۔ کیا ہم میں سے ہر شخص دو دو چار چار نمازیوں کو ساتھ نہیں لا سکتا کہ تعداد پوری ہو جائے۔ اس وقت قادیان میں سوائے ڈاک خانہ کے کوئی دوسرا سرکاری محکمہ نہ تھا۔ نمازیوں کے لیے میری یہ عرض گویا ایک سرکاری حکم یا ان کی حوصلہ افزائی کا سبب ہوا۔ کیوں کہ قادیان کے غریب مسلمانوں پر قادیانی بھائیوں سے مختلف قسم کے دباؤ ڈال کر انہیں قریب قریب بے حس کر دیا ہوا تھا۔ الحمد اللہ کہ میری یہ آواز ضائع نہ گئی۔ اگلے جمعہ چھ سات آدمی میں ہمراہ لے گیا۔ باقی مقتدی بھی چند ایک مسلمانوں کو ہمراہ لے آئے۔ میں نے قاضی عنایت اللہ امام مسجد کی اجازت سے وہاں جمعہ میں ختم نبوت اور دعویٰ مسیحیت پر تقریر کا سلسلہ شروع کر دیا۔
تیسرے چوتھے جمعہ میں مسجد نمازیوں سے کھچا کھچ بھر گئی۔ اہل حدیث بھائی جو علیحدہ مسجد میں جمعہ پڑھا کرتے تھے وہ بھی سب ادھر آنا شروع ہو گئے۔ کیوں کہ میں فروعی مسائل میں نہ پڑتا تھا۔ چند جمعوں کے بعد یہ حالت ہو گئی کہ ہمیں مسجد کی توسیع کرنی پڑی۔ البتہ اس میں بھی قادیانی دوستوں نے بہت سی رکاوٹیں پیدا کیں، مگر الحمد اللہ کہ مسلمانوں کو اس میں کامیابی ہوئی۔
نانا جان
مرزا غلام احمد صاحب کے خسر میر ناصر نواب عجیب با مذاق انسان تھے۔ تمام قادیانی انہیں نانا جان کے لقب سے پکارتے تھے۔ ان دنوں انہوں نے دارالضعفاء کے لیے اپنی جماعت والوں سے چندہ کی اپیل کر رکھی تھی اور باہر سے چندہ کافی تعداد میں آ رہا تھا۔ ڈاک کی تقسیم کے وقت آپ بنفس نفیس ڈاک خانہ کی کھڑکی پر تشریف لاتے اور فرماتے کہ سائل حاضر ہے، کچھ ملے گا۔ چونکہ ڈاک خانہ کی عمارت ان کی
صاحبزادی یعنی مرزا صاحب کی بیوی کے نام تھی۔ جس کا کرایہ وہ خود اپنے دستخطوں سے وصول کیا کرتی تھیں۔ اس لیے میں بھی اکثر یہ کہہ دیا کرتا تھا کہ آپ تو ڈاک خانہ کے مالک ہیں۔ ایک دفعہ آپ نے ایک شعر بطور نصیحت مجھے لکھوایا، جو میں نے ان سے پہلے کسی سے سنا تھا اور نہ ان کے بعد۔ جس سے اس جماعت کی ذہنیت پورے طور پر نمایاں ہوتی ہے۔ وہ شعر یہ ہے۔
ہرچہ خواہی باش لیکن اندکے زر دار باش
یعنی سور بن یا ریچھ بن اور کتے کی طرح مردار خوار بن، جو کچھ دل چاہے بن لیکن تھوڑا سا زر دار ضرور ہو۔ ایک دن میں نے بھی ان سے مذاق ہی میں کہا کہ نانا جان آپ کو ضعیفوں کا فکر کیوں دامن گیر ہے۔ چندہ کافی آ رہا ہے بجائے دارالضعفاء کے آپ ناصر آباد یا ناصر گنج کی بنیاد رکھیں۔ اور یہ میری بھی ایک پیشن گوئی ہے کہ آپ اس قطعہ کا نام ان دونوں ناموں میں سے ایک رکھیں گے اور آپ ہی اس کے واحد مالک ہوں گے۔ چنانچہ بعد میں ایسا ہی ہوا۔
ماسٹر محمد یوسف صاحب ایڈیٹر ”نور“
ماسٹر صاحب (جہاں کہیں بھی وہ ہوں اللہ انہیں خوش رکھے۔) بڑے خوش اخلاق، سنجیدہ مزاج اور صاف گو آدمی تھے۔ میری زیادہ تر نشست و برخاست ان کے ساتھ ہی تھی۔ صبح و شام اکثر سیر کو اکٹھے ہو جایا کرتے تھے۔ نانا جان اکثر انہیں کہتے کہ یوسف تمہیں سیر کے لیے کوئی اور دوست نہیں ملتا، جس کا جواب وہ اکثر یہی دیتے کہ آپ کو یہ برا کیوں محسوس ہوتا ہے۔ آخر سب پوسٹ ماسٹر ہیں کون سا عیب ہے کہ آپ مجھے اس سے ملنے سے منع کرتے ہیں۔ بہر حال وہ کسی نہ کسی طریقے سے انہیں خاموش کر دیتے۔ ماسٹر صاحب کی پہلی بیوی مولوی نور الدین صاحب کی پروردہ لڑکی تھی۔ میری اہلیہ اور ماسٹر صاحب کی بیوی میں بھی آپس میں خاصی انسیت تھی۔ جب مرحومہ کا آخری وقت قریب تھا تو مرزا صاحب کی بیوی تشریف لائیں اور کچھ اس انداز سے
مرحومہ کو کہا کہ کیوں گھبرا رہی ہو، تم ابھی نہیں مرتی۔ میری اہلیہ اور مرحومہ دونوں کو یہ بات خاص طور پر بری محسوس ہوئی۔ چنانچہ چند ہی منٹ کے بعد وہ اس دار فانی سے رخصت ہو گئیں۔ میری اہلیہ اس کے بچوں آصف، موسیٰ اور آمنہ کو گھر لے آئی کہ ان کا دل بچوں میں بہلا رہے اور وہ والدہ کی مفارقت کو محسوس نہ کریں۔
مولوی نور الدین صاحب کا زنانہ درس
مولوی صاحب مستورات کو بھی درس دیا کرتے تھے۔ اس کے بعد وہ لیٹ جاتے اور مستورات ان کی ٹانگیں دباتیں اور ساتھ ہی خاوندوں کی شکایات شروع کر دیتیں۔ اس پر مولوی صاحب ان کے خاوندوں کو بلوا کر اکثر تو اپنے موعظہ و پند سے سمجھاتے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، کہ عورتیں تمہاری امانتیں ہیں ان کا خیال رکھو اور کبھی کبھار ان کو ڈانٹ ڈپٹ سے بھی کام لیتے۔ چنانچہ ایک دن ماسٹر صاحب کی بھی باری آئی۔ انہیں بلوا کر فرمایا کہ دیکھو میں نے تمہیں اپنی لڑکی دی ہے مگر تم اس کی قدر نہیں کرتے اور اسے طرح طرح کی تکلیفیں دیتے ہو۔ مگر ماسٹر صاحب نے اپنی صاف گوئی سے کام لیا اور کہا، کہ حضرت آپ میاں بیوی کے معاملات میں دخل نہ دیا کریں۔ عورتیں اکثر غلط بیانی سے کام لے کر ہم کو آپ سے برا بنواتی ہیں۔ اس سے ہمارے تعلقات اور بھی خراب ہو جاتے ہیں۔ اگر واقعی آپ میری بیوی کو اپنی لڑکی ہی سمجھتے ہیں، تو آپ فرما دیں کہ جتنا جہیز آپ نے اپنی لڑکی کو دیا تھا کیا اسے بھی اسی قدر ہی دیا ہے۔ مرزا صاحب کو تو ہم نے مسیح موعود تسلیم کیا، مگر خلافت تو ہماری قائم کردہ ہے۔ خدا کی طرف سے نہیں چنانچہ اس کے بعد مولوی صاحب نے ان کے کسی معاملہ میں دخل نہ دیا۔ اور اس کے بعد ان میاں بیوی کے تعلقات آپس میں بہت اچھے ہو گئے۔
اخبارات
قادیان میں اخبارات تو کثرت سے نکلتے تھے۔ ان کا عشر عشیر بھی تمام ضلع گور داسپور سے نہ نکلتا تھا، اور یہی اخبارات اور رسالے مرزائیوں کی تبلیغ کا کام کر
دیتے ۔ وہ لوگ جن کو پہلے دین کا کچھ علم نہیں ہوتا وہ ان کو پڑھ کر اکثر اس جماعت میں شامل ہو جاتے ۔ میرے ایک مہربان شیخ یعقوب علی جو کسی زمانہ میں امرتسر میں وکیل اخبار میں کام کرتے تھے۔ انہوں نے قادیان جاکر اخبار جاری کیا اور یہی ان کا سب سے پہلا اور معتبر اخبار تھا۔ اس کے صفحہ اول پر یہ شعر تحریر ہوتا تھا۔
بہشتے دیگر و ابلیس دیگر آدمے دیگر
بجائے بہشت کے بہشتی مقبرہ تو قادیان میں میں نے بھی دیکھا، باقی ابلیس و آدم یہ شیخ صاحب بہتر جانتے ہوں گے یا شاید قارئین اس کا کچھ اندازہ کر سکیں۔ بہرکیف نور الدین صاحب خلیفہ اول ابوبکر ثانی، مرزا بشیر الدین محمود فضل عمر خلیفہ ثانی ۔ اب دیکھیں خلیفہ سوئم اور چہارم کون ہوتا ہے اور جنگ جمل کب شروع ہوتی ہے۔
حرمت رمضان شریف اور قادیان
مرزا صاحب کا قول ہے کہ درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے ۔ قادیان خاندان نبوت کا یہ حال تھا، کہ نانا جان تو ہمیشہ رمضان شریف میں مسافر بن جاتے اور چندہ وصول کرنے کے لیے باہر چلے جاتے۔ مرزا صاحب اور ان کی محترمہ والدہ اتفاق سے اسی مہینہ میں بیمار ہو جاتے، کبھی آشوب چشم کی شکایت ہو جاتی، کبھی درد سر ہو جاتا اور کبھی کسی دن دو چار چھینکیں آجاتیں تو مولوی محمد عارف صاحب امام مسجد اقصیٰ کو آرام ہو جاتا کہ دونوں وقت مرغن غذا میسر ہو جاتی ۔ ادھر دھرت رام برف والا دعائیں دیتا ۔ کہ نبوت خانہ میں اس کی برف کی خوب مانگ رہتی اور یہ کوئی تعجب کی بات نہیں کیونکہ خود مرزا صاحب بھی روزہ میں کیا مسافری میں رمضان شریف کا احترام تک بھی نہ فرماتے تھے۔ چنانچہ امرتسر میں رمضان مبارک کے مہینے میں تقریر فرماتے ہوئے پانی کا گلاس چڑھا جانا ایک تاریخی واقعہ ہے ۔ جب خود جناب مرزا صاحب کا یہ حال تھا تو اہل بیت اور امتی تو جو کچھ کریں جائز ہے۔
مولانا محمد علی صاحب ایم۔اے
مولانا محمد علی صاحب جو کبھی ریاضی کے پروفیسر تھے، قادیان میں آکر اور مولوی نور الدین صاحب کے درس میں باقاعدہ شامل ہوتے رہنے کے باعث اب مولانا کا لقب حاصل کر چکے تھے۔ پہلے تو ریویو آف ریلیجنز (Review of Religions) کے ایڈیٹر رہے۔ پھر قرآن شریف کا انگریزی ترجمہ شروع کیا۔ ان دنوں وہ مولوی نور الدین صاحب کے درس کے نوٹس اور چند انگریزوں اور مسلمانوں کے جو قرآن کریم کے انگریزی میں ترجمے کیے تھے، ان کی مختلف قسم کی ڈکشنریوں کی مدد سے ایک علیحدہ کوٹھی میں جو سکول کے پاس تھی ترجمہ میں مصروف تھے۔ مولوی صاحب نے اپنے ترجمہ میں معجزات انبیاء کا جابجا انکار کیا ہے، حالانکہ خود مرزا صاحب بھی تمام انبیاء کے معجزات کے قائل تھے اور ان کے اس قسم کے اشعار بھی موجود ہیں کہ معجزات انبیاء کا جو انکار کرے وہ اشقیاء سے ہے۔ چنانچہ مولوی صاحب نے حضرت ایوب علیہ السلام کے متعلق لکھا کہ ارکض برجلك گھوڑے کو ایڑی لگانا ہے، یعنی خدا نے حضرت ایوب کو حکم دیا کہ اپنے گھوڑے کو ایڑی لگاؤ۔ آگے چل کر پانی ملے گا۔ حالانکہ حضرت ایوب جب اپنے امتحان میں ثابت قدم رہے تو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ ارکض برجلك یعنی اپنی ایڑیاں زمین پر مارو یہاں سے پانی نکلے گا جو ٹھنڈا ہو گا اور پینے اور غسل کے کام آوے گا۔ چنانچہ مولوی صاحب نے یہاں بھی اپنا رنگ نہ چھوڑا۔ حضرت موسیٰ فن انجینری میں ماہر تھے۔ انہیں اسی علم سے معلوم ہو گیا کہ اس جگہ دریا میں پانی کم ہے۔ وہاں سے اپنے ہمراہیوں کو لے کر دریا عبور کر گئے۔ مگر فرعون کو چونکہ اس کا علم نہ تھا۔ اس نے اپنے اور اپنے لشکر کو گہرے پانی میں ڈال دیا اور غرق ہو گیا۔
مولوی محمد علی صاحب تو ترجمہ میں مصروف رہے اور مرزا محمود احمد جو کچھ عرصہ مصر وغیرہ میں گزار آئے تھے۔ جمعہ کو خطبہ دیا کرتے اور چونکہ وہ ریویو ریلیجنز کے ایڈیٹر بھی رہ چکے تھے اس لیے انہیں تقریر و تحریر میں خاصی دسترس حاصل ہو چکی تھی۔ اس کے برعکس مولوی صاحب ایک قسم کے گوشہ نشین ہی ہو چکے تھے۔ مولانا کا خیال تھا کہ
مولوی نور الدین صاحب کے بعد وہ خلافت کی گدی پر متمکن ہوں گے، کیونکہ ایک خاصی پارٹی ان کی پشت پر تھی۔ مگر ان کی گوشہ نشینی قرآن کا ترجمہ اور دفتر محاسب کی منیجری ان کے کسی کام نہ آئی اور مرزا محمود احمد صاحب اپنے زورِ تقریر و تحریر نیز نانا جان کی فراست و سیاست کے باعث اپنا کام نکال لے گئے۔ اس کا مفصل ذکر بعد میں آئے گا۔
قادیان سے میرا تبادلہ
چونکہ قادیان میں عارضی طور پر لگا ہوا تھا۔ اس لیے چھ سات ماہ کے بعد میرا تبادلہ پھر امرتسر ہو گیا۔
بعثت ثانی
چونکہ قادیان میں میرے کام سے افسر بھی خوش تھے اور قادیان کے اکثر اصحاب سے میرے تعلقات بھی اچھے تھے۔ اس لیے ١٩١٦ء میں جب قادیان کی جگہ خالی ہوئی تو مجھے مستقل طور پر وہاں جانے کا حکم ہوا، یعنی سات سال کے انتقال کے بعد قادیان میں پھر بعثت ثانی ہوئی۔ مولوی نور الدین صاحب وفات پا چکے تھے۔ اور مرزا محمود تخت خلافت پر متمکن تھے۔ ان کے خلافت حاصل کرنے کا قصہ بھی لطف سے خالی نہیں۔ نانا جان جو پرانے سیاستدان اور دور اندیش آدمی تھے۔ انہوں نے مولوی احسن صاحب امروہوی کو ان کے لڑکے محمد یعقوب کی شادی پر کافی روپیہ بطور قرض دے کر اپنا مرہون احسان کر رکھا تھا۔ کہ بہ وقت ضرورت کام آئے گا۔ کیونکہ مرزا صاحب کا الہام تھا کہ ”آسمان سے میرا نزول دو فرشتوں کے کندھوں پر ہوا ہے۔ جن میں ایک مولوی نور الدین اور دوسرا مولوی محمد احسن امروہوی ہے“ اور یہ تھا بھی درست کیونکہ مرزا صاحب کا نزول ان دونوں مولویوں کا مرہون منت ہے۔ ورنہ نبوت تو کجا وہ ایک معمولی عالم کی حیثیت بھی نہ رکھتے تھے۔ خیر! مولوی نور الدین صاحب کے انتقال کے بعد جب خلافت کا جھگڑا شروع ہوا۔ تو لاہوری پارٹی مولوی محمد علی صاحب کے حق
میں تھی، اور جو لوگ میاں محمود احمد کے خطبات وغیرہ سن چکے تھے وہ میاں صاحب کے حق میں تھے۔
اس وقت نانا جان نے مولوی محمد احسن صاحب کو اپنا احسان جتایا اور مدد کی درخواست کی۔ مولانا محمد احسن صاحب نے غنیمت سمجھا کہ اس صورت میں قرض کی بلا تو سر سے ٹلے گی۔ چنانچہ وہ ایک سبز رنگ کا کپڑا لے کر جلسہ عام میں تشریف لے آئے اور فرمایا کہ بھائیو! تم کو مبارک ہو رات کو حضرت مرزا صاحب نے مجھے یہ فرمایا ہے کہ یہ سبز دستار میاں محمود احمد کے سر باندھ دو۔ وہ ہی ہمارا جانشین ہو گا۔ اب کون تھا جو اس فرشتے کی بات کا انکار کرتا۔ مولوی محمد علی صاحب اور ان کے رفقاء کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی، حیران تھے یہ کیا ہو گیا مگر
ستار العیوب و قاضی الحاجاتی
نانا جان کی دی ہوئی رقم کام کر گئی۔ اب مولوی محمد علی صاحب کو اس کے سوا چارہ ہی کیا تھا کہ اپنے رفقاء کو ساتھ لے کر قادیان سے رخصت ہوئے۔ چنانچہ وہ دفتر محاسب کے کچھ کاغذات اور کچھ روپیہ لے کر لاہور پہنچے اور امیر المومنین کا لقب حاصل کر کے لاہور کو اپنا دارالخلافہ بنایا اور وہاں سے اخبار پیغام صلح جاری کر کے اپنا علیحدہ سلسلہ شروع کر دیا۔ مرزا صاحب کی نبوت کا انکار کر کے انہیں مجدد ثابت کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ نانا جان کی سیاست سے مرزا محمود احمد صاحب کے لیے قادیان کا میدان صاف ہو گیا اب دونوں پارٹیوں میں جنگ زرگری جاری ہے۔ اس دفعہ میرے قادیان آنے پر یہاں کا نقشہ بدل چکا تھا۔ مولوی نور الدین کی وفات کے بعد مرزا محمود احمد ہز ہولی نس کا خطاب حاصل کر کے تخت خلافت پر جلوہ افروز ہو چکے تھے۔ گھر سے باہر نکلنا موقوف ہو چکا تھا۔ کسی غیر آدمی کو بغیر اجازت ملنا دشوار تھا۔ اور پوری شان خلافت سے قادیان میں حکومت کر رہے تھے۔ میرے جانے پر انہوں نے میرے پرانے رفیق ماسٹر محمد یوسف کو بھیج کر مجھے بلوایا۔ ہم دونوں وہاں پہنچے۔ مرزا محمود صاحب مکان کی دوسری منزل پر تشریف فرما تھے۔
علیک سلیک کے بعد آپ نے فرمایا کہ میں نے سنا ہے کہ آپ پہلے بھی یہاں رہ
چکے ہیں۔ میں اس تجاہل عارفانہ پر حیران تھا، کیونکہ مرزا صاحب صاحبزادگی کی حالت میں کئی مرتبہ ڈاک خانہ تشریف لائے اور کئی کئی منٹ تک میرے پاس بیٹھے تھے، مگر اب آپ کی کچھ عجب ہی شان تھی۔ پہلی ہی بات جو آپ نے مجھ سے دریافت کی یہ تھی کہ کیا قادیان میں بجائے ایک دفعہ کے ڈاک دو دفعہ نہیں آسکتی؟ میں نے جواب دیا کہ ڈاک کا ٹھیکیدار اب اسی (٨٠) روپے لیتا ہے۔ امید نہیں کہ محکمہ اور خرچ برداشت کر سکے۔ دوسری بات یہ دریافت کی کہ کیا یہاں تار گھر نہیں بن سکتا؟ میں نے کہا کہ آپ کی تمام مہینے میں بمشکل دس بارہ تاریں آتی ہیں۔ مگر آپ محکمے کو لکھ دیں شاید وہ دونوں باتوں کا انتظام کر دے۔ ان دو باتوں کے علاوہ آپ نے تیسری بات کوئی نہیں کی۔ چنانچہ میں اور ماسٹر محمد یوسف صاحب واپس آئے۔ راستہ میں نے ماسٹر صاحب سے کہا، کہ آپ مولوی نور الدین صاحب اور مرزا محمود صاحب کی ملاقاتوں کا اندازہ کریں کہ کتنا فرق ہے۔ انہوں نے جتنی باتیں کی تھیں سب میرے فائدہ کی تھیں اور مرزا صاحب نے سوائے اپنے مطلب کی بات کے کوئی اور بات ہی نہیں کی۔ مرزا صاحب ایک بادشاہ کی سی زندگی بسر کر رہے تھے۔ صرف بعد دوپہر مسجد میں درس دینے آتے اس میں قصبہ کی جماعت کے آدمی مدرسہ دینیات اور ہائی سکول کے طلباء شامل ہوتے۔
سکول کے طلباء اکثر ایک ہندو سے مٹھائی وغیرہ خریدا کرتے تھے اور کئی ایک کا ادھار بھی چلتا تھا۔ چنانچہ ایک روز ایک حلوائی نے اپنے ادھار کا تقاضا کیا، طالب علم بھی سختی سے پیش آیا۔ جانبین کے حمایتی اکٹھے ہوگئے۔ آپس میں لڑائی ہوئی۔ جس سے دونوں طرف سے چند آدمی زخمی ہوئے۔ اطلاع میاں صاحب تک پہنچی۔ میاں صاحب نے فوراً حکم جاری فرما دیا کہ کوئی مرزائی کسی غیر مرزائی سے سودا نہ خریدے اور اگر کوئی سودا خریدتا ہوا پایا گیا تو اسے پانچ روپیہ جرمانہ کیا جاوے گا۔ اب چونکہ ان کی جماعت کی اتنی دکانیں نہ تھیں کہ ان کی ضروریات پوری ہو سکتیں اور ادھر میاں صاحب کے نادر شاہی حکم سے سرتابی کی جرات نہ تھی۔ لہٰذا وہ چوری چھپے اپنے غیر مرزائی دوستوں کے ذریعے سے اشیاء منگوا کر ضرورت پوری کرتے۔ میرے اکثر دوست میرے پاس آتے اور میں انہیں بازار سے اشیاء منگوا دیتا۔
دفتر محاسب میں چھٹی رسان کو زد و کوب
جمعہ کے روز قادیان کے دفاتر اور خصوصاً دفتر محاسب دو بجے تک بند رہتا تھا۔ دفتر والوں نے اپنے طور پر چھٹی رسان سے فیصلہ کر رکھا تھا کہ ' وہ دفتر کے منی آرڈر وہاں چھوڑ آتا اور ڈھائی بجے جا کر واپس لے آتا۔ اکثر اوقات دفتر کا کلرک دیر سے آتا تو چھٹی رسان کی واپسی میں تاخیر ہو جاتی جس کی وجہ سے ہمیں بھی دقت ہوتی۔ چنانچہ میں نے دو تین دفعہ چھٹی رسان کو تنبیہ کی کہ وقت پر واپسی دیا کرے۔ ایک جمعہ کو وہ تقریباً سوا تین بجے روتا ہوا دفتر میں آیا ' اور بتایا کہ کلرک دفتر محاسب منی آرڈروں کی واپسی میں دیر کرتا ہے۔ آج میں نے اسے جلد واپس کرنے کو کہا ' جس پر اس نے مجھے دفتر میں سب سٹاف کے روبرو مارا۔ میں نے اس سے پوچھا کہ اس دفتر کا کوئی آدمی تمہاری شہادت دے سکتا ہے۔ اس نے کہا مجھے امید نہیں کہ اس کلرک کے خلاف کوئی سچی شہادت بھی دے۔ میں نے اس سے تحریری بیان لے کر ناظم دفتر محاسب کو بھیج دیا۔ چونکہ محکمانہ کارروائی تو بغیر شہادت کے فضول تھی ' میں نے یہ سوچا کہ ان کی دیانت و تقویٰ کا ہی امتحان ہو جائے گا۔ ڈاکٹر رشید الدین مرزا محمود صاحب کے خسر ان دنوں دفتر کے انچارج تھے۔ بیان کے ساتھ میں نے یہ بھی لکھ دیا کہ جب آپ اس معاملہ کی تحقیقات کریں تو چھٹی رسان کو اور مجھے بھی بلوائیں۔ میری دوبارہ یاد دہانی پر مجھے جواب ملا کہ میں خود تفتیش کر کے جواب دوں گا اور تم یہ بتاؤ کہ تم اس مقدمے میں کس حیثیت سے پیش ہو سکتے ہو ' نہ ہی تم موقعہ کے گواہ ہو اور نہ کوئی قانون دان کہ چھٹی رسان کی وکالت کر سکو۔ لہٰذا تمہارے آنے کی کوئی ضرورت نہیں۔
اس تحریر کے لہجہ سے میری حیرت کی کوئی انتہا نہ رہی کہ سرکاری عدالتوں میں بھی اتنی سختی سے کام نہیں لیا جاتا ' کہ سوائے گواہوں اور وکیلوں کے کوئی کمرہ عدالت میں نہ جائے ' مگر یہ قادیانی عدالت تھی۔ میں نے اس کا جواب ”خاموشی“ سے دیا اور غریب چھٹی رسان کا بھی کچھ نہ بنا۔
قادیان میں انجمن حمایت الاسلام
اس دفعہ بھی مسجد میں جمعہ میں ہی پڑھایا کرتا اور مسجد میں بھی اب خاصی رونق ہو جاتی تھی۔ مسلمانوں میں بیداری کے کچھ آثار پیدا ہو چکے تھے، ہم نے وہاں انجمن حمایت الاسلام کی بنیاد ڈالی۔ قاضی عنایت اللہ صاحب صدر مقرر ہوئے، مہرالدین سیکرٹری علی ہٰذا القیاس خزانچی وغیرہ۔ عیدالاضحیٰ کا موقعہ قریب تھا، خیال ہوا کہ اس موقعہ پر چندہ اکٹھا کر کے اپنے علماء کو بلوا کر جلسہ کیا جائے کہ وہ ہمیں ہمارے صحیح عقائد سے آگاہ کریں۔ عید کے روز نصف شب سے بارش شروع ہوئی اور متواتر صبح تک ہوتی رہی، ہماری مسجد چھوٹی تھی جس میں عید کی نماز کی گنجائش مشکل تھی۔ مرزا محمود صاحب نے بارش کی وجہ سے بجائے اس ہماری عید گاہ کے جس پر انہوں نے جابرانہ قبضہ کر رکھا تھا، عید مسجد اقصیٰ میں پڑھائی۔ ان کا عید کی نماز پڑھنا تھا کہ زور کی آندھی آئی، بادل چھٹ گئے، موسم نہایت خوشگوار ہو گیا۔ لہٰذا ہم نے اسی عید گاہ میں نماز پڑھی۔ بیرونجات سے اس قدر نمازی اکٹھے ہوئے کہ مسلمانوں کا اتنا ہجوم قادیان میں اس سے پہلے کبھی نہ ہوا تھا۔ چنانچہ میں نے عید کی نماز پڑھائی اور انجمن کے مقاصد بیان کر کے چندہ کی اپیل کی۔ قریباً ایک سو روپیہ تو وہاں اکٹھا ہو گیا، چند روز کی کوشش سے تقریباً چار صد روپیہ جمع ہو گیا۔ حسن اتفاق سے گورداسپور میں ایک جلسہ منعقد ہو رہا تھا، جس میں علاوہ علمائے کرام کے اور بزرگان دین بھی شمولیت کر رہے تھے۔ مجھے احباب نے مجبور کیا کہ میں ان کے ساتھ وہاں چلوں اور وہیں قادیان کے جلسہ کے متعلق بھی ان لوگوں سے مشورہ کر کے ان کو دعوت دی جائے۔ میں نے محکمہ سے پانچ روز کی رخصت لی اور دوستوں کے ساتھ گورداسپور پہنچا، وہاں پہنچ کر مجھے معلوم ہوا کہ میرے محسن و کرم فرما حاجی حرمین الشریفین جناب پیر جماعت علی شاہ صاحب علی پوری بھی تشریف فرما ہیں۔ جب میں امرتسر میں دسویں جماعت میں تعلیم پاتا تھا، میرے بزرگ اور رشتہ دار مولانا سید احمد علی صاحب مسلم ہائی سکول میں شعبہ دینیات کے مدرس اعلیٰ تھے۔ ان کے تعلقات حضرت موصوف سے بہت گہرے تھے، ان کی وجہ سے حضرت صاحب مجھ سے خاص انس رکھتے تھے۔ بلکہ جب کبھی کہیں دعوت پر تشریف لے
جاتے تو اپنے خلیفہ خیر شاہ صاحب کو بھیج کر مجھے بلوا لیا کرتے تھے۔ غرضیکہ ان کی گورداسپور میں تشریف آوری کا سن کر مجھے یک گونہ اطمینان ہو گیا۔ نماز عصر کا وقت تھا، آپ مسجد جھاماں میں تشریف فرما تھے، میں اور میرے ساتھی ان کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ مجھے عرصہ کے بعد دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور پوچھا کہ آج کل کہاں ہو، میں نے عرض کیا کہ قادیان میں مسکرا کر فرمایا، کہیں مرزائی تو نہیں ہو گئے، میں نے عرض کی، ابھی سوچ رہا ہوں۔ آپ فرماتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ آسمان سے ابھی اتریں گے اور وہاں عیسیٰ موجود ہے، نقد کو چھوڑ ادھار کون لے۔ خیر میں نے ان سے عرض حال کی، آپ نے اپنی حاضری کی تو معذرت فرمائی، اور اسی وقت اپنے چند خلفاء کو تحریر کر دیا کہ جس وقت قادیان سے انجمن حمایت الاسلام کی دعوت پہنچے وہ ضرور وہاں پہنچیں اور جلسہ کی کامیابی کے لیے دعا فرمائی۔ وہاں سے ہم حضرت مولانا سراج الحق صاحب کی قیام گاہ پر گئے، حضرت سراج الحق صاحب سے بھی میرے نیاز مندانہ تعلقات تھے۔ جب آپ کے والد صاحب بٹالہ میں تحصیلدار تھے تو آپ کے چھوٹے بھائی اور میں ہم جماعت تھے اور ہم دونوں اکثر ان کے حلقہ ذکر میں حاضر ہوتے تھے۔ اس لیے وہ مجھے بھی اپنے بھائی جیسا ہی سمجھتے تھے۔ چنانچہ آپ نے بھی مولوی حامد علی صاحب گمشالوی اور ایک مولوی صاحب جو وہاں موجود تھے انہیں تاکید فرمائی اور مولوی نواب دین صاحب کو کہلوا بھیجا کہ قادیان سے اطلاع آنے پر وہ شامل جلسہ ہوں۔ گورداسپور سے فارغ ہو کر میں امرتسر پہنچا اور اپنے محسن و مربی استادی حاجی الحرمین الشریفین جناب مولانا مولوی نور احمد صاحب نور اللہ مرقدہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ حضرت مولانا قادیان میں جلسہ کا سن کر بہت خوش ہوئے اور فرمایا، اللہ تعالیٰ یہ نیک کام تم سے لینا چاہتے ہیں۔ میں نے کچھ رقم بطور کرایہ پیش کی، آپ نے فرمایا، عزیز تمہیں معلوم ہے کہ میں خود صاحب زکوٰۃ ہوں، میں صرف اس نیت سے وہاں جانا چاہتا ہوں کہ شاید میری وعظ و نصیحت سے کوئی راہ راست پر آجائے تو میری بخشش کا باعث ہو۔ پھر آپ نے فرمایا، کہ اب مولوی ثناء اللہ صاحب کے پاس جاؤ، میرا سلام عرض کرو اور کہنا کہ وہ اس موقعہ پر ضرور قادیان پہنچیں، کیونکہ انہیں مرزا صاحب کی تصانیف پر مکمل عبور ہے۔ مولوی صاحب میرے بھی مہربان تھے، میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا،
حضرت مولانا کا پیغام بھی دیا۔ مولوی صاحب فرمانے لگے کہ میں تو عرصہ سے اس بات کا خواہاں ہوں کہ قادیان جاکر تقریر کروں۔ عرصہ ہوا، بٹالہ سے ایک پولیس کا سپاہی ساتھ لے کر وہاں گیا تھا کہ مرزا صاحب سے کچھ بات چیت کروں، مگر مجھے مرزا صاحب نے روبرو گفتگو کا موقعہ نہ دیا اور صرف دو ایک باتیں تحریری دریافت کرنے کی اجازت دی اور میں وہاں سے بے نیل و مرام واپس لوٹا۔ چونکہ میں نے مرزا صاحب سے مباہلہ بھی کیا تھا جس کی وجہ سے اب تک مرزائیوں سے میری چھیڑ چھاڑ ہے۔ مجھے خطرہ ہے کہ وہ مجھ پر حملہ نہ کریں یا کھانے میں کسی قسم کا زہر نہ ملادیں۔
میں نے ان کی تسلی کی کہ اس بات کی ذمہ داری میں لیتا ہوں۔ آپ کے لیے کھانا میں اپنے گھر سے پکواؤں گا بلکہ خود آپ کے ساتھ کھایا بھی کروں گا۔ امرتسر سے فارغ ہو کر اگلے دن میں لاہور گیا، میرے بزرگ سید احمد علی شاہ صاحب جن کا ذکر میں نے پہلے بھی کیا ہے۔ ان دنوں لاہور اسلامیہ کالج کے عربی کے پروفیسر اور بادشاہی مسجد کے خطیب بھی تھے، ان سے سارا معاملہ بیان کیا۔ آپ بہت خوش ہوئے۔ فرمایا کہ اس بہانہ سے مجھے بہشتی مقبرہ دیکھنے کا موقع بھی مل جائے گا اور بچوں کو بھی دیکھ آؤں گا۔ وہاں سے فارغ ہو کر میں اپنے مہربان پیر بخش صاحب پوسٹل پنشنر سے ملنے چلا گیا، آپ اس وقت اپنے ماہوار رسالہ جو قادیان ہی کے متعلق ہوتا تھا، تحریر کرنے میں مصروف تھے، مل کر بہت خوش ہوئے اور قادیان آنے کا وعدہ کیا اور مجھے اپنا ایک رسالہ بھی دیا جس میں مرزا صاحب کے نکاح آسمانی کا سارا پول کھولا ہوا تھا۔ اس میں مرزا صاحب کے تمام دعاوی جو محمدی بیگم کے رشتہ داروں کو تحریر کیے تھے کہ اگر محمدی بیگم کا مجھ سے نکاح کر دو گے تو تم پر یہ برکات نازل ہوں گی۔ اور اگر انکار کرو گے تو عذاب الٰہی میں گرفتار ہوگے اور اپنے فرزند سلطان احمد (جو پہلی بیوی سے تھے) اس کے نام خطوط تھے کہ اگر محمدی بیگم کے رشتہ دار محمدی بیگم کا مجھ سے نکاح نہ کریں تو تم اپنی بیوی کو (جو محمدی بیگم کی قریبی رشتہ دار تھی) طلاق دے دو، ورنہ تمہیں عاق کر دیا جائے گا اور بھی بہت سے ایسے رازہائے درون پردہ کا انکشاف کیا ہوا تھا۔ بہرکیف وہاں سے فارغ ہو کر میں اور محترمی مولانا احمد علی صاحب بعد دوپہر قاضی حبیب اللہ صاحب خوش نویس صاحب کے ہاں پہنچے۔ نہایت خوش مذاق آدمی تھے۔ وہاں ان کے ہاں ہی جلسہ کی تاریخ
مقرر کر کے اشتہارات کی لکھائی چھپوائی اور جہاں جہاں اشتہارات ارسال کرنے تھے سب انتظامات مکمل کر کے ہم واپس گھر آئے۔ دوسرے روز ہم مولانا ظفر علی خان صاحب کے ہاں پہنچے، اندر اطلاع کی گئی۔ ملازم نے ہم کو کرسی پر بٹھا دیا، چند منٹ بعد مولانا تشریف لائے۔ ان دنوں مولانا کی عجب شان تھی، نیلے رنگ کی سرج کا سوٹ زیب تن تھا۔ کالر، ٹائی، ڈاسن کا بوٹ، بل دار مونچھیں، مجھے تعجب ہوا کیونکہ میرے ذہن میں مولانا کے متعلق مولویوں کا سا نقشہ تھا کہ وہ جبہ و دستار سے آراستہ ہوں گے۔ بہرحال مولانا حضرت مولوی احمد علی صاحب سے نہایت خوش عقیدتی سے پیش آئے۔ مولوی صاحب نے تمام حال بیان کیا کہ اسے اپنے اخبار میں شائع کر دیں۔ مولانا نے فرمایا کہ مجھے اس کے متعلق کوئی عذر نہیں مگر میرا اخبار زمیندار چند دنوں سے بند ہے۔ اس کی جگہ میں ستارہ صبح نکال رہا ہوں اور وہ بھی سنسر ہوتا ہے۔ محکمہ سنسر میں چند مرزائی بھی ہیں۔ میں مضمون دے دوں گا اگر کسی نے کاٹ نہ دیا۔ بہرحال میں وہاں سے واپس قادیان آیا۔ چند روز کے بعد مولانا کا مضمون جلسہ کے متعلق اخبار ستارہ صبح میں شائع ہو گیا، جس کا جواب اخبار ”الفضل“ قادیان میں بدیں مضمون شائع ہوا۔ ”کہ ہم کو اخبار ستارہ صبح میں قادیان میں جلسہ ہونے اور یہاں علمائے کرام کے تشریف لانے کا پڑھ کر بہت خوشی ہوئی کہ ہم تبلیغ کے لیے اپنے آدمی دور دراز کے ملکوں میں بھیجتے ہیں۔ یہ تو ہماری خوش قسمتی ہوگی کہ علمائے کرام یہاں آئیں اور ہم ان سے تبادلہ خیالات کریں مگر ہم نے قادیان کی گلی گلی اور کوچہ کوچہ چھان مارا ہے کہ وہ ہستیاں ہمیں نظر آئیں جو قادیان میں جلسہ کرا رہی ہیں، مگر شاید وہ ابھی عالم بالا میں پرورش پا رہی ہیں۔
یہ مضمون ہمارے لوگوں کی نظر سے گزرا مگر ہم خاموش تھے۔ یہاں تک ہمارے اشتہارات جگہ جگہ پہنچ گئے اور قادیان کے بازاروں میں چسپاں کر دیئے گئے۔ اشتہارات دیکھ کر مرزائی صاحبان کے اوسان خطا ہوگئے۔ خصوصاً جب انہوں نے مولانا ثناء اللہ صاحب، مولانا محمد ابراہیم صاحب سیالکوٹی اور ستارہ ہند مولانا مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کے اسمائے گرامی دیکھے۔ اب انہیں فکر لاحق ہوئی کہ کسی طرح سے یہ جلسہ بند کرا دیا جائے۔ چنانچہ انہوں نے مجلس شوریٰ بلوائی جس میں یہ طے ہوا کہ چند
معزز مرزائی ڈپٹی کمشنر کو ملیں اور اسے اپنی جماعت کی سرکار انگلیشیہ سے وفاداری کے احسانات جتا کر اسے بتائیں کہ اس جلسہ میں ہر فرقہ کے علماء آ رہے ہیں۔ اس لیے خطرہ ہے کہ قادیان میں کسی قسم کا ہنگامہ نہ ہو جائے۔ چنانچہ مرزائیوں کا ایک وفد گورداسپور پہنچا۔ ڈپٹی کمشنر نے اس معاملہ پر غور کرنے کا وعدہ کیا۔ ہمارے آدمیوں کو بھی علم ہو گیا وہ لوگ بھی گورداسپور گئے۔
ڈپٹی کمشنر نیک دل پادری منش انگریز تھا۔ اس سے ملے اور قادیان کے حالات سنا کر بتایا کہ ہمارا عقیدہ ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام آسمان پر زندہ ہیں۔ مگر مرزا صاحب اپنے آپ کو مسیح موعود کہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آسمان پر کوئی مسیح نہیں وہ مسیح میں ہوں۔ ڈپٹی کمشنر صاحب نے حیران ہو کر پوچھا کہ کیا واقعی مرزا صاحب اپنے آپ کو مسیح کہتا ہے۔ ہم نے اس کی کتابوں کے حوالے دیے اور کہا کہ ہم یہی اپنے علماء سے سننا چاہتے ہیں کہ واقعی مرزا صاحب مسیح ہیں یا جسے ہم اور آپ مانتے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر نے بڑے وثوق سے کہا کہ تم جا کر جلسہ کرو تمہیں کوئی نہیں روک سکتا۔ قادیانیوں کو جب یہ معلوم ہوا تو ان کو اور زیادہ تشویش ہوئی۔ جلسہ کا دن قریب آ رہا تھا۔ دوبارہ ان کا وفد ڈپٹی کمشنر سے ملا اور اسے بتایا کہ یہ باہر کے لوگ محض فساد کرنے کی غرض سے آ رہے ہیں، وغیرہ وغیرہ۔ ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ میں نے سپرنٹنڈنٹ پولیس کو حکم دے دیا ہے کہ وہ پولیس کی کافی تعداد وہاں بھیج دے۔ مگر اس پر بھی تمہیں خطرہ ہے تو ایڈیشنل مجسٹریٹ کو بھی بھیج دوں گا اور اگر وقت ملا تو شاید میں خود بھی آؤں۔ مرزائی اپنا سا منہ لے کر واپس آگئے۔ یہاں پر آ کر انہوں نے جلسہ کو ناکام بنانے کے لیے باقاعدہ پروپیگنڈہ شروع کر دیا۔ کیوں کہ انہیں خطرہ تھا کہ قرب و جوار کے مسلمانوں پر جو انہوں نے مختلف قسم کے دباؤ ڈال رکھے تھے، یہ سب لوگ ان سے باغی نہ ہو جائیں۔
جلسہ سے چند روز پہلے قادیان کے ہندوؤں اور سکھوں نے مہمانوں کے لیے اپنے رہائشی مکان خالی کر دیے اور خود دو تین تین کنبوں نے مل کر گزارا کیا، کیونکہ ان پر بھی مرزائیوں نے بہت رعب ڈال رکھا تھا۔ سکھوں نے قادیان کے قصبہ کے قریب ہی اپنی جگہ پر جلسے کا انتظام کیا اور سٹیج وغیرہ بھی انہوں نے خود بنائی۔ ہمیں بٹالہ سے
دریوں اور شامیانوں کا بندوبست کرنا پڑا۔ خدا خدا کر کے جلسہ کا دن آیا۔ تاریخ مقررہ سے ایک روز قبل میرے استاد حضرت مولانا نور احمد صاحب اپنے دوست میاں نظام الدین صاحب میونسپل کمشنر امرتسر اور اپنے چند شاگردوں کے ساتھ تشریف لے آئے۔ مولوی عبد العزیز صاحب گورداسپوری اسی روز آگئے۔ دوسرے روز علی الصبح میاں نظام الدین صاحب کی صدارت میں جلسہ کی کارروائی شروع ہوئی۔ قادیانیوں کا اور تو کوئی جادو نہ چل سکا۔ جلسہ کے ایک روز پہلے انہوں نے قادیان کے اطراف میں اپنے آدمی دوڑا دیے اور مشہور کر دیا کہ جلسہ نہیں ہوگا۔ گورنمنٹ نے جلسہ کو روک دیا ہے۔ اس لیے حاضرین کی تعداد بہت کم تھی۔ جناب مولانا نور احمد کے ارشاد پر مولوی عبد العزیز صاحب نے تلاوت قرآن کریم کے بعد اپنی تقریر شروع کی۔ مرزائی مذاق اڑاتے تھے کہ یہ جلسہ نہیں جلسی ہے۔ مگر جوں جوں قرب و جوار کے مسلمانوں کو علم ہوتا گیا کہ جلسہ ہو رہا ہے وہ محض مرزائیوں کی شرارت تھی تو لوگ جوق در جوق آنے شروع ہو گئے۔ دوپہر کو لاہور سے جناب مولانا احمد علی صاحب، ماسٹر پیر بخش صاحب اور تین چار اور عالم، جو ان کے دوست تھے آگئے۔ دہاریوال سے مولوی نواب دین صاحب امرتسر سے مولوی ابو تراب صاحب۔ غرض کے علماء کی آمد آمد شروع ہو گئی۔
جلسہ میں اس قدر رونق ہو گئی جس کی ہمیں بھی توقع نہ تھی۔ اور دور دور سے لوگوں کی آمد و رفت شروع ہو گئی۔ مجسٹریٹ سری کرشن، انسپکٹر، سب انسپکٹر پولیس مع کافی عملہ کے موجود تھے۔ مرزائیوں نے کئی دفعہ جلسہ میں گڑبڑ ڈالی اور فساد کی کوشش کی مگر کامیاب نہ ہو سکے۔ آخر انہوں نے اس خوف سے کہ کلمہ حق کسی کے کان میں نہ پڑ جائے۔ اپنے لوگوں کو جلسہ میں آنے سے روکنا شروع کر دیا۔ سکول کے مسلمان طلبہ کو جلسہ میں شریک نہ ہونے دیا۔ حالانکہ تعلیم الاسلام ہائی سکول میں غیر حاضری کا کوئی جرمانہ نہ ہوتا تھا، مگر ایام جلسہ میں آٹھ آنے فی غیر حاضری کا جرمانہ رکھ دیا۔ سقوں اور خاکروبوں کو مجبور کیا کہ وہ جلسہ کا کام نہ کریں۔
جو اللہ تعالیٰ کو منظور ہوتا ہے ہو کر ہی رہتا ہے۔ قادیان کے مسلمانوں نے سب
کام بڑی مستعدی سے کئے۔ تیسرے روز علی الصبح مولوی ثناء اللہ صاحب بھی تشریف لے آئے۔ مرزا صاحب کے مباہلہ وغیرہ کی وجہ سے لوگ ان کو دیکھنے اور ان کی تقریر سننے کے بڑے شائق تھے۔ یہ خبر ہوا کے ساتھ قادیان کے اطراف میں پھیل گئی۔ پھر تو جلسہ گاہ میں اس قدر ہجوم تھا کہ تل دھرنے کو جگہ نہ تھی۔ بعد دوپہر مولوی صاحب نے اپنے خاص انداز میں تقریر شروع کی اور مرزا صاحب کا الہام پیش کیا کہ میں نے دیکھا کہ زمین اور آسمان میں نے بنایا ہے۔ ان دنوں قادیان میں ریل نہیں جاتی تھی اور بٹالہ سے قادیان تک کچی سڑک تھی۔ قادیان سے میل ڈیڑھ میل کا ٹکڑا نہایت خستہ حالت میں تھا۔ جس کا نام ہی پہلو توڑ سڑک رکھا ہوا تھا کہ تین روز تک پسلیاں ہی درد کرتی رہتی تھیں۔ اور واقف کار لوگ اکثر یہ حصہ پیدل ہی طے کیا کرتے تھے۔ مولوی صاحب نے یہ الہام پیش کر کے فرمایا کہ مجھے یہ الہام پڑھ کر تو بہت خوشی ہوئی کہ میرے ایک مہربان نے آسمان اور زمین بنائے مگر یہ دیکھ کر بہت رنج ہوا کہ قادیان کی سڑک نہ بنائی۔ شاید انہیں معلوم تھا کہ مولوی ثناء اللہ اس سڑک پر سفر کرے گا۔ اس لیے دانستہ ہی اسے چھوڑ دیا ہو۔
پھر مرزا محمود کے سفر ہندوستان سے واپسی پر اور دریائے گنگا کے پل عبور کرنے پر جو مضمون الفضل نے شائع کیا تھا کہ گنگا نے مرزا صاحب کے پاؤں چومے۔ لہریں ان پر نثار ہوتی تھیں۔ اس پر بڑی پرلطف تنقید کی۔ پھر نکاح آسمانی اور محمدی بیگم کا قصہ شروع کیا۔ مرزائی صاحبان ذرا ذرا سی بات پر مجسٹریٹ کو توجہ دلاتے، کہ مولوی صاحب کو یہ بات کرنے سے روکا جائے۔ اس سے ہمارے جذبات مجروح ہوتے ہیں۔ مگر مولوی صاحب جو ان کے نبی سے دال روٹی بانٹتے تھے، بھلا ان کو خاطر میں کب لاتے۔ انہوں نے مجسٹریٹ کی طرف مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ دین کا معاملہ ہے۔ مرزا صاحب نے مسلمانوں کے عقیدہ کے خلاف دعویٰ نبوت کیا اب ہمیں حق ہے کہ ہم اس دعویٰ کو پرکھ کر دیکھیں۔ اس وقت جلسہ کے صدر میرے ماموں جناب شیخ محمد صاحب، وکیل گورداسپور تھے۔ ان کو مخاطب کر کے مولوی صاحب نے کہا کہ جب عدالت میں کوئی دعویٰ کرتا ہے تو کیا فریق ثانی کو قانون یہ حق نہیں دیتا کہ جواب دعویٰ پیش کرے۔ پھر ہمیں جواب دعویٰ سے کوئی روک نہیں سکتا۔ اور اگر دعویٰ
باطل ہو جاوے تو مقدمہ خارج ہوتا ہے۔ مرزا صاحب نے دعویٰ نبوت کر کے ہمیں چیلنج دیا۔ اب ہمیں اس کی تردید میں دلائل پیش کرنے کا حق پہنچتا ہے۔ اس بات سے نہ ہی ہمیں اخلاق روک سکتا ہے اور نہ ہی قانون۔ مگر مرزائی تھے کہ واویلا کر رہے تھے۔ مجسٹریٹ کو مجبوراً یہ کہنا پڑا کہ اگر آپ نے اسی طرح شور مچائے رکھا تو مجھ کو سختی کرنا پڑے گی۔ مولوی صاحب نے محمدی بیگم کے نکاح کو کچھ ایسے پیرایہ میں بیان کیا کہ سننے والوں کے پیٹ میں بل پڑ جاتے تھے۔ خیر جلسہ بخیر و خوبی ختم ہو گیا۔ دوران جلسہ پندرہ بیس دیہاتی مرزائی تائب ہو گئے۔ اور جن کے دلوں میں کچھ شبہات تھے۔ انہوں نے بھی توبہ کی۔ اگر چہ میں ملازمت کے باعث منظر عام پر نہ آیا تھا‘ اور نہ آسکتا تھا مگر
ہر جگہ یہ خبر پھیل گئی کہ جلسہ کا بانی یہاں کا پوسٹ ماسٹر ہے۔ باہر سے احباب کے مبارک باد کے خطوط آنے شروع ہو گئے۔ مگر ان تمام خطوط میں ایک خط ایسا تھا جس کو میں عمر بھر نہیں بھول سکتا۔ یہ خط جناب حضرت مولوی محمد علی صاحب سجادہ نشین مونگیر شریف کا تھا۔ جنہوں نے مرزا صاحب کے متعلق چند رسالے بھی شائع کئے تھے۔ اصلی خط تو دوران تقسیم بٹالہ میں ہی رہ گیا‘ مگر اس کا مضمون قریب قریب یہ تھا۔ محی الاسلام وعلیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ۔ مجھے معلوم کر کے بہت خوشی حاصل ہوئی کہ آپ نے قادیان میں مسلمانوں کے جلسہ کی بنیاد رکھی ہے۔ خداوند کریم آپ کو اجر خیر دے۔ اگر چہ میں اب ضعیف ہوں مگر جب مرزا صاحب کے خلاف قلم اٹھاتا ہوں تو اپنے آپ کو جوان پاتا ہوں۔ امرتسر میں میرے دوست مولوی نور احمد صاحب اور مولوی ثناء اللہ صاحب موجود ہیں انہیں میری جانب سے سلام عرض کریں اور وقت بے وقت اگر کسی قسم کی امداد کی ضرورت ہو تو انہیں کہہ دیا کریں۔ یہ خط میرے لیے باعث اطمینان و فخر تھا‘ کہ قابل قدر ہستی نے جس پر ہر دو مولوی صاحبان کو بھی ناز تھا۔ احقر کو یاد فرمایا۔
مجھے اس بات کا یقین ہے کہ اس تمام تگ و دو کی پشت پر میرے آقا مرشدی حضور حضرت خواجہ الہ بخش صاحب تونسوی رحمتہ اللہ کی روحانی امداد اور جناب پیر جماعت علی شاہ صاحب علی پوری اور دیگر بزرگان دین کی دعائیں تھیں۔ ورنہ میرے جیسے کم علم بے بضاعت اور ملازمت میں جکڑے ہوئے شخص کی اتنی ہمت و جرات کب
تھی۔ کہ سرکار انگلشیہ کے خود کاشتہ پودے کے خلاف کچھ کر سکے۔
هذا من فضل ربی۔
اب مرزائیوں کو بھی پورے طور پر یقین ہو چکا تھا کہ پردہ زنگاری کے پیچھے سب پوسٹ ماسٹر کا ہاتھ ہے۔ قصر خلافت میں مشورے شروع ہوئے کہ سب پوسٹ ماسٹر کو قادیان سے تبدیل کرایا جاوے۔ چنانچہ یہ طے ہوا کہ پوسٹ ماسٹر جنرل کی شملہ سے واپسی پر ایک وفد اس کے پاس جاوے۔ اس دوران میں نانا جان جو ضرورت سے زیادہ حریص تھے۔ یہ خیال پیدا ہوا کہ مولوی محمد احسن سے جو کام لینا تھا وہ تو لے لیا اب مرزا محمود کی خلافت کو کسی قسم کا خطرہ بھی نہ تھا۔ کیوں کہ اسے ایک عرصہ گزر چکا تھا۔ چنانچہ انہوں نے مولوی صاحب سے اپنی رقم کا تقاضا کیا اور ایک لمبی چوڑی چٹھی لکھی، کہ مولوی صاحب آپ نے جو روپیہ اپنے صاحبزادہ محمد یعقوب کی شادی پر بطور قرض حسنہ لیا واپس کریں۔ مولوی صاحب اپنی دانست میں اس کا معاوضہ اس سے زیادہ ادا کر چکے تھے۔ مرزا محمود صاحب کو تخت نشین کرنا ان ہی کی کرامت تھی۔ انہوں نے نانا جان کو بہت سمجھایا کہ اب اس کا تقاضا چھوڑ دیں کہ میں کئی گنا زیادہ حق خدمت ادا کر چکا ہوں۔ نانا جان نے نہ ماننا تھا نہ مانے اور الٹی سیدھی سنانا شروع کیں۔ مولوی صاحب نے بھی تنگ آکر اخبار پیغام صلح اور دیگر اخبارات کا سہارا لے کر مرزا صاحب کی قلعی کھولنا شروع کی اور مرزا صاحب کے مبلغ علم کا سب کچا چٹھا لکھ مارا۔ جس پر انہیں منافق و مرتد کے خطابات ملنے شروع ہو گئے۔
عیسیٰ کجاست تا بنہد پایہ منبرم
نوجوان اس دام تزویر میں پھنس کر صراط مستقیم سے بھٹک گئے۔ پھر انہیں اپنے خود ساختہ دین کے رنگ میں پوری طرح سے رنگ دیا۔
پہلے جو پیغمبر آیا کرتے تھے وہ اس زمانہ کے فاسد و باطل خیالات و عقائد کی مخالفت کر کے اور تکلیفیں برداشت کر کے لوگوں کو راہ راست پر لاتے ۔ مگر جناب مرزا صاحب نے زمانہ کی ہوا کا رخ دیکھا اور اس کے مطابق اپنی تعلیم کو جاری کیا، تاکہ بڑے بڑے سرکاری عہدے داروں پر قابو پایا جاسکے اور وہ حصول زر کا باعث بن سکیں۔
چنانچہ قادیان میں بہشتی مقبرہ جائیداد کا دسواں حصہ وصول ک کرتے رہنا۔ اس بہشتی رشوت ادنیٰ کرشمے ہیں۔
چنانچہ ایک معمر مرزائی اس نے وصیت کی کہ مجھے بہ تنخواہ کا دسواں حصہ ادا کرتا ر یہ آپ کا مرید ہے۔ اس نے ہے۔ اب جائیداد اتنی نہیں ک کے مطابق بہشتی مقبرہ میں دفن آئین کے خلاف ہے۔ اگر ا حصہ لازمی دینا پڑے گا۔ اسی میت میں سڑاند پیدا ہو گئی۔ نے مجبور ہو کر جائیداد کا دسوا
قادیان میں جلسہ کرا کانوں میں ابھی اسلام کے ا کرام کے وعظ اور نصیحت ۔ نے پہلے عرض کیا ہے ۔ جلسہ جوار میں اس کا بہت اچھا اثر
قادیاں سے قادیاں
١٩٠٤ء سے پہلے قادیا ہیں۔ اور ڈاک خانہ کی مہر اخبارات مذاق اڑایا کرتے
چنانچہ قادیان میں بہشتی مقبرہ۔ کہ اس میں دفن ہونے والے ہر شخص سے اس کی جائیداد کا دسواں حصہ وصول کرنا اور تنخواہ سے تادوران ملازمت دسواں حصہ وصول کرتے رہنا۔ اس بہشتی رشوت کے علاوہ زکوٰۃ نذرانہ وغیرہ کی وصولی حصول زر کے ادنیٰ کرشمے ہیں۔
چنانچہ ایک معمر مرزائی جس کے سات لڑکے تھے اور ساتوں مسلمان تھے، وہ مرا تو اس نے وصیت کی کہ مجھے بہشتی مقبرے میں دفن کیا جائے۔ وہ ملازمت کے دوران تنخواہ کا دسواں حصہ ادا کرتا رہا۔ جب وہ مر گیا تو لڑکوں نے مرزا صاحب محمود سے کہا کہ یہ آپ کا مرید ہے۔ اس نے اپنی تنخواہ سے ہمارا پیٹ کاٹ کر بھی دسواں حصہ ادا کیا ہے۔ اب جائیداد اتنی نہیں کہ ہم بھائیوں کی گزران ہو سکے۔ اس لیے اس کی وصیت کے مطابق بہشتی مقبرہ میں دفن کیا جاوے۔ مگر دربار خلافت سے حکم ہوا کہ یہ ہمارے آئین کے خلاف ہے۔ اگر اسے بہشتی مقبرے میں داخل کرنا ہے، تو جائیداد کا دسواں حصہ لازمی دینا پڑے گا۔ اسی تکرار میں میت کو تین روز گزر گئے۔ گرمیوں کا زمانہ تھا۔ میت میں سڑاند پیدا ہو گئی۔ مگر مرزا محمود نے اپنے خدائی آئین کو نہ توڑا۔ آخر لڑکوں نے مجبور ہو کر جائیداد کا دسواں حصہ دے کر باپ کی وصیت کو پورا کیا۔
قادیان میں جلسہ کرانے سے میرا مقصد صرف اس قدر تھا۔ کہ وہ لوگ جن کے کانوں میں ابھی اسلام کے اصل عقائد کی آواز نہیں پہنچی۔ ممکن ہے ہمارے علمائے کرام کے وعظ اور نصیحت سے فائدہ اٹھا کر راہ راست پر آ جاویں۔ چنانچہ جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا ہے۔ جلسہ میں چند اصحاب نے اپنے عقائد سے توبہ کی اور قرب و جوار میں اس کا بہت اچھا اثر ہوا۔
قادیاں سے قادیان
١٩٠٢ء سے پہلے قادیان کو قادیاں کہا جاتا تھا۔ جس کے معنی مکار اور فریبی کے ہیں۔ اور ڈاک خانہ کی مہروں پر بھی لفظ "Kadian" قادیاں ہوتا تھا۔ جس کا اکثر اخبارات مذاق اڑایا کرتے تھے۔ آخر مرزائیوں نے تنگ آ کر اس کے متعلق قلمی جہاد
شروع کر دیا۔ اور بالاخر ڈاک خانہ کی مہروں پر لفظ K کی بجائے Q لکھوانے میں کامیاب ہو گئے۔
قادیاں ایک اجنبی شخص کے لیے بظاہر بڑا دل خوش کن اور دلفریب تھا۔ ہائی سکول اور بورڈنگ کی خوشنما عمارت، ہیڈ ماسٹر کا بنگلہ، مدرسہ کے اندر دینیات، لنگر، ظاہری اخلاق کی یہ حالت ہر وقت جزاک اللہ زبان زد۔ صبح و شام زنانہ و مردانہ درس۔ گویا یہ چیزیں ایک نووارد کو اکثر متاثر کر دیتی تھیں، مگر افسوس کہ اندرونی حالات کچھ اچھے نہ تھے اور مرزا محمود کے وقت کے واقعات تو کچھ ایسے تھے۔ جن کا تذکرہ کرتے ہوئے بھی شرم محسوس ہوتی ہے۔
حکومت وقت سے دھوکا
پہلی جنگ عظیم جو ١٩١٤ء میں شروع ہوئی اور پانچ سال تک جاری رہی۔ اس جنگ کے دوران میں حکومت انگلشیہ نے عوام سے قرضہ لینے کا اعلان کیا۔ جس کی وصولی کے لیے ڈاک خانہ کے کیش سرٹیفکیٹ اجرا کئے جاتے تھے۔ تمام افسران ضلع کو ہدایت تھی کہ وہ اپنے اثر و رسوخ سے قرضہ وصول کریں۔ بڑے افسر جب دورہ پر جاتے تو ڈاک خانہ سے پوچھتے کہ یہاں کے لوگوں نے کتنے روپے کے کیش سرٹیفکیٹ خریدے ہیں۔ قادیان میں کسی متنفس نے کوئی کیش سرٹیفکیٹ نہ خریدا۔ کچھ عرصہ کے بعد ڈپٹی کمشنر ضلع گورداسپور نے اپنی منزل قادیان میں رکھی۔ مرزائیوں کو یہ معلوم ہوا۔ تو ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین نے جو ان دنوں انچارج دفتر محاسب تھے قریباً پانچ ہزار کے کیش سرٹیفکیٹ دفتر محاسب کے نام کے خرید لیے جو ڈپٹی کمشنر کے آنے پر اسے بڑے فخر سے دکھائے گئے۔ مگر اس کی واپسی کے چند روز بعد ان کا روپیہ وصول کر کے خزانہ دفتر محاسب میں داخل کر دیا۔ جو قوم اپنے پروردگار سے ایسا دھوکا کرے اس پر کسی شریف آدمی کو کیا اعتبار ہو سکتا ہے۔ بہرحال گندم نما جو فروشی میں انہوں نے کمال کی انتہا کر دی۔ سیدھے سادے مسلمانوں کے دین و ایمان اور جیبوں پر شریفانہ ڈاکہ زنی میں انہیں خاصی مہارت حاصل ہے۔
کہ سلطانی
قادیان سے ربوہ
یہ ایک مشہور روایت چنانچہ مرزا صاحب نے قادیا صاحب مینارہ ہوں گے۔ مسج مینار کا۔ چنانچہ انہوں نے س طرف جدھر مینارہ شروع کی ایک ہندو ڈپٹی کا بھی تھا۔ اس سے ہمارے تمام گھر بے پرد نے مرزا صاحب کی اس پیش مرزا محمود کے وقت میں مرز ہندوؤں کے کچے مکانات کی شرارت سے اوپر چلے جان تکلیف ہوتی۔ دربار خلافت چنانچہ ان کی عرض کا نتیجہ یہ آخر ان غریبوں نے مکانات وغیرہ بھی نالائق نکلے، وہ مر مینارہ کے ساتھ مسجد بھی فرا
انقلاب زمانہ نے قاد کے سپرد کرنا پڑا۔ اگرچہ ار جانے سے نہ رکیں، مگر چوں
کہ سلطانی بھی عیاری ہے درویشی بھی عیاری
قادیان سے ربوہ
یہ ایک مشہور روایت ہے۔ حضرت عیسیٰ کا نزول دمشق کے ایک مینار سے ہو گا۔ چنانچہ مرزا صاحب نے قادیان کو دمشق سے تشبیہ دی اور مینار سے یہ تاویل کی کہ عیسیٰ صاحب مینارہ ہوں گے۔ مسجد کا نام تو انہوں نے مسجد اقصیٰ رکھ ہی لیا تھا۔ اب سوال تھا مینار کا۔ چنانچہ انہوں نے مسجد اقصیٰ میں مینارہ کی بنیاد بھی رکھ دی۔ مسجد کے مشرق کی طرف جدھر مینارہ شروع کیا، ہندو برہمنوں کے چند مکانات تھے، جن میں ایک مکان ایک ہندو ڈپٹی کا بھی تھا۔ اس نے حکومت میں درخواست گزار دی کہ اس مینار کے بننے سے ہمارے تمام گھر بے پردہ ہو جائیں گے، لہٰذا اسے روک دیا جائے۔ چنانچہ حکومت نے مرزا صاحب کی اس پیشین گوئی میں رکاوٹ ڈال دی اور اس کی تعمیر بند ہو گئی۔
مرزا محمود کے وقت میں مرزائیوں نے ہندوؤں کو تنگ کرنا شروع کیا۔ چونکہ ان غریب ہندوؤں کے کچے مکانات کی چھتیں مسجد کی تہ زمین کے برابر تھیں، اس لیے نمازی شرارت سے اوپر چلے جاتے۔ بعض اوقات عورتیں بے پردہ نہا رہی ہوتیں تو انہیں تکلیف ہوتی۔ دربار خلافت میں کئی بار پکار ہوئی مگر وہاں تو ارادے ہی دوسرے تھے۔ چنانچہ ان کی عرض کا نتیجہ یہ نکلا کہ گائے کے گوشت کی ہڈیاں اوپر پھینکی جانے لگیں۔ آخر ان غریبوں نے مکانات مرزائیوں کے ہاتھوں میں بیچ دیئے۔ ڈپٹی کی اولاد سری رام وغیرہ بھی نالائق نکلے، وہ مکان بھی قادیانی دفتر بن گیا، اب کوئی رکاوٹ باقی نہ تھی۔ مینارہ کے ساتھ مسجد بھی فراخ ہو گئی، گو صاحب مینارہ کو منارہ دیکھنا نصیب نہ ہوا مگر:
انقلاب زمانہ نے قادیانوں کو بھی بادل نخواستہ دارالامان اور بہشتی مقبرہ کافروں کے سپرد کرنا پڑا۔ اگرچہ اب بھی ان کا بس چلے تو بھارت سے ساز باز کر کے شاید وہ جانے سے نہ رکیں، مگر چونکہ یہ امر فی الحال انہیں محال نظر آ رہا ہے۔ اس لیے اب
انہوں نے چنیوٹ کے قریب سستے داموں پر زمین خرید کر ربوہ یعنی بلند جگہ کی تعمیر شروع کر دی ہے۔ عام مسلمانوں کو تو فی الحال اس نام کی طرف کوئی خاص توجہ نہیں، مگر مرزا محمود اپنے باپ کی طرح دور اندیش ہیں۔ چند سال کے بعد اپنے مریدوں کو قرآن حکیم کے اٹھارہویں پارہ کی اس آیت کی طرف توجہ دلائیں گے: وجعلنا ابن مریم وامه آیتہ واوینہما الی ربوہ ذات قرار و معین ۔ یعنی ہم نے مریم کے بیٹے عیسیٰ اور ان کی ماں کو بڑی نشانیاں بنایا اور ہم نے ان دونوں کو ایک بلند زمین پر لے جا کر پناہ دی جو ٹھہرنے کے قابل اور شاداب جگہ تھی۔ اس آیت کا حوالہ دے کر، مریدین کو فرمادیں گے کہ خداوند تعالیٰ نے پہلے ہی مجھے بشارت دے دی تھی کہ تم قادیان چھوڑ کر ربوہ جاؤ گے۔ اور یہ ربوہ وہی جگہ ہے جس کے متعلق قرآن کریم میں صاف آچکا ہے کہ عیسیٰ اور اس کی والدہ یہاں پناہ لیں گے۔ عیسیٰ کی بجائے ابن مرزا اور والدہ کا بھی غالباً وہ کوئی لطیف نکتہ پیدا کرلیں گے اور شاید مرزا صاحب کا کوئی الہام بھی چسپاں ہو جائے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ اس نیت کو عمل میں کب لاتے ہیں۔
دعا
آخر میں میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس فرقہ کو جو اپنی کسی لغزش یا ناواقفیت یا دنیاوی غرض کے ماتحت راہ مستقیم کو چھوڑ کر اسلام سے دور چلا گیا ہے، راہ راست پر لاوے اور اپنے حبیب پاک ﷺ کی طفیل انہیں صحیح اور سیدھے راستے پر چلاوے! آمین ثم آمین!
پیغام سوچ ..... حضرت مولانا علامہ انور شاہ کشمیریؒ نے ایک بڑے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا ..... ”ہم سے تو گلی کا کتا ہی اچھا ہے، ہم اس سے بھی گئے گزرے ہیں، وہ اپنی گلی و محلے کا حق نمک خوب ادا کرتا ہے۔ ہمارے ہوتے ہوئے لوگ ناموس رسالتؐ پر حملہ کرتے ہیں اور ہم حق غلامی و امتی ادا نہیں کرتے۔ اگر ہم ناموس پیغمبرؐ کا تحفظ کریں گے تو قیامت کے دن شفاعت کے مستحق ٹھہریں گے۔ تحفظ نہ کیا یا نہ کرسکے تو ہم مجرم ہوں گے اور کتے سے بھی بدتر“۔
(کمالات انوریؒ )
واموں پر زمین خرید کر ربوہ یعنی بلند جگہ کی تعمیر فی الحال اس نام کی طرف کوئی خاص توجہ نہیں، مگر لیش ہیں۔ چند سال کے بعد اپنے مریدوں کو قرآن ت کی طرف توجہ دلائیں گے: وجعلنا ابن لى ربوه ذات قرار و معین ۔ یعنی ہم نے بڑی نشانیاں بنایا اور ہم نے ان دونوں کو ایک بلند کے قابل اور شاداب جگہ تھی۔ اس آیت کا حوالہ اوند تعالیٰ نے پہلے ہی مجھے بشارت دے دی تھی کہ ، یہ ربوہ وہی جگہ ہے جس کے متعلق قرآن کریم کی والدہ یہاں پناہ لیں گے۔ عیسیٰ کی بجائے ابن ، نکتہ پیدا کر لیں گے اور شاید مرزا صاحب کا کوئی یہ ہے کہ وہ اس نیت کو عمل میں کب لاتے ہیں۔
تعالیٰ اس فرقہ کو جو اپنی کسی لغزش یا ناواقفیت یا چھوڑ کر اسلام سے دور چلا گیا ہے‘ راہ راست پر طفیل انہیں صحیح اور سیدھے راستے پر چلا دے!
میری نے ایک بڑے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا ... گئے گزرے ہیں، وہ اپنی گلی و محلے کا حق نمک خوب ادا کرتا پر حملہ کرتے ہیں اور ہم حق غلامی و امتی ادا نہیں کرتے۔ اگر شفاعت کے مستحق ٹھہریں گے۔ تحفظ نہ کیا یا نہ کر سکے تو ہم وری )
میں قادیان کیسے پہنچا؟
مولانا عنایت اللہ چشتیؒ
لاہور میں میری مسجد کے سامنے ایک مرزائی ڈاکٹر کی دوکان تھی۔ کبھی کبھار اس سے دل لگی کی باتیں ہو جاتی تھیں اور بیچ بچاؤ کے انداز میں مذہبی گفتگو بھی ہو جاتی تھی۔ ماہ دسمبر میں ایک دن وہ کہنے لگا کہ ”قادیان میں ہمارا جلسہ عنقریب ہونے والا ہے آپ تنگ دل ہیں اور یہاں بیٹھ کر باتیں بناتے ہیں میں تب مانوں کہ ہمارے جلسے میں قادیان آؤ اور وہاں کے تاثر سے بچ جاؤ۔“ میں نے کہا ڈاکٹر صاحب وہاں کیا رکھا ہے۔ جادہ استقامت سے بھٹکے ہوئے منحوس چہرے ہی نظر آئیں گے۔ میں نے ان سے کیا تاثر لینا ہے۔ ڈاکٹر نے کہا ”میں زیادہ کچھ نہیں کہتا اور نہ ہی بحث کرتا ہوں آپ ایک بار میرے ساتھ قادیان آئیں اور وہاں کی ”برکات“ سے متاثر نہ ہوں تو میں ہارا اور آپ جیتے ۔“ میں نے کہا ”چلو میں تمہارے ساتھ قادیان جانے کو تیار ہوں۔“ چنانچہ ہم لوگ قادیان پہنچ گئے میں نے جب اپنی رہائش گاہ دیکھ لی اور تکان سفر بھی دور ہوئی تو مجھے جستجو ہوئی کہ یہاں کی تمام کائنات مرزائی ہے یا مسلمان عصر بھی یہاں موجود ہے۔ معلوم ہوا کہ یہاں دو مساجد ایسی ہیں جو قادیانی رسوخ سے آزاد اور خالص سنی مسلمانوں کے قبضہ میں ہیں۔ ایک مسجد ارائیاں‘ جہاں ارائیں قوم رہتی ہے اور وہ تمام کے تمام سنی ہیں۔ ان میں سے کوئی ایک خاندان بھی مرزائی نہیں۔ دوسری مسجد مسجد شیخاں کے نام سے موسوم ہے اور شیخ قوم کی اکثریت سنی ہے۔ سوائے ایک آدھ خاندان کے جو مرزائی ہوا ہے ورنہ تمام سنی ہیں اور مسجد شیخاں مسلمانوں کے زیر اثر اور قبضہ میں ہے۔ میں مرزائی ڈیرے سے اٹھ کر پوچھتا پچھاتا
مسجد ارائیاں میں پہنچ گیا۔ دیکھا تو مسجد مسلمانوں سے بھری پڑی ہے لیکن سب افسردہ حال بیٹھے ہیں۔ افسردگی کی وجہ پوچھی تو انہوں نے بتایا کہ ”ہم نے آج کے لیے ایک مولوی صاحب کو دعوت دے رکھی ہے اس کے انتظار میں ہم لوگ افسردہ بیٹھے ہیں کافی وقت گزر چکا ہے اور مولوی صاحب تشریف نہیں لائے۔“ میں نے کہا کہ اگر اجازت ہو تو میں ہی کچھ خدمت کر دوں؟ وہ بڑے خوش ہوئے اور کہنے لگے: کیا آپ مولوی ہیں؟ میں نے کہا میں مولوی تو نہیں ہوں لیکن مولویوں کا خادم ہوں۔
چنانچہ میں نے مرزائیوں کے خلاف بڑی بے باکی سے ایک زناٹے دار تقریر کر دی۔ مجمع بڑا خوش ہوا اور میں رخصت ہو کر اپنے مرزائی ڈیرے پر واپس آ گیا۔ دوسرے دن جلسہ دیکھا اور پھر واپس لاہور (مزنگ) آ گیا۔ متاثر تو کیا ہونا تھا الٹا مخالفت میں شدت کا پہلو لے کر واپس آیا۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جبکہ مشہور تائب مرزائی مبلغ و کارکن عبدالکریم مباہلہ قادیان سے لٹ پٹ کر امرتسر آ گئے تھے۔ قادیانیوں کا ستایا ہوا کوئی انسان ان کے پاس آتا۔ وہ امداد کے قابل تھے یا نہیں تھے لیکن وہ مشورہ ضرور صائب دیتے تھے۔ میں کوئی ایسا اچھا مقرر تو نہیں تھا کہ کوئی سامع میری تقریر سے غیر معمولی متاثر ہوتا؟ لیکن میری قادیان والی تقریر اس لیے غیر معمولی ثابت ہوئی کہ کوئی دوسرا آدمی قادیان آ کر اس بے باکی اور بے خوفی کی جرأت نہ کر سکتا۔ میری بے باکی سے وہ حیرت زدہ رہ گئے اور ان کے دل میں یہ بات پیدا ہوئی کہ یہ شخص اگر قادیان میں آ جائے تو کیا ہی اچھا ہو۔ کیونکہ وہ لوگ قادیانیوں کے ظلم و ستم کے ستائے ہوئے تھے اور میری حق گوئی و بے باکی سے بے حد متاثر ہوئے تھے۔ میرے ذہن میں یہ تصور تک نہ تھا کہ میں نے قادیان میں کوئی غیر معمولی موثر بات کی ہے۔ لیکن میری اس تقریر کا یہ اثر ہوا کہ قادیان کے مسلمان باشندوں کی یہ زبردست خواہش ہو گئی کہ اگر یہ شخص قادیان آ جائے تو ہمارے لیے بڑا مفید ثابت ہوگا۔ اس لیے وہ لوگ بہ صورت وفد مولوی عبدالکریم صاحب مباہلہ کے پاس آئے اور خواہش ظاہر کی کہ ”اگر مولوی عنایت اللہ کو قادیان لانے میں آپ ہماری امداد کریں تو ہم آپ کے بڑے شکر گزار و ممنون ہوں گے“۔ میں یہاں مزنگ میں بالکل بے خبر تھا کہ ایک روز اچانک مولوی عبدالکریم مباہلہ میرے پاس تشریف لائے۔ مولوی صاحب ان ایام میں امرتسر سے اخبار ”مباہلہ“ نکالا کرتے تھے جو تردید مرزائیت
کے لیے سرگرم عمل تھا۔ اسی اخبار کی وساطت سے مولوی صاحب سے معمولی واقفیت تھی۔ علیک سلیک کے بعد دریافت کیا کہ کیسے آنا ہوا؟ مولوی صاحب بڑے منجھے ہوئے گھاگ قسم کے آدمی تھے۔ زمانہ کے نشیب و فراز سے واقف تھے۔ میٹرک کے علاوہ مولوی فاضل تھے۔ ایک عرصہ تک قادیانیوں کے مبلغ کے فرائض انجام دے چکے تھے۔ طویل تمہید ہی کے بعد انہوں نے اپنا مدعا ظاہر کیا کہ اگر آپ قادیان آنا قبول کر لیں تو اس میں دینی و مذہبی فائدہ ہوگا۔ وہاں کے لوگوں کی خوشنودی خدا کی خوشنودی کے مترادف ہے۔ اور وہ لوگ آپ کو چاہتے ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کفرستان میں اعلائے کلمۃ الحق رحمت خداوندی کا باعث ہے۔ غرض کہ مولوی صاحب کی اس سحر انگیز اور حقیقت آمیز تقریر سے میں بے حد متاثر ہوا اور اس شرط پر آمادگی کا وعدہ کر لیا کہ اگر مجلس احرار اور خصوصاً سید عطا اللہ شاہ بخاریؒ مجھے کہیں اور پھر مجھ سے بے تعلق نہ ہو جائیں۔ دکھ سکھ میں میرے شریک حال رہیں۔ کیونکہ شنید ہے کہ مرزائی انسان کو ایسے طریق سے قتل کر دیتے ہیں کہ پھر ان کا پتا لگانا مشکل ہو جاتا ہے۔ میرا مقصد یہ نہیں تھا کہ میں موت سے خوفزدہ ہوں بلکہ میرا مقصد یہ ہے کہ میرا کوئی رفیق کار تو ہوتا کہ میرے مارے جانے کے بعد وہ اس مشن کو جاری رکھ سکے مولوی صاحب مطمئن ہو کر اٹھے اور سیدھے دفتر مجلس احرار اسلام میں پہنچے چونکہ مولوی صاحب کی پیدائش اور پھر تعلیم و پرورش مرزائی گھرانے میں ہوئی تھی اور وہ تمام ہتھکنڈوں سے بخوبی واقف تھے انہوں نے احرار لیڈروں سے گفتگو کی اور قادیان میں دفتر احرار کھولنے کی ضرورت پر زور دیا۔ پہلے تو چوہدری افضل حق نے جو بڑے زیرک اور نشیب و فراز سے واقف تھے انہوں نے مرزائیوں کے گھر میں بیٹھ کر ان کی مخالفت کو اچنبھا اور نا قابل عمل خیال کیا اور خصوصاً اس صورت میں کہ انگریز ان کی ترقی کا خواہاں ہے اور مخالفت کرنے والے احرار جو انگریز کے صف اول کے دشمن ہیں اور انگریزی حکومت کا ستارہ بلند ترین اوج پر چمک رہا ہے یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے کہ قادیان میں مرزائیوں کے خلاف مہم کامیاب ہو سکے؟ لیکن حضرت مباہلہ بھی بڑے منطقی آدمی تھے آخر کار انہوں نے چوہدری صاحب کو قائل کر لیا۔ چوہدری صاحب نے احرار ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ طلب کی اور منظوری کے لیے یہ مسئلہ پیش کیا۔ چوہدری صاحب جماعت کا دل و دماغ تھے اور جماعت پر چھائے ہوئے تھے آخر کار ورکنگ کمیٹی نے منظوری دے دی اور متفقہ طور پر
ریزولیوشن پاس کیا کہ قادیان میں احرار کا دفتر قائم کرنا چاہئے۔
منظوری کے بعد یہ سوال ابھر کر سامنے آیا کہ ”ہم میں سے کون ہے جو..... موت کے گھر خود پہنچ کر اسے دعوت دے؟“ مولوی عبدالکریم نے کہا کہ وہاں دفتر سنبھالنے کے لیے آدمی میں مہیا کروں گا۔ انہوں نے کہا آدمی تو شاید مل جائے مگر وہاں کے لیے تو ایسا آدمی چاہئے جو وہاں کے لیے موزوں بھی ہو اور وہاں کے سنی مسلمان اسے پسند بھی کریں تاکہ وہاں برائے نام دفتر نہ ہو بلکہ کامیابی کی امید بھی اس دفتر سے وابستہ ہو سکے۔ ورکنگ کمیٹی کے ممبروں میں سے تو کوئی بھی قادیان کی رہائش کے لیے آمادہ نہ تھا اس لیے ریزولیوشن کے بعد یہ بڑا اہم مسئلہ تھا اور موزوں آدمی کے لیے سب کو تشویش تھی۔ مولوی صاحب نے میرا نام لیا تو سب حیران تھے کہ ”وہ کیسے جائے گا؟“ گو تحریک کشمیر کی داروگیر میں وہ لوگ مجھ سے واقف ہو چکے تھے انہوں نے کہا: ”آدمی تو ٹھیک ہے‘ لکھا پڑھا بھی ہے‘ دلیر بھی ہے لیکن اسے حصار قادیان میں جانے پر آمادہ کیسے کیا جا سکتا ہے؟ تو مولوی صاحب نے سارا قصہ بیان کر دیا کہ قادیان کے مسلمانوں کا مطالبہ بھی اسی کے لیے ہے اور میں اسے آمادہ بھی کر آیا ہوں۔ بشرطیکہ ورکنگ کمیٹی اس سے رابطہ قائم کر کے اس کو اپنے فیصلہ سے آگاہ کرے۔ چنانچہ ورکنگ کمیٹی نے مجھ سے رابطہ قائم کر کے مجھے اپنے فیصلہ سے مطلع کیا اور میں رخت سفر باندھ کر ”دارالفساد قادیان“ پہنچ گیا اور وہاں جا کر اپنا کام شروع کر دیا۔
قبر سے خوشبو ...... مولانا محمد شریف بہاولپوریؒ ختم نبوت کے شیدائی وفدائی تھے۔ حیات مستعار کی ساری بہاریں تحفظ ختم نبوت کے لئے وقف کر دیں۔ سرائیکی زبان کے بہترین خطیب تھے۔ اس مجاہد ختم نبوت کا جنازہ بھی مجلس تحفظ ختم نبوت کے دفتر سے اٹھا۔ تدفین کے بعد آپ کی قبر مبارک سے تین روز تک خوشبو آتی رہی۔
ایسے جذبے کو سلام ...... حضرت پیر سید جماعت علی شاہ صاحبؒ نے محاذ ختم نبوت پر گرانقدر خدمات سرانجام دیں۔ آپ کی ذات قادیانیوں کی شہ رگ پر نشتر تھا۔ جب مرزا قادیانی کا نام نہاد خلیفہ نور الدین نارووال ضلع سیالکوٹ میں وارد ہوا اور قادیانیت کی تبلیغ شروع کر دی۔ آپ اس وقت صاحب فراش تھے۔ چار پائی سے اٹھا نہیں جاتا تھا لیکن عاشق رسولؐ کی غیرت نے گوارا نہ کیا کہ نور الدین دندناتا پھرے اور میں یہاں لیٹا رہوں۔ فوراً حکم دیا کہ میری چارپائی اٹھا کر نارووال لے چلو‘ آپ نے وہاں پہنچ کر نور الدین اور اس کے باطل مذہب کی ایسی مرمت کی کہ نور الدین وہاں سے سر پر پاؤں رکھ کر بھاگا۔
بہشتی مقبرے میں چند لمحے
مولانا عبدالکریم
جون ١٩٨٢ء کے دوسرے ہفتے مجھے ایک دوست کی بیٹی کی شادی کی تقریب میں شرکت کی غرض سے امرتسر جانے کا اتفاق ہوا۔ مورخہ ١٢ جون کو میں فرصت نکال کر امرتسر سے بٹالہ گیا اور وہاں خانقاہ قادریہ فاضلیہ میں حضرت ابو الفرح فاضل الدین اور ان کے اجداد کے مزارات کی زیارت کی۔ میں بٹالہ سے کلانور جانا چاہتا تھا لیکن کافی انتظار کے باوجود بس نہ مل سکی۔ اتنے میں ایک خوبصورت بس، بس اسٹینڈ میں داخل ہوئی۔ میرے استفسار پر ڈرائیور نے بتایا کہ یہ بس قادیان جا رہی ہے۔ میرا اس روز قادیان جانے کا کوئی ارادہ نہ تھا، لیکن بس جاتی دیکھ کر طبیعت مچل گئی اور میں بٹالہ سے کوئی بیس منٹ میں قادیان پہنچ گیا۔
قادیان کے بس اسٹینڈ کے قریب ہی ایک ادھیڑ عمر مرزائی سے مڈبھیڑ ہوئی۔ اس نے ایک ہاتھ میں رسید بک تھامی ہوئی تھی۔ شاید وہ بازار میں چندہ جمع کرنے نکلا تھا۔ میں نے اس سے انجمن احمدیہ کے دفاتر کی طرف جانے کا راستہ پوچھا تو اس نے پہلا سوال یہ کیا کہ آپ کہاں سے آئے ہیں؟ میں نے جواب دیا کہ علی گڑھ سے آیا ہوں۔ وہ فوراً بولا کہ وہاں ہمارے فلاں فلاں طالب علم پڑھتے ہیں۔ آپ ان سے واقف ہیں؟ میں نے اثبات میں سر ہلایا تو وہ کہنے لگا اگر میں کچھ دیر انتظار کرلوں تو وہ مجھے اپنے ساتھ لے جائے گا۔ میں نے کہا کہ میں ذرا عجلت میں ہوں اس لیے مجھے صرف راستہ بتا دو۔ اس نے راستہ بتایا تو میں پر پیچ اور گندی گلیوں سے گزرتا ہوا انجمن احمدیہ کے دفاتر کے پاس پہنچ گیا۔ مرزائیوں کے
مخصوص بازار میں دکانیں کھلی تھیں اور ان پر سائن بورڈ آویزاں تھے۔ ایک طبیب کے مطب پر نظر پڑی تو اس نے حکیم عبدالواحد درویش نمبر 52 کا بورڈ لگایا ہوا تھا۔ وہ شکل و شباہت سے پٹھان معلوم ہوتا تھا اور اس نے پٹھانوں کی طرز پر چھجے دار مشہدی پگڑی باندھی ہوئی تھی۔ اسی جگہ میں نے ایک اور پٹھان کو اسی طرز کی پگڑی باندھے ہوئے سائیکل پر بہشتی مقبرے کی طرف جاتے ہوئے دیکھا۔
بازار میں دبلے پتلے سیاہ فام بہاری مرزائی آتے جاتے دکھائی دیئے۔ ان کے چہروں پر فرنچ کٹ داڑھیاں اور کلونس ایک عجیب سماں باندھ رہے تھے۔ میں ان سے لا تعلق ہو کر جامعہ احمدیہ کی طرف مڑ گیا۔
جامعہ احمدیہ میں مرزائیت کی تبلیغ کے لیے مبلغ تیار کیے جاتے ہیں۔ دو پہر کا وقت تھا۔ اس لیے مجھے کوئی زیر تربیت مبلغ نظر نہیں آیا۔ جامعہ احمدیہ والی گلی میں ایک مکان کے باہر ”خدام الاحمدیہ“ کا بورڈ آویزاں تھا اور ایک کوٹھڑی کے دروازے پر ”لجنہ اماء اللہ“ کی تختی لگی ہوئی تھی۔ ایک مکان میں ”جماعت احمدیہ قادیان“ کا دفتر تھا۔ یہ جماعت صرف قادیان میں رہنے والے مرزائیوں کے مسائل حل کرتی ہے۔
اسی گلی میں تعلیم الاسلام ہائی سکول تھا۔ جو اب حکومت کی تحویل میں ہے۔ جس وقت میں وہاں سے گزرا، اس وقت ایک سکھ ماسٹر ایک عجمی مرزائی طالب علم کا ردیف قافیہ درست کر رہا تھا۔ اسی گلی میں مہمان خانہ بھی ہے جہاں مجھے گزشتہ سفر قادیان میں قیام کرنے کی دعوت ملی تھی۔
اسی گلی کے خاتمہ پر ایک بڑا سا جوہڑ ہے جسے عرف عام میں ”ڈھاب“ کہتے ہیں۔ اسی ڈھاب میں ہوس کا شکار معصوم لڑکیاں اپنے گناہوں پر پردہ ڈالنے کی غرض سے خودکشی کیا کرتی تھیں یا ان کا گلا گھونٹ کر رات کے اندھیرے میں ڈھاب میں پھینک دیا جاتا تھا۔
میں اسی خونی ڈھاب کے کنارے چلتا ہوا بہشتی مقبرے کی طرف بڑھا۔ ڈھاب سے بہشتی مقبرے کا فاصلہ بمشکل ایک فرلانگ ہو گا۔ مقبرے کے اردگرد ایک مضبوط اور بلند چہار دیواری ہے۔ میں ایک آہنی پھاٹک سے گزر کر بہشتی مقبرے میں داخل ہوا۔ کلکتہ کے ایک مرزائی تاجر نے بہشتی مقبرے کی آرائش کے لیے کافی رقم خرچ کی ہے۔ میں پھاٹک
سے گزر کر سیدھا جناز گاہ کی طرف بڑھا۔ اس کے قریب ہی درختوں کے ایک جھنڈ میں ایک پتھر نصب ہے جس پر ”ظہور قدرت ثانیہ“ کندہ ہے۔ اس پتھر پر منقوش ایک عبارت سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مرزا غلام احمد کی نماز جنازہ کے بعد اس مقام پر حکیم نور الدین بھیروی کے ہاتھ پر بیعت خلافت ہوئی تھی۔ اس روایت کے راوی ”بھائی عبدالرحمٰن قادیانی“ کا نام بھی پتھر پر درج ہے۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں مرزا غلام احمد کو الہام ہوا تھا کہ وہ مسیح موعود ہے۔ بھائی عبدالرحمٰن پیدائشی سکھ تھا لیکن بعد میں مرزائی ہو گیا تھا۔ اس کا شمار مرزا غلام احمد کے خواص میں ہوتا ہے۔ وہ اس بیعت کا عینی شاہد تھا۔ اس لیے اس کی روایت اور نشاندہی پر اس تاریخی مقام پر پتھر نصب کر دیا گیا ہے۔
بھائی عبدالرحمٰن آزادی کے بعد پاکستان آ گیا تھا۔ اس کا انتقال ربوہ میں ہوا اور اس کی میت تدفین کے لیے قادیان لے جائی گئی اور اسے بہشتی مقبرہ میں خواص کی صف میں دفن کیا گیا۔ یہ پہلی اور غالباً آخری مثال ہے کہ کسی مرزائی کی میت تدفین کے لیے پاکستان سے قادیان لے جائی گئی ہو۔ ورنہ مرزا بشیر الدین محمود اور ان کی ماں نصرت جہاں بھی اس ”سعادت“ سے محروم رہے ہیں۔ ربوہ میں بشیر الدین محمود کی قبر پر ایک تختی نصب ہے جس پر یہ لکھا ہوا ہے کہ اس کے معتقدین کا یہ فرض ہے کہ جب بھی موقعہ ملے اس کا تابوت ربوہ سے قادیان پہنچا دیا جائے۔ بہشتی مقبرہ میں غلام احمد متنبّی کی قبر کے دائیں جانب حکیم نور الدین کی قبر ہے اور بائیں طرف نصرت کے لیے جگہ مخصوص ہے۔
نصرت سے یاد آیا، مولانا احمد سعید دہلویؒ بیان کیا کرتے تھے کہ جب نصرت کا غلام احمد کے ساتھ نکاح ہوا تو دلی والیاں اسے وداع کرنے آئیں۔ انہوں نے نصرت کو مخاطب کر کے کہا ”اری نصو سنا ہے کہ تمہارا نکاح کسی پنجابی نبی کے ساتھ ہوا ہے“ دلی میں پنجابی کو گنوار سمجھا جاتا ہے اور اس پر طرہ یہ کہ وہ متنبّی بھی ہے۔ مولانا احمد سعید کی گرجدار زبان میں یہ فقرہ سن کر جو لطف آتا تھا، وہ بیان سے باہر ہے۔
میں جناز گاہ سے مرزا غلام احمد کی قبر کی طرف چلا۔ مرزا اور اس کے رشتہ داروں اور خاص خاص دوستوں اور حواریوں کی قبریں ایک مخصوص احاطے کے اندر ہیں۔ اس احاطے کے باہر ایک ہینڈ پمپ نصب ہے جس کا پانی مرزائیوں کے نزدیک کوثر و سلسبیل کے
پانی کا حکم رکھتا ہے۔ مجھے اس وقت پیاس محسوس ہو رہی تھی لیکن اس کے باوجود میں نے اس پمپ کا پانی پینا مناسب نہ سمجھا۔
مرزا غلام احمد اور حکیم نور الدین کی قبروں کی جانب غرب ایک ”مواجہہ“ بنایا گیا ہے اور ایک ایسا ہی مواجہہ جانب جنوب بھی ہے جسے میں اپنے پہلے سفر قادیان میں نہیں دیکھ سکا تھا۔ جنوبی مواجہہ کے قریب مرزا بشیر الدین محمود کی تین بیویاں دفن ہیں۔ ان میں سے ایک بیوی ام طاہر موجودہ سربراہ طاہر احمد کی ماں ہے۔ دوسری بیوی سارہ کے بطن سے طاہر احمد کا حریف مرزا رفیع احمد ہے۔ تیسری بیوی کا نام اس وقت میرے ذہن میں نہیں رہا۔ وہ لجنہ اماء اللہ کی سیکرٹری تھی۔
ان میں سے ایک بیوی کی لوح مزار پر بشیر الدین محمود نے ایک طویل عبارت کندہ کروائی ہے اور اس میں اس بات کا ادعا کیا گیا ہے کہ مرزا بشیر الدین محمود کے لیے اس کا انتخاب مرزا غلام احمد نے بذریعہ الہام کیا تھا۔ چند روز قبل میں نے اس کا ذکر مرزا محمد شفیق سے کیا تو انہوں نے کہا کہ باپ کے لیے بذریعہ الہام جس خاتون (محمدی بیگم) کا انتخاب خالق کون و مکان نے کیا تھا‘ وہ تو اسے مل نہ سکی‘ بیٹے کو وحی کے ذریعے کیسے مل گئی؟
بہشتی مقبرے میں مدفون لوگوں کی قبروں کے اندر جو حالت ہو گی‘ وہ تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ امام حسن بصریؒ فرمایا کرتے تھے کہ لوگ جس خطہ زمین کو شہر خموشاں کہتے ہیں‘ اگر انہیں یہ معلوم ہو جائے کہ وہاں مدفون لوگوں کے ساتھ کیا بیت رہی ہے تو لوگ مارے ڈر کے اپنے مردے وہاں لانے سے انکار کر دیں۔ بس ایسا ہی معاملہ بہشتی مقبرہ میں دفن مردوں کے ساتھ پیش آ رہا ہو گا۔
بہشتی مقبرے میں مخصوص خطے کے باہر جانب غرب ”مرزا کے خواص“ کی قبریں ہیں جن کی الواح پر ان کی نمایاں خدمات منقوش ہیں اور جانب جنوب ان موصیوں کی قبریں ہیں جنہوں نے اپنی جائیداد میں سے ١/١٠ کی وصیت انجمن احمدیہ کے لیے کی تھی۔ کئی جگہ صرف الواح نصب ہیں اور قبروں کے نشان نظر نہیں آتے۔ ان پر ان موصیوں کے نام کندہ ہیں‘ جنہوں نے یہاں دفن ہونا تھا۔ لیکن کسی وجہ سے ان کی میتیں یہاں نہیں پہنچ سکی ہیں۔ اب ان کے نام کی الواح درج ہیں اور جب زائرین بہشتی مقبرہ میں مدفون ”خوش قسمت“
مرزائیوں کے لیے مغفرت کی دعا کرتے ہیں تو وہ بھی دعا میں شامل ہو جاتے ہیں۔
"حواریوں" کی قبروں کے سرہانے ایک لمبا چوڑا بورڈ نصب ہے جس پر یہ نوید لکھی ہوئی ہے کہ حضرت مسیح موعود (مرزا) کو یہ الہام ہوا تھا کہ بہشتی مقبرہ میں دفن ہونے سے کوئی شخص بہشتی نہیں ہو جائے گا بلکہ بہشتی ہی اس میں دفن ہو گا۔" یہ ناک کو بجائے سیدھی طرف سے پکڑنے کے ہاتھ گھما کر پکڑنے کے مترادف ہے۔
مرزا غلام احمد کے الہام اسی طرح کے ہوا کرتے تھے۔ ایک بار اس پر یہ وحی نازل ہوئی "فٹم۔فٹم۔فٹم" حضرت اقدس فرماتے ہیں کہ وہ اس وحی کا مطلب نہیں سمجھ سکے۔ ہم یہ کہتے ہیں کہ وہ نبی ہی کیا جو وحی کا مفہوم نہ سمجھ سکے۔ ایک بار حضرت کے پیٹ میں درد اٹھا۔ انہوں نے عالم رویا میں یہ دیکھا کہ ایک فرشتہ غالباً "ٹیچی ٹیچی" جو حضرت پر وحی لے کر آیا کرتا تھا‘ ان کے سامنے کھڑا ہے اور اس کی مٹھی بند ہے۔ اس نے حضرت کے سامنے اپنی مٹھی کھولی تو اس کی ہتھیلی پر ایک میٹھی گولی پڑی تھی جس پر "خاکسار پیپر منٹ" لکھا ہوا تھا۔
میٹھی گولی سے بات چلی ہے تو آئیے مرزا بشیر احمد ایم۔اے کی تصنیف "سیرت المہدی" بھی دیکھتے چلیں۔ فرزند ارجمند اپنے والد بزرگوار کے بارے میں لکھتے ہیں کہ حضرت کو گڑ کھانے کا بڑا شوق تھا۔ اور ان کے کوٹ کی ایک جیب میں گڑ کی ڈلیاں پڑی رہتی تھیں۔ جس زمانے میں حضرت کو سلسل البول کی تکلیف لاحق ہوئی تو موصوف کوٹ کی دوسری جیب میں استنجے کے ڈھیلے رکھنے لگے۔ بارہا ایسا ہوتا کہ حضرت مسیح موعود گڑ کھانے کے لیے جیب میں ہاتھ ڈالتے اور بے دھیانی کے عالم میں مٹی کا ڈھیلا منہ میں ڈال لیتے۔ "سبحان اللہ جو شخص استنجے کے ڈھیلے اور گڑ کی ڈلی میں تمیز نہ کر سکے‘ وہ ختم المرسلین صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے منہ آئے اور ہمسری کا دعویٰ کرے۔
میں جس وقت مرزا غلام احمد کی قبر سے پھاٹک کی طرف روانہ ہوا تو ایک نئی بات مشاہدہ میں آئی۔ مخصوص احاطے سے جو سڑک پھاٹک کی طرف جاتی ہے وہ منارۃ المسیح کی عین سیدھ میں ہے۔ جس طرح فیصل آباد کے کسی بھی بازار میں کھڑے ہو کر دیکھیں تو گھنٹہ گھر بالکل سامنے نظر آتا ہے۔ بعینہ اس سڑک سے منارۃ المسیح سامنے نظر آ رہا تھا۔ دو سال قبل پہلی بار جب میں قادیان گیا تھا تو اس وقت اس منار کے گرد سنگ مرمر کی سلیں لگا رہے
تھے۔ اب یہ کام مکمل ہو گیا ہے۔
مرزائیوں کے ذہن کا ایک پیچ ڈھیلا ہوتا ہے۔ اس لیے ان کی ہر منطق نرالی ہوتی ہے۔ ”منارۃ المسیح“ کی تعمیر کے بارے میں عرض ہے کہ مرزا غلام احمد نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ پہلے کیا اور جس منار پر مسیح نے نازل ہونا تھا‘ وہ بعد میں بنایا گیا۔ مرزائی اس کی آرائش و زیبائش میں اس قدر دلچسپی لے رہے ہیں جیسے اب کوئی اور بلا نازل ہونے والی ہے۔ جس کے استقبال کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔
بہشتی مقبرے سے نکل کر میں سیدھا بس اسٹینڈ کی طرف روانہ ہوا۔ راستے میں ایک اور بات مشاہدے میں آئی کہ گلیوں میں موٹے تازے چوہے مرے پڑے تھے۔ میں نے دل میں سوچا کہ شاید اس مقہور بستی میں کوئی وبا پھوٹنے والی ہے۔ کیونکہ طاعون پھیلنے سے پہلے چوہے مرنے لگتے ہیں۔
بس اسٹینڈ پر پہنچتے ہی مجھے بس مل گئی اور میں تقریباً ڈیڑھ گھنٹے میں امرتسر پہنچ گیا۔
(ہفت روزہ ”ختم نبوت“ کراچی‘ جلد ١‘ شمارہ ١٣)
قبر سانپوں سے بھر گئی محمد رمضان صاحب گجرات کے رہنے والے ہیں اور آج کل سیالکوٹ میں قیام پذیر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ سیالکوٹ میں ایک بڑا گستاخ قادیانی رہتا تھا۔ قدرت نے دولت بھی خوب دے رکھی تھی‘ جس نے اسے انتہائی متکبر بنا رکھا تھا۔ میں اکثر قبروں کی کھدائی کا کام کرتا تھا۔ ایک دن کچھ قادیانی میرے پاس آئے اور مجھے قبر کھودنے کو کہا اور بتایا کہ فلاں قادیانی مر گیا ہے۔ میں نے اس قادیانی کی قبر کھودی۔ لیکن جب اس گستاخ رسول کو دفنانے لگے تو مجھ سمیت جنازے میں شامل تمام مرزائیوں نے یہ منظر دیکھا کہ اس کی قبر آہستہ آہستہ سانپوں سے بھرنے لگی اور تھوڑی دیر میں سانپ ہی سانپ ہو گئے۔ قادیانیوں نے مجھے دوسری جگہ قبر کھودنے کے لیے کہا۔ میں نے جب دوسری جگہ قبر کھودی تو
قادیان الشیطان کا سفر
از : مولانا محبوب الرحمن ازھری
قادیان ایک قصبہ ہے جو اب ضلع گورداسپور (پنجاب) کی تحصیل بٹالہ میں ہے۔ پہلے صرف گاؤں تھا۔ ایک متمول شخص مرزا غلام مرتضیٰ کے گھر میں ایک لڑکے کی ولادت ہوئی جس کا نام مرزا غلام احمد رکھا گیا۔ اسی لڑکے نے آگے چل کر قادیان کو شہرت بخشی اور قادیان کو پہلے دمشق کا ہمسر کہا پھر بیت المقدس اور مکہ کا مقابل بنا دیا۔ وہاں کا سفر سفر حج سے افضل قرار دیا گیا۔ بظاہر وہاں کے باشندے اسی مناسبت سے قادیانی کہلائے اور خود مرزا غلام احمد کے ساتھ قادیانی کا لفظ ایسا چپکا کہ وہ ایک دین، ایک مذہب، ایک جماعت کا لقب ہو گیا اور کسی کو بھی قادیانی کہنے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ وہاں کا باشندہ ہے بلکہ ایک خاص عقیدہ کا حامل ہونے سے ہی قادیانی کہلاتا ہے۔
سفر قادیان بھی اسی مناسبت سے عنوان قائم کیا گیا ہے۔ ورنہ اس سرزمین کا خواب و خیال میں بھی میں نے نظارہ نہیں کیا۔ اتنا جانتا ہوں کہ امرتسر سے ایک برانچ لائن بٹالہ قادیان جاتی ہے۔ بس اس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔ مرزاجی کا خواب کہ قادیان مکہ کا عشر ہو گا، شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا۔ خاص گورنمنٹ برطانیہ نے، جس کی خدمت کے لیے مرزاجی نے زندگی گزاری تھی، تقسیم ہند کے وقت خط کھینچنے میں قلم کو ایسی جنبش دی کہ قادیان ہندوستان کی طرف پڑ گیا۔ برطانیہ کی مصلحت جو بھی رہی ہو مگر قدرت نے اس کو پاکستان
میں جانے سے روک لیا اور قادیان کا نام و نشان رہ گیا ورنہ ربوہ کی طرح یہ بھی طاق نسیان کا شکار ہو جاتا۔
مرزا جی کی پیدائش کی تاریخ کے بارے میں جہاں تک تلاش کیا گیا ١٨٣٥ء - ١٨٤٥ء کے درمیان معلوم ہوتی ہے۔ اس کو صیغہ راز میں رکھنے کی وجہ یہی تھی کہ ان کی پیشین گوئی ”اسی سال یا اس سے کچھ کم یا زیادہ عمر ہو گی“ کو مرتے وقت صحیح کر لیا جائے لیکن اے بسا آرزو کہ خاک شد ۔ دوسری پیشین گوئیوں کی طرح اس میں بھی مرزا جی فیل ہو گئے اور مئی ١٩٠٨ء میں تشریف لے گئے۔ یعنی اگر ١٨٣٥ء ہی مان لیا جائے تو بھی ٧٣ سال ہوئے جو کسی طرح بھی اس کے قریب نہیں کہے جاویں گے۔
ایک جملہ معترضہ لکھنا ضروری ہے کہ اپنے بچپن میں جب بھی مرزائی کا لفظ سنتا تھا (اس وقت یہی لقب رائج تھا) تو میرا تخیل یہ کہتا تھا کہ کچھ لوگ مرزائی (جو روئی کی بنڈی یا جاکٹ ہوتی تھی) پہنتے ہوں گے، ان کو مرزائی کہا جاتا ہے۔
دھیرے دھیرے سمجھ میں آیا کہ ایک مذہب ہے اور سب سے پہلے مصر پہنچ کر کلیہ اصول الدین میں دو قادیانی داخل ہونا چاہتے تھے تو اندازہ ہوا کہ یہ کوئی مذہب ہے جو ناپسندیدہ ہے۔ شیخ الکلیہ نے داخلہ کی مخالفت کی اور ان دونوں نے توبہ کا اعلان شائع کیا تب بھی کلیہ اصول الدین میں داخل نہیں ہو سکے۔ یہ میرا ابتدائی تعارف تھا۔
ہندوستان واپس آکر ذہن میں کچھ بھی باقی نہیں تھا۔ صرف یہ تصور کہ دوسرے فرقوں (چشتی، قادری، مجددی وغیرہ) کی طرح یہ بھی کوئی فرقہ ہے۔ کلکتہ پہنچ کر ١٩٦٠ء کے بعد معلوم ہوا کہ قادیانیوں اور مسلمانوں میں مناظرہ ہوا جس کو غیر ضروری سمجھ کر میں اس سے الگ رہا حالانکہ میرے ساتھی علماء اس میں شریک ہوتے رہے لیکن مجھے اس سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ اتفاق سے مولانا لال حسین اختر مشہور عالم کو کلکتہ بلایا گیا اور وہ دو ماہ کلکتہ میں ہماری ہی بلڈنگ میں مقیم تھے۔ ان کے پاس جاتا تھا اور وہاں بعض قادیانی کتابیں دیکھتا تھا جن کو میں نے دین کے اصول کے خلاف سمجھا۔ اس کے بعد پھر ایک خاموشی کا وقفہ۔
١٩٦٤ء میں ایک بنگالی مولوی عبدالمنان عبقری نامی شخص سے ملاقات ہوئی اور اس کی گفتگو کا مجھ پر اتنا اثر ہوا کہ میں اس کے یہاں آنے جانے لگا۔ وہ کلکتہ سے دور میٹیابرج کے آگے بوٹلہ میں رہتا تھا۔ اور میں کافی متاثر ہوا کہ اس سے مرید ہونے کے لیے سوچنے
لگا۔
اپریل ١٩٦٤ء کے قریب ا خلاف ہیں یا ان سے بیعت ہیں؟ ا میرے دوست مولانا معصومی صاح وجہ سے ہم نے رخصت چاہی او ہو گئی۔ چھ ماہ گزر گئے اور ملاقات ک
اکتوبر ١٩٦٤ء میں معلوم ہ وجہ سے میں نے سخت انکار کیا کہ ا سے گہرا تعلق ہے۔ خود ہی اس ۔ سے کوئی فائدہ نہیں ہے۔ چنانچہ ۔ مرزا کے فضائل اور کارنامے گنو مباحثہ کے لیے تیار ہیں۔
میں نے صرف ایک ہی بات ”اگر مرزا جی مومن ہی نہیں تو تمام فضائل خاک ہی بات ایمان اور عدم ایمان
انہوں نے مجھے ”نور الحق‘ حمامتہ میں لایا اور چند صفحات سے ہی اند میں دو ہفتہ بعد ان کے یہاں پہنچ ہوتے ہی ہم لوگ مسجد میں نماز پوچھا کہ آپ کی عمر کیا ہے؟ کہنے لیے کہ اگر دوسرے کا اندازہ اس نہیں بتاؤں گا۔ گفتگو آگے بڑھی گی۔ ایمان اور کفر اور صرف دو اس پر اتفاق کے بعد میں نے اپنے
لگا۔
اپریل ١٩٦٤ء کے قریب ایک ملاقات میں ان سے پوچھا کہ آپ مولانا تھانوی کے خلاف ہیں یا ان سے بیعت ہیں؟ اس کا جواب ٹال کر ختم نبوت پر ایک تقریر کی، میرے ساتھ میرے دوست مولانا معصومی صاحب بھی تھے، جو ہمیں ناپسند ہوئی۔ لیکن وقت کی تنگی کی وجہ سے ہم نے رخصت چاہی اور یہ طے ہوا کہ آئندہ نشست میں اس موضوع پر گفتگو ہوگی۔ چھ ماہ گزر گئے اور ملاقات کا موقع نہ مل سکا۔
اکتوبر ١٩٦٤ء میں معلوم ہوا کہ عبدالمنان عبقری قادیانی ہو گیا ہے۔ اپنے تعلق کی وجہ سے میں نے سخت انکار کیا کہ ایسا ہو نہیں سکتا اور دو تین دن میں، میں نے فیصلہ کیا کہ مجھ سے گہرا تعلق ہے۔ خود ہی اس سے جا کر کیوں نہ معلوم کروں اور دوسروں سے جھگڑنے سے کوئی فائدہ نہیں ہے۔ چنانچہ میں گیا اور گفتگو کی تو انہوں نے صریح جواب کے بجائے مرزا کے فضائل اور کارنامے گنوائے اور یہ کہ ان کا مطالعہ بہت وسیع ہے اور اس پر کافی مباحثہ کے لیے تیار ہیں۔
میں نے صرف ایک ہی بات کہی کہ:
”اگر مرزا جی مومن ہیں تو ان کے ہزاروں گناہ معاف ہیں اور اگر ایمان نہیں تو تمام فضائل خاک ہیں اور وہ ذرہ برابر فضیلت کے مستحق نہیں“۔
بات ایمان اور عدم ایمان پر ٹھہری اور دوسری نشست کے لیے ہم لوگ اٹھ گئے۔ انہوں نے مجھے ”نور الحق، حمامۃ البشریٰ“ وغیرہ مرزا کی کتابیں دیں کہ ان کا مطالعہ کیجئے۔ میں لایا اور چند صفحات سے ہی اندازہ ہو گیا کہ کتاب پڑھنے کے قابل ہی نہیں اور اسی طرح میں دو ہفتہ بعد ان کے یہاں پہنچ گیا۔ عصر سے قبل ان کا کلام جاری ہوا اور عصر کا وقت ہوتے ہی ہم لوگ مسجد میں نماز کے لیے چلے آئے۔ بعد عصر پہنچتے ہی میں نے عبقری سے پوچھا کہ آپ کی عمر کیا ہے؟ کہنے لگا عمر نہیں بتاؤں گا (اتباع مرزا کی عظیم الشان مثال) اس لیے کہ اگر دوسرے کا اندازہ اس سے کم یا زیادہ ہو گا تو مجھ کو جھوٹا قرار دے گا۔ میں عمر نہیں بتاؤں گا۔ گفتگو آگے بڑھی میں نے کہا کہ پوری گفتگو صرف دو لفظوں میں محدود رہے گی۔ ایمان اور کفر اور صرف دو آدمیوں کے درمیان محدود ہوگی میں خود اور مرزا جی۔ اس پر اتفاق کے بعد میں نے اپنے سے ہی گفتگو شروع کی کہ میرا عقیدہ ہے:
اليوم اكملت لكم دينكم واتممت عليكم نعمتي و رضيت لكم الاسلام دينا۔ انہوں نے ٹوکنا چاہا تو میں نے کہا کہ میرا عقیدہ ہے۔ آپ سن لیجئے پھر فیصلہ کیجئے۔ اس تفصیل کے بعد میں نے پوچھا کہ ایسے عقیدہ والے کو مرزاجی کیا کہیں گے۔ مسلمان یا کافر؟ کہا کہ مسلمان ہی کہا جاوے گا۔ میں نے کہا کہ مرزاجی مجھے کافر کہتے ہیں۔ اس لیے مرزا جی میرے پیچھے نماز نہیں پڑھتے وغیرہ آپ بھی میرے پیچھے نماز نہیں پڑھتے۔ مرزاجی نے اپنے بڑے صاحبزادے فضل احمد کے جنازہ کی نماز نہیں پڑھی کیونکہ وہ ان کو نبی نہیں مانتا تھا۔
سر ظفر اللہ خان نے قائد اعظم محمد علی جناح کے جنازہ کی نماز نہیں پڑھی اور بھی بہت سی مثالیں ہیں۔ آخر ہم میں کیا عیب ہے؟ یہاں پر قادیانی اور احمدی کا فرق بھی ظاہر کرنا ضروری ہے۔ اگرچہ اب خلط مبحث میں قادیانی اپنے کو احمدی ہی کہتے ہیں۔ قادیانی وہ ہیں جو مرزا کی نبوت کے قائل ہیں اور احمدی لاہوری جماعت وہ کہلاتے ہیں جو مرزا کو نبی نہیں مانتے بلکہ مجدد مانتے ہیں۔ ایک مرتبہ مرزا محمود سے پوچھا گیا کہ احمدی لاہوری کے پیچھے نماز کا کیا حکم ہے تو اس نے جواب دیا تھا کہ افضل کی نماز مفضول کے پیچھے جائز نہیں ہے۔ جو نبی مانتے ہیں‘ وہ افضل ہیں اور جو مجدد مانتے ہیں وہ مفضول ہیں۔ اس طرح احمدی لاہوری بھی قادیانیوں کے نزدیک کافر ہیں۔
اس کے بعد میں نے مرزاجی کے بارے میں سوال کیا کہ وہ کیا ہیں؟ مومن یا کافر؟ انہوں نے کہا کہ وہ ایک عالم ہیں۔ میں نے کہا کہ ہمارے درمیان صرف دو لفظوں پر اتفاق تھا۔ آپ نے تیسرا لفظ استعمال کیا ہے۔ بہر حال وہ عالم بھی نہیں۔ اس کے لیے صحیح لفظ عدو الله عدو الرسول‘ عدو الدین ہی صحیح ہے۔ اس لیے کہ وہ جانتے ہوئے بھی حق کا انکار کرتا ہے۔ حیات مسیح علیہ السلام پر اس کو اعتراض ہے کہ وہ دو ہزار سال کیسے زندہ رہ سکتے ہیں اور کیا کھاتے پیتے ہیں وغیرہ۔ مجھے تو تعجب ہوا کہ دو ہزار سال تک زندہ رہنا تو عقل کے خلاف ہے۔ اور حضرت موسیٰ علیہ السلام جو ان سے بھی ایک ہزار سال پہلے ہیں وہ تین ہزار سال کیسے زندہ ہیں؟ مرزاجی جواب دیں۔ جنہوں نے ”نور الحق“ ص ١٥١ پر لکھا ہے ان اللہ افترض علینا۔
جواب مرزائی کو دینا ہے۔ وہ تو ہر اس عقیدہ اور یقین کی مخالفت کرتے ہیں جو اسلام میں ہے اور خود اس سے عجیب حکم دیتے ہیں وغیرہ۔ اب مجھے یقین ہو گیا کہ وہ پکا قادیانی مبلغ ہے۔ اس کے خلاف کوشش کی گئی اور ایک بہت بڑا جلسہ اس علاقہ میں کیا گیا۔ جس میں اس کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا گیا۔ کافی نشستیں ہوئی اور قادیانیوں نے مجھے گھیرنا شروع کیا۔ مختلف موقعوں پر میں نے اپنی تقریروں میں کہا کہ مرزائی کے پاس کافی مال ودولت تھا اور استطاعت بھی۔ پھر وہ حج کے لیے کیوں نہیں گئے۔ یہ ایک چیلنج تھا جس کو میں اعلان کرتا تھا۔ قادیانیوں نے اس کا عملی جواب یہ دیا کہ ١٩٦٥ء کے حج میں علی الاعلان سولہ احمدی حج کے لیے تیار ہوئے اور ”بدر“ میں ان کے ناموں کا اعلان کیا گیا۔ کلکتہ کے مسلمانوں نے مجھے تیار کیا کہ میں ان کو حج سے روکوں۔ اس کے لیے میں ندوہ آیا اور مولانا علی میاں صاحب مدظلہ سے رجوع کیا۔ ان کا اشارہ تھا کہ شاہ فیصل مرحوم کو خط لکھوں اور کوشش کروں۔ چنانچہ وہ خط لکھا گیا اور شاہ فیصل مرحوم کو روانہ کیا گیا۔ اس کے بعد عملی جدوجہد کے لیے مجھ کو بمبئی بھیجا گیا کہ وہاں سے کوشش جاری رکھوں۔ بمبئی پہنچ کر میں نے سربراہان جمعیات اسلامیہ سے ملاقاتیں کیں‘ ہر طرف سے مایوسی کے سوا کچھ نہ ملا۔ بعض نے تو مجھے برا بھلا بھی کہا مگر مجھے اپنے دیوانگی میں جواب دینے کی فرصت نہیں تھی۔
تین دن کی پریشانی اور تگ و دو کے بعد جب مایوسی نظر آ رہی تھی تو خبر ملی کہ مولانا علی میاں صاحب مدظلہ رابطہ عالم اسلامی کے جلسہ میں شرکت کے لیے تشریف لے جا رہے ہیں اور بمبئی سے گزریں گے۔ شاہ فیصل کے نام کا خط چھپوالیا گیا تھا اس کو بھی حجاز بھیجنا تھا۔ مولانا کی تلاش میں نکلا۔ معلوم ہوا کہ مولانا تبلیغی جماعت کی مسجد میں ٹھہرتے ہیں۔ مسجد کی تلاش کی اور پہنچتے پہنچتے عصر کی نماز ہو چکی تھی۔ نمازی نکل رہے تھے اور میں ہر ایک سے پوچھ رہا تھا کہ مولانا کب تشریف لا رہے ہیں؟ لوگ دیوانہ سمجھ کر خاموشی سے گزر جاتے تھے اور اسی طرح سب نکل گئے۔ مسجد میں داخل ہوا‘ نماز عصر ادا کی۔ ایک صاحب صحن مسجد میں ٹہل رہے تھے۔ نماز کے بعد قریب آئے اور مجھ سے پوچھا کہ آپ کا کیا کام ہے؟ میں نے اپنی ضرورت بیان کی۔ پوچھا کس سلسلے میں؟ میں نے بتلایا کہ قادیانیت کا معاملہ ہے۔ وہ مجھ کو لے کر باہر نکلے اور ایک صاحب کو بلا کر ان کے حوالہ کیا کہ احمد غریب سیٹھ کے یہاں لے جاؤ اور ان کی مدد کرو۔ وہ مجھ کو لے چلے۔ راستہ میں انہوں نے بھی غرض و
غایت کا سوال کیا تو ان کو ذرا تفصیل سے میں نے بتایا۔ احمد غریب سیٹھ تو مصروف آدمی تھے۔ انتظار کرتے رہے۔ کافی اصرار کے بعد اتنا کہا کہ ابھی یقین نہیں ہے۔ دس بجے رات کو فون آئے گا تو معلوم ہو گا اور ممکن ہے کہ وقت کی تنگی کے پیش نظر وہ ائیر پورٹ پر ہی چند گھنٹے رکیں۔ جو شخص میرے ہمراہ تھے انہوں نے میرے مقصد کے پیش نظر خود ہی ذمہ داری لی کہ اگر مولانا آئیں گے تو میں آپ کو ائیر پورٹ پر لے چلوں گا اور یہ کہ اس کام کے سلسلہ میں وہ مجھے دوسرے دن احمد القاضی جو سعودی سفارت خانہ کی طرف سے بمبئی میں مامور تھے، ان سے ملاقات کرانے کا انتظام کیا۔ احمد القاضی سے کافی طویل ملاقات ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ اگر مجھ سے پہلے مل لیتے تو کام آسان تھا اور ہمیں اختیار ہے کہ حج کا ویزہ دیں یا نہ دیں۔ لیکن آپ بہت آگے جا چکے ہیں۔ شاہ کو اور سفارت خانہ کو لکھ چکے ہیں۔ اس لیے اب ہمیں سفارتخانہ سے کوئی اطلاع آنے کا انتظار کرنا پڑے گا۔
دوسرے دن احمد القاضی نے مجھے مبارکباد دی اور مجھ سے کہا کہ آپ ہماری مدد کریں کہ نامزد اشخاص کو تلاش کیا جائے۔ چنانچہ مزید معلومات ہونے پر ان کی نشاندہی ہو گئی اور سب گرفت میں آگئے۔ پہلے میرا مذاق اڑا رہے تھے اور مسائل حج مجھ سے پوچھ رہے تھے، اب مجھ سے منہ چھپانے لگے۔ اس طرح ١٩٦٥ء کا مرحلہ طے ہو گیا۔
کلکتہ واپسی پر بہت کوششیں کی گئیں کہ میرے خلاف کیس دائر کیا جائے لیکن اس کی گنجائش نہیں نکل سکی۔ اسی سال ہبلی سے بھی دو قادیانی گئے تھے وہ گرفتار ہوئے اور بالآخر توبہ کرنے پر وہ واپس آسکے۔ ان لوگوں نے مولانا ریاض احمد صاحب پر مقدمہ دائر کر دیا۔ کئی سال تک وہ مقدمہ کے چکر میں پھنسے رہے اور کافی مدت کے بعد ہبلی کی عدالت نے بھی قادیانیوں کو اسلام سے خارج قرار دے دیا (جو ایک دوسرے مقدمہ کے سلسلہ میں تھا)
ظاہر ہے کہ قادیانی میرے پیچھے لگ گئے اور مجھ سے مباحثہ کی کوششیں بھی کی گئیں لیکن وہ اس میں بھی ناکام رہے۔ فالحمد لله على ذالك ۔
(ہفت روزہ ختم نبوت، کراچی، جلد ٢، شمارہ ٤٤)
قادیان میں میرے بیتے دن
ماسٹر تاج الدین انصاریؒ
تبلیغ کانفرنس میں شمولیت کے لیے جب میں پہلی بار قادیان گیا تھا تب مجھے قادیان کو چل پھر کر دیکھنے کا موقع میسر نہ آیا اس لیے کہ حکومت نے باہر سے آنے والوں پر کچھ پابندیاں عائد کر دی تھیں۔ جگہ جگہ پہرے بٹھا دیئے گئے اور اعلان کر دیا گیا کہ کوئی مسلمان قادیان میں داخل نہیں ہوسکتا۔ مجھے کانفرنس میں تقریریں سننے یا رونق سے لطف اندوز ہونے کا اتنا خیال نہ تھا جتنا میں اس فساد انگیز بستی کے اندرونی حالات معلوم کرنے کے لیے بے تاب تھا۔ ایک میل دور ریلوے لائن پر کھڑا دیر تک ”منارۃ المسیح“ کو دیکھتا رہا۔ کانفرنس ختم ہوئی تو میں ایک رات کے لیے وہیں ٹھہر گیا۔ قادیان کے مسلمانوں، ہندوؤں اور سکھوں سے بھی ملاقات ہوئی۔ ان سے باتیں ہوئیں میں ان غیر مرزائیوں کی باتوں میں بڑی دلچسپی لیتا رہا۔ میں ان مٹھی بھر غیر مرزائیوں کی جرات اور حوصلہ مندی سے بہت متاثر ہوا۔ وہ سودیشی نبوت کے خوفناک سازشی ماحول اور شیطانی ہتھکنڈوں سے نبرد آزما تھے۔ اور گوناگوں مصیبتوں کا پامردی سے مقابلہ کر رہے تھے۔ وہاں سے سیدھا لاہور چلا آیا۔ یہاں بھی شاہ صاحب کی تقریر کا بڑا چرچا تھا۔ یوں تو ان کی ہر تقریر ماسٹر پیس ہوتی تھی مگر قادیان میں شاہ صاحب کی طبیعت بالکل حاضر تھی۔ بہت بڑے ہجوم کو حضرت شاہ صاحبؒ نے ایسا مسحور کیا کہ جلسہ گاہ میں سمندر کے مدوجزر کی کیفیت پیدا ہوگئی تھی۔ قادیان کے اردگرد کی مسلمان آبادی کانفرنس میں امڈ کر آگئی تھی۔ شاہ صاحبؒ کی تقریر نے ملحقہ آبادی کے ایمان مضبوط کر دیئے اور یہی بات مرزا محمود کی پریشانی کا باعث ہوئی۔ قادیان
سے واپسی پر لاہور کے مرکزی دفتر میں مجھے چوہدری صاحب مرحوم و مغفور کی خدمت میں ٹھہرنے کا موقعہ ملا۔ مرحوم اپنے کارکنوں اور رضا کاروں سے ہمیشہ بہت بے تکلف رہا کرتے تھے۔ وہ سب سے دریافت کرتے تھے کہ کہو بھئی کانفرنس کیسی رہی سب کی یہی رائے تھی کہ کانفرنس کامیاب تو ہوئی ہے مگر قادیان میں سالانہ کانفرنس ہونی چاہئے۔ اس کانفرنس میں مسلمان ہندوستان کے کونے کونے سے آیا کریں گے۔ دو چار کانفرنسیں ہو گئیں تو مرزائیت کا بھرم نکل جائے گا۔ میں چونکہ ایک دن کے لیے قادیان ٹھہر گیا تھا وہ مجھ سے بھی دریافت کرتے رہے کہ اس کانفرنس کے بعد کیا ہوگا؟ کانفرنس کے انعقاد سے مرزائیوں پر کیا گزری؟ قادیان کے ارد گرد کے لوگوں نے کیا اثر قبول کیا؟ یہی سوالات وہ اپنے مخلص کارکنوں سے کر چکے تھے۔ ہم سب کا جواب تقریباً ملتا جلتا تھا چوہدری صاحب خوش بھی تھے مگر وہ باتوں باتوں میں اس خدشے کا اظہار کرتے تھے کہ بڑے خطرناک گروہ سے پالا پڑا ہے انگریز اس کی پشت پر ہے دیکھنا چاہئے کیا ہوتا ہے؟
میں لدھیانے واپس چلا آیا۔ میرا ارادہ تھا کہ میں از سر نو کارخانہ جاری کروں دو سال سیاست سے کنارہ کش ہو کر دولت کماؤں اور پھر سے اس قابل ہو جاؤں کہ جماعت کی کچھ امداد کر سکوں۔ مولانا حبیب الرحمٰن مرحوم و مغفور میرے بچپن کے ساتھی اور بے تکلف دوست تھے ان سے مشورہ کیا وہ بھی ردوکد کے بعد راضی ہو گئے۔ میں ابھی سوچ ہی رہا تھا کہ مجھے چوہدری صاحب مرحوم نے لاہور بلا بھیجا۔ ملاقات ہوئی فرمانے لگے تمہیں معلوم ہے کہ قادیان میں کیا ہو رہا ہے؟ میں نے عرض کیا مجھے آپ سے زیادہ کیا معلوم ہوگا۔ کیوں خیر تو ہے؟ فرمانے لگے مرزا محمود بہت کائیاں شخص ہے۔ وہ قادیانی خلیفہ ہونے کے علاوہ بہت بڑا پالیٹیشن بھی ہے۔ بڑے جوڑ توڑ کا آدمی ہے۔ ایک طرف اپنے مبلغوں کے ذریعے تبلیغ کا کام چلاتا ہے تو دوسری طرف ہتھکنڈوں سے داؤ مارتا ہے۔ وہ ہم غریبوں سے دولت کے انبار پر برطانوی قوت کے سہارے کھڑے ہو کر کشتی لڑتا ہے۔ مولانا عنایت اللہ اپنی بساط سے زیادہ کام کر رہے ہیں۔ وہ جم کر بیٹھ گئے ہیں مگر وہ تنہا ہیں۔ دینی مسائل اور مناظرہ میں تو وہ مات نہیں کھاتے۔ بڑی جرات سے ڈٹ کر مقابلہ کر رہے ہیں۔ ہمارے پاس ان کی امداد کے لیے ہمارے بہترین رفیق اور مناظر مولانا محمد حیات فاتح قادیان صاحب کے علاوہ دوسرے اور مبلغ بھی موجود ہیں۔ انہیں بھی بھیج دیا جائے گا۔ مگر
میں چاہتا ہوں کہ مرزا محمود کی سیاست کا مطالعہ بھی کر لیا جائے۔ قادیانی تبلیغ اور قادیانی سیاست دو جدا جدا محاذ ہیں جب تک دونوں محاذوں پر مقابلہ نہ کیا جائے کامیابی نصیب نہ ہو گی۔ اگر خدانخواستہ غفلت سے کام لیا گیا تو مرزائیت برطانوی اقتدار کے سہارے مسلمانوں پر امربیل کی طرح چھا جائے گی۔ میں نے عرض کیا چوہدری صاحب کیا ارادہ ہے آپ نے کیا پروگرام بنایا ہے؟ فرمانے لگے تم یوپی تو نہیں جا رہے ہو۔ میں نے عرض کیا کہ میں نے تو مولانا حبیب الرحمٰن سے مشورہ کیا ہے۔ میں اب کہیں جانے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ میں دو سال کی رخصت چاہوں گا تا کہ اس عرصے میں کچھ دولت کمالوں تب بھی میں اپنے رفیقوں کی امداد بھی کر سکوں گا اور وقتاً فوقتاً ہاتھ بھی بٹاتا رہوں گا وہ میری جانب دیکھ کر سنجیدگی سے فرمانے لگے۔ تم بھی اس طرح سوچتے ہو؟ میں نے عرض کیا پھر کس طرح سوچوں آپ ہی فرمائیے؟ فرمانے لگے ارے اب تو مخالف کے پنجے میں پنجہ ڈال دیا ہے یہ وقت مڑ کر دیکھنے کا ہے؟ مرحوم کچھ کبیدہ خاطر سے ہو گئے جیسا کہ میں عرض کر چکا ہوں میں انہیں اس حالت میں دیکھ کر بے قرار ہو جاتا تھا میں نے عرض کیا چوہدری صاحب فرمائیے مجھے کیا حکم ہے؟ فرمایا قادیان چلے جاؤ۔
حکم مل گیا
میں نے ایک ہفتے کی مہلت مانگی اور ہفتے بعد قادیان پہنچ گیا۔ مجھے نہیں معلوم کہ مولانا عنایت اللہ کو لاہور بلا کر مرحوم چوہدری صاحب نے کیا کہا۔ میں احرار کے تبلیغی دفتر میں ٹھہر کر اپنے پروگرام پر غور کرتا رہا مجھے تبلیغ اور مناظروں سے کوئی تعلق نہ تھا اور نہ میں اس کا اہل تھا۔ علماء کی صحبت سے اسلام دل میں تو اتر جاتا ہے مگر علم دین سے دماغ یکسر کورا رہتا ہے۔ دینی مسائل سمجھنے کے لیے ضروری ہے علماء کے سامنے سالہا سال زانوئے تلمذ تہ کیا جائے۔ میں بھلا مولانا عنایت اللہ صاحب کا تبلیغی میدان میں کیا ہاتھ بٹاتا۔ میں اس کام کے لیے گیا ہی نہ تھا میرا کام بالکل مختلف تھا۔ میں مسلمانوں ہندوؤں اور سکھوں سے معولی واقفیت کے بعد اپنے لیے جگہ کی تلاش میں تھا۔ چند دن بعد میں نے مولانا سے کہا کہ مجھے آپ سے الگ اور مرزائیوں کے قریب رہنا ہے۔ چنانچہ میری خواہش کے مطابق ایک ایسا مکان مل گیا جو سنگم پر آباد تھا یعنی جہاں مسلمان محلہ ختم ہو کر مرزائی محلہ شروع ہوتا
تھا۔ میری رہائش بیچ کے مکان میں تھی۔ ایک دیوار مسلمان کے مکان سے ملحق تھی اور دوسری دیوار کے سائے میں مرزائیوں کا گھر تھا اور میں یقین رکھتا تھا کہ میں یہاں خود نہیں آیا اور نہ مجھے چوہدری صاحب نے اس ڈیوٹی پر مامور کیا ہے مجھ گنہگار کی خوش نصیبی یہاں کھینچ لائی ہے۔ خدا ضرور میری امداد کرے گا میں خدا کے حبیب کی آبرو کے مخالف کو پریشان اور زچ کرنے کے لیے بھیجا گیا ہوں۔ مایوسی اور خوف دونوں میرے دل سے نکل گئے۔
مجھے کیا کرنا چاہئے
آخر بیٹھ کر مرزائیوں کے منارۃ المسیح کو کب تک دیکھتا رہوں۔ اجنبی ہوں واقفیت کی راہیں تلاش کرنی چاہئیں۔ جس گلی میں میرا قیام تھا اس کا نام تھا کوچہ شیخاں۔ میر محلہ ایک مرزائی تھا مگر مجھ غریب الوطن سے کوئی بات نہ کرتا تھا۔ کچھ دن بعد میں نے گھر سے باہر قدم نکالا۔ بیٹھک کے باہر کرسی بچھا کر بیٹھا تو محلے کے مسلمان آنے جانے لگے۔ تب مرزائی ہمسایوں کو پتہ چلا کہنے لگے یہ کم بخت تو احراری معلوم ہوتا ہے۔ بہر حال میں رہگزروں کی نظروں کے سامنے اس لیے آگیا کہ اجنبیت ٹوٹ جائے مگر واقفیت پھر بھی پیدا نہ ہوئی۔
دیہات سدھار
قادیان میں (نام نہاد) خلیفہ صاحب کے مکان یعنی قصر خلافت اور خلافت کے متعلقہ دفاتر کے گردو پیش تو اچھی صفائی رکھی جاتی مگر عوام کے مکانوں کے آس پڑوس اور گلی کوچوں میں کوڑے کرکٹ کے ڈھیر مرزائیت کی طرح بکھرے نظر آتے تھے۔ مسلمانوں، ہندوؤں اور سکھوں کی آبادی میں صفائی کا اچھا انتظام نہ تھا۔ جب میں کانگریسی تھا تو دیہات سدھار کا پروگرام میرا محبوب مشغلہ تھا۔ میرے دل نے فیصلہ کیا کہ مجھے خدمت خلق کے جذبے سے کام شروع کرنا چاہئے پہلے تو میں نے اپنے ہاتھ سے اپنے ہی مکان کو صاف کرنا شروع کیا مکان کی چھت سے لے کر نالی تک کو صاف کیا۔ حتیٰ کہ باہر دروازے کو جھاڑ پونچھ کر صاف کیا۔ ہمسایہ مرزائیوں کے مکان اور میرے مکان کی نالی دونوں مکانوں کے باہر ایک گڑھے میں پڑتی تھیں۔ گلی میں کوئی فرش نہ تھا۔ اس گڑھے
میں غالباً مرزا غلام احمد کی نبوت کے زمانے سے گندہ پانی جمع ہو رہا تھا۔ نیلے رنگ کی متعفن کھاد میں بلبلے اٹھتے تھے۔ ہوا کے جھونکے جب اس بدبودار کیچڑ کو چھو کر گلی میں سے گزرتے تو محلے داروں کی مزاج پرسی کر لیا کرتے تھے۔ میرے مکان کے دروازے پر اس نامعقول گندے گڑھے کا وجود میرے دیہات سدھار کے احساسات کو جھنجھوڑتا تھا۔ ایک روز میں نے حوصلہ سے کام لیا اور آستینیں چڑھا کر دونوں ہاتھ اس گڑھے میں ڈال دیئے۔ الامان والحفیظ ! بدبو کا دماغ سوز بھبھکا اٹھا۔ میری آنکھوں میں پانی آ گیا‘ سر چکرا گیا۔ دل نے کہا یہ ”قادیانی نبی کی بستی ہے اپنا کام کرو ادھر ادھر مت جھانکو۔“ میرے ہاتھوں پر کہنیوں تک نیلے رنگ کے دستانے چڑھ گئے میں کام میں لگا ہوا تھا کہ ہمسائی نے اپنا دروازہ کھولا اور مجھے دیکھتے ہی فقرہ چست کیا کہنے لگیں ”ہم نے سمجھا تھا یہ احراری مولوی ہیں آج معلوم ہوا کہ یہ تو بھنگیوں کے خاندان سے متعلق ہیں۔“ کم بخت نے خدمت گزاری کی کیسی بھونڈی قسم کی داد دی۔ وہ یہ فقرہ چست کر کے گلی سے باہر چلی گئی۔
جس گلی میں میرا مسکن تھا اس گلی میں زنانہ مدرسے کی طالبات گزرا کرتی تھیں۔ ہر قسم کے سیاہ برقعے۔ جتنے بھی دنیا بھر میں فیشن ہو سکتے تھے وہ تمام اس بستی میں موجود تھے۔ ان طالبات کو نجانے کس نے بتا دیا کہ میں احراری ہوں وہ نیک بختیں جب مجھے اس گندے گڑھے پر کام کرتے دیکھتیں مجھ پر چوٹ کیے بغیر نہ جاتیں نہ تو میں آنکھ اٹھا کر انہیں دیکھتا تھا اور نہ ان کی فقرے بازی پر توجہ دیتا تھا دور سے انہیں آتے دیکھتا اور نگاہیں نیچی کر لیتا۔ دوسرے دن میں نے مسلمان ہمسایوں سے کدال مانگ کر اس سے کیچڑ نکالنا شروع کیا۔ گلی کے ایک کنارے پر کیچڑ کا ڈھیر لگا لیا تیسرے دن مرزائی ہمسایوں کے خیالات بدلنے شروع ہوئے۔ اس گھر میں ملکہ کا راج تھا۔ میری ہمسائی دروازے پر آ کر کھڑی ہو گئی کہنے لگی ”مولوی جی بڑے اچھے آدمی ہو کہو تو ایک مزدور تمہارے ساتھ لگا دوں۔ مدتوں کا گند تھا جو آپ نے ٹھکانے لگا دیا۔“ میں نے کہا بہن یہ کام میں خود ہی کر لوں گا۔ ایک مہربانی کیجئے دو دن کی خاطر نالی میں پانی بند کر دیجئے گڑھا آج صاف ہو کر دوپہر کی دھوپ سے خشک ہو جائے گا۔ میں کل اسے خشک اینٹوں سے پر کر کے اوپر روڑی اور چونا ملا کر بہت عمدہ فرش بنا دوں گا۔ ہمسائی نے اپنی بہو بیٹیوں کو ڈانٹ پلائی اور تنبیہہ کی کہ دو تین روز نالی میں پانی نہ گرایا جائے۔
میں نے اس کام سے فراغت پائی تو کوچے کی ناہمواری کی طرف متوجہ ہوا۔ یہ کام بھی میں نے اپنے مسکن سے شروع کیا۔ دو چار گز زمین روز ہموار کر لیتا تا آنکہ سارے کوچے کا لیول درست ہو گیا۔ سکولوں کی لڑکیاں اور مرزائی عورتیں جو اونچی ایڑی کے جوتے پہنا کرتی تھیں۔ اس کوچے کی ناہمواری سے اکثر ٹھوکریں کھایا کرتی تھیں۔ اب کوچہ ہموار ہوا تو بے دریغ تیزی سے گزرنے لگیں وہ جو مجھے خواہ مخواہ فقرے بازی کا نشانہ بنایا کرتی تھیں رائے بدل کر اچھے الفاظ میں یاد کرنے لگیں۔ بعض نے برملا کہا کہ خواہ مخواہ احراریوں کو بدنام کیا جاتا ہے یہ تو بڑے اچھے لوگ ہیں۔ میں نے مرزائیوں کو کوئی مسئلہ سمجھانے کی بجائے دیہات سدھار کی پٹڑی پر ہموار کر لیا۔ ہوتے ہوتے یہ بات خلیفہ صاحب کے کانوں تک پہنچی وہ بہت ہوشیار آدمی ہیں ان کے کان کھڑے ہوئے اور میرے گھر پر اپنی سی آئی ڈی کو بھیج دیا۔
گل نور
قادیان میں پیغمبری کا ایک اور دعویدار پیدا ہوا۔ شیطان نے ایک سرحدی پٹھان مسمی احمد نور کے کان میں پھونک ماری وہ بہک گیا اور الہامات بیان کرنے لگا۔ خلیفہ صاحب نے اسے مد مقابل بننے کا موقعہ ہی نہیں دیا۔ عام طور پر احمد نور کے خلاف پراپیگنڈہ یہ کیا گیا کہ یہ شخص مرزا صاحب کا بے حد عقیدت مند ہے اسے مرزا صاحب کے عشق میں دیوانگی کا دورہ پڑا ہے اسے کچھ مت کہو غرضیکہ اس بیچارے کی نبوت کو تدبر کے پتھر کے نیچے دبا کر رکھ دیا۔ احمد نور صاحب کے منہ پر ناک نہیں تھی ربڑ کی مصنوعی ناک لگا کر وہ مدتوں پیغمبری کے گیت گنگناتے رہے ان کا بیٹا گل نور بڑا ہوشیار اور صاحب تدبیر تھا۔ اسے خلیفہ صاحب نے مجھ پر بطور سی آئی ڈی متعین کر دیا مگر وہ ایسا ہوشیار نکلا کہ میرے پاس براہ راست آنے کی بجائے میرے دوستوں کے سہارے مجھ تک پہنچا۔ وہ مولانا عنایت اللہ صاحب سے بھی راہ و رسم رکھتا تھا۔ مجھے چند روز بعد اس پر شک ہوا وہ اعتبار جمانے کے لیے (نام نہاد) خلیفہ کے بارے میں بے سروپا جھوٹی باتیں بتا کر مجھے ہموار کر لینا چاہتا تھا مجھے اس کی حرکات سے یقین ہو گیا کہ نام نہاد خلیفہ کا پکا جاسوس ہے تو میں اس سے گھل مل گیا اور بہت ہی بے تکلفی سے باتیں کرنے لگا اور اپنی جگہ چوکس ہو گیا۔
وہ مجھے بے وقوف بنانے کی کوشش میں تھا اور میں اسے بے وقوف بنا رہا تھا۔ غرضیکہ میرا اور گل نور کا پیچ پڑ گیا۔ مگر یہ بڑا ہی خطرناک کھیل تھا۔
دوستوں کی تنبیہہ
مجھے مولانا عنایت اللہ صاحب نے رازدارانہ انداز میں حقیقت حال سے آگاہ کیا۔ ان کے بعد چند دوستوں نے گل نور سے بچ کر رہنے کی تلقین کی۔ میں نے نہ تو مولانا عنایت اللہ سے اور نہ دوسرے احباب سے حقیقت حال کی وضاحت کی بلکہ میں نے اس صورت حال سے فائدہ اٹھایا اور گل نور کی وکالت شروع کر دی۔ میں جانتا تھا کہ بات کو پر لگیں گے اور یہ شکوک گل نور تک ضرور پہنچیں گے اسے میری رائے کا علم بھی ہو جائے گا کوئی راز زیادہ دیر تک راز نہیں رہتا اگر وہ چند آدمیوں کی زبان تک آجائے۔ میں نے اپنے دوستوں اور ہمدردوں کو سمجھایا کہ گل نور بہت اچھا دوست ہے اور میرا بڑا ہمدرد ہے وہ اپنے چھوٹے بھائی کے ذریعے محل کے اندر کی خبریں لاتا ہے آپ کو کیا معلوم کہ وہ مجھے کیا بتا کر جاتا ہے۔ پٹھان جس کا دوست بن جائے عمر بھر دوستی نبھاتا ہے۔ اس قصے کو چھوڑو میں ایک اچھے دوست کو ضائع نہیں کرنا چاہتا۔ میرا اندیشہ صحیح ثابت ہوا گل نور کو سب کچھ معلوم ہو گیا اسے میری رائے کا علم بھی ہو گیا کہ میں گل نور کو کتنا اچھا دوست سمجھتا ہوں۔ گل نور مطمئن ہو گیا اور مجھے کچھ کچھ خبر دار بھی کرنے لگا وہ محل کی کچھ صحیح باتیں بھی بتانے لگا۔ وہ سچی باتوں کے ساتھ چار جھوٹی باتیں ملا کر معاملے کو گڈ مڈ کر دیتا تھا۔ باتوں کے ڈھیر میں سے سچ تلاش کرنا بڑی دردسری کا کام تھا جیسا کہ میں نے عرض کیا پیچ پڑ گیا تھا۔ دونوں جانب سے ڈھیل دی جا رہی تھی جسے اللہ دے۔ جو کام ہم ایک ہفتے بعد کرنا چاہتے تھے اور جس کے ظاہر ہو جانے میں کوئی حرج نہ تھا یا جس نے بالآخر ظاہر ہو ہی جانا تھا اسے گل نور سے کہہ دیا جاتا تھا ان اطلاعات کی بہم رسانی سے گل نور زیادہ معتبر اور دربار خلافت میں زیادہ رسائی پا رہا تھا۔ وہ جس قدر نام نہاد خلیفہ کے قریب ہو رہا تھا یا اپنے بھائی کے ذریعے باخبر ہوتا تھا اس سے مجھے مناسب معلومات مل جایا کرتی تھیں۔
چھ ماہ بعد
میرے پاؤں جم گئے۔ ایک روز رات کے تقریباً بارہ بجے کسی نے آہستہ سے
میرے مکان کی کنڈی کھٹکھٹائی۔ میری آنکھ کھل گئی۔ میں نے سمجھا خواب تھا۔ تھوڑی دیر بعد پھر آواز آئی۔ میں چھت پر لیٹا ہوا تھا نیچے اترا دروازہ کھولا تو دیکھا ہمارا مرزائی محلہ دار سامنے کھڑا ہے‘ اس نے دبی آواز سے کہا مولوی جی اندر آجاؤں‘ میں نے کہا بسم اللہ وہ کمرے میں بیٹھ گیا مگر بالکل مبہوت‘ سانس پھولا ہوا‘ بالکل گھبرایا ہوا‘ میں نے اسے تسلی دی اور کہا کہ فرمائیے کیسے تشریف لائے؟ کہنے لگا ہم بڑی مصیبت میں ہیں‘ شکایت نہیں کر سکتے یہاں ہماری آبرو محفوظ نہیں‘ مگر ہم اف تک نہیں کر سکتے۔ میں نے کہا تھا آپ کے ساتھ یہ سلوک کیوں ہے؟ اس نے کہا یہاں اکثر لوگ زخمی ہیں (نام نہاد) خلیفہ صاحب کے کارندے کھلے بندوں بے عزتی کرتے ہیں آگے شنوائی نہیں ہوتی‘ میں نے اس سے کرید کرید کر دکھیا‘ مظلوم اور دل برداشتہ لوگوں کے نام اور پتے دریافت کیے۔ وہ مجھے بتا بھی رہا تھا اور ہاتھ باندھ کر یہ بھی کہتا تھا کہ میری آمد کا کسی کو پتہ نہ چل جائے۔ جب وہ شخص باتیں کر کے میرے ہاں سے اپنے گھر کی طرف چلا تو میں نے دیکھا کہ وہ بار بار پلٹ کر دیکھ رہا تھا۔ اس پر خوف طاری تھا اور پاؤں ڈگمگا رہے تھے۔ تب مجھے معلوم ہوا کہ قادیان کی بستی میں غلام احمد کے ماننے والوں پر کیا گزرتی ہے۔ بہر حال اس کے بعد کام کی راہیں ہموار ہو گئیں۔
مرزا محمود کی سخت گیری
(نام نہاد) خلیفہ محمود بڑا سخت مزاج‘ خطرناک منتقم اور سخت گیر انسان تھا۔ اسے کسی اپنے مرید پر شک ہو جائے تو سمجھئے کہ اس غریب کی شامت آئی‘ دفتر امور عامہ کے باہر ایک بلیک بورڈ لگا ہوا ہے جو شخص زیر عتاب ہو اس پر شخص مذکور کا نام لکھ کر آگے بائیکاٹ لکھ دیا جاتا تھا۔ بس پھر کیا تھا ایک ہی شخص کی وساطت سے کتنے اوروں کا خانہ تباہ ہوتا تھا‘ زار روس کے ہاں جس طرح جاسوسوں پر جاسوس لگا دیئے جاتے تھے تقریباً وہی طریقہ قادیان میں رائج تھا۔ ہر شخص کو اپنی جگہ بڑا چوکس رہنا پڑتا۔ اس صورت حال نے مرزائیوں میں منافقت کا ذہن پیدا کیا۔ اس طرح قادیان کی چھوٹی سی بستی جس کی آبادی بارہ چودہ ہزار نفوس سے زیادہ نہ تھی‘ سیاسی داؤ پیچ کا اکھاڑہ بن گئی‘ ہر مہرے پر مرزا محمود کا ہاتھ تھا۔ وہ مہروں کو ہٹاتا‘ بڑھاتا اور پٹواتا کوئی اس کا ہاتھ نہ روک سکتا تھا‘ ایسے شاطر کو
میدان کھلا مل جائے پھر اس سے کون بازی جیتے ۔
آسانیاں
میرے لیے اس صورت حال نے مشکل کی بجائے آسانیاں پیدا کر دیں۔ مجھے بچے ہوئے مہروں کو جمع کرنے کا موقع مل گیا۔ میں نے سوچا کہ یہی پٹے ہوئے مہرے اپنی بساط کی رونق بن سکتے ہیں۔
مرزا محمود کی مخالفت
قادیان کے غیر مرزائی یعنی مسلمان، ہندو اور سکھوں کو تو (نام نہاد) خلیفہ نے مخالف بنا ہی لیا تھا۔ وہ تو سب کے سب خار کھائے بیٹھے ہی تھے۔ خود مرزائیوں کو (نام نہاد) خلیفہ صاحب سے نفرت پیدا ہو چکی تھی۔ بعض شریف آدمی جو واقعی نبوت کے دھوکے میں بیعت کر بیٹھے تھے زندگی کے ”نازک گوشوں“ میں زخمی ہو گئے، ان میں سے بعض ایسے بھی تھے جو نمایاں حیثیت کے مالک تھے، زخم کو برداشت نہ کر سکے، چیخ اٹھے اور مقابلے پر آمادہ ہوئے مگر ...... مرزا محمود کا سخت گیر نظام، سرکار کی پشت پناہی، آگے کوئی سہارا نظر نہ آیا تو پیچ و تاب کھا کر خاموش ہو گئے مگر زخمی سانپ کی طرح اندر ہی اندر بس کھولتے رہے۔
قادیان میں جب پہلے پہل مجلس احرار نے قدم رکھا، مشکلات ہی مشکلات تھیں۔ مٹھی بھر غریب مسلمان احرار کی نہتی فوج تھی۔ یہ لوگ غریب تو تھے مگر بڑی خوبیوں کے مالک تھے یہ لوگ بڑے بہادر اور جانثار تھے، میاں عبداللہ مسلمانوں کی مسجد کے امام اور بڑے باہمت اور سمجھدار باحیثیت مسلمان تھے۔ مرزائیوں کے محلے میں ان کا اپنا دو منزلہ مکان بھی تھا۔ ان کے علاوہ ماسٹر عبداللہ ایک باحیثیت آدمی، بڑے ہمدرد اور احرار کے خدمت گزار تھے۔ شیخ برادری کے چند گھر تھے غرضیکہ قادیان کی مسلمان آبادی جن میں نائی، دھوبی، چھوٹے دکاندار، درزی، رنگریز جو بھی تھے احرار کے ہمدرد کارکن اور رضا کار سبھی کچھ یہی لوگ تھے۔ ان لوگوں کا خلوص ختم نبوت کا پختہ عقیدہ، احرار کا بہترین سرمایہ تھا۔ یہی ہماری فوج تھی اور یہی ہمارا خزانہ تھا۔ انہی غریبوں میں عبدالحق نامی ایک نوجوان احرار کے جلسوں کا گلی کوچوں میں ٹین بجا کر اعلان کیا کرتا تھا۔ ایک اور سمجھدار نوجوان ڈاکٹر عبدالسلام تھا ان کا پختہ مکان مرزائیوں کے محلے میں تھا یہ نوجوان بڑا دلیر تھا ابتدا میں
اس کی جرأت اور دلیری نے احرار کو قادیان میں پاؤں جمانے میں بڑا کام دیا۔
قادیان کا تاریخی مسلمان
مولوی مہر الدین مرحوم مرزا غلام احمد آنجہانی کے زمانے سے مرزائیت کے خلاف صف آراء تھے۔ غربت کے باوجود مولوی مہر الدین مرزائیت کا مقابلہ کرتے رہے بارہا انہیں مرزائی بہادروں نے پیٹا‘ ڈرایا‘ دھمکایا مگر وہ ڈٹے رہے۔ مولوی مہر الدین تو پھر بھی مولوی کہلاتے تھے مگر یہ حقیقت معلوم کر کے مسلمانان پاکستان حیران ہوں گے کہ قادیان کے نائی اور سقے بھی رد مرزائیت کے سلسلے میں اچھے خاصے مناظر تھے۔ ان پڑھ ہونے کے باوجود مرزائیوں کو ایسا الجھاتے تھے کہ انہیں لاجواب ہو کر میدان مناظرہ سے بھاگنے میں عافیت معلوم ہوتی۔ چند موٹے موٹے مسائل اور وزنی اعتراضات قادیان کے مسلمانوں نے رٹ رکھے تھے انہی سے وہ اپنے ایمانوں کو بچائے ہوئے تھے پھر یہ بات بھی ہے کہ ان لوگوں کے بزرگوں نے مرزا قادیانی کو اپنی آنکھوں کے سامنے نبی بنتے دیکھا (نام نہاد) خلیفہ کی حرکتوں سے وہ بخوبی آگاہ تھے۔ انہیں یہ بھی معلوم تھا کہ قصر خلافت میں کیا کیا گل کھلتے ہیں۔ مرزائیوں نے مسلمانوں پر رعب تو جما رکھا تھا مگر قادیان کے مسلمان مرزائیوں کو پکا کافر اور مرتد سمجھتے تھے۔ یہی اسلامی جذبہ اور بنیادی عقیدے کی پختگی تھی جس نے احرار کے مبلغوں اور کارکنوں کو بہت سہارا دیا تھا۔
جیسا کہ میں نے عرض کیا کشمیری خاندان میں چوہدری امام دین کشمیری اور ان کے بڑے بھائی بہت جری اور حضرت امیر شریعت رحمۃ اللہ علیہ کے مخلص فدائیوں میں شمار کیے جاتے تھے۔ اسی خاندان کا ایک پڑھا لکھا نوجوان خواجہ عبدالحمید مرزائیوں کی نئی پود کا خوب واقف تھا وہ مرزائیوں ہی کے سکول میں تعلیم حاصل کر کے میٹرک کے امتحان میں پاس ہوا۔ یہ نوجوان گل نور کا دوست اور میرا دست راست تھا۔ بڑا ذہین اور معاملہ فہم نوجوان تھا وہ جب پاکستان آیا تو سیدھا لودھراں چلا گیا۔ یہاں اس نے اچھا خاصا اثر و رسوخ پیدا کر لیا۔ میونسپلٹی کا انتخاب ہوا تو عبدالحمید لودھراں میونسپلٹی کا صدر منتخب ہو گیا۔
قادیان میں ہمارے مددگار مسلمان
مولانا عنایت اللہ چشتیؒ
مولوی رحمت اللہ مہاجر
قادیان کے مقامی باشندوں میں سے ایک صاحب رحمت اللہ نامی نہایت جوشیلے کارکن تھے۔ مرزائیت کے خلاف ان کے سینہ میں ایک جلن تھی اور وہ انہیں مرزائیت کے خلاف ہر اقدام پر آمادہ رکھتی تھی۔ ہمارے جانے سے پہلے تو مرزائیت کا کوس لمن الملک بج رہا تھا۔ اس دور میں ایسے جوشیلے انسان کو کیسے برداشت کیا جا سکتا تھا؟ مجھے تعجب ہوتا ہے کہ وہ مرزائیت کے پنجۂ استبداد سے کیسے بچ نکلے؟ انہوں نے قادیان کی سکونت ترک کر کے بٹالا میں اقامت اختیار کر لی تھی۔ بٹالا میں مرزائیوں کی استبدادی دال نہ گلتی تھی اس لیے ہمارے وہ ساتھی وہاں رحمت اللہ مہاجر کے نام سے پہچانے جاتے تھے۔ ہمارے دفتر کھولنے سے انہیں بڑا حوصلہ ہوا اب وہ ہر جمعہ کو بچ بچا کر ہمارے پاس پہنچ جاتے تھے۔ بٹالا اور قادیان کے درمیان ریل گاڑی چلتی تھی لیکن وہ بٹالا سے دس میل کا سفر پیدل طے کر کے قادیان آتے تھے حالات کا جائزہ لے کر اور مفید مشورے دے کر صبح سویرے واپس بٹالا چلے جاتے تھے نہایت مخلص اور جوشیلے نوجوان تھے اور ہمیشہ اپنے پاس تلوار رکھتے تھے۔ ان ایام میں سرکار انگریز نے تلوار رکھنے کی اجازت دے رکھی تھی کیونکہ مسلمانوں نے شدید احتجاج کیا تھا کہ ”ہر سکھ کے پاس کرپان نامی تلوار ہوتی ہے۔ اس لیے ہمیں بھی تلوار رکھنے کی اجازت دی جائے یا سکھوں سے بھی کرپان جو تلوار کا ہی دوسرا نام ہے چھین لینی چاہئے ۔“ اس لیے سرکار انگریزی نے مسلمانوں کا یہ جائز مطالبہ مان لیا اور
ان کو بھی تلوار رکھنے کی اجازت دے دی گئی، رحمت اللہ مہاجر سے آج بھی مجھے محبت ہے میرے دل میں ان کا احترام ہے۔ خدا معلوم وہ زندہ ہیں یا اللہ کو پیارے ہو گئے۔
قادیان کے قریب موضع بھانبڑی تھا وہاں دو بھائی تھے جو ہمارے شکریہ کے مستحق ہیں۔ ابتدائی ایام تحریک میں انہوں نے دامے درمے بڑی امداد کی۔ دونوں بھائی مولوی تھے۔ مرزائیت کے خلاف خصوصی جذبہ رکھتے تھے۔ ایک کا نام محمد یعقوب تھا اور دوسرے کا نام ذہن سے اتر گیا ہے۔
یہ حضرات اہل حدیث مسلک کے تھے۔ شیخ برادری سے ان کا تعلق تھا۔ آبادی کی تبدیلی میں لائل پور (فیصل آباد) آگئے۔ اللہ نے ان پر بڑا احسان کیا۔ اب ان کا اعلیٰ کاروبار ہے۔ لاکھوں میں کھیل رہے ہیں اور ان کی اولاد اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے بڑے بڑے عہدہ جات پر فائز ہے۔ خوشی ہے الحمد للہ ۔ اللھم زد فزد۔
یوں تو بٹالا کے تمام مسلمان ہماری تحریک سے ہمدردی رکھتے تھے اور مرزائیت کے شدید مخالف تھے مگر ایک خاندان ہماری بڑی تندہی سے پشت پناہی کرتا تھا اور ہمارے دکھوں، دردوں کا ملجاء و ماویٰ تھا۔ وہ تھا ”الحاج سکندر خان“ کا گھرانہ۔ حاجی صاحب کا انتقال ہو چکا تھا اور ان کے دو ہونہار صاحب زادگان ہماری پشت پناہی پر ہر وقت کمر بستہ رہتے تھے۔ ان کی والدہ (اللہ انہیں جنت الفردوس میں جگہ دے) بڑی نیک اور پاکیزہ خاتون تھیں۔ ہم لوگ بٹالا میں ان کے ہاں سکونت رکھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ اس نیک خاتون کو بخشے، ہم لوگ وقت بے وقت، جتنی تعداد میں آ جاتے ان کے ماتھے پر کبھی بل نہ آتا اور وہ فوراً ہمارے کھانے پینے کا بہ طیب خاطر اہتمام کرتیں۔ کھانا مکلف ہوتا اور ہم جس قدر چاہتے مہیا ہوتا۔ تحریک زوروں پر تھی اس لیے ہمیں بٹالا آنا پڑتا تھا۔ کوئی فرق نہ پڑتا کہ ہم دس افراد ہیں یا بیس۔ یا کم و بیش؟ کھاتا پیتا گھرانہ تھا۔ کچھ دیر نہ لگتی اور ہر چیز مہیا ہو جاتی۔ ان دو بھائیوں میں سے ایک کا نام حاجی عبدالرحمٰن تھا اور دوسرے کا نام حاجی عبدالغنی تھا۔ حاجی عبدالرحمٰن بڑے منچلے تھے ہر جمعہ کو بٹالا کی شیر شاہی مسجد میں جاتے اور ہماری تائید اور مرزائیت کی مخالفت میں تقریر کرتے۔ علاوہ ازیں ہر مہم میں شریک ہوتے، بٹالے میں احرار لیڈروں کو بلا کر اجتماعات منعقد کراتے۔ قید و بند سے بھی دریغ نہ تھا۔ اب دونوں حضرت اللہ کو پیارے ہو چکے ہیں۔ حاجی عبدالرحمٰن کا صرف ایک لڑکا تھا جس کا نام اختر تھا۔ ان
دنوں اس نے میڈیکل میں داخلہ لیا تھا اور آج کل وہ پاکستان میں ڈاکٹری کے فرائض سرانجام دے رہا ہے اور شنید ہے کہ وہ بڑا کامیاب ڈاکٹر ہے۔ حاجی عبدالغنی کے تین لڑکے تھے۔ امجد حسین ارشد حسین تیسرے کا نام یاد نہیں۔ امجد حسین وکیل ہیں اور لاہور ہائیکورٹ میں پریکٹس کرتے ہیں۔ بڑی وسیع معلومات کے حامل ہیں۔ ان کے سیاسی مضامین عموماً اخبارات میں شائع ہوتے رہتے ہیں ایک دو دفعہ میری ان سے ملاقات بھی ہوئی۔ بڑے ملنسار اور قومی وملی جذبہ رکھتے ہیں۔
سکندر خان مرحوم بڑی جائیداد کے مالک تھے۔ امرتسر میں سکندر خان کی تعمیر کردہ مسجد موجود تھی جو ہال بازار امرتسر میں واقع تھی اور اس کے ساتھ قیمتی دوکانیں تھیں جو سکندر خان کی ملکیت تھیں اور بعد میں حاجی عبدالرحمن و حاجی عبدالغنی کے لیے بڑا مالی سہارا تھیں۔ احرار کو اگر بٹالا کی امداد نہ ہوتی تو اس کے لیے قادیان میں کام کرنا ممکن نہ ہوتا۔
ہم لوگوں کو قادیان میں کسی بھی مشکل کا سامنا ہوتا تو ہم بٹالا پہنچ جاتے۔ حاجی عبدالرحمن اور حاجی عبدالغنی کے گھر کا دروازہ ہر وقت ہمارے لیے کھلا رہتا۔ دن ہو یا رات‘ چارپائی‘ کھانا‘ بستر بلا تکلف مہیا ہوتا۔
حاجی صاحب کی زبان مثل سیف و سنان ہماری مشکل کو حل کرنے میں ہمہ تن مصروف ہوتی۔ اگر عوامی مطالبات عوام تک پہنچانے کی ضرورت ہوتی تو فوراً اعلان ہوتا اور ایک وسیع میدان جو منڈی کے نام سے مشہور تھا۔ اور حاجی صاحبان کی ملکیت تھا وہاں جلسہ ہو جاتا اور ہمارے مطالبات حکام بالا تک پہنچ جاتے۔ یہ منڈی احرار لیڈروں کے جلسوں کے لیے ہمیشہ آماجگاہ رہی۔ سید عطاء اللہ شاہ بخاری‘ شیخ حسام الدین‘ مولانا حبیب الرحمٰن لدھیانوی نے بارہا اس منڈی میں تقاریر کیں۔ آغا شورش کاشمیری جب احرار میں شامل ہوئے تو انہیں بٹالا آنے کی دعوت دی گئی۔ انہوں نے ہاتھ میں کلہاڑی لے کر اس منڈی میں مرزائیوں کے خلاف اس زناٹے کی تقریر کی کہ قادیان میں بیٹھے مرزائی تھرا اُٹھے۔
ہماری تبلیغ کا مرکزی مقام ”مسجد ارائیاں قادیان“ تھا ہر جمعہ کو مرزائیوں کے خلاف تقاریر ہوتیں اور گردونواح کے ہزاروں مسلمان شامل ہوتے۔ جمعہ کے دن ہندو سکھ بھی بڑی تعداد میں تقاریر سننے آتے ایک سکھ جو کسی نواحی گوردوارے کا ”بھائی“ (خادم)
تھا۔ جمعہ کے دن میرے منبر کے ساتھ آ کر بیٹھتا اور محفوظ ہوتا۔ انتظام کرنے کے لیے پولیس کی پوری گارڈ مسجد کے دروازے پر موجود ہوتی۔ مرزائیوں کی گھبراہٹ کے دنوں میں کئی گارڈیں قادیان میں متعین کر دی گئی تھیں تاکہ مرزائیوں کی گھبراہٹ کسی فتنہ پر آمادہ نہ ہو جائے۔ مسٹر مرہنڈ گورداسپور کے ڈپٹی کمشنر تھے۔ جمعہ کے دن وہ قادیان سے ”امن کی رپورٹ“ آنے تک بے چین رہتے اور عموماً مجھے بلا کر امن کی تلقین کرتے اور ہر قسم کی جائز قانونی امداد کا یقین دلاتے تھے۔
امرتسر کے مسلمانوں کو بھی ہماری تحریک سے ہمدردی تھی۔ بعض اوقات جمعہ کے دن ہم مولانا ”بہاء الحق قاسمی“ کو تقریر کے لیے بلا لیتے تھے۔ مفتی ”محمد حسن“ صاحب جنہوں نے لاہور آ کر ”جامعہ اشرفیہ“ کی بنیاد رکھی۔ ہمارے ساتھ بڑا اظہار ہمدردی فرمایا کرتے تھے۔ ان کا اعلان تھا کہ ”جو صاحب امرتسر سے قادیان تقریر کے لیے جائے اس کا کرایہ آمد و رفت میں ادا کروں گا“ مولانا عبدالغفار غزنوی جو مولانا داؤد غزنوی کے چھوٹے بھائی تھے اور ایک آتش فشاں مقرر تھے۔ عموماً جمعہ کے دن قادیان تشریف لاتے تھے اور تقریر کر کے شام کو یہ بذریعہ ریل امرتسر واپس تشریف لے جاتے تھے اسی طرح حضرت مولانا احمد علی صاحب آف شیرانوالہ دروازہ لاہور (رحمتہ اللہ علیہ) بھی جمعہ کے دن تشریف لائے اور شدید بارش کے باوجود مرزائیوں کے خلاف دھواں دھار تقریر کی اور مجمع بارش میں بھیگتا ہمہ تن گوش بن کر بیٹھا رہا۔ اسی سلسلہ میں شیخ حسام الدین بھی قادیان تشریف لائے اور رات کے وقت ایسے مقام پر تقریر کی جہاں سے خلیفہ محمود کا قصر خلافت قریب پڑتا تھا اور قصر خلافت میں بیٹھ کر شیخ صاحب کی تقریر بآسانی سنی جا سکتی تھی اور غالباً خلیفہ نے سنی ہوگی۔ انہوں نے اپنی تقریر میں مرزائیت کے بخیے ادھیڑ کر رکھ دیئے اگر پولیس کا خاطر خواہ انتظام نہ ہوتا تو مرزائی ضرور فساد پر آمادہ ہو جاتے۔
ایک دن گورداسپور کے سپرنٹنڈنٹ پولیس نے جو انگریز تھا مجھے بلا کر کہا ”مرزائیوں میں آپ کی تحریک سے بڑی تلملاہٹ ہے آخر اس کا کیا نتیجہ ہوگا؟“ میں نے کہا ”صاحب! آپ نے نوخیز بچھڑے کو کبھی دیکھا ہے کہ جب اسے ابتداً سواری کے لیے تیار کیا جاتا ہے تو وہ اپنی پیٹھ پر کپڑا بھی نہیں سہارتا، کودتا اور دولتیاں مارتا ہے۔ لیکن کچھ عرصہ کے بعد وہ ایسا عادی ہو جاتا ہے کہ جب اپنے سوار کو دیکھتا ہے تو کان اور گردن جھکا
کر سوار کا انتظار کرتا ہے پھر سوار جہاں چاہے باگ کے اشارہ پر نہایت منقاد و فرماں بردار ہو کر چلتا ہے۔ قادیان میں انہوں نے کبھی سواری نہ دیکھی تھی اور ان کے کان بچھیرے کی پیٹھ کی طرح نا آشنا تھے جیسے بچھیرے کی پیٹھ بوجھ سے نا آشنا ہوتی ہے اور وہ تنکا بھی سہارنا بڑا بوجھ خیال کرتی ہے ان کے کان بھی ایسی آواز سے نا آشنا اور نامانوس تھے۔ اب جبکہ نامانوس آواز سنتے ہیں تو بچھیرے کی طرح کودتے ہیں جب انہیں شناسائی اور مانوسیت ہو جائے گی تو سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔ اور یہ لوگ کان تک بھی نہ ہلائیں گے۔ صاحب بہادر میری بات سن کر کھلکھلا کر ہنس پڑا اور کہا ” آپ نے مثال خوب دی ہے۔“
عبداللطیف ٹوپیاں والا
عبداللطیف بٹالا کا رہنے والا تھا اور ”سگے زئی“ برادری سے تعلق رکھتا تھا۔ جامع مسجد شیر شاہی بٹالا کے دروازہ پر اس کی ٹوپیوں کی دکان تھی۔ حاجی عبدالرحمٰن جمعہ کے دن اس کی دکان پر بیٹھ جاتے تھے اور تقریر کے وقت مجمع میں جا کر تقریر کر دیتے تھے۔ یہ عبداللطیف احرار کے شیدائی اور بڑے مخلص کارکن تھے ہر تحریک میں قربانی کے لیے تیار رہتے تھے۔ دو بھائی تھے اور دونوں مرزائیوں کے دشمن اور احرار کے فدائی تھے۔ تقسیم ہند کے بعد متعدد بار میری ان سے ملاقات ہوئی ماشاء اللہ اب تو بڑے کاروباری ہیں اور مرزائیوں کے متعلق وہی دم خم رکھتے ہیں۔
مولوی محمد یعقوب آف بھامڑی
آپ مشہور مبلغ اسلام مولانا امیر احمد صاحب بھامڑی کے فرزند ہیں۔ اچھے عالم دین اور مرزائیت کے خلاف پرخلوص جذبہ رکھتے ہیں۔ جس زمانہ میں نواح قادیان میں رہائش پذیر کوئی بھی عالم مرزائیوں کی مخالفت کرنے والا موجود نہ تھا اس زمانہ میں اکیلے محمد یعقوب صاحب تھے جو علاقہ بھر میں دورہ کر کے عوام کو مرزائیت سے آگاہ کرنے کا فریضہ سرانجام دیتے تھے ان کی پشت پر کسی جماعت کا ہاتھ نہ تھا وہ صرف اللہ پر بھروسہ کر کے اکیلے بغیر تنخواہ وغیرہ کے لالچ کے للہ فریضۂ تبلیغ ادا کیا کرتے تھے اس سلسلہ میں انہوں نے کئی مناظرات بھی مرزائیوں سے کیے تھے یہی وجہ ہے کہ مرزائی اس علاقہ میں بہت کم لوگوں کو مرزائی بنانے میں کامیاب ہو سکے۔ اور بحمد اللہ علاقہ کی بھاری اکثریت جوں کی
توں اپنے سابقہ ”سنی عقائد“ پر قائم رہی۔ جب ہم قادیان پہنچے تو انہوں نے ہمارے ساتھ بھر پور تعاون کیا اور کہا کہ ”اب میری ڈیوٹی ختم ہوئی آج سے ڈیوٹی تمہاری ہے اور میں اپنا تعاون بدستور قائم رکھوں گا۔“ اور ایک مختصر سی دکان بھامڑی میں کھول لی۔ دامے درمے ہمیشہ امداد کرتے رہے۔ تقسیم کے بعد لائل پور (فیصل آباد) آگئے اور بدستور اپنی دکان چلاتے رہے۔ کام چل نکلا اور اب بفضلہ تعالٰی لاکھوں میں کھیل رہے ہیں۔ کبھی فیصل آباد جانا ہوتا ہے تو ملاقات ہوتی رہتی ہے۔ بڑی عزت و احترام سے پیش آتے ہیں۔ ہماری دعا ہے کہ خدا انہیں مزید ترقی دے۔ آمین۔
غازی عبدالحق صاحب
غازی عبدالحق قادیان کا رہنے والا جوشیلا نوجوان تھا۔ مرزائیت کے خلاف اس کے سینہ میں ایک جذبہ تھا۔ ایک جلن اور تڑپ تھی جو اسے ہر وقت تبلیغ کے لیے تیار رہنے پر مجبور کرتی تھی اور ہر دورہ میں جو ہم قادیان کے نواح میں کرتے تھے کاروبار چھوڑ کر ہمارے ساتھ رہتا تھا۔ اس کا قریبی رشتہ دار ایک مخلص کارکن شیخ عبدالعزیز تھا۔ یہ مزاج کا ٹھنڈا مگر اخلاص و قربانی کا مجسمہ تھا۔ قادیان میں بڑے مشکل سے مشکل وقت میں یہ لوگ ہمارے کندھے سے کندھا ملائے شریک کار رہے۔ انہیں کئی کئی دن ہمارے ساتھ رہنا پڑتا تھا مگر کیا مجال کہ کبھی حرف شکایت زبان پر لائے ہوں۔ مرزائیوں کی جانب سے بعض اوقات بڑی خونخوار دھمکیاں آتی تھیں بسا اوقات لالچ بھی دیا جاتا تھا مگر کیا مجال کہ کبھی کسی کا قدم یا عزم ڈگمگایا ہو۔ شیخ عبدالعزیز کا اب انتقال ہو چکا ہے اور ان کے صاحبزادہ عبدالحق لائل پور (فیصل آباد) میں بہ قید حیات ہیں۔ شیخ عبدالعزیز کے لڑکے اپنے کاروبار میں مصروف ہیں اور بڑے خوش و خرم ہیں۔ مکانات بھی سب نے اپنے بنا لیے ہیں اور بڑے عمدہ کاروبار میں مصروف اور خوش ہیں۔ غازی عبدالحق کا کاروبار بہت اچھا ہے۔ اس کے لڑکے کام کرتے ہیں اور وہ خود قومی کاموں میں مصروف رہتا ہے۔ مشہور بریلوی عالم مولانا سردار احمد صاحب مرحوم سے وابستہ رہا ہے اور ان کے مدرسہ کا بڑا معاون و مددگار ہے۔ مجھے اگر کبھی فیصل آباد جانا ہو تو انہی کے ہاں ٹھہرتا ہوں وہ اب بھی ہر قسم کی خدمت
گزاری کے لیے کمر بستہ رہتے ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں مزید ترقی دے اور زیادہ سے زیادہ دینی کاموں کی توفیق دے۔ آمین۔
عبداللہ ٹیلر ماسٹر
یوں تو قادیان میں تمام لوگ بلا تفریق ہندو مسلم ہمارے بڑے خیر خواہ تھے اور ہر دکھ سکھ میں ہمارے شریک حال رہتے تھے۔ مجھے بڑھاپے نے مضمحل کر رکھا ہے اور میرے حافظے پر بھی اس کا شدید اثر پڑا ہے اس لیے مجھے ان دوستوں کے نام بھول گئے ہیں جو رات دن ہمارے ساتھ کام کرتے تھے۔ ان میں ایک ماسٹر عبداللہ بھی تھے جو صبح و شام ہمارے دفتر کا چکر لگاتے رہتے تھے۔ اپنا کام کرتے آجاتے اور دریافت کرتے کہ ”کوئی نئی بات ہے“۔ اگر کوئی بات ہوتی تو مشورہ کر لیتے ورنہ تھوڑی دیر بیٹھ کر کام پر چلے جاتے۔ کام کرتے پھر آجاتے اور کہتے ”مولوی صاحب جب تک تمہاری خبر نہ لے لوں، مجھے گھر پر آرام نہیں آتا۔“ ان کے ایک بھائی تھے جن کا نام عبدالرحمن تھا۔ وہ بھی تابعدار تھے مگر دفتر میں کم آتے تھے۔
عبدالحمید
میرے ساتھ ایک ہونہار نوجوان تھا جس کا نام خواجہ عبدالحمید تھا۔ وہ قادیان کا قدیمی باشندہ تھا۔ کشمیری قوم سے تعلق رکھتا تھا۔ میٹرک پاس تھا۔ قادیانیوں کا شدید مخالف اور ہمارے دفتر احرار سے بڑا پیار اور محبت رکھتا تھا۔ ہر کام کے لیے آمادہ و تیار رہتا تھا۔ گھر سے کھا کر دفتر سے وابستہ تھا اس کا ایک بڑا بھائی تھا۔ جو ان پڑھ تھا۔ قادیانیوں نے اس پر بڑے ڈورے ڈالے مگر بے سود۔ اس کا ایک بوڑھا چچا اور جوان چچازاد بھائی بھی تھا۔ یہ کاروباری آدمی تھے اور سبزی کا کام کرتے تھے۔ بوڑھے چچا کو تو دفتر سے اس حد تک انس اور پیار تھا کہ وہ ہر روز بلا ناغہ باوجود دن بھر کام کرنے کے شام کا کھانا کھا کر دفتر آجاتا۔ اور خاموش ایک کونے میں بیٹھا رہتا تھا۔ اخلاص کا پتلا تھا۔ اب ایسے مخلص لوگ کہاں ملتے ہیں؟ جو بلا کسی طمع و نفع کے للہ محبت کریں۔ اور ان کے پیش نظر خالص دین حنیف کی محبت ہو۔ ان کا ایک دوسرا چچا چوہدری امام دین نام کا تھا۔ وہ نرینہ اولاد سے محروم تھا۔ دفتر کا اتنا خادم کہ میرا قلم اس کے اوصاف رقم کرنے سے قاصر ہے۔ یہ لوگ زندہ ہیں تو مالک حقیقی
انہیں خوش رکھے اور اگر وہ اس دنیا کو چھوڑ چکے ہیں تو اللہ تعالیٰ انہیں اپنے جوارِ رحمت میں جگہ دے۔ آمین۔
لاہور سے حضرت مولانا احمد علی صاحب امیر انجمن خدام الدین شیرانوالہ دروازہ پھر قادیان تشریف لائے۔ امرتسر سے عموماً مولانا بہاء الحق قاسمی اور مولانا عبدالغفار غزنوی مرحوم جو کہ مولانا داؤد غزنوی مرحوم کے برادر خورد تھے۔ تشریف لاتے تھے۔ امرتسر میں حضرت مولانا مفتی محمد حسن صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے جو پاکستان میں آکر جامعہ اشرفیہ کے بانی بنے انہوں نے اعلان کر رکھا تھا کہ ”جو عالم امرتسر سے قادیان جمعہ پڑھانے جائے گا اس کا کرایہ آمدورفت میں ادا کروں گا۔“ بہرحال یہ ایک سلسلہ تھا جو ہم نے جاری کر رکھا تھا۔ سر ظفر اللہ اس کی والدہ اور مرزا محمود کی دہائی کا یہ اثر ہوا کہ انگریزی حکومت نے باہر سے آنے والے علماء کا قادیان میں داخلہ بند کر دیا۔ قاضی احسان احمد صاحب شجاع آبادی شجاع آباد سے تشریف لائے تو بٹالا میں پولیس نے انہیں روک لیا۔ ملک میں بڑا احتجاج ہوا۔ مگر انگریزی حکومت اڑ گئی اور انہیں قادیان میں داخل نہ ہونے دیا۔
حق گوئی و بیباکی...... نبی آخرالزماں صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت پر ڈاکہ زنی ہوتے ہوئے دیکھ کر مولانا احمد رضا خان بریلوی تڑپ اٹھے اور مسلمانوں کو مرزائی نبوت کی زہر سے بچانے کے لئے انگریز کے ظلم و بربریت کے دور میں علم حق بلند کرتے ہوئے اور شمع جرات جلاتے ہوئے مندرجہ ذیل فتویٰ دیا۔ جس کا حرف حرف قادیانیت کے سومنات کے لئے گرز محمود غزنوی ہے۔ قادیانیوں کے کفریہ عقائد کی بناء پر اعلیٰ حضرت احمد رضا خان بریلویؒ نے مرزائی اور مرزائی نوازوں کے بارے میں فتویٰ دیا کہ قادیانی مرتد، منافق ہیں، مرتد منافق وہ کہ کلمہ اسلام اب بھی پڑھتا ہے، اپنے آپ کو مسلمان بھی کہتا ہے اور پھر اللہ عزوجل یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یا کسی نبی کی توہین کرنا یا ضروریات دین میں سے کسی شے کا منکر ہے اس کا ذبیح محض نجس، مردار حرام قطعی ہے، مسلمانوں کے بائیکاٹ کے سبب قادیانی کو مظلوم سمجھنے والا اور اس سے میل جول چھوڑنے کو ظلم و ناحق سمجھنے والا اسلام سے خارج ہے اور جو کافر کو کافر نہ کہے وہ بھی کافر۔ (احکام شریعت ص ١١٢‘ ١٢٣‘ ١٧٧‘ اعلیٰ حضرت احمد رضا خاں بریلویؒ)
مزید فرمایا کہ اس صورت میں فرض قطعی ہے کہ تمام مسلمان موت و حیات کے سب علاقے ان سے قطع کردیں۔ بیمار پڑے پوچھنے کو جانا حرام، مرجائے تو اس کے جنازے پر جانا حرام اسے مسلمانوں کے گورستان میں دفن کرنا حرام، اس کی قبر پر جانا حرام۔
(فتاویٰ رضویہ ص ٥١، جلد ٦۔ مولانا احمد رضا خاں بریلویؒ)
قادیا
مرزائی جماعت کا
مولانا محمد ا جماعت کا خان لیاقت لبادہ اوڑھ کر انگریزی مسلمانوں کی جاسوسی کر رہی کہیں اقتدار کی ہ اقتصادی مفاد لالچ حا کشی کرتی رہی ہے اور اپنا مرکز بنا کر کئی قسم ۔ مسلمانوں کے خلاف خفیہ
انجمن اطفال احمد
مثلاً ١٨ سا
خدام الاحمدیہ
١٨ سال۔ ناصر خلیفہ ثالث پر مر
قادیان میں قادیانیوں کی دہشت گردیاں
واقعات وحقائق کے آئینے میں
مرزائی جماعت کا پس منظر ! پردہ اٹھتا ہے
مولانا محمد اسلم قریشی کے اغواء کے بعد اب یہ بات کھل کر سامنے آگئی ہے کہ مرزائی جماعت کا خان لیاقت علی خان کے قتل میں خفیہ ہاتھ کام کرتا رہا قادیانی جماعت مذہبی لباس کا لبادہ اوڑھ کر انگریزی دور میں ”خود کاشتہ پودا“ بن کر انگریزی حکومت کی بقاء کے لیے مسلمانوں کی جاسوسی کا کارنامہ سرانجام دیتی رہی اور حکومت انگریزی سے مختلف مفاد اٹھاتی رہی کہیں اقتدار کی صورت کہیں ملازمتوں سے مفاد کہیں سرکاری ٹھیکیداری حاصل کر کے اقتصادی مفاد لالچ حاصل کرتی رہی ہے اور اسلام و علمائے کرام کے خلاف پوری قوت سے کردار کشی کرتی رہی ہے اور قادیان کو سٹیٹ بنوانے کے لیے ہر حربہ استعمال کرتی رہی اور قادیان کو اپنا مرکز بنا کر کئی قسم کے پریس لگائے اور مختلف انجمنوں کی صورت میں اپنی تبلیغ کرتی رہی اور مسلمانوں کے خلاف صف آرا رہی۔
انجمن اطفال احمدیہ
مثلاً ١٨ سال سے کم عمر بچوں کی ”انجمن اطفال احمدیہ“
خدام الاحمدیہ
١٨ سال سے پچاس سال کی عمر میں مجلس خدام الاحمدیہ جس کا صدر آنجہانی مرزا ناصر خلیفہ ثالث پسر مرزا محمود خلیفہ دوئم۔
مجلس حزب اللہ قادیان
پچاس سال سے زائد عمر والے قادیانی مرزائیوں کی انجمن مجلس حزب اللہ قادیان سیاسی نام پر مرکزی نیشنل لیگ قادیان جس کا صدر آنجہانی اسد اللہ خان بیرسٹر برادر ظفر اللہ خان بیرسٹر اور آنجہانی شیخ بشیر احمد ایڈوکیٹ مرزائی جس نے پنڈت جواہر لعل نہرو صدر کانگریس ہند کا لاہور میں احمدیہ کور اور مجلس خدام الاحمدیہ کے ذریعے استقبال کیا اور مسز لاڈو رانی زتشی صدر پنجاب کانفرنس کو قادیان بلوا کر اس کا استقبال کیا اور فتح محمد سیال عرف فتو سیال کی صدارت میں جلسہ کروادیا اور مسلم لیگ وقائد اعظم کے خلاف شدید الزامات و بے ہودہ بہتان لگائے اور مرزا غلام احمد کی سنت پر عمل کرتے ہوئے ہرزہ سرائی کی۔
دراصل قادیانی جماعت شروع ہی سے تشدد پسند رہی ہے اور اس سلسلہ میں قادیانی عورتوں کو بھی منظم کیا اور قادیانی نوجوان عورتوں کو ہر قسم کے سیاسی گر سکھا کر مسلمانوں کے گھروں میں جبراً داخل کر کے ان کو مرزائیت کی تلقین کرتی تھیں اس تنظیم کا نام لجنہ اماء اللہ قادیان رکھا اور اس انجمن کی صدر مرزا محمود خلیفہ قادیان کی بیوی تھی اس کا اخبار ہفتہ وار ”مصباح“ جاری کیا پھر محلہ وار مردوں اور عورتوں کی الگ انجمن کی تنظیم کی طلباء کی احمد سٹوڈنٹ فیڈریشن مردوں کے لیے اخبار ہفت روزہ ”الحکم قادیان“ ہفت روزہ ”فاروق“ ہفت روزہ ”بدر“ روزنامہ ”الفضل عرف الدجل قادیان“ انگریزی میں ریویو آف ریلیجنز ”REVIEW OF RELIGIONS“ اور ریویو آف ریلیجنز اردو ایڈیشن الگ جاری کیا اللہ بخش سٹیم پریس فضل اللہ پریس ہفت روزہ تحریک جدید وغیرہ وغیرہ کے ذریعہ انگریزوں کی خدمات اور مسلمانوں میں سرپھٹول جاری رکھا اور قادیان کے مسلمانوں کو وہاں جلسہ تک کرنے کی اجازت نہ دی انگریزی حکومت فوراً دفعہ 144 C.P.C نافذ کر کے علمائے کرام کا داخلہ بند کر دیتی جہاں مرزائیوں کو ہر وقت اور ہر قسم کے جلسے جلوس کی عام اجازت تھی جلسے جلوس کے نعرے ”کرشن قادیانی کی جے“
قادیان کے مسلمان قادیانی تنظیم کا مقابلہ نہ کر سکتے تھے کیونکہ حکومت مسلمانوں کو دبا دیتی تھی۔
پہلا اسلامی جلسہ
1926ء میں قادیان کی انجمن اسلامیہ کے نام پر انجمن قائم کر کے جلسہ کرنا چاہا تو
انگریز ڈپٹی کمشنر نے پہلے تو جلسہ کرنے کی اجازت دے دی مگر بعد میں پھر حکم جاری کر دیا کہ ”آئندہ اینٹی احمدیہ“ مسلمانوں کو اجازت جلسہ نہیں دی جائے گی مختلف علمائے کرام نے اپنے علاقہ میں جلسہ کیا لیکن مرزائیوں نے اس جلسہ کے خلاف ہر قسم کی دہشت گردی کی اور لٹھ بند اور رائفل بند قادیانی آگئے اور جلسہ درہم برہم کرنے کی پوری کوشش کی مگر سکھ تھانیدار اور ہندو جوشپ نے جلسہ کو حفاظت میں لے لیا اور مرزائیوں کی سازش ناکام رہی۔
دوسرا جلسہ ١٩٢٩ء
انجمن اسلامیہ نے دوسرا جلسہ ١٩٢٩ء میں کیا جس میں مولانا ثناء اللہ امرتسری صاحب اور دیگر علمائے کرام اہلسنت نے متفقہ طور پر اشاعت اسلام کی تبلیغ کی۔ مولانا ثناء اللہ صاحب دوپہر کو تقریر کر کے چلے گئے اور مباہلہ کے واقعات سنائے رات کو قادیانی والنٹیروں نے جلسہ کے سائبانوں کی کناتیں کاٹ دیں اور گیس توڑ ڈالے علمائے کرام پر حملہ کیا مولوی محمد ابراہیم بٹالوی اور دیگر علماء کو شدید زخمی کیا مقدمہ چلا آخر چند قادیانی حملہ آوروں کو سزائیں ہوئیں۔
قادیانی تنظیم
مسلمانوں کے جلسے کو روکنے کے لیے مقامی جنرل پریذیڈنٹ انجمن احمدیہ الگ کور تھی اور بیرونی دیہات یا شہروں میں جانے کے لیے الگ کور تھی جس کا سپہ سالار محمد حیات سرمہ فروش ”مسجد اقصیٰ“ تھا۔ یہ تنظیم ہر صبح پریڈ کرتی نعرے بازی کرتی اس کے پریڈ کے مختلف کوڈ الفاظ تھے اس کور کے پاس ربڑ کی غلیلیں چھروں کی بندوقیں اور کلہاڑیاں وغیرہ ہوتے تھے مرزا محمود کا باڈی گارڈ دستہ الگ تھا جس کا نام ”محکمہ کار خاص“ تھا اس کا انچارج مرزا شریف احمد برادر مرزا محمود خلیفہ قادیان تھا جو عام شہر میں جاسوسی کی خبر لاتا ناظر امور عامہ مرزا محمود خلیفہ قادیان کا سالا جس کو سالار جنگ کہتے ہیں ولی اللہ شاہ تھا (وزیر داخلہ قادیانی سٹیٹ) وہ انگریزی حکومت کے افسروں سے میل ملاقات جھوٹی رپورٹیں دے کر مسلمانوں..... کو دبا رکھنا اس کا وظیفہ تھا۔
ناظر ضیافت سلسلہ احمدیہ قادیان مرزا محمود خلیفہ قادیان کا ماموں میر محمد اسحاق تھا۔ افسروں کی دعوتیں کرنا، بڑے آفیسروں کے لئے الگ مہمان خانہ بنوا رکھا تھا۔
مڈل کلاس ملازمین کے لیے ایک الگ مہمان خانہ تھا بڑے بڑے آفیسروں کو مرغ‘ بٹیر‘ تیتر‘ متنجن‘ ہرن کا گوشت پلاؤ بریانی نفیس ماکولات و مشروبات کھلاتا تھا۔ مڈل کلاس کے لیے بیل بھینس کا گوشت اور روٹی گوشت کدو‘ گوشت شلجم وغیرہ موٹے جھوٹے کے لیے چاول پکتے تھے۔
جمعہ کا آٹا
مگر اس کے ساتھ ہی یتیم بچوں مرزائیوں کا بہشتی مقبرہ کے قریب محلہ موسومہ دارالضعفاء تھا جس میں یتیم مرزائی لڑکے رکھے جاتے تھے ان کو دیہات میں بھیجا جاتا اور دیہات سے جمعہ کا آٹا...... مانگ مانگ کر لاتے اور اپنا پیٹ بھرتے۔
تائبین کا حشر
غالباً ١٩٢٨ء میں اخبار الفضل کے ایڈیٹر محفوظ الحق علمی اور نائب ایڈیٹر مہر محمد شہاب اور ماسٹر اللہ دتہ مبلغ جماعت قادیانی تائب ہوئے ان کا قادیان میں رہنا محال کر دیا گیا اور ان کا بائیکاٹ ان پر حملے ان کی آبرو برباد کر دی گئی تو ان کو قادیان سے نکال دیا گیا اور وہ بہا اللہ ایرانی نبی پر ایمان لا کر بہائی ہو گئے۔
مستری عبدالکریم مباہلہ فضل کریم و محمد زاہد کے تائب ہونے پر عتاب
اس طرح غالباً ٣١۔١٩٣٠ء میں مستری عبدالکریم مبلغ (جو بعد میں تائب ہو کر مولانا عبدالکریم مباہلہ کے نام پر مشہور ہوئے) اور مستری فضل کریم و محمد زاہد قادیانیت سے تائب ہوئے تو ان کو اور ان کے بال بچوں کو زندہ جلانے کا پروگرام بنایا گیا مغرب سے کچھ پہلے ان کو ایک عورت نے اطلاع دے دی تو وہ برقعہ پہن کر مکان سے بال بچوں کو لے کر اپنے مکان سے نکل آئے اور آدھی رات کو ان کے مکان واقعہ نزد پل بہشتی مقبرہ کو آگ لگا دی گئی اور سارا مکان جل کر راکھ کا ڈھیر بن گیا صبح کو مرزائیوں نے یہ خود ہی پروپیگنڈہ شروع کر دیا کہ مستریوں نے اپنے مکان کو خود آگ لگا دی مستری فضل کریم عبدالکریم‘ محمد زاہد امرتسر میں جا کر پناہ گزین ہوئے خلیفہ محمود نے ان کے خلاف اشتعال انگیز تقریریں کیں اور عبدالکریم مباہلہ پر حکومت انگریزی نے مقدمہ زیردفعہ 53A مقدمہ بنا دیا جو ضلع گورداسپور میں زیر سماعت رہا
اور وہ امرتسر سے بس کے ذریعے گورداس پور پیشی کے لیے آنے جانے لگا۔
عبدالکریم مباہلہ کے قتل کا منصوبہ
اس پر بھی مرزا محمود خلیفہ جماعت قادیانی کا غصہ فرو نہ ہوا تو اس کے قتل کا منصوبہ بنایا گیا محمد امین خان پٹھان مبلغ بخارا روس جو مرزائیوں کا ہیرو تھا اس کے ذریعے نوشہرہ سے قاضی محمد علی مرزائی کو بلایا گیا کہ وہ بس میں مولوی عبدالکریم مباہلہ کو قتل کر دے محمد امین خان مبلغ کو روپیہ دیا گیا کہ وہ کرایہ پر قاتل کو لائے اور رقم دے دے۔
قادیانی والینٹیر
امرتسر میں قادیانی والینٹیر کو عبدالکریم مباہلہ کی نگرانی پر مقرر کیا گیا قادیانی والینٹیر عبدالکریم مباہلہ کو جانتا پہچانتا تھا جس دن عبدالکریم مباہلہ بس میں سوار ہوا وہ والینٹیر بھی چپ کر کے بس میں سوار ہو گیا بس بٹالہ آ کر ٹھہری قاضی محمد علی نوشہروی بھی اس بس میں سوار ہوا تھا قادیانی والینٹیر نے قاضی محمد علی قادیانی کو عبدالکریم کی طرف اشارہ کیا بٹالہ سے عبدالکریم مباہلہ کا ضامن چوہدری محمد حسین مالک نریندار فونڈری بھی سوار ہوا تھا دونوں عبدالکریم اور محمد حسین اکٹھے بیٹھے ہوئے تھے بٹالہ سے چند میل آگے بس چلتی جا رہی تھی کہ قاضی محمد علی مرزائی کرایہ کے قاتل نے تیز چھرا نکالا اور وار کیا قاضی محمد علی قاتل کو غلطی لگی وہ محمد حسین چوہدری کو ہی عبدالکریم سمجھتا تھا قاتلانہ وار محمد حسین ضامن پر کر دیا اور چوہدری محمد حسین بس میں ہی شہید ہو گیا اور قدرت نے عبدالکریم مباہلہ کو بچا لیا۔
قاتل کی گرفتاری
قادیانی قاتل محمد علی پکڑا گیا۔ اس کا چالان پی پی سی / 302 میں ہوا مقدمہ چلا قاتل کی پیروی مرزا عبدالحق مرزائی ایڈوکیٹ گورداسپور نے کی چوہدری ظفر اللہ خان عرف ظفرو چوہدری نے پیروی کی ان کی امداد کے لیے مرزائی وکلاء فضل الدین وکیل قادیان‘ مرزا محمد احمد وکیل کپور تھلہ‘ ارشد علی وکیل مرزائی قاتل کو پھانسی کی سزا ہوئی ہائی کورٹ لاہور سے قاتل کی اپیل خارج ہوئی لاہور ہائی کورٹ میں شیخ بشیر احمد ایڈوکیٹ لاہور مرزائی وکیل نے پیروی کی اپیل خارج ہوئی پھر پریوی کونسل لنڈن میں کی گئی وہاں سے بھی اپیل خارج ہوئی اس
مقدمہ میں چوہدری ظفر اللہ عرف ظفرو مرزائی نے پوری تگ و دو کی مگر قاتل خدائی عذاب سے نہ بچ سکا۔
قاضی محمد علی مرزائی کی لاش قادیان لائی گئی اس کی لاش کا جلوس نکالا گیا اور "شہید احمدیت" زندہ باد کے نعرے لگائے گئے خلیفہ قادیان مرزا محمود نے اس کا جنازہ پڑھا اس کی نعش کو کندھا دیا گیا اور بہشتی مقبرہ میں اس کو دفن کیا گیا اس کی عزت وتکریم کی گئی مرزائیوں کے مہمان خانہ میں اس کے اعزاز میں مشاعرہ کیا گیا قاضی محمد علی نوشہروی کی خدمات کو بیان کیا گیا۔
صدر مشاعرہ قاضی محمد اکمل ایڈیٹر الفضل عرف الدجل قادیان تھا مشاعرہ میں مرزائی شاعر، رحمت اللہ شاکر، منظور احمد بھیروی حافظ سلیم اٹاوی، ابراہیم عاجز مالکی، روشن دین تنویر وغیرہ وغیرہ شاعران احمدیت نے نظمیں پڑھیں۔
حافظ سلیم اٹاوی کی نظم کا ایک شعر ملاحظہ ہو۔۔
مثل عیسیٰ آسماں پر چڑھ گیا
ان تمام نظموں کا مجموعہ "گلدستہ احمدیت" کے نام سے احمدیہ بکڈپو نے شائع کیا جب خلیفہ قادیان نے یہ "گلدستہ احمدیت" پڑھا وہ بڑا کایاں شخص تھا۔ اس نے فوراً اس پمفلٹ کو ضبط کرنے کا حکم دیا کیونکہ اس سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان پر جانا ثابت ہوتا تھا جو قادیانیت کے دعویٰ مسیح موعود پر ضرب کاری تھا قادیانیت کا تانا بانا ختم ہوتا تھا۔
غالب
مرزائی مبلغ محمد امین مبلغ بخارا کا قتل قدرت کا انتقام
اللہ تعالیٰ کی پکڑ بڑی سخت ہوتی ہے اور اسی کا انتقام دیر گیر وسخت گیر ہوتا ہے محمد امین خان مبلغ بخارا جس نے قاتل محمد علی کرایہ کا قاتل فراہم کیا تھا کچھ رقم محمد امین خان کو پیشگی فراہم کی گئی تھی کہ وہ قاضی محمد علی مرزائی قاتل کو پیشگی دیوے اور کچھ رقم بقایا رکھ لی گئی اس رقم اور سازش، منصوبہ قتل کا انچارج فتح محمد سیال ایم اے عرف فتو سیال ناظر اعلیٰ، قادیان (جس کو وزیر
اعلیٰ کہتے تھے) تھا۔
ایک دن محمد امین خان مبلغ بخارا‘ فتح محمد سیال عرف فتو سیال ناظر اعلیٰ سلسلہ احمدیہ قادیان سے بقایا رقم لینے گیا تو فتح محمد نے اس کو ٹال دیا کہ میری کوٹھی پر مت آؤ دفتر میں آؤ محمد امین خان پٹھان تھا وہ اپنے آپ کو مرزا محمود خلیفہ کا دایاں بازو سمجھتا تھا اس نے کہا کہ دفتر محاسب سے رقم نکلوا کر کوٹھی پر لے آنا میں دفتر میں رقم طلب نہیں کر سکتا اس طرح راز فاش ہو جائے گا اور بات کھل جائے گی اور تبلیغ احمدیت اور جماعت بدنام ہو جائے گی اور مذہبی فرقہ ہونے کا نقاب اتر جائے گا اس دن تو محمد امین خان چلا گیا دوسرے چوتھے روز پھر فتح محمد سیال کی کوٹھی واقعہ نزد موضع بھینی بانگر پہ گیا اور رقم کا تقاضا کیا فتح محمد سیال آخر ناظر اعلیٰ تھا اس نے اپنے چوکیداروں اور کارندوں کو بلایا باتوں باتوں میں بات بڑھ گئی محمد امین خان سختی سے رقم کا تقاضا کرتا تھا فتح محمد سیال نے اٹھ کر حملہ کیا اور اپنے چوب داروں کو حکم دیا کہ اس کو ٹھکانے لگا دو چوب داروں نے لاٹھیوں اور کلہاڑیوں سے وار کیے فتح محمد سیال عرف فتو کی کلہاڑی سے محمد امین قتل ہو گیا گزرگاہ عام تھی لوگوں نے دیکھا کہ محمد امین خان مبلغ بخارا بیدردی سے قتل ہو گیا مگر تھانہ میں کون جائے اور قتل کا گواہ کون بنے تھانہ چوکی پولیس نے پرچہ درج نہ کیا اور لاوارث لاش لکھ کر اپنا انعام و اکرام حاصل کیا۔
(اس قتل کا ذکر بمقدمہ سرکار بنام سید عطا اللہ شاہ بخاری زیر دفعہ 153A تقریر احرار تبلیغ کانفرنس قادیان منعقد اکتوبر ١٩٣٤ء فیصلہ مسٹر جی ڈی کھوسلہ سیشن جج گورداسپور میں موجود ہے جو فیصلہ پڑھنے کے قابل ہے) اس سے کچھ عرصہ پہلے مرزائیوں نے جمع ہو کر غریب شاہ احرار رضا کار پر قاتلانہ حملہ کیا تھا۔
فخر الدین ملتانی کا قتل
قادیانی جماعت قادیان کے احمدیہ چوک پر فخر الدین ملتانی موسومہ احمدیہ کتاب گھر قادیان کا مالک تھا جو قادیانیوں کا مذہبی لٹریچر شائع کیا کرتا تھا اور شیخ عبدالرحمن مصری احمدیہ سکول کا ہیڈ ماسٹر قائم مقام خلیفہ قادیان ممبر ٹاؤن کمیٹی قادیان کا تبلیغی دست راست تھا اور حکیم عبدالعزیز علاقہ مبلغ بھی ایک دوسرے سے واسطہ رکھتے تھے بعض اندرونی باتوں پر ہرسہ کا مرزا محمود خلیفہ قادیانی سے اختلاف ہوا اور فریقین کی پوسٹر بازی ہوئی خلیفہ محمود نے ان کے خلاف
جمعہ کے خطبوں میں تقریریں شروع کر دیں اور ان کے خاندانوں پر ذاتی حملے کیے جس کی بناء پر ان تینوں نے قادیانی جماعت سے علیحدگی کا اعلان کر دیا۔
انجمن انصاریہ احمدیہ کا قیام
مرزا محمود خلیفہ قادیان نے شیخ عبدالرحمن مصری کو ہیڈ ماسٹری احمدیہ سکول سے علیحدہ کر دیا اور شیخ عبدالرحمن مصری، فخر الدین ملتانی، حکیم عبدالعزیز کا بائیکاٹ اور مقاطعہ کا اعلان کر دیا احمدیہ کور اور مجلس خدام الاحمدیہ کے رضا کار شیخ مصری کی کوٹھی کے گرد پہرہ داری کرنے لگے یعنی پکٹنگ کرنے لگے تا کہ پتہ چلے کہ وہ مرزا محمود سے معافی مانگے مگر جب اس نے خلیفہ کے آگے جھکنے سے انکار کر دیا تو ان کے قتل کا منصوبہ بنایا گیا اور ناصر احمد صدر مجلس خدام الاحمدیہ اور عبدالعزیز بھامڑی انچارج کارخاص شیرو لوہار محمد حیات سرمہ فروش انچارج احمدیہ کور اور عزیز قلعی گر (جو عام طور پر شراب پیتا تھا) لال دین موچی نذر محمد مولوی فاضل وغیرہ وغیرہ گروہ اور تحریک جدید قادیان کے چند تربیت یافتہ طلباء کے سپرد یہ کام کیا گیا انجمن انصار احمدیہ کے ہر سہ ممبران کو بروقت اس منصوبہ و سازش کا پتہ چل گیا شیخ مصری نے بذریعہ رقعہ مولانا عنایت اللہ چشتی امیر شعبہ تبلیغ کے پاس انسانیت کے نام پیغام بھیجا کہ اس کی جان اور اس کے خاندان کی عزت و آبرو خطرہ میں ہے محض اللہ اس کی جان بچائی جائے مولانا عنایت اللہ چشتی نے حافظ محمد خان کی سرکردگی میں بارہ رضا کار اس کی کوٹھی پر حفاظت کے لیے بھیج دیئے اور پولیس چوکی میں اطلاع بھجوا دی اور پرتاب سنگھ کو بھی اطلاع دے دی جس کا کنواں و رقبہ شیخ عبدالرحمن مصری کی کوٹھی کے ملحقہ تھا پرتاب سنگھ اور اس کے ہمراہی ٦ سکھ نوجوان ساری رات جاگتے رہے تا کہ کوئی حملہ کوٹھی پر نہ ہو جائے مرزائی رضا کار مسلح تلواریں لے کر آگئے جب مجلس احرار کے سرخپوش نوجوانوں کو پہرہ دیتے دیکھا اور سکھوں کو دیکھا تو کچھ دیر ٹھہر کر واپس چلے گئے اور یہ منصوبہ قتل کامیاب نہ ہوسکا صبح شیخ مصری کی کوٹھی پولیس کی ایک گارڈ بمع اسسٹنٹ سب انسپکٹر پہنچے شیخ نے اپنا کچھ سامان نکالا اور تانگوں پر سامان لاد کر بال بچوں سمیت ہندوؤں کے محلہ میں سکھوں کے مکان میں پناہ لے لی اور کوٹھی کو تالا لگا دیا باقی جو سامان کوٹھی میں تھا وہیں رہنے دیا اور جان بچائی مگر فخر الدین کا مکان بھی غیر محفوظ تھا۔
فخر الدین اور حکیم عبدالـ
فخر الدین ملتانی کی اور ان کے خاندانوں کی سے گزر رہے تھے چند مرزا بڑھ کر چھری سے وار کیا او گردن پر چھری سے وار کیا فخر الدین کثیر خـ سے شدید زخمی ہوا مرزا غیور عزیز قلعی گر پر حملہ کر دیا ہے کو بچا کر مرہم پٹی کروانے زیر دفعہ 302/p.p.c پھانسی دیا گیا وہ بھی "شہید جماعت کا پروپیگنڈہ بڑا مـ کی شکل میں مرزا محمود کی حـ ان کا تھا واقعات کو توڑ مرـ ثواب سمجھتے تھے جو انہوں ـ
مسلمانوں کی عید گاہ
غالباً ٣٨۔٧ دیہات سے مسلمان عید مسلمانوں پر مسلح قادیانی میں عید پڑھنے سے روکـ مسلمانوں نے عید گاہ خانـ جنرل پریذیڈنٹ انجمن اـ کو یکدم حملہ کا وہم و گمان
فخر الدین اور حکیم عبدالعزیز پر قاتلانہ حملہ
فخر الدین ملتانی اور حکیم عبدالعزیز دونوں پولیس چوکی میں اطلاع دینے گئے کہ ان کی اور ان کے خاندانوں کی جان و مال عزت و آبرو خطرے میں ہے جب یہ ریتی چھلہ بازار سے گزر رہے تھے چند مرزائیوں نے ان کو گھیر لیا جو پہلے ہی تاک میں بیٹھے تھے عزیز قلعی گر نے بڑھ کر چھری سے وار کیا اور فخر الدین کے پیٹ میں گھونپ دی وہ گر گیا اور حکیم عبدالعزیز کی گردن پر چھری سے وار کیا کندھے پر زخم کاری لگا۔
فخر الدین کثیر خون بہہ جانے کی وجہ سے وہیں ختم ہو گیا اور حکیم عبدالعزیز کاری زخم سے شدید زخمی ہوا مرزائیوں نے بازاروں میں جھوٹا شور مچایا کہ فخر الدین اور حکیم عبدالعزیز نے عزیز قلعی گر پر حملہ کر دیا ہے قریب کے سکھ اور مسلمان دکاندار موقع پر پہنچ گئے اور حکیم عبدالعزیز کو بچا کر مرہم پٹی کروانے لگے قاتل عزیز قلعی گر مرزائی پکڑا گیا اور پولیس نے اس کا چالان کیا زیر دفعہ 302/p.p.c اس پر کیس چلا پھانسی کی سزا ہوئی کورٹ نے اپیل نامنظور کر دی اور وہ پھانسی دیا گیا وہ بھی ”شہید احمدیت“ قرار دیا گیا (اس جماعت کے جھوٹ کا پول) قادیانی جماعت کا پروپیگنڈہ بڑا مضبوط تھا جھوٹ کو سچ بنا دینا ان کے بائیں ہاتھ کا کرتب تھا۔ ریاست کی شکل میں مرزا محمود کی حکومت تھی اور پولیس و حکام ضلع بھی ان سے مرعوب ہو جاتے پریس ان کا تھا واقعات کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کے ماہر تھے اپنی جماعت کی خاطر جھوٹ بولنے کو ثواب سمجھتے تھے جو انہوں نے غلام احمد دجال سے سیکھا تھا۔
مسلمانوں کی عیدگاہ پر حملہ
غالباً ٣٨۔١٩٣٧ء کا واقعہ ہے کہ مسلمانوں کی عیدگاہ میں بوقت عید ارد گرد کے دیہات سے مسلمان عید پڑھنے آجاتے تھے یہ قادیانی خلیفہ کو ناگوار تھا اس نے عید کے روز مسلمانوں پر مسلح قادیانی رضا کاروں کو اور عام مرزائیوں کو وہاں بھیج دیا کہ مسلمانوں کو عیدگاہ میں عید پڑھنے سے روک دیں اور خود تمام مرزائیوں کو بھیج دیا کہ وہ عید وہاں پڑھیں اس پر مسلمانوں نے عیدگاہ خالی کرنے سے انکار کر دیا مرزائی مسلح افراد کی رہنمائی عبدالرحمن جٹ جنرل پریذیڈنٹ انجمن احمدیہ قادیان کر رہا تھا مسلمان خالی ہاتھ صرف عید پڑھنے گئے تھے ان کو یکدم حملہ کا وہم و گمان بھی نہ تھا حملہ میں غریب مسلمانوں کو ضربات لگیں مرزائیوں پر دفعات
١٤٨/١٤٩/٣٤٢/٣٢٥ میں چالان ہوا عبدالرحمن جنرل پریذیڈنٹ احمدیہ انجمن اور کچھ دیگر مرزائی حملہ آوروں کو سزا ہوئیں ایک مضروب شیخ چراغ دین۔ شدید ضربوں سے چند دنوں بعد مر گیا مرزائیوں نے عید گاہ پر قبضہ کے ساتھ ساتھ قبرستان پر بھی قبضہ کرنا چاہا شیخ چراغ دین کی نعش بٹالہ میں جو قادیان سے بارہ میل دور تھا لے گئے اور جا کر مسٹر کشن چند ماتھر ریذیڈنٹ مجسٹریٹ بٹالہ کی کچہری میں رکھ دی اور فریاد کی ان کے قبرستان پر مرزائیوں نے قبضہ کر لیا ہے بٹالہ سے گارد پولیس بھیجی گئی کہ متوفی کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا جائے اور شیخ چراغ دین پولیس بٹالہ کی نگرانی میں حفاظت میں دفن کیا گیا جو شہید اسلام تھا۔
اس پر بٹالہ شہر کے غیور مسلمانوں نے اپنے تمام قبرستانوں پر بورڈ آویزاں کر دیئے کہ ”یہ مسلمانوں کا قبرستان ہے اس میں مرزائی دفن نہیں ہو سکتا۔“
مسلمان ہوٹلوں کے مالکان نے اپنے ہوٹلوں پر بورڈ آویزاں کر دیئے کہ اس ہوٹل پر کھانا مرزائیوں اور عیسائیوں کے لیے جدا برتن ہیں اور اس طرح سے قادیانی اور مرزائیوں کو اقلیت بنایا اور پنجاب میں عام مطالبہ ہونے لگا کہ مرزائیوں کو اقلیت قرار دیا جائے اور مرزائیوں کا سرکاری عنصر میں اثر و رسوخ ختم ہونے لگا علامہ اقبال نے بھی مرزائیوں کو اقلیت قرار دینے کا مطالبہ کیا سر مرزا ظفر علی ریٹائرڈ جج ہائی کورٹ لاہور نے مطالبہ کی تائید کی۔
مرزائیوں کا پولیس مقابلہ
غالباً ٤٤-١٩٤٢ء کا واقعہ ہے کہ گرمیوں کا موسم تھا کہ مرزائی خلیفہ محمود اور اس کے اہل و عیال عام طور پر گرمیوں میں ڈلہوزی پہاڑ پر چلے جاتے تھے مرزا محمود کی کوٹھی رہائش ڈلہوزی تھی۔
محمد علی لاہور پارٹی کی کوٹھی ڈلہوزی میں الگ تھی پولیس کسی تفتیش کے لیے ڈلہوزی گئی اور انہوں نے مرزا ناصر احمد صدر خدام الاحمدیہ قادیان سے کوئی بات دریافت کرنی تھی ناصر احمد خلیفہ کا پسر تھا اپنے آپ کو شہزادہ سمجھتا تھا اس نے پولیس کو دھمکیاں دینی شروع کر دیں پولیس نے خطرہ محسوس کرتے ہوئے ناصر احمد کو گرفتار کرنا چاہا تو ناصر اور اس کے حواریوں نے رائفلیں تان لیں اور پولیس مقابلہ کیا پولیس نے شیخ نور محمد سابق ڈپٹی کمشنر کی ضمانت پر ملزمان کو چھوڑا
اخباروں میں عام خبریں منکرین جہاد اب کیوں جہاد پر آمادہ ہو گئے مولانا اسلم قریشی کی تفتیش پر حکومت کو سابقہ واقعات کو مدنظر رکھنا ضروری ہے یہ مرزائی قادیانی مذہبی گروہ نہیں ہے بلکہ مذہب کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے اور یہ گروہ تشدد پسند ہے قادیان میں ان کے پاس بے شمار اسلحہ تھا اور قادیانی گروہ کے اپنے ملٹری ٹرک تھے جیپ کاریں تھیں ہوائی جہاز تھے یہ سب مذہب کا بہروپ تھا یہ لوگ انگریزی حکومت کے خاص جاسوس تھے۔
فاضل قصاب کا قتل
ایک واقعہ فاضل قصاب سکنہ بدوملی (ضلع سیالکوٹ) کا ہے جس کا بہنوئی مولا بخش قصاب قادیان میں مرزائی بن گیا کیونکہ قادیانیوں مرزائیوں نے مسلمانوں کا سوشل بائیکاٹ کر رکھا تھا اور غیر مرزائیوں سے سودا نہیں خریدتے تھے اور غیر مرزائیوں کی دکان پر پکٹنگ کرتے تھے اور حکومت ان سے کوئی باز پرس نہیں کرتی تھی فاضل نامی نوجوان اپنے بہنوئی مولا بخش کی دکان پر اس کی امداد کے لیے گوشت فروشی کے لیے بیٹھتا تھا کسی مرزائی گاہک سے کوئی جھڑپ ہو گئی مرزائی نے جا کر خلیفہ محمود کے سالا ولی اللہ شاہ ناظر امور عامہ سلسلہ احمدیہ قادیانی سے شکایت کی ناظر امور عامہ ولی اللہ شاہ نے فاضل قصاب کو بلوایا مرزائیوں کی مسجد اقصیٰ کے ساتھ دفتر تھا نیچے عبدالرحمن جٹ جنرل پریذیڈنٹ احمدیہ قادیان کا دفتر چوبارہ پر ناظر امور کا دفتر تھا فاضل قصاب کو کہا کہ تم احمدی ہو اس نے جواب دیا نہیں پھر تم کو احمدیوں کی دکان پر بیٹھنے کا کوئی حق نہیں فاضل کو بہت دباؤ دیا گیا اور مرعوب کیا گیا جب وہ مرعوب نہ ہوا تو والنٹیر کے ذریعے اس کو زدوکوب کیا گیا اس کا گلہ گھونٹ کر اس کو جان سے ختم کر دیا اور پھر چوبارہ سے نیچے گرا دیا اور اپنی مشینری سے شہر میں پروپیگنڈہ کروایا کہ فاضل قصاب نے خود کشی کر لی ہے چونکہ قاتلوں کے خلاف کوئی شہادت نہ تھی لہٰذا قاتلوں و زدوکوب کرنے والوں اور گلا گھونٹنے والوں کے خلاف پولیس کوئی کارروائی نہ کر سکی۔
اس طرح پتہ چلتا ہے کہ مرزائی مذہبی گروہ نہیں ہے بلکہ حسن بن صباح کی طرح
ایک تشدد پسند اقتدار پسند گروہ ہے مطلب کے لیے سنگین جرائم خلیفہ کے حکم پر کر لیتا ہے یہی کچھ مولانا اسلم قریشی کے اغواء میں نظر آتا ہے اس گروہ کو خلاف قانون اور دشمن پاکستان قرار دے کر بڑے بڑے عہدوں سے علیحدہ کرنا چاہیے جس کے سہارے یہ امن دشمن گروہ سنگین جرائم وحرکات کرتا ہے اگر حکومت نے اس پاکستان دشمن گروہ کو خلاف قانون قرار نہ دیا تو یہ لوگ ملک کے خلاف سازش کریں گے کیونکہ وہ آئین پاکستان کو تسلیم ہی نہیں کرتے لہذا دانشمندی یہی ہے کہ اس دجالی گروہ کو خلاف قانون قرار دے دیا جائے۔ ورنہ یہ لوگ سازشوں سے باز نہیں رہیں گے۔ دیدہ باد
(ہفت روزہ ختم نبوت جلد ٥ شمارہ ١۔ بابت ماہ مئی ١٩٨٦ء از قلم خواجہ عبدالحمید بٹ آف قادیان)
عزت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ...... خطیب ختم نبوت صاحب زادہ فیض الحسن شاہؒ نے ملت اسلامیہ کی سوئی ہوئی غیرت کو جھنجھوڑتے ہوئے کہا ..... ”جو جناب خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کی حفاظت نہیں کر سکتا وہ اپنی ماں ، بہن کی عزت کی بھی حفاظت نہیں کر سکتا“۔
عظیم انعام ...... سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ قادیانیت کے لئے درہ عمر فاروقؓ تھے۔ ساری زندگی مرزا قادیانی کی جعلی نبوت کے تعاقب میں صرف کر دی۔ قادیان و ربوہ میں جھوٹی نبوت کے ایوانوں میں زلزلہ برپا کر دیا۔ ان کا ایمان پرور واقعہ جھوم جھوم کر پڑھئے۔
حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ نے فرمایا کہ حضرت مولانا رسول خانؒ نے جو بہت بڑے محدث تھے، فرمایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جماعت صحابہؓ میں تشریف فرما ہیں۔ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں (ایک سنہری طشت میں آسمان سے ) ایک دستار مبارک لائی گئی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جناب صدیق اکبرؓ کو حکم دیا کہ اٹھو اور میرے بیٹے عطاء اللہ شاہ کے سر پر باندھ دو۔ میں اس سے خوش ہوں کہ اس نے میری ختم نبوت کے لئے بہت سارا کام کیا ہے۔ (تقاریر مجاہد ملتؒ ص٧)
قادیان کے مقامی لوگ
مولانا عنایت اللہ چشتیؒ
قادیان کے مقامی لوگ حسب ذیل برادریوں سے تعلق رکھتے تھے۔
- (1) شیخ برادری
مقامی باشندگان زیادہ تر شیخ برادری سے تعلق رکھتے تھے اور یہ لوگ تجارت پیشہ تھے۔ ساری برادری میں صرف ایک گھر تھا جس نے مرزا محمود کی بیعت کی تھی اور یہ گھر نیم مرزائی سا تھا۔ نیم اس لیے کہہ رہا ہوں کہ اس کا رہائشی مکان میرے مکان کے قریب تھا بلکہ میرے اور اس کے مکان میں صرف پانچ ساڑھے پانچ فٹ کی دیوار حائل تھی اور مجھے کوئی خطرہ نہ تھا کہ میرا پڑوسی مرزائی ہے اور اس سے ضرر یا نقصان کا خطرہ ہے کیونکہ جب وہ میرے سامنے آتا تو نہایت احترام سے آداب بجا لاتا تھا۔ قادیان کا رہنے والا مرزائی ایسا نہ تھا جیسے قادیان کے باہر کے مرزائی تھے۔ کیونکہ وہ ہر جگہ اقلیت میں تھے اور انہیں ہر آدمی کے ساتھ محبت پیار اور احترام سے پیش آنا پڑتا تھا۔ قادیان کا مقامی مرزائی خونخوار درندہ تھا۔ ہمارے ساتھ احترام سے پیش آنا تو کیا وہ ہمیں پھاڑ کھانا چاہتا تھا بشرطیکہ کہ اس کا بس چلے۔ ”ہمارا ادب آداب اور مرزائی.....؟“ ”ایں خیال است و محال است و جنوں است“ والا معاملہ تھا کیونکہ ہم اس کے ”پیغمبر“ کو بے نقط سناتے تھے اور وہ بے بس ہو کر دانت پیس کر رہ جاتا تھا تو اس کا احترام اس امر کا غماز تھا کہ وہ دل سے مرزائی نہ تھا۔ دوسرے یہ کہ اس کا حقیقی بھائی جس کا نام شیخ برکت علی تھا اور وہ ہمارا ”لیٹ کٹا مرید“ تھا وہ ہمیں اطمینان دلاتا تھا کہ: میں اپنے بھائی کی مرزائیت کو خوب سمجھتا ہوں۔ اس نے بیعت تو مرزا محمود سے کر رکھی ہے مگر اس کے قلب کی گہرائیوں میں مرزا محمود سے زیادہ تمہاری
عزت واحترام کئی گنا زیادہ ہے اور ہم نے عملاً مشاہدہ کر لیا تھا کہ اس کے پڑوس سے ہمیں کبھی کوئی نقصان نہ پہنچا تھا۔
ایک اہم واقعہ
اس کی دیوار کے ساتھ جو ہمارے اور اس کے درمیان حائل تھی ہمارا چولہا تھا اور ایک ملازمہ ہمارا کھانا پکایا کرتی تھی۔ ایک دن ایسا ہوا کہ میں گھر پر نہ تھا اور میری بیوی کمرے کے اندر تھی وہ ملازمہ ہمارا کھانا پکا رہی تھی پڑوسی مرزائی کی بہو نے کپڑوں کی گٹھڑی دیوار سے ہماری ملازمہ کی طرف پھینکی اور اس نے اٹھا کر رکھ لی۔ میری بیوی یہ نظارہ دیکھ رہی تھی۔ اس نے وہ گٹھڑی ملازمہ سے لے کر رکھ لی۔ جب میں گھر آیا تو میری بیوی نے وہ گٹھڑی میرے حوالہ کر کے سارا واقعہ مجھے سنایا مجھے رنج ہوا‘ پڑوسی مرزائی کو بلا کر وہ کپڑوں کی گٹھڑی اس کے حوالہ کرتے ہوئے سارا واقعہ اسے سنا دیا۔ وہ بڑا ممنون ہوا اور مجھے کہا کہ ”تمہاری یہ ملازمہ ہمارے نقصان میں ہے۔ آپ نے حق ہمسائیگی پورا کرتے ہوئے ہمیں نقصان سے بچا لیا۔ مگر ہمیں اس سے خطرہ ہے آپ اسے ملازمت سے ہٹادیں تو ہم بڑے شکر گزار ہوں گے“ چنانچہ میں نے ملازمہ کو سبکدوش کر دیا۔ بہر حال میں یہ بتانا چاہتا تھا کہ اس ساری شیخ برادری میں سے صرف وہ ایک گھر ”مرزائی“ یا ”نیم مرزائی“ تھا۔
(2) ارائیں برادری
دوسرے نمبر پر ارائیں برادری تھی۔ ان کا اپنا الگ محلہ تھا اور ہم انہی کے محلہ کی مسجد میں نماز جمعہ ادا کرتے تھے اور ہماری تمام تر سرگرمیوں کا مرکز یہی مسجد ارائیاں تھی۔ اس برادری میں سے کوئی ایک گھر بھی مرزائی نہ تھا۔ یہ لوگ زراعت پیشہ تھے۔ اگرچہ پسماندہ اور غریب تھے مگر ایمان میں پختہ تھے اور ہماری امداد کے لیے ہر وقت کمر بستہ رہتے تھے۔
(3) کشمیری برادری
اس برادری میں بھی ایک گھر ”نیم مرزائی“ تھا اور وہ تانگا چلاتا تھا اور مرزائیوں کو ایک محلہ سے دوسرے محلہ میں لے جاتا تھا اور اس طرح رزق کما کر اپنا پیٹ پالتا تھا وہ نیم مرزائی اس لیے تھا کہ جب کبھی اس سے میرا سامنا ہوتا تو میرے پاؤں میں گر جاتا اور اپنی
معذوری کا اظہار کرتا۔ خود اور مرزائیت کے خلاف جذ ہے۔ ابو معاویہ)
(4) پارچہ باف
چند کنبے جولاہوں اور مزدوری کر کے گزر اوقات
(5) کمہار
چند گھر کمہاروں مسلمان تھے اور یہ لوگ پیشہ تھے اور کرایہ پر گندم‘ گڑ‘ مٹی
(6) سادات
یہ لوگ صاحب مرزا کی بیعت کی تھی اور ور کہہ لو کیونکہ جب وہ مجھے ما بتاتا تھا جو ایک حد تک حقیق ساتھ تھا۔ نہایت سنجیدہ اور صاحب حیثیت تھا اور ہماری پال رکھی تھی جو ہمارے لیے لیے پھرتا تو خطرہ نہ ہوتا ت با کرامت رکھے اور اگر فوت مقامی طور پر قادیان میں رہ لوگوں نے بہ امر مجبوری بیعت نام کے مرزائی تھے۔ نہ مباح
معذوری کا اظہار کرتا۔ خواجہ عبدالحمید اسی برادری کا نوجوان تھا۔ لکھا پڑھا میٹرک پاس تھا اور مرزائیت کے خلاف جذبہ رکھتا تھا۔ (تقسیم ملک کے بعد سے لودھراں ضلع ملتان میں مقیم ہے۔ ابو معاویہ )
(4) پارچہ باف
چند کنبے جولاہوں کے تھے ان میں سے کوئی ایک بھی مرزائی نہ تھا۔ غریب تھے اور مزدوری کر کے گزر اوقات کرتے تھے۔
(5) کمہار
چند گھر کمہاروں کے تھے۔ ان میں بھی کوئی مرزائی نہ تھا سب کے سب سنی مسلمان تھے اور یہ لوگ پیر شاہ چراغ کے مرید تھے انہوں نے اپنے گدھے رکھے ہوئے تھے اور کرایہ پر گندم‘ گڑ‘ مٹی وغیرہ ڈھو کر گزر بسر کرتے تھے۔
(6) سادات
یہ لوگ صاحب حیثیت اور معزز تھے ان میں بھی صرف ایک شخص پیر منظور نے مرزا کی بیعت کی تھی اور درحقیقت اس بے چارے کا کوئی مذہب ہی نہیں تھا۔ ”نیم مرزائی“ کہہ لو کیونکہ جب وہ مجھے ملتا تھا تو مرزائیت سے بیزاری کا اظہار کرتا تھا اور اپنی معذوری بتاتا تھا جو ایک حد تک حقیقت تھی۔ پیر شاہ چراغ تو بڑا آدمی تھا اور علانیہ طور پر ہمارے ساتھ تھا۔ نہایت سنجیدہ اور با رعب بزرگ تھا۔ ایک ان میں سے ہدایت علی شاہ تھا وہ بھی صاحب حیثیت تھا اور ہماری جماعت اور دفتر کا شیدائی تھا۔ اس نے ایک نہایت عمدہ گھوڑی پال رکھی تھی جو ہمارے لیے وقف تھی۔ بڑی قد آور تھی اور اصیل اتنی کہ ایک بچہ بھی اسے لیے پھرتا تو خطرہ نہ ہوتا تھا۔ میری دعا ہے کہ وہ لوگ زندہ ہیں تو خدا انہیں سلامت باکرامت رکھے اور اگر فوت ہو چکے ہوں تو ان کی مغفرت کرے۔ آمین۔ خلاصہ یہ کہ مقامی طور پر قادیان میں رہنے والے لوگوں میں سے ایک شخص بھی پورا مرزائی نہ تھا اور جن لوگوں نے بہ امر مجبوری بیعت کر بھی لی تھی تو وہ مرزائی نہ تھے بلکہ نیم مرزائی تھے اور معاشرۃً نام کے مرزائی تھے۔ مذہباً مرزائی نہ تھے۔
جب قادیانیوں نے مجھے قتل کرنے کا فیصلہ کیا
ماسٹر تاج الدین انصاری
جب مجھے معلوم ہوا کہ مرزائیوں کے ارادے اچھے نہیں تو مجھے بھی مدافعت کی سوجھی۔ ہماری مسجد جہاں نماز جمعہ ادا کی جاتی تھی مرزائیوں کی عبادت گاہ کے بالکل سامنے واقع تھی۔ بیچ میں گلی، سامنے ہماری مسجد تھی۔ مسجد کا ملحقہ مکان مرزائیوں کا اپنا مکان تھا۔ اس مکان میں مرزا محمود کا شارٹ ہینڈ رپورٹر ہماری مسجد کی تقریروں کو نوٹ کیا کرتا تھا۔ میں نے خطبے سے پہلے تقریر کرتے ہوئے ایک بے جوڑ سی بات کہی کہ یہ الہامات کی بستی ہے۔ مجھے ایک ایسا الہام ہوا ہے وہ سن لیجئے۔ آج کی بات یاد رکھیے گا کہ میری اور مرزا محمود کی زندگی ایک ہی ڈور سے بندھی ہے ادھر میں مارا جاؤں گا۔ اسی وقت یا دو چار منٹ کے وقفے سے مجھے مروانے والے کی موت واقع ہوگی۔“ اس بے جوڑ جملے کے بعد میں نے اپنی تقریر کے ربط کو درست کر کے بولنا شروع کر دیا۔ مجھے نماز جمعہ کے بعد بعض دوستوں نے کہا کہ آپ نے یہ کیا بات کہی تھی؟ میں نے ہنس کر ٹال دیا دوسرے دن مجھے حاجی عبدالرحمٰن صاحب نے بٹالے بلا بھیجا۔ میں جب سٹیشن کی جانب پیدل روانہ ہوا تو دو مرزائی والنٹیر میرے باڈی گارڈ بن گئے۔ وہ مجھ سے کچھ تھوڑے فاصلے پر تھے مگر میرے پیچھے چلے آ رہے تھے۔ بٹالے سے واپسی پر میں تانگے میں بیٹھ کر آ رہا تھا تو دو مرزائی سائیکل سوار تانگے کے پیچھے پیچھے چلے آئے اس کے بعد کافی عرصہ میری حفاظت ہوتی رہی۔ تب گل نور کی معنی خیز گفتگو کا یقین آیا۔ اگر گل نور کی اطلاع درست نہ تھی تو میری
حفاظت کے کیا معنی تھے؟ اس شکی ہو تو اپنے خیر خواہ بھی مشکوک کے نام لکھے جانے لگے۔
مرزائیوں کے خطرناک ار
میں اپنے مرزائی ہمس آدمی تھے۔ سارا دن دوکان پر عورتوں کا کام عورتوں کے سپر سے تعلق رکھتی ہوں آپس میں ہوئی۔ ہمارے ہاں زنانہ جلسے ان دنوں گل نور کی آمدورفت ذ سے میری حفاظت کرنے والے مگر ایک ایسا دن آیا جب میں تھے اور نہ کوئی اور مبلغ موجود تھا اداس اداس سی معلوم ہوئی عشاء خانے میں تھا دس گیارہ بجے ک میں پیشاب کر کے باہر نکلنے لگا ہورہی تھی۔ مجھے دارالخلاء کی دیو ہو گیا تھا مدھم سی آواز آئی یہ زنانہ ہو کوئی لڑکی کہہ رہی تھی ”مولوی ہمارے مکان میں سات آٹھ آ گے۔“ یا الٰہی یہ کیا ماجرا ہے؟ لڑ نے سن لیا ہے تم جلدی نیچے چلی بادل گرجنے لگے میں کمرے میں مینہ برستا رہا۔ جل تھل ہو گیا۔ آت
حفاظت کے کیا معنی تھے؟ اس عرصے میں مرزا محمود کے مخالفین کی تعداد بڑھنے لگی۔ طبیعت شکی ہو تو اپنے خیر خواہ بھی مشکوک نظر آتے ہیں مرزائیوں کے بلیک بورڈ پر کئی بے گناہوں کے نام لکھے جانے لگے۔
مرزائیوں کے خطرناک ارادے
میں اپنے مرزائی ہمسایوں سے گہری واقفیت پیدا کرنا چاہتا تھا مگر وہ بنیا قسم کے آدمی تھے۔ سارا دن دوکان پر کتر بیونت میں لگے رہتے۔ تب میں نے یہ مناسب سمجھا کہ عورتوں کا کام عورتوں کے سپرد ہی کیا جائے۔ بیوی کو قادیان بلا بھیجا۔ عورتیں کسی مذہب سے تعلق رکھتی ہوں آپس میں بہت جلد گھل مل جاتی ہیں۔ مجھے اس سلسلے میں کافی کامیابی ہوئی۔ ہمارے ہاں زنانے جلسے بھی ہونے لگے۔ ہمسایوں سے تو بہت ہی بے تکلفی ہو گئی ان دنوں گل نور کی آمدورفت ذرا کم ہو گئی۔ وہ مجھے ملتا تو تھا مگر پہلے سے کم۔ کچھ عرصے سے میری حفاظت کرنے والے بھی غائب تھے۔ بظاہر مجھے کوئی خطرہ بھی محسوس نہ ہوتا تھا مگر ایک ایسا دن آیا جب میں اپنے مکان پر تنہا تھا حتیٰ کہ تبلیغی دفتر میں نہ مولانا صاحب تھے اور نہ کوئی اور مبلغ موجود تھا۔ شام کے وقت میں باہر سے گھوم پھر کر آیا تو مجھے یہ شام بھی اداس اداس سی معلوم ہوئی عشاء کے بعد سونے کی کوشش کی مگر نیند نہیں آئی۔ میں اوپر بالا خانے میں تھا دس گیارہ بجے کمرے سے باہر آیا۔ ہمسایوں کی دیوار کے ساتھ دارالخلاء تھا۔ میں پیشاب کر کے باہر نکلنے لگا۔ دیکھا تو آسمان پر گہرے بادل چھا رہے تھے کچھ ترشح بھی ہو رہی تھی۔ مجھے دارالخلاء کی دیوار کے پاس ہی جہاں ایک اینٹ نکل جانے سے سوراخ ہو گیا تھا مدھم سی آواز آئی یہ زنانہ آواز تھی۔ آہستہ آہستہ جیسے سرگوشیوں کی دبی ہوئی آواز ہو کوئی لڑکی کہہ رہی تھی ”مولوی جی مولوی جی بھاگ جاؤ مولوی جی جلدی سے بھاگ جاؤ ہمارے مکان میں سات آٹھ آدمیوں کو بٹھا رکھا ہے۔ یہ آدمی رات کو تمہیں مار ڈالیں گے۔“ یا الٰہی یہ کیا ماجرا ہے؟ لڑکی نے پھر آواز دی تو میں نے اسے آہستہ سے کہا بیٹی میں نے سن لیا ہے تم جلدی نیچے چلی جاؤ کوئی تمہارے پیچھے نہ آجائے اور تم کو دیکھ نہ لے۔ بادل گرجنے لگے میں کمرے میں آ گیا بارش تیز ہو گئی یوں سمجھئے کہ بادل ٹوٹ پڑا چھاجوں مینہ برستا رہا۔ جل تھل ہو گیا۔ آنکھ جھپکنے کی مہلت نہ ملی۔ تھوڑی دیر کے لیے تو میرے دل
میں خوف تو پیدا ہوا تھا۔ مگر پھر دل نے کہا کہ جان پیاری تھی تو یہاں آئے ہی کیوں تھے بارش نے زیادہ شدت اختیار کی تو اور تسلی ہوگئی۔
صبح اذان ہوئی تو بپھرے ہوئے بادل بھی نرم پڑ گئے۔ اور بارش بھی بند ہو گئی۔ گلی میں پانی کی نہر چل رہی تھی۔ صبح میں نے تصدیق بھی کر لی کہ معاملہ تو واقعی خراب تھا مگر یار لوگ شائد بارش کے تھمنے کا انتظار کرتے رہے کہ صبح ہو گئی، میں جس کے بھروسے پر قادیان میں رہتا تھا وہ میرا سب سے بڑا محافظ تھا۔ اس گھر کی دو لڑکیاں مسلمان تھیں میری بیوی کی موجودگی میں وہ تائب ہو چکی تھیں۔ ایمان تو اس گھر کی بڑی بی کا بھی ”ڈانواں ڈول“ تھا مگر وہ مرزائیت کے خلاف قدم اٹھانے سے ہچکچاتی تھی۔
حضرت رائے پوری کی شاہ جی سے والہانہ محبت
مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری کے متعلق بڑے بلند کلمات فرماتے تھے اور ان سے اور ان کی وجہ سے ان کے خاندان سے بڑی محبت و شفقت کا برتاؤ فرماتے تھے۔ ایک مرتبہ فرمایا کہ تم بخاری صاحب کو یونہی نہ سمجھو کہ صرف لیڈر ہی ہیں۔ انہوں نے ابتدا میں بہت ذکر کیا ہے اور فرمایا کہ یقین تو اللہ تعالیٰ نے ان کو ایسا نصیب فرمایا ہے کہ باید و شاید۔ فرماتے یہاں حالات و کیفیات کیا چیز ہیں اصل تو یقین ہی ہے۔ اللہ تعالیٰ جس کو عطا فرما دے۔ حضرت کو شاہ صاحب سے جو محبت اور خصوصیت تھی وہ ان کے اخلاص، خود فراموشی، دینی خدمت میں انہماک اور اس نفع کی بنا پر تھی جو ان کے ذات اور ان کی ایمان افروز تقریروں سے عظیم مجمعوں میں پہنچتا تھا۔ خود شاہ صاحب اپنی تقریروں کی روح اور اپنی زبان کے اثر اور محبت و جفاکشی اور قید و بند کے تحمل کا راز اللہ کے ایک مخلص اور مقبول بندہ یعنی حضرت اقدس کے ساتھ تعلق اور ان کی دعاؤں اور محبت کو سمجھتے تھے اور اس پر ان کو بڑا ناز اور اعتماد تھا۔
(حیات طیبہ ص ١٣٠ از ڈاکٹر محمد حسین انصاری)
ہائے کیا لوگ تھے جو دام اجل میں آئے
ہنستا بستا قادیان
ایک ویران سی بستی نظر آتی تھی
اپریل ١٩٨٠ء کے اوائل میں مجھے گورو نانک دیو یونیورسٹی امرتسر سے ایک سیمینار میں شرکت کا دعوت نامہ موصول ہوا اور میں ٧ اپریل کو امرتسر پہنچ گیا۔ مندوبین کو یونیورسٹی کے مہمان خانے میں ٹھہرایا گیا اور اگلے روز سے سیمینار شروع ہو گیا۔ تین دن تک یونیورسٹی میں خوب گہما گہمی رہی اور ٢٠ اپریل کو قبل دوپہر سیمینار ختم ہو گیا۔
مجھے بٹالہ جانے اور وہاں ”تاریخ ہندوستان“ کے مصنف احمد شاہ بٹالوی کی قبر دیکھنے کی بڑی آرزو تھی۔ میں نے ڈاکٹر گریوال سے بٹالہ جانے کی خواہش کا اظہار کیا تو انہوں نے کہا کہ بٹالہ کا ایک ریسرچ اسکالر شری پروین پال ان کے شعبہ میں موجود ہے۔ اگر اسے ساتھ لے جاؤں تو وہ مجھے بٹالہ کے اہم مقامات دکھا دے گا۔ میں نے پال کو ساتھ لیا اور ہم بذریعہ بس ایک گھنٹہ میں بٹالہ پہنچ گئے۔ وہاں ہم نے شمشیر خان کا مقبرہ‘ اس کا بنوایا ہوا تالاب‘ بھگت حقیقت رائے کی سمادھی اور خانقاہ فاضلیہ میں احمد شاہ بٹالوی کا مزار دیکھا۔
ہم دونوں شمشیر خان کے تالاب کے کنارے کھڑے تھے کہ اتنے میں بٹالہ سے قادیان جانے والی بس آگئی۔ پال نے مجھ سے کہا ”سر! قادیان چلو گے؟“ میں نے پوچھا‘ ”قادیان یہاں سے کتنی دور ہے؟“ اس نے کہا ”یہاں سے بس میں کوئی پندرہ بیس منٹ کا راستہ ہے اور ایک روپیہ کرایہ ہے۔“ میں نے اس موقع کو غنیمت جانا اور ہم لپک کر بس
میں سوار ہو گئے۔
بس ایک قصبہ وڈالہ گرنتھیاں سے گزرتی ہوئی تقریباً بیس منٹ میں قادیان پہنچ گئی۔ بس سے اترتے ہی میں نے ارد گرد کا جائزہ لیا تو ایک اونچا سا مینار نظر آیا، جس پر اسپیکر نصب تھے۔ میں سمجھ گیا کہ یہ ”مسجد اقصیٰ“ کا مینار ہے۔ میں اور پال راستہ پوچھتے پوچھتے اس بازار میں داخل ہوئے جہاں صرف قادیانیوں کی دکانیں تھیں۔ یہ بازار ویران نظر آتا تھا اور دکانداروں کے چہروں پر بھی نحوست اور ویرانی نظر آتی تھی۔ ان میں سے بیشتر کے قد لمبے اور جسم دبلے پتلے تھے اور چہروں پر فرنچ کٹ داڑھیاں تھیں۔ بازار تو موجود تھا، لیکن گاہک نظر نہ آتے تھے۔ ایک قادیانی ریڈیو مرمت کرنے کی دکان کھولے بیٹھا تھا۔ دوسرا مرتد چائے کا ہوٹل چلا رہا تھا، ایک دکاندار آئس کریم بنانے والی مشین لیے بیٹھا تھا۔ باقی دکانداروں کی بھی یہی کیفیت تھی۔ ان میں سے بیشتر بہاری تھے۔ جو بہار کی سکونت ترک کرکے ”قادیان“ میں آ بسے تھے۔
میں نے اپنے دل میں کہا، یا اللہ ! یہ کوئی ویرانی سی ویرانی ہے، پندرہ ہزار کی آبادی کا قصبہ اور اس کے جنوب مغربی گوشہ میں قادیانیوں کا مرکز اور ان کے رہائشی مکانات، مرد، عورتیں، بوڑھے، بچے سبھی ملا کر پندرہ ہزار نفوس پر مشتمل اس قصبہ قادیان کے بارے میں تو متنبی قادیانی کو یہ الہام ہوا تھا کہ اس کی آبادی بڑھ کر لاہور سے جاملے گی۔ اس طویل و عریض شہر میں اس کو ایک بازار دکھایا گیا تھا۔ جس میں کھوے سے کھوا چھلتا تھا اور بگھیاں، ٹم ٹم، وکٹوریہ اور خدا جانے کون کون سی سواریاں رواں دواں تھیں۔ اس بازار میں سونے، چاندی اور جواہرات کا کاروبار ہوتا تھا اور بڑی بڑی توندوں والے سیٹھ گدیوں پر بیٹھے تھے۔ متنبی قادیانی بربنائے الہام لکھتا ہے کہ ایک وقت ایسا بھی آنے والا ہے کہ لوگ لاہور کے بارے میں استفسار کریں گے تو انہیں بتایا جائے گا کہ اب وہ قادیان کا ایک محلہ بن گیا ہے۔
میں قادیان کے ویران بازار میں کھڑا جب اس الہام پر غور کر رہا تھا تو مجھے متنبی قادیانی کے الہام کے تار و پود تار عنکبوت کی طرح ہوا میں ہچکولے کھاتے نظر آرہے تھے یہاں بڑی بڑی توندوں والے جواہرات کا کاروبار کرنے والے سیٹھوں کی بجائے خالی شکم، مرجھائے ہوئے چہروں والے ٹٹ پونجے دکاندار نظر آ رہے تھے، جو قادیان کے ایک گوشے
میں سمٹ آئے تھے۔ قادیان پھیلنے کی بجائے، اب سکڑ چکا تھا۔
میں اور میرا رفیق نام نہاد مسجد اقصیٰ کا راستہ پوچھتے ہوئے آگے بڑھتے گئے۔ جب ہم انجمن کے مرکزی دفتروں کے درمیان سے گزرے تو سامنے ایک لحیم و شحیم ادھیڑ عمر قادیانی آتا دکھائی دیا۔ اس نے ہمیں غور سے دیکھا اور ہمارے قریب آکر رک گیا اور خود ہی اپنا تعارف کراتے ہوئے کہا ”میرا نام عبد الرحیم عاجز ہے۔ میں گورنمنٹ ملازم تھا۔ اب پنشن لے کر یہاں آگیا ہوں، کافی عرصہ سرکاری ملازمت کی ہے۔ اب دین کی خدمت کا جذبہ لے کر یہاں آگیا ہوں اور میں انجمن کا سیکرٹری ہوں۔“ میں نے اپنا نام اور پتہ بتایا اور اس سے کہا کہ میں نام نہاد مسجد اقصیٰ اور نام نہاد بہشتی مقبرہ دیکھنا چاہتا ہوں۔
عاجز نے کہا ”وہ تو آپ دیکھ ہی لیں گے، میں ان کے علاوہ بھی بہت کچھ دکھانا چاہتا ہوں۔“ میں نے کہا کہ ہمارے پاس وقت کم ہے اور ہم نے رات کے کھانے پر امرتسر پہنچنا ہے اور سوا سات بجے یہاں سے آخری بس روانہ ہوتی ہے۔ عاجز نے کہا ”آپ اس بات کی فکر نہ کریں۔ رات یہاں مہمان خانہ میں بھی گزار سکتے ہیں۔ اگر جانا ضروری ٹھہرا تو ہم آپ کو ٹمپر پر بٹالہ پہنچا دیں گے۔ اس لیے اطمینان کے ساتھ جو دیکھنا چاہیں، وہ دیکھ لیجئے۔
عاجز ہمیں متنبی قادیانی کی رہائش گاہ پر لے گیا۔ ان دنوں متنبی کا ایک پوتا مرزا وسیم احمد وہاں مقیم تھا۔ اتفاق سے وہ ان دنوں حیدر آباد دکن گیا ہوا تھا۔ اس لیے اس سے ملاقات نہ ہو سکی۔ وسیم احمد کی رہائش گاہ کے احاطے میں چند دروازے کھلتے ہوئے نظر آئے۔ پہلے وقتوں میں یہاں مرزا غلام احمد کی بیویاں رہا کرتی تھیں۔ ان کے ایک ”صحابی“ سے روایت ہے کہ انہیں کسی سے یہ پوچھنے کی ضرورت پیش نہیں آیا کرتی تھی کہ حضور کس زوجہ کے ہاں قیام پذیر ہیں، جس دروازے کے باہر باداموں کے چھلکے اور انڈوں کے خول پڑے نظر آئے۔ نام نہاد اصحاب سمجھ جاتے کہ حضور نے رات یہیں داد عیش دی ہے۔
عاجز نے ہمیں ایک کمرہ دکھایا، جس کا طول و عرض ١٢ × ١٢ فٹ ہوگا۔ اس کی چار دیواروں کے وسط میں طاقچے (مشکوٰۃ) بنے ہوئے تھے۔ عاجز نے ہمیں بتایا کہ مرزا صاحب نے اس کمرہ میں پچاس کتابیں تحریر کی تھیں۔ حضرت صاحب کو چل پھر کر لکھنے کی عادت تھی۔ پین کا اس وقت رواج نہ تھا۔ ان چاروں طاقچوں میں ایک ایک دوات پڑی رہتی
تھی اور حضور چلتے پھرتے ان میں ڈبکیاں لگا لیتے تھے۔ میں نے کہا یہ تو مشائخین کا طریقہ ہے۔ عاجز نے مسکراتے ہوئے کہا۔ یہی سمجھ لیجئے۔ یہ کمرہ قادیانیوں کے نزدیک مہبط وحی اور بقعہ انوار نبوت تھا۔ عاجز نے تو صرف پچاس کتابوں کا ذکر کیا تھا جو مرزا نے اس کمرہ میں چل پھر کر لکھی تھیں۔ لیکن وہ کمرہ نہ دکھایا جہاں چل پھر کر مرزا نے انگریزوں کی حمایت میں اتنی کتابیں لکھی تھیں، جن سے پچاس الماریاں بھر گئی تھیں۔ یہ الماریاں بھی کہیں نظر نہ آئیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ تقسیم ملک کے وقت انہیں مرزا محمود ربوہ لے گئے ہوں یا پھر انگریز یہاں سے کوچ کرتے وقت یہ متاع گراں بہا اپنے ساتھ لندن لے گئے ہوں۔
اس کمرہ سے جانب غرب ایک کھڑکی نظر آتی ہے۔ عاجز نے اس کے پٹ کھولے تو معلوم ہوا کہ یہ ایک چھوٹا سا دروازہ ہے۔ اس سے گزر کر تین چار سیڑھیاں چڑھ کر ایک چھوٹے سے کمرے میں داخل ہوتے ہیں۔ اس کمرہ کا رقبہ ٦×٨ فٹ ہوگا۔ عاجز نے خود ہی بتایا کہ مرزا اس کمرے میں تہجد ادا کرتے اور دعائیں مانگا کرتے تھے۔ حضرت اقدس کی برکت سے یہ کمرہ اب بھی مستجاب الدعوات ہے۔ اس کمرے سے جانب جنوب اسی طرح کی ایک کھڑکی تھی۔ عاجز نے اس کے پٹ کھولے تو معلوم ہوا کہ یہ بھی تہجد گاہ کے سائز کا ایک کمرہ ہے۔ اس کے بارے میں عاجز نے بتایا کہ یہ دار الفکر ہے۔ ہمارے حضرت صاحب اس کمرہ میں امت کے بارے میں سوچا کرتے تھے اور ان کی حالت پر رویا کرتے تھے۔ ہم عاجز کے ساتھ اس دار الفکر اور بیت الحزن میں داخل ہوئے تو گرمی کی وجہ سے دم گھٹنے لگا۔ اس کمرہ کی جانب جنوب ایک کھڑکی تھی۔ عاجز نے پٹ کھولے تو سامنے ایک دالان نظر آیا۔ تین چار سیڑھیاں چڑھ کر اس میں داخل ہوئے تو عاجز نے ہمیں بتایا کہ یہ نام نہاد مسجد مبارک ہے۔ حضرت اقدس عموماً اس مسجد میں نماز ادا کیا کرتے تھے۔ جب نماز کا وقت آتا تو حضرت صاحب بیت الحزن سے اس کھڑکی کے راستے داخل ہو کر جماعت میں شریک ہو جایا کرتے تھے۔ قادیانیوں کے نزدیک اس میں نماز ادا کرنے کا بڑا ثواب ہے۔
اس گورکھ دھندے سے نکل کر ہم تنگ اور پیچیدہ گلیوں سے گزرتے ہوئے نام نہاد مسجد اقصیٰ پہنچے۔ اس وقت اس کے صحن کو پانی ڈال کر ٹھنڈا کیا جا رہا تھا۔ ہمارے استفسار پر عاجز نے بتایا کہ نماز مغرب کے بعد تمام مرد و زن یہاں جمع ہوتے ہیں اور یہ تار جو ہم دیکھ رہے ہیں، اس پر پردہ ڈال دیا جاتا ہے۔ عشاء کی نماز تک وعظ و تذکیر کا سلسلہ جاری رہتا
ہے۔
میں نے ہنوز عصر کی نماز ادا نہیں کی تھی۔ عاجز اپنے ساتھیوں کو ہدایات دینے لگا تو میں نام نہاد مسجد اقصیٰ کے اندر نماز ادا کرنے چلا گیا۔ (اللہ تعالیٰ اس نماز کو قبول فرمائے۔ میرے نزدیک قادیان کی ”نام نہاد مسجد اقصیٰ“ اور سومنات کا مندر ایک برابر ہیں۔
اس کے صحن میں جانب جنوب مشرق ایک پختہ قبر نظر آئی۔ عاجز نے ہمیں بتایا کہ یہ حضرت اقدس کے والد بزرگوار مرزا غلام مرتضیٰ کی قبر پر انور ہے۔ میرا دھیان فوراً ”تذکرہ رؤسائے پنجاب“ کی طرف گیا۔ جس میں یہ مرقوم ہے کہ ”اس خاندان نے غدر ١٨٥٧ء کے دوران بہت اچھی خدمات انجام دیں۔ غلام مرتضیٰ نے بہت سے آدمی بھرتی کیے اور اس کا بیٹا غلام قادر جنرل نکلسن صاحب بہادر کی فوج میں اس وقت تھا جب کہ افسر موصوف نے تریموگھاٹ پر نمبر ٤٦ نیو انفنٹری کے باغیوں کو، جو سیالکوٹ سے بھاگے تھے، تہہ تیغ کیا۔“
تذکرہ رؤسائے پنجاب میں یہ بھی مرقوم ہے کہ ”١٨٥٧ء میں یہ خاندان ضلع گورداسپور کے تمام دوسرے خاندانوں سے زیادہ نمک حلال رہا۔ والد بزرگوار مرزا غلام مرتضیٰ کی قبر پر شرر کے قریب (گرفن و میسی، تذکرہ رؤسائے پنجاب، مطبوعہ لاہور ١٩٣٠ء، جلد ٢، ص ٦٨) ”منارۃ المسیح“ واقع ہے۔ یہ وہی مینار ہے۔ جو میں نے بس اسٹینڈ سے دیکھا تھا۔ لطف کی بات یہ ہے کہ مسیح موعود پہلے آیا اور مینارہ بعد میں تعمیر ہوا۔ ان دنوں اس مینار کے گرد سنگ مرمر کی سلیں لگائی جا رہی تھیں۔ عاجز نے ہمیں بتایا کہ اس پر قلعی کرتے کرتے وہ عاجز آ گئے ہیں۔ ہر سال برسات کے موسم میں مینار کی دیواروں پر پھپھوندی سی لگ جاتی ہے۔ اس لیے اب سنگ مرمر لگا رہے ہیں تاکہ بار بار قلعی کرنے کی زحمت سے نجات ملے۔
میں نے مینار کے گرد گھوم کر اس کا جائزہ لیا اور دل میں کہا کہ مرزائیوں کو چاہیے کہ اب اس مینار کو منہدم کر دیں۔ مسیح موعود کا نزول تو ہو چکا ہے۔ اگر یہ مینار باقی رہا تو شاید کوئی اور بلا نازل ہو جائے۔ میں آگے بڑھنا چاہتا تھا کہ عاجز نے کہا ”ایسے کام نہیں چلے گا۔ آپ مینار پر ضرور چڑھیں۔ اس کے اصرار پر میں مینار پر چڑھا تو میرا سانس اس قدر پھول گیا کہ دل کی دھڑکن بند ہو جانے کا خطرہ پیدا ہو گیا۔
کافی دیر بعد میرے حواس درست ہوئے تو میں نے کھڑے ہو کر قادیان کا جائزہ لیا۔ جانب شمال کافی فاصلے پر تعلیم الاسلام کالج کی عمارت نظر آ رہی تھی۔ یہ کالج اب غیر قادیانیوں کی تحویل میں ہے۔ میری مراد ہے کہ ہندوؤں کے قبضہ میں ہے۔ جانب جنوبی ذرا فاصلے پر ایک باغ نظر آیا تو میں نے دل میں کہا کہ ہو نہ ہو ، یہی بہشتی مقبرہ ہے۔ ” میرا قیافہ درست نکلا اور وہ باغ بہشتی مقبرہ ہی تھا۔
عاجز ہمیں ساتھ لے کر باہر نکلا۔ انجمن کے دفاتر اس وقت بند ہو چکے تھے۔ ہم دفاتر کے سامنے سے گزر کر دوبارہ بازار میں آگئے۔ بازار کے دوسری جانب مہمان خانہ تھا اور اس کے قریب ہی جامعہ احمدیہ تھی۔ جہاں مرزائیت کی تبلیغ کے لیے مبلغ تیار کیے جاتے ہیں۔ جب ہم جامعہ دیکھ چکے تو عاجز کا بیٹا عبدالحفیظ وہاں پہنچ گیا۔ عاجز نے اس سے کہا ”انہیں بہشتی مقبرہ لے جاؤ ، دروازے پر چوکیدار (رضوان) ملے گا۔ اس نے اگر کوئی اعتراض کیا تو اس سے کہنا کہ اس وقت انہیں خصوصی اجازت دی گئی ہے اور ہاں انہیں گھر ضرور لانا ، میں ان کے لیے چائے بنواتا ہوں ۔
عبدالحفیظ ہمیں ساتھ لے کر آگے بڑھا۔ میرے استفسار پر اس نے بتایا کہ شام چار بجے سے سات بجے تک بہشتی مقبرہ صرف عورتوں کے لیے کھولا جاتا ہے۔ مرد اس وقت اندر نہیں جا سکتے۔ ابا نے آپ کو خصوصی اجازت دی ہے۔
بہشتی مقبرہ کی جانب بڑھے۔ راستے میں برقع پوش مرزائیوں کی کئی ٹولیاں بہشتی مقبرہ جاتی یا وہاں سے آتی ہوئی نظر آئیں۔ بہشتی مقبرہ کے دروازے پر ایک بوڑھا چوکیدار دیوار سے ٹیک لگائے ہوئے بیٹھا تھا۔ عبدالحفیظ نے اس سے کہا کہ انہیں اس وقت بہشتی مقبرہ دیکھنے کی خصوصی اجازت ملی ہے۔ اس پر چوکیدار نے ہاتھ سے اندر جانے کا اشارہ کیا۔ ہمیں داخل ہوتے دیکھ کر روسیاہ مرزائنیں منہ پھیر کر کھڑی ہو گئیں۔ میں نے بہشتی مقبرہ کا جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ وہ بڑا سر سبز باغ ہے۔ چار دیواری کے ساتھ ساتھ سفیدے کے درخت لگائے گئے تھے جو آسمان سے باتیں کر رہے تھے۔ مجھے ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ بھی چپکے چپکے سے سرگوشیاں کر رہے ہوں۔ مقبرے کے اندر پھولوں کے تختے بڑے سلیقے کے ساتھ بنائے گئے تھے اور نالیوں میں گلاب کے پودے بڑے قرینے کے ساتھ لگائے گئے تھے۔
بہشتی مقبرہ کی جانب جنوب مشرق، ایک وسیع چار دیواری میں بہت سی قبریں تھیں۔ ان میں سے نمایاں قبریں صرف دجال قادیانی اور نور الدین بھیروی کی تھیں۔ قبروں کے سرہانے الواح نصب تھیں اور قبریں کچی تھیں۔ البتہ ان کے گرد اینٹوں کا کھر بنایا ہوا تھا۔ زائرین کو اس مخصوص احاطے میں داخل ہونے کی ممانعت ہے۔ اس کا لوہے کی سلاخوں سے بنا ہوا پھاٹک، جو دجال قادیانی کی قبر سے جانب مغرب چند گز کے فاصلے پر ہے، مقفل تھا۔ چند عورتیں اس سے چمٹ کر اپنے سینوں کو ”نور“ سے بھر رہی تھیں اور سسکیاں لے لے کر دعائیں کر رہی تھیں۔ ہمیں دیکھ کر وہ پرے ہٹ گئیں اور دیوار کی طرف منہ کر کے کھڑی ہوگئیں۔
سنا ہے کہ برطانوی عہد میں یہ پھاٹک کھلا رہتا تھا اور مرزائی اپنے مسیح موعود علیہ ما علیہ کی قبر کی پر شرر مٹی کو خاک شفا سمجھ کر اٹھا لے جاتے تھے۔ مجاورین ہر صبح کو اس پر تازہ مٹی ڈال دیتے اور شام تک قبر میں دوبارہ گڑھا سا بن جاتا۔ لا علاج مردانہ بیماریوں کے لیے یہ مٹی اکسیر اعظم کا حکم رکھتی تھی۔ ایسے مریض قبر کے قریب بیٹھ جاتے اور دائیں بائیں نظر دوڑا کر مساس اور تقبیل کر لیتے۔ بس پہلی ہی رگڑ سے تمام روگ دور ہو جایا کرتے تھے۔ ایک بار چند احراری بزرگ یہ نسخہ آزماتے ہوئے دیکھے گئے تو پھر یہ پھاٹک عام زائرین کے لیے بند کر دیا گیا۔ اب دور ہی سے استلام کی اجازت ہے۔
اس ”مقدس“ چار دیواری کے باہر ہزاروں قبریں ہیں جو سیدھی لائنوں میں بڑے قرینے سے بنائی گئی ہیں۔ ان میں سے اکثر و بیشتر قبریں موصیوں کی ہیں۔ یہاں وہ بد بخت دفن ہیں، جنہوں نے اپنی جائیداد میں سے ١/١٠ حصہ کی وصیت انجمن کے نام کی تھی۔ کئی جگہ صرف الواح نصب ہیں اور قبر کا نشان نہیں ہے۔ میرے استفسار پر جواب ملا کہ یہ ان موصیوں کی نام کی الواح ہیں، جنہیں یہاں دفن ہونا تھا لیکن کسی وجہ سے ان کی میت یہاں تک نہ پہنچ سکی۔ اب صرف ان کے نام الواح پر کندہ ہیں اور قادیانی جب آسودگان بہشتی مقبرہ کے لیے دعائے مغفرت کرتے ہیں تو وہ بھی اس دعا میں شامل ہو جاتے ہیں۔
مقدس ”چار دیواری“ کے قریب ”مواجہہ“ کے سامنے چند لائنوں میں حضرت اقدس کے ”اصحابیوں“ کی قبریں ہیں۔ ہر ”صحابی“ کی لوح مزار پر اس کی خدمات منقوش ہیں۔ ”مثلاً یہ فلاں مباہلہ میں حضرت مسیح موعود کے ساتھ تھا اور یہ فلاں مناظرہ میں موجود
تھا اور یہ خوش نصیب حضرت مسیح موعود کے غسل و کفن میں شریک تھا۔ ایک ”صحابی“ نے یہ وصیت کی تھی کہ اس کی لوح مزار پر لکھ دینا کہ یہ حضرت صاحب کا خادم خاص تھا۔ وغیرہ وغیرہ۔
بہشتی مقبرہ میں جانب مغرب ایک جگہ جنازہ ادا کرنے کے لیے خالی جگہ رکھی گئی ہے۔ عبد الحفیظ نے مجھے بتایا کہ جنازہ کے لیے شرکاء کم ہوں یا زیادہ، نماز جنازہ میں سات سطریں بنانا ضروری ہے، کیونکہ حضرت کی نماز جنازہ میں بھی سات سطریں بنی تھیں۔ اس لیے اب سات سطریں بنانا سنت مرزا سمجھا جاتا ہے۔
بہشتی مقبرہ سے ہم عاجز کے مکان کی طرف روانہ ہوئے۔ راستے میں باپردہ مرزائنوں کی کئی ٹولیاں مقبرہ کی طرف جاتی ہوئی نظر آئیں۔ جب ہم عاجز کے مکان پر پہنچے تو وہاں ایک دبلا پتلا سانولے رنگ کا قادیانی موجود تھا۔ جس کے چہرے پر ایک عجیب قسم کی پھٹکار نظر آتی تھی۔
مجھے یہ ماحول بڑا عجیب سا معلوم ہوا۔ تھوڑی دیر میں عاجز بھی وہاں پہنچ گیا اور عبد الحفیظ چائے لے آیا۔ چائے نوشی کے دوران یہ انکشاف ہوا کہ وہ ہونق مرزائی لندن میں رہتا ہے۔ ان کی بیوی چند روز پہلے مرزا جی کو پیاری ہو گئی تھی اور وہ اس کی میت ربوہ میں دفن کر کے قادیان آیا ہے۔ میں نے اس سے پوچھا کہ وہ اپنی اہلیہ کی میت قادیان کیوں نہ لے آیا؟ اس نے کہا کہ ربوہ میں اس کے اور بھی رشتے دار دفن ہیں۔ اس لیے اس نے مرنے سے قبل وہیں دفن ہونے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔ یوں بھی لندن سے ربوہ میت لے جانا آسان ہے۔ قادیان لانے میں حکومت ہند کا قانون آڑے آتا ہے، ورنہ ظاہر ہے کہ تقدس کے اعتبار سے مکہ و مدینہ کے بعد قادیان ہی کا نمبر ہے۔ یہ بات راقم الحروف اپنی طرف سے نہیں کہہ رہا بلکہ مرزا بشیر الدین محمود نے تقسیم ہند کے موقعہ پر قادیان کو پاکستان میں شامل کرنے کے لیے جو درخواست ریڈ کلف کے حضور میں پیش کی تھیں۔ اس میں یہی موقف دہرایا گیا تھا کہ قادیان ایک مقدس مقام ہے۔ یہ ایک نبی کی جائے ولادت ہے اور یہی اس کی آخری آرام گاہ ہے۔ اس لیے ہمارے نزدیک تقدس کے اعتبار سے مکہ و مدینہ کے بعد قادیان ہی کا نمبر ہے۔ (اس درخواست کی فوٹو اسٹیٹ کاپی پروفیسر منظور الحق صدیقی ساکن سیٹلائٹ ٹاؤن، راولپنڈی کی تحویل میں ہے)
عاجز کے ہاں سے اٹھ کر ہم بس اسٹینڈ کی طرف روانہ ہوئے۔ وہیں میں نے نماز مغرب ادا کی اور بس میں سوار ہو کر امرتسر کی جانب روانہ ہوا۔
(ہفت روزہ ’ختم نبوت‘ جلد ٧‘ شمارہ ١٥٠‘ از قلم پروفیسر محمد اسلم)
روشنی مل گئی ❣ سرحد کے نامور عالم دین دارالعلوم پشاور صدر کے شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد حسن جان صاحب فرماتے ہیں: ”ایک مرتبہ تبلیغی جماعت کا ایک وفد غلطی سے قادیانیوں کے مرکز میں چلا گیا۔ قادیانیوں نے جب تبلیغی جماعت کو دیکھا تو انہیں وہاں سے نکال دیا، جس پر جماعت کے امیر نے قادیانیوں سے کہا کہ ہم آپ کو بالکل دعوت نہیں دیتے، مگر آپ لوگ ہمیں یہاں صرف تین دن قیام کرنے کی اجازت دے دیں۔ ہم اپنی نمازیں پڑھیں گے اور تمہارے کسی کام میں مخل نہ ہوں گے، جس پر قادیانیوں نے اجازت دے دی۔ جب تین دن ہو گئے تو جماعت کے امیر نے اللہ کے حضور گڑگڑانا شروع کیا کہ اے اللہ! ہم سے وہ کون سا گناہ ہو گیا کہ ہمیں یہاں بیٹھے تین دن ہو چکے ہیں، ایک آدمی بھی ہمارے ساتھ تبلیغ میں جانے کے لیے تیار نہ ہوا۔ ابھی وہ مصروف دعا تھے کہ ایک شخص آیا، جو قادیانی جماعت کا امیر تھا۔ اس نے جب امیر صاحب کو روتے دیکھا تو پوچھا کہ آپ رو کیوں رہے ہیں؟ جناب امیر صاحب نے فرمایا کہ ہم اللہ کے راستے میں اس کے سچے دین کی تبلیغ کے لیے تین دن سے یہاں قیام پذیر ہیں لیکن کوئی ایک شخص بھی ہمارے ساتھ جانے کے لیے تیار نہ ہوا۔ جس پر اس قادیانی نے کہا کہ یہ تو معمولی بات ہے، میں تین دن کے لیے آپ کے ساتھ جاتا ہوں لیکن میری ایک شرط ہے کہ آپ مجھے کسی قسم کی دعوت نہ دیں گے۔ چنانچہ معاہدہ ہو گیا اور وہ قادیانی ان کے ساتھ روانہ ہو گیا۔ تیسری رات اس نے ایک خواب دیکھا۔ جب صبح ہوئی تو اس قادیانی نے جماعت کے امیر صاحب سے کہا کہ آپ مجھے کلمہ پڑھائیں اور مسلمان بنائیں۔ جس پر امیر جماعت نے کہا کہ ہم معاہدے کے پابند ہیں، آپ کو کلمہ پڑھنے پر مجبور نہیں کر سکتے، مگر آپ یہ بتائیں کہ یہ تبدیلی کیوں آئی؟ اس نے کہا کہ میں نے خواب میں سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا۔ آپؐ نے ایک کتے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ تم میرے عاشقوں کے ساتھ پھرتے ہو اور اس کتے کو بھی مانتے ہو۔ وہ کتا مرزا قادیانی تھا، جس پر امیر جماعت نے اسے کلمہ پڑھایا اور سینے سے لگایا۔ جب اس شخص نے واپس اپنے گاؤں جا کر یہ واقعہ کچھ اور قادیانیوں کو سنایا تو وہ بھی مسلمان ہوئے۔ یہ واقعہ مولانا حسن جان نے حضرت مولانا قاری محمد طیب سے سنا۔
جب قادیاں میں مرزا قادیانی کے بیٹے مرزا
شریف کی ایک مسلمان نوجوان نے ٹھکائی کی
ماسٹر تاج الدین انصاریؒ
مجھے اپنے مکان میں بیٹھے قادیان کے اندرونی حالات کی اکثر خبریں مل جایا کرتی تھیں۔ میں اب قادیانی فضاؤں کو سونگھ کر بتا سکتا تھا کہ درجہ حرارت کیا ہے؟ مولانا عنایت اللہ صاحب دورے پر تشریف لے گئے۔ حافظ محمد خان اپنے وطن دس پندرہ روز کے لیے رخصت پر چلے گئے۔ باقی مبلغ بھی باہر مناظروں پر چلے گئے۔ میں اپنے مکان میں اکیلا تھا میرے پاس گل نور بیٹھا تھا کہ ایک نوجوان دھڑام سے میرے صحن میں آ کودا۔ وہ اچانک وارد ہوا ہاتھ میں لاٹھی، سانس کچھ پھولا ہوا۔ کم بخت نے خود ہی ڈیوڑھی کا دروازہ بند کر کے کنڈی لگائی۔ میں گل نور کے لیے چائے بنا رہا تھا۔ چائے دانی میں چائے ڈال کر انگیٹھی پر دودھ رکھنے لگا تھا کہ یہ واقعہ ہوا۔ گل نور نے کہا حنیف کیا ہوا؟ حنیف نے جواب دیا گل ”تساڈے نبی دا پتر لمبا پا کے آیا واں۔“ (میں تمہارے نبی کے بیٹے کو لمبا لٹا آیا ہوں)۔ میں نے اپنی جگہ سے اٹھ کر کہا ”ارے ظالم یہ کیا کیا تو نے؟“ اور پھر ایسی خباثت کر کے یہاں کیوں چلا آیا؟ حنیف اٹھارہ بیس سال کا نوجوان تھا اور ایک گداگر کا بیٹا تھا اس کا باپ جمعرات کو ”فضل مولا“ کی صدا لگا کر مسلمانوں کے گھر سے روٹیاں مانگ کر لے جایا کرتا تھا۔ اس حنیف کا ایک بڑا بھائی تھا مگر وہ قادیان میں بہت کم رہا کرتا تھا۔ ہم نے سنا تھا کہ وہ ڈاکو تھا۔ بہر حال ہم لوگ اس کی بہادری اور جرات کی داستانیں سنا کرتے تھے شاید ایسا ہی ہو میں نے اسے نہیں دیکھا تھا۔ اس واقعے سے میرے تو حواس باختہ ہو گئے
میں نے خیال کیا کہ جاسوس میرے پاس موجود ہے اور یہ کمبخت حنیف گڑبڑ کر کے میرے ہی گھر کو خانہ انوری سمجھ کر آ کودا۔ اب گل نور نے چشم دید گواہ بن جانا ہے میں خواہ مخواہ ملوث ہو کر دھر لیا جاؤں گا۔ واقعہ یہ ہوا کہ اس سے قبل حنیف کو غریب سمجھ کر مرزا شریف احمد نے ڈانٹا بھی اور شاید ایک آدھ چپت بھی رسید کیا۔ یہ بات بہت دن بعد جب حنیف اس مقدمہ میں پھنسا ہوا تھا اس نے خود مجھے بتائی۔ خدا بہتر جانتا ہے کہ یہ بات درست بھی تھی یا نہیں کیا معلوم کمبخت نے جھوٹ بولا ہو واللہ اعلم بالصواب ۔ میں کچھ دیر تو گھبرایا رہا مگر چند منٹ بعد سنبھل گیا۔
گل نور کی آزمائش
میں نے گل نور سے کہا کہ دیکھو بھئی گل نور میرے تمام ساتھیوں نے مجھے بہکانا چاہا اور تمہارے خلاف بہت کچھ کہا اور کھلے لفظوں میں کہا کہ گل نور مرزا محمود کی سی آئی ڈی ہے مگر تمہیں معلوم ہے کہ میں نے انہیں کیا جواب دیا آج اس بات کا فیصلہ ہو جائے گا کہ میں صحیح سمجھا تھا یا وہ لوگ درست تھے۔ گل نور کھڑا ہو چکا تھا وہ بیٹھ گیا اور کہنے لگا کہ بے شک آج میں بھی آپ کو یقین دلا دوں گا کہ آپ ہی نے سچ سمجھا تھا بات ختم ہوگئی ۔ میں نے کہا گل نور اب ہم کیا کریں؟ اس کم بخت کے بچے نے تو غضب ہی کر دیا۔ یہ اگر ہمارے مکان سے پکڑا جائے تو پھر اگر میں قرآن بھی سر پر رکھ کر کہوں کہ میرا اس واقعے سے کوئی تعلق نہیں ہے کون یقین کرے گا اور تو اور میرے اپنے ساتھی کبھی یقین نہ کریں گے۔ یار بڑا غضب ہو گیا کوئی ترکیب بتاؤ ۔ گل نور نے حنیف سے دریافت کیا کہ واقعہ کیا ہے اور بتاؤ کہ وہاں کون کون تھا۔ حنیف نے بتایا کہ صاحبزادہ شریف احمد سائیکل پر سوار آ رہے تھے۔ میں میاں عبداللہ کے مکان کے چبوترے پر بیٹھا تھا چونکہ میری ران پر پھوڑا نکلا ہوا تھا اور میں لاٹھی کے سہارے چل کر وہاں تک پہنچا تھا میں اٹھ کر بازار کی جانب چلنے لگا پیچھے سے صاحبزادہ صاحب اچانک تشریف لے آئے وہ چند روز قبل مجھے بے عزت کر چکے تھے میں لنگڑاتا ہوا چلا جا رہا تھا کہ پیچھے سے آواز آئی او حرامزادے راستہ چھوڑ کر چلو صاحبزادہ صاحب میرے سر پر آ گئے۔ جونہی میں نے ان کی صورت دیکھی اور پہچانا مجھے پہلا واقعہ بھی یاد آ گیا اور تازہ گالی نے بھی مجھے گرما دیا۔ مجھے اپنا زخم بھول گیا۔
جونہی وہ مجھ سے آگے بڑھنے لگے میں نے گھما کر اسفل پر لاٹھی رسید کی وہ چکرا کر گرے منہ دوسری طرف تھا میں نے آؤ دیکھا نہ تاؤ دو ایک اور رسید کر دیں۔ اور لپک کر گلی میں سے ہوتا ہوا دوسری جانب بھاگ نکلنے کی بجائے ادھر چلا آیا۔ مجھے میاں صاحب نے بھی نہیں پہچانا اور نہ اس وقت وہاں کوئی اور موجود تھا میں نے کہا ظالم تو نے ہمیں تو پھنسا دیا۔ حنیف نے مجھے دیکھ کر کہا ”واہ مولوی جی تساں ڈردے او آکھو تے میں میدان وچ جا کھلو واں“ کم بخت کی جرات نے ہم دونوں کو گرویدہ کر لیا۔ گل نور نے مشورہ دیا کہ ”استرے سے حنیف کے زخم لگا دیئے جائیں اور پھر کہہ دیا جائے کہ میاں شریف احمد نے چاقو سے حملہ کیا تب حنیف نے بھی لاٹھی استعمال کی ۔“ حنیف نے کہا کہ لائیے میں خود ہی زخم لگا لیتا ہوں۔ میں نے اسے کہا ٹھہر جا کم بخت پہلے چائے تو پی لے۔ گل نور سے کہا کہ لو آغا تم بھی چائے پیو۔ اور پھر جس طرح کہو کر لیا جائے گا۔ ابھی تک بازار میں صرف شور اور ہنگامہ تھا۔ کسی کو معلوم نہ تھا کہ کس نے مارا؟ کیوں مارا؟ اور ملزم کدھر گیا؟ یا ملزم کون ہے؟ چائے کے بعد میں نے گل نور سے کہا آغا ارے بھئی اگر کوئی ادھر آ نکلا تو غضب ہو جائے گا۔ خدا کے لیے تم چپکے سے نکل جاؤ میں حنیف کو استرا دیتا ہوں یہ خود ہی زخم لگا لے گا۔ آغا نے حنیف کو تاکید کر دی کہ دیکھنا زیادہ گہرے زخم نہ لگا لینا ایک زخم ذرا گہرا ہو اور دو تین معمولی زخم ہوں۔ بس گزارہ ہو جائے گا۔ لو میں جا رہا ہوں یہ کہا اور جانے لگا۔ میں نے اسے پھر تاکید کی راز افشا نہ ہو وہ چلا گیا۔
حنیف کی گمشدگی
اس کے جاتے ہی حنیف نے مجھے کہا لاؤ استرا۔ میں نے اسے کہا کہ خبردار کسی زخم کی ضرورت نہیں ایک غلطی کے بعد دوسری غلطی کا ارتکاب کرنا چاہتے ہو؟ گل نور بیگانہ آدمی ہے آؤ میں تم کو دوسری جگہ پہنچاؤں میرے مکان سے کچھ فاصلہ پر اسی کوچے میں ایک مسلمان دکاندار کا گھر تھا وہ بٹالے گیا تو مجھے کہ گیا کہ ”میں اپنے مکان کے باہر کنڈی لگا کر اوپر سے چک ڈال چلا ہوں دھیان رکھنا رات کی گاڑی سے نہ آسکا تو کل آؤں گا۔“ میں نے حنیف سے کہا کہ میرے پیچھے آؤ۔ چک اٹھا کر دروازہ کھولا اسے اندر داخل کر کے کہا کہ پچھلے کمرے میں چلے جاؤ۔ میں نے اوپر سے چک ڈال دی اور اپنے مکان پر واپس
آ گیا۔ کچھ دیر بعد ہڑتال ہو گئی۔ مرزائی مسلح ہو کر میدان میں آگئے تھانہ بھی حرکت میں آ گیا مسلمان گھبرا گئے۔ رات کو مرزائیوں نے میرے مکان کے دونوں جانب لٹھ بند مرزائی رضا کاروں کا پہرہ لگا دیا۔ پولیس بھی گلی کوچوں میں گشت کرنے لگی۔ غریب جان سے مارا جائے مرزائی سر بازار تھانیدار کی پگڑی اچھال دیں غریبوں کی آبرو لٹ جائے کوئی نہیں پوچھتا مگر بڑے آدمی کی نکسیر پھوٹ جائے تو ہڑتال ہو جاتی ہے بستی بھر میں ہلڑ بازی ہوتی ہے خلاف قانون چھریاں چاقو لاٹھیاں اور اسلحہ ہاتھ میں لے کر بے گناہوں کو دھمکایا جائے قانون خاموش رہتا ہے حکام کے کانوں پر جوں نہیں رینگتی۔ اس واقعے سے قادیان میں سناٹا چھا گیا۔ رات کی تاریکی نے دہشت کے اثرات کو زیادہ گہرا کر دیا۔ صبح ہوئی تو بٹالے سے پولیس کی گارڈ کے ہمراہ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس بھی تشریف لے آئے۔ میں نے علی الصبح چوبارہ کی کھڑکی کھول کر باہر جھانکا تو دیکھا کہ قادیان کا تھانیدار گلی میں سے گزر رہا ہے میں نے تھانیدار کو آواز دی اجی سردار صاحب کیا ماجرا ہے؟ تھانیدار نے گھبرا کر میری طرف دیکھا اور کہا کہ آپ کو نہیں معلوم بڑا غضب ہو گیا۔ چھوٹے میاں صاحب کو کسی نے مارا ہے۔ میں نے کہا ایسے واقعات تو یہاں ہر روز ہوتے ہیں کبھی گارڈیں باہر سے نہیں آئیں کبھی پہرے نہیں لگتے بڑا اہتمام کیا جا رہا ہے۔ میاں صاحب کو چوٹ آگئی ہے تو تھانے میں رپٹ لکھوا دی جائے۔ ساری بستی کو پریشان کرنے کے کیا معنی؟ تھانیدار نے مجھے اشارے سے کہا خاموش رہو۔ تھانیدار چلا گیا۔ صبح کا وقت تھا میں نے مسلمان ہمسایوں کو آوازیں دے کر باہر بلایا اور انہیں کہا کہ تمہیں کیا سانپ سونگھ گیا ہے۔ ارے بھئی کیا ہو گیا ایک شخص کو کسی نے مارا اس پر یہ سناٹا کیوں ہے؟ کام کاج شروع کرو اپنی دکانیں کھولو کیا قیامت آگئی ہے۔ میں نے زور زور سے بلند آواز میں باتیں شروع کر دیں۔ لوگ چلتے پھرنے لگے اس کے بعد بازار میں چہ میگوئیاں ہونے لگیں۔ عجیب عجیب قسم کی باتیں سننے میں آئیں بہرحال حالات نارمل ہو گئے دن نکل آیا صبح سویرے الفضل (اخبار) نکلا جس میں درج تھا کہ کسی شخص نے میاں شریف احمد کو سر بازار لاٹھیوں سے پیٹ ڈالا۔ میں نے اندر کا کمرہ جہاں بیٹھ کر گل نور اور حنیف نے چائے پی تھی مقفل کر دیا اور خود اوپر چلا گیا تھا۔ دن کے وقت گل نور آیا مجھ سے دریافت کرنے لگا کہ حنیف کا کیا بنایا۔ میں نے اسے کہ دیا کہ حنیف نے زخم گہرے کر لیے تھے میں نے اسی
وقت اسے گورداسپور کے ہسپتال بھجوانے کا بندوبست کر دیا تھا۔ وہ صبح ہسپتال میں داخل ہو گیا ہو گا گل نور تھوڑی دیر بیٹھ کر چلا گیا۔
الفضل کا ضمیمہ
شام کو الفضل کا ضمیمہ نکلا جس میں درج تھا کہ ملزم نے اپنے جسم پر خود ہی زخم لگا لیے تھے اور اب وہ گورداسپور کے ہسپتال میں داخل ہے۔ میں نے یہ خبر پڑھی تو مجھے بے اختیار ہنسی آئی کہ سی آئی ڈی بڑی ہوشیار ہے۔ مجھے رات کو گل نور پھر ملنے آیا اس کی زبانی معلوم ہوا کہ مرزائیوں کی ایک موٹر سول ہسپتال گورداسپور روانہ ہو چکی ہے۔ صبح موٹر بے نیل و مرام واپس آ گئی۔ گل نور صبح کے وقت آیا تو میں نے اسے بتایا کہ حنیف کے ساتھی بڑے بے وقوف اور بے حوصلہ لوگ ہیں گورداسپور کی بجائے اسے بٹالے لے گئے۔ اس خبر کو پا کر الفضل نے ضمیمہ نکالنے کی بجائے تصدیق کر لینا ضروری خیال کیا چنانچہ مرزائی کارندے بٹالے کے ہسپتال میں حنیف کے زخموں کی مرہم پٹی دیکھنے کے لیے ہسپتال کا کونہ کونہ تلاش کرتے رہے۔ بات ٹھنڈی پڑ گئی۔
حاجی عبدالرحمن کا گھر
دوسرے دن ہمسائے نے بٹالے سے واپسی پر مکان کھولا تو اسے معلوم نہ تھا کہ آفت کا پرکالہ حنیف اس کی پچھلی کوٹھڑی میں موجود ہے وہ شام کو حقہ لے کر میرے مکان کے باہر آ کر کھڑا ہو گیا۔ میں نے اسے دیکھا تو وہ بڑا مطمئن تھا۔ میں نے سمجھا اس نے ابھی تک حنیف کی ”زیارت“ نہیں کی، میں نے اسے اوپر بلا لیا۔ چھوٹے میاں صاحب کی مرمت کا قصہ شروع ہوا تو وہ خدا کا شکر ادا کرنے لگا اور کہنے لگا کہ اچھا ہوا میں یہاں موجود نہ تھا۔ میں نے اسے کہا کہ بھئی شیخ جی میاں صاحب کو کس نے مارا اس نے کہا اجی مرزائیوں کا آپس ہی کا قصہ ہوگا۔ وہ اطمینان سے حقے کے کش لگاتا رہا اور باتیں کرتا رہا۔ میں نے اسے بتایا کہ اس طرح اچانک یہ واقعہ ہوا۔ بے چارہ دوکاندار تو تھا ہی گھبرا گیا۔ منتیں کرنے لگا میں نے اسے تسلی دی کہ تمہاری طرح میں بھی خواہ مخواہ پریشان ہو رہا ہوں کم بخت نے ہمیں بلاوجہ خراب کیا۔ میں اس کے مکان پر پہنچا اندر جا کر آواز دی کوئی جواب نہ ملا مجھے بڑا فکر ہوا۔ کوٹھڑی میں داخل ہو کر دیکھا تو وہ سو رہا تھا اسے جگایا اور عرض کیا کہ
یہاں سے کھسک جاؤ۔ وہ مان گیا۔ اس نے کہا کہ میری تھوڑی سی امداد کرو مجھے بٹالے کسی اچھے ٹھکانے پر پہنچا دو جہاں جا کر میں خود پولیس کے سامنے پیش ہو کر صحیح صحیح بات بتا کر اقرار کروں گا کہ میں نے میاں صاحب کی تواضع کی ہے۔ حاجی عبدالرحمن بڑے دلیر بڑے ہی بہادر انسان ہیں۔ چنانچہ حنیف ان کے ہاں راتوں رات پہنچا۔ صبح کو وہ تھانے میں حاضر تھا۔ مقدمہ چل پڑا۔ حاجی صاحب نے حنیف کی ضمانت کرا دی اس قصے میں ہم بالکل بے قصور تھے خلیفہ محمود کو بھی اپنے معتبر آدمی کے ذریعے معلوم ہو چکا تھا کہ حنیف نے سب کچھ خود ہی کیا ہے مگر وہ کم بخت ضمانت پر رہا ہوا تو تیسرے دن بٹالے سے سیدھا میرے ہاں پہنچا۔ گل نور اس وقت بھی موجود تھا۔ حنیف نے آتے ہی زناٹے دار سلام کیا ہم نے پوچھا کیوں بھئی اب کیا ہے؟ کہنے لگا اجی کوئی بات نہیں میں پیش ہو گیا تھا مقدمہ چل پڑا ہے۔ حاجی صاحب نے ضمانت کا بندوبست کر دیا ہے ایک وکیل کا بندوبست بھی ہو گیا ہے۔ حاجی صاحب بڑے اچھے آدمی ہیں میری بڑی خاطر تواضع ہوتی رہی وہ بڑے دلیر آدمی ہیں لوگوں کو بلا بلا کر مجھے دکھاتے رہے اور کہتے تھے کہ یہ ”صاحبزادہ حنیف ہے“ میں اور گل نور اس کی باتیں سن کر ہنسنے لگے۔ میں نے اسے کہا کہ بابا تم وہیں رہتے یہاں آ کر کیا لینا تھا یہ تو مرزائیوں کا قلعہ ہے مگر حنیف نہ مانا کہنے لگا مولوی جی میں اس لیے یہاں واپس آیا ہوں کہ لوگ یہ نہ کہیں حنیف بھاگ گیا۔
اخبارات میں مقدمے کی روئیداد
اخبارات نے حنیف کے مقدمے کی سرخیاں خوب جمائیں اس قسم کے عنوان سے خبریں شائع ہوئیں:
”صاحبزادہ محمد حنیف اور صاحبزادہ محمد شریف کا مقدمہ“
مجھے یاد ہے بعض اخباروں نے صاحبزادگی پر تبصرہ بھی لکھا کہ دونوں صاحبزادگان نذر نیاز ہی پر گزارہ کرتے ہیں۔ ایک اعلیٰ پیمانے پر نذر وصول کرتا ہے ایک گھٹیا طریقے سے نذرانے کی بجائے خیرات پر اکتفا کرتا ہے۔ بہرحال قدرت نے ایک فقیر کے بیٹے کے ہاتھوں ہوا خوری کا سامان کر دیا۔
مقدمہ چل رہا تھا مگر حنیف پیشی بھگت کر قادیان چلا آتا تھا۔ میں نے حنیف
سے کہا کہ میاں حنیف تم کام کیا کرو۔ ماشاء اللہ جوان ہو دست و بازو سے کما کر کھانا چاہئے۔ اس نے کہا کہ میں بھی یہی چاہتا ہوں مگر کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا کاروبار کروں۔ آموں کا موسم آگیا۔ حنیف نے آم خرید کر (چھابڑی) خوانچہ لگا لیا۔ جیسا کہ میں نے عرض کیا حنیف بڑا دلیر تھا وہ خوانچہ لے کر مسلمانوں کے محلوں سے ہوتا ہوا مرزائی محلوں میں پہنچ کر شرطی مٹھا کی آواز لگانے لگا کوئی خریدتا یا نہ خریدتا۔ مرزائیوں نے محسوس کیا کہ ہمارے حضرت صاحب کا مخالف قادیان میں کھلے بندوں دندناتا پھرتا ہے غضب ہو گیا یہاں تو تھانیداروں کو ہماری منشا اور اجازت کے بغیر بازاروں میں چلنے پھرنے کی اجازت نہ تھی۔ اسی غصے میں مرزا محمود کے ایلچی تھانے پہنچے تھانیدار نے حنیف کو بلا بھیجا۔ وہ میرے پاس آیا میں بھی ساتھ چلا گیا۔ تھانیدار نے کہا کہ تم مرزائی محلوں میں کیا لینے جاتے ہو؟ حنیف نے کہا جناب میں کچھ لینے نہیں جاتا بلکہ شرطی مٹھا آم دینے جاتا ہوں۔ تھانیدار نے منع کیا اور کہا کہ مرزائی خفا ہوتے ہیں تم ادھر مت جایا کرو۔ مگر میں نے تھانیدار سے دریافت کیا کہ شاہراہ عام پر حلال روزی کمانے سے کسی غریب کو منع کرنا اس لیے کہ کوئی امیر اس سے ناراض ہے۔ یہ بات انصاف کے بالکل خلاف ہے مسلمان قوم نے اگر حکومت سے یہی مطالبہ کر دیا کہ مرزائیوں نے ختم نبوت کے مسئلے اور عقیدے سے انکار کر کے ہمارے ہادی ہمارے آقا و مولا محمد مصطفیٰ ﷺ کی توہین کی ہے جس سے ہمارے دل زخمی ہوتے ہیں انہیں ہمارے شہروں اور محلوں میں سے گزرنا نہ چاہئے۔ تب حکومت کیا جواب دے گی؟ چھوٹے صاحبزادے کے جسم پر چوٹ آئی تو قیامت بپا ہوگئی مسلمانان عالم کے دل مجروح ہوئے تو سرکاری مشین میں کوئی حرکت نہ آئی۔ تھانیدار صاحب کے پاس کوئی جواب نہ تھا مگر انتظامی معاملے میں وہ اپنی جگہ درست فرما رہے تھے میں خود بھی یہ چاہتا تھا کہ چپقلش نہ ہو۔ مگر اتنا ضرور ہوا کہ اس واقعے کے بعد مرزائیوں کی اکڑ فوں اور کروفر میں بہت کمی آگئی اور رعب تقریباً رخصت ہو گیا۔ مرزائی عام آدمیوں کی طرح رہنے لگے اس سے پہلے ان کے پاؤں زمین پر ٹکتے نہ تھے۔ حنیف غریب کو چھ ماہ قید کا حکم ہوا۔ وہ جیل پہنچ گیا اسی جیل میں حضرت شاہ صاحب بھی قید بھگت رہے تھے۔ حنیف کچھ دن کے لیے ان کا ”مشقتی“ بن گیا۔
قادیان میں تحریک ختم نبوت
چوہدری افضل حق
جس طرح بے کسی کشمیر کی غریب آبادی کی مصیبتوں کو دیکھ کر فریاد و فغاں کر رہی تھی اور ہم اس کے درد ناک نالوں کو سن کر اٹھے۔ اسی طرح ہم نے قادیان کے تباہ حال اور ستائے ہوئے ہندوؤں اور مسلمانوں کی پکار کو سن کر کان کھڑے کیے۔ قادیان کے مرزائی سرمایہ داروں کو یقین تھا کہ زمین کے درد ناک نالے آسمان کے خداوند تک نہیں پہنچتے۔ انھیں دنیا کے خداوندوں کا سہارا تھا اور وہ من مانی کارروائیاں اسی لیے کرتے تھے کہ حکام تک ان کی رسائی تھی لیکن دیکھو یوں معلوم ہوا کہ گویا آسمان کے خداوند نے کہا کہ اے ارباب غرور یہ تمہاری متشددانہ زندگی کی انجیل کے اوراق اب بند ہو جانے چاہئیں۔ پس اس نے جھوٹے مسیحا اور اس کے حواریوں کے مظالم کو روکنے کے لیے خاک نشینوں کی ایک جماعت کے دل میں تحریک کی جس نے چند نوجوان والنٹیئروں کو قادیان میں بھیجا تا کہ مسلمانوں کی مساجد میں جا کر نماز ادا کریں لیکن ایسا نہ کرنا کہ کہیں مرزائیوں کی مسجد میں جا گھسو اور مرزائیوں کو تم پر تشدد کا معقول بہانہ مل جائے لیکن قادیانی مرزائیوں کو مسلمانوں کی مسجد میں آوازۂ اذان کی برداشت کہاں تھی؟ مسلمانوں پر ان کا لاٹھی کا ہاتھ رواں تھا ہی آئے اور لاٹھی کے جوہر دکھانے لگے بے دردوں نے لاٹھیوں سے احرار والنٹیئروں کو اس قدر پیٹا کہ پناہ بخدا۔ بزدل دشمن قابو پا کر ایسے ہی غیر شریفانہ مظاہرے کرتا ہے۔ والنٹیئر جان سے بچ گئے مگر مدت تک ہسپتال میں پڑے رہے۔ اس کے بعد احرار نے بٹالہ میں کانفرنس کر کے حکومت اور قادیانی ارباب اقتدار کو للکارا۔ مرزائیوں اور سرکار نے سمجھا کہ احرار کی خاک میں شعلے کہاں پروا تک نہ کی کسی مرزائی کی گرفتاری عمل میں نہ آئی لیکن اتنا
ہوا کہ رپورٹروں نے حکام اور مرزائی صاحبان سے کہہ دیا کہ احرار کی کشمیر کی یلغار کو سامنے رکھو۔ ایسا نہ ہو کہ گرد میں سوار نکل آئیں۔ احرار جس کے پیچھے پڑ جاتے ہیں۔ پھر پیچھا نہیں چھوڑتے اور ہموار کر کے دم لیتے ہیں۔ مار کھا کے چپکے بیٹھ جانا شریفوں کا شیوہ نہیں۔ اس لیے جولائی ١٩٣٥ء میں امرت سر میں ورکنگ کمیٹی ہوئی فیصلہ ہوا کہ جو ہو سو ہو۔ احرار کا قادیان میں مستقل دفتر کھولنا چاہیے۔ معلوم کیا کہ ہم میں کون ہے۔ جو علم میں پورا اور عمل میں پختہ ہے جو موت کی مطلق پروا نہ کرے اور اللہ کا نام لے کر کفر کے غلبے کو مٹانے کے عزم سے اس جگہ اقامت اختیار کرے اور مرزائیوں کی ریشہ دوانیوں کی نگرانی کرے؟ خدا نے مولانا عنایت اللہ کو توفیق دی۔ وہ شادی شدہ نہ تھے۔ اس لیے جماعت کو یہ غم نہ تھا کہ ان کی شہادت کے بعد کنبہ کا بوجھ اٹھانا ہے اور بچوں کی پرورش کا سامان کرنا ہے۔
مولانا عنایت اللہ
غرض خطرات کے ہجوم میں مولانا کو دفاع مرزائیت کا کام سپرد کیا گیا۔ دارالکفر میں اسلام کا جھنڈا گاڑنا معمولی سی اولوالعزمی نہیں تھی۔ افسوس مسلمانوں نے دنیا کے لیے زندہ رہنا سیکھ لیا ہے اور ان کے سارے تبلیغی ولولے سرد پڑ گئے ہیں۔ اب جب کہ فتنہ مرزائیت نے سر اٹھا لیا تو انھوں نے کوئی مصلحت اختیار نہ کی۔ باوجودیکہ مرزائی مسلمانوں کو صریح کافر کہتے ہیں۔ یہاں تک کہ جنازہ تک پڑھنے کے روادار نہ تھے۔ لیکن لوگ انھیں انگریز کا سمجھ کر منہ نہ آتے تھے۔ تعلیم یافتہ مسلمانوں نے تو حد کر دی تھی۔ وہ اس خانہ برانداز قوم کا تعاون حاصل کرنے کو حصول ملازمت کا ضروری مرحلہ خیال کرتے تھے۔ بہت ہیں جنھوں نے دنیا حاصل کرنے کے لیے دین کو فروخت کر دیا۔ دین فروشوں کا گروہ ہر زمانے میں موجود رہا ہے۔ قوموں کے زوال میں اس گروہ کا بہت بڑا حصہ ہوتا ہے۔ مرزائی لوگ انسانی فطرت کی اس کمزوری سے پورا فائدہ اٹھاتے رہے۔ ضلع گورداسپور کے سارے حکام ان کا اس وجہ سے پانی بھرتے تھے کہ قادیانی گمراہوں کی رسائی انگریزی سرکار تک ہے۔ ضلع کے حکام کے ذریعہ عوام کو مرعوب کرنا۔ سرکار کا وفادار فریق بتا کر تعلیم یافتہ لوگوں کو ملازمتوں کے سبز باغ دکھانا ان کا کام تھا۔ انگریزی سلطنت کی مضبوطی کو دیکھ کر اور سرکار سے مرزائیوں کا گٹھ جوڑ دیکھ کر کسی تبلیغی جماعت کا حوصلہ نہ تھا کہ وہ خم ٹھونک کر میدان مقابلہ
میں نکلتی۔ اللہ نے احرار کو توفیق دی کہ وہ حق کا علم لے کر کفر کے مقابلے میں نکلے۔ مرزائی متعدد قتل کر چکے تھے۔ قادیان میں انھیں کوئی پوچھنے والا نہ تھا۔ مولانا عنایت اللہ کو دفتر لے دیا گیا۔ قادیان میں احرار کا جھنڈا لہرانے لگا۔ سرخ جھنڈے کو دیکھ کر مرزائی روسیاہ ہو گئے۔ آہ ان کے سینوں کو توڑتی نکل گئی۔ یہ ان کی آرزوؤں کی پامالی کا دن تھا۔ مرزائیوں نے اپنی امیدوں کا جنازہ نکلتے دیکھا۔ تو سر پیٹنے لگے۔ سرکار کی دہلیز پر سر دھر کر پکارے۔
حضور قادیان مرزائیوں کی مقدس جگہہ ہے۔ احرار کے وجود سے یہ سرزمین پاک کر دی جائے! جب مرزائیت نصرانیت کا آسرا ڈھونڈھنے نکلی تو ہم نصرانیوں اور قادیانیوں کے اتحاد سے ڈرے ضرور مگر خدا کو حامی و ناصر سمجھ کر اس کے تدارک میں لگ گئے۔ ڈرنا اور ہمت ہار دینا عیب ہے۔ ڈرنا اور پہلے سے زیادہ چوکنے ہو کر مقابلہ کرنا بڑی خوبی ہے۔ بساطِ سیاست پر ترڈو کو بڑھا کر اس کو تنہا چھوڑنا غلطی ہوتی ہے۔ ہم نے اوّل ان احباب کی فہرست تیار کر لی جو مولانا عنایت اللہ کی شہادت کے بعد یکے بعد دیگرے یہ سعادت حاصل کرنے کے لیے ٢٤ گھنٹے کے اندر قادیان پہنچ جائیں کیونکہ مرزائیوں نے قادیان کو قانونی دسترس سے پرے ایک دنیا بنا رکھا تھا۔ جہاں مسلمانوں، ہندوؤں اور سکھوں پر بلا خطا مظالم توڑے جاتے تھے قتل ہوتے تھے مگر مقدمات عدالت تک نہ جا سکتے تھے۔ دوسرے ہم نے فوراً مولوی عنایت اللہ کے نام قادیان میں مکان خرید دیا تا کہ مرزائیوں اور حکام کا یہ عذر بھی جاتا رہے کہ مولوی صاحب موصوف ایک اجنبی ہیں اور ان کا قادیان سے کوئی تعلق نہیں۔ تیسرے قادیان کی تقدیس کے دعوے کو باطل کرنے کے لیے ہم نے ”احرار تبلیغ کانفرنس“ قادیان کا اعلان کیا۔ اس پر تو گویا قادیانی ایوان میں زلزلہ آ گیا۔ اس اعلان کے ساتھ ہی مرزائی سر پر پاؤں رکھ کر بھاگے اور سر حکام کے پاؤں پر رکھ دیا کہ تمہاری خیر ہو ہماری خبر لو کہ خانہ خراب ہوا جاتا ہے۔ ہم سے کہا گیا کہ کانفرنس سے باز رہو۔ قادیان میں مرزائیوں کی اکثریت ہے۔ اقلیت کا حق نہیں کہ ان کے جذبات کو ٹھیس پہنچائے۔ ہم نے حکام کو جواب دیا۔ سوائے قادیان کے مرزائیوں کی اکثریت کہاں ہے۔ سوائے قادیان کے سب جگہ ان کی تبلیغ بند کر دی جائے۔ اس جواب معقول سے وہ لاجواب ہو گئے مگر رخنہ اندازیوں میں برابر مصروف رہے مگر اٹھایا ہوا قدم واپس نہ ہو سکتا تھا۔ حکومت نے سراسر ناانصافی سے بچنے کے لیے کہا کہ کانفرنس کرو لیکن مسلح ہو کر قادیان میں داخل نہ ہو اس میں ہمیں عذر کیا تھا؟
کانفرنس کی کامیابی نے دوست اور دشمن کو حیران کر دیا۔ مرزائی تو جل گئے اور جلدی جلدی حکام کے پاس پہنچے کہ لو سرکار! بخاری نے دل کا بخار نکالا۔ بڑے مرزا صاحب کی توہین کی چھوٹے مرزا کے الگ بخیے ادھیڑے اگر اب مدد نہ کی تو کب کام آؤ گے؟ سرکار نے آؤ دیکھا نہ تاؤ بخاری صاحب کو گرفتار کر کے عدالت میں لا کھڑا کیا۔
خدا کی حکمت گناہ گاروں کی عقل پر مسکراتی ہے۔ مرزائی تو احرار کو مرعوب کرنے کے لیے عطاء اللہ شاہ صاحب پر مقدمہ چلا رہے تھے لیکن قدرت مرزائیت کے ڈھول کا پول کھولنے کے لیے بے تاب تھی خدا کی مہربانی سے مرزائیت کے خلاف وہ ثبوت بہم پہنچے کہ کسی کو وہم و گمان بھی نہ تھا کہ ہم میں ایسے ثبوت مہیا کرنے کی صلاحیت ہے ہم نے اس مقدمہ میں مرزائیت کے مذہب و اعتقاد پر بحث نہیں کی بلکہ مرزائیت کے اور اعمال کو پیش کیا۔ جس سے ابتدائی عدالت بھی متاثر ہوئی۔ اگرچہ اس نے سیّد عطاء اللہ شاہ صاحب کو چھ ماہ کی سزا دے دی۔ تاہم سننے والی پبلک پر گہرا اثر ہوا۔ سب کو یقین تھا کہ شہادت صفائی ایسی مضبوط ہے کہ یہ سزا بحال نہیں رہ سکتی لیکن مرزائی ہیں کہ شاہ صاحب کی سزا یابی پر پھولے نہ سماتے تھے۔ ان کے گھروں میں گھی کے چراغ جلائے گئے لیکن سیشن جج مسٹر کھوسلہ نے مرزائیوں کی خوشیوں کو اپنے فیصلہ اپیل میں ماتم سے بدل دیا۔ اس نے وہ تاریخی فیصلہ لکھا جس سے اسے شہرت دوام حاصل ہو گئی۔ اس فیصلہ کا ہر حرف مرزائیت کی رگِ جان کے لیے نشتر ہے۔ اس فیصلہ میں مسٹر کھوسلہ نے چند سطروں میں مرزائیت کی ساری اخلاقی تاریخ لکھ دی اس کے فیصلے کا ہر لفظ دریائے معانی ہے اس کی ہر سطر مرزائیت کی سیاہ کاریوں اور ریا کاریوں کی پوری تفسیر ہے۔ مسٹر کھوسلہ کے قلم کی سیاہی مرزائیت کے لیے قدرت کا انتقام بن کر کاغذ پر پھیلی اور مرزائیت کے چہرے پر نہ مٹنے والے داغ چھوڑ گئی۔ ہر چند انھوں نے ہائی کورٹ میں سر سپرو جیسے مقنن کی معرفت چارہ جوئی کی تاکہ مسٹر کھوسلے کے فیصلے کا داغ دھویا جائے مگر انھیں اس میں کامیابی نہ ہوئی۔ مرزائی آج تک یہی سمجھتے تھے کہ قدرت ظلم ناروا کا انتقام لینے سے قاصر ہے مگر اس فیصلہ نے ثابت کر دیا کہ خدا کے حضور میں دیر ہے اندھیر نہیں۔
اس فیصلہ کو تاریخ احرار میں خاص اہمیت حاصل رہے گی۔ دراصل یہ فیصلہ مرزائیت کی موت ثابت ہوا۔ جس غیر جانب دار نے اس کو پڑھا وہ مرزائیت کے نقش و نگار
کو دیکھ کر اس سے نفرت کر تعلیم یافتہ طبقے کے رجحان کے مقابلے میں اسلام کی مرزائیت کے قلعے پر بم بندیوں کو مسمار کرنے میں فیصلہ پھینک دو۔ یہ بم پھینک
مسٹر کھوسلے کا فیصلہ
مولانا سید عطاء جج گورداسپور نے بزبان انگ
مرافعہ گزار سیا مجرم قرار دیتے ہوئے اس قادیان کے موقعہ پر کی چو
مرزا اور مرزائیت
مرافعہ گزار چند ایسے حقائق و واقعات ہے۔ آج سے تقریباً پچو سامنے یہ دعویٰ پیش کیا کی حیثیت بھی اختیار کر کے مدعی تھے لیکن ان فرقہ میں شامل ہونے وا ہے کہ یہ لوگ فرقہ مرزا
قادیانیت کی تاریخ
بتدریج یہ فر گئی۔ مسلمانوں کی طرف
کو دیکھ کر اس سے نفرت کرنے لگا۔ علامہ سر محمد اقبال اور مرزا سر ظفر علی کے بیانات نے بھی تعلیم یافتہ طبقے کے رجحان خیال کو بدل دیا۔ الیاس برنی نے قادیانی مذہب لکھ کر مرزائیت کے مقابلے میں اسلام کی بہت بڑی خدمت انجام دی لیکن سچ یہ ہے کہ مسٹر کھوسلہ نے جو مرزائیت کے قلعے پر بم پھینکا۔ اس نے کفر کے اس قلعے کی بنیادیں ہلا دیں۔ ان قلعہ بندیوں کو مسمار کرنے میں آسانی ہو گئی۔ جہاں چار مرزائی بیٹھے ہوں۔ ان میں مسٹر کھوسلہ کا فیصلہ پھینک دو۔ یہ بم پھینکنے کے برابر ہوگا۔ وہ سراسیمہ ہو کر بھاگ جائیں گے۔
مسٹر کھوسلے کا فیصلہ
مولانا سید عطاء اللہ شاہ صاحب کے تاریخی مقدمہ میں ان کی اپیل پر مسٹر کھوسلہ سیشن جج گورداسپور نے بزبان انگریزی جو فیصلہ صادر کیا ہے۔ اس کا اردو ترجمہ درج ذیل ہے۔
مرافعہ گزار سید عطاء اللہ شاہ بخاری کو تعزیرات ہند کی دفعہ ١٥٣ الف کے ماتحت مجرم قرار دیتے ہوئے اس تقریر کی پاداش میں جو انھوں نے ٢١ اکتوبر ١٩٣٤ء کو تبلیغ کانفرنس قادیان کے موقعہ پر کی چھ ماہ کی قید بامشقت کی سزا دی گئی ہے۔
مرزا اور مرزائیت
مرافعہ گزار کے خلاف جو الزام عاید کیا گیا ہے۔ اس پر غور و خوض کرنے کے قبل چند ایسے حقائق و واقعات بیان کر دینا ضروری معلوم ہوتا ہے جن کا تعلق امور زیر بحث سے ہے۔ آج سے تقریباً پچاس سال قبل قادیان کے ایک باشندے مسمی غلام احمد نے دنیا کے سامنے یہ دعویٰ پیش کیا کہ میں مسیح موعود ہوں۔ اس اعلان کے ساتھ ہی اس نے اسقف اعظم کی حیثیت بھی اختیار کر لی اور ایک نئے فرقہ کی بنا ڈالی۔ جس کے ارکان اگرچہ مسلمان ہونے کے مدعی تھے لیکن ان کے بعض عقاید و اصول عام عقائد اسلامی سے بالکل متبائن تھے۔ اس فرقہ میں شامل ہونے والے لوگ قادیانی یا مرزائی یا احمدی کہلاتے ہیں اور ان کا مابہ الامتیاز یہ ہے کہ یہ لوگ فرقہ مرزائیہ کے بانی (مرزا غلام احمد) کی نبوت پر ایمان رکھتے ہیں۔
قادیانیت کی تاریخ
بتدریج یہ تحریک ترقی کرنے لگی اور اس کے مقلدین کی تعداد چند ہزار تک پہنچ گئی۔ مسلمانوں کی طرف سے مخالفت ہونا ضروری تھا۔ چنانچہ مسلمانوں کی اکثریت نے مرزا
کے دُعاوی بلند بانگ خصوصاً اس کے دعوائے تفوق دینی پر بہت ناک منہ چڑھایا اور مرزا نے ان لوگوں پر کفر کا جو الزام لگایا۔ اس کے جواب میں ان لوگوں نے بھی سخت لہجہ اختیار کیا۔ مگر قادیانی حصار میں رہنے والے اس بیرونی تنقید سے کچھ بھی متاثر نہ ہوئے اور اپنے مستقر یعنی قادیان میں مزے سے ڈٹے رہے۔
قادیانیوں کا تمرد اور شورہ پشتی
قادیانی مقابلتاً محفوظ تھے۔ اس حالت نے ان میں متمردانہ غرور پیدا کر دیا۔ انھوں نے اپنے دلائل دوسروں سے منوانے اور اپنی جماعت کو ترقی دینے کے لیے ایسے حربوں کا استعمال شروع کیا جنھیں ناپسندیدہ کہا جائے گا۔ جن لوگوں نے قادیانیوں کی جماعت میں شامل ہونے سے انکار کیا۔ انھیں مقاطعہ قادیان سے اخراج اور بعض اوقات اس سے بھی مکروہ تر مصائب کی دھمکیاں دے کر دہشت انگیزی کی فضا پیدا کی۔ بلکہ بسا اوقات انھوں نے ان دھمکیوں کو عملی جامہ پہنا کر اپنی جماعت کے استحکام کی کوشش کی۔ قادیان میں رضا کاروں کا ایک دستہ (والنٹیر کور) مرتب ہوا اور اس کی ترتیب کا مقصد غالباً یہ تھا کہ قادیان میں ”لِمَنِ الْمُلْکُ الْيَوْمَ“ کا نعرہ بلند کرنے کے لیے طاقت پیدا کی جائے۔ انھوں نے عدالتی اختیارات بھی اپنے ہاتھ میں لے لیے۔ دیوانی اور فوجداری مقدمات کی سماعت کی۔ دیوانی مقدمات میں ڈگریاں صادر کیں اور ان کی تعمیل کرائی گئی۔ کئی اشخاص کو قادیان سے نکالا گیا۔ یہ قصہ یہیں ختم نہیں ہوتا بلکہ قادیانیوں کے خلاف کھلے ہوئے طور پر الزام لگایا گیا ہے کہ انھوں نے مکانوں کو تباہ کیا۔ جلایا اور قتل تک کے مرتکب ہوئے۔ اس خیال سے کہ کہیں ان الزامات کو احرار کے تخیل ہی کا نتیجہ نہ سمجھ لیا جائے۔ میں چند ایسی مثالیں بیان کر دینا چاہتا ہوں جو مقدمہ کی مسل میں درج ہیں۔
سزائے اخراج
کم از کم دو اشخاص کو قادیان سے اخراج کی سزا دی گئی۔ اس لیے کہ ان کے عقاید مرزا کے عقاید سے متفاوت تھے۔ وہ اشخاص حبیب الرحمٰن گواہ صفائی نمبر ٢٨ اور مسمی اسمعیل ہیں۔ مسل میں ایک چٹھی (ڈی۔ زیڈ ٣٣) موجود ہے۔ جو موجودہ مرزا کے ہاتھ کی لکھی ہوئی ہے اور جس میں یہ حکم درج ہے کہ حبیب الرحمٰن (گواہ نمبر ٢٨) کو قادیان میں
آنے کی اجازت نہیں۔ مرزا بشیر اور گواہوں نے (قادیانیوں کے سنگھ گواہ صفائی نے بیان کیا ہے کہ قادیانیوں نے زدوکوب کیا۔ لیکن کی شہادت دینے کے لیے سامنے پیش کی گئی ہیں۔ (جو شامل مسل میں عدالتی اختیارات استعمال ہو ہے۔ عدالت کی ڈگریوں کا اجراء ڈگری کے اجراء میں ایک مکان رکھے ہیں جو ان درخواستوں اور ہوتی ہیں۔ قادیان میں ایک والنٹ احمد نے دی ہے۔
عبدالکریم کی مظلومی اور مح
سب سے سنگین معاملہ درد ہے۔ یہ شخص مرزا کے مقلد بعد اس پر ظلم و ستم شروع ہوا۔ ”مباہلہ“ نامی اخبار جاری کیا۔ م الفضل مورخہ یکم اپریل ١٩٣٠ء م گوئی کی ہے۔ اس تقریر میں ان قتل پر بھی تیار ہو جاتے ہیں۔ ا بچ گیا۔ ایک شخص محمد حسین جو اس خلاف چل رہا تھا۔ اس کا ضامن اور اسے پھانسی کی سزا کا حکم ملا۔
آنے کی اجازت نہیں۔ مرزا بشیر الدین گواہ صفائی نمبر ٣٧ نے اس چٹھی کو تسلیم کر لیا ہے۔ کئی اور گواہوں نے (قادیانیوں کے) تشدد و ظلم کی عجیب و غریب داستانیں بیان کی ہیں۔ بھگت سنگھ گواہ صفائی نے بیان کیا ہے کہ قادیانیوں نے اس پر حملہ کیا۔ ایک شخص مسمی غریب شاہ کو قادیانیوں نے زدوکوب کیا۔ لیکن جب اس نے عدالت میں استغاثہ کرنا چاہا۔ تو کوئی اس کی شہادت دینے کے لیے سامنے نہ آیا۔ قادیانی ججوں کے فیصلہ کردہ مقدمات کی مسلیں پیش کی گئی ہیں۔ (جو شامل مسل ہذا ہیں) مرزا بشیر الدین محمود نے تسلیم کیا ہے کہ قادیان میں عدالتی اختیارات استعمال ہوتے ہیں اور میری عدالت سب سے آخری عدالت اپیل ہے۔ عدالت کی ڈگریوں کا اجراء عمل میں آتا ہے اور ایک واقعہ سے تو ظاہر ہوتا ہے کہ ایک ڈگری کے اجراء میں ایک مکان فروخت کر دیا گیا۔ اسٹامپ کے کاغذ قادیانیوں نے خود بنا رکھے ہیں جو ان درخواستوں اور عرضیوں پر لگائے جاتے ہیں۔ جو قادیانی عدالتوں میں دائر ہوتی ہیں۔ قادیان میں ایک والنٹیر کور کے موجود ہونے کی شہادت گواہ نمبر ٤٠ مرزا شریف احمد نے دی ہے۔
عبدالکریم کی مظلومی اور محمد حسین کا قتل ١٩٢٩ء
سب سے سنگین معاملہ عبدالکریم (ایڈیٹر مباہلہ) کا ہے جس کی داستان داستان درد ہے۔ یہ شخص مرزا کے مقلدین میں شامل ہوا اور قادیان میں جا کر مقیم ہو گیا۔ اس کے بعد اس پر ظلم و ستم شروع ہوا۔ اس نے قادیانی معتقدات پر تبصرہ و تنقید کرنے کے لیے ”مباہلہ“ نامی اخبار جاری کیا۔ مرزا بشیر الدین محمود نے ایک تقریر میں جو دستاویز ڈی۔ زیڈ الفضل مورخہ یکم اپریل ١٩٣٠ء میں درج ہے) مباہلہ شائع کرنے والوں کی موت کی پیش گوئی کی ہے۔ اس تقریر میں ان لوگوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ جو مذہب کے لیے ارتکاب قتل پر بھی تیار ہو جاتے ہیں۔ اس تقریر کے بعد جلد ہی عبدالکریم پر قاتلانہ حملہ ہوا لیکن وہ بچ گیا۔ ایک شخص محمد حسین جو اس کا معاون تھا اور ایک فوجداری مقدمہ میں جو عبدالکریم کے خلاف چل رہا تھا۔ اس کا ضامن بھی تھا۔ اس پر حملہ ہوا اور قتل کر دیا گیا۔ قاتل پر مقدمہ چلا اور اسے پھانسی کی سزا کا حکم ملا۔
محمد حسین کے قاتل کا رتبہ مرزائیوں کی نظر میں
پھانسی کے حکم کی تعمیل ہوئی اور اس کے بعد قاتل کی لاش قادیان میں لائی گئی اور اسے نہایت عزت و احترام سے بہشتی مقبرہ میں دفن کیا گیا۔ مرزائی اخبار ”الفضل“ میں قاتل کی مدح سرائی کی گئی۔ قتل کو سراہا گیا اور یہاں تک لکھا گیا کہ قاتل مجرم نہ تھا۔ پھانسی کی سزا سے پہلے ہی اس کی روح قفس عنصری سے آزاد ہو گئی اور اس طرح وہ پھانسی کی ذلت انگیز سزا سے بچ گیا۔ خدائے عادل نے یہ مناسب سمجھا کہ پھانسی سے پہلے ہی اس کی جان قبض کر لے۔
مرزا محمود کی دروغ گوئی
عدالت میں مرزا محمود نے اس کے متعلق بالکل مختلف داستان بیان کی اور کہا کہ محمد حسین کے قاتل کی عزت افزائی اس لیے کی گئی کہ اس نے اپنے جرم پر تاسف و ندامت کا اظہار کیا تھا اور اس طرح وہ گناہ سے پاک ہو چکا تھا لیکن دستاویز ڈی۔ زیڈ ٤٠ اس کی تردید کرتی ہے جس سے مرزا کی دلی کیفیت کا پتہ چلتا ہے۔
عدالت عالیہ کی توہین
میں یہاں یہ بھی کہہ دینا چاہتا ہوں کہ اس دستاویز کے مضمون سے عدالت عالیہ لاہور کی توہین کا پہلو بھی نکلتا ہے۔
محمد امین کا قتل
محمد امین ایک مرزائی تھا اور جماعت مرزائیہ کا مبلغ تھا۔ اس کو تبلیغ مذہب کے لیے بخارا بھیجا گیا لیکن کسی وجہ سے بعد میں اسے اس خدمت سے علیحدہ کر دیا گیا۔ اس کی موت کلہاڑی کی ایک ضرب سے ہوئی۔ جو چودھری فتح محمد گواہ صفائی نمبر ٢١ نے لگائی۔ عدالت ماتحت نے اس معاملہ پر سرسری نگاہ ڈالی ہے لیکن یہ زیادہ غور و توجہ کا محتاج ہے۔ محمد امین پر مرزا کا عتاب نازل ہو چکا تھا اور اس لیے مرزائیوں کی نظر میں وہ موقر و مقتدر نہیں رہا تھا۔ اس کی موت کے واقعات خواہ کچھ ہوں۔ اس میں کلام نہیں کہ محمد امین تشدد کا شکار ہوا اور کلہاڑی کی ضرب سے قتل کیا گیا۔ پولیس میں وقوعہ کی اطلاع پہنچی لیکن کوئی کارروائی عمل میں نہ آئی۔ اس بات پر زور دینا فضول ہے کہ قاتل نے حفاظت خود اختیاری میں محمد امین کو
کلہاڑی کی ضرب لگائی۔ اور یہ فیصلہ کرنا اس عدالت کا کام ہے جو مقدمہ قتل کی سماعت کرے۔ چودھری فتح محمد کا عدالت میں باقرار صالح یہ بیان کرنا تعجب انگیز ہے کہ اس نے محمد امین کو قتل کیا مگر پولیس اس معاملہ میں کچھ نہ کرسکی جس کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ مرزائیوں کی طاقت اس حد تک بڑھ گئی تھی کہ گواہ سامنے آ کر سچ بولنے کی جرأت نہیں کر سکتا تھا۔ ہمارے سامنے عبدالکریم کے مکان کا واقعہ بھی ہے کہ عبدالکریم کو قادیان سے خارج کرنے کے بعد اس کا مکان نذر آتش کر دیا گیا اور قادیان کی سمال ٹاؤن کمیٹی سے حکم حاصل کر کے نیم قانونی طریق پر اسے گرانے کی کوشش کی گئی۔
قادیان کی صورت حالات اور مرزا کی دشنام طرازی
یہ افسوس ناک واقعات اس بات کی منہ بولتی شہادت ہیں کہ قادیان میں قانون کا احترام بالکل اٹھ گیا تھا۔ آتش زنی اور قتل تک کے واقعات ہوتے تھے۔ مرزا نے کروڑوں مسلمانوں کو جو اس کے ہم عقیدہ نہ تھے۔ شدید دشنام طرازی کا نشانہ بنایا۔ اس کی تصانیف ایک اسقف اعظم کے اخلاق کا انوکھا مظاہرہ ہیں۔ جو صرف نبوت کا مدعی نہ تھا بلکہ خدا کا برگزیدہ انسان اور مسیح ثانی ہونے کا مدعی بھی تھا۔
حکومت مفلوج ہو چکی تھی
معلوم ہوتا ہے کہ (قادیانیت کے مقابلہ میں) حکام غیر معمولی حد تک مفلوج ہو چکے تھے۔ دینی و دنیوی معاملات میں مرزا کے حکم کے خلاف کبھی آواز بلند نہیں ہوئی۔ مقامی افسروں کے پاس کئی مرتبہ شکایت پیش ہوئی لیکن وہ اس کے انسداد سے قاصر رہے۔ مسل پر کچھ اور شکایات بھی ہیں لیکن یہاں ان کے مضمون کا حوالہ دینا غیر ضروری ہے۔ اس مقدمہ کے سلسلہ میں صرف یہ بیان کر دینا کافی ہے کہ قادیان میں جور وستم رانی کا دور دورہ ہونے کے متعلق نہایت واضح الزامات عاید کیے گئے ہیں لیکن معلوم ہوتا ہے کہ قطعاً کوئی توجہ نہ ہوئی۔
تبلیغ کانفرنس کا مقصد
ان کارروائیوں کے سدباب کے لیے اور مسلمانوں میں زندگی کی روح پیدا کرنے کے لیے تبلیغ کانفرنس منعقد کی گئی۔ قادیانیوں نے اس کے انعقاد کو بہ نظر ناپسندیدگی دیکھا اور اسے روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی۔ اس کانفرنس کے انعقاد کے لیے ایک شخص
ایشر سنگھ نامی کی زمین حاصل کی گئی تھی۔ قادیانیوں نے اس پر قبضہ کر کے دیوار کھینچ دی اور اس طرح احرار اس قطعہ زمین سے بھی محروم ہو گئے جو قادیان میں انھیں مل سکتا تھا۔ مجبوراً انھوں نے قادیان سے ایک میل کے فاصلے پر اپنا اجلاس منعقد کیا۔ دیوار کا کھینچا جانا اس حقیقت پر مشعر ہے۔ کہ اس وقت فریقین کے تعلقات میں کتنی کشیدگی تھی اور قادیانیوں کی شور پشتی کس حد تک پہنچی ہوئی تھی کہ وہ اپنی دست درازی کے قانونی نتائج سے اپنے آپ کو بالکل محفوظ خیال کرتے تھے؟
مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری کا مقناطیسی جذب
بہر حال کانفرنس منعقد ہوئی جس کی صدارت کے لیے اپیلانٹ سے کہا گیا۔ وہ بلند پایہ خطیب ہے اور اس کی تقریر میں بھی جذب مقناطیسی موجود ہے اس نے اس اجلاس میں ایک جوش انگیز خطبہ دیا۔ اس کی تقریر کئی گھنٹوں تک جاری رہی بتایا گیا ہے حاضرین تقریر کے دوران میں بالکل مسحور تھے۔ اپیلانٹ نے اس تقریر میں اپنے خیالات ذرا وضاحت سے بیان کیے اور اس کے دل میں مرزا اور اس کے معتقدین کے خلاف جو نفرت کے جذبات موج زن تھے۔ ان پر پردہ ڈالنے کی اس نے کوئی کوشش نہ کی۔ تقریر پر اخبارات میں اعتراض ہوا۔ معاملہ حکومت پنجاب کے سامنے پیش ہوا جس نے عطاء اللہ شاہ بخاری کے خلاف مقدمہ چلانے کی اجازت دے دی۔
تقریر پر اعتراض
اپیلانٹ کے خلاف جو الزام ہے۔ اس کے ضمن میں اس تقریر کے سات اقتباسات درج ہیں جنھیں قابل گرفت ٹھہرایا گیا ہے وہ اقتباسات یہ ہیں۔
- ١۔ فرعونی تخت الٹا جا رہا ہے۔ انشاء اللہ یہ تخت نہیں رہے گا۔
- ٢۔ وہ نبی کا بیٹا ہے۔ میں نبی کا نواسہ ہوں۔ وہ آئے تم سب چپ بیٹھ جاؤ۔ وہ مجھ
سے اردو پنجابی فارسی میں ہر معاملہ میں بحث کرے۔ یہ جھگڑا آج ہی ختم ہو جائے گا وہ پردہ سے باہر آئے۔ نقاب اٹھائے کشتی لڑئے مولا علی کے جوہر دیکھے۔ وہ ہر رنگ میں آئے وہ موٹر میں بیٹھ کر آئے میں ننگے پاؤں آؤں۔ وہ ریشم پہن کر آئے میں کھدر شریف وہ مزعفر کباب یاقوتیاں اور پلومر کی ٹانک
وائن اپنے ابا کی سنت کے مطابق کھا کر آئے اور میں اپنے نانا کی سنت کے مطابق جو کی روٹی کھا کر آؤں۔
- ٣۔ یہ ہمارا مقابلہ کیسے کر سکتے ہیں۔ یہ برطانیہ کے دُم کٹے کتے ہیں۔ وہ خوشامد اور
برطانیہ کے بوٹ کی ٹو صاف کرتا ہے۔ میں تکبر سے نہیں کہتا بلکہ خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ مجھ کو اکیلا چھوڑ دو پھر میرے اور بشیر کے ہاتھ دیکھو کیا کروں لفظ تبلیغ نے ہمیں مشکل میں پھنسا دیا ہے۔ یہ اجتماع سیاسی اجتماع نہیں ہے۔ او مرزائیو! اگر باگیں ڈھیلی ہوتیں۔ میں کہتا ہوں۔ اب بھی ہوش میں آؤ۔ تمہاری طاقت اتنی بھی نہیں۔ جتنی پیشاب کی جھاگ ہوتی ہے۔
- ٤۔ جو پانچویں جماعت میں فیل ہوتے ہیں۔ وہ نبی بن جاتے ہیں۔ ہندوستان میں
ایک مثال موجود ہے کہ جو فیل ہوا وہ نبی بن گیا۔
- ٥۔ او مسیح کی بھیڑو! تم سے کسی کا ٹکراؤ نہیں ہوا جس سے اب سابقہ ہوا ہے۔ یہ مجلس
احرار ہے۔ اس نے تم کو ٹکڑے کر دینا ہے۔
- ٦۔ او مرزائیو! اپنی نبوت کا نقشہ دیکھو۔ اگر تم نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے تو نبوت کی
شان تو رکھتے۔
- ٧۔ اگر تم نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا۔ تو انگریزوں کے کتے تو نہ بنتے۔
مرافعہ گزار نے عدالت ماتحت میں بیان کیا کہ اس کی تقریر درست طور پر قلم بند نہیں کی گئی۔ جملہ نمبر ٥ کے متعلق اس نے بہ صراحت کہا ہے۔ وہ اس کی زبان سے نہیں نکلا اور اگر چہ اس نے تسلیم کیا کہ باقی جملوں کا مضمون میرا ہے۔ لیکن ساتھ ہی اس نے یہ کہا ہے کہ عبارت غلط ہے۔ عدالت ماتحت نے قرار دیا ہے کہ ایک جملہ کی رپورٹ غلط ہے اور اس کے سلسلہ میں مرافعہ گزار کو مجرم قرار نہیں دیا جا سکتا۔ لہذا مرافعہ گزار کی سزا یابی کا مدار دوسرے ٦ فقروں پر ہے۔ مرافعہ گزار کے وکیل نے تسلیم کیا کہ فقرات ١۔٢۔٤۔٧ مرافعہ گزار نے کہے۔ اب میرے سامنے یہ امر فیصلہ طلب ہے کہ کیا یہ ٦ جملے جو مرافعہ گزار نے کہے۔ ١٥٣ الف کے ماتحت قابل گرفت ہیں اور یہ کہ یہ الفاظ کہنے سے مرافعہ گزار کس جرم کا مرتکب ہوا ہے؟
عدالت کا استدلال
میں نے اس سے قبل وہ حالات و واقعات بہ تفصیل بیان کر دیے ہیں۔ جن کے ماتحت تبلیغ کانفرنس منعقد ہوئی۔ مرافعہ گزار نے بہت سی تحریری شہادتوں کی بناء پر یہ دکھانے کی کوشش کی ہے کہ مرزا اور اس کے مقلدین کے ظلم و ستم پر جائز اور واجبی تنقید کرنے کے سوا اس کا کچھ مقصد نہ تھا۔ اس کا بیان ہے کہ اس کی تقریر کا مدعا سوئے ہوئے مسلمانوں کو جگانا اور مرزائیوں کے افعال ذمیمہ کا بھانڈا پھوڑنا تھا۔ اس نے اپنی تقریر میں جا بجا مرزا (محمود) کے ظلم و تشدد پر روشنی ڈالی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ جو مسلمان مرزا کی نبوت سے انکار کرنے اور اس کے خانہ ساز اقتدار کو تسلیم نہ کرنے کی وجہ سے مورد آفات و بلیات ہیں۔ ان کی شکایات رفع کی جائیں۔ میں نے قادیان کے حالات کی روشنی میں مرافعہ گزار کی تقریر پر غور کیا ہے۔ مجھے بتایا گیا ہے کہ یہ تقریر مسلمانوں کی طرف سے صلح کا پیغام تھی لیکن اس تقریر کے سرسری مطالعہ سے ہر معقول شخص اسی نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ اعلان صلح کے بجائے یہ دعوت نبرد آزمائی ہے ممکن ہے کہ مرافعہ گزار نے قانون کی حدود کے اندر رہنے کی کوشش کی ہو۔ لیکن جوش فصاحت و طلاقت میں وہ ان امتناعی حدود سے آگے نکل گیا ہے اور ایسی باتیں کہہ گیا ہے۔ جو سامعین کے دلوں میں مرزائیوں کے خلاف نفرت کے جذبہ کے سوا اور کوئی اثر پیدا نہیں کر سکتی۔ روما کے مارک انٹونی کی طرح مرافعہ گزار نے یہ اعلان تو کر دیا کہ وہ احمدیوں سے طرح آویزش نہیں ڈالنا چاہتا لیکن صلح کا یہ پیغام ایسی گالیوں سے پُر ہے۔ جن کا مقصد سامعین کے دلوں میں احمدیوں کے خلاف نفرت پیدا کرنے کے سوا کچھ نہیں ہو سکتا۔
تنقید کے جائز حدود
اس میں کلام نہیں کہ مرافعہ گزار کی تقریر کے بعض حصے مرزا کے افعال کی جائز اور واجبی تنقید پر مشتمل ہیں۔ غریب شاہ کو زد و کوب کرنے کا واقعہ محمد حسین اور محمد امین کے واقعات قتل اور مرزا کے جبر و تشدد کے بعض دوسرے واقعات جن کا حوالہ دیا گیا ہے۔ ایسے ہیں جن پر تنقید کرنے کا ہر سچے مسلمان کو حق ہے۔ نیز اس تقریر کے دوران میں ان توہین آمیز الفاظ کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ جو قادیانی پیغمبر اسلام محمد ﷺ کی شان میں
استعمال کرتے رہتے ہیں اور جو مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنے کا باعث ہوتے ہیں۔
مرزائی اور مسلمان
مسلمانوں کے نزدیک محمد صلی اللہ علیہ وسلم خاتم المرسلین ہیں لیکن مرزائیوں کا اعتقاد یہ ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بروز میں کئی نبی مبعوث ہو سکتے ہیں اور وہ سب مہبط وحی ہو سکتے ہیں نیز یہ کہ مرزا غلام احمد نبی اور مسیح ثانی تھا۔ اس حد تک مرافعہ گزار کی تقریر قانون کی زد سے باہر ہے لیکن جب وہ دشنام طرازی پر آتا ہے اور مرزائیوں کو ایسے ایسے ناموں سے پکارتا ہے جنھیں سننا بھی کوئی آدمی گوارا نہیں کر سکتا۔ تو وہ جائز حدود سے تجاوز کر جاتا ہے اور خواہ اس نے یہ باتیں جوش خطابت میں کہیں یا دیدہ دانستہ کہیں۔ قانون انھیں نظر انداز نہیں کر سکتا۔
تقریر کے اثرات
مرافعہ گزار کو معلوم ہونا چاہیے تھا کہ اس کے سامعین میں اکثریت جاہل دیہاتیوں کی تھی۔ نیز یہ کہ اس قسم کی تقریر ان کے دلوں میں نفرت و عناد کے جذبات پیدا کرے گی۔ واقعات مظہر ہیں کہ تقریر نے سامعین پر ایسا ہی اثر ڈالا اور مقرر کی لسانی سے متاثر ہو کر انھوں نے کئی بار جوش و خروش کا مظاہرہ کیا۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ سامعین نے اس وقت کیوں مرزائیوں کے خلاف کوئی متشددانہ اقدام نہ کیا؟ اگرچہ فریقین کے تعلقات عرصے سے اچھے نہ تھے مگر اس تقریر نے راکھ میں دبے ہوئے شعلوں کو ہوا دے کر بھڑکا دیا۔
تقریر کی قابل اعتراض نوعیت
فرد جرم میں جن سات فقروں کو قابل گرفت قرار دیا گیا ہے ان میں سے تیسرا اور ساتواں سب سے زیادہ قابل اعتراض ہیں۔ ان میں اپیلانٹ نے مرزائیوں کو برطانیہ کے دم کٹے کتے کہا ہے۔ میرے نزدیک دوسرے حصے دفعہ ١٥٣ الف تعزیرات ہند کے ماتحت قابل گرفت نہیں ہیں، ان میں پہلا حصہ یعنی فرعونی تخت الٹا جا رہا ہے۔ میرے نزدیک قابل اعتراض نہیں۔ دوسرے حصے کا تعلق مرزا کی خوراک اور غذا سے ہے۔ اس کے متعلق یہ امر قابل ذکر ہے کہ مرزائے اوّل نے اپنے مریدوں میں سے ایک کے نام چٹھی لکھی تھی جس میں ان کی خوراک کی یہ تمام تفصیلات درج تھیں۔ یہ خطوط کتابی شکل میں چھپ چکے
ہیں اور ان کے مجموعہ کا ایک مطبوعہ نسخہ اس مثل میں بھی شامل ہے۔
شراب اور مرزا
معلوم ہوتا ہے کہ مرزا ایک ٹانک استعمال کرتا تھا جس کا نام پلومر کی شراب تھا ایک موقعہ پر اس نے اپنے مریدوں میں سے ایک کو لکھا کہ پلومر کی شراب لاہور سے خرید کر مجھے بھیجو۔ پھر دوسرے خطوط میں یاقوتی کا تذکرہ ہے۔ مرزا محمود نے خود اعتراف کیا ہے کہ اس کے باپ نے ایک دفعہ پلومر کی شراب دواء استعمال کی۔ چنانچہ میرے نزدیک یہ حصہ بھی قابل اعتراض نہیں۔ چوتھے حصہ میں مرزا غلام احمد کے امتحان میں ناکام ہونے کا تذکرہ ہے۔ چھٹے حصہ میں مرزا پر لابہ گوئی اور کاسہ لیسی کا الزام لگایا گیا ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ چاپلوسی اور لابہ گوئی پیغمبر کی شان کے خلاف ہے۔
عدالت کا تبصرہ
میری رائے میں تیسرے اور ساتویں حصہ کے سوا اور کوئی حصہ تقریر کا قابل گرفت نہیں۔ اس کا یہ مقصد نہیں کہ مرافعہ گزار کی تمام تقریر میں صرف وہ حصے قابل اعتراض ہیں۔ تقریر کے انداز سے معلوم ہوا کہ جہاں مرافعہ گزار مرزائیوں کے افعال شنیعہ کی دھجیاں بکھیرنا چاہتا تھا۔ وہاں وہ مسلمانوں کے دلوں میں ان کے خلاف نفرت بھی پیدا کرنا چاہتا تھا یہ امر کہ سامعین اس کی تقریر سے متاثر ہو کر امن شکنی پر کیوں نہ اتر آئے؟ اس کے جرم کو ہلکا کرنے کا موجب ہو سکتا ہے۔
مجھے اس میں کلام نہیں کہ اپیلانٹ مرزائیوں پر تنقید کرنے میں حق بجانب تھا لیکن وہ اس حق کو استعمال کرنے میں جائز حدود سے تجاوز کر گیا اور تقریر کے قانونی نتائج بھگتنے کا سزاوار بن گیا۔ مرافعہ گزار کے اس فعل کی مدح و ثناء کرنا آسان ہے لیکن ایسے حالات میں جہاں جذبات میں پہلے ہی سے ہیجان و اشتعال ہو۔ اس قسم کی تقریر کرنا جلتی پر تیل ڈالنے کی مرادف ہے اور اگر چہ مرافعہ گزار نے صرف ایک اصطلاحی جرم کا ارتکاب کیا ہے لیکن قانون کی ہمہ گیری کا احترام از قبیل لوازم ہے۔
فیصلہ (نومبر ١٩٣٥ء)
مقدمہ کے تمام پہلوؤں پر نظر غائر ڈالنے اور سامعین پر مرافعہ گزار کی تقریر کے
اثرات کا اندازہ کرنے سے میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ مرافعہ گزار تعزیرات ہند دفعہ ١٥٣ کے ماتحت جرم کا مرتکب ہوا ہے اور اس کی سزا قائم رہنی چاہیے۔ مگر سزا کی سختی و نرمی کا اندازہ کرتے وقت ان واقعات کو پیش نظر رکھنا بھی ضروری ہے جو قادیان میں رونما ہوئے۔ نیز یہ بات نظر انداز کیے جانے کے قابل نہیں کہ مرزا نے خود مسلمانوں کو کافر، سور اور ان کی عورتوں کو کتیوں کا خطاب دے کر ان کے جذبات کو بھڑکایا۔ میرا خیال یہی ہے کہ اپیلانٹ کا جرم محض اصطلاحی تھا چنانچہ میں اس کی سزا کو کم کر کے اسے تا اختتام عدالت قید محض کی سزا دیتا ہوں۔
گورداسپور دستخط ٦ جون ١٩٣٥ء جی۔ ڈی۔ کھوسلہ سیشن جج
یہ فیصلہ مسلمانوں کی دینی حس اور فطری صلاحیتوں کو بیدار کرنے کا باعث ہوا گویا ایسی بہار آئی کہ دلوں کے کنول کھل گئے۔ اہل حق نے اس فتنے کو اصلی رنگ میں دیکھ لیا اور دوسروں کو خبردار کرنے لگے۔ ”علامہ سر محمد اقبال ذہنی طور سے احرار تھے“ انھیں مرزائیوں کے عزائم میں اسلام کے لیے خطرہ نظر آتا تھا۔ وہ مرزائیوں کی اسلام دشمنی کے اوّل سے قائل تھے اور کبھی آنکھوں میں جگہ نہ دیتے تھے۔ کشمیر کمیٹی کے صدر مرزا بشیر الدین تھے۔ وہ ضرور ممبر ہو گئے تھے لیکن یہ کیفیت اضطراری تھی۔ وہ فوراً سنبھل کر کشمیر کمیٹی کی تخریب میں لگ گئے اور احرار کی تنظیم کی ہر طرح حوصلہ افزائی کرنے لگے۔ عرف عام میں ان کے مرزائی شکن بیانات نے تعلیم یافتہ طبقے پر گہرا اثر کیا اور ہوا کا رخ بالکل ادھر سے اُدھر پھر گیا۔ مرزا سر ظفر علی سابق جج پنجاب ہائی کورٹ معاملات دین میں کڑے تھے۔ انھوں نے اپنے اعلان میں خدا لگتی بات کہی کہ نبوتوں کی بنا پر قومیں الگ الگ شمار ہوتی ہیں۔ جب مرزائیوں نے اپنا نیا نبی مان لیا۔ تو وہ لازمی طور سے مسلمانوں سے الگ ہو گئے۔ غرض مرزائیوں کے لیے دنیا تنگ ہو گئی۔ مولانا ثناء اللہ اور مولانا ظفر علی خان نے مرزائیت کے خلاف زبردست محاذ قائم کیا۔ ان کا سب کو ممنون ہونا چاہیے۔ مگر وہ ”سو سنار“ کی تھیں۔ اب ”لوہار“ کی پڑنے لگیں تو مرزائی بوکھلا گئے ”ملاں کی دوڑ مسجد تک“ اور ”مرزائیوں کی دوڑ انگریزی سرکار تک“۔ جوں جوں عوام کی ہمدردیاں احرار سے زیادہ ہوتی جاتی تھیں توں توں
سرکار اور احرار کے تعلقات اور کشیدہ ہوتے جاتے تھے۔
جناب الیاس برنی کی مرزائی قلعے پر گولہ باری کے سلسلے میں خدمات کا اعتراف نہ کرنا ناشکر گزاری ہو گی۔ انھوں نے قادیانی مذہب شائع کر کے قادیانی مرزائیوں کے بدنما چہرہ سے ریاء کاری کا نقاب بالکل ہی الٹ دیا ہے۔ کتاب کی ترتیب میں اپنی رائے سے متاثر کرنے کی ذرہ بھر کوشش نہیں کی گئی۔ بلکہ مرزائیوں کی مستند کتابوں کے حوالہ جات ہی کو اس طرح ترتیب دیا ہے کہ کتاب رد مرزائیت کا کارگر نسخہ بن گئی ہے۔ جو طرز اس کتاب میں برنی صاحب نے اختیار کیا وہ بالکل اچھوتا ہے اور ایسا دل نشین ہے کہ ہزاروں مسلمانوں کو گمراہی سے بچانے کا باعث ہوا۔ غرض مرزائیت کی بیخ کنی کے بہت سے اسباب فراہم ہو گئے ہیں من جملہ ان کے مولانا عبدالکریم مباہلہ کی احرار میں شمولیت تھی۔ یہ کفر کے آسمان کا ٹوٹا ہوا ستارہ قادیانیوں کے جراثیم سے مسلمانوں کو محفوظ کرنے کے کام آ رہا تھا۔ مولوی عبدالکریم راز دار خلافت تھا۔ خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود کی بدعنوانیوں کو دیکھ کر قادیانی مذہب سے برگشتہ ہوا۔ قادیان سے جان بچا کر بھاگا اس بھاگ دوڑ میں حاجی محمد حسین صاحب ساکن بٹالہ مرزا بشیر الدین کے ایک مرید کے ہاتھوں شہید ہو گئے اور مولانا عبدالکریم بچ نکلے مولانا موصوف نے عدالت میں حلفی بیان دیا کہ وہ خود آخر تک مخلص تھے لیکن بعض دوسرے لوگوں سے الزامات انھوں نے سنے اور تحقیق کر کے انھیں سچا پایا۔ اس وجہ سے الگ ہو گئے۔ مولانا کے سارے خاندان نے قادیانیوں کے ہاتھوں سخت تکالیف اٹھائیں۔ اخبار مباہلہ بند کرنا پڑا جیل بھگتی مگر مرزائیوں کا ناطقہ بند کر کے چھوڑا۔ شاید ہی کسی نے کسی سے ایسا کامیاب انتقام لیا ہو جیسا کہ مباہلہ والوں نے لیا۔ آج ان کی آنکھوں کے سامنے مرزائیت بے توقیر ہے۔ آج مرزائیوں پر بے بھاؤ کی پڑ رہی ہیں۔ طلباء ہی نہیں بلکہ مسلمان عوام بھی مرزائیوں کے نام سے بیزار ہیں۔
(تاریخ احرار ص ١٨١ تا ١٩٧ چوہدری افضل حق ؒ )
باطل کو چیلنج ...... حضرت پیر سید مہر علی شاہؒ گولڑوی نے مرزا قادیانی کو چیلنج کرتے ہوئے کہا ..... ”حسب وعدہ شاہی مسجد میں آؤ‘ ہم دونوں اس کے مینار پر چڑھ کر چھلانگ لگاتے ہیں۔ جو سچا ہو گا وہ بچ جائے گا جو کاذب ہو گا‘ مر جائے گا۔ مرزا قادیانی نے جواب میں اس طرح چپ سادھی گویا دنیا سے رخصت ہو گیا ہے“۔
(تحریک ختم نبوت ص ٥٢‘ آغا شورش کاشمیریؒ )
قادیان میں میرے شب و روز
مولانا عنایت اللہ چشتیؒ
شام کے کھانے کے بعد دفتر میں تمام ہمدرد اصحاب ہر روز بلا ناغہ جمع ہو جاتے تھے کم وبیش رات کے گیارہ بجے تک بیٹھے اور لیٹے رہتے تھے۔ مرزائیوں کی سرگرمیوں اور منصوبوں پر بحث ہوتی رہتی تھی۔ جتنا کسی کو معلوم ہوتا وہ بیان کرتا اور دوسرے دن کے لیے پروگرام تیار کیا جاتا تھا۔ مرزائی امت اور خلیفہ کے ”تازہ اعمال وافعال“ کا تذکرہ بھی ہوتا تھا۔ صبح کے لیے کسی کی کسی کام پر ڈیوٹی لگانی ہوتی تو اسے بتا دی جاتی۔ کوئی ڈیوٹی دے کر آتا تو اس کی رپورٹ بھی سن لی جاتی اور اس کے متعلق مناسب کارروائی کا پروگرام بھی تیار کر لیا جاتا اور متعلقہ اصحاب کو بتا دیا جاتا تھا۔
قادیان مرکزی قصبہ تھا۔ نواح میں بہت سے دیہات تھے جنہیں ضروریات زندگی کے حصول کے لیے قادیان آنا پڑتا تھا ہم نے اپنے تمام دکان داروں کو کہہ رکھا تھا کہ ”دیہات سے سودا سلف خریدنے کے لیے آنے والے دیہاتیوں سے دریافت کرلیا کریں کہ تمہارے گاؤں میں کوئی مرزائی گیا ہے تو وہ کون تھا؟ اس کا کیا نام تھا؟ اس نے وہاں جاکر کس آدمی سے ملاقات کی اور کیا کہتا تھا وغیرہ وغیرہ۔“ تمام دکان دار ہماری اس ہدایت سے آگاہ تھے۔ شام کے بعد آجاتے اور اپنی اپنی اطلاعات پہنچاتے اور ان پر غور و خوض ہوتا اور مناسب تدابیر اختیار کی جاتی تھیں۔
غازی عبدالحق میاں عبداللہ چوہدری فیض اللہ وغیرہ احباب تو شام کے بعد ہمارے ہاں ضرور آتے تھے ان کے علاوہ مختلف برادریوں کے لوگ بھی آجاتے تھے۔
وہاں ایک قریشی خاندان بھی آباد تھا۔ مرزائیوں کا مخالف اور ہمارا مخلص و ہمدرد تھا۔ اس خاندان کے ایک فرد کا نام ہدایت علی شاہ تھا۔ قریشی صاحب نے عمدہ گھوڑی پال رکھی تھی جو ہمارے لیے وقف تھی ہمیں کبھی دیہات میں جانا ہوتا تو اس کے گھر پیغام بھجوا دیتے۔ گھوڑی آجاتی۔ نماز جمعہ مسجد ارائیاں میں ادا ہوتی تھی۔ دیہات سے ہزاروں آدمی آجاتے تھے۔ ہندوؤں اور سکھوں کی بھی خاص تعداد موجود ہوتی تھی۔ خطبہ جمعہ میں ہفتہ بھر کا جائزہ لیا جاتا۔ کوئی واقعہ ہو جاتا تو عوام کو اس سے مطلع کیا جاتا تھا۔ حکومت کا ڈائری نویس ہیڈ کانسٹیبل پولیس موجود ہوتا جو مکمل ڈائری نوٹ کرتا تھا، ڈپٹی کمشنر گورداسپور جمعہ کی ڈائری کا منتظر رہتا تھا۔ قیام امن کے لیے پولیس کی مسلح گارڈ مسجد کے باہر موجود ہوتی تھی، مسجد کی جانب شرق ایک مرزائی کا مکان تھا۔ وہاں مرزائی ڈائری نویس موجود ہوتا اور مکمل ڈائری لے کر خلیفہ محمود کو پہنچاتا تھا۔ ہم نے بھی انتظام کر رکھا تھا کہ مرزا محمود کے خطبہ جمعہ کی ڈائری ہمیں پہنچ جائے۔ مرزا محمود کی ڈائری ہمیں زبانی پہنچتی تھی۔ ہم نے یہ ڈیوٹی ان مرزائیوں کی لگا رکھی تھی جو مرزا محمود سے ذاتی طور پر ناراض تھے اور ہمیں خفیہ آ کر ملتے تھے۔ بعض اوقات ہم ان کی مالی امداد بھی کرتے تھے۔ مرزائیوں کا خاصا عنصر مرزا محمود کے تشدد سے نالاں تھا اور وہ بچ بچا کر ہمارے پاس آتا رہتا تھا۔ اور جماعتی راز بہم پہنچاتا تھا۔ اسی عنصر کے ذریعہ مرزا محمود کے خطبہ کی تازہ ڈائری ہمیں پہنچ جاتی تھی۔ نواحی دیہات میں بھی مجھے ضرور جانا پڑتا تھا۔ کیونکہ جہاں کہیں مرزائیوں کے اثر انداز ہونے کی اطلاع پہنچتی تو اس کے ازالہ کے لیے ہمیں وہاں پہنچنا ضروری ہو جاتا تھا۔ جوانی تھی، صحت تھی رفقاء کو ساتھ لیتا اور وہاں پہنچ جاتا۔ سواری میسر آتی تو فبھا۔ ورنہ پیدل مارچ ہوتا۔ غازی عبدالحق چوہدری فیض اللہ عموماً میرے ہم سفر ہوتے تھے۔
حضرت پیر مہر علی شاہؒ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہا کہ آپ مرزا قادیانی سے مباہلہ کر لیں۔ ایک اندھے اور ایک لنگڑے کے حق میں آپ دعا کریں۔ دوسرے اندھے اور لنگڑے کے حق میں مرزا قادیانی دعا کرے جس کی دعا سے اندھا اور لنگڑا ٹھیک ہو جائیں۔ وہ سچا ہے۔ اس طرح حق و باطل کا فیصلہ ہو جائے گا۔ سید پیر مہر علی شاہؒ نے جواب دیا کہ یہ بھی منظور ہے اور جاؤ مرزا قادیانی سے یہ بھی کہہ دو کہ اگر مُردے بھی زندہ کرنے ہوں تو آجاؤ، مہر علی شاہؒ مردے زندہ کرنے کیلئے بھی تیار ہے۔ سچ ہے کہ جو شخص حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کے تحفظ کیلئے کام کرتا ہے اس کی پشت پر نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ہاتھ ہوتا ہے۔ قادیانی وفد یہ جواب پا کر واپس چلا گیا اور کچھ پتہ نہ چلا کہ مرزا قادیانی اور ان کے حواری کہاں ہیں‘‘۔
(تحریک ختم نبوت از آغا شورش کاشمیری)
ہم قادیان ضرور جائیں گے؟
محمد طاہر عبدالرزاق
اسلام اور وطن کے دشمن قادیانیوں کا مذہبی عقیدہ ہے کہ پاکستان بہت جلد تباہ و برباد ہو جائے گا۔ ہندوستان کی تقسیم غلط ہوئی ہے۔ اس لیے دوبارہ اکھنڈ بھارت بنے گا۔ اپنے اس ہولناک منصوبے کی تکمیل کے لیے وہ شب و روز مصروف رہتے ہیں۔ وہ قادیان جانے کا ایسے انتظار کر رہے ہیں جیسے کوئی آوارہ عورت اپنے یار کے انتظار میں مضطرب ہو۔ جیسے کوئی کرائے کا قاتل گھات لگائے اپنے شکار کے انتظار میں ہو۔ جیسے کسی قصاب کی دوکان کے باہر کوئی کتا آنکھیں گاڑے ہڈی کے انتظار میں بیٹھا ہو۔ وہ قادیان جانے کے لیے کسی خارش زدہ مریض کی طرح کیوں بے چین نہ ہوں؟ کیونکہ ان کا جھوٹا نبی مرزا قادیانی قادیان میں دفن ہے۔ ان کے بڑے بڑے شیطانوں کی جہنم گاہیں قادیان میں ہیں۔ ان کے سارے مذہبی شعائر قادیان میں ہیں۔ اور ان کی نام نہاد مذہبی زیارتیں قادیان میں ہیں۔ قادیان ان کا مکہ و مدینہ ہے (نعوذ باللہ)۔ ان کا بہشتی مقبرہ قادیان میں پڑا ہے۔ ربوہ میں وہ اپنے مردے امانتاً دفن کرتے ہیں کہ جب پاکستان ٹوٹے گا تو وہ اپنے مردے بھی قادیان لے جائیں گے۔ اے اہل اقتدار! اے اہل وطن! کیا ان لوگوں کا پاکستان میں رہنے کا کوئی حق ہے۔ ساری دنیا کا قانون کہ کوئی غدار اور کوئی آئین کا باغی اس ملک میں نہیں رہ سکتا اور ہر ملک کے قانون کے مطابق غدار کی سزا موت ہے۔ تو ارباب اقتدار! پاکستان میں ان غداروں کا وجود کیوں موجود ہے؟ یہ حساس اداروں میں کیوں بیٹھے ہوئے ہیں؟ یہ کلیدی عہدوں پر کیوں براجمان ہیں؟ وطن کی مہاریں ان کے ہاتھوں میں کیوں تھمادی گئی ہیں؟
وہ چمن کیسے بچ سکتا ہے جس کی ہر شاخ پر الو بیٹھا ہو؟ وہ ملک کتنا غیر محفوظ ہے جس کے شہروں، قصبوں، دیہاتوں اور بستیوں میں قادیانی سانپ اپنی بلیں بنا کر بیٹھے ہوں۔ لیجئے اب قلب حزیں اور چشم نم کے ساتھ قادیانیوں کے قادیان جانے کے منصوبے پڑھئے اور پھر ان منصوبوں کو خاک میں ملانے کے لیے اپنا کردار متعین کیجئے!
قادیان جانے کے بارے میں قادیانی
خلیفہ مرزا بشیر الدین کے بکواسات
میں اس بات کو کبھی پسند نہیں کرتا کہ جماعت اس صدمہ ! ( قادیان کے چھن جانے کا صدمہ مراد ہے ناقل ) کو بھول جائے اور ایسی غیر طبعی خوشیاں منانے میں محو ہو جائے۔ جن کی وجہ سے وہ ذمہ داری ان کی آنکھ سے اوجھل ہو جائے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر عائد کی گئی ہے۔ نمائشی باتیں تو یوں بھی ناپسندیدہ ہوتی ہیں۔ مگر کم سے کم اس وقت تک کے لیے ہمارے نوجوانوں میں یہ احساس زندہ رہنا چاہئے جب تک ہمارا مرکز ہمیں واپس نہیں مل جاتا....... اس لیے قدرتی طور پر ہر احمدی کے دل میں یہ بات تازہ رہے گی کہ میں نے اپنے مرکز کو واپس لینا ہے۔ مجھے غیر طبعی خوشیوں کی طرف مائل نہیں ہونا چاہئے ۔ اگر خدانخواستہ ہم بھی غیر طبعی خوشیوں کی طرف مائل ہوگئے اور نوجوانوں کو ہم نے یہ محسوس نہ کرایا کہ کتنا بڑا صدمہ ہمیں پہنچا ہے تو ان کے اندر اپنے مقصد کے حصول کے لیے جدوجہد اور کوشش کی سچی تڑپ زندہ نہیں رہ سکے گی...... اس کے لیے ہمارا فرض ہے کہ ہم اس وقت تک اسے نظر انداز کر دیں جب تک خدا تعالیٰ کے سامنے اس فرض کو ادا کر کے سرخرو نہ ہو جائیں۔ ہمارے سامنے ایک بہت بڑا کام ہے...... ہم نے وہ مقام لینا ہے اور ضرور لینا ہے۔ اگر وہ صلح کے ساتھ دے دے تب بھی جس جدوجہد کی ضرورت ہے وہ بڑی بھاری سنجیدگی اور بڑی بھاری قربانی چاہتی ہے۔ اور اگر جنگ کے ساتھ ہمارے مرکز کی واپسی مقدر ہے تب بھی ضروری ہے کہ آج سے ہی ہر احمدی اپنی جان قربان کرنے کے لیے تیار رہے...... ہماری جماعت صلح کی بنیادوں پر قائم ہے اور جہاں تک ہو سکے گا ہم صلح سے ہی اپنے مرکز کو واپس لینے کی کوشش کریں گے...... وہ ( اللہ تعالیٰ ) اپنے فضل وکرم سے ہماری وہ کوتاہیاں اور غلطیاں جن کی وجہ سے عارضی طور پر ہمیں اپنے مقام سے ہٹنا پڑا ہے معاف کر کے پھر ہمیں وہ مقام دلا دے تاکہ دنیا کی نظروں میں عارضی طور پر جو اعتراض ہم پر عائد ہوتا ہے وہ دور ہو جائے اور قادیان جسے اللہ تعالیٰ نے جماعت احمدیہ کا مرکز
مقرر کیا ہے وہ دنیا میں پھر اللہ تعالیٰ کے انوار اور اس کی برکات کی اشاعت کا مرکز بن جائے۔ اللھم آمین۔
(بحوالہ الفضل 30 اپریل 1949ء)
O
میں نے چند دن ہوئے اپنا ایک الہام دوستوں کے سامنے بیان کیا تھا اینما تکونوا یات بکم اللہ جمیعا اس میں صاف اشارہ تھا کہ ہماری جماعت دو حصوں میں منقسم ہو جائے گی۔ مگر اس الہام میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بتا دیا تھا کہ ہم تمہیں اپنا ایک نشان دکھائیں گے۔ اس طرح کہ تم خواہ کسی طرف بھی جاؤ۔ ہم تمہیں اپنی قدرت نمائی سے اکٹھا کر دیں گے آج اگر سر ریڈ کلف یا لارڈ ماؤنٹ بیٹن قادیان کو پاکستان میں شامل کر دیتے تو کیا ہوتا۔ اور اس سے ہمارے ایمانوں میں کیا اضافہ ہوتا۔ بے شک قادیان کے پاکستان میں آنے سے ہم بعض پابندیوں سے آزاد ہوتے۔ لیکن یاد رکھنا چاہئے کہ خدا تعالیٰ کا ہاتھ جماعت کے سر پر تبھی معلوم ہوتا ہے جب جماعت مخالف حالات میں ترقی کرے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اینما تکونوا یات بکم اللہ جمیعاً میں جماعت کو صاف فرما دیا ہے کہ خدائی فیصلہ یہی ہے کہ ہم نے تمہیں اکٹھا کر دینا ہے۔ اور تمہاری یہ علیحدگی عارضی اور وقتی ہے۔
ہم نے پھر اس ملک میں جانا ہے جس ملک میں خدا نے ہم کو پیدا کیا۔ ہم میں سے اگر کوئی اس بات پر راضی ہو گیا ہے کہ اسے اس ملک میں آ کر زمین یا دوکان مل گئی ہے تو وہ بے غیرت اور بے حیا انسان ہے جب تک ایک احمدی سچے دل سے احمدی ہے اس وقت تک وہ کبھی یہ خیال بھی نہیں کر سکتا کہ قادیان ادھر رہے اور ہم ادھر بیٹھے رہیں۔ اگر ہمارے اندر غیرت اور ایمان کا ایک شمہ بھی پایا جاتا ہے تو خواہ وہ دنیا کی بادشاہت ہمیں مل جائے ہم نے جانا وہیں ہے جہاں خدا نے ہم کو پیدا کیا۔ اور جس کو خدا نے ہمارا مرکز قرار دیا...... بے شک ہمارے آدمی وہاں بیٹھے ہیں مگر وہ اپنی جان کو ہتھیلی پر لے کر بیٹھے ہیں۔ جس دن لوگوں کا جی چاہے وہ ان کو مار سکتے ہیں۔ اور اگر آسمان سے ان کی مدد کے لیے فرشتے نہ اتریں تو وہ کچھ بھی نہیں کر سکتے۔ پس بے شک وہ بیٹھے ہیں مگر کسی امن
اور صلح کی صورت میں نہیں۔ بلکہ محصور ہونے کی صورت میں...... ہمارا وہاں بیٹھ جانا بے شک اس بات کی علامت ہے کہ ہم نے اپنے مرکز سے اس محبت کا مظاہرہ کیا ہے اور مسلمانوں نے نہیں کیا۔ اور اسی لیے سارے فرقے ہماری تعریف کرتے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ جہاں تک انسانی طاقت کا سوال ہے کیا ہماری یہ کوششیں کامیاب کوششیں کہلا سکتی ہیں؟ کیا ہندوستان یونین کے حملہ کو ہم روک سکتے ہیں؟ کیا اسلام کو ان علاقوں میں ہم مضبوطی سے قائم کر سکتے ہیں...... اگر انہوں نے ہمارا حق ہم کو نہ دیا تو کیا ہم بے شرموں اور کم ہمتوں کی طرح بیٹھ جائیں گے۔ جو ہمارے صلح کے ہاتھ کو جھٹکا دے کر ہٹا دیتا ہے۔ وہ ہمیں جنگ کا چیلنج دیتا ہے۔ اگر ایسا ہی ہوا تو یقیناً احمدیت ہم سے مزید قربانی کا مطالبہ کرے گی۔ جب تک اس قربانی کے لیے ہم اپنے آپ کو تیار نہیں کر لیتے اور اپنے فرائض کا کامل احساس نہیں ہے۔ اس وقت تک ہمارا منہ سے یہ کہہ دینا کہ بڑا افسوس ہے کہ قادیان ہمارے ہاتھ سے نکل گیا۔ محض ایک دھوکہ اور فریب ہوگا...... اگر تم نے اپنے اندر تبدیلی پیدا کر لی ہے۔ اگر تم نے قوت عملیہ سے کام شروع کر دیا ہے اور اگر تم نے لاف و گزاف کو بالکل چھوڑ دیا ہے اگر تم کام ہی کام بن گئے ہو اگر تمہاری زبان گنگ ہو گئی ہے اور تمہارے ہاتھ اور پاؤں ہر وقت کام میں مصروف رہتے ہیں اور تم جہاد کے لیے بالکل تیار ہو گئے ہو تو سبحان اللہ پھر تمہاری حالت بالکل درست ہے۔ لیکن اگر یہ نہیں تو تمہارا یہ کہنا کہ وقت آئے گا تو ہم قربانی کریں گے۔ محض جھوٹ دھوکہ اور فریب ہے۔
(بحوالہ الفضل 17 مارچ 1949ء ص 605)
O
ہمیں اس وقت خاص طور پر دعاؤں کی ضرورت ہے۔ ہم اپنے مرکز سے نکالے گئے ہیں اور بظاہر واپس جانے کی کوئی صورت دکھائی نہیں دیتی۔ قادیان واپس لینا ہمارے اختیار میں نہیں ہے...... خدا میں بے شک طاقت ہے اور وہ ہماری ضرور مدد کرے گا۔ (انشاء اللہ) لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس محبت اور عشق کا اظہار کریں جو ہمیں قادیان سے ہے۔ ہمارے زخم ابھی تازہ ہیں۔ اگر ہمارے اندر اس وقت بھی جوش پیدا نہ ہوا تو وہ کب پیدا ہوگا؟
اگر ہمارے پاس طاقت نہیں ہے تو کیا ہوا۔ آخر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پاس کون سی طاقت تھی کہ آپ کے ماننے والے اب اکثر خطۂ زمین پر حکومت کر رہے ہیں۔ پھر حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے پاس کون سی طاقت تھی کہ آپ کے ماننے والے اس وقت کروڑوں کی تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ ان کے پاس جو چیز تھی وہ صرف خدا تعالیٰ کی مدد تھی۔ یہی مدد ہمیں قادیان واپس دلائے گی۔ خدا تعالیٰ ہمیں قادیان کل کی بجائے آج بھی دے سکتا ہے۔ مگر ہمارا ایمان کہتا ہے کہ خواہ کتنا عرصہ کیوں نہ گزر جائے ہم نے قادیان کو واپس ضرور لینا ہے۔ خواہ اس راہ میں ہمیں کتنی ہی قربانیاں کرنی پڑیں۔ ہمارے اندر ایمان ہے، ہمارے اندر اگر غیرت پائی جاتی ہے تو ہمارا ہر وقت یہ عزم ہونا چاہئے کہ ہم نے قادیان واپس لینا ہے۔ (بحوالہ الفضل 15 اگست 1948ء ص 4)
O
اس وقت خصوصیت سے دعاؤں کی ضرورت ہے۔ ہم اپنے مقدس مقام سے نکالے گئے ہیں۔ اور واپس جانے کی کوئی صورت دکھائی نہیں دیتی۔ اگرچہ ہمارے آدمی وہاں بیٹھے ہوئے ہیں۔ مگر وہ ہماری محبت کے قائم مقام تو نہیں ہو سکتے۔ کسی دوست کے روٹی کھا لینے سے اپنا پیٹ تو نہیں بھر جاتا۔ ان کی وہاں موجودگی سے ہماری عزت تو ہو سکتی ہے۔ ہمارا فرض تو نہیں پورا ہوتا۔ یہ جان کر کہ ہمارے کچھ بھائی وہاں موجود ہیں دل کو تھوڑی بہت تسلی تو ہو جاتی ہے لیکن ہماری یہ خواہش کہ ہم بھی وہاں جا کر مقامات مقدسہ میں عبادت کریں۔ اور ہم بھی انہیں جا کر دیکھیں۔ یہ تو پوری نہیں ہو سکتی۔ (بحوالہ الفضل 15 ستمبر 1948ء)
O
ہمارے اندر اگر ایمان ہے، ہمارے اندر اگر غیرت پائی جاتی ہے تو ہمیں یہ عزم کر لینا چاہئے کہ ہم نے قادیان کو واپس لینا ہے....... ہماری جماعت پر فرض ہے خواہ وہ امریکہ میں بستی ہو یا انگلستان یا جرمنی میں یا سوئٹزرلینڈ میں، افریقہ میں یا انڈونیشیا میں پاکستان میں یا عرب میں (سوائے ان لوگوں کے جو ہندوستان یونین کے باشندے ہیں۔
کہ ان پر ہندوستان یونین کی فرمانبرداری فرض ہے) کہ وہ ہر جائز اور ممکن ذریعہ سے قادیان واپس لینے کی کوشش کرے...... اگر تم میں یہ جذبہ نہیں تو تم بے ایمان ہو‘ بے ایمان ہونے کی صورت میں ہی زندہ رہو گے‘ اور بے ایمانی میں ہی مرو گے۔ (بحوالہ الفضل 15 ستمبر 1948ء)
O
گو آج ہم قادیان نہیں جاسکتے۔ گو آج ہم اس سے محروم کر دیئے گئے ہیں۔ لیکن ہمارا ایمان اور یقین ہمیں بار بار کہتا ہے کہ قادیان ہمارا ہے۔ وہ احمدیت کا مرکز ہے اور ہمیشہ احمدیت کا مرکز رہے گا۔ (انشاء اللہ تعالیٰ) حکومت خواہ بڑی ہو یا چھوٹی بلکہ حکومتوں کا کوئی مجموعہ بھی ہمیں مستقل طور پر قادیان سے محروم نہیں کر سکتا۔ اگر زمین ہمیں قادیان لے کر نہ دے گی تو ہمارے خدا کے فرشتے آسمان سے اتریں گے اور ہمیں قادیان لے کر دیں گے...... قادیان خدا نے ہمارے ساتھ مخصوص کر دیا ہے۔ اس لیے وہ ہمیں آپ قادیان لے کر دے گا۔ (بحوالہ الفضل 28 دسمبر 1947ء ص 1)
O
...... یہ ظاہر اور صاف بات ہے کہ جو لوگ وہاں قادیان میں رہتے ہیں۔ وہ خواہ کتنی قربانی بھی کریں۔ ان کی کمائی کی وہاں کوئی صورت نہیں۔ ان کی آمدن کی کوئی صورت نہیں۔ ان کی حالت ایسی ہی ہے جیسے وہ اعتکاف بیٹھے ہوئے ہوں۔ لازمی طور پر ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم انہیں کھانا دیں‘ ہم انہیں کپڑے دیں‘ وہ اگر بیمار ہو جائیں تو ان کا علاج کریں۔ اور ضروریات انسانی کی جو دوسری چیزیں ہوں خواہ وہ کتنی ہی قلیل کیوں نہ ہوں انہیں مہیا کریں.........
ہندوستان کے بعض لوگوں کو قادیان کا اجڑنا پسند ہے۔ آباد رکھنا پسند نہیں۔ انہیں (درویشوں کو) تو وہی کھانا کھلائیں گے جو اپنے مرکز سے محبت رکھتے ہیں۔ اور جن کا یہ ایمان ہے کہ چاہے قادیان آج بہت سے احمدیوں سے کٹ گیا ہے۔ لیکن ایک وقت ایسا ضرور آئے گا جب دنیا کی اصلاح اور انصاف کے کام کا مرکز قادیان ہوگا۔ وہی لوگ ہیں
جو اس کے لیے ہر قسم کی قربانی کریں گے وہی ہیں جو اپنی جانوں کو وقف کر کے قربانی کے لیے پیش کریں گے۔
(بحوالہ الفضل 19 جون 1949ء ص 2)
O
قادیان کے چھوٹ جانے کا صدمہ لازماً طبیعتوں پر ہوا ہے۔ میری طبیعت پر بھی اس صدمہ کا اثر ہے لیکن میں نے جب قادیان چھوڑا۔ یہ عہد کر لیا تھا کہ میں اس کا غم نہیں کروں گا...... بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ یوں معلوم ہوتا تھا میرا دل ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا۔ مگر میں سمجھتا ہوں کہ جب میں ایک عزم کر چکا ہوں تو میں اس عزم کو آنسوؤں کے ساتھ کیوں مشتبہ کر دوں۔ ہم اپنے آنسوؤں کو روکیں گے۔ یہاں تک کہ ہم قادیان کو واپس لے لیں۔ چاہے صلح سے ہمیں قادیان ملے‘ چاہے جنگ کے ساتھ ہمیں قادیان ملے‘ بہر حال ہم نے اسے واپس لینا ہے۔
(بحوالہ الفضل 5 جون 1949ء)
O
دنیا کی کوئی طاقت ہمیں ہمارے اصل مرکز قادیان سے دوامی طور پر جدا نہیں کر سکتی۔ ہم نے خدائی ہاتھ دیکھے ہیں اور آسمانی فوجوں کو اترتے دیکھا ہے۔ اگر ساری طاقتیں بھی خدائی تقدیر کا مل کر مقابلہ کرنا چاہیں تو وہ یقیناً ناکام رہیں گی۔ اور وہ وقت ضرور آئے گا کہ جب قادیان پہلے کی طرح پھر جماعت احمدیہ کا مرکز بنے گا۔ خواہ صلح کے ذریعہ ایسا ظہور میں آئے۔ یا جنگ کے ذریعے۔ بہر حال یہ خدائی تقدیر ہے جو اپنے معین وقت پر ضرور پوری ہوگی۔ قادیان ملے گا اور ضرور ملے گا۔
(بحوالہ الفضل 20 اپریل 1949ء ص 4)
O
میں خدا کے فرشتوں کے ذریعہ سے اپنی طرف سے اور ساری جماعت کی طرف سے قادیان والوں کو وعلیکم السلام کہتا ہوں۔ درحقیقت وہ لوگ خوش قسمت ہیں۔ آنے والی نسلیں ہمیشہ عزت کی نگاہ سے اور احترام و محبت کے ساتھ ان کے نام لیا کریں گی۔ اور ہزاروں لوگوں کو یہ حسرت ہوا کرے گی کہ کاش! ہمارے آباء کو بھی یہ خدمت کرنے کی توفیق ملتی۔
(بحوالہ الفضل 21 اپریل 1949ء ص 2)
O
اپنے دل و دماغ میں کبھی یہ وہم نہ آنے دو کہ قادیان جانے کی وجہ سے ربوہ اجڑ جائے گا۔ ربوہ کے چپے چپے پر اللہ اکبر کے نعرے لگ چکے ہیں اور رسول کریم ﷺ پر درود بھیجا جاتا ہے۔ یہ بستی انشاء اللہ تعالیٰ قیامت تک خدا کی محبوب بستی رہے گی۔ یہ بستی انشاء اللہ تعالیٰ کبھی نہیں اجڑے گی۔ بلکہ قادیان کی اتباع میں اسلام اور محمد رسول اللہ ﷺ کے جھنڈے کو بلند سے بلند تر کرتی رہے گی۔ (بحوالہ الفضل 11 جنوری 1957ء ص 3)
O
ہمیں قادیان سے آئے ہوئے تیرہ سال ہو چکے ہیں۔ اور اب وہاں جانے کے دن قریب معلوم ہوتے ہیں۔ تمہیں بھی چاہئے کہ اپنے اخلاص اور قوت عمل کو بڑھاؤ۔ تاکہ جب بھی قادیان میں تمہارا جانا مقدر ہو۔ وہ بابرکت ثابت ہو۔ قادیان ہمارا اصل مرکز ہے۔ اور وہی برکت پائے گا جو قادیان سے روحانی رنگ میں اتصال رکھے گا۔ عیسائیوں کو انیس سو سال گزر چکے ہیں مگر اب تک وہ ہمت کر رہے ہیں۔ اور ساری دنیا پر چھائے ہوئے ہیں۔ تم کو انیس ہزار سال تک دنیا پر روحانی رنگ میں قبضہ رکھنا چاہئے کیونکہ مسیح محمدی اپنی ساری شان میں مسیح ناصری سے بڑھ کر ہے۔ خدا تعالیٰ تم کو توفیق دے اور تمہاری ہمتوں میں برکت دے اور تم ہمیشہ خدا تعالیٰ کے قرب میں جگہ پاؤ۔
(بحوالہ ماہنامہ مصباح دسمبر 1960ء ص 3)
O
جماعت کو یہ نصیحت ہے کہ جب بھی ان کو توفیق ملے حضرت ام المومنین رضی اللہ عنہا اور دوسرے اہل بیت کی نعشوں کو مقبرہ بہشتی قادیان میں لے جا کر دفن کریں۔ چونکہ مقبرہ بہشتی کا قیام اللہ تعالیٰ کے الہام سے ہوا ہے۔ اس میں حضرت ام المومنین رضی اللہ عنہا اور خاندان حضرت مسیح موعود کے دفن کرنے کی پیش گوئی ہے۔ اس لیے یہ بات فرض کے طور پر ہے۔ جماعت کو اسے کبھی نہیں بھولنا چاہئے۔ (حضرت المصلح الموعود کی وصیت جو آپ کے مزار کے سرہانے بورڈ پر تحریر ہے۔ ناقل)۔
مرزا قادیانی کی بیٹی مبارکہ بیگم کے
قادیان جانے کے متعلق ہفوات
اب حضرت خلیفۃ المسیح علیہ السلام کی تڑپ قادیان کے لیے دیکھی نہیں جاتی۔ مجھ سے تو قطعی ان کا قادیان کے لیے تڑپنا اور مجبوری برداشت نہیں کی جاتی۔ واقعی جسے مثلاً کہتے ہیں۔ ”دل پھٹنا“ دل پھٹنے لگتا ہے۔ ان کی صحت اور اس کے ساتھ ان کی اس تمنا کے خاص نصرت اور شان سے پورا ہونے کے لیے بہت بہت دعاؤں کی ضرورت ہے۔ سب بھائیوں سے دعاؤں کی خواستگار۔
مبارکہ۔
O
ہمیں خدا تعالیٰ پھر قادیان لے جائے۔ ہم حضرت اماں جانؓ کو وہاں لے جا کر حضرت مسیح موعود کے پہلو میں لٹا کر اپنے فرض سے سبکدوش ہوں۔ میری پیاری اماں جانؓ کی روح خوش ہو جائے۔ میں نے خواب میں آپ کو بڑے درد سے پکارتے سنا ہے کہ ”مجھے قادیان پہنچاؤ، مجھے قادیان پہنچاؤ۔“ ہم مجبور ہیں بجز دعا کے اب کوئی چارہ نہیں۔ قادیان میں رہنے والوں پر بھی خصوصاً یہ دعا کرنا فرض ہونا چاہئے۔ مجھے امید ہے کہ درویش بھائی اس دعا پر بھی آئندہ خاص طور پر زور دیں گے۔ والسلام
مبارکہ۔
میرے عہد کا قادیان
مولانا عنایت اللہ چشتیؒ
میں قادیان پہنچ گیا قادیان کی آبادی اس وقت دس بارہ ہزار کے لگ بھگ تھی جس میں سے مسلمان تین ہزار کے قریب اور قریباً اتنے ہی ہندو اور سکھ تھے۔ مسلمانوں میں پہلی اہم شخصیت سید محمد چراغ شاہ کی تھی۔ ان کا قادیان میں اپنا پختہ مکان تھا اور گاؤں کے متصل جانب جنوب ان کے باغیچے اور کنوئیں کے علاوہ زرعی اراضی بھی تھی۔ گاؤں میں معزز ترین شخصیت کے مالک تھے۔ قادیانیوں کے شدید ترین مخالف اور مرنجاں مرنج انداز کے بزرگ تھے اور محتاط طریقہ سے زندگی بسر کر رہے تھے۔ سید قوم سے تھے اور قصبہ میں ان کا حلقہ مریدین بھی تھا۔ باہر سے بھی لوگ ان کے پاس دعا پناہ کے لیے آیا کرتے تھے۔ بڑے باغ و بہار مجلس آرا تھے۔ دوسری اہم شخصیت میاں مہر دین صاحب کی تھی۔ بہترین منشی اور لکھے پڑھے سفید ریش بزرگ تھے۔ ہمارے قادیان جانے سے پہلے بھی مرزائیوں کے خلاف جلسے کراتے تھے اور اسی طرح میاں عنایت اللہ بھی بڑے اہم اور پڑھے لکھے تھے۔ باقی لوگ شیخ برادری سے تعلق رکھتے تھے اور مرزائیت سے متنفر تھے۔
مرزا محمود نے اپنی مادی طاقت سے ”ہٹلری انداز“ میں فسطائی نظام قائم کر رکھا تھا اور غیر مرزائیوں سے سودا سلف تک خریدنے کی ممانعت کر رکھی تھی اور ضرورت پڑنے پر تمام فسطائی ہتھکنڈے استعمال کیے جاتے تھے۔ اپنا رعب قائم رکھنے کے لیے مار پٹائی سے گریز نہیں ہوتا تھا۔ کوئی شخص ان کے نظریات کے خلاف بول نہ سکتا تھا اور نہ ہی کوئی تقریر کر سکتا تھا۔ بہ صورت دیگر اس کی مار پٹائی ہوتی اور اس کا مال لوٹا جاتا تھا جھوٹے مقدمات
بنائے جاتے اور قتل تک نوبت پہنچتی اور کوئی پرسان حال نہ تھا۔ انگریز عدالتیں بے بس تھیں۔ مرزائیوں کے خلاف شہادت مہیا کرنا محال تھا، سب لوگ سہمے ہوئے تھے اور آہستہ آہستہ بات کرتے تھے خصوصاً سید چراغ شاہ بہت محتاط تھے اور چھپ کر میری ملاقات کو آتے تھے ہاں مولوی مہر دین صاحب بڑے دلیر تھے اور کبھی کبھار کسی مولوی کو باہر سے بلوا کر تقریر کرا لیتے تھے لیکن وہ بھی کھل کر میرا ساتھ دینے سے کتراتے تھے، ان کا خیال یہ تھا کہ ”شاید چند دن رہ کر یہ شخص فتنہ کھڑا کر کے چلا جائے گا اور پھر مخالفت کا خمیازہ ہمیں بھگتنا پڑے گا۔ اس لیے سمجھدار لوگ ابتداء میں محتاط تھے اور بچ بچا کر مجھے ملتے تھے لیکن مرزائیت کی مخالفت ان کے رگ و ریشہ میں سرایت کیے ہوئے تھی۔
ابتداء میں میرے ساتھ تعاون نوجوان طبقہ نے کیا اور ہر طرح میری امداد و خدمت گزاری کے لیے تیار تھے۔ ایک شخص امان اللہ نامی زرگر تھا۔ مولوی مہر دین نے اس کا ہمیشہ ساتھ دیا تھا۔ جب میں قادیان گیا تو بوڑھا اور کمزور ہو چکا تھا میرے لیے اس کی امداد یہ تھی کہ وہ بے جھجک میرے پاس آتا تھا اور مرزا غلام احمد کے چشم دید حالات سناتا تھا اس کا چھوٹا لڑکا فیض اللہ میرا بازو بن گیا تھا اور اسی طرح مسجد شیخاں کے امام میاں عبداللہ نے بھی میرا بڑا ساتھ دیا اور یہ لوگ کئی رات تک میرے ساتھ رہتے اور مرزائیوں کے ہتھکنڈوں کا ذکر ہوتا رہتا۔ شیخ برادری میں غازی عبدالحق اور شیخ عبدالعزیز میرے بڑے معاون و مددگار تھے۔
وہاں جا کر یہ عجیب انکشاف ہوا کہ قادیان کے قدیم باشندوں میں سے سوائے دو یا زیادہ سے زیادہ تین گھرانوں کے کسی نے بھی مرزا غلام احمد کی نبوت ومہدیت کو قبول نہ کیا تھا۔ ایک گھر شیخ برادری سے اور ایک گھر سید برادری سے جماعت میں داخل ہوا تھا۔ اس سید برادری سے جس نے مرزائی جماعت میں شمولیت اختیار کی تھی میری کئی بار ملاقات ہوئی تو وہ بڑے احترام سے پیش آتا تھا اور جب بھی میں مرزائیت کا تذکرہ شروع کرتا تو وہ سر نیچا کر لیا کرتا تھا کہ ”مولوی صاحب! اس بات کو نہ چھیڑیے اور زبان حال سے کہتا:
جدائی کے صدمے اٹھائے ہوئے ہیں
اور ایک لفظ تک کبھی مرزا یا مرزائیت کی تائید میں منہ سے نہ نکالتا تھا اور نہ ہی
بحث کا انداز اختیار کیا کرتا تھا اور کسی مرزائی کو کیسے گوارا تھا کہ وہ میرے ساتھ ملاقات کرتا یا میرے ساتھ احترام سے پیش آتا مرزائیوں کی کیفیت تو یہ ہوتی تھی کہ گلے پڑ جاتے اور انٹ سنٹ دلائل سے مناظرہ شروع کر دیتے تھے۔ بات یہ تھی کہ یہ شاہ صاحب سید شاہ چراغ کے قریبی رشتہ دار تھے اور صاحب جائیداد تھے ان کی اراضی کے چاروں طرف مرزائیوں کی جائیداد تھی اور یہ سفاک ایسی صورت میں کسی غیر مرزائی کو کیسے چین سے زندہ رہنے دیتے تھے۔ جائیداد تو پیر شاہ چراغ کی بھی مرزائیوں کے ساتھ ملی ہوئی تھی لیکن وہ دل کے مضبوط تھے اور ان کا حلقہ مریدین بھی تھا اور وہ تھے بھی بڑے سمجھدار اور حوصلہ مند، پیر سید چراغ شاہ اپنے بزرگوں کا سالانہ عرس کرتے تھے ہزاروں کا اجتماع ہوتا تھا۔ جالندھر سے چوٹی کے قوال منگاتے تھے۔ بٹالا سے ہزاروں کی تعداد میں لوگ محفل سماع میں شرکت کرتے تھے ہم بھی شامل ہوتے تھے مگر وہ اس بھاری اجتماع میں قادیانیوں کے خلاف تقریر یا تردید کے روادار نہ تھے اور نہ ہی کسی کو تقریر کی اجازت دیتے تھے تاکہ جلسہ کی صورت نہ ہو جائے اور ”خالص عرس“ کا انداز قائم رہے۔ مرزائی ان سے اس لیے بھی زیادہ چھیڑ چھاڑ نہ کرتے تھے تاکہ مرزائیوں کی جارحیت قادیان سے باہر عوام میں نہ پھیلے۔
ہاں تو میں یہ بتا رہا تھا کہ قادیان کے اصل باشندوں نے اس نئے مذہب کو قبول نہیں کیا تھا۔ اور اگر کیا تھا تو بہت کم لوگوں نے۔ خود مرزا کے اپنے خاندان نے بھی مرزا کی دعوت کو قبول نہ کیا تھا۔ مثلاً مرزا نظام الدین جو مرزا غلام احمد کے چچا زاد بھائی تھے مرزا کے سخت مخالف تھے۔ مرزا غلام احمد نے مرزا نظام الدین کی مخالفت کا تذکرہ بہت دکھ بھرے انداز میں کیا ہے کہ ”وہ ہمارے منارۃ المسیح کی تعمیر میں رکاوٹیں ڈالتے تھے۔“
اصل بات یہ ہے کہ اپنے جس معبد میں مرزا غلام احمد نے یہ مینار تعمیر کیا ہے اس کی جائے وقوعہ تمام قصبہ سے بلند ہے پھر مینار کی بلندی سے تمام قصبہ اس کی زد میں آ جاتا ہے اور مینار پر چڑھنے والا تمام عورتوں کو جو گھروں میں بیٹھی ہوں دیکھ سکتا ہے۔ اس لیے مرزا نظام الدین کہتا تھا کہ ”یہ شخص جس نے مذہبی لبادہ اوڑھ رکھا ہے دراصل ”کنجر ذہنیت“ کا ہے اور لوگوں کی بے پردگی کرنا چاہتا ہے۔“ مرزا غلام احمد اپنی عبادت گاہ کی تعمیر کے ڈانڈے مسجد اقصیٰ سے ملانا چاہتا تھا اور وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول جس مینار سے ہوگا اپنے اس مینار کو دمشق کی جامع مسجد والے حدیث میں نامزد مینار کا مثیل بتانا چاہتا تھا
اس لیے اس نے اپنے معبد کا نام (معاذ اللہ) مسجد اقصیٰ اور اپنے نو تعمیر مینار کا نام منارۃ المسیح رکھ چھوڑا تھا اور وہ اس اصل کی نقل کر رہا تھا۔
ادھر مرزا نظام الدین مرزائی مینار کی تعمیر کی تیاریوں کے دوران ہی مر گئے اور کوئی انہیں پوچھنے والا نہ رہا۔ مرزا نظام الدین ایک معصوم بچہ چھوڑ کر مرے تھے جس کا مرزا محمود کے سوا کوئی والی وارث نہ تھا۔ اسی کے رحم و کرم پر تھا۔ جائیداد تھی لیکن سب کچھ مرزا محمود کے تصرف میں تھا۔ اس بچے کا نام مرزا گل محمد تھا۔ راقم الحروف کی ملاقات مرزا گل محمد سے بھی ہوئی۔ اس بچہ کی پرورش اس انداز میں ہوئی اور اسے ایسی سوسائٹی کے حوالہ کیا گیا تھا کہ بیچارہ نہ مرزائی تھا نہ مسلم۔ شراب میں دھت رہنا اس کا معمول تھا۔ ورنہ بہ حیثیت انسان وہ بڑا منکسر المزاج انسان تھا مجھے بڑے احترام سے ملتا تھا اور غالباً اب بھی زندہ ہے۔ لیکن اب وہ کوئی قابل ذکر انسان نہیں ہے جس ڈگر پر اس کی پرورش ہوئی اسی پر چل رہا ہے۔ مرزا گل محمد کے دو چچا تھے ان میں سے ایک کا نام مرزا امام الدین تھا اور دوسرے کا نام مرزا کمال الدین تھا۔ یہ دونوں دنیا کے آدمی نہیں تھے بلکہ درویش منش اس دنیا سے الگ ایک دوسری دنیا میں بسیرا کرتے تھے اور اس وقت کائنات سے رخصت ہو چکے ہیں۔ ان میں سے ایک بالمیکیوں بھنگیوں کا پیر بن گیا تھا اور اس نے خاصہ کام چلا لیا تھا۔ ملک بھر کے بالمیکی چوہڑے اس کے پاس جمع ہوتے تھے اور دوسرا الگ تھلگ گوشہ نشینی کی زندگی بسر کرتا رہا۔ اور اطراف و اکناف سے عورتیں تعویذ گنڈے کے لیے اس کے پاس آتی تھیں۔ کسی نے طعنہ دیا کہ ”تو ان عورتوں پر گزارہ کرتا اور دل بہلاتا ہے۔“ تو اس بدعقل اور بدبخت نے مشتعل اور مخبوط ہو کر آلہ تناسل کاٹ کر دور پھینک دیا تھا۔ اس کے پاس ملنگوں کا بڑا ہجوم رہتا تھا اور وہ اپنی جائیداد کی آمدنی انہیں کھلا پلا دیتا تھا۔ وفات سے پہلے ایک ملنگ کو اپنا جانشین مقرر کر دیا تھا اور اپنی گدی اس کی سپردگی میں وقف کر دی تھی۔ شہر سے باہر آموں کا ایک باغیچہ تھا وہاں کچے مکان بنا کر اس نے اپنی رہائش گاہ بنا رکھی تھی۔ وہ طبعاً تو ایک پاک نفس غازی انسان تھا مگر غلط قسم کی فقیری کی وجہ سے اس کی یہ خلاف سنت حالت ہو گئی تھی۔ جمعہ میرے ہاں آ کر پڑھتا تھا اور انکسار اور تواضع سے ملتا تھا کبھی میں بھی اس کے ڈیرے پر چلا جاتا تھا۔ وہ میری کچھ نہ کچھ مالی امداد بھی کرتا تھا۔ وہ بڑا نیک نام آدمی تھا۔ مرزائیت کے پنجہ سے بچا ہوا تھا۔ مختصر ملاقات میں جو گفتگو اس سے ہوتی تھی
اس کی روشنی میں ”صحیح العقیدہ“ معلوم ہوتا تھا اور بڑا کم گو اور بے ضرر انسان تھا۔ شادی بیاہ کے جھنجھٹ سے آزاد اور گوشہ نشین خلوت پسند آدمی تھا۔ گو وہ نماز جمعہ میرے ساتھ ادا کرتا تھا اور مرزائیت سے شدید نفرت کرتا تھا‘ لیکن مرزائی اس سے بہت کم تعرض کرتے تھے اور اس نے بھی کبھی ان کی شکایت نہیں کی تھی۔
سمال ٹاؤن کمیٹی قصبہ کا انتظام کرتی تھی اور اس پر مرزائیوں کا قبضہ وتصرف تھا۔ چھے وارڈ تھے مگر صرف تین میں مرزائیوں کی اکثریت تھی اور بقیہ تین وارڈ میں غیر مرزائی یعنی ہندو‘ سکھ اور مسلم بستے تھے۔ مگر بغیر مرزائیوں کی مرضی کے کوئی ممبر منتخب نہیں ہو سکتا تھا کیونکہ وہ ان محلوں کے مرزائی گھروں میں سینکڑوں فرضی ووٹ بنا دیتے تھے اور جعلی ووٹ بنانے اور ڈالنے سے انہیں کوئی دریغ نہیں تھا کیونکہ انہیں اقتصادی و سیاسی برتری حاصل تھی جسے وہ ہر موقع پر استعمال میں لاتے تھے‘ وہ بھی کبھی جس ہندو یا سکھ کو اپنے ڈھب کا خیال کرتے اس کو بھی ممبر بنا دیتے تھے۔
پورے قصبے کے گرد کسی زمانہ میں مٹی کی بنی ہوئی بڑی موٹی فصیل تھی اور پھر اس کے گرد خندق بھی تھی۔ فصیل کا زیادہ حصہ اب گر چکا تھا اور خندق صرف نشیبی انداز اختیار کر چکی تھی عموماً تین ماہ بارش ہوتی اور وہ تمام نشیبی حصہ جو کبھی خندق تھی پانی سے بھر کر بڑا جوہڑ بن جاتا تھا اور قصبہ میں داخل ہونے والے تمام راستے مسدود ہو کر رہ جاتے تھے۔ قصبہ میں داخلہ کے لیے کچی پلیاں بنانی پڑتی تھیں‘ اپنے راستوں میں تو مرزائی یہ پلیاں ”سمال ٹاؤن کمیٹی“ سے بنوا لیتے تھے اور دوسرے لوگ برسات کے موسم میں بڑی مشکلات سے دوچار رہتے تھے۔ ایک دفعہ اس جوہڑ سے ایک انسانی کچا بچہ برآمد ہوا۔ پولیس کی تفتیش میں بچہ مرزائی خلیفہ کی کنواری لڑکی کا ثابت ہوا۔ میری جوانی کا زمانہ تھا اور ان کی حرکات کی وجہ سے طبیعت میں غصہ بھی تھا۔ میں نے جمعہ کے خطبہ میں اس کا تذکرہ کر دیا پھر کیا تھا؟ مرزائیت کی دنیا میں ایک غضب کا شور برپا ہو گیا لیکن میرا کیا کر سکتے تھے؟ ان کے جن بڑے سمجھ والے تھے‘ سوچ سمجھ کر ایکشن لیا کرتے تھے۔ میری جماعت احرار نے اعلان کر رکھا تھا کہ ”اگر ہمارے آدمی کو نقصان پہنچا تو دوسرا آدمی اس کی جگہ لینے کے لیے تیار بیٹھا ہے اور مزید برآں کہ پھر ملک بھر میں مرزائی خلیفہ سمیت کوئی عام مرزائی بھی احرار رضا کاروں اور مجاہدین کے ہاتھوں محفوظ اور مطمئن نہ رہ سکے گا“۔ اس لیے وہ مجھ پر ہاتھ
اٹھانے سے پہلے نتائج پر غور کر لیتے تھے۔
تازہ اعلانات کے لیے مرزائیوں نے بورڈ نصب کر رکھے تھے اور وہ اپنے جماعتی اعلانات لکھ کر اپنی پوری مرزائی قوم کو باخبر رکھتے تھے۔ ہم نے بھی ایک مقام پر بورڈ نصب کر کے اپنی جماعت کو تازہ واقعات سے باخبر رکھنے کے لیے ”جماعتی اطلاعات“ لکھنی شروع کر دیں اور عموماً یہ اعلانات مرزائیوں سے تحفظ اور بچاؤ کے متعلق ہوتے تھے۔ ایک منچلا مرزائی آیا اور اس نے بورڈ پر سے مرزائی کا لفظ مٹا دیا۔ مجھے علم ہوا تو میں نے جا کر دوبارہ لکھ دیا میں وہاں سے ہٹا تو اس نے مرزائی کا لفظ پھر مٹا دیا‘ مجھے علم ہوا تو میں نے پھر لکھ کر منادی کرا دی کہ ”ہم نے بورڈ لکھ دیا ہے۔ اب اگر کسی نے گڑ بڑ کی تو پھر اسے کوئی ہمت والا ہی مٹائے گا۔“ چوکی پولیس والوں نے بھی یہ منادی سنی تو اس بورڈ کی حفاظت کے لیے ایک پولیس سپاہی کی ڈیوٹی لگا دی اور اس کے بعد کسی کو بورڈ مٹانے کی ہمت نہ پڑی۔
فخر المحدثین سید انور شاہ کشمیریؒ کی نصیحت
٢٠ سال کی عمر میں دارالعلوم دیوبند سے وہ مروجہ درسِ نظامی کی سندِ تکمیل لے کر نکلے اور یوں ان کی پُرعبرت کتابِ زندگی کا ایک سبق آموز باب مکمل ہوگیا۔ جس دن دارالعلوم سے نکل رہے تھے اس دن سید انور شاہ کشمیریؒ نے الگ بلا کر کہا ”تحفظ ختم نبوت کو اپنا مشن بنالینا“ فرمایا کرتے تھے جب میں دارالعلوم سے نکلا تو میرے ذہن میں دو باتوں کے سوا کچھ نہیں تھا۔ ایک انگریز سے نفرت‘ دوسرا مرزا غلام احمد قادیانی کی جھوٹی نبوت کے خلاف جہاد کا جذبہ۔ گویا کہ میری سند میں انہیں دو مضمونوں سے فراغت کی شہادت درج تھی۔
(”حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ“ ص ٤٠-٤١ از ڈاکٹر نور محمد غفاری)
تیری نظر نے جو بخشی تھی آنچ ہلکی سی
میں بھی قادیان پہنچا
بیتے ہوئے دن کچھ ایسے ہیں تنہائی جنہیں دہراتی ہے
یہ دلفریب موسم تھا، سورج کی کرنوں کی چبھن کم ہو رہی تھی۔ شاموں کا حسن نکھر رہا تھا۔ ان ملگجی شاموں کو باغوں اور پارکوں میں ہجوم بڑھنے لگا تھا۔ سبزہ پھوٹ رہا تھا۔ ہریالی آرہی تھی۔ ٹنڈ منڈ درختوں پر پتے پھر سے نمودار ہورہے تھے۔ باغوں اور میدانوں میں خوشبوئیں پھیلنی شروع ہو گئی تھیں۔ مجھے آج ایک ایسے ہی موسم اور ایسے ہی دنوں کی بات کرنی ہے۔
آج بھی یہ موسم آتا ہے، آج بھی کونپلیں پھوٹتی ہیں، ہریالی آتی ہے۔ آج بھی باغوں اور پارکوں میں سرشام لوگوں کے ہجوم جمع ہوتے ہیں۔ تاکہ وہ اس حسن سے لطف اندوز ہو سکیں۔ لیکن جو بات میں بتانا چاہتا ہوں، وہ بات اب نہیں ہوتی۔
اک رند ہی کے رو رہے ہیں مے خانے
بہت برس پہلے کی بات ہے ان دنوں کو یاد کے سینے میں دبائے ایک مدت گزر گئی ہے۔ اب بھی جب یہ دن یاد آتے ہیں تو جذبات میں ارتعاش پیدا ہو جاتا ہے اور ماضی کی ان یادوں میں کھو جانے کو جی چاہتا ہے۔
ایسے ہی موسم میں جب شاموں کا حسن نکھر آیا تھا اور راتیں خنک ہونی شروع ہو گئی تھیں تو قادیان میں مجلس احرار نے تبلیغ کانفرنس (اکتوبر ١٩٣٤ء) کے انعقاد کا اعلان کیا تھا۔ صرف انعقاد کا اعلان اور وہ بھی مجلس احرار کی طرف سے، ایک زبردست ہنگامے کی دعوت تھی۔ آج اتنے برس گزرنے کے بعد شاید نئی پود ان ہنگاموں کو سمجھ ہی نہ سکے اور نہ ہی کوئی مورخ بیان کرنے کے لیے تیار ہو لیکن اس کے باوجود خطابت کی تاریخ اور شعلہ نوائیوں کی داستان میں یہ کانفرنس اپنا عنوان ڈھونڈ کر ہی رہے گی۔ ہاں تو جن دنوں اس
کانفرنس کے انعقاد کا اعلان ہوا‘ اس وقت پنجاب میں مجلس احرار کا طوطی بول رہا تھا۔ اس شعلہ بیان خطیبوں کی جماعت نے مسلمانان پنجاب کو بہت حد تک متاثر کر لیا تھا۔ یہ کشمیر چلو تحریک کا معرکہ سر کر چکے تھے۔ سر فضل حسین کی پوری کامیابیوں اور کامرانیوں کے باوجود مسلمانوں کے درمیانی طبقے میں مجلس احرار ان کی ساکھ پر ایک گہری چوٹ لگا چکی تھی۔ غرضیکہ چاروں طرف شہر اور قریہ میں ان شعلہ نواؤں کے چرچے تھے۔ میں بھی ان چرچوں سے متاثر تھا۔ نویں جماعت کا طالب علم مولانا داؤد غزنوی کے خطبوں سے شدید طور پر متاثر‘ احرار کے جلسوں کا رسیا۔ اب یہ موقع کیسے کھو سکتا تھا۔ چنانچہ کچھ بزرگ دوستوں کے ساتھ قادیان روانہ ہو گیا۔
اب اڑسٹھ برس بعد یہ یادیں دھندلا گئی ہیں۔ صرف امیر شریعت کے الفاظ آج بھی کانوں میں گونج رہے ہیں۔ قادیان میں ایک ہجوم تھا۔ جس کو ”یہ قریہ جس نے ”نبوت“ کو تو سنبھال لیا‘ لیکن وہ امیر شریعت کے چاہنے والوں کو سمیٹنے سے قاصر تھا‘ کوئی گاڑی‘ کوئی بس‘ کوئی بیل گاڑی‘ کوئی ٹم ٹم‘ کوئی تانگہ‘ کوئی سائیکل ایسی نہ تھی‘ جو قادیان کی طرف نہ آ رہی ہو اور رضا کار دنوں پہلے پیدل چل دیے تھے جیسے جیسے یہ مختلف دیہات میں گزرتے‘ دیہات والے بھی ان کے ساتھ ہو جاتے اور قادیان پہنچتے پہنچتے یہ خود ایک جلسہ بھی ہوتے اور ایک جلوس بھی۔ یہ پہلی تحریک تھی جس نے یہاں کے مسلمانوں کے دونوں جذبوں کو بیک وقت متاثر کیا۔ ان کے نعرے‘ ان میں جذبہ عشق رسولؐ کو بھی متاثر کرتے تھے اور ان کی انگریز دشمنی اور حب الوطنی کے جذبے کی بھی ان نعروں سے تشفی ہوتی تھی۔
اس کانفرنس کا انعقاد اکتوبر ١٩٣٤ء کے تیسرے ہفتے میں ہوا اور ٢١‘ ٢٢‘ ٢٣ اکتوبر کی تاریخوں کا اعلان کیا گیا تھا۔ کانفرنس کے لیے ایک سکھ زمیندار کی اراضی حاصل کی گئی تھی۔ اس زمیندار کا نام ایشر سنگھ تھا۔ اس اراضی پر پنڈال بھی تیار ہونا شروع ہو گیا تھا لیکن مرزائیوں نے اس اراضی پر قبضہ کر لیا۔ اب احراریوں کے لیے اور کوئی راستہ نہیں تھا۔ یا تو وہ اس اراضی کے لیے لڑتے یا پھر شہر سے دور کانفرنس منعقد کرتے۔ احرار نے جھگڑا کرنے سے گریز کیا‘ کیونکہ اس وقت احرار مرزائیوں کے ان ارادوں کو بھانپتی تھی۔ چنانچہ اس اشتعال کے باوجود مجلس احرار نے ایشر سنگھ کی اراضی پر کانفرنس منعقد نہ کرنے کا
فیصلہ کر لیا اور اس کے بعد قادیان سے ایک میل کے فاصلے پر ڈی۔ اے وی سکول کے پہلو میں پنڈال تیار کیا گیا۔
کانفرنس سے دو دن پہلے ”سول اینڈ ملٹری گزٹ“ کے نامہ نگار نے قادیان سے یہ خبر بھیجی تھی جس سے اس کانفرنس کے خدو خال اور اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔
”مجلس احرار اکیس، بائیس اور تئیس اکتوبر کو ایک تبلیغی کانفرنس قادیان میں منعقد کر رہی ہے۔ اس کانفرنس کے لیے بڑے وسیع پیمانے پر تیاریاں ہو رہی ہیں۔ مرزائیوں کی طرف سے مسلسل یہ مہم چلائی جا رہی ہے کہ اس کانفرنس سے ان کا جان و مال خطرہ میں پڑ گیا ہے۔ چنانچہ مرزائیوں نے اپنی حفاظت کے لیے لاتعداد دیہاتیوں کو اور اپنے مریدوں کو قادیان میں جمع کرنا شروع کر دیا ہے۔ ادھر احرار کی اس کانفرنس میں بیس سے لے کر پچاس ہزار کا ہجوم پہنچا ہے۔ مزید برآں کانفرنس کے منتظمین کا مطالبہ ہے کہ ان کو کانفرنس کے صدر کا جلوس نکالنے کی اجازت ہونی چاہیے اور یہ جلوس قادیان شہر میں سے گزرے۔
اس کانفرنس کے پیش نظر آج صبح پنجاب کے انسپکٹر جنرل پولیس خود بہ نفس نفیس قادیان آئے۔ ان کے ہمراہ پولیس کی بھی ایک بھاری جمعیت تھی۔ چنانچہ انسپکٹر جنرل پولیس نے کانفرنس وغیرہ کا موقع دیکھا اور احکام جاری کر دیے گئے ہیں کہ اگر کانفرنس کے دوران قادیانیوں نے کوئی اجتماع منعقد کرنے کی کوشش کی تو یہ اجتماع خلاف قانون تصور
ہوگا۔ انسپکٹر جنرل نے احراریوں اور ان کی کانفرنس میں شرکت کرنے والوں کو بھی متنبہ کر دیا ہے کہ وہ کانفرنس میں کسی قسم کے ہتھیار کے ساتھ شرکت نہیں کر سکتے۔ حتیٰ کہ لاٹھیوں کو ساتھ لانے کی بھی ممانعت کر دی گئی ہے۔ مزید برآں کانفرنس میں شرکت کے لیے آنے والے لوگوں کے لیے ایک خاص راستہ متعین کر دیا گیا ہے۔ نیز اگر کسی قسم کا جلوس نکالا جائے تو اسے شہر میں ٹھہرنے کی اجازت نہیں ہو گی۔
یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ آج شام تک قادیان میں امن و امان بحال رکھنے کے لیے چار سو پولیس کے سپاہی پہنچ جائیں گے لیکن میرا اندازہ یہی ہے کہ یہ تمام پیش بندیاں بالکل غیر ضروری ہیں کیونکہ احراری ہر حالت میں کسی قسم کے جھگڑے سے اجتناب کرنا چاہتے ہیں۔ ان کی کانفرنس کا پنڈال ڈی۔ اے وی سکول میں بننا شروع ہو گیا ہے۔ اور اردگرد کے
تمام علاقے میں ١٤٤ نافذ کر دی گئی ہے۔ مزید برآں لاٹھیاں نہ لانے کی بھی منادی کرا دی گئی ہے۔
اس اقتباس سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ پورے پنجاب میں اس کانفرنس کے کس قدر چرچے تھے اور کتنے گوشوں سے اس کانفرنس کی کامیابی اور ناکامی کی خبروں کا انتظار کیا جا رہا تھا۔ اس فضا میں یہ کانفرنس ہوئی۔ اس کے صدر امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ تھے۔ چنانچہ رات جب اپنا پورا سایہ ڈال چکی، لوگ عشاء کی نماز پڑھ کر فارغ ہو چکے تو صدر کانفرنس سید عطاء اللہ شاہ بخاری تشریف لائے۔ ہزار ہا انسانوں کا ہجوم اور امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری کی پنڈال میں آمد اور کون سید عطاء اللہ شاہ بخاری، ملتان کی سرزمین میں دفن ہونے والا سید عطاء اللہ شاہ بخاری نہیں، وہ سید عطاء اللہ شاہ بخاری ہیں جس کی زبان گنگ ہو گئی تھی، جس کے چہرے کا جھریوں نے احاطہ کر لیا تھا، جس کے بالوں میں بڑھاپے کی سفیدی آگئی تھی۔ یہ وہ سید عطاء اللہ شاہ بخاری تھے، جن کا شباب اور شعلہ بیانی دونوں اپنے عروج پر تھے۔ جو لاؤڈ سپیکر کے بغیر لاکھوں کے ہجوم کو مسخر کر سکتا تھا، جس کا حسن اور بیان دونوں الگ الگ جادو جگاتے تھے، پچاس ہزار کا مجمع، رات کی خاموشی، قمقموں کی روشنی اور اتنے میں حسن ونور کے پیکر، شعلہ بیان خطیب اور شریعت کے امیر کی آمد
بس پھر کیا تھا۔ مجمع میں یکایک خاموشی اور ہو کا عالم تھا اور اب وارفتگی اور دیدار یار کی بے تابی نے سب کو آن گھیرا ہے اور اس بے تابی اور وارفتگی کا اظہار نعروں کی گونج میں ہوتا ہے۔ شاہ جی ہیں کہ مسکراتے ہوئے مجمع کو چیرتے ہوئے اسٹیج کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اسٹیج پر پہنچے، چاروں طرف نگاہ مست انداز میں دیکھا۔ بس پھر کیا تھا نعروں کا ایک اور سیل ٹوٹ پڑا اور امیر شریعت فاتحانہ انداز میں مسکرا رہے ہیں۔ مجمع خاموش ہوا۔ تلاوت ہوئی، نظم ہوئی۔ اب سے اڑسٹھ برس پہلے کی تفصیلوں کو دہرائیے اور انہی تفصیلوں کو جن پر شاہ جی کی تاریخی تقریر کی دبیز تہیں چڑھی ہوئی ہوں۔ شاہ جی نے یہی کوئی نو ساڑھے نو بجے تقریر شروع کی ہوگی اور رات تھی کہ وہ بھی دم بخود گزرے جا رہی تھی لیکن شاہ جی کی
شعلہ بیانی بڑھتی جا رہی تھی، اس شعلہ بیانی اور آتش نوائی کو قدم قدم پر نعروں، قہقہوں اور آنسوؤں کے ذریعے خراج عقیدت پیش ہو رہا تھا۔ یہی وہ تقریر تھی جس میں شاہ جی نے اپنا مشہور جملہ کہا تھا:
”تم اپنے بابا کی ”نبوت“ لے کر آؤ اور میں اپنے نانا کی نبوت لے کر آتا ہوں۔ تم حریر و دیبا زیب تن کر کے آؤ اور میں اپنے نانا کی سنت کے مطابق کھدر پہن کر آؤں۔ تم یاقوتی اور پلومر کی شراب کے خم لنڈھا کر آؤ اور میں روکھی سوکھی روٹی کھا کر آؤں اور پھر زمانہ فیصلہ کرے کہ کون سچے نبی کی اولاد ہے“۔
یہ تقریر جو رات کی خاموشی میں شروع ہوئی تھی۔ جو عشاء کی نماز کے بعد جب ابھی رات کا آغاز تھا لوگوں نے سننی شروع کی تھی۔ یہ تقریر پوری رات ہوتی رہی اور مجمع بیٹھا رہا۔ ایک بھی ذی نفس ایسا نہیں تھا جس نے تھکن کا اظہار کیا ہو۔ جس کے چہرے سے اکتاہٹ کی غمازی ہوتی ہو۔ اتنے میں صبح کا نور پھیلنا شروع ہو گیا اور موذن نے اذان دے دی۔ تقریر تھی کہ اس وقت بھی اپنے عروج پر تھی لیکن موذن نے اس سیل رواں کو روک دیا اور خطابت کے دریاؤں کو بند مار دیا۔ ہندوستان اور پاکستان کی تاریخ میں بہت کم خطیب اور مقرر ایسے گزرے ہیں جنہوں نے رات رات بھر تقریر کی ہو جنہوں نے لوگوں کو اس قدر مسحور کیا ہو جیسا کہ امیر شریعت نے کیا ہے
کیا کریں گر نہ انتظار کریں
(ماہنامہ ”نقیب ختم نبوت“ ملتان، امیر شریعت نمبر، حصہ دوم، ص ٣٧٤ تا ٣٧٦،
تحریر عبداللہ ملک)
جہاں بین
قادیان کانفرنس
اس کانفرنس کا انعقاد اکتوبر ١٩٣٤ء کے تیسرے ہفتے میں ہوا اور اس کانفرنس کے لیے ٢١-٢٢ اور ٢٣ اکتوبر کی تاریخوں کا اعلان کیا گیا تھا۔ اس کانفرنس کے لیے ایک سکھ زمیندار کی اراضی حاصل کی گئی تھی۔ اس زمیندار کا نام ایشر سنگھ تھا۔ اس اراضی پر پنڈال بھی تیار ہونا شروع ہو گیا تھا لیکن مرزائیوں نے اس اراضی پر قبضہ کر لیا۔ اب احراریوں کے لیے اور کوئی راستہ نہیں تھا یا تو وہ اراضی کے لیے لڑتے یا شہر سے دور کانفرنس منعقد کرتے۔ احرار نے جھگڑا کرنے سے گریز کیا کیونکہ اس وقت مرزائیوں کی مسلسل کوشش یہی تھی کہ فساد کرایا جائے اور اس بنیاد پر کانفرنس کو امن عامہ کے خلاف ثابت کر کے بند کروایا جائے۔ مجلس احرار مرزائیوں کے اس ارادے کو بھانپتی تھی۔ چنانچہ اس اشتعال کے باوجود مجلس احرار نے ایشر سنگھ کی اراضی پر کانفرنس منعقد نہ کرنے کا فیصلہ کر لیا اور اس کے بعد قادیاں سے ایک میل کے فاصلے پر ڈی۔اے وی سکول کے پہلو میں پنڈال تیار کیا گیا۔
کانفرنس سے دو دن پہلے ”سول اینڈ ملٹری گزٹ“ کے نامہ نگار نے قادیاں سے یہ خبر بھیجی تھی جس میں اس کانفرنس کے خدوخال اور اہمیت کا اندازہ ہوتا تھا۔ ”مجلس احرار ٢١-٢٢ اور ٢٣ اکتوبر کو ایک تبلیغی کانفرنس قادیان میں منعقد کر رہی ہے۔ اس کانفرنس کے لیے بڑے وسیع پیمانے پر تیاریاں ہو رہی ہیں۔ مرزائیوں کی طرف سے مسلسل یہ مہم چلائی جا رہی ہے کہ اس کانفرنس سے ان کا جان و مال خطرہ میں پڑ گیا ہے۔ چنانچہ مرزائیوں نے اپنی حفاظت کے لیے لاتعداد دیہاتیوں اور اپنے مریدوں کو قادیان میں جمع کرنا شروع کر دیا ہے۔ ادھر احرار کی اس کانفرنس میں ٢٠ سے لے کر ٥٠ ہزار کا ہجوم ہے۔ مزید برآں کانفرنس کے منتظمین کا مطالبہ ہے کہ ان کو کانفرنس کے صدر کا جلوس نکالنے کی اجازت ہونی چاہیے اور یہ جلوس قادیاں شہر میں سے گزرے۔
اس کانفرنس کے پیش نظر آج صبح پنجاب کے انسپکٹر جنرل پولیس خود بہ نفس نفیس قادیان آئے۔ ان کے ہمراہ پولیس کی بھی ایک بھاری جمعیت تھی۔ چنانچہ انسپکٹر جنرل پولیس نے کانفرنس وغیرہ کا موقع دیکھا اور احکام جاری کر دیے کہ اگر اس کانفرنس کے دوران قادیانیوں نے کوئی اجتماع منعقد کرنے کی کوشش کی تو یہ اجتماع خلاف قانون متصور ہوگا۔ انسپکٹر جنرل پولیس نے احراریوں اور ان کی کانفرنس میں شرکت کرنے والوں کو بھی متنبہ کیا کہ وہ کانفرنس میں کسی قسم کے ہتھیار کے ساتھ شرکت نہیں کر سکتے۔ حتی کہ لاٹھیوں کو بھی ساتھ لانے کی ممانعت کر دی گئی۔ مزید برآں کانفرنس میں شرکت کے لیے آنے والے لوگوں کے لیے ایک خاص راستہ متعین کر دیا گیا ہے۔ نیز اگر کسی قسم کا جلوس نکالا جائے تو اسے شہر میں ٹھہرنے کی اجازت نہیں ہو گی۔
یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ آج قادیان میں امن و امان بحال رکھنے کے لیے چار سو پولیس کے سپاہی پہنچ جائیں گے۔ احراری ہر حالت میں کسی قسم کے جھگڑے سے اجتناب کریں گے۔ اس کانفرنس کا پنڈال ڈی۔ اے وی سکول میں بننا شروع ہو گیا ہے اور ارد گرد کے تمام علاقے میں دفعہ ١٤٤ نافذ کر دی گئی ہے اور لاٹھیاں ساتھ نہ لانے کی بھی منادی کرا دی گئی ہے"۔
ایک عاشق رسولؐ کا جواب...... مولانا ظفر علی خاں نے جب عوامی جلسوں میں قادیانیت کے بخیئے ادھیڑنے شروع کئے اور مرزا قادیانی کا ریمانڈ لینا شروع کیا تو انگریزی قانون اپنے خود کاشتہ پودے کی حفاظت کے لئے حرکت میں آگیا۔ مولانا اور ان کے ساتھیوں کو ڈرانے دھمکانے کی کوششیں کی گئیں اور پھر ان سے نیک چلنی کی ضمانت طلب کی گئی۔ جھوٹی نبوت کے خالق فرنگی کو عاشق رسول ظفر علی خاں نے جو باغیرت جواب دیا اسے پڑھ کر آج بھی گلشن ایمان میں بہار آ جاتی ہے۔ آپ نے فرمایا...... ”جہاں تک مرزا غلام احمد کا تعلق ہے ہم اس کو ایک بار نہیں ہزار بار دجال کہیں گے اس نے حضورؐ کی ختم المرسلینی میں اپنی نبوت کا ناپاک پیوند جوڑ کر ناموس رسالت پر کھلم کھلا حملہ کیا ہے۔ اپنے اس عقیدہ سے میں ایک منٹ کے کروڑویں حصہ کے لئے بھی دست کش ہونے کو تیار نہیں اور مجھے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی دجال تھا۔ دجال تھا۔ دجال تھا۔ میں اس سلسلہ میں قانون انگریزی کا پابند نہیں، میں قانون محمدیؐ کا پابند ہوں۔ (تحریک ختم نبوت ص ١٦٨ از شورش کاشمیری )
امیر شریعت کی کانفرنس میں آمد اور تقریر
اس اقتباس سے اندازہ ہوتا ہے کہ پورے پنجاب میں اس کانفرنس کے کس قدر چرچے تھے اور کتنے گوشوں سے اس کانفرنس کی کامیابی اور ناکامی کی خبروں کا انتظار کیا جا رہا تھا۔ اس فضا میں یہ کانفرنس ہوئی۔ اس کانفرنس کے صدر امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ تھے۔ چنانچہ رات جب اپنا پورا سایہ ڈال چکی، لوگ عشاء کی نماز پڑھ کر فارغ ہو چکے تو اس کانفرنس کے صدر سید عطاء اللہ شاہ بخاری تشریف لائے۔ ہزار ہا انسانوں کا ہجوم اور امیر شریعت کی پنڈال میں آمد۔ اور کون سید عطاء اللہ شاہ بخاری ملتان کی سرزمین میں دفن ہونے والا سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ نہیں وہ سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ نہیں جس کی زبان گنگ ہو گئی تھی، جس کے چہرے کا جھریوں نے احاطہ کر لیا تھا، جس کے بالوں میں بڑھاپے کی سفیدی آگئی تھی۔ یہ وہ سید عطاء اللہ شاہ بخاری تھا، جس کا شباب اور شعلہ بیانی دونوں اپنے عروج پر تھے۔ جو لاؤڈ اسپیکر کے بغیر لاکھوں کے مجمع کو مسخر کر سکتا تھا۔ جس کا حسن اور بیان دونوں الگ الگ جادو جگاتے تھے۔ پچاس ہزار کا مجمع، رات کی خاموشی، قمقموں کی روشنی اور اتنے میں حسن و نور کے پیکر، شعلہ بیاں خطیب اور شریعت کے امیر کی آمد۔
بس پھر کیا تھا مجمع میں کہاں ایک خاموشی اور ہو کا عالم تھا اور اب وارفتگی اور دیدار یار کی بے تابی نے سب کو آن گھیرا ہے اور اس بے تابی اور وارفتگی کا اظہار نعروں کی گونج میں ہوتا ہے۔ شاہ صاحبؒ ہیں کہ مسکراتے ہوئے، مجمع کو چیرتے ہوئے اسٹیج کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اسٹیج پر پہنچے، چاروں طرف نگاہ مست انداز سے دیکھا۔ بس پھر کیا تھا، نعروں کا ایک اور سیل ٹوٹ پڑا۔۔۔۔ اور امیر شریعت فاتحانہ انداز میں مسکرا رہے تھے۔ مجمع خاموش ہوا، تلاوت ہوئی، نظم ہوئی۔ اب سے پچیس برس پہلے کی تفصیلوں کو دہرائیے اور انہی تفصیلوں کو جن پر شاہ صاحبؒ کی تاریخی تقریر کی دبیز تہیں چڑھی ہوئی ہوں، شاہ صاحبؒ نے بھی کوئی ساڑھے نو بجے تقریر شروع کی ہو گی اور رات تھی کہ وہ بھی دم بخود گزرے جا
رہی تھی۔ لیکن شاہ صاحبؒ کی شعلہ بیانی بڑھتی جا رہی تھی اور اس شعلہ بیانی اور آتش نوائی کو قدم قدم پر نعروں، قہقہوں اور آنسوؤں کے ذریعے خراج عقیدت پیش ہو رہا تھا۔
یہی وہ تقریر ہے جس میں شاہ صاحبؒ نے اپنا مشہور جملہ کہا تھا:
"وہ مرزا (محمود) نبی کا بیٹا ہے اور میں نبیؐ کا نواسہ ہوں۔ وہ آئے اور مجھ سے اردو، پنجابی، فارسی، عربی، ہر زبان میں بحث کرے۔ یہ جھگڑا آج ہی طے پا جاتا ہے۔ وہ پردے سے باہر نکلے، نقاب اٹھائے، کشتی لڑے۔ مولا علی کے جوہر دیکھے، ہر رنگ میں آئے۔ میں ننگے پاؤں آؤں اور وہ حریر و پرنیاں پہن کر آئے۔ میں موٹا جھوٹا پہن کر آؤں، وہ مزعفر کباب یاقوتیاں اور اپنے ابا کی سنت کے مطابق پلو مرغ، پورٹ وائن پی کر آئے۔ میں اپنے نانا کی سنت کے مطابق جو کی روٹی کھا کر آؤں، ہمیں میدانِ ہمیں گو"۔
یہ تقریر جو رات کی خاموشی میں شروع ہوئی تھی، جو عشاء کی نماز کے بعد جب ابھی رات کا آغاز تھا، لوگوں نے سننا شروع کی تھی۔ یہ تقریر پوری رات ہوتی رہی اور مجمع پر ہو کا عالم طاری رہا۔ ایک بھی ذی نفس ایسا نہیں تھا جس نے تھکن کا اظہار کیا ہو، جس کے چہرے سے اکتاہٹ کی غمازی ہوتی ہو۔ اتنے میں صبح کا نور پھیلنا شروع ہو گیا اور مؤذن نے اذان دے دی۔ تقریر تھی کہ اس وقت بھی اپنے عروج پر تھی۔ لیکن مؤذن نے اس سیل رواں کو روک دیا اور خطابت کے دریا کو بند مار دیا۔ ہندوستان اور پاکستان کی تاریخ میں بہت کم خطیب اور مقرر ایسے گزرے ہیں، جنہوں نے رات رات بھر تقریر کی ہو، جنہوں نے لوگوں کو اس قدر مسحور کیا ہو۔
کیا کریں گر نہ انتظار کریں
(”بیس بڑے مسلمان“ ص ٦٨٥-٦٨٧-٨٧٧)
نہیں اہل جنوں کا یہ زمانہ
(مولف)
جب قادیان
ماسٹر تاج الد کر لیا کہ ”جب مرزا شر سے گرا دے۔“ مرزا شر اس کے دفتر جانے کا ، سائیکل پر سوار ہو کر دفتر کیے اور اسے سائیکل سے حادثہ مرزائیت کی تاریخ مرزائیت میں ایک سر۔ اس وقت وائسرائے کی رہی تھی اور چشم عبرت تر کو بیدردی سے ذبح کی سے دہل کر رہ گئے اگر پیشوا نے کندھا دیا اور ڈنڈوں سے آج اگر تم ہو۔ چوہدری ظفر اللہ خا وائسرائے کے پاس بھیج
جب قادیان کا جعلی خاندانِ نبوت ذلیل و رسوا ہو گیا
مولانا عنایت اللہ چشتیؒ
ماسٹر تاج الدین صاحب نے یہ کیا کہ اندر ہی اندر ایک نوجوان کو خفیہ طور پر تیار کر لیا کہ ”جب مرزا شریف احمد ہمارے محلے سے گزر رہا ہو تو اسے دو ڈنڈے مار کر سائیکل سے گرا دے۔“ مرزا شریف احمد جو مرزا غلام احمد کا چھوٹا بیٹا اور مرزا محمود کا چھوٹا بھائی تھا اس کے دفتر جانے کا راستہ ہمارے محلے شیخاں والے میں سے تھا اور وہ ہر روز بلا ناغہ سائیکل پر سوار ہو کر دفتر کو جاتا تھا۔ چنانچہ اس نوجوان نے مرزا شریف احمد پر ڈنڈے رسید کیے اور اسے سائیکل سے گرا دیا۔ قادیان میں مرزائیوں کے لیے یہ حادثہ عظیمہ تھا اور ایسا حادثہ مرزائیت کی تاریخ نے اپنے جنم دن سے آج تک کبھی نہ دیکھا تھا اس حادثہ نے مرزائیت میں ایک سرے سے دوسرے سرے تک تزلزل برپا کر دیا۔ چوہدری ظفر اللہ خان اس وقت وائسرائے کی ایگزیکٹو کونسل کے ممبر تھے۔ قادیانی جماعت ہر طرف سے واویلا کر رہی تھی اور چشم عبرت مسکراتے ہوئے دل ہی دل میں کہہ رہی تھی کہ ”تم نے انسانی جانوں کو بیدردی سے ذبح کیا ہے۔ مخالفوں کے مکانات نذر آتش کیئے وہ تمہارے لوح قلب سے دھل کر رہ گئے اگر عدالتوں نے مجرموں کو سزائیں دیں تو ان کی مردار لاشوں کو تمہارے پیشوا نے کندھا دیا اور پھول چڑھائے اور انہیں اپنے ”بہشتی مقبرہ“ میں دفن کیا۔ ان ڈنڈوں سے آج اگر تمہارے صاحب زادہ کو چند خراشیں آ گئی ہیں تو آسمان سر پر اٹھا رہے ہو۔ چوہدری ظفر اللہ خان نے خود تو جو واویلا کیا سو کیا، مزید برآں اپنی بوڑھی والدہ کو لیڈی وائسرائے کے پاس بھیج دیا تھا اور اس نے گلے میں کپڑا ڈال کر لیڈی وائسرائے کے
قدموں پر سر رکھ کر زار و قطار فریاد کی تھی کہ ”ہمارے نبی زادہ کی سر بازار بے عزتی ہو گئی اور ہم کہیں منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے۔“ انگریز مرزائیت کا بڑا حامی تھا اور اپنے خود کاشتہ پودے کی ہر طرح آبیاری کر رہا تھا لیکن وہ حکومت کے اصول جانتا تھا کہ ادھر یہ خراشیں اور ادھر ذبح عظیم۔ ایک نہیں، دو نہیں، کوئی نصف درجن۔ انگریز یہ بھی اچھی طرح جانتا تھا کہ سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ اور ان کے رفقاء کی زبانیں بے نیام ہو کر نکل آئیں گی اور جرائم کا موازنہ کرنے کے لیے جہاں وہ حکومت کو مجبور کریں گی وہاں عوام میں آتش انتقام بھڑکا کر مرزائیوں کا چلنا پھرنا دوبھر بنا دیں گی۔ یہی وجہ تھی کہ مرزائیوں نے اصل مجرم کے بغیر کسی دوسرے احراری یا غیر مرزائی کی جانب آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھا اور قلمی یا لسانی احتجاج سے آگے ایک قدم بھی نہ بڑھایا حالانکہ اس سے پہلے ایسے بیسیوں واقعات رونما ہوئے جنہیں سرزمین قادیان نے ہضم کر دیا تھا اور عوام کے کانوں تک ان کی بھنک بھی نہ پہنچی تھی اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے طعمہ سرزمین قادیان ہو گئے تھے۔
اہل اللہ کی نظر
حکیم نور الدین بھیروی ثم قادیانی ایک دفعہ حضرت میاں صاحب کے پاس مہاراجہ جموں کے لیے دعا کرانے کے لیے گیا۔ آپ نے دیکھتے ہی فرمایا نام نور الدین ہے۔ حکیم نے کہا ہاں۔ فرمایا قادیان میں ایک شخص غلام احمد نام کا پیدا ہوا ہے جو کچھ عرصہ بعد ایسے دعوے کرے گا جو نہ اٹھائے جائیں نہ رکھے جائیں اور تم لوح محفوظ میں اس کے مصاحب لکھے ہوئے ہو۔ اس سے تعلق نہ رکھنا، دور دور رہنا، ورنہ اس کے ساتھ ہی تم بھی دوزخ میں پڑو گے۔ حکیم صاحب سوچ میں پڑ گئے۔ فرمایا تم میں الجھنے کی عادت ہے۔ یہی عادت تم کو وہاں لے جائے گی۔ چنانچہ کچھ عرصہ بعد مرزا غلام احمد قادیان میں ظاہر ہوا اور دعویٰ نبوت کیا اور کبھی مسیح موعود بنا اور حکیم نور الدین اس کا خلیفہ اول بنا اور اس کے دین کو پھیلایا۔ یہ شخص بڑا عالم تھا۔ مرزا صاحب کو بہت کچھ سکھاتا تھا۔ اس کے ساتھ گمراہ ہوا۔
(”حیات طیبہ“ ص ٣٠٩، از ڈاکٹر محمد حسین انصاری)
قادیان کے حالات
مرزائیوں کے ہسپتال، جس کو وہ ”نور ہسپتال“ کہتے تھے۔ اس ہسپتال کے نائب انچارج کا نام ڈاکٹر محمد عبد اللہ تھا، جو مرزائی تھا۔ نور ہسپتال کا انچارج ڈاکٹر حشمت اللہ تھا جو مرزا محمود خلیفہ قادیان کا فیملی ڈاکٹر تھا۔ ڈاکٹر محمد عبد اللہ کے پسر ڈاکٹر عبد السلام نے مرزائیت کا گہرا مطالعہ کیا تو اس نے گہرے مشاہدات پر غور و فکر کرنے کے بعد مرزائیت سے توبہ کر کے اسلام قبول کیا۔ اس کے قبولیت اسلام سے پہلے مولانا عبد الکریم مباہلہ نے مرزائیت ترک کر کے اسلام قبول کیا۔ اس سے پہلے اخبار ”الفضل“ قادیان کے ایڈیٹر میر محمد شہاب، محفوظ الحق علی اور ہیڈ ماسٹر نے مرزائیت ترک کر کے بہائیت اختیار کر لی تھی۔
مرزا محمود خلیفہ قادیان کے عتاب کی وجہ سے وہ قادیان میں نہ رہ سکتے تھے۔ ان کا بائیکاٹ مقاطعہ (قطع کلامی) بولنا چالنا، ہر قسم کے تعلقات بند کیے۔ ان صاحبان کو قادیان سے مجبوراً نکلنا پڑا۔ یہ داستان بھی عجیب و غریب تھی۔ مولانا عبد الکریم مباہلہ کا مکان جلایا گیا۔ ان پر قاتلانہ حملے ہوئے اور ہر قسم کا جبر و ظلم ان پر روا رکھا گیا۔ یہ انگریز حکومت کی موجودگی میں ہوا، قصہ کوتاہ۔
ڈاکٹر عبد السلام کے لیے بھی قادیان میں رہنا مشکل ہو گیا۔ اس کے باپ ڈاکٹر عبد اللہ نائب انچارج نور ہسپتال قادیان کا بائیکاٹ کر دیا گیا۔ اس کے گھر پر مرزائی جاسوس عملہ کا پہرہ لگا دیا گیا۔ مجلس خدام الاحمدیہ کی یہ لٹھ بند فوج جس کا صدر مرزا ناصر احمد ایم۔ اے حال خلیفہ ثالث ربوہ ضلع جھنگ تھا، ڈاکٹر عبد اللہ کے مکان کے ہمسایہ احمد الدین زرگر مرزائی، محمد عبد اللہ ولد محمد اسماعیل جلد ساز مرزائی کے مکانوں میں چھپ کر پہرہ اور نگرانی کے فرائض انجام دیتے تھے۔ ہر آنے جانے والے کا نام و پتہ نوٹ کرتے۔ اس طرح کی پکٹنگ نے ڈاکٹر محمد عبد اللہ اور اس کے کنبہ کا ناطقہ بند کر دیا۔ ان سب مصائب کی وجہ ڈاکٹر عبد السلام کا قبول اسلام تھا۔ ڈاکٹر عبد اللہ کا یہ جرم تھا کہ اس کے بیٹے عبد السلام نے مرزائیت ترک کر کے اسلام قبول کر لیا تھا۔ اس وجہ سے ڈاکٹر عبد اللہ پر یہ دباؤ تھا کہ عبد السلام کو یعنی اپنے پسر کو اپنے گھر سے نکال دو یا عبد السلام کو دوبارہ معافی مانگ کر
مرزائیت قبول کراؤ۔ ڈاکٹر عبدالسلام اور ڈاکٹر محمد عبداللہ اس کے والد کی فاقہ کشی تک نوبت آ گئی۔ مجبور ہو کر اکیلا عبدالسلام گھر سے نکلنے پر مجبور ہو گیا۔
لطف کی بات یہ ہے کہ انہی دنوں سے کچھ پہلے مفتی محمد صادق ناظر امور خارجہ سلسلہ عالیہ احمدیہ قادیان کا پسر عبدالسلام مرزائیت چھوڑ کر عیسائیت اختیار کر چکا تھا۔ وہ بھی قادیان میں نہ رہ سکا۔ اس کو قادیان سے نکلنا پڑا۔ حبیب الرحمن عرف خان کابلی پٹھان کو بھی قادیان سے نکلنا پڑا۔
غرضیکہ جو بھی مرزائیت سے توبہ تائب ہوتا‘ وہ قادیان میں نہیں رہ سکتا تھا۔ کیونکہ ہر تائب شخص کو جان کے لالے پڑ جاتے تھے۔ کاروبار ختم ہو جاتا تھا۔ اس کے گھریلو کنبہ پر مصائب کے پہاڑ گرائے جاتے تھے۔ ان واقعات کا مختصر ذکر مسٹر جی ڈی کھوسلہ سیشن جج گورداسپور نے مقدمہ سرکار بنام سید عطاء اللہ شاہ بخاری بہ جرم دفعہ ١٥٣ تعزیرات ہند بوجہ تقریر احرار تبلیغ کانفرنس قادیان میں بخوبی کیا ہے۔
ان قادیان سے نکلنے والوں نے مختلف مقامات پر پناہ حاصل کرنا چاہی لیکن کہیں بھی آسرا نہ ملا کہ وہ اپنی زندگی گزار سکیں تو آخر ڈاکٹر عبدالسلام نے مولانا عبدالغفار صاحب غزنوی امرتسری سے ملاقات کر کے حالات بتائے۔ مولانا عبدالغفار صاحب غزنوی مرحوم ان دنوں مجلس احرار اسلام امرتسر کے صدر تھے۔ انہوں نے شیخ حسام الدین صاحب مرحوم سے مشورہ کیا کہ قادیان کے مسلمانوں کو مصائب سے بچانے کے لیے اور جو لوگ قادیانیت سے توبہ تائب ہوں‘ ان کی جان و مال کی حفاظت کے لیے قادیان میں شعبہ تبلیغ کے نام پر دفتر کھولا جائے۔ اس پر قادیان میں ١٩٣٣ء کے ابتداء میں علاؤ الدین حیدر کپتان احرار محبوب عالم اور سید غریب شاہ کو قادیان بھیجا گیا اور چوہدری فیض اللہ صاحب نے ان کی رہائش کے لیے اور دفتر قائم کرنے کے لیے چھوٹے بازار میں ایک چوبارہ کرایہ پر لے دیا اور وہاں مجلس احرار اسلام قادیان کا بورڈ لگایا گیا۔ ہر شخص کی سرخ وردیاں ہوتی تھیں۔ جب یہ لوگ بازار میں جاتے۔ سرخ وردیاں دیکھ کر لوگ پوچھتے کہ آپ کون لوگ ہیں؟ تو یہ لوگ اپنا تعارف کرواتے۔ مرزائیوں نے اس دفتر کو ہر طرح سے گھیرنا چاہا۔ حکومت نے وہاں سی آئی ڈی کا سفید کپڑوں میں بشیر احمد نامی کانسٹیبل مقرر کر دیا اور مرزائیوں نے اپنی محکمہ جاسوسی کے افراد کو نگرانی کے لیے محمد ظفر مولوی مرزائی انچارج
محکمہ جاسوسی مرزا محمود خلیفہ قادیان عبد العزیز بھامڑی نیز مولوی فاضل کو جاسوس مقرر کر دیا۔ یہ لوگ عرصہ تک جاسوسی کرتے رہے۔
ایک دن غریب شاہ رضا کار بڑے بازار سے آگے ریتی محلہ بازار (ریتی محلہ کی اراضی مرزا اکرم بیگ سکنہ لاہور کی تھی جس پر مرزائیوں نے جبری قبضہ کر لیا تھا اور ریتی محلہ کا نام مرزا محمود خلیفہ قادیان نے دارالفتوح (فتح کیا ہوا) رکھا ہوا تھا) میں گیا۔ مرزائیوں نے اس کو پکڑ کر بے دریغ زدو کوب کیا۔ وہ چوکی میں رپٹ کرانے گیا مگر تھانہ چوکی میں اس کی فریاد نہ سنی گئی۔ وہ ضاربوں کو جانتا نہ تھا۔ غریب شاہ کو شدید چوٹیں آئیں۔ یہ بات امرتسر میں اور لاہور دفتر احرار میں پہنچی تو مجلس احرار نے قادیان میں مستقل تبلیغی دفتر قائم کر دیا۔ جس کے انچارج مولوی عنایت اللہ صاحب چشتی اور امام الصلوٰۃ حافظ محمد خاں صاحب ضلع میانوالی مقرر کیے۔ یہ حضرات تبلیغ کا کام کرتے تھے اور ماسٹر تاج دین صاحب لدھیانوی انچارج دفتر تھے۔ احرار کے دفتر پر کئی دفعہ مرزائیوں نے حملہ کرنے کی سکیم بنائی۔
اسی دوران مولانا حبیب الرحمن صاحب لدھیانوی صدر مجلس احرار اسلام ہند قادیان پہنچے۔ بے شمار پولیس آگئی۔ جلسہ گاہ کا گھیراؤ کر لیا گیا۔ مولانا حبیب صاحب نے متوازی حکومت ریاست قادیان کے خلاف پروٹسٹ کیا۔ غریب شاہ احرار والنٹیر کو زدو کوب کیے جانے کے خلاف زبردست پروٹسٹ کیا۔ اس کے بعد قادیان میں احرار تبلیغ کانفرنس کرنے کا اعلان کیا۔
(بحوالہ ہفت روزہ ’لولاک‘ فیصل آباد‘ ٢٦ جنوری ٧٩ء‘ جلد نمبر ١٥‘ شمارہ نمبر ٣٥)
(مرزا غلام احمد قادیانی کے ارتداد پر سب سے پہلا فتویٰ تکفیر‘ ص ٣٢ تا ٣٦‘ از مولانا
حبیب الرحمن لدھیانوی)
خواجہ قمر الدین سیالویؒ کی للکار ...... تحریک ختم نبوت ١٩٥٣ء میں برکت علی اسلامیہ ہال میں بلائے گئے تمام مکاتب فکر کے کنونشن میں پیکر جرات و غیرت فخر ملت خواجہ قمر الدین سیالویؒ نے انتہائی جذباتی انداز میں تقریر کرتے ہوئے فرمایا ...... ”قادیانیوں کا مسئلہ باتوں سے حل نہیں ہو گا‘ آپ مجھے حکم دیں میں قادیانیوں سے نپٹ لوں گا اور چند روز میں ربوہ کو صفحہ ہستی سے مٹا دوں گا“۔ (تعارف علماء اہل سنت‘ مولانا محمد صدیق ہزاروی)
قادیان سے آٹھ میل دور شاہ صاحب کی
تقریر اور قادیان میں شاہ جی کی اچانک آمد
ماسٹر تاج الدین انصاریؒ
جب قادیان کے گردوپیش کی آبادیوں میں مرزائیت کے خلاف بے پناہ نفرت کا جذبہ پیدا ہو گیا۔ قادیان کے مسلمانوں نے مطالبہ کیا کہ وہ اس پر راضی ہیں کہ شاہ صاحب آٹھ میل دور کسی جگہ تشریف لے آئیں۔ ہم سب وہاں حاضری دے کر بخاری صاحب کے مواعظ حسنہ سے مستفیض ہوں گے۔ چنانچہ فیصلہ ہوا کہ مسانیاں میں یک روزہ تبلیغ کانفرنس کا بندوبست کیا جائے۔ یہ گاؤں سیدوں کی بستی ہے۔ سادات کی رگ عصبیت پھڑک اٹھی ان میں یہ جذبہ پیدا ہوا کہ ہمارے معزز سید بھائی پر حکومت نے قادیان میں داخل ہونے کی پابندی لگائی ہے۔ ہمارے ہاں کانفرنس کا اہتمام ہو تو ہم خود بندوبست کریں گے لیجئے کام بن گیا۔ اردگرد کے علاقے سے مسلمان جوق در جوق آ پہنچے مجھے یاد ہے کہ قادیان کے مسلمانوں کا قافلہ مسانیاں کے لیے پیدل ہی چل پڑا۔ کوئی دوست ایک اونٹ بھی لے آیا۔ کبھی مجھے اور کبھی مولانا عنایت اللہ کو اونٹ پر سوار کرایا گیا بہر حال جب ہم مسانیاں پہنچے تو دیکھا چاروں طرف سے مسلمانوں کے گروہ چلے آ رہے ہیں۔ بہت بڑا اجتماع ہو گیا۔ حضرت شاہ صاحبؒ نے یہاں بہت ہی پیارے انداز میں مسئلہ ختم نبوت بیان فرمایا۔ علاقے کے مسلمانوں میں بڑے پاکیزہ جذبات پیدا ہو گئے۔ مرزائیت کی تبلیغ کا سیلاب رک گیا۔ حضرت شاہ صاحب نے کفر کے اس سیلاب کے سامنے ایسا بند باندھا جسے مرزائیت توڑ نہ سکی۔
دوسرا جلسہ
قادیان کے مغرب کی جانب جب مسانیاں کے کامیاب جلسے کا چرچا ہوا تو مشرقی جانب کے مسلمانوں نے اپنے ہاں جلسے کے انعقاد کا بندوبست کیا۔ حضرت شاہ صاحبؒ کی خدمت میں التجا کی گئی کہ وہ موضع بھانیڑی میں تشریف آوری کی منظوری دیں۔ تاکہ علاقے بھر میں اعلان کیا جاسکے۔ منظوری کے بعد میں ایک روز کے لیے حضرت شاہ صاحبؒ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں نے ان سے عرض کیا کہ کافی عرصے سے پابندی لگ رہی ہے آپ کب تک قادیان کے گرد گھومتے رہیں گے؟ شاہ صاحبؒ نے فرمایا کہ جن ہاتھوں نے کفر کا یہ پودا لگایا ہے وہ حفاظت بھی کر رہے ہیں۔
پابندی کی وجہ
مرزائیوں نے حکومت کو یہ یقین دلایا تھا کہ اگر سید عطا اللہ شاہ بخاریؒ قادیان میں داخل ہوں گے تو سخت فساد ہوگا۔ حکومت نے اس خدشے کا یقین کر لیا اور مسلسل پابندی لگتی رہی۔ حکومت اور مرزائی دونوں کو یقین ہو گیا کہ اب بخاری صاحب قادیان نہیں آئیں گے۔ خود بھی قادیان میں پراپیگنڈہ کیا کہ اب ہم نے بھی فیصلہ کر لیا ہے کہ شاہ صاحب کو قادیان سے دور ہی رکھا جائے اور دیہات میں جلسے کر کے ہمیں بہت کامیابی ہوئی ہے۔ جب مرزائیوں اور حکومت کو یہ یقین ہو گیا کہ احرار پابندی برداشت کر گئے ہیں۔ پابندی کی معیاد ختم ہونے پر نئی پابندی نہ لگائی گئی۔ تب میں نے فیصلہ کیا کہ شاہ صاحب بھانیڑی کے جلسے میں آئیں تو کسی کو بتائے بغیر انہیں اچانک قادیان میں لے آؤں اور قادیان کے گلی کوچوں میں پھرا کر اچانک جلسہ بھی کر لیا جائے اور پھر شاہ صاحبؒ کو واپس امرتسر بھیج دیا جائے۔ گو میرا پروگرام بڑا خطرناک تھا مگر اس پروگرام کے بغیر مرزائیوں کے جھوٹے پراپیگنڈے کا ہمارے پاس کوئی جواب نہ تھا۔
موضع بھانیڑی میں جلسہ عام
میں اس ارادے سے بھانیڑی پہنچ گیا۔ رات کو زبردست جلسہ ہوا۔ شاہ صاحبؒ نے تقریر فرمائی تو مجمع جھوم جھوم گیا۔ کافی دیر تک تقریر ہوئی جلسے کے بعد اسی گاؤں میں رات گزاری۔ میں نے اپنے ساتھیوں کو اپنے ارادے سے خبردار نہیں کیا۔ صبح اذان ہوئی تو
میں نماز کے فوراً بعد اس لاری والے کے پاس پہنچا جس لاری میں بٹالے سے حضرت شاہ صاحبؒ بھانپڑی تشریف لائے تھے۔ میں نے ڈرائیور سے کہا کہ اگر سیدھے راستے کی بجائے قادیان کی طرف سے ہو کر بٹالے چلو تو کیا لوگے؟ ڈرائیور رات کو شاہ صاحبؒ کی تقریر سن چکا تھا اس نے جواب دیا مولوی صاحب ایک پیسہ فالتو لیتا حرام ہے میری تو جان بھی حاضر ہے جونہی اس نے رضامندی کا اقرار کیا میں شاہ صاحبؒ کے پاس پہنچا میں نے ان کو نہیں بتایا کہ میرا ارادہ کیا ہے۔ شاہ صاحب عادتاً اگلی سیٹ پر بیٹھا کرتے تھے۔ میں نے ہمت سے کام لیا اور شاہ صاحب سے پہلے ڈرائیور کی برابر والی سیٹ پر بیٹھ گیا۔ لاری چل پڑی۔ شاہ صاحب سے ادھر ادھر کی باتیں ہوتی رہیں۔ شاہ صاحبؒ کی تقریر بھی دلپذیر ہوتی ہے ان کی باتیں بھی دلچسپ ہوتی ہیں۔
قادیان کا موڑ
باتوں باتوں میں وہ موڑ آ گیا جہاں سے ایک سڑک بٹالے کو جاتی ہے اور دوسری قادیان کو۔ ڈرائیور نے میری طرف دیکھا میں نے اسے اشارہ کیا کہ ہمت کرو۔ ہماری باتیں جاری رہیں۔ لاری نے فراٹے بھرنے شروع کیے حتیٰ کہ ہم قادیان کے قریب پہنچ گئے۔ لاری آہستہ ہوئی۔ کیونکہ ہم قادیان کے قریب پہنچ گئے تھے۔ جونہی لاری نے ریلوے لائن کراس کیا لاری ذرا اچھلی، شاہ صاحبؒ فرمانے لگے ارے ہم کہاں آ گئے؟ ہمارے راستے میں ایسی ریلوے لائن تو تھی نہیں۔ لاری نشیب کی جانب اتری تو سامنے مرزا محمود کے ماموں ڈاکٹر محمد اسماعیل صبح کی سیر کے لیے ٹہلتے ہوئے نظر آئے۔ میں نے شاہ صاحب سے عرض کیا شاہ صاحب یہ ہیں مرزا محمود کے ماموں اور ادھر دیکھئے یہ ہے منارۃ المسیح، شاہ صاحب کا چہرہ مارے خوشی کے جگمگا اٹھا۔
قادیان میں داخلہ
ہماری لاری جب قادیان کی آبادی میں جا کر رکی تو مسلمانوں، ہندوؤں اور سکھوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ یہ خبر قادیان کے کونے کونے میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ شاہ صاحب کو چوہدری امام الدین کے گھر پر مرزائیوں کے قریب لے گئے۔ جوان بوڑھے عورتیں اور بچے تک شاہ صاحبؒ کی زیارت کے لیے گھروں سے نکل آئے اور چوہدری امام الدین کی بیٹھک کے سامنے جمع ہو گئے۔ قادیان کے مسلمانوں نے عید کی
سی خوشی منائی۔ ہندو، سکھ اور مسلمان دوڑے چلے آ رہے تھے۔ یہاں کا پروگرام بھی میرے ذہن میں تھا۔ مرزائیوں میں دو قسم کے لوگ تھے۔ ایک وہ جو حضرت شاہ صاحبؒ کو کسی بہانے قریب سے دیکھنا چاہتے تھے باقی وہ جو مرزا صاحب کے خاص الخاص معتبر تھے۔ ہم نے اپنے ہجوم کو کم کیا اور لوگوں کو منت سماجت سے بیٹھک کا دروازہ خالی چھوڑنے کو کہا تاکہ مرزائی راہ گزر سے حضرت شاہ صاحبؒ کی زیارت کرسکیں۔
قادیان کی پولیس
قادیان کی پولیس چوکی کا ایک سکھ تھانیدار انچارج تھا حضرت شاہ صاحب کی اچانک تشریف آوری سے تھانیدار بے چارہ گھبرا گیا۔ دوڑا دوڑا آیا اور مجھ سے دریافت کرنے لگا اجی ماسٹر صاحب! کیا غضب کر دیا آپ حضرات نے، میں تو مارا جاؤں گا خدا کے لیے بتاؤ کیا پروگرام ہے؟ میں نے کہا سردار جی کیوں گھبراتے ہو یہ تو سر راہ چائے کا پروگرام ہے بس جونہی چائے سے فارغ ہوئے حضرت شاہ صاحبؒ اسی لاری سے بٹالے روانہ ہو جائیں گے اور کوئی بات نہیں۔ تھانیدار دوڑا دوڑا مرزائیوں کے پاس پہنچا اور انہیں بتایا کہ وہ جا رہے ہیں۔ مرزا محمود مطمئن ہو گئے۔ اگر میں پروگرام کا کوئی بھی حصہ اپنے ساتھیوں کو بتا دیتا تب بھی کام خراب ہو جاتا۔ میں نے ایک دوست سے کہا کہ شاہ صاحبؒ تھوڑا سا آرام کریں گے۔ اتنے میں تم کھانا تیار کراؤ۔ شائد ہم ان کو کھانا کھلا کر روانہ کریں۔ پولیس والے باہر لاری کے پاس جمع ہوگئے تاکہ روانگی کے وقت کوئی گڑ بڑ نہ ہو۔ جب دو گھنٹے گزر گئے تو تھانیدار صاحب پھر تشریف لائے۔ میں نے کہا کھانا تیار ہو رہا ہے بس گھنٹہ آدھ گھنٹہ بعد کھانا کھلایا اور پروگرام ختم ہوا۔ گھبرائیے نہیں وہ بے چارہ پھر لاری کے پاس جا پہنچا۔ مرزا محمود کو پھر تسلی ہوگئی۔
قادیانی محل کی سیر
کھانے سے فارغ ہوئے تو میں نے حضرت شاہ صاحبؒ سے عرض کیا کہ اب آپ باہر تشریف لے آئیں وہ باہر آنے کی تیاری کرنے لگے میں نے عبدالحق کو الگ لے جا کر آہستہ سے کہا تم مسلمان محلوں میں اعلان کر دو کہ ”احرار کی مسجد میں حضرت شاہ صاحبؒ تقریر فرمائیں گے۔ مسجد میں جلدی پہنچ جاؤ۔“ عبدالحق بھاگا بھاگا گیا اور ٹین اور ڈنڈا لے کر بازار میں اعلان کے لیے نکل گیا۔ میں نے شاہ صاحبؒ سے عرض کیا باہر
تشریف لے آئے وہ باہر آئے تو لاری کی جانب جانے کی بجائے ہم نے مرزائیوں کی انارکلی کا رخ کیا یہ سڑک سیدھی قصر خلافت کو جاتی تھی۔ پولیس باہر لاری کے پاس تھی۔ مرزا محمود کے خواب خیال میں بھی یہ بات نہ تھی کہ حضرت شاہ صاحبؒ اس جانب کا رخ کر سکتے ہیں۔ ایک ہجوم شاہ صاحبؒ کے جلو میں آ رہا تھا۔ اگر مرزا محمود کو وقت سے پہلے پتہ چل جاتا تو وہ ضرور کوئی حرکت کر بیٹھتے مگر انہیں تو تب پتہ چلا جب حضرت شاہ صاحبؒ ان کے محل کے سامنے تھے۔ میں نے حضرت شاہ صاحبؒ سے عرض کیا اوپر قصر خلافت پر بھی نگاہ ڈالیے اور دیکھئے آپ کا مد مقابل اس کھڑکی میں چلمن کے پیچھے بیٹھا ہے۔ شاہ صاحبؒ مستانہ وار بڑھے چلے گئے محل کے نیچے سے ہماری مسجد کا راستہ تھا یہ بہت شارٹ کٹ تھا مگر ہم کبھی اس راہ سے نہ گزرے تھے نہ ہی مسلمانوں کو ادھر سے گزرنے کا حوصلہ تھا۔
ہم سب مسجد میں جا پہنچے مسجد میں چند منٹ کے اندر تل دھرنے کو جگہ نہ رہی۔ حضرت شاہ صاحبؒ نے مسحور کن لے میں تلاوت قرآن پاک شروع کی تو سامعین پر وجد طاری تھا ختم نبوت پر تقریر شروع ہو گئی۔
مرزا محمود کی مجلس مشاورت
شاہ صاحبؒ کی بہت قریب سے زیارت کے بعد مرزا محمود کے طوطے اڑ گئے۔ جاسوسوں پر لعن طعن ہوتی رہی مگر جیسا کہ میں نے عرض کیا وہ بہت ہوشیار آدمی ہیں وہ سمجھ گئے کہ احرار نے میدان مار لیا۔ وہ پراپیگنڈہ جس نے حکومت پنجاب کو گمراہ کر رکھا تھا‘ شاہ صاحبؒ کی تشریف آوری اور قصر خلافت کی راہ سے گزرنے کے باعث جھوٹا ثابت ہو گیا۔ مرزا محمود نے آخری کوشش کی اور اپنے لٹھ بند رضا کاروں کو حکم دیا کہ مسجد میں چلے جاؤ جلسے میں گھس جاؤ اور اعتراضات کر کے جلسہ درہم برہم کر دو۔
لٹھ بند مرزائی رضا کاروں کا مسجد میں داخلہ
اچانک مسجد کے دروازے پر مرزائی نوجوانوں کا ہجوم نظر آیا۔ حضرت شاہ صاحبؒ کو خدا نے بڑی سمجھ بوجھ اور اعلیٰ صلاحیتوں سے نواز رکھا ہے۔ جونہی حضرت شاہ صاحبؒ نے مرزائی نوجوانوں کو دروازے میں دیکھا۔ فرمایا کہ راستہ دے دو اندر آنے دو ان نوجوانوں کو‘ بعض مسلمان نوجوانوں نے غصے میں مرزائیوں کی جانب دیکھا مگر شاہ
صاحبؒ کی فراخ حوصلگی دیکھ کر وہ سب خاموش رہے۔ شاہ صاحبؒ نے مسلمانوں کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ تم آگے سمٹ کر آ جاؤ اور ان حضرات کے لیے جگہ دے دو۔ مرزائی نوجوان تو لڑنے آئے تھے مگر حضرت شاہ صاحبؒ کے اخلاق کی بلندی نے انہیں ٹھنڈا کر دیا۔ پھر جو شاہ صاحب نے تقریر شروع کی تو پندرہ منٹ بعد مرزائی نوجوان جھومنے لگے ایک جگہ حضرت شاہ صاحبؒ نے تقریر کرتے ہوئے لفظ مرزائی استعمال کیا تو ایک مرزائی نوجوان چمک کر بولا کہ شاہ صاحبؒ ہمیں مرزائی مت کہیے ہم احمدی ہیں۔ شاہ صاحبؒ نے انہیں احمدی کہنا شروع کر دیا۔ مگر شاہ صاحبؒ نے تقریر فرمائی۔ علم و عرفان کے موتی بکھیرے اور مسئلہ اس خوبصورتی اور پیارے انداز میں سمجھایا کہ سامعین عش عش کر اٹھے۔ تقریر کے خاتمے پر حضرت شاہ صاحبؒ نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے‘ بیچارے مرزائی بھی پھنس گئے ان کو دعا میں شامل ہونا پڑا۔ حضرت شاہ صاحبؒ نے درد بھرے دل سے دعا مانگی عجیب سماں تھا۔ جلسہ ختم ہوا ہم سب دوسرے راستے سے یعنی بازار کی راہ سے لاری تک پہنچ گئے۔ لاری بستی سے باہر کھڑی تھی۔ لاری چلنے لگی تو تکبیر کے نعروں کے ساتھ مجلس احرار ختم نبوت اور حضرت امیر شریعت زندہ باد کے نعرے لگنے لگے۔ خدا جانے مرزا محمود کا کیا حال ہوا ہوگا؟ یہ ہماری پہلی فتح تھی اور مرزا محمود کی پہلی شکست۔
جلسے کے گہرے اثرات
قادیان میں حضرت شاہ صاحبؒ کے جانے اور جلسہ کرنے کا یہ اثر ہوا کہ اخبارات نے مقالے لکھے جلسوں میں حکومت کی مرزائیت نوازی اور مرزائیوں کے جھوٹے پراپیگنڈہ کا تذکرہ ہوا تو حکومت مجبور ہوگئی کہ وہ خود کو غیر جانبدار ثابت کرے۔ اس واقعے سے یہ بھی ہوا کہ اوپر کا دباؤ کم ہو گیا مگر اندر خانے خودکاشتہ پودے کی آبیاری جاری رہی۔ ہمارے حوصلے بلند ہوگئے۔ ہمارے مبلغ کھلے میدان میں جلسہ کر کے مسئلہ ختم نبوت سمجھانے لگے۔ جوں جوں فضا سازگار ہوتی گئی تبلیغ کا کام زوروں پر شروع ہو گیا۔ احرار نے ایک لاؤڈسپیکر بھی خرید لیا اس لاؤڈسپیکر کے ذریعے قادیان کے گلی کوچوں میں حق کی آواز پہنچنے لگی مولانا عنایت اللہ صاحب اور مولانا محمد حیات رات کو کئی مناسب مقامات پر لاؤڈسپیکر لگا کر مسئلہ ختم نبوت پر تقریر کر لیا کرتے۔ اس سے یہ فائدہ بھی پہنچا کہ مرزا محمود بھی اپنا ایمان تازہ کر لیا کرتے تھے۔ وہ بھی اپنے محل میں بیٹھے بیٹھے کلمہ حق سن لیتے تھے۔
ہائے قادیان ۔۔۔۔۔ ہچکیاں اور سسکیاں
قادیانیوں نے پاکستان کو دل سے تسلیم نہیں کیا اس لیے کہ دجال قادیان مرزا قادیان نے قادیان کے متعلق کہا تھا۔
ہجوم خلق سے ارض حرم ہے
اگر قادیانی ترک سکونت کر کے پاکستان آئے ہیں تو اس سے ان کا مقصد پاکستان کے خلاف مخبری کرنا اور مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرنا تھا۔ مشرقی پاکستان کی علیحدگی، نوے ہزار فوجی جوانوں کا قید ہونا، پاکستان اور اہل پاکستان کے لیے عظیم حادثہ تھا۔ اس سلسلہ میں متعدد سیاسی رہنماؤں کے بیانات اخبارات میں شائع ہو چکے ہیں کہ اس عظیم حادثہ کا مرکزی کردار مرزا قادیانی کا پوتا مسٹر ایم ایم احمد تھا۔
سوال یہ ہے کہ آخر قادیانی پاکستان کے دشمن کیوں ہیں؟ انہیں پاکستان میں رہتے ہوئے، اس کا کھاتے ہوئے بھی اس پاک وطن کی سرزمین سے محبت کیوں نہیں؟ اس سوال کا جواب قادیانیوں کے دوسرے نام نہاد خلیفہ آنجہانی مرزا محمود کی اس پیشگوئی سے ملتا ہے، جس میں اس نے کہا ہے کہ اول تو ہندوستان کی تقسیم ہوگی نہیں۔ اگر ہو بھی گئی تو ہم کوشش کریں گے کہ دوبارہ متحد ہو جائیں اور پھر اکھنڈ بھارت بن جائے۔ مرزا محمود کی یہ پیشگوئی الفضل قادیان مئی ١٩٤٧ء میں شائع ہو چکی ہے۔ اس سلسلہ کی پہلی کوشش مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی صورت میں جنرل یحییٰ خان کے ساتھ گٹھ جوڑ کر کے کی گئی جو کامیابی سے ہمکنار ہوئی۔
مرزا محمود کے اکھنڈ بھارت کے الہامی نظریہ کا ثبوت اس بات سے بھی ملتا ہے کہ ربوہ کے نام نہاد بہشتی مقبرہ میں اس کی اور اس کی بیوی کی جو لاشیں دفن ہیں‘ وہاں پر نصب کتبے پر یہ عبارت کندہ ہے کہ امانتاً دفن ہیں۔ اور جوں ہی حالات سازگار ہوں‘ ان دونوں کو یہاں سے نکال کر قادیان کے نام نہاد بہشتی مقبرے میں دفن کر دیا جائے۔
مرزا محمود کے اور بھی بہت سے بیانات اور پیغامات ایسے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ پاکستان اگر ٹھہرا رہا تو مجبوری سے۔۔۔۔۔ ورنہ اس کی تمنا یہی تھی کہ کسی نہ کسی طرح جلاوطنی کی زندگی ختم ہو اور وہ جلد پاکستان سے چھٹکارا حاصل کر کے قادیان پہنچ جائے۔ چنانچہ اس نے قادیان کے سالانہ جلسہ پر یہ پیغام بھیجا:
”آج پھر مسجد اقصیٰ (قادیان) میں ہمارا سالانہ جلسہ ہو رہا ہے۔ اس لیے نہیں کہ جلسہ سالانہ میں شامل ہونے والے مشتاقوں کی تعداد کم ہو گئی ہے بلکہ شمع احمدیت کے پروانے سیاسی مجبوریوں کی وجہ سے قادیان نہیں آسکتے۔ یہ حالات عارضی ہیں اور...... ہمیں پورا یقین ہے کہ قادیان احمدیہ جماعت کا مقدس مقام...... ضرور پھر احمدیوں کے قبضہ میں آئے گا“۔
(ماہنامہ ”الفرقان“ درویشان قادیان نمبر‘ اکتوبر ١٩٦٣ء)
اسی مرزا محمود نے اپنی جماعت کے ایک متبع مسٹر جلال الدین شمس کے نام خط میں فتح قادیان سے متعلق یوں مشورہ دیا:
”دعا‘ گریہ زاری سے کام لینا چاہیے اور ظلم کو برداشت کر کے ظلم کو روکنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ جب تک یہ طریق ہماری آبادی نہیں دکھائے گی‘ دوبارہ قادیان کا فتح کرنا مشکل ہو گا“۔
(ایضاً‘ ص ٦٥)
مرزا محمود اپنے ایک اور پیغام میں جو نام نہاد ”اصحاب الصفہ“ کے نام ہے‘ لکھتا ہے:
”حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے کچھ صحابہ اور کچھ اور لوگ جو جوارِ مسیح..... کو دنیوی زندگی پر فضیلت دیتے ہیں‘ قادیان آرہے ہیں۔.... کچھ لوگ جو اور نہیں ٹھہر سکتے‘ واپس آئیں گے۔ اللہ ان کی قربانی کو قبول کرے۔..... اور قادیان میں رہنے کے ثواب کو
بڑھانے کی انہیں توفیق بخشے اور ہماری جلاوطنی کے دن چھوٹے کرے۔ اگر سلسلہ کی ضروریات مجبور نہ کرتیں تو میں بھی آپ لوگوں کے ساتھ ہوتا لیکن زخمی دل اور افسردہ افکار کے ساتھ آپ سے دور اور قادیان سے باہر بیٹھا ہوں۔ نہ معلوم وہ دن کب آتا ہے کہ میں بھی اس مقام پر پہنچ سکوں جو خدا کے رسول (مرزا) کی تخت گاہ ہے اور احمدیوں کا دائمی مرکز ہے ..... آپ لوگ دعا میں لگے رہیں۔ خدا تعالیٰ جلد قادیان پھر ہمارے ہاتھوں میں دے"۔ (ایضاً ص ٥)
مرزا محمود خلافت اور الہام کا مدعی تھا۔ اس نے اکھنڈ بھارت کی پیشگوئی کی لیکن اس کی تمنا پوری نہ ہوسکی۔ پھر پیغام پر پیغام ارسال کیے اور اپنے پیروکاروں کو یہ تاثر دیا کہ ہم اگر قادیان سے دور ہیں تو جلاوطنی کے یہ حالات عارضی ہیں۔ قادیان میں رہنے والوں کو کہا گریہ و زاری کرو‘ دعائیں کرو تاکہ خدا جلد قادیان ہمارے ہاتھوں میں دے دے‘ لیکن؎
مرزا محمود کا دعوائے خلافت‘ ماموری‘ مصلحیت کام نہ آسکا اور وہ دس سال موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا رہ کر انتہائی ذلت و نامرادی کے عالم میں سوئے جہنم سدھار گیا لیکن قادیان نہ ملنا تھا نہ ملا۔
- ٢۔ قادیانی‘ مرزا قادیانی کی بیوی کو "ام المومنین" کہتے ہیں۔ مذکورہ رسالہ الفرقان
میں ہی ص ٣٣ پر اس کا ایک پیغام شائع کیا گیا ہے۔ اس نے بھی یہی پیغام دیا "میں اپنے خدا کی ہر تقدیر پر راضی ہوں اور یقین رکھتی ہوں کہ خواہ درمیانی امتحان کوئی صورت اختیار کرے‘ قادیان...... جماعت کو ضرور واپس ملے گا" (ص ٣٤)
- ٣۔ مرزا محمود کا بھائی اور مسٹر ایم ایم احمد کا باپ مرزا بشیر احمد ایم اے امیر جماعت
قادیان کے نام لکھتا ہے:
"ہم نہیں کہہ سکتے کہ ہمارا پیارا مرکز ہمیں کب واپس ملے گا۔ مگر جب تک وہ ہمیں واپس نہیں ملتا‘ ان بزرگوں کا وجود اور ان کے ساتھ آپ جیسے جاں نثار درویشوں کا وجود اس شمع کا حکم رکھتا ہے۔ الخ۔۔۔ ایضاً ص ٤٨
یہاں اس بات کا ذکر ضروری سمجھتے ہیں کہ ١٩٦٥ء کی جنگ فوج میں موجود عبد العلی قادیانی اور اختر حسین قادیانی جیسے جنرلوں نے مسلط کی تھی۔ جس کا مقصد قادیانی پیشواؤں
کے پیغامات اور الہامات کی روشنی میں قادیان کا حصول تھا۔ سیالکوٹ (جہاں سے قادیان بالکل قریب ہے) کے محاذ پر فوج کی کمان قادیانی افسروں کے ہاتھ میں تھی۔ یہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل ہی تھا کہ ٦٥ء کی جنگ میں پاکستان بچ گیا ورنہ قادیانیوں کا منصوبہ اس وقت ہی پاکستان کو تباہ کرنے کا تھا۔ جیسا کہ پاکستانی فوج کے سابق کمانڈر انچیف جنرل موسیٰ خان نے اپنی حال ہی میں شائع ہونے والی کتاب ”مائی ورژن“ میں انکشافات کیے ہیں۔
مذکورہ بالا قادیانی رہنماؤں کے پیغامات اور الہامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ ہر قادیانی پاکستان کے مقابلہ میں قادیان کو پسند کرتا ہے اور اس کی جدائی اور فراق انہیں بہت زیادہ گراں گزرتا ہے۔ چنانچہ قادیان کے ”ہجر و فراق“ میں کچھ قادیانی شعراء نے بھی مرثیہ خوانی کی ہے جس کی جھلک ذیل میں پیش کی جارہی ہے۔
ایک قادیانی شاعرہ فغان درویش کے نام سے یوں نوحہ خوانی کرتی ہے۔
کب ہوں گے واپسی کے اشارے کب آئیں گے
کب پھر ”مینار مشرق“ پہ چمکے گا آفتاب
”شب“ کٹے گی دن کے نظارے کب آئیں گے
ایک قادیانی شاعر پاکستان کے قیام کو قید سے تعبیر کرتے ہوئے ”درویش قادیان سے خطاب“ کے عنوان سے لکھتا ہے کہ گو ہم یہاں رہتے ہیں لیکن ہمارا دل اور جان قادیان میں ہے۔ اور یہ کہ تم جنت میں آباد ہو اور ہم دنیا میں۔
کہ ہم جہاں میں اور تم جناں میں رہتے ہوں
جو قادیان میں رہتے ہو تم تو یہ سمجھو
ہماری جان میں اور جان جاں میں رہتے ہو
قفس کی بات کو رہنے دو ہم اسیروں تک
ہو خوش نصیب کہ تم گلستاں میں رہتے ہو
(الفرقان‘ ص٢٩)
ایک اور شاعر قادیان اور درویش قادیان کے صدمہ و جدائی اور پاکستان کے قیام کو
امتحان اور اس شخص کی مانند قرار دیتا ہے جو کاروان کو چھوڑ کر لٹ پٹ گیا ہو۔ اس کی گریہ وزاری ملاحظہ ہو۔ یادرہے کہ قادیانی‘ قادیان کو دارالامان کہتے ہیں۔
امتحاں میں پھنس گئے ہم قادیاں کو چھوڑ کر
تم ستارے بن چکے ہو آسمان عشق کے
ہم زمیں پر آ گرے ہیں آسماں کو چھوڑ کر
ایک تم بھی ہو کہ ہو تم اپنی منزل کے قریب
ایک ہم ہیں لٹ گئے جو کارواں کو چھوڑ کر
ذیل کے شاعر کا حال انتہائی خستہ ہے۔ یہ بے چارہ ہجر کی گھڑیاں ہی گن رہا ہے گویا اس پر قیامت ٹوٹی ہوئی ہے۔
ہو میسر پھر ظہور قدرت ثانی ہمیں
ہم پہ کیا گزری بتائے نامہ تائید کیا
خود بتائے گی ہماری چاک دامانی ہمیں
شعر اول کے مصرعہ ثانی میں ظہور قدرت ثانی سے مراد مرزا محمود ہے۔ اب اسیر پنجہ آفات کی کتھا بھی سنئے۔
اک عمر لازوال کا ساماں لیے ہوئے
یارب وہ دن نصیب ہو‘ آئیں بصد نیاز
بچھڑے ہوؤں کو یوسف دوراں لیے ہوئے
(ایضاً، ص ٧٦)
اس میں یوسف دوراں مرزا محمود کو کہا گیا ہے۔ اور یہ شاعر قادیان کے غم میں کچھ زیادہ ہی بدحال ہے۔
نیم بسمل کی طرح ہوں نیم جاں تیرے بغیر
ساری خوشیاں مٹ گئیں ہیں میری جاں تیرے بغیر
قادیاں کی پاک بستی میں مگن تھا دل مرا
اب تو دل گھبرا گیا ہے مہرباں تیرے بغیر
ایک قادیانی شاعرہ قادیان کے غم میں اپنی تلملاہٹ اور تڑپ یوں ظاہر کرتی ہے۔
امیدیں تلملاتی ہیں تمنائیں تڑپتی ہیں
زمین قادیاں تو ہم سے چھوڑی جا نہیں سکتی
قسم ایک بار کھائی ہے جو توڑی جا نہیں سکتی
یہ سچ ہے میں نے چھوڑا تھا تجھے تو نے نہیں چھوڑا
مگر پھر لوٹ کر آنے کا وعدہ بھی نہیں توڑا
یہ اشعار مرزا محمود کے اس الہام کی روشنی میں کہے گئے ہیں کہ اگر برصغیر کی تقسیم ہو گئی تو یہ عارضی ہو گی اور ہم کوشش کریں گے کہ دوبارہ اکھنڈ بھارت بن جائے۔ چنانچہ اس مقصد کے لیے قادیانی کوششوں کا آغاز ہو چکا ہے اور مذکورہ بالا بیانات' پیغامات اور منظوم اس کا واضح ثبوت ہیں۔
(ہفت روزہ ”ختم نبوت“ جلد ٥' شمارہ ١٨ از قلم: محمد حنیف ندیم)
ختم نبوت کانفرنس ربوہ ...... طارق محمود صاحب خانیوال کے ایک زاہد و متقی نوجوان ہیں۔ انہوں نے ختم نبوت کانفرنس ربوہ میں اپنا خوش قسمت واقعہ یوں بیان کیا ...... ” میں نے خواب میں دیکھا کہ مسلم کالونی ربوہ کی عظیم الشان مسجد کے باہر لوگوں کا کیف و مستی میں ڈوبا ہوا ایک بہت بڑا اجتماع ہے اور کسی کا منتظر ہے۔ میں نے لپک کر کسی سے پوچھا، کون آرہا ہے۔ مجھے بتایا گیا کہ دریائے چناب کی جانب سے جناب خاتم النبیین محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کانفرنس کے پنڈال کی طرف تشریف لا رہے ہیں، میں پوری قوت سے اس جانب بھاگا دیکھا تو آقا محمد صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لا رہے ہیں۔ میں نے سلام کی سعادت حاصل کی عرض کیا آقا کدھر کا ارادہ ہے؟ فرمایا میرے کچھ غلاموں نے میری عزت و ناموس کی حفاظت کے لئے کانفرنس کا اہتمام کیا ہے۔ میں بھی شرکت کے لئے آیا ہوں“ ۔
قادیان کے زہریلے شاعر
محمد طاہر عبدالرزاق
قادیان کے زہرناک شاعروں کا غدارانہ کلام پڑھئے اور دیکھئے کہ وہ کس طرح فراقِ قادیان میں بلیوں کی طرح منہ اٹھائے رو رہے ہیں؟ چیخیں مار رہے ہیں، ماتم کر رہے ہیں اور بعض جگہ تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ٹکریں مار مار کر شاعری کر رہے ہیں۔
تعجب کی بات یہ ہے کہ جب یہ ناہنجار یہاں اتنے ذلیل وخوار ہیں تو یہ قادیان کیوں نہیں چلے جاتے اور وہاں جا کر اپنے قلب کی شیطنت کو پورا کیوں نہیں کر لیتے؟ دراصل بات یہ ہے کہ وہ یوں قادیان نہیں جانا چاہتے۔ وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان ٹوٹے، اکھنڈ بھارت بنے اور انہیں قادیان بطور ملک کے عنایت ہو تو پھر وہ گھنگھرو بجاتے اور بھنگڑا ڈالتے قادیان جائیں۔ انشاء اللہ رب العزت ان کی یہ غلیظ آرزو کبھی بھی پوری نہیں ہونے دے گا۔
حکومت کو چاہئے کہ پاکستان سے سارے قادیانی پکڑ کر انہیں ٹرکوں ٹرالیوں میں لاد کر مال گاڑیوں میں بھر کر اور کھوتوں پر بٹھا کر قادیان پہنچا دے۔ تا کہ ساری غلاظت ایک ہی جگہ اکٹھی ہو جائے۔ وطن عزیز پاکستان ان کی نحوست سے پاک ہو جائے۔ یہ بھی اپنے دارالشیطان پہنچ جائیں اور ان کا پھٹے ہوئے منہ کے ساتھ رونا دھونا اور سیاپا بھی ختم ہو جائے۔ (آمین)
قادیان کی یاد میں
منظوم کلام حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ
مدعائے حق تعالیٰ مدعائے قادیان
وہ ہے خوش اموال پر یہ طالب دیدار ہے
بادشاہوں سے بھی افضل ہے گدائے قادیان
گر نہیں عرش معلیٰ سے یہ ٹکراتی تو پھر
سب جہاں میں گونجتی ہے کیوں صدائے قادیان
دعویٰ طاعت بھی ہوگا ادعائے پیار بھی
تم نہ دیکھو گے کہیں لیکن وفائے قادیان
میرے پیارے دوستو تم دم نہ لینا جب تلک
ساری دنیا میں نہ لہرائے لوائے قادیان
بن کے سورج ہے چمکتا آسمان پر روز و شب
کیا عجب مجنونما ہے رہنمائے قادیان
غیر کا فسوں اس پہ چل نہیں سکتا کبھی
لے اڑی ہو جس کا دل زلف دوتائے قادیان
اے بتو اب جستجو اس کی ہے امید محال
لے چکا ہے دل مرا تو دلربائے قادیان
یا تو ہم پھرتے تھے ان میں یا ہوا یہ انقلاب
پھرتے ہیں آنکھوں کے آگے کوچہ ہائے قادیان
آہ کیسی خوش گھڑی ہوگی کہ بانیل و مرام
باندھیں گے رختِ سفر کو ہم برائے قادیان
ہے تبھی چرخ چہارم پر بنائے قادیاں
صبر کر اے ناقۂ راہ ہدیٰ ہمت نہ ہار
دور کر دے گی اندھیروں کو ضیائے قادیاں
ایشیا و یورپ و امریکہ و افریقہ سب
دیکھ ڈالے پر کہاں وہ رنگ ہائے قادیاں
منہ جو کچھ چاہے بکے جائے کوئی پر حق یہ ہے
ہے بہاء اللہ فقط حسن و بہائے قادیاں
گلشن احمد کے پھولوں کی اڑا لائی جو بو
زخم تازہ کر گئی باد صبائے قادیاں
جب کبھی تم کو ملے موقع دعائے خاص کا
یاد کر لینا ہمیں اہل وفائے قادیاں
منظوم کلام
حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا
یہ نظم حضرت المصلح الموعود کے سفر یورپ 1924ء کے موقع پر کہی گئی۔ (ناقل)
ہجر میں خونبار ہیں یہ چشمہائے قادیاں
سب تڑپتے ہیں کہاں ہے زینت دارالاماں
رونق بستان احمد دلربائے قادیاں
جان پڑ جاتی تھی جس سے وہ قدم ملتے نہیں
قالب بے روح سے ہیں کوچہ ہائے قادیاں
فرقت مہ میں ستارے ماند کیسے پڑ گئے
ہے نرالا رنگ میں اپنے سمائے قادیاں
بارِ فرقت آپ کا کیونکر اٹھائے قادیاں
روح بھی پاتی نہیں کچھ چین قالب کے بغیر
ان کے منہ سے بھی نکل جاتا ہے ہائے قادیاں
کیوں نہ تڑپا دے وہ سب دنیا کو اپنے سوز میں
درد میں ڈوبی ہوئی نکلتی ہے صدائے قادیاں
اس گل رعنا کو جب گلزار میں پاتی نہیں
ڈھونڈنے جاتی ہے تب بادِ صبائے قادیاں
یاد جو ہر دم رہے اس کو دعائے خاص میں
کس طرح دیں گے بھلا اہل وفائے قادیاں
کشتی دینِ محمّد جس نے کی تیرے سپرد
ہو تیری کشتی کا حافظ وہ خدائے قادیاں
منتظر ہیں آئیں گے کب حضرتِ فضلِ عمرؓ
سوئے رہ نگران ہر دم دیدہ ہائے قادیاں
مانگتے ہیں سب دعا ہو کر سراپا آرزو
جلد شاہِ قادیان تشریف لائے قادیاں
شمسِ ملت جلد فارغ دورۂ مغرب سے ہو
مطلع مغرب سے پھیلائے ضیائے قادیاں
آئیں منظور و مظفّر کامیاب و کامراں
قصرِ تمکیں پہ گاڑ آئیں لوائے قادیاں
پیشوائی کے لیے نکلیں گھروں سے مرد و زن
یہ خبر سن کر آئے پیشوا قادیاں
ابرِ رحمت ہر طرف چھائے چلے بادِ کرم
بارشِ انوار سے پُر ہو فضائے قادیاں
دل لبھائے عندلیب خوشنوائے قادیاں
معرفت کے گل کھلیں تازہ بتازہ نو بہ نو
جن کی خوشبو سے مہک اٹھے ہوائے قادیاں
مانگتے ہیں ہم دعائیں آپ بھی مانگیں دعا
حق سنے اپنے کرم سے التجائے قادیاں
علم و توفیق بلاغ دین ہو ان کو عطا
قادیاں والوں کا ناصر ہو خدائے قادیاں
راہ حق میں جب قدم آگے بڑھا دے ایک بار
سر بھی کٹ جائے نہ پھر پیچھے ہٹائے قادیاں
خالق ہر دو جہاں کی رحمتیں ہوں آپ پر
والسلام اے شاہ دیں اے رہنمائے قادیاں
(در عدن وافضل)
حضرت حافظ سید مختار احمدؔ شاہجہانپوری
قادیان کے درویش
نگاہ اہل نظر میں سمائے بیٹھے ہیں
طلسم ہے کہ فسوں جذب آستانۂ دوست
کہاں کہاں سے یہ کھنچ کھنچ کے آئے بیٹھے ہیں
در حبیبؐ کو خالی نہ رہنے دیں گے کبھی
یہ جوش بھر کے رگ جاں میں لائے بیٹھے ہیں
رہیں گے کوچۂ جاناں میں ”ہرچہ باداباد“
اسی امنگ اسی دھن میں آئے بیٹھے ہیں
نئے مزاج کی مے جو چڑھائے بیٹھے ہیں
یہ روح خدمت مرکز یہ جذبہ ایثار
خوشی سے نرغۂ اعداء میں آئے بیٹھے ہیں
عیاں ہے حسن عمل سے صفائے قلب کا راز
پڑا ہوا تھا جو پردہ اٹھائے بیٹھے ہیں
جب ان کو دیکھتے ہیں دل بیمار دست بکار
نہیں ہے ان کا وہ آنا کہ آئے بیٹھے ہیں
خدا کے فضل سے پائی ہے وہ سکینت روح
کہ اہل فکر کو ششدر بنائے بیٹھے ہیں
دلوں میں درد ہے لیکن لبوں پر آہ نہیں
دلوں کا حال لبوں سے چھپائے بیٹھے ہیں
ملی جلی سی ہے تمکین میں بشاشت بھی
اگرچہ سینکڑوں صدمے اٹھائے بیٹھے ہیں
برس رہا ہے قناعت کا نور چہروں پر
کہ خواہشات کی دنیا لٹائے بیٹھے ہیں
وہ دل ملا ہے جو رکھتا ہے جوش غیرت دیں
عجیب چیز بغل میں دبائے بیٹھے ہیں
ہزار ابلق لیل و نہار سرکش ہو
بڑے وقار سے آسن جمائے بیٹھے ہیں
بلاد شرق میں مسلم کا نام بھی نہ رہا
یہ ہیں کہ جان کی بازی لگائے بیٹھے ہیں
نہ چھیڑ فتنہ دور زماں نہ چھیڑ انہیں
یہ دل پہ ایک بڑی چوٹ کھائے بیٹھے ہیں
اک آگ ہے جو دلوں میں دبائے بیٹھے ہیں
نہ احتجاج ستم ہے نہ آرزوئے کرم
کہ ضبط و صبر کی تعلیم پائے بیٹھے ہیں
میں ان کی شان وفا پر نثار ہوں مختار
جو قادیاں میں دھونی رمائے بیٹھے ہیں
(بحوالہ الفضل 9 مئی 1948ء ص 5)
حضرت قاضی محمد ظہور الدین اکمل مرحوم
ایک مہجور مہاجر کی فریاد
وطن بھی ایسا کہ جس کے چھٹتے ہی جان گویا بدن سے نکلے
ذرا تصور میں لاؤ اپنے کھلے ہوئے خوش رنگ پھول صدہا
ادھر سے باد سموم آئے ادھر سے بلبل چمن سے نکلے
جو بزم صدق و صفا ہو قائم رہے بفضل خدا وہ دائم
مثال انجم بہم عزائم نہ کوئی بھی انجمن سے نکلے
یہ التجا ہے یہی دعا ہے یہ بارگاہ جناب باری
کہ احمدیت کا جذبہ ہرگز نہ جیتے جی مرد و زن سے نکلے
الٰہی حالت ہو نزع کی جب قضا سے روح جو بدن پر طاری
زبان پہ ہو لا الہ جاری بس ایک اللہ دہن سے نکلے
وہ قادیاں کی ہو ارض اقدس کہ جس میں میرا بسیرا ہو بس
یہ آرزوئے دلی ہے اکمل وہیں جاں میری تن سے نکلے
(مصباح اکتوبر 1950ء ص 11)
حضرت مولانا عبدالرحیم صاحب دردؔ
کوئی لے چلے مجھے قادیاں‘ کوئی لے چلے مجھے قادیاں
کوئی دل جلوں کی دعا سنے‘ کوئی لے چلے مجھے قادیاں
نہ دوا ملی نہ شفا ہوئی‘ کوئی لے چلے مجھے قادیاں
ہے کسی کی شکل وہ ہو بہو‘ کوئی لے چلے مجھے قادیاں
ہے مسیح کا وہی مکاں‘ کوئی لے چلے مجھے قادیاں
کئی اس جگہ کے ہی جا ہوئے‘ کوئی لے چلے مجھے قادیاں
بھلا نکلے کیسے نہ یہ صدا‘ کوئی لے چلے مجھے قادیاں
یہی دل میں ہو‘ یہی لب پہ ہو‘ کوئی لے چلو مجھے قادیاں
خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس مرحومؒ
میری آنکھوں میں مرے دل میں ضیائے قادیاں
دل تڑپ اٹھتا ہے رہ رہ کر برائے قادیاں
ہر جگہ عالم میں لہرائے لوائے قادیاں
حامی دین محمدؐ میرزائے قادیاں
گلشن اسلام کے ایسے گل رعنا تھے وہ
جس کی خوشبو سے مہک اٹھی فضائے قادیاں
مسجد اقصیٰ، مبارک، نور ہیں پیش نظر
اور وہ آرام گاہِ اتقیائے قادیاں
ان کو حرص جاہ دنیا خواہش عقبیٰ کسے
بڑھ کے ہے شاہان عالم سے گدائے قادیاں
آگیا ہے گوہر مقصود ہاتھ آنے کا وقت
مژدہ اے غواص دریائے وفائے قادیاں
ابتدا سے تھی یہ خواہش حضرت محمودؓ کی
کاش میں دنیا میں پہنچاتا ندائے قادیاں
شکر للہ وہ تمنا آج پوری ہوگئی
جس طرف بھی جاؤ آتی ہے نوائے قادیاں
نور حق پھیلے جہاں میں ظلمتیں کافور ہوں
سب چمکیں شمس بن کر ذرہ ہائے قادیاں
خالد احمدیت حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب مرحومؒ
اے کہ زندہ تجھ سے ہے اسلامیوں کی داستاں
یہ نظم 1932ء میں قیام فلسطین کے دوران لکھی گئی تھی۔
اے نشان ذات حق اے مہبط کروبیاں
اے کہ تیرے نام پر سو بار جان و دل فدا
اے کہ زندہ تجھ سے ہے اسلامیوں کی داستاں
اے کہ تو ہے اس جہاں میں درسگاہ عارفاں
بَر تر از چرخ چہارم تیرا رتبہ کیوں نہ ہو
جبکہ ہے نازل ہوا تجھ میں مسیحائے زماں
وہ جری' باطل شکن' مامور حق' احمد نبی
جس کی تقریروں سے گونجے بارہا ہفت آسماں
ہاں وہی تو جس نے باطل کر دیا پیوند خاک
جس نے قم کہہ کر کئے زندہ ہزاروں نیم جاں
مردہ روحوں کے لیے لایا جو پیغام حیات
چشمہٴ کوثر بنا ہے جو برائے تشنگاں
دشت ظلمت میں بھٹکتے تھے جہاں کے فلسفی
آفتاب حق سے مغرب ہو گیا اب نکتہ داں
پاسبان امت احمد ہوا محمود حق
حسن و احساں میں جو ہے مثل مسیحائے زماں
یاد ہے وہ درس قرآن روح پرور' دلربا
مسجد اقصیٰ میں ہاں وہ مجمع پیر و جواں
فلسفی' غَرب دیکھا' منطقی' شرق بھی
پر نہ پایا اپنے آقا سا کوئی شیریں بیاں
چھوٹی بستی لوگ کہتے ہیں حقارت سے تجھے
پر سمجھتا ہوں تجھے میں اس زمیں کا کہکشاں
یاد ایامیکہ تو تھی جب ہماری درسگاہ
اور ہمارا مسکن و ماویٰ تھی اے جنت نشاں
ایک مدت کے لیے گو ہم جدا تجھ سے ہوئے
ہر دل مضطر میں ہیں انوار تیرے ضوفشاں
باندھیں گے رخت سفر کو ہم برائے قادیاں
(الفرقان اکتوبر 1963ء ص 148)
جناب مصلح الدین راجیکی مرحومؒ یہ نظم عزیز حمید کو بھیجی گئی تھی۔ ناقل۔
یادِ قادیان
پہلو میں جب سے ہے دل آتش فشاں حمید
سنتا ہے کون نالۂ درد نہاں حمید
باندھا گیا تھا جس میں کبھی آشیاں حمید
ایسی چلی ہے دہر میں باد خزاں حمید
یعنی رباب عیش ہے طبل فغاں حمید
ہمدوش عرش جس سے ہوا خاکداں حمید
اک اک مکاں تھا مجلۂ جنت نشاں حمید
چشم الم ہے چشمۂ خون رواں حمید
روتا ہوں کر کے یاد یہ باغ جناں حمید
سوتا ہے جس مزار میں شاہ جہاں حمید
فضل و فتوح کی وادیٔ گل پوش اب کہاں
تڑپے ہے جس کے واسطے یہ نیم جاں حمید
سلطانۂ حیات تھی جس میں حیات ریز
آب بقا کا دور تھا جس میں رواں حمید
زندہ تھا جس کی دید سے میرا جنون شوق
شیریں تھی جس کے نام سے میری زباں حمید
رحمت کی چہل پہل کو یا رب یہ کیا ہوا
گلشن تھا جس کے سامنے دشت خزاں حمید
باد نسیم چلتی تھی جس میں ہزار بار
نسریں تھی جس کے صحن میں عنبر فشاں حمید
شان و شکوہ تھی جس کی فضاؤں سے آشکار
شوکت تھی جس کے عہد کی روح رواں حمید
کاٹے تھے جس میں میں نے جوانی کے رات دن
لوٹا گیا وہ خانۂ الفت نشاں حمید
صد حیف اب وہ چاند سے چہرے کدھر گئے
ہالہ تھی جس کے واسطے آہ و فغاں حمید
دارالعلوم یاد سے اترا نہیں ہنوز
پروان جس میں چڑھتے تھے طفل و جواں حمید
جاہل تھے جس کے در کے بھکاری بنے ہوئے
عالم تھے جس کے علم کے منت کشاں حمید
دجلۂ علم بہتا تھا جس میں صبح و مسا
بغداد وقت سمجھا تھا جس کو جہاں حمید
اشبیلیہ دھر تھا وہ قیرواں حمید
باری کا فیض جس میں ہمیشہ تھا نو بہ نو
شان حمید جس میں تھی ہر سو عیاں حمید
القصہ ایک خلد ہی وہ قادیاں نہ تھی
جس کا ہے داغ سینہ میں شعلہ فشاں حمید
(مصباح جون 1950ء ص 26)
جناب ظفر محمد ظفر
ایک احمدی کو فراق قادیاں میں روتا دیکھ کر
نہ بھر آہیں فراق قادیاں میں
خدا کے کام بے حکمت نہیں ہیں
ہوا ہے مبتلا تو کس گماں میں
ترقی پا نہیں سکتے کبھی بھی
پڑیں مومن نہ جب تک امتحاں میں
پنپتی ہیں مصائب میں ہی قومیں
یہی سنت رہی ہے ہر زماں میں
تو سمجھا ہم پراگندہ ہوئے ہیں
میرے نزدیک ہم پھیلے جہاں میں
ہمارا قادیاں ایک بوستاں ہے
ہم اس کی بوئے خوش ہیں اس جہاں میں
یہ فطرت کے مخالف ہے کہ خوشبو
رہے محدود صحن گلستاں میں
مکمل ہو چکا تھا قادیاں میں
عدو ہر سو شکستیں کھا چکا تھا
دلائل میں براہین میں بیاں میں
جہاد زندگی کا دوسرا رخ
چمک سکتا نہ تھا دارالاماں میں
ضرورت تھی کہ پھر مومن کے جوہر
عیاں ہوں ابتلا میں اور زیاں میں
خدا نے تب اسے باہر نکالا
نہ چاہا وہ رہے امن و اماں میں
ہوا پورا نشان داغ ہجرت
خدا دیکھا ہے ہم نے اس نشاں میں
مقدس داغ ہے رہنے دے دل پر
نہ اڑ جائے کہیں آہ و فغاں میں
شدائد سے مصائب سے نہ گھبرا
یہی تو مرحلے ہیں امتحاں میں
ظفر گر ہوں حقیقت بیں نگاہیں
بہاریں ہی بہاریں ہیں خزاں میں
(الفضل 11 مارچ 1949ء ص 4)
جناب عبدالمنان ناہیدؔ
آشیاں سے دور
یعنی طیور باغ جناں ہیں جناں سے دور
ہم اس زمین سے دور ہیں اس آسماں سے دور
اپنا جہاں ہے عالم کون و مکاں سے دور
تاروں کے آگے رہگزر کہکشاں سے دور
لیکن نہ جی سکیں گے تیرے آستاں سے دور
ہم اور ہیں دیار مسیح زماں سے دور
ماہی تڑپ رہی ہے یم بیکراں سے دور
سالم ہیں بال و پر مرے گو آشیاں سے دور
(الفضل 15 اپریل 1949ء)
جناب انور نظامی
قادیاں ٹھہرے گا جا کر کاروان قادیاں
موجب تسکین خاطر ہے بیان قادیاں
چھوڑ آئے جب سے ہم امن و امان قادیاں
یاد آئی ہے بہار گلستان قادیاں
قادیاں ٹھہرے گا جا کر کاروان قادیاں
میرے دل کی دھڑکنیں کیوں تیز تر ہونے لگیں
چھیڑ دی کیا پھر کسی نے داستاں قادیاں
دولت تسکین دل تاراج شد انور تمام
ہر کہ شد محروم از امن و امان قادیاں
(مصباح جولائی 1954ء ص 22)
جناب عبدالرشید تبسم ایم۔اے
درویشانِ قادیان سے
عنادل جب ہوئے رخصت چمن زاروں پہ کیا گزری؟
نکلنا روح کا تن سے تھا کوئے یار کا چھٹنا
نہ سمجھی بے وفا دنیا وفاداروں پہ کیا گزری؟
مجھے ڈر جبین حسن پر بل آگیا ہوگا!
سنا ہوگا جب اس کے ناز برداروں پہ کیا گزری؟
وہ زلفیں کٹ گئیں جن کے سہارے زندگی میری
بحال برہمی ان میری غمخواروں پہ کیا گزری؟
زمیں سے آسماں تک ان سے اک سیلاب تھا جاری
ہمارے بعد نور حسن کے دھاروں پہ کیا گزری؟
ہم اپنا آسماں اس سرزمین پر چھوڑ آئے تھے
ہمارے آسماں کے چاند اور تاروں پہ کیا گزری؟
جہاں مینا تھی میخانہ کے اس گوشہ پہ کیا گزری؟
ہوئے کیا ساغر و پیمانہ میخواروں پہ کیا گزری؟
نہ کھٹکے جو میری آنکھوں میں ان خاروں پہ کیا گزری؟
ادھر حیراں خلیل اللہ کہ زندہ رہ گیا کیونکر
ادھر نمرود کو حیرت کہ انگاروں پہ کیا گزری؟
الجھ کر ان سے ہم اپنا سفینہ چھین لائے تھے
نہیں معلوم اس کے بعد منجدھاروں پہ کیا گزری؟
بتا دیجئے انہوں نے موت کو دے دی شکست آخر
اگر پوچھے مسیحا اس کے بیماروں پہ کیا گزری؟
(مصباح ستمبر 1951ء ص 25)
جناب محمد ابراہیم شاد
ہم اہل قادیاں ہیں، ہمیں قادیاں ملے
طویل نظم سے انتخاب
پائیں وہ ”کام دل“ انہیں تسکین جاں ملے
ہجرت کا داغ دل میں ہے اور لب پہ یہ دعا
پھر تخت گاہ مہدی آخر زماں ملے
اس کے بغیر جینا ہمیں ناگوار ہے
ہم اہل قادیاں ہیں ہمیں قادیاں ملے
ہے آرزوئے شاد شب و روز اے خدا
طبع سلیم و نعمت حسن بیاں ملے
(مصباح اکتوبر 1950ء ص 34)
ہوئی ثابت صداقت قادیاں کی
رہے قائم سیادت قادیاں کی
خدا نے پھر جہاں والوں کو بخشی
ہے نعمت ”احمدیت“ قادیاں کی
ہوئی پھر انبیاء کی شان قائم
یہ ”خدمت“ تھی ودیعت قادیاں کی
خدا کا دیں ہوا دنیا پہ غالب
ہوئی قائم ”خلافت“ قادیاں کی
ہوئی اسلام کی ہر سو اشاعت
ہوئی ثابت صداقت قادیاں کی
خدا نے چن لیا اس کو جہاں میں
زہے قسمت سعادت قادیاں کی
ہوا روشن جہاں میں اسم احمد
یہ زندہ ہے کرامت قادیاں کی
نظر آئی نہ اندھے دشمنوں کو
وہ صورت ماہ طلعت قادیاں کی
کئے جاؤ عداوت دشمنو! تم
بڑھے گی پھر بھی عظمت قادیاں کی
خدا کے قہر کے مورد بنے تم
جہنم ہے ”عداوت“ قادیاں کی
ہمارا بال بھی بیکا نہ ہوگا
کبھی ہوگی نہ ذلت قادیاں کی
بڑھی ہر سو جماعت قادیاں کی
ثریا پر سے لائی ہے زمیں پر
پھر ایماں کو ہدایت قادیاں کی
بگاڑا آج تک تم نے نہ کچھ بھی
رہی عزت سلامت قادیاں کی
کبھی سب و شتم اور گالیوں سے
نہ کم ہوگی شرافت قادیاں کی
ہے بھیجا قادیاں والے کو جس نے
کرے گا آپ نصرت قادیاں کی
بچائے گا وہ ہر دشمن کے شر سے
کرے گا خود حفاظت قادیاں کی
خدا رسوا کرے گا دشمنوں کو
بڑھے گی شان و شوکت قادیاں کی
رہے گی شاد و خرم قوم احمد
”دوائی“ ہے مسرت قادیاں کی
(اخبار بدر قادیان 7 جولائی 1954ء)
نوٹ: یہ نظم مولوی ظفر علی آف زمیندار لاہور کی ایک نظم کے جواب میں لکھی گئی تھی۔ مولوی ظفر علی صاحب نے وہ نظم اسی ”بحر“ میں لکھ کر ”زمیندار“ میں شائع کی تھی۔
(محمد ابراہیم شاد)
جناب فیض چتکوی
قادیان دارالامان
خدائے جہاں کا جو زندہ نشاں ہے
وہی قادیاں ہے وہی قادیاں ہے
لڑائی نہ جھگڑا نہ بغض اور کیں ہے
فضائیں حسیں زندگی دلنشیں ہے
مگن عشق مولا میں پیر و جواں ہے
وہی قادیاں ہے وہی قادیاں ہے
نہاں جس کی مٹی میں لعل و گہر ہیں
رواں جس کی گلیوں میں اہلِ نظر ہیں
اور آغوش میں وہ مسیح زماں ہے
وہی قادیاں ہے وہی قادیاں ہے
جہاں بیویاں صاف تن پاک من ہیں
وفادار ہیں خوش سیر خوش چلن ہیں
بس اولاد کی تربیت کا دھیاں ہے
وہی قادیاں ہے وہی قادیاں ہے
اخوت کے اور فضلِ یزداں کے دریا
فیوضِ محمّدؐ کے قرآں کے دریا
بظاہر زمیں ہے مگر آسماں ہے
وہی قادیاں ہے وہی قادیاں ہے
محبت مروت کے خلق و حیا کے
جہاں شغل ہر سو درود و دعا کے
وہی قادیاں ہے وہی قادیاں ہے
منور ہیں ایماں سے جس کی فضائیں
پرستار خالق ہیں باپ اور مائیں
فرشتوں سی ہیں بیٹیوں کی ہوائیں
جہاں بچہ بچہ خدائی نشاں ہے
وہی قادیاں ہے وہی قادیاں ہے
جہاں رات دن درس قرآن جاری
جہاں چشمہ فیض عرفان جاری
ہر اک سمت ایک سیل ایمان جاری
جہاں آج محمود پیر مغاں ہے
وہی قادیاں ہے وہی قادیاں ہے
(1944ء میں کہی گئی نظم سے چند اشعار: بحوالہ ’’تقدیس افکار‘‘)
جناب احسن اسماعیل
قادیان کے ایک عزیز درویش کے نام
خوشا کہ جلوہ گہ لامکاں میں رہتے ہو
دیار غیر میں ہم مارے مارے پھرتے ہیں
ہو خوش نصیب کہ دارالاماں میں رہتے ہو
تمہیں ملے گی ہمیشہ کی زندگی گویا
تمہیں کہ قرب مسیح زماں میں رہتے ہو
در حبیب سے دوری میرے نصیب میں ہے
وہ پھول تم ہو کہ جو گلستاں میں رہتے ہو
خدا گواہ ہے کہ جنت نشاں میں رہتے ہو
ستارے بن کے رہ کہکشاں میں رہتے ہو
ضیائے نور ہو اور آسماں میں رہتے ہو
جناب عبدالمنان شاد
(الفضل 23 مارچ 1949ء ص 2)
مقدس سرزمین
تیرے ہر ذرے میں رحمت کا نشاں موجود ہے
زندۂ جاوید تجھ سے ہے فضا تقدیس کی
اس لیے ہر احمدی تیرے لیے دیوانہ ہے
اے خوشا وہ دن کہ تجھ میں آئیں گے ہم اے وطن
اور محبوب خدا کی تخت گاہ چمکائیں گے
اور صدائے لا تذر سے خون گرماتے ہوئے
(بحوالہ الفضل 12 مارچ 1948ء ص 5)
جناب مبارک احمد عابد
مجھے ماضی کے وہ بھولے ترانے یاد آتے ہیں
تیری گلیاں تیرے کوچے تیرے گلشن تیرے آنگن
مجھے گزرے ہوئے رنگیں زمانے یاد آتے ہیں
مسیح پاک نے بانٹی شراب معرفت جن میں
میرے دل کو وہی ساغر پرانے یاد آتے ہیں
رلاتے ہیں مجھے ہر دم تیرے جلوے تیرے منظر
نہ مجھ سے پوچھ کہ وہ کس بہانے یاد آتے ہیں
قسم کھاتا ہوں میں تیری فضا میں لوٹ آنے کی
مجھے وہ رات اور دن سہانے یاد آتے ہیں
تجھے ہم چھوڑ دیں گے یہ نہیں ممکن کسی صورت
کئے تھے تجھ سے جو پیماں پرانے یاد آتے ہیں
تیری یادیں لیے دل میں گیا محمود دنیا سے
مجھے اس بلبل غم کے ترانے یاد آتے ہیں
ترا ہی نام تھا اس کے لبوں پہ وقت آخر بھی
ہاں اس کی یاد سے غم کے فسانے یاد آتے ہیں
جو اس کے ہونٹوں سے نکلے کہوں کیا لفظ وہ کیا تھے
مجھے درد و الم کے وہ خزانے یاد آتے ہیں
ہم اس کے جسد اطہر کو ترے دامن میں لائیں گے
کہ قرض اس کی وصیت کے چکانے یاد آتے ہیں
تیری یادیں کبھی ماضی کا حصہ بن نہیں سکتیں
کبھی عہد گزشتہ کا وہ قصہ بن نہیں سکتیں
جناب عبدالرحیم راٹھور
قادیان
ڈھونڈتی ہیں میری آنکھیں اس کو دن میں بار بار
دار مہدی کا محافظ ہے خداوند کریم
حق تعالیٰ کا نشاں ہے وہ بلند ابیض منار
اس سے پنج وقتہ اذانیں اور صدا گھڑیال کی
عمر رفتہ کا جو مومن کو بتاتی ہے شمار
مسجد اقصیٰ کی گنبد ”نور“ کی روشن فضا
”فضل“ و ”رحمت“ کی اذاں انوار کی جائے قرار
وہ مبارک سجدہ گاہ نائب خیر الوریٰ
اور امام وقت کا اس میں ہمیشہ انتظار
وہ صحابہؓ کا زمانہ وہ عبادت کا سرور
وہ معارف کے خزانے وہ اخوت کی بہار
بے کدورت صاف دل بے لوث خدمت کا جنوں
مومنانہ بے نیازی خاکساری باوقار
بعد پیشیں درس قرآں صبح دم درس حدیث
بعد دیگر سیر گل اور وہ بہشتی لالہ زار
ہاں ملائک کی وہ بستی اور وہ دارالاماں
بے قراری میں بھی آتا ہے جہاں دل کو قرار
شمع روحانی فروزاں مرکز ملت میں ہے
خاک کے ذروں کو کرتی ہے وہ در شاہسوار
التجاء بے نوا سن کر ذرا کیجئے دعا
قادیاں کے ساتھ ہی مل جائے باغ شالامار
پاسباں ہو باغ احمد کا خدائے کردگار
(بشکریہ جناب عبدالرحیم راٹھور۔ ربوہ)
جناب حکیم محمد صدیق
اے مقام قادیاں تو زینت اسلام ہے
تیرے ہر ذرے میں پنہاں شوکت اسلام ہے
اے زمین محترم تیری ضیاء تاباں رہے
عصر نو کی رات میں تو صبح کا پیغام ہے
تیری ہستی کی بنا مثل ابد قائم رہے
تو بھی مثل طور جلوہ گاہ حسن تام ہے
تو وہ میخانہ ہے جس میں شراب زندگی
تیرے میکش کے لبوں پر امن کا پیغام ہے
بے کیف تھا رنگ چمن بے نور تھی بزم جہاں
پھر کیا سرسبز تو نے گلشن اسلام ہے
تیرے گلشن میں نسیم صبح پھر بیدار ہے
کوکب غنچہ سے پھر رنگ چمن گلفام ہے
مرکز جاذب ہے دنیا میں ترا زریں وجود
اے نائب ارض حرم تو مرجع اقوام ہے
کوکب تابندہ ہے تو قسمت اسلام کا
تجھ سے وابستہ جہاں میں رفعت اسلام ہے
تو مسیح پاک کے جسم مبارک کی امیں
گوہر نایاب تجھ میں پا رہا آرام ہے
نالہ بلبل میں ہر دم آشیاں کا نام ہے
(ماہنامہ الفرقان دسمبر 1959ء)
جناب محمد شفیع اشرف بی۔اے
قادیان
مدفن مہدی دوراں وہ مری آنکھوں کا نور
مسکن ظلان احمد سجدہ گاہ قدسیاں
جس کو الہام خداوندی کہے دارالاماں
دین احمد کی جمالی شان کی وہ جلوہ گاہ
جلتی ہے قندیل ایمانی جہاں شام و پگاہ
منبع عرفان و علم و فیض حکمت قادیاں
چشمۂ انوار حق شمع ہدایت قادیاں
ہے بشارات خداوندی کا حامل جو مقام
سرور کون و مکاں کا جس جگہ آیا غلام
گلشن احمدؐ فدایان محمدؐ کا وطن
بلبلان خوش نوائے دین احمدؐ کا چمن
جس جگہ کے رہنے والے عشق کی تصویر ہیں
آیۂ اصحاب جنت کی صحیح تفسیر ہیں
گونجتے ہیں ذکر مولا کے ترانے جس جگہ
لٹ رہے ہیں علم و عرفاں کے خزانے جس جگہ
پھر جہاں سے عظمت توحید منوائی گئی
سیزدہ (1300) صد سال کی تاریخ دہرائی گئی
بدنصیبی ہے کہ میں اس قادیاں سے دور ہوں
باعث تسکین دل جنت نشاں سے دور ہوں
قادیاں سے دور رہ کر زندہ رہ سکتا نہیں
(بحوالہ الفضل 21 اکتوبر 1947ء ص 2)
جناب چوہدری شبیر احمد صاحب
دارالامان دیکھا
(زیارت قادیان سے مشرف ہونے کے بعد)
دارالمسیح دیکھا دارالاماں دیکھا
درویش بھائیوں کے ہاتھوں میں نان دیکھا
مینارۂ مسیحا عظمت نشان دیکھا
فضل عمر کو گویا محو بیان دیکھا
جب روضۂ مسیح آخر زمان دیکھا
اقصیٰ میں ذات باری کا آستان دیکھا
بیت الدعا میں ہم نے پھر دلستان دیکھا
اک شہر ہم نے گویا جنت نشان دیکھا
درویش بھائیوں کو جب میزبان دیکھا
ان خوبیوں کا حامل پیر و جوان دیکھا
پیغام ناصر دیں سن کر فدائیوں نے
گویا کہ اپنا آقا شیریں زبان دیکھا
موعود خلیفہ کے پیغام دلربا میں
دین محمدی کا اک راز دان دیکھا
لہرا رہا تھا پرچم صد شان سے فضا میں
جس کے جلو میں ہم نے ایک کاروان دیکھا
کچھ یار کے فسانے کچھ پیار کے ترانے
سب واعظوں کو ہم نے شیریں بیان دیکھا
شبیر کوئے جاناں کا حال کیا بیاں ہو
المختصر کہ ہم نے دارالامان دیکھا
جناب راجہ منصور احمد
ہم محو نالۂ جرس کارواں رہے
قربانیوں کا ایسا کڑا امتحاں رہے
ان کو مٹا کے کیا ملا اے دشمنان دیں
وہ مٹ کے بھی جہان میں زندہ نشاں رہے
وہ جا بسے ہیں جنت فردوس میں مگر
مجرم ہو تم خدا کے یہ تم پر عیاں رہے
بلبل تڑپ کے کہتی ہے پروردگار سے
اس کا در حبیب پہ ہی آشیاں رہے
ہاں مومنان دیں بھی اسی جستجو میں ہیں
اس مہرباں کے پاس جو وہ مہرباں رہے
ہم محو نالہ جرس کارواں رہے“
اللہ کی ان پہ رحمتیں ہوتی ہیں بے شمار
جو موت دیکھتے ہوئے بھی قادیاں رہے
وہ دے رہے ہیں جام شہادت جو خوب ہے
یہ جذبہ ان کے دل میں ہمیشہ جواں رہے
ہم قادیاں میں حمد کے گاتے رہیں گے گیت
جب تک یہی زمین یہی آسماں رہے
ہر آں وہی جماعتیں ہوتی ہیں کامیاب
جن کے دلوں میں ذوق شہادت جواں رہے
(بحوالہ الفضل 5 نومبر 1947ء ص 2)
جناب انور بنگوی
ہمیں الفت ہے بیحد قادیاں سے
دیار مہدی آخر زماں سے
نہ ہوگا کام جو برق تپاں سے
کریں گے ہم دم شعلہ فشاں سے
ندا یہ آ رہی ہے آسماں سے
ملے گا کیا تجھے آہ و فغاں سے
تمہارے ہی لیے سب کچھ کیا ہے
نکلنے میں ہے حکمت قادیاں سے
ہماری حکمتوں کو کون سمجھے
نہیں واقف کوئی راز نہاں سے
وگرنہ کیا غرض تھی امتحاں سے
نشاں ظاہر زمین و آسماں سے
نہیں کچھ دور منزل کارواں سے
نہ گھبرا تو فراق قادیاں سے
ہوا کیا گر تو بچھڑا کارواں سے
وہیں لوٹو گے آئے ہو جہاں سے
(مصباح جنوری 1952ء ص 33)
جناب معین اختر
قادیان کی یاد میں
درد غم فراق سے ہر کوئی بے قرار ہے
بحر مے طہور تو زندہ دلوں کا طور تو
شان یہ تیری بے نظیر باعث افتخار ہے
ہر دل میں تیری یاد ہے گردش لیل و نہار ہے
ہم کو بھی تجھ سے عشق ہے تجھ سے پیار ہے
تیرے درودیوار پر ہر بشر دیوانہ وار
سود و زیاں سے بے نیاز تجھ پر جانثار ہے
منزل کو شوق دید ہے راہوں کو انتظار ہے
منتظر ہیں گوش یہ سننے کو بانگ رحیل پھر
قافلہ بھی شوق سے چلنے کو پھر تیار ہے
تجھ کو پانے کے لیے موت سے کسے دریغ
جوش جنون عشق سے اختر بھی جانثار ہے
(مصباح، جون 1957ء ص 25)
جنا
کی تاریخ ساز
تحفظ ختم نبوت
شعور ختم نبوت
قادیانیت کفر
دجال قادیان
مرگ مرزائی
قادیانیت شک
قادیانی افسا
نغمات ختم ن
فتنہ قادیانی
شمع ختم نبو
کاروان تحر
ہم نے قادیان میں کیا دیکھا؟
تحقیق و تدوین
محمد طاہر عبدالرزاق
- قادیان کے سفرنامے۔ جھوٹی نبوت کے افسانے۔ ہوشربا منظرنامے۔ عبرت کے تازیانے
- قادیان پر سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کی یلغار۔ مجاہدین کی للکار۔ قادیانیوں کی چتھاڑ۔ ختم نبوت زندہ باد کی پکار
- قادیان کی تہذیب۔ قادیان کا تمدن۔ قادیان کا ماحول۔ قادیان کے لوگ
- مرزائی نبوت کا عجائب گھر۔ مرزا قادیانی کے اندھے، گونگے اور بہرے مرید۔ عقل کا ماتم۔ خرد کا نوحہ۔ ایمان کا خون
- قادیان اور اس کے گردونواح کے مسلمان۔ ان کی غیرت ایمانی۔ ان کا عشقِ رسول اور قادیانیت کے خلاف ان کے
معرکے۔ تاریخ کے جگمگاتے نقوش۔
- مرزا قادیانی کی گھریلو زندگی۔ اولادِ خبیثہ۔ احبابِ دُم بریدہ۔ نصرت جہاں بیگم کی نصرت جہانیاں اور گھر کی ویڈیو فلم جو قلم
کے کیمرے سے تیار کی گئی۔
- مرزا بشیر الدین کی بدمعاشیاں۔ عیاشیاں۔ رہائش گاہیں۔ شکار گاہیں۔ عصمتوں کے مقتل۔ عزتوں کے نیلام گھر
- قادیانی، قادیان کے بارے میں کیا مذہبی عقائد رکھتے ہیں؟ اسے کتنا پاکیزہ اور متبرک جانتے ہیں؟
- قادیان میں سادہ لوح لوگوں کو کیسے لایا جاتا تھا۔ پھر ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جاتا تھا؟
- قادیانیوں کا مذہبی عقیدہ ہے کہ پاکستان ٹوٹے گا۔ اکھنڈ ہندوستان بنے گا اور وہ قادیان واپس جائیں گے
- ربوہ میں قادیانی مُردے امانتاً دفن ہیں اور ان کے گروگھنٹالوں کی وصیت ہے کہ جب اکھنڈ بھارت بنے۔ تو ان کی لاشوں
کو نکال کر قادیان لیجا کر دفن کیا جائے۔
- قادیان کے زہریلے شاعر۔ ہذیان بکتی زبانیں۔ ہرزا سرائی کرتے پھٹے منہ۔ ارتدادی عزائم۔ غدارانہ جرائم۔ غیرت مسلم
تو کہاں ہے؟
- مجلس احرار اسلام کا قادیان میں دفتر ختم نبوت کا افتتاح۔ مبلغین کی تعیناتی۔ مختلف علمائے کرام کے آتشیں خطبات جمعہ۔
قادیان میں معرکہ حق و باطل۔ ختم نبوت کا بول بالا۔ قادیانیت کا منہ کالا۔
ایک ایسی انمول تاریخی دستاویز۔ جو ہر مجاہد ختم نبوت کیلئے ایک انمول تحفہ۔
صفحات: 208 قیمت: -/100 روپے ، مجاہدین ختم نبوت کے لیے خصوصی رعایت
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، حضوری باغ روڈ، ملتان