قادیانی غداروں کی نشاندہی · محمد طاہر رزاق
Qadyani Gardaron ki Nishan Dahi · Tahir Abdul Razzaq
PDF 1

قادیانی

غدّاروں کی نشاندہی

محمّد طاہر رزّاق

PDF 2

قال الله تعالى فى القرآن المجيد

مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلٰكِنْ

رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيّٖنَ

قال النبي صلى الله عليه وسلم

اَنَا خَاتَمُ النَّبِيّٖنَ لَا نَبِيَّ بَعْدِي

تاریخ تحفظ ختم نبوت سیریز 7

قادیانی غدّاروں

کی

نشاندہی

ترتیب و تحقیق

محمد طاہر رزّاق

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان

PDF 3

سکتا ہے لیکن اگر مصنف کو اس سے باخبر کر دیا یہ ان کی مہربانی ہوگی۔

*

نی غداروں کی نشاندہی اہر رزاق ء سو کمپوزرز، پریم نگر لاہور ی اللہ رشیدی 9 روپے 2000ء مجلس تحفظ ختم نبوت ی باغ روڈ - ملتان پرنٹنگ پریس - نسبت روڈ، لاہور

ملنے کا پتہ:

رت - حضوری باغ روڈ‘ ملتان ارکیٹ‘ اردو بازار - لاہور مید - اردو بازار - لاہور

انتساب

ایک ایسا ادیب ...... جس کا قلم صفحہ قرطاس پہ چراغاں کرتا ہے۔

ایک ایسا صحافی ...... جس کا بے باک خامہ ...... پھول کو پھول اور خار کو خار کہتا ہے

ایک ایسا دانشور ...... جو مادیت کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں تاجدار ختم نبوت صلی اللہ علیہ وسلم کی دانش سے ضوفشانیاں کرتا ہے۔

ایک ایسا خطیب ...... جو کبھی باد صبا کا جھونکا ...... کبھی شعلے کی لپک ...... اور کبھی رعد کی کڑک ہے۔

ایک ایسا وکیل ناموس رسالت ﷺ ...... جس کا قلم حرمت رسول ﷺ کے دفاع پر مامور ہے اور شاتمان رسول سے نبرد آزما رہنا جس کا منشور ہے۔

ایک مجاہد ختم نبوت ...... جس کا آہنی قلم مرزا قادیانی کو ایسی پٹخنیاں دیتا ہے ...... کہ قادیانیت کا انجر پنجر ٹوٹ جاتا ہے۔

جناب خورشید گیلانی

کے نام

صفحہ 5

حرفِ سپاس

ابتدائے کتاب سے لے کر تکمیل کتاب تک تمام مرحلوں میں میرے محترم دوست جناب محمد فیاض اختر ملک، جناب محمد متین خالد، جناب محمد صدیق شاہ بخاری، جناب سید علمدار حسین شاہ بخاری، جناب طارق اسماعیل ساگر، جناب حافظ شفیق الرحمن، جناب عبدالرؤف روفی، جناب ممتاز اعوان، جناب محمد سلیم ساقی کا تعاون ہر دم مجھے میسر رہا اور ان دوستوں کی جدوجہد اور دعاؤں سے یہ کتاب منصہ شہود پر طلوع ہوئی۔ میں ان تمام دوستوں کا دل کی اتھاہ گہرائیوں سے شکر گزار ہوں اور اللہ تعالیٰ کے حضور بدست دعا ہوں کہ اللہ پاک انہیں اجر عظیم سے نوازے۔ (آمین)

میں ممنون ہوں خواجہ خواجگان حضرت مولانا خان محمد مدظلہ، خطیب ختم نبوت حضرت مولانا محمد اجمل خان مدظلہ، فقیہ العصر مولانا محمد یوسف لدھیانوی مدظلہ، نمونہ اسلاف حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری مدظلہ، فدائے ختم نبوت حضرت مولانا سید نفیس شاہ الحسینی مدظلہ، جانثار ختم نبوت الحاج محمد نذیر مغل مدظلہ، سفیر ختم نبوت مولانا منظور احمد چنیوٹی مدظلہ، پروانہ ختم نبوت جناب ارشاد احمد عارف مدظلہ، میر صحافت ختم نبوت جناب حامد میر مدظلہ، مجاہد ختم نبوت صاحبزادہ طارق محمود مدظلہ، متکلم ختم نبوت مولانا زاہد الراشدی مدظلہ، محب ختم نبوت جناب جاوید مغل مدظلہ، مجاہد ختم نبوت جناب طارق مغل، مجاہد ختم نبوت جناب جمشید مغل مدظلہ وکیل ختم نبوت جناب سید محمد کفیل شاہ بخاری مدظلہ کا، جن کی سرپرستی کا سحاب کرم میرے سر پر چھایا رہا۔ اللہ تعالیٰ ان تمام بزرگوں کا سایہ ہمارے سروں پر تادیر سلامت رکھے۔ (آمین ثم آمین)

محمد طاہر رزاق

آئینہ مضامین

مرزا قادیانی —— ایک خاندانی غدار —— محمد طاہر رزاق آؤ! اپنے حصہ کا چراغ جلائیں —— الحاج محمد نذیر مغل نقاب کشائی —— حقیقت آشنائی —— حمید اصغر مجید ایوان صدر میں قادیانی پاکستان میں اسمگلنگ اور منشیات کے تین بڑے اڈے ربوہ۔ محمود آباد۔ ناصر آباد۔ ان اڈوں کا آپریشن کلین اپ ک قادیانی تاریخ پاکستان کو مسخ کر رہے ہیں بھٹو صاحب نے قادیانیوں کو کیسے غیر مسلم قرار دیا؟ ربوہ کے نوجوانوں میں بغاوت کی لہریں —— مرزا طاہر نوشت پڑھ لیں مرزا طاہر نے مباہلہ کا شوشہ نئی نسل کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانے کے لیے چھوڑا آزادی کشمیر کے خلاف قادیانیوں کی سازشیں قادیانیوں نے نام نہاد ایوان محمود کو آگ لگا کر تمام خفیہ فا ایک قادیانی زندیقہ کو مسلم قبرستان میں دفنانے کی کوشش عجمی اسرائیل (پنجاب میں وٹو حکومت تمام قادیانی افسروں کو کلیدی عہ فائز کر رہی ہے)

صفحہ 5

آئینہ مضامین

مرزا قادیانی ــــ ایک خاندانی غدار ــــ محمد طاہر رزاق 7 آؤ! اپنے حصہ کا چراغ جلائیں ــــ الحاج محمد نذیر مغل 15 نقاب کشائی ــــ حقیقت آشنائی ــــ حمید اصغر مجید 16 ایوان صدر میں قادیانی 25 پاکستان میں اسمگلنگ اور منشیات کے تین بڑے اڈے 31 ربوہ۔ محمود آباد۔ ناصر آباد۔ ان اڈوں کا آپریشن کلین اپ کب ہو گا؟ قادیانی تاریخ پاکستان کو مسخ کر رہے ہیں 36 بھٹو صاحب نے قادیانیوں کو کیسے غیر مسلم قرار دیا؟ 40 ربوہ کے نوجوانوں میں بغاوت کی لہریں ــــ مرزا طاہر نوشتہ دیوار پڑھ لیں مرزا طاہر نے مباہلہ کا شوشہ نئی نسل کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانے کے لیے چھوڑا 60 آزادئ کشمیر کے خلاف قادیانیوں کی سازشیں 64 قادیانیوں نے نام نہاد ایوان محمود کو آگ لگا کر تمام خفیہ فائلیں جلا دیں 68 ایک قادیانی زندیقہ کو مسلم قبرستان میں دفنانے کی کوشش ناکام 70 عجمی اسرائیل 71 (پنجاب میں وٹو حکومت تمام قادیانی افسروں کو کلیدی عہدوں پر فائز کر رہی ہے) 93

صفحہ 7

امریکی سفارت کار کا پراسرار دورہ ربوہ 95 اللہ تعالیٰ پاکستان کو ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا۔۔۔ مرزا طاہر کی ہرزہ سرائی 100 قومی اسمبلی نے قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کا فیصلہ متفقہ طور پر کیا تھا۔۔۔ سابق سپیکر فاروق علی کے خیالات 104 جنگ ستمبر 65__ قادیانی سازش کے خوفناک خدوخال 110 قادیانی اسرائیلی فوج میں 118 عاشق حسین بٹالوی کی یادیں 122 مرزا طاہر کی بوکھلاہٹ 131 قادیانیوں کا کیپ ٹاؤن جنوبی افریقہ میں مسلمانوں کے خلاف مقدمہ 135 پاکستان کے راز اسرائیل کیسے پہنچے؟ 146 قادیانیوں نے مقبوضہ کشمیر کو اپنی آماجگاہ بنانے کا فیصلہ کر لیا 151 برطانیہ میں مرزا طاہر احمد کا نیا اسلام آباد میں پاکستان سے کیوں بھاگا۔۔۔ قادیانیوں کے بھگوڑے پیشوا مرزا طاہر کے انکشافات 161 سر ظفر اللہ خان کا شرمناک کردار 166 نسیم قادیانی کی اقوام متحدہ میں تقرری 171 سر ظفر اللہ خان قادیانی کی عرب لڑکی سے شادی کی کہانی 180 پی۔ آئی۔ اے قادیانیوں کے شکنجے میں 183 قادیانی جنرل پاکستان کا چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر بنتے بنتے رہ گیا 188 تحقیقاتی کمیشن برائے سقوط مشرقی پاکستان کے صدر کے نام ایک درخواست کا متن 194 مشہور قادیانی شاہ نواز بھٹو کے خاندان پر مرزا طاہر کا عتاب۔۔۔ اس کے بیٹے، اہلیہ اور بیٹی کا قادیانیت سے اخراج 203

مرزا قادیانی..... ایک خاندانی

انگریز غلام ہندوستان میں اسلام اور مسلمانوں پر ”جو لگانے کا فیصلہ کر چکا تھا۔۔۔۔ منصوبہ مکمل ہو چکا تھا۔۔۔۔ صرف ا جسے نبی بنانا تھا۔۔۔۔ اور اس سے دعویٰ نبوت کرانا تھا۔۔۔۔ اگ چند اہم غداروں کو بلایا۔۔۔۔ ایک خفیہ میٹنگ ہوئی۔۔۔۔ انگری سارے منصوبے سے آگاہ کیا۔۔۔۔ اور انہیں ترغیب دی کہ ا نبوت کرے۔۔۔۔ یہ بات سن کر بڑے بڑے غدار کانپ اٹھے۔ ہاتھ باندھ کر کھڑے ہو گئے۔۔۔۔ اور کہنے لگے:

”جناب! ہم آپ کے غلام ہیں۔۔۔۔ ہم ضمیر فروش ہیں۔۔۔۔ ہم غیرت فروش ہیں۔۔۔۔ ہم نے اپنی دھرتی ماتا کا د وطن کے مجاہدوں کو غلامی کی یہ زنجیریں پہنائی ہیں۔۔۔۔ ہیں۔۔۔۔ ہم نے آپ کو انتہائی سستے فوجی سپاہی بھرتی کے لیے کی ہم میں ہمت نہیں۔۔۔۔ اس کے تصور سے ہی ہم جیسے ہیں۔۔۔۔ ہم رسول اللہ ﷺ کے تخت ختم نبوت پر اپنے غلی محمد عربی ﷺ کے تاج ختم نبوت کو نوچ نہیں سکتے۔۔۔۔ ہ قینچی نہیں چلا سکتے۔۔۔۔ ہمیں معاف کر دیجئے۔۔۔۔ یہ کہہ ک قدموں پہ گر گئے۔

اس صورت حال میں ایک کریہہ الصورت اور کانا ا اور انگریز سے کہا ہے کہ جناب میں اس کام کے لیے حاضر غداریوں کی انتہا ہوتی ہے‘ وہاں سے میری غداریوں کی ابتدا

صفحہ 7

مرزا قادیانی..... ایک خاندانی غدار

انگریز غلام ہندوستان میں اسلام اور مسلمانوں پر ”جھوٹی نبوت“ کی کاری ضرب لگانے کا فیصلہ کر چکا تھا۔۔۔۔۔ منصوبہ مکمل ہو چکا تھا۔۔۔۔۔ صرف اس شخص کی تلاش تھی۔۔۔۔۔ جسے نبی بنانا تھا۔۔۔۔۔ اور اس سے دعویٰ نبوت کرانا تھا۔۔۔۔۔ انگریز نے ہندوستان سے اپنے چند اہم غداروں کو بلایا۔۔۔۔۔ ایک خفیہ میٹنگ ہوئی۔۔۔۔۔ انگریز نے انہیں جھوٹی نبوت کے سارے منصوبے سے آگاہ کیا۔۔۔۔۔ اور انہیں ترغیب دی کہ ان میں سے کوئی شخص دعویٰ نبوت کرے۔۔۔۔۔ یہ بات سن کر بڑے بڑے غدار کانپ اٹھے۔۔۔۔۔ وہ فرنگی کے سامنے ہاتھ باندھ کر کھڑے ہو گئے۔۔۔۔۔ اور کہنے لگے:

”جناب! ہم آپ کے غلام ہیں۔۔۔۔۔ ہم ضمیر فروش ہیں۔۔۔۔۔ ہم ملت فروش ہیں۔۔۔۔۔ ہم غیرت فروش ہیں۔۔۔۔۔ ہم نے اپنی دھرتی ماتا کا خون پیا ہے۔۔۔۔۔ ہم نے اپنے وطن کے مجاہدوں کو غلامی کی یہ زنجیریں پہنائی ہیں۔۔۔۔۔ اذیت ناک سزائیں دلوائی ہیں۔۔۔۔۔ ہم نے آپ کو انتہائی سستے فوجی سپاہی بھرتی کے لیے دیئے ہیں۔۔۔۔۔ لیکن اس کام کی ہم میں ہمت نہیں۔۔۔۔۔ اس کے تصور سے ہی ہم جیسے بے ضمیر بھی لرز لرز جاتے ہیں۔۔۔۔۔ ہم رسول اللہ ﷺ کے تخت ختم نبوت پر اپنے غلیظ قدم نہیں رکھ سکتے۔۔۔۔۔ ہم محمد عربی ﷺ کے تاج ختم نبوت کو نوچ نہیں سکتے۔۔۔۔۔ ہم قرآن و حدیث پر تحریف کی قینچی نہیں چلا سکتے۔۔۔۔۔ ہمیں معاف کر دیجئے۔۔۔۔۔ یہ کہہ کر بڑے بڑے غدار انگریز کے قدموں پہ گر گئے۔

اس صورت حال میں ایک کریہہ الصورت اور کانا شخص سینہ تان کر کھڑا ہوتا ہے اور انگریز سے کہتا ہے کہ جناب میں اس کام کے لیے حاضر ہوں۔ جہاں ان غداروں کی غداریوں کی انتہا ہوتی ہے، وہاں سے میری غداریوں کی ابتدا ہوتی ہے۔

صفحہ 9

اس کے بعد اس کریہہ الصورت شخص نے سر جھکائے غداروں کی طرف پلٹتے ہوئے پھنکار کر کہا ”جناب انگریز صاحب! یہ سب غدار تو ہیں لیکن ان میں سے کوئی بھی نسلی غدار نہیں جبکہ میں ایک پکا نسلی اور خاندانی غدار ہوں۔ مجھے غداری وراثت میں ملی ہے۔ غداری میرے خون میں شامل ہے۔ غداری میری گھٹی میں پڑی ہوئی ہے۔۔۔۔۔ میرا سارا وجود غداری کی کمائی سے پلا ہوا ہے۔۔۔۔۔ میرا باپ مرزا غلام مرتضیٰ ایک تاریخ ساز غدار تھا۔۔۔۔۔ میرا بھائی مرزا غلام قادر غداروں کی پیشانی کا جھومر تھا۔۔۔۔ ان کے مرنے کے بعد یہ خدمات اب میرے ذمے ہیں۔۔۔۔۔ اور میں چوبیس گھنٹے آپ کے اشارہ ابرو پر حاضر ہوں“۔

محترم قارئین! آپ نے پہچانا۔۔۔۔۔ یہ کریہہ الصورت اور کانا شخص کون تھا؟ یہ فخر غداراں‘ مرزا قادیانی تھا۔ مرزا قادیانی‘ اس کے باپ اور اس کے بھائی نے ملت اسلامیہ کے ساتھ کیا کیا غداریاں کیں۔ بطور نمونہ ثبوت پیش خدمت ہیں:

گیا اور سفر آخرت کا وقت آگیا اور اگر ہم اس کی تمام خدمات لکھنا چاہیں تو اس جگہ سما نہ سکیں اور ہم لکھنے سے عاجز رہ جائیں۔ پس خلاصہ کلام یہ ہے کہ میرا باپ سرکار انگریزی کے مراحم کا ہمیشہ امیدوار رہا اور عند الضرورت خدمات بجا لاتا رہا۔ یہاں تک کہ سرکار انگریز نے اپنی خوشنودی کی چٹھیات سے اس کو معزز کیا اور ہر وقت اپنی عطاؤں کے ساتھ اس کو خاص فرمایا اور اس کی غم خواری فرمائی اور اس کی رعایت رکھی اور اس کو اپنے خیر خواہوں میں سے سمجھا۔

(نور الحق‘ حصہ اول‘ ص ۲۸‘ مصنفہ مرزا قادیانی)

جس کا نام مرزا غلام قادر تھا اور سرکار انگریزی کی عنایات ایسے ہی اس کے شامل حال ہو گئیں جیسی کہ میرے باپ کے شامل حال تھیں اور میرا بھائی چند سال بعد اپنے والد کے فوت ہو گیا۔ پھر ان دونوں کی وفات کے بعد میں ان کے نقش قدم پر چلا اور ان کی سیرتوں کی پیروی کی“

(نور الحق‘ حصہ اول‘ ص ۲۸‘ مصنفہ مرزا قادیانی)

والد مرزا غلام مرتضیٰ گورنمنٹ کی نظر میں ایک وفادار اور خیر خو انگریزی میں کرسی ملتی تھی اور جن کا ذکر مسٹر گریفن صاحب کی میں ہے اور ۱۸۵۷ء میں انہوں نے اپنی طاقت سے بڑھ کر سرکا پچاس سوار اور گھوڑے بہم پہنچا کر عین زمانہ غدر کے وقت س دیئے تھے۔ پھر میرے والد صاحب کی وفات کے بعد میرا بڑا بھا سرکاری میں مصروف رہا اور جب تمون کی گزرگاہ پر خضداروں سے مقابلہ ہوا تو سرکار انگریزی کی طرف سے لڑائی میں شریک

مورخہ ۲۰ ستمبر ۱۸۹۷ء‘ ص ۳‘ مصنفہ مرزا قادیانی)

جس کی نسبت گورنمنٹ نے ایک مدت دراز سے قبول کیا ہوا ہے پر سرکار دولت مدار انگریزی کا خیر خواہ ہے“ (مرزا قادیانی کی حضور درخواست مندرجہ تبلیغ رسالت‘ جلد ہفتم ۔ ص ۸-۹-۱۱‘

ہم نے سرکار انگریزی کی راہ میں اپنا خون بہانے اور جان دینے س

(تبلیغ رسالت‘ جلد ہفتم مصنفہ مرزا قادیانی)

قادیانی کے بڑے بھائی مرزا غلام قادر کے پاس ۱۹ جون ۱۸۷۶ء تعزیتی کلمات کے بعد لکھا گیا۔ مضمون پیش خدمت ہے:

Murtaza who was a great well faithful Chief of Government. In on of your family services, I will with the same respect as that on Father, I will keep in mind the welfare of your family when a

صفحہ 9

والد مرزا غلام مرتضیٰ گورنمنٹ کی نظر میں ایک وفادار اور خیر خواہ آدمی تھا۔ جن کو دربار انگریزی میں کرسی ملتی تھی اور جن کا ذکر مسٹر گریفن صاحب کی ” تاریخ رئیسان پنجاب“ میں ہے اور ۱۸۵۷ء میں انہوں نے اپنی طاقت سے بڑھ کر سرکار انگریز کو مدد دی تھی یعنی پچاس سوار اور گھوڑے بہم پہنچا کر عین زمانہ غدر کے وقت سرکار انگریزی کی امداد میں دیئے تھے۔ پھر میرے والد صاحب کی وفات کے بعد میرا بڑا بھائی مرزا غلام قادر خدمات سرکاری میں مصروف رہا اور جب تموں کی گزرگاہ پر مفسدوں کا سرکار انگریزی کی فوج سے مقابلہ ہوا تو سرکار انگریزی کی طرف سے لڑائی میں شریک تھا“ (کتاب البریہ‘ اشتہار مورخہ ۲۰ ستمبر ۱۸۹۷ء‘ ص ۳‘ مصنفہ مرزا قادیانی)

جس کی نسبت گورنمنٹ نے ایک مدت دراز سے قبول کیا ہوا ہے کہ وہ خاندان اول درجہ پر سرکار دولت مدار انگریزی کا خیر خواہ ہے“ (مرزا قادیانی کی لیفٹیننٹ گورنر بہادر کے حضور درخواست مندرجہ تبلیغ رسالت‘ جلد ہفتم۔ ص ۸-۹-۱۱‘ مولفہ میر قاسم علی قادیانی)

ہم نے سرکار انگریزی کی راہ میں اپنا خون بہانے اور جان دینے سے بھی کبھی دریغ نہیں کیا“ (تبلیغ رسالت‘ جلد ہفتم مصنفہ مرزا قادیانی)

قادیانی کے بڑے بھائی مرزا غلام قادر کے پاس ۱۹ جون ۱۸۷۶ء کو جو مراسلہ بھیجا‘ اس میں تعزیتی کلمات کے بعد لکھا گیا۔ مضمون پیش خدمت ہے:

“Ghulam Murtaza who was a great well wisher and faithful Chief of Government. In consideration of your family services, I will esteem you with the same respect as that on your loyal father, I will keep in mind the restoration welfare of your family when a

صفحہ 11

favourable opportunity occurs" ترجمہ : ”مرزا غلام مرتضیٰ سرکار انگریزی کا اچھا خیر خواہ اور وفادار رئیس تھا‘ آپ کے خاندان کی خدمات کو مد نظر رکھتے ہوئے ہم آپ کی بھی اسی طرح عزت کریں گے‘ جس طرح تمہارے وفادار باپ کی کی جاتی تھی۔ ہم کو اچھے موقع کے نکلنے پر تمہارے خاندان کی بہتری اور پابجائی کا خیال رہے گا“ (المرقوم ۲۹ جنوری ۱۸۷۶ء کتاب البریہ‘ مصنفہ مرزا قادیانی)

قادیان‘ بصد شوق ملاقات واضح ہو کہ پچاس گھوڑے مع سواران زیر افسری مرزا غلام قادر برائے امداد سرکاری و سرکوبی مفسدان مرسلہ آن مشفق ملاحظہ سے گزرے۔ ہم اس ضروری امداد کا شکریہ ادا کر کے وعدہ کرتے ہیں کہ سرکار انگریزی آپ کی اس وفاداری اور جاں نثاری کو ہرگز فراموش نہ کرے گی۔ آن مشفق اس مراسلہ کو ہمراہ اظہار خدمات سرکار اپنے پاس رکھیں تاکہ آئندہ افسران انگریزی کو آپ کے خاندان کی خدمات کا لحاظ رہے۔ فقط

(الراقم مسٹر جیمس نسبٹ صاحب بہادر ڈپٹی کمشنر ضلع گورداسپور دستخط بحروف انگریزی ۵۷ء مقام گورداسپور

خاکسار عرض کرتا ہے کہ مرزا غلام مرتضیٰ صاحب حضرت صاحب کے والد ماجد تھے جنہوں نے ۱۸۵۷ء کے غدر کے موقعہ پر اپنی گرہ سے پچاس گھوڑے اور ان کا سارا ساز و سامان مہیا کر کے اور پچاس سوار اپنے عزیزوں اور دوستوں سے تیار کر کے سرکار کی امداد کے لیے پیش کیے تھے۔

از پیش گاہ مسٹر جیمس نسبٹ (صاحب بہادر) ڈپٹی کمشنر ضلع گورداسپور دستخط بحروف انگریزی (مہر دفتر ڈپٹی کمشنر گورداسپور)

عزیز القدر مرزا غلام قادر ولد مرزا غلام مرتضیٰ رئیس قادیان۔ بمقابلہ باغیاں ناعاقبت اندیش ۵۷ء آں عزیز القدر نے بمقام میرتھل اور ترموں

گھاٹ جو شجاعت اور وفاداری سرکار انگریزی کی طرف سے ہو کر ن اور افسران ملٹری بدل خوش ہیں۔ ضلع گورداسپور کے رئیسوں میں کے خاندان نے سب سے بڑھ کر وفاداری ظاہر کی ہے۔ آپ کے سرکار انگریزی کے افسران کو ہمیشہ مشکوری کے ساتھ خیال رہے وفاداری کے ہم اپنی طرف سے آن عزیز القدر کو یہ سند بطور خوشن ہیں۔

المرقوم یکم اگست ۱۸۵۷ء

خاکسار عرض کرتا ہے کہ مرزا غلام قادر صاحب حضرت مسیح حقیقی بھائی تھے جو حضرت صاحب سے چند سال بڑے تھے اور ۱۸۸۳ء دستخط بحروف انگریزی جنرل نکلسن بہادر

تہور پناہ شجاعت دستگاہ مرزا قادر خلف مرزا غلام مرتضیٰ رئیس ”چونکہ آپ نے اور آپ کے خاندان نے بمقابلہ باغیاں بدخواہ سرکاری انگریزی غدر ۱۸۵۷ء میں بمقام ترموں گھاٹ و میر ت اور جاں نثاری سے مدد دی ہے۔ اور اپنے آپ کو سرکار انگریزی ہے اور اپنے طور پر پچاس سوار معہ گھوڑوں کے بھی سرکار کی مدد ا کے واسطے امداد دیے ہیں۔ اس واسطے حضور ایں جناب کی طر وفاداری اور بہادری کے پروانہ ہٰذا سنداً آپ کو دے کر لکھا جاتا ہ رکھو۔ سرکار انگریزی اور اس کے افسران کو ہمیشہ آپ کی خدمات ا نثاری پر جو آپ نے سرکار انگریزی کے واسطے ظاہر کیے ہیں‘ احسن رہے گا اور ہم بھی بعد سرکوبی و انتشار مفسدان آپ کے خاندان کوشش کریں گے اور ہم نے مسٹر نسبٹ صاحب ڈپٹی کمشنر گورداسپور کی طرف توجہ دلا دی ہے۔ فقط

المرقوم اگست ۱۸۵۷ء Ghulam Murtaza Khan.

صفحہ 11

گھاٹ جو شجاعت اور وفاداری سرکار انگریزی کی طرف سے ہو کر ظاہر کی ہے، اس سے ہم اور افسران ملٹری بدل خوش ہیں۔ ضلع گورداسپور کے رئیسوں میں سے اس موقعہ پر آپ کے خاندان نے سب سے بڑھ کر وفاداری ظاہر کی ہے۔ آپ کے خاندان کی وفاداری کا سرکار انگریزی کے افسران کو ہمیشہ مشکوری کے ساتھ خیال رہے گا۔ یہ بصلہ اس وفاداری کے ہم اپنی طرف سے آن عزیز القدر کو یہ سند بطور خوشنودی مزاج عطا فرماتے ہیں۔

المرقوم یکم اگست ۱۸۵۷ء

خاکسار عرض کرتا ہے کہ مرزا غلام قادر صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حقیقی بھائی تھے جو حضرت صاحب سے چند سال بڑے تھے اور ۱۸۸۳ء میں فوت ہوئے۔

دستخط بحروف انگریزی جنرل نکلسن بہادر

تہور پناہ شجاعت دستگاہ مرزا غلام قادر خلف مرزا غلام مرتضیٰ رئیس قادیان

”چونکہ آپ نے اور آپ کے خاندان نے بمقابلہ باغیان بد اندیش و مفسدان بدخواہ سرکاری انگریزی غدر ۱۸۵۷ء میں بمقام ترموں گھاٹ و میرتھل وغیرہ نہایت دلیری اور جاں نثاری سے مدد دی ہے۔ اور اپنے آپ کو سرکار انگریزی کا پورا وفادار ثابت کیا ہے اور اپنے طور پر پچاس سوار معہ گھوڑوں کے بھی سرکار کی مدد اور مفسدوں کی سرکوبی کے واسطے امداد دیے ہیں۔ اس واسطے حضور ایں جناب کی طرف سے بنظر آپ کی وفاداری اور بہادری کے پروانہ ہٰذا سنداً آپ کو دے کر لکھا جاتا ہے کہ اس کو اپنے پاس رکھو۔ سرکار انگریزی اور اس کے افسران کو ہمیشہ آپ کی خدمات اور ان حقوق اور جاں نثاری پر جو آپ نے سرکار انگریزی کے واسطے ظاہر کیے ہیں، احسن طور پر توجہ اور خیال رہے گا اور ہم بھی بعد سرکوبی و استیصال مفسدان آپ کے خاندان کی بہتری کے واسطے کوشش کریں گے اور ہم نے مسٹر نسبٹ صاحب ڈپٹی کمشنر گورداسپور کو بھی آپ کی خدمات کی طرف توجہ دلا دی ہے۔ فقط

المرقوم اگست ۱۸۵۷ء

Mirza Ghulam Murtaza Khan.

صفحہ 13

Chief Of Qadn.

As you rendered great help in enlisting sowars and supplying horses to Government the Mutiny of 1857 and maintained loyalty since begining up-to-date and thereby gained the favour of the Government a khilat worth Rs.200/= is presented you in recognition of good services and as a reward for your loyalty.

Moreover in accordance with the wishes of Chief Commissioner as conveyed in his No.576, dated 10th August, 1858, this parwana is addressed to you as a token of satisfaction of Government for your fidelity and repute.

Financial Commissioner Punjab.

تہور و شجاعت دستگاہ مرزا غلام مرتضیٰ رئیس قادیان بعافیت باشند از آنجا کہ ہنگام مفسدہ ہندوستان موقوعہ ۱۸۵۷ء از جانب آپ کے رفاقت و خیر خواہی و مدد دہی سرکار دولت مدار انگلیشیہ در باب نگہداشت و بہم رسانی اسپان بخوبی منصہ ظہور پہنچی اور شروع مفسدے سے آج تک آپ بدل ہوا خواہ سرکار رہے۔ اور باعث خوشنودی سرکار ہوا۔ لہٰذا بتعلق اس خیر خواہی اور خیر سگالی کے خلعت مبلغ دو صد روپیہ سرکار سے آپ کو عطا ہوتا ہے۔ اور حسب منشا چٹھی صاحب کمشنر بہادر نمبر ۵۷۶ مورخہ ۱۸۵۸ء پروانہ ہذا باظہار

خوشنودی سرکار و نیک نامی و وفاداری بنام آپ لکھا جاتا ہے۔

دوستان م مسلمانو! یہ خاندانی غدار ۔۔۔۔۔ یہ نسلی غدار ۔۔۔۔۔ کے خلاف پوری قوتوں سے مصروف ہیں اور یہ لوگ ہوئے ہیں ۔۔۔۔۔ اور ملک کو تاریک گڑھوں کی طرف لے مسلمانو! ہر قادیانی کا مذہبی عقیدہ ہے ۔۔۔۔۔ کہ بھارت بنے گا۔ ۔۔۔۔۔ اس لیے ہر قادیانی پاکستان کا غدار ، کے لیے خطرہ ہے ۔۔۔۔۔ جب تک پاکستان میں قادیانی موجو پاکستان کو استحکام نہیں مل سکتا ۔۔۔۔۔ پاکستان میں امن و سکون قائم نہیں ہو سکتا ۔۔۔۔۔ پاکستان میں فرقہ واریت کی جنگ ختم نہیں ہو سکتی پاکستان میں اسلامی نظام قائم نہیں ہو سکتا ۔۔۔۔۔ پاکستان میں دہشت گردی ختم نہیں ہو سکتی ۔۔۔۔۔ پاکستان بیرونی طاقتوں کے ہاتھوں کھلونا بننے سے نہی کسی گاؤں کے کنوئیں میں کتا مر گیا۔ ۔۔۔۔۔ لوگ گا آئے اور سارا ماجرا سنایا ۔۔۔۔۔ مولوی صاحب نے لوگوں دو ۔۔۔۔۔ لوگوں نے سارا پانی نکال دیا ۔۔۔۔۔ پانی نکالنے کے کے پاس آئے۔ ۔۔۔۔۔ اور انہیں بتایا ۔۔۔۔۔ کہ ہم نے سارا پا میں جو نیا پانی آیا ہے ۔۔۔۔۔ اس میں سے یہ پیالہ بھر کر آپ سے پہلے آپ پانی پیئیں اور اس کے بعد ہمیں پینے کی اجاز

صفحہ 13

Chief Of Qadn. As you rendered sowars and supplyin the Mutiny of 1857 since begining up- gained the favour khilat worth Rs.200 recognition of good for your loyalty.

Moreover in acc of Chief Commissio No.576, dated 10th parwana is addresse satisfaction of Gover and repute.

F

ئیس قادیان بعافیت باشندہ از آنجا کہ ہنگام پ کے رفاقت و خیر خواہی و مدد دی سرکار اسپان بخوبی منصہ ظہور پہنچی اور شروع رہے۔ اور باعث خوشنودی سرکار ہوا۔ مبلغ دو صد روپیہ سرکار سے آپ کو عطا ہوتا نمبر ۵۷۶ مورخہ ۱۸۵۸ء پروانہ ہذا باظہار

خوشنودی سرکار و نیک نامی وفاداری بنام آپ لکھا جاتا ہے۔

مرقومہ تاریخ ۲۰ ستمبر ۱۸۵۸ء نقل مراسلہ فنانشل کمشنر پنجاب مشفق مہربان دوستان مرزا غلام قادر رئیس قادیان حفظہ

مسلمانو! یہ خاندانی غدار ۔۔۔۔۔ یہ نسلی غدار ۔۔۔۔۔ آج بھی اسلام اور ملت اسلامیہ کے خلاف پوری قوتوں سے مصروف ہیں اور یہ لوگ کلیدی اور حساس عہدوں پر بیٹھے ہوئے ہیں ۔۔۔۔۔ اور ملک کو تاریک گڑھوں کی طرف لے جا رہے ہیں۔

مسلمانو! ہر قادیانی کا مذہبی عقیدہ ہے ۔۔۔۔۔ کہ پاکستان ٹوٹ جائے گا ۔۔۔۔۔ اکھنڈ بھارت بنے گا ۔۔۔۔۔ اس لیے ہر قادیانی پاکستان کا غدار ہے ۔۔۔۔۔ ہر قادیانی کا وجود پاکستان کے لیے خطرہ ہے ۔۔۔۔۔ جب تک پاکستان میں قادیانی موجود ہیں ۔۔۔۔۔

پاکستان کو استحکام نہیں مل سکتا ۔۔۔۔۔ پاکستان میں امن و سکون قائم نہیں ہو سکتا ۔۔۔۔۔ پاکستان میں فرقہ واریت کی جنگ ختم نہیں ہو سکتی ۔۔۔۔۔ پاکستان میں اسلامی نظام قائم نہیں ہو سکتا ۔۔۔۔۔ پاکستان میں دہشت گردی ختم نہیں ہو سکتی ۔۔۔۔۔ پاکستان بیرونی طاقتوں کے ہاتھوں کھلونا بننے سے نہیں بچ سکتا ۔۔۔۔۔

کسی گاؤں کے کنوئیں میں کتا مر گیا ۔۔۔۔۔ لوگ گاؤں کے مولوی صاحب کے پاس آئے اور سارا ماجرا سنایا ۔۔۔۔۔ مولوی صاحب نے لوگوں سے کہا کہ کنوئیں کا سارا پانی نکال دو ۔۔۔۔۔ لوگوں نے سارا پانی نکال دیا ۔۔۔۔۔ پانی نکالنے کے بعد لوگ دوبارہ مولوی صاحب کے پاس آئے ۔۔۔۔۔ اور انہیں بتایا ۔۔۔۔۔ کہ ہم نے سارا پانی نکال دیا ہے ۔۔۔۔۔ اور کنوئیں میں جو نیا پانی آیا ہے ۔۔۔۔۔ اس میں سے یہ پیالہ بھر کر آپ کے لیے لائے ہیں ۔۔۔۔۔ کہ سب سے پہلے آپ پانی پیئیں اور اس کے بعد ہمیں پینے کی اجازت دیں ۔۔۔۔۔ مولوی صاحب نے

صفحہ 14

پانی پینے کے لیے پیالہ منہ کے قریب کیا۔۔۔۔۔ تو انہوں نے دیکھا۔۔۔۔۔ کہ پیالے میں کتے کے بال تیر رہے ہیں۔۔۔۔۔ مولوی صاحب نے پیالہ پرے رکھ دیا۔۔۔۔۔ اور لوگوں سے پوچھا "کیا تم نے کنوئیں کا سارا پانی نہیں نکالا تھا؟

"سارا پانی نکال کر باہر پھینک دیا تھا؟" سب نے جواب دیا۔

"کتا کہاں پھینکا تھا" مولوی صاحب نے پوچھا۔

"کتا تو کنوئیں میں ہی پڑا ہے۔ کتے کے بارے میں تو آپ نے کچھ کہا ہی نہیں تھا" سادہ لوح لوگوں نے جواب دیا۔

مولوی صاحب ان کی اس سادہ لوحی پر پیچ و تاب کھا کر رہ گئے۔۔۔۔۔

عزیز مسلمانو! انگریز جاتے ہوئے پاکستان کے کنوئیں میں "قادیانیت" کا کتا پھینک گیا ہے جس سے پورے ملک کی آب و ہوا میں بدبو و تعفن پھیلا ہوا ہے۔۔۔۔۔ ہم بار بار بدبو سے تنگ آ کر کنوئیں کا سارا پانی تو بار بار نکالتے ہیں۔۔۔۔۔ لیکن قادیانیت کا کتا نہیں نکالتے۔۔۔۔۔ ہم ہزار جتن کر لیں۔۔۔۔۔ جب تک یہ کتا پاکستان کے کنوئیں سے نہیں نکلے گا۔۔۔۔۔ پاکستان کی آب و ہوا کبھی صاف نہیں ہوگی۔۔۔۔۔

آؤ مسلمانو! اپنے اتحاد کی قوت سے اس کتے کو کنوئیں سے نکال کر برطانیہ کی گود میں پھینک دیں۔۔۔۔۔ تاکہ کتا اپنے مالک کے پاس واپس چلا جائے۔۔۔۔۔ اور ہم کتے کی نجاست سے بچ جائیں۔۔۔۔۔!!!

خاکپائے مجاہدین ختم نبوت محمد طاہر رزاق بی ایس سی، ایم اے (تاریخ) 2 مارچ 2000ء لاہور

صفحہ 15

آؤ! اپنے حصہ کا چراغ جلائیں

قادیانی اس مادر گیتی سے اسلام کی روشنی ختم کر کے کفر کے اندھیروں کو پھیلانے کے شیطانی منصوبے پر بڑی شدت سے عمل پیرا ہیں۔ اس خطرناک صورت حال میں ہر مسلمان کا فرض بنتا ہے کہ وہ اپنے حصہ کا اسلام کا چراغ روشن کرے۔

یہ چراغ کہاں روشن کیے جائیں؟ یہ چراغ اپنے مکانوں میں ...... اپنی گلیوں میں ...... اپنے محلوں میں ...... اپنی بستیوں میں ...... اپنے قصبات میں ...... اپنے شہروں میں ...... اپنے ملکوں ...... میں روشن کیے جائیں۔

تاکہ قادیانیت کے اندھیروں میں کسی کا ایمان لٹ نہ سکے۔ کوئی مرتد نہ ہو جائے ...... کسی کا ناطہ رسول رحمت ﷺ سے کٹ نہ جائے۔ ورنہ کل ہمیں اللہ کے دربار میں لٹنے والوں کے ایمان کا حساب دینا ہو گا۔

آئیے ہم سب ملکر اپنے اپنے حصے کا چراغ روشن کریں۔ اللہ پاک ہماری دنیا و آخرت روشن کر دے گا۔ (آمین)

خاکپائے مجاہدین ختم نبوت الحاج محمد نذیر مغل

صفحہ 17

نقاب کشائی ---- حقیقت آشنائی

اکیسویں صدی نے آنکھیں کھولیں تو پہلے ہی مہینے کی نبضیں ڈوبنے سے پہلے مجھے دفتر (نوائے وقت) میں فون آیا حمید اصغر مجید سے ملنا ہے۔۔۔۔۔ جی میں بول رہا ہوں۔۔۔۔ مجید صاحب السلام علیکم۔ میں محمد طاہر رزاق۔۔۔۔۔ وعلیکم السلام و رحمتہ اللہ و برکاتہ۔ جی طاہر رزاق صاحب۔۔۔۔ یہ ابتدائی گفتگو تھی۔ طاہر رزاق فون پر صوتی اعتبار سے میرے لیے نیا نام تھا۔ صحافی ہوں ۵۰ برس سے قلم کی محنت ہی میرا معاش ہے۔ صحافی کا دماغ کمپیوٹر کی طرح ہوتا ہے۔ یادداشت کا متعلقہ نمبر دبائیے، بات لوح حافظہ پر ابھر آئے گی۔۔۔ محمد طاہر رزاق صاحب سے کبھی مجلس تو نہ ہوئی تھی، دو ایک مرتبہ چلتے چلتے علیک سلیک ضرور ہوئی تھی۔ صرف اتنا یاد تھا کہ محمد طاہر رزاق پر اللہ تعالیٰ کا خاص کرم ہے۔ اس نوجوان کو اللہ تعالیٰ نے کوثر و تسنیم سے دھلا ہوا دل عطا کیا ہے جس کا غالب حصہ صرف محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں رچا بسا ہے۔ محمد طاہر رزاق نے ختم نبوت کے حوالے سے متعدد کتابیں بھی لکھی ہیں۔۔۔۔۔۔

یہ سب باتیں میرے ذہن کے کمپیوٹر نے یادداشت کی فلاپی میں ڈال دی تھیں۔ چند لمحوں میں یادداشت کی اسی دستگیری نے محمد طاہر رزاق صاحب سے ملاقات کا وقت طے کرنے میں مدد کی اور اسی روز بعد دوپہر ملاقات بھی ہو گئی جو قریباً ۹۰ منٹ پر محیط تھی۔ فرصت کا دامن وسیع ہوتا تو گفتگو پر بخیل ہونے کی تہمت نہ لگتی۔ بہر حال جتنی بات ہوئی، اسے ہی غنیمت جانا اور میں اپنا دامن خاتم النبیین امام الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فدائی (محمد طاہر رزاق) کی باتوں سے اپنے دامن کو اسی

طرح سجاتا رہا جس طرح ہمارے وطن عزیز پاکستان نوجوان لڑکیاں اپنی کسی سہیلی کی شادی کا لباس پہننے اور دھاگوں کی مینا کاری اور گل کاری سے مزین کرتی

محمد طاہر رزاق صاحب اپنے ساتھ ایک بڑا میں ان کی وہ ایک درجن کتابیں تھیں جو انہوں نے ایک ایک کتاب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی محـ تھی کہ مشک نافہ بھی پانی بھرتا نظر آ رہا تھا۔

محمد طاہر رزاق صاحب کا کمال یہ تھا کہ انہـ اللعالمین محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری نـ دلائل دیے ہیں کہ ایک طالب علم اپنے لیے سرمہ اہم خصوصیت یہ ہے کہ ان میں جعلی نبوت کا ڈھونگ تعاقب کیا اور بقول، کسی چور کو چور کے گھر تک پہنچا

در مضمون کوئی یوں گوندھ لے ایسے
سلیقہ انتہا کا چاہیے موتی پرونے

محمد طاہر رزاق صاحب کی کتابیں میرے سا دیکھ کر میں اپنے ذہن و خیال کو نئی توانائی و رعنائی کـ طاہر رزاق صاحب نے میرے سامنے اپنی زیر طبع کتا کتاب کا دیباچہ لکھنے کے لیے کہا۔

نحمدہ و نصلی علیٰ خاتم النبیین۔ بسم اللہ الرحـ تحفظ اگرچہ پوری ملت اسلامیہ پر فرض ہے لیکن اللہ اپنے بعض مخصوص بندوں کو اس سعادت سے نوازتا ادیب اور صحافی شامل ہیں۔ تاہم کچھ افراد ایسے ہیں جـ کے عشق میں جیتی جاگتی تصویر بن جاتے ہیں۔ آج محمد طاہر رزاق ان میں معتبر نام ہے۔ زیر نظر کتاب " کی تازہ ترین تصنیف ہے۔ مجھے اس نادر کتاب کا دیبـ

صفحہ 17

طرح سجاتا رہا جس طرح ہمارے وطن عزیز پاکستان کے ڈیرہ غازی خاں ڈویژن کی نوجوان لڑکیاں اپنی کسی سہیلی کی شادی کا لباس چھوٹے چھوٹے تاروں اور دلاویز رنگوں اور دھاگوں کی میناکاری اور گل کاری سے مزین کرتی ہیں۔

محمد طاہر رزاق صاحب اپنے ساتھ ایک بڑا سا ہینڈ بیگ بھی لائے تھے۔ اس میں ان کی وہ ایک درجن کتابیں تھیں جو انہوں نے گزشتہ عشرہ میں تحریر کی تھیں۔ ایک ایک کتاب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کی خوشبو سے اس طرح معطر تھی کہ مشک نافہ بھی پانی بھرتا نظر آ رہا تھا۔

محمد طاہر رزاق صاحب کا کمال یہ تھا کہ انہوں نے اپنی ہر کتاب میں رحمتہ اللعالمین محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری نبی ہونے کے حوالے سے ایسے دلائل دیئے ہیں کہ ایک طالب علم اپنے لیے سرمہ بصیرت پا لیتا ہے۔ ان کتابوں کی اہم خصوصیت یہ ہے کہ ان میں جعلی نبوت کا ڈھونگ رچانے والے قادیانیوں کا بھرپور تعاقب کیا اور بقول کسے چور کو چور کے گھر تک پہنچایا ہے

در مضمون کوئی یوں گوندھ لے اے شاد مشکل ہے
سلیقہ انتہا کا چاہیے موتی پرونے میں

محمد طاہر رزاق صاحب کی کتابیں میرے سامنے تھیں۔ ایک ایک کتاب کو دیکھ کر میں اپنے ذہن و خیال کو نئی توانائی اور رعنائی کی دولت سے مالا مال کر رہا تھا کہ طاہر رزاق صاحب نے میرے سامنے اپنی زیر طبع کتاب کا مسودہ رکھ دیا اور مجھے اس کتاب کا دیباچہ لکھنے کے لیے کہا۔

نحمدہ و نصلی علیٰ خاتم النبیین۔ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ دستار ختم نبوت کا تحفظ اگرچہ پوری ملت اسلامیہ پر فرض ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت بالغہ سے اپنے بعض مخصوص بندوں کو اس سعادت سے نوازا ہوا ہے۔ ان میں علماء، واعظ، ادیب اور صحافی شامل ہیں۔ تاہم کچھ افراد ایسے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق میں جیتی جاگتی تصویر بن جاتے ہیں۔ آج کے دور میں معروف قلم کار محترم محمد طاہر رزاق ان میں معتبر نام ہے۔ زیر نظر کتاب "قادیانی غداروں کی نشاندہی" ان کی تازہ ترین تصنیف ہے۔ مجھے اس نادر کتاب کا دیباچہ لکھنے کا فریضہ سونپا گیا ہے۔

صفحہ 18

میں روایتی کسر نفسی کا اظہار کرتے ہوئے یہ تو نہیں کہوں گا کہ میں اس کا اہل نہیں بلکہ میرا یقین کچھ مختلف ہے۔ اور وہ یہ کہ مجھے اللہ تعالیٰ کی رحمت کاملہ پر قطعی بھروسہ ہے۔ مجھے علم ہے کہ ”میں“ میں کچھ لکھ سکتا ہوں کہ نہیں۔ مجھے اس سے کچھ غرض نہیں۔ میں تو یہ جانتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ مجھے اپنی رحمت سے ضرور نوازیں گے۔ رب زدنی علما (اے اللہ میرے علم میں اضافہ فرما) میرا وظیفہ ہے اور جب میں یہ وظیفہ پڑھ کر لکھنا شروع کرتا ہوں تو غیب سے مضامین آنا شروع ہو جاتے ہیں۔ زیر نظر کتاب جعلی نبوت کا ڈھونگ رچانے والے قادیانیوں کے بارے میں ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے قلم میں اتنی طاقت اور روانی عطا کریں گے کہ یہ در ثمین بن جائے گا۔

”قادیانی غداروں کی نشاندہی“ اچھوتا موضوع ہے۔ اور میں ایسا محسوس کرتا ہوں کہ محمد طاہر رزاق صاحب اب اصل موضوع کی طرف آئے ہیں۔ مرض کا علاج بھی اسی وقت ممکن ہے جب مرض کی نشاندہی ہو جائے۔ تحفظ ختم نبوت کے حوالے سے ۱۹۵۳ء کی تحریک ہو یا سیالکوٹ کے عالم دین اسلم قریشی کا اغواء‘ اللہ تعالیٰ نے ہر موقعہ پر اس نابکار سے کام لیا ہے اور میں بطور صحافی فرض کفایہ ادا کرتا ہی رہا ہوں۔ اب یہ نئی کتاب کا مسودہ سامنے آیا ہے تو میرے لیے خبر تلاش کرنے کی عادت کے اعتبار سے سب سے پہلا سوال یہ ابھرا ہے کہ جس شخص نے مجھے اس کتاب کا دیباچہ لکھنے کے لیے کہا ہے‘ وہ خود کیا ہے۔ میں نے اس شخص (محمد طاہر رزاق صاحب) کے بارے میں سوچا تو اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ نور بصیرت سے میں نے اسے ممتاز مقام پر فائز پایا۔ اس کے بعد عنوان پر غور کیا تو دینی اعتبار سے اس میں نئی لذت پائی اور میں نے محسوس کیا کہ اس کتاب کا دیباچہ لکھنا میدان حشر میں شفیع المذنبین صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہ التفات متوجہ کرنے کے مترادف ہے۔ ان دونوں باتوں کے بعد اب سوال صرف یہ ہے کہ جن غداروں کی نشاندہی کے لیے کہا گیا ہے‘ وہ غدار کس کے ہیں؟ جواب سیدھا سادا ہے۔ وہ اسلام کے غدار ہیں۔ اسلام کے غدار کیوں ہیں؟ کیونکہ انہوں نے ایوان نبوت میں نقب لگائی ہے۔ یہ ایوان نبوت کیا ہے؟ یہ اللہ کے رسولؐ کا منصب و مرجع ہے۔ یہ اللہ کے رسولؐ کون ہیں؟ اس کا جواب اللہ کے نازل کردہ

صفحہ 19

قرآن مجید میں ہے۔ وہ جواب کیا ہے؟ وہ اللہ تعالیٰ ہی ارشاد فرماتے ہیں: محمد رسولؐ اللہ ---- (محمد اللہ کے رسولؐ ہیں) یعنی یہ بات کسی لمبی چوڑی بحث کے بغیر طے ہو گئی کہ محمدؐ اللہ کے رسول ہیں۔ اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا منصب کیا ہے؟ وہ بھی اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں خاتم النبیینؐ کہہ کر واضح کر دیا یعنی ان پر انبیاء کا سلسلہ ختم ہو گیا۔

یہ دو باتیں میں نے قرآن مجید کے حوالے سے عرض کیں۔ اب بطور صحافی میں اللہ کے نبی یعنی محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رجوع کرتا ہوں۔ خود رسول اکرمؐ کا فرمان ہے لا نبی بعدی اس فرمان پر ہر مکتب فکر کے علماء کا اتفاق ہے۔ اس فرمان کا مطلب ہے ”میرے بعد کوئی نبی نہیں“ اس واضح فرمان کے بعد بھی اگر کوئی شخص نبوت کا دعویٰ کرتا ہے تو اسے یا تو جھوٹا اور یا فاطر العقل ہی کہا جا سکتا ہے۔ اس سلسلے میں رسول اکرمؐ کی ایک اور حدیث کا حوالہ بھی بے جا نہ ہوگا کہ خود رسول اکرمؐ نے فرمایا کہ ایک عمارت اگرچہ بظاہر مکمل تھی مگر اس میں ایک اینٹ کی جگہ خالی تھی۔ پھر فرمایا وہ اینٹ میں ہوں۔ یہ بات بھی رسول اکرمؐ نے ختم نبوت کے حوالے سے ارشاد فرمائی۔

محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں اور قیامت تک اب کوئی نیا نبی نہیں آئے گا۔ اس سلسلے میں علماء کرام نے قرآن و حدیث ہی کے حوالے سے بہت کچھ کہا اور لکھا ہے۔ میں نے بطور صحافی خبر کی صرف بڑی بڑی سرخیاں پیش کی ہیں تاکہ ہر قلب سلیم میں جگہ پاسکیں۔

میری معروضات سے یہ بات حتمی طور پر واضح ہو گئی کہ رسول اکرم محمد مصطفےٰؐ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ اتنے واضح حقائق کے باوجود ہندوستان میں غلام احمد قادیانی نامی شخص نے نبی ہونے کا دعویٰ کیوں کیا؟ اس کی اصل وجہ معلوم کرنے کے لیے ہمیں انیسویں صدی کے واقعات پر نظر ڈالنا ہو گی۔ یہ واقعات کیا تھے اور جعلی نبی ہونے کا دعویٰ کرنے والے مرزا غلام احمد نے خود کیا اس سلسلے میں کوئی وضاحت کی ہے؟ تاریخی اعتبار سے یہ وضاحت موجود ہے۔ خود مرزا غلام احمد قادیانی نے کہا ہے کہ قادیانیت انگریزوں کا خود کاشتہ پودا ہے۔ مرزا

صفحہ 20

غلام احمد کے بیان کے بعد یہ کام اور بھی آسان ہو گیا اور اب صحیح سمت پر قدم اٹھایا جا سکتا ہے۔ مرزائیت جب انگریزوں کا خود کاشتہ پودا ہے تو پھر سوال یہ ہے کہ یہ انگریز کسے کہتے ہیں اور انگریزوں نے یہ پودا کیوں کاشت کیا؟

بیسویں صدی میں ہمارے یہاں برصغیر میں ہندوستان میں برطانیہ سے آئے گوروں کو جو مذہب کے اعتبار سے عیسائی تھے، انگریز کہلاتے ہیں۔ یہ لوگ برصغیر کے حکمران تھے۔ ان حکمرانوں کے آباؤ اجداد نے نہایت عیاری و مکاری سے کوئی تین سو برس قبل مغل حکمران جہانگیر کے دور میں ہندوستان کے ساحلی علاقوں میں تجارت کرنے کی اجازت مانگی تھی۔ جہانگیر ان دنوں اپنی اہلیہ نورجہاں کی زلفوں کا اسیر تھا اور مختلف شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ کاروبار حکومت کی عنان عملی طور پر اسی ایرانی قتالہ کے ہاتھوں میں تھی۔ جہانگیر درباریوں سے مشورہ کرتا، پھر اہلیہ کی طرف رجوع کرتا اور عام طور پر نورجہاں کا مشورہ نتیجہ خیز ثابت ہوتا۔

المختصر انگریزوں کو ساحلی علاقوں میں تجارت کرنے کی اجازت مل گئی۔ عشروں میں یہ تجارت پھیلتی گئی۔ انگریزوں نے ایسٹ انڈیا کمپنی کا ڈول ڈالا۔ اس تجویز کو بھی مغل فرمانرواؤں نے بے ضرر جان کر قبول کر لیا۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہی فیصلہ سلطنت کے قلب میں خنجر بن کر پیوست ہو گیا۔ اور انگریزوں نے ہندوستان کے بہت سے علاقوں پر قبضہ کر کے مغل سلطنت کو چند شہروں تک محدود کر دیا۔ حتیٰ کہ انیسویں صدی کے وسط میں اپنی باقاعدہ حکومت بھی قائم کر لی۔ اس دوران عوام نے بالخصوص علماء کرام نے بغاوت کر دی۔ یہ دراصل جنگِ آزادی تھی جسے ۱۸۵۷ء کے غدر کا نام دیا گیا۔ اس دوران انگریز حکمرانوں نے عوام کا قتل عام کیا۔ خاص کر مسلمانوں کو چن چن کر شہید کیا گیا اور علماء حق کو پکڑ پکڑ کر درختوں سے لٹکا دیا گیا۔ یہ انسانی درندگی کا بدترین دور تھا اور اس نے چنگیز و ہلاکو کی روح کو بھی شرمندہ کر دیا تھا۔ انگریزوں نے اس طرح برصغیر پر قبضہ کر لیا۔ اس کے لیے راستے کی رکاوٹ مسلمانوں کا وجود تھا۔ اسے ختم کرنے کے لیے اس نے مختلف جتن کیے۔ بالآخر غور و فکر کے بعد طے کیا کہ مسلمان صرف ختم نبوت کے مسئلے پر متفق ہیں اور وہ محمد مصطفیٰ کا نام آتے ہی اپنا تن من دھن سب کچھ نچھاور کر دیتے ہیں۔

صفحہ 21

انگریزوں کے لیے اب مسئلہ مسلمانوں کی وحدت کو ختم کرنا تھا۔ یہی وحدت ختم کرنے کے لیے انگریزوں نے مسلمان کے گھر جنم لینے والے ایک شخص غلام احمد کا انتخاب کیا اس کی سرپرستی کی۔ اس نے مجدد ہونے کا دعویٰ کیا، پھر وہ مہدی بن گیا اور آخر میں اس نے نبی ہونے کا دعویٰ کر دیا۔ اس جھوٹے نبی نے خود اپنی کتاب میں تحریر کیا کہ قادیانیت انگریزوں کا خود کاشتہ پودا ہے۔

مرزا غلام احمد قادیانی نے بار بار اعلان کیا کہ وہ انگریز حکومت کے وفادار ہیں۔ انگریزوں کے خلاف جہاد منسوخ کیا جاتا ہے۔ انگریز اولی الامر ہیں لہٰذا اس کی اطاعت کی جائے۔ اس اعلان کے ساتھ ساتھ چونکہ انگریز حکومت اس جعلی نبی، اس کے خانوادے اور ماننے والوں کی مکمل سرپرستی کر رہی تھی۔ اس لیے مرزا غلام احمد نے مرزائیت کو انگریزوں کا خود کاشتہ پودا کہا۔

انگریزوں نے اپنے وفاداروں اور قادیانیت کی تبلیغ کے لیے اخبارات کا رخ کیا۔ دہلی کے اخبارات جھوٹے نبی کو گھاس ڈالنے کے لیے تیار نہ تھے۔ کیونکہ مرزا غلام احمد کا تعلق ہی پنجاب سے تھا، پھر پنجاب کے اخبارات پر الفت و محبت کے ڈورے ڈالے گئے۔ اس وقت پنجاب کا سب سے بڑا اخبار زمیندار تھا۔ اس کے مالک اور ایڈیٹر مولانا ظفر علی خان تھے۔ مولانا ظفر علی خان بہت ہی بے باک، نڈر مسلمان شخصیت تھے۔ انہیں کسی لالچ کے ذریعے اپنے شیشے میں نہیں اتارا جا سکتا تھا۔ خوف ان کی چمڑی میں نہیں تھا۔ وہ اس روایت و حکایت کی جیتی جاگتی تصویر تھے کہ اللہ کے خوف کے بعد کسی اور کا خوف کیوں؟ چنانچہ اعلیٰ ترین سطح پر مرزا بشیر الدین کے ایما پر اخبار زمیندار کو زیر عتاب لانے کا منصوبہ بنایا گیا۔ مولانا ظفر علی خان اگرچہ اپنے جذبات و خیالات کے اعتبار سے انگریز دشمن تھے اور جس طرح امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کا وظیفہ تھا ”لعنت بر پدر فرنگ“ (انگریز کے باپ پر لعنت) اسی طرح مولانا ظفر علی خان اس وظیفہ کے حدی خواں تھے۔ انگریزوں نے زمیندار اخبار سے بار بار ضمانت مانگی۔ پریس کی ضبطی کے لیے بھی اقدام کیے گئے لیکن مولانا ظفر علی خان کے پائے استقلال میں لغزش نہ آئی۔

ایک مرتبہ اخبار زمیندار سے بھاری رقم بطور ضمانت طلب کی گئی۔ یہ مولانا

صفحہ 22

ظفر علی خاں کے بس کی بات نہ تھی۔ وہ لدھیانہ گئے اور مفتی محمد نعیم کی دو منزلی مسجد میں علماء کا اجلاس ہوا۔ مولانا حبیب الرحمٰن کی تجویز اور دوسرے علماء کی تائید سے اللہ کی رحمت و شفقت سے مزین قرآنی آیات کو تعویذ کی شکل میں شائع کیا گیا اور یہ تجویز دی کہ ایک روپے فی تعویذ کے حساب سے ضلع لدھیانہ اور ضلع جالندھر کے مختلف علاقوں میں فروخت کیا جائے۔ اس عظیم دو منزلی مسجد کے مدرس مولانا کرم الدین کے نواسے علی محمد کو مولانا ظفر علی کا رفیق بنایا گیا۔ چنانچہ یہ دونوں حضرات گاؤں گاؤں گئے اور جب واپس لاہور پہنچے تو زر ضمانت سے بھی زیادہ رقم مسلمانوں کے عطیات اور تعویذ کی فروخت سے حاصل ہوچکی تھی۔ یہاں یہ ذکر شاید بے محل نہ ہو کہ مولانا ظفر علی خاں کے ساتھی علی محمد راقم الحروف حمید اصغر مجید کے والد تھے۔

مولانا ظفر علی خان کے علاوہ پنجاب میں دوسرا بڑا صحافی آغا شورش کاشمیریؒ تھے۔ خود راقم الحروف کو برس ہا برس آغا شورش کے نائب کے طور پر ہفت روزہ ”چٹان“ میں کام کرنے کا موقع نصیب ہوا۔ میں نے دیکھا کہ جب بھی مرزائیوں کی کوئی سازش یا بات سامنے آئی تو آغا شورش کاشمیریؒ کا خون کھول اٹھتا۔ میں نے صحافیوں میں عشق رسالتؐ سے معمور اتنا بڑا صحافی کبھی نہ دیکھا تھا۔ چنانچہ انگریزوں اور مرزائیوں کو صحافت کے شعبے میں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔ یہ درست ہے کہ لاہور کے بعض دوسرے اخبارات طرح دار انداز میں مرزائیوں کے لیے نرم گوشہ رکھتے تھے لیکن وہ اپنی موت آپ مر گئے اور مرزائیوں سے رقم بٹورنے کے باوجود تاج و تخت ختم نبوتؐ کو نقصان نہ پہنچا سکے۔ مولانا ظفر علی خان اور آغا شورش کاشمیری کے بعد میں نے تیسرا صحافی مجید نظامی کی شکل میں دیکھا۔ مجید نظامی اس وقت عالم اسلام کے سب سے بڑے اور پوری دنیا کے پانچ بڑے صحافیوں میں سے ایک ہیں۔ یہ چودہ پندرہ برس پہلے کی بات ہے کہ مرزائیوں نے سیالکوٹ کے عالم دین مولانا محمد اسلم قریشی کو اغوا کر لیا۔ جب پہلا سال گزرا تو سیالکوٹ میں بہت بڑا جلسہ ہوا۔ سیالکوٹ کے اکابر محترم و مکرم مجید نظامی کو دعوت دینے آئے تھے مگر انہوں نے اپنی کسی ناگزیر پیشگی مصروفیت کی بنا پر معذرت کر دی اور میرا تعارف نہایت خوبصورت الفاظ میں

صفحہ 23

کراتے ہوئے کہا ”مجید صاحب آجائیں گے“ ان اکابر کو میرے بارے میں کافی کچھ معلوم تھا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور جب وہ لوگ چلے گئے تو محترم مجید نظامی نے مجھے کہا ”مجید صاحب——سچ مچ کے تقریر کرنی اے“ یہ شاندار اور جاندار الفاظ ہی نہیں تھے بلکہ اس وقت میں نے محترم مجید نظامی صاحب کی آنکھوں میں جو چمک اور لہجے میں گھن گرج دیکھی وہ میرے لیے آج بھی سرمۂ بصیرت اور تریاق القلب ہے۔ مجھے نوائے وقت سے منسلک ہوئے اس وقت (سن ۲۰۰۰ میں) ۳۱ برس ہو گئے ہیں۔ میں نے دیکھا، میں نے محسوس کیا اور میں علی وجہ البصیرت کہتا ہوں کہ مجید نظامی اس دور میں عشق رسالتؐ کے اعتبار سے ممتاز ترین صحافی ہیں۔ ان کی عملی زندگی بھی تقویٰ کی تصویر ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں صحت اور ایمان کے ساتھ لمبی عمر عطا کرے۔ سو میں نے پچاس برسوں میں یہ تین عظیم و جلیل صحافی دیکھے جو تحریص و ترغیب سے پاک تھے اور پاک ہیں۔ اس طرح اگرچہ اب انگریز نہیں مگر اس نصف صدی میں بھی قادیانی صحافت میں نقب نہیں لگا سکے۔ بے شک غدار آج بھی موجود ہیں مگر عوام میں ان کی پذیرائی نہیں ہے۔

انگریزوں کے دور میں قادیانیوں کی جو گت بنتی رہی، وہ سب کے سامنے ہے۔ قیام پاکستان کے بعد پاکستان کی پارلیمنٹ نے بھی متفقہ طور پر قادیانیوں کو کافر اور غیر مسلم قرار دیا۔ یہ ذوالفقار علی بھٹو کا کارنامہ تھا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے پارلیمانی اجلاس میں جب وزیر اعظم بھٹو نے اپنے رفقاء کی رائے طلب کی تو ہر ایک نے اپنے اپنے انداز میں محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا اظہار کیا۔ اس ایوان میں فیصل آباد کے رکن محمد افضل رندھاوا نے جو عام طور پر ”ترقی پسند“ سمجھے جاتے تھے، پوری بلند آواز سے کہا ”سر——اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم نہیں تو پھر باقی کیا ہے“ ان کی اس تقریر سے مجھے بھی احباب نے مبارک باد دی تھی کیونکہ وہ میری چھوٹی بہن عائشہ رندھاوا سینئر لیکچرر زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے شریک حیات ہیں۔ بہرحال یہ عجیب منظر تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی جس کے ارکان کی اکثریت کے بارے میں منفی رد عمل پایا جاتا تھا، ختم نبوت کے معاملے میں یک جان تھے اور ہر کوئی عشق رسالتؐ میں دیوانہ بن چکا تھا۔ یہی معاملہ جب پارلیمنٹ میں پیش ہوا تو قادیانیوں کے سربراہ مرزا ناصر

صفحہ 24

احمد کو مکمل آزادی سے کہنے سننے کا موقع دیا گیا اور ایوان میں بیٹھے قادیانی ندامت اور شرمندگی کے پسینے سے شرابور مرزا غلام احمد کی جعلی نبوت کا دفاع نہ کر سکے اور قومی اسمبلی نے اتفاق رائے سے قادیانیوں کو غیر مسلم اور کافر قرار دے دیا۔ جیسا کہ میں نے لکھا یہ بھٹو کا کارنامہ تھا۔ اس کے بعد جنرل ضیاء الحق نے قانون سازی کی اور قادیانیوں کے نئے سربراہ مرزا طاہر احمد کو پاکستان چھوڑ کر لندن کی طرف بھاگنا پڑا۔ اس طرح ”پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا“۔

ان تمام حقائق سے معلوم ہوا کہ جس شخص کے دل میں ایمان کا ذرہ برابر نور موجود ہے وہ اسلام کا غدار نہیں ہو سکتا۔ اب رہ جاتا ہے کہ پھر غدار کون ہے؟ اس سلسلے میں میرا موقف واضح ہے کہ غدار خود قادیانی ہیں۔ وہ اسلام کے غدار ہیں۔ یہ غدار پاکستان کے ہر محکمے میں موجود ہیں۔ جس جس محکمے میں یہ لوگ کام کر رہے ہیں اور جس جس نجی شعبے میں سرگرداں ہیں وہ ڈھکے چھپے نہیں۔ ان کے ساتھی ملازم اور رفقاء کار بتا سکتے ہیں کہ یہ قادیانی ہے۔ اور جو بھی قادیانی ہے وہ بلا استثنیٰ اسلام کا غدار ہے۔ اس لیے ان غداروں کی نشاندہی ہر مسلمان پر فرض ہے۔

میں آخر میں محترم و مکرم طاہر رزاق کو ایک مرتبہ پھر دل کی گہرائیوں سے ہدیہ تبریک پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے تحقیق و تدقیق کے بعد اتنی جلیل الشان کتاب تالیف کی۔ جو انشاء اللہ آخرت میں ان کے لیے بہترین توشہ ثابت ہوگی۔

طالب دعا حمید اصغر مجید نیوز ایڈیٹر روزنامہ ”نوائے وقت“ لاہور ۳ مارچ ۲۰۰۰ء

صفحہ 25

ایوان صدر میں قادیانی

م - ب خالد

ایک صاحب عبدالوحید تھے۔ تعلیم میٹرک تک تھی۔ انہیں وائسرائے ہاؤس دہلی میں چوہدری سر محمد ظفر اللہ خان نے کلرک بھرتی کروایا تھا۔ برصغیر کی تقسیم کے وقت پاکستان OPT کرنے والا عملہ کراچی پہنچا تو عبدالوحید سب کلرکوں میں سینیئر قرار پائے۔ چوہدری صاحب نے جو وزیر خارجہ تھے، اعانت فرمائی اور عبدالوحید گورنر جنرل کے سیکرٹریٹ میں سپرنٹنڈنٹ بنا دیے گئے۔

۱۹۵۵ء میں میجر جنرل سکندر مرزا تشریف لائے تو اسسٹنٹ سیکرٹری فرخ امین کو، جنہیں قائد اعظم کے پی۔ اے ہونے کا اعزاز حاصل رہا تھا اور بعد میں خواجہ ناظم الدین اور غلام محمد کے منظور نظر رہے تھے ۔ ٹرانسفر کر دیا گیا۔ ان کی جگہ عبدالوحید کو اسسٹنٹ سیکرٹری بنایا گیا۔ اب کی دفعہ اس کی سفارش چوہدری صاحب نے ہیگ (ہالینڈ) سے کی تھی جہاں وہ بین الاقوامی عدالت کے جج کے عہدہ جلیلہ پر متمکن تھے۔

اگرچہ وحید کا شمار سکندر مرزا کے ذاتی سٹاف میں ہونے لگا تھا تاہم ضروری تربیت نہ ہونے کے سبب عبدالوحید کی ذمہ داریاں دفتری عملے تک محدود رہیں۔

یہ شخص کٹر قادیانی تھا۔ اسے چوہدری سر محمد ظفر اللہ خان کی سرپرستی حاصل تھی۔ اس کے علاوہ ایم ایم احمد (ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن) اور بھٹو دور میں ملک گیر شہرت پانے والے اسٹیبلشمنٹ سیکرٹری وقار احمد (جو رشتے میں عبدالوحید کے بھانجے تھے) عبدالوحید کے مربی اور نگران کے فرائض انجام دے رہے تھے۔ عبدالوحید کے ایوان صدر میں موجود ہونے کے سبب قادیانی جماعت کے امیر اور خلیفہ مرزا ناصر احمد ربوہ سے تشریف لاتے تو

صفحہ 26

عبدالوحید کو میزبانی کا شرف بخشا کرتے اور عبدالوحید ہمیں فخر سے بتایا کرتا۔ فرخ امین نے عبدالوحید کو اس کے مقام پر رکھا ہوا تھا۔ فرخ امین چلا گیا تو عبدالوحید نے پر پرزے نکالے اور خوب نکالے کیونکہ قدرت اللہ شہاب طبیعت کی نرمی کی وجہ سے عبدالوحید کو لگام ڈالنے کی پوزیشن میں نہیں تھے۔

قائد اعظم کے مزار کی تعمیر کا مسئلہ التوا میں چلا آ رہا تھا۔ تعمیر کی غرض سے خطیر رقم ایوان صدر کی تحویل میں تھی۔ عبدالوحید نے اس رقم میں اضافہ کرنے کے بہانے شہاب صاحب کو قائل کر کے اس رقم سے مزار کے لیے مختص شدہ سرکاری قطعہ زمین پر دکانیں تعمیر کروائیں، جسے شبینہ مارکیٹ کا نام دیا گیا۔

یہ مارکیٹ آدھی رات تک کھلی رہتی تاکہ سارا دن مصروف رہنے والے لوگ رات کو شاپنگ کر سکیں۔ اس مارکیٹ کی تعمیر میں عبدالوحید نے صرف ایک آفس اسسٹنٹ مرزا عبدالرحمٰن کو اپنے ساتھ رکھا۔ تیسرے کسی شخص کو علم نہ ہونے دیا کہ ٹھیکے دار کون ہے؟ انجینئر کون ہے؟ دکانیں کون الاٹ کرتا ہے؟ کرایہ کون وصول کرتا ہے؟ حساب کتاب کون رکھتا ہے؟ وغیرہ وغیرہ۔ بس ایک عبدالوحید اور دوسرا مرزا عبدالرحمٰن۔

مرزا عبدالرحمٰن خود بڑا آزاد خیال مشہور تھا۔ البتہ اس کا والد آنجہانی مولوی عمر دین مشہور قادیانی مبلغ اور قادیانی جماعت کے بانی آنجہانی مرزا غلام احمد کا قریبی دوست تھا۔ گویا قادیانیوں کے مطابق مولوی عمر دین "صحابی" کے درجہ پر فائز تھا۔

یہ مارکیٹ خوب چلائی گئی۔ شام کے بعد عبدالوحید اور مرزا عبدالرحمٰن وہیں اپنا دفتر بھی لگاتے۔ عبدالوحید کے بقول ایک طرف قائد اعظم میموریل فنڈ میں خاطر خواہ اضافہ ہوا تو دوسری طرف سرکاری زمین غیر قانونی تجاوزات سے محفوظ رہی۔

جب دارالحکومت کراچی سے راولپنڈی منتقل ہوا تو عبدالوحید کو راولپنڈی آنا پڑا۔ مگر اس نے مرزا عبدالرحمٰن کو کراچی شبینہ مارکیٹ میں اپنا نمائندہ بنا کر چھوڑ دیا۔ چند ماہ بعد محسوس ہوا کہ سیٹھ صاحب کے منیجر کے بجائے مرزا قادیانی خود سیٹھ بن بیٹھے ہیں تو عبدالوحید نے مارکیٹ بند کروا کر بلڈوزر چلوا دیے۔ عبدالوحید نے نام بھی کمایا اور دام بھی۔ اس کے ساتھ کاروبار کا تجربہ حاصل ہوا اور مونچھوں کو خون بھی لگ گیا۔

اچھے کاموں کا شوق ہو تو اللہ تعالیٰ اچھے اسباب پیدا کر دیتا ہے۔ نیت بری ہو تو خدا

صفحہ 27

ڈھیل دیے جاتا ہے تاکہ اتنی ڈھیل اور رسی اتنی دراز ہونے کے بعد مشکیں کسنے کا وقت آئے تو رسی کم نہ پڑ جائے۔

ایوب خان تشریف لاچکے تھے اور مزار قائد کی تعمیر ایوب خاں کی پہلی ترجیحات میں سے تھی۔ ابتدائی مراحل کے بعد تعمیر شروع ہوئی۔

عبد الوحید پہنچ گئے۔ قدرت اللہ شہاب کی خدمت میں عرض کی کہ جناب پی ڈبلیو ڈی اور دوسرے ادارے بڑا گھپلا کرتے ہیں۔ اس لیے میٹریل کی سپلائی ہمیں اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہیے۔ سنگ مرمر مردان اور ملاگوری سے مہیا ہونا تھا۔ ان جگہوں کے دورے شروع ہوگئے۔ سنگ مرمر کے تاجروں کو خبر ہوگئی۔ وہ لال کرتی میں عبد الوحید کے گھر کا طواف کرنا شروع ہوگئے۔ مزار قائد کی تعمیر کی نگرانی کرنے کے لیے کنسلٹنگ انجینئر کی ضرورت تھی۔ چنانچہ تلاش کرنے سے مطلب کا آدمی مل گیا۔ پی ڈبلیو ڈی سے ریٹائر شدہ سپرنٹنڈنگ انجینئر عبد الرحمن‘ ان کے لیے ایوان صدر میں اسسٹنٹ سیکرٹری بڑی چیز تھی۔ جب بھی عبد الوحید بلاتا‘ سر کے بل تشریف لاتے اور ادب سے گفتگو کرتے۔ عبد الوحید کو اب بھی ایک عبد الرحمن میسر آگیا تھا۔ ایوان صدر سے باہر سنگ مرمر کی خریداری میں کسی کو دخل اندازی کی جرات نہ تھی اور نہ ہی حق حاصل تھا۔ عبد الوحید اس سلسلے میں مختار کل تھا۔ البتہ آفس اسسٹنٹ مرزا عبد الرحمن توبہ تائب کر کے دوبارہ خدمت پر مامور ہوچکا تھا۔

افسران بالا کے لیے اتنی بات ہی وجہ اطمینان تھی کہ مزار کی تعمیر پروگرام کے مطابق جاری ہے۔ گھپلا کس نوعیت کا ہو رہا تھا اور کون کر رہا تھا‘ انہیں اس سے دلچسپی نہ تھی۔

عبد الوحید نے موقع پاکر مطالبہ کیا کہ چونکہ اس کے فرائض منصبی میں گرانقدر اضافہ ہوا ہے۔ لہٰذا اسے اسسٹنٹ سیکرٹری سے ترقی دے کر ڈپٹی سیکرٹری بنا دیا جائے۔ سیکرٹری شہاب صاحب نے کہا‘ ٹھیک ہے۔ پریذیڈنٹ صاحب کی منظوری کے بعد وزارت خزانہ سے رجوع کیا گیا تاکہ ضابطے کی کارروائی پوری ہو۔ کسی نائب قاصد کو دس پندرہ روپیہ ماہانہ اضافہ کی بات ہوتی تو وزارت خزانہ کے افسران بال کی کھال اتارنا شروع کر دیتے۔ یہ تو صرف ایک افسر کا رتبہ بڑھانا اور اس کی تنخواہ میں چار پانچ سو روپیہ ماہوار کا اضافہ کرنا تھا، وربس۔ افسر بھی ایوان صدر کا جس سے کسی وقت بھی کام پڑ سکتا تھا۔ لہٰذا

صفحہ 28

اعتراض کیا کرتا تھا۔

پولیس نوں آکھاں رشوت خور تے فائدہ کیہہ
بوتھی ہو جاؤ ہور دی ہور تے فائدہ کیہہ

منظوری آ گئی اور عبدالوحید ڈپٹی سیکرٹری بن گیا۔ دریں اثناء عبدالوحید نے اسلام آباد کے سیکٹر جی سکس میں جو سب سے پہلے آباد ہوا تھا ایک مکان بنوا لیا۔ راقم کو یہ مکان دیکھنے کا اتفاق ہوا۔

قدرت اللہ شہاب جو اب سیکرٹری وزارت اطلاعات تھے اور ان کی بیگم عفت شہاب بھی ہمراہ تھیں۔ عبدالوحید مکان دیکھنے گئے غسل خانے تو خیر سنگ مرمر کے ہونے ہی تھے۔ کمروں کے فرش اور مکان کی چار دیواری (اندر کی طرف سے) سنگ مرمر کی تھی۔ صرف کمروں کی چھتوں پر پلستر تھا۔ قائد اعظم کے مزار والا مقدس سنگ مرمر۔ بیگم شہاب سے کہے بغیر نہ رہا گیا۔ وحید صاحب کا مکان گھر نہیں بلکہ کسی مغل بادشاہ کا مقبرہ لگتا ہے۔

عبدالوحید بتایا کرتا تھا کہ اپنی تنخواہ میں سے ایک طے شدہ رقم قادیانی جماعت کو ماہوار بھیجنا پڑتی ہے۔ قائد اعظم کے مزار کی بدولت ماہانہ چندے میں یقیناً اضافہ ہوا۔

قائد اعظم میموریل فنڈ سے بلیک مارکیٹ اور سنگ مرمر کی سپلائی کی ”سر دردی“ سے کاروبار کا وسیع تجربہ ہو گیا تھا۔ پریذیڈنٹ کے سیکرٹری اب این اے فاروقی تھے جو خود بھی مرزائی تھے۔ ان سے منظوری لے کر قائد اعظم میموریل فنڈ سے چھ عدد کالے رنگ کی فورڈ پریفیکٹ کاریں خرید کر ٹیکسیاں رجسٹر کروائیں جن کی نمبر پلیٹ پر کیو ایم ایف لکھوایا گیا تاکہ ٹریفک پولیس کا عملہ قائد اعظم کے احترام میں ان ٹیکسیوں کا بھی احترام کرے۔ اگر بالفرض پولیس والے اپنی ہوس میں اندھے بھی ہو چکے ہوں تو ان کی آنکھوں کا نور بحال کرنے کے لیے ڈرائیور فوراً وہ کاغذ دکھا دے جس پر لکھا تھا کہ یہ ٹیکسی ایوان صدر سے تعلق رکھتی ہے تاکہ پولیس والا پیچھے ہٹ کر سلام کرے اور اگلے سپاہی کو اشارہ کر دے کہ ”جان دیویں“ بھروسے کے ڈرائیور بھرتی کیے گئے تھے جن سے روزانہ کی وصولی دولت خانہ پر ہوتی تھی۔

حساب کتاب کے لیے اب کی دفعہ عبدالرحمن کو نظر انداز کر کے اپنے پی۔اے عبدالقادر بھٹی اور نائب قاصد سرفراز خان کی خدمات حاصل کی گئیں۔ حق خدمت کے

صفحہ 29

طور پر انہیں نیکیوں کی آمدن میں سے ماہانہ الاؤنس دیا جاتا۔ یہ مشغلہ ۱۹۶۸ء تک جاری رہا۔ اس دوران سیکرٹری صاحبان کی تبدیلیاں ہوتی رہیں۔ قدرت اللہ شہاب کے بعد تھوڑی مدت کے لیے میاں ریاض الدین اور اعجاز نائیک تشریف لائے تھے۔ ان کے بعد این۔اے فاروقی اور سید فدا حسن تشریف لائے تھے۔ مگر عبدالوحید سب کی آنکھوں میں دھول جھونکنے میں کامیاب رہا نہ کسی کوتوال شہر کو ہی مسجد کے زیر سایہ اس خرابات پر انگلی اٹھانے کی جرات ہو سکی۔

ایوان صدر میں سیکرٹریٹ کے عملے نے عبدالوحید کے بارے میں کھسر پھسر کرنی شروع کر دی تو بات عبدالوحید تک پہنچی۔ آدمی ہشیار تھا۔ وقت پر گڑ بڑ بھانپ کر تدارک کر لیتا تھا۔ سید فدا حسن کے پاس گیا کہ جناب ایوان صدر میں غریب عملے کو ان کی لمبی خدمات کے عوض صوبائی حکومت سے تھوڑی تھوڑی سرکاری اراضی دلوائی جائے۔ فدا حسن نے کہا ٹھیک ہے۔ گورنر موسیٰ کے نام چٹھی لکھ لاؤ۔ چٹھی لکھ کر لے گئے۔ دس بارہ چپڑاسیوں کے لیے ساڑھے بارہ ایکڑ (آدھا مربع) اور فہرست کے اخیر میں خود اپنا نام اور اس کے آگے صرف سوا ایکڑ یعنی چار مربع زرعی اراضی۔

چٹھی روانہ ہوئی۔ گورنر موسیٰ کے سٹاف نے دیکھا تو ان کے منہ میں بھی پانی بھر آیا اور نام شامل ہوئے ضلع میانوالی کی تحصیل بھکر میں اراضی الاٹ ہو گئی۔

جن چپڑاسیوں کے نام گئے تھے۔ وہ عبدالوحید کی غریب پروری پر عش عش کر اٹھے۔ جن کے نام رہ گئے تھے۔ ان میں سے دو چار جو زیادہ بولتے تھے۔ ان کو سمجھایا گیا کہ دیکھو! اگلے سال پھر نام بھجوانے ہیں۔ تم کام اچھا کرتے رہو۔ وہ اچھا کام کرنے کا مطلب سمجھ گئے اور خاموش ہو گئے۔

۱۹۶۸ء کے وسط میں سید فدا حسن تبدیل ہو گئے۔ ان کی جگہ عبدالقیوم تشریف لے آئے۔ یہ حضرت بالکل ہی دوسری قسم کے تھے۔ آتے ہی نیکیوں کا کاروبار بند کروایا اور حساب کتاب طلب کر لیا۔ ابھی ہفتہ عشرہ بھی نہ گزرا تھا کہ عبدالوحید کو بوریا بستر لپیٹنے کا حکم مل گیا۔

اگرچہ اس وقت تک آر سی ڈی کے لیے میری سلیکشن ہو چکی تھی اور ایوان صدر سے رخصت ہونے کے لیے پریذیڈنٹ صاحب کی اجازت کا منتظر تھا۔ تاہم عبدالقیوم

صفحہ 30

صاحب نے مجھے عبدالوحید سے چارج لینے کو کہا۔ عبدالوحید نے اپنے ذاتی کاغذات اور سامان سمیٹنے کے لیے قیوم صاحب سے دو دن کی مہلت مانگی جو مل گئی۔ آخری دن تھا۔ شام کے بعد رات شروع ہو گئی۔ عبدالوحید اپنے پی۔اے عبدالقادر بھٹی اور نائب قاصد سرفراز کی مدد سے ”پھولا پھالی“ میں مصروف رہا اور وقفہ وقفہ سے پیشانی سے پسینہ پونچھتا رہا میں بھی انتظار میں بیٹھا تھا کہ میں رات نو بجے کھانا کھانے اپنے گھر‘ جو ایوان صدر کی حدود کے اندر تھا چلا گیا۔ واپس آیا تو عبدالوحید کاغذات کا ڈھیر لگائے انہیں جلانے میں مشغول تھا۔ راکھ بتا رہی تھی کہ بوری بھر کاغذ جلائے جاچکے ہیں۔

میں نے اپنے کمرے میں آکر ٹیلیفون پر عبدالقیوم صاحب کو اطلاع دینے کی کوشش کی‘ مگر وہ گھر پر نہ تھے۔ رات گیارہ بجے چارج لیا۔ صبح قیوم صاحب کو پتہ چلا تو سیخ پا ہو گئے اور آکر مجھ پر برسے۔ ان کا غصہ بجا تھا مگر میں بے گناہ تھا۔ ریکارڈ جل چکا تھا اور عبدالوحید جا چکا تھا۔ کچھ عرصہ وہ چھٹی پر رہا پھر اس کی پوسٹنگ سی ڈی اے میں جہاں این۔اے فاروقی چیئرمین تھے۔ بطور ایڈمن آفیسر ہو گئی۔ میں ایوان صدر کو چھوڑ کر آر۔سی۔ڈی میں تہران چلا گیا۔ ایران سے واپسی پر میری تقرری وزارت تعلیم میں ہو گئی۔ ایوان صدر کے پرانے دوستوں سے معلوم ہوا کہ عبدالوحید کے خلاف انکوائری ہوئی تھی۔ جس کے نتیجے میں اسے جبری ریٹائر کر کے آدھی پنشن بحق سرکار ضبط کر لی گئی تھی۔ اس تمام کارروائی کا کریڈٹ عبدالقیوم کو جاتا ہے۔ اگرچہ جرائم کے مقابلے میں سزا بہت کم تھی‘ ممکن ہے بلکہ یقینی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ ایم۔ایم احمد‘ وقار احمد‘ این اے فاروقی اور دوسرے قادیانی افسروں نے مک مکا کی پوری کوشش کی ہو گی۔ اپنے خلاف بیشتر کاغذی شہادتیں وہ پہلے ہی ایوان صدر سے نکلتے وقت تلف کر چکا تھا۔ تاہم مکافات عمل سے کون بچا ہے‘ جو عبدالوحید بچ جاتا۔

(”ایوان صدر میں بارہ سال“، ص ۱۹۰ تا ۱۹۱)

صفحہ 31

پاکستان میں اسمگلنگ اور منشیات کے

تین بڑے اڈے

ربوہ ---- محمود آباد ---- ناصر آباد

ان اڈوں کا آپریشن کلین اپ کب ہو گا؟

محمد حنیف ندیم

افیون قادیانیوں کے پیشوا (جھوٹے نبی) مرزا قادیانی کی ”سنت“ ہے۔ اس لیے اس کا رکھنا، فروخت کرنا، خود استعمال کرنا یا دوسروں کو استعمال کرانا، قادیانیوں کے نزدیک کوئی معیوب بات نہیں ہے۔ مرزا قادیانی جو چیزیں ہر وقت اپنے ساتھ صندوق میں رکھتا تھا، ان میں افیون بھی شامل ہے۔ چنانچہ مرزا قادیانی کا لڑکا مرزا بشیر احمد سیرت المہدی، حصہ سوم، ص ۲۸۳ پر یہ روایت نقل کرتا ہے:

”ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ مفصلہ ذیل ادویات حضرت موعود (مرزا قادیانی) اپنے صندوق میں رکھتے تھے اور انہی کو زیادہ استعمال کرتے تھے۔ انگریزی ادویہ میں سے کونین، اسٹن سیرپ، فولاد، ارگٹ، وائنم اپی کاک، کوکا اور کولا کے مرکبات، سپرٹ ایمونیا، بید مشک، اسٹرنس وائن آف کاڈلور آئل، کلوروڈین، کاکل

صفحہ 32

پل، سلفیورک ایسڈ ایرو پیک، سکاٹس ایملشن رکھا کرتے تھے اور یونانی میں سے مشک عنبر، کافور، ہینگ، جدوار اور ایک مرکب جو خود تیار کیا تھا یعنی تریاق الہی رکھا کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ افیون میں عجیب و غریب فوائد ہیں۔ اسی لیے اسے حکماء نے تریاق کا نام دیا ہے۔"۔

مرزا قادیانی کا دوسرا لڑکا مرزا محمود کہتا ہے:

"حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے تریاق الہی دوا خدا کی ہدایت کے تحت بنائی اور اس کا ایک بڑا جزو افیون تھا اور یہ دوا کسی قدر اور افیون کی زیادتی کے بعد حضرت خلیفہ اول کو حضور ۶ ماہ سے زائد عرصہ تک دیتے رہے اور خود بھی وقتاً فوقتاً مختلف امراض کے دوران استعمال کرتے رہے۔"۔

(الفضل، جلد ۱۷، نمبر ۱۶، بحوالہ علم طب مسیح موعود، الموسوم بہ طبی نسخہ جات،

ص ۷۴)

ہیروئن افیون کی بگڑی ہوئی شکل کا نام ہے۔ اس لیے افیون چونکہ مرزا قادیانی کی "سنت" ہے اس لیے قادیانیوں کے نزدیک اس کا کاروبار کوئی معیوب بات نہیں اور جب معیوب بات نہیں تو بیرون ملک اسمگل کرنے سے خواہ ملک کا نقصان ہی کیوں نہ ہو، وہ مرزا قادیانی کی اس "سنت" پر عمل کرنے سے ہر گز ہر گز باز نہیں آسکتے۔

حکومت نے سراب گوٹھ میں "آپریشن کلین اپ" کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ وہاں اسلحے اور منشیات کا مرکز تھا۔ ہم اس بحث میں نہیں پڑنا چاہتے کہ آپریشن کیوں کیا گیا، کیا جانا چاہیے تھا یا نہیں، اس لیے کہ ہمارے کوئی سیاسی عزائم نہیں اور نہ ہی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کوئی سیاسی جماعت ہے۔ البتہ ہم یہ ضرور کہیں گے کہ حکمران طبقہ کو سراب گوٹھ میں تو اسلحہ بھی نظر آگیا، منشیات بھی دیکھ لیں۔ اسمگل شدہ اشیاء بھی نظر آگئیں۔ ان کو تخریب کاری کے تین بڑے مرکز، اسلحے اور ہیروئن و افیون کی تین اہم منڈیاں ربوہ، محمود آباد اور ناصر آباد کیوں نظر نہیں آتیں؟

گزشتہ سال ابو ظہبی میں چار قادیانیوں کو ہیروئن کے الزام میں تین تین سال قید کی سزا ہوئی تھی۔ ان کا تعلق ربوہ سے تھا۔ ثبوت کے لیے روزنامہ جنگ کوئٹہ کی خبر ملاحظہ ہو:

"کسووال (نامہ نگار) گزشتہ دنوں ربوہ کے چار قادیانیوں کو ابو ظہبی میں ہیروئن

صفحہ 33

اسمگل کر کے فروخت کرنے کے جرم میں تین تین سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق فیکٹری ایریا ربوہ کے قادیانی زاہد منیر‘ طاہر منیر‘ طارق احمد اور مسرور احمد کو ابو ظہبی میں پاکستان سے ہیروئن اسمگل کرنے کے الزام میں گرفتار کر کے مذکورہ سزا سنائی گئی۔ جب کہ اس گروہ میں شامل بشیر احمد اور اس کی بیوی گرفتاری سے بچنے میں کامیاب ہو کر خفیہ طور پر پاکستان فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے“۔

کراچی کے اخبارات میں ۲۵ اپریل ۸۵ء کو ایک خبر شائع ہوئی۔

”۱۴ اپریل کو پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کے ایک جہاز کے کراچی سے دبئی پہنچنے پر ایک کنٹینر سے جس میں چاول لدا ہوا تھا‘ ایک ٹن ہیروئن برآمد کرلی۔ یہ چاول پاکستان رائس ایکسپورٹ کارپوریشن نے دبئی کی ایک فرم وارسم کو برآمد کیا تھا“۔

پاکستان رائس ایکسپورٹ کارپوریشن کے جس شعبہ نے یہ چاول برآمد کیا‘ اس شعبہ کا منیجر حمزہ بن عبدالقادر‘ پروکیورمنٹ منیجر ایس ۔ کے ۔ ملک اور فنانس منیجر عبدالغنی تھا اور یہ تینوں پکے قادیانی ہیں ۔۔۔۔ جہاں تک ربوہ‘ محمود آباد اور ناصر آباد میں اسلحہ کی بھرمار کا تعلق ہے‘ تو ایک اطلاع کے مطابق کراچی سے وہاں دھڑا دھڑ اسلحہ پہنچ رہا ہے اور مبینہ طور پر این ایل سی کے ٹرک بھی استعمال ہو رہے ہیں۔ اور وہ اسلحہ اندرون سندھ منتقل ہو رہا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ڈاکو یہی اسلحہ استعمال کر رہے ہیں۔

قادیانی پیشوا مرزا طاہر نے ۸۲ء میں ایک جمعہ کو تقریر کرتے ہوئے انتہائی پرجلال انداز میں کہا تھا کہ:

”ساری دنیا کی ساری طاقتیں بھی مل جائیں ان خزانوں کو اربوں سے ضرب دے لیں تب بھی اس روپیہ کو (جو قادیانی بجٹ کی صورت میں تیار کرتے ہیں) شکست نہیں دے سکتیں۔ تب بھی یہ روپیہ جیتے گا اس کے مقدر میں شکست نہیں“۔

(الفضل‘ ربوہ ۱۲ جولائی ۱۹۸۲ء‘ بحوالہ الفضل‘ ۲۱ جولائی ۸۲ء)

قادیانیوں کے پاس واقعی روپے کی کمی نہیں۔ اس لیے کہ مسلمانوں کی طاقت کو کمزور کرنے اور ان کے باہمی اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کے لیے مسلمان دشمن طاقتوں نے اپنی تجوریوں کے منہ کھول رکھے ہیں۔ مغربی سرمایہ داروں‘ یہودی سیٹھوں اور ہندو ساہوکاروں کی نظر عنایت ان پر جاری ہے۔ تنہا قادیانی اپنے سرمائے سے کچھ نہیں کر سکتے۔

صفحہ 34

کیونکہ ان کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ہے۔ یہ غیر ملکی سرمایہ ہے۔ جو مرزا طاہر کی زبان سے بول رہا ہے۔ اسی بنا پر آج سے ایک سال پہلے مرزا طاہر نے اپنے پیرو کاروں کو یہ لائن دی تھی کہ : "صوبہ سندھ میں افغانستان جیسے حالات پیدا ہو جائیں گے۔" اس لائن کے بعد صوبہ سندھ خصوصاً کراچی کے حالات خراب ہوئے اور یہاں تک خراب ہوئے کہ فوج کو متعین کرنا پڑا۔ آج اندرون سندھ اور کراچی میں فوج متعین ہے۔ فوج خود ملوث نہیں ہوئی بلکہ ایک سازش کے تحت فوج کو ملوث کرنے کے حالات پیدا کیے گئے۔ اب جبکہ فوج ملوث ہو چکی ہے، قادیانی بغلیں بجا رہے ہیں۔ ان کی بانچھیں کھلی ہوئی ہیں اور وہ ایک دوسرے کو مبارک باد پیش کر رہے ہیں اور یہ تاثر دے رہے ہیں کہ ہمارے مرزا طاہر نے جو یہ پیش گوئی کی تھی "صوبہ سندھ میں افغانستان جیسے حالات پیدا ہو جائیں گے" اب پوری ہوتی نظر آ رہی ہے۔

کراچی اور حیدر آباد میں جو واقعات رونما ہوئے، ان پر ہر محب وطن پاکستانی خون کے آنسو رو رہا ہے جس کا ثبوت ان بیانات سے ملتا ہے جو روزانہ اخبارات میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔ ملک کی کوئی بھی سیاسی جماعت، تنظیم یا ادارہ ایسا نہیں ہو گا جس نے ان واقعات پر اظہار افسوس نہ کیا ہو۔ قادیانی تنظیم ہی وہ واحد تنظیم ہے، جو چپ سادھے ہوئے ہے۔۔۔۔۔ ایسا کیوں ہے؟ اس لیے کہ جب مسلمان آپس میں لڑیں گے تو اس کا فائدہ ہر دشمن دین گروہ اور تنظیم کو پہنچے گا۔ چونکہ قادیانیوں میں اسلام اور مسلم دشمنی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے، اس لیے وہ ان حالات سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہمیں یہ بھی اطلاعات ملی ہیں کہ ہنگاموں کے دوران خدام الاحمدیہ (قادیانیوں کی مسلح تنظیم) کے نوجوان اپنے گھروں سے غائب رہے۔ کہا جا سکتا ہے کہ جو شرپسند ایک آبادی سے دوسری آبادی میں جا کر حملے کر رہے تھے، مکانات کو جلا رہے تھے، بوڑھوں، عورتوں اور معصوم بچوں کا بھی جنہیں خیال نہیں آیا، وہ شرپسند قادیانیوں کی اسی مسلح فورس کے نوجوان تھے۔

اس کے علاوہ بہت سے علاقوں سے قادیانی ہنگاموں سے قبل ہی گھر بار چھوڑ کر محفوظ مقامات پر منتقل ہو گئے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہر قادیانی کو مرزا قادیانی کی طرح (شیطانی)

صفحہ 35

الہام ہونے لگے ہیں کہ انہیں آنے والے خطرات اور ہنگاموں کا علم ہو گیا؟ اور وہ مکانات چھوڑ کر محفوظ مقامات پر چلے گئے۔

دراصل ان کا پروگرام تھا کہ ایسا کرنا ہے اس وجہ سے وہ خود تو چلے گئے اور اپنی مسلح فورس کو شہر کراچی کا امن تباہ کرنے پر مامور کر گئے۔۔۔۔۔ حالیہ ہنگاموں کا ایک افسوس ناک پہلو یہ بھی ہے کہ کراچی کے ایک علاقہ میں ایک مسجد کی بے حرمتی بھی کی گئی جو آگ سے بری طرح متاثر ہوئی۔ مشہور محقق ڈاکٹر ابو سلمان شاہ جہان پوری کی لائبریری، جس میں قرآن پاک کے نادر نسخے اور دینی کتب کا ایک نادر ذخیرہ تھا، آگ لگائی گئی۔ مسلمان خواہ کتنا ہی گیا گزرا کیوں نہ ہو، اللہ کے گھر اور قرآن پاک کی بے حرمتی ہر گز نہیں کر سکتا۔ ایسا وہی کر سکتا ہے جس کے دل میں کفر ہو، نفاق ہو، مسلم دشمنی ہو، اسلام سے نفرت ہو اور وہ صرف قادیانی ہی ہو سکتے ہیں۔

(ہفت روزہ ”ختم نبوت“ کراچی، جلد ۵، شمارہ ۳۱، جنوری ۱۹۸۷ء)

صفحہ 36

قادیانی تاریخ پاکستان کو مسخ کر رہے ہیں

تحریر: م۔ب

برطانوی سامراج کے سائے تلے پروان چڑھنے والی تحریک قادیانیت ملت اسلامیہ کے خلاف ایک کھلی سازش تھی۔ برطانیہ کو قدرتی طور پر اس تحریک سے ہمدردی تھی اور اس کی اعانت کو وہ واجب سمجھتا تھا کیونکہ قادیانیت نہ صرف اسلام کی فکری ترقی اور اس کے غلبہ کی راہ میں ایک سنگ گراں تھی بلکہ اس نے سامراج کی مدد کو وظیفہ جان اور جزو ایمان قرار دے ڈالا تھا۔ ایسی سامراج و یہود نواز تحریک جس کا خمیر ہی اسلام و ملک دشمنی پر قائم ہو، اس سے یہ توقع رکھنا کہ وہ مسلمانوں کی تحریک حریت میں کوئی مثبت کردار ادا کرے گی، امید موہوم سے کم نہیں۔ یہ بات قادیانی تحریک کے اپنے مفاد میں تھی کہ وہ سامراج کی حلقہ بگوش بن کر برطانوی سامراج کی کھلی مدد سے مسلمانوں کو مرتد بنا کر اپنی ایک الگ جماعت تشکیل دے اور ملت اسلامیہ کو مسلسل شکست و ریخت سے دو چار کرے۔

قادیانیوں نے تاریخ کے ہر دور میں مسلمانوں کے اجتماعی مفادات کے خلاف سازش کی ہے۔ یہ تحریک خلافت ہو یا تحریک موالات۔ گول میز کانفرنس کے دوران سر فضل حسین نے سر ظفر اللہ کو مسلمان نمائندہ کے طور پر وفد میں شامل کرایا تاکہ وہ لندن میں بیٹھ کر برطانوی آقاؤں کے اشارے پر قائد اعظم کی سرگرمیوں کا توڑ کرے اور کانفرنس میں بحث کے دوران ان کا منہ بند کرے اور ان کو دو بدو جواب دے اور یہ ثابت کر دے کہ وہ مسلمانان ہند کے نمائندہ نہیں۔ سر فضل حسین نے اپنے ایک خط میں اس امر کا انکشاف کیا ہے۔ گول میز کانفرنس میں انگریز کے کارندوں کی سازشوں سے تنگ آکر حضرت قائد اعظم

لندن میں قیام پذیر ہ قائد اعظم لندن میں ہ پیغامات ملے کہ آپ و لندن رہنے کی وجہ سے

قادیان کے ا کرنے کی مہم کا آغاز ک پاکستان کے قیام کے قائد اعظم لندن میں ق عبد الرحیم درد کو فرد ہندوستان آنے پر مجبو آپ نے چھ اپریل ہندوستان" تھا۔ صد تھا۔ اس تقریر کے آ کے باعث ان کے لیے میں آپ نے چرچل ، ڈالنے اور بدامنی پھ تحریک آزادی کا کریڈ نہیں کہ قادیانی مشنر اس طور پر قادیانی ل منشاء کے مالک تھے۔ قیادت کریں اور مسا قرار دیا اور اپنا اراد درمیان اور پھر بعد واپس آنے کی کیسے

صفحہ 37

لندن میں قیام پذیر ہوگئے اور ہندوستانی سیاست میں عملی دخل کم کر دیا۔ ۱۹۳۳ء میں قائد اعظم لندن میں پریکٹس کر رہے تھے کہ ان کو ہندوستان کے مسلم زعماء کے خطوط و پیغامات ملے کہ آپ واپس ہندوستان آجائیں اور اس عظیم خلا کو پورا کریں جو آپ کے لندن رہنے کی وجہ سے پیدا ہو گیا ہے۔

(ڈاکٹر عاشق حسین بٹالوی‘ اقبال کے آخری دو سال)

قادیان کے سازشی عناصر نے قیام پاکستان کے بعد تاریخ کو شرمناک طور پر مسخ کرنے کی مہم کا آغاز کر دیا اور یہ ثابت کرنے کے لیے ہاتھ پاؤں مارنے شروع کر دیے کہ وہ پاکستان کے قیام کے پرزور حامی تھے۔ اس سلسلے میں انہوں نے یہ افسانہ تراشا کہ جب قائد اعظم لندن میں قیام پذیر ہوئے اس وقت مرزا محمود نے لندن مشن کے سابقہ انچارج عبدالرحیم درد کو فروری ۱۹۳۲ء میں دوبارہ لندن بھیجا کہ وہ قائد اعظم سے ملیں اور انہیں ہندوستان آنے پر مجبور کریں۔ اس سلسلے میں قائد اعظم کی ایک تقریر کا حوالہ دیا جاتا ہے جو آپ نے چھ اپریل ۱۹۳۳ء کو عیدالاضحیٰ کے موقع پر کی‘ جس کا عنوان ”مستقبل کا ہندوستان“ تھا۔ صدر جلسہ برطانوی سیاست دان اور ممبر پارلیمنٹ سرسٹوورٹ سنڈیمان تھا۔ اس تقریر کے آغاز میں آپ نے فرمایا کہ لندن مشن کے انچارج کی ”پرزور ترغیب کے باعث ان کے لیے کوئی راہ باقی نہ رہی کہ وہ لندن مشن میں ایک تقریر کریں۔ اس تقریر میں آپ نے چرچل کے بعض سیاسی نظریات پر بحث کی۔ دوران تقریر بعض لوگوں نے شور ڈالنے اور بدامنی پھیلانے کی کوشش کی‘ جس پر قابو پا لیا گیا۔ اس واقعہ کی آڑ میں قادیانی‘ تحریک آزادی کا کریڈٹ لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ حالانکہ اس تقریر سے یہ کہیں ثابت نہیں کہ قادیانی مشنری درد نے قائد اعظم کو ہندوستان آنے پر مجبور کیا اور نہ ہی یہ واقعہ اس طور پر قادیانی لٹریچر میں ۱۹۳۳ء سے ۱۹۴۷ء تک تحریر ہوا۔ قائد اعظم اپنی مرضی و منشاء کے مالک تھے۔ آپ کو لیاقت علی خان نے مجبور کیا کہ آپ ہندوستان آکر مسلمانوں کی قیادت کریں اور مسلمانوں نے آپ کی موجودگی میں آپ کو مسلم لیگ کی سیادت کا اہل قرار دیا اور اپنا ارادہ بدلنے پر مجبور کیا۔ قادیانی جو کہ گول میز کانفرنس سے قبل اور ان کے درمیان اور پھر بعد میں مسلم لیگ اور قائد اعظم کی سیاست کے سخت مخالف تھے۔ آپ کو واپس آنے کی کیسے دعوت دے سکتے تھے؟ آپ جب ۱۹۳۴ء میں ہندوستان تشریف لائے

صفحہ 38

اور مرکزی اسمبلی کے انتخاب میں بلا مقابلہ منتخب ہوئے تو اس وقت قادیانی کانگریس سے محبت کی پینگیں بڑھا رہے تھے۔ اگر قادیانی مشنری کے کہنے پر آپ ہندوستان تشریف لائے تو مرزا محمود نے آپ سے کیا تعاون کیا۔ اس کا کوئی ایک خطبہ بھی ایسا ہے، جس میں اس نے کہا ہو کہ درد کو اس نے حکم دیا کہ قائد اعظم کی خدمت میں واپس آنے کو کہے؟ کیا مرزا محمود اور اس کے حواریوں نے اس زمانے ۱۹۳۴ء‘ ۱۹۳۵ء میں مسلمانوں کی کسی تحریک میں کوئی عملی حصہ لیا اور مسلم لیگ کی حمایت میں کوئی عملی قدم اٹھایا؟ قائد اعظم کی تقریر کو بنیاد بنا کر ایک انوکھی بات پیش کرنا اور تاریخی حقائق کو مسخ کر کے اپنی پاکستان دوستی کا راگ الاپنا ایک شرمناک جسارت ہے۔ تاریخ کے طلباء اور مسلمانوں کو ان قادیانی خرافات کا نوٹس لینا چاہیے اور تاریخی ریکارڈ کی درستی کے لیے اعلیٰ سطح پر اقدامات کرنے چاہئیں ورنہ چند سالوں بعد قادیانی اس بات کو اپنے کھاتے میں ڈال لیں گے۔ تاریخ آزادی میں حصہ لینے والے سیاسی زعماء‘ میاں ممتاز دولتانہ‘ سردار شوکت حیات‘ مولانا ظفر احمد انصاری‘ مولانا عبدالستار نیازی جیسے اکابر کو چاہیے کہ ان امور کی تصحیح فرمائیں اور قادیانیوں کے غلط دعوؤں اور فریب کاریوں کا پردہ چاک کریں۔ شریف المجاہد‘ سید شریف الدین پیرزادہ‘ ڈاکٹر حسن رضوی عسکری صاحب بھی قلم اٹھائیں تو یہ ایک خدمت ہوگی۔

ہماری معلومات کے مطابق یہ تاریخی مسخ کاری سب سے پہلے لارنس آف قادیان ولی اللہ شاہ نے کی۔ ۱۹۴۹ء میں جلسہ سالانہ کے موقع پر لاہور میں تقریر کرتے ہوئے اس نے قادیانیوں کا قیام پاکستان میں نام نہاد رول بتایا اور اس واقعے کا ذکر کیا جو سراسر دھوکہ دہی پر مبنی ہے۔ اس کے بعد سر ظفر اللہ نے اسے اپنی تصانیف کی زینت بنایا اور مولف تاریخ احمدیت نے اسے اپنے طور پر درج کیا۔ خود درد نے یہ بات ۱۹۵۵ء میں پہلی بار تصنیف کی اور حضرت قائد اعظم کی اس تقریر کو مخصوص قادیانی رنگ دے کر ایک انہونی بات پیش کی، جس کا نہ تو قادیان کے سیاسی عقائد سے کچھ تعلق ہے اور نہ ہی مرزا محمود کی اس زمانے کی سیاست سے سروکار! مرزا محمود یونینسٹ پارٹی کا حامی‘ مسلم لیگ کا مخالف اور مسلمانوں کی سیاسی تحریکات کا دشمن تھا۔ وہ سر ظفر اللہ کو وائسرائے کی ایگزیکٹو کونسل کا ممبر بنانے میں اپنا اثر و رسوخ اور جماعتی وفاداریوں کا سودا کر رہا تھا۔ اسے قائد اعظم کی ذات گرامی سے کیا دلچسپی ہو سکتی تھی۔ حضرت قائد اعظم کی تقریر دنیا کے مقتدر اخبارات جیسے

Statesman Hindu

t Patrika Calcutta

ioneer Allahabad

تاریخی واقعات کو قادیانی مسخ کا

نمبر ۱۔ (ولی اللہ شاہ‘ انقلا

نمبر ۲۔ ملاحظہ ہو ”الفضل

صفحہ 39

'Madras Mail 'The Statisnas Hindu 'The Reennis Stand And Went Apnice Calcutta Pioneer Allahabad وغیرہ میں شائع ہوئی۔ آخر میں ہماری گزارش ہے کہ تاریخی واقعات کو قادیانی مسخ کاریوں سے بچانے میں کوتاہی نہ کی جائے۔

(ہفت روزہ ”ختم نبوت“ کراچی، جلد ۷، شمارہ ۳)

صفحہ 40

بھٹو صاحب نے قادیانیوں کو کیسے

غیر مسلم قرار دیا

جناب مصطفیٰ صادق، ایڈیٹر روزنامہ وفاق

تحریک ختم نبوت، ایسی عظیم الشان کامیابی سے ہمکنار ہوئی، جس کی مثال تحریک پاکستان اور تحریک نظام مصطفیٰ کے سوا ماضی کی تاریخ میں مشکل ہی سے ملے گی۔ اس تحریک میں نمایاں کردار بلاشبہ عام مسلمانوں اور مختلف مذہبی فرقوں کے نمائندہ اور سرکردہ علماء ہی کا تھا۔ لیکن دینی مزاج رکھنے والے ایسے سیاسی زعماء بھی اس تحریک کے ہراول دستے میں شامل تھے، جن کی فہم و فراست، سیاسی بصیرت اور مسئلہ ختم نبوت سے والہانہ عقیدت ان کے امتیازی وصف کی حیثیت رکھتی تھی۔

علماء کرام اور نواب زادہ نصر اللہ خاں

علماء کرام کی فہرست اتنی طویل ہے کہ ان میں سے چیدہ چیدہ شخصیات کا ذکر بھی کیا جائے تو ان کی تعداد سینکڑوں تک پہنچے گی۔ البتہ سیاسی زعماء میں نواب زادہ نصر اللہ خاں کا نام کسی تکلف کے بغیر سرفہرست شمار کیا جاسکتا ہے۔ بالخصوص اس وجہ سے کہ اس تحریک میں انہوں نے پوری تندہی اور گرم جوشی سے حصہ لیا۔ عام سیاست دانوں کی علماء سے اس نوعیت کی ذہنی مناسبت بھی نہیں رہی، جس کا مظاہرہ نواب زادہ صاحب کے کردار میں ۔۔۔۔۔ مسلسل دیکھنے میں آیا۔ اس کے ساتھ ہی اس رائے کے اظہار میں بھی کوئی مضائقہ معلوم نہیں ہوتا کہ سے چونکہ اس وقت کی حکمران شکست کے نتیجے میں مسٹر بھٹو باعث نواب زادہ نصر اللہ خاں کی کامیابی سے اور بھی زیادہ رہی تھی کہ تحریک ختم نبوت سکتی تھی۔ اس اندیشے نے نہ بلکہ حصول مقصد کے لیے ہمہ تن تحریک ختم نبوت جوں شدت و وسع سے وسیع تر ہوتی طوالت کے باعث بالعموم اس داخل نہ ہو جائے کہ امن عامہ روز مرہ معمولات کے تعطل اور چار ہو کر مایوس اور بددل نہ پڑے اور مسٹر بھٹو کی آمریت ادھر مسٹر بھٹو نے تاخیری حربہ جلسوں اور جلوسوں کی شکل مباحثے کا آغاز کرا رکھا تھا، جس کرنے کا موقعہ فراہم کیا گیا تھا۔

بائیکاٹ کی مہم

تحریک ہر لحاظ سے شد قادیانیوں کے بائیکاٹ کی مہم ش گئی۔ اس مہم کے باعث فی الوا لگا۔ مخالفین کے چھکے چھڑا دیے

صفحہ 41

مضائقہ معلوم نہیں ہوتا کہ تحریک ختم نبوت بلاشبہ مذہبی تحریک تھی، لیکن اس کی کامیابی سے چونکہ اس وقت کی حکمران پارٹی ۔۔۔۔ جو فی الحقیقت مسٹر بھٹو کا ہی دوسرا نام تھا۔۔۔ کی شکست کے نتیجے میں مسٹر بھٹو کا سیاسی زوال بھی مقدر سمجھا جاتا تھا، اس لیے اسی پس منظر کے باعث نواب زادہ نصر اللہ خاں اور ان کے ہم مسلک دوسرے سیاسی رہنما تحریک ختم نبوت کی کامیابی سے اور بھی زیادہ دلچسپی رکھتے تھے۔ اس سے بھی زیادہ اہمیت اس امر کو دی جا رہی تھی کہ تحریک ختم نبوت کی ناکامی بھٹو کی آمریت کو اور بھی زیادہ مستحکم بنانے کا سبب بن سکتی تھی۔ اس اندیشے نے دینی اور سیاسی رہنماؤں کو نہ صرف پوری طرح متحد رکھا تھا، بلکہ حصول مقصد کے لیے ہمہ تن مستعد بھی رکھا تھا۔

تحریک ختم نبوت جوں جوں طول پکڑتی جاتی تھی، اس کی اثر انگیزی اور اس کی شدت وسیع سے وسیع تر ہوتی جا رہی تھی لیکن اس کے باوجود قائدین تحریک، تحریک کی طوالت کے باعث بالعموم اس اندیشے کا اظہار کیا کرتے تھے کہ تحریک تشدد کی ایسی حدود میں داخل نہ ہو جائے کہ امن عامہ درہم برہم ہو کر رہ جائے اور دوسرے یہ کہ عامۃ المسلمین روزمرہ معمولات کے تعطل اور کاروباری بحران کے باعث ایسے مسائل و مصائب سے دو چار ہو کر مایوس اور بددل نہ ہو جائیں، جس کے نتیجے میں تحریک کو ناکامی سے دو چار ہونا پڑے اور مسٹر بھٹو کی آمریت کامیابی کے زعم میں، بدترین فاشزم کا روپ نہ دھار لے۔ ادھر مسٹر بھٹو نے تاخیری حربے کے طور پر یا یوں سمجھئے کہ ختم نبوت کے عوامی مطالبے کو جلسوں اور جلوسوں کی شکل میں آگے بڑھنے سے روکنے کے لیے قومی اسمبلی میں ایک مباحثے کا آغاز کرا رکھا تھا، جس میں قادیانی گروہ کے سربراہ مرزا ناصر کو اپنا موقف پیش کرنے کا موقعہ فراہم کیا گیا تھا۔

بائیکاٹ کی مہم

تحریک ہر لحاظ سے شد ومد کے ساتھ جاری تھی۔ اسی دوران قائدین تحریک نے قادیانیوں کے بائیکاٹ کی مہم شروع کر دی جو دیکھتے ہی دیکھتے ملک کے کونے کونے میں پھیل گئی۔ اس مہم کے باعث فی الواقع تحریک تحفظ ختم نبوت کا مہینوں کا سفر دنوں میں طے ہونے لگا۔ مخالفین کے چھکے چھڑا دیے اور ان کے ہاتھ پاؤں پھول گئے۔ تاہم علما اور زعما بائیکاٹ

صفحہ 42

کی مہم کو بھی پرامن رکھنے کے لیے بھرپور جدوجہد کرتے رہے۔ بعض مقامات سے معمولی نوعیت کے جھگڑوں کی اکا دکا وارداتوں کی اطلاعات تو ضرور ملتی رہیں، لیکن بحیثیت مجموعی بائیکاٹ کی مہم بھی پرامن ہی رہی۔ اس مہم نے ایک تو مسٹر بھٹو کو سرکاری سطح پر جوابی کارروائی کے لیے مجبور کر دیا اور دوسرے وہ ذاتی طور پر اس حد تک آتش زیر پا ہوئے کہ بات بات پر بگڑتے اور بے قابو ہو جاتے۔

وزارت اطلاعات کی جوابی مہم

غیظ و غضب کے اسی عالم میں وزارت اطلاعات کو قادیانیوں کے بائیکاٹ کے خلاف جوابی مہم چلانے کی ہدایات جاری کر دی گئیں۔ چنانچہ چند دنوں کے لیے ریڈیو اور ٹیلی ویژن سے ایسے بیانات اور مذاکرے نشر اور ٹیلی کاسٹ کیے گئے، جن سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ بائیکاٹ کی یہ مہم اسلامی تعلیمات کے منافی ہے۔ اسی طرح اخبارات میں گھڑے گھڑائے بیانات شائع کرانے کا اہتمام بھی کیا گیا اور بعض مذہبی شخصیتوں کو نیشنل سنٹروں میں تقریروں اور خطبات جمعہ کے ذریعے بائیکاٹ کی اس مہم کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش بھی کی گئی۔ ان تمام کوششوں کے اثرات تحریک ہی کے حق میں مفید ثابت ہوئے اور نہ صرف حکمران پارٹی کی ذلت و رسوائی میں اضافہ ہوا، بلکہ جس کسی نے ریڈیو، ٹی وی، اخباری بیان، کسی جلسے میں تقریر یا خطبہ جمعہ کے ذریعے بائیکاٹ کی اس مہم کے خلاف لب کشائی کی، اسے یا تو اپنے موقف سے دستبرداری کا اعلان کرنا پڑا اور یا پھر اس کے لیے عام مسلمانوں سے معذرت خواہی کے سوا کوئی چارہ کار نہ رہا۔ تحریک کے رہنماؤں اور ہمنواؤں کا پلہ چونکہ بہت بھاری تھا اور اپنے موقف کی صداقت پر یقین بھی ان کا انتہائی اہم سرمایہ تھا، اس لیے نہ تو ان کے عزائم میں کسی فوری کمزوری کا اندیشہ تھا اور نہ ان کی بصیرت عدم توازن اور بے اعتدالی کی زد میں آسکتی تھی۔ لیکن مخالفین تحریک ہر مرحلے پر اس بری طرح پسپائی کا شکار ہو رہے تھے کہ ان کے قویٰ مضمحل اور جذبات مشتعل ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ چنانچہ اسمبلی کے اندر اور اسمبلی کے باہر حکمران پارٹی کے وابستگان ایسے نفرت انگیز اور حقارت آمیز بیانات پر اتر آئے جن سے عوام میں بے چینی اور بے قراری تیزی سے بڑھنے لگی۔

صفحہ 43

نازک ترین لمحات

یہی وہ وقت تھا‘ جو قائدین تحریک اور اس کے مخالفین کے درمیان اعصابی جنگ کے نازک ترین لمحات کی حیثیت رکھتا تھا‘ چنانچہ نواب زادہ نصر اللہ خاں نے یہ منصوبہ پیش کیا کہ قادیانی مسئلے کے بارے میں آخری فیصلے کے اعلان کے لیے کسی تاریخ کا تعین کرالیا جائے تاکہ ایک تو تحریک ختم نبوت کی شدت و وسعت بحال رکھی جاسکے اور دوسرے تاریخ کے اعلان کے بعد مسٹر بھٹو کسی نہ کسی فیصلے کے اعلان پر مجبور ہو جائیں گے جو نواب زادہ نصر اللہ خاں کے نزدیک عوامی مطالبات تسلیم کرنے کے سوا کچھ اور نہیں ہو سکتا تھا اور یہ کہ اس طرح مسٹر بھٹو کے لیے فرار کا کوئی راستہ باقی نہ رہے گا۔ نواب زادہ صاحب کے اس منصوبے کے پس منظر میں عوامی مطالبے کی کامیابی سے ہمکنار ہونے کی شدید خواہش کے ساتھ ساتھ یہ کوشش بھی شامل تھی کہ امن و امان کو گزند نہ پہنچنے پائے۔ جن دنوں نوابزادہ صاحب کا یہ منصوبہ پایہ تکمیل کو پہنچانے کے لیے غور و فکر کیا جارہا تھا‘ مسٹر بھٹو سرکاری مصروفیات کے سلسلے میں کوئٹہ میں مقیم تھے۔

کوئٹہ میں بھٹو سے ملاقات

کوئٹہ کے لیے روانگی سے قبل ٹیلی فون پر ملٹری سیکرٹری کے ذریعے‘ میں مسٹر بھٹو سے ملاقات کی منظوری حاصل کر چکا تھا۔ کوئٹہ پہنچتے ہی ملٹری سیکرٹری سے رابطہ قائم کرلیا گیا جس کے بعد مجھے مسٹر بھٹو سے ملاقات کے لیے گورنر ہاؤس بلا لیا گیا۔ یہ ملاقات مقررہ وقت سے‘ جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے‘ کم و بیش ڈیڑھ دو گھنٹے تاخیر سے ہوئی۔

اعتماد کا ووٹ

میں نے اپنی گفتگو کا آغاز مسٹر بھٹو سے اپنی ذات اور اپنی رائے پر اعتماد کا ووٹ طلب کرنے سے کیا۔ مسٹر بھٹو اگرچہ بے حد سنجیدہ اور غور و فکر کی عمیق گہرائیوں میں ڈوبے ہوئے تھے‘ انہیں اس وقت بلوچستان کے مسائل نے پریشان کر رکھا تھا‘ لیکن انہوں نے بڑے ہی شگفتہ انداز میں اپنے بھرپور اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا: ”مجھے آپ پر سو

صفحہ 44

فیصدی اعتماد ہے، اعتماد کہتے ہی اس کو ہیں، جو سو فیصد ہو، اس میں ایک فیصد بھی کمی آ جائے تو اسے اعتماد نہیں کہا جا سکتا" آخری جملہ انہوں نے انگریزی میں ان الفاظ میں کہا:

"If It Is One Percent Less It Is No Confidence."

اہم واقعات

اب میں نے صورت حال کی سنگینی واضح کرنے کے لیے پہلے تو یہ کہا، صورت حال اس تیزی سے بگڑتی جا رہی ہے کہ میں نے لاہور میں انتظار کیے بغیر ہنگامی طور پر اس حقیقت کے باوجود کوئٹہ میں اس ملاقات کی ضرورت محسوس کی ہے تاکہ حالات کے غلط رخ اختیار کر جانے سے قبل ہی اہم اور ضروری اقدامات کیے جا سکیں۔ اس کے بعد چند اہم واقعات کا ذکر کیا۔ ایک کا تعلق قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے فیصل آباد سے ایک رکن مسٹر رندھاوا کے بیان سے تھا، جو اخبارات میں شائع ہو چکا تھا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اخبارات میں مجھ سے منسوب ایک بیان شائع کیا گیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ میں نے قادیانیوں کے بائیکاٹ کی مخالفت کی ہے، میں نے کوئی ایسا بیان نہیں دیا۔ اس کے ساتھ ہی مسٹر رندھاوا نے اپنے ہاتھ میں ایک تار پکڑ کر فضا میں لہرایا اور کہا کہ مجھ سے منسوب اس غلط بیان کے شائع ہونے پر میرے والد گرامی نے اس تار کے ذریعے میری سرزنش کی ہے کہ یہ تم نے کیا بیان دے دیا۔ اس طرح مسٹر رندھاوا نے اسمبلی کے بھرے اجلاس میں اس بیان سے لاتعلقی کا اعلان کر دیا۔ دوسرا واقعہ صاحبزادہ فیض الحسن کی تقریر سے متعلق تھا۔ جس میں انہوں نے قادیانیوں کے بائیکاٹ کے بارے میں کچھ اس قسم کے خیالات کا اظہار کیا، جو حاضرین جلسہ کو سخت ناگوار گزرے۔ جس کے سبب صاحبزادہ صاحب کو تقریر ختم کرنا پڑی اور بڑی مشکل سے صفائی پیش کر کے حاضرین جلسہ کے گھیراؤ سے نجات حاصل کی۔ تیسرا واقعہ لاہور کے نیشنل سنٹر میں مولانا محمد بخش مسلم کی تقریر سے متعلق تھا۔ اس تقریر کے بارے میں بھی خود مولانا مسلم صاحب ہی نے اگلے دن اخبارات کے ذریعے اس امر کی تردید کی کہ انہوں نے بائیکاٹ کے خلاف موقف اختیار کیا تھا۔ چوتھا واقعہ بھی اسی نوعیت کا حامل تھا جو راولپنڈی کے ایک عالم دین کے ساتھ پیش آیا۔

صفحہ 45

بھٹو کا رد عمل

ان چاروں واقعات سے متعلق اخبارات میں شائع شدہ مواد سند اور ثبوت کے طور پر میں اپنے ہمراہ لے گیا تھا اور مسٹر بھٹو سے ملاقات کے دوران یہ اخبارات میرے ہاتھ میں تھے، جن کا میں نے ذکر بھی کیا، لیکن مسٹر بھٹو نے ان اخبارات کے مطالعے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ اسی طرح ٹیلی ویژن اور ریڈیو سے وزارت اطلاعات کی ”بھرپور“ مساعی کے نتیجے میں انتہائی غیر مؤثر کوششوں کا بھی ذکر کیا اور بتایا کہ بائیکاٹ کی مہم آپ کے یا بعض دوسرے لوگوں کے نزدیک کتنی ہی غلط کیوں نہ ہو، اس وقت عوام میں قادیانیوں کے خلاف غصے کا جو طوفان اٹھ چکا ہے، اس کے نتیجے میں آپ کی یہ مہم صرف یہی تاثر دے رہی ہے کہ آپ قادیانیوں سے ہمدردی اور ہمنوائی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ مسٹر بھٹو نے بائیکاٹ کے اس مسئلے پر شدید خفگی کا اظہار کرتے ہوئے اسے غیر اسلامی ہی نہیں، غیر انسانی بھی قرار دیا اور کہا کہ یہ سراسر ایک انتظامی مسئلہ ہے اور یہ کہ وزیر اعظم کی حیثیت سے مجھ پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ تمام شہریوں کے حقوق کا تحفظ کروں۔ مسٹر بھٹو نے بعض ایسے واقعات کا ذکر انتہائی غضب ناک لہجے میں بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب کچھ کیسے برداشت کیا جاسکتا ہے۔

میں نے مسٹر بھٹو کے بیان کردہ ان واقعات کی صحت و عدم صحت پر بحث کرنے کی بجائے ان پر صرف یہی حقیقت واضح کرنے کی کوشش کی کہ غیر یقینی کی اس کیفیت میں عام لوگوں کی بے چینی اور بیزاری بڑھ تو سکتی ہے، کم نہیں ہو سکتی اور یہ ٹی وی، ریڈیو، اخباری بیانات اور مختلف لوگوں کی تقریروں کے ذریعے قادیانیوں کے بائیکاٹ کی مہم کو ناکام بنانے یا ختم کرنے کی جو کوشش کی جا رہی ہے، وہ جلتی پر تیل کا کام دے رہی ہے۔ قادیانیوں ہی کے نہیں، تحریک کے مخالفین سے بھی عوامی نفرت کا طوفان آخری حدوں کو چھو رہا ہے۔ اسے حدود میں رکھنے کے لیے اور صورت حال بے قابو ہونے سے پہلے ضروری ہے کہ جلد از جلد کسی ایسی تاریخ کا اعلان کر دیا جائے جو آپ کی طرف سے اس مسئلے پر آخری فیصلے کے اعلان کی تاریخ ہو۔ صرف اسی طرح صورت حال قابو میں رکھی جاسکتی ہے۔ میں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بائیکاٹ کے خلاف سرکاری اہتمام میں، جس جس محاذ سے جو جو کوشش

صفحہ 46

بھی کی جا رہی ہے‘ اسے فوری طور پر ختم کر دیا جائے۔ مولانا انصاری اور بعض دوسرے ارکان اسمبلی سے اپنی گفتگو اور صلاح مشورے کی روشنی میں میں نے مسٹر بھٹو کو یہ بھی بتایا کہ مرزا ناصر قومی اسمبلی میں اپنے موقف کی وضاحت‘ اور ارکان اسمبلی کے سوالوں کے جوابات ۳۱ اگست تک ختم کرلیں گے۔ اس کے چند روز بعد آپ آسانی کے ساتھ آخری فیصلہ کر سکتے ہیں۔

کامیابی کی علامت

بعض دوسرے مسائل بھی اس ملاقات میں زیرغور آئے‘ جن پر گفتگو کے لیے مسٹر بھٹو نے اے ڈی سی کے ذریعے اپنے سیکرٹری مسٹر افضل سعید خان کو طلب کر لیا اور مجھ سے بھی کہا کہ مسٹر افضل سعید خان ریسٹ ہاؤس میں مقیم ہیں۔ ان کے پاس جائیں اور یہ باتیں انہیں بھی بتائیں اور یہ تو ان سے ابھی کہہ دیں کہ یہ ریڈیو‘ ٹی وی پر جو کچھ ہو رہا ہے‘ اسے فوراً بند کرادیں۔ مسٹر افضل سعید خان کے نام مسٹر بھٹو کے پیغام کو میں اپنی مہم کی کامیابی کی ایک واضح علامت سمجھتا تھا۔ مسٹر بھٹو کا پیغام لے کر مسٹر افضل سعید خان کے پاس پہنچا تو معلوم ہوا کہ میری اور وزیر اعظم کی باہمی گفتگو کے بعض نکات ان کے علم میں لائے جاچکے ہیں۔ مسٹر افضل سعید خان کے کمرے میں داخل ہوا تو ان کا اردلی مسٹر دین محمد دوپہر کا کھانا لگانے میں مصروف تھا۔ مسٹر افضل سعید خان نے مجھے اپنے ساتھ کھانے میں شریک کیا اور حیرت واستعجاب کے عالم میں پوچھا ”کیا کر آئے ہو؟“ آج ان لمحات کی یاد تازہ کرتا ہوں اور اس فضا کے نقوش ابھر کر ذہن میں آتے ہیں تو سوچتا ہوں کہ کتنا ہولناک اور خطرات سے لبریز سماں تھا۔ اللہ تعالیٰ نے حقیقت بیانی اور صاف گوئی کی دولت بے پایاں سے اس حد تک نوازا کہ کسی بھی خوف اور خدشے سے بے نیاز ہو کر ہر وہ بات اس دور کی ہمہ مقتدر شخصیت ۔۔۔۔۔ مسٹر بھٹو ۔۔۔۔ تک پہنچادی‘ جو بلاشبہ ملت اسلامیہ کے وسیع تر مفاد میں تھی‘ جو تقاضائے ایمان کی آئینہ دار تھی اور جو امن عامہ کے تحفظ کی ضمانت ثابت ہو سکتی تھی اور یہی نہیں‘ بلکہ انتظامیہ کے لیے بھی خیر کا پہلو انہی مشوروں پر عمل درآمد میں تھا۔

صفحہ 47

میرے لیے یہ معلومات اس اعتبار سے پریشانی کا موجب تھیں کہ اس مرحلے پر مولانا یوسف بنوری صاحب سے اعلیٰ سرکاری سطح پر رابطہ تحریک کے مقاصد کے لیے نقصان دہ بھی ثابت ہوسکتا تھا۔ اس لیے کہ مسٹر بھٹو ۷ ستمبر کو قومی اسمبلی میں قادیانیوں سے متعلق اپنے فیصلے کا اعلان کرنے والے تھے اور انہی دنوں مولانا یوسف بنوری کے خلاف بے سروپا اور بے بنیاد الزامات پر مبنی اشتہارات بھی بعض اخبارات میں شائع کرائے گئے تھے، جو اگرچہ کسی نام نہاد انجمن کی طرف سے جاری کیے گئے تھے، لیکن عام احساس یہی تھا کہ یہ کھیل سرکاری اہتمام میں کھیلا جارہا ہے۔ بعد میں یہ امر پایہ ثبوت کو بھی پہنچ گیا تھا۔

معلومات کا بوجھ

خیر تو میں نے معلومات کا ”بوجھ“ اٹھایا۔ مولانا مفتی محمود سے رابطہ قائم کیا، جو اسی گورنمنٹ ہوسٹل کے کمرہ نمبر ۴ میں اقامت پذیر تھے۔ اپنی معلومات انہیں منتقل کیں۔ انہوں نے مولانا یوسف بنوری کے ساتھ ساتھ بعض دوسرے علماء کرام سے بھی رابطہ پیدا کرنے کی کوشش کی، لیکن فوری طور پر صرف مولانا مفتی زین العابدین اور مولانا عبدالرحیم اشرف ہی دستیاب ہوسکے۔ تھوڑی دیر کے بعد مولانا یوسف بنوری بھی تشریف لے آئے۔

ٹیپ کے انتظامات

ان چاروں بزرگوں کا اجتماع مولانا مفتی محمود کے کمرے میں نماز عصر کے بعد شروع ہونے والا تھا۔ باہمی مشورے کے بعد کمرے سے باہر۔۔۔۔ بلکہ کمرے کے عقب میں۔۔۔۔ نشست کا اہتمام کیا گیا۔ اس لیے کہ اس دور میں یہ احساس یا اندیشہ بہت عام تھا کہ ہر کمرے میں، بلکہ ہر کمرے کے اندر، ہر ٹیلی فون کے ساتھ ایسے آلات نصب کیے گئے ہیں، جو ہر گفتگو ٹیپ کرنے کے کام آتے ہیں۔ یہ اندیشے صرف گورنمنٹ ہوسٹل تک ہی محدود نہیں تھے، اس قسم کے ”انتظامات“ بعض وفاقی وزراء بھی اکثر کرتے رہتے تھے اور برسبیل تذکرہ یہ بھی عرض کردوں کہ وفاقی وزیر اطلاعات جناب کوثر نیازی عام گفتگو کے دوران ہمیشہ اہتمام کے ساتھ ریڈیو آن (ON) رکھتے تھے۔ ایک مرتبہ جب اسے بند کرنے کے لیے

صفحہ 48

واپسی کا سفر

مسٹر افضل سعید خان کے ساتھ طعام و کلام سے فارغ ہو کر ہوٹل واپس آیا تو اپنے رفیق مسٹر الطاف حسن قریشی کو انتہائی شدید قسم کی تکلیف میں مبتلا پایا۔ ان پر ضعف اور نقاہت کا شدید غلبہ تھا۔ چلنا پھرنا تو در کنار ، گفتگو تک کی سکت سے بھی محروم دکھائی دے رہے تھے۔ ایک طرف اپنی مہم کی کامیابی کی بے پناہ خوشی اور دوسری طرف یہ بے کیفی اور پردیس کا معاملہ بھی شاق گزر رہا تھا۔ ہوائی جہاز کے ذریعے سفر کا خوف بھی مسلط تھا اور اس پر الطاف حسن قریشی کی علالت، چنانچہ بذریعہ ریل واپسی کا فیصلہ ہوا۔ الطاف صاحب کو اسہال کی شدید تکلیف تھی۔

لاہور پہنچنے سے پہلے ہی ریڈیو کے ذریعے یہ خبر ہم سن چکے تھے کہ وزیر اعظم مسٹر بھٹو نے قادیانی مسئلے پر آخری فیصلے کے لیے تاریخ مقرر کرنے کی غرض سے اعلیٰ سطحی اجلاس طلب کرلیا ہے۔ لاہور پہنچنے کے ایک دو دن بعد ۷ ستمبر کی تاریخ کا تاریخی اعلان بھی سننے کی سعادت حاصل ہو گئی۔ تاریخ کے اس تعین سے قادیانی مسئلے کے حل کی منزل قریب آنے کا یقین پہلے سے بھی پختہ ہو گیا۔ جسے بعد کے مراحل میں نصرت الٰہی نے سچ کر دکھایا۔

عجیب و غریب اتفاق

اسے عجیب و غریب اتفاق ہی تصور کرنا چاہیے کہ میں ۵ ستمبر ۷۴ء کو گورنمنٹ ہوسٹل (جسے ایم این اے ہوسٹل بھی کہا جاتا ہے) کے ایک کمرے میں مقیم تھا۔ ٹیلی فون کی گھنٹی بجی۔ ریسیور اٹھایا، دوسری طرف جانی پہچانی آواز مذہبی امور کے سابق وزیر جناب کوثر نیازی کے پرائیویٹ سیکرٹری مسٹر شہزاد کی تھی۔ مسٹر شہزاد نے پوچھا: مولانا صاحب ہیں؟ میں نے جواباً معلوم کیا، کون سے مولانا صاحب کی تلاش ہے۔ مسٹر شہزاد نے میری آواز پہچان لی اور رسمی سلام دعا کے بعد کہا ”میرا مولانا یوسف بنوری صاحب کا آج رات مولانا صاحب (کوثر نیازی صاحب) کے یہاں کھانا ہے اور کل (۶ ستمبر کو) وزیر اعظم صاحب نے مولانا بنوری صاحب کو ملاقات کے لیے وقت دیا ہے“ میں نے مسٹر شہزاد سے تو صرف اتنا کہا کہ میں مولانا بنوری صاحب کو تلاش کر کے ان تک آپ کا پیغام پہنچادوں گا، لیکن

صفحہ 49

اصرار کیا گیا تو ہنستے ہوئے بولے ریڈیو کے تمام پروگراموں سے باخبر رہنا چونکہ میری منصبی ذمہ داری ہے، اس لیے ان کا ”آن“ رہنا ہی ضروری ہے، لیکن جب بند کرنے کے لیے اصرار کیا گیا تو نیازی صاحب نے ”سرکاری“ راز فاش کر ہی دیا اور بولے ”بھئی آپ کو معلوم نہیں، ہماری گفتگو اسی طرح محفوظ رہ سکتی ہے کہ اسے ریڈیو کی آواز کے ساتھ خلط ملط کر دیا جائے۔ اس لیے کہ ”سرکار“ نے ہر کمرے میں، ہر طرح کی گفتگو سے باخبر رہنے کا اہتمام کر رکھا ہے اور بڑے جدید آلات Bugging کے لیے جگہ جگہ نصب کر رکھے ہیں“ خیر یہ بات تو ضمناً نوک قلم پر آگئی۔ مفتی صاحب کے کمرے کے عقب میں مختصر سی نشست میں۔۔۔۔ جس میں مولانا یوسف بنوری صاحب نے اس امر کی تصدیق کر دی کہ رات کے کھانے پر انہیں کوثر نیازی صاحب نے مدعو کر رکھا ہے اور کل وزیر اعظم سے ملاقات کی ابھی کوئی توثیق نہیں ہوئی۔

اس مجلس میں میری حیثیت تو صرف ایک راوی کی تھی کہ میں نے دعوت اور ملاقات سے متعلق سنی سنائی بات ان حضرات تک پہنچا دی اور مجلس کے دوران میں خاموشی کے ساتھ گفتگو سنتا رہا، لیکن دل ہی دل میں، میں نے فیصلہ کر لیا کہ کل (۶ ستمبر کو) مسٹر بھٹو سے مولانا بنوری کی ملاقات منسوخ کرانے کی کوئی صورت نکالنا چاہیے۔ اپنی اس سوچ کا ذکر میں نے مولانا عبد الرحیم اشرف سے کر دیا، جنہوں نے میری تائید کی۔ چنانچہ میں نے رات ہی مسٹر بھٹو سے ان کے ملٹری سیکرٹری کے ذریعے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا۔ جس کے لیے اگلے دن (۶ ستمبر) ساڑھے نو بجے صبح کا وقت طے ہو گیا۔ جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے، مسٹر بھٹو سے میری جتنی بھی ملاقاتیں ہوئیں، ان میں سے کوئی بھی ملاقات گیارہ بجے سے پہلے کبھی نہیں ہوئی۔ یہ پہلی ملاقات تھی، جو ساڑھے نو بجے ہونے والی تھی۔

بے چینی کی رات، بے قراری کے لمحات

رات بھر طبیعت شدید بے چین رہی۔ قومی اسمبلی کے ارکان ہی نہیں، پوری قوم منتظر تھی کہ ۷ ستمبر کو قادیانیوں کے بارے میں کیا اعلان ہونے والا ہے۔ ملک بھر میں مسلح فوجی دستے گشت کر رہے تھے۔ فوج کا یہ گشت اتنا منظم اور اتنا وسیع تھا کہ ایام جنگ کے سوا اس نوعیت کی فوجی نقل و حرکت قیام پاکستان سے لے کر آج تک دیکھنے میں نہیں آئی۔

صفحہ 50

چنانچہ عام شاہراہوں پر ہی نہیں، تمام اہم قومی تنصیبات اور دور دراز قصبات تک میں فوجی افسر اور جوان تعینات کیے جاچکے تھے۔ سرکاری سطح پر اس قسم کے انتظامات کے باعث یہ اندیشہ بار بار سامنے آتا تھا کہ مسٹر بھٹو، جس فیصلے کا اعلان کرنے والے ہیں، وہ عام مسلمانوں کے مطالبے سے مختلف ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت کو امن عامہ بگڑنے کا خوف لاحق ہے۔ جس کے لیے فوج کو نہ صرف یہ کہ تیار رہنے کا حکم دیا گیا ہے، بلکہ ہر قسم کی صورت حال سے عہدہ برآ ہونے کے لیے بھرپور قسم کی تیاریاں کی جاچکی ہیں۔

میرا قیام مری روڈ پر دوسرے درجے کے ایک ہوٹل میں تھا۔ الطاف حسن قریشی بھی میرے ساتھ مقیم تھے اور مشوروں میں بھی شریک تھے۔ صبح اٹھتے ہی وزیر اعظم کے اے ڈی سی کا فون آیا۔ ملاقات کا وقت کنفرم کیا۔ چنانچہ میں ٹھیک ساڑھے نو بجے مسنون دعاؤں کا ورد کرتے ہوئے وزیر اعظم ہاؤس میں ملاقات کے لیے مخصوص کمرے میں پہنچ گیا۔ ایک آدھ منٹ کے بعد ہی اے ڈی سی نے کمرے کے دروازے پر اپنے مخصوص فوجی انداز میں ”جناب وزیر اعظم“ کے الفاظ کہے، جو ملاقاتی کو مودب انداز میں وزیر اعظم کا استقبال کرنے کے لیے کہے جاتے ہیں۔

ہم حکومت چھوڑ رہے ہیں

مسٹر بھٹو سے مصافحہ کرتے ہی کچھ یوں لگا جیسے بے چینی ہی نہیں، مزاج کی برہمی بھی عروج پر ہے۔ سخت غصے کے عالم میں ہیں۔ میری طرف دیکھنے کے بجائے صوفہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بیٹھنے کو کہا اور بولے ”اچھا ہوا، آپ آگئے ہیں۔ ابھی کچھ اور لوگ بھی آنے والے ہیں اور سب سے پہلے ہماری بیگم سے ملاقات ہوگی۔ ہم حکومت چھوڑ رہے ہیں“۔

میں مسلسل دو سال کی ملاقاتوں میں مسٹر بھٹو کے مزاج سے کچھ نہ کچھ واقف ضرور ہوگیا تھا، لیکن یہ بات ایک تو میرے لیے یکسر خلاف توقع تھی اور یوں بھی اچانک اس قسم کے فیصلے کی اطلاع کوئی معمولی بات نہ تھی، اس لیے فوری طور پر نہ یہ نتیجہ اخذ کرنا ممکن تھا کہ جو کچھ میں سن رہا ہوں، اس میں حقیقی جذبات کا کس حد تک دخل ہے اور بناوٹ یا تصنع کا کتنا حصہ ہے اور نہ ہی جواباً کچھ کہنے کی پوزیشن میں تھا، البتہ کچھ وقت لینے کے لیے میں نے

صفحہ 51

یہ بات کہی کہ دوسرے لوگوں کے آنے سے پہلے مجھے چند منٹ تنہائی میں ضرور دیں۔ میں بھی آپ سے ضروری بات کرنا چاہتا ہوں۔ اتنے میں مسز بھٹو دروازے پر نمودار ہوئیں۔ مسٹر بھٹو نے دروازے کی طرف ہاتھ اٹھاتے ہوئے انگریزی میں Please Wait (ذرا ٹھہریے) کے الفاظ خاصے درشت لہجے میں کہے۔ بیگم بھٹو بھی وزیر اعظم کی طرح سخت مغلوب الغضب معلوم ہوتی تھیں۔ وہ ایک لمحہ توقف کیے بغیر الٹے پاؤں واپس چلی گئیں۔ اس کا احساس شاید مسٹر بھٹو کو بھی ہو گیا۔۔۔۔ بعد میں اس کا ثبوت بھی کچھ کچھ مل گیا۔۔۔۔ کہ بیگم بھٹو پہلے ہی سے سخت ذہنی کرب میں مبتلا تھیں اور مسٹر بھٹو دونوں کے لیے اعصابی کشیدگی اور ذہنی تلخی وقتی نہیں تھی، بلکہ گزشتہ چند دنوں سے وہ اسی کیفیت میں مبتلا رہے ہوں گے۔ تاہم مسٹر بھٹو نے، مسز بھٹو کی خفگی دور کرنے کے لیے اے ڈی سی کو فون پر حکم دیا کہ وہ بیگم صاحبہ کے پاس جائیں اور انہیں کہیں کہ میں ابھی چند منٹ میں انہیں بلا رہا ہوں۔ ادھر میری طرف دیکھتے ہوئے مسٹر بھٹو نے کہا ”ہاں بتائیے“ میں نے ذرا دھیمے لہجے میں گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے کہا ”جو بھی فیصلہ کرنا ہو، سوچ سمجھ کر ذرا اعتدال سے کام لیتے ہوئے کریں، آپ مجھے سخت رنجیدہ خاطر معلوم ہوتے ہیں۔ میں مسئلے کی نزاکت سے بھی آگاہ ہوں اور آپ کی پوزیشن بھی سمجھتا ہوں۔ لیکن پیشتر اس کے کہ اصل مسئلے پر گفتگو کی جائے، میں آپ سے یہی عرض کروں گا کہ آپ Issue کے کھڑا ہونے سے لے کر اس ضمن میں اب تک جو واقعات رونما ہو چکے ہیں اور آپ کی طرف سے جو بیانات دیے جا چکے ہیں، وہ یکسر نظر انداز کر کے جو بھی فیصلہ کیا گیا، وہ نہ تو ملک اور قوم کے لیے مفید ہو گا اور نہ آپ کے سیاسی مستقبل کے لیے“

باتوں باتوں میں، میں نے ان سے یہ بھی کہہ دیا کہ اس مرحلے پر آپ علماء میں سے کسی بھی عالم دین سے انفرادی طور پر ملاقات ہرگز نہ کریں۔ مسٹر بھٹو خاموشی سے میری بات سن رہے تھے لیکن ان کی پیشانی کے شکن کھلنے کے بجائے بڑھتے ہی جا رہے تھے۔ وہ عام طور پر پیچ دار گفتگو سننے کے عادی نہیں تھے۔ چنانچہ مجھے کھل کر بات کرنے کو کہا۔ جس پر میں نے دل کی بات بڑی صفائی سے کہہ ڈالی۔ میں نے کہا ”آپ نے آج مولانا یوسف بنوری کو ملاقات کے لیے بلایا ہے۔ یہ ملاقات کسی طرح بھی مناسب نہیں ہو گی“۔ مسٹر بھٹو اس وقت اگرچہ اس قسم کی کوئی بات سننے کے موڈ میں نہیں تھے، اس لیے کہ وہ تو بنیادی

صفحہ 52

مسئلے ہی کے بارے میں غیر معمولی تذبذب اور تردد کا شکار تھے اور سخت قسم کے ذہنی عذاب میں مبتلا تھے۔ میری یہ بات ان کے ذہن کے کسی گوشے میں محفوظ ضرور ہو گئی۔ اسی کا نتیجہ تھا کہ چند گھنٹوں پر مشتمل گرما گرم گفتگوؤں اور انتہائی تلخ بحثوں کے بعد (جن کا ذکر آگے آتا ہے) اپنے ایک وزیر کی طرف گھورتے ہوئے دیکھا اور کہا ”مولانا یوسف بنوری سے ملاقات کی کیا ضرورت ہے؟“ اور بس۔ میں دل ہی دل میں سوچ رہا تھا کہ ہم مولانا یوسف بنوری کو تو قائل نہیں کرسکے تھے کہ اس مرحلے پر مسٹر بھٹو سے ان کی ملاقات مصلحت کے خلاف ہوگی، اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ مولانا بنوری کو اپنی بصیرت پر اعتماد تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ مومن نہ کسی کو دھوکہ دیتا ہے اور نہ کسی کے دھوکے میں آتا ہے، لیکن ہمیں صرف یہ اندیشہ تھا کہ اس آخری مرحلے پر حالات کوئی ایسا رخ اختیار نہ کرلیں کہ خدا نخواستہ مولانا یوسف بنوری جیسی عظیم دینی شخصیت کو، جنہیں اس تحریک میں مرکزی کردار کا مقام حاصل ہوچکا تھا، بلاوجہ کسی تہمت کا نشانہ بننا پڑے۔ خیر، تو اس راستے سے نہ سہی، یہ ضرورت اس طرح پوری ہو گئی کہ مسٹر بھٹو نے خود ہی یہ ملاقات منسوخ کر دی۔

مسز بھٹو کو بلاوا

میں جب مسٹر بھٹو کو اعتدال پسندانہ رویہ اختیار کرنے کا مشورہ دے چکا اور مولانا یوسف بنوری سے مجوزہ ملاقات کا تذکرہ بھی ہو چکا تو مجھ سے استفسار کے بعد مسٹر بھٹو نے اے ڈی سی کے ذریعے مسز بھٹو کو ملاقات کے کمرے میں بلا بھیجا۔ میں اور بھٹو آمنے سامنے بیٹھے تھے۔ مسز بھٹو میرے دائیں ہاتھ دوسرے صوفے پر بیٹھ گئیں اور منتظر تھیں کہ گفتگو کا آغاز ہو۔ مسٹر بھٹو اس سے پہلے بھی اگرچہ بعض مواقع پر میرا تعارف کرا چکے تھے، لیکن آج پھر انہوں نے اپنے انتہائی مخلص دوست کی حیثیت سے ایک دو جملوں سے میرے تعارف کی تجدید کی اور اس کے معاً بعد انتہائی تند و تیز لب و لہجے میں اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں مسز بھٹو کو بتایا ”میں نے مصطفیٰ صادق کو بتا دیا ہے کہ ہم حکومت چھوڑ رہے ہیں، ہم کسی کو کافر قرار نہیں دے سکتے۔ ایسے فیصلے کرنے سے بہتر ہے کہ ہم حکومت چھوڑ دیں۔ ہم حکومت چھوڑ رہے ہیں“۔ مسز بھٹو بولیں ”ایسی حکومت کا کیا مطلب، جس میں دو سروں کی مرضی پر چلنا ہو، دو سروں کے فیصلے ماننا ہوں، یہ ملا کی جیت ہو گی، ہم کسی کو

صفحہ 53

کافر کیوں قرار دیں؟ مودودی کہتا ہے تو کہے، ملا کہتا ہے تو کہے"۔

غیر معمولی صورت حال

اب میں کچھ کچھ محسوس کر رہا تھا کہ صورت حال فی الواقع بگڑی ہوئی ہے۔ اور معاملات الجھ بھی سکتے ہیں۔ لیکن باہر پوری قوم علماء کے تمام طبقوں کے نمائندوں کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے، جس طرح اس مطالبے کے حق میں یک جان و یک قالب ہو چکی تھی، اور خود اس مطالبے کی حقانیت کے باعث میں پوری طرح ڈانواں ڈول تو نہیں ہوا تھا، لیکن سچی بات یہ تھی کہ اندر ہی اندر کچھ گھبرا سا گیا تھا۔ یہ لمحات بڑے ہی نازک اور انتہائی خطرناک تھے۔ اسی قسم کے جملے ردو بدل کے ساتھ مسز اور مسٹر بھٹو نے ایک بار پھر دہرائے اور میں نے اعتدال پسندی سے کام لینے کی بات کا اعادہ کیا، اتنے میں سات آٹھ منٹ گزر چکے تھے، ماحول کی تلخی بری طرح ڈس رہی تھی۔

کیا خوب سوجھی!

غصے اور غضب سے آلودہ اس ماحول کو کچھ تبدیل کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے مجھے خوب بات سجھائی۔ میں نے مسٹر بھٹو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا "کیا آج اس غصے کی وجہ سے ہم چائے سے بھی محروم رہیں گے، ایسا تو پہلے کبھی نہیں ہوا" ابھی میں جملہ پورا نہیں کر پایا تھا کہ مسٹر بھٹو نے ایک دو تین بار مسلسل گھنٹی بجائی اور بیرے پر غصہ نکالتے ہوئے اسے خوب ڈانٹا اور چائے مع ضروری لوازمات کا آرڈر دیا۔ بس یوں سمجھئے کہ بیرے کو ڈانٹ ڈپٹ کے بعد مسٹر بھٹو کے غصے کا طوفان اگر بالکل تھم نہیں گیا تو اس کی رفتار چوتھے گیئر سے تیسرے گیئر میں ضرور آگئی۔ ادھر مسٹر بھٹو نے مجھ سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا "باہر پیرزادہ اور اٹارنی جنرل بھی آئے بیٹھے ہیں" (پیرزادہ کا نام انہوں نے کچھ ایسے الفاظ میں لیا، جن کا ذکر مناسب معلوم نہیں ہوتا) میں ان کی ہاں میں ہاں ملانے کے سوا کیا کہہ سکتا تھا، اگرچہ غنیمت ہے کہ انہوں نے اپنی تائید میں کچھ کہلوانے کی کوشش نہیں کی ورنہ بعض اوقات وہ یہ بھی کیا کرتے تھے کہ کسی شخص کو اپنے پسندیدہ نام سے پکارتے اور مخاطب سے بھی پوچھتے کہ میں نے اس کا نام ٹھیک رکھا ہے نا؟ لیکن اچھے موڈ اور اچھے ماحول میں ایسی

صفحہ 54

بات کیا کرتے تھے، آج تو موڈ ہی کچھ اور تھا۔ موڈ ہی کیا سارا رنگ ڈھنگ ہی بدلا ہوا تھا لیکن خدا بھلا کرے یحییٰ بختیار کا کہ انہوں نے آتے ہی فضا کا رنگ اور مسٹر بھٹو کی سوچ کا ڈھنگ اگر مکمل نہیں تو بڑی حد تک تبدیل کر کے رکھ دیا۔ کیا خوفناک ماحول تھا اور کتنا عجیب و غریب منظر تھا۔

مسٹر حفیظ پیرزادہ وزیر قانون، اور مسٹر یحییٰ بختیار (اٹارنی جنرل) اسی مختصر سے کمرہ ملاقات میں داخل ہوئے تو مسٹر بھٹو نے سب سے پہلے مسٹر پیرزادہ سے ذرا تلخ لہجے میں کہا: ”کل ۷ ستمبر ہے، کیا کرنے والے ہو؟ کہاں گیا ہمارا سوشلزم؟“ مسٹر پیرزادہ صورت حال کی سنگینی سے یکسر بے خبر معلوم ہوتے تھے۔ بے ساختہ بولے ”سوشلزم ہماری معیشت ہے۔۔۔۔۔ اسلام ہمارا دین ہے“۔

دھونس اور دبدبے سے دلیل اور اپیل تک

مسٹر بھٹو گرج دار آواز میں بولے ”تمہارا اسلام یہی ہے کہ دوسروں کو کافر قرار دو۔ ہم ایسے فیصلے نہیں کر سکتے۔ ہم ایسی حکومت نہیں کر سکتے۔ ہم نے حکومت چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا ہے“ مسٹر بھٹو بولتے جا رہے تھے ”کدھر ہے تمہارا۔۔۔؟“ ایک دو منٹ کے اندر اندر یا اس سے کم وقفے میں کوثر نیازی بھی شریک مجلس ہو چکے تھے۔ پیرزادہ کی طبیعت اب پہلے کی سی چہک مہک سے محروم ہو چکی تھی۔ دبے لفظوں میں بولے ”ہمارے لاء سیکرٹری بھی باہر آئے ہوئے ہیں۔ انہیں بھی بلا لیں تو اچھا ہے“ بھٹو نے صرف سر ہلا کر اس کی منظوری دی اور جسٹس محمد افضل چیمہ بھی کمرے میں آ داخل ہوئے اور گفتگو دھونس اور دبدبے کے بجائے دلیل اور اپیل کا رخ اختیار کر گئی، جیسا کہ پہلے بھی ذکر آچکا ہے۔ اس تبدیلی کا سہرا یحییٰ بختیار کے سر تھا۔

یحییٰ بختیار ۔۔۔۔۔ مرد جری

سچی بات یہ ہے کہ یحییٰ بختیار کا یہ کارنامہ اتنا عظیم اور اتنا غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے کہ اس کی جتنی بھی تحسین کی جائے، کم ہے۔ میں تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ مسٹر بھٹو کی پارٹی میں کوئی ایسا مرد جری بھی شامل ہے، جو بلا خوف و خطر اپنا موقف نہ صرف یہ کہ شد و مد

صفحہ 55

کے ساتھ بیان کر دے‘ بلکہ استدلال کی قوت سے مسٹر بھٹو جیسے حکمران کو ۔۔۔۔۔ عین اس مرحلے پر جب کہ وہ بے یقینی اور مایوسی کی دلدل میں گھٹنے گھٹنے پھنسا ہوا ہو‘ اور غیظ و غضب کے عالم میں سارے پینترے بھول چکا ہو ۔۔۔۔۔ زور استدلال سے صورت حال کا رخ تبدیل کر دے۔ چنانچہ جونہی یکے بعد دیگرے مسٹر بھٹو اور مسز بھٹو نے اپنی رٹی پٹی باتیں دہرائیں اور کہا ”یہ ملا کی جیت ہے۔ لوگ کہیں گے مودودی جیت گیا ہے۔ ہم کون ہیں‘ کسی کو کافر قرار دینے والے۔ ایسا اعلان کرنے سے بہتر ہے حکومت چھوڑ دی جائے۔ ہم نے حکومت چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ہم مستعفی ہو رہے ہیں“۔ یحییٰ بختیار کی ایمان افروز گفتگو ان الفاظ سے شروع ہوتی ہے۔ انتہائی موثر اور پر مغز گفتگو۔ ”آپ حکومت چھوڑ رہے ہیں یا آپ سیاست سے بھی دست بردار ہو رہے ہیں۔ آپ کو معلوم ہے کہ آپ کس ایشو (Issue) پر مستعفی ہو رہے ہیں۔ کیا آپ پبلک کے سامنے اپنے استعفیٰ کا جواز ثابت کر سکیں گے؟“ کاش میں اسمبلی کی اس کارروائی کا خلاصہ (یحییٰ بختیار نے Summary کے الفاظ استعمال کیے تھے) اپنے ہمراہ لے آتا اور آپ کو بتاتا کہ مرزا ناصر نے کیا کچھ کہا ہے۔ کیا موقف اختیار کیا ہے؟ یہ کون کہتا ہے کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے فیصلے سے ملا جیت جائے گا؟ آپ کو معلوم ہے کہ احمدیت کے بارے میں علامہ اقبال کا کیا موقف ہے؟ ہم اسی موقف کے قائل ہیں۔ اگر کسی کے خیال میں قادیانیوں کو کافر قرار دینا صحیح نہیں ہے تو پھر انہیں قادیانیوں کا یہ نقطہ نظر درست تسلیم کرنا پڑے گا کہ ہم اور آپ غیر مسلم ہیں“۔

حفیظ پیر زادہ بھی بولے

یحییٰ بختیار کی اس ولولہ انگیز گفتگو کے بعد دوسرے شرکاء مجلس کو بھی زبان کھولنے کا حوصلہ ہوا۔ حفیظ پیر زادہ بولے ”جو کچھ قومی اسمبلی میں ہوا ہے‘ اس کے بعد تو اسی فیصلے کا اعلان کرنا پڑے گا لیکن آپ اس کے خلاف رائے رکھتے ہیں اور اس فیصلے کو آئینی شکل دینے کے حق میں نہیں ہیں تو اسمبلی کے اندر اور اسمبلی کے باہر میں آپ کے ساتھ ہوں“۔

بیٹی کا خط

میں نے بھی یحییٰ بختیار کی گفتگو کے بعد مداخلت کی کچھ گنجائش محسوس کی اور مسٹر بھٹو

صفحہ 56

کو ان کی بیٹی کا ایک خط یاد دلایا جو خود مسٹر بھٹو نے چند دن پہلے سنایا تھا اور جس میں اسمبلی کی کارروائی کے حوالے سے یہ رائے ظاہر کی گئی تھی کہ اس کاروائی سے تو یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ ”یا قادیانی غیر مسلم ہیں یا ہم“ مسٹر بھٹو نے اس خط کی تفصیلات کی تصدیق کی لیکن مسز بھٹو خاموش رہیں اور کچھ یوں دم بخود سی ہو گئیں، جیسے لاجواب ہو گئی ہوں۔ شاید اس لیے کہ ان کے سامنے ان کی بیٹی کا موقف بیان کر دیا گیا تھا اور بیٹی بھی وہ جو انہیں بے حد عزیز تھی اور جس کی رائے ان کے نزدیک اہمیت اور وقعت کے اعتبار سے آسانی کے ساتھ نظر انداز نہیں کی جاسکتی تھی۔

ماحول میں آسودگی

ماحول میں تلخی اور کشیدگی کی بجائے سکون اور آسودگی محسوس کرتے ہوئے میں نے سلسلہ واقعات (Chain Events) کا ذکر کیا۔ خصوصیت کے ساتھ مسٹر بھٹو کے مثبت اور واضح بیان، جن سے عام مسلمانوں کے عقیدہ و ایمان کی تائید کا پہلو نکلتا تھا، اور دوسرے یہ کہ 7 ستمبر کو اس مسئلے کے بارے میں فیصلے کا اعلان کیا جاچکا ہے، جس کا منطقی تقاضا یہی ہے کہ اپنے عقیدہ و ایمان کی تائید میں صحیح فیصلے کا اعلان کر دیا جائے۔

ایک اہم گزارش

ایک گزارش میں نے یہ بھی کی کہ وزیر اعظم خواہ مخواہ اس غلط فہمی میں مبتلا ہو گئے ہیں کہ وہ قادیانیوں کو کافر قرار دینے کی ذمہ داری قبول کر رہے ہیں۔ حالانکہ اسلامی عقیدے کی رو سے قادیانی مسلمہ طور پر، طے شدہ حقیقت کے طور پر پہلے سے غیر مسلم ہیں۔ اس طے شدہ اور تسلیم شدہ حقیقت کو صرف اور صرف آئینی شکل دینے کی ذمہ داری۔۔۔۔ جو ایک اہم سعادت کی حیثیت بھی رکھتی ہے۔۔۔۔ قومی اسمبلی قبول کر رہی ہے جس کا اعلان قائد ایوان کی حیثیت سے وزیر اعظم کرنے والے ہیں۔ آئینی دفعہ کے اضافے کا یہ فیصلہ قومی اسمبلی کا متفقہ فیصلہ ہے۔ پوری قوم کا متفقہ فیصلہ ہے۔ عالم اسلام کا متفقہ فیصلہ ہے۔ اس لیے یہ غلط فہمی بلاوجہ پیدا ہو رہی ہے کہ مسٹر بھٹو قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے والے ہیں۔ ہاں البتہ اس کی زبان سے اگر یہ اعلان ہونے والا ہے اور اسے

صفحہ 57

آئین کا حصہ بنایا جانے والا ہے تو اس سے حکومت کی اور پوری قوم کی ذمہ داری میں ایک اہم اضافہ ہو جاتا ہے کہ وہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت کے طور پر تحفظ کا یقین دلائیں۔ یہ ذمہ داری ایک مقدس مذہبی فریضے کی حیثیت اختیار کر جاتی ہے اور یہ فیصلہ خود قادیانیوں کے لیے بھی مضر ہونے کے بجائے مفید ثابت ہو گا۔ آخر میں، میں نے یہ بھی عرض کر دیا کہ خدا نخواستہ کل آپ اس فیصلے کا اعلان نہیں کرتے تو نظم و نسق بحال رکھنے کے تمام تر انتظامات کے باوجود صورت حال آپ کے قابو میں نہیں رہے گی اور خدا ہی جانتا ہے کہ اس ملک کا حشر کیا ہو گا؟

یحییٰ بختیار کی تائید

جناب یحییٰ بختیار اگرچہ اپنی بات، وضاحت اور صراحت سے کہہ چکے تھے لیکن میری تائید میں انہوں نے ایک مرتبہ پھر اپنے موقف کا اعادہ کیا اور مسٹر بھٹو پر زور دیا کہ وہ بلاوجہ نہ تو کسی غلط فہمی کا شکار ہوں اور نہ اس بنا پر کسی کمزوری کا مظاہرہ کریں کہ اس فیصلے سے کسی دوسرے گروہ کو تقویت حاصل ہو جائے گی۔ کوثر نیازی اور جسٹس چیمہ نے بھی یحییٰ بختیار کے موقف کی تائید کی لیکن شاید اس لیے کہ دلائل کا اعادہ غیر ضروری تھا۔ ان کی گفتگو بہت مختصر تھی۔ جسٹس چیمہ نے خاص طور پر اس پہلو کی طرف بھی توجہ دلائی کہ اس فیصلے کے اعلان کے بعد امن عامہ کے تحفظ کا بطور خاص خیال رکھنا بہت ضروری ہے۔

وفد سے ملاقات

اس وقت تک گفتگو شروع ہوئے تقریباً اڑھائی گھنٹے گزر چکے تھے اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن کا ایک وفد بھی ملاقات کے لیے منتظر تھا۔ چنانچہ مجھے اسی کمرے میں چھوڑ کر مسٹر بھٹو اپنے دوسرے ساتھیوں کے ہمراہ وزیر اعظم ہاؤس کے ایک بڑے کمرے میں چلے گئے۔ جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے، اپوزیشن کے اس وفد میں مفتی محمود، پروفیسر غفور، مولانا نورانی اور جناب مولا بخش سومرو شامل تھے۔ کم و بیش ایک گھنٹہ یہ ملاقات جاری رہی۔ موضوع گفتگو یہی مسئلہ تھا۔ اس کے بعد اپوزیشن کا وفد واپس چلا گیا اور مجھے بھی دوسرے کمرے میں بلا لیا گیا۔

صفحہ 58

معنی خیز گفتگو

مسز بھٹو اپوزیشن کا وفد آنے سے پہلے ہی اپنے کمرے میں جا چکی تھیں لیکن ان کے کمرہ چھوڑنے سے قبل مسٹر بھٹو نے حفیظ پیرزادہ سے انتہائی معنی خیز انداز میں پہلے تو یہ پوچھا کہ اگر یہی فیصلہ ہونے والا ہے تو طاہر کو کیا جواب دو گے۔ پیر زادہ نے مسٹر بھٹو کو اطمینان دلایا کہ آپ یہ بات مجھ پر چھوڑ دیں۔ اس کے بعد کوئی دوسرا نام لیے بغیر مسٹر بھٹو نے یہی سوال پھر دہرایا اور دو دفعہ اور ...... اور ...... کے الفاظ زبان سے ادا کیے۔ ایسے معلوم ہوتا تھا کہ مسٹر حفیظ پیرزادہ اپنے قائد کا مدعا سمجھ گئے ہیں۔ چنانچہ جواب میں انہوں نے صرف اتنا کہا، 'بس آپ مجھ پر چھوڑ دیں'۔ مسٹر بھٹو اگرچہ اس بات سے پوری طرح مطمئن تو نہ تھے، لیکن وہ کچھ اور کرنے کی پوزیشن میں بھی نہیں تھے۔ انہوں نے بالآخر کھل کر کہہ دیا ”کیا کیا وعدے لوگوں سے کر رکھے تھے، وہ روزانہ یہاں چکر لگاتے ہیں“ حفیظ پیرزادہ یہی بات کہے جا رہے تھے ”آپ ان کی فکر نہ کیجئے۔ آپ مجھ پر چھوڑ دیجئے“۔

اف یہ بے بسی

عجیب بے بسی کی کیفیت تھی۔ فیصلہ جس کا اعلان کرنا مقدر ہو چکا تھا، اس پر نہ دل مطمئن تھا نہ یہ ضمیر کی آواز کے مطابق تھا اور بظاہر عقیدہ و ایمان کے نقطہ نظر سے ان کے نزدیک اس کی کچھ ایسی حیثیت بھی نہ تھی۔ پس ایک سیاسی ضرورت، ایک سیاسی مصلحت، حالات کی مجبوری کے سوا اور کوئی وجہ نہ تھی جو اس فیصلے کا موجب بن رہی تھی۔ خیر تو اس فیصلے کے اعلان سے پہلے ابھی خطرہ ہی خطرہ تھا۔ اندیشے ہی اندیشے اور وسوسے ہی وسوسے تھے۔ تاہم اپوزیشن سے گفتگو کے بعد جب مجھے بڑے کمرے میں بلایا گیا تو اب برہمی اور غصے کی کیفیت میں نہیں بلکہ افسردہ اور پژمردہ حالت میں دھیمی دھیمی آواز میں بس اتنا کہا ”اچھا مصطفیٰ! لاء سیکرٹری جسٹس چیمہ نے ایک مسودہ تیار کر رکھا ہے۔ آپ اسے پڑھ لیں۔ کل اسے آئین کا ایک حصہ بنا دیا جائے گا۔ آپ کے مشوروں کا شکریہ“ اس وقت کم و بیش ڈیڑھ پونے دو کا وقت تھا۔ جمعہ کا دن تھا۔ مسودے کی چٹ میرے ہاتھ میں تھمانے کے بعد مسٹر بھٹو نے مولانا یوسف بنوری کا ذکر کیا کہ اب انہیں ملنے کی کیا ضرورت ہے اور

صفحہ 59

ساتھ ہی میری طرف دیکھنے کے بعد کوثر نیازی کی طرف دیکھا۔ ہم دونوں خاموش رہے۔ اس لیے کہ میں تو پہلے ہی اپنی رائے بتا چکا تھا اور اس وقت مولانا کا ذکر کرنے کا مقصد صرف کوثر نیازی کو اطلاع دینا تھا۔

اتنے اہم فیصلے کے بارے میں آخری نتیجے پر پہنچنے کے بعد ایک نیا مسئلہ چھیڑ دیا کہ بالغ رائے دہی کے اصول کے مطابق رائے دہندوں کی عمر کم کیوں نہ کر دی جائے تاکہ طلبہ کو خوش کیا جاسکے۔ جس کے لیے کل ہی آئین میں ترمیم پر غور کرنا چاہیے۔ یہ بات مسٹر بھٹو نے ممکن ہے پہلے سے سوچ رکھی ہو لیکن اس موقع پر بالکل ہی بے محل معلوم ہوتی تھی۔ کہاں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا تاریخی فیصلہ اور کہاں ووٹروں کی عمر کم کرنے کا معاملہ۔ خیر یہ تو بات کسی بحث کے بغیر ان سنی ہو گئی۔

توشہ آخرت

میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا مژدہ لیے وزیر اعظم ہاؤس سے اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ادا کرتے ہوئے اس یقین کے ساتھ نکلا کہ مجھ ایسے حقیر کو اس انتہائی اہم اور مقدس کام میں جو بھی حصہ مل گیا ہے‘ انشاء اللہ میرے لیے توشہ آخرت ثابت ہوگا۔ واپس ہوٹل میں آیا اور الطاف حسن قریشی کو دن بھر کی روداد کا خلاصہ سنایا۔

صفحہ 60

ربوہ کے نوجوانوں میں بغاوت کی لہریں

مرزا طاہر نوشتہ دیوار پڑھ لیں

(زاہد عباس سید ---- ایک باغی قادیانی)

مرزا طاہر نے مباہلہ کا شوشہ نئی نسل کی توجہ

اصل مسائل سے ہٹانے کے لیے چھوڑا

قادیانی جماعت اس وقت عجیب مخمصے کی حالت میں گھری ہوئی ہے۔ مرزا طاہر احمد جو اپنے والد مرزا بشیر الدین محمود کے نقش قدم پر چلے اور جس طرح وہ قادیان سے برقعہ پہن کر نکلے تھے، ایسے ہی مرزا طاہر احمد پاکستان سے برقعہ پہن کر فرار ہوئے۔

جنرل ضیاء الحق ۱۹۷۷ء میں آئے تھے اور مرزا ناصر احمد کے دور ۱۹۸۲ء تک انہوں نے قادیانی جماعت کو کچھ بھی نہیں کہا۔ مرزا ناصر احمد کی وفات کے بعد مرزا طاہر احمد اقتدار پر آئے تو انہوں نے آتے ہی تند و تیز خطبات اور تقاریر کا سلسلہ شروع کر دیا اور جماعت کو ایسا تاثر دینا شروع کیا کہ قادیانی اقتدار کے دن قریب آگئے ہیں۔ انہوں نے پاکستان میں اپنے آخری رمضان کے خطبے میں بڑے جوش سے کہا کہ اے احمدیو! اس رمضان کو اپنی دعاؤں سے فیصلہ کن رمضان بنا دو۔

چنانچہ وہ رمضان فیصلہ کن رمضان ثابت ہوا اور امتناع قادیانیت آرڈیننس کے

صفحہ 61

نتیجہ میں مرزا طاہر احمد ملک سے برقعہ پہن کر فرار ہوگئے۔ ان کی عدم موجودگی سے قادیانیوں کی نئی نسل کے سامنے کئی مسائل اور فکری سوالات کھڑے ہوئے۔ ربوہ کی سامری قیادت سے نئی نسل پہلے ہی متنفر تھی۔ مرزا طاہر کی غیر حاضری سے مقامی قیادت کو زیادہ کھل کھیلنے کا موقع ملا اور نئی نسل کے درمیان ایک واضح خلاء پیدا ہو گیا۔ اس خلاء کو پر کرنے کے لیے پہلے مرزا طاہر نے "Tenth Friday" کے ایک کشف سے نوجوان نسل کو بہلانے کی کوشش کی لیکن جب کتنے ساون، کتنے موسم بیت گئے تو نوجوانوں میں اپنے عقائد سے بیزاری کی لہر اٹھنے لگی۔ اس لہر کو دبانے کے لیے مرزا طاہر احمد نے پہلے ۳ جولائی ۱۹۸۸ء کے خطبہ میں اجمالاً اور پھر ۱۰ جولائی ۱۹۸۸ء کے خطبہ میں تفصیلاً مباہلے کا شوشہ چھوڑ کر نئی نسل کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانے کی کوشش کی۔ قادیانیوں کی نئی نسل کو یہ بھی باور کرایا گیا کہ مباہلے کا چیلنج دینے سے ٹینتھ فرائی ڈے (Tenth Friday) کی پیش گوئی پوری ہو گئی ہے۔

مباہلے کے چیلنج پر جس طرح علماء نے لبیک کہا، اس پر مرزا طاہر احمد کی یہ سیاسی چال بھی ناکام ہو گئی اور مباہلے کا گلے پڑا ڈھول مرزا طاہر احمد کو بجانا پڑ گیا۔ ایک طرف علماء نے ان کے آٹھ نکاتی مباہلے کو بھی قبول کر لیا۔ دوسری طرف احمدیوں کی حقیقت پسند پارٹی میں پھر سے جان پڑ گئی۔ یاد رہے کہ مرزا بشیر الدین محمود کے زمانے میں ان کے نہایت ہی قریبی مرید وقفے وقفے سے ان پر زنا اور بدکاری کے الزام لگا کر جماعت سے الگ ہوتے رہے۔ الگ ہونے والے موکد بعذاب قسمیں کھا کر اپنے بیانات دیتے تھے اور مرزا بشیر الدین کو مباہلے کے لیے بلاتے تھے۔ مگر ہر طرح کی حیلہ سازیاں کرنے کے باوجود مرزا محمود اپنی صفائی کے لیے مباہلہ پر کبھی بھی آمادہ نہ ہوئے۔ تاہم مباہلہ نہ کرنے کے باوجود زندگی کے آخری گیارہ برس فالج زدہ ہو کر بستر مرگ پر پڑے رہے اور گیارہ برس کے طویل عرصہ میں سسک سسک کر مرے۔ قادیانیوں کی حقیقت پسند پارٹی نے اب پھر یہ سوال اٹھایا کہ اگر اسرائیلی فوج میں قادیانیوں کی موجودگی اور عدم موجودگی اور لیاقت علی خان کے قتل کے مسئلوں پر مباہلہ ہو سکتا ہے تو پہلے مرزا طاہر احمد، مرزا رفیع احمد، مرزا مبارک احمد، مرزا حنیف احمد اور مرزا نعیم احمد اپنے والد پر لگنے والے زنا کے الزام کا فیصلہ کریں اور موکد بعذاب قسم کھا کر اپنے باپ کی پاکیزگی کی شہادت دیں۔۔۔۔ مرزا بشیر الدین محمود احمد ساری

صفحہ 62

زندگی اپنی صفائی کے لیے حلفیہ قسم کھانے یا مباہلہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہوئے تھے اور ان کے بعد ان کے بیٹے کو بھی موکد بعذاب قسم کھا کر باپ کی صفائی دینے کی ہمت نہیں ہوئی۔ مرزا طاہر احمد کی اکٹھ نکاتی دعوت مباہلہ نے بدکاری کے الزامات کو پھر سے زندہ کر دیا اور اب نئی نسل جو ان الزامات کے قصے سے بے خبر تھی، ایک نئے روحانی صدمے سے دو چار ہے۔

اب قادیانیوں کی نئی نسل کو زیادہ پریشان کن سوالات کا سامنا ہے اور مقامی قادیانی قیادت ان کے سوالوں کے جوابات دینے کو تیار نہیں۔ الٹا پریشان کن سوالات میں گھرے نوجوانوں کو منافق اور مخالف قرار دیا جا رہا ہے۔ مرزا طاہر احمد تک یہ حالات پہنچے تو انہوں نے مورخہ 18-11-88 کے خطبہ میں نئی نسل کو دھمکی دے کر مخاطب کیا۔ ایسے نوجوانوں کو فکری مجذوم قرار دیا اور جماعت کو نصیحت کی کہ ایسے لوگوں کا سوشل بائیکاٹ کریں۔

یہاں اب مباہلہ انسانی حقوق کے دائرے میں آگیا ہے۔ ایک طرف مرزا طاہر ساری دنیا میں دہائی دے رہے ہیں کہ پاکستان میں قادیانیوں کو بنیادی انسانی حقوق حاصل نہیں۔ دوسری طرف ان کی اپنی یہ حالت ہے کہ خود اپنے نوجوانوں کے سوشل بائیکاٹ کا حکم دے رہے ہیں۔ حکومت کو مرزا طاہر احمد کے مورخہ 18-11-88 کے خطبہ کا نوٹس لینا چاہیے اور یہ خطبہ جو روزنامہ ”الفضل“ ربوہ مورخہ 28-11-88 کی اشاعت میں چھپ بھی چکا ہے، خصوصی طور پر انسانی حقوق کے کمیشن کے سامنے پیش کرنا چاہیے کہ یہ تو اپنی نئی نسل کو انسانی حقوق دینے کے لیے تیار نہیں۔ ہم پر کیا الزام لگاتے ہیں۔

مرزا طاہر احمد نے جنرل ضیاء کی ہلاکت کو اپنے مباہلے کا کرشمہ قرار دیا ہے لیکن خود قادیانیوں کی نوجوان نسل اسے مباہلہ کا نتیجہ ماننے کو تیار نہیں۔ نوجوان قادیانی صاف صاف مانتے ہیں کہ جنرل ضیاء نے مباہلے کو قبول نہیں کیا تھا۔ نیز خود مرزا طاہر احمد اپنے ایک خطبہ میں جنرل ضیاء کو سیاسی حالات بہتر ہونے تک مباہلہ کی رعایت دینے کا اعلان کر چکے تھے۔ ایسی صورت میں مرزا طاہر احمد کا بیان اس اندھے جیسا ہے، جس کے پاؤں کے نیچے بٹیر آگیا تو وہ کہنے لگا کہ میں شکاری ہوں۔ بعض قادیانی نوجوان تو یہاں تک کہتے ہیں کہ اگر یہ مباہلہ ہو گیا ہے تو پھر مولانا ثناء اللہ امرتسری والا مباہلہ تو کہیں زیادہ قوت کے ساتھ ہو گیا تھا۔ غالباً نئی نسل کے ایسے ہی تند و تیز اور حقیقت پسند رویے کو دیکھ کر مرزا طاہر احمد

نے جماعت کو ایسے لوگوں کے بہر حال اپنی اخلاقی اور قانو قادیانی قیادت کی چیرہ دستیوں مرزا طاہر احمد ایک ع دور میں قادیانیوں کی طرف یموت علی کلب“ سابق وزیر ا مطلب یہ ہے کہ ”وہ کتا ہے ا اس سے کہ حقیقت پسند قادیا موت سے پہلے ان پر چسپاں کر کر کے اگلے برس میں داخل ہ طاہر احمد نے بھٹو مرحوم کی پ چسپاں کیا۔ اس سلسلہ میں سر ایسی صورت حال میں مرزا طا رعایت نہیں دیں گی اور وہ اس میں مشغول ہیں کہ بے نظیر بھٹو تاثر دے کر بے نظیر بھٹو کو عو عوام اب مرزا طاہر احمد کی کسی بے نظیر بھٹو عوام کی امنگوں او مرزا طاہر احمد اپنی غیر دانشمندا اس مقام تک لائے ہیں اور خو چکے ہیں۔ اب ان کی ساری ج رمضان کا مہینہ فیصلہ کن بن چکا

صفحہ 63

نے جماعت کو ایسے لوگوں کے سوشل بائیکاٹ کا حکم دے دیا ہے۔ اس سلسلہ میں حکومت کو بہر حال اپنی اخلاقی اور قانونی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہئیں اور خاص طور پر ربوہ میں قادیانی قیادت کی چیرہ دستیوں کو روکنا چاہیے۔

مرزا طاہر احمد ایک عرصہ تک بھٹو حکومت کے مخالف رہے ہیں اور جنرل ضیاء کے دور میں قادیانیوں کی طرف سے مرزا غلام احمد قادیانی صاحب کا ایک مبینہ الہام ”کلب یموت علی کلب“ سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو پر چسپاں کیا جاتا رہا۔ اس عربی عبارت کا مطلب یہ ہے کہ ”وہ کتا ہے اور کتے کے عدد پر مرے گا۔ کتے کی موت مرے گا“ قطع نظر اس سے کہ حقیقت پسند قادیانی گروپ اور لاہوری گروپ اس الہام کو مرزا محمود احمد کی موت سے پہلے ان پر چسپاں کر چکے تھے اور بتا چکے تھے کہ وہ اپنی خلافت کے ۵۱ سال پورے کر کے اگلے برس میں داخل ہوں گے اور مر جائیں گے۔ چنانچہ بعد میں ایسا ہی ہوا مگر مرزا طاہر احمد نے بھٹو مرحوم کی پھانسی پر خوشیاں منائیں اور مبینہ پیش گوئی کو بھٹو مرحوم پر چسپاں کیا۔ اس سلسلہ میں سر ظفر اللہ خان کا تحریری بیان تو باقاعدہ ریکارڈ پر موجود ہے۔ ایسی صورت حال میں مرزا طاہر احمد کو بخوبی علم ہے کہ محترمہ بے نظیر بھٹو انہیں کوئی ناجائز رعایت نہیں دیں گی اور وہ اسی وجہ سے پھر ایک غلط بازی کھیل رہے ہیں اور یہ تاثر دینے میں مشغول ہیں کہ بے نظیر بھٹو کے آنے سے قادیانیوں کا غلبہ آنے والا ہے۔ غالباً وہ ایسا تاثر دے کر بے نظیر بھٹو کو عوام کی نظروں سے گرانا چاہتے ہیں لیکن پاکستان کے باشعور عوام اب مرزا طاہر احمد کی کسی احمقانہ خواہش کی قیمت پر ملک کو داؤ پر نہیں لگنے دیں گے۔ بے نظیر بھٹو عوام کی امنگوں اور اسلامی قدروں کی پاسداری کا پورا پورا عزم رکھتی ہیں۔ مرزا طاہر احمد اپنی غیر دانشمندانہ، عاجلانہ اور احمقانہ پالیسیوں کے باعث اپنی جماعت کو بھی اس مقام تک لائے ہیں اور خود بھی اپنے ہی پیدا کردہ اندرونی اور بیرونی مسائل میں پھنس چکے ہیں۔ اب ان کی ساری جذباتی تقریریں بے سود ہیں۔ ان ہی کی دعاؤں کے نتیجہ میں رمضان کا مہینہ فیصلہ کن بن چکا ہے۔ مرزا طاہر احمد کو نوشتہ دیوار پڑھ لینا چاہیے۔

(ہفت روزہ ”ختم نبوت“ جلد ۷، شمارہ ۳۶)

صفحہ 64

آزادی کشمیر کے خلاف قادیانیوں کی سازشیں

حامد میر

بہت کم لوگ یہ جانتے ہیں کہ وادی کشمیر میں صرف ہندوؤں کی ہی نہیں بلکہ یہودیوں اور قادیانیوں کی بھی گہری دلچسپی ہے۔ گزشتہ ۶۳ سال سے یہودی اور قادیانی مل کر وادی کشمیر میں اپنا اثر و رسوخ قائم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ یہودیوں اور قادیانیوں نے عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر کے سلسلے میں ہمیشہ ہندوستان کی مدد کی ہے۔ چند روز قبل اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کشمیر قرارداد کو پیش ہونے سے روکنے میں بھی یہودیوں اور قادیانیوں نے ہندوستان کی بھرپور مدد کی اور بعض اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کو قرارداد پیش کرنے سے روکنے میں اہم کردار ادا کیا۔ میں مذہب کی بنیاد پر تعصب اور الزام بازی کو برا سمجھتا ہوں۔ لیکن جس طرح علامہ اقبالؒ جیسا روشن خیال اور آزاد منش شخص بھی یہ کہنے پر مجبور ہو گیا تھا کہ قادیانیت دراصل یہودیت کا چربہ ہے اور جس طرح ذوالفقار علی بھٹو جیسا سیکولر شخص بھی قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے پر مجبور ہو گیا‘ اسی طرح آج بھی اللہ تعالیٰ کی رضا اور وسیع تر ملکی مفاد میں یہودیوں اور قادیانیوں کے بارے میں سچ بولنے پر مجبور ہوں تاہم میں تمام یہودیوں اور تمام قادیانیوں کو برا نہیں سمجھتا۔ میں ان کے عقیدے کو اچھا یا برا نہیں کہوں گا۔ بلکہ یہودیوں اور قادیانیوں میں شامل انتہا پسندوں کی سرگرمیوں کا ذکر کروں گا جو اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے نہ صرف کشمیر پر اپنا غلبہ قائم کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں بلکہ پاکستان کو بھی اندر ہی اندر سے کمزور کر رہے ہیں۔ کسی بھی مذہب‘ فرقے یا نظریے کو ماننے والوں میں انتہا پسند ہمیشہ اقلیت میں ہوتے ہیں۔ لیکن ان کی سرگرمیوں سے اکثریت بھی متاثر ہوتی ہے۔ اس لیے اکثریت کو

صفحہ 65

اقلیت کے متعلق کڑوے سچ پر ٹھنڈے دل سے غور کرنا ہوگا۔

۱۸۹۰ء کے اواخر میں قادیانیت کے بانی مرزا غلام احمد نے دعویٰ کیا کہ حضرت عیسیٰ ؑ نہ صلیب پر فوت ہوئے نہ آسمان کی طرف اٹھائے گئے۔ بلکہ جب وہ صلیب پر زخمی ہوئے تو ان کے شاگردوں نے انہیں مجروح حالت میں صلیب سے اتار لیا، ان کا علاج کیا۔ جس کے بعد حضرت عیسیٰ ؑ کشمیر چلے گئے۔ اور وہیں پر ان کی طبعی موت واقع ہوئی۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے اس عقیدے کو غلط قرار دیا کہ حضرت عیسیٰ ؑ قیامت سے پہلے اپنے اصلی جسم عنصری کے ساتھ دوبارہ ظاہر ہوں گے۔ مرزا غلام قادیانی نے دعویٰ کیا کہ حضرت عیسیٰ ؑ کے دوبارہ ظہور کا مطلب دراصل یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ کی صفات رکھنے والا ایک اور شخص امت محمدیہ میں پیدا ہو گا اور وہ شخص میں ہوں۔ مرزا غلام قادیانی نے ۱۹۰۱ء میں جماعت احمدیہ قائم کی۔ ۱۹۰۸ء میں مرزا غلام احمد کا انتقال ہو گیا تو مولوی نور الدین جماعت کے خلیفہ اول مقرر ہوئے۔ ۱۹۱۴ء میں مولوی نور الدین کے انتقال کے بعد مرزا غلام قادیانی کے بیٹے مرزا بشیر الدین محمود قادیانی خلیفہ ثانی بنا دیئے گئے۔ مرزا بشیر الدین نے بڑی خاموشی کے ساتھ دنیا بھر میں قادیانیوں کو منظم کرنا شروع کیا اور وادی کشمیر پر خصوصی توجہ دی۔ ۳۱ جولائی ۱۹۳۱ء کو سری نگر جیل کے باہر مسلمانوں پر وحشیانہ فائرنگ کے بعد شملہ میں نواب ذوالفقار علی کی کوٹھی پر ایک اجلاس ہوا۔ اس اجلاس میں مرزا بشیر الدین کے علاوہ علامہ اقبال، خواجہ حسن نظامی، مولانا اسماعیل غزنوی، مولانا نور الحق، سید حبیب شاہ اور مولانا عبد الرحیم درد سمیت متعدد اہم شخصیات نے شرکت کی۔ اجلاس میں آل انڈیا کشمیر کمیٹی تشکیل دی گئی۔ مرزا بشیر الدین نے کمیٹی کے انتظامات چلانے کی پیشکش کی۔ چنانچہ انہیں کمیٹی کا صدر اور ایک قادیانی مولانا عبد الرحیم کو سیکرٹری بنا دیا گیا۔ لیکن تھوڑے ہی عرصے میں مسلمان عمائدین کو پتہ چل گیا کہ مرزا بشیر الدین وادی کشمیر میں فلاحی کاموں کے نام پر اپنے ساتھیوں کی مدد کر رہے ہیں اور انہیں منظم کر رہے ہیں۔

سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ ”مجلس احرار“ کو قادیانیوں کے خلاف میدان میں لے آئے۔ سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ نے جگہ جگہ جلسے کیے اور سوال کیا کہ سیاسی سرگرمیوں سے ہمیشہ دور رہنے والے قادیانیوں کو اچانک کیا سوجھی کہ وہ کشمیر کمیٹی کے سب کچھ بن کر بیٹھ گئے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مرزا بشیر الدین محمود قادیانی کا یہودیوں سے رابطہ ہے‘

صفحہ 66

یہودی فلسطین پر اور قادیانی کشمیر پر قبضہ چاہتے ہیں۔ آہستہ آہستہ علامہ اقبال بھی مرزا بشیر الدین محمود قادیانی کے خلاف ہوگئے اور انہوں نے مرزا قادیانی کو کشمیر کمیٹی سے الگ کروا دیا۔ اس دوران جماعت احمدیہ بھی دو گروپوں میں تقسیم ہو گئی۔ خواجہ کمال الدین اور مولوی محمد علی نے مرزا بشیر الدین محمود قادیانی کے مقابلے میں لاہوری جماعت قائم کر لی اور موقف اختیار کیا کہ مرزا غلام قادیانی نبی نہیں بلکہ مجدد اور محدث تھا۔ اس گروپ بندی کے باعث مرزا بشیر الدین محمود نے سیاسی سرگرمیاں ترک کر دیں اور خاموشی سے اپنی جماعت کو منظم کرتا رہا۔ مشہور کمیونسٹ دانشور عبداللہ ملک نے اپنی کتاب ”پنجاب کی سیاسی تحریکیں“ میں لکھا ہے کہ ”سامراجیوں کی سازشوں پر نگاہ رکھنے کے لیے قادیانیوں پر نگاہ رکھنا ضروری ہے۔“ ہندوستان کے مسلمانوں میں قادیانیوں کے متعلق بڑھتے ہوئے شعور کا نتیجہ تھا کہ قادیانیوں نے اپنا ہیڈ کوارٹر برطانیہ منتقل کر دیا۔ قیام پاکستان کے بعد قادیانیوں نے برطانیہ میں بیٹھ کر وادی کشمیر میں جڑیں مضبوط کرنے کی کوشش کی جبکہ دوسری طرف اسرائیل سے یہودیوں کے مختلف وفود نے بھارت آنا شروع کر دیا۔ جن میں اکثر وفود کشمیر کا دورہ ضرور کرتے تھے۔

۱۹۷۷ء میں اے فبر قیصر کی انگریزی تصنیف ”حضرت عیسیٰ کشمیر میں فوت ہوئے“ لندن سے شائع ہوئی۔ اس کتاب میں مرزا غلام قادیانی کے اس دعویٰ کو سچا ثابت کیا گیا کہ حضرت عیسیٰ کشمیر میں فوت ہوئے اور یہ بھی لکھا ہے کہ سری نگر میں حضرت عیسیٰ کا مزار ہے۔ جسے ”روضہ بل“ کہا جاتا ہے۔ کتاب میں دعویٰ کیا گیا کہ حضرت موسیٰ کا مزار بھی کشمیر کی ایک پہاڑی ”نیل ٹوپ“ پر واقع ہے۔ جس کے بعد یہودیوں کی کشمیر میں دلچسپی واضح ہو گئی۔ کیونکہ یہودی حضرت موسیٰ کو اپنا نبی مانتے ہیں۔ فبر قیصر کو یہ کتاب لکھنے کے لیے سری نگر کے ایک قادیانی صاحبزادہ بشارت سلیم بمبئی کے ایم عبدالرزاق‘ سوئٹزرلینڈ کے یہودی ایرک وان ڈینی گن‘ نیویارک کے یہودی میگزین‘ اسلام آباد پاکستان کے الحاج ایم ایم اے فاروقی اور دیگر افراد نے مدد اور مشاورت فراہم کی۔ اس کتاب سے یہودیوں اور قادیانیوں کی کشمیر میں دلچسپی کی تمام وجوہات سامنے آتی ہیں۔ بعض حلقے یہ بھی جانتے ہیں کہ یورپی ممالک اور امریکہ میں آباد قادیانی اسرائیل کے ساتھ تجارت کرتے ہیں اور اسرائیل قادیانیوں کو پیسہ بھی فراہم کرتا رہا ہے۔ اسرائیل کی کوشش ہے کہ

صفحہ 67

امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ اور اقوام متحدہ میں موجود یہودی لابی اور قادیانیوں کی مدد سے وادی کشمیر میں اپنا اثر و رسوخ قائم کیا جائے۔ اس سلسلے میں امریکی یہودی سٹیفن سولارز نے چند سال قبل وادی کشمیر کو خود مختار ریاست میں تبدیل کرنے، جموں اور لداخ بھارت کے حوالے اور آزاد کشمیر کو پاکستان کے حوالے کرنے کا منصوبہ پیش کیا تھا لیکن اس فارمولے کو تمام کشمیری تنظیموں نے مسترد کر دیا تھا۔

حال ہی میں یہودیوں اور قادیانیوں کے انٹرنیشنل نیٹ ورک نے بعض اسلامی ممالک کو بھی جنرل اسمبلی میں کشمیر قرارداد کے خلاف استعمال کیا ہے۔ جہاں مسلمانوں کے مقامات مقدسہ موجود ہیں۔ جبکہ ترک وزیر اعظم تانسو چیلر نے چند روز قبل اسرائیل کے دورے میں اسحاق شامیر کو یقین دلایا تھا کہ ترکی قرارداد کی حمایت نہیں کرے گا۔ اسی انٹرنیشنل نیٹ ورک میں پاکستان کے کچھ ریٹائرڈ اور حاضر سروس بیوروکریٹ بھی شامل ہیں جو مسئلہ کشمیر کے حوالے سے خارجہ پالیسی پر اثر انداز ہوتے ہیں اور ہو رہے ہیں۔ اس انٹرنیشنل نیٹ ورک میں کچھ سیاسی شخصیات بھی شامل ہیں جن پر گہری نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ قومی سلامتی کے ذمہ دار ادارے اس پہلو پر بھی غور کریں کہ پاکستان میں بڑھتی ہوئی لسانی اور فرقہ وارانہ کشیدگی کے پیچھے کون ہو سکتا ہے؟ کیا کوئی شیعہ کسی مسجد یا کوئی سنی کسی امام باڑے پر حملہ کر سکتا ہے؟ نہیں! یہ کام کسی تیسرے کا ہے جو دونوں کو لڑا کر اپنے کام میں مصروف ہے۔ میں قادیانیوں کے خلاف بلاجواز مقامی کارروائیوں کی نہیں بیوروکریسی اور سیاست میں موجود ان کے اہم کل پرزوں پر نظر رکھنے کی بات کر رہا ہوں۔ قیام پاکستان سے قبل نوابزادہ نصر اللہ خان کا تعلق مجلس احرار سے تھا۔ جس نے یہودیوں اور قادیانیوں کی سازشوں کو بے نقاب کیا۔ آج وہ وقت پھر آگیا ہے کہ نوابزادہ نصر اللہ خان ”احراری انداز“ میں مسئلہ کشمیر اور پاکستان کی سلامتی کے حوالے سے یہودیوں اور قادیانیوں کی سازشیں بے نقاب کریں کیونکہ نوابزادہ صاحب کو بہت کچھ معلوم ہے۔

(شکریہ روزنامہ پاکستان لاہور)

صفحہ 68

قادیانیوں نے نام نہاد ایوان محمود کو

آگ لگا کر تمام خفیہ فائلیں جلادیں

قادیانی انتظامیہ آگ کے بارے میں غلط تاثر

دے کر اصل حقائق پر پردہ ڈال رہی ہے

ربوہ (نمائندہ خصوصی) ربوہ میں قادیانیوں کے نام نہاد ایوان محمود میں زبردست آگ لگ گئی۔ آگ کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ آگ بجھانے کے لیے سرگودھا، چنیوٹ اور فیصل آباد سے فائر بریگیڈ منگوائے گئے اور قادیانی فورس کے رضا کار بھی ہزاروں کی تعداد میں آگ بجھانے میں مصروف رہے۔ آگ لگنے سے نہ صرف عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا بلکہ اہم اور خفیہ فائلیں بھی جل گئیں۔ جماعت کو یہ خطرہ تھا کہ حکومت کسی وقت بھی چھاپہ مار کر تمام خفیہ فائلوں کو اپنی تحویل میں لے لے گی۔ کیونکہ قادیانی جس جس محکمے میں اہم پوسٹوں پر متعین ہیں، خصوصاً فوج جیسے اہم محکمے اور بیرون ملک سفارت خانوں میں جو قادیانی متعین ہیں، ان کا تمام ریکارڈ نام نہاد ایوان خلافت میں موجود تھا۔ آگ لگا کر وہ تمام ریکارڈ ضائع کر دیا گیا ہے تاکہ حکومت کو قادیانی افسروں کے بارے میں کوئی ثبوت نہ مل سکے۔ علاوہ ازیں قادیانیوں کے جن اسلام دشمن ممالک کے

صفحہ 69

ساتھ خفیہ روابط ہیں، خصوصاً اسرائیل کے ساتھ مل کر عرب مسلمانوں کے خلاف جو سازشیں کر رہے ہیں اور یہ کہ اسرائیل سے قادیانیوں کو کتنی امداد ملتی ہے، وہ تمام ریکارڈ بھی تلف کر دیا گیا ہے۔ قادیانی انتظامیہ اس آگ کے بارے میں یہ تاثر دے رہی ہے کہ یہ آگ بجلی کی تاروں سے لگی ہے۔ ان کا یہ تاثر مضحکہ خیز ہے۔ اس لیے کہ ایوان خلافت بند نہیں رہتا بلکہ وہاں ہمہ وقتی کارکن کام کرتے ہیں۔ بجلی کی تاریں کاٹ کر آگ پر فوری قابو پایا جاسکتا تھا۔ قادیانی انتظامیہ غلط تاثر دے کر اصل حقائق پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے۔

(ہفت روزہ ”ختم نبوت“ جلد۷، شمارہ۹)

صفحہ 70

ایک قادیانی زندیقہ کو مسلم قبرستان میں

دفنانے کی کوشش ناکام

علی پور (نمائندہ ختم نبوت) گزشتہ روز علی پور کی نواحی بستی یارووالی میں ایک قادیانی واحد بخش گوپانگ سیکرٹری یونین کونسل کی اہلیہ جو قادیانی مذہب سے تعلق رکھتی تھی، فوت ہو گئی، علی پور شہر اور اس بستی کے مرزائی اس کو علی پور کے نزدیک جتوئی روڈ پر مسلمانوں کے قبرستان میں دفنانے کی کوششیں کر رہے تھے کہ اس اثناء میں علی پور کے ہر مکتب فکر کے علماء مولانا مشتاق احمد، مولانا عبدالرحیم، حق نواز ملتانی اور ہزاروں افراد جوق در جوق قبرستان میں پہنچ گئے اور مرزائیوں سے کہا کہ تم غیر مسلم اقلیت ہو۔ لہٰذا یہ قادیانی میت مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہیں کر سکتے۔ آخر کار مقامی انتظامیہ کے سربراہ مرزا عبدال بیگ ایس ایچ او اور اسسٹنٹ کمشنر پولیس علی پور فاروق سید نے مداخلت کر کے مرزائیوں کو منع کیا اور کہا کہ خوامخواہ ڈیرہ غازی خاں والے حالات پیدا نہ کریں۔ اور انتظامیہ نے ایک ٹرک منگوا کر مدفون میت قادیانی کو لاد کر ان کے آبائی گاؤں یارووالی پہنچائی اور وہاں انہوں نے اپنے رقبہ میں قادیانی میت کو دفنایا۔ اس سلسلے میں مقامی تنظیموں کے سربراہ مولانا مشتاق احمد، مولانا عبدالرحیم، مولانا محمد رفیق صدر علماء محاذ مسلم لیگ، مولانا غلام محمد مجلس تحفظ ختم نبوت نے انتظامیہ کے سربراہ مرزا عبدال بیگ اور اسسٹنٹ کمشنر علی پور سید فاروق، ایس پی ضلع مظفر گڑھ کے اس اقدام کو سراہا اور کہا کہ ان مذکورہ افسران نے کمال تدبر سے اس معاملے کو خوش اسلوبی سے نمٹایا ہے۔

(ہفت روزہ ختم نبوت، جلد ۵، شمارہ ۳۵)

صفحہ 71

عجمی اسرائیل

شورش کاشمیریؒ

جب کبھی قادیانی امت کا احتساب کیا گیا۔ گو اس احتساب کی عمر بہت تھوڑی ہے لیکن خود قادیانی مذہب کی عمر زیادہ نہیں۔ مرزا قادیانی نے ۱۸۹۱ء میں مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا پھر ۱۹۰۱ء میں اپنے نبی ہونے کا اعلان فرمایا۔ گویا ۱۹۷۳ء میں ان کی نبوت کے ۸۳ سال ہوتے ہیں۔ تو امت نے اپنے اقلیت ہونے کی پناہ لی اور واویلا کیا کہ اسے سواد اعظم ہلاک کرنا چاہتا ہے۔ ہندوستان میں برطانوی عملداری تک تو اپنے لیے کوئی خطرہ محسوس نہ کرتے تھے۔ انہیں مرزا قادیانی کے الہام کی رو سے اپنے خود کاشتہ پودا ہونے کا احساس تھا۔ اور وہ جانتے تھے کہ جس استعمار نے انہیں پیدا کیا، وہی ان کا محافظ و پشتیبان ہے۔ پاکستان بنا تو وہ کوئی اہم اقلیت نہ تھے۔ اہم عنصر ضرور تھے۔ انہوں نے اولاً ہندوستان میں رہنے کی بہتیری کوشش کی۔ ریڈ کلف کو اپنا الگ میمورنڈم دیا۔ سر ظفر اللہ خان نے پاکستان کی سرحدی ترجمانی کے علاوہ اس یادداشت کی ترجمانی کی کہ جب اس طرح بات نہ بنی تو وہ قادیان میں تین سو تیرہ درویشوں کو چھوڑ کر پاکستان آگئے۔ پاکستان میں سر ظفر اللہ خان کی وزارت خارجہ ان کے لیے ایک سہارا ہو گئی۔ جن لوگوں کو سیاسی اقتدار منتقل ہوا تھا، وہ قادیانیت کے مذہبی پہلو سے ناواقف تھے۔ ان کا خیال تھا کہ قادیانی ان کے لیے کسی خطرے کا باعث نہیں ہو سکتے بلکہ حکومت سے وفاداری ان کی گھٹی میں پڑی ہوئی ہے۔ جب پاکستان کی سیاست خواجہ ناظم الدین جیسے لوگوں کے ہاتھ میں آگئی اور ان کی کابینہ میں وہ لوگ شامل ہو گئے جو سیاسی نہ تھے بلکہ برطانوی عملداری کے دنوں سے ملازم چلے آرہے تھے تو قادیانیت اور محفوظ ہو گئی۔ ملک غلام محمد اور اسکندر مرزا نے اس کو مزید تحفظ دیا۔ وہ

صفحہ 72

سمجھتے تھے کہ قادیانی پاکستان جیسے مذہبی ملک میں ایک ایسی اقلیت ہیں کہ یہ ان کے خلاف کسی سازش یا منصوبے میں شریک نہیں ہو سکتے۔ بلکہ ان پر مقتدرین کے شخصی و حزبی تحفظ کا بار ڈالا جاسکتا ہے اور ان پر اعتماد کیا جاسکتا ہے۔ اس کے برعکس عام مسلمانوں کا اجتماعی مزاج یہ تھا کہ وہ کسی حالت میں بھی مرزائیت کے ساتھ مصالحت کے لیے تیار نہ تھے۔ غرض پانچ سال کے اندر اندر ۱۹۵۳ء کی تحریک نے قادیانیت کو معنوی اعتبار سے تلپٹ کر دیا۔ مرزائی تبلیغ کے دروازے بند ہوگئے۔ وہ نقاب اتر گئی جو ان کے سیاسی منصوبوں پر مذہب کا پردہ بنی ہوئی تھی۔ ۔۔۔۔۔ بظاہر مرزا ناصر نے بھی (”الفضل“ ۱۳ مئی ۱۹۷۳ء) دعویٰ کیا ہے کہ وہ دنیا میں ایک کروڑ ہیں اور پاکستان میں چالیس لاکھ۔ لیکن واقعہ یہ ہے کہ مرزائی نہ ایک کروڑ ہیں، نہ چالیس لاکھ۔ اگر وہ اس قدر ہیں تو حکومت سے اپنی گنتی کرا لینے کا مطالبہ کیوں نہیں کرتے؟ اور مردم شماری سے گریزاں کیوں ہیں؟

قادیانی امت کا تعاقب پہلی جنگ ۱۸۔۱۹۱۴ء کے اختتام تک مذہبی محاذ پر حد درجہ محدود تھا۔ پھر ۱۹۳۲ء تک محاسبہ مذہبی حدود میں پھیلتا گیا۔ چودھری افضل حق علیہ الرحمتہ نے سب سے پہلے ان کی سیاسی روح کا جائزہ لیا۔ علامہ اقبال علیہ الرحمتہ نے (۱۹۳۵ء) پنڈت جواہر لال نہرو کے جواب میں مضمون لکھ کر مرزائیت کو اس طرح بے نقاب کیا کہ مسلمانوں میں سیاسی طور پر یہ ذہنی فضا پیدا ہو گئی کہ مرزائیوں سے دوستانہ ہاتھ بڑھانے والا اونچا طبقہ جس کی ذہنیت مغربی افکار کی آزادی سے مرعوب تھی۔ مرزائیت سے چوکنا ہو گیا اور مسلمانوں کے عمرانی، سیاسی، تہذیبی، تعلیمی ادارے بڑی حد تک ان کے لیے بند ہو گئے۔ اس کے بعد وہ مسلمانوں سے مخالفت کا حوصلہ نہ رکھتے تھے۔ سر ظفر اللہ خان نے پاکستان بن جانے کے بعد خواجہ ناظم الدین کی مرضی کے خلاف کراچی میں اپنے جلسہ عام کو خطاب کرنا چاہا لیکن عوامی احتجاج کی تاب نہ لا کر الٹے قدم بھاگ گئے۔

قادیانی بحیثیت جماعت پاکستان آکر اپنے مستقبل کے بارے میں متذبذب تھے۔ لیکن مرزا بشیر الدین محمود (خلیفہ ثانی) اس غلط فہمی کا شکار ہو گئے کہ جو عناصر قادیانیت کے مخالف تھے چونکہ ان کی جماعت تحریک پاکستان میں شامل نہیں ہوئی، لہٰذا وہ پاکستان کے عوام میں متروک ہو چکے ہیں۔ اب اگر قادیانی اقتدار کی طرف قدم اٹھائیں یا تبلیغ کے لیے بڑھیں تو انہیں روکنے والا کوئی نہیں ہو گا۔ بلوچستان کو احمدی صوبہ بنانے کا اعلان مرزا محمود

کی اسی غلط فہمی کا نتیجہ تھا۔ لیکن لگا دیجئے۔ بہرحال ۱۹۵۳ء میں حیثیت ایک ایسے طائفہ کی ہے کرتا اور پاکستان میں عالمی طاقتوں قادیانی ہمیشہ سے یہ تاثر واسطے سے مارنا چاہتے اور ان کو تاثر کے عام دنیا بالخصوص مغربی محاسبہ کر رہے اور ان کے لیے سے واقف ہیں۔ نہ ان ممالک بات چیت کرنے کے لیے ظفر اللہ مغرب کے لوگوں کو قادیانی مسئلہ پاکستان میں مسلمانوں کی نہ ہو جائے، وہ اس کا نوٹس نہیں دی جاتی ہے، خود اسلام کے حری ہی نہیں کی جاتی۔ الٹا یہ کہہ کر م جاتا ہے کہ فرقہ وارانہ مسئلہ ہے مرزائی امت کے شاطر جب قادیانی ایک مذہبی امت بن انہی بنیادوں پر اس امت کے ا نقب لگا کر انہوں نے اپنی جماعت جائے تو وہ سیاسی پناہ تلاش کرنے چاہتے ہیں۔ مسلمانوں کے ساتھ قطع کر کے تیار ہوئی ہے، وہ اصلاً چاہتی اور جو عارضہ ان کو قادیانی روکتی ہے۔

صفحہ 73

کی اسی غلط فہمی کا نتیجہ تھا۔ لیکن مجلس تحفظ ختم نبوت کا مشترکہ محاذ کہہ لیجئے یا احرار کے ذمہ لگا دیجئے۔ بہرحال ۱۹۵۳ء میں مرزائی چاروں شانے چت ہو کر رہ گئے۔ تب سے ان کی حیثیت ایک ایسے طائفہ کی ہے جو بین الاقوامی بساط پر استعماری مہرے کی حیثیت سے کام کرتا اور پاکستان میں عالمی طاقتوں کے سامراجی مقاصد کی آبیاری کرتا ہے۔

قادیانی ہمیشہ سے یہ تاثر دیتے چلے آ رہے ہیں کہ انہیں ملا قسم کے لوگ مذہب کے واسطے سے مارنا چاہتے اور ان کی مٹھی بھر اقلیت کی جان، مال اور آبرو کے دشمن ہیں۔ اس تاثر کے عام دنیا بالخصوص مغربی دنیا میں پھیل جانے کی واحد وجہ یہ ہے کہ جو لوگ ان کا محاسبہ کر رہے اور ان کے لیے خطرہ کی گھنٹی بجاتے ہیں وہ اکثر و بیشتر نہ تو یورپ کی زبانوں سے واقف ہیں۔ نہ ان ممالک میں ان کے تبلیغی مشن ہیں اور نہ ان کے پاس مغربی دنیا سے بات چیت کرنے کے لیے ظفراللہ خان جیسی کوئی استعماری طاقت ہے اور نہ انہوں نے کبھی مغرب کے لوگوں کو قادیانی مسئلہ سمجھانے کا سوچا ہے۔

پاکستان میں مسلمانوں کی حالت یہ ہے کہ جب تک کوئی خطرہ ان کے سر پر آکر مسلط نہ ہو جائے، وہ اس کا نوٹس نہیں لیتے۔ پھر اسلام کے نام پر جتنی عریاں گالی سیاسی حریف کو دی جاتی ہے، خود اسلام کے حریف کو اس طرح لتاڑا نہیں جاتا۔ بلکہ سرے سے باز پرس ہی نہیں کی جاتی۔ الٹا یہ کہہ کر خاموشی اختیار کر لی جاتی اور خاموشی اختیار کرنے پر زور دیا جاتا ہے کہ فرقہ وارانہ مسئلہ ہے۔

مرزائی امت کے شاطرین حد درجہ عیار ہیں، کوئی شخص اس پر غور نہیں کرتا کہ جب قادیانی ایک مذہبی امت بن کر اپنے سیاسی اقتدار کے لیے سعی و سازش کرتے ہیں تو وہ انہی بنیادوں پر اس امت کے افراد کو اپنے محاسبہ کا حق کیوں نہیں دیتے، جس امت میں نقب لگا کر انہوں نے اپنی جماعت بنائی ہے؟ عجیب بات ہے کہ قادیانی امت کا مذہبی محاسبہ کیا جائے تو وہ سیاسی پناہ تلاش کرتے ہیں۔ سیاسی محاسبہ کریں تو وہ مذہبی اقلیت ہونے کا تحفظ چاہتے ہیں۔ مسلمانوں کے ساتھ یہ مذاق ناروا ہے کہ ایک ایسی جماعت جو اس کے وجود کو قطع کر کے تیار ہوئی ہے، وہ اصل وجود کو اپنے اعضاء و جوارح کی حفاظت کا حق دینا نہیں چاہتی اور جو عارضہ ان کو قادیانی سرطان کی شکل میں مار دینا چاہتا ہے۔ اس کے علاج سے روکتی ہے۔

صفحہ 74

حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں سے اپنے الگ ہونے کا اعلان سب سے پہلے خود قادیانیوں نے کیا۔ مرزا غلام احمد کو نہ ماننے والے کافر قرار دیے گئے۔ ان کے بچوں، عورتوں، معصوموں اور بوڑھوں کا جنازہ پڑھنے سے روک دیا گیا۔ انہیں زانیہ عورتوں کی اولاد، کتوں کے بچے اور ولد الزنا تک کہا گیا۔ مسلمانوں نے تو اس سے بہت دیر بعد محاسبہ شروع کیا اور انہیں اپنے سے خارج قرار دیا۔۔۔۔۔ جب مرزائی خود مسلمانوں سے الگ امت کہلاتے ہیں تو پھر انہیں مسلمانوں میں شامل رہنے پر اس وقت اصرار کیوں ہوتا ہے جب مسلمان ان کے الگ کر دینے کا مطالبہ کرتے اور انہیں اقلیت قرار دیتے ہیں۔ آخر کیا وجہ ہے کہ قادیانی مذہبی اور معاشرتی طور پر عقیدتاً مسلمانوں سے الگ رہتے ہیں لیکن سیاستاً ان کا پنڈ نہیں چھوڑتے۔ اس کی واحد وجہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ اس طرح وہ مسلمانوں کے حقوق و مناصب پر ہاتھ صاف کرتے اور ان کی ریاست پر حکمران ہونا چاہتے ہیں یا پھر انہیں مٹا کر اپنا سیاسی نقشہ مرتب کرنے کی جدوجہد میں ہیں۔

ایک خطرناک صورت حال، جو ہمارے ہاں پیدا ہو چکی ہے۔ یہ ہے کہ ہمارے مغربی زدہ طبقے نے جس کے متعلق علامہ اقبالؒ نے سید سلیمان ندوی کو لکھا تھا کہ میں ڈکٹیٹر بن جاؤں تو سب سے پہلے اس طبقہ کو ہلاک کردوں۔ ابھی تک نہ قادیانی مذہب کو سمجھنے کی ضرورت محسوس کی ہے کہ وہ خود مذہب سے بیگانہ ہو رہا ہے اور نہ وہ قادیانی امت کے سیاسی عزائم کی مضرتوں سے آگاہ ہے۔ وہ یہی سمجھتا ہے کہ ایک چھوٹی سی اقلیت کو مسلمانوں کے کٹر ملا تنگ کر رہے ہیں۔ وہ ان کی چٹی ڈاڑھی دیکھ کر اور ان کے تبلیغی اداروں کی روداد سن کر انہیں مسلمان سمجھتا ہے، کیونکہ اس کے اپنے ظاہری و باطنی وجود سے اسلام خارج ہو چکا ہے۔

ان لوگوں سے بجا طور پر سوال کیا جاسکتا ہے کہ مسلمان ایک وحدت کا نام ہیں اور یہ وحدت ختم نبوت کے تصور سے استوار ہوئی ہے۔ اگر کوئی اس وحدت کو توڑتا ہے اور ختم نبوت کی مرکزیت کو ظلی و بروزی کی آڑ میں اپنی طرف منتقل کرنا چاہتا ہے تو کیا اس کا وجود خطرناک نہیں؟ باغی کون ہے؟ وہ یا محاسب؟ کیا اپنی قومی سرحدوں کی حفاظت کرنا جرم ہے یا مذہبی جارحیت؟ بعض لوگ رواداری کا سبق دیتے ہیں، لیکن وہ رواداری کے معنی نہیں جانتے۔ اگر رواداری کے معنی غیرت، حمیت، عقیدے، مسلک اور اپنے شخصی یا اجتماعی

صفحہ 75

وجود سے دستبردار ہو جانے کے ہیں تو یہ معانی کہاں ہیں؟ اور کس تحریک‘ داعی‘ پیغمبر اور نظام نے بتلائے ہیں۔ قادیانیوں کے باب میں مسلمانوں کا معاملہ ذاتی نہیں‘ اجتماعی ہے اور اس کے عناصر اربعہ میں غیرت و حمیت‘ عقیدہ و مسلک شامل ہیں۔

مسلمانوں کا مطالبہ کیا ہے؟ صرف اتنا کہ قادیانی جب مسلمانوں سے الگ ہیں تو وہ مسلمانوں میں رہتے کیوں ہیں۔ ہمارا اعتراض ان کے پاکستان میں رہنے پر نہیں۔ مسلمانوں میں رہنے پر ہے۔ وہ پاکستان میں رہنا چاہتے ہیں تو شوق سے رہیں۔ پھر اس کا فیصلہ وہ خود ہی کرلیں کہ مسلمانوں کے مسلمات کا استعمال ان کی نقلی نبوت اور علیحدہ اقلیت کے حسب حال ہو گا یا نہیں؟ اس سے مسلمانوں کی دل آزاری تو نہیں ہوتی؟ یہ کہنا کہ پاکستان میں کوئی جماعت یا شخصیت ان کی جان‘ مال اور آبرو کی دشمن ہے اور انہیں معدوم کرنے کی دوڑ میں لگی ہوئی ہے جیسا کہ آزاد کشمیر اسمبلی کی اس سفارش پر کہ مرزائی خارج از اسلام اور علیحدہ اقلیت ہیں۔ مرزا ناصر نے واویلا کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم سر ہتھیلی پر لیے پھرتے ہیں اور وقت آنے پر دنیا دیکھ لے گی کہ جان کیونکر دی جاتی ہے۔۔۔۔۔ یہ محض ماروں گھٹنا‘ پھوٹے آنکھ قسم کی اڑان گھاٹی ہے۔ پاکستان میں کوئی شخص نہ ان کی جان کا دشمن ہے‘ نہ مال کا اور نہ آبرو کا۔ اس قسم کی باتیں صرف کمینے لوگ گھڑتے اور کمینے لوگ اچھالتے ہیں۔ ہم جو کچھ کہتے ہیں۔ وہ یہ ہے کہ قادیانی امت ہمارے مطالبہ سے قطع نظر خود اپنے پیغمبر اور خلیفہ کی ہدایت و روایت کے مطابق مسلمانوں سے الگ امت ہے تو پھر وہ سرکاری طور پر الگ کیوں نہیں ہو جاتی؟ اس طرح وہ محمد عربی کی امت میں سے غلام احمد کی امت تیار کرنا چاہتی اور عالمی استعمار کے مہرے کی حیثیت سے مسلمانوں کی وحدت کو پاش پاش کر کے اپنے لیے ایک عجمی اسرائیل پیدا کرنے کی متمنی ہے۔

یہ غلط ہے کہ قادیانی مسئلہ Sectarian ہے جیسا کہ پاکستان کی حکومتیں اس غلط فہمی کا شکار رہی ہیں اور اب تک یہی سمجھتی ہیں کہ قادیانی مسئلہ اپنی پیدائش سے اب تک Political ہے۔ افسوس کہ مسلمانوں نے اس کا نوٹس بہت دیر میں لیا اور اس کی وجہ بھی ظاہر ہے کہ مسلمانوں کی سیادت جس مغرب زدہ اور اقتضائے اسلام سے معریٰ طبقے کے ہاتھ میں رہی ہے اس نے استعمار کی ہر ضرورت کا ساتھ دیا اور دین سے ہر بغاوت کو نظر انداز کیا ہے اور اس کے ذہن کا پورا کارخانہ ابھی تک اسی نہج پر قائم ہے۔۔۔۔۔ اگر قادیانی

صفحہ 76

مسئلہ صرف مذہب کا ہوتا تو علماء کا تعاقب کافی تھا۔ قادیانی مسئلہ سیاسی مسئلہ ہے جس نے بتدریج ایک ایسی شکل اختیار کر لی ہے کہ وہ باطنیت، اخوان الصفا اور بہائیوں کی طرح اپنی زمین پیدا کرنے میں منہمک ہے۔ اسی کے سامنے معتزلہ کی تاریخ ہے۔ قادیانی جانتے ہیں کہ کس طرح معتزلہ نے اقتدار حاصل کیا اور کیونکر باطنیہ نے فاطمیہ سلطنت قائم کی۔ وہ ان سب کے تاریخی تجربوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے جدید سیاسی نہج پر اقتدار حاصل کرنا چاہتے اور اس زمانہ میں جب کہ انسان عالمی ہو گیا اور سیاست بین الاقوامی ہو گئی ہے، ایک دوسرے پر انحصار کے تحت مغربی استعمار کی بدولت پاکستان کو بھی اسرائیل میں منتقل کرنا چاہتے اور افریقہ میں جزیرۃ العرب کے خلاف قادیانی اسلام کا استعماری سیل (Sell) بنانا چاہتے ہیں۔ قادیانیوں کا سیاسی روپ اس صورت میں معلوم ہو گا اور سمجھ میں آ سکتا ہے، جس صورت میں کہ ہم اس تاریخی ماخذ اور اس کی رفتار سے واقف ہوں۔

مرزا غلام احمد نے انگریزوں کی حمایت میں بقول خود پچاس الماریاں لکھیں اور ان کی وفاداری میں نہ صرف قرآن سے جہاد کو منسوخ کیا بلکہ برطانیہ کے ہاتھوں اسلامی حکومتوں کی شکست و ریخت پر چراغاں کیا اور یہی قادیانی امت کی تخلیقی غائت تھی۔ اس غرض ہی سے قادیانی فرقہ وجود میں لایا گیا اور برطانوی استعمار نے گود میں لے کر جوان کیا۔

اس وقت میرے سامنے وہ کتاب نہیں، مصنف اور کتاب کا نام بھی یاد نہیں آ رہا۔ پاکستان کے ایک بڑے افسر عاریتاً لے گئے۔ پھر اپنی نظر بندی کے باعث میں ان سے کتاب واپس نہ لے سکا، اس کتاب میں احمدیت کی افریقہ میں تگ و پو کا جائزہ لیا گیا اور اس کے خد و خال بیان کیے گئے ہیں۔ یہ کتاب میری یادداشت کے مطابق کیمبرج کے ایک پروفیسر نے لکھی اور اس میں بعض عجیب و غریب باتیں تحریر کی ہیں۔ وہ لکھتا ہے کہ پادریوں کی ایک نمائندہ جماعت نے برطانوی وزارت خارجہ سے شکایت کی کہ افریقہ میں مسیحیت کی تبلیغ کے راستہ میں قادیانی مزاحم ہوتے ہیں کیا وجہ ہے کہ ان قادیانیوں کے تمام مشن برطانوی مقبوضات ہی میں ہیں اور وزارت خارجہ ان کی محافظت کرتی ہے۔ وزارت خارجہ نے جواب دیا۔ سلطنت کے مقاصد تبلیغ کے مقاصد سے مختلف ہیں۔ آپ ان کا مذہب کی صداقت سے مقابلہ کیجئے۔ سلطنت کی طاقت سے نہیں۔ امور سلطنت کے مضمرات مختلف ہیں۔ اس راز کی گرہ ایک برطانوی دستاویز ”دی ارائیول آف برٹش ایمپائر ان انڈیا“

صفحہ 77

(برطانوی سلطنت کا ہندوستان میں ورود) سے کھلتی ہے۔ ۱۸۵۹ء میں انگلینڈ سے برطانوی مدبروں اور مسیحی رہنماؤں کا ایک وفد اس بات کا جائزہ لینے کے لیے ہندوستان پہنچا کہ ہندوستانی باشندوں میں برطانوی سلطنت سے وفاداری کا بیج کیونکر بویا جا سکتا اور مسلمانوں کو رام کرنے کی صحیح ترکیب کیا ہو سکتی ہے؟ اس زمانہ میں جہاد کی روح مسلمانوں میں خون کی طرح دوڑ رہی تھی اور یہی انگریزوں کے لیے پریشانی کا سبب تھا۔ اس وفد نے ۱۸۷۰ء میں دو رپورٹیں پیش کیں، ایک سیاست دانوں نے، ایک پادریوں نے، محولہ نام کے ساتھ یکجا شائع کی گئیں۔ اس مشترکہ رپورٹ میں درج ہے کہ:

”ہندوستانی مسلمانوں کی اکثریت اپنے روحانی رہنماؤں کی اندھا دھند پیروکار ہے۔ اگر اس وقت ہمیں کوئی ایسا آدمی مل جائے جو اپاسٹالک پرافٹ (حواری نبی) ہونے کا دعویٰ کرے تو بہت سے لوگ اس کے گرد اکٹھے ہو جائیں گے۔ لیکن مسلمانوں میں سے ایسے کسی شخص کو ترغیب دینا مشکل نظر آتا ہے۔ یہ مسئلہ حل ہو جائے تو پھر ایسے شخص کی نبوت کو حکومت کی سرپرستی میں بہ طریق احسن پروان چڑھایا جا سکتا اور کام لیا جا سکتا ہے۔ اب کہ ہم پورے ہندوستان پر قابض ہیں تو ہمیں ہندوستانی عوام اور مسلمان جمہور کی داخلی بے چینی اور باہمی انتشار کو ہوا دینے کے لیے اسی قسم کے عمل کی ضرورت ہے۔“

مرزا غلام احمد اس برطانوی ضرورت ہی کی استعماری پیداوار تھے۔ مولانا سید ابوالحسن علی ندوی، ناظم دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ اس استعماری پیداوار کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

”مرزا غلام احمد نے درحقیقت اسلام کے علمی و دینی ذخیرہ میں کوئی ایسا اضافہ نہیں کیا جس کے لیے اصلاح و تجدید کی تاریخ ان کی معترف اور مسلمانوں کی نسل جدید ان کی شکر گزار ہو۔ انہوں نے نہ تو کوئی دینی خدمت انجام دی، جس کا نفع دنیا کے سارے مسلمانوں کو پہنچے نہ وقت کے جدید مسائل میں سے کسی مسئلہ کو حل کیا نہ ان کی تحریک موجودہ انسانی تہذیب کے لیے، جو سخت مشکلات اور موت و حیات کی کشمکش سے دوچار ہے، کوئی پیغام رکھتی ہے نہ اس نے یورپ اور ہندوستان کے اندر تبلیغ و اشاعت کا کوئی کارنامہ انجام دیا ہے۔ اس کی جدوجہد کا تمام تر میدان مسلمانوں کے اندر ہے اور اس کا نتیجہ صرف

صفحہ 78

ذہنی انتشار اور غیر ضروری کشمکش ہے، جو اس نے اسلامی معاشرے میں پیدا کر دی ہے۔ اسلام کی صحیح تعلیمات سے انحراف اور ان مخلصین و مجاہدین کی، جو ماضی قریب میں اس ملک میں پیدا ہوئے اور اسلام کے عروج اور مسلمانوں کی نشاۃ ثانیہ کے لیے اپنا سب کچھ لٹا کر چلے گئے۔ ناقدری کی سزا خدا نے یہ دی کہ مسلمانوں پر ایک ذہنی طاعون کو مسلط کر دیا اور ایک ایسے شخص کو ان کے درمیان کھڑا کر دیا جو امت میں فساد کا مستقل بیج بو گیا ہے۔"

("قادیانیت" از ابوالحسن علی ندوی، صفحہ ۲۲۳، ۲۲۴)

مرزا غلام احمد کی خصوصیت اس کے سوا کچھ نہ تھی کہ اس نے:

جان کر مسلمانان عالم کے ابتلاء و مصائب سے لاتعلقی اختیار کی، حتیٰ کہ ان کی شکست و ریخت پر خوشیاں منائیں اور برطانوی فتح و نصرت کو انعامات ایزدی قرار دیا۔

ان کے فرزند مرزا محمود احمد (خلیفہ ثانی) نے قادیانی امت کو برطانوی خواہشوں کے محور و مرکز پر منظم کیا اور اسے ایک ایسی سیاسی تحریک بنا دیا جو برطانوی استعمار کی خدمت گزار اور اپنے حزبی اقتدار کی طلب گار ہو گئی۔ خلیفہ محمود رحلت کر گئے تو ان کے بیٹے خلیفہ ثالث مرزا ناصر نے دادا کے مشن اور باپ کے منصوبے کو ایسی شکل دی کہ آج وہ پاکستان کے لیے ایک سیاسی خطرہ بن چکا ہے۔

خوف طوالت کے پیش نظر ان تفصیلات کا ذکر بے سود ہو گا کہ مرزا غلام احمد کے والد مرزا غلام مرتضیٰ نے ۱۸۵۷ء میں مسلمانان پنجاب کے خون سے ہولی کھیل کر انگریزی سرکار کی خوشنودی اور اعتماد حاصل کیا۔ ان کے بڑے بھائی مرزا غلام قادر نے مشہور سفاک جنرل نکلسن کی فوج میں شامل ہو کر ۴۶ نیٹو انفنٹری کے باغیوں کو تریمو گھاٹ پر بھون ڈالا۔

ان باغیوں کو صرف گولی ہی سے نہیں اڑا اعضاء قطع کیے ۔ انہیں چتاؤں میں ڈا جل کا تماشا دیکھا۔

پس منظر کے طور پر یہ جان لینا ض اس نے تبلیغ کی آڑ میں برطانوی ملوکی دیے ۔ بالخصوص مسلمان ملکوں میں ان بنانے کے لیے جزیرۃ العرب، افغانستان و اسرائیل میں موجود ہیں۔

اسرائیل عربوں کے قلب میں مقاطعہ کر رکھا ہے ۔ پاکستانی مشن وہاں کس پر تبلیغ کرتا ہے، مسلمانوں پر یا یہو ہیں ۔ وہ قادیانی مشن کے استحصال کی زد قائم نہیں ہو سکتا، وہاں اسلام کے لیے کام لیے جا رہے ہیں۔ وہ ڈھکے چھپے نہیں اور ہو رہا ہے۔ لیکن مشن جوں کا توں قا

سے حجاز و اردن کی فضائیہ کے پاکستان وہاں کے راز حاصل کیے جاتے اور اسرا

جاسوسی کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔

دوستوں سے متعلق مطلوبہ خبریں حاصل ک

جاتیں اور سیاسی نقشے در آمد بر آمد ہوتے مداخلت اور صہیونی سرمایہ کی زمانہ استعما

صفحہ 79

ان باغیوں کو صرف گولی ہی سے نہیں اڑایا گیا بلکہ ان کا مثلہ کیا، انہیں درختوں سے باندھ کر اعضاء قطع کیے۔ انہیں چتاؤں میں ڈالا، ان پر ہاتھی پھرائے۔ ان کی ٹانگیں چیر کر رقص بسمل کا تماشا دیکھا۔

پس منظر کے طور پر یہ جان لینا ضروری ہے کہ مرزائی امت کا اصل کردار کیا رہا اور اس نے تبلیغ کی آڑ میں برطانوی ملوکیت کے لیے کہاں کہاں جاسوسی کے فرائض انجام دیے۔ بالخصوص مسلمان ملکوں میں ان کے وفود کا مقصد کیا تھا؟ کیا وہ مسلمانوں کو مسلمان بنانے کے لیے جزیرۃ العرب، افغانستان، اور ترکی میں گئے تھے اور اب تک اسی لیے افریقہ و اسرائیل میں موجود ہیں۔

اسرائیل عربوں کے قلب میں ناسور ہے۔ تقریباً تمام مسلمان ریاستوں نے اس کا مقاطعہ کر رکھا ہے۔ پاکستانی مشن وہاں نہیں، لیکن قادیانی مشن وہاں ہے۔ سوال ہے وہ کس پر تبلیغ کرتا ہے، مسلمانوں پر یا یہودیوں پر۔ آج جو چند مسلمان اسرائیل میں رہ گئے ہیں۔ وہ قادیانی مشن کے استحصال کی زد میں ہیں۔ غور کیجئے، جس اسرائیل میں عیسائی مشن قائم نہیں ہو سکتا، وہاں اسلام کے لیے قادیانی مشن لطیفہ نہیں تو کیا ہے؟ اس مشن سے جو کام لیے جا رہے ہیں۔ وہ ڈھکے چھپے نہیں، تمام عالم عرب میں اس کے خلاف احتجاج ہو چکا اور ہو رہا ہے۔ لیکن مشن جوں کا توں قائم ہے۔

سے حجاز و اردن کی فضائیہ کے پاکستان افسروں سے جو بعض دفعہ قادیانی بھی ہوتے ہیں، وہاں کے راز حاصل کیے جاتے اور اسرائیل کو پہنچائے جاتے ہیں۔

جاسوسی کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔

دوستوں سے متعلق مطلوبہ خبریں حاصل کی جاتی ہیں۔

جاتیں اور سیاسی نقشے درآمد برآمد ہوتے ہیں۔ خود صدر بھٹو پاکستان میں تل ابیب کی سیاسی مداخلت اور صہیونی سرمایہ کی زمانہ انتخاب میں آمد کا انکشاف کر چکے ہیں، اور یہ ایک

صفحہ 80

حقیقت ہے کہ تل ابیب کا سرمایہ پاکستان کے عام انتخابات میں مقامی مرزائیوں کی معرفت اسی مشن کی وساطت سے آیا تھا اور یحییٰ کے زمانہ میں اکثر وزراء نے خود راقم الحروف سے اس کی روایت کی تھی۔

جوڑ عالمی استعمار کی مخفی خواہشوں کو معرض وجود میں لانے کا ذریعہ (Link) بن چکا ہے۔

پاکستان میں اسلام کے خلاف ۱۹۷۰ء کے جنرل الیکشن میں جو سب سے بڑی ذہنی بغاوت ہوئی، اس کے منتظم قادیانی تھے جو اسرائیل کے حسب ہدایت کام کر رہے تھے۔ یہ کوئی مفروضہ نہیں، کھلی حقیقت ہے اور پیش آمدہ واقعات کا تسلسل اس کی تصدیق کرتا ہے۔۔۔۔۔ پھر یہ کوئی نئی چیز نہیں۔ قادیانی امت شروع ہی سے اس قسم کے مشن قائم کرنے کی عادی ہے۔ مثلاً مرزا محمود نے شاہ سعود اور شریف مکہ کی آویزش کے زمانہ ۱۹۲۱ء میں اپنے ایک مرید میر محمد سعید حیدر آبادی کو مکہ بھیجا۔ وہاں اس نے اونے پونے راز اٹھائے اور آگیا۔۔۔۔۔ اسی طرح ترکی میں دو قادیانی مصطفیٰ صغیر کی ٹیم کے رکن ہو گئے۔ ایک ثقہ روایت کے مطابق مصطفیٰ صغیر خود قادیانی تھا اور مصطفیٰ کمال کو قتل کرنے پر مامور ہوا تھا، لیکن قبل از اقدام پکڑا گیا اور موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔

مرزا محمود احمد کے سالے میجر حبیب اللہ شاہ فوج میں ڈاکٹر تھے۔ وہ پہلی جنگ عظیم میں بھرتی ہو کر عراق گئے۔ انگریزوں نے بغداد فتح کیا تو انہیں ابتدأ گورنر نامزد کیا۔ ان کے بڑے بھائی ولی اللہ زین العابدین جو قادیان میں امور عامہ کے ناظر رہے۔ عراق میں قادیانی مشن کے انچارج تھے۔ لیکن فیصل نے ان کی سرگرمیوں سے آگاہ ہوتے ہی نکال دیا۔ گورنمنٹ آف انڈیا نے وہاں ان کے ٹکے رہنے پر زور دیا۔ لیکن عراق گورنمنٹ نے ایک نہ مانی۔

غالباً ۱۹۲۶ء میں مولوی جلال الدین شمس کو شام بھیجا گیا۔ وہاں کے حریت پسندوں کو پتہ چلا تو قاتلانہ حملہ کیا۔ آخر تاج الدین الحسنی کی کابینہ نے شام بدر کر دیا۔ جلال الدین شمس فلسطین چلا گیا اور ۱۹۴۱ء تک برطانوی انتداب کی حفاظت میں عرب ملکوں میں عالمی استعمار کی خدمت بجالاتا رہا۔ جب تک برطانیہ ہندوستان میں حکمران رہا، اس نے روس کو اپنے لیے خطرہ سمجھا۔ اس غرض سے مختلف لبادوں میں، مختلف مشن، روس، وسط ایشیا کے

صفحہ 81

اسلامی ممالک میں بھجوائے، بالخصوص ان علاقوں میں جو ہندوستان کی سرحد کے ساتھ آباد تھے اور روس کو وہاں اقتدار حاصل تھا۔ اس غرض سے پنڈت موہن لال، پنڈت من پھول، مولوی فیض محمد، بھائی دیوان سنگھ اور مولوی ربانی کے سفرنامہ کی بعض جھلکیاں عام ہو چکی ہیں۔ مولانا محمد حسین آزاد کے نواسے آغا محمد باقر نے اپنے نانا کے سفر کو اسی نوعیت کی جاسوسی قرار دیا ہے۔ ادھر ۱۹۲۱ء میں مولوی محمد امین قادیانی ایران کے راستہ روس گئے۔ انہیں روس میں داخل ہوتے ہی پکڑ لیا گیا اور دو سال جیل میں رہے لیکن واپس آنے کے کچھ عرصہ بعد مرزا محمود نے ایک اور نوجوان مولوی ظہور حسین کے ساتھ انہیں واپس بھجوا دیا چونکہ پاسپورٹ نہیں تھے۔ اس لیے ایران کے راستہ داخل ہوئے۔ لیکن پکڑ لیے گئے۔ پہلے مولوی محمد امین لوٹے پھر مولوی ظہور حسین قید و بند کے مرحلے گزار کر برطانوی سفیر کی مداخلت سے رہا ہوئے اور واپس آ گئے۔

افغانستان میں نعمت اللہ قادیانی کو جولائی ۱۹۲۴ء میں پکڑا گیا۔ اس پر جاسوسی اور ارتداد ثابت ہو گیا تو سنگسار کر دیا گیا۔ فروری ۱۹۲۵ء میں دو اور قادیانی ملا عبدالحلیم اور ملا نور علی کو اسی جرم میں موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ افغانستان اور پاکستان میں تعلقات کی کشیدگی کا ایک سبب ابتدائً سر ظفر اللہ خان تھے جو ان تین قادیانیوں کے قتل پر افغانی سفیر مقیم برطانیہ کو عذاب خداوندی کی وعید دے چکے تھے اور تب سے افغانستان کے خلاف تھے۔ دوسری وجہ مرزا محمود خود تھے کہ وہ افغانستان کے لیے اور افغانستان ان کے لیے ناقابل قبول تھا۔ افغانستان کا ہر ابتلاء ان کے نزدیک ان کی بددعا کا مظہر تھا۔

برطانوی ہندوستان میں بھی مرزائی امت کا شعار تھا کہ ان کے جو افراد پولیس میں بھرتی ہوتے، وہ عموماً سی آئی ڈی میں چلے جاتے یا انگریز انہیں چن چن کر سی آئی ڈی میں لے لیتا۔ جہاں انہیں ہندوؤں، سکھوں، اور مسلمانوں پر کوئی سا ظلم توڑتے ہوئے رتی بھر حیا محسوس نہ ہوتی بلکہ ہر ظلم کو اپنے فرائض کا حصہ سمجھتے۔

پنجاب میں سی آئی ڈی کا محکمہ حکومت کے لیے ریڑھ کی ہڈی رہا۔ اس محکمہ کے مرزائی افسروں نے برطانوی استعمار کی جو خدمات انجام دیں وہ کوئی انگریز افسر بھی انجام نہ دے سکتا تھا۔

حقیقت یہ ہے کہ تقریباً ہر اسلامی ملک میں قادیانیوں کے خلاف حکومت اور عوام

صفحہ 82

دونوں سطح پر ذہنی احتساب موجود ہے، لیکن جہاں قومی آزادی طاقتور ہے اور ان کی آزادی عالمی استعمار کے رخنوں سے محفوظ ہے، وہاں قادیانی مشن نہ کبھی تھے، نہ اب ہیں۔ مثلاً مصر، ترکی، افغانستان، شام، حجاز، عراق، شرق اردن، انڈونیشیا وغیرہ میں قادیانی مشن نہیں، ایران ہمارا عزیز ہمسایہ ہے۔ اس کے ساتھ ہمارے روابط یکجائی کے ہیں لیکن قادیانی ادھر کا رخ نہیں کرتے۔ کیا وہاں انجام نظر آتا ہے یا عالمی استعمار کو ضرورت نہیں؟

۱۹۵۳ء کی پاکستانی مزاحمت کے بعد بالعموم اور پچھلے تین سالوں میں بالخصوص قادیانی امت نے اپنے سیاسی ہتھکنڈے تبدیل کر لیے ہیں اور اب عالمی استعمار کی جاسوس امت کے طور پر افریشیائی ممالک سے خفیہ معلومات فراہم کر رہے ہیں۔ تل ابیب (حیفا) میں ان کا مشن گرد و پیش کی عرب دنیا کے خلاف جاسوسی کا مرکز ہے۔ اس باب میں دمشق کے ایک مطبوعہ رسالہ "القادیانیہ" سے ان کے سیاسی خدوخال اور استعماری فرائض و مناصب کی نشاندہی ہوتی ہے۔ اس میں لکھا ہے کہ :

"کسی بھی عرب مسلمان ریاست میں ان کے لیے کوئی جگہ نہیں بلکہ ان کے وجود کی بدولت پاکستان کو عربوں میں ہدف بنایا جاتا ہے۔"

ذیل کا واقعہ رسالہ میں مذکور ہے کہ :

"پہلی جنگ عظیم کے وقت انگریزوں نے ولی اللہ زین العابدین (مرزا محمود احمد کے سالے) کو سلطنت عثمانیہ میں بھیجا۔ وہاں پانچویں ڈویژن کے کمانڈر جمال پاشا کی معرفت قدس یونیورسٹی (۱۹۱۷ء) میں دینیات کا لیکچرر ہو گیا۔ لیکن جب انگریزی فوجیں دمشق میں داخل ہوئیں تو یہی ولی اللہ اپنا جامہ اتار کر انگریزی لشکر میں آگیا اور عربوں کو ترکوں سے لڑانے بھڑانے کی مہم کا انچارج رہا۔ عراقی اس سے واقف ہو گئے تو بھاگ کر قادیان آگیا اور ناظر امور عامہ بنایا گیا۔"

اب قادیانی امت کی استعماری تکنیک (Strategy) یہ ہے کہ وہ استعمار کے حسب منشا پاکستان کی ضرب تقسیم میں حصہ لے کر سکھوں کے ساتھ پنجاب کو ایک علیحدہ قادیانی ریاست بنانا چاہتی ہے۔ اس غرض سے عالمی استعمار اس کی پشت پناہی کر رہا ہے اور وہ اس کے لیے مختلف ملکوں میں جاسوسی کے فرائض انجام دے رہی ہے۔ اس کی جاسوسی کا

صفحہ 83

جال وسیع ہو گیا ہے۔ اس غرض سے اس نے اسرائیل کے گرد و پیش حجاز و اردن میں فضائیہ وغیرہ کی تربیت کے لیے نہ صرف قادیانی پائلٹ بھجوائے بلکہ ان ملکوں میں استعماری کار و بار جاری رکھنے کے لیے ہر سال ڈاکٹروں، انجینئروں اور نرسوں کی ایک بڑی کھیپ جا رہی ہے۔ پاکستان میں کوشش کر کے ان بڑے ہسپتالوں میں میڈیکل سپرنٹنڈنٹ قادیانی لگائے جا رہے ہیں جہاں ہر سال نرس لڑکیاں بھرتی کی جاتی ہیں، چنانچہ لاہور کے میو ہسپتال کا سپرنٹنڈنٹ جی این جنجوعہ قادیانی مقرر ہوا ہے۔ واضح رہے کہ میو ہسپتال لاہور، پشاور سے لے کر حیدر آباد تک نرسوں کا سب سے بڑا تربیتی مرکز ہے۔ اس پس منظر میں جنجوعہ کے لیے پوری قادیانی مشینری نے زور دے کر یہ جگہ حاصل کی ہے۔

ادھر یہ بات ڈھکی چھپی نہیں کہ مرزائی پاکستان بننے پر خوش نہ تھے اور نہ پاکستان بننے کے حق میں تھے۔ مرزا محمود نے پاکستان بننے سے تین ماہ پہلے خطبہ دیا تھا۔ ملاحظہ ہو ”الفضل“ ۱۶ مئی ۱۹۴۷ء۔

”ہندوستان کی تقسیم پر اگر ہم رضامند ہوئے ہیں تو خوشی سے نہیں بلکہ مجبوری سے اور پھر یہ کوشش کریں گے کہ یہ کسی نہ کسی طرح پھر متحد ہو جائے۔“

۵ اگست ۱۹۴۷ء کے ”الفضل“ میں خلیفہ ثانی کی ایک دوسری تقریر میں درج ہے، فرماتے ہیں:

”بہر حال ہم چاہتے ہیں کہ اکھنڈ ہندوستان بنے اور ساری قومیں باہم شیر و شکر ہو کر رہیں۔“

مرزا صاحب نے قادیان میں رہنے کے بہتیرے جتن کیے۔ کوشش کی کہ پاپائے روم کے مقدس شہر ویٹی کن کا مقام قادیان کو مل جائے۔ لیکن جب کوئی سعی بیل منڈھے نہ چڑھی تو ایک انگریز کرنل کی رپورٹ پر حواس باختہ ہو کر کیپٹن عطا اللہ کی معیت میں بھاگ کر لاہور آ گئے۔ میجر جنرل نذیر احمد آپ کے ہم زلف تھے۔ ان کے ساتھ جیپ میں سوار ہو کر نکلنے کا پروگرام تھا، لیکن سکھوں کی مار دھاڑ کے خوف سے قبل از وقت نکل آئے اور چوری چھپے جان بچائی۔ یہاں پہنچ کر مرزا قادیانی نے قادیان میں مراجعت کے رویا اور خواب بیان کرنا شروع کیے اور یہ پروگرام بنایا کہ:

صفحہ 84

بظاہر یہ تین مختلف اور شاید ایک نازک حد تک مخالف ”محاذ“ تھے۔ لیکن اصلاً حصول اقتدار کا ایک مربوط سلسلہ تھا جو مرزا محمود احمد کے نہاں خانہ دماغ میں پرورش پا رہا تھا۔

جسٹس منیر نے ۱۹۵۳ء کے واقعات سے متعلق مسلمانوں سے مرزائیوں کی نزاع پر جو رپورٹ لکھی ہے۔ اس کے صفحہ ۱۹۵ پر درج ہے کہ :

”۱۹۴۵ء سے لے کر ۱۹۴۷ء کے آغاز تک احمدیوں کی بعض تحریروں سے منکشف ہوتا ہے کہ وہ برطانیہ کا جانشین بننے کے خواب دیکھ رہے تھے۔ وہ نہ تو ایک ہندو دنیاوی حکومت یعنی ہندوستان کو اپنے لیے پسند کرتے تھے اور نہ پاکستان کو منتخب کر سکتے تھے۔“

”الفضل“ ۲۵ دسمبر ۱۹۳۲ء ملاحظہ ہو، خلیفہ صاحب فرماتے ہیں:

”ملکی سیاست میں خلیفہ وقت سے بہتر اور کوئی راہنمائی نہیں کر سکتا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت اس کے شامل حال ہوتی ہے۔“

۴ جون ۱۹۴۰ء کے ”الفضل“ میں:

”نہیں معلوم کب خدا کی طرف سے ہمیں دنیا کا چارج سپرد کیا جاتا ہے۔ ہمیں اپنی طرف سے تیار رہنا چاہیے کہ دنیا کو سنبھال سکیں۔“

یہ اس وقت مرزائی امت کے خیالات تھے۔ جب ہٹلر نے برطانیہ کو ہلا ڈالا تھا اور مرزائی و سکھ، دونوں پنجاب پر قبضہ کرنے کی تیاری میں تھے۔ اس ضمن میں ماسٹر تارا سنگھ کا مضمون ہفتہ وار اکالی سے مختلف جرائد میں نقل ہو چکا ہے۔ ماسٹر جی نے لکھا تھا کہ برطانیہ نے ہندوستان چھوڑا تو سکھ ریاستوں بالخصوص مہاراجہ پٹیالہ کی مدد سے پنجاب میں ہم نے اتنی تیاری کر لی ہے کہ اس کے جانشین ہو سکیں اور سکھوں کا یہ صوبہ سکھوں کی عملداری میں ہو۔

اس سے پہلے ۱۴ فروری ۱۹۲۲ء کے ”الفضل“ میں خلیفہ صاحب کی تقریر ہے:

صفحہ 85

"ہم احمدی حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں" مزید ملاحظہ ہو: "اس وقت تک کہ تمہاری بادشاہت قائم نہ ہو جائے، تمہارے راستے سے یہ کانٹے ہرگز دور نہیں ہو سکتے۔"

("الفضل" ۸ جولائی ۱۹۳۵ء)

میرزائیوں نے اپنی جماعت کے ۴۸ برس میں مسلمانوں کی کسی ابتلاء، کسی تحریک، کسی افتاد اور کسی مصیبت میں کبھی حصہ نہیں لیا۔ ہمیشہ مسلمانوں سے الگ تھلگ اور انگریزوں کی مرضی کے تابع رہے۔ لیکن ریاست کشمیر کے مسلمانوں کی ہمدردی کے نام پر انہوں نے جولائی ۱۹۳۱ء میں آل انڈیا کشمیر کمیٹی کا کھڑاگ رچایا اور آج تک صرف کشمیری کا ذکر چھیڑتے ہیں۔ کیا مسلمانوں کے مصائب کشمیر کے سوا اور کسی خطہ میں نہ تھے۔ کیا صرف کشمیر کے مسلمان ہی مسلمانان عالم میں ہمدردی کے مستحق تھے اور کیا ریاست کشمیر کی آزادی ہی عالم اسلام کی ویرانیوں کا مسئلہ اول ہے؟ اگر قادیانی کشمیر کے معاملہ میں اسلام اور مسلمانوں کی خاطر مخلص ہوتے تو اس کا اعتراف نہ کرنا بخل ہوتا۔ بلکہ شقاوت کے مصداق۔ لیکن معاملہ دوسرا تھا۔ مرزائی کشمیری مسلمانوں کی سادہ فطرت سے واقف تھے کہ وہ مذہبی سبز باغوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ادھر قادیان اور جموں متصل علاقے تھے۔ ادھر میرزائی جس قادیانی ریاست کا خواب دیکھتے تھے، اس کی تعبیر کے لیے جموں و کشمیر حسب حال تھے۔

پاکستان نے اپنی آزادی کے تیسرے مہینے اکتوبر ۱۹۴۷ء میں کشمیر کا مطالبہ کیا تو اس جنگ میں قادیانی امت فی الفور کود پڑی، اس نے فرقان بٹالین کے نام سے ایک پلاٹون تیار کی جو سیالکوٹ کے نزدیک جموں کے محاذ پر واقع گاؤں "معراج کے" میں متعین کی گئی۔ اس نے وہاں کیا خدمات انجام دیں؟ اس کے تذکرہ و افشاء کا محل نہیں، لیکن اس وقت پاکستان کے کمانڈر انچیف جنرل سر ڈگلس گریسی تھے۔ جن کے متعلق معلوم ہو چکا ہے کہ وہ پاکستان کی فوج کو کشمیر میں استعمال کرنے کے خلاف تھے اور وہ شخصی طور پر لڑائی کے حق میں تھے۔ بلکہ ان کی معرفت بعض معلومات ہندوستان کے کمانڈر انچیف جنرل سر آکن لیک تک پہنچتی گئیں۔ قائد اعظم اس وقت سرطان کے مرض میں مبتلا تھے۔ جب انہیں یہ

صفحہ 86

معلوم ہوا تو ان کا مرض شدید ہو گیا۔

کسی کمانڈر انچیف نے کسی ”آزاد ادارے“ کی ایسی بٹالین پر کبھی صاد نہیں کیا، جیسا کہ فرقان بٹالین تھی۔ فرقان بٹالین کو یہ شرف بخشا گیا کہ جنرل گریسی نے بطور کمانڈر انچیف تحسین و ستائش کا خط و پیغام لکھا جو تاریخ احمدیت، جلد ششم مولفہ دوست محمد شاہد کے صفحہ ۲۷۴ پر موجود ہے۔

بات معمولی ہے لیکن عجیب ہے کہ کشمیر کے محاذوں کی جنگ میں قادیان سے ملحق سرحدات کی کمان ہمیشہ مرزائی جرنیلوں کے ہاتھ میں رہی ہے، چونکہ یہ ایک فوجی عمل ہے، لہٰذا اس کا ذکر مناسب نہیں، لیکن سوال ہے کہ فرقان بٹالین ہو یا اس کے بعد ۱۹۶۵ء کی جنگ جو کشمیر سے شروع کی گئی کہ وہاں چھمب اور جوڑیاں کا محاذ پٹھان کوٹ اور قادیان کی طرف تھا۔ ابتداء ان محاذوں کی کمان جنرل اختر ملک اور بریگیڈیر عبد العلی ملک کے ہاتھ میں تھی جو سگے بھائی ہونے کے علاوہ قادیانی العقیدہ تھے۔ جنرل اختر ملک ترکی میں وفات پا گئے۔ ان کی نعش وہاں سے ربوہ لائی گئی جہاں بہشتی مقبرے سے باہر ہمیشہ کی نیند سو رہے ہیں۔ پنجاب میں پانچویں اور چھٹی جماعت کی تاریخ و جغرافیہ کے نصاب میں ۱۹۶۵ء کی جنگ کا ہیرو جنرل اختر ملک اور بریگیڈیر عبد العلی کو بتایا گیا اور اول الذکر کی سہ رنگی تصویر شامل کی گئی ہے۔

ایک دوسری تصویر جنرل ابرار حسین کی بھی ہے۔ لیکن ۱۹۶۵ء کی جنگ کو اس طرح محدود کرنا اور صرف جنرل اختر حسین ملک یا بریگیڈیر عبد العلی کا ذکر کرنا مرزائی امت کا پنجاب میں نئی پود کو ذہنًا اپنی طرف منتقل کرنے کا ہتھکنڈا ہے۔ عزیز بھٹی وغیرہ کو نظر انداز کر کے اور اس وقت کے آتش بجانوں کے سر سے گزر کے جنرل اختر ملک کو قومی ہیرو بنانا اور پڑھانا سیاست کی شوخی ہے جو حصول اقتدار کی آئندہ کوششوں میں رنگ و روغن کا کام دے گی۔

بات سے بات نکلتی ہے۔ جنرل اختر ملک کے تذکرے کی رعایت سے اس ضمن کی دو باتیں حافظہ میں اور تازہ ہو گئیں۔

کیا کہ ۱۹۶۵ء کی جنگ میں اللہ تعالیٰ نے ہماری محافظت کی۔ ورنہ صورت حال کے پامال

صفحہ 87

ہونے کا احتمال تھا۔

پہنچنے کے لیے مضطرب ہیں۔ وہ بھارت سے مل کر پاکستان سے لڑ کر ہر صورت میں قادیان چاہتے ہیں اور اس غرض سے پاکستان کو بازی پر لگانے سے بھی نہیں چوکتے۔ ایک دن میرے ہاں جنرل اختر حسین ملک آئے اور میرے ملٹری سیکرٹری کرنل محمد شریف سے کہا کہ مجھ سے ملنا چاہتے ہیں۔ میں نے پس و پیش کی اور اپنے سیکرٹری سے کہا کہ میں نے جنرل ملک سے اگر ملاقات کی تو صدر ایوب جو مجھ سے پہلے ہی بدظن ہو چکے ہیں اور بدظن ہوں گے اور یہ حسن اتفاق ہے کہ میں بھی اعوان ہوں، جنرل اختر ملک بھی اعوان ہے اور تم (ملٹری سیکرٹری) بھی اعوان ہو۔ صدر ایوب کے کان میں الطاف حسین ڈار نے بات ڈال رکھی ہے کہ اس سے کسی امریکن نے کہا ہے کہ نواب کالا باغ، ایوب خاں کے خلاف اندر خانہ خود صدر بننے کی سازش کر رہا ہے۔

اس وقت تو جنرل ملک لوٹ گئے لیکن چند دن بعد نتھیا گلی میں ملاقات کا موقع پیدا کر لیا۔ کہنے لگے ”میں صدر ایوب کو آمادہ کروں کہ یہ وقت کشمیر پر چڑھائی کرنے کے لیے بہترین ہے۔ یقین ہے کہ ہم کشمیر حاصل کر پائیں گے۔ مجھے حیرت ہوئی کہ بیٹھے بٹھائے جنرل کو یہ کیا سوجھی؟ بہرحال میں نے عذر کر دیا کہ میں نہ تو فوجی ایکسپرٹ ہوں، نہ مجھے جنگ کے مبادیات کا علم ہے۔ آپ خود ان سے تذکرہ کریں، انہوں نے کہا کہ صدر نہیں مانتا، وہ کہتا ہے کہ اس لڑائی کے بعد بھارت براہ راست پاکستان کی بین الاقوامی سرحدوں پر حملہ کر دے گا۔

میں نے کہا، صدر مجھ سے پہلے ہی بدگمان ہے اور لازماً خیال کرے گا کہ اعوان اس کے خلاف کوئی سازش کر رہے ہیں۔

جنرل اختر ملک مجھ سے جواب پا کر چلے گئے۔ اس اثنا میں سی آئی ڈی کی معرفت مجھے ایک اشتہار ملا جو آزاد کشمیر میں کثرت سے تقسیم کیا گیا تھا اس میں لکھا تھا کہ ”ریاست جموں و کشمیر انشاء اللہ آزاد ہو گی اور اس کی فتح و نصرت احمدیت کے ہاتھوں ہو گی۔“

(پیش گوئی مصلح موعود)

اور میرے لیے یہ ناقابل فہم نہ تھا کہ جنرل اختر ملک اس پیش گوئی کو سچا بنانے کے

صفحہ 89

لیے دوڑ دھوپ کر رہے ہیں۔

راقم نے نواب کالا باغ کی یہ گفتگو محترم مجید نظامی ایڈیٹر ”نوائے وقت“ کو بیان کی تو انہوں نے تائید کی کہ ان سے بھی نواب صاحب یہی روایت کر چکے ہیں۔

خان نے مجھے امریکہ میں کہا تھا کہ صدر ایوب کو پیغام دوں کہ یہ وقت کشمیر پر چڑھائی کے لیے موزوں ہے‘ پاکستانی فوج ضرور کامیاب ہوگی۔ جہاں تک ہندوستان کے ہاتھوں بین الاقوامی سرحد آلودہ ہونے کا تعلق ہے‘ ایسی کوئی چیز نہ ہوگی۔ میں نے صدر ایوب سے ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا۔ مجھ سے کہہ دیا ہے اور کسی سے نہ کہنا۔

صدر ایوب کو سر ظفر اللہ خان نے پیغام دے کر اور جنرل ملک نے خود حاضر ہو کر علاوہ دوسرے زعما کے یقین دلایا تھا کہ کشمیر پر حملہ کرنے سے بھارت اور پاکستان میں براہ راست جنگ نہ ہوگی۔ لیکن پاکستانی فوجیں جب کشمیر کی طرف بڑھنے لگیں تو پاکستان کی بین الاقوامی سرحدیں ایکا یکی بھارتی فوج کے حملہ کا شکار ہوگئیں۔ واقعہ یہ ہے کہ پاکستان کو ہندوستان کے تابع کرنے اور اس کی جغرافیائی ہیئت کو نئی صورت دینے کے لیے عالمی استعمار کا جو منصوبہ تھا‘ اس کو پروان چڑھانے کے لیے پاکستان کے بعض پر اسرار لیکن مخفی و معلوم ہاتھ بھی تھے۔ قدرت نے استعماری منصوبہ خاک میں ملا دیا۔ منصوبہ یہ تھا کہ مغربی پاکستان میں پنجاب کو بالواسطہ یا بلاواسطہ شکست ہو تو پاکستان کا عسکری بازو ٹوٹ جائے گا اور مشرقی پاکستان نتیجتاً الگ ہو جائے گا۔ پنجاب کی پسپائی کے بعد سرحد، بلوچستان اور سندھ بلقان ریاستوں یا عرب ریاستوں کی طرح چھوٹی چھوٹی ریاستیں بن جائیں گی۔

کشمیر اور احمدیت کے بارے میں اس سے پہلے یہ بات سطور بالا میں رہ گئی ہے کہ قادیانی امت نے تحریک کشمیر (قبل از آزادی) اور جنگ کشمیر (بعد از آزادی) میں صرف اس لیے حصہ لیا کہ مرزا بشیر الدین محمود جس قادیانی ریاست کا خواب دیکھتے تھے۔ ان کی نگاہ میں کشمیر ہر لحاظ سے موزوں تھا۔ جماعت احمدیہ کی کشمیر سے دلچسپی کا سبب دوست محمد شاہد نے ”تاریخ احمدیت“ جلد ششم، صفحہ ۳۴۵ تا ۳۷۹ میں مرزا محمود کی روایت سے لکھا ہے کہ:

ہے۔

ہے۔

ساتھ مرزا غلام احمد کے والد بطور مددگار گئے تھے۔

میں ملازم رہے تھے۔

ان نکات ہی کو ملحوظ رکھا جائے تو ظاہر ہے کہ قاد عام انسانی مسئلہ یا عام مسلمانوں کی ہمدردی کے جذبہ سے اور حزبی مفاد کے لیے پورے پاکستان اور تمام مسلمانوں (بلوچستان کو احمدی ریاست بنانے کا خواب پراگن کے بھی شکر گزار ہیں) ادھر کشمیر سے متعلق ۱۹۴۸ء رہیں۔ ادھر ۱۹۶۵ء کے بعد برعظیم سے متعلق عالمی اس اس کے ساتھ بدلنا ایسا ہی تھا۔ جیسے انجن مڑتے ہی ملیا میٹ کرنے کی استعماری کوششوں میں سے ایک کوش

ضروری تھا۔ انہوں نے مشرقی پاکستان کے لیے شکایات ایم احمد نے حکومت پاکستان کے فنانس سیکرٹری، مالی م چیئرمین کی حیثیت سے بنگالیوں کو اتنا بے بس اور بیزار کر گئے۔ مشرقی پاکستان کے مصیبت زدگان کو سرکاری ام مسئول ایم ایم احمد تھے۔

خارج از بحث تھا۔ کیونکہ اکثریت مشرقی پاکستان کی تھی ان حرکات کو بھانپ کر ان سے باخبر ہوگئے تھے۔ وہ ای

صفحہ 89

ہے۔

ہے۔

ساتھ مرزا غلام احمد کے والد بطور مددگار گئے تھے۔

میں ملازم رہے تھے۔

ان نکات ہی کو ملحوظ رکھا جائے تو ظاہر ہے کہ قادیانی امت کی کشمیر سے ہمدردی کسی عام انسانی مسئلہ یا عام مسلمانوں کی ہمدردی کے جذبہ سے نہیں تھی بلکہ وہ اپنے شخصی تعلق اور حزبی مفاد کے لیے پورے پاکستان اور تمام مسلمانوں کو استعمال کرتے رہے ہیں۔

بلوچستان کو احمدی ریاست بنانے کا خواب پراگندہ ہو گیا (اس کے لیے ہم شاہ ایران کے بھی شکر گزار ہیں) ادھر کشمیر سے متعلق ۱۹۴۸ء ، ۱۹۶۵ء کی دونوں مہمیں بے نتیجہ رہیں۔ ادھر ۱۹۶۵ء کے بعد برعظیم سے متعلق عالمی استعمار نے کانٹا بدلا۔ قادیانی امت کا اس کے ساتھ بدلنا ایسا ہی تھا جیسے انجن مڑتے ہی گاڑی مڑ جاتی ہے۔ اب پاکستان کو ملیا میٹ کرنے کی استعماری کوششوں میں سے ایک کوشش یہ تھی کہ :

ضروری تھا۔ انہوں نے مشرقی پاکستان کے لیے شکایات کو جنم دیا۔ پھر پروان چڑھایا۔ ایم ایم احمد نے حکومت پاکستان کے فنانس سیکرٹری ، مالی مشیر اور منصوبہ بندی کمیشن کے ڈپٹی چیئرمین کی حیثیت سے بنگالیوں کو اتنا بے بس اور بیزار کر دیا کہ وہ علیحدگی کی تحریک میں ڈھل گئے۔ مشرقی پاکستان کے مصیبت زدگان کو سرکاری امداد سے محروم رکھا گیا اور اس کے مسئول ایم ایم احمد تھے۔

خارج از بحث تھا۔ کیونکہ اکثریت مشرقی پاکستان کی تھی اور شیخ مجیب الرحمن قادیانی امت کی ان حرکات کو بھانپ کر ان سے باخبر ہو گئے تھے۔ وہ ایم ایم احمد کی حرکات پر پبلک میں بیان

صفحہ 91

دے چکے اور ان کی فوری علیحدگی کے خواہاں تھے۔ اس بیان کے فوراً بعد چودھری ظفر اللہ خان ان سے ملنے ڈھاکہ گئے۔ دوسرے یا تیسرے دن تخلیہ میں ملاقات ہوئی اور آخر وہی ہوا جو مرزائی امت کے ظفر اللہ خاں یا ایم ایم احمد سے ٹکراؤ کا نتیجہ ہو سکتا تھا کہ ایم ایم احمد کو علیحدہ کرنے سے پہلے مجیب الرحمٰن پاکستان سے ہمیشہ کے لیے علیحدہ ہو گئے۔

ناٹک کھیل رہے ہیں۔ انہوں نے امریکہ کے یہودیوں کی طرح ملک کی مالیات و بینکنگ، انشورنس اور انڈسٹری میں اس قسم کا اقتدار حاصل کر لیا ہے کہ انہیں ان کے پس منظر، پیش منظر اور تہہ منظر سے خارج نہیں کیا جا سکتا۔

اب ان کے اقتدار کی راہ میں یہ چیزیں معاون ہو سکتی ہیں اور یہ کہنا جرم نہ ہو گا کہ پاکستان کی فضائیہ اپنے چیف سے لے کر آئندہ جانشینوں کی ایک کڑی تک ان کے ہاتھ میں ہے۔ اسی طرح بری فوج کے دونوں کور کمانڈر (جنرل عبدالعلی اور جنرل عبدالحمید) ان کے ہیں۔ ان کے ساتھ ایک ڈور بندھی ہوئی ہے۔

بورڈ کا چیئرمین غالب احمد قادیانی ہے۔ پنجاب اور بہاولپور کے علاقہ کی انشورنس کارپوریشن کا جنرل منیجر جنجوعہ قادیانی ہے۔ لاہور میو ہسپتال کا میڈیکل سپرنٹنڈنٹ قادیانی ہے۔ غرض ایسے کئی ادارے قادیانی امت کے ہاتھ میں ہیں جہاں اس کے افراد کی بڑی سے بڑی اکثریت معاشی طور پر پرورش پاسکتی اور سیاسی طور پر اقتدار کی راہیں ہموار کرتی ہے۔

نشریات کی معرفت پریس کو مرعوب کر دیا گیا ہے۔ ..... اور ملک کے بیشتر ورکنگ جرنلسٹوں میں کرپشن کی نیو رکھ دی گئی ہے۔ جس کی بدولت قادیانیت کے پیچ و خم کا مسئلہ خارج از احتساب ہو چکا ہے۔

معاوضہ دے کر اس قسم کے مضمون لکھوائے جا رہے ہیں۔ جس سے قادیانی امت کے مخالفین ضعیف ہوتے جائیں اور اس انتشار و افتراق کو ہوا ملتی رہے جو ان کے آئندہ اقتدار کی ضروری اساس ہے۔

لٹریچر کا انبار لگا رہی ہے۔ جن خطوط پر شیخ مجیب الرحمٰن پیپلز پارٹی کے ساتھ ہے لیکن اس کے مختلف نو شامل ہیں۔ پنجاب نیشنل عوامی پارٹی میں ایک ایسا بڑے دنوں سے کراچی کا ڈپٹی کمشنر ہے اور باپ مر کا قانونی مشیر تھا۔ قادیانی امت کا طرز عمل یہ ہے کی سیاسی فضا کو اتنا مسموم کر دیا جائے کہ علیحدگی استعمار کی خواہش کے مطابق پاکستان جو کبھی مغربی بلوچستان اور سندھو دیش وغیرہ میں تقسیم ہو تو پنجا مشترکہ طاقت کی سربراہی ان کے ہاتھ میں ہو۔

مرزائی سیاست کا نقشہ یہ ہے کہ عالمی استعمار چار ریاستوں میں بانٹنے کا ارادہ کر چکا ہے۔ پختونخو بنے گا۔ ان کے اضلاع میں تھوڑا بہت ردو بدل بھارتی راجستھان کو چلا جائے۔ پختونستان میں بلوچستان سندھ کے ایک دو اضلاع لے جائے اور ب کی نگاہ ہو۔ لیکن جتنی جلدی یہ ہو قادیانی اپنے لیے اس مہرہ بازی کا حاصل کلام یہ ہے کہ اپنے اس بلقا سکھ استعماری شہ اور بھارتی تعاون سے پنجاب پر ا ان کے گوروؤں کی نگری ہونے کے باعث ان کا پیغمبروں کے مولد و مسکن و مرقد ہونے کی بنا پر حام پنجاب سکھوں کے لیے ہو گا۔ بعض معلوم وجوہ سندھو دیش اور بلوچستان کی ناراضی میں گھرا ہوا طالبین سے معانقہ کر کے اپنے ”مدینۃ النبی“ قادیا استعمار کی مداخلت سے ایک نیا پنجاب پیدا ہو گا جو سکھ وجود ختم ہو جائے گا۔

صفحہ 91

کلام کا انبار لگا رہی ہے۔ جن خطوط پر شیخ مجیب الرحمٰن کو رگیدا جا رہا تھا۔ مرزائی امت بظاہر پیپلز پارٹی کے ساتھ ہے لیکن اس کے مختلف نوجوان، مختلف پارٹیوں میں حسب ہدایت شامل ہیں۔ پنجاب نیشنل عوامی پارٹی میں ایک ایسا احمدی نوجوان ”شریک“ ہے جس کا بھائی بڑے دنوں سے کراچی کا ڈپٹی کمشنر ہے اور باپ مرزا غلام احمد کا صحابی‘ ایک زمانہ میں پبلک کا قانونی مشیر تھا۔ قادیانی امت کا طرز عمل یہ ہے کہ مذہب کے روپ میں سرحد و بلوچستان کی سیاسی فضا کو اتنا مسموم کر دیا جائے کہ علیحدگی کا مطالبہ حقیقت بن جائے۔ جب عالمی استعمار کی خواہش کے مطابق پاکستان جو کبھی مغربی پاکستان تھا‘ کئی ریاستوں مثلاً پختونستان‘ بلوچستان اور سندھو دیش وغیرہ میں تقسیم ہو تو پنجاب میں حکمران طاقت‘ یا سکھوں کے ساتھ مشترکہ طاقت کی سربراہی ان کے ہاتھ میں ہو۔

مرزائی سیاست کا نقشہ یہ ہے کہ عالمی استعمار اس پاکستان کو ضرب و تقسیم سے تین چار ریاستوں میں بانٹنے کا ارادہ کر چکا ہے۔ پختونستان بنے گا‘ بلوچستان بنے گا‘ سندھو دیش بنے گا۔ ان کے اضلاع میں تھوڑا بہت رد و بدل ہو گا۔ ہو سکتا ہے کہ سندھ کا کچھ علاقہ بھارتی راجستھان کو چلا جائے۔ پختونستان میں پنجاب کے ایک دو اضلاع آ جائیں۔ بلوچستان سندھ کے ایک دو اضلاع لے جائے اور پنجاب میں ڈیرہ غازی خاں کے ضلع پر اس کی نگاہ ہو۔ لیکن جتنی جلدی یہ ہو قادیانی اپنے لیے اتنا ہی مفید سمجھتے ہیں۔ قادیانی امت کی اس مہرہ بازی کا حاصل کلام یہ ہے کہ اپنے اس بلقانی مقدر کے بعد پاکستان ختم ہو جائے گا تو سکھ استعماری شہ اور بھارتی تعاون سے پنجاب پر اپنے اس استحقاق کا دعویٰ کریں گے کہ وہ ان کے گوروؤں کی نگری ہونے کے باعث ان کا ہے۔ جس طرح یہود نے فلسطین کو اپنے پیغمبروں کے مولد و مسکن و مرقد ہونے کی بنا پر حاصل کیا اور اسرائیل بنا ڈالا۔ اسی طرح پنجاب سکھوں کے لیے ہو گا۔ بعض معلوم وجوہ کے باعث پنجاب اس وقت پختونستان‘ سندھو دیش اور بلوچستان کی ناراضی میں گھرا ہو گا۔ مرزائی امت گوروؤں کی نگری کے طالبین سے معانقہ کر کے اپنے ”مدینۃ النبی“ قادیان کی مراجعت پر خوش ہو گی۔ تب عالمی استعمار کی مداخلت سے ایک نیا پنجاب پیدا ہو گا جو سکھ احمدی ریاست ہو گا اور جس کا پاکستانی وجود ختم ہو جائے گا۔

صفحہ 93

پاکستان کا اصل خطرہ یہ ہے اور پنجاب اس خوفناک سانحہ کی زد میں ہے، نہ جانے حزب اقتدار اور حزب اختلاف اس بارے میں غور کیوں نہیں کرتیں۔ اس سیاسی مسئلہ کا اس وقت تعاقب نہ کیا گیا اور ایک پولیٹکل خطرہ کے طور پر اس کا محاسبہ نہ کیا گیا تو کیا پاکستان کی آنکھ اس وقت کھلے گی جب طوفان سر سے گزر چکا ہو گا اور پاکستان کی تاریخ استعماری انقلاب کے ہاتھوں الٹ چکی ہو گی۔ تب مورخ یہ لکھیں گے کہ ان علاقوں میں ایک ایسی قوم رہتی تھی۔ جس نے اپنے مسلمان ہونے کی بنیاد پر برعظیم ہندوستان سے کٹ کے ایک علیحدہ ملک پاکستان بنوایا تھا۔ لیکن اس پر تیسری یا چوتھی دہائی نہ گزری تھی کہ اپنی مجرمانہ غفلتوں اور احمقانہ سرکشیوں سے اس ملک کو خود مٹا ڈالا اور اب وہ ملک و قوم ماضی کی ایک طربناک یاد کا المناک تتمہ ہیں۔

پنجاب میں وٹو حکومت نے

کو کلیدی عہدوں پر

”پنجاب کے حلقہ ۱۱۶ سے صوبائی اسمبلی ہفت روزہ ”چٹان“ لاہور کو ایک انٹرویو میں اقدامات کا انکشاف کیا ہے۔ یہ انٹرویو ”چٹان جناب حافظ شفیق الرحمٰن صاحب نے کیا ۔ ظاہر ہے منظور وٹو کو غیر قادیانی اور خا کرنے والے ”زاہدان شب زندہ دار“ اسے س : وٹو حکومت کے ساتھ اپوزیشن کی محاذ آر محاذ آرائی مذاکرات کے ذریعے ختم نہیں ج : میں یہ بات واضح کر دوں کہ وٹو صاحب نہیں بلکہ یہ تصادم نظریاتی اور فکری بھی کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا ۔۔۔ میں اس میں وٹو حکومت نے تمام قادیانی افسروں پنجاب میں صرف لاہور کی مثال لیں کہ سلیم قادیانی ہیں۔ ایل۔ڈی۔اے کے ڈئ الدین شیخ قادیانی ہیں۔ واپڈا ٹیلی کمیونیکیش

صفحہ 93

پنجاب میں وٹو حکومت تمام قادیانی افسروں

کو کلیدی عہدوں پر فائز کر رہی ہے

عبید اللہ شیخ ایم ۔ پی ۔ اے

”پنجاب کے حلقہ ۱۱۶ سے صوبائی اسمبلی کے رکن عبید اللہ شیخ صاحب نے ہفت روزہ ”چٹان“ لاہور کو ایک انٹرویو میں وزیر اعلیٰ منظور وٹو کے قادیانی نواز اقدامات کا انکشاف کیا ہے۔ یہ انٹرویو ”چٹان“ کے ادارہ تحریر کے فاضل رکن جناب حافظ شفیق الرحمن صاحب نے کیا ہے۔ ذیل میں اس کا انتخاب ہدیہ قارئین ہے۔ منظور وٹو کو غیر قادیانی اور خادم اسلام ہونے کا سرٹیفکیٹ عطاء کرنے والے ”زاہدان شب زندہ دار“ اسے ضرور پڑھیں۔“ (ادارہ)

س : وٹو حکومت کے ساتھ اپوزیشن کی محاذ آرائی اگر سیاسی نوعیت کی ہے تو کیا یہ سیاسی محاذ آرائی مذاکرات کے ذریعے ختم نہیں کی جاسکتی؟

ج : میں یہ بات واضح کردوں کہ وٹو صاحب کے ساتھ ہمارا تصادم سیاسی نوعیت کا ہی نہیں بلکہ یہ تصادم نظریاتی اور فکری بھی ہے۔ اسے مذاکرات‘ اعلانات یا بیانات کے ذریعے ختم نہیں کیا جاسکتا۔۔۔ میں اس کی صرف ایک مثال دوں گا کہ آج پنجاب میں وٹو حکومت نے تمام قادیانی افسروں کو کلیدی عہدوں پر فائز کر دیا ہے۔ آپ پنجاب میں صرف لاہور کی مثال لیں کہ یہاں بلدیہ عظمیٰ کے ایڈمنسٹریٹر اے۔ یو سلیم قادیانی ہیں۔ ایل ۔ ڈی ۔ اے کے ڈی جی قادیانی ہیں۔ پوسٹ ماسٹر جنرل نصیر الدین شیخ قادیانی ہیں۔ واپڈا ٹیلی کمیونیکیشن کے جی ۔ ایم قادیانی ہیں۔ چیف منسٹر

صفحہ 94

ہاؤس میں بیٹھے ہوئے کئی افسران اسی وطن دشمن نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ غرضیکہ قادیانی افسروں کو کونوں کھدروں سے چن چن کر سامنے لایا جا رہا ہے اور انہیں پبلک ڈیلنگ والے اداروں کے اہم مناصب پر مامور کیا جا رہا ہے۔

س آخر صرف لاہور کے ساتھ یہ کرم فرمائی اور حسن سلوک کیوں؟....کہ اسے قادیانیوں کے حوالے کر دیا گیا ہے؟

ج بات صرف لاہور کی نہیں‘ وہ تو میں نے ایک مثال دی ہے۔ آپ مرکز میں دیکھ لیں کہ وزارت خارجہ‘ وزارت خزانہ اور وزارت داخلہ کو انہوں نے دوہری شہری شہریتیں رکھنے والے افسران اور سیکریٹریوں کے حوالے کیا ہوا ہے۔ آپ اپنے وزیر خارجہ کے بارے میں کیا کہیں گے۔ کیا وہ اس قابل ہیں کہ کسی بین الاقوامی پلیٹ فارم پر پاکستان کی نمائندگی کر سکیں۔ وہ شخص جس کی شراب و شباب سے آلودہ راتیں بھارتی سفارت خانوں میں بسر ہوتی رہیں۔ جو بھارتی سفارت کاروں کی تالیوں کی گونج میں پاکستان پر دہشت گردی کے الزامات لگاتا رہا۔ میں تو حکومت کے اعلیٰ عہدیداروں کی فہرست دیکھ کر کانپ کانپ اٹھتا ہوں کہ اس گلشن کا خدا حافظ کہ جس کے رکھوالے باغبانوں کے بجائے گل چین بنے بیٹھے ہوں۔

بلدیاتی اداروں کو توڑ کر لاہور کس کے حوالے کیا گیا؟ اے۔ یو سلیم کے‘ جو ایک قادیانی ہے۔ اب پورا پنجاب اس کے حوالے کرنے کی سازش کی جا رہی ہے۔ شنید ہے کہ اسے پنجاب لوکل گورنمنٹ کا سیکرٹری بنایا جا رہا ہے جو آج لاہور کی ناگفتنی حالت ہے کل پورے پنجاب کی حالت اسی طرح ناگفتہ بہ ہو گی کیونکہ وہ ربوہ ہیڈ کوارٹر کی ہدایات کے مطابق تمام صوبے کے تعمیر و ترقی کے منصوبوں کو تاخت و تاراج کریں گے۔۔۔ قادیانیوں کے سرپرست اعلیٰ کے طور پر پنجاب میں منظور وٹو موجود ہیں اور مرکزی حکومت تو ہے ہی قادیانیوں کے نرغے میں۔

(ہفت روزہ ”چٹان“ لاہور‘ ۱۰ جنوری ۱۹۹۴ء)

صفحہ 95

امریکی سفارت کار کا پُر اسرار دورہ ربوہ

رپورٹ: اختر خان

مولانا اللہ یار ارشد کے انکشافات

گزشتہ دنوں امریکی قونصلر مقیم لاہور رچرڈ میکی کی ربوہ آمد کی خبریں اخبارات کا موضوع خاص بنی رہیں، بلکہ علماء کی جانب سے اس کی مذمت کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔ رچرڈ میکی ربوہ آئے تو انہوں نے ربوہ کے قریب چنیوٹ میں پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے ایک ایم پی اے کے ہاں رات قیام بھی کیا، باخبر ذرائع کے مطابق انہوں نے چنیوٹ میں اپنے قیام کے دوران جھنگ اور سرگودھا سے تعلق رکھنے والی بعض اہم مذہبی اور سیاسی شخصیات سے ملاقات بھی کی، بعض اطلاعات کے مطابق امریکہ اس وقت پاکستان میں موجودہ حکومت کی اسلام پسندی اور خود انحصاری کی پالیسیوں کو ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتا ہے، اس لیے اس کی کوشش ہے کہ پاکستان میں مذہبی تصادم کرایا جائے اور اس کے لیے امریکی سرکار نے قادیانیوں کی مدد حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے، کیونکہ ان کے پاس پورے ملک میں ایک منظم ٹیم بھی موجود ہے، جس سے ۱۹۸۴ء میں بھی وہ یہ کام لے چکے ہیں، قادیانی بھی امریکی سرکار کی طرح پاکستان میں شریعت کے نفاذ سے خوفزدہ ہیں، رچرڈ میکی صرف ربوہ ہی نہیں آئے بلکہ پورے ملک میں ”اپنے دوستوں“ سے ملاقاتوں میں مصروف ہیں، امریکی سفارت خانے کے ذرائع کے مطابق رچرڈ میکی امریکہ واپس جارہے ہیں اس لیے اپنے دوستوں سے الوداعی ملاقاتوں میں مصروف ہیں، اس سلسلہ میں بعض حقائق معلوم کرنے کے لیے ہم نے مجلس احرار اسلام کے مرکزی رہنما اور مسجد احرار ربوہ کے خطیب مولانا اللہ یار ارشد سے ملاقات کی۔

صفحہ 96

مولانا اللہ یار ارشد نے ۱۹۷۸ء میں جامعہ رشیدیہ ساہیوال سے درس نظامی کی سند حاصل کی اور ۱۹۷۹ء سے مجلس احرار اسلام سے وابستہ ہیں اور مجلس کے شعبہ تبلیغ ختم نبوت کے مرکزی مبلغ بھی ہیں اور اب یہی ان کی زندگی کا مشن ہے۔ ۱۹۸۴ء میں ان کا انٹرویو ہفت روزہ ”تکبیر“ میں شائع ہوا تھا، جس میں انہوں نے ایک ملک گیر سازش کا انکشاف کیا تھا، جسے بعد میں حالات نے ۱۰۰ فیصد درست ثابت کر دیا تھا اس لیے اس موقع پر بھی ہم نے ان سے رابطہ کیا۔

مولانا اللہ یار ارشد نے بتایا کہ رچرڈ میکی کی ربوہ آمد کے تین مقاصد ہیں:

دوبارہ امریکی ویزے کے اجراء کی نوید سنانا۔

اور اس کے لیے مالی وسائل مہیا کرنا۔

امریکہ اور قادیانیوں میں اختلافات کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ کچھ عرصہ قبل ایک قادیانی جوڑے (میاں بیوی) نے امریکہ میں ایک بیمہ کمپنی سے ۳۰ لاکھ ڈالر کا بیمہ کرایا اور پریمیم کی پہلی قسط ۶ ہزار امریکی ڈالر ادا کر کے وطن پاکستان آگئے، یہاں آکر ربوہ میں ایک حادثہ میں خاتون کی ہلاکت کا ڈرامہ رچایا گیا جس کی باقاعدہ تھانہ ربوہ میں ایف۔ آئی۔ آر درج کرائی گئی، خاتون کے شوہر نے امریکی بیمہ کمپنی کو ۳۰ لاکھ ڈالر کا کلیم بھیج دیا، جس پر بیمہ کمپنی نے اپنے طور پر تحقیقات کرائیں اور بالآخر ثابت ہو گیا کہ خاتون زندہ ہے، جس پر امریکی حکام نے قادیانیوں کے لیے ویزے جاری کرنے پر پابندی لگادی، لہٰذا اب وہ پابندی ختم کرنے اور تجدید تعلقات کی خاطر امریکی قونصلر کو یہاں آنا پڑا۔

واضح رہے کہ امریکہ قادیانیوں کے لیے سماجی بہبود کے نام پر ہر سال معقول رقم فراہم کرتا ہے، لیکن اس سال تعلقات کی تجدید کی خاطر قادیانیوں کو زیادہ رقم فراہم کی گئی ہے۔ مجلس مشاورت (قادیانیوں کی تنظیم) کا اجلاس جس میں سالانہ بجٹ منظور ہوتا ہے، ماہ اپریل کے آخری ہفتہ میں ربوہ میں منعقد ہوا، بظاہر اس کی کارروائی کھلے عام ایوان محمود میں ہوتی ہے، لیکن اصل کارروائی رات کو قصر خلافت میں ہوتی ہے، جس کے بارے میں

صفحہ 97

عام قادیانیوں کو بھی علم نہیں ہوتا۔

مولانا اللہ یار ارشد کے مطابق رچرڈ میکی کی آمد کا تیسرا اور سب سے اہم مقصد پاکستان میں بڑے پیمانے پر فرقہ وارانہ فسادات کرانے کے لیے منصوبہ بندی تھا، انہوں نے بتایا کہ امریکہ کو اس مقصد کے لیے پاکستان میں قادیانیوں سے بہتر کوئی اور آلہ کار نہیں مل سکتا، ان کی پورے ملک میں شاخیں قائم ہیں۔ ۱۹۸۵ء میں بھی وہ فرقہ وارانہ فسادات کرا چکے ہیں، اس مقصد کے لیے انہوں نے پہلے ہی ربوہ میں ایک خصوصی سیل قائم کیا ہوا ہے جہاں ”خدام الاحمدیہ“ کے جوانوں کو تخریب کاری کے علاوہ مختلف مذہبی روپ دھارنے کی تربیت دی جاتی ہے، اس مقصد کے لیے بھی رچرڈ میکی قادیانیوں کے ”اسکیم خاص“ فنڈ میں ایک بھاری رقم جمع کرا گئے ہیں۔ ”مجلس مشاورت کے اجلاس کے موقع پر مرزا طاہر کا ایک خطبہ (پمفلٹ) تقسیم کیا گیا ہے، اس میں قادیانیوں سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ ”اسکیم خاص“ میں زیادہ سے زیادہ فنڈ جمع کرایا جائے، تاہم پمفلٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ”اسکیم خاص“ میں جمع ہونے والے کروڑوں روپے خرچ کہاں کیے جائیں گے۔“

مولانا اللہ یار ارشد نے بتایا کہ اگر حکومت پاکستان ربوہ کی جانب توجہ مبذول کرے اور لوگوں کو تحفظ فراہم کرے تو غریب قادیانیوں کی ایک بڑی تعداد مسلمان ہونے کو تیار ہے، لیکن وہ اپنے بڑوں سے خوفزدہ ہیں، کیونکہ قادیانی منحرف ہونے والے قادیانیوں کو یا تو قتل کرا دیتے ہیں یا ان کے خلاف حدود آرڈی نینس کے تحت جھوٹا مقدمہ درج کروایا جاتا ہے۔ مثلاً غلام دین عرف زمیندار ولد شہزاد نے اسلام قبول کر لیا اور ریذیڈنٹ مجسٹریٹ ربوہ کی عدالت میں باقاعدہ قبول اسلام اور قادیانیت سے تائب ہونے کا بیان دیا، لیکن کچھ عرصہ بعد قادیانیوں نے اسے لنگر خانے میں قتل کر دیا اور اس واقعہ کو خود کشی کا رنگ دیا گیا۔ ربوہ کی مسلمان آبادی کے مطالبے کے باوجود قتل کا مقدمہ درج نہیں کیا گیا۔ اسی طرح بعض دیگر لوگوں کے مسلمان ہونے کی اطلاعات ملی ہیں، جو خوف سے ربوہ چھوڑ کر کسی دوسرے شہر میں گمنامی کی زندگی گزار رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اگر پولیس اور انتظامیہ قادیانیوں کی مرضی پر نہ چلے تو ایسے افسران پر الزام لگایا جاتا ہے کہ یہ ان کی لڑکیوں کو چھیڑتے ہیں، وہ اپنی لڑکیوں سے ایسے بیانات دلواتے ہیں، تاکہ یا تو وہ افسران خود ہی بھاگ جائیں یا ان کی بلیک میلنگ کا شکار بن کر

صفحہ 98

رہیں ۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ مولانا اللہ یار ارشد نے ۱۹۸۴ء میں فرقہ وارانہ فسادات کرنے کی قادیانی سازش کا انکشاف کیا تھا‘ لیکن کسی سرکاری ایجنسی نے اس کا نوٹس نہیں لیا‘ حالانکہ بعد میں وہ درست ثابت ہوئی ۔ اس بار پھر مولانا اللہ یار ارشد امریکہ اور قادیانیوں کی ملی بھگت سے تیار ہونے والی فسادات کی سازش بے نقاب کر رہے ہیں‘ دیکھیں سرکاری ایجنسیاں اس کے سد باب کے لیے کیا اقدامات کرتی ہیں ۔

مزید اطلاعات کے مطابق رچرڈ میکی نے ربوہ میں قادیانیوں کے قائم مقام خلیفہ منصور سے ملاقات کے دوران قادیانیوں کے خلیفہ طاہر سے بھی (بیرون ملک) ٹیلی فون پر کافی دیر بات چیت کی‘ ہمارے ذرائع کے مطابق انہوں نے کچھ دیر کے وقفہ سے دو مرتبہ مرزا طاہر سے بات چیت کی اور ان کی گفتگو کا دورانیہ آدھے گھنٹے سے زائد رہا ۔ علماء اور عوام کے شدید احتجاج پر رچرڈ میکی نے ربوہ آمد پر پاکستانی عوام سے معذرت کی‘ انہوں نے معذرت ربوہ سے ۱۵ کلو میٹر دور قلعہ میں اپنے اعزاز میں دیے گئے ایک عشائیے سے خطاب کرتے ہوئے کی‘ یہ عشائیہ مسلم لیگی رہنما مہر ریاض احمد لالی کی جانب سے دیا گیا تھا‘ تاہم یہ معلوم نہ ہو سکا کہ رچرڈ میکی دوبارہ اس علاقے میں کیوں آئے ہیں‘ اگرچہ رچرڈ میکی کے مطابق وہ یہاں صرف معذرت کرنے آئے ہیں کیونکہ ان کے دورہ ربوہ سے مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے‘ لیکن رچرڈ میکی اس سوال کا جواب نہ دے سکے کہ انہوں نے لاہور یا اسلام آباد میں پریس کانفرنس یا پریس ریلیز کے ذریعے معذرت کیوں نہ کر لی ۔

معلوم ہوا ہے کہ رچرڈ میکی قادیانیوں پر ہونے والے نام نہاد مظالم کی بریفنگ اور قادیانیوں کے خلاف قائم مقدمات کی فہرست بھی اپنے ہمراہ لے گئے ہیں تاکہ انسانی حقوق کی تنظیموں سے ان کے حق میں آواز بلند کرائی جا سکے ۔ یہ امر قارئین کے لیے دلچسپی کا باعث ہو گا کہ قادیانیوں کے خلاف اکثر مقدمات قادیانی خود ہی درج کراتے ہیں تاکہ مقدمات کی آڑ میں انہیں امریکہ‘ انگلینڈ یا کینیڈا میں پناہ حاصل ہو سکے ۔ اثر و رسوخ اور پیسے سے مقدمہ درج نہ ہو سکے تو پرانی ایف آئی آر میں تحریف کر کے اس کی فوٹو کاپی سے کام چلا لیا جاتا ہے اور اب تو بعض مسلمان بھی قادیانی بن کر بیرون ملک جا رہے ہیں‘ اس سے ایک طرف تو قادیانی اپنے آپ کو مظلوم ظاہر کر کے دنیا بھر کی ہمدردی حاصل کرنے

صفحہ 99

میں کامیاب ہو جاتے ہیں، دوسری طرف انہیں بیرون ملک قیام کی اجازت باآسانی مل جاتی ہے۔

قادیانیوں نے ہزاروں مسلم خاندانوں کو بے روزگار کرنے کا ایک منصوبہ بنایا ہے، جس پر کام جاری ہے۔ تفصیلات کے مطابق ربوہ میں واقع پہاڑی سلسلے پر پتھر توڑنے والے ہزاروں مسلمان مزدور آباد ہیں۔ جو اپنے مذہبی معاملات میں بھی بہت سخت پابند ہیں۔ قادیانیوں کو یہ گوارا نہیں کہ یہ مسلم آبادی وہاں رہے، چنانچہ ایک طے شدہ منصوبے کے مطابق ایک جانب اخبارات میں اس پہاڑی سلسلے کو خطرناک علاقہ قرار دلوانے کے لیے مضامین شائع کروائے جارہے ہیں، دوسری جانب اعلیٰ سطحی اثر و رسوخ کے ذریعے اسے خطرناک علاقہ قرار دلوانے کے لیے جدوجہد کی جارہی ہے، اگر یہ علاقہ خطرناک قرار دے دیا گیا تو نہ صرف حکومت کروڑوں روپے سے محروم ہو جائے گی، بلکہ بلدیہ بھی ۱۰ لاکھ روپے کی سالانہ آمدنی سے ہاتھ دھو بیٹھے گی۔

(بشکریہ ”تکبیر“ کراچی، ۲۰ جون ۱۹۹۱ء)

صفحہ 100

اللہ تعالیٰ پاکستان کو ٹکڑے ٹکڑے کردے گا

مرزا طاہر کی ہرزہ سرائی

قادیانیت ملت کا ناسور اور بقول جناب شورش مرحوم عجم کا اسرائیل ہے۔ علماء کی مساعی‘ امت کے اتفاق اور ملت کی وحدت اور اہل اسلام کی زبردست قربانی کے صدقے باری تعالیٰ نے پاکستان میں ان کی قانونی حیثیت غیر مسلم بنادی ہے۔ اسلامی تعلیمات کی رو سے اسلام چھوڑ کر قادیانیت قبول کرنے والا دائرہ اسلام سے خارج اور مرتد ہے۔

قادیانیت‘ یہودی لابی کا کھلونا‘ انگریز کا جاسوس اور ملت اسلامیہ کا ناسور ہے۔ اس کا ہر قدم‘ اسلام کے خلاف‘ اس کا ہر سفر قرآن سے بغاوت اور ان کی ہر تدبیر شیطنت کی تزویر ہے۔

مگر عجیب بات ہے کہ یہ حقیقت ہم ہی نہیں حکومت بھی جانتی ہے اور رعایا بھی‘ مگر اس کے باوجود قادیانیت کو ملک کے خلاف دشمن سے ساز باز اور تبلیغ کے عنوان سے تخریب کی کھلی اجازت اور سفری مراعات بھی دی جاتی ہیں۔ اس بات کا علم تب ہوا اور ملک و ملت کے افراد کے لیے یہ بات غم و غصہ کا ذریعہ بن گئی جب سینٹ میں حال ہی میں مرزائیوں کے تخریب کارانہ کردار اور ملک دشمنی منصوبہ بندی کے راز سربستہ کھلنے لگے اور حکومت کے بعض کارندوں کی مرزائیت نوازی طشت از بام ہو کر عوام کے سامنے آ گئی۔

صفحہ 101

١٠ جولائی کی سینٹ سیکرٹریٹ رپورٹ کے حوالے سے گزارش ہے کہ گزشتہ سال مرزائیوں نے ربوہ کی بجائے لندن میں کانفرنس کا انعقاد اور پھر یہاں سے اس کی مکمل تیاریاں اور حکومت کی اس کے لیے کھلی اجازتیں، سہولتیں جب علماء پر ظاہر ہوئیں تو سینیٹر مولانا سمیع الحق نے سینٹ میں تحریک التوا پیش کر دی اور قادیانیوں کی بیرون ملک، ملک دشمنی پر مبنی شہادتیں اور سینٹ میں مرزائی لیڈر مرزا ناصر کی اس کانفرنس میں کی گئی تقریر کی کیسٹ کا بھی ذکر کر دیا جس میں اس نے ملک کے ٹکڑے ٹکڑے ہو جانے کا اعلان کیا تھا۔ ایسی کانفرنس جو سراسر پاکستان کے نظریے، اعتقاد، ملکی آئین اور استحکام کے خلاف تھی، کے لیے حکومتی محکموں کی مراعات کو ایوان کے استحقاق کو مجروح کرنے کے مترادف قرار دیا اور اس پر حکومتی مراعات کا ثبوت بھی فراہم کر دیا۔ حکومتی پارٹی میں کوئی بھی ایسا نہ تھا جو یہ جرات کر سکتا کہ مراعات کا انکار کر دے اور یہ کہہ دے کہ حکومت نے قادیانی فرقے کو ایسی رعایات نہیں دیں۔ وجہ یہ تھی کہ مولانا سمیع الحق نے تحریک التوا کے ساتھ پی آئی اے کے اس ڈائریکٹو کی نقل بھی منسلک کر دی تھی۔ اس موضوع پر قاضی حسین احمد صاحب، قاضی عبداللطیف صاحب نے بھی خیالات کا اظہار کیا اور یہ بات اس وقت مزید واضح ہو کر قوم اور اہل اسلام کے سامنے آگئی اور سینٹ کے ریکارڈ میں محفوظ ہو گئی جب سینٹ کے چیئرمین غلام اسحاق کی دعوت پر مولانا سمیع الحق نے ایوان میں تقریر کی۔ ۔۔۔۔ انہوں نے اپنی تقریر میں فرمایا:

جناب چیئرمین! میں اس موضوع پر صرف اتنا عرض کروں گا کہ یہ کوئی سیکولر نہیں، ایک نظریاتی ملک ہے اور ہم ایک نظریے کا پرچار کرتے چلے آئے ہیں۔ یہاں سے باہر جو بھی وفود جائیں گے، ہم ان کے نظریات کو دیکھیں گے کہ وہ کس مقصد کے لیے جا رہے ہیں۔ ہم قادیانیوں کو ایک مذہبی فرقہ بالکل تسلیم نہیں کرتے۔ ہم نے بارہا توجہ دلائی ہے کہ یہ ایک سیاسی محاذ ہے جو عالم اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ہے۔ ان کی ساری سرگرمیاں سیاسی ہیں اور ان کے کنونشن کے بارے میں جو پچھلے سال ہوا تھا، میں نے پچھلے دنوں آنجناب کی خدمت میں ایک تحریک پیش کی تھی۔ جس میں مرزائی لیڈر مرزا ناصر کی ان تقریروں کا حوالہ دیا گیا تھا جو اس نے لندن کے ایک اجتماع میں کی تھیں اور میں مرزا ناصر کی تقریر کا کیسٹ بھی لایا تھا اور میں نے گزارش کی تھی کہ اگر آپ مجھے اجازت دیں گے تو اس

صفحہ 102

کیسٹ کے ایک دو جملے سارے ایوان کو سنا دیے جائیں گے۔ وہ کیسٹ اب بھی میرے پاس موجود ہے اور اس لندن کنونشن میں مرزا ناصر نے کہا کہ :

”اللہ تعالیٰ اس ملک پاکستان کے ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا۔ اللہ تعالیٰ اس ملک کو تباہ کر دے گا۔ آپ بے فکر رہیں۔ چند دنوں میں آپ خوشخبری سنیں گے کہ یہ ملک صفحہ ہستی سے نیست و نابود ہو جائے گا“۔

مولانا سمیع الحق کو شکایت تھی جیسا کہ سینٹ سیکرٹریٹ کی رپورٹنگ کے صفحہ نمبر ۷۶ پر ان کی تقریر سے ظاہر ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس قدر اہم مسئلہ پر حکومت نے کوئی توجہ نہیں دی۔ نہ انٹیلی جنس نے، نہ ایف آئی اے نے اور نہ ہی وزارت داخلہ نے اس کا کوئی نوٹس لیا۔ پاکستان کے وزیر انصاف جناب اقبال احمد خان صاحب نے اس موقعہ پر بھی اتنی اہم اور نازک ترین پیش آمدہ صورت حال کو اپنے وزارتی انداز کلام سے ٹرخانا چاہا تو مولانا سمیع الحق نے اس موقعہ پر بڑے کام کا لطیفہ ارکان سینٹ کو سنا دیا۔ کہنے لگے کہ انہی مرزائیوں نے پاکستان کے بارے میں زہریلا لٹریچر بھی چھاپا ہے۔ جس میں لکھا ہے کہ امریکی صدر کسی ملک گئے، صدر سے ایک شخص کا تعارف کرایا گیا کہ یہ وزیر ریلوے ہے تو وہ بڑا حیران ہوا کہ وزیر ریلوے کیسے ہیں۔ اس ملک میں تو ریلوے ہے ہی نہیں تو انہیں جواب دیا گیا کہ یہ ایسے ہی ہے، جیسے پاکستان میں وزیر انصاف ہے کہ انصاف ہے ہی نہیں اور جناب وزیر انصاف موجود ہیں۔ مولانا سمیع الحق اپنی بات پر زور دے کر کہنے لگے کہ قادیانیت ایک اسلام دشمن سیاسی جماعت ہے۔ اگر اس واقعہ کا سختی سے نوٹس نہ لیا گیا تو اس سے نہ صرف اہل پاکستان بلکہ تمام عالم اسلام کو شدید نقصانات کا سامنا کرنا پڑے گا اور اس وقت حیرت کی انتہا نہ رہی جب بعض سرکاری وکیلوں نے قادیانیت کو دی گئی مراعات کو تبلیغی جماعت سے تشبیہ دی۔ ارکان پارلیمنٹ سر پکڑ کر رہ گئے۔ سینیٹر مولانا سمیع الحق نے اس موقع پر بھی حکومت اور ایوان پر مرزائیت کا شرمناک کردار واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ:

بہر حال یہ چیز ثابت شدہ ہے کہ وہ لوگ اقوام متحدہ میں اور دنیا بھر کی لابیوں میں ہمارے خلاف لگے ہوئے ہیں اور مسلمانوں کے خلاف لٹریچر پھیلا رہے ہیں اور لٹریچر میں یہاں تک ہے کہ بنیادی حقوق کا قاتل ضیاء الحق ہے اور صدر کا عجیب منحوس کارٹون دیا ہے۔ علاوہ ازیں دنیا بھر کے خرافات اس لٹریچر میں بھرے ہوئے ہیں تو ہمیں چاہیے کہ ہم

ان کو پابند کریں۔ پیرو کل اگر وہاں ذوالفقار جائیں گی۔ مولانا سمیع تبلیغی جماعت اسلام او بھر میں اسلام اور پاکستا گھناؤنا کردار ادا کر رہ بار پھر ارکان پارلیمنٹ رپورٹ سے اخذ کر کے

(ہفت رو

صفحہ 103

ان کو پابند کریں۔ بیرون ملک سازشیں بنانے والوں کو رعایتیں دینا کہاں کا انصاف ہے۔ کل اگر وہاں الذوالفقار تنظیم کا اجلاس ہو، تخریب کار جمع ہوں تو کیا ان کو بھی رعایتیں دی جائیں گی۔ مولانا سمیع الحق نے کہا اسے تبلیغی جماعت سے مشابہت دینا، سراسر ظلم ہے۔

تبلیغی جماعت اسلام اور امن و سلامتی کا پیغام دنیا میں پھیلا رہی ہے۔ اس جماعت نے دنیا بھر میں اسلام اور پاکستان کا نام روشن کیا ہے۔ مرزائیت اہل اسلام کے لیے شرمناک اور گھناؤنا کردار ادا کر رہی ہے۔ خدا کا شکر ہے کہ ایوان بالا میں قادیانیت کا اصل روپ ایک بار پھر ارکان پارلیمنٹ کے سامنے نکھر کر آگیا اور اب ہم نے یہ تفصیل سینٹ سیکرٹریٹ کی رپورٹ سے اخذ کر کے قارئین کے سامنے پیش کر دی تاکہ ملت کے بہی خواہ بیدار رہیں۔

(ہفت روزہ ”ختم نبوت“ کراچی، جلد ۵، شمارہ ۱۵، از: مولانا سمیع الحق)

صفحہ 104

قومی اسمبلی نے قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کا

فیصلہ متفقہ طور پر کیا تھا

قومی اسمبلی کے سابق سپیکر صاحبزادہ فاروق علی کے خیالات

س: کیا تحریک ختم نبوت کے دوران بھی آپ کو ایسے ہمدرد میسر آئے تھے جو آپ کے کام آئے۔ کہا جاتا ہے کہ مسئلہ ختم نبوت جو ایک ولولہ انگیز تحریک کے بعد حل ہوا اس تحریک کے دوران بھی اسمبلی کے ارکان کو حکومت نے اپنے ساتھ ملانے یا ان پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی تھی۔ آپ اس وقت قومی اسمبلی کے سپیکر تھے۔ کیا آپ اس کی وضاحت کریں گے؟

ج: صوبوں کی بات کیا تھی، صوبائی وزراء نے کسی اپوزیشن رہنما سے کوئی سودے بازی کی تھی یا نہیں۔ اس کے بارے میں میری معلومات کچھ نہیں۔ جہاں تک مرکزی حکومت کا تعلق ہے، تو اس نے ایسا ہرگز نہیں کیا نہ صرف یہ کہ کسی اپوزیشن رہنما کی ہمدردیاں حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی بلکہ خود اپنی پارٹی کے ارکان اسمبلی پر بھی کسی قسم کا دباؤ نہیں ڈالا۔ پیپلز پارٹی کے دور کا شاید واحد کیس ہے جس کے بارے میں پورے دعوے اور کامل وثوق سے یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ حکومت نے ممبران اسمبلی پر کوئی دباؤ نہیں ڈالا۔ وہ اپنی سوچ اور رائے کے بارے میں بالکل آزاد تھے۔ البتہ اس بات کی پابندی

صفحہ 105

ضروری تھی کہ ممبران اسمبلی نہ تو تحریک سے متاثر ہوں اور نہ اسمبلی کے اندر اٹھائے جانے والے سوالات سے۔ وہ صرف حالات اور مسائل کو سامنے رکھ کر اپنے ایمان، ضمیر اور دل و دماغ کے حوالے سے جس نتیجے پر پہنچیں، اس کے مطابق رائے دیں۔

س: جب مسئلہ ختم نبوت اسمبلی میں گیا تو اس بحث کی کارروائی خفیہ کیوں رکھی گئی۔ اجلاس خفیہ کیوں ہوتے رہے۔ کیا حکومت کسی فریق سے سودے بازی نہیں کرنا چاہتی تھی؟

ج: خفیہ اجلاس کا اس لیے فیصلہ کیا گیا کہ بحث اور کارروائی کے دوران کئی ایسے امور بھی پیش ہوں گے یا منظر عام پر آئیں گے، جن سے مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچ سکتی ہے۔ بحث میں قادیانی فرقے کے رہنماؤں کو بھی بلانا تھا۔ ان کا نقطہ نظر بھی سننا تھا۔ ظاہر ہے کہ وہ جو کچھ کہتے، اس سے مسلمانوں کو ہرگز اتفاق نہ ہوتا۔ ان کی باتیں بھی منظر عام پر آتیں تو اس سے تحریک کے تشدد کی راہ پر چلنے کا اندیشہ تھا۔ لوگ مشتعل ہو کر نہ جانے کیا کر گزرتے۔ لہٰذا بہت ہی غور و فکر کے بعد بحث اور کارروائی خفیہ رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس اخفاء سے حکومت کوئی مفاد حاصل نہیں کرنا چاہتی تھی۔

حقیقت یہ ہے کہ ناموس رسالتؐ کا مسئلہ سب سے زیادہ نازک اور حساس مسئلہ ہے۔ مسلمان ناموس رسالتؐ کے لیے ہر قسم کی قربانی دینے کے لیے تیار ہوتے ہیں۔ اپنے پیغمبرؐ کی عزت و عظمت کے لیے جان جیسی قیمتی چیز کو بھی آن واحد میں قربان کر دینا ایک مسلمان کے لیے انتہائی معمولی بات ہے۔ حضور رسالت مآب ﷺ کی ذات گرامی کے ساتھ امت کو جو والہانہ عشق ہے، اس کو زبان و قلم سے بیان کرنا ناممکن ہے۔ چنانچہ کسی بھی خطرناک اور جذباتی صورت حال سے بچنے کے لیے اس کارروائی کو خفیہ رکھنا ہی مناسب تھا۔ میں یہ نہیں کہتا کہ حکومتیں سودے بازیاں نہیں کرتیں یا ہماری حکومت اس سے بے نیاز تھی۔ لیکن کم از کم اس مسئلے پر وہ اس قسم کی بات سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔ عام مسائل پر سودے ہوتے بھی ہیں اور ٹوٹتے بھی ہیں۔ بات بنتی بھی ہے اور بگڑ بھی جاتی ہے۔ ہر دو حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے حکومت کے پاس بے شمار وسائل اور ذرائع ہوتے ہیں مگر اس بارے میں کوئی سودے بازی خود حکومت کے حق میں نقصان دہ ہو سکتی تھی۔ اگر کوئی ایسی بات کی جاتی اور اس کی تھوڑی سی بھنک بھی عوام کے کانوں میں پڑ جاتی تو تحریک

صفحہ 106

کا رخ قادیانیوں سے ہٹ کر حکومت کی طرف مڑ جاتا۔

حکومت نے طے کر لیا تھا کہ وہ اس مسئلے پر غیر جانبدار رہے گی۔ وہ نہ تو تحریک کی حمایت کرے گی اور نہ ہی تحریک سے متاثر ہو کر دوسرے فرقے کو کچلنے کی اجازت دے گی۔ حکومت نے اپنے اس فیصلے کی پابندی کی۔ کسی شہر میں تحریک کو تشدد کی راہ پر نہیں چلنے دیا۔ تحریک کے دوران جہاں جہاں اشتعال کی فضا پیدا ہوئی، وہاں وہاں اقلیتی فرقے کی جان و مال کے تحفظ کا بندوبست کیا گیا۔ بعض مقامات پر حکومتی ذمہ داریاں ادا کرنے کے سلسلے میں تحریک سے متعلق مسلمانوں پر تشدد بھی ہوا لیکن دیدہ دانستہ طور پر کسی ایسی کارروائی کا ارتکاب کم سے کم میرے علم میں نہیں ہے۔ اس خفیہ بحث کا فیصلہ کھلا تھا اور اس فیصلے سے ملت اسلامیہ آج تک مطمئن ہے۔

ہم ان کو نہ بچا سکے

س: بحث کے دوران اقلیتی فرقے کے رہنمائوں کے دلائل کیا تھے......؟

ج: ہمارے ممبران اسمبلی کا تاثر یہ تھا کہ اس جماعت کے اکثر لوگ پڑھے لکھے ہوتے ہیں۔ ان کے مذہبی پیشوا اپنے موقف کے حق میں وزنی اور حیران کن دلائل دیں گے۔ لیکن جب انہیں بلایا گیا تو یہ تاثر ختم ہو گیا۔ ان کے دلائل بہت ہی مضحکہ خیز اور مایوس کن تھے۔ مرزا ناصر احمد پر دو ماہ تک جرح ہوتی رہی۔ وہ جرح کا سامنا تو کر گئے لیکن اپنا موقف پیش کرنے میں بری طرح ناکام رہے۔ اس بحث کی روشنی میں حکومت اس نتیجے پر پہنچی کہ ربوے کی قادیانی جماعت کے عقائد فی الواقع خطرناک ہیں۔ لیکن قادیانیوں کی لاہوری جماعت ان عقائد کی حامل نہیں اور لاہوری جماعت کو غیر مسلم قرار دینا درست نہ ہوگا۔ ہمارا یہ تاثر مرزا ناصر احمد کا بیان سننے کے بعد قائم ہوا تھا۔ حکومت اپنے طور پر ایک طرح سے طے کر چکی تھی کہ لاہوری مرزائیوں کو بچا لیا جائے کیونکہ یہ جماعت مرزا غلام قادیانی کو نبی نہیں مانتی، جس کی بناء پر اسے غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے لیکن جب لاہوری جماعت کے معمر رہنما مولوی صدرالدین کو بلایا گیا تو معلوم ہوا کہ

ایں خانہ ہمہ آفتاب است

اس فرقے کا ہر گروہ عقائد کا خطرناک گورکھ دھندا لیے پھرتا ہے۔ صدرالدین کی

صفحہ 107

جماعت اس سے کہیں زیادہ خطرناک ہے‘ مولوی صدرالدین نے وہ تاثر ختم کر دیا جو ان کی جماعت کے بارے میں ہمارے دل میں پیدا ہو چکا تھا وہ صرف دو روز جرح کا سامنا کر سکے۔ ان کی گفتگو کی روشنی میں جب ہم نے اپنے ممبران اسمبلی کی رائے معلوم کی تو اکثر ممبران کا کہنا تھا کہ اگر مسلمانوں کے مطالبے کو تسلیم کر کے اس جماعت کو غیر مسلم اقلیت قرار دینا ہے تو لاہوری جماعت پر سب سے پہلے اس فیصلے کا اطلاق ہونا چاہیے۔ اس جماعت کو بچانا بہت خطرناک ہو گا۔ کیونکہ ان کے کتابی عقائد ربوے کے قادیانیوں سے کچھ زیادہ مختلف نہیں۔ ان دونوں فرقوں کے عقائد کا فرق مذہبی کے بجائے سیاسی ہے۔ مذہبی طور پر دونوں ایک ہیں۔ اس طرح ہم نے لاہوری جماعت کو بچانے کی کوشش کی‘ مگر دلائل ان کے خلاف جا رہے تھے۔ لہٰذا ہم اسے بچانے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ مولوی صدرالدین کی دلی خواہش ہے کہ ان کی جماعت کو بھی غیر مسلم قرار دیا جائے کیونکہ ان کے دلائل خود ان کے خلاف تھے۔

س: کیا آپ اسمبلی کے اندر ہونے والی اس کارروائی کے بارے میں کچھ بتانا پسند کریں گے....؟

ج: میں تو بتانا یقیناً پسند کرتا لیکن جب یہ کارروائی ہوئی تھی اس وقت تمام ممبران اسمبلی سے یہ حلف لیا گیا تھا کہ کوئی شخص اس کارروائی کو منظر عام پر نہیں لائے گا۔ اس لیے اس کارروائی سے متعلق کوئی بات بتانا اس حلف کی خلاف ورزی ہو گا جو ہم نے اٹھایا تھا۔

س: کیا یہ کارروائی حمود الرحمن کمیشن رپورٹ کی طرح ہمیشہ خفیہ رہے گی......؟

ج: اگر کوئی منتخب حکومت چاہے تو اس کارروائی کو یا اس کے کسی حصہ کو شائع کر سکے گی لیکن یہ صورت اسی طرح ہو گی کہ جیسے کوئی حکومت آئین میں کسی وقت ترمیم کی مجاز ہوتی ہے۔

س: اس کا مطلب یہ ہے کہ آئین میں اس بات کی گنجائش نہیں۔

ج: جی ہاں! آئین میں تو اس کی کوئی گنجائش نہیں۔ اس کی اشاعت کے لیے آئین میں ترمیم کی ضرورت پڑے گی اور ترمیم کے بعد ہی اس بحث کو منظر عام پر لانے کی گنجائش پیدا ہو گی۔

س: اس فیصلے یا اس کارروائی کے سلسلے میں اقلیتی فرقے نے اپنے بیرونی ہمدردوں

صفحہ 108

اور بہی خواہوں کے ذریعے حکومت پر دباؤ ڈالنے کی کوشش تو کی ہوگی......؟

ج: جی نہیں، بالواسطہ یا بلا واسطہ اس فرقے کے کسی لیڈر نے ایسا نہیں کیا۔ البتہ جماعت کے بڑے لیڈر مسٹر ظفر اللہ خان ذاتی طور پر یو این او کے سیکرٹری جنرل کے پاس پہنچے اور انہوں نے ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اس بارے میں اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں۔ کیونکہ پاکستان میں ان کے فرقے کے ساتھ بہت ظلم ہو رہا ہے۔ چونکہ حالات و واقعات ان کے اس بیان کے خلاف تھے، اور پاکستان میں ان کے فرقے کے ساتھ ظلم کی مبینہ کہانی من گھڑت تھی، اس لیے یو این او کے سیکرٹری جنرل یا کسی دوسری بیرونی طاقت نے حکومت پر دباؤ ڈالنے کی جرات ہی نہیں کی۔ کیونکہ حالات کی ظاہری تصویر نہ صرف ان کے بیان کی تردید کرتی تھی، بلکہ اس نقشے پر مسلمان مظلوم نظر آتے تھے۔ ان کی تحریک کو بزور دبانے کی کوششیں جاری تھیں۔ لیڈروں کو گرفتار کیا جا رہا تھا۔ ہزاروں کارکن جیلوں میں تھے اور قادیانیوں کی صحیح صورت حال دنیا کے سامنے تھی۔ دوسری طرف پورے عالم اسلام کی خواہش تھی کہ اس فرقے کا اصل مقام متعین کر کے مسلمانوں کے مشتعل جذبات کو ٹھنڈا کیا جائے اور تحریک کے نتیجے میں پاکستان کو کسی طرح کا نقصان بھی نہ پہنچے۔ یہ تمام باتیں مسٹر ظفر اللہ کے بیان کے خلاف تھیں۔ آخر دنیا اندھی تو نہیں کہ وہ سچ اور جھوٹ کے درمیان فرق نہ کر سکے۔

س: شنید ہے کہ مفتی محمود مرحوم نے مرزا ناصر پر جرح کی تو آپ نے انہیں جرح کرنے سے روک دیا۔ اگر یہ درست ہے تو آپ کے دعویٰ غیر جانبداری کی کیا حیثیت ہے.....؟

ج: اسمبلی کی جملہ کارروائی ٹیپ ہوتی ہے۔ یہ کارروائی بھی ٹیپ ہوئی تھی۔ اس کا ریکارڈ آج بھی موجود ہے۔ اس ریکارڈ سے میرے بیان کی تصدیق کی جا سکتی ہے۔ مفتی محمود واحد ایسے ممبر تھے جنہوں نے مرزا ناصر احمد سے چند ایسے سوالات کیے اور انہیں روکا نہیں گیا۔ مرزا ناصر نے مفتی محمود کے سوالات کا جواب دینے سے انکار کیا لیکن میں نے بحیثیت سپیکر ان پر واضح کیا کہ انہیں نہ صرف مفتی محمود کے سوالات کا جواب دینا ہو گا بلکہ اگر کسی اور ممبر نے سوال کیا تو اس کا جواب دینے کے بھی وہ پابند ہیں۔ حتیٰ کہ وہ چاہیں تو خود بھی کسی ممبر سے سوال کر سکتے ہیں۔ وہ ممبر بھی ان کے سوال کا جواب دے گا۔ ہمیں

صفحہ 109

افہام و تفہیم کی غرض سے ایک اچھے اور خوشگوار ماحول میں بات کرنی چاہیے۔ حقیقت یہ ہے کہ نہ تو مفتی صاحب مرحوم کو سوال کرنے سے روکا گیا نہ ہی انہوں نے خود زیادہ سوالات کیے۔ کیونکہ براہ راست سوال و جواب کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ سوالات کے لیے ایک کمیٹی بنائی گئی تھی جس کے چیئرمین اٹارنی جنرل یحییٰ بختیار تھے۔ سوالات خود یحییٰ بختیار کرتے تھے۔ یہ بات پہلے ہی طے کر لی گئی تھی کہ اگر کوئی ممبر سوال کرنا چاہے تو وہ اپنا سوال اس کمیٹی کے سامنے پیش کرے۔ کمیٹی کی طرف سے یحییٰ بختیار خود ہی سوال کریں گے۔ مفتی صاحب نے ذاتی حیثیت میں جو سوالات کیے، وہ ضمنی گفتگو سے متعلق تھے۔ ان کی نوعیت باقاعدہ سوالات کی سی نہ تھی۔ کیونکہ سوالات کے لیے جو ضابطہ بنایا گیا تھا مفتی صاحب بھی اس ضابطے کے پابند تھے۔ لہٰذا مفتی صاحب کو میری طرف سے کچھ کہنے یا ٹوکنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ میں تو ویسے ہی ان کا نیاز مند تھا۔

س: مسئلے پر بحث کے دوران سیکولر نظریات کی حامل جماعتوں کے ممبران کا رویہ کیا تھا۔ مسٹر ولی خان اور ان کی جماعت نے کیا رول ادا کیا؟

ج: قومی اسمبلی میں سیکولر یا غیر سیکولر کا سوال ہی پیدا نہیں ہوا۔ پاکستان کی تاریخ میں یا تو 73ء کا آئین متفقہ طور پر بنا یا پھر قادیانیوں کے بارے میں فیصلہ بالاتفاق ہوا۔ اس کے سوا متفقہ فیصلے کی کوئی مثال کم از کم میرے علم میں نہیں ہے۔ جہاں تک حکمران پارٹی کا تعلق تو اس نے ہاؤس کے فیصلے کو تسلیم کرنا تھا۔

ویسے بھی ہماری جماعت کا مزاج جمہوری ہے۔ ہم نے کسی حیل و حجت کے بغیر ہاؤس کا فیصلہ تسلیم کر لیا تھا۔ جس روز فیصلہ ہوا، ولی خان سوات میں تھے۔ میں نے ان کو سوات سے بلایا۔ وہ آئے اور انہوں نے بھی فیصلے پر دستخط کر دیے۔

(بہ شکریہ ”جنگ“ لاہور، جمعہ ایڈیشن) (ہفت روزہ ”لولاک“، جلد ۱۹، شمارہ ۲۱)

صفحہ 110

جنگ ستمبر ۶۵ء‘ قادیانی سازش

کے خوفناک خدوخال

پروفیسر مرزا محمد منور (لاہور)

جنگ ستمبر کی ماہیت اور اہمیت نیز نتائج و عواقب کے اعتبار سے ذوالفقار علی بھٹو پر نمایاں ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ مسٹر بھٹو کے بعد سب سے زیادہ بار مسئولیت جنرل اختر ملک پر پڑتا ہے۔ تیسرا نامی اور گرامی نام جناب عزیز احمد کا ہے، مگر بھٹو کے فدائی فرمائیں گے کہ یہ نتائج عموماً ان لوگوں کی تحریروں سے لیے گئے ہیں جو بھٹو کے کئی اور وجوہ سے مخالف تھے۔

دنیا کے کئی بڑے خونی حادثات رونما ہونے کا اصل سبب بالعموم نگاہوں سے اوجھل رہتا ہے۔ تاریخ ہمیں جو کچھ دیتی ہے ضروری نہیں کہ وہی حقیقت واقعہ ہو، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ تاریخ کے صفحات پر جو کچھ مرقوم شدہ باقی بچ گیا ہو، وہ اصلیت کے بالکل الٹ ہو۔ ہماری آنکھوں کے سامنے لیاقت علی خان کی شہادت کا واقعہ رونما ہوا۔ آج تک کوئی حقیقی اور سچی روداد قلمبند نہیں ہوئی ابھی کل کی بات ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو نے کھلے بندوں پاکستان کو دو لخت کیا، لیکن کوئی ایسی کتاب جو بھٹو کا اصلی کردار سو فیصد بیان کر دے، موجود نہیں۔ البتہ بھٹو کے مقام کو کیا سے کیا کر کے یوں پیش کر دیا گیا ہے کہ بار جرم دوسروں پر زیادہ پڑے اور بھٹو پر کم، ایسی کئی گمراہ کن کتب بھٹو صاحب نے اپنے دور حکومت میں بڑے بڑے جغادری اہل قلم سے لکھوائیں اور لائبریریوں کی زینت بنوائیں۔ یہ تو معاصر

صفحہ 111

تاریخ کا حال ہے۔ پچاس یا سو سال بعد جو محقق، جو معاصر تحریری شہادتوں پر مبنی تحقیقی مقالے رقم فرمائیں گے۔ وہ داستان کو پورے خلوص کے باوصف کون سا رنگ پہنائیں گے؟ اور یہ ظاہر ہے کہ روایتاً معاصر تحریروں کی بڑی وقعت ہوتی ہے، کیا آنکھوں دیکھا حال بیان کرنے والے ڈنڈی نہیں مارتے؟ پھر بعد کے دور کا مورخ کیونکر گمراہ نہ ہو گا۔

میں یہاں سابق وزیر خارجہ پاکستان، میاں ارشد حسین مرحوم کے بیان کا اقتباس پیش کرتا ہوں۔ میاں صاحب فرماتے ہیں:

”میرے خیال میں ۱۹۶۵ء کی جنگ نے ۱۹۷۱ء کی جنگ کو جنم دیا پہلی جنگ، دوسری جنگ اور اس میں پیدا شدہ المناک نتائج کا اہم سبب ہے۔ کیا اب وقت نہیں آگیا کہ جنگ ۱۹۶۵ء کے اسباب، انتظام و انصرام اور نتائج کے بارے میں بھرپور تحقیقات کرائی جائے؟ ان میں سے بعض افراد جنہیں جنگ میں کلیدی حیثیت حاصل تھی، ہمارے درمیان موجود نہیں، مگر اب بھی ہم میں بہت سے لوگ موجود ہیں، جو اس موضوع پر روشنی ڈال سکتے ہیں۔ چودہ ہزار پاکستانیوں نے جو شہید یا زخمی ہوئے، آزادی کی قیمت ادا کی۔ ان بہادر پاکستانیوں اور ان کے خاندانوں کی جانب سے ہم پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ ان حقائق کو جو اب تک پردہ راز میں رہے، بے نقاب کریں، ضرورت اس امر کی ہے کہ جسٹس حمود الرحمٰن ایک اور تحقیقاتی کمیشن کی سربراہی کریں اور کمیشن کی رپورٹ منظر عام پر آئے، تاشقند کا راز بھی بے نقاب ہو۔“

میاں ارشد صاحب کی یہ تحریر اکتوبر ۱۹۷۷ء میں ایک مراسلے کے طور پر روزنامہ ”پاکستان ٹائمز“ لاہور میں شائع ہوئی تھی۔ ظاہر ہے، اس وقت ابھی جسٹس حمود الرحمٰن زندہ و سلامت تھے، لیکن سرکاری منصب سے ریٹائر ہو چکے تھے۔ میاں صاحب کا یہ ارشاد کہ ”جسٹس حمود الرحمٰن ایک اور کمیشن کی سربراہی کریں۔“ صاف طور پر بتا رہا ہے کہ جو کمیشن پہلے بٹھایا گیا تھا، اس کے مقاصد محدود تھے۔ ہمیں معلوم ہے کہ تحقیقات کا دائرہ کار زیادہ تر دسمبر ۱۹۷۱ء کے باب میں پاکستانی عساکر اور خصوصاً کمانداران اعلیٰ کی کارکردگی کا جائزہ لینا تھا، اہل سیاست نے کیا کردار ادا کیا تھا؟ اس کمیشن کے دائرہ کار سے باہر تھا، یعنی اصل مجرم صاف بچا لیے گئے۔ سیاسی فیلڈ مارشل اور سیاسی جرنیل گویا سراسر معصوم تھے۔

صفحہ 112

پھر لطف یہ ہے کہ اس محدود اور معصوم سی انکوائری رپورٹ سے بھی عوام کو عوامی حکومت نے آگاہ نہ کیا۔ بہانہ یہ کہ اہل فوج ناراض ہوں گے۔ بھئی فوج کے ناراض ہو جانے کا خطرہ تھا تو پھر انکوائری کا تکلف ہی کیوں کیا تھا؟ اور ویسے فوج کی جو عزت اس عوامی دور میں ریڈیو، ٹی وی اور اخبارات کے ذریعے کی جا رہی تھی، وہ فوج کے بھی سامنے تھی اور عوام بھی اسے دیکھ، پڑھ اور سن رہے تھے۔ مزید برآں یہ کہ خود جسٹس حمود الرحمن مرحوم کے خیال میں اس انکوائری رپورٹ کی اشاعت سے کوئی ایسی شرمندگی فوج کو لاحق نہ ہوتی۔

۷۶ء کے فروری کا آخری ہفتہ تھا یا شاید مارچ کا پہلا ہفتہ ۔ یوم حمید نظامی ، جناح ہال میں منایا گیا۔ جسٹس حمود الرحمن صاحب کی صدارت تھی۔ میٹنگ کے بعد دوپہر کا کھانا تھا، جس کے ضمن میں عزیز برادر حامد مجید نے اپنے گھر پر دعوت دے رکھی تھی۔ وہاں جسٹس حمود الرحمن صاحب سے بے تکلف ماحول میں کئی باتیں پوچھی گئیں۔ جن میں ایک یہ بھی تھی کہ اگر انکوائری کمیشن کی رپورٹ شائع ہو جائے تو کیا فوج والے برا مانیں گے؟ جسٹس صاحب نے فرمایا : ”اس میں فوج کے خلاف کوئی ایسی خاص چیز نہیں کہ وہ برا مانیں یا توہین محسوس کریں“

خیر بات تھی میاں ارشد حسین مرحوم کی۔ میاں صاحب اور میں جنوری ۱۹۸۰ء کے آغاز میں وزرائے خارجہ عالم اسلام کی اس میٹنگ میں بطور مبصر شریک تھے، جو افغانستان پر روسی حملے سے پیدا شدہ صورت حال کے بارے میں منعقد ہوئی تھی۔ میاں صاحب مرحوم اور میں لاہور سے چلے بھی اکٹھے، لوٹے بھی اکٹھے اور اسلام آباد میں بھی اکٹھے رہے۔ وہاں ہم دونوں کے لیے کار بھی مشترک تھی۔ اس اشتراکی صورت حال سے میں نے بہت فائدہ اٹھایا۔ میاں صاحب بڑے شائستہ بزرگ تھے۔ ٹھہر ٹھہر کر میٹھے میٹھے انداز میں بات کرتے تھے، جہاں اور بہت سی باتیں ہوئیں۔ وہاں جنگ ۱۹۶۵ء کے ضمن میں بھی گفتگو رہی، بلکہ یہ موضوع کئی بار تبادلہ خیال کی زد میں آیا۔

میاں صاحب مرحوم نے بڑے دکھ کے ساتھ بار بار کہا کہ میں حیران ہوں پاکستان نے ۱۹۶۵ء کی احمقانہ جنگ کیوں چھیڑی؟ یہ ”احمقانہ جنگ“ میاں صاحب کے اپنے الفاظ ہیں، یہ میری تعبیر نہیں۔ میاں صاحب کا ارشاد تھا کہ پاکستان شاہراہ ترقی پر گامزن تھا۔

صفحہ 113

زرعی شعبے میں کیے جانے والے اقدامات نے پاکستانی اقتصادیات کو نمایاں سہارا دینا شروع کر دیا تھا۔ صنعت و حرفت کے میدان میں بھی ہماری رفتار بڑی تیز تھی‘ نئے نئے کالج اور یونیورسٹیاں کھل رہی تھیں۔ فوج کی نئے اور جدید انداز میں تعمیر جاری تھی۔ سامان جنگ کے باب میں بھی فقر کا عالم نہ تھا۔ بڑا بچپن کا دور تھا کہ اچانک اگست ۱۹۶۵ء میں جنگ نازل ہو گئی۔ بلکہ ہم نے اپنے اوپر نازل کر لی۔ اس جنگ کے باعث ہمیں وہ دھکا لگا کہ پھر ہم سنبھل نہ سکے۔ ہم آج تک اس دھکے کے اثرات کا نتیجہ بھگت رہے ہیں۔ اس جنگ نے ملکی سیاست کو ضعف پہنچایا۔ خود غرض بنگالی اہل سیاست نے اسی جنگ کے بہانے اپنی بے بسی کا رونا رویا کہ بنگالی یتامیٰ اور مساکین کی طرح چھوڑ دیے گئے تھے۔ ہمارا کون والی وارث تھا‘ لہٰذا ہمیں ہمارے استحکام اور بقائے وجود کے لیے خود مختاری دی جائے۔ معاہدہ تاشقند نے کئی فتنوں کو جنم دیا۔ ایک فتنہ کشمیر کیس کا کمزور ہو جانا تھا۔ دوسرا فتنہ مرکزی حکومت کا زوال وقار‘ تیسرا فتنہ بھٹو خود تھا جس نے یہ احوال خود ہی پیدا کیے اور پھر خود ہی دوسروں کو مجرم بنا کے بگڑی ہوئی قومی حالت سے اپنی ذاتی‘ وجاہت شکار کرنے لگ گئے۔ آخر بات مشرقی پاکستان کی علیحدگی تک پہنچی‘ صنعت و حرفت کی ترقی کا قدم رک گیا۔ فوج کی ابھرتی ہوئی جوان قیادت میجر‘ کیپٹن اور لیفٹیننٹ کرنل کے درجے کی جوان اور بہادر قیادت میدان شہادت میں ٹوٹ گئی۔ وہ قابل افراد آگے جا کے نہ جانے کس شان کے اعلیٰ قائدین عساکر بنتے۔

۶۵ء کی جنگ کا مسئلہ میاں ارشد حسین مرحوم کے لیے تکلیف دہ احساسات کا مصدر و منبع تھا۔ باتوں باتوں میں‘ میں نے پوچھا میاں صاحب ۱۹۶۵ء کی جنگ کے ارد گرد کا زمانہ وہ تھا‘ جب آپ دہلی میں پاکستان کے ہائی کمشنر تھے۔ آپ تو سب کچھ دیکھ رہے تھے کہ بھارت کیا رد عمل ظاہر کرنا چاہتا تھا۔ کیا آپ نے پاکستانی حکومت کو اس کے احمقانہ جنگ کی طرف لے جانے والے احوال کے باب میں کوئی رپورٹ نہ دی؟ میاں صاحب نے بڑے تاسف سے کہا‘ میری کسی بات کی طرف محکمہ خارجہ پاکستان کے سربراہوں نے کوئی توجہ نہ دی‘ بلکہ بعد از جنگ جب میں نے ان سے پوچھا کہ بھئی میں دہلی میں بیٹھا ہوا صورت حال کا مشاہدہ کر رہا تھا اور آپ کو اس راہ پر چلنے سے روکنے کے لیے مراسلے پر مراسلہ لکھ رہا تھا‘ تو کیا آپ نے میری‘ یعنی اس شخص کی بات کو ذرہ بھر وزن عطا نہ فرمایا جو حقیقت واقعہ سے

صفحہ 114

آپ کو آگاہ کرنے پر پوری طرح قادر تھا۔ اس کے جواب میں پتہ ہے پروفیسر صاحب! محکمہ خارجہ کے کرتا دھرتا حضرات نے کیا ارشاد فرمایا۔ ان کا ارشاد یہ تھا کہ میاں صاحب ہم کشمیر کے ضمن میں اس طرح مصروف تھے کہ ہم نے آپ کے بیگ BAG کم ہی کھولے اور اگر کھولے بھی تو آپ کے مرسلہ لفافے کھولنے کی فرصت نہ ملی ----- دیکھا پروفیسر صاحب جس ملک کے ساتھ چھیڑ چھاڑ ہو رہی تھی۔ اس ملک میں اپنے بٹھائے گئے سب سے بڑے سرکاری نمائندے کے مراسلے ہی کھولنے کی تکلیف گوارا نہ کی گئی اور یہ وہ بات ہے جس کا میں اخبارات میں کئی بار ذکر کر چکا ہوں ----- اور ظاہر ہے میاں ارشد حسین صاحب اس منصبی غفلت یا کوتاہی یا دانستہ پہلو تہی کا سب سے بڑا مجرم عزیز احمد صاحب کو قرار دیتے تھے جو اس دور میں پاکستان کے محکمہ خارجہ کے سیکریٹری تھے، ان پر صدر ایوب خاں کو بھر پور اعتماد تھا اور بھٹو صاحب کے تو وہ ہمدم و ہمراز تھے۔

اسی سلسلے میں ایک بار یہ بھی فرمایا ”میں آج تک حیران ہوں کہ فیلڈ مارشل صاحب جیسے انتہائی محتاط فرد کس طرح اس اقدام پر آمادہ ہو گئے۔ ایوب خاں جنگجو مزاج کے نہ تھے، وہ ہر قدم پھونک پھونک کر اٹھاتے تھے۔ اس کے باوجود بھٹو صاحب اور جنرل اختر ملک کی سکیم اور تجویز انہوں نے کیونکر مان لی، انہوں نے کیونکر فرض کر لیا کہ کشمیر میں خواہ صورت حال کیسی ہی خطرناک کیوں نہ ہو جائے، حتیٰ کہ کشمیر ہاتھ سے جاتا دکھائی دے تو بھی بھارت کشمیر کو بچانے کے لیے پاکستان پر حملہ نہ کرے گا؟ لیکن بھٹو صاحب نے ”ڈیڈی ڈیڈی“ کہہ کہہ کے کچھ ایسا اعتماد ایوب خان کے دل میں پیدا کر لیا تھا۔ بھٹو صاحب نے ایوب خان کو یہ یقین دلایا کہ امریکہ ہمیں اطمینان دلا رہا ہے کہ بھارت بین الاقوامی سرحد عبور نہیں کرے گا، لہٰذا پاکستان پر بھارتی یورش کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، ظاہر ہے کہ مسٹر عزیز احمد صاحب نے بھی بھٹو صاحب کی پر زور تائید کی ہوگی، بہت کچھ تحریر میں آچکا ہے، یہاں بات لمبی نہیں کرتا“۔

میاں صاحب مرحوم کے بقول مسٹر عزیز احمد صاحب نے جنرل اختر ملک پر بھی اپنے اعتماد کا اظہار کیا اور بھٹو پر بھی۔ اس طرح جو اعتماد صدر ایوب خان کو ان دونوں پر تھا، وہ رنگ لایا۔ رہا ملک اختر تو ظاہر ہے کہ اس وقت تک ایوب خان کے دل میں جنرل ملک اختر کی بڑی قدر تھی اور وہ ان کی ذہانت کے بھی قائل تھے اور شجاعت کے بھی ----- میاں

صفحہ 115

ارشد حسین صاحب کی رائے میں بھٹو صاحب بہت زیادہ (Ambitious) ہوس پرست تھے‘ ان کے سر میں جلد از جلد پاکستان کا حاکم اعلیٰ یا بادشاہ بننے کی دھن سمائی تھی‘ وہ صبر کر ہی نہیں سکتے تھے۔ میاں صاحب کے خیال میں بھٹو صاحب نے بدنیتی سے امریکہ کی ضمانت یا یقین دہانی والی بات گھڑی تھی جس سے عیاں ہے کہ وہ بے خبری میں پاکستان پر بھارتی حملے کا اہتمام کر رہے تھے۔ انہیں امید تھی کہ اچانک بھر پور حملے کے نتیجے میں پاکستانی فوجوں کے پاؤں اکھڑ جاتے‘ اس طرح ایوب خان کا تخت ڈول جاتا اور بھارتی حکومت کے حسب منشا کوئی معاہدہ بھارت سے کر کے پاکستان کے حکمران بن جاتے‘ مشرقی پاکستان اس صورت میں بھی بھٹو صاحب کے پاکستان سے الگ ہو جاتا مگر آزاد ملک نہ رہتا‘ بھارت کا صوبہ بن چکا ہوتا اور یہ ہمارا پاکستان ایک طرح کی بھارتی باج گزار مملکت سے زیادہ کچھ نہ ہوتا۔ ہاں بھٹو صاحب کی ہوس تو پوری ہو جاتی۔ اب قدرتی طور پر سوال پیدا ہوتا تھا کہ جنرل اختر ملک کے رویے کا کیا جواز تھا‘ کیا وہ بھی امریکی‘ بھارتی یا بھٹوئی کھیل کھیل رہے تھے یا وہ صرف ایک فتح جو منہ زور کماندار کا کردار ادا کر رہے تھے؟ کیا جنرل اختر ملک کا کردار واقعی ایک محب وطن کا کردار تھا؟ یا کیا ملک اختر نے بھی بھٹو صاحب یا بھارت سے کوئی معاملہ کر رکھا تھا؟۔۔۔۔۔ آپ کی اس باب میں کیا رائے ہے؟

میاں ارشد حسین نے فرمایا ”جنرل ملک اختر کا بھٹو صاحب کے ساتھ گٹھ جوڑ تھا‘ مگر دونوں کے مقاصد میں بڑا واضح فرق تھا۔ بھٹو صاحب کی ذات اسیر ہوس تھی۔ وہ امنگ کے ہاتھوں بے تاب تھے۔ انہیں کرسی چاہیے تھی اور جلد ہی‘ خواہ وہ کسی قیمت پر ملتی‘ لیکن جنرل اختر ملک کا مسئلہ مذہبی تھا‘ بلکہ فرقہ وارانہ‘ مجھے بڑے ثقہ حضرات نے بتایا ہے کہ وہ اپنے مسیح موعود مرزا غلام احمد کے کسی قول کی عملی تعبیر اپنے ہاتھوں رونما ہوتے دیکھنا چاہتے تھے۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے کہیں لکھ رکھا ہے کہ قادیان کبھی میرے نیاز مندوں کے ہاتھ سے نکل بھی جائے تو پھر اچانک ان کی گود میں آ پڑے گا‘ خواہ وہ کسی بھی تدبیر سے آئے۔

میں نے عرض کیا۔ میاں صاحب یہ تو بڑی عجیب بات ہے کہ مرزا غلام احمد صاحب کے خوابی وجدان پر مبنی کسی قول کو عملاً پورا کر دکھانے کے جوش میں پورے ملک کی تقدیر کو خطرے میں ڈال دیا جائے۔ میاں صاحب بولے‘ بہرحال ملک اختر کے دل میں تو ”قادیان

صفحہ 116

کی بستی اچانک تمہاری گود میں آن پڑے گی‘‘، کو سچ کر دکھانا تھا تاکہ قادیانیت کی حقانیت دنیا بھر پر ثابت ہو سکے۔ میں نے کہا، میاں صاحب مجھ سے کئی قادیانی حضرات نے کشمیر میں جھڑپیں شروع ہونے پر پوچھا کہ ”تاتیک بغتہ“ کا کیا معنی ہے۔ میاں صاحب چونکے اور فرمایا۔ ہاں، بس ایسی ہی عربی عبارت تھی جو مرزا غلام احمد صاحب کی پیش گوئی کا لب لباب تھی اور اسی کی تعبیر عملاً بروئے کار لانے کی خاطر وطن کی تقدیر کو داؤ پر لگا دیا گیا تھا۔

میں نے وضاحت کی کہ میاں صاحب قرآن کریم میں ساعت قیامت کے بارے میں کئی بار آیا ہے اور وہ ہے ”فتاتیہم بغتہ“ (ساعت قیامت ان کو اچن اچیت آن لے گی) ہاں خود مجھ سے بھی ایک سے زیادہ بار پوچھا گیا ہے کہ ”تاتیک بغتہ“ کا معنی کیا ہے اور میں نے یہی عرض کیا ہے کہ مجھے تو اتنا ہی معلوم ہے یہ ساعت قیامت کی طرف اشارہ ہے کہ کسی سان گمان میں بھی نہ ہو گا اور قیامت آن لے گی اور لفظ ”تاتیک“ نہیں، بلکہ ”تاتیہم“ ہے۔ اب عین ممکن ہے کہ مرزائے قادیان نے ”تاتیہم بغتہ“ ہی کہا ہو کہ میرے ماننے والوں کو شہر قادیان دوبارہ اچانک یوں حاصل ہو جائے گا کہ ان کے سان گمان میں بھی نہ ہو گا اور یاد رکھنے والوں میں سے بعض کے ضعف حافظہ نے اسے ”تاتیک بغتہ“ بنا دیا ہو۔

میں نے میاں صاحب مرحوم کو بتایا کہ جب چھمب جوڑیاں پر جھڑپیں شروع ہوئیں تو میں آرمی سکول آف ایجوکیشن اپر ٹوپہ، مری میں اپنے ایک عزیز کے یہاں فروکش تھا۔ وہاں مجھ سے ایک جے سی او صاحب نے بھی یہی پوچھا تھا کہ ”تاتیک بغتہ“ کا کیا معنی ہے؟ اس دور میں ایک بزرگوار تھے جو ماڈل ٹاؤن لاہور کے باسی تھے اور محترمی ظہیر الاسلام فاروقی صاحب کے پاس بوقت عشاء کبھی کبھی تشریف لایا کرتے تھے اور تھے قادیانی المذہب، انہوں نے بھی مجھ سے یہی پوچھا تھا کہ ”تاتیک بغتہ“ کا کیا معنی ہے؟

جب میاں صاحب مرحوم نے جنرل اختر ملک کے باب میں بھی یہی کہا کہ جنرل اختر ملک کے سر میں دھن سمائی تھی کہ مرزا غلام احمد صاحب کے فلاں مفہوم کی پیش گوئی کو سچ کر دکھائیں تو اگرچہ یہ کلمات میرے لیے نئے نہیں تھے، تاہم میں چونکا ضرور، یا اللہ ایک جرنیل کے درجے کا آدمی اور فقط اپنی جماعت کا بول بالا کرنے کے لیے اپنے ملک اور پندرہ

صفحہ 117

میں کروڑامل ملک کی تقدیر کی بازی لگا دے؟

میاں ارشد حسین مرحوم کی زبانی جنرل اختر ملک کے بارے میں یہ تنقیدی کلمات سن کر مجھے مزید حیرت اس لیے ہوئی کہ میاں صاحب کو قادیانیوں کا ہمدرد سمجھا جاتا تھا‘ اور یہ تو عیاں ہے کہ ان کے بزرگوار میاں سر فضل حسین اور میاں افضل حسین کے قادیانی فرقے کے سربراہوں اور ان کے افراد خاندان سے نہایت گہرے روابط تھے۔ لوگ تو اس فیملی کو قادیانیوں کا غم خوار جانتے تھے۔ خصوصاً سر ظفر اللہ سے جو قرب ان بزرگوں کو تھا‘ وہ پنجاب کے اس دور کے سیاسی حلقوں سے قطعاً پوشیدہ نہ تھا۔ پھر حیرت ہے کہ میاں ارشد حسین صاحب پاکستان کی بدبختی اور نکبت کا بڑا سبب جہاں مسٹر بھٹو کو قرار دیں‘ وہیں جنرل اختر کو بھی مجرم مانیں اور جنرل اختر کے بارے میں یہ کہہ کر اظہار کرب کریں کہ انہوں نے اپنے مسیح موعود کا کوئی قول سچا کر دکھانے کے لیے بھٹو کا ساتھ دیا اور اس طرح پاکستان کو ایسے جانکاہ حادثے سے دوچار کر دیا جس کے اثرات تاحال پاکستان کے آفاق پر منڈلا رہے ہیں۔

کچھ عرصہ ہوا مرزا طاہر صاحب نے جن قادیانی جرنیلوں کی پاکستان کے باب میں خدمات کا ذکر کیا‘ ان میں جنرل اختر ملک‘ ان کے بھائی جنرل ملک عبد العلی‘ جنرل جنجوعہ اور جنرل حمزہ شامل تھے۔ جنرل حمزہ کا خط ”نوائے وقت“ میں جواب آں غزل کے طور پر چھپا‘ جس میں انہوں نے پہلے تو یہ کہا کہ وہ خود یعنی حمزہ صاحب ہرگز قادیانی جماعت کے فرد نہیں‘ دوم انہوں نے قادیانی جرنیلوں کی کار کردگی پر اشارتاً کچھ روشنی ڈالی اور وہ روشنی ایسی تھی کہ اسے ملاحظہ کر کے یقیناً حضرت مرزا طاہر صاحب کی دل شکنی ہوئی ہو گی۔ رہا مسٹر عزیز احمد سیکرٹری خارجہ کا معاملہ تو ان کے بارے میں مرحوم میاں صاحب نے اتنا ہی بتایا کہ وہ ایوب خان کے معتمد تھے اور بھٹو صاحب کے بھی۔ اب معلوم نہیں آیا وہ بھٹو صاحب کی امنگ سے ہم آہنگ تھے یا وہ بھی قادیانی مسیح موعود کے کسی قول کو سچ کر دکھانے کے ضمن میں جنرل اختر ملک کے ہم سنگ تھے‘ یہ خدا ہی جانے۔ واللہ اعلم بالصواب۔

(ہفت روزہ ”زندگی“ لاہور)

صفحہ 118

قادیانی اسرائیلی فوج میں

مرزا غلام احمد قادیانی نے کہا تھا کہ وہ انگریز کا خود کاشتہ پودا ہے۔ اس لیے اس نے اور اس کی جماعت نے اندرون و بیرون ملک ہمیشہ امریکی اور برطانوی سامراج کے مفاد میں کام کیا۔ چنانچہ آج مرزائیوں کے تعلقات اہل اسلام کے روحانی وعلمی مراکز مکہ معظمہ ، مدینہ طیبہ ، بغداد اور قاہرہ کے بجائے واشنگٹن ، لندن ، تل ابیب سے ہیں۔ اور بین الاقوامی طور پر یہ اسلام کے بجائے یہود و نصاریٰ کے گماشتے ہیں۔

مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان ، جو اتحادِ اسلامی کی علمبردار اور تحفظ عقیدہ ختم نبوت کے لیے سرگرم عمل ہے ، کی کوششوں سے تمام عالم اسلام مرزائی تحریک سے خبردار ہو کر اسے دائرہ اسلام سے خارج کر چکا ہے۔ حضرت شیخ الاسلام مولانا محمد یوسف بنوریؒ امیر مجلس تحفظ ختم نبوت اور ان کے زیر سایہ مبلغین تحفظ ختم نبوت کے تبلیغی وفود نے مرزا غلام احمد کی نبوت ، مسیحیت ، مہدویت کا لباس اتار کر اسے برطانوی امریکی سامراج کے گماشتے کی حیثیت سے ایشیا، یورپ ، افریقہ اور عرب ممالک میں کھڑا کر دیا ہے۔ ذیل میں ایک اہم ، خطرناک اقتباس کا مطالعہ فرمائیے۔

مولانا ظفر احمد انصاری ایم این اے کا اہم انکشاف۔

س: اسرائیلی فوج میں ”احمدیوں“ کی موجودگی ایک خوفناک انکشاف ہے۔ یہودیوں اور ”احمدیوں“ میں اس تعاون کی کیا تفصیل ہے اور آپ اسے پاکستان کی قومی اسمبلی میں کیوں زیر بحث لانا چاہتے ہیں؟

صفحہ 119

ج: پاکستان مسلم مملکت ہے اور یہودی ہر مسلم حکومت کو نیست و نابود کرنے کا عہد کر چکے ہیں۔ وہ اس کے لیے ہر ذریعے اور واسطے کو استعمال میں لا رہے ہیں۔ اور ان کے آلہ کار بننے والوں میں یہ مرزائی یا قادیانی بھی شامل ہیں جو اپنے آپ ”احمدی“ کہتے ہیں۔ اسرائیل یہودی صہیونیت کا ہتھیار ہے۔ جس کے ذریعے یہودی عالم اسلام کو زیر کرنا چاہتے ہیں۔ ۱۹۷۲ء تک اسرائیل میں موجود ”احمدیوں“ کی تعداد چھ سو تھی جن پر اسرائیلی فوج میں ”خدمت“ کے دروازے کھول دیے گئے تھے۔ یہ تفصیل پولیٹیکل سائنس کے یہودی پروفیسر آئی ٹی نعمانی کی کتاب ”اسرائیل اے پروفائل“ (Israel A Profile) کے صفحہ نمبر ۷۵ پر موجود ہے۔ یہ کتاب پال مال لندن سے ۱۹۷۲ء میں چھپی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کتاب کے ص ۵۴ پر واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ عربوں پر یہ پابندی اب بھی ہے کہ وہ کسی سرحدی گاؤں میں نہیں رہ سکتے اور اسرائیلی فوج میں بھرتی بھی نہیں ہو سکتے۔ اس کتاب کے ص ۷۵ پر یہ بھی موجود ہے کہ یہ ”احمدی“ پاکستان سے ہیں۔ ایک مسلمان بالخصوص پاکستانی مسلمانوں کے لیے یہ بات یوں بھی انتہائی اضطراب کا موجب ہے کہ ان ”احمدیوں“ کو پاکستانی قرار دیا گیا ہے۔ اس لیے بھی یہ معاملہ تحریک التواء کے ذریعے پاکستان کے مقتدر ترین ایوان میں زیر بحث لانا چاہتا ہوں۔

س: آپ اس تحریک التواء میں حکومت کی توجہ کن پہلوؤں پر مبذول کرانا چاہتے ہیں؟

ج: میں قوم کو بھی آگاہ کرنا چاہتا ہوں اور حضرات بر سر اقتدار سے بھی دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ جب یہ انہیں بھی معلوم ہے کہ ”احمدی“ دنیا کے کسی خطے میں بھی ہو‘ اپنے خلیفہ کے حکم پر کام کرتا ہے۔ اس ”خلیفہ“ کا ہیڈ کوارٹر پاکستان کے قصبے ربوہ میں ہے۔ اگر اسرائیل میں رہنے والے ”احمدیوں“ کو ربوہ سے یہ ہدایت ہے کہ عرب ممالک پر قبضے اور انہیں تاراج کرنے میں اسرائیل کی مدد کریں اور جیسا کہ جنگ ۱۹۶۷ء کے زمانہ کے اخبارات میں آیا کہ اسرائیلی پاکستان کو بھی ختم کرنا چاہتے ہیں اور پاکستان کے خلاف جس دشمنی اور نفرت کا اظہار بابائے اسرائیل بن گوریان نے کیا تھا۔ اس کے پیش نظر کیا یہ اندیشہ صحیح نہ ہو گا کہ اسرائیل‘ جیسے ”احمدیوں“ کو عربوں کے خلاف استعمال کر رہا ہے‘

صفحہ 120

انہیں پاکستان کے خلاف آسانی سے استعمال کرے گا جب کہ ”احمدیوں“ کے ”خلیفے“ کا ہیڈ کوارٹر بھی یہیں ہے۔ یہ بھی معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ آخر چھ سو ”احمدی“ پاکستان سے اسرائیل کس راستے سے کیسے اور کب پہنچے؟ کیا اب یہ ”احمدی“ پاکستان کی شہریت رکھتے ہیں؟ ان کے پاس دوہری شہریت تو نہیں؟ ان میں سے کتنے پاکستانی پاسپورٹ پر گئے ہیں، کیا وہ پاکستانی پاسپورٹ پر تھے اور پھر اسرائیل بھاگ گئے۔ ایسے لوگوں کے بارے میں ہماری وزارت خارجہ اور پاسپورٹ جاری کرنے والی وزارت داخلہ کو کیا علم ہے اور کیا علم نہیں ہے؟ کیا ان ”احمدیوں“ کی وہاں روک تھام کی جا رہی ہے کیونکہ ان کے پاکستانی کہلانے سے عربوں سے ہمارے تعلقات مجروح ہو سکتے ہیں۔ حکومت پاکستان کو اس صورت حال کی (Clarification) وضاحت کرنا چاہیے۔

س: اسرائیل کے عربوں کے خلاف جو عزائم ہیں تو ایسے ہی ناپاک عزائم ہمارے بارے میں بھی ہیں؟

ج: جی!! (بہت لمبی سی ”جی“) جس پر میں زور دینا چاہتا ہوں۔ ۱۹۶۷ء میں اسرائیل کی توسیع پسندی اور بیت المقدس پر غاصبانہ قبضے کے بعد پاکستان میں جس طرح کا رد عمل پیدا ہوا تھا، اس نے یہودیوں کے دل و دماغ کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ چنانچہ بابائے اسرائیل بن گوریان نے ۱۹۶۷ء میں عرب اسرائیل جنگ کے بعد پیرس کی سوربون یونیورسٹی میں تقریر کرتے ہوئے کہا تھا (جس کی رپورٹ ۹ اگست ۱۹۶۷ء کو صیہونی رسالے ”جیوش کرانیکل“ میں چھپی تھی)۔ بابائے اسرائیل نے زور دیتے ہوئے کہا تھا ”عالمی صیہونی تحریک کو پاکستان کے خطرے سے لاپروائی نہیں برتنی چاہیے اور اب پاکستان اس کا پہلا نشانہ ہونا چاہیے۔ کیونکہ یہ نظریاتی مملکت ہمارے وجود کے لیے خطرہ ہے۔ سارے پاکستانی یہودیوں سے نفرت کرتے ہیں اور عربوں سے محبت کرتے ہیں۔ عربوں کے لیے یہ محبت ہمارے لیے خود عربوں سے بھی بڑھ کر خطرناک ہے۔ اسی خاطر عالمی صیہونیت کے لیے یہ ضروری ہو چکا ہے کہ اب پاکستان کے خلاف فوری اقدام کیا جائے۔

جہاں تک ہندوستانی سطح مرتفع کے باشندوں کا تعلق ہے وہ ہندو ہیں جن کے دل پوری تاریخ میں، مسلمانوں کے خلاف نفرت سے بھرے ہوئے ہیں۔ لہٰذا ہندوستان ہمارے لیے پاکستان کے خلاف کام کرنے کا اہم ترین مرکز (فوجی اصطلاح Base استعمال کی

صفحہ 121

گئی ہے یہ ضروری ہے کہ ہم اس مرکز کا پورا استعمال کریں اور تمام ڈھکے چھپے اور خفیہ منصوبوں کے ذریعے یہودیوں کے دشمن پاکستانیوں پر ضرب لگائیں اور انہیں کچل دیں" مولانا ظفر احمد انصاری نے یہ اقتباس ایک کتاب سے انگلش میں پڑھ کر سنایا۔ پھر سلسلہ کلام جاری رکھا۔ شاید بہت سے لوگوں کو معلوم نہ ہو گا کہ اس کے سوا چار سال بعد دسمبر ۱۹۷۱ء میں اندرونی سازش اور بیرونی جارحیت کے ذریعے ڈھاکہ میں داخل ہونے والی ہندو فوج کا ڈپٹی کمانڈر ایک یہودی تھا۔

اب پاکستان اور عالم اسلام کی حفاظت کے لیے حکومت پاکستان کا اولین فرض ہے کہ مرزائیوں کو فوری طور پر تمام کلیدی اسامیوں سے علیحدہ کیا جائے۔ افواج پاکستان میں مرزائیوں کی بھرتی پر مکمل پابندی لگائی جائے۔

مرزائیوں کے بیرون ملک جانے پر فوری پابندی عائد کی جائے۔ مرزائیوں کی گنتی ہو کر تناسب آبادی کے لحاظ سے اسمبلیوں میں ان کی نشستیں مختص کی جائیں۔

(ہفت روزہ "ختم نبوت" کراچی، جلد ۵، شمارہ ۴۴)

صفحہ 122

عاشق حسین بٹالوی کی یاد میں

خادم حسین

ہفت روزہ ”ندا“ کی اشاعت ۱۳ دسمبر اور ۱۹ دسمبر ۱۹۸۹ء میں جعفر قاسمی کا ایک مضمون چھپا ہے جس میں عاشق حسین بٹالوی کے بارے میں بہت سی باتیں بیان کی گئی ہیں۔ کچھ ادبی، کچھ معاشرتی اور کچھ سیاسی۔۔۔۔۔ جعفر قاسمی صاحب نے بٹالوی صاحب کے ساتھ ایک عرصہ گزارا، ظاہر ہے، ایک آدمی دوسرے آدمی سے متاثر ہوتا ہے تو اس کے بارے میں تعریفی انداز اختیار کرتا ہے۔ مگر بقول شورش ”بعض اوقات خوبصورت چہرے آنکھوں اور خوبصورت الفاظ کانوں کو دھوکا دے جاتے ہیں۔“ قاسمی صاحب کے قلم نے اگر بٹالوی صاحب کے متعلق دھوکا نہیں کھایا اور ان کی تحریر واقعی مبنی بر حقیقت ہے تو پھر اس مضمون میں بیان کردہ واقعات و حالات خود شاہد ہیں کہ بٹالوی صاحب کی زندگی، قول و فعل اور کردار و گفتار کے لحاظ سے بہت سے تضادات کا مجموعہ تھی۔ بٹالوی صاحب کی موت کے بعد اس تجزیے کی چنداں ضرورت نہ تھی۔ مگر آنے والی نسل کو غلط فہمی سے بچانے اور مستقبل کے مورخین کو تاریخی ناانصافی سے دور رکھنے کے لیے متذکرہ بالا مضمون کا مختصر سا جائزہ نذرِ قارئین ہے۔۔۔۔۔ قاسمی صاحب نے تحریر کیا ہے:

”مذہب کے بارے میں حتی الوسع وہ دل آزاری سے کوسوں دور رہے، بالعموم حافظ کا یہ شعر ان کی رواداری پر صادق آتا ہے؎

مباش در پے آزار و ہر چہ خواہی کن
کہ در شریعتِ ما جز ازیں گناہ نیست

اور اس کے ساتھ ہی قاسمی صاحب نے بٹالوی صاحب کی مذہبی آزاری اور

صفحہ 123

دوسروں کی دل آزاری کے واقعات بھی خود تحریر کیے ہیں:

"مولانا عبدالمجید سابق چیف ایڈیٹر "اسلامی ریویو" لندن ۔ نجی گفتگو میں خیرالقرون کی بعض شخصیتوں کے بارے میں غلط کلامی کے مرتکب ہوتے تھے ۔ جس کے زیر اثر عاشق صاحب نے ایک بار بی بی سی بش ہاؤس کی کینٹین میں بعض نامناسب باتیں کیں ۔ میں نے ان کی تردید کی اور اس سے روکا جب وہ نہ مانے تو میں نے کہا کہ آج سہ پہر آپ کی بی بی سی پر تقریر ہے ۔ آپ یہی خیالات نشر کر دیجئے ۔ اس کے بعد کافی دیر تک وہ ساکت و صامت رہے ، اور بات آئی گئی ہو گئی ۔ بہت بعد کو معلوم ہوا کہ "سکول آف اورینٹل اینڈ افریکن سٹڈیز" کی کینٹین میں بھی بعض پاکستانی طلبہ سے تلخ کلامی ہوئی تھی ۔ جس کے ایک آدھ دن بعد کسی من چلے نے عاشق صاحب سے کہا کہ ایک پٹھان چھرا لیے آپ کی تلاش میں ہے تو وہ ہفتہ بھر گھر سے باہر نہ نکلے۔

"میں نے جب داڑھی رکھی تو عاشق صاحب کو اچھی نہ لگی ۔ کہنے لگے ، قاضی صاحب! کیا آپ بہروپیئے ہیں؟" اس سوال کا جواب خاموشی کے سوا اور کیا ہو سکتا تھا ۔"

"ایک بار بیئر شوق فرما کر وہ پب سے باہر آ رہے تھے ۔ تبلیغی جماعت کے ایک سیاح مبلغ نے انہیں راستے میں روکا اور بڑے ادب سے سلام کیا اور اپنا تعارف کرایا ۔ انہیں (جیسا کہ تبلیغی بھائیوں کا دستور ہے) خود کلمہ پڑھ کر سنایا پھر اس کا ترجمہ پیش کیا ۔ اور بعد ازاں یہی کچھ عاشق صاحب سے سننے کی خواہش ظاہر کی ۔ وہ بپھر گئے ۔ تبلیغ کرنے آئے ہو؟ وہ سامنے شراب خانہ ہے ۔ اس کے اندر کافر انگریزوں کو دعوت اسلام دو ۔ ویسے تم نے یہاں آنے پر کتنا روپیہ خرچ کیا؟ اس مسکین نے تفصیل بتائی تو اسے آڑے ہاتھوں لیا ۔ تمہیں اس اسراف پر شرم نہ آئی ۔ اس رقم سے کسی محتاج کی بیٹی کے ہاتھ پیلے کیے ہوتے ۔ بھاگ جاؤ یہاں سے ۔ کیا لینے آئے ہو یہاں؟ بیوقوف! بھاگو ، ورنہ......"

"کسی زمانے میں عاشق بٹالوی صاحب بھی بعض مذہبی خیالات سے کھیل کھیلتے تھے ۔ تاہم زندگی کے اس آخری دور میں ان میں دین کے ناتے شوخی اور شرارت پہلے جیسی نہ رہی تھی ۔"

ایک جگہ قاضی صاحب رقم طراز ہیں:

"عاشق صاحب مداہنت کے بغیر صلح کل مسلک کے حامل تھے ۔ وہ کٹر مسلم لیگی بھی

صفحہ 124

رہے۔ لیکن اس کے باوجود وہ بعض غیر مسلم لیگی اکابر کا بے حد احترام کرتے تھے۔ علامہ مشرقی کی ذہانت اور دیانت دونوں کے قائل تھے۔ امیر شریعت عطاء اللہ شاہ بخاری کی جرات اور بے نفسی کے بہت مداح تھے اور جماعت اسلامی کے اکابر میں سے ملک نصر اللہ خاں عزیز کے اعلیٰ صحافیانہ کردار‘ خوش خلقی اور ظرافت کی بہت تعریف کیا کرتے تھے۔

”پاکستان میں اپنی آخری اقامت کے دوران....... وہ جناب محمد حنیف رامے کی اہلیہ شاہین رامے کی وفات کے بعد اظہار تعزیت کے لیے بطور خاص گئے....... ان کے علم میں یہ بات لائی گئی کہ....... رامے صاحب دوبارہ پیپلز پارٹی سے وابستہ ہونے والے ہیں....... عاشق صاحب کا رد عمل معاندانہ نہ تھا۔ وہ اس معاملے میں بہت وسیع النظر واقع ہوئے تھے۔ کوئی کون سی سیاسی جماعت کو پسند کرتا ہے۔ یہ اس کا ذاتی معاملہ ہے۔“

دوسری جگہ قاسمی صاحب نے بٹالوی صاحب کی ایسی باتیں بیان کی ہیں جن سے ان کی اس صلح کل مسلک کی خود ہی تردید ہو جاتی ہے۔۔۔۔ لکھتے ہیں:

”بیورو کریسی میں چند افراد انہیں ناپسند تھے‘ بالخصوص مرحوم ایس ایم اکرام اور قدرت اللہ شہاب کو بہت ناپسند کرتے تھے۔ اول الذکر کی علمی وجاہت کے وہ ہرگز قائل نہ تھے اور موخر الذکر سے انہیں گلہ تھا کہ انہوں نے لندن میں پاکستانی سفارت خانے کے ذریعے ان کی (عاشق حسین بٹالوی) کی ایک تعلیمی سکیم چرا لی تھی؟“

”مولانا ابوالکلام آزاد سے انہیں خاص کد تھی۔ وہ موقع بے موقع ان کے استہزا سے لطف اندوز ہوتے تھے۔ انہیں ان سے گلہ تھا کہ وہ پنجاب الاصل پیر زادے ہونے کے باوجود مکی اور دہلوی ہونے کا تاثر دیتے تھے۔“

”وہ ہند کانگریس کی قیادت سے بھی نالاں تھے اور مولانا ابوالکلام آزاد کے تو وہ سخت مخالف تھے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی وہ مسلم لیگ کو معصوم اور خطاؤں سے مبرا نہیں سمجھتے تھے۔ قائد اعظم کے انتہائی احترام کے باوجود ان کے سیاسی تجزیوں اور فیصلوں کے بارے میں ناخوش تھے۔“

ایک جگہ قاسمی صاحب لکھتے ہیں:

”ہمارے یہاں سوء ظن کا بہت رواج ہے اور انگریزی محاورے کے بقول ہم نتائج تک چھلانگ لگانے کے خوگر ہیں۔ اپنی پریکٹس کے دوران اعجاز صاحب (برادر عاشق حسین

صفحہ 125

بٹالوی) قادیانیوں کے وکیل رہے ہیں۔ اس سے ان کے عقیدہ کے بارے میں غلط رائے قائم کی گئی حالانکہ اس بٹالوی خاندان کے افراد صحیح العقیدہ سنی مسلمان ہیں۔“

دوسری طرف قاسمی صاحب نے قادیانی اکابر سے عاشق صاحب کے درج ذیل تعلقات کا ذکر کر کے خود ہی اپنی مذکورہ بالا بات کا رد مہیا کر دیا۔ تحریر کرتے ہیں:

”قیام پاکستان کے فوراً بعد ان کی ملاقات مرزا بشیر الدین محمود سے ہوئی جو قادیان سے لاہور آمد پر انہیں وہاں دیکھ کر بہ تکرار کہنے لگے۔ ”آپ آگئے؟ آپ آگئے؟“ اور بعد کو ایک خصوصی ایلچی کے ہاتھ رقعہ بھیجا اور پانچ سو روپے بطور امانت پیش کیے۔ یہی رقعہ آگے چل کر سر ظفر اللہ خان کے ساتھ ان کے گہرے دوستانہ مراسم کا سبب بنا۔“

”چوہدری ظفر اللہ خان کے ساتھ ان کے خصوصی مراسم تھے۔ یوں تو بٹالہ اور قادیان کے قرب مکانی کے باعث بہت سے اصحاب کے باہمی تعلقات انفرادی یا خاندانی حوالوں سے ممکن رہے ہیں۔ تاہم چوہدری سر ظفر اللہ خان کے ساتھ عمیق اور پائیدار وابستگی کی اصل وجہ وہ رقعہ تھا۔ جس کا ذکر اوپر آچکا ہے۔ یہ رقعہ عاشق صاحب کو احمد کمیونٹی کے تیسرے مذہبی پیشوا مرزا بشیر الدین محمود نے قیام پاکستان کے معاً بعد دورہ لاہور کے موقع پر لکھا تھا۔ عاشق صاحب نے جب اس کا ذکر چوہدری صاحب سے کیا تو وہ نہ مانے۔ اس بناء پر کہ ان کے حضرت صاحب بطور معمول ایسے حضرات کو ہمیشہ اپنے پرائیویٹ سیکرٹری کے ذریعہ خطوط یا پیغامات بھجواتے تھے۔ تاہم جب وہ رقعہ پیش کیا تو چوہدری صاحب فرط عقیدت سے آبدیدہ ہو گئے۔ اسے چوما، آنکھوں سے لگایا اور فرمائش کی کہ یہ رقعہ ان کو مرحمت کر دیا جائے۔ عاشق صاحب نے ان کی فرمائش پوری کر دی اور اس طرح ایک لازوال دوستی وجود میں آگئی۔ چوہدری صاحب ان کے گرویدہ ہو گئے۔ ایک بار چوہدری صاحب بی بی سی آئے۔ ڈائریکٹر جنرل نے ان کا استقبال کیا۔ آنے کے ساتھ ہی انہوں نے بٹالوی صاحب کا پوچھا۔ بس ایک تہلکہ مچ گیا۔ بی بی سی نے بعد ازاں انہیں کبھی نظر انداز نہیں کیا۔

اپنے آخری ایام میں عاشق صاحب، چوہدری صاحب کی یادداشتوں کی تدوین، طباعت اور پروف ریڈنگ میں منہمک تھے۔ چوہدری صاحب جس زمانے میں عالمی عدالت کے جج تھے اور بعد کو چیف جسٹس بھی رہے، لندن آتے جاتے تھے۔ عاشق صاحب سے

صفحہ 126

ملاقات کے ہمیشہ متمنی رہتے تھے۔ لیکن عاشق صاحب اپنی دھن کے پکے اور اپنے تحقیقی مقصد کی تکمیل کے لیے اپنے مطالبے میں سخت گیر واقع ہوئے تھے۔ چودھری صاحب کا ان سے مطالبہ یہ تھا کہ جب آپ کے پاس پانچ چھ گھنٹے فالتو ہوں تو مجھے ملاقات کا موقع دیں ورنہ نہیں۔

ایک روز خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ مجھے عاشق صاحب کا فون آیا کہ چودھری صاحب لندن میں ہیں اور آج میری شرط پوری کر سکتے ہیں۔ وہ مجید نظامی صاحب (موجودہ ایڈیٹر نوائے وقت) کو اور مجھے اس ملاقات میں شریک کرنا چاہتے ہیں۔ مجید نظامی صاحب اس روز لندن سے باہر تھے۔ لہٰذا عاشق صاحب نے مجھے طلب فرمایا۔ پکاڈلی سرکس کے قریب ایک اعلیٰ درجے کے ریستوران میں جس کی اندرونی چھت سنہری تھی، یہ محفل بپا ہوئی۔ پہلے کافی کا دور چلا۔ پھر دوپہر کا کھانا ہوا اور اس کے بعد چائے پی گئی۔ اس دوران بیسیوں سوالات انہوں نے چودھری صاحب سے کیے اور بڑی شرح وبسط کے ساتھ ان کے جوابات حاصل کیے۔ پرانے ہم عصروں میں سے ایک موقع پر علامہ اقبال کے ایک مرحوم ہم عصر، پیر تاج الدین صاحب کا شاید ذکر آیا تو ان کی کثرت روایات کے پیش نظر عاشق صاحب نے انہیں اس دور کے ابوہریرہ کا خطاب دیا۔ مجھے چودھری صاحب کے ردعمل سے نہایت خوشگوار تعجب ہوا۔ وہ دوستانہ انداز میں لیکن بڑی مضبوطی کے ساتھ برہم ہوئے اور کہنے لگے: ”ایسا ہرگز نہ کہیں کیونکہ رسول کریم علیہ الصلوۃ والسلام کے ایک جلیل القدر صحابی کی شان میں گستاخی ہوگی۔“

عاشق صاحب نے فوراً تصحیح کرلی..... اس ملاقات کے چند ہفتے بعد عاشق صاحب بی بی سی آئے اور مجھ سے مخاطب ہوئے بغیر مجھ پر برس پڑے۔ مغلظات سے بھی نوازا۔ میری سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ یہ چکر کیا ہے۔ لب لباب یہ تھا کہ کسی نے چودھری صاحب کو ایک خط لکھا کہ عاشق بٹالوی آپ کی نجی زندگی کے بارے میں ناخوشگوار گپ شپ میں حصہ لیتے ہیں۔ یہ بات اپنی جگہ صحیح تھی کیونکہ وہ نہ صرف چودھری صاحب کے خلاف بلکہ مرزا بشیر الدین محمود کی عیاشی کے قصے بھی مزے لے لے کر بیان کرتے تھے۔ کوئی ان کو اس سے نہیں روک سکتا تھا۔ اس کا مثبت پہلو یہ تھا کہ جو لوگ ان کو قادیانیت نواز سمجھتے تھے۔ ان کا منہ بند کیا جاسکتا تھا۔ کیونکہ جو شخص قادیانیوں کے مذہبی پیشوا کے بارے میں ایسے رویہ کا

صفحہ 127

حامل ہو، وہ ختم نبوت کا منکر کیوں کر ہو سکتا ہے۔۔۔۔۔؟"

"وہ ہمیشہ سچائی کے جویا رہے اور ہمیشہ سچائی کی حمایت کرتے رہے۔"

اس حوالے سے یہاں بٹالوی صاحب کی ایک تاریخی تحریف کا ذکر کرنا بے موقع نہ ہو گا کہ کافی عرصہ قبل جناب عاشق حسین بٹالوی انگلستان سے پاکستان تشریف لائے تو انہیں پنجاب یونیورسٹی میں اقبال پر لیکچر دینے کے لیے مدعو کیا۔ اس وقت انہوں نے تحریک پاکستان پر مختصراً تین لیکچر دیے۔ بٹالوی صاحب نے اپنے دوسرے لیکچر میں مجلس احرار پر الزام لگاتے ہوئے کہا:

"یوں تو احرار مسلم لیگ پارلیمینٹری بورڈ میں شامل ہو گئے تھے۔ لیکن انہیں یہ غلط فہمی تھی کہ مسٹر جناح نے بمبئی کے تاجروں اور اودھ کے تعلق داروں سے کئی لاکھ روپے جمع کیے ہیں جو آئندہ الیکشن میں لیگی امیدواروں کے کام آئیں گے۔ اس مغالطے میں مبتلا ہو کر چودھری افضل حق اور مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی وغیرہ یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ اس فنڈ سے کم از کم ایک لاکھ روپیہ پنجاب کے حصہ میں ضرور آئے گا۔ میاں فضل حسین ایسے باخبر آدمی بھی اسی غلط فہمی کا شکار تھے۔

جہاں تک میری یادداشت کا تعلق ہے۔ مسٹر جناح نے اپنی تقریر یا تحریر میں یہ نہیں کہا تھا کہ ان کے پاس لاکھوں کا سرمایہ موجود ہے۔ لاکھوں کا کیا ذکر ان کے پاس تو چند ہزار کی رقم بھی نہ تھی۔ انہوں نے یہ بات واضح کر دی تھی کہ مسلم لیگ پارلیمینٹری بورڈ کے امیدواروں کو اپنے الیکشن کے مصارف خود برداشت کرنا ہوں گے۔

بہر حال جب احرار کو پتہ چلا کہ پارلیمینٹری بورڈ کے پاس کوئی رقم نہیں تو انہوں نے سوچا کہ اگر الیکشن پر اپنی جیب سے خرچ کرنا پڑا تو پھر وہ آئندہ انتخابات میں جناح کا توسل کیوں اختیار کریں؟ کیا احرار اتنے گئے گزرے ہیں؟ اور کیا پنجاب میں ان کی اتنی ساکھ بھی نہیں کہ وہ مسلم لیگ کے ٹکٹ کے بغیر الیکشن کی جنگ نہ جیت سکیں گے؟ چنانچہ ان خیالات سے متاثر ہو کر انہوں نے مسلم لیگ پارلیمینٹری بورڈ سے استعفیٰ دے دیا اور اس طرح مسلم لیگ اور احرار کا عارضی اتحاد ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا۔ اس حادثہ کی تہہ میں کوئی اصولی اختلاف نہ تھا۔ صرف تقسیم زر کے بارے میں غلط فہمی تھی۔ (اقبال اور تحریک پاکستان نمبر ۲، ص ۴۴، ۴۵)

صفحہ 128

اس تاریخی تحریف اور سراسر جھوٹے الزام پر ڈاکٹر صاحب کا مواخذہ کرتے ہوئے ایڈیٹر ہفت روزہ ”چٹان“ لاہور جناب شورش کاشمیری مرحوم نے لکھا: ”جواب اس کا مدلل بھی ہے اور مسکت بھی، مگر ہم اس ساز کے تاروں کو چھیڑنا نہیں چاہتے کیونکہ ؎

اس میں کچھ پردہ نشینوں کے بھی نام آتے ہیں

ہمیں زیادہ تعجب خود ڈاکٹر صاحب پر ہے کہ ان کے قلم سے اس قسم کی باتیں اس مرحلہ پر نکل رہی ہیں کہ جواب آں غزل میں خواہ مخواہ سنگینی پیدا ہو جاتی ہے۔“

ڈاکٹر صاحب خود ہی مقدمہ قائم کرتے اور خود ہی شاہد بن جاتے اور پھر خود ہی منصف کہلانا چاہتے ہیں۔ یہ اصول وقائع نگاری کے خلاف ہے۔ انہیں اپنے دعاوی کے لیے سند شہادت لانا چاہیے۔ صرف ان کا بیان ہی ثقاہت کی دلیل نہیں ہو سکتا۔ غالباً یہ بات ڈاکٹر صاحب کے نوٹس میں نہیں آئی کہ لوگ ان کی روایتوں کو واقدی کے ترازو میں تولتے اور جائز طور پر سرگوشی کرتے ہیں کہ :

”وہ انہی لوگوں کے بارے میں حکایتیں بیان کرنے کی زحمت فرماتے ہیں جو اللہ کو پیارے ہو چکے ہیں اور ان لوگوں کے بارے میں قلم نہیں اٹھاتے جو زندہ ہیں۔“ بٹالوی صاحب کا کوئی راوی یا روایتوں کا کوئی گواہ زندہ بھی ہے؟ انہوں نے اپنے قلم کو سرکوبی کے لیے مرحومین کی قبروں کو منتخب کیا ہے تو کیوں؟ کیا اس لیے کہ ان کی مدافعت کا ماحول نہیں رہا اور کرگسوں کو عقابوں کا نام دینا شیوہ بن چکا ہے؟“

معلوم ہوتا ہے ڈاکٹر صاحب کی نظر سے ”تاریخ احرار“ مصنفہ چودھری افضل حق نہیں گزری؟ یہ واقعہ اس میں من و عن درج ہے۔ ملاحظہ ہو۔ ”تاریخ احرار“ ص ۱۸۳ مطبوعہ زمزم بک ایجنسی بیرون موری دروازہ لاہور، پہلا ایڈیشن۔

”جوں ہی ہم نے لیگ میں داخل ہونے کا فیصلہ کیا۔ امراء کے ایوانوں میں زلزلہ آیا۔ امراء نے سوچا کہ مفلسی ہمارے گھر میں کیسے گھس آئی؟ کوئی تدبیر لڑاؤ کہ احرار، مکھن سے بال کی طرح نکال دیئے جائیں۔ سرمایہ دار بے حد ہوشیار تھا۔ احرار کا اخلاص تدبیر سے لاپرواہ رہا۔ مگر تدبیر کیا کرتے؟ جہاں سرمایہ کا سوال ہو وہاں اخلاص کو ہتھیار ڈال دینے ہوتے ہیں۔ پہلے لیگ کا ٹکٹ حاصل کرنے کے لیے پچاس روپے کی رقم مقرر تھی۔ اب

صفحہ 129

احرار کو لیگ کے ٹکٹ کا خریدار دیکھ کر ارباب لیگ نے رقم ۵۰ روپے کر دی تاکہ احرار کا کوئی امیدوار اتنی رقم دے کر ٹکٹ حاصل نہ کر سکے۔ ہم نے ہزار چاہا کہ یہ رقم ڈھائی سو ہی ہو جائے تو مشکل آسان ہو مگر اس میں کامیابی بہت دور دکھائی دی۔ ناچار احرار نے اپنے ٹکٹ پر الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا۔ جب امراء لیگ نے سمجھا کہ اب خطرہ ٹل گیا ہے تو پھر وہی پچاس روپے شرح ٹکٹ ٹھہری۔ غریبوں کا امیروں کے نظام میں گھس آنا آسان نہیں۔ جو اسے کھیل سمجھتے ہیں۔ تجربہ کی تلخی سے بالآخر منہ بسورتے ہیں۔ جمہوری ادارے جن پر سرمایہ دار قابض ہوں۔ ان میں داخل ہونا بڑا کٹھن کام ہے۔ پھر اس پر قابض ہو کر عوام کے لیے مفید مطلب کا کام چلانا کھیل نہیں۔"

"تاریخ احرار" کو شائع ہوئے آج پچیس سال ہو چکے ہیں۔ اس اثناء میں کسی شخص نے اس تحریر کی تردید نہیں کی۔ پیر تاج الدین‘ ماسٹر غلام رسول اور ملک برکت علی سب زندہ تھے۔ اس زمانہ میں سیاسی آب و ہوا کا مزاج نسبتاً جوش و خروش پر تھا۔ لیکن آج اس طویل عرصہ کے بعد ڈاکٹر صاحب کے غیب پر ان حقائق کا انکشاف ہو رہا ہے۔

یہ صحیح ہے کہ سیاسیات میں احرار کو شکست ہو گئی۔ یہ بھی صحیح ہے کہ احرار کے وجود پر ان لوگوں نے بھی گرد و غبار اڑایا۔ جو کیلے کی ایک پھلی‘ سگریٹ کے ایک کش اور بستر کی ایک شکن پر فروخت ہو جاتے ہیں۔ اس میں بھی کلام نہیں کہ احرار میں بعض دوسرے درجہ کے لوگ‘ جو بعد میں اول درجہ کے رہنما ہو گئے۔ کسی لحاظ سے بھی قابل ذکر نہیں۔ لیکن چوہدری افضل حق یا سید عطاء اللہ شاہ بخاری کے بارے میں یہ سوچنا بھی عظیم گناہ ہے کہ وہ جلب منفعت یا حصول زر کے آدمی تھے۔ یہ بکنے والے ہوتے تو ان کے خریدنے والے خود بڑھ بڑھ کر انہیں خریدتے۔ کسی آدمی کے متعلق صحیح شہادت اس کے ساتھی دے سکتے ہیں یا وہ جنہیں ان سے بلاواسطہ مطالعہ کا موقع ملا ہو۔ اس شخص کی شہادت کبھی ثقہ نہیں ہو سکتی جو ان کے عیبوں کی تلاش میں دور تک نکل گیا ہو اور جب اس کے سفر ناتمام کو کچھ ہاتھ نہ آیا تو افسانے تراشنے میں باک محسوس نہ کیا۔ دشمن کی شہادت‘ دوست کے بارے میں کبھی مستند نہیں ہو سکتی۔۔۔۔"

(ہفت روزہ "چٹان" لاہور‘ شمارہ نمبر ۱۸‘ جلد نمبر ۲۰‘ مورخہ یکم مئی ۱۹۶۷ء)

جعفر قاسمی صاحب نے عاشق حسین بٹالوی کے تذکرے میں قلم سے موتی بکھیرے

صفحہ 130

ہیں ۔ مگر قاسمی صاحب قبلہ کو ہم سے یقیناً اتفاق ہو گا کہ ایسے مصلحت کوش لوگ ، جن کی اپنی کوئی اٹھان نہیں ہوتی ۔ وقت و حالات کے ساتھ ساتھ بدلتے رہتے ہیں ۔ باہر کچھ ۔۔۔۔۔ اندر کچھ ۔۔۔۔۔ صبح کچھ ۔۔۔۔۔ شام کچھ ۔

رقیب روسیاہ و عاشق برگشتہ خو ناخوش
مزاج حلقہ زہرہ وشاں یوں بھی ہے اور یوں بھی

قاسمی صاحب ! ایک طرف تو آپ بٹالوی صاحب کو ، دوستوں کے ساتھ بات بات پر جھنجلاہٹ اور بدگمانی کا اظہار کرنے والا ، مسلمان اکابر کے استہزا سے لطف اندوز ہونے والا ایک جید صحابیؓ کے نام کو ایک دنیا دار عام انسان پر منطبق کرنے والا ۔۔۔۔۔ شراب پی کر اسلام کی تبلیغ کرنے والوں پر برسنے والا اور ان کی بے عزتی کرنے والا ، رسول اکرم ﷺ کی نبوت کے دشمنوں کا گہرا دوست اور پب اور کلب کا آدمی بتاتے ہیں ۔ اور دوسری طرف آپ عاشق حسین کو حضرت علیؓ کے اس ارشاد کا مصداق ٹھہراتے ہیں کہ :

”جب تک علم کو اپنا کل نہ دو گے وہ تمہیں اپنا جزو نہیں دے گا ۔“

اور پھر کہتے ہیں :

عاشق صاحب نے علم کو اپنا کل دے دیا اور علم نے ان کو اپنا جزو عطا کر دیا تھا ۔

بجز اس کے کیا کہا جا سکتا ہے ۔

اک طرف گیسوئے عذرائے سخن کی رونق
اک طرف جبہ و دستار خدا خیر کرے

(ماہنامہ ”نقیب ختم نبوت“ ملتان ، مئی ۱۹۹۰ء)

صفحہ 131

مرزا طاہر کی بوکھلاہٹ

قادیانی سربراہ مرزا طاہر احمد قادیانیت کی ریت کی دیوار کو تیزی سے گرتا دیکھ کر بہت پریشانی اور مایوسی سے دوچار ہے۔ اس کا اظہار اس کی ان روتی پیٹتی فریادوں سے ہوتا ہے جو وہ جمعہ کے دن لندن میں اپنی پریشان حال امت کے سامنے خطبہ جمعہ کے نام سے سرانجام دیتا ہے۔ وہ جمعہ کی ان فریادوں میں اپنے مایوس اور بغاوت پر تلے ہوئے مریدوں کو ڈھارس دینے کی ناکام کوشش کرتا ہے۔ یہ فریاد بڑے اہتمام سے ٹیپ کرا کے ان کی کیسٹیں پاکستان میں قادیانیوں کے ہر گھر میں پہنچانے اور سنوانے کا انتظام کیا جاتا ہے۔ اسی قسم کا ایک کیسٹ جو مرزا طاہر کی جمعہ ۱۳ فروری کی فریاد پر مشتمل ہے‘ آج کل قادیانیوں کو سنوائی جا رہی ہے۔ مرزا طاہر نے اس میں اپنے مریدوں کی حالت پر بڑی نا امیدی اور رنج و غم کا اظہار کیا ہے کہ وہ خطوط میں اور ان کے سامنے بھی اس قسم کے جذبات کا اظہار کرتے ہیں کہ ان کو مرزا غلام احمد کی حکومت ملنے اور فتوحات کی بشارات پر کوئی یقین نہیں رہا۔ اور جس کو بھی قادیانیت کی تبلیغ کے لیے کہا جاتا ہے‘ وہ صاف انکار کر دیتا ہے۔ اس جمعہ کی فریاد میں مرزا طاہر کی آواز بھی بھرائی ہوئی ہے۔ اور جگہ جگہ بوکھلاہٹ بھی واضح ہے۔ (یہ کیسٹ قارئین حضرات دفتر ختم نبوت میں تشریف لا کر سماعت فرما سکتے ہیں)

انہوں نے کہا کہ میں نے تلقین کی تھی کہ ہر قادیانی اتنی شدت سے قادیانیت کی تبلیغ میں لگ جائے کہ ہزاروں کو لاکھوں میں بدل کر رکھ دے۔ مگر کسی نے اس پر عمل نہیں کیا۔ قادیانیت نہ پھیلنے سے مایوسی اور بے یقینی پھیل رہی ہے۔ انہوں نے مریدوں سے

صفحہ 132

سخت شکوہ کیا ہے کہ تم لوگوں کو یقین ہی نہیں تو پھر کرنا ہی کیا ہے۔ قادیانی خطوط میں لکھتے ہیں کہ یہ قصے ہیں‘ کہانیاں ہیں اور کسی کو حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی بشارتوں پر یقین نہیں رہا۔ انہوں نے اس امر پر بھی بہت رنج کا اظہار کیا کہ میں نے قادیانیت کی تبلیغ کے مطالبے میں بہت نرمی کر کے کہا تھا کہ سال میں صرف ایک قادیانی ہی مزید بنائے مگر اس کے جواب میں بھی لوگ کہتے ہیں اور خطوط بھی آئے ہیں کہ سال میں ایک قادیانی بنانا بھی ناممکن ہے‘ اور کہتے ہیں کہ یہ کہہ دینا آسان ہے مگر قادیانی بنانا ناممکن ہے۔ مرزا طاہر نے کہا کہ ایک مشہور قادیانی سے انہوں نے کہا کہ وعدہ کرو کہ سال میں ایک قادیانی بناؤ گے۔ تو اس نے جواب دیا کہ جھوٹا وعدہ نہیں کر سکتا۔ اس جواب پر مرزا طاہر بہت چراغ پا ہوئے اور ٹمپر لوز (Temper Loose) کر گئے اور اس پر اتنے مزید برس پڑے کہ تم اپنے بچوں سے سیر پر لے جانے کا وعدہ تو کر سکتے ہو‘ بیوی کو سینما لے جانے اور شاپنگ کرانے کا وعدہ تو کر سکتے ہو مگر قادیانیت کی تبلیغ کے لیے کہہ دیتے ہو کہ جھوٹا وعدہ نہیں کر سکتا۔ تمہارا ایمان کمزور ہو گیا ہے اور مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی باتوں پر عدم یقینی پیدا ہو گئی ہے۔

انہوں نے بپھر کر اپنے ہی قادیانی مریدوں کو خوب مغلظات سنائیں کہ یہ لوگ بدتر ہو گئے ہیں اور تضحیک کرنے (یعنی تمسخر اور ٹھٹھا) کرنے لگ گئے ہیں۔ انہوں نے اپنے پریشان اور بغاوت پر آمادہ مریدوں سے اپیل کی کہ اس بے یقینی‘ تنقید اور خلیفے کی تضحیک کی بیماری کو کچلیں۔ انہوں نے بڑے حسرت ناک لہجے میں کہا کہ بڑے بڑے مخلص قادیانی بھی بدک رہے ہیں اور بہت سے تو کہتے ہیں کہ تقدیر ہی ہمارے خلاف ہے اس لیے قادیانیت کیسے پنپ سکتی ہے۔

انہوں نے آگے چل کر کہا کہ قادیانی تحریک کا مقصد تو ساری دنیا کو فتح کرنا ہے۔ مگر اپنے پرائے کوئی بھی ان کے اس دعویٰ پر یقین نہیں کرتے اور انہیں پاگل سمجھتے ہیں۔ انہوں نے ایک پریس کانفرنس کا ذکر کیا کہ جب انہوں نے کہا کہ وہ ساری دنیا کو فتح کر کے اس پر قادیانیت کا جھنڈا گاڑ دیں گے تو پریس کے نمائندے انہیں پاگل سمجھ کر زیر لب مسکرانے لگے۔ مرزا طاہر نے شکوہ کیا کہ پہلے تو ان کے مرید ان بشارتوں پر یقین رکھتے تھے مگر اب ان میں بھی اتنی مایوسی‘ بد دلی اور ایمانی کمزوری پیدا ہو گئی ہے کہ وہ بھی مرزا غلام احمد کی بشارتوں اور فتوحات کی باتوں کو ناممکن سمجھنے لگ گئے ہیں۔ قادیانی گروہ کو مایوسی اور

صفحہ 133

شکست خوردگی کی دلدل سے نکالنے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے بڑے زور سے اپنی بھرائی ہوئی اور ہکلاہٹ بھری آواز میں فریاد کی کہ اپنی ڈکشنری سے ناممکن کا لفظ نکال دو۔ انہوں نے دنیا میں قادیانیت کی تبلیغ پر اپنی جماعت کے رد عمل کی مثال اس بادشاہ سے دی جس نے ایک تالاب بنوایا اور رعایا سے اپیل کی کہ ہر فرد ایک ایک لوٹا دودھ کا اس میں ڈال دے۔ بادشاہ کا خیال تھا اس طرح تالاب دودھ سے بھر جائے گا۔ لیکن ہوا یہ کہ ہر شخص نے سوچا کہ اگر میں اپنا دودھ کا لوٹا نہ ڈالوں تو کیا فرق پڑے گا۔ چنانچہ اگلے دن جب بادشاہ تالاب دیکھنے گیا تو وہ بالکل خالی تھا۔ کسی نے بھی اس میں اپنے حصہ کا دودھ نہ ڈالا۔ یہ مثال دینے کے بعد مرزا طاہر نے یاس بھرے لہجے میں قادیانی امت سے شکوہ کیا کہ آج کل وہ قادیانیت کے بچاؤ اور ترقی کے لیے جو بھی اپیل اور کوشش کرتے ہیں، اس کا بھی یہی حشر ہوتا ہے یعنی ان کی شاہانہ امیدوں اور فتوحات کی تمناؤں کے تالاب میں سوائے حسرت و یاس اور ناامیدی کے کچھ میسر نہیں ہوتا۔

قادیانیت کے حسرت ناک انجام کے پیش نظر مرزا طاہر نے اپنے اندھے عقیدت مندوں کو تنبیہ کی کہ اپنا ایمان (مرزا قادیانی) پر مضبوط کرو۔ ان کی بشارتوں پر یقین رکھو۔ فتح اور حکومت ملنے پر ایمان رکھو۔ اگر تنقید اور تضحیک کرو گے، اگر ان باتوں پر عدم یقین ہوگا یا ناممکن خیال کرو گے تو فتح اگلی صدیوں پر جا پڑے گی۔ (قادیانی سربراہ پہلے کہا کرتے تھے کہ ایک صدی پوری ہونے تک ان کی حکومت آجائے گی اور فتوحات ہو جائیں گی۔ چنانچہ اس فتح کی خوشی میں نصرت جہاں جوبلی فنڈ ۱۹۸۶ء میں منانے کا پیشگی اعلان کر کے کروڑوں روپے کا فنڈ بھی اکٹھا کر لیا گیا مگر فتح کی بجائے صدی کے اختتام سے پہلے ہی قادیانیت چاروں شانے چت ہو کر ساری دنیا میں رسوا ہو گئی اور ان کا نام نہاد خلیفہ بادشاہت کی حسرت لیے در بدر ہو کر در در کی خاک چھاننے پر مجبور ہو گیا ہے۔ اس صورت حال کے پیش نظر قادیانیوں کے گرد گھومتی اس ناکامی اور شکست کی ذمہ داری اپنے اندھے عقیدت مند بد قسمت قادیانیوں کی ایمانی کمزوری اور بے یقینی پر ڈال کر اپنی جان چھڑانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مرزا طاہر نے یہ بھی کہا کہ ان کی جماعت کے خلاف نازیوں کی طرح منظم اور شدید پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے جس سے قادیانی گروہ میں شدید مایوسی، بددلی اور بے یقینی پیدا ہو گئی ہے اور ان کے پرانے اور مخلص مرید بھی ان کے احکامات نہیں

صفحہ 134

مانتے۔ بلکہ تنقید اور تضحیک کرنے لگ گئے ہیں۔

معزز قارئین! مرزا غلام احمد قادیانی نے انگریزوں کی قوت کے بل بوتے پر اور اپنی شاطرانہ چالوں سے ایک صدی قبل ختم نبوت کی فصیل میں نقب زنی کی تھی۔ اس کا حسرت ناک انجام آپ کے سامنے ہے۔ الحمد للہ کہ اس سلسلہ میں عالمی تحریک ختم نبوت کو اللہ تعالیٰ کی خاص تائید ونصرت سے فتح حاصل ہو رہی ہے۔ لیکن دشمن اب بھی جگہ جگہ منظم ہو کر اپنے بچاؤ کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہا ہے۔ اس لیے قارئین خود اور اپنے حلقہ اثر میں تمام مسلمانوں کو بھی تحریک ختم نبوت میں دامے درمے سخنے حصہ لینے کی تلقین کریں۔ اپنے حلقہ اثر میں قادیانی حضرات کو ہفت روزہ ختم نبوت اور دیگر لٹریچر بہم پہنچائیں۔ ضرورت ہو تو دفتر ختم نبوت میں لائیں۔ ہر طرح کوشش کر کے اس گروہ کو دوبارہ امت محمدیہ کے جھنڈے تلے لانے کے لیے عالمی تحریک ختم نبوت کا ساتھ دے کر شافع محشر ﷺ کے حضور سرخرو ہوں۔

(ہفت روزہ ”ختم نبوت“ کراچی، جلد ۵‘ شمارہ ۴۶‘ از قلم: م۔ب)

صفحہ 135

قادیانیوں کا کیپ ٹاؤن جنوبی افریقہ میں

مسلمانوں کے خلاف مقدمہ

تحریر: جسٹس حضرت مولانا محمد تقی عثمانی (جج وفاقی شرعی عدالت پاکستان)

رمضان المبارک کے آغاز کی بات ہے کہ جنوبی افریقہ کے شہر جوہانسبرگ سے مجھے اپنے دوست ابوبکر دراچھیا کا ایک تار موصول ہوا۔ اس تار میں کہا گیا تھا کہ کیپ ٹاؤن کی سپریم کورٹ میں قادیانیوں نے مسلمانوں کے خلاف ایک درخواست دائر کر کے عبوری حکم امتناعی حاصل کر لیا ہے۔ اس مقدمے میں مسلمانوں کی طرف سے جوابی کارروائی میں مدد دینے کے لیے آپ کی فوری حاضری ضروری ہے۔ تار میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ حکم امتناعی کی توثیق کے لیے ۱۶ اگست کی تاریخ مقرر ہوئی ہے۔ چونکہ پاکستان سے فون یا ٹیلیکس کے ذریعہ جنوبی افریقہ سے رابطہ قائم کرنا ممکن نہیں‘ اس لیے میں نے تار ہی کے ذریعہ جواب دیا اور مسئلے کی اہمیت کے پیش نظر آنے کا وعدہ کر لیا۔ کچھ عرصے کے بعد ایک اور ٹیلی گرام سے معلوم ہوا کہ اب حکم امتناعی کی توثیق کی تاریخ بڑھ گئی ہے۔ نیز یہ کہ کیپ ٹاؤن اور جوہانسبرگ کے احباب نے فون پر بار ہا مجھ سے رابطہ قائم کرنے کی کوشش کی‘ لیکن مجھ سے ملاقات نہ ہو سکی۔ اس دوسرے تار کے جواب میں احقر نے اپنے پاسپورٹ وغیرہ کی تفصیلات جنوبی افریقہ روانہ کردیں تاکہ وہاں ویزے کے لیے کوشش کی جاسکے۔

حکم امتناعی کی توثیق کے لیے نئی تاریخ ۹ ستمبر مقرر کی گئی تھی۔ اس دوران معلوم ہوا کہ کیپ ٹاؤن کے بعض مسلمانوں نے حکومت پاکستان‘ رابطہ عالم اسلامی اور بعض

صفحہ 136

دوسرے حضرات سے بھی اس مقدمے میں مدد کی درخواست کی ہے۔ مسئلے کی اہمیت ہر مسلمان کے لیے مسلم تھی‘ اس لیے جس شخص سے اس بارے میں مدد کی فرمائش کی گئی‘ وہ فوراً جانے کے لیے تیار ہو گیا۔ لیکن مسئلہ یہ تھا کہ جنوبی افریقہ سے سفارتی تعلقات نہ ہونے کے سبب ویزا وہیں سے آ سکتا تھا اور ۴ ستمبر تک کسی ایک شخص کا بھی ویزا موصول نہیں ہوا تھا۔ تاریخ کے قریب آنے کی وجہ سے اب پاکستان میں مزید انتظار ممکن نہ تھا اس لیے طے یہ ہوا کہ یہاں سے روانہ ہو کر نیروبی پہنچ جائیں اور وہاں سے فون پر رابطہ قائم کر کے ویزا حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ چنانچہ ۱۸ افراد کا ایک قافلہ سفر کے لیے تیار ہو گیا۔ ان میں سے احقر نجی دعوت کی بنیاد پر جا رہا تھا۔ ادھر مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے مولانا عبدالرحیم اشعر‘ مولانا مفتی زین العابدین‘ حاجی غیاث محمد صاحب سابق اٹارنی جنرل پاکستان اور ریاض الحسن گیلانی ایڈووکیٹ بھی جانے کے لیے تیار تھے۔ جبکہ رابطہ عالم اسلامی کی طرف سے مولانا ظفر احمد انصاری اور (ریٹائرڈ) جسٹس محمد افضل چیمہ صاحب کو نامزد کیا گیا۔ مولانا ظفر احمد صاحب انصاری نے سفر میں اپنی مدد کے لیے جناب عبدالمجید صاحب کو بھی ساتھ لے لیا تھا۔

اس طرح ۵ ستمبر کی شام کو سات بجے نو افراد کا یہ قافلہ پی آئی اے کے طیارے سے نیروبی روانہ ہوا اور راستے میں دبئی رکتا ہوا مقامی وقت کے مطابق رات کے ایک بجے نیروبی پہنچا۔ یہاں کینیا میں پاکستانی سفیر بریگیڈیئر اشرف صاحب اپنے عملہ کے ساتھ استقبال کے لیے موجود تھے۔ رات کو ہوٹل ہلٹن میں قیام ہوا اور اگلا سارا دن جنوبی افریقہ سے فون پر رابطہ قائم کر کے ویزا کے حصول کی کوشش میں صرف ہوا۔ بالآخر شام چار بجے جوہانسبرگ سے ابوبکر دراچھیا صاحب نے فون پر اطلاع دی کہ ویزا کا انتظام ہو گیا ہے اور انشاء اللہ تمام حضرات کو جوہانسبرگ کے ایئرپورٹ پر ویزا مل جائے گا۔

چنانچہ منگل ۷ ستمبر کی صبح کو نو بجے کے ایل ایم کے طیارے کے ذریعہ ہم نیروبی سے روانہ ہوئے اور تقریباً چار گھنٹے کی پرواز کے بعد مقامی وقت کے مطابق ساڑھے بارہ بجے دوپہر جوہانسبرگ کے جان اسمٹس ایئرپورٹ پر اترے۔ یہاں احباب کا ایک بڑا مجمع استقبال کے لیے موجود تھا۔ طے یہ ہوا کہ آج کا دن جوہانسبرگ ہی میں ٹھہر کر مقدمے کی تفصیلات معلوم کی جائیں۔ واٹر فال کے مدرسے کے مہتمم مولانا ابراہیم میاں صاحب نے سب

صفحہ 137

حضرات کے قیام کا انتظام اپنے مدرسہ میں کیا۔ انتہائی مستعدی کے ساتھ مقدمے کے کاغذات کی کاپیاں ہم سب کو فراہم کیں اور عصر کے بعد کچھ مقامی وکلاء کو جمع کر لیا تاکہ وہ اس ملک کے عدالتی طریق کار کے بارے میں ہمیں ضروری معلومات فراہم کر سکیں۔

جنوبی افریقہ کا عدالتی طریق کار ہمارے ملک کے طریق کار سے قدرے مختلف ہے۔ یہاں مدعی مدعا علیہ پر اصل مقدمہ دائر کرنے سے پہلے ہی اپنی شکایت کو مختصراً بصورت درخواست عدالت کے سامنے پیش کر کے کوئی عبوری حکم حاصل کر سکتا ہے۔ اس غرض کے لیے اسے ایک بیان حلفی داخل کرنا پڑتا ہے جس میں وہ مختصراً اپنی شکایت بیان کر کے ۔۔۔۔۔۔۔ اپنے اس ارادے کا اظہار کرتا ہے کہ میں اس شکایت کی بنیاد پر مدعا علیہ کے خلاف مقدمہ دائر کرنے والا ہوں۔ چونکہ مقدمے کی کارروائی میں دیر لگنے کا امکان ہے اس لیے مجھے اس مدت کے لیے عبوری حکم مطلوب ہے۔ اگر عدالت سمجھے کہ بادی النظر میں مقدمے کی کوئی بنیاد ہے تو وہ فریق ثانی کا موقف سنے بغیر یک طرفہ طور پر بھی عبوری حکم امتناعی جاری کر سکتی ہے لیکن اس کے بعد فریق ثانی سے کہا جاتا ہے کہ وہ اپنا موقف ظاہر کرنے کے لیے بیان حلفی داخل کرے۔ پھر ایک متعین تاریخ پر دونوں فریقوں کے دلائل سن کر یہ فیصلہ کیا جاتا ہے کہ اس یک طرفہ حکم امتناعی کو ختم کیا جائے یا اس کی توثیق کی جائے۔ حکم امتناعی کی توثیق یا عدم توثیق کا فیصلہ ہونے کے بعد مدعی کو اختیار ہوتا ہے کہ وہ ایک معین مدت تک اپنا اصل کیس دائر کرے‘ جسے یہاں کی اصطلاح میں Action Main کہتے ہیں۔ اس ایکشن کی صورت میں فریقین کے گواہان کی پیشی اور مقدمے کی تفصیلی کارروائی کے بعد مقدمے کا فیصلہ ہوتا ہے جس میں بعض اوقات کئی کئی سال لگ جاتے ہیں۔

کیپ ٹاؤن میں مسلمانوں کی تعداد تقریباً چھبیس ہزار ہے اور مرزائیوں کی تعداد دو سو سے بھی کم۔ یہاں مرزائیوں نے ”احمدیہ انجمن لاہور“ کی ایک شاخ احمدیہ انجمن اشاعت اسلام کے نام سے قائم کی ہے۔ اواخر شعبان میں اس انجمن نے کیپ ٹاؤن کے پانچ دینی رہنماؤں کے خلاف درخواست دی کہ وہ ہمارے ارکان کو غیر مسلم قرار دیتے ہیں۔

چنانچہ وہ ہم کو نہ تو مسجدوں میں عبادت کرنے دیتے ہیں‘ نہ مسلمانوں کے قبرستان

صفحہ 138

میں دفن ہونے کی اجازت دیتے ہیں۔ اور ہم چونکہ اس سلسلے میں مدعاعلیہم کے خلاف مفصل مقدمہ دائر کرنے والے ہیں، جس کا فیصلہ ہونے میں کافی دیر لگ سکتی ہے۔ اس لیے مدعاعلیہم کے خلاف اصل مقدمے کے فیصلے تک عبوری حکم امتناعی جاری کیا جائے۔ اس وقت کے جج نے اپنے قواعد کے مطابق ان کو یک طرفہ طور پر حکم امتناعی دے دیا۔ شروع میں اس حکم امتناعی کی توثیق کے لیے ۱۶ اگست کی تاریخ مقرر ہوئی۔ بعد میں اسے بڑھا کر ۹ ستمبر کر دیا گیا۔

اس دوران پانچوں مدعاعلیہم کی طرف سے مفصل حلفی بیانات تیار کیے گئے اور ماہرین کے طور پر واٹر فال کے حضرت مولانا مفتی ابراہیم سنجالوی اور ڈربن کے ڈاکٹر حبیب الحق ندوی نے بھی حلفی بیانات داخل کیے۔

ان حلفی بیانات میں مرزائیت کی تاریخ، مرزا غلام احمد قادیانی کی حقیقت، اس کے درجہ بدرجہ دعووں اور عقیدہ ختم نبوت کی تشریح کی گئی تھی۔ نیز یہ واضح کیا گیا تھا کہ مرزائیوں نے خواہ وہ قادیانی گروپ سے تعلق رکھتے ہوں یا لاہوری گروپ سے، کس طرح عقیدہ ختم نبوت کی کھلم کھلا مخالفت کر کے اپنے آپ کو ملت اسلامیہ سے الگ کر لیا ہے اور دنیائے اسلام نے کس طرح یک زباں ہو کر انہیں کافر اور دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا ہے۔

جنوبی افریقہ میں رہتے ہوئے مرزائیت کے بارے میں جو بنیادی معلومات جمع کی جا سکتی تھیں، ان بیانات حلفی میں وہ بڑی حد تک بیان کر دی گئی تھیں۔ ۱۹۷۴ء کی تحریک ختم نبوت کے موقع پر مسلمانوں کی طرف سے جو بیان حضرت مولانا محمد یوسف بنوری صاحب رحمۃ اللہ علیہ امیر مرکزیہ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان و مجلس عمل کے ارشاد پر احقر اور مولانا سمیع الحق صاحب نے بہ تعاون مجلس تحفظ ختم نبوت مرتب کیا تھا اور جو ملت اسلامیہ کا موقف کے نام سے شائع ہو چکا ہے۔ (جسے مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان نے شائع کیا ہے) اس کا انگریزی ترجمہ احقر کے بڑے بھائی جناب محمد ولی رازی صاحب نے کیا ہے اور وہ مکتبہ دارالعلوم سے ۔۔۔ Quadianism On Trial کے نام سے شائع ہوا ہے۔ دو سال پہلے دورۂ افریقہ کے دوران یہ کتاب میں اپنے بعض احباب کو دے کر آیا تھا۔ ان بیانات حلفی کی ترتیب میں اس کتاب سے بھی کافی مدد ملی۔

صفحہ 139

البتہ مقدمے کی تفصیلات اور یہاں کے عدالتی طریق کار کے پیش نظر یہ بات واضح تھی کہ فی الوقت سب سے اہم مسئلہ اس حکم امتناعی کا اخلا ہے جو تین ماہ پیشتر عدالت نے جاری کیا تھا اور جس کی رو سے مسلمانوں پر یہ پابندی عائد ہو گئی تھی کہ وہ مقدمے کے دوران مرزائیوں کو مسجدوں میں نماز پڑھنے اور مسلمانوں کے قبرستان میں دفن ہونے سے نہیں روک سکتے۔ اس حکم امتناعی کے خلاف جو قانونی نکات اٹھانے ضروری تھے، ان کا ان بیانات حلفی میں ذکر نہیں کیا تھا۔

چنانچہ باہمی مشورے سے جو نکات ذہن میں آئے، وفد کے معزز رکن جناب حاجی غیاث محمد صاحب سابق اٹارنی جنرل پاکستان نے ان کو قلمبند کر کے ٹائپ کرا لیا۔

صبح آٹھ بجے ہم لوگ جوہانسبرگ سے بذریعہ طیارہ کیپ ٹاؤن کے لیے روانہ ہوئے اور تقریباً دس بجے کیپ ٹاؤن پہنچ گئے۔

ایئر پورٹ پر کیپ ٹاؤن کے علماء و مشائخ، مسلمان جماعتوں کے ذمہ دار حضرات اور عام مسلمانوں کی بڑی تعداد استقبال کے لیے موجود تھی۔

یہاں پہنچ کر مسلمانوں کے وکیل مسٹر اسماعیل محمد ایڈووکیٹ سے تفصیلی ملاقات ہوئی۔ جوہانسبرگ سے یہاں تک ہر شخص ان کی قانونی قابلیت، وکالت میں مہارت اور ذہانت و ذکاوت کے بارے میں رطب اللسان تھا۔ ملاقات کے دوران ہم نے واقعتاً انہیں ایسا ہی پایا۔ اور یہ دیکھ کر مسرت ہوئی کہ اس مقدمے سے ان کی دلچسپی صرف پیشہ ورانہ فرائض کی حد تک محدود نہیں، بلکہ وہ ذاتی جذبے اور اپنے ضمیر کی آواز کے تحت اس مقدمے کی پیروی کر رہے ہیں۔

وفد کی طرف سے جو نکات مرتب کیے گئے تھے، جسٹس محمد افضل چیمہ صاحب اور حاجی غیاث محمد صاحب نے اسماعیل محمد صاحب سے ان کی وضاحت بیان کی۔ ان تمام نکات کو انہوں نے دلچسپی اور جذبہ تشکر کے ساتھ سنا اور اپنی بحث میں ان سے نہ صرف پورا فائدہ اٹھایا بلکہ اپنے زور بیان اور موثر انداز تخاطب سے انہیں چار چاند لگا دیے۔

۹ ستمبر کی صبح ساڑھے نو بجے کے قریب مقدمے کی کارروائی شروع ہونا تھی لیکن نو بجے سے ہی کمرۂ عدالت کھچا کھچ بھر چکا تھا۔ یہاں تک کہ سامعین کی کثرت کی بناء پر کمرۂ عدالت تبدیل کرنا پڑا اور ایک بڑے کمرے میں مقدمہ منتقل کیا گیا۔ جگہ بھی کشادہ تھی اور

صفحہ 140

اوپر سامعین کے لیے ایک وسیع گیلری بھی موجود تھی لیکن مقدمہ کا آغاز ہوتے ہوتے یہ کمرۂ عدالت اور گیلری بھی دونوں پوری طرح بھر گئے اور کہیں کھڑے ہونے کی بھی جگہ نہ رہی۔ اس مقدمے سے مسلمانوں کی دلچسپی کا عالم یہ تھا کہ دو دن تک صبح دس بجے سے شام ساڑھے چار بجے تک کارروائی جاری رہی۔ اور بیسیوں افراد بیٹھنے کی جگہ نہ ہونے کے باوجود پورے عرصے کھڑے رہ کر کارروائی سنتے رہے۔ حد یہ ہے کہ گیلری میں مسلمان خواتین بچوں کو گود میں لیے انتہائی صبر و استقلال کے ساتھ بیٹھی رہیں۔

جج ایک عیسائی عورت تھی۔ مرزائیوں کی طرف سے دو یہودی وکیل پیروی کر رہے تھے اور نوجوان مرزائی وکیل ان کی مدد کر رہا تھا۔ مسلمانوں کی طرف سے اصل وکیل اسماعیل محمد ایڈووکیٹ تھے۔ پہلے دن مرزائیوں کے یہودی وکیل مسٹر پیک کو حکم امتناعی کی توثیق کے لیے دلائل پیش کرنے تھے۔ لیکن اپنے دلائل پیش کرنے سے پہلے اس نے کھڑے ہو کر یہ درخواست پیش کی کہ اس مقدمہ میں درخواست انجمن اشاعت اسلام لاہور کی طرف سے پیش کی گئی ہے۔ اب ایک شخص مسٹر پیک کو اس درخواست کے شریک کی حیثیت میں مقدمے کا فریق بنایا جائے۔

اس درخواست کا منشاء دراصل اپنے مقدمے کی ایک قانونی کمزوری کو دور کرنا تھا۔ بات دراصل یہ تھی کہ اصل درخواست چونکہ ایک انجمن کی طرف سے پیش ہوئی تھی جو صرف ایک شخص قانونی (Legal Person) کی حیثیت رکھتی تھی اور انسان نہیں تھی، اس لیے وہ نہ بحیثیت انجمن ہتک عزت کی دعوے دار بن سکتی تھی اور نہ قبرستان میں دفن ہونے اور مسجد میں داخلے کا مطالبہ کر سکتی تھی۔ چنانچہ مسلمانوں کی طرف سے اس درخواست کے خلاف ایک قانونی نکتہ یہ بھی پیش ہونے والا تھا۔

اس ممکنہ قانونی اعتراض کو دور کرنے کے لیے مرزائیوں کی طرف سے یہ درخواست پیش کی گئی تھی تاکہ مسٹر پیک ایک حقیقی شخص کی حیثیت میں مذکورہ درخواست کا حق دار قرار پا سکے۔ اور اگر انجمن کی درخواست مسترد ہو تو کم از کم مسٹر پیک کی درخواست باقی رہ جائے۔

جج نے اس موقع پر مسلمانوں کے وکیل سے پوچھا کہ اس درخواست کے بارے میں آپ کا موقف کیا ہے؟ مسلمانوں کے وکیل نے کہا کہ مقدمے کے اس مرحلے پر درخواست

صفحہ 141

ہمارے نزدیک سخت قابل اعتراض ہے اس لیے کہ اب تک کی ساری کارروائی انجمن کی درخواست کی بنیاد پر ہوئی ہے اور اس کی جواب دہی کے لیے تیاری کی گئی ہے۔ لہٰذا اس نئے شخص کو اس مرحلے پر فریق بنانا ہمارے لیے انصاف کے خلاف ہوگا۔ جج نے اس مرحلے پر درخواست کو مسترد کر کے مرزائیوں کے وکیل مسٹر بیگ کو دلائل پیش کرنے کے لیے کہا۔

جمعرات ۹ ستمبر کا سارا دن مرزائیوں کے وکیل مسٹر بیگ ہی کی بحث میں گزر گیا۔ وہ بار بار ایک ہی بات دہراتا کہ مرزائی چونکہ مسلمان ہیں اور توحید، رسالت اور آخرت پر ایمان رکھتے ہیں اس لیے کسی شخص کو حق نہیں پہنچتا کہ ان کو کافر قرار دے یا ان کو مسجدوں میں داخل ہونے یا قبرستان میں دفن ہونے سے روک سکے۔ جج نے اسے بار بار ٹوکا کہ اس وقت میرے لیے یہ فیصلہ کرنا ناممکن ہے اور نہ یہ میرے فرائض منصبی میں داخل ہے کہ مرزائی مسلمان ہیں یا غیر مسلم؟ اس وقت تو اصل سوال یہ ہے کہ آپ حکم امتناعی کے حق دار ہیں یا نہیں؟ جب خود آپ کے اعتراف کے مطابق سالہا سال سے مسلمان آپ کو غیر مسلم سمجھتے آ رہے ہیں اور خود آپ کے اعتراف کے مطابق سالہا سال سے آپ کا کوئی فرد مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہیں ہوا تو آج وہ کون سی ہنگامی ضرورت پیش آگئی ہے جس کی بناء پر اچانک آپ نے حکم امتناعی حاصل کرنے کی درخواست دے دی ہے۔

مسٹر بیگ اپنی طویل تقریر کے باوجود اس سوال کا کوئی معقول جواب نہ دے سکا۔ البتہ ایک مرحلے پر اس نے کہا کہ حکم امتناعی کے لیے ہماری ہنگامی ضرورت یہ ہے کہ اگر کیپ ٹاؤن کے علماء و مشائخ کو ہمیں کافر کہنے سے نہ روکا گیا تو ہمارے گھر برباد ہو جائیں گے اور احمدیوں اور غیر احمدیوں کے درمیان تمام نکاح کے رشتے ٹوٹ جائیں گے۔

اس پر جج نے کہا ”لیکن ریکارڈ پر ایسا کوئی واقعہ موجود نہیں ہے جس سے کسی احمدی کا غیر احمدی سے نکاح کرنا ثابت ہو“۔

بیگ نے جواب میں کہا ”جناب اس بات کے ریکارڈ پر ہونے کی ضرورت نہیں۔ آپ کو اس بات کا جوڈیشل نوٹس لینا چاہیے کہ مسلمان مسلمان سے نکاح کرتا ہے اور احمدی چونکہ مسلمان ہیں اس لیے ان کے آپس میں ضرور نکاح ہوئے ہوں گے“ اس پر جج نے برجستہ کہا آپ چاہتے ہیں کہ اس طرح میں آپ کے مسلمان ہونے کا پہلے ہی فیصلہ کر

صفحہ 142

دوں؟ اور پھر مسلمانوں کے ساتھ آپ کے نکاح کا جوڈیشل نوٹس لوں؟ یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ میرا جوڈیشل نوٹس تو یہ ہے کہ مسلمان مسلمان سے نکاح کرتا ہے اور احمدی احمدی سے نکاح کرتا ہے۔

غرض اس طرح کی دلچسپ نوک جھونک دن بھر جاری رہی اور شام کو پونے چار بجے کے قریب جب عدالت کا وقت ختم ہونے میں صرف پندرہ منٹ باقی تھے۔ جج نے مسلمانوں کے وکیل اسماعیل محمد صاحب کو دلائل پیش کرنے کی دعوت دی۔ وقت چونکہ مختصر تھا اس لیے انہوں نے تفصیلی دلائل شروع کرنے سے پہلے باقی ماندہ پندرہ منٹ میں اپنے نکات کا نمبروار خلاصہ بڑے موثر انداز میں بیان کردیا۔ اور ساتھ ہی اپنے دلائل ایک مفصل تحریر کی شکل میں جج کے حوالے کر دیے اور کہا کہ ان نکات پر مفصل بحث میں کل کروں گا۔ اس پر اس دن عدالت کا اجلاس برخاست ہو گیا۔

اگلے دن اسماعیل محمد صاحب کو اپنے دلائل کا آغاز کرنا تھا لیکن اس سے پہلے مسٹر ینگ نے کھڑے ہو کر دوبارہ اپنی وہی درخواست نظر ثانی کے لیے پیش کی کہ اس مقدمے میں مسٹر ینگ کو فریق بنایا جائے اور یہ درخواست انجمن اشاعت اسلام کے علاوہ مسٹر ینگ کی طرف سے بھی سمجھی جائے۔

جج نے اس درخواست پر غور کو ملتوی کر کے اسماعیل محمد صاحب کو کہا کہ وہ اپنے دلائل شروع کریں۔ چنانچہ انہوں نے اپنی تقریر شروع کی اور تمام متعلقہ نکات کو بڑی خوبصورتی، حسن ترتیب اور زور بیان کے ساتھ اپنی تقریر میں سمو دیا۔

یہاں اسماعیل محمد صاحب کی پوری تقریر اور اس کے تمام دلائل و نکات کو نقل کرنا ممکن نہیں۔ البتہ اس کے تین اہم نکات کا تذکرہ دلچسپی سے خالی نہ ہوگا۔

ان کا پہلا نکتہ یہ تھا کہ متعدد قانونی نظائر کی روشنی میں درخواست گزار کو حکم امتناعی کا استحقاق صرف اس صورت میں ہو سکتا ہے جب بادی النظری طور پر مقدمہ اس کے حق میں ہو اور اس کا کیس سنگین شکوک و اعتراضات سے خالی ہو۔ اس کے برعکس یہاں درخواست گزار کا کیس بادی النظر میں ہی غلط اور سنگین اعتراف سے لبریز ہے۔ بیانات حلفی سے ظاہر ہے کہ دنیا بھر کے مسلمان مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کے مبلغین کو دائرہ اسلام سے خارج اور کافر قرار دیتے ہیں۔ اسی بنیاد پر پاکستان میں جہاں مرزائیت کا ہیڈ

صفحہ 143

کہ آرڈر قائم ہے، قومی اسمبلی اور سینٹ نے ان لوگوں کو صفائی کا پورا موقع دینے اور ضروری تحقیق کے بعد متفقہ طور پر انہیں غیر مسلم قرار دیا اور اس کے مطابق دستور پاکستان میں ترمیم کی۔ اسی بنیاد پر دنیا بھر کے مسلمانوں کی نمائندہ تنظیم رابطہ عالم اسلامی نے پورے عالم اسلام کی ۱۴۰ سے زائد سر بر آوردہ تنظیموں کے ایک مشترکہ اجلاس میں مرزا غلام احمد قادیانی کے متبعین کو بیک آواز غیر مسلم قرار دیا اور جنوبی افریقہ کے تمام مسلمان انہیں ہمیشہ غیر مسلم قرار دیتے اور ان کے ساتھ غیر مسلموں کا معاملہ کرتے آئے ہیں جس کا اعتراف خود درخواست گزار کے بیان حلفی میں موجود ہے۔

مسلمانوں کے بیانات حلفی میں مرزا صاحب کی کتابوں کے مفصل اقتباسات سے یہ ثابت کیا گیا ہے کہ انہوں نے نہ صرف اپنے نبی اور رسول ہونے کا دعویٰ کیا بلکہ اپنے آپ کو حضرت مسیح علیہ السلام سے تمام شان میں بڑھ کر بتایا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین کی اور اپنے آپ کو (معاذ اللہ) نبی کریم ﷺ کا بروزِ ثانی اور آپ کا ہمسر و مظہر اتم بتایا اور پھر انہی بیانات حلفی میں قرآن و حدیث اور ماہرین اسلامی علوم کے واضح حوالوں سے ثابت کیا گیا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کسی بھی مفہوم میں کسی بھی قسم کی نبوت کا دعویدار کبھی مسلمان نہیں ہو سکتا۔

اس کے برعکس مرزائیوں کے بیان حلفی میں نہ ان کے مسلمان ہونے کی کوئی دلیل بیان کی گئی ہے، نہ اسلامیات کے کسی ماہر کا کوئی بیان ان کی حمایت میں پیش کیا گیا ہے۔ اس لیے بادی النظری طور پر مقدمہ ہرگز ان کے حق میں نہیں ہو سکتا۔

اس کے علاوہ درخواست گزار نے اپنے بیان میں اعتراف کیا ہے کہ وہ ”احمدیہ انجمن لاہور“ کی ایک شاخ ہے۔ یہ ظاہر ہے کہ ”احمدیہ انجمن لاہور“ کے ارکان کو پاکستان کے دستور نے غیر مسلم قرار دے دیا ہے۔ لہٰذا اس کے ارکان مسلمانوں کے قبرستان میں دفن ہونے کا حق نہیں رکھتے اور لاہور کی انجمن نے اپنی اس پوزیشن کو کبھی وہاں کی کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا۔ اب اسی انجمن کی ایک ذیلی شاخ اپنی اصل انجمن کے بالکل برخلاف پوزیشن کا کیونکر دعویٰ کر سکتی ہے؟ اس لحاظ سے بھی بادی النظر طور پر مقدمہ اس کے حق میں نہیں بلکہ اس کے خلاف ہے۔

دوسرا نکتہ یہ تھا کہ حکم امتناعی کا فیصلہ کرنے کے لیے عدالت کو یہ بھی دیکھنا پڑتا ہے کہ

صفحہ 144

توازن سہولت (Balance Of Convenience) کس فریق کے حق میں ہے؟ یعنی حکم امتناعی جاری کرنے سے مدعا علیہ کے جیتنے کی صورت میں مدعی کا؟ یہاں صورت حال یہ ہے کہ کیپ ٹاؤن میں مسلمانوں کی تعداد چھبیس ہزار ہے جبکہ مرزائیوں کی تعداد ڈیڑھ دو سو سے زائد نہیں۔ اب اگر ان چھبیس ہزار مسلمانوں کو حکم امتناعی کے ذریعے اس بات کا پابند کیا جائے کہ وہ مرزائیوں کو غیر مسلم سمجھنے کے باوجود اپنی مسجدوں میں عبادت اور اپنے قبرستان میں تدفین کی اجازت دیں تو جب تک اصل مقدمے کا تصفیہ نہ ہو‘ انہیں اپنے عقیدے‘ اپنے ضمیر اور اپنے دین کے احکام کے برخلاف ایسے کام پر مجبور ہونا پڑے گا جس سے وہ شدید نفرت کرتے ہیں اور اس سے ان کے مذہبی جذبات کو جو زبردست ٹھیس لگے گی‘ مقدمہ جیت جانے کے بعد اس کی تلافی کا کوئی راستہ نہیں۔ اس کے برعکس اگر حکم امتناعی جاری نہ کیا جائے تو اس سے مرزائیوں کا کوئی ناقابل تلافی نقصان نہیں ہو گا۔ مرزائیوں نے خود اعتراف کیا ہے کہ چودہ سال سے ان کا کوئی مردہ مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہیں ہوا۔ اب اگر مقدمے کے فیصلے تک دو تین سال مزید یہی صورت حال برقرار رہے تو اس سے کوئی ناقابل تلافی نقصان لازم نہیں آتا۔ اس لیے ”توازن سہولت“ کا اصول بھی واضح طور پر مسلمانوں کے حق میں اور مرزائیوں کے خلاف ہے۔

تیسرا نکتہ وہی تھا کہ زیر بحث مقدمے میں درخواست کسی انسان نے نہیں بلکہ ایک انجمن نے پیش کی ہے۔ یہ انجمن نہ مسجد میں داخل ہو سکتی ہے‘ نہ قبرستان میں تدفین کی اہل ہے۔ اس لیے انجمن کی یہ درخواست ہر لحاظ سے ناقابل سماعت ہے۔ اس موقع پر اسماعیل محمد نے از راہ تفنن یہ بھی کہا کہ ”اگر یہ انجمن زمین میں دفن ہو سکتی تو ہم بہت خوش ہوتے لیکن کیا کریں کہ قبرستان میں دفن ہونے کے لیے انسان ہونا ضروری ہے“ اور ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ مرزائیوں کے وکیل مسٹر پیک اپنے مقدمے کی کمزوری سے پوری طرح واقف ہیں اور کل اور آج جو انہوں نے مسٹر پیک کو فریق بنانے کی درخواست دی ہے وہ ان کی طرف سے واضح اور واشگاف الفاظ میں اپنی شکست کا اعتراف ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ انجمن کی طرف سے یہ درخواست قانونی اعتبار سے کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ اس لیے اپنے مقدمے کو بالکل آخر وقت میں تباہی سے بچانے کے لیے وہ مسٹر پیک کو فریق بنانا چاہتے ہیں لیکن اگر اس آخری مرحلے پر ان کی اس درخواست کو منظور کیا گیا تو یہ ہمارے

صفحہ 145

ساتھ شدید ناانصافی ہوگی۔ ہمارے تمام بیانات انجمن کے دعوے کے جواب میں مرتب کیے گئے ہیں۔ اگر ابتداء میں دعوٰی مسٹر پیک کی طرف سے ہوتا تو ہمارے جوابی بیانات حلفی میں اس بات کا لحاظ رکھا جاتا۔ اس لیے گیارہ بج کر انسٹھ منٹ پر فریق بنانے کی یہ درخواست کسی بھی لحاظ سے منظور ہونے کے لائق نہیں۔

دوپہر کے بارہ بج رہے تھے اور جمعہ کا وقت ہوا چاہتا تھا۔ جج نے اس موقع پر فریق بنانے کی درخواست کو مسترد کر کے عدالت کو دو بجے تک کے لیے برخاست کر دیا۔

جمعہ کے بعد دو بجے اجلاس دوبارہ شروع ہوا تو مرزائیوں کے دوسرے وکیل نے اسماعیل محمد کے جواب میں بحث شروع کی اور تقریباً وہی باتیں دہرائیں جو مسٹر پیک کہہ چکے تھے۔ یہاں تک کہ شام چار بجے جب عدالت کا وقت ختم ہونے لگا تو جج نے فیصلے کے دلائل کو مؤخر کر کے اپنا مختصر حکم سنا دیا کہ عدالت کی طرف سے جو حکم امتناعی جاری کیا گیا تھا‘ وہ واپس لیا جاتا ہے اور مقدمہ کا خرچ بھی درخواست گزار (یعنی مرزائی انجمن) کو دینا ہو گا۔ البتہ اخراجات کا تعین بعد میں کیا جائے گا۔

اس فیصلے کے اعلان کے بعد کمرۂ عدالت کا منظر قابل دید تھا۔ تمام مسلمان آپس میں گلے مل مل کر ایک دوسرے کو مبارک باد دے رہے تھے۔ اسمعیل محمد کی درخواست پر کیپ ٹاؤن کے شیخ نظیم نے دعا کرائی اور اس طرح یہ مرحلہ بحمد اللہ بخیر و خوبی انجام کو پہنچا۔

اب صورت حال یہ ہے کہ اس فیصلے کے بعد اکیس دن تک مرزائی صاحبان کو یہ حق ہے کہ وہ اپنا اصل مقدمہ دائر کریں۔ اس مدت کے دوران اگر انہوں نے مقدمہ دائر نہ کیا تو بات بالکل ختم ہو گئی لیکن اگر انہوں نے اس مدت میں اصل مقدمہ دائر کر دیا تو بظاہر یہ کیس طول کھینچے گا۔ اس میں ماہرین کی گواہیوں کی بھی ضرورت پڑے گی اور اس کے فیصلے میں دو تین سال بھی لگ سکتے ہیں لیکن حکم امتناعی کے مسترد ہو جانے کے بعد مقدمے کا طول کھینچنا مسلمانوں کے لیے انشاء اللہ مضر نہیں ہو گا۔

(ہفت روزہ ”لولاک“ فیصل آباد‘ جلد ۱۹‘ شمارہ ۲۶‘ نومبر ۱۹۸۲ء)

صفحہ 146

پاکستان کے راز اسرائیل کیسے پہنچے؟

واشنگٹن پوسٹ کی ایک اشاعت میں انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکی بحریہ میں اعلیٰ عہدہ پر فائز جوناتھن جے پولارڈ کو ۱۹۸۵ء میں اسرائیل کے لیے جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ واشنگٹن پوسٹ نے پولارڈ کے مقدمے سے اچھی طرح واقف ایک ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ پولارڈ نے اسرائیل کو پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی تمام تفصیلات سے آگاہ کیا ہے اور اسلام آباد کے قریب واقع ایٹمی تنصیبات کی مصنوعی سیاروں کے ذریعے لی گئی تصاویر بھی فراہم کی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق پولارڈ نے اسرائیل کو جو معلومات فراہم کی ہیں، ان میں پاکستان کے ایٹمی پروگرام اور پاکستان کو ملنے والی امریکی امداد کی تفصیلات کے علاوہ تیونس میں پی ایل او کے صدر دفتر میں موجود تمام انتظامات شامل ہیں اور ان ہی معلومات کی بنیاد پر اسرائیل نے یکم اکتوبر ۱۹۸۵ء میں تیونس میں پی ایل او کے صدر دفتر کو باآسانی نشانہ بنایا تھا۔ (بحوالہ ”آغاز“ کراچی، ۲۶ فروری ۱۹۸۷ء)

یہود مردود کے عالم اسلام خصوصاً پاکستان کے متعلق جو عزائم ہیں، وہ کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔ جب اسرائیل نے برادر اسلامی ملک عراق کی ایٹمی تنصیبات پر اچانک حملہ کر کے تباہ کیا تو اس وقت کے اخبارات میں اسرائیل کی یہ دھمکی شائع ہوئی تھی کہ وہ پاکستان کی ایٹمی تنصیبات بھی تباہ کر دے گا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کے عوام ہر آڑے وقت میں عربوں کے ساتھ رہے ہیں۔ انہوں نے جس قسم کی بھی امداد طلب کی، پاکستان نے کوئی پس و پیش نہیں کی۔ اس لیے پاکستان یہود مردود کی آنکھوں میں خار بن کر

صفحہ 147

کھٹکتا رہتا ہے۔

یہ ہمارے ملک کی بدقسمتی یا حکمرانوں کی بے حسی ہے کہ جب کوئی ملک دھمکیاں دیتا ہے یا ہمارے وطن عزیز کے بارے میں غلط خیالات کا اظہار کرتا ہے تو واویلا شروع کر دیتے ہیں کہ دیکھو جی فلاں یہ کہہ رہا ہے لیکن ہماری آستینوں میں جو زہریلے سانپ چھپے ہوئے ہیں، ان سے ہم قطعی طور پر غافل ہیں۔ اسی غفلت کا نتیجہ ہے کہ ہمارے ایٹمی پروگرام سے متعلق اہم راز دشمن کے پاس پہنچ چکے ہیں۔

آج سے چند ماہ پہلے قادیانی جماعت کے آنجہانی پیشوا مرزا ناصر نے کہا تھا کہ میرے اور ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کے کئی شاگرد کہوٹہ کے ایٹمی پلانٹ میں کام کر رہے ہیں۔ وزارت دفاع اور فوج میں بھی اہم پوسٹوں پر بہت سے قادیانی براجمان ہیں۔ بحریہ کے سربراہ کے متعلق بھی کہا جا رہا ہے کہ وہ قادیانی ہے۔ اگر یہ بات درست ہے تو پاکستان کا کوئی راز، راز رہ ہی نہیں سکتا۔ ادھر کوئی منصوبہ بنا، ادھر اسرائیل پہنچ گیا۔ کیونکہ ربوہ اور تل ابیب میں کوئی فاصلہ نہیں ہے۔ وہاں کے ہزاروں قادیانی اسرائیل میں نہ صرف موجود ہیں بلکہ فوج میں بھرتی ہو کر یہودیوں کا حق نمک ادا کر رہے ہیں۔ اس تعلق کے علاوہ قادیانیوں کے پیشوا مرزا قادیانی کے مطابق اسرائیل اور مرزائیوں میں خونی رشتہ قائم ہے۔ وہ خود مغل برلاس تھا۔ لیکن اس نے یہودیوں سے محبت و مودت کا رشتہ استوار کرنے کے لیے کہا کہ وہ نصف فاطمی اور نصف اسرائیلی ہے۔ (یعنی آدھا مسلمان اور آدھا یہودی۔ حالانکہ وہ پورا یہودی تھا، اس لیے کہ ان کا آلہ کار تھا) اسی خونی رشتہ کی وجہ سے قادیانی یہودیوں کی ملازمت اور ان کی خدمت کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس سے بڑی خدمت اور کیا ہو سکتی ہے کہ پاکستان کے راز اسرائیل کے پاس پہنچا دیے گئے ہیں۔

کوئی جاسوس خواہ کتنا ہی تعلیم یافتہ اور اپنے فن میں ماہر کیوں نہ ہو، وہ اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتا جب تک کہ اسے ایسے افراد میسر نہ آجائیں جو اس ملک کے مخالف اور دشمن ہوں۔ مذکورہ بالا اسرائیلی جاسوس جس نے پاکستان کی ایٹمی تنصیبات سے متعلق تمام معلومات اسرائیل کو فراہم کی ہیں۔ انہیں فراہم کرنے میں ان قادیانی ملازمین کا ہاتھ نظر انداز نہیں کیا جا سکتا جو بقول آنجہانی مرزا ناصر کے کہوٹہ کے ایٹمی پلانٹ اور دوسرے حساس ترین عہدوں پر فائز ہیں اور حکمران ان کو برطرف کرنے کے بجائے پال رہے ہیں۔

صفحہ 148

وہ ہمارا کھاتے ہیں اور ہمارے ہی ملک کی جڑیں کھوکھلی کر رہے ہیں۔ علامہ ڈاکٹر سر محمد اقبال نے مرزا قادیانی اور اس کی ذریت کی حقیقت کو صرف ایک جملہ میں بیان کر دیا کہ ”قادیانیت یہودیت کا چربہ ہے“ اسی لیے ڈاکٹر صاحب نے فتنہ قادیانیت کی حقیقت پا لینے کے بعد یہ مطالبہ کیا تھا کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔ اس مطالبہ کی بنیاد پر امت مسلمہ نے انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا مطالبہ کیا جو ۱۹۷۴ء میں قومی اسمبلی کے ذریعے پورا ہوا۔ اس کے بعد ۱۹۸۴ء میں ایک آرڈیننس کے ذریعے انہیں اسلامی اصطلاحات اور شعائر اسلامی کے استعمال سے روک دیا گیا۔ یہ الگ بات ہے کہ کافر قرار پا جانے کے بعد بھی ہمارے کچھ مسلمان افسروں کی بے غیرتی یا بے حسی کی وجہ سے وہ اب بھی اپنے آپ کو اصلی مسلمان اور باقی مسلمانوں کو سرکاری مسلمان کہہ رہے ہیں اور اسلامی اصطلاحات و اسلامی شعائر کا استعمال کر رہے ہیں۔ بہرحال ڈاکٹر علامہ محمد اقبال نے قادیانیوں کے متعلق جو کچھ کہا تھا، وہ بالکل صحیح تھا کہ قادیانیت یہودیت کا چربہ ہے۔

یہودیوں نے ۱۹۰۱ء میں ۲۴ قراردادیں تیار کی تھیں۔ ان قراردادوں میں مندرجہ ذیل قراردادیں غور طلب ہیں۔ ہم یہودی جب مالیات اور صحافت پر چھا جائیں گے تو ہمارے لیے ان کاموں میں بڑی آسانی ہوگی اور ہم اپنی تحریروں اور تصاویر کے ذریعے دنیا میں نسلی منافرت کا پرچار کریں گے۔ انہیں مذہب سے دور کرنے کے لیے عجیب و غریب خبریں چھاپیں گے۔ انہیں قدامت پسند وغیرہ کے نئے نعرے دیں گے۔ احمق بنانے کے لیے طرح طرح کی باتیں بنائیں گے اور ترقی پسند بنانے کے لیے ہر پرانے کام میں روڑے اٹکائیں گے اور جب ہمارے اس بھرپور پراپیگنڈے سے لوگ مذہب و اخلاق سے دور ہوں گے تو انہیں کچھ دوسرے نظریات فراہم کیے جائیں گے اور کسی نہ کسی ازم کا بندہ بنا کر ان کے شیرازوں کو منتشر کر دیا جائے گا۔ کیونکہ ساری دنیا پر حکومت کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم انہیں بے دین کر دیں۔ دنیا کے دوسرے مذاہب کے برخلاف اسلام زیادہ سخت جان ہے۔ ویسے ہمارے اجداد نے شروع اسلام کے وقت ہی منافرت کا بیج بویا تھا مگر پھر بھی وہ اب تک اپنی ڈگر پر قائم ہے۔ اس لیے ہمارا پروگرام اس کے لیے خصوصی توجہ چاہتا ہے۔ اس کے لیے ہم نے تجویز کیا ہے کہ ان میں (مسلمانوں میں) چونکہ بلا کا اتحاد

صفحہ 149

ہے، اس لیے پہلی ضرب اتحاد پر پڑنی چاہیے اور وہ ضرب ہوگی نئے فرقوں کی تشکیل۔ اس کے لیے ہمیں ایڑی چوٹی کا زور لگانا ہوگا اور اپنے تمام وسائل بروئے کار لا کر ان کے اتحاد و یگانگت کو انتشار و بیگانگی میں بدلنا ہوگا۔ ان میں جذبہ جہاد ایک خطرناک جذبہ ہے۔ جسے ان کے دل سے نکالنے کے لیے ہمیں اس بات کا سخت پروپیگنڈہ کرنا ہوگا کہ جہاد دور جہالت کی یادگار ہے۔ یہ لاٹھی اور بھینس کا جنگلی قانون ہے اور اس کے ماننے والے انسان ہی نہیں ہیں، جو بنی نوع انسان کا خون بہاتے ہیں۔ اگر مسلمانوں میں یہ جذبہ ختم ہو گیا یا صرف دب گیا تو بھی سمجھو کہ پھر دنیا میں یہود حکمرانی کو کوئی چیلنج کرنے والا نہیں رہے گا اور ہمارا کوئی مد مقابل نہ ہوگا لیکن ہمیں لاٹھی اور بھینس کا فلسفہ صرف انہیں سمجھانا اور اس سے متنفر کرنا ہے۔ ہمیں یہ نہ بھولنا چاہیے کہ یہی قانون ازل سے چلا آ رہا ہے اور مستقبل میں بھی یہی اصول رائج رہے گا۔ اس لیے ایک طرف تو ہم انہیں جنگ و جدل سے باز رکھنے کی تلقین کریں اور دوسری طرف اپنی جنگی صلاحیتوں کو بڑھاتے رہیں تاکہ انہیں اپنا محکوم بنا سکیں۔ (حوالے کے لیے دیکھئے انٹر نیشنل جیوز)

یہ قرارداد اگرچہ ۱۹۰۱ء میں سامنے آئی لیکن عملاً اس سے پہلے کام شروع ہو چکا تھا۔ مسلمانوں میں نئے فرقوں کی تشکیل تنہا یہود کا کارنامہ نہیں ہو سکتا۔ بلکہ ان کے ساتھ انگریز عیسائی بھی برابر کے شریک تھے۔ چونکہ اس دور میں نہ صرف برصغیر بلکہ پوری دنیا میں انگریزوں کی عملداری تھی، اس لیے حکومت انگریز کی دولت یہودیوں کی، ان دو کے بل بوتے پر مرزا قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ ایک نئے فرقے، نئی امت اور نئی جماعت کی تشکیل دی اور مذکورہ بالا یہودی قرارداد کے مطابق مرزا قادیانی کا بنیادی اصول یا نئی شریعت یہ تھی کہ اب جہاد حرام ہو چکا ہے۔ چنانچہ اس کا مشہور شعر ہے

"اب چھوڑ دو جہاد کا اے دوستو خیال
دیں کے لیے حرام ہے اب جنگ اور قتال

اس نے لکھا ہے کہ میں نے انگریزی اطاعت اور تردید جہاد پر اتنی کتابیں لکھی اور اشتہارات شائع کیے ہیں کہ اگر انہیں یکجا کیا جائے تو ان سے پچاس الماریاں بھر سکتی ہیں۔ مرزا قادیانی کا نشانہ یا ہدف بھی عرب تھے۔ چنانچہ یہ بات بھی اس نے خود لکھی کہ میں نے ایسی کتابیں جو حرمت جہاد پر عربی، فارسی اور کئی زبانوں میں تھیں، عرب ممالک میں تقسیم

صفحہ 150

کیں ۔ تاکہ جہاد کا خونی تصور جو ان کے ذہنوں میں موجود ہے، نکل جائے۔ اسرائیل کا قیام ۱۹۴۸ء میں عمل میں آیا اور مرزا قادیانی نے یہود قرار داد سے بھی پہلے اس نہج پر عربوں میں کام شروع کر دیا تھا اگرچہ اسے کامیابی نہ ہوئی اور اسرائیل کے قیام کے وقت سے ہی مجاہدین فلسطین اور عرب مسلمان یہودیوں سے برسرپیکار رہے لیکن اس نے پھر بھی یہودیت نوازی اور اسلام دشمنی میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کیا۔

علامہ ڈاکٹر اقبالؒ نے مرزا قادیانی کی جھوٹی نبوت اور اس کی حرمت جہاد کے فرسودہ اور غیر اسلامی نظریہ پر تبصرہ کرتے ہوئے سچ فرمایا تھا۔

وہ نبوت ہے مسلماں کے لیے برگ حشیش
جس نبوت میں نہیں قوت و شوکت کا پیام

الغرض جس اسرائیلی جاسوس نے پاکستان کے اہم راز یہودیوں کو پہنچائے ہیں، ان کے پس پردہ پاکستان کے دشمنوں اور مغربی استعمار اور یہودیوں کے تنخواہ دار ایجنٹوں، جہاد کے منکروں اور خصوصاً مرزائے قادیان کی ذریت کا ہاتھ ہے۔ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت اول تو تمام محکموں سے ہی قادیانی ملازمین کو نکال باہر کرے ورنہ کم از کم فوج اور دفاعی اہمیت کے حساس اداروں سے فوراً نکالا جائے۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو پاکستان کے تمام منصوبے اسرائیل کے پاس پہنچتے رہیں گے۔

(ہفت روزہ ”ختم نبوت“ کراچی، جلد ۵، شمارہ ۳، از قلم محمد حنیف ندیم)

صفحہ 151

قادیانیوں نے مقبوضہ کشمیر کو اپنی

آماجگاہ بنانے کا فیصلہ کرلیا

حافظ شفیق الرحمن

فارن آفس۔۔۔ قادیانی فارم

مرزا سلمان بیگ کا تعلق پینکا چیمہ ضلع گوجرانوالہ سے ہے۔ آج سے ۲۱ سال پہلے وہ کنیڈا آئے اور یہیں اپنی دیانت‘ ریاضت اور محنت سے سیاسی و سماجی اور کاروباری سطح پر مقام بلند حاصل کیا‘ آج وہ فرینڈز آف کشمیر نامی تنظیم کے روح رواں ہیں اور پاکستان مسلم لیگ کینیڈا کے صدر اور چیف آرگنائزر بھی ہیں۔

گزشتہ دنوں اپنی کم سن بیٹی عائشہ کی تدفین کے سلسلہ میں وہ پاکستان تشریف لائے اور اپنی لخت جگر کو اس کی وصیت کے مطابق وطن عزیز کی پاک مٹی میں اپنے دادا کی قبر کی ہمسائیگی اور قربت دی۔

۵ فروری کو کشمیری عوام کی عظیم جدوجہد سے یکجہتی کے اظہار کے لیے مسلم لیگ ہاؤس میں ایک جلسہ ہوا اور اس عظیم الشان جلسہ سے خطاب کر کے مرزا سلمان بیگ نے سامعین کے دل موہ لیے‘ اور بتایا کہ کشمیری عوام کی جدوجہد آزادی کو قادیانی غیر محسوس انداز میں خفیہ طریق واردات استعمال کر کے ناقابل تلافی نقصان پہنچانے اور سبوتاژ کرنے کے درپے ہیں۔۔۔ اسی حوالہ سے نمائندہ ”چٹان“ کے ساتھ مرزا سلمان بیگ نے گفتگو کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر اور دیگر مسائل پر اظہار خیال کیا۔

صفحہ 152

س: کیا بیرونی ممالک میں مقیم روشن خیال پاکستانی بھی عورت کی سربراہی کو پسندیدگی کی نگاہ سے نہیں دیکھتے؟

ج: پہلی بات تو یہ ہے کہ امریکہ اور کینیڈا میں مقیم پاکستانی اپنا تشخص صرف اور صرف اسلام ہی کو سمجھتے ہیں۔ یہ تو یہودی طرز فکر اور ملحدانہ سوچ رکھنے والے لوگوں نے بے دین اور دین سے بیزار لوگوں کے لیے ”ترقی پسندی“ اور ”روشن خیالی“ کی نام نہاد اصطلاحوں کو مہلک وباء کی طرح عام کر رکھا ہے۔ وہ شخص جو اللہ اور اس کے پاک رسول ﷺ کے احکامات اور فرمودات کا تمسخر اڑاتا ہے۔ میرے نزدیک تو وہ انسانیت کے مقام بلند سے گر کر حیوانات کی سطح پر آجاتا ہے۔ ایسے لوگوں کو میں تو ”روشن خیال درندے“ اور ”ترقی پسند جانور“ سمجھتا ہوں۔ کینیڈا میں مقیم مسلمان بحمد للہ پکے اور سچے مسلمان ہیں۔ وہ تو یہ کہتے ہیں کہ پاکستان کے علماء کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ عورت کی سربراہی کے خلاف کسی قسم کی کوئی دینی تحریک شروع نہیں کرتے۔

میرے جیسے پاکستانی عورت کی سربراہی کے اس لیے خلاف ہیں کہ جب کسی اسلامی ریاست کی سربراہ عورت ہو گی تو اسے اپنے فرائض منصبی نبھانے کے لیے یقیناً غیر ملکی حکمرانوں سے روابط بڑھانا پڑیں گے۔ روابط کو مضبوط تر بنانے کے لیے غیر محرم مرد حکمران کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مذاکرات اور گفت و شنید کرنا پڑے گی۔ آپ صرف اتنا بتا دیجئے کہ کیا قرآن کسی بھی عورت کو یہ اجازت دیتا ہے کہ وہ کسی غیر محرم کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرے۔ قرآن کا تو واضح حکم عورتوں کے لیے یہ ہے کہ وہ اپنی آنکھیں اور نگاہیں جھکا کر رکھیں۔ شاید اسی کو غض بصر کہتے ہیں۔ اب کسی خاتون حکمران نے قرآن کے اس حکم کی تعمیل کرتے ہوئے آنکھیں نیچی کر کے اور پلکیں جھکا کر مذاکرات کرنے کی کوشش کی تو جہاں اس کی آنکھیں جھکیں، نفسیاتی سطح پر مقابل فریق آپ پر چھا گیا۔ عورت کی سربراہی سے آپ کے معاملات کی حیثیت (passive اور Sub-missive) ہو جاتی ہے اور کوئی عورت غیر محرم مرد کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرتی ہے تو اسلامی اخلاقیاتی نقطہ نظر سے اس کے اس عمل کو شریفانہ نہیں سمجھا جاتا۔

صفحہ 153

اب وہ مولانا صاحبان جو ایک نامحرم عورت سے خفیہ مذاکرات کرتے ہوئے بے باکانہ گفتگو کرتے ہیں۔ ان کی عقل پر مجھے ایسے عام مسلمان کو رونا آتا ہے۔ غیر محرم عورت سے تنہائی میں کمرہ میٹنگز کرنے والے مولانا صاحبان صرف نام کے مولانا ہیں۔ میری رائے تو یہ ہے کہ ان لوگوں کو اسلام کی مبادیات اور اس کی A.B.C (ابجد) کا بھی علم نہیں۔

س: کینیڈا میں مقیم پاکستانی تحریک حریت کشمیر کے حوالے سے اپنے جذبات و احساسات کا کس طرح اظہار کرتے ہیں؟

ج: مقبوضہ کشمیر کے مجاہدین آزادی کی اس دلیرانہ تحریک کا سہرا جنرل ضیاء الحق مرحوم کے سر ہے۔ انہوں نے ہی داخلی و خارجی سطح پر اس تحریک کی اہمیت کو محسوس کروایا تھا یا آج مقبوضہ کشمیر میں چلنے والی تحریک کی کامیابی کا کریڈٹ غیر ممالک‘ امریکہ، برطانیہ اور کینیڈا میں مقیم پاکستانیوں کو جاتا ہے کہ انہوں نے اس تحریک کے لیے ان ممالک کے جمہوری پارلیمانی اداروں کے ممبران اور اراکین سے انفرادی و اجتماعی ملاقاتیں کر کے اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ اپنے ممالک کے قانون ساز اور آئین ساز اداروں میں کشمیر کے مسئلہ پر بات کریں۔ خارجی سطح پر سیاسی و سماجی اور مختلف پلیٹ فارموں، پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے مسئلہ کشمیر کو ان ممالک میں مقیم پردیسی پاکستانیوں نے زندہ رکھا ہے۔ تحریک حریت کشمیر کے یہ بے نام اور گمنام سپاہی اپنی ان عظیم، تاریخ ساز، انمٹ اور ناقابل فراموش خدمات کا صلہ کسی سے نہیں مانگتے بلکہ اس کے برعکس وہ اپنی مسلمان بہنوں، بھائیوں اور بیٹیوں کی خاطر ہندو ایجنٹوں اور حکومت کے کسی بھی جارحانہ ہتھکنڈے کو خاطر میں نہیں لاتے۔

س: کیا آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اس سلسلہ میں ہمارے سفارت خانے کوئی بھرپور کردار ادا نہیں کرتے؟

ج: تمام سفارت کاروں کی تو میں بات نہیں کرتا۔ ان میں سے کچھ سرگرم عمل رہنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن ہوتا یوں ہے کہ ان ممالک میں بے نظیر دور ۱۹۸۸ء سے وزارت خارجہ قادیانی افسروں کو بھیج دیتی ہے۔ یہ قادیانی عملہ گڑ بڑ کرتا ہے۔ آپ

صفحہ 154

کو یہ جان کر حیرت ہو گی کہ سر ظفر اللہ کے زمانہ سے وزارت خارجہ قادیانیوں کے نرغے میں رہی ہے۔ موصوف اپنی وزارت خارجہ کے دور میں فارن آفس میں قادیانیوں کی ایسی پنیری لگا گئے کہ اب فارن آفس قادیانیوں کا آفس بن چکا ہے۔ بے شمار افریقی ممالک کے سفارت کار قادیانی مشنری نکتہ نظر سے وہاں تعیناتی پر اصرار کرتے ہیں۔ امریکہ، برطانیہ، سکینڈے نیوین ممالک اور کنیڈا کے پاکستانی سفارت خانوں کے کسی نہ کسی کلیدی عہدے پر کوئی نہ کوئی Rigid قادیانی تعینات کر کے ضرور بھیجا جاتا ہے۔ اس معاملہ میں بھی، میں حکومت پاکستان سے اپیل کروں گا کہ وہ سختی سے نوٹس لے اور فارن آفس میں ایک میجر آپریشن کلین اپ کر کے قادیانی افسروں کو فارغ کر کے ربوہ، قادیان، یا تل ابیب روانہ کر دیا جائے۔ یہاں کنیڈا میں ایک عرصہ تک ڈپٹی ہائی کمشنر احمد کمال رہے۔ موصوف قادیانی ہیں اور یہاں مقیم قادیانیوں کے معاملات میں وہ گہری دلچسپی لیتے تھے۔ ان کے ”جماعت خانوں“ کے اجتماعات میں بھی شریک ہوتے تھے۔

س: کیا غیر ممالک میں مقیم قادیانی وطن دشمن سرگرمیوں میں مصروف رہتے ہیں؟

ج: میری رائے تو یہ ہے کہ وہ شخص قادیانی ہی نہیں جو پاکستان کا دشمن نہ ہو۔ پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر جتنا بھی نقصان پہنچا وہ قادیانیوں نے پہنچایا۔ بنیادی انسانی حقوق کی پامالی کا رونا روتے ہوئے، وہاں کے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے انہوں نے مظالم کی خود ساختہ کہانیاں سنائیں اور شائع کروائیں۔ ان تمام کا مقصد پاکستان کے چہرے کو مسخ کرنا تھا۔۔۔ وہاں وہ باقاعدہ T.V پروگرامز خرید کر پاکستان کے خلاف محسوس اور غیر محسوس انداز سے پراپیگنڈہ کرتے ہیں۔ ہانگ کانگ کے ٹی وی نشریاتی سلسلے Star T.V سے مرزا طاہر احمد کے Sermon جب ٹیلی کاسٹ ہوتے ہیں تو موصوف اپنے ان ٹیلی مواصلاتی بھاشنوں اور مجمعوں میں پاکستان کی کردار کشی کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ وہ موقع بے موقع، جابجا ہر پروگرام میں اعلانیہ حکومت پاکستان، علماء کرام اور پاکستانی عوام کو رگیدتے ہیں۔ قادیانیوں کا فری میسن لاج پورے یورپ، امریکہ اور کنیڈا میں اپنے ”امام“ کی ان نشریات کو Communicate کروانے کا اہتمام و انصرام کرتا ہے۔ اس کے

صفحہ 155

لیے وہ سالانہ کروڑوں ڈالرز کا خطیر سرمایہ صرف کرتے ہیں۔ برسبیل تذکرہ میں یہاں پر یہ بھی بتاتا چلوں کہ اپریل ۹۳ء میں جب میاں نواز شریف کے خلاف قادیانی سازش کامیاب ہوئی تو وٹو صاحب جو اس سازش کے سرخیل تھے۔ انہوں نے مرکز کے خلاف ہانگ کانگ کے اسی ٹی وی چینل کے پروگرام Hire کرنے کا اعلان کیا تھا تاکہ یہاں کے عوام کو مرزا طاہر کے فرمودات سے مستفید کیا جاسکے۔

س: آپ نے میاں نواز شریف حکومت کے خلاف غلام اسحق خان کے آمرانہ اقدامات کو قادیانی سازش کیسے قرار دیا ہے؟

ج: میاں نواز کی حکومت کی برطرفی کے موقع پر میاں نواز شریف کے خلاف ان کے اپنے دوستوں کے حلقے میں، پنجاب میں جس شخص نے سب سے پہلے اعلان بغاوت کیا، وہ کون تھا؟ کیا ان صاحب کے خلاف قادیانی ہونے کا الزام عائد نہیں کیا تھا؟ کیا یہ صاحب انکار کر سکتے ہیں کہ ان کے والدین قادیانی نہیں ہیں۔ کیا وہ اس بات سے بھی انکار کریں گے کہ ان کے بیوی اور بچے قادیانی نہیں ہیں؟ کیا وہ یہ بتانا پسند کریں گے کہ ان کے بچوں کی شادی جس عمر خان کی اولاد سے ہو رہی ہے، وہ قادیانی نہیں؟ کیا آج L.D.A کا ڈائریکٹر جنرل قادیانی نہیں ہے؟ کیا خالد عمر اور عمر خان قادیانی نہیں؟

آج پنجاب میں افسروں کے تبادلوں کی ہدایات ربوہ ہیڈ کوارٹر سے کیوں آرہی ہیں؟ چیف منسٹر ہاؤس میں مارچ ۱۹۹۳ء سے پہلے، ربوہ سے آنے والی ٹیلی فون کالوں کا دباؤ اتنا زیادہ کیوں نہیں تھا؟ اور آج کیوں ہے؟ صاف ظاہر ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ پنجاب آج قادیانیوں کے نرغے میں ہے۔۔۔

سرگودھا روڈ پر آج قادیانیوں کی جرات کا یہ حال ہے کہ انہوں نے ”قادیان“ کے نام سے اپنے گاؤں آباد کر رکھے ہیں۔ اگر آپ کو جی ٹی روڈ پر گوجرانوالہ کی طرف جانے کا اتفاق ہو تو وہاں بھی راستے میں آپ کو اسی نام کا ایک گاؤں دکھائی دے گا۔ جس کا بورڈ میں نے خود اپنی آنکھوں سے گزشتہ دنوں دیکھا ہے، قادیانیوں کے اداروں کی طرف سے شائع ہونے والے جرائد و رسائل کا انداز نگارش اور طرزِ فکر، ماضی کے گزشتہ ۴۳ سالوں کی بہ نسبت، مسلمانوں کے خلاف آج زیادہ

صفحہ 156

جارحانہ ہے۔

میاں نواز کی برطرفی کے فوری بعد بیرونی ممالک میں مقیم قادیانیوں نے اپنے اپنے مرکز میں خوشیاں منانے کے لیے جشن چراغاں اور تقاریب کا اہتمام کیوں کیا؟ میاں نواز کو اکتوبر ۹۳ء کے جبری انتخابات میں ناکام بنانے کی کوشش کرنے والے معین قریشی کو پاکستان میں اپنے ساتھ لانے والا ایم ۔ ایم احمد کون ہے؟ کیا ایم ایم احمد مرزا غلام احمد قادیانی کے اپنے خاندان سے تعلق نہیں رکھتا؟ غلام اسحاق خان کے ایوانِ صدر کی تمام باگ ڈور قادیانی مافیا کے ہاتھ میں تھی اور غلام اسحاق خان قادیانی مافیا کے ہاتھ میں ایک کٹھ پتلی کا کردار ادا کر رہا تھا۔

آج پنجاب میں کیا ہو رہا ہے؟ آپ کے اپنے شہر لاہور میں کس طرح غیرت مند مسلمان طالب علموں کو 'قادیانیوں کے خلاف' تنازعات کی زد میں آکر مر جانے والے مقتولوں کے 'جھوٹے قتل کے پرچوں' میں ملوث کیا جا رہا ہے؟ اگر پنجاب کی حکومت قادیانیوں کے حصار سے باہر ہے تو وہ علامہ اقبال میڈیکل کالج کے ان بے گناہ طالب علموں پر قائم کیے گئے جھوٹے مقدمات کو ختم کیوں نہیں کرتی؟

مجھے تو خدشہ ہے کہ اے یو سلیم کو ایل۔ ڈی اے کا ڈائریکٹر جنرل بنایا ہی اس لیے گیا ہے تاکہ لاہور کی نئی توسیعی ہاؤسنگ سکیموں اور ٹاؤنوں میں صرف قادیانیوں کو پلاٹ الاٹ کیے جائیں ایل ڈی اے میں اب کون پوچھنے والا ہو گا۔ ڈائریکٹر جنرل قادیانی، وائس چیئرمین قادیانی، یہ تو وہی بات ہوئی کہ ۔۔۔ سیاں بھئے کوتوال ڈر کاہے کا۔

س: جن اصحاب کی آپ نے نشاندہی کی ہے وہ تو اپنے قادیانی ہونے کی تردید کرتے ہیں؟ ج: قادیانیوں کی تردید کا یہ انداز رہا ہے کہ وہ برملا کہتے ہیں کہ ہم قادیانی نہیں ہیں۔ یہ تردید جغرافیائی زمینی رشتے کے حوالے سے ہوتی ہے کہ وہ قادیان کے رہنے والے نہیں۔ ان کے پاس قادیان کی شہریت کو ظاہر کرنے والے کوائف اور دستاویزات نہیں ہیں۔ میں نے تو وٹو صاحب کا وزیر اعلیٰ قرار دیے جانے کے بعد ”نوائے وقت“ میں شائع ہونے والا نعیم مصطفیٰ کا انٹرویو پڑھا تھا۔ نمائندہ ”نوائے وقت“ کے بار بار کے پرزور اصرار کے باوجود انہوں نے مرزا غلام احمد پر لعنت نہیں بھیجی

صفحہ 157

تھی۔ میں تو اس سلسلہ میں صرف اخباری تردیدی بیانوں کا قائل نہیں ہوں۔ جو شخص بھی قادیانی نہیں ہے‘ اسے کوئی عذر مانع نہیں ہو تا کہ وہ اپنے بارے میں عقیدے کی سطح پر چھائی ہوئی شکوک و شبہات کی دھند کو دور کرنے کے لیے ختم نبوت کے قلعے پر شبخون مارنے والے جعلی نبی پر برسرعام لعنت بھیجے۔ ایل ڈی اے‘ ڈی جی ہو یا وائس چیئرمین یا کوئی اور ‘ اگر ان کا قادیانی مافیا سے کوئی تعلق نہیں تو وہ آئیں اور بادشاہی مسجد میں آکر ‘ خطیبِ شہر اور عوام کے روبرو مرزا غلام احمد پر لعنت بھیجیں اور اپنی اولاد کو بھی ساتھ لائیں۔۔۔خود کو مسلمان ظاہر کرنے کے لیے کرائے کے بیان بازوں کے بیانات کافی نہیں ہوں گے۔۔۔اگر قادیانی مافیا سے منسلکہ ”نامزد“ قادیانی افسران اور دیگر شخصیات بادشاہی مسجد میں ‘ اپنی اولاد سمیت آکر مرزا غلام احمد کو لعنتی قرار دے دیں تو میں انہیں اپنی جیب خاص اور ذاتی خرچ سے کینیڈا کے سیاحتی دورے کی دعوت دوں گا۔

س: کینیڈا میں قادیانیوں کی سرگرمیوں کا کیا حال ہے ؟ ج: برطانیہ‘ امریکہ‘ کینیڈا اور دیگر یورپی ممالک میں قادیانی یہودیوں کے سرمائے کے زور پر مختلف حیلوں بہانوں سے اپنے پیغام کو پھیلانے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔ بحمدللہ ! ان ممالک میں ہمارے جیسے مسلمان بھی موجود ہیں جو شمع ختم نبوت کے پروانے ہیں جو ان کا مکمل طور پر محاسبہ کرتے ہیں۔ یہاں انہوں نے ٹورنٹو میں مسجد نبوی کے ماڈل پر ۶ ملین ڈالر سے اپنا جماعت خانہ بنا رکھا ہے۔ جسے وہ عام مسلمانوں کو دھوکہ دینے کے لیے مسجد ہی کا نام دیتے ہیں۔

کینیڈا میں مقبوضہ کشمیر کے کچھ ڈاکٹرز ہیں جو قادیانی ہیں جو یہاں کشمیر کی تحریک آزادی کے حوالے سے ابلاغ عامہ کے ذرائع کو اس پراپیگنڈہ کے ذریعہ گمراہ کرتے ہیں کہ کشمیر کے لوگ صرف آزادی چاہتے ہیں۔ وہ پاکستان کے ساتھ الحاق نہیں چاہتے۔ بھارت کے دوسرے صوبوں اور شہروں سے مسلمانوں جیسے نام رکھنے والی جو بھارتی مخلوق‘ امریکہ‘ یورپ اور کینیڈا میں موجود ہے‘ ان میں سے ٪۹۰ قادیانی ہیں۔ میں آپ کو یہاں پر یہ بھی حیران کن بات بتاتا چلوں کہ انڈین سول سروس کے ذریعے اسامیوں پر مسلمانوں کے ناموں سے تعینات ہونے والے افسران ٪۸۸ قادیانی ہیں۔ ان کے نام

صفحہ 158

چونکہ مسلمانوں کے ناموں سے ملتے جلتے ہیں۔ اس لیے وہ اسلام اور مسلمانوں کے لبادے میں بھارت کے سیکولر اور نیشنلسٹ خیالات کی تبلیغ کر کے سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بھارت کے صدر فخرالدین علی احمد بھی اسی فرقے سے تعلق رکھتے تھے۔

ابھی میں نے انڈی پینڈنٹ کشمیر کی موومنٹ کا ذکر کیا تھا۔ اس موومنٹ کے پرچارک مقبوضہ کشمیر کے قادیانی ہیں اور ان کے پس پشت امریکہ کا ہاتھ ہے۔ قادیانی اس تحریک کے لیے اس لیے سرگرم عمل ہیں کہ ان کے خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود نے یہ بڑ ہانکی تھی کہ کشمیر جب بھی فتح اور آزاد ہو گا وہ قادیانی جرنیلوں کے ہاتھوں فتح اور آزاد ہو گا۔ یہاں پر جملہ معترضہ کے طور پر میں یہ عرض کروں کہ پاکستان میں بھی افواج کے اندر جہاں بھی قادیانی افسران موجود ہیں۔ وہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ہمیشہ Touchy اور Energetic ہوتے ہیں۔ اس کی واحد وجہ اپنے نام نہاد شیطانی خلیفہ کی پیشگوئی کو پورا کرنے اور سچ کر دکھانے کا جنون ہے۔

میں یہ سمجھتا ہوں کہ قادیانیوں کو یہ تو معلوم ہے کہ برصغیر میں موجود ممالک میں ان کے مذموم عزائم کی کھلے بندوں تکمیل کی رتی بھر بھی گنجائش نہ ہے۔ قادیانی پاکستان کے باغی ہیں۔ خان حبیب اللہ خان سابق والی افغانستان کے مجاہدانہ نعرہ مستانہ کی وجہ سے وہ افغانستان کو بھی اپنا ملجا و ماویٰ نہیں بنا سکے۔۔۔ بنگلہ دیش میں ان کے خلاف پہلے ہی سے شدید نفرت کا الاؤ دہک رہا ہے۔۔۔ وسط ایشاء کی نو آزاد مسلم ریاستوں میں جہاد افغانستان کے مثبت اثرات کے تحت قادیانیت کی تبلیغ کے راستے مسدود ہیں۔۔۔ البتہ وہ اس خطے اور منطقے میں کشمیر پر نگاہیں لگائے ہوئے ہیں کہ یہ ملک اگر مکمل طور پر آزاد ہو تو شاید یہ ان کی پناہ گاہ بن سکے۔ اگر کشمیر کا الحاق پاکستان کے ساتھ ہو گیا تو ان کے تمام سہانے سپنے ٹوٹ جائیں گے اور ان کے مذموم ارادے خاک میں مل کر ملیا میٹ ہو جائیں گے۔

کشمیر کے مسئلہ پر قادیانیوں کے فکر مند ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ مرزا غلام احمد چونکہ صعود مسیح کے قائل نہ تھے۔ بلکہ وہ نعوذ باللہ مرگ مسیح کے قائل تھے۔ ان کا یہ کہنا تھا کہ نعوذ باللہ مسیح کی قبر کشمیر میں ہے۔۔۔ اب قادیانی یہ چاہتے ہیں کہ کشمیر کی تحریک کو ہاتھ میں لے کر ان کے عواقب و نتائج پر وہ حاوی ہو جائیں اور کل کلاں جب مقبوضہ کشمیر

صفحہ 159

ان کی خواہش کے مطابق مکمل طور پر ایک الگ علیحدہ آزاد ریاست بن جائے تو وہ کسی قبر کی طرف نشاندہی کر کے یہ کہہ سکیں کہ ۔۔۔ یہ دیکھو! ۔۔۔ نعوذ باللہ مرزا کا کہنا سچ ثابت ہوا اور کشمیر کی پہاڑیوں میں مسیح کی قبر دریافت ہو گئی ۔ قبر کی یہ دریافت مرزا کے ”الہام“ پر مہر تصدیق کے طور پر پیش کی جائے گی۔

ٹورانٹو میں خلیفہ منان نامی ایک قادیانی نے کشمیر کے ایشو پر پمفلٹ تقسیم کیے اور یہ پمفلٹ یہاں کی مساجد میں تقسیم کرنے کی بھی کوشش کی۔ وہ تو یہاں مقیم قوم قریشی کی مہربانی سے ان پمفلٹوں کی تقسیم کے عمل کو روک دیا گیا ۔ اس کتابچے میں خلیفہ منان نے حکومت پاکستان کو بے نقط سنائی تھیں۔ لب لباب یہ تاثر دینا تھا کہ مقبوضہ کشمیر کی تحریک حریت میں پاکستان بے جا مداخلت کر رہا ہے ۔ ستم ظریفی دیکھیے کہ موصوف حکومت پاکستان کے پنشن یافتہ ہیں اور پاکستان کو گالیاں بھی دیتے ہیں اور تمام سہولیات سے فائدہ بھی اٹھاتے ہیں ۔۔۔ یہی خلیفہ منان صاحب جو کہ معروف قادیانی ہیں ۔ جب بھارت جاتے ہیں تو دہلی میں غاصب کشمیر، قاتلِ کشمیر مہاراجہ ہری سنگھ کے بیٹے راجہ کرن کی کوٹھی میں معزز مہمان کی حیثیت سے ٹھہرتے ہیں۔ میں سوال کرتا ہوں کہ پاکستان کو گالیاں دینے کی سزا یہی ہے کہ ایسے وطن دشمنوں کو وطن سے دور پنشن کی خطیر رقم باقاعدگی سے ادا کی جاتی رہے ؟

ہم سب جانتے ہیں کہ وہ پاکستانی جو ہندوستان کے سیاحتی دورے پر جاتے ہیں، ان کا کشمیر میں داخلہ مکمل طور پر بند ہوتا ہے ۔ پاکستانی پاسپورٹ رکھنے والے سیاحوں کو وہ وادی کشمیر کے قریب بھی نہیں پھٹکنے دیتے، ماسوائے قادیانی پاکستانیوں کے ۔ وہ قادیانی جو پاکستانی ویزا پر بھارت جاتے ہیں انہیں خصوصی طور پر کشمیر لے جایا جاتا ہے ۔ وہاں وہ پاکستانی حکومت کے خلاف نفرت پھیلاتے ہیں اور یہ پراپیگنڈہ کرتے ہیں کہ پاکستان تو خود ٹکڑوں میں بٹنے والا ہے ۔۔۔ کشمیر پاکستان کے ساتھ اپنا الحاق کر کے گھاٹے کا سودا کرے گا ۔

بیرونی ممالک میں آنے والے اکثر قادیانی یہاں آکر یہی شور مچاتے ہیں کہ پاکستان میں انہیں بنیادی انسانی حقوق کے چارٹر کے مطابق ڈیل نہیں کیا جاتا ۔ وہ یہاں کے پریس کے سامنے آکر بیان بازی کرتے ہیں کہ ان کے شہری حقوق تلف اور غصب کیے جارہے ہیں ۔ باوجودیکہ وہ یہاں مکمل طور پر آزاد ہیں ۔ وہاں غیر ممالک میں پاکستان کو بدنام کرنے کے لیے خود ساختہ ، من گھڑت، جعلی اور خانہ ساز مظالم کی کہانیاں سنا کر بین الاقوامی رائے

صفحہ 160

عامہ کو پاکستان کے خلاف کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پریسلر ترمیم کے نفاذ کے پیچھے بھی ان ممالک میں زیر زمین سیاسی سرگرمیوں میں ملوث قادیانیوں کا ہاتھ کسی نہ کسی گوشے میں ضرور موجود ہے اور آثار و قرائن کی تحقیق اور تجزیہ کے بعد آپ میری اس اطلاع اور رائے کی تصدیق کریں گے۔

امریکہ، یورپ اور کینیڈا میں مقیم قادیانیوں کی وطن دشمن سرگرمیوں کا اندازہ کرنے کا سادہ سا طریق کار یہ ہے کہ ان کی سفری دستاویزات، پاسپورٹ وغیرہ چیک کیے جائیں تو پتہ چلے گا کہ ان کے پاسپورٹوں پر اسرائیل اور بھارت کے کئی شہروں کے ویزے جاری ہوں گے۔ صاف ظاہر ہے کہ کسی مسلمان پاکستانی کو اسرائیل جانے کی نہ تو اسرائیل کی طرف سے اجازت ہے اور نہ ہی وہ خود اسرائیل کی زیارت کے لیے بے تاب ہوتے ہیں۔

(ہفت روزہ ”چٹان“ لاہور ۔ ۱۰ مارچ ۱۹۹۴ء)

صفحہ 161

برطانیہ میں مرزا طاہر احمد کا نیا ”اسلام آباد“

تنویر قیصر شاہد

۱۹ دسمبر ۱۹۷۹ء ”گارجین“ (برطانوی روزنامہ) لکھتا ہے ”اس سال کے وسط میں جب بین الاقوامی شہرت یافتہ پاکستانی سائنس دان ڈاکٹر عبد السلام کو طبعیات میں جوہر کو توڑنے کے نئے اور سستے طریقے دریافت کرنے پر سٹاک ہوم میں نوبل انعام کی نصف رقم سے نوازا گیا تو ان (عبد السلام) کے روحانی پیشوا مرزا طاہر احمد کے کہنے پر عبد السلام نے سویڈش اخبار نویس البرٹ ٹیلٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ”میں سب سے پہلے مرزا غلام احمد قادیانی کا غلام ہوں، پھر مسلمان ہوں اور پھر پاکستانی“ اس کے بعد ڈاکٹر عبد السلام نے اپنی سیاہ اچکن، سفید پگڑی اور پاؤں کے خم دار کڑھائی دار جوتے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ”میرا یہ لباس اولاً مرزا قادیانی (غلام احمد) کی متابعت میں ہے، ثانیاً پاکستانی ہونے کا ثبوت فراہم کرتا ہے۔“

یہی مرزا طاہر احمد، جسے اقلیت قادیانیوں کا چوتھا خلیفہ ہونے کا اعزاز حاصل ہے اور جس نے نوبل انعام یافتہ ڈاکٹر عبد السلام کو مسلمان پر قادیانی کو ترجیح دینے کا مشورہ دیا، آج کل لندن سے ۶۴ کلومیٹر دور جنوب میں واقع ایک خوبصورت، پر شکوہ اور جدید خطوط پر استوار بستی میں قیام پذیر ہے اور یہی اس کی سازشوں کا مرکز خیال کی جاتی ہے۔ اکیس ایکڑ پر واقع یہ جدید بستی جسے مرزا طاہر احمد نے ”اسلام آباد“ کا نام دے رکھا ہے، کو دنیا بھر میں بسنے والے قادیانیوں کے نزدیک ربوہ کے بعد دوسرا روحانی مرکز قرار دیتے ہیں۔ ٹل فورڈ کا یہ علاقہ جو کسی زمانے میں لکڑی کی بنی ہوئی بیرکوں پر مشتمل تھا اور جن میں نیوی کے نو آموز کیڈٹ رہائش رکھتے تھے، قادیانیوں کے سربراہ نے ۱۹۸۱ء میں چالیس کروڑ روپے میں خرید کر قادیانیوں کے لیے مختص کر دیا۔ مرزا طاہر احمد جس کا دعویٰ ہے کہ دنیا میں اس کے پیروکاروں کی تعداد دس ملین سے بھی تجاوز کر رہی ہے، نے ٹل فورڈ کے ویران

صفحہ 162

علاقے کو چند ماہ میں گل و گلزار میں تبدیل کر دیا۔ اس نے کھاتے پیتے قادیانیوں کو ترغیب دی کہ وہ اس علاقے میں مختصر قطعہ اراضی خرید کر رہائش اختیار کریں تاکہ یہاں زیادہ سے زیادہ قادیانی آباد ہو کر کم از کم برطانیہ میں ایک بااثر طاقت کا موجب بن سکیں، جن کی آواز کو برطانوی باشندے اپنی آواز سمجھیں۔ اس منصوبے پر جلد ہی عمل ہونے لگا اور دیکھتے ہی دیکھتے ٹل فورڈ کا یہ علاقہ قادیانیوں سے بھرنے لگا جہاں اب اڑتیس سو قادیانی گھرانے آباد ہیں۔ ٹل فورڈ میں قادیانیوں، احمدیوں کا یہ مرکز ”اسلام آباد“ اسرائیلی یہودی دانشوروں کی جائے پناہ بھی بن گیا۔ کہا جاتا ہے آج کل مرزائیوں کے اس ”اسلام آباد“ میں ۸۵ کے لگ بھگ یہودی دانشور بھی آباد ہیں، جنہیں مرزا طاہر احمد کی خاص سفارش پر آباد کیا گیا کہ ان کا مرزا قادیانی سے گہرا یارانہ بتایا جاتا ہے۔ قادیانی جنہیں بھٹو کے دور میں ختم نبوت تحریک کے دباؤ پر اقلیت یعنی غیر مسلم قرار دیا گیا، کھل کر اور ہر طرح کے خوف سے آزاد ہو کر ”اسلام آباد“ میں اسلام کے خلاف یہودی دانشوروں کے مشورہ پر عمل کرتے ہوئے ملت اسلامیہ میں مکروہ اور مذموم سازشوں کا جال بچھانے اور انارکی پھیلانے میں مصروف عمل ہیں۔ مرزا طاہر احمد جو ضیاء الحق مرحوم کے دور میں (۱۹۸۴ء میں) ملک دشمن سرگرمیوں سے پردہ اٹھنے پر اور اس خوف سے کہ مسلمانان عالم بالخصوص پاکستانی مسلمان اسے ان سرگرمیوں پر معاف نہیں کریں گے، یہ شخص نہایت خفیہ طریقے سے لندن فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔ کہا جاتا ہے کہ لندن پہنچنے کے تیسرے دن مرزا طاہر اسرائیل گیا جہاں اس نے بائیس دن قیام کیا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ انہی دنوں میڈرڈ (سپین) میں چھ مسلمانوں کا بہیمانہ قتل بھی طاہر احمد کے ایماء پر ہوا کہ انہوں نے میڈرڈ کے معروف اخبار ”سپینش پیپل“ میں احمدیوں اور قادیانیوں کی اس سازش سے پردہ اٹھایا، جس میں قادیانی سادہ لوح مسلمانوں کو مالی اور سماجی مسائل میں الجھا کر ایمان کی دولت سے محروم کرنے کے کئی پروگراموں پر عمل پیرا تھے۔ (”جورڈن ٹائمز“ مئی ۱۹۸۷ء)

ایشیا ویک جون ۱۹۹۰ء کے مطابق مرزا طاہر احمد نے ۶۱ برس قبل مشرقی پنجاب کے ایک متوسط زمیندار گھرانے میں جنم لیا تھا آج قادیانیوں ہی میں نہیں، دنیا کے ان اکتالیس امراء میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ ان کی دولت کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا۔ مرزا طاہر احمد نے جس گھر میں آنکھ کھولی، وہاں اس کے علاوہ اس کے اکیس ۲۱ بہن بھائی بھی اس قلیل روٹی کو

صفحہ 163

کھانے والے تھے جو سب کا پیٹ بھرنے سے قاصر تھی۔ اس کے باپ کی نو عدد بیویاں تھیں۔ جنہوں نے اپنے شوہر کو تیرہ بیٹے اور نو بیٹیاں دیں۔ مرزا طاہر احمد جو تعلیمی میدان میں درمیانے درجے کا طالب علم تھا‘ نے پنجاب یونیورسٹی سے گریجویشن کرنے کے بعد لندن کے اورینٹل سکولزاینڈ افریقن سٹڈیز میں داخلہ لیا جہاں وہ کئی برس زیر تعلیم رہا لیکن مسلسل ناکام ہوتا رہا۔ بالآخر تنگ آکر انتظامیہ نے اسے اپنے ادارے سے نکال دیا۔ اس کے ہم جماعتوں کا کہنا ہے کہ اس کی تعلیم پر کم اور عورت اور شراب پر زیادہ توجہ رہتی تھی۔ لندن میں سوہو کا علاقہ جہاں شراب اور عصمت فروش عورتوں کی بھرمار ہے‘ طاہر صاحب کا پسندیدہ مرکز تھا۔ کئی برس بعد اس کے ایک کلاس فیلو نے جو آج کل ”وال سٹریٹ“ اخبار سے وابستہ ہے‘ اس سے انٹرویو کے دوران جب یہ پوچھا کہ تم زمانہ طالب علمی میں اتنی کثرت سے شراب کا استعمال کیوں کرتے تھے تو مرزا طاہر احمد نے ہلکا سا قہقہہ لگاتے ہوئے کہا کہ اس لیے کہ یہ ہمارے جد اعلیٰ (مرزا غلام احمد قادیانی) کی سنت ہے اور میں اس سنت سے انحراف کیسے کر سکتا تھا۔ اکسٹھ سالہ مرزا طاہر احمد جس کی داڑھی اور سر کے بال سیاہ خضاب کے استعمال سے جامنی رنگ کے ہو رہے ہیں‘ دنیا کی ہر نعمت اس کے قدموں میں سجدہ ریز ہے‘ سوائے دین حنیف پر ایمان لانے کے! کسی زمانے میں وہ سکواش کا اچھا کھلاڑی تھا اور پولو پرنس آف ایڈنبرا کے ساتھ کھیلا کرتا تھا۔ ان دنوں اس کی صحت قابل رشک تھی مگر عورت اور شراب کی کثرت نے اس کا چہرہ ہی نہیں‘ جسم بھی بگاڑ کر رکھ دیا۔ مرزا طاہر احمد جس کا کہنا ہے کہ مجھے نماز کے مقابلے میں باورچی خانے میں بیوی کے لیے کھانا پکانے میں زیادہ سرور ملتا ہے۔ آج کل راتوں کو لندن کے مضافات ومبلڈن کے ایک پر شکوہ محل میں ٹہلتا نظر آتا ہے۔ اس نے کئی شادیاں کر رکھی ہیں۔ جن کی اولادوں کی اولادیں بھی جوان ہو چکی ہیں۔ لیکن ومبلڈن کے محل میں رہائش پذیر آصفہ اس کی محبوب اہلیہ ہے‘ جس کی دو بیٹیاں ہیں جن کی عمریں اٹھارہ اور بیس سال کے درمیان ہیں‘ اس کی پوری زندگی کا سرمایہ ہیں۔

لندن کے جنوب سے ۶۴ کلو میٹر دور واقع ”اسلام آباد“ میں مرزا طاہر احمد سال کے سات مہینے جم کر بیٹھتا ہے۔ ہر اگست میں یورپ کے آباد قادیانیوں کا سالانہ میلہ یہاں منعقد ہوتا ہے۔ گزشتہ سال اس میلے میں بیس ہزار قادیانیوں نے شرکت کی۔ یہ میلہ جسے قادیانی

صفحہ 164

”حج اصغر“ کا نام دیتے ہیں‘ فقط مرزا طاہر احمد کے چہرے کا دیدار کرنا ہے۔ ”اسلام آباد“ کی اس انگلستانی قادیانی ریاست میں دنیا کا سب سے جدید ترین پریس کام کرتا ہے جسے نیویارک کی ففتھ ایونیو کی تاجر برادری کے یہودی چیئرمین ڈیوڈ سلم نے مرزا طاہر احمد کی سالگرہ پر ۱۹۸۵ء میں تحفے میں دیا تھا۔ جسد ملت اسلامیہ کا یہ ناسور دنیا کے ہر اس خطہ میں جہاں اسلام کی برتری کے کچھ آثار نظر آتے ہوں‘ اپنے ایجنٹ بھیجنا نہیں چھوڑتا۔ واقعہ یہ ہے کہ مالی میں ۱۹۸۳ء میں جن تین ہزار ملاوی بدھوں نے اسلام قبول کیا تھا‘ ان میں نصف سے زائد کو دوبارہ بدھ بنانے میں طاہر کے ایجنٹوں نے مرکزی کردار ادا کیا۔ اکتوبر ۸۳ء ”وال سٹریٹ“ کے نمائندے اور اپنے دوست کو انٹرویو دیتے ہوئے مرزا طاہر احمد نے کہا تھا ”ہمیں بھٹو نے اقلیت قرار دیا تو ساتھ ہی اس نے ہمیں یہ یقین بھی دلایا کہ یہ چند روز کی بات ہے‘ مگر دیکھ لیجئے گا کہ سارا معاملہ میں تم لوگوں کے حق ہی میں کروں گا۔۔۔۔۔ لیکن بعد ازاں پاکستان کے بعض ملاؤں جن کی رہنمائی مولانا مفتی محمود اور نیازی کر رہے تھے‘ نے بھٹو کو یہ موقع ہی نہ دیا کہ وہ ہمارا ساتھ دے‘ حالانکہ دل سے وہ ہمارے ساتھ تھا۔ پھر جب جولائی ۷۷ء میں بھٹو کو زبردستی اقتدار سے محروم کر کے فوجی آمر ضیاء الحق برسر اقتدار آیا تو ہماری ساری امیدیں خاک میں مل گئیں۔ ضیاء الحق نے ہم پر سب سے زیادہ ظلم ڈھایا۔ اس نے ہمارے مسلمان کہلانے کے حق کو بھی غصب کر لیا کہ اب ہم پاکستان میں مسلمان نہیں کہلا سکتے‘ نہ لکھ سکتے ہیں۔ اس نے ہماری مساجد کو عبادت گاہیں قرار دے دیا۔ وہاں کلمہ (طیبہ) مٹا دیا گیا تو کیا ہم ان سب چیزوں کو فراموش کر دیں گے؟ ہم بدلے کے لیے کچھ نہ کچھ تو کرتے ہی رہیں گے“۔ پاکستان میں کلیدی عہدوں پر فائز بعض قادیانیوں کو ان کے عہدوں سے ہٹائے جانے کا جواب دیتے ہوئے مرزا طاہر احمد نے کہا ”ہمارے لوگ اگر ان عہدوں پر فائز ہیں تو اپنی ذہانت‘ قابلیت کی بنیاد پر فائز ہیں۔ (ڈاکٹر) عبدالسلام کی شہرت کو بھی یہ پاکستانی مسلمان چبھتی ہوئی نظروں سے دیکھتے ہیں۔ پاکستان کا پہلا وزیر خارجہ (سر ظفر اللہ) بھی ہمارا تھا لیکن بانی پاکستان نے اس پر اعتماد کیا۔ اگر مذہب کی بنیاد پر اکثریتی فرقے پر کوئی اقلیتی فرقے کا آدمی فائز نہیں ہو سکتا تو پھر مانچسٹر کے مسلمان میئر کو بھی ہٹا دینا چاہیے کہ اصول کے تحت تو وہ بھی اکثریتی فرقے عیسائیوں پر حکومت نہیں کر سکتا۔“

مرزا طاہر احمد اس سلسلے کی چوتھی کڑی ہے۔ جسے تخلیق کرنے میں متحدہ ہندوستان پر

صفحہ 165

قابض برطانوی انگریزوں نے بڑی عرق ریزی اور محنت سے کام لیا تھا۔ قادیانی اپنی تخلیق کے دن سے عالم اسلام کو کمزور کرنے‘ اسے زک پہنچانے میں پیش پیش ہیں۔ مسلمان جدھر منہ کرتے ہیں یہ ادھر کو پیٹھ کر لیتے ہیں‘ بدنام زمانہ مصنف سلمان رشدی نے ”شیطانی آیات“ (Satanic Verses) لکھی تو پوری دنیا کے مسلمانوں میں غصے کی ایک لہر دوڑ گئی جو ابھی تک دبائی نہیں جاسکی۔ برطانوی مسلمانوں نے سلمان رشدی کے خلاف زبردست جلوس نکالے‘ جلسے منعقد کیے اور اس دل آزار کتاب پر پابندی عائد کرانے کا ہر حربہ استعمال کیا۔ ایرانی رہنما آیت اللہ خمینی کے فتوے نے مسلمانوں کو اور بھی ہمت دلائی۔ عالم اسلام کے بچے بچے نے کتاب اور اس کے مصنف کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے صفحہ ہستی سے مٹا ڈالنے کا عہد کر ڈالا۔ لیکن یہ مرزا طاہر احمد ہی تھا‘ جس نے سلمان رشدی کے حق میں بیانات دیے‘ انٹرویو ریکارڈ کروائے اور کہا ”آیت اللہ خمینی کا یہ فتویٰ کہ سلمان رشدی کو موت کے گھاٹ اتار دیا جائے‘ سراسر بے بنیاد اور غیر انسانی رویے کی دلیل ہے۔ یہ مسلمان جنونی (Fanatic) ہیں جو ہر بدلی ہوئی آواز کو دبا دینا چاہتے ہیں۔ رشدی کے مسئلے پر برطانوی مسلمانوں نے مظاہرے کر کے اپنے آپ کو ذلیل کروایا ہے۔ میں رشدی کو اپنا بھائی کہتا ہوں۔“ برطانوی مسلمانوں کے متفقہ لیڈر شیر اعظم‘ جنہوں نے سلمان رشدی کو روپوش ہونے پر مجبور کر دیا‘ کی تحریک پر تبصرہ کرتے ہوئے مرزا طاہر احمد نے یہ مکروہ بیان کیا ”شیر اعظم نے سلمان رشدی کے خلاف مسلمانوں کو ابھار کر مسلمانوں کو بھی ذلیل کیا ہے‘ خود بھی ذلیل ہوا ہے۔“

مرزا طاہر احمد کے اس مذموم بیان پر برطانوی مسلمانوں نے اپریل ۹۰ء کو ومبلڈن میں ایک زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا اور طاہر احمد کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا کہ وہ بھی سلمان رشدی کے کافرانہ عزائم میں برابر کا حصہ دار ہے۔ مرزا طاہر احمد اسی روز اپنے محل کے عقبی دروازے سے بذریعہ کار پہلے ”اسلام آباد“ پھر وہاں سے فرانس بھاگ گیا اور وہاں جا کر ”زیتوک برگ“ اخبار کے ذریعے اپنے بیان کی تردید جاری کر دی۔

(ہفت روزہ ”زندگی“ لاہور‘ جلد ۱۱‘ شمارہ ۱۱)

صفحہ 166

میں پاکستان سے کیوں بھاگا؟

قادیانیوں کے بھگوڑے پیشوا مرزا طاہر کے انکشافات

"ان کے (مسلمانان پاکستان کے) ارادے ایسے ہیں کہ ان کو سوچ کر بھی ایک انسان جس کا دنیا میں کوئی سہارا نہ ہو، اس کی زندگی خراب ہو سکتی ہے۔ اس کے تصور سے ہی انسان کا وجود لرزنے لگتا ہے"۔

"اس دور میں یعنی ۱۹۸۴ء کی جو شرارت ہے، اس میں مکمل سکیم کے تابع پاکستان میں جماعت احمدیہ کو ملیا میٹ کرنے کا ارادہ تھا اور جماعت احمدیہ کی ہر اس انسٹی ٹیوشن، ہر ہر اس تنظیم پر ہاتھ ڈالنے کا ارادہ، جس کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ چنانچہ انہوں نے سب سے پہلے ایسے قانون بنائے، جن کے نتیجہ میں خلیفہ وقت پاکستان میں رہتے ہوئے خلافت کا کوئی بھی فریضہ سرانجام نہیں دے سکتا...... خلیفہ وقت اگر پاکستان میں السلام علیکم بھی کہے تو حکومت کے پاس یہ ذریعہ موجود ہے اور وہ قانون موجود ہے جس کو بروئے کار لا کر وہ اسے پکڑ کر تین سال کے لیے جماعت سے الگ کر سکتے ہیں۔ اور یہی نیت تھی اور اب بھی ہے..... چنانچہ میرے آنے سے پہلے دو تین دن کے اندر جو واقعات ہوئے ہیں، ان کا ہمیں اس وقت پورا علم نہیں تھا۔ کیونکہ یہ خلافت کے قلع قمع کی ایک بھیانک سازش تھی جس کی پہلی کڑی یہ سوچی گئی تھی کہ خلیفہ وقت اگر اپنے آپ کو کسی طرح بھی مسلمان ظاہر کرے تو اسے فوری طور پر قید کر کے تین سال کے لیے جماعت سے الگ کیا جائے......

صفحہ 167

آرڈیننس یہ تھے کہ اگر یہ خطبہ دے (آرڈیننس کے دوسرے دن جمعہ تھا) تو خطبہ چونکہ ایک اسلامی کام ہے اور صرف اسی بہانہ پر اس کو پکڑا جاسکتا ہے کہ تم خطبہ دے کر مسلمان بنے ہو۔ تشہد پڑھا ہے۔ اس کے نتیجہ میں پکڑا جاسکتا ہے۔ اگر خطبہ دے تو پکڑو اور اگر خطبہ نہ دے تو پھر کوئی بہانہ تلاش کرو۔ اگر ربوہ کی کسی مسجد میں اذان ہو جائے یا اور کوئی بہانہ مل جائے تو تب بھی اس کو پکڑ لو اور آخری آرڈر یہ تھا کہ اگر کوئی بہانہ نہ بھی ملے تو بہانہ تراشو اور پکڑو"۔

"یہ ایک خطرناک سازش تھی اور پھر اس کی اگلی کڑیاں تھیں۔ جن لوگوں کو جھوٹ کی عادت ہو' اور ظلم اور سفاکی کی عادت ہو۔ بقول مرزا طاہر:

اتنی نہ بڑھا پاکی داماں کی حکایت
دامن کو ذرا دیکھ' ذرا بند قبا دیکھ

(ندیم)

جن کو افتراء پردازی کی عادت ہو وہ کوئی بھی الزام لگا کر' کوئی بھی جھوٹ گھڑ کے پھر خلیفہ کی زندگی پر بھی حملہ کرسکتے ہیں۔ (یعنی قتل کرسکتے ہیں) اور اس صورت میں جماعت کا اٹھ کھڑے ہونا اور اپنے قویٰ سے قابو کھو دینا' جذبات سے قابو کھو دینا اور دماغی کیفیات سے بھی نظم و ضبط کا کنٹرول کھو دینا' ایک طبعی بات تھی۔ ناممکن تھا کہ جماعت ایسی حالت میں کہ ان کو پتہ ہے کہ :

خلیفہ وقت کلیتاً "ایک معصوم انسان ہے۔ ان باتوں میں ہماری جماعت پڑ ہی نہیں سکتی ہے۔ اس پر جھوٹا الزام لگا کر ایک بدکردار انسان اسے موت کے گھاٹ اتار دے' ناممکن تھا کہ جماعت اسے برداشت کر سکتی"۔

"میرے دل میں بڑے زور سے یہ تحریک ڈالی کہ جس قدر جلد ہو' اس ملک سے تمہارا نکلنا خلافت کی حفاظت کے لیے ضروری ہے"۔ (خلاصہ بیان مرزا طاہر' ۲۸.۱۲.۸۴ بمقام پیرس' فرانس)

ہم نے مرزا طاہر کا یہ بیان قادیانی جماعت کے مبلغ ہادی علی چودھری کی کتاب حصار امن و ایمان و یقین" سے لیا ہے ۔ اور اس کتاب کو مرزا طاہر کی خوشنودی حاصل ہے۔ چنانچہ مرتب خود لکھتا ہے :

صفحہ 169

”اس عاجز کو اس اہم اور بنیادی عنوان پر کچھ مواد جمع کرنے کی توفیق ملی ہے۔ جس کو سیدی و مطاعی حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ....... کی خوشنودی حاصل ہے“۔ (ص ۱‘ ص ۲)

حصار اس دیوار کو کہا جاتا ہے جو چاروں طرف حفاظت کے لیے کھینچی جائے۔ گویا قادیانی خلافت ایک حفاظتی دیوار ہے جو قادیانیوں کی حفاظت کر رہی ہے۔ مصنف کے نزدیک ”مسند خلافت پر متمکن وجود ناقابل تسخیر ہوتا ہے“۔ (ص ۵)

اس کے بعد مصنف قادیانی خلافت کو قلعہ اور امن کا نشان قرار دیتے ہوئے لکھتا ہے:

”پس خلافت وہ قلعہ ہے جس کی فصیلیں خوف کی دسترس سے بلند تر ہیں۔ وہ خود خواہ منافقت کا ہو یا عداوت کا‘ جنگ کا ہو یا سیاست کا‘ کسی گروہ کی طرف سے ہو یا بادشاہت کی طرف سے‘ ہر حال میں خلافت امن کا نشان ہے۔ (ص ۱۴)

بعد ازاں خلافت کو حصار قرار دیتے ہوئے لکھتا ہے:

”خلافت ایک حصار ہے جو طاغوتی حملوں اور دشمنوں کے شیطانی ارادوں سے جماعت کو محفوظ و مصئون رکھتا ہے“۔ (ص ۲۵)

مزید لکھتا ہے:

”منصب خلافت جامع جملہ برکات الہیہ ہے جو خلافت سے وابستہ ہو جاتا ہے‘ ملائکہ اللہ کی حفاظت میں آجاتا ہے۔ وہ سوتا ہے تو فرشتے اس کے لیے جاگتے رہتے ہیں۔ وہ دشمن سے بے خبر ہوتا ہے تو فرشتے اس کے لیے دفاع کر رہے ہوتے ہیں“ (ص ۲۷)

جو خلیفہ ہوتا ہے‘ اس کی دعائیں حتمی طور پر قبول ہوتی ہیں۔ چنانچہ مصنف کتاب مرزا محمود کی منصب خلافت (ص ۳۲) نامی کتاب کے حوالے سے یہ عبارت نقل کرتا ہے:

”اللہ تعالیٰ جب کسی کو منصب خلافت پر سرفراز فرماتا ہے تو اس کی دعاؤں کی مقبولیت بڑھا دیتا ہے۔ کیونکہ اگر اس کی دعائیں قبول نہ ہوں تو پھر اس کے اپنے انتخاب کی ہتک ہوتی ہے“ (۲۷)

مرزا طاہر کے بیان پر ایک نظر

آئیے سب سے پہلے مرزا طاہر کے بیان یا دوسرے لفظوں میں بھاگنے کی وجوہات پر

نظر ڈالتے ہیں۔ مرزا طاہر کے بیان کے اہم نکات یہ

مرزا طاہر کے ان انکشافات سے ظاہر ہوتا خطرات کی وجہ سے ملک سے بھاگنے پر مجبور ہوا۔ ا

”حصار امن“ میں قادیانی مصنف نے ”خلیفہ کی جو

جب قادیانیوں کا خلیفہ اتنی غیر معمولی روح قوت پاکستان میں رہ کر استعمال کر سکتا تھا۔ اول تو گرفتار کیا ہی نہیں جاسکتا تھا۔ اگر بالفرض گرفتار روحانی قوت کو شکست دے ڈالتی تو جیل کی آہ پگھل سکتی تھیں۔ اور اس کی دیواریں ریت تھیں۔

جیسا کہ میں نے حوالے سے لکھا کہ ہا خوشنودی کا تمغہ ملا ہوا ہے۔ اس لیے اس میں حجت ہے اور اس پر ایمان لانا قادیانیوں کے لیے

صفحہ 169

نظر ڈالتے ہیں۔ مرزا طاہر کے بیان کے اہم نکات یہ ہیں:

مرزا طاہر کے ان انکشافات سے ظاہر ہوتا ہے کہ مرزا طاہر مندرجہ بالا وجوہات یا خطرات کی وجہ سے ملک سے بھاگنے پر مجبور ہوا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مذکورہ کتاب ”حصار امن“ میں قادیانی مصنف نے ”خلیفہ کی جو صفات بیان کی ہیں، ان کے مطابق خلیفہ:

جب قادیانیوں کا خلیفہ اتنی غیر معمولی روحانی قوت کا مالک ہوتا ہے تو وہ اپنی روحانی قوت پاکستان میں رہ کر استعمال کر سکتا تھا۔ اول تو اس کو غیر معمولی روحانی قوت کی وجہ سے گرفتار کیا ہی نہیں جاسکتا تھا۔ اگر بالفرض گرفتار کرنے والوں کی روحانی قوت مرزا طاہر کی روحانی قوت کو شکست دے ڈالتی تو جیل کی آہنی سلاخیں مرزا طاہر کی ایک پھونک سے پگھل سکتی تھیں۔ اور اس کی دیواریں ریت کے مادھو کی طرح ایک ٹھوکر سے گر سکتی تھیں۔

جیسا کہ میں نے حوالے سے لکھا کہ ہادی علی چودھری کی کتاب کو مرزا طاہر کی خوشنودی کا تمغہ ملا ہوا ہے۔ اس لیے اس میں جو کچھ لکھا ہوا ہے، وہ قادیانیوں کے لیے حجت ہے اور اس پر ایمان لانا قادیانیوں کے لیے فرض ہے۔ اب میرا:

صفحہ 170

جب مرزا طاہر اتنی غیر معمولی روحانی قوت کا مالک تھا‘ بلکہ (بقول قادیانیوں کے) ہے تو وہ بھاگ کر کیوں گیا اور اگر اس کا بھاگنا درست ہے تو پھر بات واضح ہے کہ اسے خلیفہ اور امام سمجھنا ہی غلط ہے۔ کیونکہ اس نے بھاگ کر اپنے کردار سے ثابت کر دیا کہ اس میں روحانی قوت سرے سے ہے ہی نہیں۔

جہاں تک ہمارا یعنی اہل اسلام کا تعلق ہے تو وہ مرزا قادیانی ہو یا حکیم نور دین بھیروی ہو‘ مرزا محمود ہو‘ ناصر ہو یا مرزا طاہر‘ ان سب کو ملعون‘ مردود‘ کافر‘ مرتد اور زندیق سمجھتے ہیں جبکہ ایسے لوگوں میں روحانیت تو کیا انسانیت بھی نہیں ہوتی۔ البتہ قادیانی حضرات کو یہ بات ضرور سوچنی چاہیے کہ آخر نا سمجھی اور جہالت کی وجہ سے وہ قادیان کی اس رائل فیملی کے ہاتھوں میں کب تک کھلونا بنے رہیں گے۔

(ہفت روزہ ”ختم نبوت“ کراچی‘ جلد ۷‘ شمارہ ۳۷)

صفحہ 171

سر ظفر اللہ خان کا شرمناک کردار

یہ بات مسلمہ ہے کہ کسی ملک کی نیک نامی اور بدنامی میں اس ملک کی خارجہ پالیسی کو اولین حیثیت حاصل ہے۔ اور جتنی اس کی خارجہ حکمت عملی کامیاب ہوگی‘ اتنی ہی اس ملک کی اقتصادی و معاشرتی ترقی کے ساتھ ساتھ اس کی دفاعی پوزیشن بھی مضبوط ہو گی۔ گویا خارجہ پالیسی کو امور مملکت میں تقریباً تمام شعبوں پر سبقت حاصل ہے۔ آج ہم جب اپنے گرد و پیش اور خطہ عالم پر نظر دوڑاتے ہیں تو وہ ممالک جن کی خارجہ پالیسی اور فارن ڈپلومیسی کامیاب ہے‘ وہ قومیں اور مملکتیں رو بہ ترقی ہیں۔ لیکن یہ ترقی اور عروج تب ممکن ہے جب اس ملک کے پالیسی ساز انتہائی زیرک‘ قابل اور عالمی سیاست سے آشنا ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے ملک اور قوم کے ساتھ ان میں انتہائی عقیدت‘ خلوص اور جذبہ حب الوطنی کی روح موجود ہو۔ اسی ولولے سے سرشار قومیں ہی قوم کی کشتی کو ساحل مراد تک پہنچا سکتی ہیں۔

بدقسمتی سے ہمارے ملک میں دوسرے شعبوں کی طرح یہ شعبہ بھی کوئی خاطر خواہ نتیجہ برآمد نہ کر سکا اور نہ ہی پچاس سال گزرنے کے باوجود اس کی کارکردگی قابل رشک تو بہت دور کی بات ہے‘ حوصلہ افزا رہی جو کہ ہماری بدقسمت قوم اور حرماں نصیب ملک کے لیے ایک بہت بڑا لمحہ فکریہ ہے اور اس کی بنیادی وجہ بالکل واضح ہے۔ جو لوگ تحریک پاکستان اور تقسیم برصغیر کے عمل سے واقف ہیں‘ ان کو یہ بات بخوبی معلوم ہے کہ ارض پاکستان کے منصہ شہود پر نمودار ہوتے ہی ایک ایسا شخص اس اہم ترین وزارت پر براجمان ہوا‘ جو عالمی استعمار کا ایجنٹ‘ سامراجی قوتوں کا زر خرید غلام اور امت محمدیہ ﷺ کا نہ

صفحہ 172

صرف دشمن بلکہ مرزائے قادیان کی نبوت کاذبہ کا پرجوش مبلغ اور سرگرم داعی تھا۔ جب اس کے ناپاک ہاتھوں ہماری خارجہ پالیسی کی بنیاد رکھی گئی اور اس کا سنگ افتتاح اس صہیونی گماشتے نے رکھا تو ظاہر ہے

خشت اول چوں نہد معمار کج
تا ثریا می رود دیوار کج

کے مصداق وہی ہوا۔ جس کا مشاہدہ ہم گزشتہ کئی برسوں سے کر رہے ہیں۔ ملک تو آزاد ہوا لیکن آزاد خارجہ پالیسی کے لیے آج تک ہم منتظر اور چشم براہ ہیں۔ آنجہانی سر ظفراللہ خان کو ”یار لوگ“ مافوق الفطرت دماغ والا انسان ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، اور اس کو ایک نابغہ (Genius) کے طور پر پیش کرنے کی سعی لاحاصل میں مصروف ہیں۔ بعض لوگوں کے خیال میں محمد علی جناح بانی پاکستان کو اس بات پر مجبور کیا گیا تھا کہ وہ سر ظفراللہ خان کو پاکستان کی اولین وزارت خارجہ کا قلمدان سپرد کر کے اس عظیم اعزاز کا مستحق ٹھہرائے۔ چنانچہ انہوں نے بادل ناخواستہ اس کو اس غیر معمولی عہدے کے لیے نامزد کیا۔ جس کی سزا آج تک ہماری قوم بھگت رہی ہے حالانکہ اس کا شرمناک کردار تقسیم اور باؤنڈری کمیشن کے وقت الم نشرح ہو چکا تھا۔

کشمیر کے بارے میں بانی پاکستان محمد علی جناح نے کہا تھا کہ ”کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے“ کیونکہ پاکستان میں بہنے والے تمام دریاؤں کا سرچشمہ کشمیر ہے اور اسے تاریخی اور جغرافیائی اعتبار سے بھی پاکستان کا حصہ ہونا چاہیے۔ لیکن جن دنوں حد بندی کمیشن پاکستان اور بھارت کی حد بندی اور علاقوں کی تعین میں مصروف تھا، کانگریس اور مسلم لیگ کے نمائندے اپنا اپنا موقف پیش کر رہے تھے اور پھر مزے کی بات یہ ہے کہ مسلم لیگ کی طرف سے سر ظفراللہ خان وکالت کے فرائض انجام دے رہا تھا۔ انہی دنوں قادیانی جماعت کی طرف سے الگ محضر نامہ کمیشن کو پیش کیا گیا جس میں مرزائیوں نے مرزا غلام احمد قادیانی کے مولد قادیان کو ویٹیکن سٹی (Vatican City) قرار دینے کا مطالبہ کیا۔ قادیانیوں نے ریڈ کلف کمیشن کو اپنا نقشہ بھی پیش کیا، جس میں انہوں نے اپنے آپ کو مسلمانوں سے علیحدہ ظاہر کیا۔ قادیانی جماعت نے یہ نقشہ ۱۹۳۰ء میں تیار کیا تھا۔ حد بندی کمیشن کو الگ میمورنڈم پیش کرنے کا افسوس ناک پہلو یہ تھا کہ سر ظفراللہ خان ایک طرف تو مسلم لیگ کی

صفحہ 173

وکالت کر رہا تھا اور دوسری طرف اس کی جماعت نے الگ محضر نامہ کمیشن کے سامنے رکھا تھا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مرزائیوں کا یہ مطالبہ تو تسلیم نہیں کیا گیا کہ قادیان کو ویٹیکن سٹی (Vitigen City) قرار دیا جائے۔ البتہ باؤنڈری کمیشن نے مرزائیوں کے محضر نامہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے احمدیوں کو مسلمانوں سے خارج کر کے گورداسپور کو مسلم اقلیت کا ضلع قرار دے کر اس کے اہم علاقے بھارت میں شامل کر دیے۔ اس طرح نہ صرف یہ کہ گورداسپور کا ضلع پاکستان کے حصہ میں نہیں آیا بلکہ بھارت کو کشمیر کے لیے راستہ بھی مل گیا۔ جس کا نتیجہ آج ہمارے سامنے ہے۔

چنانچہ سید میر نور احمد سابق ڈائریکٹر تعلقات عامہ اپنی یادداشتوں ”مارشل لاء سے مارشل لاء تک“ میں رقم طراز ہیں:

”لیکن اس سے یہ بات واضح ہو گئی کہ ایوارڈ پر ایک مرتبہ دستخط ہونے کے بعد ضلع فیروز پور کے متعلق جن میں سترہ (۱۷) اور انیس (۱۹) اگست کے درمیانی عرصہ میں ردو بدل کیا گیا اور ریڈ کلف سے ترمیم شدہ ایوارڈ حاصل کیا گیا۔ کیا ضلع گورداسپور کی تقسیم اس ایوارڈ میں شامل تھی، جس پر ریڈ کلف نے ۸ اگست کو دستخط کیے تھے۔ یا ایوارڈ کے اس حصہ میں بھی ماؤنٹ بیٹن نے نئی ترمیم کرائی.... ضلع گورداسپور کے بارے میں ایک اور بات قابل ذکر ہے، اس کے متعلق چودھری ظفر اللہ خان جو مسلم لیگ کی وکالت کر رہے تھے، خود بھی ایک افسوس ناک حرکت کر چکے تھے۔ انہوں نے جماعت احمدیہ کا نقطہ نظر عام مسلمانوں سے (جن کی نمائندگی مسلم لیگ کر رہی تھی) جداگانہ حیثیت میں پیش کیا۔ چنانچہ معروف مسلم لیگی رہنما میاں امیر الدین نے اس بات کا اعتراف کیا کہ باؤنڈری کمیشن کے موقع پر ظفر اللہ خان کو مسلم لیگ کا وکیل بنانا مسلم لیگ کی بہت بڑی غلطی تھی۔ جن کے ذمہ دار خان لیاقت علی خان اور چودھری محمد علی تھے۔ اس نے پاکستان کی کوئی خدمت نہیں کی، بلکہ پٹھان کوٹ کا علاقہ اس کی سازش کی بنا پر پاکستان کے بجائے ہندوستان میں شامل ہوا“ (بحوالہ قادیانیت کا سیاسی تجزیہ) جملہ معترضہ کے طور پر فارسی کا ایک مشہور شعر مجھے یاد آرہا ہے کہ

گر بہ میر و سگ وزیر و موش را دیواں کنند
ایں چنیں ارکان دولت ملک را ویراں کنند
صفحہ 174

پاکستان کی پہلی کابینہ میں بھی کچھ یہی صورت حال تھی۔ سرڈگلس گریسی آزاد اور خود مختار پاکستان کی فوج کا کمانڈر ان چیف‘ سردار جوگندر ناتھ منڈل وزیر قانون اور سر ظفراللہ وزیر خارجہ ۔ کیا ایسی کابینہ سے ملک وقوم کی تعمیر و ترقی کی توقع کی جاسکتی تھی؟

ہم کو ان سے وفا کی ہے امید
جو نہیں جانتے وفا کیا ہے؟

یہ تو تھی مملکت خداداد پاکستان کے پہلے وزیر خارجہ کی تقسیم ملک کے وقت شرمناک کردار کی ایک ادنیٰ جھلک۔ ذرا غور فرمائیے کہ کیا ایسا شخص اس اہم عہدے کے قلمدان کا اہل ہے؟ ہرگز نہیں ۔ لیکن کیا کیا جائے مشہور مصرعہ ہے

”ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے انجام گلستاں کیا ہوگا؟“

کیا اس لیے ہزاروں مسلمانوں کے خون کی ندیاں بہائی گئیں؟ ہزاروں عفیفات کی عصمتیں لٹیں‘ ہزاروں بچے یتیم ہوگئے‘ ہزاروں جوانوں نے جام شہادت نوش کیا اور کئی سر پھرے دار و رسن پر جھول گئے ۔ ہزاروں سہاگ ”اجڑ“ گئے‘ کتنے بے گناہ تہہ تیغ کر دیے گئے ۔ کتنوں کے سر نیزوں کی انیوں پر لہرائے گئے‘ کتنے بچوں کے پیٹ برچھیوں سے چاک کر دیے گئے اور مسلمان قوم نے یہ تمام مظالم اس لیے خندہ پیشانی سے جھیلے کیونکہ ان کے سامنے ایک مقصد تھا۔ ایک آرزو تھی‘ ایک دلی تمنا تھی کہ نئی مملکت میں اسلام کا بول بالا ہو گا۔ ہم نہ سہی‘ ہماری نسلیں اور ہمارے بچے اسلام اور شریعت کی بہاریں دیکھیں گے ۔ اگر ان سرفروشوں کو یہ معلوم ہوتا کہ ہماری قربانیوں کا ثمر اس طرح ظہور پذیر ہو گا تو پھر وہ کبھی بھی اتنی بھاری قیمت ادا کرنے پر تیار نہ ہوتے ۔

اگر یہ جانتے چن چن کے ہم کو توڑیں گے
تو گل کبھی نہ تمنائے رنگ و بو کرتے

بہر حال یہ تو درمیان میں سخن گسترانہ بات آئی ۔ اب چودھری کے کارہائے نمایاں کی ایک تصویر دوران وزارت خارجہ قارئین کے سامنے پیش کرتے ہیں ۔ دوران وزارت خارجہ آپ نے زیادہ وقت بیرون ملک گزارا اور پارلیمنٹ میں آنے سے کتراتے رہے ۔ اس دوران آپ نے پاکستان کے نقطہ نظر سے ہٹ کر اپنے غیر ملکی آقاؤں کے حکم اور اپنی قادیانی جماعت کے زاویہ نگاہ سے خارجہ پالیسی وضع کی ۔

صفحہ 175

وزارت خارجہ سے محب وطن افراد کو نکال کر مخصوص قادیانی وسیع پیمانے پر بھرتی کیے اور اسی طرح غیر ممالک میں وزارت خارجہ کے دفاتر مرزائیت کی تبلیغ اور جاسوسی کے اڈوں میں تبدیل ہو گئے۔ اسلامی ممالک سے روابط اور تعلقات بڑھانے کے بجائے یورپی ممالک بالخصوص امریکہ اور برطانیہ سے تعلقات بڑھائے گئے۔ عرب ممالک کے ساتھ رشتہ اخوت کو مستحکم کرنے کے بجائے انہیں پاکستان سے بدظن کرنے اور پاکستان سے دور کرنے کی پالیسی اختیار کی گئی اور عربوں کی جاسوسی کرنے کے لیے مختلف ممالک میں قادیانی سیل قائم کیے گئے۔ برادر ملک افغانستان اور مصر سے جان بوجھ کر تعلقات کشیدہ کیے گئے جس کا خمیازہ آج تک بھگتا جا رہا ہے۔ پاکستان کے جغرافیائی محل وقوع اور وطن عزیز کے دفاعی نقطہ نظر سے ہمسایہ ملک چین کے بجائے امریکہ جیسے خود غرض ملک کے ساتھ دوستی کی پینگیں بڑھائی گئیں۔ مسئلہ کشمیر کو دیدہ دانستہ حل کرنے کے بجائے اور خراب کیا گیا۔ اسی لیے آج تک اس کی سزا ہم بھگت رہے ہیں۔ علاوہ ازیں اپنی جماعت سے وفاداری کا یہ عالم کہ وزیر خارجہ کی حیثیت سے تنخواہ قومی خزانے سے وصول کرتے رہے لیکن اندرون و بیرون ملک کام قادیانی جماعت کے لیے کرتے رہے۔ بحوالہ ”قادیانیت کا سیاسی تجزیہ“۔

سر ظفر اللہ خان کے اس گھناؤنے کردار پر ایڈیٹر ”نوائے وقت“ جناب حمید نظامی نے اپنے غیر ملکی دورے سے واپسی پر اپنے اخبار میں ایک اداریہ تحریر کیا کہ بیرون ملک پاکستان کے سفارت خانے تبلیغ مرزائیت کے اڈے اور ان کے جماعتی دفاتر معلوم ہوتے ہیں۔ سر ظفر اللہ کے دور میں ناقص پالیسی کے باعث ہمیں سیاسی، اقتصادی اور ثقافتی طور پر ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔ چونکہ قادیانی جماعت برطانیہ کی خود کاشتہ اور امریکہ کی لے پالک تھی، اس لیے اس نے پاکستان کو یورپی ممالک کا دست نگر اور امریکہ کا اقتصادی بھکاری بنا دیا۔ اقوام متحدہ میں سب سے زیادہ تعداد اسلامی برادری کی تھی جبکہ پاکستان اسلامی ممالک کی سب سے بڑی مملکت تھا۔ اسلامی ریاستوں کے سرخیل ہونے کی حیثیت سے پاکستان کو اسلامی بلاک کی تشکیل و تنظیم کے سلسلہ میں بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے تھا۔ لیکن سر ظفر اللہ خان نے پاکستان کے وزیر خارجہ ہونے کی حیثیت سے اسلامی ملکوں کے ساتھ گہرے مراسم مسلسل روابط اور روایتی گرم جوشی کے برعکس سرد مہری کا رویہ اختیار کیے رکھا۔ انہی اسلامی ممالک سے تعلقات استوار کیے گئے جو امریکہ و برطانیہ کے حاشیہ بردار تھے۔

صفحہ 176

قادیانی جماعت کے نصب العین کے مطابق اسلام دشمنی اور اسرائیل دوستی ظفر اللہ خان کے جسم میں خون کے ساتھ گردش کرتی تھی۔

گو عربوں کی جاسوسی کے مشن کا آغاز مرزا بشیر الدین کے دور میں شروع ہو گیا تھا‘ لیکن چودھری ظفر اللہ خان کے دور میں خارجہ وزارت کی آڑ میں قادیانی جماعت کو عربوں کی مخبری اور جاسوسی کا سنہری موقع میسر آیا اور مختلف عرب ممالک کے سفارت خانوں میں قادیانی ممبروں کو فٹ کر دیا گیا۔ عربوں کو جب قادیانیوں کے مشکوک کردار اور پراسرار سرگرمیوں کا پتہ چلا تو ان کے نوٹس لینے سے نہ صرف ہمارا قومی وقار مجروح ہوا بلکہ پاکستان کو عربوں میں ہدف تنقید بنایا گیا۔ (قادیانیت کا سیاسی تجزیہ‘ ص ۴۷۷) صاحبزادہ طارق محمود‘ مرتب ”قادیانیت کا سیاسی تجزیہ“ میں ہفت روزہ لولاک‘ ۷ اپریل ۱۹۷۳ء کے حوالے سے رقم طراز ہیں ”جب عرب نمائندے مسئلہ فلسطین کو یو این او میں پیش کرنا چاہتے تھے تو انہوں نے یو این او میں اپنی قرارداد کے حق میں فضا سازگار کرنے کے لیے دوست ملکوں کے نمائندوں سے ملاقاتیں کیں اور اپنی حمایت پر آمادہ کرنے کی کوشش کی۔ اس سلسلے میں وہ چودھری ظفر اللہ خان سے بھی ملے اور ان سے تعاون کی التجا کی۔ ظفر اللہ خان نے انہیں کہا کہ اگر ان کے امام جماعت اور مرزا بشیر الدین محمود خلیفہ ربوہ‘ اس بات کی ہدایت کریں گے تو ان کی مدد ضرور کریں گی۔ اس لیے آپ لوگ مجھے کہنے کے بجائے ربوہ میں ہمارے خلیفہ صاحب سے رابطہ قائم کریں۔ بے چارے عرب نمائندوں نے کسی نہ کسی طرح مرزا محمود صاحب سے رابطہ کیا اور ان سے تعاون کی درخواست کی۔ مرزا صاحب نے عرب نمائندوں کو یہاں سے تار دیا کہ ہم نے چودھری ظفر اللہ خان کو ہدایت کر دی ہے کہ وہ یو این او میں تمہاری امداد کریں“۔ (صفحہ ۴۷۹)

عرب ڈیلی گیشن نے امریکہ سے قادیانی جماعت کے نام جو تار ارسال کیا‘ وہ قادیانیوں کے آرگن رسالہ میں شائع ہوا۔ ”لیک سکس“ ۶ نومبر۔۔۔ عرب ڈیلی گیشن نے امریکہ سے بذریعہ تار حضرت امام جماعت احمدیہ کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستان کے ڈیلی گیشن چودھری سر ظفر اللہ خان کو مسئلہ فلسطین کے تصفیہ تک یہیں ٹھہرنے کی اجازت دی“۔ (الفضل‘ ۸ نومبر ۱۹۴۷ء)

سر ظفر اللہ خان کے اس بھیانک کردار پر مرزا غلام نبی جانباز لکھتے ہیں:

صفحہ 177

”یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر چودھری سر ظفر اللہ خان حکومت پاکستان کی طرف سے لیک سکس گئے تھے، تو پھر عرب ڈیلی گیشن کا تار حکومت پاکستان کے نام آنا چاہیے تھا نہ کہ مرزا بشیر الدین محمود کے نام۔ اس کے معنی تو یہ ہوئے کہ چوہدری سر ظفر اللہ خان نے عرب ڈیلی گیشن کو یقین دلایا تھا کہ میں تو اپنے لیڈر مرزا بشیر الدین محمود کے حکم سے یہاں آیا ہوں۔ نیز اس کے حکم سے یہاں مزید ٹھہر سکتا ہوں ورنہ عرب ڈیلی گیشن کو پاکستان گورنمنٹ سے اجازت لینا چاہیے تھی نہ کہ قادیانی خلیفہ سے (بحوالہ قادیانیت کا سیاسی تجزیہ) محولہ بالا کتاب کے صفحہ ۲۸۲ پر ظفر اللہ خان کے دو مزید کارنامے ملاحظہ ہوں:

”جناب محمد نواز، ایم۔اے بیرون ملک قادیان سازش بے نقاب کرتے ہوئے رقم طراز ہیں:

ظفر اللہ خان نے وزارت خارجہ کے کام کو کس طرح چلایا، اس کا اندازہ ذیل کی دو خبروں سے کیجئے۔ پہلی خبر یہ ہے کہ پاکستان کے محکمہ خارجہ کی طرف سے پبلک سروس کمیشن کے صدر مسٹر شاہد سہروردی آج کل انگلستان میں ان امیدواروں سے انٹرویو لے رہے ہیں، جو ہمارے سفارت خانوں میں ملازمت کرنا چاہتے ہیں۔ یہ خبر پاکستان پہنچی تو یہاں کے اخبارات اور عوام نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔ لیکن حکومت پاکستان نے اس کی کوئی پرواہ نہ کی۔ اسی دوران انکشاف ہوا کہ ہمارے محکمہ خارجہ کے جائنٹ سیکریٹری عقیدے سے یہودی ہیں اور محکمہ خارجہ کے ۸۰ فیصد ملازمین غیر ملکی خصوصاً انگریز ہیں۔ ایک انگریزی معاصر کی اطلاع کے مطابق یہودی جائنٹ سیکریٹری مسٹر کونین تقسیم سے پہلے پنجاب ہائی کورٹ کا ڈپٹی رجسٹرار تھا، چونکہ یہ اپنے عہدے کے لحاظ سے ناموزوں انسان تھا، اس لیے اس کو اس سے علیحدہ کر دیا گیا۔

تقسیم ملک کے بعد اس کی قسمت چمکی اور وہ وزارت خارجہ کا جائنٹ سیکریٹری بن گیا۔ چونکہ ماتحت افسران نوجوان اور ناتجربہ کار تھے، اس لیے وزارت خارجہ کا سب سے زیادہ قابل اعتماد افسر خیال کیا جانے لگا۔ جب فلسطین میں یہودی عربوں کے خون سے ہولی کھیل رہے تھے تو اس وقت پاکستان کی وزارت خارجہ کے قابل اعتماد افسر صاحب اسرائیل میں چھٹیاں منا رہے تھے۔ (گارڈین بحوالہ کوثر، لاہور ۲۷ دسمبر ۱۹۴۹ء) اس خبر کے ساتھ یہ

صفحہ 178

انکشاف بھی ملاحظہ ہو۔

”ہمارے مصری سفارتی سٹاف میں دو (۲) نوجوان یہودی لڑکیوں کو ملازم رکھا گیا جس پر مصری عوام اور عربی اخبارات پاکستان سے بہت ناراض ہوئے۔ ان سے پہلے مصر میں پاکستانی سفیر کا پریس اتاشی بھی یہودی تھا“۔ (گارجین‘ بحوالہ کوثر‘ لاہور‘ ۲۷ دسمبر ۱۹۴۹ء)

اسی طرح کے شرمناک واقعات کی ایک لمبی فہرست ہے جس کا یہ مختصر مقالہ متحمل نہیں ہو سکتا۔ البتہ جب ہمارے حکمرانوں نے خواب غفلت سے انگڑائی لی اور کچھ ہوش سنبھالا تو اس وقت پل کے نیچے سے کافی پانی بہہ چکا تھا اور آج تک ہم ان زہریلے اثرات سے جانبر نہ ہو سکے۔ بیرون ملک ہمارے سفارت خانے اور سفراء ملک کے بارے میں کوئی اچھا تاثر قائم نہ کر سکے۔ اس کا اندازہ وقتاً فوقتاً اخباری رپورٹوں اور بیرون ملک پاکستانیوں کے بیانات اور واقعات سے کیا جاسکتا ہے۔ جب تک ان سفارت خانوں کی مکمل تطہیر نہیں ہوتی اور ان کی جگہ قابل‘ نظریہ پاکستان سے مخلص اور دوسرے اہل افراد کا تقرر نہیں ہو گا‘ قعر مذلت میں ہم یوں ہی پڑے رہیں گے۔ ماضی قریب میں پاکستان کئی بار اہم موقعوں پر خارجی میدان میں رسوائی سے دو چار ہوا اور ہمارے روایتی بااعتماد دوستوں نے بھی ہمیں تنہا چھوڑ دیا تھا۔ اس کی وضاحت کی ضرورت نہیں۔

جیسا کہ پہلے عرض کیا جاچکا ہے کہ سر ظفر اللہ خان کو حکومت پاکستان کی طرف سے وزارت خارجہ کی آڑ میں مرزائیت کی تبلیغ و ترویج کا ایک زریں موقعہ ہاتھ آیا تھا‘ چنانچہ اس کے چند نمونے ملاحظہ ہوں۔ ”قادیانیت کا سیاسی“ تجزیہ کے فاضل مرتب نے ایشیاء لاہور ۱۷ دسمبر ۱۹۶۲ء کے حوالے سے لکھا ہے ”اس طرح سر ظفر اللہ خان نے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب کی حیثیت سے جزائر غرب الہند کا دورہ کیا اور اس دورہ میں ٹرینیڈاڈ میں مرزا صاحب کا آخر الزمان نبی کی حیثیت سے تعارف کرایا“ فاضل مرتب آگے لکھتے ہیں کہ سر ظفر اللہ کی انہی کوششوں کا نتیجہ ہے کہ تقریباً ۴۰ ممالک میں قادیانیوں کے ۱۴۲ مشن کام کر رہے ہیں۔ ان میں سے ایک اسرائیل میں بھی ہے۔ اس کے علاوہ ان ممالک سے ان کے ۲۲ اخبارات و رسائل بھی نکلتے ہیں۔ اور ۵۷ کے قریب مدارس کام کر رہے ہیں۔ (۱) ص ۴۸۷‘ اسی طرح فیصلہ ہی کے حوالے سے سر ظفر اللہ کا ایک اور

صفحہ 179

کارنامہ ملاحظہ ہو

”حکومت ملائیشیا نے پاکستان کے چودھری سر محمد ظفراللہ خان کی کتاب 'Islams Meaning For Modren Man' یعنی ”اسلام کا مفہوم دور جدید کے آدمی کے لیے“ کی اپنے ملک میں خرید و فروخت اور درآمد کو ممنوع قرار دیا ہے۔ حکومت کے نزدیک سر ظفراللہ خان کی یہ کتاب ملائیشیا کے سرکاری مذہب اسلام کے عقائد و نظریے کے منافی ہے“۔ (صفحہ نمبر ۵-۷) آخر میں ہم ارباب بست و کشاد سے پاکستان کے پچاس سال مکمل ہونے پر بجائے اس کے کہ ”گولڈن جوبلی“ کی بیہودہ اور بے فائدہ تقریبات منائی جائیں، اپنی فاش اور عظیم غلطیوں کا ازالہ کرنے کے لیے محاسبہ کرنا چاہیے تاکہ ہم ایک عظیم مسلمان قوم اور اسلامی مملکت کی حیثیت سے اکیسویں صدی میں قدم رکھنے کے قابل ہو جائیں، ورنہ پھر بجائے ترقی و عروج کے تنزل و انحطاط کی طرف ہماری رجعت قہقری اسی طرح جاری رہے گی۔ جس کا نتیجہ ہماری مکمل تباہی کی صورت میں دنیا کے سامنے آجائے گا۔ ولا فعلہ اللہ۔ یہی وقت ہے ہمارے سنبھلنے کا اور ”احساس زیاں“ کے ادراک کا ورنہ بقول حکیم الامت۔

آخر شب دید کے قابل تھی بسمل کی تڑپ
صبحدم کوئی اگر بالائے بام آیا تو کیا؟

(ماہنامہ ”الحق“ اکوڑہ خٹک، اگست ۱۹۹۷ء، شمارہ نمبر ۱۳۵)

(از قلم حافظ محمد ابراہیم فانی مدرس دارالعلوم حقانیہ)

صفحہ 180

نسیم قادیانی کی اقوام متحدہ میں تقرری

ابھی یہ مسئلہ ملک میں چل رہا ہے کہ ایک متعصب قادیانی کنور ادریس کو صوبہ سندھ کا چیف سیکرٹری مقرر کر دیا گیا ہے۔ اس مسئلہ پر ملک بھر میں مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ جمعہ کے اجتماعات میں قراردادیں پاس ہو رہی ہیں۔ وفاقی وزیر خان بہادر کی اور وفاقی مشیر مذہبی امور کی یقین دہانی کے باوجود معاملہ جوں کا توں ہے۔ اس سلسلہ میں تھوڑی سی بھی پیش رفت نہیں ہوئی۔ یہ مسئلہ حل طلب تھا کہ اخبارات میں یہ خبر شائع ہو چکی ہے اور اس پر احتجاجی بیانات کا سلسلہ بھی جاری ہے کہ سابق سیکرٹری اطلاعات نسیم قادیانی کو حکومت نے اقوام متحدہ میں پاکستان کا مندوب مقرر کر دیا ہے۔

اس تقرری سے عوام میں یہ بحث چل نکلی ہے کہ جب ایک شخص پاکستان پر یقین ہی نہیں رکھتا، ملک کی وحدت و سالمیت کا اپنے الہامی عقیدے (اکھنڈ بھارت) کی بنا پر مخالف ہے تو وہ اقوام متحدہ میں پاکستان کی نمائندگی کیا کرے گا؟ بلکہ وہ تو پاکستان سے زیادہ اپنے ارتداد مذہب قادیانیت کا پرچار کرے گا اور اپنے عہدے سے خوب فائدہ اٹھانے کی کوشش کرے گا۔

جب ظفر اللہ آنجہانی ملک کا وزیر خارجہ تھا تو اس نے ملک کو نقصان پہنچانے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کیا۔ اس نے دنیا بھر میں پھیلے ہوئے تمام پاکستانی سفارت خانے قادیانی جماعت کے دفتر بنا دیے اور وہاں جو ملازم رکھے وہ قادیانی جماعت کے پر زور مبلغ تھے۔ جنہوں نے تنخواہ پاکستان گورنمنٹ سے لی اور کام قادیانی جماعت کا کیا۔

جب کسی شخص کو کوئی اہم منصب سونپا جاتا ہے تو حکومت اس کے نظریات اور

صفحہ 181

کردار کی چھان پھٹک کرتی ہے۔ کم از کم یہ بات لازمی دیکھتی ہے کہ یہ شخص پاکستان کی سالمیت پر یقین رکھتا ہے یا نہیں۔ نسیم قادیانی کی تقرری کے لیے حکومت نے اتنی زحمت بھی گوارا نہیں کی۔ ہمارے خیال میں جس معیار کی بناء پر اسے اس اہم منصب پر پہنچایا گیا ہے‘ وہ یہ ہے کہ:

گویا پیپلزپارٹی کے پیش نظر کسی شخص کے عقائد و نظریات نہیں۔ خواہ مسلمان ہو یا نہ ہو۔ خواہ وہ پاکستان کا دوست ہو یا دشمن‘ بھٹو مرحوم یا پیپلزپارٹی کا مداح ہونا چاہیے اور یہی ایک بات ایسی ہے جو نہ صرف پیپلزپارٹی کے لیے نقصان دہ ہے‘ بلکہ ملک اور عالم اسلام کے مسلمانوں کے لیے بھی سراسر نقصان دہ ہے۔ سانپ پھر سانپ ہوتا ہے۔ خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا۔ نسیم قادیانی بھی ایک سانپ ہے جو اپنے عہدے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کسی بھی وقت ڈس سکتا ہے۔

پھر پیپلزپارٹی کی یہ بھی بھول ہے کہ قادیانی بھٹو مرحوم اور پیپلزپارٹی کے مداح ہیں۔ بھٹو مرحوم کو پھانسی دلوانے والا وعدہ معاف گواہ مسعود محمود قادیانی تھا۔ جہاں تک مدح کا تعلق ہے پیپلزپارٹی اور اس کے رہنماؤں کے متعلق قادیانیوں کا نظریہ یہ تھا:

”یہ سب شرابی‘ زانی‘ منشیات کے سمگلر‘ مرتشی‘ بدعنوان‘ غاصب‘ متشدد المزاج‘ لاف زن‘ شیخی خورے‘ سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیتوں سے عاری‘ آزادانہ جنسی تعلقات کے عادی‘ بدکردار‘ بڑی بے شرمی اور بے حیائی سے شادیاں رچا کر پھر ان عورتوں کو بازار حسن کی زینت بنا دینے والے‘ پرمٹ‘ لائسنس اور ویزا فروش‘ بحری قزاق‘ مجرمانہ ذہنوں کے حامل‘ رسہ گیر‘ قاتل اور قاتلوں کے پشت پناہ‘ قوم کی بیٹیوں پر دست درازیاں کرنے والے‘ ناجائز درآمد و برآمد میں ملوث اور کسٹم ڈیوٹی میں ہیرا پھیری کے ذریعہ خزانہ عامرہ کو نقصان پہنچانے والے بھٹو دور کے وہ مفتیان دین و شرع متین ہیں جنہوں نے ستمبر ۷۴ء میں بھٹو کے اقتدار کو دوام بخشنے کی غرض سے خدائے جلیل و قدیر کے تمام احکامات اور حضرت خاتم النبیین ﷺ کے ارشادات مطہرہ کو پس پشت پھینک کر ملک

صفحہ 182

کے...... کلمہ گو احمدیوں کو بزور سیاست دو اغراض کے لیے ”ناٹ مسلم“ قرار دیا تھا“۔

(قادیانی رسالہ ”لاہور“ ۱۱ فروری ۱۹۷۹ء، ص ۱۳)

یہ پیپلز پارٹی اور اس کے حامیوں کے بارے میں قادیانیوں کی ”شریفانہ زبان“ کا ایک نمونہ ہے۔ اس زبان کے ہوتے ہوئے قادیانیوں کی کسی بھی یقین دہانی یا مدح و توصیف کا اعتبار کرنا سوائے نادانی کے اور کچھ نہیں۔

(ہفت روزہ ”ختم نبوت“ کراچی، جلد ۷، شمارہ ۴۰، از قلم محمد حنیف ندیم)

صفحہ 183

سر ظفر اللہ خاں قادیانی کی عرب

لڑکی سے شادی کی کہانی

بشریٰ ربانی کے سابق شوہر محمود فرق نے اخبار ”الیوم“ کے نامہ نگار کو ایک بیان میں بتایا کہ ظفر اللہ خاں نے میری منکوحہ بشریٰ ربانی کو کس طرح خریدا اور جبراً طلاق دلوائی۔

پہلی ملاقات میں ظفر اللہ خاں نے لڑکی سے پوچھا ”تیرا کیا نام ہے“ لڑکی نے عقیدت و ادب سے ہاتھ چوم کر جواب دیا ”آپ کی کنیز کو بشریٰ ربانی کہتے ہیں۔“

دمشق میں احمدی جماعت نے قادیانی خلیفہ کے اعزاز میں ایک جلسہ کیا جو علاج کے لیے ظفر اللہ خاں کے ساتھ یورپ جارہے تھے۔ میری بیوی بھی اپنی ماں کے ساتھ جلسے میں حاضر تھی تاکہ دوسرے احمدیوں کی طرح ظفر اللہ خاں کا استقبال کرے، اور امیر المومنین کے ہاتھ کو بوسہ دے۔ ظفر اللہ خاں نے خلیفہ سے کچھ سرگوشی کی تو حاضرین نے ”امیر المومنین“ کو بلند آواز سے فرماتے سنا۔ ”یہ تو اس خاندان کے لیے سب سے بڑی عزت ہے۔“ اور سننے والے سمجھ گئے کہ کس شادی کا ذکر ہو رہا ہے۔ پھر ظفر اللہ خاں نے دمشق کے بڑے قادیانی سردار کے کان میں کچھ کہا تو سردار نے اونچی آواز میں جواب دیا۔ اس کا صرف ایک ہی بھائی ہے۔ اب ظفر اللہ خاں نے بھی اونچی آواز میں گفتگو شروع کر دی۔ کہنے لگے کیا اس کا بھائی یہاں دمشق کے پاکستان سفارت خانے میں ملازمت پسند کرے گا اور دوسرے ہی دن میری بیوی کے بھائی محمود ربانی کو سفارت خانے میں عہدہ مل گیا۔

صفحہ 184

منگنی اور طلاق

پھر ظفر اللہ خاں نے اپنی خاص مجلس میں دمشق کے معزز احمدیوں سے کہا۔ ”میں اس لڑکی کو خوش نصیب اور اس کے خاندان کو خوشحال بنا دوں گا“۔ عرض کیا گیا کہ لڑکی اپنے خالہ زاد بھائی سے منسوب ہو چکی ہے۔ جو خلیج فارس کے ایک ملک میں دولت کمانے گیا ہوا ہے۔

ظفر اللہ خاں نے برہم ہو کر کہا ”یہ کتنا بڑا ظلم ہے کہ اس نازک پھول کو اس خوک کی کانٹے کی گود میں ڈال دیا جائے“۔

عرض کیا گیا ”مگر دونوں کا نکاح بھی ہو چکا ہے ۔“

ظفر اللہ نے اور زیادہ خفگی سے کہا ”طلاق کا بندوبست کر دو۔“

عرض کیا گیا ”ممکن ہے خود لڑکی آپ کے عمر کے آدمی سے رشتہ جوڑنا پسند نہ کرے اور کہے کہ آپ کی بیوی بھی موجود ہے اور اولاد بھی۔“

ظفر اللہ خاں نے جواب دیا:

”میں اپنی بیوی کو طلاق دے دوں گا۔“ اور انہوں نے یہی کیا بھی۔ تاکہ بشریٰ ربانی کو حاصل کر سکیں۔

دوسری ملاقات

دوسرے دن ”حضرت“ لڑکی کے گھر پہنچے اور جب وہ چائے لے کر آئی تو اس پر نگاہیں گاڑے ہوئے کہنے لگے۔

”بشریٰ تو کیا کہتی ہے۔ دیکھ ظاہری شکل پر نہ جانا میں آج بھی۔۔۔۔۔۔“

بشریٰ کی نظریں شرم سے جھک گئیں اور چہرہ گلابی ہو گیا۔ پھر آہستہ سے کہنے لگی۔

”مالک میں تو حضور کی کنیز ہوں۔“

یہ سنتے ہی ظفر اللہ خاں نے جیب سے ایک ڈبیہ کھولی اور ہیرے کا نیکلس نکال کر خود اپنے ہاتھ سے لڑکی کے گلے میں ڈال دیا۔ پھر اس کی انگلیوں پر ٹکٹکی باندھ دی۔ وہ سمجھ گئی‘ اس نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا اور انگلی سے پہلے نکاح کی انگوٹھی اتار دی۔

تین دن بعد ظفر اللہ خاں لا الاقوامی عدالت کے جج ہیں۔ جاتے و دیتے ہوئے حاکمانہ انداز سے فرمانے ”دیکھو بشریٰ کی طلاق کا معا کرنا۔“

فریب محبت

میری عقل کچھ کام نہیں دیتی سمجھ میں آئے بھی کیسے۔ میں نے اپنے مجھے سچے دل سے چاہتی ہے۔ ہم دونو دونوں ایک جان ہو جائیں۔ میں خلیج بھرے خطوں سے ڈھارس بندھی ر تراشے بھیجتی۔ یہ دیکھیے تراشے میں ہے اور یہ عبارت تراشے پر خود بشریٰ جوڑا پہنیں گے۔“ یہ دوسرا تراشہ ۔ ”خدا ہمیں بھی ایسے ہی بچے دے گا۔

قادیانی کیوں ہوا؟

بہت سے خط سنا کر بد نصیب ش قہقہہ اس کے منہ سے پھوٹ پڑا اور ا یہ سب جذبات سراسر فریب تھے اور طمع اس پر غالب آگئی۔ میں کیونکر مان بالکل فقیر تھا۔ میں قادیانی نہیں تھا‘ م قبول کی۔ بشریٰ اور اس کا خاندان قا بڑے رکن ہیں اور میرے دل میں و

صفحہ 185

تین دن بعد ظفر اللہ خاں لاہائی (ہالینڈ) جانے کے لیے تیار ہو گئے، جہاں وہ بین الاقوامی عدالت کے جج ہیں۔ جاتے وقت بشریٰ کی ماں اور بھائی کے ہاتھ میں ایک بڑی رقم دیتے ہوئے حاکمانہ انداز سے فرمانے لگے ۔ ”دیکھو بشریٰ کی طلاق کا معاملہ جلد سے جلد انجام پا جانا چاہیے۔ خرچ کی پروا نہ کرنا۔“

فریب محبت

میری عقل کچھ کام نہیں دیتی۔ اب تک سمجھ ہی میں نہیں آتا کہ آخر یہ کیا ہوا اور سمجھ میں آئے بھی کیسے۔ میں نے اپنے وجود سے محبت کی تھی اور حق الیقین تھا کہ بشریٰ بھی مجھے سچے دل سے چاہتی ہے۔ ہم دونوں گھڑیاں گن رہے تھے کہ رخصتی کا دن آئے اور ہم دونوں ایک جان ہو جائیں۔ میں خلیج فارس کے علاقے میں بہت دور تھا۔ مگر بشریٰ کے محبت بھرے خطوں سے ڈھارس بندھی رہتی تھی۔ بشریٰ ہر ہفتے کئی کئی خط لکھتی۔ تصویروں کے تراشے بھیجتی۔ یہ دیکھیے تراشے میں ایک جوڑے کی تصویر ہے جو عروسی لباس پہنے ہوئے ہے اور یہ عبارت تراشے پر خود بشریٰ کے قلم سے لکھی ہے۔ ”اللہ ! ہم دونوں کب ایسا ہی جوڑا پہنیں گے۔“ یہ دوسرا تراشہ ہے، دو بچے کھڑے ہیں اور بشریٰ نے اس پر لکھا ہے ”خدا ہمیں بھی ایسے ہی بچے دے گا۔“

قادیانی کیوں ہوا؟

بہت سے خط سنا کر بد نصیب شوہر چپ ہو گیا اور کسی گہرے خیال میں ڈوب گیا۔ پھر قہقہہ اس کے منہ سے پھوٹ پڑا اور اس نے کہا کہ کوئی خیال بھی نہیں کر سکتا تھا کہ بشریٰ کے یہ سب جذبات سراسر فریب تھے اور وہ میرے دل سے صرف کھیل رہی تھی۔ کیا دولت کی طمع اس پر غالب آگئی۔ میں کیونکر مان لوں، اس نے تو مجھے اس وقت قبول کیا تھا، جب میں بالکل فقیر تھا۔ میں قادیانی نہیں تھا، محض بشریٰ کو حاصل کرنے کے لیے میں نے قادیانیت قبول کی۔ بشریٰ اور اس کا خاندان قادیانی بن چکا تھا۔ ظفر اللہ خان قادیانی مذہب کے ایک بڑے رکن ہیں اور میرے دل میں وہم بھی پیدا نہیں ہو سکتا تھا کہ یہی ظفر اللہ میرے دل کو

صفحہ 184

کچل ڈالیں گے اور قادیانیت کے امام اور امیر المومنین اپنے ایک مرید و معتقد کی زندگی اس بے دردی سے اجاڑ کر رکھ دیں گے ۔ بے شک اس قسم کی کوئی بات بھی خیال میں نہیں آ سکتی تھی ۔ لیکن فلسطین میں ایک کہاوت ہے ۔ ”گھنی داڑھیوں کی آڑ میں کبھی بندر بھی چھپے ملتے ہیں “ اور ظفر اللہ کی داڑھی واقعی عجائبات کو چھپائے ہوئے تھی ۔

سب سے بڑا خوش نصیب

محمود قزق نے سلسلہ گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا ۔ ۱۹۵۳ء میں ، میں نے کتنی کوشش کی کہ لبنان میں کوئی روزگار مل جائے ۔ مگر کامیابی نہ ہوئی۔ پھر میں شام چلا آیا اور ایک سکول میں مدرسی مل گئی ۔ گرمیوں کی چھٹیوں میں اپنی خالہ سے ملنے دمشق آیا اور خالہ کی لڑکی کو دیکھتے ہی دل دے بیٹھا۔ دوسرے دن بشریٰ کے ساتھ سینما گیا۔ فلم میں ہیرو اور ہیروئن کی شادی دکھائی جارہی تھی۔ بشریٰ میرے کان میں کہنے لگی ” یہ خوشی ہمیں کب نصیب ہوگی ۔ “

۱۹۵۴ء میں ہمارا نکاح ہو گیا۔ میں پھر خلیج فارس کی ایک ریاست میں چلا گیا تاکہ جلد سے جلد بہت سا روپیہ جمع کرکے لوٹوں اور اپنی دلہن کو رخصت کرا لاؤں۔

بشریٰ کے خط دسمبر کے مہینے سے بند ہو گئے ۔ آخر ایک خط بہت دنوں کے بعد ملا۔ اس کی عبارت یہ تھی :

”مولانا امیر المومنین دمشق آئے۔ ظفر اللہ خاں بھی تھے۔ کس قدر چاہتی تھی کہ تم بھی یہاں موجود ہوتے اور حضرت امیرالمومنین کی زیارت کرتے ۔“

طلاق

بشریٰ کے خط نے میرا دماغ اور بھی خراب کر دیا اور میں طرح طرح کے مطلب نکالنے لگا۔ دمشق پہنچتے ہی سیدھا خالہ کے گھر گیا۔ مگر بشریٰ کی انگلی میرے عقد کی انگوٹھی سے خالی تھی۔

میں نے کہا ”انگوٹھی اور چوڑیاں غائب ہیں ؟“

بشریٰ : ” میں آزاد ہوں ۔ تم میری خالہ کے بیٹے ہو ، اس لیے میں تم سے شادی منظور نہیں کر سکتی ۔ “

اس کے بھائی محمود نے مجھ سے

”بشریٰ تمہیں پسند نہیں کرتی ۔

میں بے اختیار چلا اٹھا ”ابھی قا قاضی نے جب معاملہ سنا تو خف

”قاضی صاحب نکاح فرضی تھا اور میں بعد میں معلوم ہوا کہ ظفر اللہ خ ہزار پونڈ میں بشریٰ کے خاندان کے لیے لے دیا ہے ۔ پھر سنا کہ ظفر اللہ چند رو اور میں نے طے کر لیا کہ اس شخص کو خاندان نے ظفر اللہ کو خبر کر دی ۔ اس اندر ہی ظفر اللہ نکاح کر کے ہوائی جہا

صفحہ 187

نہیں کر سکتی۔"

اس کے بھائی محمود نے مجھ سے کہا۔

"بشریٰ تمہیں پسند نہیں کرتی۔ تم طلاق کیوں نہیں دے دیتے؟"

میں بے اختیار چلا اٹھا "ابھی قاضی کے پاس چلو، طلاق نامہ لکھے دیتا ہوں۔"

قاضی نے جب معاملہ سنا تو خفا ہوئے۔ میں تو غصہ سے بے خود ہو ہی رہا تھا۔ کہا گیا

"قاضی صاحب نکاح فرضی تھا اور میں بشریٰ کو طلاق دے چکا ہوں۔"

بعد میں معلوم ہوا کہ ظفر اللہ خان نے ۴۵ ہزار پونڈ میں بشریٰ کو خرید لیا ہے اور بیس ہزار پونڈ میں بشریٰ کے خاندان کے لیے ایک مکان دمشق کے محلہ "بستان الجریٰ" میں مول لے لیا ہے۔ پھر سنا کہ ظفر اللہ چند روز میں دمشق آ رہے ہیں تاکہ بشریٰ سے شادی رچائیں اور میں نے طے کر لیا کہ اس شخص کو قتل کر ڈالوں گا۔ میں نے پستول خرید لیا۔ مگر بشریٰ کے خاندان نے ظفر اللہ کو خبر کر دی۔ اس پر جلسے کا پروگرام روک دیا گیا اور آدھے گھنٹے کے اندر ہی ظفر اللہ نکاح کر کے ہوائی جہاز سے بھاگ گئے۔

(شکریہ روزنامہ نوائے پاکستان لاہور)

صفحہ 188

پی آئی اے قادیانیوں کے شکنجے میں

محمد طاہر

قومی ایئرلائن میں قادیانی اور ہم خیال افراد کی بھرتی کے لیے وسیع نیٹ ورک مصروف عمل ہے۔ ملک بھر کے ہوائی اڈوں پر قادیانی مبلغوں کو خصوصی مراعات اور تبلیغی لٹریچر کی بلا معاوضہ بیرون ملک ترسیل کی سہولت حاصل ہے پاکستان کا کوئی ادارہ بھی قادیانی ریشہ دوانیوں سے محفوظ نہیں۔ لیکن ”پی آئی اے“ میں ان کی خفیہ سرگرمیاں نقطہ عروج پر ہیں۔ کم لوگ جانتے ہیں کہ قادیانیوں کے مرکز ”ربوہ“ میں تمام قادیانیوں یا قادیانیت کی طرف مائل لوگوں کی فہرستیں موجود ہوتی ہیں۔ جنہیں پاکستان کے مختلف اداروں میں پہلے سے موجود لابی اور منظم سازشوں کے ذریعے کھپادیا جاتا ہے۔ جہاں ان سے قادیانی مقاصد کی تکمیل کے لیے متعین اہداف پورے کرائے جاتے ہیں۔ چنانچہ ایک گمنام سازش کے تحت پی آئی اے میں اوپر سے نیچے تک بے شمار قادیانیوں کو کھپادیا گیا ہے۔ جو ہر روز ایک نئی سازش کے ذریعے اس قومی ادارے کی رگ جاں سے خون نچوڑ رہے ہیں۔

قومی فضائی ادارہ کے موجودہ چیف پائلٹ‘ پلاننگ اینڈ شیڈولنگ‘ کیپٹن ایم۔اے خان ہیں۔ جو نہ صرف مرزا غلام احمد قادیانی اور مرزا طاہر کے سلسلہ نسب سے قریبی تعلق رکھتے ہیں۔ بلکہ ان کے نبی ہونے کا پرچار بھی علی الاعلان کرتے ہیں۔ کیپٹن ایم۔اے خان کے بقول قومی فضائی ادارے میں تقریباً ۵۵۰ پائلٹوں میں سے ۱۶۰ پائلٹس اعلانیہ قادیانی ہیں۔ کیپٹن ایم۔اے خان کے ہم زلف کیپٹن بختیار چیف پائلٹ کارپوریٹ سیفٹی کے منصب پر فائز ہیں۔ مزید برآں کیپٹن طاہر (فوکر چیف) کیپٹن سمیع‘ کیپٹن سعادت اللہ ندیم اور ان کے صاحبزادے عمر‘ کیپٹن ہمایوں ظفر‘ کیپٹن آفتاب چنہ‘ کیپٹن ایم ایم سلیم‘ کیپٹن

صفحہ 189

بشارت احمد اور کیپٹن پی ایم امجد کا شمار بھی پی آئی اے کے قادیانی ٹولے میں ہوتا ہے۔ ان کے علاوہ پی آئی اے کی تین لیڈی پائلٹس میں سے دو یعنی کیپٹن رفعت حئی اور کیپٹن عائشہ رابعہ قادیانی ہیں۔ یہ ہواباز بین الاقوامی فضائی روٹس پر قومی پرچم بردار جہازوں کو لاتے اور لے جاتے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق کیپٹن ایم اے خان، کیپٹن طاہر اور کیپٹن آفتاب وی آئی پی طیارے کے ذریعے حرمین شریفین تک کا سفر کرتے ہیں۔ یہ ایک حیرت انگیز امر ہے کہ سعودی عرب میں قادیانیوں پر پابندی عائد ہونے کے باعث یہ لوگ سوائے اس کے سعودی عرب جا ہی نہیں سکتے کہ مسلمان کی حیثیت سے اپنا دوسرا پاسپورٹ بھی رکھتے ہیں۔ چنانچہ مصدقہ اطلاعات کے مطابق بیشتر ہوابازوں نے دوہرے پاسپورٹ بنا رکھے ہیں جس کے تحت وہ عام پروازوں میں خود کو قادیانی ظاہر کرتے ہیں، لیکن سعودی عرب ایسے ممالک میں جہاں ان کے داخلے پر پابندی ہے، وہاں یہ خود کو مسلمان ظاہر کر کے پہنچ جاتے ہیں۔ پی آئی اے میں بھرتی ہونے والے نئے ہوابازوں کو جن مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ یہاں قدم قدم پر ان کا واسطہ قادیانی نیٹ ورک سے وابستہ ہوابازوں یا انسٹرکٹروں سے پڑتا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس مضبوط گروہ کی موجودگی میں کوئی مسلمان ہواباز کس طرح پی آئی اے میں بھرتی ہو سکتا ہے؟

مزید برآں پی آئی اے کے ڈپٹی مینجنگ ڈائریکٹر فنانس ارشد محمود اور ڈپٹی مینجنگ ڈائریکٹر مارکیٹنگ خورشید انور کے علاوہ کئی ڈائریکٹر اور جنرل منیجر مثلاً ڈائریکٹر انجینئرنگ ایس یو زمان، اسپیشل اسسٹنٹ ٹو مینجنگ ڈائریکٹر سکندر الہی، سیکرٹری پی آئی اے غضنفر مشکور اور پی آئی اے ٹریننگ سنٹر کے پرنسپل مسٹر صادق کا تعلق بھی قادیانی نیٹ ورک سے بتایا جاتا ہے۔ پی۔آئی۔اے میں قادیانی نیٹ ورک کا سب سے اہم رکن تبسم خالد منہاس ہے۔ یہ کھلے بندوں حضور اکرم ﷺ کی شان میں گستاخی کے باعث پی آئی اے میں نقص امن کا مسئلہ بھی پیدا کرتا رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہ قومی فضائی ادارے میں قادیانیوں کا سب سے فعال ایجنٹ ہے۔ خود اس کے والد سندھ کی قادیانی جماعت کے امیر رہے ہیں۔ تبسم منہاس کو پاک فضائیہ سے اپنی مذموم و مشکوک سرگرمیوں کے باعث ملازمت سے نکال دیا گیا تھا۔ مزید برآں تبسم منہاس کو متعلقہ اداروں نے اپنے ریمارکس میں ہر طرح کی سرکاری و نیم سرکاری ملازمت کے لیے نااہل قرار دیا تھا۔ مگر پی آئی اے

صفحہ 190

میں قادیانیوں کی مضبوط لابنگ اور اجارہ داری کے باعث بالاخر انہیں پی آئی اے ٹریننگ سینٹر میں پے گروپ پانچ میں انسٹرکٹر کی حیثیت سے ملازمت فراہم کر دی اور پھر چند سال کے اندر ہی تمام سینئرز کی حق تلفی کرتے ہوئے انہیں جنرل منیجر ایڈمن سروسز کے بااختیار اور اہم عہدے تک پہنچا دیا گیا یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ قادیانی لابی قومی فضائی ادارے میں اس قدر مستحکم ہے کہ تبسم خالد منہاس کے متعلق انٹر سروسز انٹیلی جنس کے مذکورہ ریمارکس تک کا لحاظ نہیں رکھا گیا۔

قومی فضائی ادارے میں سب سے زیادہ منافع کمانے والا یہی قادیانی ٹولہ ہے جو مختلف کنٹریکٹ اور ٹھیکوں کے لیے متعلقہ لوگوں کو تحائف کے ذریعے رام کرتا ہے۔ اس سلسلے میں کئی سابقہ اور حالیہ ڈائریکٹرز اور جنرل منیجرز اس ٹولے کے تحائف سے مستفید ہوتے رہے ہیں۔ ان میں سابقہ ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن ایم خان‘ سابق جنرل منیجر کرنل ایس ایچ اے زیدی‘ ایئر کموڈور انور علی‘ شجاہت حسین اور جنرل سروسز کے دیگر اعلیٰ انتظامی اہلکار شامل ہیں۔ مذکورہ ٹولے میں سے صرف تبسم منہاس کا ہی ذکر کیا جائے تو اس نے ”تحائف کی تکنیک“ سے پی آئی اے کے بے شمار ٹھیکے مختلف افراد اور اداروں کے نام سے اپنے اقربا کے لیے حاصل کیے۔ تبسم منہاس نے بیشتر ٹھیکے بحیثیت منیجر ویلفیئر اینڈ کینٹین کی حیثیت سے حاصل کیے۔ ان ٹھیکوں میں سے پی آئی اے کو افرادی سہولت مہیا کرنے والی تنظیم میسرز سپریم سروسز اور میسرز سپر سروسز قابل ذکر ہے۔ ان کنٹریکٹروں کے ذریعے پی آئی اے کے مختلف شعبوں میں کام کرنے والے ساڑھے تین سے چار ہزار ملازمین کے ”سروسز چارجز“ مذکورہ کمپنیوں کو کم از کم دو سو روپے سے ایک ہزار روپے فی ملازم تک ادا کیے جا رہے ہیں۔ اس طرح صرف ایک ہی مد میں قادیانیوں کی سرپرستی میں چلنے والی تنظیم کو کروڑوں روپے ماہانہ ادائیگی کی جا رہی ہے اور ہزاروں یومیہ ملازمین (جن کا تعلق ان کنٹریکٹر یا ان کی تنظیموں سے ہونے کے باوجود) جو قومی فضائی ادارے میں خدمات انجام دے رہے ہیں‘ محض قادیانیوں کے رحم و کرم پر ہیں۔ مذکورہ کمپنیوں کے پروپرائیٹرز بالترتیب عبد الرحمن منہاس اور خرم منہاس ہیں جو تبسم خالد منہاس کے سگے عم زاد ہیں۔ علاوہ ازیں جینی ٹوریل سروسز مہیا کرنے اور پی آئی اے سٹاف کو یونیفارم مہیا کرنے کے ٹھیکے بھی منہاس برادران کے پاس ہیں۔ ان مدات سے بھی مذکورہ فرمیں لاکھوں روپے

ماہانہ کما رہی ہیں ۔ ہے۔ وگرنہ پی آئی سے باہر نہیں۔

پچھلے دنوں مختلف معاملات میں منہاس کو محض معط تک محدود کر دیا گیا دیا گیا اور ہنوز اسی تبسم منہا شہرت رکھتے ہیں۔ اڈوں پر ان سے د کے نتیجے میں قادیا کیونکر ممکن ہوتا مشکل ہے۔ لیکن ان کے بچھائے ہو والا چار ہزار کلوگر محمد صدیق نے رو بلکہ پی آئی اے کو فرض شناسی اور د دیا۔ اسی طرح قا پرسنل فائل میں بھ دو درجن تعریفی انتقامی کارروائیو دشمنی کے باعث بھیجا گیا اور بعد از

صفحہ 191

ماہانہ کما رہی ہیں۔ مالی مفادات کے حصول کی یہ مثال محض ایک ڈیپارٹمنٹ سے متعلق ہے۔ وگرنہ پی آئی اے کے سینکڑوں شعبوں اور ڈویژنوں میں سے کوئی بھی قادیانی دسترس سے باہر نہیں۔

پچھلے دنوں تبسم منہاس نے منیجر ویلفیئر اینڈ کینٹین کی حیثیت سے کینٹینوں کے مختلف معاملات میں کروڑوں روپے کا خورد برد کیا۔ چنانچہ معاملہ منکشف ہونے پر تبسم منہاس کو محض معطل کر دیا گیا لیکن پھر اس پوری انضباطی کارروائی کو محض محکمانہ ٹرانسفر تک محدود کر دیا گیا اور اسے انتہائی اہم اور حساس سیکشن ٹیکنیکل گراؤنڈ سپورٹ کے منیجر بنا دیا گیا اور ہنوز اسی عہدے پر براجمان ہے۔

تبسم منہاس اور کیپٹن ایم اے خان قادیانیت کی تبلیغ کے حوالے سے بھی بڑی شہرت رکھتے ہیں۔ جماعت احمدیہ کے مبلغین کی آمدورفت کے مواقع پر پاکستان بھر کے ہوائی اڈوں پر ان سے وی آئی پی سلوک کیا جاتا ہے۔ قومی فضائی ادارے میں بچھے قادیانی جال کے نتیجے میں قادیانیت کو عالمی تبلیغ کے لیے نہایت ارزاں مواقع میسر آتے ہیں۔ یہ سب کچھ کیونکر ممکن ہوتا ہے؟ اس کا جواب قادیانیت کی خفیہ سرگرمیوں کے باعث دینا نہایت مشکل ہے۔ لیکن مختلف مواقع پر ان کی جو سرگرمیاں بے نقاب ہوتی رہتی ہیں۔ ان سے ان کے بچھائے ہوئے جال کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ مثلاً کراچی ایئرپورٹ سے جرمنی جانے والا چار ہزار کلو گرام قادیانی لٹریچر پی آئی اے کے ایک دیانتدار ویجی لینس آفیسر چودھری محمد صدیق نے روک لیا۔ اس طرح نہ صرف قادیانیت کے فروغ پر مشتمل لٹریچر روکا گیا بلکہ پی آئی اے کو ہونے والا لاکھوں روپے کا خسارہ بھی بچا لیا گیا لیکن اس نیک نام آفیسر کی فرض شناسی اور حب الوطنی کے ”جرم“ میں انہیں قادیانی لابی نے ملازمت سے ہی نکلوا دیا۔ اسی طرح قادیانیوں کی منظم لابنگ کے باعث مذکورہ فرض شناس ویجی لینس آفیسر کی پرسنل فائل میں پی آئی اے کے اعلیٰ ترین حکام کی جانب سے جاری کی جانے والی کم و بیش دو درجن تعریفی اسناد بھی محض ردی ثابت ہوئیں۔ یہ سب کچھ قادیانی نیٹ ورک کی انتقامی کارروائیوں اور محکمہ کے قادیانی نواز جنرل منیجر میاں عبداللہ کی منتقم مزاجی اور ذاتی دشمنی کے باعث ہوا جس کے تحت چودھری محمد صدیق کو سب سے پہلے کراچی سے لاہور بھیجا گیا اور بعد ازاں جبری ریٹائر کر دیا گیا۔

صفحہ 192

قادیانیت کو تحفظ فراہم کرنے کے سلسلے میں جب تبسم منہاس کی ساری سرگرمیاں بے نقاب ہو گئیں اور پی آئی اے کے مختلف محکمے اس کی بدعنوانیوں کے باعث ہونے والی بدنامی پر اسے تنبیہہ کرنے لگے تو تبسم منہاس نے پی آئی اے اسٹاف کالونی کراچی ایئرپورٹ کی مسجد کے پیش امام مولوی یٰسین کو اپنے دام تزویر میں پھانسا اور اپنی مذموم سرگرمیوں کے لیے نہ صرف ایک محفوظ آڑ حاصل کی بلکہ عام سادہ لوح مسلمانوں میں عالم دین کے حوالے سے پائی جانے والی محبت کو اپنے لیے ایک اخلاقی حمایت کے طور پر بھی استعمال کیا۔

مولوی یٰسین کو قادیانی لابی نے پی آئی اے ٹریننگ سینٹر میں ایک انسٹرکٹر کی تھکا دینے والی ذمہ داریوں سے نجات دلوا کر محض دو وقت کی نمازوں کی امامت کے لیے تقرری دلوا دی۔ جس کے عوض انہیں ماہانہ ۳۵ ہزار سے زائد تنخواہ ادا کی جا رہی ہے۔ قاری یٰسین صاحب گزشتہ چار برس سے پی آئی اے ٹاؤن شپ میں واقع ایک جامع مسجد کی تعمیر و توسیع کی تکمیل میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں حالانکہ مسجد کی تعمیر کا یہ پروجیکٹ محض ایک سال کا تھا۔ لیکن چار سال کی تاخیر کے باوجود یہ تاحال تکمیل کی منتظر ہے۔ اطلاعات کے مطابق قاری یٰسین مسجد کے لیے طے کردہ بلڈنگ اینڈ ورکس ڈیپارٹمنٹ کے مجوزہ نقشہ کے خلاف متعلقہ ماہرین کو بے جا مداخلت کے ذریعے الجھا رہے ہیں تاکہ یہ پروجیکٹ مکمل نہ ہو سکے۔ اس کی واحد وجہ یہ ہے کہ زیر تعمیر مسجد چندے کے حصول کا ایک منافع بخش ذریعہ ہے۔

چنانچہ قادیانی محمد یٰسین نے ایک "مصلے اسکیم" کا سلسلہ شروع کرتے ہوئے عام مسلمانوں سے بالعموم اور پی آئی اے کے ملازمین سے بالخصوص ۱۴۰۰ روپے فی مصلیٰ (ون پیس اونکس ماربل) کے لیے چندہ طلب کیا۔ یہ سلسلہ پچھلے چار سال سے تاحال جاری ہے۔ حالانکہ پی آئی اے انتظامیہ نے پچھلے سال ون پیس اونکس ماربل مصلے اسکیم کا نظام یکسر ختم کر دیا ہے اور مسجد کے پورے فرش کے لیے مالا گوری ماربل کے ٹکڑوں کی خریداری بھی کر لی گئی ہے۔ لیکن اس کے باوجود قاری موصوف پرانی اسکیم کے تحت تاحال چندہ جمع کر رہے ہیں۔

اس طرح قادیانی لابی نے اپنی مذموم سرگرمیوں کا نشانہ اب مذہبی رہنماؤں کے

صفحہ 193

ساتھ ساتھ مقدس جگہوں کو بھی بنالیا ہے۔ قاری یٰسین کو اپنے جال میں پھانسنے کے علاوہ اس لابی نے جاوید اقبال رندھاوا کو جدہ میں بطور ایڈمن منیجر (اسٹاف نمبر ۳۱۵۵۸) میں تعینات کرا دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہ ایک جانے پہچانے قادیانی ہیں۔ اس طرح سعودی عرب میں قادیانیوں کے داخلے پر پابندی کے باوجود قادیانی لابی کے ذریعے ایک منظم سازش کے تحت ان کے سرکردہ لوگوں کو وہاں پہنچا دیا جاتا ہے۔ جہاں یہ آہستہ آہستہ اپنے عقائد خبیثہ کی تبلیغ و ترویج کرتے ہیں۔ کیا یہ معاملہ پاکستان کو درپیش کسی بھی بحران سے زیادہ اہم نہیں؟

(”تکبیر“ ۳۱ مئی ۱۹۹۷ء)

صفحہ 194

قادیانی جنرل پاکستان کا چیف مارشل لاء

ایڈمنسٹریٹر بنتے بنتے رہ گیا

از قلم: محمد حنیف ندیم

جناب بریگیڈیئر ریٹائرڈ عبدالرحمٰن صدیقی نے اپنے ایک مضمون میں مندرجہ ذیل انکشافات کیے ہیں۔

"۱۶ دسمبر کو سقوط ڈھاکہ کا المیہ پیش آیا۔ ملک دولخت ہوا اور پورے ملک پر حسرت و یاس کے سیاہ بادل چھاگئے۔

بظاہر جنرل یحییٰ اپنی جگہ پر جمے بیٹھے تھے مگر حقیقت میں ان کے اقتدار کے ایوان کی دیواریں ہل چکی تھیں۔ ان کے خلاف قوم کے ساتھ ساتھ فوج میں بھی شدید جذبہ پیدا ہو چکا تھا۔ اب سب کی آنکھیں صرف ذوالفقار علی بھٹو پر لگی تھیں کہ وہ واپس وطن آئیں اور قوم کو سہارا دیں۔ خود پاک فوج اور فضائیہ کی اعلیٰ قیادت کا بھی یہی خیال تھا کہ ان حالات میں بھٹو صاحب کے علاوہ اقتدار اعلیٰ کسی اور فرد یا پارٹی کے حوالے کرنے کے متعلق سوچا تک نہیں جاسکتا تھا۔ ان کی وطن واپسی کے لیے ایک خاص طیارے کا بندوبست کیا گیا اور ۲۰ دسمبر کی علی الصباح وہ بخیریت راولپنڈی پہنچ گئے۔

اپنی آمد کے فوراً بعد بھٹو صاحب ایوان صدر پہنچے اور جنرل یحییٰ سے اقتدار کی فوری منتقلی کا مطالبہ کیا۔ بھٹو صاحب کے علاوہ وہاں جو دوسرے افراد موجود تھے، ان میں جنرل گل

صفحہ 195

حسن، ایئر مارشل رحیم، جنرل عبدالحمید خان (آرمی کے چیف آف اسٹاف اور جنرل یحییٰ کے دست راست) اور مسٹر مصطفیٰ کھر وغیرہ شامل ہیں۔

متعدد ثقہ شہادتوں کے مطابق جب بھٹو صاحب نے جنرل یحییٰ سے استعفیٰ طلب کیا تو موصوف نے پہلے تو سخت برہمی کا اظہار کیا۔ مگر بعد میں جب انہیں یقین ہو گیا کہ بات تمام ہو چکی ہے تو انہوں نے بڑی نرمی اور مصالحت کا انداز اختیار کر کے بھٹو صاحب کو اس شرط پر وزارت عظمیٰ کی پیشکش کی کہ انہیں آئینی صدر کی حیثیت سے رہنے دیا جائے جبکہ کل اختیارات وزیر اعظم کے پاس رہیں۔ جب بھٹو صاحب نے ان کی اس پیشکش کو بھی سختی سے رد کر دیا تو جنرل موصوف نے بحیثیت سی این سی واپس جی ایچ کیو جانے کو کہا اور جب بھٹو صاحب ان کے استعفیٰ پر مصر رہے تو جنرل یحییٰ نے ریٹائرمنٹ کی صورت میں اپنی جگہ جنرل حمید کو سی این سی بنانے کا مشورہ دیا۔ اس پر بھٹو نے سخت برہمی کا اظہار کر کے جواب دیا کہ آپ کی جگہ کون لیتا ہے، کون نہیں لیتا، اس سے قطعی آپ کا کوئی واسطہ نہیں۔ بس آپ گھر تشریف لے جائیں۔

میرے راوی کے مطابق اس کے بعد دونوں میں کچھ تلخ کلامی ہوئی مگر جنرل حمید کی بروقت مداخلت سے بات وہیں ختم ہو گئی۔ ان کا مشورہ یہ تھا کہ پہلے یہ معلوم کریں کہ خود فوج اور اس کے افسر کیا چاہتے ہیں اور اس کا اندازہ وہ خود ان سے مل کر کریں گے۔ چنانچہ راولپنڈی اسٹیشن میں حاضر تمام افسروں کی میٹنگ کا بندوبست کیا گیا۔ پروگرام کے مطابق یہ میٹنگ ہوئی۔ جنرل حمید نے افسروں سے خطاب کیا اور اس کے بعد جو اس میٹنگ کا حشر ہوا، وہ ایک علیحدہ داستان ہے اور سردست اس کی تفصیل کی نہ گنجائش ہے، اور نہ ہی موقع۔

بہرحال اس روز (۲۰ دسمبر ۷۱ء) دوپہر کی خبروں میں ریڈیو پاکستان نے بھٹو صاحب کے بحیثیت چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر اور صدر مملکت کے تقرر کا اعلان کر دیا اور اس طرح ان کے اقتدار کا وہ سلسلہ جو دو فوجیوں یعنی جنرل اسکندر مرزا اور جنرل ایوب کے توسط سے تیرہ سال پہلے شروع ہوا تھا، اپنے نقطہ عروج کو پہنچ گیا۔ (جنگ کراچی، ص ۳، ۵ فروری ۱۹۸۹ء)

سب جانتے ہیں کہ جنرل عبدالحمید قادیانی تھا جسے جنرل یحییٰ خان فوج کا کمانڈر انچیف

صفحہ 196

بتانا چاہتے تھے۔ ہمیں اس میں ذرا بھی شک نہیں کہ یحییٰ خان کے اردگرد قادیانیوں نے گھیرا ڈالا ہوا تھا۔ سول میں اس پر مسٹر ایم ایم احمد مسلط تھا۔ یحییٰ خان کو اس پر اتنا اعتماد تھا کہ جب وہ شاہ ایران کی دعوت پر ایک روزہ دورے کے لیے ایران گئے تو مسٹر ایم ایم احمد کو قائم مقام صدر بنا گئے۔ جب وہ کرسی صدارت سنبھالنے کے لیے بذریعہ لفٹ جا رہے تھے تو اسلم قریشی نے غیرت ایمانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسے زخمی کر دیا اور وہ بجائے منصب صدارت سنبھالنے کے ہسپتال پہنچ گئے اور اس طرح قادیانیوں کا حصول اقتدار کا خواب پورا نہ ہوسکا۔

اسی ایم ایم احمد نے سقوط مشرقی پاکستان میں اہم کردار ادا کیا اور جب پاکستان اس عظیم سانحہ سے دوچار ہو گیا تو قادیانیوں نے باقی ماندہ پاکستان پر اقتدار حاصل کرنے کا منصوبہ بنایا اور اس کے لیے بھی یحییٰ خان کو استعمال کرنا شروع کر دیا۔ چنانچہ سقوط مشرقی پاکستان کے بعد بھٹو مرحوم کا ملک میں آنا اور یحییٰ خان کا ان سے اصرار کرنا کہ جنرل حمید کو سی این سی بنا دو‘ اس بات کا واضح ثبوت ہے۔ اس وقت فوج میں ۷ جنرل قادیانی تھے جو یحییٰ خان پر مسلط تھے۔ اگر جنرل حمید کمانڈر انچیف بن جاتے تو ظاہر ہے کہ وہی چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر بھی بن جاتے۔ اور پھر ملک میں وہ خون خرابہ ہوتا کہ الامان والحفیظ

ہمارا شروع دن سے ہی یہ موقف تھا کہ قادیانی کوئی مذہبی فرقہ یا جماعت ہرگز نہیں بلکہ یہ ایک سیاسی ٹولہ ہے جس کے عزائم یہودیوں کی طرح انتہائی خطرناک ہیں۔ اس لیے حکمران طبقہ کو چاہیے کہ وہ اس ٹولہ کی چکنی چپڑی باتوں میں نہ آئے اور فوراً ان کو کلیدی عہدوں خاص طور پر فوج جیسے اہم محکمہ سے نکالا جائے۔ موجودہ حالات میں جبکہ پورے ملک میں عصبیت اور نفرت کی آگ سلگ رہی ہے‘ اس ٹولہ کی کلیدی عہدوں سے علیحدگی انتہائی ضروری ہے۔

(ہفت روزہ ”ختم نبوت“ کراچی‘ جلد ۷‘ شمارہ ۳۹)

صفحہ 197

تحقیقاتی کمیشن برائے سقوط مشرقی پاکستان

کے صدر کے نام ایک درخواست کا متن

منجانب مناظر اسلام مولانا لال حسین اختر (امیر چہارم مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان)

واجب الاحترام جناب عالی مقام جسٹس حمود الرحمن صاحب صدر تحقیقاتی کمیشن برائے سقوط مشرقی پاکستان!

جناب عالی!

سقوط مشرقی پاکستان صرف پاکستان ہی کے لیے نہیں بلکہ تمام دنیائے اسلام کے لیے عظیم المیہ ہے۔ اس سلسلہ میں چند گزارشات پیش خدمت ہیں۔

پاکستان کے ذمہ دار ہیں۔

عدالت کے بیان میں اس کی تصدیق کی ہے لہٰذا ان کے نزدیک پاکستان اسلامی ملک نہیں ہے)

ملک تقسیم ہو گیا تو ہم پھر سے اسے ملانے کی کوشش کریں گے۔

صفحہ 198

سے علیحدہ میمورنڈم پیش کرکے بقول جسٹس منیر سخت مخمصہ پیدا کردیا۔

مذاکرات میں ان کے ہمراہ رہے۔ مشرقی پاکستان کے رہنماؤں نے ان کے چلن کے باعث ان کی علیحدگی کا مطالبہ کیا۔

صدر یحییٰ نے افواج بحریہ پاکستان کے لیے منظور کردہ دس کروڑ روپے ادا نہ کر سکے۔ اس طرح ایم ایم احمد نے پاکستان کی بحری قوت کو کمزور رکھا۔

ایم ایم احمد جس فرقہ سے تعلق رکھتے ہیں ان کی قادیان (بھارت) کی شاخ نے بنگلہ دیش کی جانب سے بھارت سرکار کو مکمل تعاون کا یقین دلایا جبکہ قادیان میں مقیم ان کے ممبران کو خلیفہ ربوہ ہی مقرر کرتے ہیں اور ان کے مصارف ادا کرتے ہیں۔

جناب والا شان!

بحریہ کے بجٹ کے متعلق شہادت کے لیے جناب مظفر وائس ایڈمرل کو طلب فرمایا جائے۔ دیگر امور کے متعلق تحریری شہادت موجود ہے جو عندالطلب پیش کی جاسکتی ہے۔

لال حسین اختر فیض باغ لاہور امیر مرکزیہ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان، تغلق روڈ ملتان

دلائل متعلقہ جزو نمبر ۱

سقوط مشرقی پاکستان یحییٰ خان اینڈ کو کی حرکات قبیحہ، فرض ناشناسی، ملک وملت سے غداری کا نتیجہ ہے۔ جو لوگ یحییٰ خان کے ساتھ شریک کار تھے، ان میں سب سے زیادہ یحییٰ خان کو ایم ایم احمد ہی پر اعتماد تھا اور مسٹر احمد ہی نے مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا پلان تیار کیا تھا۔

یحییٰ خان کا سب سے زیادہ معتمد

یہ حملہ آپ پر اس وقت کیا گیا جب کہ محترم جناب صدر مملکت آغا محمد یحییٰ خان ملک سے باہر دو روز کے لیے ایران تشریف لے گئے تھے اور صاحبزادہ ایم ایم احمد بطور قائم مقام

صفحہ 199

صدر کام کر رہے تھے۔

(قادیان کا آرگن‘ بحوالہ ماہنامہ ”الفرقان“ ربوہ ستمبر ۷۱ء‘ ص۶)

مشرقی پاکستان کی علیحدگی

قومی اسمبلی کی بساط لپیٹ دینے کے ساتھ ہی مشرقی پاکستان کی قسمت کا فیصلہ ذہنی طور پر کر لیا گیا تھا۔ یہ بات عام طور پر کہی جاتی ہے کہ ایم ایم احمد نے ایک مضبوط رپورٹ تیار کی جس میں اعداد و شمار سے ثابت کیا گیا کہ مشرقی پاکستان کے علیحدہ ہو جانے سے مغربی پاکستان کی حیثیت قائم رہے گی اور اس میں استحکام پیدا ہو گا۔

(اردو ڈائجسٹ‘ ص۳۰‘ فروری ۱۹۷۲ء)

دلائل متعلقہ جزو نمبر ۲

عدالت میں بیان دیتے ہوئے کہا ”میرا دادا نبی تھا اور جو شخص اسے نبی نہیں مانتا‘ وہ کافر ہے۔“

(مندرجہ ماہنامہ ”الحق“ اکوڑہ خٹک‘ رمضان ۹۱ھ)

لکھا ہے کہ ”ہر ایک شخص جو موسیٰ کو نبی مانتا ہے مگر عیسیٰ کو نہیں مانتا یا عیسیٰ کو تو مانتا ہے مگر محمد کو نہیں مانتا یا محمد کو تو مانتا ہے پر مسیح موعود کو نہیں مانتا‘ وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر ہے اور دائرہ اسلام سے خارج ہے“۔

پڑھیں کیونکہ ہمارے نزدیک وہ خدا تعالیٰ کے ایک نبی کے منکر ہیں۔ یہ دین کا معاملہ ہے اس میں کسی کا اپنا اختیار نہیں کہ کچھ کر سکیں۔

(انوار خلافت‘ ص۱۰‘ از بشیر الدین محمود‘ خلیفہ دوم قادیانی)

عمداً نہیں پڑھا۔ مولانا نے پوچھا کیوں؟ مسٹر ظفر اللہ نے جواب دیا کہ میں اس کو سیاسی لیڈر

صفحہ 200

سمجھتا تھا۔

حضرت مولانا نے دریافت فرمایا کہ کیا تم مرزا قادیانی کو پیغمبر نہ ماننے والے سارے مسلمانوں کو کافر سمجھتے ہو؟ حالانکہ تم اسی حکومت کے وزیر بھی ہو۔

سر ظفراللہ نے کہا کہ آپ مجھے کافر حکومت کا مسلمان ملازم سمجھ لیں یا مسلمان حکومت کا کافر نوکر۔ تم کو بھی ایسا سمجھنے کا حق ہے۔

(سر ظفراللہ خان بحوالہ مولانا محمد اسحاق، خطیب جامع مسجد ایبٹ آباد، بحوالہ زمیندار،

مورخہ ۸ فروری ۱۹۵۰ء، بحوالہ الفلاح پشاور، ۲۸ اگست ۱۹۴۹ء)

جب پاکستان کے تمام اسلامی فرقے مرزائیوں کی نظر میں مسلمان ہی نہیں تو پاکستان اسلامی حکومت بھی نہیں۔

ان کی بعض تحریروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ تقسیم کے مخالف تھے اور کہتے تھے کہ اگر ملک تقسیم ہو گیا تو وہ اسے دوبارہ متحد کرنے کی کوشش کریں گے۔

(رپورٹ تحقیقاتی عدالت، مرتبہ جسٹس محمد منیر، ص ۴۰۹)

قادیان جماعت احمدیہ کا مرکز ہے۔ جس کی شاخیں ساری دنیا میں پھیلی ہوئی ہیں۔ ۱۹۴۷ء کے فسادات کی وجہ سے متعدد احمدیوں کو قادیان مجبوراً چھوڑنا پڑا تھا اور وہ واپس آ کر یہاں بسنے کے لیے بے قرار ہیں۔

(بحوالہ کارروائی قادیان جماعت احمدیہ کا ۵۹ واں اجلاس، مندرجہ الفضل لاہور،

۳۱ دسمبر ۱۹۴۹ء)

ذیل دفعہ ج

اس ضمن میں ایک بہت ناگوار واقعہ کا ذکر کرنے پر مجبور ہوں۔

میرے لیے یہ بات ہمیشہ ناقابل فہم رہی ہے کہ احمدیوں نے علیحدہ نمائندگی کا اہتمام کیوں کیا۔ اگر احمدیوں کو مسلم لیگ کے موقف سے اتفاق نہ ہوتا تو ان کی طرف سے علیحدہ نمائندگی کی ضرورت ایک افسوس ناک امکان کے طور پر سمجھ میں آسکتی تھی۔ شاید وہ علیحدہ ترجمانی سے مسلمان مسلم لیگ کے موقف کو تقویت پہنچانا چاہتے تھے۔ لیکن اس سلسلہ میں انہوں نے شکر گڑھ کے مختلف حصوں کے لیے حقائق اور اعداد و شمار پیش کیے۔ اس طرح احمدیوں نے یہ پہلو اہم بنا دیا کہ نالہ بھیں اور نالہ بسنتر کے درمیانی علاقہ میں غیر مسلم اکثریت

صفحہ 201

آباد ہے اور اس دعویٰ کے لیے دلیل مہیا کر دی کہ نالہ اچھ اور نالہ بھمبن کا درمیانی علاقہ از خود بھارت کے حصہ میں آجائے گا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ علاقہ ہمارے (پاکستان) کے حصہ میں آگیا ہے لیکن گورداسپور کے احمدیوں نے اس وقت ہمارے لیے سخت مخمصہ پیدا کر دیا۔

(بیان جسٹس محمد منیر، اخبار نوائے وقت لاہور، ۶ جولائی ۱۹۷۴ء)

دلائل متعلقہ جزو نمبر ۳

یحییٰ مجیب مذاکرات ۷۱ء میں ایم ایم احمد کی حرکات کے باعث مشرقی پاکستان کے انتہائی ذمہ دار حلقوں نے شکوک و شبہات کا اظہار کیا۔

۲۴ مارچ کو ڈھاکہ میں ایم ایم احمد کی موجودگی پر انتہائی ذمہ دار حلقوں نے شکوک کا اظہار کیا کہ انہوں نے اقتصادی امور کے سیکرٹری، منصوبہ بندی کمیشن کے ڈپٹی چیئرمین صدر کے اقتصادی امور کے مشیر اور مشرقی پاکستان میں طوفان زدہ افراد کی آباد کاری کی رابطہ کمیٹی کے چیئرمین کی حیثیت سے ہمیشہ مشرقی پاکستان کو اقتصادی طور پر محروم رکھا۔

(جنگ کراچی، ۲۶ مارچ ۷۱ء، ص ۸، کالم نمبر ۵)

مولانا شاہ احمد نورانی ایم این اے نے عوام پر زور دیا کہ وہ ملک کے اتحاد اور سالمیت کی خاطر مزید قربانیاں دینے کے لیے تیار رہیں اور ملک کو تقسیم کرنے کی تمام سازشوں کو ناکام بنا دیں۔

انہوں نے بتایا کہ مشرقی پاکستان کے اخبارات صدر کے اقتصادی مشیر مسٹر ایم ایم احمد کی ڈھاکہ میں موجودگی پر نکتہ چینی کر رہے ہیں۔ اس کے باوجود وہ مذاکرات میں صدر کے مشیر کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں۔

(روزنامہ مشرق لاہور، ۲۵ مارچ ۷۱ء، صفحہ آخری، کالم نمبر ۲)

دلائل متعلقہ جزو نمبر ۴

سازش کا پانچواں حصہ ”ہماری بحریہ کو جس قدر نظر انداز کیا گیا، وہ بڑا ہی تکلیف دہ المیہ ہے۔ یحییٰ خان نے وائس ایڈمرل مظفر حسن کو اختیار دیا تھا کہ وہ ہر سال دس کروڑ

صفحہ 202

روپے بحریہ کو مضبوط بنانے کے لئے اپنی مرضی سے خرچ کر سکتے ہیں۔ معلوم ہوا کہ اس کے متعلق پلان تیار کیا گیا مگر آخری وقت پر جناب ایم ایم احمد نے جواب دیا کہ یہ رقم ہم نہیں دے سکتے۔

(اردو ڈائجسٹ، جنوری ۷۲ء، ص ۵۵)

دلائل بابت جزو نمبر ۵

جناب ایم ایم احمد جس فرقہ سے تعلق رکھتے ہیں، ان کی قادیان (بھارت) شاخ نے بنگلہ دیش کی حمایت کی اور بھارت سرکار کو مکمل تعاون کا یقین دلایا اور بھارتی وزیر اعظم مسز اندرا گاندھی کی حمایت کے علاوہ مالی امداد دینے کا بھی اعلان کیا گیا۔

(ایڈیٹر کا مضمون، روزنامہ ”جسارت“ کراچی، ۱۳ ستمبر ۷۱ء)

قادیان (بھارت) میں مرزائی جماعت کو مالی امداد پاکستان کے مرزائیوں کی طرف سے دیے جانے کا اعتراف ایم ایم احمد نے فوجی عدالت کے بیان میں کیا ہے نیز یہ کہ قادیان کے نظم و ضبط، نظامت ربوہ ہی کے ماتحت ہیں۔

صفحہ 203

مشہور قادیانی شاہ نواز لیٹنڈ کے خاندان پر

مرزا طاہر کا عتاب

اس کے بیٹے، اہلیہ اور بیٹی کا قادیانیت سے اخراج

از قلم : محمد حنیف ندیم

قادیانیوں کو اگر کوئی مسلمان دعوت دیتا ہے کہ اسلام قبول کر لو، حضور تاجدار ختم نبوت صلی اللہ علیہ وسلم کے دامن اطہر کے ساتھ وابستہ ہو جاؤ، مرزا قادیانی کا ناپاک دامن چھوڑ دو اور مسلمان ہو جاؤ تو وہ جھٹ سے مرزا قادیانی کا شعر سنا دیتے ہیں کہ؎

ہم تو رکھتے ہیں مسلمانوں کا دیں
دل سے ہیں خدام ختم المرسلین

پھر جب انہیں مرزا قادیانی کی گمراہ کن متضاد تحریریں دکھائی جاتی ہیں اور یہ بتایا جاتا ہے کہ ایسے اشعار اور حوالے مرزا قادیانی کی کتابوں سے اس لیے ڈھونڈ ڈھونڈ کر پیش کیے جاتے ہیں تاکہ قادیانی جو مرزا قادیانی اور اس کی رائل فیملی کے جال میں پھنس گئے ہیں، انہیں یہ احساس نہ ہونے پائے کہ وہ مسلمانوں سے الگ کوئی فرقہ یا مذہب ہیں۔ کیونکہ ان میں جس دن یہ احساس پیدا ہو گیا کہ قادیانیت کوئی مذہب یا فرقہ نہیں بلکہ منافقوں کا ایک ٹولہ ہے تو اسی دن قادیانیت پر دو حرف بھیج کر اس سے چھٹکارا حاصل کر لیں گے۔ دوسرا مقصد ان حوالوں سے مسلمانوں کو دھوکہ دینا ہے تاکہ وہ آسانی سے ان کے جال میں پھنس جائیں۔

صفحہ 204

اگر قادیانی مسلمانوں کا کوئی فرقہ ہوتا تو مرزا قادیانی کا بیٹا مرزا بشیر احمد ایم۔ اے اور دوسرا بیٹا جو اس کا دوسرا گدی نشین ہے‘ یہ نہ لکھتے کہ مسلمانوں سے رشتے ناطے‘ لین دین‘ سلام کلام ناجائز ہے۔ ان کی اقتداء میں ”نماز“ نہ پڑھی جائے۔ ان کے جنازوں حتیٰ کہ معصوم بچوں کے جنازوں میں بھی شریک نہ ہوا جائے۔“

بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی نماز جنازہ میں انگریز سے سر کا خطاب پانے والا مشہور قادیانی چوہدری ظفر اللہ خان اس لیے شریک نہ ہوا کہ وہ مرزا محمود کے فتویٰ کے مطابق ان کو کافر سمجھتا تھا۔

یہ الگ بات ہے کہ مسلمان بھی یہ نہیں چاہتے کہ ان کے جنازوں میں کوئی قادیانی شریک ہو۔ کیونکہ نماز جنازہ مردے کے لیے ایک دعا ہے جبکہ کافر کی دعا لگتی نہیں‘ رد ہو جاتی ہے۔ اگر کوئی قادیانی کسی مسلمان کے جنازے میں شریک ہو گیا تو وہ اس مردے کے لیے رحمت و مغفرت کا موجب نہیں‘ زحمت و عذاب کا سبب بن سکتا ہے۔ اس لیے یہ اچھا ہوا کہ قادیانی خود ہی مسلمانوں سے الگ ہو گئے۔

اب رہی رشتے ناطے کی بات‘ تو مسلمان یہ بھی نہیں چاہتے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منکروں اور گستاخوں سے ان کی رشتہ داری کا تعلق قائم ہو‘ جبکہ خود ان کے نزدیک بھی مسلمانوں سے رشتہ داری حرام اور ناجائز ہے‘ چنانچہ اگر کسی قادیانی نے کسی مسلمان سے رشتہ داری کر بھی لی تو اسے جماعت سے خارج کر دیا گیا۔ اس کی بہت سی مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں۔

تازہ مثال یہ ہے کہ شاہنواز لمیٹڈ مرسڈیز کاروں کی مشہور فرم ہے مشہور قادیانی شاہنواز اس کے مالک ہیں‘ شاہ نواز خاندان کے بارے میں اگر یہ کہا جائے کہ یہ پاکستان کا ایک امیر ترین خاندان ہے‘ تو غلط نہ ہو گا۔ شاہ نواز صاحب کے صاحبزادے جناب چوہدری محمود نواز صاحب نے اپنی والدہ صاحبہ کے مشورے سے اپنی ہمشیرہ محترمہ کا رشتہ کسی مسلمان سے طے کر دیا۔ یہ خبر ربوہ پہنچی تو انہیں ناگوار گزری کہ رشتہ کرنا ہی تھا تو کسی مسلمان سے کیوں کیا؟ اور دوسرے اپنے ”امام“ مرزا طاہر سے مشورہ کیوں نہیں لیا۔ چنانچہ اس بات کی کوشش بھی کی گئی اور دباؤ بھی ڈالا گیا کہ یہ رشتہ نہ ہو سکے لیکن مبینہ طور پر محمود نواز صاحب نے زبان کر کے پھرنے سے انکار کر دیا۔ -

صفحہ 205

یہ مرزا طاہر اور رائل فیملی کو مزید شاق گزرا۔ اس حکم عدولی کے نتیجہ میں قادیانی جماعت نے جناب محمود نواز صاحب‘ ان کی والدہ اور ان کی ہمشیرہ کو جماعت سے خارج کر دیا اور اس کا باقاعدہ اعلان گزشتہ جمعہ کو النور ہسپتال کے مرزا ڈے میں جمعہ کے وقت کیا گیا۔ ایسے بہت سے قادیانی مل جائیں گے جن کی مسلمانوں سے رشتہ داریاں ہیں لیکن رائل فیملی اور مرزا طاہر کا نزلہ شاہ نواز خان پر کیوں گرا؟ یہ ایک طویل داستان ہے‘ جس کے لیے ہمیں پیچھے کی طرف لوٹنا پڑے گا۔

مرزا احمد بیگ (محترمہ محمدی بیگم کے والد محترم) کسی مقصد کے لیے مرزا قادیانی کے پاس آئے اور اپنا مدعا پیش کیا۔ مرزا نے کہا کہ یہ مدعا تو پورا ہو جائے گا لیکن اس کے لیے آپ کو اپنی لڑکی کا رشتہ میرے ساتھ کرنا ہو گا۔ کوئی غیرت مند باپ اپنی لڑکی کے بارے میں ایسی بات برداشت نہیں کر سکتا۔ مرزا احمد بیگ کی غیرت جاگ اٹھی۔ اس نے کہا کہ کام جائے بھاڑ میں‘ میں ایسا کام نہیں کر سکتا۔ بعد میں مرزا قادیانی نے کہا کہ خدا نے اس کا نکاح آسمان پر میرے ساتھ کر دیا ہے۔ اگر یہ رشتہ دوسری جگہ کرنے کی کوشش کی گئی تو اس کا انجام خطرناک ہو گا۔ یہ ہو گا‘ اور وہ ہو گا کی خوب دھمکیاں دی گئیں۔ قادیانی نبوت نے خوب پر پرزے نکالے۔ الہامات پہ الہامات داغے۔ عبرت انگیز اور ذلت آمیز موت کی پیش گوئیاں گھڑیں۔

آخری حربہ کے طور پر لالچ بھی دیا لیکن احمد بیگ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا سچا امتی تھا۔ وہ مرزا قادیانی کی گیدڑ بھبکیوں میں نہ آیا اور مرزا قادیانی کو ٹھینگا دکھا دیا۔ آخر مرزا حسرت و نامرادی کا طوق گردن میں ڈال کر راہی ملک عدم ہو گیا۔

اب آئیے مرزا محمود کے بیٹے مرزا ناصر کی طرف۔ ڈاکٹر طاہرہ نامی ایک لڑکی تھی۔ مرزا ناصر کو وہ کئی بار درشن دے چکی تھی۔ اس کے والد کو اس کے مستقبل کی فکر دامن گیر ہوئی اور اس کے ہاتھ پیلے کرنے کا پروگرام بنایا تو اپنے ”امام“ (ہاں وہی امام جس کا دعویٰ ہے کہ اسے امامت خدا کی طرف سے ملی ہے) کے پاس آیا اور لمبی چوڑی فہرست پیش کی کہ بچی کے ہاتھ پیلے کرنے ہیں۔ میری نگاہ میں یہ رشتے ہیں۔ حضور جو منظور فرمائیں۔ مرزا ناصر نے فہرست لے کر رکھ دی اور کہہ دیا کہ کل آنا‘ میں اپنے ”رب“ کا عندیہ معلوم کر لوں۔

صفحہ 206

چنانچہ وہ اگلے دن آیا تو وہ فہرست اسے تھمادی۔ اس میں سب نام قلمزد کر کے سب سے اوپر اپنا نام لکھ دیا اور کہا ”میں نے استخارہ کر کے معلوم کیا ہے کہ یہ رشتہ تیرے لیے انتہائی بابرکت ہو گا۔ غرض رشتہ ہو گیا۔ ربوہ میں مٹھائیاں تقسیم ہو گئیں۔ مرزا ناصر ہنی مون منانے اسلام آباد چلے گئے۔ اسی اثناء میں خطیب ختم نبوت مولانا اللہ وسایا فرشتہ اجل بن کر مرزا ناصر کی کوٹھی کے قریب والی مسجد میں پہنچ گئے۔ خوب گرجے برسے۔ تقریر جاری تھی کہ مرزا ناصر پر دل کا دورہ پڑا اور مرزا ناصر یہ جا، وہ جا۔

قصہ مختصر یہ قادیانیوں میں جو مالی لحاظ سے مستحکم اور مضبوط پارٹیاں ہیں، ان پر یہ پابندی ہے کہ وہ اپنے لڑکے لڑکیوں کا رشتہ اپنے ”امام“ سے مشورہ لیے بغیر نہ کریں۔ غریب قادیانیوں پر اس کا اطلاق نہیں۔ پابندی کا مقصد بھی یہی ہے کہ اگر کوئی رشتہ اچھا بھی ہو اور مالدار بھی ہو تو ان کا امام اسے اپنے یا اپنی رائل فیملی کے شہزادوں اور شہزادیوں کے لیے منتخب کر لیتا ہے اور بنیاد اس کی ”استخارہ“ ہی ہوتی ہے۔ قادیانیوں میں یہ چہ مگوئیاں عام ہو رہی ہیں کہ:

چوہدری محمود نواز چیئرمین شاہ نواز لمیٹڈ نے یہ غلطی کی کہ اپنی ہمشیرہ کے رشتے کے لیے مرزا طاہر کی طرف رجوع نہیں کیا۔ دوسری غلطی یہ کی کہ مسلمان کا انتخاب کیا اور چونکہ اس جرم میں اس کی والدہ اور ہمشیرہ بھی شریک تھیں اس لیے وہ بھی مجرم قرار پائیں۔ مرزا طاہر نے غصہ یوں نکالا کہ انہیں جماعت سے خارج کر دیا۔

اس سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ان کا اخراج کیوں عمل میں آیا۔ چوہدری محمود نواز صاحب، ان کی والدہ صاحبہ اور ہمشیرہ صاحبہ کو ہم تو یہی مشورہ دیں گے کہ وہ آنکھیں کھولیں۔ قادیانی کی رائل فیملی سے چھٹکارا حاصل کر کے حلقہ بگوش اسلام ہو جائیں اور مسلم برادری کے فرد بن جائیں۔ اس سلسلہ میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ان کی ہر طرح سے راہنمائی اور امداد کرنے کے لیے تیار ہے، وہ ہمارے پاس آئیں، ہم ان کے سامنے قادیانیت اور مرزا قادیانی کو اس کے اصلی روپ میں دکھانے کے لیے تیار ہیں۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی۔ جلد ۶، شمارہ ۱۷، اکتوبر ۱۹۸۷ء)

PDF 207

قادیانی غدّاروں کی نشاندہی

تاریخ تحفظ ختم نبوت سیریز 7

ترتیب و تحقیق محمد طاہر رزاق

پر قبضہ کرنے کی کئی بار ناپاک جسارت کی۔

مل کر سندھیوں کو علیحدگی پر ابھارا۔

غازی علم الدین شہید پر سخت تنقید کی۔

کیلئے اپنا الگ میمورنڈم پیش کیا۔ جس کے نتیجے میں گورداسپور بھارت کے قبضے میں چلا گیا اور بھارت کو کشمیر پر قبضہ کرنے کا واحد زمینی راستہ مل گیا۔

داخلہ ممنوع قرار دیا۔ قادیانی خلیفہ ربوہ میں مطلق العنان حکمران ہوتا تھا، جہاں پاکستان کا قانون اثر انداز نہیں ہوتا تھا۔

پیش کیا کرتا تھا۔

اور گورداسپور کو پاکستان میں شامل سمجھے، وہاں بیٹھے لاکھوں مسلمان موت کے گھاٹ اتار دیئے گئے۔

اے محبان وطن! قادیانیوں کے ہاتھوں لہولہو ارضِ وطن تمہیں اپنے دفاع کیلئے پکار رہی ہے خدارا اس کی دلدوز پکار سنیں ...... اور اس کے دفاع کیلئے مستعد ہو جائیں !!!