رَدِّ قادیانیّت
رسائل
- حضرت مولانا عبدالقادر صاحبؒ آزاد
- حضرت مولانا حافظ محمد ایّوب دہلویؒ
- حضرت مولانا سعید الرحمٰن انوریؒ
- حضرت مولانا محمد اسحاق صاحبؒ چاٹگامی
- حضرت مولانا عتیق الرحمٰن چنیوٹیؒ
- حضرت مولانا غلام جہانیاں صاحبؒ
- حضرت علامہ احسان الٰہی ظہیر صاحبؒ
- حضرت مولانا محمد ابراہیم میرپوریؒ
احتسابِ قادیانیت
جلد ٣٥
عَالَمِی مَجْلِسِ تَحَفُّظِ خَتْمِ نُبُوَّۃ
حضوری باغ روڈ، ملتان - فون : 4783486-061
رَدّ قادیانیت
رسائل
اِحْتِسَابِ قَادِیَانِیَّت
٣٥
- حضرت مولانا عبدالقادر صاحبؒ آزاد
- حضرت مولانا حافظ محمّد ایّوب دہلویؒ
- حضرت مولانا سیف الرحمٰن انوریؒ
- حضرت مولانا محمّد اسحاق صاحبؒ سندیلوی
- حضرت مولانا عتیق الرحمٰن چنیوٹی
- حضرت مولانا غلام جہانیاں صاحبؒ
- حضرت علّامہ احسان الٰہی ظہیر شہیدؒ
- حضرت مولانا محمّد ابراہیم میرپوریؒ
عالمی مجلس تحفّظ ختم نبوّت
بسم الله الرحمن الرحيم!
نام کتاب : احتساب قادیانیت جلد پینتیس (٣٥) مصنفین : حضرت مولانا عبدالقادر صاحب آزادؒ حضرت مولانا حافظ محمد ایوب دہلویؒ حضرت مولانا سعید الرحمن انوریؒ حضرت مولانا محمد اسحاقؒ صاحب چالگای حضرت مولانا عتیق الرحمن چنیوٹیؒ حضرت مولانا غلام جہانیاںؒ صاحب حضرت علامہ احسان الہی صاحب ظہیرؒ حضرت مولانا محمد ابراہیم میرپوریؒ
صفحات : ٦٤٠ قیمت : ٣٠٠ روپے مطبع : ناصر زین پریس لاہور طبع اوّل : دسمبر ٢٠١٠ء ناشر : عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان Ph: 061-4783486
بسم الله الرحمن الرحيم!
فہرست رسائل مشمولہ...... احتساب قادیانیت جلد ٣٥
عرض مرتب ٤
- ١...... مرزائیت غیر مسلم اقلیت اپنی تحریروں کے آئینہ میں حضرت مولانا عبدالقادر آزادؒ ٧
- ٢...... اسلام کے بنیادی عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت اور حکمتیں // // ٢٥
- ٣...... یہ ہے قادیانی مذہب // // ٤٣
- ٤...... ختم نبوت حضرت مولانا حافظ محمد ایوب دہلویؒ ٧٣
- ٥...... انا خاتم النبيين لا نبى بعدى حضرت مولانا سعید الرحمن انوریؒ ١٠١
- ٦...... مرزا غلام احمد اور نبوت حضرت مولانا محمد اسحقؒ ١١١
- ٧...... قادیانی فتنہ حضرت مولانا عتیق الرحمن چنیوٹیؒ ١٤٧
- ٨...... قادیانی نبوت (پیغام احمدیت بجواب پیغام احمدیت) // // ١٩٥
- ٩...... قادیانی امت کا دجل // // ٢٧٣
- ١٠...... ارشاد فرید الزماں متعلق مرزا قادیان حضرت مولانا محمد غلام جہانیاںؒ ٢٧٧
- ١١...... مرزائیت اور اسلام حضرت مولانا علامہ احسان الہی ظہیرؒ ٣١١
- ١٢...... فسانہ قادیان حضرت مولانا محمد ابراہیم میرپوریؒ ٤٤٥
- ١٣...... مرزائے قادیان کے دس جھوٹ مع جواب الجواب // // ٥٧١
بسم اللہ الرحمن الرحیم!
عرض مرتب
نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم ۔ اما بعد! قارئین محترم! لیجئے احتساب قادیانیت کی جلد پینتیس (٣٥) پیش خدمت ہے۔ اللہ رب العزت کا لاکھوں لاکھ شکر ہے کہ جس نے اس مبارک کام کو آگے بڑھانے کی توفیق سے سرفراز فرمایا۔ اس جلد میں:
- ٭...... حضرت مولانا محمد عبدالقادر آزادؒ کے رَدّ قادیانیت پر تین رسائل پیش خدمت
ہیں۔ مولانا عبدالقادر آزادؒ (وفات ١٥؍جنوری ٢٠٠٣ء) اصلاً کبیر والا کے علاقہ کے رہنے والے تھے۔ جامعہ قاسم العلوم ملتان مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمودؒ سے آپ نے دورہ حدیث شریف کیا۔ تنظیم اہل سنت کے سٹیج سے اپنی تبلیغی سرگرمیوں کا آغاز کیا۔ اسلامی مشن بہاولپور کے آپ بانی تھے۔ محکمہ اوقاف میں خطابت سنبھالی تو شاہی مسجد لاہور کے خطیب مقرر ہوئے۔ آپ نے اس منصب کو خوب نبھایا۔ پنجاب یونیورسٹی سے پی۔ ایچ۔ ڈی بھی کیا۔ آپ نے عیسائیت کے خلاف کئی کتابچے تحریر فرمائے۔ رد قادیانیت پر آپ کے تین رسائل ہمیں میسر آئے جن کے نام یہ ہیں:
- ١...... مرزائیت غیر مسلم اقلیت اپنی تحریروں کے آئینہ میں:
- ٢...... اسلام کے بنیادی عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت اور حکمتیں: اسلام آباد میں قومی
سیرۃ کانفرنس کے موقعہ پر آپ نے یہ مقالہ پیش فرمایا۔ بعد میں اسے کتابی شکل میں شائع کر دیا۔
- ٣...... یہ ہے قادیانی مذہب: مجلس اعلیٰ دعوت و ارشاد سعودی عرب کی سفارش پر
گورنمنٹ سعودی عرب نے اس رسالہ کو شائع کیا۔ بعد میں مولانا عبدالقادر آزاد نے اسے مجلس علماء پاکستان کی طرف سے اسے شائع فرمایا۔
یہ تینوں رسائل اس جلد میں شامل ہیں۔
- ٭...... حضرت مولانا حافظ محمد ایوب دہلویؒ کا ایک رسالہ اس جلد میں شامل
اشاعت ہے۔ اس کا نام ہے:
- ٤...... ختم نبوت: آپ کی تقریروں کو ٹیپ ریکارڈ سے کاغذ پر منتقل کر کے
الیوسف پیپر شاہراہ لیاقت کراچی نے شائع کیا۔
- ٭...... حضرت مولانا سعید الرحمن انوریؒ ۔ شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ کے خلیفہ مجاز
اور مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ کے شاگرد رشید حضرت مولانا محمد انوریؒ کے صاحبزادہ حضرت
مولانا سعید الرحمن انوری جامع مسجد انوری سنت پورہ فیصل آباد کے خطیب تھے۔ بہت ہی مرنجاں مرنج طبیعت پائی تھی۔ آپ نے مختلف عنوانات پر گرانقدر خدمات سرانجام دیں۔ آپ کا ایک رسالہ اس جلد میں شریک اشاعت ہے۔ اس کا نام ہے:
- ٥...... انا خاتم النبیین لا نبی بعدی: غالباً یہ ١٩٧٤ء کی تحریک ختم
نبوت کے موقعہ پر آپ نے شائع کر کے عام تقسیم کیا۔
چاٹگام بنگلہ دیش میں ”ہدایۃ الاسلام“ کے نام پر ایک انجمن قائم کی۔ اس کے تحت میں ایک رسالہ شائع ہوا۔
- حضرت مولانا محمد اسحق صاحب کا مرتب کردہ تھا۔ اس کا نام ہے:
- ٦...... مرزا غلام احمد اور نبوت:
یہ بھی اس جلد میں شامل ہے۔
- حضرت مولانا عتیق الرحمن چنیوٹی..... مولانا عتیق الرحمن صاحب بہت
فاضل شخص تھے۔ عرصہ تک قادیانی رہے۔ اللہ رب العزت نے اسلام و ایمان سے بہرہ ور فرمایا۔ قادیانیت پر لعنت بھیج کر مسلمان ہو گئے۔ فاروق، چشتی، تائب کے نام سے جانے پہچانے گئے۔ تقسیم کے بعد چنیوٹ میں مقیم ہوئے تو عتیق الرحمن چنیوٹی کہلائے۔ آپ کے تین رسائل ہمیں میسر آئے جن کے نام یہ ہیں:
- ٧...... قادیانی فتنہ:
- ٨...... قادیانی نبوت (پیغام محمدیت بجواب پیغام احمدیت): مرزا محمود قادیانی
ملعون نے پیغام احمدیت نامی رسالہ لکھا۔ اس کے جواب میں پیغام محمدیت شائع کیا گیا۔ جو بعد میں قادیانی نبوت کے نام پر شائع ہوا۔ جنوری ١٩٤٨ء کے ایڈیشن کو ہم نے اس جلد میں شامل کیا ہے۔
- ٩...... قادیانی امت کا دجل: مولانا عتیق الرحمن چنیوٹی کا اپریل ١٩٥٢ء کا شائع
کردہ رسالہ ہے۔
- حضرت مولانا غلام جہانیاں مرحوم ڈیرہ غازیخان کے رہائشی تھے۔ حضرت
خواجہ غلام فرید صاحب کوٹ مٹھن والوں کے حلقہ ارادت میں شامل تھے۔ قادیانیوں نے مقدمہ بہاولپور میں موقف اختیار کیا کہ حضرت خواجہ غلام فرید، مرزا قادیانی کو عبد صالح فرماتے تھے۔ اس پر کوٹ مٹھن کے سجادہ نشین کے حکم و ارشاد پر قادیانی دجل کو پارہ پارہ کرنے کے لئے حضرت مولانا غلام جہانیاں نے ایک رسالہ ترتیب دیا۔ اس کا نام ہے:
- ١٠...... ارشاد فریدالزمان، متعلق مرزا قادیان:
یہ بھی اس جلد میں شامل ہے۔
حضرت مولانا احسان الٰہی ظہیرؒ۔ اہل حدیث مکتب فکر کے نامور عالم دین اور خطیب بے بدل مولانا علامہ احسان الٰہی ظہیر نے ”مرزائیت اور اسلام“ نامی یہ کتاب تحریر فرمائی۔ اصلاً یہ عربی میں تھی۔ اس کا نام ”القادیانیۃ“ تھا۔ اردو میں اس کا نام:
- ١١...... مرزائیت اور اسلام رکھا گیا۔ جنوری ١٩٩٣ء میں یہ شائع ہوئی۔ پہلے یہ قسط
وار الاعتصام میں شائع ہوتی رہی۔ پھر اسے کتابی شکل میں شائع کیا گیا۔ اس جلد میں یہ بھی شامل ہے۔
حضرت مولانا محمد ابراہیم کیر پوریؒ (ف١٩٩٠ء) نامور عالم دین تھے۔ رد قادیانیت پر آپ کو عبور حاصل تھا۔ آپ نے رد قادیانیت پر دو رسالے تحریر فرمائے۔ جو مندرجہ ذیل تھے:
- ١٢...... فسانۂ قادیان:
- ١٣...... مرزائے قادیان کے دس جھوٹ مع جواب الجواب:
یہ تیرہ عدد رسائل اس جلد میں شامل ہیں۔
- ١...... مولانا محمد عبدالقادر آزادؒ کے ٣ رسائل
- ٢...... مولانا حافظ محمد ایوب دہلویؒ کا ١ رسالہ
- ٣...... مولانا سعید الرحمن انوریؒ کا ١ رسالہ
- ٤...... مولانا محمد اسحق چانگویؒ کا ١ رسالہ
- ٥...... مولانا عتیق الرحمن چنیوٹیؒ کے ٣ رسائل
- ٦...... مولانا غلام جہانیاں کا ١ رسالہ
- ٧...... مولانا علامہ احسان الٰہی ظہیرؒ کا ١ رسالہ
- ٨...... مولانا محمد ابراہیم کیر پوریؒ کے ٢ رسائل
ٹوٹل ١٣ رسائل
اس جلد میں شامل ہیں۔ اللہ رب العزت ہم سب کو اپنی رضا نصیب فرمائیں۔ آمین بحرمۃ النبی الکریم!
محتاج دعاء: فقیر اللہ وسایا! ١٢؍ محرم الحرام ١٤٣٢ھ بمطابق ١٩؍ دسمبر ٢٠١٠ء
خَاتَمَ النَّبِيِّينَ لَا نَبِيَّ بَعْدِي
سیدنا محمد رسول اللہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں
مرزائیت غیر مسلم اقلیت
اپنی تحریروں کے آئینہ میں
حضرت مولانا محمد عبدالقادر آزادؒ
بسم الله الرحمن الرحيم!
انگریز کو قادیانی نبی بنانے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
برطانوی استعمار نے ہندوستان میں قدم جماتے ہی جس قسم سے شدید خطرہ محسوس کیا وہ مسلمان قوم تھی۔ چنانچہ برطانیہ کے اکثر ذمہ دار افراد نے مختلف اوقات میں اس بات کا اظہار کیا کہ جب تک اس دنیا میں قرآن مجید جیسی کتاب موجود ہے۔ اس وقت تک ہم پوری دنیا کو اپنی حکومت میں داخل کرنے کے قابل نہیں ہو سکتے۔ اس لئے کہ اس کتاب میں جہاد کا مسئلہ موجود ہے۔ جو ہمیں دنیا میں اپنی من مانی کارروائی نہیں کرنے دے گا۔ اس حقیقت کے پیش نظر برطانوی استعمار نے بیشمار قرآن مجید خرید کر جلوائے۔ ان گنت علماء کو شہید کیا۔ لڑاؤ اور حکومت کرو، کے تحت مسلمانوں میں فرقہ وارانہ فضاء پیدا کی۔ عیسائی مشنریز کے ذریعہ مناظروں کا اہتمام کرا کے اسلام کی عظمت کو پارہ پارہ کرنے کی ناکام و ناپاک کوشش کی۔ روپیہ کا لالچ اور مسلمان قوم کو دھونس و دھاندلی اور قتل و غارت سے دہشت زدہ کرنے کی کوشش کی۔ نظام تعلیم کو اسلام دشمنی کا لبادہ اڑھا کر معصوم بچوں کو اسلام سے دور کرنے کی سازش کی۔ غیرت کے پتلے اور اسلام کے شیدائی حکام کو چن چن کر شہید کروا دیا۔ لیکن ان تمام مظالم کے تجزیاتی سروے نے برطانوی استعمار پر یہ ثابت کر دیا کہ اس کی یہ تمام کوششیں عبث و بیکار ثابت ہوئیں اور قرآن مجید اپنی معجز نما تعلیم مسئلہ جہاد کے بدولت مسلم قوم کے تشخص کو جوں کا توں قائم رکھے ہوئے ہے تو اس نے ہندوستان میں ایک ایسے شخص کی تلاش شروع کر دی جو اسلام کی بنیادی تعلیمات کو مسخ کر کے مسلمانوں میں سے جذبہ جہاد کو ختم کر کے اسے ابدی وازلی طور پر انگریز کا غلام بنا دے۔ چنانچہ انگریز اپنی اس جستجو میں کامیاب و کامران ہوا اور اس نے ضلع گورداسپور کے قصبہ قادیان کے مرزا غلام احمد ابن غلام مرتضیٰ کو اس خدمت کا اہل سمجھ کر انہیں ہندوستان میں اپنا ایجنٹ مقرر کر دیا۔ یہاں پر یہ بات قابل ذکر ہے۔ مرزا قادیانی کے والد نے بقول مرزا قادیانی ”١٨٥٧ء میں پچاس گھوڑوں اور سواروں سے ہندوستانی حریت پسندوں کے خلاف انگریز بہادر کی امداد فرمائی تھی۔“
(ملخص تریاق القلوب ص ٣٦٠، خزائن ج ١٥ ص ٤٨٨)
ان دنوں مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ: مجھے صرف اپنے دستر خوان اور روٹی کی ضرورت تھی۔
(نزول المسیح ص ١١٨، خزائن ج ١٨ ص ٤٩٦)
٢
مرزا قادیانی نے جس انداز میں حکومت برطانیہ کی خدمت انجام دی وہ کچھ انہی کا خاصہ و حصہ تھا۔ چنانچہ مرزا قادیانی سرکار برطانیہ کے متعلق اپنی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر پنجاب کو ایک خط میں یوں تحریر کرتے ہیں کہ:
- ١....... ”سرکار دولت مدار ایسے خاندان کی نسبت جس کو پچاس برس کے متواتر
تجربہ سے ایک وفادار اور جانثار ثابت کر چکی ہے...... اس خودکاشتہ پودا کی نسبت نہایت حزم اور احتیاط اور تحقیق اور توجہ سے کام لے اور اپنے ماتحت حکام کو ارشاد فرمائے کہ وہ بھی اس خاندان کی ثابت شدہ وفاداریوں اور اخلاص کا لحاظ رکھ کر مجھے اور میری جماعت کو ایک خاص عنایت اور مہربانی کی نظر سے دیکھیں۔“
(تبلیغ رسالت ج ٧ ص ١٩، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢١)
- ٢....... ”اب اس تمام تقریر سے جس کے ساتھ میں نے اپنی سترہ سالہ مسلسل
تحریروں سے ثبوت پیش کئے ہیں۔ صاف ظاہر ہے کہ میں سرکار انگریزی کا تہ دل و جان خیر خواہ ہوں اور میں ایک شخص امن دوست ہوں اور اطاعت گورنمنٹ اور ہمدردی بندگان خدا کی میرا اصول ہے اور یہ وہی اصول ہے جو میرے مریدوں کی شرائط بیعت میں داخل ہے۔ چنانچہ شرائط بیعت جو ہمیشہ مریدوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ اس کی دفعہ چہارم میں اس کی تشریح ہے۔“
(ضمیمہ کتاب البریہ ص ١٠، خزائن ج ١٣ ص ١٠)
- ٣....... ”میری عمر کا اکثر حصہ اس سلطنت انگریز کی حمایت میں گزرا ہے اور میں
نے ممانعت جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارہ میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں اور اشتہارات شائع کئے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں۔ میں نے ایسی کتابوں کو تمام ممالک عرب میں اور مصر شام اور کابل اور روم تک پہنچایا ہے۔ میری ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ مسلمان اس سلطنت کے سچے خیرخواہ ہو جائیں اور مہدی خونی اور مسیح خونی کی بے اصلی روایات اور جہاد کے جوش دلانے والے مسائل جو احمقوں کے دلوں کو خراب کرتے ہیں ان کے دلوں سے معدوم ہو جائیں۔“
(تریاق القلوب ص ٢٧، ٢٨، خزائن ج ١٥ ص ١٥٥، ١٥٦)
- ٤....... ”میں یقین رکھتا ہوں کہ جیسے جیسے میرے مرید بڑھیں گے ویسے ویسے
مسئلہ جہاد کے معتقد کم ہوتے جائیں گے۔ کیونکہ مجھے مسیح اور مہدی مان لینا ہی مسئلہ جہاد کا انکار کرنا ہے۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ١٩)
٣
- ......٥
دین کے لئے حرام ہے اب جنگ اور قتال
اب آ گیا مسیح جو دین کا امام ہے
دین کے لئے تمام جنگوں کا اب اختتام ہے
اب آسمان سے نور خدا کا نزول ہے
اب جنگ اور جہاد کا فتویٰ فضول ہے
دشمن ہے وہ خدا کا جو کرتا ہے اب جہاد
منکر نبی کا ہے جو یہ رکھتا ہے اعتقاد
(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٤١، خزائن ج ١٧ ص ٧٧)
ان حوالوں کے علاوہ بے شمار مقامات پر مرزا قادیانی نے جہاد کی حرمت اور انگریز کی اطاعت کی تلقین کی ہے۔ جسے طوالت کے پیش نظر تحریر نہیں کیا گیا۔
- ......٦ انگریزوں کی اطاعت و فرمانبرداری کی ایک اور وجہ مرزا بشیر الدین کی زبانی
”جب تک جماعت احمدیہ نظام حکومت سنبھالنے کے قابل نہیں ہوتی۔ اس وقت تک ضرورت ہے۔ اس دیوار (انگریزوں کی حکومت) کو قائم رکھا جائے تاکہ یہ نظام کسی ایسی طاقت کے قبضہ میں نہ چلا جائے جو احمدیت کے مفادات کے لئے زیادہ مضر اور نقصان رساں ہو۔ جب جماعت میں یہ قابلیت پیدا ہو جائے گی اس وقت نظام اس کے ہاتھ میں آ جائے گا۔ یہ وجہ ہے انگریزوں کی حکومت کے لئے دعاء کرنے اور ان کو فتح حاصل کرنے میں مدد دینے کی ۔“
(الفضل قادیان مورخہ ٣؍جنوری ١٩٢٥ء، نمبر ٣، ج ١٣ ص ١٢٢)
اس حوالہ کو پاکستانی قارئین ذرا غور سے ملاحظہ فرمائیں کہ مرزائیوں کی ہوس ملک گیری برطانوی استعمار کی خواہش کا دوسرا نام ہے۔ تاکہ قادیانیوں کے ذریعہ برطانوی استعمار ہمیشہ ہندوستان پر بالواسطہ قابض رہے۔ موجودہ دور میں قادیانیوں کا یہودیوں کے ساتھ گٹھ جوڑ عالم اسلام کے خلاف ایک عظیم سازش ہے۔ جس کا بین ثبوت قادیانیوں کا اسرائیل میں حیفہ کا مرکز ہے۔ جہاں اس کے صدر اسرائیل سے مسلمانوں کے خلاف مذاکرات ہوتے ہیں۔
٤
قادیانیت کی پاکستان دشمنی ...... پاکستان بننے سے قبل قادیانی رجحانات
مرزا بشیر الدین محمود قادیانی نے ١٣؍ اپریل ١٩٤٧ء کو چوہدری ظفر اللہ کے بھتیجے کے نکاح کے موقع پر اپنا ایک خواب بیان کیا اور اس کی تعبیر اور اس سلسلہ میں اپنے والد مرزا غلام احمد قادیانی کی پیشین گوئی کا ذکر کرتے ہوئے چوہدری ظفر اللہ کی موجودگی میں کہا۔
- ......١ "حضور نے فرمایا جہاں تک میں نے ان پیشین گوئیوں پر نظر دوڑائی ہے
جو مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے متعلق ہیں اور جہاں تک اللہ تعالیٰ کے اس فعل پر جو مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) کے بعثت سے وابستہ پر غور کیا ہے۔ میں اس نتیجہ پر پہنچا کہ ہندوستان میں ہمیں دوسری اقوام کے ساتھ مل جل کر رہنا چاہئے اور ہندوؤں اور عیسائیوں کے ساتھ مشارکت رکھنی چاہئے۔
حقیقت یہی ہے کہ ہندوستان جیسی مضبوط بیس جس قوم کو مل جائے اس کی کامیابی میں کوئی شک نہیں رہتا۔ اللہ تعالیٰ کی اس مشیت سے کہ اس نے احمدیت کو اتنی وسیع بیس مہیا کی ہے۔ پتہ لگتا ہے کہ وہ سارے ہندوستان کو ایک سٹیج پر جمع کرنا چاہتا ہے اور سب کے گلے میں احمدیت کا جوا ڈالنا چاہتا ہے۔ اس لئے ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ ہندو مسلم سوال اٹھ جائے اور ساری قومیں شیر و شکر ہو کر رہیں۔ تا کہ ملک کے حصے بخرے نہ ہوں۔ بے شک یہ کام بہت مشکل ہے۔ مگر اس کے نتائج بہت شاندار ہیں اور اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ ساری قومیں متحد ہوں تا کہ احمدیت اس وسیع بیس پر ترقی کرے۔ چنانچہ اس رؤیا میں اس طرف اشارہ ہے۔ ممکن ہے کہ عارضی طور پر کچھ افتراق ہو اور کچھ وقت کے لئے دونوں قومیں جدا جدا رہیں۔ مگر یہ حالت عارضی ہوگی اور ہمیں کوشش کرنا چاہئے کہ جلد دور ہو جائے۔ بہر حال ہم چاہتے ہیں کہ اکھنڈ ہندوستان بنے اور ساری قومیں باہم شیر و شکر ہو کر رہیں۔"
(بیان مرزا محمود، الفضل ج ٣٥ نمبر ٨١ ص ٢، ٣، مورخہ ٥؍ اپریل ١٩٤٧ء)
- ......٢ "قبل ازیں میں بتا چکا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت ہندوستان کو اکٹھا کرنا
چاہتی ہے۔ لیکن قوموں کی منافرت کی وجہ سے عارضی طور پر الگ بھی کرنا پڑے۔ یہ اور بات ہے، ہم ہندوستان کی تقسیم پر رضامند ہوئے تو خوشی سے نہیں بلکہ مجبوری سے اور پھر یہ کوشش کریں گے کہ کسی نہ کسی طرح جلد متحد ہو جائیں۔"
(بیان مرزا محمود قادیانی مورخہ ١٣؍ مئی ١٩٤٧ء)
قادیانیوں کا پاکستان پر قبضہ کر کے، ہندوستان میں شامل کرنے کا ارادہ
- ......١ ربوہ میں مدفون مرزا غلام احمد قادیانی کی بیوی کی قبر پر جو لوح نصب کی گئی
ہے۔ اس پر تحریر ہے کہ: "اس کو امانتاً یہاں دفن کیا جاتا ہے۔ جب کبھی موقع ملا اسے قادیان پہنچا دیا
٥
جائے گا۔“ یہ انداز فکر اسی اکھنڈ بھارت کے بنانے کی نشاندہی کرتا ہے۔ جس کی آرزو لئے ہوئے مرزا بشیر الدین قبر میں جا گھسے۔ پاکستان پر قبضہ جمانے کی سعی ملاحظہ فرمائیے۔
- ٢....... ”بلوچستان کی کل آبادی پانچ یا چھ لاکھ ہے۔ زیادہ آبادی کو احمدی بنانا
مشکل ہے۔ لیکن تھوڑے آدمیوں کو تو احمدی بنانا کوئی مشکل نہیں۔ پس جماعت اس طرف اگر پوری توجہ دے تو اس صوبے کو بہت جلد احمدی بنایا جا سکتا ہے۔ اگر ہم سارے صوبے کو احمدی بنا لیں تو کم از کم ایک صوبہ تو ایسا ہو جائے گا۔ جس کو ہم اپنا صوبہ کہہ سکیں گے۔ پس اس جماعت کو اس بات کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ آپ لوگوں کے لئے یہ عمدہ موقع ہے۔ اس سے فائدہ اٹھائیں اور اسے ضائع نہ ہونے دیں۔ پس تبلیغ کے ذریعے بلوچستان کو اپنا صوبہ بنا لو کہ تاریخ میں آپ کا نام رہے۔“
(مرزا محمود احمد کا بیان الفضل نمبر ٨٤، ص ٢ ج ٢، مورخہ ١٣ اگست ١٩٤٨ء)
- ٣....... ”جب تک سارے محکموں میں ہمارے آدمی موجود نہ ہوں۔ ان سے
جماعت پوری طرح کام نہیں لے سکتی۔ مثلاً موٹے موٹے محکموں میں فوج ہے، پولیس ہے، ایڈمنسٹریشن ہے، ریلوے ہے، فنانس ہے، اکاؤنٹس ہے، کسٹمز ہے، انجینئرنگ ہے۔ یہ آٹھ دس موٹے موٹے صیغے ہیں جن کے ذریعے سے جماعت اپنے حقوق محفوظ کرا سکتی ہے۔ ہماری جماعت کے نوجوان فوج میں بے تحاشا جاتے ہیں۔ اس کے نتیجہ میں ہماری نسبت فوج میں دوسرے محکموں کی نسبت سے بہت زیادہ ہے اور ہم اس سے اپنے حقوق کی حفاظت کا فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔ باقی محکمے خالی پڑے ہیں۔ بیشک آپ لوگ اپنے لڑکوں کو نوکری کرائیں۔ لیکن نوکری اس طرح کیوں نہ کرائی جائے۔ جس سے جماعت فائدہ اٹھا سکے۔ پیسے بھی اس طرح کمائے جائیں کہ ہر صیغے میں ہمارے آدمی موجود ہوں اور ہر جگہ ہماری آواز پہنچ سکے۔“
(خطبہ مرزا محمود احمد الفضل مورخہ ١١ جنوری ١٩٥٢ء)
اس خطبے کے بعد قادیانیوں نے منظم طریقے سے پاکستان کی عدلیہ، انتظامیہ اور افواج پر قبضہ کرنے کا پروگرام بنایا۔ اس کے علاوہ فوجی انداز میں خدام احمدیہ اور دوسرے محکمے مثلاً نظارت امور داخلہ، نظارت امور خارجہ بنا کر ریاست اندر ریاست کی تشکیل کی۔
پچھلے دنوں ائیر فورس سے ظفر چوہدری کے اخراج کے بعد سے قادیانی پورے ملک کے مسلمانوں کو اشتعال دلا کر ملک میں جبر و تشدد کے واقعات پیدا کر کے فوجی انقلاب لانے کے لئے راہیں ہموار کر رہے ہیں۔
٦
٢٩ مئی ١٩٧٤ء کا سانحہ ربوہ اس جنگی تیاری کا پیش خیمہ تھا۔ جو پچھلے چھبیس سال میں قادیانیوں نے کی، نیز منتخب حکومت کو ختم کر کے مارشل لاء نافذ کرانے کی سکیم بھی اس پروگرام میں شامل ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ ظفر اللہ کی لندن کی جھوٹی پریس کانفرنس، بیرونی ملکوں میں قادیانیوں کے جھوٹے پاکستان دشمن اشتہارات، مرزا ناصر احمد خلیفہ ربوہ کا موجودہ حکومت کے خلاف جھوٹا بیان اور ظفر اللہ و ناصر کی ملک میں بیرونی مداخلت کے لئے واویلا، ہندوستان اور ماسکو ریڈیو سے مرزائی حمایت میں مسلسل پاکستان دشمن غلط پروپیگنڈہ یہ سب پاکستان دشمنی اور اکھنڈ بھارت بنانے کی تیاریاں ہیں۔ خدا تعالیٰ پاکستان قوم کو اس فرقہ کی حقیقت سمجھنے کی توفیق عطاء فرمائے۔
اب ذرا مرزا قادیانی کے دعاوی پر بھی ایک نظر ڈالئے۔
مرزا قادیانی کے خدائی دعوے
- .......١ "میں نے خواب میں دیکھا کہ میں خدا ہوں۔ میں نے یقین کر لیا کہ میں
وہی ہوں۔"
(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٦٤، خزائن ج ٥ ص ٥٦٤)
- .......٣ "انت منی بمنزلة اولادی" اے مرزا تو مجھ سے میری اولاد جیسا
ہے۔
(اربعین نمبر ٣ حاشیہ ص ١٩، خزائن ج ١٧ ص ٤٥٢)
- .......٤ خدا نکلنے کو ہے۔ "انت منی بمنزلة بروزی" تو مجھ سے ایسا ہے جیسا
کہ میں ظاہر ہو گیا۔
(سر ورق ریویو ج ٥، ٣)
- .......٥ "اعطیت صفة الافناء والاحياء من رب الفعال" مجھے خدا کی
طرف سے مارنے اور زندہ کرنے کی صفت دی گئی ہے۔
(خطبہ الہامیہ ص ٢٣، خزائن ج ١٦ ص ٥٦، ٥٥)
- .......٦ "انت منی بمنزلة توحیدی وتفریدی" تو مجھ سے میری توحید
کی مانند ہے۔
(تذکرۃ الشہادتین ص ٣، خزائن ج ٢٠ ص ٥)
- .......٧ "انما امرك اذا اردت شيئا ان تقول له كن فيكون" یعنی
اے مرزا تیری یہ شان ہے کہ تو جس کو کن کہہ دے وہ فوراً ہو جاتی ہے۔
(حقیقت الوحی ص ١٠٥، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٨)
- .......٨ مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ خدا نے مجھے الہام کیا کہ: "تیرے گھر ایک لڑکا
پیدا ہوگا۔...... "كان الله نزل من السماء" گویا خدا آسمانوں سے اتر آیا۔"
(اشتہار مورخہ ٢٠ فروری ١٨٨٦ء، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٠١)
٧
مرزا قادیانی کے دعاوی نبوت
- ......١ ”سچا خدا وہی ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔“
(دافع البلاء ص ١١، خزائن ج ١٨ ص ٢٣١)
- ......٢ ”ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم نبی اور رسول ہیں۔“
(اخبار بدر مورخہ ٥؍مارچ ١٩٠٨ء، ملفوظات ج ١٠ ص ١٢٧)
- ......٣
در برم جامہ ہمہ ابرار
آنچہ داد است ہر نبی را جام
داد آں جام رامرا بتمام
(نزول مسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)
- ......٤
منم محمد احمد کہ مجتبےٰ باشد
(تریاق القلوب ص ٣، خزائن ج ١٥ ص ١٣٢)
- ......٥ ”پس اس (خدا تعالیٰ) نے مجھے پیدا کر کے ہر ایک گذشتہ نبی سے مجھے
تشبیہ دی کہ میرا نام وہی رکھ دیا۔ چنانچہ آدم، ابراہیم، نوح، موسیٰ، داؤد، سلیمان، یوسف، یحییٰ، عیسیٰ علیہم السلام وغیرہ یہ تمام نام براہین احمدیہ میں میرے رکھے گئے۔ اس صورت میں گویا تمام انبیاء اس امت میں دوبارہ پیدا ہو گئے۔“
(نزول مسیح حاشیہ ص ٤، خزائن ج ١٨ ص ٣٨٢)
- ......٦ ”خدا کے نزدیک اس (مرزا قادیانی) کا ظہور مصطفےٰ کا ظہور مانا گیا۔“
(خطبہ الہامیہ ص ٢٠٠، خزائن ج ١٦ ص ٢٩٧)
- ......٧ ”جو شخص مجھ میں اور نبی مصطفےٰ ﷺ میں فرق کرتا ہے۔ اس نے مجھے نہیں
جانا اور نہیں پہچانا۔“
(خطبہ الہامیہ ص ١٧١، خزائن ج ١٦ ص ٢٥٩)
مرزا قادیانی کا حضور ﷺ اور دیگر انبیاء علیہم السلام پر برتری کا دعویٰ
- ......١ ”اس (نبی ﷺ) کے لئے چاند کے خسوف کا نشان ظاہر ہوا اور میرے
لئے چاند اور سورج دونوں کا۔ اب کیا تو انکار کرے گا۔“
(اعجاز احمدی ص ٧١، خزائن ج ١٩ ص ١٨٣)
٨
- ٢...... ”غلبہ کاملہ (دین اسلام) کا آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں ظہور میں نہیں
آیا...... یہ غلبہ مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے وقت ظہور میں آئے گا۔“
(چشمہ معرفت ص ٨٣، خزائن ج ٢٣ ص ٩١)
- ٣...... ”آنحضرت کے تین ہزار معجزات ہیں۔“
(تحفہ گولڑویہ ص ٤٠، خزائن ج ١٧ ص ١٥٣)
”مگر مرزا قادیانی کے دس لاکھ نشان۔“
(تذکرۃ الشہادتین ص ٤١، خزائن ج ٢٠ ص ٤٣)
”معجزہ اور نشان ایک ہی چیز کے دو نام ہیں۔“
(براہین ج ٥ ص ٥٠، خزائن ج ٢١ ص ٦٣)
- ٤...... ”آنحضرت ﷺ کے وقت دین کی حالت پہلی شب کے چاند کی طرح
تھی۔ مگر مرزا قادیانی کے وقت چودھویں رات کے بدر کامل جیسی ہوگئی۔“
(خطبہ الہامیہ ص ١٩٨، خزائن ج ١٦ ص ٢٩٤)
- ٥...... ”صدہا نبیوں کی نسبت ہمارے معجزات اور پیش گوئیاں سبقت لے
گئیں۔“
(ریویو ج ١ ص ٣٩٣، نمبر ١٠)
- ٦...... ”خدا نے اس بات کے ثابت کرنے کے لئے کہ میں اس کی طرف سے
ہوں اس قدر نشان دکھلائے ہیں کہ اگر وہ ہزار نبی پر تقسیم کئے جائیں تو ان سے ان کی نبوت ثابت ہو سکتی ہے۔“
(چشمہ معرفت ص ٣١٧، خزائن ج ٢٣ ص ٣٣٢)
- ٧...... مرزا قادیانی کے ایک مرید قاضی اکمل نے ایک قصیدہ پیش کیا۔ جس کے
جواب میں مرزا قادیانی نے فرمایا کہ: ”جزاکم اللہ تعالیٰ یہ کہہ کر اس خوشخط قطعے کو اپنے ساتھ اندر لے گئے۔“
(الفضل مورخہ ٢٢ اگست ١٩٤٤ء)
اس قصیدے کے دو شعر یہ ہیں۔
اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شان میں
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل
غلام احمد کو دیکھے قادیان میں
(اخبار بدر قادیان نمبر ٤٣ ج ٢ ص ١٤، مورخہ ٢٥ اکتوبر ١٩٠٦ء)
٩
مرزا قادیانی کا دعویٰ مجددیت و مسیحیت
- .......١ "وہ مسیح موعود جو آخری زمانہ کا مجدد ہے۔"
(حقیقت الوحی ص ١٩٢، خزائن ج ٢٢ ص ٢٠١)
- .......٢ "اے عزیزو! اس شخص (مرزا قادیانی) مسیح
موعود کو تم نے دیکھ لیا۔ جس کے دیکھنے کے لئے بہت سے پیغمبروں نے خواہش کی۔"
(اربعین نمبر ٣ ص ١٣، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٢)
- .......٣ "خدا نے اور اس کے رسول نے اور تمام نبیوں نے آخری زمانہ کے مسیح
(مرزا قادیانی) کو اس کے کارناموں کی وجہ سے (مسیح ابن مریم سے) افضل قرار دیا ہے۔ یہ شیطانی وسوسہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ کیوں تم مسیح ابن مریم سے اپنے تئیں افضل قرار دیتے ہو۔"
(حقیقت الوحی ص ١١٥، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٩)
- .......٤
اس سے بہتر غلام احمد ہے
(تتمہ حقیقت الوحی ص ٢٩، خزائن ج ٢٢ ص ٤٨٣)
- .......٥
عیسیٰ کجاست تا بنہد پا بمنبرم
(ازالہ اوہام ص ١٥٨، خزائن ج ٣ ص ١٨٠)
مرزا قادیانی کا مقدس ہستیوں کی توہین کرنا
مرزا قادیانی کی چند کفریہ عبارتیں نقل کفر کفر نہ باشد کے طور پر نقل کی جاتی ہیں۔ ملاحظہ فرمائیں کہ یہ شخص کتنا دریدہ دہن اور بے ادب تھا۔
- .......١ آنحضرت ﷺ کی توہین: "آنحضرت ﷺ عیسائیوں کے ہاتھ کا پنیر
کھا لیتے تھے۔ حالانکہ مشہور تھا کہ اس میں سور کی چربی پڑتی ہے۔"
(اخبار الفضل قادیان ج ١١ نمبر ٦٦ ص ٩، مورخہ ٢٢ فروری ١٩٢٤ء)
- .......٢ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین: "آپ کا (حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا)
خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے۔ تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں۔
١٠
جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔"
(انجام آتھم ص ٧، خزائن ج ١١ ص ٢٩١)
- ......٣ "مسیح (علیہ السلام) کا چال چلن کیا تھا۔ ایک کھاؤ پیو نہ زاہد نہ عابد نہ حق کا
پرستار، متکبر، خود بین، خدائی کا دعویٰ کرنے والا۔"
(مکتوبات احمدیہ ص ٢٣،٢٤)
- ......٤ "یورپ کے لوگوں کو جس قدر شراب نے نقصان پہنچایا ہے۔ اس کا سبب
تو یہ تھا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) شراب پیا کرتے تھے۔ شاید کسی بیماری یا پرانی عادت کی وجہ سے۔"
(کشتی نوح ص ٦٦، خزائن ج ١٩ ص ٧١)
- ......٥ "یسوع اس لئے اپنے تئیں نیک نہیں کہہ سکتا کہ لوگ جانتے تھے کہ یہ شخص
شرابی کبابی ہے اور خراب چلن نہ خدائی کے بعد بلکہ ابتداء ہی سے ایسا معلوم ہوتا ہے۔ چنانچہ خدائی کا دعویٰ شراب خوری کا بد نتیجہ ہے۔"
(ست بچن حاشیہ ص ١٧٢، خزائن ج ١٠ ص ٢٩٧)
معلوم یہ ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی نے بھی خدائی کا دعویٰ کسی نشے ہی کی بناء پر کیا تھا۔ چنانچہ خود اپنے متعلق یوں لکھتے ہیں:
- ......٦ "ایک دفعہ مجھے ایک دوست نے یہ صلاح دی کہ ذیابیطس کے لئے افیون
مفید ہوتی ہے۔ پس علاج کے لئے کوئی مضائقہ نہیں کہ افیون شروع کر دی جائے۔ میں نے جواب دیا کہ یہ آپ نے بڑی مہربانی کی کہ ہمدردی فرمائی۔ اگر میں ذیابیطس کے لئے افیون کھانے کی عادت کر لوں تو میں ڈرتا ہوں کہ لوگ ٹھٹھا کر کے یہ نہ کہیں کہ پہلا مسیح تو شرابی تھا اور دوسرا افیونی۔"
(نسیم دعوت ص ٦٩، خزائن ج ١٩ ص ٤٣٤، ٤٣٥)
- ......٤ حضرت ابوبکرؓ و حضرت عمرؓ کی توہین: "ابوبکر و عمر کیا تھے وہ حضرت
مرزا قادیانی کی جوتیوں کے تسمے کھولنے کے لائق بھی نہ تھے۔"
(الہدی نمبر ٢٨ ص ٥٧)
- ......٥ حضرت علیؓ کی توہین: "پرانی خلافت کا جھگڑا چھوڑو۔ اب نئی خلافت لو اور
ایک زندہ علی (مرزا قادیانی) تم میں موجود ہے۔ اس کو چھوڑتے ہو اور مردہ علی (حضرت علیؓ) کی تلاش کرتے ہو۔"
(ملفوظات احمدیہ ج ١ ص ١٣١)
- ......٦ حضرت فاطمہؓ کی توہین: "حضرت فاطمہ نے کشفی حالت میں اپنی ران پر
میرا سر رکھا اور مجھے دکھایا کہ میں اس میں سے ہوں۔"
(ایک غلطی کا ازالہ ص ٩، خزائن ج ١٨ ص ٢١٣)
- ......٧ حضرت حسینؓ کی توہین:
صد حسین است در گریبانم
١١
ترجمہ: میری سیر ہر وقت کربلا میں ہے۔ سو حسین میرے گریبان میں ہے۔
(نزول المسیح ص٩٩، خزائن ج١٨ص٤٧٧)
- .......٨ ”اے شیعہ قوم تم اس پر اصرار مت کرو کہ حسین تمہارا منجی ہے۔ کیونکہ میں
سچ سچ کہتا ہوں کہ آج تم میں ایک ہے کہ اس حسین سے بڑھ کر ہے۔“
(دافع البلاء ص١٣، خزائن ج١٨ص٢٣٣)
- .......٩ ”تم نے خدا کے جلال اور مجد کو بھلا دیا اور تمہارا ورد صرف حسین ہے۔ کیا تو
انکار کرتا ہے۔ پس یہ اسلام پر ایک مصیبت ہے۔ کستوری کی خوشبو کے پاس گوہ کا ڈھیر ہے۔“
(اعجاز احمدی ص٨٢، خزائن ج١٩ص١٩٤)
غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی وجوہات
قادیانی حضرات اکثر و بیشتر یہ دھوکا دیتے ہیں کہ وہ کلمہ پڑھتے ہیں، نماز پڑھتے ہیں تو پھر ان کو کافر کیوں کہا جاتا ہے اور کعبہ کی طرف منہ بھی کرتے ہیں۔ ان دعاوی کا تجزیہ مرزا قادیانی کی تحریروں کے آئینے میں کیجئے۔
- .......١ مرزا غلام احمد قادیانی لکھتے ہیں کہ: ”خدا نے آج سے بیس برس پہلے
براہین احمدیہ میں میرا نام محمد اور احمد رکھا ہے اور مجھے آنحضرتﷺ کا ہی وجود قرار دیا ہے۔“
(ایک غلطی کا ازالہ ص٨، خزائن ج١٨ص٢١٢)
کلمہ میں قادیانی محمد کا لفظ پڑھتے وقت خیال مرزا کا کرتے ہیں اور اب تو نائیجیریا میں ایک مسجد میں کھل کر انہوں نے ”لا الہ الا الله احمد رسول الله“ لکھ کر اپنے خبث باطن کا اظہار بھی کر دیا ہے۔
- .......٢ قادیانیوں کا مکہ و مدینہ قادیان ہے۔ ”حضرت مسیح موعود نے اس کے
متعلق بڑا زور دیا ہے اور فرمایا ہے کہ جو بار بار یہاں نہ آئے مجھے ان کے ایمان کا خطرہ ہے۔ پس جو قادیان سے تعلق نہیں رکھے گا کاٹا جائے گا۔ تم ڈرو کہ تم میں سے نہ کوئی کاٹا جائے۔ پھر یہ تازہ دودھ بھی کب تک رہے گا۔ آخر ماؤں کا دودھ بھی سوکھ جایا کرتا ہے۔ کیا مکہ اور مدینہ کی چھاتیوں سے یہ دودھ سوکھ گیا کہ نہیں؟“
(مرزا بشیر الدین محمود، حقیقت الرؤیا ص٤٦)
مسلمانوں کی توہین:
- .......١ ”میرے مخالف جنگلوں کے سور ہو گئے اور ان کی عورتیں کتیوں سے بڑھ
گئیں۔“
(نجم الہدیٰ ص٥٣، خزائن ج١٤ص٥٣)
١٢
- ٢...... ”جو ہماری فتح کا قائل نہیں ہوگا تو صاف سمجھا جائے گا کہ اس کو ولد الحرام
بننے کا شوق ہے۔“
(انوار الاسلام ص ٣١، خزائن ج ٩ ص ٣١)
مسلمانوں سے قطع تعلق تمہیں دوسرے فرقوں کو:
- ١...... ”جو دعویٰ اسلام کرتے ہیں، بکلی ترک کرنا پڑے گا۔“
(اربعین نمبر ٢ ص ٥٧، خزائن ج ١٧ ص ٤١٧)
- ٢...... ”غیر احمدیوں سے دینی امور میں الگ رہو۔“
(نہج المصلیٰ ص ٤٨٢)
- ٣...... ”تمام اہل اسلام دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔“
(آئینہ صداقت ص ٣٥)
- ٤...... ”مسلمانوں کی اقتداء میں نماز حرام و ناجائز ہے۔“
(تحفہ گولڑویہ ص ٢٧، انوار خلافت ص ٩٠)
- ٥...... ”مسلمانوں سے رشتہ و ناطہ حرام و ناجائز ہے۔“
(انوار خلافت ص ٩٤)
- ٦...... ”کسی مسلمان کا جنازہ نہ پڑھو۔“
(انوار خلافت ص ٩٢)
- ٧...... ”غیر احمدیوں کا جنازہ پڑھنا جائز نہیں۔ حتیٰ کہ غیر احمدیوں کے معصوم
بچوں کے جنازے بھی جائز نہیں۔“
(انوار خلافت ص ٩٣)
سر ظفر اللہ نے ان ہی تعلیمات کے پیش نظر حضرت قائد اعظم کا جنازہ نہیں پڑھا تھا۔ ان قادیانی تعلیمات کی روشنی میں ہر ذی فہم مسلمان سمجھ سکتا ہے کہ قادیانیوں کا عام مسلمانوں سے کوئی تعلق نہیں۔ شاعر مشرق علامہ اقبال نے پاکستان بننے سے کہیں پہلے انگریز حکومت کو خطاب کرتے ہوئے لکھا تھا کہ: ”ہمیں قادیانیوں کی حکمت عملی اور دنیائے اسلام سے متعلق ان کے رویہ کو فراموش نہیں کرنا چاہئے۔ جب قادیانی مذہبی اور معاشرتی معاملات میں علیحدگی کی پالیسی اختیار کرتے ہیں تو پھر سیاسی طور پر مسلمانوں میں شامل ہونے کے لئے کیوں مضطرب ہیں؟ ملت اسلامیہ کو اس مطالبے کا پورا پورا حق حاصل ہے کہ قادیانیوں کو علیحدہ کر دیا جائے۔ اگر حکومت نے یہ مطالبہ تسلیم نہ کیا تو مسلمانوں کو شک گزرے گا کہ حکومت اس نئے مذہب کی علیحدگی میں دیر کر رہی ہے۔ کیونکہ قادیانی ابھی اس قابل نہیں کہ چوتھی جماعت کی حیثیت سے مسلمانوں کی برائے نام اکثریت کو ضرب پہنچا سکیں۔“
علامہ اقبالؒ نے حکومت کے طرز عمل کو جھنجھوڑتے ہوئے مزید فرمایا: ”اگر حکومت کے لئے یہ گروہ مفید ہے تو وہ اس کی خدمات کا صلہ دینے کی پوری مجاز ہے۔ لیکن اس ملت کے لئے اسے نظر انداز کرنا مشکل ہے۔ جس کا اجتماعی وجود اس کے باعث خطرہ میں ہے۔“
١٣
مرزا قادیانی کی زندگی کے چند مضحکہ خیز پہلو
- ١...... "بابو الٰہی بخش چاہتا ہے کہ تیرا حیض دیکھے یا کسی پلیدی اور ناپاکی پر اطلاع
پائے...... تجھ میں حیض نہیں بلکہ وہ (حیض) بچہ ہو گیا۔ ایسا بچہ جو بمنزلہ اطفال اللہ کے ہے۔"
(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٤٣، خزائن ج ٢٢ ص ٥٨١)
- ٢...... "میرا نام ابن مریم رکھا گیا اور عیسیٰ کی روح مجھ میں نفخ کی گئی اور استعارہ
کے رنگ میں حاملہ ٹھہرایا گیا۔ آخر کئی مہینہ کے بعد جو (مدت حمل) دس مہینہ سے زیادہ نہیں مجھے مریم سے عیسیٰ بنایا گیا۔ پس اس طور سے میں ابن مریم ٹھہرا۔" (کشتی نوح ص ٤٧، خزائن ج ١٩ ص ٥٠)
- ٣...... مرزا قادیانی کا ایک مرید قاضی یار محمد اپنے ٹریکٹ نمبر ٣٤ موسومہ "اسلامی
قربانی" میں لکھتا ہے ۔ "حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے ایک موقع پر اپنی حالت یہ ظاہر فرمائی کہ کشف کی حالت آپ پر اس طرح طاری ہوئی گویا کہ آپ عورت ہیں اور اللہ تعالیٰ نے رجولیت کی طاقت کا اظہار فرمایا۔"
- ٤...... "آپ ہسٹریا اور مراق کے مریض تھے۔"
(سیرت المہدی حصہ دوم ص ٥٥، روایت نمبر ٣٦٩)
- ٥...... "کسی مرید نے بوٹ آپ کی نذر کئے۔ آپ کو دائیں بائیں بوٹ کا پتہ
نہیں چلتا تھا۔ دایاں پاؤں بائیں میں اور بایاں پاؤں دائیں بوٹ میں ڈال دیتے تو ایسی حرکت سے باز رکھنے کے لئے حضرت صاحب کو ایک جوتے پر کالا نشان لگانا پڑا ۔"
(سیرت المہدی ج ١ ص ٦٧، روایت ٨٣)
- ٦...... "آپ کو میٹھا کھانے کا بہت شوق تھا۔ تو گڑ کے ڈھیلے اور مٹی کے ڈھیلے
ایک ہی جیب میں رکھتے تھے۔ کیونکہ پیشاب آپ کو کثرت سے آتا۔ ڈھیلے استعمال کرنے کی نوبت آتی ۔" (مسیح موعود کے حالات زندگی ، مرتبہ معراج الدین ملحقہ براہین احمدیہ ج ١ ص ٦٧)
ختم نبوت کے متعلق امت محمدیہ کا متفق علیہ عقیدہ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں
امت محمدیہ کا عقیدہ یہ ہے کہ آنحضور ﷺ آخری نبی ہیں۔ وحی کا سلسلہ ختم ہو چکا ہے۔ قرآن کریم آخری کتاب ہے۔ دین اسلام کامل اور مکمل ہوچکا ہے۔ قرآنی آیت اور احادیث نبویہ علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام اس پر دال ہیں۔ خاتم کے معنی ہیں آخری کہ جس کے بعد کوئی نہ ہو۔
ائمہ لغت خاتَم اور خاتِم کے معنی میں متفق ہیں کہ اس کے معنی آخری کے ہیں۔ لہٰذا ملاحظہ ہو:
١٤
- ١...... (مفردات امام راغب ص ١٢٢) پر مرقوم ہے۔ ”خاتم النبیین لا نه ختم
النبوة اى تم بمجيئه“ یعنی حضور ﷺ کو خاتم النبیین اس لئے کہا جاتا ہے کہ آپ نے نبوت کو کمال واتمام تک پہنچایا۔ اس صورت میں کہ آپ نے نبوت کو مکمل کر دیا۔
- ٢...... (لسان العرب ج ١٥ ص ٥٥) ”خاتمهم وخاتمهم آخرهم“ خاتم
اور خاتم کے معنی ہیں آخری۔ اسی طرح تہذیب الازہری، تاج العروس، مجمع البحار اور قاموس کے مصنفین نے خاتم اور خاتم کے معنی لکھے ہیں۔
چنانچہ قرآن مجید میں جہاں ”خاتم النبیین“ فرمایا گیا ہے۔ اس کے معنی بھی یہی آخری کے ہیں۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔
- ١...... ”ماكان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله
وخاتم النبيين (الاحزاب: ٤٠)“ ﴿محمد ﷺ تم میں سے کسی مرد کے باپ نہیں۔ مگر وہ اللہ کے رسول اور نبیوں کے ختم کرنے والے ہیں۔﴾
- ٢...... ”الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت
لكم الاسلام دينا (المائده: ٣)“ ﴿آج کے دن میں نے تمہارے لئے دین کو کامل کر دیا ہے اور میں نے اپنی نعمت تم پر پوری کر دی ہے اور میں نے تمہارے لئے اسلام کو پسند کیا۔﴾
احادیث نبوی میں آتا ہے: ”قال رسول الله ﷺ لعلی انت منى بمنزلة هارون من موسى الا انه لا نبى بعدى (بخاری ج٢ ص٦٣٣، مسلم ج٢ ص٢٧٨)“ ﴿آنحضرت ﷺ نے حضرت علیؓ سے فرمایا کہ تم مجھ سے وہی نسبت رکھتے ہو جو ہارون علیہ السلام کو موسیٰ علیہ السلام سے تھی۔ مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو سکتا۔﴾
- ٢...... انسؓ فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا: ”ان الرسالة والنبوة
قد انقطعت فلا رسول بعدى ولا نبى بعدى“ ﴿رسالت اور نبوت کا سلسلہ ختم ہو چکا ہے۔ پس میرے بعد نہ کوئی رسول ہوگا اور نہ نبی۔﴾
(ترمذی ج ٢ ص ٥٣، مسند امام احمد)
- ٣...... حضرت ثوبانؓ سے مروی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”انه سیکون
فی امتی ثلاثون کذابون کلهم یزعم انه نبی وانا خاتم النبیین لا نبی بعدی (جامع ترمذی ج ٢ ص ٤٥)“ ﴿یقیناً میری امت میں تیس کذاب ظاہر ہوں گے۔ ہر ایک کا گمان ہو گا کہ وہ اللہ کا نبی ہے۔ حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔﴾
١٥
اجماع امت
امت اسلام کا سب سے پہلا اجماع مدعی نبوت مسیلمہ کذاب کے قتل پر ہوا۔ قرآن مجید کی آیات اور رسول اللہ ﷺ کے ارشادات اور صحابہ کرام کے عمل کی روشنی میں امت کا اس پر اجماع ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ پر سلسلۂ نبوت ہر لحاظ سے ختم ہو چکا ہے۔ وحی کا سلسلہ ختم ہو چکا ہے۔ آنحضرت ﷺ کے بعد مدعی نبوت جھوٹا ہے۔
چنانچہ علماء امت اسلام کے مندرجہ ذیل اقوال سے یہ بات اور واضح ہے۔
- ١...... ”نبوت کا دروازہ قیامت تک کسی کے لئے نہیں کھلے گا۔“
(تفسیر ابن جریر ج ٢٢ ص ١٢)
- ٢...... ”آپ انبیاء میں سب سے آخری نبی ہیں۔“
(انوار التنزیل ص ١٦٤)
- ٣...... ”ہمارے نبی ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ بالاجماع کفر ہے۔“
(شرح فقہ اکبر ص ٢١٢)
- ٤...... ”مدعی نبوت سے جو معجزہ طلب کرے وہ بھی کافر ہے۔“
(مناقب امام اعظم ابوحنیفہ)
اس کے علاوہ امام طحاوی (٣٢١ھ)، علامہ ابن حزم اندلسی (٤٥٦ھ)، امام غزالی (٥٠٥ھ)، محی السنہ بغوی (٥١٠ھ)، علامہ زمخشری (٥٣٨ھ)، قاضی عیاض (٥٤٤ھ)، علامہ شہرستانی (٥٤٨ھ)، امام رازی (٦٠٨ھ)، علامہ حافظ عماد الدین (٧١٠ھ)، علامہ علاؤ الدین بغدادی (٧٢٥ھ)، علامہ ابن کثیر (٧٧٤ھ)، جلال الدین سیوطی (٩١١ھ)، علامہ ابن نجیم (٩٧٠ھ)، علامہ شوکانی (١١٥٥ھ)، اور علامہ محمود آلوسی (١٢٧٥ھ) تک علماء کا اتفاق ہے کہ آنحضرت ﷺ آخری نبی ہیں۔
مرزا قادیانی چونکہ نبوت کے ساتھ ساتھ خدائی کا بھی دعویٰ کرتے ہیں۔ آئیے ذرا قرآن کی روشنی میں دیکھیں کہ کیا کوئی نبی خدائی کا دعویٰ کر سکتا ہے؟
”ماكان لبشر ان يوتيه الله الكتب والحكم والنبوة ثم يقول للناس كونوا عباداً لى من دون الله ولكن كونوا ربانين بما كنتم تعلمون الكتب وبما كنتم تدرسون (آل عمران:٧٩)“ ﴿کسی بشر کا یہ کام نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کو کتاب دے اور صحیح علم و فہم عطاء فرمائے اور نبوت عطاء کرے۔ پھر وہ لوگوں سے کہے کہ تم خدا کو چھوڑ کر
میرے بندے بن جاؤ۔ بلکہ وہ تو یہی کہے گا کہ تم لوگ چونکہ کتاب الٰہی کی تعلیم دیتے ہو اور خود بھی پڑھتے ہو۔ اس لئے تم اللہ والے یعنی خدا پرست بن جاؤ۔ ﴾
قرآن مجید کی اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ کسی نبی نے خدائی کا دعویٰ نہیں کیا۔ اس آیت کی روشنی میں مرزا قادیانی صاف طور پر جھوٹے ثابت ہوتے ہیں کہ انہوں نے نبوت کے بعد خدائی کا جھوٹا دعویٰ کیا اور ان متضاد دعاویٰ میں وہ اپنے ڈھول کا پول کھول چکے ہیں۔
طوالت کے ڈر سے ان ہی حوالہ جات پر اکتفا کیا جاتا ہے۔ وگرنہ قرآن وحدیث میں بے شمار مقامات پر مسئلہ ختم نبوت کے دلائل وبراہین موجود ہیں۔
ضمیمہ ...... جعلی نبی کی اہم ضرورت
١٨٦٩ء کے شروع میں برطانوی ایڈیٹروں اور مسیحی رہنماؤں کا ایک وفد اس غرض سے ہندوستان آیا کہ ہندوستانی عوام میں وفاداری کیونکر پیدا کی جاسکتی اور مسلمانوں کے جذبہ جہاد کو سلب کر کے انہیں کیونکر رام کیا جاسکتا ہے۔ اس وفد نے ١٨٧٠ء میں واپس جاکر دو رپورٹیں مرتب کیں۔ ان میں برطانوی سلطنت کا ہندوستان میں ورود (The Arival of the British Empire In India) کے مرتبین نے لکھا کہ: ”ہندوستانی مسلمانوں کی اکثریت اپنے روحانی راہنماؤں کی اندھا دھند پیروکار ہے۔ اگر اس وقت ہمیں ایسا کوئی آدمی مل جائے جو اپاسٹالک پرافٹ ”حواری نبی“ ہونے کا دعویٰ کرے تو اس شخص کی نبوت کو حکومت کی سرپرستی میں پروان چڑھا کر برطانوی مفادات کے لئے کام لیا جاسکتا ہے۔“
مرزا قادیانی برطانیہ کی تلوار
”مسیح موعود (مرزا قادیانی) فرماتے ہیں۔ میں مہدی ہوں۔ برطانوی حکومت میری تلوار ہے۔ ہمیں بغداد کی فتح سے کیوں خوشی نہ ہو۔ عراق، عرب، شام، ہم ہر جگہ اپنی تلوار کی چمک دیکھنا چاہتے ہیں۔“
(الفضل ج٦ نمبر ٤٢، مورخہ ٧؍ دسمبر ١٩١٨ء)
”ہمارے خاندان نے سرکار انگریزی کی راہ میں اپنا خون بہانے اور جان دینے سے کبھی دریغ نہیں کیا۔“
(مجموعہ اشتہارات ج٣ ص ٢١)
سقوطِ بغداد پر چراغاں اور مکہ اور مدینہ کو فتح کرنے کی ترغیب
مرزا قادیانی ٢٦ مئی ١٩٠٨ء کو وفات پاگئے۔ ان کے جانشینوں حکیم نورالدین خلیفہ اوّل (مئی ١٩٠٨ء تا مارچ ١٩١٤ء) اور ثانیاً مرزا بشیر الدین خلیفہ ثانی (مارچ ١٩١٤ء تا
١٧
١٩٦٥ء) نے احمدیت کو استعمار کی ایجنسی بنایا۔ اس ایجنسی نے پہلی جنگ عظیم میں انگریزوں کی بے نظیر خدمات انجام دیں۔ عرب ریاستوں کو مسلمانوں کی وضع قطع اور مسلک ومشرب کا فریب دے کر ان کی قطع وبرید کا برطانوی مشن پورا کیا اور جاسوسی کرتے رہے۔ ادھر ہندوستان میں جاسوسی کے مرکزی وصوبائی محکموں سے متعلق رہے۔ مسلمانوں کو برطانیہ سے وفاداری کا سبق اس طرح پڑھایا کہ ان کے روحانی رشتے کی عالمی روح مفقود ہو جائے۔ پہلی جنگ عظیم میں بغداد کے سقوط پر چراغاں کیا۔ مدینہ ومکہ کے متعلق حقیقت الرؤیا ص ٤٦ میں لکھا کہ ان کی چھاتیوں سے دودھ خشک ہو گیا ہے۔
قادیان کے متعلق (الفضل نمبر ٧١ ج ١٢ ص ١٠، مورخہ ٣ جنوری ١٩٢٥ء) میں لکھا کہ وہ تمام جہاں کے لئے ام ہے۔ اس مقام مقدس سے دنیا کو ہر ایک فیض حاصل ہو سکتا ہے۔ الفضل ١٢ ستمبر ١٩٣٥ء میں مرقوم ہے کہ ہم ان لوگوں سے متفق نہیں جو کہتے ہیں کہ کسی صورت میں بھی حرمین پر حملہ نہیں کیا جا سکتا۔ مدینہ پر بھی چڑھائی ہو سکتی ہے۔
اس سے پہلے ١١ ستمبر ١٩٣٢ء کے (الفضل نمبر ٦٦ ج ٢٠ ص ٥) میں مرقوم تھا کہ قادیان میں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ والی برکات نازل ہوتی ہیں۔ قادیان کا سالانہ جلسہ ظلی حج ہے اور نفل اب فرض بن گیا ہے۔
مرزا قادیانی کے عیسائی مناظروں کی حقیقت
مرزا غلام احمد قادیانی نے مسلمان عوام کو پادریوں کے خلاف بھڑکایا اور مسیحی عقائد پر رکیک حملے کئے تو پادریوں نے برطانوی سرکار سے شکایت کی کہ مرزا توہین مسیحیت کا مرتکب ہو رہا ہے۔ مرزا قادیانی نے ملکہ وکٹوریہ کو خط لکھا کہ: ”مشنریوں سے مناظرہ کرتا ہوں تو مسلمانوں میں تنسیخ جہاد کا اعتبار بڑھتا ہے۔“
ایک دوسری جگہ لکھا کہ: ”میں نے عیسائی رسالہ ’نور افشاں‘ کے جواب میں سختی کی تو اس کا مقصد تھا کہ سریع الغضب مسلمانوں کے وحشیانہ جوش کو ٹھنڈا کیا جائے اور میں نے حکمت عملی سے وحشی مسلمانوں کے جوش کو ٹھنڈا کیا۔“
دنیائے اسلام کے تمام علماء نے مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا۔ رابطہ عالم اسلامی کے موجودہ اجتماع میں دنیا بھر کی ١٤٠ دینی جماعتوں کے مقتدر علماء کرام مفتیان عظام نے قادیانیوں کو استعمار کا گماشتہ اور غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا ہے۔
١٨
اوں کی شرب ادھر یہ ہے پہلی میں لکھا
وہ تمام پیغمبر ان پر
ہی میں ں، اب
ند پر ہورہا میں
کی تو سے
لامی وں
ادارة التصنیف والادب
اسلام کے بنیادی عقیدہ
ختم نبوت کی اہمیت اور حکمتیں
حضرت مولانا محمد عبدالقادر آزادؒ
بسم الله الرحمن الرحیم! اسلام کے بنیادی عقیدہ
ختم نبوت کی اہمیت، حقیقت اور حکمتیں
الحمدللہ وحدہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ ولا رسول بعدہ ولا امۃ بعد امتہ وعلیٰ الہ واصحابہ وازواجہ وبناتہ واتباعہ اجمعین الیٰ یوم الدین ٠ اما بعد!
صدر اجلاس و معزز و مکرم خواتین و حضرات!
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،
مجھے انتہائی مسرت ہے کہ آج میں قومی سیرۃ کانفرنس اسلام آباد میں اسلام کے دوسرے بنیادی عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت وحقیقت اور اس کی حکمتوں کے عظیم اور بابرکت عنوان پر خطاب کر رہا ہوں۔ میں نے اس مقالہ کو تین حصوں میں تقسیم کر دیا ہے۔ جن کا تذکرہ ابھی کر چکا ہوں۔ اوّلاً میں اس عقیدہ کی اہمیت پر قلت وقت کے پیش نظر مختصراً عرض کرتا ہوں۔
عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت
- .......١ اسلام میں داخل ہونے کے لئے اور مسلمان بننے کے لئے عقیدہ توحید
کے بعد ختم نبوت کے مقدس عقیدے کو ماننا اور تسلیم کرنا ضروری ہے۔ اس عقیدے پر ایمان لائے بغیر کوئی شخص مسلمان نہیں ہو سکتا۔
- .......٢ اس عقیدے کے تحفظ کے لئے افضل البشر امام الانبیاء سید العالمین رحمت
دو جہاں حضرت محمد رسول اللہ ﷺ نے جب ان کے زمانہ میں اسود عنسی نے نبوت کا دعویٰ کیا تو صحابہ کرامؓ کو حکم دے کر اسے قتل کرا دیا۔
(فتح الباری ص ٥٥ ج ٦)
منکرین ختم نبوت باوجود مسلمانوں کے طریقے پر اذان و نماز کے احکام
ادا کرنے کے اسلام سے خارج ہے
مسلمانوں کے خلیفہ اوّل حضرت ابوبکر صدیقؓ کے دور خلافت میں مسیلمہ کذاب نے جب دعویٰ نبوت کیا تو تمام مہاجرین و انصار صحابہ کرامؓ نے اس کے دعویٰ نبوت پر متفقہ طور پر اسے کافر، مرتد اور دائرہ اسلام سے خارج قرار دے دیا۔ خلیفہ مسلمین سیدنا حضرت صدیق اکبرؓ نے مسیلمہ کذاب کے اس فتنہ کی سرکوبی کے
٢
لئے صحابہ کرامؓ کو جہاد کے لئے کذاب کے لائے ہوئے ج مسیلمہ کذاب اپنے دعویٰ نبوت پر اذان دیتا۔ مسلمانوں کے حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی دعویٰ نبوت کے سبب مسیلمہ باوجود کافر اور دائرہ اسلام ۔
منکرین ختم نبوت کی س
- .......١
نبوت کیا۔ حضرت صدیق کی طرف بھاگ کر روپوش
- .......٢ غا
نبوت کیا۔ اس وقت کے کے سولی چڑھانے کا فتویٰ کرتے ہوئے دوسرے ص ” وفعل ذال وقتلھم علی صواب فـ اور بہت سے اور اس زمانے کے علماء نبوت کی تکفیر میں خلاف ک
عقیدہ ختم نبوت ضر
- .......١
ہونے کے لئے اس عقی متفقہ فتویٰ یہ ہے۔ ”ان ضروریات الدین
لئے صحابہ کرام کو جہاد کے لئے بھیجا۔ اس جہاد میں بارہ صد صحابہ کرام شہید ہوئے۔ جب کہ مسیلمہ کذاب کے لائے ہوئے چالیس ہزار افراد میں سے اٹھائیس ہزار افراد ہلاک ہوئے۔ حالانکہ مسیلمہ کذاب اپنے دعویٰ نبوت کے باوجود خود اور اپنے ماننے والوں سمیت مسلمانوں کے طریقے پر اذان دیتا۔ مسلمانوں کے طریقے پر نماز پڑھتا اور تمام اسلامی احکام و فرائض کو تسلیم کرتا اور حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی نبوت کا اقرار بھی کرتا تھا۔ لیکن صحابہ کرام کا اس بات پر اجماع ہوا کہ دعویٰ نبوت کے سبب مسیلمہ اور اس کے ماننے والے ان تمام اسلامی احکامات کے بجا لانے کے باوجود کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔
(تاریخ طبری ج ٣ ص ٢٥٤)
منکرین ختم نبوت کی سرکوبی اسلامی حکومت کی ذمہ داری ہے
- ......١ حضرت صدیق اکبر کے زمانے میں ہی ایک شخص طلیحہ نامی نے دعویٰ
نبوت کیا۔ حضرت صدیق نے اس کے قتل کے لئے حضرت خالد بن ولید کو مقرر کیا۔ لیکن طلیحہ شام کی طرف بھاگ کر روپوش ہو گیا اور ہاتھ نہ آیا۔
- ......٢ خلیفہ عبدالملک بن مروان کے زمانہ میں حارث نامی ایک شخص نے دعویٰ
نبوت کیا۔ اس وقت کے علماء (جو کہ صحابہ و تابعین کی جماعت پر مشتمل تھے) نے متفقہ طور پر اس کے سولی چڑھانے کا فتویٰ دیا۔ خلیفہ نے اس فتویٰ پر عمل کیا اور اسے قتل کرا دیا۔ اس واقعے کو نقل کرتے ہوئے دوسرے مسلمان خلفاء کے اس معاملہ میں طرز عمل کا بھی یوں ذکر کیا گیا۔
”وفعل ذالك غیر واحد من الخلفاء والملوک باشباہہم واجمع علماء وقتہم علی صواب فعلہم والمخالف فی ذالك من کفرہم فہو کافر “
اور بہت سے خلفاء اور سلاطین نے ان جیسے مدعیان نبوت کے ساتھ وہی سلوک کیا ہے اور اس زمانے کے علماء نے ان کے اس فعل کو درست ہونے پر اجماع کیا اور جو شخص ایسے مدعیان نبوت کی تکفیر میں خلاف کرے۔ (یعنی انہیں کافر نہ سمجھے ) وہ خود کافر ہے۔
(شفاء قاضی عیاض)
عقیدہ ختم نبوت ضروریات دین میں سے ہے فقہاء کرام کے فتوے
- ......١ عقیدہ ختم نبوت ضروریات دین میں سے ہے۔ اس لئے مسلمان
ہونے کے لئے اس عقیدہ پر یقین و ایمان رکھنا ضروری ہے۔ چنانچہ فقہاء کرام کا اس ضمن میں متفقہ فتویٰ یہ ہے ۔ ”اذا لم یعرف ان محمد آخر الانبیاء فلیس بمسلم لانہ من ضروریات الدین“
٣
کوئی شخص یہ نہ جانے کہ حضرت محمد رسول اللہﷺ تمام انبیاء میں آخری نبی ہیں تو وہ مسلمان نہیں ہے اس لئے کہ آپ کا آخری نبی ہونا ضروریات دین میں سے ہے۔
(الاشباہ والنظائر کتاب السیر والردہ ص ٣٦٦)
علامہ ابن حجر مکی شافعی اپنے فتویٰ میں فرماتے ہیں:
- ٢...... " من اعتقد وحياً بعد محمدﷺ کفر باجماع المسلمین"
جو شخص حضرت محمد رسول اللہﷺ کے بعد کسی وحی (کے نزول) کا اعتقاد رکھے وہ شخص تمام مسلمانوں کے نزدیک متفقہ طور پر کافر ہے۔
(فتاویٰ ابن حجرؒ)
علامہ ملا علی قاری حنفیؒ فرماتے ہیں:
- ٣...... " ودعوی النبوة بعد نبیناﷺ کفر باجماع المسلمین "
اور نبوت کا دعویٰ ہمارے نبیﷺ کے بعد بالا جماع کفر ہے۔
(شرح فقہ اکبر ص ٢٠٢)
- ٤...... جس طرح انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام میں سے کسی کی توہین تنقیص و تحقیر کفر
ہے۔ ویسے ہی حضرت محمد رسول اللہﷺ کے بعد کسی نئی نبوت کو جائز سمجھنا بھی کفر ہے۔ ہاں البتہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا تشریف لانا اس لئے استثناء رکھتا ہے کہ وہ جناب خاتم الانبیاءﷺ کی تشریف آوری سے قبل بطور نبی کے تشریف لاچکے ہیں اور ان کا دوبارہ دنیا میں آنا تمام انبیاء کی طرف سے اسلام کی حقانیت اور حضورﷺ کی تصدیق و تائید کے لئے ہوگا اور وہ اپنے دین پر ایمان لانے کی تبلیغ کی بجائے خود بھی اعمال وافعال دین محمدی علی صاحبہا الصلوٰۃ والتسلیم کے مطابق انجام دیں گے۔ تبلیغ بھی اسلام کی فرمائیں گے۔ اس سلسلہ میں علماء اسلام کا یہ فتویٰ ہماری رہنمائی کرتا ہے۔
" او کذب رسولا او نبیاء ونقصه بای نقص کان صغر باسمه یرید تحقیره اوجوّز نبوة احد بعد وجود نبیناﷺ وعیسٰی علیه الصلوٰة والسلام نبی قبل"
کوئی شخص کسی نبی یا رسول کی تکذیب کرے یا کسی قسم کی تنقیص کرے۔ جیسے اس کا نام جھوٹے پن سے تحقیر کی غرض سے لے یا کسی شخص کی نبوت کو آنحضرتﷺ کی نبوت کے بعد جائز سمجھے (تو یہ کفر ہے) (ہاں البتہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ نزول کے عقیدے پر) اس لئے اعتراض نہیں ہوسکتا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آپ سے پہلے نبی ہو چکے ہیں۔
حاصل نتیجہ
پس ثابت ہوا کہ مسلمان ہونے کے لئے عقیدہ ختم نبوت پر ایمان لانا ضروری اور اس
کا انکار حضورﷺ کے فرامین کی روشنی میں اور اجماع صحابہ کرامؓ اور اجماع امت محمدیہ علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کی وجہ سے مطلقاً کفر ہے۔ جس میں کسی ردو رعایت کی گنجائش نہیں۔ یہ تو تھی عقیدہ ختم نبوت کی اسلام میں اہمیت۔ آئیے اب ہم اس عظیم مسئلہ کی حقیقت پر غور کریں۔
مسئلہ ختم نبوت کی حقیقت
شہنشاہ کائنات رب العالمین خالق السمٰوات والارضین اللہ نے انسان کو اپنا خلیفہ اور اشرف المخلوقات بنایا۔ اسے اپنی نیابت بخشی اور بتا دیا کہ میری کائنات میرے تصرف میں ہے۔ اس میں میرے حکم کے بغیر پتہ نہیں ہل سکتا۔ میرا حکم اور میری حکومت زمین پر اے انسان تیرے ذریعے نافذ ہوگی۔
اس سلسلہ کی پہلی تقریب حلف وفاداری عالم ارواح میں تمام انسانوں کی ارواح سے رب العالمین نے اقرار خود لیا۔ فرمایا اے انسانو! ”الست بربکم“ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ تمام انسانی ارواح نے بیک زبان جواب دیا۔ ”بلیٰ“ ہاں اے اللہ تو ہی ہمارا رب ہے اور سب سے پہلے ”بلیٰ“ کہنے والے حضور اقدسﷺ ہیں۔
اولاد آدم کا یہ مختصر حلف اصل میں اعتراف تھا۔ اللہ کی ربوبیت اس کی خالقیت، رزاقیت اور اس کی حکومت وحاکمیت کا، انسان دنیا میں آکر دولت کی بہتات، کثرت اشغال، من مانی زندگی، طاغوتی اثرات اور لہو ولعب کی لغو مصروفیات میں گم ہوکر جب اس عہد بندگی سے آزاد ہونے لگا تو اللہ تعالیٰ نے انبیاء ورسل اس عہد کے یاد دلانے اور احکام ربانی کی تفصیل لوگوں تک پہنچانے کے لئے بھیجے۔ جن کی تفصیل حضرت محمد رسول اللہﷺ نے یوں بیان فرمائی۔
”عن ابی ذرؓ عن رسول اللہﷺ قال کان الانبیاء مائۃ الف واربعۃ وعشرین الفا وکان الرسل خمسۃ عشر و ثلث مائۃ رجل منہم اولہم آدم الیٰ قولہ اخرہم محمد“
(حاشیہ صاوی مصری ص ١٩٣ و فی صحیح ابن حبان)
حضرت ابو ذرؓ آنحضرتﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا۔ انبیاء ایک لاکھ چوبیس ہزار ہوئے ہیں اور رسول تین سو پندرہ۔ جن میں حضرت آدم علیہ السلام سب سے پہلے اور سب سے آخری نبی اور رسول محمدﷺ ہیں۔ یہ حدیث اسحٰق بن راہویہ، ابن ابی شیبہ، ابو یعلیٰ نے روایت کی ہے۔ ابن حبان اور ابن حجر مکی نے اس کو صحیح فرمایا ہے۔ اس حدیث میں نبی اور رسول میں جو فرق ہے اس کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے۔ اس لئے یہاں پر نبی اور رسول کا فرق بیان کرنا بھی ضروری ہے۔ جمہور اہل سنت والجماعت علماء کی تحقیق یہ ہے کہ نبی عام ہے اور رسول خاص۔
٥
نبی کی پہچان
نبی اس شخص کو کہا جاتا ہے جس کو خداوند عالم کی طرف سے وحی ہوتی ہو اور وہ اللہ کے احکام کی تبلیغ کرتا ہو۔ لیکن اس کے لئے صاحب شریعت جدیدہ یا صاحب کتاب ہونا ضروری نہیں وہ اپنے پیشرو رسول پر نازل ہونے والی کتاب اور شریعت کا ہی مبلغ ہوتا ہے۔ ہر نبی کے لئے رسول ہونا ضروری نہیں۔
رسول کی پہچان
رسول اس شخص کو کہا جاتا ہے جس کو خداوند قدوس کی طرف سے شریعت دی گئی ہو یا کتاب یا صحیفہ ہر رسول، رسول بھی ہوتا ہے اور نبی بھی۔
تمام انبیاء ورسل کے ادیان کی حقیقت ایک ہی ہے جو ”مقتضیات“ زمانہ کے مطابق ہوتی رہی۔ ارشاد ربانی ہے۔ ”شرع لکم من الدين ما وصی به نوحا والذی اوحينا اليك وما وصينا به ابراهيم وموسی وعیسی ان اقيمو الدين ولا تتفرقوا فيه (شوری: ١٣)“
اللہ نے تمہارے لئے دین ہی کی راہ متعین کی ہے۔ جس کا نوح علیہ السلام کو حکم دیا تھا اور جو ہم نے تیری طرف (اے محمد رسول اللہ ﷺ ) وحی کی ، اور جس کا ہم نے ابراہیم علیہ السلام اور موسیٰ علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام کو حکم دیا تھا کہ دین کو قائم رکھو اور اس میں تفرقہ نہ ڈالو۔
حضرت محمد رسول اللہ ﷺ نے اسی وجہ سے ہر نبی اور رسول کی تصدیق کی بلکہ اسلام میں داخل ہونے اور مسلمان بننے کے لئے تمام انبیاء ورسل پر ایمان لانا ضروری قرار دیا، اور جیسا کہ اس مقالہ کی ابتداء میں میں یہ عرض کر چکا ہوں کہ امت کا اس بات پر اجماع ہے کہ جو شخص کسی نبی یا رسول کی تحقیر کرے گا یا ان کا نام بغرض توہین تصغیر کے انداز میں لے گا وہ دائرہ اسلام سے خارج ہو جائے گا۔
تمام انبیاء ورسل کی تصدیق حضرت محمدﷺ کی شان خصوصی ہے
اللہ رب العالمین نے حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی وحی کو تمام انبیاء ورسل کی نبوتوں کی تصدیق کرنے والا بیان فرمایا ہے۔ ”والذی اوحينا اليك من الكتاب هو الحق مصدقا لما بين يديه (فاطر: ٣١) “ جو کتاب ہم نے تیری طرف وحی کی ہے وہ برحق ہے اور اپنے سے پہلی نبوتوں کی تصدیق کرنے والی ہے۔
٦
تمام انبیاء سے نبوت محمدی کی تصدیق کا اقرار
جیسے اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو تمام نبوتوں، تمام ادیان اور تمام کتب کی تصدیق کرنے والا بنا کر بھیجا۔ ویسے ہی تمام انبیاء سے نبوت محمدی کی تصدیق کا اللہ تعالیٰ نے اقرار لیا۔
ارشاد ربانی ہے: ’’واذ اخذ الله میثاق النبیین لما اتیتکم من کتاب وحکمة ثم جاءکم رسول مصدق لما معکم لتؤمنن به ولتنصرنه قال أقررتم واخذتم علی ذالکم اصری قالوا اقررنا قال فاشهدوا وانا معکم من الشاهدین
(آل عمران: ٨١) ’’اور جب اللہ تعالیٰ نے تمام نبیوں سے عہد لیا کہ میں جو کچھ کتاب اور حکمت میں سے تمہیں دوں پھر تمہارے پاس وہ رسول آئے جو اس کی تصدیق کرنے والا ہو جو تمہارے پاس ہے تو تمہیں ضرور اس پر ایمان لانا ہوگا اور ضرور ہی اس کی مدد کرنا ہوگی۔ کہا اللہ تعالیٰ نے کیا تم اقرار کرتے ہو اور اس پر میرے عہد کی ذمہ داری لیتے ہو۔ انہوں (انبیاء) نے کہا کہ ہم اقرار کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا تو تم گواہ رہو میں بھی تمہارے ساتھ گواہوں میں سے ہوں۔‘‘
گویا آپ مصدق الرسل بھی ہیں اور مصدق الرسل بھی یعنی تمام نبیوں نے آپ کی نبوت کی تصدیق کی اور آپ نے تمام انبیاء کی تصدیق کی۔ جیسے قرآن مجید میں تمام انبیاء علیہم السلام کی نبوتوں کی تصدیق ہے۔ ویسے ہی توراۃ، انجیل، زبور، دیگر صحف ہائے آسمانی میں باوجود تغیر و تبدل تحریف کے اب تک حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی نبوت و رسالت اور ختم نبوت کے متعلق بیشمار حوالے موجود ہیں۔ جن میں سے چند حوالہ جات کا ذکر میں یہاں ضروری سمجھتا ہوں۔
حضرت محمد ﷺ کی شان ختم نبوت قرآن کریم کے علاوہ دوسری کتب سماویہ میں
تورات میں: خداوند قدوس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ذریعے اعلان نبوت محمدی یوں فرمایا۔
- ١....... میں ان کے لئے ان ہی کے بھائیوں میں سے تیری مانند ایک نبی برپا
کروں گا اور اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالوں گا اور جو کچھ میں حکم دوں گا وہی ان سے کہے گا اور جو کوئی میری ان باتوں کو جن کو وہ میرا نام لے کر کہے گا نہ سنے تو میں ان کا حساب اس سے لوں گا۔
(استثنا باب ١٨، آیت ١٨ تا ٢٠)
تورات کی اس آیت میں چار باتیں قابل غور ہیں۔ ایک تو جس پیغمبر کی بشارت دی جارہی ہے وہ ان کے بھائیوں میں سے ہوگا۔ یعنی بنی اسحاق جس سے اسرائیل قوم اور موسیٰ علیہ السلام ہیں ان سے نہیں ہوگا۔ بلکہ یہ بنی اسرائیلوں کے بھائیوں کے خاندان یعنی بنی اسماعیل میں پیدا ہوگا۔
- ٢....... دوسرے جس نبی کی بشارت دی جارہی ہے۔ وہ مانند رسول علیہ السلام
٧
ہوگا۔ مانند موسیٰ، عیسیٰ علیہم السلام تو ہو نہیں سکتے۔ کیونکہ موسیٰ علیہ السلام ماں باپ سے پیدا ہوئے۔ جب کہ عیسیٰ علیہ السلام بن باپ پیدا ہوئے۔
عیسیٰ علیہ السلام نے شادی بیاہ نہیں کیا ان کی اولاد بھی نہیں ہوئی۔ جب کہ موسیٰ علیہ السلام نے نکاح بھی کیا ان کے بچے بھی ہوئے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے کوئی جنگ نہیں لڑی۔ جب کہ موسیٰ علیہ السلام نے جنگیں بھی لڑیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے فرمان کے مطابق نئی شریعت نہیں لائے۔ جب کہ موسیٰ علیہ السلام مستقل شریعت لائے۔ موسیٰ علیہ السلام کی مانند یہ تمام صفات حضرت محمد رسول اللہ ﷺ میں بدرجہ اتم موجود ہیں۔
- ٣....... تیسرے آنے والا نبی خود کچھ نہیں کہے گا جو اسے اللہ فرمائے گا وہی کہے گا۔
یہی بات قرآن عزیز میں اللہ تعالیٰ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے متعلق فرماتے ہیں: ”وَمَا يَنطِقُ عَنِ الْهَوَى إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَى (النجم:٤،٣)" ﴿یعنی محمد رسول اللہ ﷺ اپنی خواہش سے نہیں بولتے بلکہ وہ وہی کچھ کہتے ہیں جو ان کی طرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کی جاتی ہے۔﴾
- ٤....... آخری آیت میں موسیٰ علیہ السلام اقوام عالم کو حضرت محمد رسول اللہ ﷺ
کی مکمل اتباع کی تلقین کر رہے ہیں کہ جو شخص بھی انسانوں میں سے اسے نبی کو تسلیم نہیں کرے گا اور اس کے فرمان پر وہ عمل پیرا نہ ہوگا تو وہ خدا کی گرفت، پرسش اور اس کے عذاب سے نہ بچ سکے گا۔
- ٦....... تورات ہی میں ایک دوسرے مقام پر ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے دنیا سے
اپنی روانگی یعنی وفات کے وقت یہ کلمات کہے۔ ” خداوند سینا سے آیا اور شعیر پر آشکارا ہوا۔ وہ کوہ فاران سے جلوہ گر ہوا اور لاکھوں قدسیوں میں سے آیا۔ اس کے داہنے ہاتھ میں ان کے لئے آتشیں شریعت تھی۔ وہ بے شک قوموں سے محبت رکھتا۔ اس کے سب مقدس لوگ تیرے ہاتھ میں ہیں اور وہ تیرے قدموں میں بیٹھے ایک ایک تیری باتوں سے مستفیض ہوگا۔“
(استثناء باب ٣٣، آیت نمبر ٢ تا ٣)
اس آیت میں سینا سے مراد کوہ سینا پر وحی الٰہی جو موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوئی۔ اس کا ذکر ہے۔ شعیر سے وہ مقام مراد ہے جہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام پیدا ہوئے اور فاران سے مکہ مکرمہ کا وہ مقام مراد ہے جہاں کھڑے ہو کر حضور ﷺ نے اعلان نبوت فرمایا۔ باقی آیت میں حضرت موسیٰ علیہ السلام اس نبی کی نبوت کی عالمگیریت اور عظمت بیان فرما رہے ہیں۔
- ٧....... زبور میں حضرت داؤد علیہ السلام حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی آمد کی پیش
٨
گوئی یوں فرماتے ہیں۔ ”تو بنی آدم میں سب سے حسین ہے۔ تیرے ہونٹوں میں لطافت بھری ہے۔ اس لئے خدا نے تجھے ہمیشہ مبارک کیا۔ اے زبردست تو اپنی تلوار کو جو تیری حشمت وشوکت ہے۔ اپنی کمر سے حمائل کر اور سچائی اور حلم وصداقت کی خاطر اپنی شان وشوکت میں اقبال مندی سے سوار ہو اور تیرا داہنا ہاتھ تجھے مہیب کام دے گا۔ تیرے تیر تیز ہیں وہ بادشاہ کے دلوں میں لگے ہیں۔ امتیں تیرے سامنے زیر ہوتی ہیں۔ اے خدا تیرا تخت ابدالآباد ہے۔ تیری سلطنت کا عصا راستی کا عصا ہے تو نے صداقت سے محبت رکھی اور بدکاری سے نفرت، اسی لئے تیرے خدا نے شادمان کے تیل سے تجھ کو تیرے ہمسروں سے زیادہ مسح کیا۔ تیرے ہر لباس سے مر عود اور تج کی خوشبو آتی ہے۔“
(کتاب زبور آیت نمبر ٤ تا ٨)
زبور کی ان آیات میں حضور ﷺ کی شان وشوکت وعظمت کے ساتھ ساتھ پہلی نشان زدہ آیت میں حضرت داؤد علیہ السلام نے فرمایا کہ اس لئے خدا نے تجھے ہمیشہ مبارک کیا۔ یعنی آپ کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے نبی بنایا۔
دوسری نشان زدہ آیت میں (امتیں تیرے سامنے زیر ہوتی ہیں۔ اے خدا یعنی اے آقا، تیرا تخت ابدالآباد ہے) یعنی آپ تمام امتوں کے لئے نبی ہیں اور آپ کی نبوت ابدالآباد ہے۔
تیسری نشان زدہ آیت میں تجھ کو (خدا نے) تیرے ہمسروں (یعنی دیگر انبیاء) سے زیادہ مسح کیا ہے۔ یعنی تجھے تمام انبیاء پر فضیلت دی ہے۔ حضرت داؤد علیہ السلام کے بعد اب ذرا سیدنا حضرت سلیمان علیہ السلام کا فرمان سنئے۔ غزل الغزلات میں فرماتے ہیں: ”میرا محبوب سرخ وسفید ہے وہ دس ہزار میں ممتاز ہے اس کا سر خالص سونا ہے۔“ (غزل الغزلات آیت نمبر ١٠، ١١)
اس پیش گوئی میں فتح مکہ کے دن حضور ﷺ کے دس ہزار فاتح صحابہؓ کے ذکر کے ساتھ حضور ﷺ کے حسن کی تعریف کی جارہی ہے۔
ختم الانبیاء والرسل حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے متعلق
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیش گوئیاں
حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے دنیا سے (آسمان کی طرف) رخصت ہوتے ہوئے یہ وعظ فرمایا:
- ١...... ”مجھے تم سے اور بھی بہت سی باتیں کہنا ہیں۔ مگر تم اب ان کی برداشت نہیں
کرسکتے۔ لیکن جب وہ یعنی روح حق آئے گا تو تم کو تمام سچائی کی راہ دکھائے گا۔ لیکن جو کچھ سنے گا
٩
وہی کہے گا اور تمہیں آئندہ کی خبریں دے گا وہ میرا جلال ظاہر کرے گا۔“
(یوحنا باب ١٦، آیت ١٣، ١٤)
- ......٢ ”تم سن چکے ہو کہ میں نے تم سے کہا کہ جاتا ہوں اور تمہارے پاس پھر آتا
ہوں۔ اگر تم مجھ سے محبت رکھتے تو اس بات سے کہ میں باپ کے پاس جاتا ہوں۔ خوش ہوتے۔ کیونکہ باپ مجھ سے بڑا ہے اور اب میں نے تم سے اس کے ہونے سے پہلے کہہ دیا ہے تاکہ جب وہ ہو جائے تو تم یقین کرو۔ اس کے بعد میں تم سے بہت سی باتیں نہ کروں گا۔ کیونکہ دنیا کا سردار آتا ہے اور مجھ میں اس کا کچھ نہیں۔“
(یوحنا باب ١٤، آیت ٢٨ تا ٣١)
- ......٣ ”اور اگر تم مجھ سے محبت رکھتے ہو تو میرے حکموں پر عمل کرو گے اور میں
اپنے رب سے درخواست کروں گا تو وہ تمہیں دوسرا مددگار بخشے گا کہ ابد تک تمہارے ساتھ رہے۔ یعنی روحِ حق جسے دنیا حاصل نہیں کر سکتی۔ کیونکہ نہ اسے دیکھتی ہے اور نہ ہی جانتی ہے۔ تم اسے جانتے ہو کیونکہ وہ تمہارے ساتھ رہتا ہے اور تمہارے اندر ہوگا۔ میں تمہیں یتیم نہ چھوڑوں گا۔ میں تمہارے پاس آؤں گا۔“
(یوحنا باب ١٤، آیت ١٥ تا ١٨)
اس قسم کی سینکڑوں پیش گوئیاں نئے اور پرانے عہد نامے میں مذکور ہیں جو طوالت سے بچنے کے لئے یہاں پر نقل کرنے سے گریز کیا جا رہا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے فرامین میں سے نشان زدہ آیات پر غور کرنے سے ہمیں یہ باتیں معلوم ہوتی ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام نے حوالہ نمبر ١ میں مکمل شریعت لانے والے کی آمد کا یوں اعلان فرمایا کہ: ”تم کو بہت سی باتیں کہنا تھیں۔ لیکن تم اب ان کی برداشت نہیں کر سکتے۔ لیکن جب وہ روحِ حق آئے گا تو تم کو تمام سچائی کی راہ دکھلائے گا۔ (یعنی اس کا دین مکمل ہوگا) اس لئے کہ وہ اپنی طرف سے کچھ نہ کہے گا جو سنے گا وہی کہے گا۔ (یعنی اس کا شرعی امور میں بولنا وحی الٰہی کے سوا اپنی خواہش کے مطابق نہ ہوگا) تمہیں آئندہ کی خبریں دے گا۔ (یعنی جنت، دوزخ زندگی کے مسائل کا حل دینا اور آخرت کے تمام مسائل کا حل) وہ میرا جلال ظاہر کرے گا۔“ (یعنی میری نبوت کی اصل حقیقت بتائے گا)
دوسرے حوالے میں فرمایا: ”اس کے بعد میں تم سے بہت سی باتیں نہ کروں گا۔ کیونکہ دنیا کا سردار آتا ہے اور مجھ میں اس کا کچھ نہیں۔“
اس آیت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام حضورﷺ کی افضلیت کا اعلان کرتے ہوئے دنیا کا سردار آقا یعنی سید کے لقب سے آپ کو یاد کر رہے ہیں اور خود فرما رہے ہیں کہ مجھ میں اس کا کچھ نہیں۔ یعنی وہ مجھ سے کہیں افضل ہوں گے۔
١٠
تیسرے حوالے میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ختم نبوت کا اعلان یوں فرمارہے ہیں: ”اور میں باپ سے درخواست کروں گا کہ وہ تمہیں دوسرا مددگار بخشے جو ابد تک تمہارے ساتھ رہے۔“ حوالہ کی ابتداء میں فرمایا: ”اگر تم مجھ سے محبت رکھتے ہو تو میری بات پر عمل کرو گے۔ یعنی اس روح حق (سچے نبی) کی پیروی کرو گے۔“ حوالہ کے آخر میں فرمایا: ”میں تمہارے پاس (دوبارہ) آؤں گا یعنی اس کی تصدیق کے لئے۔“
ان تمام حوالہ جات سے ایک کامل مکمل دین اور ایک سچے آخری نبی اور رسول کی آمد کی پیش گوئی آفتاب نیمروز کی طرح عیاں ثابت ہوتی ہے۔ جس کی وضاحت کی ضرورت نہیں۔
اب آئیے کہ اس دین مکمل اور نبی کامل پر قرآن مجید کی روشنی میں گفتگو ہوجائے۔ جیسا کہ اسی بات کے شروع میں آیت شرع لکم کے حوالہ سے ثابت کیا گیا کہ تمام انبیاء کے دین کی حقیقت ایک ہی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ تمام انبیاء اس دین کی تکمیل لے کر آنے والے خاتم الانبیاء ورسلﷺ کا بار بار اعلان کرتے رہے۔ جیسا کہ تورات، زبور، غزل الغزالات، انجیل کے حوالوں سے اوپر ذکر ہو چکا ہے۔
خاتم الانبیاء ورسل حضرت محمد رسول اللہﷺ کے ذریعے
انسانیت کے لئے جس دین کو خدا نے پسند فرمایا صرف اسلام ہی ہے
جس کا ذکر خود رب العالمین یوں فرماتے ہیں: ”ان الدین عند اللہ الاسلام (آل عمران:١٩) ﴿بیشک اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے۔﴾
دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”ورضیت لکم الاسلام دینا (مائدہ:٣) ﴿اور میں نے تمہارے لئے پسند کر لیا اسلام کو دین۔﴾
اب اگر کوئی شخص دین اسلام قبول کئے بغیر کوئی عبادت انجام دے گا تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں اس کی عبادت قبول نہیں کروں گا۔
فرمایا: ”ومن یبتغ غیر الاسلام دینا فلن یقبل منہ وھو فی الاخرۃ من الخسرین (آل عمران:٨٥) ﴿اور جو شخص اسلام کے سوا کسی اور دین کا طالب ہوگا وہ اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا اور ایسا شخص آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا۔﴾
اور ایک مقام پر رب العالمین فرماتے ہیں کہ میں نے اسلام کو مکمل کردیا۔ ارشاد ہے: ”الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دینا (مائدہ:٣) ﴿آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کر دیا اور اپنی نعمتیں تم پر تمام کر دیں اور
١١
میں نے تمہارے لئے اسلام کو دین پسند کر لیا۔﴾
اسلام کو دین پسند کرنے اور مکمل کرنے کے اعلانات کے بعد اللہ تعالیٰ نے کتاب قرآن مجید کی مکمل حفاظت کرنا بھی اپنے ذمے لے لیا۔
قرآن کریم اور نبی ﷺ کی حفاظت کی ذمہ داری
اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمے لے لی ہے
"انا نحن نزلنا الذكر وانا له لحافظون (الحجر:٩)" ﴿بے شک ہم نے قرآن کو نازل کیا اور ہم ہی اس کی حفاظت کے ذمہ دار ہیں۔﴾
لفظی قرآن کی حفاظت کے ساتھ ساتھ عملی قرآن کریم یعنی حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی حفاظت کی ذمہ داری کا بھی اللہ تعالیٰ نے یوں اعلان فرمایا: "يا ايها الرسول بلغ ما انزل اليك من ربك وان لم تفعل فما بلغت رسالته والله يعصمك من الناس (المائده:٦٧)" ﴿اے رسول جو کچھ تیرے رب کی طرف سے تم پر نازل ہوا سب لوگوں کو پہنچا دو اور اگر ایسا نہ کیا تو تم اللہ کا پیغام پہنچانے کا حق ادا نہ کر سکے اور اللہ تمھیں لوگوں کے (قتل) سے بچائے گا۔﴾
قرآن اور محمد رسول اللہ ﷺ کی حفاظت کی ذمہ داری اپنے ذمہ لینے کے بعد اس کامل و مکمل اور آخری دین کو دنیا کے تمام ادیان پر غالب کرنے کی ذمہ داری بھی خود ہی سنبھال لی۔ ارشاد ہوا: "هو الذى ارسل رسوله بالهدى ودين الحق ليظهره على الدين كله وكفى بالله شهيدا (الفتح:٢٨)" ﴿وہ اللہ تعالیٰ ایسا ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا تا کہ اس دین حق کو تمام ادیان سابقہ پر غالب کر دے اور اللہ کافی ہے گواہی دینے والا۔﴾
سامعین کرام! آپ نے اندازہ کر لیا کہ اللہ تعالیٰ نے دین کو مکمل کر دیا۔ دین کی حفاظت کی ذمہ داری دین لانے والے کی حفاظت کی ذمہ داری اسلام کو ادیان عالم پر غالب کرنے کا ذمہ بھی اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لے لیا۔ اب کسی نئی نبوت یا رسالت کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ تکمیل دین کے بعد نبوت یا رسالت کا جاری رہنا مذاق والی بات بنتی کہ جب دین مکمل نبی مکمل رسول مکمل تو پھر اب نیا نبی یا رسول آنا اگر جاری رہتا تو وہ بالکل اس بارش کی مثال بن جاتی جو ابتداء میں رحمت اور ضرورت پوری ہو جانے کے بعد زحمت بن جاتی ہے۔ اس لئے اللہ رب العالمین نے حضرت محمد ﷺ پر نبوت اور رسالت ختم ہونے کا اعلان یوں فرمایا: "ماكان محمد
١٢
ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين وكان الله بكل شئ عليما (احزاب:٤٠) ﴿نہیں ہیں محمدﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ لیکن آپ اللہ کے رسول اور آخر الانبیاء ہیں اور اللہ تبارک وتعالیٰ ہے ہر چیز کا جاننے والا۔﴾
خاتم النبیین کی تشریح احادیث مقدسہ سے
حضرت حذیفہؓ سے روایت منقول ہے: ”وانا خاتم النبيين ولا نبى بعدى (اخرجه احمد ج٥ ص ٣٩٦ والطبرانى كبير ج ٣ ص ١٧٠، حديث نمبر ٣٠٢٦) ﴿اور میں خاتم النبیین ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔﴾
بخاری ومسلم میں حضرت ابوہریرہؓ حضورﷺ سے روایت یوں فرماتے ہیں: ”ان مثلى ومثل الانبياء من قبلى كمثل رجل بنى بيتاً واحسنه واجمله الا موضع لبنته فجعل الناس يطوفون به ويعجبون له ويقولون هلا وضعت هذه اللبنته قال فانا خاتم النبيين (بخاری ج ١ ص ٥٠١، مسلم ج ٢ ص ٢٤٨)“ ﴿کہ میری مثال اور مجھ سے پہلے انبیاء کی مثال ایسی ہے جیسے کسی شخص نے کوئی گھر بنایا ہو اور اس کا آراستہ پیراستہ کیا ہو۔ مگر ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی ہو اور لوگ اس کے پاس چکر لگاتے اور خوش ہوتے ہوں اور کہتے ہوں کہ یہ ایک اینٹ بھی کیوں چھوڑ دی گئی کہ تعمیر مکمل ہو جاتی۔ فرمایا آنحضرتﷺ نے کہ پس وہ آخری اینٹ میں ہوں اور میں ہی آخری نبی ہوں۔﴾
حضرت ابوامامہ باہلیؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ”انا اخر الانبياء وانتم اخر الامم (ابن ماجه باب فتنه الدجال ص٢٩٧) ﴿میں سب انبیاء میں آخری نبی ہوں اور تم سب امتوں سے آخری امت ہو۔﴾
حضرت جابرؓ آپ سے روایت کرتے ہیں: ”انا قائد المرسلين ولا فخر وانا خاتم النبيين ولا فخر وانا اوّل شافع واوّل مشفع ولا فخر (مشكوة عن الدارمي ج ١ ص ٢٧، باب اعطى النبى من الفضل) ﴿میں تمام رسولوں کا رہبر ہوں اور کوئی فخر نہیں اور میں تمام انبیاء کا ختم کرنے والا ہوں اور کوئی فخر نہیں اور میں پہلا شفاعت کرنے والا اور مقبول الشفاعت ہوں اور کوئی فخر نہیں۔﴾
”عن عقبة بن عامرؓ قال قال رسول اللهﷺ لو كان بعدى نبى لكان عمر، ولكن انا خاتم النبيين ولا نبى بعدى (رواه الترمذي ج ٢ ص٢٠٩) ﴿حضرت عقبہ بن عامرؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا۔ میرے بعد اگر کوئی
١٣
نبی ہوتا تو وہ عمر بن خطابؓ ہوتا۔ لیکن میں آخری نبی ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ ﴾
اس کو ترمذی نے روایت کیا ہے: ”عن سعد بن ابی وقاصؓ قال قال رسول الله ﷺ لعلی انت منی بمنزلة هارون من موسی الا انه لا نبی بعدی (مسلم ج ٢ ص ٢٧٨ فی غزوة تبوک) “ ﴿ حضرت سعد بن ابی وقاصؓ حضورﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپؐ نے حضرت علیؓ کو فرمایا کہ تم میرے ساتھ ایسے ہو جیسے ہارون علیہ السلام موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ تھے۔ مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو سکتا۔ ﴾
”عن سهل بن الساعدی قال استاذن العباس النبی ﷺ فی الهجرة فکتب الیه یا عم اقم مکانک الذی انت به فان الله قد ختم بک الهجرة کما ختم بی النبیون (رواه الطبرانی کبیر ج ٦ ص ١٥٤، حدیث نمبر ٥٨٢٨، وابونعیم من الکنز ج ١٣ ص ٥١٩ حدیث نمبر ٣٧٣٤٠) “ ﴿ حضرت سہل بن ساعدیؓ فرماتے ہیں کہ حضرت عباسؓ نے مسلمان ہو کر رسول اللہﷺ سے ہجرت کی اجازت طلب کی تو آپؐ نے ان کو لکھا کہ اے چچا اپنی جگہ ٹھہر رہو۔ اس لئے کہ تم پر اللہ تعالیٰ نے ہجرت ختم کی ہے۔ جس طرح مجھ پر نبوت ختم کر دی گئی ہے۔ ﴾
”عن ثوبانؓ قال قال رسول الله ﷺ انه سیکون فی امتی کذابون ثلثون کلهم یزعم انه نبی وانا خاتم النبیین لا نبی بعدی (ابوداؤد ج ٢ ص ٥٩٥، ترمذی ج ٢ ص ٤٥) “ ﴿ حضرت ثوبانؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ میری امت میں تیس جھوٹے پیدا ہوں گے۔ جس میں سے ہر ایک یہی کہے گا کہ میں نبی ہوں۔ حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں اور میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو سکتا۔ ﴾
ایک ضروری سوال
امت محمدیہ علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام میں دسیوں افراد نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ اس حدیث میں صرف تیس افراد کا ذکر ہے؟
جواب...... اس کا یہ ہے کہ تیس بڑے بڑے مدعیان نبوت ہوں گے۔ جن کا ذکر کیا گیا ہے۔
برصغیر پاک و ہند میں بھی گورداسپور کے مقام پر ایک شخص مرزا غلام احمد قادیانی نے دعویٰ نبوت کیا۔ لیکن اگر ہم ان کے اقوال و نظریات و افکار کو سامنے رکھیں تو مرزا قادیانی کی تحقیقات کی قلابازیاں کچھ یوں نظر آتی ہیں۔ جب مرزا قادیانی مسلمان مبلغ تھے۔ اپنی کتاب (حمامتہ البشریٰ ص ٢٠، خزائن ج ٧ ص ٢٠٠) میں یوں رقمطراز ہیں: ”کیا تو نہیں جانتا کہ پروردگار رحیم و صاحب فضل
١٤
نے ہمارے نبی ﷺ کا بغیر کسی استثناء کے خاتم النبیین رکھا اور ہمارے نبی نے اہل طلب کے لئے اس کی تفسیر اپنے قول ”لا نبی بعدی“ میں واضح طور پر فرمادی اور اگر ہم اپنے نبی کے بعد کسی نبی کا ظہور جائز قرار دیں تو گویا ہم باب وحی بند ہو جانے کے بعد اس کا کھلنا جائز قرار دیں گے اور یہ صحیح نہیں ہے جیسا کہ مسلمانوں پر ظاہر ہے اور ہمارے نبی کے بعد کیونکر نبی آسکتا ہے۔ درآنحالیکہ آپ کی وفات کے بعد وحی منقطع ہو گئی اور اللہ تعالیٰ نے آپ پر نبیوں کا خاتم فرما دیا ہے۔“
- ١...... ”وما کان لی ان ادعی النبوة واخرج عن الاسلام والحق
بقوم کافرین“ مجھے کب جائز ہے کہ میں نبوت کا دعویٰ کر کے اسلام سے خارج ہو جاؤں اور کافروں کی جماعت سے جاملوں۔
(حمامۃ البشریٰ ص ٧٩، خزائن ج ٧ ص ٢٩٧)
دماغ میں تیزی آئی اور.......
مرزا قادیانی اچانک نبی بن گئے اور شریعت کے بغیر :”انا للہ وانا الیہ راجعون“
- ١...... میرے نزدیک نبی اس کو کہتے ہیں جس پر خدا کا کلام یقینی و قطعی بکثرت
نازل ہو۔ جو غیب پر مشتمل ہو۔ اس لئے خدا نے میرا نام نبی رکھا۔ مگر بغیر شریعت کے۔
(تجلیات الہیہ ص ٢٠، خزائن ج ٢٠ ص ٤١٢)
- ٢...... میں رسول اور نبی ہوں۔ یعنی باعتبار ظلیت کاملہ کے میں وہ آئینہ ہوں
جس میں محمدی شکل اور محمدی نبوت کا کامل انعکاس ہے۔
(نزول المسیح ص ٣، خزائن ج ١٨ ص ٣٨١)
اور جسارت بڑھتی چلی گئی
مرزا قادیانی تمام انبیاء سے بڑھ کر محترم ہونے کا دعویٰ کر بیٹھے۔ نعوذ باللہ من ھذا الخرافات!
- ١...... میں آدم ہوں، شیث ہوں، نوح ہوں، میں ابراہیم ہوں، میں اسحاق
ہوں، میں یعقوب ہوں، میں یوسف ہوں، میں موسیٰ ہوں، میں داؤد ہوں، میں عیسیٰ ہوں اور آنحضرت ﷺ کے نام کا مظہر اتم ہوں۔ یوں ظلی طور پر میں محمد اور احمد ہوں۔
(حقیقۃ الوحی ص ٧٢، خزائن ج ٢٢ ص ٧٦، نزول المسیح ص ٤ حاشیہ، خزائن ج ١٨ ص ٣٨٢)
ایک اور مقام پر مرزا قادیانی گویا ہوئے
منم محمد و احمد کہ مجتبیٰ باشد
١٥
- ......٢ محمد میں اور ہمارے میں بڑا فرق ہے۔ کیونکہ مجھے تو ہر ایک وقت خدا کی
تائید اور مدد مل رہی ہے۔
(تریاق القلوب ص ٣، خزائن ج ١٥ ص ١٣٣)
- ......٣ مرزا قادیانی کی محفل میں ان کے ایک امتی (اکمل گولیکے) نے یہ شعر
پڑھا اور مرزا قادیانی کی باچھیں کھل گئیں۔
اور آگے سے بڑھ کر ہیں اپنی شان میں
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل
غلام احمد کو دیکھے قادیاں میں
(اخبار پیغام صلح لاہور مورخہ ١٤؍مارچ ١٩١٦ء، اخبار البدر ج ٢ نمبر ٤٣ ص ١٤)
پوری امت نے مرزا قادیانی اور اس کی امت کو کافر قرار دے دیا
- ......١ ١٩٥٣ء میں پاکستان میں قادیانیوں کو کافر قرار دلوانے کے ضمن میں ایک
ملک گیر تحریک چلی جس میں ہزاروں مسلمانوں نے شہید ہوکر اپنے خون سے تحفظ ختم نبوت کے گلستان کی آبیاری کی۔ لیکن مسئلہ حل نہ ہوا۔ اس تحریک سے مسلمانان عالم میں عقیدہ ختم نبوت کے متعلق شعور بیدار ہوا۔
- ......٢ مصر کے صدر جمال عبدالناصر مرحوم نے اپنے دور حکومت میں مصر کے
اندر کمیونسٹ اور قادیانیوں پر پابندی عائد کر دی۔ جس کی وجہ قادیانیوں کی اسرائیل ایجنٹی کا ثابت ہونا اور تل ابیب میں قادیانی مشن کے ہیڈ کوارٹر کا موجود ہونا تھی۔
- ......٣ رابطہ عالم اسلامی مکہ مکرمہ نے اپنے ایک بھر پور اجلاس میں جس میں تمام
دنیا سے عموماً اور عالم اسلام سے خصوصاً علماء کرام نے شرکت کی۔ مرزائیوں کو کافر قرار دے دیا اور حرمین شریفین میں ان کے داخلہ پر مکمل پابندی عائد کر دی اور عالم اسلام کے تمام سربراہوں اور علماء سے اپیل کی کہ وہ اس فرقہ کو اپنے ملک میں کافر اور دائرہ اسلام سے خارج قرار دلوائیں۔
- ......٤ ١٩٧٤ء میں پاکستان میں مسلمانوں کے تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام
نے قادیانیوں کو دائرہ اسلام سے خارج اور کافر قرار دلوانے کے لئے ایک بھر پور تحریک چلائی۔ جس پر اس وقت کی قومی اسمبلی میں مکمل بحث و تمحیص اور غور و خوض کے بعد ٧؍ستمبر ١٩٧٤ء کو حکومت پاکستان نے قادیانیوں کو کافر قرار دے دیا۔
١٦
- ٥.......مختلف اسلامی ملکوں نے بھی پاکستان کی تقلید کرتے ہوئے قادیانیوں کو
کافر قرار دے دیا۔
- ٦.......١٩٨٤ء میں آئین پاکستان میں بعض ترامیم پر ملک میں مختلف طبقات کی
طرف سے احتجاج ہوا کہ ان ترامیم سے قادیانیوں کو فائدہ نہ پہنچے۔ صدر مملکت پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق نے اپنی تقریر میں اور وزیر اطلاعات جناب راجہ ظفر الحق نے مجلس شوریٰ میں غیر مبہم الفاظ میں اعلان کیا کہ: ”قادیانی کافر تھے، کافر ہیں اور کافر ہی رہیں گے۔“ صدر مملکت نے شکوک اور شبہات کے ازالہ اور قانونی سقم کو دور کرنے کے لئے نیا آرڈیننس بھی نافذ کر دیا گیا۔ جس سے ١٩٧٣ء کے آئین میں قادیانیوں کے کافر قرار دینے والے قانون کو تحفظ بھی مل گیا۔
- ٧....... اگست و ستمبر ١٩٨٥ء میں جنوبی افریقہ کے دارالخلافہ کیپ ٹاؤن کی ایک
انگریز عدالت میں قادیانیوں کے لاہوری گروپ نے اپنے مسلمان ہونے کا دعویٰ دائر کیا۔ جس پر انگلستان سے بھی علماء کا ایک وفد علامہ خالد محمود پی۔ ایچ ۔ ڈی کی قیادت میں اس مقدمہ کے لئے پیش ہوا۔ اسی طرح پاکستان سے بھی آٹھ علماء اور وکلاء پر مشتمل ایک وفد اس مقدمہ کی پیروی کے لئے کیپ ٹاؤن گیا۔ الحمد للہ! ستمبر ١٩٨٥ء کو کیپ ٹاؤن کی انگریز عدالت نے بھی مقدمہ کی مکمل سماعت کے بعد قادیانیوں کی تمام قسموں (احمدیوں، لاہوریوں) کو کافر اور دائرہ اسلام سے خارج قرار دے دیا۔
مسئلہ ختم نبوت کے تقاضے
ختم نبوت کے عظیم عقیدے کے تحفظ کے لئے خصوصاً سربراہان ممالک اسلامیہ عالم اسلام کے حکام اور علماء کرام کو سختی سے قادیانیوں کی کاروائیوں پر کڑی نظر رکھنی چاہئے اور انبیاء، خلفاء، صحابہ، امہات المؤمنین بنات النبیؐ، جنت المعلیٰ، جنت البقیع کے مقدس ناموں کے استعمال سے قادیانیوں کو سختی سے منع کیا جائے اور ان کی عبادت گاہوں کا نام مساجد نہ رکھنے دیا جائے۔ ان کی تفاسیر قرآن کو حکومت پاکستان نے پہلے ہی ضبط کر کے مستحسن اقدام کیا ہے۔ آئندہ بھی اس فرقہ کو اسلام کے نام پر کوئی لٹریچر شائع نہ کرنے دیں۔ جیسا کہ الحمد للہ! عمل ہو رہا ہے۔ مردم شماری اور شناختی کارڈوں میں مسلمانوں کی متعین پوسٹوں پر ان کو فائز نہ ہونے دیں۔ کافر اقلیتوں میں قادیانیت کے خانہ کا ہر اسلامی مملکت اپنے کاغذات میں اضافہ کرے۔
عقیدہ ختم نبوت کے ماننے کی حکمتیں اور نہ ماننے کے نقصانات
- ١.......اسلام پوری انسانیت کے لئے کامل و مکمل دین ہے اور اس حقیقت کو
١٧
مسلمانوں کے علاوہ دنیا کے انصاف پسند غیر مسلموں نے بھی قبول کر لیا ہے۔ دین کی تکمیل کے بعد نبوت کا جاری رہنا اور شریعت کا مسلسل نازل ہونا عبث اور فضول اور لغو کام ہوگا۔ اللہ رب العالمین کی ذات سے یہ بات محال ہے کہ وہ معاذ اللہ اپنے بندوں کے ساتھ عبث مذاق کرے۔ اس لحاظ سے عقیدہ ختم نبوت میں خلل دراصل اللہ حکیم و خبیر کی حکمت میں عبث و فضول کرنے کے مترادف ہے اور اسلام کے دعویٰ کمال کی تکذیب ہوگی۔ لہٰذا اسلام کو ماننے کے لئے ختم نبوت پر ایمان لانا ضروری ہے۔
- ......٢ خاتم الانبیاء والمرسلین حضرت محمد رسول اللہ ﷺ مصدق الرسل اور مصدق
الرسل بھی ہیں۔ یعنی تمام رسولوں نے آپ کی تصدیق فرمائی۔ اس لئے اگر آپ کی رسالت کی تکذیب کی جائے تو یہ صرف آپ کی تکذیب نہ ہوگی۔ بلکہ تمام انبیاء ورسل کی تکذیب ہوگی اور آپ کی نبوت ورسالت کا تسلیم کرنا تمام انبیاء ورسل کی رسالت کو تسلیم کرنے کے مترادف ہوگی۔
- ......٣ جھوٹے مدعیان نبوت یا تو اقتدار کی ہوس یا زر طلبی اور سب سے بڑی بات
غیر ملکی استحصال اور استعماری طاقت جو امت مسلمہ کو کمزور کرنا چاہتی ہے اس کے ایما پر اپنی نبوتوں کا ڈھونگ رچاتے رہے ہیں۔ مسیلمہ کذاب نے حضور ﷺ سے اقتدار میں حصہ اپنی جھوٹی نبوت کے عوض طلب کیا تھا۔ جس کا آپ نے بڑی شدت سے رد فرمایا۔
اسی طرح مرزا قادیانی نے اپنی تحریروں میں بار بار خود اعتراف کیا کہ میری نبوت سرکار برطانیہ خصوصاً ملکہ وکٹوریہ کی عنایتوں کی مرہون منت ہے اور بعض مقامات پر مرزا قادیانی نے حکومت برطانیہ کے اشارے پر جہاد کو حرام قرار دینے کی وحی بھی سنائی اور تحریک بھی چلائی تاکہ برطانوی استعمار سے مسلمان کبھی آزاد نہ ہوسکیں۔ پس ثابت ہوا کہ جعلی نبوتیں وہ بیرونی ممالک جو اسلام اور مسلمانوں سے دشمنی رکھتے ہیں۔ مسلم قوم اور مسلمان ممالک کو کمزور کرنے کے لئے مسلم ممالک میں بنانے کی سعی نامشکور کرتے ہیں۔ ایسی نبوتوں کا تسلیم کرنا اور عقیدہ ختم نبوت میں خلل سے بیرونی سازشوں اور دشمنان دین کے ناپاک ارادوں کی حوصلہ افزائی اور مسلم ملک اور مسلم قوم سے دشمنی کے مترادف ہوگی۔
اللہ تبارک و تعالیٰ سے دعاء ہے کہ وہ تمام انسانیت کو حضور ﷺ کی ختم نبوت کے تقاضے سمجھنے اور قبول کرنے کی توفیق عطاء فرمائے اور امت مسلمہ کو اس عقیدے پر ثابت قدمی عطاء فرمائے ہوئے اس عقیدے کے حقوق کما حقہ ادا کرنے کی توفیق عطاء فرمائے۔ آمین!
”وآخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمين“
١٨
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں
یہ ہے
قادیانی مذہب
حضرت مولانا محمد عبدالقادر آزادؒ
بسم الله الرحمن الرحیم!
تمام تعریفیں صرف اللہ ہی کے لئے ہیں جو سارے جہانوں کا مالک ہے اور حق شناسوں کے لئے انعام خداوندی ہے اور درود و سلام تمام و کمال سید المرسلین و خاتم النبیین پر اور ان کے طیب و طاہر آل و اولاد اور صحابہ اور ان پر جنہوں نے ان کا راستہ اختیار کیا اور ان کے نقش قدم پر چلے۔ قیامت کے دن تک۔
قادیانی مذہب (جو فرقہ احمدیہ کے نام سے بھی مشہور ہے) ایک جدید فرقہ ہے۔ اس کی بنیاد ہندوستان میں اس دوران پڑی جب مسلمان اس برصغیر میں برٹش حکومت کے جوئے کو اپنے ملک سے اکھاڑ پھینکنے کا تہیہ کئے ہوئے تھے۔ تب انگریزی حاکموں کو مسلمانوں کو تقسیم کرنے اور ان کے آتشیں جوش کو ٹھنڈا کرنے کا سب سے زیادہ مؤثر ذریعہ یہ نظر آیا کہ غلام احمد قادیانی نامی ایک شخص کو جس کی پیدائش ایک مسلمان خاندان میں ہوئی تھی۔ ایک ایسے مذہب کا اعلان کرنے کی طرف متوجہ کریں جو اجماع ”للمسلمین“ کے بالکل خلاف ہو۔ جس کے ذریعہ اسلام کے اصولوں کا بطلان کیا جاسکے اور ان باتوں سے انکار کیا جائے جو اس کے علم میں اس مذہب کا ہی لازمی حصہ تھیں۔
اس نے دعویٰ کیا کہ وحی کا سلسلہ منقطع نہیں ہوا تھا اور یہ کہ وہ خدا کی طرف سے جہاد کو موقوف کرنے کے لئے بھیجا گیا تھا اور انگریز حاکموں کے ساتھ جو اس کے بیان کے مطابق، ارضِ ہند پر خدا کی رحمت کے ظہور کے طور پر بھیجے گئے تھے۔ صلح کرنے کے غرض کی دعوت دینے کے لئے مامور کیا گیا تھا۔
غلام احمد قادیانی کون ہے؟
مرزا قادیانی نے اپنی کتاب استفتاء جو ١٣٧٨ھ میں نصرت پریس ربوہ (چناب نگر) پاکستان میں طبع ہوئی کے (ص٧٧، خزائن ج٢٢ ص٧٠٣)، پر اپنا تعارف اس طرح کرایا ہے۔ ”میرا نام غلام احمد ابن مرزا غلام مرتضیٰ ہے اور مرزا غلام مرتضیٰ مرزا عطا محمد کا بیٹا تھا۔“ اسی صفحہ پر وہ اپنے بارے میں کہتا ہے: ”اور میں نے اپنے والد سے سنا ہے کہ ہمارے آباؤ اجداد مغلِیہ نسل سے تھے۔ مگر خدا نے مجھ پر وحی بھیجی کہ وہ ایرانی قوم سے تھے نہ کہ ترکی قوم سے۔“ اس کے بعد کہتا ہے: ”میرے رب نے مجھے خبر دی ہے کہ میرے اسلاف میں سے کچھ عورتیں بنی فاطمہ میں سے تھیں۔“ (ص٧٨، خزائن ج٢٢ ص٧٠٤) پر وہ کہتا ہے: ”اور میں نے اپنے والد سے سنا ہے اور ان کے سوانح میں پڑھا ہے کہ ہندوستان میں آنے سے پہلے وہ لوگ سمرقند میں رہا کرتے تھے۔“
٢
مرزا غلام احمد قادیانی ١٨٣٩ء اور یا شاید ١٨٤٠ء میں ہندوستان میں پنجاب کے موضع قادیان میں پیدا ہوا۔ بچپن میں اس نے تھوڑی سی فارسی پڑھی اور کچھ صرف ونحو کا مطالعہ کیا۔ اس نے تھوڑی بہت طب بھی پڑھی۔ لیکن بیماریوں کی وجہ سے جو بچپن سے اس کے ساتھ لگی ہوئی تھیں اور جن میں قادیانی انسائیکلو پیڈیا کے مطابق مالنخولیا (جنون کی ایک قسم) بھی شامل تھا۔ وہ اپنی تعلیم مکمل نہ کر سکا۔
سیالکوٹ کو منتقلی
وہ نوجوان ہی تھا کہ ایک دن اسے اس کے گھر والوں نے اپنے دادا کی پنشن وصول کرلانے کے لئے بھیجا۔ جو انگریزوں نے اس کی انجام کردہ خدمات کے صلے میں اس کے لئے منظور کی تھی۔ اس کام کے لئے جاتے ہوئے اس کا ایک دوست امام الدین بھی مرزا غلام احمد قادیانی کے ساتھ ہو گیا۔ پنشن کا روپیہ وصول کرنے کے بعد مرزا قادیانی کو اس کے دوست امام الدین نے پھسلایا کہ قادیان سے باہر کچھ دیر موج اڑائی جائے۔ مرزا قادیانی اس کے جھانسے میں آ گیا اور پنشن کے روپے تھوڑی ہی دیر میں اڑا دیئے گئے۔ روپے ختم ہونے پر اس کے دوست امام الدین نے اپنی راہ لی اور مرزا قادیانی کو گھر والوں کا سامنا کرنے سے بچنے کے لئے گھر سے بھاگنا پڑا۔ چنانچہ وہ سیالکوٹ چلا گیا جو مغربی پاکستان کے پنجاب کے علاقہ میں ایک شہر ہے۔ سیالکوٹ میں اسے کام کرنا پڑا تو وہ ایک کچہری کے باہر بیٹھ کر عوامی محرر (نقل نویس) کا کام کرنے لگا۔ جہاں وہ تقریباً ١٥/ روپے ماہوار کے برائے نام معاوضہ پر عریضوں کی نقلیں تیار کیا کرتا۔
اس کے سیالکوٹ کے قیام کے دوران وہاں ایک شام کا اسکول قائم کیا گیا۔ جہاں انگریزی پڑھائی جاتی تھی۔ مرزا قادیانی نے بھی اس اسکول میں داخلہ لے لیا اور وہاں اس نے بقول خود ایک یا دو انگریزی کتابیں پڑھیں۔ پھر وہ قانون کے ایک امتحان میں بیٹھا، لیکن فیل ہو گیا۔
پھر اس نے ٤ سال بعد سیالکوٹ میں اپنا کام چھوڑ دیا اور اپنے باپ کے ساتھ کام کرنے چلا گیا جو زراعت کرتا تھا۔ یہی وہ زمانہ ہے جب اس نے اسلام پر مباحثے منعقد کرنے شروع کئے اور بہانہ کیا کہ وہ ایک ضخیم کتاب کی جس کا نام اس نے براہین احمدیہ رکھا تھا تالیف کرے گا۔ جس میں وہ اسلام پر اعتراضات اٹھائے گا۔ تب ہی سے لوگ اسے جاننے لگے۔
حکیم نور الدین بھیروی
سیالکوٹ میں قیام کے دوران مرزا قادیانی کا واسطہ حکیم نورالدین بھیروی نامی ایک
٣
نیچری شخصیت سے پڑا ۔ نور الدین کی پیدائش ١٢٥٨ھ مطابق ١٨٤١ء بھیرہ ضلع شاہ پور میں ہوئی ۔ جو اب مغربی پاکستان کے علاقہ پنجاب میں سرگودھا کہلاتا ہے۔ اس نے فارسی زبان خطاطی ، ابتدائی عربی کی تعلیم حاصل کی ۔ ١٨٥٨ء میں اس کا تقرر راولپنڈی کے سرکاری اسکول میں فارسی کے معلم کے طور پر ہو گیا ۔ اس کے بعد ایک پرائمری اسکول میں ہیڈ ماسٹر بنا دیا گیا ۔ چار سال تک اس جگہ پر کام کرنے کے بعد اس نے ملازمت سے استعفیٰ دے دیا اور اپنا پورا وقت مطالعہ میں صرف کرنے لگا ۔ پھر اس نے رامپور سے لکھنؤ کا سفر کیا ۔ جہاں اس نے حکیم علی حسین سے طب قدیم پڑھی ۔ علی حسین کی معیت میں اس نے دو سال گزارے ۔ پھر وہ حجاز چلا گیا ۔ جہاں مدینہ منورہ میں اس کا رابطہ شیخ رحمت اللہ ہندی اور شیخ عبد الغنی مجددی سے ہوا ۔ اس کے بعد وہ اپنے وطن واپس آ گیا ۔ جہاں اس نے مناظرہ بازی میں کافی شہرت حاصل کی ۔ پھر اس کا تقرر جنوبی کشمیر کے صوبہ جموں میں بطور طبیب ہو گیا ۔ ١٨٩٢ء میں اسے اس عہدہ سے برطرف کر دیا گیا ۔ جموں میں قیام کے دوران اس نے مرزا غلام احمد قادیانی کے بارے میں سنا۔ پھر وہ گہرے دوست بن گئے ۔ چنانچہ جب مرزا قادیانی نے براہین احمدیہ لکھنی شروع کی تو حکیم نورالدین نے تصدیق براہین احمدیہ لکھی ۔
پھر حکیم نے مرزا قادیانی کو نبوت کا دعویٰ کرنے کی ترغیب دینی شروع کی ۔ مرزا قادیانی کے بیٹے کی کتاب (سیرت المہدی ج ١ ص ٩٩ روایت ١٠٩) میں حکیم نے لکھا کہ اس نے کہا تھا : ” اگر اس شخص (یعنی مرزا غلام احمد قادیانی) نے نبی اور صاحب شریعت ہونے کا دعویٰ کیا اور قرآن کی شریعت کو منسوخ کر دیا تو میں اس کے اس فعل کی مخالفت نہیں کروں گا ۔“
اور جب مرزا غلام احمد قادیانی قادیان گیا تو حکیم بھی اس کے پاس وہیں پہنچ گیا اور لوگوں کی نگاہ میں مرزا قادیانی کا سب سے اہم پیرو بن گیا۔ ابتداء میں مرزا قادیانی نے مجدد ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ لیکن بعد میں اس نے کہا کہ وہ مہدی موعود تھا۔ حکیم نورالدین نے اسے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کرنے کے لئے آمادہ کیا اور ١٨٩١ء میں مرزا قادیانی نے دعویٰ کر دیا کہ وہ مسیح موعود تھا اور لکھا : ” درحقیقت مجھے اسی طرح بھیجا گیا۔ جیسے کہ موسیٰ کلیم اللہ کے بعد عیسیٰ کو بھیجا گیا تھا اور جب کلیم ثانی یعنی محمدؐ آئے تو اس نبی کے بعد جو اپنے اعمال میں موسیٰ سے مشابہت رکھتے تھے ۔ ایک ایسے نبی کو آنا تھا جو اپنی قوت ، طبیعت وخصلت میں عیسیٰ سے مماثلت رکھتا ہو ۔ آخر الذکر کا نزول اتنی مدت گزرنے کے بعد ہونا چاہئے جو موسیٰ اور عیسیٰ ابن مریم کے درمیانی فصل کے برابر ہو۔ یعنی چودھویں صدی ہجری میں ۔“
٤
نیچری شخصیت سے پڑا۔ نورالدین کی پیدائش ١٢٥٨ھ مطابق ١٨٤١ء بھیرہ ضلع شاہ پور میں ہوئی۔ جو اب مغربی پاکستان کے علاقہ پنجاب میں سرگودھا کہلاتا ہے۔ اس نے فارسی زبان خطاطی، ابتدائی عربی کی تعلیم حاصل کی۔ ١٨٥٨ء میں اس کا تقرر راولپنڈی کے سرکاری اسکول میں فارسی کے معلم کے طور پر ہوگیا۔ اس کے بعد ایک پرائمری اسکول میں ہیڈ ماسٹر بنا دیا گیا۔ چار سال تک اس جگہ پر کام کرنے کے بعد اس نے ملازمت سے استعفیٰ دے دیا اور اپنا پورا وقت مطالعہ میں صرف کرنے لگا۔ پھر اس نے رامپور سے لکھنؤ کا سفر کیا۔ جہاں اس نے حکیم علی حسین سے طب قدیم پڑھی۔ علی حسین کی معیت میں اس نے دو سال گذارے۔ پھر وہ حجاز چلا گیا۔ جہاں مدینہ منورہ میں اس کا رابطہ شیخ رحمت اللہ ہندی اور شیخ عبدالغنی مجددی سے ہوا۔ اس کے بعد وہ اپنے وطن واپس آ گیا۔ جہاں اس نے مناظرہ بازی میں کافی شہرت حاصل کی۔ پھر اس کا تقرر جنوبی کشمیر کے صوبہ جموں میں بطور طبیب ہو گیا۔ ١٨٩٢ء میں اسے اس عہدہ سے برطرف کر دیا گیا۔ جموں میں قیام کے دوران اس نے مرزا غلام احمد قادیانی کے بارے میں سنا۔ پھر وہ گہرے دوست بن گئے۔ چنانچہ جب مرزا قادیانی نے براہین احمدیہ لکھنی شروع کی تو حکیم نور الدین نے تصدیق براہین احمدیہ لکھی۔
پھر حکیم نے مرزا قادیانی کو نبوت کا دعویٰ کرنے کی ترغیب دینی شروع کی۔ مرزا قادیانی کے بیٹے کی کتاب (سیرت المہدی ج ١ ص ٩٩ روایت ١٠٩) میں حکیم نے لکھا کہ اس نے کہا تھا: ”اگر اس شخص (یعنی مرزا غلام احمد قادیانی) نے نبی اور صاحب شریعت ہونے کا دعویٰ کیا اور قرآن کی شریعت کو منسوخ کر دیا تو میں اس کے اس فعل کی مخالفت نہیں کروں گا۔“
اور جب مرزا غلام احمد قادیانی قادیان گیا تو حکیم بھی اس کے پاس وہیں پہنچ گیا اور لوگوں کی نگاہ میں مرزا قادیانی کا سب سے اہم پیرو بن گیا۔ ابتداء میں مرزا قادیانی نے مجدد ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ لیکن بعد میں اس نے کہا کہ وہ مہدی موعود تھا۔ حکیم نور الدین نے اسے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کرنے کے لئے آمادہ کیا اور ١٨٩١ء میں مرزا قادیانی نے دعویٰ کر دیا کہ وہ مسیح موعود تھا اور لکھا: ”درحقیقت مجھے اسی طرح بھیجا گیا۔ جیسے کہ موسیٰ کلیم اللہ کے بعد عیسیٰ کو بھیجا گیا تھا اور جب کلیم ثانی یعنی محمدؐ آئے تو اس نبی کے بعد جو اپنے اعمال میں موسیٰ سے مشابہت رکھتے تھے۔ ایک ایسے نبی کو آنا تھا جو اپنی قوت، طبیعت وخصلت میں عیسیٰ سے مماثلت رکھتا ہو۔ آخر الذکر کا نزول اتنی مدت گزرنے کے بعد ہونا چاہئے جو موسیٰ اور عیسیٰ ابن مریم کے درمیانی فصل کے برابر ہو۔ یعنی چودھویں صدی ہجری میں۔“
٤
پھر وہ آگے کہتا ہے: ”میں حقیقتاً مسیح کی فطرت سے مماثلت رکھتا ہوں اور اسی فطری مماثلت کی بناء پر مجھ عاجز کو مسیح کے نام سے عیسائی فرقہ کو مٹانے کیلئے بھیجا گیا تھا۔ کیونکہ مجھے صلیب کو توڑنے اور خنازیر کو قتل کرنے کے لئے بھیجا گیا تھا۔ میں آسمان سے فرشتوں کی معیت میں نازل ہوا جو میرے دائیں اور بائیں تھے۔“
(فتح اسلام ص ١٧، خزائن ج ٣ ص ١١)
جیسا کہ خود مرزا قادیانی نے تصنیف (ازالہ اوہام ص ٦٦، خزائن ج ٣ ص ١٣٥) میں اعلان کیا۔ نور الدین نے درپردہ کہا کہ دمشق سے جہاں مسیح کا نزول ہونا تھا، شام کا مشہور شہر مراد نہیں تھا۔ بلکہ اس سے ایک ایسا گاؤں مراد تھا جہاں یزیدی فطرت کے لوگ سکونت رکھتے تھے۔
پھر وہ کہتا ہے۔ قادیان کا گاؤں دمشق جیسا ہی ہے۔ اس لئے اس نے ایک عظیم امر کے لئے مجھے اس دمشق یعنی قادیان میں اس مسجد کے ایک سفید مینار کے مشرقی کنارے پر نازل کیا۔ جو داخل ہونے والے ہر شخص کے لئے جائے امان ہے۔ (اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے اپنے منحرف پیروؤں کے لئے قادیان میں جو مسجد بنائی تھی وہ اس لئے تھی کہ جس طرح مسلمان مسجد الحرام کے حج کے لئے جاتے ہیں۔ اسی طرح اس مسجد کے حج کے لئے آئیں اور جس میں اس نے ایک سفید مینار تعمیر کیا تھا تاکہ لوگوں کو اس کے ذریعہ یہ باور کرایا جاسکے کہ مسیح کا (یعنی خدا کا) نزول اسی مینارہ پر ہوگا)
اس کا نبی ہونے کا دعویٰ
مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے گمراہ پیروؤں سے ایک شخص کو قادیان میں اپنی مسجد کا پیش امام مقرر کیا تھا۔ جس کا نام عبدالکریم تھا۔ جیسا کہ خود مرزا قادیانی نے بتایا۔ عبدالکریم اس کے دو بازوؤں میں سے ایک تھا۔ جب کہ حکیم نورالدین دوسرا۔
١٩٠٠ء میں عبدالکریم نے ایک بار جمعہ کے خطبہ کے دوران مرزا قادیانی کی موجودگی میں کہا کہ مرزا قادیانی کو خدا کی طرف سے بھیجا گیا ہے اور اس پر ایمان لانا واجب ہے اور وہ شخص جو کہ دوسرے نبیوں پر ایمان رکھتا ہے مگر مرزا قادیانی پر نہیں۔ وہ در حقیقت نبیوں میں تفریق کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے قول کی تردید کرتا ہے۔ جس نے مومنین کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے: ”ہم اس کے نبیوں میں سے کسی میں بھی تفریق نہیں کرتے۔“
اس خطبہ نے مرزا قادیانی کے پیروؤں میں باہمی نزاع پیدا کر دیا جو اس کے مجدد، مہدی اور مسیح موعود ہونے کا عقیدہ رکھتے تھے۔ لہٰذا جب انہوں نے عبدالکریم پر تنقید کی تو اس نے اگلے جمعہ کو ایک اور خطبہ دیا اور مرزا قادیانی کی طرف متوجہ ہو کر کہا کہ میرا عقیدہ ہے کہ آپ اللہ
٥
کے رسول اور اس کے نبی ہیں۔ اگر میں غلط ہوں تو مجھے تنبیہ کیجئے اور نماز ختم ہونے کے بعد جب مرزا قادیانی جانے لگا تو عبدالکریم نے اسے روکا۔ اس پر مرزا قادیانی نے کہا: ”یہی میرا دین اور دعویٰ ہے۔“ پھر وہ گھر میں چلا گیا اور وہاں ہنگامہ ہونے لگا۔ جس میں عبدالکریم اور کچھ لوگ ملوث تھے جو شور مچا رہے تھے۔ شور سن کر مرزا قادیانی گھر سے باہر نکلا اور کہا اے ایمان والو، اپنی آواز نبی کی آواز سے بلند نہ کرو۔
(سیرۃ المہدی)
اس کا دعویٰ کہ نبوت کا دروازہ ابھی تک کھلا تھا
مرزا قادیانی نے واقعی کہا تھا کہ نبوت کا دروازہ ہنوز کھلا ہوا تھا۔ اس کا اظہار اس کے لڑکے محمود احمد نے جو قادیانیوں کا دوسرا خلیفہ تھا اپنی کتاب حقیقت النبوت کے ص ٢٢٨ پر اس طرح کیا تھا: ”روز روشن میں آفتاب کی طرح یہ واضح ہے کہ باب نبوت ابھی تک کھلا ہوا ہے۔“ اور (انوار خلافت ص٦٢) پر وہ کہتا ہے: ”حقیقتاً انہوں نے (یعنی مسلمانوں نے) کہا کہ خدا کے خزانے خالی ہو گئے ہیں اور ان کے ایسا کہنے کی وجہ یہ ہے کہ انہیں خدا کی صحیح قدر و قیمت کی سمجھ نہیں ہے۔ لیکن میں کہتا ہوں کہ بجائے صرف ایک کے ہزاروں نبی آئیں گے۔“ اسی کتاب کے (صفحہ ٦٥) پر وہ کہتا ہے: ”اگر کوئی شخص میری گردن کے دونوں طرف تیز تلواریں رکھ دے اور مجھ سے یہ کہنے کے لئے کہے کہ محمدؐ کے بعد اور کوئی نبی نہیں آئے گا تو میں یقیناً کہوں گا کہ وہ کاذب ہے۔ کیونکہ ایسا نہ صرف ممکن بلکہ قطعی ہے کہ ان کے بعد نبی آئیں گے۔“ (رسالہ تعلیم کے ص١٤) پر خود مرزا غلام احمد قادیانی کہتا ہے کہ: ”یہ ذرا بھی نہ سوچنا کہ وحی زمانہ پارینہ کا قصہ بن چکی ہے۔ جس کا آج کل کوئی وجود نہیں ہے۔ یا یہ کہ روح القدس کا نزول صرف پرانے زمانے میں ہی ہوتا تھا۔ آج کل نہیں۔ یقیناً اور حقیقتاً میں کہتا ہوں کہ ہر ایک دروازہ بند ہوسکتا ہے۔ مگر روح القدس کا دروازہ ہمیشہ کھلا رہے گا۔“
(رسالہ تعلیم ص٩) پر وہ کہتا ہے: ”یہ وہ ہی خدائے واحد تھا جس نے مجھ پر وحی نازل کی اور میری خاطر عظیم نشانیاں ظاہر کیں۔ وہ جس نے مجھے عہد حاضر کا مسیح موعود بنایا۔ اس کے سوا کوئی دوسرا خدا نہیں۔ نہ زمین پر نہ آسمان پر اور جو اس پر ایمان نہیں لائے گا اس کے حصہ میں بدقسمتی اور محرومیت آئے گی۔ مجھ پر حقیقت میں وحی نازل ہوتی ہے جو آفتاب سے زیادہ واضح اور صریح ہے۔“
اس کا دعویٰ کہ وہ نبی اور رسول ہے جس پر وحی نازل ہوتی ہے
مرزا غلام احمد قادیانی (مکتوب احمد ص٨٧، خزائن ج١١ ص٧٧) پر کہتا ہے: ”اس کی
٦
برکتوں میں سے ایک یہ ہے کہ اس نے مجھے ان ناموں سے مخاطب کیا۔ تم میری حضوری کے قابل ہو۔ میں نے تمہیں اپنے لئے انتخاب کیا۔“ اور اس نے کہا: ”جس نے تمہیں ایسے مرتبہ پر فائز کیا جو خلق کے لئے نہ معلوم ہے۔“ اور کہا: ”اے میرے احمد تم میری مراد ہو اور میرے ساتھ ہو۔ اللہ اپنے عرش سے تمہاری تعریف بیان کرتا ہے۔“ اس نے کہا: ”تم عیسیٰ ہو جس کا وقت ضائع نہیں ہوگا۔ تمہارے جیسا جوہر ضائع ہونے کے لئے نہیں ہوتا۔ تم نبیوں کے حلیہ میں اللہ کے جری ہو۔“ اس نے کہا: ”کہو مجھے حکم دیا گیا ہے اور میں ایمان لانے والوں میں سب سے اوّل ہوں۔“ اس نے کہا: ”ہمارے جوہر سے اور ہمارے حکم کے مطابق جائے پناہ تعمیر کرو۔ جو تیری اطاعت کے عہد کرتے ہیں۔ وہ درحقیقت اللہ کی اطاعت کا عہد کر رہے ہیں۔ خدا کا ہاتھ ان کے ہاتھوں کے اوپر ہے۔“ اس نے کہا: ”اللہ نے تمہیں دنیا پر صرف رحمت بنا کر بھیجا۔“ مرزا قادیانی کہتا ہے: ”اس کی برکتوں میں سے ایک یہ ہے کہ جب اس نے دیکھا کہ پادری حد سے زیادہ مفسد ہوگئے ہیں اور کہنے لگے ہیں کہ وہ ملک میں بلند مرتبوں پر پہنچ گئے ہیں تو اس نے ان کی سرکشی کے سیلاب اور تیرگی کے عروج پر مجھے بھیجا۔“ اس نے کہا: ”آج تم ہمارے ساتھ کھڑے ہو۔ طاقتور اور قابل اعتماد تم جلیل القدر حضوری سے آئے ہو۔“ مرزا قادیانی کہتا ہے: ”اس نے مجھے یہ کہتے ہوئے پکارا اور مجھے کلام کیا میں تمہیں ایک مفسدین کی قوم کی طرف بھیجتا ہوں۔ میں تمہیں لوگوں کا قائد بناتا ہوں اور تمہیں اپنا خلیفہ مقرر کرتا ہوں۔ عزت کی علامت کے طور پر اور اپنے دستور کے مطابق۔ جیسا کہ پہلے لوگوں کے ساتھ تھا۔“
مرزا قادیانی کہتا ہے: ”اس نے مجھے ان ناموں سے مخاطب کیا۔ میری نظر میں تم عیسیٰ ابن مریم کی مانند ہو اور تمہیں اس لئے بھیجا گیا تھا کہ تم اپنے رب الاکرم کے کئے ہوئے وعدہ کو پورا کرو۔ حقیقتاً اس کا وعدہ برقرار ہے اور وہ اصدق الصادقین ہے۔ اور اس نے مجھ سے کہا کہ اللہ کے نبی عیسیٰ کا انتقال ہو چکا تھا۔ انہیں اس دنیا سے اٹھا لیا گیا تھا اور وہ جاکر مردوں میں شامل ہو گئے تھے اور ان کا شمار ان میں نہیں تھا جو واپس آتے ہیں۔“
(مکتوب احمدیہ ص٨٠، خزائن ج١١ ص٨٠)
اس کتاب کے (ص١٨١، خزائن ج١١ ص١٨١) پر مرزا قادیانی کہتا ہے: ”خدا نے مجھے یہ کہتے ہوئے خوشخبری دی۔ اے احمد میں تمہاری تمام دعائیں قبول کروں۔ سوائے ان کے جو تمہارے شرکاء کے خلاف ہوں گی اور اس نے اتنی بے شمار دعائیں قبول کیں کہ جگہ کی کمی کے باعث ان کی فہرست اور تفصیل کا ذکر ہی کیا۔ اس جگہ ان کا خلاصہ بھی نہیں دیا جا سکتا۔ کیا تم اس معاملے میں میری تردید کر سکتے ہو؟ یا مجھ سے پھر سکتے ہو؟“
٧
اپنی کتاب (مواہب الرحمٰن ص٣، خزائن ج١٩ ص٢٢١) پر وہ کہتا ہے: ”میرا رب مجھ سے اوپر سے کلام کرتا ہے۔ وہ مجھے ٹھیک طرح سے تعلیم دیتا ہے اور اپنی رحمت کی علامت کے طور پر مجھ پر وحی نازل کرتا ہے۔ میں اس کی پیروی کرتا ہوں۔“
(استفتاء ص١٢، خزائن ج٢٢ ص٦٣٢) پر مرزا قادیانی کہتا ہے: ”میں خدا کی طرف سے بھیجا گیا ہوں۔“
اسی کتاب کے (ص١٧، خزائن ج٢٢ ص٦٣٧) پر وہ کہتا ہے: ”خدا نے میرا نام نبی رکھا۔“
اسی کتاب کے (ص٢٠، خزائن ج٢٢ ص٦٤١) پر وہ کہتا ہے: ”خدا نے مجھے اس صدی کے مجدد کے طور پر مذہب کی اصلاح کرنے، ملت کے چہرے کو روشن کرنے، صلیب کو توڑنے، عیسائیت کی آگ کو فرو کرنے اور ایسی شریعت کو جو تمام خلق کے لئے سودمند ہے۔ قائم کرنے، مفسد کی اصلاح کرنے اور جامد کو رواج دینے کے لئے بھیجا۔ میں مسیح موعود اور مہدی معہود ہوں۔ خدا نے مجھے وحی اور الہام سے سرفراز کیا اور اپنے مرسلین کرام کی طرح مجھ سے کلام کیا۔ اس نے اپنی ان نشانیوں کے ذریعہ جو تم دیکھتے ہو میری سچائی کی شہادت دی۔“
(ص٢٥،٢٦، خزائن ج٢٢ ص٦٤٦) پر مرزا قادیانی کہتا ہے: ”خدا نے مجھ پر وحی بھیجی اور کہا میں نے تمہارا انتخاب کیا اور تمہیں ترجیح دی۔ کہو مجھے حکم دیا گیا ہے اور میں ایمان لانے والوں میں سب سے پہلا ہوں۔ اس نے کہا کہ میں تمہیں اپنی توحید اور انفرادیت کے مرتبہ پر فائز کرتا ہوں۔ لہٰذا وقت آ گیا ہے کہ تم خود کو عوام الناس پر ظاہر کرو اور ان میں خود کو شہرت دو۔ جو ہر طرف سے آئیں گے۔ جن کو ہم بذریعہ الہام کہیں گے کہ وہ تمہاری پشت پناہی کریں۔ وہ ہر طرف سے آئیں گے۔ یہی میرے رب نے کہا ہے۔“
مرزا قادیانی نے (ص٢٧، خزائن ج٢٢ ص٦٤٨) پر بھی کہا: ”اور میرے پاس خدا کی تصدیقات ہیں۔“
(مسیح ہندوستان میں ص١٣، خزائن ج١٥ ص١٣ ملخص) پر مرزا قادیانی کہتا ہے: ”انتہائی ملامت اور صبر کے ساتھ لوگوں کو سچے خدا کی طرف رہبری کرنے کے لئے اور اسلام کے اخلاقی معیار کی دوبارہ تعمیر کے لئے اس نے مجھے بھیجا۔ اس نے مجھے ان نشانیوں سے عزت بخشی۔ جو حق کے متلاشیوں کی تسلی و تشفی اور تیقن کے لئے وقف ہوتی ہیں۔ اس نے حقیقت میں مجھے معجزے دکھائے اور مجھ پر ایسے پوشیدہ امور اور مستقبل کے راز ظاہر کئے جو سچے علم کی بنیاد کی تشکیل کرتے
٨
ہیں ۔ اس نے مجھے ایسے علوم اور معلومات سے سرفراز کیا جن کی تاریکیوں کے بیٹے اور باطل کے حمایتی مخالفت کرتے ہیں ۔“
(حمامة البشریٰ ص ٦٠، خزائن ج ٧ ص ٢٢٦، ٢٢٧) پر مرزا قادیانی کہتا ہے: ”یہی وجہ ہے جس کے سبب اللہ تعالیٰ نے مجھے انہیں حالات میں بھیجا۔ جن حالات میں مسیح کو بھیجا تھا۔ اس نے دیکھا کہ میرا زمانہ اسی کے زمانے جیسا تھا۔ اس نے ایک قوم دیکھی جو اسی کی قوم جیسی تھی۔ اس نے تلے کے اوپر تلا دیکھا۔ اس لئے اس نے عذاب بھیجنے سے قبل مجھے بھیجا۔ تاکہ ایک قوم کو تنبیہ کردوں۔ چونکہ ان کے آباؤ اجداد متنبہ نہیں کئے گئے تھے اور تاکہ بدکاروں کا راستہ صاف ہو جائے ۔“
(تحفہ بغداد ص ١١، خزائن ج ٧ ص ١٤) پر مرزا قادیانی کہتا ہے: ”میں قسم کھاتا ہوں کہ میں جو عالی خاندان سے ہوں ۔ فی الحقیقت خدا کی طرف سے بھیجا گیا ہوں ۔“
(خطبہ الہامیہ ص ٢٠، خزائن ج ١٦ ص ٥٣) پر وہ کہتا ہے: ”مجھے آب انور سے غسل دیا گیا اور تمام داغوں اور ناپاکیوں سے چشمہ مقدس میں پاک کیا گیا اور مجھے میرے رب نے احمد کہہ کر پکارا سو میری تعریف کرو اور بے عزتی نہ کرو ۔“
(ص ٢٧، خزائن ج ١٦ ص ٦١) پر وہ کہتا ہے: ”اے لوگو! میں محمدی مسیح ہوں ، میں احمد مہدی ہوں اور میرا رب میری پیدائش کے دن سے مجھے قبر میں لٹائے جانے کے دن تک میرے ساتھ ہے۔ مجھے فنا کر دینے والی آگ اور آب زلال دیا گیا۔ میں ایک جنوبی ستارہ ہوں اور روحانی بارش ہوں ۔“
(ص ١٦٧، خزائن ج ١٦ ص ٢٥٤) پر وہ یہ بھی کہتا ہے: ”اسی وجہ سے مجھے خدا نے آدم اور مسیح کہہ کر پکارا۔ جس نے میرا خیال ہے مریم کی تخلیق کی اور احمد ، جو فضیلت میں سب سے آگے تھا یہ اس نے اس لئے کیا تاکہ ظاہر کر سکے کہ اس نے میری روح میں نبیوں کی تمام خصوصیات جمع کر دی تھیں ۔“
(البدر مورخہ ٥؍ مارچ ١٩٠٨ء، ملفوظات ج ١٠ ص ١٢٧) میں ایک مضمون کے تحت جس کا عنوان تھا ”ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم رسول و نبی ہیں“ اس نے لکھا: ”اللہ کے حکم کے مطابق میں اس کا نبی ہوں اگر میں اس سے انکار کرتا ہوں تو میں گنہگار ہوں۔ اگر خدا مجھے اپنا نبی کہتا ہے تو میں اس کی نفی کیسے کر سکتا ہوں۔ میں اس حکم کی تعمیل اس وقت تک کرتا رہوں گا جب تک دنیا سے کنارہ نہ کر لوں ۔“ (دیکھئے مسیح موعود کا خط بنام اخبار عام لاہور ، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٩٧) یہ خط ص
٩
موعود نے اپنے انتقال سے صرف تین دن پہلے لکھا تھا۔ ٢٣ مئی ١٩٠٨ء کو اس نے یہ خط لکھا اور ٢٦ مئی ١٩٠٨ء کو اس کے انتقال کے دن اس اخبار میں شائع ہوا۔
(کلمۃ الفصل (قولِ فیصل) مصنفہ بشیر احمد قادیانی اور Review Of Religions نمبر ٣ ج ٣ ص ١١) پر شائع شدہ میں یہ عبارت شامل ہے۔ ”اسلامی شریعت نے ہمیں نبی کا جو مطلب بتایا ہے وہ اس کی اجازت نہیں دیتا کہ مسیح موعود استعارتاً نبی ہو۔ بلکہ اس کا سچا نبی ہونا ضروری ہے۔“
(حقیقت النبوۃ ص ٧٤) ”نیز اپنے منشور میں بفرقہ احمدیہ میں داخلہ کی شرائط کے عنوان سے اپنے ساتھیوں سے کہتا ہے۔ مسیح موعود (یعنی غلام احمد ) اللہ تعالیٰ کے نبی تھے اور اللہ کے نبی کا انکار سخت گستاخی ہے جو ایمان سے محرومی کی طرف لے جاسکتی ہے۔“
بعض دوسرے نبیوں پر اپنی فضیلت کا غرور اور بحث
مرزا غلام احمد قادیانی پر غرور اور تکبر بری طرح چھایا ہوا تھا۔ اس لئے اس نے دل کھول کر اپنی تعریف کی۔ اس نے اپنی کتاب (حقیقت الوحی ص ٨٩، خزائن ج ٢٢ ص ٨٩) میں مندرجہ ذیل عبارت کا حوالہ دیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ اس سے اس طرح خدا نے خطاب کیا: ”میرے لئے تم میری وحدانیت اور انفرادیت کے بمنزلہ ہو۔ میرے لئے تم بمنزلہ میرے عرش کے ہو۔ میرے لئے تم بمنزلہ میرے بیٹے کے ہو۔“
احمد رسول العالم الموعود، نامی ایک کتاب میں شامل ایک مضمون میں وہ کہتا ہے: ”حقیقت میں مجھے اللہ القدیر نے خبر دی ہے کہ اسلامی سلسلہ کا مسیح موسوی سلسلہ کے مسیح سے بہتر ہے۔ اسلامی سلسلہ کے مسیح سے اس کی مراد بذات خود ہے۔ اسی لئے غلام احمد عیسیٰ سے بہتر ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔ اس کے دعوؤں میں سے ایک اور یہ ہے کہ خدا نے یہ کہتے ہوئے اس سے کلام کیا۔ میں نے عیسیٰ کے جوہر سے تمہاری تخلیق کی اور تم اور عیسیٰ ایک ہی جوہر سے ہو اور ایک ہی ہو۔“
(حمامۃ البشریٰ) میں وہ کہتا ہے کہ وہ عیسیٰ سے بہتر ہے۔ رسالہ (تعلیم ص ٧) میں وہ کہتا ہے: ”اور یقینی طور سے جان لو کہ عیسیٰ کا انتقال ہو گیا ہے اور یہ کہ اس کا مقبرہ سرینگر، کشمیر میں محلہ خانیار میں واقع ہے۔ اللہ نے اس کی وفات کی خبر کتاب العزیز میں دی اور مجھے مسیح ناصری کی شان سے انکار نہیں۔ حالانکہ خدا نے مجھے خبر دی ہے کہ محمدی مسیح، مسیح ناصری سے بلند مرتبہ ہوگا۔ تاہم میں ان کا نہایت احترام کرتا ہوں کہ وہ امت موسوی میں خاتم الخلفاء تھے۔ جس طرح میں امت محمدی میں خاتم الخلفاء ہوں۔ جس طرح مسیح ناصری ملت موسوی کا مسیح موعود تھا۔ اسی طرح میں ملت اسلامیہ کا مسیح موعود ہوں۔“
١٠
وہ محمدؐ پر بھی افضلیت کا دعویٰ کرتا ہے۔ (حقیقت النبوۃ ص ٢٥٧) پر مصنف کہتا ہے:
”غلام احمد حقیقت میں بعض اولوالعزم رسولوں سے افضل تھے۔“
(الفضل ج ١٣ مورخہ ٢٩ اپریل ١٩٢٧ء) سے مندرجہ ذیل اقتباس پیش ہے: ”حقیقت میں انہیں بہت سے انبیاء پر فوقیت حاصل ہے اور وہ تمام انبیاء کرام سے افضل ہو سکتے ہیں۔“
اسی صحیفہ الفضل کی پانچویں جلد میں ہم پڑھتے ہیں: ”اصحاب محمدؐ اور مرزا غلام احمد قادیانی کے تلامذہ میں کوئی فرق نہیں۔ سوائے اس کے وہ بعث اول سے تعلق رکھتے تھے اور یہ بعث ثانی سے۔“
(شمارہ نمبر ٩٢، مورخہ ٢٨ مئی ١٩١٨ء)
اسی صحیفہ الفضل کی تیسری جلد میں ہم پڑھتے ہیں: ”مرزا محمد ہیں۔ وہ خدا کے قول کی تائید کرتا ہے۔ اس کا نام احمد ہے۔“
(انوار خلافت ص ٢١)
یہ کتاب یہاں تک کہتی ہے کہ مرزا قادیانی کو محمدؐ پر بھی افضلیت حاصل ہے۔ (خطبہ الہامیہ ص ١٧٧، خزائن ج ١٦ ص ٢٦٦) پر خود مرزا قادیانی کہتا ہے: ”محمد کی روحانیت نے عام وصف کے ساتھ پانچویں ہزارے کے دور میں اپنی تجلی دکھائی اور یہ روحانیت اپنی اجمالی صفات کے ساتھ اس ناکافی وقت میں غایت درجہ بلندی اور اپنے منتہا کو نہیں پہنچی تھی۔ پھر چھٹے ہزارے میں (یعنی مسیح موعود غلام احمد کے زمانے میں) اس روحانیت نے اپنے انتہائی عالی شان لباس میں اپنے بلند ترین مظاہر میں اپنی تجلی دکھائی۔“ اپنے رسالہ (اعجاز احمدی ص ٧١، خزائن ج ١٩ ص ١٨٣) میں وہ یہ اضافہ کرتا ہے: ”ان کے لئے یہ چاند کی روشنی گہنا گئی۔“
کیا تمہیں اس سے انکار ہے کہ میرے لئے چاند اور سورج ، دونوں کو گہن لگا۔
اس کا دعویٰ کہ اسے خدا کا بیٹا ہونے کا فخر حاصل ہے اور وہ بمنزلہ عرش کے ہے
(حقیقت الوحی ص ٨٦، خزائن ج ٢٢ ص ٨٩) پر مرزا قادیانی کہتا ہے: ”تم بمنزلہ میری وحدانیت اور انفرادیت کے ہو۔ لہٰذا وقت آ گیا ہے کہ تم خود کو عوام میں ظاہر کرو اور واقف کرا دو۔ تم میرے لئے بمنزلہ میرے عرش کے ہو۔ تم میرے لئے بمنزلہ میرے بیٹے کے ہو۔ تم میرے لئے ایک ایسے مرتبہ پر فائز ہو جو مخلوق کے علم میں نہیں۔“
اجماع امت محمدیہ کہ محمدﷺ خاتم المرسلین ہیں کہ آپ کے بعد
کوئی نبی نہیں آئے گا اور یہ کہ جو اس سے انکار کرتا ہے وہ کافر ہے
بایں ہمہ خدا، رسول اور اجماع امت سے بے پرواہ غلام احمد دعویٰ کرتا ہے کہ وہ
١١
نبی اور رسول ہے۔ شریعت کے یہ تینوں ماخذ اس کے ثبوت میں شہادت دیتے ہیں کہ مصطفیٰ ﷺ خاتم النبیین اور مرسلین ہیں۔
قرآن میں خدا کا قول ہے: ”محمد تم لوگوں میں سے کسی کے والد نہیں بلکہ خدا کے رسول اور خاتم النبیین ہیں۔“
خاتم بکسر تا، پڑھا جائے تو صفت کا اظہار کرتا ہے جو محمد ﷺ کو انبیاء میں سب سے آخری بیان کرتی ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ آپ کے بعد کوئی بھی شخص مقام نبوت کو نہیں پہنچ سکتا۔ لہذا اگر کوئی نبوت کا دعویٰ کرتا ہے تو وہ ایک ایسی چیز کا مدعی ہے جو اس کی رسائی سے باہر ہے۔ اسی لفظ کو بفتح تا خاتم پڑھا جائے تو بھی عرب علماء لغت کے مطابق اس کے یہ ہی معنی و تعبیر ہوگی۔ حقیقت میں مفسرین و محققین نے اس کا یہی مطلب لیا ہے اور سنت صحیحہ نے بھی اس کی تصدیق کی ہے۔ امام بخاری کی صحیح بخاری میں ابو ہریرہؓ سے ایک حدیث روایت کی گئی ہے اور انہوں نے خود رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے۔ فرمایا: ”بنی اسرائیل کی رہبری نبیوں کے ذریعہ کی گئی۔ ایک نبی کی وفات کے بعد دوسرے نبی نے اس کی جانشینی کی۔ لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔“
صحیح بخاری میں ایک دوسری حدیث نقل کی گئی ہے۔ حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا۔ فرماتے تھے: ”میری اور مجھ سے قبل آنے والے نبیوں کی مثال اس شخص کے معاملہ جیسی ہے کہ اس نے ایک مکان بنایا۔ خوب اچھا اور خوبصورت لیکن ایک گوشہ میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی۔ لوگ یہ مکان دیکھنے آتے اور مکان کی تعریف و توصیف کرتے۔ مگر کہتے وہ ایک اینٹ کیوں نہ رکھ دیتے تم؟ رسول خدا نے کہا وہ اینٹ میں ہوں اور میں خاتم النبیین ہوں۔“ مسلم کی روایت کے مطابق جابر سے روایت ہے کہ رسول خدا نے کہا: ”اس اینٹ کی جگہ میں ہوں۔ میں آیا اور انبیاء پر مہر لگا دی۔“
(بخاری کتاب المناقب ج ١ ص ٥٠١، مسلم ج ٢ ص ٢٤٨)
یہی اجماع المسلمین ہے اور ضرورتاً مذہب کی ایک حقیقت معلومہ بن گیا ہے۔ خاتم النبیین کی تفسیر میں امام ابن کثیر کا قول ہے: ”اللہ تعالیٰ نے ہم سے اپنی کتاب میں کہا ہے۔ جیسا کہ اس کے رسول نے سنت متواترہ میں کہا کہ اس کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ انہیں جان لینے دو کہ اس کے بعد جو کوئی اس مقام کا دعویٰ کرتا ہے وہ کذاب، مکار، فریبی اور دجال ہے۔“ علامہ آلوسی بغدادی نے اپنی تفسیر میں کہا: ”اور یہ حقیقت کہ وہ (محمد رسول اللہ ﷺ) خاتم النبیین ہیں۔ قرآن پاک میں بیان کی گئی ہے۔ سنت نے اس کی تصدیق کی ہے اور امت کا بالاتفاق اس پر
١٢
اجماع ہے۔ لہٰذا جو کوئی بھی اس کے برخلاف دعویٰ کرتا ہے وہ کافر ہے۔“
خاتم النبیین کی قادیانی تفسیر
(رسالہ تعلیم ص ٧) پر مرزا قادیانی کہتا ہے: ”ان کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔“ سوائے اس کے جس کو بطور جانشینی رداء محمدیہ عطا کی گئی ہو۔ اس کی ایک دوسری تاویل میں ”میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔“ والی حدیث کا مطلب یہ بیان کیا جاتا ہے کہ ان کے بعد (یعنی محمدؐ کے بعد) ان کی امت کے علاوہ کسی دوسری امت سے کوئی نبی نہیں ہوگا۔ یہ دوسری تاویل دراصل مرزا غلام احمد قادیانی ایک دوسرے جھوٹے نبی اسحاق الاخرس سے نقل کی ہے۔ جو سفاح کے زمانہ میں ظاہر ہوا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ دو فرشتے اس کے پاس آئے اور اس سے کہا کہ وہ نبی تھا۔ اس پر اس نے کہا۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے جب اللہ تعالیٰ کہہ چکا ہے کہ رسول خدا ﷺ خاتم النبیین ہیں؟ اس کے جواب میں فرشتوں نے کہا۔ تم سچ کہتے ہو۔ لیکن خدا کا مطلب یہ تھا کہ ان نبیوں میں سب سے آخری تھے جو ان کے مذہب کے نہیں تھے۔
اسلام کی تاریخ میں سب سے پہلے قادیانیوں نے خاتم النبیین کی یہ تفسیر کی کہ اس کا یہ مطلب ہے کہ محمد ﷺ انبیاء کی مہر ہیں۔ تاکہ ان کے بعد آنے والے ہر نبی کی نبوت پر ان کی مہر تصدیق ثبت ہو۔ اس سلسلہ میں یہ مسیح موعود کہتا ہے: ”ان الفاظ (یعنی خاتم النبیین) کا مطلب یہ ہے کہ اب کسی بھی نبوت پر ایمان نہیں لایا جاسکتا۔ تاوقتیکہ اس پر محمد ﷺ کی مہر تصدیق ثبت نہ ہو۔ جس طرح کوئی دستاویز اس وقت تک معتبر نہیں ہوتی جب تک اس پر مہر تصدیق ثبت نہ ہو جائے۔ اسی طرح ہر وہ نبوت جس پر اس کی مہر تصدیق نہیں غیر صحیح ہے۔“
(ملفوظات احمدیہ مرتبہ محمد منظور الٰہی قادیانی میں ص ٢٩٠) پر درج ہے: ”اس سے انکار نہ کرو کہ نبی کریم ﷺ انبیاء کی مہر ہیں۔ لیکن لفظ مہر سے وہ مراد نہیں جو عام طور سے عوام الناس کی اکثریت سمجھتی ہے۔ کیونکہ یہ مراد نبی کریم ﷺ کی عظمت ان کی اعلیٰ وارفع شان کے قطعی خلاف ہے۔ کیونکہ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ محمد ﷺ نے اپنی امت کو نبوت کی نعمت عظمیٰ سے محروم کر دیا۔ اس کا صحیح مطلب یہی ہے کہ وہ انبیاء کے مہر ہیں۔ اب فی الحال کوئی نبی نہیں ہوگا۔ سوائے اس کے جس کی تصدیق محمد کریں ۔ ان معنی میں ہمارا ایمان ہے کہ رسول کریم ﷺ خاتم النبیین ہیں۔“
(الفضل مورخہ ٢٢ ستمبر ١٩٣٩ء)
(الفضل مورخہ ٢٢ مئی ١٩٢٢ء) میں ہم پڑھتے ہیں: ”مہر ایک چھاپ ہوتی ہے۔ سو اگر نبی کریم ﷺ ایک چھاپ ہیں تو وہ کیسے ہو سکتے ہیں۔ اگر ان کی امت میں کوئی اور نبی نہیں؟“
١٣
اس کا دعویٰ کہ انبیاء نے اس کی شہادت دی
وہ دعویٰ ہے کہ صالح نے اس کی شہادت دی۔ اپنی کتاب (مکتوب احمد مندرجہ انجام آتھم ص ١٧٨، خزائن ج ١١ ص ایضاً) پر وہ کہتا ہے: ”حقیقتاً صالح نے میری صداقت کی شہادت میری دعوت سے بھی پہلے دی اور کہا کہ وہ ہی عیسیٰ مسیح تھا جو آنے والا تھا۔ اس نے میرا اور میری زوجہ کا نام بتایا اور اس نے اپنے پیروؤں سے کہا مجھے میرے رب نے ایسا ہی بتایا ہے۔ لہٰذا میری یہ وصیت مجھ سے لے لو۔“
نزول مسیح کے بارے میں اس کے متضاد بیانات کبھی اس کا انکار، کبھی اقرار،
کبھی اس کی تاویلات، رفع مسیح کا کبھی باری باری انکار، اقرار اور تاویل
(مکتوب احمد مندرجہ انجام آتھم ص ١٥٠، خزائن ج ١١ ص ایضاً) پر وہ کہتا ہے: ”فی الحقیقت تم نے سنا ہوگا کہ ہم قرآن کے بیان صریح کے مطابق مسیح اور اس کے رفیق کے نزول کے قائل ہیں۔ ہم اس نزول کے برحق ہونے کو واجب تسلیم کرتے ہیں اور ہمیں یا کسی اور کو اس سے مفسدوں کی طرح منحرف نہیں ہونا چاہئے۔ نہ ہی کسی کو اس کے اقرار پر متکبرین کی طرح آزردہ ہونا چاہئے۔“
(حمامۃ البشریٰ ص ٨، خزائن ج ٧ ص ١٨٢،١٨٣) پر وہ کہتا ہے: ”اس لقب کے بعد میں سوچا کرتا تھا کہ مسیح موعود ایک غیر ملکی تھا اور اس پوشیدہ راز کے ظاہر ہو جانے تک جو خدا نے اپنے بہت سے بندوں سے ان کا امتحان لینے کے لئے چھپا رکھا تھا۔ میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ میں ہی مسیح موعود تھا اور میرے رب نے ایک الہام میں مجھے عیسیٰ ابن مریم کہہ کر پکارا اور کہا اے عیسیٰ میں تمہیں اپنے پاس بلاؤں گا۔ تمہیں اپنے تک اٹھاؤں گا اور تمہیں ان لوگوں سے پاک کروں گا جنہوں نے کفر کیا۔ میں ان لوگوں کو جنہوں نے تمہارا اتباع کیا ان لوگوں سے اونچا مرتبہ دوں گا۔ جو یوم القیامت پر ایمان نہیں لائے۔ ہم نے تمہیں عیسیٰ ابن مریم بنایا اور تمہیں ایسے مرتبہ پر فائز کیا جس سے مخلوق لاعلم ہے اور میں نے تمہیں اپنی توحید اور انفرادیت کے مرتبہ پر فائز کیا اور آج تم میرے ساتھ ہو اور مضبوطی و حفاظت کے ساتھ متمکن ہو۔“
(حمامۃ البشریٰ ص ٢٨، خزائن ج ٧ ص ٢١١) پر وہ کہتا ہے: ”کیا انہوں نے اس حقیقت پر غور نہیں کیا ہے کہ خدا نے قرآن میں ہر وہ اہم واقعہ بیان کیا ہے جو اس نے دیکھا۔ پھر اس نے نزول مسیح کے واقعہ کو اس کی عظیم اہمیت اور انتہائی معجزانہ ماہیت کے باوجود کیسے چھوڑ دیا؟ اگر یہ واقعہ سچا تھا تو اس کا ذکر کیوں چھوڑ دیا۔ جب کہ یوسف کی کہانی دوہرائی؟ خدا نے کہا ہم تمہیں بہترین قصے
١٤
سناتے ہیں اور اس نے اصحاب کہف کا قصہ سنایا۔ اس نے کہا یہ ہماری عجیب نشانیوں میں سے ہیں۔ لیکن اس نے آسمان سے نزول مسیح کے بارے میں اس کی وفات کے ذکر کے بغیر کچھ نہیں کہا۔ اگر نزول کی کوئی حقیقت ہوتی تو قرآن نے اس کا ذکر ترک نہ کیا ہوتا۔ بلکہ اسے ایک طویل سورۃ میں بیان کیا ہوتا اور اسے کسی دوسرے قصے کی بہ نسبت بہتر بنایا ہوتا۔ کیونکہ اس کے عجائبات صرف اسی لئے مخصوص ہیں اور کسی دوسرے قصے میں ان کی نظیر نہیں ملتی۔ وہ اسے امت کے لئے ختم دنیا کی نشانی بنا دیتا۔ یہ اس کا ثبوت ہے کہ یہ الفاظ اپنے حقیقی معنوں میں استعمال نہیں کئے گئے ہیں۔ بلکہ اس گفتگو میں اس سے ایک مجددِ عظیم مراد ہے جو مسیح کے نقشِ قدم پر اس کے مثیل و نظیر ہوگا۔ اسے مسیح کا نام اسی طور پر دیا گیا تھا جس طرح کچھ لوگوں کو عالم رویاء میں کسی دوسرے کے نام سے پکارا جاتا ہے۔“
(حمامة البشریٰ ص ٣٠، خزائن ج ٧ ص ٢١٣) پر وہ کہتا ہے: ”وہ کہتے ہیں کہ مسیح آسمان سے نازل ہوگا۔ دجال کو قتل کر دے گا اور عیسائیوں سے جنگ کرے گا۔ یہ تمام خیالات خاتم النبیین کے الفاظ کے بارے میں سوئے فہمی اور غور وفکر کی کمی کا نتیجہ ہیں۔“
نزول ملائکہ کے بارے میں اس کی توضیح اور اس کا ادعا کہ وہ خدا کے بازو ہیں
(حمامة البشریٰ ص ٦٥، خزائن ج ٧ ص ٢٧٣) پر وہ کہتا ہے: ”دیکھو ملائکہ کو کہ خدا نے ان کے اپنے بازوؤں کے طور پر کیسے تخلیق کیا۔“
(تحفہ بغداد ص ٢٨، خزائن ج ٧ ص ٣٤) پر وہ لکھتا ہے: ”اور ہم فرشتوں، ان کے مرتبوں اور درجوں پر ایمان رکھتے ہیں اور ان کے نزول پر ایمان رکھتے ہیں کہ نزول انوار کی طرح ہوتا ہے۔ نہ کہ ایک انسان کی ایک جگہ سے دوسری جگہ نقل وحرکت کی طرح۔ وہ اپنا مقام نہیں چھوڑتے۔“
ہندوستان میں برٹش شہنشاہیت سے وفاداری اور جہاد کی موقوفی
(تریاق القلوب ص ١٥، خزائن ج ١٥ ص ١٥٥) پر مرزا قادیانی کہتا ہے: ”میں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ درحقیقت برٹش حکومت کی تائید وحمایت میں گزارا ہے۔ وہ کتابیں جو میں نے جہاد کی موقوفی اور انگریزی حکام کی اطاعت کی فرضیت پر لکھی ہیں وہ ٥٠ الماریاں بھرنے کے لئے کافی ہیں۔ یہ سبھی کتابیں مصر، شام، کابل اور یونان وغیرہ اور عرب ممالک میں شائع ہوئی ہیں۔“
ایک دوسری جگہ وہ کہتا ہے۔ اپنی نوجوانی کے زمانے سے اور اب میں ساٹھ سال کی عمر کو پہنچ رہا ہوں۔ میں اپنی زبان اور قلم کے ذریعہ مسلمانوں کو مطمئن کرنے کی کوشش میں لگا ہوں تاکہ وہ انگریزی حکومت کے وفادار اور ہمدرد رہیں۔ میں جہاد کے تصور کو رد کرتا رہا ہوں۔ جس پر
١٥
ان میں سے کچھ جاہل ایمان رکھتے ہیں اور جو انہیں اس حکومت کے تئیں وفاداری سے روکتا ہے۔
(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ١١)
اسی کتاب میں وہ لکھتا ہے: ”مجھے یقین ہے کہ جیسے جیسے میرے پیروؤں کی تعداد بڑھے گی جہاد پر ایمان رکھنے والوں کی تعداد میں کمی ہوگی۔ کیونکہ میرے مسیح اور مہدی ہونے پر ایمان لانے کے بعد جہاد سے انکار لازمی ہے۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ١٩)
ایک دوسری عبارت میں وہ لکھتا ہے: ”میں نے عربی، فارسی اور اردو میں درجنوں کتابیں لکھی ہیں۔ جن میں میں نے ممانعت کی ہے انگریزی حکومت کے خلاف، جو ہمارے محسن ومربی ہے۔ جہاد بنیادی طور سے ناجائز ہے۔ اس کے برخلاف ہر مسلمان کا فرض ہے کہ وہ پوری وفاداری کے ساتھ اس حکومت کی اطاعت کرے۔ ان کتابوں کی چھپائی پر میں نے بڑی بڑی رقمیں خرچ کی ہیں اور انہیں اسلامی ممالک میں بھجوایا ہے اور مجھے معلوم ہے کہ ان کتابوں نے اس ملک (ہندوستان) کے باشندوں پر نمایاں اثر چھوڑا ہے۔ میرے پیروؤں نے حقیقتاً ایک ایسے فرقے کی تشکیل کی ہے جس کے دل اس حکومت کے تئیں اخلاص اور وفاداری سے معمور ہیں۔ وہ انتہائی طور سے وفادار ہیں اور مجھے یقین ہے کہ وہ اس ملک کے لئے ایک برکت ہیں اور اس حکومت کے وفادار ہیں اور اس کی خدمت میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔“
(انگریزی حکومت کے نام غلام احمد قادیانی کے تحریر کردہ ایک خط سے، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٣٦٦، ٣٦٧)
مرزا قادیانی کہتا ہے: ”میں اپنا یہ کام مکہ یا مدینہ میں ٹھیک طور سے نہیں کر سکتا۔ نہ ہی یونان، شام، ایران یا کابل میں۔ لیکن میں یہ اس حکومت کے تحت کر سکتا ہوں۔ جس کی عظمت ونصرت کے لئے میں ہمیشہ دعاء کرتا ہوں۔“ (تبلیغ رسالت ج ٢ ص ٦٩، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٣٧٠)
وہ آگے کہتا ہے: ”سو تھوڑا غور وفکر کرو۔ اگر تم اس حکومت کے سائے کو چھوڑ دو گے تو روئے زمین پر کون سی جگہ تمہیں پناہ ملے گی؟ کسی ایک حکومت کا نام بتاؤ۔ جو تمہیں اپنی حفاظت میں لینا قبول کرے۔ اسلامی حکومتوں میں سے ہر ایک تمہارے وجود پر سخت غضبناک ہے۔ تمہارے خاتمہ کے لئے منصوبہ بنا رہی ہے اور بے خبری میں حملہ کرنے کے لئے منتظر ہے۔ کیونکہ ان کی نظر میں تم کافر ومرتد ہو گئے ہو۔ لہٰذا اس نعمت الٰہیہ (انگریزی حکومت کا وجود) کو قبول کرو اور اس کی قدر کرو اور یقینی طور سے جان لو کہ اللہ تعالیٰ نے اس ملک میں انگریزی حکومت صرف تمہاری بھلائی اور تمہارے مفاد کے لئے قائم کی ہے۔ اگر اس حکومت پر کوئی آفت آتی ہے تو وہ آفت تم پر بھی نازل ہوگی۔ اگر تم میرے قول کی صداقت کا ثبوت چاہتے ہو تو کسی دوسری حکومت کے زیر سایہ رہ
١٦
کر دیکھ لو۔ تب تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ کون سی بدقسمتی تمہاری انتظار میں ہے۔ لیکن انگریزی حکومت اللہ کی رحمت اور برکت کا ایک پہلو ہے۔ یہ ایک ایسا قلعہ ہے جو خدا نے تمہارے حفاظت کے لئے تعمیر کیا ہے۔ لہٰذا اپنے دلوں میں روح کی گہرائی میں اس کی قدر وقیمت کو تسلیم کرو۔ انگریز تمہارے لئے ان مسلمانوں کے مقابلے میں ہزار درجہ بہتر ہیں جو تم سے اختلاف رکھتے ہیں۔ کیونکہ انگریزی تمہیں ذلیل کرنا نہیں چاہتے نہ ہی وہ تمہیں قتل کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔“
(مجموعہ اشتہارات ج٣ ص٥٨٤ ملخص)
اپنی کتاب (تریاق القلوب مورخہ ٢٨ اکتوبر ١٩٠٢ء ضمیمہ ٣) میں حکومت عالیہ کے حضور میں ایک عاجزانہ التماس کے عنوان سے مرزا قادیانی لکھتا ہے: ”عرصہ بیس سال سے میں نے دلی سرگرمی کے ساتھ فارسی، عربی، اردو اور انگریزی میں کتابیں شائع کرنا کبھی ترک نہیں کیا۔ جن میں میں نے بار بار دہرایا ہے کہ مسلمانوں کا یہ فریضہ ہے کہ خدا کی نظروں میں گنہگار بننے کے خوف سے اس حکومت کی تابعدار اور وفادار رعایا بنیں۔ جہاد میں کوئی حصہ نہ لیں۔ خون کے پیاسے مہدی کا انتظار نہ کریں اور نہ ہی ایسے وہموں پر یقین کریں جنہیں قرآنی ثبوتوں کی تائید کبھی حاصل نہیں ہوسکتی۔ میں نے انہیں تنبیہ کی کہ اگر وہ اس غلطی کو رد کرنے سے انکار کرتے ہیں تو کم سے کم یہ تو ان کا فرض ہے کہ اس حکومت کے ناشکر گزار نہ بنیں۔ کیونکہ اس حکومت سے غداری کر کے خدا کی نظروں میں گنہگار نہ بننا ان کا فرض ہے۔“
(تریاق القلوب ص٣٦٠، خزائن ج١٥ ص٤٨٨)
اسی عاجزانہ التماس میں آگے کہا گیا ہے: ”اب اپنی فیاض طبع حکومت سے پوری جرأت مندی کے ساتھ یہ کہنے کا وقت آگیا ہے کہ گذشتہ بیس سالوں میں میں نے یہ خدمات انجام دی ہیں اور ان کا مقابلہ انگریزی ہندوستان میں کسی بھی مسلم خاندان کی خدمات سے نہیں کیا جاسکتا۔ یہ بھی ظاہر ہے کہ لوگوں کو بیس سال جتنی طویل مدت تک یہ سبق پڑھانے میں ایسا استقلال کسی منافق یا خود غرض انسان کا کام نہیں ہو سکتا۔ بلکہ یہ ایسے انسان کا کام ہے جس کا دل اس حکومت کی سچی وفاداری سے معمور ہے۔“
(تریاق القلوب ص٣٦٣، خزائن ج١٥ ص٤٩١) پر وہ کہتا ہے: ”میں حقیقت میں کہتا ہوں اور اس کا دعویٰ کرتا ہوں کہ میں مسلمانوں میں سرکار انگریزی کی رعایا میں سب سے زیادہ تابعدار اور وفادار ہوں۔ کیونکہ تین چیزیں ایسی ہیں جنہوں نے انگریزی حکومت کے تئیں میری وفاداری کو اس درجہ بلندی تک پہنچانے میں میری رہبری کی ہے۔ (١) میرے والد مرحوم کا اثر۔ (٢) اس فیاض حکومت کی مہربانیاں۔ (٣) خدائی الہام۔“
١٧
مرزا قادیانی نے شہادت القرآن کے ایک ضمیمہ میں حکومت کی ہمدردانہ توجہ کے قابل ایک کلمہ کے عنوان سے لکھا جس میں اس نے کہا: ”در حقیقت میرا مذہب جس کا میں لوگوں پر بار بار اظہار کر رہا ہوں یہ ہے کہ اسلام دو حصوں میں منقسم ہے۔ پہلا اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنا اور دوسرا اس حکومت کی اطاعت کرنا جس نے امن وامان اور قانون قائم کیا اور اپنے بازو ہم پر پھیلائے اور ناانصافی سے ہماری حفاظت کی اور یہ حکومت انگریزی حکومت ہے۔“
(شہادت القرآن ملحقہ اشتہار گورنمنٹ کی توجہ کے لائق ص ٨٢، خزائن ج ٦ ص ٣٨٧)
آگے وہ کہتا ہے: ”وہ اہم کام جس کے لئے اپنی نوجوانی سے لے کر زمانہ حال تک جب کہ میری عمر ساٹھ سال کی ہوچکی ہے۔ میں خود اپنی ذات اپنی زبان اور اپنے قلم کو وقف کئے ہوئے ہوں۔ یہ ہے کہ مسلمانوں کے دلوں کو محبت، خلوص اور انگریزی حکومت کے تئیں وفاداری کے راستے کی طرف رجوع کردوں اور کچھ بیوقوف مسلمانوں کے دلوں سے جہاد جیسے ان دوسرے وہموں کو دور کردوں۔ جو انہیں خلوص پر مبنی دوستانہ اور اچھے تعلقات سے دور کرتے ہیں۔“
(مجموعہ اشتہارات ج٣ ص١١)
کچھ آگے چل کر وہ لکھتا ہے: ”میں نے نہ صرف انگریزی ہندوستان کے مسلمانوں کے دلوں کو انگریزی حکومت کی اطاعت سے بھرنے کی کوشش کی بلکہ میں نے عربی، فارسی اور اردو میں بہت سی کتابیں بھی لکھی ہیں۔ جن میں میں نے اسلامی ملکوں کے باشندوں کے سامنے وضاحت کی کہ ہم انگریزی حکومت کی سرپرستی میں اور اس کے خنک سائے میں کس طرح اپنی زندگی گزار رہے ہیں اور تحفظ، مسرت، فلاح و بہبود اور آزادی کا لطف اٹھا رہے ہیں۔“
(مجموعہ اشتہارات ج٢ ص٣٦٦)
آگے وہ کہتا ہے: ”مجھے پورا یقین ہے کہ جیسے جیسے میری پیروؤں کی تعداد میں اضافہ ہوگا۔ ان لوگوں کی تعداد کم ہوگی۔ جو جہاد پر ایمان رکھتے ہیں۔ کیونکہ صرف مجھ پر ایمان لانا ہی جہاد سے انکار کرنا ہے۔“
(مجموعہ اشتہارات ج٣ ص١٩)
وہ یہ بھی کہتا ہے: ”حالانکہ میں احمدیت کی تبلیغ کے لئے روس گیا تھا۔ لیکن احمدیہ فرقہ اور انگریزی حکومت کے مفادات یکساں ہونے کی وجہ سے میں نے جہاں کہیں بھی لوگوں کو اپنے فرقہ میں شمولیت کی دعوت دی وہاں انگریزی حکومت کی خدمت کو بھی اپنا فرض سمجھا۔“
(الفضل مورخہ ٢٨ ستمبر ١٩٢٢ء میں شائع شدہ محمد امین قادیانی مبلغ کے ایک بیان کا اقتباس)
ایک اور جگہ اس نے کہا: ”در حقیقت انگریزی حکومت ہمارے لئے ایک جنت ہے اور
١٨
احمدی فرقہ اس کی سرپرستی میں مسلسل ترقی کر رہا ہے۔ اگر تم اس جنت کو کچھ عرصے کے لئے الگ کر دو تو تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ تمہارے سروں پر زہریلے تیروں کی کیسی زبردست بارش ہوتی ہے۔ ہم اس حکومت کے کیوں نہ مشکور ہوں۔ جس کے ساتھ ہمارے مفاد مشترک ہیں۔ جس کی بربادی کا مطلب ہماری بربادی ہے اور جس کی ترقی سے ہمارے مقاصد میں مدد ملتی ہے۔ اس لئے جب کبھی اس حکومت کا دائرہ اثر وسیع ہوتا ہے۔ ہمارے لئے اپنی دعوت کی تبلیغ کا ایک نیا میدان ظاہر ہوتا ہے۔“
(الفضل مورخہ ١٩ اکتوبر ١٩١٥ء)
وہ یہ بھی کہتا ہے: ”احمدیہ فرقہ اور انگریزی حکومت کے درمیان تعلقات اس حکومت اور دوسرے فرقوں کے درمیان موجودہ تعلقات کی مانند نہیں ہیں۔ ہمارے حالات کے مقتضیات دوسروں سے مختلف ہیں۔ کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ جو کچھ حکومت کے لئے سودمند ہے۔ وہ ہمارے لئے بھی سودمند ہے اور جوں جوں انگریزی عملداری وسیع ہوتی ہے۔ ہمیں بھی ترقی کے مواقع حاصل ہوتے ہیں۔ اگر حکومت کو نقصان پہنچتا ہے۔ خدا نہ کرے تو ہم بھی امن وامان کے ساتھ زندگی گزارنے کے قابل نہ رہیں گے۔“
(الفضل مورخہ ٢٧ جولائی ١٩١٨ء)
(استفتاء ص ٥٦، ٥٧، خزائن ج ٢٢ ص ٦٨٠، ٦٨١) پر وہ کہتا ہے: ”حکومت کی تلوار اگر نہ ہوتی تو تمہارے ہاتھوں میں بھی اسی انجام کو پہنچتا۔ جس انجام کو عیسیٰ کافروں کے ہاتھوں سے پہنچا۔ اسی لئے ہم حکومت کے شکر گزار ہیں۔ خوشامد کے طور پر یا ریا کاری کے طور پر نہیں بلکہ حقیقی طور پر مشکور ہیں۔ ہم خدا کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ ہم نے اس کے زیر سایہ اس سے بھی زیادہ تحفظ کا لطف اٹھایا۔ جس کی ہم آج کل اسلام کی حکومت کے تحت امید کر سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے مذہب میں انگریزوں کے خلاف جہاد میں تلوار اٹھانا ناجائز ہے۔ اسی لئے تمام مسلمانوں کو ان کے خلاف لڑنے اور ناانصافی اور بد اطواری کی حمایت کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ کیونکہ انہوں نے ہمارے ساتھ حسن سلوک سے کام لیا اور ہر طور سے کریم النفسی سے پیش آئے۔ کیا مہربانیوں کا جواب مہربانی سے ہی نہیں دینا چاہئے۔ اس سلسلہ میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ ان کی حکومت ہمارے لئے جائے امن اور ہم عصروں کے ظلم و ناانصافی سے حفاظت کے لئے پناہ گاہ ہے۔“
پھر وہ کہتا ہے: ”ان کی سرپرستی میں شب کی سیاہی ہمارے لئے اس دن سے بہتر ہے۔ جو ہم اصنام پرستوں کے زیر سایہ گزاریں۔ لہٰذا یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم ان کے شکر گزار ہوں۔ اگر ہم ایسا نہیں کریں گے تو ہم گنہگار ہوں گے۔“
خلاصہ کلام یہ ہے کہ ہم نے حکومت کو اپنے خیر خواہوں میں پایا اور کلام مقدس ۔
١٩
واجب قرار دیا ہے کہ ہم اس کا شکریہ ادا کریں۔ لہٰذا ہم ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں اور ان کی خیر خواہی کرتے ہیں۔
اسی کتاب (الاستفتاء ص ٧٨، خزائن ج ٢٢ ص ٧٠٤) پر لکھتا ہے: ”پھر انگریزوں کے عہد میں خدا نے میرے والد کو کچھ گاؤں واپس کر دئیے۔“
(حمامتہ البشریٰ ص ٤٠، خزائن ج ٧ ص ٢٣٠) پر وہ لکھتا ہے: ”ہم اس کی سرپرستی میں حفاظت و عافیت اور مکمل آزادی کے ساتھ رہتے ہیں۔“
اسی کتاب میں وہ یہ بھی لکھتا ہے: ”اور میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اگر ہم مسلم بادشاہوں کے ملک کو ہجرت کر جائیں تو بھی ہم اس سے زیادہ تحفظات اور اطمینان نہیں پاسکتے۔ یہ (انگریزی حکومت) ہمارے ساتھ اور ہمارے آباؤ اجداد کے ساتھ اتنی فیاض رہی ہے کہ ہم اس کی برکات کے لئے قرار واقعی شکریہ ادا نہیں کر سکتے۔“
وہ یہ بھی کہتا ہے: ”میں یہ خیال رکھتا ہوں کہ مسلم ہندوستانیوں کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ غلط راہ پر چلیں اور اس خیر خواہ حکومت کے خلاف ہتھیار اٹھائیں۔ نہ ہی ان کا اس معاملہ میں کسی دوسرے کی مدد کرنا نہ ہی مخالفوں کی بدکاریوں کی الفاظ، عمل، مشورہ، ضرر یا معاندانہ تدبیروں سے اعانت کرنا درست ہے۔ حقیقت میں یہ تمام کام قطعی ممنوع ہیں اور وہ جو ان کی حمایت کرتا ہے خدا اور رسول کی نافرمانی کرتا ہے اور صریحاً غلطی پر ہے۔ بجائے اس کے شکر بجالانا واجب ہے اور جو انسانوں کا مشکور نہیں وہ خدا کا شکر بھی نہیں بجالائے گا۔ محسن کو ایذا پہنچانا خباثت ہے۔ انصاف اور اسلام کے راستے سے انحراف کو وجود میں لاتا ہے اور خدا حملہ آور سے محبت نہیں کرتا۔“
(حمامتہ البشریٰ ص ٤٠، ٤١، خزائن ج ٧ ص ٢٣٠)
مرزا قادیانی قرآن میں موجود جہاد کے بارے میں تمام آیات کو نظر انداز کر گیا ہے۔ اسنے جہاد اور اس کی فضیلت پر رسول اللہ ﷺ کی متواتر احادیث بھی نظر انداز کر دیں اور یہ مسئلہ بھی کہ جہاد قیامت تک جاری رہے گا۔
حج اور دعویٰ کہ اس کی مسجد، مسجد اقصیٰ ہے اور وہ خود حجر اسود ہے
(الفضل شمارہ نمبر ١٨٣٨ ج ١٠، دسمبر ١٩٢٢ء) میں محکمہ تعلیم قادیان کا ایک اشتہار چھپا۔ شخص جو کہ مسیح موعود کے قبہ سفید کی زیارت کرتا ہے وہ مدینہ میں رسول اللہ میں شرکت پاتا ہے۔ وہ شخص کتنا بد نصیب ہے جو قادیان کے حج اکبر م رکھتا ہے۔“
٢٠
قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ قادیان تیسرا مقام مقدس ہے۔ اس بارے میں خلیفہ محمود کہتا ہے۔ ”در حقیقت خدا نے ان تین مقامات کو مقدس قرار دیا ہے۔ (مکہ، مدینہ اور قادیان) اور اپنی تجلیات کے ظہور کے لئے ان تین مقامات کا انتخاب کیا ہے۔“
(الفضل مورخہ ٣ ستمبر ١٩٣٥ء)
قادیانی ایک قدم آگے بڑھ کر ان آیات کو جو خدا کے شہر الحرام اور مسجد اقصیٰ (یروشلم) کے بارے میں نازل ہوئیں۔ قادیان پر منطبق کرتا ہے۔ مرزا قادیانی نے (براہین احمدیہ ص ٥٥٨ حاشیہ، خزائن ج ١ ص ٦٦٢) پر تحریر کیا: ”خدا کے یہ الفاظ اور وہ جو اس میں داخل ہوا مامون رہے گا۔ مسجد قادیان کے بارے میں صادق ہیں۔“
اپنے ایک شعر میں وہ کہتا ہے: ”قادیان کی زمین عزت کی مستحق ہے۔ یہ کائنات کے آغاز سے ہی مقدس سرزمین ہے۔“
(درثمین ص ٥٠)
(الفضل شمارہ ٢٣، ج ٢٠) میں ہم پڑھتے ہیں: ”آیت خداوندی، پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندہ کو شب کے وقت لے گئی۔ مسجد الحرام سے مسجد اقصیٰ تک۔ جس کے اردگرد ہم نے برکتیں رکھی ہیں۔ میں مسجد اقصیٰ سے مراد مسجد قادیان ہے اور اگر قادیان کا مرتبہ شہر مقدس کے برابر اور ہو سکتا ہے کہ اس سے بھی افضل ہے تو اس کا سفر بھی حج کے برابر ہونا چاہئے یا ہو سکتا ہے کہ اس سے بھی افضل ہو۔“
(الفضل شمارہ ٢٦، ج ٢٠) میں ہم پڑھتے ہیں: ”حج قادیان فی الواقع بیت الحرام (یعنی کعبہ) کے حج کے برابر ہے۔“ پیغام صلح، نامی مجلہ جو لاہوری قادیانیوں کا ترجمان ہے۔ یہ اضافہ کرتا ہے۔ ”قادیان کے حج کے بغیر مکہ کا حج روکھا سوکھا حج ہے۔ کیونکہ آج کل مکہ نہ اپنا مشن پورا کرتا ہے اور نہ اپنا مقصد حاصل کرتا ہے۔“
(شمارہ ٣٣ ج ٢١)
(استفتاء ص ٤١، خزائن ج ٢٢ ص ٧٢٣) میں مرزا قادیانی کہتا ہے: ”میں ہی حقیقت میں حجر اسود ہوں۔ جس کی طرف منہ کر کے زمین پر نماز پڑھنے کا حکم دیا گیا اور جس کے لمس سے لوگ برکت حاصل کرتے ہیں۔“
الہام کے دعویٰ کی بنیاد پر قرآن میں تحریف اور اس کی مثالیں
(حمامۃ البشریٰ ص ٨، خزائن ج ٧ ص ١٨٣) پر مرزا قادیانی کہتا ہے: ”اس نے کہا اے احمد تم پر خدا کی برکت ہو۔ کیونکہ جب تم نے پھینکا تو یہ تم نہ تھے بلکہ خدا تھا۔ جس نے لوگوں کو خبر دار کرنے کے لئے پھینکا۔ جن کے آباء کو خبر دار نہیں کیا گیا تھا۔ تاکہ مجرموں کی تدابیر ظاہر ہو جائیں اور اس نے کہا کہو اگر یہ میری اختراع ہے تو میرا گناہ مجھ پر ہے۔ یہ وہی ہے جس نے اپنے رسولوں کو
٢١
ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا۔ تاکہ وہ اسے تمام (دوسرے) مذاہب سے ممتاز کر سکے۔ خدا کے الفاظ کوئی نہیں بدل سکتا اور تمہاری طرف سے مضحکہ اڑانے والوں سے نمٹنا ہمارا ذمہ ہے اور اس نے کہا تم نے اپنے رب سے اس کی رحمت کی نشانی کے لئے اصرار کیا اور اس کی فیاضی کے باعث تم مجنون میں سے نہیں ہو۔ وہ تمہیں دوسرے معبودوں سے ڈراتے ہیں۔ تم ہمارے نگاہوں میں ہو۔ میں نے تمہیں المتوکل کہہ کر پکارا ہے۔ (یعنی وہ جو خدا پر بھروسہ رکھتا ہے) اور خدا نے اپنے عرش سے تمہاری تعریف کی۔ نہ ہی یہود اور نہ ہی نصاریٰ تم سے مطمئن ہوں گے۔ انہوں نے سازش کی اور خدا نے سازش کی۔ لیکن سازش کرنے والوں میں خدا بہترین ہے۔‘‘
(استفتاء ص ٧٩، خزائن ج ٢٢ ص ٧٠٥) پر وہ کہتا ہے: ”اور اس نے ان الفاظ میں مجھ سے کلام کیا جن میں سے کچھ کا بیاں ہم کریں گے اور ہم ان پر ایمان رکھتے ہیں۔ جس طرح ہم اللہ خالق الانام کی کتابوں پر ایمان رکھتے ہیں۔ وہ کلمات یہ ہیں۔ اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور رحیم ہے۔ اے احمد تم پر خدا کی برکت ہو۔ جب تم نے پھینکا تو یہ تم نہ تھے۔ بلکہ خدا تھا جس نے پھینکا۔ اس مہربان نے قرآن پڑھایا تاکہ تم ان لوگوں کو خبردار کر سکو۔ جن کے آباء کو خبردار نہیں کیا گیا تھا اور مجرموں کی تدابیر ظاہر ہو جائیں۔ کہو کہ مجھے حکم دیا گیا ہے اور میں ایمان لانے والوں میں سب سے پہلا ہوں۔ کہو کہ حق ظاہر ہو گیا اور باطل مٹ گیا۔ یقیناً باطل کو مٹنا ہی ہے۔ محمد ﷺ کی طرف سے تمام برکتیں، مبارک ہو وہ جو سکھاتا ہے اور سیکھتا ہے اور انہوں نے کہا کہ یہ جعلسازی ہے۔ تو پھر اللہ تعالیٰ کا نام لو انہیں ان کے مباحث میں کھیلتے ہوئے ان کے حال پر چھوڑ دو۔ کہو اگر یہ میرا اختراع ہے تو مجھ پر سخت گناہ ہے اور اس سے زیادہ غلطی پر اور کون ہوگا جو اللہ کے بارے میں غلط بیانی کرے۔ یہ وہ ہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا۔ تاکہ وہ اسے تمام (دوسرے) مذاہب سے ممتاز کر سکے۔ اس کے الفاظ کوئی نہیں بدل سکتا۔ وہ کہتے ہیں کہ تم نے اسے کہاں سے حاصل کیا؟ یہ انسانی کلمات کے سوا کچھ بھی نہیں اور دوسروں نے اس میں اسی کی مدد کی۔ پھر کیا تم اپنی کھلی آنکھوں کے ساتھ خود کو جادو کے پاس لے جاؤ گے۔ دور ہو جاؤ شے موعودہ کو لے جاؤ۔ کون ہے یہ جو ذلیل، جاہل یا مجنون ہے؟ کہو میرے پاس خدا کی تصدیق ہے۔ کیا تم مسلمان ہو؟“
(استفتاء ص ٨١، خزائن ج ٢٢ ص ٧٠٧) پر وہ کہتا ہے: ”خدا تمہیں نہیں چھوڑے گا جب تک کہ برائی اور بھلائی میں تمیز نہ ہو جائے۔ جب خدا کی مدد اور فتح آئے اور تمہارے رب کا وعدہ پورا ہو جائے۔ یہی تو ہے وہ جس کے لئے تم جلدی میں تھے۔ میں نے ارادہ کیا کہ (زمین پر) میرا
٢٢
خلیفہ ہو۔ اس لئے میں نے آدم کی تخلیق کی۔ پھر وہ نزدیک آیا اور اپنے آپ کو اتنا جھکایا کہ دو کمان کے برابر دور یا نزدیک تھا۔ اس نے دین کا احیاء کیا اور شریعت کو قائم کیا۔ اے آدم، تم اور تمہاری زوجہ جنت میں سکونت پذیر ہو۔ تمہیں فتح دی گئی اور انہوں نے کہا کہ لیت و لعل کے لئے وقت نہیں۔ یقیناً وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا اور اللہ کے راستہ سے پھر گئے ان کو فارس کے ایک شخص نے جواب دیا۔ خدا اپنی عنایت سے اس کی مساعی قبول کرے۔ یا وہ کہتے ہیں کہ وہ ایک فتح مند جماعت ہیں۔ (ان کی) پوری جماعت کو جڑ سے اکھاڑ دیا جائے گا اور پشت موڑ دی جائے گی۔ تم ہمارے پہلو میں ہو۔ مضبوطی کے ساتھ قائم اور معتبر۔“
(استفتاء ص ٨١، ٨٢، خزائن ج ٢٢ ص ٧٠٧، ٧٠٨) پر وہ کہتا ہے: ”کہو کہ خدا کا نور تم تک آ گیا ہے۔ اس لئے کفر نہ کرو۔ اگر تم ایمان والے ہو۔ یا تم ان سے انعام مانگتے ہو اور اس لئے وہ قرض کے وزن سے دب گئے ہیں۔ ہم نے ان تک حق پہنچا دیا ہے۔ لیکن وہ حق کے مخالف ہیں۔ لوگوں سے لطف کے ساتھ پیش آؤ اور ان پر رحم کھاؤ۔ تم ان کے درمیان بمنزلہ موسیٰ کے ہو۔ صبر سے کوشش کئے جاؤ۔ وہ جو کچھ کہیں کہنے دو۔ شاید تم اپنے آپ کو تھکانے جا رہے ہو مبادا وہ منکر ہو جائیں۔ اس کی پیروی نہ کرو۔ جس کا تمہیں علم نہ ہو۔ مجھے ان کے بارے میں مخاطب نہ کرو۔ جنہوں نے گناہ کئے۔ وہ یقیناً غرق ہونے والے ہیں۔ ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری تجویزوں کے مطابق پناہ گاہ بناؤ۔ یقیناً جو تمہاری اطاعت کا عہد کرتے ہیں وہ واقع میں خدا کی اطاعت کا عہد کرتے ہیں۔ خدا کا ہاتھ ان کے ہاتھوں سے افضل ہے۔ جب کہ وہ جو کافر تھا تمہارے خلاف سازش کر رہا تھا۔ اے ہامان میرے لئے آگ روشن کرو۔ شاید میں موسیٰ کے خدا کو دیکھ سکوں۔ درحقیقت میں اسے ان میں سے سمجھتا ہوں۔ جو جھوٹ بولتے ہیں۔ ابولہب کے ہاتھ ٹوٹ جائیں اور وہ برباد ہو۔ اس کے لئے نہیں تھا کہ اس میں داخل ہو۔ سوائے خوف کے اور جو کچھ تم پر گزری وہ خدا کی طرف سے تھا۔“
کچھ دوسری مثالیں (تحفہ بغداد میں ص ١٧ تا ٢٥، خزائن ج ٧ ص ٢١ تا ٣١) میں ملتی ہیں۔ مرزا قادیانی کہتا ہے: ”میں تم پر ایک برکت نازل کروں گا اور اس کے انوار ظاہر کروں گا تا کہ ملوک و سلطان تمہارے لباس کو چھو کر اس سے برکت کے طالب ہوں۔“ اور اس (خدا) نے کہا: ”میں ان پر قابو رکھتا ہوں جنہوں نے تمہیں ذلیل کرنا چاہا اور یقیناً تمہاری طرف سے مضحکہ اڑانے والوں سے نمٹنا ہمارا ذمہ ہے۔ اے احمد تم پر خدا کی برکت ہے۔ کیونکہ جب تم نے پھینکا یہ تم نہیں تھے بلکہ خدا تھا جس نے پھینکا۔ وہ جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا
٢٣
تاکہ وہ اسے تمام (دوسرے) مذاہب سے ممتاز کر سکے۔ کہو کہ مجھے حکم دیا گیا اور میں ایمان لانے والوں میں سب سے پہلا ہوں۔ کہو کہ حق آپہنچا اور باطل مٹ گیا۔ یقیناً باطل کو مٹنا ہی ہے۔ محمد کی طرف سے سبھی برکتیں۔ مبارک ہے وہ جو علم رکھتا ہے اور جو سیکھتا ہے اور کہو اگر یہ میری اختراع ہے تو میرا گناہ مجھ پر ہے اور انہوں نے سازش کی اور خدا نے سازش کی لیکن سازش کرنے والوں میں خدا بہترین ہے۔ وہ ہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تاکہ وہ اسے تمام (دوسرے) مذاہب سے ممتاز کر سکے۔ خدا کے الفاظ کوئی نہیں بدل سکتا۔ میں تمہارے ساتھ ہوں۔ لہٰذا میرے ساتھ ہو۔ خدا کا ساتھ پکڑے رہو چاہے کہیں بھی ہو۔ تم جہاں ہو گے وہاں خدا کا چہرہ ہوگا۔‘‘
’’تم انسانوں میں بہترین امت ہو اور مومنین کا فخر ہو۔ خدا کی تسلی سے مایوس نہ ہو۔ کیونکہ خدا کی تسلی قریب ہی ہے اور خدا کی نصرت قریب ہے۔ وہ ہر ایک تنگ گھاٹی سے تمہاری طرف آئیں گے۔ خدا تمہاری مدد کرے گا۔ تمہیں میری مدد ملے گی۔ جسے آسمان سے ہمارا الہام حاصل ہوگا۔ خدا کے الفاظ کوئی نہیں بدل سکتا۔ تم آج ہمارے پہلو میں ہو۔ مضبوطی کے ساتھ قائم اور معتبر۔ انہوں نے کہا کہ یہ جعل سازی کے سوا کچھ نہیں۔ اللہ کا نام لو اور انہیں ان کے مباحث میں کھیلتے ہوئے ان کے حال پر چھوڑ دو۔ یقیناً تم پر میری رحمت ہے۔ اس دنیا میں اور آخرت میں اور تم ان میں سے ہو جن کے لئے نصرت بخشی گئی۔ اے احمد تمہارے لئے بشارت ہے۔ تم میرے محبوب ہو اور میری معیت میں ہو۔ میں نے تمہاری عظمت کا پودا اپنے ہاتھ سے لگایا ہے۔ اگر لوگ تعجب کریں تو کہہ دو کہ وہ خدا ہے اور وہ مجیب ہے۔ وہ جس سے بھی خوش ہوتا ہے اس کے ساتھ فیاضی کا برتاؤ کرتا ہے۔ جو کچھ وہ کرتا ہے اس کے بارے میں اس سے پوچھ گچھ نہیں ہو سکتی۔ مگر ان سے پوچھ گچھ ہوگی۔ ان کی ہم عوام الناس میں حال ہی میں تشہیر کریں گے۔ جب خدا ایمان والوں کی مدد کرتا ہے تو ان سے رشک کرنے والے بھی ہوتے ہیں۔ لوگوں سے لطف و کرم سے پیش آؤ اور ان پر رحم کرو۔ تم ان کے درمیان بمنزلہ موسیٰ کے ہو۔ ناانصاف لوگوں کو حلم و صبر کے ساتھ برداشت کرو۔ لوگ ایسی حالت میں چھوڑ دیا جانا پسند کرتے ہیں۔ جہاں وہ کہہ سکیں کہ ہم ان پر بغیر آزمائش کئے ایمان لائے۔‘‘ سو آزمائش یہی ہے۔ لہٰذا مستقل مزاج لوگوں کی طرح صبر کے ساتھ برداشت کرو۔ لیکن یہ آزمائش خدا کی طرف سے ہے۔ اس کی عظیم محبت کے لئے تمہارا انعام خدا کے یہاں ہے اور تمہارا رب تم سے راضی ہوگا اور تمہارے نام کو مکمل کرے گا اور اگر وہ تم کو صرف نامعقولیت کا پلندا سمجھتے ہیں تو کہو کہ میں صادق ہوں اور کچھ دیر میری نشانی کا انتظار کرو۔
٢٤
”تعریف ہو اس خدا کی جس نے تمہیں مسیح ابن مریم بنایا۔ کہو کہ یہ خدا کا فضل ہے اور میں خطاب کرنے کی تمام شکلوں سے عاری ہوں اور میں مسلمانوں میں سے ہی ایک ہوں۔ وہ اپنی پھونکوں سے اللہ کے نور کو بجھانے کی کوشش کریں گے۔ لیکن خدا اپنے نور کی تکمیل کرتا ہے۔ اپنے دین کا احیاء کرتا ہے۔ تم چاہتے ہو کہ ہم آسمان سے تم پر آیتیں نازل کریں اور تم دشمنوں کا قلع قمع کر دو۔ اللہ الرحمن نے اپنا حکم اپنے نمائندوں کو عطا کیا ہے۔ اس لئے خدا پر بھروسہ رکھو اور ہماری نظر کے سامنے اور ہماری وحی کے مطابق پناہ گاہ تعمیر کرو۔ جو تمہاری اطاعت کا عہد کرتے ہیں۔ وہ حقیقت میں اللہ سے اپنی اطاعت کا عہد کرتے ہیں۔ اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھوں سے افضل ہے اور وہ لوگ جو عذاب کے مستحق ہیں وہ سازش کرتے ہیں اور اللہ سازش کرنے والوں میں بہترین ہے۔ کہو میرے پاس اللہ کی تصدیق ہے۔ پھر کیا تم مسلمان ہو؟ میرے ساتھ میرا رب ہے۔ وہ میری رہبری کرے۔ میرے رب نے مجھے دکھایا کہ تم کس طرح مردوں کو زندہ کر دیتے ہو۔ میرے رب معاف کر اور آسمانوں پر سے رحم کر۔ مجھے تنہا نہ چھوڑ۔ حالانکہ تم خیر الوارثین ہو۔ اے رب محمد کی امت کی اصلاح کر۔ اے ہمارے رب ہمیں اور ہماری قوم کے جو لوگ حق پر ہیں انہیں ایک جگہ اکٹھا کر۔ کیونکہ تم ان سب میں بہترین ہو۔ جو (نزاعی معاملوں میں) صلح صفائی کراتے ہیں۔ وہ تمہیں دوسرے معبودوں سے ڈراتے ہیں۔ تم ہماری نگاہوں میں ہو۔ میں نے تمہیں المتوکل کہہ کر پکارا ہے۔ خدا اپنے عرش سے تمہاری تعریف کرتا ہے۔ اے احمد ہم تمہاری تعریف کرتے ہیں اور تم پر برکت بھیجتے ہیں۔ تمہارا نام مکمل کیا جائے گا۔ لیکن میرا نہیں۔ اس دنیا میں ایک اجنبی یا مسافر کی طرح رہو۔ راست باز اور نیک چلن لوگوں کے درمیان رہو۔ میں نے تمہیں چنا اور تمہاری طرف اپنی محبت پھینکی ہے۔ اے ابنائے فارس توحید اختیار کرو اور ان کے لئے خوشخبری لاؤ۔ جو ایمان لائے اس امر پر کہ وہ اپنے رب کے ساتھ یقینی تعلقات رکھتے ہیں۔ خدا کی مخلوق کے سامنے منہ نہ بناؤ۔ لوگوں سے بیزار نہ ہو نہ مسلمانوں پر اپنے بازو نیچے کرو۔“
”اے وہ لوگو جو سوال جواب کرتے ہو! تمہیں ان کے بارے میں کس ذریعہ نے بتایا جو سوال جواب کرتے ہیں۔ تم ان کی آنکھیں آنسوؤں سے بھری ہوئی دیکھو گے اور وہ تم پر اللہ کی برکتیں بھیجیں گے۔ اے ہمارے رب ہم نے ایک شخص کو سنا ہے ایمان کی طرف بلاتے ہوئے۔ اے رب ہم ایمان لائے۔ لہٰذا ہمارا نام شاہدین میں لکھ لے۔ تم عجیب ہو۔ تمہارا انعام قریب ہے اور تمہارے ساتھ آسمان اور زمین کے سپاہی ہیں۔ میں تمہیں اپنی وحدانیت اور انفرادیت کے نمونے سمجھتا ہوں۔ وقت آگیا ہے کہ تمہاری مدد کی جائے اور تم عوام الناس میں متعارف ہو۔ اے
٢٥
احمد تم اپنے خدا کی برکت ہو۔ جو برکت خدا نے تم پر کی وہ تمہیں حقیقت میں پہلے حاصل تھی۔ تم میری حضوری میں عالی رتبہ ہو میں نے تمہیں خود اپنے لئے منتخب کیا اور تمہیں ایسے رتبہ پر فائز کیا جو مخلوق کے لئے نامعلوم ہے۔ یقیناً خدا تمہیں اس وقت تک نہیں چھوڑے گا جب تک برائی اور بھلائی میں تمیز نہ ہو جائے۔ یوسف اور اس کی کامیابی پر نظر رکھو۔ اللہ اس کے معاملات کا مالک ہے۔ لیکن لوگوں کی اکثریت اس سے ناواقف ہے۔ میں نے ارادہ کیا کہ (زمین پر ) میرا خلیفہ ہو۔ اس لئے میں نے آدم کی تخلیق کی تاکہ وہ دین کا احیاء کر سکے اور شریعت کو قائم کر سکے۔ کتاب ذوالفقار علی ولی۔ اگر ایمان کو ثریا کے ساتھ باندھ دیا گیا ہوتا تو بھی اہل فارس اس تک پہنچ جاتے۔ اس کا روغن روشنی پھیلاتا۔ حالانکہ اسے آگ نے ذرا بھی نہ چھوا ہوتا۔ خدا رسولوں کے حلیہ میں تھا۔ کہو اگر تم خدا سے محبت کرتے ہو میری پیروی کرو اور خدا تم سے محبت کرے گا اور محمد اور اس کی آل پر درود بھیجو۔ وہ تمام ابن آدم کے سردار اور خاتم النبیین ہیں۔ تمہارا رب تم پر مہربان ہے اور خدا تمہارا دفاع مہیا کرے گا اور اگر لوگ تمہارا دفاع نہیں کرتے۔ خدا تمہارا دفاع مہیا کرے گا۔ اگرچہ کہ دنیا کے لوگوں میں سے ایک شخص بھی تمہارا دفاع نہ کرے۔ ابولہب کے ہاتھ ٹوٹ جائیں اور اس کی بربادی ہو۔ اس کے لئے نہیں تھا کہ وہ اس میں داخل ہو۔ سوائے خوف کے اور جو کچھ تم پر گزری وہ خدا کی طرف سے تھا اور جان لو کہ انعام متقیوں کے لئے ہے اور اگر تم ہم خاندان اور اہل قرابت ہوتے۔ یقیناً ہم انہیں ایک نشانی اس عورت میں دکھائیں گے جو پہلے سے شادی شدہ ہے اور اسے تمہاری طرف واپس بھیج دیں گے۔ اپنی طرف سے رحم کے طور پر۔ یقیناً ہم فاعل ہوتے ہیں اور انہوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا اور ان میں شامل ہوئے۔ جنہوں نے میرا مضحکہ اڑایا۔ تمہارے رب کی طرف سے بشارت ہو تمہیں نکاح الحق کی۔ لہٰذا میری احسان فراموشی نہ کرو۔ ہم نے اس کا نکاح تم سے کیا۔ خدا کے الفاظ کوئی بدل نہیں سکتا اور ہم اسے تمہارے لئے بحال کرنے جارہے ہیں۔ یقیناً تمہارا رب جو چاہتا ہے وہ کرتا ہے۔ یہ ہماری فیاضی ہے تاکہ یہ ایک نشانی ہو دیکھنے والوں کے لئے ۔ وہ آنکھیں قربان کردی جائیں گی۔ تمام ذی روح چیزوں کو فنا ہونا ہے اور ہم انہیں اپنی نشانیاں آسمانوں میں خود ان میں دکھائیں گے اور ہم انہیں فاسقین کی سزا دکھائیں گے۔“
”جب خدا کی نصرت اور فتح آتی ہے اور زمانہ کی تقدیر ہمارے ہاتھ میں آتی ہے تو کیا یہ ہمارا حق نہیں ہے۔ لیکن جنہوں نے اس پر یقین نہیں کیا۔ انہوں نے واضح غلطی کی تم ایک پوشیدہ خزانہ تھے۔ اس لئے میں نے اسے ظاہر کرنا چاہا۔ آسمان اور زمین آپس میں ملے ہوئے تھے اور
٢٦
ہم نے انہیں چاک کر کے کھول دیا۔ کہو کہ میں ایک بشر ہوں۔ جس پر وحی آتی ہے۔ لیکن یقیناً تمہارا خدا ایک ہے اور تمام نیکی قرآن میں ہے۔ جسے صرف انہیں ہی چھونا چاہئے جو پاک ہوں۔ حقیقت میں میں ایک طویل عرصہ تمہارے درمیان رہ چکا ہوں (اس کے آنے کے) پھر کیا تم میں ذرا بھی عقل نہیں۔“
”کہو کہ اللہ کی ہدایت ہدایت ہے اور میرا رب میری معیت میں ہے۔ اے رب میری مغفرت کر اور آسمان سے مجھ پر مہربان رہ۔ اے رب میں مغلوب ہوں۔ لیکن فاتح ہوں گا۔ ایلی ایلی تم نے مجھے کیوں چھوڑ دیا۔ اے اللہ القادر کے بندے میں تیرے ساتھ ہوں۔ میں تمہیں سنتا ہوں اور دیکھتا ہوں۔ میں نے تمہارے لئے اپنی مہربانی اور اپنی قدرت کا پودا اپنے ہاتھ سے لگایا ہے اور تم آج میرے ساتھ ہو۔ مضبوطی سے قائم اور معتبر میں تمہارا ہمیشہ حاضر رہنے والا ہاتھ ہوں۔ میں تمہارا خالق ہوں۔ میں نے تمہارے اندر صدق کی روح پھونکی اور اپنی محبت تمہاری طرف پھینکی ہے۔ تا کہ تم میری نظروں کے سامنے ایک تخم کی طرح اپنی نشوونما کرو۔ جیسے پہلے اس کا شگوفہ پھوٹتا ہے۔ پھر اس میں مضبوطی آتی ہے اور یہ توانائی کے ساتھ بڑھ کر اپنے ڈنٹھل پر سیدھا کھڑا ہوتا ہے۔ حقیقت میں ہم نے تمہیں فتح مبین عطاء کی۔ تاکہ خدا تمہارے وہ گناہ معاف کر دے جو پہلے سرزد ہوئے اور جو ہنوز ہونے والے ہیں۔ لہٰذا شکریہ ادا کرو۔ خدا نے اپنے بندہ کو قبول کیا اور اسے اس سے بری کیا جو لوگ کہتے ہیں اور وہ خدا کی نگاہوں میں ایک مقبول بندہ تھا۔ لیکن جب خدا نے اپنی تجلی پہاڑ پر بے نقاب کی تو وہ سفوف بن گیا۔ خدا کمزور و کافروں کی مکاری مٹا دیتا ہے۔ تاکہ ہم اسے اپنی رحمت کے خیال سے لوگوں کے لئے ایک نشانی بنا دیں اور اس لئے بھی کہ اسے ہم سے عظمت ملے۔ اس طرح ہم انہیں انعام دیتے ہیں۔ جو بخوبی کام کرتے ہیں۔ تم میرے ساتھ ہو اور میں تمہارے ساتھ ہوں۔ میرا راز تمہارا راز ہے۔ اولیاء کے اسرار ظاہر نہیں کئے جائیں گے۔ تم حق مبین پر ہو۔ اس دنیا میں اور آخرت میں ممتاز اور مقربین میں ہو۔ بے شرم شخص صرف اپنی موت کے وقت یقین کرے گا۔ وہ میرا دشمن ہے اور تمہارا دشمن ہے۔ ایک گوسالہ، ایک مجسم واہمہ، ذلیل و خوار۔ کہو میں خدا کا حکم ہوں اور عجلت کرنے والوں میں سے نہ ہو۔“
”نبیوں کا چاند تمہارے پاس آئے گا اور تمہارا حکم خوب چلے گا اور ہم نے ایمان والوں کو نصرت کا وعدہ کیا ہے۔ وہ دن جب حق آئے گا اور حقیقت ظاہر ہوگی اور کھونے والے کھوئیں گے تو تم دیکھو گے کہ ناعاقبت اندیش مسجد میں جھکے ہوئے کہتے ہوں گے۔ اے رب ہمیں معاف کردے۔ کیونکہ ہم غلطی پر تھے۔ آج کے دن تم پر کوئی ملامت نہیں۔ خدا تمہیں معاف کردے گا۔
٢٧
وہ ارحم الراحمین ہے۔ تمہاری موت جب آئے گی تو میں تم سے مطمئن ہوں گا اور تم پر سلامتی ہوگی۔ اس لئے بے خوف ہو کر اس میں داخل ہو۔“
قادیانی فرقہ کی ہندوؤں میں منظور نظر بننے کی کوشش اور اس پر ہندوؤں کو مسرت
(مجموعہ اشتہارات ج٢ ص١٩٥) پر وہ کہتا ہے: ”دینی مسلکوں پر مسلمان، ہندو، آریہ، عیسائی اور سکھ مقرروں کی تقریریں ہوتی ہیں۔ ہر ایک مقرر اپنے اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کرتا ہے۔ لیکن اس شرط کے ساتھ کہ وہ دوسروں کے مذہب پر تنقید نہ کرے۔ اپنے دین کی تائید میں وہ جو کچھ بھی کہنا چاہئے کہہ سکتا ہے۔ مگر تہذیب و اخلاق کا خیال کرتے ہوئے۔“
یہ بات جاننے کے لائق ہے کہ ہندوستان میں قومی لیڈروں نے قادیانی مذہب کے تصور کا خیر مقدم کیا ہے۔ کیونکہ یہ ہندوستان کو تقدس عطاء کرتا ہے اور بطور قبلہ اور روحانی مرکز حجاز کے بجائے ہندوستان کی طرف منہ کرنے کے لئے مسلمانوں کی ہمت افزائی کرتا ہے اور چونکہ یہ مسلمانوں میں ہندوستان سے متعلق حب الوطنی کو فروغ دیتا ہے۔ یا وہ ایسا سوچتے ہیں۔ پاکستان میں قادیانیوں کے خلاف ہنگاموں کے دوران کچھ بڑے ہندو اخبار نے قادیانیوں کے ساتھ اپنی ہمدردی کا اظہار کیا اور ان کی حمایت میں مضامین شائع کئے اور اپنے قارئین سے کہا کہ بقیہ مسلم فرقہ کے خلاف قادیانیوں کی حمایت و تائید ایک فرض تھا اور یہ کہ پاکستان میں قادیانیوں اور مسلمانوں کے درمیان نزاع اصل میں ایک طرف عرب رسالت اور اس کے پیروؤں اور دوسری جانب ہندوستانی رسالت اور اس کے پیروؤں کے درمیان آویزش اور رقابت تھی۔ ہندوستان میں انگریزی کے ایک مقتدر اخبار (سٹیٹسمین) کے نام جس نے یہ مسئلہ اٹھایا تھا ایک خط میں ڈاکٹر اقبال نے کہا: ”قادیانیت محمدﷺ کی رسالت کی حریف رسالت کی بنیاد پر ایک نئے فرقے کی تشکیل کی ایک منظم کوشش ہے۔“
ہندوستان کے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو کو جواب دیتے ہوئے جنہوں نے اپنی ایک تقریر میں تعجب ظاہر کیا تھا کہ مسلمان قادیانیت کو اسلام سے جدا قرار دینے کے لئے کیوں اصرار کرتے ہیں۔ جب کہ وہ بہت سے مسلم فرقوں میں سے ایک فرقہ ہے۔ ڈاکٹر اقبال نے کہا:
”قادیانیت نبی عربیﷺ کی امت میں سے ہندوستانی نبی کے لئے ایک نیا فرقہ تراشنا چاہتی ہے۔“ انہوں نے یہ بھی کہا: ”قادیانی مذہب ہندوستان میں مسلمانوں کی اجتماعی زندگی کے لئے یہودی فلسفی، اسپینوزا کے عقائد سے زیادہ خطرناک ہے۔ جو یہودی نظام کے خلاف بغاوت کر رہا ہے۔“
٢٨
ڈاکٹر محمد اقبال عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت کے اسلام کے اجتماعی ڈھانچے اور امت مسلمہ کے اتحاد کے محافظ کے طور پر قائل تھے۔ وہ اس کے بھی قائل تھے کہ اس عقیدہ کے خلاف کوئی بھی بغاوت کسی بھی رواداری یا صبر و تحمل کی مستحق نہیں تھی۔ کیونکہ یہ اسلام کی رفیع الشان عمارت کی بنیاد پر ضرب پہنچا کر منہدم کرنے والی کلہاڑی کا کام کرتی ہے۔ اسٹیٹسمین کے نام اپنے مذکورہ بالا خط میں انہوں نے لکھا: ”یہ عقیدہ کہ محمدﷺ خاتم النبیین ہیں۔ ایک بالکل صحیح خط فاصل ہے۔ اسلام اور ان دیگر مذاہب کے درمیان جن میں خدا کی وحدانیت کا عقیدہ مشترک ہے اور جو محمدﷺ کی رسالت پر متفق ہیں۔ مگر سلسلہ وحی جاری رہنے اور رسالت کے قیام پر ایمان رکھتے ہیں۔ جیسے ہندوستان میں برہمو سماج۔ اس خط فاصل کے ذریعے یہ طے کیا جاسکتا ہے کہ کون سا فرقہ اسلام سے متعلق ہے اور کون سا اس سے جدا ہے۔ میں تاریخ میں کسی ایسے مسلم فرقے سے ناواقف ہوں جس نے اس خط کو پار کرنے کی جرات کی ہو۔“
مرزا بشیر الدین قادیانی ابن مرزا غلام احمد قادیانی خلیفہ نے اپنی کتاب (آئینہ صداقت ص ٣٥) میں کہا ہے: ”ہر وہ مسلمان جس نے مسیح موعود کی بیعت نہیں کی۔ خواہ اس نے ان کے بارے میں سنا یا نہیں۔ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔“
یہی بیان اس نے عدالت کے سامنے دیا اور کہا: ”ہم مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت پر ایمان رکھتے ہیں۔ لیکن غیر احمدی (یعنی غیر قادیانی) ان کی نبوت پر ایمان نہیں رکھتے۔ قرآن کہتا ہے کہ جو کوئی بھی نبیوں میں سے کسی نبی کی نبوت سے انکار کرتا ہے وہ کافر ہے۔ چنانچہ غیر احمدی کافر ہیں۔“
خود مرزا قادیانی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے کہا تھا: ”ہم ہر معاملے میں مسلمانوں سے اختلاف رکھتے ہیں۔ اللہ میں، رسول میں، قرآن میں، نماز میں، روزہ میں، حج میں اور زکوٰۃ میں۔ ان سبھی معاملوں میں ہمارے درمیان لازمی اختلاف ہے۔“
(الفضل مورخہ ٣٠ جولائی ١٩٣١ء)
ڈاکٹر اقبال کے مطابق قادیانی اسلام سے سکھوں کی بہ نسبت زیادہ دور ہیں جو کہ کٹر ہندو ہیں۔ انگریزی حکومت نے سکھوں کو ہندوؤں سے جداگانہ فرقہ (غیر ہندو اقلیت) تسلیم کیا ہے۔ حالانکہ اس اقلیت اور ہندوؤں میں سماجی، مذہبی اور تہذیبی رشتے موجود ہیں اور دونوں فرقے کے لوگ آپس میں شادی بیاہ کرتے ہیں۔ جب کہ قادیانیت مسلمانوں کے ساتھ شادی ممنوع قرار دیتی ہے اور ان کے بانی نے مسلمانوں کے ساتھ کوئی تعلق نہ رکھنے کا بڑی سختی سے حکم دیتے ہوئے کہا: ”مسلمان حقیقت میں کھٹا دودھ ہیں اور ہم تازہ دودھ ہیں۔“
٢٩
لاہوری جماعت اور اس کے باطل عقائد
مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے جانشین نورالدین کے زمانے میں قادیانی مذہب میں صرف ایک فرقہ تھا۔ لیکن نورالدین کے آخری زمانہ حیات میں قادیانیوں میں کچھ اختلاف پیدا ہوئے۔ نورالدین کے مرنے کے بعد یہ لوگ دو جماعتوں میں منقسم ہو گئے۔ قادیانی جماعت جس کا صدر محمود بن غلام احمد ہے اور لاہوری جماعت جس کا صدر اور لیڈر محمد علی ہے۔ جس نے قرآن کا انگریزی میں ترجمہ کیا ہے۔ قادیان کی جماعت کا بنیادی عقیدہ یہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نبی اور رسول تھا۔ جب کہ لاہوری جماعت بظاہر مرزا قادیانی کی نبوت کا اقرار نہیں کرتی۔ لیکن مرزا قادیانی کی کتابیں اس کے دعویٰ نبوت و رسالت سے بھری پڑی ہیں۔ اس لئے وہ کیا کر سکتے ہیں؟
لاہوری جماعت کے اپنے مخصوص عقائد ہیں۔ جن کی وہ اپنی کتابوں کے ذریعہ تبلیغ کرتے ہیں۔ وہ اس پر ایمان نہیں رکھتے کہ عیسیٰ علیہ السلام بغیر باپ کے پیدا ہوئے تھے۔ محمد علی کے مطابق جو اس جماعت کا لیڈر ہے، عیسیٰ علیہ السلام یوسف نجار کے بیٹے تھے۔ محمد علی نے اپنے عقیدہ کی موافقت میں کچھ آیات میں تحریف بھی کی ہے۔
(دیکھئے اس کی کتاب عیسیٰ اور محمد ص ٧٦)
مجلہ اسلامیہ (دی اسلامک ریویو) جو انگلینڈ میں ووکنگ سے شائع ہونے والا اس جماعت کا رسالہ ہے میں ایک جرمن ڈاکٹر مارکوس کا مضمون شامل تھا۔ جس میں لکھا تھا: ”محمد علیہ السلام اعلان کرتے ہیں کہ یوسف عیسیٰ علیہ السلام کے باپ تھے۔“ اس رسالہ نے اس جملہ پر کبھی رائے زنی نہیں کی۔ کیونکہ یہ ان کے مذہبی عقیدہ کے مطابق تھا۔
اپنے ترجمہ قرآن میں محمد علی نے لفظی ترجمہ کے قاعدہ کی تقلید کی۔ لیکن اپنے کئے ہوئے لفظی ترجمہ کی تفسیر صفحے کے نیچے حاشیہ پر کی۔ اپنی تفسیر میں اس نے اسی تاویل کی پابندی کی جو اس کے اپنے مذہبی عقیدہ کے مطابق تھی۔ جیسا کہ اس نے مندرجہ ذیل قرآنی آیت کے ساتھ کیا: ”میں تمہارے لئے مٹی سے، پرند کی سی مورت بناتا ہوں اور اس میں پھونک مارتا ہوں اور وہ خدا کی اجازت سے چڑیا بن جاتی ہے اور میں انہیں اچھا کرتا ہوں۔ جو پیدائشی اندھے اور کوڑھی تھے اور میں خدا کی اجازت سے مردوں کو زندہ کر دیتا ہوں۔“
اس نے اس آیت کی تاویل میں ان کا طریقہ اختیار کیا جو معجزات پر ایمان نہیں رکھتے اور اس کے معانی میں ان کے طریقہ پر تصرف کیا جو نہیں جانتے کہ قرآن نہایت شستہ عربی زبان میں نازل ہوا۔
٣٠
وخاتم النبيين لا نبي بعدي
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں
ختم نبوت
حضرت مولانا حافظ محمد ایوب دہلویؒ
پیش لفظ
ختم نبوت کا عقیدہ اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے۔ ظہور اسلام سے لے کر اس وقت تک جمہور اہل اسلام کے دینی تصورات کی اساس یہی تصور ہے کہ سرور کائنات ﷺ کے بعد کوئی (نیا) نبی اور رسول نہیں آئے گا اور آپ کا لایا ہوا پیغام خدا کا آخری پیغام اور آپ کی تلقین و ہدایت سب سے آخری تلقین و ہدایت ہے۔ قرآن اور آپ کی ہدایتوں کا مجموعہ قیامت تک نسل انسانی کی نجات و ہدایت کے لئے کافی ہے۔ لیکن بدقسمتی سے انہی دو ستونوں کو زمین بوس کرنے کے لئے دو خطرناک فتنے کھڑے کر دیئے گئے۔ ایک فتنہ انکار ختم نبوت، دوسرا فتنہ انکار حدیث۔ علماء کرام نے ان دونوں کا مقابلہ کیا اور ان دونوں کی رد میں کتابیں تصنیف کیں۔ عام مسلمانوں نے ان سے بہت فائدہ اٹھایا اور وقت پر ان فتنوں کی خطرناکیوں سے آگاہ بھی ہو گئے۔ مگر ضرورت تھی کہ اہل علم اور اہل فکر حضرات کی ایسے نکات کی طرف رہبری کر دی جائے کہ عقلی نقطہ نظر سے بھی یہ فتنے کبھی سر نہ اٹھانے پائیں اور کوئی رخنہ ایسا نہ رہ جائے جہاں سے یہ شیطانی ریشہ دوانیاں راہ پا سکیں۔ خدا کا شکر ہے کہ حضرت علامہ حافظ محمد ایوب صاحب دہلویؒ نے جنہیں حق تعالیٰ نے اعلیٰ دینی بصیرت کے ساتھ عقلی علوم میں وہ مقام عطا فرمایا ہے کہ عقل حیران رہ جاتی ہے۔ اس ضرورت کی تکمیل فرمادی۔ پہلے فتنہ انکار حدیث کے نام سے ایک ایسی نادر کتاب تصنیف فرمائی جو تقریباً پاکستان اور بیرون پاکستان میں برابر تقسیم ہو رہی ہے اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ جس کو پڑھ کر روح وجد کرنے لگتی ہے۔
آپ نے اپنی اس تصنیف میں ایسی ایسی دلیلوں سے فتنہ کے تار و پود بکھیرے ہیں جن کا کوئی جواب نہیں ہو سکتا۔ فضلاء عصر نے اس کو بہت پسند فرمایا۔ مختلف علمی رسائل نے اس کو شائع کیا اور کئی مشہور علماء و فضلاء نے اس سلسلہ میں تعریفی خطوط لکھے۔ دوسرا ختم نبوت کے انکار کا فتنہ ہے۔ جب حضرت والا کی توجہ اس طرف منعطف کرائی گئی تو آپ نے عقلی و نقلی دلیلوں پر مشتمل قلم برداشتہ یہ رسالہ مرتب فرمادیا۔ جو آپ کے سامنے ہے۔ جس کی شان ”خیر الکلام ما قل ودل“ کی ہے۔ یعنی کم سے کم لفظ اور زیادہ سے زیادہ معانی۔ یہی شان آپ کی علمی تقریروں کی بھی ہے۔ مشکل سے مشکل مسائل جن کے لئے بڑے بڑے ارباب فکر و نظر کو حیرانی پیش آئی۔ حضرت والا نے باتوں باتوں میں حل فرما دیئے۔ پیش نظر رسالہ کی نسبت صرف یہ کہنا ہے کہ ذرا غور و فکر کے ساتھ شروع سے آخر تک پڑھ جائیے تو آپ کو عجیب سرور و طمانیت کی کیفیت حاصل ہو گی اور آپ اپنے یقین میں اضافہ محسوس فرمائیں گے۔
مولانا سید عبدالجبار غفرلہ!
٢
اعوذ بالله من الشیطن الرجیم ، بسم الله الرحمن الرحیم!
سوال...... غلام احمد قادیانی نبی ہے یا نہیں؟ جواب...... غلام احمد قادیانی نبی نہیں ہے۔ ثبوت...... غلام احمد قادیانی صاحب معجزہ نہیں ہے اور ہر نبی صاحب معجزہ ہے۔
نتیجہ
غلام احمد قادیانی نبی نہیں ہے اور تمہارا جی چاہے تو اس طرح کہہ سکتے ہو کہ غلام احمد قادیانی، صاحب معجزہ نہیں ہے اور ہر وہ شخص جو صاحب معجزہ نہیں ہے، نبی نہیں ہے۔ لہٰذا غلام احمد قادیانی نبی نہیں ہے۔
یہ اتنی واضح اور روشن دلیل ہے کہ سارا عالم مل کر بھی ایک حرف اس کے خلاف نہیں کہہ سکتا۔ اس دلیل کی تفصیل یہ ہے۔ پہلے نبوۃ کے معنی سمجھ لینے چاہئیں۔ نبوۃ کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ کسی بشر اور کسی انسان سے کلام کرے اور اللہ تعالیٰ کا کلام یا تو صرف معانی ہوتے ہیں جو وہ بشر کے دل پر نازل کر دیتا ہے اور بشر ان معانی کو اپنے الفاظ میں لوگوں سے بیان کرتا ہے۔ اس کلام کو وحی عام طور پر کہا جاتا ہے۔
دوسری قسم اللہ تعالیٰ کے کلام کرنے کی یہ ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آواز اور اللہ تعالیٰ کے الفاظ بشر سنتا ہے اور اللہ تعالیٰ بشر کو دکھائی نہیں دیتا۔ بشر یہ کلام سن کر لوگوں تک پہنچا دیتا ہے۔ اس کلام کو وحی ”من وراء حجاب“ کہا جاتا ہے۔ جس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام طور پر سنا کرتے تھے۔
تیسری قسم اللہ تعالیٰ کے کلام کرنے کی یہ ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک فرشتہ کو بھیجتا ہے اور وہ فرشتہ باذن الٰہی اللہ تعالیٰ کی مشیت کے مطابق اس بشر کے دل میں اللہ تعالیٰ کے کلام کو ڈال دیتا ہے اور نازل کر دیتا ہے۔
بس یہی تین طریقے اللہ تعالیٰ کے کلام کرنے کے ہیں۔ خواہ بیداری میں کلام کرے، خواہ سوتے میں کلام کرے، ہر صورت میں یہ اللہ کا کلام ہوتا ہے اور اسی کلام کو مطلق وحی کہتے ہیں اور اسی وحی کو نبوۃ کہا جاتا ہے۔ یعنی نبی اور غیر نبی کا فرق صرف وحی ہے۔ جیسا کہ فرمایا: ”قل انما انا بشر مثلکم یوحیٰ الیٰ (کہف:١١٠)“ ﴿ کہہ دے میں تمہارے ہی جیسا آدمی ہوں۔ فرق صرف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے میری طرف وحی کی جاتی ہے۔﴾
٣
اس بیان سے صاف ظاہر ہو گیا کہ نبی صرف وہ انسان ہے جس سے اللہ تعالیٰ کلام کرے۔ اب یہاں دو باتیں ہونی چاہئیں۔ ایک یہ کہ جس انسان سے اللہ تعالیٰ نے کلام کیا ہے وہ انسان یہ یقین کر لے کہ اللہ تعالیٰ ہی نے مجھ سے کلام کیا ہے۔ کسی اور نے کلام نہیں کیا۔ یعنی اس بشر کو یہ علم ہونا لازمی ہے کہ جس نے اس بشر سے کلام کیا ہے وہ اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ اس کے بعد جب وہ بشر مطمئن ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ ہی نے اس سے کلام کیا ہے۔ پھر وہ کلام لوگوں کو سنائے تو لوگوں کو مطمئن کر دے کہ یہ کلام اللہ تعالیٰ ہی نے مجھ سے کیا ہے اور اس کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ جو حاکم کسی سے کلام کرتا ہے اور کلام سننے والا حاکم کا کلام سن کر اس محکمہ سے باہر آ کر باہر والوں کو وہ کلام سناتا ہے تو باہر والے اس سے کہتے ہیں کہ تجھ سے حاکم نے یہ کلام کس کے سامنے کیا ہے؟ اس کو شہادت کے لئے لا یا حاکم سے کہہ دے کہ وہ اپنے عملہ میں سے کسی کے ہاتھ ہمیں کہلوا دے کہ ہاں میں نے اس شخص سے کلام کیا ہے۔ بس اسی شہادت کا نام معجزہ ہے۔ آیت ہے، نشانی ہے۔ یعنی وہ عملہ اللہ تعالیٰ کی کائنات ہے۔ کائنات میں سے کوئی کائن ایسا فعل کرتا ہے یا ایسا فعل اس کائن سے سرزد ہوتا ہے جو زبان حال سے یہ شہادت دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس بشر سے کلام کیا ہے۔ یہ فعل کائنات کا کائنات کی عادت کے خلاف ہوتا ہے۔ مثلاً لکڑی کا اژدھا بن جانا اور مردہ کا زندہ ہو جانا۔ مردہ کا زندہ کرنا بشر کی عادت کے خلاف ہے اور مردہ کا زندہ ہونا مردہ کی عادت کے خلاف ہے۔ پس مردہ کے زندہ ہونے نے یہ شہادت دی کہ یہ فعل من جانب اللہ ہے اور مدعی نبوت سچا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ حاصل یہ ہے کہ خرق عادت یا معجزہ اسی کی طرف سے ظہور پذیر ہو سکتا ہے۔ جس نے عادت مقرر کی ہے۔ لہٰذا وہی عادت کے خلاف کر سکتا ہے اور عادت کا مقرر کرنا من جانب اللہ ہے۔ لہٰذا خرق عادت اور معجزہ بھی من جانب اللہ ہے۔ اس لئے نبوت، وحی اور اللہ تعالیٰ کا کلام کرنا ثابت ہی نہیں ہو سکتا۔ جب تک کہ نبوت کا مدعی صاحب معجزہ نہ ہو۔
اس بیان سے واضح ہو گیا کہ ہر نبی صاحب معجزہ ہے اور چونکہ معمولی عجیب سی بات کا ظہور بھی موجب شہرت ہوتا ہے تو معجزہ کا ظہور بدرجہ اولیٰ باعث شہرت ہے۔ یعنی جہاں معجزہ ہوگا وہاں اور چاروں طرف اس کی شہرت ہو جائے گی۔ کیونکہ معجزہ ایسے خرق عادت کو کہتے ہیں جس سے انسانوں کی حسی، عقلی اور روحانی تینوں قوتیں عاجز ہو جائیں۔ اگر غلام احمد قادیانی سے کوئی معجزہ صادر ہوتا تو اطراف عالم میں اس کا چرچا ہو جاتا۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ اس لئے اس میں کوئی
٤
شبہ نہیں کہ اس سے کوئی معجزہ صادر نہیں ہوا۔ اب دلیل کے دونوں مقدمے واضح طور پر ثابت ہو گئے۔ یعنی غلام احمد قادیانی صاحب معجزہ نہیں ہے اور ہر نبی صاحب معجزہ ہے۔ لہٰذا غلام احمد قادیانی نبی نہیں ہے۔
حاصل یہ ہے کہ نبوت اور وحی اور اللہ سے کلام کرنے کی نشانی معجزہ ہے اور معجزہ وہ شے ہے کہ جس کے کرنے سے سارا عالم انسانی عاجز ہو جائے۔ بلکہ جن وانس اور فرشتے بھی عاجز رہ جائیں اور عادی قوتیں تمام انسانوں میں مشترک ہیں۔ حس وعقل اور روحانیت یہ تینوں عادی خاصے ہیں۔ نبی کی قوت ان تینوں سے بالا تر ہے اور اس مسئلہ کو ہم علم کلام کی تقریروں میں مبسوط طریقہ سے بیان کر چکے ہیں۔ معجزہ نہ کرامت ہے نہ استدراج ہے۔ نہ سحر ہے نہ کوئی اور عجوبہ عادی چیز۔ بلکہ خدا کا خاص فعل ہے جو عام افعال سے ممتاز ہے۔ مثلاً بھاری چیز اگر پانی میں ڈالی جائے تو وہ غرق ہو جاتی ہے۔ آگ کا فعل گرم کرنا اور جلانا ہے۔ یہ عام فعل ہیں۔ یہ عادی فعل ہیں۔ لیکن اگر آگ ٹھنڈک پیدا کر دے تو یہ خاص فعل ہے اور خرق عادت ہے۔ اس خرق عادت کا جواب اور معارضہ اور مقابلہ نہ ہو سکے تو اس وقت اس کا نام معجزہ ہے۔ یہ ہے نبوت کی نشانی۔ مطلب یہ ہے کہ انسان مختار ہے یعنی انسان صدق وکذب دونوں پر قادر ہے۔ نبوت کا دعویٰ کرنے والے کی تصدیق صرف اسی شاہد سے ہو سکتی ہے جس میں کذب کا احتمال ہی نہ ہو اور وہ صرف اضطراری قوتیں ہیں۔ ان میں کذب کا احتمال ہی نہیں ہے۔ لہٰذا جب اضطراری قوتیں اپنی عادت اور طبیعت وخصلت کے خلاف فعل کرنے لگیں۔ مثلاً مردہ جانور، درخت اور پتھر کلام کرنے کی قدرت ہی نہیں رکھتے۔ اگر وہ بھی کلام کرنے لگیں تو وہ صدق ہی صدق ہوگا۔ کیوں کہ کذب تو اختیار کی فرع ہے اور یہ کلام کرنا خرق عادت ہوگا اور یہی معجزہ کہلائے گا اور مدعی نبوت کی اس کے دعویٰ کے مطابق تصدیق کر دے گا اور اگر دعویٰ کے مطابق تصدیق نہ کرے بلکہ تکذیب کر دے تو یہ خرق عادت تو ضرور ہے۔ مگر معجزہ نہیں ہے۔ مثلاً پتھر نے یہ کلام کیا کہ یہ شخص جو مدعی نبوت ہے جھوٹا ہے تو خرق عادت تو ہو گیا۔ مگر معجزہ نہ رہا۔ اس لئے کہ معجزہ کی تعریف میں دعویٰ کے مطابق شرط ہے۔
اس بیان سے ظاہر ہو گیا کہ نبی بے معجزہ کے نہیں ہو سکتا اور غلام احمد قادیانی کا کوئی معجزہ نہیں ہے۔ لہٰذا وہ نبی نہیں ہے اور جس پر وحی نہ ہو اور وہ وحی کا دعویٰ کرے اس سے بڑا ظالم کوئی نہیں ہے۔
٥
سوال...... کیا غیر نبی پر الہام ہوسکتا ہے؟ جواب...... ہوسکتا ہے بلکہ ہوتا ہے۔ ”فالهمها فجورها وتقوها (الشمس:٨)“ ہر نفس کو گناہ اور تقویٰ کا الہام اللہ تعالیٰ نے کر دیا ہے اور الہام ظنی چیز ہے۔ اس لئے ہوسکتا ہے تقویٰ کا الہام ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ فسق و فجور کا الہام ہو۔ اس لئے یہ حجت نہیں ہے۔
سوال...... کیوں کر معلوم ہو کہ یہ الہام تقویٰ کا ہے یا فسق و گناہ کا؟ جواب...... اگر الہام وحی الٰہی کے مطابق ہے تو صحیح ہے۔ ورنہ غلط ہے۔ اگر الہام تقویٰ کا ہوا اور وہ وحی کے مطابق ہے تو وہ تقویٰ ہی کا الہام ہے اور اگر وحی نے الہام کی تائید نہ کی بلکہ وحی کے خلاف ہے تو وہ قطعاً فسق و فجور اور گناہ کا الہام ہے۔ لہٰذا اعتقادیات میں الہام غیر معتبر ہے۔
سوال...... وحی ختم ہو چکی یا باقی ہے؟ جواب...... وحی ختم ہوچکی، یعنی وحی کا کسی بشر پر آنا بند ہو گیا۔ ثبوت...... وحی رحمت ہے اور ہر عالم رحمت سے پر ہو چکا۔ اب وحی کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ ”وما ارسلنك الا رحمة للعلمين (انبیاء:١٠٧)“ ﴿ہم نے آپ کو تمام عالموں کے لئے رحمت کر کے بھیجا ہے۔﴾ اب کسی عالم کو رحمت کی مزید ضرورت باقی نہیں رہی۔ لہٰذا اب نبی کا آنا اور اس پر وحی کا ہونا محال ہے۔
جاننا چاہئے کہ نبوت کا مدعی یا قدیم شریعت کی تبلیغ کرتا ہے یا جدید شریعت کی جو وہ خود لایا ہے۔ سو جدید شریعت کی اب ضرورت نہیں ہے اور قدیم شریعت یعنی قرآن وحدیث کی تبلیغ خلفاء اور علماء برابر کرتے چلے آ رہے ہیں۔ اس لئے مزید نبی کی ضرورت نہیں ہے۔ تبلیغ کا کام علماء و صلحاء نے سنبھال لیا۔ جس طرح انبیاء بنی اسرائیل، قدیم انبیاء کی شریعت کی تبلیغ کرتے تھے۔ اسی طرح اس امت کے علماء قرآن وحدیث کی قیامت تک تبلیغ کرتے رہیں گے اور شریعت کے مبلغ ہر زمانہ میں ہوتے رہیں گے۔ لہٰذا اس بیان سے واضح ہو گیا کہ تمام عالموں کے لئے رحمت آچکی۔ مزید رحمت کی اب بالکل ضرورت نہیں رہی۔ اس لئے وحی کا دروازہ بند ہو گیا۔ اب وحی کسی بشر پر نہیں آسکتی۔
سوال...... ختم نبوت کے دور میں نبوت کا امکان ہے یا نہیں؟
٦
جواب ...... نہیں یہ ختم نبوت اور عدم ختم نبوت میں اجتماع الضدین ہے۔ جس طرح جسم کے متحرک ہونے کے وقت جسم کا ساکن ہونا محال ہے۔ بالکل اسی طرح ختم نبوت کے وقت امکان نبوت محال ہے۔ نیز اگر ختم کے اوقات میں امکان عدم ختم یعنی امکان ثبوت ہوگا اور ہر ممکن کے واقع ہونے کا فرض جائز اور صحیح ہے تو اس ممکن کے واقع ہونے کو فرض کیا جائے گا تو ختم ختم نہیں رہے گا اور ختم کا ختم نہ ہونا قطعاً محال ہے۔ لہٰذا اس وقوع کا فرض کرنا محال اور دوران ختم نبوت میں ثبوت محال ہے۔ میں کہتا ہوں قدرت باری تعالیٰ کا تقاضا فی نفسہ امکان کا ہے۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ کروڑوں سورج بنانے پر قدرت رکھتا ہے۔ لیکن واقع ایک ہی ہے اور وحدت کے وقوع میں کثرت کا وقوع محال ہے۔ لہٰذا خاتم کے وقوع میں لا خاتم محال ہے۔ جس طرح حرکت کے وقوع میں سکون محال اور ناممکن ہے۔ ہاں بے شک جن اوقات میں حرکت واقع ہے اور حرکت ہو رہی ہے ان اوقات میں اللہ تعالیٰ قادر ہے کہ حرکت واقع نہ کرے۔ بلکہ سکون واقع کر دے۔ یہ اور بات ہے کہ قدرت سے حرکت پیدا کر دے اور پھر اس حرکت میں قدرت سے سکون پیدا کر دے۔ یہ محال ہے اس لئے کہ حرکت کے ساتھ قدرت متعلق ہوچکی۔ لہٰذا حرکت کو تو ہونا ہی ہے۔ اب اگر سکون کے ساتھ قدرت متعلق ہوگی تو اس کے یہ معنی ہوں گے کہ حرکت کے ساتھ قدرت متعلق نہیں ہوئی۔ گویا قدرت کا متعلق ہونا قدرت کا نہ متعلق ہونا ہو گیا اور یہ عین تخلیط اور مخالطہ ہے۔ لہٰذا حرکت میں سکون محال ہے۔ بس اسی طرح ختم نبوت میں لا ختم نبوت یعنی نبوت محال ہے۔ یعنی امکان ہے ہی نہیں بلکہ محال ہے۔ میں کہتا ہوں کہ بھید اس میں یہ ہے کہ طرفین کا فی نفسہ امکان نسبت کے امکان کو نہیں چاہتا۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ دودھ فی نفسہ ممکن ہے اور سیاہی فی نفسہ ممکن ہے۔ لیکن دودھ کا سیاہ ہونا اور سفید نہ ہونا ناممکن اور محال ہے۔ باوجودیکہ اللہ تعالیٰ دونوں ممکنوں پر قدرت رکھتا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے دودھ کی سفیدی کا اعلان کر دیا اور قدرت دودھ کی سفیدی کے ساتھ متعلق ہو چکی۔ یعنی یہ قدرت کا دودھ کی سفیدی میں مشغول ہونا ہے۔ دودھ میں سیاہی پیدا کرنے سے عاجز ہونا نہیں ہے۔ (سفیدی میں قدرت کا مشغول ہونا سیاہی میں نہ مشغول ہونے کے نہ منافی ہے نہ عجز ہے) بالکل اسی طرح جب اللہ تعالیٰ نے ختم نبوت کا اعلان کر دیا تو بلاشبہ ختم محقق ہو گیا۔ اب ختم میں عدم ختم محال ہے۔ غور کرو۔ لہٰذا جس نے وقوع کے وقت لا وقوع کے امکان کا دعویٰ کیا۔ اس نے غلطی کی اور جس نے لا وقوع کے ثابت ومحقق ہونے کا دعویٰ کیا اس نے کفر کے ساتھ جنون کو بھی جمع کر لیا۔
٧
سوال ...... ”خاتم النبیین“ کے معنی صرف ختم نبوت کے ہیں یا کچھ اور بھی؟
جواب ...... صرف ختم نبوت کے ہیں۔ یہ آیت یہ بتا رہی ہے کہ محمد رسول اللہﷺ نے نبوت ختم کر دی اور ان کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا۔ یعنی کوئی سچا مدعی نبوت پیدا ہی نہیں ہوگا۔
ثبوت ...... نبی اکرمﷺ نے یہ فرمایا کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔ یا یہ نہیں فرمایا؟
اگر یہ کہتے ہو کہ حضورﷺ نے یہ فرمایا کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا اور یہی فرمایا اور یہی حق ہے تو مدعی ثابت ہو گیا۔ یعنی حضورﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا اور اگر تم یہ کہتے ہو کہ حضورﷺ نے یہ نہیں فرمایا کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔ تو بتاؤ تمام مسلمانوں نے تیرہ سو برس سے اس عقیدہ کو کیوں اپنایا؟ اور بلا اختلاف اپنایا (یعنی آگے کو نبی ہو سکتا تھا تو پھر تمام مسلمانوں نے بلا اختلاف اس غلط عقیدہ کو کیوں اپنایا؟) جس وقت یہ عقیدہ پیدا ہوا تھا اسی وقت اس سے اختلاف کیوں نہیں کیا گیا۔ حالانکہ کوئی معمولی سی بھی نئی بات پیدا ہوتی ہے تو اختلاف ہوتا ہے اور گذشتہ دوروں میں ہوتا رہا ہے۔ جیسا کہ اس وقت اختلاف ہوا۔ اسی طرح جب بھی یہ مسئلہ قوم کے سامنے آتا تو اختلاف ہوتا۔ یعنی حضورﷺ نے یہ نہیں فرمایا کہ میرے بعد نبی نہیں ہوگا۔ تو پھر قوم نے یہ کیوں کہا کہ آپ کے بعد نبی نہیں ہوگا اور جس وقت یہ آواز اٹھی تھی اس وقت اختلاف کیوں نہیں ہوا؟ ساری قوم نے اس بات پر اتفاق کر لیا کہ حضورﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔
حاصل یہ ہے کہ اگر حضورﷺ کا یہ فرمان نہیں ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔ تو پھر متفقہ طور پر اس غلط عقیدہ کو قوم نے کیوں اور کیوں قبول کیا اور کیوں ایک غلط عقیدہ پر سب متفق ہو گئے۔ تو اس وقت وہ سب کے سب شر امت ہو گئے۔ خیر امت نہیں رہے اور جب کہ سب کے سب کاذب، غلط بیان ہو گئے۔ تو ان کی نقل کی ہوئی کوئی بات بھی معتبر نہیں رہی اور قرآن انہی نے نقل کیا ہے تو نتیجہ یہ نکلا کہ قرآن کذابین غلط عقیدہ والوں کی نقل پر موقوف ہو کر غیر معتبر ہو گیا اور سارا مذہب ہی ختم ہو گیا اور اصلی نبی بھی ختم ہو گیا۔ ظلی نبی کس گنتی میں رہا۔ حاصل اس بیان کا یہ ہے کہ اگر غلام احمد قادیانی سچا ہے تو تیرہ سو سالہ مسلمان قوم پوری کی پوری جھوٹی ہو گئی اور جب پوری قوم جھوٹی ہو گئی یعنی پوری قوم اس بات پر متفق ہو گئی کہ آگے کو نبی نہیں ہوگا تو پھر مذہب اسلام پورا کا پورا ختم ہو گیا۔ کیونکہ پوری قوم جب کذب اور جھوٹ پر متفق ہو جائے تو پھر اس قوم کی شہادت غیر معتبر ہے۔ بلکہ جھوٹی ہے اور پوری قوم نے اس قرآن کی شہادت دی ہے۔ لہذا یہ
٨
قرآن متفقہ طور پر کذابین کی نقل ٹھہرا۔ پھر نہ قرآن رہا نہ نبی رہا نہ اسلام رہا نہ اصلی نبی رہا۔ فرعی اور ظلی نبی کی ضرورت ہی کیا باقی رہ گئی، اور اگر ساری قوم صادق ہے اور سچی ہے اور یہی بات سچی اور حق ہے کہ ساری قوم متفقہ طور پر ختم نبوت کی قائل ہے تو پھر منکر ختم نبوت اور قادیانی جھوٹا ہے اور یہ بیان قادیانیت کو جڑ سے کاٹ کر پھینک دیتا ہے۔
خلاصہ پھر سمجھئے۔ اگر قادیانی سچا ہے تو پھر ساری کی ساری چودہ سو سالہ قوم جھوٹی ہے اور جب ساری قوم جھوٹی ہو گئی تو مذہب اسلام اور نبی اور معجزات کی نقل سب جھوٹی ہو گئی اور اس صورت میں کسی ظلی اور فرعی نبوت کی ضرورت باقی نہیں رہتی اور اگر ساری قوم سچی ہے تو قادیانی جھوٹا ہے اور یہ بیان نہایت واضح ہے۔ پھر میں کہتا ہوں کہ خاتم بفتح التاء کے معنی اور مراد وہی ہوگی جو ان لوگوں نے لی ہے۔ جنہوں نے خاتم بفتح التاء ہم تک پہنچایا ہے۔ جن لوگوں پر اعتماد کر کے لفظ خاتم ہم نے تسلیم کیا ہے۔ انہی پر اعتماد کر کے خاتم کے معنی اور خاتم سے مراد تسلیم کی جائے گی۔ اگر خاتم النبیین کے لفظ کے نقل کرنے والے جھوٹے ہوں گے تو ان کی نقل سے کیوں کر خاتم النبیین کا لفظ قبول کیا جائے گا؟ تو جس اعتماد پر خاتم بفتح التاء کا لفظ قبول کیا گیا ہے۔ اسی اعتقاد پر خاتم النبیین کے معنی اور مراد بھی تسلیم کی جائے گی اور اگر بے اعتمادی کی بناء پر مراد اور معنی نہیں تسلیم کئے جائیں گے تو اسی بے اعتمادی کی بنا پر لفظ خاتم النبیین بھی تسلیم نہیں کیا جائے گا اور اس وقت قرآن مجروح ہو جائے گا۔ حاصل یہ ہے کہ تم کو کس نے خاتم النبیین کا لفظ بتایا اور کس کے کہنے سے لفظ خاتم النبیین تم نے تسلیم کیا۔ بس اسی کے کہنے سے خاتم النبیین کے معنی بھی یعنی خاتم بکسر التاء تسلیم کئے جائیں گے۔ اگر معنی کے بیان کرنے والے جھوٹے ہیں تو لفظ کے بیان کرنے والے بدرجہ اولیٰ جھوٹے ہیں۔ کیونکہ وہ الگ الگ نہیں ہیں اور یہ بیان قادیانیت کو جڑ سے اکھیڑ کر پھینک دیتا ہے۔
سوال...... "اللّٰه يصطفى من الملئكة رسلاً ومن الناس (حج:٧٤)" اللہ فرشتوں میں سے اور آدمیوں میں سے رسول چنتا ہے یا چنتا رہے گا یا چنے گا۔ یہاں مضارع کا صیغہ ہے جو حال استقبال دونوں کے لئے آتا ہے۔ اس آیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ نبوت کا انتخاب حال اور مستقبل میں ہوتا رہے گا۔
جواب...... یہ "يصطفى" کا صیغہ مضارع ہی کا ہے۔ مگر "اصطفى" کے معنی میں ہے۔ جس طرح "قال اللّٰه يٰعيسىٰ ابن مريم ء انت قلت (مائده:١١٦)" اور جب
٩
اللہ تعالیٰ کہے اے عیسیٰ کیا تو نے کہا تھا۔ یہاں قال کا صیغہ ماضی کا ہے۔ مگر مستقبل کے معنی میں ہے۔ اسی طرح مستقبل کا صیغہ حال اور ماضی میں مستعمل ہوتا ہے۔
سوال ...... حضرت عیسیٰ علیہ السلام حیات ہیں یا نہیں؟
جواب ...... حیات ہیں۔
ثبوت ...... ”وان من اهل الکتٰب الا لیؤمنن به قبل موته (النساء:١٥٩)“ ﴿عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے قبل تمام اہل کتاب ایمان لے آئیں گے۔﴾
یہ آیت اس بات پر دلالت کر رہی ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کے بعد کوئی اہل کتاب یہودی وغیرہ باقی نہیں رہے گا۔ اس آیت سے استدلال کی تقریر یہ ہے کہ اہل کتاب اور یہودی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کے بعد باقی نہیں رہیں گے۔ لیکن اس وقت یہودی باقی ہیں۔ نتیجہ صاف ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کی وفات ابھی نہیں ہوئی۔ اگر وفات ہو چکی ہوتی تو یہودی ایمان لا چکے اور یہ نہایت بیّن اور واضح استدلال ہے۔
سوال ...... کیا دلیل ہے کہ ”قبل موتہ“ کی ضمیر عیسیٰ علیہ السلام کی طرف پھرے۔ یہ کیوں نہیں جائز ہے کہ ”قبل موتہ“ کی ضمیر اہل کتاب کی طرف پھرے اور آیت کے یہ معنی ہوں کہ ہر اہل کتاب اپنی موت سے قبل عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لائے گا۔
جواب ...... ضمیر اہل کتاب کی طرف نہیں پھرے گی اور نہیں پھر سکتی۔ کیونکہ اکثر اہل کتاب اپنی موت سے قبل عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان نہیں لائے۔ جیسا کہ ظاہر ہے اور اگر موت سے قبل کے معنی حالت نزع کے لئے جائیں تو اس وقت حاصل یہ ہوگا کہ ہر اہل کتاب بحالت نزع جب کہ عالم برزخ اس کو نظر آ جائے۔ اس وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لے آئے گا تو یہ معنی اہل کتاب کے لئے مخصوص نہیں ہیں۔ اس عالم سے جدا ہو کر ہر کافر ہر مشرک جن اشیاء کا انکار کرتا تھا ان سب پر ایمان لے آئے گا۔ برزخ ہو یا بعث ہو۔ ہر مشرک و کافر علاوہ اہل کتاب کے بھی تمام امور پر ایمان لے آئے گا اور ”صدق المرسلون“ کہے گا۔ یعنی نبی سچے تھے۔ اہل کتاب کے ساتھ دوسرے عالم میں ایمان لانے کی تخصیص بے وجہ ہے۔ یہاں یہود کو ڈانٹنا مقصود ہے۔ کیونکہ یہود کہتے تھے کہ ہم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کر دیا۔ ان کو ڈانٹا گیا اور ان کے قول کی تکذیب کی گئی کہ ہرگز تم نے قتل نہیں کیا۔ بلکہ عنقریب تم اس پر ایمان لاؤ گے اور جب تم میں
١٠
سے کوئی باقی نہیں رہے گا جب جاکے کہیں ان کی وفات ہوگی اور وہ قیامت کے دن تم پر شاہد ہوں گے اور قریب کی ضمیر بھی یعنی ”بہ“ کی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف ہے اور بعد کی ضمیر بھی یعنی ”یکون“ کی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف ہے۔ اس لئے درمیانی ضمیر بھی ان ہی کی طرف راجع ہوگی اور نیز ان اہل کتاب سے قبل جو اہل کتاب ایمان نہیں لائے تھے وہ بھی عالم فانی میں ایمان لے آئیں گے تو موجودہ اہل کتاب کو جو اپنے آپ کو قاتل عیسیٰ علیہ السلام کہتے تھے اس سے کیونکر زجر اور ڈانٹ ہوسکتی ہے۔ آیت کے معنی بالکل صاف ہیں۔ یعنی یہود نے جب یہ کہا کہ ہم نے عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کردیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کے قول کی ”ما قتلوہ (نساء:١٥٧)“ سے تکذیب کی اور پھر ان کو ڈانٹا کہ تم اس خیال میں نہ رہنا کہ ہم نے ان کو قتل کردیا۔ بلکہ وہ زندہ ہیں اور عنقریب تم کو ان پر ایمان لانا پڑے گا۔ پھر جاکے کہیں ان کی وفات ہوگی۔
دوسرا ثبوت ...... ”وانہ لعلم للساعة (زخرف:٦١)“ اور بے شک حضرت عیسیٰ علیہ السلام قیامت کی نشانی ہیں۔ یعنی جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام زمین پر نازل ہوں تو سمجھ لو کہ قیامت قریب آگئی۔ ”انہ“ کی ضمیر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف پھر رہی ہے اور ”علم“ کے معنی نشانی اور علامت کے ہیں۔ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام قیامت کے قریب آئیں گے اور ان کا آنا پتہ دے گا کہ عنقریب قیامت آنے والی ہے۔ میں کہتا ہوں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قتل اور صلیب کی واضح طور پر قرآن نے تردید کردی۔ ”ما قتلوہ وما صلبوہ“ اور ”ما قتلوہ یقیناً (نساء:١٥٧)“ ان کو یقیناً قتل نہیں کیا اور یہود اس وقت سے اس آیت کے نزول تک برابر اسی خیال میں رہے کہ انہوں نے قتل کردیا۔ اگر ادعاء قتل وصلیب کے بعد ان کی موت طبعی ہوتی تو ضرور بالضرور یہود کو پتہ چل جاتا اور وہ قتل وصلیب کے زعم میں مبتلا نہ ہوتے۔ اس سے صاف واضح ہوگیا کہ اس قتل وصلیب کے بعد وہ اپنی طبعی موت سے بھی نہیں مرے۔
خلاصہ یہ ہے کہ یہود کو ان کی موت وحیات کا قادیانی سے بہت زیادہ فکر تھا۔ مگر ان کو چھ سو برس تک پتہ نہیں چل سکا کہ وہ اپنی طبعی موت سے مرگئے۔ اگر وہ اپنی طبعی موت سے مرتے تو ضرور یہود کو پتہ چل جاتا اور یہود قتل وصلیب کے خیال میں نہ رہتے۔ لہٰذا یہ کہنا کہ وہ طبعی موت سے مرگئے۔ قتل وصلیب سے بھی کمزور قول ہے۔
سوال ...... حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان پر جانا عقل میں نہیں آتا۔
١١
جواب...... کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا بے باپ کے پیدا ہونا عقل میں آتا ہے۔ جس شخص کی ابتداء خرق عادت ہو اور تمام زندگی خرق عادت ہو۔ اس کا انجام کیوں نہ خرق عادت ہو۔ غور کرو۔
سوال...... ”وما محمد الا رسول قد خلت من قبله الرسل (آل عمران:١٤٤)“ محمد اور ان سے پہلے کے تمام رسول گذر گئے۔ یعنی وفات پا گئے۔
جواب...... یہ معنی جب صحیح ہوں گے کہ خلت کے معنی ماتت کے ہوں اور رسل سے تمام رسول مراد ہوں اور کوئی رسل مستثنیٰ نہ ہو۔ حالانکہ خلت کے معنی ماتت کے نہیں ہیں۔ بلکہ مضت کے ہیں۔ یعنی ان کا دور اور زمانہ گذر گیا اور اگر خلت کے معنی ماتت کے ہوں گے تو ”قد خلت من قبلهم المثلت (الرعد:٦)“ کے معنی یہ ہوں گے کہ تحقیق ان سے پہلے واقعات عقوبت مر گئے اور ”فی الایام الخالية (الحاقة:٢٤)“ کے معنی گذشتہ ایام کی بجائے مردے ایام ہوں گے۔ لہٰذا خلت کے معنی ماتت کے نہیں ہیں۔ اسی طرح رسل سے تمام رسول مراد نہیں ہیں۔ جس طرح ”ولقد ارسلنا رسلاً من قبلك وجعلنا لهم ازواجاً وذرية (الرعد:٣٨)“ ہم نے تجھ سے پہلے رسولوں کو بھیجا اور ان کو بیویاں اور اولادیں دیں۔ حالانکہ حضرت یحییٰ علیہ السلام کو بیوی اور اولاد نہیں دی۔ کیونکہ ان کی تعریف میں فرمایا۔”حصوراً (آل عمران:٣٩)“ یعنی عورتوں سے بچنے اور پرہیز کرنے والا۔
میں کہتا ہوں کہ اگر یہ دعویٰ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو گئے۔ سچا ہے تو یہ دعویٰ کہ وہ حیات ہیں اور زندہ ہیں۔ قطعی جھوٹا ہو گیا۔ یعنی اگر قادیانی سچا ہے تو ساری قوم جھوٹی ہے اور اگر ساری قوم اصحاب رسول اللہ ﷺ سے لے کر آج تک اگر سب جھوٹے ہیں تو یہ مذہب اسلام ہی ختم ہوا، اور ان سب جھوٹوں نے قرآن نقل کیا ہے تو قرآن بھی غیر معتبر ہوا اور اسی قرآن سے اصلی مسیح ثابت ہے۔ وہ اصلی مسیح بھی ختم ہوا۔ اب مسیح موعود کی کیا ضرورت باقی رہ گئی؟ جب کہ اصلی مسیح ختم ہو گیا۔ جو قرآن سے ثابت ہے اور قرآن ان تمام جھوٹوں سے ثابت ہے اور اگر ساری قوم سچی ہے اور یہی حق ہے تو قطعاً قادیانی منکر حیات مسیح جھوٹا ہو گیا اور یہ بیان قادیانی اور انکار حیات مسیح کو ختم کر دیتا ہے۔
سوال...... ”انی متوفیک (آل عمران:٥٥)“ کے معنی ”انی ممیتک“ ہیں۔
١٢
یعنی میں تجھے موت دینے والا ہوں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ موت ہو چکی یا ہوگی۔ اس کی علامت یہ ہے کہ تثلیث موت کے بعد ہوئی ہے۔ جیسا کہ ”كنت انت الرقيب عليهم (مائده: ١١٧) “ دلالت کر رہا ہے یعنی تو نے مجھے جب موت دی۔ اس کے بعد مجھے پتہ نہیں تو ان کا حافظ اور نگہبان تھا۔ اس آیت سے پتہ چلتا ہے کہ تثلیث موت کے بعد ہوئی اور تثلیث اس وقت موجود ہے تو معلوم ہوا کہ موت ہو چکی۔
جواب...... یہ ہے کہ ”انی متوفیک“ کے معنی یہ ہیں کہ اے عیسیٰ تو ان کے ڈرانے اور دھمکانے میں نہ آئیو۔ یہ تجھے موت دینے والے نہیں ہیں۔ موت دینے والا صرف میں ہی ہوں۔ جس کسی کو بھی موت آئے گی اس کا متوفی اور ممیت میں ہی ہوں اور تیرا بھی متوفی میں ہی ہوں۔ یہ نہیں ہیں تو ان سے نہ ڈر۔ جب یہ یورش کریں گے تو میں تجھے صاف نکال کر لے جاؤں گا۔ ہر وقت تیرے ساتھ روح القدس موجود ہے۔ جس وقت یہ حملہ کریں گے اس وقت روح القدس تجھے ان سے بچا کر میرے پاس لے آئیں گے۔ اس آیت سے حضرت عیسیٰ کی موت کی خبر نہیں دی گئی ہے۔ بلکہ یہ خبر دی گئی ہے کہ موت کا دینے والا صرف خدا ہے اور ”توفیتنی“ میں بھی موت کی خبر نہیں ہے۔ بلکہ حاصل یہ ہے کہ جب تک میں ان میں رہا توحید کی تعلیم دیتا رہا۔ پھر جب تو نے مجھے اٹھا لیا تو پھر مجھے خبر نہیں یہاں توفی کے معنی رفع کے ہیں۔
سوال...... توفی سے مراد رفع ہے، موت نہیں ہے۔ اس کی کیا دلیل ہے؟
جواب...... اس کی دلیل اجماع ہے۔ جن لوگوں نے متوفی اور توفیت کا لفظ یہاں تک پہنچایا ہے۔ انہی نے اس کے معنی اور مراد بھی پہنچائے ہیں۔ جن کے کہنے سے متوفیک کا لفظ تسلیم ہوا ہے۔ انہی کے کہنے سے متوفی اور توفیت کے معنی بھی تسلیم ہوئے ہیں۔ یعنی ساری قوم نے بالاجماع توفی کے معنی رفع یعنی اٹھا لینے کے کئے ہیں۔ اب اگر ان کا رفع مراد لینا غلط ہو گا تو ان کا متوفیک کا لفظ بھی نقل کرنا غلط ہوگا۔ یعنی جن کے کہنے سے اور جن کی نقل پر متوفیک کا لفظ قبول کیا ان ہی کی صداقت پر اعتماد کر کے متوفی کے معنی قبول کئے گئے ہیں۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ لفظ تو قبول کیا جائے اور معنی نہ قبول کئے جائیں۔
سوال...... لغت میں لفظ کے جو معنی ہیں کیا یہ ہو سکتا ہے کہ قرآن میں وہ معنی مراد نہ ہوں۔ یعنی قرآن میں لفظ کے لغوی معنی مراد نہ ہوں۔
١٣
جواب ...... ہوسکتا ہے کہ لفظ کے لغوی معنی قرآن میں مراد نہ ہوں۔ جیسے ”الله يستهزئ بهم (البقره:١٥)“ اللہ تعالیٰ ان سے مذاق کرتا ہے۔ ہنسی کرتا ہے، ٹھٹھا کرتا ہے۔ لغت استہزاء کے معنی ٹھٹھا کرنے کے ہیں۔ لیکن ساری قوم کا اجماع ہے کہ یہ معنی مراد نہیں ہیں لغت ہیں۔ اگر کسی فعل کا کوئی فاعل ہو تو اس فاعل پر اس فعل سے جو اسم فاعل مشتق ہے وہ بولا جاسکتا ہے۔ لیکن ”مكر الله“ اور ”الله يستهزئ “ اور ”يعذب الله “ میں جو افعال ہیں وہ بالاجماع ماکر اور مستہزء اور معذب ان فعلوں کے فاعل یعنی اللہ پر نہیں بولے جاسکتے۔ نیز متشابہات کے لئے لغوی معانی ضرور ہیں۔ لیکن اس کے لغوی معانی مراد نہیں ہیں۔ اسی طرح متوفی کے معنی اگر چہ لغت میں ممیت ہی کے کیوں نہ ہوں۔ لیکن وہ بالاجماع مراد نہیں ہیں۔ جس طرح ”يتوفكم باليل (انعام:٦٠)“ میں اور ”الله يتوفى الانفس (الزمر:٤٢)“ میں لفظ کے قرینہ سے توفی کے معنی موت کے نہیں ہیں۔ اسی طرح ”انی متوفيك“ میں ”توفیت“ میں اجماع کے قرینہ سے توفی کے معنی موت کے نہیں ہیں۔ غور کرو۔
میں کہتا ہوں کہ اسباب علم صرف تین ہیں۔ حس، عقل اور خبر صحیح، حس تو اس وقت کارآمد نہیں ہے۔ کیونکہ تقریباً ساڑھے انیس سو برس اس واقعہ کو گزر گئے اور عقل سے کسی کی پیدائش اور موت کا پتہ نہیں چل سکتا۔ اب رہی خبر صحیح، سو وہ یا خبر متواتر ہے یا خبر صادق و مصدق ہے تو خبر متواتر یہود کے ہاں صلیب کی ہے۔ موت طبعی کی نہیں ہے اور خبر رسول ﷺ حیات مسیح علیہ السلام کی ہے اور قرآن شریف سے بھی حیات ہی ثابت ہے تو اب بتاؤ کہ تم کو طبعی موت کا علم کیوں کر ہوا۔ کیونکہ ذرائع علم و یقین سب مفقود ہیں۔ اور یہ مقام عقیدہ کا مقام ہے۔ اس میں ظن حجت نہیں ہے۔
میں کہتا ہوں اگر وہ اپنی موت سے یعنی طبعی موت سے مرے تھے تو اس وقت کوئی موجود تھا یا موجود نہ تھا۔ اگر کوئی موجود تھا تو وہ فوراً یہود کو مطلع کرتا کہ تم دھوکہ میں ہو۔ تم نے انہیں صلیب نہیں دی اور وہ تو اپنی موت سے میرے سامنے مرے ہیں اور اگر کوئی موجود نہ تھا اور یہود نے ان کے متعلق یہ شہرت دے دی تھی کہ ان کو صلیب دے دی تو پھر کس طرح قائلان موت کو خبر ملی؟ اگر یہ کہا جائے کہ موت کی خبر قرآن سے ملی تو سوائے اس قائل موت کے، نبی سے لے کر سب کے سب حیات کے قائل ہیں۔ یہ کس طرح متصور ہوسکتا ہے کہ نبی اور تمام صحابہ اور تمام تابعین سے لے کر آج تک کے کل مسلمانوں کو قرآن سے وفات مسیح کا مسئلہ نہ معلوم ہوسکا اور صرف اسی قائل موت یعنی قادیانی کو معلوم ہوگیا۔
١٤
بولو کیا کہتے ہو۔ نبی ﷺ کو مسیح علیہ السلام کی حیات کا علم تھا یا وفات کا علم تھا یا دونوں میں سے کسی کا بھی علم نہ تھا۔ اگر کہو کہ نبی ﷺ کو حیات مسیح علیہ السلام کا علم تھا اور حیات مسیح ہی کی تبلیغ فرمائی تو یہ حق ہے۔ صحیح ہے، یہی ہمارا مدعا ہے اور اگر کہو کہ نبی ﷺ کو وفات کا علم تھا تو اب بتاؤ کہ نبی ﷺ نے وفات مسیح کے علم کے ساتھ تبلیغ حیات مسیح کی کی یا وفات مسیح کی کی۔ اگر کہو کہ حیات مسیح کی کی۔ حالانکہ ان کو وفات مسیح کا علم تھا تو یہ خاتم النبیین کی تکذیب ہے اور اس صورت میں قرآن، مذہب، اسلام، دین سب ختم اور اگر کہو کہ نبی ﷺ کو وفات مسیح کا علم تھا اور وفات مسیح ہی کی تبلیغ فرمائی تھی تو اس صورت میں تمام قوم جو حیات مسیح علیہ السلام کی قائل ہے۔ سب جھوٹی ہوگئی اور جھوٹوں کی نقل پر قرآن اور جملہ شرائع سب غیر معتبر ہوگئے اور ”كنتم خير امة“ کی بجائے یہ لوگ شر امت ہوگئے اور اس حال میں بھی مذہب کا بالکلیہ خاتمہ ہوگیا اور اگر کہو کہ نبی ﷺ کو نہ حیات مسیح علیہ السلام کا علم تھا نہ وفات کا علم تھا۔ تو پھر تم کو مسیح علیہ السلام کی وفات کا علم کیسے ہوگیا؟ اگر کہو کہ قرآن سے جانا تو نبی علیہ الصلوۃ والسلام نے تو قرآن سے جانا نہیں۔ ساری امت نے قرآن سے جانا نہیں، تم نے کیسے جان لیا۔ لہٰذا یہ بالکل لغو اور غلط بات ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام وفات پاگئے۔
شبہ: یہ بات بالکل ظاہر ہے کہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے اس کے بعد وفات پائیں گے تو اس وفات کے بعد تثلیث کا عقیدہ باقی نہیں رہے گا اور تثلیث نہیں ہوگی اور یہ بات بالکل ظاہر ہے کہ تقریباً انیس سو برس سے تثلیث کا عقیدہ موجود ہے اور اللہ تعالیٰ کے قول ”فلما توفيتنى كنت انت الرقيب عليهم (مائده:١١٧)“ یعنی جب تو نے مجھے وفات دے دی تو اس کے بعد تو ان کا نگہبان رہا۔
اس قول سے صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ تثلیث کا عقیدہ وفات کے بعد پیدا ہوا اور تثلیث ١٩ سو برس سے متحقق ہے تو اس سے معلوم ہوا کہ مسیح علیہ السلام کی وفات ہوچکی اور اس وفات کے بعد سے آج تک یہ تثلیث کا عقیدہ چلتا رہا۔ اس شبہ کا کیا حل ہے؟ اس شبہ کا حل یہ ہے کہ آیت ”فلما توفیتنی“ حکایت ہے۔ اس ”توفی“ سے، جو رفع کے معنی میں ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ جب تو نے مجھے رفع کیا اور زندہ آسمان پر اٹھا لیا پھر مجھے خبر نہیں انہوں نے کیا عقیدہ اختیار کیا۔ اس آیت کے یہ معنی نہیں ہیں کہ جب تو نے مجھے موت طبعی سے مار ڈالا۔ اس کے بعد مجھے خبر نہیں تو ہی ان کا محافظ اور نگہبان تھا۔ خلاصہ یہ ہے کہ: ”فلما توفيتنى“
١٥
کے معنی ”فلما رفعتنی“ کے ہیں اور یہ پہلی ہی بحث ہے کہ توفی کے معنی رفع کے ہیں اور اوپر مفصل یہ بحث گزر چکی۔
خلاصہ یہ ہے کہ توفی سے مراد اگر موت ہوگی تو تمام وہ جماعت جس نے توفی کا لفظ ہم تک پہنچایا ہے وہ جھوٹی ہو جائے گی اور اس صورت میں لفظ ”متوفی“ اور ”توفیتنی“ کا قبول کرنا ہی باطل اور غلط ہو جائے گا۔ کیونکہ جنہوں نے یہ لفظ پہنچایا ہے ان سب نے بالاتفاق اور بالاجماع اس لفظ سے مراد رفع بتایا ہے۔ اب اگر ان کی بتائی ہوئی مراد اور معنی غلط ہیں اور وہ جھوٹے ہیں تو ان کا بتایا ہوا لفظ بھی ناقابل قبول ہے اور اس وقت قرآن پر طعن ہوگا اور قرآن مجروح ہو جائے گا۔ لہٰذا اگر قادیانی نبی ہوگا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو گئے ہوں گے تو تمام مذہب اسلام اور قرآن اور نبی سب غلط اور باطل ہو جائیں گے۔ خوب سمجھ لو کہ اگر قادیانی سچا ہے تو اس کے مقابل سارا مذہب اور تمام تیرہ سو سالہ مؤمنوں کی جمعیت جھوٹی ہو جائے گی اور اس وقت جب کہ سارا مذہب اور اصلی نبی ناحق ہو گیا تو اس نقلی نبی اور ظلی مذہب کی ضرورت ہی کیا باقی رہ گئی؟ ”ولو اتبع الحق اهواء هم لفسدت السمٰوت والارض ومن فيهن (المؤمنون:٧١)“ اور اس وقت نظام عالم درہم برہم ہو جائے گا۔ لہٰذا نبوت ختم ہو چکی اور عیسیٰ علیہ السلام حیات ہیں، اور نبوت کے ختم پر یہ آیت بھی دلالت کر رہی ہے۔ ”وما ارسلنك الا كافة للناس (سبا:٢٨)“ ﴿ہم نے تم کو تمام لوگوں کے لئے رسول بنا کر بھیجا ہے۔﴾ اور مقصود بعثت بشارت اور انذار ہی ہے۔ آپ جب تمام لوگوں کے لئے رسول بن کر آئے اور سب کے لئے بشیر اور نذیر ہو گئے تو اب جدید بشیر اور نذیر کی ضرورت ہی باقی نہیں رہی اور فرمایا: ”قل یا ایها الناس انی رسول الله اليكم جميعا (اعراف:١٥٨)“ ﴿کہہ دے اے لوگو! میں تم سب کے لئے اللہ کا رسول ہوں۔﴾ تو اب کسی انسان کے لئے جدید رسول کی ضرورت نہ رہی۔
اب اگر تم یہ کہو کہ نبوت تامہ اور رسالت تامہ محمد رسول اللہ ﷺ پر ختم ہو چکی۔ لیکن نبوت جزئیہ اور رسالت جزئیہ جسے قادیانی نبوت ظلی سے تعبیر کرتا ہے یہ تو ختم نہیں ہوئی۔ اس کا جواب یہ ہے کہ نبوت صرف وحی ہے۔ نبی اور غیر نبی میں صرف وحی ہی فارق ہے۔ جیسا کہ فرمایا: ”انما انا بشر مثلكم يوحى الیٰ (کہف:١١٠)“ ﴿میں تمہاری طرح بشر ہوں، فرق یہ ہے کہ میری طرف وحی آتی ہے۔﴾ اس آیت سے صاف ظاہر ہو گیا کہ جس پر وحی آئے وہ نبی ہے اور جس پر وحی نہ آئے وہ نبی نہیں ہے۔
١٦
اور فرمایا: ”وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰی عَلَی اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ قَالَ اُوْحِیَ اِلَیَّ وَلَمْ يُوْحَ اِلَيْهِ شَيْءٌ (انعام:٩٣) ”اس سے بڑا ظالم کون ہے جس نے اللہ پر جھوٹ باندھا یا کہا کہ میرے اوپر وحی آتی ہے اور اس پر کوئی بھی وحی نہ آئی ہو۔“
اس آیت سے صاف ظاہر ہو گیا کہ جس پر ایک بھی وحی نہ آئی ہو اور وہ وحی کا دعویٰ کرے تو وہ جھوٹا اور ظالم ہے اور اگر ایک دفعہ بھی وحی آگئی تو وہ قطعی نبی تام ہے۔ لہٰذا نبوت جزئیہ کے کوئی معنی ہی نہیں ہیں اور اگر ایک دفعہ بھی وحی نہیں آئی اور پھر جھوٹا دعویٰ کیا تو دجال کذاب ہے۔ سو نبوت ظلی اور نبوت جزئی کا دعویٰ دھوکا اور فریب ہے۔ نبوت تام اور کامل ہی ہے۔ نبوت ناقص اور جزئی بے معنی لفظ ہے۔ اگر تمہارا خیال ہے کہ الہام نبوت جزئیہ ہے تو میں کہوں گا کہ الہام غیر معتبر چیز ہے اور اس کے لئے لفظ نبوت خواہ جزئی کی قید کے ساتھ کیوں نہ کہا جائے خلاف شرع ہے۔ الہام ظنی چیز ہے ہو سکتا ہے کہ فجور کا الہام ہو۔ ہو سکتا ہے کہ تقویٰ کا الہام ہو۔ ”فَاَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوٰهَا (شمس:٨)“ پس اس کو اس کے فسق اور تقویٰ کا الہام کر دیا۔
جب الہام میں تقویٰ لازم نہیں ہے تو نبوت الہام سے کیسے لازم آسکتی ہے۔ اب دوبارہ اس بات کو سمجھ لو کہ ”وَلَمْ يُوْحَ اِلَيْهِ شَيْءٌ“ میں نکرہ منفیہ ہے جو عام ہوتا ہے۔ یعنی اس پر کوئی وحی نہ ہو۔ اس سے ظاہر ہو گیا کہ ایک وحی بھی نبوت کے لئے کافی ہے اور نبوت تام ہے اور نبوت ناقص یہ اختراع محض ہے۔ باطل ہے، غلط ہے، کفر ہے۔ لہٰذا جو شخص یہ کہے کہ ایک وحی مجھ پر آئی وہ قطعاً نبی ہے اور وہ پورا نبی ہے۔ یہ نہیں ہے کہ جس پر ایک وحی آئے یا کم وحی آئے وہ ناقص جزئی ظلی نبی ہے اور جس پر ایک سے زائد یا بکثرت وحی آئے وہ نبی تام کامل نبی ہے۔ یہ تقسیم ہی غلط ہے۔ یہ ایک مسلم حقیقت ہے کہ جب نبوت ختم ہو چکی تو نبوت کا دعویٰ کرنا کفر ہے۔ حاصل یہ ہے کہ جس انسان پر وحی نازل ہو خواہ ایک مرتبہ خواہ ایک مرتبہ سے زیادہ۔ ہر صورت میں وہ نبی ہے۔ نبوت کی تقسیم نہیں ہے کہ کم مرتبہ وحی آئے تو وہ جزئی نبی، زیادہ مرتبہ وحی آئے تو وہ تام اور کامل نبی ہو۔ بلکہ ہر صورت میں صاحب وحی نبی ہی ہے۔ ظلی اور جزئی کوئی چیز نہیں ہے۔ سن لو اور سمجھ لو کہ تمام عالموں کے لئے اور تمام انسانوں کے لئے اور تمام جنوں کے لئے جب محمدﷺ نبی ہو کر آئے تو اب مزید نبی کی کسی عالم کو انسان اور کسی جن کو ضرورت باقی نہیں رہی۔ اب اگر کوئی کہتا ہے کہ ظلی اور جزئی نبی کے یہ معنی ہیں کہ صاحب شریعت نبی کی شریعت کی تبلیغ کرنے کے لئے نبی کی
١٧
ضرورت ہے تو یہ بھی غلط ہے۔ فرمایا: ”ليکون الرسول شهيداً عليکم وتکونوا شهداء علی الناس (حج:٧٨)“ یعنی رسول تم پر شہادت دے اور تم لوگوں پر شہادت دو۔
اور فرمایا: ”جعلنکم امة وسطا لتکونوا شهداء علی الناس ویكون الرسول عليکم شهيداً (البقره:١٤٣)“ ہم نے تم کو بہترین امت اس لئے بنایا کہ تم لوگوں پر گواہ ہو جاؤ اور رسول تم پر گواہ ہو جائے۔
حاصل ان دونوں آیتوں کا یہ ہے کہ رسول تم کو تبلیغ کرے گا اور تم باقی تمام لوگوں کو تبلیغ کرتے رہنا۔ کسی مزید نبی کی ضرورت نہیں ہے۔ نبی یا اپنی شریعت کی تبلیغ کرتا ہے یا دوسرے نبی کی شریعت کی تبلیغ کرتا ہے، اور قادیانی نہ اپنی شریعت لایا اور نہ محمد ﷺ کی شریعت کی تبلیغ کرتا ہے۔ کیونکہ محمد ﷺ کی شریعت کی تبلیغ کے لئے امت وسط یعنی بہترین امت مقرر کر دی گئی۔ اب کسی نبی کی ضرورت باقی نہ رہی۔
اس تمام تقریر کا خلاصہ یہ ہے کہ نبوت بغیر معجزہ کے نہیں ہو سکتی اور معجزہ وہ خرق عادت اور خلاف عادت فعل ہے۔ جس کا تعارض اور جواب نہ ہو سکتا ہو اور قادیانی کے ہاتھ پر کوئی معجزہ ظاہر نہیں ہوا۔ اگر کہیں کوئی معمولی سی بات بھی عادت کے خلاف ظاہر ہوتی ہے تو سارے عالم میں اس کی شہرت ہو جاتی ہے۔ چرچے ہونے لگتے ہیں۔ جیسا کہ موجودہ دور میں آپ نے دیکھا کہ ایٹم بم کی ایجاد کتنی مشہور ہو گئی۔ اسی طرح ہر نئی اور انوکھی بات کا حال ہے۔ مگر اس مدعی نبوت سے کوئی ایسی خلاف عادت اور خرق عادت بات ظاہر ہی نہیں ہوئی۔ لہٰذا یہ مدعی نبوت قطعاً جھوٹا اور کاذب ہے۔ نیز نبی اگر آتا ہے تو یا اپنی شریعت لے کر آتا ہے اور اپنی شریعت کی تبلیغ کرتا ہے۔ مگر قادیانی کوئی شریعت لے کر نہیں آیا اور نہ کوئی اور نئی شریعت لا سکتا ہے۔ کیونکہ فرمایا: ”اليوم اکملت لکم دینکم (مائدہ:٣)“ آج میں نے تمہاری شریعت مکمل کر دی۔ اب کسی اور شریعت کی ضرورت نہیں رہی۔ یا وہ نبی کسی پہلے نبی کی شریعت کی تبلیغ کرنے کی غرض سے آتا ہے۔ لیکن محمد رسول اللہ ﷺ کی شریعت کی تبلیغ کرنے کے لئے کسی نبی کی ضرورت نہیں ہے۔ اس ضرورت کو پورا کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے امت وسط یعنی بہترین امت کو مقرر کیا ہے۔
”وکذلک جعلنا امة وسطاً لتکونوا شهداء علی الناس ویكون الرسول عليکم شهيدا (البقره:١٤٣)“ اور اسی طرح ہم نے تم کو بہترین امت قرار دیا تاکہ تم تمام لوگوں کو تبلیغ
١٨
کرو اور ان کے دین پر گواہ بن جاؤ اور رسول تم کو تبلیغ کرے اور تم پر گواہ ہو جائے۔ لہٰذا تبلیغ دین اور شریعت کے لئے کسی نبی کی ضرورت نہیں۔ صرف امت کافی ہے اور امت کے لئے وحی نہیں ہے۔ لہٰذا امت میں سے کوئی نبی نہیں ہے۔ اس کے باوجود جو کوئی نبوت کا دعویٰ کرے وہ بڑے سے بڑا ظالم اور کذاب و دجال ہے۔
سوال...... یہ امت بہترین امت ہے اور یہ بہتری اسی امت کا خاصہ ہے۔ اگر حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام دوبارہ اس جہاں میں تشریف لا کر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کریں گے تو یہ امت بہتری اور خیر سے خارج ہو جائے گی اور محروم ہو جائے گی۔ لہٰذا حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں آ کر یہ شرف اور بہتری حاصل نہیں کریں گے۔ بلکہ اس امت میں کا کوئی فرد امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنے کے لئے مقرر ہوگا اور وہ یہی قادیانی ہے۔
جواب....... اگر اس کے تمام بیانات صحیح ہوں تو اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ قادیانی کی حیثیت امتی کی ہے اور امت میں سے کوئی بھی نبی نہیں ہو سکتا۔ اس لئے اس کے لئے نبوت کا ثابت ہونا ہی محال ہے۔ دوسرے یہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا دوبارہ آنا یہود کی تنبیہ اور ڈانٹ کے لئے ہوگا اور بطور معجزہ کے ہوگا۔ جس طرح آپ کی پیدائش بطور معجزہ کے ہوئی تھی۔ آپ نازل ہو کر شریعت محمدیہ قدیمہ کی تبلیغ کریں گے۔ جس طرح شروع سے امت تبلیغ کرتی چلی آئی ہے۔
سوال....... جب محمد ﷺ مثیل موسیٰ ہیں تو ضروری ہے کہ آپ کی امت بھی موسوی امت کی مثیل قرار پائے۔ جیسا کہ فرمایا: ”انا ارسلنا الیکم رسولا شاهدا عليكم كما ارسلنا الى فرعون رسولا (مزمل:١٥) “ ہم نے تمہاری طرف رسول بھیجا جو تم پر شاہد ہے۔ جس طرح موسیٰ علیہ السلام کو فرعون کی طرف رسول بنا کر بھیجا۔ اس آیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ محمد ﷺ مثیل موسیٰ تھے اور جب نبی نبی کی مثل ہے تو اس نبی کی امت بھی اس نبی کی امت کی مثل ہوگی۔ پس امت محمدیہ امت موسویہ کی مثل ہوئی اور امت موسویہ میں چودہ سو برس بعد مسیح علیہ السلام پیدا ہوئے تھے۔ اس لئے ضروری ہے کہ امت محمدیہ میں بھی چودہ سو برس بعد ایک مسیح پیدا ہوں اور وہ یہ غلام احمد قادیانی ہے۔
جواب...... آیت میں نبی کو نبی سے تشبیہ نہیں دی گئی ہے۔ بلکہ صرف ارسال یعنی بھیجنے
١٩
جانے میں مثل قرار دیا گیا ہے۔ جس طرح موسیٰ علیہ السلام کو فرعون کی طرف بھیجا گیا تھا۔ اسی طرح محمدﷺ کو تمہاری طرف بھیجا گیا ہے۔ اس لئے نہ نبی نبی کی مثل ہے اور نہ امت امت کی مانند۔ یعنی نہ تو محمدﷺ موسیٰ علیہ السلام کی مثل ہیں اور نہ امت محمدیہ امت موسویہ کی مثل ہے۔ بلکہ نبی نبی سے افضل اور امت امت سے افضل ہے۔ کوئی کسی کے مثل نہیں۔ جیسے ”انا اوحینا الیک کما اوحینا الی نوح (نساء:١٦٣)“ ﴿اے پیغمبر ! ہم نے آپ کی طرف اسی طرح وحی کی جس طرح نوح علیہ السلام کی طرف۔﴾ اس سے صرف وحی کرنے میں مماثلت ثابت ہوتی ہے۔ جن کی طرف وحی کی گئی۔ ان کی باہمی مماثلت ثابت نہیں ہوتی۔ ورنہ تمام انبیاء ایک دوسرے کے مثیل ہو جائیں گے اور یہ صحیح نہیں ہے۔ کیونکہ ”تلك الرسل فضلنا بعضهم علی بعض (البقرہ:٢٥٣)“ ﴿ان رسولوں میں سے ایک کو دوسرے پر فضیلت ہے۔﴾ اسی طرح ایک امت کو دوسری امت پر فضیلت ہے اور اگر ایک امت دوسری امت کی مثل ہو جائے تو یہ ضروری نہیں ہے کہ جتنے افراد اس میں ہوں اتنے ہی افراد اس امت میں بھی ہوں۔ بنی اسرائیل کی قوم میں بے شمار انبیاء اور رسول ہوئے ہیں تو چاہئے کہ امت محمدیہ میں بھی مثل ہارون اور مثل داؤد و سلیمان اور مثل زکریا و یحییٰ علیہم السلام ہوں، اور پھر یہ کیا ضروری ہے کہ صرف مماثلت مسیح علیہ السلام ہی کے ساتھ ہو۔ دوسروں کے ساتھ نہ ہو۔ جب امت محمدیہ مثل امت موسویہ ہو کر عیسیٰ پیدا کر سکتی ہے تو ہارون، داؤد، سلیمان، زکریا اور یحییٰ علیہم السلام کیوں نہیں پیدا کرتی۔ اس کے علاوہ امت سے مراد قوم نبی ہے یعنی اس خاندان سے درحقیقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں۔ جس خاندان سے حضرت موسیٰ علیہ السلام ہیں اور امت سے مراد مخاطب نبی ہے۔ اس معنی کے اعتبار سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام حضرت موسیٰ علیہ السلام کے امتی نہیں ہیں۔ بلکہ خود رسول اور نبی ہیں۔ الغرض یہ قادیانیوں کی انتہائی جہالت ہے۔
سوال ...... ”والذین یدعون من دون الله لا يخلقون شيئاً وهم يخلقون ٠ اموات غير احیاء (النحل:٢٠،٢١)“ ﴿اور اللہ تعالیٰ کے سوا جن کی پوجا ہورہی ہے وہ کسی شئے کے خالق نہیں ہیں۔ بلکہ وہ خود مخلوق ہیں۔ مردے ہیں، زندہ نہیں ہیں اور عیسیٰ علیہ السلام کی پوجا ہوتی ہے۔ لہٰذا وہ بھی مردے ہیں زندہ نہیں ہیں۔
جواب ....... خدا کے سوا جن کی پرستش اور پوجا کی جاتی ہے ان سے یہاں بت مراد
٢٠
ہیں۔ عیسیٰ علیہ السلام مراد نہیں ہیں۔ دوسری جگہ ارشاد ہے: ”ان الذین تدعون من دون الله عباداً امثالكم (اعراف:١٩٤)“ ﴿یعنی تم خدا کو چھوڑ کر جن کی عبادت کرتے ہو وہ تمہاری طرح بندے ہیں۔﴾ یہاں فرمایا گیا ہے۔ ”امثالكم“ تمہاری طرح خدا کو چھوڑ کر جن کی پوجا کی جاتی ہے اگر وہ مردہ تسلیم کر لئے جائیں تو چونکہ وہ تمہاری طرح قرار دیئے گئے ہیں۔ اس لئے تم بھی مردہ سمجھے جاؤ یا پھر وہ تمہاری طرح زندہ ہو جائیں گے۔ اس کے علاوہ یہ بھی فرمایا گیا ہے: ”انكم وما تعبدون من دون الله حصب جهنم (الانبياء:٩٨)“ ﴿بے شک تم اور جن کی خدا کو چھوڑ کر تم پرستش کرتے ہو وہ سب جہنم کا ایندھن ہیں۔﴾ تو کیا نعوذ باللہ حضرت مسیح علیہ السلام بھی جہنم کا ایندھن بننے والوں میں شامل سمجھے جائیں گے۔ نیز فرشتوں جنوں اور شیطانوں کی بھی پرستش کی جاتی ہے تو کیا یہ سب مردہ ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ: ”انك ميت وانهم ميتون (زمر:٣٠)“ ﴿اور بے شک تو مردہ ہے اور وہ سب مردے ہیں۔﴾ جس طرح اس آیت میں فی الحال مردہ ہونا مراد نہیں ہے۔ اسی طرح خدا کے سوا جن کی پرستش کی جاتی ہے ان کا فی الحال مردہ ہونا مراد نہیں ہے۔
سوال...... ”فادخلی فی عبدی، وادخلی جنتی (الفجر:٣٠،٢٩)“ ﴿میرے بندوں میں داخل ہو جا اور میری جنت میں داخل ہو جا۔﴾ اس آیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنت میں داخلہ مرنے کے بعد ہے اور حضور اکرم ﷺ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو فوت شدہ انبیاء میں داخل دیکھا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام بھی دوسرے انبیاء کی طرح فوت ہو کر انہی کی جماعت میں داخل ہو گئے۔
جواب...... محض شامل ہونے سے مردہ ہونا لازم آ جائے تو چاہئے کہ رسول اللہ ﷺ بھی اس وقت فوت ہو چکے ہوں اور فوت ہو کر ان میں شامل ہو گئے ہوں۔
سوال...... ”کل من عليها فان (الرحمن:٢٦)“ ﴿جو زمین پر ہے وہ فانی ہے﴾ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام بھی فانی ہیں۔
جواب...... اگر اس آیت کا یہی مطلب ہو تو اس وقت کروڑوں آدمی زمین پر موجود ہیں تو چاہئے کہ یہ سب میت اور فانی ہوں۔ حالانکہ سب زندہ ہیں۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ جو زمین پر ہے وہ فنا ہونے والا ہے۔ جیسے ”کل نفس ذائقة الموت (آل عمران:١٨٥)“ ﴿ہر شخص موت کا
٢١
مزہ چکھنے والا ہے۔ یہ معنی نہیں کہ موت کا مزہ چکھ لیا۔ اسی طرح ایک روز حضرت مسیح علیہ السلام بھی موت کا مزہ چکھیں گے۔ فنا ہوں گے۔ اس کے یہ معنی قطعاً نہیں ہو سکتے کہ فنا ہو گئے۔
سوال ...... ”او ترقى فى السماء (بنی اسرائیل:٩٣)“ کفار نے یہ معجزہ طلب کیا تھا کہ تو آسمان پر چڑھ جا اور ہم تیرے آسمان پر چڑھنے کے بعد بھی ایمان نہیں لائیں گے۔ جب تک تو ہم پر کتاب نہ نازل کر دے تاکہ ہم اس کو پڑھیں۔ اللہ تعالیٰ نے جواب دیا کہہ دے میرا رب پاک ہے اور میں تو ایک بشر اور رسول ہوں۔ ”قل سبحن ربی هل کنت الا بشرا رسولا (بنی اسرائیل:٩٣)“ خدا تعالیٰ کے اس جواب سے معلوم ہو گیا کہ آسمان پر چڑھنا محال ہے اور اللہ تعالیٰ کی عادت کے خلاف ہے۔ لہٰذا عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر نہیں چڑھے۔
جواب ...... اگر آسمان پر چڑھنا محال ہے تو رسول اللہ ﷺ کی معراج بھی محال ہو گئی۔ اگر تمہارے نزدیک معراج بھی محال ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ جس قدر معجزات ہوئے وہ عادت کے خلاف ہی ہوئے ہیں۔ اس لئے تمام معجزات کو محال قرار دے کر انبیاء اور رسولوں، نبوت اور رسالت کو بھی محال قرار دے دیا جائے۔ اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ تمام آسمانی مذاہب باطل ہو کر رہ جائیں گے۔
سوال ...... آسمان پر زندہ جانا بڑی افضلیت اور شرف و کرامت کی بات ہے۔ جب یہ مقام رسول اکرم ﷺ کو حاصل نہ ہوا تو حضرت مسیح علیہ السلام کے لئے اس کا کیسے تصور کیا جا سکتا ہے؟
جواب ...... اوّل تو حضور ﷺ معراج میں آسمانوں پر تشریف لے گئے جو عقل اور نقل سے ثابت ہو چکا ہے۔ دوسرے یہ کہ یہ افضلیت نہیں ہے۔ جس کی وجہ سے محمد رسول اللہ ﷺ پر برتری تسلیم کی جائے۔ بلکہ فضیلت ہے۔ جیسے حضرت ابراہیم خلیل اللہ کے لئے آگ کا گلزار ہونا، حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لئے لکڑی کا اژدھا ہونا، حضرت داؤد علیہ السلام کے لئے لوہے کا نرم ہونا، حضرت سلیمان علیہ السلام کے لئے پرندوں کی بولی پہچاننا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لئے اوّل روز سے آخر تک معجزانہ افعال کا صادر ہونا، مردہ کو زندہ کرنا، پرندہ کی شکل کا پرندہ پیدا کرنا، بے باپ کے پیدا ہونا۔ اسی طرح آخر میں زندہ آسمان پر اٹھا لیا جانا یہ سب معجزات ہیں اور
٢٢
معجزات افضلیت کا معیار نہیں ہوتے۔ بلکہ نبی کی صداقت اور سچائی کا معیار ہوتے ہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو جس نوعیت کے اور جس کثرت کے ساتھ معجزے دیئے گئے وہ ان کے حالات کی بناء پر تھے۔ یہودیوں نے آپ کی ذات پر بہت سی بہتان تراشیاں کی تھیں۔ اس لئے حق تعالیٰ نے ان معجزات کے ذریعہ آپ کی تائید فرمائی۔ اس سے آپ کے دوسرے نبیوں سے افضل ہونے کا ثبوت نہیں نکلتا۔ جس زمانہ میں جیسی ضرورت ہوئی قدرت نے اسی کے مطابق پیغمبر کی تائید ونصرت کے لئے اسباب فراہم کر دیئے۔
سوال ....... جب عیسیٰ علیہ السلام تشریف لائیں گے تو امتی بن کر تشریف لائیں گے یا نبی بن کر؟
جواب ....... وہ نبی ہی کی حیثیت میں آئیں گے جس طرح اگلے انبیاء اپنے سابق نبی کے دین وشریعت کی تبلیغ کرتے تھے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی رسول اللہﷺ کی شریعت کی تبلیغ کریں گے۔
سوال ....... اس کے یہ معنی ہوئے کہ نبوت ختم نہ ہوئی۔
جواب ....... نبوت ختم ہوچکی۔ حضرت مسیح علیہ السلام نئی نبوت کے ساتھ نہیں آئیں گے۔ اپنی قدیمی حیثیت میں آئیں گے اور رسول اللہﷺ ہی کی شریعت کا اتباع کریں گے۔
سوال ....... کیا اس سوال کا جواب یہ دیا جاسکتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام امتی بن کر آئیں گے۔ جب کہ یوم میثاق میں تمام انبیاء سے عہد لیا تھا کہ: ”لَتُؤْمِنُنَّ بِهِ وَلَتَنْصُرُنَّهُ (آل عمران: ٨١) “یعنی روزِ میثاق، اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء سے یہ عہد لیا تھا کہ تم خاتم النبیین پر ایمان لانا اور سب نے اقرار کر لیا تھا۔ اس اقرار کے ماتحت حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی حضرت محمدﷺ پر ایمان لا کر امتی ہو گئے۔
جواب ....... یہ استدلال صحیح نہیں ہے۔ ایمان لانے سے امتی نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ ہم تمام انبیاء پر اور ملائکہ پر ایمان لا چکے ہیں۔ لیکن ہم ان کے امتی نہیں ہیں۔ ہمارے نبیﷺ بھی تمام انبیاء پر ایمان لا چکے۔ لیکن ہمارے نبی تمام انبیاء کے امتی نہیں ہیں۔ جس نے ایسی بات کہی اس نے غلطی کی۔ حاصل یہ ہے کہ حضرت محمد رسول اللہﷺ کے بعد اس دنیا میں کوئی نبی نہیں آئے گا۔ سوائے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے۔
٢٣
سوال ....... اس سے یہ وہم ہوتا ہے کہ پھر تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام خاتم النبیین ہوئے۔
جواب ....... نہیں، خاتم النبیین اور خاتم الشرائع صرف محمد رسول اللہ ﷺ ہی ہیں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام نہ اپنی شریعت نہ قدیم شریعت نہ جدید شریعت، کوئی شریعت لے کر نہیں آئیں گے۔ صرف شریعت مصطفویٰ کی تبلیغ کریں گے اور یہ بات ان کی نبوت کے منافی نہیں ہے۔ کیونکہ توریت کی تبلیغ جس طرح مبلغین توریت کی نبوت کے منافی نہیں تھی اور جس طرح توریت کی تبلیغ عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت کے منافی نہیں تھی۔ بالکل اسی طرح قرآن کی تبلیغ بھی عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت کے منافی نہیں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ نبی کا اس جہاں میں آنا یہ نہیں چاہتا کہ اس کے ساتھ اس کی شریعت بھی آئے۔ ہاں اس کے آنے میں کیا مصلحت ہے۔ اس کا علم اللہ تعالیٰ ہی کو ہے۔ ہو سکتا ہے کہ یہودی کہتے تھے کہ قتل کر دیا۔ صلیب دے دی یعنی سولی پر چڑھا دیا۔ انہیں آگاہ کرنے اور ڈانٹنے کے لئے بھیجا جائے۔ ہو سکتا ہے کہ کوئی اور مصلحت ہو اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ محض مشیت ہو۔
سوال ....... جس قوم میں نبی آیا ہے اس قوم کی زبان کے علاوہ کسی دوسری زبان میں اسی نبی پر وحی ہوئی ہے؟
جواب ....... ہرگز نہیں۔ ”وما ارسلنا من رسول الا بلسان قومہ (ابراہیم:٤)“ ہم نے نہیں بھیجا کسی رسول کو۔ مگر اس کی قوم کی زبان میں۔ لہٰذا قادیانی نے جو عربی میں وحی کا دعویٰ کیا ہے بالکل جھوٹ اور غلط ہے۔
سوال ....... کیا غیب کی خبر صداقت کی دلیل ہے؟
جواب ....... اس وقت جب کہ خبر دینے والے کے لئے غیب ہو اور خبر پانے والے کے لئے حضور ہو۔ مثلاً کسی کے گھر میں خفیہ کوئی ذخیرہ یا چیز رکھی ہوئی ہے۔ جس کا علم سوائے اس کے کسی کو نہیں ہے۔ اب اگر کوئی خبر دے دے تو یہ خبر غیب کی خبر اور خرق عادت ہوگی۔ جب تک کہ خبر خرق عادت کو نہ پہنچے۔ اس وقت تک معیار صداقت نہیں ہے۔ لہٰذا کوئی پیش گوئی حجت نہیں ہے۔ اکثر منجمین بلکہ عوام کی پیش گوئیاں صادق نکل آتی ہیں۔ نبوت کے لئے ایسا خرق عادت فعل ہونا چاہئے کہ جس کا جواب نہ ہو سکے۔
سوال ....... قادیانی نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ”فاسئلوا اہل الذکر ان
٢٤
کنتم لا تعلمون (نحل:٤٣) ”اگر تم کو علم نہ ہو تو اہل ذکر سے پوچھ لو۔“ اور قادیانی نے اہل ذکر سے پوچھا تو اہل ذکر نے وفات مسیح کی خبر دی۔ لہٰذا مسیح علیہ السلام فوت ہو چکے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس آیت سے وفات ثابت ہوتی ہے؟
جواب...... ہرگز نہیں۔ بلکہ حیات ثابت ہوتی ہے۔ اس لئے کہ اہل ذکر یا یہود ہیں یا نصاریٰ یا مسلمین۔ تو یہود بھی موت طبعی اور وفات طبعی کے منکر ہیں۔ کیونکہ وہ قتل و صلیب کے قائل ہیں اور نصاریٰ اور مسلمین سرے سے وفات کے منکر ہیں۔ پس جب اہل ذکر سے پوچھا گیا تو سب ہی نے موت طبعی اور وفات کا انکار کیا۔ لہٰذا حیات ثابت ہے۔ خلاصہ اس تمام بیان کا یہ ہے کہ نبوت بغیر اعجاز یعنی ناقابل جواب خرقِ عادت کے ثابت نہیں ہو سکتی اور نبوت ناقابل تقسیم ہے۔ یعنی نبوت کی تقسیم تامہ اور غیر تامہ اصلی اور فرعی حقیقی اور بروزی کی طرف نہیں ہو سکتی۔ یہ سب الفاظ جعلی ہیں۔ نبوت صرف ایک ہی شے ہے اور وہ وحی ہے اور وحی اللہ تعالیٰ کا بشر سے کلام کرنا ہے اور اس نبوت و وحی کے دعویٰ کا ثبوت انسان کے قول سے نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ انسان کو صدق و کذب دونوں پر اختیار حاصل ہے۔ بلکہ ایسی چیز جو صدق پر مجبور ہو اور صرف صدق ہی اس کو لازم ہو وہ مدعی نبوت کی تصدیق کرے گی۔ لہٰذا کوئی خرقِ عادت فعل قادیانی سے صادر نہیں ہوا۔ اس لئے وہ صاحب نبوت اور صاحب وحی ہرگز نہیں۔ خوب سمجھ لیجئے۔ خرقِ عادت فعل وہ ہے جس کا جواب ساری قوم نہ دے سکے۔ وہی مدعی نبوت کی صداقت پر دلیل ہوگا۔ لہٰذا نبوت بغیر معجزہ کے ثابت نہیں ہو سکتی اور نبوت شے واحد ہے۔ اس میں ادنیٰ اور اعلیٰ کا فرق نہیں کیا جا سکتا۔ اس لئے ظلی نبوت اور حقیقی نبوت تامہ اصلیہ اور یہ بھی خوب سمجھ لیجئے۔ نبی یا اپنی شریعت لے کر آتا ہے یا پہلے نبی کی شریعت کی تبلیغ کرتا ہے۔ قادیانی نہ اپنی شریعت لے کر آیا ہے نہ شریعت مصطفوی کی تبلیغ کر سکتا ہے۔ کیونکہ شریعت مصطفوی کی تبلیغ کے لئے نبی کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کے لئے امت وسطاً کافی ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے قیامت تک اس شریعت کی تبلیغ کے لئے نبوت کا دروازہ بند کر دیا اور صرف امت کو تبلیغ کے لئے مقرر کر دیا۔ اسی لئے اس امت کو امت وسطاً اور خیر امت ٹھہرایا گیا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام حیات ہیں۔ ان کی وفات نہ حس سے معلوم ہے نہ عقل سے نہ مخبر صادق سے۔ مخبر صادق اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اور رسول اللہ ﷺ ہیں۔ یعنی نہ اللہ کے کلام کی کسی آیت سے وفات مسیح علیہ السلام ثابت ہے نہ رسول اللہ ﷺ کی کسی حدیث میں کسی قول سے ثابت ہے۔ جیسا کہ اوپر بیان ہو چکا۔
٢٥
دلیل کا خلاصہ یہ ہے کہ قادیانی اپنی نبوت کے دعویٰ میں اور وفات مسیح علیہ السلام کے دعویٰ میں اگر سچا ہے تو تمام قوم جھوٹی ہو جائے گی اور جب تیرہ سو سال کی پوری قوم اور پوری جماعت مؤمنین کی، محدثین کی، فقہا کی، علماء کی، جہلاء کی۔ سب کی سب جھوٹے ہو جائیں گے تو اس وقت قرآن کا نقل کرنا غیر معتبر اور غلط ہو جائے گا اور اصلی مذہب، اصلی دین، اصلی نبی، اصلی کتاب، اصلی شریعت، اصلی نبوت، سب باطل ہو جائیں گے۔ پھر یہ ظلی نبوت کس کام آئے گی۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ قرآن، اسلام، دین، نبی اور تمام قوم کی تصدیق حق ہے۔ اس لئے یہی نتیجہ نکلے گا کہ قادیانی کاذب ہے۔ جس جماعت نے خاتم النبیین کا لفظ نقل کیا ہے۔ اسی کی صداقت پر اس لفظ کا معنی تسلیم کئے جائیں گے۔ جس جماعت نے متوفیک کا لفظ نقل کیا ہے۔ اسی کی صداقت پر اس کے معنی مراد لئے جائیں گے۔ خلاصہ یہ کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ تبلیغ کی، کہ آئندہ نبی نہیں ہوگا اور مسیح علیہ السلام حیات ہیں۔ یا یہ تبلیغ نہیں کی؟ اگر یہ تبلیغ کی کہ آئندہ ہرگز کوئی نبی نہیں ہوگا اور مسیح علیہ السلام حیات ہیں اور وہ پھر اس عالم میں آئیں گے تو ہمارا مدعا ثابت ہو گیا اور قادیانی جھوٹ واضح ہو گیا اور اگر رسول اللہ ﷺ نے یہ تبلیغ نہیں کی کہ آئندہ کوئی نبی نہیں آئے گا اور مسیح علیہ السلام حیات ہیں۔ یعنی ان دونوں باتوں کی تبلیغ نہیں کی۔ لیکن صحابہ، تابعین اور تبع تابعین اور مجتہدین اور محدثین اور علماء محققین اور غیر محققین اور اولیاء کرام اور تمام عام مسلمانوں نے یہ تبلیغ کی کہ آئندہ نبی نہیں آئے گا اور مسیح علیہ السلام حیات ہیں تو یہ سب کے سب جھوٹے ہو گئے اور ان ہی سب نے مل کر قرآن نقل کیا ہے۔ لہٰذا قرآن ان تمام جھوٹوں کی نقل پر موقوف ہو کر غیر معتبر ہو گیا۔ اسی طرح اصلی نبی اصلی مسیح اور اصلی نبوت، سب ہی غیر معتبر ہو گئی۔ پس اگر قادیانی سچا ہوگا تو ساری قوم، قرآن اور پورا دین جھوٹا ہو جائے گا۔ لیکن یہ ساری قوم قرآن اور دین سب سچا ہے۔ لہٰذا قادیانی قطعاً جھوٹا ہے۔ اس بیان سے قادیانی مذہب کی اساس اور بنیاد ہی ختم ہو جاتی ہے۔ کوئی سہارا باقی نہیں رہتا۔
سوال ...... نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ اس کے کیا معنی ہیں؟
جواب ...... میرے بعد کوئی انسان پیدا ہو کر نبوت کا سچا دعویٰ نہیں کرے گا۔ نبی نہیں آئے گا اور نبی نہیں ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ کوئی نبی پیدا ہو کر دعویٰ نبوت کو معجزہ سے ثابت کر کے قوم سے نہیں منوائے گا۔ یعنی کوئی سچا نبی پیدا ہی نہیں ہوگا۔ لہٰذا ہر مسلمان پر فرض ہے کہ مؤمنین کی پیروی کرے۔ جیسا کہ ارشاد فرمایا کہ: ”ویتبع غیر سبیل المؤمنین نولہ ما تولی
٢٦
ونصله جهنم (النساء: ١١٥) ”جو مومنوں کے راستہ کے خلاف چلے گا ہم اس کا منہ ادھر ہی کر دیں گے اور اس کو جہنم میں داخل کر دیں گے۔ اور تمام متفقہ مسلمانوں کا عقیدہ یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام حیات ہیں اور کوئی نبی خاتم النبیین کے بعد نہیں آئے گا اور مذہب کی تبلیغ کے لئے صرف امت کافی ہے۔ جیسا کہ ارشاد فرمایا: ”والذی اوحینا الیک من الکتب هو الحق مصدقا لما بين يديه . ان الله بعباده لخبير بصير . ثم اورثنا الكتب الذين اصطفينا من عبادنا فمنهم ظالم لنفسه ومنهم مقتصد ومنهم سابق بالخيرات باذن الله (الفاطر: ٣٢) ”اور جو کتاب ہم نے تیری طرف وحی کی ہے وہ حق ہے۔ اگلی کتاب کی مصدق ہے۔ بے شک اللہ اپنے بندوں سے باخبر ہے۔ دیکھ رہا ہے۔ پھر ہم نے کتاب کی وراثت کے لئے چند بندوں کو منتخب کر لیا۔ بعض ان میں اپنی جان پر ظلم کرنے والے تھے۔ بعض درمیانہ رو تھے۔ بعض بھلائیوں میں آگے نکل گئے۔ یعنی سبقت لے گئے۔ الغرض کتاب امت ہی کے ورثہ میں آئی۔ نبی کے ورثہ میں نہیں آئی۔ اس لئے تبلیغ کے لئے نبی کی ضرورت باقی نہیں رہی۔
سوال:....... حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب اس زمین پر تشریف لائیں گے تو اس وقت وہ یا صرف نبی ہوں گے یا صرف امتی ہوں گے یا نبی اور امتی دونوں ہوں گے یا نہ نبی ہوں گے نہ امتی۔ تو چوتھی صورت کہ نہ نبی ہوں گے نہ امتی۔ بالکل باطل ہے۔ کیونکہ نبی کا نبی نہ ہونا محال ہے۔ دوسری اور تیسری صورت کہ صرف امتی ہوں گے یا امتی اور نبی دونوں ہوں گے۔ یہ بھی باطل ہے۔ کیونکہ اوپر گزر چکا ہے کہ وہ امتی نہیں ہوں گے۔ اب صرف پہلی صورت باقی رہ گئی کہ وہ صرف نبی ہوں گے تو اس صورت میں خاتم النبیین، خاتم النبیین نہیں رہ سکتے۔ بلکہ خاتم النبیین حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہو گئے۔
جواب:....... حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت اور پیدائش خاتم النبیین سے پہلے ہو چکی اور وہ اب تک زندہ ہیں۔ لہٰذا پہلے پیدا شدہ نبی کا زندہ رہنا خاتم النبیین کی وفات کے بعد تک اس بات کو نہیں چاہتا کہ وہ خاتم نہ رہے۔ بلکہ خاتم النبیین وہی ہے جس کے بعد کوئی نبی پیدا نہ ہو اور جو پہلے پیدا ہو چکا اور زندہ رہ جائے وہ خاتم نہیں ہو سکتا۔
نوٹ: حضرت مسیح علیہ السلام دنیا میں آنے کے بعد جو تبلیغ کریں گے وہ تبلیغ در حقیقت ان کا عمل ہوگا۔ جس طرح نماز پڑھنا، روزہ ان کا عمل ہوگا۔ اسی طرح تبلیغ بھی ان کا عمل ہوگا۔ یہ نہیں ہے کہ وہ تبلیغ کے مقصد کے لئے بھیجے جائیں گے اور ایک نبی کا دوسرے نبی کی شریعت
٢٧
پر عمل کرنا اس بات کو نہیں چاہتا کہ وہ نبی اس نبی کا امتی ہو جائے۔ جیسے ”فبہداہم اقتدہ (الانعام:٩٠)“ ﴿اے نبی تو ان کی ہدایت کی پیروی اور اقتداء کر۔﴾ اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ حضرت محمد رسول اللہﷺ ان انبیائے سابقین کے امتی تھے یا ”ان اتبع ملۃ ابراھیم حنیفاً (النحل:١٢٣)“ ﴿ابراہیم علیہ السلام کی شریعت کی پیروی کر۔﴾ اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ حضرت محمدﷺ ابراہیم علیہ السلام کے امتی تھے۔ بالکل اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا شریعت مصطفوی پر عمل کرنا یہ نہیں چاہتا کہ وہ حضرت محمدﷺ کے امتی ہو جائیں۔ حاصل یہ ہے کہ یہ تبلیغ بحیثیت عمل کے ہے۔ مستقل نہیں ہے۔ بلکہ یہ اقتداء ہے اور اقتداء ایک نبی کی دوسرا نبی کر سکتا ہے۔ کسی انسان کے لئے دوسرے کا امتی ہونا اس وقت ثابت ہوگا جب کہ اس کی تبلیغ اس تک پہنچے۔ لیکن محمد رسول اللہﷺ عیسیٰ علیہ السلام کی تبلیغ کے لئے مبعوث نہیں ہوئے۔ اس کے باوجود حضرت عیسیٰ علیہ السلام محمد رسول اللہﷺ کی اقتداء کر سکتے ہیں اور یہ نہ ان کے نبی ہونے کے منافی ہے اور نہ ان کے امتی ہونے کو چاہتا ہے۔ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام امتی اس وقت ہوتے جب نبی اکرمﷺ ان کی طرف مبعوث ہوتے اور یہ خاتم النبیین اس وقت ہوتے۔ جب اس زمانہ کی امت کی تبلیغ کے لئے اللہ تعالیٰ ان کو اس زمانہ میں پیدا کرتا۔ یہاں یہ دونوں باتیں نہیں ہیں اور ان کے زمین پر آنے کے بعد نبیﷺ کی اقتداء کرنی ان کی نبوت کے منافی نہیں ہے اور ان کے زمین پر آنے کی مصلحت اللہ کو معلوم ہے۔ کیونکہ ان کی پیدائش خرق عادت، آسمان سے زمین پر واپس آنا خرق عادت۔ پھر آنے کے بعد سرور عالمﷺ کی اقتداء کرنا، ان ساری باتوں کی حکمت ومصلحت اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔
سوال....... قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ نبوت جاری ہے۔ وہ اس عقیدے کے دلائل میں سب سے بڑی دلیل ایک حدیث ”علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل“ پیش کرتے ہیں۔ حدیث کے معنی یہ ہیں کہ میری امت کے علماء بنی اسرائیل کے نبیوں کے مثل ہوں گے۔
جواب....... ہمارے بعض علماء نے اس حدیث کو ضعیف قرار دے کر مسترد کر دیا۔ علاوہ ازیں جواب اس کا یہ ہے کہ اس حدیث میں جو لفظ مثل ہے وہ نوعی یا جنسی نہیں ہے۔ بلکہ تعددی اور تکثری ہے۔ اب اس کے معنی یہ ہو گئے کہ میری امت میں اتنی کثرت سے علماء ہوں گے جتنی کثرت سے قوم بنی اسرائیل میں انبیاء علیہم السلام ہوئے ہیں اور یہ بات قطعی حق ہے کہ ہمارے نبیﷺ کی امت میں کثیر علماء آج بھی موجود ہیں۔ لہٰذا اجرائے نبوت بالکل باطل ہے اور ہمارے نبیﷺ کے بعد قیامت تک کوئی نبی نہیں ہوگا۔
٢٨
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں
انا خاتم النبیین
لا نبی بعدی
حضرت مولانا سعید الرحمن انوریؒ
نحمده ونصلى على رسوله الكريم!
انگریز ہندوستان میں تجارت کا عیارانہ روپ دھار کر وارد ہوا۔ انہوں نے بتدریج حکمت عملی اور سازشانہ پالیسی کے تحت بڑی حیلہ بازیوں سے اپنا تسلط قائم کیا۔ ملت اسلامیہ کی آخری تلوار سلطان ٹیپوؒ کی شہادت کے بعد انگریزوں کے قدم جم گئے۔ ١٨٥٧ء کی جنگ آزادی میں حریت پسندوں نے ایک دفعہ پھر سنبھالا لینے کی بھر پور کوشش کی۔ مگر انگریزوں نے اپنے نمک خواروں، ٹوڈیوں اور اسلام وملت اسلامیہ کے غداروں کی وساطت سے اس کوشش کو ناکام بنا دیا۔ لیکن انگریزوں کی عیارانہ نگاہیں ان چنگاریوں سے غافل نہ تھیں جو مسلمانوں کے دلوں میں سلگ رہی تھیں۔ انگریز جانتا تھا کہ کسی وقت بھی یہ شعلہ جوالہ بن سکتا ہے۔
انگریز جانتا تھا کہ جب تک ملت اسلامیہ سے جذبہ جہاد، ایمان ویقین کامل وعقیدہ ختم نبوت ختم نہیں کیا جاتا ہمارا سامراجی نظام دیر پا اور مستحکم نہیں ہو سکتا۔ انگریزوں نے سرکاری ولی اور سرکاری نبی پیدا کئے۔ اپنے وفاداران قدیم کے ایک قادیانی خاندان مرزا غلام احمد قادیانی کو اس کام کے لئے چنا، تا کہ ملت اسلامیہ کے دلوں سے جذبہ جہاد کو ختم کیا جائے اور انگریزی حکومت کی وفاداری ضروری قرار دی جائے۔ انہیں غداروں کی داستان ان صفحات میں پڑھئے۔ شروع میں عقیدہ ختم نبوت پر چند مختصر نوٹ دیئے گئے ہیں۔
بسم الله الرحمن الرحیم!
”باب ماجاء ان النبی ﷺ هو آخر الانبياء عن ابی سعید الخدری قال قال رسول الله ﷺ مثلی ومثل النبیین من قبلی کمثل رجل بنی داراً فاتمہا الا لبنۃ واحدۃ فجئت انا فاتممت تلک اللبنۃ (مسند احمد ج٣ ص٩، رواہ مسلم ج٢ ص٢٤٨)“
ختم نبوت کا ثبوت
حضور ﷺ نے فرمایا کہ میری اور گذشتہ انبیاء (علیہم السلام) کی مثال ایسی ہے کہ کسی شخص نے مکان بنایا اور اس کو مکمل کر دیا۔ مگر ایک اینٹ کی جگہ باقی رہ گئی۔ پس میں نے آکر اس کو بھی پورا کر دیا۔ (یہ حدیث مسلم شریف میں ہے) یہ حدیث کس شان سے ختم نبوت کو ثابت کرتی ہے۔
ابوداؤد شریف میں حدیث ہے: ”عن ثوبانؓ قال، قال رسول الله ﷺ سیکون فی امتی کذابون ثلثون کلہم یزعم انہ نبی اللہ وانا خاتم النبیین لا
٢
نبی بعدی (رواہ ابو داؤد ج ٢ ص ١٢٧، ذكر الفتن ودلائلها) ”کہ حضرت رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ میری امت میں تیس جھوٹے نبوت کے دعویدار پیدا ہوں گے۔ حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔“
قرآن وحدیث آں سرور کائنات ﷺ کی ختم نبوت کے بیان سے بھرے ہوئے ہیں۔ ارشاد ہوتا ہے: ”بسم الله الرحمن الرحيم . ماكان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين وكان الله بكل شئ عليما (احزاب:٤٠)“ (حضرت) محمد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں۔ (یعنی نسب کے اعتبار سے) مگر ہاں وہ اللہ تعالیٰ کے رسول اور آخر النبیین ہیں اور اللہ تعالیٰ ہر شے کی مصلحت کو خوب جانتا ہے۔“ یعنی آپ ﷺ کی تشریف آوری سے نبیوں کے سلسلہ پر مہر لگ گئی۔ اب کسی کو نبوت نہیں دی جائے گی۔ بس جس کو ملنی تھی مل چکی۔ اسی لئے آپ کی نبوت کا دور سب نبیوں کے بعد رکھا جو قیامت تک چلتا رہے گا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی آخیر زمانہ میں بحیثیت آپ کے امتی کے تشریف لائیں گے۔ خود ان کی نبوت ورسالت کا عمل اس وقت جاری نہ ہوگا۔ جیسے آج تمام انبیاء علیہم السلام اپنے اپنے مقام پر موجود ہیں۔ مگر شش جہت میں عمل صرف نبوت محمدیہ ﷺ کا جاری وساری ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ اگر آج حضرت موسیٰ علیہ السلام زمین پر زندہ ہوتے تو ان کو بھی بجز میرے اتباع کے چارہ نہ تھا۔ بلکہ بعض محققین کے نزدیک تو پہلے انبیاء علیہم السلام اپنے اپنے عہد میں بھی خاتم الانبیاء ﷺ کی روحانیت عظمیٰ ہی سے مستفید ہوتے تھے۔ جیسے رات کو چاند اور ستارے سورج کے نور سے مستفید ہوتے ہیں۔ حالانکہ سورج اس وقت دکھائی نہیں دیتا اور جس طرح روشنی کے تمام مراتب عالم اسباب میں آفتاب پر ختم ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح نبوت ورسالت کے تمام مراتب وکمالات کا سلسلہ بھی روح محمدی ﷺ پر ختم ہوتا ہے۔ ”وكان الله بكل شئ عليما “ اور اللہ تعالیٰ ہر شے کی مصلحت کو خوب جانتا ہے۔ آخر میں اس مرتبہ رفیع پر اپنی حکمت اور مصلحت کا اعلان ہے کہ ہم خوب جانتے ہیں کون رسالت کے لائق ہے اور کون آخر الرسل ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
دوسری جگہ ارشاد ہے: ”وما ارسلنك الا كافة للناس بشيراً ونذيراً ولكن اكثر الناس لا يعلمون (سباء:٢٨)“ ”اور اے پیغمبر (ﷺ) ہم نے آپ کو تمام لوگوں کے واسطے بشارت دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ لیکن اکثر لوگ نہیں سمجھتے۔“ یعنی ہم نے آپ کو نہیں بھیجا مگر تمام لوگوں کے واسطے بشارت اور خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا۔ لیکن
٣
اکثر لوگ نہیں سمجھتے ۔ تمام لوگ یعنی عرب وعجم اور ہر احمر واسود موجود یا آئندہ آنے والے بلکہ ہر مکلف کی جانب آپ ﷺ رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں ۔ خواہ وہ انسان ہوں یا جنات ہوں۔ اتباع کرنے والوں کو رضائے الٰہی کی خوشخبری دیتے ہیں اور نافرمانی کرنے والوں کو ڈراتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی سے۔ لیکن اکثر لوگ آپ کی بزرگی اور آپ کے مراتب علیا کی قدرومنزلت کو نہیں سمجھتے ۔ حضرت قتادہؓ نے مرفوعاً فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ کو عرب اور عجم یعنی سب کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجا ہے۔ تمام لوگوں میں سے اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہت بزرگ وہ ہے جو ان کا بہت اتباع اور پیروی کرنے والا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے فرمایا کہ رسول خدا ﷺ نے فرمایا میں تمام لوگوں کی طرف بھیجا گیا ہوں۔ خواہ وہ عرب ہوں یا عجم، اور نبی صرف اپنی قوم کی طرف بھیجے جاتے تھے۔
(کشف الرحمٰن)
بخاری شریف ومسلم شریف میں حدیث ہے کہ حضرت رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”وكان النبى يبعث الى قومه خاصة وبعثت الى الناس عامة (مشكوة ص ٥١٢، باب فضائل سيد المرسلين)“ کہ اور نبی تو اپنی خاص قوم کی طرف مبعوث کئے جاتے تھے اور میں عام (یعنی تمام) لوگوں کی طرف مبعوث کیا گیا ہوں ۔ ایک دوسرے حدیث میں ہے۔ حضرت ابو ہریرہؓ راوی ہیں۔ حضرت رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”وارسلت الى الخلق كافة وختم بی النبيون (مسلم ج ١ ص ١٩٩)“ کہ میں تمام (جہان کے) لوگوں کی طرف (رسول بنا کر) بھیجا گیا ہوں اور میرے آنے کی وجہ سے نبیوں کا آنا بند کر دیا گیا۔
تنبیہ: ختم نبوت کے متعلق قرآن، حدیث، اجماع وغیرہ سے سینکڑوں دلائل جمع کر کے بعض علماء عصر نے مستقل کتابیں لکھی ہیں ۔ مطالعہ کے بعد ذرا تردد نہیں رہتا کہ اس عقیدہ کا منکر قطعاً کافر اور ملت اسلام سے خارج ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی شخص آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرے تو وہ دجال وکذاب ہے اور شرعاً مرتد کا نکاح فسخ ہو جاتا ہے اور اس کی عورت اس پر حرام ہو جاتی ہے ۔ اگر اپنی عورت کے ساتھ صحبت کرے گا تو وہ زنا ہے اور ایسی حالت میں جو اولاد پیدا ہوگی ولد الزنا ہوگی اور مرتد جب بغیر توبہ کے مرجائے تو اس پر جنازہ پڑھنا اور مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا حرام ہے۔ بلکہ مانند کتے کے بغیر غسل و کفن کے گڑھے میں ڈالا جائے ۔ (ملاحظہ ہو کتاب الاشباہ والنظائر) اس سے معلوم ہوا کہ جو مرتد ہو گیا تو وہ مردار ہو گیا ۔ اب وہ اس قابل نہیں کہ اس کو دنیا میں باقی رکھا جائے ۔ جیسے انسان کے بدن کے حصہ کا کچھ گوشت اگر گل جائے اور اس میں پیپ وغیرہ پڑ جائے تو اس کو اپریشن وغیرہ کر کے نکال دینا
٤
ضروری ہوتا ہے تاکہ دوسرا حصہ بھی خراب نہ ہو جائے۔ اسی لئے حدیث شریف میں ہے۔ باب ماجاء ان المرتد يقتل ”عن ابن عباس عن رسول اللهﷺ انه قال من بدل دينه فاقتلوه (رواه البخاري ج ١ ص ٤٢٣، باب لا يعذب بعذاب الله) “ ﴿کہ حضرت رسول اللہﷺ نے فرمایا جو شخص دین سے پھر جائے پس اس کو قتل کر دو۔﴾ مسئلہ: اگر خدانخواستہ کوئی مرتد ہو گیا تو تین دن تک اس کو مہلت دی جائے گی اور جو اس کو شبہ پڑا ہوا ہو اس کا جواب دے دیا جائے گا۔ اگر اتنی مدت میں مسلمان ہو گیا تو خیر، نہیں تو قتل کر دیا جائے گا۔
جیسے ہمارے زمانہ میں مرزا غلام احمد قادیانی علیہ ماعلیہ نے نبوت کا دعویٰ کیا تو حضرات علماء کرام نے اس کے کذاب ودجال ومرتد اور دائرہ اسلام سے خارج ہونے اور واجب القتل ہونے کا متفقہ فتویٰ صادر فرمایا۔ ابھی تک مسلم کے قلب میں درد ایمانی واسلامی موجزن ہے۔ بیگانگت نہیں بلکہ یگانگت ہے۔ بیزاری نہیں بلکہ والہانہ عقیدت ہے۔ آنحضورﷺ کا خاتم النبیین ہونا اس کا مرکزی عقیدہ ہے۔ اس کے نزدیک وحدت اسلامی اسی میں مضمر ہے۔
مرزا قادیانی کی کہانی خود ان کی زبانی
میں کس کی تحریک سے آیا؟
”اے بابرکت قیصرہ ہند (ملکہ وکٹوریہ) تجھے یہ تیری عظمت اور نیک نامی مبارک ہو۔ خدا کی نگاہیں اس ملک پر ہیں۔ خدا کی رحمت کا ہاتھ اس رعایا پر ہے۔ جس پر تیرا ہاتھ ہے تیری ہی پاک نیتوں کی تحریک سے خدا نے مجھے بھیجا ہے کہ تا پرہیزگاری اور پاک اخلاق اور صلح کاری کی راہوں کو دوبارہ دنیا میں قائم کروں۔“
(ملخص ستارہ قیصریہ ص ٨، ٩ خزائن ج ١٥ ص ١١١، ١٢٠)
میں کس کا لگایا ہوا پودا ہوں؟
”یہ التماس ہے کہ سرکار دولتمدار ایسے خاندان کی نسبت جس کو پچاس سال کے متواتر تجربے سے ایک وفادار جاں نثار خاندان ثابت کر چکی اور جس کی نسبت گورنمنٹ عالیہ (برطانیہ) کے معزز حکام نے ہمیشہ مستحکم رائے سے اپنی چٹھیات میں یہ گواہی دی ہے کہ وہ قدیم سے سرکار
١؎ جہاں اسلامی سلطنت ہو وہاں یہ حکم ہے۔ (شرح البدایہ ج ٢) اگر کوئی عورت خدانخواستہ اپنے ایمان اور دین سے پھر گئی تو اس کو تین دن کے بعد ہمیشہ کے لئے قید کر دیں گے۔ جب توبہ کرے گی تب چھوڑیں گے۔ (عالمگیری)
٥
انگریزی کا خیر خواہ اور خدمت گذار ہے۔ اس خود کاشتہ پودے کی نسبت نہایت حزم واحتیاط سے اور تحقیق وتوجہ سے کام لے اور اپنے ماتحت حکام کو اشارہ فرمائے کہ وہ بھی اس خاندان کی ثابت شدہ وفاداری اور اخلاص کا لحاظ رکھ کر مجھے اور میری جماعت کو عنایت ومہربانی کی نظر سے دیکھیں۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢١)
میرا مذہب
”سو میرا مذہب جس کو میں بار بار ظاہر کرتا ہوں یہی ہے کہ اسلام کے دو حصے ہیں۔ ایک یہ کہ خدا تعالیٰ کی اطاعت کریں۔ دوسرے اس سلطنت کی جس نے امن قائم کیا ہو۔ جس نے ظالموں کے ہاتھ سے اپنے سایہ میں ہمیں پناہ دی ہو۔ سو وہ سلطنت حکومت برطانیہ ہے۔“
(شہادۃ القرآن ص ٨٤، خزائن ج ٦ ص ٣٨٠)
انگریزوں سے وفاداری اور خدمات
”میرے والد مرحوم کی سوانح میں سے وہ خدمات کسی طرح الگ ہو نہیں سکتیں جو وہ خلوص دل سے اس گورنمنٹ کی خیر خواہی میں بجالائے۔ انہوں نے اپنی حیثیت اور مقدرت کے موافق ہمیشہ گورنمنٹ (برطانیہ) کی خدمت گذاری میں اس کی مختلف حالتوں اور ضرورتوں کے وقت وہ صدق اور وفاداری دکھلائی کہ جب تک انسان سچے دل اور تہ دل سے کسی کا خیر خواہ نہ ہو۔ ہرگز دکھلا نہیں سکتا۔“
(شہادۃ القرآن ص ٨٢، خزائن ج ٦ ص ٣٧٨)
بڑا بھائی....... گورنمنٹ کی مخلصانہ خدمت
”اس عاجز کا بڑا بھائی مرزا غلام قادر جس مدت تک زندہ رہا اس نے بھی اپنے والد مرحوم کے قدم پر قدم مارا اور گورنمنٹ (برطانیہ) کی مخلصانہ خدمت میں بدل وجان مصروف رہا۔ پھر وہ بھی اس مسافر خانہ سے گزر گیا۔“
(شہادۃ القرآن ص ٨٢، خزائن ج ٦ ص ٣٧٨)
حکومت برطانیہ کی خدمات اور وفاداریاں ....... بیس برس
”میں بیس برس تک یہی تعلیم اطاعت گورنمنٹ انگریزی کی دیتا رہا اور اپنے مریدوں میں یہی ہدایتیں جاری کرتا رہا۔“
(تریاق القلوب ص ٢٨، خزائن ج ١٥ ص ١٥٦)
انگریزوں کی خاطر حرمت جہاد ....... خدا اور رسول کا نافرمان
”آج سے دین کے لئے لڑنا حرام کیا گیا۔ اب اس کے بعد جو دین کے لئے تلوار اٹھاتا ہے اور غازی نام رکھ کر کافروں کو قتل کرتا ہے۔ وہ خدا اور اس کے رسول کا نافرمان ہے۔“
(اشتہار چندہ منارۃ المسیح ص ب،ت، ضمیمہ خطبہ الہامیہ، خزائن ج ١٦ ص ١٧)
٦
ہرگز جہاد درست نہیں
”میں نے بیسیوں کتابیں عربی، فارسی اور اردو میں اس غرض سے تالیف کی ہیں کہ اس گورنمنٹ محسنہ (برطانیہ) سے ہرگز جہاد درست نہیں۔ بلکہ سچے دل سے اطاعت کرنا ہر ایک مسلمان کا فرض ہے۔ چنانچہ میں نے یہ کتابیں بصرف زر کثیر چھاپ کر بلاد اسلام میں پہنچائی ہیں اور میں جانتا ہوں کہ ان کتابوں کا بہت سا اثر اس ملک پر بھی پڑا ہے۔“
(مجموعہ اشتہارات ج٢ ص ٣٦٦، ٣٦٧)
جہاد قطعاً حرام ہے
”آج کی تاریخ تک تیس ہزار کے قریب یا کچھ زیادہ میرے ساتھ جماعت ہے جو برٹش انڈیا کے متفرق مقامات میں آباد ہے اور ہر شخص جو میری بیعت کرتا ہے اور مجھ کو مسیح موعود مانتا ہے۔ اسی روز سے اس کو یہ عقیدہ رکھنا پڑتا ہے کہ اس زمانے میں جہاد قطعاً حرام ہے۔ کیونکہ مسیح آچکا۔ خاص کر میری تعلیم کے لحاظ سے اس گورنمنٹ انگریزی کا سچا خیرخواہ اس کو بننا پڑتا ہے۔“
(گورنمنٹ انگریزی اور جہاد ضمیمہ ص ٦، خزائن ج ١٧ ص ٢٨)
انگریزوں کے مخالف مسلمانوں کو نازیبا گالیاں
بعض احمق
”بعض احمق اور نادان سوال کرتے ہیں کہ اس گورنمنٹ سے جہاد کرنا درست ہے یا نہیں۔ سو یاد رہے یہ سوال ان کا نہایت حماقت کا ہے۔ کیونکہ جس کے احسانات کا شکر کرنا عین فرض اور واجب ہے اس سے جہاد کیسا؟“
(شہادت القرآن ص ٨٤، خزائن ج ٦ ص ٣٨٠)
شریر اور بدذات
”تیرے (ملکہ وکٹوریہ) عدل کے لطیف بخارات بادلوں کی طرح اٹھ رہے ہیں۔ تا تمام ملک کو رشک بہار بنادیں۔ شریر ہے وہ انسان جو تیرے عہد سلطنت کی قدر نہیں کرتا اور بدذات ہے وہ نفس جو تیرے احسانوں کا شکر گزار نہیں۔“
(ستارہ قیصرہ ص ٩، خزائن ج ١٥ ص ١١٩)
ایک حرامی اور بدکار
”میں سچ سچ کہتا ہوں کہ محسن (گورنمنٹ برطانیہ) کی بدخواہی کرنا ایک حرامی اور بدکار آدمی کا کام ہے۔“
(شہادت القرآن ص ٨٤، خزائن ج ٦ ص ٣٨٠)
٧
سخت نادان بدقسمت اور ظالم
”اور جو لوگ مسلمانوں میں سے ایسے بدخیال جہاد اور بغاوت کے دلوں میں مخفی رکھتے ہیں میں ان کو سخت نادان بدقسمت ظالم سمجھتا ہوں۔“
(تریاق القلوب ص ٢٨، خزائن ج ١٥ ص ١٥٦)
سخت جاہل اور سخت نالائق
”سخت جاہل اور سخت نادان اور سخت نالائق وہ مسلمان ہے جو اس گورنمنٹ (برطانیہ) سے کینہ رکھے۔“
(ازالہ اوہام ص ٥٠٩، خزائن ج ٣ ص ٣٧٣)
(انگریزوں کی خوشامد اور کاسہ لیسی)
خدا اور فرشتے ملکہ کی تائید میں
”اے ملکہ معظمہ قیصرہ ہند خدا تجھے اقبال اور خوشی کے ساتھ عمر میں برکت دے۔ تیرا عہد حکومت کیا ہی مبارک ہے کہ آسمان سے خدا کا ہاتھ تیرے مقاصد کی تائید کر رہا ہے۔ تیری ہمدردی رعایا، نیک نیتی کی راہوں کو فرشتے صاف کر رہے ہیں۔“
(ستارہ قیصرہ ص ٨، خزائن ج ١٥ ص ١١٩)
انگریزی حکومت کا قلعہ اور تعویذ
”پس میں یہ دعویٰ کر سکتا ہوں کہ میں ان خدمات میں یکتا ہوں اور میں کہہ سکتا ہوں کہ میں ان تائیدات میں یگانہ ہوں اور میں کہہ سکتا ہوں کہ میں اس گورنمنٹ کے لئے بطور ایک تعویذ اور بطور ایک پناہ (قلعہ) کے ہوں جو آفتوں سے بچا سکتا ہے اور خدا نے مجھے بشارت دی اور کہا کہ خدا ایسا نہیں کہ ان کو دکھ پہنچاوے اور تو ان میں ہو۔ پس اس گورنمنٹ کی خیر خواہی اور مدد میں کوئی دوسرا شخص میری نظیر اور مثیل نہیں اور عنقریب یہ گورنمنٹ جان لے گی۔ ”مردم شناسی کا اس میں مادہ ہے۔“
(نور الحق حصہ اول ص ٣٣، ٣٤، خزائن ج ٨ ص ٤٥)
میری اور میری جماعت کی پناہ
”خدا نے اپنے خاص فضل سے میری اور میری جماعت کی پناہ اس سلطنت (برطانیہ) کو بنا دیا ہے۔ یہ امن جو اس سلطنت کے زیر سایہ ہمیں حاصل ہے۔ نہ یہ امن مکہ معظمہ میں مل سکتا ہے اور نہ مدینہ میں اور نہ سلطان روم کے پایہ تخت قسطنطنیہ میں۔“
(تریاق القلوب ص ٢٨، خزائن ج ١٥ ص ١٥٦)
اکثر لوگ یہ جواب یہ ہے کہ مرزا کی مح کی مدنی عربی ﷺ ۔ چہ منصب محمدیت پر
- ١.......
میں ایسے لفظ رسول اور اللہ اس وحی الٰہی میں می
- ٢.......
کلمہ طیبہ میں قاد
- ٣.......
ایک اور رسول (مرزا محمد رسول اللہ
- ٤.......
مرزا قادیانی خو ایسے نبی ہیں کہ ان ک یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا بروزی رنگ میں ر لائے تو ہم کو کسی نے سوال اٹھ سکتا تھا۔“ محمد رسول اللہ ۔
- ٥.......
اللہ والذین مع کہا ہے۔“
اکثر لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ مرزائی کلمہ پڑھتے ہیں پھر وہ مسلمان کیوں نہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ مرزائی محمد رسول اللہ سے مراد مرزا غلام احمد قادیانی لیتے ہیں۔ نہ کہ حضرت محمد رسول اللہ مکی مدنی عربی ﷺ ۔ چنانچہ ناظرین مندرجہ ذیل حوالہ جات سے خوب اندازہ کرلیں گے۔ ادارہ!
منصب محمدیت پر غاصبانہ حملہ ...... میں محمد رسول اللہ ہوں
- .......١ "حق یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی وہ پاک وحی جو میرے پر نازل ہوتی ہے۔ اس
میں ایسے لفظ رسول اور مرسل اور نبی کے موجود ہیں۔ چنانچہ میری نسبت یہ وحی اللہ ہے۔ محمد رسول اللہ اس وحی الٰہی میں میرا نام محمد رکھا گیا اور رسول بھی۔"
(ایک غلطی کا ازالہ ص٢، خزائن ج١٨ ص ٢٠٧)
- .......٢ "میں محمد مجتبیٰ ہوں اور احمد مختار ہوں۔"
(تریاق القلوب ص ١٥٧، خزائن ج١٥ ص ١٣٢)
کلمہ طیبہ میں قادیانی محمد
- .......٣ "مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی بعثت کے بعد محمد رسول اللہ کے مفہوم میں
ایک اور رسول (مرزا قادیانی) کی زیادتی ہوگئی ہے۔ لہٰذا مسیح موعود کے آنے سے ”لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ“ کا کلمہ باطل نہیں ہوتا۔ بلکہ اور بھی زیادہ شان سے چمکنے لگ جاتا ہے۔"
(کلمۃ الفصل ص ١٥٨)
مرزا قادیانی خود محمد رسول اللہ ہیں
- .......٤ "ہم پر اعتراض کیا جاتا ہے کہ اگر نبی کریم ﷺ کے بعد مرزا قادیانی بھی
ایسے نبی ہیں کہ ان کا ماننا ضروری ہے تو پھر مرزا قادیانی کا کلمہ کیوں نہیں پڑھا جاتا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ وہ ایک دفعہ اور خاتم النبیین کو دنیا میں مبعوث کرے گا۔ پس جب بروزی رنگ میں مسیح موعود (مرزا قادیانی) خود محمد رسول اللہ ہی ہیں۔ جو دوبارہ دنیا میں تشریف لائے تو ہم کو کسی نئے کلمہ کی ضرورت نہیں۔ ہاں اگر محمد رسول اللہ ﷺ کی جگہ کوئی اور آتا۔ پھر یہ سوال اٹھ سکتا تھا۔"
(کلمۃ الفصل ص ١٥٨)
محمد رسول اللہ سے مراد
- .......٥ "ایک غلطی کے ازالہ میں مسیح موعود نے فرمایا ہے کہ: ”محمد رسول
اللہ والذین معہ“ کے الہام میں محمد رسول اللہ سے مراد میں ہوں اور محمد رسول اللہ خدا نے مجھے کہا ہے۔"
(اخبار الفضل مورخہ ١٥ جولائی ١٩١٥ء ص٦)
٩
اصول احمدیت
- ......٦ ”خدا تعالیٰ اپنی پاک وحی میں مسیح موعود (مرزا قادیانی) کو محمد رسول اللہ کر
کے مخاطب کرتا ہے۔ حضرت مسیح موعود کا آنا بعینہ محمد رسول اللہ کا دوبارہ آنا ہے۔ حضرت مسیح موعود کو عین محمد ماننے کے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے اور یہی وہ بات ہے جو احمدیت کی اصل اصول کہی جاسکتی ہے۔“
(الفضل مورخہ ١٧؍اگست ١٩١٥ء ص٩)
وہی احمد ہے وہی محمد ہے
- ......٧ ”اگر یہ لوگ اس زمانے کے رسول کے خیالات اور تعلیم اور وہ کلام ربانی
جو اس رسول پر نازل ہوتا ہے۔ چھوڑ دیں گے تو وہ اور کون سی باتیں ہیں جن کی اشاعت کرنا چاہتے ہیں۔ کیا اسلام کوئی دوسری چیز ہے جو اس رسول سے علیحدہ ہو کر بھی مل سکتا ہے۔ وہی احمد ہے وہی محمد ہے جو اس وقت ہم میں موجود ہے۔“
(الفضل مورخہ ١٧؍جنوری ١٩٣٦ء)
قادیاں میں محمد
- ......٨ ”قادیان میں اللہ تعالیٰ نے پھر محمدﷺ کو اتارا ہے۔“
(کلمۃ الفصل ص١٠٥)
ایک کو بڑھانے میں کوئی خوبی نہیں
- ......٩ ”یہ بالکل صحیح بات ہے کہ ہر شخص ترقی کر سکتا ہے اور بڑے سے بڑا درجہ
پاسکتا ہے۔ حتیٰ کہ محمد رسول اللہﷺ سے بھی بڑھ سکتا ہے۔ کیونکہ اگر روحانی ترقی کی تمام راہیں ہم پر بند ہیں تو اسلام کا کچھ بھی فائدہ نہیں ہے اور پھر اس میں کوئی خوبی بھی نہیں کہ ایک کو بڑھا دیا جائے اور دوسروں کو بڑھنے نہ دیا جائے۔“
(بیان مرزا محمود مندرجہ الفضل مورخہ ١٧؍جولائی ١٩٢٢ء ص٥)
جو میری جماعت میں داخل ہوا
- ......١٠ بیان مرزا قادیانی: ”جو شخص میری جماعت میں داخل ہوا۔ درحقیقت
سردار خیر المرسلینؐ کے صحابہؓ میں داخل ہوا۔“
(خطبہ الہامیہ ص١٧١، خزائن ج١٦ ص٢٥٨)
جیسے رسول کریم کے صحابہؓ
- ......١١ بیان مرزا محمود: ”حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) فرماتے ہیں کہ جو شخص
میرے ہاتھ پر بیعت کرتا ہے اور سچے دل سے میری جماعت میں شامل ہو جاتا ہے وہ ایسا ہے۔ جیسے رسول کریم کے صحابہؓ تھے۔“
(الفضل مورخہ ١٩؍جون ١٩٤٤ء)
١٠
اَنَا خَاتَمُ النَّبِيّٖنَ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
مرزا غلام احمد
اور
نبوت
حضرت مولانا محمد اسحاق
بسم الله الرحمن الرحيم!
پیش لفظ
”نحمده ونصلى على رسوله الكريم ، اما بعد“
کسی قوم کے سربراہ یا کسی گروہ کے لیڈر یا ممتاز ہستی پر کلام کرنا، عیب لگانا یا طعنہ زنی کرنا نہ ہمارا مقصد ہے اور نہ ہونا چاہئے۔ لیکن کسی حق کے متلاشی کے سامنے حق کو باطل سے تمیز کر دینا اور صحیح طریقہ کو غلط طریقہ سے واضح کر کے دکھلانا ایک مسلمان کے لئے صرف مناسب ہی نہیں بلکہ عقلاً وشرعاً واجب اور نہایت ضروری بھی ہے۔ تاکہ وہ باطل کو حق اور غلط کو صحیح سمجھ کر بے راہ روی اختیار نہ کرے اور آخر کار اپنی عاقبت کو خراب نہ کر بیٹھے۔
لہٰذا ایسے شخص کے لئے یہ چند سطور قلم بند کی جارہی ہیں جو انصاف پسندی کے ساتھ تعصب کو بالائے طاق رکھ کر حق بات کو سمجھنا اور صحیح راستہ کو اختیار کرنا چاہتا ہو۔ کیونکہ جس نے تعصب کے دلدل میں پھنس کر حق سے قصداً اپنی آنکھ بند کر لی ہو اور کسی طرح بھی نہیں چاہتا ہو کہ اپنی ہٹ دھرمی سے باز آئے تو اس کے لئے یہ چند سطور کیا ہزار دفتر بھی کافی نہیں۔ تعصب اور ضد ہی ایک ایسی لا علاج بیماری ہے جس کی صحت کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر ہونے والا نہیں۔ لہٰذا ہمارا روئے سخن ایسے شخص کی طرف ہرگز نہیں بلکہ اول الذکر شخص ہی کی طرف ہے۔ اگر ان کو کچھ نفع پہنچا تو یہ اللہ تعالیٰ کی بڑی عنایت ہے۔ ہدایت انہی کے قبضہ قدرت میں ہے۔ ”ان اريد الاصلاح ما استطعت وما توفيقى الا بالله“
پہلے چند معروضات پیش کرنے کے بعد انشاء اللہ تعالیٰ ہم اصلی مقصد کی طرف رجوع کررہے ہیں۔ سوچنا چاہئے کہ کوئی شخص کسی بلند مقام یا مرتبت کا دعویدار ہو اور اس میں لائق دعویٰ یا قابل اعتبار کوئی خوبی یا بھلائی بالکل نہ ہو، یہ بات عقلاً اگر محال نہیں تو مستبعد ضرور ہے۔ لیکن یہ چیزیں موجود ہونا ہی اس کے کسی گروہ یا قوم کے مقتداء و پیشوا بننے یا بنانے کے لئے کافی بھی ہے؟ یہ بات ہرگز قابل قبول نہیں، بلکہ اگر کوئی کسی کو اپنا مقتداء یا کسی کی سیرت کو اپنی مشعل راہ بنانا چاہے تو اس پر اولین فریضہ یہ عائد ہوتا ہے کہ اس کی پوری زندگی کا گہرا مطالعہ کیا جائے اور اس کے ہر ہر فعل کو امتحان کی کسوٹی پر پرکھا جائے۔ تاکہ مبادا کبھی ایسا نہ ہو کہ زہر کو شہد سمجھ کر پی رہا ہو اور اس کو خبر تک بھی نہ ہو۔ پھر نتیجہ میں آہستہ آہستہ جان کی رگیں کاٹ دی جائیں اور اس کو ابدی
٢
موت کے گھاٹ اترنا پڑے۔ جس کا حاصل دنیا میں ذلت اور آخرت میں ہمیشہ کے لئے جہنم ہی کو اپنا ٹھکانہ بنانا ہے۔
دنیا میں ہزاروں واقعات ایسے ہیں کہ ایک شخص بھیس تو بھلا مانس کا لئے ہوئے ہے۔ لیکن باطن میں ایسا زہر رکھتا ہے کہ جس کو پیتے ہی آدمی جان سے ہلاک ہو جاتا ہے۔
اب اس زہر باطن سے بچنے کے لئے چارہ کار اس کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے کہ اس کی رفتار و گفتار ، اعمال وافعال ، اخلاق و عبادات ، معاملات و معاشرات سب کچھ اچھی طرح دیکھے اور پرکھے۔ کیونکہ یہ چیزیں باطن کی غمازی کرتی ہیں۔ پس اسی طریقہ سے اس کے ظاہر و باطن کا نقشہ بخوبی سامنے آ جاتا ہے اور اس کے ساتھ اعتقاد یا احتراز کا جو بھی معاملہ مناسب حال ہو اختیار کرنے میں سہولت پیدا ہوتی ہے۔ کبھی اس نے اچھی بات بھی کی ہو یا کوئی اچھا کام بھی کیا ہو۔ تو اس کا دیکھنا ہرگز کافی نہیں۔ جھوٹا آدمی بھی کبھی سچ اور سچا آدمی بھی جھوٹ بولتا ہے۔ ہم مشاہدہ کر رہے ہیں کہ اس زمانہ میں ہزاروں آدمی طالب ہدایت بھی بن کر قادیانیت کے جال میں پھنس رہے ہیں۔ بعید نہیں کہ ان کو اس مذہب کے پیشوا غلام احمد قادیانی کی وہ باتیں پہنچی ہوں جو بظاہر بڑی خوشنما اور دل لبھانے والی ہیں اور وہ لوگ اس کی ان باتوں سے قطعاً غافل اور بے خبر ہیں۔ جو اس کو اور اس کے متبعین کو دائرہ اسلام سے نکال کر کفر کی حدود میں داخل کر دیتی ہیں۔ لہٰذا ہم پر ضروری ہے کہ لوگوں کو اس کے اس دوسرے پہلو سے بھی خبردار کریں۔ تاکہ بمصداق آیہ کریمہ ”سیذکر من یخشی“ جو شخص اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہو وہ توبہ کر کے حق کی طرف رجوع کر سکے۔
ہم یہاں پر بطور ”مشتے نمونہ از خروارے“ صرف چند موٹی موٹی باتیں پیش کرتے ہیں تاکہ دوسری باتوں کو ان پر قیاس کرنا آسان ہو۔ جن کو تفصیل دیکھنا ہو وہ پروفیسر محمد الیاس برنی کی کتاب ”قادیانی مذہب“ مطبوعہ حیدرآباد دکن کا مطالعہ کریں۔
جو اقتباسات ہم یہاں پیش کر رہے ہیں کچھ تو ایسے ہیں جو براہ راست قادیانی مذہب کی کتابوں سے لئے گئے ہیں۔ تو ہم حوالہ میں براہ راست ان کو مع صفحات ذکر کریں گے اور جو کچھ دوسرے کی کتابوں سے لئے گئے۔ ان میں ہم اس دوسری کتابوں کا حوالہ بھی مع قید صفحات لکھ دیں گے۔ تاکہ تحقیق کرنے والے کے لئے آسانی ہو۔ جناب پروفیسر محمد الیاس برنی کی کتاب مذکور سے جو چیزیں لی گئیں۔ اس پر ہم صرف لفظ برنی مع قید صفحات لکھیں گے اور لفظ نوٹ کے ماتحت جو کچھ ہے وہ احقر کی طرف سے ہے۔ ”واللہ الموفق والمعین“
فقط: محمد اسحاق غفرلہ!
٣
بسم اللہ الرحمن الرحیم!
”الحمد للہ وحدہ والصلوٰۃ والسلام علیٰ محمدن الذی لا نبی بعدہ وعلیٰ آلہ واصحابہ الذین وافوا وعدہ، اما بعد“
حضور پرنور، سید الانبیاء والمرسلین، خاتم النبیین، احمد مجتبیٰ، محمد مصطفیٰ ﷺ نے جس وقت اللہ تعالیٰ کے حکم سے دنیا کے لئے مشعل ہدایت بن کر سرزمین عرب سے کلمہ ”لا الہ الا اللہ“ کی آواز بلند کی تو ہزاروں نے تو اس پر لبیک کہا اور پروانہ وار ان کے گرد آ جمع ہوئے اور ہوتے رہے۔ مگر سچائی کی اس عالم تاب چمک دمک اور شان و شوکت دیکھ کر بعض ہوسناک دلوں میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ سو ہم بھی اس قسم کے دعویٰ لے کر اٹھیں۔ شاید ہم کو بھی اس شان و شوکت سے کچھ حصے مل جائیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ: ”قیامت نہیں قائم ہو گی جب تک تیس کے قریب ایسے دجال (بڑا مکر و فریب کرنے والا) کذاب (بہت جھوٹ بولنے والا) ظاہر نہ ہوں۔ جن میں سے ہر ایک کا دعویٰ یہ ہوگا کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں ۔“
(بخاری، مسلم، ابوداؤد، ترمذی)
چنانچہ حضور ﷺ کے زمانہ فیض نشان سے آج تک بہت سے دجال و کذاب نبوت کے جھوٹے دعویٰ لے کر اٹھے۔ مثلاً مسیلمہ کذاب جس نے حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر تقسیم نبوت کا مطالبہ کیا۔ آخر حضرت ابوبکر صدیقؓ کے زمانہ خلافت میں وحشی کے ہاتھ سے اس کا خاتمہ ہوا۔ اسی طرح اسود عنسی، سجاح، مغیرہ بن سعید مقتول، مختار بن ابی عبید ثقفی، مصعب بن زبیر، سلیمان بن حسن، جس کے دو اشعار درج ذیل ہیں:
ساملک اھل الارض شرقا وغربا الیٰ قیروان الروم والترک والخزر
(یعنی کیا میں وہ نہیں جس کا ذکر تمام گزشتہ کتابوں میں ہے۔ (جیسا کہ مرزا قادیانی کہتا ہے) کیا میں وہ نہیں؟ جس کی توصیف سورۂ زمر میں کی گئی۔ عنقریب مشرق و مغرب کے سارے ممالک میرے قبضہ میں آرہے ہیں۔ خواہ وہ قیروان ہو یا ترک یا خزر)
اسی طرح ہشام بن حکیم ملقب بہ مقنع، جو کبھی آدم، کبھی نوح، کبھی ابراہیم، کبھی محمد، کبھی علی مرتضیٰ، کبھی اولاد علی، کبھی ابومسلم خراسانی حتیٰ کہ خدا بننے کا دعویٰ تک کیا۔ (مرزا قادیانی ماشاء اللہ ایسے دعوؤں میں سب سے بڑھ کر ہے۔ محمد اسحاق غفرلہ)
الغرض ایسے بہت کذاب اٹھے اور بہت مکر و فریبی بعضوں نے دکھلائی۔ حلم حق نے
٤
گو تھوڑی سی مہلت ان کو دی ۔ لیکن پھر جب غیرت خداوندی جوش میں آئی تو ان کے سروں کو اس طرح کچل دیا اور صفحہ ہستی سے حرف غلط کی طرح ان کو اس طرح مٹا دیا کہ نفرین اور لعنت کے سوا ان کا کچھ نام ونشان بھی باقی نہ رہا ۔
مرزا غلام احمد کا تعارف
اس نوعیت کا ایک فتنہ اس زمانہ میں زور پکڑ رہا ہے ۔ بعض بھولے بھالے آدمی دانستہ و نادانستہ اس کی لپیٹ میں آ رہے ہیں جو کہ قادیانیت کا فتنہ ہے ۔ جس کا سرگروہ غلام احمد قادیانی ہے ۔ یہ شخص صوبہ پنجاب کے ضلع گورداسپور کے ایک چھوٹا سا قصبہ قادیان کے رہنے والے حکیم مرزا غلام مرتضیٰ نامی ایک شخص کے گھر میں ١٨٤٠ء مطابق ١٢٦٠ھ میں پیدا ہوا۔ اس نے ابتدائے عمر میں کچھ فارسی اور عربی کی درسی کتابیں پڑھیں ۔ آخر شدت تنگی معاش نے اس کو تعلم وتعلیم کے سلسلہ سے چھڑا کر سیالکوٹ عدالت میں ایک نصاریٰ کے ہاں پندرہ روپے تنخواہ کی نوکری پر مجبور کیا ۔ پھر جب اس سے بھی معاشی حالت نہ سدھری تو ترقی کے خیال سے کچھ قانون انگریزی یاد کر کے مختاری کا امتحان دیا ۔ بد نصیبی سے اس میں ناکام رہا ۔ جب اس سے بھی کام نہ بنا تو اپنا پینترا بدلا اور اپنے کو مبلغ اسلام کی صورت میں ظاہر کیا ۔ اشتہار، تصنیف وغیرہ کے ذریعہ شہرت حاصل کرنے کے در پے ہوا ۔ جس کو آپ اس کے دعویٰ نبوت کا پیش خیمہ یا پہلی سیڑھی کہہ سکتے ہیں ۔ سرسید احمد بانی علی گڑھ کالج اور شیعوں کے ایک مجتہد سے ملاقات کی اور آریوں سے کچھ مقابلہ کیا ۔ پھر براہین احمدیہ نامی ایک کتاب چھپوانے کے لئے ہزاروں روپے کے چندے وصول کئے ۔ بس تو اب عیش وعشرت کا کیا پوچھنا ۔ جب منزل یہاں تک طے ہوئی بمضمون آیت ”ان الانسان ليطغى ان راه استغنی“ کہ جب انسان اپنے آپ کو مستغنی دیکھتا ہے تو نافرمانی اور سرکشی کو اختیار کرتا ہے ۔ اس کے ساتھ دوسرے کچھ اور اسباب بھی جمع ہو گئے تھے ۔ جس کی تفصیل عنقریب انشاء اللہ تعالیٰ اس کے امراض کے سلسلہ میں ناظرین کے سامنے آنے والی ہے تو ١٨٨٨ء سے قدم ذرا آگے بڑھایا اور اپنے کو مجدد، محدث (بلا واسطہ اللہ تعالیٰ سے کلام کرنے والا ) بتانے لگا ۔ پھر رفتہ رفتہ ١٩٠١ء سے مسیح موعود، مثیل مسیح ، مسیح بن مریم بننے کا دعویٰ کیا ۔ حتیٰ کہ نفس امارہ کے دھوکے سے بڑھتے بڑھتے بروزی ، ظلی نبی ، محمدﷺ ، آدم ثانی وغیرہ کے مرتبہ تک پہنچا ۔ بلکہ العیاذ باللہ دعویٰ خدائیت میں بھی کسر باقی نہ رکھی ۔ انشاء اللہ تعالیٰ ہم آگے چل کر اس کی تفصیلات پیش کر رہے ہیں ۔ حسن اتفاق سے انگریزی دانوں کی ایک بڑی جماعت بھی اس کے ساتھ ہو گئی ۔ جس میں محمد علی لاہوری مترجم قرآن مجید ، خواجہ کمال
٥
الدین اور ڈاکٹر عبدالحکیم وغیرہم شامل تھے اور ہر طرح سے اس کی مدد کرتے رہے۔
وفات مرزا
پھر ١٩٠٨ء ، ٢٦ مئی مرض ہیضہ میں ٦٨ سال کی عمر میں فوت ہوا۔
(منتخب از کتاب دو نبی مصنفہ مولانا شبیر اللہ نائب صدر جمعیت علماء، برما ص ٨٨، ٨٩)
نوٹ: مرزا قادیانی کے مرض ہیضہ میں فوت ہونے کا بہت سے قادیانی صاحبان کو انکار ہے۔ کیونکہ بقول برنی مرزا غلام احمد قادیانی اپنی تحریرات میں ہیضے کو قہر الٰہی کا ایک نشان قرار دیتے تھے جو سرکشوں پر بطور عذاب نازل ہوتا ہے۔ چنانچہ بعض مسلمانوں مثلاً مولوی ثناء اللہ صاحب سے جو ان کے مقابلے ہوئے ان میں بھی انہوں نے یہی دعاء کی کہ جو کاذب ہو اس پر ہیضے کی شکل میں موت نازل ہو اور آج قادیانی صاحبان کا ہیضہ کے متعلق یہی عقیدہ ہے۔
چنانچہ (اخبار الفضل قادیان ج ٢٢ نمبر ٣٠، مورخہ ٤، اگست ١٩٣٦ء) میں ہے کہ: ”محمد عاشق نائب صدر احرار قصور جو مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی شان میں بے حد بدزبانیاں کیا کرتا تھا؟ ٢ جولائی کو ہیضہ سے نہایت عبرتناک موت سے مر گیا۔ قصور کے دوسرے احرار کو عبرت حاصل کرنی چاہئے ۔“ لہٰذا ہم اس جگہ پر مرزا قادیانی کے اقرار سے اس کو ثابت کرتے ہیں تا کہ شبہ جاتا رہے۔
چنانچہ مرزا قادیانی کا خسر میر ناصر صاحب کہتا ہے ۔ ”حضرت (مرزا قادیانی) جس رات کو بیمار ہوئے اس رات کو میں اپنے مقام پر جا کر سو چکا تھا۔ جب آپ کو بہت تکلیف ہوئی تو مجھے جگایا گیا تھا۔ جب میں حضرت (مرزا قادیانی) کے پاس پہنچا اور آپ کا حال دیکھا تو آپ نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا۔ میر صاحب! مجھے وبائی ہیضہ ہو گیا ہے۔ اس کے بعد آپ نے کوئی ایسی صاف بات میرے خیال میں نہیں فرمائی ۔ یہاں تک کہ دوسرے روز دس بجے کے بعد آپ کا انتقال ہو گیا ۔“
(مرزا قادیانی کے خسر میر ناصر قادیانی کے خود نوشتہ حالات مندرجہ حیات ناصر ص ١٤)
ان منزلوں کو طے کرتے ہوئے اس نے اپنے پر الہام اور نزول وحی کے دعویٰ کا سہارا لیا۔ وحی و الہام بھی ایسا کہ کبھی تو عربی، کبھی فارسی ، کبھی اردو، کبھی انگریزی وغیرہ کبھی مخلوط و مرکب ۔
پھر قرآن مجید کی آیات و احادیث نبوی ﷺ کی جتنی غلط توجیہات ہو سکتی ہیں اور جتنی من مانی تاویلات ممکن ہیں ۔ ان کا سہارا لینے میں بھی دقیقہ نہیں چھوڑا ۔
ان وحی والہامات ، توجیہہ و تاویلات اور اپنے دعاوی میں (آگے چل کر انشاء اللہ تعالیٰ آپ ایسی باتیں دیکھیں گے ) جن سے دل خون اور جگر پاش پاش ہو جاتا ہے۔ زبان و قلم تھرتھراتے
٦
ہیں ۔ اگر یہ بات نہ ہوتی کہ غیر کے کفر کو نقل کرنا کفر نہیں۔ پھر ان باتوں کی نقل کے بغیر لوگوں کو ان اباطیل پر مطلع کرنے کی کوئی صورت بھی نہیں ۔ ”نستغفر الله ونتوب اليه“ تو ”كلا وحاشا“ ہم ہرگز اپنی زبان قلم کو ان خرافات سے آلودہ نہ کرتے۔ ہم ان باتوں کو نقل کر کے ناظرین کے سامنے اس لئے پیش کر رہے ہیں کہ ناظرین خود غور کریں کہ جس کے یہ حالات اور یہ اوصاف وافعال واقوال ہوں۔ اس کا نبی و رسول ہونا بھی تو بہت دور کی بات ہے۔ ایک ادنیٰ مؤمن بلکہ ایک صحیح الدماغ انسان کہلانے کا مستحق بھی ہے کہ نہیں۔
لہٰذا یہاں پر نہ ختم نبوت کی تحقیق وتفتیش کی ضرورت ہے نہ وفات عیسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام پر بحث کی کوئی حاجت، بھلا جو شخص ادنیٰ مؤمن ہوتا تو درکنار ایک باقاعدہ صحیح العقل انسان نہیں بن سکتا۔ اس کو ان چیزوں سے کیا سروکار؟ غالب یہی ہے کہ لوگوں کی توجہ کو اپنی حقیقت کی تفتیش و تحقیق سے پھیرنے کے لئے یہ فضول مباحث بیچ میں لائے گئے۔ واللہ اعلم!
ہم پہلے کچھ باتیں بطور تمہید قارئین کرام کے گوش گزار کرتے ہیں تاکہ آگے چل کر مرزا قادیانی کی باتوں کے متعلق فیصلہ آسان ہو۔
نوٹ: یاد رہے کہ فرقہ قادیانی کے دو گروہ ہیں۔ ایک قادیان والے جو اس کو مستقل نبی مانتے ہیں۔ ان کو قادیانی گروہ اور دوسرے لاہور والے جو اس کو مجدد اور بروزی وظلی نبی مانتے ہیں۔ ان کو لاہوری گروہ کہتے ہیں۔
الہام ربانی اور الہام شیطانی میں فرق
- ١....... خود مرزا قادیانی کہتا ہے۔ ”بلکہ اکثر نادان لوگ شیطانی القاء کو بھی خدا کا
کلام سمجھنے لگتے ہیں اور ان کو شیطانی اور رحمانی الہام میں تمیز نہیں۔ پس یادرہے کہ رحمانی الہام اور وحی کے لئے اوّل شرط یہ ہے کہ انسان محض خدا کا ہو جائے اور شیطان کا کوئی حصہ اس میں نہ رہے۔ کیونکہ جہاں مردار ہے۔ ضرور ہے کہ وہاں کتے بھی جمع ہو جائیں ۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ھل انبئكم على من تنزل الشياطين . تنزل على كل افاك اثيم“
(حقیقت الوحی ص ١٣٨، خزائن ج ٢٢ ص ١٤٢)
پوری آیت یہ ہے کہ: ”يلقون السمع واكثرهم كاذبون (الشعراء)“ ﴿میں بتلا دوں کس پر اترتے ہیں شیطان ۔ اترتے ہیں جھوٹے گنہگار پر ۔ لا ڈالتے ہیں سنی ہوئی بات اور بہت ان میں جھوٹے ہیں۔﴾ ترجمہ شیخ الہندؒ اس پر حضرت مولانا شبیر احمد عثمانیؒ لکھتے ہیں۔ ”یعنی شیاطین کوئی ایک آدھ نا تمام بات امور غیبیہ جزئیہ کے متعلق جو سن بھاگتے ہیں۔ اس میں سو جھوٹ
٧
ملا کر اپنے کاہن دوستوں کو پہنچاتے ہیں۔ یہ حقیقت ان کی وحی کی ہے۔“
- ٢…… ”اور اس کے (اللہ تعالیٰ) کلام میں شوکت اور ہیبت اور بلندی آواز ہوتی
ہے اور کلام پراثر اور لذیذ ہوتا ہے اور شیطان کا کلام دھیما اور زنانہ اور مشتبہ رنگ میں ہوتا ہے۔ اس میں ہیبت، شوکت اور بلندی نہیں ہوتی اور نہ وہ بہت دیر تک چل سکتا ہے۔ گویا جلدی تھک جاتا ہے۔“
(حقیقت الوحی ص ١٤٠، خزائن ج ٢٢ ص ١٤٤)
- ٣…… ”الہام رحمانی بھی ہوتا ہے۔ شیطانی بھی اور جب انسان اپنے نفس اور
خیال کو دخل دے کر کسی بات کے انکشاف کے لئے بطور استخارہ وغیرہ توجہ کرتا ہے۔ خاص اس حالت میں کہ جب اس کے دل میں یہ تمنا مخفی ہوتی ہے کہ میری مرضی کے موافق کسی کی نسبت کوئی برا یا بھلا کلمہ بطور الہام مجھے معلوم ہو جائے تو شیطان اس وقت اس کی آرزو میں دخل دیتا ہے اور کوئی کلمہ اس کی زبان پر جاری ہو جاتا ہے اور دراصل وہ شیطانی کلمہ ہوتا ہے…… اور اسی بناء پر الہام ولایت یا الہام عامہ مومنین بجز موافقت و مطابقت قرآن کریم کے حجت نہیں۔“
(ازالۃ اوہام ص ٦٢٨، ٦٢٩، خزائن ج ٣ ص ٤٣٩)
- ٤…… الف: ”ماسوا اس کے شیطان گونگا ہے اور اپنی زبان میں فصاحت اور
روانی نہیں رکھتا اور گنگے کی طرح وہ فصیح اور کثیر المقدار باتوں پر قادر نہیں ہو سکتا۔ صرف ایک بدبودار پیرایہ میں فقرہ دو فقرہ دل میں ڈال دیتا ہے۔“
(حقیقت الوحی ص ١٣٩، خزائن ج ٢٢ ص ١٤٢، ١٤٣)
- ب…… ”اور اس (شیطانی الہام) پر جھوٹ غالب ہوتا ہے اور رحمانی خواب
والہام پر سچ غالب۔ (اس لفظ، سچ غالب میں بڑا دھوکہ ہے تا کہ قرآن وحدیث میں اپنی من مانی تاویلوں اور اپنے جھوٹے الہام اور وحیوں کا دروازہ کھلا رہے۔ حالانکہ اگر الہام رحمانی میں جھوٹ کی بھی آمیزش ہو تو سارے احکام دین ہی مشتبہ اور مشکوک ہو جاتے ہیں) ”اور نیز یاد رہے کہ شیطانی الہام فاسق اور ناپاک آدمی سے مناسبت رکھتا ہے۔ مگر رحمانی الہامات کی کثرت صرف ان کی ہوتی ہے جو پاک دل ہوتے اور خدا تعالیٰ کی محبت میں محو ہو جاتے ہیں۔“
(حقیقت الوحی ص ١٤٠، خزائن ج ٢٢ ص ١٤٣)
(اس لفظ کثرت میں بھی وہی دجل وفریب ہے)
صرف عقلی معیار حق نہیں
خود مرزا قادیانی کہتا ہے۔ ”جاننا چاہئے کہ اس زمانہ میں اسباب ضلالت میں سے
٨
ایک بڑا سبب یہ ہے کہ اکثر لوگوں کی نظر میں عظمت قرآن شریف کی باقی نہیں رہی۔ ایک گروہ مسلمانوں کا فلاسفہ ضالہ کا مقلد ہو گیا کہ وہ ہر ایک امر کا عقل ہی سے فیصلہ کرنا چاہتے ہیں۔ ان بیچاروں کو خبر نہیں کہ آلۂ دریافت مجہولات صرف عقل نہیں ہے اور اگر صداقت کا محل صرف عقل ہی کو ٹھہرایا جائے تو بڑے بڑے عجائبات کارخانہ الوہیت کے درپردہ مستوری و محجوبی رہیں گے اور سلسلۂ معرفت کا محض ناتمام اور ناقص اور ادھورا رہ جائے گا۔ سو ایسا خیال کہ خالق حقیقی کے تمام دقیق در دقیق بھیدوں کے سمجھنے کے لئے صرف عقل ہی ہے۔ کس قدر خام اور ناسعادتی پر دلالت کرتا ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ٦٥٢، ٦٥٣، خزائن ج ٣ ص ٤٥٢، ٤٥٣)
یہ بات بھی سچ ہے۔ کیونکہ اگر صرف عقل ہی حق سمجھنے کے لئے کافی ہوتی تو وحی اور رسول کی ضرورت نہ ہوتی۔ کاش مرزا قادیانی ان باتوں پر عمل پیرا ہوتا۔
مرزائیوں کا اسلام، خدا و حج وغیرہ اور ہیں مسلمانوں کے اور مرزا بشیر الدین محمود خلیفہ قادیان کہتا ہے۔ ”حضرت مسیح موعود نے تو فرمایا (مرزا غلام احمد قادیانی نے) کہ ان کا (مسلمانوں کا) اسلام اور ہے اور ہمارا اور۔ ان کا خدا اور ہے اور ہمارا اور۔ ہمارا حج اور ہے اور ان کا اور۔ اسی طرح ان سے ہر بات میں اختلاف ہے۔“
(اخبار الفضل مورخہ ٢١ اگست ١٩١٧ء)
مرزا قادیانی کی نشہ خوری اور دوسرے کو استعمال کروانا
افیون
”حضرت مسیح موعود (یعنی مرزا قادیانی) علیہ السلام نے تریاق الٰہی دوا خدا تعالیٰ کی ہدایت کے ماتحت بنائی اور اس کا ایک بڑا جز افیون تھا اور یہ دوا کسی قدر افیون کی زیادتی کے بعد حضرت خلیفہ اوّل (حکیم نور الدین کو) حضور (مرزا قادیانی) چھ ماہ سے زائد تک دیتے رہے اور خود بھی وقتاً فوقتاً مختلف امراض کے دوران کے وقت استعمال کرتے رہے۔“
(مندرجہ الفضل ج ١٧ نمبر ٦، مورخہ ١٩ جولائی ١٩٢٩ء)
ف: از پروفیسر محمد الیاس برنی صاحب مرزا قادیانی تو افیون کے اس درجہ قائل تھے کہ گویا افیون نصف طب ہے۔ (کیونکہ مرزا قادیانی کا قول ہے کہ بعض اطباء کے نزدیک وہ نصف طب ہے) افیون کا عیب اور کمال یہی ہے کہ تخیل کو مضبوط اور وسیع کر دیتی ہے اور اس کے نشہ میں
٩
وہ باتیں سوجھتی ہیں کہ عقل حیران رہ جائے۔ آدمی تیز اور طبّاع ہو تو سونے پر سہاگہ (بقیہ صفحہ مذکور)
ٹانک وائن
محبی اخویم حکیم محمد حسین صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،
اس وقت میاں یار محمد بھیجا جاتا ہے۔ آپ اشیاء خوردنی خود خریدیں اور ایک بوتل ٹانک وائن کی پلومر کی دکان سے خرید دیں۔ مگر ٹانک وائن چاہئے۔ اس کا لحاظ رہے۔ باقی خیریت۔ مرزا غلام احمد عفی عنہ
(خطوط امام بنام غلام ص ٥، مجموعہ مکتوبات مرزا قادیانی)
”ٹانک وائن کی حقیقت لاہور میں پلومر کی دکان سے ڈاکٹر عزیز احمد کی معرفت معلوم کی گئی۔ ڈاکٹر صاحب جواباً تحریر فرماتے ہیں۔ حسب ارشاد پلومر کی دوکان سے دریافت کیا گیا۔ جواب حسب ذیل ملا۔
ٹانک وائن ایک قسم طاقتور اور نشہ دینے والی شراب ہے جو ولایت سے سربند بوتلوں میں آتی ہے۔ اس کی قیمت (ساڑھے پانچ روپے) ٢١/ستمبر ١٩٣٣ء۔“
(سودائے مرزا ص ٣٩)
برانڈی
”حضور (مرزا قادیانی) نے مجھے لاہور سے بعض اشیاء دلانے کے لئے ایک فہرست لکھ دی۔ جب میں چلنے لگا تو پیر منظور صاحب نے مجھے روپیہ دے کر کہا کہ دو بوتل برانڈی کی میری اہلیہ کے لئے پلومر کی دکان سے لیتے آئیں۔ میں نے کہا اگر فرصت ہوئی تو لیتا آؤں گا۔ پیر صاحب فوراً حضرت اقدس کی خدمت میں گئے اور کہا کہ حضور مہدی حسن میرے لئے برانڈی کی بوتلیں نہیں لائیں گے۔ (اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ غالباً اس کی فرمائش مرزا قادیانی کی ہدایت کی بنا پر تھی)
حضور ان کو تاکید فرما دیں حقیقتاً میرا ارادہ لانے کا نہ تھا۔ اس پر حضور اقدس (مرزا قادیانی) نے مجھے بلا کر فرمایا کہ میاں مہدی حسین ! جب تک تم برانڈی کی بوتلیں نہ لے لو لاہور سے روانہ نہ ہونا۔ میں نے سمجھ لیا کہ اب میرے لئے لانا لازمی ہے۔ میں نے پلومر کی دکان سے دو بوتل برانڈی کی غالباً چار روپے میں خرید کر پیر صاحب کو لادیں۔ ان کی اہلیہ کے لئے ڈاکٹروں نے بتلائی ہوں گی۔“
(اخبار الحکم قادیان ج ٢٩ نمبر ٢٥، مورخہ ٧/نومبر ١٩٢٦ء)
ٹانک وائن اور برانڈی کا فتویٰ
”پس ان حالات میں اگر حضرت مسیح موعود برانڈی اور رم کا استعمال بھی اپنے
١٠
مریضوں سے کرواتے یا خود بھی مرض کی حالت میں کر لیتے تو وہ خلاف شریعت نہ تھا۔ چہ جائیکہ ٹانک وائن جو ایک دوا ہے۔“
(اخبار پیغام صلح ج٢٣ نمبر٢٥، مورخہ ٤؍مارچ ١٩٣٥ء، اخبار پیغام صلح ج٢٣، نمبر٦٥، مورخہ ١١؍اکتوبر ١٩٣٥ء)
استعمال سنکھیا
”جب مخالفت زیادہ بڑھی اور مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو قتل کی دھمکیوں کے خطوط موصول ہونے شروع ہوئے تو کچھ عرصے تک آپ نے سنکھیا کے مرکبات استعمال کئے۔ تاکہ خدا نخواستہ آپ کو زہر دیا جائے تو جسم میں اس کے مقابلے کی طاقت ہو۔“
(اخبار الفضل قادیان مورخہ ٥؍فروری ١٩٣٥ء)
مرزا قادیانی کی بیماریاں
ہسٹریا اور مراق
”ڈاکٹر محمد اسماعیل نے مجھ سے بیان کیا کہ میں نے کئی دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے سنا ہے کہ مجھے ہسٹریا ہے۔ بعض اوقات آپ مراق بھی فرمایا کرتے تھے۔“
(سیرۃ المہدی حصہ ٢ ص ٥٥، روایت ٣٦٩)
ہسٹریا اور مراق ایک ہی ہے
”ہسٹریا کا بیمار جس کو اختناق الرحم کہتے ہیں۔ چونکہ یہ مرض عام طور پر عورتوں میں زیادہ ہوتا ہے۔ اس کو رحم کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ ورنہ مردوں میں بھی یہ مرض ہوتا ہے۔ جن مردوں کو یہ مرض ہو ان کو مراقی کہتے ہیں۔“
(خطبہ جمعہ میاں محمود احمد، مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج ١٠ نمبر ٨٤، مورخہ ٣٠؍اپریل ١٩٢٣ء)
دق اور سل
”حضرت اقدس نے اپنی بیماری دق کا بھی ذکر کیا۔“
(حیات احمد ج ٢ نمبر ١ ص ٧٩)
”بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے ایک دفعہ تمہارے دادا کی زندگی میں حضرت (مرزا قادیانی) صاحب کو سل ہو گئی تھی۔“
(سیرۃ المہدی حصہ اول ص ٥٥، روایت ٦٦)
ذیابیطس کمزوری دل و دماغ و درد سر اور بہت سے امراض
”ایک ابتلاء مجھ کو اس شادی کے وقت یہ پیش آیا کہ باعث اس کے کہ میرا دل و دماغ سخت کمزور تھا اور میں بہت سے امراض کا نشانہ رہ چکا تھا اور دو مرضیں یعنی ذیابیطس اور درد سر تھا اور
١١
دوران سر قدیم سے میرے شامل حال تھیں۔ جن کے ساتھ بعض اوقات تشنج قلب بھی تھا۔ اس لئے میری حالت مردی کالعدم تھی اور پیرانہ سالی کے رنگ میں میری زندگی تھی۔“
(تریاق القلوب ص ٣٥، خزائن ج ١٥ ص ٢٠٣)
دو چادریں
”دیکھو میری بیماری کی نسبت بھی آنحضرت ﷺ نے پیش گوئی کی تھی۔ (نعوذ باللہ من ھذا البھتان۔ محمد اسحق) جو اس طرح وقوع میں آئی۔ آپ نے فرمایا تھا کہ مسیح آسمان پر سے جب اترے گا تو دو زرد چادریں اس نے پہنی ہوئی ہوں گے۔ تو اسی طرح مجھ کو دو بیماریاں ہیں۔ ایک اوپر کے دھڑ کی اور ایک نیچے کے دھڑ کی۔ یعنی مراق اور کثرت بول۔“
(ملفوظات ج ٨ ص ٤٤٥)
یہ امراض کب سے
”دو مرض میرے لاحق حال ہیں۔ ایک بدن کے اوپر کے حصہ میں اور دوسرا بدن کے نیچے کے حصہ میں۔ اوپر کے حصہ میں دوران سر اور نیچے کے حصہ میں کثرت پیشاب ہے اور یہ دونوں مرضیں اس زمانہ سے ہیں۔ جس زمانہ سے میں نے دعویٰ مامور من اللہ ہونے کا شائع کیا ہے۔“ (شاید یہ دعویٰ کی برکت ہو۔ برنی)
(حقیقت الوحی ص ٣٠٧، خزائن ج ٢٢ ص ٣٢٠)
حقیقت مراق
مالنخولیا کی ایک قسم ہے جس کو مراق کہتے ہیں۔ یہ مرض تبخیر سودا سے جو معدہ میں جمع ہوتا ہے پیدا ہوتا ہے اور جس عضو میں یہ مادہ جمع ہوتا ہے۔ اس سے سیاہ بخارات اٹھ کر دماغ کی طرف چڑھتے ہیں۔ اس کی علامت یہ ہیں۔ ترش دخانی ڈکاریں آنا، ضعف معدہ کی وجہ سے کھانے کی لذت کم معلوم ہونا، ہاضمہ خراب ہو جانا، پیٹ پھولنا، پاخانہ پتلا ہونا۔ دھوئیں جیسے بخارات چڑھتے ہوئے معلوم ہونا۔“
(شرح اسباب)
مالنخولیا کے کرشمے
الف ...... ”مالنخولیا خیالات وافکار کے طریق طبعی سے متغیر بخوف وفساد ہو جانے کو کہتے ہیں۔ بعض مریضوں میں گاہے گاہے یہ فساد اس حد تک پہنچ جاتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو غیب داں سمجھتا ہے اور اکثر ہونے والے امور کی پہلے ہی خبر دے دیتا ہے اور بعض میں یہ فساد یہاں تک ترقی کر جاتا ہے کہ اپنے متعلق یہ خیال ہوتا ہے کہ میں فرشتہ ہوں۔“
(شرح اسباب ص ١٢٦)
١٢
ب ..... ”مریض کے اکثر اوہام اس کام سے متعلق ہوتے ہیں۔ جس میں مریض زمانہ صحت میں مشغول رہا ہو۔ مثلاً صاحب علم ہو تو پیغمبری اور معجزات وکرامات کا دعویٰ کر دیتا ہے۔ خدائی کی باتیں کرتا ہے اور لوگوں کو اس کی تبلیغ کرتا ہے۔“
(اکسیر اعظم ج ١ ص ١٨٨)
ج...... ”مانخولیا کے بعض مریض بظاہر صحیح الدماغ معلوم ہوتے ہیں۔ مگر جب ان کی طویل طویل اور بے سروپا باتیں سنی جائیں تو حاذق طبیب سمجھ لیتا ہے کہ وہ مانخولیا میں مبتلا ہیں۔“
(سودا مرزا ص ١٣)
ان حوالہ جات پیش کرنے کے بعد ہم قارئین کرام کے سامنے ان کے کچھ الہامات اور خیالات وافکار کے نمونے پیش کرتے ہیں۔ جن سے ان کے الہامات رحمانی ہیں یا شیطانی وہ صحیح العقل ہے یا گرفتار اوہام وخیال۔ اس کا بخوبی اندازہ ہو جائے اور اگر صحیح العقل مان لیا جائے تو ان کو مسلمان بھی کہا جا سکتا ہے یا نہیں؟ محمد اسحاق غفرلہ!
حق تعالیٰ کے متعلق اس کا تصور
”دعویٰ الوہیت“
- ١...... (الہام) ”انما امرك اذا اردت شيئا ان تقول له كن
فيکون“ یعنی (اے مرزا قادیانی) تیری شان یہ ہے کہ جس چیز سے کہے ہو جا تو وہ ہو جاتا ہے۔
(تذکرہ ص ٥٢٧، حقیقت الوحی ص ١٠٥، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٨)
(نعوذ باللہ من ذلک! حالانکہ یہ اللہ تعالیٰ کی شان ہے۔ محمد اسحاق غفرلہ)
- ٢...... ”رائتنی فی المنام عین اللہ وتيقنت اننی هو فخلقت
السموات والارض وقلت انا زينا السماء الدنيا بمصابيح“
(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٦٤، خزائن ج ٥ ص ایضاً)
یعنی میں نے خواب میں اپنے آپ کو عین خدا دیکھا اور مجھے یقین ہوا کہ میں اللہ ہوں۔ سو میں نے آسمانوں اور زمین کو بنایا اور میں نے کہا کہ ہم نے آسمان دنیا کو ستاروں سے زینت دی۔ (استغفر اللہ۔ محمد اسحاق غفرلہ)
- ٣...... ”ہم ایک نیا نظام اور نیا آسمان اور نئی زمین چاہتے ہیں۔ سو میں نے پہلے
تو آسمان اور زمین کو اجمالی صورت میں پیدا کیا۔ جس میں کوئی ترتیب اور تفریق نہ تھی۔ پھر میں نے منشائے حق کے موافق اس کی ترتیب وتفریق کی اور میں دیکھتا تھا کہ میں اس پر قادر ہوں۔ پھر میں نے آسمان دنیا کو پیدا کیا اور کہا: ”انا زينا السماء الدنيا بمصابيح“ پھر میں نے کہا
١٣
اب ہم انسان کو مٹی کے خلاصہ سے پیدا کریں۔“
(کتاب البریہ ص ٨٧، خزائن ج ١٣ ص ١٠٥)
نوٹ: ناظرین انصاف سے بتائیں کہ یہ دیوانگی، خبط الحواس یا کفر و الحاد (زندقہ) نہیں تو اور کیا ہے؟ محمد اسحق غفرلہ!
الہامات...... حق تعالیٰ ان کو خطاب کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔ (یعنی حسب زعم مرزا)
- ا...... ”انت منی بمنزلة ولدی“ تو مجھ سے بمنزلہ میرے فرزند کے ہے۔
(حقیقت الوحی ص ٨٦، خزائن ج ٢٢ ص ٨٩)
- ب...... ”انت منی بمنزلة اولادی“ تو مجھ سے بمنزلہ میری اولاد کے ہے۔
(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٤٣، خزائن ج ٢٢ ص ٥٨١)
- ج...... ”اسمع ولدی“ سن میرا لڑکا۔
(البشریٰ ج ١ ص ٤٩)
- ٢...... ”انی مع الرسول اجیب اخطئ واصیب میں (اللہ تعالیٰ) اس
رسول (یعنی مرزا قادیانی) کے ساتھ ہوں۔ اس کی طرف سے مخالفوں کی جوابدہی کرتا ہوں۔ بھول بھی کرتا ہوں۔ ٹھیک بھی کرتا ہوں۔“ (العیاذ باللہ۔ محمد اسحق غفرلہ)
(حقیقت الوحی ص ١٠٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٦)
- ٣...... ”انت من ماء نا وهم من فشل تو ہمارے پانی سے ہے۔ (خدا
جانے پانی سے کیا مراد ہے مقام غور ہے۔ محمد اسحق غفرلہ) اور وہ (مخالفین) بزدلی سے ہیں۔“
(انجام آتھم ص ٥٥، ٥٦، خزائن ج ١١ ص ٥٥، ٥٦)
- ٤...... ”یحمدک اللہ من عرشہ ویحمدک اللہ ویمشی الیک“
اللہ تعالیٰ اپنے عرش سے تیری تعریف کرتا ہے اور تیری طرف چلتا ہے۔
(انجام آتھم ص ٥٥، خزائن ج ١١ ص ٥٥)
- ٥...... اپنے انگریزی الہامات کے ذکر کے بعد کہتا ہے کہ: ”اس وقت ایک ایسا
لہجہ اور تلفظ معلوم ہوا کہ گویا ایک انگریز ہے جو سر پر کھڑا ہوا بول رہا ہے۔“
(براہین احمدیہ ص ٤٨١، خزائن ج ١ ص ٥٧٢)
- ٦...... ”انی مع الرسول اقوم، افطر واصوم“ میں اپنے رسول کے
ساتھ کھڑا ہوں گا۔ میں افطار کروں گا اور روزہ بھی رکھوں گا۔
(حقیقت الوحی ص ١٠٣، ١٠٤، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٥)
١٤
کچھ عربی الہامات کے بعد۔ ”یعنی بابو الٰہی بخش کہتا ہے کہ تیرا حیض دیکھے یا کسی پلیدی اور ناپاکی پر اطلاع پائے۔ مگر خدا تعالیٰ تجھے اپنے انعامات دکھلائے گا جو متواتر ہوں گے اور تجھ میں حیض نہیں بلکہ وہ بچہ ہو گیا۔ ایسا بچہ جو بمنزلہ اطفال اللہ ہے۔“
(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٤٣، خزائن ج ٢٢ ص ٥٨١)
نوٹ: جس خدائے تعالیٰ کی شان احدیت ایسی ہے کہ نہ وہ کسی کا بیٹا ہے نہ اس کے لئے کوئی بیٹا۔ نہ بی بی۔ جن کی شان قدوسیت تمام عیوب و نقائص سے بری ہے۔ لیس کمثلہ شئی (یعنی ان کے مماثل کوئی چیز نہیں) جن کی صفت یکتائی ہے۔ اس ذات قادر و قیوم کے لئے کوئی ادنیٰ مسلمان بھی ایسی چیزیں ثابت کرسکتا ہے؟ کیا پھر بھی وہ مسلمان رہ سکتا ہے؟ محمد اسحق غفرلہ!
حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے متعلق بدگوئیاں
- .......١ ”لہٰذا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا پرندہ بنا کر پھونکنا یہ کوئی معجزہ نہ تھا۔ بلکہ
بطور لہو ولعب مسمریزم تھا۔ جس کے استعمال کی وجہ سے وہ تکمیل ارواح میں قریب قریب ناکام رہے۔ اس کے لئے (حاشیہ ازالہ اوہام ص ٣٠٣ تا ٣٢٢، خزائن ج ٣ ص ٢٥٤ تا ٢٦٣) تک دیکھنا چاہئے۔
- .......٢ ”آپ کا (یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا) خاندان بھی نہایت پاک
ومطہر ہے۔ تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں۔ جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا....... آپ کا کنجریوں سے میلان اور صحبت بھی شاید اس وجہ سے ہو کہ جدی مناسبت درمیان ہے۔ ورنہ کوئی پرہیزگار انسان ایک جوان کنجری کو یہ موقع نہیں دے سکتا کہ وہ اس کے سر پر اپنا ناپاک ہاتھ لگائے اور زنا کاری کی کمائی کا پلید عطر اس کے سر پر ملے اور اپنے بالوں کو اس کے پیروں پر ملے۔ سمجھنے والے سمجھ لیں کہ ایسا انسان کس چلن کا آدمی تھا۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٧، خزائن ج ١١ ص ٢٩١)
- .......٣ ”آپ کو گالیاں دینے اور بدزبانی کی اکثر عادت تھی۔ ادنیٰ ادنیٰ بات
میں غصہ آجاتا تھا۔ اپنے نفس کو جذبات سے نہیں روک سکتا تھا۔ مگر میرے نزدیک آپ کے حرکات جائے افسوس نہیں۔ آپ تو گالیاں دیتے تھے اور یہودی ہاتھ سے کسر نکال لیا کرتے تھے۔ یہ بات بھی یاد رہے کہ آپ کو کسی قدر جھوٹ بولنے کی بھی عادت تھی۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥، خزائن ج ١١ ص ٢٨٩)
- .......٤ ”عیسائیوں نے بہت سے معجزات لکھے ہیں۔ مگر حق بات یہ ہے کہ آپ
سے کوئی معجزہ نہیں ہوا اور اس دن سے کہ آپ معجزہ مانگنے والوں کو گندی گالیاں دیں اور ان کو حرام
١٥
کار اور حرام کی اولاد ٹھہرایا۔ اسی روز سے شریفوں نے آپ سے کنارہ کیا۔"
(بحوالہ مذکور، خزائن ج ١١ ص ٢٨٩)
- ٥....... "سو کچھ تعجب کی جگہ نہیں کہ خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح کو عقلی طور سے ایسے
طریق پر اطلاع دے دی ہو جو ایک مٹی کا کھلونا کسی کل کے دبانے یا کسی پھونک مارنے کے طور پر ایسا پرواز کرتا ہو۔ جیسے پرندہ پرواز کرتا ہے یا اگر پرواز نہیں تو پیروں سے چلتا ہو۔ کیونکہ حضرت مسیح بن مریم اپنے باپ یوسف کے ساتھ بائیس برس کی مدت تک نجاری کا کام بھی کرتے رہے ہیں۔"
(ازالہ اوہام ص ٣٠٣، خزائن ج ٣ ص ٢٥٥،٢٥٤)
نوٹ: قرآن کریم کھلے الفاظ میں ”وجیہاً فی الدنیا والآخرۃ ومن المقربین“ کہہ کر جن کو دنیا و آخرت میں باعزت اور زمرۂ مقربین میں شمار کرتا ہے اور ”وآتینا عیسیٰ ابن مریم البینات“ سے کھلے اور روشن معجزات ان کے لئے ثابت کرتا ہے اور ”ان مثل عیسیٰ عند اللہ کمثل آدم“ سے ان کے بغیر باپ پیدا ہونے کی تصریح کرتا ہے۔ کوئی ادنیٰ مسلمان بھی ان کی شان میں اس کے خلاف کہہ سکتا ہے؟ کیا ایسی لغو باتیں کرنے والا قرآن مجید کا منکر نہیں؟ کیا پھر بھی وہ مسلمان رہ سکتا ہے؟
حضورﷺ کی شان میں گستاخیاں
- ١....... "اسی بناء پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ اگر آنحضرتﷺ پر ابن مریم اور دجال کی
حقیقت کاملہ بوجہ نہ موجود ہونے، کسی نمونہ کے مو بہ مو منکشف نہ ہوئی اور نہ دجال کے ستر باع کے گدھے کی اصلی کیفیت کھلی ہو اور نہ یاجوج ماجوج کی عمیق تہ تک وحی الٰہی نے اطلاع دی ہو اور نہ دابۃ الارض کی ماہیت کما ہی ظاہر فرمائی گئی ۔" ( گویا یہ حقائق مرزا قادیانی پر منکشف ہوئے )
(ازالہ اوہام ص ٦٩١، خزائن ج ٣ ص ٤٧٣)
- ٢....... مرزا قادیانی کا ایک معتقد قاضی اکمل کہتا ہے۔
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل غلام احمد کو دیکھے قادیاں میں
(از قاضی محمد ظہور الدین اکمل، اخبار پیغام صلح لاہور مورخہ ١٤؍ مارچ ١٩١٦ء)
قاضی اکمل نے یہ بھی لکھا ہے کہ: ”یہ نظم انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام (مرزا قادیانی) کے حضور میں پڑھی۔ حضور نے اس کو پسند فرمایا۔“
(اخبار پیغام صلح نمبر ٢٧، ج ٣٢، مورخہ ٣٠؍ نومبر ١٩٣٦ء)
١٦
- ٣...... ’’اسلام ہلال کی طرح شروع ہوا اور مقدر تھا کہ انجام کار زمانہ میں بدر ہو
جائے۔ خدا تعالیٰ کے حکم سے پس خدا تعالیٰ کی حکمت نے چاہا کہ اسلام اس صدی میں (یعنی جس صدی میں مرزا قادیانی ہیں) بدر کی شکل اختیار کرے۔‘‘ (خطبہ الہامیہ ص ١٨٢، خزائن ج ١٦ ص ٢٧٥)
- ٤......
غسا القمران المشرقان اتنکر
ترجمہ: اس کے لئے یعنی حضور ﷺ کے لئے صرف چاند گرہن کا نشان ظاہر ہوا اور میرے لئے چاند اور سورج دونوں کے گرہن کا۔ اب کیا تو انکار کرتا ہے۔
(اعجاز احمدی ص ٧١، خزائن ج ١٩ ص ١٨٣)
نوٹ: کیا حضور ﷺ نے ’’انا سید ولد آدم ولا فخر ‘‘ اور ’’آدم ومن دونه تحت لوائی ولا فخر ‘‘ جیسی صاف اور صریح احادیث سے اپنے بنی آدم کے سردار ہونے کو اور آدم علیہ السلام اور تمام ذریت آدم میدان محشر میں حضور ﷺ کے جھنڈے تلے جمع ہونے کو بیان نہیں فرمایا؟ اور اللہ تعالیٰ نے سورۂ مائدہ کی آیت سے حجتہ الوداع کے وقت میدان عرفات میں لاکھوں صحابہؓ کے روبرو حضور ﷺ ہی پر دین کے مکمل ہونے کا بانگ دہل اعلان نہیں کیا؟ جو آج تک ساری دنیا کو یہ اعلان سنا رہی ہے اور حضور ﷺ نے ’’اوتیت علم الاولین والآخرین ‘‘ جیسی حدیثوں سے تمام اولین اور آخرین کے علوم آپ کی ذات حضرت اقدس پر منکشف ہونے کی تصریح نہیں فرمائی؟ پھر کیا وجہ ہے کہ مرزا قادیانی تو ان تمام پر پانی پھیر دے اور پھر بھی مسلمان رہے۔
دیکھئے قادیانی نبی کی امت کیا کہتی ہے کہ: ’’حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ذہنی ارتقاء آنحضرت ﷺ سے زیادہ تھا۔ اس زمانہ میں تمدنی ترقی زیادہ ہوئی ہے اور یہ جزوی فضیلت ہے جو حضرت مسیح موعود کو آنحضرت ﷺ پر حاصل ہے۔‘‘
(مضمون ڈاکٹر شاہ نواز خاں قادیانی، مندرجہ رسالہ ریویو آف ریلیجنز، مئی ١٩٢٩ء)
تمام نبیوں پر افضیلت
- ١......
من بعرفاں نہ کمترم زکسے
١٧
داد آں جام را مرا بتمام
کم نیم زاں ہمہ بروئے یقیں
ہر کہ گوید دروغ ہست لعین
(نزول مسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧،٤٧٨)
حاصل ان اشعار کا یہ ہے جتنے انبیاء علیہم السلام پہلے گزر گئے ان کو فرداً فرداً جو کمالات دیئے گئے مجھ کو تنہا وہ تمام کمالات ایک ساتھ دیئے گئے اور یہ یقینی بات ہے جو اس کو جھوٹ جانتا ہے وہ ملعون ہے۔
- ......٢ ”واتانی مالم یوت احد من العلمین“ مجھ کو وہ چیز دی گئی کہ دنیا و آخرت میں کسی ایک شخص کو بھی نہیں دی گئی۔
(استفتاء ضمیمہ حقیقت الوحی ص ٨٧، خزائن ج ٢٢ ص ٧١٥)
- ......٣ ”میری تائید میں اس (خدا) نے وہ نشان ظاہر فرمائے ہیں کہ آج کی تاریخ سے جو ١٦؍ جولائی ١٩٠٦ء ہے۔ اگر میں ان فرداً فرداً شمار کروں تو میں خدائے تعالیٰ کی قسم کھا کر کہہ سکتا ہوں کہ وہ تین لاکھ سے بھی زیادہ ہیں۔“
(حقیقت الوحی ص ٦٧، خزائن ج ٢٢ ص ٧٠)
طرفہ یہ ہے کہ بعض جگہ میں تو وہ حضورﷺ کو اس دعویٰ سے استثناء کرتا ہے۔ جیسا کہ (تتمہ حقیقت الوحی ص ١٣٦، خزائن ج ٢٢ ص ٥٧٤) میں مذکور ہے۔ لیکن (تحفہ گولڑویہ ص ٤٠، خزائن ج ١٧ ص ١٥٣) میں حضورﷺ کے متعلق لکھتا ہے کہ: ”تین ہزار معجزات ہمارے نبیﷺ سے ظہور میں آئے۔“ اس تناقض کو بھی ذرا دیکھئے۔
- ......٤ ”اس زمانہ میں خدا نے چاہا کہ جس قدر نیک اور راست باز اور مقدس نبی گزر چکے ہیں۔ ایک ہی شخص کے وجود میں ان کے نمونے ظاہر کئے جاویں۔ سو وہ میں ہوں۔“
(براہین احمدیہ حصہ ٥ ص ٩٠، خزائن ج ٢١ ص ١١٧، ١١٨)
- ......٥
ہر رسولے نہاں بہ پیراہنم
(نزول مسیح ص ١٠٠، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٨)
میرے آنے کی وجہ سے ہر نبی زندہ ہوئے تمام رسول میرے کرتے کے اندر پوشیدہ ہیں۔
١٨
عجیب دعاوی
- ......١
نیز ابراہیم ہوں نسلیں ہیں میری بے شمار
(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٠٣، خزائن ج ٢١ ص ١٣٣)
اگر اس سے مراد تمام نبیوں کا نمونہ بننا ہے تو ایک ہی ساتھ اور ایک زمانہ میں ہے۔ پھر اس لفظ کبھی کا کیا مطلب؟ لہٰذا یہ مراد نہیں ہو سکتا تو یہ تناقض دعویٰ ہوا۔
- ٢...... ”سو جیسا کہ براہین احمدیہ میں خدا نے فرمایا۔ میں آدم ہوں، میں نوح
ہوں، میں ابراہیم ہوں، میں اسحاق ہوں، میں یعقوب ہوں، میں اسماعیل ہوں، میں موسیٰ ہوں، میں داؤد ہوں، میں عیسیٰ بن مریم ہوں، میں محمدﷺ ہوں، یعنی بروزی طور پر۔ (نہ معلوم یعنی کا تعلق کس کے ساتھ ہے۔ محمد اسحق غفرلہ) جیسا کہ خدا نے اپنی کتاب میں یہ سب نام مجھے دیئے اور میری نسبت ”جری اللّٰہ فی حلل الانبیاء“ فرمایا۔“
(تتمہ حقیقت الوحی ص ٨٤، ٨٥، خزائن ج ٢٢ ص ٥٢١)
”جری اللّٰہ فی حلل الانبیاء“ کا سیدھا ترجمہ تو یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ تمام نبیوں کے جوڑوں میں چلا یعنی ظاہر ہوا۔ جس کا صاف مطلب یہ ہوتا ہے۔ (حسب منشائے مرزا) کہ اللہ تعالیٰ تمام نبیوں کے قائم مقام ہو کر بصورت مرزا ظاہر ہوا۔ العیاذ باللہ! لیکن مرزا قادیانی کا ترجمہ دیکھئے۔ خدا کا رسول نبیوں کے قائم مقام ہو کر نبیوں کے پیرائیوں میں۔ خدا جانے یہ ترجمہ کہاں سے آیا۔
- ٣...... ”اور ہر ایک نبی کا نام مجھے دیا گیا۔ چنانچہ جو ملک ہند میں کرشن نام ایک
نبی گزرا ہے (خدا جانے کرشن جی کی نبوت کی سند اس کو کہاں سے ملی؟) جس کو رودر گوپال بھی کہتے ہیں (یعنی فنا کرنے والا، پرورش کرنے والا) اس کا نام بھی مجھے دیا گیا ہے۔ پس جیسا کہ آریہ قوم کے لوگ کرشن کے ظہور کا ان دنوں میں انتظار کرتے ہیں وہ کرشن میں ہی ہوں۔“ (صرف ایک رادھا کی ضرورت ہے)
(تتمہ حقیقت الوحی ص ٨٥، خزائن ج ٢٢ ص ٥٢١)
نوٹ: دیکھئے یہاں حوالہ نمبر ٢ میں براہین احمدیہ کو خدا تعالیٰ کی کتاب بتاتا ہے۔ پھر (حقیقت الوحی ص ٤، خزائن ج ٢٢ ص ٦٢٤) میں لکھتا ہے۔ ”وان ھٰذہ الانباء مرقومۃ فی البراھین الاحمدیہ ومندرجۃ فی مواضعھا المتفرقۃ التی ھی من تصانیف
١٩
هذا العبد فی اللسان الھندیۃ ”یعنی مذکورہ بالا باتیں براہین احمدیہ جو اس بندہ کی تصنیفوں میں سے ہے۔ اردو زبان میں یہ سب متفرق طور پر اس میں لکھی گئی ہیں۔ کیا یہ بعینہ اس شعر کا مصداق نہیں۔
الا ایہا الساقی اور کاسا وناولہا
مارے گھٹنا پھوٹے آنکھ، تصنیف تو کرے خود، کتاب ہو خدا کی۔ وہ کیا خوب۔
- ٤...... ”کشفی طور پر ایک مرتبہ مجھے ایک شخص دکھایا گیا۔ گویا وہ سنسکرت کا ایک
عالم آدمی ہے جو کرشن کا نہایت درجہ معتقد ہے۔ وہ میرے سامنے کھڑا ہوا اور مجھے مخاطب کر کے بولا۔ ہے رودر گوپال تیری استت گیتا میں لکھی ہے۔“
(تحفہ گولڑویہ ص ١٣٥، خزائن ج ١٧ ص ٣١٦)
- ٥...... ”ایک بڑا تخت مربع شکل کا ہندوؤں کے درمیان بچھا ہوا ہے۔ جس پر
میں بیٹھا ہوا ہوں۔ ایک ہندو کسی کی طرف اشارہ کر کے کہتا ہے۔ کرشن جی کہاں ہے۔ جس سے سوال کیا گیا وہ میری طرف اشارہ کر کے کہتا ہے۔ یہ ہے۔ پھر تمام ہندو روپیہ وغیرہ نذر کے طور پر دینے لگے۔ اتنے میں ہجوم میں سے ایک ہندو بولا۔ ہے کرشن جی رودر گوپال۔“
(تذکرہ ص ٣٨١، طبع ٣)
”برہمن اوتار سے مقابلہ اچھا نہیں۔“
(حقیقت الوحی ص ٩٧، خزائن ج ٢٢ ص ١٠١)
نوٹ
- ١...... حوالہ جات بالا سے قارئین کرام پر واضح ہوا ہو گا کہ ان پر الہام کرنے والا
کون ہے۔ جو کبھی بصورت انگریز بولتا ہو اور کبھی بصورت ہندو۔ کیا حق تعالیٰ کی طرف ان واہیات کی بھی نسبت ہو سکتی ہے؟
- ٢...... مسیح موعود کے معنی وہ مسیح جس کا وعدہ دیا گیا ہے۔ اب حیرت ہوتی ہے کہ
وعدہ تو تھا صرف مسیح کا۔ یہاں یہ ہو گیا ساری دنیا کے سارے پیغمبر۔ پھر بھی وہ مسیح موعود ہی رہا۔ نہ آدم ہونے نہ نوح وغیرہ ذالک۔ خدا جانے یہ ترجیح بلامرجح کیسی؟
- ٣...... وعدہ تو صرف اس کا جو مسیح ہو۔ یہ تو صرف مسیح نہیں بلکہ آدم سے لے کر
ہندوؤں کے بھی اوتار ہوا۔ تو مسیح موعود یقیناً یہ نہیں ہو سکتا۔ دوسرا کوئی اور ہے۔
- ٤...... جب تمام انبیاء علیہم السلام کے نام ان کو دیئے گئے تو جس طرح اور نبی
بننے کے دعویٰ میں کسی تکلف کی ضرورت نہ ہوئی۔ پھر خدا جانے مسیح موعود بننے کے لئے کیوں اتنی
٢٠
زحمت گوارا کی گئی۔ (ذرا ملاحظہ فرمائیے زحمت نمبر ١)
"پھر جیسا براہین احمدیہ سے ظاہر ہے۔ دو برس تک صفت مریمیت میں میں نے پرورش پائی اور پردہ میں نشوونما پاتا رہا۔ پھر ......مریم علیہا السلام کی طرح عیسیٰ کی روح مجھ میں پھونکی گئی اور استعارہ کے رنگ میں مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا۔ آخر کئی مہینے کے بعد جو دس مہینے سے زیادہ نہیں بذریعہ اس الہام کے جو سب سے آخر براہین احمدیہ کے حصہ چہارم میں درج ہے۔ مجھے مریم سے عیسیٰ بنایا گیا۔ پس اس طور سے میں ابن مریم ٹھہرا۔"
(کشتی نوح ص ٤٧، خزائن ج ١٩ ص ٥٠)
- ٢...... "ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ اس وقت ظہور مسیح موعود کا وقت ہے۔ کسی نے بجز
اس عاجز کے دعویٰ نہیں کیا کہ میں مسیح ہوں۔" (یعنی لہٰذا مسیح موعود میں ہی ہوں)
(ازالہ اوہام ص ٦٨٣، خزائن ج ٣ ص ٤٦٨، ٤٦٩)
- ٣...... "ہم اپنے کتابوں میں بہت جگہ بیان کر چکے ہیں کہ یہ عاجز جو حضرت
عیسیٰ بن مریم کے رنگ میں بھیجا گیا ہے۔ بہت سے امور میں ......حضرت عیسیٰ علیہ السلام یہاں تک کہ جب عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش میں ایک قدرت تھی۔ اس عاجز کی پیدائش میں بھی ایک قدرت ہے اور وہ یہ ہے کہ میرے ساتھ ایک لڑکی تھی اور یہ امر انسانی پیدائش میں نادرات سے ہے۔ کیونکہ اکثر ایک ہی بچہ پیدا ہوا کرتا ہے۔"
(تحفہ گولڑویہ ص ٦٨، خزائن ج ١٧ ص ٢٠٢)
- ٤...... "مگر چونکہ خدا نے ابتداء نرمی سے کی اور اپنی بردباری کو پوری طور پر
دکھلا دیا۔ اس لئے میرا نام ابن مریم رکھا گیا۔ کیونکہ ابن مریم اپنی قوم سے کوفتہ خاطر رہا۔ اس کو بہت دکھ دیا گیا اور ستایا گیا اور عدالتوں کی طرف اس کو کھینچا گیا۔"
(تتمہ حقیقت الوحی ص ٨٢، خزائن ج ٢٢ ص ٥٢٠)
نوٹ: واہ کیسے مضبوط دلائل سے اپنی مسیحیت ثابت کر چکا۔ کیا ایسی بے سروپا بات بھی کوئی صحیح العقل انسان کے منہ سے نکل سکتی ہے؟ ذرا سوچئے۔
مرزا قادیانی کی اور کچھ لغو و بے سروپا باتیں اور الہامات
- ١...... "حضرت مسیح موعود نے ایک موقع پر اپنی حالت یہ ظاہر فرمائی ہے کہ
کشف کی حالت آپ پر اس طرح طاری ہوئی کہ گویا آپ عورت ہیں اور اللہ تعالیٰ نے رجولیت کی قوت کا اظہار فرمایا۔"
(ٹریکٹ نمبر ٣٤ اسلامی قربانی مصنفہ قاضی یار محمد قادیانی مطبوعہ ریاض الہند پریس امرتسر ص ١٢)
- ٢...... الہام: "اور ایک بڑا نشان آسمان سے ظاہر ہوگا۔ اس نشان سے اصلی
٢١
غرض یہ ہے کہ تا کہ لوگوں کو معلوم ہو جائے کہ قرآن کریم خدا کا کلام اور میرے منہ کی باتیں ہیں۔ یعنی وہ کلام میرے منہ سے نکلا ہے۔“
(تریاق القلوب ص ٦١، خزائن ج ١٥ ص ٢٦٧)
٢....... ”رب الافواج اس طرف توجہ کرے گا۔ اس نشان کا مدعا یہ ہے کہ قرآن شریف خدا کی کتاب اور میرے منہ کی باتیں ہیں۔“
(حقیقت الوحی ص ٨٤ ،خزائن ج ٢٢ ص ٨٧)
٣....... ”اشتہار دہم جولائی ١٨٨٧ء کی پیش گوئی کا انتظار کریں۔ جس کے ساتھ یہ بھی الہام ہے اور مجھ سے پوچھتے ہیں کیا یہ بات سچ ہے؟ کہ ہاں مجھے اپنے رب کی قسم ہے کہ یہ سچ ہے اور تم اس بات کو وقوع میں آنے سے روک نہیں سکتے۔ ہم نے خود اس سے تیرا عقد باندھ دیا ہے۔ میری باتوں کو کوئی بدلا نہیں سکتا اور نشان دیکھ کر منہ پھیر لیں گے اور کہیں گے کہ یہ کوئی پکا فریب ہے۔ یا پکا جادو ہے۔ ٢٨۔ ٢٧۔١٤۔٢۔٢٧۔٢۔٢٦۔٢۔٢٨۔١۔٢٣۔١٥۔١١۔١۔٢۔٢٧۔ ١٤۔١٠۔١۔٢١۔٢١۔٤٧۔١٦۔١١۔٣٤۔١٤۔١١۔٧١۔١۔٥۔٣٤۔٢٣۔٣٤۔١١۔١٤۔٧۔٢٣۔ ١٤۔١۔١۔١٤۔٥۔٢٨۔٧۔٣٤۔١۔٧۔٣٤۔١١۔١٦۔١۔١٤۔٧۔١۔١۔٧۔٥۔١٤۔١٤۔٢۔ ٢٨۔١۔٧۔ والسلام علیٰ من فہم اسرارنا واتبع الہدیٰ الناصح المشفق ۔“
(خاکسار غلام احمد۔ مورخہ ٢٧؍ دسمبر ١٨٩١ء، مجموعہ اشتہارات ج١ ص ٣٠١)
٤....... ”اور یاجوج ماجوج کی نسبت تو فیصلہ ہوچکا ہے جو یہ دنیا کی دو بلند اقبال قومیں ہیں۔ جن میں سے ایک انگریز اور دوسرے روس۔“
(ازالۃ اوہام حصہ دوم ص ٥٠٢،خزائن ج٣ ص ٣٦٩)
یہاں تو انگریز کو یاجوج ماجوج قرار دیا۔ پھر کہتا ہے۔ چونکہ ان دونوں قوموں سے (یاجوج ماجوج سے) مراد انگریز اور روس ہیں۔ اس لئے ”ہر ایک سعادت مند مسلمان کو دعا کرنی چاہئے کہ اس وقت انگریزوں کی فتح ہو۔ کیونکہ یہ لوگ ہمارے محسن ہیں اور سلطنت برطانیہ کے ہمارے سر پر بہت احسان ہیں۔ سخت جاہل اور سخت نادان اور سخت نالائق وہ مسلمان ہے جو اس گورنمنٹ سے کینہ رکھے۔“
(ازالۃ اوہام حصہ دوم ص ٥٠٨، ٥٠٩، خزائن ج ٣ ص ٣٧٣)
صرف اتنا نہیں بلکہ اور کہتا ہے۔ ”سو میرا مذہب جس کو میں بار بار ظاہر کرتا ہوں۔ یہ ہے کہ اسلام کے دو حصے ہیں۔ ایک یہ کہ خدا تعالیٰ کی اطاعت کریں۔ دوسرے اس سلطنت کی کہ جس نے امن قائم کیا ہو۔ جس نے ظالموں کے ہاتھ سے اپنے سایہ میں ہمیں پناہ دی ہو۔ سو وہ سلطنت حکومت برطانیہ ہے۔“
(شہادۃ القرآن ص ٨٤، خزائن ج ٦ ص ٣٨٠)
اور کہتا ہے۔ ”میں سچ سچ کہتا ہوں کہ جو کچھ ہم پوری آزادی سے اس گورنمنٹ کے
٢٢
تحت میں اشاعت حق کر سکتے ہیں۔ یہ خدمت ہم مکہ معظمہ یا مدینہ منورہ بیٹھ کر بھی ہرگز بجا نہیں لا سکتے۔“
(ازالۃ اوہام ص ٥٥، خزائن ج ٣ ص ١٣٠)
(ہرگز نہیں کیونکہ دجال کے لئے مکہ معظمہ و مدینہ منورہ کا داخلہ ممنوع ہے۔ حدیث)
پھر وہ لوگ تو آپ کو کافر جانتے ہیں۔ تو بیٹھنا تو درکنار داخلہ کی اجازت بھی تو نہیں مل سکتی۔ جیسا کہ اب نہیں مل رہی۔ اسی لئے تو اپنے قادیان کو مکہ، مدینہ بنا کر اسی میں ساری عمر گزار دی۔ کبھی مکہ، مدینہ کا قصد بھی نہ کیا۔ کیونکہ آپ کو معلوم تھا کہ وہاں پہنچنے سے آپ پر کیا حشر برپا ہوگا۔
”یہی چیزیں ہیں جن سے بہت لوگوں نے اس کو انگریزوں کے خود ساختہ نبی بتایا ہے تاکہ مسلمانوں میں تفرقہ پیدا ہو کر انگریزوں سے مقابلہ کی قوت نہ رہے۔“
- ٥....... ”لہٰذا احادیث صحیحہ کا اشارہ اسی بات کی طرف ہے کہ وہ گدھا دجال کا اپنا
ہی بنایا ہوا ہوگا۔ پھر اگر وہ ریل نہیں تو اور کیا ہے۔“
(ازالۃ اوہام ص ٦٨٥، خزائن ج ٣ ص ٤٧٠)
نوٹ: اس کے جواب میں کسی نے کیا خوب کہا کہ:
بایں شان شوکت کرایہ دیکے چڑھتا ہے
یعنی یہ کیسا دجال کا گدھا ہے؟ کہ عیسیٰ ثانی (مرزا غلام احمد قادیانی) اپنی اتنی شان وشوکت کے باوجود کرایہ دے کر اس پر سوار ہوتا ہے۔ یعنی گدھا ہو دجال کا۔ اس پر سوار ہو مسیح ثانی۔
مرزا قادیانی کے الہامات کی زبان
پہلے ہم بطور تمہید مرزا قادیانی کا ایک مضمون ذکر کرتے ہیں۔ چنانچہ وہ خود کہتا ہے۔
”اور یہ بات بالکل غیر معقول اور بیہودہ امر ہے کہ انسان کی اصل زبان تو کوئی ہو اور الہام اس کو اور زبان میں ہو۔ جس کو وہ سمجھ نہیں سکتا۔ کیونکہ اس میں تکلیف مالا یطاق ہے۔“
(چشمہ معرفت ص ٢٠٩، خزائن ج ٢٣ ص ٢١٨)
یہ بالکل سچ ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ ”وما ارسلنا من رسول الا بلسان قومہ لیبین لہم (سورۃ ابراہیم)“ اور ہم نے تمام پیغمبروں کو انہی کی قوم کی زبان میں پیغمبر بنا کے بھیجا ہے تاکہ ان سے بیان کرے۔ تاکہ احکام الٰہیہ کے سمجھنے سمجھانے میں پوری سہولت رہے۔ چونکہ رسولوں کے لئے اولین مخاطب اپنی قوم ہوتی ہے۔ اس لئے کہ دوسرے لوگوں اور رسولوں کے درمیان ان کی قوم ہی واسطہ بنتی ہیں۔ اس لئے ان کو اپنا دین سمجھانا زیادہ
٢٣
مہتم بالشان ہے اور اپنی قومی زبان کے سوا یہ بات پوری سہولت کے ساتھ دوسری زبان میں ممکن نہیں۔ لہٰذا وحی کے لئے یہ زبان اختیار کی گئی۔
اس بات کو ذہن نشین کرنے کے بعد اب ملاحظہ فرمائیے۔ اس کے الہامات کس زبان میں ہیں اور کیسے ہیں۔ چنانچہ وہ کہتا ہے۔ ”زیادہ تر تعجب کی بات یہ ہے کہ بعض الہامات مجھے ان زبانوں میں بھی ہوتے ہیں۔ جن سے مجھے کچھ بھی واقفیت نہیں۔ جیسے انگریزی یا سنسکرت یا عبرانی وغیرہ۔“
(نزول المسیح ص ٥٧، خزائن ج ١٨ ص ٤٣٥)
مخدومی اخویم میر عباس علی شاہ صاحب سلمہ،
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
بعد ہٰذا چونکہ اس ہفتہ میں بعض کلمات انگریزی وغیرہ الہام ہوئے ہیں اور اگرچہ بعض ان میں سے ایک ہندو لڑکا سے دریافت کئے ہیں۔ (ایسے الہامات خداوندی پر داد دینی چاہئے جس کا مفسر ہندو لڑکا ہو۔ شاید اس کا ملہم خدا بھی ہندو تھا) مگر قابل اطمینان نہیں اور بعض من جانب اللہ بطور ترجمہ الہام ہوا تھا اور بعض کلمات شاید عبرانی زبان میں ہیں۔ ان سب کی تحقیق و تنقیح ضرور ہے۔ (کیوں ضرور نہ ہوتی۔ اگر تحقیق و تنقیح کے بعد انسانی تصحیح اس کے ساتھ نہ جوڑی جائے۔ پھر وہ الہام خداوندی ہی کیا ہوا۔ پھر جب مرزا قادیانی کی نبوت کا دروازہ ہی قیامت تک کے لئے کھلا ہوا ہے تو کیا تعجب ہے کہ اس میں ہر شخص داخل ہو اور الہام خداوندی کے ساتھ اپنا کلام جوڑ کر اگر معاذ اللہ وہ خدا نہ بن سکے تو کم از کم نبوت کا حصہ دار تو بنے، خدا جانے وہ کون الہام کرنے والا خدا تھا۔ جس نے اپنے نبی کی استعداد کو بھی نہ جانا۔ اپنا الہام بھیجتے حتیٰ کہ الہام کے الفاظ کی تصحیح کے لئے بھی پھر اس کو ہر کس و ناکس کی امداد کا محتاج بنا دیا۔ ایسے سے خدا کی پناہ حالانکہ ہمارے پیغمبر ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ ”لا تحرک بہ لسانک لتعجل بہ ان علینا جمعہ وقرأنہ (سورہ قیامہ)“ یعنی قرآن مجید کی وحی کی یاد میں جلدی نہ کیجئے۔ کیونکہ اس کا جمع کرنا اور بیان و توضیح ہمارا ذمہ ہے) تا بعد تنقیح جیسا کہ مناسب ہو اخیر جزو میں جواب تک چھپی نہیں۔ درج کئے جائیں۔ آپ جہاں تک ممکن ہو بہت جلد دریافت کر کے صاف خط میں جو پڑھا جاوے اطلاع بخشیں اور وہ کلمات یہ ہیں۔ پرشن، عمر، پراطوس یا پلاطوس یعنی پڑطوس لفظ ہے یا پلاطوس لفظ ہے۔ بباعث سرعت الہام دریافت نہیں ہوا اور عمر عربی لفظ ہے۔ اس جگہ پراطوس اور پرشن کے معنی دریافت کرنے ہیں کہ کیا ہیں اور کس زبان کے یہ لفظ ہیں۔ (کیا خوب اچھا خاصہ معجزہ ہاتھ آ گیا کہ خود نبی بھی جس کی دریافت کرنے سے عاجز ہے) پھر دو لفظ اور ہیں۔ ھوفعنا
٢٤
خدا معلوم نہیں کس زبان کے ہیں اور انگریزی یہ ہیں۔ اول عربی فقرہ ہے۔ یا دؤد عامل بالناس رفقاً واحساناً۔ یو مسٹ ڈو وہاٹ آئی ٹولڈ یو۔ تم کو وہ کرنا چاہئے جو میں نے فرمایا ہے۔ یہ اردو عبارت بھی الہامی ہے۔ پھر بعد اس کے ایک اور انگریزی الہام ہے اور ترجمہ اس کا الہامی نہیں بلکہ ایک ہندو لڑکے نے بتلایا ہے۔ فقرات کی تاخیر و تقدیم کی صحت بھی معلوم نہیں اور بعض الہامات میں فقرات کا تقدم و تاخر بھی ہو جاتا ہے۔ (یہ مرزا قادیانی کے الہام کی خصوصیت ہے۔ وجہ ظاہر ہے) اس کو غور سے دیکھ لینا چاہئے اور وہ الہام یہ ہیں۔ ”دو آل من شد بی اینگری۔ بٹ گاڈ از ود یو۔ ہی شل ہلپ یو وارڈز آف گاڈ ناٹ کین ایکس چینج“ ترجمہ: اگر تمام آدمی ناراض ہوں گے۔ لیکن خدا تمہارے ساتھ ہوگا۔ وہ تمہاری مدد کرے گا۔ اللہ کے کام بدل نہیں سکتے۔ پھر اس کے بعد ایک دو اور الہام انگریزی ہیں۔ جن میں سے کچھ تو معلوم ہیں اور وہ یہ ہے۔ ”آئی شل ہلپ یو۔“ مگر بعد اس کے یہ ہے۔ ”یو ہیو گوٹو امرتسر“ پھر ایک فقرہ ہے جس کے معنی معلوم نہیں اور وہ یہ ہے۔ ”ہی ہلٹس ان دی ضلع پشاور“ یہ فقرات ہیں ان کو تنقیح سے لکھیں اور براہ مہربانی جلد تر جواب بھیج دیں۔ تا کہ اگر ممکن ہو تو اخیر جزء میں بعض فقرات بہ موقع مناسب درج ہو سکیں۔“
(مکتوبات احمدیہ ج١ ص ٦٨)
اور ایک مرکب الہام بھی ملاحظہ ہو۔ ”دس دن بعد میں موج دکھاتا ہوں۔“ (اردو) ”ان نصر اللہ قریب فی شاکل مقیاس“ (عربی) ”ون ول یو گوٹو امرتسر“ (انگریزی) یعنی دس دن کے بعد ضرور روپیہ آئے گا۔ پہلے اس سے کچھ نہیں آئے گا۔ خدا کی مدد نزدیک ہے اور جیسے جب جننے کے لئے اونٹنی دم اٹھاتی ہے تب اس کا بچہ جننا نزدیک ہوتا ہے۔ ایسا ہی مدد الٰہی قریب ہے اور پھر انگریزی فقرہ میں یہ فرمایا کہ دس دن کے بعد جب روپیہ آئے گا تب تم امرتسر جاؤ گے۔
(حقیقت الوحی ص ٢٨٠، خزائن ج ٢٢ ص ٢٩٢)
پتہ نہیں یہ ترجمہ بھی الہامی ہے کہ نہیں۔ اور ایک مرکب الہام ”رب کل شی خادمک ربی فاحفظنی وانصرنی وارحمنی (عربی) خدا قائل تو باد۔ مرا از شر تو محفوظ دارد (فارسی) زلزلہ آیا۔ (اردو)“
(حقیقت الوحی ص ٩٨، خزائن ج ٢٢ ص ١٠١)
اور ایک مرکب الہام ”دست تو دعائے تو ترحم ز خدا (فارسی) زلزلہ کا دھکا (اردو) عفت الدیار محلھا ومقامھا (عربی)“
(حقیقت الوحی ص ٩٩، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٢)
پھر اپنے الہامات کے متعلق اپنا عقیدہ اس طرح بیان کرتا ہے۔ ”مگر میں خدا تعالیٰ کی
٢٥
قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں ان الہامات پر اسی طرح ایمان لاتا ہوں۔ جیسا کہ قرآن شریف پر اور خدا کی دوسری کتابوں پر۔"
(حقیقت الوحی ص٢١١، خزائن ج٢٢ ص٢٢٠)
نوٹ: یہاں پر ہم قارئین کرام کی توجہ پھر مرزا قادیانی کی ان باتوں کی طرف منعطف کراتے ہیں جو عنوان الہام ربانی والہام شیطانی میں فرق کے ماتحت ذکر کی گئیں۔
بعض مدعی نبوت کے متعلق خود مرزا قادیانی کا فیصلہ
مرزا غلام احمد قادیانی کے ایک حوصلہ مند مرید ”چراغ دین“ نامی نے بھی مرزا قادیانی کے ماتحت رسالت کا دعویٰ کیا تو مرزا قادیانی کو بہت ناگوار گزرا اور صاحب موصوف سے ارشاد فرمایا کہ۔ ”نفس امارہ کی غلطی نے اس کو (یعنی چراغ دین کو) خودستائی پر آمادہ کیا۔ پس آج کی تاریخ سے وہ ہماری جماعت سے منقطع ہے۔ جب تک کہ مفصل طور پر اپنا توبہ نامہ شائع نہ کرے اور اس ناپاک رسالت کے دعویٰ سے ہمیشہ کے لئے مستعفی نہ ہو جائے۔“
(دافع البلاء ص٢٢، خزائن ج١٨ ص٢٤٢)
(پھر کہتا ہے) ”ایسے خیالات خشک مجاہدات کا نتیجہ یا تمنا و آرزو کے وقت القاء شیطان ہوتا ہے۔ ..... اور چونکہ ان کے نیچے کوئی روحانیت نہیں ہوتی۔ اس لئے الٰہی اصطلاح میں ایسے خیالات کا نام ”جمینز“ ہے۔ (شاید یہ کوئی انگریزی لفظ ہے۔ محمد اسحاق غفرلہ) اور علاج توبہ و استغفار اور ایسے خیالات سے اعراض کلی ہے۔ ورنہ جمینز کی (شاید وسوسہ کے معنی میں ہوگا) کثرت سے دیوانگی کا اندیشہ ہے۔ خدا ہر ایک کو اس بلا سے محفوظ رکھے۔“
(دافع البلاء حاشیہ ضمیمہ ص٢٣، خزائن ج١٨ ص٢٤٣)
نوٹ: کاش مرزا قادیانی اپنے حق میں یہ بات سمجھتے اور یہ دعا کرتے تو ہم کو ان خرافات کی تردید کی ضرورت پیش نہ آتی۔ اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو اس فتنہ اور ایسے فتنے باز سے محفوظ رکھے۔ آمین یا رب العالمین!
اب ہم یہاں پر اس تحریر کو ختم کرتے ہیں اور فیصلہ قارئین کرام پر چھوڑتے ہیں۔ اگر ضرورت محسوس ہوئی تو اس سلسلہ کو نمبر وار جاری رکھنے کا ارادہ ہے۔ واللہ الموفق!
”ربنا تقبل منا انك انت السميع العليم وتب علينا انك انت التواب الرحيم وصلى الله على خير خلقه سيدنا ونبينا وشفيعنا ومولنا محمد واله واصحابه اجمعين وآخر دعوانا ان الحمدللہ رب العلمین“
احقر محمد اسحاق غفرلہ مورخہ ٢/ جولائی ١٩٨٦ء ، روز شنبہ
٢٦
خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں
قادیانی فتنہ
حضرت مولانا عتیق الرحمٰن چنیوٹیؒ
بسم اللہ الرحمن الرحیم!
مقدمہ
"الحمد للہ وحدہ والصلوۃ والسلام علیٰ من لا نبی بعدہ"
برادران ملت: اسلامیان پاکستان یہ حقیقت کبریٰ جزو ایمان بنالیں کہ عظمتِ اسلام اور سطوتِ خداداد پاکستان کا تحفظ و دوام، بقاء واستحکام، لاریب وحدت و مرکزیت اور اتحاد و جمعیت پر ہی مبنی و موقوف ہے۔ پس جو فرقہ اس ملی بنیان مرصوص کے خلاف شگاف انداز قدم اٹھائے گا۔ یقیناً وہ غدارِ ملک وملت اور باغیِ اسلام ہے۔ خواہ مغربی امپریل ازم یعنی برطانوی سامراج کی معنوی اولاد اور خود کاشتۂ نبوت ہی کیوں نہ ہو۔ بقولِ نباضِ مشرق، نقاشِ پاکستان ؎
وحدت ہو فنا جس سے وہ الہام بھی الحاد
چنانچہ یہ حقیقت ہے کہ انگریز ملعون نے اسلام مقدس سے صلیبی جنگوں کا انتقام لینے کے لئے علاوہ دیگر اسلام کش حربوں کے اپنی ان مخصوص اغراض و مصالح کی بناء پر سرزمین پنجاب سے نبوتِ باطلہ کو بھی کھڑا کیا۔ تاکہ اس انشقاق و تفریق سے ملتِ اسلامیہ کی اساس و بنیاد اور نظم و اتحاد پاش پاش ہو کر رہ جائے۔ بقولِ ترجمانِ حقیقت ؎
اسلام کا مقصود فقط ملتِ آدم
تاریخِ اسلام کی ارتداد سوز روشنی میں یقینِ کامل تھا کہ قیامِ پاکستان کے بعد برطانیہ کا یہ مبعوث کردہ قادیانی فتنہ ختم ہو جائے گا۔ لیکن کس قدر دلخراش ہے یہ حقیقت، کہ آج جب مسلمانانِ پاکستان ملکی مشکلات میں گھرے ہوئے ہیں اور ان کی تمام تر توجہات کا مرکز دفاعِ - پاکستان کی جانب منعطف ہے۔ قادیانی امت نہایت شاطرانہ طریق پر اپنی مخصوص تخریبی سرگرمیوں میں مصروف ہے اور امتِ محمدیہ کو نبوتِ حقہ سے منحرف بنا کر نبوتِ باطلہ کی طرف دعوت دے رہی ہے۔ دراصل قادیانی مرتد غلط فہمی اور فریبِ نفس میں مبتلا ہیں۔ چونکہ ہماری چشم پوشی یا خموشی محض نزاکتِ حالات کے ماتحت تھی۔ ورنہ قادیانی امت کی اس طائفہ بندی، خلافت سازی اور منصوبہ بازی کے پردہ میں جو تخریبِ وطن، اسلام کش اور باغیانہ مکائد کارفرما ہیں۔ ہم ان سے خیرہ چشم نہیں۔
٢
حضرات! یہ کوئی افسانہ سرائی نہیں۔ بلکہ آئینہ حقیقت ہے کہ قادیانی تحریک سولہ آنے پر خطر سیاسی اور پولیٹکل تحریک ہے۔ اجرائے نبوت، وفات مسیح ، صداقت مرزا وغیرہ پر اہل اسلام سے چھیڑ چھاڑ اور مناظرہ بازی محض ایک ڈھونگ اور قادیانی امت کی دجالیت ہے۔ مقصود دراصل دجاجلہ سابقہ کی طرح لباس مذہب میں سیاسی تفوق اور ریاست سازی کی ہوس جوش زن ہے اور یہ الحاد آمیز مسائل محض اس لئے گھڑے گئے تا کہ اہل اسلام حصول مقصد تک ان دجل نما مسائل میں الجھے رہیں۔ بقول شخصے؎
کچھ تو لگے گی دیر سوال و جواب میں
ارباب حکومت بگوش ہوش سن لیں کہ قادیانی امت کے ان باغیانہ عزائم کی وجہ سے ملت اسلامیہ کے قلوب میں غیر معمولی تشویش و اضطراب ہے۔ لہٰذا حکومت اسلامیہ پاکستان کا ملکی و ملی فرض ہے کہ وہ اس ارتدادی فتنہ کو قیامت بننے سے پیشتر ہی قوت حاکمہ کے ذریعہ ختم کر دے۔ ورنہ مسامحت اور چشم پوشی کی صورت میں اس کے اثرات و نتائج ملک و ملت کے لئے یقیناً خطرناک ثابت ہوں گے۔
چوں پر شد نشاید گزشتن بہ پیل
آہ! کس قدر تعجب انگیز اور صداقت سوز ہے یہ الم نما حادثہ، کہ آج سلطنت اسلامیہ میں باغیان ختم نبوت اور غداران ملک و ملت بڑے بڑے جلیل و ممتاز کلیدی عہدہ جات پر نہ صرف براجمان ہی ہیں۔ بلکہ سرکاری اثر و رعب کی آڑ میں نبوت باطلہ کی نشر و اشاعت اور تبلیغ ارتداد بھی ساتھ کر رہے ہیں۔ افسوس؎
حالانکہ ملت بیضا کی تاریخ مقدس اس امر پر شاہد ہے کہ کسی مملکت اسلامیہ میں کوئی مدعی کذاب اپنی نبوت کاذبہ کو فروغ نہیں دے سکا۔ مگر آج؎
عنقا بہ روزگار کسے نامہ بر نہ بود
٣
خداوندان حکومت یہ امر واقع ہے کہ قادیانی امت کی روز روشن میں ایمان ربا واسلام کش تخریبی سرگرمیاں اور آقائے دوجہاں ﷺ کی نبوت صادقہ کے مقابلہ میں نبوت باطلہ کی شورش و یورش دیکھ کر ملت اسلامیہ کا پیمانہ صبر اور ساغر ضبط ایک مواج سمندر کی طرح چھلک رہا ہے اور ملت نہایت بے تابی سے اپنی اسلامی حکومت کی طرف دیکھ رہی ہے۔ چونکہ مسلمان خاتم الانبیاء کی نبوت ورسالت کی توہین و تنقیص سر مو بھی برداشت نہیں کر سکتا۔ مسلمان کا یہ ایمان ہے۔
خدا شاہد ہے کامل میرا ایمان ہو نہیں سکتا
لیکن آئین وقانون کی باطل پروری اور ارتداد نوازی ملاحظہ ہو کہ ملت اسلامیہ جب محض ختم نبوت اور ناموس رسالت کے تحفظ کی خاطر جذبۂ عقیدت کے ماتحت قادیانی مرتدین کے جارحانہ اقدام کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتی ہے۔ یا ان باغیان نبوت کی ریشہ دوانیوں کی روک تھام کے لئے کوئی مدافعانہ قدم اٹھاتی ہے تو عذرات لنگ کی آڑ لے کر ملت پر ستم آفرین اور سنگین سختیاں روا رکھی جاتی ہیں اور نبوت باطلہ جو دراصل فتنہ و فساد اور غدر و بغاوت کا منبع و سرچشمہ ہے۔ اس کی صحیفہ آسمانی کی طرح پاسبانی و حفاظت کی جاتی ہے۔ اس کو کہتے ہیں۔ خونِ انصاف؎
ان کی نگاہ شوخ پر کچھ بھی سزا نہیں
اے ارباب اقتدار! خداوند عالم آپ کو فراست صدیقیہ اور شجاعت حیدریہ عطا کرے تاکہ آپ قادیانی فتنہ کے نقوش باطلہ کو جلد تر مٹا سکیں۔ چونکہ جہاں آپ امور سلطنت کے ناظم ہیں۔ وہاں آپ کو ناظم دین ہونا بھی ضروری ہے۔ حصول پاکستان کا مقصد وحید لاریب، دین محمد اور ناموس احمد کا تحفظ تھا اور بخدا آج اسی تحفظ ہی میں قیادت عظمیٰ، جوہر لیاقت، حیات سرمدی اور نجات دائمی مضمر ہے۔ پس آپ کو آج شبیر و صدیق کے نقش قدم پر گامزن ہو کر رگ باطل کے لئے نشتر صداقت اور شہاب ثاقب ہونا چاہئے۔ بخدا اگر آپ دل و جان سے آقائے دوجہاں سرور کون و مکاں، خاتم الانبیاء محمد مصطفیٰ ﷺ کے وفادار غلام بن جائیں تو حکومت دنیا چیز ہی کیا ہے۔ غلام محمد سے تو قسام ازل کا یہ عہد و پیماں ہے۔
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
٤
اے غلامان محمد! یقین جانئے کہ یہ خطہ پاک منعم حقیقی کی جانب سے بطور انعام، بطفیل نام محمد ہی ملا ہے۔ اگر اس میں نام محمد اور باب ختم نبوت کا تحفظ نہیں تو انتقام قدرت کی قہر بار اور غضب آلود برق آسمانی سے یہ سب کھیل ختم، انجام کار، کفرانِ نعمت کی یہی سزا ہے...... ہائے...... وہ دیکھو! دم بریدہ سگانِ برطانیہ، روز روشن میں محبوب خدا، سردار دوسرا، مکین گنبد خضراء، صاحب شفاعتِ کبریٰ، خاتم الانبیاء علیہم السلام کی نبوتِ حقہ پر کس طرح حملہ کر رہے ہیں اور غلامان محمدؐ، توہین نبوت کا خاموشی سے تماشہ دیکھ رہے ہیں۔ سوال ہے؟ کہ ایسا کیوں؎
دعوائے نبوت ہو، خاموش حکومت کیوں
اے اراکین حکومت! آپ نور فراست اور چشم بصیرت سے تاریخ اسلامیہ کا مطالعہ فرمائیں۔ تا آپ کو معلوم ہو کہ مسیلمہ کذاب سے لے کر قادیانی دجال تک جس قدر بھی مختلف اوقات میں مختلف مقامات پر جھوٹی نبوت و رسالت، مسیحیت و مہدویت وغیرہ کے مدعیان، کذاب و دجال، ضال و مضل، فتان و مفسد اور زندیق و مرتد پیدا ہوئے ہیں۔ ان سے مسلمانان عالم کو کس قدر ملکی و ملی نقصان پہنچا ہے۔
دور نہ جائیے، فتنہ بہائیت کو ہی دیکھ لیجئے۔ جس نے آج سے قریباً ایک صدی قبل سرزمین ایران میں دعوائے رسالت، مسیحیت اور مہدویت کی آڑ میں خوفناک طریق پر ایک فتنہ عظیم برپا کیا تھا۔ جس کا بالآخر ایران کی اسلامی حکومت نے بزور شمشیر قلع قمع کیا اور باقی ماندہ اس فرقہ کے افراد بشکل روپوشی غیر ممالک میں بھاگ گئے۔
دراصل اختتام نبوتِ حقہ کے بعد اس قسم کی تمام نبوت خیز اور تقدس آمیز تحریکوں کا مقصد وحید اپنا سیاسی تفوق و عروج اور عالم اسلام کی قومی و ملی شان وحدت کا تنزل و خروج ہوتا ہے۔ اگر خدانخواستہ بروقت ان تحریکات باطلہ کا انسداد نہ کیا جائے تو بعد میں بغاوت نما اور قیامت آسا نتائج کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جیسا کہ مفکر اسلام علامہ اقبالؒ تاریخ اسلام کا ایک ورق پیش کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:
”جب ہم اس زمانے کی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہم کو یہ کم و بیش ایک سیاسی بے چینی کا زمانہ نظر آتا ہے۔ آٹھویں صدی کے نصف آخر میں اس سیاسی انقلاب کے باوجود جس نے سلطنت امیہ (١٤٩ھ) کو الٹ دیا تھا اور بھی واقعات ظہور پذیر ہوئے ہیں۔ جیسے زنادقہ،
٥
ایرانی ملحدین کی بغاوت وغیرہ۔ خراسان کا نقاب پوش پیغمبر۔ ان لوگوں نے عوام کی زود اعتقادی سے فائدہ اٹھا کر اپنے سیاسی منصوبوں کو مذہبی تصورات کے بھیس میں پیش کیا ١ ۔ (فلسفہ عجم ص ١٤٧) پس سابقہ سلاطین اسلام کی طرح تحفظ ختم نبوت اور بقائے پاکستان کے لئے قادیانی فتنہ کا بھی کلی استیصال کرنا اور مرکزی کابینہ اور حکومت کی مشیری سے ان غداران ازلی کا اخراج از بس لازمی اور ضروری ہے اور اپنی غفلت شعار حکومت کو ہمارا یہی آخری مخلصانہ مشورہ ہے۔ ورنہ بصورت چشم پوشی۔
اگر رنگ یاران محفل یہی ہے
پھر کس قدر مقام عبرت ہے کہ ہمارے اراکین حکومت کی قادیانی فتنہ سے غیر مدبرانہ چشم پوشی دیکھ کر امت مرزائیہ اور اس کے زرخرید و ضمیر فروش ایجنٹ عوام کو فریب دینے کے لئے منافقانہ نقاب میں طول طویل اتحاد نما مضامین و مقالات لکھ رہے ہیں کہ صاحب از روئے سیاست ٢ اس دور جمہوریت میں فراخدلی، اتحاد، اور رواداری کی سخت ضرورت ہے۔ لہٰذا فرقہ احمدیہ بھی اعضائے ملت کا آخر ایک عضو مخصوص ہے۔ "وغیر ذالك من النفاق" مراد یہ ہے کہ تبلیغ ارتداد کی مدافعت نہ کرو اور نبوت باطلہ پر ایمان لے آؤ۔ حالانکہ رواداری اسلام کا صحیح مفہوم صرف یہ ہے کہ حدود شرعیہ ملیہ کے اندر غیر مسلموں اور ذمی کافروں کے ساتھ رواداری رکھو اور ان کے جائز حقوق کی حفاظت و نگہداشت کرو۔ لیکن مرتدین اور مدعیان نبوت باطلہ کے متعلق
١ جس طرح آج قادیانی امت کر رہی ہے۔ یاد رہے کہ مقنع خراسانی نقاب پوش پیغمبر ایک بڑا عیار و چالباز شخص ہوا ہے۔ جس نے جھوٹی نبوت و امامت کا دعویٰ کر کے عظیم ملی اور وحدت اسلامی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا تھا۔ لیکن خلیفہ قادیانی
مقنع جس میں فرط عجز سے گردن جھکاتا ہے
٢ حالانکہ سیاست اور دین اسلام کوئی آپس میں متضاد و متغائر نہیں۔ حضرت علامہ فرماتے ہیں۔
جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی
٦
قانون اسلام میں مطلقاً کوئی رواداری اور رعایت نہیں ہے اور نہ ہی مسیلمہ کذاب سے لے کر بہاء اللہ ایرانی تک تاریخ اسلام میں ایسی خانہ ساز رواداری کی کوئی نظیر و مثال ملتی ہے۔
میں قادیانی امت یا منافقین ملت سے نہیں بلکہ مدبرین حکومت اور مخلصین مملکت سے ایک تلخ نوا لیکن مبنی برحقیقت سوال کرتا ہوں کہ کیا عدل و انصاف اور رواداری اسی چیز کا نام ہے کہ بغیر اثبات جرم قومی خدمت گاروں اور شمع آزادی و حریت کے پروانوں کو نہایت ظالمانہ طریق پر قید و بند میں محبوس رکھا جائے۔ غدارانِ ملک و ملت اور باغیانِ ختمِ نبوت کو آزاد چھوڑا جائے ۔ افسوس ؎
حق گوئی و بے باکی محبوس سلاسل ہو
قادیانی امت سے ارتداد سوز خطاب
ہر ایک چیز نرالی ہے تیرے ایماں کی
اے پرستارانِ نبوتِ باطلہ! کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ تقسیم ملک کی وجہ سے تمہاری پوزیشن از حد زوال پذیر و متزلزل ہوچکی تھی اور تم انقلاب تقسیم کے باعث سخت متذبذب و ہراساں تھے کہ اب جائے پناہ کہاں تلاش کریں۔ حتیٰ کہ اس وقت ابنِ کذاب مرزا محمود نے عالم اضطراب میں ایک بیان دیا۔ جو کہ تمہارے مذہبی ارتداد اور نفاق آمیز ذہنیت کا مکمل آئینہ دار ہے۔ ملاحظہ ہو:
’’دنیا میں ہر شخص کے لئے آزادی ہے۔ سوائے ہمارے ١؎ مسلمانوں کے لئے قبلہ ٢؎ ہے اور ہندوؤں کے لئے بھی تیرتھ ہیں۔ وہ چھوڑ کر جاسکتے ہیں یا اپنی کثرت تعداد اور قوت بازو سے ان کی حفاظت کرسکتے ہیں۔ مگر ہماری حالت یہ ہے کہ ہم اپنے مقدس مقامات کو نہ چھوڑ سکتے ہیں اور نہ ہی ان کی حفاظت کرسکتے ہیں۔‘‘
(بیان مرزا محمود قادیانی مندرجہ الفضل قادیان مورخہ ٩؍ اپریل ١٩٤٧ء)
١؎ مرتد کی آزادی فی الواقع مسلوب ہو جاتی ہے۔
٢؎ کیسا صاف اعتراف ہے کہ قبلہ اہل اسلام کا ہے۔ ہمارا نہیں۔
٧
چنانچہ کبھی تم نے باؤنڈری کمیشن کی بارگاہ میں اپنا میمورنڈم پیش کیا کہ قادیان ایک یونٹ بن چکا ہے۔ مقصد یہ کہ ہماری ایک یہ الگ ریاست ہونی چاہئے اور کبھی تم نے بھارتی منتری منڈل کی سیوا میں نویدن کیا۔ بلکہ مرزا محمود قادیانی نے اس آشا اور وشواش پر اپنا خاص راج دوت اور پرتی ندھی شریمان بھارت سری پنڈت نہرو کی سیوا میں دہلی بھیجا اور ان سے پرارتھنا کی کہ؎
کچھ تو سوچ اے مجھے محفل سے اٹھانے والے
الغرض کئی روپ دھارے کہ کسی کارن قادیان سے سمبندھ رہے۔ مگر اس سے سنگٹھن اور ایکتا کا کوئی پربندھ نہ ہوسکا۔ آخر جب وہاں باوجود تمام عہد و پیمان وفاداری پیش کرنے کے دجل و نفاق کا کوئی حربہ کامیاب نہ ہوا، تو نام نہاد فضل عمر یعنی خلیفہ المسیح اور اس کی تمام خانہ ساز امت مردود و مطرود ہو کر سرزمین پاک میں آکر پناہ گزیں ہوئی۔ مگر انتقام قدرت کی قہر نمائی ملاحظہ ہو کہ یہاں آکر قادیانی امت نے یہ مرثیہ خوانی شروع کردی؎
ہماری تھی دنیا ہمارا زمانہ
مگر اب یہ حالت ہوئی جارہی ہے
کہیں بھی نہیں ہے ہمارا ٹھکانہ
(الفضل ٢٢؍ مئی ١٩٤٨ء)
چنانچہ قادیانی امت نے پھر حصول قادیان کے پیش نظر، پاکستان کے خلاف ریشہ دوانیاں اور اکھنڈ بھارت کے متعلق الہامات گھڑنے کا سلسلہ شروع کر دیا۔ مگر جب اس امت مکار سے کہا گیا کہ؎
یا برہمن کی طرف ہو یا مسلماں کی طرف
چونکہ یہ مشکوک اور منافقانہ روش ٹھیک نہیں ہے۔ اطاعت کیشی اور وفاداری دو جگہ تقسیم نہیں ہوسکتی اور ویسے بھی دو کشتیوں کا سوار ساحل مراد تک پہنچ نہیں سکتا تو منافقین قادیان نے کہا کہ ہم کیا کریں۔ اگر ہمارا دائمی مرکز اور مقدس مقام بھارت میں ہے تو اس کا ظل موذی آباد ربوہ پاکستان میں۔ سچ ہے؎
٨
ویسے بھی قادیانی مرتدین کا دو عملی اور دوغلہ پالیسی پر عمل پیرا ہونا ان کا اعتقادی و مذہبی وطیرہ ہے اور فتنہ مرزائیت کی تاریخ تخلیق اسی نفاق آمیز خمیر پر ہی اٹھائی گئی ہے اور اب تو یہ ایسی پالیسی اختیار کرنے پر ویسے بھی مجبور ہیں۔ چونکہ ادھر خانہ ساز دارالامان قادیان، منارۃ المسیح، سعیر نما بہشتی مقبرہ اور ان کے مجدد الملاحدہ متنبئ کی استخوان بوسیدہ وغیرہ پر اہل ہنود کا تسلط و قبضہ ہے اور ادھر حکومت اسلامیہ میں بحالت ارتداد رہنا ان کا مشکل ہے۔ اس لئے قادیانی مرتد دو عملی پالیسی کے عذاب الیم میں سخت مبتلا ہیں اور زبان نفاق سے کہہ رہے ہیں۔
دو عملی میں ہمارا آشیاں ہے
قادیانی فتنہ اسلام کے لئے کوئی نیا فتنہ نہیں ہے۔ بلکہ حضورﷺ کی ختم المرسلینی پر ملحدانہ حملہ کرنے والے زمانہ میں اور بھی کئی کذاب ودجال پیدا ہوئے۔ جنہوں نے قادیانی فتنہ ہی کی طرح نبوت باطلہ کا ڈھونگ رچایا۔ مگر ان کا جو حشر و انجام ہوا وہ قادیانی امت سے غالباً پوشیدہ نہیں ہے۔ بقول جگر مراد آبادی ۔
ایسے دجال زمانے میں بہت آئے گئے
یہ حقیقت ہے کہ ملت اسلامیہ کی مجاہدانہ یلغار اور جدوجہد سے قادیانی امت کی منافقانہ روش، پردۂ وفاداری میں غداری و تخریب، اسلام کش اور باغیانہ عزائم کی پرخطر تحریک بہت حد تک طشت از بام اور بے نقاب ہوچکی اور ہوتی جارہی ہے۔ اس انکشاف حقیقت اور نقاب کشائی کو دیکھ کر قادیانی امت ایک شاطر وعیار اور فاحشہ ومکار عورت کی طرح اپنی رسوائے عالم اور واضح سیاہ کاریوں، بدکاریوں اور غداریوں کو اپنے مصنوعی تقدس و پارسائی کے لباس میں چھپانے کی ناکام کوشش کررہی ہے۔ مگر قادیانی مرتدین پر یہ حقیقت واضح رہے کہ مدبرین پاکستان اور ملت اسلامیہ کوئی محروم البصیرۃ اور کور چشم نہیں۔ تمہاری بغاوت وغداری کے تمام بیانات واعلانات، خیالات وتحریرات، اعمال وحرکات اور جملہ دفاتر منظر عام پر آکر محفوظ ہوچکے ہیں۔ اب تم ان کو کس طرح اور کس سے چھپا سکتے ہو۔
محفوظ ہیں تحریریں مرقوم ہیں تقریریں
٩
تعمیر کی آوازیں تخریب کی تدبیریں
دعا ہے کہ ہادی مطلق تمہیں ہدایت اسلام نصیب کرے یا ختم۔
مقدسین اسلام کی شان میں قادیانی امت کی گستاخیاں
تڑپے ہے مرغ قبلہ نما آشیانے میں
چونکہ اس مختصر سی کتاب میں قادیانی امت کی ملکی و سیاسی غداریوں اور تخریبی سرگرمیوں کو بے نقاب کرنا مقصود ہے۔ اس لئے فی الحال برسبیل اجمال بطور نمونہ صرف چند حوالہ جات پر ہی اکتفا کیا جاتا ہے۔ یادرہے کہ یہ عقائد باطلہ قادیانی امت کی مسلمہ کتب و تحریرات سے مکمل ثبوت کے ساتھ پیش کئے جارہے ہیں۔ غلط ثابت کرنے والے کو فی حوالہ یک صد روپیہ بطور انعام پیش کیا جائے گا۔
حضرات! جاہلوں کا ہمیشہ سے یہی اصول ہوتا ہے کہ وہ اپنی بزرگی کی پگڑی جمنا اس میں دیکھتے ہیں کہ بزرگوں کی خواہ مخواہ تحقیر کریں۔ مگر یاد رکھو کہ وہ شخص بڑا ہی خبیث وملعون اور بدذات ہے۔ جو خدا کے برگزیدہ و مقدس لوگوں کو گالیاں دیتا ہے۔ چنانچہ مرزا قادیانی اسی قماش واخلاق کا انسان تھا۔ جیسا کہ اس کے مندرجہ ذیل بیانات سے اظہر من الشمس ہے۔ ملاحظہ ہو:
توہین انبیاء علیہم السلام
- ١...... ”خدا نے اس بات کے ثابت کرنے کے لئے کہ میں اس کی طرف سے
ہوں۔ اس قدر نشان دکھلائے ہیں کہ اگر وہ ہزار نبی پر بھی تقسیم کئے جائیں تو ان کی بھی ان سے نبوت ثابت ہوسکتی ہے۔ لیکن پھر بھی جو لوگ انسانوں میں سے شیطان ہیں وہ نہیں مانتے۔“
(چشمہ معرفت ص ٣١٧، خزائن ج ٢٣ ص ٣٣٢)
نوٹ: مفہوم عبارت بالکل واضح ہے کہ میری نبوت سے ہزاروں نبی ہو سکتے ہیں اور میری نبوت کا منکر شیطان ہے۔ اب ملت اسلامیہ مع ارباب حکومت جواب دیں کہ آپ مرزا قادیانی کی نبوت باطلہ کے مصدق ہیں یا مکذب، بصورت مکذب کون ہو؟
- ١؎ ست بچن ص ٩، خزائن ج ١٠ ص ١٢٠۔
- ٢؎ البلاغ المبین مرزا قادیانی کا آخری لیکچر لاہور ص ١٩۔ (ملفوظات ج ١٠ ص ٤١٩)
١٠
میری وحی مثل قرآن ہے
٢....... ”جو وحی و نبوت کا جام ہر نبی کو ملا وہ جام مجھے بھی ملا ہے۔ بخدا میں اپنی وحی کو مثل قرآن منزہ اور کلام مجید سمجھتا ہوں۔ اگر چہ لاکھوں انبیاء ہوئے ہیں۔ لیکن میں عرفان میں کسی سے کم نہیں ہوں۔ جو یقین عیسیٰ کو انجیل پر۔ موسیٰ کو تورات پر۔ آنحضرتﷺ کو قرآن پر تھا۔ وہی یقین مجھے اپنی وحی پر ہے جو کوئی اس کو جھوٹ کہے وہ لعین ہے۔“
(نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)
ہمارا دعویٰ
٣....... ”ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم رسول اور نبی ہیں۔“
(اخبار بدر مورخہ ٥؍ مارچ ١٩٠٨ء، ملفوظات احمدیہ ج ١٠ ص ١٢٧)
تخت گاہ رسول
٤....... ”خدا تعالیٰ قادیان کو طاعون کی خوفناک تباہی سے محفوظ رکھے گا۔ کیونکہ یہ اس کے رسول کا تخت گاہ ہے اور یہ تمام امتوں کے لئے نشان ہے۔“
(دافع البلاء ص ١٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٠)
سچا خدا
٥....... ”سچا خدا وہی خدا ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔“
(دافع البلاء ص ١١، خزائن ج ١٨ ص ٢٣١)
نوٹ: اب دیکھو کہ ان مندرجہ بالا حوالہ جات خمسہ میں کس طرح مرزا قادیانی نے توہین انبیاء، وحی شیطان کو مثل قرآن، دعویٰ نبوت و رسالت پر دجل آمیز تحدی، سرزمین الحاد خیز قادیان کو تخت گاہ رسول قرار دیا ہے۔ پھر خدا کے سچا ہونے کا معیار بھی کیا خوب پیش کیا ہے۔ سچ ہے۔
اشرار و اباطیل نے عجب جال بنے ہیں
جد انبیاء حضرت ابراہیم علیہ السلام کی توہین
میں ابراہیم ہوں۔ اب میری پیروی ہی میں نجات ہے۔
١١
...... ٦ ”خدا نے میرا نام ابراہیم رکھا ہے۔ جیسا کہ فرمایا: ”سلام على ابراهيم صافيناه ونجيناه من الغم واتخذوا من مقام ابراهيم مصلى“، یعنی سلام ہے ابراہیم پر یعنی اس عاجز پر۔ ہم نے اس سے خالص دوستی کی اور ہر ایک غم سے اس کو نجات دے دی اور تم جو پیروی کرتے ہو تم اپنی نماز گاہ ابراہیم کے قدموں کی جگہ بناؤ۔ یعنی کامل پیروی کرو۔ تا نجات پاؤ۔ یہ قرآن مجید کی آیت ہے اور اس مقام میں اس کے یہ معنی ہیں کہ یہ ابراہیم جو بھیجا گیا تم اپنی عبادتوں اور عقیدوں کو اس طرز پر بجا لاؤ اور ہر ایک امر میں اس نمونہ پر اپنے تئیں بناؤ۔ یہ آیت اس طرف اشارہ کرتی ہے کہ جب امت محمدیہ میں بہت فرقے ہو جائیں گے تب آخر زمانہ میں ایک ابراہیم پیدا ہوگا ٢؎ اور ان سب فرقوں میں وہ فرقہ نجات پائے گا کہ اس ابراہیم کا پیرو ہوگا۔“
(اربعین نمبر ٣ ص ٩، خزائن ج ١٧ ص ٣٥٥)
نوٹ: یاد رہے کہ یہ چند آیات جو قرآن مجید کے مختلف مقامات پر واقع ہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی شان حنیف میں نازل ہوئی ہیں۔ مگر قادیانی محرّف کی گستاخانہ جسارت دیکھئے جو یہودیانہ سنت کے ماتحت لفظی ، معنوی تحریف کرتے ہوئے کہتا ہے کہ ان آیات کا نزول مجھ پر ہوا ہے اور میں ابراہیم ہوں۔ افسوس کہ تمام عمر تو نمرودانِ برطانیہ کی مدح سرائی ، اطاعت شعاری ، کاسہ لیسی اور کفش برداری میں تمام ہوئی اور اس پر طرّہ یہ کہ میں ابراہیم ہوں۔ اب وہی فرقہ نجات پائے گا جو میرا پیرو ہوگا۔ ١؎
پھر بھی دعویٰ ہے کہ اصلاح دو عالم ہم سے ہے
نباض فطرت، ترجمان حقیقت علامہ علیہ الرحمۃ نے لاریب اسی قسم کے صداقت پوش و ایمان فروش خنّاس کی ترجمانی کرتے ہوئے بطورِ حکایت یہ فرمایا تھا ۔
ترا ایں نکتہ باید حرز جاں کرد
- ١؎ یعنی اس خانہ ساز قادیانی ابراہیم کے عقائد باطلہ اختیار کر لو اور مرتد ہو جاؤ۔
نعوذ باللہ منہا!
- ٢؎ آخر زمانہ میں کسی ایسے جعلی ابراہیم پیدا ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ کذاب
قادیان کا یہ سراسر افتراء علی القرآن ہے۔
١٢
زفیض شاں براہیمی تواں کرد
یعنی مردودان خداوندی اور غداران ازلی اگر فرعونان وقت اور نمرودان دور حاضرہ کے ساتھ راہ و رسم اور خصوصی تعلقات قائم رکھیں اور ان کے تابع فرمان اور مطیع حکم ہو جائیں تو ان کو بے شک ایسا سراب نما اور نار افزاء مقام ابراہیمی حاصل ہو سکتا ہے۔ جیسا کہ دشمن حریت ابلیسی تسلط واقتدار یعنی فرنگی کی لادینی سیاست اور نمرودی حکومت میں آسمان لندن سے قادیانی غدار کو حاصل ہوا ہے۔ پناہ بخدا!
حضرات! یہ ہے وہ دین و مذہب اور مقدس دھرم، جس کا قادیانی امت آج سرزمین پاکستان اور بیرونی ممالک میں پرچار کر رہی ہے کہ قادیانی خانہ ساز، ابراہیم پر ایمان لاؤ۔ اسی میں مخلصی و نجات ہے اور یہی مکتی کا دیوتا ہے۔ اسی نوعیت کا وہ بھاشن تھا جو پرچارک مرزائیت سرظفر اللہ بدیش منتری پاکستان نے قادیانی سبھا کراچی میں اپنے سدھانتوں کی بھاشا میں پیش کیا جو مسلم جنتا میں اشانتی کا کارن ہوا۔
(الفضل قادیان مورخہ ٣١ مئی ١٩٥٢ء)
توہین حضرت عیسیٰ علیہ السلام...... حضرت مسیح علیہ السلام بدزبان تھے (معاذ اللہ)
- ٧....... "حضرت مسیح علیہ السلام کی زبان تمام نبیوں سے بڑھی ہوئی ہے۔ انہوں
نے زبان کی ایسی تلوار چلائی کہ کسی نبی کے کلام میں ایسے سخت اور آزاردہ الفاظ نہیں۔"
(ازالہ اوہام ص ١٢، خزائن ج ٣ ص ١١٠)
- ٨....... "حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے خود اخلاقی تعلیم پر عمل نہیں کیا۔ بدزبانی میں
اس قدر بڑھ گئے کہ یہودی بزرگوں کو ولد الحرام تک کہہ دیا اور ہر ایک وعظ میں یہودی علماء کو سخت سخت گالیاں دیں۔"
(چشمہ مسیحی ص ١١، خزائن ج ٢٠ ص ٣٤٦)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام شرابی تھے (معاذ اللہ)
- ٩....... "عیسیٰ علیہ السلام شراب پیا کرتے تھے۔ شاید کسی بیماری کی وجہ سے یا
پرانی عادت کی وجہ سے۔"
(کشتی نوح ص ٦٥، خزائن ج ١٩ ص ٧١)
- ١٠....... "میرے نزدیک مسیح شراب سے پرہیز رکھنے والا نہیں تھا۔"
(ریویو جلد اول ص ٢٤٢، ١٩٠٢ء)
١٣
مسیح علیہ السلام کا خاندان
.......١١ ”یسوع کے ہاتھ میں سوا مکر و فریب کے اور کچھ نہیں تھا۔ پھر افسوس کہ نالائق عیسائی ایسے شخص کو خدا بنا رہے ہیں۔ آپ کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے۔ تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں۔ جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٧، خزائن ج ١١ ص ٢٩١)
حضرت مسیح کی پیش گوئیاں
.......١٢ ”ہائے کس کے آگے یہ ماتم لے جائیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تین پیش گوئیاں صاف طور پر جھوٹی نکلیں۔“
(اعجاز احمدی ص ١٤، خزائن ج ١٩ ص ١٢١)
خدا کو ایسے قصے مانع تھے
.......١٣ ”مسیح کی راست بازی اپنے زمانہ میں دوسرے راست بازوں سے بڑھ کر ثابت نہیں ہوئی۔ بلکہ یحییٰ نبی کو اس پر ایک فضیلت ہے۔ کیونکہ وہ شراب نہیں پیتا تھا اور کبھی نہیں سنا گیا کہ کسی فاحشہ عورت نے آکر اپنی کمائی کے مال سے اس کے سر پر عطر ملا تھا یا کوئی بے تعلق جوان عورت اس کی خدمت کرتی تھی۔ اسی وجہ سے خدا نے قرآن میں یحییٰ کا نام حصور رکھا۔ مگر مسیح کا یہ نام نہ رکھا۔ کیونکہ ایسے قصے اس نام کے رکھنے سے مانع تھے۔“
(دافع البلاء ص ٢٦، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٠)
پہلے مسیح سے بہت بڑھ کر
.......١٤ ”آج تم میں ایک ہے جو اس مسیح سے بڑھ کر ہے۔ عیسائی مشنریوں نے عیسیٰ بن مریم کو خدا بنایا لے اس لئے اس مسیح کے مقابل پر جس کا نام خدا رکھا گیا۔ خدا نے اس امت میں سے مسیح موعود بھیجا۔ جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے اور اس نے اس دوسرے مسیح کا نام غلام احمد رکھا۔“
(دافع البلاء ص ١٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣)
لے یاد رہے کہ عیسیٰ، ابن مریم، مسیح، یسوع ایک ہی فرد کے نام ہیں۔ جیسا کہ مرزا قادیانی کو خود بھی اعتراف ہے۔ ملاحظہ ہو: ”مسیح بن مریم جن کو عیسیٰ اور یسوع بھی کہتے ہیں۔“
(توضیح المرام ص ٤، خزائن ج ٣ ص ٥٢)
١٤
اس کا ذکر ہی چھوڑو
......١٥
اس سے بہتر غلام احمد ہے
(درثمین ص ٥٣)
”یہ باتیں شاعرانہ نہیں۔ بلکہ واقعی ہیں اور اگر تجربہ کی رو سے خدا کی تائید مسیح بن مریم سے بڑھ کر میرے ساتھ نہ ہو تو میں جھوٹا ہوں۔“
(دافع البلاء ص ٢٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٠)
نوٹ: فحاش زمانہ مرزا قادیانی نے جس یہود یانہ سیرت و کردار کا ثبوت دیتے ہوئے نبی اللہ ”وجیھاً فی الدنیا والآخرة“ حضرت مسیح علیہ السلام پر دلخراش اور سوقیانہ حملے کئے ہیں۔ ان کا مندرجہ بالا عبارات میں قدرے نمونہ پیش کیا گیا ہے۔ چنانچہ آپ نے دیکھا کہ کس ابلیسانہ جسارت سے حضرت مسیح علیہ السلام کو نعوذ باللہ سخت زبان، بدلسان، دشنام طراز، شراب نوش، فریبی، مکار، زنا زادہ، دروغ گو اور عیاش و بدچلن قرار دیا ہے۔ صد حیف۔
آسماں را می سزد گر سنگ بارد بر زمین
یاد رہے کہ یہ فحش مغلظات اور سراپا توہین آمیز عبارتیں ایسی ہیں کہ جن کی کوئی دجل و فریب سے باطل تاویل و توجیہہ بھی نہیں ہو سکتی۔ چونکہ ان میں قادیانی کذاب نے خود اپنا مذہب و عقیدہ بیان کیا ہے۔ جیسا کہ لکھا ہے کہ: ”میرے نزدیک مسیح شراب سے پرہیز رکھنے والا نہیں تھا اور نیز یہ کہ اسی وجہ سے خدا نے مسیح کا نام حصور نہیں رکھا۔ کیونکہ خدا کو ایسے قصے اس نام رکھنے سے مانع تھے۔“ یعنی بقول مرزا قادیانی حضرت مسیح عند اللہ بھی نعوذ باللہ ایسے ہی تھے۔ جیسا کہ مرزا قادیانی نے لکھا ہے۔ حالانکہ خداوند قدوس نے قرآن مقدس میں جابجا حضرت مسیح علیہ السلام کی تقدیس و تطہیر اور علوشان کو بیان فرمایا ہے اور آپ کے بیشمار ایسے معجزات کا تذکرہ فرمایا ہے کہ جن کے اندر یہود نامسعود اور قادیانی مردود کے جملہ لچر اور انسانیت سوز اعتراضات و الزامات کا کافی و شافی اور مسکت جواب موجود ہے۔ باقی رہا نام حصور، تو کیا نعوذ باللہ وہ تمام انبیاء علیہم السلام بھی بقول شما ایسے ہی تھے کہ جن کا نام خدا نے حصور نہیں رکھا۔ شرم ! شرم ! شرم ...... اصل میں حضرت مسیح علیہ السلام کی یہ توہین و تنقیص کا تمام دجالی ڈرامہ، محض
١٥
اس لئے تیار کیا گیا تا کہ میری خانہ ساز دکان مسیحیت، چمک اٹھے، خدا گنجے کو ناخن نہ دے۔ حفاظت قرآن کے متعلق اگر وعدہ خداوندی نہ ہوتا تو قادیانی محرف و مرتد کلام پاک سے حضرت مسیح کا نام تک بھی نکال دینے کی ناپاک کوشش کرتا۔ یہاں تک تو کہہ دیا کہ ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو۔ غور فرمائیں۔ اب جب کہ خداوند عالم اور رسول اکرم ﷺ حضرت مسیح کا نہ صرف ذکر ہی کرتے ہیں۔ بلکہ مسیح علیہ السلام کے محاسن و اوصاف طیبہ بھی بیان فرماتے ہیں تو اہل ایمان ان کا ذکر کیوں چھوڑ دیں؟ ایسی بغاوت و حکم عدولی تو مرتدین و شیاطین ہی کا کام ہے۔ مرزا قادیانی نے ابلیس لعین کی تقلید و اتباع میں اسی لئے تو کہا کہ ”انا خیر منہ“ یعنی میں اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہوں۔ نعم ما قال۔
تا قیامت گشت ملعون لا جرم
افسوس کہ آج ہر فاسق و فاجر اور غدار ملت کی معصیت آلود زندگی کے لئے قانون تحفظ ہے۔ مگر مقدسین و مطاہرین کی حیات معصومہ کے تحفظ کے لئے کوئی آئین و قانون نہیں ہے۔ خدا غیرت ایمانی عطاء کرے۔
قادیانی مسیح کی اخلاقی حالت
اپنے ہی دل کو ہم نے گنج عیوب پایا
حضرات! مرزا قادیانی نے تہذیب و شرافت اور ضابطہ اخلاق سے باہر ہو کر حضرت مسیح علیہ السلام کی ذات والا صفات کے متعلق جو گوہر فشانی کی ہے۔ سطور بالا میں آپ ملاحظہ فرما چکے ہیں۔ مرزا قادیانی نے یہ درحقیقت یہودیت کی وکالت کرتے ہوئے کلمتہ اللہ حضرت مسیح نبی اللہ پر حقیر و ذلیل اور رکیک حملے کئے ہیں۔ (چونکہ قادیانی فتنہ باطنی طور پر دراصل بقول واقف فتن ترجمان حقیقت علامہ اقبالؒ یہودیت کا ہی بہروپ ہے (حرف اقبال ص ١٢٢)) مگر ہم مرزا قادیانی کے متعلق مخالفین کے اقوال و بیانات پیش نہیں کریں گے۔ بلکہ مسیح کذاب کی اپنی خود نوشت تہذیب کا نمونہ پیش کریں گے۔
لہٰذا ذیل میں قادیانی مسیحیت و نبوت کا بطور نمونہ آئینہ اخلاق ملاحظہ ہو:
میں کیڑا ہوں نہ آدمی
- ......١ "جب مجھے اپنے نقصان حالت کی طرف خیال آتا ہے تو مجھے اقرار کرنا
پڑتا ہے کہ میں کیڑا ہوں نہ آدمی۔"
(تتمہ حقیقت الوحی ص ٥٩، خزائن ج ٢٢ ص ٤٩٣)
بشر کی جائے نفرت
- ......٢
ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار
(درثمین ص ٩٤، براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٩٧، خزائن ج ٢١ ص ١٢٧)
میں نامرد ہوں
- ......٣ "ایک مرض مجھے نہایت خوفناک تھی کہ صحبت کے وقت لیٹنے کی حالت میں
نعوظ (یعنی انتشار) بکلی جاتا رہتا تھا۔ جب میں نے نئی شادی کی تھی تو مدت تک مجھے یقین رہا کہ میں نامرد ہوں۔" ١؎
(مکتوبات احمدیہ ج ٥ نمبر ٢ ص ١٤، ٢١)
- ......٤ "مرزا قادیانی کو احتلام بھی ہوتا تھا۔"
(سیرۃ المہدی حصہ سوم ص ٢٤٢)
- ......٥ "حالانکہ احتلام منافی نبوت ہے۔"
(سیرۃ المہدی حصہ اول ص ١٤٩، خصائص کبریٰ ج ١ ص ٧١)
غیر محرم عورتوں سے اختلاط ...... قادیانی امت کا فتویٰ
- ......٦ "چونکہ مرزا قادیانی نبی ہیں۔ اس لئے ان کو موسم سرما کی اندھیری راتوں
میں غیر محرم عورتوں سے ہاتھ پاؤں دبوانا اور ان سے اختلاط و مس کرنا منع نہیں ہے۔ بلکہ کارثواب اور موجب رحمت و برکات ہے۔"
(الفضل قادیان مورخہ ٢٠؍ مارچ ١٩٢٨ء ص ٦، سیرۃ المہدی حصہ سوم ص ٢١٠، ٢١٣، الحکم ١٧؍ اپریل ١٩٠٧ء)
قادیانی نبوت وخلافت اور امت ایک مقام پر ...... رقص عریانی اور تھیٹر
- ......٧ "مرزا قادیانی اور آپ کی امت رات کو تھیٹر دیکھا کرتے تھے۔ خلیفہ محمود
اور چوہدری سر ظفر اللہ پیرس جاکر بالکل ننگی عورتوں کا ناچ دیکھتے رہے ہیں۔ مرزا قادیانی کا فتویٰ
١؎ کیا نبی بھی نامرد ہوتا ہے۔ مگر کذاب ہر میدان میں ہی نامرد ثابت ہوتا ہے۔
١٧
ہے کہ تھیٹر وغیرہ ہم نے بھی خود دیکھا ہے اور اس سے معلومات حاصل ہوتے ہیں۔“
(ذکر حبیب ص ١٨، الفضل قادیان مورخہ ٢٨؍ جنوری ١٩٣٤ء)
شراب نوشی
- ٨...... ”مرزا قادیانی کا اپنے خاص صحابہ مسمی یار محمد کے ہاتھ اپنے لئے لاہور
سے شراب منگوانا اور مرزا قادیانی کی شراب نوشی کے متعلق عدالت میں مرزا محمود کا اعتراف۔“
(خطوط امام بنام غلام ص ٥)
زنا کی سزا
- ٩...... قادیانی شریعت میں زنا کاری کی سنگین سزا صرف دس جوتے ہیں اور وہ
بھی زانیہ ہی اپنے زانی کو مارے ١؎۔
(قادیانی مذہب ص ٨٢٤)
قادیانی پیغمبر کا فتویٰ
- ١٠...... عدالتی مقامات و بیانات میں اپنے فائدہ اور رہائی کے لئے جھوٹ بولنا
جائز ہے ٢؎۔
(ذکر حبیب ص ٤٦)
واضح رہے کہ یہ پیش کردہ حوالہ جات ہم نے صرف قادیانی امت کی مصدقہ کتب وتحریرات سے ہی پیش کئے ہیں۔ اگر ضرورت پیش آئی تو پھر ہم مرزا قادیانی اور مرزا محمود کی اخلاقی حالت، پرائیویٹ زندگی اور چال چلن کے متعلق ان کے سابقہ مریدین ومعتقدین، مثلاً ڈاکٹر عبدالحکیم مرحوم پٹیالوی، مولانا عبدالکریم مباہلہ، شیخ عبدالرحمن مصری، منشی فخر الدین مقتول ملتانی، حکیم عبدالعزیز، قریشی محمد صادق شبنم وغیرہم کے مبنی بر حقائق بیانات بھی منظر عام پر لائیں گے۔
قادیانی مسیح کی تہذیب وشرافت
ذیل میں ہم قادیانی مسیح کی قدرے تہذیب وشرافت کا مختصر نمونہ پیش کرتے ہیں۔ ذرا اس الہامی کلام اور گفتار شیریں کو ملاحظہ فرمائیں اور قادیانی تہذیب کی داد دیں۔
- ١؎ چہ خوش، یہ زنا کی سزا ہے یا کفش محبوب کی دلفریب حرکات، شریعت قادیان کی
حقیقت معلوم شد۔
- ٢؎ حالانکہ جھوٹ بولنا اور گوہ کھانا ایک برابر ہے۔
(حقیقت الوحی ص ٢٠٦، خزائن ج ٢٢ ص ٢١٥)
١٨
بدکار عورتوں کی اولاد
- ......١ ”کل مسلمانوں نے مجھے قبول کرلیا ہے اور میری دعوت کی تصدیق کی
ہے۔ مگر کنجریوں اور بدکار عورتوں کی اولاد نے مجھے نہیں مانا۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٤٧، خزائن ج ٥ ص ٥٤٧)
نوٹ: لفظ بغایا، بغاء، بغیا کے معنی مرزا قادیانی نے اپنی کتب (انجام آتھم ص ٢٨٢، نور الحق حصہ اول ص ١٢٣، فریاد درد ص ٧٨، خطبہ الہامیہ ص ١٧) میں نسل بدکاراں، زنا کار، خراب عورتوں کی نسل، زن بدکار، زنان بازاری کے ہی کئے ہیں۔ یادرہے:
میرا مخالف
- ......٢ جو شخص میرا مخالف ہے۔ وہ عیسائی، یہودی، مشرک اور جہنمی ہے۔
(نزول المسیح ص ٤، خزائن ج ١٨ ص ٣٨٢، تذکرہ ص ٢٢٧، تبلیغ رسالت ج ٩ ص ٢٧، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٧٥)
حرامزادہ کی نشانی
- ......٣ جو شخص ہماری فتح کا قائل نہیں ہوگا تو صاف سمجھا جائے گا کہ اس کو ولد
الحرام بننے کا شوق ہے۔ حرامزادہ کی یہی نشانی ہے۔
(انوار الاسلام ص ٣٠، خزائن ج ٩ ص ٣١)
جنگلوں کے خنزیر
- ......٤ بلاشک ہمارے دشمن بیابانوں کے خنزیر ہوگئے اور ان کی عورتیں کتیوں
سے بھی بڑھ گئیں۔
(نجم الہدیٰ ص ١٠، خزائن ج ١٤ ص ٥٣، درثمین عربی ص ٢٩٤)
جہاں سے نکلے تھے
- ......٥ ”جھوٹے آدمی کی یہ نشانی ہے کہ جاہلوں کے روبرو تو بہت لاف و گزاف
مارتے ہیں، ١؎ مگر جب کوئی دامن پکڑ کر پوچھے کہ ذرا ثبوت دے کر جاؤ تو جہاں سے نکلے تھے وہیں داخل ہو جاتے ہیں۔“
(حیات احمد جلد اول نمبر ٣ ص ٢٥)
١؎ جھوٹے آدمی اور مارتے ہیں۔ قادیانی سلطان القلم کی اردونویسی اور زبان دانی ذرا ملاحظہ ہو۔
١٩
دس انگلی
- ٦...... ”آریوں کا پرمیشر ناف سے دس انگلی نیچے ہے۔ سمجھنے والے سمجھ لیں۔“
(چشمہ معرفت ص ١٠٦، خزائن ج ٢٣ ص ١١٤)
رحم پر مہر
- ٧...... ”خدا نے مولوی سعد اللہ لدھیانوی کی بیوی کے رحم پر مہر لگادی کہ اب تیرے گھر اولاد نہ ہوگی۔“
(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٣، خزائن ج ٢٢ ص ٤٣٤)
نوٹ: جس طرح تمہاری ماں کے رحم پر مہر لگی تھی۔
(تریاق القلوب ص ١٥٧، خزائن ج ١٥ ص ٤٧٩)
آلہ تناسل
باپ کے بعد بیٹے یعنی مرزا محمود کی خوش کلامی اور تہذیب پر سر دست صرف دو حوالہ ہی ملاحظہ ہوں۔ خلیفہ صاحب اپنے ایک خطبہ نکاح میں ایک مسلمان بزرگ کے متعلق فرماتے ہیں کہ:
- ٨...... ”حضرت مسیح موعود کے قریباً ہم عمر مولوی محمد حسین بٹالوی بھی تھے۔ ان کے والد کا جس وقت نکاح ہوا۔ ان کو اگر حضرت اقدس مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی حیثیت معلوم ہوتی اور وہ جانتے کہ میرا ہونے والا بیٹا محمد رسول اللہ ﷺ کے ظل اور بروز کے مقابلہ میں وہی کام کرے گا۔ جو آنحضرت ﷺ کے مقابلہ میں ابو جہل نے کیا تھا تو وہ اپنے آلہ تناسل کو کاٹ دیتا اور اپنی بیوی کے پاس نہ جاتا۔“
(مندرجہ الفضل قادیان مورخہ ٢ نومبر ١٩٢٢ء)
میرا آزار بند
- ٩...... ”میں نے رویاء میں دیکھا کہ ایک بڑا ہجوم ہے۔ میں اس میں بیٹھا ہوں اور ایک دو غیر احمدی بھی میرے پاس بیٹھے ہیں۔ کچھ لوگ مجھے دبا رہے ہیں۔ ان میں سے ایک
- ١۔ علم خیاطی کا فی الواقع لایحل مسئلہ تھا۔ قادیانی امت کو اپنے نبی کے اس مسیحانہ ناپ پر سر دھننا چاہئے۔
٢٠
شخص جو سامنے کی طرف بیٹھا تھا۔ اس نے آہستہ آہستہ میرا آزار بند پکڑ کر گرہ کھولنی چاہی ١؎ میں نے سمجھا اس کا ہاتھ اتفاقاً لگا ہے اور میں نے آزار بند پکڑ کر اس کی جگہ پر لٹکا دیا۔ پھر دوبارہ اس نے ایسی ہی حرکت کی اور میں نے پھر یہی سمجھا کہ اتفاقیہ اس سے ایسا ہوا ہے۔ تیسری دفعہ پھر اس نے ایسا ہی کیا۔ تب مجھے اس کی بدنیتی کے متعلق شبہ ہوا اور میں نے اسے روکا نہیں۔ جب تک کہ میں نے دیکھ نہ لیا کہ وہ بالارادہ ایسا کر رہا ہے۔“
(مندرجہ الفضل قادیان مورخہ ٤ ستمبر ١٩٣٧ء)
حضرات! یہ ہے قادیانی نبوت و خلافت کی تہذیب و شرافت ۔ تقدس و پارسائی خوش کلامی وشیریں بیانی اور اخلاقی حالت کا مختصر مرقع ، بقول حضرت مسیح علیہ السلام درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے۔ آپ اسی سے اندازہ لگالیں کہ قادیانی فحش بدزبانی و بدلسانی اور بدتہذیبی میں نہ صرف سباب اعظم اور مجدد سب وشتم ہی تھا۔ بلکہ فن فحاشی کا زبردست ماہر وموجد بھی تھا۔ سچ ہے۔
اے دشمن اسلامیاں اے فتنہ آخر زماں
پیشہ ترا ایمان ہے گالی تیری پہچان ہے
جنس نفاق وکفر سے چمکی تری دکان ہے
(از حضرت مولانا ظفر علی خاںؒ)
سیدالمتقین امام الانبیاءﷺ کی توہین
مژدہ جہنم کی وعید ان کو سنا دو
برادران ملت! اب آپ کے سامنے گستاخ ازلی مرزا قادیانی اور اس کی بے ادب مرتد امت کے عقائد باطلہ کا وہ دلخراش و جگر پاش باب پیش کیا جاتا ہے جو کہ سیدالکونین ، محبوب رب المشرقین، قائد المرسلین، خاتم النبیین، محمد مصطفیٰ، احمد مجتبیٰﷺ کی توہین وتنقیص اور گستاخیوں سے بھرا ہوا ہے۔
ترجمان حقیقت علامہ اقبالؒ کی شہادت
شان نبوت میں قادیانی امت کی گستاخیوں کے متعلق حقیقت نما شہادت ، حضرت
١؎ غالباً یہ گستاخ کوئی سرحدی پٹھان ہوگا۔
٢١
علامہ کا تحریری بیان کہ: ”ذاتی طور پر میں اس تحریک سے اس وقت بیزار ہوا تھا۔ جب ایک نئی نبوت، بانی اسلام کی نبوت سے اعلیٰ تر نبوت کا دعویٰ کیا گیا اور تمام مسلمانوں کو کافر قرار دیا گیا۔ بعد میں یہ بیزاری بغاوت کی حد تک پہنچ گئی۔ جب میں نے تحریک کے ایک رکن کو اپنے کانوں سے آنحضرت ﷺ کے متعلق نازیبا کلمات کہتے سنا۔ درخت جڑ سے نہیں پھل سے پہچانا جاتا ہے۔“
(حرف اقبال ص ١٣٦)
مندرجہ بالا بیان میں قادیانی امت کے متعلق عاشقِ رسولؐ، علامہ اقبالؒ نے جو کچھ فرمایا ہے۔ بالکل حقیقت اور مبنی برصداقت ہے۔ میں نہ صرف سابقہ مرزائی، بلکہ قادیانی جماعت کے ایک سابق مبلغ ہونے کی حیثیت سے، اپنے سابقہ تجربہ و مشاہدہ کی بناء پر علیٰ وجہ البصیرت کہتا ہوں١؎ کہ ادعائے اسلام میں قادیانی امت کا ظاہر کچھ ہے اور باطن کچھ۔ چونکہ جب یہ قادیانی مرتد اپنی پرائیویٹ اور مخصوص مجالس میں بیٹھیں گے تو متقدمین اسلام کے متعلق ان کے خیالات واعتقادات کچھ اور ہوں گے اور جب اہل اسلام کے سامنے آئیں گے تو کچھ اور....... اور یہ قادیانی امت کی بزدلی ہی نہیں۔ بلکہ انتہائی دجالیت اور منافقت ہے۔
اب ذیل میں صرف چند حوالہ جات ملاحظہ ہوں۔
منصب محمدیت پر غاصبانہ حملہ ....... میں محمد رسول اللہ ہوں
.......١ ”حق یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی وہ پاک وحی جو میرے پر نازل ہوتی ہے۔ اس میں ایسے لفظ رسول اور مرسل اور نبی کے موجود ہیں۔ چونکہ میری نسبت یہ وحی اللہ ہے۔ محمد رسول اللہ اس وحی الٰہی میں میرا نام محمد رکھا گیا اور رسول بھی۔“
(ایک غلطی کا ازالہ ص٢، خزائن ج١٨ ص ٢٠٥)
.......٢ میں محمد مجتبیٰ ہوں اور احمد مختار ہوں٢؎
(تریاق القلوب ص٦، خزائن ج١٥ ص١٣٥، نزول المسیح ص٩٨، خزائن ج١٨ ص٤٧٧)
١؎ میں مکمل جائزہ و محاسبہ لے کر قادیانی مذہب سے ١٩٤٠ء میں تائب ہو کر مشرف اسلام ہوا تھا۔ الحمدللہ علٰی احسانہ!
٢؎ سچ ہے۔
نو مسلم آج احمد بن گئے
٢٢
نوٹ: آپ نے دیکھا کہ قادیانی فتنہ کس جرأت و جسارت اور بیباکی سے اعلان بغاوت کر رہا ہے کہ محمد رسول اللہ، محمد مجتبیٰ اور احمد مختار میں ہوں۔ نعوذ باللہ منہا۔ حالانکہ یہ آیت صرف حضرت محمد عربی ﷺ ہی کی شان میں نازل ہوئی ہے۔ (پارہ ٢٦، سورۃ فتح) یہ تو تھا مرزا قادیانی کا باغیانہ دعویٰ کہ میں محمد رسول اللہ ہوں۔ اب ذیل میں قادیانی امت کا ایمان ملاحظہ فرمائیں۔ تا آپ کو معلوم ہو کہ قادیانی امت حضور علیہ السلام کو قطعاً محمد رسول اللہ نہیں مانتی۔ بلکہ مرزا قادیانی کو مانتی ہے۔
مدح حضرت مسیح موعود ...... محمد مصطفیٰ تو ہے
- ......٢
بیان ہو شان تیری کیا حبیب کبریا تو ہے
کلیم اللہ بننے کا شرف حاصل ہوا تجھ کو
خدا بولے نہ کیوں تجھ سے کہ محبوب خدا تو ہے
اندھیرا چھا رہا تھا سب اجالا کر دیا جس نے
وہی بدر الدجیٰ تو ہے وہی شمس الضحیٰ تو ہے
(گلدستہ عرفان ص ١١، ابن کذاب مرزا بشیر احمد )
کلمہ طیبہ میں قادیانی محمد
- ......٤ ”مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی بعثت کے بعد محمد رسول اللہ کے مفہوم میں
ایک اور رسول (مرزا قادیانی) کی زیادتی ہو گئی ہے۔ لہٰذا مسیح موعود کے آنے سے ”لا الہ الا اللہ، محمد رسول اللہ“ کا کلمہ باطل نہیں ہوتا۔ بلکہ اور بھی زیادہ شان سے چمکنے لگ جاتا ہے۔“
(کلمۃ الفصل ص ١٠٠، مؤلفہ مرزا بشیر احمد قادیانی)
خود محمد رسول اللہ ہی ہیں
- ......٥ ”ہم پر اعتراض کیا جاتا ہے کہ اگر نبی کریم ﷺ کے بعد مرزا قادیانی بھی
ایسے نبی ہیں کہ ان کا ماننا ضروری ہے تو پھر مرزا قادیانی کا کلمہ کیوں نہیں پڑھا جاتا۔
٢٣
اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ وہ ایک دفعہ اور خاتم النبیینؐ کو دنیا میں مبعوث کرے گا لے پس جب بروزی رنگ میں مسیح موعود (مرزا قادیانی) خود محمد رسول اللہ ہی ہیں جو دوبارہ دنیا میں تشریف لائے تو ہم کو کسی نئے کلمہ کی ضرورت نہیں۔ ہاں اگر محمد رسول اللہ کی جگہ کوئی اور آتا۔ پھر یہ سوال اٹھ سکتا تھا۔"
(کلمۃ الفصل ص ١٠١)
نوٹ: آپ نے دیکھا کہ کن غیر مبہم اور الم نشرح الفاظ میں قادیانی امت کا صاف صاف اقرار و اعتراف اور دعویٰ ہے کہ مرزا قادیانی خود محمد رسول اللہ ہی ہے۔ اس لئے ہمیں اپنے جدید کلمہ کے لئے الفاظ جدید کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔ ہاں البتہ اگر مرزا قادیانی خود محمد رسول اللہ نہ ہوتے تو پھر کلمہ کے لئے الفاظ جدید کا سوال پیدا ہو سکتا تھا۔ پس قادیانی امت کے اس عقیدہ باطلہ سے روز روشن کی طرح ثابت ہو گیا کہ قادیانی امت جب کلمہ پڑھتی ہے تو اس کے تصور و خیال اور ذہن میں محمد رسول اللہ سے مراد یقیناً قادیانی محمد یعنی مرزا آنجہانی ہی ہوتا ہے اور لیکن جب امت محمدیہ کلمہ طیبہ پڑھتی ہے تو اس کے تصور ایمانی اور یقین وجدان میں لاریب اسم محمد سے مراد صرف اور صرف بلاشراکت غیرے خاتم الانبیاء حضرت محمد عربی علیہ السلام ہی کی ذات مقدس متصورہ موجود ہوتی ہے۔ اس لئے کہ کلمہ طیبہ میں اسم محمد سے مراد صرف محمد عربی ہی کی ذات مخصوص مراد ہے اور آیت محمد رسول اللہ میں خداوند عالم کی بھی یہی مراد ہے۔ پس قادیانی کذاب اور اس کی مرتد امت کا یہ تحکمانہ عقیدہ و دعویٰ سراسر لچر اور باطل ہے اور؎
شرکت میانہ حق و باطل نہ کر قبول
واضح رہے کہ قانون خداوندی اور آئین نبویؐ کے ماتحت جمیع اہل اسلام کا بالاتفاق یہی عقیدہ و ایمان ہے کہ جس طرح خداوند قدوس عزاسمہ، وجل مجدہ، اپنی الوہیت و ربوبیت اور معبودیت میں وحدہ لاشریک ہیں۔ اس طرح محمد مکی و مدنی علیہ الصلوٰۃ والسلام اپنی نبوت و رسالت اور محمدیت میں تا قیامت وحدہ لاشریک ہیں۔ پس جس طرح شرک فی التوحید ناقابل معافی جرم ہے۔ اسی طرح شرک فی النبوت بھی ناقابل معافی جرم ہے۔
لے اللہ تعالیٰ کا ایسا کوئی وعدہ نہیں ہے۔ اس کذاب کا اللہ تعالیٰ پر یہ سراسر افتراء ہے۔
٢٤
”كما قال رسول الله ﷺ يا ايها الناس ان ربكم واحد ونبيكم واحد لا نبى بعدى (كنز العمال)“ یعنی اے میری امت کے لوگو تمہارا خدا ایک ہے۔ اسی طرح تمہارا نبی بھی ایک ہی ہے۔ میرے بعد اور کوئی نبی پیدا نہیں ہوگا۔ ﴾
آفتاب مدینہ
- ......٦
ہے جلوہ ریز وہ اب قادیاں کے سینے میں
(اخبار فاروق قادیان ج ٢٥ نمبر ١٥، مورخہ ٢١؍اپریل ١٩٣٠ء)
خدا نے اسے محمد رسول اللہ فرمایا ہے
- .......٧
”ہمارا عقیدہ ہے کہ دوبارہ حضرت محمد رسول اللہ ہی آئے ہیں۔ اگر محمد رسول اللہ پہلے نبی تھے تو اس بعثت میں بھی نبی ہیں۔ اگر محمد رسول اللہ کے انکار سے پہلے انسان کافر ہو جاتا تھا تو اب بھی آپ کے انکار سے انسان ضرور ضرور کافر ہو جائے گا۔ ہم (احمدیوں) نے مرزا قادیانی کو بحیثیت مرزا قادیانی نہیں مانا۔ بلکہ اس لئے کہ خدا نے اسے محمد رسول اللہ فرمایا ہے۔ ہم پر اللہ کا بڑا فضل ہے۔ کیونکہ ہم اگر ساری جائیدادیں سارے اموال اور جانیں قربان کر دیتے تو بھی صحابہ کرام میں شامل نہ ہو سکتے۔ یہ مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ غوث، قطب، ولی، جتنے بزرگ امت محمدیہ میں گزرے ہیں۔ ان کا ایمان صحابی کے ایمان کے برابر نہیں ہو سکتا اور اس شرف کو نہیں پا سکتے۔ جو صحابہ عظام نے پایا ؎۔ کیونکہ انہوں نے محمد رسول اللہ کا چہرہ دیکھا۔ مگر اللہ نے ہمیں محمد رسول اللہ کا چہرہ مبارک دکھا کر اس کی صحبت سے مستفاد کر کے صحابہ کرام کے گروہ میں شامل کر دیا۔“
(تقریر مفتی اعظم قادیانی جماعت مولوی سرور شاہ، مندرجہ الفضل قادیانی مورخہ ٢٧؍دسمبر ١٩١٤ء، ص ٧)
١؎ فی الواقع مسلمانوں کا یہی عقیدہ ہے۔ خداوند عالم اہل اسلام کو اس مقدس و مبارک عقیدہ پر قائم و ثابت قدم رکھے اور دور حاضرہ کے بناسپتی پیغمبروں اور الحاد پسند صحابیوں سے محفوظ رکھے۔ آمین!
٢٥
محمد رسول اللہ سے مراد
- ٨...... ایک غلطی کے ازالہ میں حضرت مسیح موعود نے فرمایا ہے ”کہ محمد
رسول اللہ والذین معہ“ کے الہام میں محمد رسول اللہ سے مراد میں ہوں اور محمد رسول اللہ خدا نے مجھے کہا ہے۔
(اخبار الفضل مورخہ ١٥؍ جولائی ١٩١٥ء،ص٦)
اصول احمدیت
- ٩...... ”خدا تعالیٰ اپنی پاک وحی میں مسیح موعود (مرزا قادیانی) کو محمد رسول اللہ،
کر کے مخاطب کرتا ہے۔ حضرت مسیح موعود کا آنا بعینہ محمد رسول اللہ کا دوبارہ آنا ہے۔ حضرت مسیح موعود کو عین محمد ماننے کے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے اور یہی وہ بات ہے جو احمدیت کی اصل اصول کہی جاسکتی ہے۔٢؎“
(الفضل مورخہ ١٧؍ اگست ١٩١٥ء، ص٧)
وہی احمد ہے وہی محمد ہے
- ١٠...... ”اگر یہ لوگ اس زمانے کے رسول کے خیالات اور تعلیم اور وہ کلام ربانی
جو اس رسول پر نازل ہوتا ہے چھوڑ دیں گے تو وہ اور کون سی باتیں ہیں۔ جن کی اشاعت کرنا چاہتے ہیں۔ کیا اسلام کوئی دوسری چیز ہے جو اس رسول سے علیحدہ ہو کر بھی مل سکتا ہے۔ وہی احمد ہے وہی محمد ہے۔ جو اس وقت ہم میں موجود ہے۔“
(الفضل مورخہ ١٧؍ جنوری ١٩٣٦ء)
قادیان میں محمد
- ١١...... ”قادیان میں اللہ تعالیٰ نے پھر محمد ﷺ کو اتارا ہے۔“
(کلمتہ الفضل ص٢٠)
محمد مدنی سے محمد قادیانی افضل ہے
غلام زادے کو دعویٰ پیغمبری کا ہے
١؎ ایک غلطی کا ازالہ مرزا قادیانی کی کتاب ہے جس کا ہم نے نمبر ١ میں حوالہ پیش کیا ہے۔
٢؎ حق بر زباں شود جاری۔ پس قادیانی امت کا یہی وہ خانہ ساز محمد ہے۔ جس محمد کا یہ لوگ کلمہ پڑھتے ہیں۔
٢٦
ذیل میں ہم صرف وہ چند حوالہ جات پیش کرتے ہیں جن میں خود مرزا قادیانی اور اس کی امت نے برملا تسلیم کیا ہے کہ سید الانبیاء قائد المرسلین محمد مصطفیٰ ﷺ سے قادیانی محمد یعنی مرزا آنجہانی فضیلت و شان میں بڑھ کر ہے۔ ملاحظہ ہو: بیان مرزا!
میں بدر کامل ہوں
- ١٢...... ”حق یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی روحانیت ان دنوں میں بہ نسبت ان
سالوں کے اقویٰ اور اکمل اور اشد ہے۔ بلکہ بدر کامل چودھویں رات کے چاند کی طرح ہے۔“
(خطبہ الہامیہ ص ١٨١، خزائن ج ١٦ ص ٢٧٢)
ہلال و بدر میں فرق
- ١٣...... ”ہلال کا وجود ایک تاریکی میں ہوتا ہے۔ لیکن کمال کو پہنچ کر بدر بن جاتا
ہے۔“
(ملفوظات مسیح موعود ص ١٧١)
- ١٤...... ”چاند ہلال سے شروع ہوتا ہے اور چودھویں تاریخ پر آ کر اس کا کمال ہو
جاتا ہے۔ جب کہ اسے بدر کہا جاتا ہے۔“
(ملفوظات مسیح موعود ص ٣٢٨)
مرزا قادیانی کے مندرجہ بالا اقوال کی روشنی میں اب ذیل میں قادیانی امت کے بیانات باطلہ ملاحظہ ہوں۔
مرزا قادیانی کا انکار کفر ہے
- ١٥...... ”اگر نبی کریم ﷺ کا انکار کفر ہے تو مسیح موعود (مرزا قادیانی) کا انکار بھی
کفر ہونا چاہئے اور اگر مسیح موعود کا منکر کافر نہیں تو نبی کریم ﷺ کا منکر بھی کافر نہیں۔ کیونکہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ پہلی بعثت میں تو آپ کا انکار کفر ہو۔ مگر دوسری بعثت میں جس میں بقول حضرت مسیح موعود آنحضرت ﷺ کی روحانیت اقویٰ اور اکمل اور اشد ہے۔ آپ کا انکار کفر نہ ہو۔“
(کلمتہ الفصل مؤلفہ مرزا بشیر احمد ص ١١٣)
قادیانی نبوت و شریعت کی حقیقت
کہتی ہے کہ یہ مؤمن پارینہ ہے کافر
(اقبالؒ)
٢٧
جس نبوت میں نہیں قوت وشوکت کا پیام
(اقبالؔ)
بعثت ثانی کے کافر
- ١٦...... ”آنحضرت ﷺ کی بعثت اول میں آپ کے منکروں کو کافر اور دائرہ
اسلام سے خارج قرار دینا۔ لیکن آپ کی بعثت ثانی میں آپ کے منکروں کو داخلِ اسلام سمجھنا یہ آنحضرت ﷺ کی ہتک ہے۔ حالانکہ خطبہ الہامیہ ١؎ میں حضرت مسیح موعود نے آنحضرت ﷺ کی بعثتِ اول اور بعثتِ ثانی کی باہمی نسبت کو ہلال اور بدر کی نسبت سے تعبیر فرمایا ہے۔ جس سے لازم آتا ہے کہ بعثتِ ثانی کے کافر کفر میں، بعثتِ اول کے کافروں سے بہت بڑھ کر ہیں۔“
(الفضل مورخہ ١٥؍ جولائی ١٩١٥ء، ص٦)
مرزا قادیانی کا ذہنی ارتقاء
- ١٧...... ”حضرت مسیح موعود کا ذہنی ارتقاء آنحضرت ﷺ سے زیادہ تھا۔ اس زمانہ
میں تمدنی ترقی زیادہ ہوئی ہے اور یہ جزوی فضیلت ہے جو مسیح موعود کو آنحضرت ﷺ پر حاصل ہے۔“
(رسالہ ریویو قادیان ماہ مئی ١٩٢٩ء)
سید الانبیاء سے ہر شخص بڑھ سکتا ہے
- ١٨...... ابن کذاب مرزا محمود قادیانی کا باغیانہ اعلان: ”اگر کوئی شخص مجھ سے
پوچھے کہ کیا محمد ﷺ سے بھی کوئی شخص بڑا درجہ حاصل کر سکتا ہے تو میں کہا سکتا ہوں کہ خدا نے اس مقام کا دروازہ کبھی بند نہیں کیا۔ ہم یہ کہتے ہیں کہ اگر محمد ﷺ سے کوئی شخص بڑھنا چاہے تو بڑھ سکتا ہے۔“
(خطبہ مرزا محمود مندرجہ الفضل قادیان مورخہ ١٦؍ جون ١٩٢٤ء ص٨)
١؎ خطبہ الہامیہ مرزا قادیانی کی کتاب ہے۔ جس کا حوالہ نمبر ١٣ میں دیا گیا ہے۔ ٢؎ دیکھو اسی باغی رسالت ﷺ مرزا محمود قادیانی کے قول باطل میں فی البداہت استمرار موجود ہے۔ یعنی شروع ہی سے میرا یہی شیطانی عقیدہ ہے اور میں یہ برملا ہمیشہ کہتا رہتا ہوں۔ سہ حرف بریں مذہب!
٢٨
ایک کو بڑھانے میں کوئی خوبی نہیں
١٩...... ”یہ بالکل صحیح بات ہے کہ ہر شخص ترقی کر سکتا ہے ١؎ اور بڑے سے بڑا درجہ پاسکتا ہے۔ حتیٰ کہ محمد رسول اللہ ﷺ سے بھی بڑھ سکتا ہے۔ کیونکہ اگر روحانی ترقی کی تمام راہیں ہم پر بند ہیں تو اسلام کا کچھ بھی فائدہ نہیں ہے اور پھر اس میں کوئی خوبی بھی نہیں کہ ایک کو بڑھا دیا جائے اور دوسروں کو بڑھنے نہ دیا جائے۔“
(مندرجہ الفضل قادیان مورخہ ١٧ جولائی ١٩٢٢ء ص ٥)
نوٹ: عبارت اردو ہے اور مفہوم بالکل واضح ہے۔ مرزا محمود قادیانی کا یہ متحدیانہ دعویٰ قابل غور ہے کہ یہ بالکل صحیح بات ہے۔ یعنی اس میں کوئی شک نہیں کہ ہر شخص فخر الانبیاء سے بڑھ سکتا ہے اور یہ کوئی خوبی نہیں کہ ایک کو بڑھا دیا جائے اور دوسروں کو بڑھنے نہ دیا جائے۔ اس کذاب ابن کذاب اور بد باطن و روسیاہ کی بکواس سے مراد فی الحقیقت سراج الانبیاء ٢؎، سید العالمین ٣؎، قائد المرسلین ٤؎، سید ولد آدم ٥؎ محمد عربی ﷺ ہیں۔ جن کی مدح وثنا کا خود خالق اکبر، مداح وثنا خوان ہے۔ مثلاً دیکھو سورہ بقر معہ تفسیر شرح شفا جلد اوّل، سورہ حجرات، سورہ بلد، سورہ زخرف، سورہ حجر، جس سے شان محمدیت کا مقام ارفع ثابت ہوتا ہے۔ سچ ہے۔
نہیں ہے عقل کل کو بھی مجال پر زنی جس جا
لہٰذا قرآن وحدیث کی مقدس روشنی میں تمام امت محمدیہ کا یہی عقیدہ و ایمان ہے کہ؎
نہ ہماری بزمِ خیال میں نہ دکانِ آئینہ ساز میں
- ١؎ یادرہے کہ لفظ ہر حصر تام کے لئے آتا ہے۔ یعنی کوئی تخصیص نہیں کے باشد۔ سید
الانبیاء سے بڑھ سکتا ہے۔ نعوذ باللہ !
- ٢؎ سورہ احزاب۔
- ٣؎ بیہقی فی فضائل الصحابۃ۔
- ٤؎ مشکوٰۃ فی فضائل سید المرسلینؐ۔
- ٥؎ ترمذی ج٢۔
٢٩
اور قادیانی گستاخ ومردود کا یہ جملہ کہ دوسروں کو بڑھنے نہ دیا جائے سے مراد مرزا آنجہانی خانہ ساز محمد قادیانی مراد ہے۔ چونکہ مرزا قادیانی کا اپنا بھی یہی دعویٰ تھا۔ جیسا کہ سابقہ پیش کردہ حوالہ جات سے ثابت ہوچکا ہے۔ مرزا قادیانی کا تصدیق شدہ ایک اور حوالہ بھی ذیل میں ملاحظہ فرمائیں۔ قادیانی امت کی مرزا غلام احمد کے سامنے قصیدہ خوانی۔
قادیانی محمد اپنی شان میں بڑھ کر
٢٠......
غلام احمد ہوا دار الاماں میں
غلام احمد ہے عرش رب اکبر
مکاں اس کا ہے گویا لامکاں میں
محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں
اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شاں میں
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل
غلام احمد کو دیکھے قادیاں میں
(اخبار بدر ٢٥؍ اکتوبر ١٩٠٦ء)
نوٹ: جب اس ایمان سوز و دلخراش قصیدۂ نجس اور لقمہ رجس پر اعتراض ہوا تو قادیانی امت نے بغایت بے حیائی و بے شرمی جلتی پر تیل کی طرح جو جواب دیا وہ پڑھیں اور قادیانی امت کی بدسرشتی و بدطینتی اور خبیث باطنی کے ابلیسانہ مظاہرہ کا ثبوت دیکھیں۔ جواب
یہ نظم حضرت مرزا قادیانی کی پسندیدہ اور مصدقہ ہے
٢١...... "یہ وہ نظم ہے جو حضرت مسیح موعود کے حضور میں پڑھی گئی اور خوشخط لکھے ہوئے قطعے کی صورت میں پیش کی گئی اور حضور اسے اپنے ساتھ اندر لے گئے۔ پھر یہ نظم اخبار بدر ٢٥؍ اکتوبر ١٩٠٦ء میں چھپی اور شائع ہوئی۔ پس حضرت مسیح موعود کا شرف سماعت حاصل کرنے اور جزاکم اللہ تعالیٰ کا صلہ پانے اور اس قطعے کو اندر خود لے جانے کے بعد کسی کو حق ہی کیا پہنچتا ہے کہ اس پر اعتراض کر کے اپنی کمزوری ایمان و قلت عرفان کا ثبوت دے۔"
(اخبار الفضل قادیان مورخہ ٢٣؍ اگست ١٩٤٤ء ص ٤)
٣٠
نوٹ: مندرجہ بالا ہر دو حوالہ میں قادیانی امت کو کیسا صریح اعتراف ہے کہ محمد عربی ﷺ سے ہمارا محمد یعنی مرزا قادیانی اپنی شان میں بڑھ کر ہے اور اب زیارت نبویؐ کے لئے مدینہ منورہ جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ چونکہ اب قادیان میں ہی محمد موجود ہے۔ مرزا قادیانی نے اپنے مریدین سے جب یہ الحاد آمیز قصیدہ سنا تو بے حد خوش ہوا اور اس پر مریدوں کو جزاکم اللہ مرحبا کی سند خوشنودی عطا کی اور جوش مسرت میں وہ رقعہ من النار اپنے ساتھ ہی درون خانہ لے گئے۔ تاکہ بعد از مرگ لحد اسفل میں توشۂ آخرت کا کام دے۔ الغرض مرزا قادیانی نے اپنے قول وفعل سے اس قصیدہِ ناریہ پر اپنی مہر تصدیق ثبت کردی کہ میں نہ صرف محمد ہوں بلکہ محمد عربی ﷺ سے شان میں بڑھ چڑھ کر ہوں۔ نعوذ باللہ منہا! سچ ہے۔
اگرچہ ہو چکے ہیں تم سے پہلے فتنہ گر لاکھوں
توہین صحابہ کرام
نبوت کا بیڑا اٹھایا غضب ہے
حضرات! یہ کس قدر بے دینی اور ظلم ہے کہ جو دہریہ طبیعت لامذہب اور دولت ایمان سے سراسر محروم چند افراد اپنی سیاہ بختی کی وجہ سے امت محمدیہ کو چھوڑ کر قادیانی مذہب میں داخل ہو گئے اور جنہوں نے اسلام سے مرتد ہوکر قادیانی مذہب باطلہ کی گمراہانہ تعلیم کو اختیار کرلیا۔ اب ان کو صحابہ کرام کا خطاب دیا جارہا ہے بلکہ فرزندان الحاد نے مقام ادب سے گذر کر یہاں تک جسارت و گستاخی کی ہے کہ نعوذ باللہ مریدان مرزائے قادیانی صحابہ رسول مدنی ﷺ سے بھی شان وفضیلت میں بڑھ سکتے ہیں۔
یہ امر کہ صحابہؓ رسول مقبول ﷺ کی مسلمانوں کے نزدیک کیا شان وفضیلت ہے اور کیا مرتبہ ومقام ہے اور صحابی کی تعریف کیا ہے۔ یعنی صحابی کس کو کہتے ہیں۔ مندرجہ ذیل حوالہ جات سے معلوم کریں۔
عقیدہ اہل اسلام بابت مرتبہ صحابہ کرامؓ
- ١...... "مسلمانوں کا یہ عقیدہ ہے کہ غوث، قطب، ولی جتنے بزرگ امت محمدیہ
٣١
میں گزرے ہیں۔ ان کا ایمان صحابی کے ایمان کے برابر نہیں ہوسکتا اور اس شرف کو نہیں پاسکتے۔ جو صحابہ عظامؓ نے پایا۔ ١؎
(قادیانی جماعت کا فیصلہ مندرجہ الفضل قادیان مورخہ ٢٧؍دسمبر ١٩١٤ء)
صحابی کی اصطلاحی تعریف
- ٢...... ”صحابی وہ ہے کہ جو رسول کریمﷺ کی صحبت میں بیٹھا اور جس نے اپنے
دین کے سارے حصوں کو مکمل کر لیا۔“
(بیان مرزا محمود مندرجہ الفضل قادیان مورخہ ١٦؍جون ١٩٤٤ء)
اب ذیل میں صحابہؓ رسول مقبولﷺ کی توہین کے متعلق قادیانی امت کے بیانات ملاحظہ ہوں۔
میری جماعت میں داخل ہوا
- ٣...... بیان مرزا قادیانی: ”جو شخص میری جماعت میں داخل ہوا۔ درحقیقت
سردار خیرالمرسلینؐ کے صحابہ میں داخل ہوا۔“
(خطبہ الہامیہ ص١٧١، خزائن ج١٦ ص٢٥٨)
صحابہؓ سے ملا
- ٤......
صحابہ سے ملا جب مجھ کو پایا
(درثمین ص ٥٢)
اگر نورِ یقین بودے
- ٥......
ہمیں بودے اگر ہر دل پر از نورِ یقیں بودے
(نشان آسمانی ص ٤٦، خزائن ج ٤ ص ٤٠٧)
ترجمہ: یعنی کیا ہی اچھا ہوتا اگر ہر ایک امت سے کوئی نورِ دین ہوتا۔ اگر ہر دل نورِ یقین سے پر ہوتا تو پھر ایسا ہی ہوتا معلوم ہوا کہ از آدم علیہ السلام تا خاتم الانبیاءﷺ کی امت میں نورِ دین۔ بغیر وحی۔ جیسا کوئی نہیں ہوا۔ اس لئے کہ ایسا نورِ یقین کسی کو حاصل نہیں ہوا تھا۔ صد حیف بریں مذہب!
١؎ یعنی یہ صرف مسلمانوں ہی کا عقیدہ ہے۔ ہمارا یعنی مرزائیوں کا نہیں۔ دیکھو حوالہ:٧
٣٢
جیسے رسول کریمﷺ کے صحابہؓ
٦...... بیان مرزا محمود: ”حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) فرماتے ہیں کہ جو شخص میرے ہاتھ پر بیعت کرتا ہے اور سچے دل سے میری جماعت میں شامل ہو جاتا ہے وہ ایسا ہے جیسے رسول کریمﷺ کے صحابہؓ تھے۔“
(خطبہ مرزا محمود الفضل قادیان مورخہ ١٦/جون ١٩٣٣ء)
ہم آگے نکل سکتے ہیں
٧...... ”حقیقت یہ ہے کہ محمد رسول اللہﷺ کے صحابہؓ اللہ تعالیٰ کے قرب کے جس مقام پر پہنچے ہیں۔ اس مقام پر آج بھی ہم پہنچ سکتے ہیں۔ بلکہ اگر ہم کوشش کریں تو صحابہؓ سے بھی آگے نکل سکتے ہیں۔“
(خطبہ مرزا محمود الفضل قادیان مورخہ ١٦/جون ١٩٣٣ء ص ٢)
گندی اور بدبودار تعلیم
٨...... ”حضرت مسیح موعود پر جب لوگوں نے اعتراض کیا کہ پہلے مسیح علیہ السلام سے آپ کس طرح بڑھ سکتے ہیں تو حضرت صاحب نے کہا کہ یہ لوگ تو اس طرح باتیں کر رہے ہیں کہ گویا ان کے نزدیک جو کچھ ہے پہلا مسیح ہی ہے۔ دوسرا مسیح (یعنی مرزا قادیانی) کچھ چیز نہیں۔ یہ فقرہ گری ہوئی ذہنیت کی دھجیاں اڑا رہا ہے۔ جو مسلمانوں میں پیدا ہو چکی تھی کہ اب کوئی شخص وہ مقام حاصل نہیں کر سکتا۔ جو رسول کریمﷺ کے زمانے کے لوگوں کو ملا۔ یہ تو ایسی گندی اور متعفن اور بدبودار تعلیم ہے کہ اس قابل ہے کہ اس کو اٹھا کر میلے کے ڈھیروں پر پھینک دیا جائے۔ بجائے اس کے کہ لوگوں کے دلوں میں اور دماغوں میں اسے جگہ دی جائے۔“
(بیان مرزا محمود قادیانی، الفضل قادیان مورخہ ١٦/جون ١٩٣٣ء ص ٣)
ایک نبی ہم میں بھی آیا
٩...... ”ایک نبی (مرزا قادیانی) ہم میں بھی آیا۔ اگر اس کی اتباع کریں گے تو وہی پھل پائیں گے جو صحابہ کرامؓ کے لئے مقرر ہو چکے ہیں۔“
(آئینہ صداقت ص ٥٣، اخبار بدر مورخہ ١٩/جنوری ١٩١١ء)
ابوبکرؓ کیا؟
١٠...... بیان مرزا قادیانی: ”میں وہی مہدی ہوں جس کی نسبت ابن سیرین سے سوال کیا گیا کہ کیا وہ حضرت ابوبکرؓ کے درجہ پر ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ ابوبکرؓ کیا وہ تو بعض انبیاء سے بہتر ہے۔“
(تبلیغ رسالت ج ٩ ص ٣٠، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٧٨)
٣٣
مرزا قادیانی کی...............
١١...... ”مجھے اہل بیت مسیح موعود سے خاص محبت تھی اور مجھے اس وقت بھی تمام خاندان مسیح موعود کے ساتھ دلی ارادت ہے اور میں ان سب کی کفش برداری اپنا فخر سمجھتا ہوں۔ میرے ایک محبّ تھے جو اس وقت مولوی فاضل بھی ہیں اور اہل بیت مسیح موعود کے خاص رکن رکین ہیں۔ انہوں نے مجھے ایک دفعہ فرمایا کہ سچ تو یہ ہے کہ رسول اللہﷺ کی بھی اتنی پیش گوئیاں نہیں جتنی کہ مسیح موعود کی ہیں۔ پھر انہوں نے ایک اور ایسا فقرہ بولا کہ ابوبکرؓ و عمرؓ کیا تھے؟ وہ تو حضرت غلام احمد کی جوتیوں کے تسمہ کھولنے کے بھی لائق نہ تھے۔“ (نعوذ باللہ) (المہدی نمبر ٢، ٣ ص ٥٧)
نوٹ: یہ مرزائی جماعت کے گھر کی شہادت ہے جو مندرجہ بالا حوالہ میں پیش کی گئی ہے۔ اس سے قبل حضرت علامہ کی شہادت پیش کر چکا ہوں اور سابقہ مرزائی ہونے کی حیثیت سے اپنا مشاہدہ بھی بیان کر چکا ہوں۔ (دیکھو زیر عنوان سید الانبیاء کی توہین) دیکھا آپ نے یہ ہیں قادیانی امت کے دلی اور باطنی مخصوص عقائد۔ حضرت رسول اکرمﷺ اور حضرت ابوبکرؓ و حضرت عمرؓ کی شانِ اقدس میں ایسی زندقانہ گستاخی کرنے والا یہ کون ہے۔ قادیانی جماعت کا مبلغ اور مولوی فاضل اور اہل بیت مسیح موعود قادیانی کا خاص رکن رکین۔ ”لعنة الله عليهم اجمعين الى يوم الدين“
زندہ علی اور مردہ علی
١٢...... بیان مرزا قادیانی: ”پرانی خلافت کا جھگڑا چھوڑو۔ اب نئی خلافت لو۔ ایک زندہ علی تم میں موجود ہے۔ اس کو چھوڑتے ہو اور مردہ علی کو تلاش کرتے ہو۔“
(ملفوظات ج ٢ ص ١٤٢)
شان اسداللہ اور قادیانی دجال
کجا طاہر کجا یک کرم ناپاک
برادران ملت! مرزا قادیانی کی مندرجہ بالا عبارت کوئی محتاج تشریح نہیں۔ حضرت اسداللہ فداہ امی وابی کی شانِ اقدس میں قادیانی کذاب نے اپنے اس اظہارِ خبثِ باطنی اور دریدہ دہنی میں بغض خوارج کو بھی مات کر دیا ہے۔ جن کو مخبر صادق علیہ السلام نے ”کلاب النار“ فرمایا تھا۔ آہ! کس قدر ہے المناک اور روح خراش ہمارے لئے یہ حادثہ کہ آج سگانِ برطانیہ نہایت
٣٤
حقارت آمیز الفاظ میں شاہ نجف یعنی اخی سید الکونین، ابوالحسن والحسین کو بر ملا کہیں۔ مردہ علیؓ ! کون علیؓ، مجسمہ حلم، باب مدینۃ العلم، ہارون رسول، شوہر بتول، صاحب ذوالفقار، حیدر کرار، شیر خدا، منبع جود و سخا، علیؓ، وہ علیؓ جس کے احکم الحاکمین، رحمۃ اللعالمین اور جبریل امین فضائل و محاسن بیان کریں۔ کون علیؓ؟ جس کی مدحت و توصیف صحیفہ آسمانی میں موجود ہے۔ ہاں! ہاں! وہ علیؓ جن کو خالق اکبر نے اپنی محبت لافانی کا جام سرمدی پلا کر حیات ابدی عطاء فرمائی اور وہ علیؓ جس کی نسبت رسول ﷺ خدا نے یہ فرمایا کہ: ’’النظر الی وجہ علیّ عبادۃ‘‘ یعنی روئے علیؓ کی زیارت بھی عبادت ہے۔ پس قادیانی مردود و گستاخ کا فرعونیت اور حقارت آمیز لہجہ میں شہید خداوندی کو مردہ علیؓ اور خود کو زندہ علی کہنا لاریب توہین و دشنام ہے۔ جس کے متعلق سید الانبیاء ﷺ کا ناطق فیصلہ یہ ہے کہ ’’من سب علیا فقد سبنی‘‘ یعنی جس نے علیؓ کو سب کیا۔ اس نے مجھ پر سب کیا۔‘‘
(رواہ احمد مشکوٰۃ ص ٥٦٥)
عارف شیرازؒ نے سچ کہا۔
گو زاہد زمانہ و گو شیخ راہ باش
(دیوان حافظ)
اہل بیت رسولؐ کی توہین
کہاں تک بڑھ گئی اس دشمن ایماں کی بیباکی
آہ! ملت بیضا اور دین قیم کی بیخ کنی و تخریب کے لئے وہ کون سا ناپاک قدم ہے جو اس فرقۂ باطلہ نے نہیں اٹھایا اور وہ کون سا ملحدانہ حملہ و اقدام ہے جو اس ملعون طائفہ نے مقدسین اسلام پر نہیں کیا۔ اب دیکھو وہ آیات واحادیث جو اہل بیت رسولؐ کی شان میں بالصراحت وارد ہیں۔ ملت باطلہ کا بانی زندیقانہ طریق پر تحریف قرآن کرتے ہوئے کہتا ہے کہ یہ سب کچھ میری یا میرے اہل بیت کی شان میں وارد ہے۔ چنانچہ خانہ ساز اہل بیت کے متعلق مرزا قادیانی کا اعلان باطل ملاحظہ ہو۔
اس کا نام فتح ہے
١...... ’’انما یرید اللّٰہ لیذہب عنکم الرجس اھل البیت
١؎ دیکھو طبرانی حاکم، عن ابن مسعود و تاریخ الخلفاء۔
٣٥
ويطهركم تطهيرا ”بے شک اللہ تعالیٰ نے ارادہ کیا ہے کہ اے اہل بیت تم میں سے ناپاکی کو دور کر دے اور تمہیں پاک کر دے اور مطہر بنائے۔ جیسا کہ حق ہے پاک کرنے کا۔ اس وحی کے بعد میں کسی کو آواز مار کر اس طرح سے پکارتا ہوں۔ فتح، فتح، گویا اس کا نام فتح ہے۔
(تذکرہ ص ٢٧١، ٢٧٢)
خاندان مسیح موعود
- ......٢ بیان قادیانی امت: ”خاندان حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی تطہیر
اور الٰہی تائید آیت ”انما يريد الله ليذهب“ سے ثابت ہے۔“ (کتاب ذریت طیبہ ص ٧)
قادیانی امت کا انجام بد
جس کے ہے پیش نظر حشر ثمود انجام عاد
منکر ختم نبوت کے مقدر میں ہے درج
ذلت و خواری و رسوائی الی یوم التناد
(ظفر الملک)
نوٹ: آپ نے دیکھا کہ قادیانی محرف و زندیق کس طرح کلام الٰہی کو اپنی آل مردود پر چسپاں کر رہا ہے اور آیت قرآن کو اپنی وحی کہہ کر اس کا نام فتح رکھتا ہے۔ گویا قادیانی مذہب میں مقدسین اسلام کی توہین و تحقیر اور مناصب اہل بیت رسول کے غصب کا نام فتح ہے۔ نعوذ باللہ منہا!
ام المؤمنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ کی توہین
- ......٣ مرزا قادیانی کا الہام بیان: ”أشكر نعمتى رأيت خديجتى ميرا
شکر کر کہ تو نے میری خدیجہ کو پایا اور خدیجہ اس لئے میری بیوی کا نام رکھا کہ وہ ایک مبارک نسل کی ماں ہے اور نیز یہ اس طرف اشارہ تھا کہ وہ بیوی سادات قوم میں سے ہوگی۔“
(نزول المسیح ص ١٤٦، خزائن ج ١٨ ص ٥٢٤، تذکرہ ص ٣٥، ١٠٦)
نوٹ: دیکھئے کتنا خطرناک حملہ ہے کہ خدیجہ میری بیوی کا نام ہے۔ حالانکہ مرزا قادیانی کی بیوی کا نام نصرت جہاں تھا۔ یہ حملہ نہ صرف حضرت ام المؤمنین ہی پر ہے بلکہ اس کی زد براہ راست سید الانبیاء ﷺ کی ذات اقدس پر بھی پڑتی ہے۔
٣٦
تمام جہان کے لئے
- ٤....... بیان مرزا قادیانی: ”جس طرح سادات کی دادی کا نام شہر بانو تھا۔ اسی
طرح میری یہ بیوی جو آئندہ خاندان کی ماں ہو گی۔ اس کا نام نصرت جہاں بیگم ہے۔ یہ تفاول کے طور پر اس بات کی طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے کہ خدا نے تمام جہاں کی مدد کے لئے میرے آئندہ خاندان کی بنیاد ڈالی ہے۔“
(تریاق القلوب ص ١٥٨، خزائن ج ١٥ ص ٧٢، تذکرہ ص ٤٧)
پنجتن پاک کی توہین
- ٥....... مرزا قادیانی کا بیان کہ اب پنجتن میری اولاد ہی ہے۔ جن پر دین وایمان
کی بنیاد ہے۔ خدا سے خطاب کہ: ”یہی ہیں پنجتن“ ۔
ہر اک تیری بشارت سے ہوا ہے
یہ پانچوں جو کہ نسل سیدہ ہے
یہی ہیں پنجتن جن پر بنا ہے
(درثمین ص ٤٥)
اب پرانا رشتہ کام نہیں آئے گا
- ٦....... ابن کذاب مرزا محمود قادیانی کا بیان: ”اب جو سید کہلاتا ہے۔ اس کی یہ
سیادت باطل ہو جائے گی۔ اب وہی سید ہوگا۔ جو حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی اتباع میں داخل ہوگا۔ اب پرانا رشتہ کام نہیں آئے گا۔“
(قول الحق از مرزا محمود ص ٣٢)
نوٹ: آپ نے دیکھا کہ کس طرح مرزا قادیانی نے اپنی مرتدہ بیوی کو حضرت شہر بانو سے تشبیہ دی اور اپنی رسوائے عالم اولاد یعنی مرزا محمود، بشیر، شریف، مبارک اور مبارکہ کو نعوذ باللہ پنجتن قرار دیا ہے اور پھر.......... یہی ہیں پنجتن، جن پر بنا ہے، کہہ کر حصر تام کر دیا کہ ماسوائے میری اولاد کے اور کوئی پنجتن نہیں۔ جیسا کہ یہی ہیں سے ثابت ہے۔ اب اگر ہم جواباً از روئے حقیقت اس جگہ صرف مرزا قادیانی ہی کے بڑے بڑے جگادری صحابیوں کے بیانات ومشاہدات کی روشنی میں قطع نظر اعتقادات باطلہ کے، ان خانہ ساز پنجتن کے صرف اخلاقی کردار اور فریب دہ تقدس ہی کا ذرا تجزیہ ومحاسبہ کریں تو نہ صرف اس ننگ شرافت اور انسانیت سوز جعلی پنجتن ہی کی تمام حقیقت منکشف ہو جائے۔ بلکہ ادعائے خلافت اور مصلح موعودی کی بھی اصلیت بے نقاب ہو کر رہ جائے۔ سردست ہم صرف دو عدد صحابیوں کے بیان پر ہی اکتفا کرتے ہیں۔ باقی پھر:
٣٧
شیخ عبدالرحمٰن مصری کا عدالت میں تحریری بیان
٧....... "موجودہ خلیفہ (یعنی مرزا محمود قادیانی) سخت بدچلن ہے۔ یہ تقدس کے پردہ میں عورتوں کا شکار کھیلتا ہے۔ اس کام کے لئے اس نے بعض مردوں اور بعض عورتوں کو بطور ایجنٹ رکھا ہوا ہے۔ ان کے ذریعہ یہ معصوم لڑکیوں اور لڑکوں کو قابو کرتا ہے۔ اس نے ایک سوسائٹی بنائی ہوئی ہے۔ جس میں مرد اور عورتیں شامل ہیں اور اس سوسائٹی میں زنا ہوتا ہے۔"
(نقل مقدمہ عدالت عالیہ ہائیکورٹ لاہور مورخہ ٢٣ ستمبر ١٩٣٨ء، مندرجہ الفضل ٢٥ نومبر ١٩٣٨ء)
مولوی فخرالدین ملتانی قادیانی کا بیان
٨....... "تحریک جدید کا ایک فائدہ ضرور ہوا کہ پہلے تو لڑکوں کو تلاش کرنا پڑتا تھا۔ اب جمع شدہ مل جاتے ہیں۔"
(اخبار الفضل مورخہ ١٨ جولائی ١٩٣٧ء ص ٢١، اخبار فاروق ٧ اگست ١٩٣٧ء)
(یعنی مرزا محمود قادیانی کے لئے پہلے تو خوش شکل اور خوبصورت لڑکے تلاش کرنے پڑتے تھے۔ مگر اب بورڈنگ تحریک جدید کے قائم کرنے کی وجہ سے جمع شدہ ہی مل جاتے ہیں۔ یاد رہے کہ تحریک جدید مرزا محمود قادیانی کا ایک نیا ادارہ ہے)
خود مرزا محمود کا اپنے متعلق اقرار جرم
میں کر بیٹھا ہوں اس کا بھی صفایا ١
سمٹ کر بن گئی نیکی سویدا
افق پر چھا گئیں میری خطایا ٢
میں حیوانوں سے بدتر ہورہا ہوں
نہیں تقویٰ میں حاصل کوئی پایا
(کلام محمود ص ١٠٢)
گواہان بالا کی پوزیشن
حضرات! یہ ایک اصول مسلمہ ہے کہ جب کوئی بیان اور شہادت یا گواہی دے تو بیان
١ مرزا محمود کا یہ خدا سے خطاب ہے۔ ٢ یعنی اپنی سیاہ کاریوں اور بدکاریوں کی وجہ سے بدنام ہوگیا ہوں۔
٣٨
کی اہمیت اور صداقت یا عدم صداقت کے پیش نظر بیان دہندہ کی پوزیشن اور شخصیت کو ضرور دیکھا جاتا ہے۔ لہٰذا اسی اصول کے مطابق قادیانی جماعت میں ان ہر دو افراد کی پوزیشن ملاحظہ فرمائیں۔
مولوی فخر الدین ملتانی قادیانی جماعت کا ایک پرجوش اور سرگرم ممبر ورکن اور مبلغ تھا۔ کتب خانہ احمدیہ قادیان کا مالک اور دین مرزائیت کی متعدد کتب کا مصنف و طابع تھا۔ شیخ عبدالرحمن مصری کی مختصر پوزیشن نقشہ ذیل سے ملاحظہ کریں۔
- ١...... مصری صاحب مرزا قادیانی کے مخصوص فدائی اور صحابی ہیں۔
- ٢...... قادیان ہی میں مولوی فاضل کا امتحان پاس کیا۔
- ٣...... قادیانی جماعت کے صرفہ خصوصی کے ماتحت حصول تعلیم کے لئے مصر گئے۔ چنانچہ
خود مرزا محمود قادیانی نے بیان دیا کہ:
- ٤...... ”حبی فی اللہ عزیزم شیخ عبدالرحمن مولوی فاضل کو میں نے عربی زبان کی اعلیٰ
تعلیم کے حصول اور تبلیغ کے لئے مصر بھیجا۔“
(تحفۃ الملوک ص ١١٥)
- ٥...... پھر مصر سے واپس آکر بی۔اے، پاس کیا۔
- ٦...... تبلیغ مرزائیت کے لئے مصری صاحب مرزا محمود قادیانی کے ہمراہ یورپ گئے۔
- ٧...... عرصہ بیس سال تک مدرسہ احمدیہ قادیان کے ہیڈ ماسٹر رہے۔
- ٨...... نظارت دعوت وتبلیغ قادیان کے ناظر اعلیٰ بھی رہے۔
- ٩...... ١٩٣٥ء میں جب مجلس احرار اسلام اور قادیانی جماعت کے مابین جنگ مباہلہ شروع
ہوئی اور مجلس احرار نے تفریق حق و باطل کے لئے مرزا محمود قادیانی کو دعوت مباہلہ دی تو خلیفہ قادیان نے اپنی تمام جماعت کی طرف سے احرار اسلام کے مقابلہ میں شرائط مباہلہ طے کرنے کے لئے شیخ عبدالرحمن مصری کو ہی بطور معتمد علیہ اور مستند نمائندہ پیش کیا تھا۔
آخر شیخ مصری صاحب مورخہ ٢٩؍ جون ١٩٣٧ء کو مرزا محمود خلیفہ قادیان کی بیعت باطلہ سے الگ ہو گئے۔ تنسیخ بیعت کے اسباب و وجوہات مصری صاحب کا وہ تحریری بیان ہے جو کہ انہوں نے مرزا محمود کے متعلق عدالت میں دیا ہے۔ یعنی یہ کہ: ”موجودہ خلیفہ سخت بدچلن ہے۔“
خدا تعالیٰ ایسے بدکار اور سیہ کار بناسپتی خلیفوں سے محفوظ رکھے۔ سچ ہے۔
٣٩
اگر دنیا میں رہنا ہے تو کچھ پہچان پیدا کر
الغرض مرزا محمود کے متعدد مخلص مریدوں نے اپنی تحقیق و مشاہدہ کے بعد ان کے کیریکٹر اور چال چلن پر سنگین سے سنگین الزامات لگائے اور ساتھ ہی انہوں نے ان خانہ ساز اہل بیت اور پنجتن کو کھلے الفاظ میں چیلنج کیا کہ اگر ہمارے بیانات والزامات مبنی بر حقائق نہیں تو ہمارے ساتھ مباہلہ کر لو۔ مگر صد افسوس کہ باوجود ان معترضین کی جانب سے بار بار مطالبہ اور دعوت مباہلہ کے، مرزا محمود کو اس امر فیصل کی اب تک ہمت و جرات نہیں ہوئی اور نہ ہی وجود جرائم کے باعث ہو سکے گی۔ ’’فتمنوا الموت ان کنتم صادقین‘‘
پھر مرزا محمود نے حوالہ نمبر ٦ میں کہا ہے کہ: ’’اب وہی سید ہوگا۔ جو مسیح موعود یعنی مرزا قادیانی کی اتباع واطاعت کرے گا۔ اب پرانا رشتہ کام نہیں آئے گا۔‘‘ پرانے رشتہ سے ابن کذاب کی مراد سید الانبیاء ﷺ کا رشتہ ہے۔ جو سادات کرام کو آنحضرت ﷺ سے جسمانی طور پر ہے۔ یعنی بقول قادیانی زندیق اب وہ رشتہ نعوذ باللہ بالکل باطل و منقطع ہوچکا ہے۔ تا آنکہ قادیانی دجال یعنی مرزا قادیانی کی اتباع باطلہ کو قبول نہ کیا جائے۔ سیادت کا یہ معیار کس قدر زندیقانہ ملحدانہ ہے اور سید السادات وفخر موجودات محمد عربی ﷺ کی تاقیامت قائم ودائم رہنے والی سیادت مقدسہ پر کتنا خطرناک حملہ ہے۔ کیا اس سے بڑھ کر بھی سید الانبیاء کی اہانت متصور ہوسکتی ہے؟ نعوذ باللہ منہا!
کتر کے جیب لے گئے پیغمبری کے نام سے
(ظفر الملت)
حضرت سیدۃ النساء فاطمۃ الزہراؓ کی توہین
برادران اسلام! حضرت سیدہؓ کی عظمت وشان مجھ ایسے پرعصیان کی تحریر وبیان سے فی الواقع باہر ہے۔ آپ کی جلالت شان اور مقام معصومیت کے متعلق سید الانبیاء ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن وسط عرش سے منادی ندا کرے گا کہ اے اہل محشر! اپنے سروں کو نیچے جھکا دو اور اپنی آنکھوں کو بند کر لو کہ فاطمہؓ بنت محمدؐ پل صراط سے گزر جائے۔ اس وقت ستر ہزار حوریں حضرت سیدۃ النساء کے ہمراہ بجلی کی طرح پل صراط سے گزر جائیں گی۔
(براہین قاطعہ ترجمہ صواعق محرقہ ص ٣٦٠)
٤٠
علاوہ ازیں شیعہ وسنی کی کتب صحاح میں حضرت بتول کے بیشمار فضائل ومحاسن موجود ہیں۔ مگر قادیانی کذاب کا بیان ملاحظہ ہو۔
اپنی ران پر
- ١٠...... ”حضرت فاطمہؓ نے کشفی حالت میں اپنی ران پر میرا سر رکھا۔“
(ایک غلطی کا ازالہ ص ٨، خزائن ج ١٨ ص ٢١٣)
نوٹ: آپ نے دیکھا کہ ایک ایسا شخص جس کا کیریکٹر آپ اوراق سابقہ میں ملاحظہ فرماچکے ہیں۔ پھر ہر طرح غیر محرم اور وہ بھی دشمن اہل بیت ہے۔ حضرت بتولؓ دختر رسول کی شان اقدس میں یہ کلمات کہے۔ حیف صد حیف!
سیدۃ النساء اور ام المؤمنین کا خطاب
ملت اسلامیہ کو بخوبی علم ہے کہ قادیانی امت نے مرزا قادیانی کی نام نہاد بیوی کو نعوذ باللہ ام المؤمنین اور سیدۃ النساء کا خطاب دے رکھا ہے۔ جیسا کہ ان کی کتب ورسائل میں موجود ہے اور انہی خطابات سے اس رسوائے عالم دہلوی عورت کو لکھتے اور پکارتے ہیں۔ حالانکہ اصطلاح اسلام میں بنص قرآن مجید، ام المؤمنین کا خصوصی خطاب صرف سید الکونینؐ ہی کی ازواج مطہراتؓ کے لئے مخصوص ہے۔ جیسا کہ آیت ”وازواجہ امھتھم (احزاب)“ سے ثابت ہے۔ یعنی نبی علیہ السلام کی بیویاں، امہات المؤمنین ہیں۔ اسی طرح سیدۃ النساء کا خطاب بنص حدیث صحیحہ الہامی خطاب ہے۔ جو کہ آسمانی وحی کے مطابق صرف حضرت بتولؓ کو مالک حقیقی کی جانب سے بطور اعزاز عطا ہوا تھا۔
(رواہ ترمذی)
اب قادیانی امت کے وہ بیانات ملاحظہ ہوں۔
سیدۃ النساء
- ١١...... ”سیرت حضرت سیدۃ النساء ام المؤمنین نصرت جہاں بیگم۔“
(حصہ اول، اخبار الفضل قادیان مورخہ ٣٠؍جون ١٩٤٧ء ص ٤)
- ١٢...... ”سیدۃ النساء حضرت اماں جان ام المؤمنین کی طبیعت میں کمزوری بہت
رہتی ہے۔ چنانچہ آپ عموماً بستر میں ہی رہتی ہیں۔“
(الفضل مورخہ ٢١؍فروری ١٩٥٢ء)
- ١٣...... ”سیدۃ النساء حضرت ام المؤمنین نصرت جہاں بیگم ٢٠؍اپریل کی رات کو
دارالہجرت ربوہ میں اس جہان فانی سے رحلت فرما گئیں۔“
(الفضل مورخہ ٢١؍اپریل ١٩٥٢ء)
٤١
- ١٤...... ’’سیدۃ النساء حضرت ام المومنین کے وہ تاریخی حالات جو ان کی جلالت
شان کے مظہر ہیں۔‘‘
(الفضل مورخہ ٥ جولائی ١٩٥٢ء)
نوٹ: قادیانی امت کی اس ملحدانہ گستاخی اور زندیقانہ دریدہ دہنی سے دل اس قدر مجروح وزخمی ہے کہ بیان تحریر سے باہر ہے۔ طبیعت جوش انتقام میں شعلہ زن ہے کہ اس اسلام کش اور جگر خراش حملہ کا باطل شکن اور فریب سوز جواب دیا جائے اور اس رسوائے عالم اور خانہ ساز سیدۃ النساء اور ام المومنین کے تاریخی حالات وحقائق کی نقاب کشائی کی جائے۔ لیکن تہذیب وشرافت اجازت نہیں دیتی۔
راکب سید الکونین، امام حسین علیہ السلام کی توہین
ورنہ صدہا اند در دنیا یزید
(مولانا رومؒ)
حضرات! جگر گوشہ سید السادات، راحت سرور کائنات، ابن اسد اللہ، نور سیدۃ النساء، منبع شجاعت، پیکر شہادت، علمبردار حریت، ضیغم اقلیم عزیمت، محی الملت والدین سیدنا امیر المومنین، راکب سید الکونین، سیدی حضرت حسین امام ہمام علیہ السلام کی جو عظمت شان اور مقام بلند اسلام میں ہے۔ وہ آپ خداوند عالم اور رسول اکرم ﷺ کی زبان ترجمان سے قرآن وحدیث میں ملاحظہ فرمائیں۔ مثلاً آیت ”انما يريد الله ليذهب عنكم الرجس اهل البيت“ دیکھو سورۂ احزاب و مسلم شریف، اور پھر کہیں سید الانبیاء ﷺ نے بشارت خداوندی کے ماتحت ان ”محسنین“ اسلام کی شان میں فرمایا۔ ”ان الحسن والحسین سید اشباب اهل الجنة (رواہ ترمذی)“ یعنی بے شک حسن و حسین نو جوانان جنت کے سردار ہیں اور کہیں سبطین رسول، نور عین بتول کا شان تعلق شفقت جدی کے ماتحت بایں الفاظ بیان فرمایا۔ ”قال رسول الله ﷺ للحسن والحسين هذان ابنائى (رواہ ترمذی)“ یعنی رسول اللہ ﷺ نے امام حسن و حسین کے لئے فرمایا کہ یہ دونوں میرے بیٹے ہیں اور کہیں خاتم الانبیاء نے خصوصی و امتیازی شان دے کر درمکتوم امام مظلوم شہید کربلا کے متعلق فرمایا۔ ”حسين منى وانا من حسين (رواہ ترمذی)“ یعنی حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں۔ ہاں وہ محسنِ اسلام حسین جس نے دشتِ کربلا میں نہ صرف اپنا ہی بلکہ خاندانِ نبوت حتیٰ کہ علی اکبر وعلی اصغر کا بھی خونِ معصوم دے کر دینِ پژمردہ اور ملتِ بے جان کی آبپاشی کی۔ ”لا ریب شہید ابن محمد“۔
٤٢
پس بنائے لا الہ گردیدہ است
(اقبالؒ)
بخدا وہ حسینؓ جس نے احیائے اسلام اور دین خیرالانام ﷺ کی خاطر فسق وفجور، کبر وغرور، کفر والحاد، ظلم واستبداد، نخوت وشقاوت اور لادینی سیاست کا قلع قمع اور استیصال کیا اور گلشن ملت کی خزاں رسیدہ بہار کو خون شہادت سے تروتازگی بخشی۔ ہاں وہ زندہ جاوید حسینؓ کہ جس کا خون شہادت آج بھی ملت بے عمل کو یہ سرمدی پیغام دے رہا ہے کہ؎
خون حسینؓ باز دہ کوفہ وشام خویش را
(اقبالؒ)
اب اس شہید خداوندی اور محبوب ایزدی کی شان مقدس میں کذاب وقت مرزائے قادیانی نے ایسی ایسی دلخراش وجگر پاش اور شرمناک گستاخیاں کی ہیں کہ یزید دمشقی، کلب النار ابن زیاد اور شمر لعین کی ارواح خبیثہ کو بھی مات کر دیا ہے۔ ان ملحدانہ گستاخیوں کی مختصر فہرست مرزا قادیانی کی عبارات ذیل میں ملاحظہ کریں۔ نقل کفر کفر نباشد!
صد حسینؓ
- ......١
صد حسین است درگریبانم
(نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ص ٤٧٧، درثمین فارسی ص ٢٨٧)
ترجمہ: میری ہر سیر ایک کربلا ہے۔ میرے گریبان میں سو حسین ہیں۔
سو حسینؓ کی قربانی
- ......٢ از مرزا محمود قادیانی: حضرت مسیح موعود نے فرمایا کہ: ”میرے گریبان میں
سو حسین ہیں۔ لوگ اس کے معنی یہ سمجھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود نے فرمایا ہے۔ میں سو حسین کے برابر ہوں۔ لیکن میں کہتا ہوں۔ اس سے بڑھ کر اس کا مفہوم یہ ہے کہ سو حسین کی قربانی کے برابر میری ہر گھڑی کی قربانی ہے۔ وہ شخص جو اہل دنیا کی فکروں میں گھلا جاتا ہے۔ جو ایسے وقت میں کھڑا ہوتا ہے۔ جب کہ ہر طرف تاریکی اور ظلمت پھیلی ہوئی ہے۔ وہ دن رات دنیا کا غم کھاتا ہو۔
٤٣
کون کہہ سکتا ہے کہ اس کی قربانی سو حسین کے برابر نہ تھی۔ پس یہ تو ادنیٰ سوال ہے کہ حضرت مسیح موعود امام حسینؓ کے برابر تھے یا ادنیٰ۔‘‘
(مندرجہ اخبار الفضل قادیان مورخہ ٢٦؍جنوری ١٩٢٦ء)
نوٹ : کذاب اور ابن کذاب کا گستاخانہ بیان کوئی محتاج تشریح نہیں۔ یعنی یہ تو سوال ہی قابل غور نہیں کہ ان کے نزدیک مرزا قادیانی کی ہر گھڑی سو حسین کی قربانی کے برابر تھی۔ دیکھا! یہ ہے قادیانی یزیدیوں اور ربوہ کے خارجیوں کا ایمان۔ نعوذ باللہ منہا!
اس حسینؓ سے بڑھ کر
- ٣...... ”اے قوم شیعہ! اس پر اصرار مت کرو کہ حسین تمہارا منجی ہے۔ کیونکہ میں
سچ سچ کہتا ہوں کہ آج تم میں ایک ہے کہ اس حسین سے بڑھ کر ہے۔ اب میری طرف دوڑو کہ سچا شفیع میں ہوں۔‘‘
(دافع البلاء ص ١٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣)
امام حسینؓ کا نام تک نہیں
- ٤...... ”(مسلمان) امام حسین پر میری فضیلت سن کر یوں ہی غصہ میں آجاتے
ہیں۔ قرآن کریم نے کہاں امام حسین کا نام لیا ہے۔ زید کا ہی نام لیا ہے۔ اگر ایسی ہی بات تھی تو چاہئے تھا کہ امام حسین کا نام بھی لے دیا جاتا اور پھر ”ماکان محمد ابا احد من رجالکم“ کہہ کر اور بھی ابوت کا خاتمہ کر دیا۔ اگر ”الا حسین“ اس آیت کے ساتھ کہہ دیا جاتا تو شیعہ کا ہاتھ کہیں تو پڑ جاتا۔‘‘
(ملفوظات احمدیہ حصہ چہارم ص ١٩١)
امام حسینؓ کو مجھ سے کیا نسبت؟
- ٥...... ”بعض نادان شیعہ نے جنہوں نے حسین کی پرستش کو اسلام کا مغز سمجھ لیا
ہے۔ ہمارے رسالہ دافع البلاء کے دیکھنے سے بہت زہر اگلا ہے اور گالیاں دے کر یہ اعتراض کیا ہے کہ کیونکر ممکن ہے کہ یہ شخص امام حسین سے افضل ہو۔ افسوس یہ لوگ نہیں سمجھتے کہ قرآن نے تو امام حسین کو رتبہ اہلیت کا بھی نہیں دیا۔ بلکہ نام تک مذکور نہیں۔ ان سے تو زید ہی اچھا رہا۔ جس کا نام قرآن میں موجود ہے۔ حق تو یہ ہے کہ : ”ماکان محمد ابا احد من رجالکم“ کی آیت نے اس تعلق کو جو امام حسین کو آنحضرت ﷺ سے بوجہ پسر دختر ہونے کے تھا نہایت ہی ناچیز کر دیا ہے۔ لیکن میں مسیح موعود نبی اور رسول ہوں۔ اب سوچنے کے لائق ہے کہ امام حسین کو مجھ سے کیا نسبت ہے۔ یہ اور بات ہے کہ سنی اور شیعہ مجھ کو گالیاں دیں۔ یا میرا نام کذاب، دجال، بے ایمان رکھیں۔‘‘
(نزول المسیح ص ٤٤، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)
٤٤
(سنی یا شیعہ نے نہیں بلکہ خود خاتم الانبیاء ﷺ نے ہی تمہارا نام کذاب، دجال رکھا ہے۔ دیکھو مسلم، ابوداؤد، مشکوٰۃ، کتاب الفتن)
نوٹ: مرزا قادیانی نے امام المسلمین، امیرالمؤمنین، سیدنا حضرت حسین علیہ السلام پر جو ذلیل اور رکیک حملے کئے ہیں۔ ان کا قلب سوز نقشہ آپ کے سامنے ہے۔ قرآن مجید میں مدحت حسین، دیکھو آیت: ”انما یرید اللّٰہ“ صاحب قرآن نے خود تفسیر فرمائی کہ یہ آیت حسین پاک کی شان میں ہے۔ (مسلم شریف مشکوٰۃ) دلیل ابوت ویسے تو ہر نبی ہی اپنی امت کا روحانی اب یعنی باپ ہے۔ مگر امامین شہیدین یعنی حضرت حسنؓ و حسینؓ کو خصوصیت سے خاتم الانبیاء نے فرمایا کہ: ”هذان ابنای“ یعنی حسنؓ و حسینؓ دونوں میرے بیٹے ہیں۔ پھر معاند اہل بیت قادیانی گستاخ نے بغض حسینؓ میں ایک یہ اعتراض کیا ہے کہ قرآن میں حسین کا نام تک نہیں آیا۔ جس کا قرآن پاک میں بالصراحت نام نہ ہو۔ بقول شیادہ صاحب فضیلت اور امام برحق نہیں ہوسکتا۔ قرآن مجید میں تو بیشمار انبیاء صادقین کے نام بھی مذکور نہیں۔ جیسا کہ سورۃ مؤمن کی آیت ”لم نقصص“ سے ثابت ہے۔ حالانکہ قادیانی امت کے معنوی آباء و اجداد فرعون، ہامان، قارون، جالوت، ابولہب، ابلیس وغیرہ کے نام قرآن حکیم میں موجود ہیں۔ پس کیا جواب ہے۔
پھر مرزا قادیانی نے اپنی کتاب میں حسب عادت ایک جگہ برسبیل تحدی یہ کذب بیانی اور لاف زنی بھی کی ہے کہ قرآن میں میرا نام ہے۔ اگر نہیں تو میں جھوٹا ہوں۔ ملاحظہ ہو: ”اگر قرآن نے میرا
(تحفہ ندوہ ص ٥، خزائن ج ١٩ ص ٩٨)
نام ابن مریم نہیں رکھا تو میں جھوٹا ہوں۔“
اب قادیانی امت کو ہمارا چیلنج ہے کہ وہ دکھلائے کہ قرآن مجید کے کس مقام پر ہے کہ غلام احمد ابن غلام مرتضیٰ قادیانی ابن مریم ہے۔ کیا یہ قادیانی کذاب و مفتری کا قرآن پاک پر کذب وافتراء نہیں؟
دراصل مرزا قادیانی کو شہید کربلا سید الشہداء کے ساتھ جو فطری بغض و عناد اور دشمنی ہے اس کے پیش نظر ہمارا دعویٰ ہے کہ اگر قرآن کریم میں سیدنا امام حسین علیہ السلام کا بالصراحت بھی نام ہوتا اور ابوت روحانیہ کی بجائے، ابوت حقیقیہ ہوتی تو پھر بھی قادیانی یزید کا امام معصوم سے بغض و عناد بدستور قائم رہتا اور حضرت امام علیہ السلام کی ابوت حقیقیہ اور مقام فضیلت کو کنعان و آذر کی مثال دے کر مسترد کر دیا جاتا۔ جیسا کہ حوالہ جات ذیل سے اظہر من الشمس ہے۔ ملاحظہ ہو:
دو تین فقروں کے سوا
- ٦...... ”امام حسینؓ نے جو بھاری نیکی کا کام دنیا میں آکر کیا وہ صرف اس قدر
٣٥
ہے کہ ایک دنیا دار کے ہاتھ پر انہوں نے بیعت نہ کی اور اسی کشاکش کی وجہ سے شہید ہو گئے۔ مگر یہ ایک شخصی ابتلاء ہے۔ جو انہیں پیش آیا جو شخص محض خدا تعالیٰ کے لئے کسی سے محبت کرتا ہے۔ اس کو چاہئے کہ خدا تعالیٰ سے خوف کر کے دیکھے کہ خدا تعالیٰ کی راہ میں اس نے کیا کیا عمدہ کام کیا ہے۔ ناحق فضیلت ان کو نہ دیوے۔ کوئی نہیں سمجھ سکتا کہ محض رشتہ سے کیونکر فضیلت پیدا ہو جاتی ہے۔ خاص کر کے ذرا سے رشتہ سے جو نواسہ ہوتا ہے۔ کنعان حضرت نوح علیہ السلام کا بیٹا تھا اور آزر حضرت ابراہیم کا باپ، پس کیا انہیں یہ رشتہ کام آیا۔ پس یہ سمجھ لینا چاہئے کہ اہل بیت ہونا اپنے نفس میں کچھ بھی چیز نہیں ہے ١؎ ۔ اگر ہم امام حسین کی خدمات کو لکھنا چاہیں تو کیا ان دو تین فقروں کے سوا کہ وہ انکار بیعت کی وجہ سے کربلا میں روکے گئے اور شہید کئے گئے۔ کچھ اور بھی لکھ سکتے ہیں؟ یہ اتفاقی حادثہ تھا جو امام صاحب کو پیش آ گیا اور بڑا بھاری ذخیرہ ان کے درجہ کا صرف یہی ایک حادثہ ہے۔ جس کو محض غلو اور نا انصافی کی راہ سے آسمان تک کھینچا جاتا ہے۔“
(بیان مرزا قادیانی مندرجہ رسالہ تشحیذ الاذہان نمبر ٢ ج ١)
نوٹ: دیکھا! قادیانی خارجی نے کنعان و آزر وغیرہ کی مثال دے کر اور شہادۃ عظمیٰ کو محض ایک اتفاقی حادثہ کہہ کر شان حسینی پر کس طرح ہاتھ صاف کیا ہے۔ حالانکہ سید الانبیاء نے علاوہ دیگر فضائل و درجات بیان فرمانے کے، شیر خدا کو باب العلم اور ابن مرتضیٰ کو سفینہ نوح اور وسیلہ نجات قرار دیا ہے۔
(دیکھو مشکوٰۃ مناقب اہل بیت ص ٥٦٧ تا ٥٧٣)
میں حسنؓ و حسینؓ سے اچھا ہوں
”اور انہوں (مسلمانوں) نے کہا کہ اس شخص نے امام حسن و حسین سے اپنے تئیں اچھا سمجھا۔ میں کہتا ہوں کہ ہاں ٢؎ اور میرا خدا عنقریب ظاہر کر دے گا۔ اگر میں جھوٹا ہوتا تو میں ایک یہودی اور مرتد نصرانی کی مانند بھی نہ ہوتا ٣؎ ۔“
(اعجاز احمدی ص ٥٢، خزائن ج ١٩ ص ١٦٤)
مرزا قادیانی کا محبان حسین سے غیظ آمیز خطاب
١؎ مرزا قادیانی کا یہ فیصلہ صرف اہل بیت نبوی ہی کے متعلق ہے۔ اپنے خانہ ساز اہل بیت کے متعلق نہیں۔
٢؎ یعنی ہاں ”انا خیر منہ“ دیکھو قول ابلیس سورہ ص۔
٣؎ یقیناً تم کذاب و مرتد اور یہودی و نصرانی سے بدتر ہو۔
٤٦
سیدنا امام علیہ السلام کی غضب آلود توہین ...... گویا وہی ایک آدمی تھا
...... ٨ ...... ”تم مجھے گالی دیتے ہو اور میں نہیں جانتا کہ کیوں مجھے گالی دیتے ہو۔ کیا امام حسین کے سبب سے تمہیں رنج پہنچا۔ پس تم برافروختہ ہوئے ١؎ کیا تم اس (حسین) کو تمام دنیا سے زیادہ پرہیز گار سمجھتے ہو اور یہ تو بتلاؤ کہ اس سے تمہیں دینی فائدہ کیا پہنچا۔ میں تمہیں حیض والی عورت کی طرح دیکھتا ہوں ٢؎ تم نے حسین کو تمام مخلوق سے بہتر سمجھ لیا ہے۔ گویا آدمیوں میں وہی ایک آدمی تھا۔ کاش تمہیں سمجھ ہوتی۔ کیا تم نے اس (حسین) کا مقام دیکھ لیا ہے یا ساری عمارت ظن پر ہے ٣؎ کیا تم اس (حسین) کو محض جھوٹ اور افتراء کی راہ سے بلند کرنا چاہتے ہو۔ کیا تم اس کو وہ پیالہ پلانا چاہتے ہو جو خدا نے اس کو نہیں پلایا۔ ” واما مقامی “ اور میرا مقام یہ ہے کہ میرا خدا عرش پر سے میری تعریف کر رہا ہے اور عزت دیتا ہے ٤؎“
(اعجاز احمدی ص ٧١ تا ٨١، خزائن ج ١٩ ص ١٧٩ تا ١٨١)
مجھ میں تمہارے حسینؓ میں بڑا فرق ہے
...... ٩ ...... ”ہمارے لئے ایک بہشت ہے کہ ہدایت کی راہ میں اس کے پھول ہیں ٥؎ پہلوں کا پانی مکدر ہو گیا اور ہمارا پانی آخر زمانہ تک مکدر نہیں ہوگا۔ ہم نے دیکھ لیا اور تم اپنے راویوں کا ذکر کرتے ہو۔ کیا قصے دیکھنے کے مقابل پر کچھ چیز ٦؎ ہیں؟ (یاد رکھو) مجھ میں اور
- ١؎ باوجودیکہ وجہ رنج معلوم ہے یعنی توہین حسینؓ مگر پھر بھی پوچھ رہا ہے۔ اس کو کہتے ہیں
تجاہل عارفانہ۔
- ٢؎ اور ہمارا جرم صرف محبت حسینؓ ۔ آہ!
- ٣؎ کیا قرآن وحدیث اور تاریخ اسلامیہ عمارت ظنون ہے۔
- ٤؎ یعنی بالفاظ مرزا قادیانی امام حسینؓ کا نہ ہی یہ مقام ہے اور نہ ہی خدا ان کی تعریف
وعزت کرتا ہے۔ نعوذ باللہ!
- ٥؎ یعنی وہ خانہ ساز قادیان کا قومی بہشت مراد ہے کہ جس پر اہل ہنود آج کل مسلط ہیں۔
- ٦؎ یعنی شان حسینؓ میں قرآن وحدیث اور تاریخ اسلامیہ کی روایات میری وحی کے
مقابلہ میں کچھ چیز نہیں۔
٤٧
تمہارے حسین میں بہت بڑا فرق ہے۔ کیونکہ مجھے تو ہر ایک وقت خدا کی تائید اور مدد مل رہی ہے؎١۔ مگر حسین پس تم دشت کربلا کو یاد کر لو۔ اب تک تم روتے ہو۔ پس سوچ لو اور میں خدا کے فضل سے اس کے کنار عاطفت میں پرورش پا رہا ہوں اور ہمیشہ لئیموں کے حملہ سے جو پلنگ صورت ہیں۔ بچایا جاتا ہوں۔"
(اعجاز احمدی ص ٩٩، خزائن ج ١٩ ص ١٨١)
"اور بہت سے لوگ ہیں۔ جنہوں نے مجھ سے بیعت کی۔ نہ انہوں نے میری بات کی مخالفت کی اور نہ وہ خبیث النفس ہو گئے۔ شریر لوگ تو محض اپنے بخل سے ہلاک ہوئے اور ہماری باتوں کو انہوں نے نہ سمجھا۔ بڑا بزرگ ہمارے زمانے میں وہ ہے جو بڑا شریر ہے اور بڑا عقلمند وہ ہے جو تمام قوم میں سے ایک شیطان اور سب سے بڑا مکر کرنے والا ہے۔ پس میں ان تینوں یعنی ثناء اللہ اور مہر علی اور علی حائری پر روتا ہوں اور نیز اس گروہ پر جو ان کے پیرو ہیں حسرت کرتا ہوں۔ بد بخت گروہ لہو و لعب کے ساتھ ناز کر رہے ہیں۔ میں نے علی حائری کو سب سے جاہل تر دیکھا ہے۔"
(اعجاز احمدی ص ٧٢ تا ٧٤، خزائن ج ١٩ ص ١٨٤ تا ١٨٦)
ورد حسینؑ گوہ کا ڈھیر ہے
١٠....... "تم نے مشرکوں کی طرح حسین کی قبر کا طواف کیا۔ پس وہ تمہیں نہ چھڑا سکا اور نہ مدد کر سکا۔ تم نے اس کشتہ سے نجات چاہی کہ جو نومیدی سے مر گیا اور بخدا اس کی شان مجھ سے کچھ زیادہ نہیں۔ میرے پاس خدا کی گواہیاں ہیں۔ پس تم دیکھ لو اور میں خدا کا کشتہ ہوں۔ لیکن تمہارا حسین دشمنوں کا کشتہ ہے؎٢۔ پس فرق کھلا کھلا اور ظاہر ہے۔ تم نے خدا کے جلال و مجد کو بھلا دیا اور تمہارا ورد صرف حسین ہے۔ کستوری کی خوشبو کے پاس گوہ کا ڈھیر ہے۔"
(اعجاز احمدی ص ٨٠ تا ٨٢، خزائن ج ١٩ ص ١٩٢ تا ١٩٤)
نوٹ: برادران ملت! آپ نے دیکھا کہ مرزا قادیانی طاغوت نے کن کن کینہ آمیز اور غضب آلود الفاظ میں اہل بیت نبویؐ خصوصاً سیدنا امام حسین علیہ السلام کی توہین و اہانت کی ہے۔ کیا اس سگ برطانیہ اور گستاخ ازلی نے اپنی طرف سے تحقیر و تنقیص کا کوئی بھی گوشہ چھوڑا؟ مگر یاد رہے کہ فضیلت حسینؑ اور شان اہل بیت، بدر کامل بلکہ سراج منیر کی طرح درخشاں و روشن ہے۔ لیکن قادیانی خفاش اپنی کور چشمی کے باعث اس نور ایمانی کے دیکھنے سے سراسر محروم البصر اور
١؎ یعنی یہ علت فرق اور دلیل فضیلت ہے۔ ٢؎ "اتق اللہ یا عدو حسینؑ " اے دشمن حسین، اللہ سے ڈر۔
٤٨
شپرہ چشم ہے۔ پھر قادیانی سباب اعظم نے خدام سید الکونین اور محبان حسین کو اس قدر سوقیانہ انداز میں خانہ ساز دشنام طرازیاں اور ملاحیاں سنائی ہیں کہ لکھنؤ کی ماہر فن بھٹیاریوں کو بھی مات کر دیا ہے۔ مثلاً قطع نظر دیگر دشنام مرزا قادیانی کے، آپ سردست مندرجہ بالا عبارت کو ہی ذرا دیکھ لیں کہ جس میں تین بزرگان ملت یعنی مناظر اسلام مولانا ثناء اللہ صاحب امرتسری، مرشد وقت حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑہ شریف، مجتہد العصر حضرت علامہ علی حائری لاہوری کو نعوذ باللہ لئیم، خبیث النفس، شریر، شیطان، مکار، بدبخت، جاہل تر کہا ہے اور یہ صرف نمونہ از خروارے ہے۔ اگر مرزا قادیانی کی ان تمام ایجاد کردہ بدزبانیوں اور گالیوں کی فہرست مرتب کی جائے جو کہ اس نے علماء کرام، مشائخ عظام اور اہل اسلام کو اپنی الہامی کتابوں میں دی ہیں تو ایک شریف آدمی مارے شرم کے گردن جھکا لے۔ بلکہ اپنا منہ چھپالے۔ مگر ہمیں مرزا قادیانی کی اس تہذیب نما گوہرفشانی پر کچھ افسوس ہے نہ ہی تعجب۔ چونکہ جس بدلسان کی نیش زنی اور بدزبانی سے مقدسین اسلام محفوظ نہ رہے۔ وہاں ان کے اتباع و خدام کس طرح محفوظ رہ سکتے تھے۔ سچ ہے۔
ہست درشان امام پاکبازاں نکتہ چیں
تیر برمعصوم میبارد خبیث بدگہر
آسماں را می سزد گر سنگ بارد بر زمیں
یزید لعین کی تعریف
خون پور فاطمہؑ کردہ حلال
حضرات! یزید پلید کے انسانیت سوز کارنامے، اخلاق سوز اعمال وافعال اور اس کی خلاف اسلام تخریبی سرگرمیاں سیاہ حروف کے ساتھ تاریخ عالم میں تا قیامت رہیں گی۔ لاریب خون اہل بیت کی تمام تر ذمہ داری اسی ملعون ہی کی گردن پر ہے۔
شفاعة جده يوم الحساب
یعنی کیا وہ ملعون گروہ جس نے حصول دنیا کی خاطر نشہ اقتدار میں نورِ بتول، جگر گوشہ رسول امام حسینؓ کو دشت کربلا میں قتل کیا۔ سید الکونین جدالحسنؑ والحسینؑ کی شفاعت کا امیدوار ہو سکتا ہے؟ لیکن مرزا قادیانی بڑی تحدی اور دعوٰی کے ساتھ یزید پلید کی مدح و تعریف کرتا ہے اور
٤٩
اس کو بھی اپنی طرح مجدد ملت اور محافظ دین قرار دیتا ہے۔ چنانچہ کہتا ہے کہ:
- ١...... ”شیعہ مذہب اسلام کا سخت مخالف ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ سب سے
زیادہ بدنام یزید ہے۔ اگر اس کی شراکت سے امام حسین کی شہادت ہوئی تو برا کیا۔ لیکن آج کل کے شیعہ بھی مل کر وہ دینی کام نہیں کر سکتے جو اس (یزید) نے کیا۔“
(ملفوظات احمدیہ ج ١ ص ٤٢٥)
نوٹ: ہاں صاحب! تیرہ سو سال میں مبلغ اسلام اور محافظ دین تو بقول مرزا قادیانی صرف دو فرد ہی ہوئے ہیں۔ ایک یزید دمشقی اور دوسرا اس سے بڑھ کر یزید قادیانی۔ باقی سنی ہوں یا شیعہ۔ یہ سب فی الواقعہ قادیانی امت کے تلبیس نما دجل آمیز، فریب دہ اور خانہ ساز اسلام کے مخالف ہیں۔ مرزائیو! ہاں ذرا اپنے مخدوم و ممدوح یزید لعین کی دینی خدمات کی فہرست تو پیش کرو۔ یا ہم شہیدان کربلا اور خاندان نبوت کی فہرست پیش کریں۔ تاکہ تمہارے روحانی مقتداء اور پیشوا کے دینی و ملی کارناموں کا سیاہ باب منظر عام پر آ جائے۔ شرم ! شرم !! شرم !!! اصل میں مرزا قادیانی کو یزید پلید سے جو اس قدر والہانہ عقیدت ہے۔ وہ بلاوجہ نہیں۔
کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے
بلکہ اس لئے کہ دمشق اور قادیان میں بعض مخصوص کارہائے نمایاں کی وجہ سے ایک خاص ظلی و بروزی اور معنوی مناسبت ہے۔ جیسا کہ مرزا قادیانی اپنی کتاب میں خود لکھتے ہیں کہ:
- ٢...... ”یہ قصبہ قادیان بوجہ اس کے کہ اکثر یزیدی الطبع لوگ اس میں سکونت
رکھتے ہیں۔ دمشق سے ایک مناسبت اور مشابہت رکھتا ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ٧٣، خزائن ج ٣ ص ١٣٨)
ظاہر ہے کہ قادیان میں تسلط اور اکثریت مرزائیوں ہی کی تھی اور یہی لوگ اپنے اعمال وافعال اور نمایاں کارناموں کی وجہ سے یزیدی الطبع تھے۔ یعنی سیاہ کاری و بدکاری، اپنے مخالفین و منکرین پر ہر طرح کا ظلم و ستم اور تشدد، ان کا اقتصادی اور سوشل مقاطعہ و بائیکاٹ شب تاریک اور روز روشن میں مسلمانوں کا قتل و غارت اور ان کے مکانات کو نذر آتش کرنا۔ دین مرزائی قبول کرانے کے لئے خفیہ اور علانیہ جبر و اکراہ اور ان کو مرعوب کرنے کے لئے بارہ مہینے ان پر سراسر فرضی و جعلی مقدمات دائر کرنا وغیرہ۔ قادیانی امت کا ایک خاص مشغلہ تھا۔ ان تمام لرزہ براندام اور انسانیت سوز واقعات و حقائق کی مفصل و مکمل روئیداد اور تفصیل اپنی غیر ملکی و بے خبر حکومت اور غفلت شعار و جمود پسند ملت کے سامنے ہم عنقریب پیش کریں گے۔ انشاء اللہ! بہرکیف ؎
٥٠
گیا دور حدیث لن ترانی
ملت اسلامیہ سے ایک اہم سوال
اے گرفتار ابوبکرؓ وعلیؓ ہشیار باش
(اقبالؒ)
برادران ملت! ان مختصر اوراق میں قادیانی امت کے عقائد باطلہ کا مختصر نقشہ آپ نے یقیناً ملاحظہ کر لیا ہوگا۔ ہر چند مندرجہ بالا صفحات میں اس حزب مرتدہ کے زندیقانہ خیالات اور ملحدانہ نظریات کی صرف ایک جھلک ہی پیش کی گئی ہے۔ ورنہ اس امت کذاب نے اصول دین، انبیاء صادقین، کلام رب العالمین، صحابہ کرامؓ، اہل بیت عظامؓ، جمہور اہل اسلام اور شعائر اللہ یعنی مکہ معظمہ و مدینہ منورہ اور دیگر مقامات مقدسہ کی جو توہین و تنقیص اور تضحیک و تذلیل کی ہے۔ احاطہ تحریر اور بیان لغت و شنید سے باہر ہے۔ اب سوال ہے کہ کیا امت محمدیہ اور امت مرزائیہ میں اختلاف کی نعوذ باللہ وہی نوعیت ہے جو کہ فرق اسلام یعنی سنی، شیعہ، حنفی، وہابی، دیوبندی، بریلوی وغیرہ میں اختلاف کی نوعیت ہے۔ کیا قادیانی امت اور ملت اسلامیہ کے مابین انتخاب خلافت خلیفہ بلا فصل تفضیل علی یا تقلید، عدم تقلید اور فقہی فروعات وجزئیات یا بعض رسومات کی لفظی نزاع کے مسائل کا کوئی اختلاف ہے؟ نہیں اور ہرگز نہیں۔ بلکہ ملت اسلامیہ اور ملت مرزائیہ کے درمیان حق و باطل، صدق و کذب، اسلام و ارتداد، ایمان وزندقہ، توحید وشرک، نبوت حقہ ونبوت باطلہ کا ایک اصولی وبنیادی اختلاف ہے جو کہ اہل اسلام اور اہل ارتداد کے مابین بحد المشرقین اور سد سکندری کی مانند حائل ہے۔ چنانچہ یہ وہ حقیقت کبریٰ ہے کہ جس کو خود ملت ارتداد کے بانی مرزا قادیانی اور اس کی تمام مرتدامت نے تسلیم کیا ہے۔
بکلی ترک
- .......١ بیان مرزا قادیانی: ”تمہیں دوسرے فرقوں کو جو دعویٰ اسلام کرتے ہیں
بکلی ترک کرنا پڑے گا۔“
(تحفہ گولڑویہ ص ١٨، خزائن ج ١٧ ص)
١؎ حضرت علامہؒ نے خوب کہا۔
غواص کو مطلب ہے صدف سے کہ گہر سے
٥١
کل مسلمان کافر
- ٢...... بیان مرزا محمود: ”کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود کی بیعت میں شامل نہیں
ہوئے، خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا وہ کافر ہیں۔“
(آئینہ صداقت ص ٣٥)
ہم اقلیت ہیں
- ٣...... ”سوال یہ ہے کہ ایک اقلیت اکثریت کے مذہب کو بدلنے کے لئے کس
قدر قربانی کے بعد لٹریچر وغیرہ مہیا کر سکتی ہے۔ مثلاً ہماری جماعت ہی کو لے لو۔ ہم اقلیت ہیں۔“
(اسلام کا اقتصادی نظام ص ٦٢، الفضل قادیان مورخہ ١٩؍ اگست ١٩٥٢ء)
مقام حج اور اصل غرض
- ٤...... ”ہمارا جلسہ بھی حج کی طرح ہے۔ حج خدا تعالیٰ نے مؤمنوں کی ترقی کے
لئے مقرر کیا تھا۔ آج احمدیوں کے لئے دینی لحاظ سے تو حج مفید ہے۔ مگر اس سے جو اصل غرض یعنی قوم کی ترقی تھی۔ وہ انہیں حاصل نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ حج کا مقام ایسے لوگوں کے قبضہ میں ہے۔ جو احمدیوں کو قتل کر دینا جائز سمجھتے ہیں۔ اس لئے خدا تعالیٰ نے قادیان کو اس کام (حج) کے لئے مقرر کیا ہے۔“
(برکات خلافت ص ٧)
احمدی مسلمان نہیں
- ٥...... ”پرسوں میں لاہور ہی میں تھا۔ جب مرزا محمد ابو سعید صاحب سپرنٹنڈنٹ
ریلوے پولیس کو ایک سکھ نے قتل کر دیا۔ معلوم یہی ہوتا ہے کہ قاتل نے اس تحریک کا اثر لیا جو سکھوں میں مسلمانوں کے خلاف پیدا کی جارہی ہے اور سمجھا جس پر حملہ کرنے لگا ہوں۔ وہ ابو سعید ہے۔ یہ نہ سمجھا کہ احمدی ہے۔ اس نے مسلمان سمجھ کر قتل کر دیا۔“
(بیان مرزا محمود الفضل قادیان مورخہ ١٥؍ جون ١٩٤٦ء)
نوٹ: یعنی بقول مرزا محمود وہ سکھ صرف محمد ابو سعید، نام ہی سے مغالطہ کھا گیا کہ شاید یہ شخص بھی مسلمان ہے۔ اگر سکھ کو یہ علم ہوتا کہ یہ احمدی ہے۔ مسلمان نہیں تو پھر قتل نہ کرتا۔ جیسا کہ آج کل قادیانی امت کے اسلامی ناموں کی وجہ سے بعض کور چشم مسلمان بھی فریب کھا رہے اور فریب دے رہے ہیں۔ حالانکہ محض اسلامی نام رکھنے کی وجہ سے کوئی شخص مسلمان نہیں ہو جاتا۔ چونکہ اسلامی نام تو قادیانی مرتدین کے علاوہ یہود و نصاریٰ بھی رکھ لیتے ہیں۔ جیسا کہ مرزا قادیانی نے خود لکھا ہے۔
٥٢
......٦ ”ڈاکٹر احمد شاہ صاحب عیسائی ١؎ اور پادری عماد الدین کی تحریریں سخت ہیں ۔“
(تبلیغ رسالت ج٧ ص٣٦، مجموعہ اشتہارات ج٣ ص٤٠)
ہندو، مسلم اور مرزائی
......٧ ”ہمیں کسی قوم سے بھی نیکی اور ہمدردی کی توقع نہیں۔ وقت آنے پر نہ ہندو ہمارے خیر خواہ ہوں گے۔ نہ مسلمان ہماری مدد کریں گے۔ ساری قومیں ہی ہمیں مظالم کا تختۂ مشق بنائیں گے۔“
(بیان مرزا محمود قادیانی الفضل قادیان مورخہ ١٩؍مئی ١٩٢٧ء)
نوٹ: سوال ہے کہ تمہارے ساتھ ایسا سلوک کیوں ہوگا۔ اس لئے کہ کوئی بھی ایسی قوم نہیں کہ جس کے مقدس اور واجب الاحترام بزرگوں کی قادیانی امت نے سوقیانہ انداز میں توہین وتنقیس نہ کی ہو اور قادیانی تہذیب وشرافت کا گند ان پر اچھالا نہ گیا ہو۔ ”فـذوقـوا عـذاب اعمالکم“
ایک احمدی اور دس ہزار مسلمان
......٨ ”ایک احمدی لڑکی کا مرتد (یعنی مسلمان) ہو جانا دس ہزار غیر احمدی لڑکیوں کے احمدی ہونے سے بھی برا ہے۔“
(بیان مرزا محمود، الفضل قادیان مورخہ ١٩؍اپریل ١٩٣٩ء)
ہر بات میں اختلاف
......٩ ”حضرت مسیح موعود نے فرمایا ہے۔ ان (مسلمانوں) کا اسلام اور ہے اور ہمارا اسلام اور ہے۔ ان کا خدا اور ہے اور ہمارا خدا اور۔ ہمارا حج اور ہے ان کا اور، اور اسی طرح ان سے ہر بات میں اختلاف ہے۔“
(بیان مرزا محمود، مورخہ الفضل قادیان مورخہ ٢١؍اگست ١٩١٧ء)
قادیانی امت کا دین
......١٠ ”اللہ تعالیٰ نے اس آخری صداقت کو قادیان کے ویرانہ میں نمودار کیا اور حضرت مسیح موعود کو فرمایا کہ جو دین تو لے کر آیا ہے۔ اسے تمام دیگر ادیان پر غالب کروں گا۔“
(الفضل مورخہ ٣؍فروری ١٩٣٥ء)
ہر رسول کا منکر کافر ہے
......١١ ”حضرت مسیح موعود نے اس معروف اسلامی اصول کے ماتحت کہ ہر رسول کا منکر کافر ہوتا ہے۔ اپنے منکروں کو کافر قرار دیا ہے۔ بلکہ یہاں تک لکھا ہے کہ جس شخص پر
١؎ اس مقام پر نام احمد ، شاہ اور پھر عیسائی زیادہ قابل غور ہے۔
٥٣
میرے دعویٰ کے متعلق اتمام حجت نہیں ہوا، ایسے شخص کو بھی ہم کافر قرار دیں گے۔“
(کتاب مسئلہ جنازہ کی حقیقت ص٢٢٠)
نبوت مرزا کا منکر پکا کافر ہے
- ١٢...... ”ہر ایک ایسا شخص جو موسیٰ کو تو مانتا ہے مگر عیسیٰ کو نہیں مانتا۔ عیسیٰ کو مانتا ہے
مگر محمد ﷺ کو نہیں مانتا۔ یا محمد ﷺ کو مانتا ہے مگر مسیح موعود (مرزا قادیانی) کو نہیں مانتا۔ وہ پکا کافر ہے۔“
(کلمۃ الفصل ص٢٨)
حضرات! اہل اسلام کے متعلق مرزا قادیانی اور اس کی خانہ ساز امت کے خیالات ونظریات اور فتاویٰ آپ ملاحظہ فرما چکے ہیں۔ یہ صرف چند حوالہ جات بطور نمونہ از خرمن باطل پیش کئے گئے ہیں۔ آپ انہی سے سمجھ لیں کہ امت محمدیہ اور امت مرزائیہ میں کیا اختلاف ہے اور اس بعد المشرقین اختلاف کی اصل نوعیت کیا ہے۔
قادیانی امت کے انہی عقائد باطلہ کی وجہ سے حال ہی میں حکومت مصر کے شہرۂ آفاق دنیائے عرب کے واجب الاحترام شیخ الاسلام مفتی اعظم السید محمد حسین مخلوف زاد مجدہم نے فراست خداداد کے ماتحت فتویٰ صادر فرمایا تھا کہ قادیانی امت لاریب کافر و مرتد اور دائرہ اسلام سے خارج ہے اور نیز یہ کہ مبلغ مرزائیت سرظفر اللہ خاں قادیانی کا مملکت اسلامیہ کے عہدہ وزارت پر متمکن رہنا ملک وملت کے لئے سخت ترین مضر اور نقصان دہ ہے۔ دیکھو دنیائے عرب اور پاکستان کے اسلامی اخبارات، دیگر عرض ہے کہ سیدی حضرت مفتی مصر زاد شرفہم کے فتویٰ ہی پر موقوف نہیں ہے۔ بلکہ بلا اختلاف تمام دنیائے اسلام اور ممالک اسلامیہ قادیانی امت کو کافر ومرتد اور دائرہ اسلام سے بکلی خارج قرار دیتے ہیں۔ جیسا کہ ان کے قول و فعل سے ثابت ہے اور یہ وہ حقیقت ثابتہ ہے کہ جس کو خود مرزا قادیانی نے بھی تسلیم کیا ہے۔ چنانچہ مرزا قادیانی کا وہ بیان مصدقہ ذیل میں ملاحظہ ہو۔
تمام ممالک اسلامیہ کا اجتماعی فیصلہ
- ١٣...... ”چونکہ میں دیکھتا ہوں کہ بعض جاہل اور شریر لوگ مسلمانوں میں سے
گورنمنٹ (برطانیہ) کے مقابل پر ایسی ایسی حرکتیں ظاہر کرتے ہیں۔ جن سے بغاوت کی بو آتی ہے۔ اس لئے میں اپنی جماعت کو نہایت تاکید سے نصیحت کرتا ہوں کہ وہ میری اس تعلیم کو خوب یاد رکھیں۔ جو قریباً ٢٦ برس سے تقریری اور تحریری طور پر ان کے ذہن نشین کرتا آیا ہوں۔ یعنی یہ کہ
٥٤
اس گورنمنٹ انگریزی کی پوری اطاعت کریں ١ کیونکہ وہ ہماری محسن گورنمنٹ ہے۔ ان کی ظل حمایت میں ہمارا فرقہ احمدیہ چند سال میں لاکھوں تک پہنچ گیا ہے اور اس گورنمنٹ کا احسان ہے کہ اس کے زیر سایہ ہم محفوظ ہیں۔ خدا تعالیٰ کی مصلحت نے اس گورنمنٹ کو اس بات کے لئے چن لیا تاکہ یہ فرقہ احمدیہ اس کے زیر سایہ ہوکر ترقی کرے۔ کیا تم یہ خیال کر سکتے ہو کہ تم سلطان روم کی عملداری میں رہ کر یا مکہ اور مدینہ ہی میں اپنا گھر بنا کر شریر لوگوں کے حملوں سے بچ سکتے ہو۔ نہیں ہرگز نہیں ٢ بلکہ ایک ہفتہ میں ہی تم تلوار سے ٹکڑے ٹکڑے کئے جاؤ گے۔ تم سن چکے ہو کہ کس طرح صاحبزادہ عبداللطیف جو ریاست کابل کے ایک نامور رئیس تھے۔ وہ جب میری جماعت میں داخل ہوئے تو محض اسی قصور سے کہ میری تعلیم کے موافق جہاد کے مخالف ہو گئے تھے۔ امیر حبیب اللہ خان نے نہایت بے رحمی سے ان کو سنگسار کر دیا۔ پس کیا تمہیں کچھ توقع ہے کہ تمہیں اسلامی سلاطین کے ماتحت کوئی خوشحالی میسر آئے گی۔ بلکہ تم تمام اسلامی علماء کے فتوؤں کی رو سے واجب القتل ٹھہر چکے ہو۔ سو یاد رکھو کہ ایسا شخص میری جماعت میں داخل نہیں رہ سکتا۔ جو اس گورنمنٹ کے مقابلہ پر کوئی باغیانہ خیال دل میں رکھے۔ یہ تو سوچو کہ اگر تم اس گورنمنٹ کے سایہ سے باہر نکل جاؤ تو پھر تمہارا ٹھکانہ کہاں ہے۔ ایسی سلطنت کا بھلا نہ ماننا تو جو تمہیں اپنی پناہ میں لے لے گی۔ ہر ایک اسلامی سلطنت تمہارے قتل کرنے کے لئے دانت پیس رہی ہے۔ کیونکہ ان کی نگاہ میں تم کافر اور مرتد ٹھہر چکے ہو۔ سو تم اس خدا داد نعمت کی قدر کرو اور تم یقیناً سمجھ لو کہ سلطنت انگریزی تمہاری بھلائی کے لئے ہی اس ملک میں قائم ہوئی ہے اور اگر اس سلطنت پر کوئی آفت آئے تو وہ آفت تمہیں بھی نابود کرے گی ٣ یہ مسلمان لوگ جو اس فرقہ احمدیہ کے مخالف ہیں تم ان کے علماء کے فتوے سن چکے ہو۔ یعنی یہ کہ تم ان کے نزدیک واجب القتل ہو اور ان کی آنکھ میں ایک کتا بھی رحم کے لائق ہے۔ مگر تم نہیں ہو۔ تمام پنجاب اور ہندوستان کے فتوے بلکہ تمام ممالک اسلامیہ کے فتوے تمہاری نسبت یہ ہیں کہ تم واجب القتل ہو۔ سو یہی انگریز ہیں جن کو لوگ کافر کہتے ہیں۔ جو تمہیں ان خونخوار دشمنوں سے بچاتے ہیں اور ان کی تلوار کے خوف سے تم قتل کئے جانے سے بچے ہوئے ہو۔
١ ایک طرف یہ کہ انگریز دجال ہیں اور دوسری طرف یہ کہ ان کی مکمل اطاعت کی جائے۔ کیا قتل دجال اسی کا نام ہے۔
٢ لاریب ممالک اسلامیہ خصوصاً مرکز اسلام میں مدعیان نبوت باطلہ نہیں رہ سکتے۔
٣ الحمد للہ! کہ برطانوی سامراج کی لعنت تو ختم ہوئی۔ مگر اس کا خودکاشتہ پودا ابھی باقی ہے جو کہ عنقریب نابود ہوگا۔ انشاء اللہ!
٥٥
ذرا کسی اور سلطنت کے زیر سایہ رہ کر دیکھ لو کہ تم سے کیا سلوک کیا جاتا ہے۔ سو یہی انگریزی سلطنت تمہارے لئے ایک رحمت ہے۔ تمہارے لئے ایک برکت ہے اور تمہارے مخالف جو مسلمان ہیں۔ ہزار ہا درجہ ان سے انگریز بہتر ہیں۔ کیونکہ وہ تمہیں واجب القتل نہیں سمجھتے۔ ظاہر ہے کہ انگریز کس انصاف اور عدل کے ساتھ ہم سے پیش آتے ہیں اور یاد رکھو کہ اسلام میں جو جہاد کا مسئلہ ہے میری نگاہ میں اس سے بدتر اسلام کو بدنام کرنے والا اور کوئی مسئلہ نہیں۔ جن کی تعلیم عمدہ ہے۔ ایسے دین کو جہاد کی کیا ضرورت ہے؟“
(بیان مرزا قادیانی، مورخہ ٧؍مئی ١٩٠٧ء، تبلیغ رسالت ج ١٠ ص ١٢٢، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٨٢ تا ٥٨٤)
مسلمان مدت سے
- ١٤...... ”اگر گورنمنٹ برطانیہ کی اس ملک ہند میں سلطنت نہ ہوتی تو مسلمان
مدت سے مجھے ٹکڑے ٹکڑے کر کے معدوم کر دیتے۔“
(ایام الصلح ص ٢٦، خزائن ج ١٤ ص ٢٥٥، حمامۃ البشریٰ ص ١٤، نور الحق حصہ اوّل ص ٤)
نوٹ: مرزا قادیانی کا مندرجہ بالا مصدقہ بیان کسی مزید تشریح کا محتاج نہیں ہے۔ مرزا قادیانی نے اس بیان میں جہاں اپنی خانہ ساز مرتد امت کو اطاعت برطانیہ اور تنسیخ جہاد کی بشد و مد تلقین کی ہے۔ وہاں امت مرزائیہ اور قادیانی فتنہ سے متعلق تمام ممالک اسلامیہ اور عالم اسلام کے ارتدادسوز نظریہ کو بھی پیش کیا ہے۔ چنانچہ قادیانی کذاب نے بالکل غیر مبہم اور واشگاف الفاظ میں اس حقیقت باطل شکن کو تسلیم کیا ہے کہ بلا اختلاف بالاتفاق اور بالاجماع جملہ مسلمانان عالم مرزائیوں کو مرتد اور واجب القتل سمجھتے ہیں اور نیز یہ کہ قادیانی امت اپنے اس واضح ارتداد کی وجہ سے کسی بھی اسلامی حکومت کے زیر سایہ اور پناہ میں نہیں رہ سکتی۔ جیسا کہ بیان مذکور میں برسبیل اظہار حقیقت مرزا قادیانی نے اپنی امت کو خطاب کرتے ہوئے لکھا ہے کہ: ”کیا تم یہ خیال کر سکتے ہو کہ تم سلطان روم کی عملداری میں رہ کر یا مکہ اور مدینہ میں اپنا گھر بنا کر شریر لوگوں (یعنی مسلمانوں) کے حملوں سے بچ سکتے ہو۔ نہیں ہرگز نہیں۔ بلکہ ایک ہفتہ میں ہی تم تلوار سے ٹکڑے ٹکڑے کئے جاؤ گے۔ ایسی سلطنت کا بھلا نام تو لو۔ جو تمہیں اپنی پناہ میں لے لے گی۔ ہر ایک اسلامی سلطنت تمہارے قتل کرنے کے لئے دانت پیس رہی ہے۔ تمام پنجاب و ہندوستان بلکہ تمام ممالک اسلامیہ کے فتوے تمہاری نسبت یہ ہیں کہ تم واجب القتل ہو۔“ (حوالہ مذکورہ)
پس یہ ہے قادیانی مرتدین کے متعلق تمام اسلامی دنیا کی رائے۔ اب اس کے بعد کسی مرزائی نواز، مفاد پرست، فریب خوردہ، کور چشم، ناعاقبت اندیش شخص کا محض اپنے دنیوی اغراض
٥٦
ومفادات اور ناپائیدار اقتدار کے پیش نظر یہ کہنا کہ قادیانی امت کے خلاف موجودہ ہنگامہ آرائی اور شورش صرف مخصوص جماعت یا چند افراد ملت کی برپا کردہ ہے۔ سراسر خلاف حقیقت ہے۔ جس کی ملت اسلامیہ کے سامنے کوئی قدر و قیمت اور وقعت نہیں ہے۔ چونکہ قادیانی فتنہ کی سرکوبی و بیخ کنی پر تمام ملت اسلامیہ کا کلی اتفاق واجماع ہوچکا ہے اور مسلمانان پاکستان کا موجودہ ایام میں یہی پرزور متفقہ مطالبہ ہے۔ پس اب اس فتنہ اللعالمین کے استیصال سے محض موہوم خطرات کے پیش نظر مسامحت وچشم پوشی اور تساہل وسہل انگاری کرنا ایک لمحہ کے لئے بھی جرم عظیم ہے۔
یک لمحہ غافل بودم وصد سالہ راہم دور شد
قادیانی اشرار اور ضمیر فروش اخبار
فتنے تو ذرا دیکھو ترکیب عناصر کے
یہ امر واقع ہے کہ قادیانی نبوت کا تمام تر دارومدار اور انحصار محض دجل وفریب، کذب وتزویر اور سراپا غلط پروپیگنڈا پر ہی مبنی ہے۔ اس دروغ بیفروغ کی نشر واشاعت اور تشہیر کے لئے قادیانی امت ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں روپیہ تک خرچ کر رہی ہے اور اپنے خاص جاسوسوں کی وساطت سے ایسے ضمیر فروشوں کی تلاش میں رہتی ہے کہ جو مال دنیا اور زرنقد لے کر قادیانی کمپنی کا پروپیگنڈا کریں۔ چنانچہ آج کل بھی بعض بدباطن وسیاہ بخت افراد واخبارات لباس نفاق میں قادیانی امت کی حمایت میں عجیب دجل وفریب اور منافقت سے اپنے خانہ ساز کذب آلود اور دروغ آمیز مضامین ومقالات شائع کر رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے بسا اوقات بعض سادہ لوح افراد وقتی طور پر غلط فہمی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ حالانکہ اس تمام جعل ساز پس منظر کی اصلیت وحقیقت یہ ہے کہ اس قماش کے تمام اشخاص فی الواقع ضمیر فروش اور قادیانی امت کے زرخرید ایجنٹ ہیں۔ جن کو اپنی بے ضمیری اور ایمان فروشی کے عوض قادیانی کمپنی کے خزانہ عامرہ سے ایک رقم خطیر موصول ہوتی ہے تا کہ وہ مومن نما منافق اپنی ملمع سازی سے قادیانی امت کی حمایت میں دجل آمیز پروپیگنڈا کرتے رہیں اور ایسے بدفطرت ولامذہب انسان کم وبیش ہر دور ہی میں موجود ہوتے ہیں۔ جیسا کہ حکیم الامت حضرت علامہ اقبالؒ کے مندرجہ ذیل مکتوب سے بھی اس حقیقت کا مکمل ثبوت ملتا ہے۔ ملاحظہ ہو:
قادیانیوں کی حمایت
١٥...... مخدومی جناب پروفیسر الیاس ٥٧
آپ کا والا نامہ ابھی ملا ہے۔ کتاب ”قادیانی مذہب“ اس سے پہلے موصول ہوگئی تھی۔ حضور نظام کا خط میری نظر سے گزرا تھا۔ لیکن میں نے سنا ہے کہ جو روپیہ ان کی گورنمنٹ کی طرف سے پنجاب میں آتا ہے۔ وہ یا تو پارٹی پالیٹکس پر صرف ہوتا ہے یا ان اخباروں پر جو قادیانیوں کی حمایت کرتے ہیں۔ میں نے یہ بات آپ کو بصیغہ راز لکھ دی ہے۔ والسلام! ٦؍ جون ١٩٣٦ء محمد اقبال
(مکاتیب اقبالؒ حصہ اوّل ص٤٠)
پس آپ اس فرضی جعلی پروپیگنڈا کی حقیقت اس مکتوب اقبالؒ سے ہی سمجھ لیں کہ اس خانہ ساز عیارانہ پروپیگنڈا میں کہاں تک صداقت ہے جو عوام کو فریب دینے کے لئے ٹریکٹوں، پمفلٹوں اور اردو انگریزی اخباروں کی شکل میں قادیانیوں کی حمایت میں کیا جاتا ہے۔ پناہ بخدا!
پس ملت اسلامیہ کو اس قسم کے سراسر بے حقیقت، گمراہ کن، تلبیس نما اور نفاق آمیز شیطانی پروپیگنڈا سے قطعاً متاثر نہیں ہونا چاہئے۔ بلکہ نہایت مستعدی سے میدانِ عمل میں آکر اپنی خداداد قوتِ اجتماعیہ سے قادیانی فتنہ کی سرکوبی و مدافعت کرنی چاہئے۔ خدا توفیق دے۔ آمین!
ملت اسلامیہ کے نام فاتحین یمامہ کا پیغام
قاطع مرتد و ہر زندیق باش
فرمان اقبالؒ اور قادیانی دجال
قادیانی فتنہ کا استیصال جلد تر ہونا چاہئے۔ ترجمان حقیقت حکیم الامت علامہ اقبالؒ نے فرمایا کہ: ”مرزا غلام احمد قادیانی کی تحریک نے مسلمانوں کے ملی استحکام کو بہت نقصان پہنچایا ہے اور آئندہ پہنچائے گی۔ اگر اس کا استیصال نہ کیا گیا۔“
(ملفوظات اقبالؒ ص٢٩٧)
خنجر ایمان
آگیا وقت جہاد ایمان کا خنجر نکال
کہہ دو مرزا سے کہ خاک کعبہ اڑ سکتی نہیں
اپنے دل سے یہ تمنائے جنوں پرور نکال
(ظفر الملت)
٥٨
خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں سب سے آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں
قادیانی نبوت
(پیغام محمدیت بجواب پیغام احمدیت)
حضرت مولانا عتیق الرحمن چنیوٹیؒ
بسم الله الرحمن الرحيم!
الحمد لله وحده والصلوة والسلام على من لا نبي بعده!
برادران ملت: اسلامیان پاکستان یہ امر اچھی طرح ذہن نشین کرلیں کہ مملکت خداداد پاکستان کی تعمیر وبقاء، وحدت و اتحاد پر ہی موقوف ہے اور جو گروہ یا فرقہ اس کے خلاف قدم اٹھائے گا۔ وہ غدار ملک وملت اور دشمن اسلام ہے۔ خواہ مغربی امپیریل ازم کی ”خود کاشتہ“ نبوت ہی کیوں نہ ہو۔ بقول نقاش پاکستان حضرت اقبالؒ ؎
وحدت ہو فنا جس سے وہ الہام بھی الحاد
تاریخ اسلام کی روشنی میں ہمارا خیال تھا کہ قیام پاکستان کے بعد وحدت و اتحاد کے بدترین دشمن اور برساتی فتنے خود بخود دب جائیں گے یا کم از کم نزاکت وقت کے ماتحت خاموش ہو جائیں گے۔ مگر آہ! کس قدر مقام افسوس ہے کہ آج جب کہ پاکستانی مسلمان، ملکی مصائب و مشکلات میں گھرا ہوا ہے اور اس کی تمام تر توجہات کا مرکز دفاع پاکستان کی طرف منعطف اور مبذول ہے۔ قادیانی فرقہ بدستور اپنی مخصوص سرگرمیوں میں مصروف ہے اور امت محمدیہ کو اسلام مقدس کی تعلیم صحیحہ اور عقائد حقہ سے ہٹا کر نبوت جدیدہ کی دعوت دینے میں مبتلا ہے۔ دراصل قادیانی فرقہ کو بعض عارضی وجوہات کی بناء پر سخت غلط فہمی ہوگئی کہ اب مذہبی ڈاکہ زنی کے لئے ہمارے لئے میدان بالکل خالی ہے۔ لہٰذا خانہ ساز نبوت کی نشر و اشاعت خوب دل کھول کر کریں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ہماری چشم پوشی یا خاموشی محض نو پیدا شدہ حالات کے ماتحت تھی۔ ورنہ ہم اس ”مقدس فرقہ“ کی ان صداقت سوز حرکات سے غافل نہیں ہیں۔
مرزا محمود احمد امام جماعت مرزائیہ کا تازہ مضمون بعنوان ’’احمدیت کا پیغام‘‘
حضرات! ہر چند ہم نے صبر و تحمل سے کام لیا اور خاموش رہے۔ مگر قادیانی فرقہ کی موجودہ تیز تر ایمان سوز نقل و حرکت بالخصوص خلیفہ محمود احمد قادیانی کے تازہ شائع شدہ مضمون نے ہمیں مدافعانہ قدم اٹھانے پر مجبور کر دیا۔ اگرچہ ہم اس جواب دینے میں بھی موجودہ حالات کی روشنی میں ایک گونہ قلبی تکلیف محسوس کر رہے ہیں۔ مگر یہ امر کہ باطل کھلے بندوں اپنے ضلالت آمیز خیالات و عقائد کی نشر و اشاعت کرے اور حق ساکت و خاموش رہے۔ ہمارے لئے ناقابل برداشت ہے۔
٢
فرزندان اسلام کے لئے مقام عبرت
خلیفہ صاحب کے تازہ مضمون ”احمدیت کا پیغام“ کی قادیانی جماعت میں اہمیت اور اس مضمون کی مسلمانوں میں تقسیم واشاعت کی صحیح تعداد خود مرزائی آرگن ”الفضل“ کی زبان سے ہی سنئے اور خدارا عبرت حاصل کیجئے کہ ہماری دین حقہ سے غفلت شعاری ہماری، مذہبی دنیا پر کیا اثرات مرتب کر رہی ہے اور اہل باطل کس شاطرانہ طریق پر مار آستین بن کر مسلمانوں کی متاع ایمان لوٹ رہے ہیں۔
ذرا اس اعلان مضمون پر ہی توجہ فرمائیں۔
اعلان اوّل....... ”مورخہ ٣١؍اکتوبر ١٩٢٨ء کو جماعت احمدیہ سیالکوٹ کے سالانہ جلسہ میں حضرت خلیفۃ المسیح کا جو خاص مضمون سید ولی اللہ شاہ نے پڑھ کر سنایا۔ وہ شائع کیا جاتا ہے۔ یہ مضمون ٹریکٹ کی صورت میں بھی صیغہ نشر واشاعت سے مل سکتا ہے۔ احباب زیادہ سے زیادہ منگوا کر مسلمانوں میں تقسیم کریں۔“
(اخبار الفضل مورخہ ٦؍نومبر ١٩٢٨ء)
اعلان دوم....... ”حضرت خلیفۃ المسیح کا خاص مضمون ”احمدیت کا پیغام“ جو دس ہزار کی تعداد میں چھپوایا گیا تھا۔ قریباً ختم ہوچکا ہے۔ مزید تین چار روز تک تیار ہو جائے گا۔ احباب جماعت کو اس کی اشاعت کے سلسلہ میں خاص جدوجہد کرنی چاہئے۔ ہر احمدی کو نہ صرف خود اس مضمون سے واقف ہونا چاہئے۔ بلکہ ہر ”غیر احمدی“ تک یہ پیغام پہنچانا چاہئے۔ قیمت حسب ذیل ہے۔“
(الفضل مورخہ ٢٤؍نومبر ١٩٢٨ء ص٩)
احمدی وغیر احمدی کی خانہ ساز اصطلاح
جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے
خدا کی قدرت! انقلاب ایام کی یہ ضلالت مبین اہل فتن کی دجل آمیزی اور کور چشمی دیکھئے کہ امت محمدیہ جو کہ بنص قرآن حضرت احمد سے مراد آنحضرتﷺ ہیں اور امت محمدیہ ان کی مصدق اور غلام ہے۔ آج بقول امت مرزائیہ ”غیر احمدی“ بن گئی اور مرزائی امت جو کہ مرزا قادیانی کی پیروکار ہے۔ احمدی اس کو کہتے ہیں۔
حالانکہ اسی مناسبت کے اعتبار سے زیادہ سے زیادہ قادیانی فرقہ کو مرزائی یا غلمدی کہلانا چاہئے۔
٣
برادران ملت: آپ نے غور فرمایا کہ قادیانی فرقہ نے خلیفہ صاحب کے اس مضمون کی صرف ١٤، ١٥ یوم میں دس ہزار سے زائد تقسیم واشاعت کی اور ابھی اس کی اشاعت کا سلسلہ منقطع نہیں ہوا۔ بلکہ جاری ہے۔ آہ! نہ معلوم یہ نام نہاد مضمون کس قدر سادہ لوح مسلمانوں کے تزلزل وارتداد کا موجب ہوا ہوگا۔ پناہ بخدا۔
رہے ایمان و دیں سالم کہ وقت امتحاں آیا
”اللہم انی اعوذ بک من شر فتنۃ المسیح الدجال (مشکوۃ ص٢١٦، باب الاستعاذۃ) ﴿اے اللہ دجال کے فتنہ کے شر سے میں پناہ مانگتا ہوں۔﴾
”پیغام محمدیت“ بجواب ”پیغام احمدیت“
حضرات! اب ذیل میں آپ کے سامنے جناب خلیفہ صاحب کے مضمون کا جواب پیش کیا جاتا ہے اور پوری ذمہ داری کے ساتھ یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ عقائد مرزائیت پر جملہ مندرجہ عبارات بالکل صحیح اور مصدقہ ہیں۔ مصنف ”پیغام احمدیت“ کی طرح تبدیلی ہوا کے ماتحت کتمان حقیقت اور اخفائے عقائد سے کام نہیں لیا گیا۔ چونکہ ہمارا مقصد وحید، محض احقاق حق اور ابطال باطل ہے۔ ”وما ارید الا الاصلاح وما توفیقی الا باللہ“
پیغام احمدیت: ”احمدیت کیا ہے اور کس غرض سے اس کو قائم کیا گیا ہے۔ یہ ایک سوال ہے۔ ناواقفوں کے سوالات بہت سطحی ہوتے ہیں۔ بوجہ عدم علم کے بہت سی باتیں وہ اپنے خیال سے ایجاد کر لیتے ہیں...... بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ احمدیت ایک نیا مذہب ہے اور احمدیوں کا بھی کوئی نیا کلمہ ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ نہ احمدیت کوئی نیا مذہب ہے اور نہ مذہب کے لئے کسی کلمہ کی ضرورت ہوتی ہے۔“ (ص٤،٣)
پیغام محمدیت: افسوس کہ خلیفہ صاحب نے اس بیان میں اس قدر اخفائے عقائد اور مغالطہ دہی سے کام لیا ہے کہ جس کی کوئی انتہاء نہیں۔ اصل میں قادیانی اصحاب کو خلیفہ صاحب کے اس مضمون کا نام ”احمدیت کا پیغام“ نہیں رکھنا چاہئے تھا۔ بلکہ ملکی حالات کی تبدیلی کے ماتحت اپنی سابقہ مذہبی روایات کے پیش نظر اس الہامی مضمون کا نام ”احمدیت نئے روپ میں“ یا ”پاکستان میں احمدیت کا جدید ایڈیشن“ ہونا چاہئے تھا۔ جو کہ مضمون کی ظاہری اور باطنی مناسبت کے لحاظ سے موزوں تھا۔
ہاں صاحب مرزائیت کیا ہے۔ یہ ایک سوال ہے۔
٤
- ......١ لہٰذا تاریخ اسلامیہ کی روشنی میں اور حضرت خاتم الانبیاء مخبر صادق علیہ
الصلوٰۃ والسلام کی فرمودہ پیش گوئیوں کے مطابق اس سوال کا تحقیقی اور اصلی جواب یہ ہے کہ مرزائیت گزشتہ مدعیان نبوت کاذبہ کی ایمان ربا تحریک کی روحانی اور معنوی اعتبار سے ایک ظلی اور بروزی شاخ ہے۔
- ......٢ اور انگریز عیار نے اس غرض سے اپنے ظل عاطفت میں مرزائیت کو قائم
کیا۔ تاکہ مسلمانانِ عالم کی وحدت ملی کو پاش پاش کیا جائے اور مسلمانوں میں افتراق پیدا کر کے ان کے مذہبی و سیاسی اثر و رعب کو نقصان پہنچایا جائے۔ چنانچہ نقاش پاکستان حضرت اقبالؒ حکمت افرنگ کے ناپاک اغراض و مقاصد کی ترجمانی کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔
اسلام کا مقصود فقط ملت آدم
باقی رہا یہ سوال کہ آیا فی الواقعہ ”قادیانی نبوت“ نے انگریز بہادر کے زیر سایہ نشو و نما پائی، مرزائیت پر ہمارا یہ کوئی بہتان نہیں ہے۔ بلکہ یہ وہ ناقابل انکار حقیقت ہے کہ جس کا خود بانی احمدیت مرزا غلام احمد قادیانی کو دلی اعتراف ہے۔ چنانچہ مرزا قادیانی تمام ممالک اسلامیہ کی مذمت اور انگریزی حکومت کی تعریف کرتے ہوئے اپنی کتب میں فرماتے ہیں۔
- ......٣
ان کی شاہی میں میں پاتا ہوں رفاہ روزگار
(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١١١، خزائن ج ٢١ ص ١٤١)
- ......٤ ”اے مخدومہ ملکہ معظمہ قیصرہ ہند ہم عاجزانہ ادب کے ساتھ تیرے حضور
میں کھڑے ہو کر عرض کرتے ہیں۔“
(تحفہ قیصریہ ص ٢٥، خزائن ج ١٢ ص ٢٧٧)
تو جھکا جب غیر کے آگے نہ تن تیرا نہ من
(علامہ اقبالؒ)
- ......٥ ”میرا باپ سرکار انگریزی کے مراحم کا ہمیشہ امیدوار رہا...... اور اس طرح
خدمات میں مشغول رہا۔ یہاں تک کہ پیرانہ سالی تک پہنچ گیا اور سفر آخرت کا وقت آ گیا۔ اگر ہم اس کی خدمات لکھنا چاہیں تو اس جگہ سما نہ سکیں اور ہم لکھنے سے عاجز رہ جائیں۔ پھر جب میرا باپ
٥
وفات پا گیا۔ تب ان خصلتوں میں اس کا قائم مقام میرا بھائی ہوا، اور سرکار انگریزی کی عنایات ایسے ہی اس کے شامل حال ہو گئیں۔ جیسی کہ میرے باپ کے شامل حال تھیں...... پھر ان دونوں کی وفات کے بعد میں ان کے نقش قدم پر چلا اور ان کی سیرتوں کی پیروی کی۔ لیکن میں صاحب مال نہیں تھا...... سو میں اس کی مدد کے لئے اپنے قلم اور ہاتھ سے اٹھا اور میں نے یہ عہد کیا کہ کوئی کتاب بغیر اس کے تالیف نہیں کروں گا۔ جو کہ اس میں احسانات قیصرۂ ہند کا ذکر نہ ہو۔‘‘
(نور الحق حصہ اول ص ٢٨، خزائن ج ٨ ص ٣٨، ٣٩)
٦...... ’’میری عمر کا اکثر حصہ اس سلطنت انگریزی کی تائید و حمایت میں گذرا ہے اور میں نے ممانعت جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارہ میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں اور اشتہار شائع کئے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں۔‘‘
(تریاق القلوب ص ٢٧، خزائن ج ١٥ ص ١٥٥)
حشر ان کا کاتب تقدیر کے دفتر میں ہے
(مولانا ظفر علی خاں)
٧...... ’’میں سچ سچ کہتا ہوں کہ محسن کی بدخواہی کرنا ایک حرامی اور بدکار آدمی کا کام ہے۔ سو میرا مذہب جس کو میں بار بار ظاہر کرتا ہوں۔ یہی ہے کہ اسلام کے دو حصے ہیں۔ ایک یہ کہ خدا تعالیٰ کی اطاعت کرے۔ دوسرے اس سلطنت کی جس نے امن قائم کیا ہو۔ سو وہ سلطنت حکومت برطانیہ ہے...... اگر ہم گورنمنٹ برطانیہ سے سرکشی کریں تو گویا اسلام اور خدا اور رسول سے سرکشی کرتے ہیں۔‘‘
(شہادت القرآن ص ٨٤، ٨٥، خزائن ج ٦ ص ٣٨٠، ٣٨١)
٨...... ’’اس محسن گورنمنٹ کا...... مجھ پر سب سے زیادہ شکر واجب ہے...... کیونکہ یہ میرے اعلیٰ مقاصد جو جناب قیصرہ ہند کی حکومت کے سایہ کے نیچے انجام پذیر ہو رہے ہیں۔ ہرگز ممکن نہ تھا کہ وہ کسی اور گورنمنٹ کے زیر سایہ انجام پذیر ہو سکتے۔ اگرچہ وہ کوئی اسلامی گورنمنٹ ہی ہوتی۔‘‘
(تحفہ قیصریہ ص ٣١، ٣٢، خزائن ج ١٢ ص ٢٨٣، ٢٨٤)
٩...... ’’میرا یہ دعویٰ ہے کہ تمام دنیا میں گورنمنٹ برطانیہ کی طرح کوئی دوسری ایسی گورنمنٹ نہیں۔ جس نے زمین پر امن قائم کیا ہو۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ جو کچھ ہم پوری آزادی سے اس گورنمنٹ کے تحت میں اشاعت کر سکتے ہیں۔ یہ خدمت ہم مکہ معظمہ یا مدینہ منورہ میں بیٹھ کر بھی ہرگز بجا نہیں لا سکتے۔‘‘
(ازالۃ اوہام ص ٥١٦، خزائن ج ٣ ص ١٤٠)
٦
......١٠ کے زیر سایہ ہمیں پایۂ تخت قسطنطنیہ باغیانہ منصوبہ دل دلوں میں مخفی رکھے گواہ ہیں کہ اسلام
نوٹ حکایات و برکات عیسائیت دو متضاد واقعات اوراق تا
......١١ حالانکہ تو ان کی عمر تھا کہ مجھے اس گور میں مشغول ہوں روم میں، نہ شام دعا کرتا ہوں......
لے ع ٢ ٣
”دجال مدینہ منورہ اور مکہ معظمہ میں داخل نہیں ہو سکتا۔“
(ازالہ اوہام ص ٨٤٢، خزائن ج ٣ ص ٥٥٧)
- ١٠....... ”میری اور میری جماعت کی پناہ یہ سلطنت ہے۔ یہ امن جو اس سلطنت
کے زیر سایہ ہمیں حاصل ہے۔ نہ یہ امن مکہ معظمہ میں مل سکتا ہے نہ مدینہ میں اور نہ سلطان روم کے پایہ تخت قسطنطنیہ میں۔ پھر میں خود اپنے آرام کا دشمن بنوں۔ اگر اس سلطنت کے بارے میں کوئی باغیانہ منصوبہ دل میں مخفی رکھوں اور جو لوگ مسلمانوں میں سے ایسے بدخیال جہاد اور بغاوت کے دلوں میں مخفی رکھتے ہوں۔ میں ان کو سخت نادان بدقسمت ظالم سمجھتا ہوں۔ کیونکہ ہم اس بات کے گواہ ہیں کہ اسلام کی دوبارہ زندگی انگریزی سلطنت کے امن بخش سایہ سے پیدا ہوئی ہے۔“
(تریاق القلوب ص ٢٨، خزائن ج ١٥ ص ١٥٦)
نوٹ: برادران ملت، برطانوی سامراج کی بدولت احیائے اسلام اور دوبارہ زندگی کی حکایات و برکات، عراق، بغداد، مصر، ایران، سوڈان، فلسطین اور ترکی سے پوچھو۔ اسلام اور عیسائیت دو متضاد اور مخالف قوتیں ہیں۔ دونوں میں ہمیشہ حق و باطل کی ٹکر رہی۔ صلیبی جنگوں کے واقعات اوراق تاریخ میں موجود ہیں۔ حضرت اقبالؒ نے مرزا قادیانی کے متعلق درست فرمایا ؎
زندگانی از خودی محرومی است
- ١١....... الہام ؎١ مرزا: ”خدا ایسا نہیں ہے کہ اس گورنمنٹ کو کچھ تکلیف پہنچائے۔ ؎٢
حالانکہ تو ان کی عملداری میں رہتا ہے۔ جدھر تیرا منہ خدا کا اسی طرف منہ ہے۔ چونکہ خدا تعالیٰ جانتا تھا کہ مجھے اس گورنمنٹ کی پر امن سلطنت اور ظل حمایت میں دل خوش ہے اور اس کے لئے میں دعا میں مشغول ہوں۔ کیونکہ میں اپنے اس کام کو نہ مکہ میں اچھی طرح چلا سکتا ہوں۔ نہ مدینہ میں، نہ روم میں، نہ شام میں، نہ ایران میں، نہ کابل میں ؎٣ مگر اس گورنمنٹ میں جس کے اقبال کے لئے دعا کرتا ہوں...... غرض میں گورنمنٹ کے لئے بہ منزلہ حرز سلطنت ہوں۔“
(تبلیغ رسالت ج ٦ ص ٦٩، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٣٧٠)
؎١ محکوم کے الہام سے اللہ بچائے...... غارت گر اقوام ہے وہ صورت چنگیز (علامہ اقبالؒ)
؎٢ ”کیونکہ مکہ معظمہ خانہ خدا کی جگہ اور مدینہ منورہ رسول اللہ کا پایہ تخت ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ١٦٤، خزائن ج ٣ ص ١٤٣)
؎٣ چونکہ یہ تمام اسلامی حکومتیں ہیں۔ اس لئے وہاں نبوت باطلہ کی کوئی دوکان نہیں چل سکتی۔
٧
یعنی انگریزی حکومت کے لئے میں نظر بٹو ہوں۔ مگر اب تو یہ نظر بٹو بالکل بیکار اور غیر مؤثر ہوکر رہ گیا۔ اب اس کے باقیات نے سرزمین پاکستان میں ورود ونزول فرمایا ہے۔ خدا خیر کرے۔
١٢...... ”میں دیکھتا ہوں کہ بعض جاہل اور شریر لوگ اکثر ہندوؤں میں سے اور کچھ مسلمانوں میں سے گورنمنٹ کے مقابل پر ایسی ایسی حرکتیں ظاہر کرتے ہیں۔ جن سے بغاوت کی بو آتی ہے...... اس لئے میں اپنی جماعت کے لوگوں کو جو مختلف مقامات پنجاب اور ہندوستان میں موجود ہیں...... نہایت تاکید سے نصیحت کرتا ہوں کہ وہ میری اس تعلیم کو خوب یاد رکھیں۔ جو ٢٦ برس سے تقریری وتحریری طور پر ان کے ذہن نشین کرتا آیا ہوں۔ یعنی کہ اس گورنمنٹ انگریزی کی پوری اطاعت کریں۔ کیونکہ وہ ہماری محسن گورنمنٹ ہے۔ ان کی ظل حمایت میں ہمارا فرقہ احمدیہ چند سال میں لاکھوں تک پہنچ گیا ہے اور اس گورنمنٹ کا احسان ہے کہ اس کے زیر سایہ ہم ظالموں کے پنجہ سے محفوظ ہیں۔ خدا کی مصلحت نے اس گورنمنٹ کو اس بات کے لئے چن لیا۔ تاکہ یہ فرقہ احمدیہ اس کے زیر سایہ ہو کر ...... ترقی کرے۔ کیا تم یہ خیال کر سکتے ہو کہ تم سلطان روم کی عملداری میں رہ کر یا مکہ اور مدینہ ہی میں اپنا گھر بنا کر شریر لوگوں کے حملوں سے بچ سکتے ہو۔ نہیں ہرگز نہیں۔ بلکہ ایک ہفتہ میں ہی تم تلوار سے ٹکڑے ٹکڑے کئے جاؤ گے۔ کیا تمہیں کچھ توقع ہے...... کہ تمہیں اسلامی سلاطین کے ماتحت کوئی خوشحالی میسر آئے گی۔ بلکہ تم تمام اسلامی علماء کے فتوؤں کے رو سے واجب القتل ٹھہر چکے ہو...... سوچو کہ اگر تم اس گورنمنٹ کے سایہ سے باہر نکل جاؤ تو پھر تمہارا ٹھکانا کہاں ہے۔ ایسی سلطنت کا نام تو بتلاؤ۔ جو تمہیں اپنی پناہ میں لے لے گی۔ ہر ایک اسلامی سلطنت تمہارے قتل کرنے کے لئے دانت پیس رہی ہے۔ کیونکہ ان کی نگاہ میں تم کافر اور مرتد ٹھہر چکے ہو...... تمام پنجاب اور ہندوستان کے فتوے بلکہ تمام ممالک اسلامیہ کے فتوے تمہاری نسبت یہ ہیں کہ تم واجب القتل ہو اور تمہیں قتل کرنا اور تمہارا مال لوٹ لینا اور تمہاری بیویوں پر جبر کر کے اپنے نکاح میں لے آنا اور تمہاری میت کی توہین کرنا اور مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہ ہونے دینا، نہ صرف جائز بلکہ بڑا ثواب کا کام ہے۔ سو یہی انگریز ہیں جن کو لوگ کافر کہتے ہیں۔ جو تمہیں ان خونخوار دشمنوں سے بچاتے ہیں اور ان کی تلوار کے خوف سے تم قتل کئے جانے سے بچے ہوئے ہو...... سو انگریزی حکومت تمہارے لئے ایک رحمت ہے۔ تمہارے لئے ایک برکت ہے...... تمہارے مخالف جو مسلمان ہیں۔ ہزار ہا درجہ ان سے انگریز بہتر ہیں۔ ظاہر
٨
ہے کہ انگریز کس انصاف کے ساتھ ہم سے پیش آتے ہیں۔ یاد رکھو کہ اسلام میں جو جہاد کا مسئلہ ہے۔ میری نگاہ میں اس سے بدتر اسلام کو بدنام کرنے والا اور کوئی مسئلہ نہیں ہے۔“
(تبلیغ رسالت ج١ ص١٢٢، مجموعہ اشتہارات ج١ ص٥٨١، ٥٨٢)
حضرت اقبال نے بالکل ٹھیک فرمایا۔
رقصہا گرد کلیسا کرد و مرد
یعنی مرزا قادیانی نے غیر اسلامی سلطنت حکومت نصاریٰ کو رحمت شمار کیا اور تمام عمر صلیب کے گرد ناچ کیا اور مر گیا۔ کیا اسی کا نام قتل دجال اور کسر صلیب ہے۔
- ١٣....... ”اگر گورنمنٹ برطانیہ کی اس ملک ہند میں سلطنت نہ ہوتی تو مسلمان
مدت سے (اس کو) ٹکڑے ٹکڑے کر کے معدوم کر دیتے۔“
(ایام الصلح ص٢٦، خزائن ج١٤ ص٢٥٥)
- ١٤....... ”کیسی عافیت اور امن کی گورنمنٹ کے زیر سایہ ہم رہتے ہیں۔ جس نے
ایک ذرہ مذہبی تعصب ظاہر نہیں کیا..... کوئی یہ ظاہر کرے کہ میں مجدد وقت ہوں یا ولی ہوں یا قطب ہوں یا مسیح ہوں یا مہدی ہوں۔ اس سے اس عادل گورنمنٹ کو کچھ سروکار نہیں۔ بجز اس صورت کے کہ وہ (مدعی) خود ہی طریق اطاعت کو چھوڑ کر باغیانہ خیالات میں گرفتار ہو۔“
(ضمیمہ رسالہ جہاد ص٢، خزائن ج١٧ ص٢٤)
نوٹ: برادران ملت! جناب خلیفہ صاحب کا یہ بیان کہ ”احمدیت کیا ہے اور کس غرض سے اس کو قائم کیا گیا ہے۔“ ہم مندرجہ بالا سطور میں خود مرزا قادیانی کی تحریرات سے اس کا مختصر جواب دے چکے اور وہ حقیقت افروز جواب ہے جو کہ ہم سے کئی سال پیشتر نباضِ مشرق، مفکرِ اسلام، نقاشِ پاکستان، حکیم الامت حضرت اقبالؒ قادیانیت کے متعلق بیان فرما چکے ہیں۔
چنانچہ علامہ اقبالؒ ”قادیانی اور جمہور مسلمان“ کے عنوان کے تحت فرماتے ہیں: ”قادیانیوں اور جمہور مسلمانوں کی نزاع نے نہایت اہم سوال پیدا کیا ہے۔ ہندوستان کے مسلمانوں نے حال ہی میں اس کی اہمیت کو محسوس کرنا شروع کیا ہے..... ہندی مسلمانوں نے قادیانی تحریک کے خلاف جس شدت احساس کا ثبوت دیا ہے۔ وہ جدید اجتماعیت کے طالب علم پر بالکل واضح ہے..... نام نہاد تعلیم یافتہ مسلمانوں نے ختم نبوت کے تمدنی پہلو پر کبھی غور نہیں کیا اور مغربیت کی ہوا نے اسے حفظ نفس کے جذبہ سے بھی عاری کر دیا ہے۔ بعض ایسے ہی نام نہاد تعلیم
٩
یافتہ مسلمانوں نے اپنے مسلمان بھائیوں کو رواداری کا مشورہ دیا ہے۔ اگر سر ہربرٹ ایمرسن مسلمانوں کو رواداری کا مشورہ دیں تو میں انہیں معذور سمجھتا ہوں۔ کیونکہ موجودہ زمانے کے ایک فرنگی کے لئے اتنی گہری نظر پیدا کرنی دشوار ہے کہ وہ ایک مختلف تمدن رکھنے والی جماعت کے اہم مسائل کو سمجھ سکے۔..... ہندوستان میں کوئی مذہبی شعبدہ باز اپنی اغراض کی خاطر ایک نئی جماعت کھڑی کر سکتا ہے اور یہ لبرل حکومت اصل جماعت کی وحدت کی ذرہ بھر پرواہ نہیں کرتی۔ بشرطیکہ یہ مدعی اسے اپنی اطاعت اور وفاداری کا یقین دلا دے اور اس کے پیرو حکومت کے محصول ادا کرتے رہیں۔ اسلام کے حق میں اس پالیسی کا مطلب ہمارے شاعر عظیم اکبر نے اچھی طرح بھانپ لیا تھا۔“ جب اس نے اپنے مزاحیہ انداز میں کہا؎
انا الحق کہو اور پھانسی نہ پاؤ
(حرف اقبال ص ١٢١ تا ١٢٥)
پیغام احمدیت: خلیفہ صاحب فرماتے ہیں کہ: ”ناواقفوں کے سوالات بہت سطحی ہوتے ہیں۔ بوجہ عدم علم کے بہت سی باتیں وہ اپنے خیال سے ایجاد کر لیتے ہیں۔“ (ص ٣)
پیغام محمدیت: جواباً گزارش ہے کہ خلیفہ صاحب اور آپ کی خود ساختہ آل و امت دیگر حضرات کے متعلق تو بوجہ عدم علم وغیرہ کے فریب دہ الفاظ کہہ کر عوام الناس کو کسی حد تک غلط فہمیوں میں مبتلا کر سکتی ہے۔ مگر ایک سابقہ مرید واقف کار کے متعلق تو یہ جرات نہیں کر سکتی۔ جناب خلیفہ صاحب اور آل مرزائیت جانتی ہے کہ میں قادیانی جماعت میں شامل رہا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرح قادیانی جماعت کا ایک عرصہ تک نمک کھایا اور بدقسمتی سے گرفتار ضلالت ہو کر مبلغ جماعت کی حیثیت سے کام بھی کرتا رہا۔ دوران ملازمت میں مرزائیت کے ہر نشیب و فراز کو دیکھا اور قادیانی امت کے اندرونی و بیرونی اعمال و افعال اور عقائد کا بخوبی محاسبہ کیا۔ بالآخر فضل خداوندی شامل حال ہوا، اور کامل تحقیقات و معلومات کے بعد اس ہادی مطلق، مقلب القلوب نے محض اپنے مخصوص فضل و کرم کے ساتھ مرزائی مذہب سے توبہ کی توفیق عنایت فرمائی؎
اک ردائے نیلگوں کو آسماں سمجھا تھا میں
اب ترک مرزائیت اور قبول حق کے بعد تمام مرزائی امت کو میری جانب سے مخلصانہ اور ہمدردانہ یہی پیغام ہے کہ؎
١٠
بلبل فقط آواز ہے طاؤس فقط رنگ
لہٰذا میں ”عقائد مرزائیت“ کے باب میں جس قدر حوالہ جات پیش کروں گا۔ وہ تمام تر مرزائی امت کے مسلمات میں سے ہوں گے۔ میں تعلیم اسلام کی رو سے کسی مذہب وفرقہ کی طرف بے ثبوت، غلط، بے بنیاد، بے اصل، بے حقیقت بات منسوب کرنا نہ صرف گناہ بلکہ گناہ عظیم سمجھتا ہوں۔ غلط بیانی، اختراع، افتراء، تصنع، تاویل باطل، مغالطہ بازی، فریب دہی۔ یہ مرزائی امت کا حصہ ہے۔ چونکہ مذہب اسلام کی پاکیزہ بنیاد مذہب مرزائیہ کی طرح خانہ ساز استدلال اور رکیک تاویلات پر نہیں ہے۔ بلکہ قرآن وحدیث کی مقدس روشنی میں ایمانی حقائق اور آسمانی دلائل وبراہین پر ہے۔ خداوند عالم نے مجھ گمراہ شدہ مسکین کو اسی دولت اسلام اور نور ہدایت سے معمور ومنور فرمایا ہے۔ الحمد لله علی احسانه!
مرزائی امت کا جدید دین ومذہب
کچھ طرز جنوں اور ہی ایجاد کریں گے
مرزا قادیانی مسلمانوں کے خلاف حکومت برطانیہ کی بارگاہ میں اپنے جدید مذہب وفرقہ کا تعارف کرتے ہوئے ایک بیان دیتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ:
١٥...... ’’ایک نیا فرقہ جس کا پیشوا امام اور پیر یہ راقم ہے۔ پنجاب ہندوستان کے اکثر شہروں میں پھیلتا جاتا ہے۔...... میں نے قرین مصلحت سمجھا کہ اس فرقہ جدیدہ اور نیز اپنے تمام حالات سے جو اس فرقہ کا پیشوا ہوں۔ حضور لفٹنٹ گورنر بہادر دام اقبالہ کو آگاہ کروں اور یہ ضرورت اس لئے بھی پیش آئی کہ ہر ایک فرقہ جو ایک نئی صورت سے پیدا ہوتا ہے۔ گورنمنٹ کو حاجت پڑتی ہے کہ اس کے اندرونی حالات دریافت کرے اور بسا اوقات ایسے نئے فرقے کے دشمن جن کی عداوت اور مخالفت ایک نئے فرقے کے لئے ضروری ہے۔ گورنمنٹ میں خلاف واقعہ خبریں پہنچاتے ہیں۔...... گورنمنٹ تحقیق کرے کہ کیا یہ سچ نہیں کہ ہزاروں مسلمانوں نے جو مجھے اور میری جماعت کو کافر قرار دیا...... میں دعوے سے گورنمنٹ کی خدمت میں اعلان دیتا ہوں کہ باعتبار مذہبی اصول کے مسلمانوں کے تمام فرقوں میں سے گورنمنٹ کا اوّل درجے کا وفادار اور جان نثار یہی فرقہ ہے۔ جس کے اصولوں میں سے کوئی اصول گورنمنٹ کے لئے خطرناک نہیں۔ میں
١١
گورنمنٹ عالیہ کو یقین دلاتا ہوں کہ یہ فرقہ جدیدہ جس کا میں پیشوا اور امام ہوں...... گورنمنٹ کے لئے ہرگز خطرناک نہیں۔ غرض یہ ایک ایسی جماعت ہے جو سرکار انگریزی کی نمک پروردہ اور نیک نامی حاصل کردہ ہے اور مورد مراحم گورنمنٹ ہیں...... سرکار دولتمدار ایسے خاندان کی نسبت جس کو پچاس برس کے متواتر تجربہ سے ایک وفادار اور جاں نثار ثابت کر چکی ہے...... اس خودکاشتہ پودے کی نسبت نہایت حزم اور احتیاط۔ تحقیق اور توجہ سے کام لے اور اپنے ماتحت حکام کو اشارہ فرمائے کہ وہ بھی اس خاندان کی ثابت شدہ وفاداری اور اخلاص کا لحاظ رکھ کر مجھے اور میری جماعت کو ایک خاص عنایت اور مہربانی کی نظر سے دیکھیں۔“
(تبلیغ رسالت ج٧ ص ١٧،١٩، خزائن ج ٣ ص ٢١،٢٨)
- ١٦...... بیان خلیفہ صاحب ”حضرت مسیح موعود کے منہ سے نکلے ہوئے الفاظ
میرے کانوں میں گونج رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ یہ غلط ہے کہ دوسرے لوگوں سے ہمارا اختلاف صرف حیات مسیح اور چند مسائل میں ہے۔ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی ذات، رسول کریمؐ، قرآن، نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ۔ غرضیکہ آپ نے تفصیل سے بتایا کہ ایک ایک چیز میں ہمیں ان سے اختلاف ہے۔“
(خطبہ خلیفہ قادیان الفضل مورخہ ٣٠؍ جولائی ١٩٣١ء)
- ١٧...... خلیفہ صاحب فرماتے ہیں کہ: ”تم ایک برگزیدہ نبی (مرزا قادیانی) کو
مانتے ہو اور تمہارے مخالف (مسلمان) اس کا انکار کرتے ہیں۔ حضرت صاحب کے زمانے میں ایک تجویز ہوئی کہ احمدی غیر احمدی مل کر تبلیغ کریں۔ مگر حضرت صاحب نے فرمایا کہ تم کون سا اسلام پیش کرو گے۔ کیا جو خدا نے نشان دیئے جو انعام خدا نے تم پر کیا ۔ وہ چھپاؤ گے۔“
(آئینہ صداقت ص ٥٣)
- ١٨...... قادیانی مذہب کا اسلام: عبداللہ نے حضرت مسیح موعود کی زندگی میں ایک
مشن قائم کیا۔ بہت سے لوگ مسلمان ہوئے۔ مسٹر ویپ نے امریکہ میں ایسی اشاعت شروع کی۔ مگر آپ (مرزا قادیانی) نے ان کو پائی کی مدد نہ کی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جس اسلام میں آپ (مرزا قادیانی) پر ایمان لانے کی شرط نہ ہو اور آپ کے سلسلہ کا ذکر نہیں۔ اسے آپ اسلام ہی نہ سمجھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت خلیفہ اوّل (حکیم نور دین) نے اعلان کیا تھا کہ ان (مسلمانوں) کا اسلام اور ہے اور ہمارا اسلام اور ہے۔
(الفضل مورخہ ٣١؍ دسمبر ١٩١٤ء)
- ١٩...... بیان خلیفہ صاحب ”حضرت مسیح موعود نے فرمایا ہے۔ ان (مسلمانوں)
١٢
کا اسلام اور ہے اور ہمارا اور ہے۔ ان کا خدا اور ہے اور ہمارا خدا اور۔ ہمارا حج اور ہے ان کا اور ، اور اسی طرح ان سے ہر بات میں اختلاف ہے؟“
(الفضل مورخہ ٢١؍اگست ١٩١٧ء ص ٨)
- ٢٠...... ”جب کوئی مصلح آیا تو اس کے ماننے والوں کو نہ ماننے والوں سے علیحدہ
ہونا پڑا۔ اگر تمام انبیاء کا یہ فعل قابل ملامت نہیں اور ہرگز نہیں تو مرزا غلام احمد قادیانی کو الزام دینے والے انصاف کریں کہ اس مقدس ذات پر الزام کس لئے؟ پس آج قادیان سے بلند ہونے والی آواز اسلام کی آواز ہے۔“
(الفضل مورخہ ٢٧؍مئی ١٩٢٠ء)
- ٢١...... ”(دین مرزا) اللہ تعالیٰ نے اس آخری صداقت کو قادیان کے ویرانہ میں
نمودار کیا اور حضرت مسیح موعود کو فرمایا کہ جو دین تو لے کر آیا ہے۔ اسے تمام دیگر ادیان پر غالب کروں گا۔“
(الفضل مورخہ ٣؍فروری ١٩٣٥ء)
- ٢٢...... مرزائی امت کے حصے: مرزا قادیانی فرماتے ہیں۔ ”میری امت کے دو
حصے ہوں گے۔ ایک وہ جو مسیحیت کا رنگ اختیار کریں گے۔ دوسرے وہ جو مہدویت کا رنگ اختیار کریں گے۔“
(مندرجہ الفضل مورخہ ٢٦؍جنوری ١٩١٦ء ص ١٠)
مرزائی امت کا کلمہ
برادران اسلام: یہ حقیقت ہے کہ کلمہ طیبہ میں اسم محمد سے صرف حضرت محمد عربیؐ ہی کی ذات مخصوص مراد ہے اور اہل اسلام جب کلمہ پڑھتے ہیں تو ان کے تصورات ایمانی میں بلاشراکت غیرے حضرت محمد عربیؐ ہی کی ذات مقدس متصور اور موجود ہوتی ہے۔ مگر اس کے برعکس مرزائی امت اپنی مذہبی تعلیمات کے مطابق مفہوم کلمہ میں اپنے رسول کی شرکت کی زیادتی بھی کرتی ہے۔ حالانکہ مذہب اسلام اس دوئی اور شرکت کو کبھی بھی برداشت نہیں کر سکتا۔ حضرت اقبالؒ فرماتے ہیں ؎
شرکت میانہ حق و باطل نہ کر قبول
- ٢٣...... مرزا قادیانی کا اعلان کہ محمد رسول اللہ میں ہوں۔ چنانچہ مرزا قادیانی
فرماتے ہیں کہ: ”میری نسبت یہ وحی اللہ ہے۔ ”محمد رسول اللہ والذین معہ اشداء علی الکفار رحماء بینہم“ اس وحی اللہ میں میرا نام محمد رکھا گیا ہے اور رسول بھی۔“
(ایک غلطی کا ازالہ ص ٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٧)
١٣
نوٹ: حالانکہ یہ قرآن مجید سورہ فتح کی آیت ہے اور خداوند عالم نے صاحب قرآن ہی کو اس آیت میں محمد رسول اللہ فرمایا ہے۔
٢٤...... اس کے بعد مرزا قادیانی کے بیٹے مرزا بشیر الدین جن کو مرزا قادیانی نے الہامی طور پر قمر الانبیاء کا خطاب بھی دے رکھا ہے۔ اپنی کتاب میں لکھتے ہیں: ”مسیح موعود کی بعثت کے بعد محمد رسول اللہ کے مفہوم میں ایک اور رسول کی زیادتی ہو گئی۔“
(کلمۃ الفصل ص ١٥٨)
٢٥...... ہم پر اعتراض کیا جاتا ہے کہ: ”اگر نبی کریم کے بعد مرزا بھی ایسے نبی ہیں کہ ان کا ماننا ضروری ہے تو پھر مرزا قادیانی کا کلمہ کیوں نہیں پڑھا، اس کا جواب یہ ہے...... کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ وہ ایک دفعہ اور خاتم النبیین کو دنیا میں مبعوث کرے گا۔ پس جب بروزی رنگ میں مسیح موعود خود محمد رسول اللہ ہی ہیں۔ جو دوبارہ دنیا میں تشریف لائے۔ تو ہم کو کسی نئے کلمہ کی ضرورت نہیں۔ ہاں اگر محمد رسول اللہ کی جگہ کوئی اور آتا پھر یہ سوال اٹھ سکتا تھا۔“
(کلمۃ الفصل ص ١٥٧، ١٥٨)
نوٹ: بقول امت مرزائیہ ثابت ہو گیا کہ مسیح موعود یعنی مرزائے آنجہانی، خود محمد رسول اللہ ہیں۔ اس لئے مرزائی امت کو کلمہ شریف کے لئے الفاظ جدید کی ضرورت محسوس نہ ہوئی۔ البتہ مرزا قادیانی کی آمد کی وجہ سے کلمہ کے مفہوم میں ضرور تبدیلی واقع ہو گئی ہے۔ پناہ بخدا!
مرزائی امت کا خدا اور اس کے اسماء وصفات
مرزائی امت کا خدا اور اس کے اسماء وصفات مندرجہ ذیل ہیں۔ ملاحظہ فرمائیں۔
مرزا قادیانی کہتے ہیں:
٢٦...... ”مجھے الہام ہوا۔ ”ربنا عاج“ ہمارا رب عاجی ہے۔ اس کے معنی ابھی تک معلوم نہیں ہوئے۔“
(براہین احمدیہ ص ٥٥٥، خزائن ج ١ ص ٦٦٢)
(عاج کے معنی ہیں۔ استخوان فیل، ہاتھی دانت، سرگیں، گوبر۔ منتخب اللغات!)
٢٧...... خدا نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ: ”یلاش خدا کا ہی نام ہے۔ یہ ایک نیا الہامی لفظ ہے کہ اب تک میں نے اس کو اس صورت پر قرآن اور حدیث میں نہیں پایا اور نہ ہی کسی لغت کی کتاب میں دیکھا ہے۔“
(تحفہ گولڑویہ ص ٦٩، خزائن ج ١٧ ص ٢٠٣)
٢٨...... ”انی انا الصاعقة میں ہی صاعقہ ہوں۔ یہ اللہ کا نیا اسم ہے۔ آج تک کبھی نہیں سنا۔“
(تذکرہ ص ٤٤٧ طبع ٣)
١٤
٢٩...... مجھے الہام ہوا۔ ”اخطی واصیب“ اس وحی کے ظاہری الفاظ یہ معنی رکھتے ہیں کہ میں خطا بھی کروں گا اور صواب بھی۔ کبھی میرا ارادہ پورا ہو گا اور کبھی نہیں۔“
(حقیقت الوحی ص١٠٣، خزائن ج٢٢ ص١٠٦)
٣٠...... خدا نے مجھے کہا: ”انت منی بمنزلة ولدی“ تو مجھ سے بمنزلہ میرے فرزند کے ہے۔
(حقیقت الوحی ص٨٦، خزائن ج٢٢ ص٨٩)
٣٠...... ”انت منی بمنزلة اولادی“ تو مجھ سے ایسے ہے جیسے اولاد۔
(دافع البلاء ص٦، خزائن ج١٨ ص٢٢٧)
٣١...... ”الہام ہوا۔ بابو الٰہی بخش چاہتا ہے کہ تیرا حیض دیکھے۔ یا کسی پلیدی اور ناپاکی پر اطلاع پائے۔ مگر مجھ میں حیض نہیں۔ بلکہ وہ (حیض) بچہ ہو گیا ہے۔ جو بمنزلہ اطفال اللہ کے ہے۔“
(تتمہ حقیقت الوحی ص١٤٣، خزائن ج٢٢ ص٥٨١)
٣٢...... ”وہ (خدا) فرماتا ہے کہ میں چوروں کی طرح پوشیدہ آؤں گا۔“
(تجلیات الٰہیہ ص٤، خزائن ج٢٠ ص٣٩٦)
٣٣...... ”اس زمانہ میں اگر خدا سنتا ہے تو بولتا کیوں نہیں۔ کیا خدا کی زبان پر کوئی مرض لاحق ہو گئی ہے۔“
(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص١٤٤، خزائن ج٢١ ص٣١٢)
٣٤...... ”رائیتنی فی المنام عین اللہ“ میں نے ایک کشف میں دیکھا کہ میں خدا ہوں اور یقین کیا کہ وہی ہوں۔
(آئینہ کمالات اسلام ص٥٦٤، خزائن ج٥ ص ایضاً)
نوٹ: کیا یہ وہی وحدہ لا شریک خدا ہے۔ جس کا تذکرہ خلیفہ صاحب نے مضمون ”پیغام احمدیت ص٨ پر کیا ہے۔ کیا قرآن وحدیث میں اس قسم کے خدا کا کوئی ثبوت ہے؟ نہیں اور ہرگز نہیں۔ یادرہے کہ مقام نبوت میں مرفوع القلم اشخاص کے غیر اختیاری اقوال ہمارے لئے شرعی حجت نہیں۔ چنانچہ غیر انبیاء کے اس قسم کے کلمات کے متعلق مرزا قادیانی بھی کہتے ہیں۔
٣٥...... ”ان کے ان کلمات کی پیروی جائز نہیں۔ بلکہ یہ ایسے کلمے ہیں کہ لپیٹنے کے لائق ہیں۔ نہ اظہار کے لائق۔“
(نورالحق حصہ اوّل ص٧٦، خزائن ج٨ ص١٠١)
ختم نبوت اور مرزائی امت
کس کام میں مصروف ہے باطل کی ہوا دیکھ
١٥
خلیفہ صاحب فرماتے ہیں کہ: ”بعض لوگ یہ بھی خیال کرتے ہیں کہ احمدی ختم نبوت کے قائل نہیں۔ یہ بھی محض ناواقفیت کا نتیجہ ہے۔ احمدیوں کا یہ ہرگز عقیدہ نہیں کہ رسول کریم، خاتم النبیین نہیں تھے۔ جو کچھ احمدی کہتے ہیں۔ وہ صرف یہ ہے کہ خاتم النبیین کے وہ معنی جو اس وقت مسلمانوں میں رائج ہیں۔ نہ تو قرآن کریم کی آیت ”ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین“ پر چسپاں ہوتے ہیں اور نہ ان سے رسول کریم کی عزت اس طرح ظاہر ہوتی ہے۔ جس عزت کی طرف اس آیت میں اشارہ کیا گیا ہے۔ احمدی جماعت خاتم النبیین کے وہ معنی کرتی ہے۔ جو عربی لغت میں عام طور پر متداول ہیں۔“
(پیغام احمدیت ص٩)
پیغام محمدیت: افسوس کہ خلیفہ قادیان کا مندرجہ بالا بیان اس قدر گول مول اور منافقت آمیز ہے کہ جس کی کوئی انتہاء نہیں۔ چنانچہ خلیفہ قادیان نے اپنی مذہبی کمزوری اور بزدلی کے ماتحت اس امر کے اظہار و تشریح کی جرات نہیں کی کہ قادیانی امت کے نزدیک ختم نبوت سے کیا مراد ہے۔ مسلمانوں میں ختم نبوت کے کیا معنی رائج ہیں۔
قرآن مجید کی مذکورہ بالا آیت ختم نبوت کے متعلق کیا ناطق اشارہ کرتی ہے۔ عربی لغت اس بارے میں کیا فیصلہ دیتی ہے۔ خلیفہ صاحب نے دراصل یہ جرات اس لئے نہیں کی کہ اس اظہار حقیقت میں ان کے خانہ ساز مذہب کی رسوا کن نقاب کشائی ہوتی تھی۔
حضرات! یہ حقیقت ہے کہ مرزائی امت کی انہی ایمان ربا چالبازیوں کے پیش نظر، نباض فطرت، ترجمان حقیقت علامہ اقبال نے اس فرقہ کے متعلق فرمایا ہے۔
- ٣٦...... ”مسلمان ان تحریکوں کے معاملہ میں زیادہ حساس ہے۔ جو اس کی وحدت
کے لئے خطرناک ہیں۔ چنانچہ ہر ایسی مذہبی جماعت جو تاریخی طور پر اسلام سے وابستہ ہو۔ لیکن اپنی بناء نئی نبوت پر رکھے اور بزعم خود اپنے الہامات پر اعتقاد نہ رکھنے والے تمام مسلمانوں کو کافر سمجھے۔ مسلمان اسے اسلام کی وحدت کے لئے ایک خطرہ تصور کرے گا اور یہ اس لئے کہ اسلامی وحدت ختم نبوت سے ہی استوار ہوتی ہے۔۔۔۔ یہ ظاہر ہے کہ اسلام جو تمام جماعتوں کو ایک رسی میں پرونے کا دعویٰ رکھتا ہے۔ ایسی تحریک کے ساتھ کوئی ہمدردی نہیں رکھ سکتا۔ جو اس کی موجودہ وحدت کے لئے خطرہ ہو اور مستقبل میں انسانی سوسائٹی کے لئے مزید افتراق کا باعث بنے۔ اس قبل اسلامی مہدویت نے حال ہی میں جن دو صورتوں میں جنم لیا ہے۔ میرے نزدیک ان میں بہائیت، قادیانیت سے کہیں زیادہ مخلص ہے۔ کیونکہ وہ کھلے طور پر اسلام سے باغی ہے۔ لیکن مؤخر
١٦
یہ فکر اسلام کی چند نہایت اہم صورتوں کو ظاہری طور پر قائم رکھتی ہے۔ لیکن باطنی طور پر اسلام کی روح اور مقاصد کے لئے مہلک ہے۔"
(حرف اقبال ص ١٢٢، ١٢٣)
ختم نبوت کے متعلق قرآن وحدیث کا قطعی فیصلہ
- ٣٧...... ”ماکان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول اللہ
وخاتم النبیین ﷺ تم میں سے کسی کا باپ نہیں ہے۔ مگر وہ رسول اللہ ہے اور ختم کرنے والا نبیوں کا۔“ یہ آیت بھی صاف دلالت کر رہی ہے کہ بعد ہمارے نبی ﷺ کے کوئی رسول دنیا میں نہیں آئے گا۔ ثابت ہو چکا کہ اب وحی رسالت تا قیامت منقطع ہے۔“
(ازالۃ الاوہام ص ٦١٤ خزائن ج ٣ ص ٤٣١)
- ٣٨...... ”قال رسول اللہ ﷺ لعلی انت منی بمنزلۃ ہارون من
موسیٰ الا انہ لا نبی بعدی (مشکوۃ باب مناقب حضرت علیؓ) ”اے حضرت علیؓ تو مجھ سے ایسا ہے۔ جیسا ہارون موسیٰؑ سے۔ فرق یہ ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔“
(صحیح مسلم غزوہ تبوک میں ہے۔ ”الا انہ لا نبوۃ بعدی“ یعنی میرے بعد نبوت نہیں ہے)
- ٣٩...... ”قال النبی ﷺ لوکان بعدی نبی لکان عمر بن الخطاب
آنحضرت ﷺ نے حضرت عمرؓ کی شان میں فرمایا کہ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمرؓ ہوتا۔“
(ازالۃ الاوہام ص ٤٢٦ خزائن ج ٣ ص ٢١٩)
آنحضرت ﷺ کے بعد جو نبوت کا دعویٰ کرے وہ کذاب ہے
- ٤٠...... ”قال رسول اللہ ﷺ سیکون فی امتی کذابون ثلاثون
کلہم یزعم انہ نبی اللہ وانا خاتم النبیین لا نبی بعدی (مشکوۃ کتاب الفتن)“
- ٤١...... ”قال رسول اللہ ﷺ لا تقوم الساعۃ حتی یبعث دجالون
کذابون کلہم یزعم انہ نبی وانا خاتم النبیین لا نبی بعدی (ابوداؤد، ترمذی، بخاری، مسلم، فیض الباری ص ١١٥)“
ترجمہ حدیث اوّل: حضرت خاتم الانبیاء نے فرمایا کہ ضرور میری امت میں تیس جھوٹے پیدا ہوں گے۔ تمام یہ دعویٰ کریں گے کہ ہم اللہ کے نبی ہیں۔ حالانکہ میں نبیوں کو ختم کرنے والا ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔
ترجمہ حدیث دوم: رسول خدا نے فرمایا کہ قیامت قائم نہیں ہوگی۔ یہاں تک کہ دجال
١٧
کذاب پیدا ہوں گے۔ ان میں سے ہر ایک نبوت کا دعویٰ کرے گا۔ حالانکہ میں نبیوں کو ختم کرنے والا ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔
"آنحضرت ﷺ نے بار بار فرما دیا تھا کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور حدیث "لا نبی بعدی" ایسی مشہور تھی کہ اس کی صحت میں کسی کو کلام نہ تھا۔"
(کتاب البریہ ص ١٩٩، خزائن ج ١٣ ص ٢١٧ حاشیہ)
- ٤٢....... "آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ دنیا کے اخیر تک قریب تیس کے دجال
پیدا ہوں گے"
(ازالہ اوہام ص ١٩٩، خزائن ج ٣ ص ١٩٧)
- ٤٣....... "دجال کے لئے ضروری ہے کہ کسی نبی برحق کے تابع ہو کر پھر حق کے
ساتھ باطل ملا دے...... چونکہ آئندہ کوئی نیا نبی نہیں آ سکتا۔ اس لئے پہلے نبی کے تابع جب دجال کا کام کریں گے تو وہی دجال کہلائیں گے۔" (تبلیغ رسالت ج ٣ ص ٢٠٠، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ١٣١)
- ٤٤....... "كانت بنو اسرائيل تسوسهم الانبياء كلما هلك نبى
خلفه نبى وانه لا نبى بعدى وسيكون خلفاء"
(بخاری ج ١ ص ٤٩١، باب ما ذکر عن بنی اسرائیل)
رسول خدا نے فرمایا کہ بنی اسرائیل کی عنان سیاست انبیاء کے ہاتھوں میں رہی۔ جب ایک نبی فوت ہو جاتا۔ اس کا جانشین دوسرا نبی ہو جاتا۔ مگر میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔ البتہ خلفاء ہوں گے۔
- ٤٥....... حدیث مندرجہ بالا کی تصدیق و تائید از مرزا قادیانی، فرماتے ہیں کہ:
"پہلی امتوں میں دین کے قائم رکھنے کے لئے خدا تعالیٰ کا یہ قاعدہ تھا کہ ایک نبی کے بعد بروقت ضرورت دوسرا نبی آتا تھا۔ پھر جب حضرت محمد ﷺ دنیا میں ظہور فرما ہوئے اور خدا تعالیٰ نے اس نبی کریم کو خاتم الانبیاء ٹھہرایا تو بوجہ ختم نبوت آنحضرت ﷺ کے دل میں یہ غم رہتا تھا کہ مجھ سے پہلے دین کے قائم رکھنے کے لئے ہزار ہا نبیوں کی ضرورت ہوئی اور میرے بعد کوئی نبی نہیں جس سے روحانی طور پر تسلی حاصل ہو اور اس حالت میں فساد امت کا اندیشہ ہے اور آنحضرت ﷺ نے اس بارے میں بہت دعائیں کیں۔ تب خدا تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو بشارت دی اور وعدہ فرمایا کہ ہر صدی کے سر پر دین کی تجدید کے لئے ایک مجدد پیدا ہوتا رہے گا۔ جس کے ہاتھ پر خدا تعالیٰ دین کی تجدید کرے گا۔"
(الحکم نمبر ٢٠ ج ٥، مورخہ ٣١ مئی ١٩٠١ء ص ١٢)
١٨
- ٤٦....... ختم نبوت از روئے عربی لغت، ”وخاتم النبيين لانه ختم
النبوة “ حضرت نبی کریم کو خاتم النبیین اس لئے کہا جاتا ہے کہ آپ نے اپنی آمد سے نبوت کو ختم کر دیا۔
(مفردات راغب ص ١٤٣)
- ٤٧....... ”ومن اسمائه عليه السلام الخاتم والخاتم وهو الذى
ختم النبوة بمجيئه“ اور آپ کے ناموں میں سے ہے۔ خاتم وخاتم اور آپ ہی وہ ہیں جنہوں نے آ کر نبوت کو ختم کر دیا۔
(تاج العروس ج٨)
- ٤٨....... ”وخاتم آخر القوم كالخاتم ومنه قوله تعالى وخاتم
النبيين . اى آخرهم (قاموس ولسان العرب ج ١٥ ص ٥٥) “ اور خاتم وخاتم، قوم کے سب سے آخر کو کہا جاتا ہے اور انہی معنوں میں ارشاد خداوندی ہے۔ وخاتم النبیین یعنی آخر النبیین۔
(اس میں امت مرزائی کے خانہ ساز اعتراض کی زیر وزبر کا بھی مدلل جواب آگیا)
- ٤٩....... خاتم النبیین وخاتم الاولاد سے مراد۔ چنانچہ مرزا قادیانی فرماتے ہیں:
”میرے بعد میرے والدین کے گھر میں اور کوئی لڑکا یا لڑکی نہیں ہوا اور میں ان کے لئے خاتم الاولاد تھا “
(تریاق القلوب ص ٣٥١، خزائن ج ١٥ ص ٤٧٩)
(مرزائیو! پہلے خاتم الاولاد کے بعد اولاد ثابت کرو۔ پھر خاتم الانبیاء کے بعد اجرائے نبوت اور ولادت نبی کے جواز پر مسلمانوں سے بحث کرنا)
برادران ملت! ہم نے خدا کے فضل و کرم سے قرآن وحدیث اور عربی لغت سے روز روشن کی طرح ثابت کر دیا کہ پیغمبر اسلام علیہ السلام بایں معنی ”خاتم النبیین “ ہیں کہ آپؐ کے بعد قیامت تک کوئی نیا نبی اور رسول پیدا نہیں ہوگا۔ البتہ اصلاح امت کے لئے آنحضرت ﷺ کے بعد خلفاء، مجدد، ابدال، امام، محدث، علماء حقانی ہوتے رہیں گے۔ جیسا کہ احادیث نبویہ سے ثابت ہے۔
پس مرزائی امت کا گمراہانہ طریق پر مسلمانوں کے سامنے اب یہ عقیدہ پیش کرنا کہ مرزا قادیانی اس زمانے کا نبی اور رسول ہے اور قیامت تک مختلف اوقات میں پیغمبر پیدا ہوتے رہیں گے۔ سراسر دجل اور باطل ہے۔
خصوصاً آج کل کے انبیاء سے
١٩
لہٰذا امت محمدیہ کا مرزائی امت کو ہر چند یہی آخری جواب ہے کہ ہمیں تمہاری خانہ ساز مسیحیت و نبوت کی قطعاً ضرورت نہیں ہے۔ ہم مریضان محبت اپنا دامن عقیدت طبیب کامل پیغمبر اسلام علیہ السلام کے ساتھ بدل وجان وابستہ کر چکے ہیں۔ خداوند عالم اسی ایمان افزاء اور شفا بخش عقیدت پر ہمارا خاتمہ کرے۔
مسیحائی کو گھر رکھو ہمیں بیمار رہنے دو
- ٥٠....... نقاش پاکستان مفکر اسلام حضرت اقبال امت محمدیہ کے سامنے وحدت ملی
کے فلسفہ کو ختم نبوت کی روشنی میں پیش کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔
ہستی ما با ابد ہمدم شود
پس خدا برما شریعت ختم کرد
برسول ما رسالت ختم کرد
لا نبی بعدی زاحسان خداست
پردہ ناموس دین مصطفےٰ است
قوم را سرمایہ قوت ازو
حفظ سر وحدت ملت ازو
حق تعالیٰ نقش ہر دعوٰی شکست
تا ابد اسلام را شیرازہ بست
(رموز بیخودی ص ١١٧)
مرزائی امت کا قرآن وحدیث
مرزائی امت کا اس قرآن وحدیث پر ایمان واعتقاد ہے جو کہ مرزا قادیانی نے اپنے جدید مذہب کی روشنی میں پیش کیا ہے۔ اس بارہ میں مرزائی امت کے مسلمہ اقوال پیش کئے جاتے ہیں۔ چنانچہ مرزا قادیانی فرماتے ہیں۔
- ٥١....... ”یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیا چیز ہے۔ جس نے اپنی وحی کے ذریعہ سے
٢٠
چند امر و نہی بیان کئے اور اپنی امت کے لئے ایک قانون مقرر کیا۔ وہی صاحب شریعت ہو گیا۔ پس اس تعریف کی رو سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں۔ کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہیں اور نہی بھی اور اگر کہو کہ شریعت سے مراد وہ شریعت ہے جس میں نئے احکام ہوں۔ تو یہ باطل ہے۔ قرآنی تعلیم توریت میں بھی موجود ہے۔‘‘
(اربعین نمبر ٤ ص ٦، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥، ٤٣٦)
٥٢....... ’’خدا نے اس بات کے ثابت کرنے کے لئے کہ میں اس کی طرف سے ہوں۔ اس قدر نشان دکھلائے کہ اگر وہ ہزار نبی پر تقسیم کئے جائیں تو ان کی ان سے نبوت ثابت ہو سکتی ہے؟‘‘
(چشمہ معرفت ص ٣١٧، خزائن ج ٢٣ ص ٣٣٢)
٥٣....... ’’میں تو بس قرآن ہی کی طرح ہوں اور قریب ہے کہ میرے ہاتھ پر ظاہر ہو گا جو کچھ فرقان سے ظاہر ہوا۔‘‘
(تذکرہ ص ٦٧٤ طبع ٣)
٥٤....... تنسیخ قرآن اور مرزا قادیانی کے صاحب شریعت ہونے پر ایمان ’’حضرت خلیفہ اوّل (حکیم نور دین) فرمایا کرتے تھے۔ میرا تو ایمان ہے کہ اگر حضرت مسیح موعود صاحب شریعت نبی ہونے کا دعویٰ کریں اور قرآنی شریعت کو منسوخ قرار دیں تو بھی مجھے انکار نہ ہو۔‘‘
(سیرۃ المہدی حصہ اوّل ص ٩٩، روایت نمبر ١٠٩)
٥٥....... ’’حقیقی عید ہمارے لئے ہی ہے۔ مگر ضرورت اس بات کی ہے کہ اس کلام الٰہی کو پڑھا اور سمجھا جائے۔ جو حضرت مسیح موعود پر اترا ہے۔ بہت کم لوگ ہیں جو اس کلام کو پڑھتے ہیں۔‘‘
(خطبہ خلیفہ محمود الفضل مورخہ ١٣؍ اپریل ١٩٢٨ء)
٥٦....... ’’بیان خلیفہ محمود: یاد رکھنا چاہئے کہ جب کوئی نبی آ جائے تو پہلے نبی کا علم بھی اس کے ذریعہ ملتا ہے۔ یوں اپنے طور پر نہیں ملتا اور ہر بعد میں آنے والا نبی پہلے نبی کے لئے بمنزلہ سوراخ کے ہوتا ہے۔ پہلے نبی کے آگے دیوار کھینچ دی جاتی ہے اور کچھ نظر نہیں آتا۔ سوائے آنے والے نبی کے ذریعہ دیکھنے کے۔ یہی وجہ ہے کہ اب کوئی قرآن نہیں۔ سوائے اس قرآن کے جو حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے پیش کیا ہے اور کوئی حدیث نہیں سوائے اس حدیث کے جو حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی روشنی میں نظر آئے۔ اگر حدیثوں کو اپنے طور پر پڑھیں گے تو وہ مداری کے پٹارے سے زیادہ وقعت نہ رکھیں گی۔ حضرت مسیح موعود فرمایا کرتے تھے کہ حدیثوں کی کتابوں کی مثال تو مداری کے پٹارے کی ہے۔ جس طرح مداری جو چاہتا ہے اس میں سے نکال لیتا ہے۔ اسی طرح ان سے جو چاہو نکال لو۔‘‘
(خطبہ خلیفہ قادیان الفضل مورخہ ١٥؍ جولائی ١٩٢٠ء)
٢١
قادیانی امت کا اعلان باطل
- ٥٧....... نظم:
تیرے صدقے تیرے قربان رسول قادیانی
عرش اعظم پہ تیری حمد خدا کرتا ہے
اللہ اللہ یہ تیری شان رسول قادیانی
سرمۂ چشم تیری خاک قدم بنواتے
غوث اعظم شہ جیلان رسول قادیانی
پہلی بعثت میں محمد ہے تو اب احمد ہے
تجھ پہ پھر اترا ہے قرآن رسول قادیانی
(الفضل مورخہ ١٦؍اکتوبر ١٩٢٢ء)
(یعنی بعثت اول میں تو ہی اے ”مرزا“ محمد تھا اور تو ہی اب احمد ہے اور تجھ پر ہی اب دوبارہ قرآن اترا ہے۔ نعوذ باللہ!)
- ٥٨....... بیان مرزا: ”حدیثوں کی بحث طریق تصفیہ نہیں ہے۔ خدا نے مجھے اطلاع دے دی ہے کہ یہ تمام حدیثیں جو پیش کرتے ہیں تحریف معنوی یا لفظی میں آلودہ ہیں اور یا سرے سے موضوع ہیں۔“
(اربعین نمبر ٣ ص ١٥، خزائن ج ١٧ ص ٤٠١)
- ٥٩....... ”کیا ان لوگوں کو آنحضرت ﷺ کی وصیت تھی کہ میرے بعد بخاری کو ماننا۔ بلکہ آنحضرت ﷺ کی وصیت تو یہ تھی کہ کتاب اللہ کافی ہے۔ ہم قرآن سے پوچھے جائیں گے نہ کہ زید و بکر کے جمع کردہ سرمایہ سے۔ یہ سوال ہم سے نہ ہوگا کہ تم صحاح ستہ وغیرہ پر کیوں نہ ایمان لائے...... اگر یہ احادیث صحیح ہوتیں اور مدار ان پر ہوتا تو آنحضرت ﷺ فرما جاتے کہ میں نے احادیث جمع نہیں کیں۔ فلاں فلاں آوے گا تو جمع کرے گا۔ تم ان کو ماننا۔“
(البدر ج ١ ش ٣، مورخہ ١٣؍نومبر ١٩٠٢ء، ص ١٨)
- ٦٠....... ”یہ تمہارے بزرگوں کی اپنے منہ کی تجویزیں ہیں کہ فلاں حدیث صحیح ہے اور فلاں حسن اور فلاں مشہور اور فلاں موضوع ہے۔“
(اربعین نمبر ٢ ص ٢٤، خزائن ج ١٧ ص ٣٧)
- ٦١....... سوال: آیاتِ قرآن، الہامات حضرت مسیح موعود میں باہم کیا نسبت ہے۔ یعنی مقدم کس کو رکھا جائے۔
٢٢
جواب از حضرت خلیفۃ المسیح ثانی: قرآن کریم اور الہامات مسیح موعود دونوں خدا تعالیٰ کے کلام ہیں۔ دونوں میں اختلاف ہو ہی نہیں سکتا۔ اس لئے مقدم رکھنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔
(الفضل مورخہ ٣٠ اپریل ١٩١٥ء)
مرزائی امت کے فرشتے
مرزائی امت کے فرشتوں کے بھی عجیب وغریب نام ہیں۔ اس قسم کی نئی پود کے فرشتوں کا آپ کو قرآن وحدیث میں قطعاً کوئی سراغ نہیں ملے گا۔ سچ ہے۔ جیسی روح ویسے فرشتے۔ ان خانہ ساز فرشتوں کے اسمائے گرامی ذرا ملاحظہ فرمائیں۔ چنانچہ مرزا قادیانی فرماتے ہیں:
- ٦٢....... انگریز! الہام ہوا: ”دی کین وہٹ دی ول ڈو۔ اس وقت ایک ایسا لہجہ
معلوم ہوا کہ گویا انگریز ہے۔ جو سر پر کھڑا بول رہا ہے...... اور یہ انگریزی کا الہام اکثر ہوتا رہا ہے۔“
(براہین احمدیہ ص ٤٨١، خزائن ج ١ ص ٥٧٢ حاشیہ)
- ٦٣....... خیراتی: ”تین فرشتے آسمان کی طرف سے ظاہر ہوئے۔ جن میں سے
ایک کا نام خیراتی تھا۔“
(تریاق القلوب ص ٩٤، خزائن ج ١٥ ص ٣٥١)
- ٦٤....... شیر علی: ”میں نے کشف میں دیکھا کہ ایک شخص جو مجھے فرشتہ معلوم ہوتا
ہے۔ مگر خواب میں محسوس ہوا کہ اس کا نام شیر علی ہے۔ اس نے مجھے ایک جگہ لٹا کر میری آنکھیں نکالی ہیں اور صاف کی ہیں۔“
(تریاق القلوب ص ٩٥، خزائن ج ١٥ ص ٣٥٢)
- ٦٥....... درشنی: ”ایک فرشتہ کو میں نے بیس برس کے نوجوان کی شکل میں دیکھا
صورت اس کی مثل انگریزوں کے تھی اور میز کرسی لگائے بیٹھا ہے۔ میں نے اس سے کہا کہ آپ بہت ہی خوبصورت ہیں۔ اس نے کہا ہاں میں درشنی آدمی ہوں۔“
(تذکرہ ص ٣١، طبع اوّل...... بعد کے تمام ایڈیشنوں میں سے اس حوالہ کو تذکرہ سے خارج کر دیا گیا۔ مرتب!)
- ٦٦....... مٹھن لال: ”خواب میں دیکھتا ہوں کہ ایک شخص مٹھن لال نام جو کسی
زمانہ میں بٹالہ میں اسسٹنٹ تھا۔ کرسی پر بیٹھا ہوا تھا اور گرد اس کے عملہ کے لوگ ہیں۔ میں نے جا کر کاغذ اس کو دیا اور کہا کہ یہ میرا پرانا دوست ہے۔ اس پر دستخط کر دو۔ اس نے بلا تامل اس وقت دستخط کر دیئے...... یہ جو مٹھن لال دیکھا گیا ہے۔ مٹھن لال سے مراد ایک فرشتہ تھا۔“
(الحکم ج ٩ نمبر ٣٢، تذکرہ ص ٥٦٠، ٥٦١، طبع سوم)
- ٦٧....... ٹچی ٹچی: ”بوقت قلت آمدنی میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک شخص آیا
٢٣٤
ہے ۔ مگر انسان نہیں ۔ بلکہ فرشتہ معلوم ہوتا ہے اور اس نے بہت سا روپیہ میری جھولی میں ڈال دیا۔ میں نے اس کا نام پوچھا تو اس نے کہا کہ میرا کچھ نام نہیں ۔ یعنی میرا کوئی نام نہیں ۔ میں نے کہا آخر کچھ نام تو ہوگا ۔ اس نے کہا میرا نام ہے ٹیچی ٹیچی ۔“
(حقیقت الوحی ص ٣٣٢، خزائن ج ٢٢ ص ٣٤٦)
فرشتہ اور اس قدر دروغ گوئی کہ میرا نام کچھ نہیں۔ آخر جب مرزا قادیانی کی طرف سے ڈانٹ پڑی تو کہہ دیا کہ ججو میرا نام ہے۔ ٹیچی ٹیچی ، جب فرشتے کی یہ حالت ہے تو پھر نبی کی حقیقت معلوم شد۔
برادران ملت : یہ ہیں وہ جدید جنس کے فرشتے کہ جن کا آسمان لندن سے قادیانی نبوت پر نزول ہوتا تھا۔ قادیانی نبوت بھی عجیب معجون مرکب ہے کہ جس کا رب ”عاج“ فرشتے یہ، ترجمان وحی ہندو۔
(مکتوبات احمدیہ ج ١ ص ٥٨)
اور راوی حدیث سردار جھنڈا سنگھ۔
(سیرۃ المہدی حصہ اوّل ص ٤٨، روایت نمبر ٥٢)
بھان متی نے کنبہ جوڑا
خلیفہ محمود کا معجزات نبوی سے انکار
خلیفہ قادیان کا (پیغام احمدیت ص ١٢) پر یہ کہنا کہ احمدی لوگ معجزات کے منکر نہیں ۔ خود اپنے بیان کے سراسر خلاف ہے ۔ چنانچہ خلیفہ قادیان کا ایک ایسے بدیہی معجزہ کے متعلق کہ جس کو قرآن مجید نے نہایت وضاحت اور صراحت سے بیان فرمایا ہے ۔ صاف انکار ملاحظہ ہو ۔
٥٨ ...... سوال: کیا شق القمر کا معجزہ کفار کی خواہش پر دکھایا گیا تھا۔
جواب از خلیفہ قادیانی : ” اس میں ایک پیش گوئی تھی کہ عرب کی حکومت مٹا دی جائے گی۔ چاند فی الواقع دو ٹکڑے نہیں ہوا تھا۔ بلکہ کشف میں ایسا دکھا دیا گیا تھا۔ یہ خیال کہ فی الواقع چاند دو ٹکڑے ہو گیا تھا۔ صحیح نہیں ۔ اگر ایسا ہوتا تو علم نجوم والے جو رصد گاہوں میں بیٹھتے تھے ۔ وہ ضرور دیکھتے۔ لیکن انہوں نے اس کو ریکارڈ نہیں کیا۔“
(الفضل مورخہ ١٧ جولائی ١٩٢٢ء)
نوٹ : اب قرآن مجید کی شہادت اور جواب ملاحظہ ہو ۔ جو کہ خلیفہ قادیانی کے عقیدہ باطلہ کی تردید کر رہا ہے۔
”اقتربت الساعۃ وانشق القمر (قمر)“ ﴿گھڑی قریب آگئی اور چاند پھٹ گیا ۔﴾
ہجرت سے پیشتر نبی کریم ﷺ ”منیٰ“ میں تشریف فرما تھے ۔ کفار کا مجمع تھا۔ انہوں
٢٤
نے آپ سے معجزہ طلب کیا۔ آپ نے فرمایا۔ آسمان کی طرف دیکھو۔ ناگاہ چاند پھٹ کر دو ٹکڑے ہو گیا۔ کفار کہنے لگے۔ محمدؐ نے چاند پر بھی جادو کر دیا۔ ابن اثیر واقعہ انشقاق قمر کے متعلق کہتے ہیں۔ ”ورد في الاحاديث المتواترة بالاسانيد الصحيحه“ یعنی اس کا ذکر متواتر حدیثوں میں اسناد صحیح کے ساتھ موجود ہے۔
معجزات کی تمام تاریخ میں کوئی معجزہ ایسی زبردست شہادت سے ثابت نہیں جیسے شق القمر کا معجزہ ہے۔ قرآن وحدیث کی قطعی شہادت کے بعد معجزہ شق القمر کا ذکر تاریخ میں موجود ہے۔ دیکھو تاریخ فرشتہ وغیرہ۔ اہل ایمان نے اس معجزہ کی تصدیق کی کہ فی الواقع چاند دو ٹکڑے ہوگیا تھا۔ مشرکین نے مشاہدہ کے بعد یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ یہ سحر یعنی جادو ہے۔ مگر تیسری قسم قادیانی امت کی ہے کہ جس کا پیشوا اور امام یہ کہتا ہے کہ چاند فی الواقع دوٹکڑے نہیں ہوا تھا اور یہ خیال صحیح نہیں۔ دلیل یہ پیش کی کہ علم نجوم والوں نے اس واقعہ کو ریکارڈ نہیں کیا۔ نعوذ باللہ منہا کیا قرآن مقدس کا پیش کردہ ریکارڈ غیر معتبر ہے۔ مگر جن کی نبوت کا دارومدار علم نجوم وغیرہ پر ہو۔ ان کو قرآن لاریب سے کیا واسطہ۔ حضرت اقبالؒ حضور علیہ السلام کی شان میں فرماتے ہیں۔
ماہ از انگشت او شق می شود
علاوہ ازیں اقبالؒ فرماتے ہیں: ”قادیانی تحریک کا نبی کے متعلق مجوسی کا تخیل ہے ۔“
(حرف اقبال ص ١٢٣)
مرزائی امت کا نجات کے متعلق عقیدہ
کہتی ہے کہ یہ مؤمن پارینہ ہے کافر
(علامہ اقبالؒ)
مرزا قادیانی اور اس کی امت کا عقیدہ ہے کہ جس شخص نے احمدیت کو قبول نہیں کیا اور مرزا قادیانی کے الہامات و دعاویٰ پر ایمان نہیں لایا۔ وہ جہنمی اور کافر ہے۔ چنانچہ اس بارہ میں مرزا قادیانی اور اس کی امت کے بیانات ذیل میں ملاحظہ ہوں۔
- ٦٩....... بیان مرزا قادیانی: ”تمہیں دوسرے فرقوں کو جو دعویٰ اسلام کرتے ہیں
بالکلی ترک کرنا پڑے گا۔“
(اربعین نمبر ٣ ص ٢٨، خزائن ج ١٧ ص ٤١٧)
- ٧٠....... ”اللہ نے مجھے بشارت دی ہے کہ جس نے تجھے شناخت کرنے کے بعد
٢٥
تیری دشمنی اور تیری مخالفت اختیار کی وہ جہنمی ہے۔" (الحکم مورخہ ٣١؍اگست ١٩٠١ء، تذکرہ ص١٦٣، طبع ٣)
- ٧١...... الہام: "جو شخص تیری پیروی نہیں کرے گا اور تیری بیعت میں داخل نہیں
ہوگا اور تیرا مخالف رہے گا۔ وہ خدا اور رسول کی نافرمانی کرنے والا اور جہنمی ہے۔"
(تذکرہ ص٣٣٦، طبع٣، تبلیغ رسالت ج٩ ص٢٧، مجموعہ اشتہارات ج٣ ص٢٧٥)
- ٧٢...... "جو شخص میرا مخالف ہے۔ وہ عیسائی اور یہودی اور مشرک ہے۔"
(نزول المسیح ص٤، خزائن ج١٨ ص٣٨٢)
- ٧٣...... "کل مسلمانوں نے مجھے قبول کر لیا ہے اور میری دعوت کی تصدیق کی
ہے۔ مگر کنجریوں اور بدکاروں کی اولاد نے مجھے نہیں مانا۔"
(آئینہ کمالات اسلام ص٥٤٧، ٥٤٨، خزائن ج٥ ص ایضاً)
نوٹ: سنا ہے کہ مرزا سلطان احمد اور مرزا فضل احمد مرحوم بھی مرزا قادیانی کے حقیقی بیٹے اور مرزا قادیانی کے دعاوی باطلہ کے منکر تھے۔ مرزائی امت کا ان کے متعلق کیا خیال ہے کہ وہ کس کی اولاد ٹھہرے؟
باقی لفظ بغاء "بغیا" کے معنی دیکھو۔ (انجام آتھم ص٢٨٢، خزائن ج١١ ص ایضاً، نور الحق حصہ اوّل ص١٢٣، خزائن ج٨ ص١٦٣، فریاد درد ص٨٧، خزائن ج١٣ ص٤١١، لجۃ النور ص٩٦، خزائن ج١٦ ص٣٤٨) ان تمام مندرجہ بالا کتب مرزا قادیانی میں لفظ بغایا کے معنی نسل بدکاراں، زنا کار، خراب عورتوں کی نسل، زن بدکار، زنان بازاری کے لئے ہیں۔
- ٧٤...... بیان خلیفہ قادیان: "کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی
بیعت میں شامل نہیں ہوئے۔ خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ میں تسلیم کرتا ہوں کہ یہ میرے عقائد ہیں۔"
(آئینہ صداقت ص٣٥)
- ٧٥...... "ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم غیر احمدیوں کو مسلمان نہ سمجھیں اور ان کے پیچھے
نماز نہ پڑھیں۔ کیونکہ وہ ایک نبی (مرزا قادیانی) کے منکر ہیں۔"
(انوار خلافت ص٩٠)
- ٧٦...... خلیفہ قادیان کا بیان: "مسلمانوں کے شیرخوار اور معصوم بچے کا جنازہ
پڑھنا بھی حرام ہے۔
سوال کیا جاتا ہے کہ غیر احمدی تو حضرت مسیح موعود کے منکر ہوئے۔ اس لئے ان کا جنازہ نہیں پڑھنا چاہئے۔ لیکن اگر کسی غیر احمدی کا چھوٹا بچہ مرجائے تو اس کا جنازہ کیوں نہ پڑھا جائے۔ وہ تو مسیح موعود کا منکر نہیں۔ میں یہ سوال کرنے والے سے پوچھتا ہوں کہ اگر یہ بات
٢٦
درست ہے تو پھر ہندوؤں اور عیسائیوں کے بچوں کا جنازہ کیوں نہیں پڑھا جاتا ۔“
(انوار خلافت ص٩٣)
نوٹ: حضرات! مندرجہ بالا حوالہ جات سے روز روشن کی طرح ثابت ہو گیا کہ مرزائی امت تمام روئے زمین کے مسلمانوں کو انکار مرزا کی وجہ سے کافر اور جہنمی خیال کرتی ہے۔
مرزائی امت کا جہاد کے متعلق عقیدہ
تردید حج میں کوئی رسالہ رقم کریں
(علامہ اقبالؒ)
- ٧٧...... جہاد کے متعلق پیغام خداوندی ”کتب علیکم القتال (بقرہ)“ ﴿تم
پر قتال یعنی جہاد فرض کر دیا گیا ہے۔﴾ مزید دیکھو سورہ صف، انفال، نساء، توبہ۔
- ٧٨...... ارشاد نبوتؐ: حضور علیہ السلام فرماتے ہیں کہ مجھے قسم ہے اس ذات کی جس
کے قبضہ میں میری جان ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ راہ خداوندی میں قتل کیا جاؤں۔ پھر زندہ ہوں۔ پھر قتل کیا جاؤں۔ پھر زندہ ہوں۔ پھر قتل کیا جاؤں پھر زندہ ہوں۔ پھر قتل کیا جاؤں۔
(بخاری، مسلم، مشکوٰۃ، کتاب الجہاد)
- ٧٩...... بیشک جہاد فی سبیل اللہ اور ایمان باللہ سب اعمال سے افضل ہیں۔
(مسلم شریف)
- ٨٠...... حضور علیہ السلام نے فرمایا: ”دین اسلام ہمیشہ قائم رہے گا۔ ایک جماعت
مسلمانوں کی قیامت تک جہاد کرتی رہے گی۔“
(رواہ مسلم، مشکوٰۃ، کتاب الجہاد)
مقصد او حفظ آئین است و بس
(علامہ اقبالؒ)
مگر افسوس کہ مرزائی امت جس طرح اپنی دیگر خلاف اسلام تعلیمات پیش کرتی ہے۔ اسی طرح جہاد کے متعلق بھی ہے۔ مرزائی امت کو جہاد کا صاف انکار ہے اور مرزائی امت کے پیغمبر نے صاف طور پر جہاد کی تردید اور مخالفت کی ہے اور کہا ہے کہ جہاد حرام اور قبیح ہے۔ موقوف و منسوخ ہے اور ناجائز و بدتر ہے۔ چنانچہ تردید جہاد کے متعلق مرزا قادیانی کے بیانات ملاحظہ ہوں۔ مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ:
٢٧
دین کے لئے حرام ہے اب جنگ اور قتال
اب آ گیا مسیح جو دیں کا امام ہے
دین کے تمام جنگوں کا اب اختتام ہے
اب آسمان سے نور خدا کا نزول ہے
اب جنگ اور جہاد کا فتویٰ فضول ہے
دشمن ہے وہ خدا کا جو کرتا ہے اب جہاد
منکر نبی کا ہے جو یہ رکھتا ہے اعتقاد
(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٢٦، خزائن ج ١٧ ص ٧٧)
اب جنگ اور جہاد حرام اور قبیح ہے
(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٢٩، خزائن ج ١٧ ص ٨٠)
- ٨٢...... ”حدیث سے بھی ثابت ہے کہ مسیح کے وقت میں جہاد کا حکم منسوخ کر دیا
جائے گا...... یعنی مسیح موعود جب آئے گا تو جنگ اور جہاد کو موقوف کر دے گا۔“
(تجلیات الٰہیہ ص ٨، خزائن ج ٢٠ ص ٤٠٠)
- ٨٣...... ”یاد رکھو کہ اسلام میں جو جہاد کا مسئلہ ہے۔ میری نگاہ میں اس سے بدتر
اسلام کو بدنام کرنے والا اور کوئی مسئلہ نہیں ہے۔“
(تبلیغ رسالت ج ١٠ ص ١٢٢، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٨٤)
- ٨٤...... ”میں نے بائیس برس سے اپنے ذمہ یہ فرض کر رکھا ہے کہ ایسی کتابیں جن
میں جہاد کی ممانعت ہو۔ اسلامی ممالک میں ضرور بھیج دیا کرتا ہوں...... جو لوگ درندہ طبع ہیں اور جہاد کی مخالفت کے بارے میں میری تحریریں پڑھتے ہیں۔ وہ فی الفور چڑ جاتے ہیں اور میرے دشمن ہو جاتے ہیں...... بلکہ جو شخص سچے دل سے جہاد کا مخالف ہو اس کو یہ علماء کافر سمجھتے ہیں۔ بلکہ واجب القتل بھی...... وہ زمانہ گزرتا جاتا ہے جب کہ نادان ملا بہشت کی کل نعمتیں جہاد پر ہی موقوف رکھتے تھے۔“
(تبلیغ رسالت ج ١٠ ص ٢٦، ٢٨، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٤٤٣، ٤٤٥)
(جہاد پر اعتراض کرنے والے اور اس کو حرام و فضول کہنے والے نادان کو پہلے خدا
٢٨
رسول پر اعتراض کرنا چاہئے۔ جنہوں نے قرآن وحدیث میں جہاد کے بیشمار فضائل بیان فرمائے ہیں۔ علماء کرام پر اعتراض کس لئے ، علماء تو صرف مبلغ قرآن اور داعی اسلام ہیں )
- ٨٥...... ”جو لوگ مسلمانوں میں سے ایسے بدخیال جہاد اور بغاوت کو دلوں میں
مخفی رکھتے ہیں۔ میں ان کو سخت نادان اور ظالم سمجھتا ہوں۔“
(تریاق القلوب ص١٥، خزائن ج ١٥ ص ١٥٦)
- ٨٦...... ”اگر فرض بھی کرلیں کہ اسلام میں ایسا ہی جہاد تھا۔ جیسا کہ ان مولویوں کا
خیال ہے۔ تاہم اس زمانہ میں وہ حکم قائم نہیں رہا۔ کیونکہ لکھا ہے کہ جب مسیح موعود ظاہر ہو جائے گا تو سیفی جہاد اور مذہبی جنگوں کا خاتمہ ہو جائے گا...... اے اسلام کے عالمو اور مولویو! میری بات سنو۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اب جہاد کا وقت نہیں ہے۔ مسیح موعود جو آنے والا تھا ، آ چکا۔“
(رسالہ جہاد ص ٨، خزائن ج ١٧ ص ٨)
- ٨٧...... ”دیکھو میں ایک حکم لے کر آپ لوگوں کے پاس آیا ہوں۔ وہ یہ ہے کہ
اب سے تلوار کے جہاد کا خاتمہ ہے۔“
(رسالہ جہاد ص ١٥، خزائن ج ١٧ ص ١٥)
- ٨٨...... ”حدیثوں میں صریح طور پر وارد ہو چکا ہے کہ جب مسیح دوبارہ دنیا میں
آئے گا۔ تو تمام دینی جنگوں کا خاتمہ کر دے گا...... ہر ایک شخص جو میری بیعت کرتا ہے اور مجھ کو مسیح موعود مانتا ہے۔ اسی روز سے اس کو یہ عقیدہ رکھنا پڑتا ہے کہ اس زمانہ میں جہاد قطعاً حرام ہے۔ کیونکہ مسیح آچکا...... میں امید رکھتا ہوں کہ اگر خدا تعالیٰ نے چاہا۔ تو چند سال میں ہی یہ مبارک اور امن پسند جماعت جو جہاد اور غازی پن کے خیالات کو مٹا رہی ہے۔ کئی لاکھ تک پہنچ جائے گی۔“
(ضمیمہ رسالہ جہاد ص ٦، خزائن ج ١٧ ص ٢٨)
- ٨٩...... ”یادر ہے کہ مسلمانوں کے فرقوں میں سے یہ فرقہ جس کا امام اور پیشوا میں
ہوں۔ ایک بڑا امتیازی نشان اپنے ساتھ رکھتا ہے اور وہ یہ ہے کہ اس فرقہ میں تلوار کا جہاد بالکل نہیں اور نہ اس کی انتظار ہے۔ بلکہ یہ مبارک فرقہ نہ ظاہر طور پر اور نہ پوشیدہ طور پر جہاد کی تعلیم کو ہرگز جائز نہیں سمجھتا۔“
(تریاق القلوب ص ٣٨٩، خزائن ج ١٥ ص ٥١٧)
- ٩٠...... ”جہاد یعنی دینی لڑائیوں کی شدت کو خدا تعالیٰ آہستہ آہستہ کم کرتا گیا ہے
حضرت موسیٰ کے وقت میں اس قدر شدت تھی...... کہ شیر خوار بچے بھی قتل کئے جاتے تھے۔ پھر نبی کریم ﷺ کے وقت میں بچوں، بوڑھوں اور عورتوں کا قتل کرنا حرام کیا گیا اور پھر مسیح موعود کے وقت قطعاً جہاد کا حکم موقوف کر دیا گیا۔“
(اربعین نمبر ٤ ص ٣، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٣)
٢٩
٩١...... ”لوگ اپنے وقت کو پہچان لیں۔ یعنی سمجھ لیں کہ آسمان کے دروازوں کے کھلنے کا وقت آ گیا۔ اب سے زمینی جہاد بند کئے گئے اور لڑائیوں کا خاتمہ ہو گیا۔ جیسا کہ حدیثوں میں پہلے لکھا گیا تھا کہ جب مسیح آئے گا تو دین کے لئے لڑنا حرام کیا جائے گا۔ سو آج سے دین کے لئے لڑنا حرام کیا گیا۔ اب اس کے بعد جو دین کے لئے تلوار اٹھاتا ہے اور غازی نام رکھا کر کافروں کو قتل کرتا ہے۔ وہ خدا اور اس کے رسول کا نافرمان ہے اور اس حدیث کو پڑھو کہ جو مسیح موعود کے حق میں ہے۔ جس کے یہ معنی ہیں کہ جب مسیح آئے گا۔ تو جہادی لڑائیوں کا خاتمہ ہو جائے گا۔ سو مسیح آچکا اور یہی ہے جو تم سے بول رہا ہے...... آج سے انسانی جہاد جو تلوار سے کیا جاتا تھا۔ بند کیا گیا۔ اب اس کے بعد جو شخص کافر پر تلوار اٹھاتا ہے اور اپنا نام غازی رکھتا ہے۔ وہ اس رسول کریم کی نافرمانی کرتا ہے۔ جس نے فرما دیا ہے کہ مسیح موعود کے آنے پر تمام تلوار کے جہاد ختم ہو جائیں گے۔ سو اب میرے ظہور کے بعد تلوار کا کوئی جہاد نہیں۔“
(خطبہ الہامیہ ص ب، خزائن ج ١٦ ص ٢٨،٢٧)
٩٢...... ”ان الحرب حرمت علیٰ...... فلا جہاد الا جہاد اللسان“ یہ سچ بات ہے کہ کافروں کے ساتھ لڑنا مجھ پر حرام کیا گیا ہے۔ پس کوئی جہاد سوائے زبانی جہاد کے باقی نہیں رہا۔“
(خطبہ الہامیہ ص ٢٥، خزائن ج ١٦ ص ٥٩،٥٨)
٩٣...... ”اللہ تعالیٰ نے اس عاجز کا نام سلطان القلم رکھا اور میرے قلم کو ذوالفقار علیؑ فرمایا۔“
(الحکم ج ٥ نمبر ٢٢، مورخہ ١٧؍جون ١٩٠١ء، تذکرہ ص ٧٣ طبع سوم)
٩٤......
سیف کا کام قلم سے ہی دکھایا ہم نے
(آئینہ کمالات ص ٢٢٥، خزائن ج ٥ ص ایضاً)
٩٥...... ”اس وقت ہمارے قلم رسول اللہ ﷺ کی تلواروں کے برابر ہیں۔“
(ملفوظات ج ١ ص ١٧٨)
١؎ ذوالفقار علیؑ نے تو کفار و مرتدین کا قلع قمع کیا تھا۔ مگر مرزا قادیانی کے قلم نے اہل اسلام کی مذمت کرتے ہوئے اپنے مسلمہ دجال (نور الحق حصہ اوّل ص ٥٧) انگریز کی مدح و تعریف کی۔ پس قلم مرزا کو ذوالفقار علیؑ سے کیا نسبت۔
٣٠
برادران ملت: مرزا قادیانی کی تردید جہاد کے متعلق فی الحال صرف پندرہ حوالے پیش کئے گئے ہیں۔ آپ انہی سے اندازہ لگائیے کہ قادیانی متنبی نے کس شدومد کے ساتھ اسلام کے ایک عظیم الشان رکن کی مخالفت کی ہے۔ یہ محض اس لئے کہ مسلمانوں کی جہادی عسکری قوت و طاقت مٹ جائے۔ تاکہ غیر اسلامی حکومت میں میری دوکان نبوت چمکتی رہے۔ جیسا کہ مرزا قادیانی خود فرماتے ہیں کہ ؎
ان کی شاہی میں میں پاتا ہوں رفاہ روزگاہ
(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١١١، خزائن ج ٢١ ص ١٤١)
باقی مرزا قادیانی کا یہ کہنا کہ اب سیفی جہاد حرام اور منسوخ ہو چکا اور زبانی اور قلمی جہاد باقی ہے۔ مرزا قادیانی کے اس خود ساختہ عقیدے کا جواب ہمارے مفکر اسلام حکیم الامت نقاش پاکستان حضرت اقبالؒ نے خوب دیا ہے۔ حضرت علامہ اقبالؒ فرماتے ہیں ؎
دنیا میں اب رہی نہیں تلوار کارگر
لیکن جناب شیخ کو معلوم کیا نہیں
مسجد میں اب یہ وعظ ہے بے سود و بے اثر
تیغ وتفنگ دست مسلماں میں ہے کہاں
ہو بھی تو دل ہیں موت کی لذت سے بیخبر
تعلیم اس کو چاہئے ترک جہاد کی
دنیا کو جس کے پنجہ خونیں سے ہو خطر
باطل کے فال وفر کی حفاظت کے واسطے
یورپ زرہ میں ڈوب گیا دوش تا کمر
ہم پوچھتے ہیں شیخ کلیسا نواز سے
مشرق میں جنگ شر ہے تو مغرب میں بھی ہے شر
حق سے اگر غرض ہے تو زیبا ہے کیا یہ بات
اسلام کا محاسبہ یورپ سے درگذر
مرزا قادیانی کی صلیب نوازی کے متعلق دوسری جگہ حضرت علامہ اقبالؒ فرماتے ہیں ؎
٣١
زندگانی از خودی محرومی است
دولت اغیار را رحمت شمرد
رقص ہا گرد کلیسا کرد مرد
(مثنوی پس چہ باید کرد ص٢٩)
انگریزوں کی فتح کے لئے دن رات دعائیں ہورہی تھیں اور ممالک اسلامیہ بالخصوص ترکی و بغداد کے سقوط اور تباہی پر قادیان میں چراغاں کیا جارہا تھا۔ افسوس صد افسوس! حضرت اقبالؒ شیخ بہاء اللہ ایرانی اور مرزا غلام احمد قادیانی کے متعلق فرماتے ہیں:
آن ز حج بیگانہ وایں از جہاد
سینہ ہا از گرمی قرآں تہی
ایں چنیں مرداں چہ امید بہی
(جاوید نامہ ص٢٣٥)
یعنی ایرانی پیغمبر منکر حج اور ہندوستانی پیغمبر منکر جہاد تھا اور یہ منکر اس لئے تھے کہ ان دونوں کے سینے تعلیم قرآن اور حرارت ایمان سے سراسر محروم اور خالی تھے۔ لہٰذا ایسے منکرین ارکان اسلام سے کسی نیکی اور بہتری کی کیا امید ہو سکتی ہے۔ پس ایسی باطل نبوت ایمان مسلم کے لئے یقیناً ایک زہر قاتل ہے۔
جس نبوت میں نہیں قوت و شوکت کا پیام
(علامہ اقبالؒ ضرب کلیم ص٥٣)
پیغامِ جہاد
......٩٨
آزادی کامل کے طلبگار جوانو
ہاں مذہب وملت کے پرستار جوانو
توحید کے نغموں سے زمانہ کو جگا کر
٣٢
میداں میں بڑھو جوہر مردانہ دکھا دو
کفار کی ہستی کو زمانے سے مٹا دو
آ جائے مقابل میں جو ٹھوکر سے اڑا دو
طوفاں سے لڑو خود کو تماشائی بنا کر
میداں میں چلو ہاتھ میں تلوار اٹھا کر
ہاں راہ صداقت میں قدم آگے بڑھانا
مٹ جاؤ نہ سر غیر کی چوکھٹ پر جھکانا
پہلی سی ذرا شوکت اسلام دکھا کر
میداں میں چلو ہاتھ میں تلوار اٹھا کر
مشتاق تیری دید کا ہر اہل نظر ہے
وہ دیکھ ہوئی اب تو شب غم کی سحر ہے
اسلام کی ہو فتح یہ خالق سے دعا کر
میداں میں چلو ہاتھ میں تلوار اٹھا کر
امت مرزائیہ اور استخارہ
گر تجھے ایمان پیارا ہے تو مرزائی نہ بن
پیغام احمدیت
خلیفہ قادیان کہتے ہیں کہ: ”حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے دنیا کے سامنے ہمیشہ یہ بات پیش کی کہ میں اپنے ساتھ ہزاروں دلائل رکھتا ہوں۔ لیکن میں کہتا ہوں کہ اگر تمہاری ان دلائل سے تسلی نہیں ہوئی تو نہ میری سنو اور نہ میرے مخالفوں کی سنو۔ خدا تعالیٰ کے پاس جاؤ اور اس سے پوچھو کہ آیا میں سچا ہوں یا جھوٹا۔ اگر خدا کہہ دے کہ میں جھوٹا ہوں تو بیشک میں جھوٹا ہوں۔“
(پیغام احمدیت ص ٣٣)
٣٣
پیغام محمدیت
ہمارا ایمان ہے کہ انبیاء صادقین کے معجزات اور اولیاء مقربین کے کشوف و کرامات برحق ہیں۔ لیکن استخارہ کا تعلق ان امور سے نہیں ہے۔ جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی شریعت کے قطعی فیصلے موجود ہیں۔ استخارہ کا تعلق صرف ان امور سے ہے جن میں انسان شرعاً وعقلاً کسی فیصلہ کن نتیجہ پر نہ پہنچ سکے۔ ایسے امور میں بلاشبہ اپنے تذبذب وتردد کے ازالے کے لئے اللہ تعالیٰ سے مسنون طریقہ پر استخارہ کرنا چاہئے۔ نہ کہ ان معاملات وعقائد میں جن کے بارے میں اللہ اور رسول کے واضح اور صریح احکام موجود ہیں۔
بھلا کہیں آفتاب کی روشنی پر بھی کوئی دلیل وحجت کا خواہاں اور متلاشی ہوتا ہے۔ ”آفتاب آمد دلیل آفتاب“ پس ختم نبوت کے سراج منیر کے طلوع ہوجانے کے بعد کسی خانہ ساز اور ظلمت آمیز نبوت کی جانب رجوع کرنا یقیناً خسران ابدی اور سلب ایمان کی دلیل ہے۔
جب خداوند عالم نے قرآن مجید میں اپنا ایک اٹل اور ناطق قانون بیان فرما دیا کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ خاتم النبیین ہیں اور پیغمبر اسلام علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس قول خداوندی کی تشریح وتفسیر کرتے ہوئے فرمایا کہ: ”انا خاتم النبیین لا نبی بعدی“ میں نبیوں کا ختم کرنے والا ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی پیدا نہیں ہوگا۔ پھر فرمایا: ”ان الرسالة والنبوة قد انقطعت فلا رسول بعدی ولانبی بعدی“
(ترمذی شریف ج ٢ ص ٥٣)
”تحقیق رسالت اور نبوت بند ہوچکی ہے۔ پس میرے بعد نہ ہی کوئی رسول پیدا ہوگا اور نہ ہی کوئی نبی۔ پس جو شخص خدا تعالیٰ اور پیغمبر عربی ﷺ کے اس قدر واضح اور صریح احکام وفرامین کے بعد بھی نبی اور رسول ہونے کا دعویٰ کرے گا وہ فرمان نبوی کے مطابق کذاب ودجال ہے اور از روئے قانون اسلام واجماع امت باغی ومرتد ہے۔“
(شرح فقہ اکبر ص ٢٠٢، شرح شفا، زرقانی ج ٩ ص ١٨٨، قاضی عیاض)
دنیا میں آج دین کی تکمیل ہو گئی
(تفسیر آیہ ”الیوم اکملت لکم دینکم (سورہ المائدہ)“)
٤٤
افلاک پر حوالہ جبریل ہو گئی
(مولانا ظفر علی خاںؒ)
قرآن وحدیث کے اس قدر واضح دلائل اور شواہد کی موجودگی میں اگر چہ خلیفہ قادیانی کے مندرجہ بالا معیار کے جواب دینے کی ہمیں چنداں ضرورت نہ تھی۔ مگر چونکہ خلیفہ قادیانی نے بزعم خود اس معیار پر بڑا زور دیا ہے۔ اس لئے جواب دیا جاتا ہے۔ مگر ساتھ ہی ہم پیش گوئی بھی کئے دیتے ہیں کہ مرزائی امت اپنے اس پیش کردہ معیار پر بھی قائم نہیں رہے گی۔ چونکہ اس معیار کی رو سے بھی مرزا قادیانی کا صاف جھوٹا ہونا ثابت ہوتا ہے۔
مرزا قادیانی کے اہل صحبت مریدین کا استخارہ اور ان کی مرزا قادیانی سے بیزاری
حضرت میر عباس علی شاہ مرحوم لدھیانوی، میر صاحب کا مرزا قادیانی کے نزدیک علمی مقام، مرزا قادیانی کا مکتوب بنام میر صاحب۔ چنانچہ مرزا قادیانی میر صاحب کو لکھتے ہیں کہ:
- ٩٩...... ”آپ کا والا نامہ پہنچا۔ آپ دقائق متصوفین میں سوالات پیش کرتے
ہیں اور یہ عاجز مفلس ہے۔ محض حضرت ارحم الراحمین کی ستاری نے اس ہیچ اور ناچیز کو مجالس صالحین میں فروغ دیا ہے۔ ورنہ من آنم کہ من دانم۔“
(مکتوبات احمدیہ ج١ ص١٠)
- ١٠٠...... ”حبی فی اللہ میر عباس علی: یہ میرے وہ اوّل دوست ہیں...... جو سب
سے پہلے تکلیف سفر اٹھا کر ابرار اخیار کی سنت پر بقدم تجرید محض اللہ قادیان میں میرے ملنے کے لئے آئے۔ وہ یہی بزرگ ہیں...... انہوں نے میرے لئے ہر ایک قسم کی تکلیفیں اٹھائیں اور قوم کے منہ سے ہر ایک قسم کی باتیں سنیں۔ میر صاحب نہایت عمدہ حالات کے آدمی ہیں۔ ان کے مرتبۂ اخلاص کے ثابت کرنے کے لئے یہ کافی ہے کہ ایک مرتبہ اس عاجز کو ان کے حق میں الہام ہوا تھا۔ ”اَصلھا ثابت وفرعھا فی السما......“ میر صاحب بڑے لائق اور مستقیم اور دقیق الفہم ہیں۔“
(ازالہ اوہام ص٧٩٠، خزائن ج٣ ص٥٢٧)
- ١٠١...... مرزا قادیانی حضرت میر صاحب کو اپنے ایک خط میں لکھتے ہیں کہ:
”الحمد للہ آپ جوہر صافی رکھتے ہیں۔ غبار ظلمت آثار کو آپ کے دل میں قیام نہیں۔“
(مکتوب احمدیہ ج١ ص١٥)
نوٹ: میر عباس علی شاہ کچھ عرصہ گمراہی وضلالت میں گرفتار رہے۔ مگر چونکہ حضرت
٣٥
میر صاحب جوہر صافی رکھتے تھے اور غبار ظلمت آثار کو آپ کے دل میں قیام نہیں تھا۔ جیسا کہ مرزا قادیانی نے ان کے متعلق خود لکھا ہے۔ خداوند عالم کو حضرت میر صاحب کا خاتمہ بالایمان منظور تھا۔ اس لئے اس ہادئ مطلق نے میر صاحب کی بر وقت دستگیری فرمائی۔ ”چونکہ انسان اپنی عقل میں غلطی کر سکتا ہے۔ لیکن خدا تو اپنی راہنمائی میں غلطی نہیں کر سکتا۔“ (پیغام احمدیت ص ٤٣)
لہٰذا حضرت میر صاحب کو بذریعہ استخارہ معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی جھوٹا ہے۔ میر صاحب، مرزا قادیانی کی بیعت سے تائب ہو کر امت محمدیہ میں داخل ہو گئے اور ان کا خاتمہ بالخیر ہوا۔ اب چاہئے تو یہ تھا کہ حضرت میر صاحب کے جوہر صافی سے مرزا قادیانی اپنا جوہر مکدر صاف کر کے نصیحت اور عبرت حاصل کرتے اور اپنے دعویٰ باطل سے تائب ہو جاتے۔ مگر افسوس کہ مرزا قادیانی نے ایسا نہ کیا۔ بلکہ حضرت میر صاحب کے ایمان بخش استخارہ کو ہی جھٹلانا شروع کر دیا۔ چنانچہ مرزا قادیانی حضرت میر صاحب کے متعلق اپنی کتاب میں لکھتے ہیں:
......١٠٢ ”میر عباس علی صاحب لدھیانوی۔ یہ میر صاحب وہی حضرت ہیں جن کا ذکر بالخیر میں نے ازالہ اوہام میں بیعت کرنے والوں کی جماعت میں لکھا ہے۔ افسوس کہ وہ سخت لغزش میں آگئے۔ بلکہ جماعت اعدا میں داخل ہو گئے ١......
میر عباس علی صاحب نے ١٢؍ دسمبر ١٨٩١ء میں مخالفانہ طور پر ایک اشتہار بھی شائع کیا ہے۔ جو ترک ادب اور تحقیر کے الفاظ سے بھرا ہوا ہے۔...... میر صاحب نے اپنے اس اشتہار میں اپنے کمالات ظاہر فرما کر تحریر فرمایا ہے کہ گویا ان کو رسول نمائی کی طاقت ہے۔ چنانچہ وہ اس اشتہار میں اس عاجز کی نسبت لکھتے ہیں کہ اس بارہ میں میرا مقابلہ نہیں کیا۔ میں نے کہا تھا کہ ہم دونوں کسی ایک مسجد میں بیٹھ جائیں اور پھر یا تو مجھ کو رسول کریم کی زیارت کرا کر اپنے دعاوی کی تصدیق کرا دی جائے اور یا میں زیارت کرا کر اس بارہ میں فیصلہ کرا دوں گا...... ناظرین سمجھ سکتے ہیں کہ رسول نمائی کا قادرانہ دعویٰ کس قدر فضول بات ہے۔ حدیث صحیح سے ظاہر ہے کہ تمثل شیطان سے وہی خواب رسول بینی کی مبرا ہو سکتی ہے۔ جس میں آنحضرتﷺ کو ان کے حلیہ پر دیکھا گیا ہو۔ ورنہ شیطان کا تمثل انبیاء کے پیرایہ میں نہ صرف جائز بلکہ واقعات میں سے ہے اور شیطان لعین تو
١؎ جماعت اعدا میں نہیں بلکہ جماعت حقہ امت محمدیہ میں داخل ہو گئے اور مرزا قادیانی کی خانہ ساز نبوت سے یہ کہتے ہوئے الگ ہوئے کہ؎
یعنی اک رہزن کو میر کارواں سمجھا تھا میں
٣٦
خدا تعالیٰ کا تمثل دکھلا دیتا ہے۔ تو پھر انبیاء کا تمثل اس پر کیا مشکل ہے۔ اب جب کہ یہ بات ہے تو فرض کے طور پر اگر مان لیں کہ کسی کو آنحضرت ﷺ کی زیارت ہوئی تو اس بات پر کیونکر مطمئن ہوں کہ وہ زیارت درحقیقت آنحضرت ﷺ کی ہے۔ کیونکہ اس زمانہ کے لوگوں کو ٹھیک ٹھیک حلیہ نبویؐ پر اطلاع نہیں اور غیر حلیہ پر تمثل شیطان جائز ہے...... اگر ایک شخص دعویٰ کرے کہ رسول اللہ میری خواب میں آئے ہیں اور کہہ گئے ہیں کہ فلاں شخص بے شک کافر اور دجال ہے۔ اب اس بات کا کون فیصلہ کرے کہ یہ رسول اللہ کا قول ہے یا شیطان کا۔
(آسمانی فیصلہ ص ٣٧، ٣٨، خزائن ج ٤ ص ٣٤٣ تا ٣٤٩)
نوٹ: حضرات! آپ نے مرزا قادیانی کی قلابازی کو ملاحظہ فرمایا کہ نعوذ باللہ حضرت میر صاحب کی رسول بینی اور استخارہ ہی غلط ہے۔ حالانکہ ہم نے کسی غیر مصدق اور غیر معتبر شخص کا استخارہ پیش نہیں کیا بلکہ ہم نے اس بزرگ کا استخارہ پیش کیا ہے کہ جس کے متعلق مرزا قادیانی کے یہ اقوال ہیں کہ: ”ابرار و اخیار کی سنت کے عامل جوہر صافی کے مالک بڑے لائق، دقیق الفہم، مستقیم الاحوال، غبار ظلمت آثار کو میر صاحب کے دل میں قیام نہیں۔ حتیٰ کہ قرآن مجید کی آیت ان کی شان میں نازل ہوئی ہے۔“
کیا اصحاب رسولؐ میں اس کی کوئی مثال اور نظیر ہے کہ رسول خدا ﷺ نے کسی صحابی کے متعلق اس قدر اوصاف اور محاسن بیان فرمائے ہوں۔ حتیٰ کہ رسول خدا ﷺ نے فرمایا ہو کہ فلاں صحابی کی شان مدح میں قرآن مجید کی یہ آیت نازل ہوئی ہے اور پھر ایسا صحابی مرتد ہو گیا ہو۔ اگر ہے تو پیش کرو۔ مگر ایسی نظیر کا ثبوت قرآن وحدیث سے چاہئے کسی محرف و مبدل کتاب کا حوالہ ہمارے لئے حجت نہیں۔
پھر مرزا قادیانی نے گستاخانہ جسارت سے یہ بھی لکھا ہے کہ خواب میں انبیاء علیہم السلام اور خدا تعالیٰ کی شکل وصورت بن کر شیطان بھی آجاتا ہے۔ حالانکہ یہ وہ بات ہے جو کہ خود مرزا قادیانی کے اپنے مسلمات کے بھی سراسر خلاف ہے۔ چنانچہ مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ:
١٠٣...... یہ کہنا بیجا ہے کہ خواب یا کشف میں شیطان متمثل ہو کر ظاہر ہو۔ کیونکہ شیطان انبیاء کی صورت پر متمثل نہیں ہوتا۔
(نور الحق حصہ اول ص ٤٢، خزائن ج ٨ ص ٥٧)
نوٹ: آپ نے دیکھا قادیانی نبوت کی بے اصولی، وہاں اقرار یہاں انکار۔ سچ ہے۔
مذاق دید کو آوارگی قبول نہیں
٣٧
پس ثابت ہوا کہ حضرت میر صاحب اپنے کشف اور خواب میں یقیناً صادق اور مرزا قادیانی سراسر کاذب۔
ڈاکٹر عبدالحکیم خان صاحب مرحوم اور مرزا قادیانی کے نزدیک ان کا مقام
ڈاکٹر صاحب کو مرزا قادیانی نے اپنے دعویٰ مسیحیت میں بطور دلیل پیش کیا ہے۔ چنانچہ مرزا قادیانی لکھتے ہیں:
- ١٠٤...... ”حدیث میں آچکا ہے کہ مہدی کے پاس ایک چھپی ہوئی کتاب ہوگی۔
جس میں اس کے تین سو تیرہ اصحاب کا نام درج ہوگا۔ وہ پیش گوئی آج پوری ہوگئی...... بموجب منشا حدیث کے یہ بیان کر دینا ضروری ہے کہ یہ تمام اصحاب خصلت صدق وصفا رکھتے ہیں...... اور وہ یہ ہیں...... ڈاکٹر عبدالحکیم خان وغیرہم!“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٠، خزائن ج ١١ ص ٣٢٣، آئینہ کمالات اسلام ص ٥٨٢، خزائن ج ٥ ص ایضاً)
- ١٠٥...... ”حبی فی اللہ میاں عبدالحکیم خان۔ جوانِ صالح ہے۔ علامات رشد
وسعادت اس کے چہرے سے نمایاں ہیں۔ زیرک اور فہیم آدمی ہیں۔ انگریزی زبان میں عمدہ مہارت رکھتے ہیں۔ میں امید رکھتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کئی خدمات اسلام ان کے ہاتھ سے پوری کرے۔“
(ازالہ اوہام ص ٨٠٨، خزائن ج ٣ ص ٥٣٧)
- ١٠٦...... ڈاکٹر صاحب کی تفسیر القرآن بالقرآن کی تعریف: ”یہ ایک بے نظیر تفسیر
ہے۔ جس کو جناب ڈاکٹر عبدالحکیم خان صاحب بی۔اے نے کمال محنت کے ساتھ تصنیف فرمایا ہے۔ نہایت عمدہ، شیریں بیان، قرآنی نکات خوب بیان کئے ہیں۔ دلوں پر اثر کرنے والی ہے۔“
(البدر نمبر ٣٨ ج ٢، مورخہ ٩؍اکتوبر ١٩٠٣ء)
ڈاکٹر صاحب کا قبول حق اور مرزائی مذہب سے بیزاری
نیکوں کی ہے یہ سیرت راہ ہدیٰ یہی ہے
حضرات! یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ انکشاف صداقت اور قبول حق کے لئے خدا کی طرف سے ایک وقت مقرر ہوتا ہے۔ چونکہ جب تک فضل خداوندی انسان کے شامل حال نہ ہو۔ صراط مستقیم اور راہ ہدایت کا میسر ہونا ناممکن ہے۔ اس لئے کہ انسان اپنی عقل میں غلطی کر سکتا ہے۔ لیکن خدا تو اپنی راہنمائی میں غلطی نہیں کر سکتا۔ تاریخ اسلام میں اس قسم کے متعدد واقعات موجود ہیں کہ
٣٨
پیغمبر آخرالزمان کے بعد مرزا قادیانی کی طرح کئی مدعیان نبوت باطلہ پیدا ہوئے۔ جن پر ہزاروں نہیں ۔ بلکہ لاکھوں مردودان ازلی انسانوں نے ایمان لا کر اپنی عاقبت کو برباد کیا۔ ان جھوٹے نبیوں پر ایمان لانے والوں میں بعض بڑے بڑے لائق وقابل تھے۔ یعنی بظاہر اس قدر لائق وقابل کہ قادیانی نبوت اور خلافت ان کے سامنے کوئی چیز ہی نہیں ہے اور پھر ان کذابوں اور دجالوں کو کافی ترقی اور عروج حاصل ہوا۔ چنانچہ مرزا قادیانی اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ:
- ١٠٧...... ”حضرت نبی کریم ﷺ کی وفات کے بعد ایک خطرناک زمانہ پیدا ہو گیا
تھا۔ کئی فرقے عرب کے مرتد ہو گئے اور جھوٹے پیغمبر کھڑے ہو گئے تھے۔..... خدا نے حضرت ابوبکرؓ کے کاموں میں برکت دی اور نبیوں کی طرح اس کا اقبال چمکا۔ اس نے مفسدوں اور جھوٹے نبیوں کو خدا سے قدرت اور جلال پا کر قتل کیا۔“
(تحفہ گولڑویہ ص ٥٩،٥٨، خزائن ج ١٧ ص ١٨٦،١٨٥)
(دعا ہے کہ قادر مطلق موجودہ دور کے مسلمانوں کو بھی یہ قدرت وجلال عطا کرے تاکہ باطل اور جھوٹے پیغمبروں کی ایمان ربا تحریکوں کے خاتمہ سے اسلام مقدس کا نورانی چہرہ روشن ہو۔ آمین ثم آمین !)
آنحضرت ﷺ کے بعد ”چند شریر لوگوں نے پیغمبری کا دعویٰ کر دیا۔ جن کے ساتھ کئی لاکھ بدبخت انسانوں کی جمعیت ہو گئی اور دشمنوں کا شمار اس قدر بڑھ گیا کہ صحابہؓ کی جماعت ان کے آگے کچھ بھی چیز نہ تھی..... جس شخص کو اس زمانہ کی تاریخ پر اطلاع ہے۔ وہ گواہی دے سکتا ہے کہ وہ طوفان ایسا سخت طوفان تھا کہ اگر درحقیقت اسلام خدا کی طرف سے نہ ہوتا تو اس دن اسلام کا خاتمہ تھا۔“
(تحفہ گولڑویہ ص ٦٠،٥٩، خزائن ج ١٧ ص ١٨٨،١٨٧)
(باطل کی ترقی کا یہ عالم ہے تو پھر مرزائی امت اپنی نام نہاد عارضی ترقی کو دلیل صداقت کیوں سمجھتی ہے۔ آنحضرت ﷺ کے بعد دعویٰ نبوت کرنے والے شریر، ان کو ماننے والے بدبخت، خدا بچائے۔ آمین!)
- ١٠٨...... ”غور کا مقام ہے کہ جس وقت نبی کریم ﷺ نبوت حقہ کی تبلیغ کر رہے
تھے۔ اس وقت مسیلمہ کذاب اور اسود عنسی نے کیا کیا فتنے برپا کر دیئے تھے..... ایسا ہی ابن صیاد نے بہت فتنہ ڈالا تھا اور یہ تمام لوگ ہزار ہا لوگوں کی ہلاکت کا موجب ہوئے تھے۔“
(مکتوبات احمدیہ ج ٥ نمبر ٢ ص ١١٣، بنام حکیم نور دین)
پس مرزا قادیانی کے ان ہر دو مذکورہ بالا حوالوں سے روز روشن کی طرح ثابت ہو گیا کہ
٣٩
پیغمبر اسلام علیہ السلام کے بعد چند شریر اور بدمعاش اٹھے۔ جنہوں نے نبوت ورسالت کا دعویٰ کیا اور ان کی بیعت کرنے والے بدبخت لاکھوں کی تعداد میں پیدا ہو گئے۔ اسی طرح مرزا قادیانی نے بھی نبوت ورسالت کا دعویٰ کیا۔ چنانچہ مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ:
- ١٠٩....... ”ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم رسول اور نبی ہیں۔“
(بدر مورخہ ٥؍مارچ ١٩٠٨ء ملفوظات ج ١٠ ص ١٢٧)
شاید کسی کے دل میں یہ خیال پیدا ہو کہ وہ جھوٹے پیغمبر منکر اسلام تھے اور مرزائی بظاہر مصدق اسلام ہیں۔ سو اس کا مختصر جواب یہ ہے کہ جو نوعیت دعویٰ اسلام کی اس وقت مرزائیوں کی ہے۔ وہی نوعیت ان کی تھی۔ یعنی جس طرح مرزائی مرزا قادیانی کے انکار کی وجہ سے تمام مسلمانوں کو کافر سمجھتے ہیں۔ اسی طرح وہ بھی مسلمانوں کو اپنے خانہ ساز پیغمبروں کے انکار کی وجہ سے کافر سمجھتے تھے۔ ورنہ اسلام کے دعویدار بظاہر وہ بھی تھے۔ چنانچہ اس امر کا اعتراف خود امت مرزائیہ کو بھی ہے۔ ملاحظہ ہو:
- ١١٠....... ”مسیلمہ کذاب مع اپنی جماعت کے بظاہر اسلام میں داخل ہو چکا تھا۔
اعمال سحریہ وغیرہ میں اس کو بڑا دخل تھا۔ مسیلمہ کذاب کے ساتھ بہت کثیر آدمی ہو گئے تھے۔“
(ریویو ج ٧ نمبر ٦ ، ٧ ، ماہ جون وجولائی ١٩٠٨ء ص ٢٢٦ قادیان)
مگر باوجود ان تمام ناقابل رہائی ایمان ربا دلفریبیوں اور باطل پرستیوں کے پھر بھی ان گرفتاران الحاد وضلالت میں بعض ایسے اشخاص موجود ہوتے ہیں کہ جن میں فطرتی طور پر کوئی نہ کوئی نیکی اور خوبی پوشیدہ ہوتی ہے۔ جس کی بدولت کبھی نہ کبھی ایسے گمراہ شدہ انسان بھی خداوند عالم کی رہنمائی میں صداقت ابدی یعنی نور اسلام کی طرف رجوع کر لیتے ہیں۔
ان میں سے ایک ہمارے ڈاکٹر عبدالحکیم خان صاحب بھی ہیں۔ ڈاکٹر صاحب موصوف کافی عرصہ مرزا قادیانی کے مرید رہے۔ آخر ہادی برحق نے ان کی رہنمائی کی اور ان کو شمع ہدایت سے منور فرمایا۔ ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ يُؤْتِيْهِ مَنْ يَّشَاءُ
چونکہ ڈاکٹر صاحب صدق وصفا کی خصلت رکھتے تھے اور رشد وسعادت کی علامات ان کے چہرے سے نمایاں تھیں۔ نیز خدا تعالیٰ کو منظور تھا کہ ان سے اسلام کی خدمات لی جائیں۔ اس لئے ترک مرزائیت کے بعد ڈاکٹر صاحب موصوف نے نہایت تحدی کے ساتھ یہ اعلان کیا کہ خداوندِ عالم نے بذریعہ الہام مجھے اطلاع دی ہے کہ میں صادق ہوں اور مرزا قادیانی کاذب۔
٤٠
میں حق پر ہوں اور مرزا قادیانی باطل پر اور میرے صادق ہونے کا ثبوت یہ ہے کہ مرزا قادیانی میری زندگی میں ہی ہلاک ہوگا۔ چنانچہ ڈاکٹر صاحب فرماتے ہیں کہ مجھے خدا کی طرف سے یہ الہام ہوا کہ:
١١١....... ”مرزا مسرف، کذاب اور عیار ہے۔ صادق کے سامنے شریر فنا ہو جائے گا۔“
(تبلیغ رسالت ج ١٠ ص ١١٥، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٥٩)
ڈاکٹر صاحب کا کیسا واضح اور صاف الہام ہے کہ صادق کے سامنے شریر ہلاک ہوگا۔ اب اس میں کسی تاویل وغیرہ کی گنجائش نہیں ہے۔ جو کاذب اور شریر ہوگا وہ پہلے مرے گا۔
اب مرزا قادیانی نے دیکھا کہ وہ شخص جس کو کہ میں نے کل دنیا کے سامنے اپنے دعویٰ مہدویت میں بطور ایک دلیل کے پیش کیا تھا۔ آج وہ شخص نہ صرف مجھ سے منحرف ہی ہو گیا ہے۔ بلکہ میری مہدویت پر ضرب کاری لگاتا ہوا اور اس کو باطل کرتا ہوا نہایت تحدی سے یہ بھی اعلان کرتا ہے کہ وہ صادق اور میں شریر ہوں اور اپنی صداقت کا معیار پیش کرتا ہے کہ میں اس کی زندگی میں ہی ہلاک ہو جاؤں گا۔ اب مرزا قادیانی نے ملا آں باشد کہ چپ نہ شود۔ کی مثال کے مطابق ڈاکٹر عبدالحکیم خان کے مقابلے میں جواب شائع کیا۔ مگر کرشمۂ قدرت دیکھئے کہ وہ جواب بھی برق آسمانی بن کر مرزا قادیانی کے خانہ ساز دعویٰ مہدویت اور نبوت کو خاکستر کر کے گیا۔
اب جواب ملاحظہ ہو۔ مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ:
١١٢....... ”اس امر سے اکثر لوگ واقف ہوں گے کہ ڈاکٹر عبدالحکیم خان صاحب بیس برس تک میرے مریدوں میں داخل رہے۔ چند دنوں سے مجھ سے برگشتہ ہو کر سخت مخالف ہو گئے ہیں اور اپنے رسالہ المسیح الدجال میں میرا نام کذاب، مکار، شیطان، دجال، شریر، حرام خور، رکھا ہے اور مجھے خائن، شکم پرست، نفس پرست، مفسد، مفتری اور خدا پر افتراء کرنے والا قرار دیا ہے اور کوئی ایسا عیب نہیں ہے جو میرے ذمہ نہیں لگایا۔ گویا جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے۔ ان تمام بدیوں کا مجموعہ میرے سوا کوئی نہیں گذرا اور پھر اس پر کفایت نہیں کی۔ بلکہ پنجاب کے بڑے بڑے شہروں کا دورہ کر کے میری عیب شماری کے بارہ لیکچر دیئے....... اور انواع واقسام کی بدیاں عام جلسوں میں میرے ذمہ لگائیں اور میرے وجود کو دنیا کے لئے ایک خطرناک اور شیطان سے بدتر ظاہر کیا....... اور پھر میاں عبدالحکیم صاحب نے اسی پر بس نہیں کی۔ بلکہ ہر ایک لیکچر کے ساتھ یہ
٤١
پیش گوئی بھی صد ہا آدمیوں میں شائع کی کہ مجھے خدا نے الہام کیا ہے کہ یہ شخص تین سال کے عرصہ میں فنا ہو جائے گا۔ کیونکہ وہ کذاب اور مفتری ہے۔ میں نے اس کی ان پیش گوئیوں پر صبر کیا۔ مگر آج جو ١٤؍اگست ١٩٠٦ء ہے۔ پھر اس کا خط آیا ہے۔ اس میں بھی لکھا ہے...... کہ ١٢؍جولائی ١٩٠٦ء کو خدا تعالیٰ نے اس شخص کے ہلاک ہونے کی خبر مجھے دی ہے کہ اس تاریخ سے تین برس تک ہلاک ہو جائے گا۔ جب اس حد تک نوبت پہنچ گئی۔ تو اب میں بھی اس بات میں کوئی مضائقہ نہیں دیکھتا کہ جو کچھ خدا نے اس کی نسبت میرے پر ظاہر فرمایا ہے۔ میں بھی شائع کروں۔ کیونکہ اگر در حقیقت میں خدا تعالیٰ کے نزدیک کذاب ہوں...... تو اس صورت میں تمام بدکرداروں سے بڑھ کر سزا کے لائق ہوں۔ تاکہ لوگ میرے فتنہ سے نجات پاویں...... وہ پیش گوئی جو خدا کی طرف سے میاں عبدالحکیم خان صاحب اسسٹنٹ سرجن پٹیالہ کی نسبت مجھے معلوم ہوئی ہے۔ جس کے الفاظ یہ ہیں۔ خدا کے مقبولوں میں قبولیت کے نمونے اور علامتیں ہوتی ہیں...... ان پر کوئی غالب نہیں آ سکتا۔ ”رَبِّ فَرِّقْ بَيْنَ صَادِقٍ وَكَاذِبٍ“ (المشتہر مرزا غلام احمد قادیانی مورخہ ١٦؍اگست ١٩٠٦ء، تبلیغ رسالت ج١٠ ص١١٣، مجموعہ اشتہارات ج٣ ص٥٥٧ تا ٥٦٠)
١١٣...... الہام: ”خدا نے مجھے فرمایا کہ میں رحمان ہوں۔ میری مدد کا منتظر رہ اور اپنے دشمن کو کہہ دے کہ خدا تجھ سے مواخذہ لے گا اور پھر فرمایا کہ میں تیری عمر کو بھی بڑھا دوں گا۔ یعنی دشمن جو کہتا ہے کہ صرف جولائی ١٩٠٧ء سے چودہ مہینے تک تیری عمر کے دن رہ گئے ہیں۔ میں اس کو جھوٹا کروں گا اور تیری عمر کو بڑھا دوں گا۔ تا معلوم ہو کہ میں خدا ہوں۔ یہ عظیم الشان پیش گوئی ہے۔ جس میں میری فتح اور دشمن کی شکست کا بیان فرمایا ہے اور دشمن جو میری موت چاہتا ہے وہ خود میری آنکھوں کے روبرو اصحاب فیل کی طرح نابود اور تباہ ہوگا۔“ (خاکسار مرزا غلام احمد قادیانی مورخہ ٥؍نومبر ١٩٠٧ء، تبلیغ رسالت ج١٠ ص١٣١، مجموعہ اشتہارات ج٣ ص٥٩٠، ٥٩١)
١١٤...... ”آخری دشمن اب ایک اور پیدا ہوا ہے۔ جس کا نام عبدالحکیم خان ہے اور وہ ڈاکٹر ہے۔ جس کا دعویٰ ہے کہ میں اس کی زندگی میں ہی ٤؍اگست ١٩٠٨ء تک ہلاک ہو جاؤں گا اور یہ اس کی سچائی کے لئے ایک نشان ہوگا۔ یہ شخص الہام کا دعویٰ کرتا ہے اور مجھے دجال اور کافر اور کذاب قرار دیتا ہے...... اس نے یہ پیش گوئی کی ہے کہ میں اس کی زندگی میں ہی ٤؍اگست ١٩٠٨ء تک اس کے سامنے ہلاک ہو جاؤں گا۔ مگر خدا نے اس کی پیش گوئی کے مقابل پر مجھے خبر دی ہے
٤٢
کہ وہ خود عذاب میں مبتلا کیا جائے گا اور اس کو ہلاک کرے گا اور میں اس کے شر سے محفوظ رہوں گا۔ سو یہ وہ مقدمہ ہے جس کا فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔ بلاشبہ یہ سچ بات ہے کہ جو شخص خدا تعالیٰ کی نظر میں صادق ہے۔ خدا اس کی مدد کرے گا۔
(چشمہ معرفت ص ٣٢١، خزائن ج ٢٣ ص ٣٣٦، ٣٣٧)
”اگر کوئی قسم کھا کر کہے کہ فلاں مامور من اللہ جھوٹا ہے اور خدا پر افتراء کرتا ہے اور دجال ہے اور بے ایمان ہے۔ حالانکہ دراصل وہ شخص صادق ہو اور یہ شخص جو اس کا مکذب ہے۔ مدار فیصلہ یہ ٹھہرائے کہ اگر یہ صادق ہے تو میں پہلے مرجاؤں اور اگر کاذب ہے تو میری زندگی میں یہ شخص مرجائے تو ضرور خدا اس شخص کو ہلاک کرتا ہے۔ جو اس قسم کا فیصلہ چاہتا ہے۔“ (اربعین نمبر ٤ ص ١٣، خزائن ج ١٧ ص ٤٣١) جیسا کہ مرزا قادیانی کا انجام ہوا)
نوٹ: حضرات! حق و باطل کا فیصلہ کن معرکہ آپ کے سامنے ہے۔ جناب ڈاکٹر عبدالحکیم خان صاحب کا یہ الہام کہ صادق کے سامنے شریر ہلاک ہوگا۔ حرف بحرف پورا ہوا اور مرزا قادیانی کا الہام کہ میرا دشمن یعنی ڈاکٹر عبدالحکیم میری آنکھوں کے سامنے ہلاک ہوگا اور خدا میری عمر کو بڑھادے گا۔ از سرتاپا غلط ثابت ہوا۔ چنانچہ ”مرزا قادیانی مورخہ ٢٦ مئی ١٩٠٨ء بمقام لاہور بمرض ہیضہ ہلاک ہوگئے۔“
(دیکھو بدر مورخہ ٢ جون ١٩٠٨ء، حیات ناصر ص ١٤)
اور جناب ڈاکٹر صاحب موصوف ١٩١٩ء کو اپنی طبعی موت سے انتقال فرما کر اپنے ہادیٔ برحق سے جاملے۔
مشائخ وعلماء حقانی اور مرزا قادیانی
مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ: ”اگر خدا تعالیٰ کہہ دے کہ میں جھوٹا ہوں تو بیشک میں جھوٹا ہوں۔“
(پیغام احمدیت ص ٢٣)
چنانچہ خدا تعالیٰ نے مشائخ اور علماء حقانی کو خبر دی کہ مرزا قادیانی کافر اور کذاب ہے۔ جیسا کہ مرزا قادیانی ان مشائخ اور علماء کے اقوال خود اپنی کتابوں میں لکھتے ہیں:
- ١١٥...... ”ويقولون قد انبأنا الله انه کافر کذاب ويصرون على
قولهم وهم يكذبون“
(آئینہ کمالات ص ٤٠٩، خزائن ج ٥ ص ایضاً)
”میگویند خدا مارا آگاہی دادہ کہ اوکافر وکذاب است واصرار برایں قول دارند
٤٣
وکذیب میکنند“
(آئینہ کمالات اسلام ص ٤١٧، خزائن ج ٥ ص ایضاً)
نوٹ! آپ نے دیکھا کہ مرزا قادیانی کو خود صاف اقرار ہے کہ ان حضرات نے نہایت اصرار و تحدی سے یہ اعلان کیا ہے کہ مرزا کافر اور کذاب ہے۔ دراصل ان حضرات کا یہ اعلان صحیح ہے۔ اس لئے کہ قرآن وحدیث کی نصوص قطعیہ سے یہ ثابت ہے کہ آنحضرت ﷺ پر نبوت ختم ہوچکی ہے اور جو شخص آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرے وہ یقیناً کافر وکذاب ہے۔
اب ہم آپ کے سامنے ایک عالم باعمل اور شیخ کامل یعنی حضرت سید حسن شاہ جیلانی نور اللہ مرقدہ درگاہ فاضلیہ بٹالہ شریف کی پیش گوئی پیش کرتے ہیں جو کہ آپ نے خداوند عالم سے علم پاکر مرزا قادیانی کے دعویٰ سے ٣٦ برس پیشتر فرمائی تھی اور پھر یہ پیش گوئی کتاب ”ارشاد المسترشدین“ میں بھی شائع ہوئی۔ کتاب ”ارشاد المسترشدین“ ١٠؍ جمادی الاول ١٣١٣ھ مطابق ٣٠؍ اکتوبر ١٨٩٥ء میں طبع ہوکر منظر عام پر آچکی تھی۔ یعنی یہ کتاب مرزا قادیانی کی موت سے ١٣ سال پہلے ہی چھپ چکی تھی۔
(دیکھو کتاب ہذا ص ١٧٨)
(مؤلف کتاب حضرت حسن شاہؒ کے فرزند ارجمند جناب سید ظہور الحسن شاہ صاحب مرحوم ہیں)
نیز یاد رہے کہ مرزا قادیانی کے خاندان کو حضرت حسن شاہؒ کے ساتھ ایک خاص عقیدت تھی۔ چنانچہ حصول فیوض وبرکات کے لئے اس خاندان کی قادیان سے بٹالہ شریف ہمیشہ آمدورفت رہتی تھی۔
اصل پیش گوئی ملاحظہ ہو:
- ١١٦...... خرق عادات وکرامات حضرت حسن شاہ صاحبؒ، مرزا غلام مرتضیٰ مرحوم
پدر مرزا غلام احمد کہ: ”ابا عن جد عقیدہ بایں خاندان علیا داشتند حتیٰ کہ برادر ایشاں بوقت مرگ فقیر را طلبیدہ توبہ بر دست فقیر نمود۔ روزے پیش حضرت آمدہ التماس نمود کہ فرزند خورد من یعنی مرزا غلام احمد در سیالکوٹ ملازم است۔ میخواہم کہ برائے کاروبار خود طلبیدہ مختار عام در مقدمات خود نمائیم۔ حضرت امر فرمودند وہمچناں مرزا قادیانی کلاں کردند۔ روزے مرزا غلام احمد صاحب حاضر شدند حضور ایشان فرمودند برعقیدہ اہل سنت وجماعت ثابت مانی و تابع نفس و ہوا نشوی۔ بعد
٤٤
بخدمت ایشاں حافظ عبدالوہاب کہ پروفیسر عربی در یونیورسٹی بودند و شاگرد و مرید خاص آنحضرت عرض نمودند کہ بیعت فرمائید۔ ارشاد کردند کہ بعد چند مدت دماغش خراب خواہد شد، شائد کہ ایں کس مدعی رسالت العیاذ باللہ نگردد۔ در نسخہ معراج السالکین در الہامات خود حضرت تحریر فرمودہ بودند کہ من از الہام ربانی تحریر میکنم کہ در قادیان قرن شیطان ظاہر خواہد شد۔ و ادعائے نبوت خواہد نمود۔ سبحان اللہ بعد سہ و شش سال ایں الہام بظہور پیوست کہ مرزا قادیانی مدعی مسیح موعود بودن گردیدند خدا پناہ بدہد۔“
(ارشاد المسترشدین ص ١٦١)
یعنی مرزا غلام مرتضیٰ نے حضرت صاحب کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی کہ میں چاہتا ہوں کہ اپنے لڑکے مرزا غلام احمد قادیانی کو سیالکوٹ سے منگوا کر اپنے خانگی کاروبار میں مختار عام کردوں۔ حضرت صاحب نے اس کی اجازت فرمادی۔ چنانچہ ایک دن مرزا غلام احمد قادیانی حضرت صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ نے فرمایا کہ اے مرزا عقیدہ اہل سنت و جماعت پر ثابت رہنا اور نفسانی خواہشات کی اتباع نہ کرنا۔ پھر آپ نے فرمایا کہ کچھ مدت کے بعد اس شخص کا دماغ خراب ہوجائے گا۔
(مرزا قادیانی کو علاوہ دیگر متعدد امراض کے مرض مراق و ہسٹریا بھی تھی۔ ثبوت کے لئے دیکھو رسالہ تشحیذ الاذہان جون ١٩٠٦ء بدر ٧/ جون ١٩٠٦ء سیرۃ المہدی حصہ اوّل ص ١٣، الفضل ٣٠/ اپریل ١٩٢٢ء، ریویو ماہ اگست ١٩٢٦ء ص ١١)
خدا کی پناہ یہ شخص کہیں رسالت کا دعویٰ نہ کردے۔ معراج السالکین میں تحریر فرمایا کہ میں الہام ربانی سے یہ امر تحریر کرتا ہوں کہ قادیان میں شیطان کا سینگ ظاہر ہوگا اور وہ نبوت کا دعویٰ کرے گا۔ مرزا قادیانی نے اس الہام الٰہی کے ٣٦ سال بعد دعویٰ مسیح موعود کر کے اس الہام کی صداقت کو پورا کردیا۔ خدا کی پناہ۔
نوٹ: مرزائی مذہب کے باطل ہونے پر کیسی صاف پیش گوئی ہے؟ خدا ہدایت دے۔ آمین!
مرزا قادیانی کے جھوٹا ہونے پر علماء امت کے الہامات
مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ: ”خدا تعالیٰ کے پاس جاؤ اور اس سے پوچھو کہ آیا میں سچا ہوں یا جھوٹا۔“
(پیغام احمدیت ص ٤٣)
٣٥
اب آپ کے سامنے علمائے کرام کے صرف وہ الہامات اور بیانات پیش کئے جاتے ہیں کہ جن کو مرزا قادیانی نے بھی اپنی کتابوں میں درج کیا ہے۔ چنانچہ مرزا قادیانی لکھتے ہیں۔
١١٧...... ”کسی نے اس عاجز کو کافر ٹھہرایا اور کسی نے اس کا نام ملحد رکھا۔ جیسا کہ مولوی عبدالرحمن صاحب خلف مولوی محمد لکھوکے والے نے اس عاجز کا نام ملحد رکھا...... ان لوگوں نے اس پر بس نہیں کی۔ بلکہ یہ بھی چاہا کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے بھی اس بارہ میں کوئی شہادت ملے ۔ تو بہت خوب۔ چنانچہ انہوں نے استخارے کئے...... پس مولوی عبدالرحمن صاحب اور ان کے رفیق میاں عبدالحق صاحب غزنوی...... کی زبان پر جاری ہو گیا کہ یہ عاجز جہنمی ہے اور ملحد ہے اور ایسا کافر ہے کہ ہرگز ہدایت پذیر نہیں ہوگا۔“
(ازالہ اوہام ص٢٥٤، ٢٥٥،خزائن ج٣ص٢٢٨)
(اس مقام پر ان حضرات کے استخارہ پر مرزا قادیانی نے حسب عادت اپنی طرف سے بہت سے غلط حاشیے چڑھائے ہیں۔ ایسے حاشیے کہ جن کا نفس استخارہ سے کوئی بھی تعلق نہیں ہے۔ ہاں صاحب! اگر شیطان کسی گمراہ شخص کے کان میں کہہ دے کہ مرزا قادیانی سچے ہیں تو پھر بقول آپ کے استخارہ صحیح ہے اور اگر خدا تعالیٰ اپنی راہنمائی میں اپنے کسی مقبول بندے کو فرمائے کہ مرزا قادیانی جھوٹے ہیں تو پھر نعوذ باللہ استخارہ غلط۔ صد حیف بریں دانش!)
١١٨...... ”میاں عبدالحق صاحب غزنوی اور مولوی محی الدین صاحب لکھو والے اس عاجز کے حق میں لکھتے ہیں کہ ہمیں الہام ہوا ہے کہ یہ شخص جہنمی ہے۔ چنانچہ عبدالحق صاحب کے الہام میں تو صریح ”سیصلی ناراً ذات لهب“ موجود ہے اور محی الدین صاحب کو یہ الہام ہوا ہے کہ یہ شخص ایسا ملحد اور کافر ہے کہ ہرگز ہدایت پذیر نہیں ہوگا...... غرض ان دونوں صاحبوں نے اس عاجز کی نسبت جہنم اور کفر کا فتویٰ دے دیا اور بڑے زور سے اپنے الہامات کو شائع کر دیا۔ ہم اس جگہ ان صاحبوں کے الہامات کے متعلق کچھ زیادہ لکھنا ضروری نہیں سمجھتے۔ صرف اس قدر تحریر کرنا کافی ہے کہ الہام رحمانی بھی ہوتا ہے اور شیطانی بھی اور جب انسان اپنے نفس کو دخل دے کر کسی بات کے لئے استخارہ کرتا ہے تو شیطان اس وقت اس کی آرزو میں دخل دیتا ہے اور کوئی کلمہ اس کی زبان پر جاری ہو جاتا ہے اور دراصل وہ شیطانی کلمہ ہوتا ہے۔ یہ دخل کبھی انبیاء اور رسولوں کی وحی میں بھی ہو جاتا ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ٦٢٨، خزائن ج٣ص٤٣٩، مکتوبات احمدیہ ج٥نمبر٢ص٩١، بنام حکیم نور الدین)
٤٦
نوٹ : اب جب کہ تمہارا یہ عقیدہ ہے کہ انبیاء اور رسولوں کی وحی بھی دخل شیطانی سے نعوذ باللہ محفوظ نہیں تو پھر مسلمانوں کو اپنی خانہ ساز نبوت کے پرکھنے کے لئے استخارہ کی دعوت دینا تمہاری کیا پر فریب چال نہیں۔ کیا مشائخ امت اور علمائے اسلام نے استخارے نہیں کئے۔ جن میں ان حضرات کو خداوند عالم نے اپنی راہنمائی کے ذریعہ اطلاع دی کہ مرزا قادیانی کذاب و دجال اور کافر جہنمی ہے۔
چونکہ جب قرآن و حدیث میں ختم نبوت کے متعلق خدا و رسول کے واضح اور صریح احکام موجود ہیں تو پھر یہ کس طرح ممکن ہے کہ خدا اور اس کا آخری رسول اپنے ہی قانون و تعلیم کے خلاف کسی مسلمان کو الہام و خواب میں یہ اطلاع دے کہ سید المرسلین، خاتم النبیین ﷺ کے بعد سلسلہ نبوت و رسالت جاری ہے اور یہ کہ مرزا قادیانی نعوذ باللہ اپنے دعویٰ میں صادق ہے اور سچا رسول ہے۔ اگر خدانخواستہ ایسا ہو تو پھر خدا کا حقیقی اور غیر مبدل کلام باطل اور جھوٹا ثابت ہوتا ہے اور یہ قطعی محال ہے۔
برادران ملت! اس بارہ میں کہ مرزا قادیانی کاذب اور مرزائی مذہب سراسر باطل ہے۔ بزرگان دین اور علماء اسلام کے ہزاروں کشوف و الہام موجود ہیں۔ جو کہ ہم پھر کسی فرصت میں انشاء اللہ کتابی صورت میں بعنوان ”بشارات محمدیہ“ آپ حضرات کے سامنے پیش کریں گے۔ اس وقت ہم سردست انہی الہامات اور استخاروں کو پیش کر رہے ہیں کہ جن کو خود مرزا قادیانی نے اپنی کتابوں میں درج کیا ہے۔ تاکہ یہ مسلمہ ہدایت نامہ مرزائی امت پر بھی حجت ہو سکے۔ تاریخ مرزائیت کے واقعات میں یہ امر کیا مشکل اور بعید ہے کہ حضرت میر عباس علی شاہ اور جناب ڈاکٹر عبدالحکیم خان مرحومین اور دیگر تائبین کی طرح کسی متلاشی صداقت مرزائی کے لئے موجب ہدایت ثابت ہو۔
حضرت مولانا ظفر علی خان فرماتے ہیں۔
ہر طرف مذہب نئے ایجاد ہو جانے لگے
منکر ختم نبوت ہو کے اہل قادیاں
اپنے وقتوں کے ثمود و عاد ہو جانے لگے
٤٧
لہٰذا بزرگان ربانی اور علماء حقانی کے استخارہ کے متعلق ایک اور حوالہ ملاحظہ ہو جو کہ مرزا قادیانی کے جھوٹا ہونے پر مکمل دال ہے۔ چنانچہ مرزا قادیانی لکھتے ہیں۔
١١٩...... ”ایک بزرگ اپنے ایک واجب التعظیم مرشد کی ایک خواب جس کو اس زمانہ کا قطب الاقطاب و امام الابدال خیال کرتے ہیں۔ یہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے پیغمبر خدا ﷺ کو خواب میں دیکھا اور آپ ایک تخت پر بیٹھے ہوئے تھے اور گردا گرد تمام علمائے پنجاب اور ہندوستان، گویا بڑی تعظیم کے ساتھ کرسیوں پر بٹھائے گئے تھے اور تب یہ شخص جو مسیح موعود کہلاتا ہے۔ آنحضرت ﷺ کے سامنے آ کھڑا ہوا۔ جو نہایت کریہہ شکل اور میلے کچیلے کپڑوں میں تھا۔ آپ نے فرمایا کہ یہ کون ہے۔ تب ایک عالم ربانی اٹھا اور اس نے عرض کی کہ یا حضرت یہی شخص مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔ آپ نے فرمایا: یہ دجال ہے۔ جب آپ کے فرمانے سے اسی وقت اس کے سر پر جوتے لگنے شروع ہوئے۔ جن کا کچھ حساب اور اندازہ نہ رہا اور آپ نے ان تمام علمائے پنجاب اور ہندوستان کی بہت تعریف کی۔ جنہوں نے اس شخص کو کافر اور دجال ٹھہرایا اور آپ بار بار پیار کرتے اور کہتے تھے کہ یہ میرے علمائے ربانی ہیں۔ جن کے وجود سے مجھے فخر ہے...... خواب میں یہ حصہ داخل ہے کہ علمائے پنجاب اس پیغمبر صاحب کے دربار میں بڑی تعظیم کے ساتھ کرسیوں پر بٹھائے گئے تھے اور تمام عالم امرتسری، بٹالوی، لاہوری، لدھیانوی، دہلوی، وزیر آبادی، روپڑی، گولڑوی وغیرہ اس دربار میں کرسیوں پر زینت بخش تھے اور پیغمبر صاحب نے میری تکفیر اور توہین کی وجہ سے بڑا پیار ان سے ظاہر کیا تھا اور بڑی محبت تعظیم سے پیش آئے تھے۔ یہ خواب کا مضمون ہے جو خط میں میری طرف لکھا گیا تھا۔ جس کی نسبت بیان کیا گیا ہے کہ اس خواب کا دیکھنے والا ایک بڑا بزرگ پاک باطن ہے۔ جس کو دکھلایا کہ یہ سب مولوی پنجاب اور ہندوستان کے اقطاب اور ابدال کے درجہ پر ہیں۔“
(تحفہ گولڑویہ ص ٥٣، ٥٤، خزائن ج ١٧ ص ١٧٦، ١٧٧)
(”لا شک فیہ کما قال رسول اللہ ﷺ فی حدیث علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل“ یعنی یہ لوگ اگرچہ نبی نہیں پر نبیوں کا کام ان کے سپرد کیا جاتا ہے)
(حمامتہ البشریٰ ص ٨٢، خزائن ج ٧ ص ٢٠١، براہین احمدیہ ص ٥٠٤، خزائن ج ١ ص ٦٠١)
نوٹ: بزرگان دین اور علمائے اسلام کی یہ وہ مبارک اور جامع خواب ہے کہ جس کو خود
٤٨
مرزا قادیانی نے اپنی کتاب میں درج کر کے شائع کیا ہے۔ اگر اب بھی مرزائی امت، نبوت مرزا اور مسیحیت مرزا سے تائب ہو کر داخل اسلام نہ ہو تو پھر ان کے استخارہ اور ایمان کی حقیقت معلوم شد۔ خدا ہدایت کرے۔ آمین!
حق و باطل میں خدائی فیصلہ اور قادیانی نبوت کا انجام
میرد اوّل ہر کہ ملعونِ خداست
حضرات! یہ حقیقت ہے کہ جب ایک جھوٹا اور باطل پرست انسان حق کے مقابلہ میں مغلوب ہو جاتا ہے تو پھر وہ اپنی بطالت کو چھپانے کے لئے عجیب وغریب بہانے اور سہارے تلاش کرتا ہے۔ تاکہ ان خانہ ساز بہانوں اور سہاروں ہی سے مخلوق خدا کو فریب دیا جاسکے۔ حالانکہ ایسی فریب دہ چالیں خود الٹ کر اس باطل پرست انسان کے لئے ہی تباہی کا موجب ہو جاتی ہیں۔ یہ وہ حقیقت ہے کہ جس کو خود مرزا قادیانی نے بھی اپنی کتاب میں تسلیم کیا ہے۔ چنانچہ مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ:
- ١٢٠...... ”وہی اسباب جو اپنی بہتری یا ماموری کے لئے ایک مجرم جمع کرتا ہے۔
وہی اس کی ذلت اور ہلاکت کا موجب ہو جاتے ہیں۔ قانون قدرت صاف گواہی دیتا ہے کہ خدا کا یہ فعل بھی دنیا میں پایا جاتا ہے کہ وہ بعض اوقات بے حیا اور سخت دل مجرموں کی سزا ان کے ہاتھ سے ہی دلواتا ہے۔ سو وہ لوگ اپنی ذلت اور تباہی کے سامان اپنے ہاتھ سے جمع کر لیتے ہیں۔“
(استفتاء اردو ص ٧،٨، خزائن ج ١٢ ص ١١٥، ١١٦)
- ١٢١...... مثال اوّل: آنحضرت ﷺ کے مقابلہ میں ابو جہل نے یہ دعا مانگی تھی کہ
خداوند ہم دو فریق میں سے جو اعلیٰ اور اکرم اور صادق ہو اسے فتح دے اور مفسد و کاذب کو ذلیل و رسوا اور ہلاک کر۔ خداوند! اگر فی الواقع یہ ہی دین (اسلام) حق ہے تو ہم پر عذاب نازل کر۔ (انفال)
آخر ابو جہل نے جو کچھ مانگا تھا۔ اس کا جواب جنگ بدر میں اس کو مل گیا اور حضور ﷺ کے سامنے ہی جنگ بدر میں قتل ہو کر جہنم رسید ہو گیا۔
(بخاری کتاب التفسیر)
(چنانچہ مرزا قادیانی بھی لکھتے ہیں کہ: ”ابو جہل نے بدر کی لڑائی میں یہ دعا کی تھی کہ اے خدا ہم دونوں میں سے جو محمد اور میں ہوں۔ جو شخص تیری نظر میں جھوٹا ہے۔ اس کو ایسے موقع قتال میں ہلاک کر“)
(اربعین نمبر ٣ ص ١٦، خزائن ج ١٧ ص ٤٠٢، ٤٠٣)
٤٩
مثال دوئم : بعینہ اسی طرح ابو جہلی سنت کے مطابق مرزا قادیانی نے بھی ایک خادم اسلام مولانا ثناء اللہ صاحبؒ کے مقابلہ میں دعا مانگی اور حق و باطل میں خدائی فیصلہ چاہا۔ اس کے بعد خدا کی طرف سے قادیانی نبوت کا جو انجام ہوا۔ وہ مرزا قادیانی کی مندرجہ ذیل پیش کردہ دعا میں ملاحظہ کریں۔
١٢٢...... مولوی ثناء اللہ امرتسری کے ساتھ آخری فیصلہ ۔ ” بخدمت مولوی ثناء اللہ صاحب۔ مدت سے آپ کے پرچہ میں میری تکذیب کا سلسلہ جاری ہے۔ ہمیشہ آپ مجھے اپنے پرچہ میں مردود، کذاب، دجال، مفسد کے نام سے منسوب کرتے ہیں اور دنیا میں میری نسبت شہرت دیتے ہیں کہ یہ شخص مفتری اور کذاب اور دجال ہے اور اس شخص کا دعویٰ مسیح موعود ہونے کا سراسر افتراء ہے۔ میں نے آپ سے بہت دکھ اٹھایا اور صبر کرتا رہا۔ مگر چونکہ میں دیکھتا ہوں...... کہ آپ بہت سے افتراء میرے پر کر کے دنیا کو میری طرف آنے سے روکتے ہیں اور مجھے ان الفاظ سے یاد کرتے ہیں کہ جن سے بڑھ کر کوئی لفظ سخت نہیں ہو سکتا۔ اگر میں ایسا ہی کذاب اور مفتری ہوں۔ جیسا کہ اکثر اوقات آپ اپنے ہر پرچہ میں مجھے یاد کرتے ہیں تو میں آپ کی زندگی میں ہی ہلاک ہو جاؤں گا۔ کیونکہ میں جانتا ہوں کہ مفسد اور کذاب کی بہت عمر نہیں ہوتی اور اگر میں کذاب اور مفتری نہیں ہوں تو میں خدا کے فضل سے امید رکھتا ہوں کہ سنت اللہ کے موافق آپ مکذبین کی سزا سے نہیں بچیں گے۔ پس اگر وہ سزا جو انسان کے ہاتھوں سے نہیں۔ بلکہ محض خدا کے ہاتھوں سے ہے۔ جیسے طاعون، ہیضہ وغیرہ مہلک بیماریاں آپ پر میری زندگی میں ہی وارد نہ ہوئیں تو میں خدا کی طرف سے نہیں۔ یہ کسی الہام یا وحی کی بناء پر پیش گوئی نہیں محض دعا کے طور پر میں نے خدا سے فیصلہ چاہا ہے اور میں خدا سے دعا کرتا ہوں کہ اے میرے مالک! اگر یہ دعویٰ مسیح موعود ہونے کا محض میرے نفس کا افتراء ہے اور میں تیری نظر میں مفسد اور کذاب ہوں تو میرے مالک میں عاجزی سے تیری جناب میں دعا کرتا ہوں کہ مولوی ثناء اللہ صاحب کی زندگی میں مجھے ہلاک کر اور میری موت سے ان کو اور ان کی جماعت کو خوش کر دے۔ آمین! مگر اے میرے صادق خدا اگر مولوی ثناء اللہ ان تہمتوں میں جو مجھ پر لگاتا ہے حق پر نہیں تو میں عاجزی سے تیری جناب میں دعا کرتا ہوں کہ میری زندگی میں ہی ان کو نابود کر۔ مگر نہ انسانی ہاتھوں سے۔ بلکہ طاعون و ہیضہ وغیرہ امراض مہلکہ سے۔ آمین یا رب العالمین! میں ان کے ہاتھ سے بہت ستایا گیا اور صبر کرتا رہا۔ مگر اب میں دیکھتا ہوں کہ وہ مجھے چوروں اور ڈاکوؤں سے بھی بدتر جانتے ہیں ......اور دور دور
٥٠
ملکوں تک میری نسبت یہ پھیلا دیا کہ یہ شخص درحقیقت مفسد اور ٹھگ اور دکاندار اور کذاب ہے۔ اس لئے اب میں تیرے ہی تقدس اور رحمت کا دامن پکڑ کر تیری جناب میں ملتجی ہوں کہ مجھ میں اور ثناء اللہ میں سچا فیصلہ فرما اور وہ جو تیری نگاہ میں درحقیقت مفسد اور کذاب ہے۔ اس کو صادق کی زندگی میں ہی دنیا سے اٹھالے۔ اے میرے مالک تو ایسا ہی کر۔ آمین ثم آمین! بالآخر مولوی صاحب سے التماس ہے کہ وہ میرے اس مضمون کو اپنے پرچہ میں چھاپ دیں اور جو چاہیں اس کے نیچے لکھ دیں۔ اب فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔‘‘
(مرزا قادیانی، مورخہ ١٥؍اپریل ١٩٠٧ء، تبلیغ رسالت ج١٠ ص ١٢٠، مجموعہ اشتہارات ج٣ ص ٥٧٨، ٥٧٩)
نوٹ: چنانچہ مرزا قادیانی اس فیصلہ کے مطابق جو انہوں نے دعا کے طور پر خدا تعالیٰ سے چاہا تھا۔ بمقام لاہور مورخہ ٢٦؍مئی ١٩٠٨ء بروز منگل مرض ہیضہ سے ہلاک ہو گئے۔ کیونکہ بقول مرزا قادیانی مفسد اور کذاب کی بہت عمر نہیں ہوتی اور حضرت مولانا ثناء اللہ صاحبؒ جو کہ خدا تعالیٰ کی نظر میں سچے اور صادق تھے۔ مرزا قادیانی کے الہام کے مطابق کہ: ’’جو وجود لوگوں کے لئے نفع رساں ہو۔ وہ زمین پر زیادہ دیر تک قائم رہتا ہے۔‘‘
(الحکم ١٠؍اگست ١٩٠٣ء، تذکرہ ص ٤١٤ طبع ٣)
’’بعض اوقات بعض فاسق فاجر زانی، ظالم، غیر متدین، چور، حرام خور اور طوائف یعنی کنجریوں کو بھی سچی خوابیں کشوف الہام ہو جاتے ہیں۔‘‘
(حقیقت الوحی ص٣،٢، خزائن ج٢٢ ص ٥)
(مولانا ثناء اللہ) ایک بابرکت اور نفع رساں عمر پا کر ١٩٤٨ء میں سرزمین پاکستان میں آ کر رحلت فرمائی۔ انا للہ وانا الیہ راجعون!
قادیانی مسیح اور مرض ہیضہ
کالرہ سے خود مسیحا مر گیا
مرزا قادیانی کی یہ درخواست کہ ’’اے خدا اگر میں کذاب ہوں تو مجھے ہیضہ سے ہلاک کر‘‘ پوری ہو گئی۔ چنانچہ اس بارہ میں مرزا قادیانی اور مرزائی امت کی شہادت ملاحظہ ہو۔
- ١٢٣...... ٣٠؍جولائی ١٩٠٧ء کو مرزا قادیانی کو الہام ہوا۔ ’’ہیضہ کی آمدن ہونے
والی ہے۔‘‘
(تذکرہ ص ٧٢٥، طبع ٣)
(الہامی الفاظ میں کیسی فصاحت ٹپک رہی ہے؟ یعنی ’’آمدن‘‘ قادیانی لغت میں سلطان القلمی کا غالباً یہی معیار ہے)
٥١
١٤٤....... مورخہ ٢٦ مئی ١٩٠٨ء بروز منگل قریباً ساڑھے دس بجے دن ”ایک بڑا دست“ آیا اور نبض بالکل بند ہو گئی۔
(بدر مورخہ ٢ /جون ١٩٠٨ء)
”ہیضہ شامت اعمال کا نتیجہ ہے۔“
(تذکرہ ص ٤١٠ طبع ٣)
١٤٥....... مرزا قادیانی کے بیٹے مرزا بشیر احمد اور مرزا قادیانی کی بیوی کی شہادت۔
”چنانچہ مرزا بشیر احمد اپنی کتاب میں لکھتے ہیں۔ ”خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود ٢٥ مئی ١٩٠٨ء یعنی پیر کی شام کو بالکل اچھے تھے۔ رات کو عشاء کی نماز کے بعد خاکسار باہر سے آیا تو میں نے دیکھا کہ آپ والدہ صاحبہ کے ساتھ پلنگ پر بیٹھے ہوئے کھانا کھا رہے تھے۔ میں اپنے بستر پر جا کر لیٹ گیا ....... رات کے پچھلے پہر صبح کے قریب مجھے جگایا گیا....... تو کیا دیکھتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود اسہال کی بیماری سے سخت بیمار ہیں اور حالت نازک ہے۔ جب میں نے پہلی نظر حضرت مسیح موعود کے اوپر ڈالی تو میرا دل بیٹھ گیا۔ کیونکہ میں نے ایسی حالت آپ کی اس سے پہلے نہ دیکھی تھی ....... اتنے میں ڈاکٹر نے نبض دیکھی تو ندارد۔ سب سمجھے کہ وفات پا گئے ....... مگر تھوڑی دیر کے بعد نبض میں پھر حرکت پیدا ہوئی۔ مگر حالت بدستور نازک تھی ....... نو بجے کے بعد حضرت صاحب کی حالت زیادہ نازک ہو گئی اور تھوڑی دیر کے بعد آپ کو غرغرہ شروع ہو گیا....... خاکسار نے یہ روایت ....... جب دوبارہ والدہ صاحبہ کے پاس برائے تصدیق بیان کی تو والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ حضرت مسیح موعود کو پہلا دست کھانا کھانے کے وقت آیا تھا....... کچھ دیر کے بعد آپ کو پھر حاجت محسوس ہوئی اور ایک یا دو دفعہ رفع حاجت کے لئے آپ پاخانہ تشریف لے گئے ....... تھوڑی دیر کے بعد حضرت صاحب نے فرمایا۔ تم اب سو جاؤ۔ میں نے کہا نہیں میں دباتی ہوں۔ اتنے میں آپ کو ایک اور دست آیا۔ مگر اب اس قدر ضعف تھا کہ آپ پاخانہ نہ جا سکتے تھے ....... اس لئے چارپائی کے پاس ہی بیٹھ کر آپ فارغ ہوئے اور پھر اٹھ کر لیٹ گئے۔ اس کے بعد ایک اور دست آیا اور پھر آپ کو ایک قے آئی۔ جب آپ قے سے فارغ ہو کر لیٹنے لگے تو اتنا ضعف تھا کہ آپ لیٹتے لیٹتے پشت کے بل چارپائی پر گر گئے اور آپ کا سر چارپائی کی لکڑی سے ٹکرایا اور حالت دگرگوں ہو گئی۔ اس پر میں نے گھبرا کر کہا: ”اللہ یہ کیا ہونے والا ہے۔“ تو آپ نے کہا یہ وہی ہے جو میں کہا کرتا تھا۔ خاکسار نے والدہ صاحبہ سے پوچھا کہ کیا آپ سمجھ گئیں تھیں کہ حضرت صاحب کا کیا منشاء تھا۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا۔ ہاں....... تھوڑی دیر تک غرغرہ کا سلسلہ جاری رہا اور ہر آن سانسوں کے درمیان کا وقفہ لمبا ہوتا گیا۔ حتیٰ کہ آپ نے ایک لمبا سانس لیا اور آپ کی روح پرواز کر گئی ۔“
(سیرۃ المہدی حصہ اول ص ٩ تا ١٢، روایت نمبر ١٢)
٥٢
١٢٦....... مرزا قادیانی کی اپنی شہادت کہ مجھے ہیضہ ہو گیا ہے۔ میر ناصر نواب جو کہ مرزا قادیانی کے مخصوص صحابی اور خسر ہیں۔ جن کی مرزا قادیانی نے اپنی کتابوں میں بہت تعریف کی ہے اور امت مرزائیہ کے نانا جان ہیں۔ مرزائی امت نے میر صاحب کے حالات زندگی بعنوان ”حیات ناصر“ کتابی صورت میں شائع کئے ہیں۔
(بیان مرزا قادیانی ”میر ناصر صاحب موصوف علاوہ رشتہ روحانی کے جسمانی بھی اس عاجز سے رکھتے ہیں کہ اس عاجز کے خسر ہیں۔ نہایت نیک رنگ اور صاف باطن ہیں۔“)
(ازالہ اوہام ص ٨٠٢، خزائن ج ٣ ص ٥٣٥)
ہیضہ کے متعلق بزبان مرزا قادیانی ان کا بیان ذیل میں ملاحظہ ہو۔
”مرزا قادیانی جس رات کو بیمار ہوئے۔ اس رات کو میں اپنے مقام پر جا کر سو چکا تھا۔ جب آپ کو بہت تکلیف ہوئی تو مجھے جگایا گیا۔ جب میں حضرت صاحب کے پاس پہنچا اور آپ کا حال دیکھا تو آپ نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا۔ میر صاحب مجھے وبائی ہیضہ ہو گیا ہے۔ اس کے بعد آپ نے کوئی ایسی صاف بات میرے خیال میں نہیں فرمائی۔ یہاں تک کہ دوسرے روز دس بجے کے بعد آپ کا انتقال ہو گیا۔“ (حیات ناصر ص ١٤) (کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے)
جھوٹی قسم اور مرزا قادیانی کا انجام
حضرات : کذبات مرزا کی فہرست لا تعداد ہے۔ لیکن سردست ہم مرزا قادیانی کی ایسی تحریرات پیش کر رہے ہیں کہ جن کا زیادہ تر تعلق خلیفہ صاحب کے پیش کردہ معیار استخارہ ، دعا اور خواب کے ساتھ ہے۔
مرزا قادیانی نے حسب عادت مولانا عبداللہ صاحب غزنوی مرحوم کی وفات کے بعد ان کی طرف اپنی ایک خواب منسوب کی ہے اور اس خواب کو اپنے صدق و کذب کا معیار ٹھہرایا ہے۔ اس لئے وہ خواب پیش کی جاتی ہے۔ چنانچہ مرزا قادیانی اپنی کتاب میں لکھتے ہیں :
١٢٧....... ”میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کی جھوٹی قسم کھانا لعنتی کا کام ہے کہ مولوی عبداللہ نے میرے خواب میں میرے دعویٰ کی تصدیق کی اور میں دعا کرتا ہوں کہ اگر یہ جھوٹی قسم ہے تو اے قادر خدا مجھے ان لوگوں کی ہی زندگی میں جو مولوی عبداللہ صاحب کی اولاد یا ان کے مرید یا شاگرد ہیں۔ سخت عذاب سے مار۔“
(نزول المسیح ص ٢٣٧، خزائن ج ١٨ ص ٦١٥)
نوٹ : مرزا قادیانی ٢٦؍ مئی ١٩٠٨ء میں ہی ہلاک ہو گئے اور اپنے کذب پر مہر ثبت کر
٥٣
گئے اور مولانا عبداللہ صاحب غزنوی مرحوم کی اولاد، مرید اور شاگرد ١٩٠٨ء کے بعد زندہ اور موجود رہے اور بعض اب تک بھی ہیں۔ باقی رہا مرزا قادیانی پر سخت عذاب کا نازل ہونا۔ سو مرزا قادیانی کے نزدیک سخت عذاب سے مراد طاعون ١؎ اور ہیضہ ہے اور عذاب ہیضہ سے ہی مرزا قادیانی کی ہلاکت ہوئی۔ وہو المراد!
مرزا قادیانی کے جھوٹا ہونے پر خدا اور رسول کی قولی و فعلی شہادت
- ١٢٨...... حضرت خاتم النبیین مخبر صادق علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ میرے بعد میری
امت میں کذاب اور دجال پیدا ہوں گے۔ جو نبوت کا دعویٰ کریں گے۔ چنانچہ مرزا قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ یہ حضور علیہ السلام کی مرزا قادیانی کے کاذب ہونے پر قولی شہادت ہے۔
مرزا قادیانی کا دعویٰ نبوت۔
- ١...... ”سچا خدا وہی خدا ہے۔ جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔“
(دافع البلاء ص ١١، خزائن ج ١٨ ص ٢٣١)
- ٢...... ”ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم رسول اور نبی ہیں۔“
(بدر مورخہ ٥؍ مارچ ١٩٠٨ء، ملفوظات ج ١٠ ص ١٢٧)
- ٣...... ”خلیفہ محمود کا اعلان نبوت کے حقوق کے لحاظ سے حضرت مرزا صاحب کی
نبوت ویسی ہی نبوت ہے۔ جیسے اور نبیوں کی۔“
(القول الفصل ص ٣٣)
- ١٢٩...... مرزا قادیانی نے خدا تعالیٰ سے بار بار یہ درخواست اور التجاء کی کہ : ”اے
خدا! اگر میں تیری نگاہ میں مفتری اور کذاب ہوں تو مجھے میرے ان اشد ترین دشمنوں کی زندگی میں ہی ہلاک کر۔“ چنانچہ خدا تعالیٰ نے مرزا قادیانی کو ان حضرات کی زندگی ہی میں مرض ہیضہ سے ہلاک کر دیا۔ یہ خدا تعالیٰ کی مرزا قادیانی کے کاذب ہونے پر فعلی شہادت ہے۔
تـــــدل علـــــی انـــــــه کـــــاذب
یعنی ہر چیز اس کے جھوٹا ہونے پر دلالت کر رہی ہے۔ خدا پناہ دے۔ آمین !
١؎ بلکہ مرزا قادیانی نے اپنے متعلق عذاب طاعون کا نزول بھی تسلیم کیا ہے۔ چنانچہ مرزا قادیانی کا وہ طاعونی خواب ملاحظہ ہو۔ لکھتے ہیں ۔ ”میں نے جو اپنی نسبت خوابیں اور الہامات دیکھے ہیں۔ میں ان سے حیران ہوں ۔ دو مرتبہ میں نے خواب میں دیکھا کہ گویا مجھے مرض طاعون ہوگئی ہے اور ورم طاعون نمودار ہے۔“ (مکتوبات ج ٥ حصہ اوّل ص ١٣، بنام نور الدین، تذکرہ ص ٤١٤ طبع ٣)
٥٤
مسیح ربانی اور مسیح قادیانی
حقیقت چھپ نہیں سکتی بناوٹ کے اصولوں سے کہ خوشبو آ نہیں سکتی کبھی کاغذ کے پھولوں سے
خلیفہ قادیانی لکھتے ہیں کہ: ”سلسلہ احمدیہ کا قیام اسی سنت قدیمہ کے ماتحت ہوا ہے اور انہی پیش گوئیوں کے مطابق ہوا ہے۔ جو رسول کریمﷺ اور آپ سے پہلے انبیاء نے اس زمانہ کے متعلق بیان فرمائی ہیں۔ اگر مرزا قادیانی کا انتخاب اس کام کے لئے مناسب نہ تھا تو یہ خدا تعالیٰ پر الزام ہے۔ مرزا قادیانی کا اس میں کیا قصور ہے۔ لیکن اگر خدا عالم الغیب ہے تو پھر سمجھ لینا چاہئے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کا انتخاب ہی صحیح انتخاب تھا اور انہی کے ماننے میں مسلمانوں اور دنیا کی بہتری ہے۔“
(پیغام احمدیت ص ٣٥)
پیغام محمدیت
برادران ملت: آؤ ہم اب قرآن وحدیث اور واقعات صحیحہ کی روشنی میں دیکھیں کہ مرزا قادیانی کا بقول خلیفہ صاحب انتخاب صحیح ہے۔ یا سراسر ناجائز اور باطل اور اس مقدس انتخاب کے متعلق قرآن وحدیث، آنحضرتﷺ اور خود مسیح صادق کی کیا کیا پیش گوئیاں ہیں۔ تا معلوم ہو کہ اپنے خانہ ساز انتخاب پر خداوند قدوس کو الزام دینے والے خود ملزم اور خدا کے باغی ہیں۔ لہٰذا واضح ہو کہ یہ تمام پیش گوئیاں جن کی طرف خلیفہ صاحب نے اشارہ کیا ہے۔ حضرت مسیح ابن مریم کے متعلق ہیں اور مرزا غلام احمد قادیانی ابن مریم نہیں بلکہ ابن غلام مرتضیٰ اور ابن چراغ بی بی ہے اور جو شخص ان پیش گوئیوں کو از راہ فریب ابن چراغ بی بی پر چسپاں کرتا ہے وہ کذاب ہے۔ جیسا کہ خود مرزا قادیانی بھی لکھتے ہیں۔
١٣٠...... ”اس عاجز نے مثیل موعود ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ جس کو کم فہم لوگ مسیح موعود خیال کر بیٹھے ہیں...... میں نے یہ دعویٰ ہرگز نہیں کیا کہ میں مسیح ابن مریم ہوں۔ جو شخص یہ الزام میرے پر لگاوے وہ سراسر مفتری اور کذاب ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ١٩٠، خزائن ج ٣ ص ١٩٢)
١؎ یاد رہے کہ یہ دعویٰ بھی ایک خانہ ساز اور سراسر موہوم دعویٰ ہے۔ جس کا قرآن وحدیث میں قطعاً کوئی ثبوت نہیں ہے۔
٢؎ اور وہ خلیفہ محمود ابن غلام احمد قادیانی ہیں۔ جو مسیح ابن مریم کی پیش گوئیوں کو فریبانہ طریق پر اپنے ابا جان پر خواہ مخواہ چسپاں کر رہے ہیں اور اپنی کم فہمی کی وجہ سے مرزا قادیانی آنجہانی کو مسیح موعود مسیح موعود کرتے رہتے ہیں۔ سچ ہے۔ الزام اوروں کو دیتے تھے قصور اپنا نکل آیا
٥٥
نوٹ: اب آپ کے سامنے مختصر طریق پر وہ پیش گوئیاں پیش کی جاتی ہیں جو کہ مسیح صادق کی آمد ثانی کے متعلق ہیں اور ان پیش گوئیوں کو مرزا قادیانی نے بھی قرآن وحدیث کی رو سے برحق تسلیم ١؎ کیا ہے۔ چنانچہ اس بارہ میں مرزا قادیانی کے تصدیقی بیانات ملاحظہ ہوں۔ مرزا قادیانی لکھتے ہیں۔
- ١٣١...... ”اگر چہ بنی اسرائیل میں کئی مسیح آئے۔ لیکن سب سے پیچھے آنے والا مسیح
وہی ہے جس کا نام قرآن کریم میں مسیح عیسیٰ بن مریم بیان کیا گیا ہے...... مسیح ابن مریم کی آخری زمانہ میں آنے کی قرآن شریف میں پیش گوئی موجود ہے۔“
(ازالۃ اوہام ص ٦٧١ تا ٦٧٥، خزائن ج ٣ ص ٤٦٢، ٤٦٤)
- ١٣٢...... قرآنی پیش گوئی ”ھو الذی ارسل رسوله بالھدی ودین الحق
لیظهره علی الدین کله“ یہ آیت جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر حضرت مسیح کے حق میں پیش گوئی ہے اور جس غلبہ کاملہ دین اسلام کا وعدہ دیا گیا ہے۔ وہ غلبہ مسیح کے ذریعے ظہور میں آئے گا اور جب حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق اور اقطار میں پھیل جائے گا۔ حضرت مسیح اس پیش گوئی کا ظاہری اور جسمانی طور پر مصداق ہے۔“
(براہین احمدیہ ص ٤٩٨، خزائن ج ١ ص ٥٩٣ حاشیہ)
- ١٣٣...... قرآنی پیش گوئی ”عسی ربکم ان یرحمکم وان عدتم عدنا
وجعلنا جھنم للکفرین خدا تعالیٰ کا ارادہ اس بات کی طرف متوجہ ہے۔ جو تم پر رحم کرے اور اگر تم نے گناہ اور سرکشی کی طرف رجوع کیا تو ہم بھی سزا اور عقوبت کی طرف رجوع کریں گے اور ہم نے جہنم کو کافروں کے لئے قید خانہ بنا رکھا ہے۔ یہ آیت اس مقام میں حضرت مسیح کے جلالی طور پر ہونے کا ظاہر اشارہ ہے۔ یعنی اگر طریق رفق اور نرمی کو قبول نہیں کریں گے تو وہ زمانہ بھی آنے والا ہے کہ جب خدا تعالیٰ مجرمین کے لئے قہر و شدت اور سختی کو استعمال میں لائے گا اور حضرت مسیح علیہ السلام نہایت جلالیت کے ساتھ دنیا پر اتریں گے اور تمام راہوں کو خس و خاشاک سے صاف کر
١؎ یہ الگ بات ہے کہ ٥٢ سال تک ان پیش گوئیوں پر ایمان لا کر پھر ان سے منحرف اور منکر ہو گئے۔
٢؎ اور ان منکرین کے لئے بھی جو اپنے ہاتھوں ہی سے لکھ کر اس قرآنی پیش گوئی کا اب صریح انکار کر رہے ہیں۔ خیر وہ زمانہ بھی آخر آنے ہی والا ہے۔ خدا کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں۔
٥٦
دیں گے اور کج اور ناراست کا نام و نشان نہ رہے گا اور جلال الٰہی گمراہی کے تخم کو اپنی تجلّی قہری سے نیست و نابود کرے گا
(براہین احمدیہ ص٥٠٥، خزائن ج١ ص٦٠١)
نوٹ: یادرہے کہ کتاب براہین احمدیہ جس سے مندرجہ بالا قرآنی پیش گوئیاں نقل کی گئی ہیں۔ بقول مرزا قادیانی الہامی اور مصدقہ کتاب ہے۔ (براہین احمدیہ ص ١٣٦، خزائن ج١ ص ١٢٩، ٢٢٥، ٢٤٨، ٤٧٩، ٥٠٣ نزول المسیح ص ١٣١، ١٤٧، حقیقت الوحی حصّہ اوّل ص ١٤٤)
قرآنی پیش گوئیوں کے بعد اب پیغمبر اسلام کی پیش گوئیاں بھی ملاحظہ فرمائیں۔ جو کہ حضرت مسیح ابن مریم کی آمد ثانی کے متعلق ہیں۔ چنانچہ مرزا قادیانی بھی لکھتے ہیں۔
- ١٣٤...... (صحیح بخاری ص٤٩٠) ”والذی نفسی بیدہ لیوشکن ان ینزل
فیکم ابن مریم حكماً عدلاً الحدیث“ یعنی قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ تم میں ابن مریم نازل ہوگا اور تمہارے ہر ایک مسئلہ مختلف فیہ کا عدالت کے ساتھ فیصلہ کرے گا۔“
(ازالہ اوہام ص٢٠١، خزائن ج٣ ص ١٩٨)
نوٹ: حضور علیہ السلام اللہ کی قسم کھا کر بیان فرماتے ہیں کہ تمہارے اندر ابن مریم ہی نازل ہوگا۔ مگر اس کے بالمقابل مرزا قادیانی قسم کھا کر کہتا ہے کہ: ”ابن مریم مر گیا حق کی قسم۔“
(درثمین اردو ص ١٠)
کیا یہ حضور علیہ السلام کی قسم کی ملحدانہ مخالفت اور تکذیب نہیں؟ حالانکہ قسم کے متعلق خود مرزا قادیانی یہ ایک اصول متعین کرتے ہیں اور لکھتے ہیں۔
- ١٣٥...... ”والقسم يدل علیٰ ان الخبر محمول علیٰ الظاهر لاتاویل
فیہ ولا استثناء والا فای فائدہ کانت فی ذکر القسم فتدبر“
(حمامة البشریٰ ص١٤، خزائن ج٧ ص ١٩٢)
(یعنی قسم دلالت کرتی ہے کہ وہ خبر جس کے متعلق قسم اٹھائی گئی ہے۔ یقیناً اپنے ظاہر پر ہی محمول ہے اور اس امر قسمیہ میں کوئی تاویل و استثناء نہیں۔ ورنہ قسم کا اٹھانا محض فضول ثابت ہوگا اور اس میں کوئی فائدہ متصور نہیں)
دوئم یہ امر مسلم ہے کہ ”النصوص یحمل علیٰ ظواھرھا“
(ازالہ اوہام ص٥٤٠، خزائن ج٣ ص ٣٩٠)
اے مرزائیو! ”کیف انتم“ اس وقت تمہاری کیا کیفیت ہوگی۔ خدا تمہیں قبل از وقت ہی عقائد باطلہ سے توبہ کی توفیق دے۔ آمین!
٥٧
١٣٦...... ”حدیثوں میں صاف طور سے وارد ہو چکا ہے کہ جب مسیح دوبارہ دنیا میں آئے گا تو تمام دینی جنگوں کا خاتمہ کردے گا۔“
(ضمیمہ رسالہ جہاد ص ٦، خزائن ج ١٧ ص ٢٨)
حضرت مسیح صادق کی اپنی آمد ثانی کے متعلق پیش گوئی
خدا تعالیٰ اور آنحضرت ﷺ کی مندرجہ بالا پیش گوئیوں کے بعد اب خود مسیح علیہ السلام کی پیش گوئی بھی ملاحظہ فرمائیں۔ چنانچہ لکھا ہے:
١٣٧...... اور جب وہ زیتون کے پہاڑ پر بیٹھا تھا تو اس کے شاگرد الگ اس کے پاس آ کر بولے۔ ہمیں بتا کہ یہ سب باتیں کب ہوں گی اور تیرے آنے اور دنیا کے آخر ہونے کا نشان کیا ہوگا؟
یسوع نے جواب میں ان سے کہا کہ خبردار کوئی تمہیں گمراہ نہ کر دے۔ کیونکہ بہتیرے میرے نام سے آئیں گے اور کہیں گے کہ میں مسیح ہوں اور بہت سے لوگوں کو گمراہ کریں گے۔ اس وقت اگر کوئی تم سے کہے کہ دیکھو مسیح یہاں ہے یا وہاں ہے۔ تو یقین نہ کرنا ١ کیونکہ جھوٹے مسیح اور جھوٹے نبی اٹھ کھڑے ہوں گے اور ایسے بڑے نشان اور عجیب کام دکھلائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو برگزیدوں کو بھی گمراہ کر لیں۔ دیکھو میں نے تم سے پہلے ہی کہہ دیا ہے۔ کیونکہ جیسے بجلی پورب سے کوند کر پچھم تک دکھائی دیتی ہے۔ ویسے ہی ابن آدم کا آنا ہوگا۔ ابن آدم کو بڑی قدرت اور جلال کے ساتھ آسمان کے بادلوں پر آتے دیکھیں گے۔“
(انجیل متی باب ٢٤، آیت ٢٣ تا ٣٠)
نوٹ: حضرت مسیح علیہ السلام کی مندرجہ بالا پیش گوئی کی مرزا قادیانی نے بھی تصدیق کی ہے۔ چنانچہ لکھتے ہیں۔
١٣٨...... ”ہاں ضرور تھا کہ وہ ایسا ٣ دعویٰ کرتے۔ تا انجیل کی وہ پیش گوئی پوری ہو جاتی کہ بہتیرے میرے نام پر آئیں گے اور کہیں گے۔ میں مسیح ہوں۔ پر سچا مسیح ان سب کے آخر میں آئے گا اور مسیح نے اپنے حواریوں کو نصیحت کی تھی کہ تم سب آخر کا منتظر رہنا۔“
(ازالہ اوہام ص ٦٨٤، خزائن ج ٣ ص ٤٦٩)
١ جیسا کہ اب بہائی کہتے ہیں کہ بہاء اللہ ایران میں اور مرزائی کہتے ہیں کہ غلام احمد قادیان میں۔
٢ انجیل متی کے حوالہ جات قابلِ قبول ہیں۔ (دیکھو سرمہ چشم آریہ ص ١٩٩، ج ٢ ص ٢٨٢)
٣ یہ ان مسیحان کذاب کی طرف اشارہ ہے۔ جو مرزا قادیانی سے پہلے ہوچکے ہیں۔ چونکہ انہوں نے بھی مرزا قادیانی کی طرح دعویٰ کیا تھا کہ ہم مسیح ہیں۔
٥٨
نوٹ: حضرت مسیح علیہ السلام کی یہ کیسی واضح پیش گوئی ہے کہ بہت سے کذاب اور جھوٹے مسیح میرے نام پر آئیں گے۔ لیکن خوب یاد رکھو کہ سچا مسیح ان سب کے آخر میں آئے گا۔ تم اسی کے منتظر رہنا۔
چنانچہ مرزا قادیانی نے بھی سابقہ مسیحان کذاب کی طرح یہ کہا کہ میں بھی حضرت مسیح کے نام پر آیا ہوں اور یہ کہ میں آخری مسیح نہیں ہوں۔ بلکہ میرے بعد بھی ہزاروں مسیح آئیں گے۔ لہٰذا حضرت مسیح علیہ السلام کی پیش گوئی کے مطابق مرزا قادیانی بھی ان مسیحان کذاب میں سے ایک ہے۔ چنانچہ مرزا قادیانی خود لکھتے ہیں کہ:
١٣٩....... ”یہ عریضہ مبارک بادی اس شخص (مرزا قادیانی) کی طرف سے ہے۔ جو یسوع مسیح کے نام پر آیا ہے ١ ؎....... اور یہ نوشتہ ہدیہ شکر گزاری ہے کہ جو عالی جناب قیصرہ ہند ملکہ معظمہ دام اقبالہا بالقابہا کے حضور میں بہ تقریب جلسہ جوبلی بطور مبارکباد پیش کیا گیا ہے۔ مبارک، مبارک، مبارک ٢ ؎ “
(تحفہ قیصریہ ص ١، خزائن ج ١٢ ص ٢٥٣)
١٤٠....... ”میں نے صرف مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور میرا یہ بھی دعویٰ نہیں کہ صرف مثیل ہونا میرے پر ہی ختم ہو گیا ہے۔ بلکہ میرے نزدیک ممکن ہے کہ ...... آئندہ زمانوں میں میرے جیسے اور دس ہزار بھی مثیل مسیح آ جائیں ...... ممکن اور بالکل ممکن ہے کہ کسی زمانہ میں کوئی ایسا مسیح بھی جائے۔ جس پر حدیثوں کے بعض ظاہری الفاظ صادق آسکیں۔“
(ازالہ اوہام ص ١٩٩، خزائن ج ٣ ص ١٩٧)
١ ؎ ”ضرور تھا کہ مجدد وقت مسیح کے نام پر آوے۔ کیونکہ بنیاد فساد مسیح کی ہی امت ہے۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص ٢٥٤، خزائن ج ٥ ص ایضاً)
٢ ؎ سرکار دی خیر۔ جڑ ہری۔ زیادہ اقبال، خانہ آباد، اللہ دی امان۔ یہ مسیحیت ہورہی ہے؟
٥٩
١٤١...... ”اس عاجز کی طرف سے یہ دعویٰ نہیں ہے کہ مسیحیت کا میرے وجود پر ہی خاتمہ ہے اور آئندہ کوئی مسیح نہیں آئے گا۔ بلکہ میں تو مانتا ہوں اور بار بار کہتا ہوں کہ ایک کیا دس ہزار سے بھی زیادہ مسیح آسکتا ہے اور ممکن ہے کہ ظاہری جلال واقبال کے ساتھ بھی آجائے اور ممکن ہے کہ اوّل وہ (مسیح) دمشق میں ہی نازل ہو۔“
(ازالہ اوہام ص٢٩٢، خزائن ج٣ ص٢٥١)
١٤٢...... ”سچے مسیح نے اس زمانہ میں آنے کا ہرگز وعدہ نہیں کیا۔ جو جنگ وجدل اور جورو جفا کا زمانہ ہو۔ جس میں کوئی شخص امن سے زندگی بسر نہ کرسکے اور نیک لوگ پکڑے جائیں اور عدالتوں میں سپرد کئے جائیں اور قتل کئے جائیں۔ بلکہ مسیح نے صاف لفظوں میں فرما دیا تھا کہ ان پرفتنہ زمانوں میں جھوٹے مسیح...... پیدا ہوں گے۔ جیسا کہ ان سے پہلے زمانوں میں کئی لوگ ایسے پیدا بھی ہوچکے ہیں۔ جنہوں نے مسیح ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ اس وجہ سے مسیح نے تاکید سے کہا کہ میرا آنا ان اوائل زمانوں میں ہرگز نہیں ہوگا اور شور اور فساد اور جورو جفا اور لڑائیوں کے دنوں میں ہرگز نہیں آؤں گا۔ بلکہ امن کے دنوں میں آؤں گا۔ یہ ایک نہایت عمدہ نشان ہے۔ جو مسیح نے اپنے آنے کے لئے پیش کیا ہے۔“
(ازالہ اوہام ص٥٨، خزائن ج٣ ص١٣١)
نوٹ: ہاں صاحب! فی الواقع یہ ایک نہایت ہی عمدہ نشان ہے۔ جو حضرت مسیح نے اپنے آنے کے کے لئے ہی پیش کیا ہے اور ہم اس نشان کو بدل وجان تسلیم کرتے ہیں۔ چونکہ یہی ایک نشان ہے جو قادیانی مسیح کی خانہ ساز مسیحیت پر ایک ضرب کاری ہے اور یہی وہ نشان ہے جو قادیانی مسیحیت کو واقعات کی روشنی میں روز روشن کی طرح باطل ثابت کررہا ہے۔ اب سوال ہے کہ یہ زمانہ کس مسیح کا ہے؟ تو مرزا قادیانی جواب میں فرماتے ہیں کہ اس زمانہ کا مسیح میں ہوں۔ چنانچہ لکھتے ہیں۔
١٤٣...... ”اس زمانہ کے لئے میں مثیل مسیح ہوں اور دوسرے کی انتظار بے سود ہے۔“ (ازالہ اوہام ص١٩٩، خزائن ج٣ ص١٩٧) ”ہر ایک شخص سمجھ سکتا ہے کہ اس وقت جو ظہور مسیح موعود کا وقت ہے۔ کسی نے بجز اس عاجز کے دعویٰ نہیں کیا کہ میں مسیح موعود ہوں۔ بلکہ اس مدت تیرہ سو برس میں کبھی کسی مسلمان کی طرف سے ایسا دعویٰ نہیں ہوا کہ میں مسیح موعود ہوں۔“
(ازالہ اوہام ص٦٨٣، خزائن ج٣ ص٤٦٩)
(یہ غلط ہے۔ دیکھو بہاء اللہ ایرانی نے مرزا قادیانی سے قبل دعویٰ کیا۔ جس کی کافی تعداد میں آج بھی امت موجود ہے)
(مجموعہ تقریر ص٤٥)
نوٹ: اور یہ زمانہ کہ جس میں مرزا قادیانی نے بزعم خود مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا
٦٠
ہے۔ ایسا روح فرسا، جانگداز، انسانیت سوز، عالمگیر قتل وغارت، جنگ وجدل، شور وفساد، قید وبند، جور وجفا، صداقت سوز، ایمان ربا، خونریزیوں، لڑائیوں اور بدامنیوں کا زمانہ ہے کہ جس کی تاریخ انسانی میں آج تک کوئی نظیر اور مثال نہیں ملتی اور ابھی تک یہ خونخوار سلسلہ بند ہوتا ہوا نظر نہیں آرہا۔
اور سچے مسیح نے ایسے زمانہ میں آنے کا ہرگز وعدہ نہیں کیا۔ بلکہ مسیح نے صاف لفظوں میں فرمادیا تھا کہ ایسے پرفتنہ زمانوں میں جھوٹے مسیح پیدا ہوں گے۔ پس حضرت مسیح علیہ السلام کے اس پیشگوئی فرمودہ کی رو سے بھی مرزا قادیانی اپنے دعویٰ مسیحیت میں سراسر جھوٹا ہے۔ وهو المراد!
ایک غلط فہمی کا ازالہ
یاد رہے کہ مرزائی از راہ فریب کہا کرتے ہیں کہ مسیح دو ہیں۔ حالانکہ مسیح ایک ہی ہے اور اسی مسیح ابن مریم کے متعلق یہ تمام پیش گوئیاں ہیں۔ لیکن یہ باطل اور مردود عقیدہ کہ مسیح دو ہیں۔ مرزائیوں اور یہودیوں کا ہے۔ جیسا کہ مرزا قادیانی آنجہانی خود تسلیم کرتے ہیں۔
- ١٤٤...... ”یہودیوں کا یہ عقیدہ ہے کہ دو مسیح ظاہر ہوں گے اور آخری مسیح پہلے مسیح
سے افضل ہوگا اور عیسائی ایک ہی مسیح کے قائل ہیں...... اور اسلام نے بھی آخری مسیح کا نام حکم رکھا ہے۔ یہود تو دو مسیح قرار دے کر آخری مسیح کو نہایت افضل سمجھتے ہیں۔“
(حقیقت الوحی ص ١٥٤، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٨)
- ١٤٥...... ”خدا نے اس امت میں سے مسیح موعود بھیجا جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام
شان میں بہت بڑھ کر ہے اور اس نے اس دوسرے مسیح کا نام غلام احمد رکھا۔“
(دافع البلاء ص ١٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣)
مرزائی اور یہودی ایک مقام پر تشابہت قلوبہم
اب دیکھو کہ جو یہودیوں کا عقیدہ ہے۔ بعینہ وہی عقیدہ مرزا قادیانی کا ہے۔ یعنی یہ کہ مسیح دو ہیں اور دوسرا خانہ ساز مسیح پہلے یعنی قرآنی مسیح سے نہایت افضل اور اپنی شان میں بہت بڑھ کر ہے۔ سبحان اللہ!
چھچھوندر کے سر میں چنبیلی کا تیل
٦١
اور اس کا ثبوت کہ مرزائی امت یہودیوں کے مشابہ ہے یہ ہے کہ خود مرزا قادیانی نے اس کو تسلیم کیا ہے۔ ملاحظہ ہو:
- ١٤٦...... ”میں (مرزا قادیانی) اسرائیلی بھی ہوں۔“
(تبلیغ رسالت ج ١٠ ص ٢٢، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٤٤٤)
”ہماری جماعت بنی اسرائیل سے مشابہ ہے۔“
(تذکرہ ص ٥٣٣ طبع ٣)
”افغان شکل و شباہت میں یہودی نظر آتے ہیں۔“
(مسیح ہندوستان میں ص ٩٧، خزائن ج ١٥ ص ایضاً)
اب اس کے بعد مفکر اسلام حکیم الامت علامہ محمد اقبالؒ کی بھی مرزائی امت کے متعلق شہادت ملاحظہ ہو۔ حضرت اقبالؒ فرماتے ہیں:
- ١٤٧...... ”قادیانیت اسلام کی چند نہایت اہم صورتوں کو ظاہری طور پر قائم رکھتی
ہے۔ لیکن باطنی طور پر اسلام کی روح اور مقاصد کے لئے مہلک ہے۔ اس کا حاسد خدا کا تصور کہ جس کے پاس دشمنوں کے لئے زلزلے اور بیماریاں ہوں۔ اس کا نبی کے متعلق نجومی کا تخیل اور اس کا روح مسیح کے تسلسل کا عقیدہ وغیرہ۔ یہ تمام چیزیں اپنے اندر یہودیت کے اتنے عناصر رکھتی ہیں۔ گویا یہ تحریک ہی یہودیت کی طرف رجوع ہے۔ روح مسیح کا تسلسل یہودی باطنیت کا جزو ہے۔ ایران میں ملحدانہ تحریکیں اٹھیں اور انہوں نے بروز حلول ظل وغیرہ اصطلاحات وضع کیں۔ تاکہ تناسخ کے تصور کو چھپا سکیں۔“
(حرف اقبال ص ١٢٣)
(چنانچہ قادیانی نبوت اور مسیحیت وغیرہ کا تمام تر دارو مدار ہی بروز، حلول، ظل، استعارہ، مجاز، تاویل باطل، تسلسل، روح مسیح وغیرہ پر ہی ہے۔ جیسا کہ مرزا قادیانی کی کتب و تحریرات سے ظاہر ہے۔ مثلاً دیکھو آئینہ کمالات اسلام ص ٢٥٥، خزائن ج ٥ ص ایضاً)
مرزا قادیانی کے مندرجہ بالا مسلمہ اقوال سے مندرجہ ذیل امور ثابت ہوئے
- ١...... یہ کہ میں مسیح موعود نہیں ہوں۔
- ٢...... یہ کہ مسیح ابن مریم علیہ السلام کی آخری زمانہ میں آنے کی قرآن شریف میں پیش
گوئی ہے۔
- ٣...... یہ کہ آیات قرآنیہ اور احادیث نبویہ کی رو سے مسیح علیہ السلام ہی جسمانی طور پر نہایت
جلالیت کے ساتھ دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے۔
- ٤...... یہ کہ حضور علیہ السلام نے اللہ کی قسم کھا کر فرمایا کہ تم میں ابن مریم ہی نازل ہوگا۔
٦٢
- ٥...... یہ کہ ان پیش گوئیوں کے ظاہری اور جسمانی طور پر حضرت مسیح علیہ السلام ہی مصداق
ہیں۔
- ٦...... یہ کہ مسیح علیہ السلام دوبارہ دنیا میں آ کر تمام دینی جنگوں کا خاتمہ کر دے گا۔
- ٧...... مسیح علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ بہت سے جھوٹے میرے نام پر آ کر کہیں گے کہ ہم
بھی مسیح ہیں۔ مگر سچا مسیح سب کے آخر میں آئے گا۔
- ٨...... یہ کہ میں مسیح کے نام پر آیا ہوں۔
- ٩...... یہ کہ میرے بعد بھی میرے جیسے ہزاروں مسیح آ سکتے ہیں۔
- ١٠...... یہ کہ مسیح صادق نے جنگ وجدل، قتل وغارت اور شور وفساد کے زمانہ میں آنے کا ہرگز
وعدہ نہیں کیا۔ ہاں ایسے پر فتنہ زمانوں میں جھوٹے مسیح پیدا ہوں گے۔
- ١١...... یہ کہ اس زمانہ کا مسیح میں ہوں۔
- ١٢...... یہ کہ یہود اور ہمارا ( قادیانی ) دونوں کا عقیدہ یہ ہے کہ مسیح دو فرد ہیں۔
- ١٣...... یہ کہ مسیح ثانی مسیح اوّل سے شان میں بڑھ کر ہے اور مسیح ثانی کا نام ہے غلام احمد
قادیانی۔
انتخاب صحیح واقعات کی روشنی میں
پس ان تمام امور سے صاف ثابت ہو گیا کہ یہ تمام پیش گوئیاں حضرت مسیح ابن مریم کے متعلق ہی ہیں اور ان کا انتخاب ہی ایک صحیح اور خدائی انتخاب ہے۔
باقی رہے مرزا قادیانی (١) سو نتائج بد کے لحاظ سے ان کا انتخاب سراسر ناجائز اور باطل انتخاب ہے۔ (٢)اور وہ خود اپنے اس انتخاب کی واضح ناکامی کی پاداش میں خدا تعالیٰ کے حضور سخت ترین ملزم و قصور وار ہیں۔ (٣)اور حاکم اعلیٰ کی ثبت مہر اور تصدیق کے بغیر مسیحیت حقہ کی فہرست میں مرزا قادیانی کا نام پیش کرنے والے یقیناً گمراہ اور فریب خوردہ ہیں۔ دعا ہے کہ ہادی مطلق ان تمام گم کردہ صداقت کو چشم بصیرت اور نور ہدایت عطا فرمائے۔ تا کہ یہ منتشر اور متفرق افراد اپنی الگ نفاق آمیز مسجد ضرار کو منہدم کر کے امت محمدیہ کے شانہ بشانہ اور دوش بدوش ہو کر تعمیر ملت اور احیائے دین کے مقدس فرائض کو سر انجام دیں۔ اس لئے کہ ؎
ہو صاحب مرکز تو خودی کیا ہے خدائی
(علامہ محمد اقبالؒ)
٦٣
اے کاش کہ امت مرزائیہ میرے ان مخلصانہ کلمات پر دیانتداری سے توجہ فرمائے اور اس پر عمل پیرا ہو، خدا کرے۔ آمین ثم آمین!
محمدیت کا پیغام
پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ
(علامہ محمد اقبالؒ)
مقدسین اسلام کی شان میں مرزا قادیانی کی گستاخیاں
تڑپے ہیں مرغ نیم بسمل آشیانے میں
حضرات! ”جاہلوں کا ہمیشہ یہی اصول ہوتا ہے کہ وہ اپنی بزرگی کی جڑ ہی اسی میں دیکھتے ہیں کہ بزرگوں کی خواہ مخواہ تحقیر کریں۔“
(ست بچن ص ٨، خزائن ج ١٠ ص ١٢٠)
مگر یاد رکھو کہ ”وہ شخص بڑا ہی خبیث وملعون اور بدذات ہے جو خدا کے برگزیدہ اور مقدس لوگوں کو گالیاں دیتا ہے۔“
(البلاغ المبین ص ١٩، ملفوظات ج ١ ص ٣١٩)
چنانچہ مرزا قادیانی کی طرف ہی ذرا دیکھو کہ اگر ایک طرف اس نے جھوٹی نبوت کا دعویٰ کر کے یہ اعلان کیا ہے کہ اب وہی شخص نجات پا سکتا ہے کہ جو میری اتباع اور پیروی کرے گا تو دوسری طرف مطہرین ومقدسین کی خوب دل کھول کر توہین وتحقیر بھی کی ہے۔ اس بارہ میں مرزا قادیانی کی اپنی تحریرات ذیل میں ملاحظہ فرمائیں۔ مرزا قادیانی اپنی کتاب میں لکھتے ہیں۔
ابراہیم ہونے کا دعویٰ
- ١٤٨....... ”خدا نے براہین احمدیہ میں میرا نام ابراہیم رکھا ہے۔ جیسا کہ فرمایا:
”سلام علیٰ ابراہیم...... واتخذوا من مقام ابراہیم مصلیٰ“ یعنی سلام ہے ابراہیم پر۔ یعنی اس عاجز پر...... اور تم جو پیروی کرتے ہو تم اپنی نماز گاہ ابراہیم کے قدموں کی جگہ بناؤ۔ یعنی کامل پیروی کرو۔ تا نجات پاؤ۔ یہ قرآن شریف کی آیت ہے۔...... اور اس مقام میں اس کے یہ معنی ہیں کہ یہ ابراہیم جو بھیجا گیا تم اپنی عبادتوں اور عقیدوں کو اس طرز پر بجالاؤ اور ہر ایک امر میں اس کے نمونہ پر اپنے تئیں بناؤ۔ یہ آیت اس طرف اشارہ کرتی ہے کہ جب امت محمدیہ میں بہت فرقے
٦٤
ہو جائیں گے۔ تب آخر زمانہ میں ایک ابراہیم پیدا ہوگا اور ان سب فرقوں میں وہ فرقہ نجات پائے گا۔ جو اس ابراہیم کا پیرو ہوگا۔"
(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٢١، خزائن ج ١٧ ص ٦٨، ٦٩)
نوٹ: یاد رہے کہ یہ قرآن مجید کی آیت ابراہیم علیہ السلام کی شان میں ہے۔ مگر کس قدر گستاخانہ جسارت ہے کہ مرزا قادیانی اس آیہ مبارکہ کی یہودیانہ لفظی ومعنوی تحریف کرتے ہوئے کہتا ہے کہ میں ابراہیم ہوں اور یہ آیت میری شان میں ہے۔ جل جلالہ !
اصل میں مرزا قادیانی نے تمام عمر حکومت نصاریٰ کی اطاعت شعاری اور مدح سرائی کی ہے۔ جس کی بدولت اس قادیانی بناسپتی ابراہیم کو یہ جعلی مقام ابراہیم آسمان لندن سے عطاء ہوا اور اسی قسم کے حقیقت پوش اور خودی فروش اشخاص کے متعلق ہی حضرت علامہ اقبالؒ فرماتے ہیں۔ ......١٤٩
ترا ایں نکتہ باید حرز جاں کرد
بہ نمرودان ایں دور آشنا باش
ز فیض شان براہیمی تواں کرد
(ارمغان حجاز ص ١٠٤)
یعنی دور حاضرہ کے نمرودوں کی اطاعت اور کفش برداری کر۔ تاکہ ان کی نبوت بخش نگاہ فیض سے تمہیں مقام ابراہیمی حاصل ہو جائے۔
انبیاء علیہم السلام کے ساتھ تقابل و ہمسری
غلام زادے کو دعویٰ پیمبری کا ہے
مرزا قادیانی اپنے متعلق نہایت تحدی سے لکھتا ہے۔ ......١٥٠
من بعرفاں نہ کمترم ز کسے
آں یقینے کہ بود عیسیٰ را
بر کلامے کہ شد برو القاء
٦٥
واں یقین ہائے سید السادات
کم نیم زاں ہمہ بروئے یقین
ہر کہ گوید دروغ ہست لعین
(نزول المسیح ص٩٩،خزائن ج١٨ص٤٧٧) یعنی انبیاء اگرچہ لاکھوں ہوئے ہیں۔ لیکن میں ان سے عرفان میں کم نہیں ہوں اور جو یقین حضرت عیسیٰ و حضرت موسیٰ اور سید الانبیاء کو اپنی وحی پر تھا۔ وہی یقین مجھے اپنی وحی پر ہے۔ میں ان تمام پیغمبروں سے کم نہیں ہوں اور جو شخص میری اس کلام کو جھوٹا کہتا ہے۔ وہ لعین ہے۔ نعوذ باللہ!
- ١٥١....... برتری وتفوق کا دعویٰ: ”خدا نے اس بات کے ثابت کرنے کے لئے
کہ میں اس کی طرف سے ہوں۔ اس قدر نشان دکھلائے ہیں کہ اگر وہ ہزار نبی پر تقسیم کئے جائیں تو ان کی ان سے نبوت ثابت ہو سکتی ہے۔“
(چشمہ معرفت ص٣١٧،خزائن ج٢٣ص٣٣٢)
نوٹ: مرزا قادیانی کا یہ کیسا فرعونیت آمیز اور ملحدانہ دعویٰ ہے۔ آخر یہ خانہ ساز نبوت ہے یا کوئی طوفان باراں۔ خدا کی پناہ۔ سچ ہے؎
اگرچہ ہو چکے ہیں تجھ سے پہلے فتنہ گر لاکھوں
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین
- ١٥٢....... مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”حضرت مسیح کی سخت زبانی تمام نبیوں سے بڑھی
ہوئی ہے۔۔۔۔ انہوں نے زبان کی ایسی تلوار چلائی کہ کسی نبی کے کلام میں ایسے سخت اور آزار دہ الفاظ نہیں۔“
(ازالہ اوہام ص١٦،خزائن ج٣ص١١٠)
- ١٥٣....... ؎
اس سے بہتر غلام احمد ہے
(درثمین ص٥٣)
نوٹ: اب ذرا اس غلام احمد قادیانی کی تہذیب وشرافت اور نرم کلامی کا نمونہ ملاحظہ فرمائیے اور قادیانی تہذیب کی داد دیجئے۔ چنانچہ مرزا قادیانی فرماتے ہیں۔
٦٦
١٥٤...... ”جو شخص ہماری فتح کا قائل نہیں ہوگا۔ تو صاف سمجھا جائے گا کہ اس کو ولد الحرام بننے کا شوق ہے۔ ...... حرام زادوں کی یہی نشانی ہے۔“
(انوارالاسلام ص٣٠، خزائن ج٩ ص٣١، ٣٢)
١٥٥...... ”آریوں کا پرمیشر ناف سے دس انگلی نیچے ہے۔ سمجھنے والے سمجھ لیں۔“
(چشمہ معرفت ص١٠٦، خزائن ج٢٣ ص١١٤)
١٥٦...... ”بلا شک ہمارے دشمن بیابانوں کے خنزیر ہو گئے اور ان کی عورتیں کتیاؤں سے بھی بڑھ گئیں۔“
(درثمین عربی ص٢٩٤)
١٥٧...... ”چھوٹے آدمی کی یہ نشانی ہے کہ جاہلوں کے روبرو تو بہت لاف و گزاف مارتے ہیں۔ مگر جب کوئی دامن پکڑ کر پوچھے کہ ذرا ثبوت دے کر جاؤ تو جہاں سے نکلے تھے وہیں داخل ہو جاتے ہیں۔“
(حیات احمد ج اوّل نمبر٣ ص٢٥)
١٥٨...... توہین مسیح علیہ السلام: ”میرے نزدیک مسیح شراب سے پرہیز رکھنے والا نہیں تھا۔“
(ریویو ج١ ص١٣٢، ١٩٠٢ء)
١٥٩...... ”عیسیٰ علیہ السلام شراب پیا کرتے تھے۔ شاید کسی بیماری کی وجہ سے یا پرانی عادت کی وجہ سے۔“
(کشتی نوح ص٦٥، خزائن ج١٩ ص٧١ حاشیہ)
١٦٠...... ”یسوع مسیح کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے۔ تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں۔ جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص٧، خزائن ج١١ ص٢٩١)
”مسیح علیہ السلام ابن مریم جن کو عیسیٰ اور یسوع بھی کہتے ہیں۔“ (توضیح المرام ص٣، خزائن ج٣ ص٥٢) ”میں یسوع مسیح کے نام پر آیا ہوں۔“
(تحفہ قیصریہ ص٢١، خزائن ج١٢ ص٢٥٣)
١٦١...... ”ہائے کس کے آگے یہ ماتم لے جائیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تین پیش گوئیاں صاف طور پر جھوٹی نکلیں۔“
(اعجاز احمدی ص١٤، خزائن ج١٩ ص١٢١)
”ممکن نہیں کہ نبیوں کی پیش گوئیاں ٹل جائیں۔“
(کشتی نوح ص٥، خزائن ج١٩ ص٥)
١٦٢...... ”مردی اور رجولیت انسان کی صفات محمودہ میں سے ہے۔ ہیجڑا ہونا کوئی اچھی صفت نہیں۔ ...... یہ اعتراض بہت بڑا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام مردانہ صفات کی اعلیٰ ترین صفت سے بے نصیب محض ہونے کے باعث ازدواج سے بچے اور کامل حسن معاشرت کا کوئی عملی نمونہ نہ دے سکے۔“
(نورالقرآن نمبر٢ ص٤٧، خزائن ج٩ ص٣٩٢)
٦٧
- ١٦٣....... ”مسیح کی راست بازی اپنے زمانہ میں دوسرے راست بازوں سے بڑھ
کر ثابت نہیں ہوتی۔ بلکہ یحییٰ نبی کو اس پر ایک فضیلت ہے۔ کیونکہ وہ شراب نہیں پیتا تھا اور کبھی نہیں سنا گیا کہ کسی فاحشہ عورت نے آ کر اپنی کمائی کے مال سے اس کے سر پر عطر ملا تھا ..... یا کوئی بے تعلق جوان عورت اس کی خدمت کرتی تھی۔ اسی وجہ سے خدا نے قرآن میں یحییٰ کا نام حصور رکھا۔ مگر مسیح کا یہ نام نہ رکھا۔ کیونکہ ایسے قصے اس نام کے رکھنے سے مانع تھے۔“
(دافع البلاء ص ٤، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٠)
نوٹ: مرزا قادیانی نے یہودیانہ سنت کے ماتحت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو جس فحش کلامی اور گندہ دہانی سے یاد کیا ہے محتاج تشریح نہیں اور پھر اس پر غضب یہ کہ بقول مرزا حضرت مسیح علیہ السلام کا اسی وجہ سے خدا نے حصور نام نہیں رکھا کہ ایسے قصے اس نام کے رکھنے سے (نعوذ باللہ ) خدا کو مانع تھے۔ جس کا مرزا قادیانی کے اعتقاد و مذہب میں صاف مطلب یہ ہوا کہ حضرت مسیح علیہ السلام خدا کے نزدیک بھی ایسے ہی تھے۔ جیسا کہ مرزا قادیانی نے لکھا ہے۔ کیا ان دشنام طراز اور توہین آمیز الفاظ میں کوئی امکان تاویل ہے۔ ہرگز نہیں۔
مرزا قادیانی کے متعلق حضرت مولانا ظفر علی خان نے بالکل سچ فرمایا ہے۔
جنس نفاق و کفر سے چمکی تیری دوکان ہے
دیگر حضرت مسیح علیہ السلام پر یہودیوں کی طرح بے بنیاد اعتراضات والزامات لگانے والے خود اپنی زندگی پر نگاہ ڈالیں کہ وہ کہاں تک پاک ہیں۔ حضرت مسیح علیہ السلام کی تقدیس وطہارت کو تو قرآن پاک نے بیان فرما دیا ہے۔ مگر مرزا قادیانی اپنے متعلق خود لکھتے ہیں۔
- ١٦٤....... ”جب مجھے اپنے نقصان حالت کی طرف خیال آتا ہے تو مجھے اقرار کرنا
پڑتا ہے کہ میں کیڑا ہوں نہ آدمی۔“
(تتمہ حقیقۃ الوحی ص ٥٩، خزائن ج ٢٢ ص ٤٩٣)
- ١٦٥.......
ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار
(درثمین اردو ص ١١٦)
٦٨
- ١٦٦...... ”ایک مرض نہایت خوفناک تھی کہ صحبت کے وقت لیٹنے کی حالت میں نعوظ
(انتشار) بکلی جاتا رہتا تھا...... جب میں نے نئی شادی کی تھی تو مدت تک مجھے یقین رہا کہ میں نامرد ہوں۔“
(مکتوبات احمدیہ ج ٥ نمبر ٢ ص ١٤، ٢١)
کیا خدا کا نبی نامرد ہو سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ مگر مرزا قادیانی کا اپنا بیان ہے کہ میں مدت تک نامرد رہا ہوں۔
- ١٦٧...... ”مرزا قادیانی کو احتلام بھی ہوتا تھا۔“
(سیرۃ المہدی حصہ سوم ص ٢٤٢، روایت ٨٤٣)
”حالانکہ احتلام منافی نبوت ہے۔“
(خصائص الکبریٰ ج ١ ص ٧٥ ا، باب فی حفظهﷺ من الاحتلام)
”قال رسول اللہ ﷺ ما احتلم نبی قط وانما الاحتلام من الشيطان“
مرزا قادیانی امت کا فتویٰ
- ١٦٨...... موسم سرما کی اندھیری راتوں میں غیر محرم عورتوں سے ہاتھ پاؤں دبوانا،
(سیرۃ المہدی حصہ ٣ ص ٢١٠، روایت ٧٨٠) اختلاط و مس کرنا قادیانی نبی کو منع نہیں ہے۔ بلکہ کار ثواب اور موجب رحمت و برکات ہے۔
(الحکم ٧ اپریل ١٩٠٧ء، قادیان)
قادیانی نبوت اور خلافت ایک مقام پر
- ١٦٩...... ”تھیٹر اور سینما میں ننگی عورتوں کا ناچ دیکھنا جائز ہے۔ اس کے دیکھنے سے
معلومات حاصل ہوتے ہیں۔“
(ذکر حبیب ص ١٨ والفضل مورخہ ٢٨ جنوری ١٩٣٣ء، قادیان)
نوٹ: یعنی مرزا قادیانی اور مرزا قادیانی کے صحابی تھیٹر دیکھتے رہے اور خلیفہ قادیانی اور چوہدری ظفر اللہ خان پیرس جا کر سینما میں عریاں رقص دیکھتے رہے ہیں۔
(حوالہ مذکور)
- ١٧٠...... مرزا قادیانی کا اپنے صحابی میاں یار محمد کے ہاتھ اپنے لئے شراب منگوانا
اور مرزا قادیانی کی شراب نوشی کے متعلق خلیفہ قادیانی کا عدالت میں اعتراف۔ (خطوط امام بنام غلام ص ٥، مسٹر کھوسلہ کا فیصلہ یعنی مقدمہ ستاری) سچ ہے۔
اپنے ہی دل کو ہم نے گنج عیوب پایا
٦٩
سید المرسلین امام الانبیاء کی توہین
مژدہ جہنم کی وعید ان کو سنا دو
(مولانا ظفر علی خانؒ)
حضرات! مسلمان ہر چیز برداشت کر سکتا ہے۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ سردار انبیاء، محبوب خدا، سید الکونین، تاجدار دارین، امام المرسلین، خاتم النبیین، محمد مصطفی، احمد مجتبیٰﷺ کی سرمو بھی توہین وتنقیص برداشت نہیں کر سکتا۔ مگر کس قدر غضب ہے کہ مرزا قادیانی اور اس کی امت نے اپنی خانہ ساز نبوت کی آڑ میں سرور کون ومکاں، رحمت دو جہاں، سید الانام، حضور علیہ السلام کی ذات اقدس پر نہایت ہی ملحدانہ اور غاصبانہ طریق پر حملے کئے ہیں۔ نقل کفر کفر نہ باشد کے ماتحت بقدر نمونہ مرزا قادیانی اور اس کی امت کی چند توہین آمیز عبارات مندرجہ ذیل انہی کی مسلمہ کتب تحریرات سے نقل کی جاتی ہیں۔ چنانچہ مرزا قادیانی اپنے متعلق کہتا ہے۔
- ١٧١....... ”میں محمد رسول اللہ اور احمد مختار ہوں۔“
(غلطی کا ازالہ ص ٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٧)
- ١٧٢....... ”چاند ہلال سے شروع ہوتا ہے اور چودہویں تاریخ پر آ کر اس کا کمال ہو
جاتا ہے۔ جب کہ اسے بدر کہا جاتا ہے۔“
(ملفوظات مسیح موعود ص ٣٢٨)
- ١٧٣....... ”حق یہ ہے کہ آنحضرتﷺ کی روحانیت ان دنوں (مرزا قادیانی کے
زمانہ) میں بہ نسبت ان سالوں کے اقویٰ اور اکمل اور اشد ہے۔ بلکہ بدر کامل چودہویں رات کے چاند کی طرح ہے۔“
(خطبہ الہامیہ ص ٢٧٢، خزائن ج ١٦ ص ایضاً)
- ١٧٤....... ”صحابہ کو بدر میں نصرت دی گئی۔ بدر پر ایسے عظیم الشان نشان کے اظہار
میں آئندہ کی بھی ایک خبر رکھی گئی تھی اور وہ یہ ہے کہ بدر چودھویں کے چاند کو بھی کہتے ہیں۔ چودھویں صدی میں اللہ تعالیٰ کے منشاء کے موافق اسم احمد کا بروز ہوا اور وہ میں ہوں۔ جس کی طرف اس واقعہ بدر میں پیش گوئی تھی۔ مگر افسوس کہ جب وہ دن آیا اور چودھویں کا چاند نکلا۔ تو اس کو دوکاندار خودغرض کہا گیا۔“
(ملفوظات احمدیہ ج ١ ص ١٦٣)
- ١٧٥....... ”ظاہر ہے کہ فتح مبین کا وقت نبی کریمﷺ کے زمانے میں گزر گیا اور
دوسری فتح باقی رہی کہ پہلے غلبہ سے بہت بڑی اور زیادہ ظاہر ہے اور مقدر تھا کہ اس وقت کا مسیح
٧٠
موعود (مرزا قادیانی) کا وقت ہو ۔‘‘
(خطبہ الہامیہ ص ٢٨٨، خزائن ج ١٦ ص ایضا)
١٧٦ ...... ” خدا نے اس بات کے ثابت کرنے کے لئے کہ میں اس کی طرف سے ہوں۔ اس قدر نشان دکھلائے کہ اگر وہ ہزار نبی پر تقسیم کئے جائیں تو ان کی ان سے نبوت ثابت ہو سکتی ہے ۔“
(چشمہ معرفت ص ٣١٧، خزائن ج ٢٣ ص ٣٣٢)
١٧٧ ...... ” نبی کریم کے معجزات میں سے معجزانہ کلام بھی تھا۔ اسی طرح مجھے وہ کلام دیا گیا ۔ جو سب پر غالب ہے۔ اس کے لئے چاند کے خسوف کا نشان ظاہر ہوا اور میرے لئے چاند اور سورج دونوں کا۔ کیا اب تم انکار کرو گے ۔“
(اعجاز احمدی ص ٧١، خزائن ج ١٩ ص ١٨٣)
١٧٨ ...... انسان عارف ۔” یہ بات بخوبی یاد رکھنی چاہئے کہ انسان عارف پر اسی دنیا میں وہ تمام عجائبات کشفی رنگ میں کھل جاتے ہیں کہ جو ایک محجوب آدمی قصہ کے طور پر قرآن کریم کی ان آیات میں پڑھتا ہے جو معاد کے بارے میں ہیں اور آخرت میں کوئی بھی ایسا امر نہیں۔ جسکی کیفیت اس عالم میں کھل نہ سکے۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص ١٥٢،١٥٣، خزائن ج ٥ ص ایضا)
١٧٩ ...... ” آنحضرت ﷺ کے متعلق ہم کہہ سکتے ہیں کہ اگر آنحضرت ﷺ پر ابن مریم اور دجال کی حقیقت منکشف نہ ہوئی ہو اور نہ دجال کے ستر باع گدھے کی کیفیت کھلی ہو اور نہ یاجوج ماجوج کی تو کچھ تعجب کی بات نہیں ۔“
(ازالہ اوہام ص ٦٩١، خزائن ج ٣ ص ٤٧٣)
١٨٠ ...... اپنی جماعت کے متعلق۔ ”اب رہی اپنی جماعت خدا کا شکر ہے کہ اس نے دمشق کے منارہ پر مسیح کے اترنے کی حقیقت، دجال کی حقیقت ایسے ہی دابۃ الارض کی حقیقت سمجھ لی۔ خدا تعالیٰ نے ان کو معرفت اور بصیرت کے مقام تک پہنچا دیا ہے ۔“
(فتاویٰ مسیح موعود ص ٣٨، فتاویٰ احمدیہ ج ١ ص ٥٠)
١٨١ ...... حیات النبی پر حملہ ۔ ” یہ کس قدر لغو حرکت ہے کہ رسول مقبول کی قبر کھودی جائے اور پاک نبی کی ہڈیاں لوگوں کو دکھائی جائیں ۔“
(ازالہ اوہام ص ٧٠١، خزائن ج ٣ ص ٤٧٨)
١٨٢ ...... جناب کا جسم ہزاروں من مٹی کے نیچے پڑا ہے۔
(الحکم مورخہ ١٠؍ اپریل ١٩٠٣ء ص ١٣)
انبیاء صادقین کے اجساد پر مٹی حرام ہے اور وہ حیات ہیں۔
(خصائص الکبریٰ ج ٢ ص ٢٨١،١٨١)
١٨٣ ...... سید الکونین کی خوراک۔ ”آنحضرت ﷺ عیسائیوں کے ہاتھ کا پنیر کھا لیتے تھے حالانکہ مشہور تھا کہ سور کی چربی اس میں پڑتی ہے ۔“
(الفضل مورخہ ٢٢؍ فروری ١٩٢٤ء)
١٧
نوٹ: رسالت مآب کی شان اطہر میں مرزا قادیانی نے جو تقابل وہمسری تفوق وبرتری حاصل کرنے کے لئے گستاخانہ اور توہین آمیز الفاظ استعمال کئے ہیں۔ محتاج تشریح نہیں۔ بقول مرزا:
- ......١ سیدالعرب والعجم پہلی رات کے اور مرزا قادیانی چودہویں رات کا چاند ہے۔
- ......٢ مرزا قادیانی کی فتح آنحضرت ﷺ کے مقابلہ میں بہت بڑی اور زیادہ ہے۔
- ......٣ مرزا قادیانی کے معجزات کے مقابلہ میں آنحضرت ﷺ کے معجزات مات ہیں۔
- ......٤ مرزا قادیانی اور امت مرزا پر جن حقائق ومعارف کا انکشاف ہوا۔ وہ آنحضرت ﷺ
پر بھی نہیں ہوسکا۔
- ......٥ روضہ نبوی میں آنحضرت کی محض ہڈیاں ہی ہیں۔
- ......٦ آنحضرت ﷺ عیسائیوں کا پنیر کھالیتے تھے۔ حالانکہ مشہور تھا کہ اس پنیر میں خنزیر اور
سور کی چربی پڑتی ہے۔ (العیاذ باللہ ) ہذا بہتان عظیم۔
فتنے تو ذرا دیکھو ترکیب عناصر کے
مرزائی جماعت کے گستاخ نبوت ہونے پر علامہ اقبالؒ کی شہادت
- ......١٨٤ حضرت علامہ اقبالؒ فرماتے ہیں۔ ”ذاتی طور پر میں اس تحریک سے اس
وقت بیزار ہوا تھا جب ایک نئی نبوت بانی اسلام کی نبوت سے اعلیٰ تر نبوت کا دعویٰ کیا گیا اور تمام مسلمانوں کو کافر قرار دیا گیا۔ بعد میں یہ بیزاری بغاوت کی حد تک پہنچ گئی۔ جب میں نے تحریک کے ایک رکن کو اپنے کانوں سے آنحضرت ﷺ کے متعلق نازیبا کلمات کہتے سنا درخت جڑ سے نہیں پھل سے پہچانا جاتا ہے۔“
(حرف اقبال ص ١٣٢)
مرزائی امت کے نازیبا کلمات
- ......١٨٥ جماعت مرزائیہ کے مفتی اعظم سرور شاہ کا اعلان باطل۔ ”ہمارا عقیدہ ہے
کہ دوبارہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ ہی آئے ہیں۔ اگر محمد رسول اللہ پہلے نبی تھے تو اس بعثت میں بھی نبی ہیں۔ ہم نے مرزا قادیانی کو بحیثیت مرزا نہیں مانا۔ بلکہ اس لئے کہ خدا نے اسے محمد رسول اللہ فرمایا ہے۔ ہم پر اللہ کا بڑا فضل ہے کہ اللہ نے ہمیں محمد رسول اللہ کا چہرہ مبارک دکھایا۔“
(الفضل مورخہ ٢٧؍ دسمبر ١٩١٤ء)
٧٢
١٨٦....... بیان مرزا بشیر احمد پسر مرزا قادیانی ، مدح حضرت مسیح موعود ۔
یہاں ہو شان تیری کیا حبیب کبریا تو ہے
کلیم اللہ بننے کا شرف حاصل ہوا تجھ کو
خدا بولے نہ کیوں تجھ سے کہ محبوب خدا تو ہے
اندھیرا چھا رہا تھا سب اجالا کر دیا جس نے
وہی بدر الدجیٰ تو ہے وہی شمس الضحیٰ تو ہے
(گلدستہ عرفان ص١)
١٨٧.......
ہے جلوہ ریز اب وہ قادیاں کے سینے میں
(اخبار فاروق مورخہ ٢٦ اپریل ١٩٤٠ء)
١٨٨....... ”ایک غلطی کے ازالہ میں حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے فرمایا ہے کہ: ”محمد رسول اللہ والذین معہ“ کے الہام میں رسول اللہ سے مراد میں ہوں اور محمد رسول اللہ خدا نے مجھے کہا ہے۔“
(بیان مولوی غلام رسول راجیکی مندرجہ اخبار الفضل مورخہ ١٥؍ جولائی ١٩١٥ء)
١٨٩....... ”حضرت مسیح موعود کا وجود خاص آنحضرت ﷺ کا ہی وجود ہے۔ حضرت مسیح موعود اور آنحضرت ﷺ آپس میں کوئی مغائرت نہیں رکھتے۔ بلکہ ایک ہی شان ایک ہی مرتبہ اور ایک ہی منصب اور ایک ہی نام رکھتے ہیں۔“
(الفضل مورخہ ١٥؍ ستمبر ١٩١٥ء)
زاغ کی چونچ میں انگور خدا کی قدرت
١٩٠....... قادیانی امت کا قصیدہ در شان مرزا ۔
غلام احمد ہوا دارالاماں میں
محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں
اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شاں میں
٧٣
غلام احمد کو دیکھے قادیاں میں
(اخبار بدر ج ٢ نمبر ٤٣، ص ١٤، مورخہ ٢٥؍ اکتوبر ١٩٠٦ء)
- ......١٩١ مرزا قادیانی کی مہر تصدیق: ”یہ وہ نظم ہے جو حضرت مسیح موعود
(مرزا قادیانی) کے حضور میں پڑھی گئی اور خوشخط لکھے ہوئے قطعے کی صورت میں پیش کی گئی اور حضور اسے اپنے ساتھ اندر لے گئے۔ پس حضرت مسیح موعود کا شرف سماعت حاصل کرنے اور جزاکم اللہ تعالیٰ کا صلہ پانے اور اس قطعے کو اندر خود لے جانے کے بعد کسی کو حق ہی کیا پہنچتا ہے کہ اس پر اعتراض کر کے اپنی کمزوری ایمان کا ثبوت دے۔“
(الفضل، مورخہ ٢٣؍ اگست ١٩٤٤ء)
یعنی مرزا قادیانی اپنے مرید سے یہ قصیدہ سن کر بہت خوش ہوا کہ میرے مرید نہ صرف مجھے محمد ہی کہتے ہیں بلکہ محمد عربی سے مجھے شان میں بڑھ کر مانتے ہیں۔ نعوذ باللہ!
خلیفہ محمود قادیانی کا اعلان بغاوت
- ......١٩٢ ”یہ بالکل صحیح بات ہے کہ ہر شخص ترقی کر سکتا ہے اور بڑے سے بڑا درجہ
پا سکتا ہے۔ حتیٰ کہ محمد رسول اللہ سے بھی بڑھ سکتا ہے۔“
(بیان خلیفہ محمود مندرجہ اخبار الفضل مورخہ ١٧؍ جولائی ١٩٢٢ء)
گستاخان رسالت کو ہمارا جواب
ادب سے کرو بات جائے ادب ہے
کہا قاب قوسین جس کو خدا نے
بھلا اس سے بڑھنے کا امکان کب ہے؟
صحابہؓ رسول کی توہین
نبوت کا بیڑا اٹھایا غضب ہے
حضرات! مسلمانوں کا یہ عقیدہ ہے کہ غوث، قطب، ولی جتنے بزرگ امت محمدیہ میں گزرے ہیں۔ ان کا ایمان صحابیؓ کے ایمان کے برابر نہیں ہو سکتا اور اس شرف کو نہیں پا سکتے۔ جو
٧٤
صحابہ عظام نے پایا اور صحابی وہ ہے کہ جو رسول کریم ﷺ کی صحبت میں بیٹھا اور جس نے اپنے دین کے سارے حصوں کو مکمل کر لیا۔ مگر کس قدر یہ بے دینی ہے کہ جو دہریہ طبیعت اور لامذہب چند افراد امت محمدیہ کو چھوڑ کر قادیانی مذہب میں داخل ہو گئے۔ اب ان کو صحابہ کرام کا خطاب دیا جا رہا ہے۔ بلکہ یہاں تک جسارت کہ مریدان مرزا صحابہ رسول سے بڑھ سکتے ہیں۔
چنانچہ مرزا قادیانی کا بیان ملاحظہ ہو۔
- ١٩٤...... ”جو شخص میری جماعت میں داخل ہوا۔ درحقیقت سردار خیرالمرسلین کے
صحابہ میں داخل ہوا۔“
(خطبہ الہامیہ ص ٢٥٨، خزائن ج ١٦ ص ایضاً)
- ١٩٥......
(درثمین ص ٥٢)
- ١٩٦...... بیان خلیفہ محمود: ”حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں کہ جو شخص میرے ہاتھ پر
بیعت کرتا ہے۔ وہ ایسا ہے جیسے رسول کریم ﷺ کے صحابہ تھے۔“
(الفضل مورخہ ١٦؍ جون ١٩٣٤ء)
- ١٩٧...... ”حقیقت یہ ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ کے صحابہ اللہ تعالیٰ کے قرب کے
جس مقام پر پہنچے ہیں۔ اس مقام پر آج بھی ہم پہنچ سکتے ہیں۔ بلکہ اگر ہم کوشش کریں تو صحابہ سے بھی آگے نکل سکتے ہیں۔“
(خطبہ خلیفہ الفضل مورخہ ١٦؍ جون ١٩٣٤ء، ص ٤)
حضرت علی مرتضیٰ شیر خدا کی توہین
حضرات! خداوند عالم نے شہیدوں کے متعلق فرمایا ہے کہ وہ زندہ ہیں۔ جیسا کہ ’ولا تقولوا لمن یقتل فی سبیل اللہ اموات بل احیاء‘ اور ’عند ربہم یرزقون‘ سے ثابت ہے۔ مگر افسوس کہ مرزا قادیانی سیدنا علی مرتضیٰ کی عداوت میں قرآن مجید کی تکذیب کرتے ہوئے کہتا ہے۔
- ١٩٨...... ”پرانی خلافت کا جھگڑا چھوڑو۔ اب نئی خلافت لو۔ ایک زندہ علی تم میں
موجود ہے۔ اس کو چھوڑتے ہو اور مردہ علی کی تلاش کرتے ہو۔“
(ملفوظات احمدیہ ج ١ ص ٤٠٠)
١؎ از مفتی سرور شاہ مرزائی الفضل ٢٧؍ دسمبر ١٩١٢ء۔ ٢؎ از خلیفہ محمود الفضل مورخہ ١٦؍ جون ١٩٣٤ء۔
٧٥
اہل بیت رسول کی توہین
- ١٩٩....... بیان مرزا قادیانی کہ: ”انما یرید الله الایة“ میری اولاد کی شان میں
ہے۔
(تذکرہ ص ٦٩٦ طبع ٣)
- ٢٠٠....... بیان امت مرزا۔ ”خاندان حضرت مسیح موعود کی تطہیر آیت ”وانما یرید
الله لیذهب“ سے ثابت ہے۔“
(ذریت طیبہ ص ٧)
- ٢٠١....... بیان مرزا۔ ”جس طرح سادات کی دادی کا نام شہر بانو تھا۔ اسی طرح یہ
میری بیوی جو آئندہ خاندان کی ماں ہوگی۔ اس کا نام نصرت جہاں بیگم ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ خدا نے تمام جہان کی مدد کے لئے میرے آئندہ خاندان کی بنیاد ڈالی ہے۔“
(تریاق القلوب ص ٦٥، خزائن ج ١٥ ص ٢٧٥)
- ٢٠٢....... بیان مرزا۔
ہر اک تیری بشارت سے ہوا ہے
یہ پانچوں جو کہ نسل سیدہ ہے
یہی ہیں پنجتن جن پر بنا ہے
(درثمین ص ٤٥)
- ٢٠٣....... بیان خلیفہ محمود۔ ”اب جو سید کہلاتا ہے۔ اس کی یہ سیادت باطل ہو جائے
گی۔ اب وہی سید ہوگا جو حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی اتباع میں داخل ہوگا۔ اب پرانا رشتہ کام نہیں آئے گا۔“
(قول الحق ص ٣٢، از خلیفہ محمود)
یعنی اب سید المرسلین کا رشتہ نعوذ باللہ بیکار ہے۔ اب تو وہی سید ہوگا۔ جو بقول مرزا محمود مرزا قادیانی کی بیعت کرے گا۔ خدا اس بناسپتی سیادت سے محفوظ رکھے۔ آمین!
حضرت سیدۃ النساء فاطمۃ الزہراؓ کی توہین
- ٢٠٤....... بیان مرزا۔ ”حضرت فاطمہؓ نے کشفی حالت میں اپنی ران پر میرا سر رکھا۔“
(ایک غلطی کا ازالہ ص ٩، خزائن ج ١٨ ص ٢١٣)
افسوس ایک غیر محرم اور وہ بھی دشمن اہل بیت ہو کر حضرت بتول دختر رسول کی شان میں اس قدر گستاخی۔
٧٦
سیدنا حضرت امام حسینؓ کی توہین
حضرات! جگر گوشۂ سید السادات، راحت سرور کائنات، ابن اسد اللہ، نور سیدۃ النساء، منبع شجاعت، پیکر شہادت، علمبردار حریت، ضیغم اقلیم عزیمت، محی السنت والدین، سیدنا امیر المومنین، حضرت امام حسینؓ کی مرزا قادیانی نے سنت خوارج کے ماتحت جو توہین و تنقیص کی ہے۔ اس کا کچھ نمونہ ذیل میں ہم پیش کرتے ہیں۔ تاکہ اس ضل خوارج گروہ کے ایمان سوز عقائد سے عالم اسلام آگاہ ہو کر محتاط و محفوظ رہیں۔ چنانچہ مرزا قادیانی نہایت فرعونیت سے کہتا ہے۔
٢٠٥...... ”اے قوم شیعہ! اس پر اصرار مت کرو کہ حسین تمہارا منجی ہے۔ کیونکہ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ آج تم میں ایک ہے۔ جو اس حسین سے بڑھ کر ہے۔ اب میری طرف دوڑو کہ سچا شفیع میں ہوں۔“
(دافع البلاء ص ١٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣)
٢٠٦......
صد حسین است در گریبانم
(نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)
یعنی میری ہر سیر ایک کربلا ہے۔ میرے گریبان میں سو حسین ہے۔ حسینؓ تو ایک ہی تھے۔ جو راہ خداوندی میں شہید ہوگئے۔ البتہ یزید ہزاروں ہیں۔ مولانا رومؒ فرماتے ہیں۔
ورنہ صدہا اند در دنیا یزید
٢٠٧...... ”بعض نادان شیعہ نے جنہوں نے حسین کی پرستش کو اسلام کا مغز سمجھ لیا ہے۔ ہمارے رسالہ (دافع البلاء) کے دیکھنے سے بہت زہر اگلا ہے...... اور یہ اعتراض کیا ہے کہ کیونکر ممکن ہے کہ یہ شخص امام حسین سے افضل ہو...... افسوس یہ لوگ نہیں سمجھتے کہ قرآن نے تو امام حسین کو رتبہ اہلبیت کا بھی نہیں دیا۔ بلکہ نام تک مذکور نہیں۔ ان سے تو زید ہی اچھا رہا۔ جس کا نام قرآن میں موجود ہے...... حق تو یہ ہے کہ ”ما کان محمد ابا احد من رجالکم“ کی آیت نے اس تعلق کو جو امام حسین کو آنحضرت ﷺ سے بوجہ پسر دختر ہونے کے تھا۔ نہایت ہی ناچیز کر دیا ہے...... پھر عجیب تر یہ بات ہے کہ حسین کو یہ شرف بھی نصیب نہیں ہوا کہ وہ موت کے بعد آنحضرت ﷺ کی قبر کے قریب دفن کیا جاتا...... لیکن میں مسیح موعود ہوں اور وہی ہوں جس کا نام
٧٧
رسول پاک نے نبی اور رسول رکھا ہے۔ ..... اب سوچنے کے لائق ہے کہ امام حسین کو اس سے (یعنی مجھ سے) کیا نسبت ہے۔ یہ اور بات ہے کہ سنی یا شیعہ مجھ کو گالیاں دیں۔ یا میرا نام کذاب و دجال بے ایمان رکھیں ١؎۔
(نزول المسیح ص ٤٤ تا ٤٨، خزائن ج ١٨ ص ٤٢٣، ٤٢٧)
"قال رسول اللہ حسین منی وانا من حسین" "حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں۔ (ترمذی) "قال رسول اللہ للحسن والحسین ھذان ابنای" حسن و حسین دونوں میرے بیٹے ہیں۔
(ترمذی شریف)
٢٠٨..... "مجھ میں اور تمہارے حسین میں بہت فرق ہے۔ کیونکہ مجھے تو ہر ایک وقت خدا کی تائید اور مدد مل رہی ہے۔ مگر تمہارا حسین پس تم دشت کربلا کو یاد کر لو۔ اب تک تم روتے ہو۔"
(اعجاز احمدی ص ٦٩، خزائن ج ١٩ ص ١٨١)
"تم نے اس کشتہ سے نجات چاہی کہ جو نومیدی سے مر گیا۔ پس تم کو خدا نے ہر ایک مراد سے نومید کیا۔ میں خدا کا کشتہ ہوں۔ لیکن تمہارا حسین دشمنوں کا کشتہ ہے۔ پس فرق کھلا ہوا اور ظاہر ہے۔"
(اعجاز احمدی ص ٨١، خزائن ج ١٩ ص ١٩٣)
یزید کی تعریف
٢٠٩..... "اصل بات یہ ہے کہ سب سے زیادہ بدنام یزید ہے۔ اگر اس کی شراکت سے امام حسینؓ کی شہادت ہوئی تو برا کیا۔ لیکن آج کل کے شیعہ بھی مل کر وہ دینی کام نہیں کر سکتے۔ جو اس نے کیا۔"
(ملفوظات حصہ ٥ ص ٣٢٥)
نوٹ: مرزائیو! دیکھا تمہارا خانہ ساز نبی ابن رسول، شہید کربلا کو نومیدی کا کشتہ، دشمنوں کا کشتہ قرار دے رہا ہے اور خود کو خدا کا کشتہ کہہ رہا ہے اور پھر یزید پلید کی کس قدر تعریف مدح کر رہا ہے۔ کیوں نہ ہو۔ آخر "قادیان بھی ظل دمشق ہے۔"
(ازالہ اوہام ص ٧١، خزائن ج ٣ ص ١٣٦)
ہاں ذرا اپنے ممدوح یزید کی دینی خدمات کی فہرست تو پیش کرو۔ افسوس!
خدا ہدایت دے۔ آمین!
١؎ شیعہ سنی نے نہیں بلکہ مخبر صادق علیہ السلام نے ہی تمہارا نام کذاب و دجال رکھا ہے۔ دیکھو مسلم، ابوداؤد، مشکوٰۃ کتاب الفتن۔
٧٨
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں
قادیانی امت کا دجل
حضرت مولانا عتیق الرحمن چنیوٹیؒ
بسم اللہ الرحمن الرحیم!
ان کی باتوں کا کوئی اعتبار نہیں
مورخہ ١٩؍اپریل ١٩٥٢ء مسلمانان چنیوٹ کا ایک عظیم الشان تبلیغی جلسہ ہوا۔ جس میں خطیب پاکستان قاضی احسان احمد صاحب صدر مجلس احرار اسلام صوبہ پنجاب نے بعنوان ”تحفظ ختم نبوت واستحکام پاکستان“ ملت اسلامیہ کے اجتماع عظیم سے ایک پرحقائق خطاب فرمایا۔ جس میں علاوہ دیگر اہم مسائل مثلاً تجارتی ومعاشرتی معاملات میں حدود شریعت کی پابندی، میدان جہاد کے لئے تیاری، اندرونی وبیرونی دشمنان پاکستان کی سرکوبی کے آپ نے قادیانی امت خصوصاً مرزا محمود اور چوہدری ظفر اللہ خان قادیانی کی ملکی وملی غداریوں کو نہایت شرح وبسط سے طشت از بام کیا۔ خطیب پاکستان کے حقائق افروز ارشادات سے سامعین بیحد متاثر ہوئے۔ مگر اس سے قادیانی امت کے گھر صف ماتم بچھ گئی۔ اپنی واضح غداریوں کی ناکام پردہ پوشی کے لئے قادیانی امت نے ایک اشتہار شائع کردیا۔ وہ اشتہار کیا ہے۔ دجل وفریب کی ایک مجسم تصویر ہے۔ حضرت قاضی صاحب قبلہ کی تقریر سننے والے حضرات قادیانی امت کا یہ نام نہاد اشتہار پڑھ کر حیران اور انگشت بدنداں ہیں اور کہتے ہیں کہ کیا یہی وہ دروغ آمیز نبوت ہے کہ جس کے دام تزویر میں یہ لوگ ناحق گرفتار ہیں۔ پناہ بخدا سچ ہے۔
اشرار و باطل نے عجب جال بنے ہیں
قادیانی امت کی مسلم لیگ دشمنی
مسلم لیگ کے متعلق قادیان کے خانہ ساز نبی کا فتویٰ:
- ١...... میں مسلم لیگ کو پسند نہیں کرتا۔
- ٢...... مسلم لیگ کی راہ ایک خطرناک راہ ہے۔
- ٣...... مجھے مسلم لیگ سے بغاوت کی بو آتی ہے۔
- ٤...... میں مسلم لیگ کی سیاست کو خطرناک سمجھتا ہوں۔
مرزا محمود خلیفہ قادیان کا فتویٰ
”سیاسی واقعات کا مطالعہ کرنے والا جانتا ہے کہ آپ (مسلم لیگ کے متعلق حضرت مسیح موعود) کا خیال کس طرح لفظ بلفظ پورا ہوا۔“
(سیرۃ مسیح موعود ص ٧٣)
چنانچہ واقعات نے ثابت کردیا ہے کہ اب مسلم لیگ بھی اسی سیلف گورنمنٹ کے حصول کی طرف جھک رہی ہے۔ جس کا کانگریس مدت سے مطالبہ کررہی تھی۔ (یعنی آزادی
٢
وطن) کو دکھاوے کے لئے لفظوں میں کچھ فرق رکھا ہو۔ غرضیکہ گو صوبہ کے ایک بڑے اور ذمہ دار حاکم نے اس بات پر زور بھی دیا کہ مسلم لیگ سے نقصان نہیں ہوگا۔ لیکن مسیح موعود نے یہی جواب دیا کہ اس (مسلم لیگ) کا نتیجہ اچھا نہیں ہوگا۔ آخر ایسا ہی ہوا۔
(برکات خلافت از مرزا محمود ص ٥٧)
١٩٤٦ء کا الیکشن اور قادیانی امت کی پوزیشن
شائع کردہ اشتہار میں قادیانی امت نے لکھا ہے کہ: ”جن ایام میں احمدی مسلم لیگ کو منظم کرنے میں پیش پیش تھے۔ ان ایام میں احراری مخالف تھے۔“
- ١...... پہلا جواب تو یہ ہے کہ مجلس احرار کوئی مسیح موعود یا خلیفہ مصلح موعود ہونے کی
مدعی نہیں کہ اس کا ہر قول و فعل یا فیصلہ خالی از خطا یا معصوم ہو۔ ملت کے دو فرد یا روحانی باپ کے دو بیٹوں میں ایک اجتہادی یا سیاسی نظریہ کا وقتی اختلاف تھا جو بالکل ختم ہو گیا۔ فلا اعتراض!
- ٢...... جواب یہ ہے کہ جب آپ کے نبی مسلم لیگ کی مذمت اور مخالفت کا فتویٰ
دے چکے ہیں اور اس فتویٰ کی مرزا محمود تصدیق بھی کر چکے ہیں تو پھر آپ کی کیا پوزیشن ہے۔ بتلائیے وہ جھوٹے ہیں یا آپ؟ در حقیقت دونوں ہی جھوٹے۔
- ٣...... جواب یہ ہے کہ جب بقول شما ١٩٤٦ء کے الیکشن میں احمدی مسلم لیگ کو
منظم کرنے میں پیش پیش تھے تو پھر مرزا محمود نے یہ نفاق آمیز اعلان کیوں کیا کہ: ”یہ سال چونکہ پارٹی سسٹم پر الیکشن کا پہلا سال ہے۔ اس لئے اس دفعہ الیکشنوں میں سخت گڑ بڑ ہو رہی ہے۔ احمدیہ جماعت کے لئے خاص طور پر مشکلات ہیں۔ کیونکہ ان کو نہ مسلم لیگ نے شامل کیا ہے اور نہ زمیندارہ لیگ نے۔ ہاں بعض احمدی افراد کے ساتھ یونینسٹ پارٹی نے تعاون کیا ہے۔ مثلاً یونینسٹ پارٹی نے نواب محمد دین اور چوہدری انور حسین کو ٹکٹ دیا ہے...... لیگ احمدیوں کی مخالفت کر رہی ہے۔“
(رقم فرمودہ مرزا محمود الفضل ج ٣٤ نمبر ٢٥ ص ١، مورخہ ٢٩ جنوری ١٩٤٦ء)
- ٤...... جواب یہ ہے کہ قادیانی امت نے جماعتی طور پر مسلم لیگ کے امیدواروں
کو نظر انداز کر کے ان امیدواروں کے حق میں ووٹ دینے کا کیوں فیصلہ کیا جو کہ مسلم لیگ کے مقابلہ میں مسلم لیگ کو شکست دینے کے لئے کھڑے ہوئے تھے اور یہ امیدوار یونینسٹ، زمیندارہ لیگ اور آزاد امیدوار تھے۔ کیا قادیانی مذہب میں مسلم لیگ دوستی کا یہی معیار ہے؟ شرم، شرم، شرم!
- ٥...... جواب یہ ہے کہ تحصیل بٹالہ کے حلقہ میں مسلم لیگ نے اپنا ایک نہایت ہی
مخلص امیدوار سید بہاء الدین (شہید پاکستان) کو کھڑا کیا تھا۔ مگر قادیانی امت نے مسلم لیگ دشمنی کا ثبوت دیتے ہوئے مسلم لیگ امیدوار کے مقابلہ میں اپنا ایک خانہ ساز امیدوار مجاہد بخارا کا قاتل فتح محمد نامی کو کھڑا کر دیا اور اپنے اس امیدوار کو کامیاب بنانے کے لئے قادیانی امت خصوصاً
٣
مرزا محمود نے سر توڑ کوشش کی اور چوہدری سر ظفر اللہ خان نے بھی مسلم لیگ کے مخالف ہی کو ووٹ دیا۔ چنانچہ قادیانی امت کا خصوصی مناد الفضل لکھتا ہے کہ: ”حضرت خلیفۃ المسیح ووٹ دینے کے لئے پولنگ سٹیشن پر تشریف لے گئے اور چوہدری فتح محمد صاحب کے حق میں ووٹ دیا۔ حضرت مرزا بشیر احمد و حضرت مرزا شریف احمد، آنریبل چوہدری سر ظفر اللہ خاں صاحب نے بھی آج ووٹ دیا۔“
(الفضل ج٣٤ نمبر٣٢ص١، مورخہ ٦؍فروری ١٩٤٦ء)
نوٹ: کیا قادیانی امت کی مخصوص ڈکشنری میں ”پیش پیش“ ہونے کے معنی دجل و فریب اور دشمنی ہی کے ہیں۔
حضرت مسیح علیہ السلام کی آمد ثانی اور ختم نبوت
قادیانی امت نے اپنے دجل آمیز اشتہار میں ایک یہ بھی اعتراض کیا ہے کہ کیا حضرت مسیح علیہ السلام کی آمد ثانی ختم نبوت کے منافی نہیں ہے؟ عرض ہے کہ ختم نبوت کا واضح مفہوم یہ ہے کہ حضرت خاتم الانبیاء ﷺ کے بعد کوئی جدید نبی پیدا نہیں ہوگا۔ چنانچہ مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ: ”چونکہ آئندہ کوئی نیا نبی نہیں آسکتا۔ اس لئے پہلے نبی کے تابع جب دجل کا کام کریں گے تو وہی دجال کہلائیں گے۔“ (جیسے کہ مرزا قادیانی اور آپ کی امت)
(تبلیغ رسالت ج٣ص٢٠٠، مجموعہ اشتہارات ج٢ص١٣١)
- ٢...... دوسرا جواب مرزا قادیانی کی خودنوشت جنم پتری میں ملاحظہ فرمائیے۔
مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ: ”اس طرح پر میری پیدائش ہوئی۔..... میرے ساتھ ایک لڑکی پیدا ہوئی تھی...... پہلے وہ لڑکی پیٹ میں سے نکلی تھی اور بعد اس کے میں نکلا تھا اور میرے بعد میرے والدین کے گھر میں اور کوئی لڑکا یا لڑکی نہیں ہوا اور میں ان کے لئے خاتم الاولاد تھا۔“
(تریاق القلوب ص١٥٧، خزائن ج١٥ص٤٧٩)
نوٹ: مرزا قادیانی بقول خود خاتم الاولاد تھے۔ اس معنی کہ آئندہ کوئی جدید پیدائش نہیں ہوئی۔ ورنہ پہلے آپ کے بہن بھائی زندہ موجود تھے۔ پس آنحضرت ﷺ بھی خاتم الانبیاء ہیں۔ بایں معنی کہ حضور علیہ السلام کے بعد کوئی نیا نبی پیدا نہیں ہوگا اور حضرت مسیح علیہ السلام پہلے نبی ہیں جو کہ حضور علیہ السلام کے فرمان کے مطابق احیائے دین کے لئے قرب قیامت تشریف لائیں گے اور یہ وہ حقیقت کبریٰ ہے کہ جس پر مرزا قادیانی بھی ٥٨ سال تک قائم رہے۔
(براہین احمدیہ ص٤٩٩، ٥٠٥، خزائن ج١ص٥٩٢، ٦٠١)
آخر میں دعا ہے کہ خداوند عالم قادیانی امت کو ہدایت دے اور قبول اسلام کی توفیق عنایت فرمائے۔ تاکہ سرزمین پاکستان اس تخریب پسند اور غدار گروہ سے پاک ہو۔ آمین!
رہے ایمان و دیں سالم کہ وقت امتحاں آیا
٤
خَاتَمُ النَّبِيِّينَ لَا نَبِيَّ بَعْدِي
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں
ارشاد فرید الزمان
متعلق
مرزا قادیان
حضرت مولانا غلام جہانیاںؒ
نذر عقیدت
راقم کو ایک دفعہ بمقام کوٹ مٹھن شریف، حضور واقف اسرار اللہ الصمد، مقبول بارگاہ احد حضرت مولانا خواجہ فیض احمد صاحب سجادہ نشین کے عالی دربار، فیض آثار میں شرف حاضری حاصل ہوا۔ اہل دربار میں علاوہ خدام، اصدقائے علمائے باصفا وصلحا، سالکان راہ ہدا کے دستگیر، درماندگان امید گاہ جاوداں حضرت خواجہ غلام رسول صاحب صدر نشین مسند حاجی پور شریف بھی تشریف فرما تھے۔ مقدمہ بہاولپور کا ذکر شروع ہوا جو مابین اہل السنۃ والجماعت ومرزائیت متعلق فسخ نکاح جاری تھا اور جس میں مرزائیوں نے اپنی تائید میں حضور قبلہ اقدس قدس سرہ العزیز کے متعلق بے بنیاد اور غلط روایات مشہور کی تھیں۔ معلوم ہوتا تھا کہ حضور سجادہ نشین صاحب کی طبع نازک پہ اپنے شیخ اعظم کے متعلق ایسی سراسر غلط روایات کی اشاعت بارگراں گزری ہے اور جمیع حلقہ بگوشان فریدی نے مرزائیوں کی اس حرکت شنیعہ کا احساس کیا۔ ازاں اس امر کی بے حد ضرورت تھی کہ بغرض افادہ عوام اس حقیقت کا انکشاف کیا جائے۔ الحمد للہ کہ اس فرض کی ادائیگی کی سعادت احقر کو نصیب ہوئی۔ چونکہ یہ رسالہ محض بغرض حصول ہدایت لکھا گیا ہے اور صرف سیاہ الفاظ موجب ہدایت نہیں ہو سکتے۔ جب تک کسی کامل مقبول بارگاہ الٰہ کی توجہ باطنی شامل حال نہ ہو۔
پیوستہ در حمایت لطف الٰہ باش
ازاں یہ رسالہ بطور نذر عقیدت، بعالی خدمت، قدسی صفت، حضور تاجدار کشور یقیں، قدوۃ الواصلین، سند الکاملین حضرت مولانا خواجہ فیض احمد صاحب سجادہ نشین لازال بروق اجلالہ علی رؤس المسترشدین الی یوم الدین، پیش کیا جاتا ہے۔ کہ قبول افتد زہے عزوشرف! احقر العباد: محمد غلام جہانیاں غفرلہ معینی قریشی
ہوالمعین
بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ علی نعمہ الشاملات والصلوٰۃ والسلام علی سیدنا ومولانا محمد باعث کل الکائنات وافضل البریات وعلیٰ آلہ واصحابہ واتباعہ الذین فازوا باعلی الدرجات اما بعد!
٢
شیفتگان مرزا قادیان نے مرض مرزائیت کو طول و عرض ملک میں پھیلانے کے لئے مصداق آیۂ ”لا تينهم من بين ايديهم ومن خلفهم وعن ايمانهم وعن شمائلهم ولا تجد اكثرهم شكرين“ متفرق چالیں اختیار کیں۔ چنانچہ مرزائیوں کی طرف سے ایک رسالہ بعنوان ”مسیح موعود کی تصدیق میں (قطب الاقطاب شیخ المشائخ) حضرت خواجہ غلام فرید کی عظیم الشان شہادت“ تالیف کر کے شائع کیا گیا ہے۔ جس میں مؤلف نے اشارات فریدی جلد ثالث کے ان مقامات کو جن میں مولوی رکن دین مؤلف اشارات کے خود پیدا کردہ رطب و یابس مندرج ہیں۔ سند پیش کر کے عامہ اہل اسلام خصوصاً مریدان و معتقدان حضور قبلہ اقدس کو دھوکہ میں ڈالنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن۔
ہر آن کس تف زند ریشش بسوزد
مرزائی مؤلف رسالہ نے اپنے مسیح قادیانی کی بعثت کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے: ”اگرچہ یہودی مولویوں کی یہ حرکات خود حضرت مسیح کی صداقت کا ایک زبردست ثبوت تھا۔ تاہم ایسے نیک بخت اور سعادت مند لوگ بھی اللہ تعالیٰ نے کھڑے کئے۔ جنہوں نے حضرت مسیح موعود کو نہ صرف یہ کہ امت محمدیہ ﷺ کا ایک درخشندہ تارا بتایا بلکہ آپ کے تمام دعاوی کی تصدیق کر کے کفر کے فتویٰ لگانے والوں کو ملزم گردانا اور ان سے نفرت کا علی الاعلان اظہار کیا۔ ایسے بزرگوں میں سے ایک وجود حضرت خواجہ غلام فرید کا بھی ہے اور ایسے لوگ چونکہ اہل اللہ اور حقیقت شناس ہوتے ہیں۔ اس لئے بلا خوف لومۃ لائم خدا تعالیٰ کے فرستادوں کی نہ صرف یہ کہ تعریف وتوصیف میں رطب اللسان ہوتے ہیں۔ بلکہ تصدیق کرتے ہیں۔ چنانچہ حضرت سیدنا مرزا غلام احمد قادیانی کی تصدیق میں حضرت خواجہ صاحب نے جس جرأت سے کام لیا ہے وہ آپ کی شان بزرگ کا زبردست ثبوت ہے۔“
مؤلف کی اس عبارت سے واضح ہوتا ہے کہ حضور، قبلہ اقدس، شیخ المشائخ ، قطب الاقطاب، فرد الافراد، مقبول بارگاہ وحید، قبلہ اہل توحید، حضرت مولانا خواجہ غلام فرید صاحب قدس سرہ العزیز نے مرزا قادیانی کے تمام دعاوی کی تصدیق فرمائی ہے۔ ”العیاذ باللہ انہ بہتان عظیم!!
ہمہ عالم گواہ عصمت اوست
اس قدر بہتان عظیم کی اشاعت سن کر خاموش بیٹھنا چونکہ گناہ عظیم تھا۔ ازاں ایک ادنیٰ
٣
ترین بندگان فریدی ہونے کی حیثیت سے راقم نے اس غلط فہمی کا ازالہ از حد ضروری سمجھتے ہوئے جوابا رسالہ لکھنے کا عزم کیا۔ من الله التوفیق وبہ نستعین! چونکہ ارشادات قدسی صفات حضور قبلہ اقدس سے مرزائیوں کی ضلالت اور ان کا ناری ہونا ان کے اعتقادیات کا صریح خلاف قرآن وحدیث ہونا وضاحت وصراحت سے ثابت ہے۔ اس رسالہ کا نام ”ارشاد فرید الزمان متعلق مرزا قادیان“ رکھا گیا ہے۔ دربار ایزد متعال سے دعا ہے کہ راقم کی یہ خدمت اپنے مرشد اعظم حضور قبلہ اقدس غریب نواز کی نظر اثر میں مقبول ہو۔ آمین!
آں دلبر من بین کہ بود میر قبائل
حافظ تو برو بندگی پیر مغاں کن
بر دامن او دست زن واز ہمہ بگسل
چونکہ مرزائی مؤلف کا دعویٰ ہے کہ (العیاذ باللہ) حضور قبلہ اقدس نے مرزا قادیانی کے تمام دعاوی کی تصدیق کی ہے۔ ازاں پیشتر اس کے کہ اس بہتان عظیم کی حقیقت کا انکشاف کیا جائے۔ مرزا قادیانی کے تمام دعاوی کا مختصراً تذکرہ ضروری ہے۔
باب اوّل ....... مرزا قادیانی کا تدریجی عروج اور دعاوی
مرزا قادیانی تعلیم سے فارغ ہو کر عدالت خفیفہ سیالکوٹ میں بمشاہرہ پندرہ روپے محرر متعین ہوئے۔ اس کے بعد بغرض ترقی روز گار مختاری کے امتحان میں شامل ہوئے۔ امتحان میں فیل ہو جانے کے باعث ملازمت کو خیر باد کہہ کر گوشہ نشین ہوئے اور سودیشی نبی بننے کی تیاری میں مشغول ہو گئے۔
پہلا درجہ ....... زاہد
اپنے خیال میں مشغول عبادت ہو کر لوگوں کو متاثر زہد کرنے لگے۔
دوسرا درجہ ....... مجدد
جب زہد میں کمال حاصل کرنے کا دھوکہ دے چکے تو مجددیت کا دعویٰ کر لیا۔
تیسرا درجہ ....... فرشتوں سے واقفیت
مجدد تو بن چکے اب زیادہ عروج کے مشتاق ہوئے۔ چونکہ مدارج علویہ کا حصول بغیر تعارف ملائکہ کے ناممکن تھا۔ ازاں مرزا قادیانی نے فرشتوں سے واقفیت شروع کی۔
٤
مثال مشہور ہے جیسے روح ویسے فرشتے۔ مرزا قادیانی بھی پنجابی، فرشتے بھی پنجابی اور وحی پنجابی (حقیقت الوحی ص٣٣٢، خزائن ج٢٢ ص٣٤٦) میں مرزا قادیانی لکھتے ہیں۔ ”٥؍ مارچ ١٩٠٥ء کو میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک شخص جو فرشتہ معلوم ہوتا تھا۔ میرے سامنے آیا اور اس نے بہت سا روپیہ میرے دامن میں ڈال دیا۔ میں نے اس کا نام پوچھا اس نے کہا نام کچھ نہیں میں نے کہا آخر کچھ نام تو ہونا چاہئے۔ اس نے کہا میرا نام ٹیچی ٹیچی ہے۔“
سبحان اللہ فرشتوں کا نام بھی انوکھا نکل آیا۔ بھلا ان رازوں کو کون سمجھے؟ جب اس تخیل میں بھی کامیاب ہوگئے تو دنیا اندھیر نظر آنے لگی۔ زمین کے رہنے والے ہیں، فلک پر ہے دماغ ان کا۔ چونکہ آپ نبوت کی تاک میں تھے۔ شہداء صالحین وصدیقین مرزا قادیانی کو ہیچ نظر آنے لگے۔
میکش اندر طعنہ پاکاں زند
چنانچہ مرزا قادیانی اپنے اس رتبہ کو اشعار محررہ ذیل میں ظاہر فرماتے ہیں۔
- الف.......
صد حسین است در گریبانم
(نزول المسیح ص٩٩، خزائن ج١٨ ص٤٧٧)
غالباً اس کا جواب تو کسی محبّ اہل بیت نے بدیں مضمون دیا تھا۔
لیک بسیار اند در عالم یزید
- ب....... (اعجاز احمدی ص٦٠، خزائن ج١٩ ص١٦٤) میں مرزا قادیانی کے یہ اشعار درج ہیں۔
اقول نعم والله ربى سيظهر
ترجمہ: لوگ میرے متعلق کہتے ہیں کہ حسنین پر اپنے آپ کو فضیلت دیتا ہے۔ میں کہتا ہوں ہاں خدا کی قسم عنقریب میرا رب ظاہر کر دے گا۔
فانى اؤيد كل ان وانصر
(اعجاز احمدی ص٦٩، خزائن ج١٩ ص١٨١)
٥
ترجمہ: میرے اور تمہارے حسینؓ کے درمیان بڑا فرق ہے۔ کیونکہ میں ہر وقت تائید کیا جاتا ہوں اور مدد کیا جاتا ہوں۔
الی ہذہ الایام تبکون فانظروا
(اعجاز احمدی ص ٧٩، خزائن ج ١٩ ص ١٨١)
ترجمہ: تم اپنے حسینؓ کے متعلق دشت کربلا یاد کرو۔ ابھی تک رو رہے ہو۔ پس دیکھو:
وعندی شہادات من اللہ فانظروا
(اعجاز احمدی ص ٨١، خزائن ج ١٩ ص ١٩٣)
ترجمہ: خدا کی قسم امام حسینؓ میں مجھ سے زیادتی نہیں ہے اور میرے نزدیک خدا کی شہادتیں ہیں۔ پس دیکھو:
قتیل العدیٰ فالفرق اجلے واظہر
(اعجاز احمدی ص ٨١، خزائن ج ١٩ ص ١٩٣)
ترجمہ: تحقیق میں شہیدِ محبت ہوں۔ لیکن تمہارا حسینؓ دشمنوں کا مقتول ہے۔ پس فرق بیّن اور ظاہر ہے۔ نواسہ رسولﷺ کے متعلق اس قدر ہتک آمیز کلام اور دعویٰ اسلام۔
چوتھا درجہ ...... مہدی
آپ نے مہدویت کی کلاس پاس کر کے مہدیت کا درجہ حاصل کر لیا اور علامات ظہور مہدی کو اپنے اوپر منطبق کرنے لگے۔ ادھر علمائے حق نے آیات واحادیث کا صحیح مفہوم لوگوں کو سنا کر مرزا قادیانی کی ایمان سوز ضلالت کو اظہر من الشمس کر دیا تو مرزا قادیانی نے احادیث کے متعلق بدیں مضمون اپنا خیال ظاہر کیا کہ: ”میرے اس دعویٰ کی حدیث بنیاد نہیں بلکہ قرآن اور وہ وحی ہے جو میرے پہ نازل ہوئی۔ ہاں تائیدی طور پر ہم حدیثیں بھی پیش کرتے ہیں جو قرآن شریف کے مطابق ہیں اور میری وحی کے معارض نہیں اور دوسری حدیثوں کو ہم ردی کی طرح پھینک دیتے ہیں۔“
(اعجاز احمدی ص ٣٠، خزائن ج ١٩ ص ١٤٠)
گدائی کرتے کرتے مہدی موعود بن جائے
٦
پانچواں درجہ ...... مثیل مسیح
چھٹا درجہ ...... مسیح موعود
مرزا قادیانی کی ترقی مدارج میں برق رفتاری ملاحظہ ہو۔ مجدد، مہدی اور مثیل مسیح ہونے پر اکتفا نہیں کیا جاتا۔ بلکہ مسیح موعود بننے کا شوق دامن گیر ہوتا ہے تو آپ مریم بن کر استعارہ کے رنگ میں حاملہ ہو جاتے ہیں۔ پھر دس ماہ بصورت حاملہ گذارنے کے بعد خود ہی ابن مریم بن جاتے ہیں۔
نوٹ: مسیح ابن مریم ہونے کے متعلق تمام حوالہ جات باب نزول مسیح میں بتفصیل درج ہیں۔
ساتواں درجہ ...... نبی
یعنی امتی نبی جب مرزا قادیانی بن جاتے ہیں اور وحی والہام شروع ہو جاتا ہے تو آپ اپنے رتبے کا بدیں طور اظہار کرتے ہیں۔
اس سے بہتر غلام احمد ہے
(دافع البلاء ص ٢٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٤٠)
عیسیٰ کجاست تا بنہد پا بمنبرم
(ازالہ اوہام ص ١٥٨، خزائن ج ٣ ص ١٨٠)
نبی بھی بن گئے۔ لیکن بلند پروازی کا تخیل ابھی ختم نہیں ہونے پایا۔
آٹھواں درجہ ...... خدا کا بیٹا ہونا
مرزا قادیانی لکھتے ہیں۔ ”میرا مقام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مقام وہ ہے کہ اگر ہم دونوں خدا کے بیٹے ہونے کا دعویٰ کریں تو صحیح ہوگا۔“
(توضیح المرام ص ٢٧، خزائن ج ٣ ص ٦٢)
اس کے بعد مرزا قادیانی کو الہام بھی ہو گیا۔ ”انت منی بمنزلہ ولدی“ تو میرے لڑکے کی طرح ہے۔
(حقیقت الوحی ص ٨٦، خزائن ج ٢٢ ص ٨٩)
نواں درجہ ...... خدا ہونا
مرزا قادیانی نے پیشین گوئی تو کی تھی کہ میں خود خدا ہوں اور مجھ سے الوہیت کا دعویٰ ظاہر ہوگا۔ اس کے بعد مرزا قادیانی کے خدا نے اپنا چارج مرزا قادیانی کے حوالہ کر کے اعلان کر
٧
دیا۔ ”انما امرك اذا اردت شيا ان تقول له كن فيكون“ تیرا کام بغیر اس کے اور کچھ نہ ہوگا کہ جس وقت تو کسی چیز کا ارادہ کرے سب کن کہنے سے ہو جائے گا۔
(حقیقت الوحی ص ١٠٥، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٨) میں مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ: ”اللہ تعالیٰ میرے وجود میں داخل ہو گیا۔“ جب لفظ کن سے حسب منشاء اشیاء کے پیدا کرنے کے عام اختیارات مرزا قادیانی کو تفویض ہو گئے تو مرزا قادیانی کا خدا فراغت سے تنگ آ کر مرزا قادیانی کے وجود میں پناہ گزیں ہوا۔
دسواں درجہ ...... خدا کا باپ ہونا
مرزا قادیانی کو الہام ہوتا ہے۔ (ازالہ اوہام ص ١٥٦، خزائن ج ٣ ص ١٨٠) ”انا نبشرك بغلام مظہر الحق والعلیٰ كان الله نزل من السماء“ تحقیق ہم تجھے بشارت دیتے ہیں۔ ایسے لڑکے کی جو حق اور بلندی کے ظاہر کرنے والا ہوگا۔ گویا کہ اللہ تعالیٰ آسمان سے اتر آئے گا۔ آپ کا لڑکا جب گویا اللہ ہو کر آسمان سے اترنے لگا تو خود مرزا قادیانی گویا اللہ کے باپ ٹھہرے۔ مرزا قادیانی اگر مختاری کے امتحان میں فیل ہوئے تو کیا مضائقہ۔ طرفتہ العین میں باطنی انٹرینس کا سرٹیفکیٹ حاصل کر لیا۔ مرزا قادیانی کی اس حیرت انگیز ترقی پر کسی نے خوب کہا ہے؎
بازی یہ مجھ سے لے گیا تقدیر دیکھئے
ممکن تھا مرزا قادیانی اور بہت کچھ ترقی کرتے۔ لیکن عزرائیل علیہ السلام سدراہ ہوئے اور مرزا قادیانی ١٣٢٦ھ میں انتقال کر گئے۔
باب دوم ...... انکشاف حقیقت
یعنی ارشادات فریدی جلد سوم میں مرزا قادیانی کے متعلق جتنے تائیدی کلمات مندرج ہیں وہ مولوی رکن دین مؤلف کے خود پیدا کردہ الفاظ ہیں۔ معاندین صداقت، ابتدائے سے ہی مذہب حق پرست کے لباس میں ملبوس ہو کر خفیہ طور پر اپنے زہریلے جراثیم سے اہل حق کو ملوث کرنے کی سعی کرتے رہتے ہیں۔ بدیں صورت مرزائیت کا ایک فرد مسمی غلام احمد اختر ساکن اوچ ریاست بہاولپور حاضر دربار عالیہ فریدیہ ہوا کرتا تھا۔ حضور کا فیض عام، جود وسخا، دنیا سے مخفی نہیں۔ حضرت نے فیض عام سے حاتم بنا دیئے۔ جو در دولت پر حاضر ہوتا دامن امید گوہر مقصود سے معمور کر جاتا۔ جس طرح فیض ربانی دنیوی لحاظ سے بلاتمیز مذہب وملت عام ہوا کرتا ہے۔ اسی طرح تخلق باخلاق اللہ کے در دولت سے یاس وحرمان
٨
کلیۃً مفقود ہوا کرتی ہیں۔ انہیں افراد سے یہ سنی نما مرزائی مولوی غلام احمد اوچی، حضور قبلہ اقدس کی خدمت میں بدیں طور عقیدت مندی ظاہر کیا کرتا تھا۔
از کون و مکان تجرید ترا
اسرار سلوک پدید ترا
دل باخت ہر آں کس دید ترا
اے نام غلام فرید ترا
از خضر حیات مزید ترا
حقا کس مثل ندید ترا
حضرت سجادہ نشیں مددے
اس سنی نما مرزائی یعنی مولوی غلام احمد اختر کے دوران قیام چاچڑاں شریف سے چار سال پیشتر مولوی رکن دین حضور قبلہ اقدس کے ملفوظات جمع کرنے میں مصروف تھا۔ ازاں اس نے موقعہ پا کر مولوی رکن دین کے ساتھ رشتہ عقیدت و رابطہ مودت مستحکم کرنے کے لئے مناسب تجاویز اختیار کیں اور رقومات بطور نذرانہ پیش کرنے لگا۔ مولوی رکن دین جب مسحور رقومات ہو چکے تو اختر صاحب نے مرزا قادیانی نبی کے مراسلات کا سلسلہ شروع کرا دیا اور اختر صاحب کی قلم افتراء رقم سے ترسیل جوابات جاری رہے۔ جس کے متعلق مولوی رکن دین کی تحریر شاہد ہے۔ ازاں مولوی رکن دین نے اپنے اخویم مولوی غلام احمد اختر کی طیب خاطر کے لئے چند مقبوسات میں مرزا قادیانی کے متعلق خود پیدا کردہ الفاظ تحریر کر دیئے۔ ملفوظات شریف یعنی اشارات فریدی کے جمیع جلدوں کو اوّل سے آخر تک بغور مطالعہ کرنے کے بعد یہ حقیقت روز روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے۔
بیّن دلیل
مولوی رکن دین نے ١٩؍ رجب ١٣١٠ھ سے ملفوظات شریف قلم بند کرنے شروع کئے اور ٦؍ ربیع الثانی ١٣١٩ھ تک ٣٨٢ مقابس جمع کر کے پانچ جلدوں میں ترتیب دے کر فراغت حاصل کی اور اس کتاب کا نام اشارات فریدی رکھا۔ گویا مولوی رکن دین کو ٨ سال ٩ ماہ ٧ یوم کے طویل عرصہ میں ایک سال ٢٢ یوم دربار معلے میں شرف حاضری حاصل ہوا۔ کیونکہ مولوی رکن دین کو جس یوم حاضر ہونے کا موقعہ ملتا اسی یوم کے اذکار و واقعات ایک مقبس میں تحریر کرتا۔ جلد اوّل
٩
ملفوظ شریف جس کو مولوی رکن دین نے ١٩ رجب ١٣١٠ھ سے شروع کر کے ٢٤ محرم ١٣١٢ھ تک یعنی ایک سال ٦ ماہ ٥ یوم کے عرصہ میں ختم کیا ہے۔ صرف ٤٢ ملفوظ تحریر ہوئے۔ جلد دوم جس کو ٢٦ محرم الحرام ١٣١٢ھ سے لے کر ٢٦ ربیع الثانی ١٣١٤ھ تک دو سال تین ماہ کے عرصہ میں ختم کیا جاتا ہے۔ ٤ ملفوظ درج ہوتے ہیں۔ تقریباً چار سال کے عرصہ میں ١١ ملفوظ تحریر کئے جاتے ہیں اور مرزا قادیانی کے متعلق ان دونوں جلدوں میں کوئی ذکر نہیں کیا جاتا۔ لیکن جب مولوی غلام احمد اختر کی اخوت مولوی رکن دین سے مستحکم ہوتی ہے اور مرزا قادیانی کے مراسلات کا سلسلہ شروع ہوتا ہے تو ذرا مولوی صاحب کا زور قلم ملاحظہ فرمائیے کہ اس جلد ثالث کو جس میں مرزا قادیانی کے مراسلات کی آمدورفت اور اپنے اخویم مولوی غلام احمد اختر کی قلم سے ترسیل جوابات کا ذکر کیا گیا ہے۔ سات ماہ ٤ یوم کے عرصہ میں ٧٨ ملفوظ تحریر کر کے ختم کر لیتے ہیں۔ عیاں را چہ بیاں!
اس سے ثابت ہوتا ہے کہ تیسری جلد کی تالیف جس میں نہایت عجلت سے کام لیا گیا ہے۔ مولوی رکن دین کی واحد شخصیت کی استطاعت سے باہر ہے۔ بلکہ مولوی غلام احمد اختر کی رفاقت نے مولوی رکن دین کی قوت تحریر میں چند گنا اضافہ کر دیا۔ جس سے سات ماہ کا کام چار سال کی کارکردگی سے زائد ہو گیا۔ اس کے بعد مولوی صاحب کی قلم پھر اپنی اصلی اور فطرتی طاقت کی طرف راجع ہوئی۔ حسب دستور سابق تین سال اور چھ ماہ کے عرصہ میں جلد چہارم اور پنجم لکھا گیا۔ ان میں بھی مرزا قادیانی کے متعلق کوئی ذکر نہیں کیا جاتا۔ صرف جلد چہارم کے ایک مقام پر غلط بیانی سے کام لیا گیا ہے۔ جس کے متعلق عنقریب تفصیل بیان کی جائے گی۔ العیاذ باللہ! اگر حضور قبلہ اقدس نے قادیانی نبی کے دعاوی کی تصدیق فرمائی ہوتی تو مابین تعلقات میں یقیناً اضافہ ہوتا رہتا۔ سلسلہ مراسلات بدستور جاری رہتا۔ لیکن چوتھی اور پانچویں جلد میں نہ کہیں دعاوی مرزا کی تصدیق اور نہ مراسلات کا ذکر کیا گیا ہے۔ ان حالات کو بغور دیکھنے سے ہر ذی فہم انسان اس نتیجہ پر پہنچ سکتا ہے۔
اشارات فریدی جلد سوم کو حضور قبلہ اقدس کی خدمت میں بغرض اصلاح و تصحیح پیش نہیں کیا گیا۔
مولوی رکن دین مؤلف اشارات نے لکھا ہے کہ جو کچھ ملفوظات شریف قلم بند کئے گئے ہیں۔ حضور قبلہ اقدس کے مطالعہ سے مشرف ہو کر اصلاح پذیر ہو چکے ہیں۔ تیسرے جلد کے
١٠
متعلق مولوی صاحب کا یہ دعویٰ بالکل غلط ہے۔ کیونکہ مولوی رکن دین کی اپنی تحریر سے یہ اصول ثابت ہوتا ہے کہ مولوی رکن دین جس وقت ایک جلد کی تالیف سے فارغ ہو جاتا تھا تو دوسری جلد کے دوران تالیف میں پہلے جلد کی اصلاح و تصحیح حضور قبلہ اقدس سے کراتا رہتا اور اس اصلاح و تصحیح کا مقابیس میں بالتفصیل ذکر بھی کر دیتا۔ لیکن تیسری جلد کا حضور قبلہ اقدس کی خدمت سراپا برکت میں پیش حسب دستور کوئی بالتفصیل ذکر نہیں ہے۔ صرف جلد کے آخر میں یہ لکھ دینا کہ یہ خط ملاحظہ حضور سے آراستہ ہو چکا ہے۔ دعویٰ بلا دلیل اور مولوی رکن دین کے اپنے اصول قائم شدہ کے برخلاف ہے۔ تفصیل عرض ہے۔
”چند اوراق از مقبوس نہم تا مقبوس چہار دہم جمع شدہ بودند در بغل داشتم اشارہ فرمودند کہ مرا بدہ پس بخدمت خواجہ ابقاہ اللہ تعالیٰ ببقائہ سپردم بعد مطالعہ تبسم نمودند و فرمودند امروز دیدہ ام دیگر روز تو بخوانی و من سماع خواہم کرد۔“
خلاصہ مطلب
٩ تا ١٤ مقابیس حضور قبلہ اقدس کے زیر ملاحظہ ہوئے۔ بعد حضور نے فرمایا آئندہ تو پڑھا کر اور میں سماع کروں گا۔
جلد دوم مقبس اوّل : جزویکہ بشنوائیدن آن وعدہ منعقد شدہ بود بایفائے رسید۔ ترجمہ: باقی مقابیس جلد اوّل کے متعلق جو وعدہ کیا گیا تھا پورا ہوا۔ جسے حضور قبلہ اقدس نے مسموع فرمائے۔ مولوی رکن دین جلد اوّل کے دوران تالیف میں باوجود ڈیڑھ سال کا عرصہ خرچ کرنے کے صرف چودہ مقابیس حضور قبلہ اقدس کی خدمت میں بغرض اصلاح و تصحیح پیش کر سکا۔ جو باقی رہ گئے وہ دوسری جلد کی تالیف کے وقت پیش کئے گئے۔ اشارات فریدی جلد دوم جو سوا دو سال کے عرصہ میں ختم ہوا تھا۔ باوجود اس قدر طویل عرصہ کے حضور قبلہ اقدس کی خدمت پیش نہ ہو سکا۔ مولوی رکن دین اپنے اخویم اختر صاحب کے رشتۂ اخوت میں اس قدر محو ہوا کہ دوسری جلد کی اصلاح تو یاد نہ رہی اور تیسری جلد کی تالیف شروع کر دی۔ جب تیسرا جلد قریب اختتام پہنچا تو مولوی رکن دین نے خیال کیا کہ کہیں تیسرے جلد کا بغرض اصلاح و تصحیح مطالبہ نہ ہو جائے۔ ازاں اب دوسرے جلد کی اصلاح یاد آگئی۔ ارشاد فریدی جلد سوم مقابیس ٥٣۔ ”عرض کردم کہ جلد دوم از مقابیس المجالس نوشتہ شد و تمام گردید حضور کرم فرمودہ ملاحظہ اصلاح فرمائید فرمودند بیار و خواں۔“
ترجمہ: میں نے عرض کی دوسرا جلد تمام ہو چکا ہے۔ ملاحظہ فرما دیں۔ آپ نے فرمایا لے آ اور پڑھ ازاں اس جلد کو آگے بغور دیکھنے سے یہ امر ثابت ہوتا ہے کہ اشارات فریدی جلد سوم
١١
کے تالیف تک جلد دوم کے ٤١ مقامیں زیر اصلاح و تصحیح آ چکے ہیں۔ چھ مقامیں جلد دوم کے رہ گئے ہیں اور مولوی رکن دین نے جلد سوم کی آخیر میں تحریر کر دیا ۔ ” ایں جلد سوم از اوّل تا آخر بجناب اقدس حضور خواجہ ابقاہ اللہ تعالیٰ بقاہ سبق بہ سبق خواندہ ام !“
(یعنی اس تیسری جلد کو اوّل سے آخر تک حضور قبلہ اقدس کی خدمت میں میں نے سبق بہ سبق پڑھا ہے ) الاماں اور نہ جلد چہارم میں اس جلد سوم کی تصحیح کا ذکر کیا گیا ہے۔ ان امور سے ثابت ہوتا ہے کہ جلد سوم حضور قبلہ اقدس کی خدمت میں قطعاً پیش نہیں کیا گیا۔
نصوص قطعیہ
جس وقت صاحبزادہ محمد عبدالعلیم خان صاحب امیر ریاست ٹونک، اشارات فریدی کے پہلے تین جلد طبع کرا کے حضور اقدس، منبع شبستان ہدایت، مرکز فلک الولایۃ، واقف رموز فرید وقت شیخ المشائخ مولانا خواجہ محمد بخش صاحب نازک کریم غریب نواز کی خدمت سراپا برکت میں پیش کرتا ہے تو آپ تیسری جلد کا ملاحظہ فرمانے کے بعد مؤلف ملفوظ مولوی رکن دین سے سخت رنجیدہ ہوتے ہیں اور اس جلد ثالث کی اشاعت سے بھی منع فرما دیتے ہیں۔
بدیں طور حضور اقدس شیخ المشائخ، مقتدائے عارفین، قدوۃ الکاملین، مرشدنا ومولانا حضرت خواجہ معین الدین قدس سرہ العزیز کے زماں فیض اقتران میں بھی مولوی رکن دین کے اس فعل کو بے حد نا پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا گیا ہے۔ چونکہ اس زمانہ میں مرزائی صاحبان نے اس قسم کے پراپیگنڈوں یعنی حضور قبلہ اقدس کے متعلق ایسی بے بنیاد اور غلط اشاعت کرنے سے خاموشی اختیار کی ہوئی تھی تو اس جانب سے بھی تردید افترايات مولوی رکن دین میں کوئی خاص طریق اختیار نہ کیا گیا۔ لیکن مریدان ومعتقدان کو اس بہتان عظیم سے مکمل آگاہ کر دیا گیا۔
چنانچہ تاجدار کشور یقین، سند الکاملین، مولانا خواجہ فیض احمد صاحب سجادہ نشین کی خدمت سراپا برکت میں مشرب فریدی کے مقتدر حضرات (حضرت قدوۃ الاصفیاء مولانا محمد یار صاحب وحضرت مولانا امام بخش صاحب جام پوری و مولانا فاضل اجل سراج احمد صاحب ساکن مکھن بیلہ و میاں الہ بخش صاحب خلیفہ ساکن چاچڑاں شریف) نے بطور شہادت بیان کیا ہے کہ حضرت غریب نواز، شیخ المشائخ، قطب مدار زماں خواجہ محمد بخش صاحب نازک کریم نے بوقت ملاحظہ اشارات فریدی جلد سوم ارشاد فرمایا تھا۔ ”میاں رکن دین نے ملفوظ شریف (اشارات فریدی) جمع کر کے اپنی نجات کا اچھا سامان کیا تھا۔ مگر مرزا غلام احمد قادیانی کے متعلق جو افتراءات درج کئے ہیں اپنی محنت بھی رائیگاں کی ہے اور آخرت بھی۔“
١٢
حضرت زبدۃ الاتقیاء والصلحاء مولانا خواجہ نور احمد صاحب فریدی نازکؔ
مسند آرائے فرید آباد شریف ریاست بہاولپور کی شہادت عظمیٰ
مقدمہ بہاولپور کے دوران میں شیخ الجامعہ و شیخ الحدیث صاحبان بہاولپور نے اشارات فریدی کے متعلق بذریعہ خطوط آپ سے استفسار کیا تھا تو حضرت مولانا صاحب نے جواباً تحریر فرمایا۔
- ......١ حضرت خلیفۃ العالم شیخ الشیوخ خواجہ محمد بخش صاحب نازکؔ قطب مدار
قدس سرہ نے اشارات فریدی کے مصنف مولوی رکن دین صاحب کو بوجہ غلط تائید مرزا قادیانی کے اچھا نہیں سمجھا اور آپ نے ارشاد فرمایا کہ مرزا قادیانی کے متعلق جو باتیں اشارات فریدی میں درج ہیں نکال دینی چاہئیں۔
- ......٢ ہمارے تمام پیران عظام اور جماعت فریدیہ کا مذہب پاک اہل السنۃ
والجماعۃ ہے۔ مرزا قادیانی اور مرزائیت کے بلاشک منکر ہیں۔ فقیر نور احمد فریدی نازکؔ بقلم خود!
حضرت عارف کامل خواجہ فضل حق مہارویؒ سجادہ نشین مہار شریف فرمایا کرتے تھے۔ اشارات فریدی جلد سوم میں جتنے الفاظ متعلق تائید مرزا قادیانی مندرج ہیں۔ محض الحاقی افترائی ہیں۔
مولوی رکن دین کا تالیف ملفوظ شریف جلد ثالث میں انتہائی درجہ عجلت سے کام لینا پھر بغرض اصلاح و تصحیح حضور قبلہ اقدس کی خدمت میں پیش نہ کرنا مزید براں مقتدر حضرات کا شہادت دینا کہ کلمات مرزائیہ کے مؤلف کے اپنے خود ساختہ الفاظ ہیں۔ خصوصاً واقف رموز فریدیت، مظہر اتم، حضور نازکؔ کریم، غریب نواز کا مؤلف ملفوظ سے رنجیدہ ہونا اور کلمات مرزائیہ کے اخراج کا حکم فرمانا صاف اس امر کی دلیل ہے کہ یہ سب مولوی رکن دین کا افتراء ہے۔
اب ہم اگر خوش ظنی سے کام لیتے ہوئے میاں رکن دین کے محررہ کلمات مرزائیہ میں تاویلات کریں تو قطع نظر اس کے کہ یہ کفر و ایمان کا سوال ہے۔ اپنے پیران عظام کے ارشادات سے انحراف بین ہوگا۔ خدا محفوظ رکھے۔
باب سوم ...... کیا مرزا قادیانی کو من عباداللہ الصالحین میں لکھا گیا
مرزائی صاحبان اور چند دریدہ دہن معترضین اس امر پر بڑا زور دیتے ہیں کہ حضور قبلہ اقدس نے مرزا قادیانی کو من عباداللہ الصالحین شمار فرمایا ہے۔ اولاً یہ لفظ بھی ملفوظ شریف جلد ثالث میں مندرج ہے۔ ملفوظ شریف کے متعلق مکمل بحث و تمحیص ہو چکی ہے۔
١٣
ثانیاً: بفرض محال جس وقت حضور قبلہ اقدس کی طرف سے مرزا قادیانی کو من عباد اللہ الصالحین لکھا جاتا ہے۔ اس وقت مرزا قادیانی کی ابتدائی منزل تھی۔ جس کے متعلق گذشتہ صفحات میں ارشاد ہو چکا ہے۔ اس کے عقائد مسلمانوں کے سے تھے اور اس کے ہوش حواس صحیح الدماغ انسان جیسے تھے۔ مرزا قادیانی ایک قصیدہ معہ ایک مراسلہ کے حضور قبلہ اقدس کی خدمت میں ارسال کرتے ہیں۔ چند اقتباسات درج ذیل ہیں۔ جس سے مرزا قادیانی کے ابتدائی عقائد کا پورا پتہ لگ سکتا ہے۔
اقتباس از مراسلہ مرزا قادیانی
از مکرمی اخویم مولوی حکیم نور دین صاحب السلام علیکم اوشاں بذکر خیر آں مکرم رطب اللسان مے مانند عجب کہ اوشاں در اندک صحبت دلی محبت و اخلاص با آں مکرم پیدا کردہ اند چند بار ایں خارق امر از اں مخدوم ذکر کردہ اند کہ مرا یک درود شریف برائے خواندن ارشاد فرمودند کہ ازیں زیارت نبوی ﷺ خواہد شد چنانچہ ہماں شب مشرف بزیارت شدم۔ والسلام! الراقم: خاکسار غلام احمد از قادیان
حاصل ترجمہ
مکرمی حکیم نور دین کی طرف سے السلام علیکم وہ جناب کے ذکر خیر سے زباں کو تازہ رکھتے ہیں۔ تھوڑی سی صحبت سے بہرہ یاب ہو کر آپ سے دلی محبت وعقیدت مخلصانہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے چند دفعہ آپ کی اس کرامت کا ذکر کیا ہے کہ مجھے آپ نے برائے زیارت حضور نبی کریم ﷺ ایک درود شریف پڑھنے کے لئے فرمایا تھا۔ چنانچہ اسی رات میں زیارت سے مشرف ہوا۔ ”والفضل ما شهدت بہ الاعداء“ بزرگی وہ جس کا دشمن اعتراف کریں۔ اسی قسم کی عقیدت ظاہر کی اور قصیدہ بھی ارسال کیا۔
قصیدہ مرزائی قادیان بمدحت فرید الزمان
باتو باد آں رو کہ نام او خدا
برتو بارد رحمتِ یارِ ازل
در تو تابد نورِ دلدارِ ازل
ما مسلمانیم از فضل خدا
مصطفےٰ مارا امام و پیشوا
١٤
از ملائک واز خبرے بامعاد ہرچہ گفت آں مرسل رب العباد
آں ہمہ از حضرت احدیت است منکر آں مستحق لعنت است
مرزا قادیانی اپنے اس گئے گزرے عقیدہ میں نبوت بجمیع اقسامہا یعنی حقیقی ظلی بروزی کو حضور سید الکونین محبوب رب العالمین سیدنا محمد مصطفےٰ ﷺ پر ختم سمجھتے ہیں اور خبر ہائے معاد یعنی آمد عیسیٰ ظہور مہدی وخروج دجال وغیرہ جو احادیث نبویہ سے جس کیفیت سے ثابت ہیں۔ ان کے منکرین کو مستحق لعنت کہتے ہیں۔ ایسے عقیدہ رکھنے والے انسان کو من عباد اللہ الصالحین کہنے میں کیا کوئی اہل علم توقف کر سکتا ہے۔ حضور قبلہ اقدس نے بھی اس بناء پر اگر مرزا قادیانی کو من عباد اللہ الصالحین تحریر فرما دیا تو واجب التسلیم!
لیکن اس کے بعد مرزا قادیانی کے اعتقادیات میں اجزائے تناقض ہونا اس کے لئے مرزا قادیانی کا اپنا مبارک ارشاد کافی ہے کہ منکر آں مستحق لعنت است! کسی دوسرے آدمی کو اس معاملہ میں مداخلت کی کوئی ضرورت نہیں۔ جادو وہ جو سر پر چڑھ کے بولے۔
ثالثاً: ملفوظ شریف جلد ثالث ١٧٩ میں مولوی رکن دین صاحب لکھتے ہیں کہ مولوی عبدالجبار ومولوی عبدالحق نے (جو کہ مشہور وہابی تھے) حضور قبلہ اقدس کی خدمت میں چند خطوط بھیجے کہ حضور نے مرزا قادیانی کو من عباد اللہ الصالحین کیوں لکھا ہے۔ حضور قبلہ اقدس کی جانب سے جواباً تحریر کیا گیا۔ جس طرح میں مرزا قادیانی کو نیک سمجھتا ہوں۔ اسی طرح آپ صاحبان کو بھی نیک تصور کرتا ہوں۔ اگر چہ لوگ آپ کو وہابی کہتے ہیں۔ انتہی!
فشاہد وجہہ فی کل ذرات
باب چہارم ...... اظہار حق
مولوی رکن دین نے اگر چہ مولوی غلام احمد اختر مرزائی کے تلبیسات سے متاثر ہو کر ملفوظ شریف جلد ثالث میں خود پیدا کردہ الفاظ تحریر کر دیئے۔ تاہم مولوی رکن دین کی قلم اظہار حق سے نہ رک سکی۔ واللہ متم نورہ!
١٥
- ١...... (ملفوظ شریف جلد ثالث ص٤٢) میں درج ہے کہ حضور قبلہ اقدس نے
مرزا قادیانی کو اجتہاد اور کشف میں مخطی قرار دیا ہے۔ نیز یہ بھی لکھا ہے۔ حضور قبلہ اقدس نے فرمایا کہ مرزا قادیانی نے آتھم پادری کے متعلق پیشین گوئی کی تھی کہ اس سال کے اندر مر جائے گا۔ لیکن مرزا قادیانی کے کہنے کے خلاف وہ دوسرے سال فوت ہوا۔
- ٢...... گویا مرزا قادیانی اپنی پیشین گوئی میں کاذب نکلے۔
تنقید
خطا کار اور جھوٹی خبریں دینے والا انسان کبھی نبوت اور مہدیت کے قابل نہیں ہوا کرتا۔ جب حضور قبلہ اقدس مرزا قادیانی کو مخطی اور کاذب سمجھتے ہیں تو اس کے دعویٰ کی تصدیق کیسے فرما سکتے ہیں۔ صرف مرزا قادیانی کی یہ ایک پیشین گوئی نہیں جو جھوٹی ثابت ہوئی ہو۔ بلکہ ایسی ہزارہا مثالیں موجود ہیں۔ مرزا قادیانی نے محمدی بیگم کے متعلق مختلف پیشین گوئیاں کیں۔ آسمان پر اپنے خدا سے نکاح پڑھوایا۔ لیکن ایک نہ چلی۔
لیکن ہوئی نہ آہ میں تاثیر دیکھئے
ہاں البتہ مرزا قادیانی کی ایک پیشین گوئی جو بالکل صحیح اور صادق نکلی، تحریر کئے دیتا ہوں۔ بغور ملاحظہ فرماویں۔ مرزا قادیانی نے مولوی ثناء اللہ اہل حدیث امرتسری کے متعلق یہ پیشین گوئی ظاہر فرمائی تھی کہ سچے کی موجودگی میں جھوٹا مر جائے گا۔ چنانچہ اسی طرح ہوا۔ مرزا قادیانی تو فوت ہو گئے اور مولوی ثناء اللہ امرتسری تاحال زندہ ہے۔ مرزا قادیانی کی پیشین گوئی سے معلوم ہوا کہ مولوی ثناء اللہ اپنے دعویٰ میں سچا ہے کہ مرزا قادیانی کا دعویٰ نبوت، مسیحیت، مہدویت، مجددیت کرنا محض دنیا کمانے کا پرفریب دام ہے۔ نیز مرزا قادیانی صرف خطا کار نہیں بلکہ مرزا قادیانی کا خدا بھی خطا کار ہے۔ (حقیقت الوحی ص ١٠٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٦) ”انی مع الرسول اجیب اخطی واصیب“ مرزا قادیانی کو وحی ہوتا ہے۔ ترجمہ: میں رسول کے ساتھ ہو کر جواب دیتا ہوں۔ خطا بھی کرتا ہوں اور ثواب بھی۔ جب مرزا قادیانی کا خدا بھی خطا سے محفوظ نہ رہ سکا تو مرزا قادیانی کا کیا کہنا۔
استفسار از مرزا قادیانی
مرزا قادیانی کے مریدان کے ہفوات و دروغ آمیز کلمات سے قطع نظر کرتے
١٦
ہوئے خود مرزا قادیانی ہی سے کیوں نہ استفسار کیا جائے۔ تاکہ یقینی فیصلہ ہو اور بعد میں کسی قسم کے بولنے کی گنجائش نہ ہو۔
سائل
مرزا قادیانی: براہ مہربانی مجھے اس بات سے آگاہ فرما سکتے ہیں کہ حضور رہنمائے سالکان قبیلہ عارفان حضرت خواجہ غلام فرید صاحب مسند آرائے تخت چاچڑاں نے آپ کے دعاوی تصدیق فرمائی ہے۔
جواب از طرف مرزا قادیانی بزبان حال
کلا وحاشا: نہیں، بالکل نہیں۔ میں نے تو قصیدے لکھے۔ متفرق طریقوں سے ارادت و عقیدت ظاہر کی۔ اپنا ایک مرید خاص مولوی غلام احمد اختر کو خاص اس کام پر متعین کیا۔ لیکن اس مقدس ہستی نے ہمارا کوئی جادو مؤثر نہ ہونے دیا۔ میں حیران ہوں اس بات کے پوچھنے کی کیا ضرورت۔ میں نے تو اپنے رسالہ (انجام آتھم ص ٧١، خزائن ج ١١ ص ٧١) میں ان سجادہ نشینوں کے اسماء درج کر دیئے ہیں جو میرے مکذبین ومکفرین تھے جو مجھے کافر اور کاذب جانتے تھے۔ آپ (انجام آتھم ص ٧١، خزائن ج ١١ ص ٧١) میں دیکھ سکتے ہیں۔ اس فہرست میں حضرت ذیل کے اسماء عظام شامل ہیں۔
(حضور قبلہ اقدس) میاں غلام فرید صاحب چشتی چاچڑاں علاقہ بہاولپور، گدی نشین اوچ، شاہ جلال الدین صاحب بخاری، حضرت خواجہ میاں اللہ بخش صاحب تونسوی، حضرت خواجہ میاں نور احمد صاحب سجادہ نشین مہارنوالہ (حضرت) پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑہ۔
سمجھ میں نہیں آتا کہ مرزائی صاحبان ان مقدس ہستیوں کے اسماء عظام کو کیوں داغ لگانے کی کوشش کرتے ہیں۔ جن کی عصمت اور براءۃ کے متعلق ان کا پنجابی مہدی بالقابہ شہادت دے چکا ہو۔
باب پنجم ...... حضور قبلہ اقدس کا احسان عمیم
حضور قبلہ اقدس فداہ روحی نے ایک ایسی کتاب تصنیف فرمائی ہے جو احکام شریعت و مسالک طریقت واسرار حقیقت ورموز معرفت کا بے انتہاء منبع و مخزن ہے۔
اس کتاب میں حضور قبلہ اقدس نے عقائد مذہب پاک اہل السنۃ والجماعۃ و چند مسائل ضروریہ بربنائے معاد کو جس وضاحت سے بیان فرمایا ہے معلوم ہوتا ہے کہ آج کل کے غارتگران
١٧
دولت ایمان کی ڈاکہ زنی کا نقشہ حضور قبلہ اقدس کے پیش نظر تھا۔ لہٰذا حضور قبلہ اقدس نے موجودہ بہتان یا افتراء متعلق تائید مرزائیت کی تردید خود فرمادی ہے۔ نیز حضور قبلہ اقدس نے فرقہ احمدیہ کو علی الاعلان ناری فرقوں میں شمار فرمانے کے بعد ان عقیدوں کی تفصیل بھی ذکر فرمادی ہے۔ جس کے بل بوتے قادیانی نبی اپنی خانہ زاد نبوت، مہدویت، مسیحیت جیسے ایمان سوز وکفر افروز دعاوی کی باد صرصر سے اہل اسلام کے گلشن ایمان کو مرجھانا اور اجاڑنا چاہتا ہے۔
- ١....... قادیانی نبی، ختم نبوت کا قائل نہیں۔
- ٢....... قوم نصاریٰ کو دجال اور یاجوج ماجوج سمجھتا ہے۔
- ٣....... ریل گاڑی اس کے نزدیک خر دجال ہے۔
- ٤....... حضرت عیسیٰ فوت ہو چکے ہیں۔
مسیح موعود اور مہدی موعود اس کے حسب خیال ایک ہی شخص ہونا چاہئے۔ قادیانی نبی نے اس قسم کی اور ہزاروں تحریفیں کیں۔ چونکہ مرزا قادیانی کو مسیح موعود ومہدی موعود بننے کا شوق دامنگیر تھا۔ اسی غرض کو مدنظر رکھتے ہوئے مرزا قادیانی نے کتاب الٰہیہ واحادیث رسول اللہ ﷺ کو پس پشت ڈال کر طبع زاد علامات ایجاد کیں۔ حدیث میں آیا ہے۔ ”حبك الشئ يعمى ويصم“ کسی چیز کی محبت انسان کو نابینا وبہرہ بنا دیتی ہے۔
مرزا قادیانی کو بھی مہدویت ومسیحیت کی بے حد محبت وجنون نے آیات واحادیث کے صحیح مفہوم دیکھنے، سمجھنے اور سمجھانے سے کوسوں دور رکھا۔ لیکن قربان اس کشور صدق ویقین کے فرید الدہر، تاجدار پر جس نے آیات واحادیث کا صحیح لب لباب نکال کر رسالہ فوائد فریدیہ کی صورت میں پیش کیا۔ جس میں تمام آنے والی روحانی امراض وخطرات سے آگاہ فرمادیا اور قادیانی نبوت کی خیالی عمارت جس بنیاد پر ڈالی گئی تھی۔ اس کا پورا قلع قمع فرما کر مریدان ومعتقدان وعامہ اہل اسلام پر احسان عمیم فرماتے ہوئے ہمیں مرہون بنالیا۔
حضور نبی کریم ﷺ نے خاتم النبیین ہونے کی تشریح فرمائی۔ علامات ظہور مہدی ونزول مسیح وخروج دجال ویاجوج ماجوج کو بالتفصیل بیان فرمایا۔ ازاں اس مختصر رسالہ میں حضور کے مؤلفہ رسالہ فوائد فریدیہ سے چند اقتباسات درج کئے جاتے ہیں تاکہ ناظرین کو قادیانی نبی کے ملحدانہ عقائد وحضور قبلہ اقدس کے مقدس ارشادات میں مکمل تضاد ہونے کا پورا علم ہو سکے۔
(والله الموفق للصواب)
١٨
حضور نے احمدیہ فرقہ کو ناری فرقوں میں درج فرمایا ہے
اس رسالہ کے صفحہ ٢٩، ٣٠ پر ناری و ناجی کا بالتفصیل ذکر کیا گیا ہے۔ حضرت اقدس نے صرف فرقہ اہل السنت والجماعۃ کو ناجی (یعنی بہشتی، اہل حق، راہ مستقیم پر چلنے والا) قرار دیا ہے اور پھر اہل السنت والجماعۃ کو تین حصوں میں منقسم فرمایا ہے۔ فقہاء، اہل حدیث، اہل تصوف اس کے بعد ناری فرقوں کے اسماء کا بالتفصیل ذکر ہے۔ جس میں احمدیہ فرقہ بھی مندرج ہے۔ جب حضور قبلہ اقدس مرزائی جماعت کو ناری اور خارج از ایمان لکھیں تو کسی آدمی کا مرزا قادیانی کو صالح یا کچھ اور لکھ کر حضور کی طرف نسبت کر لینا کب قابل پذیرائی ہو سکتا ہے۔
جس طرف کو وہ اپنی ابرو ہلا رہا ہے
انتباہ
مرزائی صاحبان نے اپنے آپ کو مرزا قادیانی کا پورا عقیدت کیش ثابت کرنے کے لئے اپنے مذہب کا نام احمدیہ تجویز کیا۔ گویا احمدی اصل میں غلام احمدی ہے۔ کثرت استعمال کے باعث غلام کا لفظ تخفیف کیا گیا ہے۔
لاہوری و قادیانی
دونوں مرزائی جماعتیں مرزا قادیانی کی متبع ہیں۔ مرزا قادیانی کے زمانہ حیات میں ان دونوں جماعتوں کے ایک ہی عقائد تھے۔ ان کی وفات کے بعد جب مولوی محمد علی امیر جماعت احمدیہ لاہور و خواجہ کمال الدین مرزا قادیانی کے اندوختہ خزینہ سے محروم کئے گئے تو اس اختلاف کے باعث احمدیت دو فرقوں میں منقسم ہوگئی۔ لاہوری، قادیانی، چونکہ تمام جمع شدہ خزانہ قادیانیوں کے قبضہ میں آگیا تھا اور ان کی جماعت بھی کثیر تھی۔ انہوں نے جرأت کر کے ببانگ دہل اعلان کر دیا کہ ہم مرزا قادیانی کے جمیع دعاوی کی تصدیق کرتے ہیں اور مرزا قادیانی کو نبی مانتے ہیں۔ لاہوریوں نے عامہ مسلمانوں پر اثر قائم کرنے کے لئے بزدلی سے کام لیا اور یہ لکھنا شروع کیا۔ ہم مرزا قادیانی کو نبی نہیں مانتے۔ بلکہ مجدد تسلیم کرتے ہیں۔ لیکن یہ سراسر غلط ہے۔
کیونکہ جب مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے کہ میں نبی ہوں وغیرہ وغیرہ۔ اس کے کسی دعویٰ کو نہ ماننا اس کا صاف مطلب ہے کہ مرزا قادیانی کاذب ہیں۔ جھوٹے دعاوی کرنے والا اور غلط تعلیم دینے والا کبھی مجدد نہیں بن سکتا۔
١٩
اس سے ثابت ہوتا ہے کہ لاہوری مرزائی صاحبان قادیانیوں کے ساتھ ذاتی رنجش کی بنیاد پر اپنے مافی الضمیر عقائد کے برخلاف اظہار کرتے ہیں۔ بہرکیف احمدی ہونے میں دونوں جماعتیں شریک ہیں اور احمدیہ فرقہ کو حضور قبلہ اقدس نے ناری (خارج از ایمان) فرقوں میں شمار فرمایا ہے۔
حضور قبلہ اقدس کے ارشادات متعلق جزہائے معاد
مرزا قادیانی کے اعتقادات میں تضاد، ختم نبوت
- الف....... ارشاد حضور قبلہ اقدس
”ختم المرسلین وسید النبیین محبوب اللہ تعالیٰ حضرت سیدنا ومولانا محمد مصطفےٰ ﷺ کہ افضل از تمام انبیاء است وسبب ایجاد ایشان وتمام عالم است وحضرت الصلوٰۃ والسلام در وجود وظہور بعد تمام انبیاء است کہ پس ایشان حکم رسالت محوگشت وحکم ولایت صادر۔“
ترجمہ: ختم المرسلین وسید النبیین محبوب اللہ تعالیٰ حضرت سیدنا ومولانا محمد مصطفےٰ ﷺ تمام انبیاء سے افضل ہیں اور جمیع انبیاء تمام دنیا کے ظہور کا باعث ہیں۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام وجود اور ظہور میں تمام انبیاء کے بعد ہیں۔ کیونکہ آپ کے بعد رسالت کا حکم مٹ چکا ہے اور ولایت کا باقی
تنقید
مرزا قادیانی تو آیات قرآنیہ واحادیث نبویہ متعلق ختم نبوت کو پس پشت ڈال کر خود نبی بن بیٹھے۔ خدائے دوجہاں منزل قرآن نے تو حکم فرمادیا تھا۔ ”ماکان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین ٠ وكان الله بکل شئ علیما“ ﴿محمدؐ تم لوگوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں۔ لیکن خدا کا رسول ہے اور آخری نبی ہے اور خداوند کریم ہر چیز کا پورا علم رکھتا ہے۔﴾
لیکن مرزا قادیانی نے جدید نبوت کے اجراء کے لئے عذر لنگ کو تلاش کرلیا اور حکم عام صادر فرمادیا کہ جو شخص مجھے نبی نہیں مانے گا وہ کافر ہے۔ ”نعوذ باللہ من ذالک“
٢٠
ظہور امام مہدی علیہ السلام
ب ...... ارشاد حضور قبلہ اقدس
"بدانکہ علامات قیامت کہ آمدن او از وجوبات است و منکر آں کافرست بسیار اند کہ بحدیث شریف ثبوت یافتہ اند اوّل ظہور حضرت مہدی کہ امام اولیاء خواہد شد بمدت ہفت سال بر سلطنت حکمرانی میباشد واکثر خلق را مطیع الاسلام گردانند۔
(فوائد فریدیہ ٣٣)
ترجمہ: جاننا چاہئے کہ علامات قیامت جس کا آنا ضروری ہے اور جس کا منکر کافر ہے۔ بہت ہیں۔ اوّل ظہور حضرت مہدی جو کہ امام اولیاء ہوگا۔ تقریباً سات سال بادشاہی کرے گا اور اکثر خلق کو اسلام کا مطیع بنالے گا۔
تنقید
مرزا قادیانی تو خود مہدی بن بیٹھے۔ اجراء علامات کا بغور ملاحظہ ہو۔ امام اولیاء تو اس طرح بنے کہ اپنے زمانہ کے ٤٨ عدد اولیاء عظام اور ٥٨ عدد علماء کرام کو (انجام آتھم ص ٧٠، ٧١، خزائن ج ١١ ص ٧٠، ٧١) پر مکذبین و مکفرین میں شمار کر دیا۔
سلطنت پر حکمرانی : کاش اگر مرزا قادیانی کو عنایت اللہ خاں والی کابل کی طرح ایک یوم یا بچہ سقہ کی طرح چند ماہ کی سلطنت نصیب ہو جاتی یا گورنمنٹ برطانیہ مرزا قادیانی کو اس کی ایمان فروشی و جہاد جیسے رکن اسلام کی منسوخی کے معاوضہ میں ایک دن کے لئے کسی صوبہ کا گورنر متعین کر دیتی تو کچھ دلیل ہو جاتی۔ لیکن وائے قسمت کہ مرزا قادیانی محروم سلطنت رہے۔
اکثر خلق کو مطیع اسلام بنانا مرزا قادیانی نے اپنے چند محدودہ لبیک کہنے والوں کے بغیر تمام دنیا اسلام پر فتویٰ کفر لگا دیا۔ کیونکہ ان کے حسب خیال مرزا قادیانی کو نبی نہ ماننے والا کافر ہے۔
خروج دجال
ارشاد حضور قبلہ اقدس
"بعد ازاں دجال پلید لعنۃ اللہ علیہ بحکم ربانی بصحراء شہود علم خواہد زد۔ وآں پلید یک چشم باشد۔ حضرت مہدی از ہیبت او در بیت المقدس مقام خواہد نمود، حکمرانی آں پلید جہانرا احاطہ خواہد کرد۔ لیکن اورا توفیق داخل شدن در مساجد مساجد و مکہ معظمہ ومدینہ منورہ نیست وایام سلطنت او بعضے چہلروز میگویند کہ یکے روز از انہا قدر چہل سال باشد باقی ایام را مقدار معلوم نیست وبعضے
٢١
حکومتش دونیم روز میگویند وایں دونیم روز مثل دونیم سال باشند واکثر خلق اللہ را روگرداں از اسلام و تابع خود خواہد ساخت الا ماشاء اللہ و ہر چیز از اقسام جن و پری و شیطان و کوه درخت تابع حکم او میباشند تا آنکہ درخت پیش او رقص خواهند کرد و مردگاں را زنده خواهد ساخت و ہر چیز کہ از و طلبیده خواهد شد ہماں موجود کرده خواهد داد از اں سبب اکثر تابع او خواهند گشت۔ نعوذ باللہ من شر الدجال!
(فوائد فریدیہ ص ٣٣)
ترجمہ: اس کے بعد دجال پلید لعنۃ اللہ علیہ بحکم خدا ظاہر ہوگا۔ وہ پلید یک چشم ہوگا۔ حضرت مہدی اس کی ہیبت سے بیت المقدس میں قیام کریں گے۔ اس کی سلطنت تمام جہاں کو احاطہ کر جائے گی۔ لیکن اسے مکہ معظمہ و مدینہ منورہ میں مساجد میں داخل ہونے کی توفیق نہ ہوگی۔ اس کی سلطنت کی معیاد بعض چالیس یوم کہتے ہیں کہ ایک روز ان میں سے بقدر چالیس سال ہوگا۔ باقی ایام کا اندازہ معلوم نہیں۔ بعض اس کی حکومت دونیم روز کہتے ہیں اور یہ دونیم روز مثل دونیم سال کے ہوں گے۔ اکثر مخلوقات کو اسلام سے منحرف کر کے اپنا تابع بنالے گا۔ الا ماشاء اللہ و ہر چیز جن پری شیطان پہاڑ درخت اس کے تابع فرمان ہوں گے۔ حتیٰ کہ درخت اس کے آگے رقص کریں گے۔ مردوں کو زندہ کرے گا اور جو چیز اس سے طلب کی جائے گی موجود کر دے گا۔ اسی سبب سے اکثر لوگ اس کے تابع ہو جائیں گے۔ نعوذ بالله من شر الدجال!
الحاد مرزا قادیانی
مرزا قادیانی اپنی کتاب (شہادۃ القرآن ص ٢٠، خزائن ج ٦ ص ٣١٦) علیٰ نزول المسیح الموعود فی آخر الزمان کے سورۃ اذا زلزلت الارض کی طبع زاد تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔ عبارت بلفظہ درج ہے۔
”اب ظاہر ہے کہ یہ تغیرات اور فتن اور زلازل ہمارے زمانہ میں قوم نصاریٰ سے ہی ظہور میں آئے ہیں۔ جن کی نظیر دنیا میں کبھی نہیں پائی گئی۔ پس یہ ایک دوسری دلیل اس بات پر ہے کہ یہی قوم وہ آخری قوم ہے جس کے ہاتھ سے طرح طرح کے فتنوں کا پھیلنا مقدر تھا۔ جس نے دنیا میں طرح طرح کے ساحرانہ کام دکھلائے اور جیسا کہ لکھا ہے کہ دجال نبوت کا دعویٰ کرے گا اور نیز خدائی کا دعویٰ بھی اس سے ظہور میں آوے گا وہ دونوں باتیں اس قوم سے ظہور میں آگئیں ۔“
تنقید
مرزا قادیانی قوم نصاریٰ کو دجال بتلاتے ہیں اور حضور قبلہ اقدس نے دجال کے متعلق جو علامات بیان فرمائی ہیں۔ ان میں سے قوم نصاریٰ میں ایک علامت بھی موجود نہیں۔ مثلاً
مقامات مقدسہ مکہ مکرمہ ومدینہ منورہ کے داخل ہونے سے محروم رہنا۔ پادری تو داخل ہوتے رہے۔ لیکن مرزا قادیانی تمام عمر محروم رہے۔ اخبار ام القری مجریہ اکتوبر ١٩٣٠ء نے لکھا تھا کہ ایک مرزائی مبلغ مکہ معظمہ جا رہا تھا۔ ابن سعود نے اسے کان سے پکڑ کر باہر نکال دیا۔
اب حج کے لئے تو انہیں مکہ شریف جانے کی ضرورت ہی نہیں رہی۔ کیونکہ مرزا محمود احمد قادیانی نے دسمبر کے آخری ہفتہ کو ایام ظلی حج مقرر فرما دیا ہے۔
شریعت قادیان کی ہے رضا جوئی نصاریٰ کی
قوم نصاریٰ جب مرزا قادیانی کے حسب خیال دجال ٹھہرے تو گویا مرزا قادیانی نے ابتداء عمر میں دجال کی ملازمت کی۔ کیونکہ مرزا قادیانی سیالکوٹ عدالت خفیفہ میں پندرہ روپے ماہوار پر محرر متعین رہے۔ پھر بغرض ترقی روزگار، مختاری کے امتحان میں شامل ہوئے۔ مگر فیل ہو جانے کے باعث ملازمت کو خیر باد کہہ کر نبوت ومہدیت کے حصول میں سعی کرنے لگے۔
مرزا قادیانی کی حسب تحریر، دجال نے نبوت کا دعویٰ کرنا تھا اور خدائی کا دعویٰ بھی، جس وقت تمام قوم نصاریٰ نے دعویٰ نبوت والوہیت نہ کیا تو مرزا قادیانی نے اپنے آقا منعم کے فرض کو پورا کرنے کے لئے دعویٰ نبوت والوہیت کر لیا۔ جس کی تفصیل باب اوّل میں ہو چکی ہے۔
خردجال
ارشاد حضور رحمۃ اللہ علیہ: سواری او برحمار باشد کہ فرق میاں دو گوش او قدر یکصد و چہل دست باشد۔
(فوائد فریدیہ ص ٤٤)
ترجمہ: اس کی سواری ایسے گدھا پر ہوگی جس کے دو کانوں کا درمیانی فاصلہ ایک سو چالیس ہاتھ ہوگا۔
الحاد مرزا قادیانی
مرزا قادیانی (شہادۃ القرآن ص ٢١، خزائن ج ٦ ص ٣١٧) میں تحریر فرماتے ہیں۔ عبارت بلفظہ: ”خردجال جس کے مابین اذنین کا ٧٠ باع فاصلہ لکھا ہے۔ ریلوں کی گاڑیوں ہی بطور اغلب اکثر کے بالکل مطابق آتا ہے۔“
تنقید
باع تین ہاتھ کا ہوتا ہے۔ گویا خردجال کے دو کانوں کا درمیانی فاصلہ دو سو دس ہاتھ ہونا
٢٣
چاہئے۔ مرزا قادیانی ریل گاڑی کو خر دجال سمجھتے ہوئے اس فاصلہ کو ریل گاڑی پر مطابق کرتے ہیں۔ ذرا مطابقت ملاحظہ فرمائیے؟ ہاں البتہ جس وقت مرزا قادیانی ریل گاڑی پر سوار ہوتے ہوں اور آپ کے الہامات کے زور سے اتنا فاصلہ ہو جاتا ہو ممکن ہے۔
دجال کے دعوٰی نبوت والوہیت کی وضاحت ہوچکی۔ رہا خر دجال، وہ مرزا قادیانی کے خیال کے مطابق ریل گاڑی ٹھہری۔ غالباً مرزا قادیانی ایک دفعہ نہیں چند بار ریل گاڑی پر سوار ہوئے ہوں گے۔ ماشاء اللہ! مرزا قادیانی نے دجال کی حقیقت کو روز روشن کی طرح واضح کر دیا۔ ’’اگر اس پر بھی نہ سمجھے تو اس بت سے خدا سمجھے۔‘‘
ظہور حضرت عیسٰی علیہ السلام علٰی نبینا وعلیہ السلام
ارشاد حضور
”بدانکہ در زمان دجال پلید ظہور حضرت عیسٰی علیہ السلام خواہد شد و آں پلید را خواہد کشت و بر سلطنت حضرت عیسٰی علیہ السلام خواہد نشست و تابع دین پیغمبرﷺ خواہد شد۔“
(فوائد فریدیہ ص ٣٤)
ترجمہ: دجال کے زمانہ میں حضرت عیسٰی علیہ السلام ظاہر ہوں گے۔ اس دجال پلید کو قتل کر کے سلطنت پر خود بیٹھیں گے اور حضرت عیسٰی علیہ السلام حضور نبی کریمﷺ کے دین متین کے تابع ہو کر رہیں گے۔
الحاد مرزا قادیانی
مرزا قادیانی اپنی مصنفہ کتاب (کشتی نوح ص ٤٥، ٤٦، خزائن ج ١٩ ص ٤٩، ٥٠) میں تحریر فرماتے ہیں۔ عبارت بلفظہ درج کی جاتی ہے۔ الفاظ قابل غور ہیں: ’’اور اسی واقعہ کو سورۃ تحریم میں بطور پیشین گوئی کمال تصریح سے بیان کیا گیا ہے کہ عیسٰی ابن مریم اس امت سے اس طرح پیدا ہوگا کہ پہلے کوئی فرد اس امت کا مریم بنایا جاوے گا۔ پھر بعد اس کے اس مریم میں عیسٰی کی روح پھونک دی جاوے گی۔ پس وہ مریمیت کے رحم میں ایک مدت تک پرورش پا کر عیسٰی کی روحانیت میں تولد پائے گا اور اس طرح پر وہ عیسٰی بن مریم کہلائے گا۔‘‘ آگے چل کر لکھتے ہیں: ’’پھر جیسا کہ براہین احمدیہ سے ظاہر ہے۔ دو برس تک صفت مریمیت میں، میں نے پرورش پائی اور پردہ میں نشو و نما پاتا رہا۔ پھر جب اس پر دو برس گزر گئے۔‘‘ تو جیسا کہ براہین احمدیہ حصہ چہارم ص ٤٩٦ میں درج ہے۔ مریم کی طرح عیسٰی کی روح مجھ میں نفخ کی گئی اور استعارہ کے رنگ میں
٢٤
مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا اور آخری کئی مہینہ کے بعد جو دس مہینہ سے زیادہ نہیں۔ بذریعہ اس الہام کے جو سب سے آخر براہین احمدیہ حصہ چہارم ص ٥٥٦ میں درج ہے۔ مجھے مریم سے عیسیٰ بنایا گیا۔ میں اسی طور سے ابن مریم ٹھہرا۔‘‘
تنقید
مرزا قادیانی کو مسیح موعود بننے میں کتنی تکالیف کا سامنا کرنا پڑا۔ آپ مریم بنے دو سال پردہ میں نشوونما پائی۔ پھر آپ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی روح پھونکی گئی۔ تقریباً دس ماہ حاملہ ہونے کی تکلیف برداشت کی۔ اتنی منازل طے کرنے کے بعد ابن مریم ٹھہرے۔ گردش گردوں کیا رنگ دکھاتی ہے۔ اگر آپ مسیح موعود ہونے کا دعویٰ نہ کرتے تو آپ کو ایسے مصائب میں مبتلا نہ ہونا پڑتا۔ مرزا قادیانی ہیں تو ایک، لیکن خود مرد (غلام احمد) خود عورت (مریم) خود بچہ (عیسیٰ) ’’خود کوزہ و خود کوزہ گر و خود گل کوزہ‘‘
جس وقت بی بی مریم علیہا السلام کے قدرتی طور پر حاملہ ہونے اور عیسیٰ علیہ السلام کے بغیر باپ کے پیدا ہونے کا مسئلہ درپیش ہوتا ہے تو مرزائی صاحبان تمام آیات قرآنیہ متعلق مسئلہ ہٰذا کا انکار کرتے ہوئے العیاذ باللہ، بی بی مریم کا یوسف نجار سے نکاح بتلاتے ہیں اور لڑکے کا بغیر باپ کے پیدا ہونے کو خلاف قانون قدرت سمجھتے ہیں۔ لیکن جب مرزا قادیانی، مریم بن کر حاملہ ہوتے ہیں تو ہمارا عقل اس بات کی اصلی حقیقت تک نہیں پہنچ سکتا کہ مرزا قادیانی کو حمل کس طرح ہوا۔ یہاں ضروری معلوم ہوتا ہے کہ مرزائیوں کے عقیدہ کو متعلق عصمت بی بی مریم علیہا السلام کو واضح کر دیا جائے۔
عقیدہ مرزا قادیانی متعلق عصمت بی بی مریم علیہا السلام
مرزا قادیانی (کشتی نوح ص ١٦، خزائن ج ١٩ ص ١٨) پر تحریر فرماتے ہیں۔ عبارت بلفظہ حسب ذیل ہے۔ ’’مفسد اور مفتری ہے وہ شخص جو مجھے کہتا ہے کہ میں مسیح ابن مریم کی عزت نہیں کرتا۔ بلکہ مسیح تو مسیح، میں تو اس کے چاروں بھائیوں کی بھی عزت کرتا ہوں۔ کیونکہ پانچوں ایک ہی ماں کے بیٹے ہیں۔ نہ صرف اس قدر بلکہ میں تو حضرت مسیح کی دونوں حقیقی ہمشیروں کو بھی مقدسہ سمجھتا ہوں۔ کیونکہ یہ سب بزرگ مریم بتول کے پیٹ سے ہیں اور مریم کی وہ شان ہے جس نے ایک مدت تک اپنے تئیں نکاح سے روکا۔ پھر بزرگان قوم کے نہایت اصرار سے بوجہ حمل کے نکاح کر لیا۔ بی بی مریم کا یوسف نجار سے نکاح کرنا یہ سب مجبوریاں تھیں جو پیش آگئیں۔‘‘
٢٥
تنقید
مرزا قادیانی کی رنگین عبارت قابل غور ہے۔ مرزا قادیانی، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے چاروں بھائیوں اور دونوں حقیقی ہمشیر کی بھی عزت کرتے ہیں۔ کیونکہ یہ سب مریم بتول کے پیٹ سے ہیں اور مجبوریاں تھیں جن کے باعث بی بی مریم نے یوسف نجار سے نکاح کر لیا۔ العیاذ باللہ!
قابل بحث وہ مسئلہ ہوا کرتا ہے جس میں کوئی خفا، اشکال یا اجمال ہو۔ لیکن حضرت عیسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ السلام کی ولادت کو قرآن کریم نے جس صراحت اور وضاحت سے بیان کیا ہے۔ عربی زبان سے معمولی واقفیت رکھنے والا انسان بھی سمجھ سکتا ہے۔ لیکن ”لهم قلوب لا يفقهون بھا“
اظہار حقیقت
خداوند کریم نے حضرت آدم علیہ السلام کو والدین کے بغیر پیدا کر کے اپنی قدرت کاملہ کا اظہار کرتے ہوئے انسانی بنیاد ڈالی۔ بعدہ توالد اور تناسل کے سلسلہ کو مرد اور عورت کے میل جول پر موقوف رکھا گیا۔ جو ”انا خلقناكم من ذكر وانثی“ ﴿تحقیق ہم نے پیدا کیا تم کو مرد اور عورت سے۔﴾ سے ثابت ہوتا ہے۔
لیکن جب دہریت کے دلدادہ انسان عالم کو قدیم اور محض والد کو ہی اولاد کے پیدا کرنے میں مؤثر کامل سمجھنے لگے تو قدرت رب قدیر جوش میں آئی۔ اس اظہار قدرت کے لئے ایسی معصومہ اور مطہرہ عورت کا انتخاب کیا گیا۔ جسے قرآن کریم میں صدیقہ کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے اور جس نے زمانہ طفولیت میں انوار و برکات ایزدی میں نشوونما پائی۔ حضرت زکریا نے کہا ”يامريم انى لك هذا قالت هو من عند الله“ ﴿اے مریم یہ کہاں سے آئے ہیں۔ مریم نے کہا خدا کی طرف سے۔﴾
بی بی مریم کی آغاز ہستی سے محض اس لئے پرورش کی گئی تا کہ اس میں خواہشات نفسانی کا مادہ ہی نہ پیدا ہو۔ گویا خداوند کریم نے اس وقت کے سکان ارض میں سے کسی فرد کو بی بی مریم کے خاوند ہونے کے قابل نہ سمجھا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اس معصومہ بی بی کے پیٹ سے بغیر باپ کے پیدا فرما دیا۔ اس قدرت ایزدی کی حقیقت تک ظاہر بین انسانوں کا عقل نارسا نہ پہنچ سکا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا کا بیٹا تصور کرنے لگے۔ باوجود اس شرک میں مبتلا ہونے کے بی بی علیہا السلام کی پاکیزگی اور عصمت پر کوئی دھبہ نہ آیا۔ لیکن آج مرزا قادیانی کو بی بی مریم علیہا السلام کے نکاح کا الہام ہونے لگا۔ نعوذ باللہ من ذالک!
٢٦
شہادت القرآن
- ا....... "وايدناه بروح القدس" کی تفسیر میں صاحب روح البیان لکھتے
ہیں۔ "اى الروح المطهرة فنفخها الله فيه فابانه بها من غيره ممن خلق من اجتماع نطفتى الذكر والانثى لانه عليه السلام لم تضمه اصلاب الفحول ولم يشتمل عليه ارحام الطوامث" یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پاک روح کو ان تمام ارواح سے ممتاز کیا گیا۔ جو مرد اور عورت کے نطفہ جمع ہونے سے پیدا ہوتی ہیں۔ کیونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی روح پاک نہ کسی مرد کی پشت میں جاگزیں رہی اور نہ کسی طامثہ (یعنی حیض ونفاس والی) عورت کے رحم میں۔
اس سے ثابت ہوتا ہے کہ بی بی مریم علیہا السلام طامث یعنی زنانہ لوازمات حیض و نفاس سے بالکل پاک تھیں۔ اس کے متعلق احادیث میں بکثرت شواہد موجود ہیں۔ لیکن بخوف طوالت ترک کیا جاتا ہے۔
- ب....... (سورہ مریم : ٢٠) بی بی مریم کو جس وقت لڑکے کی بشارت دی جاتی ہے تو
صدیقہ کی زبان سے یہ الفاظ ظاہر ہوتے ہیں۔ "قالت انى يكون لى غلام ولم يمسسنى بشر ولم اك بغيا" ﴿کہا کس طرح ہو گا مجھے لڑکا۔ نہ مجھے کسی بشر نے چھوا اور نہ میں زانیہ ہوں۔﴾ خداوند کریم، صدیقہ کے ان کلمات کی تصدیق فرماتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں۔ "قال كذلك قال ربك هو على هين ولنجعله اية للناس ورحمة منا وكان امرا مقضيا (مریم : ٢١)" ﴿یہ بات تو ٹھیک، لیکن تیرا رب فرماتا ہے کہ بغیر باپ کے لڑکا پیدا کرنا ہماری قدرت میں ایک آسان امر ہے۔ تاکہ ہم اس کو لوگوں کے لئے آیت بنائیں اور ہماری طرف سے رحمت ہو۔ یہ امر یقینی اور فیصلہ شدہ ہے۔﴾ خدائے قدوس کے نزدیک تو یہ امر یقینی ہے۔ لیکن مرزا قادیانی کو نبی بنانے والا خدا، اس کے مخالف الہام بھیجا کرتا ہے۔
- ج....... قرآن کریم میں جہاں کہیں انبیاء کرام کے اسماء عظام کا ذکر کیا گیا ہے۔
محض فردی طور پر یعنی ان کے والدین میں کسی کا نام ساتھ درج نہیں کیا گیا اور نہ تفصیلی طور پر قرآن کریم نے کسی نبی کی ولادت کا ذکر کیا ہے۔ اگرچہ یحییٰ علیہ السلام وموسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کا ذکر اور حضور سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو لڑکے کی بشارت دینے کے متعلق ذکر ہے۔ تاہم ان کا اس تفصیل سے ذکر نہیں کیا گیا۔ جتنا عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر مندرج قرآن ہے اور جہاں ذکر ہے عیسیٰ ابن مریم کے لفظ سے لکھا گیا ہے۔
٢٧
آخر اس میں کیا حکمت ہے اور ساتھ ہی ارشاد کیا گیا ہے۔ ”ان مثل عیسیٰ عند الله كمثل آدم (آل عمران: ٥٩)“ یعنی جس طرح آدم علیہ السلام کی پیدائش باقی انسانوں سے ممتاز ہے۔ اسی طرح عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش باقی انسانوں سے ممتاز ہے۔ اسی طرح عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش بھی ممتاز عالم ہو کر آیۂ قرار دی گئی ہے۔ ان اسباب کے ہوتے ہوئے بھی اگر بی بی مریم علیہا السلام کی عصمت پر کوئی حرف لایا جائے تو:
قوم یاجوج ماجوج
ارشاد حضور قبلہ اقدس
”بدانکہ در زمان حضرت عیسیٰ علیہ السلام خروج قوم یاجوج ماجوج خواهد شد، نعوذ باللہ تعالیٰ منہ، یاجوج و ماجوج اولاد از حضرت آدم اند، لیکن مذہب ندارند چوں حیواں ہر چیز میخورند وقد بعضی از انہا قدر شبر و بعضی از جبل دراز ہم باشند واکثر درختان و حیوانان وانسانان خواهند خورد، و دریا ہا را خواهند نوشید تا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بمومناں از ترس ایشاں بر یک جبل مقام خواہد ساخت واز جناب حق تعالیٰ ہر وقت دست بدعا می باشند تا کہ طائران از غیب پدید خواهند گشت بر سر آنها سنگریزہ خواهند زد و مقتول خواهند ساخت و دیگر طائران لاش آنها را در بحر طویل خواهند انداخت، بعد از معدوم شدن اوشاں اسلام را تمام غلبہ خواهد شد۔“
(فوائد فریدیہ ص ٣٢)
ترجمہ: حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں قوم یاجوج ماجوج ظاہر ہوگی۔ نعوذ باللہ تعالیٰ منہ یہ قوم حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد سے ہوگی۔ لیکن ان کا کوئی مذہب نہ ہوگا۔ جانوروں کی طرح ہر چیز کو کھائیں گے۔ بعض کا قد ایک بالشت اور بعضے پہاڑ سے بھی دراز ہوں گے۔ اکثر درختوں جانوروں انسانوں کو کھا جائیں گے۔ دریاؤں کا پانی پی جائیں گے۔ حتیٰ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مؤمنوں کو ہمراہ لے کر ان کے ڈر سے ایک پہاڑ پر جا ٹھہریں گے اور حق تعالیٰ سے دعاء کریں گے۔ حتیٰ کہ پرندے غیب سے ظاہر ہو کر ان کے سر پر کنکریاں ماریں گے اور انہیں مار ڈالیں گے۔ دوسرے پرندے ان کی لاش کو بحر طویل میں پھینکیں گے۔ ان کے معدوم ہونے کے بعد اسلام کو تمام غلبہ ہوگا۔
الحاد مرزا قادیانی
مرزا قادیانی اپنی کتاب (شہادۃ القرآن ص ٦٦، خزائن ج ٦ ص ٣٦٢) میں ”و من کل
٢٨
حدب ینسلون“ کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔ ”یہ بھاری علامت اس آخری قوم کی ہے۔ جس کا نام یاجوج ماجوج ہے اور یہی علامت پادریوں کے اس گروہ پر فتن کی ہے جس کا نام دجال معہود ہے۔“
تنقید
مرزا قادیانی دجال معہود اور قوم یاجوج ماجوج کو ایک ہی چیز سمجھتے ہوئے علامات قوم نصارٰی پر منطبق کرتے ہیں۔ حضور قبلہ اقدس نے بمطابق حدیث شریف قوم یاجوج ماجوج کی چار بڑی علامتوں سے یہ علامت بھی ارشاد فرمائی ہے کہ عیسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ السلام کی دعا مانگنے پر قوم یاجوج ماجوج اس دنیا سے معدوم ہو جائے گی۔ لیکن یہاں تو سب الٹے، بات الٹی، یار الٹا۔ جو عیسیٰ بنے وہ تو اس دنیا سے معدوم ومفقود اور جس قوم کو یاجوج ماجوج ٹھہرایا گیا۔ وہ تا حال موجود۔
باب ششم ...... اشارات فریدی جلد چہارم
مولوی رکن دین نے ملفوظ شریف جلد چہارم کے مقبس ششم میں جو یہ لکھ کر حضور قبلہ اقدس کی طرف منسوب کیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا باقی انبیاء و اولیاء کی طرح روحانی رفع ہوا ہے۔ یہ بھی مؤلف ملفوظ کا طبع زاد افتراء ہے۔ حضور قبلہ اقدس کا قطعاً یہ عقیدہ اور ارشاد نہیں۔
- اولا ...... تو یہ عقیدہ قرآن اور احادیث شریف کے صریح خلاف ہے۔
- دوسرا ...... اسی مقبس ششم کے بغور مطالعہ کرنے سے یہ امر ثابت ہوتا ہے کہ مؤلف
نے (لاتقربوا الصلوٰۃ) کو مستقل جملہ سمجھ کر اس کی تشریح الگ کر دی ہے اور دائم سکارٰی کو علیحدہ بیان کیا ہے۔ مؤلف ملفوظ اس رفع روحانی کا مختصر لفظوں میں ذکر کرنے کے بعد لکھتا ہے۔ ”بعد ازاں فرمودند کہ نصارٰی از رجوع ونزول وعود حضرت عیسیٰ علیہ السلام بدار دنیا ثانیاً ہرگز قائل نیند“
ترجمہ : اس کے بعد حضور نے فرمایا کہ نصارٰی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دنیا میں دوبارہ واپس آنے کے قائل نہیں بلکہ منکر ہیں۔ طرز کلام اس امر کی طرف توجہ دلاتی ہے۔ حضور قبلہ اقدس نے قوم نصارٰی کی بدعقیدگی ظاہر فرمائی ہے کہ نصارٰی حضرت عیسیٰ کے دنیا میں دوبارہ آنے کے منکر ہیں اور رفع روحانی کے قائل ہیں۔ لیکن مؤلف ملفوظ نے رفع روحانی کو اپنے اجتہاد سے حضور قبلہ اقدس کی طرف منسوب کر دیا ہے اور باقی مفصل کوائف عقائد قوم نصارٰی کے تحت بیان کئے ہیں۔
٢٩
حضور قبلہ اقدس کے دربار گوہر بار میں عوام الناس وسائلین کا تو کیا کہنا غواصان بحار معرفت و سالکان راہ ہدایت کا ہجوم رہتا تھا۔
مستانہ ہو رہا ہے زمانہ فرید کا
(طالب فریدی)
ان عارفان رموز فریدیت کی زبان مبارک سے سنا گیا ہے کہ مولوی رکن دین نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع روحانی کو حضور قبلہ اقدس کی طرف منسوب کرنے میں غلط بیانی سے کام لیا ہے۔ حضور کا عقیدہ مبارک یہی تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بجسد عنصری آسمان پر اٹھائے گئے ہیں۔ چند حاضرین دربار نے حضور قبلہ اقدس کی خدمت میں کیفیت رفع عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق سوال کیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس جسم خاکی کے ساتھ کس طرح آسمان پر اٹھائے گئے۔ حضور قبلہ اقدس نے فرمایا کہ انبیاء کا جسم ظاہری طور پر خاکی معلوم ہوتا ہے۔ وگرنہ درحقیقت نوری ہوتا ہے اور روح کی طرح لطیف بلکہ الطف ہو جاتا ہے۔ جس طرح روح کے رفع ہونے میں بوجہ اس کی لطافت کے کسی کو اشتباہ نہیں ہو سکتا۔ ازاں جسم خاکی جب نوری کیفیت میں منتقل ہو کر لطیف ہو جائے تو اس کا رفع ہونا کوئی دشوار امر نہیں اور بوجہ نوری ہو جانے کے لوازمات جسمانی سے بھی مبرا ہو جاتا ہے۔
حیات حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق بکثرت آیات قرآنیہ واحادیث نبویہ موجود ہیں۔ چونکہ اس رسالہ میں اختصار کو مدنظر رکھا گیا ہے۔ ازاں تبرکاً صرف ایک آیت شریف و ایک حدیث شریف تحریر کی جاتی ہے۔
نیک فطرت انسان کے لئے تو ایک آیت کافی ہے اور جس کا دل ضلالت سے معمور ہو۔ سارا قرآن پڑھا جائے تو غیر مفید ہوگا۔
بسم الله الرحمن الرحيم!
”وبكفرهم وقولهم على مريم بهتانا عظيما وقولهم انا قتلنا المسيح ابن مريم رسول الله وما قتلوه وما صلبوه ولكن شبه لهم وان الذين اختلفوا فيه لفى شك منه مالهم به من علم الا اتباع الظن وما قتلوه يقينا بل رفعه الله اليه وكان الله عزيزاً حكيما“ ذلیل کیا ہم نے یہود کو بسبب
٣٠
کفران کے اور کہنے ان کے اوپر مریم کے بہتان عظیم اور بسبب کہنے ان کے کہ ہم نے مار ڈالا مسیح بیٹے مریم جو اللہ کا پیغمبر تھا۔ حالانکہ نہیں مارا اس کو اور نہیں سولی دی اس کو، لیکن شبہ ڈالا گیا ہے اور جنہوں نے اختلاف کیا بیچ اس کے، البتہ بیچ شک کے ہیں۔ نہیں واسطے ان کے کچھ اس سے علم، مگر پیروی کرنا گمان کا اور نہیں مارا اس کو بہ یقین۔ بلکہ اٹھا لیا اللہ نے اس کو اپنی طرف اور ہے اللہ تعالیٰ غالب دانا۔﴿
"وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته ويوم القيٰمة يكون عليهم شهيدا (النساء:١٥٩) "﴿ اور نہیں کوئی اہل کتاب سے مگر البتہ ایمان لائے گا ساتھ اس کے اس کی موت سے پہلے اور دن قیامت کے ہو گا اوپر ان کے گواہ۔﴿
تشریح آیت: خداوند کریم فرماتے ہیں کہ ہم نے یہودیوں کو وجوہات محررہ ذیل کی بناء پر ذلیل و رسوا کیا۔ (١) کفرانِ نعمت ۔ (٢) بی بی مریم علیہا السلام پر بہتان عظیم۔ (٣) حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قتل ہو جانے کی غلط اشاعت اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت وحیات میں اختلاف۔
آج کل کے یہودی: خداوند کریم نے اپنے انعامات لا تعداد واحسانات بے حد میں سے بعثت حضور نبی کریمﷺ کو افضل اور اعلیٰ نعمت قرار دے کر لقد من اللہ جیسے زور دار الفاظ میں اس کا اظہار فرمایا ہے۔ ازاں حضور نبی کریمﷺ کی اطاعت سے انحراف کر کے اپنا جدید پنجابی رسول بنا لینا کفرانِ نعمت ہے۔ یہودیوں کی یہ علامت بھی مرزائی صاحبان میں موجود )
مرزائی صاحبان کا عقیدہ متعلق عصمت بی بی مریم پہلے بیان ہو چکا ہے۔ جس طرح یہودی بی بی مریم علیہا السلام پر بہتان تراشا کرتے تھے۔ مرزائیوں نے بھی اسی طرح کیا۔ یہودیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قتل کی غلط اشاعت کی اور مرزائیوں نے عیسیٰ علیہ السلام کی موت کا اقرار کیا۔ یہودیوں کی تینوں علامتیں تو مرزائی صاحبان میں موجود ہوں۔ لیکن مرزائی صاحبان بقول شخصے۔
الٹا علماء کرام کو جو مرزائیت (یعنی یہودیت) کا استیصال کرنا چاہتے ہیں۔ انہیں یہودی ملاؤں کے لفظ سے خطاب کریں۔
اسرار اعجازیہ قرآن
یہودیوں نے غلط اشاعت کی کہ ہم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مار ڈالا ہے۔ خداوند کریم
٣١
نے یہودیوں کے اس قول کی تردید کی اور فرمایا: ”وما قتلوه وما صلبوه“ یہودیوں نے نہ حضرت کو قتل کیا ہے اور نہ اسے سولی دی ہے۔ لیکن یہودیوں کو عیسیٰ علیہ السلام کے قتل کا شبہ ڈالا گیا ہے۔ اتنے لفظ سننے سے یہ خدشہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ تو مانا کہ حضرت عیسیٰ نہ قتل ہوا ہے اور نہ سولی دیا گیا ہے۔ لیکن کہاں گیا۔ اس خدشہ کو دفع فرمانے کے لئے ارشاد ہوا۔ ”وما قتلوه يقيناً بل رفعه الله اليه (النساء: ١٥٧، ١٥٨)“ یعنی یہودیوں نے یقیناً حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قتل نہیں کیا۔ بلکہ اس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف اٹھا لیا ہے۔ اگرچہ اس لفظ رفع سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر اٹھایا گیا ہے۔ کیونکہ اگر اس پر موت عرفی واقع ہوئی ہوتی تو اماتہ اللہ کا لفظ کہا جاتا۔ کیونکہ خداوند کریم نے قرآن شریف میں موت کے ذکر کو اس قسم کے لفظ سے تعبیر کیا ہے۔ موت کی بجائے رفع کا لفظ ذکر کرنا حکمت سے خالی نہیں۔ تاہم ضعیف شبہ ہوسکتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا رفع تو تسلیم، لیکن اس قسم کی وضاحت نہیں کہ حضرت عیسیٰ بجسد عنصری آسمان پر اٹھائے گئے۔ موت عرفی واقع ہونے کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا روح اطہر اٹھایا گیا۔ (روح تو ہر نیک مرد کا آسمان کی طرف اٹھایا جاتا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اس میں خصوصیت نہیں)
خداوند کریم علام الغیوب نے اس موت وحیاۃ مسیح کے جھگڑا کو مٹانے کے لئے خبر دی۔ ”وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته ويوم القيمة يكون عليهم شهيدا (النساء:١٥٩)“ اہل کتاب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے اس پر ایمان لاویں گے اور قیامت کے دن وہ ان پر گواہ ہوگا۔
عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق شبہات قتل اور سولی کی تردید فرمانے کے بعد یہ ارشاد فرمانا کہ اہل کتاب حضرت کی موت سے پہلے اس پر ایمان لائیں گے۔ اس امر کی بین دلیل ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام پر ابھی تک موت عرفی واقع نہیں ہوئی۔ بلکہ حسب فرمودہ حضور نبی کریم ﷺ جو در حقیقت فرمان خدا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نزول فرمائیں گے اور کچھ عرصہ رہنے کے بعد فوت ہوں گے۔ مدینہ طیبہ میں حضور نبی کریم ﷺ کے روضہ اطہر میں مدفون ہوں گے۔
ابن الجوزی کتاب الوفاء میں حضرت عمرو بن العاص سے روایت ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا۔ ”ينزل عيسى ابن مريم الى الارض فيتزوج ويولدله ويمكث خمسا واربعين سنة ثم يموت فيدفن معى فى قبرى فاقوم انا
٣٢
وعیسیٰ ابن مریم من قبر واحد بین ابی بکر وعمر (مشکوۃ شریف ص٤٨٠، باب نزول عیسیٰ علیہ السلام) ﴿حضرت عیسیٰ ابن مریم زمین کی طرف اتریں گے۔ پس شادی کریں گے اور ان سے اولاد ہوگی۔ پینتالیس سال رہیں گے۔ (علیٰ اختلاف الروایات) اور فوت ہو کر میرے پاس میری قبر میں مدفون ہوں گے۔ پھر میں اور عیسیٰ ابن مریم ایک قبر سے ابوبکرؓ وعمرؓ کے درمیان اٹھیں گے۔﴾
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت کا عقیدہ رکھنا چونکہ خلاف قرآن وحدیث ہے تو حضور اقدس جیسے مقدس وجود کی طرف یہ عقیدہ منسوب کرنا (جو اخلاق نبوی سے مکمل طور پر مزین ہوں جن کا وجود مسعود ناطق قرآن ہو) محض افتراء ہوگا۔
لب لباب لاولی الباب
جس وقت یہ امور معرض ثبوت میں آ چکے کہ حضور نے احمدیہ فرقہ کو ناری فرقوں میں داخل فرمایا۔ مرزا قادیانی نے بھی لکھا ہے کہ: ”حضور قبلہ اقدس نے مجھے کافر اور کاذب جانا ہے۔“ نیز مرزا قادیانی کے جمیع عملیات واعتقادیات حضور قبلہ اقدس کے ارشادات کے بالکل متضاد ہیں تو اب بھی اس قسم کی اشاعت کرنا کہ حضرت قبلہ اقدس مرزا قادیانی کے دعاوی کے مصدق ہیں یا مرزا قادیانی کو من عباداللہ الصالحین تحریر فرما گئے ہیں۔
حضور قبلہ اقدس وجمیع عامہ اہل اسلام کے لئے دل آزاری وایذاء روحانی کا موجب ہوگا۔ کیونکہ خداوند کریم فرماتا ہے۔ ”والذین یؤذون المؤمنین والمؤمنات بغیر ما اکتسبوا فقد احتملوا بھتانا واثما مبینا“ ﴿جولوگ مؤمنوں کو ناکردہ فعل کے متعلق ایذا دیں تو انہوں نے بہتان عظیم وگناہ کبیر کا ارتکاب کیا۔﴾
کہ در شریعت ما غیر ازیں گناہ نیست
ایذاء جسمانی جب موجب عقاب وعتاب ہے تو ایذاء روحانی جس کو ایذاء جسمانی کے ساتھ سمندر اور قطرہ کی نسبت ہے۔ ہزار درجہ زیادہ عذاب شدید کا موجب ہوگا۔ جہاں تک دیکھا جاتا ہے معلوم ہوتا ہے کہ ہر گناہ وجرم کا اصل بنیاد آزار دل ہے۔ جیسے کہ کفر کی حقیقت آزار رسول اللہ ﷺ میں مرکوز ہے۔ انسان توحید کا قائل ہوتے ہوئے اگر انکار رسالت کرے یا حضور اکرم ﷺ کے شان برتر میں ذرہ بھر گستاخی کرے تو قرآن کریم کا ایسے انسان پر فتویٰ کفر ثبت
٣٣
ہے ۔ کیونکہ رسالت مآب کی بے ادبی و ہتک شان اکرم سے حضور سید الکونین ﷺ کو روحانی ایذا پہنچتا ہے۔ قرآن کریم پکار پکار کر کہہ رہا ہے ۔ ” والذين يؤذون رسول الله لهم عذاب اليم “ جو لوگ رسول خدا کو ایذا پہنچاتے ہیں ان پر بکثرت وعید وارد ہیں۔ بخاری شریف حدیث قدسی ” من اهان لي وليا فقد بارزني بالمحاربة “ رب العزت فرماتے ہیں جس نے میرے ولی کی اہانت کی اس نے میرے ساتھ مقابلہ جنگ شروع کیا۔ دوسری حدیث قدسی بخاری شریف ” من عادلى وليا فقد آذنته بالحرب “ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ جس نے ولی کے ساتھ دشمنی کی اس کو دوسری طرف سے جنگ کا اعلان ہے۔ چونکہ فرقہ مرزائیت اپنی بد عقیدگی کی بناء پر باتفاق جمیع علماء کرام عرب و ہندوستان کا فر قرار دیا جا چکا ہے۔ ( عقائد مرزا کا مختصر سا خاکہ مشت نمونہ از خروارے باب اوّل میں بیان کر دیا گیا ہے ) تو حضور قبلہ اقدس سلطان العارفین مولانا غریب نواز حضرت خواجہ غلام فرید کے متعلق تائید مرزا کا افتراء اور بہتان تراشنا اس میں اہانت اور عداوت ولی دونوں مجتمع پائے جاتے ہیں اور صرف یہ امر حضور قبلہ اقدس کی قدسی صفات پر محدود نہیں بلکہ جمیع مریداں و معتقدان کے ایمان حضور والا شان کی ذات بابرکات کے ساتھ وابستہ ہیں۔ اسی قسم کے بہتان تراشنے اور ان امورات پر راضی ہونے والوں کے لئے وعید الہی ہے اور انہیں کی طرف سے جنگ کا اعلان ہے۔ کیونکہ حضور والا نے خبر ہائے غیبیہ یعنی نزول عیسیٰ ، ظہور مہدی، خروج دجال، یاجوج ماجوج وغیرہ کو اپنے مصنفہ رسالہ فوائد فریدیہ میں وضاحت سے بیان فرما کر مرزائیوں کے ............ عقیدہ کی مکمل تردید فرمادی ہے اور حضور اقدس کے یہ تمام ارشادات، آیات قرآنیہ و احادیث نبویہ کے عین مطابق ہیں۔ ارادہ تھا کہ وہ آیات و احادیث درج رسالہ ہذا کی جائیں ۔ لیکن بخوف طوالت ترک کیا گیا۔ کیونکہ اس رسالہ کے لکھنے سے محض مقصود یہ تھا کہ حضور والا شان کے متعلق جو غلط اور بے بنیاد روایات کی اشاعت کی جارہی ہے اس کا ازالہ کر کے رضائے الٰہی اور نجات ابدی حاصل کی جائے ۔ الحمد للہ کہ یہ فرض مکمل طور پر ادا ہو چکا۔
وما علينا الا البلاغ
ہم نام من بمدحت او گشتہ جاوداں
”سبحان ربك رب العزة عما يصفون وسلام على المرسلين والحمدلله رب العالمين“
٣٤
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں
مرزائیت
اور
اسلام
حضرت مولانا احسان الٰہی ظہیر
بسم الله الرحمن الرحيم
مقدمہ طبع ثانی
”مرزائیت اور اسلام“ کو پہلی مرتبہ شائع کرتے ہوئے اس بات کا خیال تک نہ تھا کہ احباب اسے اس قدر پذیرائی بخشیں گے کہ تھوڑی مدت بعد ہی اس کا حصول مشکل ہو کر رہ جائے گا اور اس کی شہرت پاکستان سے نکل کر سمندر پار تک جا پہنچے گی۔
اللہ تعالیٰ کا صد شکر کہ اس نے ختم نبوت کی چوکیداری اور سارقین نبوت کی گوشمالی کو شرف قبولیت بخشا کہ پاکستان بھر میں قادیانیت کا تعاقب کرنے والوں نے اس کتاب کو اپنی تقریروں میں حوالہ کے طور پر استعمال کیا اور قادیانیوں کو اس کے آئینے میں مرزائی اکابر کے چہرے دکھلاتے رہے اور لوگ ان ’نقاب دار تقدس مآب‘ لوگوں کے بے نقاب چہروں کو دیکھ کر حیران و ششدر رہ گئے۔
اس سلسلہ میں نائیجیریا سے ایک مسلمان مبلغ نے کہ سعودی عرب نے انہیں اپنے خرچ پر دین حنیف کی تبلیغ اور مرزائیت کے تعاقب و استیصال کے لئے بھیجا تھا۔ مجھے لکھا: ”آپ کی عربی اور انگریزی کتاب قادیانیوں کے لئے ضرب کلیمی کی حیثیت رکھتی ہے اور یہاں خاصی بڑی تعداد میں تقسیم کی گئی۔ خداوند کریم اس پر آپ کو جزائے خیر عطاء کرے۔ لیکن آپ کی مختصر اردو کتابوں کو دیکھتے ہی پاکستان سے وارد شدہ قادیانی مبلغوں کے چہرے اس قدر تاریک ہو جاتے ہیں کہ انہیں الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ میرے خیال میں اس کتاب کو بھی افریقہ میں اور خصوصاً ان علاقوں میں جہاں اردو بولنے والے بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ ضرور پھیلانا چاہئے۔“
اسی بناء پر سعودی حکومت کے نشر و اشاعت اور تبلیغ و دعوت کے مختلف شعبوں نے مجھے متعدد دفعہ اس کی اشاعت نو کے بارہ میں لکھا۔ لیکن میں اپنی بے شمار متنوع مصروفیات کی بناء پر اس کے لئے وقت نہ نکال سکا کہ میں چاہتا تھا کہ طبع نو سے پہلے اس پر نظر ثانی کر لی جائے۔ لیکن واحسرتا! کہ قصد و ارادہ کے باوصف آج تک وہ طائر عنقاء دام میں نہ آسکا کہ فراغت کہیں جسے، کہ سیاسی و مذہبی اور کاروباری مصروفیات سے جو فرصت کے لمحات میسر آئے وہ چند زیادہ اہم تصنیفات اور مشغولیات میں صرف ہو جاتے۔
٢
اور یہ چکر آج تک اسی طرح چل رہا ہے۔ تب میں نے سوچا مالا يدرك كله لا يترك كله اسے اسی طرح شائع کر دیا جائے کہ شاید خداوند عالم آئندہ اس کے لئے کوئی بہتر صورت پیدا فرمادے۔
آج اس مجموعہ مضامین کو دوبارہ شائع کرتے ہوئے مسرت کی ایک لہر میرے رگ و پے میں سرایت کئے ہوئے ہے کہ جس مسئلہ کو ہمارے اکابر نے اٹھایا اور جس کے بیان اور وضاحت میں ہم نے اپنی بساط کی حد تک قلم و جان کو کھپایا۔ الحمد للہ کہ اس کا ایک حصہ رب کی کرم فرمائیوں اور پاکستان کے غیور و جسور مسلمانوں کی قربانیوں سے حل ہو چکا ہے۔ پاکستان میں قادیانیوں کو ان کی اصلیت کے مطابق غیر مسلم اقلیت قرار دیا جا چکا ہے اور دنیا بھر کے مختلف ممالک میں جہاں جہاں مرزائی ڈیرے جمائے ہوئے اور ایک عالم کو ورغلائے ہوئے تھے۔ وہاں وہاں کے لوگ ان کے فریب سے آگاہ ہو چکے اور انہیں اپنا بوریا بستر سمیٹنے پر مجبور کر رہے ہیں اور وہ دن دور نہیں جب رب کا غضب و جلال انہیں پوری طرح اپنی لپیٹ میں لے کر اسی طرح نیست و نابود کر دے گا۔ جس طرح ان سے پہلے ان کے اسلاف طلیحہ، اسود عنسی اور مسیلمہ کذاب کے پیروکار کو کیا ہے۔ اس مجموعہ کے اکثر مضامین میں یہ ثابت کیا گیا ہے کہ مرزائی ایک علیحدہ امت ہیں اور ان کا مسلمانوں سے کوئی تعلق نہیں اور آج جب کہ مرزائیوں کو پاکستان میں بھی غیر مسلم اقلیت قرار دیا جا چکا ہے۔ ظاہراً اس کتاب کی چنداں ضرورت باقی نہیں رہتی۔ لیکن میں اس کی ضرورت کو آج بھی اسی طرح محسوس کرتا ہوں۔ جس قدر اس کی اشاعت اوّل کے وقت تھی۔ کیونکہ قادیانیوں نے ہنوز پاکستانی دستور ساز اسمبلی کے اس فیصلہ کو تسلیم نہیں کیا اور ابھی تک اپنے آپ کو مسلمان کہلانے پر مصر ہیں۔
اس سے جہاں ان کے اس فریب کا پردہ چاک ہوگا۔ وہاں اس بات کی بھی تصدیق ہوگی کہ دستور ساز اسمبلی کا فیصلہ درست تھا۔ اسی طرح جس طرح کہ دنیا کے اکثر مسلمان ممالک ویسے ہی فیصلے صادر کر چکے ہیں۔
”وما توفيقى الا بالله عليه توكلت واليه انيب“
احسان الہی ظہیر
مورخہ ١٢/اپریل ١٩٧٥ء
٣
بسم اللہ الرحمن الرحیم !
مقدمہ طبع اوّل
” الحمد لله وحده والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ وعلی آلہ واصحبہ ومن تبعھم الیٰ یوم الدین “
مسلمانوں کی تاریخ میں انیسویں صدی کا نصف آخر اس لحاظ سے بڑی اہمیت رکھتا ہے کہ اس میں اسلام دشمن طاقتوں نے دو ایسے فرقوں کو وجود بخشا جنہوں نے مسلمانوں کو اسلام کے نام پر گمراہ کرنے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی۔ انہوں نے اعداء اسلام کی اس دیرینہ خواہش کو پورا کرنے میں اپنی پوری توانائیوں کو صرف کر دیا کہ مسلمانوں کو ان کے قبلہ و کعبہ اور ان کی امنگوں اور آرزوؤں کے مراکز مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ سے منقطع کر کے انہیں ان کے ان دیسوں اور وطنوں میں محصور کر دیا جائے۔ جن کے وہ باسی اور شہری ہیں تاکہ وہ مضبوط رابطہ اور تعلق ختم ہو کر رہ جائے جو کروڑوں انسانوں کو مشرق سے مغرب اور شمال سے جنوب تک ایک لڑی میں منسلک کئے ہوئے ہے اور جس کی بناء پر بخارا و سمرقند میں بسنے والے مسلمان وادی نیل کے کلمہ گوؤں کی ادنیٰ سی تکلیف پر تڑپ اٹھتے اور حجاز و نجد کے صحرانورد اور بادیہ نشین ہمالیہ کے دامنوں میں رہنے والوں اور کشمیر کی بلندیوں پر بسنے والوں کی مصیبت کو اپنی مصیبت تصور کرتے ہیں۔ وہ گروہ جو اس کار نمایاں کو سر انجام دینے کے لئے وجود میں لائے گئے ۔ ان میں سے ایک تو برصغیر پاک و ہند میں انگریزی ایجنٹ قادیانی ١؎ تھے اور دوسرے روسی انگریزی ذلہ خوار بہائی ٢؎۔
١؎ قادیانی افریقہ اور یورپ میں اپنے آپ کو ’احمدی‘ کے نام سے موسوم کرتے ہیں تاکہ وہاں کے سادہ لوح ، سادہ دل مسلمانوں کو گمراہ کیا جاسکے۔ حالانکہ محمد رسول اللہ ﷺ سے ان کا تعلق نہیں کہ جن کا اسم گرامی احمد بھی ہے۔ رہا ان کا متنبی تو اس کا نام احمد نہیں بلکہ غلام احمد ہے اور اسی لئے پاکستان اور ہندوستان میں یہ اسی کے نام سے موسوم کئے جاتے ہیں۔
٢؎ جس طرح اس کتاب میں آگے چل کر قادیانیت کو دلائل کے ساتھ انگریزی سامراج کا ایجنٹ ثابت کیا گیا ہے۔ اسی طرح مؤلف نے اپنی کتاب ”البھائیۃ“ میں بہائیت کو بھی انگریزی و روسی سامراج کا خود کاشتہ پودا ثابت کیا ہے اور اس کے ثبوت میں باقاعدہ شواہد و براہین پیش کئے ہیں۔
٤
چنانچہ قادیانیت اسی غرض کے لئے وجود میں لائی گئی اور اسلام دشمن اور مسلم دشمن قوتوں کے زیر سایہ اس کی پرورش و پرداخت کی گئی اور امت محمدیہ کے تمام دشمنوں نے مال اور دیگر وسائل سے اس کی مدد و معاونت کی۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ انہیں بے انداز مال و دولت سے نوازا گیا۔ انگریز نے برصغیر میں ان تمام لوگوں کو اعلیٰ عہدے دیئے۔ جنہوں نے قادیانیت کو قبول کیا اور ان کے بچوں کو تعلیمی وظائف پیش کئے اور انہیں ہر ممکن سہولتیں بہم پہنچائی گئیں۔ ہندوؤں نے ان کی حمایت میں قلم اٹھائے اور تقریریں کیں اور ہر طرح سے ان کا دفاع کیا۔ اسی طرح یہودیت نے انہیں اسلام کے مسلمہ اصولوں اور مسلمانوں کے بنیادی معتقدات کے خلاف دلائل (خواہ وہ کتنے بودے ہی کیوں نہ تھے) اور لٹریچر سے مسلح کیا اور اب بھی بین الاقوامی صہیونیت اسرائیل میں قادیانی سنٹر کے ذریعہ اور افریقہ میں ان کے مراکز کے توسط سے ان کی بھر پور مدد و معاونت کر رہی ہے۔
بہر حال تمام دشمنان رسالت مآبؐ نے اپنی اپنی کوشش و کاوش ان کی ترقی و ترویج میں صرف کی اور اس سے ان کا مطلوب و مقصود صرف اور صرف یہ تھا اور ہے کہ مسلمانوں کو اس مجاہد اور قائد رسول سے دور کر دیا جائے۔ جن کا اسم گرامی آج بھی کفر پر کپکپی اور لرزہ طاری کر دیتا ہے۔ جن کی ہیبت اور جن کے دبدبہ سے آج بھی ایوان ہائے کفر میں زلزلہ بپا ہو جاتا ہے۔ جب کہ انہیں رفیق اعلیٰ کے پاس گئے ہوئے بھی چودہ صدیاں گذر چکی ہیں۔
اور وہ زندہ و تابندہ تعلیمات والا نبی مکرمؐ کہ جس کی امت آج بھی اپنے دور انحطاط وزوال میں مجرموں اور اسلام دشمنوں کے حلق میں کانٹا بنی ہوئی ہے اور جن کی بیداری کا مجرد تصور ہی ملحدوں، مشرکوں اور لادینوں کی آنکھوں کی نیند اڑا دینے کے لئے کافی ہے اور دشمنان دین اس بات کو بخوبی سمجھتے ہیں کہ وہ تب تک سکون و چین حاصل نہیں کر سکتے۔ جب تک کہ محمد عربی علیہ السلام ایسے قائد، رہنما اور راہبر کی لازوال تعلیمات کو ختم نہیں کیا جاتا۔ وہ تعلیمات جو آج بھی مردوں میں روح پھونکتی اور قوموں کے لئے صور اسرافیل کا درجہ رکھتی ہیں اور اگر ان کا خاتمہ ممکن نہیں تو کم از کم انہیں تبدیل کئے بغیر ان کی معنویت کو نیست کئے سوا، انہیں اپنے مطلوبہ مقاصد حاصل نہیں ہو سکتے۔
اس کا بہترین طریق یہ ہے کہ قادیانیت ایسے گمراہ فرقوں اور مذاہب کی ہر طرح سے مساعدت و مساندت کی جائے۔ اسی بناء پر ایک نامور ہندو ڈاکٹر شنکر داس اپنے ہندو بھائیوں کو مخاطب کرتے ہوئے لکھتا ہے: ”سب سے اہم سوال جو اس وقت ملک کے سامنے در پیش ہے۔
٥
وہ یہ ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں کے اندر کس طرح قومیت کا جذبہ بیدار کیا جائے۔ کبھی ان کے ساتھ سودے، معاہدے اور پیکٹ کئے جاتے ہیں۔ کبھی لالچ دے کر ساتھ ملانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ کبھی ان کے مذہبی معاملات کو سیاسیات کا جزو بنا کر پولیٹکل اتحاد کی کوشش کی جاتی ہے۔ مگر کوئی تدبیر کارگر نہیں ہوتی۔ ہندوستانی مسلمان اپنے آپ کو ایک الگ قوم تصور کئے بیٹھے ہیں اور وہ دن رات عرب کے ہی گیت گاتے ہیں۔ اگر ان کا بس چلے تو وہ ہندوستان کو بھی عرب کا نام دے دیں۔ اس تاریکی میں اور اس مایوسی کے عالم میں ہندوستانی قوم پرستوں اور محبان وطن کو ایک ہی امید کی شعاع دکھائی دیتی ہے اور وہ آشا کی جھلک احمدیوں کی تحریک ہے۔ جس قدر مسلمان قادیانیت کی طرف راغب ہوں گے وہ قادیان کو اپنا مکہ تصور کرنے لگیں گے اور آخر میں محب وطن اور قوم پرست بن جائیں گے۔ مسلمانوں میں قادیانی تحریک کی ترقی ہی عربی تہذیب اور پان اسلام ازم کا خاتمہ کر سکتی ہے۔ آؤ ہم قادیانی تحریک کا قومی نقطہ نگاہ سے مطالعہ کریں۔
پنجاب کی سر زمین میں ایک شخص مرزا غلام احمد قادیانی اٹھتا ہے اور مسلمانوں کو دعوت دیتا ہے کہ اے مسلمانو! خدا نے قرآن میں جس نبی کا ذکر کیا ہے وہ نبی میں ہوں۔ آؤ میرے جھنڈے تلے جمع ہو جاؤ۔ اگر نہیں آؤ گے تو خدا تمہیں قیامت کے دن نہیں بخشے گا اور تم دوزخی ہو جاؤ گے۔
میں مرزا قادیانی کے اس اعلان کی صداقت یا بطلان پر بحث نہ کرتے ہوئے صرف یہ ظاہر کرنا چاہتا ہوں کہ مرزائی مسلمان بننے سے پہلے مرزائی مسلمانوں میں کیا تبدیلی پیدا ہوتی ہے؟ ایک مسلمان کا عقیدہ ہے کہ:
- ١...... خدا ہمیشہ لوگوں کی رہبری کے لئے ایک انسان پیدا کرتا ہے جو کہ اس وقت کا
نبی ہوتا ہے۔
- ٢...... خدا نے عرب کے لوگوں میں ان کی اخلاقی گراوٹ کے زمانہ میں حضرت محمد ﷺ کو
نبی بنا کر بھیجا۔
- ٣...... حضرت محمد ﷺ کے بعد خدا کو ایک نبی کی ضرورت محسوس ہوئی اور اس نے مرزا قادیانی کو
بھیجا کہ وہ مسلمانوں کی راہنمائی کریں۔
میرے قوم پرست بھائی سوال کریں گے کہ ان کے عقیدوں سے ہندوستانی قوم پرستی کا کیا تعلق ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ جس طرح ایک ہندو کے مسلمان ہو جانے پر اس کی شردھا اور عقیدت رام، کرشن، وید، گیتا اور رامائن سے اٹھ کر قرآن اور عرب کی بھومی میں منتقل ہو جاتی
٦
ہے، اسی طرح جب کوئی مسلمان قادیانی بن جاتا ہے تو اس کا زاویہ نگاہ بھی بدل جاتا ہے۔ حضرت محمدﷺ میں اس کی عقیدت کم ہو جاتی ہے۔ علاوہ بریں جہاں اس کی خلافت پہلے عرب اور ترکستان میں تھی اب وہ خلافت قادیان میں آجاتی ہے اور مکہ مدینہ اس کے لئے روایتی مقامات مقدسہ رہ جاتے ہیں۔ کوئی بھی قادیانی چاہے وہ عرب، ترکستان، ایران یا دنیا کے کسی بھی گوشہ میں بیٹھا ہو وہ روحانی تشفی کے لئے قادیان کی طرف منہ کرتا ہے۔ قادیان کی سرزمین اس کے لئے پنیہ بھومی (سرزمین نجات) ہے اور اسی میں ہندوستان کی فضیلت کا راز پنہاں ہے۔ ہر قادیانی کے دل میں ہندوستان کے لئے پریم ہوگا۔ کیونکہ قادیان ہندوستان میں ہے۔ مرزا قادیانی بھی ہندوستانی تھے اور اب جتنے خلیفہ اس فرقہ کی رہبری کر رہے ہیں۔ وہ سب ہندوستانی ہیں۔ یہی ایک وجہ ہے کہ مسلمان قادیانی تحریک کو مشکوک نگاہوں سے دیکھتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ قادیانیت عربی تہذیب اور اسلام کی دشمن ہے۔
خلافت تحریک ١ میں بھی احمدیوں نے مسلمانوں کا ساتھ نہیں دیا۔ کیونکہ وہ خلافت کو بجائے ترکی یا عرب میں قائم کرنے کے قادیان میں قائم کرنا چاہتے ہیں۔ یہ بات عام مسلمانوں کے لئے جو ہر وقت پان اسلام ازم اور پان عربی سنگٹھن کے خواب دیکھتے ہیں۔ کتنی ہی مایوس کن ہو۔ مگر ایک قوم پرست کے لئے باعث مسرت ہے۔
(ڈاکٹر شنکر داس بی۔ اے، ایم۔ بی۔ بی۔ ایس لاہور مندرجہ اخبار ”بندے ماترم“ مورخہ ٢٢؍اپریل ١٩٣٢ء)
اور پھر جب حکیم مشرق، شاعر رسالت علامہ ڈاکٹر محمد اقبال نے قادیانیت کے خلاف ایک مدلل اور مفصل مضمون لکھا جس میں ان کی امت اسلامیہ سے علیحدگی کو براہین کے ساتھ ثابت کیا تو سب سے پہلے جس نے جناب علامہ کی تردید میں قدم اٹھایا وہ مشہور ہندولیڈر پنڈت جواہر لال نہرو تھے۔ جنہوں نے کئی مضامین قادیانیوں کی تائید وحمایت اور ان کی مدافعت میں لکھے حتیٰ کہ اس کے بعد جب مورخہ ٢٩ مئی ١٩٣٦ء کو پنڈت جواہر لال نہرو لاہور آئے تو قادیانی رضا کاروں نے باقاعدہ ان کا استقبال کیا اور انہیں سلامی دی اور جب اس پر اعتراض ہوا تو قادیانی خلیفہ مرزا محمود قادیانی نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا: ”قریب کے زمانہ میں پنڈت جواہر لال نہرو صاحب نے ڈاکٹر اقبال کے ان مضامین کا رد لکھا ہے جو انہوں نے احمدیوں کو
١ ترکی خلافت کے سقوط کے وقت ہندوستانی مسلمانوں نے خلافت کے حق میں ایک زبردست تحریک چلائی تھی۔ جس کا نام انہوں نے خلافت تحریک رکھا تھا۔ ہندو رائٹر اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے کہ: ”اس وقت قادیانیوں نے عام مسلمانوں کا ساتھ نہیں دیا تھا۔“
٧
مسلمانوں سے علیحدہ قرار دیئے جانے کے قادیانیت پر اعتراض اور احمدیوں کو علیحدہ کرنے کا سوال بالکل نامعقول اور خود ان کے گذشتہ رویہ کے خلاف ہے تو ایسے شخص کا جبکہ وہ صوبہ میں مہمان کی حیثیت سے آ رہا ہو۔ قادیانیوں کی طرف سے استقبال بہت اچھی بات ہے۔“
(خطبہ جمعہ قادیان میاں محمود احمد، مندرجہ اخبار الفضل قادیان مورخہ ١١؍ جون ١٩٣٦ء)
اور پھر شاعر رسالت ڈاکٹر علامہ اقبالؒ نے جواہر لعل کی تردید کرتے ہوئے قادیانیت کے لئے ان کی تائید کا بھی جائزہ لیا اور لکھا: ”میں خیال کرتا ہوں کہ قادیانیت کے متعلق میں نے جو بیان دیا تھا جس میں جدید اصول کے مطابق صرف ایک مذہبی عقیدہ کی وضاحت کی گئی تھی۔ اس سے پنڈت جی جواہر لعل نہرو اور قادیانی دونوں پریشان ہیں۔ غالباً اس کی وجہ یہ ہے کہ مختلف وجوہ کی بناء پر دونوں اپنے دل میں مسلمانوں کی مذہبی اور سیاسی وحدت کے امکانات کو بالخصوص ہندوستان میں پسند نہیں کرتے۔ یہ بات بالکل ظاہر ہے کہ ہندوستانی قوم پرست جن کے سیاسی تصورات نے ان کے درست احساس کو مردہ کر دیا ہے۔ اس بات کو گوارہ کرنے کے لئے تیار نہیں کہ شمال مغربی ہند کے مسلمانوں کے دل میں خود اعتمادی اور خود مختاری کا خیال پیدا ہو۔ ان کا خیال ہے اور میری رائے میں غلط خیال ہے کہ ہندوستانی قومیت تک پہنچنے کا صرف یہی راستہ ہے کہ ملک کی مختلف تہذیبوں کو قطعی طور پر مٹا دیا جائے۔ جن کے باہمی تعامل سے ہندوستان میں اعلیٰ اور پائیدار تہذیب ترقی پذیر ہو سکتی ہے۔ جس قومیت کی ان طریقوں سے تعمیر کی جائے گی اس کا نتیجہ باہمی تلخی بلکہ تشدد کے سوا اور کیا ہوگا۔ اسی طرح یہ بات بھی بدیہی ہے کہ قادیانی بھی مسلمانان ہند کی سیاسی بیداری سے گھبرائے ہوئے ہیں۔ کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ مسلمانان ہند کے سیاسی وقار کے بڑھ جانے سے ان کا یہ مقصد فوت ہو جائے گا کہ رسول عربیؐ کی امت سے قطع و برید کر کے ہندوستانی نبی کے لئے ایک جدید امت تیار کریں۔ حیرت کی بات ہے کہ میری اس کوشش سے کہ مسلمانان ہند کو یہ بتلادوں کہ ہندوستان کی تاریخ میں اس وقت جس نازک دور سے وہ گزر رہے ہیں اس میں ان کی اندرونی یکجہتی اور اتحاد کس قدر ضروری ہے اور نیز ان افتراق پرور اور انتشار انگیز قوتوں سے محترز رہنا کس قدر لازمی ہے جو اصلاحی تحریکوں کے روپ میں ظاہر ہوتی ہیں۔ پنڈت جی (جواہر لعل نہرو) کو یہ موقع ملا کہ وہ اس قسم کی تحریکوں سے ہمدردی ظاہر فرماویں۔“
(علامہ اقبالؒ کے مضمون ”اسلام اور احمدی ازم“ سے ایک اقتباس۔ یہ مضمون کتابی صورت میں چھپ چکا ہے)
پس قادیانیت ایسی تحریک جب وجود میں آئی تو یہ بدیہی بات تھی کہ تمام مخالف اسلام قوتیں اس کی تائید و حمایت کریں۔ چنانچہ انہوں نے بالفعل اس کی امداد کی بھی۔ حسب منشاء
٨
انگریزی سامراج نے تو اسے افراد تک مہیا کئے تاکہ وہ اس کی نشوونما کرسکیں اور ان میں سے اکثریت ایسے لوگوں پر مشتمل تھی جو انگریز سامراج کے ملازم تھے یا وہ لوگ جنہیں ملک وملت سے خیانت کے صلہ میں جاگیریں عطا ہوتی تھیں اور جن کا دین ومذہب ہی سامراج کی رضا جوئی اور زلہ خواری ہوتا ہے اور یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا اعتراف خود مرزا غلام احمد قادیانی متنبّی قادیان نے بھی کیا ہے۔ جیسا کہ وہ رقمطراز ہے: ”جس قدر لوگ میری جماعت میں داخل ہیں۔ اکثر ان میں سے سرکار انگریزی کے معزز عہدوں پر ممتاز اور یا اس ملک کے نیک نام رئیس اور ان کے خدام اور احباب ہیں، یا تاجر اور یا وکلاء اور یا نو تعلیم یافتہ انگریزی خواں اور یا ایسے نیک نام علماء اور فضلاء اور دیگر شرفاء ہیں جو کسی وقت سرکار انگریزی کی نوکری کر چکے ہیں یا اب نوکری پر ہیں یا اب ان کے اقارب اور رشتہ دار اور دوست ہیں جو اپنے بزرگ مخدوموں سے اثر پذیر ہیں اور سجادہ نشینان غریب طبع۔ غرض یہ ایک ایسی جماعت ہے جو سرکار انگریزی کی نمک پروردہ اور نیک نامی کردہ اور مورد مراحم گورنمنٹ ہے اور یا وہ لوگ جو میرے اقارب یا خدام میں سے ہیں۔ ان کے علاوہ ایک بڑی تعداد علماء کی ہے جنہوں نے میری اتباع میں اپنے وعظوں سے ہزاروں دلوں میں گورنمنٹ کے احسانات جما دیئے ہیں۔“ (درخواست بحضور نواب لیفٹیننٹ گورنر بہادر پنجاب منجانب مرزا قادیانی مورخہ ٢٤ فروری ١٨٩٧ء، مندرجہ تبلیغ رسالت ج ٧ ص ١٨، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٠)
رہی بات یہودی معاونت و مساعدت کی تو خود مرزا غلام احمد قادیانی کے پوتے مرزا مبارک احمد نے اپنی کتاب (آور فارن مشنز ص ٦٨) پر اس کا اعتراف اور اقرار کیا ہے کہ: ”حیفا کے ماؤنٹ کرمل میں واقع ان کے مرکز کو نہ صرف اسرائیلی حکومت ہر طرح کی سہولتیں بہم پہنچاتی ہے۔ بلکہ اسرائیل کے سربراہ مملکت سے قادیانی مبلغوں کی ملاقاتیں بھی رہتی ہیں۔“
ان ہی وجوہ کی بناء پر میں نے آج سے تقریباً دس برس پیشتر جب کہ میں ابھی معمولی طالب علم تھا۔ قادیانیت کا بغور مطالعہ شروع کیا اور اسی دور میں ان کی تقریباً تمام بنیادی کتابیں دیکھ ڈالیں۔ نیز اسی زمانہ طالب علمی میں پاکستان و ہند کے کئی اردو جرائد میں ان پر مقالات بھی لکھے اور پھر جب ١٩٧٤ء میں مجھے اسلامک یونیورسٹی مدینہ منورہ جانے کا اتفاق ہوا تو وہاں مختلف ممالک خصوصاً افریقی ملکوں کے طلبہ اور مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ میں آنے والے دیگر زائرین اور حجاج سے یہ معلوم کر کے انتہائی تعجب ہوا کہ قادیانی بیرونی ملکوں میں عموماً اور افریقی ملکوں میں خصوصاً اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کر کے لوگوں کی گمراہی کا سامان کیا کرتے ہیں اور افریقی اور عرب ملکوں میں کوئی ایسی جامع کتاب نہیں جس سے ان کے عقائد و اعمال سے پوری آگاہی
٩
حاصل ہو سکے۔ چنانچہ دوستوں کی خواہش، یونیورسٹی کے اساتذہ کی فرمائش اور وقت کی ضرورت کی بناء پر میں نے وہیں مدینہ منورہ میں ہی قادیانی ازم پر عربی میں مقالات لکھنے شروع کئے۔ لیکن ان میں اس بات کو پیش نگاہ رکھا کہ کوئی بات بے سند اور بے دلیل نہ کہی جائے اور جس بات کا ذکر کیا جائے اس کا پورا حوالہ دیا جائے۔
یہ مقالات مختلف عربی پرچوں میں چھپتے رہے اور آخر میں مدینہ منورہ کے ایک پبلشر نے ١٩٦٧ء میں انھیں جمع کر کے کتابی صورت میں شائع کر دیا۔ الحمد للہ اس کے بیشمار اچھے نتائج برآمد ہوئے اور افریقہ میں خصوصاً اس کتاب کی بے حد مانگ رہی۔ (اسی کتاب کے اب تک چار ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں اور اب اس کا پانچواں ایڈیشن ترمیم واضافہ کے ساتھ قاہرہ ۔ ”المکتبتہ السلفیہ“ سے شائع ہورہا ہے)
ان ہی ایام میں افریقہ سے کچھ احباب نے اس طرف توجہ دلائی کہ اگر اس کتاب کا انگریزی ترجمہ ہو جائے تو اس کی افادیت بڑھ جائے۔ کیونکہ افریقہ میں عربی کی نسبت انگریزی زیادہ سمجھی اور بولی جاتی ہے۔ چنانچہ اس کتاب کا انگریزی ترجمہ بھی ”ادارہ ترجمان السنۃ“ لاہور نے شائع کر دیا اور امید ہے کہ وہ عربی سے کچھ کم مفید نہ ہوگا۔ (اس کے بھی اب تک چار ایڈیشن چھپ چکے ہیں اور اب نظرثانی کے بعد اس کا پانچواں ایڈیشن زیر طبع ہے)
١٩٦٨ء میں پاکستان واپسی پر میں نے محسوس کیا کہ ہمارے جرائد و مجلات مرزائیت کی طرف اس قدر توجہ نہیں دے رہے۔ جس قدر انھیں دینی چاہئے۔ چند ایک حضرات کو چھوڑ کر کسی کو یہ بھی معلوم نہیں کہ مرزائی اخبارات مسلمانوں کے مختلف مکاتب فکر کے بارہ میں کیا کچھ لکھتے اور کس قدر زہر پھیلاتے ہیں۔ خصوصاً قادیانی مرزائیوں کا ترجمان ”الفرقان“ اور لاہوری مرزائیوں کا ہفتہ وار ”پیغام صلح“ لاہور، تو اکابرین امت پر طعن توڑنے اور عقائد اسلام کا مضحکہ اڑانے میں اس قدر گستاخ ہوچکے ہیں کہ نہ تو انہیں پاکستان کی مسلم اکثریت کے جذبات کا کچھ پاس ہے نہ حکومت کے محکمہ احتساب کا کچھ ڈر۔ جب کہ دوسری جانب حکومت اس قدر حساس تھی کہ وہ ہفت روزہ ”چٹان“ کے ایک بے ضرر چار سطری شذرے کو بھی برداشت نہ کرسکی۔ جس میں سعودی عرب میں مرزائیت پر عائد کی گئی پابندیوں کا خیر مقدم کیا گیا تھا۔
اسلام کے نام پر وجود میں آنے والے اس مسلمان ملک میں کفر کی یہ ستم رانی میرے لئے بڑے کرب کا باعث تھی۔ مرزائیت کے بارہ میں اپنی سابقہ معلومات اور اس کے موجودہ احوال کی بناء پر میں خاموش نہ رہ سکا اور جمعیت اہل حدیث کے ہفتہ وار اخبار ”الاعتصام“ میں جو
١٠
میری ادارت میں نکلتا تھا۔ مرزائیت پر مسلسل دس گیارہ اداریے لکھے۔ جن میں دلائل وبراہین سے مرزائیت کے امت مستقلہ اور اسلام دشمن ہونے کے ثبوت فراہم کئے۔ نیز مرزائی اخبارات کے اس طرح دندان شکن جواب دیئے کہ پھر مدتوں ”الفرقان“ ربوہ اور ”پیغام صلح“ لاہور، کو جواب دینے اور اعتراض کرنے کا حوصلہ نہ ہوا۔ اطلاعات کے محکمہ احتساب نے نوٹس بھجوائے۔ لیکن ہم نے شواہد پیش کئے کہ دل آزاری اور تفرقہ بازی کی ابتداء ہماری طرف سے نہیں، امت قادیانی کی طرف سے ہوئی ہے۔ بلکہ ان کا وجود ہی تفرقے اور دل آزاری پر مبنی اور قائم ہے۔
رب ذوالجلال کی کریمی کہ ان مضامین کو تمام مسلمان حلقوں کی طرف سے بے حد پسند کیا گیا اور بلا لحاظ مکتب تمام مسلمان فرقوں کے اخبارات ورسائل نے انہیں ”الاعتصام“ سے نقل کیا۔ جن میں شیعہ حضرات کا ہفتہ وار ”شہید“ لاہور اور ماہنامہ ”المعرفۃ“ حیدرآباد تک شامل تھے۔ ازاں بعد جب ہم ”الاعتصام“ کی ادارت سے الگ ہوگئے تو مرزائیوں نے میدان خالی دیکھ کر پھر پر پرزے نکالنے شروع کئے اور ”الفرقان“ ربوہ تو کچھ زیادہ ہی دلیر ہوگیا۔ چنانچہ اس نے علماء امت کو عموماً اور اہل حدیث اکابر کو خصوصاً اپنی نازک انگلیوں کا نشانہ بنانا شروع کیا اور ایک دفعہ تو اس کے مدیر نے یہاں تک لکھ مارا کہ اس نے برصغیر پاک و ہند کے نامور عالم اور مناظر شیخ الاسلام مولانا ثناء اللہ تک کو مناظرات میں شکست دی ہوئی ہے۔
تب تلک ہم بفضل رب ذی المن اپنا ماہنامہ ”ترجمان الحدیث“ لاہور نکال چکے اور جمعیت اہل حدیث کے ہفتہ وار ”اہل حدیث“ لاہور کی ادارت سنبھال چکے تھے۔ اب جو ہم نے اس کا نوٹس لیا تو ان تمام قرضوں کو بھی چکا ڈالا جو ہمارے میدان میں نہ ہونے کی وجہ سے مرزائی ہمارے سر چڑھا چکے تھے۔
اللہ کا لاکھ لاکھ شکر کہ اس نے ہمیں حق کی حمایت اور باطل کی سرکوبی کی توفیق عطاء فرمائی کہ ان مضامین کے آتے ہی ملک بھر میں ایک غلغلہ مچ گیا اور اپنے بیگانے ان کی تعریف کئے بغیر نہ رہ سکے اور احباب نے شدید تقاضا کیا کہ ان تمام مضامین ومقالات کو جو وقتاً فوقتاً ”الاعتصام“ ”اہل حدیث“ اور ”ترجمان الحدیث“ میں شائع ہوتے رہے ہیں یکجا کر دیں اور کتابی صورت میں چھاپ دیں تاکہ وہ لوگ بھی ان سے استفادہ حاصل کر سکیں جو پہلے نہیں کر سکے، اور میں اپنی عدیم الفرصتی اور مختلف کاموں میں مشغولیت کے باوصف صرف اس لئے اس کام پر آمادہ ہو گیا کہ شاید اللہ تبارک و تعالیٰ اس کے ذریعے کسی کی ہدایت اور گمراہی سے حفاظت کا سامان بہم فرما دے اور آخرت میں یہی چیز نجات وفلاح کا سبب بن جائے۔
١١
اور شاید اس سے بھی خوشنودی رب کا وہ پروانہ مل جائے جو مرزائیت پر عربی مقالات کو جمع کرنے کے بعد ملا تھا کہ جب ١٩٦٧ء کے رمضان المبارک کی ستائیسویں شب مسجد نبوی کے پڑوس میں اپنی کتاب ”القادیانیہ“ کو مکمل کر کے سویا تو کیا دیکھتا ہوں، سحر گاہ دعائے نیم شبی لبوں پر لئے باب جبریل علیہ السلام کے راستے (کہ دیار حبیب علیہ السلام میں میرا مکان اسی جانب تھا) مسجد نبوی کے اندر داخل ہوتا ہوں۔ لیکن روضہ اطہر کے سامنے پہنچ کر ٹھٹک جاتا ہوں کہ آج خلاف معمول روضہ معلےٰ کے دروازے وا ہیں اور پہرے دار خندہ رو، استقبالیہ انداز میں منتظر ہیں۔ میں اندر بڑھا جاتا ہوں کہ سامنے سرور کونین، رحمت عالم حضرت محمد اکرم ﷺ رعنائیوں اور زیبائیوں کے جھرمٹ میں صدیق اکبرؓ اور فاروق اعظمؓ کی معیت میں نماز ادا فرما رہے ہیں۔ دل خوشیوں سے لبریز اور دماغ مسرتوں سے معمور ہو جاتا ہے اور جب میں دیر گئے باہر نکلتا ہوں تو دربان سے سوال کرتا ہوں یہ دروازے تم روزانہ کیوں نہیں کھولتے؟ اور جواب ملتا ہے: ”یہ دروازے روزانہ نہیں کھلا کرتے۔“
اور آنکھ کھلی تو مسجد نبوی کے میناروں سے یہ دلکش ترانے گونج رہے تھے۔ ”اشہد ان محمد رسول اللہ، اشہد ان محمد رسول اللہ“ اور صبح جب میں نے مدینہ یونیورسٹی کے چانسلر کو ماجرا سنایا تو انہوں نے فرمایا۔ تمہیں مبارک ہو کہ ختم نبوت کی چوکھٹ کی چوکیداری میں خاتم النبیینؐ کے رب نے تمہاری کاوش کو پسند فرما لیا ہے اور کون جانے میرا رب اسے بھی رسالت مآب علیہ السلام کی خدمت شمار فرمالے۔
کچھ اس کتاب کے بارہ میں
اس مجموعہ میں سب سے پہلے ایک طویل مضمون ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ مرزائی عقائد اور مسلمان عقائد میں کیا فرق ہے اور بنیادی طور پر مسلمانوں اور مرزائیوں میں کس قدر دوری اور مغائرت ہے۔ اس کے بعد ”الاعتصام“ میں شائع شدہ مضامین ہیں جن میں کچھ وقتی اور ہنگامی تھے اور انہیں حذف کر دیا گیا ہے۔
آخر میں ”اہل حدیث“ اور ”ترجمان الحدیث“ میں چھپے ہوئے مقالات ہیں۔ یہ مضامین اگرچہ جوابی ہیں۔ لیکن ان میں مرزائیت کے بارہ میں اس قدر متنوع مواد جمع کر دیا گیا ہے کہ شائد ہی اس کا کوئی گوشہ مخفی رہ گیا ہو۔ انداز بیان کی دلکشی کا اندازہ لگانا تو قارئین کا کام ہے۔ لیکن مجھے امید ہے کہ آپ اسے دلچسپ پائیں گے۔ تحریر میں درشتی اور سختی جوابی ہے اور
١٢
مرزا غلام احمد قادیانی اس کے خلفاء اور پیروکاروں کے بارہ میں عدم احترام اس لئے کہ ہم رسول کریمﷺ ان کی ازواج مطہرات اور ان کے اصحاب کی توہین کرنے والوں کا احترام گناہ سمجھتے ہیں اور خود صاحب خلق عظیم ﷺ نے ایسے لوگوں کو اس انداز میں مخاطب کیا ہے۔ ”من محمد رسول الله الى مسيلمة الكذاب“ اور ”لنا فى رسول الله اسوة حسنة“ ”وآخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمين“
احسان الہی ظہیر مدیر ماہنامہ ”ترجمان الحدیث“ ہفت روزہ ”الحدیث“ لاہور
مرزائیت اور اس کے معتقدات
قادیانیت ان باطل مذاہب میں سے ہے جن کی تکوین ہی اس خاطر کی گئی ہے کہ مسلم قوتوں کو زک پہنچائی جائے۔ اسلام کے ڈھانچے میں رخنے پیدا کئے جائیں اور اس کے افکار ونظریات کو نیست کیا جائے۔ لیکن اس صورت میں کہ کسی کو علم تک نہ ہو۔ کیونکہ تجربات اور تاریخ نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ جب بھی کسی جماعت یا کسی مخالف گروہ نے اسلام کو للکار کر میدان میں مقابلہ کرنے کی جرأت کی تو وہ اس عظیم قوت کو ذرہ بھر بھی گزند نہ پہنچا سکا۔ بلکہ اس کے مقابلہ میں اسلام زیادہ آب و تاب سے چمکا اور اجاگر ہوا اور اس کے نام لیوا اور زیادہ ولولے اور طنطنے کے ساتھ اس کے شیدائی اور فدائی بن گئے۔ یہود و نصاریٰ اور مکہ کے مشرکوں نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا کہ وہ اسلام کی منزلت عظمتوں کے سامنے ان کا کوئی بس نہ چل سکا اور سوائے محرومیوں کے داغوں اور ناکامیوں کے دھبوں کے انہیں کچھ حاصل نہ ہوا۔ میدان جنگ میں اگر صلیبیوں نے اس مضبوط چٹان سے ٹکرانے کی کوشش کی تو پوری قوت وطاقت کے باوجود اپنے ہی سر کو زخمی ہونے سے نہ بچا سکے۔ جس طرح کہ کفار مکہ اور یہود یثرب اس کے ابتدائی ایام میں اپنے سر پھوڑ چکے تھے اور اگر کسی نے علمی میدان میں مناظرات ومناقشات کے ذریعہ اس سے پنجہ آزمائی کی کوشش کی تو اس کے نتیجہ میں اس کی حسرتوں کا خون ہونے سے نہ رہ سکا اور پھر اعدائے اسلام نے ترغیب تحریص اور تہدید وتخویف کے حربے بھی آزما کے دیکھ لئے۔ لیکن نامرادیوں نے تب بھی دامن نہ چھوڑا اور اسلام اپنی پوری تابانیوں کے ساتھ پھلتا پھولتا اور پھیلتا ہی چلا گیا۔ راستے کی رکاوٹیں اور بیگانوں کی سختیاں اس کی جولانیوں میں مزاحم نہ ہو سکیں اور پھر ناامیدیوں نے ڈیرے ڈال دیئے اور وہ اسلام کو زک دینے، سیلاب نور کے سامنے بند باندھنے، سورج کی روشنی کو ڈھانپنے اور چھپانے سے مایوس ہو گئے۔ جزیرہ عرب کے مشرکوں، مصر وشام اور روم ویونان کے عیسائیوں اور
١٣
قریظہ و نضیر کے یہودیوں نے اس کا خوب خوب تجربہ کیا اور پھر اس کو اپنے اپنے وقت میں ہندوؤں، بدھ مت کے پیروؤں، آتش پرستوں اور سکھوں نے بھی دہرا کر دیکھا اور سب نے دیکھ لیا کہ یہ وہ چٹان ہے جسے نہ صرف یہ کہ پاش پاش کرنا ناممکن ہے۔ بلکہ اسے چھیدنا بھی جوئے شیر لانے سے کم نہیں۔ ان تلخ و ترش تجربات سے دشمنانِ دین نے یہ سبق حاصل کیا کہ اسلام سے کھلے بندوں ٹکر لینا اپنی موت کو دعوت دینا ہے کہ اس سے مسلمانوں کے جذبات کو انگیخت ہوتی ہے اور ان کی غیرت وحمیت کو ٹھیس لگتی ہے۔ اس لئے انہوں نے طے کیا کہ آئندہ کبھی بھی اسلام اور مسلمانوں کو کھلے میدان میں دعوت مبارزت نہ دی جائے۔ بلکہ ہمیشہ اسے مخفی سازش اور پوشیدہ چالوں سے زیر کرنے کی کوشش کی جائے۔ دھوکے اور منافقت کی تکنیک کو اپنایا جائے۔ اسلام کے نام لیواؤں میں سے اسلام ہی کے نام پر اسلام کی بیخ کنی کرنے والے تیار کئے جائیں اور اس طرح بتدریج اسلام کے افکار پر چھاپہ مارا جائے اور اس کی حقیقی تعلیم کو مٹایا جائے اور بالآخر اس کے وجود کو ختم کر دیا جائے۔
اسی پلان (Plan) اور تخطیط کے تحت قادیانیت کا وجود عمل میں لایا گیا۔ چنانچہ پہلے پہل یہ ایک اسلامی فرقے کی حیثیت سے لوگوں کے سامنے نمودار ہوئی اور بڑی چابک دستی اور ہوشیاری سے اپنے زہریلے افکار و خیالات کا مسلمانوں میں پرچار کرنے لگی کہ عام لوگوں کو اس کی اصلیت کا علم نہ ہو سکا۔ پھر آہستہ آہستہ اور باقاعدہ ترتیب کے ساتھ کچھ اندرون خانہ باتوں کو سامنے لایا گیا اور جب دیکھا کہ چند ”بے وقوف“ اور کچھ ”غرض مند“ اچھی طرح جال میں پھنس گئے ہیں اور اب ان کے لئے فرار کا کوئی چارہ نہیں رہا، تو اچانک اپنے اصلی خدوخال کے ساتھ ظاہر ہو گئی۔ بہت سے لوگ جو اس تحریک کے ساتھ ناواقفیت کی بناء پر وابستگی اختیار کئے ہوئے تھے اور جن کے سینے میں ہنوز ایمان کی کوئی کرن باقی تھی۔ اس تحریک کو ایک مستقل مذہب کی صورت میں ڈھلتے دیکھ کر اپنی نادانی پر پریشانی کا اظہار کر کے چھوڑ گئے اور بہت سے ”جاہل، فریب خوردہ اور خود غرض“ دین اسلام اور محمد عربی ﷺ سے رشتہ توڑ کر قادیانیت اور متنبی ہندی سے رشتہ جوڑ بیٹھے۔
یہیں سے قادیانیوں نے اپنے ولی نعمت انگریز کے اشارے پر ان تمام مراحل کو اپنی تبلیغ اور پراپیگنڈے کی بنیاد بنالیا کہ پہلے پہل تو مرزا غلام احمد قادیانی کو مجدد کہیں۔ پھر مسیح اور رسول اللہ اور آخر میں تمام انبیاء سے افضل و برتر نبی، تاکہ عام مسلمانوں کو فریب کا شکار بنایا جاسکے اور اسلام کے حقائق کو مسخ کیا جاسکے۔ اس لئے ضرورت تھی کہ ان کے اصل عقائد لوگوں کے
١٤
سامنے رکھے جائیں، تاکہ ان پر ان کی حقیقت آشکارا ہو۔ چنانچہ ہم ان کے حقیقی معتقدات کو انہی کی کتابوں اور انہی کی عبارات میں پیش کر رہے ہیں۔ اس سے مسلمانوں کو اور بعض ناواقف قادیانیوں کو مرزائیت کی اصل صورت نظر آسکے گی اور انہیں علم ہو سکے گا کہ یہ لوگ کس قدر چالاک، منافق اور مفسد ہیں اور کس طرح یہ بے دریغ جھوٹ بول کر اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ”وباللہ التوفیق“
بلا استثناء تمام مسلمانوں کا یہ عقیدہ ہے کہ خداوند تعالیٰ ہر قسم کے عیوب وانفعالات بشریہ سے پاک اور منزہ ہے۔ نہ اسے کسی نے جنم دیا ہے اور نہ اس نے کسی کو جنا ہے اور نہ ہی اس کا کوئی ہمسر ہے اور نہ ہی کوئی اس کے مشابہ ہے۔ وہ تشبیہ وتجسیم سے مبرا ہے۔ اسی طرح ان کا عقیدہ ہے کہ محمد اکرمﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور رسول ہیں اور ان کے بعد کوئی نبی نہیں۔ رسالتیں ان پر ختم ہوگئیں۔ وحی ان پر منقطع ہوگئی۔ ان کی کتاب آخری کتاب، ان کی امت آخری امت اور ان کا دین آخری دین ہے اور جو کوئی بھی آپ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرے گا وہ کذاب اور مفتری ہوگا۔ کیونکہ خداوند تعالیٰ نے فرمایا ہے: ”مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيّٖنَ (الاحزاب:٤٠)“ ﴿محمد (ﷺ) تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں لیکن اللہ کے رسول اور آخری نبی ہیں۔﴾
اور باری تعالیٰ کا ارشاد ہے: ”اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِيْنًا (المائده:٣)“ ﴿آج میں نے مکمل کر دیا تمہارے لئے تمہارا دین (ناقص نہیں رکھا کہ اور کو بھیج کر اس کی تکمیل کروں) اور تم پر اپنی نعمتوں کو پورا کر دیا اور تمہارے دین اسلام کو پسند کر لیا (کہ اب کسی اور دین کی ضرورت نہیں رہی)۔﴾
اور ناطق وحی نے فرمایا کہ: ”مثلی ومثل الانبیاء کمثل قصر احسن بنیانہ ترک منہ موضع لبنۃ فطاف بہ النظار یتعجبون من حسن بنیانہ الا موضع تلک اللبنۃ ختم بی البنیان وختم بی الرسل وفی روایتہ فانا اللبنۃ وانا خاتم النبیین (مشکوۃ ص ٥١١)“ ﴿میری مثال اور انبیاء کی مثال ایسی ہے جیسی ایک محل کی کہ اسے بڑا خوبصورت بنایا گیا ہے۔ لیکن اس میں ایک اینٹ کی جگہ خالی رکھی گئی ہو۔ دیکھنے والے اسے دیکھیں اور اس کی خوبصورت و سجاوٹ کی توصیف و تعریف کریں، ماسوائے اس جگہ کے کہ جس میں ایک اینٹ لگنا باقی ہے۔ پس میرے ساتھ اس جگہ کو پر کر دیا گیا اور اب اس محل میں کوئی جگہ باقی نہیں رہی۔ بناء میرے ساتھ مکمل کر دی گئی اور رسولوں کی ترسیل مجھ پر ختم کر دی گئی۔﴾ اور
١٥
دوسری روایت میں فرمایا۔ میں ہی وہ محل کی آخری اینٹ ہوں اور میں ہی خاتم النبیین ہوں اور آپ کی امت آخری امت ہے۔
کیونکہ آپ نے فرمایا ہے: ”انا اخر الانبیاء وانتم اخر الامم (ابن ماجہ ص ٢٩٧، صحیح ابن خزیمہ، مستدرک حاکم) ”میں آخری نبی ہوں اور تم آخری امت ہو۔“
نیز فرمایا: ”لا نبی بعدی ولا امۃ بعدکم (مسند احمد ج ٢ ص ٣٩١ حاشیہ) ”میرے بعد کوئی نیا نبی نہیں اور تمہارے بعد کوئی نئی امت نہیں۔“
اور ایک روایت میں فرمایا: ”لا امۃ بعد امتی (معجم الکبیر ج ١٨ ص ٣٠٤، بیہقی) ”میری امت کے بعد کوئی امت نہیں۔“
اسی طرح امت محمدیہ علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کا عقیدہ ہے کہ جہاد قیامت تک باقی رہے گا اور یہ عبادات میں سے افضل ترین عبادت اور حسنات میں سے اعلیٰ ترین نیکی ہے۔ نیز ان کا عقیدہ ہے کہ دنیا کا کوئی شہر اور کوئی بستی رسول اللہ ﷺ کے مولد مکہ مکرمہ اور رسول اللہ ﷺ کے مدفن مدینہ منورہ کے ہم پلہ نہیں اور دنیا کی کوئی مسجد، مسجد حرام، مسجد نبوی اور مسجد اقصیٰ کے ہم پایہ نہیں اور نہ ان سے منزلت و مرتبہ میں بڑھ سکتی ہے۔ یہ تو ہیں مسلمانوں کے عقائد۔ لیکن قادیانیوں کے عقائد یہ ہیں۔
ذات خداوندی، مرزائی عقائد کی رو سے
اللہ تعالیٰ روزہ رکھتا ہے اور نماز پڑھتا ہے، سوتا ہے اور جاگتا ہے، لکھتا ہے اور دستخط کرتا ہے، یاد رکھتا ہے بھول جاتا ہے، مجامعت کرتا ہے اور جنتا ہے۔ اس کا تجزیہ ہو سکتا ہے، اسے تشبیہ دی جاسکتی ہے اور اسی کی تجسیم جائز ہے۔ (العیاذ باللہ)
چنانچہ قادیانی نبی مرزا غلام احمد قادیانی کہتا ہے۔ مجھ پر وحی نازل ہوئی۔ ”قال لی الله انی اصلی واصوم اشہر وانام “ مجھے اللہ نے کہا کہ میں نماز بھی پڑھتا ہوں اور روزے بھی رکھتا ہوں۔ جاگتا بھی ہوں اور سوتا بھی۔
(البشریٰ حصہ دوم ص ٧٩)
یہ ہے مرزائی عقیدہ اور قادیانی نبی کی وحی والہام، مگر وہ کلام حق جسے الہ الحق نے نبی برحق پر بذریعہ رسول امین نازل کیا وہ یوں ہے۔ ”الله لا الہ الا ہو الحی القیوم لا تاخذہ سنۃ ولا نوم لہ ما فی السموت وما فی الارض من ذا الذی یشفع عندہ
١٦
الا باذنه يعلم ما بين ايديهم وما خلفهم ولا يحيطون بشئ من علمه الا بما شاء وسع كرسيه السموت والارض ولا يئوده حفظهما وهو العلى العظيم (البقره: ٢٥٥، آية الكرسی) ”اللہ وہ ہے جس کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں وہ جو حی اور قیوم ہے۔ جو اونگھتا ہے اور نہ سوتا ہے۔ آسمان اور زمین جس کے قبضہ قدرت میں ہیں۔ جس کے سامنے اس کی اجازت کے بغیر کسی کو سفارش کرنے کا اختیار حاصل نہیں۔ جس کا علم ہر چیز پر محیط ہے اور جس کے علم کا کوئی دوسرا احاطہ نہیں کر سکتا۔“
اور رسول اکرم ﷺ فرماتے ہیں: ”ان الله لا ينام ولا ينبغى له ان ينام (مسلم، ابن ماجه، دارمی) ”نہ خدا سوتا ہے، اور نہ ہی سونا اس کے لئے روا ہے۔“
اسی طرح باری تعالیٰ اپنا وصف بیان فرماتے ہوئے کہتے ہیں: ”قد احاط بكل شئ علما (الطلاق: ١٢) ”میں ہر چیز کا علم رکھتا ہوں اور مجھ سے کوئی شے مخفی نہیں۔“
اور فرمایا: ”هو الله الذى لا اله الا هو عالم الغيب والشهادة (الحشر: ٢٢) ”اللہ وہی ہے جس کے علاوہ کوئی مالک و خالق نہیں جو پوشیدہ اور ظاہر دونوں قسم کی اشیاء کا علم رکھتا ہے۔“
اور فرشتوں کی زبانی کہا: ”وما نتنزل الا بامر ربك له ما بين ايدينا وما خلفنا وما بين ذلك وما كان ربك نسيا (مریم: ٦٤) ”کہ ہم تیرے رب کے علم کے بغیر آسمانوں سے نہیں اترتے کہ اس کے لئے ہے جو ہمارے آگے پیچھے اور اس کے درمیان ہے اور تیرا رب بھولنے والا نہیں۔“
اور بزبان موسیٰ علیہ السلام فرمایا: ”لا يضل ربى ولا ينسى (طه: ٥٢) ”نہ بہکتا ہے میرا رب اور نہ بھولتا ہے۔“
لیکن قادیانی اس کے برعکس یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ خدا غلطی بھی کرتا ہے اور صواب کو بھی پہنچتا ہے اور یہ بدیہی بات ہے کہ غلطی جہل اور نسیان کے نتیجہ میں ہوتی ہے اور اس کے معنی یہ ہوئے کہ پناہ بخدا باری تعالیٰ جاہل اور مبتلائے نسیان ہے۔
چنانچہ قادیانی کے اپنے عربی الفاظ ہیں: ”قال الله انى مع الرسول اجيب اخطی واصيب انى مع الرسول محيط“ خدا نے کہا ہے کہ میں رسول کی بات قبول کرتا ہوں، غلطی کرتا ہوں اور صواب کو پہنچتا ہوں۔ میں رسول کا احاطہ کئے ہوئے ہوں۔
(البشریٰ حصہ دوم ص ٧٩)
١٧
نیز گوہر افشاں ہے: ”ایک دفعہ میں نے کشف کی حالت میں خدا تعالیٰ کے سامنے بہت سے کاغذات رکھے تا کہ وہ ان کی تصدیق کردے اور ان پر اپنے دستخط ثبت کردے۔ مطلب یہ تھا کہ یہ سب باتیں جن کے ہونے کے لئے میں نے ارادہ کیا ہے ہو جائیں۔ سو خدا تعالیٰ نے سرخی کی سیاہی سے دستخط کر دیئے اور قلم کی نوک پر جو سرخی زیادہ تھی۔ اس کو جھاڑا اور معا جھاڑنے کے اس سرخی کے قطرے میرے کپڑوں اور عبداللہ (مرزا قادیانی کا ایک مرید) کے کپڑوں پر پڑے اور جب حالت کشف ختم ہوئی تو میں نے اپنے اور عبداللہ کے کپڑوں کو سرخی کے قطروں سے تر بہ تر دیکھا اور کوئی چیز ایسی ہمارے پاس موجود نہ تھی۔ جس سے اس سرخی کے گرنے کا کوئی احتمال ہوتا اور وہ وہی سرخی تھی جو خدا تعالیٰ نے اپنے قلم سے جھاڑی تھی۔ اب تک بعض کپڑے میاں عبداللہ کے پاس موجود ہیں جن پر وہ بہت سی سرخی پڑی تھی۔“
(تریاق القلوب ص ٣٣، خزائن ج ١٥ ص ١٩٧، حقیقت الوحی ص ٢٥٥، خزائن ج ٢٢ ص ٢٦٧)
ایک اور مقام پر بھی قادیانی امت کا آقا ومولیٰ خالق و متعال کو کہ وہ تشبیہ سے مبرا ہے۔ تیندوے سے مشابہت دیتے ہوئے ذات باری سے مذاق کرتا ہے: ”ہم تخیلی طور پر فرض کر سکتے ہیں کہ قیوم العالمین ایک ایسا وجود اعظم ہے جس کے بے شمار ہاتھ ، بے شمار پیر، اور ہر ایک عضو اس کثرت سے ہے کہ تعداد سے خارج اور لا انتہاء عرض وطول رکھتا ہے۔ تیندوے کی طرح اس وجود اعظم کی تاریں بھی ہیں، جو صفحہ ہستی کے تمام کناروں تک پھیل رہی ہیں اور کشش کا کام دے رہی ہیں۔“
(توضیح المرام ص ٧٥، خزائن ج ٣ ص ٩٠)
اور اس طرح خداوند کریم کے اس قول کی تکذیب کی جاتی ہے۔ ”لیس کمثله شئ وهو السمیع البصیر (الشوری:١١)“ ﴿نہیں ہے اس طرح کا سا کوئی اور وہی ہے سننے والا دیکھنے والا۔﴾
اور اس سے بھی بڑھ کر قادیانی، کتاب اللہ، سنت رسول اللہ اور تمام اسلامی ادیان کے بالکل برعکس یہ عقیدہ بھی رکھتے ہیں: ”اللہ مباشرت و مجامعت بھی کرتا ہے اور وہ اولاد بھی جنتا ہے۔“
اور اس سے عجیب تر کہ: ”خدا نے ان ہی کے نبی مرزائے غلام سے مباشرت و مجامعت کی اور پھر نتیجتاً پیدا بھی وہی ہوئے۔“ یعنی:
- ......١ مرزا قادیانی ہی سے جماع کیا گیا۔
- ......٢ اور وہی حاملہ ٹھہرے۔
١٨
- ٣...... اور پھر خود ہی اس حمل کے نتیجہ میں پیدا بھی ہوئے۔
اور ذرا قادیانیوں ہی کی زبان سے سنئے۔ قاضی یار محمد قادیانی رقم طراز ہے: ”حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے ایک موقع پر اپنی حالت یہ ظاہر فرمائی کہ کشف کی حالت آپ پر اس طرح طاری ہوئی کہ گویا آپ عورت ہیں اور اللہ نے رجولیت کی قوت کا اظہار فرمایا۔“
(اسلامی قربانی ص ١٢ نمبر ٣٤)
اور خود مرزائے قادیان کہتا ہے: ”مریم کی طرح عیسیٰ کی روح مجھ میں نفخ کی گئی اور استعارہ کے رنگ میں مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا اور آخر کئی مہینے کے بعد جو دس مہینے سے زیادہ نہیں، بذریعہ اس الہام کے مجھے مریم سے عیسیٰ بنادیا گیا۔ پس اس طور سے میں ابن مریم ٹھہرا۔“
(کشتی نوح ص ٤٧، خزائن ج ١٩ ص ٥٠)
اور پھر: ”اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں میرا نام ہی وہ مریم رکھا جو عیسیٰ کے ساتھ حاملہ ہوئی اور میں ہی اس فرمانِ باری کا مصداق ہوں۔ ”وَمَرْيَمَ ابْنَتَ عِمْرَانَ الَّتِي اَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيهِ مِنْ رُّوحِنَا“ میرے علاوہ کسی اور نے اس بات کا دعویٰ (ایسا احمقانہ دعویٰ اور کر بھی کون سکتا تھا؟) نہیں کیا۔“
(حقیقت الوحی ص ٣٣٧، خزائن ج ٢٢ ص ٣٥٠)
اور اسی بناء پر قادیانی یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ: ”غلام احمد خدا کے بیٹے ہیں۔ بلکہ عین خدا ہی ہیں۔“ چنانچہ متنبّی قادیان کہتے ہیں کہ مجھے خدا نے کہا ہے: ”انت من ماء نا وهم من فشل“ ”تو ہمارے پانی سے ہے اور وہ لوگ بزدلی سے۔
(انجام آتھم ص ٥٥، خزائن ج ١١ ص ٥٥)
اور اللہ نے مجھے یہ کہہ کر مخاطب کیا ہے: ”اسمع ولدی“ سن اے میرے بیٹے۔
(البشریٰ ج ١ ص ٤٩)
اور فرمایا: ”يا شمس يا قمر انت منى وانا منك“ اے سورج اے چاند! تو مجھ سے ہے میں تجھ سے۔
(حقیقت الوحی ص ٧٤، خزائن ج ٢٢ ص ٧٧)
اور خدا نے فرمایا کہ: ”میں تیری حفاظت کروں گا، خدا تیرے اندر اتر آیا تو مجھ میں اور تمام مخلوقات میں واسطہ ہے۔“
(کتاب البریہ ص ٨٤، ٨٥، خزائن ج ١٣ ص ١٠١، ١٠٢)
اور ایک مقام پر تو یہاں تک کہہ دیتا ہے: ”میں نے خواب میں دیکھا کہ میں خدا ہوں، میں نے یقین کر لیا کہ میں وہی ہوں۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٦٤، خزائن ج ٥ ص ٥٦٤)
١٩
اور: ”انت منی بمنزلۃ بروزی“ تو مجھ سے ایسا ہی ہے جیسا کہ میں ہی ظاہر ہو گیا۔ یعنی تیرا ظہور بعینہ میرا ظہور ہو گیا۔
(تذکرہ ص ٥٤٥)
یہ ہیں، خدائے ذوالجلال کے بارہ میں قادیانی عقائد۔
”سبحانہ وتعالیٰ عما یصفون (انعام: ١٠٠)“ ﴿اللہ ان صفات سے منزہ اور پاک ہے جن سے وہ متصف کرتے ہیں۔﴾
درآں حالیکہ باری تعالیٰ نے اپنے کلام میں صراحتاً ان عقائد باطلہ کی تردید کر دی ہے۔ ارشاد خداوندی ہے: ”قل ھو اللہ احد ٠ اللہ الصمد ٠ لم یلد ولم یولد ٠ ولم یکن لہ کفوا احد (اخلاص)“ ﴿تو کہہ دے کہ اللہ ایک ہے۔ اللہ بے نیاز ہے۔ نہ اس نے کسی کو جنا اور نہ اسے کسی نے جنا اور جس کے جوڑ کا کوئی نہیں ۔﴾
اور فرمایا: ”لقد کفر الذین قالوا ان اللہ ھو المسیح ابن مریم (المائدہ: ٧٢)“ ﴿تحقیق وہ لوگ کافر ہوئے جنہوں نے مسیح ابن مریم کو خدا کہا۔﴾
اور فرمایا: ”یا اھل الکتاب لا تغلوا فی دینکم ولا تقولوا علی اللہ الا الحق ٠ انما المسیح عیسٰی ابن مریم رسول اللہ وکلمتہ القھا الی مریم وروح منہ فامنوا باللہ ورسلہ ولا تقولوا ثلٰثہ انتھوا خیرا لکم انما اللہ الہ واحد سبحنہ ان یکون لہ ولد لہ ما فی السمٰوت وما فی الارض وکفٰی باللہ وکیلا (نساء: ١٧١)“ ﴿اے کتاب والو! اپنے دین میں مبالغہ نہ کرو اور اللہ کے بارے میں سچی بات کے علاوہ اور کچھ مت کہو۔ نہیں ہیں مسیح ابن مریم مگر اللہ کے رسول کے اور اس کے کلام ، جس کو مریم کی طرف ڈالا اور روح اس کے ہاں کی، سو اللہ کو مانو اور اس کے رسولوں کو اور یہ نہ کہو کہ خدا تین ہیں ، اس بات کو کہنے سے رک جاؤ اس میں تمہاری بہتری ہے۔ خدا صرف ایک ہی ہے اس کو لائق نہیں کہ اس کی اولاد ہو۔ زمینوں اور آسمانوں میں جو کچھ ہے۔ اسی کا ہے اور کافی ہے اللہ کارساز۔﴾
نیز ارشاد فرمایا: ”قالت الیھود عزیر ابن اللہ وقالت النصاری المسیح ابن اللہ ذلک قولھم بافواھھم یضاھئون قول الذین کفروا من قبل قاتلھم اللہ انی یؤفکون (التوبہ: ٣٠)“ ﴿یہودیوں نے کہا کہ عزیر اللہ کا بیٹا ہے اور نصاریٰ نے کہا کہ مسیح
٢٠
اللہ کا بیٹا ہے۔ ان کے اپنے منہ کی باتیں ہیں۔ (حقیقت سے جن کا کوئی تعلق نہیں) جیسے پہلے کافروں کی ریس میں کہہ رہے ہیں۔ خدا کی مار ہو ان پر۔ یہ کہاں بھٹکے پھر رہے ہیں۔﴾ ہم بھی قادیانیوں کو ان عقائد پر اس کے سوا کچھ نہیں کہتے: ”قاتلہم اللہ انی یؤفکون“
ختم نبوت
دوسرا بنیادی عقیدہ جو مسلمانوں سے انہیں نمایاں طور پر الگ امت قرار دیتا ہے۔ وہ عقیدہ ختم نبوت ہے۔ مرزائی یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ: نبوت محمد عربی علیہ الصلوٰۃ والسلام پر ختم نہیں ہوئی۔ بلکہ آپ کے بعد بھی جاری ہے۔ چنانچہ مرزا غلام احمد قادیانی کا بیٹا اور خلیفہ ثانی میاں محمود احمد رقمطراز ہے: ”ہمارا یہ بھی یقین ہے کہ اس امت کی اصلاح اور درستی کے لئے ہر ضرورت کے موقع پر اللہ تعالیٰ اپنے انبیاء بھیجتا رہے گا۔“
(الفضل قادیان مورخہ ١٢ مئی ١٩٢٥ء)
اور: ”انہوں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ خدا کے خزانے ختم ہو گئے ۔ ان کا یہ سمجھنا خدا تعالیٰ کی قدر کو ہی نہ سمجھنے کی وجہ سے ہے۔ ورنہ ایک نبی تو کیا میں کہتا ہوں ہزار نبی ہوں گے۔“
(الفضل قادیان مورخہ ١٢ مئی ١٩٢٥ء)
نیز اس سے ایک مرتبہ سوال کیا گیا کہ کیا آئندہ بھی نبی آتے رہیں گے تو جواب میں کہا: ”ہاں قیامت تک رسول آتے رہیں گے ۔ اگر یہ خیال ہے کہ دنیا میں خرابی پیدا ہوتی رہے گی تو پھر یہ بھی ماننا پڑے گا کہ رسول بھی آتے رہیں گے۔“
(انوار خلافت ص ٦٢ ، مندرجہ الفضل قادیان مورخہ ٢٧ فروری ١٩٢٧ء)
حالانکہ اس کج فہم کو یہ بھی علم نہ ہو سکا کہ خود حضور اکرمﷺ نے تمام بیماریوں کی نشاندہی فرما کر ان کا علاج تجویز کر دیا ہے۔ اس لئے اب کسی نئے نبی کی ضرورت نہیں کہ وہ آئے اور امراض کی تشخیص و علاج کرے۔ آپ کے اس فرمان گرامی کا بھی یہی معنی ہے۔ ”کانت بنوا اسرائیل تسوسہم الانبیاء کلما ہلک نبی خلفہ نبی آخر وانہ لا نبی بعدی وسیکون الخلفاء فیکثرون (بخاری ج ١ ص ٤٩١، مسلم ج ٢ ص ١٢٦، ابن ماجہ، احمد) ”کہ بنی اسرائیل کی نگہداشت انبیاء کی ذمہ داری تھی۔ جب بھی ایک نبی رخصت ہوتا، دوسرا اس کی جگہ لے لیتا۔ لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ البتہ میرے نائبین کثرت سے ہوں گے۔﴾
٢ ہوں گے۔﴾
٢١
یعنی یہ ذمہ داری کہ ہر دور میں اسلام کی نشر واشاعت اور دین حنیف کی سربلندی کے لئے کام کیا جائے اور قوم کو ان غلطیوں پر ٹوکا جائے۔ جن پر سرور کائناتﷺ نے نکیر فرمائی ہے۔ حضور اکرمﷺ کے نائبین پر عائد ہوتی ہے اور آپ کے حقیقی نائبین علماء ہیں۔ جیسا کہ بخاری شریف میں ہے۔ آپ نے فرمایا: ”ان العلماء ورثته الانبياء (بخاری، ترمذی ج٢ ص٩٧)“ ﴿علماء انبیاء کے وارث ہیں۔﴾ اور رب کریم نے بھی کلام حکیم میں اسی بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے: ”فلولا نفر من كل فرقة منهم ليتفقهوا في الدين ولينذروا قومهم اذ رجعوا اليهم لعلهم يحذرون (توبہ:١٢٢)“ ﴿اور کیوں نہ نکلے ہر فرقہ میں سے ان کا ایک حصہ، تا سمجھ پیدا کریں دین میں اور تا خبر پہنچا دیں اپنی قوم کو جب پھر پاویں ان کی طرف شاید وہ بچتے رہیں۔﴾
(ترجمہ شاہ عبدالقادر)
اور حقیقت یہ ہے کہ مرزائیوں نے اس نظریے کو کہ: ”جب تک فساد باقی ہے نبی کی ضرورت باقی ہے۔“
صرف مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت کے اثبات کے لئے فروغ دیا ہے۔ وگرنہ وہ کون سا فساد ہے جس کی مرزا غلام احمد قادیانی نے اصلاح کی ہے۔ جب کہ وہ خود سرچشمہ فساد اور منبع شر ہے اور یہ نہیں کہ اس عقیدہ کی اختراع مرزائیوں کے سر ہے۔ خود مرزا قادیانی کا یہ نظریہ نہ تھا۔ بلکہ وہ بھی یہی کہتا ہے کہ: ”انعام خداوندی ہے کہ انبیاء آتے رہیں اور ان کا سلسلہ منقطع نہ ہو اور یہ اللہ کا قانون ہے جسے تم توڑ نہیں سکتے۔“
(ملخص از لیکچر سیالکوٹ ص٣٢، خزائن ج٢٠ ص٢٢٧)
اور پھر جب باب نبوت (اگر چہ نبوت کاذبہ ہی سہی) کھل گیا تو اس میں سب سے پہلے داخل ہونے والا خود مرزا غلام احمد قادیانی ہی تھا۔ اسی لئے مرزائی یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی نہ صرف نبی اللہ اور رسول اللہ ہے بلکہ تمام انبیاء ومرسلین سے افضل واعلیٰ بھی ہے اور فخر الاولین والآخرین کے لقب سے ملقب بھی ہے۔ چنانچہ خود قادیانی اپنے اوصاف بیان کرتے ہوئے لکھتا ہے: ”اور میں اس خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اس نے مجھے بھیجا ہے اور اسی نے میرا نام نبی رکھا ہے اور اسی نے مجھے مسیح موعود کے نام سے پکارا ہے اور اسی نے میری تصدیق کے لئے بڑے بڑے نشان ظاہر کئے جو تین لاکھ تک پہنچتے ہیں۔“
(حقیقت الوحی ص٦٨، خزائن ج٢٢ ص٥٠٣)
٢٢
نیز: ”سچا خدا وہی ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا اور خدا تعالیٰ بہر حال جب تک طاعون دنیا میں رہے گا، گو ستر سال تک رہے۔ قادیان کو اس خوفناک تباہی سے محفوظ رکھے گا ١؎ کیونکہ یہ اس کے رسول کا تخت گاہ ہے اور یہ تمام امتوں کے لئے نشان ہے۔“
(دافع البلاء ص ١٠، ١١، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٠)
”اور خدا تعالیٰ نے اس بات کے ثابت کرنے کے لئے کہ میں اس کی طرف سے ہوں۔ اس قدر نشان دکھلائے ہیں کہ وہ ہزار نبی پر بھی تقسیم کئے جائیں تو ان کی بھی ان سے نبوت ثابت ہو سکتی ہے۔ لیکن پھر بھی جو لوگ انسانوں میں سے شیطان ہیں وہ نہیں مانتے۔“
(چشمہ معرفت ص٣١٧، خزائن ج٢٣ ص٣٣٢)
اور مرزائی جریدے ”الفضل“ میں تو صاف طور پر لکھ دیا گیا: ”حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) من حیث النبوت ان ہی معنوں میں نبی اللہ اور رسول اللہ تھے۔ جن معنوں میں آیات سے دیگر انبیاء سابقین مراد لئے جاتے ہیں۔“
(اخبار الفضل قادیان مورخہ ١٣ ستمبر ١٩١٤ء)
اور اسی اخبار میں مسلمانوں کے نام ایک اپیل بھی شائع ہوئی: ”اے مسلمان کہلانے والو! اگر تم واقعی اسلام کا بول بالا چاہتے اور باقی دنیا کو اپنی طرف بلاتے ہو تو پہلے خود سچے اسلام کی طرف آجاؤ جو مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) میں ہو کر ملتا ہے۔ اسی کے طفیل آج بروتقویٰ کی راہیں کھلتی ہیں۔ اسی کی پیروی سے انسان فلاح ونجات کی منزل مقصود پر پہنچ سکتا ہے۔ وہ (غلام) وہی فخر اولین وآخرین ہے جو آج سے تیرہ سو برس پہلے رحمۃ للعالمین بن کر آیا تھا۔“ نعوذ باللہ من ذالك!
(اخبار الفضل قادیان مورخہ ٢٦ ستمبر ١٩١٧ء)
١؎ قادیان کو طاعون نے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ باوجودیکہ ملک کے دوسرے حصے اس وباء سے محفوظ رہے اور اس طرح رب قدوس نے قادیان کی خانہ ساز نبوت کے تار و پود بکھیر کر رکھ دیئے۔ چنانچہ خود غلام احمد قادیانی اپنے داماد کے نام اس خط میں اس بات کا اعتراف واقرار کرتا ہے کہ اس جگہ طاعون سخت تیزی پر ہے۔ ایک طرف انسان بخار میں مبتلا ہوتا ہے اور صرف چند گھنٹوں میں مر جاتا ہے۔ (مکتوبات احمدیہ ج٥ ص١١٢، نمبر چہارم) اور پھر طاعون صرف قادیان تک محدود ہی نہ رہی۔ بلکہ خود مرزا قادیانی کا گھر بھی اس سے نہ بچ سکا۔ چنانچہ محمد علی کے نام لکھتا ہے۔ ”بڑی غوثاں کو تپ ہو گیا تھا۔ اس کو گھر سے نکال دیا ہے اور ماسٹر محمد دین کو تپ ہو گیا اور گلٹی بھی نکل آئی۔ اس کو بھی باہر نکال دیا۔ آج ہمارے گھر میں ایک مہمان عورت کو جو دہلی سے آئی تھی، بخار ہو گیا۔“
(مکتوبات احمدیہ ج٥ ص١١٥ نمبر چہارم)
٢٣
اور مرزا غلام احمد قادیانی کا بڑا فرزند اور مرزائیوں کا راہنما مرزا بشیر احمد (کلمۃ الفصل) میں لکھتا ہے: ”غرضیکہ یہ ثابت شدہ امر ہے کہ مسیح موعود (غلام قادیان) اللہ تعالیٰ کا ایک رسول اور نبی تھا جس کو نبی کریمﷺ نے نبی اللہ کے نام سے پکارا اور وہی نبی تھا جسے خود اللہ تعالیٰ اپنی وحی میں ’یا ایھا النبی‘ کے الفاظ سے مخاطب کیا ۔“
(کلمۃ الفصل قادیان مندرجہ رسالہ ریویو آف ریلیجنز ج ١٤ ص ١١٤)
اور میں نے ایک مستقل مقالہ میں مرزائی تحریروں سے یہ ثابت کیا ہے کہ مرزائیوں کے نزدیک مرزا غلام احمد قادیانی تمام انبیاء ورسل بشمول سرور کونینﷺ سے افضل واعلیٰ ہے۔ یہاں ہم صرف دوحوالوں پر اکتفا کرتے ہیں۔ متنبی قادیان بنفسہ لکھتا ہے: ”واتانی مالم یؤت احد من العالمين“ کہ مجھ کو وہ چیز دی گئی ہے کہ دنیا و آخرت میں کسی ایک شخص کو بھی نہیں دی گئی۔
(ضمیمہ حقیقت الوحی ص ٨٧، خزائن ج ٢٢ ص ٥٧١)
اور:
من بعرفان نہ کمترم زکسے
آنچہ داد است ہر نبی را جام
داد آں جام را مرا بتمام
کم نیم زاں ہمہ بروئے یقین
ہر کہ گوید دروغ ہست لعین
(درثمین فارسی ص ١٧٢، نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)
نزول جبرائیل علیہ السلام
وہ عقائد جو مرزائیوں کو مسلمانوں سے الگ اور جدا کرتے ہیں۔ ان میں سے تیسرا عقیدہ مرزا غلام احمد قادیانی پر جبریل امین علیہ السلام کے نزول کا بھی ہے۔ کیونکہ تمام مسلمانوں کا بالاتفاق یہ عقیدہ ہے کہ سرور کائنات علیہ السلام کے ملاء اعلیٰ کے پاس منتقل ہو جانے کے بعد جبرائیل امین علیہ السلام کسی کے لئے وحی لے کر نازل نہیں ہوئے اور نہ ہوں گے۔ ادھر مرزائیوں کا دوسرا خلیفہ اور مرزا غلام احمد قادیانی کا فرزند مرزا محمود کہتا ہے: ”میری عمر جب نو یا دس برس کی تھی۔ میں اور ایک اور طالب علم ہمارے گھر میں کھیل رہے تھے۔ وہیں ایک الماری میں ایک کتاب پڑی تھی جس پر نیلا جزدان تھا۔ وہ ہمارے دادا صاحب کے وقت کی تھی۔ نئے نئے ہم
٢٤
پڑھنے لگے تھے۔ اس کتاب کو جو کھولا تو اس میں لکھا ہوا تھا کہ اب جبریل نزول نہیں کرتا۔ میں نے کہا۔ یہ غلط ہے، میرے ابا پر تو نازل ہوتا ہے۔ مگر اس لڑکے نے کہا کہ جبریل نہیں آتا۔ کیونکہ اس کتاب میں لکھا ہے۔ ہم میں بحث ہو گئی۔ آخر ہم دونوں مرزا قادیانی کے پاس گئے اور دونوں نے اپنا اپنا بیان پیش کیا۔ آپ نے فرمایا کتاب میں غلط لکھا ہے۔ جبریل اب بھی آتا ہے۔“
(الفضل قادیان مورخہ ١٠؍ اپریل ١٩٢٦ء)
اور خود مرزا غلام احمد قادیانی رقمطراز ہے: ”آمد نزد من جبریل علیہ السلام و مرا برگزید و گردش داد انگشت خود را و اشارہ کرد خدا ترا از دشمنان نگہ خواہد داشت۔“
(مواہب الرحمٰن ص ٦٣، خزائن ج ١٩ ص ٢٨٢)
”یعنی میرے پاس جبرائیل آیا اور اس نے مجھے چن لیا اور اپنی انگلی کو گردش دی اور یہ اشارہ کیا کہ خدا کا وعدہ آ گیا۔ پس مبارک وہ جو اس کو پاوے اور دیکھے۔“
(حقیقت الوحی ص ١٠٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٦)
اور مرزائی صرف یہی عقیدہ نہیں رکھتے کہ جبرائیل امین علیہ السلام، مرزا غلام احمد قادیانی پر نازل ہوتے تھے۔ بلکہ ان کا نظریہ یہ بھی ہے کہ وہ وحی یا کلام ربانی لے کر نازل ہوتے تھے۔ بالکل اسی طرح کی وحی اور اسی طرح کا کلام جس طرح کا سرور دوعالم ﷺ پر نازل ہوا کرتا تھا۔ اس لئے غلام قادیان پر نازل شدہ وحی کو ماننا بھی اسی طرح ضروری اور لازمی ہے۔ جس طرح قرآن حکیم ماننا ضروری تھا۔ چنانچہ مرزائی قاضی یوسف قادیانی لکھتا ہے: ”حضرت مسیح موعود علیہ السلام (مرزا غلام احمد قادیانی) اپنی وحی، اپنی جماعت کو سنانے پر مامور ہیں۔ جماعت احمدیہ کو اس وحی اللہ پر ایمان لانا اور اس پر عمل کرنا فرض ہے۔ کیونکہ وحی اللہ اسی غرض کے واسطے سنائی جاتی ہے۔ ورنہ اس کا سنانا اور پہنچانا ہی بے سود اور لغو فعل ہوگا۔ جب کہ اس پر ایمان لانا اور اس پر عمل کرنا مقصود بالذات نہ ہو۔ یہ شان بھی صرف انبیاء کو حاصل ہے کہ ان کی وحی پر ایمان لایا جاوے۔ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو بھی قرآن شریف میں یہی حکم ملا اور ان ہی الفاظ میں ملا اور بعدہ حضرت احمد (مرزا غلام احمد قادیانی) علیہ الصلوٰۃ والسلام کو ملا۔ پس یہ امر بھی آپ (مرزا غلام احمد قادیانی) کی نبوت کی دلیل ہے۔“
(النبوۃ فی الاسلام ص ٢٨)
اور خود غلام قادیان کہتا ہے: ”میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں۔ میں ان الہامات پر اسی طرح ایمان لاتا ہوں۔ جیسا کہ قرآن شریف پر اور خدا کی دوسری کتابوں پر اور جس طرح میں
٢٥
قرآن شریف کو یقینی اور قطعی طور پر خدا کا کلام جانتا ہوں۔ اسی طرح اس کلام کو بھی جو میرے پر نازل ہوتا ہے۔ خدا کا کلام یقین کرتا ہوں۔"
(حقیقت الوحی ص ٢١١، خزائن ج ٢٢ ص ٢٢٠)
نیز: ”مجھے اپنی وحی پر ویسا ہی ایمان ہے۔ جیسا کہ تورات اور انجیل اور قرآن حکیم پر۔“
(تبلیغ رسالت ج ٨ ص ٦٣، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ١٥٤، خزائن ج ٢٢ ص ٤٥٤)
اور مرزائیوں کا نامور مبلغ جلال الدین شمس مرزا غلام احمد قادیانی کے دعاوی و اقاویل کا ذکر کرنے کے بعد لکھتا ہے: ”ان حوالہ جات سے صاف ظاہر ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے الہامات کو کلام الہی قرار دیتے ہیں اور ان کا مرتبہ بلحاظ کلام الہی ہونے کے ایسا ہی ہے جیسا کہ قرآن مجید تورات اور انجیل کا۔"
(منکرین صداقت کا انجام ص ٣٩)
اور چونکہ مرزائی مرزا غلام احمد قادیانی کے ہفوات کو کلام الہی کا درجہ دیتے اور قرآن حکیم کے مماثل قرار دیتے ہیں۔ اسی وجہ سے انہوں نے اس نظریہ کو عقائد اساسی میں داخل کر لیا ہے کہ ہر وہ حدیث رسول ہاشمی علیہ السلام جو مرزا غلام احمد قادیانی کے مخالف ہو مردود اور غیر صحیح ہے۔ اگر چہ وہ بالذات صحیح ہی کیوں نہ ہو اور اس کے برعکس اگر کسی موضوع حدیث سے بھی مرزا غلام احمد قادیانی کے کسی قول کی تصدیق ہوتی ہو تو وہ حدیث صحیح اور مقبول قرار پائے گی۔ چنانچہ مرزا محمود گوہر افشاں ہے: ”مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) سے جو باتیں ہم نے سنی ہیں وہ حدیث روایت سے معتبر ہیں۔ کیونکہ حدیث ہم نے آنحضرت کے منہ سے نہیں سنی۔ پس سچی حدیث اور مسیح موعود کا قول مخالف نہیں ہو سکتے۔"
(اخبار الفضل قادیان مورخہ ٢٩؍اپریل ١٩١٥ء)
اور انہی کے (اخبار الفضل مورخہ ٢٩؍اپریل ١٩١٥ء) کے شمارہ میں یہ بھی شائع ہوا کہ: ”ایک شخص نے نہایت گستاخی اور بے ادبی سے لکھا ہے کہ احادیث، جنہیں ہم نے اپنے محدود ناقص عمل سے صحیح سمجھا ہے۔ ان کے مقابلہ میں مسیح موعود (غلام قادیانی) کی وحی رد کر دینے کے قابل ہے۔ اس نادان نے اتنا بھی نہیں سوچا کہ اس طرح تو اسے مسیح موعود کے دعاوی صادقہ سے بھی انکار کرنا پڑے گا۔ وہ احادیث جن سے آپ کا دعویٰ ثابت ہوتا ہے۔ یہ سب محدثین کے نزدیک ضعیف ہیں۔ مگر خدا کے مامور نے جب اپنے دعویٰ کا صدق الہامات کے ذریعے، پیش گوئیوں اور دیگر نشانات سے ثابت کر دیا تو پھر ہم نے آپ کو عدل و حکم مان لیا اور جس حدیث کو آپ (مرزا غلام احمد قادیانی) نے صحیح کہا وہ ہم نے صحیح سمجھی اور جسے آپ نے متشابہ قرار دیا۔ اسے ہم نے حکم کے تابع کر لیا اور جس حدیث کے بارے میں فرمایا یہ چھوڑ دینے کے قابل ہے۔ وہ چھوڑ دی، کیونکہ حدیث تو راویوں کے ذریعے ہم تک پہنچی اور ہم کو معلوم نہیں آنحضرت ﷺ نے
٢٦
درحقیقت کیا فرمایا۔ مگر خدا کا زندہ رسول (غلام قادیانی) جو ہم میں موجود تھا۔ اس نے خدا سے یقینی علم پا کر امر حق پر اطلاع دی اور جب وہ اتباع کامل نبوی سے نبی ہوا تو ہم نے مان لیا کہ آپ کے قول وفعل کے خلاف اگر کوئی حدیث بیان کی جائے تو ہم اسے قابل تاویل سمجھیں گے۔ اس لئے کہ جو باتیں ہم نے مسیح موعود (مرزا قادیانی) سے سنیں وہ اس راوی کی روایت سے زیادہ معتبر ہیں جسے حدیث نبی بتایا جاتا ہے۔“
(اخبار الفضل قادیان مورخہ ٢٩؍اپریل ١٩١٥ء)
اور مرزا قادیانی کے دوسرے خلیفہ اور غلام احمد قادیانی کے فرزند مرزا محمود نے تو قادیان میں خطبہ جمعہ دیتے ہوئے واشگاف الفاظ میں یہاں تک کہہ دیا: ”پھر یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ جب کوئی نبی آجائے تو پہلے نبی کا علم بھی اس کے ذریعہ ملتا ہے۔ یوں اپنے طور پر نہیں مل سکتا اور ہر بعد میں آنے والا نبی پہلے نبی کے لئے بمنزلہ سوراخ کے ہوتا ہے۔ پہلے نبی کے آگے دیوار کھینچ دی جاتی ہے اور کچھ نظر نہیں آتا۔ سوائے آنے والے نبی کے ذریعہ دیکھنے کے، یہی وجہ ہے کہ اب کوئی قرآن نہیں۔ سوائے اس قرآن کے جو حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے پیش کیا اور کوئی حدیث نہیں سوائے اس حدیث کے جو حضرت مسیح موعود کی روشنی میں نظر آئے اور کوئی نبی نہیں سوائے اس کے جو حضرت مسیح موعود کی روشنی میں دکھائی دے۔ اسی طرح رسول کریم ﷺ کا وجود اسی ذریعہ سے نظر آئے گا کہ حضرت مسیح موعود کی روشنی میں دیکھا جائے۔ اگر کوئی چاہے کہ آپ سے علیحدہ ہو کر کچھ دیکھ سکے تو اسے کچھ نظر نہ آئے گا۔ ایسی صورت میں اگر کوئی قرآن کو بھی دیکھے گا تو وہ اس کے لئے ”یھدی من یشاء“ والا قرآن نہ ہوگا۔ بلکہ ”یضل من یشاء“ والا قرآن ہوگا۔ اسی طرح اگر حدیثوں کو اپنے طور پر پڑھیں گے تو وہ مداری کے پٹارے سے زیادہ وقعت نہیں رکھیں گی۔ حضرت مسیح موعود فرمایا کرتے تھے۔ حدیثوں کی کتاب کی مثال تو مداری کے پٹارے کی ہے۔ جس طرح مداری جو چاہتا ہے۔ اس میں سے نکال لیتا ہے تو اس طرح ان سے جو چاہو نکال لو۔“
(خطبہ جمعہ مرزا محمود مندرجہ الفضل قادیان مورخہ ١٥؍ جولائی ١٩٢٤ء)
قرآن مجید اور امت مستقلہ
ان مرزائی عقائد کے بیان سے مقصود اس بات کو آشکار کرنا ہے کہ ان کا اور ان کے عقائد کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ کیونکہ بہت سے جدید تعلیم یافتہ حضرات اور بے خبر لوگ حتیٰ کہ بعض مرزائی بھی اس بات سے لاعلم ہیں کہ مرزائی معتقدات اور اسلامی عقائد میں زمین و آسمان کا فرق ہے اور ان کے درمیان کوئی قدر مشترک نہیں۔ بہرحال اسلامی عقیدہ یہ ہے کہ دین اسلام ایک کامل اور مکمل ضابطہ حیات ہے اور قرآن پاک اس ضابطہ حیات اور دین کا اکمل مجموعہ ہے اور
٢٧
جس طرح اسلام کے بعد کسی اور دین کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ اسی طرح قرآن مجید کے بعد کسی اور کتاب کی حاجت نہیں۔ یہ وہ آخری کتاب ہدایت ہے جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے آسمانوں سے بنی نوع انسان کے لئے نازل کی ہے۔
اس کے برعکس مرزائی یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ غلام احمد قادیانی پر اسی طرح کتاب نازل ہوئی۔ جس طرح اولی العزم رسولوں پر نازل ہوتی رہی۔ بلکہ جو کچھ غلام احمد قادیانی پر نازل ہوا وہ اکثر انبیاء پر نازل شدہ کتب اور صحیفوں سے زیادہ ہے اور ساتھ ہی وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اس کتاب کی تلاوت اسی طرح ضروری ہے جیسے پہلے آسمانی کتابوں کی تلاوت لازمی اور ضروری تھی اور جس طرح کہ تمام سماوی کتب کے مخصوص نام ہیں۔ مثلاً تورات، زبور، انجیل اور قرآن مجید۔ اسی طرح غلام قادیان پر اترنے والی کتاب کا بھی ایک مخصوص نام ہے اور وہ کتاب مبین، اور قابل ذکر بات یہ ہے کہ قرآن قادیانی قرآن مجید کی طرح ہی آیات پر مشتمل ہے اور اس کے بیس پارے یا اجزاء ہیں۔ چنانچہ مرزائی پرچہ الفضل اسی بارہ میں رقمطراز ہے کہ: ”ان (مرزا غلام احمد قادیانی) کا نزول الیہ من ربہ بہ برکت حضرت محمد ﷺ وقرآن شریف اس قدر زیادہ ہے کہ کسی نبی کے مانزل الیہ سے کم نہیں بلکہ اکثروں سے زیادہ ہوگا۔“
(الفضل قادیان مورخہ ١٥؍فروری ١٩١٩ء)
اور قاضی محمد یوسف قادیانی لکھتا ہے: ”خدا تعالیٰ نے حضرت احمد علیہ السلام (مرزا قادیانی) کے سب مجموعی الہامات کو الکتاب المبین فرمایا ہے اور جدا جدا الہامات کو آیات سے موسوم کیا ہے۔ حضرت مرزا صاحب کو یہ الہام متعدد دفعہ ہوا ہے۔ پس آپ کی وحی بھی جدا جدا آیت کہلاسکتی ہے۔ جب کہ خدا تعالیٰ نے ان کو ایسا نام دیا ہے اور مجموعہ الہامات کو الکتاب المبین کہہ سکتے ہیں۔ پس جس شخص یا اشخاص کے نزدیک نبی اور رسول کے واسطے کتاب لانا ضروری شرط ہے۔ خواہ وہ کتاب شریعت کاملہ ہو یا کتاب المبشرات والمنذرات ہو تو ان کو واضح ہو کہ ان کی اس شرط کو بھی خدا نے پورا کر دیا ہے اور حضرت (مرزا قادیانی) صاحب کے مجموعہ الہامات کو جو مبشرات اور منذرات ہیں۔ الکتاب المبین کے نام سے موسوم کیا ہے۔ پس آپ اس پہلو سے بھی نبی ثابت ہیں۔ ’ولو کرہ الکافرون‘ (اگرچہ کافر اسے ناپسند ہی کریں)۔“
(النبوۃ فی الالہام ص ٤٣، ٤٤)
اور خلیفہ قادیانی مرزا محمود نے عید کا خطبہ دیتے ہوئے کہا: ”حقیقی عید ہمارے لئے ہے۔ مگر ضرورت اس بات کی ہے کہ اس الٰہی کلام کو پڑھا جائے اور سمجھا جائے جو حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) پر اترا۔ بہت کم لوگ ہیں جو اس کلام کو پڑھتے اور اس کا دودھ پیتے ہیں۔ وہ سرور
٢٨
اور لذت جو حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے الہاموں کو پڑھنے سے حاصل ہوتی ہے کسی اور کتاب کو پڑھنے سے نہیں ہو سکتی۔ جو ان الہاموں کو پڑھے گا وہ کبھی مایوسی اور ناامیدی میں نہ گرے گا۔ مگر جو پڑھتا نہیں یا پڑھ کر بھول جاتا ہے۔ خطرہ ہے کہ اس کا یقین اور امید جاتی رہے۔ وہ مصیبتوں اور تکلیفوں سے گھبرا جائے گا۔ کیونکہ وہ سرچشمہ امید سے دور ہو گیا۔ پس حقیقی عید سے فائدہ اٹھانے کے لئے ضروری ہے کہ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے الہامات پڑھے۔‘‘
(اخبار الفضل قادیان مورخہ ٣؍ اپریل ١٩٢٨ء)
اور خود مرزا قادیانی اپنی وحی کا ذکر کرتے ہوئے کہتا ہے: ”اور خدا کا کلام اس قدر مجھ پر نازل ہوا ہے کہ اگر وہ تمام لکھا جائے تو بیس جزو سے کم نہیں ہوگا۔“
(حقیقت الوحی ص٣٩١، خزائن ج٢٢ ص٤٠٧)
اور اسی بناء پر مرزائی یہ عقیدہ بھی رکھتے ہیں کہ ان کا ایک الگ اور مستقل دین ہے اور ان کی شریعت، شریعت مستقلہ ہے۔ نیز غلام احمد قادیانی کے ساتھی صحابہ کی مانند ہیں اور اس کی امت ایک نئی امت ہے۔ چنانچہ مرزائی اخبار الفضل نے ایک بڑا مفصل مقالہ شائع کیا۔ جس میں تھا کہ: ”اللہ تعالیٰ نے اس آخری صداقت کو قادیان کے ویرانہ میں نمودار کیا اور حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کو جو فارسی النسل ہیں۔ اس اہم کام کے لئے منتخب فرمایا اور فرمایا میں تیرے نام کو دنیا کے کناروں تک پہنچا دوں گا اور حملہ آوروں سے تیری تائید کروں گا اور جو دین تو لے کر آیا ہے اسے تمام دیگر ادیان پر بذریعہ دلائل وبراہین غالب کروں گا اور اس کا غلبہ دنیا کے آخر تک قائم رکھوں گا۔“
(اخبار الفضل قادیان مورخہ ٣؍ فروری ١٩٣٥ء)
اور اسی اخبار نے شائع کیا: ”پس ہر احمدی کو جس نے احمدیت کی حالت میں حضور (مرزا قادیانی) کو دیکھا یا حضور نے اسے دیکھا، صحابی کہا جائے۔“
(اخبار الفضل قادیان مورخہ ١٣؍ ستمبر ١٩٣٢ء)
اسی طرح خود مرزا قادیانی نے اپنے بارہ میں لکھا کہ: ”جو میری جماعت میں داخل ہوا وہ درحقیقت سید المرسلین کے صحابہ میں داخل ہوا ہے۔“
(خطبہ الہامیہ ص١٧١، خزائن ج١٦ ص٢٥٨)
اس پر مرزائی اخبار الفضل حاشیہ آرائی کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ: ”مرزا غلام احمد قادیانی کی جماعت حقیقت میں صحابہ کی جماعت ہے۔ جس طرح صحابہ حضور کے فیوض سے متمتع ہوتے تھے۔ اسی طرح مرزا غلام احمد قادیانی کی جماعت ان کے فیوض سے متمتع ہوتی ہے۔“
(الفضل قادیان مورخہ یکم جنوری ١٩١٣ء)
٢٩*
اور مرزا محمود احمد خلیفہ قادیانی نے اپنی جماعت کو ایسے افراد کی ملاقات پر انگیخت کرتے ہوئے کہا: ”پھر حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے صحابہ سے ملنا چاہئے۔ کئی ایسے ہوں گے جو پھٹے پرانے کپڑوں میں ہوں گے اور ان کے پاس سے کہنی مار کر لوگ گزر جاتے ہوں گے۔ مگر وہ ان میں سے ہیں جن کی تعریف خود اللہ تعالیٰ نے کی۔ ان سے خاص طور پر ملنا چاہئے۔“ ()
رہی بات امت کی تو خود مرزا قادیانی اپنی امت کا تذکرہ کرتے ہوئے کہتا ہے: ”میری امت کے دو حصے ہوں گے۔ ایک وہ جو مسیحیت کا رنگ اختیار کریں گے اور یہ تباہ ہو جائیں گے اور دوسرے وہ جو مہدویت کا رنگ اختیار کریں گے۔“
(اخبار الفضل قادیان مورخہ ٢٦؍جنوری ١٩١٦ء)
اور اسی طرح وہ خود بھی اپنی الگ شریعت کا اقرار کرتا ہے: ”یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیا چیز ہے۔ جس نے اپنی وحی کے ذریعہ سے چند امر ونہی بیان کئے اور اپنی امت کے لئے ایک قانون مقرر کیا وہی صاحبِ شریعت ہوگیا اور میری وحی میں امر بھی ہوتے ہیں اور نہی بھی اور اگر کہو کہ شریعت سے وہ شریعت مراد ہے۔ جس میں نئے احکام ہوں تو یہ باطل ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ”ان ھذا لفی الصحف الاولی صحف ابراھیم وموسیٰ“ یعنی قرآنی تعلیم تورات میں بھی موجود ہے۔“
(اربعین نمبر ٤ ص ٦، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٢)
پچھلی تحریرات سے اس بات کو تو آپ نے جان ہی لیا ہے کہ اسلام کے بنیادی عقائد اور مرزائی عقائد میں کس قدر اختلاف اور تضاد ہے اور کس طرح مرزائی مسلمانوں سے الگ ایک مستقل اور جدید امت ہیں۔ جن کی اپنی شریعت اپنی کتاب، اپنا دین اور خداوند تعالیٰ کے بارہ میں اپنے مخصوص نظریات ہیں۔ اب ہم انکے دیگر جداگانہ معتقدات کا تذکرہ کرتے ہیں۔
مکہ مکرمہ اور قادیان
اس وقت ہم مرزائیوں کے قادیان، یعنی اس بستی کے بارہ میں جہاں متنبی قادیانی پیدا ہوا عقائد کا ذکر کرتے ہیں کہ ان کے نزدیک یہ بستی مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ کی مانند بلکہ ان سے بھی افضل ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ اس کی زمین حرم ہے۔ اس میں شعائر اللہ ہیں اور وہاں تجلیات وبرکات ربانی کا نزول ہوتا ہے اور اس میں ایک ایسا قطعہ زمین بھی ہے جو حقیقتاً جنت کا ایک ٹکڑا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ قادیان میں ایک ایسا مقبرہ ہے جہاں خود محمد رسول اللہ ﷺ سلام پڑھتے ہیں۔ نیز مساجد قادیان، مسجد نبویؐ، مسجد حرام اور مسجد اقصیٰ کا مقابلہ کرتی ہیں۔ بلکہ یہ خود پوری کی پوری بستی ہی مسلمانوں کے قبلہ و کعبہ کی ہمسر ہے۔ چنانچہ ایک دریدہ دہن مرزائی اخبار الفضل
قادیان میں لکھتا ہے: ”قادیان کیا ہے۔ وہ خدا کے جلال اور اس کی قدرت کا چمکتا ہوا نشان ہے اور حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے فرمودہ کے مطابق خدا کے رسول کا تخت گاہ ہے۔ قادیان خدا کے مسیح کا مولد، مسکن اور مدفن ہے۔ اس بستی میں وہ مکان ہے جس میں دنیا کا نجات دہندہ، دجال کا قاتل، صلیب کو پاش پاش کرنے والا اور اسلام کو تمام ادیان پر غالب کرنے والا پیدا ہوا۔ اس میں اس نے نشو و نما پائی اور اسی جگہ اس کی زندگی گزری۔“
(اخبار الفضل قادیان مورخہ ١٣/ دسمبر ١٩٢٩ء)
ایک دوسرا کذاب کہتا ہے: ”قادیان کی بستی خدا کے انوار کے نازل ہونے کی جگہ ہوئی۔ اس کی گلیوں میں برکت رکھی گئی۔ اس کے مکانوں میں برکت رکھی گئی۔ ایک ایک اینٹ آیت اللہ بنائی گئی۔ اس کی مساجد پر نور، موذن کی اذان پر نور، اسلام کے غلبہ کی تصویر شکل منارہ اسی جگہ بنائی گئی۔ جہاں خدا کا مسیح نازل ہوا۔ اسی منارہ سے وہی ”لا الہ الا اللہ“ کی آواز پھر بلند کی گئی۔ جو آج سے تیرہ صدیاں قبل عرب میں بلند کی گئی تھی۔“
(الفضل قادیان مورخہ یکم/ جنوری ١٩٢٩ء)
اور غلام احمد قادیانی کا فرزند اکبر ہرزہ سرا ہے: ”میں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بتا دیا ہے کہ قادیان کی زمین بابرکت ہے۔ یہاں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ والی برکات نازل ہوتی ہیں۔“
(اخبار الفضل قادیان مورخہ ١١/ دسمبر ١٩٣٢ء)
ایک اور دفعہ خطبہ جمعہ دیتے ہوئے کہتا ہے: ”یہ مقام قادیان وہ مقام ہے جس کو خدا تعالیٰ نے تمام دنیا کے لئے ناف کے طور پر بنایا ہے اور اس کو تمام جہان کے لئے ام قرار دیا ہے اور ہر ایک فیض دنیا کے اس مقدس مقام سے حاصل ہو سکتا ہے۔ اس لئے یہ مقام خاص اہمیت رکھنے والا مقام ہے۔“
(الفضل قادیان مورخہ ٣/ جنوری ١٩٢٥ء)
نیز: ”خدا تعالیٰ نے قادیان کو مرکز بنایا ہے۔ اس لئے خدا تعالیٰ کے جو فیوض اور برکات یہاں نازل ہوتے ہیں اور کسی جگہ نہیں۔ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے فرمایا ہے جو لوگ قادیان نہیں آتے مجھے ان کے ایمان کا خطرہ ہی رہتا ہے۔“
(انوار خلافت ص ١١٧)
اور مرزائی اخبار الفضل نے واضح طور پر لکھا کہ وہ مسجد اقصیٰ جس کی طرف سرور کائنات علیہ السلام معراج کی رات تشریف لے گئے وہ یہی مسجد ہے۔ جو کہ قادیان میں ہے۔ چنانچہ الفضل کی عبارت ہے: ”سبحان الذی اسریٰ بعبدہ لیلاً من المسجد الحرام الی المسجد اقصیٰ الذی بارکنا حولہ“ کی آیات کریمہ میں مسجد اقصیٰ سے مراد قادیان کی
٣١
مسجد ہے۔ جیسے لکھا: ”اس معراج میں آنحضرت ﷺ مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک سیر فرما ہوئے اور وہ مسجد اقصیٰ یہی ہے جو قادیان میں بجانب مشرق واقع ہے۔ جو مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی برکات اور کمالات کی تصویر ہے جو آنحضرت ﷺ کی طرف بطور موہبت ہے۔“
اور دجال قادیانی بذات خود اس مسجد کو بیت الحرام سے تشبیہ دیتے ہوئے کہتا ہے: ”بیت الفکر سے مراد اس جگہ وہ چوبارہ ہے جس میں یہ عاجز کتاب کی تالیف کے لئے مشغول رہا اور رہتا ہے اور بیت الذکر سے مراد وہ مسجد ہے جو اس چوبارہ کے پہلو میں بنائی گئی ہے اور آخری فقرہ مذکورہ بالا ”ومن دخله كان آمنا“ اس مسجد کی صفت میں بیان فرمایا ہے۔“
(براہین احمدیہ ص ٥٥٨، خزائن ج١ ص ٦٦٧)
اس لئے قادیان کے ناظر اعلیٰ نے اپنے مضمون ”تحریک ہجرت“ میں لکھا ہے: ”اللہ تعالیٰ نے قادیان کی بستی کو اپنے نبی کی زبان پر دارالامان کا خطاب بخشا ہے۔ چنانچہ فرمایا ہے: ”ومن دخله كان آمنا “ حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) کے ہاتھ پر اللہ تعالیٰ نے جو نیا آسمان اور نئی زمینیں بنانے کا وعدہ فرمایا ہے۔ قادیان دارالامان اس نئی دنیا کا تقدیر الٰہی میں مرکز قرار پا چکا ہے۔ اس لئے مخلص احمدیوں کو چاہئے کہ اس کی برکات روحانی و جسمانی سے متمتع ہونے کے لئے اور اپنی اولاد کو ان میں شریک کرنے کے لئے قادیان کی طرف خدمت دین اور روحانی علاج کی نیت سے ہجرت کریں۔“
(مضمون ناظر قادیان، مندرجہ اخبار الفضل قادیان مورخہ ٧؍ مئی ١٩٣١ء)
تو ارضِ قادیاں فخرِ عجم ہے
(اخبار الفضل قادیان مورخہ ٢٥؍ دسمبر ١٩٣٢ء)
اور:
تیری فضائے نور کو
دیتی ہے ہر دم روشنی
جو دیدۂ ہائے حور کو
میں قبلہ و کعبہ کہوں
یا سجدہ گاہِ قدسیاں
٣٢
اے قادیاں، اے قادیاں
(اخبار الفضل قادیان مورخہ ١٨ اگست ١٩٣٢ء)
اور تبھی تو غلام احمد قادیانی کے بیٹے اور مرزائیت کے دوسرے خلیفہ مرزا محمود نے خطبہ جمعہ دیتے ہوئے کہا: ”یہ مقام (قادیان) وہ مقام ہے جس کو خدا تعالیٰ نے تمام دنیا کے لئے ناف کے طور پر بنایا ہے اور اس کو تمام جہان کے لئے ام قرار دیا ہے اور ہر ایک فیض دُنیا کو اسی مقام سے حاصل ہوسکتا ہے۔“
(خطبہ جمعہ مرزا محمود قادیانی، مندرجہ اخبار الفضل قادیان مورخہ ٣ جنوری ١٩٢٥ء)
اور ایک بدگو دریدہ دہن قادیانی غلام قادیانی کی قبر کے بارہ میں یوں ہرزہ سرائی کرتا ہے: ”پھر کیا حال ہے اس شخص کا جو قادیان دارالامان میں آئے اور دو قدم چل کر مقبرہ بہشتی میں داخل نہ ہو۔ اس میں وہ روضہ مطہرہ ہے جس میں اس خدا کے برگزیدہ کا جسم مبارک مدفون ہے۔ جسے (عیاذ باللہ) افضل الرسل نے اپنا سلام بھیجا اور جس کی نسبت حضرت خاتم النبیین نے فرمایا: ”یدفن معی فی قبری“ اس اعتبار سے مدینہ منورہ کے گنبد خضراء کے انوار کا پورا پرتو اس گنبد بیضاء پر پڑ رہا ہے اور آپ گویا ان برکات سے حصہ لے سکتے ہیں۔ جو رسول کریم ﷺ کے مرقد منور سے مخصوص ہیں۔ کیا ہی بدقسمت ہے وہ شخص جو احمدیت کے حج اکبر میں اس تمتع سے محروم رہے۔“
(صیغہ تربیت قادیان مشتہرہ اخبار الفضل قادیان مورخہ ١٨ نومبر ١٩٣٢ء)
ایک اور دوسرے گستاخ نے تو تمام حدود کو پھاند دیا: ”آج تمہارے لئے ابوبکر و عمر کی فضیلت حاصل کرنے کا موقع ہے اور وہ بہشتی مقام موجود ہے جہاں تم وصیت کر کے اپنے پیارے آقا المسیح الموعود (مرزا قادیانی) کے قدموں میں دفن ہو سکتے ہو اور چونکہ حدیثوں میں آیا ہے کہ مسیح موعود رسول کریم ﷺ کی قبر میں دفن ہوگا۔ اس لئے تم اس مقبرہ میں دفن ہو کر خود رسول اکرم ﷺ کے پہلو میں ہوگے اور تمہارے لئے اس خصوصیت میں ابوبکر کے ہم پلہ ہونے کا موقع ہے۔“
(بہشتی مقبرہ کے افسر کا اعلان مندرجہ اخبار الفضل قادیان مورخہ ٢ فروری ١٩١٥ء)
اور آخر میں مرزائیت کے دوسرے خلیفہ کی گل افشانی ملاحظہ کیجئے۔ وہ حقیقت الرؤیا میں رقمطراز ہے: ”قادیان ام القریٰ ہے جو اس سے منقطع ہوگا۔ اسے کاٹ دیا جائے گا۔ اس سے ڈرو کہ تمہیں کاٹ دیا جائے اور ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے۔ اب مکہ اور مدینہ کی چھاتیوں کا دودھ خشک ہو چکا ہے۔ جب کہ قادیان کا دودھ بالکل تازہ ہے۔“
(حقیقت الرؤیا ص ٤٦)
٣٣
اس طرح اس جھوٹے مدعی نبوت کے پیروکار نے مکہ اور مدینہ کی شان گھٹانے اور ان کی توہین وتحقیر کرنے کی سعی مذموم کی۔ اس مکہ مکرمہ کی کہ جس کی قسم خود رب عرش عظیم نے کھائی ہے اور جسے بلدہ امین کا لقب دیا ہے۔ فرمایا: ”لا اقسم بھذا البلد (البلد:١)“ ﴿مجھے مکہ کی قسم ہے۔﴾
اور فرمایا: ”وهذا البلد الامین (والتین:٣)“ ﴿اس امن والے شہر ”مکہ معظمہ“ کی قسم۔﴾
اور اسے ام القری کے نام سے یاد کیا، فرمایا: ”لتنذر ام القرى ومن حولها (انعام:٩٢)“ ﴿اس کتاب کو ہم نے اس لئے نازل کیا ہے کہ آپ بستیوں کی ماں مکہ مکرمہ اور اس کے پڑوس کی بستیوں کے باسیوں کو ڈرائیں۔﴾
اور مکہ وہ شہر مقدس ہے جس میں اللہ نے اس بیت عتیق کو بنایا کہ پوری دنیا کے مسلمان جس کی جانب رخ کر کے نماز ادا کرتے اور جس کے فیوض وبرکات سے بہرہ ور ہوتے ہیں اور اسے با برکت کے ساتھ ساتھ محترم بھی قرار فرمایا: ”ان اول بیت وضع للناس للذی ببکۃ مبارکا وهدی للعالمین ، فیہ ایات بینات مقام ابراهیم ومن دخلہ کان امنا (آل عمران:٩٦،٩٧)“ ﴿بے شک وہ مکان جو سب سے پہلے لوگوں کی عبادت کے لئے مقرر کیا گیا وہ ہے جو مکہ میں ہے اور جسے برکت دی گئی ہے اور جو پوری دنیا کے لئے راہنما ہے۔ اس میں اللہ کے کھلے نشان ہیں۔ (ان میں سے) ایک مقام ابراہیم ہے اور جو اس میں داخل ہو جائے۔ وہ امن میں ہو جاتا ہے۔﴾
اور فرمایا: ”انما امرت ان اعبد رب هذه البلدۃ الذی حرمھا (نمل:٩١)“ ﴿مجھ کو یہی حکم ملا ہے کہ میں اس شہر (مکہ مکرمہ) کے رب کی عبادت کیا کروں۔ جس نے اس (مکہ) کو محترم بنایا ہے۔﴾
اور مکہ مکرمہ کی سرزمین وہی ہے جس کے بارہ میں صادق مصدوق رسول مقبول ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”واللہ انک لخیر ارض واحب ارض الی اللہ (ترمذی ج٢ ص٢٣٠، باب المناقب، نسائی، ابن ماجہ، احمد، مستدرک حاکم، صحیح ابن حبان)“ ﴿کہ اے مکہ تو بہترین جگہ اور اللہ کی اراضی میں سے اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب سرزمین ہے۔﴾
باقی رہا مدینہ تو یہ وہ مبارک شہر ہے۔ جسے شہر رسول ہاشمی ہونے کا شرف حاصل ہے۔
٣٤
جو مہبط وحی بھی ہے اور منبع نور بھی۔ سرور کائناتﷺ کی ہجرت گاہ بھی ہے اور استراحت گاہ بھی کہ دنیا کا سب سے زیادہ برگزیدہ انسان اس کی گود میں محو خواب ہے۔ مدینہ وہ بستی ہے جس کا نام اللہ نے طیبہ رکھا اور اس میں مرنے والے کے لئے رسول کریمﷺ کو شفاعت کی اجازت بخشی اور اسے وبال اور طاعون کے داخلہ سے مصئون رکھا اور جسے ناطق وحی رسول کریمﷺ نے اسی طرح محترم قرار دیا۔ جس طرح ابراہیم علیہ السلام نے مکہ مکرمہ کو محترم قرار دیا تھا اور دنیا میں یہی ایک مقام ہے جسے اللہ کے نبی نے ایمان کا قلعہ کہا ہو۔
چنانچہ آپ کے ارشادات ہیں : ”قال رسول اللہ ﷺ المدينة طابة (بخاری ج ١ ص ٢٠٢، مسلم) ”اللہ نے مدینہ منورہ کا نام طابہ (پاکیزہ) رکھا ہے۔“ ﴾
اور فرمایا : ”من استطاع ان یموت بالمدينة فليمت بها فانى اشفع لمن يموت بها (ترمذی ج٢ ص٢٢٩، ابن ماجه، صحیح ابن حبان) ”جو مدینہ میں مرسکے وہ اس میں مرے کہ میں اس وفات پانے والے کے لئے قیامت کے دن سفارش کروں گا۔“ ﴾
اور ارشاد فرمایا : ”على انقاب المدينة ملائكة لا يدخلها الطاعون ولا الدجال (بخاری ج١ ص٢٠٢، مسلم، مؤطا امام مالك، مسند احمد) ”مدینہ کے دروازوں پر اللہ کے فرشتے مقرر ہیں۔ اس میں دجال اور طاعون داخل نہیں ہو سکتے۔
نیز فرمایا : ”ان ابراهیم حرم مكة وانى احرم مابین لابتیہا (ترمذی ج٢ ص ٢٢٠) ”ابراہیم علیہ السلام نے مکہ مکرمہ کو محترم فرمایا تھا اور میں مدینہ کو محترم قرار دیتا ہوں۔“ ﴾
اور ارشاد فرمادیا : ”ان الایمان لیارز الی المدينة كما تارز الحية الى حجرها (بخاری ج١ ص٢٠٢، مسلم، ابن ماجه، مسند احمد) ”ایمان مدینہ منورہ کی طرف اس طرح پناہ پکڑے گا جس طرح سانپ اپنے بل میں پناہ ڈھونڈھتا ہے۔“ ﴾
نیز یہ بھی کہہ دیا : ”المدينة تنفى الناس كما ينفى الكير خبث الحديد (بخاری ج١ ص٢٠٢، مسلم، ترمذی، مؤطا امام مالك، مسند احمد، سنن ابی داؤد الطيالسی) ”مدینہ لوگوں کو اس طرح چھانٹ دیتا ہے جس طرح دھونکنی خراب لوہے کو خالص لوہے سے الگ کر دیتی ہے۔“ ﴾
یہ تو ہے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کا اصل مقام اور ان کا حقیقی مرتبہ، لیکن آج مرزائی اسے
٣٥
جھٹلانے اور کم کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور وہ ان مبارک اور متبرک مقامات کے مقابلہ میں قادیان کو رکھ کر نہ صرف مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کی توہین کا ارتکاب کر رہے ہیں۔ بلکہ دوسرے لوگوں سے بھی اس بات کے خواہاں ہیں کہ وہ قادیان ایسی نجس بستی کو بھی مکہ اور مدینہ کے ہم پلہ سمجھ لیں۔ بلکہ ان سے بھی فروتر اور اسی لئے ہی تو ان کے خلیفہ ثانی نے کہا تھا کہ اب مکہ مدینہ کی چھاتیوں کا دودھ تو خشک ہوچکا۔ جب کہ قادیان میں اس کی نہریں جاری ہیں اور ساتھ ہی یہ اعلان بھی کرتا ہے: ”یہاں (قادیان میں) کئی ایک شعائر اللہ ہیں، مثلاً یہی علاقہ جس میں جلسہ ہو رہا ہے۔ اسی طرح شعائر اللہ میں مسجد مبارک، مسجد اقصیٰ (قادیان) منارۃ المسیح شامل ہیں۔ ان مقامات میں سیر کے طور پر نہیں بلکہ ان کو شعائر اللہ سمجھ کر جانا چاہئے۔“
(تقریر مرزا محمود خلیفہ قادیان، مندرجہ الفضل قادیان مورخہ ٨؍جنوری ١٩٣٣ء)
حج
وہ عقائد جو مرزائیوں کو امت مسلمہ سے الگ کرتے ہیں۔ ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ان کے نزدیک ”حج“ قادیان کے سالانہ جلسہ میں حاضری کا نام ہے۔ چنانچہ مرزا غلام احمد قادیانی کا بیٹا اور خلیفہ محمود کہتا ہے: ”آج جلسہ کا پہلا دن ہے اور ہمارا جلسہ بھی حج کی طرح ہے۔ ......کیونکہ حج کا مقام ایسے لوگوں کے قبضہ میں ہے جو احمدیوں کو قتل کر دینا بھی جائز سمجھتے ہیں۔ اس لئے خدا تعالیٰ نے قادیان کو اس کام کے لئے مقرر کیا ہے ......اور اس لئے جیسا حج میں رفث، فسوق اور جدال منع ہے۔ ایسا ہی اس جلسہ میں بھی منع ہے۔“
(برکات خلافت ص٢٧، مجموعہ تقاریر مرزا محمود قادیانی)
اور ایک دوسرا قادیانی گوہرفشانی کرتا ہے: ”جیسے احمدیت کے بغیر پہلا یعنی حضرت مرزا قادیانی کو چھوڑ کر جو اسلام باقی رہ جاتا ہے۔ وہ خشک اسلام ہے۔ اس طرح اس ظلی حج کو چھوڑ کر مکہ والا حج بھی خشک رہ جاتا ہے۔ کیونکہ وہاں پر آج کل حج کے مقاصد پورے نہیں ہوتے۔“
(منقول از پیغام صلح مورخہ ١٩؍اپریل ١٩٣٣ء)
اور خود غلام احمد قادیانی یوں رقمطراز ہے: ”اس جگہ (قادیان) نفلی حج سے ثواب زیادہ ہے اور غافل رہنے میں نقصان اور خطرہ کیونکہ سلسلہ آسمانی ہے اور حکم ربانی“
(آئینہ کمالات اسلام ص٣٥٢، خزائن ج٥ ص٣٥٢)
اور مرزا محمود قادیانی ہی ایک مرزائی کی زبانی بیان کرتے ہوئے اس کی توثیق کرتا
٣٦
ہے۔ ”شیخ یعقوب علی صاحب بھی بیان کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے یہاں (قادیان) آنے کو حج قرار دیا ہے۔“
(تقریر مرزا محمود قادیانی مندرجہ اخبار الفضل قادیان مورخہ ٥؍جنوری ١٩٣٣ء)
اور اسی بناء پر کابلی مرزائی عبداللطیف جسے ارتداد کے جرم میں حکومت افغانستان نے قتل کر دیا تھا۔ حج کے لئے نہ گیا۔ کیونکہ مرزا غلام احمد قادیانی نے حج کی بجائے اسے قادیان میں قیام کا حکم دیا تھا۔ (حوالہ مذکورہ) اور شاید یہی وجہ ہے کہ خود مرزا غلام احمد قادیانی نے بھی بیت الحرام کا طواف اور حج نہیں کیا کہ اس کے نزدیک حج کے لئے مکہ معظمہ کا قصد ضروری نہیں۔ بلکہ قادیان کی اس ناپاک بستی کا قیام ہی کافی ہے جو ایک جھوٹے مدعی نبوت کے باعث دنیا میں رسوا ہو کر رہ گئی۔ حاصل کلام اب تک مرزائیت کے جو معتقدات بیان ہوئے ہیں وہ یہ ہیں:
- ١...... مرزائیوں کا خدا انسانی صفات سے متصف ہے جو روزہ بھی رکھتا ہے اور نماز بھی پڑھتا
ہے۔ سوتا بھی ہے اور جاگتا بھی ہے۔ غلطی بھی کرتا ہے اور نہیں بھی کرتا۔ لکھتا بھی ہے اور اپنے دستخط بھی کرتا ہے۔ صحبت (ہم بستری) بھی کرتا ہے اور اس کے نتیجے میں جنتا بھی ہے۔
- ٢...... انبیاء و رسول قیامت تک دنیا میں آتے رہیں گے۔
- ٣...... مرزا غلام احمد قادیانی اللہ کا نبی اور رسول ہے۔
- ٤...... نہ صرف یہ بلکہ غلام احمد قادیانی سرور کائنات (فداہ ابی وامی) سمیت تمام انبیاء اور
رسولوں سے افضل بھی ہے۔
- ٥...... اس پر وحی نازل ہوتی ہے۔
- ٦...... وحی لانے والا فرشتہ وہی جبریل امین ہے جو رسول کریم ﷺ پر نازل ہوا کرتا تھا۔
- ٧...... مرزائیوں کا ایک مستقل دین اور ان کی مستقل شریعت ہے جس کا دوسرے ادیان اور
شریعتوں سے کوئی تعلق نہیں اور مرزائیت ایک مستقل امت ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی کی امت۔
- ٨...... مرزائیوں کا ایک الگ قرآن ہے جو مرتبہ و مقام میں قرآن حکیم ایسا ہی ہے اور اس
کے بیس پارے ہیں اور یہ پارے اسی طرح آیات پر منقسم ہیں۔ جس طرح قرآن مجید کے پارے اور اس قرآن کا نام ”تذکرہ“ ہے۔
اللہ قادیان میں اترے گا۔
(انجام آتھم ص ٥٥، تذکرہ ص ٤٢٧ طبع ٣)
٣٧
اور: ”یحمدک اللہ من عرشہ ویحمدک اللہ ویمشی الیک“ خدا عرش پر سے تیری تعریف کرتا ہے۔ خدا تیری تعریف کرتا ہے اور تیری طرف چلا آتا ہے۔
(انجام آتھم ص ٥٥، خزائن ج ١١ ص ایضاً)
اور: ”بابو الہی بخش چاہتا ہے کہ تیرا حیض دیکھے یا کسی پلیدی اور ناپاکی پر اطلاع پائے۔ مگر اللہ تعالیٰ تجھے اپنے انعامات دکھلائے گا جو متواتر ہوں گے۔ تجھ میں حیض نہیں۔ بلکہ وہ بچہ ہو گیا، ایسا بچہ جو بمنزلہ اطفال اللہ کے ہے۔“
(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٤٣، خزائن ج ٢٢ ص ٥٨١)
- ٩…… قادیان شان و منزلت میں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ ایسی ہے بلکہ مکہ و مدینہ سے ابھی
افضل ہے۔
- ١٠…… اور حج قادیان کے سالانہ جلسہ میں شرکت کا نام ہے۔
یہ مرزائیوں کے دس عقیدے ہیں جو پچھلے صفحات میں تفصیل کے ساتھ ان کی کتابوں کے حوالوں کے ساتھ گزر چکے ہیں۔ اب ذرا ان احکامات پر ایک نگاہ ڈالتے چلئے جو انگریز کے ساختہ و پروردہ متنبّی پر اس کے خدا انگریز بہادر کی جانب سے نازل ہوئے کہ ان کے ذریعہ مسلمانوں کی قوت کو توڑا اور برصغیر میں استعمار کے قبضہ کو مضبوط کیا جا سکے۔
جہاد
برصغیر میں انگریزی استعمار سب سے زیادہ مسلمانوں کے عقیدہ جہاد سے خوفزدہ تھا۔ استعماری طاقتیں یہ سمجھتی تھیں کہ جب تک مسلمان جہاد کے عقیدہ پر قائم ہیں۔ اس وقت تک ان پر مکمل طور پر تسلط حاصل نہیں کیا جاسکتا اور پھر یورپ اور مشرقِ اوسط کی صلیبی جنگوں کے زخم ابھی تک ان کی راتوں کی نیند حرام کئے ہوئے تھے۔ اسی لئے انہوں نے سب سے پہلے جس چیز پر توجہ دی وہ مسلمانوں کے اندر سے اسی عقیدہ جہاد کی بیخ کنی کی سازشیں تھیں اور مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت بھی اسی سازش کے سلسلہ کی ہی ایک کڑی تھی۔ چنانچہ مرزا غلام احمد قادیانی پر سب سے پہلی وحی جو نازل ہوئی وہ یہی تھی کہ اب جہاد کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہی۔ چنانچہ مرزا غلام احمد قادیانی لکھتا ہے: ”اللہ تعالیٰ نے بتدریج جہاد کی شدت کو کم کر دیا ہے۔ چنانچہ موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں بچوں، بوڑھوں اور عورتوں کا قتل ممنوع قرار پایا اور اب میرے زمانہ میں جہاد کو قطعی طور پر منسوخ کر دیا گیا ہے۔“
(اربعین نمبر ٤ ص ١٣ حاشیہ خزائن ج ١٧ ص ٤٣٣)
اور: ”آج کے بعد تلوار کے ساتھ جہاد کو ختم کر دیا گیا ہے۔ چنانچہ آج کے بعد کوئی
٣٨
جہاد نہیں۔ یہی نہیں جو کوئی اب کفار پر ہتھیار اٹھائے گا اور اپنے آپ کو غازی کہلائے گا وہ رسول اللہ ﷺ کا مخالف قرار پائے گا۔ جنہوں نے آج سے تیرہ سو سال پہلے اعلان کر دیا تھا کہ مسیح موعود کے زمانہ میں جہاد منسوخ ہو جائے گا۔ (قطعی جھوٹ جس کی کوئی دلیل نہیں) پس میں مسیح موعود ہوں اور میرے ظہور کے بعد اب کوئی جہاد نہیں۔ ہم نے صلح اور امن کا پرچم لہرا دیا ہے۔“
(خطبہ الہامیہ ص ذ خزائن ج ١٦ ص ٢٨)
اور مرزائی پرچے ریویو آف ریلیجنز کے مدیر محمد علی نے ایک مرتبہ انگریزی حکومت کے سامنے اپنی پیشینی وفاداری کا یوں تذکرہ کیا: ”گورنمنٹ کا یہ اپنا فرض ہے کہ اس فرقہ احمدیہ کی نسبت تدبیر سے زمین کے اندرونی حالات دریافت کرے۔ ہمارے امام (غلام احمد قادیانی) نے ایک بڑا حصہ عمر کا جو ٢٢ برس ہیں۔ اس تعلیم میں گزارا ہے کہ جہاد حرام اور قطعا حرام ہے۔ یہاں تک کہ بہت سی عربی کتابیں بھی مضمون ممانعت جہاد لکھ کر ان کو بلاد اسلام عرب، شام، کابل وغیرہ میں تقسیم کیا ہے۔ جن سے گورنمنٹ بے خبر نہیں ہے۔“
(ریویو آف ریلیجنز ج ١ نمبر ٢ ص ٢٠، ١٩٠٢ء)
اور خود مرزا غلام احمد قادیانی برطانوی استعمار کے حضور اپنی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہتا ہے: ”یہ وہ فرقہ ہے جو فرقہ احمدیہ کے نام سے مشہور ہے اور پنجاب اور ہندوستان اور دیگر متفرق مقامات میں پھیلا ہوا ہے۔ یہی وہ فرقہ ہے جو دن رات کوشش کر رہا ہے کہ مسلمانوں کے خیالات میں سے جہاد کی بیہودہ رسم کو اٹھا دے۔ چنانچہ اب تک ساٹھ کے قریب میں نے ایسی کتابیں عربی، فارسی، اردو اور انگریزی میں تالیف کر کے شائع کی ہیں۔ جن کا یہی مقصد ہے کہ غلط خیالات مسلمانوں کے دلوں سے دور ہو جائیں۔ اس قوم میں یہ خرابی اکثر نادان مولویوں نے ڈال رکھی ہے۔ لیکن اگر خدا نے چاہا تو امید رکھتا ہوں کہ عنقریب اس کی اصلاح ہو جائے گی۔“
(عریضہ غلام احمد قادیانی، بحضور حکومت انگریزیہ مندرجہ مرزائی رسالہ)
جہاد جسے انگریز کا خودکاشتہ پودا بیہودہ قرار دے رہا ہے۔ وہی عقیدہ مبارکہ ہے جس کے بارہ میں رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”الجهاد افضل الاعمال (بخاری ج ١ ص ٣٩٠، مسلم، ابوداؤد، ترمذی، نسائی، مسند دارمی، مسند احمد) ”لوگوں میں سب سے بہترین وہ مومن ہے جو اپنی جان و مال سے اللہ کی راہ میں جہاد کرتا ہے۔﴾
نیز: ”ان فی الجنة مائة درجة اعدها الله للمجاهدين في سبيله (بخاری ج ١ ص ٣٩١، نسائی، سنن دارمی، مسند احمد) ”کہ جنت میں سو درجے ہیں۔ جن سب کو اللہ نے اپنی راہ میں جہاد کرنے والوں کے لئے تیار کیا ہے۔﴾
٣٩
اور مجاہدوں کے سردار اور جنگوں میں ان کے سالار رسول ہاشمی ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ”لغدوتہ فی سبیل اللہ او روحتہ خیر من الدنیا ومافیھا (بخاری ج١ ص ٣٩٢، مسلم، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ، مسند احمد، ابی داؤد طیالسی، دارمی) “ ﴿اللہ کی راہ میں صبح و شام جہاد کے لئے نکلنا دین اور دنیا کی تمام نعمتوں سے بہتر ہے۔﴾
نیز فرمایا: ”ما اغبرت قدما عبد فی سبیل اللہ فتمسہ النار (بخاری ج١ ص ٣٩٧، مسلم، ابوداؤد، نسائی، ابن ماجہ، دارمی، مسند احمد، ابی داؤد) ﴿کسی کے بھی قدم اللہ کی راہ میں غبار آلود نہیں ہوتے۔ مگر اس پر جہنم کی آگ حرام ہو جاتی ہے۔﴾
یہ ہے جو نبی اسلام، محمد اکرم، سرور عالم، رسولِ اعظم علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنے رب کی ہدایات کے مطابق فرمایا کہ ارشاد رب عظیم ہے: ”وقاتلوهم حتى لا تكون فتنة ويكون الدين لله (بقرہ:١٩٣) “ ﴿اور کافروں سے جنگ کرو،حتیٰ کہ شرک وکفر کا فتنہ مٹ جائے اور دین اللہ کا ہی پھیل جائے۔﴾
فرمایا: ”فلیقاتل فی سبیل اللہ الذین یشرون الحیوة الدنیا وبالآخرة ومن یقاتل فی وسبیل اللہ ، فیقتل او یغلب فسوف نوتیہ اجرا عظیما (النساء:٧٤) “ ﴿چاہئے کہ وہ لوگ جو دنیوی زندگی کے بدلے آخرت کے طلب گار ہیں اللہ کی راہ میں جہاد کریں اور جو شخص اللہ کی راہ میں لڑا ہے پس چاہے وہ مارا جائے یا غالب رہے ہم اس کو اجر عظیم عطاء فرمائیں گے۔﴾
اور اس کے مقابلہ میں وہ ہے جو انگریزی نبی نے اپنے آقایان ولی نعمت کے اشارہ پر کہا، لکھا اور پھیلایا۔
انگریز کی وفاداری
دوسرا حکم جو غلام احمد قادیانی نے اپنے متبعین کو دیا وہ انگریز کی وفاداری اور اطاعت کیشی تھی۔ اس موضوع پر اگر چہ ہمارے دوسرے مقالات میں کافی مواد جمع کر دیا گیا ہے۔ پھر بھی مختصر طور پر ہم چند ایک باتوں کا ذکر کئے دیتے ہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ انگریز کی اطاعت اور وفاداری مرزائیت کے ہاں ایک اضافی اور معمولی مسئلہ نہیں۔ بلکہ اصولی اور بنیادی مسئلہ ہے۔ اسی لئے مرزا غلام احمد قادیانی نے اسے اپنی بیعت کی شرطوں میں سے ایک شرط قرار دیا ہے اور یہ مسلمہ
٤٠
امر ہے کہ بیعت میں ان امور کی شرط لگائی جاتی ہے جو اساسی ہوں۔ چنانچہ خود مرزاغلام احمد قادیانی نے ان شرائط کو اپنا دستورالعمل قرار دیا ہے۔ وہ لکھتا ہے: ”جو ہدایتیں اس فرقہ کے لئے میں نے مرتب کی ہیں۔ جن کو میں نے ہاتھ سے لکھ کر اور چھاپ کر ہر ایک مرید کو دیا ہے کہ ان کو اپنا دستورالعمل رکھے۔ میرے اس رسالہ میں مندرج ہیں۔ جو ١٢؍جنوری ١٨٨٩ء میں چھپ کر عام مریدوں میں شائع ہوا ہے۔ جس کا نام تکمیل تبلیغ مع شرائط بیعت ہے۔ جس کی ایک کاپی اس زمانہ میں گورنمنٹ میں بھی بھیجی گئی۔ ان ہدایتوں کو پڑھ کر اور ایسا ہی دوسری ہدایتوں کو دیکھ کر جو وقتاً فوقتاً چھپ کر مریدوں میں شائع ہوتی ہیں۔ گورنمنٹ کو معلوم ہوگا (سارا کام ہی گورنمنٹ کی خوشنودی اور رضا جوئی کے لئے اس کے حکم پر ہے۔ تبھی تو ہر بات گورنمنٹ انگریزی کے نوٹس میں لائی جاتی ہے) کہ امن بخش اصولوں کی اس جماعت کو تعلیم دی جاتی ہے اور کس طرح بار بار ان کو تاکیدیں کی گئی ہیں کہ وہ گورنمنٹ برطانیہ کے سچے خیرخواہ اور مطیع رہیں۔“
(مندرجہ تبلیغ رسالت ج٧ ص١٦، مجموعہ اشتہارات ج٣ ص١٨، ١٩)
اور وہ شرائط بیعت کیا ہیں۔ مرزاغلام احمد قادیانی خود جواب دیتا ہے: ”اس تمام تقریر سے جس کے ساتھ میں نے اپنی سترہ سالہ مسلسل تقریروں سے ثبوت پیش کئے ہیں۔ صاف ظاہر ہے کہ میں سرکار انگریزی کا بدل وجان خیرخواہ ہوں اور میں ایک مخلص امن دوست ہوں اور اطاعت گورنمنٹ اور ہمدردی بندگانِ خدا کی میرا اصول ہے اور یہ وہ اصول ہے جو میرے مریدوں کی شرائط بیعت میں داخل ہے۔ چنانچہ پرچہ شرائط بیعت جو ہمیشہ مریدوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ اس کی دفعہ چہارم میں ان ہی باتوں کی تصریح ہے۔“
(کتاب البریہ ص٩، خزائن ج١٣ ص١٠)
اور مرزائیت کا دوسرا خلیفہ اور غلام قادیانی کا فرزند اس کی توثیق کرتے ہوئے یوں رقمطراز ہے: ”ایک خاص امر کو اس جگہ ضرور بیان کر دینا چاہتا ہوں اور وہ حضرت مسیح موعود (مرزاغلام احمد قادیانی) کا اپنی بیعت کی شرائط میں وفاداری حکومت کا شامل کرنا ہے۔ (آپ نے لکھا کہ جو شخص اپنی گورنمنٹ کی فرمانبرداری نہیں کرتا اور کسی طرح بھی اپنے حکام کے خلاف شورش کرتا اور ان کے احکام کے نفاذ میں روڑے اٹکاتا ہے وہ میری جماعت میں سے نہیں) یہ سب آپ نے جماعت کو ایسا پڑھایا کہ ہر موقع پر جماعت احمدیہ نے گورنمنٹ ہند کی فرمانبرداری کا اظہار کیا ہے اور کبھی خفیف سے خفیف شورش میں بھی حصہ نہیں لیا۔“
(تحفۃ الملوک ص١٢٢)
مسلمان اور مرزائی
ان عقائد فاسدہ اور احکامات خبیثہ کے ساتھ ایک اور عقیدہ کا اضافہ کر لیجئے۔ جس کے
٤١
ذکر پر ہم اس بحث کو ختم کرتے ہیں اور وہ ہے کہ مرزائیوں کے نزدیک وہ شخص جو مرزا غلام احمد متنبی قادیان پر ایمان نہیں رکھتا اور اس کے ان جھوٹے عقائد واحکامات کو نہیں مانتا وہ کافر ہے اور ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جہنم میں رہے گا۔
چنانچہ مرزا محمود قادیانی لکھتا ہے: ”کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے، خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔“
(آئینہ صداقت ص ٣٥)
اور مرزا غلام احمد قادیانی کا دوسرا بیٹا مرزا بشیر احمد یوں ہرزہ سرا ہے: ”ہر ایک ایسا شخص جو موسیٰ علیہ السلام کو تو مانتا ہے مگر عیسیٰ علیہ السلام کو نہیں مانتا یا عیسیٰ علیہ السلام کو مانتا ہے مگر محمد ﷺ کو نہیں مانتا۔ یا محمد ﷺ کو مانتا ہے مگر مسیح موعود (مرزا قادیانی) کو نہیں مانتا وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔“
(کلمۃ الفصل قادیان مندرجہ رسالہ ریویو ج ١٤ نمبر ٣ ص ١١٠)
اور خود متنبی قادیان کہتا ہے: ”خدا تعالیٰ نے میرے پر ظاہر کیا ہے کہ ہر ایک وہ شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا ہے وہ مسلمان نہیں ہے۔“
(منقول از اخبار الفضل قادیان مورخہ ١٥؍جنوری ١٩٣٥ء، تذکرہ ص ٦٠٧ ، طبع ٣)
اور اپنے الہام کا ذکر کرتا ہے: ”جو شخص تیری پیروی نہیں کرے گا اور تیری بیعت میں داخل نہیں ہوگا اور تیرا مخالف رہے گا وہ خدا اور رسول کی نافرمانی کرنے والا جہنمی ہے۔“
(مندرجہ تبلیغ رسالت ج ٩ ص ٢٧، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٧٥، تذکرہ ص ٣٣٦ طبع ٣)
اور آخر میں ہم مرزا محمود خلیفہ قادیان کی ایک عبارت نقل کرتے ہوئے پوری امت مرزائیہ سے سوال کرتے ہیں کہ اس کے باوجود بھی انہیں اپنے مسلمان ہونے اور الگ امت نہ ہونے پر اصرار کیوں ہے؟
”حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے منہ سے نکلے ہوئے الفاظ میرے کانوں میں گونج رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا، یہ غلط ہے کہ دوسرے لوگوں سے ہمارا اختلاف صرف وفات مسیح یا اور چند مسائل میں ہے۔ آپ نے فرمایا، اللہ تعالیٰ کی ذات، رسول کریم ﷺ، قرآن، نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ۔ غرض کہ آپ نے تفصیل سے بتایا کہ ہر ایک چیز میں ہمیں ان سے اختلاف ہے۔“
(مندرجہ اخبار الفضل قادیان مورخہ ٣٠؍جولائی ١٩٣١ء)
کیا اس کے بعد اس میں کوئی شبہ باقی رہ جاتا ہے کہ مرزائی ایک الگ دین کے پیروکار
٤٢
اور ایک الگ شخص کی امت ہیں۔ جن کا کم از کم اسلام اور مسلمانوں سے کوئی تعلق نہیں اور اس مضمون میں ہم دلائل و شواہد سے اس کا ثبوت فراہم کر چکے ہیں اور خود مرزائی تحریروں کی روشنی میں ۔ وبالله التوفيق!
اسلام اور مرزائیت
حدیث شریف میں آیا ہے۔ رسول اکرمﷺ نے فرمایا: ”سيكون فى امتى كذابون ثلاثون كلهم يزعم انه نبى الله وانا خاتم النبيين لا نبى بعدى وفى رواية لا تقوم الساعة حتى يخرجون ثلاثون دجالون كلهم يزعمون انه رسول الله وانا خاتم النبيين لا نبى بعدى“ ﴿یعنی میری امت میں تیس جھوٹے اور دجال ایسے پیدا ہوں گے جو نبوت و رسالت کا دعویٰ کریں گے۔ حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں اور میرے بعد کوئی نبی نہیں۔﴾
یہ حدیث ترمذی ج ٢ ص ٤٥ اور ابوداؤد ج ٢ ص ١٢٧ میں موجود ہے۔ اسی لئے تمام مسلمانوں کا یہ عقیدہ ہے کہ حضور اکرمﷺ کے بعد جو بھی نبوت ورسالت کا دعویٰ کرے گا وہ کذاب اور دجال ہوگا اور اس کے پیروکار دجال اور کذاب کے پیروکار ہوں گے اور ان کے اس عقیدہ کی بنیاد اس گراں قدر ہستی کے فرمان پر ہے جن کے متعلق اصدق القائلین کا ارشاد ہے: ”وما ينطق عن الهوى ان هو الا وحى يوحى (النجم:٤،٣)“ ﴿کہ محمد عربیﷺ اپنی مرضی و خواہش سے نہیں بولتے، بلکہ ان کے فرمودات وحی الٰہی کے تابع ہوتے ہیں۔﴾
بدریں وجہ امام ابن کثیرؒ نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے: ”فمن رحمت الله تعالى بالعباد ارسال محمدﷺ ثم من تشريفه لهم ختم الانبياء والمرسلين واكمال الدين الحنيف له وقد اخبر الله تبارک وتعالى فى كتابه ورسولهﷺ فى السنة المتواتره عنه انه لا نبى بعده ليعلموا ان كل من أدعى هذا المقام بعده هو كذاب، دجال، ضال، مضل، ولو تخرق وشعبدو اتى بانواع السحر والطلاسم والنيرنجات فكلها ضلال عند اولى الالباب كما اجرى الله سبحانه وتعالى على يد الاسود العنسى باليمن ومسيلمة الكذاب باليمامة من الاحوال الفاسدة والاقوال الباردة فعلم كل ذى لب وفهم وحجى انهما كاذبان لعنهما الله وكذالك كل مدع لذالك الى يوم القيامة فكل واحد من
٤٣
هولاء الكذابين يخلق الله تعالى معه من الامور ما يشهد العلماء والمؤمنون بكذب من جاء بها (تفسير ابن كثير ج ٣ ص ٤٩٤) ”یعنی اللہ تعالیٰ نے محمد اکرم ﷺ کو مبعوث کر کے اور ان پر نبوتوں اور رسالتوں کا خاتمہ کر کے اور ان پر دین حنیف کو مکمل کر کے لوگوں پر احسان عظیم کیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب مقدس قرآن حکیم میں اور رسول کریم ﷺ نے اپنی حد تواتر کو پہنچی ہوئی احادیث میں یہ اس لئے بیان فرما دیا ہے کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔ تاکہ لوگ جان لیں کہ جو بھی آپ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرے گا وہ جھوٹا، مفتری، دجال، گمراہ اور گمراہ کن ہوگا۔ اگر چہ جادوگری، شعبدہ بازی اور ہاتھ کی صفائی کے کتنے ہی کرتب کیوں نہ دکھلا دے، جس طرح کہ یمن کے اسود عنسی اور یمامہ کے مسیلمہ کذاب نے دکھلائے تھے، کہ ان دونوں کی بازی گری اور چالاکی کے باوصف عقل سلیم اور قلب صحیح رکھنے والا جان گیا تھا کہ یہ دونوں ملعون، کذاب اور مفتری ہیں اور بعینہ قیامت تک اس قسم کا دعویٰ کرنے والے جھوٹے اور ملعون ہوں گے اور اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے ساتھ ایسے احوال وامور کو بھی پیدا فرماتے رہیں گے جنہیں دیکھ کر علماء اور مؤمن ان کے جھوٹے اور کذاب ہونے کی گواہی دیتے رہیں گے۔“
اور یہی وجہ تھی کہ خاتم النبیین رسول اللہ ﷺ کے انتقال کے بعد جب مسیلمہ اور اسود عنسی نے نبوت کا دعویٰ کیا تو صدیق اکبرؓ نے لمحہ بھر کے لئے بھی ان کے دجل وفریب اور کذب وافتراء میں شبہ نہ کرتے ہوئے حضرت عکرمہؓ اور ان کے بعد حضرت خالد بن ولیدؓ کی قیادت میں ایک لشکر جرار مسیلمہ کی سرکوبی کے لئے روانہ کیا اور حضرت مہاجرؓ بن ابی امیہ کی قیادت میں یمن کی طرف اسود عنسی اور ان کے پیروکاروں کی گوشمالی کے لئے فوج روانہ کی اور پرانی روایات کے بالکل برعکس انہیں حکم دیا کہ رسول کے بغیر کسی اور کی نبوت تسلیم کر لینے والوں کے گھروں کو جلا دیا جائے۔ ان کے پھل دار درخت جڑ سے اکھاڑ دیئے جائیں۔ ان کے کھیت تخت و تاراج کر دیئے جائیں۔ ان کی عورتوں کو لونڈیاں اور ان کے بچوں کو غلام بنادیا جائے اور ان سے کسی قسم کی رعایت نہ برتی جائے۔
(البدایہ والنہایہ ج ٦ ص ٣١٦ ، الکامل لابن اثیر، تاریخ الامم للطبری وغیرہ )
لیکن آج ہمارے پاس نہ عزیمت صدیق ہے اور نہ درہ فاروق اور نہ سیف خالد اور نہ شجاعت عکرمہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کہ ہم ایسے لوگوں کے خلاف علم جہاد بلند کر سکیں جو محمد رسول اللہ ﷺ کی ختم المرسلین کا انکار کر کے کسی دجال اور کذاب کی جھوٹی و جعلی نبوت و رسالت کو اصلی اور حقیقی بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔ ہم ایسے جعل ساز متنبی کو آج صرف یہی کہہ سکتے ہیں جو رسول
٤٤
اکرم ﷺ نے فرمایا ہے: ”سيكون في امتى كذابون ثلاثون“ يا ”يخرج ثلاثون دجالون“ کہ وہ کذاب اور دجال ہے۔
یا ہم مرزا غلام احمد قادیانی کی زبان میں کہہ سکتے ہیں: ”میں ان سب باتوں کو مانتا ہوں جو قرآن وحدیث کی رو سے مسلم الثبوت ہیں اور سیدنا ومولانا حضرت محمد ﷺ خاتم المرسلین کے بعد کسی دوسرے مدعی نبوت ورسالت کو کاذب اور کافر جانتا ہوں۔ میرا یقین ہے کہ وحی رسالت حضرت آدم صفی اللہ سے شروع ہوئی اور جناب رسول اللہ محمد مصطفیٰ ﷺ پر ختم ہوگئی۔“
(اشتہار مرزا قادیانی، مورخہ ٢؍اکتوبر ١٨٩١ء، مندرجہ تبلیغ رسالت ج ٢ ص ٢٠، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٣٠، ٢٣١)
اور اسی طرح جس طرح ہم رسول اکرم ﷺ کے بعد دعویٰ نبوت کرنے والے کو حسب قول رسول، دجال اور کذاب اور بقول مرزا قادیانی کافر وکاذب جانتے ہیں۔ اسی طرح ایسے کذاب ودجال اور کافر کو نبی سمجھنے والوں کو بھی دجال اور کذاب اور کافر کے پیروکار سمجھتے ہوئے کافر مانتے ہیں۔ یہ ہمارا عقیدہ ہے اور عقیدے کے بارے میں کسی قسم کی مفاہمت، مداہنت اور سودے بازی نہیں ہوسکتی۔ ہاں ہم یہ بات ضرور کہتے ہیں کہ ملکی مفاد کی خاطر کوئی ایسا اقدام نہیں کرنا چاہئے جس سے کسی کی دل آزاری ہو۔
لیکن اس کے ساتھ ہی ساتھ یہ بھی کہنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے کہ کسی غیر مسلم کو غیر مسلم کہنا کسی کی دل آزاری کا باعث نہیں ہوسکتا۔ اگر پاکستان میں بسنے والے عیسائیوں، یہودیوں، پارسیوں، ہندوؤں، بدھسٹوں اور حتیٰ کہ بہائیوں کو غیر مسلم کہا جاسکتا ہے اور انہیں غیر مسلم کہنے سے کوئی فرقہ واریت لازم نہیں آتی۔ تو مرزائے قادیانی کے الفاظ میں کسی دوسرے کافر کے ماننے والوں کو غیر مسلم قرار دینے سے فرقہ واریت کیسے پیدا ہوجاتی ہے؟ بلکہ فرقہ واریت اور دل آزاری تو اس وقت پیدا ہوتی ہے جب کوئی غیر مسلم مسلمان نہ ہوتے ہوئے اپنے آپ کو مسلمان کہلا کر مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرے یا مسلمان کسی غیر مسلم کو مسلم کہہ کر اسے تنگ کریں۔ یہ بالکل واضح بات ہے کہ کسی عیسائی کو عیسائی یا غیر مسلم کہنا طرفین میں سے کسی کے لئے بھی موجب تکلیف نہیں۔ لیکن عیسائی کو مسلمان کہنا دونوں فریقوں کے لئے رنج والم کا باعث ہوگا۔ عیسائی اسے اپنی توہین پر محمول کرے گا اور مسلمان اسے اپنے مذہب کی اہانت سمجھے گا۔ اسی لئے مسلمانوں کے ہاں چودہ سو سال سے ایک قاعدہ کلیہ چلا آرہا ہے جو ایک خدا کو مانتا ہے اور اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہیں کرتا اور محمد اکرم ﷺ کی رسالت کو تسلیم کرتا ہے اور ان کے بعد کسی نئے نبی کی آمد و بعثت کو تسلیم نہیں کرتا وہ مسلمان ہے اور اس کے علاوہ اگر وہ ایک خدا کو
٤٥
مانتے ہوئے کسی اور کی بھی عبادت کرتا ہے یا محمد اکرم ﷺ کو نہیں مانتا یا مان کر ان کے بعد کسی اور پیدا ہونے والے کو بھی نبی تصور کرتا ہے تو وہ مسلمان نہیں۔ اس قاعدہ پر جو پورا نہیں اترتا، ہمارے نزدیک اس کا اسلام اور مسلمانوں سے دینی و مذہبی کوئی بھی تعلق نہیں۔ وہ ان کا ہم وطن، ہم قوم، ہم نسل تو ہو سکتا ہے۔ ہم مذہب نہیں۔ خواہ عیسائی ہوں کہ محمد اکرم ﷺ کو نہیں مانتے، خواہ کمیونسٹ ہوں کہ خدا کو نہیں مانتے، خواہ ہندو ہوں کہ خدا کو مانتے ہوئے اوروں کی بھی عبادت کرتے ہیں، اور خواہ بہائی ہوں کہ رسول عربی ﷺ کو مانتے ہوئے متنبئ فارسی حسین علی مازندرانی کو بھی مانتے ہیں اور خواہ مرزائی کہ متنبئ ہندی کو مانتے ہیں۔ لیکن آنحضرت ﷺ کو خاتم النبیین نہ مانتے ہوئے کسی اور کی نبوت کے بھی قائل ہیں۔
(بحوالہ الاعتصام مورخہ ٣ مئی ١٩٦٨ء)
مرزائی اور مسلمان
ربوہ کے مرزائی آرگن ”الفرقان“ اپریل کے شمارہ میں ”اتحاد بین المسلمین کے لئے محکم اصول“ کے عنوان سے ایک مقالہ سپرد قلم کیا گیا ہے۔ جس میں مسلمانوں کو اتفاق و اتحاد کی دعوت دیتے ہوئے ارشاد کیا گیا ہے: ”ہمارے نزدیک اتحاد بین المسلمین کی واضح راہ یہ ہے کہ تمام فرقے اور تمام افراد جو اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں۔ قرآن پاک کو اپنی شریعت یقین کرتے ہیں اور کلمہ طیبہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ پر ایمان لاتے ہیں۔ ان سب کو مسلمان سمجھا جائے۔ دلوں کا حال تو اللہ ہی جانتا ہے اور دلوں کی اصلاح بھی وہی کر سکتا ہے۔ لیکن ظاہر کے لحاظ سے اس سے بہتر کوئی واضح اصول نہیں اور اس سے بڑھ کر کوئی صحیح طریقہ نہیں جس سے مسلمان فرقوں میں اتحاد پیدا کیا جاسکے۔ باہمی جزوی اختلافات اور ان کے نتائج کو چھوڑ کر مذکورہ بالا اصول مسلک کو اختیار کرنے سے سب مسلمانوں میں اتحاد اور اتفاق پیدا ہو سکتا ہے۔“
مدیر ”الفرقان“ کی یہ تجویز اپنے اندر کیا کچھ ایچ پیچ رکھتی ہے اور اس میں کس طرح ہاتھ کی صفائی دکھائی گئی ہے۔ یہ ایک الگ بحث ہے۔ ہم اس سلسلہ میں مدیر ”الفرقان“ سے پوچھنے کی جسارت ضرور کریں گے کہ وہ اپنے اس خود ساختہ اصول کی بناء پر یہ فرمائیں کہ جو شخص اپنے آپ کو مسلمان کہلاتا ہے اور قرآن پاک کو اپنی شریعت یقین کرتا ہے اور کلمہ طیبہ ”لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ“ پر ایمان لاتا ہے۔ لیکن مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی و رسول نہیں مانتا۔ ایسے شخص کے بارہ میں آپ کا نظریہ کیا ہے؟ کیا آپ اسے اپنے مبینہ اصول کی بناء پر مسلمان سمجھتے اور تسلیم کرتے ہیں؟ اگر آپ
٤٦
اسے مسلمان تصور کرتے اور مانتے ہیں تو آپ کا اس شخص کے متعلق کیا خیال ہے جو ایسے آدمی کو مسلمان نہیں سمجھتا؟ ایسی کتابوں اور لٹریچر کے بارہ میں آپ کی کیا رائے ہے جس میں ایسے لوگوں کو کافر اور غیر مسلم کہا گیا ہے؟
اور آپ کا یہ ارشاد ہے کہ: ”اس محکم اصول کو توڑنے والے اور یہ کہنے والے کہ فلاں فرقہ اسلام کا جزو نہیں، یا فلاں کو ہم مسلمان تصور نہیں کرتے۔ وہی لوگ درحقیقت اتحاد بین المسلمین کے دشمن اور ملک کے بدخواہ ہیں۔“
کیا آپ ایسے دشمنان اتحاد اور ملک کے بدخواہوں کو جاننے کے بعد انہیں ان کے کیفر کردار تک پہنچانے میں ہمارے ساتھ تعاون کریں گے جو حقیقی مسلمانوں اور محمد عربی علیہ السلام کے غلاموں کو خواہ مخواہ ایک معمولی اور ادنیٰ آدمی کے باعث کافر بنانے پر تلے ہوئے ہیں اور ان کی کتابوں اور لٹریچر کے ضبط کرانے کی طرف حکومت کو توجہ دلائیں گے؟
ایسے لوگوں اور کتابوں کی مختصر سی نشان دہی ہم آج کی صحبت میں کئے دیتے ہیں۔
سرفہرست ایک نام ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی ان کی ایک کتاب ہے۔ (حقیقت الوحی) وہ اس میں رقمطراز ہیں: ”جو مجھ کو باوجود صد ہا نشانوں کے مفتری ٹھہراتا ہے تو مومن کیونکر ہو سکتا ہے؟ اگر وہ مومن ہے تو میں بوجہ افتراء کرنے کے کافر ٹھہرا۔ کیونکہ میں ان کی نظر میں مفتری ہوں۔“
(حقیقت الوحی ص ١٦٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٦٨)
اور: ”خدا تعالیٰ نے مجھ پر ظاہر کیا ہے کہ ہر وہ شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں ہے۔“
(مندرجہ الذکر الحکم، منقول از اخبار الفضل قادیان مورخہ ١٥ جنوری ١٩٣٥ء، تذکرہ ص ٦٠٧)
اور مرزا غلام احمد قادیانی کے فرزند اور قادیانیوں کے دوسرے خلیفہ مرزا محمود احمد قادیانی اپنے ابا کی کفر گری کا تذکرہ یوں کرتے ہیں: ”آپ (یعنی مرزا غلام احمد قادیانی) نے اس شخص کو بھی جو آپ کو سچا جانتا ہے مگر مزید اطمینان کے لئے اس بیعت میں توقف کرتا ہے۔ کافر ٹھہرایا ہے۔ بلکہ اس کو بھی جو آپ کو دل میں سچا قرار دیتا ہے اور زبانی بھی آپ کا انکار نہیں کرتا۔ لیکن ابھی بیعت میں اسے کچھ توقف ہے۔ کافر ٹھہرایا ہے۔“
(مندرجہ تشحیذ الاذہان مورخہ ١٤ اپریل ١٩١١ء)
اور خود اپنی مسلمان دشمنی کا ثبوت یوں مہیا کرتے ہیں کہ: ”جو مسلمان حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے۔ خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا۔ وہ کافر دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔“
(آئینہ صداقت ص ٣٥)
٤٧
اور مرزا غلام احمد قادیانی کے دوسرے بیٹے مرزا بشیر احمد قادیانی یوں اپنی مسلم دشمنی اور بدخواہی کا ثبوت دیتے ہیں کہ: ”ہر ایک شخص جو موسیٰ علیہ السلام کو تو مانتا ہے مگر عیسیٰ علیہ السلام کو نہیں مانتا۔ یا عیسیٰ علیہ السلام کو تو مانتا ہے مگر محمدﷺ کو نہیں مانتا۔ یا محمدﷺ کو مانتا ہے مگر مسیح موعود (مرزا قادیانی) کو نہیں مانتا وہ صرف کافر بلکہ پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔“
(کلمۃ الفصل قادیان، مندرجہ رسالہ ریویو ج ١٤ نمبر ٣ ص ١١٠)
اور ایک اور مرزائی محمد فضل لکھتا ہے: ”یہ بات تو بالکل غلط ہے کہ ہمارے اور غیر احمدیوں کے درمیان کوئی فروعی اختلاف ہے۔ کسی مامور من اللہ کا انکار کفر ہو جاتا ہے۔ ہمارے مخالف حضرت مرزا قادیانی کی ماموریت کے منکر ہیں۔ بتاؤ یہ اختلاف فروعی کیونکر ہوا۔“
(حج المصلی ص ٤٢)
ایک اور فتنہ پرداز لکھتا ہے: ”جری اللہ فی حلل الانبیاء سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ حضرت احمد (مرزا قادیانی) علیہ السلام ایک عظیم الشان نبی اللہ ورسول اللہ ہیں اور ان کا انکار موجب غضب الہی اور کفر ہے۔“
(الموہبۃ فی الالہام)
اور مرزائیوں کا ترجمان (الفضل مورخہ ١٣؍ستمبر) رقمطراز ہے: ”چوہدری ظفر اللہ کی بحث تو صرف یہ تھی کہ ہم (احمدی) مسلمان ہیں۔ ہم کو کافر قرار دینا غلطی ہے۔ باقی غیر احمدی کافر ہیں یا نہیں۔ اس کے متعلق عدالت ماتحت میں بھی احمدیوں کا یہی جواب تھا کہ ہم ان کو کافر کہتے ہیں اور ہائیکورٹ میں چوہدری صاحب نے اس کی تائید کی۔“
(الفضل قادیان مورخہ ١٤؍اکتوبر ١٩٢٢ء)
یہ ہے ان ملک کے بدخواہوں اور اتحاد بین المسلمین کے دشمنوں کی ایک ہلکی سی جھلک اور معمولی سی فہرست۔ ہمیں امید ہے کہ مدیر ”الفرقان“ ان کے بارہ میں اپنی رائے سے ہمیں اور اپنے قارئین کو آگاہ کریں گے اور حکومت پاکستان سے درخواست کریں گے کہ وہ ایسے تمام لٹریچر کو ضبط کرے جس میں دنیا کی عظیم ترین قوم جس کی تعداد اس وقت ستر کروڑ سے زائد ہے اور جو محمد اکرمﷺ کی نام لیوا ہے کے خلاف زہر اگلا گیا ہے اور ان کے اسلام اور ایمان کی نفی کی گئی ہے اور اس طرح وہ اس بات کا عملی ثبوت مہیا کریں گے کہ وہ واقعتاً اس قماش کے لوگوں کو اتحاد بین المسلمین کے دشمن اور ملک کے بدخواہ سمجھتے ہیں۔
(بحوالہ الاعتصام مورخہ ١٧؍مئی ١٩٦٨ء)
اشتعال انگیز تحریریں
مرزائی حضرات آئے دن یہ واویلا کرتے رہتے ہیں کہ مسلمان ان کے خلاف نفرت انگیز تقریریں کرتے ہیں اور اشتعال انگیز لٹریچر چھاپتے ہیں۔ اس سے وہ حکومت کو یہ تاثر دینے کی
٤٨
کوشش کرتے ہیں کہ ہم بڑے صلح کن اور امن جو لوگ ہیں۔ مسلمان بڑے فسادی اور شرانگیز۔ اس طرح بعض دفعہ گورنمنٹ ان کے پھندے میں آکر مسلمان افراد کے خلاف ایسے اقدامات کرگزرتی ہے کہ اگر اسے حقائق کا علم ہو تو وہ کبھی ان کا ارتکاب نہ کرے۔ کیونکہ شرانگیزی ہمیشہ مرزائیوں کی طرف سے ہوتی ہے اور جب مسلمان علماء و مبلغین اور رسائل ان کا نوٹس لیتے ہیں تو وہ فوراً امن پسندی اور انصاف کے نام پر حکومت کو خفیہ اور ظاہری طریقوں سے متوجہ کرنا شروع کر دیتے ہیں اور اس طرح مسلمان حکومت کو مسلمانوں کے خلاف اکسا اور بھڑکا کر انہیں زک دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ جس سے عوام کے دلوں میں اپنی مسلم حکومت کے خلاف شکوک وشبہات پیدا ہوتے ہیں اور ان کے جذبات کو ٹھیس پہنچتی ہے۔ جس سے حکام اور رعایا کے درمیان دوری ہوتی ہے اور نفرت جنم لیتی ہے۔ اس کی مثال یوں ہے کہ مسلمانوں کا اجتماعی عقیدہ ہے کہ حضور اکرم ﷺ آخری رسول ہیں اور خداوند کریم نے یہ شرف آپ کو عطاء کیا ہے کہ نبوتیں اور رسالتیں آپ پر ختم ہوگئی ہیں اور اس طرح وہ کام جو پہلے انبیاء کیا کرتے تھے اب اسے رسول اللہ ﷺ کی مسند کے امین سرانجام دیا کریں گے۔ اب ایک آدمی اٹھتا ہے اور مسلمانوں کے اس متفقہ علیہ عقیدے کے برعکس نبی اکرم ﷺ کے اس شرف وفضیلت پر حملہ کرتے ہوئے اس بات کا دعویٰ کرتا ہے کہ وہ نبی اور رسول ہے تو ظاہر ہے اس سے مسلمانوں کے جذبات میں تموج پیدا ہوگا اور انہیں صدمہ پہنچے گا۔ کیونکہ اس سے ایک تو رسول اکرم ﷺ کی عظمت و فضیلت میں فرق آتا ہے اور دوسرے آپ کی بات کی تکذیب ہوتی ہے۔ جب کہ آپ فرماتے ہیں: ”فضلت علی الانبیاء بست اعطیت جوامع الکلم ونصرت بالرعب واحلت لی الغنائم وجعلت لی الارض مسجدا وطهورا وارسلت الی الخلق كافة وختم بی النبیون (رواه المسلم)“
مجھے تمام انبیاء پر چھ چیزوں سے فضیلت دی گئی ہے۔
- ١....... مجھے جامع کلمات سے نوازا گیا ہے۔
- ٢....... مجھے رعب ودبدبہ عطاء کیا گیا ہے۔
- ٣....... میرے لئے اموال غنیمت کو حلال ٹھہرایا گیا ہے۔
- ٤....... روئے زمین کو میرے لئے پاک اور سجدہ گاہ بنایا گیا ہے کہ جہاں نماز کا وقت ہو جائے
وہیں نماز ادا کر لی جائے۔
- ٥....... مجھے پوری دنیا کے لئے مبعوث کیا گیا ہے۔
- ٦....... نبیوں کا سلسلہ مجھ پر ختم کر دیا گیا ہے۔
٤٩
اب ظاہر ہے مسلمان اس شخص کے بارہ میں کبھی اچھا نظریہ نہیں رکھ سکتے جو ان کے مطاع و مقتداء محمد اکرم ﷺ کی فضیلت کو کم کرنا چاہے یا ان کے ارشاد کی تکذیب کرے اور پھر وہ ایسے لوگوں کو کیسے پسند کر سکتے ہیں یا ان کے بارے میں اچھی رائے رکھ سکتے ہیں جو ایسے آدمی کو خدا اور اس کے رسول ﷺ کے فرامین کے بالکل برخلاف، نبی اور رسول مانتے ہیں اور پھر اس پر بھی اکتفا نہ کرتے ہوئے مسلمانوں کے خلاف زبان طعن و لعن بھی استعمال کرتے ہوں۔ اس لئے ہم اپنی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ دنیا کی سب سے بڑی اسلامی ریاست پاکستان میں مسلمانوں کے مفادات کا لحاظ اور پاس رکھتے ہوئے ایسی تمام تحریرات کو ضبط کرے۔ جن سے مسلمانوں کے عقائد پر زد پڑتی ہو اور ان کے جذبات کو ٹھیس لگتی ہو اور جنہیں پڑھ کر ان کے قلوب واذہان جوش میں آ جاتے ہوں۔ کیونکہ جب تک اشتعال انگیزی اور نفرت خیزی کے محرکات کا خاتمہ نہ کیا جائے گا اس وقت تک اشتعال و نفرت ختم نہیں کی جاسکے گی۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کے پیرو کار رسول اکرم ﷺ کی شان میں گستاخی کریں۔ مسلمانوں کو کافر اور جہنمی کہیں۔ ان کی نماز جنازہ پڑھنے سے منع کریں۔ ان کے پیچھے نماز ادا کرنے سے روکیں۔ ان سے شادی بیاہ کی ممانعت کریں اور مسلمان پھر اسے مسلمان ہی سمجھیں؟
مرزا غلام احمد قادیانی اپنی کتاب اعجاز احمدی میں لکھتا ہے: ”له خسف القمر المنير وان لى غسا القمران المشرقان اتنکر“ اس کے (نبی کریم ﷺ کے) لئے چاند گرہن کا نشان ظاہر ہوا اور میرے لئے چاند اور سورج دونوں کا۔ اب کیا تو ان کا انکار کرے گا۔
(اعجاز احمدی ص ٧١، خزائن ج ١٩ ص ١٨٣)
اور مرزا قادیانی کا بیٹا بشیر احمد قادیانی تو یہاں تک گستاخی پر اتر آتا ہے کہ : ”اگر نبی کریم ﷺ کا انکار کفر ہے تو مسیح موعود (مرزائے قادیانی) کا بھی کفر ہونا چاہئے۔ کیونکہ مسیح موعود (مرزا قادیانی) نبی کریم سے کوئی الگ چیز نہیں ہے۔ بلکہ وہی ہے اور اگر مسیح موعود کا منکر کافر نہیں تو (نعوذ باللہ ) نبی کریم کا منکر بھی کافر نہیں۔ کیونکہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ پہلی بعثت میں تو آپ کا انکار کفر ہو مگر دوسری بعثت میں بقول مسیح موعود ”آپ کی روحانیت اقوی اور اکمل اور اشد ہے“ آپ کا انکار کفر نہ ہو۔“
(کلمۃ الفصل ص ١١٦ مندرجہ رسالہ ریویو ج ١٤ نمبر ٣ ص ١٤٧)
اور ایک اور دریدہ دہن گستاخ یہاں تک کہہ دیتا ہے ۔
اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شاں میں
٥٠
غلام احمد کو دیکھے قادیاں میں
(اخبار پیغام صلح مورخہ ١٤ مارچ ١٩١٦ء، بقلم ظہور الدین اکمل قادیانی)
ایک اور مرزائی شاہنواز لکھتا ہے: ”حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کا ذہنی ارتقاء آنحضرت ﷺ سے زیادہ تھا۔“
(ریویو آف ریلیجنز مورخہ ٧ مئی ١٩٢٩ء)
اور پھر مرزائیوں کا دوسرا خلیفہ مسلمانوں کے خلاف اس قدر تند، تیز اور تلخ جذبات رکھتا ہے کہ اپنی کتاب ”انوار خلافت“ میں اس قسم کی شدید اشتعال انگیز تحریر درج کرنے سے نہیں چوکتا۔
”ہمارا یہ فرض ہے کہ غیر احمدیوں کو مسلمان نہ سمجھیں اور ان کے پیچھے نماز نہ پڑھیں۔ کیونکہ ہمارے نزدیک وہ خدا تعالیٰ کے ایک نبی کے منکر ہیں۔ یہ دین کا معاملہ ہے۔ اس میں کسی کا اپنا اختیار نہیں۔“
(انوار خلافت ص ٩٠)
پچھلے شمارہ میں ہم نے اپنی گذارشات پیش کرتے ہوئے یہ مطالبہ کیا تھا کہ دنیا کی سب سے بڑی اسلامی ریاست پاکستان میں مسلمانوں کو مکمل مذہبی تحفظ حاصل ہونا چاہئے۔ تاکہ کوئی دریدہ دہن اسلامی شعائر دینی مصطلحات اور مسلم اکابر پر زبان طعن دراز نہ کر سکے اور قلم گستاخ حرکت میں نہ لا سکے اور ایسے تمام لٹریچر کو ضبط کیا جائے جس سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوتے ہوں۔ کیونکہ اگر پاکستان ایسے قومی و ملی وطن میں مسلمانوں کی نگہداشت نہ کی جا سکے تو دوسرے ممالک میں دوسروں سے کیا توقع رکھی جا سکے گی؟
اس سلسلہ میں ہم نے چند ایسی تحریروں کی نشاندہی کی تھی جس سے مسلمانوں کے قلوب واذہان انتہائی برا اثر قبول کرتے ہیں اور ان کے اندر ہیجان اور منافرت کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔ آج ہم اس قسم کی چند اور تحریریں پیش کرتے ہیں تاکہ ہمارے ارباب اختیار کو معلوم ہو کہ ایک مخصوص گروہ جسے انگریزی حکومت نے اپنے مخصوص مقاصد کے لئے جنم دیا تھا۔ مسلمانوں کے متعلق کس قدر اشتعال انگیز اور منافرت خیز خیالات رکھتا ہے۔
مرزا غلام احمد قادیانی کا فرزند مرزا بشیر احمد قادیانی مسلمانوں کے خلاف اپنے کینہ و عناد کا اظہار کرتے ہوئے لکھتا ہے۔
مسلماں را مسلماں باز کردند
٥١
اس الہامی شعر میں اللہ تعالیٰ نے مسئلہ کفر و اسلام کو بڑی وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے۔ اس میں خدا نے غیر احمدیوں کو مسلمان بھی کہا ہے کہ وہ مسلمان کے نام سے پکارے جاتے ہیں اور جب تک یہ لفظ استعمال نہ کیا جاوے لوگوں کو پتہ نہیں چل سکتا کہ کون مراد ہے۔ مگر ان کے اسلام کا انکار اس لئے کیا گیا ہے کہ وہ اب خدا کے نزدیک مسلمان نہیں ہیں۔ بلکہ ضرورت ہے کہ ان کو پھر نئے سرے سے مسلمان کیا جاوے۔‘‘
(کلمۃ الفصل قادیان مندرجہ رسالہ ریویو ج ١٤ نمبر ٣ ص ١٣٣)
اور یہی بشیر احمد قادیانی اسلام اور مسلمانوں سے اپنے بغض باطنی کو یوں اگلتا ہے: ’’حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی اس تحریر سے بہت سی باتیں حل ہو جاتی ہیں۔ اوّل یہ کہ حضرت صاحب کو اللہ نے الہام کے ذریعے اطلاع دی کہ تیرا انکار کرنے والا مسلمان نہیں اور نہ صرف یہ اطلاع دی بلکہ حکم دیا کہ تو اپنے منکروں کو مسلمان نہ سمجھ، دوسرے یہ کہ حضرت (مرزا قادیانی) نے عبدالحکیم خاں کو جماعت سے اس واسطے خارج کیا کہ وہ غیر احمدیوں کو مسلمان کہتا تھا۔ تیسرے یہ کہ مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے منکروں کو مسلمان کہنے کا عقیدہ ایک خبیث عقیدہ ہے۔ چوتھے یہ کہ جو ایسا عقیدہ رکھے اس کے لئے رحمت الٰہی کا دروازہ بند ہے۔ چھٹے یہ کہ جو مسیح موعود کے منکروں کو راست باز قرار دیتا ہے۔ اس کا دل شیطان کے پنجے میں گرفتار ہے۔‘‘
(کلمۃ الفصل قادیان مندرجہ ریویو آف ریلیجنز ج ١٤ نمبر ٣ ص ١٢٥)
ایک اور مرزائی مسلمانوں کے متعلق یوں گہر بار ہے: ’’خدا تعالیٰ نے مرزا قادیانی کو فرمایا کہ جس کو میرا محبوب بننا منظور اور مقصود ہو اس کو تیری اتباع کرنی اور تجھ پر ایمان لانا لازمی شرط ہے۔ ورنہ وہ میرا محبوب نہیں بن سکتا۔ اگر تیرے منکر تیرے اس فرمان کو قبول نہ کریں بلکہ شرارت اور تکذیب پر کمر بستہ ہوں تو ہم سزا دہی کی طرف متوجہ ہوں گے۔ ان کافروں کے واسطے ہمارے پاس جہنم موجود ہے۔ جو قید خانہ کا کام دے گا۔ یہاں صرف حضرت احمد (مرزا قادیانی) کے منکر اور اطاعت و بیعت میں نہ آنے والے گروہ کو کافر قرار دیا ہے اور جہنم ان کے لئے بطور قید خانہ قرار دیا ہے۔‘‘
(النبوۃ فی الالہام ص ٤٠)
اور مرزائیوں کا دوسرا خلیفہ مرزا محمود احمد مسلمانوں کے پیچھے نماز پڑھنے کے بارہ میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہتا ہے: ’’حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے سختی سے تاکید فرمائی ہے کہ کسی (احمدی) کو غیر احمدی کے پیچھے نماز نہیں پڑھنی چاہئے۔ باہر سے لوگ اس کے
٥٢
متعلق بار بار پوچھتے ہیں۔ میں کہتا ہوں تم جتنی دفعہ بھی پوچھو گے اتنی دفعہ ہی میں یہی جواب دوں گا کہ غیر احمدی کے پیچھے نماز پڑھنی جائز نہیں، جائز نہیں۔"
(انوار خلافت ص ٨٩)
ایک اور جگہ پھر اس سے بھی زیادہ صراحت کے ساتھ کہتا ہے: ”ہمارا یہ فرض ہے کہ غیر احمدیوں کو مسلمان نہ سمجھیں اور ان کے پیچھے نماز نہ پڑھیں۔ کیونکہ ہمارے نزدیک وہ خدا تعالیٰ کے ایک نبی کے منکر ہیں۔ یہ دین کا معاملہ ہے۔ اس میں کسی کا اپنا اختیار نہیں کہ کچھ کر سکے۔“
(انوار خلافت ص ٩٠)
اور پھر یہی محمود احمد اس حد تک دشنام طرازی پر اتر آیا ہے کہ: ”کسی احمدی (مرزائی) نے احمدیت (مرزائیت) کی حالت میں غیر احمدی سے احمدی لڑکی کا نکاح نہیں کیا۔ اس سے مراد یہی ہے جو حدیث میں آیا ہے۔ ”لا يزني زان حين يزني وهو مؤمن“ نہیں زنا کرتا کوئی زانی در آں حالیکہ وہ مؤمن ہو۔ بعض احکام ایسے ہوتے ہیں کہ جن کو کرتے وقت انسان ایمان سے نکل جاتا ہے اور اسی طرح یہ ممکن نہیں کہ کوئی شخص احمدیت کو تسلیم کرتا ہو اور پھر غیر احمدی کو اپنی لڑکی دے دے۔“
(الفضل قادیان مورخہ ٢٦، ٢٩ جون ١٩٢٢ء)
اور خود مرزا غلام احمد قادیانی کی مسلم دشمنی اور عداوت کا یہ عالم ہے کہ وہ کہتا ہے: ”یہ جو ہم نے دوسرے مدعیان اسلام سے قطع تعلق کیا ہے۔ اوّل تو یہ خدا کے حکم سے تھا، نہ اپنی طرف سے اور دوسرے وہ لوگ ریا پرستی اور طرح طرح کی خرابیوں میں حد سے بڑھ گئے ہیں اور ان کو ان کی ایسی حالت کے ساتھ اپنی جماعت کے ساتھ ملانا یا ان سے تعلق رکھنا ایسا ہے۔ جیسا کہ عمدہ اور تازہ دودھ میں بگڑا ہوا دودھ ڈال دیں جو سڑ گیا ہے اور اس میں کیڑے پڑ گئے ہیں۔ اس وجہ سے ہماری جماعت کسی طرح ان سے تعلق نہیں رکھ سکتی اور نہ ہمیں ایسے تعلق کی حاجت ہے۔“
(تشحیذ الاذہان ج ١ ش ٨ ص ١٣١، ماہ اگست ١٩١١ء)
اور پھر یہی مرزائے قادیانی انتہائی جسارت سے کام لے کر اپنے آپ کو سرور عالم محمد اکرم ﷺ سے افضل واعلیٰ کہنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتا: ”ہمارے نبی کریم ﷺ کی روحانیت نے پانچ ہزار میں اجمالی صفات کے ساتھ ظہور فرمایا اور وہ زمانہ اس روحانیت کی ترقیات کی انتہاء نہ تھا۔ بلکہ کمالات کے معراج کے لئے پہلا قدم تھا۔ پھر روحانیت نے چھٹے ہزار کے آخر میں یعنی اس وقت پوری تجلی فرمائی۔“
(تشحیذ الاذہان ج ٦ نمبر ٨ ص ٣١١)
دیکھئے کس قدر گستاخی اور بے باکی سے ایک ادنیٰ ترین شخص اپنے آپ کو اعلیٰ الخلائق
٥٣
سے افضل و برتر کہنے میں کوئی شرم و حیا محسوس نہیں کرتا اور ظاہر ہے کہ مسلمانوں کے دل اس سے جس قدر بھی زخمی ہوں کم ہے۔ اس لئے ہم اپنی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس گروہ مسلم دشمن کو ہدایت کرے کہ وہ آئندہ اس قسم کی کتابوں اور تحریروں کی نشر و اشاعت سے باز رہے اور پہلے چھپی ہوئی تمام تحریروں کو تلف کرے۔ جن سے آقائے مدنی علیہ الصلوٰۃ والسلام اور آپ کے صحابہ کرام علیہم رضوان اللہ کے خلاف یا مسلمانوں کے مقدسات اور عقائد پر زد پڑتی ہو اور ان کے جذبات مجروح ہوتے ہوں۔ کیونکہ ایسا کرنا ملکی اور قومی مفادات میں شامل ہے۔
(بحوالہ الاعتصام مورخہ ٣١ مئی ١٩٦٨ء)
فتنہ پرور
ہم متعدد بار ان کالموں میں اس بات کا ذکر کر چکے ہیں کہ اس اسلامی ملک پاکستان میں کسی فرقہ کو اس بات کی اجازت نہیں دینی چاہئے کہ وہ مسلمانوں کی دل آزاری کرے۔ ان کے معتقدات اور مقدسات پر حملہ کرے۔ ان کے اکابر کی عزتوں سے کھیلے اور ان کے بزرگوں پر کیچڑ اچھالے۔ کیونکہ جس وقت کسی بھی فرقہ اور مذہب سے تعلق رکھنے والے لوگ مسلمانوں کے کسی عقیدے یا مسلمانوں کی کسی بزرگ شخصیت پر زبان درازی کرتے ہیں تو وہ براہ راست اسلام اور شریعت محمدی علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام پر حملہ آور ہوتے ہیں اور ایک مسلمان ملک میں اسلام پر نقد و جرح اور مسلمانوں کی تنقیص و توہین کرنے والوں کے لئے کوئی جگہ نہیں ہونی چاہئے۔ اس موضوع پر ائمہ کرام نے کتب فقہ میں مستقل ابواب لکھے ہیں اور کئی نے اس مسئلہ پر مبسوط اور مفصل کتابیں اور رسائل ترتیب دیئے ہیں۔ کیونکہ وہ شخص جس سے ایک مسلم اور اسلامی ریاست میں رہتے ہوئے مسلمانوں کی آبرو اور اسلام کی عزت محفوظ نہیں۔ اس سے یہ توقع کیسے رکھی جاسکتی ہے کہ وہ مسلمانوں کی ریاست اور ان کے قائم کردہ ملک و وطن کا وفادار اور فرمانبردار اور اس کی سالمیت اور بقاء کا طلب گار اور خواہش مند ہوگا۔ کیونکہ اس کی ساری ہمدردیاں اور خیر خواہیاں اس کے ساتھ وابستہ ہوں گی جو اس کے مفادات و مطالبات کو پورا کرتا ہے اور اس کی مقصد براری میں اس کا ہاتھ بٹاتا ہے۔ خواہ وہ ملک و وطن کا بدخواہ ہو اور خواہ وہ اہل وطن کا دشمن۔ ایسے لوگ صرف اپنے اہداف اور اپنی اغراض کے غلام ہوتے ہیں اور ان اغراض و اہداف کے حصول کی خاطر وہ ادنیٰ سے ادنیٰ کام کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے۔ جو شخص رسول اللہ ﷺ کی ہستی گرامی اور ذات مطہرہ کے متعلق یاوہ گوئی سے باز نہیں رہتا۔ اس سے یہ توقع ہی فضول ہے کہ وہ آپ کے
٥٤
نام اطہر پر قائم ہونے والے وطن کے بارہ میں اچھے جذبات رکھے گا اور ایسی فضا پیدا کرنے سے گریز کرے گا جس سے ملک کے امن وامان کے تہ و بالا ہو جانے کا خدشہ پیدا ہوتا ہو اور لوگوں کے جذبات مجروح ہوتے ہوں۔ بلکہ ایسے لوگوں کی تو خواہش ہی یہی ہوتی ہے کہ ملک کی فضاء (خاکش بدہن) ہمیشہ مکدر رہے۔ تاکہ حکومت کو ملک کی سلامتی اور ترقی کی طرف توجہ کرنے کا موقعہ ہی نہ ملے اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ مسلمانوں کی قومی وملی حکومت کو خود مسلمانوں سے بھڑایا جائے اور اس طرح عوام کو حکومت سے متنفر کر کے ملک میں افراتفری پیدا کی جائے۔ جس سے اسلامی قوتیں اور طاقتیں کمزور ہوں اور خود انہیں پنپنے اور پھلنے پھولنے کے مواقع مل جائیں اور اس کی صورت یوں ہو کہ جب مسلمانوں کے کسی مسلمہ عقیدے یا کسی محترم ہستی پر چھینٹے دیئے جائیں اور جب مسلمان اس پر برافروختہ ہوں تو قانون اور امن کے نام پر حکومت کو انگیخت کی جائے۔ چنانچہ آئے دن ایسے لوگوں کے اخبارات اور رسائل ایسی ہی تحریریں شائع کرتے اور ان کے بڑے اپنی تقریروں اور جلسوں میں اس کا مظاہرہ کرتے رہتے ہیں۔
اسی طرح کی ایک تحریر حال ہی میں ایک مرزائی پرچہ میں شائع ہوئی ہے۔ جس میں مسلمانوں کے ایک انتہائی محترم و معظم اور صف اوّل کے نامور عالم کے خلاف دریدہ دہنی نہیں بلکہ دشنام طرازی کی گئی ہے۔ اس میں ایک مرزائی نور الدین بھیروی اور ضیغم ملت مولانا محمد حسین بٹالویؒ کا موازنہ کیا گیا ہے کہ: ”ایک (یعنی نور الدین) نے اپنے نور ایمان سے مرزائے قادیانی کو مان لیا اور دوسرے (مولانا محمد حسین بٹالویؒ) نے اپنی بے بصیرتی سے تسلیم نہ کیا اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے ایسا ذلیل کیا کہ نام ونشان ہی مٹ گیا اور اپنی زندگی میں وہ رسوا اور نامراد رہا۔“
(مرزائی پرچہ پیغام صلح مورخہ ٢٩ مئی ١٩٦٨ء)
اب ظاہر ہے کہ کسی بھی مسلمان کا اس تحریر کو پڑھ کر جوش وغصہ میں آنا ایک قدرتی امر ہے اور اسے حق حاصل ہے کہ وہ ایسے بد باطن کا اچھی طرح نوٹس لے جو ایک معزز اور قابل صد احترام مرحوم مسلمان عالم دین کو صرف اس لئے گالی دیتا ہے کہ اس نے جناب رسالت مآب ﷺ کی ختم المرسلینی کے خلاف بغاوت کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ اگر نبی عربی فداہ ابی وامی ﷺ کی فرمانبرداری واطاعت اور آپؐ کے دامن اقدس سے وابستگی کا نام (عیاذاً باللہ) ذلت و رسوائی ہے تو متنبی ہندی کی رفاقت واطاعت بھی باعث عزت اور قابلِ پذیرائی نہیں ہو سکتی۔
ہمارے نزدیک غلام احمد قادیانی کے یہ مرید اور نور الدین مرزائی کے یہ حمایتی ان -
٥٥
دونوں کے دوست نہیں بلکہ دشمن ہیں جو ہمیں اس بات پر مجبور کرتے ہیں کہ ہم ان کی ذلتوں اور رسوائیوں کا راز طشت از بام کریں۔ لیکن اس سے پہلے کہ ہم بتلائیں کہ کون ذلیل و رسوا ہو کر مرا ہے۔ مولانا محمد حسین بٹالوی علیہ الرحمۃ یا نور الدین مرزائی اور مرزا غلام احمد قادیانی؟ ہم اپنی حکومت اور پریس برانچ سے یہ پوچھنے کی جرأت ضرور کریں گے کہ وہ ایسے بے لگاموں کو کیوں لگام نہیں دیتے جو ملک میں فتنہ و فساد کے بیج بو کر ملک کی سالمیت کو نقصان پہنچاتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ اس فتنہ و فساد کے نتیجہ میں ان کے گھروندے سلامت و محفوظ رہیں گے۔ کیا انہیں معلوم نہیں کہ یہ اسی وقت تک محفوظ ہیں جب تک کہ ملک محفوظ ہے۔ اگر خدانخواستہ ملک پر کوئی آنچ آگئی تو یہ بھی ان کے اثر سے امن میں نہیں رہ سکیں گے۔
ہم اپنی حکومت سے دوبارہ اپیل کریں گے کہ وہ ملک کے ان بدخواہوں پر کڑی نگرانی رکھے اور ان کی تمام ایسی تحریرات پر قدغن لگائے جن سے اسلام کے نام پر وجود میں آئے ہوئے اس دیس میں مسلمانوں اور اسلام کے خلاف جارحیت کا ارتکاب کیا گیا ہو اور جن سے ملک کے امن و امان کو خطرہ لاحق ہوتا ہو۔ کیونکہ ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ ان لوگوں کا اصل اقدام کسی مخصوص مسلمان جماعت کے خلاف نہیں بلکہ تمام مسلمانوں، راعی اور رعایا حکومت اور عوام کے خلاف ہے۔ اس دفعہ اسی پر اکتفاء کرتے ہوئے ہم آئندہ اس مضمون کا علمی تجزیہ کرتے ہوئے بدلائل یہ ثابت کریں گے کہ رسوائی اور ذلت کی موت کون مرا؟ مرزا غلام احمد، نور الدین یا مولانا محمد حسین بٹالوی؟ ان شاء اللہ!
(بحوالہ الاعتصام مورخہ ١٧ جون ١٩٦٨ء)
ذلیل و رسوا..... کون؟
ہم نے پچھلے شمارہ میں ایک مرزائی پرچہ کی ایک دل فگار اور منافرت انگیز عبارت کا تذکرہ کرتے ہوئے اپنی حکومت سے یہ اپیل کی تھی کہ وہ ایسے لوگوں کا سختی سے محاسبہ کرے جو ایک اسلامی ریاست میں بستے ہوئے مسلمانوں کی عزت و آبرو پر حملہ آور ہوتے ہیں اور ان کے اکابر علماء صلحاء اور مقدسات و شعائر کی گستاخی، بے ادبی اور بے حرمتی کرتے ہیں اور صرف اس جرم کی پاداش میں کہ انہوں نے حضرت محمد اکرم ﷺ کے لائے ہوئے دین اور شریعت سے بغاوت کا ارتکاب کیوں نہیں کیا اور ان چیزوں کو اس قدر مطہر و مقدس کیوں خیال کرتے ہیں۔ جن سے رسول عربی ﷺ کا تعلق، محبت اور وابستگی رہی ہے۔ اس سلسلہ میں ہم نے اس قماش کے لوگوں کی ایک نئی اور تازہ جارحیت کی نشاندہی کرتے ہوئے جو انہوں نے مسلمانوں کی ایک انتہائی معزز اور
٥٦
محترم اور گرامی قدر شخصیت مولانا محمد حسین بٹالوی کے بارہ میں کی تھی۔ اس بات کا وعدہ کیا تھا کہ اس شمارہ میں ہم اس کا علمی تجزیہ کریں گے اور بدلائل یہ ثابت کریں گے کہ مرزائی الزام کا اصل مصداق کون ہے؟ حضرت مولانا محمد حسین بٹالوی یا مرزا غلام احمد قادیانی اور نور الدین بھیروی؟
یاد رہے کہ مرزائی پرچہ پیغام صلح نے اپنے شمارہ نمبر ٢٠، ٢١ ج ٥٦، مورخہ ٢٩ مئی ١٩٦٨ء میں حکیم نور الدین بھیروی اور حضرت مولانا محمد حسین بٹالوی کا موازنہ کرتے ہوئے لکھا کہ: ”چونکہ مولانا بٹالوی نے مرزا قادیانی کے دعویٰ مسیحیت کو قبول نہ کیا۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اسے ذلیل کیا کہ نام و نشان ہی مٹ گیا اور اپنی زندگی میں وہ رسوا اور نامراد رہا۔“
یہ عبارت اپنے اندر جس قدر گھٹیا پن اور پستی لئے ہوئے ہے۔ اس سے قطع نظر ہم اس وقت صرف یہ ثابت کریں گے کہ ذلت ورسوائی کی موت کون مرا؟
نور الدین جس نے مرزا قادیانی کے دعویٰ مسیحیت کو قبول کر لیا۔ یا کہ مرزا جس نے مسیحیت کا دعویٰ کیا؟
اسی اخبار پیغام صلح کے نامہ نگار نے ایک اشتہار شائع کیا جس کا نام رکھا۔ ”گنجینہ صداقت“ اور اس اشتہار کو نقل کیا۔ مشہور مرزائی پرچے الفضل نے اس میں نور الدین کی ذلت و رسوائی کی موت کو اس کے نور بصیرت کے باوصف ان الفاظ میں ذکر کیا گیا ہے: ”کہاں مولوی نور الدین صاحب کا حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کو نبی اللہ اور رسول اللہ اور اسمہ احمد کا مصداق یقین کرنا اور کہاں وہ حالت کہ وصیت کے وقت مسیح موعود کی رسالت کا اشارہ تک نہ کرنا۔ استقامت میں فرق آنا اور پھر بطور سزا کے گھوڑے سے گر کر بری طرح زخمی ہونا اور آئندہ جہاد میں بھی کچھ سزا اٹھانا اور اس کے بعد اس کے فرزند عبد الحئی کا عنفوان شباب میں مرنا اور اس کی بیوی کا تباہ کن طریق پر کسی اور جگہ نکاح کر لینا۔ یہ باتیں کچھ کم عبرت انگیز نہیں۔“
(منقول از اخبار الفضل قادیان مورخہ ٢٢ فروری ١٩٢٢ء، ش ١٩ ج ٩)
کیا کہتا ہے۔ پیغام صلح کا موجودہ مضمون نویس کہ یہ سچا ہے یا پیغام صلح کا وہ نامہ نگار جس نے گنجینہ صداقت شائع کیا تھا اور جس کی عبارت کو الفضل نے نقل کیا ہے؟ اور اسی پیغام صلح نے مورخہ ٢٣ مئی ١٩١٧ء کو یہ خبر شائع کی تھی جو پس منظر کا پورا پتہ دیتی ہے کہ: ”فروری کا مہینہ وہ مہینہ ہے جب حضرت مولانا نور الدین صاحب بستر علالت پر تھے اور آپ کی حالت دن بدن تشویشناک تھی۔“
(پیغام صلح مورخہ ٢٣ مئی ١٩١٧ء)
٥٧
اور پھر انہی مرزائیوں کی جانب سے مرزا بشیر الدین پر کیا کیا الزام لگائے گئے کہ اس نے نور الدین کی اولاد کا خاتمہ کیا۔ اس کی بیٹی اور اپنی بیوی امۃ الحئی کو قتل کروا دیا۔ نور الدین کے بیٹے عبدالحئی کو زہر دلوا کر مروا دیا اور پھر یہ تو کل کی بات ہے۔ اسی نور الدین جس نے مرزائیت کی خاطر اپنا سب کچھ دین، ایمان، مذہب، ضمیر اور روپیہ ہر چیز لٹا دیا تھا۔ جس نے بقول پیغام صلح اپنے نور بصیرت سے مرزا قادیانی کے دعویٰ مسیحیت کو مان لیا تھا۔ اس کے دوسرے بیٹے عبدالمنان سے خلیفہ قادیان نے جو کچھ کیا تھا وہ کسی سے پوشیدہ نہ ہوگا کہ اسے منافق قرار دیا۔ اس کا سوشل بائیکاٹ کروایا اور ربوہ میں اس کا داخلہ ممنوع قرار پایا اور اسے اس جماعت تک سے نکال باہر پھینک دیا۔ جس کی خاطر اس کے باپ نے ہزار ذلت و رسوائی مول لی تھی اور اس طرح نور الدین کی عبرت انگیز اور ذلت آمیز موت پر ہی اکتفاء کیا۔ بلکہ اس کی رسوائی میں اس کی موت کے بعد اور اضافے کئے گئے اور اس کا نام و نشان تک مٹا دیا گیا۔
ان سب باتوں کے ہوتے ہوئے پھر کسی دوسرے پر حملہ آور ہونا اپنے گھر سے بے خبری کی دلیل نہیں تو اور کیا ہے؟ یا شاید پیغام صلح کے مضمون نویس کو نور الدین کی زندگی کے احوال یاد رہ گئے ہوں۔ جنہیں وہ حضرت مولانا محمد حسین بٹالویؒ کے حالات سمجھتا رہا ہو۔ وگرنہ ذلت ورسوائی کی موت نور الدین کے مقدر ہوئی نہ کہ مولانا بٹالوی کے اور پھر موت کے بعد تباہیاں اور نامرادیاں نور الدین کو نصیب ہوئیں کہ مرزائیوں کے بقول بچے بھی انہوں نے مروائے جن کی خاطر اس نے اپنا سب کچھ حتیٰ کہ عزت کی موت کو بھی تج دیا تھا اور یہ رسوائیاں صرف اسی کا مقدر نہیں بنیں۔ بلکہ اس کا مقدر بھی جس کی خاطر اس نے اپنا ایمان اور مذہب تک قربان کر دیا تھا کہ خدائے جبار و قہار نے اس پر اس دنیا میں ہی انواع واقسام کی بیماریاں اور عذاب نازل کئے اور موت سے پہلے ہی رسوائیاں اور ذلتیں اس پر مسلط کر دی گئیں: ”دایاں ہاتھ ٹوٹ گیا اور آخر عمر تک شل رہا کہ اس ہاتھ سے پانی تک اٹھا کر نہ پیا جا سکتا۔“
(سیرۃ المہدی حصہ اول ص ٢١٧)
”دانت خراب اور ان میں کیڑا لگا ہوا۔“
(سیرۃ المہدی حصہ دوم ص ١٣٥)
”آنکھیں اس قدر خراب کہ کھولنے میں تکلیف ہو۔“
(سیرۃ المہدی حصہ دوم ص ٧٧)
”حافظہ اس قدر خراب کہ بیان نہیں ہو سکتا۔“
(مکتوبات احمدیہ ج ٥ ص ٢١)
”دوران سر اور برد اطراف کی اس قدر تکلیف کہ موت سے تین برس پہلے تک اور اس سے پہلے بھی متعدد سال رمضان کے روزے نہ رکھے۔“
(سیرۃ المہدی حصہ اول ص ٥١)
٥٨
”اور کبھی دورے اس قدر سخت پڑتے کہ ٹانگوں کو باندھ دیا جاتا۔“
(سیرۃ المہدی حصہ اول ص ٢٢)
”اور کبھی اس قدر غشی پڑ جاتی کہ چیخیں نکل جاتیں۔“
(سیرۃ المہدی حصہ اول ص ١٣)
”اور اس کے علاوہ ذیابیطس اور تشنج قلب اور دق کی بیماری اور حالت مردی کالعدم اور دل دماغ اور جسم نہایت کمزور۔“
(نزول المسیح ص ٢٠٩، خزائن ج ١٨ ص ٥٨٧)
”اور پھر ان سب پر مستزاد مالیخولیا اور مراق کا موذی مرض۔“
(سیرۃ المہدی حصہ دوم ص ٥٥)
”اور ہسٹریا بھی۔“
(ریویو قادیان اگست ١٩٢٦ء)
اور پھر خدا منتقم و شدید العقاب نے روائے نبوت کے سرقہ کے جرم کی پاداش میں اس طرح رسوا اور ذلیل کیا کہ: ”قریب سو دفعہ کے دن رات میں پیشاب آتا ہے اور اس سے ضعف ہو جاتا ہے۔“
(ضمیمہ براہین احمدیہ ج ٥ ص ٢٠١، خزائن ج ٢١ ص ٣٧٣)
”اور اس وجہ سے رات کو مٹی کا برتن پاس ہی رکھ لیا جاتا اور اس میں پیشاب کر کے خود ہی مرزا قادیانی پیشاب کے برتن کو صاف کرتا۔“
(الفضل مورخہ ٦ دسمبر ١٩٢٦ء)
اور آخر کار موت نے اس کی تمام ذلتوں اور رسوائیوں پر مہر تصدیق ثبت کر دی۔ چنانچہ مرزا قادیان کے اپنے الفاظ جو اس نے شیخ الاسلام مولانا ثناء اللہ کو دعوت مباہلہ میں لکھے خود اس کی ذلت آمیز اور رسوا کن موت پر زبردست گواہ ہیں۔ وہ لکھتا ہے کہ: ”اگر میں ایسا ہی کذاب اور مفتری ہوں۔ جیسا کہ اکثر اوقات آپ اپنے پرچہ میں مجھے یاد کرتے ہیں تو میں آپ کی زندگی میں ہی ہلاک ہو جاؤں گا۔ کیونکہ میں جانتا ہوں کہ مفسد اور کذاب کی عمر بہت نہیں ہوتی اور آخر وہ ذلت اور حسرت کے ساتھ اپنے اشد دشمنوں کی زندگی میں ناکام ہلاک ہو جاتا ہے۔“
(تبلیغ رسالت ج ١٠ ص ١١٩، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٧٨)
اور وہی ہوا کہ اس کے صرف ایک سال اور ایک ماہ بعد مرزا قادیانی ذلت و حسرت کے ساتھ شیخ الاسلام مولانا ثناء اللہ ایسے دشمنوں کی زندگی میں اس بری مرض میں مبتلا رہ کر مر گئے۔ جسے ہیضہ کہتے ہیں اور اس رسوائی کا نقشہ بھی خود اس کے بیٹے نے کھینچا ہے جو اسے مرض موت میں لاحق ہوئی۔ وہ اپنی والدہ کے حوالے سے لکھتا ہے: ”پہلے ایک پاخانہ آیا اور اتنے میں آپ کو ایک اور دست آیا۔ مگر اب اس قدر ضعف تھا کہ آپ پاخانے نہ جاسکتے تھے۔ اس لئے چارپائی کے پاس
٥٩
ہی بیٹھ کر فارغ ہوئے اور پھر اٹھ کر لیٹ گئے اور میں پاؤں دباتی رہی۔ مگر ضعف بہت ہو گیا تھا۔ اس کے بعد ایک اور دست آیا اور پھر آپ کو ایک اور قے آئی۔ جب آپ قے سے فارغ ہو کر لیٹنے لگے تو اتنا ضعف تھا کہ آپ پشت کے بل چارپائی پر گر گئے اور آپ کا سر چارپائی کی لکڑی سے ٹکرایا اور حالت دگرگوں ہو گئی۔“
(سیرۃ المہدی حصہ اوّل ص ١١)
اور پھر اسی پیغام صلح میں شائع ہوا کہ: ”بعض لوگ کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی کی موت کے وقت ان کے منہ سے پاخانہ نکل رہا تھا۔“
(پیغام صلح مورخہ ٣/ مارچ ١٩٣٩ء)
اب بتلائیے کہ رسوائی اور ذلت کی موت کون مرا؟ مرزائی نورالدین بھیروی، مرزا غلام احمد قادیانی یا حضرت مولانا محمد حسین بٹالویؒ؟
اس لئے ہم نے کہا تھا کہ جو لوگ مرزا قادیانی کے مخالفین پر اس قسم کے گھٹیا، بے بنیاد اور جھوٹے الزام تراش کر اپنے حواریوں کو خوش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے ساتھیوں کے دوست نہیں۔ بلکہ دشمن ہیں اور چاہتے ہیں کہ ان کی ذلتوں اور رسوائیوں کو ان لوگوں کے سامنے بے نقاب کیا جائے جو پہلے اس سے بے خبر ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ ہماری یہ مختصر تحریر جو ہنوز تشنہ ہے۔ ان لوگوں کے لئے فکر و عبرت کے کافی سامان مہیا کر دے گی۔
(بحوالہ الاعتصام مورخہ ١٤/جون ١٩٦٨ء)
مرزا غلام احمد قادیانی کا دعویٰ
مرزائیوں کی لاہوری پارٹی کے امیر صدر الدین صاحب کا ایک بیان مرزائی ترجمان پیغام صلح مورخہ ١٢/جون ١٩٦٨ء میں شائع ہوا ہے۔ جس میں انہوں نے اپنے اور اپنی جماعت کے عقائد بیان کئے ہیں کہ: ”احمدیہ انجمن اشاعت اسلام لاہور اس بات پر محکم یقین رکھتی ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ خاتم النبین ہیں اور جو شخص حضور ﷺ کو خاتم النبین یقین نہیں کرتا اس کو بے دین سمجھتی ہے اور اس کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیتی ہے اور جو شخص حضور ﷺ کے بعد دعویٰ نبوت کرے اس کو لعنتی گردانتی ہے۔“
اور آگے چل کر کہتے ہیں: ”احمدیہ انجمن اشاعت اسلام لاہور یہ اعتقاد رکھتی ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی رئیس قادیان موجودہ دور کے مجدد ہیں۔“
(پیغام صلح شمارہ نمبر ٢٢، ٢٣، ج ٥٦، مورخہ ١٢/جون ١٩٦٨ء)
اس بات سے قطع نظر کہ لاہوری مرزائیوں کے اصل عقائد کیا ہیں اور جناب صدر
٦٠
الدین صاحب کے اس بیان میں کس قدر واقعیت اور حقیقت ہے؟ ہم اس وقت صرف یہ پوچھنے کی جسارت کریں گے کہ اگر واقعی لاہوری مرزائیوں کے یہی عقائد ہیں۔ جن کا اظہار اس لمبے چوڑے بیان میں کیا گیا ہے تو پھر ان کی مرزا غلام احمد قادیانی سے نسبت کیا معنی رکھتی ہے؟ جب کہ ان کے مذکورہ قول کے مطابق حضور اکرم ﷺ کے بعد دعویٰ نبوت کرنے والا لعنتی ہے اور مرزا قادیانی بانگ دہل اپنی نبوت کا اعلان کر رہے ہیں۔ وہ اپنی کتاب حقیقت الوحی میں لکھتے ہیں: ”اس امت میں نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیا گیا اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں۔“
(حقیقت الوحی ص ٣٩١، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٦)
ایک اور جگہ اس سے بھی زیادہ وضاحت سے رقمطراز ہیں: ”ہلاک ہو گئے وہ جنہوں نے ایک برگزیدہ رسول کو قبول نہ کیا۔ مبارک ہے وہ جس نے مجھ کو پہچانا۔ میں خدا کی سب راہوں سے آخری راہ ہوں اور اس کے سب نوروں میں سے آخری نور ہوں۔ بدقسمت ہے وہ جو مجھے چھوڑتا ہے۔ کیونکہ میرے بغیر سب تاریکی ہے۔“
(کشتی نوح ص ٥٦، خزائن ج ١٩ ص ٦٠ ، ٦١)
اور پھر ان سب سے بڑھ کر: ”پس میں جب کہ اس مدت تک ڈیڑھ سو پیش گوئی کے قریب خدا کی طرف سے پا کر بچشم خود دیکھ چکا ہوں کہ صاف طور پر پوری ہوگئیں تو میں اپنی نسبت نبی یا رسول کے نام سے کیونکر انکار کر سکتا ہوں اور جب کہ خود خدا نے یہ نام میرے رکھے ہیں تو میں کیونکر رد کر دوں یا کیونکر اس کے سوا کسی سے ڈروں۔“
(ایک غلطی کا ازالہ ص ٦، خزائن ج ١٨ ص ٢١٠)
صدر الدین صاحب اور ان کی جماعت بغور سنیں کہ مرزا قادیانی کیا کہہ رہے ہیں: ”اور میں اس خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں۔ جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اس نے مجھے بھیجا ہے اور اسی نے میرا نام نبی رکھا ہے اور اسی نے مجھے موعود کے نام سے پکارا ہے اور اس نے میری تصدیق کے لئے بڑے بڑے نشان ظاہر کئے جو تین لاکھ تک پہنچتے ہیں۔“
(تتمہ حقیقت الوحی ص ٦٨، خزائن ج ٢٢ ص ٥٠٣)
اور اسی کتاب میں آگے چل کر لکھتے ہیں: ”خدا نے ہزار ہا نشانوں میں سے میری وہ تائید کی ہے کہ بہت ہی کم نبی گزرے ہیں جن کی یہ تائید کی گئی۔ لیکن پھر جن کے دلوں پر مہریں ہیں وہ خدا کے نشانوں سے کچھ بھی فائدہ نہیں اٹھاتے۔“
(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٣٨، خزائن ج ٢٢ ص ٥٨٧)
اور اپنی ایک دوسری کتاب میں اسی مفہوم کو یوں بیان کرتے ہیں: ”اور خدا نے اس
٦١
بات کے ثابت کرنے کے لئے کہ میں اس کی طرف سے ہوں۔ اس قدر نشان دکھلائے ہیں کہ وہ ہزار نبی پر بھی تقسیم کئے جائیں تو ان کی بھی ان سے نبوت ثابت ہو سکتی ہے۔‘‘
(چشمہ معرفت ص ٣١٧، خزائن ج ٢٣ ص ٣٣٢)
کیا ان عبارات سے صدرالدین صاحب اور ان کی جماعت کو معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی کا دعویٰ کیا ہے اور وہ ان کے بیان کے مطابق کیا ٹھہرتے ہیں؟ اور اگر اب بھی انہیں مرزا قادیانی کے دعویٰ کا علم نہ ہوا ہو تو وہ اپنے علم میں اضافہ کریں۔ جسے مرزا قادیانی نے خود تحریر کیا ہے: ”سچا خدا وہی ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔ تیسری بات جو اس وحی سے ثابت ہوتی ہے۔ وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ بہر حال جب تک طاعون دنیا میں رہے گا گو ستر برس تک رہے۔ قادیان کو اس خوفناک تباہی سے محفوظ رکھے گا۔ کیونکہ یہ اس کے رسول کا تخت گاہ ہے اور یہ تمام امتوں کے لئے نشان ہے۔‘‘
(دافع البلاء ص ١١، خزائن ج ١٨ ص ٢٣١)
اور اسی وجہ سے اپنے آخری ایام میں مرزاغلام احمد قادیانی نے لاہور کے اخبار عام کو ایک خط لکھا۔ جس میں انہوں نے واشگاف الفاظ میں اس بات کا دعویٰ کیا کہ وہ نبی ہیں۔ ان کے اپنے الفاظ ہیں: ”اور ان ہی امور کی کثرت کی وجہ سے اس نے میرا نام نبی رکھا ہے۔ سو میں خدا کے حکم کے موافق نبی ہوں اور اگر میں اس سے انکار کروں تو میرا گناہ ہوگا اور جس حالت میں خدا میرا نام نبی رکھتا ہے تو میں کیونکر انکار کر سکتا ہوں۔ میں اس پر قائم ہوں۔‘‘
(مرزا قادیانی کا خط مورخہ ٢٣ مئی ١٩٠٨ء، بنام اخبار عام لاہور، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٩٧)
اور اپنے اخبار بدر میں بھی اس بات کا اظہار کیا کہ: ”میں کوئی نیا نبی نہیں ہوں۔ پہلے بھی کئی نبی گزرے ہیں۔ جنہیں تم لوگ سچا مانتے ہو۔‘‘
(اعلان مرزا قادیانی مندرجہ اخبار بدر قادیان مورخہ ١٩ اپریل ١٩٠٨ء، ملفوظات ج ١٠ ص ٢١٧)
ان واضح اور صاف دلائل کے ہوتے ہوئے لاہوری مرزائیوں کے امیر کا یہ کہنا کہ وہ مرزاغلام احمد قادیانی کو نبی نہیں مانتے اور حضور کے بعد دعویٰ نبوت کرنے والے کو لعنتی سمجھتے ہیں کیا معنی رکھتا ہے؟ اگر وہ واقعی صدق دل سے خاتم النبیین محمد ﷺ کو خدا کا آخری نبی اور آخری رسول سمجھتے ہیں اور آپ کے بعد مدعی نبوت کو کذاب اور اس کے ماننے والوں کو دائرہ اسلام سے خارج سمجھتے ہیں تو پھر ان کی مرزاغلام احمد قادیانی کے بارے میں کیا رائے ہے؟ جب کہ ہم خود اس کی عبارات سے ثابت کر چکے ہیں کہ وہ نہ صرف مدعی نبوت ہے۔ بلکہ اس بات کا بھی دعویٰ رکھتا
٦٢
ہے کہ جس قدر نشانات اس کی نبوت کے اثبات کے لئے ظاہر ہوئے ہیں۔ اس قدر کسی اور نبی کے لئے ظاہر نہیں ہوئے۔ بلکہ وہ تو یہاں تک کہہ گیا ہے کہ: ”خدا تعالیٰ نے اس بات کے ثابت کرنے کے لئے کہ میں اس کی طرف سے ہوں۔ اس قدر نشان دکھلائے ہیں کہ وہ ہزار نبی پر بھی تقسیم کئے جائیں تو ان کی بھی ان سے نبوت ثابت ہو سکتی ہے۔“ (چشمہ معرفت ص٣١٧، خزائن ج٢٣ ص٣٣٢)
کیا مرزا غلام احمد قادیانی اپنی ان عبارات اور اپنے ان دعاوی کی بناء پر جناب صدر الدین صاحب کے بیان کے مطابق لعنتی قرار نہیں پاتے؟ اور اگر نہیں پاتے تو کیوں۔ جب کہ صدر الدین صاحب اپنے بیان میں بغیر کسی استثناء کے حضور کے بعد دعویٰ نبوت کرنے والے کو لعنتی گردان چکے ہیں؟
اور اگر مرزا قادیانی ملعون ٹھہرتے ہیں تو کیا ایک ملعون شخص مجدد ہو سکتا ہے؟ یا اسے مجدد مانا جا سکتا ہے؟ امید ہے کہ لاہوری مرزائیوں کے امیر یا ان کے اخبار کے مدیر اخلاقی جرات کا ثبوت دیتے ہوئے اس بارہ میں اپنی پوزیشن کو صاف کریں گے۔
یہ الگ بات ہے کہ اندرون خانہ خود لاہوری مرزائی بھی مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی مانتے اور تسلیم کرتے ہیں اور صرف ربوہ والوں سے لڑائی اور لوگوں کو دھوکہ دینے کی خاطر انہوں نے یہ لبادہ اوڑھ رکھا ہے۔ وگرنہ خود پیغام صلح میں مرزا قادیانی کو مسیح موعود اور علیہ السلام کے القاب سے یاد کیا جاتا ہے۔ چنانچہ پیغام صلح کے اسی شمارہ میں ایک نظم چھپی ہے جس پر لکھا ہوا ہے: ”از حضرت مسیح موعود علیہ السلام“
اور مسیح موعود کے بارہ میں خود مرزا غلام احمد قادیانی کا یہ عقیدہ ہے کہ: ”مسیح موعود جو آنے والا ہے اس کی علامت یہ لکھی ہے کہ وہ نبی اللہ ہوگا۔“
(چشمہ معرفت ص٣١٧، خزائن ج٢٣ ص٣٣٢)
”یخادعون اللہ والذین امنوا وما یخدعون الا انفسہم وما یشعرون“
(بحوالہ الاعتصام مورخہ ٢٨؍ جون ١٩٦٨ء)
مرزا غلام احمد اور لاہوری مرزائی
لاہور کے مرزائی پرچہ پیغام صلح نے اپنی دو اشاعتوں (مورخہ ٣؍ جولائی ١٩٦٨ء) میں ہمارے اس مقالہ افتتاحیہ کا جواب دینے کی کوشش کی ہے۔ جس میں ہم نے لاہوری جماعت کے امیر کا ایک بیان نقل کیا تھا کہ ان کے نزدیک: ”نبی اکرم ﷺ کے بعد دعویٰ نبوت کرنے والا لعنتی ہے۔“
٦٣
اور اسی کے ساتھ انہوں نے کہا تھا کہ: ”ہم مرزا غلام احمد قادیانی کو مجدد مانتے ہیں۔“ ہم نے اس پر عرض کیا تھا کہ ایک طرف تو آپ سید الاولین والآخرین، خاتم النبیین والمرسلین، رسول اللہ الصادق الامین کے بعد دعویٰ نبوت کرنے والے کو لعنتی گردانتے ہیں اور پھر اسی کو مجدد مانتے ہیں۔
اس سلسلہ میں ہم نے مرزا غلام احمد کی اپنی عبارات پیش کی تھیں۔ جس میں انہوں نے صراحت کے ساتھ نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ بلکہ اپنے دعویٰ پر متکبرانہ مصر بھی ہیں اور دوسروں کو اس کے قبول کرنے پر زور بھی دیتے ہیں۔
لیکن پیغام صلح کے مدیر اور اس کے خطیب خواہ مخواہ لوگوں کو مبتلائے فریب رکھنے کے لئے اس بات کی تردید کر رہے ہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے نبوت کا دعویٰ نہیں کیا اور جن عبارات میں دعویٰ نبوت کا ذکر ہے۔ وہاں نبوت سے حقیقی نبوت نہیں۔ بلکہ مجازی نبوت مراد ہے اور کہیں ہماری پیش کردہ عبارت ”اس امت میں نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیا گیا اور تمام دوسرے لوگ اس نام کے مستحق نہیں۔“
(حقیقت الوحی ص ٣٩١، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٦)
کی توجیہہ و تاویل میں اس طرح اپنی بوکھلاہٹ کا اظہار کیا کہ: ”اس فقرہ میں بھی نبی کا نام پانے کا ہی ذکر ہے۔ منصب نبوت پر فائز ہونے کا نہیں۔“
(پیغام صلح مورخہ ٣؍ جولائی ١٩٦٨ء)
پتہ نہیں پیغام صلح اس عبارت سے کون سی گتھی کو سلجھانا چاہتا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے نبی کا نام پایا ہے اور منصب نبوت پر فائز نہیں ہوا۔ نبی نام بھی رکھا گیا اور پوری امت میں سے اس کے لئے مخصوص بھی کیا گیا۔ لیکن نبوت نہیں ملی؟ اس تضاد بیانی کے کیا کہنے ! خداوند عالم نے خوب فرمایا ہے: ”لو کان من عند غیر اللہ لوجدوا فیہ اختلافاً کثیراً“
اصل میں لاہوری مرزائی خواہ مخواہ تکلف برتتے ہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی نبی نہیں تھے اور ان کا ماننا ضروری اور فرض نہیں ہے اور اس مقصد کے حصول کے لئے دور از کار تاویلیں تلاش کرتے ہیں۔ حالانکہ معاملہ بالکل واضح اور صاف ہے اور خود یہ بھی اندر سے اس بات کو مانتے ہیں۔ لیکن صرف اس بات کی وجہ سے کہ ان کے سربراہ اور مؤسس (مولوی محمد علی) کو مرزا بشیر الدین محمود وغیرہ نے بددیانتی اور خیانت کے الزام میں قادیان سے نکال دیا تھا۔ اس کے انتقام میں انہوں نے مرزا بشیر الدین محمود کے باپ مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت کا قولاً انکار کیا یعنی بیٹے کا انتقام باپ سے لیا۔ حالانکہ یہ خود اس حقیقت کے معترف تھے اور ہیں کہ مرزا قادیانی
٦٤
مدعی نبوت تھے اور مرزائیوں کا سواد اعظم انہیں نبی مانتا اور جانتا اور کہتا ہے۔ یعنی گروہ ثانی جس کی قیادت پہلے قادیان اور اب ربوہ کرتا ہے۔ مرزا قادیانی کو دل اور زبان دونوں سے نبی جانتا ہے اور کہتا ہے اور گروہ اوّل جس کے قائد پہلے مولوی محمد علی اور اب صدرالدین صاحب ہیں۔ مرزا قادیانی کو دل سے نبی جانتے ہیں۔ لیکن زبان سے انکار کرتے ہیں۔ گویا گروہ اوّل اس بارہ میں نفاق کا شکار ہے اور گروہ ثانی اس بارہ میں مخلص اور یہ بات ہم بلا تحقیق نہیں بلکہ دلائل و براہین سے کہتے ہیں۔ چنانچہ دیکھئے لاہوری مرزائیوں کے امیر اوّل محمد علی کس طرح مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت کے اقراری ہیں۔
وہ لکھتے ہیں: ”ہم اس بات کو مانتے ہیں کہ آخری زمانہ میں ایک اوتار کے ظہور کے متعلق جو وعدہ انہیں دیا گیا تھا وہ خدا کی طرف سے تھا اور اس کو ہندوستان کے مقدس نبی مرزا غلام احمد قادیانی کے وجود میں خدا تعالیٰ نے پورا کر دکھایا۔“
(ریویو آف ریلیجنز ج ٥ نمبر ٢ ص ٣١٢)
اور دیکھئے کہ اس سے بھی زیادہ واشگاف الفاظ میں کہتے ہیں: ”اس آخری زمانہ کے لئے تجدید دین کے واسطے بھی اللہ تعالیٰ نے یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ عظیم الشان ضلالت کے وقت میں جو اخیر زمانہ میں ظہور میں آنے والی ہے۔ اپنے ایک نبی کو دنیا کی اصلاح کے لئے مامور کرے گا اور اس کا نام مسیح موعود ہوگا۔ سو ایسا ہی ہوا۔“
اور: ”ہر ایک نبی نے جو خدا کی طرف سے آیا ہے۔ دو باتوں پر زور دیا ہے۔ اوّل یہ کہ لوگ خدا پر ایمان لائیں اور دوسرا یہ کہ اس کی نبوت کو اور اس کو منجانب اللہ ہونے کو تسلیم کر لیں۔ بعینہ اس قدیم سنّت الٰہی کے مطابق اللہ تعالیٰ نے حضرت مرزا صاحب کو بھی مبعوث فرمایا۔“
(ریویو آف ریلیجنز ج ٤ نمبر ٢ ص ٤٦٥)
یہ ہے پیغام صلح کے مؤسس اور لاہوری مرزائیوں کے قائد و امیر محمد علی کا حقیقی عقیدہ جسے بعد میں اخفاء اور نفاقاً چھپانا شروع کر دیا۔ اگرچہ خفیہ اس کو مانتے رہے اور پیغام صلح بھی اب تک مانا ہے۔ جیسا کہ ہم نے اپنے سابقہ مقالہ میں ذکر کیا تھا کہ خود پیغام صلح میں مرزا غلام احمد قادیانی کو مسیح موعود کے لقب و خطاب سے یاد کیا جاتا ہے اور مرزا غلام احمد قادیانی نے تصریح بھی کر دی ہے کہ مسیح موعود نبی ہوگا۔
(حقیقۃ الوحی ص ٢٩ خزائن ج ٢٢ ص ٣١)
اور اس سے بھی زیادہ کھل کر لکھتے ہیں: ”اس لحاظ سے صحیح مسلم میں بھی مسیح موعود کا نام نبی رکھا گیا۔ اگر خدا تعالیٰ سے غیب کی خبریں پانے والا نبی کا نام نہیں رکھتا تو پھر بتلاؤ اس کو کس نام
٦٥
سے پکارا جاتا؟ (ایڈیٹر پیغام صلح ذرا آنکھیں کھول کر دیکھیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی کس طرح ان کے جھوٹ اور تاویلوں کے تار پود بکھیرتے ہیں۔ جس کے نام پر انہوں نے دھوکے کی چادر بن رکھی ہے وہ آگے چل کر کہتے ہیں) تو پھر بتاؤ اس کو کس نام سے پکارا جائے۔ اگر اس کا نام محدث رکھا جائے۔ (یاد رہے کہ پیغام صلح نے نبی کے معنی محدث لئے ہیں) (پیغام صلح مورخہ ١٠؍ جولائی) تو میں کہتا ہوں کہ محدث کے معنی کسی لغت کی کتاب میں اظہار غیب نہیں مگر نبوت کے معنی اظہار غیب ہیں۔‘‘
(ٹریکٹ ایک غلطی کا ازالہ ص ٥، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٩)
آپ بتلائیں کہ ہم بتلائیں کیا؟
(بحوالہ الاعتصام مورخہ ٢٦؍ جولائی ١٩٦٨ء)
ہم نے گذشتہ شمارہ میں مرزائی پرچہ پیغام صلح کا جواب دیتے ہوئے خود لاہوری مرزائیوں کے مؤسس اوّل مولوی محمد علی اور مرزا غلام احمد قادیانی کی عبارات پیش کی تھیں کہ اوّل الذکر، ثانی الذکر کو عرصہ دراز تک رسول مانتے رہے اور ثانی الذکر نے واشگاف الفاظ میں نبوت کا دعویٰ کیا اور اس پر آخر تک مصر رہے۔ اس لئے پیغام صلح کے مدیر و خطیب کا یہ کہنا کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے دعویٰ نبوت نہیں کیا۔ بلکہ مجددیت، ملہمیت اور مہدویت کا دعویٰ کیا ہے۔ حقائق سے کوئی تعلق نہیں رکھتا اور اس پر تو مدعی سست اور گواہ چست والی مثال صادق آتی ہے کہ مدعی تو اپنے جرم کا اعتراف کرتا ہے اور گواہ خواہ مخواہ لوگوں کے سامنے لفظوں کے ہیر پھیر سے مدعی کی برأت کے لئے تکلف و تکلیف میں مبتلا ہوا چاہتا ہے۔ حالانکہ جیسا کہ ہم نے کسی گذشتہ شمارہ میں لکھا تھا کہ خود لاہوری مرزائی مرزا غلام احمد قادیانی کو مسیح موعود علیہ السلام لکھتے اور کہتے ہیں اور مسیح کے بارہ میں مرزا قادیانی نے یہ تصریح کر دی ہے کہ: ”مسیح موعود نبی ہوگا اور ایسا ہی خدا تعالیٰ نے اور اس کے رسول نے بھی مسیح موعود کا نام نبی اور رسول رکھا۔‘‘
(نزول المسیح ص ٤٨، خزائن ج ١٨ ص ٤٢٦)
اور: ”آنے والا عیسیٰ باوجود امتی ہونے کے نبی بھی کہلائے گا۔‘‘
(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٨٢، خزائن ج ٢١ ص ٣٥٣)
اور ”تتمہ حقیقت الوحی‘‘ میں آیت ”وما کنا معذبین حتی نبعث رسولاً‘‘ کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ”آخری زمانہ میں ایک رسول کا مبعوث ہونا ظاہر ہوتا ہے اور وہی مسیح موجود ہے۔‘‘
(تتمہ حقیقت الوحی ص ٦٥، خزائن ج ٢٢ ص ٥٠٠)
اور اس کے تین صفحے بعد رقمطراز ہیں: ”اور میں اس خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اس نے مجھے بھیجا ہے اور اسی نے میرا نام نبی رکھا ہے اور اسی نے مجھے
٦٦
مسیح موعود کے نام سے پکارا ہے اور اسی نے میری تصدیق کے لئے بڑے بڑے نشان ظاہر کئے ہیں۔“
(تحفہ حقیقت الوحی ص ٦٨ ،خزائن ج ٢٢ ص ٥٠٤)
لاہوری مرزائیوں کے خطیب توجہ فرمائیں کہ ان کے اور ان کے مقتداء کے الفاظ وعبارات میں کس قدر تضاد اور تناقض ہے کہ وہ مسیحیت کو ملہمیت اور مجددیت کے معنوں میں لے کر اس سے نبوت کی نفی کرتے ہیں۔ جس کے نام پر یہ کھیل کھیلا جاتا ہے وہ خود یوں کہتے ہیں کہ وہ قرآن حکیم میں نفخ فی الصور جو فرمایا گیا ہے: ”اس جگہ صور کے لفظ سے مراد مسیح موعود ہے۔ کیونکہ خدا کے نبی صور ہوتے ہیں۔“
(چشمہ معرفت ص ٧٧ ،خزائن ج ٢٣ ص ٨٥)
”اور اس فیصلہ کے لئے خدا آسمان سے قرنا میں اپنی آواز پھونکے گا۔ وہ قرنا کیا ہے؟ اس کا نام نبی ہوگا۔“
(چشمہ معرفت ص ٣١٨ ،خزائن ج ٢٣ ص ٣٣٢)
اور یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ جتنے حوالہ جات ہم نے نقل کئے ہیں۔ یہ سب کے سب ١٩٠١ء کے بعد کے ہیں۔ جب کہ مرزا غلام احمد قادیانی لوگوں کو اپنے دام تزویر میں پھنسا چکے تھے اور مجددیت ومہدیت کے تدریجی مقامات بڑی چالاکی چابکدستی سے طے کر کے نبوت پر ہاتھ صاف کرنے کا اعلان کر چکے تھے اور صاف الفاظ میں کہہ چکے تھے: ”ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم رسول اور نبی ہیں۔“
ان سب دلائل کے ہوتے ہوئے نہ جانے لاہوری مرزائی کیوں یہ خیال کرتے ہیں کہ وہ مرزا قادیانی کے بارے میں لوگوں کو دھوکہ دینے میں کامیاب ہو سکتے ہیں اور نہ معلوم احمدیہ بلڈنگ کے خطیب کیوں اس خوش فہمی میں مبتلا ہیں کہ وہ اپنے خطبوں میں اپنی پارٹی کو اکسا رہے ہیں کہ: ”ضرورت اس بات کی ہے کہ حضرت صاحب (مرزائے قادیانی) کے صحیح مقام کو وسیع تر بنیادوں اور عظیم تر پروگرام کے تحت لوگوں کو روشناس کرایا جائے اور انہیں بتایا جائے کہ حضرت صاحب (مرزا قادیانی) نے جو دعویٰ کیا ہے وہ چودھویں صدی کے مامور و مجدد ہونے کا ہی ہے۔“
(مرزائی اخبار بدر مورخہ ٥/ مارچ ١٩٠٨ء)
حالانکہ اس تکلف کی قطعی ضرورت نہیں۔ کیونکہ مرزا غلام احمد قادیانی کا دعویٰ نبوت اپنے اندر کوئی اخفا اور اغماض نہیں رکھتا۔ رہ گئی بات مدیر پیغام صلح کے اصطلاحات کی تو حضور ! اصطلاح اسے نہیں کہتے جسے آپ گھر بیٹھ کر گھڑ لیں اور اسے نبوت اور نبی کے معنی سمجھنے کے لئے حجت قرار دیں۔ اگر نبی اور نبوت کی اصطلاح معلوم کرنی ہے تو امت مسلمہ کی کتابوں کی طرف
٦٧
رجوع کیجئے کہ ان کے نزدیک نبی اور نبوت کی اصطلاح کن معنوں میں مستعمل ہے یا پھر اپنے مقتداء کی بات ہی کو مان لیجئے۔ ”میرے نزدیک نبی اس کو کہتے ہیں جس پر خدا کا کلام قطعی اور یقینی اور بکثرت نازل ہو جو غیب پر مشتمل ہو۔ اس لئے خدا نے میرا نام نبی رکھا ہے۔“
(تجلیات الٰہیہ ص ٢٠، خزائن ج ٢٠ ص ٤١٢)
دیکھئے! خود آپ کے پیشوا نے آپ کی قلعی کھول کر رکھ دی۔ اصطلاح بھی بیان کر دی اور خود کو اس اصطلاح کے بموجب نبی بھی قرار دے دیا۔ جایئے اور جا کے اپنے امیر صدر الدین صاحب سے کہیے کہ انہوں نے حضور اکرم، سید المرسلین، خاتم النبیین کے بعد دعویٰ نبوت کرنے والے کو کیوں لعنتی قرار دیا؟ جب کہ مرزا غلام احمد قادیانی کہتے ہیں: ”ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم رسول اور نبی ہیں۔“
(بدر مورخہ ٥/ مارچ ١٩٠٨ء)
ہم پر آپ کی خفگی بالکل ناروا اور نامناسب ہے۔ کیونکہ ہم نے تو آپ کو نہیں کہا۔ آپ اپنے پرچہ میں اپنے امام اور ہنما کو گالیاں دیں۔ اس کے بیٹوں کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیں اور اس کو ماننے والی اپنے سے نسبتاً بڑی جماعت کو بے دین شمار کریں۔ یہ تو خود آپ کی وساطت سے اور آپ کے امیر کی جانب سے ہوا ہے۔ چنانچہ یہ ہے آپ کے امیر کا بیان آپ کے پرچہ میں: ”احمدیہ انجمن اشاعت اسلام لاہور اس بات پر محکم یقین رکھتی ہے کہ جو حضور نبی اکرم ﷺ کو خاتم النبیین یقین نہیں کرتا اس کو بے دین سمجھتی ہے اور اس کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیتی ہے اور جو شخص حضور ﷺ کے بعد دعویٰ نبوت کرے اس کو لعنتی گردانتی ہے۔“
(پیغام صلح لاہور شمارہ نمبر ٢٢، ٢٣، ج ٥٦، مورخہ ١٢/ جون ١٩٦٨ء)
ویسے ہمارا مخلصانہ مشورہ ہے۔
سراسر موم ہو یا سنگ ہو جا
(بحوالہ الاعتصام مورخہ ٢/اگست ١٩٦٨ء)
مرزائی اکابر ”الفرقان“ کے نام
اس دفعہ کا مرزائی ماہنامہ ”الفرقان“ ربوہ دیکھا تو اس کی فہرست میں مدیر الاعتصام کا نام دیکھ کر ٹھٹھکا کہ صاحب۔
٦٨
ساقی نے کچھ ملا نہ دیا ہو شراب میں
اوراق پلٹے تو دیکھا کہ مدیر ”الفرقان“ نے اپنے مذہب اور بانیان مذہب کی دیرینہ روایات پر عمل کرتے ہوئے دو بھائیوں (بمصداق آیت قرآنی ”انما المؤمنون اخوۃ “) مدیر ”الاعتصام“ اور مدیر ”المنبر“ کے باہمی اختلافِ فکر اور اختلافِ رائے کو اچھال کر اپنی مقصد براری کی کوشش کی ہے۔
ہم نے بانیانِ مذہب لفظ جمع کو قصدًا استعمال کیا ہے۔ کیونکہ ہمارے نزدیک مرزائیت بے چارے اکیلے مرزا غلام احمد قادیانی ایسے بیمار آدمی کی تنہا کوششوں اور کاوشوں کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک پورے غدار، خائن اور مسلم دشمن خانوادے اور ٹولے کی غداری، خیانت اور اسلام دشمنی کا ثمرہ ہے۔ جس کی تخم پاشی آبیاری اور افزائش اسلامیوں سے پٹے ہوئے صلیبی عیسائیوں اور شیو جی کے پجاریوں نے کی ہے۔
اور اس بات کے ثبوت کے لئے مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے اعترافات اور علامہ اقبالؒ کی تردید اور مرزائیت کی تائید میں پنڈت جواہر لال نہرو کے مضامین اور ڈاکٹر شنکر داس کا ٢٢؍ اپریل کے اخبار بندے ماترم میں شائع شدہ مضمون کافی بڑی شہادت ہیں۔
اس سلسلے میں ہم تفصیل میں جائے بغیر مرزا غلام احمد قادیانی کے اپنے دو تین اقرار نامے ضرور نقل کرنا چاہتے ہیں۔ وہ اپنی ایک درخواست میں جو انگریز لیفٹیننٹ گورنر کو ارسال کی گئی تھی۔ کہتا ہے: ”میں ایسے خاندان میں سے ہوں جس کی نسبت گورنمنٹ نے ایک مدت دراز سے قبول کیا ہوا ہے کہ وہ خاندان اوّل درجہ پر سرکار دولت مدار انگریزی کا خیر خواہ ہے۔...... میرے والد صاحب اور خاندان ابتداء سے سرکار انگریزی کے بدل و جان ہوا خواہ اور وفادار رہے اور گورنمنٹ عالیہ انگریزی کے معزز افسروں نے مان لیا کہ یہ خاندان کمال درجہ پر خیر خواہ سرکار انگریزی ہے۔ میرا باپ اور میرا بھائی اور خود میں بھی روح کے جوش سے اس بات میں مصروف رہے کہ اس گورنمنٹ کے فوائد واحسانات کو لوگوں پر ظاہر کریں اور اس کی اطاعت کی فرضیت کو لوگوں کے دلوں پر جما دیں۔“
(مندرجہ تبلیغ رسالت ج٧ ص ١٨ تا ١٩، مجموعہ اشتہارات ج٣ ص٩ تا ١٢)
”اور میں ایک ایسے خاندان سے ہوں کہ جو اس گورنمنٹ کا پکا خیر خواہ ہے۔ میرا والد مرزا غلام مرتضیٰ گورنمنٹ کی نظر میں ایک وفادار اور خیر خواہ آدمی تھا۔ (١٨٥٧ء میں
٦٩
جب مسلمان انگریز سے اپنی آخری موت و زیست کی لڑائی لڑ رہے تھے ) انہوں نے اپنی طاقت سے بڑھ کر سرکار انگریزی کو مدد دی تھی۔ یعنی پچاس سوار اور گھوڑے بہم پہنچا کر عین زمانہ غدر کے وقت سرکار انگریزی کی امداد میں دیئے تھے۔ پھر میرے والد کی وفات کے بعد میرا بڑا بھائی، مرزا غلام قادر خدمات سرکاری میں مصروف رہا۔“
(کتاب البریہ ص ٤، خزائن ج ١٣ ص ٤)
اور اپنے گرامی مرتبت خاندان کی خدمات جلیلہ برائے سرکار انگریزی گنوانے کے بعد اپنا تذکرہ ان الفاظ میں کرتے ہیں۔ ”میں بذات خود سترہ برس سے سرکار انگریزی کی ایک مثالی خدمت میں مشغول ہوں کہ درحقیقت وہ ایک ایسی خیر خواہ گورنمنٹ عالیہ کی مجھ سے ظہور میں آئی ہے کہ میرے بزرگوں سے زیادہ ہے اور وہ یہ کہ میں نے بیسیوں کتابیں عربی ، فارسی اور اردو میں اس غرض سے تالیف کی ہیں کہ اس گورنمنٹ محسنہ سے ہرگز جہاد درست نہیں ۔ بلکہ سچے دل سے اس کی اطاعت کرنا ہر ایک مسلمان پر فرض ہے اور جولوگ میرے ساتھ مریدی کا تعلق رکھتے ہیں وہ ایک ایسی جماعت تیار ہوتی جاتی ہے کہ جن کے دل اس گورنمنٹ کی سچی خیر خواہی سے لبالب ہیں اور میں خیال کرتا ہوں کہ وہ تمام اس ملک کے لئے بڑی برکت ہیں اور گورنمنٹ کے دلی جانثار۔“
(مندرجہ تبلیغ رسالت ج ٦ ص ٦٥ ، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٣٦٦، ٣٦٧)
کیا مدیر ”الفرقان“ مرزائیت کے بارے میں بھی مدیر ”الاعتصام“ کی اس گواہی کو جو خود ان کے مقتداء کی اپنی تحریرات سے آراستہ و پیراستہ اور تائید یافتہ ہے۔ اپنے پرچہ میں درج کرنے کی جرأت کریں گے۔
صاحب کو دل دینے پہ کتنا غرور تھا
اور اگر مدیر ”الاعتصام“ کی مسلمان ہونے کے ناطے مدیر ”المنبر“ کے بارہ میں گواہی نقل کی جاسکتی ہے تو خان احمد دین قادیانی کی مرزائی بہو کی گواہی ، مرزائی خلیفہ میاں بشیرالدین محمود کے بارے میں کیوں نقل نہیں کی جاسکتی۔ جس میں اس مظلومہ و بے کس و بے بس نے مرزا محمود پر عصمت دری کا الزام لگایا تھا اور پھر مدیر ”الفرقان“ کا میاں فخرالدین مرزائی ملتانی کی شہادت کے بارے میں کیا خیال ہے کہ جسے اس نے مرزا بشیر الدین محمود کے بارہ میں مرزائی مہاشہ محمد عمر کے حضور ثبت کروایا تھا کہ مرزا محمود کو تحریک جدید کا ایک فائدہ ضرور ہوا ہے کہ پہلے تو لڑکوں کو تلاش کرنا پڑتا تھا اور اب لڑکے جمع شدہ مل جاتے ہیں۔“
(اخبار الفضل قادیان ج ٢٥ نمبر ١٦٥، مورخہ ٨ جولائی ١٩٣٧ء)
٧٠
اور اگر گواہی کی بات چل نکلی ہے تو میاں محمود کے بارہ میں عبدالرحمن مصری قادیانی، مستری عبدالکریم قادیانی، حکیم عبدالعزیز قادیانی، محمد علی امیر جماعت لاہوری مرزائی پارٹی، عمر الدین شملوی، راحت ملک اور مسماۃ سلمیٰ ابوبکر اور دیگر لاتعداد مرزائی لڑکوں لڑکیوں اور مردوں عورتوں کی گواہیاں کیوں ”الفرقان“ کے صفحات کی زیب وزینت نہیں بنائی جاتیں جو آپ کے دوسرے خلیفہ راشد اور نبی ہندی کے بیٹے کی زندگی کے بہت سے رخوں کی نقاب کشائی کرتے ہیں؟
پسینہ پونچھئے اپنی جبیں سے
اور اگر مدیر ”الفرقان“ کو گواہیاں شائع کرنے کا بڑا ہی شوق ہو تو انہیں بشیر الدین کے ابا اور اپنے مسیح موعود کے بارہ میں بھی مرزائی حلقوں سے کافی گواہیاں مل سکتی ہیں۔ پہلی گواہی خود مسیح موعود کی اپنے ہی بارہ میں ہے وہ اپنے ایک مرید محمد حسین کو لکھتے ہیں:
محب اخویم حکیم محمد حسین صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
”اس وقت میاں یار محمد بھیجا جاتا ہے۔ آپ اشیاء خوردنی خود خریدیں اور ایک بوتل ٹانک وائن کی پلومر کی دکان سے خرید دیں۔ مگر ٹانک وائن چاہئے۔ اس کا لحاظ رہے۔ باقی خیریت ہے۔ والسلام!“
مرزا غلام احمد عفی عنہ
(خطوط امام ص ٥، مجموعہ مکتوبات مرزا بنام محمد حسین قریشی)
اور ٹانک وائن کے متعلق دکان پلومر سے پوچھا گیا کہ چیست؟ تو جواب ملا: ٹانک وائن ایک قسم کی طاقتور اور نشہ دینے والی شراب ہے جو ولایت سے سر بند بوتلوں میں آتی ہے۔ اس کی قیمت ٨....... ہے۔
(٢١ ستمبر ١٩٣٣ء، منقول از سودائے مرزا ص ٣٩)
اور دوسری گواہی خود مرزا بشیر الدین کی اپنے ابا مسیح الغوی کے بارہ میں ہے: ”افیون دواؤں میں اس کثرت سے استعمال ہوتی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے۔ بعض اطباء کے نزدیک وہ نصف طب ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تریاق الٰہی دوا خدا تعالیٰ کی ہدایت کے ماتحت بنائی اور اس کا ایک بڑا جزو افیون تھا اور یہ دوا کسی قدر اور افیون کی زیادتی کے بعد حضرت خلیفہ اول (نورالدین) کو حضور (مرزا قادیانی) چھ ماہ سے زائد تک دیتے
٧١
رہے اور خود بھی وقتاً فوقتاً مختلف امراض کے دوروں کے وقت استعمال کرتے رہے۔“
(مضمون از مرزا بشیر الدین محمود، مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج١٧ نمبر ٦ مورخہ ١٩؍ جولائی ١٩٢٩ء)
اور اب ذرا مرزائیت کے مبلغ اعظم خواجہ کمال الدین کی شہادت بھی قلمبند کر لیجئے:
”پہلے ہم اپنی عورتوں کو یہ کہہ کر کہ انبیاء اور صحابہ والی زہد اختیار کرنی چاہئے کہ وہ کم اور خشک کھاتے اور خشن پہنتے تھے اور باقی بچا کر اللہ کی راہ میں دیا کرتے تھے۔ اسی طرح ہم کو بھی کرنا چاہئے۔ غرض ایسے وعظ کر کے کچھ روپیہ بچایا کرتے تھے اور پھر قادیان بھیجتے تھے۔ لیکن جب ہماری بیبیاں خود قادیان گئیں۔ وہاں پر رہ کر اچھی طرح وہاں کا حال معلوم کیا تو واپس آ کر ہمارے سر چڑھ کر گئیں کہ تم جھوٹے ہو۔ ہم نے تو قادیان میں جا کر خود انبیاء اور صحابہ کی زندگی کو دیکھ لیا ہے۔ جس قدر آرام کی زندگی اور تعیش وہاں پر عورتوں کو حاصل ہے۔ اس کا عشر عشیر بھی باہر نہیں۔ حالانکہ ہمارا روپیہ اپنا کمایا ہوا ہے اور ان کے پاس جو روپیہ جاتا ہے وہ قومی اغراض کے لئے قومی روپیہ ہوتا ہے۔“
(کشف الاختلاف ص ١٣)
اور لدھیانہ کا ایک مرزائی یوں نوحہ کناں ہے: ”جماعت مقروض ہو کر اور اپنی بیوی بچوں کا پیٹ کاٹ کر چندہ میں روپیہ بھیجتی ہے۔ مگر یہاں بیوی صاحبہ (غلام احمد کی بیوی) کے زیورات اور کپڑے بن جاتے ہیں اور ہوتا ہی کیا ہے۔“
(اخبار الفضل قادیان ج٦ نمبر ٣٠، مورخہ ٣١؍ اگست ١٩١٨ء)
اور جناب محمد علی مفسر مرزائیت کی اپنے مسیح موعود کے بارہ میں گواہی کیا ہے وہ بھی قابل اشاعت ہے: ”حضرت صاحب (مرزا غلام احمد قادیانی) نے اپنی وفات سے پہلے جس دن وفات ہوئی۔ اسی دن بیماری سے کچھ ہی پہلے کہا کہ خواجہ (کمال الدین) صاحب اور مولوی محمد علی صاحب مجھ پر بدظنی کرتے ہیں کہ میں قوم کا روپیہ کھا جاتا ہوں۔ ان کو ایسا نہ کرنا چاہئے تھا (واحسرتا) ورنہ انجام اچھا نہ ہوگا۔ (کس کا؟ اپنا؟ واقعی اچھا نہ ہوا) چنانچہ آپ نے فرمایا کہ آج خواجہ صاحب، مولوی محمد علی کا ایک خط لے کر آئے اور کہا کہ مولوی محمد علی نے لکھا ہے۔ لنگر کا خرچ تو تھوڑا سا ہوتا ہے۔ باقی ہزاروں روپیہ جو آتا ہے وہ کہاں جاتا ہے اور گھروں میں آ کر آپ نے بہت غصہ ظاہر کیا کہ کیا یہ لوگ ہم کو حرام خور سمجھتے ہیں۔ ان کو روپیہ سے کیا تعلق۔“
(حقیقت اختلاف ص ٥٠)
اور آخر میں کیا مدیر ”الفرقان“ ربوہ ایک بہت بڑے مرزائی کی شہادت کو بھی اپنے
٧٢
موقر پرچے میں شائع کرنے کی زحمت گوارہ فرمائیں گے کہ مرزاغلام احمد قادیانی سردیوں کی ٹھٹھرتی ہوئی تاریک راتوں میں غیرمحرم عورتوں سے اپنی ٹانگیں دبایا کرتے تھے؟ اور اگر ضرورت محسوس کریں تو اس کا نام اور پتہ بھی بتایا جاسکتا ہے۔
دامن کو ذرا دیکھ ذرا بند قبا دیکھ
ہم بارہا حکومت کو الاعتصام کے ان کالموں میں اس بات سے آگاہ کر چکے ہیں کہ: ”انگریز نے مرزائیت کو برصغیر پاک و ہند میں وجود ہی اس لئے بخشا تھا کہ یہ اسلامیان برصغیر کے اندر انتشار و افتراق کے بیج بوئیں اور یہ آج تک اپنے آقایان ولی نعمت کی تربیت اور ہدایت کے مطابق اس فریضہ سر کو انجام دے رہے ہیں اور اگر اس پر ان کی گرفت کی جائے تو واویلا اور چیخ و پکار شروع کر کے حکومت سے مدد و مدافعت کی التجائیں اور فریادیں شروع کر دیتے ہیں اور اندرون پردہ حکومت کے مختلف شعبوں میں سرگرم عمل مرزائی کارندے مسلمانوں کو گزند پہنچانے اور پہنچوانے کی جدوجہد میں مشغول ہوجاتے ہیں۔ جس سے پاکستان میں بسنے والی عظیم اکثریت مسلمان قوم کے اندر حکومت کے خلاف ناراضگی اور نفرت کے جذبات کا پیدا ہونا ایک قدرتی امر ہوتا ہے اور ہم پورے یقین و وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ صدر ایوب کی حکومت کے سنگھاسن کے ڈولنے کی ایک بہت بڑی وجہ ان کی مرزائیت نوازی اور ان کے گرد مرزائی افسروں کا جمگھٹا بھی ہے۔ آئندہ بننے والی حکومتیں اور آنے والے حکمران شاید اس سے نصیحت حاصل کر سکیں“۔ ”ان فی ذالك لعبرة لا ولی الابصار“
(بحوالہ الاعتصام مورخہ ١٤، ٢١/مارچ ١٩٦٩ء)
پاکستان میں مرزائی ریاست
حال ہی میں خبر آئی ہے کہ محکمہ اوقاف ان اداروں کو بھی اپنی تحویل میں لینے کے بارہ میں سوچ رہا ہے جو ہنوز اس کے سایۂ عاطفت میں نہیں آئے۔ ہمیں اس وقت اس بات سے بحث نہیں کہ محکمہ اوقاف کا یہ اقدام درست ہے یا نہیں۔ بلکہ ہم اس وقت محکمہ اوقاف کے کار پردازوں سے خصوصاً اور ارباب حکومت پاکستان سے عموماً اس سوال کا جواب چاہتے ہیں۔ کیا وجہ ہے کہ حکومت اور اس کے قائم کردہ محکمہ اوقاف نے بلا رعایت ہر گروہ اور ہر فرقے کے دینی اداروں اور مدارس، مکاتب، مساجد اور ان کی املاک کو تو اپنی تحویل میں لے لیا اور ان کی آمدنی پر اپنے پہرے بٹھا دئیے۔ لیکن ایک مخصوص مذہب کے تمام ادارے اور اس کی تمام املاک اس حکم سے مستثنیٰ رہیں
٧٣
اب جبکہ ان اداروں پر قدغن لگانے کے متعلق سوچا جا رہا ہے جن کی اپنی کوئی پراپرٹی نہیں اور جن کا تمام بار چند اہل خیر حضرات کے کندھوں پر ہے۔ تب اس مذہب کے ان بے پناہ سرمایہ دار اداروں کے بارے میں کیوں لب کشائی نہیں کی جاتی؟
ہماری مراد ہندوستانی نبی مرزا غلام احمد قادیانی آنجہانی کی امت اور ان کی جماعت سے ہے۔ جنہوں نے حکومت پاکستان کے اندر رہتے ہوئے ایک الگ حکومت کی تشکیل کر رکھی ہے۔ پاکستان میں بسنے والے اس بات پر اضطراب کا اظہار کئے بغیر نہیں رہ سکتے کہ ان پر تو ملک کے تمام قوانین وضوابط لاگو ہوں۔ لیکن چند ایسے لوگوں کو ان قوانین وضوابط سے مستثنیٰ قرار دیا جائے۔ جنہوں نے اپنی عقیدتوں کا مرکز محمد عربی ﷺ کی بجائے غلام ہندی کو بنا رکھا ہے اور جن کے نہاں خانہ دل میں پاکستان میں بستے ہوئے بھی، ہندوستان کی ایک بستی رچی اور بسی ہوئی ہے۔ اگر اوقاف بورڈ، اہل حدیث، بریلوی، دیوبندی، شیعہ اور دیگر مسلمان فرقوں کے دینی اور صاحب املاک اداروں پر اپنے پہرے بٹھا سکتا ہے تو مرزائی صاحب جائیداد اداروں پر کیوں پہرے نہیں بٹھائے جاتے کہ جن کی سالانہ آمدنی ایک کروڑ روپے سے زیادہ اور جنہوں نے چناب کے کنارے آباد بستی میں علاقہ حکومتی طرز پر سیکریٹریٹ تک بنا رکھا ہے اور جس بستی میں مرزائی آقاؤں کی مرضی کے بغیر کوئی شخص کوٹھڑی تک کی تعمیر نہیں کر سکتا اور جہاں کے باسی بڑے فخر ومباہات سے کہتے ہیں کہ ہماری بستی میں بعض سرکاری دفاتر موجود ہیں۔ لیکن ان دفاتر کے افسران ہماری امت کے ہی لوگ ہیں۔ جن کی وجہ سے ان سرکاری دفاتر کی حیثیت عملاً مرزائی اداروں کی ہو کر رہ گئی ہے اور صرف اسی پر بس نہیں بلکہ آئے دن مرزائی اخبارات میں اس نوعیت کے اشتہارات آتے رہتے ہیں کہ ملک کے فلاں شعبہ میں اس قدر اسامیاں خالی ہیں اور فلاں میں اس قدر۔ اس لئے فوری طور پر اپنی درخواستیں ربوہ میں فلاں کے نام ارسال کر دی جائیں۔ اس قسم کے اشتہارات کو پڑھ کر ایک عام آدمی فوری طور پر یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ ربوہ کو درخواستیں لینے کے اختیارات کس نے تفویض کر رکھے ہیں؟ حکومت نے یا ان مرزائی آفیسروں نے جو مختلف شعبوں کے سربراہ ہیں اور پھر آیا ان آفیسروں کو یا ان کے گماشتوں کو قانون پاکستان کی رو سے یہ حق حاصل ہے کہ وہ ملازمت کی درخواستیں ایک مخصوص غیر مسلم مذہب کے توسط سے طلب کرے۔ وگرنہ کیا یہ امور حکومت میں مداخلت تو نہیں؟ پاکستان میں بسنے والی مسلمان اکثریت کہ (جس نے اور) جس کے لئے اس ملک کو حاصل کیا گیا تھا۔ اس بات پر بھی بے چینی کا
٧٢
اظہار کئے بغیر نہیں رہ سکتی کہ انگریزوں کی پروردہ، وظیفہ خوار اور جاسوس جماعت کو جو مسلمانوں کو تحریک آزادی (کہ جس کے نتیجہ میں پاکستان ظہور میں آیا) میں شمولیت سے باز رکھتی اور انگریزوں کی ذلہ خواری پر آمادہ کرتی رہی۔ اس طرح کی بے جا مراعات سے نوازا جائے جو نہ صرف یہ کہ عام مسلمانوں کے مفادات کے منافی ہیں۔ بلکہ خود حکومت پاکستان اور ملک کے قوانین سے ٹکراتی ہیں۔ اگر مرزائی اپنے چند گماشتوں کے بل پر من مانی کارروائیاں کر سکتے ہیں تو مسلمان اپنے ملک کے حکام سے، جن کی اکثریت اوپر سے لے کر نیچے تک بفضل تعالیٰ مسلمانوں سے تعلق رکھتی ہے۔ یہ مطالبہ کرنے میں حق بجانب ہیں کہ ان کو دی گئی خصوصی مراعات ختم کی جائیں اور اس بات کی تحقیق کی جائے کہ یہ لوگ خصوصی ملکی امور میں مداخلت بے جا کے مرتکب تو نہیں ہو رہے؟ نیز ان کو ان تمام قوانین وضوابط کا پابند کیا جائے۔ جن کی پابندی پاکستان کے عام شہریوں پر لازم قرار دی گئی ہے اور ان سرکاری آفیسروں کو قرار واقعی سزا دی جائے۔ جنہوں نے ان کو اس قسم کی رعایت دینے میں حصہ لیا ہو۔ اس سلسلہ میں محکمہ اوقاف کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ مرزائیوں کی کروڑوں روپے کی وقف جائیداد کی تحقیقات کر کے انہیں اپنے قبضہ میں لے اور عام مسلمانوں کی بے اطمینانی کو دور کرے۔
(بحوالہ الاعتصام مورخہ ٦؍جون ١٩٦٩ء)
مرزا محمود خلیفہ قادیان
پھر آ گیا ہوں شدت دوراں کو ٹال کے
آج سے تقریباً چار ماہ پیشتر جولائی کے اوائل میں کسی دوست سے ربوہ کے ایک مرزائی پرچہ ”الفرقان“ کو دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ جس میں اس کے مدیر ابو العطاء اللہ دتہ جالندھری نے یاوہ گوئی اور کذب بیانی کے طومار باندھے ہوئے تھے۔ اس پر اور مرزائیوں کے دیگر پرچوں کے مضامین پر تبصرہ کرتے ہوئے ہم نے ہفت روزہ ”اہل حدیث“ لاہور کے شمارہ نمبر٢٤، بابت مورخہ ٣؍جولائی ١٩٧٠ء میں ایک اداریہ بعنوان امت مرزائیہ اور اہل حدیث رقم کیا جس میں ہم نے لکھا:
اہل حدیث کا اداریہ
- ”ربوہ اور لاہور کے چند مرزائی پرچوں نے کچھ عرصہ سے میدان خالی سمجھ کر اہل
حدیث کے خلاف ہرزہ سرائی کا اچھا خاصا بازار گرم کر رکھا ہے۔ اس سلسلہ میں ”الفرقان“ لاہور
٧٥
اور ”پیغام صلح“ لاہور خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ آخر الذکر پرچے ”پیغام صلح“ کو چھوڑ کر کہ لاہوری مرزائیوں کا ترجمان ہے اور ہم سابق میں دو تین مرتبہ اس کی دریدہ دہنیوں کا اچھی طرح نوٹس لے چکے ہیں۔ پہلے دونوں چیتھڑوں کا انداز متانت و شرافت سے بالکل عاری ہوتا ہے۔“ ”الفرقان“ ربوہ کے مدیر ابو العطاء اللہ دتہ جالندھری نے اہل حدیث کے خلاف یاوہ گوئی کی ابتداء اس وقت کی جب ہم الاعتصام کی ادارت سے الگ ہوگئے۔ اس کے بعد اس نے ہماری مصروفیات کو دیکھتے ہوئے جھوٹ اور غلط بیانی کا ایک طومار باندھ دیا اور مزیدار بات کہ باوجود ہفتہ وار اہل حدیث اور ماہنامہ ترجمان الحدیث کے تبادلہ جاری ہونے کے الفرقان دفتر اہل حدیث میں ارسال کرنے سے گریز کیا تا کہ ہم ان کے کذب کو آشکار نہ کرسکیں۔
پچھلے دنوں اچانک ہی الفرقان کے چند پرچے دیکھنے کا اتفاق ہوا تو ہم حیران رہ گئے کہ اس اخبار کا مدیر جو ہمارے سامنے بھیگی بلی بنا رہا کرتا تھا۔ ہمارے میدان سے ہٹتے ہی کس طرح شیر بن گیا ہے کہ اسے یہ کہتے ہوئے بھی شرم محسوس نہیں ہوئی کہ: ”اس نے اپنی طالب علمی کے زمانہ میں شیخ الاسلام، وکیل المسلمین مولانا ثناء اللہ امرتسری کو اسلام اور مرزائیت کے موضوع پر شکست فاش سے دو چار کر دیا تھا اور برصغیر کے نامور عالم دین اور مناظر اسلام حضرت مولانا محمد حسین بٹالویؒ اس سے گفتگو کی تاب نہ لاسکے تھے۔“
حضور بلبل بستاں کرے نوا سنجی
حالانکہ یہ وہی مرزائی مناظر ہے کہ جس نے الاعتصام کے زمانہ ادارت میں ایک دفعہ اور صرف ایک دفعہ ہمارے سامنے آنے کی جرأت کی تھی اور پھر دوسری بار سامنے آنے کا حوصلہ اپنے اندر نہ پاسکا اور جس کا تعاقب ہم نے ربوہ کی چار دیواری تک کیا تھا۔ لیکن باوجود للکارنے اور ابھارنے کے اسے گفتگو کی ہمت نہ ہوئی۔ کیا اسے الاعتصام کے وہ گیارہ اداریے بھول گئے ہیں۔ جن کا جواب نہ پاتے ہوئے اس نے اپنے آقا ایوب کی بارگاہ میں دہائی دینا شروع کر دیا تھا۔ یا مدیر المنبر کے بارہ میں ہماری شہادت پر مدیر الفرقان کے نام ہمارا وہ تازیانہ اسے یاد نہیں رہا۔ جس کی ٹیس وہ مدتوں تک محسوس کرتا رہا؟
اور اس نے یہ بھی فراموش کر دیا ہے کہ ہم نے اس کے دفتر ربوہ میں بیٹھ کر اسرائیل اور مرزائیت کے تعلق اور روابط پر اس سے گفتگو کی اور مرزائیت اور اسرائیل دونوں کو مسلمانوں کے
٧٦
خلاف انگریز کی تخلیق اور سازش ثابت کیا تو اس نے اڑی ہوئی رنگت اور خشک ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوئے پھیکی مسکراہٹ کے ساتھ ناظم اعلیٰ مرکزی جمعیت اہل حدیث سے جو اس سفر میں راقم الحروف کے ساتھ تھے۔ کہا تھا کہ ”احسان صاحب دو دھاری تلوار ہیں“ اور اس سے بھی پہلے ١٩٦٤ء میں جب میں مدینہ یونیورسٹی سے رخصت پر گھر آیا تھا اور آپ نے سیالکوٹ کے چند مرزائی لڑکوں کے ذریعہ مجھے ربوہ آنے کی دعوت دی تھی اور جناب جلال الدین شمس کے مکتبہ میں بیٹھ کر صداقت مرزا کے موضوع پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے میں نے مرزا غلام احمد قادیانی کی پیش گوئیوں کو پیش کیا تھا تو آپ نے اپنے سامنے ایک نوخیز طالب علم کو دیکھتے ہوئے بڑے وثوق اور اعتماد کے ساتھ دعویٰ کیا تھا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کی کوئی پیش گوئی ایسی نہیں جو پوری نہ ہوئی ہو اور محمدی بیگم کی پیش گوئی کے متعلق ایسی توجیہ پیش کی تھی۔ جسے سن کر حاضرین اور خود جلال الدین شمس بھی مسکرائے بغیر نہ رہ سکے تھے تو آپ نے اپنی پیشانی سے پشیمانی کے قطرے پونچھتے ہوئے کہا تھا کہ پیش گوئی کا نبی کی زندگی میں پورا ہونا ضروری نہیں۔ جس طرح کہ حضور اکرم ﷺ کی پیش گوئیاں بعد میں پوری ہوئیں تو میں نے جواب دیا تھا کہ جناب محمدی بیگم کی پیش گوئی تو تعلق ہی مرزا کی زندگی سے رکھتی ہے۔ وگرنہ شادی قبر مرزا سے ہوگی؟ تو شمس صاحب نے آپ کی مدد کرتے ہوئے کہا کہ نبیوں کی تمام پیش گوئیوں کا پورا ہونا ضروری تو نہیں ہوتا۔ جس طرح کہ حضور اکرم ﷺ کی بعض پیش گوئیاں پوری نہیں ہوئیں اور جب میں نے چیلنج دیا کہ ایسا کہنا بالکل غلط اور جھوٹ ہے اور آنحضرت ﷺ کی کوئی پیش گوئی ایسی نہیں جو وقت پر پوری نہ ہوئی ہو تو آپ دونوں بغلیں جھانکنے لگے تھے اور پھر آپ کو یاد ہے کہ آپ نے کسی دوسرے موضوع پر گفتگو کے لئے کہا تو میں مرزائی معتقدات کا مسلمانوں کے عقائد کے خلاف ہونا ثابت کیا۔ اثنائے گفتگو جب ختم نبوت کا تذکرہ آیا تو آپ نے اسے موضوع بحث بنانے اور مرزائیت پر دلیل ٹھہرانے کے لئے زور دیا۔ میں قصداً اس سے گریز کرتا رہا۔ کیونکہ میں اس موضوع پر ان ہی دنوں ایک مفصل اور مبسوط مقالہ عربی میں تحریر کر چکا تھا اور چاہتا تھا کہ میرے انکار کو اس مسئلہ میں عدم علم پر محمول کرتے ہوئے آپ اور اصرار کریں اور اس بحث کو صدق و کذب مرزا پر فیصلہ کن قرار دیں اور یہی ہوا۔ لیکن چند ہی لمحوں بعد آپ نے محسوس کیا کہ اس موضوع پر میری گرفت دیگر مواضیع سے کہیں زیادہ مضبوط ہے اور جب میں نے آپ کی حواس باختگی سے اور زیادہ لطف لینے کے لئے آپ کو خبر دی کہ اس موضوع پر میرا ایک مفصل اور مبسوط مقالہ عربی پرچوں میں چھپ چکا ہے تو
٧٧
آپ کی حالت دیدنی تھی۔ آپ فوراً اٹھے اور چھٹکارا پانے کے لئے جلدی سے اسی موضوع پر اپنا ایک رسالہ اپنے دستخطوں سے مجھے دیا کہ جب دونوں طرف سے اس مسئلہ پر تحریریں موجود ہیں تو اس بحث سے کیا فائدہ اور میرے شدید اصرار پر بھی آپ آمادہ گفتگو نہ ہوئے اور آپ کا وہ رسالہ آج بھی آپ کی شکست کی یادگار کے طور پر پاس محفوظ ہے۔
اور پھر مجھے سیالکوٹ کے ان مرزائی لڑکوں نے یہ بھی بتلایا کہ جب انہوں نے آپ سے پوچھا کہ آپ اتنے بڑے مناظر ہو کر ایک معمولی طالب علم کو لاجواب نہیں کر سکے۔ جس کے متعلق آپ کا خیال تھا کہ وہ پانچ منٹ سے زیادہ عرصہ آپ سے گفتگو نہیں کر سکے گا۔ تو آپ نے فرمایا تھا۔ مجھے افسوس ہے کہ میں نے اس لڑکے کو سمجھنے میں غلطی کی اور اسی وجہ سے کوئی خاص تیاری نہیں کر سکا۔ وگرنہ اس سے بات کرنا دوبھر ہو جاتا اور پھر لڑکے نے الاعتصام کے صفحات میں آپ کی اور آپ کے متنبی کی اپنی تحریروں سے آپ کے خود ساختہ مذہب کے پرخچے اڑا دیئے۔ لیکن ہنوز آپ کی تیاری نہیں ہوسکی اور نہ انشاء اللہ مرتے دم تک ہوسکے گی اور آج آپ بایں بے بضاعتی، بے علمی اور بے مائیگی ایک فریب خوردہ قوم کو اور زیادہ دھوکے میں مبتلا کرنے کے لئے کہتے ہیں کہ آپ نے شیخ الاسلام مولانا ثناء اللہ اور مناظر المسلمین مولانا محمد حسین بٹالوی کو شکست دی۔ لعنۃ اللہ علی الکاذبین!
حضرت! کہاں راجہ بھوج اور کہاں گنگوا تیلی؟
پسینہ پونچھئے اپنی جبیں سے
آپ کی لاف زنی کے دن ختم ہوگئے۔ آئیے ہم آج بھی آپ کو سرعام دعوت دیتے ہیں کہ جس موضوع پر جہاں چاہیں ہم سے تقریری یا تحریری گفتگو کرلیں۔ تاکہ لوگوں کو آپ کی کذب بیانی کے ساتھ آپ کے مذہب اور متنبی کے جھوٹ کا بھی علم ہوجائے۔
رہ گئی بات ”لاہور“ کی تو اس چیتھڑے نے سوائے ہرزہ سرائی اور بیہودہ گوئی کے کبھی دلیل وسند سے بات ہی نہیں کی۔ اگر گالی کا جواب گالی میں ہی سننا اس کا شوق ہے تو اسے سن لینا چاہئے کہ ہم امت مرزائیہ کو دائرہ اسلام سے خارج اور سرور کائنات علیہ السلام کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنے والے کو کذاب اور دجال سمجھتے ہیں اور ان کی عبادت گاہیں ہمارے نزدیک مسجد ضرار سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتیں کہ جب بھی اس دیس میں صحیح اسلامی حکومت قائم ہوئی انہیں مسمار
٧٨
کر دیا جائے گا اور اس میں آنے والوں کو اسلام میں واپس لوٹنا پڑے گا یا اسلامی دیس میں ایک الگ اقلیت بن کر رہنا پڑے گا۔ جن کے معابد کو اور تو سب کچھ کہا جاسکے گا۔ مساجد نہیں کہ یہ نام صرف مسلمانوں کی عبادت گاہوں سے مختص ہے۔
اس اداریے کے بعد ہمیں چند مرزائیوں کی جانب سے دھمکی آمیز اور دشنام سے لبریز خطوط کے علاوہ کوئی جواب موصول نہ ہوا۔ ہم نے ان گالیوں اور دھمکیوں کا نوٹس لینا اس لئے گوارہ نہ کیا کہ ایک آبرو باختہ امت سے جن کا راہنما اور مقتداء گالی کے سوا بات ہی نہیں کر سکتا تھا۔ اس دشنام طرازی کے علاوہ اور توقع بھی کیا کی جاسکتی ہے۔ اس کے بعد اپنی تبلیغی اور دیگر مصروفیات کے باعث میں تقریباً مسلسل تین ماہ تک دفتر سے غیر حاضر اور منقطع سا رہا۔ ہفتہ وار اہل حدیث اور ماہنامہ ترجمان الحدیث میں میرے رفقاء تبادلہ آنے والے پرچوں کے قابل توجہ مضامین پر نشان لگا کر مجھے بھجوا دیتے اور میں ان کے بارے میں انہیں اپنا مشورہ دے دیتا اور میرے وہ احباب جو میرے طرز تحریر کو جانتے پہچانتے ہیں۔ انہیں معلوم ہوگا کہ میں نے اہل حدیث میں تو تین ماہ سے کچھ لکھا ہی نہیں۔ البتہ ترجمان الحدیث کا مختصر سا اداریہ اور ایک آدھ مضمون ضرور لکھتا رہا۔
اس دوران ’’الفرقان‘‘ کا کوئی پرچہ نہ تو دفتر میں موصول ہوا اور نہ ہی میں اپنی گونا گوں مصروفیات اور اسفار کی وجہ سے اس کی طرف توجہ دے سکا۔ اکتوبر کو دفتر اہل حدیث سے نائب مدیر نے مجھے بتلایا کہ الفرقان بابت ماہ ستمبر میں آپ کے خلاف اور جماعت اہل حدیث کے خلاف کافی ہرزہ سرائی کی گئی ہے۔ میں نے پرچہ منگوا کر دیکھا تو حیران رہ گیا کہ مرزائیت کا وہی ٹٹو گھوڑا اور بزدل جسے خالد احمدیت کا لقب دیا گیا ہے اور جس کی شکست اور بزدلی کا شاہکار الاعتصام میں ہمارے وہ گیارہ اداریے اور اس کے نام اپنا ایک کھلا خط ہے۔ جن کا جواب اس سے ابھی تک نہیں بن پڑا۔ آج کیسی لن ترانیاں کر رہا اور دولتیاں جھاڑ رہا ہے۔ حالانکہ اسے اس کا بھی اعتراف ہے کہ وہ ماضی میں ہمارا جواب دینے سے قطعی طور پر قاصر رہا ہے اور اس کا اظہار اس نے خود الفرقان کے شمارہ جولائی میں بھی کیا ہے۔ جو اس وقت ہمارے پیش نگاہ ہے۔ مدیر الفرقان کا جھوٹ اور شکست اور ہماری سچائی اور فتح خود اس کی تحریر سے نمایاں ہے کہ اس نے ان تمام مسائل سے قطع نظر کر کے جن کا ہم نے اپنے اداریہ مذکور بالا میں ذکر کیا ہے۔ دو ایسے مسائل زیر بحث لانے کی تجویز رکھی ہے۔ جن کا ذکر کردہ مسائل سے کوئی تعلق نہیں کہ آیت
٧٩
”فلما توفیتنی“ میں توفی کے معنی موت اور قرآن مجید کی آیات میں نسخ پر تحریری گفتگو کر لی جائے۔ گویا کہ وہ اس بات کا کھلم کھلا اقرار ہی ہے کہ:
- ......١ اسرائیل اور مرزائیت کا آپس میں گہرا ربط اور تعلق ہے۔
- ......٢ مرزائیت اور اسرائیل دونوں ہی انگریز کی تخلیق اور سازش کا نتیجہ ہیں۔
- ......٣ مرزا غلام احمد قادیانی کی پیش گوئیاں جھوٹی ہیں۔
- ......٤ محمدی بیگم کے بارہ میں مرزا غلام احمد قادیانی کی پیش گوئی جھوٹی ثابت ہوئی۔
- ......٥ مرزائیوں کے معتقدات مسلمانوں کے عقائد کے خلاف ہیں۔
- ......٦ حضور اکرم ﷺ خاتم النبیین ہیں اور مرزا غلام احمد قادیانی کا دعویٰ نبوت جھوٹ ہے۔
وگرنہ جان مرزا! یہ کیا کہ سوالات تو سامنے ہوں اور جوابات کے لئے ایسے موضوعات کو تلاش کیا جائے۔ جن سے مقصود سوائے بات الجھانے اور اس بہکی ہوئی قوم کو اور زیادہ بہکانے کے اور کچھ نہیں۔ بھلا آیت نسخ وغیرہ سے مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت کا کیا تعلق ہے؟ کیا مرزا غلام احمد قادیانی سے پیشتر آیات نسخ کے بارہ میں کسی نے کچھ نہیں کہا اور کیا ان کا آیات نسخ کے بارہ میں وہی کچھ کہنا جو مرزا قادیانی ان سے نقل اور سرقہ کر کے کہہ دیا ہے۔ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ بھی نبی اور رسول تھے؟ وگرنہ ایسی باتوں کو صدق و کذب مرزا کی دلیل ٹھہرانا، چہ معنی دارد؟
رہ گئی بات معنی توفی کی تو ابھی تک پوری امت مرزائیہ امام العصر مولانا میر ابراہیم سیالکوٹی کی مقروض ہے کہ آج تک اس کے بڑوں سے لے کر خوردوں تک سے اس کا جواب نہیں بن پڑا۔ کسی سے کہو کہ اس کا جواب لکھے۔ پھر ہم بھی دیکھیں گے کہ اس کا قرضہ کیسے اتارا جا سکتا ہے۔ ذرا خود ہی کوشش کر کے دیکھو تو سہی؎
یہ بازو مرے آزمائے ہوئے ہیں
ہمارا آج بھی چیلنج ہے۔ آؤ اور مسائل مذکورہ پر ہم سے جہاں تمہارا دل چاہے گفتگو کر لو۔ لاہور آؤ تو چینیاں والی مسجد میں انتظام کے ذمہ دار ہم ہیں۔ ربوہ میں انتظام تم کر لو تو ہم آنے کو تیار ہیں اور اگر ان موضوعات پر آپ کو اپنی شکست تسلیم ہے تو آؤ، کسی بھی ایسے موضوع پر گفتگو کر لو جس کو تم منتخب کرو۔
بشرطیکہ اس کا تعلق مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت اور صدق و کذب سے ہو، تاکہ ہمارا
٨٠
قیمتی وقت صرف ہو تو اس میں آپ کے ساتھ ساتھ آپ کے متنبّی کے جھوٹ کا بھی لوگوں کو علم ہو جائے۔ ہمارے تین جولائی کے الفاظ آج بھی آپ کو للکار رہے ہیں: ”آپ کی لاف زنی کے دن ختم ہوگئے۔ آئیے ہم آج آپ کو سرعام دعوت دیتے ہیں کہ جس موضوع پر اور جہاں چاہیں ہم سے تحریری یا تقریری گفتگو کرلیں۔ تاکہ لوگوں کو آپ کی کذب بیانی کے ساتھ ساتھ آپ کے مذہب اور متنبّی کے جھوٹ کا بھی علم ہوجائے۔“
ہماری اس عبارت کو دوبارہ پڑھ لیجیے اور آئیے ہم آپ کے منتظر ہیں۔ رہ گئی بات مرزائی لڑکے کے خطوط کی تو ایک جھوٹے مدعی نبوت کی امت کے ایک فرد سے جھوٹ اور افتراء کے علاوہ اور توقع بھی کیا کی جاسکتی ہے۔ نیز ان ایسے لونڈوں کی کیا حیثیت ہے کہ انہیں قابل التفات سمجھا جائے۔ جن کی اپنی تحریریں غلط گوئی اور کذب بیانی کی غمازی کرتی ہیں کہ ایک طرف تو وہ میرے بارہ میں لکھتا ہے: ”میری گفتگو اور بحث سے بہائیوں کا ایک ایرانی مبلغ جس سے میری فارسی میں بحث ہوئی بوکھلا گیا اور بعد ازاں بہائیت سے تائب ہوگیا۔“
اور دوسری طرف میرے ہی متعلق لکھتا ہے کہ: ”مدیر الفرقان کی عربی میں گفتگو سن کر بچوں کی طرح اس کا منہ دیکھ رہا تھا اور دل ہی دل میں آپ کی علمیت کا اعتراف کر رہا تھا۔“
حالانکہ جس بہائی مبلغ کی طرف اشارہ ہے۔ اس نے سیالکوٹ کے مرزائیوں کا ناطقہ بند کر رکھا تھا اور ایرانی الاصل والنسل ہونے کے ساتھ ساتھ فلسفہ اور الہیات میں تہران یونیورسٹی سے ایم۔ اے اور بون یونیورسٹی جرمنی سے پی۔ ایچ۔ ڈی تھا اور مزیدار بات کہ اس سے میری بحث مدیر الفرقان سے گفتگو سے بھی تین سال پیشتر ہوئی تھی۔ جب کہ ابھی میری مسیں بھی نہیں بھیگی تھیں اور میں فارسی کا ایک معمولی طالب علم تھا۔ جب کہ اللہ دتہ جالندھری ایسے برخود ان پڑھ سے گفتگو کے وقت میں نہ صرف یہ کہ علوم عربیہ کی تکمیل کرچکا تھا۔ بلکہ مدینہ یونیورسٹی میں بھی دو سال گذار چکا تھا۔ جب کہ میرے مضامین عالم عرب کے ممتاز ترین مجلات وجرائد میں شائع ہوتے تھے اور میری عربی تحریر وتقریر کو خود مدینہ یونیورسٹی کے اساتذہ اور عالم عرب کے نامور ادیب اور خطیب سراہ چکے تھے۔ (ایک ایسی بات جسے شاید مدیر الفرقان بھی نہ کہہ سکا) رہا علمیت کا اعتراف اور وہ بھی دل ہی دل میں۔ یہ بات بھی خوب رہی۔ مجھے معلوم نہ تھا کہ راون کے دیس میں سارے ہی باون گزے ہیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے وحی والہام کا دروازہ کیا کھولا کہ غالب کے الفاظ میں:
٨١
اب آبروئے شیوہ اہل نظر گئی
ایک اور بات اسی مرزائی لڑکے نے لکھی کہ: ”اس وقت تو ہم احسان صاحب کے گھر کے افراد یعنی مسلمان تھے اور اب ہم پر فتویٰ دیتے ہیں۔“
حالانکہ مرزائیوں کے کفر کے بارہ میں اس وقت بھی میرے ایقان اور ایمان کا عالم یہ تھا کہ ربوہ میں رہنے کے باوجود پانی کی ایک بوند اور کھانے کا ایک لقمہ تک منہ میں نہ ڈالا تھا کہ کفار کے برتنوں میں کھانا درست نہیں۔ کیا مرزائی لڑکے اور خود مدیر الفرقان اس کے خلاف پر حلف اٹھانے کو تیار ہیں کہ میں تمام دن ربوہ میں بھوکا رہا تھا اور ان دنوں ربوہ میں کوکا کولا وغیرہ مشروبات میسر نہ تھے اور جب مدیر الفرقان نے پیش کش کی کہ وہ میرے لئے ربوہ اسٹیشن سے جہاں کہ مسلمانوں کی دوکانیں ہیں۔ کچھ کھانے پینے کو منگوا لیتے ہیں تو میں نے شکریہ سے ٹال دیا تھا۔ اس جھوٹ پر یہی کہتا ہوں۔
آنکھوں سے شرم سرور کون و مکاں گئی
الفرقان نے اخبار اہل حدیث کے مدیر کے نام کے بعد ایک عنوان مساجد کے لئے خدائی غیرت کے ماتحت راقم الحروف کے خلاف پھر یاوہ گوئی اور اپنے خبیث باطن کا طومار باندھا۔
وہ ہم پر قاتلانہ حملہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ: ”مرزائیت کے خلاف لکھنے کی پاداش میں مرزا غلام احمد قادیانی کا الہام کیسے پورا ہوا کہ ”انی مهین من اراد اهانتك“ کہ جس نے تجھے ذلیل کیا اسے میں ذلیل کروں گا۔“
اگر مدیر الفرقان کا مقصد یہ ہے کہ اس حملہ کا سبب مرزائیت کے خلاف ہمارا قلمی اور لسانی جہاد ہے تو حکومت کو اس طرف توجہ کرنی چاہئے
اور اگر اس کا مطلب ہے کہ یہ قدرت کی طرف سے سزا تھی تو ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس کے برعکس یہ قدرت کی طرف سے ایک انعام تھا کہ اس نے ہماری ان حقیر خدمات کو شرف قبولیت بخشتے ہوئے (جو ہم کفر، ہر قسم کے کفر، جن میں سرفہرست مرزائیت ہے کے خلاف سرانجام دے
٨٢
رہے ہیں) اپنے فضل و کرم سے ہمیں محفوظ رکھا تو بات زیادہ درست ہوگی۔
اگر مدیر الفرقان کی مراد لاہور کے ایک کمیونسٹ ہفت روزہ کی وہ ہرزہ سرائی ہے جس کا ہر مومن مسلمان اور محبّ وطن پاکستانی نشانہ بنا ہوا ہے تو شاید شاعرانہ طور پر یہ کہا جاسکے کہ معاملہ بالکل برعکس ہے اور مرزا غلام احمد قادیانی کا الہام اپنے بارہ میں نہیں بلکہ ہمارے بارہ میں تھا کہ ادھر اس کے مدیر نے ہمارے خلاف بہتان طرازی شروع کی۔ ادھر زنجیریں پہن کر خود رسوا ہو گئے۔
اور اللہ دتہ صاحب! اگر قاتلانہ حملہ باعث ذلت ہوتا تو اس ذات گرامی پر حملہ کی کوشش نہ کی جاتی۔ جس کی چادر نبوت پر انگریزوں کے ایک ذلہ خوار نے ہاتھ ڈالنے کی کوشش کی اور جس کے جوتوں پر تم نہیں تمہارے متنبی مرزا غلام احمد قادیانی ایسے کروڑوں افراد وارے جاسکتے اور قربان کیے جاسکتے ہیں۔ سید الکونین رسول الثقلین ﷺ کو قتل کرنے کی ایک نہیں کئی کوششیں کی گئیں۔ جاؤ! سیرت اور سوانح کی کتابوں کو اٹھاؤ۔ تمہیں غلام ہندی سے فرصت کہاں کہ رسول عربی ﷺ کی سیرت کے اوراق الٹ سکو۔
رہا معاملہ الاعتصام کا تو اس کے بارہ میں اہل حدیث امرتسر کے نامور مدیر شیخ الاسلام حضرت مولانا امرتسریؒ کا ایک پسندیدہ شعر ہی نقل کئے دیتا ہوں؎
قبلی من اہل الفضل قد حسدوا
اور آؤ پھر اسی پہ مناظرہ کرلو۔ تحریری یا تقریری جیسے تم چاہو اور جہاں تم چاہو کہ ذلیل کون ہوا؟ مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کی اولاد اخلاف، یا ثناء اللہ اور اس کے ساتھی اور رفیق؟ مرزا کی موت کب ہوئی؟ کیسے ہوئی۔ نور الدین کیسے مرا؟ اور بشیر الدین کا انجام کیا ہوا؟ اور ہمیں امید ہے کہ لاحق کا انجام بھی سابق سے مختلف نہ ہوگا۔ انشاء اللہ العزیز!
مدیر الفرقان نے اپنے بغض اور رذالت طبعی کا مظاہرہ کرتے ہوئے لاہور کے ایک سوشلسٹ روزنامہ سے ایک خبر بھی نقل کی ہے۔ جس میں مدیر ترجمان الحدیث کے بارہ میں ایک الزام تراشا گیا تھا۔ الفرقان نے اس کے نیچے لکھا ہے: ”ہم ان اقتباسات کو بھی تاریخ میں محفوظ کرنے کے لئے شائع کررہے ہیں۔“
٨٣
قارئین صرف اس سے اندازہ لگالیں کہ امت مرزا اپنے متنبی کی پیروی میں دیانت وامانت سے کس حد تک عاری ہو چکی ہے۔ کیونکہ اس روز نامہ نے دوسرے دن ہی اس خبر کے جھوٹ اور بے بنیاد ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے اس کی تردید شائع کر دی تھی۔ لیکن مرزائیوں کے اس ”پوپ“ کی بددیانتی اور افتراء پردازی کو دیکھئے کہ اس نے خبر نقل کرتے ہوئے اس کی تردید کے بارہ میں کچھ کہنے کی زحمت تک گوارا نہیں کی۔ حالانکہ اگر اسے تاریخ میں محفوظ کرنے کا اتنا ہی شوق تھا تو ہم اسے غلام احمد ، اس کی امت ، اس کے بیٹوں ، پوتوں اور ان کی بیویوں کے بارہ میں ایسی ایسی خبریں فراہم کر دیتے ہیں جن کی تردید کی جرات آج تک کسی مرزائی کو نہیں ہوسکی۔ چند خبریں تو آج کی صحبت میں محفوظ کر لیں اور مزے کی بات کہ ایک بھی بیگانے سے نہیں۔
مرزا غلام احمد قادیانی کا اپنا بیٹا اور مرزائیت کا یکے از صنادید مرزا بشیر احمد اپنے باپ کے سوانح میں لکھتا ہے : ”بیان کیا مجھ سے میری والدہ صاحبہ نے کہ ایک دفعہ اپنی جوانی کے زمانہ میں حضرت مسیح موعود تمہارے دادا کی پینشن وصول کرنے گئے تو پیچھے پیچھے مرزا امام الدین بھی چلے گئے۔ جب آپ نے پینشن وصول کر لی تو آپ کو پھسلا کر اور دھوکہ دے کر بجائے قادیان لانے کے باہر لے گیا اور ادھر ادھر پھراتا رہا۔ جب آپ نے سارا روپیہ اڑا کر ختم کر دیا تو آپ کو چھوڑ کر کہیں اور چلا گیا۔ حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) اس شرم سے واپس گھر نہیں آئے اور چونکہ تمہارے دادا کا منشاء رہتا تھا کہ آپ کہیں ملازم ہو جائیں۔ اس لئے آپ سیالکوٹ شہر میں ڈپٹی کمشنر کی کچہری میں قلیل تنخواہ پر ملازم ہو گئے۔“
(سیرۃ المہدی ج ١ ص ٤٣)
مرزا غلام احمد قادیانی کا بڑا لڑکا اور مرزائیوں کا دوسرا خلیفہ اپنے باپ کے بارہ میں یوں گہر افشانی کرتا ہے : ”حضرت مسیح موعود نے تریاق الٰہی دوا خدا تعالیٰ کی ہدایت کے ماتحت بنائی اور اس کا ایک بڑا جزو افیون تھا اور یہ دوا کسی قدر اور افیون کی زیادتی کے بعد حضرت خلیفہ اول کو حضور چھ ماہ سے زائد تک دیتے رہے اور خود بھی وقتاً فوقتاً مختلف امراض کے دوروں کے وقت استعمال کرتے رہے۔“
(مندرجہ اخبار الفضل قادیان مورخہ ١٩؍ جولائی ١٩٢٩ء)
اور خود مرزا غلام احمد قادیانی اپنے بارہ میں یوں خبر دیتا ہے: ”محبّی اخویم حکیم محمد حسین صاحب۔ اس وقت میاں یار محمد بھیجا جاتا ہے۔ آپ اشیاء خوردنی خود خریدیں اور ایک بوتل ٹانک وائن کی پلومر کی دکان سے خریدیں۔ مگر ٹانک وائن چاہئے۔ اس کا لحاظ رہے۔ باقی خیریت
٨٤
ہے۔“
(خطوط امام بنام غلام ص ٥)
اور پلومر کی دوکان سے جب پوچھا گیا کہ ٹانک کیا ہے تو انہوں نے جواب دیا :
”ٹانک وائن ایک قسم کی طاقت ور اور نشہ دینے والی شراب ہے جو ولایت سے سر بند بوتلوں میں آتی ہے۔ اس کی قیمت ٨ روپے ہے۔“
(منقول از سودائے مرزا ص ٣٩، ٣١ ستمبر ١٩٣٣ء)
اور اگر خبر درج ہی کرنی تھی تو اپنے خلیفہ اوّل کی کی ہوتی۔ مرزا کی اخبار پیغام صلح کا نامہ نگار ایک اشتہار گنجینہ صداقت میں لکھتا ہے : ”کہاں مولوی نورالدین صاحب کا حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کو نبی اللہ اور رسول اللہ اور اسمہ احمد کا مصداق یقین کرنا اور کہاں وہ حالت کہ وصیت کے وقت مسیح موعود کی رسالت کا اشارہ تک نہ کرنا، استقامت میں فرق آنا اور پھر بطور سزا گھوڑے سے گر کر بری طرح زخمی ہونا۔ آخر مرنے سے پہلے کئی دنوں تک بولنے سے بھی لاچار ہو جانا اور نہایت مفلسی میں مرنا اور آئندہ جہاد میں بھی کچھ سزا اٹھانا اور اس کے جوان فرزند عبدالحیّ کا عنفوان شباب میں مرنا اور اس کی بیوی کا تباہ کن طریق پر کسی اور جگہ نکاح کر لینا وغیرہ۔ یہ سب باتیں کم عبرت انگیز نہیں تھیں ۔“
(منقول از الفضل قادیان مورخہ ٢٢؍فروری ١٩٢٢ء)
اب ذرا سینہ تھام کے ان خبروں کو تاریخ کے سینہ میں محفوظ رکھنے کا بندو بست کیجئے ۔ جو ان کے خلیفہ ثانی اور مرزا غلام احمد کے بڑے لڑکے کے بارہ میں چھپی اور جن کی تردید کی جرأت نہ آج تک کسی کو ہوئی اور نہ خود مرزا بشیر الدین کو اس کا حوصلہ ہوا اور وہ خبریں ہیں ۔ باقاعدہ گواہوں کی ایک فوج کے ساتھ، حضرت خلیفہ مرزائیت مرزا بشیر الدین محمود کے بارہ میں ایک مرزائی خاتون خود اپنا واقعہ بیان کرتی ہیں : ” میں میاں صاحب کے متعلق کچھ عرض کرنا چاہتی ہوں اور لوگوں میں ظاہر کر دینا چاہتی ہوں کہ وہ کیسی روحانیت رکھتے تھے۔ میں اکثر اپنی سہیلیوں سے سنا کرتی تھی کہ وہ بڑے زانی شخص ہیں ۔ مگر اعتبار نہیں آتا تھا۔ کیونکہ ان کی مؤمنانہ صورت اور نیچی شرمیلی آنکھیں ہرگز یہ اجازت نہیں دیتی تھیں کہ ان پر ایسا بڑا الزام لگایا جا سکے۔ ایک دن کا ذکر کہ میرے والد صاحب نے جو ہر کام کے لئے حضور سے اجازت حاصل کرتے ہیں اور بڑے مخلص احمدی ہیں۔ ایک رقعہ حضرت صاحب کو پہنچانے کے لئے دیا۔ جس میں اپنے ایک کام کے لئے اجازت مانگی تھی ۔ خیر میں رقعہ لے کر گئی ۔ اس وقت میاں صاحب نئے مکان میں مقیم تھے۔ میں نے اپنے ہمراہ ایک لڑکی لی جو وہاں تک میرے ساتھ ہی گئی اور ساتھ ہی واپس آگئی ۔ چند دن بعد
٨٥
مجھے پھر ایک رقعہ لے کر جانا پڑا۔ اس وقت بھی وہی لڑکی میرے ہمراہ تھی۔ جوں ہی ہم دونوں میاں صاحب کی نشست گاہ میں پہنچیں تو اس لڑکی کو کسی نے پیچھے سے آواز دی میں اکیلی رہ گئی۔ میں نے رقعہ پیش کیا اور جواب کے لئے عرض کیا۔ مگر انہوں نے فرمایا کہ تم کو جواب دے دوں گا۔ گھبراؤ مت۔ باہر ایک دو آدمی میرا انتظار کر رہے ہیں۔ ان سے مل آؤں۔ مجھے یہ کہہ کر باہر کی طرف چلے گئے اور چند منٹ بعد پیچھے تمام کمروں کو قفل لگا کر اندر داخل ہوئے اور اس کا بھی باہر والا دروازہ بند کر دیا اور چٹخنیاں لگادیں۔ جس کمرے میں میں تھی وہ اندر سے چوتھا کمرہ تھا۔ میں یہ حالت دیکھ کر سخت گھبرائی اور طرح طرح کے خیالات دل میں آنے لگے۔ آخر میاں صاحب نے مجھ سے چھیڑ چھاڑ شروع کی اور مجھ سے برا فعل کرنے کو کہا۔ میں نے انکار کر دیا۔ آخر زبردستی انہوں نے مجھے پلنگ پر گرا کر میری عزت برباد کی اور ان کے منہ سے اس قدر بدبو آ رہی تھی کہ مجھ کو چکر آ گیا اور وہ گفتگو بھی ایسی کرتے تھے کہ بازاری آدمی بھی ایسی نہیں کرتے۔ ممکن ہے جسے لوگ شراب کہتے ہیں انہوں نے پی ہو۔ کیونکہ ان کے ہوش و حواس بھی درست نہیں تھے۔ مجھ کو دھمکایا کہ اگر کسی سے ذکر کیا تو تمہاری بدنامی ہوگی۔ مجھ پر کوئی شک نہ کرے گا۔“
(اخبار مباہلہ بابت جون ١٩٢٩ء، خادم قادیانی منقول از ربوہ کا مذہبی آمر مصنفہ راحت ملک برادر خورد عبد الرحمن)
اللہ رے مرزائی صاحب! اگر خبر نقل ہی کرنی تھی تو یہ کی ہوتی ؎
مرد ناداں پر کلام نرم و نازک بے اثر
ذرا اور آگے چلئے۔ اور دیکھئے کہ اس امت مرزائی کے سربراہ کا کردار کیسا ہے۔ جس کی رفاقت و غلامی پر مدیر الفرقان نازاں ہے اور جس کے بخشے ہوئے شیش محلوں میں بیٹھ کر مرزائیت کا یہ بزعم خویش اور برخود غلط خالد دوسروں پر پتھر پھینکتا ہے۔
ایک خاندانی مرزائی اور خلیفہ قادیان کے خاندان سے انتہائی قربت رکھنے والا نوجوان محمد یوسف لکھتا ہے:
بسم الله الرحمن الرحيم! ”نحمده ونصلى على رسوله الكريم اشهد ان لا اله الا الله وحده لا شريك له واشهد ان محمدا عبده ورسوله“ ٨٦
میں اقرار کرتا ہوں کہ حضرت محمدﷺ خدا کے نبی اور خاتم النبیین ہیں اور اسلام سچا مذہب ہے۔ میں احمدیت کو بھی برحق سمجھتا ہوں اور حضرت مرزا قادیانی کے دعویٰ پر ایمان رکھتا ہوں اور مسیح موعود مانتا ہوں اور اس اقرار کے بعد میں مؤکد بعذاب حلف اٹھاتا ہوں ۔
میں اپنے علم اور مشاہدہ اور رویت عینی اور آنکھوں دیکھی بات کی بناء پر خدا کو حاضر ناظر جان کر اس کی پاک ذات کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفہ ربوہ نے اپنے سامنے اپنی بیوی کے ساتھ غیر مرد سے زنا کروایا۔ اگر میں اس حلف میں جھوٹا ہوں تو خدا کی لعنت اور عذاب مجھ پر نازل ہو۔ میں اس بات پر مرزا قادیانی کے ساتھ بالمقابل حلف اٹھانے کے لئے بھی تیار ہوں۔
(منقول از ربوہ کا مذہبی آمر ص ١٦٩)
یہ گھر جو جل رہا ہے کہیں تیرا گھر نہ ہو
اب ذرا خود مرزائیوں کی اپنی گواہیاں بھی شمار کر لیجئے۔ اچھا ہوا کہ آپ نے ہمیں توجہ دلا کر ایک اہم بات کو تاریخ کے سینوں میں ہمیشہ کے لئے محفوظ کرنے کا سامان مہیا کر دیا۔ وگرنہ آج شائد ہی کسی مسلمان کے حافظہ میں یہ بات موجود رہ گئی ہوتی۔
نہ کھلتے راز سربستہ نہ یوں رسوائیاں ہوتیں
اور :
گواہی نمبر :١
شیخ مشتاق احمد قادیانی مرزا محمود کے متعلق خبر سناتے اور ان کے متعلق گواہی دیتے ہیں:
”خاکسار پرانا قادیانی ہے اور قادیان کا ہر فرد بشر مجھے خوب جانتا ہے۔ ہجرت کا شوق مجھے بھی دامن گیر ہوا اور میں قادیان ہجرت کر آیا۔ قادیان میں سکونت اختیار کی ۔ خلیفہ قادیان کے محکمہ قضاء میں بھی کچھ عرصہ کام کیا۔ مگر دل میں آرزو آزاد روزگار کی تھی اور اخلاص مجبور کرتا تھا کہ اپنا کاروبار شروع کر کے خدمت دین بجالاؤں۔ چنانچہ خاکسار نے احمدیہ دواگھر کے نام پر ایک دواخانہ کھولا جس کے اشتہارات عموماً اخبار الفضل میں شائع ہوتے رہے ہیں۔ مگر میں یہ کہوں تو
٨٧
بجا ہوگا کہ قادیان کی رہائش میری عقیدت کو زائل کرنے کا باعث ہوئی۔ وگرنہ اگر میں اور قادیانی بھائیوں کی طرح دور دور ہی رہتا تو آج مجھے اس تجارتی کمپنی کے ایکٹروں کے سربستہ رازوں کا انکشاف نہ ہوتا۔ یا اگر میں خاص قادیان میں اپنا مکان بنا لیتا یا خلیفہ قادیان کا ملازم ہو جاتا تو بھی مجھے آج اس اعلان کی جرات نہ ہوتی۔“
(خاکسار شیخ مشتاق احمد، احمدیہ ورکر قادیان)
گواہی نمبر:٢
ڈاکٹر محمد عبداللہ قادیانی کہتے ہیں: ”میں خدا تعالیٰ کو حاضر و ناظر جان کر اسی کی قسم کھا کر جس کی جھوٹی قسم کھانا لعنتیوں کا کام ہے۔ یہ شہادت دیتا ہوں کہ میں اس ایمان اور یقین پر ہوں کہ موجودہ خلیفہ مرزا محمود احمد قادیانی دنیا دار، بدچلن، اور عیش پرست انسان ہے۔ میں ان کی بدچلنی کے متعلق خانہ خدا، خواہ وہ مسجد ہو، یا بیت اللہ شریف یا کوئی اور مقدس مقام ہو۔ میں حلف مؤکد بعذاب اٹھانے کے لئے تیار ہوں۔ اگر خلیفہ صاحب مباہلہ کے لئے نکلیں تو میں مباہلہ کے لئے حاضر ہوں۔“ یہ الفاظ میں نے دلی ارادہ سے لکھ دیئے ہیں۔ تاکہ دوسروں کے لئے ان کی حقیقت کا انکشاف ہو سکے۔ والسلام!
(ڈاکٹر محمد عبداللہ، آنکھوں کا ہسپتال، قادیان حال لائلپور)
گواہی نمبر:٣
مستری اللہ بخش قادیانی، خلیفہ قادیان کی پاک بازی کا قصہ یوں بیان کرتے ہیں: ”میں خدا کو حاضر ناظر جان کر اس کی قسم کھا کر یہ تحریر کرتا ہوں کہ موجودہ خلیفہ مرزا محمود احمد دنیا دار، عیش پرست اور بدچلن انسان ہے۔ میں ہر وقت اس سے مباہلہ کے لئے تیار ہوں۔“
(مستری اللہ بخش احمدی قادیانی)
گواہی نمبر:٤
بیگم صاحبہ ڈاکٹر عبداللطیف صاحب ہم زلف خلیفہ ربوہ فرماتی ہیں: ”مرزا محمود خلیفہ ربوہ بدچلن، زنا کار انسان ہیں۔ میں نے خود ان کو زنا کرتے دیکھا اور میں اپنے دونوں بیٹوں کے سر پر ہاتھ رکھ کر مؤکد بعذاب حلف اٹھاتی ہوں۔“
(بیگم ڈاکٹر عبداللطیف)
گواہی نمبر:٥
خان عبدالرب برہم صدر انجمن کے دفتر بیت المال میں کام کرتے اور سر محمد ظفر اللہ کی
٨٨
کوٹھی کے ایک حصہ میں رہائش پذیر تھے۔ آپ نے مرزا محمود قادیانی کی ہمشیرہ کا دودھ پیا ہوا ہے۔ اس سے آپ کے گہرے مراسم کا اندازہ لگائیے۔ وہ کہتے ہیں: ”میں شرعی طور پر پورا پورا اطمینان حاصل کرنے کے بعد خدا کو حاضر و ناظر جان کر یہ کہتا ہوں کہ موجودہ خلیفہ صاحب یعنی مرزا محمود احمد قادیانی کا چال چلن نہایت خراب ہے۔ اگر وہ مباہلہ کے لئے آمادگی کا اظہار کریں تو میں خدا کے فضل سے ان کے مد مقابل مباہلہ کے لئے ہر وقت تیار ہوں۔ والسلام!“
(عبدالرب برہم)
گواہی نمبر: ٦
عتیق الرحمن فاروق سابق مرزائی مبلغ لکھتے ہیں: ”میری قادیانی جماعت سے علیحدگی کے وجوہات منجملہ دیگر دلائل و براہین کے ایک وجہ اعظم خلیفہ صاحب کی سیاہ کاریاں اور بدکاریاں ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ خلیفہ صاحب مقدس اور پاکیزہ انسان نہیں بلکہ نہایت ہی سیاہ کار اور بدکار ہے۔ اگر خلیفہ صاحب اس امر کے تصفیہ کے لئے مباہلہ کرنا چاہیں تو میں بطیب خاطر میدان مباہلہ میں آنے کے لئے تیار ہوں۔ فقط!“
(خاکسار عتیق الرحمن فاروق، سابق مبلغ جماعت احمدیہ قادیان)
گواہی نمبر: ٧
علی حسین قادیانی اپنی والدہ کا واقعہ بیان کرتے ہیں: ”میں خدا کو حاضر و ناظر جان کر، اس کی قسم کھا کر، جس کی جھوٹی قسم کھانا لعینوں کا کام ہے۔“
مندرجہ ذیل شہادت لکھتا ہوں: ”بیان کیا مجھے میری والدہ نے کہ میں حضرت خلیفہ مرزا محمود احمد کے ہاں رہا کرتی تھی۔ میں نے دیکھا کہ حضرت صاحب جوان نامحرم لڑکیوں پر عمل مسمریزم کر کے انہیں سلا دیا کرتے تھے۔ پھر آپ ان کو کئی جگہ سے ہاتھ سے پکڑتے، تب بھی انہیں ہوش نہ ہوتی تھی۔ ایک دفعہ حضرت صاحب کے گھر میں سیڑھیاں چڑھ رہی تھی کہ اوپر سے حضرت صاحب انہیں سیڑھیوں پر سے اترتے آ رہے تھے۔ جب میرے مقابل پہنچے تو انہوں نے میری چھاتی پکڑ لی۔ میں نے زور سے چھڑائی۔“
(خاکسار علی حسین قادیانی)
گواہی نمبر: ٨
ملک عزیز الرحمن جنرل سیکرٹری احمدیہ حقیقت پسند پارٹی لاہور قادیانی جماعت کے
٨٩
مشہور و معروف سرگرم مبلغ ملک عبدالرحمن خادم گجراتی، مصنف احمدیہ پاکٹ بک کے حقیقی برادر ہیں ۔ آپ واقف زندگی ہو کر ربوہ میں عرصہ تک قیام پذیر رہے اور دفتر پرائیویٹ سیکرٹری میں بطور سپرنٹنڈنٹ کے فرائض انجام دیتے رہے اور آپ فارن مشن اکاؤنٹس کے انچارج بھی تھے۔ فرماتے: ”میں اس قہار خدا کی قسم کھا کر جس کی جھوٹی قسم کھانا لعنتیوں کا کام ہے۔ یہ بیان کرتا ہوں کہ ڈاکٹر نذیر احمد صاحب ریاض واقف زندگی ربوہ (حال راولپنڈی) نے میرے سامنے میرے مکان واقعہ لاہور پر کئی ایسے واقعات بیان کئے جن سے خلیفہ صاحب ربوہ کے اوّل درجہ بدکار ہونے کا یقین کامل ہو جاتا ہے۔ اس نے میرے اور چند دوستوں کے سامنے بالوضاحت یہ بیان کیا کہ خلیفہ صاحب ربوہ معہ اپنی بیویوں کے باقاعدہ پروگرام کے تحت بدکاری کرتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے مزید فرمایا کہ میں نے اس تمام بدکاری کو بچشم خود دیکھا ہے۔ اگر ڈاکٹر نذیر احمد صاحب ریاض اس بیان مذکورہ بالا سے انحراف کریں تو میں ان سے حلف مؤکد بعذاب کا مطالبہ کروں گا۔ مزید برآں مجھے چونکہ خلیفہ صاحب کے دفتر پرائیویٹ سیکرٹری میں بطور سپرنٹنڈنٹ کام کرنے اور خلیفہ صاحب کو نزدیک سے دیکھنے کا موقع ملا ہے۔ میں بھی خلیفہ صاحب سے اس ضمن میں اور ان کے جھوٹے دعوے مصلح موعود کے بارہ میں مباہلہ کرنے کو ہر وقت تیار ہوں۔ فقط !“
(ملک عزیز الرحمن جنرل سیکرٹری احمدیہ حقیقت پسند پارٹی لاہور)
گواہی نمبر :٩
مشہور مرزائی مبلغ شیخ عبدالرحمن جن کو مرزا محمود قادیانی دورۂ انگلستان میں اپنے ہمراہ لے کر گیا تھا۔ یوں گوہر افشاں ہیں: ”موجودہ خلیفہ سخت بدچلن ہے۔ یہ تقدس کے پردہ میں عورتوں کا شکار کھیلتا ہے۔ اس کام کے لئے اس نے بعض مردوں اور بعض عورتوں کو بطور ایجنٹ رکھا ہوا ہے۔ ان کے ذریعہ یہ معصوم لڑکیوں اور لڑکوں کو قابو کرتا ہے۔ اس نے ایک سوسائٹی بنائی ہوئی ہے۔ جس میں مرد اور عورتیں شامل ہیں اس سوسائٹی میں زنا ہوتا ہے۔“
(عبدالرحمن قادیانی)
گواہی نمبر :١٠
عبدالمجید قادیانی جو اپنی خدمات جلیلہ کی بناء پر خدام الاحمدیہ حلقہ اقصیٰ کا جنرل سیکرٹری رہ چکا ہے۔ رقمطراز ہے: ”قسم ہے مجھ کو خدا تعالیٰ کی وحدانیت کی، قسم ہے مجھ کو قرآن پاک کی سچائی کی، قسم ہے مجھ کو حبیب کبریا کی معصومیت کی، کہ میں اپنے قطعی علم کی بناء پر جناب مرزا بشیر
٩٠
الدین محمود احمد خلیفہ ربوہ کو ایک ناپاک انسان سمجھنے میں حق الیقین پر قائم ہوں۔ نیز اس بات پر بھی شرح صدر حاصل ہے کہ آپ جیسے شعلہ بیان یعنی (سلطان البیان) مقرر سے قوت بیان کا چھن جانا اور دیگر بہت سے امراض کا شکار ہونا، مثلاً نسیان، فالج وغیرہ یقیناً خدائی عذاب ہیں جو کہ خدائے عزیز کی طرف سے اس کی قدیم سنت کے مطابق مفتریان کے لئے مقرر کئے گئے ہیں۔“
علاوہ دیگر واسطوں کے آپ کے مخلص ترین مریدوں کی زبانی وقتاً فوقتاً آپ کے گھناؤنے کردار کے بارہ میں عجیب و غریب انکشاف اس عاجز پر ہوئے۔ مثال کے طور پر آپ کے ایک مخلص مرید جناب محمد صدیق صاحب شمس نے بارہا میرے سامنے جناب خلیفہ صاحب کے چال چلن اور غیر شرعی افعال کے مرتکب ہونے کے بارہ میں بہت سے دلائل وثبوت اور خلیفہ صاحب کے پرائیویٹ خط پیش کئے۔
اس جگہ میں احتیاطاً یہ لکھ دینا ضروری خیال کرتا ہوں کہ اگر محترم صدیق کو میرے بیان بالا کی صحت کے بارہ میں کوئی اعتراض ہو تو ہر دم ان کے ساتھ اپنے اس بیان کی صداقت پر مباہلہ کے لئے تیار ہوں۔
(احقر العباد عبد المجید اکبر مکان ٥، بلاک ڈی ٹیمپل روڈ لاہور)
گواہی نمبر :١١
حافظ عبدالسلام مرزائی شہادت دیتا ہے: ”میں خدا کو حاضر و ناظر جان کر جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ جو جبار و قہار ہے۔ جس کی جھوٹی قسم کھانا لعنتی اور مردود کا کام ہے۔“
حسب ذیل شہادت دیتا ہوں: میں ١٩٣٢ء سے لے کر ١٩٣٦ء تک مرزا گل محمد صاحب رئیس قادیان کے گھر میں رہا۔ اس دوران میں کئی مرتبہ ایک عورت مسماۃ عزیزہ بیگم صاحب کے خطوط خفیہ طریقے سے ان کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے کہ ان خطوط کا کسی سے بھی ذکر نہ کرنا۔ خلیفہ محمود کے پاس لے جاتا رہا۔ خلیفہ مذکور بھی اس طریقہ سے اور ہدایت بالا کو دہراتے ہوئے جواب دیتا رہا۔ خطوط انگریزی میں تھے۔
اس کے علاوہ ایک عورت کو رات کے دس بجے بیرونی راستہ سے لے جاتا رہا۔ جب کہ اس کا خاوند کہیں باہر ہوتا۔ عورت غیر معمولی بناؤ سنگھار کر کے خلیفہ کے دفتر میں آتی تھی۔ میں بموجب ہدایت اسے گھنٹہ یا دوگھنٹہ بعد لے آتا تھا۔ ان واقعات کے علاوہ بعض اور واقعات سے اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ خلیفہ صاحب کا چال چلن خراب ہے اور میں ہر وقت ان سے مباہلہ کرنے
٩١
کے لئے تیار ہوں۔
(حافظ عبدالسلام پسر سلطان حامد خان صاحب استاد میاں ناصر احمد )
گواہی نمبر :١٢
مرزائی غلام حسین کہتا ہے: ”میں خدا کو حاضر و ناظر جان کر اور اس کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں نے اپنی آنکھ سے حضرت صاحب (یعنی مرزا محمود احمد ) کو صادقہ کے ساتھ زنا کرتے دیکھا ہے۔ اگر میں جھوٹ لکھ رہا ہوں تو اللہ کی مجھ پر لعنت ہو۔“
(غلام حسین احمدی)
گواہی نمبر :١٣
مرزا منیر احمد نصیر قادیانی حلفاً کہتا ہے: ”مجھے دلی یقین ہے کہ مرزا بشیر الدین محمود احمد قادیانی خلیفہ قادیان نہایت بدچلن، لوفر کریکٹر انسان ہے۔ بے شمار عینی شہادتیں جو مجھ تک پہنچ چکی ہیں۔ جن کی بناء پر میں یہ جاننے کے لئے تیار ہوں کہ واقعی خلیفہ صاحب قادیان زانی اور اغلام باز (فاعل ومفعول ) بھی ہیں۔ اس دلی یقین کا ثبوت میں یہاں تک دے سکتا ہوں۔ اگر خلیفہ صاحب قادیان اپنے کریکٹر، چال چلن کی صفائی کے لئے مباہلہ کرنے کو تیار ہوں تو ہر طرح اسے قبول کرنے کو تیار ہوں۔“
(مرزا منیر احمد نصیر قادیانی)
گواہی نمبر :١٤
شیخ بشیر احمد مصری قادیانی گوہر بار ہے: ”میں خداوند تعالیٰ کو حاضر و ناظر جان کر بیان کرتا ہوں کہ میں نے مرزا بشیر الدین محمود احمد کو بچشم خود زنا کرتے دیکھا ہے۔ اگر میں جھوٹ بولوں تو مجھ پر خدا کی لعنت ہو۔“
(شیخ بشیر احمد مصری قادیانی)
گواہی نمبر :١٥
مرزائیوں کی اہم ترین جماعت، انجمن انصار احمدیہ قادیان کے سابق صدر فرماتے ہیں: ”میں خدا کو حاضر ناظر جان کر اس کی قسم کھا کر جس کی جھوٹی قسم کھانا لعنتیوں کا کام ہے۔ یہ تحریر کرتا ہوں کہ میں مرزا محمود احمد قادیانی کی بیعت سے اس لئے علیحدہ ہوا تھا کہ مجھے ان کے خلاف احمدی لڑکوں، لڑکیوں اور عورتوں کے صحیح واقعات پہنچے تھے۔ جن کے ساتھ مرزا محمود احمد نے بدکاری کی تھی۔ اسی بناء پر میں نے مرزا محمود احمد قادیانی کو لکھا تھا کہ آپ کے خلاف احمدی لڑکے لڑکیاں اور عورتیں اپنے واقعات بیان کرتی ہیں۔
ایسی صورت میں آپ یا جماعتی کمیشن کے سامنے معاملہ پیش ہونے دیں یا میدان
٩٢
مباہلہ کے لئے تیار ہوں۔ یا حلف مؤکد بعذاب اٹھائیں یا ہمیں موقعہ دیں کہ ہم تمام واقعات پیش کر کے جلسہ سالانہ کے موقعہ پر تمام احمدیوں کی موجودگی میں آپ کے سامنے حلف مؤکد بعذاب اٹھائیں تاکہ روز بروز کا جھگڑا ختم ہو کر حق کا بول بالا ہو۔ لیکن مرزا محمود قادیانی کو کسی طریق پر بھی عمل پیرا ہونے کی جرأت نہیں ہوئی۔ سوائے کفار والا حربہ بائیکاٹ مقاطعہ استعمال کرنے کے۔ ١٩٣٧ء سے لے کر آج تک میں اسی عقیدہ پر علی وجہ البصیرت قائم ہوں کہ میاں محمود احمد ایک زانی اور بدچلن انسان ہے۔ جس کو خدا رسول اور اس کے خادم حضرت مسیح موعود سے کسی قسم کی کوئی نسبت نہیں۔ اگر میں اپنے اس عقیدہ میں باطل پر ہوں تو اللہ تعالیٰ کی مجھ پر لعنت ہو۔‘‘
(حکیم عبدالعزیز سابق پریذیڈنٹ انجمن احمدیہ قادیان)
گواہی نمبر: ١٦
اور منیر احمد قادیانی کچھ اور اضافہ کرتے ہیں : ”میں خدا کو حاضر و ناظر جان کر جس جھوٹی قسم کھانا کبیرہ گناہ ہے یہ تحریر کرتا ہوں کہ میں نے حضرت مرزا محمود احمد قادیان کو اپنی آنکھ سے زنا کرتے دیکھا ہے اور میں اقرار کرتا ہوں کہ اس نے میرے ساتھ بھی بدفعلی کی ہے اور میں جھوٹ بولوں تو مجھ پر خدا کی لعنت ہو۔ میں بچپن سے وہیں رہتا تھا۔‘‘
(منیر احمد قادیانی)
گواہی نمبر: ١٧
محمد عبداللہ مرزائی اس پر مزید اضافہ کرتے ہیں: ”مصری عبدالرحمن صاحب کے بڑے لڑکے حافظ بشیر احمد نے میرے سامنے ہاتھ میں قرآن شریف لے کے یہ لفظ کہے۔ خدا تعالیٰ مجھے پارا پارا کر دے اگر میں جھوٹ بولتا ہوں کہ موجودہ خلیفہ صاحب نے میرے ساتھ بدفعلی کی ہے۔ میں خدا کی قسم کھا کر یہ واقعہ لکھ رہا ہوں۔‘‘
(بقلم خود محمد عبداللہ احمدیہ سنٹر فرنیچر ہاؤس، مسلم ٹاؤن لاہور)
گواہی نمبر: ١٨
سمن آباد لاہور کی ایک خاتون سیدہ ام صالحہ بنت سید ابرار حسین کہتی ہیں: ”مرزا گل محمد صاحب مرحوم (آپ قادیان کے رئیس اعظم تھے اور وہاں بڑی جائیداد کے مالک تھے اور مرزا غلام احمد قادیانی کے خاندان کے رکن تھے) کی دوسری بیوہ چھوٹی بیگم نے مجھے بیان کیا کہ خلیفہ کو میں نے اپنی آنکھوں سے ان کی صاحبزادی اور بعض دوسری عورتوں کے ساتھ زنا کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ میں نے خلیفہ صاحب سے ایک دفعہ عرض کی کہ حضور کیا
٩٣
معاملہ ہے؟ آپ نے فرمایا قرآن وسنت میں اس کی اجازت ہے۔ البتہ اس کو عوام میں پھیلانے کی ممانعت ہے۔ ”نعوذ باللہ من ذالك“ میں خدا کو حاضر و ناظر جان کر حلفیہ بیان کر رہی ہوں شاید میری مسلمان بہنیں اور بھائی اس سے کوئی سبق حاصل کریں۔“
(سیدہ ام صالحہ بنت سید ابرار حسین سمن آباد لاہور)
گواہی نمبر: ١٩
مرزا محمود کا اپنا بیٹا محمد حنیف اپنے باپ کے بارہ میں کیا نقطہ نگاہ رکھتا ہے۔ مرزائی چوہدری محمد علی جنہوں نے اپنی پوری زندگی مرزائیت کے لئے وقف کر رکھی تھی بیان کرتے ہیں۔ یاد رہے یہی وہ چوہدری علی محمد ہیں جو مرزائی تنظیم خدام الاحمدیہ کے نائب آڈیٹر اور مرزائی حساب کے شعبہ میں اکاؤنٹنٹ بھی رہ چکے ہیں اور جن کی دیانت کا اعتراف خود مرزا محمود نے بھی کیا: ”میں خدا کو حاضر و ناظر جان کر اس پاک ذات کی قسم کھاتا ہوں جس کی جھوٹی قسم کھانا لعنتیوں کا کام ہے کہ صوفی روشن دین صاحب جو ربوہ میں انجمن کی چکی پر عرصہ تک بطور مستری کام کرتے رہے اور وہ قادیان کے پرانے رہنے والوں میں سے ہیں اور مخلص احمدی ہیں اور جن کے مرزا محمود احمد قادیانی اور ان کے خاندان کے بعض افراد سے قریبی تعلقات تھے اور خصوصاً مرزا حنیف احمد ابن مرزا محمود احمد کے صوفی صاحب موصوف کے ساتھ نہایت عقیدت مندانہ مراسم تھے اور قلبی عقیدت کی بناء پر مرزا حنیف احمد گھنٹوں صوفی صاحب کے پاس روزانہ ان کے گھر جا کر بیٹھتے اور بسا اوقات صوفی صاحب کو قصر خلافت میں اپنے ایک کمرہ خاص میں بھی لے جا کر ان کی خاطر ومدارت کرتے۔“
انہوں نے مجھ سے بار ہا بیان کیا کہ مرزا حنیف احمد خدا کی قسم کھا کر کہتا ہے کہ: ”جس کو تم لوگ خلیفہ اور مصلح الموعود سمجھتے ہو وہ زنا کرتا ہے اور یہ کہ مرزا حنیف نے اپنی آنکھوں سے اپنے والد کو ایسا کرتے دیکھا۔ صوفی صاحب نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے کئی دفعہ مرزا حنیف احمد سے کہا کہ تم ایسا سنگین الزام لگانے سے قبل اچھی طرح اپنی یادداشت پر زور ڈالو۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ جس کو تم کوئی غیر سمجھتے ہو وہ دراصل تمہاری کوئی والدہ ہی تھیں۔ مبادا خدا کے قہر وغضب کے نیچے آ جاؤ تو اس پر مرزا حنیف احمد اپنی پوری رؤیت عینی پر حلفاً مصر رہے کہ ان کا والد پاک سیرت نہیں ہے اور یہ بھی کہا کہ انہوں نے اپنے والد کی کبھی کوئی کرامت مشاہدہ نہیں کی۔ البتہ یہ تڑپ شدت کے
٩٤
ساتھ پائی ہے کہ کسی طرح انہیں جلد از جلد دنیاوی غلبہ حاصل ہو جائے۔
اگر میں اس بیان میں جھوٹا ہوں اور افراد جماعت کو اس سے محض دھوکا دینا مقصود ہے تو خدا تعالیٰ مجھ پر اور میری بیوی پر ایسا عبرتناک عذاب نازل فرمائے جو مخلص اور ہر دیدہ بینا کے لئے ازدیاد ایمان کا موجب ہو۔ ہاں اس نام نہاد خلیفہ کی بدعنوانیوں، خیانتوں اور دھاندلیوں کے ریکارڈ کی رو سے میں عینی شاہد ہوں۔ کیونکہ خاکسار نے ساڑھے نو سال تحریک جدید اور انجمن احمدیہ کے مختلف شعبوں میں اکاؤنٹنٹ اور نائب ایڈیٹر کی حیثیت سے کام کیا ہے۔“
(خاکسار چوہدری علی محمد عفی عنہ واقف زندگی حال نمائندہ خصوصی کوہستان، لائل پور)
گواہی نمبر: ٢٠
مولوی محمد صالح نور واقف زندگی سابق کارکن وکالت، تحریک جدید ربوہ مولوی محمد یامین صاحب تاجر کتب کے چشم و چراغ ہیں۔ مرزائی ہونے کے علاوہ سلسلہ مرزائیہ کا بے شمار لٹریچر شائع کرتے ہیں۔ یہ قادیان میں ١٩٢٩ء میں پیدا ہوئے اور مولوی فاضل تک تعلیم حاصل کی۔ بعد ازاں مختلف شعبہ جات میں نہایت خوش اسلوبی سے خدمت سرانجام دیتے رہے۔
مثلاً:
- ١...... قادیاں میں مسجد الاحمدیہ کے جنرل سیکرٹری کے عہدہ پر فائز رہے۔
- ٢...... زعیم مجلس خدام الاحمدیہ، دارالصدر ربوہ۔
- ٣...... نائب منتظم تبلیغ مرکزیہ خدام الاحمدیہ ربوہ۔
- ٤...... سندھ ویجی ٹیبل اینڈ پروڈکٹس کے ہیڈ آفس میں کام کیا۔
- ٥...... رسالہ ریویو آف ریلیجنز اور سن رائز اخبار کے منیجر بھی رہے۔
- ٦...... محتسب امور عامہ کے معتمد خاص ربوہ بھی رہے۔
ان شعبہ جات کے علاوہ بھی جماعتی طور پر جس خدمت پر بھی مامور کیا گیا آپ نے دیانت اور امانت کی راہ پر چل کر صحیح معنوں میں خدمت کی۔ آپ میاں عبدالرحیم احمد جو خلیفہ مرزا محمود کا داماد ہے۔ اس کے پرسنل اسسٹنٹ وکیل التعلیم تحریک جدید ربوہ بھی تھے۔ آپ جس جاں فشانی اخلاص اور محنت سے کام کرتے تھے۔ اس کی وجہ سے آپ کے ذمہ مزید کام سپرد کئے جاتے تھے۔ آٹھ دس شعبہ جات کی کارکردگی آپ کی مقبولیت کی شاہد ہے اور گہرے تعلقات کا
٩٥
اندازہ بھی اس سے لگایا جاسکتا ہے۔ آپ کا حلفیہ بیان ہدیہ ناظرین ہے۔
میں اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر مندرجہ ذیل سطور صرف اس لئے سپرد قلم کر رہا ہوں کہ جو لوگ اب بھی مرزا محمود احمد قادیانی خلیفہ ربوہ کے تقدس کے قائل ہیں ان کے لئے راہنمائی کا باعث ہو۔ اگر میں مندرجہ ذیل بیان میں جھوٹا ہوں تو خدا تعالیٰ کا عذاب مجھ پر اور میرے اہل وعیال پر نازل ہو۔
میں پیدائشی احمدی ہوں اور ١٩٥٧ء تک میں مرزا محمود احمد قادیانی کی خلافت سے وابستہ رہا۔ خلیفہ صاحب نے مجھے ایک خود ساختہ فتنہ کے سلسلہ میں جماعت ربوہ سے خارج کر دیا۔ ربوہ کے ماحول سے باہر آکر خلیفہ صاحب کے کردار کے متعلق بہت ہی گھناؤنے حالات سننے میں آئے۔ اس پر میں نے خلیفہ صاحب کی صاحبزادی امۃ الرشید بیگم، بیگم میاں عبدالرحیم احمد سے ملاقات کی۔ انہوں نے خلیفہ صاحب کے بدچلن اور بدقماش اور بدکردار ہونے کی تصدیق کی۔ باتیں تو بہت ہوئیں۔ لیکن خاص بات قابل ذکر تھی کہ جب میں نے امۃ الرشید بیگم سے کہا کہ آپ کے خاوند کو ان حالات کا علم ہے تو انہوں نے کہا کہ صالح نور صاحب آپ کو کیا بتلاؤں کہ ہمارا باپ ہمارے ساتھ کیا کچھ کرتا رہا ہے اور اگر وہ تمام واقعات میں اپنے خاوند کو بتلادوں تو وہ مجھے ایک منٹ کے لئے بھی اپنے گھر میں بسانے کے لئے تیار نہ ہوگا۔ تو پھر میں کہاں جاؤں گی۔ اس واقعہ پر امۃ الرشید کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور یہ لرزہ خیز بات سن کر میں بھی ضبط نہ کر سکا اور وہاں سے اٹھ کر دوسرے کمرے میں چلا گیا۔ اس وقت میں ان واقعات کی بناء پر جو میں ڈاکٹر نذیر احمد ریاض، محمد یوسف ناز، راجہ بشیر احمد رازی سے سن چکا ہوں، حق الیقین کی بناء پر خلیفہ صاحب کو ایک بدکردار اور بدچلن انسان سمجھتا ہوں اور اسی کی بناء پر وہ آج خدا کے عذاب میں گرفتار ہیں۔
(خاکسار محمد صالح نور، سابق کارکن وکالت تعلیم تحریک جدید ربوہ، منقول از تاریخ محمودیت نمبر ٨٧)
چوں بخلوت می روند آں کار دیگر می کنند
فی الحال مشتے از خروارے کے طور پر خود مدیر الفرقان کے اپنے گھر کی گواہیاں، حلفی گواہیاں، اللہ دتہ جالندھری اور ان کے حوالیوں موالیوں کے لئے پیش کی گئی ہیں۔ امید ہے وہ انہیں اپنے جرائد و مجلات میں درج کر کے ان کے لئے تاریخ کے سینے میں محفوظ رہنے کا انتظام
٩٦
کریں گے۔ بقیہ پھر کبھی ضرورت ہوئی تو پیش کر دی جائیں گی۔ آخر میں ایک اطالوی حسینہ اور مرزا محمود کے مشہور عالم واقعہ پر اس مضمون کو ختم کرتے ہوئے مدیر الفرقان کے جواب کے منتظر ہیں۔ یہ کہتے ہوئے کہ ؎
تو تیر آزما ہم جگر آزمائیں
لاہور میں ایک ہوٹل تھا۔ سسل اس کا نام اور منٹگمری روڈ پر واقع، وہاں ایک اطالوی حسینہ مس روفو کام و دہن کی لذت کے ساتھ ساتھ قلب و نظر کے سرور کا ساماں بھی مہیا کرتی تھی۔ مرزا محمود اس ہوٹل کے ماکولات و مشروبات سے زیادہ کشور اطالیہ کے باغ کی بہار میں زیادہ دلچسپی رکھتے تھے اور ایک دن روزنامہ آزاد کے الفاظ میں کیا ہوا: ”مرزا بشیر الدین محمود کی آمد اور سسل ہوٹل کی منتظمہ کی گمشدگی تلاش کے باوجود اس کا کوئی پتہ نہیں مل سکا۔“
یکم مارچ سسل ہوٹل کی طرف سے مشتہر ہوا تھا کہ جمعرات یکم مارچ پانچ سے ساڑھے نو بجے رات تک ناچ اور وسٹ ڈرائیو ہوگا۔ بڑے بڑے انعامات بدستور سابق تقسیم کئے جائیں گے۔ تماشائی چار بجے شام سے جمع ہونے شروع ہو گئے اور پانچ بجے اچھا خاصا مجمع ہو گیا۔ ہر ایک شخص کھیل شروع ہونے کا منتظر تھا۔ مگر خلاف توقع وسٹ ڈرائیو شروع ہوا نہ ناچ کا بینڈ بجنا شروع ہوا۔ آخر استفسار پر سسل ہوٹل کے ایک بیرے سے معلوم ہوا کہ وسٹ ڈرائیو کا تمام سامان منتظمہ کے کمرے میں ہے اور منتظمہ کو مرزا بشیر الدین محمود موٹر پر بٹھا کر لے گئے ہیں۔
(نامہ نگار آزاد مورخہ ٣؍مارچ ١٩٣٣ء)
اس واقعہ کو زمیندار کے مدیر شہیر مولانا ظفر علی خان نے زمیندار میں یوں رقم کیا۔
اطالوی حسینہ
پیغمبر جمال تیری چلبلی ادا پروردگار عشق تیرا دلربا چلن
الجھے ہوئے ہیں بے دل تری زلف سیاہ میں ہیں جس کے ایک تار سے وابستہ سو فتن
پروردہ فسوں ہے تیری آنکھ کا خمار آوردہ جنوں ہے تیری بوئے پیرہن
٩٧
رونق ہے ہوٹلوں کی ترا حسن بے حجاب جس پر فدا ہے شیخ تو لٹو ہے برہمن
جب قادیاں پہ تیری نشیلی نظر پڑی سب نشہ نبوت ظلی ہوا ہرن
میں بھی ہوں تیری چشم پرافسوں کا معترف جادو وہی ہے آج جو ہو قادیان شکن
اطالوی رقاصہ کا ”الفضل“ میں اعتراف
اس کے بعد مختلف اخباروں میں شور وغوغا ہوا۔ خلیفہ قادیان کی خطبہ جمعہ کی تقریر شائع ہوئی۔ جس میں اس اطالوی لیڈی کے لے جانے کا اعتراف کیا۔ مگر اس کی وجہ یہ بتائی کہ: ”اس لیڈی کو اپنی بیویوں اور لڑکیوں کے انگریزی لہجہ کے لئے لایا تھا۔“
(الفضل قادیان مورخہ ١٨؍ مارچ ١٩٣٣ء)
اس کا جواب اہل حدیث نے یوں لکھا: ”پس مطلع صاف ہوگیا۔ مگر سوال یہ ہے کہ اطالوی عورت خاص کر ہوٹل کی خادمہ، انگریزی کیا پڑھائے گی۔ اطالوی لوگ تو خود انگریزی صحیح نہیں بول سکتے۔ انگریزی زبان میں دو حروف ڈی ’D‘ اور ٹی ’T‘ بالخصوص ممتاز ہیں۔ دونوں حروف اطالوی لوگ عربوں کی طرح ادا نہیں کرسکتے۔ علاوہ اس کے ایسی معلمہ کا اثر معصومات لڑکیوں اور پردہ نشین بیویوں پر کیا ہوگا؟“
(اہل حدیث امرتسر)
اطالوی حسینہ
سسل ہوٹل لاہور کی ایک اطالوی منتظمہ جو ہوٹل میں مرزا محمود احمد خلیفہ قادیان کے ایک روزہ قیام کے بعد اچانک غائب ہوگئی تھی۔ دوسرے دن قادیان کی مقدس سرزمین میں دیکھی گئی۔ مولانا ظفر علی نے اس پر لکھا۔
ہوٹل سسل کی رونق عریاں
اس کے جلوہ میں جاں گئی ایماں کے ساتھ ساتھ کیا کیا نہ تھا جو لے کے وہ جان جہاں گئی
خوف خدائے پاک دلوں سے نکل گیا آنکھوں سے شرم سرور کون و مکاں گئی
بن کے خروش حلقہ رندان لم یزل لے کر گئی وہ حشر کا ساماں، جہاں گئی
٩٨
یہ چیستاں تو زمیندار نے کہا اتنا ہی جانتا ہوں کہ وہ قادیان گئی
(زمیندار مورخہ ١٥؍ مارچ ١٩٣٤ء)
نیز لکھا۔
اطالوی حسینہ مس روفو
ملے گا تمہیں یہ سبق قادیاں سے جہاں چل کے سوتے میں آئی ہے روفو!
دبستاں میں جانا نہیں چاہتے ہو تو پہنچو شبستاں میں اے بے وقوفو!
بہار آرہی ہے خزاں جارہی ہے ہنسو کھل کھلا کر دمِشقی شگوفو!
کرشن اور خورسند کیا اس کو سمجھیں تمہیں داد دو اس کی عبدالروفو!
جب اوقات موجود ہے قادیان کی کہاں مر رہی ہو تفو او روفو!
(١٤؍مارچ ١٩٣٣ء، بحوالہ ترجمان الحدیث شمارہ ٥ ج ٣ بابت نومبر ١٩٧٠ء)
مدیر پیغام صلح کے نام!
دشنام طراز کون؟
لیکن ترے خیال سے غافل نہیں رہا
ہمارے نومبر کے مضمون مدیر الفرقان ربوہ کے نام پر تبصرہ کرتے ہوئے لاہوری مرزائیوں کا اخبار پیغام صلح لکھتا ہے۔
جمعیت اہل حدیث کی طرف سے ایک ماہنامہ ترجمان الحدیث کے نام سے لاہور سے شائع ہوتا ہے۔ جس کے مدیر اعلیٰ جناب احسان الٰہی ظہیر ایم۔اے ہیں۔ جو مدینہ یونیورسٹی کے فاضل ہیں۔ اس فضیلت علمی کے باوجود یہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ جناب ظہیر صاحب دشنام طرازی میں ید طولیٰ رکھتے ہیں۔ چنانچہ نومبر ١٩٧٠ء کے شمارہ میں مولوی ابوالعطاء اللہ دتہ مدیر الفرقان ربوہ کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے انیس صفحات پر مشتمل ایک مقالہ لکھا ہے جو شروع سے آخر تک گالیوں اور استہزاء سے بھرا ہوا ہے اور اس ضمن میں حضرت مسیح موعود سمیت تمام
٩٩
جماعت احمدیہ پر بلا استثناء وہ لے دے کی ہے کہ الامان۔ جہاں تک اس مضمون کے اصل مخاطب مولوی اللہ دتہ مدیر الفرقان کا تعلق ہے۔ وہ جو چاہیں اس کا جواب دیں۔ ہم صرف اس قدر عرض کریں گے کہ جماعت احمدیہ کی بدنامی اور مسیح موعود کو گالیاں دلوانے کی ذمہ داری انہیں کے سابق خلیفہ میاں محمود پر عائد ہوتی ہے۔ جن کے کردار کے بارہ میں ان کے مریدین کی کئی ایسی شہادتیں
(پیغام صلح لاہور)
اس مضمون میں نقل کی گئی ہیں۔ جنہیں پڑھنے سے شرم و حیاء مانع ہے۔
اس بات سے صرف نظر کرتے ہوئے کہ لاہوری مرزائی پرچے نے کسی طرح اشارۃً نہیں بلکہ صراحۃً قادیانی مرزائیوں پر چوٹ کی ہے اور اپنے امام میاں محمود احمد خلیفہ ربوہ کی سیاہ کاریوں کو ان رسوائیوں کا باعث ٹھہرایا ہے۔ اگر چہ وہ اپنے امام اکبر مرزا غلام احمد قادیانی کی ان حسنات کو گول کر گیا ہے۔ جن کا مختصر سا تبصرہ ہم نے مذکورۃ الصدر مضمون میں کیا تھا۔ رہی بات مدیر ترجمان الحدیث کے گالی دینے کی تو اس سلسلہ میں اس نے کچھ زیادتی اور کچھ کسر نفسی سے کام لیا ہے۔
اولاً...... اس لئے کہ مدیر ”ترجمان الحدیث“ نے اپنے پورے مضمون میں کسی کو کوئی گالی نہیں دی۔ بلکہ مرزائیت کے مقابل صرف آئینہ رکھ کے یہ کہا ؎
ہاں یہ الگ بات ہے کہ بقول شخصے ؎
ثانیاً...... ہم نے حسب سابق اس دفعہ بھی ابتداء نہیں کی بلکہ پہل مرزائیت کی جانب سے ہوئی اور الفرقان نے ہمارے خلاف ایک کمیونسٹ اخبار کی ایک انتہائی گھٹیا اور بے اصل خبر نقل کی۔ جس کی تردید بھی خود ہی وہ کمیونسٹ اخبار کر چکا تھا۔ جس نے یہ من گھڑت اور جھوٹی خبر شائع کی تھی۔ لیکن الفرقان اپنے اسلاف کی سنت پر عمل کرتے ہوئے اس تردید کو شیر مادر سمجھ کر پی گیا اور ایک بے بنیاد الزام کی بنیاد رکھ دی۔
ثالثاً...... پیغام صلح نے مدیر ترجمان الحدیث پر دشنام طرازی کا الزام لگاتے ہوئے اپنے گھر کو بالکل فراموش کر دیا ہے کہ اس میں ید طولیٰ اور امامت کا درجہ کوئی اور نہیں، خود اس کے اکابر رکھتے ہیں اور خصوصاً اس کا مزعوم مجدد اور مصلح موعود مرزا غلام احمد قادیانی تو اس بارہ میں اپنا کوئی نظیر اور مثیل نہیں رکھتا۔ چنانچہ آج کی بحث میں آئینہ آپ کے مقابل ہے۔ خدارا دوسروں
١٠٠
پر طعن توڑتے ہوئے اپنے گھر کو تو دیکھ لیا کرو۔ ہم کب تک تمہیں تمہارے گھر کی خبروں سے باخبر بناتے رہیں گے۔
نہ کھلتے راز سربستہ نہ یوں رسوائیاں ہوتیں
مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے بارہ میں یوں لن ترانیاں کی ہیں کہ: ”لعنت بازی صدیقوں کا کام نہیں۔ مؤمن لعان (لعنت کرنے والا) نہیں ہوتا۔“
(ازالۃ اوہام ص ٦٦٠، خزائن ج ٣ ص ٤٥٦)
اور: ”گالیاں دینا اور بدزبانی کرنا طریق شرافت نہیں۔“
(اربعین نمبر ٤ ص ٥، خزائن ج ١٧ ص ٤٢٧)
نیز: ”میری فطرت اس سے دور ہے کہ کوئی تلخ بات منہ پر لاؤں۔“
(آسمانی فیصلہ ص ١٠،٩، خزائن ج ٤ ص ٣٢٢)
اور ان سب پر مستزاد: ”خدا وہ خدا ہے جس نے اپنے رسول یعنی اس عاجز (مرزا قادیانی) کو تہذیب اخلاق کے ساتھ بھیجا۔“
(اربعین نمبر ٤ ص ٣٦، خزائن ج ١٧ ص ٤٢٦)
اور: ”کسی کو گالی مت دو، گو وہ گالی دیتا ہو۔“
(کشتی نوح ص ١١، خزائن ج ١٩ ص ١١)
اور آخر میں: ”میں نے جوابی طور پر بھی کسی کو گالی نہیں دی۔“
(مواہب الرحمن ص ١٨، خزائن ج ١٩ ص ٢٣٦)
اتنی بڑائی اور اتنا ڈھنڈورا۔
کوئی دنیا میں خوبرو ہی نہیں
لیکن جس دل کی شورشوں کے زمانہ میں تذکرے تھے۔
اپنے وقت کے مشہور عالم وکیل الاسلام مولانا محمد حسین بٹالویؒ کے بارہ میں مرزا قادیانی کے ارشادات عالیہ ہیں۔
”اس زمانہ کے مہذب ڈوم اور نقال بھی تھوڑا بہت حیا کو کام میں لاتے ہیں اور پشتوں کے سفلے بھی ایسی کمینگی اور شوخی سے بھرا ہوا فقرہ زبان پر نہیں لاتے۔“
(آسمانی فیصلہ ص ١٠، خزائن ج ٤ ص ٣٢٠)
١٠١
نیز: ”نالائق، پلید طبع، بدبخت....... انسانوں سے بدتر ، پلیدتر مولوی۔“
(ایام الصلح ص ١٦٥، خزائن ج ١٤ص٤١٣)
اور: ”بٹالوی کو ایک چھوٹے درندہ کی طرح تکفیر اور لعنت کی جھاگ منہ سے نکالنے کے لئے چھوڑ دیا۔“
(آسمانی فیصلہ ص ١٤، خزائن ج ٤ ص ٣٢٦)
وہ آنکھ وہ نگاہ وہ چتون کہاں ہے اب؟
١٨٥٧ء کے مجاہدین آزادی کے بارہ میں کیا گل کھلائے ہیں: ”ان لوگوں نے چوروں قزاقوں اور حرامیوں کی طرح اپنی محسن گورنمنٹ پر حملہ شروع کر دیا۔“
(ازالہ اوہام ص ٧٢٨، خزائن ج ٣ ص ٤٩٠)
اور شیخ الاسلام حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ کے بارہ میں غلام قادیان گوہر فشاں ہے: ”کفن فروش کتا۔“
(اعجاز احمدی ص٢٣، خزائن ج ١٩ص ١٣٢)
”ابن ہوا، غدار۔“
(اعجاز احمدی ص٤٣، خزائن ج ١٩ص ١٥٤)
”ابو جہل۔“
(تتمہ حقیقت الوحی ص ٢٦، خزائن ج ٢٢ص ٤٥٨)
ایک دفعہ متنبی قادیان نے شیخ الاسلام کی گرفت سے تنگ آکر انہیں چیلنج دے دیا کہ اگر وہ سچے ہیں تو قادیان آکر اس کی پیش گوئیوں کو پڑتال کریں اور ہر پیش گوئی کے غلط ہونے پر سو روپیہ انعام حاصل کریں۔ مرزا غلام احمد قادیانی کا خیال تھا کہ مولانا ثناء اللہؒ انگریز کے اس پروردہ کی غار میں آنا پسند نہیں فرمائیں گے۔ اس لئے ساتھ ہی پیش گوئی جڑ دی۔
وہ قادیان میں تمام پیش گوئیوں کی پڑتال کے لئے میرے پاس ہرگز نہیں آئیں گے۔
(اعجاز احمدی ص ٣٧، خزائن ج ١٩ ص ١٤٨)
اور اس پر اس قدر یقین اور اطمینان تھا کہ یہ بڑ بھی مار دی کہ: ”یہ پیش گوئی ایک نشان ہے۔“
(اعجاز احمدی ص ٣٧، خزائن ج ١٩ ص ١٤٨)
لیکن دوسری جانب بھی اسلامی حمیت وغیرت کا نشان تھا۔ ادھر مرزا قادیانی کی دھمکی آمیز پیش گوئی پہنچی، ادھر جواب بھیج دیا: ”لو آ رہا ہوں میں۔“
جب مولانا کا مکتوب بارگاہ صاحب تہذیب اخلاق پیش ہوا تو دہن مبارک کھل گیا اور موتی برسنے لگے۔
خبیث، سؤر، کتا، بدذات، گوں خور۔ ہم اس (ثناء اللہ) کو کبھی (جلسہ عام) میں
١٠٢
بولنے نہ دیں گے۔ گدھے کی طرح لگام دے کر بٹھائیں گے اور گندگی اس کے منہ میں ڈالیں گے۔
(بحوالہ الہامات مرزا از شیخ الاسلام ص ١٢٢ مشمولہ احتساب قادیانیت ج ٨ ص ١٣٥)
واہ
ایک اور شریف آدمی کی تواضع یوں کی ہے: ”منشی الہی بخش نے جھوٹے الزاموں اور بہتان اور خلاف واقعہ کی نجاست سے اپنی کتاب کو ایسا بھر دیا ہے۔ جیسا کہ ایک نالی اور بدرو گندگی کیچڑ سے بھری جاتی ہے یا جیسا کہ سنڈاس پاخانہ سے۔“
(اربعین نمبر ٣ ص ٢١ حاشیہ، خزائن ج ١٧ ص ٤٥٦)
مشہور اہل سنت عالم اور پیر حضرت مہر علی شاہ گولڑوی پر یوں نظر کرم ڈالی: ”کذاب، بچھو کی طرح نیش زن، اے گولڑہ کی زمین تجھ پر خدا کی لعنت ہو، تو ملعون کے سبب ملعون ہوگئی۔“
(ضمیمہ نزول المسیح ص ٧٥، خزائن ج ١٩ ص ١٨٨)
اور: ”فرومایہ، کمینہ، گمراہی کے شیخ ، دیو، بد بخت۔“
(ضمیمہ نزول المسیح ص ٧٦، خزائن ج ١٩ ص ١٨٨)
اور ایک اور عالم دین، مولانا سعد اللہ لدھیانوی کو یوں اپنی نگہ ناز کا نشانہ بنایا: غول، لئیم، فاسق، شیطان، ملعون، نطفہ سفہاء، خبیث، مفسد، مزور، منحوس، مشرک کا بیٹا۔
(انجام آتھم ص ٢٨١، خزائن ج ١١ ص ایضاً)
پیغام صلح کے مدیر صاحب آپ نے مدیر ترجمان الحدیث کی دشمنی میں اپنے گھر کو بالکل ہی فراموش کردیا۔ اگر حضرت کی شستہ اور شگفتہ زبان آپ کے سامنے ہوتی تو آپ کبھی ہمیں الزام دینے کی کوشش نہ کرتے۔ لیکن وائے افسوس کہ ؎
اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے
آیئے اور ہمارے اس مضمون سے جسے آپ گالیوں سے بھرا ہوا قرار دیتے ہیں۔ کوئی ایک گالی اپنے مسیح موعود کی لکھی بتا دیجئے اور اگر مرزا محمود کی سیاہ کاریوں کے بارہ میں ذکر کردہ گواہیاں آپ کی نظر میں دشنام کی زد میں آتی ہیں تو حضور یہ تو آپ ہی کی فراہم کردہ ہیں۔ ہماری حاصل کردہ تو نہیں اور نہ ہی ان میں سے ایک بھی گواہی ہمارے خانوادے کے کسی رکن کی ہے۔
١٠٣
بلکہ ان سب کا تعلق آپ ہی کے گھرانے سے ہے۔ عبدالرحمن مصری آپ کے ہی تو ہیں اور اس کا بیٹا بشیر احمد بھی اور حکیم نور الدین کے اخلاف بھی اور فخر الدین ملتانی کے فرزند بھی اور وہ سب بھی جن کو آج اللہ دتہ مرزائی اپنی نستعلیق اور خالص غلام احمدی زبان میں منافق مخربین اور نابکار افتراء پرداز (الفرقان ربوہ شمارہ نمبر ١٢، ج ٢٠، بابت دسمبر ١٩٧٠ء) قرار دے رہا ہے۔
اور جن کی توثیق کھلے لیکن پیچیدہ الفاظ میں آپ بھی کر رہے ہیں کہ: ”جہاں تک اس مضمون کے اصل مخاطب مولوی اللہ دتہ، مدیر الفرقان کا تعلق ہے۔ وہی جو چاہیں اس کا جواب دیں۔ ہم صرف اس قدر عرض کریں گے کہ جماعت احمدیہ کی بدنامی اور مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) کو گالیاں دلوانے کی ذمہ داری انہیں کے سابق خلیفہ میاں محمود احمد پر عائد ہوتی ہے۔ جن کے کردار کے بارہ میں ان کے مریدین کی کئی ایسی شہادتیں اس مضمون میں نقل کی گئی ہیں۔“
(لاہوری مرزائی اخبار پیغام صلح شمارہ ٤٧، ج ٥٨، بابت ٢٥ نومبر ١٩٧٠ء)
رہی یہ بات کہ انہیں پڑھنے سے شرم و حیاء مانع ہے تو حضور آپ کو گواہی دیتے اور دلواتے ہوئے شرم نہ آئی۔ آج اسے ہمارے منہ سے سنتے ہوئے کیوں شرماتے ہیں۔ اتنی بھی کیا شرم۔
چبھ گئی یہ بھی ادا دل میں نظر کی صورت
جناب محترم! آپ کو اجازت ہے کہ ہمارے صرف نومبر والے مضمون ہی میں سے نہیں جتنے مضامین بھی آج تک ہمارے قلم سے نکلے ہیں۔ ایک گالی بھی جناب مرزا اور اس کے اخلاف و اولاد کی لکھی نکال دکھلائیے۔ ہم آپ کو منہ مانگا انعام دیں گے۔ آئیے لگے ہاتھوں ہم آپ کے دوسرے اسلام کے نمونے بھی دکھلا دیں۔ ٢٨ فروری ١٩٣٥ء کے قادیانی مرزائی پرچہ فاروق میں آپ کے اپنے یعنی لاہوری مرزائیوں کے خلاف ایک سلسلہ وار مضمون شائع ہوا۔ صرف ایک قسط میں آپ کے گروپ کے بارہ میں یہ ارشادات عالیہ صادر ہوئے: ”یہودیانہ قلابازیاں، ظلمت کے فرزند، زہریلے سانپ، خباثت، شرارت اور رذالت کے مظہر، عبادالدنیا وتو والنار، دنیا کے بندے، جہنم کے ایندھن، کمینے، رذیل، احمق، دوغلے (ماشاء اللہ) نیچ دروں نیچ بروں، بد لگام، غدار، علی بابا چالیس چور، اڑھائی ٹوٹرہ، بھیگی بلی، کبوتر نما جانور، سور سے بدتر، کھوسٹ، جھوٹے، دوروئے، نمک حرام، دھوکے باز، فریب کار۔“
(مرزائی اخبار فاروق قادیان مورخہ ٢٨ فروری ١٩٣٥ء)
١٠٤
خیاباں خیاباں ارم دیکھتے ہیں
اور یہ بالکل وہی انداز ہے جو مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے مریدان با صفا کو سکھلایا۔ چنانچہ ایک آریہ سوامی دیانند پر اپنی پاکیزگی زبان کا اظہار ہوتا ہے۔ ”در حقیقت یہ شخص سیاہ دل، جاہل، ناحق شناس، ظالم، پلید، نالائق، یاوہ گو، بد زبان، پرلے درجے کا متکبر، ریا کار، خود بین، نفسانی اغراض سے بھرا ہوا، خبیث مادہ، سخت کلام، خبط دماغ، موٹی سمجھ کا نااہل آدمی ہے۔“
(شحنہ حق ص ٨)
اور:”کنجر ولد الزنا جھوٹ بولتے ہوئے شرماتے ہیں۔ مگر اس آریہ میں اس قدر شرم بھی باقی نہیں رہی۔“
(شحنہ حق ص ٦٠، خزائن ج ٢ ص ٣٨٦)
پناہ خدا! یہ کسی مجدد یا نبی کی زبان ہے؟ توبہ !
باپ پانی تھے تو بیٹے بھاپ ہیں
اور لگے ہاتھوں بیٹے کی خوش کلامی کا نمونہ بھی دیکھ لیجئے۔ حضرت مولانا محمد حسین بٹالوی کے بارہ میں ہرزہ سرا ہے:”اگر محمد حسین بٹالوی کے والد کو معلوم ہوتا کہ اس کے نطفہ سے ایسا ابو جہل پیدا ہوگا تو اپنے آلہ تناسل کو کاٹ دیتا۔“
(مندرجہ اخبار الفضل قادیان مورخہ ٢ نومبر ١٩٢٢ء)
بالکل وہی اپنے والد کا انداز اور اسلوب۔
”عبدالحق (حضرت مولانا عبدالحق غزنویؒ) نے اشتہار دیا تھا کہ ایک فرزند اس کے گھر میں پیدا ہوگا۔...... ( قطعاً جھوٹ جسے مرزائی آج تک ثابت نہیں کر سکے ) وہ لڑکا کہاں گیا تھا۔ اندر ہی اندر پیٹ میں تحلیل پا گیا یا پھر رجعت قہقری کر کے نطفہ بن گیا۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٧، خزائن ج ١١ ص ٣١١)
اور:”جو ہماری فتح کا قائل نہ ہوگا تو اس کو ولد الحرام بننے کا شوق ہے۔...... حرام زادہ کی یہی نشانی ہے کہ سیدھی راہ اختیار نہ کرے۔“
(انوار الاسلام ص ٣٠، خزائن ج ٩ ص ٣٢،٣١)
اور یہ نجس گالی تو مرزا قادیانی کی زبان پر اس طرح چڑھی ہوئی تھی کہ اس کے استعمال اور تکرار سے سیر ہی نہیں ہوتا تھا۔ چنانچہ آریوں سے کہتا ہے۔”ایسے ایسے حرامزادے جو سفلہ طبع دشمن ہیں۔“
(آریہ دھرم ص ٥٥، خزائن ج ١٠ ص ٦٣)
اسی بناء پر ظفر الملت، ضیغم اسلام مولانا ظفر علی خانؒ نے کہا تھا۔
١٠٥
ہر ایسے سفلہ بد اصل و بد زباں سے بچو
خدا نے تم کو بصیرت اگر عطا کی ہے
تو قادیان کے تیر بے کماں سے بچو
اور یہ سب کچھ اس ادعا کے باوجود ہے۔
”میں سچ سچ کہتا ہوں، جہاں تک مجھے معلوم ہے میں نے ایک لفظ بھی ایسا استعمال نہیں کیا جس کو دشنام دہی کہا جائے۔“
(ازالہ اوہام ج ١ ص ١٣، خزائن ج ٣ ص ١٠٩)
نہ معلوم مرزائیوں کے نزدیک مرزا غلام احمد کی مذکورہ بالا گالیاں دشنام کی تعریف میں بھی آتی ہیں یا نہیں؟
ذرا اور اپنے مسیح موعود کی زبان ملاحظہ کرلیں۔ شاید آپ کو اس بارہ میں متنبی قادیان کی بے نظیر اور بے مثال جولانی طبع اور روانی دشنام کا یقین ہوجائے۔ ارشاد ہے: ”کنجریوں کے بچوں کے بغیر جن کے دلوں پر اللہ نے مہر لگادی ہے۔ باقی سب میری نبوت پر ایمان لا چکے ہیں۔
(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٤٧، خزائن ج ٥ ص ایضاً)
اور میرے دشمن جنگلوں کے سور بن گئے ہیں اور ان کی عورتیں کتیوں سے آگے بڑھ گئیں۔“
(نجم الہدیٰ ص ٥٣، خزائن ج ١٤ ص ٥٣)
اور: ”بعض خبیث طبع مولوی جو یہودیت کا خمیر اپنے اندر رکھتے ہیں۔۔۔۔ دنیا میں سب جانداروں سے زیادہ پلید اور کراہت کے لائق خنزیر ہے۔ مگر خنزیر سے زیادہ پلید وہ لوگ ہیں۔۔۔۔ اے مردار خور مولویو! اور گندی روحو!“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢١ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٣٠٥)
”اے بدذات فرقہ مولویوں۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٥ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٣٢٩)
اور: ”اے شریر مولویو! اور ان کے چیلو اور غونی کے ناپاک سکھو۔“
(ضیاء الحق ص ٢٣، خزائن ج ٩ ص ٢٩١)
نیز: ”بعض کتوں کی طرح، بعض بھیڑیوں کی طرح، بعض سوروں کی طرح اور بعض سانپوں کی طرح ڈنگ مارتے ہیں۔“
(خطبہ الہامیہ ص ١٥٥، خزائن ج ١٦ ص ٢٣٨)
اور ملاحظہ کیجئے حسن بیان اور حسن ادا: ”کنجر ولد الزنا جھوٹ بولتے ہوئے شرماتے ہیں۔ مگر اس آریہ میں اس قدر شرم بھی باقی نہیں رہی۔“
(شحنہ حق ص ٦٠، خزائن ج ٢ ص ٣٨٦)
١٠٦
اور گالی مرزا قادیانی کی طبیعت کا اس قدر جزو اور حصہ بن گئی ہے کہ وہ اس کے بغیر بات نہیں کر سکتا۔ حتیٰ کہ بارگاہ صمدانی میں بھی اپنی دریدہ دہنی سے باز نہیں رہ سکتا۔ چنانچہ مسلمانوں کے مسلمہ عقیدے کہ اب وحی رسالت ہمیشہ کے لئے منقطع ہوگئی ہے۔ پر طعن توڑتے ہوئے کہتا ہے۔ ”کوئی عقل مند اس بات کو قبول کر سکتا ہے کہ اس زمانہ میں خدا سنتا ہے۔ مگر بولتا نہیں۔ پھر اس کے بعد سوال ہوگا کہ کیوں نہیں بولتا۔ کیا زبان پر کوئی مرض لاحق ہوگئی۔ العیاذ باللہ !“
(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٤٥، خزائن ج ٢١ ص ٣١٢)
کیا تجھ کو مزا بھی مرے آزار میں آوے
اور یہ دشنام دہی کی عادت تھی۔ جس نے ١٨؍اکتوبر ١٩٠٤ء میں گورداسپور کی عدالت کو اس بات کے کہنے پر مجبور کر دیا کہ: ”ملزم نمبر ١ (مرزا غلام احمد قادیانی) اس امر میں مشہور ہے کہ وہ سخت اشتعال دہ تحریرات اپنے مخالفوں کے برخلاف لکھا کرتا ہے۔ اگر اس کے میلان طبع کو نہ روکا گیا تو غالباً امن عامہ میں نقص پیدا ہوگا۔“
(روئیداد مقدمہ مرتبہ مولوی کرم الدین جہلمی ص ١٦٠)
اور اس سے پیشتر ٢٣؍ اگست ١٨٩٧ء کو ڈپٹی کمشنر مسٹر ڈگلس اور ١٨٩٩ء میں مجسٹریٹ ڈوئی اس سے اقرار نامہ لے چکے تھے کہ وہ آئندہ کسی کے خلاف گندی زبان استعمال نہیں کرے گا۔ چنانچہ مسٹر ڈگلس نے اپنے فیصلہ میں لکھا: ”مرزا غلام احمد قادیانی کو متنبہ کیا جاتا ہے کہ جو تحریرات عدالت میں پیش کی گئی ہیں۔ ان سے واضح ہوتا ہے کہ وہ (مرزا قادیانی) فتنہ انگیز ہے۔“
(بحوالہ روئیداد مقدمہ ص ١٤٤، ١٦٠)
اور اس کا اعتراف خود مرزا قادیانی کو بھی ہے کہ وہ کہتا ہے: ”ہم نے صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر کے سامنے یہ عہد کر لیا ہے کہ آئندہ ہم سخت الفاظ سے کام نہ لیں گے۔“
(دیباچہ کتاب البریہ ص ١٣، خزائن ج ١٣ ص ١٣ ملخص)
لیکن باوجود ان عدالتی تنبیہات اور قول واقرار کے مرزا غلام احمد مجبوراً یہ کہتے ہوئے دوبارہ اسی شیرینی گفتار پر اتر آتا کہ؎
نہ جانے مدیر ”پیغام صلح“ کو کیا سوجھی کہ اس نے شیش محل میں بیٹھے بٹھائے اپنے امام کی عظمت کا انکار کر کے ہم پر پتھر پھینکنے شروع کر دیئے۔ شاید انہیں اس بات نے دلیر کر دیا ہو کہ
١٠٧
مدیر ترجمان الحدیث ملکی سیاسیات کے بکھیڑوں میں الجھنے کے باعث ادھر توجہ نہ دے سکے گا اور اسی وجہ سے وہ ایام گذشتہ میں ہم پر مشق ناز فرماتے رہے۔ بقول غالب۔
لیکن ترے خیال سے غافل نہیں رہا
منشی جی! ہم کسی کو گالی دینے کے عادی نہیں اور گالی دینا گناہ سمجھتے ہیں۔ ہاں یہ الگ بات ہے کہ گالی دینے والے کا احترام بھی ہمارے نزدیک گناہ سے کم نہیں۔ مرزاغلام احمد قادیانی کے لئے اسی لئے ہمارے قلم سے احترام کا کوئی لفظ نہیں نکلتا کہ اس مرد شریف سے کسی شخص کی عزت محفوظ نہیں رہی۔ ایک عام آدمی سے لے کر علماء فقہاء، ائمہ، محدثین اور صحابہ کرام (علیہم الرضوان) اور انبیاء عظام (علیہم السلام) تک اس کی دریدہ دہنی سے نہیں بچ سکے۔ اس لئے ہم مرزا قادیانی کی مزعومہ نبوت اور امامت تو درکنار اس کی شرافت تک کے قائل نہیں ہو سکے۔ کیونکہ خود اس کے اپنے الفاظ میں: ”یہ بات نہایت قابل شرم ہے کہ ایک شخص خدا کا دوست کہلا کر پھر اخلاق رذیلہ میں گرفتار ہو اور درشت بات کا ذرا بھی متحمل نہ ہو سکے اور جو امام زمان کہلا کر ایسی کچی طبیعت کا آدمی ہو کہ ادنیٰ بات پر منہ میں جھاگ آتا ہے۔ آنکھیں نیلی پیلی ہوتی ہیں۔ وہ کسی طرح بھی امام زمان نہیں ہو سکتا۔“
(ضرورۃ الامام ص ٨، خزائن ج ١٣ ص ٤٧٨)
اسی معیار پر جب ہم مرزا قادیانی کو پرکھتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ نہ صرف تمام اخلاق رذیلہ اس میں پائے جاتے ہیں۔ بلکہ ادنیٰ بات پر منہ میں جھاگ آتا ہے اور آنکھیں نیلی پیلی ہوتی ہیں۔
ذرا دیکھئے تو سہی کہ اپنی کتاب نور الحق میں صفحہ نمبر ١١٨ سے لے کر صفحہ ١٢٢ تک پورے چار صفحات ایک ہی حرف سے بھرے ہوئے ہیں اور وہ ہے اپنے مخالفین پر لعنت، لعنت، لعنت، لعنت، لعنت، لعنت اور لعنت۔ ”استغفر اللہ!
(نور الحق ص ١١٨ تا ١٢٢، خزائن ج ٨ ص ١٥٨ تا ١٦٢)
اللہ کے بندے، اتنی بھی کیا جھاگ کہ پورے چار صفحوں کا ستیاناس کر دیا۔ اسی طرح اپنی کتاب لجۃ النور میں پوری پوری دس سطریں مسلسل لفظ لعنت کے تکرار سے پر ہیں۔
(لجۃ النور ص ٦١، خزائن ج ١٦ ص ٣٨٧)
اگر اس طرہ پر پیچ و خم کا پیچ و خم نکلے
١٠٨
اور
ہوئی صبح اور گھر سے کان پر رکھ کر قلم نکلے
اب آپ ہی بتلائیے کہ ایسے آدمی کا احترام کون کرے! وگرنہ ہماری آپ سے کئی دفعہ بحث ہوئی۔ ہم مذہب میں مشرقین کی دوری کے باوصف کبھی آپ کی بجائے تم پر نہیں اترے۔ الا یہ کہ آپ بھی اپنے اسلاف کی اتباع میں اپنے امام کی سطح پر اتر آئیں تو مجبوراً ہم کو بھی یہ کہتے ہوئے قلم کو جنبش دینی پڑی ہو۔
ہم رہیں یوں تشنہ لب پیغام کے
سرکار! امید ہے کہ اب آپ کی تسلی ہوگئی ہوگی کہ دشنام طرازی میں ید طولیٰ مدیر ”ترجمان الحدیث“ نہیں بلکہ آپ کے امام واسلاف رکھتے ہیں۔ آخر میں اپنے مجدد کی زبان مبارک سے دو گالیاں اور سن لیجئے۔ تاکہ آپ کو علم ہو جائے کہ جس کی امامت کی آپ نے دھوم اور شریعت کا شور مچا رکھا ہے۔ وہ اخلاق عالیہ کے کس مقام بلند پر فائز ہے اور آپ کو احساس ہو جائے کہ دوسرے پر وار کرنے سے پہلے اپنے گھر کو ضرور دیکھ لینا چاہئے۔ مرزا غلام احمد قادیانی اپنے برتن کا ڈھکنا اٹھاتا ہے۔ ”مگر بقول شخصے ہر ایک برتن سے وہی ٹپکتا ہے جو اس کے اندر ہے۔“
(چشمہ معرفت ص ١١ خزائن ج ٢٣ ص ٩)
”کل مسلم ...... یقبلنی ویصدق دعوتی الا ذریة البغایا“ (اس سطر کی عربی عبارت میں جو غلطیاں ہیں۔ وہ مرزا غلام احمد قادیانی کی عربی دانی اور جہالت علمی پر شاہد عدل ہیں۔ حیرت ہے کہ بایں بے بضاعتی و بے علمی علم وحکمت کا دعویٰ)
”کہ تمام مسلمانوں نے مجھے مان لیا اور میری دعوت کی تصدیق کردی۔ مگر کنجریوں کی اولاد نے مجھے نہیں مانا۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٤٧، خزائن ج ٥ ص ٥٤٧)
اور: ”اے (سعد اللہ ) کنجری کے بیٹے اگر تو ذلت کی موت نہ مرا تو میں سچا نہیں۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٨٢، خزائن ج ١١ ص ٢٨٢)
تکیہ کلام ہے مرا کوئی کرے وفا عبث
اسی پر عیسائیوں نے مرزائیوں کے بارہ میں یہ شعر کہا تھا۔
١٠٩
سب پہ سبقت لے گئی ہے بے حیائی آپ کی
ویسے اگر مدیر پیغام صلح غصہ کو اور عداوت و مخالفت کو ایک طرف رکھ کر چپکے سے میری بات سنیں تو انہیں کہوں: ”بدزبانی کرنا اور اپنے مخالفانہ جوش کو انتہاء تک پہنچانا۔ کیا اس عادت کو خدا پسند کرتا ہے یا اس کو شیوہ شرفاء کہہ سکتے ہیں۔“
(آسمانی فیصلہ ص٩، خزائن ج٤ ص٣١٩)
اور: ”لعنت بازی صدیقوں کا کام نہیں۔ مؤمن لعان (لعنت کرنے والا) نہیں ہوتا۔“
(ازالۃ اوہام ص ٦٦٠، خزائن ج ٣ ص ٤٥٦)
اور: ”جو امام زمان کہلا کر کچھ ایسی طبیعت کا آدمی ہو کہ ادنیٰ بات میں منہ میں جھاگ آتا ہے۔ آنکھیں نیلی پیلی ہوتی ہیں وہ کبھی امام زمان نہیں ہو سکتا۔“
(ضرورۃ الامام ص ٨، خزائن ج ١٣ ص ٤٧٨)
ہم نیک وبد حضور کو سمجھائے دیتے ہیں
(بحوالہ ترجمان الحدیث ١٩٧١ء)
مدیر ’الفرقان‘ کے نام
انگریز کا ایجنٹ کون تھا؟ ....... اہل حدیث یا مرزائی
مرزائیوں نے پاکستان میں انتخاب کی گہما گہمی سے فائدہ اٹھا کر مسلمانوں کے تمام مکاتب فکر کے خلاف عموماً اور اہل حدیث کے خلاف خصوصاً ہذیان گوئی اور ہرزہ سرائی کا ایک طومار باندھ دیا اور سمجھا کہ ہم اس کا کوئی نوٹس نہیں لیں گے۔ اس سلسلہ میں ربوہ کے ایک مرزائی پرچے ”الفرقان“ اور پاکستان کے دیگر مرزائی جرائد و مجلات نے ایک سلسلہ مضامین شروع کیا جس میں تمام مسلمان مکاتب فکر کو انگریزوں کا آلہ کار اور اپنے آپ کو انگریزوں کی کاسہ لیسی سے بری کرنے کی سعی لاحاصل کی گئی۔ ان کے دیگر ہفوات کا جواب تو ترجمان الحدیث کے نومبر ١٩٧٠ء کے شمارہ میں تفصیل سے گذر چکا ہے۔ انگریزوں کی وفاکیشی کے بارہ میں اب حاضر ہے۔ ہمیں افسوس ہے کہ ہم اپنی بے شمار انتخابی و غیر انتخابی مصروفیات کی بناء پر اس کا جواب کچھ تاخیر سے لکھ رہے ہیں۔ لیکن انشاء اللہ ”دیر آید درست آید“ کا مصداق ضرور ہے۔
زیر نظر مضمون میں ہم نے دلائل وبراہین سے ثابت کیا ہے کہ انگریز کا ایجنٹ کون تھا۔ اہل حدیث یا مرزائی؟ اور اس سلسلہ میں ہم نے یہ التزام کیا ہے کہ اپنے بارہ میں اپنی کسی کتاب کا
١١٠
حوالہ نہ ہو اور ان کے بارہ میں کسی غیر کا ذکر بھی نہ آئے۔ بلکہ جو کچھ ہو خود ان کے گھر سے ہو اور ذرا دیکھیں کہ اہل حدیث کو بیگانوں نے کیا کہا ہے اور مرزائیت اور مرزا قادیانی کو خود مرزا قادیانی اور اس کی امت کیا کہتی ہے۔
انگریز لٹیروں نے جب اسلامی ہند سے مسلمانوں کی حکومت کا خاتمہ کر کے اپنی سیادت کا تخت بچھایا تو جہاں اور محب وطن عناصر نے ان کے خلاف مورچہ بندی کی۔ مسلمان سب سے زیادہ ان کی راہ میں مزاحم ہوئے اور ہندوستان کے چپہ چپہ میں آزادی و حریت کی جنگ لڑی جانے لگی۔ انگریز نے اپنے لامحدود وسائل اور بے پناہ عسکری قوت کے ساتھ ساتھ ہندوستان ہی کے غدار اور ضمیر فروش لوگوں کی مدد و معاونت سے اس بھڑکتے ہوئے الاؤ کو بجھا دیا اور راس کماری سے لے کر درہ خیبر تک پورے ملک ہند پر بلا شرکت غیرے قابض اور متصرف ہو گیا۔ لیکن اس شاطر سیاست نے اوّل روز ہی اس بات کو بھانپ لیا کہ اس جنگ کے جیتنے میں اس کے اسلحہ اور عسکر کی بجائے ہند کے غداروں اور خائنوں کا زیادہ حصہ ہے۔ اس لئے اس نے برصغیر میں جہاں اپنے جیوش پر خاص توجہ دی۔ وہاں ان عناصر کو ہمیشہ اپنے الطاف عنایات سے نوازتا رہا۔ جنہوں نے اپنے ملک اور اپنی قوم کے خلاف اس کی تائید و حمایت کی تھی۔ تاکہ آئندہ بھی ان کو ان کی ماں کے بیٹوں اور ان کے وطن کے سپوتوں کے خلاف استعمال کرتا رہے۔ اس کے نتیجہ میں وہ جماعت پیدا ہوئی جن کو جاگیردار کہا جاتا ہے کہ دیس کے جیالوں اور باحمیت و باغیرت متوالوں کے خلاف جاسوسی اور سامراجی گوروں کے بوٹ چاٹنے کے عوض ان کو یہ جاگیریں عطاء ہوئی تھیں اور یہ وہی جاگیریں تھیں جنہیں اس ملک کے رکھوالوں سے اس جرم میں چھینا گیا تھا کہ وہ پردیسی لٹیروں سے نفرت اور ان کی حکومت کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے تھے۔ ہندوستان میں استعمار کی تاریخ سے واقفیت رکھنے والے لوگ اس بات کو بخوبی جانتے ہیں کہ انگریزوں نے جہاں ایسے خائنوں اور ان کی اولاد پر ہمیشہ اپنا سایہ عاطف پھیلائے رکھا۔ وہاں اس امر کے لئے بھی کوشاں رہا کہ اس گروہ میں تازہ بتازہ اسیران حرص و آز کو بھی شامل کرتا رہے۔ کیونکہ وہ اس حقیقت سے بھی بے خبر نہیں تھا کہ ١٨٥٧ء میں بھڑکنے والا شعلہ ابھی پوری طرح بجھا نہیں۔ بلکہ اس کے خاکستر میں ابھی کئی چنگاریاں سلگ رہی ہیں جو کسی وقت بھی آتش فشاں بن کر اس خرمن عزوجاہ کو جلا سکتی اور خاک سیاہ بنا سکتی ہیں۔ اس لئے وہ بدستور اس جوڑ توڑ میں لگا رہا کہ کوئی ایسی تدبیر نکالی جائے جس سے برصغیر میں اپنے اقتدار کو مستحکم اور قیام کو دوام بخشا جاسکے۔ اسے ہندوستان میں مجموعی طور پر جنگ آزادی کے بعد اگر کسی سے خطرہ تھا تو مسلمانوں سے تھا۔ کیونکہ وہ سمجھتا تھا کہ ایک تو
١١١
مسلمانوں کو اپنی قیادت و سیادت کے مٹنے کا غم ہے کہ ہندوستان میں اس وقت مسلمانوں ہی کی حکومت تھی اور دوسری طرف ان کا دین۔ ان کی شریعت اور ان کے جذبات جہاد انہیں ہمیشہ غیر ملکی کافروں کے غلبہ و استیلاء کے خلاف انگیخت کرتے اور برہم زن پر اکساتے رہیں گے اور پھر بالفعل برصغیر کے موحد مسلمانوں کا ایک گروہ اس کے خلاف برسر عمل اور برسر پیکار ہو بھی چکا تھا اور انگریز اس مٹھی بھر گروہ عشاق سے اس قدر ہراساں ، لرزاں اور ترساں تھا کہ اسے ہندوستان کی سرزمین اپنے پیروں کے نیچے سے کھسکتی ہوئی معلوم ہونے لگی۔ موحدین کے نعرہ ہائے جہاد اس کے ایوانوں پر لرزہ طاری کرنے لگے اور دارورسن سے ان کے بوسہ ہائے شوق مؤمنوں کے دلوں کے تاروں سے اس طرح کھیلنے لگے جس طرح زخمہ مطرب کے تاروں سے اٹھکیلیاں کرتے ہیں اور عین اس وقت جب کہ علماء اہل حدیث اور زعماء موحدین خنجروں کی نوک اور تلواروں کی دھار پر رقص کر رہے تھے اور سامراج کو برصغیر میں اپنا سورج ڈوبتا ہوا نظر آ رہا تھا۔ اس کے عمال اور ذلہ خوار اٹھے اور ان میں سے چند نے تو اس جماعت مقدسہ پر وہابیت کا لیبل چسپاں کر کے اس کی تحریک حریت کو دوسرے مسلمانوں تک پہنچنے سے باز رکھنے کی کوشش کی اور چند نے اس جذبے ہی کو ختم کرنے کی ٹھانی۔ جس کے نتیجہ میں یہ چنگاری پھر بھی بھڑک سکتی تھی۔ ہندوستان کی تحریک آزادی پر قلم اٹھانے والا کوئی مؤرخ اس وقت تک آگے نہیں بڑھ سکتا جب تک کہ وہ رک کر اہل حدیث کی عظمت و رفعت کو سلام نہ کر لے اور ان کے جذبہ جہاد اور ان کی بے پناہ قربانیوں کو خراج تحسین نہ پیش کر لے اور اسی طرح اس کی تاریخ تب تک مکمل نہیں ہو سکتی جب تک کہ وہ ان خائنوں اور انگریز کے خاندانی نمک خواروں کا تذکرہ نہ کرلے۔ جنہوں نے ان بدیشی کافروں کی خاطر اپنی ہر چیز کو داؤ پر لگا دیا اور اپنی ہر متاع کو فروخت کر دیا تھا۔ چاہے وہ ضمیر جیسی گراں مایہ اور دین جیسی والا قدر شے ہی کیوں نہ ہو اور یہی سبب ہے کہ تاریخ کے اوراق ان دونوں کی تاریخ کو اپنے سینے میں محفوظ کئے ہوئے ہیں اور آج ہم اسی تاریخ کے صفحات کو الٹ اور اسی کے اوراق کو پلٹ رہے ہیں کہ کچھ سفیہان امت باطلہ، اور ابلہان کور چشم حقائق کو الٹانے ،مٹانے اور چھپانے کے درپے ہیں کہ شاعری میں تو ہمیں گوارا ہے کہ یاران سبک سر خرد کا نام جنوں اور جنوں کا نام خرد رکھ دیں اور ہم اسے آپ کے حسن کی کرشمہ سازی کہہ کر ٹال دیں۔ لیکن تاریخ میں گوارا نہیں۔ تاریخ کا ورق آپ کے سامنے ہے کہ: ”١٨٥٧ء میں قادیان کے ایک انگریز دوست اور مسلم دشمن خاندان میں جنم لینے والا چشم و چراغ پنجاب کے انگریز گورنر کے حضور اپنی پشتی و پناہی کا ذکر ان الفاظ میں پیش کرتا ہے۔“
١١٢
”سب سے پہلے میں یہ اطلاع دینا چاہتا ہوں کہ میں ایسے خاندان میں سے ہوں جس کی نسبت گورنمنٹ نے ایک مدت دراز سے قبول کیا ہوا ہے کہ وہ خاندان اوّل درجہ پر سرکار دولت مدار انگریزی کا خیر خواہ ہے ...... میرے والد صاحب اور خاندان ابتداء سے سرکار انگریزی کے بدل و جان ہوا خواہ اور وفادار رہے...... اور گورنمنٹ عالیہ انگریزی کے معزز افسران نے مان لیا کہ یہ خاندان کمال درجہ پر خیر خواہ سرکار انگریز ہے۔“
(مندرجہ تبلیغ رسالت ج ٧ ص ٨، ٩، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٩ ملخصاً)
اور گورنمنٹ عالیہ انگریزی کے معزز افسران نے یہ کیونکر مان لیا تھا کہ یہ خاندان کمال درجہ پر خیر خواہ سرکار انگریزی ہے؟ اس لئے کہ جب مسلمان اپنی آبرو اور اپنے ناموس اور اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہے تھے اور اہل حدیث کے سرخیل شیخ الکل سید نذیر حسین محدث دہلوی انگریزوں کے خلاف فتویٰ جہاد پر دستخط کر رہے تھے۔ اس خاندان کا سربراہ گوروں کے بوٹ چاٹتے ہوئے اپنے ہی ملکی بھائیوں کی پشتوں میں خنجر گھونپ رہا تھا۔ مرزا غلام احمد قادیانی اس پر فخر کناں رقمطراز ہے۔
”میں ایک ایسے خاندان سے ہوں کہ جو اس گورنمنٹ کا پکا خیر خواہ ہے۔ میرا والد مرزا غلام مرتضیٰ گورنمنٹ کی نظر میں وفادار اور خیر خواہ آدمی تھا۔ جن کو دربار گورنری میں کرسی ملتی تھی اور جن کا ذکر مسٹر گرفن صاحب کی تاریخ رئیسان پنجاب میں ہے اور ١٨٥٧ء میں انہوں نے اپنی طاقت سے بڑھ کر سرکار انگریزی کو مدد دی تھی۔ یعنی پچاس سوار اور گھوڑے بہم پہنچا کر عین زمانہ غدر (جنگ آزادی) کے وقت سرکار انگریزی کی امداد میں دیئے تھے۔ ان خدمات کی وجہ سے جو چٹھیاں خوشنودی حکام ان کو ملی تھیں۔ مجھے افسوس ہے کہ بہت سی ان میں سے گم ہوگئیں۔ مگر تین چٹھیاں جو مدت سے چھپ چکی ہیں۔ ان کی نقلیں حاشیہ میں درج کی گئی ہیں۔ پھر میرے والد صاحب کی وفات کے بعد میرا بڑا بھائی مرزا غلام قادر خدمات سرکاری میں مصروف رہا اور جب تموں کی گذر پر مفسدوں (محبّ وطن حریت پسندوں) کا سرکار انگریزی کی فوج سے مقابلہ ہوا تو وہ سرکار انگریزی کی طرف سے لڑائی میں شریک تھا۔“ (کتاب البریہ ص ٤، خزائن ج ١٣ ص ٥، ٤)
جب سامراجی پٹھو انگریز کے آلہ کار اور مرزائیت کے اجداد اس خیانت کا ارتکاب کر رہے تھے۔ علماء یزدانی اور فقہاء ربانی انگریز کے خلاف فتویٰ جہاد پر دستخط کر رہے تھے۔ چنانچہ وہ فتویٰ مع استفتاء درج ذیل ہے۔
١١٣
استفتاء
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس امر میں کہ اب جو انگریز دلی پر چڑھ آئے ہیں اور اہل اسلام کی جان و مال کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اس صورت میں اب اس شہر والوں پر جہاد فرض ہے یا نہیں؟ اور وہ لوگ جو اور شہروں اور بستیوں کے رہنے والے ہیں ان کو بھی جہاد کرنا چاہئے یا نہیں۔ بیان کرو، اللہ تم کو جزا دے۔
جواب
در صورت مرقومہ فرض عین ہے اوپر تمام اس شہر کے لوگوں کے، اور استطاعت ضرور ہے اس فرضیت کے واسطے۔ چنانچہ اس شہر والوں کو طاقت مقابلہ اور لڑائی کی ہے۔ بسبب کثرت اجتماع افواج کے اور مہیا اور موجود ہونے آلات حرب کے، تو فرض عین ہونے میں کیا شک رہا، اور اطراف وحوالی کے لوگوں پر جو دور ہیں۔ باوجود خبر کے فرض کفایہ ہے۔ ہاں اگر اس شہر کے لوگ عاجز ہو جائیں، مقابلہ سستی سے کریں، اور مقابلہ نہ کریں تو اس صورت میں ان پر فرض عین ہو جائے گا اور اسی طرح اور اسی ترتیب سے سارے اہل زمین پر شرقاً اور غرباً فرض عین ہوگا اور جو عدو اور بستیوں پر ہجوم اور قتل وغارت کا ارادہ کریں تو اس بستی والوں پر بھی فرض ہو جائے گا۔ بشرط ان کی طاقت کے۔
دستخط اور مواہیر: نور جمال، محمد عبد الکریم، سکندر علی، سید نذیر حسین، مفتی صدر الدین وغیرہم پینتیس علماء کرام۔
(اٹھارہ سو ستاون اخبار اور دستاویز، مرتبہ عتیق صدیقی ص ١٩١)
انگریز کے روحانی فرزندو!
اذا جمعتنا یا جریر المجامع
اور حیرت ہے کہ مرزا محمود احمد قادیانی اور اس کے آباؤ اجداد کی ہندی مسلمانوں سے یہ ساری خیانت اور انگریزوں، کافروں کی یہ ساری اعانت صرف اس دنیا کے حصول کے لئے تھی۔ جو مرد حر کے نزدیک پرکاہ کے برابر بھی حیثیت نہیں رکھتی۔
چنانچہ مرزا غلام احمد قادیانی معترف ہے کہ: ”میرا باپ اسی طرح خدمات میں مشغول رہا، یہاں تک کہ پیرانہ سالی تک پہنچ گیا اور سفر آخرت کا وقت آ گیا اور اگر ہم اس کی تمام خدمات لکھنا چاہیں تو اس جگہ سما نہ سکیں اور ہم لکھنے سے عاجز رہ جائیں۔ پس خلاصہ کلام یہ ہے، میرا باپ سرکار انگریز کے مراحم کا ہمیشہ امیدوار اور عند الضرورت خدمتیں بجالاتا رہا۔ یہاں تک کہ سرکار
١١٤
انگریزی نے اپنی خوشنودی بخششات سے اس کو معزز کیا اور ہر ایک وقت اپنے عطاؤں کے ساتھ اس کو خاص فرمایا اور اس کی غم خواری فرمائی اور اس کی رعایت رکھی اور اس کو اپنے خیر خواہوں اور مخلصوں میں سے سمجھا۔ پھر جب میرا باپ وفات پا گیا تب ان خصلتوں میں اس کا قائم مقام میرا بھائی ہوا۔ (ماشاء اللہ ہمہ خانہ آفتاب است) جس کا نام مرزا غلام قادر تھا اور سرکار انگریزی کی عنایات ایسی ہی اس کے شامل حال ہوگئیں۔ جیسی کہ میرے باپ کے شامل حال تھیں (اور تاریخ کا منہ چڑانے والو! کلیجہ تھام کے سنو) اور پھر میرا بھائی چند سال بعد اپنے والد کے فوت ہو گیا۔ پھر ان دونوں کی وفات کے بعد میں ان کے نقش قدم پر چلا اور ان کی سیرتوں کی پیروی کی۔‘‘
(نورالحق حصہ اوّل ص ٢٧، ٢٨، خزائن ج ٨ ص ٣٧، ٣٨)
اہل حدیث پہ نگہ ناز کے تیر برسانے والو! آؤ اور دیکھو کہ جب ہمارے آباء انگریز کے خلاف مورچہ لگا رہے تھے۔ تب تمہارے آباء کیا کر رہے تھے؟ اور سید احمد، اسماعیل شہید، سید نذیر حسین دہلوی، عنایت علی، ولایت علی، علماء صادق پور، پٹنہ اور ان کے اخلاف تو غدار، جنہوں نے راہ حق میں اپنا سب کچھ لٹا دیا اور غلام مرتضیٰ، غلام قادر، غلام احمد اور ان کی معنوی اور روحانی اولاد حریت پسند اور انگریز دشمن! جن کا خمیر ہی اسلام دشمنی اور کفر دوستی سے اٹھایا گیا تھا۔
مدیر الفرقان لکھتا ہے: ”انگریزی حکومت نے ملک ہند میں قیام امن اور آزادی مذہب کی جو کوششیں کی تھیں۔ ان کی وجہ سے تمام دردمند مسلمانوں نے اس حکومت کا شکریہ ادا کیا اور اس سے تعاون کے طریق کو اختیار فرمایا تھا۔ اس سے کسی کا یہ نتیجہ نکالنا کہ ایسے لوگ انگریزوں کے آلہ کار تھے۔ انتہائی غلط فہمی ہے۔‘‘
(الفرقان ربوہ ج ٢٠ شمارہ ١٢، دسمبر ١٩٧٠ء)
اس سے قطع نظر کہ مرزائی ہنوز انگریز کے مدح سرا اور ثنا خواں ہیں اور اسی طرح اپنے نبوت و رسالت کے عطاء کرنے والے کا حق نمک ادا کر رہے ہیں۔ ان سے سوال کرو کہ وہ کون سا امن تھا جسے ہند میں انگریزی حکومت نے قائم کیا۔ تیمور و بابر کی بیٹیوں کی عصمت دری و رسوائی یا ہند کی مسلمان ماؤں کو ان کے جگر گوشوں سے محروم کرنا؟
اس حریت کے دور میں ایک آزاد ملک کے باسیوں کو ان کی تعریف کرتے ہوئے شرم کرنی چاہئے۔ جنہوں نے اس ملک کو ڈیڑھ سو سال تک غلام بنائے رکھا اور اس ملک میں امن کو قائم نہیں کیا۔ بلکہ امن کو تاراج کیا۔ عصمتوں پر ڈاکے ڈالے، آبروؤں کو غارت کیا اور قوم کے جواں بیٹوں کا خون پیا۔ ان کے بوڑھوں کو تلوار کی دھاروں پر اور معصوموں کو نیزوں کی انیوں پر رکھا۔ لیکن
١١٥
وہ لوگ جن کی پرورش اور پرداخت ہی انگریزوں نے کی ہو اور جنہیں ان کی فرمانبرداری ورثہ اور مذہب میں ملی ہو وہ کب اس کو فراموش اور اس کی وفاکیشی سے گریز کر سکتے ہیں۔
یاد رہے متنبی قادیان نے انگریز کی وفاداری کو مرزائیت میں داخلہ کے لئے شرط اور اصل الاصول قرار دیا تھا۔ چنانچہ وہ لکھتا ہے: ”اب اس تمام تقریر سے جس کے ساتھ میں نے اپنی سترہ سال مسلسل تقریروں سے ثبوت پیش کئے ہیں۔ صاف ظاہر ہے کہ میں سرکار انگریزی کا بدل و جان خیر خواہ ہوں اور میں ایک شخص امن دوست ہوں اور اطاعت گورنمنٹ اور ہمدردی بندگان خدا کی میرا اصول ہے اور یہ وہی اصول ہے جو میرے مریدوں کی شرائط بیعت میں داخل ہے۔ چنانچہ پرچہ شرائط بیعت جو ہمیشہ مریدوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ اس کی دفعہ چہارم میں انہی باتوں کی تصریح ہے۔“
(ضمیمہ کتاب البریہ ص ١٠، خزائن ج ١٣ ص ایضاً)
رہی بات کہ مرزا قادیانی اور مرزائیت صرف انگریزوں کے سپاس گزار تھے۔ آلہ کار نہیں تھے۔ اس کے بارہ میں خود مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے جانشین معترف ہیں کہ سرکار انگریزی کی کاسہ لیسی میں وہ اپنے آباء سے کسی طرح پیچھے نہیں رہا۔ چنانچہ مرزا غلام احمد قادیانی انگریزی استعمار کا حق نمک ادا کرتے ہوئے مسلمانان ہند کو انگریز کی غلامی کا درس دیتا اور غلامی کی زنجیروں کو مضبوط کرنے کی تلقین کرتا ہے۔
”ہر ایک سعادت مند مسلمان کو دعا کرنی چاہئے کہ اس وقت انگریزوں کی فتح ہو۔ کیونکہ یہ لوگ ہمارے محسن ہیں اور سلطنت برطانیہ کے ہمارے سر پر بہت احسان ہیں۔ سخت جاہل اور سخت نادان اور سخت نالائق وہ مسلمان ہے جو اس گورنمنٹ سے کینہ رکھے۔ اگر ہم ان کا شکر نہ کریں تو پھر ہم خدا تعالیٰ کے بھی ناشکرگزار ہیں۔“
(ازالہ اوہام ص ٥٠٩، خزائن ج ٣ ص ٣٦٧)
نیز : ”خدا نے ہمیں ایک ایسی ملکہ عطاء کی ہے جو ہم پر رحم کرتی ہے اور احسان کی بارش سے اور مہربانی کے مینہ سے ہماری پرورش فرماتی ہے اور ہمیں ذلت اور کمزوری کی پستی سے اوپر کی طرف اٹھاتی ہے۔“
(نورالحق حصہ اوّل ص ٤، خزائن ج ٨ ص ٦)
اور ملکہ کے رحم اور اس کے احسان کی بارش اور مہربانی کے مینہ کا بدلہ مرزا غلام احمد قادیانی کس طرح چکاتا ہے؟ خود اس کے اپنے الفاظ میں ملاحظہ کیجئے۔
”میرے اس دعوٰی پر کہ میں گورنمنٹ برطانیہ کا سچا خیرخواہ ہوں۔ دو ایسے شاہد ہیں کہ اگر سول ملٹری جیسا لاکھ پرچہ بھی ان کے مقابلہ پر کھڑا ہو تب بھی وہ دروغ گو ثابت ہوگا۔ اوّل یہ
١١٦
کہ علاوہ اپنے والد مرحوم کی خدمت کے میں سولہ برس سے برابر اپنی تالیفات میں اس بات پر زور دے رہا ہوں کہ مسلمانان ہند پر اطاعت گورنمنٹ برطانیہ فرض اور جہاد حرام ہے۔ دوسرا یہ کہ میں نے کتابیں عربی فارسی تالیف کر کے غیر ملکوں میں بھیجی ہیں۔ جن میں برابر یہی تاکید اور یہی مضمون ہے۔ پس اگر کوئی نالائق یہ خیال کرے کہ سولہ برس کی کاروائی میرے کسی نفاق پر مبنی ہے تو اس بات کا اس کے پاس کیا جواب ہے کہ جو کتابیں عربی و فارسی، روم اور شام، مصر اور مکہ اور مدینہ وغیرہ ممالک میں بھیجی گئیں اور ان میں نہایت تاکید سے گورنمنٹ انگریزی کی خوبیاں کی گئی ہیں۔ وہ کارروائی کیونکر نفاق پر محمول ہو سکتی ہے۔ کیا ان ملکوں کے باشندوں سے بجز کافر کہنے کے کسی اور انعام کی توقع تھی۔ کیا سول ملٹری گزٹ کے پاس کسی ایسے خیر خواہ گورنمنٹ کی کوئی اور بھی نظیر ہے؟ (ماشاء اللہ چشم بددور ) اگر ہے تو پیش کرے۔ لیکن میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ جس قدر میں نے کارروائی گورنمنٹ کی خیر خواہی کے لئے کی ہے۔ اس کی نظیر نہیں ملے گی۔‘‘
(مورخہ ١٠؍ دسمبر ١٨٩٤ء، مندرجہ تبلیغ رسالت ج ٣ ص ١٩٦، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ١٢٨، ١٢٩)
اور صرف اسی پر بس نہیں بلکہ : ’’میں دیکھتا ہوں کہ ان دنوں بعض جاہل اور شریر لوگ اکثر ہندوؤں میں سے اور کچھ مسلمانوں میں سے گورنمنٹ کے مقابل پر ایسی ایسی حرکتیں ظاہر کرتے ہیں۔ جن سے بغاوت کی بو آتی ہے۔ بلکہ مجھے شک ہوتا ہے کہ کسی وقت باغیانہ رنگ ان کی طبائع میں پیدا ہو جائے گا۔ اس لئے میں اپنی جماعت کے لوگوں کو جو مختلف مقامات پنجاب اور ہندوستان میں موجود ہیں جو بفضلہ تعالیٰ کئی لاکھ تک ان کا شمار پہنچ گیا ہے۔ نہایت تاکید سے نصیحت کرتا ہوں کہ وہ میری اس تعلیم کو خوب یاد رکھیں۔ جو قریباً ٢٦ برس سے تقریری اور تحریری طور پر ان کے ذہن نشین کرتا ہوں۔ یعنی یہ کہ اس گورنمنٹ انگریزی کی پوری اطاعت کریں۔ کیونکہ وہ ہماری محسن گورنمنٹ ہے۔‘‘
(مندرجہ تبلیغ رسالت ج ١٠ ص ١٢٢، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٨٢)
اور: ’’میں اٹھارہ برس سے ایسی کتابوں کی تالیف میں مشغول ہوں کہ جو مسلمانوں کے دلوں کو گورنمنٹ انگلیشیہ کی محبت اور اطاعت کی طرف مائل کر رہے ہیں۔ گو اکثر جاہل مولوی ہماری اس طرز اور رفتار اور ان خیالات سے سخت ناراض ہیں۔‘‘
(مورخہ ٢٤؍ جنوری ١٨٩٨ء، مندرجہ تبلیغ رسالت ج ٧ ص ١١، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ١٢)
اور اسی جذبہ جہاد کو جو مسلمانوں کے سینوں میں کروٹیں لے رہا اور انہیں دیوانہ وار شہادت گہ الفت میں کھینچے لئے جا رہا تھا۔ ختم کرنے کے لئے اپنی کوششوں کا ذکر ان الفاظ میں کیا جاتا ہے۔
١١٧
”یہ وہ فرقہ ہے جو احمدیہ کے نام سے مشہور ہے اور پنجاب اور ہندوستان اور دیگر متفرق مقامات میں پھیلا ہوا ہے۔ یہی وہ فرقہ ہے جو دن رات کوشش کر رہا ہے کہ مسلمانوں کے خیالات میں سے جہاد کی بیہودہ رسم کو اٹھا دے۔ چنانچہ اب تک ساٹھ کے قریب میں نے اپنی کتابیں عربی، فارسی، اردو اور انگریزی میں تالیف کر کے شائع کی ہیں۔ جن کا یہی مقصد ہے کہ یہ غلط خیالات مسلمانوں کے دلوں سے محو ہو جائیں۔ اس قوم میں یہ خرابی اکثر نادان مولویوں نے ڈال رکھی ہے۔ لیکن اگر خدا نے چاہا تو امید رکھتا ہوں کہ عنقریب اس کی اصلاح ہو جائے گی۔“
(ریویو آف ریلیجنز ج ١ نمبر ١٢، بابت ماہ دسمبر ١٩٠٢ء)
کیا انگریز کی کاسہ لیسی اور ان کا آلہ کار ہونے کا اس سے بڑا بھی کوئی اور ثبوت ہو سکتا ہے اور یہ ساری دین فروشی اور قوم فروشی کس لئے تھی؟ صرف چند سکوں کے لئے یا اس تاج نبوت کے لئے جس کی گدائی مرزا غلام احمد قادیانی انگریزوں سے کرتا رہا۔
چنانچہ مرزا غلام احمد قادیانی لکھتا ہے: ”میرا اس درخواست سے جو حضور کی خدمت میں مع اسماء مریدین روانہ کرتا ہوں۔ مدعا یہ ہے کہ اگرچہ میں ان خدمات خاصہ کے لحاظ سے جو میں نے اور میرے بزرگوں نے محض صدق دل اور اخلاص اور جوش وفاداری سے سرکار انگریزی کی خوشنودی کے لئے کی ہے۔ عنایات خاص کا مستحق ہوں۔“
(مندرجہ تبلیغ رسالت ج ٧، مورخہ ٢٧ فروری ١٨٩٨ء، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢١، ٢٠)
نہ جانے ان لوگوں کی عقل پر کیسے پتھر پڑ گئے۔ جو مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی اور رسول شمار کرنے لگے۔ مقام نبوت اور منصب رسالت تو بڑی بات ہے۔ رب کعبہ کی قسم اس طرح کی پستی کا مظاہرہ تو گدایان میکدہ بھی نہیں کرتے۔ چہ جائیکہ ایک شریف اور با غیرت انسان اور اس پر طرہ یہ کہ رسالت و پیغمبری کا دعویٰ۔ عیاذ باللہ!
اور۔
”صرف یہ التماس ہے کہ سرکار دولت مدار ایسے خاندان کی نسبت جس کو پچاس برس کے متواتر تجربہ سے ایک وفادار، جان نثار خاندان ثابت کر چکی ہے اور جس کی نسبت گورنمنٹ عالیہ کے معزز حکام نے ہمیشہ مستحکم رائے سے اپنی چٹھیات میں یہ گواہی دی ہے کہ وہ قدیم سے
١١٨
سرکار انگریزی کے پکے خیر خواہ اور خدمت گزار ہیں۔ اس خودکاشتہ پودہ کی نسبت نہایت حزم اور احتیاط سے اور تحقیق اور توجہ سے کام لے اور اپنے ماتحت حکام کو اشارہ فرمائے کہ وہ بھی اس خاندان کی ثابت شدہ وفاداری اور اخلاص کا لحاظ رکھ کر مجھے اور میری جماعت کو ایک خاص عنایت اور مہربانی کی نظر سے دیکھیں۔ ہمارے خاندان نے سرکار انگریزی کی راہ میں اپنے خون بہانے اور جان دینے سے فرق نہیں کیا اور نہ اب فرق ہے۔ لہٰذا ہمارا حق ہے کہ ہم خدمات گزشتہ کے لحاظ سے سرکار دولت مدار کی پوری عنایات اور خصوصی توجہ کی درخواست کریں۔
(مجموعہ اشتہارات ج٣ ص٢١)
(نیز ضمیمے میں اپنے تین سو سترہ مریدوں کے نام ہیں۔ حوالہ مذکور) اللہ دتہ مرزائی اس عبارت کو پھر پڑھے۔ شاید اس کے بے غیرت وجود میں غیرت و حمیت اور عقل و خرد کی کوئی چیز بچی کھچی موجود ہو اور وہ اسے خبر دے سکے کہ نبی اور رسول اس قدر ذلیل اور رذیل نہیں ہوا کرتے اور وہ آئندہ مرزا قادیانی کا وکیل صفائی بننے سے پہلے اس بات کو سوچ لیا کرے کہ ذلت و رسوائی کے ان عمیق گڑھوں سے کوئی بھی اس کے موکل کو نکال سکتا ہے کہ نہیں؟ اور شاید وہ آئندہ اہل حدیث پر طعن توڑنے سے پہلے کچھ دیر رک کر غور کر لے کہ ابھی اہل حدیث کی صفیں مردوں سے اس قدر خالی نہیں ہوئیں کہ انگریز کے خودکاشتہ پودے کا ایک شریر بچھو ان پر وار کر کے چلا جائے اور سمجھے کہ اس کا جواب اسے نہیں ملے گا۔ ثناء اللہ، ابراہیم اور محمد گوندلوی کے رب کی قسم! ابھی ان کے بیٹوں میں یہ کس بل موجود ہے کہ وہ قادیانی کے اخلاف کا اسی طرح کس بل نکال سکیں اور انہیں اسی طرح لاجواب کر سکیں۔ جس طرح وہ مرزا قادیانی کا نکالا کرتے اور اسے لاجواب کیا کرتے تھے۔
بندہ پرور منصفی کرنا خدا کو دیکھ کر
آؤ اور ذرا مردان احرار کو بھی دیکھو کہ انہی ایام میں جب متنبی قادیان مرزا غلام احمد قادیانی انگریز کے سامنے کاسہ گدائی لئے کھڑا تھا اور مسلمانوں کو انگریز کی اطاعت کا سبق دے رہا تھا۔ اہل حدیث انگریز کے خلاف میدان جنگ میں سینہ سپر تھے اور ان کا زعیم اور قائد مولانا عنایت علی صادق پوری کوہستان سرحد سے مسلمانان ہند کے نام یہ اعلامیہ جاری کر رہا تھا۔
- ......1 "جس ملک پر کفار مسلط ہو جائیں وہاں کے مسلمانوں کا فرض ہے کہ متحد ہو کر کفار
سے لڑیں۔
١١٩
- ......٢ جو نہ لڑسکیں وہ ہجرت کر کے کسی آزاد اسلامی ملک میں پہنچ جائیں۔
- ......٣ ہجرت موجودہ حالات میں فرض ہے اور جو لوگ ہجرت سے باز رکھنے کی کوشش کریں
وہ منافقت کی زد میں آتے ہیں۔
- ......٤ جو لوگ ہجرت بھی نہ کرسکیں وہ حکومت سے علیحدگی پر عمل پیرا ہوں۔ مثلاً کسی کام میں
حکومت کی مدد نہ کریں۔ اس کی عدالتوں میں نہ جائیں۔ اپنے جھگڑوں کے لئے پنچایتیں بنائیں۔“
(سرگزشت مجاہدین ص ٤٠٤)
اور انہی مولانا عنایت علی کے تربیت یافتہ مجاہدین نے ستھانہ کی پہاڑیوں کے اوپر انگریزی فوج سے دست بدست جنگ کرتے ہوئے اس شان سے راہ حق میں اپنی جانوں کو نچھاور کیا کہ چپست اور میسن ایسے مخالف کہہ اٹھے کہ: ”ہر مجاہد یا شہید ہوا یا گرفتار کر لیا گیا۔ انہوں نے جوش حمیت کا غیر معمولی مظاہرہ کیا اور بہادرانہ پیش قدمی کرتے رہے۔ سب نے نہایت عمدہ لباس پہن رکھے تھے۔ نہ کسی کے قدم میں لرزش ہوئی نہ کسی کی زبان سے نعرہ بلند ہوا۔ چپ چاپ جانیں دیتے رہے۔“
(نیول کی کتاب ص ١٤١، اولی کی کتاب ص ٥٠، منقول از سرگزشت مجاہدین)
اور پھر یہی لوگ تھے جنہوں نے معرکہ امبیلا میں مرزائیوں کے آقائے ولی نعمت جنرل چیمبرلین کے چھکے چھڑا دیئے۔ اس معرکہ کے بارے میں ڈبلیو ڈبلیو ہنٹر، ایسا بدنام زمانہ، مسلمان دشمن، انگریز مورخ لکھتا ہے: ”١٨؍ تاریخ ١٨٦٣ء کو دشمن مجاہدین نے جان فشانی سے ہم پر حملہ کیا اور ہماری ایک چوکی پر قابض ہو گئے اور افسروں کے علاوہ ١١٤ آدمیوں کو زخمی یا قتل کرتے ہوئے پیچھے دھکیل دیا۔ دوسرے دن دشمن نے ایک اور چوکی پر قبضہ کر لیا جسے پھر ایک خونریز جنگ کے بعد، جس میں ہمارے جرنیل (جنرل چیمبرلین) صاحب بھی شدید طور پر زخمی ہوئے۔ دوبارہ حاصل کر لی گئی اور افسروں کے علاوہ ١٢٥ آدمی جنگ میں کام آئے یا بالکل ناکارہ ہوگئے۔ ٢٠؍ تاریخ کو بیمار اور مجروحین کو واپس بھیج دینا ضروری سمجھا تھا۔ جن کی کل تعداد ٤٣٥ ہوگئی تھی۔ جرنیل صاحب نے جو تار ١٩؍ تاریخ کو دیا تھا۔ اس کے آخری الفاظ یہ ہیں۔ فوجوں کو ایک مہینے تک دن رات سخت کام کرنا پڑا ہے اور تازہ دم دشمنوں کا مقابلہ ایسے نقصان کے ساتھ کرنا پڑا جو حوصلہ شکن ہے۔ اس لئے ہمیں کمک کی ضرورت ہے۔ میرے لئے دشمن کا مقابلہ کرنا، خوارک بہم پہنچانے کے لئے آدمی مہیا کرنا اور زخمیوں کو واپس بھیجنا بہت مشکل ہو گیا ہے۔“
(ہمارے ہندوستانی مسلمان ص ٥٧)
اور آگے چل کر یہی ڈاکٹر ہنٹر لکھتا ہے: ”مجاہدین نے سرحدی قبائل میں جو اقتدار حاصل کر لیا تھا۔ ہم نے اس کا غلط اندازہ لگایا تھا۔ وہ لوگ جو ان کے ساتھ مذہب کی بناء پر
١٢٠
شامل ہوئے تھے۔ وہ فتح یا شہادت کی امید پر بڑے پرجوش اور بے صبر ہورہے تھے۔“
(ہمارے ہندوستانی مسلمان ص ٥٩)
اور اس دور میں جب کہ ہندوستان میں مسلمانوں کے خائن اور غدار انگریزوں کی حمایت میں جہاد کو ناجائز قرار دے رہے تھے اور ہندوستان کو دارالاسلام بتلا رہے تھے۔ اہل حدیث نہ صرف ہر طریقے سے قوم کو جہاد کا درس دے رہے تھے۔ عملاً جہاد میں شریک بھی تھے اور پورا ہند ان کے جہاد کے نعروں سے گونج رہا تھا۔
ڈاکٹر ہنٹر لکھتا ہے: ”انگریزوں کے خلاف ضرورت جہاد پر اگر وہابیوں کی نظم ونثر کی مختصر سے مختصر کیفیت بھی لکھنے کی کوشش کی جائے تو اس کے لئے ایک دفتر چاہئے۔ اس جماعت نے بہت ادب پیدا کر دیا ہے جو انگریزی حکومت کے زوال کی پیش گوئیوں سے پر اور ضرورت جہاد کے لئے وقف ہے۔“
(ہمارے ہندوستانی مسلمان ص ١٠٣)
اور جس وقت قادیان میں انگریزی ایجنٹ اپنے مریدوں کو یہ نصیحت کر رہا تھا کہ:
”میں دیکھتا ہوں کہ ان دنوں میں بعض جاہل اور شریر لوگ اکثر ہندوؤں میں سے اور کچھ مسلمانوں میں سے گورنمنٹ کے مقابل پر ایسی ایسی حرکتیں ظاہر کرتے ہیں۔ جن سے بغاوت کی بو آتی ہے۔ بلکہ مجھے شک ہوتا ہے کہ کسی وقت باغیانہ رنگ ان کی طبائع میں پیدا ہو جائے گا۔ اس لئے میں اپنی جماعت کے لوگوں کو جو مختلف مقامات پنجاب اور ہندوستان میں موجود ہیں۔ بفضلہ تعالیٰ کئی لاکھ تک ان کا شمار پہنچ گیا ہے۔ نہایت تاکید سے نصیحت کرتا ہوں کہ وہ میری اس تعلیم کہ خوب یاد رکھیں جو تقریباً سولہ برس سے تقریری و تحریری طور پر ذہن نشین کرتا آیا ہوں۔ یعنی اس گورنمنٹ انگریزی کی پوری اطاعت کریں۔“
(مندرجہ تبلیغ رسالت ج ١٠ ص ١٤٢، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٨٢)
اور: ”یاد رہے کہ مسلمانوں کے فرقوں میں سے یہ فرقہ جس کا خدا نے مجھے امام اور پیشوا اور رہبر مقرر فرمایا ہے ایک بڑا امتیازی نشان اپنے ساتھ رکھتا ہے اور وہ یہ کہ اس فرقہ میں تلوار کا جہاد بالکل نہیں (مہاراج اور کس کا ہے) اور نہ اس کی انتظار ہے بلکہ یہ مبارک فرقہ نہ ظاہر طور پر اور نہ پوشیدہ طور پر جہاد کی تعلیم کو ہرگز جائز نہیں سمجھتا۔“
(مندرجہ تبلیغ رسالت ج ٩ ص ٨٢، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٣٥٧)
اور: ”میں نے صدہا کتابیں جہاد کے مخالف تحریر کر کے عرب اور مصر اور شام اور افغانستان میں گورنمنٹ کی تائید میں شائع کی ہیں۔ کیا آپ نے بھی ان ملکوں میں کوئی ایسی کتاب شائع کی؟ (ماشاء اللہ)“
(مندرجہ تبلیغ رسالت ج ٢ ص ٢٧)
١٢١
نیز: ”میں ایمان اور انصاف کی رو سے اپنا فرض دیکھتا ہوں کہ اس گورنمنٹ کی شکر گزاری کروں اور اپنی جماعت کو اطاعت کے لئے نصیحت کرتا رہوں۔ سو یاد رکھو اور خوب یاد رکھو کہ ایسا شخص میری جماعت میں داخل نہیں رہ سکتا جو اس گورنمنٹ کے احسان کا شکر گزار نہیں۔“
(مندرجہ تبلیغ رسالت ج ١٠ ص ١٢٣، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٨٣)
اور ابطال جہاد انجاح مقصد کا وسیلہ ہے
ایسے ہی وقت میں اہل حدیث پٹنہ کے اندر ایک ایسے مرکز کی بنیاد رکھ چکے تھے۔ جہاں انگریز کی اطاعت اور جہاد کے نسخ کی تلقین نہیں بلکہ انگریز کے خلاف بغاوت اور کفار کے مقابل جہاد کا ولولہ انگیز درس دیا جاتا تھا۔ چنانچہ سر ہربرٹ ایڈورڈ لکھتا ہے: ”غداری اور بغاوت کے ایک مرکزی دفتر کا وجود پٹنہ میں بیان کیا جاتا ہے۔“ (ہندوستان میں اڑتیس برس مصنفہ ٹیلر ج ٢ ص ٢٨٤)
اور مردم شماری کی رپورٹ بابت ١٩١١ء میں ہے: ”اس پوری مدت میں پٹنہ سازش کا مرکز تھا۔ وہابی مبلغ ہندوستان اور دوسرے قریب کے ملکوں میں اپنے مشن کی تبلیغ کر رہے تھے۔ ان کے بڑے لیڈر ولایت علی اور عنایت علی پٹنہ کے رہنے والے تھے۔“
(ہندوستان کی پہلی اسلامی تحریک ص ٩٩)
اور ہنٹر لکھتا ہے: ”کتاب جتنی سخت اور باغیانہ ہو، اتنی ہی عوام میں زیادہ مقبول ہوگی۔ لیکن یہ اشتعال انگیز لٹریچر تو اس مستقل چہارگانہ تنظیم کا ایک حصہ ہے۔ جو وہابی لیڈروں نے بغاوت پھیلانے کے لئے قائم کر رکھا ہے۔ اس کے علاوہ سب سے مقدم پٹنہ کا مرکزی دارالاشاعت ہے۔ پٹنہ کے خلفاء جو ان تھک واعظ خود اپنے آپ سے بے پرواہ بے داغ زندگی بسر کرنے والے، انگریز کافروں کی حکومت کو تباہ کرنے میں ہمہ تن مصروف اور روپیہ اور رنگروٹ جمع کرنے کے لئے ایک مستقل نظام قائم کرنے میں نہایت چالاک تھے۔ وہ اپنی جماعت کے اراکین کا نمونہ اور ان کے لئے مثال تھے۔ ان کی بہت سی تعلیم بے عیب تھی اور یہ انہی کا کام تھا کہ انہوں نے اپنے ہزاروں ہم وطنوں کو بہترین زندگی بسر کرنے اور اللہ تعالیٰ کے متعلق بہترین تصور پیدا کرنے کی ترغیب دی۔ (الفضل ما شہدت بہ الاعداء) ہر ایک ضلع کے مبلغین متعصب لوگوں کے گروہ دارالاشاعت میں بھیجتے۔ ان میں سے اکثر کو جن کے جوش کو پٹنہ کے لیڈر اور بھی بھڑکا دیتے تھے۔ چھوٹے چھوٹے گروہوں کی صورت میں سرحدی کیمپ کی طرف روانہ کیا جاتا۔ ان میں سے زیادہ ہوشیار نوجوانوں کو زیادہ دیر تک زیر تربیت رکھنے کے لئے منتخب کیا جاتا تھا اور
١٢٢
جب وہ باغیانہ اصولوں سے اچھی طرح واقف ہوجاتے تھے تو ان کو ان کے صوبے کی طرف ایک واعظ یا مذہبی کتب فروش کی حیثیت سے واپس کر دیا جاتا تھا۔ پٹنہ کا مرکز تبلیغ ہمیشہ اس بات پر زور دیتا ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں کے لئے اپنے آپ کو دوزخ کی آگ سے بچانے کے لئے دو ہی راستے ہیں یا تو کافروں کے ساتھ جہاد کریں اور یا اس لعنتی سرزمین سے ہجرت کر جائیں۔ کیونکہ کوئی سچا دیانتدار اپنی روح کو خراب کئے بغیر اس حکومت کا وفادار نہیں رہ سکتا۔ جو لوگ جہاد یا ہجرت سے منع کرتے ہیں وہ دل کے منافق ہیں۔‘‘
(ہمارے ہندوستانی مسلمان ص ١٠٦، ١٠٧، ٩٨)
ہاں جناب ! انگریز کا ایجنٹ کون اہل حدیث یا مرزائی؟ وہ جو انگریز کے خلاف لڑتے رہے یا وہ جو انگریز کی اطاعت کو اللہ و رسول کی اطاعت قرار دیتے رہے؟
لیجئے اس کا حوالہ بھی حاضر ہے۔ خلیفہ قادیان مرزا محمود احمد قادیانی کہتا ہے: ”حضرت (مرزا غلام احمد قادیانی) نے لکھا ہے کہ میں نے کوئی کتاب یا اشتہار ایسا نہیں لکھا جس میں گورنمنٹ کی وفاداری اور اطاعت کی طرف اپنی جماعت کو متوجہ نہیں کیا۔ پس حضرت (مرزا قادیانی) کا اس طرف توجہ دلانا اور اس زور کے ساتھ توجہ دلانا اس آیت کے ماتحت ہونے کی وجہ سے گویا اللہ اور اس کے رسول کا ہی توجہ دلانا ہے۔ (نعوذ باللہ من ذالک) اس سے سمجھ لو کہ اس طرف توجہ کرنے کی کس قدر ضرورت ہے۔‘‘
(مندرجہ اخبار الفضل قادیان مورخہ ١٥؍ اگست ١٩١٧ء)
اللہ رے صاحب!
ہم کو نسبت ہے دست و داماں کی
ہم کو مشاطگی ازل سے ملی
آپ کے کاکل پریشاں کی
اور اگر یہ کہا جائے کہ مرزائی انگریز کی اطاعت کو اللہ اور رسول کی اطاعت سے بھی زیادہ اہم اور مقدم سمجھتے تھے تو بے جا نہ ہوگا۔ کیونکہ مرزائیت کی تاریخ ہمیں بتلاتی ہے کہ مرزا قادیانی اور اس کے اخلاف، اس کی اولاد اور اس کی امت، قرآن وحدیث کی ان واضح نصوص کا تو انکار کر دیتے اور اس کی تاویل کر لیتے تھے۔ جن کی زد انگریز پر پڑتی ہے۔ لیکن انگریز کی خاطر انہیں جائز کو ناجائز بنادینے میں بھی کوئی باک نہ تھا۔ یہی وجہ ہے، باوجودیکہ مرزا غلام احمد قادیانی واضح طور پر اعلان کر چکا تھا کہ: ”گورنمنٹ انگلشیہ خدا کی نعمتوں میں ایک نعمت ہے۔ یہ ایک عظیم الشان رحمت ہے۔ یہ سلطنت تمام مسلمانوں کے لئے برکت کا حکم رکھتی ہے۔ خداوند کریم
١٢٣
نے اس سلطنت کو مسلمانوں کے لئے باران رحمت بنا کر بھیجا۔ اس سلطنت سے لڑائی اور جہاد کرنا قطعا حرام ہے۔“
(شہادت القرآن ص ٩٢، خزائن ج ٦ ص ٣٨٨)
اور
دین کے لئے حرام ہے اب جنگ وجدال
(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٢٦، خزائن ج ١٧ ص ٧٧)
اور: ”ہمارے امام (مرزا غلام احمد قادیانی) نے ایک بڑا حصہ جو ٢٢ برس ہیں۔ اس تعلیم میں گزارا ہے کہ جہاد حرام ہے اور قطعاً حرام ہے۔ یہاں تک کہ بہت سی عربی کتابیں مضمون مخالف جہاد لکھ کر ان کو بلادِ اسلام عرب، شام، کابل وغیرہ میں تقسیم کیا۔“
(قادیانی رسالہ ریویو آف ریلیجنز بابت ١٩٠٢ء)
اور اس بات کے باوصف کہ جب ١٩٢٩ء میں ایک دریدہ دہن ہندو غنڈے راجپال نے سرور کائنات محمد کریم فداہ ابی، امی و روحی ﷺ کے خلاف ایک ذلیل کتاب ”رنگیلا رسول“ کے نام سے لکھی اور اسی پر لاہور کے ایک فدائی غازی علم الدین شہیدؒ نے اس کا کام تمام کر دیا تو مرزا بشیر الدین نے اس پر ان الفاظ میں تبصرہ کرتے ہوئے اپنے باپ کے بتلائے ہوئے مسلک کی تائید کی: ”وہ نبی بھی کیا نبی ہے جس کی عزت کو بچانے کے لئے خون سے ہاتھ رنگنے پڑیں۔ وہ لوگ جو قانون کو اپنے ہاتھ میں لیتے ہیں وہ مجرم ہیں اور اپنی قوم کے دشمن ہیں۔“
(الفضل قادیان مورخہ ١٩؍ اپریل ١٩٢٩ء)
اس کے باوجود اور اس کے باوصف جب مسئلہ سرکارِ دولت مدار انگریزی کا ہوتا ہے تو وہی حرام اور ناجائز حلال اور جائز بن جاتا ہے: ”صرف یہ التماس ہے کہ سرکار دولت مدار ایسے خاندان کی نسبت جس کو پچاس سال کے متواتر تجربہ سے ایک وفادار جاں نثار خاندان ثابت کر چکی ہے۔ خود کاشتۂ پودہ کی نسبت نہایت حزم واحتیاط اور تحقیق اور توجہ سے کام لے اور اپنے ماتحت حکام کو اشارہ فرمائے کہ وہ بھی اس خاندان کی ثابت شدہ وفاداری اور اخلاص کا لحاظ رکھ کر مجھے اور میری جماعت کو ایک خاص عنایت اور مہربانی کی نظر سے دیکھیں۔ ہمارے خاندان نے سرکار انگریزی کی راہ میں اپنے خون بہائے اور جان دینے سے فرق نہیں کیا اور نہ اب فرق ہے۔“
(مندرجہ تبلیغ رسالت ج ٧ ص ١٩، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢١)
ان الفاظ کو دوبارہ پڑھیں اور سوچیں کہ اللہ کی راہ میں جان دینا اور خون بہانا
١٢٤
حرام، اس کے ناموس پر کٹنا نا جائز اور انگریز کی راہ میں خون دینا عین حلال اور اس کی آبرو پر مٹنا کار ثواب ۔ مولانا ظفر علی خان نے کیا خوب کہا تھا۔
شریعت قادیاں کی ہے رضا جوئی نصاریٰ کی
اور بڑے میاں سو بڑے میاں چھوٹے میاں (محمود قادیانی) سبحان اللہ!
”عراق کی فتح کرنے میں احمدیوں نے خون بہانے اور میری تحریک پر سینکڑوں آدمی بھرتی ہو کر چلے گئے ۔“
(خطبہ مرزا محمود خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل قادیان مورخہ ٣١ اگست ١٩٣٣ء)
اور: ”جب کابل کے ساتھ جنگ ہوئی تب بھی ہماری جماعت نے اپنی طاقت سے بڑھ کر مدد دی اور علاوہ اور کئی قسم کی خدمات کے ایک ڈبل کمپنی پیش کی جس کی بھرتی بوجہ جنگ بند ہو جانے کے رک گئی۔ ورنہ ایک ہزار سے زائد آدمی اس کے لئے نام لکھوا چکے تھے اور خود ہمارے سلسلہ کے بانی کے چھوٹے صاحبزادہ اور ہمارے موجودہ امام کے چھوٹے بھائی نے اپنی خدمات پیش کیں اور چھ ماہ تک ٹرانسپورٹ کور میں آنریری طور پر کام کرتے رہے۔“
(مندرجہ اخبار الفضل قادیان مورخہ ٤ جولائی ١٩٢١ء)
اور تو اور خود خلیفہ قادیان کے دل میں انگریز کی خاطر جان سپاری اور جانثاری کے جذبہ صادقہ کا یہ عالم ہے کہ: ”جو گورنمنٹ ایسی مہربان ہو اس کی جس قدر بھی فرمانبرداری کی جائے تھوڑی ہے۔ اگر میں خلیفہ نہ ہوتا تو والنٹیر ہو کر جنگ یورپ میں چلا جاتا۔“
(انوار خلافت ص ٩٦)
امام ان کا ہے گٹھ کٹا، نبی ان کا لٹیرا ہے
اور یہی خلیفہ مرزائیت جس نے سرور دو عالم ﷺ کی اہانت اور آپ کی گستاخی کے مرتکب کے قتل پر اظہار ناپسندیدگی کیا تھا۔ انگریز کے پروردہ اور خودکاشتہ پودے اپنے باپ متنبّی قادیان کی حرمت وعزت کی خاطر اس قدر جوش و غیرت کا ثبوت دیتا ہے کہ جب مولوی عبدالکریم نامی ایک شخص نے مرزا قادیانی اور اولاد مرزا کی سیاہ کاریوں سے مطلع ہو کر مرزائیت سے توبہ کی اور مرزا غلام احمد قادیانی کی اور اس کے اخلاف کی زندگیوں کو بے نقاب کرنا شروع کیا تو مرزا محمود احمد قادیانی نے کہا: ”اپنے دینی اور روحانی پیشوا کی معمولی ہتک بھی کوئی برداشت نہیں کر سکتا۔ اس قسم کی شرارتوں کا نتیجہ لڑائی، جھگڑا حتیٰ کہ قتل و خونریزی بھی معمولی بات ہے۔ اگر اس سلسلہ میں کسی کو پھانسی دی جائے اور وہ بزدلی دکھائے تو ہم اسے ہرگز منہ نہیں لگائیں گے۔ بلکہ میں تو اس کا
١٢٥
جنازہ بھی نہیں پڑھوں گا۔“
(الفضل قادیان مورخہ ١١؍ اپریل ١٩٣٠ء)
اور : ”جب تک ہمارے جسم میں جان اور بدن میں توانائی ہے اور دنیا میں ایک احمدی بھی زندہ ہے۔ اس نیت کو لے کر کھڑے ہونے والے کو پہلے ہماری لاشوں پر گزرنا ہوگا اور ہمارے خون میں تیرنا ہوگا۔“
(الفضل قادیان مورخہ ١٥؍ اپریل ١٩٣٠ء)
ذرا غلام ہندی کے لئے اس غیرت کو اور رسول عربی ﷺ کے لئے اس بے غیرتی کو ملاحظہ فرمائیے۔ جبکہ اس ایسے لاکھوں غلاموں کو سرور ہاشمی ﷺ کے جوتوں پر قربان کیا جاسکتا ہے۔ اور پھر انہی جوشیلی اور حمیت بھری تقریروں سے متاثر ہو کر ٢٣؍ اپریل ١٩٣٠ء کو ایک مرزائی محمد علی نے مولوی عبدالکریم پر قاتلانہ حملہ کر دیا۔ جس کے نتیجہ میں مولوی عبدالکریم زخمی اور ان کا ایک ساتھی محمد حسین قتل ہوا اور جب ١٦؍ مئی ١٩٣١ء کو اسے پھانسی دے دی گئی تو خود مرزا محمود احمد قادیانی نے اس کے جنازہ کو کندھا دیا اور مرزائیوں کے بہشتی مقبرہ میں دفن کیا۔
وہ تیرگی جو میرے نامہ سیاہ میں تھی
سرکار! بات چلی تھی انگریز کی کاسہ لیسی کی، اب بتلائیے کہ انگریز کا آلہ کار کون تھا، وہ راہ نوردان شوق کہ سر پہ کفن باندھ کے تختہ دار کو چومنے کے لئے چلے۔ یا وہ طبقہ سافلہ کہ جن کی آرزوؤں کا معراج پایہ ہائے انگریزی کو بوسے دینا اور خسروان کفر کو سجدے کرنا تھا؟ اور کیا لغت میں ایسے لوگوں کے لئے ایجنٹ یا آلہ کار کے علاوہ بھی کوئی موزوں لفظ ہے۔ جب مرزائیت کے یہ اب و جد، کفر اور کافروں کے جوتوں میں جان دینا اپنا مقصود اور اپنا مطلب قرار دے رہے تھے۔
اہل حدیث ایسے لوگوں کی نماز جنازہ بھی پڑھنے کے روادار نہ تھے۔ جنہوں نے انگریز کی حمایت نہیں بلکہ انگریز کی مخالفت میں مداہنت کا ثبوت دیا ہو۔ چنانچہ مولانا مسعود عالم ندویؒ اپنی کتاب ”ہندوستان کی پہلی اسلامی تحریک“ میں مولانا ولایت علی کے فرزند مولانا محمد حسین صاحب کے بارہ میں لکھتے ہیں کہ: ”وہ انگریزوں کے اس قدر مخالف نہ تھے۔ جس قدر ان کے اسلاف اس لئے جب ان کا انتقال ہو گیا تو مشہور اہل حدیث عالم، مولانا عبدالحلیم صادق پوریؒ (١٢٦١ھ، ١٣٣٧ھ) خلف مولانا احمد اللہ امیر انڈیمان تو اتنے سخت تھے کہ انہوں نے مولوی محمد حسین صاحب مرحوم کی نماز جنازہ بھی نہیں پڑھی۔“
(کتاب مذکورہ ص ٩٠)
شکار تیر جفا اور کون ہے میں ہوں
١٢٦
قتیل تیغ ادا اور کون ہے میں ہوں
جب مرزائی انگریز کے تلوے چاٹ رہے تھے اور اس کی چوکھٹ پر ناصیہ فرسائی کر رہے تھے اور اپنی اسلام، ملک اور قوم دشمنی کا صلہ مانگ رہے تھے۔ اہل حدیث کے خلاف انبالہ، پٹنہ، مالوہ، راج محل اور پھر پٹنہ میں بغاوت کے جرم میں مقدمے چلائے جارہے تھے اور انہیں پھانسی کی سزائیں سنائی جارہی تھیں اور جب پھانسی کی سزا سن کر ان کے چہروں پر لقاء رب کی نوید سے خوشی کی لہر دوڑ گئی تو پھانسی کو عبور دریائے شور اور دوام حبس کی سزا میں تبدیل کیا جارہا تھا۔ ان ہی اسیران بلا میں سے ایک اور سید نذیر حسین محدث دہلوی کے شاگرد مولوی محمد جعفر تھانیسری بیان کرتے ہیں: ”١١؍ ستمبر ١٨٦٤ء کو ڈپٹی کمشنر صاحب پھانسی گھروں میں تشریف لائے اور چیف کورٹ کا حکم پڑھ کر سنایا کہ تم لوگ پھانسی پڑنے کو بہت دوست رکھتے ہو اور اسے شہادت سمجھتے ہو۔ اس واسطے سرکار تمہاری دل چاہتی سزا تم کو نہیں دیوے گی۔ تمہاری پھانسی سزائے دوام الحبس بعبور دریائے شور سے بدل گئی۔ مجرد سنانے اس حکم کے پھانسی گھروں سے دوسرے قیدیوں کے ساتھ بارکوں میں بند کی اور جیل خانے کے دستور کے مطابق مقراض سے ساری ڈاڑھی مونچھ اور سر کے بال تراش کر منڈی کی بھیڑ سا بنا دیا۔ (غدارو اور ذلہ خوارو! اپنوں کی بے غیرتی دیکھ چکے اب ذرا ہماری مردانگی اور شجاعت دیکھو) اس وقت میں نے دیکھا کہ مولوی یحییٰ علی صاحب (امیر المجاہدین) اپنی ڈاڑھی کے کترے ہوئے بالوں کو اٹھا اٹھا کر کہتے۔ افسوس نہ کر تو خدا کی راہ میں پکڑی گئی اور اس کے واسطے کتری گئی۔“
(تواریخ عجیب ص ٤٤)
امیر المجاہدین مولانا یحییٰ علی نے قید تنہائی اور سزائے دوام الحبس بعبور دریائے شور کو جس استقامت اور خندہ پیشانی سے برداشت کیا وہ تاریخ حریت کا ایک سنہرا باب ہے۔ صاحب در منثور لکھتے ہیں: ”ہمارے حضرات اس قید تنہائی میں پھر تخمیناً دو اڑھائی مہینے رہے اور نہایت صبر و استقلال کے ساتھ ان ایام کو آپ نے برداشت کیا اور جب کوئی سپاہی پہرہ دینے والا یا اور کوئی سپاہی قیدی آپ کے سامنے آ جاتا ہندو یا مسلمان سب کو آپ توحید باری تعالیٰ کا وعظ سناتے اور عذاب آخرت و قبر وغیرہ سے ڈراتے۔ سپاہی کھڑا روتا اور جب اس کے پہرے کی بدلی ہوتی تو اس صحبت کو چھوڑ کر جانا پسند نہیں کرتا۔ میں کچھ نہیں لکھ سکتا کہ کس قدر فائدہ اس وقت پہرہ والوں کو پہنچا اور کتنے موحد ہو گئے اور کتنے دین آبائی کو چھوڑ کر مسلمان ہو گئے۔“
(معروف بہ تذکرہ صادقہ ص ٧٠)
١٢٧
اور پھر انہیں مجاہدوں کو ان کی انگریز دشمنی کی سزا یہ دی گئی کہ : ”ریون شا مجسٹریٹ مقدمہ سازش انبالہ کی تجویز پر کہ صادق پور کا احاطہ پٹنہ میونسپلٹی کو دیا جائے اور تمام مکانات زمین کے برابر کر دیئے جائیں اور وہاں ایک بازار بنایا جائے۔ کیونکہ میرے خیال میں اس سے زیادہ اچھا مصرف اس زمین کا نہیں ہو سکتا۔ (میمورنڈم ص ٢٦، ٢٧) اور پھر نہ صرف عید کے دن ان کے مکانات منہدم کر دیئے گئے ۔ بلکہ ان کے بزرگوں کی قبریں تک بھی کھدوا دی گئیں۔“
(تذکرہ صادقہ ص ١٧٩)
مولانا یحییٰ علی کو جب اس واقعہ کا علم ہوا تو گھر والوں کو لکھا: ”آج شب سرور کائنات ﷺ کی زیارت ہوئی۔ آپ نے تبسم فرماتے ہوئے اس آیت کریمہ کی تلاوت فرمائی۔“ ”وبشر الصبرین الذین اذا اصابتهم مصیبة قالوا انا لله وانا الیه راجعون ٠ اولئك علیهم صلوات من ربهم ورحمة واولئك هم المهتدون“
(ہندوستان کی پہلی اسلامی تحریک ص ١٥٧، ١٥٨)
ہر ہوسنا کے نداند جام و سندان باختن
اہل حدیث، ہند کی انگریز حکومت کی نگاہوں میں کس طرح کھٹکتے تھے۔ اس کا اندازہ صرف اس ایک چھوٹی سی عبارت سے کیا جا سکتا ہے۔ جسے مولانا عبدالرحیم صادق پوری، مولانا احمد اللہ کے حالات میں رقم کرتے ہیں۔ وہ پٹنہ کے انگریز کمشنر مسٹر ٹیلر، اور اس کی اسلام اور جہاد دشمنی کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ”اس وقت ٹیلر صاحب اور ان کے مشیر بمثل عقرب کمر بستہ کھڑے ہو گئے اور چوکڑی بھرنے لگے اور چونکہ حکام ضلع و گورنمنٹ اس وقت خاندان صادق پور سے خصوصاً اور جملہ فرقہ اہل حدیث سے عموماً بدظن و غضبناک ہو رہی تھی۔ اس کا موقعہ پا کر جھٹ ان کمینوں نے حکام ضلع و گورنمنٹ کے کان میں پھونکا کہ یہ ممکن نہیں کہ مولوی یحییٰ علی و عبدالرحیم و جملہ فرقہ اہل حدیث اس بغاوت کے جرم میں ملوث ہوں اور مولوی احمد اللہ اس سے بری ہوں۔“
(تذکرہ صادقہ ص ٤٦، ٤٧)
سانچے میں مشکلات کے ڈھالے ہوئے ہیں ہم
وہ دولت جنوں کہ زمانے سے اٹھ گئی
اس دولت جنوں کو سنبھالے ہوئے ہیں ہم
١٢٨
ہمارے اسلاف تو انگریز کے خلاف جہاد وقتال میں مصروف اور ہندوستان کو دارالحرب قرار دینے میں مشغول رہے اور مرزائیت کے اب وجد انگریز کی خاطر جاسوسی کے فرائض سر انجام دیتے رہے۔ مرزا غلام احمد اقراری ہے: ”چونکہ قرین مصلحت ہے کہ سرکار انگریزی کی خیر خواہی کے لئے ایسے نا فہم مسلمانوں کے نام بھی نقشہ جات میں درج کئے جائیں جو درپردہ اپنے دلوں میں برٹش انڈیا کو دارالحرب قرار دیتے ہیں....... لہذا یہ نقشہ اس غرض کے لئے تجویز کیا گیا تا کہ اس میں ان ناحق شناس لوگوں کے نام محفوظ رہیں جو ایسی باغیانہ سرشت کے آدمی ہیں..... ہم امید کرتے ہیں کہ ہماری گورنمنٹ حکیم مزاج بھی ان نقشوں کو ایک ملکی راز کی طرح اپنے کسی دفتر میں محفوظ رکھے گی۔ ایسے لوگوں کے نام مع پتہ ونشان یہ ہیں۔“
(تبلیغ رسالت ج ٥ ص ١١، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٢٢٧، ٢٢٨)
شاعر رسول مولانا ظفر علی خان نے ان کے بارے میں کیا خوب کہا تھا۔
نکو کاری کے پردے میں سیہ کاری کا حلیہ ہے
یہ وہ تلبیس ہے ابلیس کو خود ناز ہے جس پر
مسلمانوں کو اس رندے نے اچھی طرح چھیلا ہے
پلی ہے مغربی تہذیب کے آغوش عشرت میں
نبوت بھی رسیلی ہے پیمبر بھی رسیلا ہے
نصاریٰ کی رضا جوئی ہے مقصد اس نبوت کا
اور ابطال جہاد انجاح مقصد کا وسیلہ ہے
اور جس طرح جہاد اور مسئلہ جہاد توارثاً اہل حدیث کو منتقل ہوتا رہا ہے۔ انگریز کی غلامی کا جوا بھی مستقل طور پر مرزائیت کے گلے میں پڑا رہا اور ہنوز پڑا ہوا ہے۔ چنانچہ اہل حدیث قیام پاکستان تک ہندوستان کے مختلف علاقوں میں سرگرم جہاد رہے اور ان کی مفصل تاریخ کے لئے ملاحظہ کیجئے۔ مولانا مہر کی کتاب ”سرگزشت مجاہدین“ اور آخری جہاد جس میں انہوں نے حصہ لیا جہاد کشمیر ہے۔ بالکل اسی طرح مرزائی آخری وقت تک انگریز کے قدموں میں لیٹے اور اس کے دامن سے چمٹے رہے اور اب تک اس کی محبت سینے سے لگائے ہوئے ہیں۔ چنانچہ مرزا محمود انگریز آقا پرستی پر فخر کرتے رہے اور اب بھی امت مرزائیہ انگریزی عدل وانصاف کے گن گاتی ہے۔ کیوں نہ ہو کہ مرزا غلام احمد نے ”اسے اپنی تلوار اور اپنی ڈھال قرار دیا تھا ۔“
(اخبار الفضل قادیان مورخہ ٧؍دسمبر ١٩١٨ء، ١٩؍اکتوبر ١٩١٥ء)
١٢٩
اور اسی لئے سقوط بغداد اور زوال خلافت پر جب پوری امت مسلمہ سوگ منا رہی تھی۔ قادیانی غدار اس سقوط و زوال پر انگریزی فتح کی خوشی میں چراغاں کر رہے اور جشن منا رہے تھے۔ اللہ دتہ اور اس کے ہمنوا مرزائیو!
بس ہو چکی نماز مصلے اٹھائیے
رہا معاملہ مولانا محمد حسین بٹالوی کے دو ایڈریسوں کا تو ہم اس سلسلہ میں متنبی قادیانی کی امت کی طرح کسی قسم کی تاویل و تحریف کے چکر میں پڑنے کی بجائے اس بات کا اظہار کرتے ہیں کہ اگر کسی فرد یا چند افراد نے ایسا کیا تو غلط کیا۔ ہم انہیں نہ معصوم سمجھتے ہیں اور نہ صاحب شریعت کہ ان کی ہر بات ہمارے لئے حجت و سند ہو۔ قوم میں ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جن سے غلطیوں اور لغزشوں کا صدور ہوتا ہے۔ ان سے مجموعی طور پر قوم کے دامن پر دھبہ نہیں لگ سکتا اور نہ ہی ان کی بناء پر کسی گروہ کو مطعون کیا جاسکتا ہے۔
١؎ انہی حوالوں کو لے کر کراچی کے محمد ایوب قادری نے اہل حدیث کے خلاف دل کے پھپھولے جلائے۔ ہمیں افسوس ہے کہ احباب دیوبند میں سے کچھ غیر ذمہ دار لوگ موقع بے موقع اہل حدیث کو اپنی کرم فرمائیوں سے نوازتے رہتے ہیں۔ جس کی بناء پر دوسری جانب سے بھی کچھ تند و تیز باتیں نکل جاتی ہیں۔ لیکن ہمیں زیادہ افسوس اپنے بھائی مولانا محمد تقی عثمانی پر ہے جو حضرت مولانا مفتی محمد شفیع کے فرزند ہیں کہ انہوں نے کس طرح اس قسم کا غیر ذمہ دارانہ اور تلخ و تیز مضمون اپنے موقر رسالے ”البلاغ“ میں شائع کیا اور وہ بھی ایک ایسے وقت میں جبکہ ملک میں اسلامی قوتیں غیر اسلامی نظام کی حامی طاقتوں کے خلاف صف آراء تھیں اور جس کے نتیجے میں دوسری طرف سے بھی نا خوشگوار انداز میں دیوبندی اکابر کو معرض بحث میں لانا پڑا۔ اگر چہ سب سے پہلے دوستوں نے ہم سے اس موضوع پر قلم اٹھانے کو کہا اور بعض نے بڑی حد تک مجبور بھی کیا۔ لیکن ہم باوجود اس مضمون کی تلخی اور اس کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی کوفت اور اذیت کے اور مواد کی فراہمی کے اسے ٹال گئے کہ یہ وقت اس قسم کی بحثوں کے لئے قطعاً موزوں نہیں۔ اگر چہ ہم کسی بھی وقت کو اہل حدیث اور دیوبندی حضرات کے درمیان خصوصاً منافرت کے لئے مناسب خیال نہیں کرتے۔ محمد ایوب صاحب سے کوئی گلہ نہیں۔ ان کی قادریت ان سے جو بھی کہلوائے، لکھوائے اور کروائے۔ لیکن حضرت مفتی صاحب کی نگرانی اور مولانا عثمانی کی مسئولیت میں اس قسم کی دل آزاری کا کوئی جواب نہیں۔
١٣٠
کیا مرزائی مرزا غلام احمد قادیانی کے بارہ میں اس بات کے کہنے کی جرات رکھتے ہیں۔ جبکہ وہ مرزائیت کا بانی اور مؤسس ہی نہیں بلکہ اس کا نبی ، رسول بھی ہے۔
نہ جانے اللہ دتہ مرزائی کو ایک اہل حدیث رسالہ کے مدیر کی اتنی موٹی بات کیوں سمجھ میں نہیں آسکی یا مرزائیت نے اس کی رہی سہی عقل کا جو پہلے بھی اس کے پاس کم تھی خاتمہ کر دیا ہے۔ اور پھر مولانا محمد حسین بٹالوی کے متعلق ماسوا اس کے کہ انہوں نے انگریز گورنر کے پنجاب یونیورسٹی کی بنیاد رکھنے ، لوکل گورنمنٹ کے اجراء ، چیفس کالج کے قائم کرنے ، پبلک لائبریری کے بنانے اور طلبہ کو وظائف دینے پر اس کا شکریہ ادا کیا ہے اور کون سی چیز ہے جس پر انہیں مطعون کیا جاسکتا ہے؟ کیا مرزا قادیانی کی، انگریز کی خاطر مسلمانوں کے خلاف جاسوسیاں اور انگریز کی خاطر مسلمہ اسلامی عقائد میں تحریف و تغیر اور مرزا غلام احمد قادیانی کے بیٹوں اور اخلاف اور امت کی انگریز کی راہ میں قربانیاں اور اس کی فتح اور مسلمانوں کی سلطنتوں کے سقوط پر جشن ہائے طرب اور اس کے اشارہ پر نبی اکرم سرور دو عالمﷺ کی خاتمیت نبوت پر دست درازیاں اور مولانا محمد حسین بٹالوی کی ایک انگریز گورنر کی چند اچھائیوں پر تعریف ایک برابر ہے؟ اگر چہ ہم اس انگریز دشمنی کی بناء پر جو ہمیں اپنے اسلاف سے ورثہ میں ملی ہے۔ اس کو بھی پسندیدہ خیال نہیں کرتے۔
لیکن جان مرزا! یہ تو بتاؤ کہ تمہاری بے غیرتی کو اس وقت کیا ہوا۔ جب تمہارا خائن باپ یہ کہہ رہا تھا کہ: ”ہم حکومت کی ایسی خدمت کرتے ہیں کہ اس کے پانچ پانچ ہزار روپیہ ماہوار تنخواہ پانے والے ملازم بھی کیا کریں گے۔“
(مندرجہ اخبار الفضل قادیان مورخہ یکم اپریل ١٩٣٠ء)
اور: ”ہم نے ملک معظم کی حکومت کو قائم کرنے کے لئے ملک کو اپنا دشمن بنالیا ہے۔ احرار کی تقریریں پڑھو، ان کو زیادہ غصہ اسی بات پر ہے کہ ہم حکومت کے جھولی چک ہیں۔ وہ صاف کہہ رہے ہیں کہ ہم اسی وجہ سے ان کے مخالف ہیں۔ کانگریس سے ہمیشہ یہی جنگ رہی ہے کہ وہ کہتے ہیں ۔ ہم غلام ہیں ۔“
(خطبہ جمعہ میاں محمود، مندرجہ اخبار الفضل قادیان مورخہ یکم نومبر ١٩٣٤ء)
اور: ”بہت سے افسر ایسے گزرے جو فخر سے کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے اپنے حسن سلوک سے پچاس ہزار یا لاکھ کی ایسی جماعت (قادیانی) ہندوستان میں چھوڑی ہے جو اپنی جانیں قربان کر کے بھی برطانیہ سے تعاون کرے گی ۔“
(مندرجہ اخبار الفضل قادیان مورخہ ٣٠؍ جولائی ١٩٣٥ء)
اور: ”ہم نے ابتدائے سلسلہ سے گورنمنٹ کی وفاداری کی۔ ہم ہمیشہ یہ فخر کرتے رہے کہ ہم ملک معظم کی وفادار رعایا ہیں۔ کئی ٹوکرے خطوط کے ہمارے پاس ایسے ہیں جو میرے نام پر یا میری جماعت کے سیکرٹریوں یا افراد جماعت کے نام ہیں۔ جن میں گورنمنٹ نے ہماری جماعت کی وفاداری کی تعریف کی ہے۔ اسی طرح ہماری جماعت کے پاس کئی ٹوکرے تحفوں کے
١٣١
ہوں گے۔ ان لوگوں کے تمغوں کے جنہوں نے اپنی جانیں گورنمنٹ کے لئے فدا کیں۔“
(مندرجہ اخبار الفضل قادیان مورخہ ١١ نومبر ١٩٣٤ء)
غدارو اور غداروں کے پیروکار! ان عبارتوں کو ایک مرتبہ پھر پڑھو اور ڈوب مرو کہ تم کن بدترین اسلاف کے بدترین اخلاف ہو۔
دامن کو ذرا دیکھ ذرا بند قبا دیکھ
اور
بات سچی ایک بھی نہ پائی ہم نے آپ کی
”وان تعودوا لن تغنی عنکم فئتکم شیئا ولو کثرت وان اللہ مع المؤمنین“
(بحوالہ ترجمان الحدیث جنوری ١٩٧١ء)
مرزائی دھوکہ باز
مدیر الفرقان ربوہ کے نام!
ہم نے ترجمان الحدیث کے نومبر اور جنوری کے شماروں میں مرزائیت کا جو پوسٹ مارٹم کیا تھا۔ پورے دارالکفر ربوہ میں اس سے کہرام مچا ہے۔ مرزائی منافقوں کی جماعت لاہور نے اس معاملہ میں دخل در معقولات کر کے خواہ مخواہ مرزا غلام احمد قادیانی کی رسوائی اور جگ ہنسائی کا سامان فراہم کیا اور اب تین ماہ سے لمبی تانے پڑے ہیں اور ہنوز مدیر ترجمان کے جواب کی جرات نہیں ہوئی اور نہ ہی اس کے ذکر کردہ کسی حوالے کی تغلیط کی ہمت پڑی ہے اور نہ ہی پڑ سکتی ہے۔ انشاء اللہ ! وگرنہ ادھر تو فیصلہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کی امت کا آخری لمحات تک تعاقب کرنا ہے اور رسالت مآب ﷺ کے باب ختم نبوت کی زندگی کے آخری سانسوں تک چوکیداری کرنی ہے اور بنا بریں ارشاد ربانی یہ ہے: ”وان تعودوا نعد ولن تغنی عنکم فئتکم شیئا ولو کثرت وان اللہ مع المؤمنین (الانفال:١٩)“ اور اگر تم باز نہ آئے اور دوبارہ مقابلہ کے لئے نکلے تو ہم بھی نکلیں گے اور تمہارا گروہ اپنی کثرت کے باوجود تمہارے کچھ کام نہ آسکے گا اور اللہ مومنوں کے ساتھ ہے۔
بہر حال پیغام صلح تو تب سے خاموش ہے۔ لیکن الفرقان ربوہ نے اپنے قارئین کو فریب دینے کی کوشش کی ہے۔ چنانچہ فروری، مارچ کے شمارہ میں ترجمان الحدیث کے نومبر اور
١٣٢
جنوری کے شمارہ میں اٹھائے گئے۔ سوالات اور اعتراضات کو چھوا تک نہیں گیا اور مرزا غلام احمد قادیانی کے بارہ میں اس کی اپنی ذکر کردہ عبارتوں میں جس میں اس نے خود اپنے انگریز کے پروردہ اور انگریز کے غلام ہونے پر فخر ومباہات کیا ہے۔ ایسی تاویل کی ہے جو شاید مرزا غلام احمد قادیانی کو بھی سوجھی نہ ہوگی اور پھر قصداً اس بات سے گریز کیا گیا اور ان حوالہ جات سے اعراض کیا گیا جس میں انگریز کے لئے اپنی اور اپنی جماعت کی خدمات کا ذکر ہے اور ان خدمات کو ڈھانپنے کے لئے دیگر اسلامی فرقوں کے علماء اور اکابرین کے ایسے حوالے پیش کئے گئے ہیں۔ جن میں انگریز کے کسی اصلاحی کارنامے پر یا مخالفین کی طرف سے حکومت کو انگیخت کی چالوں کو ناکام بنانے کے لئے اپنی برأت کا ثبوت پیش کیا گیا ہے۔ اس کے برعکس ہم نے غلام قادیانی اور قادیانیت کو خود اس کے اپنے حوالوں سے نہ صرف انگریز کا مداح بلکہ پروردہ آلہ کار اور ایجنٹ ثابت کیا ہے۔ جسے الفرقان کا برخود غلط مدیر مدح پر محمول کر کے اپنے آقا اور اپنی امت کے انگریزی استعمار کی تخلیق ہونے پر پردہ ڈالنا چاہتا اور انگریز کے لئے اس گراں قدر خدمات کو چھپانا چاہتا ہے۔ اس سلسلہ میں ہمارا اس موضوع پر مفصل مضمون تو پھر کبھی آئے گا۔ اس وقت صرف ایک حوالہ پیش خدمت ہے۔ جس میں الفرقان کے کج دل، کج دماغ اور کج فہم مدیر کے اعتذار اور فرار کے برعکس واضح طور پر انگریزی سرکار کی ذلہ خواری اور کاسہ لیسی کی گئی ہے اور متنبی قادیان انگریز کی اس خدمت میں اس حد تک آگے بڑھ گیا ہے کہ وہ اپنے ہی وطن کے سپوتوں اور اپنی ہی قوم کے جیالوں کے خلاف جاسوسی ایسے فعل قبیح سے بھی گریز نہیں کرتا۔ جس کی بناء پر نواب صدیق حسن خاں ایسے حریت پسندوں اور مجاہدوں کے سرپرست اور مربی کو تخت ریاست سے معزول ہونا اور انواع واقسام کے محن اور فتن کا شکار ہونا پڑا اور مجاہدین آزادی کو کمک پہنچانے اور ان کی سپلائی لائن کو برقرار رکھنے کے لئے انہیں مصلحتاً انگریز کی خیر خواہی کے کلمات کہنے پڑے اور یہ داستان ایک دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے۔ جس کی صداقت سے کوئی صاحب علم انکار نہیں کر سکتا اور اسی طرح ہندوستان میں مسلمانوں کے وکیل حضرت مولانا محمد حسین بٹالوی کو بھی ان بے گناہ معصوم لوگوں پر ہونے والے مظالم کو روکنے کے لئے انگریزی حکومت کو اطمینان دلانے کی ضرورت پیش آئی۔ جن کی رپٹ غلام قادیان ایسے انگریزی ایجنٹ اور مسلم کش ملت دشمن افراد تھانوں میں جا جا کر لکھوا رہے تھے۔ چنانچہ اس کا ثبوت ہماری زبان سے نہیں ، اپنے آقا کی زبان سے سنئے۔ غلام ہندی ولایتی آقاؤں کی خدمت اقدس میں گذارش پذیر ہے۔
”چونکہ قرین مصلحت ہے کہ سرکار انگریزی کی خیرخواہی کے لئے ایسے نافہم مسلمانوں
١٣٣
کے نام بھی نقشہ جات میں درج کئے جائیں جو درپردہ اپنے دلوں میں برٹش انڈیا کو دارالحرب قرار دیتے ہیں۔ لہٰذا یہ نقشہ اسی غرض کے لئے تجویز کیا گیا۔ تا کہ اس میں ان ناحق شناس لوگوں کے نام محفوظ رہیں جو اس باغیانہ سرشت کے آدمی ہیں۔ اگرچہ گورنمنٹ کو خوش قسمتی سے برٹش انڈیا میں ایسے لوگ معلوم ہو سکتے ہیں۔ جن کے نہایت مخفی ارادے گورنمنٹ کے برخلاف ہیں۔ اس لئے ہم نے اپنی محسن گورنمنٹ کی پولیٹکل خیر خواہی کی نیت سے اس مبارک تقریب پر یہ چاہا کہ جہاں تک ممکن ہو ان شریر لوگوں کے نام ضبط کئے جائیں جو اپنے عقیدے سے اپنی مفسدانہ حالتیں ثابت کرتے ہیں اور ہم امید رکھتے ہیں کہ ہماری گورنمنٹ حلیم مزاج بھی ان نقشوں کو ایک ملکی راز کی طرح اپنے کسی دفتر میں محفوظ رکھے گی۔ ایسے لوگوں کے نام مع پتہ ونشان یہ ہیں۔‘‘
(مندرجہ تبلیغ رسالت ج٥ ص١١، مجموعہ اشتہارات ج٢ ص٢٢٧، ٢٢٨)
اللہ دتہ مرزائی صاحب! بتلائیے اب بھی غلام قادیانی کے غلام انگریز کے ہونے اور مرزائیت کے انگریزی استعمار کے خود کاشتہ پودا اور کفر کی کاسہ لیسی میں کوئی شبہ ہے؟ اور اگر ابھی تک کچھ شکوک وشبہات باقی ہیں تو ہمیں اطلاع دیں۔ ہم آئندہ آپ کی پوری تشفی کر دیں گے۔ یہ الگ بات ہے کہ ہم ویسے ہی ان کی تشفی وتسلی کے لئے نیو رکھ چکے ہیں۔ تا کہ شاید اس سے کچھ حق کی متلاشی روحیں شقاوت ازلی سے بچ کر سعادت ابدی کو حاصل کر سکیں۔
آخر میں اس لطیفہ کا ذکر بے جا نہیں ہوگا کہ مرزائی پرچہ الفرقان ربوہ پر ترجمان الحدیث کی گرفتوں سے اس قدر بوکھلاہٹ طاری ہے اور مرزائیت کا بزدل برخود غلط خالدؔ اس قدر حواس باختہ ہے کہ اپنے اس پرچہ میں تقریباً دس مرتبہ ترجمان کا ذکر کرتا ہے۔ لیکن۔ سوا ایک مرتبہ کے ہر دفعہ ترجمان کا نام تک غلط لکھتا ہے اور اس پرچہ کے ہر ہر صفحہ پر اور پرچے کے سرورق پر اتنے موٹے اور جلی قلم سے لکھا ہوا نام تک پڑھنا نہیں آیا۔ متنبیٰ قادیان کی امت کے مقابلہ میں متنبی عرب کے اس شعر کو نقل کرنے کو کس قدر دل چاہتا ہے۔
واذا انطقت فاننی الجوزاء
(بحوالہ ترجمان الحدیث مئی ١٩٧١ء)
١۔ یاد رہے کہ اللہ دتہ مرزائی مدیر الفرقان کو مرزائیت کے خلیفہ ثانی اور مرزا غلام احمد قادیانی کے فرزند مرزا محمود نے خالد احمدیت کا لقب عطاء کر رکھا ہے۔ حالانکہ گیدڑ کو اگر شیر کی کھال پہنادی جائے تو وہ شیر نہیں بن جاتا۔ اور یہاں چہ نسبت خاک را بہ عالم پاک کا معاملہ بھی ہے۔
١٣٤
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
فسانۂ قادیان
حضرت مولانا محمد ابراہیم میر پوریؒ
بسم اللہ الرحمن الرحیم!
دیباچہ ...... پہلی نظر
مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کی جماعت کا لٹریچر قرآن حدیث میں غیر ضروری ترمیم بلکہ تحریف کا مجموعہ ہے۔ منقولی مباحثات میں غلط حوالے تراجم اور غلط استدلال اس جماعت کا طرۂ امتیاز ہے اور ایسی غلط بنیاد پر تعمیر کئے جانا ان کے ہاں کوئی عیب نہیں۔ خود مرزا قادیانی اپنے مخالف علماء کی تحریرات اور باہمی مباحثات کی روئیداد میں اکثر ردوبدل کے عادی تھے۔ اس فن میں مرزا قادیانی کو کافی دسترس تھی۔ وہ اس قسم کے واقعات کو ایسا رنگ چڑھاتے تھے کہ قاری غیر شعوری طور پر محسوس کرتا کہ علماء کے پاس مرزا قادیانی کے دلائل کا کوئی جواب نہیں اور مرزا قادیانی کی شکست کے باوجود فتح کا گمان ہوتا۔ مباحثہ لدھیانہ، مباحثہ دہلی، پیر آف گولڑہ سے تفسیر نویسی، مولانا ثناء اللہ کا سفر قادیان، اسی قسم کے واقعات ہیں کہ مرزا قادیانی کی شکست، فرار، انکار اور غیر حاضری کے باوجود وہ اپنے آپ کو سچے فاتح اور غالب ثابت کرنا چاہتے ہیں۔
مرزا قادیانی کے لٹریچر کی دوسری خوبی یہ ہے کہ وہ اپنے من گھڑت الہامات میں اتنی لچک رکھتے ہیں کہ وہ آنے والے ہر واقعہ پر چسپاں ہو سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا میں ہر پیش آمدہ حادثہ قادیاں کی الہامی پٹاری کے کسی کونہ میں بصد امانت رکھ لیا جاتا ہے۔ ہاں وہ الہامات جو متحدیانہ حیثیت میں پیش کئے گئے اور انہیں صدق و کذب کا معیار ٹھہرایا گیا۔ جب صاف طور پر غلط ثابت ہوئے تو اس قسم کے الہامات میں تحریف ترمیم یا اجتہادی غلطی کا عذر کر کے لچک کا کام لے لیا گیا۔ مثلاً مسٹر آتھم عیسائی کے سلسلہ میں ہر موافق مخالف جانتا ہے کہ ان کے لئے ١٥ ماہ میں مرجانے کا الہام تھا اور مدت مذکورہ کی آخری رات تک مرزا قادیانی اس کی موت کی انتظار بلکہ کوشش کرتے رہے۔ لیکن جب وہ نہ مرا تو اپنی ہی عبارات کی نئی نئی تشریحات شروع کر دی گئیں۔ پھر جب وہ مرزا قادیانی کی زندگی میں مر گیا تو فوراً لکھ دیا گیا کہ: ”ہماری پیش گوئی یہی تھی کہ ہم دونوں میں سے جو جھوٹا ہے سچے سے پہلے مرے گا۔“
(کشتی نوح ص ٦، خزائن ج ١٩ ص ٦ ملخص)
اس کے علاوہ قادیانی لٹریچر پر براہ راست نظر رکھنے والا فوراً اس نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ مرزا قادیانی اخلاقی حیثیت میں کسی اونچے مقام پر نہ تھے۔ ان کے بچپن، جوانی اور بڑھاپے کے اکثر واقعات ایسے ہیں جن کی موجودگی میں ان کو مصلح، مہدی، مجدد وغیرہ القاب سے یاد کرنا خود
٢
ان معزز الفاظ کی توہین ہے۔ وہ عام اخلاق جو ہر شریف انسان میں ہونے چاہیں آپ ان سے بھی عاری تھے۔ عہد شکنی، کذب بیانی، اختلاف بیانی، مغالطہ بازی، بہتان طرازی، مقدمہ بازی، دنیا پرستی، زن پرستی، حکومت پرستی، ہوس پرستی، آپ کی زندگی کے اہم عنوان ہیں۔
ان تمام امور کی وضاحت کے لئے ضروری تھا کہ مرزا قادیانی کی زندگی کو تاریخی رنگ میں پیش کیا جائے اور ان کی زندگی کے واقعات سے ان کا صدق و کذب ظاہر کیا جائے۔ میں نے اس کتاب میں مرزائی لٹریچر سے ہی مرزا قادیانی کی تصویر پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ میں نہیں کہہ سکتا کہ میں اپنے مقصد میں کہاں تک کامیاب ہوا ہوں۔ اس کا صحیح فیصلہ تو قارئین ہی کر سکیں گے۔
ہاں میں نے اپنی ذمہ داری کے پیش نظر کسی حوالہ میں خیانت، تحریف لفظی یا معنوی سے اپنے دامن کو داغدار نہیں ہونے دیا۔ کتاب مذکورہ کے جملہ حوالہ جات کی صحت نقل کا میں ذمہ دار ہوں۔ بایں ہمہ سہو و نسیان کا قطعی انکار مناسب نہیں۔ اس لئے عامتہ المسلمین کے علاوہ اگر مرزائی صاحبان بھی اس سلسلہ میں کوئی نشاندہی فرمائیں تو میں بشکریہ قبول کروں گا۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
تقدیمہ ...... از قلم شیخ الحدیث مولانا محمد اسماعیل، گوجرانوالہ
”الحمد للہ وکفٰی وسلام علٰی عبادہ الذین اصطفٰی“
تیرہویں صدی کے اواخر میں اہل توحید اس فکر میں تھے کہ انگریز کے تسلط کی گرفت کو جس قدر جلد ممکن ہو ڈھیلا کر دیا جائے۔ علماء حق کی پوری توجہ اسی طرف لگ رہی تھی۔ اس وقت ظاہری بغاوت اور مسلح انقلاب کی کوششیں بظاہر ناکام ہو چکی تھیں۔ انگریز ١٨٥٧ء میں جو انتقامی مظاہرہ کر چکا تھا۔ اس کی خواہش تھی۔ اسے برداشت کر لیا جائے یا کم از کم ملک اسے بھول جائے۔
تحریک اہل حدیث کا یہ مقصد تھا کہ اگر انگریز ملک سے نکل نہ سکے تو اسے ہمیشہ کے لئے بے چین ضرور کیا جائے۔ اس مقصد کے لئے تقسیم کار کے طور پر ایک گروہ نے بنگال، پنجاب اور یو۔پی، سی۔پی کے بعض اطراف سے ہجرت کر کے سوات بونیر کے اطراف میں علاقہ آزاد کو اپنے قیام گاہ کے لئے انتخاب فرمایا اور یہی ان کی کوششوں کا مرکز قرار پایا۔ ان لوگوں کو پورے متحدہ ہندوستان سے امداد پہنچتی تھی۔ ہزاروں روپیہ اس کشت زار کی آبیاری میں صرف ہوتا اور یہ سرحدی چوکیوں پر مسلح یورشیں کرتے تاکہ انگریز پریشان رہے۔ چنانچہ انہوں نے حسب طاقت اسے پریشان رکھا۔
٣
کچھ لوگ یہی کام انڈرگراؤنڈ کرتے تھے۔ ان لوگوں کی مدد کرتے، روپیہ جمع کرتے اور بیرونی مراکز کو بھیجتے۔ ڈاکٹر ہنٹر نے ان جماعتوں کو افسانوی صورت دینے کے لئے بڑی مبالغہ آمیزی سے کام لیا ہے۔ تاکہ پٹنہ اور انبالہ کے وہابی مقدمات کے لئے زمین تیار کرے اور دنیا کی نظروں میں خاک جھونک سکے۔ انڈمان پھانسی اور عمر قید کی سزاؤں کو حق بجانب ثابت کر سکے۔ ان واقعات کو مبالغہ آمیز سمجھنے کے باوجود اس تحریک، اس کے طریق عمل، ان کے پروگرام میں ایک جان تھی۔ وہ اشتہارات اور صرف پروپیگنڈہ کا پروگرام نہ تھا اور حسرت ہے کہ آج یہ جماعت ہر عمل میں محروم ہے۔ ”غیر الجدل والحسد“
چنانچہ ان اعمال کی پاداش کے لئے انگریز نے پر تولنے شروع کئے اور معمولی وقفوں کے بعد انبالہ کیس، پٹنہ کیس، قاضی کوٹ، بم کیس شروع کرائے۔ بے گناہوں کو عبور دریائے شور پھانسی، اور عمر قید کی سزائیں دے کر اپنی قوم کی تاریخ کو سیاہ کیا اور شاید اپنی مصیبتوں کی پاداش میں اپنے وقار کی لاش پر اب مرثیہ خوان ہیں۔ مظلوم شہید کے خون سے سرخ رخسارے، اپنی نو آبادیاں چھوڑ، آبدیدہ آنکھوں کے ساتھ انگلستان کی بے آب و گیاہ سرزمین میں سمٹ رہے ہیں۔ توقع ہے کہ قدرت کے منتقم ہاتھ اسرائیل کو فلسطین میں اور آلِ ٹام کو اپنے مختصر جزیرے میں سمیٹنے کے بعد عبرت کی موت دے کر ظالموں کے لئے ایک نشان قائم فرمائیں گے۔
قادیانی تحریک اور قدرت کی ستم ظریفی
یہ ناخوشگوار حالات تھے کہ انگریز کی خوش قسمتی نے ایک نئی تحریک کو جنم دیا جو اہل توحید کی مشکلات میں مزید اضافہ کا موجب بنا۔ ان حالات میں مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کی قادیانی تحریک ظاہر ہوئی۔ مرزائی اور ان کے رفقاء حق گوئی کی جو سزا حکومت کی طرف سے مجاہدین اور موحدین ہند کو دی گئی تھی۔ اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے تھے۔ انہوں نے پوری احتیاط سے اس راہ کو چھوڑ دیا۔ انہوں نے انگریزی حکومت کی وفاداری کو جزو ایمان قرار دیا۔ فریضہ جہاد کا انکار کیا۔ ضرورت ہجرت کو ختم کر دیا۔ انگریز کی مملکت ان کی نظر میں قریباً ایک اسلامی حکومت تھی۔ جس کے خلاف بغاوت گناہ، اور اسی سے قتال عند اللہ معصیت، ایک تھرڈ کلاس فوجی خاندان اور گھٹیا قسم کا زمیندار گھرانہ جسے کل سات سو روپے سالانہ وظیفہ ملتا تھا اور اس میں بھی کئی کنبے حصے دار تھے۔ اپنی ساکھ کو قائم کرنے کے لئے اس سے زیادہ کر ہی کیا سکتا تھا۔ قلت علم اور اس کے ساتھ غربت اور زندگی کی مشکلات کا غیرت مندی سے کیا حل ہو سکتا تھا۔ حالات کی ناسازگاری اس سے بھی واضح تھی کہ منشی غلام احمد کے والد بزرگوار مرزا غلام مرتضیٰ کا بٹالہ میں معمولی سا مطب تھا۔ خود
٤١
مرزا قادیانی نہ ذہین تھے نہ محنتی۔ اس کی شہادت ان کی تصانیف اور ان کی زندگی کے تعلیمی زمانہ سے ملتی ہے۔ بیچارے محنت سے جی چراتے رہے اور مختاری جیسا معمولی امتحان دیا۔ ان کے دوست لالہ بھیم سین کامیاب ہوئے اور مرزا قادیانی ناکام ہو گئے۔
ایسا جامع صفات انسان اس سے زیادہ کر ہی کیا سکتا تھا کہ حکومت کی خوشامد کرلے۔ مسلمانوں میں خلفشار پیدا کرلے۔ حکومت کی مخالفت سے روکے اور مسلمانوں کی قوۃ جہاد کو ختم کرے اور لیڈری کی دوکان چمکائے۔
مرزا قادیانی کا لہجہ
ایک پیغمبر کا لہجہ ملاحظہ فرمائیے: ”میری عمر کا اکثر حصہ سلطنت انگریزی کی وفاداری میں گزرا ہے اور میں نے مخالفت جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں اور اشتہارات شائع کئے ہیں۔ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں۔“
(تریاق القلوب ص ١٥، خزائن ج ١٥ ص ١٥٥)
اس انداز سے واضح ہوتا ہے کہ یہاں نبوت کا سوال نہیں۔ سوال تھا اس اقتدار کے حصول کا، جو مرزا قادیانی کے بزرگ غلط روی اور کم علمی سے کھو چکے تھے۔ جس کے لئے ان کے بزرگ مسلمانوں کے خلاف سکھوں کی امداد کرتے رہے۔ انگریزوں کی اطاعت کا وعظ کہتے ہوئے مبالغہ آمیزی ملاحظہ ہو کہ اگر مرزا قادیانی کا تمام چھوٹا موٹا لٹریچر جمع کر لیا جائے تو یہ دساطیر الکذب ایک الماری بھی نہیں بن سکتی۔ جن کو پچاس الماریاں کہا جا رہا ہے۔
مرزا قادیانی اور ان کی جماعت کا طریق کار
اس مقصد (ثروۃ زائدہ) کی تحصیل کے لئے مرزا قادیانی نے مختلف طریق کار اختیار فرمائے۔
- اوّل....... حکومت کی خدمت جس طرح ممکن ہو۔
آزادی پسند افراد اور جماعتوں کی مقدور بھر مخالفت۔
فریضہ جہاد کی مخالفت تاکہ ملی زندگی کا خاتمہ ہو۔
بیرونی ممالک میں تبلیغ مشن بھیجنا تاکہ انگریز کی جاسوسی کی خدمت سرانجام دیں اور اپنے عزیز واقارب پبلک کے خرچ پر ہائی تعلیم حاصل کر سکیں۔
- دوم....... عامۃ المسلمین کے عقائد کی تخریب، نبوت کی اہمیت اور اس کے وقار کا
استخفاف تاکہ وہ قادیانی مزخرفات کو قبول کر سکیں۔ چنانچہ انگریز نے ان کی ہند اور بیرون ہند میں
٥
پوری مدد کی ۔ ”پشاور کی سرحد کو عبور کرنے پر جو سہولت ایک احمدی کو حاصل تھی وہ کسی غیر مسلم کو بھی حاصل نہ تھی اور جو مشکلات ایک اہل حدیث کو تھیں وہ شاید کسی انگریز کے مخالف کو نہ ہوں۔“
(بیان مولوی ولی محمد مشمولہ قاضی کوٹ بم کیس)
- سوم ...... مسلمان کو آپس میں لڑاتے رہنا تا کہ قوت باہم صرف ہوتی رہے اور انگریز
آرام سے حکومت کرے۔ اسی طرح دوسرے فرقوں سے الجھتے رہنا تا کہ ملک میں سکون قائم نہ ہو۔ اس معاملہ میں پنڈت دیانند جی اور سماجی تحریک نے بھی انگریز کی کافی خدمت کی۔ آپ سماجی تحریک اور قادیانی حرکت کو اس معاملہ میں ہمنوا پائیں گے۔ گرجے کہیں اور برسے کہیں۔ شست کسی جگہ باندھی اور نشانہ کہاں ہو گیا۔ سماجی ہمیشہ مسلمانوں کے مقابلہ اور تردید کا اعلان کرتے اور شکار عیسائیوں کا ہوتا۔ قادیانی مقابلہ سماجیوں عیسائیوں سے ٹھانتے اور شکار بیچارے مسلمان ہوتے۔
مدت ہوئی ایک دفعہ کسی صاحب لارڈ ہیڈلے کو یہاں کوبکو پھرایا گیا۔ واپسی کے بعد وہ بیچارے ایسے چپ ہوئے کہ ان کی کسی سرگرمی کا ذکر نہ مرزائی اخبارات نے کیا اور نہ ہی ولایت میں اس کا چرچا ہوا۔ وہ بیچارے سمجھ گئے ہوں گے کہ مجھے استعمال کیا گیا ہے۔ اس کے بعد بھی ایک دو بیچارے بھوکے اور قلاش احمدی لارڈوں کا ذکر آیا۔ مگر پھر وہ سو گئے۔ ان کی مثال مداری کے ڈگڈگی کی تھی۔ مجمع اس کی آواز سے جمع ہوا۔ پیسے مداری کی تھیلی نے سمیٹ لئے۔
علماء کا طریق کار
اس وقت اصلی مشکل یہ رہی کہ ہمارا یورپ زدہ طبقہ مصیبت بنا رہا اور یہ کہ ان حقائق سے نا آشنا رہا۔ کبھی اپنی سادگی کی وجہ سے لڑکتا رہا اور کبھی نوکری کے طمع سے اپنی وسعت ظرف کا اظہار کرتا رہا اور کبھی کسی رنڈوے نے مشکل ڈال دی۔ اسے اس وسعت ظرف کے سوا بیوی میسر نہیں آتی۔ علماء بیچارے ختم نبوت، امکان نبوت، اجراء نبوت وغیرہ مسائل پر بحث کرتے رہے اور یہاں اصل مشکل ہی دوسری تھی۔ ١٩٤٧ء سے پہلے علماء نے اپنی ذمہ داریوں کا اپنی توفیق کے مطابق احساس فرمایا۔ قرآن وحدیث سے عقائد اور مسائل کی وضاحت میں جو کچھ کہہ سکتے تھے کرتے رہے۔ اس معاملہ میں علماء اہل حدیث سب سے پیش پیش تھے۔ مرزا قادیانی خود فرماتے ہیں کہ موحدین اوّل المکفرین ہیں اور مقلدین ان کے اتباع سے ہیں۔
(نشان آسمانی ص ١٩، خزائن ج ٤ ص ٣٧٩)
ہزاروں آدمی ان کی کوششوں سے اس فتنہ کی گرفت سے محفوظ رہے۔ لیکن انگریزی مصالح اور ہمارے تعلیم یافتہ طبقہ کی دماغی بے اعتدالی کا ان کے پاس کوئی جواب نہ تھا۔ ان کے
٦
ہاں ہر دلیل کا پہلا مقدمہ یہ ہے کہ مستدل کوٹ پینٹ پہنے، کھڑے ہو کر پیشاب کرے تاکہ اس کی وسعت ظرف ثابت ہو یا کم از کم اس کی ڈاڑھی منڈی ہو یا فاحش طور پر کٹی ہوئی ہو۔ دلیل کا یہ مقدمہ علماء میں واقعی ناپید تھا۔
١٩٤٧ء کے بعد
خیال تھا کہ انگریزی مصالح کی مشکل ختم ہو جائے گی۔ اب احمدی جماعت کی حیثیت دوسری ملکی جماعتوں کی طرح ہوگی اور دست غیب کی غائبانہ برکتیں اب نہیں ہوں گی۔ مگر بدقسمتی ملاحظہ فرمائیے۔ پوری وزارت خارجہ اہل قادیان کی غلام ہوگئی۔ سرظفر اللہ کا یہ حال ہے کہ وہ ہمارے وکیل ہیں۔ جہاں انہیں اس لئے وکیل کیا کہ تقسیم نہ ہو، وہاں ہوگئی اور جہاں انہیں عدم تقسیم کے لئے وکیل کیا وہاں وہ یوں ناکام رہے تاہم وہ ہمارے مستقل وکیل ہیں۔
ان کی وجہ سے قادیانیوں کو بے حد فائدہ ہوا۔ ربوہ کے سودا میں وہی دلال رہے۔ کشمیر کی فوجوں میں قادیانیت ان کی وجہ سے غالب رہی اور ہورہی ہے۔ سروس میں قادیانیت انہیں کے دم سے زندہ ہے اور ہمارا یورپ زدہ طبقہ روز بروز نوکریوں کے لئے ان سے متاثر ہورہا ہے۔ انا للہ! بہرحال انقلاب ١٩٤٧ء کے بعد اس حصہ کی ذمہ داری حکومت پر ہے۔
تخریب عقائد اور قادیانی لٹریچر کے تخریبی اثرات کے اظہار کا جہاں تک تعلق ہے علماء نہ اس سے پہلے بے خبر تھے نہ اب بے خبر ہیں۔ وہ اپنا فرض ادا کر رہے ہیں۔ پیش نظر کتاب عزیزی مولوی ابراہیم میرپوری نے لکھی ہے۔ حضرت مولانا ثناء اللہؒ کے انتقال سے جو خلا پیدا ہوا ہے وہ تو شاید ہی پر ہوسکے۔ لیکن امید ہے مولوی ابراہیم اور بعض دوسرے نوجوان، قادیانی شرانگیزیوں کا مداوا کرسکیں اور عامتہ المسلمین ان کے شر سے محفوظ ہوجائیں۔
قادیانی حضرات
پاکستان کے موجودہ حالات میں امید تھی کہ قادیانی حضرات پرانی فتنہ انگیزیوں سے بچنے کی کوشش کریں گے اور ملک کے حالات پر رحم فرمائیں گے۔ ان کا مربی جاچکا، انگریز کی نہ صرف رحمتیں ختم ہوچکیں۔ بلکہ اس کی اہلیتیں بھی ختم ہوچکیں۔ مگر قادیانی حضرات سے یہ امید بارآور ہوتی معلوم نہیں ہوتی۔ مرزا محمود اب کسی مختصر حکومت یا کم از کم ایک سٹیٹ کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ ”ولا یحیق المکر السئ الا باہلہ“ پیش نظر کتاب فسانہ قادیان۔
امید ہے کہ اپنے موضوع میں کامیاب ہوگی۔ عزیزی مولوی ابراہیم صاحب کا نام اس کامیابی کا ضامن ہے۔ الراقم: محمد اسماعیل گوجرانوالہ ناظم جمعیت اہل حدیث پاکستان!
٧
١...... قادیان کی وجہ تسمیہ
مرزا غلام احمد قادیانی کا گاؤں موضع قادیان قصبہ بٹالہ ضلع گورداسپور سے گیارہ میل فاصلہ پر بجانب مشرق واقع ہے۔ مرزائی حضرات وجہ تسمیہ اس طرح بیان کرتے ہیں۔
’’مرزا قادیانی کے مورث اعلیٰ مرزا ہادی بیگ دسویں صدی ہجری میں خراسان سے ہجرت کر کے پنجاب تشریف لائے اور دریائے بیاس کے قریب پہاڑی کے دامن میں فروکش ہوئے۔ گردونواح کا علاقہ اپنے تصرف میں کر کے اپنی رہائش کے لئے ایک چھوٹے سے گاؤں کی بنیاد رکھی اور اس کا نام ’’اسلام پور‘‘ رکھا۔ تھوڑے ہی عرصہ میں یہ چھوٹا سا گاؤں ایک خاصا قصبہ بن گیا۔ اس زمانہ کی حکومت نے اس خاندان کو علاقہ مذکورہ کا قاضی بنا دیا۔ جس کی وجہ سے اسلام پور کے ساتھ لفظ قاضی کا اضافہ ہو گیا۔ پھر اس میں تخفیف ہوتے ہوئے صرف قاضی رہ گیا اور چونکہ ’’ض‘‘ کے لفظ میں ہمیشہ جھگڑا چلا آیا ہے اور عوام اس کا تلفظ ’’د‘‘ سے ہی تعبیر کرتے ہیں۔ اس لئے اس کا نام قادی ہو گیا اور پھر آہستہ آہستہ قادیان ہو گیا اور قصبہ دمشق سے جانب شرق واقع ہے۔ (جل جلالہ) ١؎ ‘‘
(حضرت مسیح موعود کے مختصر حالات ص ٥٦، ٥٧)
٢...... نسب نامہ
’’مرزا غلام احمد بن غلام مرتضیٰ بن مرزا عطاء محمد بن مرزا گل محمد بن مرزا فیض محمد بن مرزا محمد قائم بن مرزا محمد اسلم بن مرزا دلاور بن مرزا الہ دین بن مرزا جعفر بیگ بن مرزا عبدالباقی بن مرزا محمد سلطان بن مرزا ہادی بیگ مورث اعلیٰ بن حاجی برلاس بن یرقال بن قراچار بن بوریچر قان بن آلنقوا (عورت)۔‘‘
(احمدی جنتری ١٩٣٩ء ص ٢)
جس کا کوئی خاوند نہ تھا نہ معلوم اولاد کس طرح ہوئی کلمہ کن سے یا کسی اور طریقہ سے۔
٣...... خاندانی حالات
’’اب میرے سوانح اس طرح پر ہیں کہ میرا نام غلام احمد اور میرے باپ کا نام غلام مرتضیٰ اور دادا کا نام عطا محمد اور پردادا کا نام گل محمد تھا اور ہماری قوم برلاس ہے۔ میرے بزرگوں کے پرانے کاغذات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس ملک میں سمرقند سے آئے اور لاہور سے قریباً
١؎ اس حدیث کا مصداق بننے کی کوشش ہے کہ مسیح موعود دمشق کی شرقی جانب مینار پر نازل ہوگا۔
٨
پچاس کوس بگوشہ شمال للمشرق فروکش ہوئے اور ایک گاؤں اسلام پور آباد کیا اور حکومت وقت سے جاگیر پائی۔ سکھوں کے ابتدائی زمانہ میں میرے پردادا مرزا گل محمد ٨٥ گاؤں کے مالک تھے۔ پردادا کی وفات کے بعد میرے دادا مرزا عطا محمد گدی نشین ہوئے۔ ان کے وقت لڑائی میں سکھ غالب آگئے اور ہماری ریاست پر بزور قابض ہوگئے۔ یہاں تک کہ دادا صاحب کے پاس صرف ایک گاؤں قادیان رہ گیا۔ اس کے کچھ عرصہ بعد سکھوں نے پھر قادیان پر حملہ کیا اور بڑی تباہی مچائی۔ مکانوں کو مسمار کر دیا اور مسجدوں کو دھرمسالے بنالیا اور ہمارے بزرگوں کو اوّل قید اور پھر جلاوطن کردیا اور ہمارے بزرگ پنجاب کی ایک ریاست میں جا گزیں ہوئے۔ تھوڑے عرصہ بعد دشمنوں کے منصوبے سے میرے دادا کو زہر دے دی گئی اور پھر رنجیت سنگھ کے زمانہ میں میرے والد مرزا غلام مرتضیٰ قادیان واپس آئے۔ ان کو پانچ گاؤں واپس ملے۔ غرض ہماری پرانی ریاست خاک میں مل کر آخر پانچ گاؤں رہ گئے۔ پھر بھی بلحاظ پرانے خاندان کے میرے والد، گورنر جنرل کے دربار میں کرسی نشین تھے۔ ١٨٥٧ء کی جنگِ آزادی میں انہوں نے سرکار انگریزی کی خدمت میں پچاس گھوڑے مع پچاس سواروں کے اپنی گرہ سے خرید کر دیئے تھے اور آئندہ گورنمنٹ کو عند الضرورت امداد کا وعدہ بھی دیا تھا اور سرکار انگریزی سے بجا آوری خدمات عمدہ عمدہ چٹھیاں خوشنودی مزاج ان کو ملی تھی۔‘‘
(سیرۃ المہدی حصہ اوّل ص ١٢٠، کتاب البریہ ص ١٣٤ تا ١٤٦، خزائن ج ١٣ ص ١٧٦، ١٧٧)
’’انگریزوں کے زمانہ میں ہماری جاگیر ضبط کرلی گئی اور سات سوروپیہ نقد کی اعزازی پینشن باقی رہ گئی اور ہمارے دادا کی وفات پر ١٨٠ رہ گئی اور پھر تایا صاحب کے بعد بالکل ختم ہوگئی۔‘‘
(سیرۃ المہدی ج ١ ص ٣١)
مرزا قادیانی کی والدہ
’’اس عظیم الشان انسان کی ماں دنیا میں ایک ہی عورت ہے جو آمنہ خاتون کے بعد اپنے بخت رسا پر ناز کرسکتی ہے۔ دنیا کی عورتوں میں جو ممتاز خواتین ہیں۔ ان میں آمنہ خاتون اور حضرت چراغ بی بی صاحبہ یہی دو عورتیں ہیں۔ جنہوں نے ایسے عظیم الشان انسان دنیا کو دیئے جو ایک عالم کی نجات اور رستگاری کا موجب ہوئے۔‘‘
(حیات النبی مرتبہ یعقوب علی تراب ج ١ ص ١٤٣)
لے لاہور سے گوشہ مغرب اور جنوب میں واقع ہے۔ وہ دمشق سے ٹھیک ٹھیک شرقی جانب پڑتی ہے۔
(دیباچہ خطبہ الہامیہ ص ح ، خزائن ج ١٦ ص ٢٣)
٩
مرزا قادیانی کی ہمشیرہ
”بیان کیا مجھ سے مرزا سلطان احمد نے بواسطہ مولوی رحیم بخش ایم۔اے کہ والد صاحب (مرزا قادیانی) کی ایک بہن ہوتی تھی۔ (مراد بی بی) ان کو بہت خواب اور کشف ہوتے تھے۔ مگر دادا صاحب کی رائے ان کے متعلق یہ تھی کہ ان کے دماغ میں کوئی نقص ہے۔ لیکن آخر انہوں نے بعض ایسے خوابیں دیکھیں کہ دادا صاحب کو یہ خیال بدلنا پڑا۔ چنانچہ انہوں نے ایک دفعہ خواب میں دیکھا کہ کوئی سفید ریش بڈھا ان کو ایک لکھا ہوا کاغذ بطور تعویذ دے گیا ہے۔ جب آنکھ کھلی تو ایک بھوج پتر کا ٹکڑا ہاتھ میں تھا۔ جس پر قرآن شریف کی بعض آیات لکھی ہوئی تھیں۔ پھر انہوں نے ایک اور خواب دیکھا کہ وہ کسی دریا میں چل رہی ہیں۔ جس پر انہوں نے ڈر کر پانی پانی کی آواز نکالی اور پھر آنکھ کھل گئی تو دیکھا کہ ان کی پنڈلیاں تر تھیں اور تازہ ریت کے نشان لگے ہوئے تھے۔ دادا صاحب کہتے تھے کہ ان باتوں سے خلل دماغ کو کوئی تعلق نہیں۔“
(سیرت المہدی حصہ اوّل ص ١٢١)
٤.......مرزا قادیانی کی پیدائش
”اب میرے ذاتی سوانح یہ ہیں کہ میری پیدائش سکھوں کے آخری وقت میں ہوئی۔“
(حوالہ مذکور)
”میری پیدائش اس طرح پر ہوئی کہ میرے ساتھ ایک لڑکی پیدا ہوئی۔ جس کا نام جنت تھا۔ پہلے وہ لڑکی پیٹ سے نکلی تھی اور بعد میں اس کے میں نکلا تھا۔ (اور میرا سر اس کے پاؤں میں تھا) اور اس کے بعد میرے والدین کے گھر کوئی لڑکا یا لڑکی پیدا نہیں ہوا اور میں ان کے لئے خاتم الاولاد ہوں ١؎۔
(تریاق القلوب ص ١٥٧، خزائن ج ١٥ ص ٤٧٩، ٤٨٠)
”یہ عاجز بروز جمعہ چاند کی چودھویں تاریخ کو بوقت صبح پیدا ہوا۔“
(حقیقت الوحی ص ٢٠١، خزائن ج ٢٢ ص ٢٠٩، تریاق القلوب ص ١٥٧، خزائن ج ١٥ ص ٤٧٩)
٥.......بچپن میں تعلیم
”بچپن کے زمانہ میں میری تعلیم اس طرح پر ہوئی کہ جب میں چھ سات سال کا تھا تو ایک فارسی خوان معلم میرے لئے نوکر رکھا گیا۔ ان کا نام فضل الٰہی تھا۔ میں نے قرآن شریف کے
١؎ ناظرین اس موقعہ پر خاتم کا معنی یاد رکھیں اور خاتم النبیین کی تاویل میں پیش کریں۔
١٠
علاوہ چند فارسی کتابیں ان سے پڑھیں۔ پھر میری تعلیم کے لئے ایک عربی خوان معلم فضل احمد مقرر کئے گئے۔ میں نے مولوی صاحب سے صرف نحو کی کتابیں پڑھیں۔ ان کے بعد پھر ایک تیسرے مولوی صاحب گل علی شاہ سے پڑھتا رہا۔ ان کو میرے والد نے خاص میری پڑھائی کے لئے ملازم ١؎ رکھا تھا اور میں نے ان سے نحو، منطق، حکمت (فلسفہ) حاصل کیا اور طب کی کتابیں اپنے والد صاحب مرحوم سے پڑھیں اور ان دنوں مجھے مطالعہ کا اس قدر شوق ہوا کہ گویا میں دنیا میں نہیں۔ میرے والد صاحب میری صحت کے پیش نظر بار بار یہی ہدایت کرتے تھے کہ مطالعہ کم کرنا چاہئے۔ نیز ان کا یہ بھی مطلب تھا کہ میں اس شغل سے الگ ہو کر ان کے (مقدمات وغیرہ) میں شریک ہو جاؤں۔ چنانچہ انہوں نے جائیداد کی واپسی کے سلسلہ میں مجھے مقدمات میں لگا دیا اور میں ایک زمانہ دراز تک مقدمہ بازی اور بیہودہ جھگڑوں میں مشغول رہا۔‘‘
(کتاب البریہ ص١٤٨ تا ١٥١، خزائن ج١٣ ص١٧٩ تا ١٨٢ حاشیہ)
نوٹ: ناظرین مرزا قادیانی کے استادوں کا نام معلوم کرنے کے بعد مرزا قادیانی کے مندرجہ ذیل ارشاد ذہن نشین کیجئے اور مرزا قادیانی کی راست گفتاری اور مسیحیت کی داد دیجئے۔
- ١...... ’’سو آنے والے کا نام جو مہدی رکھا گیا۔ اس میں یہ اشارہ ہے کہ وہ علم
دین خدا سے ہی حاصل کرے گا اور قرآن وحدیث میں کسی استاد کا شاگرد نہیں ہوگا۔ سو میں حلفاً کہہ سکتا ہوں کہ میرا حال یہی ہے کہ کوئی ثابت نہیں کر سکتا کہ میں نے کسی انسان سے قرآن یا حدیث یا تفسیر کا ایک سبق بھی پڑھا ہو ۔‘‘
(ایام الصلح ص ١٤٧، خزائن ج١٤ ص٣٩٤)
- ٢...... ’’چونکہ اس اترنے والے (مرزا قادیانی) کو یہ موقع نہ ملا کہ وہ کچھ روشنی
زمین والوں سے حاصل کرتا یا کسی کی بیعت یا شاگردی سے فیض یاب ہوتا۔ بلکہ اس نے جو کچھ پایا آسمان والے خدا سے پایا۔ اسی لئے اس کے حق میں نبی معصوم کی پیش گوئی میں یہ الفاظ آئے ہیں کہ وہ آسمان ٢؎ سے اترے گا۔‘‘
(آئینہ کمالات اسلام ص ٢٠٤، خزائن ج٥ ص٤٠٩)
١؎ مولوی صاحب موصوف کو ملازم رکھنا مرزا قادیانی کی غلط بیانی ہے۔ مولوی گل علی شاہ بٹالہ کے رئیس اور فاضل اجل تھے۔ مرزا قادیانی کے باپ میں طاقت ہی کہاں تھی انہیں ملازم رکھتے۔ حقیقت یہ ہے کہ مرزا غلام مرتضیٰ بٹالہ میں مطب کرتے تھے اور مرزا غلام احمد قادیانی مولوی صاحب سے مسجد ہمدانیاں میں جا کر پڑھا کرتے تھے۔
(مرآۃ القادیانیہ ص٢٩)
٢؎ ناظرین! اس موقعہ پر آسمان کا لفظ نوٹ کریں۔ مرزائی کہا کرتے ہیں کہ نزول مسیح کے سلسلہ میں آسمان کا لفظ کہیں نہیں آتا۔ اس جگہ مرزا قادیانی لفظ آسمان کو خود تسلیم کر کے تاویل کرتے ہیں۔
١١
٦...... مرزا قادیانی کا لقب اور بچپن کے مشاغل
سندھی چڑی مار
”بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ تمہاری دادی، (والدہ مرزا قادیانی) موضع ایمہ ضلع ہوشیار پور کی رہنے والی تھیں۔ حضرت صاحب فرماتے ہیں کہ ہم بچپن میں کئی دفعہ اپنی والدہ کے ہمراہ موضع ایمہ گئے ہیں۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ وہاں حضرت صاحب بچپن میں چڑیاں پکڑا کرتے تھے اور چاقو نہیں ملتا تھا تو سرکنڈے سے ذبح کر لیتے تھے۔ والدہ صاحب نے فرمایا ایک دفعہ چند بوڑھی عورتیں وہاں سے آئیں تو انہوں نے باتوں باتوں میں کہا کہ سندھی ہمارے گاؤں میں چڑیاں پکڑا کرتا تھا۔ والدہ صاحبہ فرماتی ہیں کہ میں سندھی کا مفہوم نہ سمجھ سکی۔ آخر معلوم ہوا کہ سندھی سے مراد حضرت صاحب ہیں۔“
(سیرۃ المہدی ج١ ص٤٥، پرانا نسخہ ص٥١)
جانوروں کا لاسا
”بیان کیا مجھ سے والدہ صاحبہ نے کہ حضرت صاحب فرماتے تھے کہ ایک دفعہ میں بچپن میں گاؤں سے باہر ایک کنوئیں پر بیٹھا لاسا بنا رہا تھا کہ اس وقت مجھے کسی چیز کی ضرورت محسوس ہوئی جو گھر سے لانی تھی۔ میرے پاس ایک شخص بکریاں چرا رہا تھا۔ میں نے اسے کہا کہ میں تمہاری بکریاں چراؤں گا اور تم مجھے یہ چیز لا دو۔
(خاکسار مرزا بشیر احمد ایم۔اے) عرض کرتا ہے کہ لاسا ایک لیس دار چیز ہوتی ہے۔ جو بعض درختوں کے دودھ وغیرہ سے تیار کی جاتی ہے اور جانور پکڑنے کے کام آتی ہے۔ نیز والدہ صاحب فرماتی ہیں کہ حضرت صاحب فرماتے تھے کہ ہم بچپن میں چڑیاں پکڑا کرتے تھے اور چاقو نہیں ہوتا تھا تو سرکنڈے سے ہی حلال کر لیتے تھے۔“
(سیرۃ المہدی ج١ ص٤٥)
غلیل چلانا
”جس زمانہ میں حضرت مسیح موعود کا بچپن جوانی کی طرف جا رہا تھا عام طور پر لوگ ہتھیار رکھتے تھے اور گتکہ وغیرہ اور تلوار کی ورزشیں عام تھیں۔ لیکن حضرت مسیح موعود چونکہ وضع الحرب یعنی جنگ بند کرنے کے لئے آئے تھے۔ اس لئے آپ نے ان مشاغل کی طرف توجہ نہیں کی۔ البتہ آپ کو غلیل چلانے کا شوق ضرور تھا۔“
(حیات النبی ج١ ص١٣٨)
١۔ غالباً یہ اس لئے کہ بڑے ہو کر انسانوں کو شکار کر سکیں۔
١٢
چوہوں میں پھرنا
”بیان کیا مجھ سے والدہ صاحبہ نے کہ حضرت صاحب فرماتے تھے کہ ہم بچپن میں والدہ کے ساتھ ہوشیار پور جاتے تھے تو چوہوں میں پھرا کرتے تھے۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ ضلع ہوشیار پور میں کئی برساتی نالے ہیں۔ جن میں بارش کے وقت پانی بہتا ہے۔ ان نالوں کو پنجابی میں چوہ کہتے ہیں۔“
(حوالہ مذکور)
تیراکی
”بیان کیا مجھ سے مولوی شیر علی صاحب نے کہ ایک دفعہ مولوی محمد علی یہاں ڈھاب کے کنارے نہانے لگے۔ مگر پاؤں پھسل گیا اور گہرے پانی میں چلے گئے اور ڈوبنے لگے اور کئی غوطے کھائے۔ آخر قاضی امیر حسین صاحب نے پانی میں غوطے لگا لگا کر نیچے سے ان کو کنارے کی طرف دھکیلا تب وہ باہر آئے جب حضرت سے اس واقعہ کا تذکرہ ہوا تو آپ نے مسکرا کر فرمایا کہ مولوی صاحب آپ گھڑے کے پانی سے ہی نہا لیا کریں۔ پھر فرمایا کہ بچپن میں اتنا تیرنا تھا کہ ایک وقت میں ساری قادیان کے ارد گرد تیر جاتا تھا۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ برسات کے موسم میں قادیان کے ارد گرد اتنا پانی جمع ہو جاتا ہے کہ قادیان ایک جزیرہ بن جاتا ہے۔“
(سیرۃ المہدی جلد اول ص ٢٧٦)
”اسی ڈھاب میں تیرتے تیرتے مرزا قادیانی ایک دفعہ ڈوب بھی چلے تھے۔“
(سیرۃ المہدی جلد اول ص ٢١٧)
مسیتڑ
- .......١ ”تائی صاحبہ نے بیان کیا کہ تمہارے دادا صاحب حضرت صاحب کو مسیتڑ
کہا کرتے تھے۔“
(سیرت المہدی ص ١٠٩)
- .......٢ ”اگر ان سے (یعنی مرزا قادیانی کے والد سے ) کوئی دریافت کرتا کہ غلام
احمد کہاں ہے تو وہ یہ جواب دیتے کہ مسجد میں جا کر سقاوہ کی ٹوٹی میں دیکھو اگر وہاں نہ ملے تو کسی گوشہ میں تلاش کرنا اور دیکھنا کہ کوئی صف میں لپیٹ کر کھڑا نہ کر گیا ہو۔“
(مسیح موعود کے حالات ص ٦٧)
گھر کی چوری
”بیان کیا مجھ سے والدہ صاحبہ نے کہ ایک دفعہ حضرت صاحب سناتے تھے کہ جب
١٣
میں بچہ ہوتا تھا تو بعض بچوں نے مجھے کہا کہ جاؤ گھر سے میٹھا لاؤ۔ میں گھر میں آیا اور بغیر کسی سے پوچھے ایک برتن سے سفید بورا جیبوں میں بھر کر باہر لے گیا اور راستہ میں ایک مٹھی بھر کر منہ میں ڈال لی۔ بس پھر کیا تھا میرا دم رک گیا اور بڑی تکلیف ہوئی۔ کیونکہ معلوم ہوا کہ جسے میں نے سفید بورا سمجھ کر جیبوں میں بھرا تھا وہ بورا نہیں تھا بلکہ پسا ہوا نمک تھا۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ مجھے یاد آیا کہ ایک دفعہ گھر میں میٹھی روٹیاں پکیں۔ کیونکہ حضرت صاحب کو میٹھی روٹی پسند تھی۔ جب حضرت صاحب کھانے لگے تو آپ نے اس کا ذائقہ بدلا ہوا پایا۔ مگر آپ نے اس کا خیال نہ کیا۔ کچھ اور کھانے پر حضرت صاحب نے کچھ کڑواہٹ محسوس کی اور والدہ سے پوچھا کہ روٹی کڑوی کیوں معلوم ہوتی ہے۔ والدہ صاحبہ نے پکانے والی سے پوچھا اس نے کہا کہ میں نے تو میٹھا ڈالا تھا۔ والدہ صاحبہ نے کہا کہ کہاں سے ڈالا تھا۔ وہ برتن لاؤ۔ وہ عورت ایک ٹین کا ڈبہ اٹھا لائی۔ دیکھنے پر معلوم ہوا کہ کونین کا ڈبہ تھا اور اس عورت نے جہالت سے میٹھے کی بجائے روٹیوں میں کونین ڈال دی تھی۔ اس دن گھر میں یہ بھی ایک لطیفہ ہو گیا۔“
(سیرۃ المہدی ج١ ص ٢٤٤، ٢٤٥)
راکھ کھانے کو تیار ہو گئے
”میاں کہا مجھ سے والدہ صاحب نے کہ بعض بوڑھی عورتوں نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ بچپن میں حضرت صاحب نے اپنی والدہ صاحبہ سے روٹی کے ساتھ کچھ کھانے کو مانگا، انہوں نے کوئی چیز شاید گڑ بتایا کہ یہ لے لو۔ حضرت صاحب نے کہا میں نہیں۔ انہوں نے کوئی اور چیز بتائی حضرت نے پھر بھی یہی کہا میں نہیں۔ وہ اس وقت کسی بات پر چڑی بیٹھی تھیں۔ انہوں نے سختی سے کہا کہ جاؤ پھر راکھ سے کھا لو۔ حضرت صاحب روٹی پر راکھ ڈال کر بیٹھ گئے اور گھر میں ایک لطیفہ ہوگیا۔ (والدہ کی اطاعت کا معنی بھی یہی ہے۔ مصنف)
یہ حضرت کے بالکل بچپن کا واقعہ ہے۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ والدہ صاحبہ نے یہ واقعہ سنا کر کہا کہ جس وقت اس عورت نے مجھے یہ بات سنائی تھی۔ اس وقت حضرت صاحب پاس تھے۔ مگر آپ خاموش رہے۔“ (گویا تصدیق کردی)
(سیرۃ المہدی ج١ ص ٢٤٥)
گڑ اور ڈھیلے
”آپ کو شیرینی سے بہت پیار ہے اور مرض بول بھی عرصہ سے آپ کو لگی ہوئی ہے۔ اس زمانہ میں آپ مٹی کے ڈھیلے بعض وقت جیب میں ہی رکھتے ہیں اور اسی جیب میں گڑ کے ڈھیلے
١٤
بھی رکھ لیا کرتے ہیں۔“
(مسیح موعود کے حالات ص ٦٧)
نوٹ: یہ حال مرزا قادیانی کے مسیح ہونے کے بعد کا ہے۔
ناظرین! ان واقعات کو غور سے پڑھئے اور اندازہ لگائیے کہ کیا اہل اللہ اور انبیاء کا بچپن انہی مشاغل میں گزرا کرتا ہے اور کیا ان کے بچپن کے محبوب مشغلے یہی ہوا کرتے ہیں اور کیا ان واقعات سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ آنجناب بچپن سے ہی مراقی تھے؟
- ٧....... مرزا قادیانی عالم جوانی میں، باپ کی پنشن وصول کرنا اور گھر واپس نہ آنا
”بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ ایک دفعہ اپنی جوانی کے زمانہ میں حضرت صاحب تمہارے دادا کی پنشن (مبلغ سات صد روپے) وصول کرنے گئے تو پیچھے پیچھے مرزا امام الدین بھی چلا گیا۔ جب آپ نے پنشن وصول کر لی تو آپ کو پھسلا کر اور دھوکا دے کر بجائے قادیان کے باہر لے گیا اور ادھر ادھر پھراتا رہا۔ پھر جب سارا روپیہ اڑا کر ختم کر دیا تو وہ آپ کو چھوڑ کر کہیں اور چلا گیا۔ حضرت صاحب اس شرم کے مارے گھر نہیں آئے۔ بلکہ سیالکوٹ پہنچ کر ڈپٹی کمشنر کی کچہری میں قلیل تنخواہ (١٥ روپے ماہوار) پر ملازم ہو گئے۔“
(سیرۃ المہدی ج اول ص ٤٣)
واقعہ مذکور پر اہم تبصرہ
مرزائی دوستو! مرزا قادیانی کی ٢٤، ٢٥ سال کی عمر میں باپ کی نافرمانی اور خیانت کی وجہ بتا سکتے ہو؟ نیز بتائیے کہ مرزا امام الدین آخر کس اعتماد کی بناء پر مرزا قادیانی کے پیچھے گیا تھا اور مرزا قادیانی نے اسے سستے زمانہ میں جبکہ گندم ٨ آنے من، گوشت ایک آنہ سیر، گھی ٤ آنے سیر بتایا جاتا ہے۔ سات سو روپے کی خطیر رقم کہاں اور کس مصرف میں خرچ کی تھی؟ غور سے سنو۔ تمہاری اسی ایک روایت نے مرزا قادیانی کے کیریکٹر کو الم نشرح کر دیا ہے۔ کیا اہل اللہ اور شریف نوجوانوں کا یہی حال ہوتا ہے۔
اس بات پر بھی غور کیجئے کہ مرزا امام الدین مرزا قادیانی کو ٢٥ سال کی عمر میں کس طرح پھسلا کر لے گیا۔ کیا مرزا قادیانی بچے تھے؟ ہمارا خیال تو یہ ہے کہ امام الدین نے مرزا قادیانی کو مندرجہ ذیل مصرعہ سنا کر پھسلایا ہو گا؎
زندگانی گر رہی تو نوجوانی پھر کہاں
١٥
عذر گناہ بدتر از گناہ
لاہوری مرزائیوں کا اخبار ”پیغام صلح“ اعتراض مذکورہ کے جواب میں مرزا قادیانی کو اس زمانہ میں نابالغ بچہ ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ حالانکہ بقول صاحبزادہ مرزا بشیر احمد ایم۔اے مرزا قادیانی کی عمر اس وقت ٢٥ سال سے زیادہ تھی اور مرزا قادیانی اس وقت ایک دو بچوں کے باپ بھی بن چکے تھے۔ کیونکہ مرزا قادیانی کا پہلا لڑکا تو سولہ سال کی عمر میں پیدا ہوا تھا۔ ملاحظہ ہو۔
(سیرۃ المہدی جلد اول ص٢٧٣)
پیغام صلح عذر گناہ کرنے کے بعد رقمطراز ہے کہ: ”مرزا امام الدین ساری عمر حضرت صاحب کا مخالف رہا۔ مگر حضور کے کیریکٹر پر کوئی اعتراض نہ کر سکا۔“
(پیغام صلح مورخہ ٢٣ اکتوبر ١٩٣٦ء)
افسوس کہ ایڈیٹر پیغام صلح کو کون بتائے کہ مرزا امام الدین ان حرکات پر کیسے اعتراض کر سکتا تھا۔ جن میں وہ خود بھی شریک تھا۔ کیونکہ اس کے اظہار سے تو اس کا اپنا راز بھی فاش ہوتا تھا۔ باقی رہا اس کا مرزا قادیانی کے کیریکٹر پر اعتماد سو وہ اسی امر سے عیاں ہے کہ وہ ساری عمر حضرت صاحب کا مخالف اور قادیان میں آنے والے سادہ لوحوں کو مرزا قادیانی کے دام تزویر سے آگاہ کرتا اور آپ کے لئے ہمیشہ وبال جان بنارہا اور آپ کے حضرت اقدس کو علی الاعلان دوکاندار کے لقب سے یاد کیا کرتا تھا۔
غور سے سنئے: ”بیان کیا مجھ سے والدہ صاحبہ نے کہ میں نے ایک دفعہ سنا کہ مرزا امام الدین حضرت صاحب کی طرف اشارہ کر کے کسی کو کہہ رہا تھا کہ لوگ دوکانیں چلا رہے ہیں۔ چلو بھئی ہم بھی کوئی دوکان چلائیں۔“
(سیرۃ المہدی جلد اول ص٣٢)
٨...... مرزا قادیانی سیالکوٹ میں
سیالکوٹ کیوں گئے (خلیفہ محمود کی اختلاف بیانی)
- ١...... ”خاکسار (مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے) بیان کرتا ہے کہ حضرت مسیح
موعود کی سیالکوٹ کی ملازمت ١٨٦٤ء تا ١٨٦٨ء کا واقعہ ہے۔“
(سیرۃ المہدی جلد اول ص٤٤)
- ٢...... ”حضرت صاحب اپنے گھر والوں کے طعنوں کی وجہ سے کچھ دنوں کے
لئے قادیان سے باہر چلے گئے اور سیالکوٹ جا کر رہائش اختیار کر لی اور گزارہ کے لئے ضلع کچہری میں ملازمت بھی کر لی۔“
(تحفہ شہزادہ ویلز ص٥٣)
١٦
٣...... ”جب آپ تعلیم سے فارغ ہوئے تو اس وقت حکومت برطانیہ پنجاب میں مستحکم ہوچکی تھی اور لوگ سمجھ رہے تھے کہ اب اس گورنمنٹ کی ملازمت میں ہی عزت ہے۔ اس لئے شریف خاندانوں کے نوجوان اس کی ملازمت میں داخل ہو رہے تھے۔ حضرت صاحب بھی اپنے والد صاحب کے مشورہ سے سیالکوٹ بحصول ملازمت تشریف لے گئے ۔“
(سیرۃ مسیح ص١٣)
نوٹ: ناظرین ذرا خلیفہ صاحب کی دونوں عبارتوں کو غور سے پڑھئے اور خلیفہ جی کی راست گفتاری کی داد دیجئے۔ پہلی عبارت کا مفہوم یہ ہے کہ مرزا قادیانی (کسی ناگفتہ حرکت) اور گھر کے طعنوں کی وجہ سے سیالکوٹ گئے اور دوسری عبارت کا مطلب یہ ہے کہ مرزا قادیانی اپنے باپ کے مشورہ سے سیالکوٹ گئے۔ خلیفہ صاحب (مرزا محمود قادیانی) ! بتائیے سچ کس کو مانیں اور جھوٹ کسے کہیں؟
ملازمت اور تنخواہ
٤...... اس امر میں اختلاف ہے کہ مرزا قادیانی سیالکوٹ میں کس اسامی پر ملازم ہوئے۔ لیکن یہ چیز بالکل مسلم ہے کہ تنخواہ صرف پندرہ روپے ماہوار تھی۔ لیکن مرزا قادیانی اس حقیر قلیل رقم پر مطمئن نہیں تھے اور اکثر روپیہ کمانے کی دھن میں ہی رہتے تھے۔ ذیل کے حوالہ جات ملاحظہ فرمائیے۔
مرزا قادیانی کی رشوت خوری
”روایت کیا مولوی میر حسن صاحب سیالکوٹی نے کہ حضرت صاحب (سیالکوٹ) محلہ کشمیریاں میں جو میرے غریب خانہ کے بہت قریب ہے عمرا نامی کشمیری کے مکان میں کرایہ پر رہتے تھے۔ حاجت مند لوگ جب سرکاری کاموں کے لئے آپ کے مکان پر آتے تو آپ عمرا مذکور کے بڑے بھائی فضل الدین سے کہا کرتے تھے کہ ان لوگوں کو کہو کہ یہاں نہ آیا کریں۔ جتنا کام میرے متعلق ہوتا ہے میں کچہری میں کر آتا ہوں۔“
(سیرۃ المہدی حصہ اوّل ص٢٧٠)
اس روایت سے جو مرزا قادیانی کے اپنے مریدوں کی ہے۔ بظاہر مرزا قادیانی رشوت وغیرہ سے صاف نظر آتے ہیں۔ لیکن مندرجہ ذیل حقائق کو نظر انداز کرنا بھی مناسب نہیں۔
١...... مرزا احمد علی اثنا عشری امرتسری اپنی کتاب (دلیل العرفان ص١١٢) پر کتاب ”نکاح آسمانی اور راز ہائے پنہانی“ کے حوالہ سے تحریر فرماتے ہیں کہ: ”مرزا قادیانی نے اپنی ملازمت کے زمانہ میں خوب رشوتیں لیں۔“
یہ روایت اگرچہ مخالفانہ ہے۔ لیکن اس پر یقین کرنے کے وجوہ موجود ہیں۔ سب سے
١٧
بڑی وجہ یہ ہے کہ کتاب مذکورہ مرزا قادیانی کی زندگی یعنی ١٩٠٠ء میں طبع ہوئی تھی۔ لیکن مرزا قادیانی اس کے بعد اپنی ٨ سالہ زندگی میں اس الزام کی تردید کی جرات نہ کر سکے۔ بلکہ خاموشی معنی دارد کہ درگفتن نمی آید۔ کے مطابق اس الزام کو تسلیم کر لیا۔
- ......٢ مولانا محمد ابراہیم میر سیالکوٹی نے مناظرہ روپڑ منعقدہ ٢١، ٢٢/ مارچ
١٩٣٢ء کے دوران میں مرزا قادیانی کو رشوت خور ثابت کرتے ہوئے علی الاعلان کہا تھا کہ مرزا قادیانی نے جو اپنی دہلوی بیوی کو پانچ ہزار روپیہ کے زیورات پہنائے تھے وہ سیالکوٹ کی ناجائز کمائی کا سرمایہ تھا۔
(روئیداد مناظرہ روپڑ ص ٢٥)
مولانا موصوف نے اپنی اسلامی جنوری میں بھی اس الزام کو دہرایا ہے۔ الزام مذکورہ بالا پر مندرجہ ذیل قرائن بھی بین ثبوت ہیں۔
مرزا بشیر احمد اپنی کتاب (سیرۃ المہدی حصہ اول ص ١٥٤) پر رقمطراز ہیں کہ: ”ایک دفعہ سیالکوٹ میں ایک عرب نامی محمد صالح جاسوسی کے الزام میں گرفتار کئے گئے۔ ڈپٹی کمشنر کی عدالت میں عرب مذکور کے بیان قلم بند کرنے کے لئے مرزا قادیانی نے ترجمان کی خدمات سرانجام دیں۔“
مرزا بشیر احمد اس روایت کو اتنا ہی درج فرماتے ہیں۔ لیکن حکیم مظہر حسن قریشی سیالکوٹی اپنی مشہور کتاب (چودھویں صدی کا مسیح مطبوعہ ١٣١٧ھ ص ١١) پر اسی روایت کو بالتفصیل بیان کرتے ہیں: ”کہ مرزا قادیانی نے اس عرب کے سامنے ( جب کہ وہ آپ کے دوست بن چکے تھے ) اپنی قلیل تنخواہ اور مالی پریشانی کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ میں نوکری سے گھبرا گیا ہوں۔ کوئی عمل بتائیے کہ نوکری کی ضرورت نہ رہے اور اس موضوع پر کافی دیر گفتگو ہوتی رہی۔ بالآخر مرزا قادیانی نے کہا کہ اور کچھ نہیں تو نوکری میں ترقی کا کوئی وظیفہ ہی بتا دیجئے تو عرب صاحب نے فرمایا کہ مرزا قادیانی آپ ملازمت میں ترقی نہیں کر سکتے۔ کیونکہ آپ افسران بالا کی شکایت کرتے ہیں اور وہ آپ سے ناراض ہیں تو مرزا قادیانی نے ادھر سے مایوس ہو کر کہا کہ عرب صاحب ! میرا ارادہ ہے کہ قانون کا مطالعہ کر کے وکالت کا امتحان دوں۔ وکالت میں معقول آمدنی ہے۔ عزت ہے آزادی ہے۔ اگر میں امتحان میں پاس ہو گیا تو بڑی کامیابی ہوگی۔“
(بحوالہ رئیس قادیان)
نوٹ: کتاب چودھویں صدی کا مسیح بھی مرزا قادیانی کی زندگی میں ہی شائع ہوئی تھی اور مرزا قادیانی نے اس واقعہ کو غلط نہیں کہا۔
ناظرین ! مولانا سیالکوٹی کا یہ اعتراض کافی وزنی ہے کہ مرزا قادیانی کے پاس وہ پانچ
١٨
ہزار روپیہ کہاں سے آ گیا؟ جس سے بیوی کے لئے زیورات بنائے گئے۔ کیونکہ مرزا قادیانی کی مالی حالت بہت کمزور تھی۔ گھر والوں کا گزارہ صرف پینشن پر تھا اور مرزا قادیانی کی تنخواہ محض پندرہ روپے تھی اور پھر انہیں کتابیں وغیرہ خریدنے کا شوق بھی بہت تھا۔
عملیات تسخیر کی مشق
اس کے علاوہ مولوی محمد ابراہیم میر سیالکوٹی فرماتے ہیں کہ مرزا قادیانی سیالکوٹ میں محلہ ٹبہ کے جس مکان میں رہتے تھے وہ مکان آج تک نجومی کی حویلی کے نام سے مشہور ہے۔ کیونکہ مرزا قادیانی اس مکان کے اندر عین دوپہر کے وقت چراغ جلا کر دروازہ بند کر کے عملیات تسخیر کیا کرتے تھے۔ (یعنی غیبی خزانے کی کوشش کرتے تھے۔ کیونکہ ظاہری حالات تو سازگار نہیں تھے)
(تبلیغی جنتری ١٩٢٤ء ص٢٣)
٩...... انگریزی خوانی ، الہام مادری زبان میں ہونا چاہئے
- .......١ قرآن مجید میں آتا ہے۔ ہر نبی اپنی قومی زبان میں مبعوث کیا جاتا ہے اور
اسی زبان میں الہام کیا جاتا ہے۔ مرزا قادیانی اس کی تصدیق میں فرماتے ہیں کہ: ”یہ بالکل بیہودہ اور غیر معقول امر ہے کہ انسان کی اصلی زبان تو کوئی ہو اور الہام کسی دوسری زبان میں ہو۔ جس کو وہ سمجھ بھی نہ سکتا ہو۔ کیوں اس میں تکلیف مالا یطاق ہے۔“
(چشمہ معرفت ص٢٠٩، خزائن ج٢٣ ص٢١٨)
مرزا قادیانی کے انگریزی اور عبرانی الہامات
- .......٢ اس معقول اصول کے برعکس مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ: ”بعض الہام
مجھے ان زبانوں میں ہو جاتے ہیں۔ جن سے مجھے کچھ بھی واقفیت نہیں۔ جیسے انگریزی یا سنسکرت وغیرہ۔“
(نزول المسیح ص٥٧، خزائن ج١٨ ص٤٣٥)
میں انگریزی بالکل نہیں جانتا
- .......٣ مرزا قادیانی بھی عجیب آدمی تھے کہ اس بیہودہ امر (غیر زبان میں الہام)
کو اپنی صداقت کا نشان ٹھہراتے ہوئے فرماتے ہیں کہ: ”میں انگریزی، عبرانی، سنسکرت وغیرہ کوئی زبان نہیں جانتا کہ ان زبانوں میں خود کوئی فقرہ بنا سکوں۔ اس لئے مجھے ان زبانوں میں الہام ہونا میرے منجانب اللہ ہونے کا ثبوت ہے۔“
(نزول المسیح ص٥٧، خزائن ج١٨ ص٤٣٥)
فرماتے ہیں کہ: ”میں انگریزی خواں نہیں ہوں اور بالکلی اس زبان سے ناواقف ہوں۔“
(حقیقۃ الوحی ص٤٠٤، خزائن ج٢٢ ص٤١٧)
١٩
ناظرین! ان ہر سہ حوالہ جات کو ذہن نشین رکھئے اور مندرجہ ذیل دوحوالے بھی پڑھئے اور مرزا قادیانی کے دجل وفریب اور مرزائی جماعت کی سادہ لوحی کی داد دیجئے۔
مرزا قادیانی کی انگریزی خوانی
سیالکوٹ ملازمت کے زمانہ میں مولوی الٰہی بخش چیف محرر مدارس کی کوشش سے کچہری کے ملازم منشیوں کے لئے ایک مدرسہ قائم ہوا کہ رات کو کچہری کے منشی انگریزی پڑھا کریں۔ ڈاکٹر امیر شاہ صاحب جو اس وقت اسسٹنٹ سرجن پنشنر ہیں۔ استاد مقرر ہوئے۔ مرزا قادیانی نے بھی انگریزی شروع کی اور ایک دو کتابیں انگریزی کی پڑھیں۔
(سیرۃ المہدی حصہ اول ص ١٥٥، حیات النبی جلد اول ص ٦٠)
ناظرین! مسیح قادیان کی راست گفتاری کی داد دیجئے اور انگریزی الہامات کی اصل پر نگاہ رکھئے۔
نوٹ: مرزائی انگریزی الہام بھی اسی پایہ کے ہیں۔ یعنی ایک دو کتابے۔
الہامات کا معنی دریافت کرنا
مزید تفصیل کے لئے مرزائے قادیان کا مندرجہ ذیل مکتوب ملاحظہ فرمائیے جو آپ نے اپنے ایک مخلص مرید میر عباس لدھیانوی (وبعد میں مرزا قادیانی کو چھوڑ گئے تھے) کے نام لکھا ہے۔
مخدومی و مکرمی میر عباس علی شاہ صاحب، السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ!
چونکہ اس ہفتہ میں بعض کلمات انگریزی وغیرہ میں الہام ہوئے ہیں اور اگرچہ بعض ان میں سے ایک ہندو لڑکے سے دریافت کرلئے ہیں۔ مگر قابل اطمینان نہیں اور بعض منجانب اللہ بطور ترجمہ الہام ہوا تھا اور بعض کلمات شاید عبرانی ہیں۔ ان سب کی تحقیق و تنقیح ضروری ہے۔ تاکہ کتاب میں شائع کر دیئے جائیں۔ آپ بہت جلد دریافت کرکے صاف خط میں اطلاع بخشیں اور کلمات یہ ہیں۔ پرمیشن، عمر، اطوس، بابلاطوس، یعنی پڑطوس لفظ ہے۔ یا پلاطوس۔ بباعث سرعت الہام معلوم نہیں ہوا اور عمر عربی لفظ ہے۔ اس جگہ پراطوس اور پرمیشن کے معنی دریافت کرنے ہیں کہ کیا ہیں اور کس زبان کے لفظ ہیں۔ پھر دو لفظ اور ہیں۔ ہوشعنا نصا معلوم نہیں یہ لفظ کس زبان کے ہیں اور انگریزی یہ ہیں۔ اوّل فقرہ عربی ہے۔ ”یادا ودعامل بالناس رفقا واحسانا“ یومسٹ ڈووہاٹ آئی ٹولڈ یو۔ تم کو وہ کرنا چاہئے جو میں نے فرمایا ہے۔ یہ اردو عبارت بھی الہامی ہے۔ پھر بعد اس کے ایک اور انگریزی کا الہام ہے اور ترجمہ اس کا الہامی نہیں بلکہ اس ہندو لڑکے نے بتلایا ہے۔ فقرات کی تقدیم و تاخیر بھی معلوم نہیں اور بعض الہامات میں
٢٠
فقرات کا تقدم تاخر بھی ہے۔ غور سے معلوم کر لیجئے اور وہ الہامات یہ ہیں۔ شڈ بی انگری بٹ گاڈ از ود یو۔ ہی شل ہلپ یو۔ مگر اس کے بعد یہ وارڈس آف گاڈ کین الیس چینج ۔ ترجمہ پھر بعد اس کے ایک دو اور الہام انگریزی میں ہیں۔ جن میں سے کچھ تو معلوم ہیں اور وہ یہ ہیں۔ آئی شل ہلپ یو۔ مگر اس کے بعد یہ ہے۔ یو ہیو ٹو گو امرتسر ۔ پھر ایک فقرہ ہے۔ جس کے معنی معلوم نہیں۔ ہی ہل ٹس ان دی ضلع پشاور یہ فقرات ہیں۔ ان کو تنقیح سے لکھیں اور برائے مہربانی جواب جلد تر دیں۔
(مکتوبات احمدیہ جلد اول ص ٦٨، ٦٩)
الہام رحمانی اور الہام شیطانی
مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ: ”الہامات رحمانی بھی ہوتے ہیں اور شیطانی بھی اور بعض اوقات شیطانی الہام بھی سچے ہو جاتے ہیں اور بعض چوہڑوں چماروں اور کنجروں کے بھی الہام (خواب) سچے ہو جاتے ہیں۔“
(حقیقت الوحی ص ٥٠٣، خزائن ج ٢٢ ص ٥٠٣)
اور یہ امر تو بالکل ظاہر ہے کہ شیطان بھی ساری زبانیں جانتا ہے۔ ناظرین! یہ ہے حقیقت مرزا قادیانی کے الہامات کی۔
١٠...... مرزا قادیانی کے فرشتے
ناظرین! مرزا قادیانی کے الہام کی حقیقت معلوم کرنے کے بعد مرزا قادیانی کے فرشتوں کا حال پڑھئے۔
- ......١ ”ایک دفعہ مارچ ١٩٠٥ء میں قلت آمدنی کی وجہ سے مصارف میں بڑی
تنگی ہو گئی۔ کیونکہ کثرت سے مہمانوں کی آمد تھی اور اس کے مقابلہ میں روپیہ کی آمدنی کم ، اس لئے دعا کی گئی۔ ٥؍ مارچ ١٩٠٥ء کو میں نے خواب دیکھا کہ ایک شخص جو فرشتہ معلوم ہوتا ہے۔ سامنے آیا اور بہت سا روپیہ میرے دامن میں ڈال دیا۔ میں نے اس کا نام پوچھا۔ اس نے کہا میرا نام کچھ نہیں۔ میں نے کہا آخر کچھ تو ہوگا۔ تو اس نے کہا کہ میرا نام ٹیچی، ٹیچی کا معنی ہے۔ وقت مقرر پر (یعنی سچ ) آنے والا۔“
(حقیقت الوحی ص ٣٣٢، خزائن ج ٢٢ ص ٣٤٥، ٣٤٦)
- ......٢ ”٢٥ برس کا عرصہ گزر گیا ہے۔ مجھے خواب آئی کہ میں ایک چار پائی پر
بیٹھا ہوں اور اسی چار پائی پر بائیں طرف مولوی عبداللہ غزنوی مرحوم بیٹھے ہیں۔ میرے دل میں خیال آیا کہ مولوی صاحب کو چار پائی سے اتار دوں۔ چنانچہ میں اپنی جگہ کو چھوڑ کر مولوی صاحب کی طرف سرکتا گیا اور مولوی صاحب پیچھے ہٹتے گئے۔ حتیٰ کہ انہیں چار پائی سے اترنا ہی پڑا اور وہ محض زمین پر کہ کوئی چٹائی وغیرہ بھی نہ تھی۔ بیٹھ گئے۔ اتنے میں تین فرشتے آسمان سے
٢١
آئے ان میں سے ایک کا نام خیراتی تھا اور وہ بھی زمین پر بیٹھ گئے۔“
(تریاق القلوب ص ٤٩، خزائن ج ١٥ ص ٣٥١)
ناظرین ! مرزا قادیانی کی خود پسندی شرارت اور مولوی عبداللہ غزنوی مرحوم کی تواضع ملاحظہ فرمائیے اور دونوں کے اخلاق کا موازنہ کیجئے۔ لطف یہ ہے کہ مرزا قادیانی مولوی صاحب کو ”ولی اللہ اور صاحب کشف و کرامات بھی مانتے ہیں۔“
(تذکرہ ص ٣٠)
اور ان کے ایک کشف کو اپنی صداقت کا نشان بھی ٹھہراتے ہیں۔
(ازالۃ الاوہام ص ٧٠٥، خزائن ج ٣ ص ٤٨٠)
اور ان کی خدمت میں استفادہ اور دعا کے لئے حاضر بھی ہوا کرتے تھے۔ لیکن خود پسندی کا یہ عالم ہے کہ ان کا چارپائی کی بائیں جانب بیٹھنا بھی ناگوار خاطر ہے۔
- ٣...... ”اور انہی دنوں کا واقعہ ہے کہ میں نے کشفی حالت میں دیکھا کہ ایک شخص
جو مجھے فرشتہ معلوم ہوتا ہے۔ خواب میں محسوس ہوا کہ اس کا نام شیر علی ہے۔ اس نے مجھے لٹا کر میری آنکھیں کھولیں اور صاف کیں اور میل اور کدورت اور کوتہ بینی کا مادہ نکال دیا اور میری آنکھوں کو چمکتے ہوئے ستارے کی طرح بنادیا۔“
(تریاق القلوب ص ٩٥، خزائن ج ١٥ ص ٣٥٢)
ناظرین! فرشتے کی صاف کی ہوئی آنکھوں کا حال معلوم کرنے کے لئے حوالہ ذیل ملاحظہ کیجئے۔
”مولوی شیر علی صاحب بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت صاحب مع چند خدام کے فوٹو کھنچوانے لگے تو فوٹو گرافر نے آپ سے عرض کیا کہ حضور ذرا آنکھیں کھول کر رکھیں۔ وگرنہ تصویر اچھی نہیں آئے گی اور آپ نے اس کے کہنے پر ایک دفعہ تکلیف کے ساتھ کچھ زیادہ کھولنے کی کوشش بھی کی مگر وہ پھر اسی طرح نیم بند ہوگئیں۔“
(سیرۃ المہدی حصہ دوم ص ٧٧)
نوٹ: مزید معلومات کے لئے مرزا قادیانی کی فوٹو ملاحظہ فرمائیے۔ جو اکثر مرزائیوں کے گھر چسپاں ہوتی ہے اور فرشتے کی صاف کی ہوئی آنکھوں کی داد دیجئے۔
- ٤...... ”خواب میں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک شخص مکھن لال نام جو کسی زمانہ میں
بٹالہ میں اسسٹنٹ تھا۔ کرسی پر بیٹھا ہوا ہے اور اردگرد اس کے عملہ کے لوگ ہیں۔ میں نے جاکر کاغذ اس کو دیا اور یہ کہا کہ یہ میرا پرانا دوست ہے۔ اس پر دستخط کردو۔ اس نے بلاتامل اس پر دستخط کردیئے۔ یہ جو مکھن لال دیکھا گیا ہے۔ مکھن لال سے مراد ایک فرشتہ ہے۔“
(تذکرہ ص ٥٦٠)
٢٢
لطیفہ
- ٥........ حدیث شریف میں آتا ہے کہ مسیح موعود دو فرشتوں کے سہارے نازل
ہوگا۔ مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ اس جگہ فرشتوں سے مراد دو دوست یعنی مولوی نور الدین صاحب اور محمد احسن صاحب ہیں۔
مولوی محمد احسن لاہوری جماعت میں داخل ہوکر مرزا محمود خلیفہ قادیانی کے دشمن ہوگئے تو خلیفہ صاحب نے ان پر مرتد کا فتویٰ لگاتے ہوئے اس اعزاز یعنی فرشتہ ہونے سے محروم کر دیا۔
اور ان کی جگہ دوسرا فرشتہ مولوی عبدالکریم سیالکوٹی کو تجویز کر لیا۔ جیسا کہ آپ (اخبار الفضل قادیان مورخہ ٤؍جولائی ١٩٢٣ء) میں فرماتے ہیں کہ: ”ان دنوں یہ بحثیں خوب ہوا کرتی تھیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا دایاں فرشتہ کون سا ہے اور بایاں کون سا۔ بعض کہتے تھے کہ مولوی عبدالکریم دائیں ہیں اور بعض استاذی المکرم (حکیم نورالدین) کی نسبت کہتے کہ وہ دائیں فرشتے ہیں۔“
مرزائی فرشتوں کی جلالت
”ایک دفعہ مجھے انگریزی میں الہام ہوا کہ آئی لو یو، آئی ایم ود یو، آئی شل ہیلپ یو اور اس وقت الہام کنندہ کا لہجہ اور تلفظ ایسا پردہشت تھا۔ جیسے کوئی انگریز سر پر کھڑا بول رہا ہے۔“
(براہین احمدیہ حاشیہ در حاشیہ ص ٤٨٥، خزائن ج ١ ص ٥٧١)
ایضاً ”ایک فرشتہ میں نے بیس سال کے نوجوان کی شکل میں دیکھا۔ صورت اس کی انگریزوں کی طرح تھی اور وہ میز کرسی لگائے بیٹھا تھا۔“
(تذکرہ مجموعہ الہامات مرزا ص ٣١، ١٧)
نوٹ: مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ میں مسیح اور انگریز دجال ہیں۔ ناظرین مسیح کے دل پر دجال کی عظمت شوکت اور ہیبت کا اندازہ لگائیے اور مسیحیت کی داد دیجئے۔
١١...... ترقی کی خواہش، امتحان مختاری میں ناکامی
ناظرین! آپ اس کتاب کے آٹھویں باب میں پڑھ آئے ہیں کہ مرزا قادیانی قیام سیالکوٹ کے زمانہ میں دنیاوی ترقی کے منصوبے اکثر سوچتے رہتے تھے اور عرب صاحب کی گفتگو میں وکالت پاس کرنے کا فیصلہ ہوا تھا۔ اسی سلسلہ میں آپ نے لالہ بھیم سین بٹالوی اہلمد لوکل بورڈ سیالکوٹ سے قانونی کتابوں کا مطالعہ شروع کیا اور امتحان وکالت میں شریک ہوئے۔ مگر افسوس کہ قسمت کی دیوی مہربان نہ ہوئی اور امتحان میں فیل ہوگئے۔“ (سیرۃ المہدی جلد اوّل ص ١٥٦)
٢٣
مقدمہ بازی
اگرچہ مرزا قادیانی امتحان مختاری میں ناکام رہے۔ لیکن اس کا اتنا فائدہ ضرور ہوا کہ آپ قانون سے واقف ہوکر مقدمات میں مصروف ہوگئے اور سیالکوٹ سے قادیان آ کر مقدمہ بازی کا مقدس مشغلہ شروع کر دیا اور اپنی جائیداد کے سلسلہ میں سرکار انگریزی کی عدالتوں میں کئی مقدمات دائر کر دیئے اور کافی عدالتوں اور کچہریوں میں خاک چھانتے رہے اور بقول خود ”ان مقدمات پر آٹھ ہزار بلکہ ستر ہزار روپیہ خرچ کیا۔“
(کتاب البریہ ص ١٥٥، خزائن ج ١٣ ص ١٨٢)
جس طرح مرزا قادیانی کے سیالکوٹ جانے کی وجہ میں مرزا محمود نے خیانت سے کام لیا اور سفر سیالکوٹ اور ملازمت کو باپ کے منشاء کے تحت کہا۔ حالانکہ حقیقت کچھ اور تھی جس کو وہ خود تحفہ شہزادہ ویلز میں تسلیم کر چکے ہیں۔ اسی طرح احمدی حضرات ان کی واپسی کو بھی باپ کے حکم سے بیان کرتے اور مرزا قادیانی کی خوبی بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے باپ کے کہنے پر نوکری سے استعفیٰ دے دیا۔ حالانکہ بات صرف اتنی ہے کہ امتحان میں فیل ہو جانے سے مرزا قادیانی اکثر اداس رہتے تھے اور ترقی کی راہیں مشکوک نظر آتی تھیں۔ اس لئے مرزا قادیانی نے اپنی والدہ کی معرفت باپ کو مجبور کیا تھا کہ مجھے قادیان بلالو۔
اس کے برعکس دوسری روایت ملاحظہ فرمائیے اور اس گروہ کی راست گفتاری کا اندازہ لگائیے۔ ملازمت سیالکوٹ کے زمانہ میں ایک دفعہ مرزا قادیانی کی والدہ نے منگل حجام کے ہاتھ دو جوڑے کپڑے اور پنیاں سیالکوٹ بھیجیں۔ حجام مذکور کے ذریعہ مرزا قادیانی نے اپنی والدہ کو پیغام بھیجا کہ میرا یہاں دل نہیں لگتا۔ مجھے واپس گھر بلالو۔ (اخبار الفضل قادیان مورخہ ٢٤؍نومبر ١٩٢٢ء)
اہل اللہ کا حال
مصنف رئیس قادیان ان واقعات کا تذکرہ کرتے ہوئے کیا عجیب فرماتے ہیں کہ اہل اللہ کا حال بالکل مختلف ہوتا ہے۔ کسی اہل اللہ کے تذکرہ میں اس قسم کی کوئی بات نظر نہیں آتی کہ انہوں نے کسی دنیوی عدالت میں مدعیانہ حیثیت میں مقدمہ دائر کیا ہو۔ خاصان بارگاہ الٰہی تو ناحق کے مقابلہ میں اپنا حق بھی چھوڑ دیا کرتے ہیں۔ مگر لڑائی جھگڑا پسند نہیں کرتے۔ میں نے بعض معتبر آدمیوں سے سنا ہے کہ صاحبزادہ مولوی محمد امین صاحب چشتی ساکن چکبڑی بھلوال ضلع گجرات کے کسی شریک نے ان کی مملوکہ زمین کی ملکیت کا دعویٰ کر دیا۔ جب صاحبزادہ صاحب کے پاس حاضری عدالت کے سمن آئے تو انہوں نے سمن کی پشت پر لکھ دیا کہ مجھے بیان کردہ اراضی کا کوئی دعویٰ نہیں۔ اس لئے مدعی کو ڈگری دی جائے۔ حالانکہ مولوی صاحب خود زمین مذکورہ کے جائز
٢٤
مالک تھے۔ محض مقدمہ بازی کچہری اور اہل کاروں کے رویہ سے بچنے کے لئے اپنے جائز حق سے دستبردار ہوگئے۔ لیکن مسیح قادیان کے جھگڑے اور مقدمہ بازی خدا کی پناہ۔
مستقبل کی فکر، مولانا محمد حسین بٹالوی سے ملاقات
”مرزا قادیانی مقدمہ بازی سے تھک ہار کر اپنے مستقبل کے متعلق سوچ رہے تھے کہ انہیں معلوم ہوا کہ ان کے بچپن کے ہم سبق مولانا محمد حسین بٹالوی لاہور سے بٹالہ آئے ہیں۔ مرزا قادیانی ان کی ملاقات کو ان کے مکان پر پہنچے۔ دوران ملاقات میں مرزا قادیانی نے مولانا کو اپنی مالی پریشانی اور تاریک مستقبل کا ذکر کیا اور قادیان کو چھوڑ کر کسی بڑے شہر میں سکونت کرنے کا اظہار کیا۔ نیز مرزا قادیانی کے آئندہ پروگرام کا تذکرہ ہوتا رہا۔ بالآخر طے پایا کہ آپ لاہور میرے پاس آ جائیے۔ حصول شہرت کے لئے غیر مذاہب سے چھیڑ چھاڑ شروع کر دیجئے اور ساتھ ہی صداقت اسلام پر ایک کتاب لکھئے۔ میں اس سلسلہ میں ہر طرح کی امداد دوں گا۔“
(چودھویں صدی کا مسیح ص ٤٢، ٤٣)
مرزا قادیانی لاہور میں
”طے شدہ پروگرام کے مطابق مرزا قادیانی نے لاہور آ کر غیر مذاہب سے چھیڑ چھاڑ اور کتاب کے سلسلہ میں عوام سے چندہ اور پیشگی قیمت مانگنا شروع کر دیا اور کتاب کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملا دیئے اور اشتہار دے دیا کہ میں ایک بے نظیر کتاب ٥٠ جلدوں میں شائع کرنا چاہتا ہوں۔ جس کا مسودہ قریباً مکمل ہو چکا ہے۔ جس میں صداقت اسلام پر تین صد دلائل ہوں گے۔ عوام نے دھڑا دھڑ چندہ دینا شروع کر دیا۔“
(رئیس قادیان ص ٧٦، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٣٢، ٣٨)
چونکہ مرزا قادیانی تاحال سلسلۂ تصنیف میں ماہر نہ تھے۔ اس لئے دلائل اور مواد فراہم کرنے کے لئے آپ نے اپنے ہم عصر علماء کو خطوط لکھے کہ آپ مجھے صداقت اسلام اور غیر مذاہب پر اعتراضات بتلائیے۔
(چند ہم عصر ص ٤٧)
پچاس اور پانچ کا فلسفہ
بالآخر مرزا قادیانی نے ١٨٨٠ء تا ١٨٨٤ء میں مذکورہ بالا کتاب براہین احمدیہ کے نام سے چار حصوں میں شائع کی۔ لیکن تین سو دلائل سے ایک دلیل بھی مکمل نہ کی۔
(سیرۃ المہدی ج ١ ص ١١٢)
٢٥
صرف اشتہار اور تمہیدات میں ہی چار سو صفحات سیاہ کر دیئے ۔ قیمت اور چندہ دینے والوں کی طرف سے باقی کتاب کا مطالبہ شروع ہوا اور مرزا قادیانی آج کل کرتے رہے۔ مگر جب تقاضا شدید ہوا تو آپ نے ربع صدی بعد اس کتاب کا پانچواں حصہ شائع کیا اور اس کے (براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٧، خزائن ج ٢١ ص ٩) پر کمال جرأت سے اعلان کر دیا کہ : ”پہلے پچاس جلد لکھنے کا ارادہ (یا وعدہ ؟ ) تھا۔ مگر اب صرف پانچ پر اکتفا کیا جاتا ہے اور چونکہ پچاس اور پانچ میں صرف ایک صفر کا فرق ہے۔ لہٰذا وعدہ پورا ہو گیا۔“
ناظرین ! یہ تھا مرزا قادیانی کا پہلا کارنامہ اور ہاتھ کی صفائی ۔
نوٹ: چونکہ اس کتاب میں مرزا قادیانی نے تمام بنیادی عقائد ختم نبوت، حیات مسیح، نزول مسیح وہی لکھے تھے جو اہل سنت کے ہیں۔ اس لئے علماء نے اس کتاب کی تعریف فرمائی۔
١٣...... ترقی کی طرف اور قدم
١٨٨٠ء سے لے کر ١٨٩٠ء تک مرزا قادیانی پہلے عالم دین پھر ملہم اور مجدد کی حیثیت میں کام کرتے رہے اور غیر مذاہب پر کڑی تنقید اور دلخراش اعتراض کرتے ہوئے اپنی شہرت میں اضافہ اور مستقبل کی بنیادیں استوار کرتے رہے۔ اس دوران میں مرزا قادیانی نے اپنے ہونے والے لڑکے کے حق میں بڑے زور شور سے الہامی اعلان بھی کیا ۔ مگر افسوس کہ وہ الہام سچا ثابت نہ ہوا۔ مرزائیوں میں یہ الہام مصلح موعود کے نام سے مشہور ہے۔ ناظرین تفصیل ملاحظہ فرمائیں۔
سفر ہوشیار پور اور چلہ کشی
ابتداء ١٨٨٦ء میں مرزا قادیانی اپنے دو تین مریدوں کے ہمراہ چلہ کشی کی غرض سے قادیان سے ہوشیار پور تشریف لے گئے اور طویلہ شیخ مہر علی میں قیام فرمایا اور بند مکان میں جہاں کسی کو جانے کی اجازت نہ تھی۔ چلہ کرتے رہے۔ چلہ کے خاتمہ پر آپ نے اشتہار ذیل شائع کیا۔
(سیرۃ المہدی حصہ اول ص ٦٩، ٧٠)
الہام مصلح موعود
”خدائے رحیم و کریم و بزرگ و برتر نے مجھے اپنے الہام میں فرمایا کہ اب تجھے رحمت کا ایک نشان دیتا ہوں۔ اسی کے موافق جو تو نے مجھ سے مانگا سو میں نے تیری تضرعات کو سنا...... سو تجھے بشارت ہو کہ ایک پاک اور وجیہ لڑکا تجھے دیا جائے گا ۔ فضل و احسان کا تجھے نشان عطا ہوتا اور فتح وظفر کی کلید تجھے ملتی ہے۔ اے مظفر تجھ پر سلام ...... خدا نے یہ کہا تا وہ جو زندگی کے خواہاں ہیں وہ
٢٦
موت کے پنجہ سے شرف اور کلام اللہ تمام نحوستوں کے تا وہ یقین لائیں کہ مقدس روح دی گئی ہے۔ اس کے سا اپنے مسیح نفس او ہے۔ کیونکہ خدا علوم ظاہری اور با آئے) ”دو شا الاول والآخر مبارک اور جلال عطر سے ممسوح جلد بڑھے گا او قومیں اس سے ہیں۔“ الہام مذکورہ مذکو کے گھر لڑکا پیدا ڈھنڈورہ پیٹا جا عورت کے حام پیدا ہوگا یا لڑکی ہو چکا ہے۔ س ہمارے ہاں ( اندر ضرور پیدا ہ
موت کے پنجے سے نجات پاویں اور وہ جو قبروں میں پڑے ہیں وہ باہر آ جاویں اور تادین اسلام کا شرف اور کلام اللہ کا مرتبہ لوگوں پر ظاہر ہو اور تاحق اپنی تمام برکتوں کے ساتھ آ جائے اور باطل اپنی تمام نحوستوں کے ساتھ بھاگ جائے۔ تا سمجھ جائیں کہ میں قادر ہوں جو چاہتا ہوں سو کرتا ہوں اور تا وہ یقین لائیں کہ میں تیرے ساتھ ہوں ...... اس لڑکے کا نام عنموئیل اور بشیر بھی ہے۔ اس کو مقدس روح دی گئی ہے اور وہ رجس سے پاک ہے اور وہ نور اللہ ہے۔ مبارک وہ جو آسمان سے آتا ہے۔ اس کے ساتھ فضل ہے ...... وہ صاحب شکوہ اور عظمت اور دولت ہوگا۔ وہ دنیا میں آئے گا اور اپنے مسیح نفس اور روح الحق کی برکت سے بہتوں کو بیماریوں سے صاف کرے گا۔ وہ کلمۃ اللہ ہے۔ کیونکہ خدا نے اس کو اپنے حکم تمجید سے پیدا کیا ہے۔ وہ سخت ذہین اور فہیم ہوگا وہ دل کا حلیم اور علوم ظاہری اور باطنی سے پر کیا جائے گا اور وہ تین کو چار کرنے والا ہوگا۔ (اس کے معنی سمجھ میں نہیں آئے) ”دو شنبہ ہے مبارک دو شنبہ فرزند دلبند گرامی ارجمند مظہر الاوّل والآخر مظہر الحق والعلاء کان اللہ نزل من السماء“ جس کا نزول بہت مبارک اور جلال الہی کے ظہور کا موجب ہوگا۔ نور آتا ہے نور، جس کو خدا نے اپنی رضامندی کے عطر سے ممسوح کیا ہے۔ ہم اس میں اپنی روح ڈالیں گے اور خدا کا سایہ اس کے سر پر ہوگا۔ وہ جلد جلد بڑھے گا اور اسیروں کی رستگاری کا موجب ہوگا اور زمین کے کناروں تک شہرت پائے گا اور قومیں اس سے برکت پائیں گی ...... ”وکان امرا مقضیا “ یعنی یہ سب کچھ امور فیصلہ شدہ ہیں۔“
(مجموعہ اشتہارات ج اول ص ١٠٠ تا ١٠٢)
الہام مذکورہ پر دو اعتراض اور مرزا قادیانی کا جواب
مذکورہ اشتہار شائع ہونے پر قادیان کے دو باشندوں نے اعتراض کیا کہ مرزا قادیانی کے گھر لڑکا پیدا ہو چکا ہے اور اس کو پوشیدہ رکھا گیا ہے اور چند دنوں تک ظاہر کر کے الہام کی سچائی کا ڈھنڈورہ پیٹا جائے گا۔ دوسرا اعتراض ہوشیار پور کے ایک ہندو نے یہ کیا، یہ کوئی الہام نہیں بلکہ عورت کے حاملہ ہونے کی صورت میں بعض لائق طبیب اور قابل دائیاں معلوم کر لیتی ہیں کہ لڑکا پیدا ہوگا یا لڑکی۔ مرزا قادیانی ان کا جواب ان الفاظ میں دیتے ہیں کہ: ”یہ اعتراض کہ لڑکا پیدا ہو چکا ہے۔ سراسر افتراء اور دروغ ہے۔ ہم آج ٢٢؍ مارچ ١٨٨٦ء کو عام اعلان کرتے ہیں کہ ہمارے ہاں (دوسری بیوی سے) کوئی لڑکا پیدا نہیں ہوا۔ لیکن بموجب وعدہ الہی عرصہ ٩ سال کے اندر ضرور پیدا ہوگا اور یہ الزام کہ لڑکا پیدا ہو چکا ہے جھوٹ ہے۔
٢٧
جس کو شبہ ہو وہ آئے ہمارے گھر والے آج کل اپنے والدین کے گھر گئے ہوئے ہیں اور ان کے والد میر ناصر نواب نقشہ نویس دفتر شہر صدر بازار انبالہ چھاؤنی میں رہتے ہیں۔ وہاں جائے اور ہمسایوں سے اچھی طرح دریافت کرے اگر کرایہ نہ ہو تو ہم دینے کے لئے تیار ہیں۔‘‘
(مجموعہ اشتہارات نمبر ٣١ ج ١ ص ١١٣ ملخص)
نیز فرماتے ہیں کہ : ’’اس جگہ اس وہم کا دور کرنا بھی ضروری ہے کہ لڑکا ، لڑکی پیدا ہونے کی شناخت دائیوں کو بھی ہوتی ہے۔ سو یہ اعتراض بھی غلط ہے۔ کوئی دائی یا حاذق طبیب اس معاملہ میں قطعی اور یقینی پیش گوئی نہیں کر سکتا۔ صرف ایک اٹکل ہوتی ہے جو بارہا خطا جاتی ہے۔ علاوہ ازیں یہ پیش گوئی آج ہی نہیں بلکہ آج سے دو سال پہلے ہی میں نے آریوں اور مسلمانوں کو بتادی تھی۔ اعتراض نہیں آ سکتا۔‘‘
(مجموعہ اشتہارات نمبر ٣١ ج ١ ص ١١٤)
الہام مذکورہ کی شان
عیسائیوں کو مخاطب کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’اس جگہ آنکھیں کھول کر دیکھ لینا چاہئے کہ یہ صرف ایک پیش گوئی ہی نہیں بلکہ عظیم الشان نشان آسمانی ہے۔ جو اللہ تعالیٰ نے ہمارے نبی کریم رؤف و رحیم کی صداقت اور عظمت ظاہر کرنے کے لئے ظاہر فرمایا ہے اور درحقیقت یہ نشان مردہ زندہ کرنے سے صدہا درجہ اعلیٰ وارفع اکمل افضل اور اتم ہے۔ کیونکہ مردہ زندہ کرنے کی حقیقت کیا ہے۔ بس یہی چند منٹوں کے لئے خارج شدہ روح کو واپس کرا دینا جس کا آنا نہ آنا برابر۔ مگر اس جگہ بفضلہ تعالیٰ و برکت حضرت خاتم الانبیاء ﷺ ایسی با برکت روح بھیجنے کا وعدہ فرمایا ہے۔ جس کی ظاہری اور باطنی خوبیاں تمام دنیا میں پھیلیں گی۔ سو اگر چہ بظاہر یہ نشان احیائے موتی کے برابر معلوم ہوتا ہے۔ مگر درحقیقت یہ نشان مردہ زندہ کرنے سے صدہا درجہ بہتر ہے۔ مگر افسوس کہ جو لوگ مسلمانوں میں چھپے ہوئے مرتد ہیں۔ وہ آنحضرت ﷺ کے معجزات کو دیکھ کر خوش نہیں ہوتے۔ بلکہ انہیں رنج ہوتا ہے کہ ایسا کیوں ہوا۔‘‘
(اشتہار مرزا مورخہ ٢٢؍ مارچ ١٨٨٦ء ، مندرجہ تبلیغ رسالت ج ١ ص ١١٤، ١١٥، نمبر ٣٦، مجموعہ اشتہارات)
مدت کی تعین
’’اس اشتہار کو دیکھ کر منشی اندر من صاحب مراد آبادی نے اعتراض کیا ہے کہ مدت نو سال بڑی لمبی ہے۔ اتنی مدت میں تو کوئی نہ کوئی لڑکا پیدا ہو ہی سکتا ہے۔ سو ان کو واضح ہونا چاہئے کہ اوّل جن صفات خاصہ کا لڑکا بیان کیا گیا ہے۔ ان کے پیش نظر لمبی مدت سے الہام کی شان اور عظمت میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ماسوا اس کے اب میں نے اس امر کے انکشاف کے لئے جناب
٢٨
الٰہی میں توجہ کی تو آج مورخہ ٤؍اپریل ١٨٨٦ء کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس عاجز پر کھل گیا ہے کہ ایک لڑکا بہت قریب پیدا ہونے والا ہے جو مدت ایک حمل سے تجاوز نہیں کر سکتا۔ اس سے ظاہر ہے کہ ایک لڑکا ابھی پیدا ہونے والا ہے۔ یا اس کے قریب حمل میں لیکن ابھی تک یہ معلوم نہیں ہوا کہ یہ لڑکا وہی (الہام والا) ہے یا کوئی اور۔ چونکہ یہ عاجز بندہ مولیٰ کریم ہے۔ اس لئے وہی ظاہر کرتا ہے جتنا منجانب اللہ ظاہر کیا جائے۔ سو آئندہ جو منکشف ہوگا۔ شائع کر دیا جائے گا۔“
(تبلیغ رسالت ج ١ ص ١١٦، ١١٧ نمبر ٣١، مجموعہ اشتہارات)
مریدوں سے دعا کی درخواست
چونکہ اس زمانہ میں مرزا قادیانی کے حرم محترم میں امید واری تھی۔ اس لئے آپ نے مریدوں سے دعا کے لئے کہا۔ چنانچہ ان کا ایک مرید عبداللہ سنوری سارا دن بارش برستی میں کوٹھے کی چھت پر جنگل میں جا کر دعائیں کرتا رہا۔ کیونکہ بقول مرزا قادیانی بارش اور جنگل میں دعا زیادہ قبول ہوتی ہے۔
(سیرۃ المہدی جلد اول ص ٩٩)
لڑکی کی پیدائش اور مرزائی منطق
لیکن قدرت کی ستم ظریفی ملاحظہ فرمائیے کہ مرزا قادیانی کے ہاں ١٥؍اپریل ١٨٨٦ء کو لڑکے کی بجائے لڑکی پیدا ہوئی۔
(تبلیغ رسالت جلد اول ص ١٢٧، اشتہار واجب الاظہار، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٢٥)
اس پر لوگوں نے اعتراض کئے۔ مرزا قادیانی ان کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں کہ: ”خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ ایک بڑی حکمت اور مصلحت ہے کہ اس نے اب کی دفعہ لڑکا عطا نہیں کیا۔ کیونکہ اگر وہ اب کی دفعہ ہی پیدا ہوتا تو ایسے لوگوں پر کیا اثر پڑ سکتا۔ جو پہلے ہی سے کہتے تھے کہ قواعد طبی کے رو سے حمل موجود کی علامات سے ایک حکیم آدمی بتلا سکتا ہے کہ کیا فائدہ ہوگا...... امداد سے لڑکی یا لڑکا معلوم ہو سکتا ہے۔ نیز حاملہ کے قارورہ سے بھی پتہ چل سکتا ہے۔ وغیرہ اور ایک صاحب کہہ رہے تھے کہ ڈیڑھ ماہ سے لڑکا پیدا ہو چکا ہے۔ عنقریب مشہور کیا جائے گا۔ سو یہ اچھا ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے تولد فرزند مسعود کو دوسرے وقت پر ڈال دیا۔ وگرنہ اگر اب کی دفعہ پیدا ہوتا تو ان مفتریات مذکورہ بالا کا جواب کون دیتا۔ لیکن اب تولد فرزند موصوف کی بشارت محض غیب ہے۔ نہ کوئی حمل موجود ہے کہ ارسطو کا ورکس اور جالینوس کے قواعد حمل دانی بالمعاوضہ پیش ہو سکیں اور نہ کوئی بچہ چھپا ہوا ہے کہ وہ کچھ مدت کے بعد نکال لیا جائے۔“
(اشتہار مرزا مندرجہ تبلیغ رسالت ج ١ ذیل ص ١٢٨ تا ١٣٠، اشتہار نمبر ٣٥، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٢٩، ١٣٠ ملخص)
٢٩
١٤...... مصلح موعود کی پیدائش اور مبارکباد
”بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ بشیر اوّل کی پیدائش کے وقت میں قادیان میں تھا۔ آدھی رات کے وقت حضور مسجد میں تشریف لائے اور مجھ سے فرمایا کہ ہمارے گھر میں دردزہ کی بہت تکلیف ہے۔ آپ یہاں یٰسین پڑھیں اور میں اندر جاکر پڑھتا ہوں۔ میں نے ابھی یٰسین ختم بھی نہ کی تھی کہ آپ مسکراتے ہوئے تشریف لائے اور فرمایا کہ عبداللہ ہمارے گھر لڑکا پیدا ہوا ہے۔ میں خوشی کے جوش میں مسجد کے اوپر چڑھ کر بلند آواز سے مبارک باد کہنے لگ گیا۔“
(سیرۃ المہدی جلد اوّل ص ٢٧٢، ٢٧٧)
اعلان اور جشن مسرت
”اے ناظرین! میں آپ کو بشارت دیتا ہوں کہ وہ لڑکا جس کے تولد کے لئے میں نے اشتہار ٨؍اپریل ١٨٨٦ء میں پیش گوئی کی تھی اور خدا تعالیٰ سے اطلاع پا کر کھلے کھلے بیان میں لکھا تھا کہ اگر موجودہ حمل سے پیدا نہ ہوا تو دوسرے حمل میں ضرور پیدا ہو جائے گا۔ آج ١٦؍ذیقعدہ ١٣٠٤ھ مطابق ٧؍اگست ١٨٨٧ء کو رات کے بارہ بجے کے بعد ڈیڑھ بجے کے قریب پیدا ہو گیا ہے۔“
(اشتہار ٧؍اگست ١٨٨٧ء، تبلیغ رسالت ج١ ص ٤١، نمبر ٤٠، مجموعہ اشتہارات ج١ ص ١٤١)
”اس لڑکے کی پیدائش پر مرزائی حلقوں میں خوب خوشیاں منائی گئیں۔ حکیم نور الدین نے جموں سے اس ٣، ٢ دن کے لڑکے کو سلام بھیجا اور بقول مرزا قادیانی اس لڑکے نے مسکرا کر اور انگشت شہادت ہلا کر جواب دیا۔“
(مکتوبات احمدیہ ج٢ ص ٣٥، ٤٤)
دھوم دھام سے عقیقہ ہوا جس میں دور دراز کے مرزائی شریک ہوئے اور مرزا قادیانی نے اس لڑکے کو دین کے چراغ کا لقب دیا۔
(تریاق القلوب ص٤١، خزائن ج١٥ ص٢١٨، اشتہار ١٥؍جولائی ١٨٨٨ء، مجموعہ اشتہارات ج١ ص ١٦٢)
مصلح موعود کی وفات اور صف ماتم
مگر افسوس کہ یہ لڑکا بھی ١٥ماہ کی عمر پا کر مورخہ ٤؍نومبر ١٨٨٨ء کو مرزا قادیانی کو داغِ مفارقت دے گیا۔
(اشتہار نمبر ٤٧، مجموعہ اشتہارات ج١ ص ١٦٣)
مرزا قادیانی، حکیم نور الدین کو وفات کی اطلاع ان الفاظ میں دیتے ہیں۔
مخدومی مکرمی مولوی نور الدین صاحب سلمہ تعالیٰ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، میرا لڑکا بشیر احمد تیس روز بیمار رہ کر آج بقضائے رب عزوجل انتقال کر گیا۔ اس واقعہ
٣٠
سے جس قدر مخالفین کی زبانیں دراز ہوں گی اور موافقین کے دلوں میں شبہات پیدا ہوں گے۔اس کا اندازہ نہیں ہو سکتا۔ والسلام! خاکسار غلام احمد مورخہ ٤؍ نومبر ١٨٨٨ء
(مکتوبات احمدیہ ج٢، نمبر ٥ ص ١٢٨)
مرزا بشیر احمد ایم اے سیرۃ المہدی جلد اول میں فرماتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے مریدوں کو تسلی دینے کے لئے اشتہاروں اور خطوط کی بھر مار کر دی اور لوگوں کو سمجھایا کہ الہام نے اس لڑکے کو مصلح موعود نہیں کہا تھا۔ یہ میرا صرف اجتہاد تھا۔ غرض لوگوں کو بہت سنبھالا دیا گیا۔ چنانچہ بعض (مرید) سنبھل گئے۔ لیکن اکثروں پر مایوسی کا عالم طاری تھا اور کئی خوش اعتقادوں کو ایسا دھکا لگا کہ سنبھل ہی نہ سکے۔ (یعنی مرزا قادیانی) کو چھوڑ گئے اور مخالفین میں پرلے درجہ کا استہزاء (مذاق) ہو رہا تھا۔ پھر اس کے بعد عامۃ الناس (یعنی مریدوں) میں پسر موعود کی آمد کا اتنے جوش وخروش سے انتظار نہیں کیا گیا۔
تائبین کے نام
مرزا بشیر احمد کے حوالہ سے ثابت ہوا کہ اس موقع پر اکثر مریدوں پر مایوسی چھا گئی اور بعض پھسل بھی گئے۔ لیکن انہوں نے پھسلنے والوں کا نام اور تعداد نہیں بتائی۔ صحیح تعداد کا تو ہمیں بھی علم نہیں ہے۔ لیکن کتاب رئیس قادیان کے حوالہ سے صرف لاہور کے چند مشہور مرزائیوں کا نام درج کرتے ہیں۔ جو اس الہام کو جھوٹا دیکھ کر مرزا قادیانی سے علیحدہ ہوئے تھے۔ اس سے اندازہ لگا لیجئے۔
- ١....... فتح علی شاہ ڈپٹی کلکٹر محلہ چابک سواراں لاہور۔
- ٢، ٣....... خواجہ امیر الدین، محمد الدین کوٹھی داراں کشمیری بازار لاہور۔
- ٤....... میاں محمد چتو پٹولی رئیس لاہور۔
- ٥....... مولوی الٰہی بخش لاہور۔
- ٦....... مولا بخش پٹولی لاہور۔
- ٧....... حافظ محمد یوسف ضلع دار محکمہ انہار امرتسر یا لاہور۔
نوٹ: یہ سب نامی گرامی مرزائی اور مرزا قادیانی کے دست راست تھے۔
الہام مذکورہ کی مزید تفصیل....... تین کو چار کرنے والا
بقول مرزا بشیر احمد ایم۔اے مریدوں کی دلچسپیاں تو ختم ہو گئیں اور وہ مصلح موعود کی حقیقت سے آگاہ اور وجود سے مایوس ہو گئے۔ مگر مرزا قادیانی بدستور تاویلات میں مصروف
٣١
رہے۔ چنانچہ مرزا قادیانی اس لڑکے کی وفات پر مریدوں کو تسلی دینے کے لئے ایک تقریر کی جو ”حقانی تقریر بر وفات بشیر“ کے نام سے مشہور ہے اور سبز کاغذوں پر شائع ہونے کی وجہ سے سبز اشتہار بھی کہا جاتا ہے۔ اس تقریر کا خلاصہ یہ ہے کہ: ”الہام مذکورہ میں دراصل دو لڑکوں کی بشارت دی گئی تھی۔ ایک وہ جو مر گیا اور ایک مصلح موعود جو آئندہ بہت جلد پیدا ہوگا۔ یہ میری غلطی تھی کہ میں نے اس الہام سے ایک ہی لڑکا سمجھا وغیرہ وغیرہ۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٦٣)
اجتہادی غلطی کا عذر
نیز معترضین کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ: ”پسر موعود کی صفت میں یہ فقرہ بھی تھا کہ وہ تین کو چار کرنے والا ہوگا۔ جس سے سمجھا جاتا ہے کہ وہ چوتھا لڑکا یا بچہ ہوگا۔ مگر پہلے بشیر کے وقت تو کوئی تین موجود نہ تھے۔ جن کو وہ چار کرتا۔ ہاں ہم نے اپنے اجتہاد سے ظنی طور پر خیال کیا تھا کہ شاید یہی لڑکا مبارک موعود ہو، سو غلطی ہمارے اجتہاد کی ہے۔ نہ خدا کی الہام کی۔“
(تریاق القلوب ص ٤٢١، ٤٢٢، خزائن ج ١٥ ص ٤٦٩، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٧٢)
مرزا قادیانی کی الہامی شان ....... نبی کی اجتہادی غلطی کی فوری اصلاح
ناظرین! مرزا قادیانی نے اس مقام پر اجتہادی غلطی کا عذر کیا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ آگے جانے سے پہلے آپ کو یہ بھی بتا دیں کہ مرزا قادیانی اجتہادی غلطی کو کیا جانتے ہیں اور ان کی شان کیا تھی۔ پس غور سے سنئے اور یاد رکھئے مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ: ”مجھے اس خدا کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ میں اپنے الہامات پر ایسا ہی ایمان رکھتا ہوں جیسے قرآن مقدس پر اور جیسے آفتاب اور مہتاب کے وجود پر اور جیسے دو اور دو چار پر۔ ہاں جب میں اپنی طرف سے کوئی اجتہاد کروں یا اپنی طرف سے کسی الہام کا معنی کروں تو ممکن ہے کہ کبھی اس معنی میں غلطی بھی کھا جاؤں۔ مگر اس غلطی پر قائم نہیں رکھا جاتا اور خدا کی رحمت جلد تر مجھے حقیقی انکشاف کی راہ دکھا دیتی ہے اور میری روح خدا کے فرشتوں کی گود میں پرورش پاتی ہے۔“
(تبلیغ رسالت ج ٨ ص ٦٤، ٦٥، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ١٥٤، ١٥٥، اشتہار نمبر ٢٠٨)
نوٹ: مرزا قادیانی کی یہ بات معقول ہے۔ واقعی خدا کا فرض ہے کہ اپنے انبیاء کو اس قسم کی غلطی سے فوراً اطلاع کرے۔ کیونکہ الہام غلط نکلنے کی صورت میں ملہم یعنی پیغمبر اور ملہم یعنی خدا دونوں کو ہتک ہے۔
مرزا قادیانی! اگر آپ کی شان یہی ہے تو اس معاملہ میں یہ غلطی در غلطی کیوں؟
٣٢
١٥......مزید انتظار
اس اجتہادی غلطی کے عذر کے بعد مرزا قادیانی ہمیشہ اس مصلح موعود کی راہ تکتے رہے اور اپنے مریدوں کو گاہے بگاہے تسلی کے لئے یاد دلاتے رہے۔ اس کے بعد یکے بعد دیگرے مرزا قادیانی کے ہاں تین فرزند (محمود احمد، بشیر احمد، شریف احمد) پیدا ہوئے۔ مگر آپ نے ٢٠؍فروری ١٨٨٦ء والے مذکورہ الہام کو ان میں سے کسی پر بھی چسپاں نہ کیا۔ بلکہ بدستور یاد کراتے اور پرامید رہے۔ حتیٰ کہ آپ نے اپنی مشہور کتاب (انجام آتھم مطبوعہ ص١٦٤، خزائن ج١١ ص١٦٤) پر تحریر فرمایا کہ: ”اس پسر موعود تین کو چار کرنے والے کی روح نے میری کمر میں حرکت کر کے بتایا ہے کہ میں ایک دن (یعنی سال) تک آجاؤں گا۔ جل جلالہ!“ (تریاق القلوب ص٤١، خزائن ج١٥ ص٢١٧)
محمود، بشیر شریف کی موجودگی میں (ضمیمہ انجام آتھم ص٥٨، خزائن ج١١ ص٣٤٢) میں مولوی عبدالحق غزنوی کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ: ”ہمارا چوتھا لڑکا، تین کو چار کرنے والا تمہاری زندگی میں پیدا ہوگا۔“
پھر بالتصریح فرماتے ہیں کہ: ”مجھے فروری ١٨٨٦ء میں الہام ہوا کہ خدا تین کو چار کرے گا۔ اس وقت ان تین لڑکوں (محمود، بشیر، شریف) کا نام ونشان بھی موجود نہیں تھا اور اس الہام کا معنی یہ تھا کہ تین لڑکے ہوں گے۔ پھر ایک ہوگا۔ جو تین کو چار کر دے گا۔ سو اب خدا کا فضل ہے۔ تین لڑکے موجود ہیں۔ صرف ایک کی انتظار ہے جو تین کو چار کر دے گا۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص١٥، خزائن ج١١ ص٢٩٩)
انتظار کی گھڑیاں ختم ...... مبارک احمد کی پیدائش اور مصلح موعود کی تعیین
بالآخر انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں اور مرزا قادیانی کے گھر ١٤؍جون ١٨٩٩ء کو چوتھا لڑکا پیدا ہو ہی گیا۔ بس پھر کیا تھا۔ مرزا قادیانی نے آسمان سر پر اٹھا لیا اور بڑے طمطراق سے فرمایا کہ: ”میرا چوتھا لڑکا جس کا نام مبارک احمد ہے۔ اس کی نسبت ٢٠؍فروری ١٨٨٦ء میں پیش گوئی کی گئی تھی۔ پھر (ضمیمہ انجام آتھم ص٥٨، ١٨٣) پر لکھا گیا تھا کہ یہ لڑکا عبدالحق غزنوی کی زندگی میں پیدا ہوگا۔ پھر یہی پیش گوئی (ضمیمہ انجام آتھم ص١٥) پر درج کی گئی۔ سو خدا تعالیٰ نے میری تصدیق اور مخالفین کی تکذیب کے لئے اس پسر چہارم کو ١٤؍جون ١٨٩٩ء مطابق ٤؍صفر ١٣١٧ھ بروز شنبہ پیدا کر کے میرے الہام کو پورا کر دیا۔“
نیز فرمایا کہ: الہام الٰہی نے اس کا نام پہلے ہی مبارک رکھا تھا۔ (ہم ہی بھولے رہے)
(تریاق القلوب ص٤٠، خزائن ج١٥ ص٢١٣)
٣٣
نیز اس کتاب (تریاق القلوب ص ٤١، خزائن ج ١٥ ص ٤١٧) پر اس لڑکے کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا کہ: ”عجیب بات ہے کہ حضرت مسیح نے تو صرف ماں کی گود میں ہی کلام کیا تھا۔ مگر میرے اس لڑکے نے ماں کے پیٹ میں ہی ١٠ مرتبہ باتیں کیں۔“ نامعلوم آپ نے کیسے سنیں پھر اپنی کتاب (حقیقت الوحی ص ٢١٨، خزائن ج ٢٢ ص ١٢) پر اپنے نشان صداقت گنواتے ہوئے بڑے زور شور سے لکھا کہ عرصہ ٢٠، ٢١ سال ہو گیا ہے کہ میں نے خدا سے علم پا کر اشتہار شائع کیا تھا کہ میرے چار لڑکے ہوں گے جو عمر پاویں گے۔ سو وہ چار لڑکے یہ ہیں۔ محمود احمد، بشیر احمد، شریف احمد، مبارک احمد جو زندہ موجود ہیں۔
مبارک کی بیماری
مرزا قادیانی نے اس چوتھے لڑکے پر کوشش کر کے تمام کے تمام الہامات چسپاں کر دیئے۔ مگر افسوس کہ قدرت اب بھی مہربان نہ تھی۔ لڑکا مذکورہ اگرچہ ٤، ٥ سال لیٹ آیا تھا۔ کیونکہ الہام الہی نے ٢٢/مارچ ١٨٨٦ء کو زیادہ سے زیادہ ٩ سال کی مدت بتائی تھی۔ جو ٢٣/مارچ ١٨٩٥ء کو پوری ہوئی۔ مگر لڑکا ١٤/جون ١٨٩٩ء چار سال دو ماہ ٢٣ دن لیٹ آیا۔ مگر اے کاش کہ زندہ رہتا تو دیر آید درست آید کا مسئلہ بنالیا جاتا۔ لیکن قدرت کو مرزا قادیانی کی تکذیب ہی منظور تھی۔ لڑکا مذکورہ ٨ سال کی عمر میں بیمار ہو گیا۔ ہر چند علاج معالجہ کیا گیا۔ مگر افسوس کہ ؎
صحت کا الہام اور نکاح
مبارک کی بیماری مرزا قادیانی اور مریدوں کے لئے سوہان روح بن رہی تھی۔ وہ دودھ کے جلے ہوئے چھاچھ سے ڈر رہے تھے۔ بالآخر مرزا قادیانی کے ملہم نے ان کی تسلی کے لئے الہام نازل کیا کہ مبارک احمد ٩ دن تک تندرست ہو جائے گا اور مرزا قادیانی نے اپنے مریدوں کو تسلی دینے کے لئے مبارک احمد کا ٨ سال کی عمر اور بیماری کی حالت ہی میں ڈاکٹر عبدالستار آف بھیرہ کی دختر مسماۃ مریم سے نکاح کر دیا۔ تا مرید مطمئن رہیں۔
کھیل ختم ہوا
مگر افسوس کہ لڑکے کو نہ تندرست ہونا تھا نہ ہوا۔ بلکہ ١٦/ ستمبر ١٩٠٧ء کا وہ دن آیا کہ لڑکا مذکورہ بستر مرگ پر دم توڑ رہا تھا اور مرزا قادیانی اس کی صحت کے لئے تضرع اور زاری سے دعا کر رہے تھے۔ کیسا نازک وقت تھا کہ ؎
٣٤
سربسجدہ ہے مسیحا کہ میری بات رہے
مگر مرزا قادیانی اور مرزائی جماعت کی تمام دعائیں ضائع اور مبارک احمد مورخہ مذکورہ کو راہی ملک عدم ہو کر مرزا قادیانی کے کذب پر آخری مہر ثبت کر گیا اور وہ ڈرامہ جو ٢٠؍ فروری ١٨٨٦ء سے کھیلا جا رہا تھا۔ ١٦؍ ستمبر ١٩٠٧ء کو ذلت اور نامرادی کے ساتھ ختم ہوا۔
دعویٰ مسیحیت
اس دوران میں مرزا قادیانی اپنی شہرت کے لئے اشتہار وغیرہ شائع کرتے رہے۔ جب دیکھا کہ مریدوں کی تعداد کافی ہو گئی ہے تو ١٨٩١ء میں مسیحیت موعودہ کا دعویٰ کر دیا اور دعویٰ مذکورہ کی بنیاد یوں رکھی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام وفات پا گئے ہیں اور احادیث میں جس مسیح کی خبر دی گئی ہے وہ میں ہوں اور اس امر کو ثابت کرنے کے لئے رسالہ فتح اسلام، توضیح المرام اور ازالہ اوہام شائع کئے۔ چونکہ مرزا قادیانی کا یہ دعویٰ قرآن حدیث اور اجماع امت کے علاوہ خود ان کی اپنی پہلی تحریرات کے بھی خلاف تھا۔ اس لئے ملک میں کافی شور اٹھا۔ علمائے اسلام نے اس کے خلاف لکھنا اور تردید کرنا ضروری سمجھا اور بعض مرید بھی علیحدہ ہو گئے۔ چنانچہ مرزا بشیر احمد لکھتے ہیں۔
مریدوں کو ٹھوکر
”بیان کیا مجھ سے والدہ صاحبہ نے کہ جب حضرت مسیح موعود دعویٰ مسیحیت شائع کرنے لگے تو اس وقت آپ قادیان میں تھے۔ پھر آپ لدھیانہ تشریف لے گئے اور وہاں سے دعویٰ شائع کیا۔ والدہ صاحبہ فرماتی ہیں کہ دعویٰ شائع کرنے سے پہلے آپ نے مجھ سے فرمایا تھا کہ میں ایسی بات کا اعلان کرنے لگا ہوں جس سے ملک میں بہت شور پیدا ہوگا۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ اس اعلان پر بعض مریدوں کو بھی ٹھوکر لگ گئی۔“
(سیرۃ المہدی ج ١ ص ١٩، پرانا نسخہ ص ٢١)
١٧...... مناظرہ لدھیانہ
مولانا محمد حسین بٹالوی، مرزا قادیانی کے ہم عمر اور بچپن کے ہم سبق تھے اور مرزا قادیانی کو پبلک میں مولوی صاحب موصوف نے متعارف کرایا تھا۔ لیکن تبدیلی عقائد کی وجہ سے وہ مرزا قادیانی کے مخالف ہو گئے اور مرزا قادیانی کی تردید شروع کر دی۔ جولائی ١٨٩١ء میں مرزا قادیانی لدھیانہ میں جا کر اپنے عقائد کی تبلیغ اور مریدوں سے بیعت لے رہے تھے کہ
٣٥
مسلمانوں نے مرزا قادیانی سے مناظرہ کی طرح ڈال کر مولا نا بٹالوی کو لاہور سے لدھیانہ بلایا اور مناظرہ مقرر ہوا۔ کئی دن مناظرہ کے سلسلہ میں خط و کتابت اور تبادلہ خیالات ہوتا رہا۔ ڈپٹی کمشنر لدھیانہ نے شہر کی فضا کو مکدر ہوتے دیکھ کر ہر دو صاحبان کو لدھیانہ سے چلے جانے کا حکم دے دیا۔ جس پر مولا نا بٹالوی تو لدھیانہ سے لاہور تشریف لے آئے۔
لدھیانہ سے اخراج کا حکم اور خاندانی غداریوں کا سہارا
لیکن مرزا قادیانی نے فوراً ڈپٹی کمشنر کے نام ایک مفصل خط لکھا۔ جس میں ان تمام خدمات کا تذکرہ کیا جو مرزا قادیانی کے خاندان نے سرکار انگریزی کے استحکام کے سلسلہ میں کی تھیں اور اس خط میں ان تمام چٹھیوں کو درج بھی کیا۔ جو مرزا قادیانی کے خاندان کو (ملکی غداری) کے صلہ میں انگریز حکام کی طرف سے عطاء ہوئی تھیں اور ان تمام خدمات کا واسطہ دے کر لدھیانہ میں ٹھہرنے کی اجازت مانگی جو منظور ہوگئی اور مرزا قادیانی لدھیانہ ہی رہے۔ روایت ملاحظہ فرمائیے۔ مرزا قادیانی کے صحابی سید میر عنایت علی شاہ لدھیانوی اس مناظرہ کا تذکرہ کرتے ہوئے راوی ہیں۔
”محرم بھی قریب تھا۔ پولیس کپتان اور ڈپٹی کمشنر لدھیانہ نے باہمی تجویز کی کہ ایسانہ ہو کہ اس مباحثہ کے نتیجہ میں فساد ہو جائے۔ اس لئے حضرت صاحب اور مولوی صاحب کو رخصت کرنے کے لئے ڈپٹی دلاور علی اور کرم بخش تھانیدار کو مقرر کیا۔ پہلے وہ مولوی صاحب کو رخصت کر آئے۔ پھر وہ حضرت صاحب کے پاس آئے تو مرزا قادیانی نے کہا کہ ہمارے بچے بیمار ہیں۔ ہم سفر نہیں کر سکتے۔ اس کے جواب میں ڈپٹی دلاور علی نے کہا کہ اچھا میں بھی صاحب کے پاس آپ کی سفارش کروں گا۔ (یوں بھی مولوی صاحب کے چلے جانے سے خطرہ ٹل گیا ہوگا) اس کے بعد حضور نے ایک پرچہ معہ نقول اسناد خاندانی ڈپٹی کو بھیجا۔ جب وہ پرچہ اور چٹھیاں مسٹر ہیوس ڈپٹی کمشنر کے پاس پہنچیں تو انہوں نے فوراً ایس۔ پی صاحب کے نام حکم لکھا کہ مرزا قادیانی مولوی نہیں، بلکہ رئیس ہیں۔ اسی وقت جواب دیا جائے کہ جب تک مرزا قادیانی کا دل چاہے لدھیانہ میں رہیں۔“
(اخبار الفضل قادیان مورخہ ٤/جون ١٩٣٢ء ص٣)
اس تفصیلی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی کو لدھیانہ سے اخراج کا حکم ملا۔ جبھی تو انہیں یہ سارے پاپڑ بیلنے پڑے۔ لیکن ان کی راست گفتاری ملاحظہ ہو کہ ازالہ اوہام میں اپنے قلم سے تحریر فرماتے ہیں کہ مجھے لدھیانہ بدری کا حکم ہوا ہی نہیں۔
ناظرین! یہ ہے مناظرہ لدھیانہ کا انجام اور مسیح قادیان کی سیاست کہ اپنے ملک میں
٣٦
غیروں کا اقتدار قائم کرنے کے عوض میں جو سرٹیفکیٹ حاصل ہوئے۔ وہ سفر میں بھی اپنے ساتھ رکھتے ہیں تا سند رہیں اور وقت ضرورت کام آئیں۔
مباحثہ دہلی
مناظرہ لدھیانہ میں مولانا بٹالوی نے مرزا قادیانی پر سخت اعتراض کئے۔ مرزا قادیانی یہاں کی خفت مٹانے کے لئے دہلی پہنچے۔ دہلی چونکہ ان دنوں علماء اور صوفیاء کا مرکز تھا۔ خیال آیا کہ وہاں چل کر قسمت آزمائی کریں۔ مرزا قادیانی نے دہلی پہنچ کر ٢؍اکتوبر ١٨٩١ء کو ایک اشتہار دیا جس کا خلاصہ درج ذیل ہے۔
”مجھے مثیل مسیح ابن مریم ہونے کا دعویٰ ہے..... میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو فوت شدہ تسلیم کرتا ہوں اور (احادیث میں) جس آنے والے مسیح کے حق میں پیش گوئی ہے۔ اپنے حق میں یقینی اور قطعی اعتقاد رکھتا ہوں۔ اس کے علاوہ میں ملہم ہوں، محدث ہوں، مامور اور چودھویں صدی کا مجدد ہوں۔ چونکہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ اس شہر کے علماء مثلاً (حضرت) سید نذیر حسین صاحب اور مولانا عبدالحق صاحب حقانی اس عاجز کو کافر اور کاذب خیال کرتے ہیں۔ اس لئے میں ان دونوں علماء کو چیلنج کرتا ہوں کہ وہ مندرجہ ذیل شرائط کے ساتھ میرے ساتھ بحث کرلیں۔
- ١...... مولوی صاحبان سرکاری انتظام کرائیں۔ جو ایک انگریز افسر کے زیر نگرانی ہو۔ کیونکہ
مجھے خطرہ ہے۔
- ٢...... بحث تحریری ہوگی۔ ہر فریق اپنے ہاتھ سے پرچہ لکھ کر دستخط کر کے پیش کرے۔
- ٣...... بحث حیات وفات مسیح پر ہوگی۔
میں اس اشتہار کے جواب کے لئے ایک ہفتہ انتظار کروں گا۔ اگر مولوی صاحبان کو مذکورہ شرائط کے ساتھ مناظرہ منظور ہو تو وہ جس جگہ چاہیں میں حاضر ہو جاؤں گا۔ خاکسار غلام احمد قادیانی حال وارد دہلی بازار بلی ماراں کوٹھی نواب لوہارو۔“
(تبلیغ رسالت ج ٢ ص ٢٤، ٢٥، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٣١ تا ٢٣٦ ملخص)
اشتہار مذکورہ کا جواب
اشتہار مذکورہ شائع ہونے کے بعد سید صاحب نے بذات خود مرزا قادیانی کے شبہات کو دور کرنا چاہا اور ٥؍اکتوبر کو مرزا قادیانی کو لکھا کہ: ”آپ بے تکلف میرے مکان پر آجائیے اور اپنے شکوک پیش کر کے اطمینان کر لیجئے۔ مرزا قادیانی نے جواب دیا کہ میں تو انگریز افسر کی غیر موجودگی میں کوئی بات نہیں کروں گا۔“
٣٧
سید صاحب کے علاوہ دہلی کے تمام نامور علماء نے مرزا قادیانی کی تمام شرائط منظور کرتے ہوئے مرزا قادیانی کو بذریعہ اشتہار مناظرہ کے لئے للکارا۔ مگر مرزا قادیانی یہی کہتے رہے کہ پہلے پولیس کا انتظام کرو۔
مرزا قادیانی ابھی یونہی لیت ولعل کر رہے تھے کہ مولانا بٹالوی بھی دہلی پہنچ گئے۔ مرزا قادیانی نے علماء کے متواتر چیلنج سے تنگ آ کر ١٦؍ اکتوبر کو پھر اشتہار شائع کیا کہ میں تو صرف سید صاحب یا ان کے شاگرد بٹالوی صاحب سے مناظرہ کروں گا۔ مطلب صرف یہ تھا کہ کسی نامی گرامی پہلوان سے ٹکر لیں۔
کا مسئلہ پیش نظر تھا۔ اس کے جواب میں مولانا بٹالوی نے ١٧؍ اکتوبر کو اشتہار شائع کیا کہ مرزا قادیانی! ١٨؍ اکتوبر ١٨٩١ء بوقت ٩ بجے تیار ہو کر چاندنی محل میں تشریف لے آئیے۔ ہم دونوں آپ سے مناظرہ کرنے کو وہاں موجود ہوں گے۔ ہماری طرف سے کوئی شرط نہیں اور آپ کی تمام شرائط ہمیں منظور ہیں۔ مرزا قادیانی نے اشتہار کا کوئی جواب نہ دیا۔ جس سے یہی سمجھا گیا کہ وہ وقت مقررہ پر میدان مناظرہ میں آجائیں گے۔ کیونکہ ان کی تمام شرائط منظور کی جا چکی ہیں۔ مولانا بٹالوی نے ١٨؍ تاریخ کو چاندنی محل میں جلسہ کا تمام انتظام کرا دیا اور مرزا قادیانی کو پیغام بھیجا کہ انتظامات مکمل ہیں۔ تشریف لائیے۔ مگر افسوس کہ مرزا قادیانی تشریف نہ لے گئے اور جلسہ برخاست ہوا۔ اس کے بعد مرزا قادیانی نے کہا کہ میں مولانا بٹالوی سے مناظرہ نہیں کرنا چاہتا، میں تو صرف میاں صاحب سے مناظرہ کروں گا۔
مرزا قادیانی کی اس آخری ضد کو پورا کرنے کے لئے اسی تاریخ کو دوبارہ چاندنی محل میں جلسہ قائم ہوا اور میاں صاحب نے مرزا قادیانی کو خود چٹھی لکھی کہ میں بذات خود آپ سے بحث کرنے کو آمادہ ہوں۔ لیکن مرزا قادیانی نے یہ عذر کر کے کہ شہر میں میرے خلاف جوش پھیلا ہوا ہے۔ اس لئے بغیر سرکاری انتظام کے گھر سے باہر نہیں نکل سکتا۔
مرزا قادیانی کی طرف سے ایک اور اشتہار
اس کے بعد ١٧؍ اکتوبر ١٨٩١ء کو مرزا قادیانی نے ایک اور اشتہار دیا جس میں حضرت میاں صاحب کی شان میں بازاری الفاظ تحریر کرتے ہوئے لکھا کہ: ”آپ میرے ساتھ مناظرہ کر لیں یا میرے دلائل وفات مسیح سن کر حلف اٹھا لیجئے کہ یہ دلائل غلط ہیں۔ حضرت عیسیٰ زندہ ہیں۔ میاں صاحب نے اس تہذیب سے گرے ہوئے اور گالیوں سے بھرے ہوئے اشتہار سے متاثر
٣٨
ہو کر مرزا قادیانی کے ساتھ مزید گفت و شنید کرنے سے انکار کر دیا۔ لیکن پھر عوام کی خواہش کے پیش نظر آپ نے ٢٠؍اکتوبر ١٨٩١ء کو جامع مسجد میں مناظرہ کرنا منظور فرمالیا اور مرزا قادیانی کو اس کی اطلاع بھی کر دی گئی۔ بالآخر مورخہ مذکورہ کو فریقین جامع مسجد پہنچ گئے۔
میاں صاحب کی طرف سے نواب سعید الدین خان رئیس لوہارو مولوی عبدالمجید صاحب، سید بشیر حسین انسپکٹر پولیس سپرنٹنڈنٹ کی معیت میں مرزا قادیانی کے پاس گئے اور کہا کہ آپ لکھ دیجئے کہ میاں صاحب میرے دلائل سن کر تردیدی حلف اٹھا جائیں تو میں اسی مجمع میں توبہ کرلوں گا۔ مگر مرزا قادیانی نے اس کا کچھ جواب نہ دیا۔
سپرنٹنڈنٹ صاحب کافی دیر مرزا قادیانی سے گفتگو کرتے اور انہیں کسی فیصلہ کن بحث کی طرف لانے کی کوشش کرتے رہے۔ مگر مرزا قادیانی کوئی تجویز ماننے پر تیار نہ ہوئے۔ اس پر سپرنٹنڈنٹ نے فرمایا۔ کہ مرزا قادیانی آپ مسیح موعود ہیں یا نہیں؟ اگر ہیں تو ثبوت پیش کیجئے۔ فرض کرو کہ مسیح علیہ السلام فوت ہو گئے تو اس حال میں سب برابر ہیں۔ آپ میں کیا خوبی ہے۔ جو دوسروں میں نہیں کہ آپ کو مسیح موعود مان لیا جائے۔ مرزا قادیانی اس سوال کا کوئی جواب نہ دے سکے۔ صرف اتنا کہا کہ میں صرف حیات وفات مسیح پر بحث کروں گا اور وہ بھی تحریری، زبانی مباحثہ کرنے کے لئے میں تیار نہیں۔ اس پر اراکین جلسہ نے کہا کہ پبلک آپ کے عقائد معلوم کرنا چاہتی ہے۔ تحریری سوال و جواب تو گھر بیٹھے بھی ہو سکتا ہے اور ہو رہا ہے۔ اگر آپ اپنے دعویٰ کا ثبوت پیش نہیں کر سکتے تو بہتر ہے کہ جلسہ ختم کر دیا جائے۔ اس وقت نواب سعید الدین صاحب لوہارو نے مرزا قادیانی سے یہ بھی کہہ دیا کہ اچھا آپ وفات مسیح کے دلائل پیش کیجئے۔ مرزا قادیانی نے جواب دیا میں صرف میاں صاحب کی زبان سے حیات مسیح کا تحریری ثبوت چاہتا ہوں۔ اس پر سپرنٹنڈنٹ صاحب نے جلسہ برخاست کر دیا۔
نوٹ: مناظرہ مذکورہ کی روئیداد مولانا بٹالوی کے اخبار اشاعۃ السنہ ج ١٣ص ٩٠،٦ پر درج ہوئی تھی اور اس کے علاوہ مولوی عبدالمجید دہلوی نے الحق الصریح لاثبات حیوٰۃ المسیح شائع کی تھی۔ ہم نے یہ روئیداد رئیس قادیان سے بطور خلاصہ نقل کی ہے۔
١٨...... دہلی میں دوسرا مناظرہ اور مرزا قادیانی کا فرار
حضرت میاں صاحب کے نامور شاگرد مولانا محمد بشیر صاحب سہسوانی مرحوم مقیم بھوپال کو جب ان واقعات کا علم ہوا تو انہوں نے حاجی محمد احمد سوداگر دہلی کی معرفت مرزا قادیانی کو لکھا کہ مجھے آپ کی تمام شرائط اور موضوع منظور ہے۔ صرف تیسری شرط میں ذرا ترمیم کر لیجئے۔
٣٩
مرزا قادیانی نے مولوی صاحب کی پیش کردہ ترمیم کو منظور کر لیا اور مندرجہ ذیل شرائط طے ہوئے۔
- ١...... مناظرہ سرکاری انتظام کے تحت ہو۔
- ٢...... مناظرہ تحریری ہو۔ ہر دو فریق مجلس میں بیٹھ کر پرچہ لکھیں۔
- ٣...... پہلی بحث مسئلہ حیات مسیح پر ہو۔ اگر حیات ثابت ہو جائے تو مرزا قادیانی دعویٰ مسیحیت
سے دستبردار ہو جائیں اور اگر وفات ثابت ہو تو مرزا قادیانی کا اصل دعویٰ مسیح موعود کا ثابت نہیں ہوگا اور پھر مرزا قادیانی کے مسیح موعود ہونے پر بحث کی جائے گی۔
- ٤...... فریقین سے جو فریق قبل از تصفیہ مباحثہ سے روگرداں ہوگا۔ اس کا گریز (فرار) سمجھا
جائے گا۔
جب یہ شرائط طے ہو گئے تو مولانا بشیر صاحب بھوپال سے ١٦ ربیع الاوّل کو دہلی پہنچے اور اپنی آمد کی اطلاع مرزا قادیانی کو دی۔ لیکن افسوس کہ مرزا قادیانی نے طے شدہ شرائط کے برعکس نئی نئی شرائط پیش کر دیں۔ مثلاً:
- ١...... حیات مسیح پر مدعی مولوی صاحب ہوں۔
- ٢...... بحث میرے مکان پر ہو۔
- ٣...... جلسہ عام نہ ہو بلکہ مولوی صاحب کے ساتھ صرف دس آدمی ہوں۔ ان دس آدمیوں
میں مولانا بٹالوی اور مولوی عبدالمجید صاحب نہ ہوں۔
- ٤...... فریقین کے پرچوں کی تعداد پانچ سے زیادہ نہ ہو۔
ان نئی شرطوں کے پیش نظر مولانا کے ساتھیوں کا ارادہ تھا کہ نئی شرائط مسترد کر دی جائیں۔ مگر مولوی صاحب نے مرزا قادیانی پر حجت پوری کرنے کے لئے یہ تمام شرائط منظور فرمالیں۔
١٩؍ ربیع الاوّل کو مولوی صاحب مرزا قادیانی کے مکان پر پہنچ گئے اور حیات مسیح پر پہلا پرچہ پانچ دلائل پر مشتمل تحریر فرمایا اور مرزا قادیانی کے حوالہ کر دیا۔ مرزا قادیانی نے شرائط کے مطابق اس مجلس میں جواب لکھنے سے انکار کر دیا۔ ہر چند کہ انہیں مجلس مذکورہ میں جواب لکھنے پر مجبور کیا گیا۔ مگر مرزا قادیانی نہ مانے اور کہا کہ آپ جائیے میں جواب لکھ رکھوں گا۔ آپ کل صبح دس بجے آ کر جوابی پرچہ لے لینا مولانا نے بحث کو آخر تک پہنچانے کے لئے یہ عذر بھی منظور کر لیا۔ دوسرے دن دس بجے جب مولانا، مرزا قادیانی کے مکان پر گئے تو مرزا قادیانی اندر سے ہی تشریف نہ لائے اور پیغام بھیج دیا کہ ابھی جواب تیار نہیں ہوا۔ آپ جائیے جب جواب تیار ہوگا آپ کو بلا لیا جائے گا۔
٤٠
پھر دو بجے کے بعد ہمیں بلا کر جواب سنایا اور پرچہ دیتے ہوئے فرمایا کہ آپ بھی میرا پرچہ گھر لے جایئے۔ چھ دن یہ مناظرہ جاری رہا اور فریقین نے تین تین پرچے لکھے۔ ابھی اس بحث کے چار پرچے باقی تھے اور اس کے بعد دوسرے موضوع یعنی مسیحیت مرزا پر مناظرہ ہونا تھا۔ لیکن مرزا قادیانی اپنا پہلو کمزور اور آثار شکست کو محسوس کرتے ہوئے بحث کو درمیان ہی چھوڑ کر اپنے خسر کی بیماری کا بہانہ کرتے ہوئے دہلی سے لدھیانہ بھاگ گئے۔ ہر چند انہیں مباحثہ پورا کرنے پر زور دیا گیا اور شرائط مذکورہ کے تحت ان کے فرار کو کذب کی دلیل بھی کہا گیا۔ لیکن مرزا قادیانی نے ایک نہ مانی اور رات کی گاڑی دہلی سے چلتے بنے۔ ناظرین! یہ تھا مرزا قادیانی کی شیخی اور تعلی کا حسرت ناک انجام۔
(الحق الصریح ص٢)
مرزا قادیانی کے فرار کی اصلی وجہ
مصنف رئیس قادیان، مرزا قادیانی کے فرار کی وجہ ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں کہ: ”مرزا قادیانی مدعی مسیحیت تھے اور علماء کی طرف سے ہمیشہ مطالبہ ہوتا تھا کہ اپنے مسیح ہونے کا ثبوت دو۔ مرزا قادیانی نے اس مصیبت سے بچنے کے لئے مسئلہ حیات وفات مسیح کو آڑ بنا رکھا تھا۔ اس مناظرہ میں جب اسی سد سکندری کو ٹوٹتے ہوئے دیکھا تو خیال آیا کہ اب میرے اصلی قلعہ پر گولہ باری اور میری ذات شریف زیر بحث آئے گی اور میری مسیحیت کا قلعہ چشم زدن میں پاش پاش ہو جائے گا تو مرزا قادیانی کے لئے بغیر اس کے کوئی چارہ کار نہ تھا کہ غنیم کے قلعہ فتح کرنے سے پیشتر ہی راہ فرار اختیار کر جائیں۔“
ناظرین! ہم چاہتے ہیں کہ مرزا قادیانی کے فرار کی رسید مرزائی لٹریچر سے پیش کر دیں۔ تاکہ سند رہے اور مرزائیوں کو انکار کی جرأت نہ ہو۔ پس سنئے:
مرزا بشیر احمد قادیانی ایم۔ اے سیرۃ المہدی جلد دوم میں مرزا قادیانی کے قیام دہلی کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ: ”جامع مسجد والے قصہ کے تین چار دن بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اپنے ہی مکان پر مولوی محمد بشیر صاحب بھوپال کے ساتھ تحریری مباحثہ ہوا۔ جس میں باہم یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ فریقین کے پانچ پانچ پرچے ہوں گے۔ لیکن جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دیکھا کہ مولوی صاحب کی طرف سے بار بار وہی دلیلیں دہرائی جارہی ہیں تو آپ نے فریق مخالف کو یہ بات جتا کر کہ اب مناظرہ کو جاری رکھنا تضییع اوقات ہے۔ تین پرچوں پر ہی بحث کو ختم کر دیا اور فریق مخالف کے طعن و تمسخر کی کوئی پرواہ نہ کی۔ کیونکہ انبیاء کو دنیاوی شہرت سے کوئی غرض نہیں ہوتی۔“
(سیرۃ المہدی ج٢ ص٩٠،٩١)
٤١
لیکن مخالفین پر اتمام حجت تو انبیاء کا فرض ہوتا ہے نا۔
احمدی دوستو! غور فرماؤ کہ صاحبزادہ صاحب کس طرح مرزا قادیانی کا فرار ثابت کر رہے ہیں۔ ہاں اس امر پر بھی غور فرمائیے کہ صاحبزادہ صاحب مناظرہ ترک کرنے کی ذمہ داری مولوی صاحب پر ڈالتے ہیں۔ حالانکہ بھاگے مرزا قادیانی تھے اور مولوی صاحب کے تکرار کلام کو فرار کا بہانہ کہتے ہیں۔ لیکن خود مرزا قادیانی اپنے تیسرے پرچہ کے آخر میں فرماتے ہیں کہ : ”مجھے اب زیادہ دیر دہلی رہنے کی گنجائش نہیں۔ میں مسافر ہوں۔ (واپس جانا ضروری ہے۔ ناقل) باقی تحریری بحث کا کیا ہے۔ گھر بیٹھے بھی ہو سکتی ہے۔“
(الحق روئداد مباحثہ دہلی مرتبہ مرزا ص ٩٠ ، خزائن ج ٤ ص ٢٢٠)
مرزائیو! پچھلے ورق الٹ کر بتاؤ کہ تحریری مباحثہ کی شرط کس نے پیش کی تھی۔ مرزا قادیانی نے یا مولوی صاحبان نے؟ مولوی صاحب تو پہلے ہی کہہ رہے تھے کہ مناظرہ مجمع عام میں تقریری ہو کہ وقت بھی تھوڑا صرف ہو اور پبلک بھی آپ کے عقائد سے روشناس ہو۔ یہ آپ کے مرزا قادیانی ہی تھے کہ پبلک میں آتے اور مدعا ثابت کرتے ہوئے گھبراتے اور قلمیں گھسانے کی شرط لازمی قرار دیتے تھے۔ لیکن اب وہی بات کہہ رہے ہیں جو جامع مسجد میں علماء کی طرف سے کہی گئی اور مرزا قادیانی نے قبول نہ کی تھی۔ نیز بتائیے کہ دہلی سے دوران مناظرہ بھاگ آنے کے سلسلہ میں مرزا قادیانی کی مانیں یا صاحبزادہ صاحب کی تصدیق کریں۔
ناظرین! جھوٹ کو سچ بنانا بڑا مشکل ہے۔
١٩...... میر عباس علی کی علیحدگی ...... میر صاحب کا مقام
میر عباس علی لدھیانوی ، مرزا قادیانی کے ابتدائی مریدوں سے ہیں۔ ان کے اخلاص اور عقیدت پر مرزا قادیانی کو سب سے زیادہ اعتماد تھا اور ان کی جاں نثاروں اور قربانیوں کا تذکرہ عام طور پر کیا کرتے تھے اور ان کو اپنا ہمراز خیال کرتے تھے۔ آپ باب نمبر ٩ میں پڑھ آئے ہیں کہ مرزا قادیانی اپنے مشکل اور فہم سے بالاتر الہامات کے معانی انہیں کی معرفت دریافت فرمایا کرتے تھے۔ میر صاحب موصوف کا مقام معلوم کرنے کے لئے آپ میر صاحب کے نام مرزا قادیانی کے مندرجہ ذیل ارشادات ملاحظہ فرمائیے۔ جو مکتوبات مرزا جلد اوّل سے منقول ہیں۔
- ١...... آپ کا گرامی نامہ ملا خداوند کریم کا کیسے شکر کیا جائے کہ اس نے محض اپنے فضل سے
آپ جیسے دوست عطا فرمائے۔
٤٢
- ٢...... آپ کی ایمانی استقامت کے بارے میں الہام ہوا ہے کہ اصلھا ثابت وفرعھا
فی السماء یعنی جڑ زمین میں مضبوط اور شاخیں آسمان تک پھیلی ہوئی ہیں۔ ”وذالك فضل الله يوتيه من يشاء“
- ٣...... آپ میں آثار سعادت اور رشد کے ظاہر ہیں اور آپ حقیقت میں ہیں اور آپ میں
صدق وصفا اور اخلاص کا جوہر موجود ہے۔ جس کو یہ چیزیں مل جائیں اس کو استقامت بھی ساتھ ہی عطا کی جاتی ہے۔
- ٤...... الحمد للہ کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو سب سے زیادہ انصار اس عاجز کا بنایا ہے اور اس ناچیز
کو آپ کے وجود پر فخر ہے۔
- ٥...... جتنی محبت آپ کو اس عاجز سے ہے وہی محبت اور تعلق اس عاجز کو آپ سے ہے۔
- ٦...... اگرچہ میں بیمار ہوں۔ مگر آپ کی بیماری کا حال معلوم کر کے مجھے اپنی بیماری بھول گئی
اور بہت تشویش پیدا ہوگئی ہے۔
- ٧...... آپ میرے اوّل دوست ہیں۔ جن کے دل میں سب سے پہلے خدا تعالیٰ نے میری
محبت ڈالی اور جو سفر کی تکلیف اٹھا کر محض لله سب سے پہلے قادیان آئے۔ میں آپ کو کبھی بھول نہیں سکتا۔
(ازالہ اوہام ص ٧٩٠، خزائن ج ٣ ص ٥٢٧)
مرزا قادیانی کے اس مخلص اور جانثار مرید کو اس موقعہ پر خدا تعالیٰ کی طرف سے ہدایت ہوئی اور ٩ سال کی گمراہی کے بعد اللہ تعالیٰ کی توفیق سے مرزا قادیانی سے علیحدہ ہو گئے۔
علیحدگی کے وجوہات
میر صاحب کیوں علیحدہ ہوئے؟ مرزا قادیانی اس کے جواب میں فرماتے ہیں کہ: ”میر صاحب کی علیحدگی پر بعض لوگ تعجب کریں گے کہ ان کے حق میں تو الہام ہوا تھا کہ: ”اصلھا ثابت وفرعھا فی السماء“ اس کا جواب یہ ہے کہ معلوم ہوتا ہے کہ اس الہام میں میر صاحب کی کسی فطرتی خوبی کی طرف اشارہ ہے اور یہ ظاہر امر ہے کہ کوئی نہ کوئی فطرتی خوبی تو کفار میں بھی ہوتی ہے۔ علاوہ اس کے یہ الہام اس زمانہ کا ہے۔ جب میر صاحب میں ثابت قدمی موجود تھی اور زبردست طاقت اخلاص کی پائی جاتی تھی اور ان کا خیال تھا کہ میں ایسا ہی ثابت قدم رہوں گا۔ سو خدا تعالیٰ نے ان کی اس وقت کی حالت کی خبر دے دی۔ ضروری نہیں تھا کہ ہمیشہ ایسے ہی رہتے۔ نیز یہ بھی ممکن ہے کہ میر صاحب عارضی علیحدگی کے بعد پھر اسی اخلاص کے ساتھ واپس آجائیں۔ (تاریخ بتاتی ہے) کہ بہتوں نے راست بازوں کو (بعض غلط فہمیوں کی وجہ سے) چھوڑ دیا اور
٤٣
آپ کے دشمن ہو گئے۔ مگر پھر کوئی کرشمہ قدرت دیکھ کر پشیمان ہو گئے اور اپنے گناہ کا اقرار کرتے ہوئے رجوع ہو گئے۔ میرے دوستوں کو چاہئے کہ ان کے حق میں سچے دل سے دعا کریں۔ میں بھی انشاء اللہ دعا کروں گا۔
(مکتوبات احمدیہ ج ١ ص ١١٠ تا ١١٢، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٩٣ تا ٢٩٥)
ناظرین! غور فرمائیے کہ مرزا قادیانی اپنے الہام کو صحیح ثابت کرنے کے لئے متعارض عذر کر رہے ہیں۔ اس کے آگے میر صاحب کی علیحدگی کے وجوہات اس طرح بیان فرماتے ہیں۔
مباحثہ دہلی میں شکست
اوّل ...... ” یہ کہ میر صاحب کے دل میں دہلی کے مباحثات کا حال خلاف واقعہ جم گیا ہے۔ (یعنی وہ سمجھ رہے ہیں کہ میں دہلی میں اپنا دعویٰ ثابت نہیں کر سکا اور مناظرہ میں شکست کھا گیا ہوں۔ ناقل)
معجزات کا انکار
دوم ...... میر صاحب کے دل میں سراسر فاش غلطی سے یہ بات بیٹھ گئی ہے کہ گویا میں ایک نیچری آدمی ہوں کہ معجزات کا منکر اور لیلۃ القدر کا انکاری اور نبوت کا مدعی اور انبیاء علیہم السلام کی اہانت کرنے والا اور عقائد اسلام سے منہ پھیرنے والا ۔
(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٩٨)
(میر صاحب کے یہ شکوک بالکل سچے ہیں۔ مرزا قادیانی واقعی معجزات لیلۃ القدر کے علاوہ بہت سی چیزوں کے منکر اور مدعی نبوت اور گذشتہ انبیاء کی توہین کرتے تھے ) ان دو وجوہات کے علاوہ ایک اور وجہ بھی ہے۔ جسے مصنف رئیس قادیان نے اپنی کتاب میں درج فرمایا ہے کہ:
شعبدہ کی قدر شناسی
ایک دفعہ لدھیانہ میں ایک شعبدہ باز نے مرزا قادیانی سے کہا کہ کوئی کمال دکھائیے یا دیکھئے۔ اس کے بعد شعبدہ باز نے کھرپی لے کر تھوڑی سی زمین نرم کی اور بیج بکھیر دیئے۔ تھوڑی ہی دیر میں چھوٹے چھوٹے پودے نکل آئے اور دیکھتے دیکھتے فٹ سے زیادہ اونچے ہوئے اور ٦، ٧ قسم کے پھول بن گئے۔ جن کے رنگ اور خوشبو ایک دوسرے سے علیحدہ تھی۔ یہ کمال دیکھ کر تمام پبلک اس کی گرویدہ ہوگئی۔ جب مرزا قادیانی کو کمال دکھانے کے لئے کہا گیا تو انہوں نے کہا کہ میں تو صرف دعا ہی کیا کرتا ہوں۔ اس کے بعد مرزا قادیانی نے میر صاحب کو کہا کہ سو دو سو روپیہ دے کر بھی یہ کمال سیکھ لینا چاہئے۔ یہ سن کر میر صاحب کے دل میں گرہ بیٹھ گئی اور خیال آیا کہ یہ کیسا دنیا پرست مسیح ہے کہ شعبدہ گر کا مقابلہ کرنے کی بجائے شعبدہ ہی پر ریجھ رہا ہے۔
٤٤
میزوں پر کھانا اور سنت کا استخفاف
کتاب سیرۃ المہدی جلد اوّل کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ میر صاحب کی علیحدگی کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ انہوں نے اپنے ٩ سالہ تجربہ میں یہ معلوم کیا کہ مرزا قادیانی کے دل میں نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی سنت کا کوئی احترام نہیں۔ چنانچہ ایک دفعہ مرزا قادیانی میز کرسی پر کھانا کھا رہے تھے تو میر صاحب نے کہا کہ حضرت یہ خلاف سنت ہے۔ مرزا قادیانی نے تسلیم کرنے کی بجائے فرمایا کہ میر صاحب آپ کو میز اچھے نہیں لگتے تو نیچے بیٹھ کر کھا لیجئے۔
(سیرۃ المہدی ج ١ ص ٧٨، روایت نمبر ٩٩)
بہر حال میر صاحب کی علیحدگی کذب مرزا پر بین دلیل ہے۔ جس سے ان کے الہامات کی قلعی بھی کھل گئی اور ان کی متعدد خامیاں بھی ظاہر ہو گئیں اور میر صاحب نہ صرف علیحدہ ہوئے بلکہ نشان نمائی اور کراماتی مقابلہ میں ہمیشہ مرزا قادیانی کے لئے وبال جان بنے رہے۔
٢٠...... مرزا قادیانی کے تاریخی دلائل
مرزا قادیانی نے اپنے ملہم، مامور، محدث، مجدد اور مسیح ہونے پر ٤ قسم کے دلائل پیش کئے ہیں۔ (١) عربی۔ (٢) قبولیت دعا۔ (٣) قرآنی علم۔ (٤) اظہار علی الغیب یعنی الہامات۔
(ملفوظات مرزا حصہ اوّل ص ١٤، ١٥)
ہماری کتاب کا موضوع چونکہ تاریخ ہے۔ اس لئے ہم نمبر اوّل کے علاوہ ٢، ٣، ٤ پر واقعاتی روشنی ڈالیں گے۔ اس باب میں نمبر ٤ پر مندرجہ ذیل گذارشات ذہن نشین فرمائیے۔ مرزا قادیانی کے الہامات دو قسم کے ہیں۔ ایک گول مول جنہیں وہ خود اور مرزائی جماعت دنیائے عالم کے ہر نئے حادثہ پر چسپاں کیا کرتے ہیں۔ وہ الہام ہم کسی دوسرے رسالہ میں درج کریں گے۔
دوسرے وہ الہام جو مرزا قادیانی نے بطور نشان صداقت مخالفین کے سامنے پیش کئے اور انہیں اپنے صدق کذب کا معیار ٹھہرایا۔ ان کی تفصیل درج ذیل ہے۔
مرزا قادیانی اپنی کتاب شہادۃ القرآن میں منشی عطاء محمد بٹالوی والد علامہ مشرقی کو جو احادیث کے منکر تھے۔ اپنی مسیحیت کا ثبوت دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ: ”پھر ماسوا اس کے بعض عظیم الشان نشان اس عاجز کی طرف سے معرض امتحان میں ہیں۔ جیسا کہ منشی عبداللہ آتھم صاحب امرتسری کی نسبت پیش گوئی جس کی مدت ٥؍ جون ١٨٩٣ء سے پندرہ مہینہ تک اور پنڈت لیکھرام پشاوری کی موت کی نسبت پیش گوئی جس کی میعاد ١٨٩٣ء سے چھ سال تک ہے اور پھر
٤٥
مرزا احمد بیگ کے داماد (مرزا سلطان محمد کی موت) کے متعلق پیش گوئی پٹی ضلع لاہور کا باشندہ ہے۔ جس کی میعاد آج ٢١؍ ستمبر ١٨٩٣ء سے قریباً گیارہ ماہ باقی ہے۔ یہ تمام امور جو انسانی طاقتوں سے بالاتر ہیں۔ ایک صادق یا کاذب کی شناخت کے لئے کافی ہیں۔ اگر کوئی طالب حق ہے تو ان پیش گوئیوں کے وقتوں کا انتظار کرے۔ یہ تینوں پیش گوئیاں ہندوستان اور پنجاب کی تین بڑی قوموں (مسلمان، ہندو، عیسائی) سے متعلق ہیں۔‘‘
(شہادۃ القرآن ص ٦٨، خزائن ج ٦ ص ٣٧٥)
ناظرین! مرزا قادیانی نے ان الہامات کی تفصیل نہیں بتائی۔ ہم مرزا قادیانی کی دوسری کتابوں میں سے تفصیل اور انجام تحریر کرتے ہیں۔
ڈپٹی عبداللہ آتھم امرتسری
ڈپٹی آتھم عیسائی سے ٢٢؍ مئی تا ٥؍ جون ١٨٩٣ء کو امرتسر میں مرزا قادیانی کا الوہیت مسیح پر تحریری مباحثہ ہوا۔ پندرہ دنوں تک کوئی خاطر خواہ نتیجہ نہ نکلا۔ آخر ٥؍ جون ١٨٩٣ء کو مرزا قادیانی نے آتھم صاحب کے متعلق مندرجہ ذیل الہام شائع کیا۔
پندرہ ماہ میں مر جانے کا الہام
’’آج رات خدا کی طرف سے یہ امر کھلا ہے۔ (یعنی الہام ہوا ہے) کہ ہم دونوں میں جو جھوٹا ہے اور عاجز انسان کو خدا بنا رہا ہے۔ آج سے پندرہ ماہ تک ہاویہ میں گرایا جائے گا۔ بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے اور جو سچے خدا کو مانتا ہے اس کی یعنی میری ، عزت ظاہر ہوگی اور جس دن یہ پیش گوئی ظہور میں آئے گی۔ اس دن کئی اندھے سوجاکھے کئے جائیں گے اور کئی لنگڑے چلنے لگیں گے اور کئی بہرے سننے لگیں گے۔ سو میں اس وقت اقرار کرتا ہوں کہ اگر فریق مخالف ١٥ ماہ تک بسزائے موت ہاویہ میں نہ پڑے تو میں ہر ایک سزا اٹھانے کو تیار ہوں۔ مجھے ذلیل کیا جائے۔ روسیاہ کیا جائے۔ میرے گلے میں رسہ ڈالا جائے۔ مجھے پھانسی دی جائے۔ ہر بات کے لئے تیار ہوں۔ میں اللہ جل شانہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ وہ ضرور ایسا ہی کرے گا۔ ضرور کرے گا۔ ضرور کرے گا۔ زمین، آسمان ٹل جائیں پر اس کی باتیں نہ ٹلیں گی۔‘‘
(جنگ مقدس صفحہ آخری ، خزائن ج ٦ ص ٢٩١، ٢٩٢، ٢٩٣)
ناظرین! الہام اپنی تمام تفصیلات کے ساتھ آپ کے سامنے ہے۔ اس الہام کے ماتحت عبداللہ آتھم کو زیادہ سے زیادہ ٦؍ ستمبر ١٨٩٤ء تک مر کر ہاویہ میں پہنچ جانا چاہئے تھا۔ مگر افسوس کہ وہ ستر سال کا بوڑھا جو قبر میں ٹانگیں لٹکائے بیٹھا تھا۔ ١٥ ماہ امن امان سے گزار گیا اور مزید ٢٢ ماہ زندہ رہ کر مورخہ ٢٧؍ جولائی ١٨٩٦ء کو فوت ہوا۔
(انجام آتھم ص ١، خزائن ج ١١ ص ١)
٤٦
الہام پورا کرنے کے لئے مرزائی حیلے، بددعائیں اور وظیفے
ناظرین! الہام کی حقیقت تو آپ معلوم کر چکے ہیں۔ مگر ہم مرزائی کردار کو نمایاں کرنے کے لئے درمیانی واقعات کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں کہ الہامی صاحب نے اپنا من گھڑت الہام پورا کرنے کے لئے کیا کیا پاپڑ بیلے۔ ذرا غور سے سنئے۔ صاحبزادہ بشیر احمد راوی ہیں کہ:
کچھ عرصہ پہلے
”میاں خیرالدین (صحابی مرزا) نے مجھ سے بیان کیا کہ آتھم کی پیش گوئی کی مدت کے دوران میں ایک دفعہ مجھے خواب آیا کہ میعاد کا آخری دن گزر گیا ہے۔ مگر آتھم مرا نہیں۔ میں نے یہ خواب حضرت صاحب کو سنائی تو آپ نے فرمایا کہ نامعلوم کیا وجہ ہے۔ میں بھی جب ان کے لئے دعا یعنی بددعا کرتا ہوں تو توجہ قائم نہیں رہتی۔“
(سیرۃ المہدی ج ٣ ص ٢٠٦)
چند دن پہلے
اس کے بعد مرزا قادیانی کے ایک اندھے مرید رستم علی نے الہام مذکورہ کے سلسلہ میں مرزا قادیانی کو خط لکھا۔ مرزا قادیانی اس کا جواب ان الفاظ میں دیتے ہیں کہ: ”چند روز پیش گوئی میں رہ گئے ہیں۔ آتھم صاحب آج کل فیروز پور میں ہیں۔ خوب تندرست اور فربہ ہیں دعا کرتے رہیں کہ اللہ اپنے نحیف بندوں کو امتحان سے بچائے۔ (یعنی ایسا نہ ہو کہ آتھم مدت مقررہ میں نہ مرے اور مرید مرتد ہو جائیں)
(خط مرزا رستم علی مکتوبہ ٢٣؍اگست ١٨٩٤ء مندرجہ مکتوبات احمدیہ ج ٣ نمبر ٥ ص ١٢٨)
ایک دن پہلے
اور سنئے۔ صاحبزادہ صاحب (سیرۃ المہدی جلد اوّل ص ١٧٨) پر حدیث درج فرماتے ہیں کہ: ”بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ سنوری نے کہ جب آتھم کی میعاد میں صرف ایک دن رہ گیا تو آپ نے (یعنی مرزا قادیانی نے) مجھے کہا کہ عبداللہ اتنے (وزن یاد نہیں) چنے لے آؤ اور ایک ایک چنے پر سورۃ فیل پڑھو۔ (جو دشمن کی ہلاکت کا وظیفہ ہے) جب وظیفہ پورا ہو گیا تو آپ ہمیں ساتھ لے کر ایک غیر آباد کنوئیں پر گئے اور وہ چنے اس میں پھینک کر بھاگ آئے۔“
آخری دن
٧٤
ہیں تو آپ کی دعائیں قبول کیوں نہیں ہوتیں۔ مرزا محمود جواب دیتے ہیں کہ دعا تو مرزا قادیانی کی بھی قبول نہیں ہوتی تھی۔ اگر محبوب الٰہی ہونے کا یہی معیار ہے تو پھر آپ مرزا قادیانی کو کیوں مانتے ہیں۔ پھر مرزا قادیانی کی غیر مقبول بلکہ مردود دعا کی مثال دیتے ہوئے ٢٠؍ جولائی ١٩٣٠ء کے خطبہ جمعہ میں ارشاد فرماتے ہیں کہ: ”جب آتھم کی پیش گوئی کا آخری دن تھا تو کتنے کرب واضطراب سے دعائیں کی گئیں۔ میں نے تو محرم کا ماتم بھی اتنا سخت نہیں دیکھا حضرت صاحب ایک طرف دعا میں مشغول تھے اور بزرگان سلسلہ مسجد میں اور نوجوان خلیفہ اوّل کی دوکان میں اور عورتیں بھی بین کرتیں اور چیخیں مارتی تھیں۔ جن کی آواز سوسوگز پر جاتی تھی اور ہر ایک زبان پر یہی فقرہ تھا کہ یا اللہ آتھم مرجائے۔ یا اللہ آتھم مرجائے۔“
(الفضل مورخہ ٢٠؍ جولائی ١٩٣٠ء، الفضل ١٥؍ اکتوبر ١٩٣٢ء)
مگر آتھم نہ مرا، کئی مرزائی عیسائی ہوئے
ناظرین! اتنی بددعائیں وظیفوں اور ماتم کے باوجود آتھم نہ مرا۔ بلکہ ٦؍ ستمبر ١٨٩٤ء کو امرتسر وغیرہ میں اس کا دھوم دھام سے جلوس نکالا گیا اور مرزا قادیانی کی شان میں بڑے مزیدار قصیدے پڑھے گئے۔ مرزا قادیانی کے خیال کے مطابق کئی مرزائی عیسائی ہوگئے۔ جن کے مرتد ہونے کا گناہ مرزا قادیانی کی گردن پر ہے۔
(انجام آتھم ص ١١، خزائن ج ١١ ص ایضاً ملخص)
مرزائی دوستو! ہم حیران ہیں کہ سب کچھ ہوا۔ مگر آپ کے مرزا قادیانی پھر سچے کے سچے۔ قربان جائیں آپ کی اندھی عقیدت پر۔
مرزائی اعتراض اور اس کا جواب، کیا آتھم نے رجوع کیا؟
مرزا قادیانی نے اس خفت کو مٹانے کے لئے بڑے زور شور سے پروپیگنڈا شروع کر دیا کہ آتھم ڈر گیا۔ لہٰذا بچ گیا۔ مگر ہم حیران ہیں کہ پیش گوئی میں ڈرنے اور بچنے کا ذکر کہاں تھا۔ صرف حق کی طرف رجوع کی شرط تھی۔ جس کی تشریح مرزا قادیانی نے خود (کرامات الصادقین ص ٤٠، خزائن ج ٧ ص ٨٢) میں فرمائی تھی۔ ”کہ اگر اسلام لائے گا تو بچے گا وگرنہ مر جائے گا۔“ مرزائی دوستو! کیا آتھم اسلام لے آیا تھا۔
(پیش گوئی مذکورہ پر دیگر سوال وجواب اس کتاب کے موضوع سے خارج ہیں۔ کسی دوسری جگہ درج کئے جائیں گے)
٤٨٠
لیکھرامی الہام
پنڈت لیکھرام پشاوری ایک سر پھرا آریہ تھا۔ جب تک زندہ رہا نہ آرام سے بیٹھا نہ مرزا قادیانی کو بیٹھنے دیا۔ اس نے مرزا قادیانی کی براہین کے جواب میں تکذیب براہین ایک کتاب بھی لکھی تھی۔ مرزا قادیانی عام طور معجزہ نمائی کا اعلان کیا کرتے تھے۔ لیکن جب کوئی اس کے لئے تیار ہوتا تو ایسی پیچ در پیچ شرطیں لگاتے کہ مخالف کے لئے ان کا تسلیم کرنا ناممکن ہوتا اور اس فن میں آنجناب کو کمال تمام حاصل تھا۔ لیکن لیکھرام ان تمام شرائط کو مانتا ہوا قادیان بھی پہنچ گیا تھا۔ مگر مقابلہ نہ ہوا۔ غرض یہ شخص مرزا قادیانی کا بڑا سخت جانی دشمن تھا۔ مرزا قادیانی نے اس کے ساتھ مباہلہ بھی کیا۔ جس میں ناکام ہوئے تھے۔ بالآخر اس سے تنگ آکر مرزا قادیانی نے ٢٠؍ فروری ١٨٩٣ء کو مندرجہ ذیل الہام شائع کر دیا۔
اصل الہام......صرف خارق عادت عذاب
”واضح ہو کہ لیکھرام نے بڑی دلیری سے اس عاجز کو کارڈ لکھا ہے کہ میری نسبت جو پیش گوئی چاہو شائع کر دو۔ سو اس کی نسبت جب توجہ کی گئی تو الہام ہوا۔ ”عجل جسد له خوار له نصب وعذاب“ یعنی یہ صرف بے جان گوسالہ ہے۔ جس کے اندر سے ایک مکروہ آواز نکل رہی ہے اور اس کے لئے سزا رنج اور عذاب مقدر ہے۔ جو ضرور اس کو مل کر رہے گا۔ اس کے بعد آج مورخہ ٢٠؍ فروری ١٨٩٣ء کو اس عذاب کا وقت معلوم کرنے کے لئے توجہ کی گئی تو خداوند کریم نے مجھ پر ظاہر کیا کہ آج کی تاریخ سے چھ برس کے عرصہ میں یہ شخص عذاب شدید میں مبتلا ہو جائے گا۔ سو میں اب تمام مسلمانوں، آریوں اور عیسائیوں کو مطلع کرتا ہوں کہ اگر اس شخص پر آج کی تاریخ سے ٦ برس تک کوئی ایسا عذاب نازل نہ ہوا جو معمولی تکلیفوں سے نرالا اور خارق عادت نہ ہو تو میں جھوٹا ۔“
(سراج منیر ص١٢، خزائن ج١٢ ص١٥، ١١٨)
باہمی معاہدہ
اس سے پہلے کہ ہم پنڈت جی کے قتل کا ذکر کریں۔ ضروری ہے کہ ان دونوں (یعنی مرزا و پنڈت) کے باہمی معاہدہ کو بھی درج کر دیں۔ جو اس سلسلہ میں ہوا تھا۔ اس کا بنیادی فقرہ یہ تھا کہ ہماری سچائی کی صورت میں چوٹی کٹا کر اور رشتہ بے سود زنار کو توڑ کر لا الہ الا اللہ کی توحید اور محمد رسول اللہ کی کامل رہبری کو تسلیم کرنا۔ (یعنی مسلمان ہونا) ہوگا۔
(شحنہ حق ص٣٧، خزائن ج٢ ص٣٧٥)
٤٩
نوٹ: یہ معاہدہ نشان نمائی کے لئے تھا۔
اور سنئے مرزائے قادیان اپنی کتاب (استفتاء ص٩، خزائن ج١٢ ص١١٧ ملخصاً) پر تحریر فرماتے ہیں کہ: ”جو معاہدہ میرے اور لیکھرام کے درمیان نشان نمائی کے سلسلہ میں تحریری پایا تھا۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر پیش گوئی سچی نکلی تو لیکھرام اسلام قبول کرے گا اور اگر جھوٹی نکلی تو میں آریہ ہو جاؤں گا۔ یا ٣٦٠٠ روپیہ جرمانہ ادا کروں گا۔ اس کے بعد وہ پیش گوئی بتائی گئی۔ جس کی رو سے ٦؍مارچ ١٨٩٧ء کو لیکھرام قتل ہوا۔“
ناظرین! مرزا قادیانی کے ہر دو حوالہ جات سے ثابت ہوا کہ لیکھرام پر کوئی ایسا عذاب آنا چاہئے تھا جو خرق عادت ہوتا اور عذاب آنے کے بعد لیکھرام اسلام قبول کرنے کے لئے زندہ رہتا۔
قتل لیکھرام اور مرزا قادیانی کا نکتہ بعدالوقوع
لیکن ہوا کیا پنڈت لیکھرام کو ٦؍مارچ ١٨٩٧ء کو شام کے وقت کوئی دھوکہ سے قتل کر کے بھاگ گیا اور گرفتار نہ ہو سکا۔ غور فرمائیے کہ پیش گوئی سچی نکلی یا جھوٹی۔ حقیقت یہ ہے کہ پنڈت جی کا قتل ہو جانا کذب مرزا پر بین دلیل ہے۔ کیونکہ الہام کے مطابق انہیں زندہ رہنا چاہئے تھا۔ لیکن یہ مرزائی جماعت ہے کہ اپنے ہی کلام میں تاویل کرتی اور نکتہ بعد الوقوع ایجاد کر کے مرزا قادیانی کی سچائی کا ڈھنڈورہ پیٹتی رہتی ہے۔
کیا قتل لیکھرام سے مرزا قادیانی کا الہام سچا ہوا
نوٹ: علاوہ ازیں مرزا قادیانی نے خارق عادت عذاب لکھا تھا۔ مگر دھوکہ سے قتل ہو جانا تو روزمرہ کے واقعات ہیں۔ اس میں خرق عادت کیا ہے۔ باقی مرزائی تاویلات اور مختلف حوالہ جات کی ہیر پھیر اور اپنی ہی کتب کے تضاد سے استدلال اور تاویلات اور ان کے جوابات یہ سب مناظرانہ باتیں ہیں۔ جو اس کتاب کے موضوع سے خارج ہیں۔ کیونکہ یہ کتاب تاریخی ہے۔ اس کے لئے آپ مولانا امرتسری کی کتاب الہامات مرزا اور لیکھرام اور مرزا ملاحظہ فرمائیے۔ ہم چاہتے ہیں کہ مضمون ختم کرنے سے پیشتر مرزا قادیانی کے حوالہ سے خرق عادت کا معنی بتا دیں۔
خرق عادت کی تعریف
پس مرزا قادیانی کے مندرجہ ذیل ارشادات غور سے سنئے اور مرزائیوں کو بھی سنا دیجئے۔
٥٠
- ......١ ”جس امر کی نظیر نہ پائی جائے اس کو خارق عادت کہتے ہیں۔“
(سرمہ چشم آریہ ص ١٩، خزائن ج ٢ ص ٦٧)
- ......٢ ”خارق عادت اسی کو تو کہتے ہیں جس کی نظیر دنیا میں نہ پائی جائے۔“
(حقیقت الوحی ص ١٩٦، خزائن ج ٢٢ ص ٢٠٤)
- ......٣ ”ظاہر ہے کہ کسی امر کی نظیر پیدا ہونے سے وہ امر بے نظیر نہیں کہلا سکتا۔“
(تحفہ گولڑویہ ص ٦٩، خزائن ج ١٧ ص ٢٠٣)
اب آپ خود ہی فیصلہ کر لیجئے کہ لیکھرام کا قتل بے نظیر ہے یا نہیں۔ ناظرین! یہ تھا مرزا قادیانی کی دوسری پیش گوئی کا انجام۔
یہ امر بھی دلچسپی سے خالی نہ ہوگا کہ لیکھرام کے قتل کے بعد مرزا قادیانی کو اپنی جان کا خطرہ بھی پیدا ہو گیا تھا اور آنجناب کے در دولت کی تلاشی بھی ہوئی۔ (استفتاء ص ٢، خزائن ج ١٢ ص ١١٠) اور آپ نے انگریزی عدالت میں درخواست بھی دی تھی کہ میری حفاظت کے لئے سپاہی مقرر کر دیئے جائیں۔ (تبلیغ رسالت ج ٦ ص ١٧، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٣٦٩)
مرزا سلطان محمد کی موت کا الہام، اصل معاملہ کیا تھا؟
تیسری متحدیانہ پیش گوئی مرزا سلطان محمد کی موت کے متعلق تھی۔ یہ صاحب کون ہیں اور ان کے لئے الہام کیوں گھڑا گیا اور نتیجہ کیا نکلا اس کے لئے حسب ذیل اشتہارات ملاحظہ فرمائیے۔ آپ اس کتاب کی ابتداء میں پڑھ آئے ہیں کہ مرزا قادیانی کے ننہال ضلع ہوشیار پور کے رہنے والے تھے۔ بعدہ مرزا قادیانی کی چچا زاد ہمشیرہ آپ کے ماموں زاد بھائی مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری کے ساتھ بیاہی گئی اور مرزا احمد بیگ کی ہمشیرہ کی شادی مرزا قادیانی کے چچا زاد بھائی غلام حسین سے ہوئی۔ غلام حسین لاولد ہی مفقود الخبر ہو گیا۔ جس کی زمین کا حق مرزا قادیانی کو پہنچتا تھا۔ لیکن مرزا احمد بیگ اپنی ہمشیرہ کی مرضی سے اس زمین کو اپنے بیٹے محمد بیگ کے نام منتقل کرانا چاہتے تھے۔ چونکہ اس انتقال پر مرزا قادیانی کے دستخط ضروری تھے۔ چنانچہ مرزا احمد بیگ دستخط کرانے کے لئے مرزا قادیانی کے پاس آیا۔ مرزا قادیانی نے اس وقت تو استخارہ کے بہانے ٹال دیا۔ لیکن چند دن بعد ان کو خط لکھا کہ میں ہبہ نامہ پر دستخط اس شرط پر کروں گا کہ آپ اپنی ٨، ٩ سالہ کنواری لڑکی محمدی بیگم کا نکاح مجھ (٥٠ سالہ بوڑھے) سے کر دو۔ مرزا احمد بیگ نے اس مطالبہ کو اپنی غیرت اور شرافت کے لئے ایک چیلنج سمجھا اور زمین مذکورہ پر لات مارتے ہوئے لڑکی کا رشتہ دینے سے صاف طور پر انکار کر دیا۔ بلکہ مرزا قادیانی کا وہ تہذیب اور انسانیت سے گرا ہوا خط اخبار میں شائع کرا دیا۔ بس پھر کیا تھا۔ مرزا قادیان نے جوش میں آکر کہہ دیا۔
٥١
مرزا سلطان محمد کی موت کا اڑھائی سالہ الہام
کہ مجھے الہام ہوا کہ: ”اگر اس لڑکی کا نکاح میرے ساتھ نہ کیا گیا تو بہت تباہی آئے گی۔ جس کے ساتھ بیاہی جائے گی وہ روز نکاح سے اڑھائی سال میں اور باپ اس کا تین سال میں مر جائیں گے اور بالآخر یہ لڑکی بیوہ ہو کر (ہی سہی لیکن) میرے نکاح میں ضرور آئے گی اور یہ خدا کی باتیں ہیں۔ جن میں تبدیلی ناممکن ہے۔“
(تبلیغ رسالت ج ١ ص ١١٥، ١١٦، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٥٨، ٢١٩، ج ٢ ص ٤٣)
لالچ اور دھمکی
اس کے ساتھ مرزا قادیانی نے اس خاندان کو کئی قسم کے لالچ دینے بھی شروع کر دیئے۔ چنانچہ لڑکی کے باپ کو لکھا کہ : ”اگر آپ نکاح کر دیں تو آپ جو چاہیں گے میں دوں گا اور آپ کی لڑکی کو اپنی زمین اور باغ وغیرہ کا تہائی حصہ دے دوں گا اور میں آپ کا فرمانبردار بن کر رہوں گا۔ وغیرہ“
(اشتہار ٢٠؍ فروری ١٨٨٦ء، آئینہ کمالات اسلام ص ٢٨٦، خزائن ج ٥ ص ٢٨٦)
قطع تعلق کی دھمکی
اس کے علاوہ احمد بیگ کی بھانجی عزت بی بی مرزا قادیانی کے فرزند فضل احمد سے بیاہی ہوئی تھی۔ مرزا قادیانی نے اس سے اس کی والدہ یعنی احمد بیگ کی ہمشیرہ کو خط لکھوایا کہ مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ اگر محمدی بیگم کا رشتہ نہ دو گے تو ہم عزت بی بی کو طلاق دے دیں گے۔ عزت بی بی نے اپنی والدہ پر زور دیا کہ وہ اپنے بھائی پر زور دے کر رشتہ مذکورہ کرا دے۔ وگرنہ مجھے طلاق مل جائے گی۔ لیکن احمد بیگ کا خاندان نہ کسی دھمکی سے ڈرا نہ کسی لالچ میں آیا اور محمدی بیگم کی نسبت مرزا سلطان محمد ساکن پٹی سے کر دی۔ پس پھر کیا تھا۔ مرزا قادیانی نے سلطان محمد کو دھمکی آمیز خطوط لکھنے شروع کر دیئے اور ڈرایا کہ اگر تم نے اس سے نکاح کیا تو ڈھائی سال میں مر جاؤ گے وغیرہ وغیرہ۔ مگر وہ تھا فوجی آدمی۔ مرزا قادیانی کی گیدڑ بھبکیوں میں نہ آیا۔
(تبلیغ رسالت ج ٣ ص ١٦٦، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٤٣، ١٥٨، ٢١١ تا ٢١٩)
دلال کی خدمات
اسی دوران میں مرزا قادیانی نے محمدی بیگم کے ایک ماموں کو اپنے ہاتھ میں لیا اور دلالی کا لالچ دے کر رشتہ مذکورہ حاصل کرنے کے لئے محمدی بیگم کی والدہ اور والد پر زور ڈلوایا۔ مگر سب بے سود۔
(سیرۃ المہدی ج ١ ص ١٩٢ تا ١٩٣)
٥٢
مرزا قادیانی کی ساری تدبیریں ناکام ہوئیں۔ ٧؍اپریل ١٨٩٢ء کو یہ نکاح دھوم دھام سے ہوا۔ (آئینہ کمالات اسلام ص ٢٨٠، خزائن ج ٥ ص ٢٨٦) اور مرزا قادیانی ناکام رقیب کی طرح ہاتھ ملتے اور خون جگر پیتے رہ گئے۔
اب مرزا قادیانی اپنے رقیب کی موت کا انتظار کرنے لگے۔ جس کی آخری تاریخ ١٧؍اکتوبر ١٨٩٤ء تھی۔ مگر آج کل کرتے مدت مذکورہ پوری ہو گئی اور مرزا سلطان محمد جوں کے توں جوان تندرست خوش و خرم رہے۔
اتفاق یہ ہوا کہ اسی دوران میں مرزا احمد بیگ والد محمدی بیگم ٣١؍ستمبر ١٨٩٢ء یعنی نکاح سے قریباً ٥ ماہ بعد انتقال کر گیا۔ حالانکہ مرزا قادیانی کے الہام کے مطابق اسے سلطان محمد کے بعد مرنا چاہئے تھا۔
(آئینہ کمالات اسلام ص ٣٥٦، ٣٥٧، خزائن ج ٥ ص ٢٨٦)
تقدیر مبرم
اس کی موت سے جو بالکل اتفاقیہ تھی۔ مرزا قادیانی بہت خوش ہوئے اور سلطان محمد کی موت کی انتظار کرنے لگے۔ مگر جب وہ نہ مرا تو کہہ دیا کہ وہ اپنے خسر کی موت سے ڈر گیا۔ اس لئے مہلت پا گیا۔
(انجام آتھم ص ٢٩، خزائن ج ١١ ص ٢٩)
- ١...... "لیکن میں بار بار کہتا ہوں کہ نفس پیش گوئی داماد احمد بیگ کی تقدیر مبرم
ہے۔ تم اس کی انتظار کرو۔ اگر وہ میری زندگی میں مر گیا تو میں سچا اور اگر نہ مرا تو میں جھوٹا۔"
(انجام آتھم ص ٢٩، خزائن ج ١١ ص ٣١)
- ٢...... پھر اسی (انجام آتھم ص ١٩٨، خزائن ج ١١ ص ٢٣٣) پر نہایت زور شور سے لکھا
کہ مجھے اس ذات کی قسم جس نے محمد مصطفیٰ کو بھیجا یہ خبر حق اور تقدیر مبرم ہے۔ میری زندگی میں ہو کر رہے گی اور میں اسی الہام کو اپنے صدق کذب کا معیار ٹھہراتا ہوں۔
بد سے بدتر
- ٣...... پھر (ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٤، خزائن ج ١١ ص ٣٣٨) پر فرمایا کہ اگر یہ نکاح نہ ہوا
تو میں ہر ایک بد سے بدتر ٹھہروں گا۔
- ٤...... پھر اسی نکاح کو نبی کریم کی پیش گوئی بھی قرار دیا۔
(انجام آتھم ص ٥٣، خزائن ج ١١ ص ٣٣٧)
اور سنئے۔ مرزا قادیانی مریدوں کو تسلی دینے کے لئے فرماتے ہیں کہ:
٥٣
- ٥...... خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے یہ نکاح کر دیا ہے جس کا ظہور ہو کر رہے گا۔
کوئی اس کو روک نہیں سکتا۔
(ازالہ اوہام ص ٣٩٦، خزائن ج ٣ ص ٣٠٥، انجام آتھم ص ٥٤، خزائن ج ١١ ص ٣٣٨)
مرض الموت میں دوبارہ الہام
مرزا قادیانی ایک دفعہ بقول خود اتنے بیمار ہوئے کہ موت سامنے تھی اور وصیت بھی کر دی۔ مرزا قادیانی کہتے ہیں۔ میں نے اس وقت خیال کیا کہ شاید اس نکاح والے الہام کا کچھ اور معنی ہو۔ تو مجھے فوراً الہام ہوا کہ:
- ٦...... ”الحق من ربک فلا تکن من الممترین“ یعنی یہ الہام حق ہے۔ تو
شک کیوں کرتا ہے۔
(ازالہ اوہام ص ٣٩٨، خزائن ج ٣ ص ٣٠٦)
سرکاری عدالت میں الہام کا تذکرہ
مرزا قادیانی پر ایک مقدمہ چل رہا تھا۔ عدالت میں جرح کے دوران میں محمدی بیگم کا ذکر آ گیا تو مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ:
- ٧...... یہ عورت اگرچہ میرے ساتھ بیاہی نہیں گئی۔ مگر اس کے ساتھ میرا بیاہ ضرور
ہوگا۔ تم آج ہنس رہے ہو۔ لیکن وہ وقت آنے والا ہے کہ تم سب نادم ہوں گے۔
- ٨...... قادیانی اخبار الحکم کے ایڈیٹر کا بیان ہے کہ جب حضرت صاحب کمرہ
عدالت سے باہر تشریف لائے تو فرمایا کہ معلوم ہوتا ہے۔ پیش گوئی پورا ہونے کا وقت قریب ہے۔ نیز فرمایا کہ اگر ہم ہزار روپیہ خرچ کر کے عدالتی کاغذات میں الہام لکھانا چاہتے تو ناممکن تھا۔ اب تو تین ڈپٹی بھی اس الہام پر گواہ ہو گئے ہیں۔ جب پیش گوئی پوری ہوگی تو ان ڈپٹیوں پر خوب اثر پڑے گا۔
(ملفوظات احمدیہ ج ٢ ص ٢٤٥، ٢٤٦)
دعا بدرگاہ خدا
اور سنئے مرزا قادیانی ہر طرف سے مایوس اور طعن و تشنیع سے گھبرا کر احکم الحاکمین کی بارگاہ میں دعا کرتے ہیں کہ:
- ٩...... ”اے خدائے قادر و علیم اگر اس عورت کا میرے نکاح میں آنا تیرا الہام
اے افسوس کہ یہ وقت نہ آیا اور مرزا قادیانی باحسرت وہیں راہی ملک عدم ہو گئے۔
٥٤
ہے تو اس کو ایسے طور پر ظاہر فرمایا کہ خلق خدا پر حجت ہو اور کور باطنوں اور حاسدوں کا منہ بند ہو جائے اور اگر یہ پیش گوئی تیری طرف سے نہیں تو مجھے نامرادی اور ذلت کے ساتھ فنا کر ڈال اور مجھے ہمیشہ کی لعنتوں کا نشانہ بنا۔“
(تبلیغ رسالت ج ٣ ص ١٨٦، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ١١٥، ١١٦)
حسرتناک انجام
ان تمام تصریحات کے پیش نظر ضروری تھا کہ اگر سلطان محمد اڑھائی سال میں نہیں مرا تھا تو کم از کم مرزا قادیانی کی زندگی میں ضرور مرکز نکاح کا امکان پیدا کرتا۔ مگر قدرت خدا ملاحظہ فرمائیے کہ مرزا قادیانی تو ١٩٠٨ء میں انتقال کر گئے اور یہ میاں بیوی دونوں آج تک (یعنی ١٩٥٠ء تک) زندہ موجود ہیں۔
بالآخر مرزا قادیانی کی یہ دعا قبول ہوئی اور ذلت و نامرادی کے ساتھ محمدی بیگم کے نکاح کی حسرت پہلو میں لئے عدم آباد کو سدھار گئے۔ نہ ان کا رقیب مرا، اور نہ ہی سیٹ خالی ہوئی۔
ناظرین! یہ ہے اس عظیم الشان پیش گوئی کا حسرت ناک انجام۔ جس کو مرزا قادیانی نے اپنے صدق کذب کا معیار ٹھہرایا تھا اور جسے آپ نے تقدیر مبرم سے تعبیر کرتے ہوئے عدم وقوع کی صورت میں اپنے آپ کو بد سے بدتر ٹھہرایا اور اس الہام کی رجسٹری محمدی دربار میں کرائی تھی۔ مگر نتیجہ کیا نکلا کہ؎
اب آرزو یہی ہے کہ آرزو نہ ہو
ناظرین! مرزا قادیانی کا تینوں متحدیانہ پیش گوئیوں کا حال ختم ہوا اور ہر سہ الہامات کی قلعی کھل گئی اور مرزا قادیانی کا کذب روز روشن کی طرح عیاں ہو گیا۔ اب ہم آگے چلتے ہیں۔
٢١...... مولوی عبدالحق غزنوی سے مباہلہ
مولانا عبدالحق غزنوی مرحوم اور مرزا قادیانی کے درمیان کافی دنوں سے نوک جھوک ہو رہی تھی۔ نوبت بایں جا رسید کہ مباہلہ کی ٹھن گئی اور مرزا قادیانی نے مئی ١٨٩٣ء کو حسب ذیل اشتہار شائع کیا کہ: ”ایک اشتہار مطبوعہ ٢٦ شوال شائع کردہ عبدالحق غزنوی میری نظر سے گزرا۔ میں ہر اس شخص سے مباہلہ کرنے کو تیار ہوں۔ جو مجھے کافر خیال کرتا ہے۔ لہذا میں اعلان کرتا ہوں کہ میں ٨، ٩ ذیقعدہ ١٣١٠ھ کو امرتسر پہنچ جاؤں گا اور تاریخ مباہلہ ١٠ ذیقعدہ اور اگر بارش وغیرہ
٥٥
ہوئی تو ١١ ذیقعدہ ہوگی۔ میدان مباہلہ عید گاہ متصل مسجد خان بہادر محمد شاہ مرحوم ہوگا اور چونکہ مجھے ان دنوں صبح سے بارہ بجے تک عیسائیوں کے ساتھ مناظرہ کرنا ہوگا۔ اس لئے مباہلہ دو بجے کے بعد ہوگا۔“
(اشتہار مرزا مورخہ ٢٠ شوال ١٣١٠ھ، مندرجہ تبلیغ رسالت ج ٣ ص ٤٩، ٥٠، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٤٢٠ تا ٤٢٢)
اس کے بعد جب مرزا قادیانی امرتسر پہنچے تو مولوی عبدالحق صاحب نے مصلحت وقت کے پیش نظر حسب ذیل اشتہار شائع کیا۔ ”اس میں کوئی شک نہیں کہ مدت سے مرزا قادیانی کے ساتھ مباہلہ کا پیاسا ہوں اور تین برس سے مباہلہ کا چیلنج دے رہا ہوں۔ مگر چونکہ مرزا قادیانی آج کل اسلام کی طرف سے پادریوں سے مباحثہ کر رہے ہیں تو اس موقعہ پر میں مناسب نہیں سمجھتا کہ مرزا قادیانی سے کوئی مباحثہ یا مباہلہ وغیرہ کر کے ان کو پادریوں کے مقابلہ میں کمزور کیا جائے۔ اس لئے میں آج مورخہ ٧ ذیقعدہ کو مرزا قادیانی کی خدمت میں اطلاع کرتا ہوں کہ ہمیں مباہلہ بسر و چشم منظور ہے۔ مگر مناسب ہے کہ تاریخ بدل لی جائے۔“
مرزا قادیانی کا جواب
”آپ کی درخواست کے مطابق تاریخ مباہلہ مقرر ہو چکی ہے اور میرے سفر امرتسر میں دو ہی اغراض تھیں۔ یعنی آتھم سے مباحثہ اور آپ سے مباہلہ اور میں ان ہر دو اغراض کے لئے استخارہ کر کے آیا ہوں اور دوستوں کی جماعت ساتھ لایا ہوں۔ اشتہار شائع کر چکا ہوں اور پیچھے رہنے والے پر لعنت بھیج چکا ہوں۔ اب جس کا جی چاہے لعنتی بنے، میں تو حسب وعدہ میدان مباہلہ میں ضرور حاضر ہو جاؤں گا اور مباہلہ میں صرف یہ دعا ہوگی میں کہوں گا کہ میں مسلمان ہوں اور اللہ رسول کا متبع ہوں۔ اگر میں اپنے اس قول میں جھوٹا ہوں تو اللہ تعالیٰ میرے پر لعنت کرے اور آپ کی طرف سے یہ دعا ہوگی کہ یہ شخص کافر، کذاب، دجال اور مفتری ہے۔ اگر میں اس بات میں جھوٹا ہوں تو خدا تعالیٰ مجھ پر لعنت کرے۔“
مرزا قادیانی کی طرف سے یہ رقعہ آنے پر مولوی عبدالحق بھی تیار ہو گئے اور انہوں نے مرزا قادیانی کو وقت مقررہ پر پہنچنے کی اطلاع دیتے ہوئے لکھا کہ میں تین دفعہ بآواز بلند کہوں گا کہ یا اللہ میں مرزا قادیانی کو ضال، مضل، ملحد، دجال، کذاب، مفتری، محرف کلام اللہ واحادیث سمجھتا ہوں۔ اگر میں اس بات میں جھوٹا ہوں تو مجھ پر وہ لعنت فرما جو کسی کافر پر آج تک نہ کی ہو۔
اور مرزا تین دفعہ بآواز بلند کہے کہ یا اللہ اگر میں ضال، مضل، ملحد، دجال، کذاب اور مفتری اور محرف قرآن وحدیث ہوں تو مجھ پر وہ لعنت فرما جو کسی کافر پر آج تک نہ کی ہو۔ بعدہ
٥٦
قبلہ رخ ہو کر دعا کریں گے۔
(رئیس قادیان ج٢ ص ٥٦٩ تا ٥٧٢ مؤلفہ مولانا رفیق دلاوری)
مذکورہ بالا شرائط کے ماتحت مورخہ مذکورہ کو میدان عید گاہ بیرون دروازہ رام باغ میں مباہلہ ہوا۔ نتیجہ اس کا یہ ہوا کہ مباہلہ مذکورہ کے ایک سال تین ماہ بعد جب آتھم کی میعاد پوری ہوئی اور وہ فوت نہ ہوا تو چاروں طرف سے مرزا قادیانی پر آوازے کسے گئے۔ گالیاں دی گئیں۔ قصیدے لکھے گئے تو اس موقع پر مولوی عبدالحق صاحب غزنوی نے ایک اشتہار بعنوان اثر مباہلہ عبدالحق غزنوی بر غلام احمد قادیانی شائع کیا اور اس میں مرزا قادیانی کی رسوائی اور ذلت کو مباہلہ کا اثر قرار دیتے ہوئے مرزا قادیانی کا یہ مقولہ بطور دلیل پیش کیا کہ میری سچائی کے لئے ضروری ہے کہ مباہلہ کے بعد ایک سال کے اندر کوئی نشان ظاہر ہو۔ اگر نہ ہوا تو میں جھوٹا۔
(حجۃ الاسلام ص٩، خزائن ج٦ ص ٤٩، رئیس قادیان ج٢ ص ٦٢٨)
اس کے جواب میں مرزا قادیانی نے لکھا کہ: ”یہ غلط ہے کہ کوئی نشان ظاہر نہیں ہوا۔ میرے کئی ایک نشان ظاہر ہوئے۔ مرید بڑھ گئے چندہ بڑھ گیا وغیرہ وغیرہ۔“
(حقیقۃ الوحی ص ٢٤٠، خزائن ج٢٢ ص ٢٥١،٢٥٢)
آخری نتیجہ
آخر یہ ہوا کہ مرزا قادیانی مولوی عبدالحق صاحب کی زندگی میں ٢٦ مئی ١٩٠٨ء کو انتقال کر گئے اور مولوی صاحب مرزا قادیانی کے تقریباً ٩ سال بعد ١٦ مئی ١٩١٧ء تک زندہ رہے۔ اس بحث کے آخر میں ہم مرزا قادیانی کا اصول متعلق مباہلہ پیش کرتے ہیں۔ سنئے اور غور سے سنئے کہ: ”مباہلہ کرنے والوں میں سے جو جھوٹا ہوتا ہے وہ سچے کے سامنے مر جاتا ہے۔“
(مجموعہ اشتہارات ج٣ ص ٥٧٨، نمبر ٢٧٦)
ناظرین! اسے کہتے ہیں: ”قضی الرجل علی نفسہ“۔
٢٢......مرزا قادیانی کے دوسرے نشان قرآن دانی کی حقیقت
پیر مہر علی شاہ گولڑوی اور مرزا قادیانی کی تفسیر نویسی
مرزا قادیانی نے علمائے کرام کے علاوہ صوفیاء اور مشائخ سے بھی چھیڑ چھاڑ شروع کر رکھی تھی۔ چنانچہ مرزا قادیانی نے ٢٠ جولائی ١٩٠٠ء کو ایک طویل اشتہار پیر مہر علی شاہ گولڑوی سجادہ نشین گولڑہ ضلع راولپنڈی کے نام دیا جس کا خلاصہ درج ذیل ہے۔
٥٧
مناسب ہے کہ لاہور جو صدر مقام ہے۔ اس میں صادق اور کاذب کی شناخت کے لئے ایک جلسہ منعقد کیا جائے اور پیر صاحب اس طرح پر میرے ساتھ مباحثہ کر لیں کہ قرعہ اندازی کے طور پر قرآن شریف کی کوئی سورت نکال لیں اور اس میں سے چالیس آیات لیکر فریقین پہلے یہ دعا کریں کہ یا الٰہی ہم دونوں میں جو شخص تیرے نزدیک راستی پر ہے اس کو اس جلسہ میں اس سورت کے حقائق معارف فصیح و بلیغ عربی میں لکھنے کی توفیق عطا فرما اور روح القدس سے اس کی مدد کر اور جو شخص ہم دونوں میں سے جھوٹا ہے اس سے یہ توفیق چھین لے۔
اس کے بعد شرائط کے سلسلہ میں بحث کرتے ہوئے مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ: ”پہلی شرط یہ ہوگی کہ فریقین کے پاس کوئی کتاب نہ ہوگی اور نہ کوئی مددگار ہوگا۔ دوسری شرط یہ ہوگی کہ تفسیر نویسی کی مہلت سات گھنٹہ ہوگی اور زانو بزانو ہو کر لکھنا ہوگا۔ فریقین کو ایک دوسرے کی تلاشی لینے کا حق ہوگا۔ (تاکوئی کتاب کاغذ نوٹ بک وغیرہ پاس نہ ہو) نیز اس تفسیر کو اسی مجلس میں گواہوں کے روبرو ختم کرنا ہوگا۔“
اس سے بعد طریق فیصلہ کے متعلق تحریر فرماتے ہیں کہ: ”تفسیر لکھ لینے کے بعد تین اہل علم (جو ہم دونوں کے مرید نہ ہوں) کے سپرد کر دی جائے اور وہ حلفاً اپنی رائے ظاہر کریں گے کہ دونوں سے کس کی تفسیر اچھی ہے۔ پس اگر انہوں نے پیر صاحب کی تفسیر کو اچھا کہہ دیا اور فیصلہ کر دیا کہ ان کی تفسیر اور عربی مجھ سے اچھی ہے یا میرے برابر ہے تو تمام دنیا گواہ رہے کہ میں اپنی تمام کتابیں جلا دوں گا اور اپنے تئیں مردود اور مخذول سمجھوں گا۔ پھر اس اشتہار کے آخر میں فرماتے ہیں۔ ضروری ہے کہ مقام مباحثہ لاہور ہو اور ضروری ہے کہ پیر صاحب مجھے ایک ہفتہ پہلے اطلاع دیں اور اگر میں حاضر نہ ہوا تو اس صورت میں بھی کاذب سمجھا جاؤں گا اور اگر ضرورت ہوئی تو پولیس کے افسر بلالئے جائیں گے۔ ”ولعنة الله على من تخلف وابٰی“ یعنی پیچھے رہنے والے اور انکار کرنے والے پر خدا کی لعنت۔“
(تبلیغ رسالت ج٦ص٦٧، ٦٨،مجموعہ اشتہارات ج٣ ص٣٦٧)
ناظرین! غور فرمائیے کہ اس اشتہار میں کس زور شور سے چیلنج کیا گیا اور مقام لاہور کو از خود تجویز کیا۔ بلکہ ضروری قرار دیا ہے اور بوقت ضرورت پولیس کا ذکر بھی کر دیا ہے اور لکھا ہے کہ اگر میری تفسیر ناقص یا برابر رہی، پھر بھی میں کذاب مردود اور اگر حاضر نہ ہوا تو بھی کذاب اور مردود اور پھر کس شان سے لکھا ہے کہ پیچھے رہنے والے اور انکار کرنے والے پر خدا کی لعنت۔
٥٨
مرزا قادیانی کا خیال تھا کہ پیر صاحب نہایت قلیل الفرصت اور گوشہ نشین بزرگ ہیں اور ذکر الہی ان کا محبوب ترین مشغلہ ہے۔ وہ مقابلہ میں نہیں آئیں گے اور مفت کی مالی مل جائے گی۔ (یعنی رقم حاصل ہو جائے گی) لیکن پیر نے اس چیلنج کو سچ مچ تسلیم کر لیا اور بذریعہ اشتہار اعلان کر دیا کہ مجھے آپ کی تمام شرائط منظور ہیں۔ برائے مہربانی میری ایک تجویز منظور فرمائیے۔ تفسیر نویسی سے پہلے آپ اپنی مسیحیت کے دلائل پیش کیجئے اور میں ان کی تردید کروں گا۔ اگر مقرر شدہ ثالثوں نے فیصلہ کر دیا کہ آپ کے دلائل غلط اور اثبات مدعا کے لئے ناکافی ہیں تو آپ کو اسی وقت تمام دعاوی سے دستبردار ہو کر میری بیعت کرنی ہوگی۔ بصورت عدم فیصلہ تفسیر نویسی ہوگی۔ میں لاہور اور امرتسر کے علماء کو ساتھ لے کر ٢٥؍ اگست ١٩٠٠ء کو شاہی مسجد لاہور پہنچ جاؤں گا۔
پیر صاحب حسب اعلان ٢٥؍ اگست کو علماء کی جمعیت میں لاہور پہنچ گئے۔ مگر افسوس کہ مرزا قادیانی کو لاہور آنے کی جرأت نہ ہوئی اور انہوں نے اپنی غیر حاضری سے اپنے آپ کو وہی کچھ ثابت کر دیا جس کا کہ اپنے اشتہار ٢٠؍ جولائی میں کر چکے تھے۔
آخر پیر صاحب ٢٩؍ اگست کو واپس آ گئے۔ اس کے بعد مرزا قادیانی نے ایک اشتہار شائع کیا کہ: ”پیر صاحب نے میری شرائط کو تسلیم نہیں کیا۔ بلکہ اپنی طرف سے فضول شرائط لگا دیں۔ نیز فرمایا کہ میں لاہور میں کیسے جا سکتا تھا۔ میرے مرید تو سارے لاہور میں صرف ١٥، ١٦ ہیں اور پیر صاحب اپنے ساتھ سرحدی پٹھان لائے تھے۔ مجھے خطرہ تھا کہ قتل نہ کر دیا جاؤں۔“
(تبلیغ رسالت ج ١٠ ص ١٣٩، ١٤٠، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٣٥٢)
ناظرین! مرزا قادیانی کا ٢٠؍ جولائی والا اشتہار ایک طرف اور یہ اشتہار دوسری طرف رکھئے اور غور فرمائیے کہ؎
مرزائی دوستو! اگر مرزا قادیانی کے لاہور میں واقعی ١٥، ١٦ مرید تھے تو پہلے انہیں کس حکیم نے کہا تھا کہ مقام مباحثہ ضرور لاہور ہونا چاہئے اور اگر جان کا خطرہ تھا تو پولیس کا انتظام کر لیتے۔ جس کا ذکر بھی پہلے کر چکے تھے۔ ہاں ہم بھول گئے۔ مرزا قادیانی کا تو الہام تھا کہ ”واللہ یعصمک من الناس“ یعنی تجھے خدا لوگوں سے بچائے گا کیا انہیں اپنے الہام پر یقین نہیں تھا۔ وہ تو فرماتے ہیں کہ میں اپنے الہام کو قرآن کی طرح یقینی سمجھتا ہوں۔
(تبلیغ رسالت ج ٨ ص ٦٤، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ١٥٤)
ناظرین! یہ ہے مرزا قادیانی کی قرآن دانی کے دعویٰ کا پول۔
٥٩
٢٣...... مرزا قادیانی کا تیسرا نشان
سہ سالہ میعادی پیش گوئی اپنے کذب پر اقبال ڈگری
اس موقعہ پر مرزا قادیانی نے اپنے مخالفوں کا رخ پھیرنے کے لئے ایک اشتہار دیا جس کا مضمون یہ تھا کہ یا اللہ ١٩٠٠ء تا ١٩٠٢ء کی سہ سالہ میعاد میں میرے لئے کوئی فیصلہ کن نشان ظاہر فرما وگرنہ میں اپنے آپ کو کاذب خیال کروں گا۔ اشتہار کا عنوان اور مضمون درج ذیل ہے۔ ”اس عاجز غلام احمد کی طرف سے آسمانی گواہی طلب کرنے کی دعا اور حضرت عزت سے اپنی نسبت۔“
آسمانی فیصلہ کی درخواست
اس اشتہار میں مرزا قادیانی خدا کے حضور دعا کرتے ہیں کہ: ”مجھے تیری عزت اور جلال کی قسم مجھے تیرا فیصلہ منظور ہے۔ پس اگر تو تین سال کے اندر جو جنوری ١٩٠٠ء سے شروع ہوکر دسمبر ١٩٠٢ء تک پورے ہو جائیں گے۔ میری تصدیق میں کوئی آسمانی نشان نہ دکھلاوے اور اپنے بندہ کو ان لوگوں کی طرح رد کر دے جو تیری نظر میں شریر اور پلید اور بے دین کذاب اور دجال خائن اور مفسد ہوتے ہیں تو میں تجھے گواہ کرتا ہوں کہ میں اپنے تئیں صادق سمجھوں گا اور ان تمام تہمتوں اور بہتانوں اور الزاموں کا اپنے تئیں مصداق سمجھوں گا جو میرے پر لگائے جاتے ہیں۔ اگر میں تیری جناب میں مستجاب الدعوات ہوں تو ایسا کر کہ جنوری ١٩٠٠ء تا دسمبر ١٩٠٢ء میرے لئے کوئی اور نشان دکھلا اور اپنے بندے کے لئے گواہی دے۔ جس کو زبانوں سے کچلا گیا ہے۔ میرے مولا دیکھ میں تیری جناب میں عاجزانہ ہاتھ اٹھاتا ہوں کہ تو ایسا ہی کر اگر میں تیرے حضور سچا ہوں اور جیسا کہ خیال کیا جاتا ہے۔ کافر اور کاذب نہیں تو ان تین سال میں کوئی ایسا نشان دکھلا جو انسانی ہاتھوں سے بالا تر ہو۔ میں نے قطعی فیصلہ کر لیا ہے۔ اگر میری یہ دعا قبول نہ ہوئی تو میں ایسا ہی مردود اور ملعون کافر بے دین اور خائن ہوں گا۔ جیسا کہ مجھے سمجھا گیا ہے۔ اگر میں تیرا مقبول ہوں تو میرے لئے ان تین برسوں کے اندر گواہی دے تا لوگ یقین کریں کہ تو موجود اور دعاؤں کو سنتا ہے اور ان کی طرف جو تیری طرف جھکتے ہیں جھکتا ہے۔ اب تیری طرف اور تیرے فیصلہ کی طرف ہر روز میری آنکھ رہے گی۔ جب تک آسمان سے تیری نصرت نازل نہ ہو اور میں کسی مخالف کو اس اشتہار میں مخاطب نہیں کرتا اور نہ کسی کو مقابلے کے لئے بلاتا ہوں۔ بلکہ میری یہ دعا تیری ہی جناب میں ہے۔ کیونکہ تیری نظر سے کوئی صادق یا کاذب غائب نہیں ہے۔ میری روح گواہی دیتی ہے
٦٠
کہ تو صادق کو ضائع نہیں کرتا اور کاذب تیری جناب میں کبھی عزت نہیں پاتا اور وہ جو کہتے ہیں کہ کاذب بھی نبیوں کی طرح تحدی کرتے ہیں اور ان کی تائید اور نصرت بھی ایسی ہی ہوتی ہے جیسا کہ راست بازوں کی وہ جھوٹے ہیں اور چاہتے ہیں کہ نبوت کے سلسلہ کو مشتبہ کر دیں بلکہ تیرا قہر تلوار کی طرح مفتری پر پڑتا ہے اور غضب کی بجلی کذاب کو بھسم کر دیتی ہے۔ مگر صادق تیرے حضور میں زندگی اور عزت پاتے ہیں۔ تیری نصرت اور تائید اور تیرا فضل اور رحمت ہمیشہ ہمارے شامل حال رہے۔ آمین ثم آمین!“
(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ١٧٧ تا ١٧٩)
ناظرین! مسیح قادیانی کی طول اور تکرار کلامی کی داد دیجئے۔ نیز اس دعا کا زور دیکھئے یوں معلوم ہوتا ہے کہ اگر کوئی آسمانی نشان عرصہ مذکورہ میں ظاہر نہ ہوا تو مرزا قادیانی کچھ کھا کر مر جائیں گے۔ یا کم از کم اپنے دجل وفریب سے توبہ ضرور کر لیں گے۔ مگر افسوس کہ مرزا اور مرزائی جماعت پورے تین سال آسمان کی طرف منہ اٹھائے دیکھتے رہے اور لوگوں کی توجہ کو اس طرف مبذول کرائے رکھا۔ ہر معترض کو یہ کہہ کر ٹالتے رہے کہ بھائی اعتراض کیوں کر رہے ہو۔ دسمبر ١٩٠٢ء تک انتظار کرو خدا خود فیصلہ کر دے گا۔ مگر افسوس کہ تین سال پوری شان سے گزر گئے۔ مگر مرزا قادیانی کے لئے کوئی آسمانی نشان ظاہر نہ ہوا اور مرزا قادیانی کی ایمانداری دیکھئے کہ اپنے آپ کو کذاب اور مردود خیال کرنے کی بجائے باب مسیحیت سے ترقی کرتے ہوئے قصر نبوت تک جا پہنچے۔ سچ ہے:” اذا لم تستحی فاصنع ماشئت “ یعنی؎
مرزا قادیانی کا دعویٰ نبوت
مرزا قادیانی ابتداء میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات ثابت کرنے کے لئے ختم نبوت کے قائل اور حضرت عیسیٰ کی آمد ثانی کو ختم نبوت کے منافی خیال کرتے تھے۔ چنانچہ آپ اپنی مختلف کتابوں میں فرماتے ہیں کہ آیت کریمہ ”ماکان محمد“ ہمارے نبی کریم کو بلا کسی استثناء کے خاتم الانبیاء ثابت کرتی ہے۔
(حمامتہ البشریٰ ص ٢٠، خزائن ج ٧ ص ٢٠٠)
یہ آیت صاف طور پر دلالت کر رہی ہے کہ بعد ہمارے نبی کریم کے کوئی نبی دنیا میں نہیں آئے گا۔
(ازالہ اوہام ص ٢٥٢، ٦١٤، خزائن ج ٣ ص ٤٣١، حمامتہ البشریٰ ص ٤٩، خزائن ج ٧ ص ٢٤٣)
قرآن شریف میں ختم نبوت کا بکمال تصریح ذکر ہے اور پرانے یا نئے کی تفریق کرنا یہ شرارت ہے۔ حدیث لا نبی بعدی میں لا نفی عام ہے۔
(ایام صلح ص ١٥٢، خزائن ج ١٤ ص ٤٠٠)
٦١
ہر نبوت را برو شد اختتام
(سراج منیر ص ٢ خزائن ج ١٢ ص ٩٥)
ہم مدعی نبوت کو کافر، کاذب، دجال، بے ایمان اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھتے ہیں۔
(خلاصہ حوالہ جات مختلفہ)
محی الدین ابن عربی کہتا ہے کہ نبوت تشریعی بند اور غیر تشریعی جاری ہے۔ مگر میرا مذہب یہ ہے کہ ہر قسم کی نبوت کا دروازہ بند ہے۔
(اخبار الحکم مورخہ ١٠؍اپریل ١٩٠٣ء)
لفظ نبی کا استعمال اور لوگوں کا اعتراض
جب مرزا قادیانی نے اول اول اپنی بعض کتابوں میں اپنے لئے لفظ نبی تحریر کیا تو بعض حلقوں کی طرف سے اس کی مخالفت کی گئی۔
مولوی عبدالحکیم کلانوری سے مباحثہ
اور بمقام لاہور ١، ٢ فروری ١٨٩٢ء کو مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت پر ان کا اور مولوی عبدالحکیم صاحب کا مباحثہ ہوا۔ دو دن کی بحث کے بعد مورخہ ٣؍ فروری کو مرزا قادیانی نے مندرجہ ذیل توبہ نامہ لکھ دیا۔ جس پر مناظرہ ختم ہوا۔
لفظ نبی کو کاٹا جائے، نبی کے بجائے محدث سمجھیں
’’اما بعد! تمام مسلمانوں کی خدمت میں گزارش ہے کہ اس عاجز کے رسالہ فتح الاسلام، توضیح المرام، ازالہ اوہام میں جس قدر ایسے الفاظ موجود ہیں کہ محدث ایک معنوں میں نبی ہوتا ہے یا کہ محدثیت جزوی نبوت ہے یا یہ کہ محدثیت نبوت ناقصہ ہے۔ یہ تمام الفاظ اپنے حقیقی معنوں میں محمول نہیں ہیں۔ بلکہ صرف سادگی سے ان کے لغوی معنوں کی رو سے بیان کئے گئے ہیں۔ ورنہ حاشا و کلا مجھے نبوت حقیقی کا ہرگز دعویٰ نہیں ہے۔ بلکہ جیسا کہ میں اپنی کتاب (ازالہ اوہام ص ١٣٧، خزائن ج ٣ ص ١٦٩) پر لکھ چکا ہوں۔ میرا اس بات پر ایمان ہے کہ ہمارے سید و مولیٰ محمد مصطفیٰ خاتم الانبیاءﷺ ہیں۔ سو میں تمام مسلمان بھائیوں کی خدمت میں واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ وہ لفظ نبی کو ترمیم شدہ تصور فرما کر اس کی بجائے محدثیت کا لفظ میری طرف سے سمجھ لیں اور اس لفظ نبی کو کاٹا ہوا تصور کریں۔‘‘
(تبلیغ رسالت ج ٢ ص ٩٥، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٣١٣)
٦٢
ختم نبوت اور نزول مسیح کا اشکال
ناظرین! بیان مذکورہ بالا سے ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی ان دنوں ختم نبوت کے قائل اور محدثیت کے مدعی ہیں۔ اگرچہ مرزا قادیانی ختم نبوت کے پردہ میں وفات مسیح کا اعلان کرتے ہیں۔ حالانکہ ختم نبوت اور نزول مسیح میں کوئی تعارض نہیں۔ کیونکہ حضرت عیسیٰ نزول ثانی کے زمانہ میں نبی بھی ہوں گے اور امتی بھی۔
(صحیح مسلم ج ١ ص ٨٧ مکتبہ دار القرآن ملتان)
اور یہ امر ایسا ہی ہے جیسے ایک مملکت کا بادشاہ دوسری مملکت میں جا کر اپنے ملک کا بادشاہ ہونے کے باوجود نہ صرف یہ کہ اپنی بادشاہی کا اعلان نہیں کرتا۔ بلکہ دوسرے ملک کے آئین کی پابندی اور احترام بھی کرتا ہے۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ نبی ہونے کے باوجود نبوت محمدی کا احترام کرتے ہوئے نہ صرف یہ کہ اپنی نبوت کا اعلان نہ کریں گے۔ بلکہ خود شریعت محمدی پر عامل اور اسی کے مبلغ اور داعی ہوں گے۔
علمائے اسلام نے اس اشکال کو مرزا قادیانی کے جنم سے صدیوں پیشتر ہی حل فرما دیا تھا۔ صاحب تفسیر کشاف فرماتے ہیں کہ ختم نبوت کا معنی یہ ہے کہ آپ کے بعد کوئی نبوت سے سرفراز نہ ہوگا۔ باقی رہے حضرت عیسیٰ تو وہ نبوت آنحضرت ﷺ سے پہلے حاصل کر چکے ہیں۔
(تفسیر الکشاف للزمخشری ج ٣ ص ٥٤٤)
علاوہ ازیں اگر مرزا قادیانی نبوت محمدی کی چادر اوڑھ کر آجائیں تو ختم نبوت میں کوئی فرق نہیں آتا تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول ثانی میں کیا اشکال ہو سکتا ہے۔
دوبارہ دعویٰ نبوت اور محدثیت کا انکار
بہر حال مرزا قادیانی اس زمانہ میں اکثر نبوت کے انکاری اور محدثیت کے مدعی تھے۔ لیکن ٥؍ نومبر ١٩٠٠ء کو آپ نے اپنی نبوت کی حقیقت ذہن نشین کرانے کے لئے مریدوں کے نام ایک غلطی کا ازالہ کے عنوان سے ایک اشتہار شائع کیا۔ اشتہار کیا ہے؟ ایک سطر کی تردید دوسری سطر میں۔ دوسری کی تیسری میں۔ لیکن آپ نے محدثیت سے ترقی کرتے ہوئے یہ فقرہ خوب زور سے درج فرمایا: ”میں نے نبوت فنا فی الرسول ہو کر حاصل کی ہے اور مجھے نبوت محمدی کی چادر اوڑھائی گئی ہے۔ اس لئے میرا آنا عین محمد کا آنا ہے۔ اس لئے میری نبوت سے ختم نبوت میں کوئی فرق نہیں آتا۔ نیز یہ بھی یاد رہے کہ نبی کا معنی ہے خدا سے خبر پانے والا۔ پس جہاں (اور جس پر) یہ معنی صادق آئیں گے وہاں نبی کا لفظ بھی صادق آئے گا اور نبی کا رسول ہونا بھی شرط ہے۔ کیونکہ اگر وہ رسول نہ ہو تو غیب مصفیٰ کی خبر حاصل نہیں کر سکتا۔“
٦٣
”اگر آنحضرت ﷺ کے بعد ان معنوں کی رو سے نبوت کا انکار کیا جائے تو اس سے لازم آتا ہے کہ یہ امت مکالمات ومخاطبات الٰہیہ سے بے نصیب رہے۔ کیونکہ جس کے ہاتھ پر امور غیبیہ ظاہر ہوں گے۔ ضروری ہے کہ وہ آیت ”فلا یظھر علیٰ غیبہ“ کے مطابق نبی کہلائے۔ اگر خدا تعالیٰ سے خبریں پانے والا نبی کا نام نہیں رکھتا تو پھر بتلاؤ اسے کس نام سے پکارا جائے۔ اگر کہو کہ اس کا نام محدث رکھنا چاہئے تو میں کہتا ہوں کہ تحدیث کے معنی کسی لغت میں اظہار غیب نہیں۔ مگر نبوت کے معنی اظہار امر غیب کے ہیں اور نبی کا معنی ہے خدا سے خبر پا کر پیش گوئی کرنے والا۔ پس میں جب کہ اس مدت تک ڈیڑھ سو پیش گوئیاں خدا کی طرف سے پا کر بچشم خود دیکھ چکا ہوں کہ صاف طور پر پوری ہوئیں تو میں نبی یا رسول کے نام سے کیوں انکار کر سکتا ہوں اور جب خدا تعالیٰ نے میرے یہ نام رکھے ہیں تو میں اسے کیوں کر رد کروں۔“
آگے چل کر فرماتے ہیں کہ: ”میں نے جس جس جگہ نبوت سے انکار کیا ہے۔ صرف ان معنوں میں کیا ہے کہ میں مستقل طور پر نبی نہیں اور نہ ہی مستقل شریعت لایا ہوں۔ مگر ان معنوں کی رو سے کہ میں نے اپنے رسول مقتداء سے باطنی فیوض حاصل کر کے اور اپنے لئے اس کا نام پا کر اس کے واسطہ سے خدا تعالیٰ سے علم غیب پایا ہے۔ رسول اور نبی ہوں۔ مگر بغیر کسی جدید شریعت کے اور میرے اس قول کا معنی ”من نیستم رسول نیاوردہ ام کتاب“ صرف یہ ہے کہ میں صاحب شریعت نہیں ہوں۔“
(مجموعہ اشتہارات ج٣ ص ٤٣٢ تا ٤٣٤)
لاہوری مرزائی غور فرماویں
ناظرین! یہ تھا مرزا قادیانی کا اعلان نبوت۔ غور فرمائیے ایک وہ زمانہ تھا کہ مرزا قادیانی نے اعلان کیا کہ میری کتابوں میں جہاں کہیں نبی کا لفظ آ گیا ہے۔ اس کو کاٹا ہوا تصور کرو اور اس کی جگہ لفظ محدث لکھ لو اور ایک یہ زمانہ ہے کہ لفظ محدث سے انکار کرتے ہوئے نبوت کا دعویٰ ہے۔ صرف شریعت کی نفی ہے۔ بہر حال مرزا قادیانی کے مرید اس اشتہار کے بعد مرزا قادیانی کو کھلم کھلا نبی کہنے لگ گئے۔ حتیٰ کہ بعد میں مرزا قادیانی کی نسبت کا انکار کرنے والے مولوی محمد علی صاحب ایم۔ اے امیر جماعت مرزائیہ لاہور بھی اپنے رسالہ ریویو کے ہر نمبر میں مرزا قادیانی کی صداقت کو منہاج نبوت پر پرکھتے اور مسلمانوں کو نبی ماننے کی دعوت دینے لگے اور اس زمانہ کے سینکڑوں حوالہ جات ایسے ہیں جن سے مولوی صاحب کا یہی عقیدہ معلوم ہوتا ہے۔ (تفصیل کے لئے کتاب تبدیلی عقیدہ مولوی محمد علی ملاحظہ فرمائیں)
٦٤
- نوٹ : ١...... مسئلہ نبوت میں اگرچہ مرزا قادیانی اپنی عادت کے موافق ہمیشہ
ہیرا پھیری کرتے رہے۔ کبھی انکار، کبھی اقرار، کبھی مستقل، کبھی غیر مستقل، کبھی ظلی، کبھی بروزی، کبھی بے شریعت، کبھی باشریعت ساری عمر اسی ادھیڑ بن میں مصروف رہے۔ مگر یہ حقیقت ہے کہ اشتہار مذکورہ میں انہوں نے محدثیت سے انکار کرتے ہوئے نبوت کا دعویٰ ضرور کیا ہے۔ بلکہ ایک دفعہ آپ نے اپنے من گھڑت اصول (کہ جھوٹا نبی ٢٣ سال تک زندہ نہیں رہ سکتا) کو اپنے پر چسپاں کرتے ہوئے یہاں تک فرما دیا تھا۔
”اگر کہو کہ اس مدت میں صرف مدعی نبوت شریعہ ہلاک ہوتا ہے نہ ہر نبی تو اول یہ دعویٰ بلا دلیل ہے۔ ماسوا اس کے یہ سمجھو بھی کہ شریعت چیز کیا ہے۔ جس نے خدا تعالیٰ کی طرف سے چند امور اور نہی بطور الہام پائے۔ وہ صاحب شریعت نبی کہلائے گا۔ سو اس لحاظ سے بھی تم ملزم ہو۔ کیونکہ میری وحی میں امر بھی موجود ہیں اور نہی بھی۔“
(اربعین نمبر ٤ ص ٦، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥)
- ٢...... مرزا قادیانی کا دعویٰ نبوت عجیب گورکھ دھندا ہے کہ ان کے ماننے والوں
کی پہلی ہی جماعت جنہوں نے ان کو اپنی آنکھ سے دیکھا ساتھ ہو کر کام کیا۔ خلوت، جلوت میں ساتھ رہے۔ الہام ہوتے دیکھا۔ الہامات کی تشریح خود ان کی زبان سے سنی۔ وہی اس مسئلہ میں دو گروہوں میں بٹ گئے۔ ایک کہتا ہے کہ آپ نے نبوت کا دعویٰ کیا، دوسرا کہتا ہے نہیں۔ ایک کہتا ہے کہ نبوت کی یہ قسم تھی دوسرا کہتا ہے نہیں یہ تھی۔ بہرحال یہ بھی اعجوبہ ہی ہے۔ کسی نبی کے ماننے والوں میں صدہا اختلافات کے باوجود اس دعویٰ میں کبھی اختلاف نہیں ہوا تھا۔
مرزا قادیانی ۔
٢٥...... سرکار انگریزی سے مرزا قادیانی کو ان کی بدزبانی پر تنبیہ
کسی شخص کے مدعی نبوت ہونے کا معنی یہ ہے کہ وہ کمالات انسانی کے آخری زینہ پر فائز ہو چکا ہے۔ ایک نبی کے لئے ضروری ہے کہ اس میں انسانی کمالات بدرجہ اتم موجود ہوں ایک نقاد جہاں اسے منہاج نبوت پر پرکھنے کا حق رکھتا ہے۔ وہاں اسے یہ بھی حق حاصل ہے کہ اسے اچھے انسان کے معیار پر پرکھے۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اگر وہ اخلاق انسانی کے معیار پر پورا نہیں اترتا تو اسے منہاج نبوت پر لانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ انسانی معیار سے گرے ہوئے انسان کے لئے منہاج نبوت کا نام لینا تو نبوت اور خود انبیاء کی توہین ہے۔ میٹرک فیل ہونے والے طالب علم کے متعلق یہ سوچنا کہ وہ بی۔اے ہے یا نہیں۔ کہاں کی عقلمندی ہے۔ اس باب میں
٦٥
ہم مرزا قادیانی کا صدق و کذب عام اخلاقی معیار کے اصولوں پر معلوم کرنا چاہتے ہیں۔ پس ناظرین غور سے سنیں کہ جماعت انبیاء کا متفقہ طرز عمل یہ رہا ہے کہ انہوں نے خدا کا پیغام بلا کم و کاست لوگوں تک پہنچایا۔ خواہ یہ پیغام سخت الفاظ میں تھا یا نرم میں۔ بہر حال پیغمبروں نے فریضہ رسالت کو ”بلغ ما انزل“ کے مطابق ادا کیا۔ لیکن اپنی ذات کے لئے کسی پیغمبر میں جذبہ انتقام پیدا نہیں ہوا۔ علاوہ ازیں نہ کسی پیغمبر نے اپنے مخالفین کو ذاتی انتقام کا نشانہ بناتے ہوئے لعنت کی نہ گالیاں دیں اور نہ شرافت سے گرے ہوئے الفاظ استعمال فرمائے۔ بلکہ انبیاء کو لغت پر اتنا عبور ہوتا ہے کہ وہ رنج و مسرت کے جذبات کے اظہار کے لئے بہتر سے بہتر الفاظ مہیا فرما لیتے ہیں۔ مگر افسوس کہ مرزا قادیانی مناسب زبان کے استعمال میں ناکام ثابت ہوئے۔ انہیں اپنے جذبات پر بھی قابو حاصل نہ تھا۔ وہ جب کسی پر ناراض ہوتے تو تہذیب اور اخلاق کو بالائے طاق رکھتے ہوئے گالیوں پر اتر آتے ہیں اور گالیاں بھی بازاری۔ مثلاً حرامزادہ، کنجری کا بیٹا، ولد الحرام، بدکار، سور، کتا وغیرہ۔
ناظرین! اس اجمال کی تفصیل ملاحظہ فرمائیے۔
بدزبانی کے چند نمونے
مرزا قادیانی آئینہ کمالات اسلام میں اپنے لٹریچر اور دعاوی کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:
- ......١ ”ہر مسلمان میری تصنیفات کو محبت کی نگاہ سے دیکھتا اور میری دعاوی کی تصدیق کرتا
ہوا مجھے قبول کرتا ہے۔ مگر ”ذریۃ البغایا“ یعنی بازاری عورتوں کی اولاد۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص ٣٣٥، خزائن ج ٥ ص ٥٤٧)
- ......٢ اپنی کتاب نجم الہدیٰ میں اپنے دشمنوں پر اظہار غیظ و غضب کرتے ہوئے فرماتے ہیں
کہ: ”میرے دشمن جنگلوں کے سور اور ان کی عورتیں کتیاں ہیں۔“
(نجم الہدیٰ ص ٣٥، خزائن ج ١٤ ص ٥٣)
- ......٣ مخالف علماء کے اعتراضات سے لاجواب ہو کر فرماتے ہیں کہ: ”اے بدذات فرقہ
مولویان، مردار خور مولویو اور گندی روحو۔“
(انجام آتھم ص ١٩، خزائن ج ١١ ص ٢١، ٢٦٨، ٣٠٥)
- ......٤ حضرت میاں صاحب دہلویؒ کو رئیس الدجالین اور مخبوط الحواس کے قبیح الفاظ سے یاد
فرماتے ہیں۔
(انجام آتھم ص ٤٦، خزائن ج ١١ ص ٣٣٠)
٦٦
- ٥...... مولانا محمد حسین بٹالوی کو فرعون اور ابولہب تحریر کرنے کے علاوہ ان کا نام لے کر دس
لعنتیں بھیجتے ہیں۔ (انجام آتھم ص ٤٢٥، خزائن ج ١١ ص ٣٤٠، ضیاء الحق ص ٣٩، خزائن ج ٩ ص ٢٤٩، آئینہ کمالات اسلام ص ٥٤٨، خزائن ج ٥ ص ٦٠٤)
- ٦...... مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ فاتح قادیان کو دجال، کفن فروش اور بھیڑیا، کتے کی طرح
وغیرہ الفاظ سے یاد کرتے اور دس لعنتیں لکھ کر اپنے غضب کا اظہار کرتے ہیں۔
(اعجاز احمدی ص ٣٨، خزائن ج ١٩ ص ١٤٨ تا ١٥٣)
- ٧...... عیسائی دوستوں پر ناراض ہوتے ہیں تو پانچ صفحات مسلسل لعنت لعنت ہی لکھتے جاتے
ہیں۔
(نور الحق ص ١٢١، ١٢٥، خزائن ج ٨ ص ١٥٨)
- ٨...... ١٨٥٧ء کی جنگ آزادی میں کام کرنے اور شہید ہونے والوں پر چور حرامی اور قزاق
کا فتویٰ لگاتے ہوئے برطانیہ کو خوش کرنا چاہتے ہیں۔
(ازالہ اوہام ص ٧٤٣، ٧٤٤، خزائن ج ٣ ص ٤٩٠)
- ٩...... اپنے ایک مخالف مولوی سعد اللہ مرحوم لدھیانوی کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں
کہ تو کنجری کا بیٹا اور بیوقوفوں کا نطفہ ہے۔
(انجام آتھم ص ٢٦٠، خزائن ج ١١ ص ٢٨١، حقیقت الوحی ص ١٤، خزائن ج ٢٢ ص ٤٣٥)
- ١٠...... غزنوی اکابر کے شاگرد مولوی عبدالحق سے شکست کھاتے ہیں تو غیظ و غضب سے جل
بھن کر ان کے سارے خاندان کی اسلامی شکل وصورت اور مسنون داڑھیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ: ”اے غزنوی کے ناپاک سکھو۔“
(ضیاء الحق ص ٣٧، خزائن ج ٩ ص ٢٩١)
مزید سنئے:
- ١١...... سیاہ دل فرقہ غزنویوں کا، کتوں کی طرح مردار کھا رہا ہے۔ جاہل اور وحشی فرقہ، شرم
وحیا سے کام نہیں لیتا۔ (انجام آتھم ص ٤٦٧، ٤٦٣، ٤٦٨، خزائن ج ١١ ص ٣٢٩، ٣٣٣، ٣٣٢)
- ١٢...... مولوی عبدالحق غزنوی کو جن کا حال آپ پہلے پڑھ آئے ہیں۔ مخاطب کر کے فرماتے
ہیں کہ: ”تیرا وہ لڑکا کیوں پیدا نہیں ہوا۔ کیا ماں کے پیٹ کے اندر ہی اندر تحلیل پا گیا ہے یا رجعت قہقری کر کے پھر نطفہ بن گیا ہے۔“
(انجام آتھم ص ٢٩٥، خزائن ج ١١ ص ٣١١)
٧)
- ١٣...... عبدالحق غزنوی کی بیوی کے پیٹ سے لڑکا تو کیا چوہا بھی برآمد نہیں ہوا۔
(انجام آتھم ص ٣٠١، خزائن ج ١١ ص ٣١٧)
- ١٤...... مولوی صاحب موصوف نے اپنی بیوہ بھاوجہ سے نکاح کیا تو مرزا قادیانی اس واقعہ کو
اس طرح بیان کرتے ہیں کہ بھائی مرا تو اس کی بوڑھی عورت پر قبضہ کرلیا۔
(انجام آتھم ص ٣٣٠، خزائن ج ١١ ص ٣٤٤، ٣٤٣)
- ١٥...... مولوی صاحب موصوف کی تقریر کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ کنجری کی طرح
ناچ اور گدھے کی طرح بول رہا ہے۔
(حجۃ اللہ ص ٩٤، خزائن ج ١٢ ص ٢٤٣، ٢٤٤)
ناظرین غور فرمائیے! اس قسم کی زبان استعمال کرنے والا نبی ،مہدی، مسیح،مجدد وغیرہ تو کجا کیا شریف اور بااخلاق انسان کہلانے کا مستحق بھی ہے؟ کیا جو لوگ دنیا کی ہدایت کے لئے آتے ہیں وہ اس قسم کی زبان استعمال کیا کرتے ہیں؟ کیا دشمنوں کے حق میں ایسے الفاظ تحریر کرنا ان کی دشمنی میں اضافہ نہ کرے گا؟ اور کیا اس قسم کے الفاظ مخالفین میں اشتعال پیدا نہ کریں گے؟ اور کیا اس قسم کی تحریریں نقص امن کا موجب نہ بنیں گی؟
نقل حکم مسٹر ڈگلس صاحب مورخہ ٢٣ اگست ١٨٩٧ء
یہی وجہ ہے کہ مرزا قادیانی کی اس قسم کی بدزبانی اور بدتہذیبی کے پیش نظر آپ کو عدالت کی طرف سے تنبیہ بھی ہوئی تھی۔ عدالتی الفاظ ملاحظہ فرمائیے۔
”مرزا قادیانی کو متنبہ کیا جاتا ہے کہ جو تحریرات عدالت میں پیش کی گئی ہیں۔ ان سے واضح ہوتا ہے کہ وہ فتنہ انگیز ہے۔ ان کی تحریرات اس قسم کی ہیں کہ انہوں نے بلاشبہ طبائع کو مشتعل کر رکھا ہے۔ پس ان کو متنبہ کیا جاتا ہے کہ وہ اپنی تحریرات میں مناسب اور ملائم الفاظ استعمال کریں۔ وگرنہ بحیثیت مجسٹریٹ ضلع ہم کو مزید کاروائی کرنی پڑے گی۔“
(روئیداد مقدمہ ص ٤٤، محمدیہ پاکٹ بک ص ٢١٦)
مرزا قادیانی اس عدالتی حکم کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ: ”ہم نے عدالت کے سامنے یہ عہد کرلیا ہے کہ آئندہ ہم سخت الفاظ سے کام نہ لیں گے۔“
(کتاب البریہ ص ١٣، خزائن ج ١٣ ص ١٥)
اس عبارت میں مرزا قادیانی اپنی سخت گوئی کا اقرار کرتے ہوئے آئندہ کے لئے احتراز کا وعدہ کرتے ہیں۔ مگر افسوس کہ اس تنبیہ اور وعدہ کے باوجود مرزا قادیانی نے اپنے رویہ میں کوئی اصلاح نہ کی۔ بالآخر اکتوبر ١٩٠٤ء کو عدالت کو دوبارہ نوٹس لینا پڑا۔ عدالتی فیصلہ ملاحظہ
٦٨
فرمائیے : "ملزم نمبر ١ (مرزا قادیانی) اس امر میں مشہور ہے کہ وہ سخت اشتعال دہ تحریرات اپنے مخالفوں کے برخلاف لکھتا ہے ۔ اگر اس کے میلان طبع کو نہ روکا گیا تو امن عامہ میں نقص پیدا ہو گا ۔ ١٨٩٧ء میں کپتان ڈگلس نے ملزم کو اس قسم کی تحریرات سے باز رہنے کی ہدایت کی تھی۔ پھر ١٨٩٩ء میں مسٹر ڈوئی صاحب مجسٹریٹ نے اس سے اقرار نامہ لیا تھا کہ اس قسم کے نقض امن والے فعلوں سے باز رہے گا ۔"
(روئیداد ص ١٦٠ محمد یہ پاکٹ بک ص ٢١٦)
عدالتی فیصلہ کی اہمیت
ناظرین ! ایک دفعہ ایک عدالت نے مرزا قادیانی کے حق میں فیصلہ دیا تھا تو مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ : "عین الیقین اور حق الیقین عدالت کے ذریعہ حاصل ہوتا ہے ۔"
(روئیداد مقدمہ کرم دین ص ١٤٦)
امید ہے کہ مرزائی جماعت عدالتی بیان سے مرزا قادیانی کے حق میں حق الیقین حاصل کرے گی۔
خلیفہ جی فرماتے ہیں
"جب انسان دلائل سے شکست کھا جاتا ہے اور ہار جاتا ہے تو گالیاں دینا شروع کر دیتا ہے اور جس قدر کوئی زیادہ گالیاں دیتا ہے اسی قدر اپنی شکست ثابت کرتا ہے۔"
(انوار خلافت ص ١٥)
٢٦...... مرزا قادیانی کا توبہ نامہ
ناظرین ! گذشتہ باب میں پڑھ آئے ہیں کہ ١٨٩٩ء میں مسٹر ڈوئی نے مرزا قادیانی سے اقرار نامہ لیا تھا۔ اب آپ اس اجمال کی تفصیل ملاحظہ فرمائیے۔
مرزا قادیانی کی عام عادت تھی کہ مخالفین پر اپنے الہام کا رعب ڈالنا چاہتے اور جس کسی نے آپ کی بات نہ مانی یا مقابلہ کیا اس کے لئے فوراً الہام شائع کر دیا کہ ذلیل ہوگا، بدنام ہو جائے گا، مارا جائے گا۔ عدالت نے ان حرکات کو غیر مناسب اور امن عامہ کے لئے نقصان دہ خیال کرتے ہوئے اور مولانا ابوسعید محمد حسین مرحوم بٹالوی کی درخواست پر نوٹس لیا اور مرزا قادیانی سے حسب ذیل اقرار نامہ لکھوایا کہ میں مرزا غلام احمد قادیانی بحضور خداوند تعالیٰ باقرار صالح اقرار کرتا ہوں کہ:
١....... میں ایسی پیش گوئی شائع کرنے سے پرہیز کروں گا جس کے یہ معنی خیال کئے جاسکیں کہ کسی شخص کو ذلت پہنچے گی یا وہ مورد عتاب الہی ہوگا۔
٦٩
- ٢...... میں خدا کے سامنے ایسی اپیل کرنے سے بھی اجتناب کروں گا کہ وہ کسی
شخص کو ذلیل کرے۔ یا ایسے نشان ظاہر کرے جن سے یہ ظاہر ہو کہ مذہبی مباحثہ میں کون سچا اور کون جھوٹا ہے۔
- ٣...... میں کسی چیز کو الہام جتا کر شائع کرنے سے مجتنب رہوں گا۔ جس کا یہ منشا
ہو یا جو ایسا منشاء رکھنے کی معقول وجہ رکھتا ہو کہ فلاں شخص ذلت اٹھائے گا یا مورد عتاب الہی ہوگا۔
- ٤...... میں اس امر سے بھی باز رہوں گا کہ مولوی ابوسعید محمد حسین یا ان کے کسی
دوست یا پیرو کے ساتھ مباحثہ کرنے میں کوئی دشنام آمیز فقرہ یا دل آزار لفظ استعمال کروں یا کوئی ایسی تحریر یا تصویر شائع کروں جس سے ان کو دکھ پہنچے۔ میں اقرار کرتا ہوں کہ ان کی ذات کی نسبت اور پیروکاروں کی نسبت کوئی لفظ مثل دجال، کافر، کذاب، بطالوی نہیں لکھوں گا۔ میں ان کی پرائیویٹ زندگی یا ان کے خاندانی تعلقات کی نسبت کچھ شائع نہیں کروں گا۔ جس سے ان کو تکلیف پہنچے یا تکلیف پہنچنے کا احتمال ہو۔
- ٥...... میں اس بات سے پرہیز کروں گا کہ مولوی ابوسعید محمد حسین یا ان کے کسی
دوست یا پیرو کو اس امر کے مقابلہ کے لئے دعوت دوں کہ وہ خدا کے پاس مباہلہ کی درخواست کریں تا کہ وہ (خدا) ظاہر کرے کہ فلاں مباحثہ میں کون سچا اور کون جھوٹا ہے۔ نہ میں ان کو یا ان کے کسی دوست یا پیرو کو کسی شخص کی نسبت پیش گوئی کرنے کے لئے بلاؤں گا۔
- ٦...... جہاں تک میرے احاطہ طاقت میں ہے میں تمام اشخاص کو جن پر میرا کچھ
اثر یا اختیار ہے۔ ترغیب دوں گا کہ وہ بھی اسی طریق پر عمل کریں۔ جس طریق پر کار بند ہونے کا میں نے دفعہ ١ تا ٦ میں اقرار کیا ہے۔
العبد گواہ شد دستخط مرزا غلام احمد بقلم خود خواجہ کمال الدین جے ایم ڈوئی بی۔ اے ایل ایل بی ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ضلع گورداسپور ٢٢؍ فروری ١٨٩٩ء
اقرار نامہ کی تصدیق
مرزا قادیانی اس اقرار نامہ کا اقرار ان الفاظ میں کرتے ہیں کہ: ”ہم موت کے مباہلہ میں کسی کو اپنی طرف سے چیلنج نہیں کر سکتے۔ کیونکہ حکومت کا معاہدہ مانع ہے۔“
(اعجاز احمدی ص ١٤، خزائن ج ١٩ ص ١٢٢)
٧٠
ناظرین! غور فرمائیے کیا نبوت کا یہی مقام ہے کہ عدالت میں عہد کر لیں کہ میں آئندہ الہام یا پیش گوئی شائع نہیں کروں گا۔ لاحول ولاقوۃ خدا تعالیٰ کا الہام شائع نہیں کروں گا کہ حکومت ناراض نہ ہو جائے۔
سیرۃ نبوی کا ایک واقعہ
کفار مکہ نے حضور کی تبلیغی سرگرمیوں کو روکنے کے لئے آپ کو ہر قسم کا لالچ اور طمع دنیوی کی پیش کش کی اور حضور کے چچا ابوطالب سے سفارش بھی کرائی۔ مگر حضور کا جواب ملاحظہ فرمائیے کہ؎
مجھے یہ فرض ادا کرنا ہے اس سے ہٹ نہیں سکتا
میرے ہاتھوں میں لاکر چاند سورج بھی اگر رکھ دیں
میرے پاؤں تلے روئے زمین کا مال وزر رکھ دیں
خدا کے کام سے میں باز ہر گز نہیں رہ سکتا
یہ بت جھوٹے ہیں میں جھوٹوں کو سچا نہیں کہہ سکتا
میں سچا ہوں تو بس میرے لئے میرا خدا بس ہے
کسی امداد کی حاجت نہیں اس کی رضا بس ہے
میرا اعتقاد ہے ہر شے پہ قادر حق تعالیٰ ہے
وہی آغاز کو انجام تک پہنچانے والا ہے
ناظرین! نبوت حقہ کی جرات اور باطل نبوت کی بزدلی ملاحظہ فرمائیے۔
٢٧...... طاعون پنجاب اور حفاظت قادیان
اس سلسلہ میں اصل الہام کے الفاظ یہ ہیں کہ: ”انه اوى القرية“ جس کی بابت فروری ١٨٩٨ء تک تو مرزا قادیانی کا اقرار ہے کہ اس کے معنی سمجھ میں نہیں آئے۔ مگر جب پنجاب میں طاعون شروع ہو گیا تو الہام مذکورہ کی خوب تشریحات کی گئیں۔ خود مرزا قادیانی دافع البلاء میں اپنے اس الہام پر فخر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ: ”اب دیکھو تین برس سے ثابت ہورہا ہے کہ الہام کے دونوں پہلو پورے ہوگئے۔ یعنی ایک طرف تمام پنجاب میں طاعون پھیل گئی اور دوسری طرف باوجود اس کے کہ قادیان کے چاروں طرف دو دو میل کے فاصلہ پر طاعون کا زور ہورہا ہے۔ مگر قادیان طاعون سے پاک ہے۔ بلکہ آج تک جو شخص طاعون زدہ باہر سے قادیان میں آیا وہ بھی اچھا ہوگیا۔“
(دافع البلاء ص ٥، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٦)
٧١
اگرچہ اس عبارت سے چند سطریں پہلے مرزا قادیانی نے احتیاطاً یہ لفظ بھی تحریر فرمائے ہیں کہ قادیان طاعون کی تباہی سے محفوظ رہے گا۔ مگر اس عبارت کا مطلب صاف ہے کہ قادیان نہ صرف یہ کہ خود طاعون سے پاک ہے۔ بلکہ باہر سے آنے والا طاعون زدہ بھی اچھا ہو جاتا ہے۔ بایں ہمہ لفظ تباہی کا ذکر کرنا محض مصلحتاً تھا۔ یعنی اگر کوئی واردات ہو جائے تب بھی کوئی اعتراض نہ آئے۔
کوئی پہلو تو رہے بات بدلنے کے لئے
ہم الہام مذکورہ کی حقیقت اور اہمیت منکشف کرنے کے لئے مرزا قادیانی کے امام نماز اور فرشتہ مولوی عبد الکریم صاحب سیالکوٹی کا ایک مفصل مضمون درج کرتے ہیں۔ جو انہی دنوں اخبار الحکم ٩؍ اپریل ١٩٠٢ء میں مرزا قادیانی کی موجودگی میں شائع ہوا تھا جو اصولاً مرزا قادیانی کے اپنے مضمون کی حیثیت رکھتا ہے۔ کیونکہ نبی کی موجودگی میں کسی امتی کو حق نہیں کہ وہ اس کے متحد یانہ الہام کی تفصیل از خود کرے اور اگر کوئی نادان امتی یہ حرکت کر بھی بیٹھے تو نبی جی کا پہلا فرض ہوتا ہے کہ اس سلسلہ میں فوراً تردیدی اعلان جاری کرے۔ الفاظ دیگر نبی کا ایسے موقعہ پر خاموش رہنا امتی کے قول و فعل کی تصدیق کے مترادف ہے اور اصول حدیث میں اس قسم کے قول و فعل کو بھی حدیث نبوی تسلیم کیا جاتا ہے۔ بہر حال آپ امام مرزا بلکہ فرشتہ مرزا کا مضمون غور سے پڑھئے۔
پیسہ اخبار اور لاہور ، مسیح موعود علیہ السلام اور قادیان دارالامان
پیسہ اخبار لاہور نے لکھا تھا کہ جب لاہور بھی طاعون سے محفوظ ہے تو قادیان کی کیا خوبی ہوئی۔
امام صاحب اس کا جواب تحریر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ : ”پیسہ اخبار کی یہ امید یا پیش گوئی اور یہ نتیجہ خوفناک حملے ہیں۔ خدائے غیور کی اس عظیم الشان وحی پر جو کئی دفعہ اخبار الحکم میں شائع ہو چکی ہے۔ ”انہ اٰوی القریۃ“ یعنی یہ بات یقینی ہے کہ خدا نے اس گاؤں (قادیان) کو اپنی پناہ میں لے لیا ہے اور اس وحی پر کہ ”لولا الاکرام لھلک المقام“ یعنی اس سلسلہ احمدیہ کا پاس اور اکرام اگر خدا تعالیٰ کو نہ ہوتا تو یہ مقام بھی ہلاک ہو جاتا۔ اب سننے والے سنیں اور دیکھنے والے دیکھیں کہ خدا کا مامور اور مرسل جری اور مسیح موعود خود خدائے حکیم وعلیم کی وحی کی بنا پر ساری دنیا کے طبیبوں ڈاکٹروں اور فلسفیوں کو کھول کر سناتا ہے کہ قادیان یقیناً اس پراگندگی تفرقہ جزع فزع اور موت الکلاب اور تباہی سے محفوظ رہے گا اور بالضرور محفوظ رہے گا۔ جس میں
٧٢
دوسرے بلاد مبتلا ہیں اور بعض ہونے والے ہیں۔ خدا کا جلیل الشان داعی کس قدر قوت اور غیر متزلزل شوق سے دعویٰ کرتا ہے کہ اگرچہ طاعون تمام بلاد (شہروں) پر اپنا پرہیبت سایہ ڈالے گی۔ مگر قادیان یقیناً یقیناً اس کی دست برد اور صولت سے محفوظ رہے گا اور وہ دیکھتا اور جانتا ہے کہ قادیان کے چاروں طرف طاعون پھیلتا جاتا ہے اور قریب قریب کے اکثر گاؤں مبتلا ہو گئے ہیں اور جوق در جوق لوگ متاثر جگہوں سے قادیان آتے ہیں اور روک کا کوئی بھی سامان اور مقدرت نہیں۔ اس پر وہ یہ بلند دعویٰ کرتا اور اقرار کرتا ہے کہ میں اپنی طرف سے نہیں کہتا بلکہ یہ خدا کا کلام ہے۔ جو میں پہنچاتا ہوں۔ پھر امام صاحب اسی مضمون میں آگے چل کر فرماتے ہیں کہ: ”انه آوی القرية“ کا مفہوم صاف لفظوں میں تقاضا کرتا ہے کہ اس میں اور اس کے غیر میں بین (کھلم کھلا) امتیاز ہو اور یہ نہیں ہو سکتا جب تک کم سے کم وہ شہر طاعون میں مبتلا نہ ہوں۔ جنہوں نے خدا کے سلسلہ سے جنگ کی ہے۔ غیور خدا اپنے کلام (الہام) کے اکرام کے لئے ایسا کرنے والا ہے کہ دشمنوں کی گردنیں نیچی کروا کر اقرار لے کہ کیا یہ سچ نہیں کہ قادیان دارالامان ہے۔ پھر سن لو از بس ضروری ہے کہ یہ بلاء عام طور پر محیط ہو۔ اس لئے کہ کوئی کہنے کا موقعہ نہ پاسکے کہ قادیان ہی محفوظ نہیں رہا۔ بلکہ فلاں فلاں جگہ بھی محفوظ ہے۔ مسیح موعود نے خدا سے خبر پا کر یہ اطلاع دی ہے کہ اس کے (یعنی مرزا قادیانی کے) احباب اور انصار اس غضب سے محفوظ رہیں گے اور انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ تمام شہر اس زہر ہلاہل کے پیالہ کو مجبوراً پئیں گے۔ مگر قادیان اس وقت امن وعافیت کے عہد میں آرام کرتا ہوگا بلکہ وہ اپنے شدید ترین مخالفوں کو بھی کہتے ہیں کہ توبہ کر لو میں تمہارے لئے دعا کروں گا اور یقین رکھتے ہیں کہ سچا تائب جہاں کہیں ہو قادیان دارالامان ہی میں ہے۔ پھر آگے چل کر لکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی راستی اور شفاعت کبریٰ کا یہ ثبوت پیش کیا ہے کہ قادیان کی نسبت تحدی کر دی ہے کہ وہ طاعون سے محفوظ رہے گا اور اپنی جماعت کے علاوہ اس جگہ کے ان تمام لوگوں کو جو اکثر دہریہ طبع کفار مشرک اور دین حق سے ہنسی کرنے والے ہیں۔ خدا کے مصالح اور حکمت کے پیش نظر اپنے سایہ شفاعت میں لے لیا ہے۔ جیسا کہ آج سے برسوں پہلے خدا تعالیٰ نے براہین احمدیہ میں خبر دی تھی کہ: ”وما كان الله ليعذبهم وانت فيهم“ یعنی خدا ان کو عذاب سے ہلاک نہیں کرے گا۔ جب کہ تو ان کے درمیان ہے اور حضرت ممدوح بار بار فرماتے ہیں کہ جہاں ایک بھی راست باز ہوگا اس جگہ کو خدا تعالیٰ اس مشتعل غضب سے بچائے گا۔ اب اس الہام کے باطل ہونے کی دو ہی صورتیں ہیں۔ اوّل یہ کہ لاہور امرتسر وغیرہ اس طاعون سے محفوظ رہیں۔ دوم یہ کہ قادیان بھی طاعون میں
٧٣
مبتلا ہو جائے۔ آگے جا کر پھر کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے تنہا صادق کے طفیل قادیان کو جس میں اقسام اقسام کے لوگ رہتے ہیں۔ اپنی خاص حفاظت میں لے لیا ہے۔
امام صاحب اس مضمون کی اخیر میں کس زور و شور سے فرماتے ہیں کہ: ”اے نیچریو اور اے بے باک زندگی کی چال چلنے والو اور اے مذہب اور خدا کو پرانے زمانہ کا مشغلہ کہنے والو اور اے یورپ کے عقل اور سائنس کو خدا کے لاکھوں راست بازوں کے سچے فلسفہ پر ترجیح دینے والو اور اے خدا کی صفت تکلم اور پیش گوئیوں پر ہنسی اڑانے والو اور اپنی ہواؤ ہوس کے پرستارو! بولو اور سوچ کر بولو۔ کیا تمہارے نزدیک مسیح موعود کے اس دعویٰ اور پیش گوئی میں خدا کی ہستی پر قرآن کریم کی حقیقت پر خدا کے متصف بصفات کاملہ ہونے پر یعنی ازل سے ابد تک متکلم ہونے پر چمکتی ہوئی دلیل نہیں۔“
(خاکسار عبدالکریم از قادیان مورخہ ١٩؍ اپریل ١٩٠٢ء)
گھر کی حفاظت کا الہام
ناظرین! اس طول طویل مضمون میں کیسی وضاحت سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ اگر دوسرے شہروں میں طاعون نہ آئے تو بھی الہام جھوٹا اور اگر قادیان میں آجائے تو بھی غلط۔ نیز کس قدر صاف الفاظ میں اعلان کیا گیا ہے کہ مرزا قادیانی کی برکت سے قادیان کے دہریہ مشرک اور بے دین بھی اس عذاب سے محفوظ رہیں گے۔ کیونکہ الہام میں بستی کا ذکر ہے۔ جماعت کا نہیں۔ اسی سلسلہ میں ہم نتیجہ بیان کرنے سے پیشتر اگر مرزا قادیانی کا ایک دوسرا الہام بھی سنا دیں تو غیر مناسب نہ ہوگا۔ مرزا قادیانی کو اسی سلسلہ میں ایک اور الہام ہوا تھا کہ: ”انی احافظك كل من فی الدار “ یعنی میں ہر اس شخص کی حفاظت کروں گا جو اس گھر میں رہتا ہے۔ مرزا قادیانی اس گھر کی تشریح میں فرماتے ہیں۔
گھر کا معنی
”ہر ایک جو تیرے گھر کی چار دیواری میں ہے۔ میں اس کو بچاؤں گا۔ اس جگہ یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ وہی لوگ میرے گھر کے اندر ہیں جو میرے اس خاک و خشت کے گھر میں بود و باش رکھتے ہیں۔ بلکہ وہ لوگ بھی جو میری پوری پیروی کرتے ہیں۔ میرے روحانی گھر میں داخل ہیں۔“
(کشتی نوح ص ١٠، خزائن ج ١٩ ص ١٠)
ہاں اس جگہ مرزا قادیانی نے نہایت ہوشیاری سے کام لیتے ہوئے یہ الفاظ بھی درج فرما دیئے کہ وعدہ صرف ان لوگوں کے لئے ہے جو سچے دل سے بیعت کر چکے ہیں۔ مطلب یہ تھا کہ اگر کوئی مرزائی مر بھی جائے تو کہہ دیا جائے کہ سچے دل سے ایمان نہیں لایا تھا بلکہ منافق تھا۔
٧٢
ناظرین! ان تمام حوالہ جات کا مطلب صاف ہے کہ قادیان میں طاعون تو بالکل نہیں آئے گی۔ حتیٰ کہ دہریہ مشرک اور بے ایمان بھی محفوظ رہیں گے اور قادیان کے علاوہ بھی مرزائی جماعت اس عذاب سے محفوظ رہے گی۔ اب آپ اس فیصلہ کن الہام کا حشر سنئے کہ اس تعلی شوخی اور اشتہار بازی پر کوئی زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ قادیان میں بھی طاعون آداخل ہوئی اور امت مرزا پر ہاتھ ڈالنا شروع کر دیا۔ پہلے پہل تو چند دنوں تک اس خبر کو پوشیدہ رکھنے کی کوشش کی گئی۔ لیکن آخر تابکے مجبور ہو کر مرزا قادیانی کو یہ اعلان کرنا پڑا کہ:
قادیان میں طاعون
”چونکہ آج کل ہر جگہ مرض طاعون کا زور ہے۔ اگرچہ قادیان میں نسبتاً آرام ہے۔ لیکن مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس دفعہ دسمبر کی تعطیلوں میں جیسا کہ پہلے اکثر اصحاب قادیان میں جمع ہو جایا کرتے تھے۔ اب کی دفعہ بلحاظ ضرورت مذکورہ بالا کے موقوف رکھیں اور اپنی اپنی جگہ پر خدا تعالیٰ سے دعا کرتے رہیں کہ وہ اس خطرناک ابتلاء سے ان کو اور ان کے اہل وعیال کو بچائے۔“
(البدر مورخہ ١٩؍دسمبر ١٩٠٢ء)
غور فرمائیے کس طرح دبی زبان سے اعلان جاری کیا جاتا ہے کہ نسبتاً آرام ہے۔ مزید سنئے۔ یہ نسبتاً آرام کے بعد کیا ہوا۔ مرزا قادیانی خود فرماتے ہیں کہ: ”طاعون کے دنوں میں جب کہ قادیان میں طاعون کا زور تھا میرا لڑکا شریف احمد بیمار ہو گیا۔“
(حقیقت الوحی ص ٨٤، خزائن ج ٢٢ ص ٨٧)
مرزائی دوستو! قادیان میں زور دار طاعون کی رسید ملاحظہ فرمائیے اور الہام کی صداقت کی داد دیجئے اور ابھی تک آپ کی تسلی نہ ہوئی ہو تو مزید سنئے۔ اخبار بدر رقمطراز ہے کہ: ”قادیان میں طاعون نے صفائی شروع کر دی۔ نیز اے خدا ہماری جماعت سے طاعون کو اٹھا لے۔“
(١٦؍ اپریل، ٢٤؍مئی ١٩٠٢ء)
انتہاء یہ خود مرزا قادیانی کے گھر میں طاعون کا کیس ہوا۔
(حقیقت الوحی ص ٣٢٩، خزائن ج ٢٢ ص ٣٤٢)
قادیان میں طاعون کی تباہ کاری کا اندازہ کرنے کے لئے یہ امر بھی خالی از دلچسپی نہ ہوگا کہ اخبار اہل حدیث نے اس زمانہ میں قادیان میں طاعون سے مرنے والوں کے اعداد و شمار بیان کرتے ہوئے ثابت کیا تھا کہ قادیان جو محض ایک گاؤں کی حیثیت رکھتا ہے۔ جس کی کل
٧٥
آبادی (اس وقت) ٢٨٠٠ افراد پر مشتمل تھی۔ اس میں ٤١٣ آدمی طاعون سے مرے ہیں۔ اوسط تعداد یومیہ ٥، ٦ تھی اور نامی گرامی مرزائی اس طاعون کی نذر ہوئے۔
ناظرین! غور فرمائیے جس گاؤں کا ساتواں حصہ طاعون کی نظر ہو جائے۔ اس کی تباہی بربادی میں کیا شبہ؟ اور الہام کے من گھڑت افتراء اور جھوٹ ہونے میں کیا کلام؟
زمانہ طاعون میں مرزا قادیانی کے دجل وفریب کی حیرت انگیزیاں
توسیع مکان کا چندہ
ناظرین! ہم حیران ہیں کہ مرزا قادیانی کے دجل وفریب کا اظہار کن لفظوں میں کریں۔
امید ہے کہ آپ بھی مندرجہ ذیل دو واقعات پڑھ کر ہماری تصدیق فرمائیں گے۔ آپ پڑھ آئے ہیں کہ مرزا قادیانی کو الہام ہوا تھا کہ میں تیرے گھر والوں کی حفاظت کروں گا اور مرزا قادیانی نے اس کا معنی بیان کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ گھر سے مراد خاک و خشت کا گھر نہیں۔ بلکہ روحانی گھر ہے اور میری تعلیم پر صدق دل سے عمل کرنے والے جہاں کہیں بھی ہوں اس گھر میں شامل ہیں۔ اس عبارت کو ملحوظ رکھتے ہوئے مندرجہ ذیل حوالہ غور سے پڑھئے۔
”چونکہ آئندہ اس بات کا سخت اندیشہ ہے کہ طاعون ملک میں پھیل جائے اور ہمارے گھر میں جس میں بعض حصوں میں مرد بھی مہمان رہتے ہیں اور بعض حصوں میں عورتیں۔ میں سخت تنگی واقع ہے اور آپ لوگ سن ہی چکے ہیں کہ اللہ جل شانہ نے لوگوں کے لئے جو اس گھر کی چار دیواری میں رہتے ہیں حفاظت خاص کا وعدہ فرمایا ہے ...... ہمارے ساتھ والا مکان اس وقت قیمتاً مل رہا ہے۔ میرے خیال میں یہ مکان دو ہزار تک مل سکتا ہے۔ چونکہ خطرہ ہے کہ طاعون کا زمانہ قریب ہے اور یہ گھر وحی الٰہی کی خوشخبری کی رو سے اس طوفان میں بطور کشتی کے ہوگا۔ مگر میں دیکھتا ہوں کہ آئندہ کشتی میں نہ کسی مرد کی گنجائش ہے اور نہ عورت کی۔ اس لئے اس کشتی کی توسیع کی ضرورت پڑی۔ لہٰذا اس کی وسعت میں کوشش کرنی چاہئے۔ (یعنی چندہ دینا چاہئے)“
(کشتی نوح ص ٧٦، خزائن ج ١٩ ص ٧٦ ملخص)
ناظرین! کیا اب بھی مرزا قادیانی کے دنیا دار اور دنیا پرست ہونے میں کوئی شبہ باقی ہے۔ ایک طرف تو گھر سے مراد روحانی گھر بتاتے ہیں اور دوسری طرف خاک و خشت والے مکان کی وسعت کے لئے چندہ مانگ رہے ہیں۔
٧٦
دوسری حیرت انگیز چالاکی، کیا مرزا قادیانی کو اپنے الہام پر ایمان تھا؟
مرزا قادیانی اپنے الہام اور ٹیکہ کا بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ: ”ہمیں تو اپنے الہام پر کامل یقین ہے کہ جب افسران گورنمنٹ ہمیں ٹیکہ لگانے آئیں گے تو ہم اپنا الہام ہی پیش کر دیں گے۔ میرے نزدیک تو اس الہام کی موجودگی میں ٹیکہ لگانا گناہ ہے۔ کیونکہ اس طرح تو ثابت ہوگا کہ ہمارا ایمان اور بھروسہ ٹیکہ پر ہے۔ اللہ تعالیٰ کے کرم اور وعدہ پر نہیں۔“
(ملفوظات مرزا حصہ چہارم ص ٢٥٦)
مرزا قادیانی کی اس عبارت سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر وہ الہام حفاظت از طاعون کی موجودگی میں ٹیکہ وغیرہ دنیاوی اور مادی احتیاط سے کام لیں گے تو الہام الٰہی سے بے یقین ثابت ہوں گے۔ ناظرین مندرجہ عبارت کو ذہن نشین رکھئے اور صاحبزادہ مرزا بشیر احمد ایم۔اے کا مندرجہ ذیل بیان پڑھئے کہ: ”طاعون کے ایام میں حضرت مسیح موعود فینائل لوٹے میں ہل کر کے خود اپنے ہاتھ سے گھر کے پاخانوں اور نالیوں میں جا کر ڈالتے تھے۔ نیز گھر میں ایندھن کا بڑا ڈھیر لگوا کر آگ بھی جلوایا کرتے تھے۔ تاکہ ضرر رساں جراثیم مر جاویں اور آپ نے بہت بڑی آہنی انگیٹھی بھی منگوائی ہوئی تھی۔ جس میں کوئلے اور گندھک وغیرہ رکھ کر کمروں کے اندر جلایا جاتا تھا اور تمام دروازے بند کر دیئے جاتے تھے۔ اس کی اتنی گرمی ہوتی تھی کہ جب انگیٹھی کے ٹھنڈا ہو جانے کے ایک عرصہ بعد کمرہ کھولا جاتا تو کمرہ اندر بھٹی کی طرح تپتا ہوتا تھا۔“
(سیرۃ المہدی ج ٢ ص ٥٩)
اور سنئے: حضور کو بٹیر کا گوشت بہت پسند تھا۔ مگر جب سے پنجاب میں طاعون کا زور ہوا۔ بٹیر کھانا چھوڑ دیا۔ بلکہ منع کیا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ اس کے گوشت میں طاعونی مادہ ہوتا ہے۔
اور سنئے: وبائی ایام میں حضرت صاحب اتنی احتیاط فرماتے کہ اگر کسی خط کو جو وباء والے شہر سے آتا، چھوتے تو ہاتھ ضرور دھو لیتے۔
(بدر ٢٨ مئی ١٩٢٧ء)
مرزائی دوستو! اگر ٹیکہ لگانے سے الہام الٰہی پر ایمان نہیں رہتا تو یہ احتیاطیں کرنے والا کون ہوا؟ فرق صرف یہ ہے کہ ٹیکہ لگوانے سے خطرہ تھا کہ لوگ اعتراض کریں گے اور یہ احتیاطیں اندرون خانہ ہوتی تھیں۔ جہاں سب کے سب جی حضورے ہوتے تھے۔ مگر ؎
٧٧
مرزائی ترقی کا راز
چندہ کے علاوہ دوسرا فائدہ مرزا قادیانی کو یہ ہوا کہ کمزور ایمان اور توہم پرست لوگ طاعون کا زور دیکھ کر دھڑا دھڑ مرزائی ہونے لگ گئے۔ خیال تھا کہ شاید اس طرح بچ جائیں۔ جیسا کہ اعلان ہورہا تھا کہ حوالہ ملاحظہ فرمائیے۔
صاحبزادہ صاحب تحریر فرماتے ہیں کہ: ”اگر اشاعت سلسلہ کی ترقی کا بغور مطالعہ کیا جائے تو صاف نظر آتا ہے کہ جس سرعت کے ساتھ طاعون کے زمانہ میں سلسلہ کی ترقی ہوئی۔ ایسی سرعت آج تک کسی زمانہ میں نہیں ہوئی۔ نہ طاعون کے پہلے نہ بعد۔“
خلیفہ قادیان کا بیان
”کہ جن دنوں اس بیماری کا پنجاب میں زور تھا ان دنوں میں بعض اوقات پانچ پانچ سو آدمیوں (بلکہ ہزار ہزار الفضل مورخہ ٩؍مارچ ١٩١٨ء) کی بیعت کے خطوط ایک ایک دن میں حضرت مرزا قادیانی کی خدمت میں پہنچتے تھے۔“
(سیرۃ المہدی ج٢ ص٤٧)
مرزائی دوستو! کیا یہ سارے آدمی علی وجہ البصیرت مرزائی ہوئے تھے یا محض وہم پرستی اور بھیڑ چال کے طور پر؟
طاعون کب جائے گی
مرزا قادیانی نے فرمایا تھا کہ: ”ان الله لا یغیر ما بقوم حتی یغیروا ما بانفسهم یعنی خدا تعالیٰ اس بلائے طاعون کو ہرگز دور نہیں کرے گا۔ جب تک کہ لوگ ان خیالات کو دور نہ کرلیں۔ جو ان کے دلوں میں ہیں۔ یعنی جب تک وہ خدا کے رسول اور مامور (یعنی مرزا قادیانی) کو نہ مان لیں۔ تب تک طاعون دور نہیں ہوگی۔“
(دافع البلاء ص٥، خزائن ج١٨ ص٢٢٥ ملخص)
مرزائی دوستو! کیا ایسا ہوا کیا طاعون دور ہونے سے پہلے ساری دنیا نہ سہی سارا پنجاب یا سارا قادیان مرزا قادیانی پر ایمان لے آیا تھا؟ اگر اس سے پہلے طاعون چلی گئی تو الہام کیسے سچا ہوا۔
ناظرین! ہم معافی چاہتے ہیں کہ یہ باب خلاف توقع طوالت پکڑ گیا۔ اگرچہ یہ مضمون ہنوز تشنہ تکمیل ہے۔ تاہم اس پر کفایت کرتے ہیں۔ آپ اس پیش گوئی کی ابتداء اور انتہاء کے علاوہ اس سلسلہ میں مرزا قادیانی کی ہیرا پھیری اور دجل وفریب ملاحظہ فرمائیے اور انصاف کیجئے
٧٨
کہ ایسا دھوکہ باز انسان نبوت مسیحیت کے قطع نظر راست باز انسان کہلانے کا مستحق ہو سکتا ہے؟
٢٨...... مولانا ثناء اللہ قادیان میں
اکتوبر ١٩٠٢ء میں موضع مدھیلوال تحصیل اجنالہ ضلع امرتسر میں مولانا ابوالوفا ثناء اللہ کا مناظرہ مرزائی جماعت سے ہوا۔ مناظرہ میں امت مرزا کی کیا گت بنی۔ اسی سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ مرزائی مولویوں نے جب قادیان جاکر ”ہڈ بیتی“ سنائی تو مرزا قادیانی نے آگ بگولا ہو کر فوراً ایک کتاب اعجاز احمدی لکھ ماری۔ کتاب مذکورہ میں مرزا قادیانی نے مولانا مرحوم کو کئی قسم کی گالیاں اور لعنتیں بھیجتے ہوئے ص ١١ پر تحریر فرمایا کہ: ”اگر مولوی ثناء اللہ سچے ہیں تو قادیان آ کر کسی پیش گوئی کو جھوٹی ثابت کریں تو انہیں ہر پیش گوئی پر ایک سو روپیہ انعام دیا جائے گا اور آمد و رفت کا کرایہ علیحدہ مولوی ثناء اللہ نے کہا تھا کہ سب پیش گوئیاں جھوٹی نکلیں۔ ہم ان کو دعوت دیتے ہیں اور خدا کی قسم دیتے ہیں کہ وہ اس تحقیق کے لئے قادیان آئیں۔ رسالہ نزول المسیح میں ڈیڑھ سو پیش گوئی میں نے لکھی ہے۔ تو گویا پندرہ ہزار روپیہ مولوی صاحب لے جائیں گے۔ اس کے علاوہ اس وقت میرے ایک لاکھ مرید ہیں۔ پس اگر میں مولوی صاحب کے لئے ایک ایک روپیہ بھی اپنے مریدوں سے وصول کروں گا۔ تب بھی ایک لاکھ روپیہ ہو جائے گا۔ یہ ساری رقم بھی مولوی صاحب کی نظر ہوگی۔“
(اعجاز احمدی ص٢٤)
ناظرین! مرزا قادیانی کی اس عبارت پر دوبارہ غور کیجئے کہ ڈیڑھ سو پیش گوئی جھوٹی ہونے کی صورت میں بھی مرید مرید ہی رہیں گے اور نذرانے بھی دیں گے۔ عقیدت ہو تو ایسی ہو۔
اس کے ساتھ ہی مرزا قادیانی نے ایک اور الہام شائع کر دیا کہ مولوی ثناء اللہ پیش گوئیوں کی پڑتال کے لئے ہرگز ہرگز قادیان نہیں آئیں گے۔
(اعجاز احمدی ص٣٧)
ناظرین! غور فرمائیے کہ کس زور شور سے اعلان کیا جا رہا ہے کہ مولوی صاحب ہرگز ہرگز قادیان نہیں آئیں گے۔ خیال تھا کہ قادیان ہمارا مرکز ہے۔ ہمارا گاؤں ہے اور اس جگہ ہمارا ہی اقتدار ہے۔ مولوی صاحب شاید آنے سے ڈر جائیں۔ جیسا کہ عام اصول ہوتا ہے کہ دوسرے کے گھر جا کر اس کی تردید کرنا مشکل ہوتا ہے۔ مگر قربان جائیں شیر پنجاب حضرت مولانا مرحوم کے کہ آپ ان تمام خطرات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے محض اتمام حجت کے لئے مورخہ ١٠؍جنوری ١٩٠٣ء کو قادیان جا دھمکے اور جاتے ہی مرزا قادیانی کو للکارا اور رقعہ لکھا کہ:
٧٩
خط و کتابت
بسم اللہ الرحمن الرحیم !
بخِدمت مرزا غلام احمد صاحب رئیس قادیان ! خاکسار آپ کی دعوت مندرجہ اعجاز احمدی ص ٢٣ کے مطابق اس وقت قادیان میں حاضر ہے۔ جناب کی دعوت قبول کرنے میں آج تک رمضان شریف مانع رہا۔ ورنہ اتنی دیر نہ ہوتی۔ میں اللہ جل شانہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ مجھے جناب سے کوئی ذاتی خصومت اور عناد نہیں۔ چونکہ آپ بقول خود ایسے عہدہ جلیلہ پر ممتاز اور مامور ہیں جو تمام بنی نوع کی ہدایت کے لئے عموماً اور مجھ جیسے مخلصین کے لئے خصوصاً ہے۔ اس لئے مجھے قوی امید ہے کہ آپ میری تفہیم میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کریں گے اور حسب وعدہ مجھے اجازت بخشیں گے کہ میں مجمع میں آپ کی پیش گوئیوں کی نسبت اپنے خیالات کا اظہار کروں۔ میں مکرر آپ کو اپنے اخلاص اور صعوبت سفر کی طرف توجہ دلا کر اسی عہدہ جلیلہ کا واسطہ دے کر گزارش کرتا ہوں کہ آپ مجھے ضرور ہی موقع دیں۔
(راقم ابوالوفا ثناء اللہ مورخہ ١٠ جنوری ١٩٠٣ء، بوقت سوا بجے دن)
غور فرمائیے ! خط کے ایک ایک لفظ سے اخلاص ٹپک رہا ہے۔ قسمیں کھائی جاتی ہیں کہ مجھے آپ سے کوئی عناد نہیں۔ محض تحقیق حق کے لئے حاضر ہوا ہوں۔ برائے مہربانی مجھے سمجھائیے۔ میں آپ کے بلانے پر آیا ہوں۔ وعدہ پورا کیجئے۔ مگر آگے سے جواب کس قدر سخت اور مایوس کن آتا ہے۔ مرزا قادیانی کا خط بہت طویل ہے۔ لیکن ہم اسے من وعن درج کئے دیتے ہیں۔ تا کہ آپ جواب کے علاوہ مرزا قادیانی کی دماغی اور قلبی پریشانی کا اندازہ لگا سکیں۔
مرزا قادیانی کی طرف سے جواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم ! ”نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم ٠ از طرف عائذ بااللہ غلام احمد عافااللہ“
بخِدمت مولوی ثناء اللہ صاحب ! آپ کا رقعہ پہنچا۔ اگر آپ لوگوں کی صدق دل سے یہ نیت ہو کہ اپنے شکوک وشبہات پیش گوئیوں کی نسبت یا ان کے ساتھ اور امور کی نسبت جو دعویٰ سے تعلق رکھتے ہیں۔ رفع کرادیں۔ تو یہ آپ لوگوں کی خوش قسمتی ہوگی اور اگر چہ میں کئی سال ہو گئے ۔ اپنی کتاب انجام آتھم میں شائع کر چکا ہوں کہ میں اس گروہ مخالف سے ہرگز مباحثات نہیں کروں گا۔ کیونکہ اس کا نتیجہ بجز گندی گالیوں کے اور اوباشانہ کلمات سننے کے اور کچھ ظاہر نہ
٨٠
ہوا۔ مگر میں ہمیشہ طالب حق کے شبہات دور کرنے کو تیار ہوں۔ اگر چہ آپ نے اس رقعہ میں دعویٰ کر دیا ہے کہ میں طالب حق ہوں۔ مگر مجھے اس میں تامل ہے کہ آپ اپنے اس دعویٰ پر قائم رہ سکیں۔ کیونکہ آپ لوگوں کی عادت ہے کہ ہر بات کو کشاں کشاں لغو اور بیہودہ مباحثات کی طرف لے آتے ہیں اور میں خدا تعالیٰ سے عہد کر چکا ہوں کہ ایسے لوگوں سے ہرگز مباحثات نہ کروں گا۔ سو وہ طریق جو مباحثات سے دور ہے۔ وہ یہ ہے کہ آپ اس مرحلہ کو طے کرنے کے لئے اول یہ اقرار کریں کہ آپ منہاج نبوت سے باہر نہ جائیں گے اور وہی اعتراض کریں گے جو آنحضرتﷺ یا حضرت موسیٰ علیہ السلام، حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت یونس علیہ السلام پر عائد نہ ہوتا ہو اور حدیث اور قرآن کی پیش گوئیوں پر زد نہ پڑتی ہو۔ دوسری شرط یہ ہوگی کہ آپ زبانی بولنے کے مجاز ہرگز نہ ہوں گے۔ صرف آپ مختصر سطر تحریر دے دیں کہ میرا یہ اعتراض ہے۔ پھر آپ کو عین مجلس میں جواب سنایا جائے ۔ اعتراض لمبا لکھنے کی ضرورت نہیں۔ ایک سطر یا دو سطر کافی ہے۔ تیسری شرط یہ ہوگی کہ ایک دن میں آپ صرف ایک ہی اعتراض پیش کر سکیں گے۔ کیونکہ آپ اطلاع دئے کر نہیں آئے۔ چوروں کی طرح آگئے ہو اور ہم ان دنوں بباعث کم فرصتی اور کام طبع کتاب تین گھنٹے سے زیادہ وقت خرچ نہیں کر سکتے۔ یادرہے کہ یہ ہرگز نہیں ہوگا کہ آپ عوام کالانعام کے روبرو وعظ کی طرح لمبی گفتگو شروع کردیں۔ بلکہ آپ نے بالکل منہ بند رکھنا ہوگا۔ جیسے صم وبکم تا کہ گفتگو مباحثہ کے رنگ میں نہ ہو جائے۔ اوّل صرف ایک پیش گوئی کے متعلق اعتراض کرنا ہوگا۔ تین گھنٹے تک میں اس کا جواب دے سکتا ہوں اور ہر گھنٹہ کے بعد آپ کو متنبہ کیا جائے گا کہ اگر آپ کی تسلی نہیں ہوئی تو اور لکھ کر پیش کرو۔ آپ کا کام نہیں کہ اپنا اعتراض لوگوں کو سنا دیں۔ بلکہ ہم خود پڑھ لیں گے۔ مگر چاہئے کہ ٢، ٣ سطر سے زیادہ نہ ہوں۔ اس طرز میں آپ کا کوئی حرج نہیں۔ کیونکہ آپ تو شبہات دور کرانے آئے ہیں اور یہ طریقہ شبہات دور کرانے کا بہت عمدہ ہے۔
میں بآواز بلند سنادوں گا کہ اس پیش گوئی پر مولوی ثناء اللہ کو یہ اعتراض ہے اور اس کا جواب یہ ہے۔ اس طرح تمام وساوس دور کر دیئے جائیں گے۔ لیکن اگر یہ چاہو کہ بحث کے رنگ میں آپ کو موقعہ دیا جائے تو یہ ہرگز نہیں ہوگا۔ چودھویں جنوری تک میں اس جگہ ہوں پھر ١٥؍جنوری کو ایک مقدمہ پر جہلم جاؤں گا۔ سو اگر چہ بہت کم فرصت ہے۔ لیکن چودہ جنوری تک تین گھنٹہ تک آپ کے لئے خرچ کر سکتا ہوں۔ اگر آپ لوگ کچھ نیک نیتی سے کام لیں تو یہ ایک ایسا طریق ہے کہ اس سے آپ کو فائدہ ہوگا۔ ورنہ ہمارا اور آپ لوگوں کا مقدمہ آسمان پر ہے۔ خود
٨١
خدا تعالیٰ فیصلہ کر دے گا۔ سوچ کر دیکھ لو کہ یہ بہتر ہوگا کہ آپ بذریعہ تحریر جو دو سطر سے زیادہ نہ ہو ایک ایک گھنٹہ بعد اپنے شبہات پیش کرتے جائیں اور میں وہ وسوسہ دور کرتا جاؤں گا۔ ایسے صدہا آدمی آتے ہیں اور اپنے وساوس دور کرا لیتے ہیں۔ ایک بھلا مانس اور شریف آدمی ضرور اس بات کو پسند کرے گا۔ کیونکہ اس کو تو اپنے وسواس دور کرانے ہیں اور کچھ غرض نہیں۔ لیکن وہ لوگ جو خدا سے نہیں ڈرتے ان کی تو نیتیں اور ہوتی ہیں۔ بالآخر اس غرض کے لئے کہ اگر آپ شرافت اور ایمان رکھتے ہیں تو قادیان سے بغیر تصفیہ کے خالی نہ جاویں۔ دو قسموں کا ذکر کرتا ہوں۔
اول ....... چونکہ انجام آتھم میں خدا تعالیٰ سے قطعی عہد کر چکا ہوں کہ ان لوگوں سے کوئی بحث نہیں کروں گا۔ اس وقت پھر اس عہد کے مطابق قسم کھاتا ہوں کہ میں زبانی بات آپ کی کوئی نہ سنوں گا۔ صرف آپ کو یہ موقعہ دیا جائے گا کہ آپ اوّل ایک اعتراض جو آپ کے خیال میں سب سے بڑا اعتراض کسی پیش گوئی پر ہو ایک سطر یا دو سطر حد تین سطر لکھ کر پیش کریں۔ یہ تو میری طرف سے خدا تعالیٰ کی قسم ہے کہ میں اس سے باہر نہیں جاؤں گا اور کوئی زبانی بات نہیں سنوں گا اور آپ کی مجال نہ ہوگی کہ آپ لفظ بھی زبانی بول سکیں اور آپ کو خدا تعالیٰ کی قسم دیتا ہوں کہ اگر آپ سچے دل سے آئے ہیں تو ان شرائط کے پابند ہو جائیے اور ناحق فتنہ فساد میں عمر ضائع نہ کریں۔ اب ہم دونوں میں سے ان دونوں قسموں سے جو شخص انحراف کرے گا۔ اس پر خدا کی لعنت ہے اور خدا کرے وہ اس لعنت کا پھل بھی اسی زندگی میں دیکھ لے۔ سو اب میں دیکھوں گا کہ آپ سنت نبوی کے مطابق اس عہد مؤکد بقسم کے آج ہی ایک اعتراض دو تین سطر کا لکھ کر بھیج دیں اور پھر وقت مقرر کر کے مسجد میں مجمع کیا جائے گا اور آپ کو بلایا جائے گا اور عام مجمع میں آپ کے شیطانی وساوس دور کر دیئے جائیں گے۔‘‘
(الہامات مرزا ص ١١٦، ١١٩، الفضل قادیان مورخہ ٣٠؍ جولائی ١٩٣٦ء)
ناظرین! ہم نے اتنا طویل خط کہ آپ پڑھتے پڑھتے بھی اکتا گئے ہوں گے۔ محض اس لئے نقل کیا ہے کہ کسی قادیانی کو جائے اعتراض نہ ہو۔ دیکھئے ایک دو سطرے مضمون سے کتنے صفحات پر کر دیئے ہیں۔ ایک ایک بات کو چار چار پانچ پانچ بار دہرایا جا رہا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ مولوی صاحب کو قادیان میں دیکھ کر مرزا قادیانی کچھ ایسے کھو گئے ہیں کہ اپنے آپ کی بھی خبر نہیں رہی۔ گھبراہٹ میں جواب لکھ رہے ہیں۔ معلوم نہیں کیا لکھا جا چکا ہے اور کیا لکھنا ہے۔ پھر لطف یہ کہ کم فرصتی کا عذر بھی ساتھ ہے۔
دوستو! دیکھئے کیسا مایوسانہ جواب ہے۔ خود تحقیق حق یعنی بحث کے لئے بلایا ہے اور
٨٢
اس وقت اتنی دلیری ہے کہ انعام مقرر ہو رہا ہے۔ الہام شائع کیا جا رہا ہے کہ ہرگز نہیں آئیں گے۔ مگر جب حریف کو مد مقابل پایا تو حواس باختہ ہو کر فرماتے ہیں کہ آپ چوروں کی طرح آ گئے ہیں۔ میں تو انجام آتھم مطبوعہ ١٨٩٦ء میں خدا تعالیٰ سے عہد کر چکا ہوں کہ مباحثہ نہیں کروں گا۔ مرزا قادیانی سے کون پوچھے کہ اگر آپ ١٨٩٦ء میں واقعی مباحثات ترک کرنے کا عہد کر چکے تھے تو آپ نے مولوی صاحب کو نومبر ١٩٠٢ء میں قادیان آنے کی دعوت ہی کیوں دی تھی۔ شاید بھول کر بلا لیا ہوگا۔ خیال ہوگا کہ کس نے آنا ہے۔ چلو الہام کی صداقت کا پروپیگنڈا ہی کریں گے۔ مگر قربان جائیں مولوی صاحب پر کہ بمصداق دروغ گورا بخانہ باید رسانید! قادیان جانے سے نہ رکے اور اتنا مایوسانہ جواب ملنے پر بھی مایوس نہ ہوئے۔ بلکہ اتمام حجت کے لئے جوابی رقعہ بھی خدمت مرزا قادیانی میں پیش کر دیا۔
مولوی صاحب کی طرف سے جواب الجواب
الحمد لله وكفى وسلام على عباده الذين اصطفى، اما بعد!“ از خاکسار (ثناء اللہ)
بخدمت مرزا غلام احمد صاحب! آپ کا طولانی رقعہ ملا۔ مگر افسوس کہ جو کچھ تمام ملک کو گمان تھا وہی ظاہر ہوا۔
جناب والا! جب کہ میں حسب دعوت اعجاز احمدی حاضر ہوا ہوں اور اپنے پہلے رقعہ میں اس کا حوالہ بھی دے چکا ہوں تو پھر اتنی طول کلامی جو آپ نے کی ہے۔ بجز عادت کے اور کیا معنی رکھتی ہے۔ جناب من! کس قدر افسوس کی بات ہے کہ آپ اعجاز احمدی میں اس عاجز کو تحقیق حق کے لئے بلاتے ہیں اور لکھتے ہیں کہ میری پیش گوئیوں کو غلط ثابت کرو تو مبلغ سو روپیہ فی پیش گوئی انعام لو اور اس رقعہ میں مجھے ایک دو سطریں لکھنے پر پابندی کرتے ہیں اور اپنے لئے تین گھنٹہ تجویز کرتے ”تلك اذا قسمة ضيزى“ کیا یہ انصاف ہے؟ بھلا یہ بھی کوئی تحقیق کا طریقہ ہے کہ میں تو دو سطریں لکھوں اور آپ تین گھنٹہ فرماتے جائیں۔ اس سے تو صاف سمجھ میں آتا ہے کہ آپ مجھے دعوت دے کر پچھتا رہے ہیں اور اپنی دعوت سے انکاری اور تحقیق سے اعراض کر رہے ہیں۔ جس کے لئے آپ نے مجھے در دولت پر حاضر ہونے کی دعوت دی تھی۔ اس سے عمدہ تو میں امرتسر میں بیٹھے ہی کر سکتا تھا اور کر چکا ہوں۔ مگر چونکہ میں اپنے سفر کی صعوبت یاد کر کے بلا نیل و مرام واپس جانا کسی صورت مناسب نہیں جانتا۔ اس لئے میں آپ کی بے انصافی بھی قبول کرتا ہوں کہ میں دو تین سطر ہی لکھوں گا اور آپ بلا شک تین گھنٹے تقریر کریں۔ مگر اتنی اصلاح ہوگی کہ میں دو تین
٨٣
سطریں مجمع میں خود پڑھ کر سناؤں گا اور ہر گھنٹہ کے بعد ٥ منٹ حد دس منٹ آپ کے جواب کی نسبت رائے ظاہر کروں گا اور چونکہ مجمع آپ پسند نہیں کرتے۔ اس لئے فریقین کے پچیس پچیس آدمی ہوں گے۔ آپ میرا بلا اطلاع آنا چوروں کی طرح فرماتے ہیں۔ کیا مہمانوں کی خاطر اسی کو کہتے ہیں۔ اطلاع دینا آپ نے شرط نہیں کیا تھا۔ علاوہ اس کے آپ کو آسمانی اطلاع بھی ہوگئی ہوگی۔ آپ جو مضمون سنائیں گے وہ اسی وقت مجھے دے دیا جائے گا۔ کاروائی آج ہی شروع کر دی جائے۔ میں آپ کا جواب آنے پر مختصر سوال بھیج دوں گا۔ باقی لعنتوں کے متعلق وہی عرض ہے جو حدیث میں موجود ہے۔
(ابوالوفا ثناء اللہ مورخہ ١١؍جنوری ١٩٠٣ء)
ناظرین! غور فرمائیے کہ مولوی صاحب نے اس مایوس کن رقعہ کا جو سراسر بے انصافی اور دفع الوقتی پر مبنی تھا، کیسا معقول جواب دیا۔ معمولی سی اصلاح کے ساتھ مرزا قادیانی کی تمام شرائط منظور کرلیں۔ مقصد صرف یہ تھا کہ سفر کر کے آیا ہوں۔ افہام تفہیم کے بغیر نہ جاؤں۔ چونکہ مرزا قادیانی کو اپنی کمزوری کا پوری طرح احساس تھا اور بحث کے نتائج کو آنکھوں سے دیکھ رہے تھے۔ اس لئے مولوی صاحب کی معمولی ترمیم بھی منظور نہ کی اور مریدوں سے آخری جواب لکھوا دیا۔
مرزا قادیانی کی طرف سے جواب الجواب
”بسم اللہ الرحمن الرحیم ٠ حامداً ومصلیا“ مولوی ثناء اللہ آپ کا رقعہ حضرت امام الزمان، مسیح موعود، مہدی معہود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خدمت مبارک میں سنا دیا گیا۔ چونکہ مضامین اس کے محض عناد اور تعصب آمیز تھے۔ جو طلب حق سے بعد المشرقین کی دوری اس سے صاف ظاہر ہے۔ لہٰذا حضرت اقدس کی طرف سے یہی جواب آپ کو کافی ہے کہ آپ کو تحقیق حق منظور نہیں ہے۔ حضرت انجام آتھم اور آپ کے جواب میں مرقوم خط میں قسم کھا چکے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے عہد کرچکے ہیں کہ مباحثہ کی شان سے مخالفین کے ساتھ کوئی تقریر نہ کریں گے اور خلاف معاہدہ الٰہی کوئی مامور من اللہ کیوں کر کسی فعل کا ارتکاب کرسکتا ہے؟ لہٰذا آپ کی اصلاح جو بطرز شان مناظرہ آپ نے لکھی ہے وہ ہرگز منظور نہیں۔
خاکسار محمد احسن بحکم حضرت امام زمان مورخہ ١١؍جنوری ١٩٠٣ء گواہ شد: محمد سرور و ابوسعید عفی عنہ۔
الغرض جب مرزا قادیانی کسی طرح بھی اپنی ضد سے نہ ہٹے اور مولوی صاحب کی کوئی بات ماننے پر تیار نہ ہوئے تو مولوی صاحب قادیان میں تردید مرزا پر لیکچر دے کر ناکام مگر کامیاب واپس آئے۔ (یعنی اتمام حجت کے بعد)
٨٤
ناظرین! چاہئے تو یہ تھا کہ مرزائی جماعت مولوی صاحب کو قادیان میں دیکھتے ہی مرزا قادیانی کا دامن چھوڑ کر مولوی صاحب کی جماعت حقہ میں شامل ہو جاتی۔ کیونکہ مرزا قادیانی نے الہام شائع کیا تھا کہ مولوی صاحب قادیان نہیں آئیں گے۔ مگر مولوی صاحب جا دھمکے۔ مگر مرزائی ہیں کہ انہوں نے مرزا قادیانی کے الہام کا یہ انجام اور ان کی گھبراہٹ بزدلی اور فرار کو اپنی آنکھوں دیکھا مگر ٹس سے مس نہ ہوئے۔
٢٩...... ڈاکٹر عبدالحکیم پٹیالوی اور مرزا قادیانی دو ملہمین میں الہامی معرکہ آرائی
ناظرین! آپ گذشتہ باب میں مکتوب مرزا بنام مولانا ثناء اللہ میں مرزا قادیانی کا یہ فقرہ پڑھ آئے ہیں کہ: ”میرا اور آپ لوگوں کا دعویٰ آسمان پر ہے۔ خود خدا تعالیٰ فیصلہ کر دے گا۔“ اس فقرہ کو ذہن نشین رکھئے اور اس باب کا مطالعہ فرمائیے۔
ڈاکٹر عبدالحکیم پٹیالوی صف اوّل کے مرزائی تھے۔ جنہیں بالآخر توبہ کی توفیق نصیب ہوئی اور جن کے ہاتھوں بالآخر مرزا قادیانی کا کذب روزِ روشن کی طرح عیاں ہوا۔ سب سے پہلے آپ مرزائیت میں ڈاکٹر صاحب کا مقام معلوم کرنے کے لئے مندرجہ ذیل اشارات ذہن نشین کیجئے۔
- ١....... مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ: ”حدیث شریف میں آتا ہے کہ مہدی کے
پاس ایک چھپی ہوئی کتاب ہوگی۔ جس میں اس کے تین سو تیرہ مریدوں کے نام درج ہوں گے۔ وہ پیش گوئی اب پوری ہوگئی۔ بموجب منشا حدیث کے یہ بیان کرنا ضروری ہے کہ یہ تمام اصحاب خصلتِ صدیق وصفا رکھتے ہیں اور وہ یہ ہیں۔ پھر اس کے آگے مرزا قادیانی ان تین سو تیرہ صاحبانِ خصلت صدق وصفا کا نام درج فرماتے ہیں۔ جن میں ص ١٥٩ نمبر پر ڈاکٹر صاحب کا نام ہے۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٠ تا ٤٣، خزائن ج ١١ ص ٣٢٤ تا ٣٢٧)
- ٢....... اور سنئے: ازالہ اوہام میں ڈاکٹر صاحب کا تعارف ان الفاظ میں کرایا گیا
ہے کہ: ”حبی فی اللہ میاں عبدالحکیم خاں جوانِ صالح ہے۔ علامات رشد وسعادت اس کے چہرہ سے نمایاں ہیں۔ زیرک اور فہیم آدمی ہیں۔ انگریزی زبان میں عمدہ مہارت رکھتے ہیں۔ میں امید رکھتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کی خدماتِ اسلام ان کے ہاتھ سے پوری کرے گا۔“
(ازالہ اوہام ص ٨٠٨، خزائن ج ٣ ص ٥٤٧)
اور سنئے:
٨٥
- ٣....... ڈاکٹر صاحب نے مرزائیت کے زمانہ میں ایک تفسیر قرآن لکھی تھی۔
مرزا قادیانی اس تفسیر کی تعریف میں فرماتے ہیں کہ : ”ڈاکٹر صاحب کی تفسیر القرآن بالقرآن ایک بے نظیر تفسیر ہے۔ جس کو ڈاکٹر صاحب عبدالحکیم خان بی۔ اے نے کمال محنت کے ساتھ تصنیف فرمایا ہے۔ نہایت عمدہ شیریں بیان اس میں قرآنی نکات خوب بیان کئے گئے ہیں۔ یہ تفسیر دلوں پر اثر کرنے والی ہے۔“
(اخبار بدر قادیان مورخہ ٩؍ اکتوبر ١٩٠٣ء)
بقول مرزا قادیانی ڈاکٹر صاحب کے ہاتھوں خدا تعالیٰ کو خدمت اسلام لینا منظور تھا۔ اس لئے ٢٠ سال مرزائیت میں ضائع کرنے کے بعد بالآخر توبہ کی توفیق ملی اور وہ مرزا قادیانی سے علیحدہ ہو گئے۔ بس پھر کیا تھا۔ مرزا قادیانی نے اپنی تمام سابقہ تحریرات کو نظر انداز کرتے ہوئے ڈاکٹر صاحب کی مذمت شروع کردی کہ ایسا ہے، ویسا ہے۔ یہ ہے، وہ ہے، گنجا ہے، کانا ہے وغیرہ وغیرہ۔
حتیٰ کہ ڈاکٹر صاحب کی اسی تفسیر کے متعلق جس کی تعریف مرزا قادیانی کے الفاظ میں آپ ابھی پڑھ آئے ہیں۔ ارشاد فرمادیا کہ : ”ڈاکٹر عبدالحکیم صاحب کا اگر تقویٰ صحیح ہوتا تو وہ کبھی تفسیر لکھنے کا نام نہ لیتا۔ کیونکہ وہ اس کا اہل ہی نہیں تھا۔ اس کی تفسیر میں ذرہ بھر روحانیت نہیں اور نہ ہی ظاہری علم کا کچھ حصہ۔“
(اخبار بدر مورخہ ٧؍ جون ١٩٠٦ء)
ناظرین ! مرزا قادیانی کی راست گفتاری ملاحظہ فرمائیے کہ جب تک ڈاکٹر صاحب مرزائی رہے وہ جوان صالح تھے اور علامات رشد و سعادت ان کے چہرہ سے نمایاں تھیں اور وہ زیرک اور فہیم آدمی تھے اور خدمات اسلام کے اہل تھے۔ خصلت صدق وصفا رکھتے تھے اور ان کی تفسیر بے نظیر تھی۔ نہایت عمدہ شیریں بیان اور نکات قرآنی کا مجموعہ اور دلوں پر اثر کرنے والی تھی۔ لیکن یہ کیا غضب ہوا کہ مرزا قادیانی سے علیحدہ ہوتے ہی نہ صرف ڈاکٹر صاحب کا تقویٰ اور اخلاص نیز جوہر صدق وصفا ہی جاتا رہا۔ بلکہ تفسیر بھی نکمی فضول روحانیت سے خالی اور ظاہری علم سے بے بہرہ ہو گئی۔
مرزائی دوستو! یہ کیا معمہ ہے؟ تعریف و تنقیص معلوم کرنے کے بعد مرزا قادیانی کا ایک اور بیان بھی ملاحظہ فرمائیے۔ فرماتے ہیں کہ میں نے اس تفسیر کو پڑھا ہی نہیں۔ مرزائیو! کیا اب بھی تمہیں مرزا قادیانی کے دجل وفریب میں کوئی شبہ ہے؟ جب تفسیر پڑھی ہی نہیں تو مدح و مذمت کیسی؟
٨٦
ہاں تو ڈاکٹر صاحب نے مرزا قادیانی سے علیحدہ ہوکر خدمت اسلام اور تردید مرزا میں چند بے نظیر کتابیں بھی لکھی ہیں۔ دو تین سال اسی حال میں گزر گئے۔ ڈاکٹر صاحب الہامات مرزا کی قلعی کھولتے ہوئے اور مرزا قادیانی ان کی مذمت میں ورق سیاہ کرتے رہے۔ بالآخر ڈاکٹر صاحب موصوف نے نہایت تحدی کے ساتھ یہ اعلان کر دیا کہ میں بھی ملہم ہوں اور خدا تعالیٰ نے مجھے الہام کیا ہے کہ تو صادق اور مرزا کاذب، تو حق پر اور مرزا قادیانی باطل پر ہے۔
اور میرے صادق ہونے کا ثبوت یہ ہے کہ مرزا قادیانی میری زندگی میں ہلاک ہو جائے گا۔ اس کے بالمقابل مرزا قادیانی نے بھی الہام شائع کر دیا کہ عبدالحکیم میرے سامنے نیست و نابود ہو جائے گا اور خدا تعالیٰ میری عمر میں اضافہ کرے گا۔ ہم مناسب سمجھتے ہیں کہ اس مقام پر مرزا قادیانی کا وہ اشتہار درج کردیں۔ جس میں مرزا قادیانی نے ڈاکٹر صاحب کا الہام نقل کرتے ہوئے بالمقابل اپنا الہام درج فرمایا ہے۔
”خدا سچے کا حامی ہو“
”اس امر سے اکثر لوگ واقف ہوں گے کہ ڈاکٹر عبدالحکیم خاں صاحب جو تقریباً بیس برس تک میرے مریدوں میں داخل رہے۔ چند دنوں سے مجھ سے برگشتہ ہوکر سخت مخالف ہوگئے ہیں اور اپنے رسالہ المسیح الدجال میں میرا نام کذاب، مکار، شیطان، دجال، شریر، حرام خور رکھا ہے اور مجھے خائن اور شکم پرست اور نفس پرست اور مفسد اور مفتری اور خدا پر افتراء کرنے والا قرار دیا ہے اور کوئی ایسا عیب نہیں ہے جو میرے ذمہ نہیں لگایا۔ گویا جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے۔ ان تمام بدیوں کا مجموعہ میرے سوا کوئی نہیں گزرا۔ (بیس سالہ تجربہ ہوگا؟) اور پھر اسی پر کفائت نہیں کی۔ بلکہ پنجاب کے بڑے بڑے شہروں کا دورہ کر کے میری عیب شماری کے بارہ میں لیکچر دیئے اور لاہور، امرتسر، پٹیالہ اور دوسرے مقامات میں انواع واقسام کی بدیاں عام جلسوں میں میرے ذمہ لگائیں اور میرے وجود کو دنیا کے لئے ایک خطرناک اور شیطان سے بدتر ظاہر کر کے ہر ایک لیکچر میں مجھ پر ہنسی اور ٹھٹھا اڑایا۔ غرض ہم نے اس کے ہاتھوں وہ دکھ اٹھایا جس کے بیان کی حاجت نہیں اور پھر میاں عبدالحکیم صاحب نے اسی پر بس نہیں کی بلکہ ہر ایک لیکچر میں یہ پیش گوئی بھی صدہا آدمیوں کے سامنے شائع کی کہ مجھے خدا نے الہام کیا ہے کہ یہ شخص (مرزا قادیانی) تین سال کے عرصہ میں فنا ہو جائے گا۔ کیونکہ یہ مفتری وکذاب ہے۔ میں نے اس کی پیش گوئیوں پر صبر کیا۔ مگر آج مورخہ ٤؍اگست ١٩٠٦ء کو اس نے ایک خط ہمارے دوست فاضل جلیل مولوی نورالدین صاحب کو لکھا ہے کہ ١٢؍جولائی ١٩٠٦ء کو خدا تعالیٰ نے اس شخص یعنی مرزا قادیانی کے ہلاک ہونے
٨٧
کی مجھے خبر دی ہے کہ اس تاریخ سے تین برس تک ہلاک ہو جائے گا۔ جب اس حد تک نوبت پہنچ گئی تو اب میں بھی اس بات میں کوئی مضائقہ نہیں دیکھتا کہ جو کچھ خدا نے اس کے متعلق مجھ پر ظاہر فرمایا ہے میں بھی شائع کروں اور درحقیقت اس میں قوم کی بھلائی ہے۔ کیونکہ اگر درحقیقت میں خدا تعالیٰ کے نزدیک کذاب ہوں اور ٢٥ برس سے دن رات خدا پر افتراء کر رہا ہوں اور اس کی عظمت وجلال سے بے خوف ہوکر اس پر جھوٹ بول رہا ہوں اور اس کی مخلوق کے ساتھ بھی میرا یہی معاملہ ہے کہ میں لوگوں کا مال بددیانتی اور حرام خوری کے طریق سے کھاتا ہوں اور خدا کی مخلوق کو اپنی بدکرداری اور نفس پرستی کے جوش سے دکھ دیتا ہوں تو اس صورت میں تمام بدکرداروں سے بڑھ کر میں سزا کا مستحق ہوں اور اگر میں ایسا نہیں ہوں جیسا کہ میاں عبدالحکیم نے سمجھا ہے تو میں امید رکھتا ہوں کہ خدا مجھ کو ایسی ذلت کی موت نہیں دے گا کہ میرے آگے بھی لعنت اور پیچھے بھی لعنت ہو۔ میں خدا کی آنکھ سے مخفی نہیں۔ اس لئے میں اس وقت دونوں پیشگوئیاں یعنی عبدالحکیم کی میری نسبت پیش گوئی اور اس کے مقابل پر جو خدا نے میرے پر ظاہر کیا ہے لکھتا ہوں اور اس کا انصاف خدائے قادر پر چھوڑتا ہوں اور وہ یہ ہیں۔
میاں عبدالحکیم خان صاحب پٹیالوی کی میری نسبت پیش گوئی: ”مرزا کے خلاف ١٢؍ جولائی ١٩٠٦ء کو الہام ہوا کہ مرزا صرف کذاب اور عیار ہے۔ صادق کے سامنے شریر فنا ہو جائے گا اور اس کی میعاد تین سال بتائی گئی ہے۔“
عبدالحکیم پٹیالوی کی نسبت میری پیش گوئی
خدا کے مقبولوں میں مقبولیت کے نمونے اور علامتیں ہوتی ہیں اور وہ سلامتی کے شہزادے کہلاتے ہیں۔ ان پر کوئی غالب نہیں آسکتا۔ فرشتوں کی کھینچی ہوئی تلوار تیرے آگے ہے۔ پر تو نے وقت کو نہ پہچانا نہ دیکھا نہ جانا۔ رب فرق بین صادق وکاذب انت تریٰ کل مصلح وصادق۔
کہ اے رب العالمین سچے اور جھوٹے کے درمیان فیصلہ فرما و تو ہر مصلح اور صادق کو دیکھ رہا ہے۔
(تبلیغ رسالت ج١٠ص١١٢، مجموعہ اشتہارات ج٣ ص٥٥٩، ٥٦٠)
ناظرین! پیشگوئی مذکورہ کا حال معلوم کرنے سے پہلے آپ ہر دو صاحبان کی الہامی عبارات پر غور کیجئے۔ ڈاکٹر صاحب کا الہام کس قدر صاف اور واضح ہے۔ موت اور تاریخ کی کیسی عمدہ نشاندہی کی گئی ہے۔ اس کے بالمقابل مرزا قادیانی کا الہام کس قدر گول مول اور مبہم ہے۔ اگرچہ مرزا قادیانی نے تصریح کرتے ہوئے یہی فرمایا تھا کہ صادق کے سامنے کاذب ہلاک ہوگا۔
٨٨
مگر الہام میں کوئی وضاحت نہیں۔ جس سے معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی کا چشمہ الہام مکدر اور گہرا ہے اور عبدالحکیم صاف اور مصفیٰ۔
ڈاکٹر صاحب نے پھر تین سال کی مدت میں بھی کمی کردی تھی۔ چنانچہ مرزا قادیانی (چشمہ معرفت ص ٣٢١، خزائن ج٢٣ ص ٣٣٦، ٣٣٧) میں فرماتے ہیں کہ: ”آخری دشمن عبدالحکیم کہتا ہے کہ مرزا میری زندگی میں ٤؍اگست ١٩٠٨ء تک مرجائے گا۔ مگر خدا نے اس کی پیش گوئی کے مقابل مجھے خبر دی کہ وہ خود عذاب میں مبتلا کیا جائے گا اور خدا اس کو ہلاک کرے گا۔ میں اس کے شر سے محفوظ رہوں گا۔“
آسمانی فیصلہ یعنی ہر دو پیشگوئیوں کا انجام
ناظرین! حق و باطل صادق اور کاذب کا معرکہ آپ کے سامنے ہے۔ ڈاکٹر صاحب کا یہ الہام کہ صادق کے سامنے شریر ہلاک ہوگا جس کی انتہائی تاریخ پہلے ١٢؍جولائی ١٩٠٩ء پھر ١٤؍اگست ١٩٠٨ء تک تھی۔ حرف بحرف پورا ہوا اور مرزا قادیانی کا الہام ڈاکٹر عبدالحکیم میرے روبرو تباہ و برباد ہوگا اور خدا میری عمر کو بڑھا دے گا (افسوس! جتنی عمر کا پہلے وعدہ تھا یعنی اسی برس کے پس و پیش۔ وہ بھی پورا نہ ہوا) سراسر غلط ثابت ہوا۔ چنانچہ مرزا قادیانی ڈاکٹر صاحب کی بتائی ہوئی مدت کے اندر ہی ٢٦؍مئی ١٩٠٨ء کو بمقام لاہور بمرض ہیضہ انتقال کر گیا اور ڈاکٹر صاحب زمانہ خلافت محمود ١٩١٩ء میں طبعی موت سے فوت ہوئے۔ مرزائی دوستو! کیا آسمانی فیصلہ پر سرتسلیم خم کرو گے؟۔
٣٠...... مولانا ثناء اللہ کے ساتھ آخری فیصلہ
ناظرین! قادیان سے واپسی کے بعد مرزا قادیانی اور مولانا ثناء اللہ میں وقتاً فوقتاً جھڑپیں ہوتی رہیں۔ حتیٰ کہ مرزا قادیانی نے مارچ ١٩٠٧ء میں ”قادیان کے آریہ اور ہم“ کے عنوان سے ایک رسالہ شائع کیا اور اس کے آخر میں مولوی صاحب کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ: ”ہمارے کذب پر حلف اٹھاؤ۔ اور پھر اس کا انجام دیکھو۔“
مولانا امرتسری کا جواب
مولوی صاحب نے اس کے جواب میں اپنے اخبار اہل حدیث ٢٩؍مارچ ١٩٠٧ء میں اعلان کیا کہ: ”میں کذب مرزا پر قسم اٹھانے کو تیار ہوں۔“ تو مرزا قادیانی نے فوراً اخبار بدر ٤؍اپریل ١٩٠٧ء میں اعلان کر دیا کہ: ”یہ مباہلہ حقیقت الوحی شائع ہونے کے بعد ہوگا۔ لیکن
٨٩
حقیقت الوحی شائع ہونے سے پہلے ہی مرزا قادیانی نے ١٥؍اپریل کو ”مولوی ثناء اللہ صاحب کے ساتھ آخری فیصلہ“ کے عنوان سے ایک اشتہار شائع کر دیا۔ جس کا مضمون درج ذیل ہے۔
بخدمت مولوی ثناء اللہ صاحب! مدت سے آپ کے پرچہ اہل حدیث میں میری تکذیب کا سلسلہ جاری ہے۔ آپ مجھے ہمیشہ مردود، دجال، کذاب اور مفسد کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ آپ نے دنیا بھر میں میری نسبت یہی مشہور کر دیا ہے کہ میں دجال، دھوکہ باز اور خائن ہوں۔ میں نے آپ سے بہت دکھ اٹھایا ہے۔ مگر چونکہ میں مامور خدا ہوں اور آپ مجھ پر افتراء کر کے دنیا کو میری طرف آنے سے روکتے ہیں اور میرے سلسلہ کو نابود کرنا چاہتے ہیں۔ پس اگر میں ایسا ہی مفتری، کذاب اور دجال ہوں جیسا کہ آپ کہتے ہیں تو میں آپ کی زندگی میں ہی ہلاک ہو جاؤں گا اور اگر میں سچا ہوں تو خدا کے فضل سے امید رکھتا ہوں کہ آپ کذابین کی سزا سے نہیں بچیں گے۔ پس اگر میری زندگی میں آپ پر طاعون یا ہیضہ وارد نہ ہوا تو میں خدا کی طرف سے نہیں۔ یہ کسی الہام یا وحی کی بناء پر نہیں بلکہ محض دعا کے طور پر خدا سے فیصلہ چاہا ہے اور میں خدا تعالیٰ سے نہایت عاجزی اور زاری سے دعا کرتا ہوں کہ مجھ میں اور ثناء اللہ میں سچا فیصلہ فرما اور ہم دونوں میں سے جو جھوٹا ہے اسے بہت جلد طاعون یا ہیضہ سے مار کر دوسرے فریق کو خوش کر۔ اے میرے مولا! میں تیری رحمت اور تقدس کا دامن پکڑ کر دعا کرتا ہوں کہ ہم دونوں سے جو کاذب ہے اس کو صادق کی زندگی میں دنیا سے اٹھالے یا کسی ایسی آفت میں جو موت کے برابر ہو مبتلا کر۔ بالآخر مولوی صاحب سے التماس ہے کہ وہ اس مضمون کو اپنے پرچہ میں چھاپ دیں اور جو چاہیں اس کے نیچے لکھ دیں۔ اب فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی بقلم خود ١٥؍اپریل ١٩٠٧ء (تبلیغ رسالت ج ١٠ ص ١١٨، ١١٩، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٧٨، ٥٧٩ ملخص) اور اشتہار کے دس دن بعد (اخبار بدر ٢٥؍اپریل ١٩٠٧ء) میں اس دعا کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ خدا تعالیٰ نے مجھے الہام کے ذریعہ خبر دی ہے کہ: ”میں تیری دعا قبول کروں گا۔“ (یعنی جھوٹے کو سچے کی زندگی میں مار دوں گا)
اس کے بعد جب پندرہ مئی ١٩٠٧ء کو حقیقت الوحی شائع ہوئی تو مولوی صاحب نے مرزا قادیانی کو خط لکھا کہ کتاب بھیجئے کہ میں پڑھ کر مباہلہ کروں۔ اس کے جواب میں بدر ١٣؍جون میں مولوی صاحب کو جواب دے دیا گیا کہ کتاب بھیجنے کا وعدہ اس صورت میں تھا جب آپ سے مباہلہ کرنے کا ارادہ تھا۔ اب چونکہ آپ کے ساتھ آخری فیصلہ کے لئے ایک دعا بصورت اشتہار شائع کر دی ہے۔ یعنی ١٥؍اپریل والا اشتہار۔ اس لئے اب نہ مباہلہ کی ضرورت رہی اور نہ کتاب بھیجنے کی۔ پھر اخبار بدر ٢٢؍اگست میں یہ مضمون شائع ہوا کہ: ”حضرت اقدس نے مولوی ثناء اللہ
٩٠
کے ساتھ آخری فیصلہ کے عنوان سے ایک اشتہار دیا۔ جس میں محض دعا کے طور پر خدا سے فیصلہ چاہا ہے۔ نہ کہ مباہلہ سے۔‘‘ پھر نو مئی کے پرچہ میں اس اشتہار کو دعا کہتے ہوئے مولوی صاحب کے لئے توبہ کی شرط لگائی۔ حالانکہ مباہلہ میں کوئی شرط نہیں ہوتی۔ اس کے بعد ستمبر ١٩٠٧ء میں مرزا قادیانی کا لڑکا مبارک احمد فوت ہوگیا۔ تو مولوی صاحب نے مرزا قادیانی پر اعتراض کیا کہ آپ نے دعا میں کہا تھا کہ جھوٹے پر موت آئے یا موت کے برابر کوئی تکلیف تو جوان بیٹے کا مر جانا بھی موت کے برابر تکلیف ہے۔ لہٰذا آپ جھوٹے تو مرزا قادیانی نے ٥؍نومبر ١٩٠٧ء کو بذریعہ اشتہار مولوی صاحب جواب دیا کہ ہمارا لڑکا اس مباہلہ میں شامل نہیں۔ ناظرین! ان تصریحات کو ذہن نشین کیجئے اور مرزا قادیانی کے انتقال کا حال سنئے۔
مرزا قادیانی کی وفات ہیضہ سے، بیوی اور صاحبزادے کا بیان
’’بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ مسیح موعود جب آخری بیماری میں بیمار ہوئے اور حالت نازک ہوگئی تو میں نے گھبرا کر کہا کہ یا اللہ کیا ہونے والا ہے۔ حضرت صاحب نے فرمایا یہ وہی ہے جو میں کہا کرتا تھا۔ خاکسار یعنی مرزا بشیر احمد ایم۔ اے مختصر بیان کرتا ہے کہ حضرت صاحب ٢٥؍مئی ١٩٠٨ء یعنی پیر کی شام کو اچھے بھلے تھے۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ پہلا دست آپ کو کھانا کھانے کے بعد آیا تھا۔ اس کے بعد ہم لوگ آپ کے پاؤں دباتے رہے اور آپ سو گئے اور میں بھی سو گئی۔ کچھ دیر بعد آپ کو پھر حاجت محسوس ہوئی اور آپ ایک دو دفعہ رفع حاجت کے لئے پاخانہ کے لئے تشریف لے گئے۔ اس کے بعد آپ نے زیادہ ضعف محسوس کیا تو آپ نے اپنے ہاتھ سے مجھے جگایا۔ چونکہ آپ کو بہت ضعف ہو چکا تھا۔ اس لئے آپ میری ہی چارپائی پر لیٹ گئے اور میں دبانے لگ گئی۔ تھوڑی دیر بعد آپ کو پھر دست آیا۔ مگر آپ چارپائی کے پاس ہی فارغ ہوئے۔ اس کے بعد ایک اور دست آیا اور پھر آپ کو قے آئی۔ جب اٹھنے لگے تو ضعف کی وجہ سے چارپائی پر گر گئے اور حالت دگرگوں ہوگئی اور فرمایا کہ مولوی نورالدین کو بلاؤ اور محمود کو جگاؤ۔‘‘
(سیرۃ المہدی ج ١ ص ١٠٩، روایت نمبر ١٢ ملخص)
’’مولوی نورالدین، خواجہ کمال الدین اور ڈاکٹر یعقوب بیگ کو بلایا گیا۔ آپ نے ان سے فرمایا کہ مجھے اسہال کا دورہ ہوگیا ہے۔ آپ کوئی دوائی تجویز کریں۔ علاج شروع کیا گیا۔ چونکہ حالت نازک ہوچکی تھی۔ اس لئے ہم پاس ہی ٹھہرے رہے اور علاج باقاعدہ ہوتا رہا۔ مگر پھر نبض واپس نہ آئی۔ یہاں تک کہ سوا دس بجے صبح مورخہ ٢٦؍مئی ١٩٠٨ء کو حضرت اقدس کی روح محبوب حقیقی سے جا ملی۔‘‘
(ضمیمہ الحکم مورخہ ٢٨؍مئی ١٩٠٨ء)
٩ ء)
٩١
مرزا قادیانی کی وفات پر ان کے خسر کا بیان
مرزا قادیانی کے خسر میر ناصر نواب مرزا قادیانی کی وفات کا چشم دید حالات ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں: ”ابتداء میں حضرت صاحب جب کہیں سفر میں تشریف لے جاتے تو مجھے گھر کی حفاظت اور قادیان کی خدمت کے لئے چھوڑ جاتے اور آخر زمانہ میں جب کبھی سفر کرتے اور گھر والے ہمراہ ہوتے تو بندہ بھی ہمرکاب ہوتا تھا۔ چنانچہ جب آپ لاہور تشریف لے گئے۔ جس سفر میں آپ کو سفر آخرت پیش آیا تب بھی بندہ آپ کے ہمراہ تھا اور اس شام کی سیر میں بھی شریک تھا۔ جس کے دوسرے روز قبل از دوپہر حضور نے انتقال فرمایا۔ حضرت مرزا صاحب جس رات بیمار ہوئے میں اس رات اپنے مقام پر جا کر سو چکا تھا۔ جب آپ کو بہت تکلیف ہوئی تو مجھے جگایا گیا۔ جب میں حضرت صاحب کے پاس پہنچا اور آپ کا حال دیکھا تو آپ نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ میر صاحب مجھے تو وبائی ہیضہ ہو گیا ہے۔ اس کے بعد آپ نے کوئی ایسی صاف بات نہیں فرمائی۔ یہاں تک کہ صبح دس بجے آپ کا انتقال ہو گیا۔“
(حیات ناصر ص ١٤)
ناظرین! یہ ہے مرزا قادیانی اور مولانا ثناء اللہ کا آخری فیصلہ اور مرزا قادیانی کی اس دعا کا نتیجہ جس کی قبولیت کا انہیں الہام ہو چکا تھا اور یہ ہے اس آسمانی مقدمے کا فیصلہ جس کا فیصلہ خود خدا تعالیٰ نے کرنا تھا اور جس کی وجہ سے مولانا ثناء اللہ سے سلسلہ مباہلہ ختم کر دیا گیا تھا۔
نتیجہ آپ کے سامنے ہے کہ مرزا قادیانی نے ٢٦؍ مئی ١٩٠٨ء بروز منگل وار بمقام لاہور اسی ہیضہ سے وفات پائی۔ جو انہوں نے کاذب کے لئے بارگاہ الٰہی سے مانگا تھا بقول پنجابی شاعر؎
مرزا مویا منگل وار
مرزائیو! ہمارا اعتقاد ہے کہ مرزا قادیانی کی یہ دعا ضرور قبول ہوئی اور صادق اور کاذب کا فیصلہ بین طریق سے ظاہر ہوا۔ سنئے ہمارا شروع سے یہی عقیدہ ہے کہ؎
مردہ دل ہر کہ ملعون خداست
خود روانہ شد بسوئے نیستی
بود او ملعون لیکن گفت راست
٩٢
اور حضرت مولانا ثناء اللہ نے ١٥؍ مارچ ١٩٤٨ء کو یعنی مرزا قادیانی سے کامل چالیس سال بعد سرزمین پاکستان میں بمقام سرگودھا انتقال فرمایا۔ اللہ اکبر!
اعتراض اور جواب
احمدی حضرات اسی الٰہی فیصلہ کو مکدر اور مشکوک کرنے کے لئے بہت کچھ کہا کرتے ہیں۔ ان تمام اعتراضات کا مفصل جواب ہم اپنی کتاب ”ثناء اللہ اور مرزا“ میں دے چکے ہیں۔ جو ١٩٤٧ء میں لکھی گئی تھی اور عنقریب زیور طبع سے آراستہ ہونے والی ہے لے
لیکن ان کے ایک فضول مگر زبان زد عوام اعتراض کا مختصر جواب اس جگہ دینا ضروری ہے۔ مرزائی کہا کرتے تھے کہ مولوی صاحب نے ٢٦؍ اپریل ١٩٠٧ء کے پرچہ اہل حدیث میں فیصلہ کی اس تجویز کو غیر معقول کہہ کر ٹھکرا دیا تھا۔
- ١...... جواباً گذارش ہے کہ اشتہار مذکورہ مرزا قادیانی نے خدا کے حضور فریاد اور دعا کے طور
پر پیش کیا تھا اور خود کو مظلوم اور مولوی صاحب کو ظالم کہتے ہوئے خدا تعالیٰ سے صادق کی زندگی میں کاذب کی موت مانگی تھی اور یہ اشتہار محض دعا کے طور پر تھا۔ اس میں مولوی صاحب کی منظوری نامنظوری کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
- ٢...... بقول ثناء اگر منظوری ضروری تھی تو اللہ تعالیٰ نے مولوی صاحب کی منظوری سے پہلے ہی
قبولیت کا وعدہ کیوں کر لیا۔ ذرا دو چار دن صبر کر لیتا۔
- ٣...... اور مرزا قادیانی نے ٢٦؍ اپریل کے بعد اس دعا کو منسوخ کیوں نہ کر دیا۔ تا کہ کوئی
جھگڑے کی صورت باقی نہ رہے اور کسی کی اتفاقی موت سے دوسرا فریق ناجائز فائدہ نہ اٹھائے۔
- ٤...... اور ١٣؍ جون کو حقیقت الوحی کے مطالبہ کے جواب میں اس دعا کو بحال رکھتے ہوئے
مباہلہ کو غیر ضروری کیوں قرار دیا۔
- ٥...... اور پھر ٩؍ مئی کے پرچہ میں اس دعا کو بحال رکھتے ہوئے توبہ کی شرط کیوں لگائی۔
- ٦...... پھر نومبر ١٩٠٧ء میں مبارک احمد کی وفات پر مولوی صاحب کے اعتراض کا جواب
دیتے ہوئے یہ کیوں نہ کہا کہ تم نے یہ دعا منظور ہی نہ کی تھی۔ اب اعتراض کیوں کرتے ہو؟
لے افسوس کہ اس کتاب کا مسودہ ١٩٥٠ء میں سیلاب کی نذر ہو گیا۔ اب دوبارہ زیر ترتیب ہے۔
٩٣
ناظرین! ان تمام حقائق سے روز روشن کی طرح ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی کی دعا فیصلہ کن تھی اور مولوی صاحب کے انکار یا اقرار کو اس میں کوئی دخل ہی نہیں تھا اور یہ کہ مرزا قادیانی اور مرزائیوں نے مرزا قادیانی کی وفات تک اس کو معتبر سمجھا۔ اب مرزا قادیانی کی وفات کے بعد توبہ کرنے کی بجائے طرح طرح کے بہانے بنا رہے ہیں۔ جن سب کا جواب کتاب ”ثناء اللہ اور مرزا“ میں مفصل دیا گیا ہے۔ بہر حال مرزا قادیانی کا مولوی صاحب سے پہلے مر جانا مرزا قادیانی کی مقبول شدہ دعا کے پیش نظر مرزا قادیانی کے کذب پر آخری دلیل ہے۔ جس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں۔
مرزا قادیانی کی عمر
خود فرماتے ہیں کہ : ”خدا تعالیٰ نے مجھے فرمایا ہے کہ میں تجھے اسی سال یا چند سال زیادہ یا اس سے کچھ کم عمر دوں گا۔“
(تریاق القلوب ص ١٣، خزائن ج ١٥ ص ١٥٢ حاشیہ)
عمر کے متعلق جو ظاہر الفاظ وحی کے ہیں وہ تو چوہتر اور چھیاسی کے اندر عمر کی تعین کرتے ہیں۔ (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٩٦، خزائن ج ٢١ ص ٢٥٩) لیکن ہمیں افسوس ہے کہ مرزا قادیانی اس عمر سے پہلے ہی فوت ہو گئے۔ جو ان کے وحی نے بتائی تھی۔ حسب ذیل اشارات ملاحظہ فرمائیے:
- ......١ ”چودھویں صدی کے شروع پر میری عمر ٤٠ سال تھی ۔“ (تریاق القلوب ص ١٣٦، خزائن
ج ١٥ ص ٢٨٣) میں انتقال ہوا۔ کل عمر ٦٦ سال ہوئی۔
- ......٢ ١٦؍ سال کی عمر میں سلطان احمد پیدا ہوا۔ (سیرۃ المہدی ج ١ ص ١٩٦،٢٧٣) سلطان احمد
١٨٥٦ء میں پیدا ہوا۔ وفات ١٩٠٨ء کل عمر ٦٩ سال ہوئی۔
- ......٣ ٣٤، ٣٥ برس کی عمر میں میرے باپ کا انتقال ہوا۔ (کتاب البریہ ص ١٧٤، خزائن ج ١٣
ص ١٩٢) والد صاحب ١٨٧٦ء میں فوت ہوئے۔ (نزول المسیح ص ١١٦، خزائن ج ١٨ ص ٤٩٤) وفات ١٩٠٨ء کل عمر ٦٨ ، ٦٩ ہوئی۔
- ......٤ میری پیدائش ١٨٣٩ء ، ١٨٤٠ء میں ہوئی۔ (کتاب البریہ ص ١٥٩، خزائن ج ١٣ ص ١٧٧
حاشیہ) اس حساب سے مرزا قادیانی کو کم از کم ١٩١٣ء تک زندہ رہنا چاہئے تھا۔ مگر وہ ١٩٠٨ء میں ہی فوت ہوئے۔ لہٰذا الہام متعلقہ عمر غلط ثابت ہوا۔
٩٤
دوسرا حصہ
٣١...... مرزائے قادیان کی ازدواجی زندگی، پہلی بیوی اور تعلقات کی خرابی
مرزا قادیانی کا پہلا نکاح بچپن ہی میں اپنے رشتہ داروں میں مسماۃ حرمت بیگم کے ساتھ ہوا اور سولہ سال کی عمر میں ہی مرزا قادیانی باپ بن چکے تھے۔ چونکہ مرزا قادیانی کی یہ بیوی ناخواندہ دیہاتی تمدن میں پروردہ ہونے کی وجہ سے سادہ طبیعت تھی اور مرزا قادیانی تعلیم یافتہ اور ترقی پسند اس لئے میاں بیوی کی بن نہ آئی۔ یہی وجہ تھی کہ مرزا قادیانی ٢٥ سال کی عمر میں دو بچوں کا باپ ہونے کے باوجود باپ کی پنشن لے کر گھر سے فرار ہوئے اور رقم خورد برد کر کے سیالکوٹ میں جا ملازم ہوئے۔
بہر حال مرزا قادیانی کی اس بیوی کے ساتھ ہمیشہ کشیدگی رہی اور آپ نے بیچاری کو معلقہ بنا رکھا تھا اور بالآخر محمدی بیگم کے سلسلہ میں اس بیوی کو طلاق دے دی۔ صاحبزادہ صاحب حدیث بیان فرماتے ہیں کہ: ”بیان کیا مجھ سے والدہ صاحبہ (دوسری بیوی) نے کہ حضرت صاحب کو شروع سے ہی مرزا فضل احمد کی والدہ (پہلی بیوی) جس کو عام طور پر لوگ ’پجھے دی ماں‘ کہا کرتے تھے۔ بے تعلقی سی تھی۔ جس کی وجہ یہ تھی کہ حضرت صاحب کے رشتہ داروں کو دین سے سخت بے رغبتی تھی۔ (غالباً مرزا قادیانی کی دکانداری کے قائل نہ ہوں گے) اور وہ (بیوی) بھی اسی رنگ میں رنگین تھی اور اس کا میلان بھی انہی کی طرف تھا۔ اس لئے حضرت صاحب نے مباشرت ترک کر دی ہوئی تھی۔ (ماں بیٹے کی بے تکلفی اور نبی اللہ کی حسین معاشرت؟) ہاں آپ خرچ اخراجات باقاعدہ دیا کرتے تھے۔ (کہاں سے؟) والدہ نے فرمایا کہ جب میری شادی ہوئی تو حضرت صاحب نے کہلا بھیجا کہ آج تک تو جو کچھ ہوا ہوتا رہا۔ اب میں نے دوسری شادی کر لی ہے۔ اس لئے اگر اب دو بیویوں سے برابری نہ کروں گا تو گنہگار ہوں گا۔ اس لئے اب دو باتیں ہیں کہ یا طلاق لے لو یا حقوق معاف کر دو۔ (پہلے معلق رکھنے میں تو کوئی گناہ نہ ہوگا؟) میں تمہیں خرچ دیتا جاؤں گا۔ اس نے کہلا بھیجا کہ مجھے طلاق کی کوئی ضرورت نہیں۔ حقوق معاف کرتی ہوں۔ (شریف اور خاندانی عورتیں ایسا ہی کیا کرتی ہیں) والدہ صاحبہ فرماتی ہیں کہ پھر ایسا ہی ہوتا رہا حتیٰ کہ محمدی بیگم کا جھگڑا شروع ہوا اور حضرت صاحب کے رشتہ داروں نے مخالفت کر کے اس کا نکاح کسی دوسری جگہ کرادیا اور فضل احمد کی والدہ نے ان سے قطع تعلق نہ کیا تو حضرت صاحب نے ان کو طلاق دے دی۔ (بہانہ مل گیا)“
(سیرۃ المہدی ج ١ ص ٣٣، روایت نمبر ٤١)
٩٥
دوسری دہلوی بیوی، نام اور مہر وغیرہ
خاکسار مرزا بشیر احمد ایم۔ اے عرض کرتا ہے کہ ہماری والدہ صاحبہ کا نام نصرۃ جہاں بیگم ہے اور والدہ صاحبہ فرماتی ہیں کہ ان کا مہر میر صاحب یعنی تمہارے نانا جان کی تجویز پر گیارہ سو روپیہ تجویز ہوا تھا۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ ہمارے نانا صاحب کا نام میر ناصر نواب ہے۔ میر صاحب خواجہ میر درد دہلوی کے خاندان سے ہیں اور پنجاب کے محکمہ نہر میں ملازم تھے۔ آپ پنشنر ہیں۔ شروع شروع میں وہ حضرت صاحب کے مخالف تھے۔ لیکن جلد ہی بیعت میں شامل ہو گئے۔“
(سیرۃ المہدی حصہ اول ص ٢٥٧، روایت نمبر ٢٦٣)
سلسلہ جنبانی
مرزا قادیانی نے پہلی بیوی کو معلقہ کر رکھا تھا۔ اس لئے شادی کی ضرورت تھی۔ میر ناصر نواب سے ان کا پہلے بھی تعارف تھا۔ کیونکہ وہ ملازمت کے سلسلہ میں قادیان مرزا قادیانی کے مکان پر کچھ عرصہ رہ چکے تھے۔ آپ نے کسی دوست کے مشورہ سے ان کو خط لکھا اور پہلی بیوی کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اگرچہ میری پہلی بیوی موجود ہے۔ مگر میں عملاً مجرد ہی ہوں۔ (یعنی اکیلا ہی ہوں)
(سیرۃ المہدی ج ٢ ص ١٠٠، روایت نمبر ٤٣٨)
بالآخر مولانا بٹالوی کی سفارش پر مرزا قادیانی کو یہ رشتہ مل ہی گیا۔
لطیفہ
مرزا قادیانی کے خسر کا نام ناصر نواب تھا۔ انہوں نے مشہور کر دیا کہ میری برات نواب ناصر کے ہاں جائے گی۔ جس سے ان کے دوست اور براتی بہت خوش ہوئے۔ انہوں نے سمجھا کہ شاید مرزا قادیانی کی شادی کسی بڑے ریاستی نواب کے ہاں ہورہی ہے۔ ہم نوابوں کے گھر برات جارہے ہیں۔ مگر انہیں وہاں جانے پر معلوم ہوا۔ نہ کوئی ریاست ہے نہ ملک اور نہ فوج نہ پولیس اور ناصر صاحب نواب نہیں بلکہ پڑھے نہ لکھے نام محمد فاضل کی طرح ،صرف میاں نواب ہیں۔
نوٹ: مرزا قادیانی کی برات میں مسلمانوں کے علاوہ کچھ ہندو براتی بھی تھے۔
(سیرۃ المہدی ج ٢ ص ١١١)
زیورات
مرزا قادیانی نے دہلوی بیوی (مرزائی ام المومنین ) کو جو زیورات پہنائے تھے ان کی تفصیل حسب ذیل ہے۔
٩٦
کڑے کلاں طلائی قیمتی ٧٥٠ روپے ۔نوٹ یہ کڑے اندازاً ٦ ، ٧ چھٹانک سے زیادہ ہوں گے۔ کیونکہ سونا اس زمانہ میں ١٥،١٠ روپے تولہ تھا۔ کڑے خورد طلائی قیمتی ٢٥٠ روپے بندے طلائی قیمتی ٥٠٠ روپے کڑے طلائی قیمتی ٢٢٥ روپے کنگن طلائی قیمتی ٢٠٠ روپے ڈنڈیاں طلائی قیمتی ٣٠٠ روپے بالے گھنگرو والے ٣٠٠ روپے حسیاں خورد طلائی قیمتی ٣٠٠ روپے پونچیاں طلائی قیمتی ١٥٠ روپے موٹکے وغیرہ طلائی قیمتی ٢٠٠ روپے چاند طلائی قیمتی ٥٠ روپے بالیاں جڑوا طلائی قیمتی ١٥٠ روپے نتھ طلائی قیمتی ٤٠ روپے ٹیب جڑاو طلائی قیمتی ٧٠ روپے کل میزان ٣٥٠٥ روپے
(قادیانی نبوت ص ٨٥)
حیرت انگیز چالاکی ، زیورات کے عوض زمین
نوٹ : مزید سنئے کہ مرزا قادیانی نے ٢٥؍ جون ١٨٩٨ء کو فرضی کاروائی کرتے ہوئے اپنی جائیداد غیر منقولہ سے ایک باغ اور کچھ زمین انہیں زیورات کے عوض اپنی بیوی کے پاس اس شرط پر رہن (گروی) رکھی کہ ٣٠ سال تک واگذار نہ کراؤں گا۔ اس کے بعد اگر ایک سال میں روپیہ ادا نہ کروں تو بیع تصور ہوگی۔ مقصد اس ساری کاروائی سے پہلی بیوی کی اولاد کو محروم کرنا تھا۔ ناظرین! غور کیجئے کہ زیورات کے عوض کبھی کسی عورت نے خاوند کی جائیداد رہن رکھی ہو؟ پھر حضرت اقدس کی بیوی کی بے اعتباری ملاحظہ ہو کہ گروی کو رجسٹری کرایا۔
(نقل رجسٹری بحوالہ مذکورہ)
اور لطف یہ کہ زیورات بھی بیوی صاحبہ کے پاس ہی رہے۔ ثبوت ملاحظہ فرمائیے؟
زیورات کی جوڑ توڑ
قادیان کے سالانہ جلسہ منعقدہ دسمبر ١٩٢٥ء میں مفتی صادق نے مرزا قادیانی کی گھریلو زندگی کے موضوع پر تقریر فرمائی۔ جو الفضل ٣؍ اپریل ١٩٢٦ء میں شائع ہوئی تھی۔ مفتی صاحب مرزا قادیانی کی خانگی زندگی بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ: ”ایک دفعہ کسی نے خیر خواہی سے کہا کہ بیوی صاحبہ اپنے زیورات کو بار بار توڑواتی ہے اور نئی نئی شکل میں بنواتی رہتی ہیں۔ اس طرح تو بہت سا نقصان ہوتا ہے اور بہت سا حصہ زرگر ہی کھا جاتے ہیں۔ بیوی صاحب کو روکنا چاہئے۔ حضرت صاحب نے فرمایا کہ ان کا مال ہے جس طرح چاہیں کریں
٩٧
(اس سے زیادہ کہہ بھی کیا سکتے ہیں) اور یہ کاروائی یعنی زیورات کا جوڑ توڑ خود بعض چوٹی کے مرزائیوں کی نظروں میں بھی کھٹکتا رہا۔“
(کشف الاختلاف ص ١٤)
مرجا بیوی دی گل بڑی مندا اے
حقیقت یہ ہے کہ دہلوی بیوی صاحبہ نے بعض مخصوص حالات کی بناء پر مرزا قادیانی پر کچھ ایسا رعب ڈال لیا تھا کہ مرزا قادیانی اپنے گھریلو معاملات میں بالکل عضو معطل ہو گئے اور اس نے نے پر سید بھیا کون ہو؟ والا معاملہ تھا۔ حوالہ جات ملاحظہ فرمائیے۔ امام مرزا بلکہ فرشتہ مرزا اپنے تاثرات ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں کہ:
- .......١ ”حضرت کا گھر والوں کے ساتھ اتنا اچھا سلوک ہے کہ خدمت گزار
عورتیں بھی تعجباً کہتی ہیں کہ: ”مرجا بیوی دی گل بڑی مندا اے۔“
(سیرۃ مسیح الموعود ص ٧)
بیوی کہنا نہیں مانتی
- .......٢ ”منشی عبدالحق صاحب لاہوری نے کمال محبت اور دوستی کی بنا پر بیماری کی
نسبت پوچھا اور عرض کیا کہ آپ کا کام بہت نازک ہے اور آپ کے سر فرائض کا بھاری بوجھ ہے۔ آپ کو چاہئے کہ جسم کی صحت کی رعایت کا خیال رکھا کریں اور ایک خاص مقوی لازماً اپنے لئے ہر روز تیار کرایا کریں۔ حضرت نے فرمایا ہاں بات تو درست ہے اور ہم نے بھی کبھی کہا بھی ہے۔ مگر عورتیں کچھ اپنے ہی دھندوں میں مصروف رہتی ہیں اور ان باتوں کی پرواہ نہیں کرتیں۔“ (اٹھارہ سالہ بیوی پچاس سالہ خاوند کی پرواہ کیوں کرے؟)
(سیرۃ مسیح الموعود ص ٩)
مرزائیو! بیوی صاحبہ تو مرزا قادیانی کی پرواہ نہیں کرتیں اور آپ انہیں ام المومنین کہتے ہیں ۔ آخر کس قربانی کی بناء پر؟
ملکہ کا راج
مرزا قادیانی کی یہ زن پرستی مریدوں میں مشہور ہوچکی تھی۔ حوالہ ملاحظہ فرمائیے۔ مفتی محمد صادق نے ذکر حبیب کے نام سے مرزا قادیانی کی سوانح عمری لکھی ہے۔ اس میں مندرجہ ذیل واقع درج کرتے ہیں کہ: ”ایک دفعہ میں (یعنی مفتی محمد صادق) کسی وجہ سے اپنی بیوی پر ناراض ہوا۔ میری بیوی نے مولوی عبدالکریم صاحب کی بیوی سے ذکر کیا اور حضرت مولوی صاحب کی بیوی نے مولوی صاحب سے ذکر کر دیا۔ اس پر مولوی عبدالکریم نے مجھے فرمایا کہ مفتی صاحب آپ کو یاد رکھنا چاہئے کہ یہاں ملکہ کا راج ہے۔ بس اس کے سوا اور کچھ نہیں کہا ...... مولوی صاحب
٩٨
کا اشارہ اس طرف تھا کہ حضرت مسیح موعود ام المومنین کی بات بہت مانتے ہیں۔ گویا گھر میں ان کی حکومت ہے۔ (اسی وجہ سے ہماری عورتیں بھی ہمارے سر چڑھ رہی ہیں۔ ناقل) آپ کو محتاط رہنا چاہئے۔ (ذکر حبیب)
منی آرڈر کی وصولی
کوئی شک نہیں کہ مرزا قادیانی کے نام جو باہر سے منی آرڈر آتے تھے وہ اشاعت سلسلہ اور تصنیفات کتب واخبار اور لنگر خانہ وغیرہ کے متعلق ہی ہوتے تھے۔ اصولی لحاظ سے وہ مرزا قادیانی یا کسی اور کی ذاتی ملکیت نہ ہوتے تھے۔ آپ اس بات کو ذہن نشین رکھئے اور حوالہ ملاحظہ فرمائیے کہ: ”ایک دفعہ چٹھی رساں منی آرڈر لے کر آیا اور دروازہ پر آواز دی تو حضرت ام المومنین نے ایک خادمہ کو بھیج کر سارے فارم منگوا لئے۔ چٹھی رساں اس انتظار میں کھڑا رہا کہ حضرت صاحب دستخط کر کے فارم بھیج دیں گے تو میں اندر روپیہ بھیج دوں گا۔ جب دیر ہوگئی اور فارم نہ آئے تو حضرت صاحب خود باہر تشریف لائے۔ جب حضرت صاحب کو معلوم ہوا کہ فارم بیوی صاحبہ کے پاس ہیں تو آپ نے بیوی صاحبہ سے کہا کہ فارم ہمیں دے دو۔ چٹھی رساں انتظار کر رہا ہے۔ بیوی صاحبہ نے کہا ہم نہیں دیتے۔ تب آپ تھوڑی دیر خاموش رہے اور پھر فرمایا کہ آپ ان فارموں کو کیا کریں گے۔ بیوی صاحبہ نے کہا کہ آپ ہر روز روپیہ منگواتے ہیں۔ آج روپیہ ہم منگوائیں گے۔ حضرت صاحب اس پر کچھ ناراض نہ ہوئے۔ نہ غصہ کا اظہار کیا۔ بلکہ خندہ پیشانی سے فرمایا کہ وہ تو روپیہ ہمارے دستخطوں کے بغیر نہیں دے گا۔ لاؤ ہم دستخط کر دیتے ہیں۔ پھر آپ ہی روپیہ منگوالیں۔ اس پر بیوی صاحبہ نے فارم دے دیئے اور حضرت صاحب نے دستخط کر کے پھر فارم ان کو دے دیئے۔ (پھر روپیہ بیوی نے منگوالیا خیر بھی اسی میں تھی)“
(الفضل قادیان مورخہ ٣؍ اپریل ١٩٢٦ء)
مرزائی دوستو! بتا سکتے ہو کہ یہ منی آرڈر کہاں سے آئے تھے اور کس مقصد کے لئے تھے اور رقم کی مقدار کس قدر تھی اور تمہاری ام المومنین کو روپیہ وصول کرنے کا حق تھا؟ نیز بتائیے کہ تمہاری روحانی والدہ نے چٹھی رساں کو کیوں اتنی انتظار میں رکھا؟ اور اس بیچارے پر اس واقع کا کیا اثر ہوا ہوگا؟ مزید بتائیے کہ بیوی صاحب نے مرزا قادیانی کو منی آرڈر کیوں نہ دیئے اور کیوں نہ بتایا اور مرزا قادیانی نے دستخط کیوں کر دیئے؟ کیا انبیاء کی بیویوں کا یہی حال ہوتا ہے؟ اور مرزا قادیانی کی زن پرستی کا اس سے بڑا ثبوت کیا ہو سکتا ہے؟ ناظرین روایت کو دوبارہ پڑھئے اور ہمارے سوالات پر غور فرمائیے۔
٩٩
یہی وجہ تھی کہ خواجہ کمال الدین اور مولوی محمد علی ایم۔اے جیسوں کو بھی لنگر خانہ اور باہر سے آنے والے روپیہ کی بابت ہمیشہ یہ بدگمانی رہی کہ روپیہ صحیح مصرف پر خرچ ہونے کی بجائے بیوی صاحبہ کے کپڑوں اور خواہشات پر ہی خرچ ہو جاتا ہے۔
(کشف الاختلاف ص ١٤)
خرید و فروخت
بیوی صاحبہ مرزا قادیانی کے مریدوں کو ساتھ لے کر لاہور وغیرہ سے کپڑے بھی خود ہی خرید لایا کرتی تھیں۔ (ترقی پسند بیوی دقیانوسی خاوند کے ساتھ بازار جانا کیوں پسند کرے)
(کشف الظنون مرتبہ ڈاکٹر بشارت احمد لاہور ص ٨٨)
دلہن کی گھبراہٹ
ہم اس جگہ مرزا قادیانی کی اس شادی کا ایک ابتدائی واقعہ بھی درج کرنا مناسب خیال کرتے ہیں۔
صاحبزادہ مرزا بشیر احمد ایم۔اے اپنی نانی اماں کی زبانی (سیرۃ المہدی ج ٢ ص ١١١، ١١٢، روایت نمبر ٤٣٨ حمص) میں روایت کرتے ہیں کہ: ”جب تمہاری والدہ کا حضرت صاحب سے رشتہ کرنے کا ذکر ہو رہا تھا تو ہماری برادری کے آدمی سخت ناراض ہوئے کہ اٹھارہ سال کی لڑکی کا رشتہ (٥٠ سالہ) بوڑھے پنجابی سے کیوں کر رہے ہو۔ لیکن ہم نے برادری کی مخالفت کے باوجود رشتہ کر دیا۔ لیکن اتفاق یہ ہوا کہ جب تمہاری اماں (پہلی دفعہ) قادیان آئیں تو یہاں سے ان کے خط گئے کہ میں سخت گھبرا گئی ہوں اور شاید میں اس غم اور گھبراہٹ سے مرجاؤں گی۔ (شب زفاف میں کبھی ایسا بھی ہوتا ہے) چنانچہ ان خطوط کی وجہ سے ہمارے خاندان کے لوگوں کو اور بھی اعتراض کا موقعہ مل گیا۔ پھر جب ایک ماہ بعد تمہاری والدہ قادیان سے دہلی گئیں تو ہم نے اس عورت کو پوچھا جسے دہلی سے ساتھ بھیجا گیا تھا کہ لڑکی کیسی رہی۔ اس عورت نے تمہارے ابا کی بہت تعریف کی اور کہا لڑکی یونہی گھبرا گئی تھی۔ ورنہ مرزا صاحب تو بہت اچھے آدمی ہیں اور انہوں نے لڑکی کو بہت ہی اچھی طرح رکھا ہے اور تمہاری اماں نے بھی کہا کہ انہوں نے تو مجھے بڑے آرام سے رکھا۔ مگر میں یونہی گھبرا گئی تھی۔“
ناظرین! ہم بیوی صاحبہ کی (اس وقت کی) شرم وحیا کی داد دیتے ہیں کہ انہوں نے اپنی اس گھبراہٹ کا جس سے انہیں مر جانے کا خطرہ تھا۔ والدین کے سامنے ذکر تک نہیں کیا اور اس کے بعد بھی کسی سے اظہار نہ کیا۔ ہم نے جب اس واقعہ کو پڑھا تو حیران ہوئے کہ آخر اتنی
١٠٠
گھبراہٹ کیوں۔ بالآخر یہ راز ہمیں مرزا قادیانی کی زبانی معلوم ہو گیا۔ مرزا قادیانی اپنی کتاب تریاق القلوب میں اپنے نشانات صداقت اور نکاح مذکورہ کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ: ”اس شادی کے وقت مجھے یہ ابتلا پیش آیا کہ بباعث اس کے کہ میرا دل اور دماغ سخت کمزور تھا اور میں بہت سے امراض کا نشانہ رہ چکا تھا اور دو مرضیں یعنی ذیابیطس اور دردسر مع دوران سر قدیم سے میرے شامل حال تھیں۔ جن کے ساتھ بعض اوقات مجھے تشنج قلب بھی ہوتا تھا۔ اس لئے میری حالت مردی کالعدم تھی اور پیرانہ سالی کے رنگ میں میری زندگی تھی...... غرض اس ابتلاء کے وقت میں نے جناب الٰہی سے دعا کی اور مجھے اس نے دفع مرض کے لئے الہام سے دوائیں بتلائیں اور میں نے کشفی طور پر دیکھا کہ ایک فرشتہ وہ دوائیں میرے منہ میں ڈال رہا ہے۔ چنانچہ وہ دوائیں میں نے تیار کی اور اس میں خدا تعالیٰ نے اتنی برکت ڈال دی کہ میں نے دلی یقین سے معلوم کیا کہ وہ پرانی طاقت جو ایک پورے تندرست انسان کو دنیا میں مل سکتی ہے۔ وہ مجھے دی گئی اور چار لڑکے مجھے عطاء کئے گئے۔ اگر دنیا اس بات کو مبالغہ نہ سمجھتی تو میں اس جگہ اس واقعہ حقہ کو جو اعجازی رنگ میں ہمیشہ کے لئے مجھے عطاء کیا گیا بہ تفصیل بیان کرتا۔ تا معلوم ہوتا کہ ہمارے قادر قیوم کے نشان ہر رنگ میں ظہور میں آتے ہیں اور ہر رنگ میں وہ اپنے لوگوں کو خصوصیت عطا کرتا ہے۔ جس میں دنیا کے لوگ شریک نہیں ہو سکتے۔ میں اس زمانہ میں اپنی کمزوری کی وجہ سے ایک بچہ کی طرح تھا اور پھر اپنے آپ کو خدا داد طاقت میں پچاس مردوں کے قائم مقام دیکھا۔ اس لئے میرا یقین ہے کہ ہمارا خدا ہر چیز پر قادر ہے۔ (خدائی قدرت کا ثبوت اس سے زیادہ ہو بھی کیا سکتا ہے)“
(تریاق القلوب ص ٣٥، خزائن ج ١٥ ص ٢٠٣)
ہمیں افسوس ہے کہ جو راز بیوی صاحبہ نے اپنی والدہ کو بھی نہ بتلایا تھا وہ مرزا قادیانی نے اپنی مسیحیت کو چمکانے کے لئے تمام دنیا میں نشر کر دیا۔ بیوی صاحبہ اس عبارت کو پڑھ کر ضرور کہہ اٹھی ہوں گی کہ خدا نادان کی دوستی سے بچائے۔ بہر حال ہم بیوی صاحبہ کی شرافت شرم و حیا اور راز دری کی داد دیتے ہیں۔
ترقی پسندی کی ایک مثال، میاں بیوی اور اسٹیشن کی سیر
صاحبزادہ بشیر احمد ایم۔اے مرزا قادیانی کی ترقی پسندی کی مثال ان الفاظ میں سناتے ہیں کہ: ”بیان کیا مجھ سے مولوی نورالدین صاحب نے کہ ایک دفعہ حضور کسی سفر میں تھے۔ جب اسٹیشن پر پہنچے تو ابھی گاڑی آنے میں دیر تھی۔ آپ بیوی صاحبہ کو ساتھ لے کر اسٹیشن کے پلیٹ فارم
١٠١
پر ٹہلنے لگ گئے ۔ (شاید حسن ازدواج کا عملی مظاہرہ کرنا چاہتے ہوں) یہ دیکھ کر مولوی عبدالکریم صاحب نے مجھے (یعنی مولوی نورالدین کو) کہا کہ پلیٹ فارم پر بہت لوگ ہیں۔ وہ حضرت صاحب اور بیوی صاحبہ کو اکٹھا پھرتے دیکھ کر کیا کہیں گے۔ آپ حضرت صاحب سے عرض کریں کہ بیوی صاحبہ کو الگ بٹھا دیں۔ مولوی صاحب فرماتے ہیں کہ میں نے کہا کہ میں تو نہیں کہتا۔ آپ کہہ کر دیکھ لیں۔ ناچار مولوی عبدالکریم خود حضرت صاحب کے پاس گئے اور کہا کہ لوگ بہت ہیں۔ بیوی صاحبہ کو ایک طرف بٹھا دیجئے۔ حضرت صاحب نے فرمایا کہ جاؤ میں ایسے پردہ کا قائل نہیں ۔ (کیا بیگم صاحبہ بے حجاب تھیں؟)
(سیرۃ المہدی ج ١ ص ٦٣)
ناظرین! صاحبزادہ صاحب نے یہ نہیں بتایا کہ یہ واقعہ کہاں کا ہے۔ لیکن مرزا قادیانی کے صحابی میاں معراج دین صاحب عمر احمدی بیان کرتے ہیں کہ یہ واقعہ لاہور ریلوے اسٹیشن پلیٹ فارم نمبر ١ کا ہے۔ (جہاں رش بھی کافی ہوتا ہے) نیز معراج دین مذکور بیان کرتا ہے کہ حضرت صاحب نے مولوی عبدالکریم کو یہ بھی کہا تھا کہ جاؤ لوگ یہی کہیں گے۔ تاکہ مرزا قادیانی اپنی بیوی کے ساتھ پھر (ٹہل) رہا ہے۔
(الفضل مورخہ ١١؍ فروری ١٩٣٣ء)
ناظرین! مرزا قادیانی کی ترقی پسندی اور مریدوں کی حوصلہ افزائی ملاحظہ فرمائیے۔ ہم نے مرزا قادیانی کی دونوں بیویوں کے حالات لکھ دیئے ہیں۔ اب مرزائی دوست بتلائیں کہ پہلی بیوی سے قطع تعلقی اور دوسری بیوی سے زن پرستی کیا معنی ۔ کیا دونوں بیویوں کے حالات ملاحظہ کرنے کے بعد کوئی مرزائی مرزا قادیانی کو کامیاب شوہر کہہ سکتا ہے؟ اور کیا ازدواجی زندگی کا یہ نمونہ امت کے لئے قابل تقلید ہوسکتا ہے؟
تتمہ، مرزا قادیانی کی اولاد کے نکاح اور مہر
مرزا قادیانی کی ازدواجی زندگی کے ساتھ یہ عرض کرنا بھی ضروری ہے کہ آپ نے اپنی اولاد کی شادیوں میں کیا نمونہ پیش فرمایا۔ مرزا بشیر احمد ایم۔اے (سیرۃ المہدی ج ٢ ص ٥٣، روایت نمبر ٣٦٧) میں روایت کرتے ہیں کہ: ”جب ہماری ہمشیرہ مبارکہ بیگم کا نکاح حضرت صاحب نے نواب محمد علی خاں کے ساتھ کیا تو مہر پچپن ہزار روپیہ مقرر کیا گیا تھا اور حضرت صاحب نے مہر نامہ کو با قاعدہ رجسٹری کروا کے اس پر بہت سے لوگوں کی شہادتیں ثبت کروائی تھیں اور جب حضرت صاحب کے وفات کے بعد ہماری چھوٹی ہمشیرہ ”امتہ الحفیظ“ کا نکاح خاں محمد عبداللہ کے ساتھ ہوا تو مہر پندرہ ہزار مقرر کیا گیا اور یہ مہر نامہ بھی باقاعدہ رجسٹری کرایا گیا۔ (شرفاء اپنے دامادوں پر ایسا
١٠٢
ہی اعتماد کیا کرتے ہیں؟) لیکن ہم تینوں بھائیوں میں سے جن کی شادیاں حضرت صاحب کی زندگی میں ہوئی تھیں۔ کسی کا مہر نامہ تحریر ہو کر رجسٹری نہیں ہوا اور مہر صرف ایک ایک ہزار تھا۔ (اس لئے کہ آپ کی بیویاں پیغمبر زادیاں نہ تھیں۔ ناقل)“
مرزائیو! لڑکی اور لڑکوں کے مہر میں اتنا تفاوت کیوں؟ اور کیا انبیاء کا یہی شیوہ ہوتا ہے کہ اتنا گراں مہر مقرر کریں اور رجسٹری کرادیں۔ ظلی اور بروزی نبوت کا رنگ بھرنے والو حضرت زہرا سیدۃ نساء اہل الجنۃ کے نکاح کی سادگی دیکھو اور خانہ ساز نبوت کو ظلی اور عین محمد ﷺ کی نبوت کہتے ہوئے شرم کرو؟
٣٢...... حکومت کی خوشامد اور وفاداری
ناظرین! انبیاء دنیا میں خدا کا قانون جاری کرنے آتے ہیں۔ ان کا فرض ہوتا ہے کہ حکومت وقت کو اسلام کی دعوت دیں۔ اگر حکومت قبول کرے تو بہتر وگرنہ ان کی اصلاح کے لئے انقلاب بپا کرنے کی کوشش کریں اور انسانی قوانین کی جگہ الٰہی قانون جاری کریں۔ علاوہ ازیں مرزا قادیانی کا دعویٰ مسیح موعود کا تھا۔ جن کے لئے احادیث میں نبی معصوم نے پیش گوئی فرمائی ہے کہ: ”وہ جلالی اور حاکمانہ رنگ میں تشریف لائیں گے۔“
(براہین احمدیہ ص ٣٩٨، ٣٩٩، خزائن ج١ ص ٥٩٣ ملخص)
لیکن افسوس کہ مرزا قادیانی کی ساری عمر سلطنت برطانیہ کی خوشامد اور مدح سرائی میں گزرگئی۔ چنانچہ فرماتے ہیں کہ:
پچاس الماریاں
......١ ”میری عمر کا اکثر حصہ سلطنت انگریزی کی تائید اور حمایت میں گزرا ہے اور میں نے ممانعت جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارہ میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں اور اشتہار شائع کئے ہیں۔ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں اور میں نے اسی میں ایسی کتابوں کو تمام ممالک عرب اور مصر اور شام اور کابل اور روم تک پہنچا دیا۔“
(تریاق القلوب ص ١٥، خزائن ج ١٥ ص ١٥٥)
پناہ گاہ
......٢ ”اور میں جانتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص فضل سے میری اور میری جماعت کی پناہ اس سلطنت کو بنا دیا ہے۔ یہ امن جو اس سلطنت کے زیر سایہ ہمیں حاصل ہے نہ یہ امن مکہ معظمہ میں مل سکتا ہے اور نہ مدینہ میں۔ نہ سلطان روم کے پایہ تخت قسطنطنیہ میں۔“
١٠٣
میرا دین
- ٣...... ایک اور مقام پر اپنے دین کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ: ”میرا
مذہب جس کو میں بار بار ظاہر کرتا ہوں یہ ہے کہ اسلام کے دو حصہ ہیں۔ ایک خدا تعالیٰ کی اطاعت دوسری اس سلطنت (برطانیہ) کی اطاعت۔“
(شہادۃ القرآن ص٨٤، خزائن ج٦ ص٣٨٠)
اولی الامر
- ٤...... قرآن مجید میں آتا ہے: ”اطیعوا اللہ واطیعوا الرسول واولی
الامر منکم“ یعنی اللہ اور اس کے رسول کے علاوہ اولی الامر کی بھی اطاعت کرو۔ بشرطیکہ وہ تم میں سے ہوں۔ یعنی مسلمان ہوں۔ بقول ظفر علی خاں؎
مگر اس میں منکم کی ہو جستجو بھی
مرزا قادیانی اپنے مریدوں کے نام آرڈر جاری کرتے ہیں کہ: ”میں اپنی جماعت کو حکم کرتا ہوں کہ وہ انگریزوں کی بادشاہت کو اپنے اولی الامر میں داخل کریں اور دل کی سچائی سے ان کے مطیع رہیں۔“
(ضرورۃ الامام ص٢٣، خزائن ج١٣ ص٤٩٣)
ایک اعتراض اور اس کا جواب
اس موقعہ پر مرزائی کہا کرتے ہیں کہ کیا دوسرے مسلمان سلطنت برطانیہ کی اطاعت نہ کرتے تھے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ کسی غیر ملکی حکومت کی مجبوری سے اطاعت اور امن و آسائش سے زندگی بسر کرنا اور چیز ہے اور غیر ملکی حکومت کی اطاعت اور وفاداری کو اعتقادی اور مذہبی حکم کی بناء پر فرض خیال کرتے ہوئے ان کی نافرمانی اور بغاوت کو حرام زندگی قرار دینا اور شے ہے۔ ناظرین! اس فرق کو ہمیشہ ذہن میں رکھیں۔
خاندانی خدمات
- ٥...... مرزا قادیانی گورنر پنجاب کو اپنی خاندانی قربانیاں معلوم کراتے ہوئے لکھتے
ہیں کہ: ”میں ایک ایسے خاندان سے ہوں جو اس گورنمنٹ کا پکا خیر خواہ ہے۔ میرا والد مرزا غلام مرتضیٰ گورنمنٹ کی نظر میں ایک وفادار آدمی تھا اور ان کو گورنر کے دربار میں کرسی ملتی تھی اور انہوں نے ١٨٥٧ء کے غدر میں اپنی طاقت سے بڑھ کر امداد دی تھی۔ یعنی پچاس گھوڑے اور پچاس سوار۔ (گویا حکومت کی خوشامد تخم تاثیر والی بات تھی)“
(کتاب البریہ ص١٥٨، خزائن ج١٣ ص١٧٦ حاشیہ مصنف)
١٠٤
”اور اگر یہ غدر زیادہ دیر تک رہتا تو میرے والد صاحب ایک سو سوار مزید مدد دینے کو تیار تھے۔“
(ستارہ قیصرہ ص ٣، خزائن ج ١٥ ص ١١٣)
جاسوسی
- ٦....... سرکار انگریزی کے حضور مسلمانوں کی جاسوسی کرتے ہوئے فرماتے ہیں
کہ: ”قرین مصلحت ہے کہ سرکار انگریزی کی خیر خواہی کے لئے چند ایسے نافہم مسلمانوں کے نام بھی نقشہ جات میں درج کر دیئے جائیں جو درپردہ اپنے دلوں میں برٹش انڈیا کو دارالحرب قرار دیتے (یعنی انگریزوں کے ساتھ جہاد ضروری قرار دیتے) ہیں ...... ہم امید رکھتے ہیں کہ ہماری گورنمنٹ اس ملکی راز کو دفتروں میں محفوظ رکھے گی اور وہ نام یہ ہیں۔“
(تبلیغ رسالت ج ٥ ص ١١، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٢٢٧)
فدا کاری
- ٧....... ”بیشک ہمارا یہ فرض ہے کہ اس گورنمنٹ محسنہ کے سچے دل سے خیرخواہ
ہوں اور ضرورت کے وقت جان فدا کرنے کو بھی تیار ہوں۔“ (فرض بھی کفایہ نہیں بلکہ عین فرض)
(فریاد درد ص ٣٢، خزائن ج ١٣ ص ٤٠٠)
خودکاشتہ پودا
- ٨....... گورنر پنجاب کے حضور اپنے خاندان کی خدمات کا تذکرہ اور اپنی تحریری
خدمات کا اظہار کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ: ”اگرچہ میں ان خدمات خاصہ کی وجہ سے آپ کی خصوصی توجہ کا مستحق ہوں۔ لیکن اس وقت صرف ایک استغاثہ کرنا چاہتا ہوں کہ مجھے خبر ملی ہے کہ میرے بعض حاسد (مولوی) میری شکایت کر رہے ہیں۔ مجھے خطرہ ہے کہ آپ سچ مچ ان شکایات کو صحیح سمجھ لیں اور ہماری تمام قربانیاں ضائع ہو جائیں...... اس لئے آپ سے التماس ہے کہ آپ اپنے اس خودکاشتہ پودا کی نسبت ذرا احتیاط سے کام لیں۔ ہمارے خاندان نے سرکار انگریزی کی راہ میں اپنے خون بہانے اور جان دینے سے فرق نہ کیا اور نہ اب فرق ہے۔“
(تبلیغ رسالت ج ٧ ص ١٩، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢١)
جہاد منسوخ ہے
- ٩....... انتہاء یہ کہ گورنمنٹ کے استحکام کی خاطر مسئلہ جہاد کو منسوخ اور حرام ٹھہرا دیا
(فرنگی اور مرزائی گٹھ جوڑ کی بنیاد ہی یہی تھی) اور فرمایا کہ: ”مسلمانوں میں یہ دو مسئلے نہایت ہی
١٠٥
خطرناک اور سراسر غلط ہیں۔ ایک خونی مہدی کا انتظار دوم دین اور مذہب کے لئے جہاد۔“
(ستارہ قیصرہ ص ٩، خزائن ج ١٥ ص ١٢٠)
ایک عہد
- ١٠...... ”میں نے عہد کرلیا ہے کہ کوئی کتاب بغیر اس مسئلہ (ترک جہاد) کے نہیں
لکھوں گا۔“
(نور الحق ج ١ ص ٢٨، ٢٩، خزائن ج ٨ ص ٣٩)
جہاد کرنے والا خدا اور رسول کا نافرمان
- ١١...... قادیانی منارہ کی غرض وغایت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ: ”اب
سے زمینی جہاد بند ہو گیا ہے اور لڑائیوں کا خاتمہ ہو گیا...... سو آج سے دین کے لئے لڑنا حرام کیا گیا۔ اب اس کے بعد جو دین کے لئے تلوار اٹھاتا ہے اور غازی نام رکھوا کر کافروں کو قتل کرتا ہے۔ وہ خدا اور اس کے رسول کا نافرمان ہے۔“
(تبلیغ رسالت ج ٦ ص ٣٥، ٣٦، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٨٤)
حکم جہاد موقوف
- ١٢...... ”جہاد یعنی دینی لڑائیوں کی شدت کو خدا آہستہ آہستہ کم کرتا گیا ہے۔
حضرت موسیٰ کے زمانہ میں اس قدر شدت تھی کہ شیر خوار بچے بھی قتل کئے جاتے تھے۔ پھر نبی کریمﷺ کے وقت میں بچوں، بوڑھوں اور عورتوں کو قتل کرنا حرام کیا گیا اور پھر مسیح موعود (یعنی میرے) زمانہ میں قطعا جہاد کا حکم ہی موقوف کر دیا گیا۔“
(اربعین نمبر ٣ ص ١٣، خزائن ج ١٧ ص ٤٤٣ حاشیہ)
اور سنئے: مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ: ”ہمارے قلم محمد رسول اللہ کی تلوار کے برابر ہیں۔“
(ملفوظات مسیح موعود ص ١٧١)
حرامی اور بدکار آدمی
- ١٣...... ”بعض احمق اور نادان سوال کرتے ہیں کہ اس گورنمنٹ سے جہاد کرنا
درست ہے یا نہیں۔ سو یاد رہے کہ یہ سوال ان کا نہایت حماقت کا ہے۔ کیونکہ جس کے احسانات کا شکر کرنا عین فرض اور واجب ہے۔ اس سے جہاد کیسا؟ میں سچ کہتا ہوں کہ محسن کی بدخواہی کرنا (یعنی اس گورنمنٹ سے لڑنا) ایک حرامی اور بدکار آدمی کا کام ہے۔“ (اور حلال زادوں کا کام سامراج کا استحکام)
(شہادۃ القرآن ص ٨٤، خزائن ج ٦ ص ٣٨٠)
١٠٦
میرے مرید
- ١٤...... ’’جس قدر میرے مرید بڑھیں گے۔ ویسے ویسے معتقد مسئلہ جہاد کے کم
ہوتے جائیں گے۔ کیونکہ مجھے مسیح اور مہدی مان لینا ہی مسئلہ جہاد کا انکار کرنا ہے۔‘‘
(تبلیغ رسالت ج٧ص١٧، مجموعہ اشتہارات ج٣ ص١٩)
عیسائیوں سے مناظرے کیوں کئے گئے
- ١٥...... مرزا قادیانی کو خطرہ تھا کہ میری ان تمام تحریرات کو دیکھ کر بھی انگریز شاید
میری وفاداری کا یقین نہ کرے۔ کیونکہ میں ان کے مذہب کی تردید کرتا ہوں۔ ان کے ساتھ مناظرے کرتا ہوں اور ان کے خداوند یسوع مسیح کو برا بھلا کہتا ہوں۔ اس خطرے کو ملحوظ رکھتے ہوئے مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ: ’’میں اس بات کا اقرار کرتا ہوں کہ میں نیک نیتی سے دوسرے مذاہب کے لوگوں سے مباحثات بھی کرتا ہوں اور ایسا ہی پادریوں کے خلاف بھی کتابیں شائع کرتا ہوں۔ لیکن اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ مجھے پادریوں کی سخت اور اشتعال آمیز تحریریں دیکھ کر خطرہ پیدا ہوا کہ مبادا مسلمان ان تحریروں سے مشتعل ہو جائیں۔ تب میں نے ان کے جوش کو ٹھنڈا کرنے کے لئے حکمت عملی سے ان تحریرات کا کسی قدر سختی سے جواب دیا۔ تا سریع الغضب مسلمانوں کا جوش ٹھنڈا ہو جائے اور ملک میں کوئی بے امنی نہ ہو۔ سو مجھ سے پادریوں کے مقابلہ میں جو کچھ وقوع میں آیا۔ یہی ہے کہ حکمت عملی سے بعض وحشی مسلمانوں کو خوش کیا گیا۔‘‘
(تریاق القلوب ص٣٠٨، ٣٠٩، خزائن ج١٥ ص٤٩٠ ملخص)
فخر اور شرم
یہ خوشامد کئی خوددار مرزائیوں کو بھی بری لگتی ہے۔ ایسے مرزائیوں کو خطاب کرتے ہوئے خلیفہ قادیان میاں محمود نے خطبہ جمعہ میں ان الفاظ میں تنبیہ فرمائی کہ: ’’حضرت مسیح موعود نے فخریہ لکھا ہے کہ میری کوئی کتاب ایسی نہیں جس میں میں نے گورنمنٹ کی تائید نہ کی ہو۔ مگر مجھے افسوس ہے کہ میں نے غیروں سے نہیں بلکہ احمدیوں کو یہ کہتے سنا ہے کہ ہمیں حضرت مسیح موعود کی ایسی تحریریں پڑھ کر شرم آتی ہے۔ انہیں شرم کیوں آتی ہے۔ محض اس لئے کہ ان کے اندر کی آنکھ بند ہے۔‘‘
(الفضل قادیان مورخہ ٧؍جولائی ١٩٣٢ء)
علامہ اقبالؒ اور مرزائے قادیان
حضرات! جن حالات میں مرزا قادیانی پیدا ہوئے وہ حالات مسلمانوں کے لئے
١٠٧
نہایت صبر آزما تھے۔ انیسویں صدی کا نصف آخر تاریخ اسلام میں نہایت نازک دور تھا۔ جب کہ یورپین اقوام مسلمانوں کی سیاسی قوت کو ختم کر رہی تھیں۔ ہندوستان میں اسلامی سلطنت کو حرف غلط کی طرح مٹایا جا چکا تھا۔ ایشیا اور عالم اسلام یورپین عیاری کی آماجگاہ بنا ہوا تھا۔ ان حالات میں آنے والا کا تو پہلا کام یہی ہونا چاہئے تھا کہ عالم اسلامی کی عظمت رفتہ واپس لانے کے لئے سر بکف میدان عمل میں آتا اور مسلمان کو؎
نیل کے ساحل سے لے کر تا بخاک کاشغر
کا پیغام دیتا لیکن ہم حیران ہیں مرزا قادیانی کی سیاست پر کہ آتے ہی نعرہ بلند کیا کہ؎
ان کی شاہی میں پاتا ہوں رفاہ روزگار
(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١١١، خزائن ج ٢١ ص ١٤١)
دین کے لئے حرام ہے اب جنگ اور قتال
(تحفہ گولڑویہ ص ٢٦، خزائن ج ١٧ ص ٧٧)
نوٹ: مرزائی دوستو! سچ بتاؤ کہ واقعی جہاد حرام ہو چکا ہے۔ ذرا سوچ کر جواب دینا۔
علامہ اقبالؒ نے انہیں حالات سے متاثر ہو کر فرمایا تھا کہ؎
حق تجھے میری طرح صاحب اسرار کرے
ہے وہی تیرے زمانے کا امام برحق
جو تجھے حاضر وموجود سے بیزار کرے
دے کے احساس زیاں لہو تیرا گرما دے
فقر کی سان چڑھا کر تجھے تلوار کرے
فتنہ ملت بیضا ہے امامت اس کی
جو مسلمان کو سلاطین کا پرستار کرے
اسی چیز کو ایک اور مقام پر ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں کہ؎
مجھ کو معلوم نہیں کیا ہے نبوت کا مقام
ہاں مگر عالم اسلام پہ رکھتا ہوں نظر
عیاں ہے مجھ پر ضمیر فلک نیلی فام
وہ نبوت ہے مسلماں کے لئے برگ حشیش
جس نبوت میں نہیں قوۃ وشوکت کا پیام
مرزائی سیاست
- ١...... مرزا قادیانی کے بعد مرزائی جماعت آج تک یہی کام سرانجام دے رہے
١٠٨
ہے۔ خلیفہ قادیان نے ایک موقعہ پر خود اعتراف کیا تھا کہ : ”اکثر ممالک میں ہماری جماعت پر یہ شبہ کیا جاتا ہے کہ ہم انگریزوں کے جاسوس ہیں ۔“
(الفضل مورخہ ٣؍ مارچ ١٩٢٥ء)
- ٢...... جنگ کابل میں مرزائی جماعت نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور انگریزی فوج
میں شامل ہو کر مسلمان افغانوں پر گولیاں چلائیں۔ حتیٰ کہ مرزا قادیانی کے چھوٹے صاحبزادے مرزا شریف احمد بھی چھ ماہ تک ٹرانسپورٹ کور میں بلا تنخواہ کام کرتے رہے۔
(الفضل قادیان مورخہ ٢؍ جولائی ١٩٢١ء)
- ٣...... عراق میں جب برطانیہ گڑبڑ کر رہا تھا تو خلیفہ صاحب نے کہا کہ : ”ہم
خوش ہیں کہ برٹش حکومت کی توسیع کے ساتھ ساتھ ہمارے لئے اشاعت اسلام کا میدان بھی وسیع ہو رہا ہے۔“
(الفضل مورخہ ١١؍ فروری ١٩١٩ء)
- ٤...... جب برطانیہ نے بغداد فتح کیا تو مرزائی سپاہی بھی انگریزی فوج میں
شامل تھے اور فتح کے بعد خلیفہ جی نے اعلان کیا کہ : ”حضرت مسیح موعود نے کہا ہے کہ گورنمنٹ برطانیہ میری تلوار ہے۔ ہم احمدی عراق ہو یا عرب یا شام ہر جگہ پر اپنی تلوار کی چمک دیکھنا چاہتے ہیں۔“
(الفضل قادیان مورخہ ٧؍ دسمبر ١٩١٨ء)
- ٥...... ترکی کے متعلق ارشاد ہوتا ہے کہ : ”ہم بتا دینا چاہتے ہیں کہ ہمارا ترکوں
سے کوئی تعلق نہیں۔ ہم اپنے مذہبی نقطہ خیال سے اس امر کے پابند ہیں کہ اس شخص کو اپنا پیشوا سمجھیں جو مسیح موعود کا جانشین ہو اور دنیاوی لحاظ سے ہمارا بادشاہ وہ ہے جس کی حکومت میں ہم رہتے ہیں۔ پس ہمارے امام حضرت مسیح موعود کے خلیفہ ثانی اور ہمارے سلطان اور بادشاہ حضور ملک معظم ہیں۔“
(الفضل قادیان مورخہ ٢٢؍ اگست ١٩٢٩ء)
- ٦...... خلافت کانفرنس کے زمانہ میں ایک میمورنڈم تیار ہو کر وائسرائے ہند کو پیش
کیا گیا کہ ہم سلطان ترکی کو خلیفۃ المسلمین جانتے ہیں۔ دستخط کنندگان میں کسی محمد علی قادیانی کا نام بھی تھا۔ خلیفہ محمود نے اس خیال سے کہ انگریز بہادر ناراض نہ ہو جائے۔ فوراً اعلان کیا کہ : ”یہ نام محض دھوکا دینے کے لئے درج کیا گیا ہے۔ قادیان سے تعلق رکھنے والے کسی احمدی کا یہ عقیدہ نہیں ۔ سلطان ترکی خلیفۃ المسلمین ہے۔“
(الفضل قادیان مورخہ ١٦؍ فروری ١٩٢٠ء)
- ٧...... پہلی جنگ عظیم میں انگریزوں کی فتح کی خوشی میں قادیان بھر میں چراغاں کیا
گیا۔ بقول الفضل ”وہ غریب جو روٹی کے لئے ترستے تھے انہوں نے بھی اپنے مکانوں پر روشنی کی اور کوئی احمدی ایسا نہ تھا جس نے روشنی اور چراغاں میں حصہ نہ لیا ہو۔“
(الفضل قادیان مورخہ ٣؍ دسمبر ١٩١٨ء)
١٠٩
٨...... لیکن جب ترکوں نے یونان (عیسائیوں) پر فتح حاصل کی تو مرزا محمود سے کسی مرزائی نے پوچھا کہ روشنی اور چراغاں کریں یا نہ؟ تو خلیفہ جی نے فرمایا کہ کوئی ضرورت نہیں ۔
(الفضل قادیان مورخہ ٧؍دسمبر ١٩٢٢ء)
نوٹ: مرزائی سیاست کے یہ تمام حوالہ جات قادیانی مذہب سے لئے گئے ہیں۔ ناظرین! یہ ہے قادیانی سیاست جس کا سہرا مرزا غلام احمد قادیانی کی خانہ ساز نبوت کے سر ہے۔
کیا خوب فرمایا علامہ اقبال مرحوم نے؎
زندگانی از خودی محرومی است
دولت اغیار را رحمت شمرد
رقص ہا کرد کلیسا کر دو مرد
مرزا قادیانی خود فرماتے ہیں کہ: ”اگر گورنمنٹ برطانیہ کی حکومت ہند میں نہ ہوتی تو مسلمان مدت سے مجھے ٹکڑے ٹکڑے کر دیتے۔“
(ایام صلح ص ٢٦، خزائن ج ١٤ ص ٢٥٥)
انا الحق کہو اور پھانسی نہ پاؤ
اکبر الہ آبادی
٣٣...... مرزا قادیانی کی زندگی کے متفرق واقعات، بزدلی کی انتہاء
”بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ سنوری نے کہ لدھیانہ میں پہلی بار بیعت لے کر حضرت صاحب علی گڑھ تشریف لے گئے اور سید تفضل حسین صاحب تحصیلدار کے مکان پر ٹھہرے۔ وہاں پر تکلف دعوتیں ہوئیں اور علی گڑھ کے لوگوں نے حضرت صاحب سے عرض کیا کہ حضور ایک لیکچر ارشاد فرمادیں اور حضور نے منظور کر لیا۔ جب اشتہار شائع ہو گیا اور سب تیاری جلسہ کی ہوگئی اور لیکچر کا وقت قریب آیا تو حضرت صاحب نے فرمایا کہ مجھے خدا تعالیٰ کی طرف سے الہام ہوا ہے کہ میں لیکچر نہ دوں۔ اس لئے اب میں لیکچر نہ دوں گا۔ سید صاحب نے کہا کہ اب تو سب کچھ ہو چکا ہے۔ لوگوں میں بڑی ہتک ہوگی ۔( تقریر کے بعد والی رسوائی شاید اس سے زیادہ ہو ) حضرت صاحب نے فرمایا۔ خواہ کچھ ہو ہم خدا کے حکم کے مطابق کریں گے۔ پھر اور لوگوں نے حضرت صاحب سے بڑے اصرار کے ساتھ عرض کیا۔ مگر حضرت صاحب نہ مانے اور فرمایا کہ یہ
١١٠
کس طرح ہو سکتا ہے کہ میں خدا کے حکم کو چھوڑ دوں۔ (ویسے بھی خدا کا حکم با موقعہ اور بر محل تھا) اس کے حکم کے مقابل میں کسی ذلت کی پرواہ نہیں کرتا۔ غرض حضرت صاحب نے لیکچر نہیں دیا۔‘‘
(سیرۃ المہدی ج ١ ص ٧٩)
ہمارا خیال ہے کہ پہلے مریدوں کی فرمائش پر منظور کر لیا ہوگا۔ لیکن جب اندازہ ہوا کہ علی گڑھ مریدوں کا ڈیرہ نہیں جو چاہوں کہوں بلکہ یہاں اہل علم، وکلاء، بیرسٹر اور پروفیسر صاحبان کا مجمع ہوگا۔ ان کے سامنے تو ہر بات دلیل قویہ کے ساتھ بیان کرنی پڑے گی۔ اپنی کمزوری کے پیش نظر فیصلہ فرمالیا کہ الہام کے بہانے خلاصی کراؤ۔ اسی کمزوری سے یہ پردہ داری اچھی اور یہ بزدلی مرزا قادیانی میں عام تھی۔ پہلے خوب للکارتے۔ خیال ہوتا کہ شاید مخالف سہم کر ہی سامنے نہ آئے۔ مگر جب مخالف کو سامنے پاتے تو وضو ٹوٹ جاتا اور اس قسم کے بہانے یاد آجاتے۔ ناظرین! مولانا ثناء اللہ کا قادیان آنا اور پیر گولڑوی کی تفسیر نویسی کا واقعہ بھی آپ کو یاد ہوگا۔
٣٤...... مریدوں کی دل جوئی
قادیانی لٹریچر کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی اپنے چوٹی کے مریدوں کا جن کے سہارے ان کا کام چل رہا تھا۔ خوب خیال رکھتے تھے۔ ان کی رہائش اسائش کے علاوہ ان کے کھانے کا انتظام بھی احسن طریق سے کیا جاتا تھا۔ حتیٰ کہ ان کے لئے پلاؤ زردہ مرغ اور بٹیر بھی تیار کرائے جاتے تھے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ان کی خاطر دل کش اور دل پسند بیویوں کی فکر بھی رہتی تھی۔
روایت ملاحظہ فرمائیے:
- ١...... ”ڈاکٹر میر محمد اسلم نے مجھ سے بیان کیا کہ مولوی محمد علی صاحب ایم۔اے
کی پہلی شادی حضرت صاحب نے گورداسپور میں کرائی تھی اور رشتہ ہونے سے پہلے حضور نے ایک عورت کو گورداسپور بھیجا تھا کہ وہ آکر رپورٹ کرے کہ لڑکی شکل وصورت میں کیسی ہے اور مولوی صاحب کے لئے موزوں بھی ہے یا نہیں۔ اس عورت کو حضرت صاحب نے ام المؤمنین کے مشورہ سے مختلف باتیں نوٹ کرائی تھیں۔ مثلاً لڑکی کا رنگ کیسا ہے۔ قد کتنا ہے۔ آنکھوں میں کوئی نقص تو نہیں۔ ناک، ہونٹ، گردن، دانت، چال ڈھال وغیرہ کیسے ہیں۔ غرضیکہ بہت سی باتیں ظاہری شکل وصورت کے متعلق لکھوادی تھیں کہ ان کا خیال رہے اور واپس آکر بیان کرے۔“
(سیرۃ المہدی ج ٣ ص ٢٩٦)
١١١
٢....... ”بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ سنوری نے کہ جب میاں ظفر احمد کپور تھلوی کی پہلی بیوی فوت ہوگئی تو حضرت صاحب نے کہا کہ ہمارے گھر دو لڑکیاں رہتی ہیں۔ میں ان کو لاتا ہوں۔ آپ جس کو پسند کریں نکاح کر دیا جائے۔ چنانچہ حضور نے ان دونوں لڑکیوں کو بلا کر کمرہ کے باہر کھڑا کر دیا۔ پھر اندر آکر (میاں ظفر احمد سے) کہا کہ آپ چک کے اندر سے دیکھ لیں۔ میاں ظفر احمد نے دیکھ لیا تو لڑکیاں چلی گئیں اور حضرت صاحب نے پوچھا کہ بتاؤ کون پسند ہے۔ انہوں نے کہا کہ لمبے منہ والی تو حضرت نے فرمایا کہ ہمارے خیال میں گول منہ والی اچھی ہے۔ پھر فرمایا کہ لمبے منہ والی کا چہرہ بیماری وغیرہ کے بعد بدنما ہو جاتا ہے۔ لیکن گول چہرہ کی خوبصورتی قائم رہتی ہے۔“ (قادیانی بتائیں یہ صاحب پیغمبر ہیں یا بیوٹی ماسٹر )
(سیرۃ المہدی جلد اول ص ٣٥٩)
ناظرین! مریدوں کی دلجوئی کے علاوہ مرزا قادیانی کا یورپین مذاق ملاحظہ فرمائیے اور حسن پسندی کی داد دیجئے۔
مرزائی دوستو: یہ جوان لڑکیاں کون تھیں اور مرزا قادیانی کے گھر میں کیوں رہتی تھیں؟ کیا اس لئے کہ مریدوں کی دلجوئی کی جاسکے؟ یا کسی اور مقصد کے لئے؟
بے شرمی کی انتہاء
مرزا قادیانی کی یہ بے حیائی اکثر مریدوں کو کھٹکتی تھی۔ آخر کار ایک مرزائی نے وضاحت طلب کر ہی لی۔
سوال...... حضرت صاحب غیر عورتوں سے ہاتھ پاؤں کیوں دباتے ہیں؟
جواب...... وہ نبی معصوم ہیں ان سے مس کرنا اور اختلاط کرنا منع نہیں۔ موجب رحمت وبرکات ہے اور یہ لوگ احکام حجاب سے مستثنیٰ ہیں۔
(اخبار الحکم مورخہ ١٠؍ اپریل ١٩٠٧ء ص ٢)
گویا یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقدس سانڈ ہیں۔ جن سے مس ہی نہیں اختلاط بھی موجب رحمت وبرکات ہے۔
٣٥...... خدمت گزار عورتیں
حضرت عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں کہ حضور سرور کائنات ﷺ نے کبھی کسی غیر عورت کو ہاتھ نہیں لگایا۔ بیعت بھی کپڑا وغیرہ کے ذریعہ یا زبانی لی جاتی تھی۔ ایک دفعہ رات کے اندھیرے میں حضور ﷺ ایک مقام پر کھڑے اپنی بیوی سے بات کر رہے تھے۔ دو آدمی پاس سے گزرے۔
١١٢
حضور ﷺ نے انہیں ٹھہرا کر کہا کہ یہ میری بیوی ہے۔ مبادا تمہارے دل میں شیطان کوئی وسوسہ پیدا کر دے ان واقعات کو مدنظر رکھئے اور خانہ ساز ظلی نبوت کا حال سنئے۔
”ڈاکٹر میر محمد اسماعیل نے ام المومنین کی زبانی روایت کیا کہ حضرت صاحب کے ہاں ایک بوڑھی عورت مسماۃ بھانو ملازم تھی۔ وہ سردی کی ایک رات حضور کو دبانے بیٹھی۔ وہ لحاف کی وجہ سے ٹانگوں کی بجائے پلنگ کی پٹی دباتی رہی۔ تھوڑی دیر کے بعد حضرت صاحب نے فرمایا کہ بھانو آج بڑی سردی ہے۔ بھانو کہنے لگی۔ ”ہاں تدے تے تہاڈی لتاں لکڑی وانگر ہویاں ہویاں نیں۔“ یعنی جی ہاں جبھی تو آپ کی ٹانگیں لکڑی کی طرح سخت ہورہی ہیں۔“ (خلوت میں غیر محرم عورت سے مکالمہ)
(سیرۃ المہدی ج ٣ ص ٣١٠)
مرزائی دوستو! پلنگ کی پٹی اور ٹانگ میں مشابہ کیسا؟ اور مرزا قادیانی کا بھانو کو سردی کی طرف متوجہ کرنے کا کیا مقصد اور کیا مرزا قادیانی کی بیوی لڑکے لڑکیوں اور بہو اس خدمت کے لئے ناکافی تھیں کہ بھانو کی ضرورت پڑی؟
٣٦...... اپنے الہام سے انکار
انبیاء کو سب سے پہلے اپنے الہام پر ایمان ہوتا ہے اور وہ ”بلغ ما انزل“ کے تحت مامور ہوتے ہیں کہ خدا کا الہام بلا کم و کاست لوگوں تک پہنچادیں۔ خواہ انہیں اس جرم کی پاداش میں بھڑکتی ہوئی آگ یا تختہ دار سے ہمکنار ہونا پڑے۔ مگر افسوس کہ مرزا قادیانی اس مقام پر بھی بالکل فیل نظر آتے ہیں۔ ١٨٦٠ء کے زمانہ میں ایک دفعہ انہیں الہام ہوا تھا کہ سلطنت برطانیہ ٧،٨ سال تک کمزور ہو جائے گی۔ الہام کے اصل الفاظ یہ تھے کہ: ”سلطنت برطانیہ تا ہشت سال بعد ازاں ایام ضعف و اختلال۔“ ان کے کسی مرید نے یہ الہام مولانا بٹالوی کو بتا دیا اور انہوں نے اپنے اخبار اشاعۃ السنہ میں شائع کر دیا۔ پس پھر کیا تھا۔ مرزا قادیانی کو فکر پڑ گیا کہ انگریز بہادر ناراض ہو کر خودکاشتہ پودا کی جڑ ہی نہ اکھڑوا دے۔ فوراً ایک رسالہ کشف الغطاء لکھ مارا۔ جس کے ٹائٹل پر بحروف جلی لکھا کہ: ”یہ مؤلف تاج عزت جناب ملکہ معظمہ قیصرہ ہند دام اقبالہا کا واسطہ ڈال کر بخدمت گورنمنٹ عالیہ انگلیشیہ کے اعلیٰ افسروں اور معزز حکام سے باادب گذارش کرتا ہے کہ براہ غریب پروری و کرم گستری اس رسالہ کو اوّل سے آخر تک پڑھا جائے یا سنا جائے۔“
(کشف الغطاء ص ٹائٹل، خزائن ج ١٤ ص ١٧٧)
پھر ص ب پر الہام مذکورہ سے انکار کرتے ہوئے لکھا کہ: ”میرے پاس وہ الفاظ نہیں
١١٣
جن سے اپنی عاجزانہ عرض کو گورنمنٹ پر ظاہر کروں کہ مجھے اس شخص کے ان خلاف واقعہ کلمات سے کس قدر صدمہ پہنچا ہے اور کیسے درد رساں زخم لگے ہیں۔ افسوس کہ اس شخص نے عمداً اور دانستہ گورنمنٹ کی خدمت میں میری نسبت نہایت ظلم سے بھرا ہوا جھوٹ بولا ہے اور میری تمام خدمات کو برباد کرنا چاہا ہے۔ خدا جھوٹے کو تباہ کرے۔‘‘
(کشف الغطاء ص ٢، خزائن ج ١٤ ص ٢١٥)
گویا مرزا قادیانی نے خوب زور شور سے الہام مذکورہ کا انکار کر دیا۔ چونکہ مولانا بٹالوی کے پاس مرزا قادیانی کی کوئی تحریر متعلقہ الہام نہیں تھی۔ اس لئے انہیں خاموش ہونا پڑا اور عرصہ ٢٥ سال تک اس الہام پر انکار کا پردہ پڑا رہا۔ مگر ”نہاں ماند کجا رازے کزو سازند محفلها“ کہی ہوئی بات کو چھپانا ذرا مشکل ہوتا ہے۔ وہ کسی نہ کسی رنگ میں ظاہر ہو ہی جایا کرتی ہے۔ مذکورہ الہام کے سلسلہ میں بھی ایسا ہی ہوا کہ مرزا قادیانی نے انکار کیا اور دعا کی کہ جھوٹے کو خدا تباہ کرے۔ مگر ان کی وفات کے بعد ان کے صاحبزادہ مرزا بشیر احمد ایم۔اے نے (سیرۃ المہدی ج ١ ص ٧٥) پر تسلیم کر لیا کہ حضرت صاحب کو واقعی یہ الہام ہوا تھا۔
اب ناظرین یہ بتائیں کہ مرزا قادیانی کو کیا کہیں۔ مرزائیو! یہ کیا بات ہے کہ باپ اپنے الہام سے منکر ہے اور صاحبزادہ صاحب فرماتے ہیں کہ الہام واقعی ہوا تھا۔ (آخر وقت وقت کی بات ہے ) ذرا سوچ سمجھ کر جواب دینا۔
٣٧...... احتلام
انبیاء معصوم ہوتے ہیں۔ شیطان کا ان پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔ وہ سوتے جاگتے متوجہ الی اللہ رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انبیاء کے خواب بھی وحی الہی کا درجہ رکھتے ہیں اور ان کی خوابیں اثر شیطانی سے بالکل صاف اور مصفا ہوتی ہیں۔ چنانچہ خود مرزا قادیانی سے ان کے ایک مرید نے سوال کیا کہ: ”انبیاء کو احتلام کیوں نہیں ہوتا۔“ مرزا قادیانی نے فرمایا کہ: ”چونکہ انبیاء سوتے جاگتے ناپاک خیالوں کو دل میں آنے نہیں دیتے۔ اس واسطے ان کو خواب میں احتلام نہیں ہوتا۔“
(سیرۃ المہدی جلد اول ص ١٦٥)
مرزا قادیانی کا مذکورہ بالا بیان درست ہے کہ انبیاء کے خیالات پاکیزہ ہوتے ہیں۔ اس لئے ان کو احتلام نہیں ہوتا۔ ہم مرزا قادیانی کی تصدیق کرتے ہوئے ذیل کی روایت درج کرتے ہیں۔ غور سے سنئے کہ: ”ڈاکٹر میر محمد اسماعیل نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت صاحب کے خادم میاں حامد علی مرحوم کی روایت ہے کہ ایک سفر میں حضرت صاحب کو احتلام ہو گیا تھا۔“
(سیرۃ المہدی ج ٣ ص ٢٤٢)
١١٤
مرزائی دوستو! بتاؤ یہ کیا معاملہ ہے کہ آپ کے حضرت صاحب بھی دھر لئے گئے۔
٣٨...... امراض اور دوائیں
انبیاء جہاں روحانیت کے امام ہوتے ہیں وہاں ان کی جسمانی صحت بھی قابل رشک ہوتی ہے۔ دائم المریض ہونا اس امر کی دلیل ہے کہ کوئی عظیم ذمہ داری اس شخص کے سپرد نہ کی جائے۔ یہی وجہ ہے کہ انبیاء کو بار نبوت اٹھانے اور نبھانے کے لئے صحت اور تندرستی بھی عطاء کی جاتی ہے۔ وہ بجز عام انسانی فطرت کے کسی خاص مرض کا نشانہ نہیں ہوتے۔ اصول مذکورہ ذہن نشین رکھئے اور مرزا قادیانی کا حال سنئے:
- ١...... حدیث شریف میں آتا ہے کہ نزول ثانی کے وقت مسیح موعود کا لباس دو زرد
چادریں ہوگا۔
مرزا قادیانی اس کی تاویل فرماتے ہیں کہ: ”اس سے مراد دو بیماریاں ہیں۔ ایک اوپر کے حصہ میں یعنی دوران سر۔ ایک نیچے کے حصے میں یعنی کثرت بول اور یہ بیماریاں مجھے شروع سے چلی آ رہی ہیں۔“
(حقیقۃ الوحی ص ٣٠٧، خزائن ج ٢٢ ص ٣٢٠)
- ٢...... ”میرا دل اور دماغ بہت کمزور ہے اور میں کئی امراض کا نشانہ رہ چکا ہوں۔
ذیابیطس اور درد سر مع دوران سر میرے شامل حال ہیں۔ بعض اوقات تشنج قلب کا دورہ بھی ہوتا تھا۔“
(تریاق القلوب ص ٧٥، خزائن ج ١٥ ص ٢٠٤)
- ٣...... ”حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زبان میں لکنت تھی اور آپ پرنالے کو
(پ پ پ پ پ) پنالہ فرمایا کرتے تھے۔“
(سیرۃ المہدی ج ٢ ص ٢٥، روایت نمبر ٣٣٥)
- ٤...... ”مجھے کئی سال سے ذیابیطس کا مرض ہے۔ پندرہ بیس دفعہ روز پیشاب آتا
ہے اور بعض وقت سو سو مرتبہ ایک دن میں پیشاب آتا ہے اور پیشاب میں شکر بھی آتی ہے۔ کبھی کبھی خارش کا عارضہ بھی ہو جاتا ہے اور کثرت پیشاب سے ضعف تک نوبت پہنچتی ہے۔“
(نسیم دعوت ص ٦٩، خزائن ج ١٩ ص ٤٣٤)
- ٥...... کسی حوالہ کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ: ”پڑھا تو تھا مگر حافظہ اچھا
نہیں۔ یاد نہیں رہا۔“
(نسیم دعوت ص ٦٩، خزائن ج ١٩ ص ٤٣٩)
- ٦...... ”میرا حافظہ بہت خراب ہے۔ اگر کئی دفعہ کسی کی ملاقات ہو تب بھی بھول
جاتا ہوں۔“
(مکتوبات احمدیہ ج ٥ نمبر ٣ ص ٢١)
١١٥
- ٧...... "مجھ اسہال کی بیماری ہے اور ہر روز کئی کئی دست آتے ہیں۔"
(منظور الٰہی ج ٢ ص ٣٣٩)
- ٨...... ایک مرید کو لکھتے ہیں کہ: "دوران سر کی بہت شدت ہوگئی ہے۔ پیروں پر
بوجھ دے کر پاخانہ پھرنے سے سر چکراتا ہے۔ اس لئے ایک انگریزی وضع کا پاخانہ لیتے آئیں۔"
(خطوط امام بنام غلام ص ٦)
- ٩...... "ایک مرتبہ میں قولنج زہیری میں مبتلا ہوگیا اور ١٦ دن پاخانہ کی راہ سے
خون آتا رہا اور اتنا درد تھا کہ بیان سے باہر ہے۔"
(حیات النبی ص ١٤٦)
- ١٠...... "مجھے ہمیشہ دو بیماریاں چلی آرہی ہیں۔ ایک مراق، دوم کثرت بول۔"
(کشف الظنون ص ٤٨، بحوالہ ریویو)
- ١١...... "میں نے کئی دفعہ حضرت مسیح موعود کو فرماتے سنا ہے کہ مجھے ہسٹیریا ہے۔"
(سیرۃ المہدی ج ٢ ص ٥٥)
- ١٢...... "حضرت اقدس نے فرمایا کہ مجھے دق اور سل کی بیماری ہوگئی تھی۔"
(سیرۃ المہدی حصہ اوّل ص ٥٥)
- ١٣...... "میں نے والدہ صاحبہ سے پوچھا کہ حضرت صاحب کو دودھ ہضم ہو جاتا
تھا؟ فرمایا ہضم تو نہیں ہوتا تھا مگر پی لیتے تھے۔"
(سیرۃ المہدی ج اوّل ص ٥٠)
- ١٤...... "چونکہ حضرت کو پیشاب جلد جلد آتا ہے۔ اس لئے ریشمی ازار بند رکھتے
ہیں۔ تا کہ جلدی کھل جائے۔"
(سیرۃ المہدی ج اوّل ص ٥٥)
- ١٥...... "حضرت مرزا صاحب کی تمام تکالیف مثلاً دوران سر، درد سر، کمی خواب،
تشنج دل، بدہضمی، اسہال، کثرت بول اور مراق وغیرہ کا ایک ہی باعث تھا۔ یعنی عصبی کمزوری۔"
(ریویو مئی ١٩٢٧ء)
ناظرین! مرزا قادیانی کی بیماریاں دیکھئے اور مرزائی دوستوں سے پوچھئے کیا ایسا دائم المریض آدمی بار نبوت اور اس کی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہوسکتا ہے۔ کیا سلسلۂ انبیاء میں ایسی کوئی مثال دکھا سکتے ہو اور سوچ کر بتاؤ کہ کیا مراقی نبی ہوسکتا ہے؟ نبوت اور مراق خوب سوچو اور سوچ کر جواب دو۔ یہی وجہ تھی کہ مرزا قادیانی کو عمدہ غذا مثلاً مرغ، بٹیر، مچھلی، پرندوں کا گوشت، پھل وغیرہ کے علاوہ مقوی ادویہ استعمال کرنی پڑتی تھیں۔ مثلاً بادام روغن، مشک، عنبر، مفرح
١١٦
عنبری، افیون، سنکھیا، ٹانک وائن کثرت سے استعمال فرمایا کرتے تھے۔
(خطوط امام بنام غلام ص ٥، ٦، ٣، مکتوبات احمدیہ ج ١ ص ٥، ٢٦، سیرۃ ج ٣ ص ٥١)
٣٩...... مرزا قادیانی کی سادگی
انبیاء کی زندگی دنیاوی تکلفات سے مبرا اور سادہ ہوتی ہے۔ معمولی کھانا اور سادہ لباس اٹھنا بیٹھنا جاگنا سونا تکلف سے خالی ہوتا ہے اور ان کی حقیقی توجہ لذات دنیا کی بجائے عبادات اور استغراق الی اللہ میں ہوتی ہے۔ چونکہ مرزا قادیانی کے ہاں سامانِ عیش کی فراوانی تھی اور خوب مزے سے زندگی کٹتی تھی۔ کھانے اور پہننے میں خوب تکلف فرماتے اور ”سفر کے وقت سیکنڈ کلاس کا پورا کمرہ ریزرو فرمایا کرتے تھے۔“
(سیرۃ المہدی ج ٢ ص ١٠١)
اس لئے مرزا قادیانی کی سادگی اور استغراق بیان کرنے میں مرزائی جماعت چند ایسی کہانیاں پیش کرتی ہے جن سے مرزا قادیانی کندہ دماغ اور مراقی ثابت ہوتے ہیں۔ ملاحظہ فرمائیے:
- ......١ مرزا قادیانی کا ایک دفعہ چلتے چلتے پاؤں سے جوتا نکل گیا اور انہیں معلوم
ہی نہ ہوا۔ آخر بہت دور جا کر یاد آیا۔
- ......٢ ”ایک دفعہ ایک مرید گرگابی بطور تحفہ لے آیا۔ لیکن حضرت صاحب اس کو
الٹے سیدھے پہن کر لیتے اور دائیں بائیں پاؤں کا پتہ نہ چلتا تھا۔ مجبوراً بیوی صاحبہ نے نشان لگا کر دیئے۔ مگر پھر بھی پتہ نہ چلتا تھا۔ آخر اتار کر پھینک دیا۔“
(سیرۃ المہدی ج ١ اول ص ٦٧)
- ......٣ ”جراب الٹی پہن لیتے ہیں۔ ایڑی پاؤں کے تلے کی طرف ہو جاتی ہے
اور واسکٹ اور کوٹ پہنتے ہوئے ایک بٹن دوسرے بٹن کے ہول یعنی سوراخ میں بند کر لیتے ہیں۔ رفتہ رفتہ سب بٹن ٹوٹ جاتے ہیں۔“ (سجے بھی خوب ہوں گے)
(سیرۃ المہدی ج ٢ ص ٥٨)
- ......٤ ”گھڑی کا ٹائم ہند سے گن کر معلوم کرتے تھے۔“
(سیرۃ المہدی جلد ١ ص ١٨٠)
”نیز چابی کسی سے دلواتے تھے۔“
(کشف الظنون ص ٨٠)
- ......٥ ”محمود نے آپ کی واسکٹ کی جیب میں ایک بڑی اینٹ ڈال دی۔
حضرت جب لیٹے وہ اینٹ آپ کو چبھے۔ بالآخر آپ نے حامد علی سے کہا کہ حامد علی کئی دنوں سے میری پسلی میں درد ہے۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ کوئی شے چبھتی ہے۔ حامد علی نے تلاش کر کے وہ اینٹ نکالی۔“
(سیرۃ مسیح موعود ص ٤٩، ٥٠)
١١٧
ناظرین ! یہ ہے مرزائی نبی کی سادگی اور استغراق الی اللہ کا عملی نمونہ۔
٤٠...... تعداد مرزائیاں
ہم چاہتے ہیں کہ کتاب کے خاتمہ پر مرزائیوں کی تعداد بھی لکھ دی جائے۔ تا کہ آپ ان کی اصل تعداد کے علاوہ ان کی راست گفتاری سے واقف ہو جائیں۔
- ١...... مرزا قادیانی نے (اعجاز احمدی ص ٢٣) پر مولانا ثناء اللہ کو مخاطب کرتے
ہوئے لکھا تھا کہ: ”میرا مرید ایک لاکھ ہے۔“
- ٢...... ”میری جماعت کی تعداد بفضل تعالیٰ کئی لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔“
(تبلیغ رسالت ج ١٠ص ١٢٣، مجموعہ اشتہارات)
- ٣...... ”خدا کا ہزار ہا شکر ہے کہ چار لاکھ آدمی میرے ہاتھ پر اپنے گناہوں سے
توبہ کر چکا ہے۔“
(تتمہ حقیقت الوحی ص ١١٧)
- ٤...... ”اے مسیح موعود! تو نے ہزار ہا مشکلات کے باوجود ٤ لاکھ مرید بنا لیا۔“
(الفضل مورخہ ٢٠ ستمبر ١٩٠٩ء)
- ٥...... خط خلیفہ محمود بنام ملکہ بھوپال کہ مرزا قادیانی کے انتقال کے وقت ان کی
جماعت کی تعداد ٤ لاکھ تھی۔
(الفضل قادیان مورخہ ٢٨ ستمبر ١٩٣٢ء)
ان پانچ حوالہ جات سے معلوم ہوا کہ ١٩٠٨ء میں مرزائی جماعت چار لاکھ تک پہنچ گئی تھی۔ اب آپ آگے سنئے:
- ٦...... ”جماعت کی تعداد اندازاً ٤، ٥ لاکھ ہے۔“
(عدالتی بیان مرزا محمود ٢٦، ٢٩؍ جون ١٩٣٢ء)
- ٧...... مقدمہ اخبار مباہلہ میں مرزائی گواہوں نے اپنی تعداد دس لاکھ بتائی تھی اور
١٩٣٠ء میں ایک قادیانی مصنف نے اپنی کتاب کوکب دری میں لکھا تھا کہ ہماری تعداد ساری دنیا میں بیس لاکھ ہے اور ستمبر ١٩٣٢ء بھیرہ کے مناظرہ میں مولوی مبارک احمد نے اپنی جماعت کی تعداد پچاس لاکھ بتائی۔
(شمس الاسلام ص ١٠،٥)
- ٨...... قادیانی مبلغ عبدالرحیم درو نے انگلستان میں بیان دیا کہ ہم ٨٠ لاکھ کے
قریب ہیں۔
- ٩...... لیکن افسوس کہ ١٩٣١ء کی مردم شماری میں زیادہ لکھانے کے باوجود سارے
پنجاب میں صرف ٥٦ ہزار نکلے۔
(الفضل قادیان مورخہ ٥؍اگست ١٩٣٢ء)
١١٨
اور میاں محمود صاحب فرماتے ہیں کہ: ”دوسرے صوبہ جات کے ٢٥ ہزار ملا لیں۔ پھر ہم ہندوستان بھر میں ٧٥ ہزار ہو گئے۔“
(الفضل قادیان مورخہ ٢١؍ جون ١٩٣٤ء)
ناظرین! یہ دس لاکھ، بیس لاکھ، ٥٠ اور ٨٠ لاکھ یاد رکھئے اور تازہ حوالہ پڑھئے۔
- ١٠...... ”٣٠؍ مارچ ١٩٤٧ء کو حیدر آباد سندھ میں خلیفہ جی سے اخباری نامہ
نگاروں نے پوچھا کہ آپ کی جماعت کی صحیح تعداد کیا ہے تو میاں محمود صاحب جواب دیتے ہیں کہ ہماری صحیح تعداد (دنیا بھر میں) ٤، ٥ لاکھ کے درمیان ہے۔“
(الفضل قادیان مورخہ ١٢؍ اپریل ١٩٤٧ء)
- ١١...... ”مئی ١٩٤٧ء میں خلیفہ جی نے گاندھی جی کو بتایا کہ ہماری جماعت ٥ لاکھ
ہے۔“
(الفضل قادیان مورخہ ٢٤؍ مئی ١٩٤٧ء)
- ١٢...... ”اس سے تین دن بعد خلیفہ صاحب نے خطبہ جمعہ میں ارشاد فرمایا کہ
ہماری تعداد ٣، ٤ لاکھ ہے۔“ خلیفہ صاحب! ٣ دن میں ڈیڑھ لاکھ کہاں چلے گئے۔
(الفضل قادیان مورخہ ٢٧؍ مئی ١٩٤٧ء)
مرزائی دوستو! ہمارا اندازہ تو یہی ہے کہ تم پچاس ہزار کے قریب ہو۔ مگر یہ تمہاری اپنی ہی تحریریں ہیں۔ بتاؤ تم تو بقول خود مرزا قادیانی زندگی میں ٤ لاکھ ہو گئے تھے اور پھر بدستور بڑھتے رہے۔ لیکن یہ کیا معمہ ہے کہ تمہاری تعداد بڑھتی گئی۔ مئی ١٩٤٧ء یعنی مرزا قادیانی کے ٤٠ سال بعد بھی وہی ٣، ٤ لاکھ ہے۔ کیا وجہ کہ ١٩٠٨ء میں پورے چار لاکھ اور ١٩٤٧ء میں ٣، ٤ لاکھ۔ عجیب ترقی ہے۔
خاتمہ
پھر ملیں گے اگر خدا لایا
مرزائی دوستو!
ورنہ با تو ماجرا ہا داشتیم
آپ کا خادم محمد ابراہیم میر پوری مورخہ ١٥؍ ستمبر ١٩٥٠ء
قادیانی اقلیت کیوں؟
قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا مسئلہ پاکستان کی قومی اسمبلی میں پیش تھا اور
١١٩
اس کا فیصلہ بھی اس معزز ایوان کو کرنا تھا۔ جس کے بیشتر ارکان مرزائیت کے پس منظر، اس کے باطل معتقدات اور ملت اسلامیہ کے خلاف ان کی ریشہ دوانیوں سے نا آشنا تھے اور ان حضرات کی عدم واقفیت سے مرزائی فائدہ اٹھانا چاہتے تھے۔
ان حالات میں یہ امر بے حد ضروری تھا کہ ارکان اسمبلی کو ان حقائق سے آگاہ کیا جائے جو اس تحریک کے محرک بنے اور ان مفاسد کی نشاندہی کی جائے۔ جن کے تدارک کے لئے ملت اسلامیہ پاکستانیہ نے اس جماعت کو ملت سے جدا کرنے کرانے کی طویل جنگ لڑی۔
اس تقریر کو دلچسپ بنانے کے لئے اس کا موجودہ انداز اختیار کیا گیا اور اسے ممبران اسمبلی میں تقسیم کیا گیا۔
جناب سپیکر اور محترم اراکین ایوان
١...... قومی اسمبلی کے سامنے جو قرارداد بحث کے لئے پیش ہے وہ اپنی اہمیت کے پیش نظر ایسی قرارداد ہے جن کی مثال اس معزز ایوان کی تاریخ میں نہیں مل سکتی۔ یہ قرارداد ایک طرف اگر مذہبی اور دینی حیثیت کی حامل ہے تو دوسری طرف اس قرارداد سے ہماری ملکی سلامتی بلکہ مملکت پاکستان کے استحکام اور سلامتی کا گہرا تعلق ہے۔ آج نہ صرف پورے عالم اسلام بلکہ پوری دنیا کی نگاہیں ہماری طرف ہیں اور دنیا یہ معلوم کرنے کے لئے بیتاب ہے کہ پاکستان کی قومی اسمبلی اس قرارداد کے متعلق کیا فیصلہ کرتی ہے۔
میں پورے یقین اور بصیرت کے ساتھ یہ کہنا ضروری خیال کرتا ہوں کہ اس قرارداد پر ہمارے فیصلہ سے نہ صرف پورا عالم اسلام متاثر ہوگا۔ بلکہ ہمارا یہ فیصلہ بین الاقوامی سیاست پر بھی اثر انداز ہوگا۔
اگر ہم اس قرارداد پر صحیح فیصلہ کر سکے تو نہ صرف یہ کہ ہم ملت اسلامیہ کو ایک اضطراب اور تذبذب سے نکالنے میں کامیاب ہوں گے۔ بلکہ ملت کو وہ روشنی بھی دکھا سکیں گے جس کے نتیجے میں پوری ملت ایک نئے اعتماد اور یقین سے سرشار ہوگی اور نئے ولولے اور عزم کے ساتھ اپنی تمام دینی، ملی، ملکی اور بین الاقوامی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونے کے قابل ہوسکے گی۔
معزز حضرات: یہ قرارداد جس کا اصل محرک ٢٩ مئی ١٩٧٤ء کو ربوہ ریلوے اسٹیشن پر پیش آنے والا ایک ناخوشگوار واقعہ تھا۔ جس پر اظہار خیال کرنا اس وقت نہ مناسب ہے نہ مفید۔ اس سلسلہ میں صمدانی کمیشن کی رپورٹ سے اس معزز ایوان کے تمام ممبران باخبر ہیں۔
جناب والا: یہ قرارداد مختلف الفاظ میں ایوان کے سامنے ہے اور اس ایوان کے تمام
١٢٠
ارکان اس معاملہ میں آزاد ہیں کہ اپنے ایمان اور عقیدہ کے مطابق جس قرارداد کے حق میں چاہیں اپنا حق رائے دہی استعمال کریں۔ قائد ایوان نے اپنی پارٹی کے اراکین کو پارٹی ڈسپلن سے آزاد کر کے انتہائی ہوشمندی کا ثبوت دیا ہے اور اس بات کا موقعہ فراہم کر دیا ہے کہ ہر ممبر اپنے عقیدہ اور ایمان کے مطابق اظہار خیال کرے اور اپنے ضمیر کے مطابق پوری آزادی کے ساتھ اپنے ووٹ کا وزن جس ترازو میں چاہے ڈال دے۔
معزز حضرات: اس قرارداد کا تعلق عقیدہ ختم نبوت سے ہے اور اس کا مقصد یہ ہے کہ ایک اسلامی مملکت میں حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے بعد کسی کا دعویٰ نبوت کرنا کتنا سنگین جرم ہے اور ایسے مدعی نبوت کے پیروکار مذہبی اور سیاسی حیثیت میں کس سلوک کے مستحق ہیں اور وہ طریقہ کار کیا ہے۔ جسے اختیار کرنے سے عقیدہ ختم نبوت کا تحفظ ممکن ہے اور وہ کیا اقدامات ہیں جنہیں بروئے کار لانے سے وحدت ملت کے ارفع و اعلیٰ تصور کو گزند پہنچانے والی ہر سازش کا قلع قمع کیا جا سکے اور وہ کون سا آئینی اقدام ہے جس کے نتیجہ میں مرزا غلام احمد قادیانی مدعی نبوت کے تمام پیروکاروں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے کر ان کے حقوق متعین کر دیئے جائیں اور ملت اسلامیہ کی وحدت اور مملکت پاکستان کی سلامتی کو متعدد قسم کے خطرات سے بچالیا جائے۔
جناب عالی: ختم نبوت کا مسئلہ نہ تو کوئی فروعی مسئلہ ہے اور نہ ہی اسلام کے عام ارکان میں اس کا شمار ہے۔ بلکہ یہ عقیدہ اسلام کے ان بنیادی عقائد میں سر فہرست ہے جن پر قصر ایمان کی بنیاد ہے۔ یہی وہ عقیدہ ہے جس پر ملت اسلامیہ کی وحدت کا دارومدار ہے اور یہی وہ عقیدہ ہے جس نے ملت اسلامیہ کو صدہا فرقوں اور ہزار ہا اختلاف کے باوجود ایک مسلک میں منسلک اور ایک نشے میں سرشار کر رکھا ہے۔
قرآن مجید نے آنحضرت ﷺ کو خاتم النبیین قرار دے کر اور خود آنحضرت ﷺ نے لا نبی بعدی کی بشارت سے امت مسلمہ کو اتحاد و یگانگت کی وہ راہ دکھائی ہے جس کی مثال اقوام عالم کی تاریخ اور تصورات میں ناپید ہے اور یہی وہ بنائے وحدت ہے کہ حضور کے بعد مسیلمہ کذاب جیسے مدعی نبوت نے جب اسے نقصان پہنچانے کی کوشش کی اور اس نئی نبوت اور ایک نئی امت کی داغ بیل ڈالنے کی ناروا جسارت کی تو خلیفہ اوّل حضرت صدیق اکبرؓ نے مولا علیؓ کے تعاون سے شدید فوجی اقدام کیا۔ جس سے ایک طرف جھوٹے نبی کے ٣٠ ہزار سپاہی ہلاک ہوئے تو دوسری طرف ١٠ ہزار صحابہؓ نے جام شہادت نوش کیا اور رہتی دنیا تک یہ مثال قائم فرمادی کہ جب کبھی کوئی قسمت آزما وحدت ملت کو تاراج کرنے کے لئے دعویٰ نبوت کرے تو اس کا اصل علاج سیف
١٢١
صدیق اور تلوار حیدر ہے۔ نیز تحفظ ختم نبوت کا ادنیٰ تقاضا یہ ہے کہ مملکت کے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں اور اسلام کی وہ تلوار جو کفر کو سرنگوں کرنے کے لئے حرکت میں آتی ہے وہ بلا توقف اور بلا جھجک مدعی نبوت اور اس کے پیروکاروں کے سر قلم کرنے کے لئے لہرادی جائے اور ان کو شکست دینے کے بعد ان کے قیدیوں سے وہی سلوک کیا جائے جو اسلامی مملکت شکست خوردہ کفار اور ان کے قیدیوں سے روا رکھتی ہے۔
حضرات گرامی : آنحضرت ﷺ کے بعد ایک مدعی نبوت کے ساتھ اسلامی حکومت بلکہ خلیفہ راشد کا یہ اقدام تمام ملت اسلامیہ کے لئے نہ صرف قابل تقلید بلکہ واجب التقلید تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری ١٤٠٠ سالہ تاریخ میں متعدد ایسی مثالیں موجود ہیں کہ جہاں بھی کسی سرپھرے نے دعویٰ نبوت کی جسارت کی۔ وقت کی اسلامی حکومت نے سنت صدیقی کو دہرایا اور جب بھی اس عمل کو دہرایا گیا۔ کسی بھی طرف سے اس پر نہ احتجاج ہوا اور نہ ہی کسی نام نہاد مہذب حلقے سے یہ آواز اٹھی کہ یہ اقدام رجعت پسندی، تنگ نظری اور بنیادی حقوق کے خلاف ہے۔ بلکہ ہر زمانے میں پوری ملت نے مدعی نبوت کے قتل کو سراہا اور حکومت کے اس اقدام کی پورے جوش وخروش سے حمایت کی کہ اس نے اپنے اس اقدام سے عقیدہ ختم نبوت کا تحفظ کیا اور ملت اسلامیہ کو انتشار سے بچالیا ہے۔
حضور والا : خلیفہ اول حضرت صدیق اکبر کا یہ اقدام جس میں انہیں تمام صحابہ کرام کی عملی تائید اور جناب علی مرتضیٰ کا پورا تعاون حاصل تھا۔ ملت اسلامیہ کو حیات جاوداں کا درس دے گیا۔ اسی متفقہ اقدام کا نتیجہ ہے کہ آج تک کروڑوں فرزندان اسلام اسی عقیدہ میں اپنی نجات سمجھتے ہیں اور اس کے تحفظ کے لئے سر دھڑ کی بازی لگانے کو تیار ہیں اور اسی عقیدہ کا اعجاز سمجھئے کہ شیعہ، سنی شدید باہمی اختلاف کے باوجود اور مسلمانوں کے دوسرے فرقے صدہا مسائل میں مختلف الرائے ہونے کے باوجود نہ صرف یہ کہ آنحضرت ﷺ کو خاتم النبیین مانتے ہیں بلکہ اپنے باہمی اختلافات کا فیصلہ بھی آنحضرت ﷺ کے ارشادات ہی میں تلاش کرتے ہیں۔ ان کے مابین امامت اور خلافت کے اختلافات تو ہیں۔ لیکن ان تمام فرقوں کا اس بات پر ایمان ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد ہر مدعی نبوت اور اس کے پیروکار دائرہ اسلام سے خارج اور ملت اسلامیہ کے جسد میں ایک خطرناک قسم کا ناسور ہیں۔
حضرات گرامی : تاریخ شاہد ہے کہ کبھی کسی معقول اور ہوش مند آدمی نے دعویٰ نبوت کی جسارت نہیں کی اور اگر کبھی ایسا ہوا تو نہ ملت نے اسے برداشت کیا اور نہ ہی مملکت نے۔ میری رائے میں یہ مسئلہ ان مسائل میں سرفہرست ہے۔ جنہیں عوام اور حکومت نے مل کر طے کیا اور اس
١٢٢
کے حل کرنے میں ہمیشہ حزب اقتدار اور حزب اختلاف کا مؤقف ایک رہا اور ہر دور میں حکومت اور اپوزیشن نے اس مسئلہ پر اتفاق رائے کا مظاہرہ کیا اور ہر قسم کے پارٹی ڈسپلن سے آزاد ہو کر ملت اسلامیہ کی وحدت اور آنحضرت ﷺ کی ناموس کا تحفظ کیا۔
جناب والا! آنحضرت ﷺ کے بعد مدعی نبوت اور اس کے متبعین سے یہ واضح طرز عمل تو اس دور کی باتیں ہیں۔ جب کہ حکومت جیسی بھی تھی۔ ہماری اپنی تھی اور ہم اس عقیدہ کے تحفظ کو اپنی وحدت ملی اور حیات اجتماعی کی بنیاد تصور کرتے تھے۔ لیکن آخر ہماری بدقسمتی سے وہ دور بھی آیا جب غیر ملکی اور سامراجی حکومت کے سامنے اصل مسئلہ یہی تھا کہ ہماری حیات ملی کی تمام بنیادوں کو کمزور کیا جائے۔ ہمارے دلوں سے عشق رسول کو نکال دیا جائے۔ ختم نبوت کو ایک اختلافی مسئلہ بنا کر اس کی اہمیت کم کر دی جائے اور ایک خود ساختہ نبوت کے ذریعہ ایک ایسے طبقہ کو جنم دیا جائے جو ہماری حکومت کو اولی الامر تصور کرے اور ہمارے اقتدار کو دوام اور استحکام دینے میں ہمارا ممد اور معاون ہو۔ مختصر یہ کہ اس نئی غیر ملکی حکومت کو اپنے سیاسی مقاصد کے حصول اور اپنی حکومت کے استحکام کے لئے ایک نئی نبوت اور نئی امت کی ضرورت تھی اور نئی نبوت کو ایک اسلام دشمن حکومت کی سرپرستی کے بغیر زندہ رہنا مشکل تھا اور یہی وہ محرکات تھے جن کے نتیجے میں انگریز حکومت اور قادیانی نبوت میں اطاعت اور خوشامد کا عمل ظہور میں آیا اور آج ہماری آزادی اور مملکت اسلامی کے قیام پر ربع صدی سے زائد عرصہ گزر جانے کے بعد بھی قادیانی نبوت اور برطانوی حکومت کے یہ تعلقات ہمارے سامنے ہیں۔ گویا قادیانی نبوت کی کامیابی بقول اکبر الہ آبادی۔
انا الحق کہو اور پھانسی نہ پاؤ
والی پالیسی کی مرہون منت ہے۔
جناب عالی: میں نے غیر ملکی سامراج اور قادیانی نبوت کے باہمی تعلقات کا جو تذکرہ کیا ہے۔ اس سے ہر وہ شخص باخبر ہے جس نے برطانوی سیاست اور قادیانی لٹریچر کا اس نقطہ نظر سے جائزہ لیا ہے۔ خود مرزا قادیانی اس معاملہ میں خاصے ہوشیار اور محتاط تھے۔ انہوں نے اپنی نبوت کے خدوخال کو پوری منصوبہ بندی سے سنوارا اور پوری پلاننگ سے پروان چڑھایا۔ ان کا اوّل یوم سے نئی نبوت اور نئی امت بنانے اور انگریز بہادر سے خصوصی مراعات حاصل کرنے کا عزم نمایاں تھا۔ انہوں نے اپنے پروگرام کی تکمیل اور مقاصد کی تحصیل کے لئے جس محنت اور تسلسل سے کام کیا وہ ان کی ہمت اور خلوص کا بیّن اور واضح ثبوت ہے۔
١٢٣
حضور والا : مرزا ناصر احمد پر جرح کے دوران حسب ذیل امور پوری صفائی سے سامنے آچکے ہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے دین اسلام میں بگاڑ اور امت میں انتشار پھیلانے کے لئے نبوت کا دعویٰ کیا اور ظلی بروزی مہمل قسم کی تاویلات سے ترقی کرتے ہوئے نبوت تشریعی کا علم بلند کیا۔ اپنے آپ کو آنحضرت ﷺ کا خادم اور غلام کہتے کہتے آپ کے ہمسر بلکہ آپ سے افضل اور اکمل ہونے کا اعلان کیا۔ اپنے مریدوں کو آنحضرت ﷺ کے صحابہؓ کے مرتبہ پر فائز کیا۔ اپنی اہلیہ کو ام المؤمنین اور اپنے بچوں کو اہل بیت اور پنجتن پاک کے القاب سے نوازا۔ اپنی تعمیر کردہ عبادت گاہ کو مسجد اقصیٰ اور اپنے خود ساختہ منارہ کو منارۃ المسیح قرار دیا۔ اپنے گاؤں قادیان کو دارالامان اور اپنے مجوزہ قبرستان کو بہشتی مقبرہ کہا اور اس میں دفن ہونے والے مریدوں کو جنتی ہونے کا مژدہ سنایا اور اپنے احکام کو خدائی الہام اور اپنی منتشر خوابوں کو کشف کے نام سے مشہور کیا اور انہیں قرآن مجید کی طرح قطعی اور یقینی قرار دیا۔ اپنے الہام اور نبوت کے منکرین کو کافر اور جہنمی ہونے کی وعید سنائی۔ اپنے مخالفین کو ”ذریۃ البغایا“ اور ولد الحرام کہا۔ ان کی اقتداء میں نماز پڑھنے ان سے رشتہ ناطہ کرنے اور ان کی نماز جنازہ پڑھنے سے اپنی امت کو پوری سختی سے منع کیا۔ اپنی جماعت کو ملت سے الگ کرنے کے لئے احمدی کا نیا نام تجویز کیا اور ١٩٠١ء میں اپنے مریدوں کو واضح ہدایت کی کہ وہ مردم شماری کے کاغذات میں اپنے آپ کو مسلمان کی بجائے احمدی لکھائیں۔
اس کے علاوہ سیاسی لحاظ سے انگریز کی کافر حکومت کو خدا کی رحمت ، ان کی اطاعت کو دینی فریضہ اور ان کی خوشامد کو وجہ افتخار سمجھا۔ اس غیر ملکی سامراجی اور کافر حکومت کو اولی الامر قرار دے کر ان کی اطاعت کو واجب اور ان کی نافرمانی کو گناہ سے تعبیر کیا۔ ١٨٥٧ء کی جنگ آزادی کے مجاہدین کو باغی ، فسادی اور لٹیرے کہا اور اس بات پر فخر کیا کہ ان کے والد نے اس موقعہ پر ٥٠ گھوڑوں اور سواروں سے انگریز حکومت کی مدد کی تھی۔ مدۃ العمر انگریز کی تعریف ، خوشامد اور مدح سرائی میں مصروف رہے اور اس مقصد کے لئے اردو ، فارسی ، انگریزی اور عربی میں اتنا لٹریچر دیا کہ بقول ان کے اس سے پچاس الماریاں بھر جائیں۔ غیر ملکی سامراجی حکومت کو سب سے زیادہ خطرہ مقبوضہ ممالک میں آزادی کی تحریکوں سے ہوتا ہے۔ اسلام غیر ملکی اور کافر حکومت سے استخلاص وطن کو جہاد کے مقدس نام سے تعبیر کرتا ہے اور اس راہ میں مالی و جانی قربانی کو انفاق فی سبیل اللہ اور شہادت قرار دیتا ہے اور یہی وہ پاک جذبہ ہے جس میں قوت مسلم کا راز پنہاں ہے۔
١٤٤
انگریز کے طاغوتی تسلط کے ابتدائی دور میں اسلامیان ہند نے جس بے جگری سے انگریزی فوجوں کا مقابلہ کیا وہ تاریخ کا ایک سنہری باب ہے۔ یہ اسی جذبہ جہاد اور شوق شہادت کا عملی مظاہرہ تھا اور انگریز کو اپنے استحکام کے لئے اس جذبہ کو ختم کرنا ضروری تھا۔ یہ خدمت بھی مرزائے قادیان نے اپنے ذمہ لی اور حق یہ ہے کہ اس کا حق ادا کر دیا۔ جہاد کو نہ صرف منسوخ کیا بلکہ اسے اسلام کا بدتر مسئلہ قرار دیا۔ انگریز کو ہندوستان کا محسن اور مجاہدین کو حرامی اور محسن کش قرار دیا اور انگریز کو اس بات کا یقین دلانے کی انتہائی کوشش کی کہ پورے برطانوی ہند میں وہ سب سے زیادہ وفادار اور اطاعت گزار اور حکومت کی نگاہ کرم کا حقدار ہے۔
جناب عالی: یہ چند اشارے مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت کا پس منظر سمجھنے کے لئے کافی ہیں اور ان سے یہ امر بخوبی عیاں ہے کہ اس نبوت کا اصل مقصد ہی ملت اسلامیہ میں انتشار، ایک نئی امت کا احیاء، غیر ملکی حکومت کا استحکام اور اس کے لئے حرمت جہاد اور اس کے لئے الہامی بنیاد فراہم کرنا تھا۔
مرزائی نبوت کی یہی بنیادیں اور یہی مقاصد تھے۔ جن کے حصول کے لئے ان کے خلفاء خصوصاً مرزا بشیر الدین محمود نے نصف صدی تک پوری قوت اور دلجمعی سے کام کیا اور اپنی جماعت کو پوری طرح نئی ملت اور نئی قوم کا رنگ دیا۔ انگریزی حکومت کو مزید استحکام اور دوام بخشنے کے لئے بیشتر ممالک میں تبلیغی مشن کے نام پر ایسے ادارے قائم کئے جن کا مقصد تبلیغ اسلام کے کہیں زیادہ انگریز کے مفاد میں کام کرنا تھا۔
علاوہ ازیں مرزا بشیر الدین محمود نے مرزا قادیانی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے مرزائیت کو ایک نیا اور متوازی مذہبی نظام بنانے کے لئے قادیان کے سالانہ جلسہ کو ظلی حج، مرزا قادیانی کی قبر کو گنبد بیضاء اور قادیان کے در و دیوار کو شعائر اللہ قرار دیا۔ حتیٰ کہ نئی امت کے لئے نئی تقویم اور نئے کیلنڈر تک بنا ڈالے اور ان کے دور خلافت میں دنیا میں مروجہ ماہ وسنین کے مقابلہ میں صلح، تبلیغ، امان، شہادت، ہجرت، احسان، وفا، ظہور، تبوک، اخاء، نبوت، فتح کے نام سے سال کے مہینوں کے نئے نام اور عیسوی، بکرمی اور ہجری سن کی بجائے اپنی امت کے لئے ہجری شمسی سن کا آغاز کر دیا۔ جو ان کے ہاں بدستور مروج اور ان کے اخباروں اور رسالوں پر عملاً موجود اور مرقوم ہے۔
جناب عالی: اس سلسلہ میں انتہائی اہم اور قابل غور بات یہ ہے کہ مرزائی جماعت کی سیاست بھی ہمیشہ ملت اسلامیہ سے الگ رہی ہے۔ انہوں نے ہر موقعہ پر عالم اسلام کی بجائے
١٢٥
انگریزی مفادات کا ساتھ دیا ہے۔ یہاں تک کہ مرزائی جماعت پاکستان کے قیام کی مخالف اور اکھنڈ بھارت پر یقین رکھتی تھی۔ انہوں نے ابھی تک قادیان میں جائیداد کا قبضہ نہیں چھوڑا اور نہ پاکستان میں کلیم داخل کئے ہیں۔ قادیان ان کا روحانی مرکز، ظلی کعبہ، ان کے نام نہاد پیغمبر کی قبر اور ان کا بہشتی مقبرہ بھی قادیان میں ہے۔ انہوں نے پاکستان میں ربوہ کے نام سے اگرچہ اپنا نیا دارالخلافہ قائم کر رکھا ہے۔ لیکن ان کا اصل مرکز قادیان ہے۔ جس کے حصول کے لئے یہ ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے اگرچہ ربوہ میں نیا جنت البقیع بنالیا ہے۔ لیکن ان کا اصل بہشتی مقبرہ قادیان ہی میں ہے اور یہاں یہ حضرات اپنے اکابر کو بطور امانت دفن کر رہے ہیں۔
جناب عالی: یہ وہ ناقابل تردید حقائق ہیں۔ جن سے روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ مرزائی مسلمانوں سے الگ مستقل امت ہیں۔ ان کا مذہبی نظام اسلام سے متصادم اور متوازی نظام ہے۔ ان کی اطاعت کا مرکز حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نہیں مرزا غلام احمد قادیانی ہے۔ ان کا روحانی مرکز مکہ اور مدینہ کی بجائے ربوہ اور قادیان ہے۔ یہ پورے عالم اسلام کو اس بناء پر کافر سمجھتے ہیں کہ وہ مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت کے انکاری ہیں اور اسی بناء پر مسلمانوں سے رشتہ ناتہ اور نماز جنازہ تک کو ناجائز کہتے ہیں۔ حتیٰ کہ قائد اعظم جیسے محسن قوم اور آزاد خیال شخص کی آخری رسوم میں شریک ہونے کے باوجود جنازہ کے وقت غیر مسلم سفراء کے ہجوم میں کھڑے رہے۔ اسی طرح ان کی سیاسی دلچسپیاں اور سیاسی مفاد ہمیشہ عالم اسلام سے الگ ہی رہے ہیں۔
جناب عالی: مرزا غلام احمد سے لے کر آج تک ان لوگوں نے اپنے آپ کو ملت اسلامیہ سے قطعی الگ رکھا ہے اور اپنے آپ کو ایک نئی امت تصور کیا ہے۔ لیکن پاکستان اور عالم اسلام سے مفاد حاصل کرنے، ملت اسلامیہ کے حقوق غصب کرنے اور ان میں انتشار پھیلانے کی غرض سے اپنے آپ کو مسلمان کہلاتے ہیں۔
ان کی یہ دو عملی ملک وملت کے لئے انتہائی مضر بلکہ تباہ کن ہے۔ اس لئے ملک وملت کے مفاد کا تقاضا یہی ہے کہ یہ دو عملی فوراً ختم کی جائے اور مرزا غلام احمد قادیانی کے تمام پیروکاروں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے کر یہ مسئلہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے حل کر دیا جائے۔ تاکہ نہ صرف ملک وملت بلکہ پورا عالم اسلام ان کے شر سے محفوظ رہ سکے۔
جناب عالی: میں ان الفاظ کے ساتھ مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی قرارداد کی پرزور حمایت کرتا ہوں۔ (یہ تقریر مولانا ابراہیم میرپوریؒ نے خواجہ سلیمان تونسوی، ایم۔این۔اے کے لئے ١٩٧٤ء میں لکھ کر دی تھی)
١٢٦
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں
مرزائے قادیان کے دس جھوٹ
مع جواب الجواب
حضرت مولانا محمد ابراہیم میر سیالکوٹیؒ
بسم اللہ الرحمن الرحیم!
پہلی نظر ...... اشتہار سے کتاب تک؟
میرے اشتہار ”مرزائے قادیان کے دس جھوٹ“ کے جواب میں سب سے پہلے لاہوری مرزائیوں کے صدر جناب ڈاکٹر غلام محمد صاحب میدان میں آئے اور انہوں نے احمدیہ بلڈنگس لاہور یعنی اپنی مرکزی عبادت گاہ میں میرے اس اشتہار کو خطبہ جمعہ کا موضوع بنایا اور تمہیدی ارشادات کے بعد فرمایا کہ: ”میرے نزدیک اب اس کے سوا چارہ نہیں کہ خدائی فیصلہ کی طرف رجوع کریں۔ اگر مولوی صاحب کو مرزا قادیانی کے متعلق حق الیقین ہے کہ وہ مفتری علی اللہ تھے تو وہ علانیہ خدائے عزوجل کو مخاطب کر کے دعا کریں کہ اے قادر وتوانا خدا مرزا غلام احمد قادیانی جو تیری طرف سے اس صدی کے مجدد ہونے کا دعویٰ کرتا ہے ایک جھوٹا اور فریب کار انسان ہے اور اگر وہ سچا ہے تو مجھے ایک سال کے اندر ایسے عذاب سے ہلاک کر جس میں انسانی ہاتھ کا دخل نہ ہو اور حق و باطل میں فیصلہ فرما۔“
(پیغام صلح مورخہ ١٦؍ اپریل ١٩٥٨ء)
میں نے ٢٣؍ اپریل ١٩٥٨ء کے اشتہار میں اس چیلنج کو قبول کر لیا اور چند امور کی وضاحت طلب کرتے ہوئے جن میں سب سے اہم سوال یہ تھا کہ اگر میں خدائی فیصلہ کے لئے دعا کرنے کے بعد ایک سال تک زندہ رہا تو اس کا نتیجہ مرزا قادیانی کے حق میں کیا ہوگا اور آپ کی پوزیشن کیا ہوگی؟ واشگاف الفاظ میں اعلان کیا کہ: ”سنئے ڈاکٹر صاحب! میں اتمام حجت کے لئے آپ ہی کے الفاظ میں دعا کرنے کے لئے تیار ہوں۔ بشرطیکہ آپ اس بات کی ضمانت دیں کہ اگر میں پورا سال عذاب الٰہی سے محفوظ رہا تو آپ دوسرے سال کے پہلے ہی روز مرزا غلام احمد قادیانی کے جھوٹے اور مفتری ہونے کا اعلان کر دیں گے اور باقی عمر میرے ساتھ مرزا قادیانی کے دجل وفریب کی تردید سے گذشتہ گناہوں کی تلافی کریں گے۔“ احمدی دوستو۔
ایک مطلب کے لئے باندھ کے اڑ بیٹھے ہیں
میں نے اس اشتہار میں ڈاکٹر صاحب سے یہ بھی کہا تھا کہ میں اکیلا ہی ہوں۔ آپ بھی دعا کے لئے میدان میں آئیے۔ ظاہر ہے کہ یہ مطالبہ انتہائی معقول اور مساوی تھا۔ یعنی اگر
٢
میں دعا کے بعد ایک سال کے اندر مرجاؤں تو میں جھوٹا اور مرزا قادیانی سچے، اور اگر میں پورا سال عذاب الٰہی سے محفوظ رہوں تو میں سچا اور مرزا قادیانی جھوٹے۔ لیکن افسوس کہ ڈاکٹر صاحب نے یہ معقول مطالبہ ٢٥؍اپریل کے خطبہ جمعہ میں یہ کہہ کر ٹھکرا دیا کہ مجھے اس امر (کے بتانے) کی ضرورت نہیں کہ اگر آپ خدائی فیصلہ طلب کرنے کے بعد ایک سال عذاب الٰہی سے محفوظ رہے تو اس کا نتیجہ مرزا قادیانی کے حق میں کیا ہوگا۔ بہتر ہے کہ وقوعہ کے بعد آپ اس فیصلہ کو دنیا پر چھوڑ دیں۔ آپ نے مرزا قادیانی کو مفتری کہا ہے اور مرزا قادیانی تو اس دنیا میں موجود نہیں۔ آپ ان کے خدا سے فیصلہ کرائیے۔ میں تو شرح صدر سے مرزا قادیانی کو مجدد مانتا ہوں۔ ہاں اگر آپ مجھ پر کوئی الزام لگائیں تو میں مباہلہ کروں گا۔
(پیغام صلح مورخہ ٣٠؍اپریل ١٩٥٨ء)
میں نے ٧؍مئی کے اشتہار میں ڈاکٹر صاحب سے عرض کیا کہ: ”دعا کے بعد میرا ایک سال کے اندر مرجانا اگر مرزا قادیانی کی سچائی کا ثبوت ہو سکتا ہے تو پھر میرا زندہ رہنا مرزا قادیانی کے مفتری ہونے کا ثبوت کیوں نہ ہو؟ کس قدر افسوس کی بات ہے کہ میں تو اپنے ایمان پر جان کی بازی لگانے کو تیار ہوں۔ لیکن آپ ہر حال میں اس شعر کا مصداق رہنا چاہتے ہیں:“
بتوں سے ہم نہ پھریں ہم سے گو خدا پھر جا
سچ ہے۔
عقل ہے محو تماشائے لب بام ابھی
ڈاکٹر صاحب ایسی بہکی بہکی باتیں کیوں کر رہے ہو۔ فرمائیے! اگر مرزا قادیانی وفات پاگئے ہیں تو آپ ان کی جماعت کے صدر تو زندہ ہیں۔ آپ ان کے قائم مقام ہوکر میدان میں کیوں نہیں آتے؟
لیجئے! میں آپ کی ذات پر الزام عائد کرتا ہوں کہ آپ ایک ملحد کو مجدد، ایک فریبی کو مہدی اور ایک مفتری کو مسیح موعود تسلیم کر رہے ہیں۔ اگر آپ کو یہ میرے الزام سے اتفاق نہیں تو آئیے۔ بالمقابل خدائی فیصلہ کے لئے دعا کریں۔ باقی رہی یہ بات کہ آپ شرح صدر سے مرزا قادیانی پر ایمان لائے ہیں۔ تو محترمی! اپنا خیال کچھ اس سے بھی آگے ہے۔ گویا؎
ہوا علم الیقیں، عین الیقیں، حق الیقیں ساقی
٣
وضاحت طلب امور
میں نے اپنے اشتہار میں ڈاکٹر صاحب سے دو سوال کئے تھے۔ جس کی تفصیل یہ ہے کہ اوّل ڈاکٹر صاحب نے ٢٥؍ اپریل کے خطبہ میں مرزا قادیانی کی صداقت بیان کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ بعض لوگ ایسے بھی اٹھے جنہوں نے خدائی فیصلہ طلب کیا اور اپنے لئے بددعائیں کیں کہ اگر مرزا قادیانی سچے ہیں تو ہم ہلاک ہو جائیں۔ خدا نے ان کو ہماری آنکھوں کے سامنے ہلاک کر کے اپنے مامور کی سچائی کو ظاہر کر دیا۔
(پیغام صلح مورخہ ٣٠؍ اپریل ١٩٥٨ء)
ڈاکٹر صاحب سے التماس ہے کہ وہ ایسے لوگوں کی فہرست مرتب کریں اور ان کی دعائیں ان کے اپنے الفاظ میں معہ حوالہ جات شائع کریں۔ تاکہ ہم ان کا اور مرزا قادیانی کا دجل ظاہر کر سکیں۔
دوم..... ڈاکٹر صاحب نے ١١؍ اپریل کے خطبہ میں لیکھرام کی ادعائی پیش گوئی کا وزن بڑھانے کے لئے فرمایا تھا کہ مرزا قادیانی نے یہ بھی اعلان کر دیا تھا کہ لیکھرام کا قتل چھ سال تک عید کے دوسرے دن ہوگا اور پھر قاتل بھی پکڑا نہ جائے گا۔
(پیغام صلح مورخہ ١٦؍ اپریل ١٩٥٨ء)
ڈاکٹر صاحب ! کیا آپ لیکھرام کے قتل سے پہلے مرزا قادیانی کی کسی کتاب میں یہ مضمون بالخصوص یہ فقرہ کہ ”قاتل بھی پکڑا نہ جائے گا“ دکھا سکتے ہیں۔ یاد رکھئے ! اگر آپ نے ہمارا یہ مطالبہ پورا نہ کیا تو ہم آپ کو غلط گو کہنے میں حق بجانب ہوں گے۔
اس کے بعد ڈاکٹر صاحب آج تک خاموش ہیں نہ تو خدائی فیصلہ والے چیلنج کے جواب کا کوئی جواب دیتے ہیں اور نہ ہی ہمارے مطالبات کے جواب میں کچھ فرماتے ہیں۔ ہم حیران ہیں کہ ایک مذہبی جماعت کا صدر خطبہ جمعہ میں فرمودہ ارشادات کا ثبوت دینے سے قاصر ہے۔ نہ حوالہ دیتا ہے اور نہ ہی اپنی غلطی کا اعتراف کرتا ہے۔ لیکن ان کی جماعت کا یہ حال ہے کہ ٹس سے مس نہیں ہوتی۔
قادیانی جماعت کا ردعمل
میرے اشتہار سے کامل ایک ماہ بعد ٢٧؍ اپریل کو بدوملہی کی قادیانی جماعت کی طرف سے بذریعہ اشتہار مطالبہ کیا گیا کہ : ”حافظ محمد ابراہیم صاحب ایک ہفتہ کے اندر اندر ایک ہزار روپیہ کسی معتبر آدمی کے نام جس پر احمدی جماعت کو بھی اعتماد ہو بنک میں جمع کرائیں۔ پھر تصفیہ کے لئے شرائط طے کریں۔ ہم ان کے الزامات کے جوابات فریقین کے مسلمہ ثالث کے پاس بہت جلد بھجوا دیں گے۔“
اس کے بعد دوبارہ یہ شرط عائد کی گئی کہ ”ثالث کا تقرر بہر حال روپیہ بنک میں جمع کرا دینے کے بعد ہوگا۔“
٤
میں نے اس سے اگلے ہی روز (٢٨؍اپریل کو) بذریعہ اشتہار اعلان کیا کہ ۔
خدا نے چاہا تو دیکھ لینا ترا سبو بھی نہیں رہے گا
قادیانی دوستو! سیدھے راہ آؤ۔ پہلے کسی موزوں اور معقول ثالث کا تصفیہ کرو۔ اس کے بعد شرائط طے کرو۔ جن کی پابندی فریقین اور ثالث کے لئے لازمی ہو۔ روپیہ کے متعلق جو ضمانت ثالث کہے گا دے دی جائے گی۔ ہاں جناب! ذرا یہ بھی بتا دیجئے کہ اگر ثالث نے مرزا قادیانی پر میرا الزام صحیح تسلیم کر لیا اور فیصلہ میرے حق میں ہوا تو آپ کی پوزیشن کیا ہوگی۔ کیا آپ مرزا قادیانی پر جھوٹ کا الزام صحیح ثابت ہو جانے پر ان کے جھوٹے اور مفتری ہونے کا اعلان کر دیں گے؟ اور کیا آپ اس کی ضمانت دینے کے لئے تیار ہیں؟ دو حرفی بات یہ ہے کہ پہلے ثالث اور شرائط کا تصفیہ کیجئے۔ پھر میں ثالث کو روپیہ کی اور آپ احمدیت ترک کرنے کی ضمانت دیجئے۔ میرے خلاف فیصلہ ہو تو روپیہ آپ کا اور اگر میرا الزام صحیح ثابت ہو جائے تو آپ میرے۔ یہ کیا انصاف ہے کہ اگر فیصلہ میرے خلاف ہو تو آپ ہزار روپیہ نقد وصول کریں اور اگر فیصلہ آپ اور مرزا قادیانی کے خلاف ہو اور آپ کے حضرت اقدس پر جھوٹ اور دجل و فریب کا الزام صحیح ثابت ہو جائے تو آپ پھر بھی جوں کے توں رہے۔
میرا یہ مطالبہ اتنا معقول اور وزنی تھا کہ قادیانی جماعت کے ہوش ٹھکانے آگئے اور انہوں نے روپیہ بنک میں جمع کرائے بغیر ٣٢ صفحات کا جوابی پمفلٹ شائع کر دیا۔ اس کے علاوہ لاہوری جماعت کے ایڈیٹر نے اخبار پیغام صلح کے ٣ نمبروں میں ہمارے دس اعتراضات سے ٩ کا جواب دیا ہے۔
کہنے کو تو مرزائی جماعتیں ہمارے انعامی اشتہار کا جواب شائع کر چکی ہیں اور اپنے عوام کو مطمئن کرنے میں مصروف ہیں۔ لیکن ہر مرزائی کا چہرہ اس امر کی غمازی کر رہا ہے کہ وہ اپنے علماء کے جواب سے قطعاً مطمئن نہیں اور ان کی نیچی آنکھیں بزبان حال اس امر کا پتہ دے رہی ہیں کہ اگرچہ وہ اپنے تعلقات اور ماحول سے مجبور ہیں۔ لیکن مرزا قادیانی سے ان کا دلی اعتماد ہل چکا ہے اور وہ اس شعر کی تصویر بنے بیٹھے ہیں کہ ؎
تیری صبح کہہ رہی ہے تیری رات کا فسانہ
اس کی حقیقت ناظرین کو ہماری تنقید اور جواب الجواب سے منکشف ہو جائے گی۔
٥
دیر کیوں ہوئی
ہمارے جواب الجواب کو دیر محض اس لئے ہوئی کہ ہم پیغام صلح کے قسط وار جواب کی تکمیل کے منتظر رہے۔ لیکن افسوس کہ پیغام صلح کا جواب آج تک مکمل نہ ہوسکا۔ اس کے علاوہ ہماری راہ میں ایک اور رکاوٹ بھی تھی جس سے مرزائی جماعت بخوبی آگاہ ہے۔ بہر حال چند دن کی انتظار اور التواء کے بعد ہم اپنا فرض ادا کر رہے ہیں۔ امید ہے کہ ہمارے ناظرین اس دیر میں ہمیں معذور تصور فرمائیں گے۔
مرزائی تہذیب
مرزائی جماعت خصوصاً لاہوری جماعت کے ایڈیٹر نے اپنے جوابی مضامین میں جو لب ولہجہ اختیار فرمایا ہے اور جس بازاری انداز میں مجھے مخاطب کیا ہے۔ اس پر ہمارے احباب کے جذبات کو جو ٹھیس پہنچی ہے اس سے مرزائی آگاہ ہی نہیں بلکہ بعض ندامت کا اظہار بھی کر چکے ہیں۔ لیکن ہم اس معاملہ میں مرزائی جماعت کو معذور تصور کرتے ہیں۔ کیونکہ ہمارے علم کے مطابق یہ بد زبانی ان کو مرزا قادیانی سے وراثت میں ملی ہے اور مرزا قادیانی کی بد زبانی کی شان تو یہ تھی کہ کئی بار انگریزی حکام کو نقص امن کے پیش نظر سرزنش کرنا پڑی اور یہ سب کچھ سرکاری ریکارڈ میں موجود ہے اور مرزائی جماعت اپنے مقتداء کے نقش قدم پر بدتہذیبی اور بدزبانی میں اپنی مثال آپ ہے اور یہ سب کچھ کسی خارجی اثرات کے تحت نہیں بلکہ تقاضائے فطرت ہے۔ گویا۔
مقتضائے طبیعتش این است
اس لئے ہم نے آج سے ١٥ سال قبل جب مرزائیت کی تردید کا آغاز کیا تھا تو اپنے نفس کو مخاطب کر کے کہہ دیا تھا کہ؎
یا نہ کر شرط کہ واں گرگ نہ ہو چاہ نہ ہو
کرم فرماؤں سے
اس موقعہ پر اپنے بعض کرم فرماؤں کا ذکر بے جا نہ ہوگا۔ جن کی سیاسی مصلحتیں ان کو کسی دینی اختلافی مسئلہ میں دلچسپی لینے کی اجازت نہیں دیتیں اور جن پر عوامی نمائندگی اور ہر دلعزیزی کا شوق پوری طرح سوار ہے۔ ان کے خیال میں ہماری تبلیغی سرگرمیاں عموماً اور تردید مرزائیت میں
٦
شائع کردہ پوسٹر خصوصاً افادی حیثیت سے خالی نہیں بلکہ مرزائی تبلیغ میں ممد ومعاون ثابت ہوئے ہیں۔ ہم ان حضرات کی مجبوریوں سے کماحقہ آگاہ ہیں۔ اس لئے ان کی خدمت میں مندرجہ ذیل شعر پیش کرنے پر اکتفا کرتے ہیں کہ؎
پردے میں گل کے لاکھ جگر چاک ہو گئے
آپ کا مخلص: محمد ابراہیم میر پوری
ضروری تمہید، جھوٹ کی مذمت اور کذبات ابراہیمی کی تحقیق
قادیانی اور لاہوری مرزائی اندرونی اختلاف کے باوجود مرزا غلام احمد قادیانی کو امام مہدی، مسیح موعود، مجدد، مامور اور مقبول بارگاہ الٰہی تسلیم کرتے اور ان کی ذات کو مدار نجات یقین کرتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ایسی عظیم شخصیت کا اخلاقی رذائل سے پاک ہونا ازحد ضروری ہے۔ بالفاظ دیگر اگر ان مقدس دعاوی کے مدعی کی نسبت یہ معلوم ہو جائے کہ اس کا دامن عام انسانی اخلاق سے بہرہ ور نہیں بلکہ اس پر رذائل کے بے شمار داغ موجود ہیں تو اس کے دعاوی کی تردید کے لئے کسی مزید تردید کی ضرورت نہیں رہتی۔ بلکہ اس کے اخلاق کی گراوٹ ہی اس امر کا بین ثبوت ہے کہ یہ شخص اپنے تمام دعووں میں جھوٹا، فریبی، مفتری اور دجال ہے۔ چنانچہ مرزائے قادیان بھی اپنی کتب میں جھوٹ کی نسبت مندرجہ ذیل تاثرات کا اظہار فرماتے ہیں۔
- ١...... ”جھوٹ بولنا مرتد ہونے سے کم نہیں۔“
(اربعین نمبر ٣ ص ٢٠ حاشیہ، خزائن ج ١٧ ص ٤٠٧)
- ٢...... ”جھوٹ ام الخبائث ہے۔“
(اشتہار مورخہ ١٧؍مارچ ١٨٩٨ء، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٣١)
- ٣...... ”خود تراشیدہ بات کو خدا کی وحی کہنے والا کتوں، سوروں اور بندروں سے
بدتر ہوتا ہے۔“
(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٢٦، خزائن ج ٢١ ص ٢٩٢)
- ٤...... ”قرآن شریف نے دروغ گوئی کو بت پرستی کے برابر ٹھہرایا ہے۔“
(نور القرآن نمبر ٢ ص ٢٨، خزائن ج ٩ ص ٤٠٣)
- ٥...... ”قرآن نے جھوٹوں پر لعنت کی ہے اور فرمایا ہے کہ جھوٹے شیطان کے
مصاحب ہوتے ہیں اور جھوٹے بے ایمان ہوتے ہیں اور جھوٹوں پر شیاطین نازل ہوتے ہیں اور صرف یہی نہیں فرمایا کہ تم جھوٹ مت بولو۔ بلکہ یہ بھی فرمایا ہے کہ تم جھوٹوں کی صحبت بھی چھوڑ دو
٧
اور ان کو اپنا یار دوست مت بناؤ اور خدا سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ رہو اور ایک جگہ فرماتا ہے کہ جب تو کوئی کلام کرے تو تیری کلام محض صدق ہو۔ ٹھٹھے کے طور پر بھی اس میں جھوٹ نہ ہو۔“
(نور القرآن ص٣٣ حصہ ٢، خزائن ج ٩ ص ٤٠٨)
- ٦...... ”جب ایک بات میں کوئی جھوٹا ثابت ہو جائے تو پھر دوسری باتوں میں
بھی اس پر اعتبار نہیں رہتا۔“
(چشمہ معرفت ص٢٢٢، خزائن ج٢٣ ص٢٣١)
- ٧...... ”نبی کے کلام میں جھوٹ جائز نہیں۔“
(مسیح ہندوستان میں ص٢١، خزائن ج١٥ ص٢١)
مرزا قادیانی کے ان ارشادات سے روز روشن کی طرح ثابت ہوا کہ جھوٹ بولنے والا انسان ہرگز ہرگز خدا کا مقبول نہیں ہو سکتا۔ چہ جائیکہ مسیح ، مہدی، مجدد اور نبی ورسول ہو جائے۔ مگر افسوس کہ ان تمام تصریحات کے باوجود مرزا قادیانی کا دامن جھوٹ سے پاک نہ تھا اور انہوں نے اپنی تصنیفات میں قرآن وحدیث ، بزرگان دین اور اپنی تحریرات میں سینکڑوں جھوٹ بولے اور صدہا مقامات پر تحریف لفظی اور معنوی اور دجل وفریب سے کام لیا ہے۔ جب ہم اس نقطہ نگاہ سے مرزا قادیانی کی ذات کو زیر بحث لاتے اور اسی معیار سے ان کا کذب ثابت کرتے ہیں تو مرزائی جماعت ہم پر یہ الزام عائد کرتی ہے کہ آپ لوگ انبیاء کے لئے جھوٹ جائز تسلیم کرتے ہیں اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کو تین جھوٹ کا مرتکب قرار دیتے ہیں اور اس کے ثبوت میں بخاری شریف کی ایک حدیث پیش کرتے ہیں۔
ہمارا جواب
ہمارا ایمان ہے کہ بخاری شریف کی حدیث بھی صحیح ہے۔ کیونکہ ”بخاری شریف اصح الکتب بعد کتاب اللہ (یعنی قرآن شریف کے بعد روئے زمین کی تمام کتابوں سے صحیح ترین کتاب) ہے۔“
(شہادۃ القرآن ص٤١، خزائن ج٦ ص٣٣٧)
لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام کا دامن بھی جھوٹ سے پاک اور صاف ہے کیونکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا یہ فعل کذب نہیں بلکہ توریہ ہے۔ باقی رہی یہ بات کہ توریہ کیا ہوتا ہے اور اس پر کذب کا لفظ کیوں چسپاں کیا جاتا ہے۔ اس کی وضاحت بھی مرزا قادیانی کی زبان سے سنئے۔
”بعض احادیث میں توریہ کے جواز کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے اور اسی کو نفرت دلانے کی غرض سے کذب کے نام سے موسوم کیا گیا ہے اور ایک جاہل اور احمق جب ایسا لفظ کسی حدیث میں بطور تسامح کے لکھا ہوا پاوے تو شاید حقیقی کذب ہی سمجھ لے۔ کیونکہ وہ اس قطعی فیصلہ
٨
سے بے خبر ہے کہ حقیقی کذب اسلام میں پلید اور حرام اور شرک کے برابر ہے۔ مگر توریہ جو درحقیقت کذب نہیں گو کذب کے رنگ میں ہی اضطرار کے وقت عوام کے واسطے اس کا جواز حدیث سے پایا جاتا ہے۔ مگر پھر بھی لکھا ہے کہ افضل وہی لوگ ہیں جو توریہ سے بھی پرہیز کریں اور توریہ اسلامی اصطلاح میں اس کو کہتے ہیں کہ فتنہ کے خوف سے ایک بات کو چھپانے کے لئے یا کسی اور مصلحت پر ایک راز کی بات مخفی رکھنے کی غرض سے ایسی مثالوں اور پیرایوں میں اس کو بیان کیا جائے کہ عقل مند تو اس بات کو سمجھ جائے اور نادان کی سمجھ میں نہ آئے اور اس کا خیال دوسری طرف چلا جائے۔ جو متکلم کا مقصود نہیں اور غور کرنے کے بعد معلوم ہو کہ جو کچھ متکلم نے کہا ہے وہ جھوٹ نہیں بلکہ حق محض ہے اور کذب کی اس میں آمیزش نہ ہو اور نہ دل میں کذب کی طرف ذرہ بھر میلان ہو۔ جیسا کہ بعض احادیث میں دو مسلمانوں میں صلح کرانے کے لئے یا اپنی بیوی کو کسی فتنہ اور خانگی ناراضگی اور جھگڑے سے بچانے کے لئے یا جنگ میں اپنے مصالح دشمن سے مخفی رکھنے کے لئے اور دشمن کو اور طرف جھکا دینے کی نیت سے توریہ کا جواز پایا جاتا ہے۔“
(نورالقرآن حصہ دوم ص ٢٩، ٣٠، خزائن ج ٩ ص ٤٠٤، ٤٠٥)
مرزا قادیانی کے اس طویل بیان سے توریہ کی حقیقت، غرض وغایت اور موقعہ استعمال کے علاوہ اس کا جواز بھی ثابت ہو گیا اور یہ بھی پتہ چل گیا کہ توریہ کو کذب کس مصلحت کے تحت کہا جاتا ہے۔ ہمارے خیال میں کذبات ابراہیمی اور حدیث بخاری کی یہی حقیقت ہے۔
اور سنئے : مرزا قادیانی اپنی مشہور کتاب (آئینہ کمالات اسلام ص ٥٩٧، خزائن ج ٥ ص ایضاً) میں اسی موضوع پر اظہار خیال کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ: ”یاد رہے کہ اکثر ایسے اسرار دقیقہ بصورت اقوال یا افعال انبیاء سے ظہور میں آتے رہے ہیں۔ جو نادانوں کی نظر میں سخت بیہودہ اور شرمناک کام ہے۔ جیسا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا مصریوں کے برتن اور پارچات مانگ کر لے جانا اور پھر اپنے تصرف میں لانا اور حضرت مسیح کا کسی فاحشہ کے گھر میں چلے جانا اور اس کا پیش کردہ عطر جو حلال وجہ سے نہیں تھا استعمال کرنا اور اس کے لگانے سے روک نہ دینا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کا تین مرتبہ ایسے طور پر کلام کرنا جو بظاہر دروغ گوئی میں داخل تھا۔ پھر اگر کوئی تکبر اور خودستائی کی راہ سے اس بناء پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نسبت یہ کہے کہ نعوذ باللہ وہ مال حرام کھانے والا تھا یا حضرت مسیح کی نسبت یہ زبان پر لاوے کہ وہ طوائف کے گندہ مال کو اپنے کام میں لایا یا حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت یہ تحریر شائع کرے کہ مجھے جس قدر ان پر بدگمانی ہے اس کی وجہ ان کی دروغ گوئی ہے تو ایسے خبیث کی نسبت اور کیا کہہ سکتے ہیں کہ اس کی فطرت ان پاک لوگوں کی
٩
فطرت کے مغائر پڑی ہوئی ہے اور شیطان کی فطرت کے موافق اس پلید کا مادہ اور خمیر ہے۔“
کذبات ابراہیمی کے متعلق ہمارا بھی یہی عقیدہ ہے جو مرزا قادیانی نے اس عبارت میں تحریر کیا ہے۔ مرزا قادیانی کی ان دونوں تحریروں سے تمام مسئلہ حل ہو جاتا ہے۔ ہم پر بھی کوئی الزام نہیں آتا۔ جناب خلیل (سیدنا ابراہیم) کی پوزیشن بھی صاف رہتی ہے اور حدیث بخاری بھی صحت کے مقام سے نہیں گرتی۔ لیکن افسوس کہ مرزائی جماعت بحث کو الجھانے کے لئے اور خدا کے مقدس انبیاء کو مرزا قادیانی کی سطح پر لانے کے لئے مرزا قادیانی کی تحریرات کو بھی نظر انداز کر دیتی ہے۔
نوٹ: ہمارے مخاطب چونکہ تمام مرزائی (قادیانی اور مرزائی) ہیں۔ اس لئے ہم نے اپنے الزامی مضمون کو مرزا قادیانی کی تحریرات پر محدود رکھا ہے۔ اب ہم قادیانی جماعت کے مزید اطمینان کے لئے ان کے مصلح موعود اور خلیفہ ثانی جناب میاں بشیر الدین محمود احمد کا ایک فرمان نقل کئے دیتے ہیں۔ موصوف حضرت ابراہیم علیہ السلام کے کذب پر اظہار خیال کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ: ”بخاری کی حدیث کو ایک نبی کی عصمت کو محفوظ رکھنے کے لئے رد تو کیا جا سکتا ہے۔ لیکن اس بارہ میں میرے لئے ایک مشکل ہے اور وہ یہ ہے کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے رؤیا کے ذریعہ بتایا ہے کہ بخاری میں جس قدر حدیثیں ہیں وہ سب سچی (یعنی صحیح) ہیں اور چونکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے متعلق بخاری میں ہی ثلاث کذبات کے الفاظ آتے ہیں۔ اس لئے سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر اس کا مفہوم کیا ہے۔ جہاں تک کذبات کے لفظ کا سوال ہے۔ اس حد تک یہ بات بالکل صاف ہے کہ کذب کے معنی عربی زبان کے محاورہ کے مطابق ایسی بات کہنے کے بھی ہوتے ہیں جو دوسروں کی نگاہ میں جھوٹ نظر آئے۔ لیکن ہو سچی...... جس حد تک یہ واقعہ بخاری میں آتا ہے ہم اس کی تصدیق کرتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جھوٹ بولا بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ تین دفعہ ایسا موقعہ پیش آیا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایک بات کہی جس کے لوگوں نے ایسے معنی لئے جن کی بناء پر بعد میں انہوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جھوٹا کہا۔ مگر وہ غلطی پر تھے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جو کچھ کہا تھا وہ سچ تھا اور لوگوں نے خود غلطی کی تھی اور یہ ان لوگوں کا اپنا خیال تھا۔“
(الفضل قادیان ج ٣٢ شمارہ ١٥٠، مورخہ ٢٩ جون ١٩٤٤ء ص ١، ٢)
ہمیں امید ہے کہ قادیانی جماعت اپنے مسیح موعود اور مصلح موعود کا فرمان ملاحظہ کرنے کے بعد کبھی بھی ہم پر یہ الزام عائد نہ کرے گی۔ کیونکہ ؎
دفع دخل مقد اس خلیفہ صاحب کی نزدیک کذبات تو اس کے جوا خلیفہ صاحب ن باوجود حضرت ا ہے کہ جناب خلی چند ا۔... فرماتے ہیں: ” فهذا ايضا (الجواب الـ کے مطابق ہوا تعریض بھی ایـ ٢۔ یوں حل فرما تورية وتج السامع وا صحيحا و صدق بالـ ولمعاريض ولم يخبر الـ کہ حضرت ابرا جھوٹ کیوں ک کہ اس کلام س
١٠
دفع دخل مقدر
اس مقام پر اگر کوئی مرزائی یہ کہے کہ یہ تمام تصریحات تو ہمارے حضرت صاحب اور خلیفہ صاحب کی ہیں اور انہوں نے ہی اس الجھے ہوئے مسئلہ کو سلجھایا ہے کیونکہ دوسرے علماء کے نزدیک کذبات ابراہیمی کی حقیقت یہ نہیں اور نہ ہی دیگر علماء حدیث بخاری کی یہ تشریح فرماتے ہیں تو اس کے جواب میں یہ بتانا ضروری ہے کہ کذبات ابراہیمی کی اس تشریح کا سہرا مرزا قادیانی اور خلیفہ صاحب کے سر نہیں۔ بلکہ ابتداء سے محققین علمائے اہل سنت حدیث بخاری کو صحیح کہنے کے باوجود حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حقیقی جھوٹ سے معصوم کہتے رہے ہیں اور ان کی تحقیق بھی یہی ہے کہ جناب خلیل نے ان ارشادات میں توریہ فرمایا ہے اور یہ کلمات تعریضی انداز میں کہے ہیں۔
چند محققین علماء، مفسرین قرآن اور مجددین امت کے ارشادات ملاحظہ فرمائیے۔
- ١....... شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ مجدد صدی ہشتم اس مسئلہ پر بحث کرتے ہوئے
فرماتے ہیں: ”اذا كان اللفظ مطابقاً لمعناه المتكلم ولم يطابق افهام المخاطب فهذا ايضاً قد يسمى كذباً وقد لا يسمى ومنه المعاريض لكن يباح للحاجة (الجواب الصحيح لمن بدل دين المسيح ج٤ ص٢٨٨) ﴿”جب کوئی لفظ متکلم کی اپنی مراد کے مطابق ہو اور اس سے مخاطب کو کچھ اور سمجھانا مقصود ہو تو ایسے کلام کو جھوٹ بھی کہا جا سکتا ہے اور تعریض بھی ایسی ہی کلام کو کہتے ہیں اور تعریض ضرورت کے وقت جائز ہے۔﴾
- ٢....... شیخ الاسلام کے لائق تلمیذ حافظ ابن القیم مجدد صدی ہشتم اس اعتراض کو
یوں حل فرماتے ہیں: ”فان قيل كيف سماها ابراهيم عليه السلام كذبات وهى تورية وتعريض فنقول الكلام له نسبتان نسبة الى المتكلم ونسبة الى السامع وافهام المتكلم اياه مضمونه...... ان قصد المتكلم معنى مطابقاً صحيحاً وقصد مع ذالك التعمية على المخاطب وافهامه خلاف ما قصده فهو صدق بالنسبة الى قصده، كذب بالنسبة الى افهامه ومن هذا الباب التورية ولمعاريض وبهذا اطلق عليها الخليل اسم الكذب مع انه الصادق في خبره ولم يخبر الا صدقاً فتأمل (مفتاح دارالسعاده ج٢ ص٣٩) ﴿”اگر کوئی اعتراض کرے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے (حدیث شفاعت میں) اپنے کلمات کو جو توریہ اور تعریض ہیں۔ جھوٹ کیوں کہا؟ ہماری طرف سے اس کا جواب یہ ہے کہ ہر کلام کے دو پہلو ہوتے ہیں۔ اوّل یہ کہ اس کلام سے متکلم کا اپنا مقصد اور ارادہ کیا ہے۔ دوسرا یہ کہ متکلم اس سے اپنے مخاطب کو کیا سمجھانا
١١
چاہتا ہے۔۔۔۔۔۔ اگر متکلم کے اپنے ذہن میں کوئی ایسا معنی ہو جو الفاظ کے مطابق صحیح ہو لیکن وہ اپنے مخاطب کو اندھیرے میں رکھنا اور کوئی دوسرا مفہوم سمجھانا چاہتا ہو تو ایسا کلام متکلم کے اپنے ارادہ کے لحاظ سے تو سچ ہوگا۔ لیکن چونکہ مخاطب کو کچھ اور سمجھانا مقصود ہے۔ اس لحاظ سے ایسا کلام جھوٹ کہلائے گا۔ توریہ اور تعریض میں بھی یہی ہوتا ہے کہ متکلم اپنے کلام میں سچا ہونے کے باوجود مخاطب کو کچھ اور سمجھانا چاہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے کلمات کو جھوٹ سے تعبیر فرمایا۔ حالانکہ آپ خود بھی سچے تھے اور خبر بھی سچی ہی دے رہے تھے۔ اس بات پر خوب غور کیجئے۔﴾
- ......٣ امام نوویؒ شارح صحیح مسلم اس حدیث کی تشریح میں فرماتے ہیں: ”ان
الكذبات المذكورة انما هی بالنسبة الی فهم المخاطب والسامع وامافی نفس الامر فليست كذباً مذموماً لانه ورّى بها (بحواله تحفة الاحوذی ج٤ ص١٤٨، كتاب التفسير زير آيت بل فعله كبيرهم) “ ﴿حضرت ابراہیم علیہ السلام کے مذکورہ جھوٹ مخاطب اور سامع کے فہم کی بناء پر تو جھوٹ ہیں۔ لیکن درحقیقت یہ وہ جھوٹ نہیں جو قابل مذمت ہو۔ کیونکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان فقرات میں توریہ فرمایا ہے۔﴾
- ......٤ ”والمراد بالكذب، الكذب صورة لا حقيقة فيقول ذالك
بانه كذب بالنسبة الی فهم السامعين (صحيح بخارى كتاب الانبياء اصح المطابع ج١ ص٤٧٤، باب قول الله عزوجل واتخذالله ابراهيم خليلاً) “ ﴿حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ان کلمات میں جھوٹ سے مراد صرف ظاہری جھوٹ ہے اور انہیں سامعین کے فہم کی وجہ سے جھوٹ کہا گیا ہے۔﴾
- ......٥ ”ليس هذا من باب الكذب الحقيقى الذى يذم فاعله
حاشا وكلا وانما اطلق الكذب علی هذا تجوزاً وانما هو من المعاريض فی الكلام لمقصد شرعی دينی (تفسير ابن كثير آيت انی سقيم ج٧ ص٢١) “ ﴿حضرت ابراہیم علیہ السلام کے یہ فقرات ہرگز ہرگز ایسے حقیقی جھوٹ نہیں ہیں۔ جن کا مرتکب قابل مذمت ہو۔ (بلکہ) ان فقرات کو مجازی رنگ میں جھوٹ کہا گیا ہے۔ درحقیقت یہ تعریضات ہیں۔ وہ بھی شرعی اور دینی مقصد کے لئے۔﴾
- ......٦ ”فان قلت قد سماها النبى كذبات قلت معناه انه لم يتكلم
بكلام صورته صورة الكذب وان كان حقاً فی الباطن الا هذه الكلمات
١٢
(تفسیر خا آنحضرتﷺ ن اسی ارشاد کا معنی ی ہیں جو درحقیقت ج
- .......٧
معراض من ا ﴿توریہ کے رنگ تعریض فرمائی تھی
- .......٨
فرماتے ہیں: ”ث ج٦ ص١٦٤، ت سے مراد تعریضات
- .......٩
ص١٢٣، آیت
- ١٠
کفرهم (تفس جب اپنے آپ دل تمہارے کفر
- ١١
كذبات تس مصری ج٢ ص السلام کے جن سے کذبات کہ
- ١٢
فهو لفظ اس فی علوم القر
(تفسیر خازن مصری ج ٣ ص ٢٦٤، آیت بل فعله كبيرهم) ”اگر تو کہے کہ آنحضرت ﷺ نے ان کلمات کو جھوٹ (کیوں) کہا ہے تو میں کہتا ہوں کہ آنحضرت ﷺ کے اسی ارشاد کا معنی یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ساری زندگی میں صرف یہی کلمات کہے ہیں جو درحقیقت سچ ہونے کے باوجود ظاہراً جھوٹ سے ملتے جلتے ہیں۔﴾
- ......٧ ”والكذب حرام الا اذا عرض والذى قاله ابراهيم
معراض من الكلام (تفسير مدارك زير آيت انى سقيم برحاشیه تفسیر خازن) “ ﴿تعریض حق کے علاوہ جھوٹ بالکل حرام ہے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بھی کلام میں تعریض فرمائی تھی۔﴾
- ......٨ امام فخر الدین رازی مجدد صدی ششم حدیث مذکورہ پر جرح کرنے کے بعد
فرماتے ہیں: ”ثم ان ذالك الخبر لوصح فهو محمول على المعارض (تفسير كبير ج ٦ ص ١٦٤، آيت بل فعله كبيرهم) “ ﴿اگر اس حدیث کو صحیح تسلیم کر لیا جائے تو پھر کذبات سے مراد تعریضات ہیں۔﴾
- ......٩ ”والمراد بالكذبات التعريضات والتورية (تفسير مظهرى ج ٨
ص ١٢٣، آیت انی سقم) “ ﴿اس حدیث میں کذبات سے مراد تعریضات اور توریہ ہے۔﴾
- ......١٠ ”انی سقیم اراد التورية ای ساسقم او سقيم النفس من
كفرهم (تفسیر جامع البیان ص ٣٨١، آیت انی سقیم) “ ﴿حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب اپنے آپ کو بیمار کہا تو انہوں نے توریہ کیا تھا اور ان کی مراد یہ تھی کہ میں بیمار ہو جاؤں گا یا میرا دل تمہارے کفر سے بیزار ہے۔﴾
- ......١١ ”وما روى انه عليه الصلوة والسلام قال لابراهيم ثلاث
كذبات تسمية للمعاريض كذباً لما شابهت صورتها صورة (تفسیر بیضاوی مصری ج ٣ ص ١٩٦، آیت بل فعله كبيرهم) “ ﴿آنحضرت ﷺ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے جن تین کلمات کو جھوٹ کہا ہے۔ درحقیقت تعریضات ہیں اور ان کی ظاہری مشابہت سے کذبات کہا گیا ہے۔﴾
- ......١٢ امام جلال الدین سیوطیؒ مجدد صدی نہم فرماتے ہیں: ”واما التعريض
فهو لفظ استعمل فى معناه للتلويح بغيره نحو بل فعله كبيرهم هذا (الاتقان فى علوم القرآن مصری ج ٢ ص ٤٨، نوع ٥٤) “ ﴿تعریض یہ ہے کہ ایک لفظ استعمال تو اپنے
١٣
ہی معنی میں کیا جائے۔ لیکن دوسرے کو کچھ اور کچھ سمجھانا مقصود ہو۔ جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام کا یہ ارشاد کہ ”بل فعلہ کبیرھم ھذا“
....... ١٣ جناب مرزا حیرت دہلویؒ حاشیۃ القرآن میں حدیث بخاری کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”اس حدیث میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا جھوٹ بولنا بیان ہوا۔ حالانکہ انبیاء معصوم ہوتے ہیں۔ اس خیال سے بعض لوگوں نے اس حدیث کی صحت سے انکار کیا ہے۔ مگر یہ ٹھیک نہیں۔ اس لئے کہ یہ حدیث صحیح بخاری کی ہے۔ اس کی صحت میں کلام نہیں کیا گیا۔ بلکہ اس حدیث میں جھوٹ سے مراد توریہ ہے یعنی ذومعنی بات کہنا۔ چونکہ ظاہری مطلب اس کا خلاف واقعہ ہے۔ اس لئے جھوٹ کی نسبت ان کی طرف کی گئی۔“
(پ ١٧، آیت بل فعلہ کبیرہم)
ہم نے اپنے ناظرین کو اصل حقیقت سمجھانے اور مرزائی جماعت پر اتمام حجت کے لئے پوری تفصیل سے کام لیا ہے۔ امید ہے کہ ہمارے احباب ہماری تحریر میں اطمینان قلب کا سامان پائیں گے اور آئندہ کبھی مرزائی جماعت کے الزام سے پریشان نہ ہوں گے اور ہمارے مرزائی دوست بھی اگر انصاف سے کام لیں تو آئندہ ہم پر یہ الزام قائم نہ کریں گے۔
اس کے بعد ہم اپنے انعامی اشتہار مرزائے قادیان کے دس جھوٹ کا نمبر وار جواب الجواب پیش کرتے ہیں اور لاہوری ایڈیٹر مولوی دوست محمد صاحب اور قادیانی مجیب جناب قاضی محمد نذیر صاحب فاضل لائل پوری نے مرزا قادیانی کو جھوٹ کے الزام سے بچانے کے لئے جو تاویلات اور عذرات پیش کئے ہیں۔ ان کا ابطال کرتے ہیں۔ ”ان ارید الا الاصلاح ما استطعت وما توفیقی الا باللہ علیہ توکلت والیہ انیب“
پہلا جھوٹ
مرزا قادیانی اپنی کتاب (شہادۃ القرآن ص ٦٩، ٧٠، خزائن ج ٦ ص ٣٦٥) پر اپنی صداقت کا ثبوت دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ: ”چودھویں صدی کے سر پر مسیح موعود کا آنا جس قدر قرآن، حدیث اور اولیاء کے مکاشفات سے بپایہ ثبوت پہنچتا ہے۔“
بتایا جائے کہ یہ مضمون قرآن مجید کے کس پارہ اور کون سی سورۃ میں ہے اور یہ مضمون حدیث کی کون سی کتاب کے کتنے صفحہ پر ہے۔ یا تسلیم کیا جائے کہ یہ حضرت صاحب کا مقدس جھوٹ ہے۔
جواب
اس اعتراض کے جواب میں لاہوری اور قادیانی مجیب نے قرآن مجید سورۂ نور کی
١٤
آیت استخلاف سے استدلال کیا ہے۔ دونوں کے الفاظ مختلف ہیں۔ لیکن مفہوم واحد ہے۔ ہم قادیانی مجیب کے الفاظ نقل کر دیتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ : ”یہ مضمون پارہ ١٨، سورۃ نور کی آیت ”وعد اللہ الذین آمنوا منکم وعملوا الصالحات لیستخلفنہم فی الارض کما استخلف الذین من قبلہم“ سے اخذ کیا گیا ہے۔
ترجمہ : اس آیت کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تم میں سے ایمان لا کر اعمال صالح بجالانے والوں سے وعدہ کیا ہے کہ انہیں زمین میں اسی طرح خلیفے بنائے گا۔ جس طرح اس نے ان لوگوں کو خلیفہ بنایا جو ان سے پہلے گزرے ہیں۔“
آیت اور لفظی ترجمہ کے بعد قادیانی مجیب نے حسب ذیل استدلال کیا ہے کہ اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ امت محمدیہ کے خلفاء امت موسویہ کے خلفاء کے مشابہ ہوں گے۔ حضرت اقدس (مرزا قادیانی) کے نزدیک حضرت عیسیٰ علیہ السلام امت موسوی کے آخری خلیفہ تھے۔ جو حضرت موسیٰ علیہ السلام سے قریباً چودہ سو سال کے بعد ہوئے۔ اس لئے مسیح محمدی کو جو آنحضرت ﷺ کا خلیفہ ہے چودھویں صدی کے سر پر آنا چاہئے۔
(رسالہ دس جھوٹ ص ٥، پیغام صلح مورخہ ٧ مئی ١٩٥٨ء ص ٤)
جواب الجواب
مرزائی جماعت کے ہر دو مجیب صاحبان نے مرزا قادیانی کو ہمارے الزام سے بری کرنے کے لئے مرزا قادیانی کی متابعت میں قرآن مجید سے جس آیت کا حوالہ دیا ہے اور اس آیت کریمہ سے جو استدلال فرمایا ہے۔ ہمارے خیال میں بالکل غلط، سراسر دجل و فریب اور مرزائی جماعت کی سادگی اور قرآن مجید سے بے خبری کا بین ثبوت ہے۔ ہمارے دعویٰ کے ثبوت ملاحظہ فرمائیے ۔
اول ...... ہر دو مجیب صاحبان نے آیت کریمہ کے چند ابتدائی الفاظ تو نقل کر دیئے۔ لیکن وہ الفاظ چھوڑ دیئے ہیں۔ جن سے موعودہ خلافت کی پہچان اور شان ظاہر ہوتی ہے اور جن سے روز روشن سے زیادہ اس امر کا ثبوت ملتا ہے کہ مرزا قادیانی کی خانہ ساز خلافت کو اس آیت کریمہ والی خلافت سے دور دراز کا تعلق بھی نہیں۔
موعودہ خلافت کی پہچان
اللہ تعالیٰ نے امت محمدیہ کو اس آیت میں جس خلافت کا وعدہ دیا ہے۔ وہ خلافت کسی کافر حکومت کے زیر سایہ کاغذی خلافت نہیں بلکہ وہ خود مختار حکومت ہے۔ جس کے فرائض میں
١٥
مسلمانوں کے تمام حقوق سیاسیہ کی نگہداشت، اسلامی مملکت میں امن وامان کا قیام، اعدائے اسلام سے جہاد بالسیف، اسلامی نظام کا احیاء، مرتدین کی سرکوبی، حدودالہیہ کا اجراء، قرآن وسنت کی تعلیم وتبلیغ اور اسلامی مملکت کی سرحدوں کی حفاظت وغیرہ تمام امور شامل ہیں۔ موعودہ خلافت کے یہ فرائض قرآن مجید کی متفرق آیات میں تفصیلاً اور آیت مذکورہ میں مختصراً یوں بیان کئے گئے ہیں۔ "ولیمکنن لهم دينهم الذي ارتضى لهم وليبدلنهم من بعد خوفهم امنا" ﴿یعنی اللہ تعالیٰ اس خلافت کے ذریعے مسلمانوں کے دین کو جو اس کا پسندیدہ دین ہے۔ تسلط عطا فرمائے گا اور مسلمانوں کے خوف کو امن میں تبدیل کردے گا۔﴾ یہی وجہ ہے کہ اہل سنت کے نزدیک یہ آیت مسئلہ خلافت میں فیصلہ کن ہے اور وہ اس آیت کریمہ سے خلفائے راشدین کی خلافت پر استدلال کرتے ہیں۔
دوم ....... ہم حیران ہیں کہ مرزا قادیانی ایک طرف تو انگریز بہادر کے زیر سایہ نام نہاد، روحانی خلافت کے لئے اس آیت سے استدلال کرتے ہیں۔ لیکن دوسری طرف حضرت عمرؓ، حضرت عثمانؓ اور مولا علیؓ کی خلافت کو بھی اس موعودہ خلافت میں شامل کرنے سے انکار کرتے ہیں۔ چنانچہ آپ اپنی مشہور کتاب سرالخلافۃ میں ان آیات کی تفسیر بیان کرنے کے بعد فرماتے ہیں: "فالحاصل ان هذه الايات كلها مخبرة عن خلافة الصديق وليس له محمل اخر " ﴿یعنی حاصل کلام یہ کہ ان تمام آیات میں حضرت ابو بکر صدیق کی خلافت کی خبر ہے اور خلافت صدیق کے علاوہ کوئی دوسرا مصداق اس آیت کا نہیں ہے۔﴾
اس عبارت کے چند سطر بعد اسی صفحہ میں ارشاد فرماتے ہیں کہ: "ولا شك ان مصداق هذا النباء ليس الا ابوبكر وزمانه " ﴿یعنی اس امر میں ذرہ برابر شک نہیں کہ اس خبر (خلافت موعود) کا مصداق صرف حضرت ابو بکرؓ اور ان کا زمانہ (خلافت) ہے۔﴾
(سرالخلافۃ ص١٧، خزائن ج٨ ص ٣٣٦)
پھر اسی کتاب کے ص١٨ پر شیعہ حضرات کو ان الفاظ سے مخاطب کرتے ہیں: "وعلمت ان الصديق اعظم شانا وارفع مكاناً من جميع الصحابة وهو الخليفة الاول بغير الاسترابة وفيه نزلت ايات الخلافة " ﴿یعنی مجھے خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ علم بلاشک وشبہ دیا گیا ہے کہ حضرت ابو بکر صدیقؓ تمام صحابہ سے اعلیٰ شان اور ارفع مکان کے مالک ہیں اور خلافت (موعودہ) والی تمام آیات انہی کے حق میں نازل ہوئی ہیں۔﴾
(سرالخلافۃ ص ١٨، خزائن ج ٨ ص ٣٣٧)
١٦
پھر اسی کتاب کے ص ٣٠ پر حضرت علیؓ اور ان کے مخالفین کے ذکر میں فرماتے ہیں: ”والحق ان الحق كان مع المرتضىٰ ومن قاتله فى وقته فبغىٰ وطغىٰ ولكن خلافته ماکان مصداق الامن المبشر به من الرحمان“ یعنی حق بات یہ ہے کہ حضرت علی مرتضیٰؓ حق پر اور ان سے لڑائی کرنے والے باغی تھے۔ لیکن حضرت علیؓ کی خلافت اس آیت کا مصداق نہیں جس میں امن وامان والی خلافت کی بشارت دی گئی ہے۔
(سرالخلافہ ص ٣٠، خزائن ج ٨ ص ٣٥٢)
مرزا قادیانی کی ان تمام تصریحات کا مطلب صاف ہے کہ اس آیت میں فرمودہ خلافت صرف اور صرف حضرت ابوبکرؓ کی خلافت ہے۔ باقی تین خلفاء کی خلافت بھی اس آیت کا مصداق نہیں۔ مرزا قادیانی کے اس اقبال کے بعد آخر مرزا قادیانی کو اس آیت کریمہ کا مصداق کہا جائے تو کیوں؟
کجا خلافت ابوبکر صدیقؓ جیسی خود مختار اسلامی سلطنت اور کجا مرزا غلام احمد قادیانی کی قادیانی تحریک جس کی بنیاد ہی اس امر پر ہے کہ اسلام دشمن انگریز کو ”اولی الامر منکم“ کا مصداق خیال کرتے ہوئے واجب الاطاعت سمجھو اور ہر آن یہ دعا کرو کہ؎
ان کی شاہی میں میں پاتا ہوں رفاہ روزگار
(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١١١، خزائن ج ٢١ ص ١٤١)
سچ ہے۔
حضور بلبل بستاں کرے نواسنجی
سوم، ١٤٠٠ سال بعد یا چودھویں صدی کے سر پر
اس اصولی بحث کے بعد ضرورت تو نہیں تاہم اتمام حجت کے لئے قادیانی مجیب کے استدلال پر ہمارا نقض (توڑ) ملاحظہ فرمائیے۔ مجیب صاحب فرماتے ہیں کہ: ”حضرت اقدس (مرزائے قادیان) کے نزدیک حضرت عیسیٰ علیہ السلام جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے آخری خلیفہ تھے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے قریباً چودہ سو برس بعد ہوئے۔ اس لئے مسیح محمدی کو بھی آنحضرت ﷺ کے بعد چودھویں صدی کے سر پر آنا چاہئے ۔“ قاضی صاحب نے اس عبارت میں مرزا قادیانی کا حوالہ دیا ہے۔ ہم ناظرین کی آسانی کے لئے (ازالہ اوہام ص ٦٩٢، خزائن ج ٣
١٧
ص ٢٧٣) سے مرزا قادیانی کی اصل عبارت نقل کئے دیتے ہیں۔ ”منجملہ ان علامات کے جو اس عاجز کے مسیح موعود ہونے کے بارے میں پائی جاتی ہیں۔ وہ خدمات خاصہ ہیں جو اس عاجز کو مسیح ابن مریم کی خدمات کے رنگ پر سپرد کی گئی ہیں۔ کیونکہ مسیح اس وقت یہودیوں میں آیا تھا۔ جب کہ تورات کا مغز اور بطن یہودیوں کے دلوں پر سے اٹھایا گیا تھا اور وہ زمانہ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے چودہ سو برس بعد تھا کہ جب مسیح ابن مریم یہودیوں کی اصلاح کے لئے بھیجا گیا تھا۔ پس ایسے ہی زمانہ میں یہ عاجز آیا اور یہ زمانہ بھی حضرت مثیل موسیٰ علیہ السلام (محمد) کے وقت سے اسی زمانہ کے قریب قریب گزر چکا تھا۔ جو حضرت موسیٰ اور عیسیٰ علیہم السلام کے درمیان میں زمانہ تھا۔“
یہ عبارت صاف بتا رہی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ، حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد چودھویں صدی کے سر پر نہیں ۔ بلکہ ١٤ سو سال بعد یعنی پندرھویں صدی میں تشریف لائے تھے۔
مرزا قادیانی کا ایک اور ارشاد
مرزا قادیانی (ازالہ اوہام ص ٢٧٨ ، خزائن ج ٣ ص ٢٤١) میں فرماتے ہیں: ”پیش گوئیوں میں ہمیشہ ابہام ہوتا ہے۔ صاف اور مفصل بیان نہیں ہوتا۔ کیونکہ پیش گوئیوں میں سننے والوں کا امتحان منظور ہوتا ہے۔ چنانچہ تورات میں آنحضرت ﷺ کے حق میں پیش گوئی اس قسم کی مبہم ہے۔ جس میں وقت ، ملک اور نام نہیں بتایا گیا۔ اگر خدا تعالیٰ کو امتحان منظور نہ ہوتا تو پھر اس طرح بیان کرنا چاہئے تھا کہ اے موسیٰ علیہ السلام میں تیرے بعد بائیسویں صدی میں ملک عرب میں بنی اسماعیل میں سے ایک نبی پیدا کروں گا۔ جس کا نام محمد ہوگا اور ان کے باپ کا نام عبداللہ اور دادا کا نام عبدالمطلب اور والدہ کا نام آمنہ ہوگا اور وہ مکہ شہر میں پیدا ہوگا۔“
مرزا قادیانی کی اس عبارت سے صاف ظاہر ہے کہ آنحضرت ﷺ ، حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد بائیسویں صدی میں پیدا ہوئے ۔ اب رہی یہ بات کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور آنحضرت ﷺ کے درمیان کتنا عرصہ ہے تو یہ امر مسلمہ ہے کہ آنحضرت ﷺ اپریل ٥٧١ء یعنی چھٹی صدی میں پیدا ہوئے ۔ بائیسویں صدی سے چھ صدی نکال دیجئے ۔ تو نتیجہ صاف ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ، حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد سولہویں صدی میں تشریف لائے۔
پس نتیجہ صاف ہے کہ مرزا قادیانی اپنے ہی بیان کے مطابق مقررہ وقت سے بہت پہلے (٢٠٠ سال بیفور ٹائم) تشریف لے آئے ہیں ۔ لہٰذا آپ مسیح موعود نہیں ۔
١٨
اور یہ امر بھی ثابت ہو گیا کہ مرزا قادیانی کا یہ بیان کہ مسیح موعود کا چودھویں صدی کے سر پر آنا قرآن مجید سے ثابت ہے۔ غلط، جھوٹ اور فریب ہے۔ مجیب صاحبان نے مرزا قادیانی کی متابعت میں سورہ نور کی آیت استخلاف میں حرف تشبیہ (کما) کو بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ چونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام، حضرت موسیٰ علیہ السلام کے چودہ سو سال بعد تشریف لائے تھے۔ لہٰذا قرآن مجید سے یہ مضمون ثابت ہو گیا کہ مسیح موعود چودھویں صدی کے سر پر آئے گا۔ ہم نے مرزا قادیانی کے ارشادات سے ہی اس دلیل کا قلع قمع کر دیا ہے اور مرزا قادیانی کی تحریرات سے ثابت کر دیا ہے کہ مسیح موسوی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد چودھویں صدی کے سر پر نہیں بلکہ چودہ سو سال بعد یعنی پندرھویں صدی میں اور دوسرے ارشاد کے مطابق سولہویں صدی میں تشریف لائے تھے۔
مرزائی دوستو! مرزا قادیانی کا جھوٹ بھی تسلیم کرو اور ان کی مسیحیت موعودہ کا دعویٰ بھی غلط تسلیم کرو۔ کیونکہ قرآن مجید کی اس آیت سے مرزا قادیانی کے استدلال اور ان کے اپنے اقرار کے مطابق مسیح موعود سولہویں صدی میں تشریف لائیں گے اور جو اس سے پہلے مسیحیت موعودہ کا دعویٰ کرے وہ مسیح موعود نہیں بلکہ دجال ہے۔
لو آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا
- نوٹ: ١....... پندرھویں اور سولہویں صدی کے دونوں حوالے مرزائے قادیان کی اپنی
تحریرات سے پیش کئے گئے ہیں۔ وگرنہ بعض محققین نے یہ تصریح کی ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی وفات اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت تک ١٧١٦ سال گزرے تھے۔ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام، حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد اٹھارھویں صدی میں پیدا ہوئے تھے۔
(تنبیہ الاذکیاء فی قصص الانبیاء مرتبہ علامہ طاہر بن صالح الجزائری بحوالہ مرقع قادیان نومبر ١٩٣١ء)
- ٢....... مدت کی یہ تمام بحث محض مرزا قادیانی کے مسلمات اور ان کے سورۂ نور
والی آیت سے نام نہاد استدلال کی تردید کے لئے ہے۔ وگرنہ قرآن وسنت سے مسیح موعود کی علامات تو ثابت ہیں۔ لیکن ان کے زمانہ کی تعیین ثابت نہیں۔
احادیث نبویہ پر جھوٹ
مرزا قادیانی نے مسیح موعود کا چودھویں صدی کے سر پر آنا قرآن کے علاوہ احادیث نبویہ کی طرف بھی منسوب کیا تھا اور ہم نے اسے احادیث پر جھوٹ قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا تھا
١٩
کہ یہ مضمون حدیث کی کسی کتاب کے کون سے صفحہ پر ہے۔ ہمارے جواب میں ایک حدیث قادیانی مجیب نے پیش کی ہے اور ایک حدیث بڑی مشکل سے لاہوری ایڈیٹر نے بھی تلاش کر لی ہے۔ مگر اصل جواب سے ایک ہفتہ بعد کیونکہ اس اعتراض کا جواب ٣٠؍ اپریل ١٩٥٨ء کے پیغام صلح میں شائع ہوا تھا اور یہ حدیث ٧؍ مئی ١٩٥٨ء کے پرچہ میں شائع ہوئی ہے۔ قادیانی مجیب فرماتے ہیں کہ حدیث سے یہ مضمون اس طرح ثابت ہے کہ حذیفہ بن یمان سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا: ”اذا مضى الف ومأ تان واربعون سنة يبعث الله المهدی (النجم الثاقب ج٢ ص ٢٠٩، بحوالہ موعود کل اقوام)“ یعنی جب ١٢٤٠ سال گزر جائیں گے۔ تب اللہ تعالیٰ امام مہدی کو بھیجے گا۔
اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد قادیانی مجیب فرماتے ہیں کہ: ”اس حدیث سے ظاہر ہے کہ مہدی موعود کو اس حدیث کے مطابق ١٢٤٠ سال کے بعد ظاہر ہونا چاہئے۔ واقعات کی شہادت سے یہ حدیث مدنی معلوم ہوتی ہے۔ اگر ہجرت کے بعد آنحضرت ﷺ کی مدنی زندگی کے دس سال شامل کئے جائیں تو ١٢٥٠ھ بن جاتا ہے۔ جو حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی پیدائش کا سال ہے۔“
(رسالہ ص٦)
ہمارا جواب الجواب
کہنے کو تو قادیانی مجیب نے حدیث پیش کر دی اور ہمیں یقین ہے کہ مرزائی جماعت اس سے مطمئن بھی ہوگئی ہوگی۔ لیکن اس سادہ لوح جماعت سے کون پوچھے کہ:
اول...... یہ عبارت حدیث کی کس مستند کتاب میں ہے؟ قاضی صاحب نے تو اسے موعود کل اقوام کتاب سے نقل کیا۔ جو حدیث کی کتاب نہیں۔ بلکہ (غالباً) مرزا قادیانی کے متعلق کسی مرزائی نے لکھی ہے۔ پھر موعود کل اقوام کتاب کا مصنف بھی کسی حدیث کی کتاب کا حوالہ نہیں دیتا۔ بلکہ النجم الثاقب کا حوالہ دیتا ہے۔ نامعلوم یہ کس کی کتاب ہے؟ کس فن میں ہے؟ اور اس کے مصنف کا کیا نام ہے؟ اور اس کتاب کے مصنف نے یہ حدیث کہاں سے لی ہے؟ اور اس حدیث کی سند کیا ہے؟ اور بحالات موجودہ اس نام نہاد حدیث کی وقعت کیا ہے؟ کہ اسے استدلال کے مقام میں ذکر کیا جائے اور مخالف کے سامنے بطور سند پیش کیا جائے۔
دوم...... یہ عربی عبارات مرزا قادیانی کے اصول کے مطابق بھی حدیث نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ اس کا مضمون مہدی موعود کی پیش گوئی پر مشتمل ہے اور آپ ابھی ابھی مرزا قادیانی کا ارشاد ملاحظہ کر چکے ہیں کہ: ”پیش گوئیوں میں ہمیشہ ابہام ہوتا ہے۔ صاف اور مفصل بیان نہیں
٢٠
ہوتا۔ کیونکہ پیش گوئی سے مقصد امتحان ہوتا ہے۔ اس لئے اس میں صدی تک کا ذکر نہیں ہوتا۔"
(مفہوم حل ہو چکا ص ٢٤، ٢٥)
جب حسب ارشاد مرزا قادیانی الہامی پیش گوئیوں میں صدی وغیرہ کا ذکر بھی نہیں ہوتا تو پھر اس عربی عبارت کو آنحضرت ﷺ کی حدیث کس طرح کہا جا سکتا ہے۔ جس میں صدی چھوڑ ٹھیک ١٤٢٠ھ کا ذکر بھی موجود ہے۔
سوم ....... اگر اسے چند منٹ کے لئے حدیث رسول تسلیم کر بھی لیا جائے۔ پھر بھی مرزا قادیانی اس کے مصداق نہیں ہو سکتے ۔ کیونکہ اس کا مضمون آپ کی تشریح کے مطابق یہ ہے کہ ١٢٥٠ھ میں امام مہدی مبعوث ہوں گے اور آپ کے اقرار کے مطابق مرزا قادیانی ١٢٥٠ھ میں مبعوث نہیں بلکہ پیدا ہوئے اور ان کے مبعوث ہونے تک چودھویں صدی کا آغاز ہو چکا تھا۔ نتیجہ صاف ہے کہ مرزا قادیانی اس حدیث کے مطابق کم از کم ٦٠ سال لیٹ آئے ۔ حالانکہ ہم اس سے پہلے ثابت کر آئے ہیں کہ مرزا قادیانی اپنے اقرار کے مطابق قریباً دو سو سال پہلے (یعنی بیفور ٹائم ) تشریف لے آئے ہیں۔
قادیانی دوستو! یہ کیا گورکھ دھندا ہے؟
لاہوری ایڈیٹر
لاہوری ایڈیٹر نے اپنے دعویٰ پر حسب ذیل حدیث پیش کی ہے: ”عن ابی جعفر القمی ھذا باسناده عن علی قال قال رسول الله ابشروا ثلاث مرات انما مثل امتی کمثل غیث لا یدریٰ اولہ خیر ام اخرہ وکیف یھلک امة انا اولھا واثنا عشر خلیفة من بعدی والمسیح عیسیٰ ابن مریم آخرھا (فصل الخطاب امام محمد پارسا ص ٧٦٨)“ ﴿ابو جعفر قمی نے اپنی سند سے حضرت علیؓ سے روایت کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اپنے صحابہؓ کو تین مرتبہ بشارت دے کر فرمایا کہ میری امت کی مثال اس بارش کی ہے جس کی نسبت معلوم نہیں ہو سکتا کہ اس کا اوّل اچھا ہے یا آخر اور وہ امت کیسے ہلاک ہو سکتی ہے۔ جس کی ابتداء میں خود ہوں اور میرے بعد بارہ خلیفے اور سب سے آخر مسیح ابن مریم ۔﴾
اس حدیث سے روزِ روشن کی طرح ثابت ہے کہ مسیح موعود کے چودھویں صدی کے سر پر آنے کی خبر رسول اللہ ﷺ نے دی ہے۔ بارہ خلفاء جن کا ذکر اس حدیث میں ہے وہی ہیں جن کو دوسری حدیث میں مجدد کا نام دیا گیا ہے اور وہ دوسری صدی ہجری سے لے کر تیرہویں صدی تک آتے رہے ۔ ان کے بعد بموجب حدیث چودھویں صدی کے سر پر مسیح موعود کا آنا ثابت ہے۔
٢١
جس کی شان رسول کریم ﷺ نے یہ بیان کی ہے کہ وہ امت ہلاک نہیں ہو سکتی۔ جس کے اوّل میں میں ہوں اور سب سے آخر میں مسیح۔
(پیغام صلح مورخہ ٧؍مئی ١٩٥٨ء ص٣)
یہ حدیث مل جانے سے ایڈیٹر صاحب کا دماغ خراب ہو جاتا ہے اور بڑھاپے کی خفگی ان الفاظ میں ظاہر ہوتی ہے کہ: ”حیرت ہے کہ ایسی کھلی حدیث کے ہوتے ہوئے بدوملہی ملا حضرت مسیح موعود کے بیان کو حضرت صاحب کا مقدس جھوٹ قرار دیتا ہے۔ اسے چاہئے کہ سب سے پہلے حضرت علیؓ پر مقدس جھوٹ کا الزام دے کر اپنے فقدان ایمان کا مظاہرہ کرے اور اگر اتنی جرأت نہیں تو اس حدیث کو پڑھ کر اپنی روسیاہی کا اعلان کرے۔“
(پیغام صلح مذکور)
ایڈیٹر صاحب۔
زبان بگڑی تو بگڑی تھی خبر لیجئے دہن بگڑا
ناظرین! ایڈیٹر صاحب کو حدیث کیا ملی بیچارے کا دماغ خراب ہو گیا۔ آپ اس حدیث پر ہمارے اعتراضات ملاحظہ فرمائیے۔ پھر فیصلہ کیجئے کہ مجھے روسیاہی کا اعلان کرنا چاہئے یا ایڈیٹر صاحب کو دماغی امراض کے ہسپتال میں داخلہ لینا چاہئے؟
- اوّل ....... ایڈیٹر صاحب کو اتنی بھی خبر نہیں کہ یہ حدیث کتب شیعہ کی ہے اور ان کی
مخاطب اہل سنت ہے۔ اس کا اپنا حال تو یہ ہے کہ قادیانی فریق کی کسی روایت کو تسلیم نہیں کرتے۔ لیکن جب میدان میں آتے ہیں تو شیعہ کی احادیث اہل سنت کے سامنے پیش کرتے ہوئے ذرہ برابر جھجھک محسوس نہیں کرتے اور انہیں مطلقاً احساس نہیں ہوتا کہ اہل سنت اور شیعہ میں اختلاف کی نوعیت کتنی سنگین ہے۔
- دوم ....... پھر ایڈیٹر صاحب کو اتنی بھی خبر نہیں کہ یہ حدیث خود ان کے بنیادی اعتقاد
کے خلاف ہے۔ کیونکہ لاہوری مرزائیوں کا عقیدہ ہے کہ خدا تعالیٰ ہر صدی کے آغاز میں مجدد بھیجتا رہے گا۔ لیکن یہ حدیث بقول ایڈیٹر صاحب آنحضرت ﷺ کے بعد ١٢ مجدد اور سب سے آخر مسیح موعود کا ذکر کرتی اور پھر معاملہ ختم کر دیتی ہے۔
لاہوری دوستو! کیا آئندہ کوئی مجدد نہیں آئے گا؟ اور کیا گذشتہ بارہ صدیوں میں بارہ ہی مجدد ہوئے ہیں یا زیادہ؟ جواب دینے سے پہلے اپنے حضرت صاحب کی مصدقہ کتاب عسل مصفیٰ سے مجددین کی فہرست ضرور ملاحظہ کر لیجئے۔ اگر وہ فہرست صحیح ہے تو یہ حدیث غلط ہے اور اگر یہ حدیث صحیح ہے تو وہ فہرست غلط ہے۔
٢٢
ایڈیٹر صاحب۔
سوم...... سب سے اہم اور سب سے بنیادی امر یہ ہے کہ یہ حدیث روایات شیعہ سے ہے اور شیعی نقطہ نگاہ سے اس حدیث کا مطلب وہ نہیں جو ایڈیٹر پیغام صلح لے رہے ہیں کہ بارہ خلفاء سے مراد بارہ مجدد ہیں اور مجدد ہر صدی کے سر پر آتا ہے۔ لہذا دوسری صدی سے تیرہویں صدی تک ١٢ مجدد اور چودھویں صدی کے سر پر مسیح موعود کا آنا ثابت ہوا۔ شیعہ حضرات کی حدیث کی تشریح کے لئے سنی روایات سے تمسک؟
ایڈیٹر صاحب! غور سے سنئے۔ شیعہ حضرات آپ کے صد سالہ مجدد سے نا آشنا ہیں۔ ان کے ہاں ١٢ خلفاء سے مراد وہی بارہ امام ہیں جن کو وہ امام معصوم قرار دیتے اور اپنے آپ کو امامیہ اور اثنا عشریہ کہلاتے ہیں۔ ان بارہ اماموں سے پہلے امام مولا علیؓ اور آخری امام حسن عسکری کے صاحبزادے امام محمد مہدی (مولود شعبان ٢٥٢ھ) ہیں۔ جو امام غائب کے نام سے مشہور ہیں اور قیامت کے قریب ظہور فرمائیں گے۔ کہئے؟ یہ نقطہ نگاہ آپ کو منظور ہے؟ اور شیعہ کی یہ حدیث ان کی تشریح کے مطابق آپ کو مفید ہے؟ اور کیا اس حدیث سے مسیح موعود کا چودھویں صدی کے سر پر آنا ثابت ہو گیا؟ اور مرزا قادیانی سے ہمارا جھوٹا الزام دور ہو گیا؟ یاد رکھئے۔
لاکھ سجا رہے ہو تم بزم ابھی سجی نہیں
چہارم...... اس حدیث میں بارہ خلفاء کے بعد مسیح عیسیٰ ابن مریم کی تشریف آوری کا وعدہ دیا گیا ہے۔ شیعہ نقطہ نگاہ سے بارھویں امام محمد مہدی ہیں اور ان کے بعد مسیح ابن مریم، نتیجہ صاف ہے کہ امام مہدی اور مسیح موعود ایک نہیں بلکہ دو شخصیتیں ہیں۔
کیا آپ یہ ماننے کو تیار ہیں کہ امام مہدی اور ہیں، اور مسیح موعود اور، جو امام مہدی کے بعد تشریف لائیں گے۔
مرزائی دوستو! غور کیجئے آپ کے ایڈیٹر نے ڈوبتے کو تنکے کا سہارا۔ مرزا قادیانی سے ہمارا الزام دور کرنے کے لئے جو حدیث پیش کی تھی اس کے چکر میں کیسے پھنسے ہیں؟ اب آپ کا فرض ہے کہ اپنے ایڈیٹر کو مجبور کیجئے کہ وہ اس حدیث پر ہمارے اعتراض دور کرے اور اس حدیث کے لازمی نتائج تسلیم کرے۔ اگر وہ ایسا نہ کر سکے تو پھر عدل وانصاف کا تقاضا یہ ہے کہ آپ اس
٢٣
امر کا اقرار کریں کہ مرزا قادیانی نے مسیح موعود کا چودھویں صدی کے سر پر آنا قرآن وحدیث کی طرف منسوب کر کے کذب، جھوٹ اور غلط بیانی کا ارتکاب کیا اور خلق خدا کو قرآن وحدیث کے نام پر فریب دیا ہے۔
نوٹ: اس کے بعد قادیانی مجیب نے بعض علماء کی طرف یہ مضمون منسوب کیا ہے کہ وہ بھی اس بات کے قائل تھے کہ ظہور مہدی چودھویں صدی میں ہوگا۔ پھر قاضی جی کہتے ہیں کہ ان کو بھی جھوٹا کہو۔ جواباً گزارش ہے کہ ان علماء نے بعض وجوہ سے اپنے خیال کا اظہار کیا تھا۔ ہم برملا کہتے ہیں کہ ان کا خیال غلط نکلا۔ لیکن ہم ان کو جھوٹا اس لئے نہیں کہتے کہ انہوں نے مرزا قادیانی کی طرح اس مضمون کو قرآن وحدیث کی طرف منسوب نہیں کیا تھا۔ بلکہ محض اپنے خیال کا اظہار کیا تھا۔
اس کے علاوہ مجیب صاحب نے مسیح موعود کی نسبت احادیث کے بعض الفاظ کے ابجد نکال کر مرزا قادیانی پر چسپاں کئے ہیں۔ خود مرزا قادیانی بھی بعض آیات و احادیث بلکہ اپنے نام کے حروف کے ابجد سے اپنی صداقت کا ثبوت دیا کرتے تھے۔ لیکن مرزائی جماعت سے کون پوچھے کہ ابجد کے اعداد وشمار آخر کس بناء پر دلیل بن سکتے ہیں؟ کیا یہ حجت شرعیہ ہیں؟ کیا قرآن وسنت میں اس کی طرف کوئی اشارہ ہے؟ اور کیا صحابہ اور علمائے سلف اور مجددین امت نے یہ طرز استدلال اختیار فرمایا ہے۔
لطیفہ
قاضی محمد سلیمان صاحب پٹیالوی نے مرزا قادیانی کے ازالۃ اوہام پر تنقید کرتے ہوئے اپنی کتاب تائید الاسلام میں ابجد کے اعداد وشمار پر عجیب معلومات جمع فرمائے ہیں۔ آپ کے اس مضمون کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر یہ اعداد بھی دلائل کا درجہ رکھتے ہیں اور غلام احمد قادیانی کے اعداد ١٣٠٠ ہونے سے یہ نتیجہ نکالا جاسکتا ہے کہ ٹھیک چودھویں صدی کے آغاز میں مسیحیت کا دعویٰ کرنے والا غلام احمد قادیانی سچا مسیح موعود ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ غلام احمد قادیانی مسیح موعود ہرگز نہیں۔ (جس کے اعداد پورے ١٨٩١ نکلتے ہیں اور مرزا قادیانی نے ٹھیک ١٨٩١ء میں مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا تھا) کی بناء پر مرزا قادیانی کو ان کے دعویٰ میں جھوٹا قرار نہ دیا جائے۔ مرزائی دوستو
دوسرا جھوٹ
مرزا قادیانی (تتمہ حقیقت الوحی ص ٦٤، خزائن ج ٢٢ ص ٤٩٩) پر اپنی مسیحیت کا ثبوت دیتے
٢٤
ہوئے فرماتے ہیں کہ : ” قرآن شریف میں ہے...... کہ آخری زمانہ میں عیسیٰ پرستی کی شامت سے زمین و آسمان میں طرح طرح کے خوفناک حوادث ظاہر ہوں گے ۔“ (مفہوم )
بتایا جائے کہ یہ مضمون قرآن مجید کے کس پارے اور کون سی سورت میں ہے۔ یا محض کتابت کی غلطی ہے۔
جواب
قادیانی اور لاہوری مجیب اس سوال کے جواب میں متفق ہیں۔ ہم قادیانی مجیب کے الفاظ نقل کرتے ہیں۔ وہ اپنے رسالہ کے ص ١٠٩ پر لکھتے ہیں کہ : ”اس حوالہ سے متصل اس آیت کی طرف ان لفظوں میں اشارہ موجود ہے کہ قرآن مجید میں بڑا فتنہ عیسیٰ پرستی کو ٹھہرایا ہے اور اس کے لئے وعید کے طور پر پیش گوئی ہے کہ قریب ہے کہ زمین و آسمان اس سے پھٹ جائیں ۔“
ان الفاظ میں قرآن شریف کی آیت ذیل کی طرف اشارہ ہے : ”وقــــــالــــــو اتخذ الرحمن ولدا لقد جئتم شيئا ادا تكاد السموات يتفطرن عنه وتنشق الارض ويخر الجبال هدا ان دعوا للرحمن ولدا (مريم)“ کہ انہوں نے (عیسائیوں نے) کہا کہ خدا نے بیٹا بنا لیا ہے۔ تم لوگ ایک بھاری چیز لائے ہو۔ قریب ہے کہ اس قوم سے آسمان پھٹ جائیں اور زمین پھٹ جائے اور پہاڑ کانپ کر گر پڑیں۔﴾
یہ آیت بتاتی ہے کہ وہ وقت آتا ہے کہ عیسائیوں کے حضرت مسیح کو خدا کا بیٹا بنانے کی وجہ سے آسمان اور زمین میں خوفناک حوادث ظاہر ہوں گے اور پہاڑوں میں زلازل آئیں گے۔
لاہوری مجیب پیغام صلح ٣٠؍ اپریل میں ان آیات کے علاوہ سورہ کہف کی ابتدائی آیات نقل کرتے ہوئے ”وانا لجاعلون ما عليها صعيدا جرزا “ کی تشریح کے بعد فرماتے ہیں کہ : ” کیا یہ ایک ہی آیت ان خوفناک فتنوں کا پتہ نہیں دے رہی۔ جو عیسیٰ پرستی کی شامت سے آسمان سے بم برسانے والے ہوائی جہازوں نے پیدا کئے اور جن کی وجہ سے کئی آباد اور سرسبز وادیاں چٹیل میدان ہو کر رہ گئیں۔“
جواب الجواب
مرزائی مجیب صاحبان نے مرزا قادیانی کو ہمارے الزام سے بری کرنے کے لئے قرآن مجید کی جن آیات کا حوالہ دیا ہے ان کا مطلب سمجھنے میں یا تو خود غلطی کھائی ہے یا تحریف معنوی سے خلق خدا کو فریب دینے کی کوشش کی ہے اور مرزا قادیانی کی صفائی کی بجائے اپنا نامہ اعمال سیاہ کیا ہے۔ تفصیل اس اجمال کی یہ ہے :
٢٥
اول....... قادیانی مجیب نے اس آیت کو عیسائیوں کے متعلق ثابت کرنے کے لئے ترجمہ کرتے ہوئے بریکٹ میں ”عیسائیوں نے“ کا لفظ اپنی طرف سے بڑھا دیا ہے۔ حالانکہ یہ آیت خاص عیسائیوں کے لئے نہیں بلکہ ان تمام اقوام و مذاہب کے لئے ہے جو خدا تعالیٰ کے لئے اولاد ثابت کرتے ہیں۔ عام ہے کہ اس سے عیسائی مراد ہوں یا یہود! مشرکین عرب ہوں یا کوئی اور، اس کے علاوہ قادیانی مجیب نے ترجمہ کرتے ہوئے ولداً کا معنی لڑکا کر دیا ہے۔ تا کہ قارئین کا ذہن عیسائیت کی طرف منتقل ہو جائے۔ حالانکہ عربی زبان اور قرآن مجید کے استعمال میں ولدا کا معنی لڑکا نہیں بلکہ مطلق اولاد ہے۔ جس میں لڑکی بھی شامل ہے۔ چنانچہ عربی کی مشہور لغت المنجد میں لفظ ولد کے ذیل میں لکھا ہے کہ ”ویطلق علی الذکر والانثی والمثنی والجمع“ یعنی لفظ ولد کا اطلاق مذکر مؤنث تثنیہ جمع سب پر ہوتا ہے۔ قرآنی استعمال کے لئے آیت ”لم یلد ولم یولد“ اور ”انما اموالکم واولادکم فتنۃ“ وغیرہ ملاحظہ فرمائیے۔
بلکہ بعض علماء کے نزدیک یہ آیات عیسائیوں کی نسبت سے ہیں ہی نہیں بلکہ مشرکین عرب کے متعلق ہیں۔ کیونکہ عیسائیوں کا ذکر اسی سورت کے شروع میں ہو چکا ہے۔ چنانچہ امام فخرالدین رازی مجدد صدی ششم اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں: ”قالت الیہود عزیر ابن الله وقالت النصاریٰ المسیح ابن الله وقالت العرب الملائکۃ بنات الله والکل داخلون فی هذه الایۃ ومنهم من خصها بالعرب....... لان الرد علی النصاریٰ تقدم فی اول السورۃ“ ﴿یہود عزیر کو اور نصاریٰ مسیح کو خدا کا بیٹا اور مشرکین عرب فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کہتے تھے اور اس آیت میں یہ سب گروہ داخل ہیں اور بعض علماء نے اس آیت کو عربوں سے خاص کیا ہے۔ کیونکہ نصاریٰ کا رد سورت کے شروع میں ہو چکا ہے۔﴾
ناظرین! غور فرمائیے کہ قادیانی مجیب مرزا قادیانی کی صفائی میں قرآن مجید کی آیات میں کس طرح لفظی اور معنوی تحریف کر رہے ہیں۔
دوم....... مرزائی جماعت کی سادہ لوحی یا عیاری ملاحظہ فرمائیے کہ قرآن مجید کی مذکورہ آیات میں تکاد کے لفظ سے ان آیات کو آخری زمانہ کی نسبت پیش گوئی قرار دے رہے ہیں۔ حالانکہ عربی قواعد سے ادنیٰ سی واقفیت حتیٰ کہ نحو میر پڑھنے والا بھی جانتا ہے کہ کاد فعل مقاربہ ہے۔ جو اپنے اسم وخبر میں محض قرب ثابت کرتا ہے۔ لیکن اس کا وقوع ضروری نہیں ہوتا۔ محض یہ بتانا ہوتا ہے کہ اس کے اسم اور خبر میں ایک گہرا ربط ہے۔ چنانچہ عربی کی مشہور لغت المنجد میں لفظ کاد کے تحت لکھا ہے۔ ”ای قارب الفعل ولم یفعل“ یعنی فلاں شخص اس کام کے
٢٦
قریب تو ہوا لیکن کیا نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید کی ان آیات کی تفسیر ممتاز مفسرین نے حسب ذیل الفاظ میں ارشاد فرمائی ہیں۔
- ١...... امام رازی فرماتے ہیں: ”ان الله يقول افعل هذا بالسماوات
والارض والجبال عند وجود هذه الكلمة غضبا منى على من تفوه بها لولا حلمى استعظاماً للكلمة وتهويلاً من فضاعتها“
- ٢...... علامہ ابوالسعودؒ فرماتے ہیں: ”ان هول تلك الكلمة الشنعاء
وعظمها بحيث لوتصورت بصورة محسوسة لم تطق بها هاتيك الاجرام العظام وتفتتت من شدتها وان فضاعتها في استجلاب الغضب واستيجاب السخط بحيث لولا حلمه لخرب العالم“
- ٣...... تفسیر خازن میں ہے: ”اے كدت ان افعل هذا بالسموت
والارض والجبال عند وجود هذه الكلمة غضبا منى على من تفوه بها لولا حلمى وانى لا اعجل بالعقوبة“
- ٤...... تفسیر بیضاوی میں ہے: ”والمعنى ان هول هذا الكلمة وعظمها
بحيث لوتصورت محسوسة لم تتحملها هذه الاجرام العظام وتفتتت من شدتها وان فضاعتها مجلبة لغضب الله بحيث لولا حلمه لخرب العالم“
تمام مفسرین کے ارشادات کا خلاصہ یہ ہے کہ ان آیات میں اللہ تعالیٰ کے لئے اثبات اولاد کے عقیدہ کی مذمت کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ یہ عقیدہ اور یہ الفاظ کہ: ”اتخذ الرحمن ولداً“ اتنے سنگین اور اپنی حقیقت میں اتنے ہولناک ہیں کہ اگر ان کا کوئی وجود تسلیم کر لیا جائے تو آسمان وزمین اور پہاڑ جیسے عظیم اجسام بھی اسے برداشت نہ کرسکیں اور اس کی شدت سے زیروزبر ہوجائیں۔ نیز اگر اللہ تعالیٰ کا حلم مانع نہ ہو تو وہ ان الفاظ سے ناراض ہوکر نظام عالم کو تہ وبالا کردے۔
ہم نے مرزائی مجیب کی تاویل بلکہ تحریف کے سلسلہ میں جو بحث کی ہے وہ قواعد عرب کی روشنی میں ہے۔ جس کو سمجھنا اور حق کے آگے سرتسلیم خم کرنا مرزائی جماعت کی فطرت میں نہیں۔ اس لئے ہم مرزائی جماعت پر اتمام حجت کے لئے بطور نمونہ ایک آیت اور ایک حدیث پیش کرتے ہیں، جس سے لفظ ”کاد“ کا صحیح استعمال معلوم ہوسکے گا۔
- اول...... اللہ تعالیٰ توحید کے بیان پر مشرکین عرب کی برہمی کا ذکر ان الفاظ میں
٢٧
فرماتے ہیں کہ: ”یکادون یسطون بالذین یتلون علیہم آیتنا“ یعنی قریب ہے کہ مشرکین ہماری آیات تلاوت کرنے والوں پر حملہ کردیں۔
- دوم....... آنحضرت ﷺ فقر کی پریشانی کا بیان ان الفاظ میں فرماتے ہیں کہ:
”کادا الفقر ان یکون کفراً“ یعنی قریب ہے کہ فقر کفر بن جائے۔
مرزائی دوستو! کیا اس آیت اور حدیث کا مفہوم ان الفاظ میں بیان کرنا صحیح ہوگا کہ:
- اول...... آخری زمانہ میں قرآنی آیات تلاوت کرنے والوں پر مشرک حملہ آور ہوا کریں گے۔
- دوم...... آخری زمانہ فقر انسان کو کافر بنا دے گا۔
اس کا جواب آپ یقیناً نفی میں دیں گے اور اس آیت اور حدیث کی بناء پر مذکورہ بالا دعویٰ کرنے والے کو ضرور جھوٹا قرار دیں گے۔ بس یہی حال مرزا قادیانی کا ہے۔ تفصیل بالا سے یہ امر روز روشن کی طرح ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی کا فرمودہ مضمون قرآن مجید سے ہرگز ثابت نہیں بلکہ ان کا قرآن مجید کی طرف اس مضمون کو منسوب کرنا سفید جھوٹ ہے۔ مرزائی مجیب صاحبان نے جن آیات سے اس مضمون کو ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ وہ انتہائی غلط ہی نہیں بلکہ تحریف قرآن اور عربی قواعد سے جہالت اور قرآن وحدیث سے ناواقفیت کا بین ثبوت ہے۔ کیونکہ:
- ١...... یہ آیت خاص عیسائیت کے حق میں نہیں بلکہ ان تمام اقوام و مذاہب کے
متعلق ہے جو اللہ تعالیٰ کے لئے اولاد کا عقیدہ رکھتے ہیں۔ جو آغاز اسلام سے صدیوں پہلے سے موجود ہی نہیں بلکہ برسر اقتدار بھی رہے ہیں۔
- ٢...... ”یکاد“ فعل مقاربہ پیش گوئی کے لئے نہیں آتا۔ بلکہ صرف اس لئے آتا
ہے کہ اسم کا قرب خبر کے لئے ثابت کرے۔
- ٣...... مفسرین عظام کے نزدیک اس آیت میں کسی آئندہ زمانہ کی خبر نہیں دی
گئی۔ بلکہ صرف اس عقیدہ کی سنگینی بیان کی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ اگر اس عقیدہ کی شدت اور گمراہی کو آسمان وزمین اور پہاڑ محسوس کرلیں تو ریزہ ریزہ ہوجائیں۔
- ٤...... تفصیل کے لئے ہماری پیش کردہ مثالوں پر غور فرمائیے کہ ان میں کوئی
پیش گوئی نہیں کی گئی بلکہ توحید کے وعظ پر مشرکین کی برہمی اور فقر کی پریشانی کا اظہار کیا گیا ہے۔
- ٥...... آخری زمانہ میں آسمان وزمین کے حوادث کا سبب آنحضرت ﷺ نے
سنگین بداخلاقی اور بدکرداری کو قرار دیا ہے۔
(مشکوٰۃ باب اشراط الساعۃ)
- ٦...... لاہوری مجیب کی پیش کردہ آیت ”وانا لجاعلون ما علیہا صعیداً
٢٨
جرزاً (طہ) ” جہازوں کی بمباری کے متعلق نہیں بلکہ اس کا تعلق قیامت کے زلزلہ سے ہے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ مرزا قادیانی کا حقیقت الوحی والا بیان قرآن کریم پر ناپاک جھوٹ، ہمارا اعتراض صحیح اور مرزائی مجیب صاحبان کا جواب دجل وفریب کے علاوہ عربی قواعد سے ناواقفیت اور قرآن مقدس میں تحریف لفظی ومعنوی اور تفسیر بالرائے کا بدترین نمونہ ہے۔
تیسرا جھوٹ
مرزا قادیانی اپنی کتاب (شہادۃ القرآن ص ٤١، خزائن ج ٦ ص ٣٣٧) پر تحریر فرماتے ہیں کہ : ”صحیح بخاری میں ہے کہ (امام مہدی کے لئے ) آسمان سے آواز آئے گی کہ هذا خليفة الله المهدی“
ہمارا دعویٰ ہے کہ مرزا قادیانی نے صحیح بخاری پر جھوٹ باندھا ہے اور خلق خدا کو فریب دیا ہے۔ قادیانی جماعت کا فرض ہے کہ وہ صحیح بخاری سے یہ حدیث نکال کر دکھائے یا اقرار کرے کہ مرزا قادیانی نے جھوٹا حوالہ دیا ہے۔
لاہوری اور قادیانی مجیب
اس اعتراض کے جواب میں بھی دونوں مجیب ہم خیال ہیں اور دونوں کا جواب یہ ہے کہ حضرت صاحب (مرزا قادیانی) سے بخاری کا حوالہ دینے میں غلطی ہوئی ہے اور دونوں کو اعتراف ہے کہ یہ حدیث بخاری میں نہیں۔ البتہ مستدرک حاکم میں یہ حدیث موجود ہے اور وہاں لکھا ہوا ہے کہ یہ حدیث بخاری مسلم کی شرائط کے مطابق ہے اور دونوں نے اقرار کر لیا ہے کہ بخاری کا حوالہ دینا مرزا قادیانی کا سہو اور سبقت قلم ہے۔
(پیغام صلح ص ٦، مورخہ ٣٠؍ اپریل، رسالہ دس جھوٹ ص ١١)
ہم اس مقام پر مولانا ثناء اللہ کی مشہور کتاب ”تعلیمات مرزا“ سے چند فقرے نقل کرنا مناسب سمجھتے ہیں۔ جو آپ نے اسی اعتراض کے اسی جواب پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔
”ہمارے پنجاب کے جاٹ کسی شخص کی تکذیب کرتے ہوئے صاف کہہ دیتے ہیں کہ تمہاری بات جھوٹی ہے یا تم جھوٹ بکتے ہو۔ مگر لکھنوی نزاکت پسند اہل لطافت یوں کہا کرتے ہیں۔ واللہ میں افسوس کرتا ہوں کہ میں جناب کے ارشاد سے متفق نہیں۔ مطلب دونوں کا ایک ہی ہے کہ آپ کی بات جھوٹ ہے۔ قادیانی مجیب نے قادیان کے نمک کا لحاظ رکھ کر کیا لطافت سے کہا ہے کہ بخاری کا نام سبقت قلم ہے۔“
٢٩
اللہ اکبر ! سبقت بھی دست مرزا کی نہیں قلم مرزا کی کسی عاشق نے کیا خوب کہا ہے۔
لگا کہنے کس کا یہ تازہ لہو ہے
کسی نے کہا جس کا وہ سر پڑا ہے
کہا بھول جانے کی کیا میری خو ہے
اس اعتراف کے بعد دونوں مجیب رقم طراز ہیں کہ مرزا قادیانی کا یہ سہو ایسا ہی ہے۔ جیسا بعض دوسرے دو تین علماء نے اپنی کتابوں میں سہواً بخاری کا حوالہ دیا ہے۔ پھر دونوں حضرات مجھ سے سوال کرتے ہیں کہ کیا آپ ان بزرگوں کو بھی جھوٹا قرار دیں گے؟
مرزا قادیانی کی پوزیشن
ہماری طرف سے ہر دو حضرات کو معلوم ہونا چاہئے کہ مرزا قادیانی اور ان علماء کی پوزیشن میں آپ کے اعتقاد کے مطابق زمین و آسمان کا فرق ہے۔ ان علماء میں کوئی بھی نبی اللہ، مجدد، مہدی اور مسیح موعود نہیں تھا اور ان میں سے کسی کا دعویٰ نہیں تھا کہ: ”میری روح فرشتوں کی گود میں پرورش پاتی ہے۔“
(تبلیغ رسالت ج ٨ ص ٦٥، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ١٥٥)
اور ان میں کسی کی یہ پوزیشن نہیں تھی کہ: ”روح القدس کی قدسیت ہر دم اور ہر وقت اور ہر لحظہ بلا فصل ملہم کے تمام قویٰ میں کام کرتی ہے۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص ٩٤، خزائن ج ٥ ص ٩٤)
اور ان میں سے کسی کو بھی یہ الہام نہ ہوا تھا کہ: ”وما ینطق عن الہوی ان ہوا الا وحی یوحیٰ“
(اربعین نمبر ٣ ص ١٩ حاشیہ، خزائن ج ١٧ ص ٣٦١)
پس مامور اور غیر مامور میں مقابلہ کیسا؟
قابل غور
دوسری بات قابل غور یہ ہے کہ ان علماء کے زمانہ میں پریس وغیرہ کا کوئی انتظام نہ تھا۔ شاگرد اور عقیدت مند مسودہ سے نقل کر لیتے تھے اور یہ سلسلہ یوں ہی جاری رہتا اور طباعت کا مرحلہ ان بزرگوں کی وفات کے سینکڑوں برس بعد پیش آیا۔ اگرچہ اس نقل میں ہر انسانی احتیاط ملحوظ رکھی جاتی تھی۔ تاہم ایک آدھ لفظ کی کمی بیشی معمولی بات ہے۔ لیکن مرزا قادیانی کا معاملہ ان حضرات سے قطعی مختلف ہے۔ کیونکہ آپ کا زمانہ پریس کا زمانہ تھا اور تمام کتابیں ان کی زیر نگرانی طبع ہوتی تھیں اور مرزا قادیانی کے ہاں پروف کی تصحیح اور نظر ثانی کا اہتمام بھی معقول تھا۔ پس ان حالات میں سہو اور سبقت قلم کا عذر یکسر باطل ہے۔
٣٠
حوالہ نہیں، بنیاد
قادیانی دوستو! کسی عالم کا کسی حدیث کے متعلق بخاری کا محض حوالہ دے دینا اور بات ہے اور مرزا قادیانی کی طرح بخاری پر مسئلہ کی بنیاد رکھنا اور بات ہے۔ مرزا قادیانی نے صرف بخاری کا حوالہ ہی نہیں دیا۔ بلکہ بخاری کو اپنی دلیل کی بنیاد قرار دے کر دوسری حدیثوں کو ناقابل اعتبار ٹھہرایا ہے۔ تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ علامہ عنایت اللہ خاں مشرقی کے والد منشی عطاء محمد مرحوم نے مرزا قادیانی پر اعتراض کیا کہ آنحضرت ﷺ نے اپنے بعد خلافت کی مدت صرف تیس سال بتائی ہے تو پھر آپ اپنے آپ کو خلیفہ کس بنا پر کہتے ہیں؟
مرزا قادیانی منشی صاحب کے جواب میں فرماتے ہیں کہ: ”اگر حدیث کے بیان پر اعتبار ہے تو پہلے ان حدیثوں پر عمل کرنا چاہئے جو صحت اور وثوق میں اس حدیث پر کئی درجہ بڑھی ہوئی ہیں۔ مثلاً صحیح بخاری کی وہ حدیثیں جن میں آخری زمانہ میں بعض خلیفوں کی نسبت خبر دی گئی ہے۔ خاص کر وہ خلیفہ جس کی نسبت بخاری میں لکھا ہے کہ آسمان سے اس کے لئے آواز آئے گی کہ ”ھذا خلیفۃ اللہ المہدی“ اب سوچو کہ یہ حدیث کس پایہ اور مرتبہ کی ہے جو اصح الکتب بعد کتاب اللہ میں ہے۔“
مرزائی دوستو! ذرا غور کرو۔ مرزا قادیانی نے بخاری پر اپنی دلیل کی بنیاد رکھی ہے اور بخاری کے نام سے فائدہ اٹھا کر مخالف کی دلیل کو رد کیا ہے۔ اب اس حدیث کے بخاری میں نہ ہونے سے مرزا قادیانی کا جھوٹ ہی ثابت نہ ہوگا۔ بلکہ ان کی دلیل بھی باطل ٹھہرے گی۔ یہی وجہ ہے کہ مرزا قادیانی اس کتاب کی اشاعت کے بعد ١٦ سال زندہ رہے۔ لیکن نہ تو آپ نے خود اس کی اصلاح کی اور نہ ہی کسی قادیانی عالم نے اس کی اصلاح کی طرف توجہ دلائی۔ کیونکہ اس کی اصلاح سے مرزا قادیانی کی پیش کردہ دلیل باطل ٹھہرتی تھی۔
دورخی
ناظرین! مرزائی جماعت کی دورخی ملاحظہ فرمائیے۔ جب منشی عطا محمد صاحب نے مرزا قادیانی کی خلافت پر احادیث سے اعتراض کیا تو بخاری کی دھونس جما کر ان کی پیش کردہ احادیث کو باطل ٹھہرایا اور جب ہم نے بخاری میں اس حدیث کے نہ ہونے کی بناء پر جھوٹ کا الزام قائم کیا تو ہمارے سامنے سہو اور سبقت قلم کا بہانہ کر دیا۔ سچ ہے۔
جو یہ ٹانکا تو وہ ادھڑا جو وہ ٹانکا تو یہ ادھڑا
٣١
ایک شبہ اور اس کا ازالہ
قادیانی مجیب اس غلط بیانی کو مرزا قادیانی کا سہو قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:
”سہو ونسیان یعنی بھول چوک ایسا امر نہیں جو کسی نبی کی نبوت میں حارج ہو یا اس کی وجہ سے نبی کو جھوٹ بولنے والا قرار دیا جائے۔“
(رسالہ مذکورہ ص ١٢)
قاضی صاحب ! اگر چہ ہم گذشتہ صفحات میں ثابت کر آئے ہیں کہ یہ مرزا قادیانی کا سہو نہیں بلکہ عمداً غلط بیانی ہے اور مرزا قادیانی نے خاص مقصد کے لئے اس کا ارتکاب کیا ہے۔ تاہم غور سے سنئے۔ ہمارا ایمان ہے کہ نبی کسی ایسی سہو اور بھول چوک پر قائم نہیں رہ سکتا۔ جس کی وجہ سے اس کی دیانت مشتبہ ہو جائے اور مخالف اس پر جھوٹ کا الزام عائد کر سکے۔ اگر آپ کو اس عقیدہ میں ہم سے اختلاف ہے تو سلسلہ انبیاء سے کوئی ایک مثال پیش فرمائیے۔ وگرنہ ہمارا اعتراض صحیح تسلیم کیجئے۔ قاضی صاحب !؎
لگائے آسرا بیٹھا ہے اک مستانہ برسوں سے
چوتھا جھوٹ
مرزا قادیانی (ازالہ اوہام ص ٨١، خزائن ج ٣ ص ١٣٢) پر لکھتے ہیں کہ: ”صحیح مسلم میں جو یہ لفظ موجود ہے کہ حضرت مسیح جب آسمان سے اتریں گے تو اس کا لباس زرد رنگ کا ہوگا۔“ ہمارا دعویٰ ہے کہ مرزا قادیانی نے جھوٹ لکھا ہے اور صحیح مسلم میں مسیح کے نازل ہونے کی حدیث تو ہے۔ لیکن اس میں آسمان کا لفظ نہیں ہے۔
لاہوری مجیب
لاہوری مجیب کا جواب محض حق نمک کی ادائیگی ہے۔ وگرنہ ان کا جواب دراصل ہماری تائید اور مرزا قادیانی پر ہمارے الزام کی تصدیق کے مترادف ہے۔ فرماتے ہیں کہ: ”اس فقرہ میں مرزا قادیانی نے کوئی حدیث نقل نہیں کی بلکہ اپنے الفاظ میں آسمان کا لفظ نزول کے اس مفہوم کو مدنظر رکھتے ہوئے لکھا ہے جو عام طور پر سمجھا جاتا ہے۔“
لاہوری مجیب کے جواب کا دو حرفی خلاصہ یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے اس حوالہ میں صحیح مسلم کے الفاظ نہیں صرف مفہوم لکھا ہے۔ وہ بھی عام مسلمانوں کے اعتقاد کے مطابق ہم مرزا قادیانی کے اصل الفاظ جنہیں ہم نے اختصار کے پیش نظر چھوڑ دیا تھا (کیونکہ ہمارا سوال صرف آسمان کے لفظ پر تھا) درج کئے دیتے ہیں۔ تا کہ لاہوری مجیب پر اتمام حجت ہو جائے۔
٣٢
مرزا قادیانی کے اصل الفاظ
”صحیح مسلم کی حدیث میں جو یہ لفظ موجود ہے کہ حضرت مسیح جب آسمان سے اتریں گے تو ان کا لباس زرد رنگ کا ہوگا۔“
ایڈیٹر صاحب! آپ کے جواب کی ساری عمارت مرزا قادیانی کے اصل الفاظ نے منہدم کر دی۔ کیونکہ آپ کا جواب یہ تھا کہ مرزا قادیانی نے صحیح مسلم کی طرف الفاظ نہیں صرف مفہوم منسوب کیا ہے اور مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ صحیح مسلم میں یہ لفظ موجود ہے۔
لاہوری دوستو! کیا اب بھی آپ کو مرزا قادیانی کی کذب بیانی میں شبہ ہے۔
زلیخا نے کیا خود پاک دامن ماہ کنعاں کا
قادیانی مجیب
قادیانی مجیب اپنا فرض ان الفاظ میں ادا فرماتے ہیں کہ: ”صحیح مسلم میں ایسی حدیث ضرور موجود ہے۔ جس کے معنی علماء نے یہ کئے ہیں کہ مسیح آسمان سے نازل ہوگا۔ حضرت اقدس نے (ازالہ اوہام ص٨١) پر انہی لوگوں کے معنی درج فرمائے ہیں۔“
ناظرین! آپ مرزا قادیانی کے اصل الفاظ ایک بار پھر دیکھئے اور فیصلہ کیجئے کہ مرزا قادیانی علماء کے معنی بیان کر رہے ہیں یا صحیح مسلم سے الفاظ کا حوالہ دے رہے ہیں۔
اس کے بعد قاضی صاحب نے اس مقام پر ہمارے نقل کردہ حوالہ سے پہلے مرزا قادیانی کی ایک طویل عبارت (جس سے آپ یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ مسیح کا آسمان سے اترنا مرزا قادیانی کا نہیں بلکہ ان کے مخالفین کا عقیدہ تھا) نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ: ”حافظ صاحب نے حوالہ ادھورا پیش کیا اور یہودیانہ تحریف اور جعلسازی سے کام لیا ہے۔“
قاضی صاحب
مضطرب کیوں پہلی ہی منزل میں ہے
غصہ تھوک دیجئے اور ٹھنڈے دل و دماغ سے سوچئے۔ میں نے نہ تو حوالہ ادھورا پیش کیا ہے اور نہ ہی کوئی جعلسازی کی ہے اور نہ ہی یہ کہا ہے کہ مرزا قادیانی کا ازالہ اوہام والا عقیدہ ان کا
٣٣
اپنا عقیدہ تھا۔ میں نے صرف مرزا قادیانی کے ان الفاظ پر (خواہ انہوں نے کسی رنگ میں لکھے) اعتراض کیا تھا کہ ”صحیح مسلم کی حدیث میں یہ لفظ موجود ہے کہ حضرت مسیح جب آسمان سے اتریں گے تو ان کا لباس زرد ہوگا۔“
ہمارا عقیدہ
ہم بے شک صحیح مسلم میں ایسی حدیث موجود مانتے ہیں جس کا معنی علمائے سلف اور مجددین امت کے نزدیک یہی ہے کہ مسیح آسمان سے نازل ہوگا اور وہ حدیث وہی ہے جو آپ نے اپنے رسالہ کے ص ١٥ پر درج کی ہے اور اس کی تشریح بھی ہمارے نزدیک وہی ہے جو آپ نے خود تحریر فرمائی ہے۔ لیکن اس کے باوجود ہم واشگاف الفاظ میں اعلان کرتے ہیں کہ صحیح مسلم میں یہ لفظ ہرگز ہرگز نہیں ہے کہ مسیح آسمان سے نازل ہوگا اور بانگ دہل اعلان کرتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے صحیح مسلم کی طرف ”آسمان“ کا لفظ منسوب کر کے غلط بیانی کا ارتکاب کیا ہے جس کو آپ دونوں حضرات دبی زبان سے تسلیم کرچکے ہیں۔
نوٹ: احادیث میں مسیح کے نزول کے لئے آسمان کا لفظ ہے یا نہیں جھوٹ نمبر ٩ کی بحث میں ملاحظہ فرمائیے۔
حاصل کلام
حاصل کلام یہ ہے کہ میں نے تحریف اور جعلسازی نہیں کی۔ بلکہ آپ اپنے نبی پر سنگین اعتراض سے بوکھلا گئے ہیں اور ان کی پوزیشن صاف کرنے کے لئے انہیں کے کلام میں لایعنی تاویلات کر رہے ہیں اور الزام مجھ کو دے رہے ہیں۔
وہ جب آئینہ دیکھیں گے تو ہم انہیں بتا دیں گے
پانچواں جھوٹ
مرزا قادیانی (انجام آتھم ص ٢٩٦، ٢٩٧، خزائن ج ١١ ص ٢٩٦، ٢٩٧) پر تحریر کرتے ہیں کہ: ”احادیث میں فرمایا گیا ہے کہ امام مہدی کو کافر ٹھہرایا جائے گا۔“ کسی قادیانی میں جرأت ہے تو احادیث صحیحہ سے یہ مضمون ثابت کرے۔ وگرنہ مرزا قادیانی کے غلط گو ہونے کا اقرار کرے۔
لاہوری مجیب
لاہوری مجیب اس مقام پر بے حد پریشان ہے۔ احادیث میں اسے یہ مضمون نظر نہیں
٣٤
آتا اور مرزا قادیانی پر جھوٹ کا الزام تسلیم کرنے سے ملازمت کا خطرہ ہے۔ اسی پریشانی کے عالم میں وہ ریاست بھوپال کے سابق نواب صدیق حسن خاں کی کتاب حجج الکرامۃ سے ایک عبارت (جس میں نواب صاحب امام مہدی کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ مقلد اور لکیر کے فقیر علماء امام مہدی کو کافر اور گمراہ کہیں گے ) نقل کرنے کے بعد مجھ سے دریافت کرتے ہیں ۔ ”کیوں اب تسلی ہوئی؟“
(پیغام صلح ص ٦، مورخہ ٣٠ اپریل ١٩٥٨ء)
ایڈیٹر صاحب! غور سے سنئے۔ مجھے آپ کے اس جواب سے پورا اطمینان ہو گیا ہے کہ مرزا قادیانی نے واقعی جھوٹ بولا ہے اور آپ میں حق بات تسلیم کرنے کی جرأت نہیں۔
محترمی ! مرزا قادیانی نے تو احادیث صحیحہ کا حوالہ دیا ہے اور میرا مطالبہ بھی یہی ہے کہ احادیث صحیحہ میں یہ مضمون دکھایا جائے یا مرزا قادیانی کے غلط گو ہونے کا اقرار کیا جائے۔ لیکن آپ کس قدر سادہ لوح ہیں کہ احادیث صحیحہ کی بجائے نواب بھوپال کی عبارت پیش کرتے ہیں۔ کیا نواب بھوپال کی تحریریں حدیث رسول کا درجہ رکھتی ہیں؟ اور کیا ان کی عبارت پیش کرنے سے میرا مطالبہ پورا ہو گیا؟ اور مرزا قادیانی سے جھوٹ کا الزام دور ہو گیا؟
ناظرین! ایڈیٹر صاحب کی بدحواسی ملاحظہ کیجئے۔ فرماتے ہیں کہ حجج الکرامہ کے مصنف (نواب بھوپال) کو آخر کوئی الہام تو نہیں ہوا کہ ایسا ہوگا۔ اس نے (آخر کسی) حدیث اور آثار سے ہی یہ اطلاع حاصل کی ہے۔ سچ ہے کہ دل کا چور چھپا نہیں رہتا۔
ایڈیٹر صاحب نے مجھے مخاطب کر کے لکھا ہے کہ: ”اگر جرأت ہے تو نواب صدیق حسن خاں اور ان تمام چھوٹے بڑے علماء کو جھوٹا قرار دو جنہوں نے یہ لکھا ہے۔“
محترمی ! فی الحال آپ جرأت کر کے مرزا قادیانی کو جھوٹا تسلیم کیجئے۔ جن کا احادیث صحیحہ کی طرف منسوبہ مضمون آپ ثابت نہیں کر سکے۔ باقی رہا نواب صاحب اور دیگر علماء کا معاملہ تو ان کو جھوٹا قرار دینے سے قبل یہ ثابت کیجئے کہ انہوں نے اس مقام پر کسی حدیث کا حوالہ دیا ہے؟
ایڈیٹر پیغام صلح کا جھوٹ
مرزا قادیانی سے جھوٹ کا الزام دور کرتے ہوئے خود ایڈیٹر صاحب نے بھی مجدد صاحب سرہندی پر ایک جھوٹ باندھا ہے۔ تفصیل ملاحظہ فرمائیے۔ ایڈیٹر صاحب نے مجدد صاحب سرہندی کی ایک عبارت معہ ترجمہ اپنے مضمون کے شروع میں بایں الفاظ نقل کی ہے کہ: ”نزدیک است کہ علماء ظواہر بمجتہدات او از کمال دقت غموض ماخذ انکار نمایند و مخالف کتاب و سنت دانند“ یعنی قریب ہے کہ ظاہری علم رکھنے والے علماء حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اجتہادی باتوں کا ان
٣٥
کی کمال باریکی اور گہرے ماخذ کی وجہ سے انکار کر دیں اور انہیں کتاب وسنت کے خلاف قرار دیں۔
(پیغام صلح مذکور ص ٣)
لیکن چند منٹ بعد اسی عبارت سے اپنا مطلب نکالنے کے لئے فرماتے ہیں کہ: ”حضرت مجدد الف ثانی کی عبارت بھی اوپر نقل کی جا چکی ہے۔ جس میں انہوں نے پیش گوئی کی ہے کہ مسیح موعود کی تکفیر کی جائے گی۔ بہتر ہے کہ ان کو بھی جھوٹا قرار دو۔“
(پیغام صلح ص ٦)
ایڈیٹر صاحب! خدا را بتائیے کہ مسیح موعود کی تکفیر کی جائے گی۔ مجدد صاحب کے کن الفاظ کا ترجمہ ہے؟ اور آپ نے مرزا قادیانی کی بریت کے لئے مجدد صاحب پر جھوٹ کیوں باندھا؟
ہم ایڈیٹر صاحب کی مجبوری اور ان کی کٹھن ذمہ داری سے بخوبی آگاہ ہیں۔ اس لئے ان کی طرف سے مرزا قادیانی کی خدمت میں عرض کرتے ہیں کہ؎
ورنہ ہم بھی تھے جہاں میں باوقار
قادیانی مجیب
قادیانی مجیب نے سب سے اوّل یہ فرمایا ہے کہ (انجام آتھم ص ٣٠٧) پر یہ حوالہ موجود نہیں ہے۔ بلکہ انجام آتھم کے تو کل صفحات ہی ٢٨٤ ہیں۔ ہاں اس کے ضمیمہ کے ص ١١، ١٢ پر اس قسم کے الفاظ موجود ہیں۔
ہم حیران ہیں کہ قاضی صاحب جیسے فاضل آدمی نے یہ الفاظ کس بناء پر لکھ دیئے۔ جو ہمیشہ ان کے علم پر بد نما داغ ثابت ہوں گے۔
مرزائی دوستو! غور سے سنو۔ ہمارے نقل کردہ الفاظ انجام آتھم مطبوعہ ضیاء الاسلام پریس قادیان کے ص ٣٠٧ سطر ٥، ٦ پر موجود ہیں اور اس ایڈیشن میں انجام آتھم اور ضمیمہ کے صفحات نیچے والے حاشیہ میں مسلسل جارہے ہیں اور کل صفحات ٣٣٢ ہیں۔ اس کے علاوہ قاضی صاحب نے لکھا ہے کہ انجام آتھم کے (ضمیمہ کے علاوہ) صفحات ہی ٢٨٤ ہیں۔ یہ بھی غلط ہے۔ ہمارے پاس جو انجام آتھم ہے اس کے صفحات (ضمیمہ کے علاوہ) ٢٨٤ نہیں بلکہ ٢٦٩ ہیں اور اگر ضمیمہ کے صفحات الگ شمار کئے جائیں تو پھر بھی میرا پیش کردہ حوالہ ص ١١، ١٢ پر نہیں۔ بلکہ ص ٣٨ پر ہے۔ مجیب صاحب کا فرض تھا کہ میرا حوالہ غلط قرار دینے سے پہلے کم از کم قادیان کے طبع شدہ سارے ایڈیشن ملاحظہ کر لیتے۔ قاضی صاحب!؎
٣٦
سخن شناس نئی دلبرا خطا ایں جا است
قاضی صاحب کا اصل جواب
حوالہ کی بحث کے بعد قاضی صاحب کا جواب سنئے۔ قاضی جی نے (ضمیمہ انجام آتھم ص ١١، ١٢) کے حوالہ سے فرمایا ہے کہ: ”اس جگہ پر حضرت مسیح موعود نے دو حدیثیں بھی پیش کر دی ہیں۔ جن سے مہدی کی تکفیر کی جانا ثابت ہے۔“
اس کے بعد مرزا قادیانی کے مضمون سے یہ دو نام نہاد ”حدیثیں“ درج کی گئی ہیں۔
حدیث اوّل ...... حضرت اقدس رمضان شریف میں سورج چاند کے گرہن والی حدیث کے ذکر میں فرماتے ہیں کہ اگر کسی کو خواب آئے کہ رمضان میں چاند سورج گرہن ہوا تو اس کی تعبیر یہ ہے کہ علماء کسی بابرکت انسان کی مخالفت کریں گے اور توہین کریں گے اور کافر کہیں گے۔
حدیث دوم ...... آنحضرت ﷺ کے اس موعود امام کو مہدی (ہدایت یافتہ) کہنے میں اس طرف اشارہ تھا کہ لوگ اس کو کافر کہیں گے۔
قادیانی دوستو! سچ بتاؤ کیا یہ دونوں فقرے آنحضرت ﷺ کی حدیثیں ہیں؟ کیا خواب کی تعبیر کو حدیث صحیح کہا جاتا ہے؟ اور کیا مہدی کے لفظ میں از خود ایک نقطہ پیدا کر لینا حدیث رسول کہلاتا ہے؟ اور کیا آپ کے قاضی صاحب نے ان کو حدیث کہہ کر مغالطہ نہیں دیا؟
اس کے بعد قاضی صاحب نے صحیح بخاری سے ایک حدیث نقل کی ہے کہ مسلمان، یہود و نصاریٰ کے نقش قدم پر چلیں گے۔ یعنی علماء اسلام یہود کی طرح مسیح وقت پر کفر کا فتویٰ لگائیں گے۔
قاضی صاحب! خدا تعالیٰ کو حاضر ناظر جان کر بتائیے کیا اس قسم کی عام احادیث سے خاص دعویٰ ثابت ہو سکتا ہے؟ اور کیا آنحضرت ﷺ کے اس ارشاد سے کہ مسلمان، یہود و نصاریٰ کے نقش قدم پر چلیں گے۔ یہ مضمون ثابت ہو گیا کہ احادیث صحیحہ میں فرمایا گیا ہے کہ امام مہدی کو کافر ٹھہرایا جائے گا۔ اگر جواب اثبات میں ہے تو فرمایا جائے۔ کیا اسی حدیث کو بنیاد اور دلیل قرار دے کر حسب ذیل دعویٰ کیا جا سکتا ہے کہ احادیث صحیحہ میں آیا ہے کہ:
- ١...... مسیح موعود بلا باپ پیدا ہوگا اور علماء ان کی والدہ پر اعتراض کریں گے۔
- ٢...... مسیح موعود کو صلیب پر لٹکایا جائے گا۔
٣٧
- ٣...... مسیح موعود کشمیر کی طرف ہجرت کرے گا اور ٨٧ سال بعد سرینگر میں وفات پائے گا۔
- ٤...... مولوی قرآن مجید کے الفاظ بدل ڈالیں گے۔
اگر اس حدیث کو دلیل بنا کر مذکورہ دعاوی کرنے والا احادیث پر جھوٹ بولنے والا قرار دیا جائے تو کیا وجہ ہے کہ مرزا قادیانی کے اس بیان کو کہ احادیث صحیحہ میں آیا ہے کہ امام مہدی کو کافر کہا جائے گا۔ جھوٹ قرار نہ دیا جائے۔ قاضی صاحب ! ؎
نوٹ: قاضی صاحب نے ابن عربی کی فتوحات مکیہ اور نواب صاحب کی حجج الکرامہ سے دو حوالے دیئے ہیں۔ نواب صاحب کے حوالہ کا جواب لاہوری مجیب کے ضمن میں ہو چکا ہے اور ابن عربی کے الفاظ میں امام مہدی کی تکفیر کا نہیں صرف مخالفت کا ذکر ہے۔
چھٹا جھوٹ
مرزا قادیانی اپنی کتاب (ضرورۃ الامام ص ٥، خزائن ج ١٣ ص ٤٧٥) پر فرماتے ہیں کہ: ”پہلے نبیوں کی کتابوں اور احادیث نبویہ میں لکھا ہے کہ مسیح موعود کے ظہور کے وقت یہ انتشار نورانیت اس حد تک ہوگا کہ عورتوں کو بھی الہام شروع ہو جائیں گے اور نابالغ بچے نبوت کریں گے۔“
ہمارا دعویٰ ہے کہ یہ مرزا قادیانی کا احادیث نبویہ پر صریح افتراء ہے۔ ہم جماعت احمدیہ کو چیلنج کرتے ہیں کہ وہ مرزا قادیانی کا فرمودہ مضمون احادیث نبویہ سے ثابت کرے اور ہمیں بتائے کہ کتنی عورتوں کو الہام ہوا اور کتنے بچے منصب نبوت پر فائز ہوئے۔
لاہوری مجیب
لاہوری مجیب نے اس اعتراض کا جو جواب دیا ہے ہم مختصراً بلا تبصرہ درج کرتے ہیں۔ ناظرین غور سے ملاحظہ فرمائیں۔ مجیب صاحب رقمطراز ہیں: ”ہمیں تعجب ہے کہ اس کوڑ مغز ملا نے تمام احادیث نبویہ پر کب سے احاطہ کرلیا ہے کہ جو حدیث اس کے علم میں نہیں اس کو افتراء قرار دئیے بغیر اسے چین نہیں آتا۔ (حالانکہ) کئی ایسی احادیث بھی ہیں جو سیرت کی کتابوں اور تفاسیر میں لکھی ہیں۔ لیکن کتب احادیث میں نہیں۔ کیا ان کو مفسرین اور سیرت نویسوں کا افتراء قرار دیا جائے گا۔ جامعین احادیث نے جن احادیث کو اپنی شرائط کے مطابق صحیح سمجھا ان کو اپنی کتابوں میں لے آئے۔ باقی کو چھوڑ دیا۔ ہو سکتا ہے کہ ان متروکہ احادیث میں کئی ایسی ہوں جو محدثین
١؎ جب آپ ایسی احادیث کی فہرست پیش کریں گے تو جواب دیا جائے گا۔
٣٨
کے نقطہ نگاہ سے نہ سہی لیکن فی الحقیقت صحیح ہوں۔ اس قسم کی احادیث کئی غیر معروف کتابوں، سیرتوں اور تفاسیر وغیرہ میں پائی جاتی ہیں۔ مرزا قادیانی نے اگر یہ حدیث کسی ایسی کتاب میں دیکھی ہو جو بدلہبوی ملا کے علم میں نہ آئی ہو تو اس کو افتراء کہنا اپنی علمی فرومائیگی کا ثبوت دینا ہے۔‘‘
(پیغام صلح ص ٣ مورخہ ١٤؍مئی)
ناظرین! ایڈیٹر صاحب غالباً بھول گئے ہیں کہ وہ مرزا قادیانی کے مریدوں کو وعظ نہیں کر رہے۔ بلکہ ان کے مخالف اور معترض کو جواب دے رہے ہیں۔ میدان مناظرہ میں یہ کہنا کہ حضرت صاحب نے کہیں دیکھی ہوگی۔ اعتراف شکست نہیں تو اور کیا ہے؟
یہاں پگڑی اچھلتی ہے اسے میخانہ کہتے ہیں
قادیانی مجیب
اسی اعتراض کے جواب میں فرماتے ہیں کہ: ’’افسوس ہے کہ حافظ صاحب کو نہ تو نبیوں کی کتابوں کا کچھ علم ہے اور نہ ہی حدیث کا پورا علم ہے۔ ورنہ ایک چھوڑ تین حدیثیں انہیں اس مضمون کی مل جاتیں۔‘‘
(رسالہ ص ١٩)
ہم حیران ہیں کہ لاہوری مجیب کو ان تین احادیث سے ایک بھی نظر نہ آئی اور اس بیچارے کو بالآخر یہی کہنا پڑا کہ: ’’شاید یہ حدیث مرزا قادیانی نے کہیں دیکھی ہو۔‘‘
اس کے بعد قاضی صاحب لکھتے ہیں کہ: ’’حضرت اقدس نے اس جگہ یہ مضمون نبیوں کی کتابوں اور احادیث نبویہ کے مشترک مفہوم کی صورت میں پیش فرمایا ہے۔‘‘ چنانچہ رسولوں کے اعمال میں ہے کہ خدا فرماتا ہے کہ آخری دنوں میں ایسا ہوگا کہ میں اپنی روح میں سے ہر فرد بشر پر ڈالوں گا اور تمہارے بیٹے اور بیٹیاں نبوت کریں گی۔
اس کے بعد قاضی صاحب نے صحیح بخاری سے اس مضمون کی ایک حدیث نقل کی ہے کہ قیامت کے قریب مؤمن کی خوابیں سچی ہوں گی اور مؤمن کی (سچی) خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے۔
(رسالہ ص ٢٠)
نوٹ: دوسری دو حدیثیں بھی اسی مضمون کی ہیں۔ ہم حیران ہیں کہ قاضی جی کی نسبت غلط بیانی کا خیال کریں یا بددیانتی کا۔ آخر خیال آیا کہ یہ ہیرا پھیری ان کی مجبوری کا دوسرا نام ہے۔ ہر وہ شخص جو مرزا قادیانی کی وکالت کرے گا۔ اسے جھوٹ کو سچ کرنے کے لئے بیسیوں حرکات شنیعہ کا ارتکاب کرنا پڑے گا۔ جس پر یہ کہنا بجا ہوگا۔
٣٩
اے الفت چمن تیرا خانہ خراب ہو
قاضی صاحب ! ہم آپ سے انصاف اور دیانت کے نام پر اپیل کرتے ہیں کہ کتاب رسولوں کے اعمال کو ایک بار پھر دیکھئے اور خدا کو حاضر ناظر جان کر بتائیے۔ کیا اس عبارت میں آخری دنوں سے مراد مسیح موعود (مرزا قادیانی) کا زمانہ ہے؟ اور کیا ان الفاظ میں کسی آئندہ زمانہ کے لئے پیش گوئی کی گئی ہے۔ یا کسی گزرے ہوئے واقعہ کو بطور تاریخ بیان کیا گیا ہے۔
مرزائی دوستو! ہم آپ کی آسانی کے لئے کتاب ”رسولوں کے اعمال“ سے یہ سارا واقعہ درج کرتے ہیں۔ تاکہ آپ اصل حقیقت سے آگاہ ہوسکیں۔
حضرت مسیح علیہ السلام کے آسمان پر اٹھائے جانے کے بعد: ”جب عید پنتکست کا دن آیا۔ وہ سب (مسیح کے ١٢ شاگرد) ایک جگہ جمع تھے کہ یکا یک آسمان سے ایسی آواز آئی۔ جیسے زور کی آندھی کا سناٹا ہوتا ہے اور اس سے سارا گھر جہاں وہ بیٹھے تھے گونج گیا اور انہیں آگ کے شعلے کی سی پھٹتی ہوئی زبانیں دکھائی دیں اور ان میں سے ہر ایک پر آ ٹھہریں اور وہ سب روح القدس سے بھر گئے اور غیر زبانیں بولنے لگے۔ جس طرح روح نے انہیں بولنے کی طاقت بخشی۔ اس کے بعد اس واقعہ کی تفصیلات لکھی ہیں کہ اس موقعہ پر بہت تماشائی اکٹھے ہوگئے اور مسیح کے شاگردوں کو غیر زبانوں میں کلام کرتے دیکھ کر کہنے لگے کہ یہ شراب کے نشے میں ہیں۔“
لیکن پطرس حواری اپنی آواز بلند کر کے لوگوں سے کہنے لگا کہ اے یہودیو اور اے یروشلیم کے سب رہنے والو! یہ جان لو اور کان لگا کر میری بات سنو کہ جیسا تم سمجھتے ہو یہ نشہ میں نہیں ۔ بلکہ یہ وہ بات ہے جو یوئیل نبی کی معرفت کہی گئی ہے کہ خدا فرماتا ہے کہ: ”آخری دنوں میں ایسا ہوگا کہ میں اپنے روح میں سے ہر بشر پر ڈالوں گا اور تمہارے بیٹے اور بیٹیاں نبوت کریں گے اور تمہارے جوان رویا اور بڈھے خواب دیکھیں گے۔“
مرزائی دوستو! غور کیجئے کہ یہ واقعہ حضرت مسیح کے بعد ان کے ١٢ شاگردوں کو پیش آیا اور پطرس حواری نے اس عہد قدیم کے یوئیل نبی کی مندرجہ بالا پیش گوئی کا مصداق ٹھہرایا۔ لیکن اپنے قاضی صاحب کی دیانت دیکھئے کہ وہ اسے قیامت کے قریب (مسیح موعود کے زمانہ) کے لئے پیش گوئی قرار دے کر ہمارے اعتراض کا جواب دے رہے ہیں اور کمال یہ کہ اسے میری بے علمی سے تعبیر کر رہے ہیں۔ ایمان سے کہو یہ میری بے علمی ہے یا قاضی صاحب کا فریب؟ سچ ہے۔
٤٠
ہے یہ گنبد کی صدا جیسی کہے ویسی سنے
اس کے بعد قاضی صاحب کی سادگی یا مجبوری ملاحظہ فرمائیے کہ بخاری کی حدیث (قیامت کے قریب مؤمن کی خواب سچی ہوا کرے گی اور سچی خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے) کو میرے اعتراض میں پیش کرتے ہیں۔
قاضی صاحب! اس سے بہتر تو یہ تھا کہ آپ بھی لاہوری مجیب کی طرح یہ کہہ کر خلاصی کرا لیتے کہ اس مضمون کی حدیث مرزا قادیانی نے کسی غیر معروف کتاب میں دیکھی ہو گی۔
مرزا قادیانی تو یہ فرماتے ہیں کہ احادیث نبویہ میں لکھا ہے کہ مسیح موعود کے زمانہ میں انتشار نورانیت اس حد تک ہو گا کہ عورتوں کو الہام ہوں گے اور نابالغ بچے نبوت کریں گے۔
ہم مرزا قادیانی کے اس فرمان کو احادیث نبویہ پر افتراء قرار دیتے ہوئے آپ سے حوالہ پوچھتے ہیں اور آپ ہمارے علم کی کمی کا گلہ کرتے ہوئے یہ حدیث پیش کرتے ہیں کہ قیامت کے قریب مؤمن کو سچے خواب آئیں گے۔ ذرا انصاف فرمائیے کہ ہم نے مرزا قادیانی پر جھوٹا الزام لگایا ہے یا آپ کے حضرت اقدس نے حدیث نبویہ پر افتراء کیا اور جھوٹ باندھا ہے۔
ساتواں جھوٹ
مرزا قادیانی نے (حقیقت الوحی ص ٣٩٠، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٦) پر مجدد صاحب سرہندی کے حوالہ سے یہ مضمون لکھا ہے کہ : ”جس شخص کو بکثرت مکالمہ مخاطبہ سے مشرف کیا جائے ...... وہ نبی کہلاتا ہے۔“
حالانکہ مرزا قادیانی نے جب دعویٰ نبوت نہیں کیا تھا تو انہوں نے خود ازالۃ اوہام، براہین احمدیہ اور تحفہ بغداد میں مجدد صاحب کی یہ عبارت اس طرح نقل کی ہے کہ جسے کثرت سے مکالمہ مخاطبہ ہو اسے محدث کہتے ہیں۔
احمدی دوستو! کیا مرزا قادیانی کے دعویٰ تبدیل کرنے سے مجدد صاحب کی کتاب میں تبدیلی ہو گئی؟ ہم کھلے الفاظ میں مرزا قادیانی پر یہ الزام عائد کرتے ہیں کہ انہوں نے مجدد صاحب کے حوالہ میں جان بوجھ کر جھوٹ بولا ہے اور بددیانتی کی ہے۔ اگر آپ میں کوئی دم خم ہے تو اپنے حضرت صاحب کو ہمارے الزام سے بری ثابت کرو۔
لاہوری مجیب
لاہوری مجیب ہمارے اعتراض کا جواب دینے سے پہلے اس بات پر بڑا سیخ پا ہو رہا
٤١ ہو رہا
٤١ ٤ ہو رہا
٤١
ہے کہ ہم نے مرزا قادیانی کے دعویٰ میں تبدیلی کا ذکر کیوں کر دیا۔ غصہ ملاحظہ فرمائیے۔ ارشاد ہوتا ہے کہ: ”دعویٰ تبدیل کرنے کی بھی ایک ہی کہی۔ ہم کھلے الفاظ میں تم پر یہ الزام عائد کرتے ہیں کہ تم نے حضرت مرزا قادیانی پر تبدیلی دعویٰ کا الزام دے کر اور دعویٰ نبوت ان کی طرف منسوب کر کے عمداً جھوٹ بولا ہے اور بددیانتی کی ہے۔“
(پیغام صلح ص ٣، مورخہ ٧؍مئی)
ایڈیٹر صاحب! حوصلہ کیجئے اور اپنے آپ کو اس شعر کا مصداق نہ بنائیے۔
کی جس سے بات اس نے شکایت ضرور کی
اس کے بعد ایڈیٹر صاحب اس بات کے ثبوت میں کہ مرزا قادیانی نے دعویٰ نبوت نہیں کیا۔ (حقیقت الوحی ص ٣٩٠، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٦) کی حسب ذیل عبارت نقل کرتے ہیں: ”پھر ایک اور نادانی یہ ہے کہ جاہل لوگوں کو بھڑکانے کے لئے کہتے ہیں کہ اس شخص (مرزا قادیانی) نے دعویٰ نبوت کیا ہے۔ حالانکہ یہ ان (مولویوں) کا سراسر افتراء ہے۔ نبوت کا دعویٰ نہیں کیا گیا۔ صرف یہ دعویٰ ہے کہ ایک پہلو سے میں امتی ہوں اور ایک پہلو سے آنحضرت ﷺ کے فیض نبوت کی وجہ سے نبی ہوں اور نبی سے مراد صرف اس قدر ہے کہ خدا تعالیٰ سے بکثرت شرف مکالمہ و مخاطبہ پاتا ہوں۔“
یہ عبارت نقل کرنے کے بعد ایڈیٹر صاحب دل کا غبار یوں نکالتے ہیں کہ: ”کیا دعویٰ نبوت کی اس کھلی تردید کے ہوتے ہوئے حضرت مرزا قادیانی کی طرف دعویٰ نبوت منسوب کرنا یا تبدیلی دعویٰ کا الزام عائد کرنا کھلی بددیانتی اور جھوٹ نہیں۔“
ہم حیران ہیں کہ ایڈیٹر صاحب کی نسبت کیا خیال کریں۔ دماغی مریض سمجھیں یا بڑھاپے کا اثر اور ”کیلا یعلم بعد علم شیئاً“ کا مصداق؟
مرزا قادیانی تو واشگاف الفاظ میں اعلان کرتے ہیں کہ میں ایک پہلو سے نبی ہوں۔ اور یہ بیچارے حق نمک ادا کرنے کیلئے یوں کہتے ہیں کہ: ”مرزا قادیانی کی طرف دعویٰ نبوت منسوب کرنا کھلی بددیانتی اور جھوٹ ہے۔“
نبی بمعنی محدث
ایڈیٹر صاحب نے ہمارے اصل الزام کا جواب ان الفاظ میں دیا ہے کہ مرزا قادیانی نے (نبی والے حوالہ میں) مجدد صاحب کے اصل الفاظ نقل نہیں کئے۔ بلکہ روایت بالمعنی کے طور پر ان کا مفہوم اپنے الفاظ میں بیان کیا ہے اور نبی کا لفظ محدث ہی کے معنوں میں استعمال کیا ہے۔ یعنی
٤٢
جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے
بہر حال ایڈیٹر صاحب نے تسلیم کرلیا کہ مجدد سرہندی کے حوالہ میں واقعی نبی نہیں صرف محدث کا لفظ ہے۔ ہمارا اعتراض بھی یہی ہے کہ مرزا قادیانی نے مجدد صاحب کی عبارت میں محدث کی جگہ نبی کا لفظ لکھ کر جھوٹ بولا۔ بددیانتی اور خلق خدا کو گمراہ کرنے کی کوشش کی ہے۔
ہاں ایڈیٹر صاحب! اگر محدث اور نبی ایک ہی حقیقت کے دو نام ہیں اور ان میں صرف روایت بالمعنی کا فرق ہے تو پھر آپ مرزا قادیانی کی طرف دعویٰ نبوت کی نسبت کو بددیانتی اور جھوٹ کیوں کہتے ہیں؟ اور اگر محدث اور نبی میں کوئی فرق نہیں تو مرزا قادیانی کے اس ارشاد کا مطلب کیا ہے کہ نبوت کا دعویٰ نہیں بلکہ محدثیت کا دعویٰ ہے۔ جو خدا کے حکم سے کیا گیا ہے۔
(ازالہ اوہام ص٤٢٢، خزائن ج٣ ص٣٢٠)
تبدیلی دعویٰ
لاہوری دوستو! آپ کا ایڈیٹر مرزا قادیانی کی تبدیلی دعویٰ کے ذکر پر بڑا برہم ہو رہا ہے۔ لیجئے ہم آپ پر اتمام حجت کے لئے مرزا قادیانی کے دعویٰ میں تبدیلی بھی ثابت کئے دیتے ہیں۔ غور سے سنئے:
مرزا قادیانی ابتداء میں محدثیت کے مدعی اور نبوت سے انکاری تھے۔ لیکن اس کے باوجود اپنے لئے نبی کا لفظ استعمال کر لیتے تھے۔ جب ان پر اعتراض ہوتا تو آپ کی طرح فرما دیتے کہ محدث بھی ایک لحاظ سے نبی ہوتا ہے اور محدث پر لفظ نبی کا اطلاق درست ہے۔ لیکن دوسرے علماء مرزا قادیانی کی اس ہیرا پھیری کو دعویٰ نبوت سے تعبیر کرتے تھے۔ ان کا خیال یہ تھا کہ محدث پر نبی کا اطلاق ہرگز ہرگز جائز نہیں۔ اسی مسئلہ پر جنوری ١٨٩٢ء کے آخری ہفتہ میں مرزا قادیانی اور مولانا عبدالحکیم صاحب کلانوری کا شہر لاہور میں تحریری مناظرہ ہوا۔ مرزا قادیانی نے مولانا عبدالحکیم کے دلائل سے عاجز آکر ٣؍ فروری کو حسب ذیل توبہ نامہ لکھ دیا جس پر بحث ختم ہوئی کہ: ”تمام مسلمان بھائیوں کی خدمت میں گذارش ہے کہ اس عاجز کے رسالہ فتح الاسلام وتوضیح المرام وازالۃ الاوہام میں جس قدر ایسے الفاظ موجود ہیں کہ محدث ایک معنی میں نبی ہوتا ہے یا یہ کہ محدثیت جزوی نبوت ہے یا یہ کہ محدثیت نبوت ناقصہ ہے۔ یہ تمام الفاظ حقیقی معنوں پر محمول نہیں ہیں۔ بلکہ صرف سادگی سے ان کے لغوی معنوں کی رو سے بیان کئے گئے ہیں۔ ورنہ حاشا وکلا مجھے نبوت حقیقی کا ہرگز دعویٰ نہیں ہے۔ ...... میرا اس بات پر ایمان ہے کہ ہمارے سید ومولیٰ محمد
مصطفیٰ ﷺ خاتم الانبیاء ہیں۔ سو میں تمام مسلمان بھائیوں کی خدمت میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ اگر وہ ان لفظوں سے ناراض ہیں اور ان کے دلوں پر یہ الفاظ شاق ہیں تو وہ ان الفاظ کو ترمیم شدہ تصور فرما کر بجائے اس کے محدث کا لفظ میری طرف سے سمجھ لیں ...... اور لفظ نبی کو کاٹا ہوا تصور کریں۔"
(اشتہار مرزا مورخہ ٣؍ فروری ١٨٩٢ء، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٣١٣)
اس توبہ نامہ کا دو حرفی خلاصہ یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے ١٨٩٢ء میں لفظ نبی کے استعمال سے کلی احتراز کا وعدہ کیا اور اپنے لئے لفظ محدث پر اکتفاء کرتے ہوئے اپنی تمام کتابوں سے لفظ نبی کاٹ دینے کی اپیل کی۔ لیکن یہی مرزا قادیانی ٥؍ نومبر ١٩٠١ء کے اشتہار میں فرماتے ہیں کہ: "چند روز ہوئے کہ ہماری جماعت کے ایک صاحب پر کسی مخالف نے اعتراض کیا کہ جس سے تم نے بیعت کی ہے وہ نبی اور رسول ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔ میرے ساتھی (مرید) نے اس کا جواب محض انکار سے دیا۔ حالانکہ ایسا جواب صحیح نہیں۔ حق یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی پاک وحی جو مجھ پر نازل ہوتی ہے اس میں صد ہا دفعہ مجھے نبی اور رسول کہا گیا ہے۔ ...... یاد رہے کہ نبی کا معنی لغت کی رو سے یہ ہے کہ خدا کی طرف سے اطلاع پا کر غیب کی خبر دینے والا۔ پس جہاں یہ معنی صادق آئے گا نبی کا لفظ بھی صادق آئے گا اور نبی کا رسول ہونا شرط ہے ...... پس جب کہ میں اس مدت تک ڈیڑھ سو پیش گوئی کے قریب خدا کی طرف سے پا کر چشم خود دیکھ چکا ہوں کہ صاف طور پر پوری ہو گئیں تو میں اپنی نسبت نبی یا رسول کے نام سے کیونکر انکار کر سکتا ہوں ۔"
(ایک غلطی کا ازالہ ص ٦، خزائن ج ١٨ ص ٢١٠)
محدث نہیں نبی ہوں
وہی مرزا قادیانی جو ١٨٩٢ء میں نبی کا لفظ کاٹ کر محدث لکھنے کے لئے اشتہار دیتے ہیں اور محدث کے لئے خدائی مکالمہ مخاطبہ جائز سمجھتے ہیں اور محدث کو اظہار غیب والی آیت میں شامل فرماتے ہیں۔ (ایام صلح) اور محدثیت کو ”وحی“ خیال کرتے اور محدث کی وحی کو دخل شیطانی سے پاک سمجھتے ہیں۔ (حمامۃ البشریٰ) اور صاف الفاظ میں فرماتے ہیں کہ: ”نبوت کا دعویٰ نہیں بلکہ محدثیت کا دعویٰ ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ٤٢٢، خزائن ج ٣ ص ٣٢٠)
آج اپنے لئے لفظ نبی اور رسول سے کم تر کوئی لفظ گوارا نہیں کرتے اور محدثیت کا مقام اپنے لئے کم تر خیال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ محدث کا لفظ میری شان کے اظہار سے قاصر ہے۔ مرزا قادیانی کے الفاظ ملاحظہ فرمائیے : ”اگر خدا تعالیٰ سے غیب کی خبریں پانے والا نبی کا نام نہیں رکھتا تو پھر بتلاؤ کس نام سے اسے پکارا جائے۔ اگر کہو کہ اس کا نام محدث رکھنا چاہئے تو میں کہتا
٤٤
ہوں کہ تحدیث کا معنی کسی لغت کی کتاب میں اظہار غیب نہیں ہے۔ مگر نبوت کا معنی اظہار امر غیب ہے۔“
(اشتہار مورخہ ٥؍ نومبر ١٩٠١ء، ایک غلطی کا ازالہ ص ٥، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٩)
ایڈیٹر صاحب! ٣؍ فروری ١٨٩٢ء کا توبہ نامہ ایک طرف رکھئے اور ٥؍ نومبر ١٩٠١ء کا اشتہار دوسری طرف پھر ایمان داری سے کہئے کہ آپ کے ان الفاظ کی کیا حیثیت ہے کہ: ”حضرت مرزا قادیانی کی طرف دعویٰ نبوت منسوب کرنا یا تبدیلی دعویٰ کا الزام عائد کرنا کھلی بدیانتی اور جھوٹ ہے۔“
ناظرین! ہم نے پوری تفصیل سے مرزا قادیانی کی اپنے دعویٰ میں تبدیلی ثابت کر دی ہے اور یہ بھی ثابت کر دیا ہے کہ محدث اور نبی کا لفظ ہم معنی نہیں ہے۔ لاہوری مجیب نے مرزا قادیانی کو ہمارے الزام سے بچانے کے لئے یہ تاویل کی تھی کہ مرزا قادیانی نے نبی کا لفظ محدث کے معنی میں استعمال کیا ہے۔ ہم نے اس تاویل کا ہر لحاظ سے قلع قمع کر دیا ہے۔ اس کے بعد ہم یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ مرزا قادیانی نے تبدیلی دعویٰ کے بعد مجدد سرہندی کے حوالہ سے محدث کی جگہ لفظ نبی لکھ کر غلط بیانی کی ہے اور خلق خدا کو فریب دینے کی کوشش کی ہے۔
قادیانی مجیب
قادیانی مجیب فرماتے ہیں کہ:” (مجدد سرہندی کی کتاب میں) محدث والا حوالہ اور ہے، اور نبی والا اور۔“ پھر فرماتے ہیں کہ:”حافظ صاحب نے دونوں حوالوں کو ایک قرار دے کر بدیانتی کی ہے۔“
(مفہوم ص ٢٢، ٢٣)
اس کی تفصیل قاضی جی کے رسالہ میں یہ ہے کہ براہین احمدیہ، ازالہ اوہام اور تحفہ بغداد میں تو محدث والا حوالہ ہی درج کیا گیا ہے اور اس کا مضمون صرف یہ ہے کہ جسے کثرت سے مکالمہ مخاطبہ ہو اسے محدث کہتے ہیں۔
لیکن حقیقت الوحی میں مرزا قادیانی نے جو مضمون مجدد صاحب کے حوالہ سے لکھا ہے اس میں کثرت مکالمہ مخاطبہ کے ساتھ بکثرت علوم غیبیہ کا ذکر بھی کیا ہے اور اس کو نبی قرار دیا ہے۔ یہ حوالہ دوسرا ہے۔
قاضی صاحب اس ہیرا پھیری سے یہ ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے محدث کی جگہ نبی کہہ کر جھوٹ کا ارتکاب نہیں کیا بلکہ مختلف مقامات پر مختلف حوالے دیئے ہیں۔ حالانکہ لاہوری مجیب ان کو ایک ہی حوالہ تسلیم کرتا ہوا روایت بالمعنی کا عذر پیش کرتا ہے۔ گویا ؎
٤٥
ناظرین! جھوٹ کو سچ کرنے والوں کا یہی حال ہوتا ہے۔ قاضی صاحب کے جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ مجدد سرہندی کی کتاب سے مرزا قادیانی نے دو مختلف حوالے درج کئے ہیں۔
- اول...... کثرت مکالمہ مخاطبہ والا محدث کہلاتا ہے۔ (براہین ، ازالہ ، تحفہ بغداد)
- دوم...... جس پر امور غیبیہ بکثرت ظاہر ہوں نبی کہلاتا ہے۔ (حقیقت الوحی)
گویا قاضی صاحب کے نزدیک محدث پر بکثرت امور غیبیہ کا اظہار نہیں ہوتا اور آیت ”عالم الغیب فلا یظہر علی غیبہ احدا الا من ارتضی من رسول“ صرف (نبیوں اور) رسولوں کے متعلق ہے۔
(رسالہ مذکور ص ٢٥)
قاضی جی کے برعکس: ”ہمارا دعویٰ ہے کہ مرزا قادیانی نے حقیقت الوحی میں بعینہ وہی حوالہ درج کیا ہے جو اس سے پہلے براہین احمدیہ، ازالہ اوہام اور تحفہ بغداد میں درج کر چکے تھے اور تبدیلی دعویٰ کی وجہ سے خلق خدا کو فریب دینے کے لئے حقیقت الوحی میں محدث کی جگہ نبی لکھا ہے اور بکثرت امور غیبیہ کا لفظ (جو حقیقت الوحی میں ہے لیکن پہلے تین حوالوں میں نہیں تھا) جس کی بناء پر قاضی صاحب دو حوالے بتاتے ہیں۔ صرف کثرت مکالمہ مخاطبہ کی تشریح ہے۔“
ہمارے دعویٰ کے دلائل حسب ذیل ہیں۔
- اول...... قاضی صاحب کا دعویٰ یہ ہے کہ محدث کو امور غیبیہ پر اطلاع نہیں دی جاتی
اور آیت کریمہ ”الا من ارتضی من رسول“ صرف انبیاء کے متعلق ہے۔ لیکن مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ محدث کو علوم غیبیہ کامل طور پر دیئے جاتے ہیں اور آیت مذکور میں محدث بلکہ مجدد بھی شامل ہیں۔ مرزا قادیانی کے الفاظ یہ ہیں کہ قرآن شریف میں آتا ہے۔ ”لا یظہر علی غیبہ احدا الا من ارتضی من رسول“ یعنی کامل طور پر غیب کا بیان کرنا صرف رسول کا کام ہے۔ دوسرے کا یہ مرتبہ عطا نہیں ہوتا۔ رسولوں سے مراد وہ لوگ ہیں جو خدا تعالیٰ کی طرف سے بھیجے جاتے ہیں۔ خواہ وہ نبی ہوں یا رسول یا محدث۔
(آئینہ کمالات ص ٣٢٢، خزائن ج ٥ ص ایضاً)
قاضی جی فرمائیے! آپ سچے ہیں یا مرزا قادیانی۔
صیاد اپنے دام میں خود مبتلا ہونے کو ہے
- دوم...... ہم مرزائی جماعت پر اتمام حجت اور جھوٹے کو گھر تک پہنچانے کے لئے یہ
بتانا بھی ضروری سمجھتے ہیں کہ مرزا قادیانی کے نزدیک کثرت مکالمہ مخاطبہ اور بکثرت امور غیبیہ پر
٤٦
اطلاع ایک ہی بات ہے۔ وہ اس مضمون کو کبھی ایک لفظ میں کبھی دوسرے میں اور کبھی دونوں میں ادا فرماتے ہیں۔ حقیقت الوحی کی اسی متنازعہ عبارت میں مرزا قادیانی اپنے لئے کثرت مکالمہ مخاطبہ کے علاوہ بکثرت امور غیبیہ کا ذکر بھی کرتے ہیں۔ لیکن اسی کتاب کے (تتمہ حقیقت الوحی ص ٦٨، خزائن ج ٢٢ ص ٥٠٣) میں اپنی نبوت کے مخالفین سے فرماتے ہیں کہ: ”میری نبوت سے مراد صرف مکالمت و مخاطبت الٰہیہ ہے جو آنحضرت ﷺ کی اتباع سے حاصل ہے۔ سو مکالمہ مخاطبہ کے آپ لوگ بھی قائل ہیں۔ پس یہ صرف لفظی نزاع ہوئی۔ یعنی آپ لوگ جس امر (شے) کا نام مکالمہ مخاطبہ رکھتے ہیں میں اس کی کثرت کا نام بموجب حکم الٰہی نبوت رکھتا ہوں۔“
دیکھئے قاضی صاحب! یہاں آپ کے حضرت صاحب اپنے لئے صرف کثرت مکالمہ مخاطبہ کا ذکر کرتے ہیں اور اسی کا نام نبوت رکھتے ہیں۔ لیکن آپ کثرت مکالمہ مخاطبہ کو محدثیت اور نبوت کے لئے کثرت علوم غیبیہ کو شرط قرار دیتے ہیں اور مرزا قادیانی کی حمایت میں ان کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مدعی سست اور گواہ چست کا کردار ادا کر رہے ہیں۔
اور سنئے! مرزا قادیانی اسی کتاب کے (ضمیمہ ص ٢٤، خزائن ج ٢٢ ص ٦٨٩) پر فرماتے ہیں کہ: ”ما عنی اللّٰہ من نبوتی الا کثرۃ المکالمۃ والمخاطبۃ ولعنۃ اللّٰہ علٰی من اراد فوق ذالک“ یعنی میری نبوت سے اللہ تعالیٰ کی مراد صرف کثرت مکالمہ مخاطبہ ہے۔ جو اس سے زیادہ کا خیال کرے اس پر خدا کی لعنت ہو۔
نوٹ: مرزا قادیانی نے دیوانہ بکار خویش ہشیار کا کردار کس عمدگی سے ادا فرمایا ہے کہ مکالمہ مخاطبہ اور نبوت ایک ہی حقیقت کے دو نام ہیں۔ گویا ؎
پسینہ آگیا تھا گل کو فریاد عنادل پر
مرزائی دوستو! آپ کے قاضی صاحب نے مرزا قادیانی کو ہمارے الزام سے بچانے کے لئے کہا تھا کہ مجدد سرہندی کی کتاب سے مرزا قادیانی نے ایک ہی حوالہ میں خیانت نہیں بلکہ یہ مختلف مضامین کے دو حوالے ہیں اور اپنے دعویٰ کی بنیاد اس امر کو قرار دیا تھا کہ محدث والے حوالہ میں محض کثرت مکالمہ مخاطبہ کا ذکر ہے اور محدث کا یہی درجہ ہوتا ہے اور نبی والے حوالہ میں بکثرت امور غیبیہ کا ذکر ہے اور یہ منصب صرف نبی کا ہے۔ محدث کو یہ مقام حاصل نہیں ہوتا۔
ہم نے مرزا قادیانی کی اپنی تحریرات سے قاضی صاحب کی جوابی بنیاد کو غلط ثابت کر دیا ہے اور مرزا قادیانی کا اقبالی بیان پیش کر دیا ہے کہ محدث کو بھی بکثرت امور غیبیہ کا علم دیا جاتا ہے
٤٧
اور یہ کہ مرزا قادیانی کی نبوت بھی کثرت مکالمہ مخاطبہ سے زیادہ نہیں تھی۔ اب آپ ہی فرمائیے کہ میں نے بقول قاضی صاحب دو حوالوں کو ایک بنا کر بد دیانتی کی ہے۔ یا مرزا قادیانی نے ایک ہی حوالہ میں خیانت کر کے کذب بیانی کی اور قاضی جی نے ایک ہی حوالہ کو دو سمجھ کر اپنی سادہ لوحی کا ثبوت دیا ہے۔ قاضی صاحب ؎
نظر آتا ہے خالی آج گوشہ تیرے داماں کا
مرزا قادیانی کی کذب بیانی پر ایک اور قرینہ
ہمارا دعویٰ ہے کہ حقیقت الوحی والے حوالہ میں مرزا قادیانی نے عمداً غلط بیانی کی اور خلق خدا کو مجدد صاحب کے نام پر فریب دینے کی کوشش کی ہے۔ کیونکہ جہاں جہاں مرزا قادیانی نے دعویٰ نبوت سے پہلے مجدد صاحب کا حوالہ صحیح دیا اور ان کی طرف محدث کا لفظ منسوب کیا ہے۔ ان تمام مقامات پر اصل عبارت لکھی ہے...... اور مکتوب الیہ اور صفحہ وغیرہ کا باقاعدہ حوالہ دیا ہے۔ مگر دعویٰ نبوت کے بعد جب حقیقت الوحی میں محدث کی جگہ نبی کا لفظ لکھ کر بد دیانتی کی تو نہ ہی اصل عبارت نقل کی۔ نہ ہی مکتوبات کی جلد کا پتہ دیا۔ نہ ہی مکتوب کا نمبر اور مکتوب الیہ کا نام ظاہر کیا اور نہ ہی صفحہ کا حوالہ دیا۔ بلکہ عوام الناس کو فریب دینے کے لئے بلا حوالہ گول مول مضمون لکھ دیا۔ مقصد صرف یہ تھا کہ ؎
ایک مغالطہ
قاضی صاحب نے اپنی تائید میں مکتوبات کی جلد اوّل مکتوب نمبر ٣١٠ سے یہ فقرہ نقل کیا ہے کہ: ”خدا تعالیٰ متشابہات کی تاویل کا علم علمائے راسخین کو عطا فرماتا ہے اور علم غیب پر جو اس کے ساتھ مخصوص ہے اپنے رسولوں کو اطلاع بخشتا ہے۔“
(رسالہ ص ٢٣، ٢٤)
اس کا جواب ہم پہلے ہی دے چکے ہیں کہ مرزا قادیانی کے نزدیک علوم غیبیہ میں محدث اور مجدد بھی شریک ہیں۔ علاوہ ازیں اس قسم کی عبارتیں تو مکتوبات میں متعدد ہیں کہ نبی کس کو کہتے ہیں اور محدث کیا ہوتا ہے۔ آپ میں اگر ہمت ہے اور مرزا قادیانی کو ہمارے جھوٹ کے الزام سے بری کرنا چاہتے ہو تو (حقیقت الوحی ص ٣٩٠، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٦) میں مرزا قادیانی کا مجدد صاحب کی طرف منسوب کردہ مضمون مکتوبات سے ثابت کر دکھاؤ ورنہ ہمارا الزام صحیح تسلیم کرو۔
٤٨
آٹھواں جھوٹ
مرزا قادیانی نے مولانا بٹالوی سے مباحثہ لدھیانہ کا ذکر کرتے ہوئے (ازالہ اوہام آخری صفحہ مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٩٢) پر لکھا ہے کہ: ”مولوی محمد حسین بٹالوی کو لدھیانہ سے نکل جانے کا حکم ڈپٹی کمشنر کی طرف سے ملا تھا۔ لیکن مجھے اخراج کا حکم نہیں ملا۔“
ہمارا دعویٰ ہے کہ مرزا قادیانی نے اپنے متعلق عمداً غلط بیانی کی ہے۔ ہم قادیانی لٹریچر سے ثابت کر سکتے ہیں کہ مرزا قادیانی کو لدھیانہ چھوڑنے کا باقاعدہ حکم ہوا تھا۔
احمدی دوستو! کیا ایسا جھوٹا آدمی نبی اللہ ہو سکتا ہے؟
لاہوری مجیب
لاہوری مجیب کی حالت قابل رحم ہے۔ بڑھاپے اور بیماری کے عالم میں میرے سنگین اعتراضات کے جواب میں آخر بیچارے آپے سے باہر نہ ہوں تو کریں کیا؟
فرماتے ہیں: ”ازالہ اوہام کے صفحہ آخر میں حضرت مرزا صاحب نے مولوی محمد حسین بٹالوی کے لدھیانہ سے اخراج اور اپنے عدم اخراج کا ذکر کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر لدھیانہ کی چٹھی بھی نقل کی ہے۔ اس کو کیوں تم نے چھوڑ دیا؟ کیا اس لئے کہ تمہارا جھوٹ نہ ثابت ہو جائے۔“
(پیغام صلح ص ٤، مورخہ ٧؍ مئی ١٩٥٨ء)
ناظرین! میرا اعتراض مرزا قادیانی کے اس فقرہ پر ہے کہ: ”مجھے اخراج کا حکم نہیں ملا۔“ اور ڈپٹی کمشنر کی چٹھی مرزا قادیانی کی اس درخواست کے جواب میں ہے۔ جو مرزا قادیانی نے اخراج کا حکم ملنے کے بعد ڈپٹی کمشنر صاحب کو لکھی تھی۔ جس میں انگریز بہادر کی وفاداری اور خاندانی غداریوں کا واسطہ (ڈاکٹر بشارت احمد مرزائی کے الفاظ میں اپنے پر امن مسلک اور شرافت خاندان) اور اپنے بچوں کی بیماری کا عذر بتا کر لدھیانہ میں مزید قیام کی اجازت مانگی تھی۔ میں نے ”داشتہ بکار آید“ کے پیش نظر اس چٹھی کو نقل نہ کیا تھا۔ لیجئے اب حاضر ہے۔
ڈپٹی کمشنر کی چٹھی
از پیش گاہ مسٹر ڈبلیو پوٹس صاحب بہادر ڈپٹی کمشنر لدھیانہ۔
مرزا غلام احمد رئیس قادیان سلامت! چٹھی آپ کی مورخہ دیروزہ موصول ملاحظہ و سماعت ہو کر بجوابش تحریر ہے کہ آپ کو بمتابعت و ظوابط قانون سرکار لدھیانہ میں ٹھہرنے کے لئے وہی حقوق حاصل ہیں جیسے دیگر رعایا تابع قانون سرکار انگریزی کو حاصل ہیں۔ الرقوم مورخہ ٦؍ اگست ١٨٩١ء، دستخط صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر۔
٤٩
یہ چٹھی اپنے مضمون میں بالکل واضح ہے کہ مرزا قادیانی کو اخراج کا حکم ہوا تھا۔ اگر ایڈیٹر صاحب کو اب بھی کوئی شک ہے تو ان کا فرض ہے کہ ”حضرت اقدس“ کی وہ چٹھی شائع کریں جس کا ذکر ڈپٹی کمشنر کی چٹھی میں کیا گیا ہے۔ اس کی اشاعت سے صاف معلوم ہو جائے گا کہ اس کی ضرورت کیوں پیش آئی۔
کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے
قادیانی جماعت پر بے اعتباری
میرے اس فقرہ پر کہ: ”ہم قادیانی لٹریچر سے ثابت کر سکتے ہیں کہ مرزا قادیانی کو لدھیانہ چھوڑنے کا باقاعدہ حکم ہوا تھا۔“ ایڈیٹر صاحب فرماتے ہیں کہ: ”قادیانی لٹریچر سے اگر جماعت ربوہ کی کوئی تحریر مراد ہے تو ہم اس کے ذمہ دار نہیں۔“
(حوالہ مذکور)
قادیانی دوستو! کیا تم واقعی غیر ذمہ دار ہو؟
لاہوری دوستو! اپنے ایڈیٹر کو روکو کہ وہ مرزا قادیانی کے قادیانی صحابہ کے حق میں غیر ذمہ داری کا فتویٰ نہ دے۔ کہیں اس کی زد میں آپ بھی نہ آجائیں۔ آخر آپ کا خمیر بھی تو وہیں سے اٹھا ہے۔
کعبہ سے ان بتوں کو بھی نسبت ہے دور کی
قادیانی مجیب
قادیانی مجیب ڈپٹی کمشنر کی چٹھی نقل نہ کرنے میں تو بڑی خفگی کا اظہار کرتے ہوئے میرے الزام کے متعلق فرماتے ہیں کہ: ”اصل حقیقت جس کو حافظ صاحب چھپا رہے ہیں۔ صرف یہ ہے کہ انگریز ڈپٹی کمشنر نیا نیا آیا تھا۔ اس کے کارندوں نے مولوی محمد حسین صاحب کی طرح حضرت اقدس کو بھی ایک مولوی ظاہر کر کے دونوں کے اخراج کے حکم پر دستخط لے لئے۔ ڈپٹی کمشنر کو جب اپنی غلطی کا علم ہوا تو انہوں نے اپنے کارندوں کو سخت ملامت کی اور حضرت اقدس کے متعلق جو حکم تھا ...... منسوخ کر دیا اور وہ حکم نافذ نہ ہوا۔“
(رسالہ مذکور ص ٢٧)
ہم حیران ہیں کہ قاضی صاحب نے ہمارے اعتراض کی تردید کی ہے یا تائید؟ اور مرزا قادیانی سے الزام دور کیا ہے یا ہمارے بیان پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے۔
٥٠
قاضی صاحب
ہاں یہ تو فرمائیے! آپ کو کیسے معلوم ہوا کہ ڈپٹی کمشنر کے کارندوں نے اس کی لاعلمی میں دستخط لے لئے تھے اور ڈپٹی کمشنر کو اپنی غلطی کا احساس کب ہوا تھا۔ مرزا قادیانی کے پاس حکم پہنچنے سے پہلے یا بعد؟ اور جاری کردہ حکم منسوخ کس بناء پر ہوا؟ ہاں یہ بھی بتائیے کہ مرزا قادیانی حکم صادر ہونے کی نفی کرتے ہیں اور آپ حکم کا اجراء تسلیم کرتے ہیں۔ صرف نافذ ہونے سے انکاری ہیں۔ آخر یہ اختلاف کیوں؟
لائے ہیں ان کی بزم سے یار خبر الگ الگ
فیصلہ کن شہادت
اس بحث کے آخر میں ہم قادیانی لٹریچر سے ایک فیصلہ کن شہادت درج کرتے ہیں۔ جس سے مرزا قادیانی کی کذب بیانی اور مرزائی مجیب کی ہیرا پھیری روز روشن کی طرح واضح ہو جائے گی۔ یہ شہادت سید میر عنایت علی شاہ صاحب لدھیانوی کی ہے۔ جنہوں نے آٹھویں نمبر پر مرزا قادیانی کی بیعت کی تھی۔
میر صاحب موصوف موقعہ کی شہادت دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ: ”محرم بھی قریب تھا پولیس کپتان اور ڈپٹی کمشنر لدھیانہ نے باہمی تجویز کی کہ ایسا نہ ہو کہ اس مباحثہ کے نتیجہ میں فساد ہو جائے۔ اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور مولوی محمد حسین بٹالوی کو لدھیانہ سے رخصت کرنے کے لئے ڈپٹی دلاور علی صاحب اور کرم بخش صاحب تھانیدار مقرر کئے گئے۔ پہلے وہ مولوی محمد حسین صاحب کے پاس گئے اور انہیں اسٹیشن پر روانہ کر آئے۔ پھر وہ حضور کے پاس آئے اور آ کر ادب سے باہر کھڑے رہے۔ پہلے اطلاع کے لئے ایک سپاہی بھیجا۔ اس وقت حضرت صاحب کے پاس حضرت مولوی عبد الکریم صاحب سیالکوٹی، غلام قادر صاحب فصیح سیالکوٹی، میر عباس علی شاہ صاحب اور یہ خاکسار بیٹھے تھے۔ جب سپاہی نے اطلاع دی کہ ڈپٹی دلاور علی صاحب باہر کھڑے ہیں اور حضور سے تخلیہ (تنہائی) میں کچھ کہنا چاہتے ہیں تو حضور نے ہم خدام کو باہر چلے جانے کے لئے فرمایا اور سرکاری نمائندوں کو اندر بلایا۔ وہ ٣٠ منٹ کے قریب اندر رہے۔ پھر باہر آئے اور ہم اندر چلے گئے۔ دریافت کرنے پر حضور نے ڈپٹی کمشنر کا پیغام سنایا اور بتایا کہ مولوی محمد حسین بٹالوی کو رخصت کر آئے ہیں اور مجھے بھی پیغام دیا ہے۔ میں نے کہہ دیا ہے بہت اچھا ہمارا لدھیانہ میں کیا رکھا ہے۔ چلے جائیں گے۔ لیکن سر دست ہم سفر نہیں کر سکتے۔ ہمارے
٥١
بچوں کی صحت اچھی نہیں۔ اس پر ڈپٹی دلاور علی صاحب نے جواب دیا کہ میرا ایک عرصہ سے حضور کی ملاقات کو دل چاہتا تھا۔ اچھا ہوا خدا نے ایسا اتفاق پیدا کر دیا کہ مجھے زیارت کا موقعہ مل گیا۔ میں ڈپٹی کمشنر سے خود بھی کہوں گا، یہ کہہ کر وہ چلے گئے۔ حضور اتنا بتا کر اندر تشریف لے گئے اور ایک پرچہ (درخواست) بنام ڈپٹی کمشنر لکھ کر لے آئے اور فصیح صاحب کو انگریزی ترجمہ کے لئے دیا کہ اس کو معہ نقول اسناد خاندانی بھیج دیں۔ وہ چٹھی جب ڈپٹی کمشنر کے پاس پہنچی تو اس نے اسی وقت سپرنٹنڈنٹ ضلع کے حوالہ کر دی اور کہا کہ مرزا قادیانی مولوی نہیں رئیس ہیں۔ اسی وقت جواب دیا جائے کہ مرزا قادیانی جب تک چاہیں لدھیانہ میں ٹھہر سکتے ہیں۔ جس سے سپرنٹنڈنٹ نے سرکاری طور سے چٹھی لکھی اور حضرت اقدس لدھیانہ میں ٹھہرے رہے۔"
(الفضل ص ٣، مورخہ ٤؍ جون ١٩٤٢ء)
مرزائی دوستو! اب بتاؤ کہ مرزا قادیانی کو لدھیانہ سے اخراج کا حکم ہوا تھا یا نہیں؟ اور کیا قاضی صاحب کے ارشاد کے مطابق کارندوں نے ڈپٹی کمشنر سے (لاعلمی میں) دستخط کرا لئے تھے یا ڈپٹی کمشنر نے پولیس کپتان کے باقاعدہ مشورہ کے بعد اخراج کا حکم جاری کیا تھا۔
نواں جھوٹ
مرزا قادیانی نے (حمامۃ البشریٰ ص ٢٦، خزائن ج ٧ ص ٢٠٢) پر دعویٰ کیا ہے کہ: ”مسیح کے متعلق کسی حدیث میں یہ لفظ نہیں کہ وہ آسمان سے اترے گا۔“
ہمارا دعویٰ ہے کہ مسیح علیہ السلام کے نزول کے لئے احادیث میں آسمان کا لفظ موجود ہے اور ہم یہ بھی ثابت کر سکتے ہیں کہ مرزا قادیانی کو ان احادیث کا علم تھا اور انہوں نے عمداً غلط بیانی سے کام لیا۔
لاہوری مجیب
لاہوری مجیب اپنی فطرت سے مجبور ہو کر کہتے ہیں کہ دروغ گو را حافظہ نباشد۔ ابھی چوتھے مطالبہ میں اسی ملا نے یہ لکھا تھا کہ صحیح مسلم میں مسیح کے آسمان سے نازل ہونے کی حدیث (الفاظ) ہرگز ہرگز نہیں اور اب کہتا ہے کہ مسیح علیہ السلام کے نزول کے لئے احادیث میں آسمان کا لفظ موجود ہے۔ اب فرمائیے کہ دونوں میں سے کون سی بات صحیح ہے۔ (پیغام صلح ص ٢، مورخہ ١٥؍ مئی)
ایڈیٹر صاحب! ہماری دونوں باتیں صحیح ہیں۔ نزول مسیح کے لئے آسمان کا لفظ صحیح مسلم میں موجود نہیں۔ مرزا قادیانی نے صحیح مسلم کا حوالہ دے کر جھوٹ بولا تھا اور دیگر کتب احادیث میں آسمان کا لفظ موجود ہے۔ مرزا قادیانی نے انکار کر کے ایک اور جھوٹ بولا اور خلق خدا کو دھوکہ دیا
٥٢
ہے اور آپ نے میرے متعلق ”دروغ گو را حافظہ نباشد“ کہہ کر اپنے پاگل پن کا ثبوت فراہم کیا ہے۔ لاہوری مجیب پھر پورے جلال میں آ کر فرماتے ہیں کہ: ”ہمارا دعویٰ ہے کہ بدو ملہوی ملا نے محض لوگوں کو دھوکہ دینے کے لئے عمداً جھوٹ بولا ہے۔ اگر اس کے بیان میں ذرہ بھی صداقت ہے تو اسے چاہئے کہ کوئی ایسی صحیح حدیث پیش کرے جس میں مسیح کے نزول کے لئے آسمان کا لفظ موجود ہے اور یہ بھی ثابت کرے کہ مرزا قادیانی کو ایسی احادیث کا علم تھا۔“
(پیغام صلح مذکور)
گویا ایڈیٹر صاحب ہم سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ہم آسمان کا لفظ صحیح حدیث میں دکھائیں اور ثابت کریں کہ مرزا قادیانی کو اس حدیث کا علم تھا۔ اگر ہم دونوں مطالبات پورے کر دیں تو ہم سچے اور مرزائے قادیان بلاشک و شبہ جھوٹے ٹھہریں گے۔
قادیانی مجیب
قادیانی مجیب کی سادگی ملاحظہ فرمائیے۔ اپنے (رسالہ ص ٢٨) پر لکھتے ہیں کہ: ”حافظ محمد ابراہیم صاحب کے پیش کردہ حوالہ کے الفاظ یا ان کا مفہوم (حمامتہ البشریٰ ص ٢٧، خزائن ج ٧ ص ٢٠٢) پر موجود نہیں۔“
قاضی صاحب! اگر بڑھاپے کی وجہ سے نظر جواب نہیں دے گئی تو میرا پیش کردہ حوالہ حمامتہ البشریٰ مطبوعہ سیالکوٹ کے ٹھیک ص ٢٤ کے حاشیہ کی سطر ٤، ٥ اور ص ٤٠ کی سطر ٤، ٥ میں موجود ہے۔ ایک بار حمامتہ البشریٰ پھر دیکھئے اور عینک لگا کر دیکھئے۔ ضرور نظر آجائے گا۔
خود اپنا ضعف نظر پردہ بہار ہوا
لطیفہ
اس کے بعد قاضی صاحب فرماتے ہیں۔ البتہ (حمامتہ البشریٰ کے ص ٥٢) پر جو الفاظ ہیں وہ یہ ہیں۔ ”پھر اس قوم پر سخت تعجب ہے کہ نزول مسیح سے یہی خیال کرتی ہے کہ وہ آسمان سے اترے گا اور آسمان کا لفظ اپنی طرف سے ایزاد (زیادہ) کر لیتے ہیں اور کسی صحیح حدیث میں اس کا اثر و نشان نہیں۔“
مرزائی دوستو! قاضی صاحب نے جن الفاظ کا لفظی ترجمہ کیا ہے۔ میں نے انہیں الفاظ کا مفہوم بیان کیا ہے اور یہ الفاظ بعینہ (حمامتہ البشریٰ ص ٢٤) کے حاشیہ کی چوتھی اور پانچویں سطر میں موجود ہیں۔ پھر سمجھ میں نہیں آتا کہ قاضی صاحب نے یہ کیوں کہا کہ حافظ صاحب کے پیش کردہ حوالہ کے الفاظ یا ان کا مفہوم (ص ٢٤، ٤٠) پر موجود نہیں۔
٥٣
جواب کی بنیاد
قاضی صاحب کے جواب کی بنیاد اس امر پر ہے کہ مرزا قادیانی نے نزول مسیح کے لئے مطلق احادیث سے نہیں بلکہ صحیح احادیث میں آسمان سے نازل ہونے کی نفی فرمائی ہے۔ چنانچہ قاضی صاحب مندرجہ بالا حوالہ نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں کہ: ”دیکھئے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام صحیح حدیث میں آسمان کا لفظ موجود ہونے سے انکار کرتے ہیں نہ کہ محض حدیث میں اور حافظ محمد ابراہیم تحریف اور جعلسازی سے کام لیتے ہوئے حوالہ کے صحیح حدیث کے لفظوں میں سے صحیح کا لفظ اڑا کر یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ حضرت اقدس نے لکھا ہے کہ حدیث میں یہ لفظ موجود نہیں اور پھر اس تحریف کردہ عبارت پر اپنے سارے اعتراض کی عمارت کھڑی کرتے ہیں جو ریت کے تودہ پر قائم ہے۔“
(حوالہ مذکور)
ہم واشگاف الفاظ میں اعلان کرتے ہیں کہ ہم نے مرزا قادیانی کی عبارت سے صحیح کا لفظ اڑا کر تحریف اور جعلسازی سے کام نہیں لیا۔ بلکہ قاضی صاحب نے مرزا قادیانی کی عبارت میں صحیح کا لفظ اپنی طرف سے بڑھا کر اپنے مرزائی ہونے کا ثبوت دیا ہے۔ لیجئے! ہم قاضی صاحب کے جواب کی بنیاد کا قلع قمع کرنے کے لئے (حمامۃ البشریٰ ص٣١، ٣٠) کی اصل عربی عبارت درج کئے دیتے ہیں۔
سلطان عشق کی یہی فتح وشکست ہے
صفحہ ٣١ کی عبارت
”والعجب من القوم انہم یفہمون من نزول عیسیٰ نزولہ من السماء ویزيدون لفظ السماء من عندھم ولا تجد اثرا منہ فی حدیث“ (حمامۃ البشریٰ ص٣١، خزائن ج ٧ ص ١٩٧) ان لوگوں پر بڑا تعجب ہے کہ یہ نزول عیسیٰ سے ان کا آسمان سے نزول سمجھ بیٹھے ہیں اور آسمان کا لفظ اپنی طرف سے بڑھا لیتے ہیں۔ حالانکہ حدیث میں اس کا نام ونشان نہیں ہے۔
”ان النزول من السماء لا یثبت من القرآن العظیم ولا من حدیث نبی الکریم“ (حمامۃ البشریٰ ص ٣١، خزائن ج ٧ ص ٢١٤) یعنی مسیح کا آسمان سے نازل ہونا نہ ہی قرآن مجید سے ثابت ہے اور نہ ہی نبی کریم کی حدیث سے۔
٥٤
فرمایئے قاضی صاحب! آپ نے اس عبارت کا ترجمہ کیا ہے یا کسی اور کا؟ نیز بتائیے کہ اس عبارت میں صحیح حدیث میں آسمان کے لفظ کی نفی ہے یا مطلق حدیث سے؟ یہ بھی بتائیے کہ آپ نے چست گواہ کا کردار ادا کرتے ہوئے صحیح کی قید کس بناء پر لگائی؟ اور سب سے آخر میں یہ فرمایئے کہ تحریف اور جعلسازی سے کام میں نے لیا ہے یا آپ نے؟ پھر اس کا نتیجہ بھی بتلا دیجئے کہ جب مرزا قادیانی کی عبارت میں صحیح کا لفظ موجود نہیں تو پھر میرا الزام صحیح ہوا یا آپ کا جواب؟
الزام ان کو میں دیتا تھا قصور اپنا نکل آیا
صحیح حدیث میں آسمان کا لفظ موجود ہے
لاہوری اور قادیانی مجیب صاحبان نے مجھ سے مطالبہ کیا ہے کہ: ”اگر حافظ صاحب سچے ہیں تو کوئی صحیح حدیث پیش کریں۔ جس میں مسیح کے نزول کے ذکر کے ساتھ آسمان کا لفظ موجود ہو اور پھر یہ بھی ثابت کریں کہ حضرت مرزا صاحب کو ان احادیث کا علم تھا۔“
(مشترکہ مفہوم پیغام مورخہ ١٤؍مئی و رسالہ ص ٢٩)
سنئے صاحبان ! ہم آپ کی آسانی کے لئے (کنز العمال ج ٧ ص ٢٦٨) سے وہی حدیث نقل کر دیتے ہیں۔ جسے آپ کے ”حضرت صاحب“ نے اپنی اس کتاب (حمامة البشریٰ ص ١٤٦، ١٤٨، خزائن ج ٧ ص ٣١٤، ٣١٥) پر دو دفعہ نقل کیا ہے۔ ”عن ابن عباس قال قال رسول الله ينزل اخي عيسى ابن مريم من السماء على جبل افيق اماماً هادياً حكماً عدلًا“ حضرت ابن عباس روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ میرے بھائی عیسیٰ بن مریم آسمان سے جبل افیق پر نزول فرمائیں گے اور امام ہادی اور حاکم و عادل ہوں گے۔
قابل غور
مرزا قادیانی نے اس حدیث کے متن سے اگرچہ ”من السماء“ کا لفظ حذف کر دیا ہے۔ لیکن اس مقام پر ان کے استدلال کی ساری بنیاد اسی لفظ ”من السماء“ پر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب علماء نے مرزا قادیانی پر اس حدیث میں ”من السماء“ کا لفظ درج نہ کرنے کی وجہ سے خیانت کا الزام لگایا تو قادیانی جماعت کی طرف سے یہی جواب دیا گیا کہ: ”مرزا قادیانی پر حدیث ابن عباس میں ”من السماء“ کے حذف کا الزام غلط ہے۔ حضور نے اگرچہ یہ الفاظ درج نہیں فرمائے۔ لیکن استدلال کی بنیاد اسی لفظ ”من السماء“ پر ہے۔ پھر حذف کا الزام لگانے والوں کو ان الفاظ میں مخاطب کیا گیا ہے۔ پھر یہ بھی سوچنا چاہئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو
٥٥
لفظ ”من السماء“ حذف کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی۔ جب کہ حضور بار ہا اپنی کتابوں میں نزول من السماء کا ذکر خود فرما چکے ہیں۔“
(الفضل مورخہ ١١؍ جون ١٩٢٦ء)
طائروں پر سحر ہے صیاد کے اقبال کا
باقی رہی یہ بات کہ حدیث مذکور صحیح ہے یا غیر صحیح۔ اس کا جواب اتنا ہی کافی ہے کہ مرزا قادیانی نے اس حدیث سے استدلال فرمایا ہے اور ہر وہ حدیث جس سے مرزا قادیانی استدلال فرمائیں۔ مرزائی جماعت کے نزدیک وہ ہر حال میں درست اور قابل تسلیم ہونی چاہئے۔ چنانچہ مرزا بشیر الدین محمود احمد امام جماعت احمدیہ اپنی مشہور کتاب (حقیقت النبوۃ حاشیہ ص١٠٢) میں ایک مجروح حدیث کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”یہ حدیث (اگرچہ) نہایت ہی مجروح ہے۔ لیکن چونکہ حضرت مسیح موعود نے اس سے استدلال فرمایا ہے۔ اس لئے ہم اسے درست سمجھتے ہیں۔“
اور سنئے ! فرماتے ہیں: ”چونکہ اس اترنے والے (مرزا قادیانی) کو یہ موقع نہ ملا کہ وہ کچھ روشنی زمین والوں سے حاصل کرتا یا کسی کی بیعت یا شاگردی سے فیضیاب ہوتا۔ بلکہ اس نے جو کچھ پایا آسمان والے خدا سے پایا۔ اس لئے اس کے حق میں نبی معصوم کی پیش گوئی میں یہ الفاظ آئے ہیں کہ وہ آسمان سے اترے گا۔“
مرزائی دوستو! ہم نے لاہوری ایڈیٹر اور لائل پوری فاضل کا مطالبہ پورا کر دیا ہے اور ثابت کر دیا ہے کہ نزول مسیح کے سلسلہ میں احادیث میں آسمان کا لفظ موجود ہے اور مرزا قادیانی کو اس کا علم بھی تھا اور انہوں نے احادیث میں آسمان کے لفظ کا انکار کر کے عمداً غلط بیانی کی اور خلق خدا کو فریب دینے کی کوشش کی ہے۔
دسواں جھوٹ
مرزا قادیانی نے اپنی کتاب (کشتی نوح ص٢، خزائن ج١٩ ص٦) پر ڈپٹی عبداللہ آتھم والے الہام کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے: ”پیش گوئی میں یہ بیان تھا کہ فریقین میں سے جو شخص عقیدہ کی رو سے جھوٹا ہے وہ پہلے مرے گا۔“
ہم واشگاف الفاظ میں اعلان کرتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے سفید جھوٹ بولا ہے۔ فریب دیا ہے۔ اگر کوئی احمدی مرزا قادیانی کے اصل الہام سے یہ الفاظ دکھا دے تو ہم ہر سزا اٹھانے کو تیار ہیں۔
٥٦
اصل معاملہ کیا تھا
قادیانی مجیب کے جواب سے قبل یہ جاننا ضروری ہے کہ اصل معاملہ کیا تھا۔ آتھم کون تھا اور اس کے متعلق الہام اور اس کا پس منظر کیا تھا؟
ڈپٹی عبداللہ آتھم عیسائی تھے۔ مرزا قادیانی کا ان کے ساتھ ٢٢؍مئی سے ٥؍جون ١٨٩٣ء تک مسلسل پندرہ دن امرتسر میں الوہیت مسیح پر تحریری مباحثہ ہوتا رہا۔ مرزا قادیانی سے جب کوئی بات نہ بنی تو انہوں نے ٥؍جون ١٨٩٣ء کو مباحثہ کے خاتمہ پر ڈپٹی صاحب کو مندرجہ ذیل الہام سنایا کہ: ”آج رات خدا کی طرف سے یہ امر کھلا ہے (یعنی الہام ہوا ہے) کہ ہم دونوں میں جو جھوٹا ہے اور عاجز انسان کو خدا بنا رہا ہے وہ پندرہ ماہ تک ہاویہ میں گرایا جائے گا اور اس کو سخت ذلت پہنچے گی۔ بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے اور جو شخص سچ پر ہے اور سچے خدا کو مانتا ہے اس کی اس سے عزت ظاہر ہوگی اور جس وقت یہ پیش گوئی ظاہر میں آوے گی بعض اندھے سوجاکھے کئے جاویں گے اور لنگڑے چلنے لگیں گے اور بعض بہرے سننے لگیں گے...... میں اس وقت اقرار کرتا ہوں کہ اگر یہ پیش گوئی جھوٹی نکلی۔ یعنی وہ فریق جو خدا تعالیٰ کے نزدیک جھوٹ پر ہے۔ وہ آج کی تاریخ سے پندرہ ماہ میں بسزائے موت ہاویہ میں نہ پڑے تو میں ہر ایک سزا اٹھانے کے لئے تیار ہوں۔ مجھے ذلیل کیا جائے، روسیاہ کیا جائے۔ میرے گلے میں رسہ ڈال دیا جائے۔ مجھ کو پھانسی دی جائے۔ میں ہر سزا اٹھانے کو تیار ہوں۔“
(مفہوم جنگ مقدس ص آخر، خزائن ج ٦ ص ٢٩١ تا ٢٩٣)
نتائج
اصل الہام سے مندرجہ ذیل امور روزِ روشن کی طرح عیاں ہیں کہ:
- اول ...... پیش گوئی صرف ڈپٹی آتھم کے لئے ہے۔
- دوم ...... پیش گوئی کی بنیاد (سبب) عاجز انسان (مسیح) کو خدا بنانا ہے۔
- سوم ...... الہام کے مطابق ڈپٹی آتھم کو ١٥ ماہ تک ہاویہ میں داخل ہونا ضروری ہے۔
- چہارم ...... آتھم صاحب رجوع (اسلام قبول) کئے بغیر ہاویہ سے نہ بچ سکیں گے۔
- پنجم ...... فریق ثانی (مرزا قادیانی) کا الہام میں کوئی ذکر نہیں کہ وہ کب تک زندہ
رہے گا اور کب مرے گا۔ صرف آتھم کا ٥؍جون ١٨٩٣ء سے ١٥ماہ تک ہاویہ میں جانا ضروری ہے۔
- ششم ...... جس دن الہام پورا ہوگا۔ مرزا قادیانی کی عزت ظاہر ہوگی اور کئی اندھے
سوجاکھے ہوں گے۔ کئی لنگڑے چلنے لگیں گے اور کئی بہرے سننے لگیں گے۔
٥٧
کچھ نہ ہوا
مرزا قادیانی ١٥ ماہ تک آتھم صاحب کی موت کے لئے چشم براہ رہے۔ ان کی موت کے لئے بددعائیں اور وظیفے کراتے کراتے رہے۔ حتیٰ کہ چنے کے دانوں پر سورۂ فیل کا وظیفہ پڑھایا اور وہ دانے غیر آباد کنوئیں میں ڈالے گئے اور پندرھویں ماہ کی آخری رات کو بوڑھوں، بچوں اور عورتوں سے رات بھر آتھم کی موت کے لئے دعائیں کرائی گئیں۔ گویا مرزا قادیانی نے یہ پندرہ ماہ اس حال میں گزارے؎
ہماری نیند ہے محو خیال یار ہو جانا
لیکن مرزا قادیانی کا الہام نہ پورا ہونا تھا نہ ہوا۔ لیکن مرزا قادیانی کے دجل و فریب کی انتہاء دیکھئے کہ اتنا زور دار الہام غلط ہونے پر نہ شرمسار ہوئے نہ تائب۔ بلکہ اپنے ہی الہام میں تاویلات پر کمر بستہ ہو گئے اور جھوٹ کو سچ کرنے کے لئے تیرہ سال یہی شغل فرماتے رہے۔
نمبروار تاویلیں فریق سے مراد کیا ہے
اول...... ١٥ ماہ کے دوران ڈاکٹر کلارک (آتھم صاحب کی طرف سے مناظرہ کے پریذیڈنٹ) کے ایک مخلص دوست پادری رائٹ وفات پاگئے تو مرزا قادیانی نے موقعہ کو غنیمت جانتے ہوئے یہ تاویل کر دی کہ الہام میں فریق سے مراد صرف آتھم ہی نہیں بلکہ وہ تمام جماعت ہے جو اس مباحثہ میں آتھم صاحب کی معاون تھی۔
(نورالاسلام ص٢، خزائن ج٩ ص٢)
پھر پادری رائٹ صاحب کی وفات کو اس الہام کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ ڈاکٹر کلارک اور اس کے دوستوں کو اس کی وفات سے صدمہ پہنچا اور وہ بے حد پریشان ہوئے ہیں۔ گویا وہ ہاویہ میں پڑ گئے۔
اس مقام پر تو مرزا قادیانی نے فریق کے لفظ کو وسعت دے کر مباحثہ کے تمام متعلقین بلکہ ان کے دوستوں کو بھی اس میں شامل کر لیا۔ لیکن ١٨٩٧ء میں جب ایک نوجوان عبدالحمید پر ڈاکٹر کلارک پر قاتلانہ حملہ کے سلسلہ میں ڈپٹی کمشنر گورداسپور کی عدالت میں مقدمہ چل رہا تھا اور مرزا قادیانی بھی عدالت میں طلب کئے گئے۔ کیونکہ ڈاکٹر کلارک کا بیان یہ تھا کہ یہ حملہ مرزا قادیانی کے ترغیب دلانے پر ہوا ہے۔ چونکہ میں مباحثہ میں آتھم صاحب کے فریق میں شامل تھا۔ اس لئے مرزا قادیانی میرا قتل اپنے الہام کی سچائی کے لئے مفید خیال کرتے ہیں تو
٥٨
مرزا قادیانی نے اپنی بریت کے لئے عدالت میں بیان دیا کہ ہماری پیش گوئی صرف آتھم صاحب کے لئے تھی۔ کل متعلقین مباحثہ کی بابت پیش گوئی نہ تھی۔
(مرزا قادیانی کا عدالتی بیان مورخہ ١٣ اگست ١٨٩٧ء)
سچ ہے۔
پیش گوئی کی بنیاد
مرزا قادیانی کے اصل الہام میں پیش گوئی کی بنیاد ڈپٹی آتھم کا حضرت مسیح کو خدا بنانا تھا اور الفاظ بالکل صاف تھے کہ جو فریق عاجز انسان کو خدا بنا رہا ہے ١٥ ماہ تک ہاویہ میں گرایا جائے گا۔ بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے۔ لیکن جب پندرہ ماہ بخیروخوبی ختم ہو گئے تو مرزا قادیانی نے یہ تاویل بلکہ تحریف کی کہ پیش گوئی کی بنا یہ تھی کہ: ”آتھم نے آنحضرتﷺ کو دجال کہا تھا۔“
(کشتی نوح ص ٧، خزائن ج ١٩ ص ٦)
اور پھر آتھم کا رجوع ثابت کرنے کے لئے کہہ دیا کہ : ”اس نے عین جلسہ مباحثہ پر ستر معزز آدمیوں کے روبرو آنحضرتﷺ کو دجال کہنے سے رجوع کیا۔“
(حوالہ مذکور)
مقصد اس تاویل سے یہ تھا کہ آتھم صاحب نے نہ تو عاجز انسان کو خدا کہنے سے رجوع کیا اور نہ ہی بسزائے موت ہاویہ میں گرے۔ ان حالات میں الہام کی لاج رکھنے کے لئے ضروری تھا کہ الہام کی بنیاد ہی بدل دی جائے اور رجوع ثابت کیا جائے۔
ہمارا سوال
لیکن سوال یہ ہے کہ اگر پیش گوئی کی بناء مسیح کو خدا بنانا نہیں تھا۔ بلکہ آتھم کا آنحضرتﷺ کو دجال کہنا تھا تو اس کا ذکر اصل الہام میں کیوں نہیں اور جب اس نے عین جلسہ مباحثہ میں ستر معزز آدمیوں کے سامنے آنحضرتﷺ کو دجال کہنے سے رجوع کر لیا تو الہام کو اسی وقت منسوخ کیوں نہ کر دیا گیا اور پندرہ ماہ تک اس کی موت کے لئے وظیفے اور بددعائیں کیوں کرائی گئیں اور اس کے بعد آتھم کی موت بلکہ اپنی موت تک مرزا قادیانی کی یہ حالت کیوں رہی۔
کہ بے تابی سے ہر اک تار بستر خار بستر ہے
٥٩
رجوع نہیں انکار
مرزا قادیانی نے کشتی نوح میں آتھم صاحب کا آنحضرت ﷺ کو دجال کہنے سے رجوع بیان کیا ہے۔ لیکن اسی واقعہ کو اپنی مشہور کتاب (اعجاز احمدی ص ٣،٢، خزائن ج١٩ ص١٠٨، ١٠٩) پر ان الفاظ میں بیان فرماتے ہیں کہ: ”آتھم کو ستر آدمیوں کے روبرو سنا دیا گیا تھا کہ سبب اس پیش گوئی کا یہی تھا کہ تم نے ہمارے نبی ﷺ کو دجال کہا تھا۔ سو تم اگر اس لفظ سے رجوع نہ کرو گے تو پندرہ ماہ میں ہلاک کئے جاؤ گے۔ سو آتھم نے اسی مجلس میں رجوع کیا اور کہا کہ معاذ اللہ میں نے آنجناب کی شان میں ایسا لفظ کوئی نہیں کہا۔“
مرزائی دوستو! کیا یہ رجوع ہے یا انکار؟ آتھم صاحب تو آنحضرت ﷺ کو دجال کہنے سے انکار کرتے ہیں اور آپ کے حضرت اقدس اس کو رجوع یعنی توبہ سے تعبیر کرتے ہیں۔ کیا آپ کی لغت میں رجوع اور انکار ایک ہی حقیقت کے دو نام ہیں۔
مرزا قادیانی ؎
او زمانے کی طرح رنگ بدلنے والے
ہاویہ یا موت (تاویل نمبر سوم)
الہام کے مطابق رجوع نہ کرنے کی صورت میں آتھم صاحب کو ١٥؍ ماہ میں ہاویہ یعنی دوزخ میں گرنا چاہئے تھا۔ چونکہ دوزخ میں داخلہ سے قبل موت ضروری ہے۔ اس لئے مرزا قادیانی نے اس الہام کی تشریح آتھم صاحب کو یہی سنائی کہ جو فریق خدا تعالیٰ کے نزدیک جھوٹ پر ہے ( اور عاجز انسان کو خدا بنا رہا ہے ) وہ آج کی تاریخ سے پندرہ ماہ تک بسزائے موت ہاویہ میں نہ پڑے تو میں ہر سزا اٹھانے کے لئے تیار ہوں۔
لیکن جب آتھم صاحب میعادِ مذکورہ میں نہ مرے تو مرزا قادیانی نے یہ تاویل کر دی کہ ہمارے الہام میں موت کا لفظ نہیں۔ بلکہ ہاویہ میں گرنے کا ذکر تھا۔ موت کا لفظ ہماری اپنی تشریح تھی۔ سو آتھم ہمارے الہام سے ڈرتا رہا۔ گھبراہٹ کا اظہار کرتا رہا اور اپنی حفاظت کے لئے مختلف شہروں میں گھومتا پھرتا رہا اور اس کے دل پر رنج و غم اور بدحواسی طاری رہی۔ یہی اس کا ہاویہ تھا اور ہمارا الہام سچا ہے۔
(مفہوم انوارالاسلام ص٥، خزائن ج٩ ص٥)
٦٠
ہمارا سوال
ایک طرف تو مرزا قادیانی اعجاز احمدی اور کشتی نوح میں آتھم کے آنحضرت ﷺ کو دجال کہنے سے انکار کو رجوع سے تعبیر کرتے ہیں اور دوسری طرف اس کی طبعی پریشانی اور اپنی حفاظت کی کوشش کو ہاویہ قرار دیتے ہیں۔ حالانکہ الہام یہ تھا کہ رجوع کی صورت میں آتھم ہاویہ سے بچ جائے گا۔ پھر کیا وجہ کہ آتھم نے عین جلسہ مباحثہ میں ستر آدمیوں کے سامنے رجوع بھی کیا۔ لیکن ہاویہ سے نہ بچ سکے۔ معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی کا خدا بڑا ظالم اور عہد شکن ہے۔ الہام میں تو یہ کہتا ہے کہ رجوع سے ہاویہ ٹل جائے گا۔ لیکن پھر رجوع کے بعد بھی ہاویہ میں دھکیل دیتا ہے۔
ہمارا دوسرا سوال
مرزا قادیانی نے انوار الاسلام میں تو آتھم صاحب کی طبعی پریشانی اور ادھر ادھر آنے جانے کو ہاویہ سے تعبیر کیا۔ لیکن (ضیاء الحق ص ١٢، ١٣، خزائن ج ٩ ص ٢٦٠) میں اسی گھبراہٹ اور انتقال مکانی کو رجوع قرار دیا ہے۔
مرزائی دوستو! یہ کیا فلسفہ ہے کہ ایک ہی شئے رجوع اور وہی شئے ہاویہ؟ حالانکہ الہام یہ ہے کہ رجوع کرے گا تو ہاویہ سے بچ جائے گا۔ جس کا مطلب بالکل صاف ہے کہ رجوع اور ہاویہ دو مختلف چیزیں ہیں۔ پھر نامعلوم ایک ہی مفہوم میں ان کا اجتماع کیسے ہو سکتا ہے۔ ہم تو اس فلسفہ کی تہ تک پہنچنے سے قاصر ہیں۔ کیا مرزائی جماعت کا کوئی فاضل مرزا قادیانی سے ہمارا اعتراض رفع کر سکتا ہے؟
ہمارا تیسرا سوال
ہم مرزائی جماعت سے یہ پوچھنے کا حق بھی رکھتے ہیں کہ جب خدائی الہام میں موت کا لفظ نہیں صرف ہاویہ تھا۔ جس کا وقوع بغیر موت بھی ہو سکتا ہے تو پھر مرزا قادیانی نے الہام کی تشریح میں کیوں کہا کہ جھوٹا پندرہ ماہ تک بسزائے موت ہاویہ میں نہ پڑے تو میں ہر سزا اٹھانے کو تیار ہوں۔
پھر (کرامات الصادقین آخری صفحہ، خزائن ج ٧ ص ١٦٢، ١٦٣) پر یہ کیوں لکھا کہ: ”منها ما وعدنی ربی اذ جائنی رجل اسمه عبدالله آتهم ...... فبشرنی ربی بموته الی خمسة عشر شهراً“ میرے الہامات سے ایک الہام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بشارت دی کہ تیرے ساتھ مباحثہ کرنے والا عبداللہ آتھم پندرہ ماہ تک مر جائے گا۔
پھر (تریاق القلوب ص ٢٠، خزائن ج ١٥ ص ١٤٨) میں یہ کیوں لکھا کہ ڈپٹی عبداللہ آتھم
٦١
والے موت کے الہام میں یہ شرط تھی کہ اگر وہ رجوع کریں گے تو موت سے بچ جائیں گے اور (کشتی نوح ص٥، ٦، خزائن ج١٩ ص٦) پر یہ فقرہ کس بناء پر لکھا کہ پیش گوئی نے صاف لفظوں میں کہہ دیا تھا کہ اگر آتھم حق کی طرف رجوع کرے گا تو ١٥ ماہ میں نہیں مرے گا۔
دفع دخل مقدر
اگر ہاویہ سے مراد موت نہیں تو پھر کیا وجہ؟ کہ مرزا قادیانی اوّل یوم سے ١٥ ماہ کی آخری رات تک موت کی رٹ لگاتے رہے اور بدنامی اور ذلت کے اسباب اپنے ہاتھوں فراہم کرتے رہے۔ لیکن مرزا قادیانی کا خدا خاموش تماشا دیکھتا رہا اور الہام کی تشریح کی تصحیح نہ کر سکا اور مرزا قادیانی کو حقیقت کا اس وقت انکشاف ہوا۔ جب پانی سر سے گزر چکا تھا۔
ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا
حالانکہ مرزا قادیانی اپنے (اشتہار ٤؍ اکتوبر ١٨٩٩ء، مجموعہ اشتہارات ج٣ ص١٥٥) میں اپنے متعلق صاف کہہ چکے ہیں ہاں جب میں اپنی طرف سے کوئی اجتہاد کروں یا اپنی طرف سے کسی الہام کے معنی کروں تو ممکن ہے کہ کبھی اس معنی میں غلطی کھا جاؤں۔ مگر میں اس غلطی پر قائم نہیں رکھا جاتا اور خدا کی رحمت جلد تر مجھے حقیقی انکشاف کی راہ دکھا دیتی ہے اور میری روح فرشتوں کی گود میں پرورش پاتی ہے۔
کیا آتھم نے رجوع کیا (تاویل نمبر چہارم)
آتھم صاحب رجوع کے بغیر ہاویہ سے نہ بچ سکیں گے۔ اس کی کسی قدر تفصیل گذشتہ صفحات میں ہو چکی ہے۔ اس فقرہ کا صاف مطلب یہ تھا کہ آتھم صاحب اگر اسلام قبول نہ کریں گے تو بسزائے موت ہاویہ سے نہ بچ سکیں گے۔ لیکن جب آتھم صاحب اسلام قبول کئے بغیر زندہ رہے تو مرزا قادیانی نے کبھی آنحضرت ﷺ کو دجال کہنے سے انکار کو رجوع قرار دیا۔ کبھی اس کی طبعی پریشانی اور حفاظتی تدابیر کو رجوع سے تعبیر کیا اور کبھی یہ کہا کہ مباحثہ کے بعد آتھم کا اسلام کے خلاف نہ لکھنا رجوع کے مترادف ہے اور کبھی آتھم صاحب کے قسم نہ اٹھانے کو ان کے دلی رجوع کا ثبوت ظاہر کیا۔
ہمارا جواب
لیکن یہ تمام تاویلات غلط بلکہ لغو اور فضول ہیں اور وقت گزر جانے کے بعد گھڑی گئی
٦٢
ہیں ۔ مذہبی دنیا کا دستور یہ ہے کہ ہر مذہب والا دوسرے کو ناحق پر جانتا ہے اور کسی غیر کا اپنے مذہب کی طرف آ جانے کا نام رجوع الی الحق رکھتا ہے۔ خاص کر دوران مباحثہ میں تو یہ لفظ بالکل انہی معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ اگر ہم مرزا قادیانی کی پیش گوئی کے الفاظ پر غور کریں تو ان سے بھی یہی معنی مستنبط ہوتا ہے۔ چنانچہ مرزا قادیانی آتھم کی نسبت لکھتے ہیں جو فریق عمداً جھوٹ کو اختیار کر رہا ہے اور عاجز انسان کو خدا بنا رہا ہے۔ اور اپنی نسبت تحریر فرماتے ہیں کہ : ”جو شخص سچ پر ہے اور سچے خدا کو مانتا ہے۔“ اس سے صاف سمجھ میں آتا ہے کہ جس امر میں فریقین (آتھم اور مرزا) کا مباحثہ تھا۔ اس میں آتھم اگر مرزا قادیانی کا ہم خیال ہو جائے گا تو پندرہ ماہ والی موت سے بچ جائے گا ورنہ نہیں۔ ہمارے اس بیان کی تائید مرزا قادیانی کے ایک مقرب حواری کی تحریر سے بھی ہوتی ہے۔ جو مرزا قادیانی کے ملاحظہ سے گذر کر چھپ چکی ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ: ”مسٹر آتھم کی نسبت یہ پیش گوئی تھی کہ اگر وہ جھوٹے خدا کو نہیں چھوڑے گا تو پندرہ ماہ تک ہاویہ میں گرایا جائے گا۔“
(عسل مصفیٰ ص ٨٠٢)
مولانا ثناء اللہ امرتسری مرحوم و مغفور نے جو مضمون مرزا قادیانی کی تحریر سے ثابت کیا ہے۔ بالکل حق اور درست ہے۔ ہم اس مضمون پر مرزا قادیانی کے اپنے دستخط کرائے دیتے ہیں۔ مرزا قادیانی اپنی کتاب (کرامات الصادقین ص ٤٠، خزائن ج ٧ ص ٨٢) پر مسٹر آتھم کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”وان یسلمن یسلم والا فمیت“ یعنی آتھم اگر اسلام لے آئے گا تو بچ رہے گا وگرنہ مر جائے گا۔
مرزائی دوستو! مرزا قادیانی کے اس واضح ارشاد کے بعد ان تاویلات کی کیا وقعت ہے۔ جو مرزا قادیانی مدت مذکورہ (١٥ ماہ) گذر جانے کے بعد اپنے سادہ لوح مریدوں کو دامِ فریب میں مبتلا رکھنے کے لئے کرتے رہے۔ کیا مرزا قادیانی کے اس بیان کے بعد ان کی خدمت میں یہ کہنا بجا نہ ہو گا کہ ؎
تو گرفتار ہوئی اپنی صدا کے باعث
آمدم برسر مطلب (تاویل نمبر پنجم)
مرزا قادیانی کے الہام میں پوری صفائی سے کہا گیا تھا کہ عاجز انسان کو خدا بنانے والا ١٥ ماہ تک ہاویہ میں گرایا جائے گا۔ مرزا قادیانی نے اس کا یہی معنی سمجھا اور اس مدت کے آخری
٦٣
دن تک یہی سمجھتے، یہی لکھتے اور اسکے لئے منتظر اور کوشاں رہے۔ لیکن مدت مذکورہ گزر جانے کے بعد کبھی آتھم کا رجوع ثابت کرتے رہے اور کبھی اس کو ہاویہ میں پہنچاتے رہے۔ لیکن تقریباً ٢٢ ماہ بعد جب آتھم صاحب ٢٧ جولائی ١٨٩٦ء کو وفات پا گئے تو مرزا قادیانی کو ایک اور تاویل سوجھی۔ جس کا اس سے پہلی کتابوں، اخباروں، تقریروں اور اشتہار میں نام ونشان تک نہ تھا۔ فرماتے ہیں کہ: ”پیش گوئی میں یہ بیان تھا کہ فریقین (مرزا قادیانی و آتھم) میں سے جو شخص اپنے عقیدہ کی رو سے جھوٹا ہے وہ پہلے مرے گا۔ سو وہ مجھ سے پہلے مر گیا۔“
(کشتی نوح ص ٦، خزائن ج ١٩ ص ٦)
ہم نے اس فقرہ کو مرزا قادیانی کا جھوٹ اور فریب قرار دیا تھا۔ کیونکہ اصل الہام مرزا قادیانی کی موت وحیات کا اشارہ تک نہیں۔ وہ جب چاہیں مر جائیں۔ جتنا عرصہ چاہیں زندہ رہیں۔ صرف آتھم کا ١٥ ماہ میں مرنا ضروری ہے۔ لیکن اس عبارت میں مرزا قادیانی نے فریقین کی موت میں تقدیم و تاخیر کی نسبت پیدا کر کے اپنی ہی عبارت میں تحریف کر دی اور اصل الہام کی روح فنا کر ڈالی۔ اصل الہام تو یہ کہتا ہے کہ مرزا قادیانی خواہ آج ہی مر جائیں۔ لیکن آتھم اگر ٤؍ ستمبر ١٨٩٤ء تک مر جائے تو الہام صحیح ہوگا۔ لیکن اس عبارت کا مطلب یہ ہے کہ مرزا قادیانی ٢٦؍ مئی ١٩٠٨ء کو ١٠ بجے فوت ہوئے۔ آتھم اگر اسی تاریخ کو پونے دس بجے مر جاتا تو الہام پھر بھی درست رہتا۔ کہاں ١٥ ماہ کی تحدید اور کہاں تقدیم و تاخیر کی وسعت:
سچ ہے۔
کوئی پہلو تو رہے بات بدلنے کے لئے
قادیانی مجیب
اس کے جواب میں فرماتے ہیں کہ: ”حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عبارت میں بیان کا لفظ ہے جو مفہوم اور تشریح پر بھی بولا جاتا ہے۔..... چونکہ حضرت اقدس نے اس عبارت میں اس امر کو پیش گوئی کا بیان قرار دیا ہے کہ آتھم آپ سے پہلے مرے گا۔ اس لئے ہم یہ مفہوم اصل پیش گوئی سے ثابت کرنے کے لئے تیار ہیں۔“
(رسالہ مذکور ص ٣٠)
اس عبارت کا مطلب صاف ہے کہ مرزا قادیانی کے الہام میں لفظ تو پندرہ ماہ میں مرنے کا ہے۔ لیکن اس سے یہ مفہوم ثابت کیا جا سکتا ہے کہ اگر آتھم مرزا قادیانی سے پہلے مر
جائے تو بھی الہام سچا ٹھہرے گا۔ اس کے بعد قاضی صاحب اس مفہوم کو اس طرح ثابت کرتے ہیں کہ اس پیش گوئی سے ظاہر ہے کہ دونوں فریق میں سے جو فریق عاجز انسان کو خدا بنا رہا ہے۔ اسے پندرہ ماہ میں ہاویہ دوزخ میں پڑنا ہوگا۔ بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے اور جو دونوں سے سچے خدا کو مان رہا ہے۔ اسے زندہ رہنا چاہئے۔ تاکہ اس کی عزت ظاہر ہو۔ عبداللہ آتھم مسیح کو خدا بنا رہا تھا۔ لہٰذا پیش گوئی کا مفاد یہ ہوا کہ دونوں فریقوں میں جھوٹا سچے کی زندگی میں مرے گا۔
مطلب قاضی صاحب کا یہ ہے کہ سچے کی عزت اسی وقت ہو سکتی ہے جب جھوٹا اس کی زندگی میں مرے۔ حالانکہ ادنیٰ شعور والا آدمی بھی سمجھ سکتا ہے کہ ملہم کی عزت اس میں نہیں کہ دشمن اس کے سامنے مرے۔ بلکہ اصل عزت یہ ہے کہ اس کے الہام کے مطابق مرے۔ آنحضرت ﷺ کے ہزاروں الہام آپ کی وفات کے بعد پورے ہوئے اور قیامت تک پورے ہوتے رہیں گے اور جب بھی کوئی الہام پورا ہوگا۔ حضور کی عزت اور صداقت دوبالا ہوگی۔ آپ کے متبعین کے ایمان میں اضافہ اور منکرین پر خدا کی حجت پوری ہوتی رہے گی۔
آپ ہی فرمائیے: اگر مرزا قادیانی کا کوئی الہام ان کی وفات کے بعد پورا ہو تو کیا اس سے ان کی عزت نہ ہوگی اور اگر مرزا قادیانی آتھم کی زندگی میں طبعی موت سے انتقال کر جاتے۔ لیکن آتھم ٹھیک ١٥ ماہ کے اندر مر جاتا تو کیا اس سے مرزا قادیانی کی عزت دوبالا نہ ہوتی اور کیا وہ دن مرزا قادیانی کی جماعت کے لئے عید کا اور عیسائیوں کے لئے ماتم کا دن نہ ہوتا۔ حاصل کلام یہ کہ عزت کا انحصار اس پر نہیں کہ آتھم مرزا قادیانی کی زندگی میں مرے۔ بلکہ عزت یہی تھی کہ مرزا قادیانی کے الہام، خواہش اور کوشش کے مطابق ١٥ ماہ کے اندر اندر وفات پائے۔
اتمام حجت
نمبر پنجم کی یہ ساری بحث قاضی صاحب کے اس جواب کی بنا پر ہے کہ حضرت اقدس نے اس امر کو پیش گوئی کا بیان کہا ہے کہ آتھم آپ سے پہلے مرے گا۔ اس لئے ہم یہ مفہوم اصل پیش گوئی سے ثابت کرنے کو تیار ہیں۔
گویا قاضی صاحب کے جواب کی بنیاد یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے اس عبارت میں اصل الہام کے الفاظ کا نہیں بلکہ مفہوم کا حوالہ دیا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ قاضی صاحب پر اتمام حجت اور جھوٹے کو گھر تک پہنچانے کے لئے مرزا قادیانی کی تحریر سے اس امر کی وضاحت کر دیں کہ انہوں نے مفہوم کا نہیں بلکہ الفاظ کا حوالہ بھی دیا اور صراحتاً غلط بیانی کا ارتکاب کیا ہے۔ چنانچہ مرزا قادیانی اپنی کتاب (تجلیات الٰہیہ طبع سوم ص٩، خزائن ج٢٠ ص٤٠٧) پر اسی الہام کا ذکر کرتے
٦٥
ہوئے اپنے معترضین کی نسبت فرماتے ہیں۔ ”یہ نادان نہیں جانتے کہ اگر ڈپٹی آتھم پندرہ مہینے میں نہیں مرا تو آخر چند ماہ بعد میری زندگی میں ہی مر گیا اور پیش گوئی میں صاف یہ لفظ تھے کہ جھوٹا سچے کی زندگی میں مرجائے گا۔“ ہم قاضی صاحب اور تمام مرزائی جماعت سے مخلصانہ استدعا کرتے ہیں کہ آپ ہمارے منقولہ حوالہ کو ملاحظہ فرمائیے اور پھر صاف اقرار کیجئے کہ مرزا قادیانی نے واقعی جھوٹ بولا اور اپنے قارئین کو فریب دیا ہے۔
نتیجہ یہ نکلا کہ مرزا قادیانی نے ١٥ماہ والے الہام میں ١٥ماہ گزر جانے کے بعد سچے اور جھوٹے کی موت میں تقدیم تاخیر کی وسعت پیدا کر کے تحریف، بددیانتی اور جھوٹ سے خلق خدا کو فریب دینے کی کوشش کی ہے اور آپ کا جواب کہ سچے کو جھوٹے کی موت تک زندہ رہنا چاہئے اور اس کو الہام کا مفاد بتانا قطعی غلط ہے۔ کیونکہ جھوٹا الہام کے مطابق مرے اور الہام انہی معنوں میں سچا ہو جو ملہم نے سمجھے ہوں اور وقت سے پہلے خلق کے سامنے پیش کئے ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ ١٥ماہ گزرنے پر ٦؍ ستمبر ١٨٩٤ء کو بھی مرزا قادیانی کی بے عزتی ہوئی اور مرزائی جماعت کو شرمسار ہونا پڑا۔ لیکن جس دن ٢٧؍ جولائی ١٨٩٦ء آتھم صاحب فوت ہوئے اس دن بھی مرزائی احباب کی کوئی عزت نہ ہوسکی اور دنیا نے اسے ذرہ بھر اہمیت نہ دی۔ الہام کی مدت گزر جانے کے بعد ایسے بہانے تراشنا محض دجل وفریب ہے۔
ششم ....... الہام کے نتائج سے چھٹا نمبر یہ تھا کہ جس دن یہ الہام پورا ہوگا اس دن مرزا قادیانی کی عزت ہوگی اور کئی اندھے سوجاکھے ہوجائیں گے۔ کئی لنگڑے چلنے لگیں گے اور کئی بہرے سننے لگیں گے۔
یہ نمبر ایک طرح سے الہام کے درست یا غلط ہونے کا معیار ہے۔ ہم مرزائی جماعت سے سوال کرتے ہیں کہ ٦؍ ستمبر ١٨٩٤ء یعنی مدت ١٥ماہ ختم ہونے پر عزت کس کی ہوئی؟ آتھم کی یا مرزا قادیانی کی؟ شہر بشہر جلوس کس کے نکالے گئے اور ریچھ اور بندر کس کو بنایا گیا؟ آتھم کو یا مرزا قادیانی کو؟ قصیدے کس کی شان میں لکھے گئے اور توہین آمیز اشعار کا موضوع کس کو بنایا گیا؟ آتھم کو یا مرزا قادیانی کو؟ مبارک باد کے تار کس کے نام آئے اور اعتراضات کی بوچھاڑ کس پر ہوئی؟ آتھم پر یا مرزا قادیانی پر؟ خوشی اور مسرت کے جشن کس نے منائے؟ عیسائیوں نے یا مرزائیوں نے؟ اور اس موقعہ پر مرزا قادیانی کے الہام کی صداقت دیکھ کر عیسائی مرزائی ہوئے یا الہام کو غلط پاکر کئی مرزائی عیسائی ہوگئے؟ کیا آج بھی اس الہام کی تفصیلات سن کر عیسائی خوش ہوتے ہیں یا مرزائی؟ ہمیں یقین ہے کہ مرزا قادیانی، آتھم صاحب کا تصور آنے پر آج عالم برزخ میں پکار اٹھتے ہوں گے کہ؎
٦٦
ہاں ہاں نہ کریں گے کبھی ایسا نہ کریں گے
ہاں ہاں یہ بھی بتایا جائے کہ اس الہام کے پورا ہونے پر مرزا قادیانی کے ارشاد کے مطابق کتنے اندھے سوجاکھے ہوئے، کتنے لنگڑے چلنے لگ گئے اور کتنے بہرے سننے لگ گئے اور مرزا قادیانی کی عزت میں کیا اضافہ ہوا۔ سچ ہے۔
تکبر وہ بری شے ہے کہ فوراً ٹوٹ جاتا ہے
آخری گذارش
ہم اس بحث کے خاتمہ پر اپنا خیال مرزا قادیانی کی نسبت کچھ ظاہر نہیں کرتے۔ بلکہ انہی کے فرمودہ پر اعتقاد رکھتے ہیں کہ: ”اگر یہ پیش گوئی جھوٹی نکلے یعنی وہ فریق جو خدا تعالیٰ کے نزدیک جھوٹ پر ہے وہ آج کی تاریخ سے پندرہ ماہ کے عرصہ میں بسزائے موت ہاویہ میں نہ پڑے تو میں ہر ایک قسم کی سزا اٹھانے کو تیار ہوں۔ مجھ کو ذلیل کیا جائے، روسیاہ کیا جائے۔ میرے گلے میں رسہ ڈالا جائے۔ مجھ کو پھانسی دی جائے...... اگر میں جھوٹا ہوں تو میرے لئے سولی تیار رکھو اور مجھے تمام شیطانوں اور بدکاروں اور لعنتیوں سے زیادہ لعنتی قرار دو۔“
(جنگ مقدس ص آخری، خزائن ج٦ ص٢٩٣)
مرزا قادیانی کے مریدو
دیکھو ہم مرزا قادیانی کے کتنے پکے معتقد ہیں کہ جن لفظوں میں انہوں نے ہم کو اعتقاد رکھنا سکھایا ہے۔ ہم اس پر ایسے جمے ہیں کہ بس بس۔ کیا کوئی مرزا قادیانی کے مصنوعی مریدوں میں ہے؟ جو ہمارا مقابلہ کرے۔ یاد رکھو۔
گرچہ ڈھونڈو گے چراغ رخ زیبا لے کر
(الہامات مرزا ص٥٠، ٥١)
خاتمہ
ہم نے مرزائے قادیان کے دس جھوٹ کے سلسلہ میں ان تمام اوہام اور تاویلات کا جواب دے دیا ہے۔ جو مرزائی مجیب صاحبان نے مرزا قادیانی کی حمایت میں پیش کئے تھے۔
٦٧
جس کے بعد ہمارے الزام بدستور مرزا قادیانی پر قائم ہیں۔ ہم اب بھی واشگاف الفاظ میں اعلان کرتے ہیں کہ مرزائی جماعت اگر چاہے تو ثالث اور دیگر شرائط کا تصفیہ کرلے۔ اس کے بعد ہمارا اشتہار لاہوری ایڈیٹر کے مضامین، لائل پوری فاضل کا رسالہ اور ہمارا جواب الجواب اس ثالث کے پاس بھیج دیئے جائیں۔ اگر ثالث کا فیصلہ میرے خلاف ہو اور میرا الزام مرزا قادیانی پر صحیح ثابت نہ ہو تو میں بلا توقف ایک ہزار روپیہ نقد ادا کردوں گا۔ بشرطیکہ مرزائی جماعت اس بات کی ضمانت دے کہ اگر ثالث نے مرزا قادیانی کے خلاف فیصلہ دے دیا اور میرا جھوٹ کا الزام صحیح تسلیم کر لیا گیا تو کم از کم فلاں دس مرزائی مرزائیت چھوڑ کر حلقہ بگوش اسلام ہو جائیں گے۔
پانچ اور جھوٹ
ممکن ہے کہ مرزائی جماعت کے جواب اور ہمارا جواب الجواب مطالعہ کرنے کے بعد کوئی صاحب دیانت داری سے یہ رائے قائم کریں کہ دس جھوٹوں سے فلاں فلاں کو جھوٹ کہنا زیادتی ہے۔ یہ صرف معلومات کی لغزش یا محض حوالہ کی غلطی ہے۔ اگرچہ ہم ان تمام عذرات کا جواب پوری تفصیل سے دے چکے ہیں۔ تاہم ایسے احباب کے افادہ کے لئے ہم مرزا قادیانی کے لٹریچر سے ان کے جھوٹ اور غلط بیانی کی پانچ اور مثالیں پیش کئے دیتے ہیں۔ امید ہے کہ مرزائی دوست بھی ان پر غور فرمائیں گے۔
مرزائے قادیان کے پانچ اور جھوٹ
- ١...... ”براہین احمدیہ میں (آج سے) سولہ برس پہلے بیان کیا گیا تھا کہ خدا
تعالیٰ میری تائید میں خسوف و کسوف کا نشان ظاہر کرے گا۔“
(تحفہ گولڑویہ ص ٨، خزائن ج ١٧ ص ٤٨)
ہمارا دعویٰ ہے کہ مرزا قادیانی نے اتفاقیہ خسوف و کسوف واقع ہو جانے پر یہ غلط بیانی کی ہے۔ براہین احمدیہ میں قطعاً یہ ذکر نہیں کہ مرزا قادیانی کی تائید کے لئے کسی موقعہ پر چاند سورج کو گرہن ہوگا۔
- ٢...... ”کسی دوسرے مدعی مہدویت کے وقت میں کسوف و خسوف رمضان میں
آسمان پر نہیں ہوا۔“
(تحفہ گولڑویہ ص ١٧، خزائن ج ١٧ ص ١٥)
مرزا قادیانی نے اس فقرہ میں غلط بیانی کی اور اپنے ناظرین کو فریب میں مبتلا رکھنے کی کوشش کی ہے۔ ڈاکٹر عبدالحکیم صاحب پٹیالوی نے اپنی کتاب الذکر الحکیم ص ٦ کے آخر میں مدعی مہدویت حضرات کی ایک طویل فہرست شائع کر دی تھی۔ جن کے زمانہ میں رمضان شریف کے
٦٨
اندر سورج چاند کو گرہن ہوا۔ اس کا جواب آج تک مرزائی جماعت نہیں دے سکی۔
- ٣....... ”آنحضرتﷺ کو والدین سے مادری زبان سیکھنے کا بھی موقع نہ ملا۔
کیونکہ چھ ماہ کی عمر تک دونوں فوت ہو چکے تھے۔“
(ایام صلح حاشیہ ص١٧٠، خزائن ج١٤ ص٣٩٦)
یہ بھی مرزا قادیانی کا جھوٹ ہے۔ کیونکہ آنحضرتﷺ کے والد محترم تو ولادت سے قبل ہی انتقال فرما چکے تھے اور والدہ محترمہ کی وفات اس وقت ہوئی جب آنحضرتﷺ عمر مبارک کے ساتویں سال میں تھے۔
(ملاحظہ زاد المعاد جلد اوّل ص١٧، مطبوعہ مصر)
- ٤....... ”عرصہ بیس یا اکیس برس کا گزر گیا ہے کہ میں نے ایک اشتہار شائع کیا
تھا۔ جس میں لکھا تھا کہ خدا نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ میں چار لڑکے دوں گا جو عمر پاویں گے۔“
(حقیقت الوحی ص٢١٨، خزائن ج٢٢ ص٢٢٨)
حقیقت یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے اپنے چار لڑکے موجود پا کر خدا تعالیٰ پر جھوٹ بولا ہے۔ ہمارا دعویٰ ہے کہ مرزا قادیانی کو اس مضمون کا کوئی الہام نہ ہوا تھا۔ مرزائی جماعت کو اگر ہمارے دعویٰ سے اختلاف ہو تو مرزا قادیانی کے لٹریچر سے اس مضمون کا الہام ثابت کر دکھائیں۔ ہاں یہ بھی بتائیں اگر خدا تعالیٰ نے چار لڑکوں کے عمر پانے کا وعدہ کیا تھا تو پھر صاحبزادہ مبارک احمد صاحب آٹھ سال کی عمر میں وفات کیوں پاگئے۔ اب مرزائی جماعت کو اختیار ہے کہ مرزا قادیانی کو غلط گو کہے یا ان کے الہام کو غلط قرار دے۔
- ٥....... مرزا قادیانی (آئینہ کمالات اسلام ص٣١٢، خزائن ج٥ ص ایضاً) کے حاشیہ پر
محمدی بیگم کے نکاح کے ذکر میں فرماتے ہیں کہ: ”مرزا احمد بیگ نے اس الہام کے سننے کے بعد پانچ برس تک اپنی لڑکی کو اس کا کسی جگہ نکاح نہ کیا اور زندہ رہا۔ پھر پانچ برس کے بعد اس نے اس کا ایک جگہ نکاح کر دیا اور نکاح کے چھٹے مہینے پیش گوئی کی میعاد میں مرگیا۔“ اگر کوئی مرزائی یہ ثابت کر دے کہ مرزا احمد بیگ، محمدی بیگم کے نکاح کے بعد چھٹے ماہ مر گیا تو ہم مرزائی جماعت سے تحریری معافی مانگ لیں گے۔ کیا ہے کوئی مرزائی جو میدان میں آئے اور اپنے حضرت صاحب کی ذات سے جھوٹ کا الزام دور کرے۔.... ہمارا دعویٰ ہے کہ؎
محمد ابراہیم میرپوری مورخہ ١٠؍ جولائی ١٩٥٨ء
٦٩
ایک ضروری معذرت
فن تصنیف سے دلچسپی لینے والے حضرات بخوبی آگاہ ہیں کہ لفظی صحت کے لئے یہ امر نہایت ضروری ہوتا ہے کہ کاتب مصنف کے پاس ہی کتابت کرے۔ لیکن یہ میری مجبوری تھی کہ میں بدوملہی میں اور کاتب صاحب لائل پور میں۔ بناء علیہ اگر ناظرین عربی متن میں زیر زبر یا اردو عبارت میں کسی مقام پر نقطہ وغیرہ کی کمی بیشی یا ”میں، سے“ کا فرق پاویں تو اسے میری مجبوری پر محمول کریں۔
محمد ابراہیم میرپوری
رباعیات
نبوت کاذب
منبر نہیں ہوگا تو سر دار کریں گے
جب تک بھی دہن میں زباں سینے میں دل ہے
کاذب کی نبوت کا ہم انکار کریں گے
تکمیل عشق
اس جان دو عالم پر فدا جان کریں گے
کافر ہے جسے ختم نبوت کا ہو انکار
روکے گا ہمیں کون؟ یہ اعلان کریں گے
انجام
منہ پر ہی گرا جس نے بھی مہتاب پہ تھوکا
مایوس نہ ہوں ختم نبوت کے محافظ
نزدیک ہے انجام شہیدوں کے لہو کا
امین گیلانی
٧٠