بسم اللہ الرحمن الرحیم
قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی وہ آخری آسمانی کتاب ہے جو اس کے آخری پیغمبر حضرت محمد مصطفیٰ خاتم الانبیاء ﷺ پر بنی نوع انسان کی ہدایت کیلئے نازل ہوئی قیامت تک نہ تو حضور اکرم ﷺ کے بعد کوئی نبی ہوگا اور نہ ہی کوئی آسمانی کتاب ہوگی وحی رسالت ونبوت کا سلسلہ تا قیام قیامت منقطع ہو گیا یہ کتاب ہدایت قیامت تک باقی رہے گی اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس کی حفاظت اپنے ذمہ لے لی اور فرمایا ”انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظون“ کہ یہ نصیحت بھری کتاب ہم نے اتاری ہے اور قیامت تک اس کی حفاظت اپنے ذمہ لے لی ہے اور اللہ تعالیٰ حسب وعدہ حفاظت فرما رہے ہیں۔ یہ دنیا کی واحد آسمانی کتاب ہے جو ہر قسم کی تحریف وتغیر، کمی بیشی سے مبرا اور پاک ہے جس کی حرکات وسکنات اور نقطے تک محفوظ ہیں لاکھوں کروڑوں اس کے حفاظ موجود ہیں کیا مجال جو کوئی زبر کی جگہ زیر کر دے یا ایک نقطہ کم یا زیادہ کر دے اس کی حرکات وسکنات بھی علیحدہ علیحدہ تمام شمار کی ہوئی ہیں اور اوپر والے، نیچے والے تمام نقطے بھی گنے ہوئے ہیں دنیا میں اسکی کوئی مثال پیش نہیں کی جاسکتی۔
جسطرح اللہ تعالیٰ نے ظاہری الفاظ اور حروف کی حفاظت کا انتظام فرمایا ہے اسی طرح اس کے معانی اور مطالب کی حفاظت کا بھی انتظام فرما دیا ہے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ”ان علینا جمعہ وقرآنہ ثم انا علینا بیانہ“ کہ جس طرح اس کا جمع کرنا اور پڑھانا ہمارا ذمہ ہے اس کے مطالب و معانی کا بیان کرنا بھی ہمارے ذمہ ہے۔ ہم آپ کو اس کے مطالب و معانی بیان کریں گے پھر آپ کے ذمہ ہوگا ”لتبین للناس“ کہ آپ لوگوں کو وہ معانی و مطالب بیان کریں حضور اکرم ﷺ سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے قرآن کریم پڑھا بھی اور سیکھا بھی پھر صحابہ کرام سے تابعین، تبع تابعین نے نقل کیا جو آج تک بمع سند محفوظ ہے۔ قرآن کریم کے الفاظ و حروف و حرکات وسکنات میں تو کوئی اہل ...... اور باطل نظریات والا تحریف نہیں کر سکتا۔ ہاں معانی و مطالب میں ملحدین اور زاغین نے اپنی مطلب براری اور اپنے باطل و فاسد نظریات کو ثابت کرنے کیلئے کوششیں کیں ہیں اور ہر دور میں کرتے رہتے ہیں لیکن علماء ربانی اہل حق ان باطل نظریات کی تردید کر کے اصل معانی سلف صالحین کی سند سے واضح کرتے رہتے ہیں جن پر پوری امت کا اجماع ہے۔ امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے دور ہی میں یہ ہدایت فرما دی تھی کہ ”خذوا علی الاھواء بالسنن فان القرآن ذو وجوہ“ کہ باطل نظریات کے حامل ملحدین وزاغین کو احادیث اور سنن کے ذریعہ قابو کرو کیونکہ قرآن کریم ................. ہے یعنی اس میں سے کئی معانی و مطالب نکل سکتے ہیں لیکن صحیح معنی وہ ہوگا جو حدیث اور سنت سے ثابت ہے۔ گذشتہ زمانہ میں بھی کئی ملحدین نے تراجم میں اپنے باطل نظریات کے مطابق تحریف کی کوشش کی لیکن علماء اسلام نے ان کی نشاندہی کر کے اصل معانی کو واضح کیا۔ آج کے اس دور میں جھوٹی نبوت کا قادیانی فتنہ پیدا ہوا تو انہوں نے اپنے باطل اور کفریہ نظریات کے مطابق قرآنی معانی بگاڑنے اور تحریف کرنے کی ایک خطرناک سازش کی جس کو عام آدمی سمجھ نہیں سکتا۔ اس وقت ایک سو کے قریب دنیا کی مختلف زبانوں میں ان کے تحریف شدہ تراجم قرآن موجود ہیں اور پورے زور شور سے وسیع پیمانہ پر ان ممالک میں پھیلا رہے ہیں۔ روسی زبان میں بھی انہوں نے ترجمہ کیا ہے اور روس سے آزاد ہونے والی مسلمان ریاستوں میں وہ تحریف شدہ ترجمہ بڑے پیمانہ پر پھیلا دیا گیا ہے اس تمام کام کا خرچہ صرف ایک آدمی شیزان فیکٹری کے مالک نے برداشت کیا۔ یہ جب واصل جہنم ہوا تو اس کے مرنے پر قادیانیوں نے اپنے اخبار ”الفضل“ میں اس مردود کے مناقب و فضائل شائع کئے جس میں انہوں نے لکھا کہ قرآن کریم کا روسی زبان میں ترجمہ
کرنے کی تجویز بھی شاہ نواز شیزان فیکٹری کے مالک نے پیش کی اور اس کی پوری اشاعت کا خرچہ بھی برداشت کیا۔ وہ 1/10 حصہ کا موصی بھی تھا۔ اب جو مسلمان شیزان کی مصنوعات اچار، مربے، جام، چٹنیاں اور شربت وغیرہ استعمال کرتے ہیں وہ بھی سوچ لیں اس طرح وہ کفر کی تبلیغ و اشاعت میں حصہ دار بن کر اپنے لئے جہنم خرید رہے ہیں۔ مسلمانوں کیلئے شیزان کی تمام مصنوعات خنزیر سے زیادہ حرام اور نقصان دہ ہیں کیونکہ اس سے حضور اکرم ﷺ کے عقیدہ ختم نبوت کے خلاف ایک کذاب و دجال کی نبوت کی تبلیغ ہوتی ہے اور اس میں وہ مسلمان حصہ دار بنتا ہے۔ قادیانیوں نے ختم نبوت۔ نزول مسیح۔ معراج النبی ﷺ۔ معجزات اور جہاد وغیرہ کی آیات میں صریح معنوی تحریف کی ہے جن میں سے صرف ایک بطور مثال کے قارئین حضرات کے سامنے پیش کر رہا ہوں۔
سورۃ بقرہ کی ابتدائی آیات میں کامیاب مؤمنین کی نشانیاں بیان کی گئی ہیں ان میں فرمایا کہ وہ لوگ جو ایمان لاتے ہیں اس وحی پر جو آپ پر نازل کی گئی اور اس وحی پر جو آپ سے پہلے وحی نازل کی گئی ’’ما انزل الیک وما انزل من قبلک‘‘ ’’اولئک علی ہدیً من ربہم واولئک ہم المفلحون‘‘ یعنی وہ تمام مسلمان جو ان دو وحیوں پر ایمان لاتے ہیں وہ ہدایت یافتہ ہیں اور وہ دنیا و آخرت دونوں جہاں میں کامیاب ہیں۔ اس آیت سے واضح ہو گیا حضور اکرم ﷺ کے بعد سلسلہ نبوت و رسالت ختم ہے۔ اگر سلسلہ نبوت جاری ہوتا جیسا کہ قادیانی کہتے ہیں تو ضرور تھا کہ نبی پر وحی بھی نازل ہوتی تو اس نبی اور اس پر نازل شدہ وحی پر بھی نجات کیلئے ایمان لانا ضروری ہوتا۔ حالانکہ نجات کا انحصار دو وحیوں پر ایمان لانے پر ہے۔ اب مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے کہ ’’میں نبی مرسل ہوں اور مجھ پر وحی نازل ہوتی ہے اور جو میری وحی پر ایمان نہیں لاتا اور میری اتباع نہیں کرتا وہ کافر اور جہنمی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے میری وحی کو حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی کی مانند راہ نجات ٹھہرایا ہے جو حضرت نوح کی کشتی پر سوار ہوئے وہ نجات پا گئے جو سوار نہ ہوئے وہ غرق ہو گئے ۔‘‘ اب ہم کہتے ہیں کہ قرآن کریم نے تو دو وحیوں کا ذکر کیا کہ ان پر ایمان لانے والے کامیاب ہیں۔ تیسری وحی کا کہیں ذکر نہیں کیا۔ ’’ما انزل من قبلک‘‘ جو وحی حضور اکرم ﷺ سے پہلے نازل ہوئی آج وہ اپنی اصلی شکل وصورت میں موجود بھی نہیں اس کی ہمیں ضرورت بھی نہیں لیکن اس کے باوجود اس وحی پر ایمان لانا نجات کیلئے ضروری ہے اگر حضور اکرم ﷺ کے بعد بھی کسی وحی کا نزول تھا اور اس پر ایمان لانا نجات کیلئے ضروری تھا تو اس تیسری وحی کا قرآن کریم میں ذکر آنا چاہیے تھا۔ ’’ما انزل من قبلک‘‘ کا ذکر تو قرآن کریم میں 31 مقامات پر ہے اور ’’ما انزل من بعدک‘‘ پورے قرآن میں ایک مرتبہ بھی نہیں آیا ۔ حالانکہ اگر ’’من قبلک‘‘ کا ذکر اکتیس دفعہ ہے جس کی ہمیں ضرورت بھی نہیں تو ’’ما انزل من بعدک‘‘ جس کی ہمیں بعد میں ضرورت پڑنی تھی اس کا ذکر تو ڈبل یعنی 62 دفعہ آنا چاہیے تھا حالانکہ پورے قرآن میں کہیں بھی اس کا ذکر نہیں۔ ختم نبوت کی یہ ایک ایسی واضح اور زبردست دلیل تھی کہ قادیانیوں کے پاس اس کا کوئی جواب نہ بن پڑتا تھا۔ اب مرزا بشیر الدین محمود مرزا قادیانی کے بڑے بیٹے اور انکے دوسرے خلیفہ نے قرآن کریم کا ترجمہ کیا اور آگے جو ’’وبالآخرۃ‘‘ کا لفظ ہے جس کا معنی ...... ہے اس کا ترجمہ کر دیا آخری وحی جو مسیح موعود (مرزا قادیانی) پر نازل ہوئی اب یہ کھلی تحریف ہے۔ ’’آخرت‘‘ کا معنی کسی تفسیر میں لغت کی کسی کتاب میں ’’آخری وحی‘‘ نہیں ہے۔ ’’آخرت‘‘ کا لفظ مونث ہے اور ’’وحی‘‘ کا لفظ مذکر ہے۔ لیکن مرزا بشیر الدین محمود نے تیسری وحی ایمان کیلئے ضروری قرار دینے کیلئے یہاں پر آخرت کا معنی ’’آخری وحی‘‘ کر دیا قرآن کریم میں ’’آخرت‘‘ کا لفظ ایک سو پندرہ 115 مرتبہ آیا ہے اور ہر جگہ پر اس کا معنی قیامت ہے لیکن یہاں آ کر مسیح موعود قادیانی کی وحی بن گیا اور طرفہ تماشہ ہے کہ خود مرزا غلام احمد قادیانی جو جھوٹی نبوت بانی اور مدعی ہے اس نے یہاں پر ترجمہ ’’آخرت‘‘ کا
......... ہی کیا ہے۔ کیونکہ اس وقت اس کے سامنے ہماری دلیل نہ تھی۔ اب باپ صاحب نے تو ترجمہ قیامت کا کیا ہے اور بیٹا اس کی وحی بنا رہا ہے۔ ناطقہ سر بگریباں ہے اس کا کیا کہیے۔ اب جن جن زبانوں میں قادیانیوں نے قرآن کریم کا ترجمہ کیا سب میں یہاں پر آخرت کا معنی آخری وحی کر دیا ہے۔ ”واؤ“ کا عربی میں ترجمہ ہوتا ہے ”اور“ ان دونو آیات کے درمیان ”واؤ“ ہے یعنی جو ایمان لاتے ہیں اس وحی پر جو آپ پر نازل کی گئی اور جو آپ سے پہلے نازل کی گئی یعنی ان دونوں وحیوں پر ایمان لانے والا کامیاب ہے اب اس دلیل کو توڑنے کیلئے مرزا بشیر الدین محمود نے یہاں پر ”واؤ“ کا ترجمہ بجائے ”اور“ کرنے کے ”یا“ کیا ہے اور تفسیر صغیر کے حاشیہ پر لکھا ہے کہ یہاں پر لفظ ”واؤ“ ہے اور ”واؤ“ کا معنی ”اور“ ہے لیکن میں نے یہاں پر ”واؤ“ کا معنی ”یا“ کیا ہے تا کہ مفہوم آسانی سے سمجھ آسکے اب دیکھیں۔ اس ایک لفظ میں کتنی خطرناک تحریف ہے ۔ ”واؤ“ یعنی ”اور“ دو چیزوں کو ملانے کیلئے آتا ہے اور ”یا“ دو چیزوں کو جدا کرنے کیلئے آتا ہے اب ہر آدمی اس قسم کی تحریف کو نہیں سمجھ سکتا لیکن یہ ایک خاص مقصد کیلئے تحریف کی گئی ہے تا کہ یہ دلیل کہ نجات کا مدار ان دونوں وحیوں پر ہے وہ بھی ختم ہو جائے کہ جو کسی ایک پر بھی ایمان لائے وہ بھی کامیاب ہے تا کہ تیسری کا سوال پیدا نہ ہو یہ صرف خطرناک تحریف معنوی کی ایک مثال بطور نمونہ پیش کی ہے اس طرح دیگر مقامات پر بھی خطرناک معنوی تحریف کی ہے۔
مجھے مدت سے خیال تھا کہ ان کی اس معنوی تحریف اور خیانت کو اکٹھا کیا جائے اور مسلمانوں کو تنبیہ کی جائے کہ قادیانی تراجم قرآن میں ان مقامات پر یہ معنی کیا گیا ہے اور اصل اور صحیح معنی یہ ہے مولانا حکیم محمد رفیق صاحب ہمارے شعبہ تخصص کے استاذ تھے ان کے ذمہ یہ کام لگایا انہوں ایسے پندرہ مقامات کی نشاندہی کی۔ ضیاء الحق مرحوم نے اسلام آباد میں ایک علماء کنونشن منعقد کیا جس میں تمام مکاتب فکر کے جید علماء کو مدعو کیا گیا۔ بندہ بھی اس کنونشن میں شریک تھا۔ چنانچہ میں نے مرزا بشیر الدین محمود قادیانی کے ترجمہ کے وہ چند مقامات ایک صفحہ پر نقل کر کے اس کا ترجمہ اور بالمقابل صحیح ترجمہ کر کے تفصیل سے پیش کیا نیز مرزا بشیر الدین محمود کا محرف شدہ ترجمہ قرآن کا ایک نسخہ ضیاء الحق کو پیش کیا کہ یہ پاکستان اور آپ کی حکومت میں چھپ رہا ہے جس پر وزارت مذہبی امور کا سرٹیفکیٹ بھی چھپا ہوا ہے اس سے گمراہی پھیل رہی ہے اس کے آپ ذمہ دار ہیں لہذا اسکی اشاعت پر پابندی لگائیں۔ ضیاء الحق مرحوم نے چند ماہ میں مزید تفتیش کے بعد اس کے ضبطی کے آرڈر جاری کر دیے اور اس کی اشاعت ممنوع قرار دے دی گئی۔ اللہ تعالیٰ ضیاء الحق مرحوم کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ آمین۔
اس کے بعد میں نے مرزا بشیر الدین محمود کی تفسیر صغیر میں موجود تحریف کی نشاندہی کی چنانچہ اس کی اشاعت و طباعت پر بھی پابندی لگا دی گئی۔ پھر مولوی شیر علی قادیانی کا انگریزی ترجمہ اور غلام فرید قادیانی کا انگریزی ترجمہ و تفسیر ضیاء الحق مرحوم کے سامنے پیش کیا اور ان میں موجود قادیانیوں کی تحاریف کی وضاحت کی۔ جناب صدر مرحوم نے اس پر پابندی لگا دی لیکن قابل غور پہلو یہ ہے کہ یہ پابندیاں صرف پاکستان میں ہیں جبکہ قادیانی کئی دوسرے ممالک سے یہ محرف تراجم اور تفاسیر شائع کر کے وسیع پیمانے پر مفت تقسیم کر رہے ہیں۔ ادارہ دعوت و ارشاد، چنیوٹ میں درجہ تخصص فی رد القادیانیت کے استاذ مولانا مشتاق احمد صاحب نہایت ذوق و شوق سے قادیانیت پر تحقیق و تصنیف کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور کئی ایک کتب بھی تصنیف کر چکے ہیں کے ذمہ یہ عظیم کام لگایا انہوں نے کافی عرصہ محنت و مشقت سے قادیانیوں کے ان تراجم کا نئے سرے سے مطالعہ کر کے ان میں موجود معنوی تحاریف کو نوٹ کیا۔ ہو سکتا ہے کہ کوئی مقام رہ بھی گیا ہو لیکن یہ ایک ابتدائی کوشش ہے اگر مزید کچھ مقامات ملے یا کسی صاحب کے علم میں ہوں تو ان
سے گذارش ہے کہ اس کی نشاندہی فرماویں تا کہ آئندہ ایڈیشن میں اسے بھی شامل کر لیا جائے ۔ ابھی ہم اردو ترجمہ میں تحریف کی نشاندہی کر رہے ہیں ۔ رابطہ عالم اسلامی والوں سے گفتگو چل رہی ہے کہ اس کتاب کا تمام زبانوں (جن میں قادیانیوں کے محرف تراجم چھپ چکے ہیں) میں ترجمہ کروا کر ایک تنبیہ کے طور پر شائع کر دیں تا کہ جس کسی کے پاس قادیانی ترجمہ ہو وہ ان مقامات میں خاص طور پر احتیاط کر لیں ۔ اللہ تعالیٰ مولانا مشتاق احمد صاحب کو عمر دراز نصیب فرماویں ، انکی خدمات کو قبول فرماویں ۔ انہوں نے بڑی محنت اور عرق ریزی سے یہ کام سرانجام دیا ہے اور میری ایک دیرینہ خواہش پوری کر دی ہے۔ فجزاہ اللہ احسن الجزاء
منظور احمد چنیوٹی ۱۷ ذیقعدہ ۱۴۲۴ھ ۱۰ جنوری ۲۰۰۴ء
قرآن کریم کے ترجمہ میں لفظی (قادیانی) تحاریف
تحقیق وتالیف : مشتاق احمد (استاذ ادارہ مرکزیہ دعوت وارشاد، چنیوٹ)
(1) ﴿ وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْا اِلَّا اِبْلِيْسَ ﴾
درست ترجمہ: اور جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کے آگے سجدہ کرو تو وہ سب سجدے میں گر پڑے مگر شیطان نے انکار کیا۔
قادیانی تحریف: (اور اس وقت کو بھی یاد کرو) جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کی فرمانبرداری کرو اس پر انہوں نے تو فرمانبرداری کی مگر ابلیس (نے نہ کی)۔
حاشیہ میں لکھا ہے ”آدم کی پیدائش کی وجہ سے خدا تعالیٰ کو سجدہ کرو یہ مراد نہیں کہ آدم کو سجدہ کرو“
(تفسیر صغیر حاشیہ 1 صفحہ 12)
[تجزیہ] مرزا محمود نے ”اسجدوا لادم“ کے دو ترجمے کئے۔ (1) آدم کی فرمانبرداری کرو (2) اللہ کو سجدہ کرو۔ پہلا ترجمہ مرجوح قول پر مبنی ہے (تفسیر ابن کثیر ج 1 ص 77,78) جبکہ دوسرا ترجمہ اس صورت میں صحیح ہے جبکہ حضرت آدم علیہ السلام کو بطور قبلہ قرار دیا جائے یعنی ملائکہ نے اللہ تعالیٰ کو ہی سجدہ کیا لیکن رُخ حضرت آدم علیہ السلام کی طرف کیا۔
- (2) ﴿ وَاِذْ قَتَلْتُمْ نَفْسًا فَادّٰرَءْتُمْ فِیْهَا ؕ وَاللّٰهُ مُخْرِجٌ مَّا كُنْتُمْ تَكْتُمُوْنَ ﴾
(البقرہ 72)
درست ترجمہ: اور جب تم نے ایک شخص کو قتل کیا تو اس میں باہم جھگڑنے لگے لیکن جس بات کو تم چھپا رہے تھے خدا اس کو ظاہر کرنے والا تھا۔
قادیانی تحریف: اور (اس وقت کو بھی یاد کرو) جب تم نے ایک شخص کو قتل کرنے کا (دعویٰ) کیا پھر تم نے اس کے بارے میں اختلاف کیا حالانکہ جو (کچھ) تم چھپاتے تھے اللہ اسے ظاہر کرنیوالا تھا۔
(تفسیر صغیر ص 18)
[تجزیہ] مذکورہ آیت میں مرزا نے ”وَادّٰرَءْتُمْ“ کے معنی میں تبدیلی کی ہے جو کہ لغت عرب اور ائمہ تفسیر کی تصریحات کے بالکل خلاف ہے۔
- (3) ﴿ وَاِنَّ مِنْهَا لَمَا يَهْبِطُ مِنْ خَشْيَةِ اللّٰهِ ﴾
(البقرہ 74)
درست ترجمہ: اور بعضے (پتھر) ایسے ہوتے ہیں کہ خدا کے خوف سے گر پڑتے ہیں۔
قادیانی ترجمہ: ان دلوں میں سے بھی بعض ایسے ہیں کہ اللہ کے ڈر سے (معافی مانگتے ہوئے) گر جاتے ہیں۔
(تفسیر صغیر ص 18)
[تجزیہ] ”منھا“ کی ضمیر کے مرجع میں دو قول ہیں۔ (1) حجارہ (2) قلوب ۔ اول احتمال راجح اور دوسرا مرجوح ہے (تفسیر مظہری ج 1 ص 84,85) مرزا محمود نے مرجوح قول کو ترجیح دی ہے۔
- (4) ﴿ وَمَنْ يَّرْغَبُ عَنْ مِّلَّةِ اِبْرٰهٖمَ اِلَّا مَنْ سَفِهَ نَفْسَهٗ ﴾
(البقرہ 131)
درست ترجمہ: اور ابراہیم کے دین سے کون روگردانی کر سکتا ہے بجز اس کے جو نہایت نادان ہو۔
قادیانی ترجمہ: اور اس شخص کے سوا جس نے اپنے آپ کو ہلاک کر دیا ہو ابراہیم کے دین سے کون اعراض کر سکتا ہے
(تفسیر صغیر ص 28)
[تجزیہ] مذکورہ آیت میں ”الا من سفہ نفسہ“ کے ترجمہ میں مرزا محمود نے تحریف کی۔ درست ترجمہ کی تائید کے لئے دیکھیں۔ (1) تفسیر کبیر جلد 4 ص 77 طبع بیروت (۲) مفردات امام راغب جلد اول ص 234 طبع مصر (۳) تفسیر ابن کثیر جلد اول ص 185 طبع مصر۔
- (5) ﴿ تِلْكَ اُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ ﴾ (البقره 135,142)
درست ترجمہ: یہ جماعت گذر چکی۔ قادیانی ترجمہ: یہ وہ جماعت ہے جو (اپنا زمانہ پورا کر کے) فوت ہو چکی ہے (تفسیر صغیر ص 39,40) [تجزیہ] خلا یخلو خلواً کا ترجمہ مات یموت موتاً سے کرنا لغت عرب اور کتب تفاسیر کے بالکل برعکس ہے اور نہایت خطرناک تحریف ہے جس سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات ثابت کرنا مقصود ہے اس کی مزید تفصیل آگے آئیگی۔
- (6) ﴿ عَلِمَ اللّٰهُ اَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَكُمْ فَتَابَ عَلَيْكُمْ وَ عَفَا عَنْكُمْ ﴾
(البقره 187)
درست ترجمہ: خدا کو معلوم ہے کہ تم (ان کے پاس جانے سے) اپنا حق میں خیانت کرتے تھے سو اس نے تم پر مہربانی کی اور تمہاری حرکات سے درگذر فرمائی۔ قادیانی ترجمہ: اللہ کو معلوم ہے کہ تم اپنے نفسوں کی حق تلفی کرتے تھے اس لئے اس نے تم پر فضل سے توجہ کی اور تمہاری (اس حالت کی) اصلاح کردی۔ (تفسیر صغیر ص 40,41) [تجزیہ] مذکورہ آیت میں مرزا محمود نے ”تختانون انفسکم“ اور ”وعفا عنکم“ کے معنی میں تحریف کی ہے۔ ”اختیان“ کا درست معنی ہے خیانت کرنا جبکہ مرزا نے معنی کیا حق تلفی کرنا اور ”عفا عنکم“ کے دو معنی ہیں (1) گنجائش دینا (۲) گناہ معاف کرنا جبکہ مرزا نے اصلاح کرنا مراد لیا۔ ہمارے معنی کی صحت اور مرزا کے معنی کی تفصیل کیلئے دیکھئے: (1) تفسیر کبیر جلد پنجم ص 115,116۔ (۲) المفردات فی غریب القرآن ص 163)
- (7) ﴿ فَاِنِ انْتَهَوْا فَلَا عُدْوَانَ اِلَّا عَلَى الظّٰلِمِيْنَ ﴾
(البقره 193)
درست ترجمہ: اور اگر وہ (فساد سے) باز آجائیں تو ظالموں کے سوا کسی پر زیادتی نہیں (کرنی چاہیے) قادیانی ترجمہ: پھر اگر وہ باز آئیں تو (یاد رکھو کہ) ظالموں کے سوا کسی پر گرفت (جائز) نہیں۔
(تفسیر صغیر ص 42)
[تجزیہ] مرزا نے ”عدوان“ کا ترجمہ کیا ”گرفت کرنا“ جو کہ غلط ہے صحیح ترجمہ ہے ”زیادتی کرنا“ مرزا کے اختیار کردہ معنی کی تردید کیلئے دیکھیں: (1) تفسیر کبیر جلد پنجم ص 144 طبع بیروت (2) تفسیر ابن کثیر جلد اول ص 227
(8) ﴿اَوْ كَالَّذِيْ مَرَّ عَلٰي قَرْيَةٍ ...... فَاَمَاتَهُ اللّٰهُ مِائَةَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَهٗ﴾
(البقرہ 159)
درست ترجمہ: یا اسی طرح اس شخص کو (نہیں دیکھا) جسے ایک گاؤں میں جو اپنی چھتوں پر گرا پڑا تھا۔ اتفاقاً گزر ہو تو اس نے کہا کہ خدا اس (کے باشندوں) کو مرنے کے بعد کیونکر زندہ کرے گا تو خدا نے اس کی روح قبض کر لی اور سو برس تک (اس کو مردہ رکھا) پھر اس کو جلا اُٹھایا۔
قادیانی ترجمہ: اور (کیا تو نے) اس شخص کی مثل (کوئی آدمی دیکھا ہے) جو ایک ایسے شہر کے پاس سے گزرا جس کی یہ حالت تھی کہ وہ اپنی چھتوں کے بل گرا ہوا تھا (اس کو دیکھ کر) اس نے کہا کہ اللہ اس کی ویرانی کے بعد اسے کب آباد کرے گا اس پر اللہ نے اسے سو سال تک (خواب میں) مارے رکھا پھر اسے اٹھایا۔
(تفسیر صغیر ص 69)
[تجزیہ] مرزا محمود نے اپنے ترجمہ میں ”فاماتہ اللہ مائۃ عام“ کا ترجمہ کیا ”اس پر اللہ نے اسے سو سال تک (خواب میں) مارے رکھا پھر اسے اٹھایا“ یہ ترجمہ غلط ہے مرزا نے عالم بیداری کے ایک واقعہ کو خواب کا واقعہ بنا دیا۔ مرزا محمود جیسے لوگوں کے توہمات کی تردید میں امام رازیؒ نے کیا خوب لکھا ہے ”الأظهر انه علم ان ذالك اللبث كان بسبب الموت وذلك لأن الغرض الأصلى فى اماتته ثم احيائه بعد مائة عام أن يشاهد الاحياء بعد الاماته و ذالك لا يحصل الا اذا عرف ان ذلك اللبث كان بسبب الموت وهو ايضاً قد شاهد اما فى نفسه أو فى حماره احوالاً دالةً على ان ذلك اللبث كان سبب الموت.“
(تفسیر کبیر جلد ہفتم ص 36)
(ترجمہ) ”یہ واضح ہے کہ حضرت عزیر علیہ السلام کا یہ قیام موت کے سبب سے تھا اور اس قیام کی غرض و غایت ان کی موت اور پھر سو سال بعد دوبارہ زندہ کرنے سے یہ تھی کہ وہ ایک دفعہ مارنے کے بعد زندہ کرنیکا مشاہدہ کرسکیں اور یہ مشاہدہ اسی صورت میں ہوسکتا تھا کہ ان کو موت کے باعث اپنے اس قیام کا علم ہوتا اور انہوں نے اپنی ذات میں یا اپنے گدھے میں ایسے حالات دیکھ لئے تھے جو کہ ان کی موت کے باعث قیام پر دلالت کرتے تھے۔
طرز استدلال: امام رازی نے اس واقعہ کو بارہا مشاہدہ سے تعبیر کیا ہے اور مشاہدہ بیداری میں آنکھوں سے دیکھنے کو کہتے ہیں نہ کہ حالت خواب کو۔ اسلامی انسائیکلو پیڈیا سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔ چنانچہ لکھا ہے۔ ”قرآن مجید نے یہ قصہ ایک حقیقی واقعے کی حیثیت سے بیان کیا ہے اسے مجاز یا مکاشفہ کا رنگ دینا درست نہیں مشہور قول کے مطابق یہ واقعہ حضرت عزیر علیہ السلام کے ساتھ پیش
آیا تھا کہا جاتا ہے کہ ان کی قبر دمشق میں ہے۔
(اردو دائرہ معارف اسلامیہ پنجاب یونیورسٹی لاہور جلد 13 ص 328)
(9) ﴿وَاِذْ قَالَ اِبْرٰهٖمُ رَبِّ اَرِنِیْ کَیْفَ تُحْیِ الْمَوْتٰی ............ فَصُرْهُنَّ اِلَیْکَ . ثُمَّ اجْعَلْ عَلٰی کُلِّ جَبَلٍ مِّنْهُنَّ جُزْءً ثُمَّ ادْعُهُنَّ یَاْتِیْنَکَ سَعْیًا﴾
(البقرہ 260)
درست ترجمہ: اور جب ابراہیم نے (خدا سے ) کہا کہ اے پروردگار مجھے دکھا کہ تو مردوں کو کیونکر زندہ کرے گا...................... خدا نے فرمایا کہ چار جانور پکڑوا کر اپنے پاس منگا لو (اور ٹکڑے ٹکڑے کرادو) پھر ان کا ایک ایک ٹکڑا ہر ایک پہاڑ پر رکھو اور پھر ان کو بلاؤ تو وہ تمہارے پاس دوڑتے چلے آئیں گے۔
قادیانی ترجمہ: اور (اس واقعہ کو بھی یاد کرو) جب ابراہیم نے کہا تھا کہ اے میرے رب! مجھے بتا کہ تو مردے کس طرح زندہ کرتا تھا ...................... فرمایا اچھا تو چار پرندے لے اور ان کو اپنے ساتھ سیدھا لے پھر ہر ایک پہاڑ پر ان میں سے ایک (ایک) حصہ رکھ دے پھر انہیں بلا وہ تیری طرف تیزی کے ساتھ چلے آئیں گے۔
(تفسیر صغیر ص 71، 70)
[تجزیہ] مرزا محمود نے آیت مذکورہ کے ترجمہ میں تحریف کی اور ”فصرهن الیک“ کا ترجمہ کیا اور ان کو اپنے ساتھ سدھا لے اور ” یاتینک سعیا“ کا ترجمہ کیا ”وہ تیری طرف تیزی کے ساتھ چلے آئیں گے“۔ مرزا محمود نے یہاں پر بھی دجالاً تلبیس و تحریف کا ثبوت دیتے ہوئے ”فصرهن“ کا ترجمہ کیا ”اور ان کو اپنے ساتھ سدھا لے“ امام رازی نے اپنی تفسیر میں بتایا ہے کہ یہ ابو مسلم نامی ایک شخص کا قول ہے (جسے قادیانی مرزا محمود کی علمی تحقیق کے نام پر پیش کر رہے ہیں) اور ”فصرهن الیک“ کا صحیح ترجمہ یہ ہے اور ان کے ٹکڑے ٹکڑے کرلے:
" اجمع اهل التفسير على ان المراد بالآية قطعهن وأن ابراهيم قطع أعضاء ها و لحومها وريشها ودماء ها و خلّط بعضها علىٰ بعض غير أبى مسلم فانه أنكر ذلك وقال ....... والمراد بصرهن اليك الامالة والتمرين على الاجابة أى فعودا الطيور الأربعة أن تصير بحيث اذا دعوتها أجابتك وأتتك فاذا صارت كذلك فاجعل على كل جبل واحداً حال حياته ثم ادعهن ياتينك سعيا" . (تفسیر
کبیر جلد ہفتم ص 45)
ترجمہ: ”تمام مفسرین کا اس بات پر اجماع ہے کہ آیت ہذا میں ”فصرهن“ سے ”فقطعھن“ مراد ہے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان پرندوں کے اعضاء گوشت پر اور خون کو جدا جدا کر دیا اور بعض اجزا کو بعض کے ساتھ ملا دیا۔ صرف ابو مسلم نے اس کا انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے جب احیاء موتیٰ کو طلب کیا۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں ایک مثال دکھائی تاکہ یہ معاملہ ان کے ذہن کے قریب ہو سکے اور ”فصرهن الیک“ کا معنی ہے مائل کرنا اور انہیں اپنی طرف آنے کی مشق کرانا یعنی چاروں
پرندوں کا اس طرح عادی ہو جاتا کہ جب آپ ان کو بلائیں وہ فوراً لبیک کہتے ہوئے آپ کے پاس آ جائیں اور جب وہ پرندے عادی ہو جائیں تو ان میں سے ہر پرندہ کو زندہ حالت میں ایک ایک پہاڑ پر بٹھا دیں پھر ان کو آواز دیں وہ آپ کے پاس تیزی سے اڑتے ہوئے آ جائیں گے اور اس سے غرض یہ تھی کہ روحوں کے جسموں کی طرف آسانی سے لوٹنے کو محسوس مثال کے ذریعہ سے بیان کیا جائے“۔
مذکورہ تصریح نے تحریف کے قادیانی غبارہ سے ہوا نکال دی ہے۔
- (10) ﴿يٰمَرْيَمُ اقْنُتِيْ لِرَبِّكِ وَ اسْجُدِيْ وَ ارْكَعِيْ مَعَ الرّٰكِعِيْنَ﴾
(آل عمران 43)
درست ترجمہ: مریم! اپنے پروردگار کی فرمانبرداری کرنا اور سجدہ کرنا اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرنا۔
قادیانی ترجمہ: اے مریم! تو اپنے رب کی فرمانبردار بن اور سجدہ کر اور صرف موحدانہ پرستش کرنے والوں کے ساتھ مل کر موحدانہ پرستش کر۔
(تفسیر صغیر ص 85)
حاشیہ از مرزا محمود: عربی میں رکع کے معنی توحید کے مطابق عبادت کرنے کے ہیں اس لئے یہ ترجمہ کیا گیا ہے کہ موحدانہ پرستش کر۔
[تجزیہ] رکوع کا معنی المنجد میں یہ لکھا ہے: ”انحنٰی عطاء طأراسه ومنه الرکوع فی الصلوٰة الی اللہ واطمأن الیه الرجل افتقر وانحطت حالہ“ ۔
(المنجد ص 280 الطبعة الثانیة عشرة 1951)
ترجمہ: ”رکع“ کا معنی ہے وہ مائل ہوا اور اس نے سر جھکا لیا اور اسی سے مشتق ہے نماز میں رکوع کرنا رکوع الی اللہ کا معنی ہے مطمئن ہوتا۔ رکع الرجل: فقیر ہوا اس کی حالت زوال کا شکار ہوئی اسی طرح علامہ راغب اصفہانی تحریر فرماتے ہیں: ” الرکوع الانحناء فتارةً یستعمل فی الهیئة المخصوصة فی الصلوٰة کما هی و تارةً فی التواضع والتذلل“ (المفردات فی علوم القرآن ص 202)
رکوع کے معنی ہیں مائل ہونا، جھکنا۔ اس کا استعمال کبھی نماز کی ایک خاص ہیئت پر ہوتا ہے اور کبھی تواضع و عاجزی کے معنی میں ۔ اور تمام مفسرین نے زیر نظر آیت میں رکوع کا معنی نماز والا رکوع کیا ہے یا تواضع کو تیسرا معنی نہیں کیا بطور نمونہ ملاحظہ فرمائیں: (1) ”واسجدی وارکعی مع الراکعین“، ای کونی منھم و قال الاوزاعی رکعت فی محرابها راکعة و ساجدة و قائمة حتی نزل ماء الاصفر فی قدمها رضی اللہ عنھا و أرضاها۔
(تفسیر ابن کثیر ج 1 ص 363)
وقولہ (وارکعی مع الراکعین) امر بالصلاة فی الجماعة أو یکون المراد من الرکوع التواضع
(تفسیر کبیر 48/7)
اس بحث سے معلوم ہوا کہ مرزا نے رکوع کا معنی موحدانہ پرستش جو کیا ہے وہ سراسر غلط اور تحریف باطل ہے۔
☆ فائدہ : یہاں پر ایک اشکال وارد ہوتا ہے کہ حضرت مریم علیہا السلام کو مردوں کے ساتھ نماز باجماعت پڑھنے کا حکم کیسے دیا
گیا؟ اس کے جواب میں حضرت علامہ شبیر احمد عثمانی قدس سرہ تحریر فرماتے ہیں ”ہوسکتا ہے کہ اس وقت میں عورتوں کو عام طور پر جماعت میں شریک ہونا جائز ہو یا خاص فتنہ سے مامون ہونے کی صورت میں اجازت ہو یا دوسری عورتوں کے ہمراہ امام کی اقتداء کرتی ہوں سب احتمالات ہیں“۔
(تفسیر عثمانی ص 71 مطبوعہ سعودیہ)
(11) ﴿إِذْ قَالَ اللّٰهُ يٰعِيْسٰى إِنِّيْ مُتَوَفِّيْكَ وَرَافِعُكَ اِلَيَّ...... الخ﴾ (آل عمران 55)
درست ترجمہ: اس وقت خدا نے فرمایا کہ عیسیٰ! میں تمہاری دنیا میں رہنے کی مدت پوری کر کے تم کو اپنی طرف اٹھا لوں گا۔
قادیانی ترجمہ: (اس وقت کو یاد کرو) جب اللہ نے کہا اے عیسیٰ میں تجھے (طبعی طور پر) وفات دوں گا اور تجھے اپنے حضور میں عزت بخشوں گا۔
(تفسیر صغیر ص 87)
[تجزیہ] مذکورہ آیت میں دو تحاریف کی گئی ہیں:
- (1) ”متوفیک“ کا درست معنی ہے میں تجھے پورا پورا (یعنی جسد مع الروح) وصول کروں گا جبکہ مرزا محمود نے اس کا معنی کیا ہے میں
تجھے طبعی طور پر وفات دوں گا۔
- (2) ”ورافعک الی“ کا درست معنی ہے میں تجھے اپنی طرف اٹھا لوں گا اور قادیانیوں نے تحریف کی کہ اس کا معنی ہے: ”میں تجھے
اپنے حضور میں عزت بخشوں گا“۔
مرزا محمود کے تحریر کردہ دونوں معنی قرآن وحدیث اور اجماع امت کے بالکل خلاف ہیں۔
(12) ﴿وَ يَقْتُلُوْنَ الْاَنْۢبِيَآءَ بِغَيْرِ حَقٍّ﴾ (آل عمران 112)
درست ترجمہ: اور وہ (خدا کے) پیغمبروں کو ناحق قتل کر دیتے تھے۔
قادیانی ترجمہ: اور بلاوجہ نبیوں کو قتل کرنا چاہتے تھے۔
(تفسیر صغیر...................)
[تجزیہ] مرزا محمود نے محرف ترجمہ کے حاشیہ میں وجہ لکھتا ہے: ”قرآن کریم میں ”یقتلون الانبیاء“ کے الفاظ ہیں اور بنی اسرائیل نے سب انبیاء کو قتل نہیں کیا مگر چونکہ قتل کا لفظ کوشش قتل کیلئے بھی آتا ہے ہم نے واقعات کے مطابق قتل کرنے کی جگہ قتل کرنے کی کوشش ترجمہ کیا ہے“ اس جاہل مرکب شخص کو یہ بھی معلوم نہیں کہ ”الانبیاء“ پر الف لام استغراق کا نہیں بلکہ عہد کا ہے۔
(13) ﴿وَ مَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ ۚ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ﴾ (آل عمران 144)
درست ترجمہ: اور محمد ﷺ ایک رسول ہیں ان سے پہلے کئی رسول گزر چکے ہیں۔
قادیانی ترجمہ: اور محمد صرف ایک رسول ہے اس سے پہلے سب رسول فوت ہو چکے ہیں۔
(تفسیر صغیر ص 98)
[تجزیہ] مذکورہ آیت میں مرزا نے ”قد خلت“ کا معنی کیا ہے ”فوت ہو چکے ہیں“ جو کہ صراحۃ غلط ہے اور اس نے یہ غلط ترجمہ اپنے وفات عیسیٰ علیہ السلام مبارکہ کی بے شمار تصریحات کے خلاف ہے۔
- (14) ﴿ سَنَكْتُبُ مَا قَالُوْا وَ قَتْلَهُمُ الْاَنْۢبِيَآءَ بِغَيْرِ حَقٍّ ﴾
(آل عمران 182)
درست ترجمہ: جو یہ کہتے ہیں ہم اس کو لکھ لیں گے اور پیغمبروں کو جو یہ ناحق قتل کرتے رہے اس کو بھی (قلمبند کر رکھیں گے)۔
قادیانی ترجمہ: ہم ان کی یہ بات اور ان کا ناحق انبیاء کو مارنے کے درپے رہنا یقیناً لکھ رکھیں گے۔
(تفسیر صغیر ص ..........)
[تجزیہ] مرزا نے مذکورہ آیت میں ”وقتلہم الانبیاء بغیر حق“ کا غلط ترجمہ کیا ہے۔ اسی طرح مرزا محمود نے ’النساء 155‘ کی آیت ” فبما نقضهم ميثاقهم وكفرهم بآيت الله وقتلهم الانبيا بغير حق...... الآيۃ“ میں ”وقتلہم الانبیاء بغیر حق“ کا ترجمہ بھی غلط کیا یعنی ”بلا وجہ نبیوں کو قتل کرنے کی کوشش کرنا“، ”قتل کرنا اور ہے جبکہ قتل کرنے کی کوشش کرنا اور ہے دونوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔
- (15) ﴿ وَ اِنْ كُنْتُمْ مَرْضٰۤى اَوْ عَلٰى سَفَرٍ اَوْ جَآءَ اَحَدٌ مِّنْكُمْ مِّنَ الْغَآىٕطِ اَوْ
لٰمَسْتُمُ النِّسَآءَ فَلَمْ تَجِدُوْا مَآءً فَتَيَمَّمُوْا صَعِيْدًا طَيِّبًا ﴾ (النساء 43)
درست ترجمہ: ہاں اگر بحالت سفر راستہ چلتے جا رہے ہو (اور پانی نہ ملنے کے سبب غسل نہ کر سکو تو تیمم کر کے نماز پڑھ لو) اور اگر تم بیمار ہو یا سفر میں ہو یا کوئی تم میں سے بیت الخلاء ہو کر آیا ہو یا تم عورتوں سے ہمبستر ہوئے ہو اور تمہیں پانی نہ ملے تو پاک مٹی لو اور منہ اور ہاتھوں کا مسح (کر کے تیمم) کر لو۔
قادیانی ترجمہ: اور اگر تم مریض ہو یا سفر پر ہو (اور تم جنبی ہو تو تیمم کر لیا کرو) یا تم میں سے کوئی جائے ضرورت سے آیا ہو (اور تم کو پانی نہ ملے) اور تم عورتوں سے ہم صحبت بھی ہو چکے ہو (یعنی جنبی ہو) اور تمہیں پانی نہ ملے تو پاک مٹی کا قصد کرو (یعنی تیمم کرو)
(تفسیر صغیر ص 115)
حاشیہ مرزا محمود: ” اَوْ “ کے معنی عربی میں کبھی ’یا‘ کے ہوتے ہیں اور کبھی ’اور‘ کے ہوتے ہیں (مغنی اللبیب جلد 1 ص 60) اس جگہ ہم نے اس کے معنی ’اور‘ کے کئے ہیں کیونکہ اس کے ساتھ آیت کا مفہوم واضح ہو جاتا ہے۔
(تفسیر صغیر ص 115 حاشیہ 4)
[تجزیہ] آیت مذکورہ میں مرزا کا ” اَوْ “ کو بمعنی ” واؤ “ کرنا یعنی ”یا“ کا ترجمہ ”اور“ کرنا غلط ہے۔
(16) ﴿ وَمَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَ الرَّسُوْلَ فَاُولٰٓئِکَ مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَ الصِّدِّیْقِیْنَ وَ الشُّہَدَآءِ وَ الصّٰلِحِیْنَ ﴾
(النساء 49)
درست ترجمہ: اور جو لوگ خدا اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں وہ (قیامت کے روز) ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر خدا نے بڑا فضل کیا یعنی انبیاء اور صدیق اور شہید اور نیک لوگ۔ قادیانی ترجمہ: اور جو (لوگ بھی) اللہ اور اس رسول کی اطاعت کریں گے وہ ان لوگوں میں شامل ہوں گے جن پر اللہ نے انعام کیا ہے یعنی انبیاء اور صدیقین اور شہداء اور صالحین میں۔
(تفسیر صغیر ص 120-119)
[تجزیہ] مرزا محمود نے زیر بحث آیت میں ” مع “ کو ”من“ کے معنی میں مراد لیا ہے اس کے تحریر کردہ ترجمہ کا مفہوم یہ بنتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اور حضور علیہ السلام کی اطاعت کرنے والے انبیاء، شہداء اور صلحاء میں شامل ہوں گے۔ یعنی وہ نبی شہید اور صالح بنیں گے۔ یہ تفسیر بداہۃً غلط اور چودہ سو سال کے مفسرین ومحدثین کی تائید سے محروم ہے۔
(17) ﴿ وَمَا قَتَلُوْہُ یَقِیْنًا بَلْ رَّفَعَہُ اللّٰہُ اِلَیْہِ ﴾
(النساء 158)
درست ترجمہ: اور انہوں نے عیسیٰ کو یقیناً قتل نہیں کیا بلکہ خدا نے ان کو اپنی طرف اٹھا لیا۔ قادیانی ترجمہ: اور انہوں نے ہرگز اسے قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے اسے اپنے حضور رفعت بخشی۔
(تفسیر صغیر ص 136)
[تجزیہ] قادیانیوں کا ”بل رفعہ اللہ الیہ “ کا ترجمہ کرنا ”اللہ نے اسے اپنے حضور رفعت بخشی“ پرلے درجے کی تحریف ہے قرآن و حدیث اور اسلامی لٹریچر سے وہ اس کی تائید نہیں دکھا سکتے۔
(18) ﴿ وَاِنْ مِّنْ اَہْلِ الْکِتَابِ اِلَّا لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ ﴾
(النساء 159)
درست ترجمہ: اور کوئی اہل کتاب نہیں ہو گا مگر ان کی موت سے پہلے ان پر ایمان لائے گا۔ قادیانی ترجمہ: اہل کتاب میں سے ایک بھی نہیں جو اس (واقعہ) پر اپنی موت سے پہلے ایمان نہ لاتا رہے۔
(تفسیر صغیر ص 136)
[تجزیہ] مرزا محمود نے ”بہ“ کی ضمیر کا مرجع واقعہ صلیب کو قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اہل کتاب یہود و نصاریٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو سولی دیے جانے پر اپنی اپنی موت سے پہلے ایمان لائیں گے اور اپنے نظریہ کی تائید میں ”قبل موتھم“ کی قرأت سے استدلال کیا ہے جو کہ صراحتاً باطل ہے۔ واضح رہے کہ آیت ہذا کے تحت تقریباً تمام معتبر تفاسیر میں لکھا ہے کہ ”قبل موتہٖ“ کی قرأت راجح ہے اور ”قبل موتھم“ کی قرأت مرجوح ہے۔ اس لئے ”قبل موتھم“ کی قرأت سے قادیانیوں کا استدلال باطل ہے نیز یہ بھی واضح رہے کہ ”بہ“ کی ضمیر کا مرجع واقعۂ صلیب کو قرار دینا عقل ونقل اور محاورۂ عرب، کسی اعتبار سے بھی درست نہیں ہے۔ یہاں پر دونوں ضمیران کا مرجع حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں۔
- (19) ﴿وَمَا الْمَسِيْحُ إِلَّا رَسُوْلٌ . قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ﴾
(المائدہ 75)
درست ترجمہ: مسیح ابن مریم تو صرف (خدا) کے پیغمبر تھے ان سے پہلے بھی بہت سے رسول گزر چکے ہیں۔ قادیانی ترجمہ: مسیح ابن مریم صرف ایک رسول تھا اس سے پہلے رسول (بھی) فوت ہو چکے ہیں۔
(تفسیر صغیر ص 155)
[تجزیہ] مذکورہ آیت کے حصہ ”قد خلت من قبلہ الرسل“ کے ترجمہ میں تحریف کی گئی ہے پہلے بھی کئی بار گزر چکا ہے کہ ”قد خلت“ کا معنی ”قدمات“ کرنا عربی زبان کے محاورہ کے خلاف ہے اور خالص تحریف ہے۔
- (20) ﴿وَإِذْ تَخْلُقُ مِنَ الطِّيْنِ كَهَيْئَةِ الطَّيْرِ بِإِذْنِيْ فَتَنْفُخُ فِيْهَا فَتَكُوْنُ
طَيْرًا بِإِذْنِيْ﴾
(المائدہ 110)
درست ترجمہ: اور جب تم میرے حکم سے مٹی کا جانور بنا کر اس میں پھونک مار دیتے تھے تو وہ میرے حکم سے اڑنے لگتا تھا۔ قادیانی ترجمہ: اور جبکہ تو میرے حکم سے طینی خصلت رکھنے والے (افراد میں) سے پرندہ کے پیدا کرنے کی طرح مخلوق پیدا کرتا تھا۔
(تفسیر صغیر ص 160)
[تجزیہ] آیت مذکورہ میں صاف لکھا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام بطور معجزہ مٹی کے پرندے بنا کر ان میں پھونک مارتے تھے تو وہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے اڑنے لگتے تھے جبکہ مرزا محمود نے طینی خصلت رکھنے والے افراد مراد لئے ہیں جو کہ سراسر تحریف ہے۔
(21) ﴿ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِى كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِيْبَ عَلَيْهِمْ وَاَنْتَ عَلٰى كُلِّ شَىْءٍ شَهِیْدٌ ﴾
(المائدہ 117)
درست ترجمہ: جب تو مجھے دنیا سے اٹھا لیا تو تو ان کا نگران تھا اور تو ہر چیز سے خبردار ہے۔ قادیانی ترجمہ: مگر جب تو نے مجھے وفات دے دی تو تو ہی ان پر نگران تھا (میں نہ تھا) اور تو ہر چیز پر قادر ہے۔
(تفسیر صغیر ص 163)
[تجزیہ] آیت مذکورہ میں مرزا محمود نے خود ساختہ ترجمہ کر کے قرآن مجید میں جو تحریف کی ہے وہ صاف اور واضح ہے۔
(22) ﴿ وَالَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِالْآخِرَةِ يُؤْمِنُوْنَ بِهِ وَهُمْ عَلٰى صَلَاتِهِمْ يُحَافِظُوْنَ ﴾
(الانعام 92)
درست ترجمہ: اور جولوگ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں وہ اس کتاب پر بھی ایمان رکھتے ہیں اور وہ اپنی نمازوں کی پوری خبر رکھتے ہیں۔ قادیانی ترجمہ: اور جولوگ پیچھے آنے والی (موعود باتوں) پر ایماں لاتے ہیں وہ اس کتاب (یعنی قرآن) پر (بھی) ایمان لاتے ہیں اور وہ اپنی نمازوں کا ہمیشہ خیال رکھتے ہیں۔
(تفسیر صغیر ص.........)
[تجزیہ] مذکورہ آیت میں آخرت کا معنی قیامت ہے جبکہ مرزا نے اس کا معنی پیچھے آنے والی موعود باتیں کیا ہے جو صراحۃً تحریف ہے اور لغت عرب اور ائمہ مفسرین کی بے شمار تصریحات کے خلاف ہونے کی وجہ سے باطل ہے۔
(23) ﴿ وَلَقَدْ خَلَقْنٰكُمْ ثُمَّ صَوَّرْنٰكُمْ ثُمَّ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْا اِلَّآ اِبْلِيْسَ لَمْ يَكُنْ مِّنَ السّٰجِدِيْنَ ﴾
(الاعراف 11)
درست ترجمہ: اور ہمیں نے تم کو (ابتدا میں مٹی سے) پیدا کیا پھر تمہاری صورت شکل بنائی پھر فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کے آگے سجدہ کرو تو (سب نے) سجدہ کیا لیکن ابلیس۔ کہ وہ سجدہ کرنے والوں میں شامل نہ ہوا۔ قادیانی ترجمہ: اور ہم نے تمہیں (پہلے مبہم شکل میں) پیدا کیا تھا جس کے بعد تم کو (تمہارے مناسب حال) صورتیں بخشیں تھیں
پھر ملائکہ سے کہا تھا کہ آدم کی اطاعت کرو اس پر فرشتوں نے تو (آدم کی) اطاعت کی مگر ابلیس (نے نہ کی) وہ اطاعت گزاروں میں سے نہیں بنا۔
(تفسیر صغیر ص 189)
[تجزیہ] مذکورہ آیت میں مرزا محمود نے سجدہ کا معنی ”اطاعت کرنا“ کیا ہے جبکہ اس کا حقیقی معنی سجدہ کرنا ہی ہے۔ مرزا کے تحریر کردہ معنی کے باطل ہونے پر پہلے پارہ میں (البقرہ ..........) کے تحت بحث گذر چکی ہے۔
(24) ﴿ خَلَقْتَنِىْ مِنْ نَّارٍ وَّ خَلَقْتَهٗ مِنْ طِيْنٍ ﴾
(الاعراف 12)
درست ترجمہ: مجھے تو نے آگ سے پیدا کیا اور اسے مٹی سے بنایا ہے۔
قادیانی ترجمہ: تو نے میری فطرت میں آگ رکھی ہے اور اس کی فطرت میں گیلی مٹی رکھی ہے۔
(تفسیر صغیر ص 189)
[تجزیہ] مرزا محمود کا تحریر کردہ معنی قرآن مجید، احادیث متواترہ اور ائمہ کرام کی تفسیر کی بے شمار تصریحات کے خلاف ہے۔
(25) ﴿ فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَةَ بَدَتْ لَهُمَا سَوْاٰتُهُمَا وَطَفِقَا يَخْصِفٰنِ عَلَيْهِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّةِ ﴾
(الاعراف 22)
درست ترجمہ: جب انہوں نے اس درخت کے (پھل) کو کھا لیا تو ان کے ستر کی چیزیں کھل گئیں اور وہ بہشت کے (درختوں کے) پتے (جوڑ جوڑ کر) اپنے اوپر چپکانے (ستر چھپانے) لگے۔
قادیانی ترجمہ: پھر جب ان دونوں نے اس (ممنوعہ) درخت سے (کچھ) چکھ لیا تو ان کے ننگ ان پر ظاہر ہو گئے اور وہ لگے جنت کی زینت کے سامانوں کو اپنے اوپر چمٹانے۔
(تفسیر صغیر ص ................)
[تجزیہ] ”ورق الجنۃ“ کا درست معنی ہے ”جنت کے درختوں کے پتے“ جبکہ مرزا نے ترجمہ کیا ہے ”جنت کی زینت کا سامان“ جو کہ غلط ہے۔
(26) ﴿ وَاَنْزَلْنَا عَلَيْهِمُ الْمَنَّ وَالسَّلْوٰى﴾
(الاعراف 160)
درست ترجمہ: اور ہم ان پر من و سلویٰ اتارتے رہے۔
قادیانی ترجمہ: اور ہم نے ان کے لئے ترنجبین اور بٹیر پیدا کئے۔
(تفسیر صغیر ص .........)
[تجزیہ] مرزا محمود کا بیان کردہ معنی انکار معجزات کی ایک کڑی ہے۔
(27) ﴿ اِلَّا تَنْصُرُوْهُ فَقَدْ نَصَرَهُ اللّٰهُ اِذْ اَخْرَجَهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا ثَانِیَ اثْنَیْنِ اِذْ هُمَا فِی الْغَارِ ......... الخ ﴾
(التوبہ 39)
درست ترجمہ: اگر تم پیغمبر کی مدد نہ کرو گے تو خدا ان کا مددگار ہے (وہ وقت تم کو یاد ہوگا) جب ان کو کافروں نے گھروں سے نکال دیا (اس وقت) دو (ہی شخص تھے جن) میں (ایک ابوبکرؓ تھے) دوسرے (خود رسول اللہ) جب وہ دونوں غار (ثور) میں تھے۔
قادیانی ترجمہ: اگر تم اس رسول کی نہ کرو تو (یاد رکھو کہ) اللہ اس کی اس وقت بھی مدد کر چکا ہے کہ جبکہ اسے کافروں نے دو میں سے ایک کی صورت میں نکال دیا تھا جبکہ وہ دونوں غار میں تھے۔
(تفسیر صغیر ص 239)
[تجزیہ] مرزا محمود نے ”اِذْ اَخْرَجَهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا“ کا غلط ترجمہ کیا ہے اور ایسا ترجمہ ہے جو کہ قطعاً نا قابل فہم ہے۔
(28) ﴿ رَضُوْا بِاَنْ یَّكُوْنُوْا مَعَ الْخَوَالِفِ وَ طُبِعَ عَلٰی قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا یَفْقَهُوْنَ ﴾
(التوبہ 87)
درست ترجمہ: یہ اس بات سے خوش ہیں کہ عورتوں کے ساتھ جو پیچھے رہ جاتی ہیں (گھروں میں بیٹھ) رہیں ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی ہے تو یہ سمجھتے ہی نہیں۔
قادیانی ترجمہ: وہ اس بات پر خوش ہیں کہ پیچھے بیٹھ رہنے والے قبائل میں شامل ہو جائیں اور ان کے دلوں پر مہر کر دی گئی ہے پس وہ (اپنے بداعمال کی وجہ سے) سمجھتے نہیں۔
(تفسیر صغیر ص 246)
[تجزیہ] امام رازیؒ لکھتے ہیں کہ خوالف کے مفہوم میں دو قول ہیں : (1) خوالف سے مراد عورتیں ہیں جو کہ گھروں میں بیٹھی رہتی ہیں (2) خوالف سے پیچھے رہ جانے والے لوگ یا جماعتیں ہیں۔ اس کے بعد لکھتے ہیں ”والقول الاول اولی لانہ ادل علی القلۃ والذلۃ قال المفسرون: وكان یصعب علی المنافقین تشبیہہم بالخوالف“ ۔ یعنی ”اور پہلا قول راجح ہے کیونکہ وہ (پیچھے رہ جانے والوں کی) قلت اور ذلت کو ظاہر کرتا ہے مفسرین نے کہا ہے کہ وہ منافقین کو عورتوں سے تشبیہ دینا ان پر شاق گزرتا تھا“ اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ مرزا محمود نے اپنے ترجمہ میں خوالف کا ترجمہ قبائل کر کے مرجوح قول کو ترجیح دی ہے۔
(29) ﴿ وَ امْرَاَتُهُ قَائِمَةٌ فَضَحِكَتْ فَبَشَّرْنٰهَا بِاِسْحٰقَ وَ مِنْ وَّرَآءِ
﴿ اِسْحٰقَ يَعْقُوْبَ ﴾ (ھود 71)
درست ترجمہ: اور ابراہیم کی بیوی (جو پاس کھڑی تھی) ہنس پڑی تو ہم نے اس کو اسحٰق کی اور اسحٰق کے بعد یعقوب کی خوشخبری دی۔
قادیانی ترجمہ: اور اس کی بیوی (بھی پاس ہی) کھڑی تھی اس پر وہ بھی گھبراتی تب ہم نے اس کی تسلی کے لئے اس کو اسحٰق کی اور اسحٰق کے بعد یعقوب (کی پیدائش) کی بشارت دی۔
(تفسیر صغیر ص 281)
[تجزیہ] مرزا محمود نے مذکورہ آیت کے حاشیہ میں لکھا ہے ”قرآن مجید میں ’ضحکت‘ کے الفاظ ہیں بعض نے اس کے معنی حیض آنے کے کئے ہیں مگر یہ بے جوڑ معنی ہیں ’ضحکت‘ کے معنی عربی میں گھبرا جانے کے بھی ہیں (اقرب) اور یہی معنے ہم نے یہاں کئے ہیں ۔“ حقیقت یہ ہے کہ ’ضحکت‘ کے مفہوم میں دو قول ہیں : (۱) حضرت سارہ علیہا السلام مسکرائیں (۲) ان کو اسی وقت حیض آگیا تاکہ ان کو یقین ہو جائے کہ اگر بڑھاپے میں حیض آسکتا ہے تو اللہ تعالیٰ اولاد بھی دے سکتے ہیں ۔ وھو علی کل شئی قدیر۔ امام رازیؒ نے پہلے قول کو ترجیح دی ہے لکھا ہے ”واعلم ان ھذہ الوجوہ کلھا زوائد وانما الوجہ الصحیح ھو الاول“ (تفسیر کبیر ج 17 ص 28) اسی طرح امام راغب اصفہانی نے بھی حیض آنے والے قول کو مسترد کیا ہے دیکھئے مفردات القرآن ص 294 مطبوعہ مصطفی البابی الحلبی مصر ) اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ ”فضحکت“ کا معنی گھبرانا اس آیت میں مراد لینا غلط ہے۔
(30) ﴿ فَلَمَّا رَاَيْنَهٗٓ اَكْبَرْنَهٗ وَقَطَّعْنَ اَيْدِيَهُنَّ ...... الآیۃ ﴾
(یوسف 32)
درست ترجمہ: جب عورتوں نے ان کو دیکھا تو ان کا رعب (حسن) ان پر ایسا چھا گیا کہ (پھل تراشتے تراشتے) اپنے ہاتھ کاٹ لئے ۔
قادیانی ترجمہ: پس جب انہوں نے اسے دیکھا تو اسے (بہت) بڑی شان کا انسان پایا اور (اسے دیکھ کر حیرت سے) اپنے ہاتھ کاٹے (یعنی انگلیاں دانتوں میں دبالیں از حاشیہ) (تفسیر صغیر ص ......... )
[تجزیہ] ”وقطعن ایدیہن“ کا درست ترجمہ ہے ان عورتوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لئے اس ترجمہ کی تائید وتوثیق کیلئے درج ذیل کتب ملاحظہ فرمائیں:
- (۱) المفردات فی غریب القرآن ص 408 مطبوعہ کراچی
- (۲) تفسیر کشاف از علامہ زمخشری ج 2 ص 134
- (۳) تفسیر کبیر ج 18 ص 130
- (۴) تفسیر ابن کثیر جلد 2 ص 476
اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ مرزا محمود کا ”وقطعن ایدھن“ سے انگلیاں دانتوں میں دبانا مراد لینا باطل تاویل کے سوا اور کچھ
نہیں واضح رہے کہ مذکورہ جزو کا سیاق و سباق اور چھری کا خصوصی طور پر ذکر کیا جانا بھی ہمارا مؤید اور قادیانیوں کی تردید کیلئے ایک اہم دلیل ہے۔
(31) ﴿ ثُمَّ یَاْتِیْ مِنْ بَعْدِ ذٰلِکَ عَامٌ فِیْهِ یُغَاثُ النَّاسُ وَ فِیْهِ یَعْصِرُوْنَ ﴾
(یوسف 49)
درست مفہوم: اس آیت اور اس سے پہلی چند آیات میں عزیز مصر کے خواب کی تعبیر سے متعلق اس کے جواب میں حضرت یوسف علیہ السلام کی تعبیر کا ذکر ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ پہلے سات سال خوشحالی کے آئیں گے خوب پیداوار ہوگی اس کے بعد سات سال قحط کے ہوں گے ۔ سات سال بعد قحط ختم ہوگا اور سال بھر خوب بارشیں ہوں گی پیداوار خوب ہوگی ۔ جانوروں کے تھن دودھ سے بھرے ہوں گے انگور وغیرہ سے لوگ شراب کشید کریں گے اس تمہید کے بعد آیت کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں ”پھر اس کے بعد ایک ایسا سال آئے گا کہ خوب مینہ برسے گا اور لوگ اس میں رس نچوڑیں گے ۔“
قادیانی تحریف: پھر اس کے بعد ایک (ایسا) سال آئے گا جس میں لوگوں کی فریاد سنی جائے گی اور وہ (خوشحال) ہو جائیں گے اور اس حالت میں ایک دوسرے کو تحفے دیں گے۔
(تفسیر صغیر ص 296)
[تجزیہ] مرزا محمود نے اس آیت میں دو لفظوں کا غلط ترجمہ کیا ہے (1) ”یغاث الناس“ اس کا درست یہ ہے کہ خوب بارش ہوگی لیکن مرزا نے اس کا ترجمہ کیا لوگوں کی فریاد سنی جائے گی ۔ (2) ”و فیہ یعصرون“ کا درست ترجمہ یہ ہے کہ اور لوگ اس میں رس نچوڑیں گے لیکن مرزا نے کہا اس کا معنی ہے وہ ایک دوسرے کو تحفے دیں گے۔ مرزا محمود نے دونوں جملوں کا غلط ترجمہ کیا ہے۔
(32) ﴿ فَلَمَّا اَنْ جَاءَ الْبَشِیْرُ اَلْقٰهُ عَلٰی وَجْهِهِ فَارْتَدَّ بَصِیْرًا ﴾
(یوسف 94)
درست ترجمہ: جب خوشخبری دینے والا آپہنچا تو (کرتہ) یعقوب کے منہ پر ڈال دیا اور وہ بینا ہو گئے ۔
قادیانی تحریف: پس جونہی کہ (یوسف کے مل جانے کی) بشارت دینے والا (شخص حضرت یعقوب کے پاس) آیا اس نے اس (کرتے) کو اس کے سامنے رکھ دیا جس پر وہ ساری بات سمجھ گیا۔
(تفسیر صغیر ص 304)
[تجزیہ] ہمارے معنی کی تائید میں معروف مفسر امام رازی لکھتے ہیں : (القاە علی وجھہ ) أی طرح البشیر القمیص علی وجہ یعقوب أو یقال القاە یعقوب علی وجہ نفسہ (تفسیر کبیر جلد 18 ص 213) ترجمہ: بشارت دینے والے شخص نے قمیص حضرت یعقوب علیہ السلام کے منہ پر ڈال دی یا یہ کہا جائے کہ حضرت یعقوب نے قمیص خود اپنے چہرہ پر ڈالی اور وہ بینا ہو گئے ۔ معلوم ہوا کہ مرزا محمود نے خود ساختہ معنی کی آڑ لی ہے تاکہ اس معجزہ کا اقرار نہ کرنا پڑے۔
(33) ﴿ فَلَمَّا بَلَغَا مَجْمَعَ بَيْنِهِمَا نَسِيَا حُوْتَهُمَا فَاتَّخَذَ سَبِيْلَهُ فِی الْبَحْرِ سَرَبًا﴾
(الکھف 61)
درست ترجمہ: ان کے ملنے کے مقام پر پہنچے تو اپنی مچھلی بھول گئے تو اس نے دریا میں سرنگ کی طرح اپنا رستہ بنالیا۔ قادیانی تحریف: پس جب وہ (دونوں) ان (دونوں سمندروں) کے باہم ملنے کی جگہ پر (یعنی قرب زمانہ نبوی تک) پہنچے تو وہ اپنی مچھلی (وہاں) بھول گئے جس پر اس (مچھلی) نے تیزی سے بھاگتے ہوئے سمندر میں اپنی راہ لی۔
(تفسیر صغیر ص .........)
[تجزیہ] مذکورہ آیت میں ”مجمع بینھما“ کے معنی میں تبدیلی کی گئی ہے مرزا نے صحیح معنی لکھنے کے بعد قوسین میں تحریف شدہ معنی لکھ دیا ہے۔
(34) ﴿ فَأَشَارَتْ إِلَيْهِ، قَالُوا كَيْفَ نُكَلِّمُ مَنْ كَانَ فِی الْمَهْدِ صَبِيًّا﴾
(الکھف 61)
درست ترجمہ: تو مریم علیہا نے اس لڑکے کی طرف اشارہ کیا وہ بولے کہ ہم اس سے جو گود کا بچہ ہے کیوں کر بات کریں۔ قادیانی تحریف: اس پر اس نے اس (بچہ) کی طرف اشارہ کیا اس پر لوگوں نے کہا ہم اس سے کس طرح باتیں کریں جو کہ (کل تک) پنگھوڑے میں بیٹھنے والا بچہ تھا۔
(تفسیر صغیر ص 386)
[تجزیہ] مرزا محمود نے ”قالوا کیف نکلم من کان فی المھد صبیاً“ کا غلط ترجمہ اس لئے کیا ہے کہ تاکہ معجزانہ طور پر عیسیٰ علیہ السلام کی ماں کی گود میں گفتگو کرنے کا اقرار نہ کرنا پڑے۔
(35) ﴿ يَتَخَافَتُوْنَ بَيْنَهُمْ إِنْ لَّبِثْتُمْ إِلَّا عَشْراً ﴾
(طٰہٰ 103)
درست ترجمہ: (تو) وہ آپس میں آہستہ آہستہ کہیں گے کہ تم (دنیا میں) صرف دس ہی دن رہے ہو۔ قادیانی تحریف: وہ آپس میں آہستہ آہستہ باتیں کریں گے کہ تم تو صرف دس (صدیاں اس دنیا میں حاکم) رہے ہو
(تفسیر صغیر ص 404)
[تجزیہ] مذکورہ آیت کے آخری جزء کے ترجمہ میں مرزا محمود نے تحریف کی ہے اور خود ساختہ ترجمہ کیا ہے یہ ترجمہ اس لحاظ سے مضحکہ خیز ہے کہ دس صدیاں کون سے ہیں؟ دنیا کی عمر تو ہزاروں سال ہے صرف دس صدیوں کی تخصیص کیوں اور کس بنیاد پر؟
(36) ﴿ يَوْمَئِذٍ يَّتَّبِعُوْنَ لَا عِوَجَ لَهُ ﴾
(طٰہ 108)
درست ترجمہ: اس روز لوگ ایک پکارنے والے کے پیچھے چلیں گے اور اس کی پیروی سے انحراف نہ کرسکیں گے۔
قادیانی تحریف: اس دن لوگ پکارنے والے کے پیچھے چل پڑیں گے جس کی تعلیم میں کوئی کجی نہ ہوگی۔
(تفسیر صغیر ص 405)
[تجزیہ] آیت مذکورہ کے آخری جزو ’’ لاعوج لہ ‘‘ کے ترجمہ میں تحریف کی گئی ہے اس کا صحیح مفہوم یہ ہے : لاعوج لہ ای لا یعدل عنہ احد بدعاءہ بل یحشر الکل (تفسیر کبیر جلد 26 ص 118) یعنی کوئی شخص اس پکارنے والے کی پکار سے پیچھے نہ رہے گا بلکہ تمام جمع ہو جائیں گے۔
(37) ﴿ فَاَكَلَا مِنْهَا فَبَدَتْ لَهُمَا سَوْاٰتُهُمَا وَ طَفِقَا يَخْصِفٰنِ عَلَيْهِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّةِ...... الآيَة ﴾
(طٰہ 121)
درست ترجمہ: تو دونوں نے اس درخت کا پھل کھالیا تو ان پر ان کی شرمگاہیں ظاہر ہوگئیں اور وہ اپنے (بدنوں) پر بہشت کے پتے چپکانے لگے۔
قادیانی تحریف: پس ان دونوں نے (یعنی آدم اور اس کے ساتھیوں نے )اس درخت میں سے کچھ کھایا ) یعنی اس کا مزہ چکھا) جس پر ان دونوں کی کمزوریاں ان پر کھل گئیں اور وہ دونوں اپنے اوپر جنت کی زینت کے سامان (نیک اعمال) لپیٹنے لگے۔
(تفسیر صغیر ص.........)
[تجزیہ] مرزانے اس آیت میں تین تحریفیں کیں (۱) فاکلا تثنیہ کا صیغہ ہے لیکن اس نے اس کا فاعل جمع قرار دیا ’’آدم اور اس کے ساتھیوں نے‘‘ حالانکہ ’’فاکلا کا فاعل صرف دو ہیں یعنی حضرت آدم و حوا ۔ (۲) سواٰتھما کا ترجمہ کیا ’’کمزوریاں‘‘ حالانکہ درست ترجمہ ’’شرمگاہیں‘‘ ہے۔ (۳) ورق الجنۃ کا درست ترجمہ ہے جنت کے درخت کے پتے لیکن اس نے ترجمہ کیا جنت کی زینت کے سامان یعنی اعمال نیک۔
(38) ﴿ وَدَاوٗدَ وَسُلَيْمٰنَ اِذْ يَحْكُمٰنِ فِى الْحَرْثِ اِذْ نَفَشَتْ فِيْهِ غَنَمُ الْقَوْمِ ﴾
(الانبیاء 78)
درست ترجمہ: اور داؤد اور سلیمان ( کا حال بھی سن لوکہ) جب وہ ایک کھیتی کا مقدمہ فیصل کرنے لگے جس میں کچھ
لوگوں کی بکریاں رات کو چر گئیں (اور اسے روند گئیں) تھیں۔
قادیانی تحریف: اور (یاد کر) داؤد کو بھی اور سلیمان کو بھی جبکہ وہ دونوں ایک کھیتی کے جھگڑے میں فیصلہ کر رہے تھے اس وقت جبکہ ایک قوم کے عامی لوگ اس کو کھا گئے تھے (یعنی تباہ کر گئے تھے)
(تفسیر صغیر ص.........)
[ تجزیہ ] مرزا محمود نے ”غَنَم“ کا ترجمہ کیا ”ایک قوم کے عامی لوگ“ جبکہ اس کا درست ترجمہ ہے ”بکریاں“ دیکھئے مفردات القرآن ص 366، تفسیر روح المعانی جلد 17 ص 74 تفسیر کشاف ج 2 ص 333,334
- (39) ﴿وَمِنَ الشَّيٰطِيْنِ مَنْ يَّغُوْصُوْنَ لَهٗ وَيَعْمَلُوْنَ عَمَلاً دُوْنَ ذٰلِكَ ﴾
(الانبیاء 82 )
درست ترجمہ: اور دیوؤں (کی جماعت کو بھی ان کے تابع کر دیا تھا کہ ان) میں سے بعض ان کیلئے غوطے مارتے تھے اور اس کے سوا اور کام بھی کرتے تھے۔
قادیانی تحریف: اور کچھ سرکش لوگ ایسے تھے جو اس کے لئے سمندروں میں غوطے لگاتے تھے اور اس کے سوا اور کام بھی کرتے تھے۔
(تفسیر صغیر ص 418)
[ تجزیہ ] شیطان کا معنی ”سرکش لوگ“ اگرچہ لغوی اعتبار سے درست ہے لیکن زیر نظر آیت میں سرکش لوگ مراد نہیں لئے جاسکتے ان آیات میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کا بیان ہے کہ شیاطین جیسی غیر مرئی اور غیر معمولی طاقت رکھنے والی مخلوق، اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان علیہ السلام کے تابع کر دی اس میں دوسری قدرت الٰہی یہ ہے کہ شیاطین ناری مخلوق ہے لیکن وہ سمندر میں غوطے لگاتی تھی اور ان کو پانی سے کوئی نقصان نہ پہنچتا تھا۔ دیکھئے التفسیر الکبیر جلد 22 ص 202 روح المعانی جلد 17 ص 78,79
- (40) ﴿وَ اَنَّ السَّاعَةَ اٰتِيَةٌ لَّا رَيْبَ فِيْهَا ...... الْاٰيَة ﴾
(الحج 7 )
درست ترجمہ: اور یہ کہ قیامت آنے والی ہے اس میں کچھ شک نہیں۔
قادیانی تحریف: اور ہر چیز کے لئے جو وقت مقرر ہے وہ ضرور آ کر رہے گا۔
(تفسیر صغیر ص 423)
[ تجزیہ ] ”ساعۃ“ کا اطلاق اگرچہ ہر چیز کی انتہا اور موت پر بھی ہوتا ہے لیکن یہاں پر الساعۃ سے مراد ”وقت مقرر“ نہیں بلکہ قیامت مراد ہے اور آیت مذکورہ کا آخری جز ”وان اللہ یبعث من فی القبور“ اس پر دال ہے۔ تمام مفسرین نے یہاں پر الساعۃ سے مراد قیامت ہی مراد لی ہے بطور نمونہ دیکھئے تفسیر کبیر جلد 23 ص 11 روح المعانی جلد 17 ص 120 )
(41) ﴿وَلَقَدْ خَلَقْنَا فَوْقَكُمْ سَبْعَ طَرَآئِقَ وَ مَا كُنَّا عَنِ الْخَلْقِ غٰفِلِيْنَ﴾
(المؤمنون 17)
درست ترجمہ: اور ہم نے تمہارے اوپر (کی جانب) سات آسمان پیدا کئے اور ہم خلقت سے غافل نہیں ہیں۔ قادیانی تحریف: اور ہم نے تمہارے اوپر (کے درجات کے لئے) سات (روحانی) راستے بنائے ہیں اور ہم (اپنی) مخلوق سے غافل نہیں رہے۔ (تفسیر صغیر ص 435) [تجزیہ] ”سبع طرائق“ سے مراد سات آسمان ہیں (........................................) سات روحانی راستے مراد نہیں ہیں مستزاد برآں یہ ہے کہ حواشی میں یہ وضاحت نہیں کی کہ روحانیت کے وہ سات راستے کون کون سے ہیں؟ خلاصہ کلام یہ ہے کہ مرزا محمود نے ”سبع طرائق“ کے ترجمہ میں تحریف کی ہے اور وہ بھی ادھوری!!
(42) ﴿وَقُلْ رَّبِّ اَعُوْذُ بِكَ مِنْ هَمَزٰتِ الشَّيٰطِيْنِ. وَ اَعُوْذُ بِكَ رَبِّ اَنْ يَّحْضُرُوْنِ﴾
(المؤمنون 98,97)
درست ترجمہ: اور کہو کہ اے پروردگار! میں شیطانوں کے وسوسوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور اے پروردگار! اس سے بھی تیری پناہ مانگتا ہوں کہ وہ میرے پاس آموجود ہوں۔ قادیانی تحریف: اور تو کہہ دے اے میرے رب میں سرکش لوگوں کی شرارتوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور اے میرے رب! میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس سے (بھی) کہ وہ میرے سامنے آئیں۔ (تفسیر صغیر ص 442) [تجزیہ] مذکورہ آیت میں شیاطین کے معنی میں تحریف کرتے ہوئے اس کا ترجمہ ”سرکش“ کیا ہے جو کہ غلط ہے زیر نظر آیت میں شیاطین سے شیاطین ہی مراد ہیں۔ دیکھئے التفسیر الکبیر للرازیؒ جلد 23 ص 119,129 ، روح المعانی جلد 18 ص 62۔
(43) ﴿وَقَالَ الظّٰلِمُوْنَ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا رَجُلاً مَّسْحُوْراً﴾
(الفرقان 8)
درست ترجمہ: اور ظالم کہتے ہیں کہ تم تو ایک جادو زدہ شخص کی پیروی کرتے ہو۔ قادیانی تحریف: اور ظالم کہتے ہیں کہ تم تو ایک ایسے آدمی کے پیچھے چل رہے ہو جس کو کھانا کھلایا جاتا ہے۔
(تفسیر صغیر ص 458)
[تجزیہ] ”مسحور“ کے دو معنی ہیں (1) جادو زدہ شخص (2) وہ شخص جسے کھانا کھلایا جاتا ہو یعنی کفار نے یہ کہا کہ یہ ہماری طرح بشر ہے کھانا کھاتا ہے اس مقام پر پہلا معنی مراد اور راجح ہے اور دوسرا قول مرجوح ہے۔ علامہ آلوسی نے صاف لکھا ہے: ”والاظہر التفسیر
المعول علی ما فی البحر (روح المعانی جلد 18 ص 238)
- (44) ﴿ قَالُوْا اِنَّمَا اَنْتَ مِنَ الْمُسَحَّرِيْنَ ﴾
(الشعراء 153)
درست ترجمہ: وہ کہنے لگے کہ تم تو جادو زدہ ہو۔ قادیانی تحریف: اس پر وہ (کافر) بولے تجھ کو صرف کھانا دیا جاتا ہے۔ (تفسیر صغیر ص 477)
[تجزیہ] ’’الفرقان 8‘‘ کے تحت گذر چکا ہے کہ سحر کا جو قادیانی ترجمہ کرتے ہیں وہ مرجوح قول پر مبنی ہے آیت ہٰذا کے تحت بھی علامہ آلوسیؒ نے مرزا محمود کا نقل کردہ ترجمہ قیل کہہ کر ذکر کیا ہے جو کہ مرجوح قول پر دلالت کرتا ہے دیکھئے تفسیر روح المعانی جلد 19 ص 113۔
- (45) ﴿ قَالُوْا اِنَّمَا اَنْتَ مِنَ الْمُسَحَّرِيْنَ ﴾
(الشعراء 185)
[تجزیہ] اس آیت کے تحت بھی قادیانیوں نے مسحرین کے ترجمہ میں وہی تحریف کی ہے جو کہ الشعراء 153 کے تحت ہے اور اس کا جواب بھی وہی ہے جو پہلے گذر چکا ہے۔
- (46) ﴿ وَهُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ يُوْقِنُوْنَ ﴾
(النمل 3)
درست ترجمہ: اور آخرت کا یقین رکھتے ہیں۔ قادیانی تحریف: اور اخروی زندگی پر (اور بعد میں آنے والی موعود باتوں پر) یقین رکھتے ہیں۔ (تفسیر صغیر ص 483)
[تجزیہ] مذکورہ عبارت میں مرزا محمود نے صحیح اور غلط ترجمہ دونوں اکٹھے کر دیے ہیں اٰخرۃ کا درست ترجمہ ہے اخروی زندگی اور غلط ترجمہ ہے بعد میں آنے والی موعود باتیں جیسا کہ اس کتاب کی ابتدا میں گذرا۔ ہم مکرر یہی کہتے ہیں کہ مرزا محمود کا آخرت کا معنی ’بعد میں آنے والی موعود باتیں‘ تحریر کرنا سراسر تحریف ہی نہیں۔ عربی محاورہ کے بھی خلاف ہے۔
- (47) ﴿ حَتّٰى اِذَا اَتَوْا عَلٰى وَادِ النَّمْلِ قَالَتْ نَمْلَةٌ يّٰٓاَيُّهَا النَّمْلُ
اُدْخُلُوْا مَسٰكِنَكُمْ ﴾ (النمل 18)
درست ترجمہ: یہاں تک کہ جب چیونٹیوں کے میدان میں پہنچے تو ایک چیونٹی نے کہا کہ اے چیونٹیو! اپنے بلوں میں داخل ہو جاؤ۔
قادیانی تحریف: یہاں تک کہ جب وہ وادی نملہ میں پہنچے تو نملہ قوم میں سے ایک شخص نے کہا اے نملہ قوم اپنے اپنے گھروں میں چلے جاؤ۔
(تفسیر صغیر ص 486)
[تجزیہ] یہاں پر لفظ ”نملۃ“ سے چیونٹی مراد لینے کی بجائے مرزا محمود نے نملہ قوم مراد لی ہے جس سے کوئی بھی مفسر اتفاق نہیں کرتا لہذا مرزا محمود کا نملہ قوم مراد لینا انتہائی تحریف ہے۔
- (48) ﴿وَإِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَيْهِمْ اَخْرَجْنَا لَهُمْ دَابَّةً مِّنَ الْاَرْضِ
تُكَلِّمُهُمْ......... الخ﴾
(النمل 82)
درست ترجمہ: اور جب ان کے بارے میں (عذاب کا) وعدہ پورا ہوگا تو ہم ان کے لئے زمین میں سے ایک جانور نکالیں گے جو ان سے بیان کرے گا۔
قادیانی تحریف: اور جب ان کی تباہی کی پیش گوئی پوری ہو جائے گی تو ہم ان کے لئے زمین سے ایک کیڑا نکالیں گے جو ان کو کاٹے گا۔
(تفسیر صغیر ص 494)
[تجزیہ] حاشیہ میں مرزا محمود نے وضاحت کی کہ دابۃ الارض سے طاعون کا کیڑا مراد ہے حالانکہ یہ قول جہاں جمہور مفسرین کی تصریحات کے خلاف ہے وہاں مرزا محمود کے باپ مرزا قادیانی کی تحریرات کے بھی خلاف ہے مرزا قادیانی نے ازالہ اوہام جلد 2 ص 209 روحانی خزائن ص 308 جلد 3 میں ”دابۃ الارض“ سے گروہ متکلمین مراد لیا ہے اور حمامۃ البشریٰ ص 86 روحانی خزائن ص 80 ج 7 میں دابۃ الارض سے علمائے سو مراد لئے ہیں۔ مرزا محمود کی تحریف مرزا قادیانی کی تحریف سے مختلف ہے۔
- (49) ﴿وَمَنْ جَاءَ بِالسَّيِّئَةِ فَكُبَّتْ وُجُوهُهُمْ فِي النَّارِ...... الآية﴾
(النمل 90)
درست ترجمہ:
قادیانی تحریف: اور جو لوگ برے عمل لے کر خدا کی خدمت میں حاضر ہوں گے ان کے سرداروں کو دوزخ میں اوندھا کر کے گرا دیا جائے گا۔
(تفسیر صغیر ص 495)
[تجزیہ] اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص شرک کرے گا وہ اوندھے منہ جہنم میں ڈال دیا جائے گا چہرے کا ذکر اس کے انسانی اعضاء میں سے افضل ہونے کی وجہ سے کیا گیا ہے ۔ (فتح البیان جلد 7 ص 93) تفسیر کبیر جلد 24 ص 221 ۔ روح المعانی ج 20 ص 38 معلوم ہوا کہ وجوھھم کا ترجمہ ان کے سردار کرنا غلط ہے۔
- (50) ﴿فَخَسَفْنَا بِهِ وَبِدَارِهِ الْاَرْضَ فَمَا كَانَ لَهُ مِنْ فِئَةٍ يَّنْصُرُوْنَهُ مِنْ دُوْنِ
اللّٰهِ وَمَا كَانَ مِنَ الْمُنْتَصِرِيْنَ﴾
(القصص 81)
درست ترجمہ: پس ہم نے قارون کو اور اس کے گھر کو زمین میں دھنسا دیا تو خدا کے سوا کوئی جماعت اس کے مددگار نہ ہوسکی اور نہ وہ بدلہ لے سکا۔
قادیانی تحریف: پھر ہم نے اس کو اور اس کے قبیلہ کو مکروہات میں مبتلا کر دیا اور کوئی حمایت ایسی نہ نکلی جو اللہ کے سوا اس کی مدد کرتی اور کسی تدبیر سے بھی وہ (اپنے دشمن سے) بچ نہ سکا۔
(تفسیر صغیر ص 511)
[تجزیہ] ”خسف“ کا معنی ہے دھنس جانا گم ہونا ۔ پھاڑنا ۔ دھنسا دینا (المنجد) کسی لغت میں اس کا معنی یہ نہیں لکھا ”مکروہات میں مبتلا کرنا“ یہ معنی محض مرزا محمود کی اختراع اور تحریف ہے۔
- (51) ﴿وَمِنْهُمْ مَّنْ اَخَذَتْهُ الصَّيْحَةُ وَ مِنْهُمْ مَّنْ خَسَفْنَا بِهِ الْاَرْضَ﴾
(العنکبوت 40)
درست ترجمہ: اور کچھ ایسے تھے جن کو چنگھاڑ نے آپکڑا۔
قادیانی تحریف: اور کوئی ایسا تھا کہ اس کو کسی اور سخت عذاب نے پکڑ لیا اور کوئی ایسا تھا کہ ہم نے اس کو ملک میں ذلیل کر دیا۔
(تفسیر صغیر ص 520)
[تجزیہ] مرزا محمود نے ”و منھم من خسفنا بہ الارض“ کے ترجمہ میں تحریف کی ہے اور غلط ترجمہ کیا جس کو لغت عرب اور ائمہ مفسرین کی تصریحات کے ساتھ دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔
- (52) ﴿يَعْمَلُوْنَ لَهٗ مَا يَشَآءُ مِنْ مَّحَارِيْبَ وَ تَمَاثِيْلَ وَ جِفَانٍ كَالْجَوَابِ
وَقُدُوْرٍ رّٰسِيٰتٍ ...... الْآيَة﴾
(السباء 13)
درست ترجمہ: وہ جو چاہتے یہ ان کے لئے بناتے یعنی قلعے اور مجسمے اور (بڑے بڑے) لگن جیسے تالاب اور دیگیں جو ایک ہی جگہ رکھی رہیں۔
قادیانی تحریف: وہ جو کچھ چاہتا تھا جن (یعنی سرکش قوموں کے سردار) اس کے لئے بناتے تھے یعنی مساجد اور ڈھلے ہوئے مجسمے اور بڑے بڑے لگن جو حوضوں کے برابر ہوتے تھے اور بھاری بھاری دیگیں جو ہر وقت چولہوں پر دھری رہتی تھیں ۔
(تفسیر صغیر ص 561)
[تجزیہ] ”یعملون“ کا فاعل جنات ہیں نہ کہ سرکش قوموں کے سردار۔ دیکھئے روح المعانی جلد 22 ص 118، تفسیر کبیر جلد 25 ص 239۔
(53) ﴿يٰنِسَاءَ النَّبِيِّ مَنْ يَّأْتِ مِنْكُنَّ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ يُّضَاعَفْ لَهَا الْعَذَابُ ضِعْفَيْنِ ﴾
(الاحزاب 30)
درست ترجمہ: اے پیغمبر کی بیویو! تم میں سے جو کوئی صریح ناشائستہ (الفاظ کہہ کر رسول اللہ ﷺ کو) ایذا دینے کی حرکت کرے گی اس کو دگنی سزا دی جائے گی۔
قادیانی تحریف: اے نبی کی بیویو! اگر تم میں سے کوئی اعلیٰ ایمان کے خلاف بات کرے تو اس کا عذاب دگنا کیا جائے گا
(تفسیر صغیر ص 548)
[تجزیہ] ”فاحشۃ“ کی تفسیر مفسرین نے ”گناہ کبیرہ، نافرمانی اور سوء خلق“ سے کی ہے جبکہ امام رازیؒ نے حضور علیہ السلام کو پسند نہ آنے والے کام مراد لئے ہیں۔ دیکھئے تفسیر فتح البیان مقاصد القرآن جلد 7 ص 271، تفسیر کبیر جلد 25 ص 208، روح المعانی جلد 21 ص 184۔
(54) ﴿يٰجِبَالُ اَوِّ بِيْ مَعَهٗ وَالطَّيْرِ﴾
(السباء 10)
درست ترجمہ: اے پہاڑو ان کے ساتھ تسبیح کرو اور پرندوں کو (ان کا مسخر کر دیا)
قادیانی تحریف: (اور کہا تھا کہ) اے پہاڑوں کے رہنے والے تم بھی اور اے پرندو تم بھی اس کے ساتھ خدا کی تسبیح کرو۔
(تفسیر صغیر ص 560)
[تجزیہ] ”يٰجِبَالُ“ کا ترجمہ ”یا اھل جبال“ یعنی اے پہاڑوں کے رہنے والو کرنا پرلے درجہ کی تحریف اور دجل ہے معجزات کا انکار کرنے کیلئے یہ تحریف کی گئی ہے۔
(55) ﴿فَلَمَّا قَضَيْنَا عَلَيْهِ الْمَوْتَ مَا دَلَّهُمْ عَلٰى مَوْتِهٖ إِلَّا دَابَّةُ الْاَرْضِ تَاْكُلُ مِنْسَاَتَهٗ فَلَمَّا خَرَّ تَبَيَّنَتِ الْجِنُّ اَنْ لَّوْ كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ الْغَيْبَ مَالَبِثُوْا فِي الْعَذَابِ الْمُهِيْنِ ﴾
(السباء 14)
درست ترجمہ: پھر جب ہم نے ان کیلئے موت کا حکم صادر کیا تو کسی چیز سے ان کا مرنا معلوم نہ ہوا مگر گھن کے کیڑے سے جو ان کے عصا کو کھاتا رہا جب عصا گر پڑا تب جنوں کو معلوم ہوا (اور کہنے لگے) کہ اگر وہ غیب جانتے ہوتے تو ذلت کی تکلیف میں نہ رہتے۔
قادیانی تحریف: پھر جب ہم نے اس کے لئے موت کے ورود ہونے کا فیصلہ کیا تو ان (یعنی سرکش قوموں ) کو اس کی موت کی صرف ایک زمین کے کیڑے نے خبر دی جو اس کے عصا (حکومت) کو کھا رہا تھا پھر جب وہ گر گیا تو جنوں پر ظاہر ہو گیا کہ اگر ان کو غیب کا علم ہوتا تو وہ ذلت والے عذاب میں پڑے نہ رہتے۔
(تفسیر صغیر ص 62-561)
[تجزیہ] مذکورہ آیت میں دو تحریفات کی گئی ہیں:
- (۱) ’’مادَلّھم‘‘ کی ’’ھم‘‘ ضمیر کا مرجع سرکش قوموں کو قرار دیا گیا جن کا کہیں ذکر نہیں ہے۔
- (۲) ’’دابۃ الارض‘‘ سے زمین کا کیڑا مراد لیا اور حاشیہ میں لکھا کہ ’’یعنی ان کا وارث دنیا کا کیڑا تھا‘‘ حالانکہ دابۃ
الارض کا معنی ’’دیمک یا گھن‘‘ ہے اور یہی درست ہے کہ دیمک نے حضرت سلیمان علیہ السلام کے اس عصا کو کھا لیا جس کے سہارے وہ کھڑے تھے جب وہ زمین پر گر پڑے تو جنوں کو اپنے علم غیب کے دعویٰ کی حقیقت معلوم ہوئی۔
(56) ﴿اِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَهٗ يُسَبِّحْنَ بِالْعَشِيِّ وَالْاِشْرَاقِ وَالطَّيْرَ
مَحْشُورَةً ۖ كُلٌّ لَّهٗ اَوَّابٌ﴾
(ص 18,19)
درست ترجمہ: ہم نے پہاڑوں کو ان کے زیر فرمان کر دیا تھا کہ صبح و شام ان کے ساتھ (خدائے) پاک کا ذکر کرتے تھے اور پرندوں کو بھی کہ جمع رہتے تھے سب ان کے فرمانبردار تھے۔
قادیانی تحریف: ہم نے پہاڑ کے رہنے والے لوگوں کو اس کے تابع کر دیا تھا اور وہ شام اور صبح تسبیح میں لگے رہتے تھے اور بلند پرواز انسانوں کو بھی جمع کر کے اس کے ساتھ لگا دیا تھا اور وہ سب کے سب خدا کی طرف جھکنے والے تھے۔
(تفسیر صغیر ص 598)
[تجزیہ] مذکورہ آیت میں دو تحریفیں ہیں:
- (۱) ’’انا سخرنا الجبال‘‘ کا غلط ترجمہ کیا ہے ’’ہم نے پہاڑ کے رہنے والے لوگوں کو اس کے تابع کر دیا تھا‘‘
حالانکہ درست ترجمہ یہ ہے ’’ہم نے پہاڑوں کو ان کے زیر فرمان کر دیا تھا‘‘
- (۲) ’’والطیر محشورۃ‘‘ کا مرزا نے ترجمہ کیا ’’اور بلند پرواز انسانوں کو بھی جمع کر کے اس کے ساتھ لگا دیا
تھا‘‘ جبکہ درست ترجمہ ہے ’’اور پرندوں کو بھی تابع کر دیا جو کہ جمع رہتے تھے‘‘۔
- (57) ﴿وَلَقَدْ فَتَنَّا سُلَيْمَانَ وَأَلْقَيْنَا عَلَى كُرْسِيِّهِ جَسَدًا ثُمَّ أَنَابَ﴾
(ص 34)
درست ترجمہ: اور ہم نے سلیمان کی آزمائش کی اور ان کے تخت پر ایک دھڑ ڈال دیا پھر انہوں نے (خدا کی طرف) رجوع کیا۔
قادیانی تحریف: اور ہم نے سلیمان کی آزمائش کی اور اس کے تخت پر ایک بے جان جسم کو بٹھانے کا فیصلہ کر لیا (پھر جب یہ نظارہ اس نے کشف میں دیکھا) تو وہ اپنے رب کی طرف جھکا۔
(تفسیر صغیر ص ......... )
[تجزیہ] ”بے جان جسم“ کی تشریح کرتے ہوئے مرزا نے حاشیہ میں لکھا ”بے جان جسم سے مراد یہ ہے کہ ان کا وارث ایک ایسا بیٹا ہوگا جس کے اندر آسمانی روح نہیں ہوگی بلکہ صرف مادی جسم ہوگا“۔ مرزا نے ”جسداً“ کا جو ترجمہ و تشریح تحریر کیا ہے دونوں بے اصل اور محرف ہیں نیز یہ کشفی نظارہ نہیں حقیقی نظارہ تھا وہ یہ کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے گھر میں ایک ناقص الخلقت بچہ پیدا ہوا اور وہ حضرت سلیمان کی گود میں (جب کہ وہ تخت پر تشریف فرما تھے) ڈال دیا۔
(تفسیر کبیر جلد 26 ص 209)
- (58) ﴿وَخُذْ بِيَدِكَ ضِغْثاً فَاضْرِب بِّهِ وَلَا تَحْنَثْ ...... الآيَة﴾
(ص 44)
درست ترجمہ: اور اپنے ہاتھ میں جھاڑو لو اور اس سے مارو اور قسم نہ توڑو۔
قادیانی تحریف: اور (ایوب سے کہا کہ) اپنے ہاتھ میں ایک کھجور کی گچھے دار ٹہنی پکڑ لے اور اس کی مدد سے تیزی کے ساتھ سفر کر (یعنی اس سے مار مار کر سواری کے جانور کو دوڑاؤ) اور حق سے باطل کی طرف مائل نہ ہو۔
(تفسیر صغیر ص 601)
[تجزیہ] تفسیر فتح البیان جلد 8 ص 117 اور تفسیر کبیر جلد 26 ص 215 پر لکھا ہے کہ حضرت ایوب علیہ السلام نے اپنی زوجہ محترمہ سے کسی بات پر ناراض ہو کر قسم کھالی کہ میں اسے سو لکڑیاں ماروں گا اللہ تعالیٰ نے زوجہ کا چنداں قصور نہ ہونے کی وجہ سے مہربانی فرما کر حیلہ بتایا کہ گھاس کی ایک مٹھی لے کر اسے مارو قسم پوری ہو جائے گی۔ واضح رہے کہ یہ حیلہ صرف ان کے ساتھ خاص تھا عام اجازت نہیں ہے۔ اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ اس واقعہ میں کہیں بھی گھوڑ سواری یا سواری کو مارنے کا ذکر نہیں ہے۔
- (58) ﴿وَخُذْ بِيَدِكَ ضِغْثاً فَاضْرِب بِّهِ وَلَا تَحْنَثْ ...... الآيَة﴾
(ص 44)
درست ترجمہ: اور اپنے ہاتھ میں جھاڑو لو اور اس سے مارو اور قسم نہ توڑو۔
قادیانی تحریف: اور (ایوب سے کہا کہ) اپنے ہاتھ میں ایک کھجور کی گچھے دار ٹہنی پکڑلے اور اس کی مدد سے تیزی کے ساتھ سفر کر (یعنی اس سے مار مار کر سواری کے جانور کو دوڑاؤ) اور حق سے باطل کی طرف مائل نہ ہو۔
(تفسیر صغیر ص 601)
[ تجزیہ ] تفسیر فتح البیان جلد 8 ص 117 اور تفسیر کبیر جلد 26 ص 215 پر لکھا ہے کہ حضرت ایوب علیہ السلام نے اپنی زوجہ محترمہ سے کسی بات پر ناراض ہو کر قسم کھالی کہ میں اسے سو لکڑیاں ماروں گا اللہ تعالیٰ نے زوجہ کا چنداں قصور نہ ہونے کی وجہ سے مہربانی فرما کہ حیلہ بتایا کہ گھاس کی ایک مٹھی لے کر اسے مارو قسم پوری ہوجائے گی۔ واضح رہے کہ یہ حیلہ صرف ان کے ساتھ خاص تھا عام اجازت نہیں ہے۔ اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ اس واقعہ میں کہیں بھی گھوڑ سواری یا سواری کو مارنے کا ذکر نہیں ہے۔
(59) ﴿وَاِنَّهٗ لَعِلْمٌ لِلسَّاعَةِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا﴾
(الزخرف 61)
درست ترجمہ: اور وہ (عیسیٰ علیہ السلام) قیامت کی نشانی ہیں (تو کہہ دو کہ لوگو) اس میں شک نہ کرو۔
قادیانی تحریف: اور وہ (یعنی قرآن) آخری گھڑی کا علم بخشتا ہے پس تم ساعت کے متعلق شبہ نہ کرو۔
(تفسیر صغیر ص 651)
[ تجزیہ ] علامہ عثمانیؒ تحریر فرماتے ہیں ’’حضرت مسیح علیہ السلام کا اول مرتبہ آنا تو خاص بنی اسرائیل کیلئے ایک نشان تھا کہ بدون باپ کے پیدا ہوئے اور عجیب وغریب معجزات دکھلائے اور دوبارہ آنا قیامت کا نشان ہوگا ان کے نزول سے لوگ معلوم کرلیں گے کہ قیامت بالکل نزدیک آگئی ہے۔‘‘ (تفسیر عثمانی ص 656 مطبوعہ سعودیہ)
بعض علماء نے کہا کہ ’’انہ ‘‘ کی ضمیر کا مرجع قرآن مجید یا حضور علیہ السلام ہیں اور یہ دونوں قول ضعیف ہیں۔
(روح المعانی جلد 25 ص 96)
(60) ﴿وَ هُوَ بِالْاُفُقِ الْاَعْلٰى﴾
(النجم 7)
درست ترجمہ: اور وہ (آسمان کے) اونچے کنارے میں تھے۔
قادیانی تحریف: اور ہر بالغ نظر والے کو آسمان کے کناروں پر اس کے ظہور کی علامتیں نظر آرہی ہیں۔
(تفسیر صغیر ص 701)
[ تجزیہ ] اس آیت کی صحیح تفسیر یہ ہے کہ ’’اونچے کنارے‘‘ سے اکثر نے افق شرقی مراد لیا ہے جدھر سے صبح صادق نمودار ہوتی ہے نبی کریم ﷺ کو ابتدائے نبوت میں ایک مرتبہ حضرت جبرائیل اپنی اصلی صورت میں ایک کرسی پر بیٹھے ہوئے نظر آئے اس وقت آسمان ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک ان کے وجود سے بھرا ہوا معلوم ہوتا تھا۔
(تفسیر عثمانی ص 698 مطبوعہ سعودیہ، روح المعانی جلد 27 ص 48، تفسیر کبیر جلد 28 ص 285)
(61) ﴿وَ مَرْيَمَ ابْنَتَ عِمْرٰنَ الَّتِىْ أَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيْهِ مِن رُّوْحِنَا﴾
(التحریم 12)
درست ترجمہ: اور دوسری عمران کی بیٹی مریم کی (اللہ تعالیٰ نے مثال بیان فرمائی) جنہوں نے اپنی شرمگاہ کو محفوظ رکھا تو ہم نے اس میں اپنی روح پھونک دی۔
قادیانی تحریف: اور پھر اللہ مؤمنوں کی حالت مریم کی طرح بیان کرتا ہے جو عمران کی بیٹی تھی۔ جس نے اپنے ناموس کی حفاظت کی اور ہم نے اس میں اپنا کلام ڈال دیا تھا۔
(تفسیر صغیر ص 751)
[تجزیہ] ”من روحنا“ کا صحیح مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں بغیر کسی واسطہ کے براہ راست پیدا کیا (روح المعانی جلد 28 ص 164) اس سے مرزا کے ترجمہ کی حقیقت معلوم ہوگئی کہ وہ خود ساختہ ہے۔
(62) ﴿عُتُلٍّ بَعْدَ ذٰلِكَ زَنِيْمٍ﴾
(القلم 13)
درست ترجمہ:
قادیانی تحریف: وہ بد لگام بھی ہے اور خدا کا بندہ ہو کر شیطان سے تعلق رکھنے والا بھی۔ (تفسیر صغیر ص .........)
[تجزیہ] ”زُنیم“ کا درست معنی ہے ”کمینہ، منہ بولا بیٹا، ولد الحرام، بدنام“ لیکن اس کا معنی جو مرزا محمود نے کیا ہے ” شیطان سے تعلق رکھنے والا“ یہ غلط اور سراسر تحریف ہے۔
(63) ﴿يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ﴾
(المدثر 1)
درست ترجمہ: اے (محمد ﷺ) جو کپڑا لپیٹے پڑے ہو۔
قادیانی تحریف: اے بارانی کوٹ پہن کر کھڑے ہو جانے والے (تفسیر صغیر ص .........)
[تجزیہ] ”بارانی کوٹ“ مدثر کا ترجمہ کسی نے آج تک نہیں کیا چنانچہ یہ ایک واضح تحریف ہے۔
(64) ﴿فَاِنَّمَا هِىَ زَجْرَةٌ وَّاحِدَةٌ . فَاِ ذَا هُمْ بِالسَّاهِرَةِ﴾
(النزٰعت 13,14 )
درست ترجمہ: وہ (یعنی صور اسرافیل) تو صرف ایک ڈانٹ ہوگی اس وقت وہ (سب) میدان (حشر) میں آ جمع ہوں گے۔
قادیانی تحریف: (اور یہ بھی یاد رکھو کہ ) یہ جنگ کی خبر تو صرف ایک ڈانٹ تھی چنانچہ (اس ڈانٹ کے بعد ) وہ یکدم پھر (جنگ کے) میدان میں آموجود ہوں گے۔
(تفسیر صغیر ص 800)
[تجزیہ] مرزا محمود نے ’’زجرة واحدة‘‘ سے بدر کی لڑائی مراد لی ہے جو کہ سراسر تحریف ہے۔ اس کا درست معنی ہے ’’ایک ڈانٹ‘‘ اور اس سے مراد نفخۂ ثانیہ ہے۔ دیکھئے روح المعانی جلد 30 ص 32، فتح البیان جلد 10 ص 177، تفسیر کبیر جلد 31 ص 38۔
- (65) ﴿تَرْمِيْهِمْ بِحِجَارَةٍ مِّنْ سِجِّيْلٍ ﴾
(الفیل 4)
درست ترجمہ: جو ان پر کنکر کی پتھریاں پھینکتے تھے۔
قادیانی تحریف: جو ان (کے گوشت ) کو سخت قسم کے پتھروں پر مارتے (اور نوچتے ) تھے
(تفسیر صغیر ص 845)
[تجزیہ] مرزا کے ترجمہ اور ترجمہ کے انداز دونوں سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ جیسے ابرہہ کا لشکر خود بخود مر گیا تھا اور اللہ تعالیٰ نے پرندے صرف ان کا گوشت کھانے کیلئے بھیجے تھے یہ غلط اور تحریف باطل ہے۔ دیکھئے تفسیر کبیر ج 32 ص 100، روح المعانی جلد 30 ص 273، 274۔